فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ- جلد 2
گروہ بندی مناظرے
مصنف آیت اللہ العظمی سید محمد سعید طباطبائی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404

بسم الله الرحمن الرحیم

فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ

(ترجمہ فی رحاب العقیدۃ)

مولف

آیت اللہ العظمی سید محمد سعید طباطبائی حکیم (مد ظلہ العالی)

ترجمہ : مولانا شاہ مظاہر حسین

دوسری جلد

ناشر : انتشارات مرکز جہانی علوم اسلامی (قم ایران)

پہلاایڈیشن سنہ 1428 ھ مطابق سنہ 2007 ء سہ 1326 ھ شمسی


عرض ناشر

خدا وند متعال کی لامتناہی عنایتوں اور ائمہ معصومین کی لاتعداد توجہات کے سہارے آج ہم دنیا میں انقلاب تغیر مشاہدہ کررہے ہین وہ بھی ایسا بے نظیر انقلاب اور تغیر جو تمام آسمانی ادیان میں صرف دین " اسلام" میں پایا جاتا ہے

گویا عصر حاضر میں اسلام نے اپنا ایک نیا رخ پیش کیا ہے یعنی دنیا کے تمام مسلمان بیدار ہوکر اپنی اصل ،(اسلام)کی طرف واپس ہورہے ہیں اور اپنے اصول وفروع ی تلاش کررہے ہیں-

آخر ایسے انقلاب وتغیر کی وجہ کیا ہوسکتی ہے ؟ سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم اس بات پرغور کریں کہ اس وقت اس کے آثار تمام اسلامی ممالک حتی مغربی دنیا میں بھی رونما ہوچکی ہے ۔اور دنیا کے آزاد فکر انسان تیزی کے ساتھ اسلام کی طرف مائل ہورہے ہیناور اسلامی معارف اور اصول سے واقف اور آگاہ ہونے کے طالب ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اسلام دنیا والوں کو ہرروز کونسا جدید پیغام دے رہا ہے ؟

ایسے حساس اور نازک موقعوں پر ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسلام کوکسی قسم کی کمی اور زیادتی کے بغیر واضح الفاظ، قابل درک ، سادہ عبارتوں اورآسان انداز مین عوام بلکہ دنیا والوں کے سامنے پیش کریں اور جو حضرات اسلام اور دیگر مذاہب سے آشنا ہونا چاہتے ہیں ہم اسلام کی حقیقت بیانی سے ان کی صدیوں ی پیاس بجھادیں اور کسی کو اپنی جگہ کوئی بات کہنے یا فیصلہ لینے کا موقع نہ دیں۔


لیکن اس فرق کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ان سے تال میل نہ رکھا جائے یا ان کا نزدیک سے تعاون نہ کیا جائے ہونا تو یہ چایئے کہ تمام مسلمان ایک ہوکر ایک دوسرے کی مدد کریں اور اپنے اس آپسی تعاون اور تال میل کے سہارے مغرب کی ثقافتی حملوں کا جواب دیں اور اپنی حیثیت اور وجود کا اظہار کریں نیز اپنے مخالفین کو ان کے منصوبوں مین بھی کامیاب ہونے نہ دیں

سچ تو یہ ہے کہ ایسی مفاہمت ، تال میل ،مضبوطی اور گہرائی اسی وقت آسکتی ہے جب ہم اصول وضوابط کی رعایت کریں اس سے بھی اہم یہ ہے کہ تمام اسلامی فرقے ایک دوسرے ک معرفت اور شناخت حاصل کریں تاکہ ہر ایک کی خصوصیت دوسرے پر واضح ہو ، کیونکہ صرف معرفت سے ہی سوئے تفاہم ،غلط فہمی اور بدگمانی دورہوجائے گی اور امداد ،تعاون کا راستہ بھی خودبخود کھل جائے گا۔

آپ کے سامنے موجودہ " فی رحاب العقیدہ: نامی کتاب حضرت آیت اللہ العظمی سید محمد سعید حکیم دام ظلہ کی انتھک اور بے لوث کوششوں کا نتیجہ ہے جیسے اپنی مصروفیتوں کے باوجود کافی عرق ریزی کے ساتھ ، حوزہ علمیہ کھجوا بہار کے افاضل جناب مولانا مظاہر حسین صاحب نے ترجمہ سے آراستہ کیا اور حوزہ علمیہ کے ہونہار طالب افاضل نے اپنی بے مثال کوششوں سے نوک پلک سنوارتے ہوئے اس کتاب کی نشر واشاعت میں تعاول کیا ہے لہذا ہم اپنے تمام معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خداوند منان سے دعا گو ہیں کہ ہو ان تمام حضرات کو اپنے سایہ لطف وکرم میں رکھتے ہوئے روز افزوں ان کی توفیقات میں اضافہ کرے اور لغزشوں کو اپنی عفو وبخشش سے درگزر فرمائے ۔ آمین

مرکز جہانی علوم اسلامی

معاونت تحقیق


فہرست

عرض ناشر 2

پیش لفظ 17

سوال نمبر 1 21

سوال نمبر۔ 2 22

سوال نمبر۔ 3 23

سوال نمبر۔ 4 23

سوال نمبر۔ 5 23

سوال نمبر۔ 6 24

سوال نمبر ۔ 7 24

سوال نمبر۔ 8 24

سوال نمبر ۔ 9 25

تلاش حقیقت کے وقت جستجو کے حق کو ادا کرنا ضروری ہے 28

سنّی اور شیعہ روایتوں میں ہاتھ میں ہاتھ دینے کے معنی میں بیعت کا تذکرہ 31

اقرار ولایت اور قبول ولایت کے معنی میں بیعت ثابت ہے 33

حدیث غدیر سے استدلال بیعت پر موقوف نہیں ہے 34

حدیث غدیر سے امامت و خلافت پر مزید تاکید کے لئے شیعہ بیعت پر زور دیتے ہیں 35

حدیث غدیر سے امامت پر دلالت کو بعض قرینے ثابت کرتے ہیں 36


جو ولی ہے وہی امام ہے اور اس کی اطاعت واجب ہے 37

سوال نمبر ۔ 1 39

لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ رضائے پروردگار کسی کے مرنے تک باقی رہے یعنی خدا ان سے مرنے کے وقت تک راضی رہے! 41

جنت کے وعدے کی وجہ سے سابقون اوّلون کی نجات پر استدلال 41

مدعا کے دو رخ ممکن ہیں 41

ہر مہاجر اور انصار کے لئے کامیابی اور جنت کا وعدہ 42

ہر صالح مومن کے لئے کامیابی کا وعدہ ہے 44

ہر مومن سے جنت اور کامیابی کا وعدہ ہے 45

ہر گنہگار اور بےراہ کو خسران اور عذاب کی وعید ہے 45

الہی وعدے حُسن خاتمہ سے مشروط ہیں 47

صحابہ کو فتنہ اور پھر جانے سے بچنے کی ہدایت 48

پھر کامیابی کا وعدہ مطلق کیوں؟ 51

تھوڑی سی گفتگو تا بعین کے بارے میں بھی ہوجائے 52

سابقون اوّلون میں کچھ لوگ مرتد بھی ہوگئے 53

سابقین اوّلین کے حالات ایسے نہیں کہ سب کی کامیابی کا یقین کر لیا جائے! 54

سابقین اوّلین کو قطعی طور پر نجات یافتہ مان لینا انھیں برائیوں کی طرف ترغیب دینا ہے 55

سابق الایمان ہونے سے ذمّہ داریاں بڑھ جاتی ہیں 57

کیا سابقون اولون کے معاملے میں دخل دینا چاہئے 58


سابقون اوّلون مشخص ہی نہیں ہیں! 60

سابقون اوّلون نقد و جرح سے بالاتر نہیں ہیں اس پر امت کا اجماع ہے 61

صحابہ کی لفظ کا صرف سابقون اوّلون پر محمول کرنا ہی قابل تامل ہے 62

حاطب ابن ابی بلتعہ کے قصہ سے استدلال 66

حاطب بن ابی بلتعہ کے قصے میں احتیاط 67

مقام تقدّس میں صحابہ کو اہل بیت ؑ کے مقابلے میں لانے کی کوشش 67

نبی پر درود پڑھتے وقت اہل بیتؑ کو شامل کرنے کے بارے میں اہل سنّت کا نظریہ 68

اہل سنت کے نظریہ کی توجیہ میں طحاوی کا بیان 69

حدیث نبوی میں اختلاف اور امیرالمومنینؑ کا مشورہ 71

حضرت امام محمد باقرؑ کے وضعی حدیثوں کے بارے میں ارشادات 75

جعلی حدیثوں کے بارے میں مدائنی اور نفطو یہ کی روایت 77

جعلی حدیثوں میں صحاحِ ستّہ کا حصّہ 79

اہل بدر کے بارے میں وارد حدیثوں کا متن 80

مذکورہ حدیث کا پس منظر 81

قرآن مجید حاطب کے فعل کو غلط ثابت کرتا ہے 82

حدیث،اہل بدر کی قطعی سلامتی اور نجات کی ضمانت نہیں لیتی 84

اہل بدر کی قطعی سلامتی کا اعلان انھیں گناہ پر ابھارےگا 85

اس طرح کی حدیثوں میں گناہ کبیرہ سے بچنے کی قید لگانا ضروری ہے 87


قرآن مجید حاطب کی جس طرح تہدید کرتا ہے اس سے سلامت قطعی نہیں سمجھی جاسکتی 88

تھوڑی سی گفتگو حدیث حاطب جیسی حدیثوں کے بارے میں 90

حکمت اور عقل کا تقاضا یہ ہے کہ حدیث حاطب کی تاویل کی جائے 91

واقعہ بدر کے علاوہ بھی ایسی چیزیں ہیں جن کے بارے میں سلامت قطعی وارد ہوئی ہے 93

حدیث مذکورہ اہل بدر سے مخصوص ہے نہ کی باقی سابقون اوّلون سے 96

سوال نمبر ۔ 2 97

بیعت رضوان کے بارے میں گفتگو 98

آیہ کریمہ رضا کو مطلق نہیں کرتے بلکہ رضا کا سبب بیان کرتی ہے 98

بعض آیتیں بتاتی ہیں کہ اس بیعت کے عہد کو پورا کرنا سلامتی کی شرط ہے 98

خدا کی رضا صرف بیعت رضوان والوں سے مخصوص نہیں ہے 100

رضا بشرط استقامت ہے اور اس کی تائید باقی رہےگی 102

غطبہ اور حسد میں فرق ہے 103

حسد اعظم محرمات میں سے ہے 104

اپنے اماموں کے بارے میں شیعوں کا نظریہ سنیوں کے اماموں کے بارے میں سنیوں کا نظریہ ان دونوں میں بہت فرق ہے 105

سوال نمبر۔ 3 109

جو ہورہا ہے اس کو ہونے دینا 110

حالات حاضرہ کو جاری رکھنا اور شرعی شکل دینا 110

خلافت کا تعین خدا کرتا ہے خلیفہ کو حق(نہیں کہ وہ دوسرے کے حق میں دست بردار ہوجائے) 111


منصب(امامت)کی اہلیت صرف اسی میں ہوتی ہے جس کو اللہ منصب کے لئے معین کرتا ہے 113

عثمان کی خلافت پر کوئی نص نہیں تھی مگر وہ معزول ہونے پر تیار نہیں تھے 117

دورخلافت کے جاری رکھنے سے معالم حق کی بربادی لازم آتی ہے 118

اسلام کی اعلی ظرفی اجازت نہیں دیتی کہ شریعت الٰہیہ کی پیروی قہر و غلبہ اور بزور کروائی جائے 122

خلیفہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ امت کے کاروبار کو چلانے کے لئے اپنا نائب بنائے 123

شیعہ اچھی طرح اس بات کو سمجھتے ہیں کہ اہل بیت ؑ اپنے حق سے دست بردا رنہیں ہوئے 123

یہ دعویٰ کرنا کہ شیعہ اپنے اماموں کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں کہاںتک حقیقت پر مبنی ہے؟ 124

مذکورہ دعوی کی تردید اور شیعوں کی صداقت کے شواہد 124

جھوٹ بولنے کی کوئی وجہ نہیں ہے جب کہ شیعہ انھیں عقیدوں کی وجہ سے ہمیشہ بلاؤں کا سامنا کرتے رہے 125

اگر شیعہ مفتری ہوتے تو ان کے امام ان سے الگ ہوجاتے 126

ائمہ اہل بیتؑ کی میراث کا تحفظ شیعوں ہی نے کیا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شیعہ ان حضرات سے مخصوص تھے 127

شیعوں کے کردار میں اماموں کے اخلاق کی جھلک 129

اہل سنت کی ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے کنارہ کشی 131

شیعیان اہل بیت ع اور دشمنان اہل بیت ع کے بارے میں سنیوں کا نظریہ 131

ائمہ اہل بیت ؑ کے بارے میں علما اہل سنت کے کچھ نظریے 132

ائمہ اہل بیتؑ کے بارے میں عام سنیوں کے کچھ نظریئے 137

ائمہ اہل بیتؑ نے امت کی ہدایت و ثقافت اور تہذیب اخلاق کو اہمیت دی 141

جب جمہور نے منھ موڑ لیا تو آپ حضرات نے اپنے شیعوں کو بہت اہمیت دی 143


عالم اسلام میں ائمہ اہل بیتؑ کا بہرحال ایک مقام ہے 144

خلافت کے معاملے میں ائمہ اہل بیت(ہدیٰ)علیہم السلام اور ان کے خاص لوگوں کی تصریحات 145

امیرالمومنین علیہ السلام کا امر خلافت کے معاملے میں صریحی بیان 146

امیرالمومنین علیہ السلام کے شکوے کی بہت سی خبریں ہیں 159

امیرالمومنینؑ کے شکوے پر ابن ابی الحدید کا نوٹ 160

امیرالمومنین علیہ السلام کے کلام سے رضا ظاہر نہیں ہوتی 161

خلافت کے بارے میں صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کا موقف 162

خلافت کے معاملے میں امام حسن علیہ السلام کا موقف 165

خلافت کے معاملے میں امام حسین علیہ السلام کا موقف 167

خلافت کے معاملے میں امام زین العابدین علیہ السلام کا موقف 170

خلافت کے معاملے میں امام محمد باقر علیہ السلام کا موقف 172

خلافت کے مسئلہ میں محمد بن حنفیہ کا موقف 173

خلافت کے بارے میں عباس بن عبدالمطلب کا موقف 174

امر خلافت میں فضل بن عباس کا نظریہ 174

امر خلافت میں عبداللہ بن عباس کا موقف 175

خطبہ شقشقیہ مقام تنقید میں 178

امیرالمومنین علی علیہ السلام کے خاص اصحاب اور امر خلافت 179

صادق اللہجہ ابوذر اور امر خلافت 179


حذیفہ اور امر خلافت 180

شوریٰ کے متعلق بعض صحابہ کا موقف 180

بعض اعلام جمہور کی تصریحات 185

عمر بن خطاب کا اعتراف حق 185

خلافت کے بارے میں عثمان بن عفان کا نظریہ 188

معاویہ کا خط محمد بن ابی بکر کے نام 189

دوسری جگہوں پر معاویہ کا اعتراف حق 191

عمرو بن عاص کی بات بھی سنئے 192

عبداللہ بن زبیر کا نظریہ 192

علامہ علی بن فارقی کی باتیں 193

وہ واقعات جن سے اہل بیتؑ کا خلافت پر عدم اقرار ثابت ہوتا ہے 194

سقیفہ کی باتیں 194

سقیفہ کے بعد کیا ہوا 195

واقعات سقیفہ پر صدیقہ طاہرہ صلوات اللہ علیہا کا رد عمل 196

ابوبکر کی بیعت سے امیرالمومنینؑ کا باز رہنا 198

شوریٰ کے واقعات اور امیرالمومنینؑ اور آپؑ کے اصحاب کا نظریہ 198

امیرالمومنین ؑ اور آپ کے معاصرین کے کلام کا اثر یہ ہوا کہ شیعیت کے عقائد ظاہر ہوگئے 201

امیرالمومنین کا واضح موقف اور علما اہل سنت کا ادراک 207


شیخین کے متعلق امیرالمومنین ؑ کے موقف کے بارے میں اسمٰعیل حنبلی کا واقعہ 207

یہ دعویٰ کہ ائمہ ؑ شیخین کی خلافت کا اقرار کرتے تھے اور ان سے راضی تھےمحتاج دلیل ہے 209

سوال نمبر ۔ 4 211

صحابہ کا نص سے تغافل یا نبی ؐ کا امر امت سے اہمال،کون بدتر ہے؟ 211

اس مفروضہ غفلت اور اہمال کا نتیجہ 216

اسلام کی پائیدار بلندی اور اس کا کمال رفعت 217

عدم نص کے نظریہ کی ناکامی وجود نص کی سب سے بڑی دلیل ہے 219

خود نبی ؐ کی حیات میں صحابہ کی نص سے مخالفت 219

حدیث حوض اور فتنوں سے ڈرانےوالی احادیث کی سنگینی کا پتہ دیتی ہیں 221

سابقہ امتوں کے واقعات 221

مخالفت تو ایسی نصوص کی بھی کی گئی جو امامت کے لئے دلیل نہیں تھی 222

انصار نے الائمۃ من قریش کی مخالفت کی 228

نبی نے صحابہ کو خبردار کردیا تھا کہ وہ امیرالمومنینؑ کے بارے میں نصوص کی مخالفت کریں گے 230

جن لوگوں نے نص کی مخالفت کی،ان کی تعداد بہت کم ہے 231

انسانی سماج کا مزاق وقت کے دھارے کے ساتھ مڑجاتا رہا ہے 232

ابوبکر کی بیعت پر اہل مدینہ کے اتفاق کا دعویٰ 233

مذکورہ دعویٰ کے بطلان کے شواہد 233

انصار کی کوشش کہ سعد بن عبادہ کی بیعت ہوجائے 235


منافقین و طلقاء کی کارستانیاں 235

آنےوالےفتنوں کےبارےمیں رسول خدا ؐ کی پیشین گوئیاں 237

نبی اعظم ؐ اور مولائے کائنات ؑ منافقین کے ٹکراؤ سے بچتے تھے 239

انصار کے آرا اور ان کے نظریے 240

انصار و غیرہ نے خلافت کے لئے امیرالمومنین ؑ کا نام لیا 241

صحابہ کی جماعت کے نمایاں افراد علی ؑ کی طرف مائل تھے 243

انصار ابوبکر کی بیعت کرکے پچھتا رہے تھے 243

امیرالمومنین ؑ کو کمزور کرنے کی کوشش میں عباس کا استعمال 244

صدیقہ طاہرہ ؐ کا خطبہ اور آپ کا انصار کو خاص طور سے قیام کی دعوت دینا 246

خطبہ کی تاثیر توڑنے کے لئے ابوبکر کی چال 247

جب تک امیرالمومنین ؑ مسلمانوں سے الگ رہے لوگ جہاد کرنے کے لئے نہیں نکلے 249

بیرون مدینہ کے قبیلوں کا نظریہ اور مرتدین سے جنگ کی حقیقت 250

اہل بیتؑ کو خلافت سے الگ رکھنے اور بیعتِ ابوبکر سے بعض عرب قبیلوں کا انکار 251

کچھ عربوں کا اہل بیت ؑ کی خلافت کے لئے احتجاج 254

سابقہ بیان سے نتجہ کیا نکلا 255

ابوبکر کی بیعت کے بارے میں جدید الاسلام لوگوں کا موقف 256

حکومت کو مضبوط کرنے میں رنگروٹ مسلمانوں کا پیش پیش ہونا 256

عام صحابہ کی نصرتِ حق میں تقصیر 260


امیرالمومنین ؑ کے اصولی موقوف پر بعض شواہد 261

نتیجہ چاہے تو ہو،امام منصوص کی آواز پر لبیک کہنا واجب ہے 262

امام منصوص کی نصرت نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں نے نص کی اندیکھی کی 266

امامِ منصوص کی نصرت نہیں کرنا ایسا گناہ ہے جو قابلِ توبہ ہے 267

صحابہ کی امیرالمومنین ؑ کی طرف واپسی اور آپ کی مدد کرنا 268

قتل عثمان کے بعد صحابہ کا امیرالمومنین ؑ کی ہمراہی کرنا 268

امیر المومنین علیہ السلام کی طرف سے اصحابِ پیغمبر ؐ بڑے اور ذمہ دار عہدوں پر رکھے جاتے تھے 277

امیرالمومنینؑ کا اپنے خاص اصحاب کے لئے گریہ و اضطراب 277

معاویہ اصحاب امیرالمومنینؑ سے انتقام لیتا ہے 278

حجر بن عدی اور اصحاب حجر کی شہادت پر مسلمانوں کا اظہار نفرت 278

بنوامیہ،صحابہ کی اسلامی خدمات سے لوگوں کو بےخبر رکھنا چاہتے تھے 281

بنوامیہ اور حقیقتوں کو بدلنے کی کامیاب کوشش 284

معاویہ کی ہلاکت کے بعد اہل بیتؑ کے بارے میں صحابہ کا نظریہ 285

مناقب اہل بیتؑ بیان کرنے اور نص کی روایت کرنے میں صحابہ کی کوشش 286

امام حسینؑ نے صحابہ کو اہل بیتؑ کا حق ثابت کرنے کے لئے جمع کیا 286

آخر ابوبکر اور عمر نے سنت نبوی کی اشاعت پر پابندی کیوں لگادی تھی؟ 288

اکثر صحابہ کے حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ مولائے کاتناتؑ کی امامت کے حق ہونے کا اعتراف کرتے تھے 289

حضرت علیؑ کی بیعت ہوئی تو اکثر صحابہ نے یہ سمجھا کہ اب حق،حقدار تک پہنچا 289


صحابہ کو پختہ یقین تھا کہ امیرالمومنینؑ ہی وصی پیغمبرؐ ہیں 294

اہل بیتؑ کو جو بھی شکایتیں ہیں قریش سے ہیں نہ کہ صحابہ سے 297

بہت سے صحابہ بلند مرتبہ پر فائز تھے 297

ائمہ ہدی علیہم الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ کی بہت تعریف کی ہے 298

جو صحابہ حق پر ثابت قدم رہے ان کی محبت دینی فریضہ ہے 301

نتیجہ گفتگو 303

صحابہ کا یہ شرف تھا کہ وہ نص کا یقین رکھتے تھے 303

آیہ: کنتم خیر امة، پر گفتگو 305

سوال نمبر5 311

اس مشروع نظریہ کو عمل میں لانے کے لئے دور حاضر کے ماحول کا سازگار ہونا ضروری ہے 312

اس مشروع نظریہ کو نافذ نہ کرنے کی صورت میں دور حاضر میں مسلمانوں کی ذمہ داری 313

مذہبی اختلاف کی خلیج کو کم کرنا بہت ضروری ہے 314

یہ معلوم کرنا بہت ضروری ہے کہ مسلمانوں کے اختلاف اور سیاسی انحطاط کا سبب کیا ہے؟ 315

سوال نمبر۔ 6 319

ابوبکر کی نماز کے بارے میں شیعوں کی روایت 321

حادثہ صلوٰۃ کے سلسلے میں امیرالمومنینؑ کا عقیدہ سنیوں کی نظر میں 322

جب سرکار دو عالم ؐ نماز کے لئے نکلے تو آپ نے کیا کہا؟یہ بھی اختلافی مسئلہ ہے 326

روایت کی کچھ کمزوریاں،جو اس روایت کے لئے مصیبت بنی ہوئی ہیں 327


نہ داستان نماز،ابوبکر کی خلافت پر نص ہے اور نہ ہی اصحاب نے اسے بیعت ابوبکر کے لئے لازم سمجھا 329

امام جماعت ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس آدمی کے اندر امامت عامّہ کی بھی صلاحیت ہے 331

عمر نے خلافت کے بارے میں جب بھی گفتگو کی حادثہ صلوٰۃ کا ذکر بالکل نہیں کیا 335

ایک تقابلی مطالعہ 336

خلافت ایک اہم منصب ہے،اس کی طرف صرف اشار کرنا کافی نہیں ہے 345

حقیقت کا شبہات سے پاک ہونا ضروری ہے 345

دعوتِ اصلاح کے راستے میں رکاوٹیں 346

سب سے بڑی رکاوٹ خود اہل دعوت کا داخلی اختلافات ہوتا ہے 346

اختلاف و افتراق ہی کے درمیان آسمانی مذہب کی جانچ ہوجاتی ہے 346

قرآن مجید،اختلاف سے بچنے کی سخت ہدایت کرتا ہے 347

نبی کا اعلان کہ امت میں فرقے ہوں گے 347

مسلمانوں کو فتنوں سے ڈرایا گیا اور انہیں خوف دلایا گیا 348

اختلاف کے نتائج سے آگاہ کیا گیا اور اس کے خطروں سے خبردار کیا گیا 349

خطرناک اختلاف کے پیش نظر واضح و آشکار حجت کا ہونا لازم ہے 350

اختلاف کا سب سے بڑا سبب ریاست طلبی ہے 353

اسلام میں پہلا اختلاف سلطنت ہی کے لئے ہوا اور یہ سب سے خطرناک اختلاف تھا 354

اسلام،معرفتِ امام کو سختی سے واجب اور اس کی اطاعت فرض قرار دیتا ہے 355

حاکم برحق کی مادی کمزوری یہ ہے کہ وہ قانون شرع میں رعایت نہیں کرتا 355


ناممکن ہے کہ نبیؐ نے امامت کی طرف صرف اشارے پر اکتفا کی ہو 356

اسلام کے پاس ایسے نظام کا ہونا ضروری ہے جو خلافت کی تکمیل کرتا ہو! 356

سوال نمبر ۔ 7 359

ائمہؑ کا علم دین سے اختصاص اکمال دین کے منافی نہیں ہے 359

اتنا ہی بتا دینا کافی ہے کہ احکام دین کا مرجع کون ہے؟ 360

جمہور اہل سنت کی روایتوں کے مطابق بھی بہت سے صحابہ علم میں ممتاز تھے 362

اہل سنت کو اہل بیتؑ کے ممتاز بالعلم ہونے کا اعتراف ہے 364


پیش لفظ

الحمد لله علی رب العالمین و الصلاة و السلام علی اشرف الانبیاء و المرسلین وخاتم النبیین و علی آله المعصومین

بے شک خالق کائنات کی معرفت اور دین کی تبلیغ و ترویج انسان کا پہلا فریضہ ہے اور دین اسلام میں سب سے زیادہ اہمیت عقیدہ کی ہے جس پر انسان کی سعادت و کامیابی اور نجات کا انحصار ہے جیسا کہ قرآن کریم اور احادیث پیغمبر اعظمؐ سے صاف واضح ہے کہ جنت عقیدہ ہی کی بنیاد پر ملے گی عمل کے ذریعہ نہیں اور ویسے بھی خود عمل کا دار و مدار عقیدہ ہی پر ہے، اسی وجہ سے دین میں عقیدہ اور عمل کی مثال درخت کی جڑ اور شاخوں سے دی جاتی ہے اور یہ بات ہر ذی عقل و شعور پر واضح ہے کہ اگر جڑ میں خرابی آجائے تو شاخیں خودبخود خشک ہوجاتی ہیں اسی بنا پر جڑ کی اہمیت زیادہ ہے اور اس کا تحفظ اور خیال زیادہ رکھا جاتا ہے اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرکز تحقیقات نشر علوم اسلامی امام حسن عسگری علیہ السلام نے جس کی بنیاد 16 جمادی الثانی 1425 ؁ بمطابق 2003 ؁کو رکھی گئی، خدمت دین اور انسانی عقیدہ کی صحت اور پختگی کے لئے عالم جلیل و فاضل و کامل بحرالشریعہ آیۃ اللہ فی العالمین عالم تشیع کے عظیم الشان مرجع حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید


محمد سعید حکیم طباطبائی گراں بہا تالیف کا اردو ترجمہ کرایا جسے مرکز جہانی علوم اسلامی نے زیور طبع سے آراستہ کیا تا کہ ہر ایک کے لئے عقیدہ کی اصلاح و پختگی و تکمیل آسان ہوجائے،آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد سعید حکیم طباطبائی دنیائے عالم کے عظیم المرتبت مرجع تشیع سید محسن حکیم طاب ثراہ کے نواسے ہیں جن کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ہے موصوف کی اس کے علاوہ بھی دیگر کتابیں زیر طبع ہیں جو انشااللہ عنقریب خدا کی توفیق و مدد اور آپ حضرات کی دعا سے منظر عام پر آجائیں گی،ادارہ بصد خلوص شکر گزار ہے آیۃ اللہ کا جنہوں نے اس گراں بہا تالیف کے ذریعہ سے قوم کی بے لوث خدمت کی اور ان محترم و مکرم علمائ و فضلائ مولانا مظاہر شاہ صاحب و مولانا کوثر مظہری صاحب مولانا سید نسیم رضا صاحب کا جنہوں نے اس کتاب کے ترجمہ و تصحیح کے ذریعہ ادارہ کا تعاون فرمایا ہم اس خدمت دین میں آپ حضرات کے نیک مشوروں کے خواہاں ہیں۔

آخر کلام میں خدائے مہربان سے دعاگو ہیں کہ ہمیں خلوص اور صدق نیت کے ساتھ خدمت دین کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائے۔

سید نسیم رضا زیدی

مرکز تحقیقات نشر علوم اسلامی امام حسن عسکریؑ قم المقدسہ ایران


بسم الله الرحمن الرحیم

خدا کی تعریف اور اشرف انبیا ؐ اور آپ کی آل ؑ پاک اور اصحاب مکرمین پر درود و سلام کے بعد،علامہ عالی قدر جناب سید محمد سعید الحکیم صاحب خداوند عالم آپ کی حفاظت فرمائے اور آپ کی عمر طولانی فرمائے.

السلام علیکم و رحمة الله و برکاته

آپ نے میرے سوالوں کے جواب بھیجے وہ مجھ تک پہنچے،آپ نے جواب دینے میں بڑی محنت کی ہے،ہم آپ کے بےحد شکرگذار ہیں کہ آپ نے جواب دینے کی ذمہ داری قبول فرمائی اور کشادہ دلی سے کام لیا ۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ سنّی اور شیعہ کے درمیان علمی گفتگو کا ایک دروازہ کھلا جو بہت اہم بات ہے،خاص طور سے شیعوں کے شرعی معاملات کو ان کے تصورات کے اعتبار سے سمجھنے کا موقعہ ملا جس کی وجہ سے تاریکی زائل ہوگئی اور اہل سنّت،شیعہ مذہب کی جو غلط تفسیریں کرتے ہیں وہ بات معلوم ہوگئی اب سنّی حضرات،شیعوں کے بارے میں نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوگئے اور انھیں انصاف کی نظر سے دیکھنے لگے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ موضوع کتنا اہم ہے

معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ آپ نے جو جوابات دئیے ہیں اس کی کچھ تعلیقات بھی ہیں لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں ان کا جواب بھی بہت جگرکاوی چاہتا ہے،اس لئے کہ آپ کے دئیے ہوئے


جوابوں کو بہت توجہ سے پڑھنے کی ضروت ہے،ہمارے شہر کے سنّی علما کی بھی یہی رائے ہے اور ان کا بھی نظریہ اس گفتگو اور جواب کے بارے میں یہی ہے،میں دوسرے خطوں سے آپ کے علم میں ان کے نظریات لانے کی کوشش کروں گا،البتہ اس وقت کچھ دوسرے سوالات جن کا لگاؤ نفس ہدف سے ہے آپ کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں اور امید کرتا ہوں کہ جناب عالی ان کا جواب مرحمت فرمائیں گے،جس سے آپ کا نقطہ نظر واضح ہوسکے.

آخر میں ایک ضروری بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ غدیر کے بارے میں جو سوال میں نے کیا تھا اس میں ایک بہت ضروری بات رہ گئی جو بیعت کی بات تھی

اس سوال کا مقصد یہ تھا کہ غدیر میں مولائے کائنات علی علیہ السلام کی بیعت واقع ہوئی تھی یا نہیں؟واقعۂ غدیر کے بارے میں تو مجھے معلوم ہے کہ اہل سنّت کی کتابیں خصوصی طور پر اس واقعہ کے ذکر سے بھری پڑی ہیں امید کرتا ہوں کہ اس موضوع پر بھی آئندہ خطوط میں آپ توجہ فرمائیں گے ۔

الحمداللہ آپ کے جوابات بےمقصد نہیں ہیں،بلکہ ان سے فائدہ جلیلہ حاصل ہورہا ہے آپ کے جواب دینے کا طریقہ بہت اچھا ہے اور ترتیب بےمثال ہے خصوصاً اس کے لئے جو ایسے سوالوں کا جواب دے رہا ہو،آخر میں التماس ہے کہ آپ اپنی دعاؤں میں مجھے یاد رکھیں گے میں خدا سے امید کرتا ہوں کہ وہ مجھے توفیق عطا فرمائے تا کہ میں اس کے محبوب و پسندیدہ راہ پر گامزن اور مسلمانوں کی بھلائی کے کام کرسکوں.

و آخر دعوانا ان الحمد الله ربّ العالمین


سوال نمبر1

قرآن مجید کے متعلق شیعوں کا کیا نظریہ ہے کہ قرآن کریم جب امت محمد ؐ یہ کے حالات پر نظر ڈ التا ہے اور اللہ کے نزدیک ان کے درجات اور مقام و منزلت کو تعین کرتا ہے اور انھیں دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے!

ایک قسم وہ جو زمانے سے محدود ہے یہ وہ لوگ ہیں جن پر سابقون،اوّلون کا اطلاق ہوتا ہے چاہے وہ انصار میں سے ہوں یا مہاجتیں میں سے اور عام طور سے صحابہ و غیرہ کا لفظ قرآن اور حدیث میں جہاں بھی آیا ہے اس سے یہی سابقون اوّلون مراد ہیں چاہے یہ لوگ احسان کی پیروی کریں یا نہ کریں،اللہ بہرحال ان سے راضی ہے.

دوسری قسم وہ ہے جن کے لئے اتباع بالاحسان کی شرط رکھی گئی ہے،حالانکہ ان میں بھی اکثر افراد پر قرآن مجید کی زیر نظر آیت کے دوسرے حصے میں((صحابہ،لفظ کا اطلاق ہوتا ہے ارشاد ہوتا ہے کہ:((اور سابقوں اوّلون کے مہاجر و انصار اور وہ لوگ جنھوں نے نیکی میں ان کی پیروی کی اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں،ان کے لئے ایسے باغات تیار کئے گئے ہیں جن میں نہریں جاری ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے))

(سورہ توبہ آیت 100)


تو پھر اگر ان سابقون اوّلون میں سے کسی کے بارے میں کوئی ایسی بات منقول ہو جس میں ان کا گناہ،نافرمانی،حق کی مخالفت،یا بدبختی ثابت ہو تو کیا ہم متاخرین کے لئے یہ صحیح ہے کہ ہم اپنی زبان کو ان کے بارے میں آزاد چھوڑدیں؟(اور جو منھ میں آئے کہہ ڈ الیں)جب کہ سنّت نبوی ؐ کا فیصلہ ہے کہ ہم ایسا نہیں کرسکتے اور نہ ہی اس صحابہ کی اس فعل قبیح میں پیروی کرسکتے ہیں جس کی برائی ظاہر ہے بلکہ بہتر یہ ہے کہ اس صحابی کی منزلت جو اللہ کے نزدیک ہے اس کا مسئلہ اللہ پر چھوڑدیں اس لئے کہ اللہ ہی ان کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے جیسا کہ حاطب ابن ابی ہلتعہ کے واقعہ سے بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے،جب پیغمبر ؐ نے حاطب کو برا کہنےوالے کو یہ کہہ کر خاموش کردیا کہ:

اللہ اصحاب بدر سے اچھی طرح واقف ہے))اس نے فرما دیا ہے کہ میں نے تمہیں معاف کردیا ہے اب تم جو چاہو کرو.

سوال نمبر۔ 2

ہم اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ صحابہ کے اندر کچھ کمزوریاں پائی جاتی تھیں،مثلاً ذاتی تنازعہ،کسی مصلحت کی بنا پر ایک صحابی کا دوسرے صحابی پر تشدد بلکہ ایک صحابی دوسرے صحابی سے رشک و حسد میں بھی گرفتار تھا اور یہی حالات اس قول کو محال قرار دیتے ہیں کہ صحابہ بشری کمزوریوں سے پاک تھے لیکن ان تمام باتوں کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ ان سے راضی ہے جبکہ وہ بہت سی غلطیان کرچکے ہیں اور خدا کی رضا کسی وقت سے مخصوص نہیں ہے ۔ مثلاً صرف نبی ؐ کے زمانے ہی میں انھیں یہ رضا حاصل نہیں تھی بلکہ یہ حصول رضا مطلق اور عام ہے اور بغیر کسی نص شرعی کے اس رضا کی حدوں سے کسی کو باہر نہیں کیا جاسکتا،پھر شیعہ علما اس بات کے قائل کیوں نہیں ہوجاتے کہ عمر و ابوبکر اور عثمان کا خلافت پر علی ؑ کی موجودگی میں قبضہ کرنا انھیں بشری کمزوریوں کا تقاضا تھا جن کا مواخذہ شرعی طور پر ضروری نہیں ہے یا اس وجہ سے تھا کہ کچھ دوسرے امور تھے جن کی بنیاد پر خلافت کے معاملے میں یہ آپس میں راضی ہوگئے تھے جب کہ شیعوں کا یہ اعتقاد ہے کہ مولائے کائنات ؑ کلافت کے زیادہ مستحق تھے،(وہ اپنے اس عقیدہ پر باقی رہیں تو کوئی حرج نہیں لیکن خلفائے ثلاثہ کے فعل کی مندرجہ بالا توجیہ کر کے انہیں قبول کرلیں ۔ )


سوال نمبر۔ 3

شیعہ و سنی دونوں فرقے ان معاملات میں جو صدر اسلام میں واقع ہوئے مولائے کائنات اور اہلبیت ؑ امام حسن ؑ کی سیرت پر کیوں نہیں عمل کرتے یعنی ہم ان باتوں کا اقرار کریں جن کا ان حضرات نے اقرار کیا اور ان باتوں کا انکار کریں جن کا ان حضرات نے انکار کیا تھا اور اس طرز عمل کو ضرور سمجھیں:

1 ۔ ابوبکر کی خلافت کا امام علی ؑ کی جانت سے اقرار ۔ 2 ۔ ابوبکر کے ذریعہ خلافت کے لئے عمر کی تنصیب کا اقرار ۔ 3 ۔ شوریٰ کا اقرار اور شوریٰ کی ایک فرد ہونے پر رضایت ۔ 4 ۔ معاویہ کا شام کی ولایت پر عدم اقرار ۔ اس لئے کہ حضرت علی ؑ اسے اس کام کے لئے نااہل سمجھتے تھے باوجودیکہ اسے برطرف کرنے سے اسلامی سماج میں بہت سی خرابیان پیدا ہورہی تھیں ۔

سوال نمبر۔ 4

کیا جمہور کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ مولائے کائنات ؑ کی بیعت پر واضح نص شرعی کی موجودگی میں(اگر وہ موجود ہو)اس سے غافل رہے ہوں جبکہ ان کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے معین کئے گئے ہو کہ انھیں اچھی باتوں کا حکم دو اور برائیوں سے روکو(1)

سوال نمبر۔ 5

کیا آپ نہیں دیکھتے ہیں کہ عالم اسلام اس دن سے غمگین ہے جب سے اسلامی خلافت کا انہدام ہوا اور اس غم میں دونوں برابر کے شریک ہیں،چاہے سنی ہوں یا شیعہ،تو پھر کیوں نہ کسی ایسے شخص کی تنصیب،خلافت کے لئے واجب قرار دی جائے جو امت کے مصالح کے مطابق کام کرے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(آل عمران آیت110)


خصوصاً اہل سنت تو آج کل خلافت سے محروم ہیں لیکن آپ شیعہ حضرات بھی اس دور غیبت میں سنیوں کی طرح قیادت سے محرومی کا احساس کررہے ہیں اور ایسے شخص کی ضرورت محسوس کررہے ہیں جو امت کے مصالح کو قائم اور باقی رکھے کیا آپ کی نظر میں اس کا حصول ممکن ہے اور اس امر کے حصول کے لئے کوشش کی جانی چاہئے؟

سوال نمبر۔ 6

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ابوبکر کو اس وقت امامت کا حکم دیا جب آپ خود مرض کی شدت کی وجہ سے لوگوں کی امامت نہیں کرسکتے تھے،اس سلسلہ میں آپ کا کیا خیال ہے کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضور ؐ اپنے بعد خلافت ابوبکر پر راضی تھے؟

سوال نمبر ۔ 7

کیا یہ صحیح ہے کہ انسانی زندگی کے مسائل اور ضروریات دین کا علم صرف ائمہ ؑ سے مختص ہے حالانکہ خدا کہتا ہے((آج ہم نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر نعمتوں کو منزل کمال تک پہنچا دیا اور تمہارے لئے دین اسلام سے راضی ہوگیا))(سورہ مائدہ:آیت 3)

سوال نمبر۔ 8

اہل سنّت اور شیعہ دونوں فرقے قرآن کی حجیت اور اس کی قطعیت صدور پر متفق ہیں اختلافات سنّت میں ہے اس لئے کہ دونوں کےنزدیک سنّت کا مصدر مختلف ہے ۔

سنی صرف ان حدیثوں کو لیتے ہیں جو ثقہ راویوں کے ذریعہ پیغمبر ؐ سے روایت کی گئی ہیں اور بس،جب کہ شیعہ ائمہ اہلبیت ؑ سے بھی حدیثیں لیتے ہیں چاہے ان کا زمانہ رسول خدا ؐ سے کتنی ہی دور ہو اس لئے کہ وہ اماموں کی عصمت کے دعویدار ہیں حالانکہ جو لوگ اماموں سے روایت لینےوالے ہیں وہ


سب کے سب سنیوں کے راویوں کی طرح غیر معصوم ہیں،پھر شیعہ حضرات سنیوں کی کتابوں کو قابل اعتماد کیوں نہیں سمجھتے خصوصاً وہ شیعہ رواۃ جو ثقہ سے روایت لینے کے قائل ہیں چاہے وہ ان کے مذہب کا مخالف ہی کیوں نہ ہو یا اس کی روایت شیعہ مذہب کے خلاف ہی کیوں نہ ہو لیکن یہ بات کہ سنی بھی شیعہ راویوں کی طرف کیوں نہیں رجوع کرتے؟مناسب نہیں ہے اس لئے کہ سنی صرف پیغمبر ؐ سے روایت اخذ کرتے ہیں اور وہ عصمت ائمہ ؑ کے قائل بھی نہیں ہیں؟

سوال نمبر ۔ 9

شیعوں کے اصول دین میں خبر آحاد پر عمل نہیں کیا جاتا جب کہ اماموں کی تشخیص تواتر سے ثابت نہیں ہے پس اگر امام کی تشخیص خبر آحاد کے ذریعہ ہو تو اس پر عمل واجب نہیں ہوگا اور غیر مشخص امام کی پیروی جائز نہیں ہے

(عبدالکریم)

عمان،اردن

7 / دستمبر 2000 سنہ



بسم الله الرحمٰن الرحیم

خدا کی تعریف اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کی آل پاک پر درود و سلام اور روز قیامت تک ان کے تمام دشمنوں پر لعنت کے بعد:

السلام علیکم

محترم کریم بھائی.........خدا آپ کی توفیقات میں اضافہ فرمائے میری دعا ہے کہ خداوند عالم آپ کو اور آپ کے تمام دینی بھائیوں کو توفیقات عنایت فرمائے اور آپ حضرات کو اپنے پرہیزگاروں میں قرار دے ۔

الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ وَأُوْلَئِكَ هُمْ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ

ترجمہ آیت:(وہ لوگ جو تمام باتیں سن کے ان میں سے سب سے بہترین بات کی پیروی کرتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جن کی اللہ نے ہدایت کی ہے اور یہی لوگ سمجھدار ہیں)) ۔(1)

میری دعا ہے کہ خداوند عالم اپنی رحمت کے فیضان سے آپ کی دین و دنیا میں اصلاح کرے اور آخرت اور معاد میں بھی بھلائی عنایت فرمائے بے شک وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور مومنین کا سرپرست ہے ۔

آپ کا گرامی نامہ ملا اور مجھے پڑھکے بہت خوشی ہوئی جب یہ معلوم ہوا کہ ہماری گفتگو حقیقت کی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورۂ زمر آیت 18.


پردہ کشائی میں نفع بخش ہے اور غموض(اگر ہے)تو چھٹ رہا ہے اور مجھے بہرحال امید و اطمینان ہے کہ میں نے جواب میں بہت وضاحت سے کام لیا ہے اور صاف گوئی کا جو اہتمام کیا ہے اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں ہےیہ بات ہماری سابقہ گفتگو سے آپ پر ظاہر ہوچکی ہوگی اور اس گفتگو سے بھی انشااللہ تعالی یہ بات سمجھ میں آجائے گی ۔

تلاش حقیقت کے وقت جستجو کے حق کو ادا کرنا ضروری ہے

ہم لوگ اس وقت ایک ایسے مسئلہ کو موضوع گفتگو بنانے جارہے ہیں جس میں دھیرے دھیرے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے تا کہ حقیقت معلوم ہوجائے اور حقیقت تک پہنچا جاسکے ہمیں چاہیئے کہ سختی سے اس بات کی پابندی کریں کہ ہر حال میں بحث و تمحیص کا حق ادا ہوتا رہے اور ہم اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآسکیں اس لئے کہ جو بات معلوم نہیں ہے اس کے مقابلے میں معلومات پر عمل کرنا کافی ہے(1) اور علم بغیر عمل کے ایسا ہے جیسے درخت بغیر ثمر کے(2) جیسا کہ رسول ؐ و آل رسول ؐ سے وارد احادیث میں آیا ہے ۔ معرفت اگر عمل سے خالی ہو تو صاحبت معرفت کو نقصان پہنچاسکتی ہے،اس لئے کہ معرفت یا تو اس پر حجت تمام کردیتی ہے یا اتمام حجت کو مزید پختہ کردیتی ہے دونوں ہی صورت میں اسکی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ جس حقیقت کو اس نے سمجھ لیا ہے اس پر سختی سے عمل کرے اور خدا کی طرف سے جو فرض ہے وہ اس کا مطالبہ بھی کرےگا اس کا حساب بھی ہوگا

(لَايَنفَعُنَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا) (3)

ترجمہ آیت:(جو شخص پہلے سے ایمان نہیں لائےگا یا مومن ہونے کی حالت میں نیک کام نہیں کئے ہوگا تو اس کا ایمان اس کے لئے مفید نہیں ہوگا)) ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) توحید شیخ صدوق،ص 416 اوربحارالانوار،ج 2 ص 281 اور نورالبراہین،ج 2 ص 447

( 2) عیون الحکمہ و الواعظ،ص 340 اور محاسبۃ النفس،ص 166 (3) سورہ انعام آیت: 158


حساب کا دن تو اچانک آئےگا پہلے سے خبر نہیں دی جائےگی اس لئے حساب کے لئے تیار رہنا اور اس کے خطروں سے حفاظت کا انتظام کرنا بہت ضروری ہے،خدا کے سامنے بری الذمہ ہونے کے لئے کوئی عذر ہونا ہی چاہئے ۔

اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ میں آپ کو بغیر بصیرت اور دلیل کے کسی خاص مسلک کو اختیار کرنے کی دعوت دے رہاہوں اس لئے کہ ارشاد ہوتا ہے:

وَلاَ تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولـئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولاً

ترجمہ آیت:((جس چیز کے بارے میں نہیں جانتے اس کے پیچھے مت پڑا کرو اس لئے کہ کان آنکھ اور دل سب سے سوال کیا جائےگا،سب کے بارے میں پوچھا جائےگا)) ۔(1)

بلکہ میرا مطلب یہ ہےکہ بحث کرنےوالا جذباتیت سے آزاد رہے اور ہٹ دھرمی اور بیکار کی بحث سے پرہیز کرے،جس حقیقت کے بارے میں بحث کر رہا ہے اس کے لئے اپنی بصیرت اور اپنے ضمیر کو حاکم بنائے جب وہ اس حقیقت تک پہنچ جائے اور بات اس کے سامنے واضح ہوجائے تو اس کے حق کو ادا کردے تا کہ خدا کے سامنے اپنی ذمَہ داری سے عہدہ برآ ہوسکے ۔

لیکن حق کب اور کیسے واضح ہوگا؟تو اس کی ذمہ داری خود بحث کرنےوالے پر عائد ہوتی ہے کہ پہلے وہ اپنے وجدان سے حق کی صحیح تعریف کرے اس لئے کہ

بَلِ الْإِنسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ

ترجمہ آیت:((انسان تو اپنے آپ سے خوب واقف ہے)) ۔(2)

اس کے بعد خداوند عالم،حاکم و عادل ہے چاہے انسان کے حق میں فیصلہ دے چاہے اس کے خلاف ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ اسراءآیت 36

( 2) سورہ قیامت آیت 14


میں خدا سے اپنے لئے اور آپ کے لئے توفیق و تسدید کا سوال کرتا ہوں اور ہراس آدمی کے لئے یہی دعا ہے جو حق کو پہچاننے کا اور اس تک پہنچنے کا حوصلہ رکھتا ہے اور حق کو پہچان کر اس کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونا چاہتا ہے ۔

آخر کلام میں ایک خاص بات کی طرف آپ کو متوجہ کرانا چاہتا ہوں وہ یہ کہ غدیر کے متعلق سوال میں ایک لفظ رہ گیا تھا وہ ہے واقعۂ بیعت غدیر،اصل میں اشکال واقعۂ بیعت پر ہے نہ کہ واقعہ غدیر پر،اس لئے کہ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ واقعۂ غدیر کے تذکرہ سے تو اہل سنّت کی کتابیں بھری پھڑی ہیں میں امید کرتا ہوں کہ آپ آئندہ خط میں اس موضوع پر روشنی ڈ الیں گے،خدا کا شکر ہے کہ آپ کی کوششیں ضائع نہیں ہو رہی ہیں بلکہ اس کے فوائد دیکھنے میں آرہے ہیں،اس لئے کہ آپ کے اس جواب کا طریقہ اور ترتیب اس شخص کے لئے نادرالوجود ہے جو اس طرح کے سوالوں کا جواب دیتا ہو ۔

آخر میں آپ سے امید کرتا ہوں کہ میرے لئے خدا سے دعا کریں گے مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ ہمیں اپنے محبوب اور پسندیدہ اور مسلمانوں کے لئے خیر کے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

و آخر دعوانا ان الحمدلله ربّ العالمین


اگر آپ بیعت سے یہ سمجھتے ہیں کہ غدیر میں لوگ نبی ؐ کی خدمت موجود تھے اور آپ کا خطبہ سن رہے تھے انھوں نے اپنے ہاتھ کو علی ؑ کے ہاتھ سے مس کرتے ہوئے مضمون خطبہ کے اقرار کا ثبوت دیا یعنی بیعت سے مراد غدیر میں ہاتھ پر ہاتھ رکھنا ہے تو اس بات کو نہ شہرت حاصل ہے اور نہ اس کے لئے دعوائے تواتر کیا گیا ہے،سنّیوں کی بات تو چھوڑیئے شیعوں کے یہاں بھی اس کے تواتر کا دعویٰ نہیں پایا جاتا ہے ۔

سنّی اور شیعہ روایتوں میں ہاتھ میں ہاتھ دینے کے معنی میں بیعت کا تذکرہ

واقعۂ بیعت کو شیعوں نے متعدد طریقوں سے نقل کیا ہے علامہ مجلسی ؒ نے ان میں سے کچھ لوگوں کا ذکر کیا ہے(1) جیسے علامہ طبری حضرت امام ابوجعفر محمد بن علی باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں اور سلسلۂ نبی تک پہنچتا ہے کہ اس موقعہ پر حضور ؐ نے ایک طویل خطبہ دیا اور مولائے کائنات ؑ کی ولایت پر نص کرنے کے بعد فرمایا(اے لوگو تم بہت زیادہ ہو اور میرے لئے ایک ہاتھ پر بیعت کثرت افراد کی وجہ سے ممکن نہیں ہے مجھے اللہ نے حکم دیا ہے کہ تمہاری زبانوں سے علی ؑ کے بارے میں مومنین پر جو امارت طے ہوئی ہے اس کا اقرار اور ان لوگوں کی امامت کا اقرار لےلوں جو مجھ سے اور علی ؑ کے بارے میں مومنین پر جو امارت طے ہوئی ہے اس کا اقرار اور ان لوگوں کی امامت کا اقرار لےلوں جو مجھ سے اور علی ؑ سے آئندہ زمانے میں امام ہونےوالے ہیں اس لئے کہ میں تمہیں پہلے بتاچکا ہوں کہ میری ذریت علی ؑ کی صلب میں ہے تو تم سب مل کر کہو کہ ہم لوگ سننے والے،اطاعت کرنےوالے،راضی رہنےوالے اور

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) بحارالانوار،ج 37 باب 52 ص 119،133،138


پیروی کرنےوالے ہیں اس چیز کے بارے میں جو آپ نے علی ؑ کے بارے میں اور ان کی صلب سے ہونےوالے اماموں کے بارے میں اپنے اور ہمارے رب کی طرف سے ہم تک پہنچائی ہے ہم اس بات پر دل،جان،زبان اور ہاتھ سے آپ کی بیعت کرتے ہیں،اے لوگو!ایسی بات کہو جس سے خدا تم سے راضی ہو اور یاد رکھو کہ اگر تم اور روئے زمین کے تمام لوگ سب کے سب کافر ہوجاؤ تو اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچےگا،پروردگارا!تمام اہل ایمان کو معاف کردے اور کافرین پر غضب نازل فرما ۔

(والحمدلله ربّ العالمین)

امام ابوجعفر ؑ فرماتے ہیں کہ(خطبہ سن کے)لوگوں نے آواز دی ہم نے سنا ہم اللہ اور رسول اللہ ؐ کے امر کی اپنے ہاتھ زبان اور دل سے اطاعت کا عہد کرتے ہیں پھر لوگوں نے پیغمبر ؐ اور علی ؑ کے پاس ہجوم کیا اور اپنے ہاتھ سے بیعت کرنے لگے....)(1)

علّامہ مجلسی ؒ نے مذکورہ بالا روایت کو علامہ طبرسی ؒ سے لیا ہے پھر فرمایا ہے کہ مخالفین کے علما میں احمد بن محمد طبری نے اس روایت کو لکھا ہے اور ہم نے انہیں سے اپنی کتاب کشف الیقین میں یہ روایت نقل کی ہے(2) اسی طرح علامہ شیخ امینی ؒ نے بھی جہاں مبارک بادی کا تذکرہ کیا ہے اور مبارک بادی کو بعض علما جمہور سے نقل کیا ہے وہیں یہ بھی(3) کہا ہے کہ بیعت کی بات بھی ان لوگوں نے روایت کی ہے ۔

مگر یہ تمام باتیں حد تواتر تو نہیں پہنچی اور میرا خیال ہے کہ کسی نے تواتر کا دعویٰ بھی نہیں کیا ہے مگر یہ کہ وہ ہم سے مخفی معلومات پر مطلع ہو ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) احتجاج، ج 1 ص 82 سے 84 تک،یوم الغدیر علی الخلق کلهم و فی غیره من الایام بولایة علی بن ابی طالب علیه السلام اور اس کے بعد

( 2)( بحارالانوار،ج 37 ص 218 باب 52 نصوص کے باب میں جو دلالت کرتی ہیں اور بعض وہ دلیلیں جو اس پر قائم ہیں،امیرالمومنینؑ کی امامت پر عام و خاص طریقہ سے)

( 3) الغدیر،ج: 1 ص: 270 ۔ 271


اقرار ولایت اور قبول ولایت کے معنی میں بیعت ثابت ہے

یہ بات بعید از فہم نہیں ہے کہ بیعت سے مراد شاہدین خطبہ کی طرف سے قبول ولایت کا اعلان اور اذعان ہو،کیوں کہ خطبہ میں ولایت امیرالمومنین ؑ فرض کی گئی ہے،سابقہ حدیث بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے،اس لئے کہ اکثر لوگ بیعت کا یہی مطلب سمجھتے ہیں ۔ ہر دور میں مسلمانوں کی سیرت رہی ہے کہ خلیفہ جدید کے لئے عام انسانوں کی بیعت محض اس کی خلافت کو تسلیم کر لینا ہے اور اس کی قیادت کو مان لینا ہے بیعت کا شرف تو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتا ہے،وہ لوگ جو صاحب مرتبہ ہوتے ہیں انھیں کو یہ شرف حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے اقرار کا اعلان خلیفہ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر کریں،ورنہ مذکورہ بالا معنیٰ میں بیعت تو واقعۂ غدیر میں حاصل ہوچکی تھی ۔

اس لئے کہ جو لوگ نبی ؐ کے خطبہ میں حاضر تھے اور علی ؑ کے بارے میں اعلان ولایت کے شاہد تھے اگر ان میں سے کسی نبی ؐ کی تردید کی ہوتی یا نبی ؐ پر اعتراض کیا ہوتا تو بات چھپی نہیں رہتی ظاہر اور واضح ہوجاتی،یہ امر طبیعی ہے تاریخ اس کو نقل کرتی ہے،جیسا کہ حارث ابن نعمان فہری کے معاملے میں ہوا جس کا ذکر میں نے آپ کے ساتویں سوال کے جواب میں حدیث غدیر کے ذیل میں کیا ہے یا جیسا کہ تہنیت ے بارے میں حدیثوں کا ایک لمبا سلسلہ ہے کہ حاضرین نے امیرالمومنین علیہ السلام کو ولایت کی تہنیت دی،علامہ شیخ امینی ؒ نے اہل سنّت کی ساٹھ 60 کتابوں سے اس کا حوالہ دیا ہے ۔

خاص طور سے وہ حدیثیں جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضور نے امیرالمومنین ؑ کو ایک الگ خیمے مٰں بٹھایا اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ اس خیمے میں جا کے امیرالمومنین علیہ السلام کو ولایت کی مبارک باد دیں(1) اس لئے کہ یہ معلوم ہے کہ اس طرح سے تہنیت دینے کا مطلب ہی ہے کہ مسلمان آپ کی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب،ج 1 ص 271.


ولایت کا اقرار کررہے ہیں آپ کی ولایت کو تسلیم کررہے ہیں اور یہ دونوں ہی باتیں معنائے بیعت کو ادا کرتی ہیں،حاصل گفتگو یہ ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام کی ولایت کا قبول اور اقرار کا تلازم عادتاً خطبہ غدیر کے ساتھ ہے اور خطبہ کا تواتر یہ ہے کہ معنائے مذکور میں بیعت کو بھی تواتر حاصل ہے ۔

حدیث غدیر سے استدلال بیعت پر موقوف نہیں ہے

اس کے علاوہ حدیث غدیر سے استدلال بیعت پر موقوف نہیں ہے اس لئے کہ جب خدا نے امیرالمومنین ؑ کی ولایت فرض کردی اور نبی ؐ نے پہنچا بھی دیا تو اب لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اس کو تسلیم کریں،اس کو مانیں بیعت تو صرف اس کے توابع میں سے ہے چاہے ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو اس لئے کہ ولایت کا اذعان و اعلان اور اس پر عمل کا وجوب بیعت پر موقوف نہیں ہے اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ بیعت کا تحقق نہیں ہے یا نبی ؐ نے بیعت کا مطالبہ نہیں کیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی ؐ کی زندگی میں بیعت کا کوئی اثر بھی تو ظاہر نہیں ہوتا،وفات نبی ؐ سے پہلے بیعت کی ضرورت بھی کیا تھی بیعت کی ضرورت تو وفات پیغمبر ؐ کے بعد تھی اس لئے کہ وفات نبی ؐ کے بعد بیعت کا مطلب ہے کہ خدا کے حکم کو مسلمان مان رہا ہے اور اس پر عمل کر رہا ہے،حالانکہ اس وقت بھی بیعت،امیرالمومنین کی ولایت کا ثبوت نہیں ہوتی اور نہ ہی ولایت امیرالمونین ؑ پر عمل کا وجود آپ کی قیادت اور اطاعت و بیعت پر موقوف ہوتا جیسا کہ میں عرض کیا،البتہ اہل سنّت کے نزدیک ولایت و خلافت بیعت اور اس کے بعد پر موقوف ہوتی ہے،اس لئے کہ ان کے یہاں خلافت نص سے ثابت نہیں ہوتی جب تک لوگ اس کی بیعت نہ کرلیں اس لئے کہ ان کے یہاں بیعت کا کردار بہت اہم ہے اور خلافت اپنے ثبوت میں بیعت کی محتاج ہے ۔


حدیث غدیر سے امامت و خلافت پر مزید تاکید کے لئے شیعہ بیعت پر زور دیتے ہیں

میرا خیال ہے کہ بعض شیعہ بیعت پر اس لئے زور دیتے ہیں کہ امیرالمومنین ؑ کی ولایت پر حدیث شریف کی دلالت موکد ہوجائے اور یہ بات پکی ہوجائے کہ مولائے کائنات ؑ نبی ؐ کے بعد مومنین کے ولی،ان کے امام اور خلیفہ ہیں ۔

حقیقت تو یہ ہے کہ جمہور مسلمین بلکہ تمام مخالفین نے بھرپور کوشش کی کہ امر ولایت کو مقام تشکیک میں ڈ ال دیا جائے،پہلے تو سند حدیث پر طعن کی کوشش کی لیکن حدیث غدیر اپنے اسناد و طرق کی وجہ سے تواتر سے بھی کچھ آگے تھی اس لئے کہ سند حدیث پر سوائے چند بے حیثیت افراد کے کوئی بھی طعن کرنے کی ہمّت نہیں کرسکا،تب انھوں نے لفظ مولیٰ کے اجمال کا دعویٰ کر ڈ الا،اس لئے کہ مولیٰ کے بہت سے معنی ہیں،مولیٰ یعنی محبّ،مولیٰ یعنی ناصر،مولیٰ یعنی ابن عم،و غیری یعنی مولیٰ کا مطلب خاص طور سے اولیٰ بالامر نہیں ہے،یہی وجہ ہے کہ بعض شیعہ بیعت پر تاکید کرتے ہیں تا کہ بیعت کے ذریعہ یہ ثابت ہو کہ مولیٰ بہ معنیٰ اولیٰ استعمال ہوا ہے اس لئے کہ مولیٰ بہ معنی اولیٰ بیعت کی مناسبت سے ہی ثابت ہوتا ہے کسی دوسرے معنیٰ سے نہیں ۔

یہ بات اگر چہ بہت عمدہ ہے لیکن پہلے یہ دیکھئے کہ آپ بات کس سے کررہے ہیں؟اگر آپ کی گفتگو کسی متعصب آدمی سے ہورہی ہے جو آپ سے عناد رکھتا ہے اور بات سے بات نکال کے شک پیدا کرتا ہے تو پھر بیعت والی بات بےفائدہ ہے،کیونکہ دنیا کی کوئی حقیقت ایسی نہیں ہے جس کے گرد دشمنوں نے شبہ کے تانے بانے نہ پھیلائے ہوں آپ اس سے بات ہی مت کیجئے اس لئے کہ وہ بات جھگڑے تک پہنچ جائےگی اور جھگڑے کے بارے میں حدیثوں میں نہی وارد ہوئی ہے بہتر یہ ہے کہ اس کے معاملات کو اللہ پر چھوڑ دیجئے اس لئے کہ اللہ سے جھگڑا کر کے وہ کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکےگا

ہاں اگر آپ کی بات کسی حق پرست اور انصاف پسند آدمی سے ہورہی ہے جو حقیقت تک پہنچنا


چاہتا ہے،چاہے جس صورت میں بھی ہو تو یہ امر اس کے سامنے بہت واضح ہے،اس لئے کہ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ مولا کے بہت سے معنیٰ ہیں اور سارے معانی اولیٰ میں نہیں پائے جاتے تو کافی ہے کہ مولا کو اولیٰ پر حمل کیا جائے اس لئے کہ متن حدیث میں دونوں دلیلیں موجود ہیں ۔

حدیث غدیر سے امامت پر دلالت کو بعض قرینے ثابت کرتے ہیں

1 ۔ جس طرح یہ حدیث مولا کی لفظ کے ساتھ وارد ہوئی ہے،یعنی جس کا میں مولا ہوں اس کے علی ؑ مولیٰ ہیں،اسی طرح ولی کا بھی لفظ استعمال کیا گیا ہے یعنی حضور ؐ نے فرمایا جس کا میں ولی ہوں اس کے علی ؑ ولی ہیں،ظاہر ہے کہ دونوں حدیثوں میں اختلاف کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے کو جھٹلا رہی ہیں اور نہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک غلط ہے بلکہ دونوں حدیثوں کا مقصد بغیر الفاظ نص کی پابندی کے محض معنیٰ کو نقل کرنا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مولیٰ بہ معنیٰ ولی استعمال کیا گیا ہے اور ولی اس صاحب اقدار کو کہتے ہیں جو امر ولایت کا ذمّہ دار ہو ۔

2 ۔ حدیث غدیر کے جو سلسلے تواتر تک پہنچے ہوئے ہیں یا تواتر سے بھی آگے ہیں ان میں ولایت پر نص کے پہلے پیغمبر اعظم ؐ کا ایک سوال بھی وارد ہوا ہے(کیا میں مومنین پر ان سے زیادہ اولیٰ نہیں ہوں؟)اور پھر فوراً ہی جملہ ارشاد ہوا کہ(میں جس کا مولیٰ ہوں علی بھی اس کے مولیٰ ہیں)اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ مقدمۃُ اولیٰ کی لفظ آئی ہے بعد میں مولیٰ کی لفظ ہے جیسے کہ اولیٰ سے مولیٰ کی تفسیر کی جارہی ہو،پس لزوم ذہنی یہ کہتا ہے کہ مولیٰ کو اولیٰ ہی کے معنی میں لیا جائے چاہے مولیٰ کے جتنے بھی معنی ہوں لیکن دوسرے معانی کا امکان اور اولیٰ کے معنیٰ کا لزوم پایا جاتا ہے،اس کے علاوہ بھی دوسرے بہت سے داخلی اور خارجی قرینے ہیں اور ہمارے علما نے اس پر لمبی بحثیں کی ہیں شاید کہ علامہ امینی ؒ نے اس سلسلے میں سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر بحث فرمائی ہے(1) اور مجھے خوش ہوگی اگر کوئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب۔ج 1 ص 340 تا 399


حدیثوں کی تاویل کرنےوالا اس حدیث کی تاویل اس کے مخالف معنی میں کرے پھر وہ متن حدیث کی مذکورہ معنی میں تاویل کرے،پھر دونوں کا تقابل کرکے تمام قرینوں کا احاطہ کرے اور اس کے بعد فیصلے کا اختیار اپنے وجدان اور ضمیر کو دیدے اور یہ دیکھے کہ اسکا وجدان کون سے معنی اختیار کرتا ہے ۔

جو ولی ہے وہی امام ہے اور اس کی اطاعت واجب ہے

جب یہ بات مان لی گئی کہ حدیث غدیر میں امیرالمومنین ؑ کے ولایت کی ضمانت لی گئی ہے اور یہ کہ آپ تمام مومنین پر ان کے نفسوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ آپ کی امامت اور خلافت ثابت ہے اور آپ کی طاعت واجب ہے اس لئے کہ ولایت کا مطلب سوائے امامت کے کچھ نہیں ہوتا اور امامت بالولایۃ مکمل نہیں ہوسکتی جب تک اطاعت کا وجوب نہ ہو،پھر یہ دیکھیں کہ مسلمانوں پر نبی ؐ کی امامت کیسے ثابت ہوئی ہے؟ظاہر ہے احادیث اور آیتوں کے ذریعہ وہی احادیث اور آیا الٰہیہ جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حضور کی طاعت واجب ہے،حضور مومنین کے ولی ہیں،حضور ان کے نفسوں پر ان سے زیادہ اولیٰ ہیں،(تو پھر آپ ولایت امیرالمومنین ؑ کے لئے نشان بیعت کیوں تلاش کررہے ہیں کیا صرف آیتیں اور حدیثیں کافی نہیں ہیں؟)پس خدا ہی عالم ہے وہی بچانے والا ہے وہ ہمارے لئے کافی ہے اور اچھا وکیل ہے ۔



سوال نمبر ۔ 1

شیعوں کا اس قرآنی فیصلے کے بارے میں کیا نظریہ ہے؟

قرآن جن امت محمدیہ کی حالت کو پیش کرتے ہوئے ان کے درجہ بندی کرتا ہے تو انہیں دو قسموں میں تقسیم کرتا ہے ۔

ایک قسم جو زمانے سے محدود ہے،یہ وہ لوگ ہیں جن پر قرآن کی زبان میں سابقون اوّلون کا اطلاق ہوتا ہے،چاہے وہ مہاجر ہوں یا انصار،عام طور پر قرآن یا حدیثوں میں جہاں صحابہ یا اس کے مثل کوئی لفظ استعمال کی گئی ہے اس سے مراد یہی سابقون اوّلون ہیں،یہ وہ قسم ہے جس سے اللہ نے اپنے راضی ہونے کا اعلان کیا ہے اور اتباع بالاحسان کی شرط نہیں لگائی ہے جبکہ قسم ثانی کے ساتھ ایسا نہیں ہے ۔

قسم ثانی وہ ہے جس میں اتباع بالاحسان کی شرط لگائی گئی ہے،یاد رہے کہ قسم ثانی میں بہت سے افراد پر صحابہ کی لفظ کا اطلاق ہوتا ہے،آیت مذکورہ کے دوسرے حصہ میں شامل ہیں:

ارشاد ہوتا ہے:(وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ) (1)

ترجمہ آیت:(مہاجرین اور انصار میں جو سابقون اوّلون ہیں اور وہ لوگ جو نیکی میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ توبہ:آیت 100


ان کی پیروی کرتے ہیں خدا ان سے راضی ہے اور وہ خدا سے راضی ہیں،ان کے لئے باغات تیار کئے گئے ہیں جن میں نہریں جاری ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے) ۔

تو اب سابقون اوّلون میں سے چاہے وہ انصار ہوں یا مہاجرین اگر کوئی ایسی بات منقول ہوتی ہے،(جس میں ان کے کردار کی کمزوری ظاہر ہو)جیسے گناہ،نافرمانی،آپس کی رسّہ کشی،بدبختی تو کیا یہ مناسب ہے کہ ہم جو متاخرین میں ہیں اپنی زبان کو آزاد چھوڑیں دیں(اور جو منھ میں آئے کہتے چلے جائیں)جب کہ سنّت نبی کا فیصلہ ہے کہ ہم ایسا نہیں کرسکتے اور ایسے عمل کی پیروی بھی نہیں کرسکتے جس کا فساد ظاہر ہے اور ایسے صحابی کے بارے میں منھ کھولنے سے پہلے ہم یہ دیکھ لیں کہ اللہ نے ان کو ایک خاص منزلت دی ہے اور اسی کو بنیاد بنا کر ہم باز رہیں،جیسا کہ حاطب بن ابی بلتعہ کے معاملہ سے ظاہر ہوتا ہے،سرکار دو عالم ؐ نے اس شخص پر جو حاطب ابن ابی بلتعہ کو برا کہہ رہا تھا یہ کہہ کر احتجاج کیا کہ خدا اہل بدر کے حالات سے تم سے زیادہ واقف ہے اور اس نے کہہ دیا ہے،جو چاہو کرو ہم نے تمہیں معاف کردیا ہے ۔

جواب:آپ کے اس سوال کے جواب میں مندرجہ ذیل باتیں عرض ہیں!

امر اول:قرآن مجید میں سابقون اوّلون اور نیکی میں ان کی پیروی کرنےوالوں کا تذکرہ صرف اس ایک آیت میں کیا گیا ہے ۔

(سابقون اوّلون چاہے مہاجر ہوں یا انصار اور نیکی میں ان کی پیروی کرنے والے خدا ان سے راضی ہے اور وہ خدا سے راضی ہیں ان کے لئے باغات تیار کئے گئے ہیں جن میں نہریں بہتی ہیں،وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی عظیم کامیابی ہے)(1) ظاہر ہے کہ اس آیت شریفہ میں دو باتیں بیان کی گئی ہیں ۔

الف:سابقون اوّلون سے خدا کی رضایت کا اعلان ۔

ب:اللہ نے ان سے جنت کا وعدہ کیا ہےا ور فوز عظیم کا حکم لگایا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ توبہ:آیت: 100


لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ رضائے پروردگار کسی کے مرنے تک باقی رہے یعنی خدا ان سے مرنے کے وقت تک راضی رہے!

اخبار بالرضا کا مطلب یہ ہے کہ جس وقت اللہ نے اس کی خبر دی اس وقت وہ ان سے راضی تھا اور مخصوص وقت وہ ہے جب آیت شریفہ نازل ہوئی ۔ اس سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ یہ رضایت ان کے مرنے تک برقرار رہی اور وہ لوگ جب مرے تو اللہ ان سے راضی تھا،اس لئے کہ مولا اپنے بندے سے اسی وقت تک راضی رہتا ہے جب تک اس کا بندہ اس کا مطیع رہتا ہے چاہے وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرکے اس کو راضی کرے،حالات کی تبدیلی کے ساتھ رضائے مولا بھی بدلتی رہتی ہے،یہ بندے کے اعمال پر منحصر ہے،ایسا ہوتا ہے کہ آج بندے کی اطاعت شعاری سے خوش ہو کے مولا راضی ہوگیا پھر بندے نے اس کی نافرمانی کی اور وہ بندے سے غضبناک ہوگیا پھر جب بندے نے توبہ کی اور اس کی اطاعت کی تو مولا خوش ہوگیا،رضا اور غضب کا معاملی یونہی چلتا رہتا ہے،رضا کی شان یہ نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ باقی رہے اور زائل ہی نہ ہو،اس سے پتہ چلتا ہے کہ خدا کی رضا سے ان کی نجات پر استدلال کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

جنت کے وعدے کی وجہ سے سابقون اوّلون کی نجات پر استدلال

رہ گیا ان کے لئے جنت کا وعدہ اور ان کی عظیم کامیابی کا فیصلہ تو یقیناً اس سے دعوے پر استدلال کیا جاسکتا ہے اور ہم اس سلسلے میں آئندہ گفتگو کریں گے،لیکن پہلے ہم مدعا تو طے کرلیں اس کے بعد دیکھیں کہ آیت شریفہ اس پر دلالت کرتی ہے یا نہیں ۔

مدعا کے دو رخ ممکن ہیں

پہلی توجیہ یہ ہے کہ:(سابقون اوّلون کی سلامتی قطعی ہے اور جنت یقینی)

وجہ اول۔سابقون اوّلون قطعی طور پر آخرت میں سلامت رہیں گے اور نجات یافتہ ہونگے اور جنت حاصل کرلیں گےتو کیوں؟یا تو اس لئے کہ وہ گناہوں سے معصوم ہیں یا اس لئے کہ ان کی توبہ پر


قبولیت کا مہر لگ چکی ہے یا اس لئے کہ اللہ نے ان کو اپنی خاص مہربانی سے معاف کردیا ہے اور مغفور قرار دیا ہے،چاہے وہ گناہگاری کی حالت میں مرے ہوں ۔

آیت کریمہ اس کی طرف دلالت کرتی ہے،اس لئے کہ رضا کا تذکرے کے فوراً بعد ان کے لئے جنت کی تیاری کی اور ان کی کامیابی کی خبر دی گئی،جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کی سلامتی یقینی ہے،لیکن یہ بات یوں کٹ جاتی ہے کہ مندرجہ بالا وعدہ صرف سابقون اوّلون ہی سے مخصوص نہیں ہے،اس لئے کہ جو باتیں ان کے بارے میں وارد ہوئی ہیں،وہی باتیں دوسروں کے بارے میں بھی وارد ہوئی ہیں ۔

ہر مہاجر اور انصار کے لئے کامیابی اور جنت کا وعدہ

اللہ کا ارشاد ہے:(فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا وَقُتِلُوا لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ثَوَابًا مِّنْ عِندِ اللَّهِ وَاللَّهُ عِندَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ) (1)

ترجمہ آیت:(تو ان کے پروردگار نے ان کی دعا قبول کرلی اور فرمایا کہ ہم تم میں سے کسی کام کرنےوالے کے کام کو ضائع نہیں کرتے وہ مرد ہو یا عورت اس میں کسی کی کوئی خصوصیت نہیں،اس لئے کہ تم ایک دوسرے کی جنس ہو،جو لوگ آوارہ وطن ہوئے اور شہر بدر کئے گئے اور ہماری راہ میں اذیتیں اٹھائیں اور کفار سے جنگ کی اور شہید ہوئے ہیں میں ان کی برائیوں سے ضرور درگذر کروں گا اور انھیں بہشت کے ان باغون میں لے جاؤں گا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں،خدا کے یہاں یہ ان کے کام کا بدلہ ہے اور خدا کے پاس تو اچھا ہی بدلہ ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ آل عمران آیت 195


اور دوسری جگہ ارشاد ہوا:(وَالَّذِينَ هَاجَرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ قُتِلُوا أَوْ مَاتُوا لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللَّهُ رِزْقًا حَسَنًاوَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ-لَيُدْخِلَنَّهُم مُّدْخَلًا يَرْضَوْنَهُوَإِنَّ اللَّهَ لَعَلِيمٌ حَلِيمٌ) (1)

ترجمہ آیت:(اور جن لوگوں نے خدا کی راہ میں اپنے دیس چھوڑے پھر شہید کئے گئے یا آپ اپنی موت مرگئے،خدا انھیں آخرت میں ضرور عمدہ رزق عنایت فرمائےگا اور بیشک تمام روزی دینے والوں میں خدا ہی سب سے بہتر ہے،وہ انھیں ضرور ایسی(بہشت)پہنچائےگا جس سے وہ نہال ہوجائیں گے اور بیشک خدا بڑا واقف کار اور بردبار ہے) ۔

اسی طرح کی دوسری آیتیں بھی ہیں جن میں مہاجر کے لئے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے چاہے وہ سابقون میں سے نہ ہو بلکہ وعدہ میں عموم پایا جاتا ہے یعنی مہاجر کی لفظ مطلق وارد ہوئی ہے ہر اس شخص کے لئے جو بلاد کفر سے بلاد اسلام کی طرف ہجرت کرے،چاہے اسنے نبی ؐ کے دور میں ہجرت کی ہو یا نبی ؐ کے بعد ۔

ملاحظہ ہو ارشاد ہوتا ہے:(وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوا وَّنَصَرُوا أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَّهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ) (2)

ترجمہ آیت:اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور خدا کی راہ میں لڑے بھڑے اور جن لوگوں نے ایسے نازک وقت میں مہاجرین کو پناہ دی اور ان کی ہر طرح خبر گیری کی وہی لوگ سچے ایمان دار ہیں انہیں کے واسطے مغفرت اور عزت و آبرو والی روزی ہے) ۔

اس آیت کا مقتضا تو یہ ہے کہ سلامتی اور کامیابی سب کے لئے عام ہے چاہے وہ مہاجرین ہوں چاہے انصار ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ حج آیت 58 ۔ 59

( 2) سورہ انفال آیت 74


ہر صالح مومن کے لئے کامیابی کا وعدہ ہے

آیتوں میں تو عام مومنین کے لئے کامیابی اور جنت کا وعدہ ہے شرط یہ ہے کہ وہ مومن صالح ہو ۔ ارشاد ہوتا ہے:(وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ) (1)

ترجمہ آیت:(آپ خوش خبری دیں صاحبان ایمان اور عمل صالح کرنےوالوں کو کہ ان کے لئے جنت ہے جس میں نہریں جاری ہیں) ۔

ارشاد ہوتا ہوا: (وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُبَوِّئَنَّهُم مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا نِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ) (2)

ترجمہ آیت:(جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح انجام دیتے ہیں انھیں ہم ضرور جنت میں کمرے عنایت فرمائیں گے(وہ جنت)جس کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور عمل کرنےوالوں کو بہتر بدلہ ملےگا) ۔

دوسری جگہ ارشاد ہوا:(وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِلَهُم مَّا يَشَاءُونَ عِندَ رَبِّهِمْ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ-ذَٰلِكَ الَّذِي يُبَشِّرُ اللَّهُ عِبَادَهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ) (3)

ترجمہ آیت:(جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ بہشت کے باغوں میں ہوں گے وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے لئے ان کے پروردگار کی بارگاہ میں موجود ہے تو خدا کا بڑا فضل ہے،یہی(انعام)ہے جس کی خدا اپنے بندوں کو خوشخبری دیتا ہے،جو ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے) ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ بقرہ آیت 25

( 2) سورہ عنکبوت آیت 58

( 3) سورہ شوریٰ آیت 23،22


(اے رسول)تم کہہ دو کہ میں اس تبلیغ رسالت کا اپنے قرابت داروں(اہل بیت)کی محبت کے سوا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا اور جو شخص نیکی حاصل کرےگا ہم اس کے لئے اس کی خوبی میں اضافہ کردیں گے بیشک خدا بڑا بخشنےوالا قدردان ہے ۔

ہر مومن سے جنت اور کامیابی کا وعدہ ہے

بلکہ بعض آیتوں میں تو عمل صالح کی قید بھی نہیں لگائی گئی ہے،بلکہ مطلقاً تمام مومنین سے کامیابی اور جنت کا وعدہ کیا گیا ہے ملاحظہ ہو:

(وَعَدَاللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّهِ أَكْبَرُ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ) (1)

ترجمہ آیت:(خدا نے ایمان دار مردوں سے اور ایماندار عورتوں سے(بہشت)کے ان باغوں کا وعدہ کرلیا ہے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے،بہشتِ عدن میں عمدہ عمدہ مکانات کا بھی وعدہ فرمایا ہے،خدا کی خوشنودی ان سب سے بالاتر ہے یہی تو بڑی کامیابی ہے) ۔

ہر گنہگار اور بےراہ کو خسران اور عذاب کی وعید ہے

اسی طرح کتاب مجید اور سنت پاک میں ہر گنہگار اور کھ رو کو اس کے گناہ اور کجروی کی وجہ سے عذاب اور خسران کی دھمکی دی گئی ہے ۔

(وَمَن يُشَاقِقِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ)(2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ توبہ آیت 72

( 2) سورہ انفال آیت 13


ترجمہ آیت:(اور جو شخص بھی خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرے تو یاد رہے کہ خدا بہت سخت عذاب کرنےوالا ہے) ۔

ارشاد ہوا:(وَمَن يُشَاقِقِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ) (1)

ترجمہ آیت:(جس نے بھی خدا کی مخالفت کی(تو یاد رہے کہ)خدا بڑا سخت عذاب دینےوالا ہے) ۔

اور اسی طرح دوسری جگہ فرمایا:(وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَوَسَاءَتْ مَصِيرًا) (2)

ترجمہ آیت:(سورۂ نساء میں ارشاد ہوا:(اور جو شخص راہ راست کے ظاہر ہونے کے بعد رسول ؐ سے سرکشی کرے اور مومنین کے طریقے کے علاوہ کسی اور راہ پر چلے تو جدھر وہ پھر گیا ہے ہم ادھر ہی پھیر دیں گے اور آخر میں اسے جہنم میں جھونک دیں گے،وہ تو برا ٹھکانہ ہے) ۔

دوسری جگہ ارشاد ہوا :(وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا) (3)

ترجمہ آیت:(اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کے مار ڈ الے اس کی سزا صرف دوزخ ہے،وہ اس میں ہمیشہ رہےگا،خدا نے اس پر اپنا غضب ڈ ھایا ہے اور لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا سخت عذاب تیار کر رکھا ہے ۔

اس کے علاوہ بھی بہت سے آیتیں ہیں جن کا شمار ممکن نہین اور حدیثوں کا بھی یہی حال ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 2) سورہ حشر آیت 4

( 3) سورہ نساءآیت 114

( 4) سورہ نساءآیت 93


الہی وعدے حُسن خاتمہ سے مشروط ہیں

مذکورہ ساری آیتوں کو مد نظر رکھا جائے تو دو گروہ ہوجاتے ہیں ایک وعدوالے ہیں دوسرے وعیدوالے دونوں میں جمع کی صورت نکالنا بہت ضروری ہے اور وہ اس طریقہ سے کہ:

وعد کی دلیلیں ان کے لئے ہیں جن کا خاتمہ بالخیر ہو خاتمہ بالخیر بھی دو وجہ سے ہوسکتا ہے یا تو وہ دین حق اور عمل صالح پر آخر وقت تک قائم رہے ہوں یا تو یہ کہ درمیان میں غلطی ہوئی لیکن انہوں نے فوراً توبہ کر لی اور کجروی سے نکل کر حق کی طرف واپس آگئے ۔

آیتیں،حدیثیں دوسرےوالے سبب کا فائدہ پہنچاتی ہیں،ملاحظہ ہو: (يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ-إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ) (1)

ترجمہ آیت:ایسا دن کے جس میں نہ مال فائدہ پہنچائےگا نہ اولا مگر یہ کہ صاف اور سلیم دل کے ساتھ خدا کے پاس واپس آئے ۔

دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے: (إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ) (2)

ترجمہ آیت:(وہ لوگ جنھوں نے یہ کہہ دیا کہ ہمارا پروردگار تو بس خدا ہے پھر اپنی بات پر قائم رہے ان پر رشتے نازل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ڈ رو نہین اور غم نہ کرو تمھیں جنت کی بشارت ہو کہ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ۔

اور پھر دوسری آیت: (أُولَٰئِكَ جَزَاؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ-خَالِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ شعراءآیت 88 اور 89

( 2) فصلت آیت 30


وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ-إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ)(1)

ترجمہ آیت:(یہ وہ لوگ ہیں جو کو بدلے میں خدا کی فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ملی ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ان کے عذاب میں تخفیف ہوگی نہ ان کو مہلت دی جائےگی سوا ان لوگوں کے جنہوں نے اس کے بعد(گناہوں کے بعد)توبہ کی اور اپنی اصلاح کرلی تو بیشک اللہ بخشنےوالا اور رحم کرنے والا ہے) ۔

اب ظاہر ہے کہ اس آیت کو تو سابقون اولون پر بھی جاری کیا جائےگا اور اس آیت پر بھی جس سے آپ نے استدلال کیا ہے اس لئے کہ اس آیت میں خصوصی طور پر ان لوگوں کا تذکرہ ہے بلکہ خاص طور سے ان پر محمول کیا جارہا ہے جو عہد کی پابندی پر قائم رہے اور امر خدا سےمنحرف نہیں ہوئے ۔

صحابہ کو فتنہ اور پھر جانے سے بچنے کی ہدایت

خاص طور سے صحابہ کو یہ ہدایت دی گئی ہےہ وہ خود کو فتنہ اور اسلام سے برگشتہ ہوجانے سے محفوظ رکھیں ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو لوگ آگے چل کے بدل جائیں گے ان کے لئے عذاب اور خسران مبین ہی ہوگا،ارشاد ہوتا ہے:( مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَىٰ مَا أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ) (2)

ترجمہ آیت:(ایسا نہیں کہ برے بھلے کی تمیز کئے بغیر خدا اسی حالت پر مؤمنون کو چھوڑدے گا ۔ اور ایسا نہیں ہے کہ وہ تمہیں غیب کی باتیں بتادےگا مگر ہاں خدا اپنے رسولوں میں جسے چاہتا ہے(غیب کے لئے)چن لیتا ہے) ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ آل عمران آیت 87 تا 89 (2) سورہ آل عمران آیت 179


ظاہر ہے کہ اس آیت سے مراد وہ لوگ ہرگز نہیں ہیں جنہیں نزول آیت سے پہلے ہی منافقین کے نام سے بہچانا جاتا تھا جیسا کہ میں آپ کے دوسرےسوال میں متوجہ کرچکا ہوں ۔

دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:خطاب اوائل ہجرت کے مسلمانوں سے ہے بات واقعۂ بدر کی ہے جب کہ بعض صحابہ یا سب کے سب ان سابقون میں تھے جو آپ کی زبان میں سابقون ہیں

(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْوَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ-وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنكُمْ خَاصَّةًوَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ)(1)

ترجمہ آیت:(اے ایمان لانےوالو!جب ہمارا رسول ایسے کام کے لئے بلائے جو تمہاری روحانی زندگی کا باعث ہو تو تم خدا اور رسول کا حکم دل سے قبول کرو اور جان لو کہ وہ خدا قادر مطلق ہے کہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان آجاتا ہے اور یہ بھی سمجھ لو کہ تم سب کے سب اس کے سامنے حاضر کئے جاؤگے اور اس فتنہ سے ڈ رتے رہو جو خاص انہیں لوگوں پر نہیں پڑےگا جنھوں نے تم میں سےظلم کیا(بلکہ تم سب کے سب اس میں پڑجاوگے)اور یقین جانو کہ خدا بڑا سخت عذاب کرنےوالا ہے) ۔

عون ابن قتادہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے زبیر بن عوام نے بیان کیا پیغمبر ؐ ہمیں اس فتنہ سے ڈ راتے تھے جس کے بارے میں وہم و گمان بھی نہ تھا کہ ہم اس کے لئے پیدا ہوئے ہیں پھر مندرجہ بالا آیت پڑھی زبیر کہتے ہیں کہ ہم اس آیت کو ایک مدت تک پڑھتے رہے اور پھر ہم ہی اس آیت کا عنوان بن گئے راوی نے کہا جب ایسا،ہوا تو آپ لوگ اس فتنہ نکل کیوں نہیں گئے؟کہنے لگے تجھ پروائے ہو ہم جان گئے تھے لیکن صبر نہیں کرسکے ۔(2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ انفال آیت 24 اور 25

(2)سنن الواردہ فی الفتن ج1ص204،باب قول اللہ(واتقوا فتنۃ)تفسیر ابن کثیرج2ص300


اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو خاص طور سے ان لوگوں کو جو احد کے دن فرار کر گئے تھے جو سب کے سب یا ان میں سے زیادہ تر سابقون اولون میں سے تھے خطاب کر کے عذاب آمیز لہجے میں فرماتا ہے: (وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ) (1)

ترجمہ آیت:(محمد ؐ تو بس رسول ہے ان کے پہلے بھی بہت سے رسول گذرچکے ہیں تو اگر وہ مرگئے یا قتل ہوگئے تو کیا تم اپنے پچھلے پیروں واپس پلٹ جاؤگے؟اور جو اپنے پچھلے مذہب پر واپس جائےگا وہ خدا کا کوئی نقصان نہیں کرےگا اور خدا شکر گذاروں کو بدلہ دےگا) ۔

دوسری جگہ ارشاد ہوا:(وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُوَأُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ-يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌفَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ-وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِي رَحْمَةِ اللَّهِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ) (2)

ترجمہ آیت:ان لوگوں کے جیسے نہ ہوجانا جو آپس میں پھوٹ ڈ ال کے بیٹھے ہوں اور روزن دلیلیں آنے کے بعد بھی ایک منھ اور ایک زبان نہ ہوسکے اور ایسے ہی لوگوں کے لئے بڑا(بھاری)عذاب ہے اس دن سے ڈ رو جس دن کچھ لوگوں کے چہرے تو سفید نورانی ہوں گے اور کچھ لوگوں کے چہرے سیاہ،بس جن لوگوں کے منھ میں کالک لگی ہوگی ان سے کہا جائےگا تم تو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے تھے بولو(اور اب)اپنے کفر کی سزا میں عذاب کے مزے چکھو اور جن کے چہرے نورانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ آل عمران آیت144

(2)سورہ آل عمران آیت105تا107


ہوں گے وہ تو خدا کی رحمت میں رہیں گے اور ہمیشہ اسی کے سائے میں رہیں گے ۔

اور دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ) (1)

ترجمہ آیت:(اے ایمان لانےوالو!خدا کی اور اس کے رسول ؐ کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرو) ۔

اسی طرح کے مضامین پر مشتمل بہت سی آیتیں ہیں جن میں کچھ کا تذکرہ آپ کے سابقہ سوالات میں دوسرے سوال کے جواب میں ہوچکا ہے اور اس کے علاوہ بھی بہت سی آیتیں ہیں جنھیں میں نے ذکر نہیں کیا ہے ۔

ان تمام باتوں سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے جس آیت کو مقام استدلال میں پیش کیا ہے اس کو اس بات پر محمول کیا جائے کہ اس میں خاتمہ بالخیر ہونے کی شرط ہے(یعنی سابقین اولین ممدوح ہیں لیکن اس شرط پر کہ آخر تک ایمان و عمل صالح قائم رہے ہوں اور موت بھی ایمان کی حالت پر ہوئی ہو)جیسا کہ یہی دلیل ان تمام لوگوں کے بارے میں دی جاتی ہے جن کی سلامتی قطعی ہے آپ کے کلام میں یہی بات ظاہر ہوتی ہے اور میں نے اس کا تذکرہ نہیں کیا ہے اصل میں بات اتنی واضح ہے کہ اس پر مزید روشنی ڈ النے کی ضرورت نہیں ہے پھر گنجائش بھی نہیں ہے کہ لمبی چوڑی بحث کی جائے ۔

پھر کامیابی کا وعدہ مطلق کیوں؟

آیہ مذکورہ اور دوسری آیت میں اطلاق اسی شرط پر مانا جاسکتا ہے کہ اس آیت میں ممدوح حضرات کو ایمان پر استقامت بھی حاصل ہو اور خاتمہ بھی بالخیر ہو!یہ بات اتنی واضح ہے کہ محتاج دلیل نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ محمدآیت 33


بلکہ اتنی واضح ہے کہ اس شرط پر نص کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے اس لئے کہ سب جانتے ہیں کہ شرعی اور عقلی اعتبار سے کامیابی کا مستحق صرف وہ ہے جو ایمان اور عمل صالح رکھتا ہو یا عمل خیر کی طرف سبقت کرتا ہو تو ایمان اور عمل صالح کی غیر موجودگی میں کامیابی کوئی معنی نہیں رکھتی جو آدمی خدا کے فرائض کو انجام ہی نہ دیتا ہو اور صراط مستقیم کو چھوڑچکا ہو وہ کامیاب کیسے ہوسکتا ہے؟

تھوڑی سی گفتگو تا بعین کے بارے میں بھی ہوجائے

اگر آیہ شریفہ کو مندرجہ بالا معنی پر محمول نہیں کریں گے تو پھر تابعین کے لئے بھی اطلاق کو ماننا پڑےگا اس لئے کہ سابقین اوّلین کے احسان سے مراد ایمان اور عمل صالح ہے،تو اگر تھوڑے وقت کے لئے بھی سابقین اوّلین کے احسان پر وہ عمل پیرا ہوجاتے ہیں تو وہی قلیل مدت ہی انھیں تابعین کے زمرہ میں شامل کردےگی بھلے ہی بعد میں وہ بدل جائیں اور اگر سابقین کے احسان سے مراد یہ ہے کہ اس میں استمرار اور استقامت پائی جاتی ہو اور ان کا خاتمہ بالخیر یعنی وہ خدا سے راہ حق پر چلتے ہوے ملاقی ہوئے ہوں تو تابعین کا اتباع بھی اسی معنی میں محقق ہوگا،ورنہ کوئی سبب نہیں ہے کہ ہم تابعین کے لئے تو استقامت و استمرار اور خاتمہ بالخیر کی شرط لگائیں اور سابقین اوّلین کو آزاد چھوڑ دیں ۔

ہاں اگر اس آیت کی تفسیر اس طرح کی جائے کہ((مہاجرین و انصار میں سے جو سابقین اوّلین ہیں(1) اور وہ لوگ جو کہ ان کی پیروی کرتے ہیں احسان میں اور استقامت رکھتے ہیں اور اسی احسان و نیکی پر چلتے ہوئے(مرجاتے ہیں)تو اللہ ان سے راضی ہے......)

لیکن آیت شریفہ کا میرے بیان کردہ مطلب کے علاوہ کوئی مطلب بھی نہیں نکلتا ہے آپ بھی تھوڑا غور کریں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) کلمہ((اور))بڑھا دیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ سابقین اولین میں حُسن خاتمہ اور ایمان و عمل کی شرط نہیں ہے لیکن تابعین میں ہے(مترجم)


سابقون اوّلون میں کچھ لوگ مرتد بھی ہوگئے

1 ۔ سابقین اوّلین میں کچھ لوگ مرتد بھی ہوگئے تھے،جیسے عبیداللہ بن جحش وہ حبشہ کی طرف نکل گیا تھا اور وہاں جا کے نصرانی ہوگیا(1) کیا آپ کو اس کی ہلاکت میں شک ہے کیا آیت شریفہ اس کا بھی احاطہ کرتی ہے،نہیں آیت اس کو اپنے دائرے میں لینے سے قاصر ہے اور یہ قصور صرف اس لئے ہے کہ آیت میں استقامت کی شرط ہے جیسا کہ ابھی عرض کیا گیا اسی طرح نضیر بن حارث عبدری کا معاملہ ہے یہ نضر کا بھائی تھا نضر کو امیرالمومنین ؑ نے واقعہ بدر کے بعد حکم پیغمبر ؐ سے بند کر کے قتل کردیا تھا روایتوں میں ہے کہ یہ نضیر سابقین اوّلین میں تھا حبشہ کی طرف ہجرت بھی کی تھی پھر مکہ میں مرتد ہوکے واپس آیا فتح مکہ کے دن پھر مسلمان ہوگیا(2) یہ مولفۃ القلوب میں سے تھا حضور ؐ نے اس کی تالیف قلب کے لئے حنین کے دن اس کو سونا قے دیے اور یرموک میں شہید ہوا ۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) مستدرک علی صحیحین ج: 4 ص: 21 کتاب معرفۃ الصحابہ:ابی سفیان کی بیٹی ام حبیبہ نے ذکر کیا ہے۔حاشیۃ ابن القیم ج: 6 ص: 75 عون المعبودج: 6 ص: 74 ،تھذیب التھذیب ج: 12 ص: 437 ،حبیبۃ بنت عبیداللہ بن جحش سوانح حیات میں،تھذیب الکمال ج: 35 ص: 175 ،رملۃ بنت ابی سفیان کی سوانح حیات میں،التعدیل و التجریح لمن خرج لہ البخاری فی الجامع الصحیح ج: 3 ص 1283 رملۃ بنت ابی سفیان کی سوانح حیات میں،الاستیعاب ج: 3 ص: 877 فی ترجمۃ عبداللہ بن جحش سوانح حیات میں،ج: 4 ص: 1809 حبیبۃ ابنۃ ابی سفیان کی سوانح حیات میں،ص: 1844 ،رملۃ بنت ابی سفیان سوانح حیات میں،الاصابۃ ج: 7 ص 651 رملۃ بنت ابی سفیان کے سوانح حیات میں،الاکمال لابن ماکولا ج: 7 ص: 125 ،کبیر و کثیر و کثیر و کنیز و کنیز کے باب میں،السیرۃ النبویۃ ج: 2 ص 51 ،ذکر کیا ہے ورقۃ ابن نوفل بن اسد نے تاریخ دمشق ج: 3 ص: 173 النبی محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب کی سوانح حیات میں:جناب عبدالمطلب کے لڑکے و لڑکیوں اور بیویوں کے باب میں،ص: 415 باب اخبار الاخبار بنبوتہ و الرھبان و ما یذکر من امرہ عن العلماء و الکھان،

( 2) الاصابۃ ج: 6 ص: 430 ،نضر بن الحارث کے سوانح حیات میں،انساب الشراف ج: 1 ص 232 ،ان لوگوں کے نام کے بارے میں جن مسلمانوں نے حبشہ کی طرف اپنے دین کی خاطر لڑنے کے لئے مشرکوں سے جو قریش میں سے تھے اور وہ نبیؐ کے اذن سے تھی۔تاریخ دمشق ج: 62 ص 105 ،نضیر بن الحارث کے سوانح حیات میں۔

( 3) الاصابۃ ج: 6 ص: 436 ،نضر بن الحارث کے سوانح حیات میں،الاستیعاب ج: 4 ص: 1525 ،نضر بن الحارث کے سوانح حیات میں،تاریخ دمشق ج: 62 ص 101 ،نضیر بن الحارث کے سوانح حیات میں،


سابقین اوّلین کے حالات ایسے نہیں کہ سب کی کامیابی کا یقین کر لیا جائے!

2 ۔ سابقین اوّلین کا کردار اور ان کے آپسی اختلافات اور اپنے بارے میں ان کے نظریات یا دوسرے صحابہ کے ان کے بارے میں نظریات کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا تو قطعی مناسب نہیں ہے کہ سب کے سب کامیاب و کامران ہیں ہم نے اس سلسلہ میں دوسرے نمبر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کچھ باتیں پیش بھی کی تھیں وہ واقعات اگر چہ عام صحابہ متعلق ہیں لیکن اکثر واقعات تو خاص طور سے سابقون اوّلون سے متعلق ہیں آپ اپنے دوسرے سوال کے جواب کو دیکھیں بات واضح ہوجائے گی میں ان باتوں کا اعادہ کرنا ضروری نہیں سمجھتا ۔ آپ جانتے ہیں کہ سقیفہ کے دن لوگوں نے سعد بن عبادہ انصاری کی بیعت کرنا چاہی تو ابوعبیدہ انصاری بول اٹھے،اے گروہ انصار تم لوگوں نے سب سے پہلے نبی ؐ کی نصرت کی تھی کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی دین نبی ؐ میں سب سے پہلے تغیر و تبدل دینےوالے بن جاؤ!(1)

آپ دیکھ رہے ہیں کہ ابوعبیدہ تغیر سے ڈ را رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ نصرت میں سبقت تغیر کے ساتھ فائدہ نہیں دےگی بلکہ استقامت کے ساتھ فائدہ دےگی،یہ تمام باتیں شہادت دیتی ہیں کہ صحابہ اگر چہ ایسے ماحول میں تھے جس میں یہ آیت نازل ہوئی تھی لیکن پھر بھی خود کو یقینی طور پر نجات یافتہ اور کامیاب نہیں سمجھتے تھے اور اس آیت کے گرد و پیش جو قرینے ہیں ان پر نظر رکھتے تھے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)تاریخ یعقوبی ج:2ص:123،سقیفہ بنی ساعدۃ و بیعتہ ابی بکر کی خبر میں،واللفظ لہ،تاریخ الطبری ج:2ص:243ذکر الخیر عما جری بین المھاجرین و الانصار امر الامارۃ فی سقیفۃ بنی ساعدۃ،الامامۃ و السیاسۃ ج:1ص:12ذکر السقیفۃ و ما جری فیھا من القول،


سابقین اوّلین کو قطعی طور پر نجات یافتہ مان لینا انھیں برائیوں کی طرف ترغیب دینا ہے

3 ۔ ظاہر ہے کہ مذکورہ بالا آیت بہت سے سابقون اولون ہی کی زندگی میں نازل ہوچکی تھی یہ بات بعید از فہم ہے کہ اللہ سابقون اولون کو استقامت کی شررط کے بغیر اور دین سے پھر جانے کی قید کے بغیر ہی سلامتی اور کامیابی کا یقین دلا دے،اس سے تو ان سابقون اولون کو برائی کی ترغیب ملےگی عقل کا فیصلہ ہے کہ سب سے بڑی خرابی عقیدہ اور عمل میں انقلاب اور کجی ہے عیقدہ اور عمل ہی قیامت کے دن خدا کی سب سے بڑی حجت ہوں گے اس لئے کہ انہیں کے ذریعہ خوف ہلاکت سے بچا جاسکتا ہے جب عقیدہ اور عمل ہی معاف کردیا گیا(تو گویا سابقون اولون حساب سے بری ہوگئے)تو برائیوں سے روکنے کی دعوت بھی ہلکی ہوجائےگی اور یہ بات لوگوں پر قیام حجت الٰہی کی حکمت کے خلاف ہے نیز اس طرح سے(چھوٹ دے کر)خدا ان کی اصلاح نہیں کرسکتا سلامت قطعی کا وعدہ خدا کا ابتدائی فضل بھی نہیں ہے کہ ان لوگوں کی اطاعت کے ذریعہ اظہار تشکر کرنے سے روک رہا ہے بلکہ یہ وعدہ شخص موعود کے عمل کی بنا پر کیا گیا ہے اس لئے کہ عمل صالح اور خیالی دنیا میں مراتب کامیابی عام انسانوں کے اندر غرور،تفاخر اور اتراہٹ پیدا کرتے ہیں عام انسان تو ان خرابیوں کا شکار ہو ہی جاتا ہے،)ہاں اگر اللہ کی طرف سے توفیق حاصل ہو تو بچ سکتا ہے ۔

پھر یہ بھی تو دیکھئے کہ سابقون اولون کے درمیان آپس میں کتنی صف بندی ہے سابقہ نظریات اور موہوم مراتب کی وجہ سے ہر آدمی اولویت کا دعوےدار ہے اور آپس کا اختلاف دعوت اور اتباع کو مستقل نقصان پہنچاتا رہا ہے نتیجہ ظاہر ہے سابقون اولون کی تاریخ تفاخر اختلافات اور آپس کی فرقہ بندی سے بھری پڑی ہے جب کہ صحیح یہ ہے کہ کسی کو بھی اپنی نجات کا یقین نہیں اور پھر کوئی بھی اخروی کامیابی قطعی نہیں سمجھتا بلکہ اکثر سابقون اولون تو آخرت سے خوف زدہ ہیں جبکہ انھیں نہیں معلوم کہ ان کا


ٹھکانہ کہاں ہے؟یہ باتیں پہلے بھی میں آپ کی خدمت میں دوسرے سوالوں کے جواب میں عرض کرچکا ہوں(وہ اپنے انجام کے بارے میں مشکوک تھے اس کے باوجود تاریخ ان کی بےراہ روی سے بھری پڑی ہے)تو اگر انھیں آخرت کی سلامتی اور نجات کا یقین دلا دیا جاتا تو وہ کیا گل کھلاتے؟ویسے بھی یہ بات ہرگز نہیں سمجھ میں آتی کہ اللہ کسی ایک آدمی کو اس کی زندگی ہی میں جنت کا یقین دلادے چہ جائے کہ ایک پوری جماعت کو جو کہ تفاخر اور آپسی لڑاتئی جھگڑے و غیرہ کی مرتکب ہو نیز امت کی قیادت کے لئے مقابلے میں اترسکتی ہے جیسا کہ ابھی تک ایسا ہوتا چلا آتا ہے پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے جب کہ حضور سرکار دو عالم ؐ جن کی رفعت سے کسی کو انکار نہیں نہ اس سے انکار ہے کہ آپ نے خواہش نفسانی پر قبضہ پالیا ہے لیکن اللہ مقام ہدایت میں آپ کی بھی تبلیغ یا دہانی سے نہیں چوکتا اور آپ کو انحراف اور کجی کا انجام بار بار تباتا ہے تا کہ آپ بھی محتاط رہیں اور دوسرے بھی سمجھ لیں کہ جب انحراف اور گمراہی نبی ؐ کے لئے ہلاکت خیز ہوسکتا ہے تو ہم اور آپ کس شمار میں آتے ہیں ۔

ارشاد ہوا:(وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ) (1)

ترجمہ آیت:(میں نے آپ پر اور آپ کے پہلے انبیا پر وحی نازل کرکے یہ بتا دیا ہے کہ اگر آپ شرک کریں گے تو آپ کے سارے اعمال حبط ہوجائیں گے اور آپ یقیناً بہت نقصان اٹھانےوالوں میں ہوں گے) ۔

پھر دوسری جگہ ارشاد ہوا:(وَلَوْلَا أَن ثَبَّتْنَاكَ لَقَدْ كِدتَّ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيلًا-إِذًا لَّأَذَقْنَاكَ ضِعْفَ الْحَيَاةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيرًا) (2)

ترجمہ آیت:(اگر میں نے آپ کو ثابت قدم کی توفیق نہیں دی ہوتی تو آپ(کافروں کی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ زمرآیت 65

( 2) سورہ اسراءآیت 74 اور 75


طرف تھوڑ ٓ سا جھک جاتے اور اگر ایسا ہوتا پھر آپ مرمر کے جیتے جب بھی آپ کو میرے خلاف کوئی مددگار نہیں ملتا) ۔

دوسری جگہ ارشاد ہوا:(وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ-لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ-ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ-فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ) (1)

ترجمہ آیت:(اگر رسول ؐ ہماری نسبت کوئی جھوٹ بات بنالاتے تو ہم انکا داہنہ ہاتھ پکڑ لیتے پھر ہم ضرور ان کی گردن اڑادیتے تو تم میں سے کوئی بھی مجھے روک نہ سکتا) ۔

خود حضور سرکار دو عالم ؐ فرماتے ہیں کہ:رحمت کی مدد سے صرف عمل ہی نجات دے سکتا ہے اگر میں بھی نافرمانی کروں تو برباد ہوجاؤں گا(2) اور اس طرح کی بہت سی حدیثیں ہیں ۔

سابق الایمان ہونے سے ذمّہ داریاں بڑھ جاتی ہیں

البتہ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ آیت شریفہ کا ظاہری معنی یہ ثابت کرتا ہے کہ بہرحال ایمان پر سبقت اور عمل صالح ایک بڑی فضیلت ہے لیکن سابقین ایمان کی ذمّہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں اس لئے کہ مومن کی شان جس قدر بلند ہوتی ہے اور جیسے جیسے اس کو رفعت حاصل ہوتی جاتی ہے اور ان پر خدا کی نعمتیں بڑھتی جاتی ہے اور اس کی حمایت میں دلیلیں اکھٹی ہوتی جاتی ہیں اور اسی حساب سے اس کی ذمّہ داری بھی بڑھ جاتی ہے اور اس کے ایمان اور یقین کے لئے خطرے بھی بہت پیدا ہوجاتے ہیں تو اگر وہ اپنی ذمّہ داریوں سے عہد برآ ہوتا رہتا ہے اور اپنی بلند کرداری اور سیرت کو برقرار رکھتا ہے تو اس کی شان بھی بڑھتی رہتی ہے اور اجر بھی بڑھتا رہتا ہے لیکن اگر اس کا دل ٹیڑھا ہوجائے اور وہ پستیوں کی طرف جھک جائے تو اسی حساب سے اس کی سزا بھی بڑھ جاتی ہے اس لئے کہ اس پر تو حجت تمام ہوچکی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ حاقہ آیت 44 تا 47

( 2) شرح نہج البلاغہ ج: 1 ص: 184 ،الارشاد للشیخ المفیدج: 1 ص: 182


خود سوچیں سابقوں اولون اپنے بعد آنےوالوں کے لئے نمونہ عمل ہیں اگر وہی کجرو اور گمراہ ہوگئے تو بعد کے آنےوالے ان کی پیروی میں گمراہ ہوں گے،پھر ان کی گمراہی کا سبب کون بنا ظاہر ہے جن کی ان لوگوں نے پیروی کی ہے نتیجہ یہ ہوا کہ سابقون اولون اپنی گمراہی کی وجہ سے دو گنا عذاب کے مستحق قرار پائے یعنی ان کی مسؤلیت نے انہیں دو گنا عذاب کا مستحق بنادیا،جیسا کہ یہ ساری باتیں سابقہ سوالوں کے دوسرے سوال کے جواب میں کہہ چکے ہیں ۔

کیا سابقون اولون کے معاملے میں دخل دینا چاہئے

دوسری وجہ ۔ آپ کے سوال سے ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے،وہ یہ ہے کہ اگر سابقون اولون کی نجات یقینی نہیں ہے نہ ان کی کامیابی یقینی ہے لیکن پھر متاخرین کو ان پر ان کی حرکتوں کی وجہ سے اور بدکرداری کی وجہ سے اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہے متاخرین کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ان پر جرح کریں یا طعن کریں اس لئے کہ انھیں بہرحال ایمان میں سبقت حاصل ہے اور یہی حرمت سبقت ہمیں روکتی ہے ہمیں چاہئے کہ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کردیں وہ ان کا حساب لےگا وہ چاہےگا تو عدالت کی بنیاد پر سزا دےگا اور چاہےگا تو اپنے فضل سے بخش دےگا(ہم کون ہوتے ہیں انہیں برا بھلا کہنےوالے ان کی حرمت سبقت کا تو خیال ہمیں کرنا ہی چاہئے)دوسرے لفظوں میں ہمیں ان کے بارے میں کچھ نہیں بولنا چاہئے اگر چہ ہمیں ان کی نجات اور کامیابی کا یقین نہین ہے لیکن معاملہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ چاہے تو ان گناہوں کی وجہ سے انہیں سزا دے اور ان کی بدفعلوں کا مواخذہ کرے لیکن ہم متاخرین کو حق حاصل نہیں ہے کہ ہم ان کے معاملات میں دخل دیں انہیں لعن و طعن کریں اس لئے کہ وہ بہرحال ہم سے سابق ہونے کی وجہ سے محترم اور بلند ہیں اور ہم اس سطح پر نہیں کہ ان پر تنقید کریں خدا نے انہیں اس مقام خاص سے مخصوص کیا یہ سوال تو پیدا ہوتا ہے ۔

لیکن میں عرض کروں گا کہ آپ کی مندرجہ بالا باتیں ثبوت کی محتاج ہیں اس لئے کہ جس آیت


کو آپ نے دلیل بنایا ہے وہ اس بات پر دلالت نہیں کرتی اس آیت کریمہ میں سابقون اولون کے بارے میں عوام کا نظریہ نہیں پیش کیا گیا ہے خدا کا نظریہ پیش کیا گیا ہے اور اگرچہ آیت ان کی کامیابی اور سلامتی کی ضمانت لیتی ہے لیکن پہلے عرض کرچکا ہوں کہ سلامتی کا یقین استقامت اور حُسن انجام سے مشروط ہے،آیت ان لوگوں کو اپنے دائرے میں لینے سے قاصر ہے جن کے اندر استقامت نہیں پائی جاتی اور جنہوں نے بعد میں اپنے عقیدے اور سلوک میں کجروی اختیار کرلی ۔ لہذا ضروری ہے کہ ادلہ عامہ کی طرف دیکھا جائے کہ عمومی طور پر قرآن کا کیا اصول ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کہتا ہے بزرگ لوگوں سے صرف ان کی بزرگی کی خاطر عقیدت رکھنا حرام اور ان پر لعن طعن ضروری اور ان کی جرح و تنقید واجب ہے ملاحظہ فرمائیں:(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ قَدْ يَئِسُوا مِنَ الْآخِرَةِ كَمَا يَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ أَصْحَابِ الْقُبُورِ) (1)

ترجمہ آیت:(جن پر اللہ نے اپنا غضب نازل کیا ہے اور وہ آخرت سے یوں ہی مایوس ہوگئے جس طرح کفار اصحاب قبور سے مایوس ہیں) ۔

ارشاد ہوا:(وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ) (2)

ترجمہ آیت:(ظالموں کی طرف مت جھکو ورنہ تمہیں آگ جلادےگی) ۔

(فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ-أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَىٰ أَبْصَارَهُمْ)(3)

ترجمہ آیت:(کیا تم سے کچھ دور ہے کہ اگر تم حاکم ہوتے تو روئے زمین میں فساد پھیلاتے اور رشتے ناتے کو توڑنے لگتے یہ وہی لوگ ہیں جن پر خدا کی لعنت کی ہے اور ان کے کانوں کو بہرا اور آنکھوں کو اندھا کردیا ہے) ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ ممتحنہ آیت 13 (2) سورہ ھود آیت 113

( 3) سورہ محمد آیت 22 اور 23


دوبارہ ارشاد ہوا: (إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ) (1)

ترجمہ آیت:(بیشک وہ لوگ جو ان روشن ہدایتوں کو چھپاتے ہیں جنہیں اللہ نے نازل کیا ہے اور لوگوں کے لئے وضاحت کردی ہے ان پر اللہ کی لعنت ہے اور لعنت کرنےوالے ان پر لعنت کرتے ہیں) ۔

پھر دوسری جگہ ارشاد ہوا: (وَالَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَٰئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ) (2)

ترجمہ آیت:(اور وہ لوگ جو اللہ سے عہد کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اللہ نے جن رشتوں کو جوڑنے کا حکم دیا ہے ان کو توڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے لعنت ہے اور ان لوگوں کے لئے برا گھر ہے) ۔

اس مضمون کی دوسری آیتیں بھی ہیں ۔

میرا خیال ہے کہ صحابہ تابعین اور ان کے بعد آنےوالے چاہے وہ سابقون اولون میں سے ہوں یا دوسرے لوگ ان کے بارے میں یہی سب سے بہتر نظریہ ہے،اس لئے کہ جو احکام ان پر جاری ہوتے ہیں وہی ہم پر بھی جاری ہونگے کیونکہ ہم دین میں ان کے شریک اور شریعت میں ان سے متحد و متفق ہیں ۔

سابقون اوّلون مشخص ہی نہیں ہیں!

سابقون اولون کون ہیں ان کا مشخص کرنا مشکل ہے مثلاً بہت سے مہاجرین و انصار متاخر ہیں لیکن اپنے بعد والے کے لئے وہی سابقین اولین ہیں اور وہ اپنے بعد والوں کی نسبت سے سابقون

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ بقرہ:آیت 159 (2) سورہ رعدآیت 25


میں شامل ہوجاتے ہیں پھر ان کی حد بندی مشکل ہے ہاں یہ ممکن ہے کہ اس لفظ کے معنی کو چند افراد میں جامد کردیا جائے یعنی بس وہی لوگ سابقون اولون ہیں جو اسلام کی طرف پہلی دعوت کے وقت اسلام میں داخل ہوئے اور نبی ؐ کی آواز پر لبیک کہی ظاہر ہے کہ یہ چند افراد ہوں گے جنہیں انگلیوں پر شمار کیا جاسکتا ہے اور ان کی نجات کا یقین ہونا صحیح لگتا ہے وہ بھی اس لئے نہیں کہ آیہ شریفہ میں سابقون اوّلون سے نجات کا وعدہ کیا گیا ہے بلکہ اس لئے کہ ان کے حالات صحیح تھے اور ان کا خاتمہ اسلام پر ہوا ہے اگر ایسا ممکن ہو تو ان کے حالات دیکھ کر ان کی سلامتی کو یقینی قرار دیا جاسکتا ہے لیکن سابقون اوّلون کی لفظ کی عموم پر محمول کرنا اور ان لوگوں کو سابقون اوّلون میں شامل کرنا جن کو عام آدمی سابقون اوّلون سمجھتا ہے تو اس کو ثابت کرنےکے لئے دلیل لانی پڑےگی اگر دلیل مل بھی جائے تب بھی سابقون اوّلون کی دقیق حد بندی کرنا دشوار ہے ۔

سابقون اوّلون نقد و جرح سے بالاتر نہیں ہیں اس پر امت کا اجماع ہے

میرے خیال میں جمہور مسلمین بھی سابقون اولون کو جرح و تنقید سے بالا نہیں سمجھتا اور ان کو صرف اس وجہ سے کہ ان کی سلامتی قطعی اور نجات یقینی ہے کوئی خاص خصوصیت دیتے(چاہے شیعہ مسلمان ہو یا سنّی،یعنی سابقون اوّلون کی مذکورہ بالا خصوصیت کی بنیاد پر انھیں کوئی خاص امتیاز حاصل نہیں ہے)

جہاں تک شیعوں کا سوال ہے تو یہ تو سبھی جانتے ہیں(کہ یہ قوم شخصیت پرست نہیں اور کسی کے رعب میں اس کی سبقت و غیرہ کی وجہ سے نہیں آنےوالی)لیکن اہل سنت اکثریت کے نزدیک صحابی وہ ہے جو پیغمبر ؐ کو دیکھے اور ان سے حدیث سنے اور بعض وہ لوگ ہیں جبھیں صحابہ کی تنقید انھیں مجبور کرتی ہے اور وہ ان کے حالات جاننے کی کوشش کرتے ہیں میں نے آپ کے دوسرے سوال کے جواب میں اس سلسلے میں بہت کچھ عرض کردیا ہے ۔


صحابہ کی لفظ کا صرف سابقون اوّلون پر محمول کرنا ہی قابل تامل ہے

دوسرا امر ۔ آپ نے فرمایا عام مسلمان سابقون اوّلون ان لوگوں کو سمجھتے ہیں جو احادیث نبی ؐ اور قرآنی آیات میں صحابہ یا اسی کے ہم معنی لفظ سے یاد کئے جاتے ہیں،

جواباً عرض ہے کہ پورے قرآن میں اصحاب نبی ؐ کو صحابہ کے نام سے صرف ایک جگہ معنوں کیا گیا ہے،ارشاد ہوتا ہے کہ:(إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا) (1)

ترجمہ آیت:(اگر تم اس کی مدد نہیں کروگے تو نہ کرو اللہ اس کی مدد کرے گا جب اس کو(نبی ؐ کو)کفار نے مکہ سے نکال دیا تھا تو وہ دو میں کا دوسرا تھا جب وہ دونوں نماز میں تھے جب وہ اپنے صحابی سے کہہ رہا تھا کہ ڈ رو نہیں اور غم نہ کرو بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اپنے نبی ؐ پر سکینہ نازل کیا اور ایسے لشکر سے مدد کی جس کو تم نہیں دیکھ سکتے) ۔

اس آیت میں ظاہر ہے کہ صاحب سے مراد صحبت مکانی ہے اور بس اب رہ گیا دوسری آیتوں میں خطاب تو وہ صحابی کی لفظ سے ہے ہی نہیں بلکہ مخاطب عام مومنین ہیں ۔

ارشاد ہوتا ہے:(مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُعَلَىالْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ...) (2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ توبہ آیت 40

( 2) سورہ فتح آیت 29


ترجمہ آیت:محمد ؐ اللہ کے رسول ہیں اور وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے کافروں پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں تم انہیں رکوع اور سجدہ کی حالت میں پاؤگے وہ خدا کے فضل کو تلاش کرتے رہتے ہیں ان کی پیشانیاں نشان سجدی سے چمکتی رہتی ہیں،ان کی مثال تو راۃ میں اور انجیل میں...

صدر آیت کے الفاظ تو عموم کا تقاضا کرتے ہیں ہر وہ شخص جو نبی ؐ کے ساتھ ہے وہ عام طور پر صحابی کہا جاتا ہے اس آیت کے تحت تو ہر وہ آدمی جو نبی ؐ کے ساتھ ہے چاہے سابقون اوّلون میں ہو چاہے ان کے بعد والا صحابی کہا جاسکتا ہے مشکل یہ ہے کہ آپ کے قول کے مطابق صحابہ صرف سابقون اوّلون کو کہا جاتا ہے لیکن آیت صحابیت کی حدود کو وسعت عنایت کر رہی ہے اس لئے یہ آیت سورہ فتح کی ہے اور سورہ فتح صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی تھی جب لوگ کثرت سے مسلمان ہوچکے تھے صلح حدیبیہ میں تو بہت سے مسلمان ہلاکت کے قریب پہنچ چکے تھے اس لئے کہ انہوں نے نبی ؐ کی آواز پر لبیک نہیں کہی تھی جیسا کہ حدیثوں میں وارد ہے اور آپ کے سوال ثانی کے جواب میں لکھا جاچکا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ یہ آیت صلح حدیبیہ کے سال میں جو عمرہ قضا ہوا تھا اس کی ادائیگی کے وقت نازل ہوئی ہو اور اس سال تو لوگ کثرت سے مسلمان ہوچکے تھے بلکہ بہت سے لوگ ضعف الایمان بھی تھے جو دائرہ اسلام میں داخل ہوکے کلمہ پڑھ چکے تھے البتہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ آیت انہیں لوگوں پر محمول ہوتی ہے جن کے اندر آیت کی بیان کردہ صفتیں پائی جاتی ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ لوگ صحابہ کی اس خاص قسم سے تعلق رکھتے تھے جنہیں ان کی دینی قوت دین کے لئے فعالیت اور نبی ؐ کی سیرت اور کردار کو اپنانے کی وجہ سے عف عام میں انھیں خاص صحابی سے تعبیر کیا جاتا تھا اکثر انھیں ہی مقام مدح میں صحابی کہا جاتا تھا اس لئے کہ عرف عام میں کسی کو صحابی اس وقت کہتے ہیں جب وہ رئیس کا خاص آدمی ہو جس سے اس کی خاص معاشرت ہو اور وہ ان کے ساتھ مل کے کام کرتا ہو اور صحابی اس رئیس کی سیرت پر چل رہا ہو ۔

ظاہراً سابقون اوّلون اور اس آیت کے ممدوحین کے درمیان کسی طرح کا تطابق لازم نہیں ہے بلکہ ممکن ہے کہ بہت سے سابقون اوّلون میں آیت کی بیان کردہ صفتیں مفقود ہوں جس طرح یہ ممکن


ہے کہ غیر سابقون اوّلون میں آیت کی بیان کردہ صفتیں موجود ہوں ظاہر ہے کہ ان صحابہ کو پہچاننے کے لئے اور ان کا یقین کرنے کے لئے ان کے ذاتی کردار ان کی زندگی کے واقعات ان کا چال چلن اور ان کی سریت کا ناقدانہ مطالعہ تو کرنا ہی پڑےگا ۔

ایک بات اور قابل توجہ ہے کہ آیت شریفہ میں بیان کردہ تمام صفات عالیہ کے باوجود خدا نے انہیں سلامتی اور نجات کا یقین نہیں دلایا ہے،نہ ہی ان سے کامیابی کا وعدہ کیا،مگر یہ کہ استقامت اور ایمان و عمل صالح پر ثابت قدم رہنے کی شرط لگادی ہے ملاحظہ ہو اس آیت کا اختتامیہ.ارشاد ہوتا ہے: (وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا) (1)

ترجمہ آیت:(ان لوگوں میں جو لوگ مومن رہے اور عمل صالح کرتے رہے ان سے اللہ نے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے) ۔

ظاہر ہے کہ جب اللہ ایسے پاک اور پاکیزہ لوگوں کے لئے مغفرت اور اجر عظیم میں استقامت کی شرط لگاتا ہے تو پھر دوسروں کے لئے کیوں نہیں شرط لگائےگا؟

اب رہ گیا سنّت شریفہ کا سوال تو میری یہ سمجھ میں نہیں آتا ہے احادیث نبوی میں جو حدیثیں صحابہ کی مدحت میں وارد ہوئی ہیں انھیں سابقون اوّلون پر اور مذمت والی احادیث کو غیر سابقین پر حمل کیا جاسکتا ہے؟کیا یہ زبردستی اور بےدلیل قرینہ حکم نہیں ہے؟(مذمت والی بعض احادیث حدیث خوض کی بحث میں گذرچکی ہیں جنھیں دوسرے سوال کے جواب کے ضمن میں دیکھا جاسکتا ہے ۔ )اگر کوئی قرینہ ہے تو وہ زبردستی اور ہٹ دھرمی کے قرینے کے علاوہ کچھ نہیں ہے،ان حدیثوں کے مضامین میں کچھ تو عموم کا فائدہ دیتے ہیں یعنی قرینہ عموم پایا جاتا ہے،آپ کے دوسرے سوال کے جواب میں عرض کیا تھا کہ نبی ؐ نے اصحاب کو خطاب کرکے فرمایا((تم ضرور ضرور پیروی کروگے اپنے پہلے والوں کی حتیٰ کہ اگر وہ سوسمار کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی ان میں داخل ہوگے))اس حدیث میں حضرت نے کسی مخصوص مسلمان کے بارے میں نہیں کہا ہے ایسی عام بات فرمائی کہ تم اُمَم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ فتح آیت29


سابقہ کی طرح انحراف کروگے اس عموم میں سب شامل ہیں بلکہ وہ بھی جو صحابہ میں صاحب مقام شمار کئے جاتے ہیں اس لئے کہ اُمَم سابقہ میں بہت سے مقام و منزلت والے بھی انحراف اور کجروی کا شکار ہوگئے تھے جیسے امت موسیٰ ؑ کا خالہ زاد بھائی تھا یہ جعفر صادق علیہ السلام کا قول ہے(1) اور ابن عباس(2) کا بھی یہی قول ہے ابن اسحٰق(3) کہتے ہیں چچازاد بھائی تھا اور سامری شان اور مرتبہ والا تھا(عام لوگوں سے اس کی نگاہیں تیز تھیں)قرآن کہتا ہے کہ:(قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوا بِهِ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ أَثَرِ الرَّسُولِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذَٰلِكَ سَوَّلَتْ لِي نَفْسِي) ( 4 )

ترجمہ آیت:(سامری نے کہا مجھے وہ چیز دکھائی دی جو اوروں کو نہ سوجھی جبرئیل گھوڑے پر سوار جارہے تھے تو میں نے جبرئیل(فرشتے کے گھوڑے)کے نشان کے قدم کی ایک مٹھی خاک اٹھالی اس وقت میرے نفس نے اس کا سوال کیا) ۔

(قرینہ کہتا ہے کہ سامری اور قارون دونوں ہی امت موسیٰ کے سابقون اوّلون میں شامل تھے)یہ سمجھنا بعید از فہم ہے کہ انھوں نے موسیٰ کی دعوت قبول کرنے میں تاخیر کی ہوگی یا ان کی تصدیق کرنے میں کوتاہی کی ہوگی(اس لئے عذاب کا شکار ہوئے نہیں بلکہ وہ لوگ پہلے ہی دعوت موسیٰ پر لبیک کہہ چکے تھے اور شریعت موسیٰ کو گلے لگا چکے تھے کیوں کی دعوت موسوی بنی اسرائیل کی نجات پر مبتنی تھی یہی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے ۔

اس کے قبل ایک حدیث موطا ابن مالک سے پیش کی جاچکی ہے،مجھ سے مالک نے اور ان سے عمر بن عبیداللہ کے غلام ابونضر نے بیان کیا کہ ان تک یہ بات پہنچی کہ حضور ؐ نے شہدا احد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)مجمع البیان ج:7ص:459

(2)مجمع البیان ج:7ص:459

(3)تفسیر القرطبی ج:13ص:310،تفسیر الطبری ج:20ص:105،تفسیر ابن کثیرج:3ص:400

(4)سورہ طٰہ آیت:96


کے بارے میں فرمایا:پالنےوالے میں ان پر گوہ ہوں،ابوبکر نے کہا یا رسول اللہ ؐ کیا ہم ان کے بھائی نہیں ہیں حضور ؐ نے فرمایا ہاں تم بھائی ہو لیکن مجھے نہیں معلوم کہ تم میرے بعد کیا کروگے؟،پھر نافع کی روایت بھی عرض کی جاچکی ہے وہ عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ سرکار ؐ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور آپ نے عایشہ کے گھر کی طرف اشارہ کر کے تین بار فرمایا،یہاں فتنہ ہے،یہیں سے شیطان کے سینگ نکلےگی))دوسری حدیثیں بھی اس کے قریب المعنی ہیں جیسے سرکار ؐ کے مولائے کائنات ؑ کو ناکثین سے لڑنے کا حکم دینا حالانکہ ناکثین میں تین نام سب سے آگے ہیں طلحہ،زبیر اور عایشہ ۔

ام سلمہ نے عبدالرحمٰن بن عوف کو حکم دیا کہ خدا کی راہ میں خرچ کیا کرو اس لئے کہ سرکار ؐ نے فرمایا تھا کہ میرے کچھ ایسے صحابی ہیں جنہیں مرنے کے بعد میں نہیں دیکھ سکوں گا اور نہ وہ مجھےکبھی دیک سکیں گے،ظاہر ہے کہ ام المومنین کا عبدالرحمٰن بن عوف کو انفاق کا حکم دینے میں یہی مصلحت تھی کہ کہیں وہ مردود اصحاب میں سے نہ ہوجائے حالانکہ عامتہ الناس کے مطابق وہ سابقون اوّلون میں سے تھے ان کے علاوہ ام المومنین کی حدیث میں جہاں صحابہ کی لفظ آئی ہے ان صحابہ میں سابقون اوّلون بھی شامل ہیں ۔

میرے بیان کو مزید تقویت اس وقت پہنچتی ہے جب ہم خود صحابہ کے حالات پر نظر کرتے ہیں اور ایک صحابی کا دوسرے صحابی کے بارے میں کیا نظریہ تھا اس کو دیکھتے ہیں صحابہ کے حالات بہرحال اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ انہیں مذکورہ خصوصیت(قطعی نجات اور سلامتی کا تغمہ)دی جائے میرے گذشتہ بیانات کو پڑھیے ۔

حاطب ابن ابی بلتعہ کے قصہ سے استدلال

تیسرا امر ۔ آپ فرماتے ہیں کہ سابقون اوّلون پر لعن طعن کرنے کی اجازت ہمیں سنت نبوی سے نہیں ملتی اور یہ کہ ہم صحابی اور اس کی منزلت کا فیصلہ اللہ پر چھوڑدیں اس لئے کہ اس وحدہ لاشریک نے


انہیں اس منزلت سے سرفراز کیا ہے جیسا کہ حاطب بن ابی بلتعہ کی حدیث سے ملتا ہے کہ کوئی حاطب بن ابی بلتعہ کی سرزنش کررہا تھا اللہ اہل بدر کے حالات سے خوب واقف ہے اور اس کا ارشاد ہے:تمہاری جو سمجھ میں آئے کرو اس لئے کہ میں تمھیں معاف کرچکا ہوں ۔

حاطب بن ابی بلتعہ کے قصے میں احتیاط

میں عرض کرتا ہوں کہ اس حدیث کو اہل سنت کے علما نے متعدد طریقوں سے نقل کیا ہے میں اس کے طریقوں میں سے کچھ کا بیان کروں گا،بہرحال یہ حدیث اتنی نقل کی گئی کہ اہل سنت کے یہاں تقریباً مسلمات میں شامل کردی گئی،فی الحال ابھی میں اس حدیث سے انکار بھی نہیں کرتا البتہ اس کا معنی سمجھنے میں تھوڑا احتیاط کرتا ہوں،پہلی بات یہ ہے کہ مجھے اس حدیث کے صادق ہونے کا پورا یقین نہیں ہے،دوسری بات یہ ہے کہ میں اس سے وہ معنی نہیں سمجھتا جو اہل سنت سمجھتے ہیں یعنی میں نہین سمجھتا کہ اس حدیث کی بنیاد پر عام اہل بدر کو سلامت قطعی اور نجات اخروی کی سند دیدی جائے ۔

مقام تقدّس میں صحابہ کو اہل بیت ؑ کے مقابلے میں لانے کی کوشش

اس موضوع پر گفتگو کرنے سے پہلے مقدمۃً کچھ باتوں کی طرف متوجہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو اس منزل میں بھی اور دوسری جگہوں پر بھی نفع بخش ہیں ۔ ہر ایک انصاف پسند اور ذوقِ جستجو رکھنےوالے آدمی سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ اہل سنت کے علما فقہ ہوں یا رواۃ حدیث یا ان کے دشمن اہلبیت ؑ بادشاہ ہیں بہرحال جمہور اہل سنت کی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ مقام تقدس میں اہل بیت ؑ کے مقابلے میں صحابہ کو لا کر کھڑا کریں اور صحابہ کو اہل بیت ؑ سے زیادہ قابل احترام ثابت کریں یعنی اہل بیت ؑ کا تقدس جیسے قرآن مجید:(لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ) (1)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ فصلت آیت42


ترجمہ آیت:(جس کے سامنے یا پیچھے سے باطل آ ہی نہیں سکتا وہ خدائے حکیم و حمید کا نازل کردہ ہے) ۔

اسی نے بیان کیا ہے اور سنت شریفہ نے جس کی تاکید کی ہے اس کے مقابلے میں صحابہ کو لائیں(تا کہ قرآن اور حدیث کے بیان کردہ)فضائل صرف اہل بیت ؑ سے مخصوص ہو کے نہ رہ جائیں یہ کوشش صرف اس لئے کی گئی کہ صحابہ کو کھینچ کے اہل بیت ؑ کے مقابلے میں لانے سے مسلمان صحابہ کو مرکز توجہ بنالےگا اور صحابہ کے فضائل میں مشغول ہو کے اہل بیت ؑ کی طرف مڑ کے نہیں دیکھےگا،جیسے جیسے وقت گذرتا گیا اور شیعہ مذہب کی طرف دعوت میں شدت ہوتی گئی اور شیعہ مقام اہل بیت ؑ اور ان حضرات کے مراتب جلیلہ کو قولاً و فعلاً واضح کرتے رہے اسی حساب سے اہل سنت صحابہ کے فضایل میں(جھوٹی باتیں)بیان کر کے ان کو محترم اور مقدس ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے یہاں تک کہ یہ ایک مستقل مذہب بن گیا،ان کوششوں کا مقصد یہ ہے کہ عالم اسلام صرف صحابہ پھر بھروسہ کرے انھیں کی طرف منسوب ہو جس طرح شیعہ اہل بیت اطہار ؑ پر اعتماد کرتے ہیں اور ان حضرات ہی کی طرف خود منسوب کرتے ہیں تا کہ مسلمان اہل بیت ؑ سے اعراج کا جواز پاجائے یا کم سے کم مقام تظیم و تقدس میں اہل بیت ؑ اور صحابہ میں افتراق نہ کرے ۔

نبی پر درود پڑھتے وقت اہل بیتؑ کو شامل کرنے کے بارے میں اہل سنّت کا نظریہ

اس بات کے علمی مشاہدہ کے لئے وہ حدیثیں کافی ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ اہل سنت اہل بیت کو داخل صلوات کرنے پر کس طرح تیار ہوئے

کعب بن عجرہ کہتے ہیں کہ پیغمبر ؐ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ ؐ آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہے درود کیسے بھیجیں آپ نے فرمایا کہو:اللهم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد کما صلیت علیٰ آل ابراهیم انک حمید مجید پالنےوالے درود بھیج محمد ؐ اور ان کی آل پاک ؑ پر جیسا کہ تو نے آل ابراہیم ؑ پر درود بھیجا ہے بیشک تو قابل حمد اور بزرگ ہے پالنےوالے برکت


دے محمدؐ کو جیسا کہ تو نے ابراہیمؑ کو برکت دی بیشک تو حمید و مجید ہے(1)

بلکہ ناقص صلوات بھیجنے کی نہی(2) وارد ہوئی ہے ناقص صلوات کا مطلب ہے آل کو چھوڑ کے صرف سرکار دو عالمؐ پر درود بھیجنا حالانکہ ہم اہل سنت کی صلوات کو دیکھتے ہیں تو تعجب ہوتا ہے یا تو یہ حضرات صرف نبیؐ پر صلوات بھیجتے ہیں یا اگر آل پر صلوات بھیجی تو اصحاب کو ضرور شامل کر لیتے ہیں ایسا صرف اس لئے ہے کہ یہ لوگ مقام تکریم و تقدیس میں صحابہ اور اہل بیتؑ میں تمیز نہیں کرتے۔

اہل سنت کے نظریہ کی توجیہ میں طحاوی کا بیان

طحاوی نے اہل سنت کے اس نظریہ کی عجیب و غریب توجیہ کی ہے وہ کہتا ہے:ظاہر ہے کہ آل و اصحاب کا ذکر صلوات میں مندوب ہے اصحاب تو اس لئے کہ وہ ہمارے اسلاف ہیں اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ان کے لئے حصول رضایت الٰہی کی دعا کریں رضی اللہ عنہ کہیں ان پر لعنت نہ کریں اب رہ گئی آل تو ان کو بھی صلوات میں شامل کرنا ہی پڑےگا اس لئے کہ حضور ؐ نے فرمایا مجھ پر دم کٹی صلوات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) صحیح بخاری ج: 4 ص: 1802 کتاب التفسیر:باب(ان الله و ملائکة یصلون علی النبی یا ایها الذین آمنوا) ج: 3 ص: 1233 کتاب الانبیاء:باب یزفون النسلان فی المشی ،ج: 5 ص: 2338 کتاب الدعوات:نبیؐ پر صلواۃ بھیجنے کے باب میں مسلم ج: 1 ص: 305 کتاب الصلاۃ:نبیؐ پر تشہد کے بعد درود بھیجنے کے باب میں،السنن الکبریٰ للنسائی ج: 1 ص: 381،382 کتابصفة الصلاة:الأمر بالصلاة علی النبی،ج:6،کتاب عمل الیوم و اللیلة،ص:17،کیف المسألة و ثواب من سأل له ذلک ،ص: 97 کیف الرد،صحیح بن حبان ج: 3 ص: 93 اباب الادعیۃ:ذکر الاخبار المفسرۃ لقولہ جل و علا:(یا ایها الذین آمنوا صلوا علیه و سلموا تسلیما) ج: 5 باب صفۃ الصلاۃ،ص: 286 ،ذکرو صف الصلاۃ علی المصطفیؐ الذی یتعقب السلام الذی وصفنا،ص: 289 ،ذکر البیان بان النبیؐ انّما سئل عن الصلاۃ علیہ فی الصلاۃ عند ذکرھم ایاہ فی التشھد،ص: 295 ،ذکر الأمر با الصلاة علی المصطفیٰ و ذکر کیفیتها و غیرها من المصادر الکثیرة،

( 2) جواھر العقدین القسم الثانی ج: 1 ص: 49 ،فی الثانی ذکر أمره بالصلاة علیهم فی امتثال ما شرعه الله من الصلاة علیهم و وجه الدلالة علی ایجاب ذلک فی الصلاة حاشیۃ الطحاوی علی مراقی الفلاح ج: 1 ص: 8 ،الصواعق المحرقۃ ج: 2 ص: 430 الباب الحادی عشر:اہل بیت نبوکےفضائل میں:پہلی فصل الآیات الواردۃ فیھم،ینابیع المودۃ ج: 1 س: 37 ،ج: 2 ص: 434 ،


نہ بھیجنا لوگوں نے پوچھا کہ دم کٹی صلوات کیا ہے؟آپ نے فرمایا تم کہتے ہو:اللہم صل علی محمد اور بس بلکہ(مکمل صلوات یہ ہے)کہا کرواللهم صل علیٰ محمد و آل محمد اس حدیث کو فاسی و غیرہ نے بھی نقل کیا ہے ۔(1)

آپ خود دیکھیں کہ درود میں صحابہ کو نبی ؐ سے زبردستی کس طرح ملحق کیا گیا ہے؟تا کہ وہ اہل بیت ؑ کے شریک ہوجائیں دلیل یہ ہے کہ وہ ہمارے اسلاف ہیں اور اللہ نے ہمیں ان کو راضی رکھنے کا حکم دیا ہے اور ہمیں ان پر لعنت کرنے سے روکا ہے و غیرہ....میں کہتا ہوں اگر مذکورہ بالا توجیہ مان بھی لی جائے تو اس سے صرف صحابہ کو راضی رکھنے کا استحباب ثابت ہوتا ہے نہ کہ ان کو درود میں شامل کرنا ۔ اس توجیہ سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان پر ترضی مستحب اور لعنت کرنا حرام ہے نبی ؐ کے ساتھ ان کو درود میں شامل کرنے کے استحباب پر تو پھر کوئی دلیل چاہئے جیسا کہ آل کے بارے میں دلیل اسی حدیث میں موجود ہے خصوصاً جب کہ طحاوی نے سرکار دو عالم پر درود کی شرح کرنے کے لئے ایسی حدیث نقل کی ہے جس میں حضرت نے دم کٹی صلوت سے منع کیا ہے اور فرمایا کہ کامل صلوات کی شرط آل محمد کا درود ہے الحاق ہے لیکن اصحاب کا کوئی ذکر نہیں آیا ۔

اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ طحاوی نے صلوات بترا(دم کٹی صلوات)والی حدیث نقل کر کے یہ محسوس کیا کہ اس حدیث سے اہل بیت ؑ کو کوئی ایسی خصوصیت حاصل ہوگئی جس میں ان کا کوئی شریک نہیں ہے بس فوراً ہی حدیث کے رخ کو موڑدیا اور یہ کہہ دیا کہ آل سے مراد امت محمدی ہے یہاں تک کہ فساق بھی شامل ہیں لہذا کلام سابق کے بعد بلافصل کہتا ہے(یہاں پر آل سے سرکار کی ساری امت مراد ہے یعنی مطلق ساری امت کے لئے دعا کی جائے)اور حضور ؐ کا یہ قول کہ ((آل محمد متقی ہیں)اس سے مراد یہ ہے کہ امت محمد ؐ شرک سے پاک ہے یعنی شرک سے تقویٰ حاصل ہوتا ہے مقام دعا میں یہی درست ہے ۔ (یعنی ہر غیر مشرک کے لئے دعا کرسکتے ہیں ۔(2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح:ج:1ص:8

(2)حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ج:1ص:8


جی چاہتا ہے کہ طحاوی سے پوچھوں کہ جب آل سے ساری امت مراد ہے تو صحابہ کا درود الحاق کرنا ضروری کیوں ہے؟(کیا صحابہ امت میں شامل نہیں ہیں)؟پھر آپ نے صحابہ کے الحاق کے لئے سابق میں بےمغز اور بھون ڈ ی دلیل کیوں دی؟کیا صحابہ اجابہ میں سے نہیں تھے؟آپ نے طحاوی کا بیان پڑھ لیا،اب اہل سنت کا طرز عمل ملاحظہ ہو،سمجھ میں بات نہیں آتی کہ اس حدیث کی موجودگی میں اہل سنت دم کٹی صلوات بھیجنے پر اصرار کیوں کرتے ہیں اور آل پر اقتصار کرتے ہوئے صرف انھیں کو نبی ؐ سے ملحق کیوں نہیں کرتے جیسا کہ مضمون حدیث(آل پر انحصار)یہی ہے جسے خود طحاوی نے ذکر کیا ہے،کنایہ اس لئے نہیں ہے اہل بیت ؑ کی مایۂ امتیاز شرافت و بزرگی کے ذکر سے جو انھیں بڑی گراں گذرتی ہے پرہیز کیا جائے یہ سارا زور اس لئے ہے کہ اچھی طرح سمجھ گئے ہیں کہ آل سے مراد صرف اہل بیتِ رسول ؐ ہیں نہ کہ سارے امتی حتیٰ کے فاسقین بھی ۔

پھر ہم اپنی بات کی تکرار کررہے ہیں کہ جمہور صحابہ نے متعلق چارہ جوئی اور نفوس قدسیہ میں اضافہ کوشش کررہے تھے نیز ان اسباب و علل کی جو اس کا باعث ہوتے ہیں لیکن یہ ایک طولانی اور وسیع موضوع ہے لہذا اس مختصر میں اس کی گنجائش نہیں ہے جب کہ شیعہ علماء اور اُن کی کتابوں نے اس اضطراب کی طرف راہنمائی کی ہے لہذا حقیقت جو افراد اس کی طرف رجوع کریں ۔

حدیث نبوی میں اختلاف اور امیرالمومنینؑ کا مشورہ

حدیث پیغمبر کے بارے میں کچھ اور بھی عرض کرنا بہتر سمجھتا ہوں،ایک سائل نے مولائے کائنات ؑ سے حدیث بدع اور لوگوں کے پاس جو حدیثیں ہیں ان کے اختلاف کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا:لوگوں کے پاس تو حق و باطل بھی،صدق و کذب بھی،ناسخ و منسوخ،عام خاص،محکم مُتشابہ اور حفظ و وہم سب کچھ ہے اور پیغمبر ؐ پر تو آپ کی زندگی میں ہی بہتان لگایا گیا نتیجہ میں حضور ؐ خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا جو مجھ پر جان بوجھ کے بہتان لگائے اس نشست کو آگ سے بھردیا جائےگا،


تمہارے پاس ایسے طار طرح کے لوگ حدیث لائیں گے جن کا پانچواں نہیں ہوگا ایک تو منافق مرد(حدیث لائےگا)جو ایمان کو ظاہر کرتا ہے اور اسلام میں تصنع برتتا ہے،خود کو نہ گناہ گار محسوس کرتا ہے اور(نہ ہی جھوٹ بولنے میں)کوئی حرج محسوس کرتا ہے پیغمبر ؐ پر جان بوجھ کے جھوٹ باندھتا ہے اگر لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ وہ منافق ہے تو اس سے حدیث قبول ہی نہ کریں گے اور نہ اس کی تصدیق کریں گے لیکن وہ لوگ تو کہتے ہیں کہ یہ نبی ؐ کا صحابی ہے اس نے نبی کو دیکھا ہے ان سے حدیث سنی ہے اور ان سے حاصل کیا ہے اس لئے لوگ اس سے حدیثیں لیتے ہیں حالانکہ اللہ نے تمہیں منافقین کے بارے میں خبردار کردیا ہے اور ان کی صفتیں بتادی ہیں یہ منافقین نبی ؐ کے بعد بھی باقی رہے اور گمراہی کے اماموں،جھوٹ اور بہتان کے ذریعہ جہنم کی طرف دعوت دینےوالوں کے یہاں تقرب حاصل کرلیا نتیجہ میں انھیں اعمال کا ولی بنادیا اور لوگوں کی گردنوں پر انھیں مسلط کردیا پھر ان کے توسط سے خوب مال دنیا سمیٹا اس لئے کہ لوگ تو بادشاہ اور(مال)دنیا کے ساتھ رہتے ہی ہیں مگر یہ کہ جس کی خدا حفاظت کرے(1)

نبیؐ کے بعد منافقین کی حرکتیں اور تیزدستیوں کے بارے میں ابن الحدید کی گفتگو

ابن ابی الحدید مولائے کائنات ؑ کی مذکورہ بالا حدیث کی تشریح کے بعد لکھتے ہیں کہ حضرت نے محدثین کی بالکل صحیح تقسیم کی ہے منافقین دور پیغمبر میں بھی تھے آپ کے بعد بھی باقی رہے پھر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حضور کی وفات کے ساتھ ہی نفاق بھی مرگیا البتہ پیغمبر کے بعد منافقین کے حالات پوشیدہ رہنے کی وجہ یہ ہے کہ سرکار دو عالم ؐ کے دور میں وحی کا سلسلہ جاری تھا قرآن میں منافقین کے بارے میں جو کچھ نازل ہوتا تھا سرکار مسلمانوں کو اس سے باخبر کردیا کرتے تھے لیکن جب سرکار ؐ کی وفات کی وجہ سے وحی کا سلسلہ بند ہوگیا تو اب کوئی ایسا آدمی نہیں رہا جو منافقین کی غلطیوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) نہج البلاغہ ج: 2 ص: 189،188 ،اسی طرح ینابیع المودۃ ج: 3 ص: 410،409


اور لغزشون کی نشان دہی کرے ان کے اعمال پر ان کی توبیخ کرے اور مسلمانوں کو ان سے پرہیز کرنے کی تلقین کرے نیز کبھی کھل کے اور کبھی اشاروں،کنایوں میں بات کو سمجھائے سرکار دو عالم ؐ کے بعد جو لوگ حکومت میں تھے وہ منافقین کے ظاہر کو دیکھتے ہوئے ان سےحسن سلوک پر مجبور تھے اس لئے کہ دین اور دنیاوی سیاست انھیں ظاہر پر عمل کرنے کا حکم دیتی ہے چونکہ خلفا ان کے بارےمیں کچھ نہیں بولتے تھے اس لئے ان کا ذکر قریب معدوم ہوگیا نتیجہ میں منافقین نے اس بات پر اقتصار کیا کہ ان کے دل میں جو کچھ ہے اسے چھپائے رہیں اور ظاہری طور پر مسلمانوں سے ملتے رہیں( 1) اور مسلمانوں سے معاملات کرتے رہیں اس کے بعد تو مسلمان فتوحات میں مصروف ہوگئے اور مال غنیمت آنےلگا منافقین مال غنیمت میں مشغول ہوگئے اور پیغمبر ؐ کے زمانے میں جو حرکتیں کرتے تھے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) ابن ابی الحدید یا تو غافل ہیں یا تجاہل عارفانہ کررہے ہیں اور شاید انھوں نے حذیفہ کا جملہ نہیں دیکھا ہے جس میں انھوں نے فرمایا ہے کہ:آج کے منافقین کل کے منافقین سے زیادہ خطرناک ہیں عہد رسول میں وہ اپنے نفاق کو مخفی رکھتے تھے جب کہ آج کل اس کے اظہار سے وہ کوئی خوف و ہراسی نہیں رکھتے،حذیفہ کا ہی یہ قول بھی ہے کہ:عہد رسول میں نفاق نفاق تھا لیکن آج نفاق نہیں بلکہ ایمان کے بعد کفر میں بدل گیا ہے جیسا کہ ابن ابی الحدید نے مولیٰ کے سابقہ کلام سے غفلت کی ہے یا جان بوجھ کر تغافل کیا ہے اس لئے کہ اہل بدعت اور روایات کے اختلاف کے متعلق سوال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس قوم کی جعلی روایتیں مولیٰ علیؑ کے دور میں دہن بہ دہن نقل ہورہی تھیں حق اور باطل کا تمیز دینا مشکل ہوگیا تھا اس لئے سائل نے اپنی حیرانی و سرگردانی دور کرنے کے لئے یہ سوال کیا اور مولیٰ علیؑ کا جواب قرینہ ہے کہ منافقین سابق حکام سے تعاون کرتے تھے اور سابقہ حکام کو ان کے کرتوت کا علم تھا بلکہ ان کی شبہ جعل سازی کا سلسلہ قائم تھا اور منافقین اپنے حالات کو چھپانے کی ضرورت نہیں محسوس کرتے تھے،بلکہ معاویہ کے زمانے میں جو جعلی احادیث نشر ہوئی ہیں تو اس میں کسی کا کوئی کلام نہیں ہے کہ اس میں خود معاویہ کا تعاون تھا اور یہ عہد امیرالمومنین کے بعد کا مسئلہ ہے لہذا سوال کا تعلق مولیٰ کے دور سے کیا بھی نہیں جاسکتا،اس مقام پر امام علیؑ کا یہ قول بہت مناسب ہے جس میں آپ فرماتے ہیں:(کہاں ہے وہ لوگ جو ظلم و سرکشی اور ہمارے اوپر زیادتی کی خاطر تصور کرتے ہیں کہ وہ راسخون فی العلم ہیں،ہم راسخون فی العلم ہیں،اللہ نے ہمیں مرتبہ بنایا اور انھیں ذلیل و رسوا کردیا ہے،ہمیں علم و فضل سے نوازا ہے اور انھیں محروم رکھا ہے ہمیں اپنی رحمت و مغفرت کے زمرہ میں شامل کرلیا ہے جب کہ انھیں اس سے نکال کر باہر کردیا ہے،ہماری بدولت ہدایت و سعادت کو حاصل کیا جاسکتا ہے اور....


اب مال دنیا دیکھ کے وہ حرکتیں روک دیں خلفاء نے بھی انہیں مسلمان اسراء کے ساتھ بلاد فارس و روم میں بھیج دیا وہاں دنیا نے انہیں ایسا الجھایا کہ وہ دور پیغمبر ؐ کی تمام حرکتیں جن پر انہیں سزا ملتی رہتی تھی بھول گئے اور ان میں سے کچھ تو راہ راست پر آگئے اور ان کی نیت میں خلوص آگیا کیونکہ فتوحات کا سلسلہ چل پڑا تھا ۔

جب انہیں چھوڑدیا گیا تو انہوں نے بھی اپنی حرکتیں چھوڑدیں اور جب ان کے بارے میں خاموشی برتی گئی تو وہ اسلام کے بارے میں جو واہی بکتے تھے اس کو بند کردیا مگر یہ کہ زیرزمین سازشوں میں مصروف ہوگئے ۔

اسی کی طرف سرکار مولائے کائنات ؑ نے اشارہ فرمایا ہے کہ منافقین کی سازش کی وجہ سے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

......ہمارے ہی ذریعہ گناہوں کا اندھا پن دور کیا جاسکتا ہے

تعجب تو یہ ہے کہ خود ابن ابی الحدید نے اسی جملہ پر حاشیہ آرائی فرماتے ہوئے لکھا ہے:(امام کا یہ فرمانا کہ:کہاں ہیں وہ لوگ اپنے کو راسخون فی العلم گمان کرتے ہیں)یہ کلام صحابہ کی ایک جماعت کی طرف اشارہ و کنایہ ہے جو مولیٰ سے فضل و فضیلت میں نزاع کرتے رہتے تھے،صحابہ میں سے کچھ ایسے تھے جو اپنے کو فرائض کا ماہر،سب سے بڑا قاری قرآن،ذہین و فہیم اور حلال و حرام کے متعلق سب سے زیادہ علم رکھنےوالا سمجھتے تھے جب کہ سب کو یہ معلوم تھا کہ حضرت علیؑ ہیں،امت مسلمہ کے سب سے بڑے قاضی اور قضاوت بےپناہ علم و فضل کی طالب ہے جب کہ دوسرے فضائل ایک دوسرے کے محتاج ہیں لہذا ثابت ہو کہ مولیٰ سب سے بڑے فقیہ اور صحابہ میں سب سے زیادہ صحاب علم تھے،اس کے بووجود آپ اس بات سے راضی نہ تھے اور سابقہ روایت بھی سچی نہیں ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فلاں صاحب سب سے زیادہ فرائض و واجبات سے آگاہ تھے بلکہ مذکورہ روایت کذب و افتراء ہے اور اسے کچھ حاسد قسم کے صحابیوں نے از راہ سرکشی و بر بناء ظلم و ستم،نیز بنی ہاشم کے گھرانے سے دشمنی و عناد نے گڑھنے پر مجبور کردیا ہے کیوں کہ اللہ نے انھیں بلندی عطا کی ہے جب کہ بنی ہاشم کے علاوہ لوگوں کو محروم رکھا ہے)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید،ج:9ص:86

مسند احمدج:5ص:391۔حدیث:حذیفہ بن یمان نے نبی سے حدیث نقل کی،مجمع الزوائد،ج:10،ص:63،کتاب مناقب،باب،کوفہ میں آنا،مسند احمد،ج:5ص:390،حدیث:حذیفہ بن یمان نے نبی سے حدیث نقل کی،مصنف لابن ابی شیبۃ،ج:7ص:460،کتاب الفتن،تفسیر ابن کثیرج:2ص:300،احمد ابن حنبل،ص:43،حلیۃ الاولیاء،ج:1ص:279،حذیفہ بن یمان کے حالات میں


حدیثوں میں کثرت سے جھوٹ شامل ہوگیا یہ جھوٹ(منافقین)غلط عقیدہ رکھنےوالوں نے صادر کیا،مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو گمراہ کردیا جائے،دل اور دل کے عقیدوں کو خبط کردیا جائے،اس سلسلہ میں انہوں نے کچھ لوگوں کے بارے میں بڑھا چڑھا کے حدیثیں بنانی شروع کیں حالانکہ ان کی مدح میں دنیاوی مقاصد پوشیدہ تھے کہا جاتا ہے کہ معاویہ کے دور میں اس طرح کی حدیثیں بہت بنائی گئیں ۔

جن لوگوں کو علم حدیث میں رسوخ حاصل تھا وہ اس حادثے پر خاموش نہیں رہے بلکہ انہوں نے بہت سی موضوعی حدیثوں کا ذکر کیا اور صاف کہہ دیا کہ یہ حدیثیں موضعی ہیں اور ان کے رواۃ قابل اعتبار نہیں ہیں مگر یہ محدیثین صرف ان پر ہی طعن کرتے تھے،جو صحابیت کے مرتبے سے نیچے تھے اور ان پر طعن کرنے کی جسارت نہیں کرتے تھے،جن کے لئے صحابہ کا لفظ استعمال ہوتا تھا( 1) لیکن کبھی وہ بُسر بن ارطاۃ جیسے صحابی پر طعن کرنے سے نہیں چوکتے تھے ۔

حضرت امام محمد باقرؑ کے وضعی حدیثوں کے بارے میں ارشادات

پھر ابن حدید لکھتے ہیں ابوجعفر محمد باقر ؑ نے اپنے بعض اصحاب سے فرمایا:تم دیکھتے ہو کہ قریش نے ہم پر کیسے کیسے ظلم کئے اور ہمارے خلاف کیسے مظاہرے کئے ہمارے شیعہ اور چاہنےوالوں کو لوگوں نے کس طرح ستایا حضور ؐ سرور کائنات کی وفات ہوگئی،حضور ؐ نے بتادیا تھا کہ ہم اہلبیت ؑ عام لوگوں سے زیادہ مستحق ہیں لیکن قریش نے چشم پوشی کی اور حکومت اس کے معدن(مستحقین)کے ہاتھ سے نکل گئی(لطف یہ ہے کہ قریش نے انصار پر ہمارے حق سے احتجاج کیا اور جب حکومت حاصل ہو گئی تو وہ حکومت کو ایک کے بعد دوسرے کے ہاتھ میں گھماتے رہے یہاں تک کہ عثمان کے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) کلام امیرالمومنینؑ میں احادیث وضعی و جعلی سے مراد وہ احادیث ہیں جو منافق صحابہ نے وہ بھی رسول خدا کے دور میں گڑھی تھیں۔

( 2) شرح نہج البلاغہ ج: 11 ص: 42،41


بعد)حکومت ہماری طرف واپس ہوئی،انھوں نے ہماری بیعت توڑ دی اور ہم سے جنگ کرنے کو اُٹھ کھڑے ہوئے صاحب امر مسلسل ان کے ہاتھ سے تنگی اور سختیاں جھیلتا رہا یہاں تک کہ شہید کردیا گیا پھر(امیرالمومنین ؑ کے صاحبزادے)امام حسن ؑ کی بیعت کی گئی اور معاہدے کئے گئے پھر ان معاہدوں کو توڑے کے غداری کی گئی اور اہل عراق ان پر ٹوٹ پڑے یہاں تک کہ آپ کے پہلو کو خنجر سے زخمی کردیا اور آپ کی لشکرگاہ کو لوٹ لیا گیا آپ کی عورتوں کے زیور لوٹ لئے گئے اور آپ کو حکومت کی باگ ڈ ور معاویہ کے سپرد کردینا پڑی اور اس نے آپ کا اورآپ کے اہل بیت ؑ کا خون بہانا شروع کیا حالانکہ وہ تو پہلے ہی سے کم تھے ۔

پھر لوگوں نے امام حسین ؑ کی بیعت کی تقریباً بیس ہزار لوگوں نے آپ کی بیعت کی اور پھر لوگوں نے دھوکا دیا اور آپ کو شہید کر ڈ الا جب کہ ان کی گردنوں میں آپ کا قلادہ بیعت موجود تھا ۔

پھر ہم اہل بیت ؑ مسلسل ذلت و رسوائی اور قتل و غارت گری صحرا اور بیابانوں کی آوارگی جلاوطنی کو جھیلتے رہے ہمیں شہید کیا جاتا رہا ہمیں طرح طرح سے ڈ رایا جاتا رہا، نہ ہم اپنی جان کو محفوظ سمجھتے ہیں نہ اپنےچاہئے والوں کی جان کو محفوظ سمجھتے ہیں،آج صورت حال یہ ہے کہ کاذبین و جاحدین اپنے کذب و جحود کو اپنے ظالم بادشاہوں اور بدکردار گورنروں کے پاس تقرب کا ذریعہ بنا کے استعمال کرتے ہیں تا کہ ہر شہر میں ان بادشاہوں اور گورنروں کے قریب رہ سکیں،پس انھوں نے جھوٹی اور مصنوعی حدیثیں بیان کرنا شروع کردیں اور ہم سے ایسی حدیثوں کو منسوب کرتے ہیں جو نہ ہم نے کہی ہے نہ نقل کیا ہے،مقصد یہ ہے کہ اس جھوٹ کے ذریعہ وہ لوگوں کے دلوں میں ہمارا بغض پیدا کرسکیں،امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد معاویہ کے دور میں یہ کام بڑے پیمانے پر ہوا،صورت حال یہ تھی کہ ایک آدمی جس کا لوگ خیر کے ساتھ ذکر کرتے تھے اور اس کو نہایت متقی اور سچا بھی سمجھتے رہے،وہی خلفا کی فضیلت میں بڑی عجیب حدیثیں بیان کرتا تھا،ایسی باتیں جنھیں


اللہ نے پیدا ہی نہیں کیا اورجن کا عالم واقع میں کوئی وجود نہیں انہیں بیان کرتا تھا اورسمجھتا تھا کہ یہ باتیں حق ہیں اس لئے کہ یہ باتیں ان کثیر افراد کے ذریعہ پھیلائی گئی ہیں جنہیں لوگ جھوٹا نہیں مانتے اور ورع وتقدس میں کم نہیں سمجھتے-(1)

جعلی حدیثوں کے بارے میں مدائنی اور نفطو یہ کی روایت

پھر ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ:"ابو الحسن علی بن محمد بن ابوسیف مدائنی ، اپنی کتاب " الاحداث "میں لکھتے ہیں: معاویہ نے عام الجماعت کے بعد اپنے گورنروں کو ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں لکھا تھا کہ جو بھی ابوتراب اور ان کےاہل بیت ع کے فضائل میں کوئی حدیث بیان کرے گا اس سے میں بری الذمہ ہوں پس خطیبوں نے قریہ قریہ ، شہر شہر پابندی کے ساتھ ہر منبر سے علی پر لعنت بھیجنی اور ان کے اہل بیت ع سے تبراء کرنا شروع کردیا ،وہ علی اور اہل بیت علی کو برابھلاء کہتے تھے پھر معاویہ نے حکومت کے تمام گورنروں کو لکھا کہ شیعیان علی اور اہل بیت علی کی گواہی نہ قبول کی جائے اس نے لکھ بھیجا کہ عثمان کے شیعہ اس کے چاہنے والے اور اس سے محبت کرنے والوں کو نیز وہ لوگ جو اس کے فضائل ومناقب بیان کرتے ہیں انہیں اپنی مجلسوں میں منزلت دی جائے اور ان کی عزت کی جائے ایسے لوگوں کی روایتیں اور ان کا اور انکے باپ کا نام اور ان کے قبیلوں کا نام لکھ کر کے میرے پاس بھیج دیا جائے، گورنروں نے ایسا ہی کیا نتیجہ میں عثمان کے فضائل ومناقب کی کثرت ہوگئی ، تب معاویہ نے اپنے گورنروں کو لکھا کہ عثمان کے فضائل بہت ہوگئے ہیں اور تمام جگہوں پر کثرت سے پھیل گئے ہیں جب میرا خط تم تک پہنچے تو تم لوگوں کو ایسی روایتوں کی طرف ترغیب دو جس میں صحابہ اور خلفاء اولین کے فضائل بیان کئے گئے ہیں اور ابو تراب فضیلت میں اگرکوئی مسلمان کوئی حدیث بیان کرتا ہو تو تم فورا صحابہ کی فضیلت میں اس کے متناقض حدیث بنالو یہ کام میرے لئے محبوب تر ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک کا سبب ہے اور اس طرح علی اور ان کے شیعوں

-----------------

(1)شرح نہج البلاغہ ج :11 ص 43،44


کی حجت باطل کرنا آسان ہوگا اور عثمان کا بیان ان پر بڑا گرا ہوگا،یہ خط جب لوگوں کے سامنے پڑھا گیا تو لوگوں نے صحابہ کے فضائل میں ڈ ھیر ساری حدیثیں گڑھ ڈ الیں جن کی کوئی حقیقت نہیں تھی اور پھر لوگ اسی راستے پر نئی نئی حدیثیں بناتے چلے گئے یہاں تک کہ منبروں سے یہ مفتریات بیان ہونے لگے اور انھیں جعلی حدیثوں کو مدرسوں کے معلمین کے سپرد کردیا گیا اور انھوں نے بچوں اور لڑکوں کو یہ حدیثیں بڑے پیمانے پر پڑھانی شروع کردیں اور بچے ان جعلیات کو اس طرح سیکھنے لگے جیسے قرآن سیکھتے تھے حد تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹوں عورتوں،خادموں اور چوکیداروں کو ان مفتریات کی تعلیم دی اور جب تک خدا نے چاہا یہ صورت حال برقرار ہی نتیجہ میں بہت سے موضوع کی حدیثیں ظاہر ہوگئیں،بہتانوں کی اشاعت ہوئی اور فقہا،قضاۃ اور وُلاۃ سبھی اسی راستے پر چل نکلے اس بلا میں سب سے زیادہ ریاکار قاریوں کا ٹولہ اور کمزور عقلوں والے گرفتار ہوئے جو صرف اپنے حلوے مان ڈ ے کے لئے اور اپنے امیروں کی خدمت میں تقرب حاصل کرنے کے لئے ان جعلی حدیثوں سے کھیلتے تھے نتیجہ میں انھوں نے ان حدیثوں سے خوب مال بنایا اور انعام اور مرتبے حاصل کئے،اب تو صورت حال یہ ہوگئی کہ یہ جھوٹی اور جعلی حدیثیں ان کے ہاتھوں میں بھی پہنچ گئیں جو دیانتدار تھے ۔ اور کذب و بہتان کو قبول نہیں کرتے تھے انھوں نے ان حدیثوں کو حق سمجھ کر قبول کرلیا اور اگر انھیں معلوم ہوتا کہ یہ حدیثیں باطل ہیں تو ان کی روایت کبھی نہیں کرتے ۔

یہی سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ امام حسن بن علی علیہ السلام کی شہادت ہوجاتی اور فتنہ اور مصیبت میں اضافہ ہوجاتا ہے،پھر ایسا کوئی باقی نہیں بچا جز یہ کہ وہ اپنی جان کا خطرہ محسوس کرتایا جلاوطنی اور دربدری کا خوف رکھتا ہو،پھر امام حسین علیہ السلام کے قتل کے بعد یہ گھٹن اور اضطراب کا دور آجاتا ہے اور عبدالملک بن مروان حاکم ہوجاتا ہے تو شیعوں کے لئے سختیوں کا سامنا ہوتا ہے اور ان پر حجاج بن یوسف کو حاکم قرار دیا جاتا ہے پھر تو اہل تقویٰ اور دیندار صاحب ورع اور پرہیزگار افراد علی کے بغض کو بہانا بنا کر اس سے قریب ہوجاتے ہیں بلکہ اُن کے تمام چاہنےوالوں کی دشمنی کو تقرب کا ذریعہ بنایا جاتا ہے اور اُن کے فضل اور گذشتہ کارناموں اور فضائل و مناقب میں روایات کی


بھرمار ہوجاتی ہے اور علی سے دشمنی میں اُن کے فضائل سے چشم پوشی کی جاتی ہے اور ان پر عیوب لگا کر اُن پر لعن طعن شروع ہوجاتی ہے

ابن عرفہ جو نَفطویہ کے نام سے مشہور ہیں اور بڑے محدثین بلکہ ان کے اعلام میں شمار کئے جاتے ہیں اپنی تاریخ میں اسی مناسبت سے فرماتے ہیں:صحابہ کے فضائل میں موضوعی حدیثیں زیادہ تر بنوامیہ کے دور میں گڑھی گئیں،تا کہ ان سے تقرب حاصل ہوسکے،بنوامیہ یہ سمجھتے تھے کہ ان وضعی حدیثوں کے ذریعہ ہم بنوہاشم کی ناک رگڑدیتے ہیں ۔(1)

جعلی حدیثوں میں صحاحِ ستّہ کا حصّہ

ممکن ہے کوئی کہے کہ ان جعلی حدیثوں کو صحاح میں جگہ ملی ہوگی،لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہے،ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ صحیح مسلم اور صحیح بخاری نے عمروعاص جیسے آدمی سے حدیث لی ہے،اسناد کو عمروعاص سے ملا کے یہ حدیث لکھی ہے کہ عمروعاص نے کہا میں نے ہادی برحق کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ،بنوہاشم میرے اولیا نہیں ہیں،ہمارا ولی تو صرف اللہ اور صالح المومنین ہیں(2)

ہاں حدیثوں میں بگاڑ پیدا ہونے سے جہاں یہ فائدہ حاصل ہوا کہ متاخرین کے دماغ میں صحابہ کی عدالت مستحکم ہوگئی یہاں تک کہ عمروعاص جیسے مکار آدمی کی عدالت اور صحیحین(بخاری اور مسلم)میں اس کا نام آجانے سے اس کی عظمت بھی ثابت ہوگئی،وہاں یہ نقصان ہوا کہ اہل حدیث((طالب))کا کلمہ حذف کرنے پر مجبور ہوگئے یا تو اس کی جگہ چھوڑ دیا کرتے تھے یا پھر وہاں پر اس کے نام کی جگہ((فلان))لکھ دیا کرتے تھے،ابن حجر عسقلانی نے اس موضوع پر طویل بحث کی ہے،آپ کو چاہئے کہ ان کی اس بحث کو دیکھیں ۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) شرح نہج البلاغہ ج: 11 ص: 44 ۔ 46

( 2) شرح نہج البلاغہ ج: 4 ص: 64 ،کلام امیرالمومنینؑ کے ذیل میں،ج: 11 ص: 42

( 3) فتح الباری ج: 1 ص: 331 مقدمہ میں


انشااللہ آپ کے آٹھویں سوال کے جواب میں صحاح کے بارے میں باقی گفتگو کی جائےگی،اہل سنت حدیثوں پر یوں بھی زیادہ نظر رکھتے ہیں کہ انھوں نے جرح و تعدیل کے جو قواعد بنائے ہیں ان سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اہل بیت اطہار صلوات اللہ علیھم کے بارے میں ان کے کیا نظریات ہیں اور ان کے دشمنوں کے بارے میں اہل سنت کا کیا نظریہ ہے،آٹھویں سوال کے جواب میں انشااللہ کچھ باتیں بھی آئیں جو نفع بخش ہوں گی،ہمارے علما نے بھی اس موضوع پر طویل گفتگو کی ہے،ذوق جستجو رکھنےوالوں کو ان کی کتابیں بھی پڑھنی چاہئے،ہم نے تو اتنی باتیں صرف اس لئے کردیں تا کہ معلوم ہوجائے اہل بدر کی حدیث ہماری نظر میں ہے مگر صرف ہم اس کا تحفظ کیا ہے،تردید یا انکار نہیں کیا ہے،اس لئے کہ انکار کے لئے دلیل چاہئے،جس طرح اثبات محتاج دلیل ہے،لیکن تحفظ کے لئے دلیل کی ضرورت نہیں ہے،اس حدیث کے ظروف و سلبیات کا تذکرہ کردینا کافی ہے تا کہ یہ حدیث کس ماحول میں وارد ہوئی ہے پتہ چل سکے اور میں نے گذشتہ سطروں میں یہ ضرورت پوری کردی ہے ۔

اہل بدر کے بارے میں وارد حدیثوں کا متن

بہرحال مذکورہ حدیث کے بارے میں گفتگو کرنا بہتر نہیں ہے جب تک متن حدیث کو نہ پیش کردیا جائے،یہ حدیث(مختلف اللفظ)لیکن متقارب المعنی صورتوں میں وارد ہوئی ہے،ہم صحیح مسلم کی عبارت آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں،مسلم نے اپنی سند کے ساتھ عبیداللہ بن ابی رافع سے روایت کی ہے،انہوں نے کہا میں نے علی ؑ سے سنا ہے کہ ایک دن پیغمبر اعظم ؐ نے مجھے،زبیر اور مقداد کو بلایا اور فرمایا کہ((روضہ خاخ،تک جاؤ وہاں ایک عماری ہے(جس میں ایک عورت بیٹھی ہے)اس کے پاس ایک خط ہے اس کو لےلو پس ہم چلے اور وہ خط لاکے حضور ؐ کی خدمت میں پیش کردیا،وہ خط


حاطب بن ابی بلتعہ کا تھا،اس میں اس نے سرکار دو عالم ؐ کے کچھ امور کے بارے میں مشرکین مکہ کو جاسوسی کی تھی،سرکار ؐ نے حاطب سے پوچھا کہ اے حاطب یہ کیا ہے؟حاطب بولا،سرکار ؐ میرے خلاف فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کریں،میں قریش کے قریب رہتا تھا اور آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں ان کے کچھ اعزا ہیں جو مکہ میں ہیں جن کی قرابت کی وجہ سے ان کے اہل و عیال کی حمایت ہوتی ہے،چونکہ میرا کوئی نسبی لگاؤ ان سے نہیں ہے،اس لئے میں نے ان کے لئے جاسوسی کی کہ وہ اسی کا خیال کرکے میرے عزیزوں کی حمایت کریں گے ۔

میں نے کفر کی وجہ سے یہ حرکت نہیں کی اور نہ میں دیں سے مرتد ہوا ہوں،اور نہ اسلام کے بعد کفر کو پسند کیا ہے حضرت نے فرمایا یہ سچ کہہ رہا ہے،عمر نے کہا یا رسول اللہ ؐ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس گردن اڑادوں،آپ نے فرمایا نہیں یہ غازیان بدر میں سے ہے،اور خداوند عالم اہل بدر کے حال سے واقف ہے،اس نے فرما دیا ہے:جو چاہو کرو میں نے تمھیں معاف کردیا ہے،پس اس وقت یہ آیت نازل ہوئی:(اے ایمان لانےوالو!میرے اور اپنے دشمن کو دوست نہ بناؤ)(1)

مذکورہ حدیث کا پس منظر

میں عرض کرتا ہوں کہ:

1 ۔ آپ نے دیکھا کہ اس حدیث میں عمر کو اس لئے نہیں ڈ انٹا گیا کہ وہ حاطب پر لعن کررہے تھے،یا ان کے عمل کو برا کہہ رہے تھے،حالانکہ موضوع بحث یہی بات ہے(یعنی سابقون اوّلون پر طعن کا جواز یا عدم جواز)عمر صرف اس لئے ڈ انٹے گئے کہ وہ حاطب پر نفاق کا الزام لگا رہے تھے اور ان کو قتل کرنے کی کوشش کررہے تھے،جب کہ نبی ؐ نے حاطب کا عذر قبول کرلیا تھا اور حاطب نے خود کے بارے میں جو نفاق کی نفی کی تھی اس کی تصدیق کردی تھی،حدیث مذکورہ اسی بات کی تصریح کرتی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) صحیح مسلم ج: 4 ص: 1941 کتاب فضائل،اہل بدر اور حاطب بن ابی بلتعہ کی داستان


قرآن مجید حاطب کے فعل کو غلط ثابت کرتا ہے

اس موقعہ پر خداوند عالم نے حاطب کے اس فعل کو غلط قرار دیا،قرآن مجید میں اس موقعہ پر ارشاد ہوتا ہے:(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُم مِّنَ الْحَقِّ يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّاكُمْأَن تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ رَبِّكُمْ إِن كُنتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِيتُسِرُّونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا أَخْفَيْتُمْ وَمَا أَعْلَنتُمْوَمَن يَفْعَلْهُ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ..قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ.. لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيهِمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَوَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ) (1)

ترجمہ آیت:(اے ایمان دارو!اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے اور میری خوشنودی کی تمنا میں(گھر سے)نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ،تم ان کے پاس دوستی کا پیغام بھیجتے ہو اور جو دین حق تمہارے پاس آیا ہے اس سے وہ لوگ انکار کرتے ہیں،وہ لوگ رسول کو اور تم کو اس بات پر(گھر سے)نکالتے ہیں کہ تم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے ہو(اور)تم ہو کہ ان کے پاس چھپ چھپ کے دوستی کا پیغام بھیجتے ہو،حالانکہ تم کچھ بھی چھپا کر یا بالاعلان کرتے ہو میں اس سے خوب واقف ہوں،اور تم میں سے ایسا جو شخص کرے تو وہ سیدھی راہ سے یقیناً بھٹک گیا ہے مسلمانو!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ ممتحنہ آیت 6،4،1


(تمہارے واسطے)تو ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کے(قول و فعل کا اچھا نمونہ موجود ہے)کہ انھوں نے جب اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور ان(بتوں)سے جنہیں تم خدا کے سوا پوجتے ہو بیزار ہیں ہم تو تمہارے(دین کے)منکر ہیں اور جب تک تم مکمل یکتا خدا پر ایمان نہ لاؤ ہمارے تمہارے درمیان کھلم کھلا عداوت اور دشمنی قائم رہےگی ۔ (مسلمانو)ان لوگوں کے(افعال)کا تمہارے واسطے جو خدا اور روز آخرت کی امید رکھتا ہے اچھا نمونہ ہے اور جو(اس)سے منھ موڑے تو خدا بھی یقیناً بےپرواہ(اور)سزاوار حمد ہے)

آپ دیکھ رہے ہیں کہ خداوند عالم اس قرآن میں جس کی تلاوت صبح و شام کی جاتی ہے علانیہ اس صحابی کو ڈ انٹ رہا ہے اور اس کو برا کہہ رہا ہے!کہ وہ خدا جو کھلے ہوئے قرآن میں کسی کو خود ڈ انٹ رہا ہے اور اس کو برا کہہ رہا ہے تو مسلمانوں کا ڈ انٹنا اور انکار کیوں پسند نہیں کرےگا اور کیوں اس کو برا کہنےوالے سے ناراض ہوگا مگر یہ کہ وہ خود توبہ کرلے تو یہ دوسری بات ہے جو ہماری بحث سے خارج ہے ۔

2 ۔ نبی ؐ جو عمر کو روکا تو برا کہنے سے نہیں روکا تھا،بلکہ عمر اس کو جان سے مارنے کی کوشش کر رہے تھے اور سرکار ؐ کی رائے میں حاطب قتل کا مستحق بہرحال نہیں تھا یا یہ کہ حضور ؐ نے اس کو معاف کردیا تھا نہ یہ کہ اہل بدر کو غلطی کرنے پر انہیں دنیا میں سزا نہیں دی جائےگی،اس بات کا تو کسی نے التزام نہیں کیا ہے ۔

اس کے علاوہ حضور ؐ نے خود ہی مسطح بن اثاثہ پر اِفک کے معاملے میں حد جاری کی ہے(1)

روایتوں میں یہ بات ملتی ہے(مسطح بن اثاثہ حالانکہ اہل بدر میں تھا)دوسرا ثبوت ابھی آپ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) مسند ابی یعلی،ج: 8 ص: 338 ،السنن الکبریٰ،للبیھقی،ج: 8 ص: 250 ،کتاب المرتد،باب شوہردار عورتوں کو زنا سے متہم کرنے کی حد سے متعلق،سبل الاسلام،ج: 4 ص: 15 ،کتاب الحدود حد القذف کے باب میں،تفسیر القرطبی،ج: 12 ص: 201 ۔ 202 ،تفسیر ابن کثیر،ج: 3 ص: 272 ،فتح الباری،ج: 3 ص: 272 ،فتح الباری،ج: 13 ص: 342 ،تحفۃ المحتاج،ج: 2 ص: 480 ،تاریخ الطبری،ج: 2 ص: 114 ،حدیث الافک۔


کے دوسرے سوال کے جواب میں گذرچکا ہے کہ عمربن خطاب نے قدامہ بن مظعون پر حد قائم کی حالانکہ یہ دونوں حضرات اصحاب بدر میں تھے ۔ ( 1)

حدیث،اہل بدر کی قطعی سلامتی اور نجات کی ضمانت نہیں لیتی

3 ۔ حضور کا یہ کہنا ہے:((اللہ اہل بدر کے حالات سے مطلع ہے اس نے کہہ دیا کہ تم جو چاہو کرو میں نے تمہیں معاف کردیا ہے،اس سے قطعی سلامتی کے بجائے صرف سلامتی اور نجات کی امید پیدا ہوتی ہے اور صرف امید اس بات کی مانع نہیں کہ ان کے اعمال کے نتیجے میں ان پر طعن نہ کی جائے،جبکہ ان کے اعمال قابل طعن ہوں،اس لئے کہ اگر کوئی آدمی علانیہ فاسق ہو تو اس پر طعن کے جائز ہونے میں کوئی اشکال نہیں جب کہ اس کی ہلاکت قطعی نہیں ہے،اس لئے کہ خدا کی رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے اور وہ بخشنےوالا اور رحم کرنے والا ہے ۔

4 ۔ حدیث کا قطعی نجات پر محمول کرنا ایک تکلف ہے،جو بے بنیاد اور بے دلیل بات ہے،اس کا کوئی دعویٰ بھی نہیں کرتا ہے،اہل سنت کی بات دوسری ہے وہ تو تسلیم کرچکے ہیں کہ سارے صحابہ کو استقامت حاصل تھی اور سارے صحابہ جہنم سے محفوظ ہیں اور ہمارا موضوع بحث بھی یہی ہے اس لئے کہ دعویٰ کبھی دلیل نہیں بن سکتا یہاں پر مقام احتجاج میں اس نظریہ کو پیش کیا جاسکتا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) تفسیر القرطبی،ج: 6 ص: 297 ،المستدرک علی صحیحن،ج: 3 ص: 466 ،کتاب معرفۃ الصحابۃ قدامہ بن مظعون بن حبیب وہب جمحی سے متعلق بحث میں،المعجم الکبیر،ج: 19 ص: 37 ،جس کا نام قدامہ تھا یعنی قدامہ بن مظعون جمحی بدری،فتح الباری،ج: 7 ص: 306 ،سیر اعلام النبلاءج: 1 ص: 161 ،قدامہ بن مظعون کی سوانح میں،الطبقات الکبریٰ،ج: 3 ص: 401 ،قدامۃ بن مظعون کے سوانح حیات میں،الاصابۃ،ج: 5 ص: 423 ،قدامہ بن مظعون کی سوانح میں،تہذیب الاسماء،ج: 2 ص: 371 ،قدامہ بن مظعون کے سوانح حیات میں،الاستیعاب،ج: 4 ص: 1472 ،مسطح بن اثاثہ کے سوانح حیات میں،المتقنیٰ فی سردالکنی،ج: 1 ص: 340 ،ابی عباد مسطح بن اثاثہ کی سوانح حیات میں،سیر اعلام النبلاء،ج: 1 ص: 187 ،مسطح بن اثاثہ کے سوانح حیات میں،مشاہیر علماء الامصار،ص: 12 ،مسطح بن اثاثہ کے سوانح حیات میں الثقات،ج: 3 ص: 383 ،مسطح بن اثاثہ کے سوانح حیات میں نیز اس کے علاوہ منابع،


اہل بدر کی قطعی سلامتی کا اعلان انھیں گناہ پر ابھارےگا

اولاً ۔ اس نظریہ سے برائی کی چھوٹ ملتی ہے جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ سابقون اوّلون والی آیت کی تفسیر میں جو حدیث لائی گئی اس میں اہل بدر کو کس طرح برائی کے لئے آزادی دی جارہی ہے ۔

مزید وضاحت کے لئے بخاری شریف کی مندرجہ ذیل حدیث ملاحظہ ہو ۔ ((بخاری فلاں سے روایت کرتے ہیں کہ ابوعبدالرحمن اور حبان بن عطیہ میں جھگڑا ہوا ابوعبدالرحمٰن نے حبان بن عطبہ سے کہا تمہیں معلوم ہے تمہارے صاحب یعنی علی ؑ کی ہمت خون بہانے میں کیوں بڑھی ہوئی ہے،حبان نے کہا تیرا باپ نہ ہو کیوں؟کہا اس کی وجہ ایک بات ہے جو میں نےن کو کہتے ہوئے سنا ہے،پوچھا گیا بات ہے؟کہا ہو کہہ رہے تھے کہ ہمیں زبیر کو اور ابومرثد کو سرکار نے کسی کام سے بھیجا ہم سب گھوڑوں پر سوار تھے....عمر نے کہا یا رسول اللہ ؐ اس نے خدا اور خدا کے رسول اور مومنین سے خیانت کی ہے،مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی گردن ماردوں،سرکار ؑ نے کہا سچ کہہ رہے ہو لیکن اس کے بارے میں سوائے خیر کے کچھ مت بولا کرو،پھر عمر نے اعادہ کیا اور کہا اے رسول ؐ اس نے خدا سے خدا کے رسول اور مومنین سے خیانت کی ہے آپ اجازت دیں کہ میں اس کی گردن ماردوں،آپ نے فرمایا کیا وہ بدر والوں میں نہیں ہے؟اور کیا تمہیں معلوم نہیں،اللہ اہل بدر کے حال سے اچھی طرح واقف ہے،تم جو چاہو کرو،میں نے تم پر جنت واجب کردی ہے،یہ سن کے عمر رونے لگے اور ان کی آنکھیں دب ڈ با گئیں،پھر کہا اللہ اور اللہ کے رسول ؐ بہتر جانتے ہیں(1)

ملاحظہ ہو اگر چہ ہم شیعہ اس بات کے قائل ہیں بلکہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ امیرالمومنین ؑ کبھی خون ناحق نہیں بہاسکتے اور صفین و نہروان کی جنگ میں شریک ہونا آپ کے اوپر واجب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)صحیح بخاری ج:6ص:2542،کتاب استتابۃ المرتدین...باب ما جاء فی المتادلین حدیث:6540


تھا،جیسا کہ بہت سے علماء نے تصریح کی ہے(1)

اس کے علاوہ آپ نے نبی کے ہمرکاب ہو کر جنگ کا ایک عہد کیا تھا ۔ اور نبی نے آپ کو ناکثین قاسطین اور مارقین(2) سے لڑنے کا حکم دیا تھا لیکن حدیث مذکور عام ذہنوں کا بہرحال

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)بہت مناسب ہے کہ ہم یہاں پر وہ عبارت تحریر کریں جسے نصر بن مزاحم نے وقعۃ الصفین میں جنگ کے شعلوں کے بھڑک جانے کے بعد طرفین کی یلغار کے سلسلہ میں روایت کی ہے:وہ کہتے ہیں کہ:شامیوں میں سے ایک شخص باہر آیا جو پکار پکار کے کہہ رہا تھا کہ اے ابوالحسن اے علی کہاں ہو آؤ مجھ سے جنگ کرو حضرت علیؑ وارد میدان ہوئے دونوں صفوں کے درمیان ان کے گھوڑوں کی گردنیں ایک دوسرے سے ٹکرئیں،اس شامی نے آپ سے کہاں کہ:اے علی!آپ نے ہجرت کی کیا یہ ہوسکتا ہے کہ میں ؤپ کے سامنے ایک تجویز رکھوں جس میں ان سارے خون خرابے سے بچاؤ اور اس طرح کی جگ و خونریزی سے بچنے کی سبیل مضہر ہے،پھر اس کے بعد آپ کو اختیار ہے،امام نے فرمایا:وہ تجویز کیا ہے؟اس نے کہا آپ عراق واپس چلے جائیں ہم آپ کے لئے عراق کا علاقہ چھوڑ دیتے ہیں اور ہم شام چلے جاتے ہیں اور شام ہمارے قبضہ میں رہے آپ اس سے تعرض نہ کریں،امام نے فرمایا:تم نے شفقت بھری نصیحت کی ہے میں اس کی قدر کرتا ہوں مجھے بھی جنگ و جدال کا شوق نہیں ہے بلکہ اس فکر نے میری راتوں کی نیند چھین لی ہے میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ قدم اٹھایا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ((لم اجد الا القتال او الکفر بما انزل اللہ علی محمد))یا میں ان سے جنگ کروں یا پھر دین محمدی کا منکر ہوجاؤں،اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء سے راضی نہیں ہے کہ روئے زمین پر اس کی معصیت ہو اور چپ بیٹھے رہیں امربالمعروف نہ کریں اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا نہ کریں،بھائی!میں ان سے جگ کو اپنے حق میں کہیں بہتر سمجھتا ہوں اس سے کہ جہنم میں آگ کی زنجیروں میں جکڑدیا جاؤں،وقعۃ الصفین،ص:474،شرح نہج البلاغہ،ج:2ص:208،207،اخبار الطّوال،ص:187۔188،ینابیع المودہ ج:2ص:8۔9،اسد الغابۃ ج:2ص:63،

(2)المستدرک علی صحیحین،ج:3ص:150،کتاب صحابہ کی معرفت اور حضرت امیرالمومنینؑ کے اسلام کا ذکر،مجمع الزوائدج:5ص:186،کتاب الخلافۃ خلفاء اربعہ کے باب میں،ج:7ص:238،کتاب الفتن،جو دو گروہ کے درمیان صفین میں رونما ہوا ہے اس کے باب میں،مسند ابی یعلی،ج:1ص:379،مسند علی ابن ابی طالبؑ کے بیان میں،مسند البراز،ج:2ص:215،جو علقمہ بن قیس نے علی سے متعلق روایت کی ہے کہ بیان میں،ج:3ص:27،جو علی بن ربیعہ اسدی نے علی بن ابی طالب سے متعلق روایت کی ہے،مسندالشاشی،ج:2ص:342،اس روایت کے ذیل میں جو علقمہ بن قیس نے عبداللہ بن مسعود کے بارے میں کی ہے،المعجم الکبیر،ج:10ص:91،اس روایت کے ذیل میں جو علقمہ بن قیس نے عبداللہ بن مسعود کے بارے میں کی ہے۔


انکشاف کرتی ہے،آپ دیکھیں کہ اس حدیث میں صرف یہ امید کی گئی ہے کہ اہل بدر نجات یافتہ ہیں مگر محض اس امید کی بنیاد پر حضرت علی ؑ نے(امام بخاری کے نظریہ کے مطابق یا ابوعبدالرحمٰن کے نظریہ کے مطابق)امت میں کتنا خون بہایا،امیر المومنین ؑ تو ہمارے عقیدہ کے مطابق معصوم ہیں اور آپ اس طرح کی غلطیوں سے اپنی عصمت کی بنا پر بالکل پاک ہیں لیکن آپ دیکھیں کہ اس حدیث کی بنیاد پر عام ذہن کیا سونچ رہا ہے اور اس حدیث کا عام آدمی پر کیا اثر پڑےگا اس لئے کہ عام آدمی بشری کمزوریوں اور انسانی جذبات سے محفوظ تو نہیں ہے خصوصاً جب ان کا نفس یہ کہہ کے انھیں گناہ پر ابھارے کہ تم گناہ و ثواب کی فکر کیوں کرتے ہو؟حضور ؐ نے تو تمہاری سلامتی کی نص وارد کردی ہے ۔

ثانیاً ۔ بعض واقعات کو دیکھیں تو خود اہل بدر کا نظریہ آپ کے نظریہ سےمیل نہیں کھاتا نہ قرآن مجید اس ی تائید کرتا ہے قرآن نے بعض سابقون کے بارے میں دوسرے سابقون کے نظریہ پر اعتراض کیا ہے یہ سب باتیں آپ کے دوسرے سوال کے جواب میں عرض کی جاچکی ہیں جہاں میں نے بتایا تھا کہ قرآن مجید کا صحابہ کے بارےمیں کیا موقف ہے ۔

ثالثاً ۔ مزید بر آں آپ کے اہل بدر والے اس نظریہ سے خود دوسرے صحابہ سے متفق نہیں ہیں آپ تاریخ تو پڑھیں،میں دوسرے سوال کے جواب میں یہ باتیں بھی پیش کرچکا ہوں ۔

اس طرح کی حدیثوں میں گناہ کبیرہ سے بچنے کی قید لگانا ضروری ہے

5 ۔ اگر یہ مان لیا بھی جائے کہ مذکورہ حدیث سے اصحاب بدر کی نجات یقینی ہے تب بھی اس میں گناہان کبیرہ سے بچنے کی قید لگانا ضروری ہے یعنی اسیے گناہ جو مہلک ہیں مثلاً ارتداد،نفاق،حکم خدا کی تردید اور دین میں بدعت و غیرہ،اس لئے کہ کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ مندرجہ بالا گناہ کرنے کے باوجود اہل بدر بخش دئے جائیں گے میرا خیال ہے کہ سابقون اوّلون کی بخشش کا یقین اہل سنت کو یا تو اس لئے ہے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سابقون سے مذکورہ گناہ صادر ہی نہیں ہوئے یا اس لئے کہ اگر انہوں نے ایسے گناہ کئے بھی تو توبہ کرلی لیکن حدیث میں ان دونوں ہی باتوں پر کوئی دلالت موجود نہیں


ہے کہ جب انہوں نے گناہ کیا تھا اس وقت بخش دئے گئے تھے یا اس سے قبل کے گناہ بخش دئے گئے ہیں اور جب حدیث کو مہلک گناہوں سے مقید کردیں گے یعنی ذنوب مہلکہ کا غفران اس مغفرت میں شامل نہیں ہے تو پھر یہ دعویٰ کہ ان سے اس طرح کے گناہ ہوئے ہی نہیں یا یہ کہ گناہاں کبیرہ کئے لیکن توبہ کرلی،ان دونوں باتوں کے لئے الگ سے دلیل لانی پڑےگی ۔

قرآن مجید حاطب کی جس طرح تہدید کرتا ہے اس سے سلامت قطعی نہیں سمجھی جاسکتی

6 ۔ خداوند عالم کا یہ کہنا ہے کہ:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيهِمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ (1)

ترجمہ آیت:(جو خدا اور آخرت سے امیدوار ہے اس کی سیرت میں تمہارے لئے قابل پیروی باتیں ہیں اور جو منھ موڑ لیتا ہے تو اللہ بےنیاز اور سزاوار احمد ہے ۔ )

یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حاطب اس وقت تک معرض ہلاکت میں ہے جب تک توبہ نہ کرلے،یہ ثابت کرنےکے لئے کہ وہ اللہ اور آخرت کا امیدوار ہے،اسے اسوہ ابراہیمی اور اصحاب ابراہیم ؑ کی پیروی کرنا ضروری ہے اور اس پیروی کا اظہار اس طرح ہوگا کہ وہ کافروں سے اظہار برائت کرے اور ان سے دور رہے،اگر وہ اس سیرت ابراہیمی کی پیروی نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کو خدا سے کوئی امید ہے نہ آخرت سے،اس منزل پاس میں جو بھی پہنچ جائے اس کی ہلاکت میں کسی کو اشکال نہٰں ہے بلکہ ارشاد ہوتا ہے(جو منھ موڑےتو اللہ بےنیاز ہے اور سزاوار حمد ہے)اور اس ٹکڑے میں اتنی سخت دھمکی ہے کہ جو کسی پر مخفی نہیں ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ ممتحنہ آیت:6


جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:

لَن تَنفَعَكُمْ أَرْحَامُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ(1)

ترجمہ آیت:(تمہاری رشتہ داریاں اور تمہاری اولاد تم کو قیامت کے دن کوئی فائدہ نہیں پہنچائےگی،اس دن تو وہی تمہارے درمیان فیصلہ کرےگا اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے ۔ )

اس آیت میں حاطب کی تردید اور اس کے قبول عذر سے رفض ظاہر ہورہا ہے،حاطب کا شدت سے انکار کیا جارہا ہے اور تہدید کی جارہی ہے پھر کیسے ممکن ہے کہ اس تہدید و انکار کے بعد بھی اللہ اس کو معاف کرکے اس کی سلامتی کو قطعی قرار دےگا،اس آیت سے امید بھی ظاہر نہیں ہورہی ہے جو معنائے حدیث میں شامل ہے کہ:اگر گناہاں کبیرہ اس سے صادر ہوئے ہیں تو حدیث سے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کے بخشے جانے کی امید ہے،جب کہ آیت کا اس کا انکار کرتی ہے ۔

7 ۔ چونکہ مذکورہ آیتیں نبی ؐ کی حدیث مذکور کے بعد نازل ہوئیں ہیں لہذا دو میں سے کوئی ایک بات ماننی پڑےگی یا تو نبی کریم ؐ اس گناہ کی اہمیت سے ہی ناواقف تھے جو حاطب کرچکا تھا،جب کہ ایسا ناممکن ہے بہرحال مان لیں کہ نبی ؐ اس گناہ کی اہمیت سے ناواقف تھے اور اللہ نے نبی کریم ؐ کے وہم کو دور کردیا اس آیت کو نازل کرکے یا یہ کہ نبی ؐ عمر کی منھ زوری کو لگام دینا چاہتے تھے اور ان کو روکنا چاہتے تھے،آپ اس کو معاملات نبوت میں مداخلت سے باز رکھنا چاہتے تھے اس لئے کہ اس سے آگے چل کے بہت سے نقصانات دین کو پہنچ سکتے ہیں اس لئے حضور ؐ نے ان کو ڈ انٹا،یعنی حضور ؐ حاطب کے گناہ کی اہمیت سے واقف تھے اور اس کو معرض خطر میں سمجھ رہے تھے اب دو میں سے جو بات آپ کے دل کو لگتی ہو مان لیں ۔

رہا شیعوں کا سوال تو ہم لوگ تو آیات مذکورہ کی صراحت کے بعد ابھی اس حدیث ہی کو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ ممتحنہ آیت: 3


مشکوک سمجھ رہے ہیں ہمیں متن حدیث ہی میں شک ہے دلالت اور سند حدیث میں تو شک و شبہ ہے ہی،کیونکہ اس میں جان بوجھ کے تحریف ہوئی یا غیرارادی طور پر تحریف ہوئی ۔

تھوڑی سی گفتگو حدیث حاطب جیسی حدیثوں کے بارے میں

8 ۔ اس طرح کی دوسری حدیث حاضر کررہا ہوں اس سے بھی اسی حالت کا اظہار ہوتا ہے،ابوہریرہ کہتے ہیں(پھر انصار میں سے ایک آدمی اندھا ہوگیا تو اس نے حضور ؐ کو بلا بھیجا کہ اس کے گھر میں ایک مسجد بنادیں تا کہ وہ وہیں نماز پڑھا کرے،سرکار ؐ اس کے گھر آئے اور اس کی قوم اس کے پاس جمع ہوئی لیکن ان کا ایک آدمی نہیں آیا،جب حضور ؐ نے پوچھا وہ کہاں ہے لوگوں نے اس سوال کے جواب سے چشم پوشی کی لیکن ایک آدمی بولا وہ تو(ایسا ویسا ہوگیا)آپ نے فرمایا کیا وہ اہل بدر میں سے نہیں ہے؟کہاں ہاں اے خدا کے رسول ؐ لیکن وہ اسی ویسی حرکتیں کرتا ہے فرمایا،اللہ بدروالوں کے حال سے بہتر واقف ہے تم کو جو سمجھ میں آئے کرو بیشک میں نے تم کو بخش دیا ہے)(1) مندرجہ بالا حدیث کی سند میں اگر چہ ہلکاپن ہے،لیکن یہ بھی اہل بدر کی قطعی سلامتی پر دلالت نہیں کرتی ۔ جس طرح آیہ کریمہ کے معنی سے اس کو کوئی مناسبت نہیں ہے ممکن ہے کہ یہ حدیث اس آیت کے قبل صادر ہوئی ہو تو بھی اس پر سابقہ اصول جاری ہوں گے ۔

9 ۔ اسی طرح کی ایک حدیث جابر سے ہے،کہتے ہیں کہ حاطب کا ایک غلام تھا وہ حضور ؐ کی خدمت میں حاطب کی شکایت لے کے آیا،کہنے لگا خدا کے رسول ؐ حاطب ضرور جہنم میں جائےگا،آپ نے فرمایا ہرگز نہیں جھوٹا ہے،وہ جہنم میں نہیں جاسکتا،وہ بدری مجاہدوں میں ہے اور حدیبیہ میں شریک تھا ۔(2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) صحیح حبّان،ج: 11 ص: 123 ،حدیث شمارہ 4798 ،غزوہ بدر میں جہاد کے وجوب کے باب سے متعلق ایسی خبر کا ذکر کرنا جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو اہل بدر نے بدر کے دن کرتوت کئے ہیں خداوند عالم نے اسے بخش دیا اور طلحہ اور زبیر بھی انہیں میں سے ہیں۔

( 2) صحیح ابن حبان ج: 11 ص: 122 حدیث: 4799 باب فرض جہاد:جنگ بدر:جنگ بدر اور صلح حدیبیہ میں شریک افراد کے داخل جہنم ہونے کے بارے میں انکار کا تذکرہ


چونکہ بدر اور حدیبیہ کی فضیلت تمام گناہوں سے بخشش کی سند نہیں دےسکتی،گناہان کبیرہ کی تو بات ہی الگ ہے اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ نبی ؐ برحق اس غفران کو قطعی قرار دیں،اس لئے کہ اس سے اعمال قبیحہ کی طرف ترغیب لازم آئےگی پس ضروری ہے کہ اس حدیث کو اس معنی پر محمول کیا جائے کہ آپ نے حاطب کے غلام کے اس نظریہ کی تردید کی تھی کہ حاطب کا جہنم میں جانا یقینی ہے جب کہ وہ بدر اور حدیبیہ کا شاہد ہے،یہ بھی ممکن ہے کہ غلام نے جن گناہوں کی شکایت کی تھی وہ قابل بخشش ہوں اور ان کی وجہ سے اس کا جہنمی ہونا یقینی نہ ہو ۔

حکمت اور عقل کا تقاضا یہ ہے کہ حدیث حاطب کی تاویل کی جائے

ممکن ہے کہ اس طرح کی حدیثون کی اگر سند و متن محکم ہوں تو ایسی تاویل کی جائے جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق ہو،ساتھ ہی کتاب اور سنت میں اسی معنی کا ظہور ہو جیسے یاد دہانی پر تاکید،عذرتراشی سے پرہیز اور خواہ مخواہ دوسروں کو سرزنش کرنے سے روکنا تا کہ نفس کے بہکنے اور نجات کی امید و غیرہ پر ایسا اعتماد نہ ہوجائے کہ جس کی وجہ سے انسان محارم کا مرتکب ہو،حدود الہی کو توڑ دےاور آخرت میں منکر الہی سے بالکل محفوظ دل میں ڈ الی دے یا اسی طرح کے دوسرے گناہوں پہ ابھارے جس سے بچنے کی اللہ نے تاکید کی ہے ۔ ان تاویلوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضور ؐ بدر میں جہاد کی اہمیت اور اس کی عظیم فضیلت بیان کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہ بدر میں جہاد کی وجہ سےہل بدر کے سابقہ گناہ بخشے جاسکتے ہیں،اس لئے کہ:

إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّـيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ(1)

(ترجمہ آیت:(اچھائیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں) ۔

یا یہ کہ حضور ؐ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عمل جاری رکھو چاہے وہ خیر ہو یا شر،تمہارا گذشتہ کردار یعنی جنگ بدر میں شرکت تمہاری سابقہ خطاؤں کی بخشش کے لئے کافی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ ہود آیت 114 ،


اب اس کے بعد(گناہ چاہے ثواب)جو عمل بھی اختیار کرو تمہارے اختیار میں ہے جیسے حاجیوں کے بارے میں حدیث وارد ہوئی ہے(کہ عمل کرتے رہو تمہیں بخش دیا گیا ہے)(1) ابوہریرہ حضور ؐ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو خدا کے لئے حج کرے پس وہ فحش نہ بکے اور فاسق نہ ہو تو وہ گناہوں سے یونہی پاک ہوجاتا ہے جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے نکلا ہو ۔(2)

اس بیان سے مقصد یہ ہے کہ ایسی فضیلتوں والا اس بات کا مستحق ہے کہ نبی ؐ اس کی اس طرح کی غلطیوں کو معاف کردیں جس سے مقصد اس کی اصلاح ہے یا یہ بتانا کہ اللہ نے اس کے گناہوں کو بخش دیا ہے نہ کہ اس کی قطعی سلامتی کا اعلان کیا ہے ۔

عمداً یا سہواً حدیثوں سے مغالطے ہوتے ہیں

اصل میں یا تو انسان ان مرتبوں سے لاعلم ہوتا ہے جن کے ماحول میں حدیث صادر ہوئی یا جان بوجھ کے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے،بہرحال جو ہو حدیثوں سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے مثال کے طور پر محمد بن مارد کی حدیث ملاحظہ فرمائیں،اس نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ جب تمہیں معرفت امام حاصل ہوجائے تو پھر جو چاہے کرو،آپ نے فرمایا ہاں میں نے یہ کہا ہے میں نے عرض کیا اس کا مطلب ہے کہ امام کو پہچان لینے کے بعد اس کو اجازت ہے چاہے وہ زنا کرے چاہے چوری کرے یا شراب پیئے،آپ نے فرمایا:(انّا لله و انّا الیه راجعون) خدا کی قسم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)وسائل الشیعہ ج:8باب:38شرائط واجبات حج)

(2)صحیح بخاری ج:2ص:553،کتاب الحج،حج مبرور(مقبول)کی فضیلت کے باب میں انھیں الفاظ میں صحیح مسلم،ج:2ص:984،کتاب حج،حج عمرہ اور روز عرفہ کی فضیلت کے باب میں،صحیح بن خزیمۃ،ج:4ص:131،کتاب المناسک حج کی فضیلت کے بیان میں جس میں جنگ و جدال،فسق و فجور اور گناہوں اور خطاؤں کے کفارہ کے باب میں،صحیح بن حبان،ج:9ص:7،کتاب حج،حج و عمرہ کی فضیلت کے باب میں،اللہ کی بخشش گذشتہ گناہوں سے متعلق جو کوئی ایسا حج کرے جس میں جنگ و جدال اور فسق و فجور نہ ہو،مسند ابی الجعد،ص:141شعبہ بن منصور کی باقی حدیث کے ضمن میں نیز اس کے علاوہ بہت سارے مصادر میں۔


لوگوں نے ہمارے ساتھ انصاف نہٰں کیا یہ ممکن ہے کہ ہم تو عمل کی وجہ سے پکڑے جائیں اور ہمارے شیعوں پر سے اعمال ساقط ہوجائیں میرے کہنے کا مطلب تو یہ تھا کہ جب تم امام کو پہچان لیتے ہو تو اچھا کام چاہے زیادہ کرو چاہے کم،اللہ اسے قبول کرےگا ۔(1)

واقعہ بدر کے علاوہ بھی ایسی چیزیں ہیں جن کے بارے میں سلامت قطعی وارد ہوئی ہے

10 ۔ بہت سے اعمال خیر اور عقائد حقہ ہیں جن کے بارے میں سلمات قطعی وارد ہوئی ہے،ملاحظہ ہو ابوذر غفاری کی حدیث آپ کہتے ہیں حضور ؐ نے فرمایا:کوئی بندہ ایسا نہیں ہے کہ لا الہ الا اللہ کہے اور اسی کلمہ پر مرجائے مگر یہ کہ وہ جنت میں داخل ہوگا میں نے کہا چاہے وہ زنا کرے چاہے چوری فرمایا چاہے زنا کرے یا چوری،میں نے کہا چاہے زنا کرے یا چوری فرمایا چاہے زنا کرے یا چوری میں نے پھر پوچھا چاہے زنا کرے یا چوری فرمایا چاہے وہ زنا کرے یا چوری ابوذر کی چاہت کے خلاف(2) اس طرح کی بہت سی حدیثیں ہیں ۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)وسائل الشیعہ ج:1ص:87باب:28باب مقدمہ عبادت حدیث:2

(2)صحیح بخاری ج:5ص:2193کتاب اللباس:باب ثیاب البیض

(3)صحیح بخاری ج:1ص:417،باب اور کتاب دونوں ہی جنازوں سے متعلق ہے،ج:5ص:2312،کتاب الاستیذان،جس نے لبیک اور سعدیک جیسے کلموں کے ذریعہ جواب دیا،ص:2366،کتاب الرقاق(بندگی)سے متعلق،جو اسے پیش کیا گیا وہ اس کا مال ہے کے باب میں،صحیح مسلم،ج:1ص:95۔94،کتاب الایمان اس امت کے افتراق سے متعلق باب الزکاۃ،صدقہ کی ترغیب کے باب میں،سنن الترمذی،ج:5ص:27،کتاب الایمان اس امت کے افتراق سے متعلق باب میں،السنن الکبریٰ،نسائی،ج:6ص:144،ابوذر غفاری کی حدیث میں،مسند ابی عوانہ،ج:1ص:28،کتاب الایمان،ان اعمال اور فرائض کے بیان میں جن میں قول و فعل کے ذریعہ انجام دیا ہے اور اس کی وجہ سے جنت میں داخل ہوا،نیز اس دلیل کے سلسلے میں صرف اقرار کافی نہیں ہے جب تک دل سے یقین نہ کرے اور خدا کی رضا کا طالب نہ ہو جو چیز حرام کردیتی ہے اور اس کے علاوہ مصادر۔


عمر کہتے ہیں کہ سرکار ؑ نے فرمایا،تم میں سے جو بھی وضو کرے اوراشهد ان لا اله الله و اشهد ان محمد عبده و رسوله کہے اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جائیں گے جنت میں چاہے جس دروازے سے داخل ہو ۔(1)

عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے پیغمبر کو یہ کہتے سنا اللہ نے پانچ نمازیں فرض کی ہیں جو بہترین وضو کرکے ان کو ان کے وقت پر ادا کرے اور کامل رکوع و سجود اور خشوع کے ساتھ ادا کرے،اللہ پر عہد ہے کہ وہ اس بندہ کو بخشےگا اور جو ایسا نہیں کرے اس کا اللہ پر کوئی عہد نہیں چاہے بخشے چاہے سزادے.(2) اسی طرح کی دوسری حدیثیں ملاحظہ ہوں ۔(3)

ابوہریرہ کہتے ہیں ایک عرب حضور ؐ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا مجھے ایسا عمل بتائیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) السنن الکبریٰ،بیھقی،ج: 1 ص: 78 ،کتاب الطہارۃ،وضو کے مستحبات اور واجبات کے بیان میں،باب وضو سے فارغ ہونے کے بعد کیا کہےگا انھیں الفاظ میں صحیح بخاری،ج: 3 ص: 1267 ،کتاب الانبیاء باب قول خداوند(یا اهل الکتاب لا تفعلو فی دینکم و لاتقولوا علی الله الا الحق انّما المسیح بن مریم رسول الله و کلمة القاها الی مریم و روح منه فٰامنوا بالله و رسوله و لاتقولوا ثلاثة...) صحیح مسلم ج: 1 ص: 209 کتاب الطہارۃ وضو کے بعد مستحب ذکر کے باب میں،صحیح ابن خزیمہ،ج 1 ص: 110 ،کتاب الوضو،بغیر ایجاب کے تطہیر اور استحباب کے ابواب میں،باب تحلیل اور نبی کی رسالت کی گواہی کی فضیلت اور عبودیت کے بیان میں نیز وہ چیزیں نہ کہی جاتیں جو نصاریٰ عیسٰ بن مریم کے بارے میں کہتے ہیں،نیز اس کے علاوہ دیگر منابع و ماخذ

( 2) السنن الکبریٰ،بیھقی،ج: 3 ص: 366 ،تارک الصلواۃ کے باب میں،جس کے ذریعہ اس بات پر استدلال کیا جاتا ہے کہ اس کفر سے مراد وہ کفر ہے جس سے اس کا خون مباح ہوتا ہے نہ یہ کہ اللہ،رسول پر ایمان سے خارج ہوجاتا ہے اگر وجوؓ صلاۃ کا منکر نہیں ہے

( 3) سنن ابی داؤدج: 1 ص: 115 ،باب اوقات نماز کی پابندی،مسند احمدج: 5 ص: 317 ،عبادۃ بن صامت کی حدیث،الاحادیث المختارۃ،ج: 8 ص: 320 ،جس کا نام عبدالرحمٰن بن عسیلۃ الصنابحی،المعجم الاوسط ج: 9 ص: 126 ،باب الھاء،ہاشم کے اسم کے بارے میں،الترغیب و الترھیب،ج: 1 ص: 148 ۔ 157 ۔ 155 ،تعظیم قدر الصلاۃ ج: 2 ص: 953 ،وغیرہ مصادر


جس کو کر کے میں جنت میں داخل ہوجاؤں،آپ نے فرمایا اللہ کی عبادت کرو اور اس کی ذات میں کسی کو شریک نہ بنا،واجب نمازیں پڑھتا رہ،فرض زکٰوۃ ادا کرتا رہ،رمضان میں روزے رکھتا رہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس سے زیادہ میں کچھ نہ کہوں گا ۔(1)

دوسری حدیث ابوہریرہ ہی سے ہے کہ ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک ان کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے اور مستحب حج کی جزا سوائے جنت کے کچھ نہیں ۔(2)

حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا جو حج یا عمرہ کے لئے سفر میں ہو اور مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ کے درمیان چاند دیکھے اس کے گذشتہ اور آئندہ گناہ بخش دئے جاتے ہیں اور اس پر جنت واجب ہوجاتی ہے ۔(3)

ظاہر ہے کہ ان حدیثوں کو ہم ظاہر پر حمل نہیں کرسکتے ورنہ اعمال کی دنیا میں اندھیرا ہوجائےگا اس لئے کہ باقی محرمات و واجبات پر جو دلیلیں اور کتاب و سنت میں جو وعید وارد ہوئی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) صحیح بخاری ج: 2 ص: 506 ،کتاب الزکاۃ،باب زکوۃ کا وجوب اسی لفظ میں صحیح مسلم ج: 1 ص: 44 ،کتاب الایمان،اس ایمان کے باب میں جس کی وجہ سے جنت میں داخل ہوتا ہے نیز مامور بہ سے جو متمسک ہوجائے وہ جنت کا حقدار ہے مسند احمد،ج: 2 ص: 342 ،مسند ابی ہریرہ،جامع العلوم و الحکم،ص: 207 ،الایمان لابن مندۃ،ج: 1 ص: 269 ،اس بات کے ذکر میں نبی کی اصحاب نے بیعت کی اس طرح سے کہ اشہد ان لا الہ الّا اللہ و ان محمداً رسول اللہ کی گواہی دے،الترغیب و الترھیب،ج: 1 ص: 302

( 2) صحیح بخاری ج: 2 ص: 629 ،باب عمرہ،وجوب عمرہ اور اس کی فضیلت کے باب میں اور اسی لفظ میں صحیح مسلم ج: 2 ص: 983 ،کتاب حج،حج و عمرہ اور روز عرفہ کی فضیلت کے باب میں،صحیح ابن خزیمۃ ج: 4 ص: 131 ،کتاب المناسک،حج و عمرہ کے درمیان فرق کے باب میں،السنن الکبری،بیھقی ج: 5 ص: 261 ،کتاب حج،حج و عمرہ کی فضیلت کے باب میں،سنن ابن ماجۃ ج: 2 ص: 964 ،باب فضیلت حج و عمرہ،موطا مالک،ج: 1 ص: 364 ،کتاب حج،جو عمرہ کے لئے آئے اس کے باب میں،مسند احمدج: 3 ص: 447 ،حدیث عامر بن ربیعۃ،

( 3) سنن الدار قطنی،ج: 2 ص: 283 ،کتاب الحج،انھیں الفاظ میں السنن الکبری،بیھقی ج: 5 ص: 30 ،کتاب الحج،جو مسجد اقصی اور مسجدالحرام کے جوار میں اس کی فضیلت کے باب میں،سنن ابی داؤد،ج: 2 ص: 143 ،کتاب مناسک کی ابتداء میں اوقات کے باب میں،المعجم الاوسط ج: 6 ص: 319 ،الترغیب و الترھیب،ج: 2 ص: 121 ،وغیرہ


ان حدیثوں سے مطابقت نہٰں کرتیں،ظاہر ہے کہ ان حدیثوں کی تاویل،کرنی پڑےگی اور استقامت اور حسن خاتمہ کی قید لگانی پڑےگی،اس لئے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ نجات اور ابدی نعمتوں کے لئے یہ دونوں چیزیں شرط ہیں،تو آپ جیسی بھی ان حدیثوں کی تاویل کریں حدیث بدر کی بھی وہی تاویل کرلیں،(یعنی استقامت اور حسن خاتمہ کو حدیث میں قطعی نجات کے لئے شرط قرار دیں)

حدیث مذکورہ اہل بدر سے مخصوص ہے نہ کی باقی سابقون اوّلون سے

اختتام کلام میں عرض ہے کہ(اگر ہم حدیث مذکورہ کی بنار پر اہل بدر کو مغفور و مامون مان بھی لیں تو)یہ حدیث تو صرف اہل بدر سے مخصوص ہے ان کے لئے جو واقعہ بدر میں نبی ؐ برحق کے ساتھ تھے تو پھر سابقون اوّلون جن کو اہل سنت سابقون اوّلون کہتے ہیں ان کی قطعی نجات اور یقینی سلامت پر یہ دلیل کیسے بن سکتی ہے؟جبکہ سابقون اوّلون کی ایسی حد بندی بھی نہیں کی گئی ہے جو زیادتی اورک می کو قبول نہ کرے،میرا خیال ہے کہ ہماری گفتگو آپ کے سوال کا کافی جواب ہوگی،ہم اللہ سے استمداد،توفیق و تسدید مانگتے ہیں اور وہی سیدھے راستے کا رہبر ہے ۔


سوال نمبر ۔ 2

ہم اس بات کے منکر نہیں ہیں کہ صحابہ کبھی ذاتی بغض کی وجہ سے مجبور ہوجاتے تھے،کبھی کسی مصلحت سے مجبور ہوجاتے تھے اور کبھی ایک دوسرے پر غبطہ کرنے لگتے تھےہ معاملات اس قول کو محال قرار دیتے ہیں کہ صحابہ بشری کمزوریوں سے منزہ تھے اس کہ باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ ان تمام غلطیوں کے ہوتے ہوئے بھی اللہ ان سے راضی ہے اور یہ رضا صرف زمانہ نبوت تک محدود نہیں ہے بلکہ رضا مطلقاً وارد ہوئی ہے اور اس سے کوئی صحابی مستثنیٰ نہیں ہے مگر یہ کہ شریعت اس کے لئے کوئی خاص نص پیش کرے ۔

پھر شیعہ حضرات خلافت عمر و ابوبکر و عثمان کے حق میں وہ بھی حضرت علی ؑ ہی کی زندگی میں خلافت پر قبضہ جمانے کے لئے یہ تاویل کیوں نہیں کرتے کہ حضرت علی ؑ کے پہلےوالے خلفا کی حرکتیں بشری تقاضوں اور ان کی ذاتی کمزوریوں کا نتیجہ تھیں جن کا شرعی مواخذہ نہیں کیا جاتا یا یہ کہ مولائے کائنات ؑ اور دوسرے خیلفہ آپس میں مل بیٹھ کے راضی ہوگئے تھے کہ خلافت کس کس کو دی جائےگی،حالانکہ شیعوں کے خیال کے مطابق مستحق ترین فرد مولا علی ؑ تھے ۔

جواب ۔ اس سوال کے جواب میں مندرجہ ذیل باتیں حاضر ہیں

امر اول ۔ خداوند عالم نے خاص صحابہ کے لئے دو جگہ اپنی رضا کا اظہار کیا ہے،یہ دو آیتوں سے رضا ظاہر ہوتی ہے ۔


پہلی آیت تو سابقون اوّلین والی آیت ہے اور وہ لوگ جو ان کے احسان کے ساتھ پیروی کرتے ہیں،اس پر کافی گفتگو ہوچکی ہے اور ہم اعادہ نہیں کریں گے ۔

بیعت رضوان کے بارے میں گفتگو

رضوان الہی کے بارےمیں دوسری آیت حاضر ہے،ارشاد ہوتا ہے:((بیشک اللہ راضی ہوگیا مومنین سے جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کررہے تھے،ان کے دل کے حالات سے اللہ واقف ہوا اور ان پر سکینہ نازل کیا اور فتح قریب سے سرفراز کیا بہت سا مال غنیمت بھی دے دیا اور اللہ عزیز اور حکمت والا ہے))(1) پہلی آیت کے ذیل میں یہ عرض کیا جاچکا ہے کہ اپنی رضا کی خبر اللہ دے تو رہا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ رضا ہمیشہ باقی رہےگی،یہاں اللہ نے درخت کے نیچے بیعت کرنےوالوں کو اپنے رضا کی خبر دی ہے،لیکن اس کے بعد وہ جو اعمال بھی انجام دیں گےاسی کے حساب سےجزا اور سزا کے مستحق ہوں گے،اس بات کو دو امر کچھ اور مضبوط کرتے ہیں۔

آیہ کریمہ رضا کو مطلق نہیں کرتے بلکہ رضا کا سبب بیان کرتی ہے

پہلی بات تو یہ ہے کہ رضا ان کے لئے مطلقاً وارد نہیں ہوئی ہے بلکہ رضا کا سبب اور اس کا منشا بیان کیا جارہا ہے،سبب رضا ہے درخت کے نیچے بیعت کرنا اور وہ اس لئے کہ انہوں نے نبیؐ کے طلب بیعت پر لبیک کہی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر وہ نبیؐ کی نافرمانی کریں گےتو ان پر غضب نازل نہیں ہوگا،پھر اس آیت سے رضا کی تائید کیسے سمجھی جائے؟

بعض آیتیں بتاتی ہیں کہ اس بیعت کے عہد کو پورا کرنا سلامتی کی شرط ہے

خداوند عالم نےاسی سورہ میں یہ صراحت کردی ہے کہ وہ بیعت جو رضائے الہی کا سبب ہے،نجات کے لئے کافی نہیں ہے جب تک وفا بعہد کی بیعت نہ کی جائے ملاحظہ ہو:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ فتح آیت: 19،18


(إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا)(1)

ترجمہ آیت:((بیشک وہ لوگ جو آپ سے بیعت کررہے تھے اصل میں اللہ سے بیعت کررہے تھے،اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ پر تھا،اس کے بعد بھی اگر کوئی بیعت توڑتا ہے تو خود گھاٹا اٹھائےگاور جو اس عہد بیعت کو وفا کرےگا تو عنقریب اللہ اسے اجر عظیم عنایت فرمائےگا)) ۔

یہ بات صریحی ہے کہ رضا و غضب کی چکی ان کے اعمال کے مدار پر گھوم رہی ہے،اللہ راضی بھی ہوگا،ثواب بھی دےگا،غضب ناک بھی ہوگا اور سزا بھی دےگا معیار اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت ہے اور ان کی نافرمانی ہے اگر وہ وفا کریں گے کامیاب ہوں گے اور اگر کجروی اختیار کریں گےاور بیعت توڑدیں گے تو گھاٹا اٹھائیں گے اور خود کو نقصان پہنچائیں گےٹھیک یہی بات شیعہ بھی صحابہ کے بارے میں کہتے ہیں ۔

لظف یہ ہے کہ اہل حدیث اور مورخین کا کہنا ہے کہ اس دن حضور نے ان سے اس بات پر بیعت لی تھی کہ وہ مشرکین سے قتال کریں گے اور جہاد سےبھاگیں گے نہیں(2) ظاہر ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ فتح آیت:10)

(2)صحیح مسلم،ج:3ص:1484۔1485،کتاب الامارۃ(علامت)قتال کے موقع پر لشکر امام کی بیعت کے استحباب کے باب میں نیز بیعت الرضوان درخت کے نیچے،صحیح ابن حبّان ج:10ص:415،حدیث:4551،بیعت ائمہ کے باب میں اور جوان کے لئے مستحب ہے،نیز اس بیعت کے بیان میں جو امام کی آزاد لوگوں کی طرف سے ہو نہ غلاموں کی طرف سے،ج:11ص:231،حدیث4875،باب المواعدۃ(وعدہ کرنا)والمھادنۃ(سکون و وقار کے باب میں نیز اس تعداد کے وصف کے بیان میں جو رسول خداؐ کے ساتھ حدیبیہ کے دن تھے،مسند ابی عوانی،ج:4ص:427۔430،ایسی اخبار کے باب میں اس امیر کی اطاعت کے بیان میں جس کی طاعت کا امام حکم دیتا ہے اور جس نے اس کی اطاعت کی اس نے امام کی اطاعت کی امام کی صفت کے بیان میں،سنن ترمذی،ج:3ص:355،جابر کی مسند میں تفسیر طبری،ج:26ص:86،تفسیر ابن کثیرج:4ص:178،ابن عبدالبراج کی التمھید،ج:12ص:149،السیرۃ النبویۃ،ابن ہشام،ج:4ص:383،(بیعۃ الرضوان)کے بارے میں نیز اس کے علاوہ مصادر۔


کہ اس(لایفروا)سے مراد ہے کہ تمام جنگوں میں نہیں بھاگیں گے نہ کہ صرف صلح حدیبیہ میں،اس لئے خداوند عالم نےآیہ کریمہ میں وفا کی شرط رکھدی ہے،صلح حدیبیہ میں تو جنگ بھی نہیں ہوئی تھی پھر ٹھہرنے اور بھاگنے کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے،یہ آیتیں اورہ فتح کی ہیں اور سورہ فتح صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوا ہے اور اسی وجہ سے غزوہ حنین میں سرکار دو عالم ؐ نے انھیں ان کے فرار پر بیعت رضواں یاد دلائی نبی ؐ لوگوں کو پکار رہے تھے اےسورہ بقرہ والو!اے بیعت شجرہ والو!(1) ظاہر ہے کہ فرار واقع ہوا اور رضا ختم ہوئی،غزوہ خیبر میں ایک جماعت کا فرار ہونا اور غزوہ حنین میں اکثر صحابہ کا فرار بتا رہا ہے کہ انھوں نے بیعت توڑدی اور جب بیعت توڑدی تو رضا بقی نہیں رہی ۔

خدا کی رضا صرف بیعت رضوان والوں سے مخصوص نہیں ہے

اب ایک بات رہ جاتی ہے وہ یہ کہ یہ مان لیا جائے کہ رضا استمرار کے لئے وارد ہوئی ہے اور ہمیشہ باقی رہےگی،جیسا کہ آپ فرماتے ہیں اور میں نے جو عرض کیا اس سے چشم پوشی کی جائے تو پھر میں عرض کروں گا کہ رضا کے لئے خاص اصحاب ہی مخصوص نہیں ہیں بلکہ قرآن مجید میں تو عمومی رضا واقع ہوئی ہے خدا ان تمام لوگوں سے اپنی رضا کا اعلان کرتا ہے جو ایمان کی دولت سے مالامال اور اعمال صالحہ سے مزین ہیں ۔

ملاحظہ ہوا ارشاد ہوتا ہے: (لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَٰئِكَ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)مصنف ابی شیبہ ج:7ص:417جنگ حنین


حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ)(1)

ترجمہ آیت:وہ قوم جس کے پاس اللہ اور روز آخرت پر ایمان کی دولت ہے اس کو تم ان لوگوں سےمحبت کرتا ہوا نہیں پاؤگے جو اللہ اور اللہ کے رسولؐ سے دشمنی کرتے ہیں چاہے وہ لوگ ان صاحبان ایمان کے باپ ہوں،بیٹے ہوں،بھائی ہوں یا قبیلہ والے ہوں،یہی وہ لوگ ہیں جن کے دل میں ایمان بیٹھ چکا ہے اور روح ایمان ان کی مدد کررہی ہے(یا خدا اپنی طرف سے ایک روح بھیج کے ان کی مدد کرتا ہے)اللہ انھیں ان باغوں میں داخل کرےگا جن میں نہریں جاری ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں،وہی لوگ اللہ کے لشکر ہیں اور سن لو کہ اللہ کا لشکر ہی فلاح پانےوالا ہے.

دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:( إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُوْلَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ ٭ جَزَاؤُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَداً رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ (2)

ترجمہ آیت:(بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے کام کرتے ہیں دنیا میں سب سے بہتر ہیں،ان کی جزا خدا کے نزدیک عدن کے باغات ہیں جس کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں،یہ شرف اس کو ملتا ہے جو اپنے پروردگار سے ڈرتا ہے))۔

بلکہ دونوں مذکورہ آیروں سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جب مومنین آخرت میں خدا کی خدمت میں جائیں گے اور اس سے ملاقات کریں گے تو اللہ کی رضا انہیں حاصل ہوچکی ہوگی،پھر علما اہل سنت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ مجادلہ آیت22

(2)سورہ بینہ آیت:8،7


رضا کے لئے استقامت کی قید کیوں نہیں لگاتے اور اگر ان کے لئے خدا کی رضا استقامت سے مقید ہے تو پھر انہوں نے دلیل دینے کے وقت استقامت کی قید کیوں نہیں لگائی؟

رضا بشرط استقامت ہے اور اس کی تائید باقی رہےگی

میری بات کو مندرجہ ذیل امور سے تقویت ملتی ہے۔

1۔پہلے سوال کے جواب میں میں نے عرض کیا تھا کہ صحابہ کے حالات و مقامات اور ان کے آپسی اختلافات کو دیکھتے ہوئے بیعت رضواں والوں کی یقینی نجات کے بارے میں فیصلہ غلط ہوگا۔

2۔اگر ان کی نجات قطعی اور یقینی مان لی جائے تو انہیں افعال قبیحہ کی چھوٹ مل جائےگی۔

3۔مذکورہ آیت سابقون اوّلوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ آیت تب نازل ہوئی ہے جب مسلمانوں کی کثرت ہوچکی تھی اور ان کے لئے نازل ہوئی جو بیعت رضواں میں شریک تھے۔

ان کثیر مسلمانوں میں مغیرہ بن شعبہ(زانی)ابوالعادیہ حضرت عمار یاسر کا قاتل(1) اور منافقون کاسردار عبداللہ ابن ابی تھا،یہ سب لوگ بیعت رضواں والےتھے۔(2)

امر ثانی۔آپ اپنے سوال میں فرماتے یں کہ ہم اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ صحابہ(سابقون اوّلون)کو شخصی نزعات پر مجبور کردیا کرتے تھے،کسی پر کوئی مصلحت سوار ہوجاتی اور کبھی ایک دوسرے پر غبطہ کرنے لگتے،پھر شیعہ ابوبکر،عمر،اور عثمان کے قول کی تاویل کیوں نہیں کرلیتے اور حضرت علیؑ کی موجودگی میں ان لوگوں کی خلافت پر قبضہ جمالینے کی تاویل کیوں نہیں کرلیتے کہ خلفائے ثلاثہ کا یہ فعل انھیں ذاتی اور شخصی نزعات کا نتیجہ ہے،شرعاً ان غلطیوں پر کوئی شرعی مواخذہ نہیں کیا جاتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)الفصل فی الملل و النحل ج:4ص:منھاج السنۃ نبویہ ج:6ص:205)

(2)امتاع الاسماع ص:605مغازی للواقدی ج:2ص:610)


غطبہ اور حسد میں فرق ہے

میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ(پہلے غبطہ کی تعریف کردی جائے)غبطہ انسان کے اس جذبے کا نام ہےکہ دوسروں کے اس کسی چیز کو دیکھ کے اپنے پاس بھی اس کے ہونے کی تمنا کرے،نہ کہ دوسرے کے پاس کسی نعمت کو دیکھ کے،اس کے دل میں یہ جذبہ(یا تمنا)پیدا ہو کہ اس آدمی کے پاس سے وہ نعمت زائل ہوجائے دوسرے کے لئے زوال نعمت کی تمنا کا نام حسد ہے۔

لسان العرب کے مصنف نے غبطہ کے مادہ کی تشریح میں غبطہ کے معنی پر ایک طویل گفتگو کے بعد لکھا ہے،کہ ازھری کہتے ہیں(خداوند عالم نے اپنی کتاب میں صاحبان تدبر اور نگاہ اعتبار کے لئے غبطہ اور حسد میں واضح فرق بتادیا ہے)ارشاد ہوتا ہے:

وَلاَ تَتَمَنَّوْاْ مَا فَضَّلَ اللّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُواْ وَلِلنِّسَاء نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ وَاسْأَلُواْ اللّهَ مِن فَضْلِهِ(1)

ترجمہ آیت:اس کی ہوس نہ کرو کیوں کہ فضیلت تو اعمال سے ہے مردوں کو اپنے کئے کا حصہ ہے اور عورتوں کو ان کے کئے کا حصہ ہے۔یہ اور بات ہے کہ تم خدا سے اس کے فضل و کرم کی خواہش کرو)۔

اس آیت میں واضح ہدایت دی گئی ہے کہ کسی مسلمان بھائی کے پاس کوئی نعمت دیکھ کے اس نعمت کے زوال کی تمنا کرنا جائز ہے،لیکن یہ تمنا کرنا کہ وہ نعمت میرے پاس بھی ہوجائے جائز ہے،تو یہ غبطہ میں مغبوط کو اچھی حالت میں دیکھنے کی خواہش کے ساتھ خود کو بھی انسان اسی حالت میں پہنچانا چاہتا ہے اس میں مغبوط کے زوال،نعمت کی خواہش نہیں ہوتی خدا سے مانگتا بھی ہے تو بس یہ کہ جس کا اس کو حکم دیا گیا ہے اور اللہ اپنی رضا سے اس کو جو کچھ دیتا ہے۔

لیکن حسد کا معاملہ دوسرا ہے حسد میں انسان دوسرے کی نعمت کا زوال اور اسی نعمت کا اپنے پاس ہونے کی خواہش کرتا ہے،مقصد یہ ہے کہ کسی کے زوال نعمت کے ساتھ اپنے پاس اسی نعمت کے ہونے کی تمنا غبطہ نہیں حسد ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ نساءآیت:32


حسد اعظم محرمات میں سے ہے

ظاہر ہے کہ حسد جملہ صحیح نہیں ہے،نبیؐ اور اہل بیتؑ نبی کی حدیثیں اس کی حرمت کے تذکرے سے بھری پڑی ہیں،حضورؐ نے اکثر اپنے اصحاب سے فرمایا کہ ان کے اندر حسد رینگ رہا ہے،علی بن جعفرؑ اپنے بھائی موسیٰ بن جعفرؑ وہ اپنے والدہ وہ اپنے جد سے روایت کرتے ہیں ایک دن حضورؐ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ خبردار ہوجاؤ!گذشتہ امتوں کی بیماریاں اندر رینگ رہی ہیں،وہ بیماری حسد ہے،یہ بالوں کی تحلیق نہیں کرتی بلکہ دین کی تحلیق کرتی ہے،اس کا علاج یہ ہے کہ انسان اپنے ہاتھ اور زبان کو روکے رہے اور اپنے مومن بھائی پر طعنے نہیں مارے۔(1)

زبیر بن عوام سے روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا(تمہارے اندر گذشتہ امتوں کی بیماری رینگ رہی ہے وہ بیماری حسد اور بغض ہے،یہ بیماری مونڈنےوالی ہے،لیکن بالوں کو نہین دین کو مونڈتی ہے،اس خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمدؐ کی جان ہے تم اس وقت تک مومن ہو ہی نہیں سکتے جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرو اور میں بتاؤں یہ محبت کیسے پیدا ہوگی،کھل کے(با آواز بلند سلام کیا کرو،(2)

ابوہریرہ کی حدیث میں فرمایا(دیکھو حسد سے بچو حسد نیکیوں کو یوں کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو یا جھاڑی کو کھا جاتی ہے(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)وسائل الشیعہ ج:11ص:294باب:55باب جہاد النفس،حدیث:15

(2)مسند احمدج:1ص:164،مسند زبیر ابن عوام،سنن ترمذی،ج:4ص:663۔664،مجمع الزوائدج:8ص:30،السنن الکبری،بیھقی،ج:10ص:232،کتاب الشہادت،مسند البزار،ج:6ص:192،مسند الشاشی ج:1ص:114،مسند الطیالسی ج:1ص:27،زبیر ابن عوام کی احادیث میں اس کے علاوہ دیگر منابع اور ماخذ۔

(3)سنن ابی داودج:5ص:330،کتاب ادب و حسد کے باب میں سنن ابن ماجہ ج:2ص:1408،کتاب زہد،باب حسد،مصنف ابن ابی شیبۃ،ج:5ص:330،کتاب ادب وہ جو حسد کے باب میں آیا ہے مسند ابی یعلی،ج:6ص:330،اس چیز کے مورد میں جو روایت ابوزناد نے انس سے کی تھی،مسند عبد بن حمیدص:418،مسند الشھاب ج:2ص:136،ساتواں باب،حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے،جامع العلوم و الحکم،ص:327،شعب الایمان ج:5ص:266،تفسیر القرطبی ج:5ص:251،مصباح الزجاجۃ ج:4ص:238،کتاب زہد باب حسد اس کے علاوہ بہت سے مصادر ہیں،


ابوبصیر ابوعبداللہ جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں،کفر کی تین جڑیں ہیں حرص،استکبار(خود کو بڑا سمجھنا)اور حسد۔(1)

اس مضمون کی دوسری حدیثیں بھی ہیں۔

اب حسد کے ساتھ دوسرے سے نعمت کا چھین لینا اور اس کا حق غصب کرنا صرف گفتگو پر اقتصار نہ کرنا(بلکہ ہاتھ اور تلوار کا بھی استعمال کرنا)حسد تو ناقابل معانی جرم ہے ہی،اس کے ساتھ مندرجہ بالا جرائم کا اضافہ کرنے سے دو گناہ ہوتے ہیں،ایک گناہ حسد اور دوسرا گناہ ظلم،تعدی اور غصب کی ہوئی چیز کی اہمیت کےساتھ ہی عمل غصب کی اہمیت بھی بڑھ جائےگی،پھر آپ کیسے کہتے ہیں کہ آپ کے(سابقون اوّلون)صحابہ کا غصب(خلافت و فدک)ایسا گناہ ہے جن کا شرعی طور پر کوئی مواخذہ نہیں ہے،جب آپ نے خود ہی یہ فرمایا ہے کہ غبطہ کی وجہ سے انہوں نے خدا کے اس بلند منصب کو ان سے چھین لیا جو شیعوں کے نزدیک اس منصب کے شرعی مالک تھے،اب ایک بات رہ جاتی ہے وہ یہ کہ شیعہ اس فعل غصب کی یہ تاویل کیوں نہیں کرلیتے کہ ان لوگوں نے آپس کی رضامندی کی وجہ سے خلافت دوسروں کے حوالے کردی،دوسرے لفظوں میں آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب حقدار ہی اس بات پر راضی ہوگیا کہ دوسرا اس کا حق لے لے تو پھر دوسروں کے لئے اس کا حق لینا جائز ہوگیا اور اس کا فعل نافذ ہوگیا،سوال کے اس ٹکڑے کا جواب ہم آپ کے تیسرے سوال کے ذیل میں دیں گے۔انشااللہ۔

اپنے اماموں کے بارے میں شیعوں کا نظریہ سنیوں کے اماموں کے بارے میں سنیوں کا نظریہ ان دونوں میں بہت فرق ہے

امر ثالث:آپ کے سابقہ بیان سے ظاہر ہے کہ شیعوں کا اپنے ائمہ اہل بیتؑ کے بارے میں جو نظریہ ہے وہ اہل سنت کے اپنے اماموں کے متعلق نظریہ سے بالکل الگ ہے،آپ دیکھ رہے ہیں کہ آپ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)وسائل الشیعہ ج:11ص:294باب94باب جہاد النفس:حدیث:1


ہی کے بیان کے مطابق اپنے نفس کی محبت اور ہوس کاری کے جذبات نے اہل سنت کے اماموں کا اتنا گرادیا کہ وہ حصول سلطنت کے لئے ٹوٹ پڑے ایک دوسرے پر سبقت کرنے لگے اور حق دار پر زیادتی کر کے آخرت سلطنت پر قبضہ جمالیا یہ عمل شیعوں کے مطابق نص شرع کے خلاف تھا اور اگر سنیوں کے مطابق مانا جائے جب بھی یہ عمل ہوس اور حسد کا نتیجہ ہے

لیکن شیعہ اپنے ائمہ اہل بیتؑ کا ایسا حقدار سمجھتے ہیں جن کی امامت پر نص ہے،مگر ان(ائمہ اہل بیتؑ)نے یہ کبھی نہ چاہا کہ وہ اپنے اس حق کو اقتدار کی محبت اور حکومت کی ہوس کے لئے استعمال کریں،بلکہ وہ امام اس لئے ہونا چاہتے تھے کہ حق کو قائم کردیں دین کو مضبوط کریں اور عدل کا بول بالا ہوجائے خود ان حضرات کے خطبہ اور حدیثیں اس بات کی شاہد ہیں۔

حضرت امیرالمومنینؑ کی گفتگو کا ایک حصہ ملاحظہ ہو(پالنےوالے تو جانتا ہے کہ ہم اہل بیتؑ نہ حکومت کی ہوس رکھتے ہیں اور نہ اس کچرے(دنیا)کے طلب گار ہیں لیکن ہم تو تیرے دین کا علم چاہتے ہیں،تیرے شہروں میں عدل اور اصلاح کا ظہور چاہتے ہیں کہ تیرے مظلوم بندوں کو امن ملے اور تیرے معطل حدود قائم ہوجائیں۔(1)

دوسری جگہ خطبہ شقشقیہ میں ارشاد فرماتے ہیں(لیکن اس کی قسم جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور کائنات کو پیدا کیا اگر حاضر کا حضور نہ ہوتا اور ناصر کی موجودگی میں حجت کا قیام واجب نہ ہوتا اور خدا اس خلافت کی اونٹنی کی مہار اس کی پیٹھ پر ڈال دیتا(یعنی آزاد چھوڑ دیتا)اور اس کے آکر کو اس کے اول ہی کے پیالے سے پلاتا تم دیکھتےکہ میرے لئے یہ دنیا بکری کی ناک سے نکلتی ہوئی گندگی سے بھی زیادہ قابل پرہیز ہوں(2) جب عمر نے شوریٰ کے افراد معین کردئے تو آپ نے ایک گفتگو میں اپنے چچا عباس سے فرمایا(خدا کی قسم مجھے سلطنت کی ہوس نہیں ہےنہ دنیا کی محبت ہے ہاں اگر عدل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:8ص:263

(2)شرح نہج البلاغہ ج:1ص:202،کتاب نہایۃ اور کتاب لسان العرب مادہ عفظ میں آخری عبارت ذکر ہوئی ہے


کو ظاہر کرنے کا موقعہ ملے اور کتاب و سنت پر عمل کرنے کرانے کا موقعہ ملے تو اس کے بارے میں سوچنا چاہتا ہوں)(1)

مقام ذیقار میں ابن عباس سے آپ انی جوتی کی قیمت پوچھتے ہیں(اس وقت آپ اپنی جوتیوں کو اپنے دست مبارک سے ہی رہے تھے)ابن عباس نے کہا اس جوتی کی کوئی قیمت نہیں آپ نے فرمایا خدا کی قسم مجھے یہ میری جوتی!تمہاری اس حکومت سے زیادہ محبوب ہے مگر یہ کہ حق کو قائم کرسکوں اور باطل کو دفع کرسکوں۔(2)

امام حسینؑ کربال کے لئے نکلے ہیں آپ کے بھائی محمد حنفیہ ملنے آتے ہیں آپ ان سے وصیت کرتے ہیں وصیت میں اپنے ہدف کی وضاحت بھی کرتے ہیں(میں سرکشی ار اتاہٹ میں نہیں نکلا ہوں ظالم اور مفسدین بن کے نہیں نکلا ہوں،میں نےتو اپنے جد کی امت میں اصلاح کے لئے خروج کیا ہے،میرا مقصد ہے،امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا اپنے جد محمد مصطفیٰؐ اور اپنے والد علی مرتضیٰؑ کی سیرت پر عمل کرنا اور کرانا ہے تو جو مجھے حق سمجھ کے قبول کرے تو اللہ حق ہونے کا زیادہ مستحق ہے اور جو میری باتوں کو نہیں مانےگا تو میں صبر کروں گا یہاں تک کہ اللہ میرا اور اس قوم کا حق کے ذریعہ فیصلہ کردے اور اللہ سب سے بہترین فیصلہ کرنےوالا ہے)(3)

ائمہ اہل بیت علیہم السلام نے اپنی حکومت کی غرض اور اقتدار کا ہدف اس طرح کی دوسری حدیثوں میں بھی بتادیا ہے،انشااللہ میں ایسی حدیثوں کے بعض حصے آئندہ بھی پیش کروں گا خدا را فیصلہ کیجئے مسلمانوں کی امانت کا حقدار کون ہے؟جب کہ ہم جانتے ہیں کہ منصب امامت ایک بلند اور مقدس مرتبہ ہے امام دین اسلام کی عظمت کا امانت دار ہوتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:9ص:51

(2)شرح نہج البلاغہ ج:1ص:80

(3)بحار الانوارج:44ص:329


اسلامی تشریعات اس کی عزت اور اس کے دینی ماحول کا امین ہوتا ہے،مسلمانوں کے جان و مال اور ناموس کا پاسدار ہوتا ہے،اس لئے مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ امام کی خیرخواہی میں اخلاص برتیں اس کی اطاعت کریں اور اس کی نصرت کرتے رہیں۔

اس تفصیل کے بعد میں آپ کے دینی شعور اور ضمیر کو آواز دیتا ہوں اور بس(آپ کو امامت کے بارے میں)جو نظریہ اچھا لگے اسے اختیار کرلیں(مگر یہ یاد رکھیں)کہ خدا کی شہادت اس کی سرپرستی اور اس کا فیصلہ کافی ہے۔


سوال نمبر۔3

ہم اہل سنت اور آپ شیعہ حضرات کیوں نہیں ایسا کرتے کہ صدر اسلام میں جو بھی(تلخ و شیرین)واقعات ہوئے ہیں ان میں ہم علیؑ کی سیرت اور خاص کر امام حسنؑ کی سیرت پر عمل کریں یعنی ان حضرات نےجن باتوں کا اقرار کیا ہم بھی اقرار کریں اور ان حضرات نے جن باتوں کا انکار کیا ہم بھی انکار کریں لہٰذا ذیل کے امور پر پابندی سے عمل کریں۔

1۔علی علیہ السلام نے ابوبکر کی خلافت کا اقرار کیا۔

2۔آپ نے عمر کے لئے ابوبکر کی تنصیب خلافت کا اقرار کیا۔

3۔آپ نے شوریٰ کی ایک فرد ہونے کا اقرار کیا۔

4۔معاویہ کی شام پر حکومت کا انکار کیا،اس لئے کہ آپ اس کو حکومت کے لئے نااہل سمجھتے تھے،اس کے علاوہ اس کی حکومت کی وجہ سے اسلامی سماج میں فتنہ و فساد پھیل رہا تھا۔

جواب:مجھے اس بات کا حق حاصل کہ آپ سے پوچھوں اقرار کا کیا مطلب ہے؟آپ اقرار سے کیا مراد لیتے ہیں؟


جو ہورہا ہے اس کو ہونے دینا

1 ۔ اگر اقرار سے آپ کی مراد یہ ہے کہ جیسی چل رہی ہے چلنے دینا اس میں مدد دینا اس کے بازو کو مضبوط کرنا اور مقصد یہ ہو کہ اسلام کی مصالح کا تحفظ ہوتا رہے اسلام میں اختلاف کی خلیج نہ پیدا ہو،کلمہ اسلام میں پھوٹ نہ پڑے،ان تمام باتوں کے علاوہ حالات ابھی انقلاب کی اجازت نہٰں دیتے یا انقلاب کی ذرا سی کوشش کی جائے تو ڈ ر ہو کہ اسلام کی اس انقلاب سے جو حاصل ہوگا اس سے زیادہ نقصان پہنچ جائےگا،تو یقیناً اس طرح کا اقرار تو ائمہ اہل بیت علیہم السلام نے کیا ہے لیکن اس اقرار سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ زبردستی خلیفہ بن بیٹھنےوالوں کی خلافت شرعی تھی یہ بات تو واضح ہے کہ حقدار اگر اس امید میں خاموش ہوجائے کہ اس کا حق کبھی نہ کبھی اس کو ملےگا تو یہ خاموشی اس کے استحقاق کو باطل نہیں کرتی،یہ خاموشی(اگر آپ کے بیان کے مطابق اقرار ہے)تو اس طرح کا سکوت تو امام حسن ؑ نے بہرحال کیا،جب آپ نے اپنے والد ماجد کی پیروی کرتے ہوئے معاویہ سے دوسری بار جنگ کی کوشش کی اور پھر(ماحول سازگار نہیں پایا تو)خاموش ہوگئے،اسی طرح امام زین العابدین علیہ السلام اور آپ کی اولاد طاہرہ نے بھی خلفائے جور کے دور میں خاموشی اختیار کی اور یزید کے دور میں اور یزید کے بعد دوسرے غاصبوں کے دور میں ائمہ اہل بیت ؑ نے عملی احتجاج نہیں کیا اور آپ حضرات کے شیعہ بھی اپنے اماموں کی پیروی میں اسی خاموشی اور سکوت کی سیرت پر عمل کرتے رہے،ائمہ اہل بیت ؑ کی یہ خاموشی آپ کے خلفائے ثلاثہ سے ہی مخصوص نہیں ہے جیسا کہ آپ کے سوال سے ظاہر ہوتا ہے اور اگر کہیں عملی احتجاج ہوا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ اماموں کی سیرت میں اختلاف تھا ہمارا ہر امام اپنے ماحول کے اعتبار سے عمل کرنے کا مکلّف ہے جیسا کہ ظاہر ہے ۔

حالات حاضرہ کو جاری رکھنا اور شرعی شکل دینا

2 ۔ اور اگر آپ اقرار سے یہ مراد لیتے ہیں کہ دونوں خلیفہ نے جو حالات پیدا کئے تھے اس سے مولائے کائنات ؑ راضی تھے اور آپ ان کے افعال کو شرعی جواز دینا چاہتے ہیں اس حیثیت سے کہ شریعت کی


نظر میں وہ غصب اور زیادتی کی حدوں میں نہیں آتے،یعنی آپ یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ حقدار اپنی ملکیت اور حق سے دوسرے کے حق میں دست بردار ہوگیا اور جس کے حق میں دست بردار ہوا ہے حق ملکیت اور اس سے فائدہ اٹھانے کا حق اب اس کی طرف منتقل ہوگیا تو یہ بات غلط ہے اس کے دو اسباب ہیں ۔

خلافت کا تعین خدا کرتا ہے خلیفہ کو حق(نہیں کہ وہ دوسرے کے حق میں دست بردار ہوجائے)

1 ۔ شیعہ مذہب کی دلیلوں کی بیناد پر خلیفہ یا امام کو صرف اللہ ہی معّین کرتا ہے اور اسی کی طرف سے نص ہوتی ہے،کسی امام کو یہ حق نہیں ہے وہ اپنے بجائے کسی اور کو خلیفہ بنادے یہ حق تو نبی کو بھی حاصل نہیں(کہ وہ خدا کے معین کردہ امام سے امامت و خلافت لیکے)کسی اور کو خلیفہ اور امام بنادے اگر نبی ؐ نے بھی ایسا کیا تو یہ امر الہٰی کی تردید اور اس کے فرائض سے کھلواڑ ہوگا ۔

(مندرجہ بالا بات کی شہادت تاریخ سے ملتی ہے)جب حضور سرور عالم ؐ نے عربوں کے سامنے اپنی نبوت پیش کی کہ وہ نبی کو نبی سمجھ کے آپ کی مدد کریں،یہ بات ہجرت کے پہلے کی ہے تو حضور ؐ نے جب اپنی نبوت پیش کی تو جن لوگوں کے سامنے نبوت پیش کی گئی تھی ان میں بنوعامر بھی تھے تو ان میں سے ایک شخص نے سرکار ؐ سے یہ سوال کیا کہ ہم آپ کی اطاعت کریں اور خدا آپ کو اپنے مخالفوں پر غالب کردے تو کیا آپ کے بعد ہمیں حکومت ملےگی،آپ نے صاف فرمایا،یہ حق تو اللہ کو ہے جس کو چاہےگا دےگا ۔(1) عبادہ کی حدیث ہے کہ ہم نے پیغمبر ؐ کی اس بات پر بیعت کی کہ آپ کی بات سنیں گے اور آپ کا حکم مانیں گے صاحبان امر سے(ان کی خلافت کے معاملے میں)جگھڑا نہیں کریں گے حق جہاں بھی ہوگا ہم حق ہی کا ساتھ دیں گے اور خدا کے بارے میں کسی ملامت کرنےوالے کی پرواہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)الثقات ج:1ص:90،89خود کو رسول خداؐ نے قبائل کے سامنے پیش کیا،تاریخ طبری،ج:1ص:556،السیرۃ النبویۃ،ابن ہشام ج:2ص:272،البدایۃ و النہایۃ،ج:3ص:139،السیرۃ الحلبیۃج:2ص:3،الکامل فی التاریخ،ج:1ص:609،ابوطالب اور خدیجہ کے ذکر وفات کے بیان میں نیز رسول اللہؐ کا عرب کے سامنے خود کو پیش کرنا،کتاب الاکتفا،بما تضمنہ من مغازی رسول اللہ الثلاثۃ الخلفاءص:304،


نہیں کریں گے(1) اس حدیث سے ظاہر ہے کہ امامت و خلافت کے کچھ حق دار ہیں جن سے لڑنا حرام ہے،عمرو بن اشعث کی حدیث ہے کہ میں نے سرکار صادق آل محمد علیھم السلام کو فرماتے سنا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم اہل بیت ؑ میں سے کوئی امام آزاد ہے کہ جس کے حق میں چاہے امامت کی وصیت کردے،نہیں خدا کی قسم ایسا نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے اپنے نبی ؐ سے آپ کے ہر جانشین کے لئے عہد لیا ہے،یہاں تک اسی معاہدے کے تحت ہر امام اپنے بعد والے امام پر نص کرتا اور امر صاحبت امر تک پہنچتا ہے ۔(2)

محمد بن فضیل ابوالحسن رضا علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر میں ارشاد فرمایا بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتوں کو صاحب امانت کے حوالے کردو امام نے فرمایا باری تعالیٰ کا یہ خطاب ائمہ اہل بیت ؑ سے ہے کہ امامت اپنے بعد والے کے حوالے کردو اور دوسروں کو اس سے مخصوص نہ کرو اور حق دار کو امامت سے الگ نہ کرو ۔(3)

یزید بن سُلیط ابوابراہیم موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں،اسی حدیث میں ساتویں امام کے صاحبزادے علی بن موسیٰ کی امامت پر نص بھی ہے،فرماتے ہیں کہ اے ابوعمارہ میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ میں اپنے گھر سے نکلنے والا ہوں(نکلتا ہوں)تو میں اپنے فلاں بیٹے کو اپنا وصی بنا رہا ہوں اور دوسرے بیٹوں کو بظاہر اس کا شریک بنا رہا ہوں لیکن باطنی طور پر وہی میرا وصی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)مسند احمدج:3ص:441مسند احمدج:3ص:441،عبادۃ بن ولید کے حدیث میں،یہی عبارت السنن الکبریٰ،بیھقی،ج:8ص:145،السنن الکبریٰ،ج:4،کتاب البیعۃ،ص:421،سمعاً و طاعۃ بیعت کے بیان میں،ص:422،مسند ابن جعد،ص:261،سیر اعلام النبلاء،ج:2ص:7عبادۃ بن صامت کے حالات میں،تذکرۃ الحفاظ،ج:3ص:1131،ابن عبدالبر کے باب میں،تاریخ دمشق،ج:26،ص:196،عبادۃ بن صامت کی سوانح حیات میں،صحیح ابن حبان،ج:10،ص:413،مسند ابی عوانۃ،ج:4ص:407،

(2)الکافی ج:1ص:278باب:اللہ سے امامت کا عہد،حدیث2،

(3)الکافی ج:1ص:277،276،اس باب میں کہ امام اپنے بعدوالے کا تعارف کراتا ہے اور خداوند عالم کا قول(کہ امانتیں ان کے اہل تک پہنچادو)ان ائمہؑ کے بارے میں آیت کا نزول ہوا ہے،حدیث3،


پس میری وصیت تنہا اسی لئے ہے،اگر مجھے(وصی بنانے کا)اختیار ہوتا تو میں اپنے بیٹے قاسم کو وصی بناتا اس لئے کہ میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں اور اس پر بہت مہربان ہوں،لیکن وصی اور امام کا معاملہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے جو کو چاہتا ہے بناتا ہے ۔(1) ائمہ اہل بیت ؑ سے اس سلسلے میں کثیر تعداد میں حدیثیں وارد ہوئی ہیں ۔(2)

منصب(امامت)کی اہلیت صرف اسی میں ہوتی ہے جس کو اللہ منصب کے لئے معین کرتا ہے

حسن تو یہ ہے کہ اللہ نے بھی صرف اسی کو صاحب منصب قرار دیا ہے جس کے اندر اس منصب کی اہلیت دیکھی ہے اور اس کے علاوہ ہر کسی کے اندر صلاحیتِ منصوب کو معدوم پایا ہے،ثبوت کے لئے مشاہدہ کافی ہے ہم ان فوائد و آثار پر غور کریں،جو امیرالمومنین ؑ کے خلیفہ ہونے سے امت کو حاصل ہوئے،امیرالمومنین ؑ کی خلافت پر شیعوں کے دعوے کے مطانق نص وارد ہوئی ہے،اگر مولا علی ؑ کو پیغمبر ؐ کے بعد خلافت حاصل ہوجاتی اور صاحب اقتدار ہوجاتےتو اس سے کیا فائدے حاصل ہوتے خود حدیث نبی ؐ سے معلوم کیجئے ۔

1 ۔ حدیث ثقلین ملاحظہ فرمایئے،حضور سرور ؐ کائنات کا ارادہ ہے کہ اس دنیا کو چھوڑنے سے پہلے ایک ایسی تحریر لکھ دیں کہ امت گمراہی سے محفوظ رہے آپ کے دوسرے سوال کے جواب میں اس حدیث کے بارے میں کافی گفتگو ہوچکی ہے شواہد کا فیصلہ ہے کہ حضور کائنات ؐ اس تحریر کے ذریعہ مولائے کائنات علی بن ابی طالب ؑ کی خلافت کا اعلان کرنا چاہتے تھے اور آپ کی خلافت کو اس انداز میں پیش کرنا چاہتے تھے کہ آپ کے مخالفوں کے لئے راستے بند ہوجائیں،اس بات کا اعتراف عمر نے بھی کیا ہے،یہ واقعہ آئندہ کے صفحات میں آئےگا،سرکار دو عالم ؐ امت کو گمراہی سے بچانا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)الکافی ج:1ص:314باب اشارہ و نص علی ابی الحسن الرضؑا حدیث14،

(2)الکافی ج:1ص:281،276،وغیرہ کی طرف رجوع فرمائیں


چاہتے تھے اور امت کے لئے اس سے بڑی بات کیا ہوگی کہ وہ گمراہی سے محفوظ رہے ۔

2 ۔ معصومہ کونین صدیقہ طاہرہ ؑ کا ایک خطبہ شاہد ہے کہ علی ؑ کی خلافت سے کیا فائدے حاصل ہوئے،معصومہ نے یہ خطبہ دیکے کہ مسلمانوں نے علی علیہ السلام کی خلافت سے عدول کرکے دوسرے کو خلیفہ بنا کے کیا کیا نقصانات نہیں اٹھائے!معصومہ اپنے چھوٹےوالے خطبے میں فرماتی ہیں:خدا کی قسم ابوالحسن سے انھیں کوئی دشمنی نہیں تھی،مگر دشمنی تھی آپ کی تلوار کی دھار سے اور آپ کی صراط مستقیم پر تیز روی آپ ؑ کی وقعت سے جو لوگوں کے لئے قابل پیروی ہے اور ذات خدا میں آپ ؑ کے خلوص سے پیغمبر ؐ نے زمام حکومت جن ہاتھوں میں دی تھی اگر یہ اسی ہاتھ میں رہنے دیتے تو خدا کی قسم وہ انھیں باندھ کے رکھتا اور ان کے ساتھ نرم روی سے چلتا کہ چلنے میں پسلیاں نہ بجتیں اور راکب کو جرکنگ( Jarking )نہیں ہوتی وہ انہیں ایسے گھاٹ پر پہنچاتا(اپنے حوض پر پہنچاتا)جو کنارے تک لبالب بھرا ہوا ہے اور ان لوگوں کو سیراب کردیتا وہ لوگ حیرت میں پڑجاتے بغیر کسی بیکار کوشش کے پیاسا سیراب ہوجاتا اور بھوک مٹ جاتی ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں نازل ہوتیں اور اللہ ان کے اعمال کو قبول کرتا،سنو خبردار ہوجاؤ جب تک زندہ رہوگے دنیا اپنے عجائب تمہیں دکھاتی رہےگی اور اگر تم تعجب ہی کرنا چاہتے ہو تو سب سے زیادہ تعجب خیز یہ حادثہ ہے دیکھ لو انہوں نے کس کا سہارا لیا ہے اور کس سہارے کو پکڑا ہے جسے ولی بنایا گیا ہے وہ بھی برا ہے اور وہ معاشرہ بھی جس نے ولی بنایا اور ظالموں کو برا بدلا ملےگا ۔

خدا کی قسم انہوں نے اگلے حصّے کو چھوڑ کے دم پکڑی(افضل کو چھوڑ کے ادنیٰ کے پیچھے بھاگے)چاق و چوبند اور تجربہ کار آدمی کو چھوڑ کے ب ڈ ھے کی بیعت کرلی،اس قوم کی جلد ہی ناک کٹےگی،جس کو یہ غلط فہمی ہے کہ ہم بہت اچھا کام کررہے ہیں،حالانکہ خبردار رہنا یہی لوگ فسادی ہیں لیکن نہیں سمجھ رہے ہیں،ان پروائے ہو جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے وہ پیروی کا زیادہ حقدار ہے یا وہ جو رہنمائی نہیں کرتا مگر جن کی رہنمائی کی جاتی ہے انھیں کیا ہوا ہے یہ کیسے فیصلے کرتے ہیں اونٹنی حاملہ ہوئی


اور ابھی وضع حمل کا انتظار ہی کر رہی تھی کہ ان لوگوں نے دوہنا شروع کردیا نتیجہ میں انہیں خون اور بدبودار پانی ملا جس میں تلخی ہے یہیں پر باطل گروہ کو نقصان اٹھانا پڑا اور بعدوالوں کو معلوم ہوگیا کہ ان کے پہلےوالوں نے جو بنیاد رکھی تھی وہ تہہ نشین ہوچکی ہے،پھر تم اپنے نفس کی تعریف کرو اور اطمینان سے بیٹھ کے ایک جو شلیے فتنے کا انتظار کرو تمہیں چمکتی ہوئی تلواروں کی بشارت ہوا ورتمہارے حالات کے اضطراب کی بشارت ہو،ظالموں کے ظلم و استبداد کی خوشخبری ہو،جو تمہارے مال غنیمت پر قبضہ جمالیں گے اور تمہارے بوئے ہوئے کو کاٹ لے جائیں گے(1) معصومہ ؐ کا ایک دوسرا خطبہ بھی ہے انشااللہ مناسب مقام پر اسے بھی پیش کیا جائےگا ۔

3 ۔ ابوعمر جونی کہتے ہیں جب ابوبکر کی بیعت ہوئی تو سلمان فارسی نے کہا کرداذونا کرداذ تمہاری سمجھ میں جو آیا وہ تم نے کیا لیکن اگر یہ لوگ حضرت علی ؑ کی بیعت کئے ہوتے تو آسمانوں سے بھی کھاتے اور زمین سے بھی پاتے ۔(2)

4 ۔ حبیب بن ثابت کہتے ہیں سلمان فارسی نے بیعت والےدن فرمایا تم ب ڈ ھے کو خلیفہ بنا کے سمجھے کہ تم نے صحیح کیا اور اپنے نبی ؐ کے اہل بیت ؑ کو ولایت نہ دے کے تم نے غلطی کی اگر تم خلافت اہل بیت نبی ؐ میں قرار دیتے تو دو آدمی بھی اختلاف نہیں کرتے اور تم پیٹ بھر کھاتے(3) سلمان کے یہ جملے حروف ردہ والی حدیث کے موقعہ پر آنا چاہیں جو میں نے آپ کے چوتھے سوال کے جواب میں پیش کیا ہے ۔

5 ۔ اسی طرح کی حدیث ابوالھیعہ سے بھی ہے،کہتے ہیں جب سرکار ؐ کی وفات ہوئی تو ابوذر نہیں تھے،ابوذر آئےتو(سقیفہ کا ڈ رامہ ختم ہوچکا تھا)ابوبکر خلیفہ بن چکے تھے،ابوذر نے تبصرہ کیا فرمایا:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) شرح نہج البلاغہ ج: 16 ص: 333 ۔ 334 ،بلاغات النسا ابن طیفور ص: 20 ،اقوال فاطمہ بنت رسول اللہؐ،جواہر المطالب فضائل امام علیؑ،ابن دمشقی ج: 1 ص: 165 ۔ 169 ،

( 2) انساب الاشراف ج: 2 ص: 274 ،امر سقیفہ)

( 3) شرح نہج البلاغہ ج: 2 ص: 49 ،اور اسی طرح ج: 6 ص: 43


تم نے قناعت(تھوڑے)کو صحیح سمجھا اور قرابت پیغمبر کو چھوڑ دیا،اگر اس امر خلافت کو تم اپنے نبی کے اہل بیت ؑ میں قرار دیتے تو تمہارے یہاں دو آدمی آپس میں اختلاف نہیں کرتے(1)

دوسری جگہ آپ نے عثمان کے دور میں ایک معرکۃ الآرا خطبہ دیا ہے ملاحظہ ہو:کہتے ہیں جو مجھے پہچانتا ہے پہچانتا ہے جو نہیں پہچانتا وہ پہچان لے کہ میں رَبذہ کا رہنےوالا ابوذر غفاری ہوں میں جندب بن جاندہ ربذی ہوں بیشک اللہ نے منتخب کیا آدم کو،نوح کو،آل ابراہیم کو اور آل عمران کو،ساری کائنات میں ایک ذریت سے دوسرے سے افضل ہے اور اللہ سننےوالا اور جاننےوالا ہے،محمد ؐ اولاد نوح ؑ میں منخب کئے گئے،جو ابراہیم ؑ کے وارث اور اسماعیل ؑ کے خاندان سے ہیں اور محمد ؐ کی وہ عترت جو رہنما ہے،ان کے شرف بلند کئے گئے اور انہیں پوری قوم پر حق فضیلت دیا گیا،وہ ہمارے درمیان ایسے ہیں جیسے بلند آسمان یا پردہ وار کعبہ یا منصوب قبلہ یا بلند ہوتا ہوا سورج یا سفر کرتا ہوا چاند یا رہبری کرتے ہوئے ستارے،یا زیتون کا درخت جس کا تیل روشنی دیتا ہے اور جس کی زیادتی میں برکت دی گئی ہے محمد ؐ آدم کے وارث ہیں اور تمام انبیا ماسلف کو جو فضیلت دی گئی محمد ؐ ان تمام فضائل کے وارث ہیں اور علی بن ابی طالب ؑ محمد ؐ کے وصی اور ان کے علم کے وارث ہیں اے وہ امت جو اپنے نبی کے بعد حیرت میں پڑگئی اگر تم نے اسے آگے بڑھایا ہوتا جس کو اللہ نے بڑھا رکھا ہے اور اسے پیچھے ہوتا تو تم آسمانوں سے بھی پاتے اور زمین سے بھی کھاتے اور خدا کے دوست کمزور نہ ہوتے اور فرائض خدا کو معطل نہیں کیا جاتا اور تمہارے درمیان اگر دو آدمی بھی اختلاف کرتے تو ان کے مسائل کا حل تم کتاب خدا ور سنت نبی ؐ میں پالیتے لیکن اب تو تم جو کیا وہ کردیا اب اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتو!عنقریب ظالم جان جائیں گے کہ کس ٹھکانے پر پہنچنےوالے ہیں ۔(2)

6 ۔ عمر اصحاب شوریٰ کو معین کررہے ہیں کہتے ہیں اگر تم نے حضرت علی ؑ کو اپنا ولی بنایا تو خدا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:6ص:13

(2)تاریخ یعقوبی ج:2ص:171،زمانہ عثمان میں


کی قسم وہ تمہیں واضح حق کے راستے پر ڈ ال دیں گے اور روشن حجت تمہارے سامنے پیش کردیں گے ۔(1)

میں پوچھتا ہوں مسلمان اور عالم اسلام کے لئے اس سے بہتر بات کیا ہوگی؟(کہ انہیں حق کے راستے پر چلایا جائے)بہرحال گذشتہ مضمون کی کثیر حدیثیں ہیں جو نبی ؐ اور اہل بیت نبی ؐ کی طاہر زبانوں پر ہمہ وقت جاری رہتی تھیں ۔ ان حدیثوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ منصب امامت و خلافت کے لئے منصوص افراد پر کفایت کرنا ضروری ہے اور ان منصوص کا قائم مقام دوسرا ہو ہی نہیں سکتا کہ شریعت اس کی جانب داری کرے اور منصوص علیہ کو معزول کردے(اگر چہ منصوص علیہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ غاصبوں کو معزول کردے)کاش یہ حق اسے دیا گیا ہوتا ۔

عثمان کی خلافت پر کوئی نص نہیں تھی مگر وہ معزول ہونے پر تیار نہیں تھے

لطیفہ یہ ہے کہ جب عوام نے عثمان سے(ان کی بدکرداریوں کی بنا پر)مطالبہ کیا کہ وہ خلافت سے معزول ہوجائیں تو عثمان نے احتجاجاً ایک جملہ کہا کہنے لگے اللہ نے جو قمیص مجھے پہنائی ہے اس کو نہیں اتاروں گا ۔(2) حالانکہ وہ عوام کی بیعت کی بنیاد پر خلیفہ بنے تھے ۔ اللہ نے کوئی نص نہیں فرمائی تھی،اس کے باوجود لوگ اہل بیت ؑ کے بارے میں یہ جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ منصوص من اللہ تو تھے ان کے علاوہ کوئی منصوص علیہ نہیں تھا مگر انہوں نے خود کو معزول کرلیا تھا اور اپنا حق دوسروں کو دیدیا تھا اور ان کی حکومت پر راضی تھے،باب کو مزید واضح کرنے کے لئے ملاحظہ ہو ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ،ج:1ص:186،انھیں الفاظ اور مختلف تعبیر میں نہج البلاغہ کی ج:6ص:326،پر بھی ہے المستدرک علی صحیحین،ج:3ص:101،والامامۃ و السیاسۃ،ج:1ص:26،والطبقاب الکبریٰ،ج:3ص:342،تاریخ یعقوبی،ج:2ص:158،عمر بن خطاب کے زمانے میں،المصنف،عبدالرزاق،ج:5ص:447،446،ابوبکر کی بیعت کے بارے میں،الادب المفرد،بخاری،ص:204،انساب الاشراف،ج:3ص:14،حضرت علی بن ابی طالبؑ کی بیعت کے بارے میں،اورج:6ص:120،امر شوریٰ اور عثمان کی بیعت سے متعلق،والعقد الفرید،ج:4ص:255،الفتوح،ابن اعثم،ج:1ص:324،عمر بن خطاب کے قتل کے بارے میں،تاریخ مدینۃ،ابن شیبۃ،ج:3ص:882،

(2)تاریخ طبری،ج:2ص:35،675سنہ کے واقعات میں،الکامل فی التاریخ،ج:3ص:35،67سنہ کے واقعات میں،المنتظم،ج:5ص:35،55سنہ کے واقعات میں،اہل مصر اور ان کے موافقین کا عثمان کے خلاف خروج،تاریخ دمشق،ج:39،ص:438،عثمان بن عفان کے سوانح عمری میں۔


دورخلافت کے جاری رکھنے سے معالم حق کی بربادی لازم آتی ہے

اوّلا۔عمر اور ابوبکر زبردستی خلیفہ بنے تھے لیکن یہ غلط فہمی نہ ہو کہ دونوں حقدار کی حقیقت کا اعتراف بھی کر رہے تھے بلکہ وہ سرے سے(اہل بیتؑ کو)خلافت کا حقدار ہی نہیں سمجھتے تھے اس لئے کہ وہ نص سے تجاہل عارفانہ کر رہے تھے اور ان کا دعویٰ تھا کہ خلافت عام قریش کا حق ہے یا یہ کہ بنوہاشم کا حق بہرحال نہیں ہے باقی چاہے جس کا حق ہو،دلیل یہ تھی کہ خلافت اور نبوت ایک ہی گھر میں جمع نہیں ہوسکتی(دوسری دلیلیں بھی ہیں)اس صورت مین اہل بیت کا ان دونوں کی خلافتوں پر جہاد کرنا اور خود ساختہ خلیفہ کی خلافت کا اقرار کرنا حکم الٰہی میں تحریف اور معالم کو ضائع کرنا ہے وہ معالم حق جس کو لوگوں تک پہنچانا لازمہے یہ کیسے کہا جائے کہ اس اقرار سے صرف اس دور کے لوگوں کے لئے خدا کی نشانیاں ضائع ہوں گی،میں کہتا ہوں کہ جمہور عالم اسلام کے لئے تو وہ نشانیاں ضائع ہو ہی گئیں اس لئے کہ جمہور اہل سنت منصب خلافت کے لئے نص کے قائل نہیں ہیں سب یہ ہے کہ خودساختہ خلفا نے خود بنا کے پیش کیا اور ان حضرات کو نص سے تغافل رکھایا یہ کہ خود غافل کیا حالانکہ نص موجود تھی اور ایک بڑا گروہ نص کا قائل تھا نص کا اعلان اور اس کی تاکید کر رہا تھا اس نص کے ذریعہ لوگوں کے سامنے حجت پیش کر رہا تھا پھر آپ خود سونچیں کیا ہوتا ہے اگر آپ کی طرح اہل بیت ؑ اور ان کے شیعہ بھی غاصبوں کی خلافت کا اقرار کر لیتے اس کی شرعی حیثیت کا اعلان کردیتے اور اہل بیت اطہار ؑ اور ان کے شیعہ ان کا انکار کرنے کے بجائے خاموش رہتے؟مجلسی علیہ الرحمہ نے کتاب استدارک کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے لکھتے ہیں کہ عیسیٰ بن مہران نے اپنی کتاب((الوفاۃ))(1) میں اپنی اسناد سے حسن بن حسین عرنی سے انہوں نے کہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شیخ ابوجعفر محمد بن حسن طوسی نے کتاب فہرست میں کہا:عیسی بن مہران جو مستعطف کے نام سے مشہور تھا جس کی ابوموسیٰ کنیت تھی اس کی تصنیف میں کتاب الوفاۃ میں تلعکبری نے ایک جماعت سے اور انھوں نے ابن ہمام سے اور انھوں نے احمد بن محمد بن موسیٰ نوفلی سے ہمیں خبر دی اور ابن ندیم نے اسے کتابوں میں ذکر کیا،مقتل عثمان سے متعلق کتاب میں،الفہرست باب عیسیٰ،ص:142،نجاشی نے کہا(عیسیٰ بن مہران مستعطف جس کی نیت ابوموسیٰ تھی اس کی چند کتابیں ہیں انھیں میں سے ایک کتاب مقتل عثمان نامی بھی ہے،کتاب الوفاۃ)کتاب الکشف الرجال باب عیسیٰ ص:297،


مجھ سے مصبح العجلی نے ان سے ابوعوانہ نے ان سے اعمش نے ان سے مجاہد نے ان سے عمر کے صاحبزادے نے وہ کہتے ہیں کہ جب میرے باپ عمر پر سخت وقت آیا یعنی موت کا وقت تو انہوں نے مجھے حکم دیا کہ ذرا علی ؑ کو بلا لو میں علی ؑ کو بلا کے لایا تو میرے باپ کہنے لگے ابوالحسن میں ان لوگوں میں شامل ہوں جنھوں نے آپ سے منھ پھیر لیا تھا اور میں نے ہی سب سے پہلے آپ سے جھگڑا کیا لیکن میں آپ کا ساتھی ہوں آپ مجھے معاف کردیں،مولا نے کہا معاف تو کردوں گا لیکن تم بھی اعتراف جرم دو آدمیوں کے سامنے کرو!یہ سن کے میرے باپ نے دیوار کی طرف منھ موڑ لیا اور کچھ دیر تک خاموش رہے پھر فرمایا ابوالحسن آپ کیا کہہ رہے ہیں مولا علی ؑ نے کہا مجھے جو کچھ کہنا تھا کہدیا،شرط وہی کہ دو آدمیوں کی موجودگی میں یہ بات کہو،عمر نے پھر دیوار کی طرف منھ پھیر لیا اور بہت دیر تک خاموش رہے یہاں تک کہ مولائے کائنات ؑ اٹھے اور باہر نکل گئے،ابن عمر کہتے ہیں میں نے اپنے باپ سے کہا،علی ؑ نے تو آپ کے ساتھ انصاف کیا تھا،کاش آپ صرف دو آدمیوں کو گواہ بناکے یہ بات کہہ دیتے عمر نے کہا بیٹا تم کو نہیں معلوم ہے علی ؑ چاہتے ہیں کہ دو آدمی بھی میرے لئے استغفار نہ کریں ۔(1) اگر چہ میں اس روایت کی صحت پر مکمل یقین نہیں رکھتا لیکن قصہ شوریٰ کے حوالے سے مورخین کا بیان اس روایت سے بہت کچھ ملتا جلتا ہے،عمر اصحاب شوریٰ کو نامزد کررہے ہیں اور ہر ایک کی کمزوری بھی بیان کرتے جارہے ہیں تا کہ ارکان شوریٰ کو خلافت سے دور رکھنے کی وجہ لوگوں کی سمجھ میں آجائے(2) انہوں نے سب پر بڑے بڑے عیب لگائے لیکن جب مولا علی ؑ کا نام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)بحارالانوارج:30،ص:142،ابوبکر اور عمر نے غضب خلافت سے متعلق جو موت کے وقت ندامت و شرمندگی کا اظہار کیا ہے کے باب میں،حدیث10،اسی الفاظ میں،ج:8ص:206،

(2)الاستیعاب ج:3ص:1119،علی بن ابی طالب علیہ السلام کی سوانح حیات میں،الامامۃ و السیاسۃ،ج:1ص:26،کتاب الآثار،ص:217،الانساب الاشراف ج:6ص:221،تاریخ المدینۃ،ابن شیبۃج:3،شوریٰ اور قتل عثمان سے متعلق بیان میں،ص:880۔881۔882۔883،شرح نہج البلاغہ ج:6ص:226،کنزالعمال،ج:5ص:740،حدیث:14266،ص:742،حدیث1426،الفائق فی غریب الحدیث،ج:3ص:168،غریب الحدیث،ابن سلام،ج:3ص:331،مادہ قنب میں،الفتوح،ابن اعثم،ج:1ص:324،عمر ابن خطاب کے قتل کے بیان کے آغاز میں۔


لیا تو صرف یہ کہا کہ علی ؑ بہت خوش مزاج اور پر مذاق ہیں ۔(1)

پھر فوراً یہ بھی صراحت سے کہہ دیا کہ اگر تم ان کو حاکم بناؤگے تو وہ تمہیں حق پر چلاکے چھوڑیں گے اور روشن حجت قائم کریں گے،یہ بات پہلے بھی گذرچکے ہے،یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عمر مولا علی ؑ کو خلافت سے قریب کرنا چاہتے تھے اور انھیں کی طرف اشارہ کررہے تھے،

بلکہ طبری کہتے ہیں کہ لوگ نکلے اور عمر کے پاس آئے اور کہنے لگے اے امیرالمومنین آپ کسی کو خلیفہ تو بنادیں پر عمر نے کہا میں نے اپنے قول کے بعد تمہارے بارے میں اپنی رائے کو جمع کیا تو میں اس حکومت کا دلی ایک ایسے آدمی کو بنا رہا ہوں جو اس کا زیادہ مستحق ہے کہ تم کو حق کے راستے پر ڈ ال دے اس کے بعد انہوں نے حضرت علی ؑ کی طرف اشارہ کیا پھر مجھے غش آگیا اور میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص باغ میں داخل ہوا جو اس نے خود لگایا تھا اور ہر ڈ الی سے تازہ پھل توڑے اور انہیں نچوڑ نچوڑ کر اپنے سر پر ڈ النےلگا،میں سمجھ گیا کہ خدا کا امر غالب ہے اور عمر مرنےوالا ہے تو میں مروں یا زندہ رہوں خلافت کا بار اب نہیں اٹھاؤں گا تم پر واجب ہے کہ اس گروہ(شوریٰ)کی بات مانو!پھر طبری نے عمر کی طرف سے شوریٰ کے تانے بانے پیش کئے ہیں،جو مشہور ہے اور جانا پہچانا ہے ۔(2)

عمری کی گفتگو کے الٹ پھیر سے تو یہ صاف ظاہر ہورہا ہے کہ انہوں نے بہت چالاکی سے گوٹی بٹھا کے شوریٰ کو امت پر اس انداز میں لاددیا کہ سوائے عثمان کے کوئی خلیفہ بن ہی نہیں سکتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)الاستیعاب ج:3ص:1119،علی بن ابی طالب علیہ السلام کی سوانح حیات میں،الانساب والاشراف ج:6ص:221،تاریخ المدینۃ،ابن شیبۃج:3ص:880،شرح نہج البلاغہ ج:3ص:326۔327،کنزالعمال ج:5ص:740،حدیث:14266،ص:742،حدیث:1426،الفائق فی غریب الحدیث،ج:3ص:168،غریب الحدیث،ابن سلام،ج:3ص:331،مادہ قنب میں،الفتوح،ابن اعثم،ج:1ص:324،عمر ابن خطاب کے قتل کے بیان کے آغاز میں۔

(2)تاریخ طبری،ج:2ص:580،اس کے بعد شوریٰ کا قصہ ہے،کلمہ(رہقتنی)تاریخ طبری سے الفیہ کے پروگراموں میں حذف ہوگیا ہے لہذا ہم نے موجودہ نسخہ پر اعتماد کرتے ہوئے جو معجم فقہی کے پروگرام میں درج ہے ملحق کردیا ہے۔


تھا ممکن ہے کہ وہ پہلے امیرالمومنین ؑ کو خلیفہ بنانا چاہتے ہوں،اس امید پر کہ شاید اس کے بدلے میں امیرالمومنین ؑ انہیں معاف کردیں لیکن سابقہ روایت میں گذرچکا(کہ امیرالمومنین ؑ نے معاف کرنے کی ٹیڑھی شرط رکھ دی)تو جب عمر امیرالمومنین ؑ سے مایوس ہوگئے تو ان کے دل میں بدخیالی آئی(اور وہ جنت کے خواب دیکھنے لگے)انہوں نے امیرالمومنین ؑ کو اس جماعت میں قرار دیا جو دنیا کے بندے تھے اور خدا پر جسارت کرنےوالے تھے پھر ایسی کہ امیرالمومنین ؑ کی خلافت کے ہر راستے کو مسدود کردیا گیا اور کچھ ایسی تدبیر کی خلافت پھر عثمان ہی کے خاندان میں رہے اس خاندان میں جو حکومت کے لئےکچھ بھی کرسکتا تھا اور دنیا حاصل کرنے ے لئے کسی گناہ سے پرہیز نہیں کرتا تھا عمر کی تدبیر کا یہ منشا بھی یہی تھا کہ خلافت مولا علی ؑ اور آپ ک اہل بیت ؑ تک کبھی پہنچ ہی نہ سکے ۔

عمر نے یہ حرکت یا تو عثمان کی محبت میں کی تھی یا امیرالمومنین علیہ السلام کے اعراض کرنے کے لئے کہ ان کے دل میں آپ کی طرف سے بہت پرانا کینہ تھا یا اس لئے کہ آپ نے انہیں معاف نہیں کیا تھا یا اس لئے کہ وہ ڈ ر رہے تھے کہ حکومت اگر علی ؑ اور ان کے اہلبیت ؑ تک پہنچ گئی تو ان کی حقیقت کھل کر سامنے آجائےگی اور ان کی ناانصافی جو انہوں نے اہلبیت ؑ کے ساتھ کی تھی تا کہ حکومت ان تک نہ پہنچے تو ظاہر ہوجائےگی اور لوگ اہل بیت ؑ کی بات سننے لگیں گے ۔

بہرحال جو بھی ہو یہ روایت سچی ہو یا جھوٹی ایک بات تو سمجھ میں آرہی ہے کہ امیرالمومنین ؑ کو اہمیت دیکے خلافت کے معاملات سے خودبخود پردہ اٹھایا جارہا ہے اور یہ کہ لوگوں کے سامنے حکم الٰہی بالکل ظاہر تھا(اور سب لوگ یہ سمجھتے تھے کہ مولا علی ؑ خلافت کے مستحق ہیں)اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں اور یہی باتیں امیرالمومنین ؑ کے لئے قوی تر مانع ہیں جو آپ کو اور اہل بیت ؑ کو غیروں کی خلافت کے اقرار سے روکتی ہیں اور خلیفہ غاصب کی شرعیت سے انکار کرتی ہیں کاش کہ انہیں اقرار کا حق ملا ہوتا ۔


اسلام کی اعلی ظرفی اجازت نہیں دیتی کہ شریعت الٰہیہ کی پیروی قہر و غلبہ اور بزور کروائی جائے

ثانیاً ۔ اسلام کی اعلیٰ مزاجی اس کے پیغام کی بلندی اور مثالی تعلیمات اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ شریع الٰہیہ کی پیروی قوت کے ذریعہ کرائی جائے اور نہ اس کی اجازت دیتی ہے کہ حقدار اپنا حق زبردستی حاصل کرے جب کہ شریعت اسلامی میں خلافت الٰہیہ کا مقام بہت بلند اور بےپناہ قدامت و عظمت کا حامل ہے بخصوص قہر و غلبہ اور زور و زبردستی کی بدولت اپنے حق پر تسلط،حسد و غیرہ کی طرح نفسانی خواہشات کی پیروی اور پسندیدہ صفات اخلاقی کے منافی ہے جس کا تذکرہ دوسرے سوال کے جواب میں بھی کچھ حد تک کیا جاچکا ہے ۔

(اسلام کے بارے میں تو کم از کم یہ بات نہیں کہی جاسکتی)البتہ اسلام ہی کے معاصر اس وقت عرب میں دودین تھے یہودی اور نصرانی،ان کے بیان کے مطابق شریعت مقدسہ کی پابندی قہر و غلبہ کے ذریعہ کی جاسکتی ہے اور دینی مناصب قوت کے ذریعہ حاصل کرنا جائز ہے لیکن یہ جواز بھی ان خرافاتی قصّوں کی بنیاد پر تھا جنہیں دین میں تحریف و تاویل کرکے بنایا گیا تھا اور انھیں باتوں کو وہ دونوں قومیں دین سمجھتی تھیں،اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں ہی دین چونکہ آسمانی تھے اس لئے حقیقت میں ان فضول باتوں سے پاک تھے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ دین اسلام جیسا عظیم دین جو تمام ادیان کا خاتم ہے اور اپنی تشریع میں مثالیت اور ہر کمال کا جامع ہےس کے اندر یہ غلط بات جائز ہوجائے ۔

حاصل کلام یہ ہے کہ جب یہ طے ہوگیا کہ ائمہ اہل بیت ؑ ہی امامت کے حق دار ہیں اور ان کے حق پر خدا کی طرف سے نص ہے جیسا کہ شیعہ کہتے ہیں تو پھر ان حضرات کی طرف سے دونوں خلیفہ کی خلافت کے اقرار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی اور شریعت کی جانب داری کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی ہے اس لئے کہ یہ دونوں باتیں نص الٰہی کے منافی ہیں اور دونوں ہی باتیں اسلامی شریعت کے تقدس اور اس کی اعلی ظرفی اور مثالی کردار کو نقصان پہنچاتی ہیں ۔


خلیفہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ امت کے کاروبار کو چلانے کے لئے اپنا نائب بنائے

ہاں خلیفہ شرعی کو اس بات کا حق حاصل ہے یہ کہ وہ امت کے امور کی دیکھ ریکھ کے لئے خاص خاص شہروں میں یا خاص حالات کے تحت کسی کو اپنا نائب بنادے اسی طرح کہ یہ شخص اس کا نائب ہو اس کی زیرنگرانی ہو اور اس کا ماتحت ہو،لیکن خلیفہ وہی(مصوص من اللہ)رہےگا،یہ نیابت خلافت کا بدل ہرگز نہیں ہوگی کہ خلیفہ اس کے حق میں دست بردار ہوگیا ہو یا اس کو ہبہ کردیا ہو یا اس کے ہاتھوں خلافت کو بیج دیا ہو ۔

سب کو معلوم ہے کہ مذکورہ بالا معنی میں نیابت ان دونوں خلفا کو بہرحال حاصل نہیں تھی نہ کسی دوسرے خلیفہ کو یہ خصوصیت حاصل تھی وہ لوگ تو بس خود ہی حکومت کے ولی بن بیٹھے تھے خود کو حاکم اور خلیفہ اور ائمہ اہل بیت ؑ کو اپنی رعایا اور محکوم سمجھتے تھے ۔

شیعہ اچھی طرح اس بات کو سمجھتے ہیں کہ اہل بیت ؑ اپنے حق سے دست بردا رنہیں ہوئے

شیعوں کو اس بات کی کامل بصیرت ہے کہ ائمہ اہل بیت ؑ اپنے حق سے دست بردار نہٰں ہوئے تھے بلکہ ان حضرات نے ہر دور میں اس بات کی شکایت کی ہے کہ ان کا حق غصب کرلیا گیا ہے اور ان پر ظلم کیا گیا ہے،ہر عہد میں وہ ظالموں کا انکار کرتے رہے،ان سے اظہار برائت کرتے رہے اور ان کی مخالفت میں بولتے رہے وہ لوگ اس اظہار برائت اور انکار کو دین واجب التُّمسُّک کا تتمّہ مانتے تھے اور نجات کو اس پر موقوف سمجھتے تھے اس بات کی تائید میں شیعوں نے اپنے اماموں سے بیشمار حدیثیں روایت کی ہیں جو استفاضہ کی حد اور تواتر کے مرتبے کو پہنچی ہوئی ہیں،نتیجے میں صورت


حال یہ ہوگئی کہ یہ عقیدہ ان کے ضروریات دین میں شامل ہوگیا وہ اس میں نہ اختلاف کرتے ہیں نہ ہی اس عقیدے کو چھوڑنے پر تیار ہیں ۔

یہ دعویٰ کرنا کہ شیعہ اپنے اماموں کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں کہاںتک حقیقت پر مبنی ہے؟

ہوسکتا ہے کہ کوئی یہ دعویٰ کرے کہ شیعہ اپنے اماموں کی طرف جھوٹے افعال کی نسبت دیتے ہیں اس معاملے میں شیعہ خطاکار ہیں اور اماموں پر بہتان باندھتے ہیں یہ دعویٰ خاص طور سے ان لوگوں کا ہے جو شیعیت کے چہرے کو مسخ کرکے دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور ان کے اوپر بڑے بڑے گناہوں کی تہمت رکھتے ہیں لگتا ہے وہ لوگ دین اور حق کو پہچانتے ہی نہیں اور انہوں نے اپنے دینی عقیدے اور مسلک کی بنیاد محض افترا پردازی،گمراہی،بدعت اور خرافات پر رکھی ہے ۔

مذکورہ دعوی کی تردید اور شیعوں کی صداقت کے شواہد

حقیقت تو یہ ہے کہ مذکورہ دعویٰ اس لئے ہے کہ شیعہ حق پر ہیں اور ان کی دلیلوں کی کوئی کاٹ دشمن کے پاس موجود نہیں ہے شیعوں نے اپنی دلیلوں کو ڈ ھال بناکے ان دشمنوں کی خُصومت برداشت کی اور ان کے تمام راستے بند کردیئے،مجبور ہو کے دشمنوں نے ہٹ دھرمی اور بہتان کا سہارا لیا تا کہ شیعوں کے لئے نفرت پیدا کرسکیں اور اتنی نفرت پیدا کردیں کہ ان کا دعویٰ اور ان کی دلیلوں کی طرف کوئی توجہ ہی نہ دے ورنہ اگر ذوق جستجو رکھنےوالا انسان اپنے مسلمات و جذبات سے الگ ہو کے از نگاہ انصاف دیکھے اور دلائل و شواہد کا مطالعہ کرے تو شیعوں کی صداقت اس پر مشکوک نہیں رہےگی وہ سمجھ لےگا کہ شیعوں نے اپنے


اماموں کی طرف کوئی جھوٹ نہیں منسوب کیا ہے اس لئے کہ شیعہ اماموں سے بہت محبت رکھتے ہیں بڑی عقیدت رکھتے ہیں ان کی سیرت کو مقام استدلال میں پیش کرتے ہیں اور ان کی سیرت سے سبق لےکے اسی پر زندگی گذراتے ہیں ۔

جھوٹ بولنے کی کوئی وجہ نہیں ہے جب کہ شیعہ انھیں عقیدوں کی وجہ سے ہمیشہ بلاؤں کا سامنا کرتے رہے

1 ۔ اگر یہ باتیں ان کے اماموں سے صادر نہیں ہوتیں تو شیعہ ان باتوں کو محض افترا کے طور پر ان کی طرف منسوب نہیں کرتے،نہ انھیں دین سمجھ کے مانتے،نہ ان پر اپنے عقائد کی بنیاد رکھتے اس لئے کہ محض جھوٹ اور افترا کے لئے بلائیں جھیلنے اور مصیبتیں اٹھانے پر کوئی تیار نہیں ہوتا ہے،شیعہ صرف انہیں عقائد کی وجہ سے شروع ہی سے دنیا بھر کی سختیاں جھیلتے رہے اور مصیبتیں اٹھاتے رہے ہیں ۔

پھر یہ سوچیئے کہ عقائد اور معلومات میں غلطی کب ہوتی ہے جب انسان مرکز سے دور ہو مثلاً انبیائے کرام ؐ کے بارے میں یا ان کی تعلیمات کے بارے میں غلطی کا امکان اس لئے ہے کہ انبیاء ؐ اور امت کے درمیان ہزاروں صدیوں کے پردے حائل ہیں صاحب دعوت اور مبشرین اور ان کی سیرت کے ناقلین کے درمیان ایک بُعد زمانی پایا جاتا ہے،لیکن شیعہ اور سنیوں کے اماموں کے درمیان اس بُعد زمانی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اس لئے کہ یہ عقائد تو شیعوں کے یہاں امیرالمومنین علی علیہ السلام کے دور ہی میں جانے پہچانے جاچکے تھے جیسا کہ ابھی پیش کئے جائیں گے ان عقیدوں کی مزید وضاحت شہادت حسین ؑ کے بعد ہوگئی اس لئے کہ ہمارے اماموں نے یہ سمجھ لیا کہ ابھی ہمیں سلطنت کا مطالبہ نہیں کرنا ہے اور مستقبل قریب میں حکومت ہمیں نہیں ملنےوالی ہے تو آپ حضرات نے شیعہ ثقافت کی تہذیب و تربیت پر بھرپور توجہ دی اور اپنے علوم و معارف کو شیعوں کے درمیان پھیلانا شروع کیا تا کہ شیعوں کا ایک ماحول اور شیعہ طرز زندگی کا ایک خاکہ لوگوں کے سامنے آجائے شیعہ عقائد


ایسے دور میں سامنے آرہے تھے جس وقت شیعہ اپنے اماموں کے ساتھ رہ رہے تھے انہیں یکے بعد دیگر اپنے ائمہ ؑ سے دوسو سال تک اختصاص حاصل رہا بلکہ غیبت صغریٰ کے زمانے کو بھی اس سے ملا لیا جائے تو یہ مدت اور بڑھ جاتی ہے جس میں شیعہ اپنے اماموں کے ساتھ وقت گذارتے رہے اور بلاواسطہ ان سے مستفید ہوت رہے پھر ملاوٹ کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا،میں نے غیبت صغریٰ سے نواب اربعہ کے توسط سے بہرحال لگاؤ بنا ہوا تھا دوسوستر( 270) سال تک شیعہ اپنے اماموں سے ملتے جلتے رہے پھر ممکن نہیں ہے کہ ہر امام کی کوئی رائے یا کوئی نظریہ ان کے شیعوں سے پوشیدہ رہا یا کوئی اختلاف پیدا ہوا ہو ۔

اگر شیعہ مفتری ہوتے تو ان کے امام ان سے الگ ہوجاتے

اگر شیعوں کے پاس ان کے معصوم اماموں کا بنایا ہوا مذہب نہ ہوتا بلکہ ان کا خود ساختہ مذہب ہوتا تو اماموں پر واجب تھا کہ وہ شیعوں کا انکار کردیتے اور اگر شیعہ اپنے افترا اور بہتان پر اصرار کررہے ہوتے تو معصوم امام پر واجب تھا کہ وہ شیعوں کو چھوڑ دیتے انھیں خود سے دور کردیتے ان سے الگ ہوجاتے اور ان کے ساتھ مل جل کے ہرگز نہ رہتے جب کہ غلط کاروں کے ساتھ انہوں نے ایسا ہی سلوک کیا،مثلاً امیرالمومنین علیہ السلام نے انھیں چھوڑ دیا جو آپ کی ذات میں غلو کرتے تھے،امام صادق علیہ السلام ابوالخطاب اور اس کی جماعت سے الگ ہوگئے بعد کہ ائمہ ہدیٰ علیہم السلام نے بھی ان لوگوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جو اماموں کے طریقوں سے الگ ہو کے اپنا راستہ بنارہے تھے اور معصوموں کی ذات کو ملوث کررہے تھے لیکن شیعوں کے ساتھ ان حضرات کا لگاؤ ہمیشہ بنارہا،آپ حضرات اپنے شیعوں کے ماحول میں پائے جاتے تھے شیعہ فرقہ ان سے طاقت حاصل کرتا رہا،ان کی محبت شیعوں کی پہیچان بن گئی،شیعہ انھیں کی طرف متوجہ رہے،ان کی خوشی میں خوش اور ان کے غم سے رنجیدہ،ان کی سیرت کے جویا اور ان کے طرز زندگی سے واقف ہونے کے لئے کوشاں،ان کے فقہ


احادیث اور تعلیمات پر عمل پیراں رہے اور ان گرانقدر چیزوں کے اپنے مکتوبات اور کتابوں میں محافظ رہے،ان کی حدیث اور سیرت کا تذکرہ اپنی مجلسوں میں کرتے رہے،انہیں پر بھروسہ کرتے رہے اور ان کو اپنے لئے عزت کا سبب سمجھتے رہے بلکہ انھیں آثار و معالم کے ذریعہ دشمن پہ حملہ کرتے رہے۔

دنیا کا طریقہ ہے کہ کسی بھی مذہب کے امام کی رائے اور خیالات کا علم اس امام کے اصحاب کے واسطے سے اور اس کے خاص لوگوں کے ذریعہ سے ہوتا ہے پھر ائمہ اہل بیتؑ کے مذہب کا علم ان حضرات کے شیعوں کے واسطے سے کیوں نہیں ہوگا؟جب کہ یہ شیعہ ان حضرات کے آس پاس ہمیشہ موجود رہے،ان کے مخصوص افراد بنتے رہے اور ان کے افعال میں مدد کرتے رہے،یہ سلسلہ طویل مدت تک چلتا رہا اور سب کے سامنے یہ عمل ہوتا رہا جب کہ اس دور کے رئیسوں اور بادشاہوں سے شیعہ اتنے قریب نہیں تھے جتنا اپنے اماموں سے تھے۔

ائمہ اہل بیتؑ کی میراث کا تحفظ شیعوں ہی نے کیا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شیعہ ان حضرات سے مخصوص تھے

اس کے باوجود اگر کوئی ہٹ دھرم اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ شیعہ اہل بیت ؑ کے اماموں سے مخصوص نہیں تھے اور ان سے مذہبی معاملات میں ہدایتیں نہیں لیتے تھے اور یہ کہ شیعوں نے اہل بیت ؑ سے جھوٹی حدیثیں منسوب کی ہیں تو میں اس سے کہوں گا کہ پھر ان دعاؤں(1) اور زیارتوں(2) کا کیا کرو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)جیسے دعائے کمیل،صباح،عشرات،نیز وہ دعائیں جو حضرت امیرالمومنینؑ سے مروی ہیں اور عرفہ کے دن امام حسینؑ کی دعا،صحیفہ سجادیہ کی دعائیں،دعائے افتتاح،ابوحمزہ ثمالی جو رمضان میں پڑھی جاتی ہے نیز باقی ماہ رمضان کے روز و شب اور سحر کی دعائیں اور رجب و شعبان کی دعائیں،شب جمعہ کی دعائیں نیز اس کے علاوہ بےشمار دعائیں،مضامین عالیہ جو اللہ کی تمجید سے متعلق ہے اور اس کی تقدیس اور ثناء سے متعلق ہے۔

(2)جیسے حضرت امیرالمومنینؑ کی زیارت جو(امین اللہ)کے نام سے معروف ہے اور آپ کی باقی زیارتیں جو مختلف مناسبتوں سے پڑھی جاتی ہیں،زیارت وارثہ،نصب شعبان کی شب میں امام حسینؑ کے لئے نیز آپ کی باقی زیارتیں جو مختلف مناسبتوں سے پڑھی جاتی ہیں تمام ائمہؑ کے لئے زیارت جامعہ کبیرہ اور باقی معصومینؑ کی زیارتیں جو بلند و بالا مضامین کا دفتر ہے۔


گے جو صرف شیعوں کے پاس ہیں اور ان کے اماموں سے مروی ہیں دعاؤں اور زیارتوں کی ایک بڑی مقدار ہے جو مختلف مواقع پر مختلف الفاظ میں ائمہ اہل بیت ؑ سے وارد ہوئی ہے وہ دعائیں اور زیارتیں حکمت،موعظہ،خطابت اور دوسرے مضامین عالیہ پر مشتمل ہیں جن کو پڑھ کے پتہ چلتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ودیعت کردہ ہیں جو ائمہ اہل بیت ؑ کو حاصل تھیں اور علم الٰہی کے یہ خزانے صرف شیعوں کے پاس ہیں جو شیعوں کو دوسرے فرقوں سے ممتاز کرتے ہیں اس لئے کہ ان دعاؤں اور زیارتوں کی زبان اور ان کے مضامین پکار پکار کے کہہ رہے ہیں کہ یہ مضامین صرف وہی وارد کرسکتا ہے جس کو ادھر سے علم ملا ہے اور یہ دوسروں کے بس کا روگ نہیں ہے ۔ نگاہ انصاف سے دیکھیں تو یہ نتیجہ نکلےگا کہ ائمہ اہل بیت ؑ نے شیعوں کو جو دعائیں ودیعت کیں یا جو زیارتیں وارد فرمائیں اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ شیعہ ان سے مخصوص تھے شیعوں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے جواب دینا ضروری سمجھا اور شیعہ ان کی رضا کے طالب اور ان کے پسندیدہ افراد تھے ۔

ورنہ یہ دعائیں اور زیارتیں سینوں کے پاس کیوں نہیں ہیں؟انہوں نے کیوں نہیں نقل کیا یا اگر نقل کیا تھا تو کیوں نہیں حفاظت سے رکھا اور اس کےحق کی رعایت کیوں نہیں کی؟(1)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)ہمعصر دینی مرجع سید شہاب الدین مرعشیؒ صحیفہ سجادیہ کے مقدمہ میں اپنی استدراک جو1361سنہ میں زیور طبع سے آراستہ ہوئی ہے اور ہم1353سنہگذار رہے ہیں میں نے اس کا ایک نسخہ علامہ معاصر شیخ جوہری طنطاوی کی خدمت میں ارسال کیا جو صاحب التفسیر بھی ہیں جس کی شہرت مفتی اسکندریہ کے نام سے ہوئی ہے تا کہ وہ مطالعہ کریں پھر انھوں نے صحیفہ پہنچنے کی قاہرہ سے مجھے اطلاع دی اور میرا اس گرانقدر ہدیہ پر شکریہ ادا کیا اور اس کی مدح و ثنا میں رطب اللسان ہوگئے یہاں تک کہ آپ نے کہا:اس وقت ہماری بدبختی یہ ہے کہ ہم اس اثر جاوید تک رسائی نہیں رکھتے جو نبوت اور اہل بیتؑ کی میراث کا ایک جزء ہے اور میں نے جتنا غور و خوض کیا اسے مخلوق کے کلام سے بالا اور خالق کے کلام کے بعد ہی پایا،پھر مجھے سے اس کے بارے میں سوال کیا کہ آیا علماء اسلام میں سے کسی نے اس کی شرح کی ہے پھر میں نے شارحین کے اسماء درج کئے جسے میں بھی جانتا تھا پھر میں نے ریاض السالکین سید علی خان کی خدمت پیش کیا تو انھوں نے بھی اس کے پہنچنے کی خبر دی،اور لکھا کہ میں عزم مصمم رکھتا ہوں کہ اس گرانقدر صحیفہ کی شرح کروں،اگر شیخ جوہری طنطاوی اپنی کثیر معلومات اور کثیر اطلاع کے باوجود اس صحیفہ سجادیہ سے بےخبر رہے جب کہ اس کی شہرت اور اس کا چرچا،مکتب خیال کے الگ ہونے کے باوجود شیعوں کے درمیان تھی تو پھر جو کم اطلاع رکھتے ہیں ان کے لئے کیسے ممکن ہے پھر ان کا کیا حال ہوگا جو صحیفہ سجادیہ سے کم رتبہ اور اہمیت کتاب رکھتے ہوں گے۔


یہ بات ماننی پڑےگی کہ جس طرح قرآن مجید صداقت نبوت کی گواہی دیتا ہے اسی طرح یہ اور وضائف اس بات کی گوہی دیتے ہیں کہ ائمہ اہل بیت ؑ کو یہ نبی ؐ کی طرف سے میراث میں ملے ہیں اور شیعوں کو یہ علم ائمہ اہل بیت ؑ کی طرف سے درحقیقت نبی ؐ کی ہدایت سے ملا ہے ۔ ائمہ اہل بیت ؑ کی واردہ کردہ دعاؤں اور زیارتوں کو دیکھئے پھر غور کیجئے کیا یہ ممکن ہے کہ اتنی عظیم المرتبہ دعائیں اور اتنی معنی خیز زیارتیں شیعہ یا کوئی انسان اپنی طرف سے بنالے اور پھر اس کو اہل بیت ؑ کی طرف منسوب کردے،عادۃً یہ مشکل ہے کہ اتنے بڑے مجموعہ کی بنیاد کذب اور بہتان پر ہو اور ان ارشادت کو وارد کرنےوالا کوئی نہ ہو جو ان کو حق پر جمع کرسکے بلکہ حق تو یہ ہے کہ عادۃً یہ مشکل ہے کہ اتنے بڑے مجموعہ کی بنیاد کذب اور بہتان پر ہو اور ان ارشادت کو وارد کرنےوالا کوئی نہ ہو جو ان کو حق پر جمع کرسکے بلکہ حق تو یہ ہے کہ عادۃً ان دعاؤں کا صدور ائمہ اہل بیت ؑ کے علاوہ کسی سے بھی ناممکن ہے اس لئے کہ اہل بیت ؑ نبی کریم ؐ کے وارث ہیں اور انھوں نے سرکار سے علم لیا ہے جیسا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اہل بیت ؑ اطہار گفتگو کے بادشاہ تھے(1) اور انہیں کے پاس حکمت اور فصل خطاب تھا ۔(2) ایک طرف تو یہ علمی ذخیرہ شیعوں کی صداقت کا گواہ ہے اس لئے کہ شیعہ اس خزانے کے تنہا وارث ہیں اس خزانے کی معرفت شیعوں کو ہے اور اسی خزانے کی وجہ سے وہ عالم اسلام میں قابل عزت ہیں دوسری طرف یہ علمی خزانہ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ شیعوں اپنے اماموں کی طرف جو نسبت دی ہے وہ سب کی سب صحیح ہے اور شیعہ اپنے اماموں سے مخصوص ہیں ان کی ہدایتوں پر عمل کرتے ہیں،ان کے علوم و معارف کے حامل ہیں اور اماموں کی خاص عنایت کے مستحق ہیں شیعوں کو ان کے اماموں نے اپنے مقدس مبارک اور شریف علوم سے فیضیاب کیا ہے ۔

شیعوں کے کردار میں اماموں کے اخلاق کی جھلک

خیال وہ ہے جو ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ کے مقدمہ میں امیرالمومنینؑ کی سوانح حیات میں لکھا ہے،وہ لکھتے ہیں جہاں تک وسعت اخلاق خندہ پیشانی،زندہ دلی،اور تبسم کا سوال ہے تو مولائے کائنات کی ان صفات میں مثال دی جاتی ہے یہاں تک کہ آپ کے دشمن ان صفات حسنہ کو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)نہج البلاغہ ج:2ص:266 (2)بحارالانوارج:9ص:209،ج:28ص:53


عیب کہہ کے پیش کرتے تھے،عمروعاص نے اہل شما سے کہا علی ؑ بہت زیادہ پر مذاق آدمی ہیں(ہنسنے ہنسانےوالا)حلانکہ عمروعاص کا یہ جملہ بھی اس کا نہیں ہے بلکہ اس کا نہیں ہے بلکہ اس نے یہ جملہ عمر بن خطاب سے لیا ہے،جب عمر نے مولا علی ؑ کو خلیفہ بنانے کا ارادہ کیا تھا تو یہ کہا تھا کہ خدا تمہارے باپ کو بخشے اگر تم پر مذاق نہ ہوتے تو عمر تم ہی پر اقتصار کرتا عمروعاص نے اس میں کچھ اضافہ کیا ہے اور مقام مذمت میں وارد کیا ہے صعصعہ ابن صوحان اور آپ کے دوسرے شیعہ اور اصحاب آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ ؑ ہمارے درمیان ہم ہی جیسے بن کے رہتے تھے،نرم دل منکسر مزاج اور سہل القیادۃ تھے،پھر بھی ہم پر آپ کی ہیبت اس طرح طاری رہتی تھی جیسے ایک قطار میں بندھے ہوئے قیدیوں پر ان کے سامنے کوئی تلوار لےکے کھڑا ہو ۔

یہ اخلاق حسنہ آپ کے اولیا اور آپ کے چاہنےوالوں میں میراث کے طور پر منتقل ہوئے اور اب تک ان کے اندر باقی ہیں جس طرح آپ کے دشمنوں کو جفا بدروی اور بداخلاقی ان کے بزرگوں سے میراث میں ملی ہے اور اب تک باقی ہے جو اخلاقیات میں سطحی نظر بھی رکھتا ہے وہ اس فرق کو ضرر محسوس کرلےگا ۔(1)

ظاہر ہے کہ جب ائمہ اہل بیت ؑ کے اندر یہ صلاحیت تھی کہ وہ اپنے شیعوں کو اپنے اخلاق و کردار کے سانچے میں ڈ ھال سکتے تھے اور ان کے اندر اپنے اخلاق عالیہ کو منتقل کرسکتے تھے جیسے نرم دلی،وسعت اخلاق و غیرہ تو پھر ان کے اندر یہ صلاحیت بھی ماننی پڑےگی کہ وہ شیعوں کو امامت و خلافت کے بارے میں اپنے مذہب سے باخبر رکھتے اور انہیں حکم دیتے کہ وہ امامت کے معاملے میں ان کے مذہب کی پیروی کریں اور چونکہ شیعہ ذاتی طور پر ان حضرات سے متاثر تھے اور اخلاق میں ان کے نقش قدم پر چلتے تھے تو وہ بہرحال عقیدہ امامت و خلافت میں بھی ان کی پیروی کرتے تھے اور ان کے مزہب سے الگ نہیں تھے اس لئے کہ یہ تو ایک علمی مسئلہ تھا اور اس کا جان لینا اور مان لینا تو اخلاق و سیرت کی عملی پیروی سے زیادہ آسان ہے شیعہ ایک زمانے سے سنی بھائیوں کی بےرحمی ظلم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:1ص:25۔26،علیؑ کے ایک قول اور ان کے فضائل کا ذکر۔


اور زیادتی جھیلتے چلے آرہے ہیں اس کے باوجود ان کے اندر اخلاقی وسعت طبیعت کی نرمی اور خوش خلقی پائی جاتی ہے ورنہ حالات کا تو تقاضا یہ تھا کہ وہ سنیوں کو اپنا دشمن سمجھ لیتے ان کی طرف سے دل میں کینہ رکھتے اور ان سے بداخلاقی سے پیش آتے یہ صرف ائمہ اہل بیت ؑ کی سیرت کا اثر ہے کہ شیعہ دشمنی کینہ اور حسد جھیل رہے ہیں لیکن اپنے اماموں کی سیرت چھوڑنے پر تیار نہیں ۔

اہل سنت کی ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے کنارہ کشی

حالات کا نگاہ انصاف سے جائزہ لیا جائے تو پتہ چلےگا کہ جمہور اہل سنت نے اپنے عقائد و ثقافت میں ائمہ اہل بیت ؑ سے کچھ نہیں لیا ہے اور ہمیشہ ان حضرات کو معزول سمجھا ہے،ہر دور میں سنی سماج چاہے عوام ہوں یا خواص،چاہے فقہا ہوں یا روات،سب کے سب اہل بیت سے ہمیشہ الگ رہے خاص طور سے متاخر،ائمہ ؑ کو سنیوں نے بالکل ہی نظرانداز کردیا جن کے دور میں شیعہ امامیہ کے عقائد اور معالم نکھر کر سامنے آئے اور شیعوں کو ایک مستقل اور ممتاز حیثیت ملی حالانکہ سنی حضرات اس تاریخی حقیقت سے انکار کی کوشش کرتے بہرحال اہل بیت ؑ کا احترام تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن ان کا یہ انکار قابل قبول نہیں ہے اس لئے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اصول دین میں یہ لوگ اشاعرہ،ماتریدی اور معتزلی فرقہ کی پیروی کرتے ہیں،جب کہ فروع میں مذہب اربعہ میں سے کسی ایک مذہب پر عمل کرتے ہیں وہ اپنے عقائد و فقہ میں سے کسی بات کو ائمہ اہل بیت ؑ کی طرف منسوب نہیں کرتے حلانکہ اہل بیت ؑ کی طرف سے فقہ و اصول اور اقوال جو بھی وارد ہوئے ہیں ان میں سے اکثر مذکورہ بالا فرقوں کے نظریہ سے بالکل ہی الگ ہیں ائمہ اہل بیت ؑ کی باتوں پر صرف ائمہ اہل بیت ؑ کے شیعہ عامل ہیں،سنی ان کو سرے سے نہیں مانتے ۔

شیعیان اہل بیت ع اور دشمنان اہل بیت ع کے بارے میں سنیوں کا نظریہ

جمہور اہل سنت کے ان لوگوں سے خوب دوستی کرتے ہیں جنہوں نے اہل بیت ع سے جنگ کی یا ان کو برا بھلا کہا ایسے افراد کا یہ لوگ بہت احترام کرتے ہیں ، ان کی غلط حرکتوں سے تجاہل برتتے ہوئے انہیں کی


روایتوں سے احتجاج کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ان کی غلطیوں کی یا تو توجیہ کریں یا ان کی صفائی پیش کرکے ان کی طرف سے معذرت کرلیں حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ اہل بیت ؑ کے شیعہ ایسے لوگوں سے ہمیشہ الگ رہے اور شروع ہی سے ان کی سخت مخالفت کی اور کڑا رویہ اپنایا(لیکن دشمنان اہل بیت ؑ کی حمایت)یہ حضرات صرف اس وجہ سے کرتے ہیں کہ ان لوگوں نے کبھی اہل بیت ؑ کی پیروی نہیں کی ان سے کوئی سروکار نہیں رکھا اور اہل بیت ؑ کے نقش قدم پر اس طرح نہیں چلے جس طرح وہ اوّلین یعنی عمر،ابوبکر کے نقش قدم پر چلتے آئے اور انہوں نے اہل بیت ؑ سے ویسی محبت بھی کبھی نہیں کی جیسی ان دونوں سے وہ محبت کرتے رہے ہیں بلکہ بعض مقامات پر تو اہل سنت کے خواص و عوام کے دل میں اہل بیت ؑ کی طرف سے جو کینہ ہے وہ ان کی تحریروں میں ظاہر بھی ہوگیا ہے،افسوس کی بات یہ ہے کہ جوش و جذبہ کے عالم میں انہوں نے اپنے دل کے حالات کھول کے بیان کردئے اور چھپانے کی کوشش کی مگر چھپا نہیں سکے ۔

ائمہ اہل بیت ؑ کے بارے میں علما اہل سنت کے کچھ نظریے

1 ۔ علامہ ذہبی سُنّی حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے بارے میں لکھتے ہیں،ابوجعفر محمد بن علی امام بھی تھے اور مجتہد بھی یعنی کتاب خدا کی تلاوت کرنےوالے،شان میں بڑے تھے،لیکن علم قرآن میں ان کا درجہ ابن کثیر اور ان کے جیسے علما تک نہیں پہنچتا تھا،فقہ میں وہ ابوزنا اور ربیعہ سے کم تھے اور سنت نبوی کی معرفت اور اس کا تحفظ ابن شہاب اور قتادہ سے کم درجہ پر تھا ۔(1)

افسوس!ذرا دنیا کی زبوں حالی اور پستی دیکھئے یہ لوگ کس سے مقابلہ کررہے ہیں حد ہوگئی کہ ایسے(نچلے طبقے کے)لوگ محمد باقر علیہ السلام سے افضل بتائے جارہے ہیں حالانکہ امام محمد باقر ؑ کے لئے آپ کے جد کی سیرت میں نمونہ عمل ہے امیرالمومنین ؑ فرمایا کرتے تھے کہ((میری ذات اوّل ہی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سیرہ اعلام النبلاءج:4ص:402ترجمہ ابی جعفر باقر


کے مقابلے میں مقام شک میں کب تھی کہ مجھے ایسے لوگوں کا مقارن بنایا جارہا ہے ۔(1)

2 ۔ اور سنیوں کے امام الحدیث بخاری،انہوں نے کبھی امام جعفر صادق علیہ السلام کی کسی حدیث سے احتجاج نہیں کیا اپنی صحیح میں آپ سے کوئی روایت بھی نہیں لی(2) حالانکہ مروان بن حکم(3) ( ملعون پیغمبر ؐ )اور عمران بن حطان(4) خارجی(جس نے مولیٰ امیرالمومنین علی ؑ کے قاتل ابن مجلم کی بڑی تعریف کی ہے اور ابن ملجم کو متقی پرہیزگار اور عنداللہ ماجور قرار دیا ہے)تک سے روایتیں لی ہیں ۔

امام بخاری کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن اسود نے ان سے یحییٰ بن سعید نے کہا کہ:اگر جعفر ابن محمد کا معاملہ یہ ہے کہ اگر تم ان سے معافی مانگوگے تو وہ کوئی ہرج نہیں محسوس کریں گےاور اگر تم ان پر محمول کروگے تو وہ خود پر محمول کرلیں گے ۔(5)

3 ۔ یحییٰ بن سعید کہتا ہے کہ جعفر ابن محمد نے مجھے ایک لمبی حدیث لکھوائی وہ حدیث حج

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)نہج البلاغہ ج:1ص:35

(2)تذکرۃ الحفاظ،ج:1ص:167،امام جعفر صادق علیہ السلام کی سوانح حیات کے ضمن میں،سیر اعلام النبلاءج:6ص:269

میزان الاعتدال،ج:2ص:144،امام جعفر صادق علیہ السلام کی سوانح حیات کے ضمن میں،المگنی فی الضعفاء،ص:134،تہذیب التہذیب ج:2ص:90امام جعفر صادق علیہ السلام کی سوانح حیات میں۔

(3)صحیح بخاری ج:1ص:265،کتاب صفۃ الصلاۃ،باب مغرب میں قرات کا بیان ج:2ص:567،کتاب الحج،حج تمتع افراد قرآن اور نسخ حج کے بیان میں اگر قربانی ہمراہ نہ ہو،ج:2ص:810،کتاب الوکالۃ باب اگر وکیل کو کوئی چیز ہبہ کردے یا قوم کے شفیع کو تو نبیؐ کے بقول جائز ہے جو آپ نے ہوازن گروہ کے جواب میں فرمایا تھا کہ انھوں غنیمتوں کے بارے میں سوال کیا تھا اس پر رسولؐ نے کہا میرا حصہ تمہارے لئے ہےج:3ص:1042،کتاب الجہاد و السیر،ج:3ص:1362،کتاب فضائل الصحابۃ،ج:4ص:1532،کتاب المغازی،غزوہ حدیبیہ کے باب میں ج:4ص:1677،کتاب التفسیر باب جنگ میں جانےوالوں راہ خدا میں جہاد کرنےوالوں کے برابر نہیں ہیں ج:5ص:2039،کتاب طلاق

(4)صحیح بخاری ج:5ص:کتاب اللباس ص:2194،ریشمی لباس کے باب ص:2220،باب نقص صور

(5)تاریخ کبیرج:2ص:198حالات جعفر بن محمد بن علیؑ


کے بارے میں تھی لیکن ان کی لکھوائی ہوئی حدیث کے خلاف میرے دل میں پھانس ہے میرے نزدیک مجالدان سے زیادہ پیارا ہے ۔(1)

4 ۔ ابوحاتم محمد بن حبان تمیمی نے امام صادق علیہ السلام کے حالات میں لکھا ہے کہ ان کا ان روایتوں سے احتجاج کیا جاسکتا ہے جو ان کی اولاد کے علاوہ لوگوں نے نقل کی ہیں،اس لئے کہ ان کی اولاد سے جو حدیثیں آئی ہیں ان میں تو بہت سے مناکیر(قابل انکار)باتیں ہیں،ہمارے اماموں میں سے جن لگوں نے ان کی اولاد کی حدیث دیکھی ہے وہی لوگ ان کے اقوال کو کمزور بتاتے ہیں(2)

حالانکہ آپ کی اولاد مسلمانوں میں سادات کا درجہ رکھتی ہے اور انہیں اولاد میں ائمہ اہل بیت ؑ بھی ہیں ۔

5 ۔ مصعب بن عبداللہ زبیری کہتے ہیں کہ مالک ابن انس جعفر بن محمد ؑ سے روایت لیتے تو تھے لیکن جب بلند مرتبہ راویوں کی حدیثیں لکھ لیتے تھے تو سب سے آخر میں امام جعفر صادق ؑ حدیث رکھتے تھے ۔(4)

6 ۔ احمد بن حنبل سے امام صادق علیہ السلام کے بارے میں پوچھا گیا تو کہنے لگے ان سے یحییٰ نے روایت کی ہے لیکن انہیں کمزور بتایا ہے ۔(5)

7 ۔ ابن عبدالبر کہتے ہیں،امام صادق علیہ السلام قابل اعتبار تھے،صاحب عقل تھے صاحب حکمت،بڑے پرہیزگار اور فاضل تھے،جعفری فقہ انھیں کی طرف منسوب ہے اور شیعہ امامیہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(2)سیر اعلام النبلاءج:6ص:256،جعفر بن محمد صادق علیہ السلام کی سوانح حیات میں،الکامل فی ضعفاءالرجال،ج:2ص:131۔132۔133،جعفر بن محمد صادقؑ کی سوانح حیات میں،اور کتاب نصب الرایۃ،ج:2ص:413،اور تہذیب التہذیب ج:2ص:88،

(4)تھذیب الکمال ج:5ص:76،حالات جعفر بن محمد الصادق،الکامل فی ضعفاءالرجال ج:2ص:131،حالات جعفر بن محمد الصادقؑ۔

(5)العلل و معرفۃ الرجال ص:52بحرم الدم ص:97


انھیں کی فقہ پر عمل کرتے ہیں،لیکن شیعوں نے ان کے بارے میں بہت سے جھوٹ منسوب کر رکھے ہیں مجھے تو یاد نہیں ہے ابن عینیہ نے کہا ہے ان جھوٹی باتوں میں سے اس کے پاس کچھ محفوظ ہیں۔(1)

8۔ابن حجر کہتے ہیں کہ امام صادقؑ کے بارے میں سعد نے کہا ہے کہ آپ کثیرالحدیث تو ہیں لیکن آپ کی روایتوں سے احتجاج نہیں کیا جاسکتا اس لئے کہ وہ ضعیف راوی ہیں،ان سے ایک بار پوچھا گیا کہ کیا آپ نے یہ حدیثیں اپنے والد سے لی ہیں تو بولے ہاں پھر دوسری بار پوچھا گیا تو کہنے لگے میں نے اپنے والد کے مخطوطات میں دیکھا ہے۔(2)

9۔ابوحاتم نے حضرت امام ابوالحسن علی رضا علیہ السلام کے حالات میں لکھا ہے واجب ہے کہ ان کی حدیثوں کا اعتبار کیا جائے لیکن صرف ان حدیثوں کا جن کو ان کی اولاد یا ان کے شیعوں نے روایت نہیں کیا ہو،خاص طور سے ابوصلت نے۔(3)

حالانکہ امام رضا علیہ السلام کے صرف ایک ہی بیٹے تھے یعنی ابوجعفر محمد الجوادؑ۔

ابوحاتم کہتا ہے کہ ان کے صاحبزادے ان کے حوالے سے عجیب و غریب روایتیں بیان کرتے تھے اباصلت و غیرہ بھی عجائب کے راوی تھے لگتا ہے ان کو وہم ہوتا تھا یا غلطی کرتے تھے(4)

10۔ابن طاہر کہتا ہے کہ امام رضا علیہ السلام اپنے آبا و اجداد کے حوالے سے عجائب بیان کیا کرتے تھے۔(5)

11۔نباتی نے امام رضا علیہ السلام کی طرف منسوب حدیث کا انکار کرتے ہوئے کہا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)التمھید،ابن عبدالبرج ج:2ص:66،حالات جعفر بن محمد بن علیؑ،

(2)تھذیب التہذیب ج:2ص:88حالات جعفر بن محمد بن علیؑ

(3)الثقات ج:8ص:456حالات علی بن موسی رضاؑ

(4)المجروحین ج:2ص:106حالات علی بن موسی الرضاؑ،تھذیب التھذیب ج:7ص:339حالات علی بن موسی الرضا،سیرہ اعلام نبلاءج:9ص:389حالات علی الرضاؑ

(5)المغنی فی الضعفاء،ج:2ص:456،میزان الاعتدال ج:5ص:192حالات علی بن موسی الرضاؑ


کہ جو ایسی حدیثوں کی روایت کرتا ہے ہمیں حق پہنچتا ہے کہ اس کو چھوڑ دیا جائے اور ان سے بچا جائے۔(1)

12۔اور ابن خلدون نے بہت سخت باتیں لکھی ہیں،لکھتا ہے کہ اہل بیت کا مذہب بالکل اکیلا ہے جس کو انہوں نے بدعۃً ایجاد کیا ہے،ان کی فقہ منفرد ہے،ان کے مذہب کی بنیاد قدح صحابہ اور اپنے اماموں کی عصمت ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اماموں میں اختلاف ہو ہی نہیں سکتا حالانکہ یہ سارے اصول بالکل واہیات ہیں اس طرح کی شاذ باتیں خوارج بھی کیا کرتے ہیں،ہمارے علما جمہور کا اس مذہب اور ایسے عقائد میں کوئی رول نہیں ہے بلکہ ہمارے علما نے ان عقائد سے شدت سے انکار کیا ہے اور بڑے پیمانے پر مخالفت کی ہے ہم ان کے مذہب کے بارے میں کچھ نہیں جانتے نہ ان سے کوئی روایت لیتے ہیں اسلامی ملکوں میں ان کے آثار بھی نہین پائے جاتے مگر ان کے وطن میں ملتے ہیں،شیعہ کتابیں ان کے ہی شہروں میں ملیں گی جہاں ان کو حکومت چل رہی ہے۔(2)

مذکورہ بالا بیان ابن خلدون کے قلم سے اگر چہ اہل بیتؑ کی دشمنی اور ان کے بغض میں ڈوب کے نکلا ہے بلکہ خود حضرت نبیؐ کی دشمنی میں ڈوبا ہوا ہے اس لئے کہ آپؐ نے ہی اہلبیتؑ کو اپنی امت کا مرجع قرار دیا تھا جو انہیں گمراہی اور ہلاکت سے بچانے کے ذمہ دار تھے لیکن ایک بات اس بیان سے بہرحال صاف ہوگئی وہ یہ کہ علما جمہور بلکہ جمہور اہل سنت کو اہل بیتؑ سے کوئی مطلب نہیں ہے یہ لوگ اہل بیتؑ سے ہمیشہ کنارہ کشی کرتے رہے۔

مذکورہ بالا بیان اس بات کی بھی شہادت دیتا ہے کہ شیعہ ہمیشہ خود کو اہل بیتؑ سے منسوب کرتے رہے انہیں اپنا امام سمجھتے رہے اور ان کی پیروی کرتے رہے جب کہ سنی ان پر یہ الزام لگاتے رہے کہ یہ لوگ خواہ مخواہ خود کو اہل بیتؑ سے منسوب کرتے ہیں اور جھوٹ باتیں منسوب کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)تہذیب التہذیب ج:7ص:339،حالات علی بن موسی الرضّا

(2)مقدمہ ابن خلدون ج:1ص:446ساتویں فصل،علم فقہ اور اس کی اتباع و فرائض


کاش میں سمجھ سکتا کہ جب یہ بڑے بڑے علما اہل بیتؑ کے لوگوں کو علم میں کمتر،حدیث میں ضعیف اور شاذ و غیرہ بتارہے ہیں تو وہ کون سے اہل بیتؑ تھے جنھیں نبیؐ نے(حدیث عترت و اہل بیت میں)گمراہی سے بچنے کا ذریعہ اور ہلاکت سے نجات کا وسیلہ بتایا تھا۔(1)

کسی بھی صاحب عقل کے لئے میرا یہ سوال قابل غور ہے اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنی چاہئے تا کہ اس سوال کے جواب سے انسان اطمینان بخش نتیجہ تک پہنچ سکے اور خدا کے سامنے عذر پیش کرنے کے لائق بن سکے اس دن جب وہ خدا کے سامنے کھڑا ہوگا،((یوم لا یغنی مولی عن مولی شیئاً ولا ہم ینصرون))(2)

ترجمہ آیت:((جس دن کوئی بھی دوست اپنے دوست کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکےگا اور نہ ان کی مدد کی جائےگی))۔

ائمہ اہل بیتؑ کے بارے میں عام سنیوں کے کچھ نظریئے

عام اہل سنت بھی اہل بیتؑ کے بارے میں اپنے علما کی پیروی کرتے ہیں کبھی اپنے علما کا دفاع بھی کرتے ہیں اور کبھی عجیب و غریب انداز میں صفائیاں پیش کرتے ہیں لیکن ایک بات سب میں مشترک ہے یعنی جب اہل بیتؑ کا معاملہ آتا ہے تو وہ بالکل الگ ہوجاتے ہیں اور شدت سے اہل بیتؑ سے کنارہ کشی کرتے ہیں،تاریخ کے واقعات اور مسلمان ملکوں کے حالات میرے مذکورہ بالا بیان پر شاہد ہیں۔

میں نمونے کے طور پر کچھ واقعات آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔

1۔ابن اثیر363سنہکے بغداد کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے ابوتغلب بغداد کا کوتوال تھا کہ سرکشی کرنےوالے اور شرپسند عناصر نے بغداد کے مغربی علاقے میں فساد برپا کردیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)جیسا کہ حدیث ثقلین اور حدیث سفینہ و غیرہ میں آیا ہے

(2)سورہ دخان آیت:41


سنی شیعہ فساد شہر میں بہت تیزی سے پھوٹ پڑا،سوق طعام کے کچھ اہل سنت نے ایک عورت کو ناقہ پر بٹھا دیا اور اس کا نام عائشہ رکھا خود ان کے مردوں میں کسی کا نام طلحہ اور کسی کا نام زبیر رکھا گیا اور پھر دوسرے فرقے سے انہوں نے قتال شروع کیا اور کہنے لگے ہم علی بن ابی طالبؑ سے لڑرہے ہیں اسی طرح کی شرانگیز باتیں کرنے لگے۔(1)

ابن کثیر لکھتا ہے کہ عاشور کے دن بغداد میں رافضیوں کی طرح بہت سی شنیع(غلیظ)بدعتوں پر عمل کیا گیا اہل سنت اور رافضیوں کے درمیان ایک بڑا فتنہ ہوا دونوں ہی عقل سے کورے یا کم عقل تھے ان پر کسی کا کنٹرول نہیں تھا فتنہ یہ تھا کہ اہل سنت نے ایک عورت کو اونٹ پر بٹھایا اور اس کا نام عائشہ رکھا مردوں میں کسی نے اپنا نام طلحہ رکھا تو کسی نے زبیر اور کہنے لگے ہم علیؑ کیا صحاب سے جنگ کررہے ہیں نتیجہ میں بغداد کی گلیوں میں بہت خون بہا اور دونوں فرقوں میں سے بہت سے لوگ مارے گئے۔(2)

2۔جب جمہور اہل سنت نے دیکھا کہ وہ عزائے حسینؑ کو روکنے سے عاجز ہیں اور شیعوں کو حسین شہید پر ماتم کرنے سے نیہں روکا جاسکتا نہ آپ کی زیارت پر پابندی لگائی جاسکتی ہے تو انہوں نے غم حسینؑ کی ضد میں ایسے طریقے قائم کئے جن سے ان کے رجحان فکر کا پتہ چلتا ہے،کاش کسی کی سمجھ میں یہ بات آجاتی کہ وہ شیعوں سے کہتے ہیں کہ ہم تم سے زیادہ حسینؑ اور اہل بیتؑ پر حق رکھتے ہیں پھر وہ اپنے طریقے پر عزائے مولا اور زیارت حسینؑ کا دستور بناتے اور اس طرح زیارت کرتے جو ان کے عقیدے کے مطابق ہوتا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ انہوں نے مقابلہ میں دشمنان اہل بیتؑ کی عزاداری قائم کی اور ان کی بزرگی کا اعلان کیا وہ مصعب ابن زبیر کا ماتم ٹھیک شیعوں کی طرح کرنے لگے اور جس طرح شیعہ حسینؑ مظلوم کی زیارت کرتے ہیں اسی طرح وہ مصعب ابن زبیر کی زیارت کرنے لگے یہ سلسلہ ان میں برسوں چلتا رہا۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)الکامل فی التاریخ ج:7ص:363،340سنہکے حادثات۔

(2)البدایہ و النھایہ ج:11ص:363،275سنہکے حادثات۔

(3)البدایہ و النھایہ ج:11ص:363،323،326سنہکے حادثات،الکامل فی التاریخ ج:8ص:363،10سنہکے حادثات


ظاہر ہے کہ مصعب ابن زبیر کوئی ایسی شخصیت تو ہے نہیں کہ جس کا احترام کیا جائے نہ اس کی اندر ایسی کوئی صفت پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کو مقدس سمجھا جائے میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان لوگوں نے مصعب ابن زبیر کا غم عزاداری کے لئے کیوں منتخب کیا،ایک بات سمجھ میں آتی ہے اور وہ اور اس کے مسلک کے لوگ جو زبیریوں کے نام سے جانے جاتے ہیں اہل بیتؑ سے کھلی ہوئی دشمنی رکھتے تھے جمہور اہل سنت کے دل میں اہل بیتؑ سے جو کینہ اور بغض بھرا ہوا ہے اس کا مظاہرہ اسی طرح ہوسکتا تھا کہ کسی دشمن اہل بیتؑ کی عزاداری کا اہتمام کیا جائے اور انہوں نے ایسا ہی کیا اور اپنے دل کینہ کا اظہار اس وسلیہ سے کیا۔

3۔ابن اثیر کے حوالہ سے عرض کرتا ہوں کہ شیعہ کے خلاف بغداد میں جو فتنہ اٹھا تھا وہ بھی اہل بیتؑ سے دشمنی کا ایک مظاہرہ تھا جو اہل سنت کی طرف سے کیا جارہا تھا اس فتنہ کا سبب یہ تھا کہ اہل کرخ(شیعوں)نے باب سماکین کو قلائین نے باب مسعود کی باقی ماندہ عمارت کو تعمیر کیا اور اس میں بہت سے گنبد بنائے ان گنبدوں پر سونے کے پانی سے ایک کتبہ لکھا کتبہ کا مضمون تھا(محمد و علی خیرالبشر)اہل سنت نے کہا یہ تحریر غلط ہے انہوں نے کہا کہ ان گنبدوں پر لکھا ہوا ہے:(محمد و علی خیر البشر فمن رضی فقد شکر و من ابیٰ فقد کفَرَ)یعنی محمد و علی خیر بشر ہیں جو اس پر راضی ہے اس نے شکر ادا کیا اور جو اس کا منکر ہے وہ کافر ہے،اہل کرخ(شیعہ)نے کہا ہم نے اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا ہے ہم اپنی مسجدوں پر یہی لکھتے چلے آئے ہیں بات خلیفہ تک پہنچ گئی اس دور میں خلیفہ عباسی قائم بامراللہ تھا اس نے عباسیوں کے نقیب ابوتمام اور علویین کے نقیب عدنان بن رضی کو دریافت حال کے لئے بھیجا اور فتنہ کو روکنے کی بھی ہدایت کی یہ دونوں آئے حالات کا جائزہ لیا اور دونون نے شیعوں کے عمل کو صحیح قرار دیا اور ان کی تصدیق کی،خلیفہ نے حکم دیا اور نواب رحیم نے بھی کہ جنگ و جدال بند کردی جائے لیکن اہل سنت نے نہیں مانا،قاضی ابن مذہب زہری اور دوسرے حنبلیوں نے لکھا ہے ان میں عبدالصمد کے اصحاب بھی شامل ہیں کہ اہل سنت نے بہت طوفان مچایا اور


شہر کے رئیس الرؤسا نے شیعوں پر بہت تشدد کیا آخر شیعوں نے اس کتبے سے خیرالبشر ہٹا کر وہاں علیہما السلام لکھ دیا لیکن سنی اس پر بھی راضی نہین ہوئے ان کا مطالبہ تھا کہ ہم وہ تختی ہی اکھیڑ دیں گے جس پر محمدؐ و علیؑ لکھا ہوا ہے اور یہ کہ شیعہ اذان میں(حی علیٰ خیر العمل)نہ پکاریں شیعوں نے یہ مطالبہ رد کردیا جس کی وجہ سے فتنہ بڑھتا رہا اور تین ربیع الاول تک آپس میں قتل و غارت اور حربیہ اور باب بصرہ کے علاوہ تمام سنی محلوں میں گھوم کر لوگوں کو اس کے خون کا بدلہ لینے پر ابھارتے رہے جب دفن کرکے واپس پلٹے تو مشہد کے باب سوم پر حملہ کردیا(کاظمین پر حملہ کردیا)لوگوں نے اس کا دروازہ بند کردیا تو انہوں نے دیوار میں نقب لگانی شروع کردی اور دربانوں کو ڈرایا،دھمکایا ان غریبوں نے مارے ڈر کے دروازے کھول دیئے یہ لوگ مشہد میں درّانہ گھسے اور تمام قندیلیں لوغ لیں،محرابوں میں جو کچھ سونا چاندی تھا سب کو لوٹ لیا،سارے پردے لوٹ لئے،تربت اور دیواروں پر جو قیمتی سامان تھے وہ بھی لوٹ لیا یہاں تک کہ راہ ہوگئی تو یہ لوگ اپنے گھروں کو واپس ہوئے،دوسرے دن پہلے سے زیادہ(بڑا)مجمع آیا اور مشہد(کاظمین)میں آگ لگادی گئی سارے کمروں میں اور برامدوں کو جلا ڈالا،موسیٰ بن جعفر اور محمد بن علی علیہما السلام کی ضریح میں آگ لگادی اور ان دونوں قبوں میں بھی آگ لگادی جو ان کی ضریح کے اوپر بنائے گئے تھے پھر اس ضریح کے آس پاس کی تمام چیزوں کو جلا دیا اور اتنے گندم کام کئے کہ اس سے پہلے دنیا میں ایسے کام نہیں ہوئے تھے۔

(ربیع الاوّل)مہینہ کی پانچویں تاریخ کو وہ لوگ پھر آئے اور دونوں مظلوم اماموں(یعنی موسیٰ بن جعفر اور محمد بن علی رضا علیہما السلام)کی قبر کھودنی شروع کی تا کہ دونوں حضرات کے جسم اطہر کو حنبلیوں کے قبرستان میں لے جائیں لیکن ملبہ بہت تا اس لئے نشان قبر نہیں پاسکے تو پھر آس پاس میں نقب لگا کے قبر تک پہنچنا چاہا عباسیوں کے نقیب ابوتمام نے جب یہ حرکت دیکھی اور دوسرے ہاشمیوں اور کچھ سنیوں کو یہ خبر ملی تو وہ لوگ آئے اور اپنے لوگوں کو اس فعل قبیح سے روکا۔(1)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)الکام فی التاریخ ج:8ص:301۔302بغداد میں جو جھگڑا ہوا اور مشہد کو جلایا یہ حادثہ سال443سنہمیں ہوا۔


یہ شواہد جو میں نے عرض کیے کیا اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ اہل سنت کا اہل بیتؑ نبویؐ سے کوئی واسطہ نہیں اور یہ لوگ ائمہ اہل بیتؑ سے الگ کیوں رہے؟صرف اس لئے کہ انہوں نے دیکھا کہ ہماری فقہ،ہمارے عقائد،ہماری ثقافت،کچھ بھی تو اہل بیتؑ سے میل نہیں کھاتی سب کچھ اہلبیتؑ سے الگ ہے اس لئے ہم بھی اہل بیتؑ سے الگ ہیں۔

ائمہ اہل بیتؑ نے امت کی ہدایت و ثقافت اور تہذیب اخلاق کو اہمیت دی

لیکن ائمہ اہل بیتؑ چونکہ نبیؐ کے وارث اور آپؑ کے علوم کے حامل تھے اس لئے انہوں نے ہمیشہ نبیؐ کے بعد امت کی ہدایت کا خود کو ذمہ دار سمجھا اور امت کی ثقافت پردھیان دیتے رہے تا کہ اسلامی سماج کو صحیح سمت کی نشان وہی کرتے رہیں یہی وجہ ہے کہ ان حضرات نے سب سے اہم کام یہ سمجھا کہ علم و معرفت کا زیادہ سے زیادہ پرچار کیا جائے اس سلسلہ میں مولائے کائناتؑ کا قول ثبوت کے طور پر حاضر ہے آپؑ فرمایا کرتے تھے مجھ سے جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھ لو قبل اس کے کہ میں تمہارے درمیان نہ رہوں(1) حدیث مشہور میں جناب کمیل سے مروی ہے جناب کمیل کہتے ہیں کہ حضرت امیرالمومنینؑ نے میرا ہاتھ پکڑا اور صحرا کی طرف لے کر چلے جب ہم لوگ صحرا میں بالکل اکیلے ہوگئے تو آپؑ نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور فرمایا(اے کمیل دلوں میں ظرفیت ہوتی ہے اور وہ دل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)المستدرک علی صحیحین ج:2ص:383،کتاب فتن میں مذکور سنتیں،ج:4ص:838،دلائل،علامات اور اشراط کے باب میں ج:6ص:1196،جس نے کہا صافی بن صیّاد ہی دجّال ہے کہ باب میں اسی کے مانند تفسیر طبری ج:13ص:221میں ہے،المستدرک علی صحیحین ج:2ص:506،معتصر المختصرج:2ص:30،مناقب علی کے بیان میں لیکن(تفقدونی)کی جگہ(لا تسالونی)نیز دیگر مختلف الفاظ میں ہر منتخب احادیث میں ذکر ہوا ہےج:2ص:61،مجمع الزوائدج:4ص:669،کتاب النکاح،المصنف،ابن ابی شیبہ ج:3ص:530،مسند الشاشی ج:2ص:96،مسند البزارج:2ص:192،الفتن،ابن نعیم بن حمادج:1ص:40،فتح الباری ج:11ص:291،تحفۃ الاحوذی ج:7ص:27،فیض القدیرج:4ص:357،حلیۃ الاولیاءج:4ص:366،تہذیب التہذیب ج:7ص:297،تہذیب الکمال ج:20ص:487،الطبقات الکبریٰ ج:2ص:338،علی بن ابی طالب کے حالات میں الاصابۃج:4ص:568،تہذیب الاسماءص:317،تلخیص المتشابۃج:1ص:62،اخبار مکہ،ج:3ص:228 ان اشیاء کے اوائل کے بیان میں جو زمانہ قدیم سے آج تک مکہ میں رونما ہوتی ہیں


سب سے بہتر ہے جس میں علم کی زیادہ گنجائش ہے میں جو کہہ رہا ہوں اس کی حفاظت کرنا لوگ تین طرح کے ہوتے ہیں:

1۔عالم ربانی.

2۔نجات کے راستے کا طالب علم.

3۔گنوار کمینے لوگ.

ہر آواز دینےوالے کی پیروی کرنےوالے جو ہوا کے رخ پر چل نکلے ہیں انہوں نے نور علم سے روشنی لی نہ قابل اعتبار سہارے پر تکیہ کیا)پھر آپؑ نے علم کی فضیلت میں ایک لمبی گفتگو کی اور تحصیل علم کو فرض ثابت کیا پھر آپؑ نے صدر اقدس پر ہاتھ رکھ فرمایا اے کمیل یہاں بہت علم ہے کاش میں اس علم کو اٹھانےوالا پاتا۔(1)

عمروبن مقدام کہتا ہے جب میں جعفر بن محمدؑ کو دیکھتا تھا تو مجھے یقین ہوجاتا تھا کہ آپ کا لگاؤ شجرہ نبوت سے ہے میں نے آپ کو باب جمرہ پر کھڑے ہوئے دیکھا آپ کہہ رہے تھے مجھ سے پوچھو!مجھ سے پوچھو!(2)

صالح بن ابوالاسود کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا جعفر بن محمدؑ کہہ رہے تھے مجھے کھودینے سے پہلے مجھ سے پوچھو!میری طرح میرے بعد تم سے کوئی بھی حدیث بیان نہیں کرےگا(3) ائمہ اہل بیتؑ سے ایسی بہت سی باتیں ظاہر ہوتی رہی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)نہج البلاغہ ج:4ص:36،نزھۃ الناظر و تنبیہ الخاطرص:57،کنزالعمال ج:10ص:363،حدیث:39391،تاریخ بغدادج:6ص:376،اسحاق بن محمد بن احمد بن ابان کے حالات میں،تاریخ دمشق ج:5ص:252کمیل بن زیاد کے حالات میں تہذیب الکمال ج:24،ص:220کمیل بن زیاد کے حالات میں،تذکرۃ الحفاظ ج:1ص:11،امیرالمومنین علی بن ابی طالبؑ کے حالات میں،حلیۃ الاولیاءج:1ص:80،التدوین فی اخبار القزوین ج:3ص:209،صفوۃ الصفوۃ ج:1ص:329۔303۔

(2)سیر اعلام النبلاءج:6ص:257،جعفر بن محمد صادقؑ کے حالات میں،الکامل فی ضعفاءالرجال ج:2ص:132،جعفر بن محمد صادقؑ کے حالات میں تہذیب الکمال ج:5ص:79،جعفر بن محمد صادقؑ کے حالات میں

(3)تذکرۃ الحفاظ ج:1ص:166حالات جعفر بن محمد صادقؑ،سیر اعلام النبلاءج:6ص:257حالات جعفر بن محمد صادقؑ،تھذیب الکمال ج:5ص:79حالات جعفر بن محمد بن صادقؑ(میں تمہیں جو بتاؤں گا وہ میرے بعد کوئی بھی نہیں بتائے سکےگا)


جب جمہور نے منھ موڑ لیا تو آپ حضرات نے اپنے شیعوں کو بہت اہمیت دی

ائمہ اہل بیتؑ نے ب یہ دیکھا کہ جمہور ہم سے منحرف ہے اور ہماری باتوں کو قبول نہیں کرتے تو ان حضرات پر یہ بات بہت گراں گذری،اس سلسلہ میں امام زین العابدین علیہ السلام کا قول ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہوں آپؑ فرمایا کرتے تھے ہمیں نہیں معلوم کہ ہم لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کریں جب ہم ان سے وہ حدیثیں بیان کرتے ہیں جو ہم نے نبیؐ سے سنی ہیں تو وہ ہنسنے لگتے ہیں اور ہم چپ رہیں تو ایسا ہم کر نہیں سکتے۔(1)

پانچویں امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں ہمارے سلسلےمیں لوگوں کو بڑی سخت آزمائش کا سامنا ہے اگر ہم انھیں دعوت دیں تو وہ ہماری سنتے نہیں اور انھیں ان کے حال پر چھوڑدیں تو ہمارے بغیر وہ ہدایت پا نہیں سکتے۔(2)

اسی طرح کی شکایت ابوعبداللہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے بھی کی ہے(3)

مجبور ہو کر ائمہ اہل بیتؑ نے جمہور اہل سنت سے تقیہ اور کتمان کرنا شروع کیا اور اپنےشیعوں کی طرف متوجہ ہوگئے،ان حضرات نے اپنے شیعوں کو اختصاص بخشا،ان سے مطمئن ہوئے،انہیں اپنا رازدار بنایا،انہیں اپنی سیرت کے سانچے میں ڈھالا اور عقیدہ،فقہ،اخلاق،حسن سلوک اور تمام علوم جو انھیں ورثہ میں ہادی برحق سے ملے تھے اپنے شیعوں کو بخش دیئے یہی وجہ ہے کہ شیعیان اہل بیتؑ(محبت اہل بیتؑ اور اپنے اماموں کی خصوصی توجہ کی وجہ سے)تمام عالم اسلام میں ممتاز اور سربلند ہوگئے اور دشمنان اہل بیتؑ سے بےنیاز ہوگئے بلکہ ان سے بچتے رہے اور ان کی طرف سے بالکل ہی روگردانی کردی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)الکافی ج:3ص:234

(2)الارشادج:2ص:167۔168،اعلام الوریٰ باعلام الہدیٰ ج:1ص:508الخرائج و الجرائح ج:2ص:893،مناقب آل ابی طالب ج:3ص:336،کشف الغمہ ج:2ص:339۔340،بحارالانوارج:26ص:253ج:6ص:288

(3)الامالی للصدوق ص:707،وسائل الشیعہ ج:21ص:142،بحارالانوارج:23ص:99۔


عالم اسلام میں ائمہ اہل بیتؑ کا بہرحال ایک مقام ہے

عنایات الٰہی کا یہ فیصلہ ہے کہ حجت تمام کرنے کے لئے اہل بیت کے ائمہ اطہارؑ کی اپنی ایک حیثیت ہے اور یہ مقام ان کی اپنے قوت بازو کی کمائی ہے،ان کا علم ان کا جہاد،ان کا تقویٰ،ان کی حکمت،ان کی حسن سیرت،کتاب و سنت کے ارشادات ان کی فضیلت میں ان کی عظمت و بزرگی،ان کے شیعوں کی جد و جہد،مسلسل قربانیاں،یہ تمام باتیں نظرانداز کرنے کے لائق نہیں ہیں اور انھیں صفات حسنہ کی وجہ سے عام عالم اسلام ان کی عزت کرنے پر مجبور ہے اور انہیں ایک مقام دیتا ہے۔

ثبوت یہ ہے کہ جب جمہور اہل سنت نے دیکھا اور محسوس کیا کہ(اہل بیتؑ کو چھوڑ دینے کے بعد)ان کے عقیدے میں کافی خامیاں آگئی ہیں تو کوشش شروع کردی کہ شیعہ اپنے اماموں سے عقیدہ،امامت و خلافت سے جو بات کہتے ہیں اس کا سرے سے انکار کردیا جائے اور یہ کہہ دیا جائے کہ شیعوں نے یہ بات اپنی طرف سے گڑھی ہیں ائمہ اہل بیتؑ اور مولا علی علیہ السلام تو دونوں خلفا(ابوبکر و عمر)کی خلافت کا اقرار کرتے تھے اور ان سے راضی تھے اور یہ کہ اس دلیل کی بنیاد پر ہم اہل بیتؑ کے تابع ہیں نہ کہ شیعہ لوگ،دلیل میں انہوں نے ایسی نادر الوجود اور کمیاب حدیثیں پیش کی ہیں جو یا تحریف شدہ ہیں یا جھوٹی ہیں یا مقام تقیہ میں ہیں بہرحال استدلال سے قاصر ہیں وہ حدیثیں تو خود ہی کمزور ہیں بھلا ان قوی ثقہ اور حسن حدیثوں کا کیا مقابلہ کرسکیں گی جو شیعہ اپنے ائمہ اہل بیتؑ سے خاص طور سے امامت و خلافت کے سلسلے میں وارد کرتے ہیں اور جن کی بنیاد پر شیعوں کے عقیدہ امامت کی عمارت کھڑی ہوئی ہے،جو حدیثیں پکار پکار کے کہتی ہیں کہ اہلبیتؑ کے عقیدہ امامت کی عمارت کھڑی ہوئی ہے،جو حدیثیں پکار پکار کے کہتی ہیں کہ اہلبیتؑ کا حق غصب کیا گیا،ان پر ظلم کیا گیا اور ان کو ہمیشہ ستایا گیا اور جن حدیثوں میں ائمہ اہل بیتؑ ظلم کرنےوالے غاصبوں کا انکار کرتے ہیں وہ حدیثیں اور دلیلیں قائم حقیقتیں ہیں،روشن و ضیا بار حدیثیں ہیں ان میں


شک کی گنجائش ہے نہ شبہ کی جگہ۔اور اگر کوئی غبی شبہ کرتا بھی ہے تو ہمیں کوئی ایسی حقیقت بتا دیجئے جو چاہے جتنا بھی روشن ہو مگر شبہ سے بری ہو اور شک سے پاک،لیکن یہ دیکھیں کہ شبہ کر کون رہا ہے؟وہی جو اس حقیقت کو مٹانا چاہتا ہے یا ہٹ دھرمی کی بنیاد پر اس کو ماننا نہیں چاہتا ہے،خاص طور سے یہ حقیقت(عقیدہ امامت)اس پر شبہ تو کیا ہی جائےگا اس لئے کہ یہ ایک بڑےگروہ کے لئے لقمہ تلخ بنی ہوئی ہے،اقتدار غالب کے خلاف ہے اور ایک ایسی بات کو ثابت کر رہی ہے جس کا انکار کرنےوالا فضیحت کا مستحق ہے۔

لیکن ظاہر ہے کہ شکوک و شبہات کی بنیاد پر حق جھٹلایا نہیں جاسکتا ہے اور شک و شبہ کسی حق کے انکار کی دلیل نہیں بن سکتا کوئی وجہ نہٰں ہے کہ محض شک و شبہ کی وجہ سے ایک واضح حقیقت کا انکار کیا جائے اور اس پر یقین نہ کیا جائے کوئی بھی صاحب عقل اور انصاف پسند انسان اس حقیقت کی وضاحت اور اس کا جلوہ دیکھ کے یہی فیصلہ کرےگا۔

خلافت کے معاملے میں ائمہ اہل بیت(ہدیٰ)علیہم السلام اور ان کے خاص لوگوں کی تصریحات

1۔خود ائمہ ہدیٰ علیہم السلام اور ان حضرات کے خاص افراد(جو ائمہ ھدیٰؑ کی وثاقت و جلالت پر متفق تھے)کی وافر تصریحات موجود ہیں،ان عبارتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان مقدس افراد نے امر خلافت کے بارے میں شکوا کیا ہے،یہ کہا ہے کہ ان پر ظلم ہوا ہے،ان حضرات نے ظالموں کا انکار کیا ہے،ان عبارتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ خلفاء کی خلافت پر بالکل راضی نہیں تھے نہ اسے پسند کرتے تھے اور اس کی شرعیت کے منکر تھے،یہی وجہ ہے کہ شرعی اعتبار سے غاصبان خلافت تجاوز و عدوان کی حدوں میں رہے اور ائمہ ھدیٰ علیہم السلام انہیں ظالم اور غاصب سمجھتے بھی تھے اور کہتے بھی تھے۔


یہ تصریحات غیر شیعہ کتابوں میں بھی پائی جاتی ہیں،ایسی کتابوں میں جو کافی مشہور ہیں اور ان کا صدور شک سے پرے ہے ان عبارتوں کا صدور اس طرح ہوا ہے کہ اجمالی طور پر یا تفصیل سے علما جمہور انکار نہیں کرسکتے۔

امیرالمومنین علیہ السلام کا امر خلافت کے معاملے میں صریحی بیان

یہ امیرالمومنین علیہ السلام ہیں جنہوں نے اپنے حق کے غاصبوں کی کافی شکایتیں کی ہیں اور صاف لفظوں میں ان کے ظلم کا اظہار کیا ہے اور انہیں ظالم کہا ہے۔

1۔آپ کا مشہور خطبہ ملاحظہ ہو جو خطبہ شقشقیہ کے نام سے مشہور ہے اس مشہور خطبہ میں آپؑ نے ان لوگوں کی بہت مذمت کی ہے جنھوں نے آپ کو الگ کرکے خلافت پر زبردستی قبضہ کرلیا،آپ خطبہ شقشقیہ میں فرماتے ہیں:

لیکن خدا کی قسم فلاں نے خلافت کی قمیص کو کھینچ تان کر پہنا،حالانکہ وہ جانتا تھا کہ میں خلافت کے لئے ایسا ہی ہوں جیسا چکی کے لئے کھونٹا،مجھ سے(علم و حکمت کے)چشمے نکلتے ہیں اور میری بلندیوں تک طاہر علم و خیال نہیں پہنچ سکتا،تو میں نے خلافت سے اپنے کپڑے کو سمیٹے رکھا اور یہ سونچنے لگا کہ میں اپنے بریدہ ہاتھوں سے حملہ کر بیٹھوں یا اس اندھری رات میں صبر کروں جس میں سن رسیدہ کھوسٹ ہو رہے ہیں اور بچے بوڑھے ہو رہے ہیں اور مومن کچلا جارہا ہے یہاں تک کہ اپنے رب سے ملاقات کرتا ہے،تو میں نے طے کیا کہ ان حالات میں صبر کر لینا سب سے مناسب بات ہے۔میں نے اس حال میں صبر کیا کہ میری آنکھ میں تنکا اور حلق میں ہڈی تھی میں اپنی میراث کو لٹتا ہوا دیکھ رہا تھا،یہاں تک کہ پہلے نے اپنا راستہ لیا اور فلاں بن فلاں کو اپنے بعد ذمہ دار بنا گیا اس نے خلافت کی اونٹنی کو بہت شدت سے دوہا اور اسے ایک ایسی کھردری وادی میں لےگیا جہاں بار بار ٹھوکر لگتی تھی اور راستہ اوبڑکھا بڑتھا،اس وادی میں وہ بار بار پھسلتا تھا اور اکثر عذر پیش کرتا تھا خدا کی قسم


لوگ خبط ہو کے رہ گئے تھے،تلوُّن اور اعتراض کا دور دورہ تھا پھر میں نے مدت کی درازی اور امتحان کی سختیوں پر صبر کیا یہاں تک کہ کدوسرے نے بھی اپنا راستہ لیا اور نصب خلافت کا ذمہ ایک جماعت کو دے کے چلا گیا۔

اس نے مجھے بھی جاعلین خلیفہ میں قرار دیا یہ سونچ کر کہ میں بھی انھیں جیسا ہوں یا اللہ یہ شوریٰ بھی کیا چیز تھی!میرے بارے میں مستحق خلافت ہونے کا شبہ ہی کب تھا کہ مجھے ایسے لوگوں کے برابر قرار دیا گیا،بہرحال اصحاب شوریٰ میں ایک آدمی تو اپنے کینہ پروری کی وجہ سے ایک طرف جھک گیا دوسرے نے سسرال کی طرف داری کی اور بھی بہت سی باتیں ہوئیں یہاں تک کہ اس قوم کا تیسرا کھڑا ہوا،پہلو اور پیٹ کو پھلائے اور اس کے ساتھ اس کے باپ کے بیٹے بھی آئے پس مال خدا کو یوں کھانے لگے جیسے اونٹ فصل بہار کی سبزی چرتے ہیں یہاں تک کہ اس رسی کے بٹ کھل گئے اور اس کی بدرفتاری سے عوام بھڑک اٹھی اور اس کی شکم پروری نے اسے تباہ کردیا(1) (ابن عباس کا جب کلام پیش کیا جائےگا تو اس خطبہ کی توثیق بھی پیش کی جائےگی)

2۔طلحہ و زبیر کے بارے میں امیرالمومنین علیہ السلام کی گفتگو جس میں آپ نے فرمایا:خدا کی قسم مجھے ہمیشہ اپنے حق سے دور رکھا گیا اور مجھ پر دوسروں کو ترجیح دی گئی۔یہ سلسلہ اس دن سے جاری ہے جس دن خداوند عالم نے اپنے نبیؐ کو بلا لیا اور آج بھی وہی صورت حال باقی ہے۔(2)

3۔سقیفہ کے ڈرامے کے بعد حضرتؑ نے اس وقت فرمایا جب آپ کا مددگار آپؑ کے اہل بیتؑ کے علاوہ کوئی نہیں تھا تو آپؑ فرماتے ہیں((پس میں نے غور کیا تو پتہ چلا کہ میرا مددگار سوا میرے اہلبیتؑ کے کوئی نہیں ہے تو میں ان کے بارے میں موت سے ڈرا اور آنکھوں میں تنکے برداشت کرنے اور حلق میں پھانس لگنے کے باوجود میں نے غصہ کو ضبط کیا اور تلخ گھونٹ پی لیا۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)نہج البلاغہ ج:1ص:30۔35

(2)نہج البلاغہ ج:1ص:42

(3)نہج البلاغہ ج:1ص:67وتقویۃ الایمان محمد بن عقیل ص:68


4۔آپؑ ہی کا ارشاد ہے:ائمہؑ صرف قریش میں وہ بھی شجرہ ہاشم میں قرار دیئے گئے ہیں ان کے علاوہ کسی میں امامت کی صلاحیت نہیں ہے اور حکمرانوں کی اصلاح کرنا بھی ان کے علاوہ کسی کے بس میں نہیں ہے۔(1)

5۔ایک اور جگہ آپؑ کا ارشاد ہے یہاں تک کہ نبیؐ کی وفات ہوئی اور قوم اپنے پچھلے مذہب پر پلٹ گئی راستے ان کے سامنے بدل گئے،ٹیڑھے ھے میڑھے راستوں پر اعتماد کرنے لگے،غیر رحم میں صلہ رحم کرنے لگے،ان سب کو چھوڑدیا جن کی مؤدت کا حکم دیا گیا اور عمارت کو اس کے سنگ بنیاد سے ہٹادیا اور ایسی جگہ بنایا جو اس کے لئے مناسب نہیں تھی وہ جگہ ہر غلطی کا معدن اور ہر تاریکی کا دروازہ تھی،لوگ حیرت میں گمراہ ہوگئے اور نشہ میں ان کی عقل ضائع ہوگئی،آل فرعون کے طریقہ پر انہوں نے صرف دنیا سے رشتہ جوڑ کے اسی پر بھروسہ کی اور دین سے الگ ہوگئے پھر دین کو چھوڑ ہی دیا۔(2)

6۔کسی نے آپؑ سے پوچھا کہ آخر جب آپ مستحق تھے تو قوم نے آپؑ سے خلافت کیسے چھین لی؟آپ نے فرمایا کچھ آثار ہیں کچھ طریقے ہیں ایک قوم نے ہمیں ہمارا حق دینے میں بخل کیا اور دوسری قوم نے ہمارا حق دوسروں کو دینے میں سخاوت کی فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اس کی طرف پلٹ کے قیامت میں جانا ہے۔(3)

7۔اپنے بھائی عقیل کو ایک خط میں آپ لکھتے ہیں((آپ قریش کو چھوڑ دیں اور انہیں گمراہیوں میں لوٹنے دیں،اختلافات میں جولانیان کرنے دین اور کیچڑ میں بھٹکنے دیں،انہوں نے مجھ سے جنگ پر ٹھیک اسی طرح اتفاق کیا ہے جس طرح پیغمبرؐ سے لڑنے پر جمع ہوئے میں نے قریش کے ساتھ گذارہ کیا اور کئی راستوں سے گذرا ہوں انہوں نے میرے رحم کو قطع کیا اور مجھ سے میری ماں کے بیٹے کی سلطنت چھیں لی))(4)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)نہج البلاغہ ج:2ص:27 (2)نہج البلاغہ ج:2ص:36۔37

(3)نہج البلاغہ ج:2ص:63۔64

(4)نہج البلاغہ ج:4ص:61،امامت و سیاست ج:1ص:51علیؑ کا مدینہ سے خارج ہونا


8۔آپؑ معاویہ کو ایک خط میں لکھتے ہیں کہ((کتاب خدا نے بہت سی نادر چیزیں ہمارے لئے جمع کردی ہیں اور خداوند عالم کا یہ قول ہے:(وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ) (1)

ترجمہ آیت:صاحبان رحم ایک دوسرے کے اوپر زیادہ حق رکھتے ہیں۔

اور یہ قول:(إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَٰذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ) (2)

ترجمہ آیت:ابراہیمؑ کے سب سے زیادہ حق دار وہ لوگ ہیں جو ابراہیمؑ کی پیروی کریں اور یہ نبیؐ اور ایمان دار لوگ ہیں اللہ تو صاحبان ایمان کا سرپرست ہے۔اور اسی بنیاد پر مہاجرین نے انصار سے رسول خداؐ کے حوالے سے احتجاج کیا اور کامیاب ہوگئے تو اگر اسی آیت کے اصول پر انھیں کامیابی ملی تو تمہارے مقابلے میں ہم زیادہ حقدار تھے اگر اس کی طرح کھینچے ہوئے لے جارہے تھے تا کہ میں بیعت کروں!تو اگر اس تحریر سے میری مذمت کا ارادہ کیا ہے تو کامیاب نہیں ہوا بلکہ اس میں تو مدح کا پہلو نکل رہا ہے اور تو نے مجھے ذلیل کرنے کا اردہ کیا تو تو خود فضیحت کا شکار ہوگیا مومن جب تک اپنے دین میں شک نہ کرے اور اس کا یقین بدگمانی میں نہ بدلے اس وقت تک اس کے مظلوم ہونے میں کوئی بےعزتی کی بات نہیں ہے حالانکہ مذکورہ بالا دلیل تیرے غیر کے لئے ہے لیکن میں نے تجھ کو بقدر ضرورت لکھ دیا۔(3)

9۔آپؑ نے فرمایا:((لوگو!مجھے معلوم ہے کہ تم میرا انکار کروگے لیکن میں کہوں گا ضرور۔پس زمین و آسمان کے پروردگار کی قسم نبیؐ امی نے مجھ سے عہد کیا تھا اور فرمایا کہ یہ امت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ انفال آیت:75

(2)سورہ آل عمران آیت:68

(3)نہج البلاغہ ج:3ص:30


میرے بعد تم سے غداری کرےگی))(1)

ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ اکثر اہل حدیث نے اس خبر کو یا تو انہیں الفاظ میں نقل کیا ہے یا اس کے قریب المعنیٰ الفاظ میں۔(2)

10۔اور حضرتؑ نے فرمایا کہ میں چالیس آدمی بھی اپنی حمایت میں پاتا،تو اس قوم کے مقابلے میں اٹھ کھڑا ہوتا۔

معاویہ کا ایک مشہور خط ہے جو اس نے امیرالمومنینؑ کو بھیجا تھا،خط کے ذیل میں معاویہ لکھتا ہے:(میں آپ کو وہ دن یاد دلا رہا ہوں جب لوگوں نے ابوبکر کی بیعت کر لی تھی اور آپ اپنی بیوی کو خچر پر بٹھا کے اور اپنے دونوں بیٹوں حسنؑ اور حسینؑ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تاریکی میں نکلا کرتے تھے،آپ نے اہل بدر اور سابقین میں سے کسی گھر کے دروازے کو نہ چھوڑا مگر یہ کہ وہاں دستک دی اور اپنی نصرت کے لئے پکارا،آپ بیوی کولے کر ان کے پاس جاتے رہے اور اپنے بچوں کا انھیں واسطہ دیتے رہے اور صحابی پیغمبر کے خلاف ان سے نصرت طلب کرتے رہے تو آپ کا جواب دینےوالے نہیں تھے مگر صرف چار یا پانچ آدمی،میری جان کی قسم آہ،اگر آپ حق پر ہوتے تو لوگ آپ کا جواب ضروری دیتے لیکن آپ کا دعویٰ باطل تھا اور آپ وہ بات کہہ رہے تھے جس سے خود ناواقف تھے اور ایسی جگہ تیرمار رہے تھے جو آپ کی دسترس میں نہیں تھی اور شاید آپ بھول گئے ہیں لیکن میں وہ بات نہیں بھولا ہوں جو آپ نے ابوسفیان سے کہی تھی۔

جب آپ کو ابوسفیان نے حرکت میں لانے کی کوشش کی اور آپ کو جوش دلایا تو آپ نے کہا تھا کہ اگر چالیس آدمی بھی مجھے مل جاتے تو میں اس قوم کے خلاف کھڑا ہوجاتا یعنی آج پہلے دن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:3ص:150

(2)شرح نہج البلاغہ ج:4ص:107،اسی طرح کے الفاظ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ کتاب المستدرک،ج:3ص:107،مسند الحارث،ج:2ص:905،تذکرۃ الحفاظ،ج:3ص:995،تاریخ دمشق،ج:42ص:447،البدایۃ و النہایۃ،ج:6ص:218،تاریخ بغداد،ج:11ص:216


مسلمانوں کے لئے آپ مسئلہ نہیں بنے ہیں اور آپ کی خلفا سے یہ پہلی بغاوت نہیں ہے اور نہ کوئی نئی بات ہے۔(1)

صفین کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو اسی طرح کی بات خود امیرالمومنینؑ کی گفتگو میں بھی ملےگی۔(2)

11۔حضرت فرمایا کرتے تھے((میں زمانہ پیغمبرؐ کے ایک جڑ کی طرح تھا لوگ مجھے سراٹھا اٹھا کر یوں دیکھتے تھے جیسے آسمان پر تاروں کو دیکھتے ہیں،پھر دنیا نے مجھ سے آنکھیں موندلیں اور میری برابری میں فلاں،فلاں آگئے،پھر مجھے عثمان جیسے پانچ آدمیوں کے مقارن بنایا گیا تو میں نے کہا وائے ہوذفرپر))(3)

12۔آپ نے اپنی حکومت کے ابتدائی ایّام میں فرمایا،جب اللہ نے اپنے نبیؐ کو اپنے پاس بلالیا تو ہم نے یہ سوچا کہ ہم آپؐ کے اہل،وارث اور اولیا ہیں نہ کہ دوسرے لوگ،ہم سے کوئی بھی اقتدار کے بارے میں نہیں لڑےگا اور لالچ کرنےوالا کم سے کم ہمارے معاملے میں لالچ نہیں کرےگا لیکن قوم نے ہمیں الگ کردیا اور ہمارے نبیؐ کا اقتدار ہم سے لےلیا،پس حکومت ہمارے غیر کے ہاتھوں میں چلی گئی اور ہم رعایا بن گئے،اب تو صورت حال یہ ہے کہ کمزور بھی للچائی ہوئی نظروں سے ہمیں دیکھ رہا ہے اور ذلیل بھی ہم پر حملہ کرنے کی سوچ رہا ہے،اس کی وجہ سے ہماری آنکھیں رو رہی ہیں دل ڈرے ہوئے ہیں اور کراہیں نکل رہی ہیں،خدا کی قسم اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ مسلمان فرقوں میں بٹ جائیں گے اور کفر واپس آجائےگا اور دین برباد ہوجائےگا تو ہم دشمن کو اسی کے ہتھیار سے مارتے۔(4)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:2ص:47

(2)واقعہ صفین ص:163

(3)ذفر،عمر کا بدل ہے جسے امامؑ نے بطور تقیہ ملامت استعمال کیا ہے،شرح نہج البلاغہ،ج:2ص:326

(4)شرح نہج البلاغہ ج:1ص:307


13۔جس وقت آپ بصرہ جارہے تھے تو آپ نے فرمایا((جب حضور سرور کائناتؐ کی وفات ہوئی تو قریش نے حکومت کے معاملہ میں ہم پر دوسروں کو ترجیح دی اور ہم سے ہمارا وہ حق چھیں لیا جس کے ہم ساری دنیا میں سب سے زیادہ حقدار تھے تو میں نے سمجھ لیا کہ اس معاملے میں صبر کرنا مسلمانوں کو تقسیم کرنے سے زیادہ بہتر ہے اور ان کے خون بہانے سے زیادہ اچھا ہے صورت حال یہ تھی کہ لوگ ابھی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور دین کو تو ابھی متھا جا رہا تھا جو تھوڑی سی کمزوری سے خراب ہوجاتا اور ذراسی بات بھی اس پر فوراً اثر ڈالتی،طلحہ اور زبیر کو کیا ہوا ہے؟یہ لوگ تو اس حکومت کے راستے پر چلنے کے مستحق نہیں ہیں جو اونٹنی دودھ دینا بند کرچکی ہے اس کا دودھ پینا چاہتے ہیں اور جو بدعت مرچکی ہے اس کو زندہ کرنا چاہتے ہیں))(1)

14۔دوسری جگہ حضرت نے فرمایا((لوگوں نے ابوبکر کی بیعت کرلی حالانکہ میں ابوبکر سے زیادہ امر خلافت کا مستحق تھا پھر بھی میں نے سنا اور خاموشی سے اطاعت کی صرف اس خوف سے کہ لوگ دوبارہ کافر ہوجائیں گے اور ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگیں گے،پھر لوگوں نے عمر کی بیعت کر لی تب بھی میں نے سنا اور چپ چاپ خاموشی سے اطاعت کی حالانکہ میں عمر سے زیادہ مستحق خلافت تھا لیکن مجھے خوف تھا کہ لوگ کفر کی طرف واپس چلے جائیں گے اور ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے لگیں گے اور اب تم لوگ عثمان کی بیعت کرنا چاہتے ہو تو میں آج بھی سنوں گا اور اطاعت کروں گا،عمر نے مجھے پانچ آدمیوں کے ساتھ چھٹا آدمی قرار دیا ہے وہ ان پر میری فضیلت سے واقف نہیں ہے اور نہ یہ لوگ مجھے پہچانتے ہیں جیسے کہ ہم سب لوگ فضیلت کے معاملے میں برابری کا درجہ رکھتے ہیں؟خدا کی قسم اگر میں بولنا چاہوں گا تو ان کے عرب و عجم اور ان کے ذمی اور مشرک کوئی بھی میری کسی بات کو جواب نہیں دےسکےگا اور ایسا میں کرسکتا ہوں(2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:1ص:308

(2)تاریخ دمشق ج:42ص:434،حالات علی ابن ابی طالبؑ،کنزالعمال ج:5ص:724،حدیث14243،میزان الاعتدال ج:2ص:178حالات حارث بن محمد،لسان المیزان ج:2ص:156حالات حارث بن محمد،الضعفاءللعقیلی ج:1ص:211حالات حارث بن محمد


15۔حضرتؑ نے فرمایا،سرکارؐ نے مجھ سے کہا تھا علیؑ،لوگ تمہارے خلاف اکھٹا ہوں گے تمہیں اس وقت وہی کرنا ہے جس کا میں تمہیں حکم دے رہا ہوں ورنہ پھر اپنے سینے کو زمین سے متصل کردینا(بے تعلق ہوجانا)تو جب مجھ سے حضورؐ الک ہوگئے تو میں نے مکروہ باتوں کو برداشت کیا اور اپنی آنکھوں میں تنکے کو جھیل گیا اور آنکھیں بند کئے رہا اور اپنے سینے کو زمین سے سٹادیا(اور صبر کیا)۔(1)

16۔روایت ہے کہ معصومہ کونین علیہا السلام آپؑ کے گھر بیٹھے رہنے پر ایک مرتبہ آپ سے گفتگو نے لگیں اور بہت دیر تک آپؑ کو سمجھاتی رہیں کہ آپؑ کو خاموش نہیں بیٹھنا چاہئے لیکن موالائے کائناتؑ خاموش بیٹھے رہے یہاں تک کہ نماز کا وقت ہوا اور موذن کی آواز آئی جب موذن نے اشھد انَّ محمداً رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کا فقرہ ادا کیا تو آپؑ نے معصومہؑ سے پوچھا کیا آپ چاہتی ہیں کہ یہ فقرہ(جملہ)دنیا سے اٹھ جائے معصومہؑ نے کہا ہرگز نہیں،آپ نے فرمایا یہی بات میں آپ کو اتنی دیر سےسمجھا رہا تھا۔(2)

17۔حضرت نے فرمایا((قریش نے اپنے دلوں میں پیغمبر سے جو کینہ چھپار کھا تھا اس کا اظہار مجھ سے کیا اور میرے بعد میرے بچوں سے یہی کینہ جاری رکھیں گے،میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ قریش ہمارے دشمن کیوں ہوگئے،میں نے انھیں خدا اور خدا کے رسول کے حکم سے قتل کیا اگر وہ لوگ مسلمان ہیں تو خدا را سوچیں کیا خدا اور خدا کے رسولؐ کی اطاعت کرنےالے کا یہی بدلہ ہے))(3)

18۔حضرت فرماتے ہیں کہ((بچپن میں قریش نے مجھے ڈرایا اور بڑے ہونے پر میرے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ حضورؐ سرور کائنات کی وفات ہوگئی یہ بہت بڑی مصیبت تھی اور

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:20ص:326

(2) شرح نہج البلاغہ ج:20ص:326

(3) شرح نہج البلاغہ ج:20ص: 328 ینابیع المودۃ ج:1ص402


اللہ کے خلاف بولنےوالوں کی سزا دینے کے لئے اللہ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے))۔(1)

19۔آپؑ نے فرمایا((پالنےوالے میں تجھ سے قریش کے خلاف مدد مانگتا ہوں انھوں نے تیرے رسولؐ کے خلاف اپنے دلوں میں کئی طرح کی غداری اور شر چھپا رکھے ہیں اور یہ بیماریاں بڑھ رہی ہیں تو میں ان کے اور پیغمبرؐ کے درمیان حائل ہوگیا نتیجے میں گاج مجھ پر گری اور مصیبتیں مجھ پر آنے لگیں پالنےوالے تو حسنؑ اور حسینؑ کی حفاظت کرنا جب تک میں زندہ ہوں ان دونوں معصوموں پر قریش کو راستہ نہ دینا اور جب میں مرجاؤں گا تو تو ہی قریش کے خلاف ان کا نگراں ہے اور تو ہر چیز پر گواہ ہے))۔(2)

20۔کسی نے آپؐ سے پوچھا کہ امیرالمومنینؑ اگر حضورؐ کا کائی بیٹا ہوتا اور آپؐ اس کو چھوڑ کے گئے ہوتے اور وہ سن بلوغ اور رشد کی منزل تک پہنچتا تو کیا عرب اس کی حکومت کو قبول کر لیتے آپؑ نے فرمایا نہیں بلکہ انہیں یہ لوگ قتل کردیتے اگر وہ میری طرح نہیں کرتا،سیدھی بات تو یہ ہے کہ عرب محمدؐ کی حکومت کو ناگوار سمجھتے تھے اور اللہ نے جو فضیلت آپ کو دی تھی اس پر حسد کرتے تھے،عرب نے ہمیشہ آپؐ کے ساتھ زیادتی کی کبھی آپؐ کی بیوی پر الزام لگایا اور کبھی آپؐ کے ناقہ کو بھڑکا کے مارنے کی کوشش کی،حالانکہ آنحضرتؐ نے ان پر احسان عظیم اور لطف جسیم کیا تھا لیکن یہ عرب احسان فراموش تھے انھوں نے آپ کی زندگی ہی میں یہ بات جمع ہو کر طے کرلی تھی کہ حکومت اور اقتدار آپ کے مرنے کے بعد آپ کے اہل بیتؑ سے دور کردیں گے۔

اگر قریش نے سرکار دو عالمؑ کے اسم مبارک کو ریاست کا ذریعہ اور حکومت و عزت کا وسیلہ نہ بنایا ہوتا تو لوگ آپؐ کی وفات کے بعد ایک دن بھی خدا کی عبادت نہیں کرتے بلکہ اپنے پچھلے پیروں پلٹ جاتے،پس درخت کے اندر برگ و بار آنے کے بعد سب گرا کے صرف تنارہ جاتا اور اونٹنی کے دانت نکلنے کے بعد پھر وہ سن بکر پر واپس چلی جاتی(بہرحال انھوں نے نام محمدؐ سے فائدہ اٹھایا اس لئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:4ص:108

(2)شرح نہج البلاغہ ج:20ص:298


اذانوں میں ان کا نام شامل ہے اور نمازیں ہورہی ہیں)پھر تو فتوحات کا سلسلہ چل نکلا،فاتے کے بعد ثروت آئی اور جفاکشی کے بعد آرام ملا تو آنکھوں کو اسلام کی ناگوار چیزیں بھی اچھی لگنے لگیں اور جو لوگ دلی اضطراب میں گرفتار تھے وہ بھی ثابت قدم ہوگئے اور کہنے لگے اگر اسلام حق نہ ہوتا تو ایسا کبھی نہ ہوتا۔

اس کے بعد(ایک تبدیلی اور آئی کہ)جو لوگ سردار تھے ان سے فتح کو منسوب کردیا گیا اور کہا گیا کہ یہ تو ان کے حسن تدبیر کا نتیجہ تھا جب یہ نظریہ پیدا ہوا تو ایک قوم کی شہرت ہوگئی اور دوسری قوم کی گمنامی،اہم انہیں گمنام لوگوں میں ہیں جن کے شعلے بجھ چلے ہیں،شہرہ ختم ہوچکا ہے یہاں تک کہ زمانہ ہمارے خلاف ہوگیا لوگ ہماری مخالفت ہی پر کھاتے پیتے اور جیتے رہے،وقت گذرتا گیا جو لوگ جانے مانے تھے ان میں سے زیادہ تر لوگ مرگئے اور جو لوگ غیر مشہور تھے پیدا ہوگئے،اگر نبیؐ کع بیٹا ہوتا تو کیا ہوتا؟سنو پیغمبرؐ نسب اور خون کی وجہ سے مجھ کو قریب نہیں رکھتے تھے بلکہ جہاد اور خیرخواہی کی وجہ سے آپؐ نے مجھے تقرب عنایت فرمایا تھا،اچھا اگر آپؐ کے کوئی بیٹا ہوتا تو میں پوچھتا ہوں کہ جتنی خدمت میں نے کی ہے کیا وہ اتنی خدمت کرسکتا تھا؟(جواب ہے نہیں)تو وہ اتنا قریب بھی نہیں ہوتا جتنا میں نبیؐ کے قریب رہا پھر بھی میری نبیؐ سے قربت عرب کی نگاہوں میں میری منزلت اور مرتبہ کا سبب نہیں ہے بلکہ ذلت اور محرومی کا سبب ہے۔

پالنےوالے تو جانتا ہے کہ میں حکومت کا ارادہ نہیں رکھتا اور نہ ملکیت و ریاست کی بلندی چاہتا ہوں میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ تیری حدیں قائم ہوں تیری شریعت کے مطالبے ادا ہوں،ہر کام اپنی جگہ پر ہو،حقدار کو ان کا حق دیدیا جائے،تیرے نبیؐ کے طریقے پر عمل جاری رہے اور گمراہ کو تیرے نور کی ہدایت کی طرف موڑدیا جائے۔(1)

21۔اپنے اس ابتدائی خطبہ میں جو اپنے دور خلافت میں خطبہ دیا تھا آپ نے فرمایا:اپنے گھروں میں چھپے رہو اور آپس میں صلح و آشتی پیدا کرو اور اس کے بعد توبہ کرو،جس نے حق کے خلاف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:20ص:298۔299


لب کشائی کی ہلاک ہوا تمہارے امور تھے جن میں ایک امر کی طرف مائل ہوگئے،اس میں کوئی میرے نزدیک قابل تعریف اور راہ حق و صواب پر نہیں ہے لیکن اگر میں چاہتا تو ضرور کہتا خدا گذشتہ کو معاف کرےدو شخص نے سبقت کی اور تیسرا کوّے کی طرح کھڑا رہا جس کا مقصد صرف پیٹ ہےوای ہو اگر اس کے دونوں پر قطع کردیئے جائیں اور سر اڑادیا جائے تو اس کے لئے بہتر ہوگا۔(1)

ابن ابی الحدید نے کہا:یہ خطبہ حضرت کے عظیم خطبوں میں سے ایک ہے نیز مشہور ہے جسے سارے لوگوں نے روایت کی ہے نیز اسے ہمارے استاد ابوعثمان جا خط البیان اور التبین نامی کتاب میں اسی طرح ذکر کیا ہےاور اسے ابوعبیدہ مصمر بن مثنی نے بھی روایت کی ہے۔

ابن قتیبہ نے((عیوں الاخبار))میں اس کا بیشتر حصہ ذکر کیا ہے(2) اور ابن عبدربہ نے العقد الفرید میں(3) متقی ہندی نے کنزالعمال(4) ابن دمشقی نے مناقب علی بن ابی طالبؑ میں ذکر کیا ہے۔(5)

اس کے بعد ابن ابی الحدید نے کہا:ہمارے استاد ابوعثمانؒ نے کہا:اور ابوعبیدہ نے جعفر بن محمدؑ کے آبا و اجداد سے روایت میں اضافہ کرتے ہوئے کہا:آگاہ ہوجاؤ میری عترت کے نیکوکار اور میری ذریت کے پاکیزہ لوگ چھوٹوں کے اعتبار سے زیادہ بردبار اور بڑوں کے اعتبار سے زیادہ جانکار ہیں،لٰہذا اگر(ہمارا)اتباع کروگے ہدایت پاؤگے اور اگر مخالفت کروگے خداوند عالم تمہیں ہمارے ہاتھوں ہلاک کردےگا ہمارے ساتھ پرچم حق ہے جو اس کا اتباع کرے وہ اس سے ملحق ہوگا اور جو پیچھے رہ جائے وہ ڈوب جائےگا آگاہ!ہمارے ہی ذریعہ ہر مومن عزت پاتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:1ص:275۔276

(2)المجلد الثانی ج:5ص:236،کتاب العلم و البیان:خطبہ حضرت علیؑ،قتل عثمان کے بعد،

(3)ج:4ص:68خطبہ امیرالمومنین

(4)ج:5ص:749۔750حدیث:14282

( 5 )ج:1ص:323۔324


ہمارے ہی ذریعہ اسے رسوائی سے نجات ملےگی ہمارے ہی ذریعہ فتح ہے نہ تمہارے،مجھ پر خاتمہ بخری ہے نہ تم پر۔(1)

22۔نیز آپؑ نے فرمایا:معاویہ کے جواب میں تم نے میرے خلفاء کی نسبت حسد کا ذکر کیا ہے،اور ان سے متعلق کوتاہی اور بغاوت کا۔رہا بغاوت کا سوال تو خدا کی پناہ کہ ایسا ہورہا ہے،رہا ان کے امور میں میری سستی اور ان سے ناپسندیدگی کا اظہار،تو میں ان سے متعلق لوگوں کے سامنے عذر کرنےوالا نہیں ہوں اور تمہارا باپ میرے پاس اس وقت آیا تھا جب لوگوں نے ابوبکر کی ولی بنایا تھا ت اس نے مجھ سے کہا کہ تم محمدؐ کی جانشینی کے زیادہ سزاوار ہو جب کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جس نے انکار کیا کیونکہ لوگ کفر سے قریب العہد تھے اہل اسلام کے درمیان تفرقہ کے خوف سے۔(2)

23۔آپؑ نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا:بیٹا جب سے آپ کے جد کی وفات ہوئی لوگ میرے خلاف بغاوت ہی کررہے ہیں۔(3)

24۔آپ نے ابوعبیدہ سے فرمایا((اے ابوعبیدہ کیا وقت زیادہ گذرنے کی وجہ سے تم عہد کو بھول گئے یا آرام ملا تو تم نے خود بھلادیا،میں نے تو سنا اور یاد رکھا اور جب یاد رکھا تو پھر اس کی رعایت کیوں نہ کروں))۔(4)

25۔ابوحذیفہ کے غلام سالم کے بارے میں فرمایا((بنوربیعہ کے کمینے گلام پروائے ہو وہ اپنے شرک قدیم کا پسینہ مجھ پر پھینک کر مجھے برابنانا چاہتا ہے اور ولید،عتبہ اور شیبہ کے خون کا ذکر کر رہا ہے(یہ لوگ بدر میں آپؐ کے ہاتھوں مارے گئے تھے)کہ میں ان کے خون کا ذمہ دار ہوں خدا کی قسم مجھے وہ اسی جگہ لارہا ہے جو اس کے لئے بری ہے اور پھر وہ وہاں پر فلاں اور فلاں سے ملاقات نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:1ص:276

(2)شرح نہج البلاغہ ج:15ص:77۔78۔انساب الاشراف ج:3ص:69،المناقب،خوارزمی ص:250۔254 العقد الفریدج:4ص:309

(3)امامت و سیاست ج:1ص:45،واقعہ بیعت علی ابن ابی طالبؑ

(4)شرح نہج البلاغہ ج:20ص:307


کرےگا(کوئی اس کا مددگار نہ ہوگا)۔(1)

26۔آپ نے فرمایا سب سے پہلے سعد بن عبادہ نے میرے خلاف ہمت کی لیکن دروازہ اس نے کھولا داخل دوسرا ہوا آگ اس نے بھڑکائی جس کے نتیجہ میں شعلے اس کو ملے اور اس کے دشمن اس آگ کی روشنی سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔(2)

27۔عمر جناب ابن عباس سے بات کررہے تھے ابن عباس کہتے ہیں کہ عمر نے مجھ سے پوچھا اپنے بھتیجے کو کس حال میں چھوڑ کے آئے ہو؟وہ کہتے ہیں میں سمجھا عبداللہ بن جعفر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔میں نے کہا اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل رہے تھے عمر کہنے لگے میں ان کے بارے میں تھوڑی پوچھ رہا ہوں میں تو تم سے اہل بیتؑ کے سردار کے بارے میں پوچھ رہا ہوں،میں نے کہا میں نے آپ کو اس حال میں چھوڑٓ کہ فلاں کے کھجوروں کے باغ کی سینچائی کررہے تھے اور قرآن بھی پڑھ رہے تھے کہنے لگے اے عبداللہ اگر آج تم نے مجھ سے کچھ چھپایا تو تم سے مزید ایک بات کہتا ہوں،میں نے اپنے والد سے ان کو دعوے کے بارے میں پوچھا تھا تو انھوں نے علیؑ کی تصدیق کی تھی۔

عمر کہنے لگے پیغمبرؐ کے قول سے کوئی صاف بات ظاہر نہیں ہوتی تھی جس کو حجت تسلیم کیا جائے اور کوئی قطعی عذر بھی نہیں تھا کچھ دنوں تک آپ(رسولؐ)نے ان(علیؑ)کے معاملے میں انتظار کیا لیکن آپ جب بیمار پڑے تو ارادہ کیا کہ علیؑ کے نام کی صراحت کردیں لیکن میں نے انھیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:20ص:296،یہ سالم ابوحذیفہ بن عتبتہ کا غلام ہے اسے تو عتبہ اور اس کے بیٹے ولید اور اس کے بھائی شیبہ نے روز بدر کے مبارزہ میں قتل کیا ہے امیرالمومنینؑ نے اپنے اس کلام سے اشارہ کیا ہے کہ سالم کا موقف معاندانہ تھا۔امیرالمومنین کی نسبت ایسا صرف بدر کے دن اس کے چاہنےوالوں کے مرنے کے انتقام میں تھا۔

(2)شرح نہج البلاغہ ج:20ص:307۔308


روک دیا،مقصد اسلام کی خیرخواہی تھی میں نے یہ اقدار خوف اور احتیاط کی وجہ سے کیا تھا،اس کعبہ کے پروردگار کی قسم!قریش ہرگز ان پر متحد اور جمع نہین ہوتے اور اگر انہیں والی خلافت بنا دیا جاتا تو عرب ٹوٹ پھوٹ جاتے،پیغمبرؐ صبھی میرے دل کی بات سمجھ گئے اس لئے آپ نے اپنا ہاتھ روک دیا اور جو بات حتمی تھی وہ ہو کر رہی۔(1)

28۔آپؑ نے فرمایا،مجھے کہنےوالے ہیں کہ اے ابوطالب کے بیٹے تم خلافت کے حریص ہو،میں جواب دیتا ہوں تم مجھ سے زیادہ حریص ہو،میں تو اپنے بھائی کی میراث اور ان کا حق کا طالب ہوں اور تم میرے اور میرے بھائی کے درمیان آکے(بغیر کسی حق کے)میرا منھ موڑنے کی کوشش کررہے ہو،پالنےوالے میں تجھ سے قریش کے خلاف مدد مانگ رہا ہوں،انھوں نے میرا رشتہ توڑدیا،میری بڑی منزلت اور فضیلت کو چھوٹا سمجھا،مجھ سے اس حق کے بارے میں جھگڑا کیا جس کا صرف میں حقدار ہوں،انھوں نے مجھ سے وہ حق چھین لیا پھر مجھ سے کہا کہ تڑپتے ہوئے دل کے ساتھ صبر کرو اور پچھتاوے کی زندگی جیتے رہو،میں نے چاروں طرف دیکھا تو سمجھ گیا کہ سوائے میرے گھروالوں کے میرا کوئی رفیق اور مددگار نہیں ہے،پس مجھے ان کی ہلاکت کا خوف ہوا تو میں آنکھیں بند کرلیں جب کہ میری آنکھ میں تنکا تھا اور میرے حلق میں پھانس تھی لیکن میں یہ گھونٹ پی گیا میں نے غصّہ کو صبر میں بدلا اور کڑوا لقمہ نگل گیا،میرے دل میں ایسا درد تھا جیسےلوہے سے شگافتہ کردیا گیا ہو۔(2)

امیرالمومنین علیہ السلام کے شکوے کی بہت سی خبریں ہیں

ابن ابی الحدید آپ کے مذکورہ بالا بیان کے بعد نوٹ لگاتے ہیں کہ سچ تو یہ ہے کہ اس طرح کے الفاظ آپ نےسیکڑوں بار فرمائے جیسے آپ کا کہنا ہے کہ وفات پیغمبرؐ سے آج کے دن تک میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:12ص:20۔21

(2)امامت و سیاست ج:1ص:126۔127،امام علیؑ کا خط اہل عراق کے نام نہج البلاغہ ج:2ص:84،85


مسلسل مظلوم رہا((یا یہ کہنا!اے پالنےوالے قریش کو ذلیل کر انھوں نے میرے حق سے مجھے روکا اور میری خلافت کو غصب کرلیا یا ایک بار آپ نے سنا کوئی پکار رہا تھا((میں مظلوم ہوں))آپ نے فرمایا اے بھائی آؤ،ہم دونوں مل کر فریاد کریں میں تو ہمیشہ مظلوم رہا))یا حضرتؑ کا یہ کہنا کہ لوگو!ان دونوں نے ہمارے ہی برتن میں پانی پیا پھر لوگوں کو ہماری ہی گردن پر لاوگئے اور آپ کا یہ قول لوگوں نے ہمیشہ مجھ پر غیروں کو ترجیح دی مجھے میرے حق اور واجب شئی سے باز رکھا۔(1)

ابن ابی الحدید نے اس موضوع پر علی علیہ السلام کے بہت سے اقوال نقل کئے ہیں لیکن چونکہ میں نے جو کچھ لکھ دیا ہے وہی میرے دعوے کی تصدیق کے لئے کافی ہے اس لئے میں مزید کچھ نہیں لکھوں گا۔

ابن ابی الحدید نے جوہری کی کتاب السقیفہ اور شعبی کی کتاب مقتل عثمان اور شوریٰ اور دیگر کتابوں کے حوالے سے بھی امیرالمومنین علیہ السلام کے اس کلام کی روایت کی ہے جس میں حضرت نے مقام استدلال میں فرمایا کہ خلافت صرف آپ کا اور آپ کے اہل بیت کا حق تھا لیکن انھیں مظلوم و مقہور بنادیا گیا اور وہ حضرات یا تو خوف جان یا ضیاع اسلام کے خوف سے خاموش رہے جب کہ انھیں ہمیشہ اس کا صدمہ رہا اور غاصبوں کے ہاتھوں وہ ستائے بھی گئے۔(2)

ان واقعات و حادثات کی تاریخ شاہد اور حدیثیں گواہ ہیں۔

امیرالمومنینؑ کے شکوے پر ابن ابی الحدید کا نوٹ

ابن ابی الحدید اپنے سابق کالم پر تعقیبی نوٹ لگاتے ہیں:ہمارے اصحاب(یعنی معتزلی فرقہ کے علما)کا خیال ہے کہ آپ کے یہ دعوے آپ کی افضلیت واحقیت کو ثابت کرتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حق ہے یعنی آپ افضل صحابہ اور احق بالخلافہ ہیں،لیکن ان سب کے باوجود اگر یہ مان لیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:9ص:306۔307

(2)شرح نہج البلاغہ ج:1ص:185۔194،ج:2ص:21۔60،ج:6ص:5۔52ج:9ص:49۔58،


جائے کہ آپ کا استحقاق نص کی وجہ سے ہے تو اس سے بڑے بڑے مہاجرین کافر یا فاسق قرار پاتے ہیں(یعنی معتزلی فرقہ کی نظر میں آپ کی خلافت منصوص نہیں ہے اگر چہ حقیقت میں منصوص ہی ہے لیکن اگر منصوص مان لیا جائے تو پھر بڑے بڑے لوگ بڑے بڑے کافر و فاسق اور ظالم قرار پائیں گے)

بہرحال علامہ ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ ہم لوگ آپ کی خلافت کو منصوص نہیں مانتے وجہ اوپر بیان کی جاچکی ہے لیکن امامیہ اور زیدیہ نے جناب امیرؑ کے اقوال کے ظاہری معنیٰ لئے ہیں اور اس طرح وہ دونوں فرقے سرکش اونٹنی پر سوار ہوگئے ہیں(یعنی مشکل میں گرفتار ہوگئے ہیں)میری جان کی قسم جناب امیرؑ کے یہ الفاظ محض وہم کی وجہ سے ہیں اور زیدیہ اور امامیہ نے محض ظن کے غلبہ کی وجہ سے حکم لگایا ہے حالانکہ حالات و واقعات ایسے ظن کو باطل قرار دیتے ہیں اور وہم کو ختم کرتے ہیں کلام ابن ابی الحدید کا اختتام۔(1)

میں کہتا ہوں وہ کون سے حالات ہیں؟اور وہ حالات کیسے اس نظریہ کو باطل کرتے ہیں؟بلکہ حالات تو(شیعوں کے نظریہ کی)تاکید و تائید کرتے ہیں،ان کی بنیاد کو مضبوط کرتے ہیں اور ان کی دلیلوں کو محکم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

امیرالمومنین علیہ السلام کے کلام سے رضا ظاہر نہیں ہوتی

بہرحال یہاں موضوع گفتگو اثبات نص نہیں ہے اس کے بارے میں ہم دوسری جگہ گفتگو کریں گے،نص کے بارے میں تو آپ فرمارہے ہیں کہ اگر شیعوں کے قول کے مطابق نص مان لی جائے تو(ہمارے مہاجرین و انصار کافر ہوجائیں گے)یہاں گفتگو تو اس موضوع پر ہورہی ہے کہ ائمہ اہل بیتؑ غاصب خلفا کا اقرار بھی کرتے تھے اور ان کی خلافت پر راضی بھی تھے جب کہ امیرالمومنینؑ کا کلام جو کچھ بھی پیش کیا گیا اس سے اقرار ہوتا ہے نہ رضا البتہ ناراضگی اور اختلاف ظاہر ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:9ص:307


خلافت کے بارے میں صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کا موقف

صدیقہ طاہرہ صلوات اللہ علیہا نے ایک خطبہ میں غصب فدک کو ایک غاصبانہ اقدام بتایا ہے اور غصب فدک کے بارے میں آپ کا اظہار ناراضگی درحقیقت خلافت کے سلسلے میں رونما ہونےوالے حادثات کا شدّت سے انکار ہے ورنہ اسی خطبہ میں آپ نے غصب کو ایک جرم بتایا اور غاصبوں کی پول کھول دی ہے۔اسی خطبہ کے کچھ اجزا ملاحظہ ہوں،آپؐ فرماتی ہیں:یہاں تک کہ اللہ نے اپنے نبیؐ کو انبیا کی منزل میں(وفات پیغمبرؐ)پہنچایا اب نفاق کا راز ظاہر ہونےلگا اور دین کی نقاب بوسیدہ ہو کے پھٹ گئی،گونگے لگے اور گمنام نابغہ دہر ہوگئے،باطل پرست طاقتیں ابھرنے لگیں،شیطان نےاپنے گھونسلے سے ابھارا اور تمہارے آنکھوں میں رینگنےلگا اور تمہیں اٹھانے کی کوشش کی تو بہت ہلکا پایا اور تمہیں دوہنےلگا تو دودھ کے بدلے میں تمہیں غیظ و غضب دیدیا،اس نے تمہیں پکارا تو تمہیں اپنا جواب دینےوالا اور اپنے مکر و فریب اور دھوکےکا لحاظ کرنےوالا پایا،پس تم نے اُس اونٹ کو داغ لگایا جو تہمارا نہیں تھا اور تم اس گھاٹ پر اترے جو تمہارا گھاٹ نہیں تھا،یہ سب کچھ ہوگیا لیکن عہد قریب ہے،زخم گہرا ہے جو ابھی بھرا نہیں ہے تم فتنوں سے خوف زدہ ہو:( أَلَافِيالْفِتْنَةِ سَقَطُوا وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ) (1)

ترجمہ آیت:((حالانکہ وہ لوگ فتنے میں گرچکے ہیں اور جہنم نے کافروں کو گھیر رکھا ہے))۔

تمہارے حال پر افسوس ہے!تم کہاں بہکے جا رہے ہو تمہارے سامنے یہ خدا کی کتاب موجود ہے جس میں بالاعلان ڈانٹا گیا ہے جس کے شواہد چمک رہے ہیں اور اوامر واضح ہیں،کیا تم اس کو چھوڑ کے منھ موڑچکے ہو یا قرآن کے علاوہ کسی دوسری چیز کو بنیاد بنا کے فیصلہ کررہے ہو۔

(بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلًا)(2)

ترجمہ آیت:((ظالموں کو بدلے میں کیا بری چیز ملی ہے))۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ توبہ آیت:49 (2)سورہ کہف آیت:50


وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِيناً فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ

ترجمہ آیت:(اورج و اسلام کے علاوہ کسی دین کو لیکے آئےگا تو وہ ہرگز قبول نہ کیا جائےگا آخرت میں وہ نقصان اٹھانےوالں سے ہوجائےگا)۔(1)

پھر آپ نے فدک کا معاملہ اٹھایا اور اس پر طویل گفتگو اور شدت سے غصب فدک کی مخالفت کی پھر خطبہ ختم کیا۔(2)

ایک روایت میں ہے کہ آپؑ قبر نبیؐ کی طرف متوجہ ہوئیں اور مندرجہ ذیل اشعار پڑھے جس میں صرف شکایت ہی شکایت ہے یہ اشعار ہند بنت اثاثہ کے ہیں۔

ترجمہ اشعار:آپ کے بعد بہت سی چیزیں بارش کے قطروں کی طرح پھیلیں اگر آپ ان کو دیکھتے ہوتے تو مصیبتں زیادہ نہ ہوتیں،جب آپ کی وفات ہوگئی اور زمانہ ہمارے اور آپ کے درمیان حائل ہوگیا تو ہماری طرف سے لوگوں کے دلوں میں جو راز تھے ظاہر ہوگئے،لوگ ہم پر حملہ آور ہوگئے اور ہمارا استخفاف کردیا،آپ نے جیسے ہی غیبت اختیار کی تو لوگوں نے ہمارا حق غصب کرلیا۔(3)

آپ کا خطبہ صغیرہ ہی کے موضوع پر ہے اور آپ نے غاصبان خلافت کی واضح طور سے مخالفت کی ہے اور اپنے حق مغصوبہ پر احتجاج کیا ہے تاریخ شاہد ہے کہ جب آپ بیمار پڑیں تو عورتیں آپ کی عیادت کو آئیں آپ سے پوچھنے لگیں،بنت رسولؐ آپ کی بیماری کا کیا حال

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ آل عمران آیت:85

(2)بلاغات النساء ابن طیفورص:13۔14خطبہ فاطمہ زہراؑ،شرح نہج البلاغہ ج:6ص:251جواہرالمطالب فی مناقب امام علیؑ،ابن دمشقی ج:1ص:159

(3)شرح نہج البلاغہ ج:16ص:212غریب الحدیث،ابن سلام ج:4ص:116۔و شرح نہج البلاغہ ج:2ص:50ج:6ص:43،غریب الحدیث ابن قتیبہ ج:1ص:267،اسی طرح کتاب البدءو التاریخ،ج:5ص:68۔69


ہے؟آپ نے فرمایا میں نے اس حال میں صبح کی ہے کہ میں تمہارے دنیا سے تنگ آچکی ہوں،تمہارے مردوں سے بیزار ہوں،میں نے ان کو گونگا کرنے کے بعد ان سے گفتگو کی ہے،میں نے انھیں آزمانے کے بعد برا سمجھا ہے،برا ہودھار کے مڑجانے،قناتوں کے گرجانے اور نظریات کے مفلوج ہوجانے کا((انھوں نے بہت برے اعمال اپنے لئے بھیجے ہیں کہ خدا ان سے ناراض ہے اور وہ ہمیشہ عذاب ہی میں رہیں گے))میں نے ان کے گلے میں دنیا کا پھندا ڈال دیا اور بےپناہ کرکے غارت کردیا،بےعزتی،کاہلی اور رحمت خدا سے ظالم قوم کے لئے دوری ہو اور ان پر وائے ہو انھوں نے رسالت کی بلندیوں کو کہاں لا پٹکا؟نبوت کی دیواروں کو کہاں گراویا؟روح امین کی منزل ھبوط کو کیا ذلیل کیا؟اور دین و دنیا کے امور پر نظر رکھنےوالے کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟خبردار ہوجاؤ یہی کھلا ہوا گھاٹا ہے))انھوں نے ابولحسنؑ سےکس چیز کا بدلہ لیا ہے؟(1) اس خطبہ کو مولائے کائناتؑ کے خلیفہ ہونے سے جو فوائد مرتب ہوئے اس سلسلے میں لکھا جاچکا ہے۔

ابن ابی الحدید فدک کے بارے میں جو واقعات ہوئے ان کو لکھنے کے بعد اسی سلسلہ میں دونوں خطبہ بھی لکھتے ہیں،اس کے بعد لکھتے ہیں!یہ جان لو کہ میں نے اس فصل میں وہ تمام باتیں لکھ دی ہیں جس کی روایت رجال حدیث اور ان کے معتبر افراد نے کی ہیں اور احمد بن عبدالعزیز جوہری نے جو کچھ اپنی کتاب میں لکھا ہے اس لئے کہ جوہری اصحاب حدیث کے نزدیک ثقہ بھی ہیں اور امین بھی،لیکن شیعوں کے علما اور ان کے اخباریوں نے جو کچھ اپنی کتابوں میں لکھا ہے اس کو اصحاب حدیث روایت کرتے ہیں نہ نقل کرتے ہیں۔(2) خدارا مجھے کوئی بتائے کہ اخباری شیعہ اصحاب حدیث کیوں نہیں ہوسکتے؟کیا اصحاب حدیث راویاں اخبار کے علاوہ افراد ہیں؟یا اصحاب حدیث کے لئے شرط ہے کہ وہ شیعہ نہ ہوں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:16ص:233،بلاغات النساء ابن طیفور ص:19خطبہ فاطمہ زہراؑ،جواہر المطالب،ابن دمشقی ج:1ص:165۔166۔

(2)شرح نہج البلاغہ ج:16ص:234۔235


خلافت کے معاملے میں امام حسن علیہ السلام کا موقف

یہ امام حسن علیہ السلام ہیں اگر چہ آپ کا صبر،حلم اور صلح پسندی مشہور ہے لیکن خلافت جو اہل بیتؑ کا حق تھا وہ جب غصب کرلیا گیا تو آپ غافل نہیں رہے اور دنیا کو متنبہ کرنے کے ساتھ تاریخ میں اپنا انکار درج کرادیا،آپ کے کچھ ارشادات ملاحظہ ہوں۔

1۔آپؑ ہی کے لئے مشہور ہے کہ ابوبکر منبر پر خطبہ دے رہے تھے تو آپ اٹھے اور فرمایا میرے باپ کے منبر سے اترجا!(1)

2۔جب موالئے کائناتؑ کی شہادت کے بعد آپؑ کی بیعت کی گئی تو آپؑ نے معاویہ کو لکھا اما بعد!اللہ نے حضور سرور کائناتؐ کو عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا،جب آپ کی وفات ہوگئی تو خلافت کے لئے عرب زورآزمائی کرنے لگے قریش کہنے لگے ہم نبیؐ کے قبیلہ والے اور آپؐ کے ولی ہیں ہم سے پیغمبرؐ کی سلطنت مت چھینو!عربوں نےقریش کے اس دعویٰ کو مان لیا لیکن قریش نے ہمارے دعوے کو رد کردیا جب کہ ہم نے وہی دعویٰ کیا تھا جو انھوں نے عربوں کے مقابلہ میں کیا تھا،عرب نے ان کے دعوے کو مانا لیکن انھوں نے ہمارے اس دعوے کو رد کردیا،افسوس قریش نے ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا۔(2)

معاویہ کو اس نے امام حسن علیہ السلام کے حق میں نقطہ ضعف خیال کیا اس لئے اس نے جواب میں لکھا((آپ نے نبیؐ کو جن لفظوں سے ہمیں یاد دلایا ہے،میں اس میں کوئی شک نہیں کرتا اس لئے کہ سرکار دو عالمؐ سارے عالمین میں فضیلت کے حقدار ہیں))لیکن آپ نے امر خلافت میں مسلمانوں کے جھگڑے کا جو تذکرہ کیا ہے تو آپ نے اس بیان میں عمر اور ابوبکر صدیق اور امانتدار ابوعبیدہ اور باکردار مہاجرین پر صریحی تہمت لگائی ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ آپ کے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)ریاض النضرہ ج:2ص:148،پہلا باب واقعہ خلافت ابوبکر،تاریخ دمشق ج:30ص:307حالات ابوبکر،المنتظم ج:4ص:70،ذکر خلافت ابوبکر،کنزالعمال ج:5ص:616حدیث:14084

(2)شرح نہج البلاغہ ج:16ص:24


شایان شان نہیں ہے۔(1)

3۔معاویہ کو ایک دوسرے خط میں آپ نے لکھا((اما بعد!خداوند عالم نے حضور سرور کائناتؑ کو عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا جب آپ کی وفات ہوگئی تو عرب امر خلافت میں لڑنے لگے،قریش نے کہا ہم نبیؐ کے قبیلہ سے آپؐ کے خاندان سے ہیں اور آپ کے ولی ہیں،تمہارے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ تم محمدؐ کی سلطنت اور ان کا حق ہم سے چھین لو،عربوں نے دیکھا کہ قریش کی باتوں میں وزن ہے اور جانشینی پیغمبرؐ میں جو جھگڑا کر رہا ہے اس کے خلاف قریش کے پاس یہ محکم دلیل ہے،پس عرب نے تسلیم کرلیا اور حکومت ان کے حوالے کردی پھر ہم(اہل بیت پیغمبرؐ)وہی دعویٰ جو قریش نے عربوں کے خلاف کیا تھا قریش کے سامنے لیکے گئے لیکن قریش نے عربوں کی طرح ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا،انھوں نے قرابت پیغمبرؐ اور قربت خاندان کا واسطہ دیکےعربوں سے حکومت حاصل کرلی لیکن ہم اہل بیت نبوتؐ نے جب وہی دلیل قریش کے خلاف استعمال کی تو انھوں نے اس کو ماننے سے انکار کردیا ہمیں خلافت سے دور کردیا اور اجماعی طور پر ہم سے ولایت پیغمبرؐ چھین لی اور ہمارا مال کھا گئے،ہم ان سے دور ہیں وعدہ گاہ تو اللہ ہے وہی سرپرست اور مددگار ہے۔

ہمیں حیرت ہورہی ہے کہ ان لوگوں پر جو ہمارے خلاف ہمارے حق کے بارے میں اچھل کود کرتے رہے حالانکہ وہ لوگ صاحبان فضیلت تھے اور سابق الاسلام ہم تو ان کے خلاف اس لئے کچھ نہیں کرسکے کہ ہمیں خوف تھا کہ کہیں دین برباد ہوجائے یا منافقین اور دشمن کے گروہ دیوار اسلام میں رخنہ نہ ڈال دیں یا ہمارا جہاد انھیں ان کے مفسد ارادوں میں کامیاب نہ کردے اور معاویہ!اس سے بڑا تعجب مجھے تیری اچھل کود پر ہورہا ہے تو وہ طلب کر رہا ہے جس کا تو اہل نہیں ہے۔(2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:16ص:25

(2)شرح نہج البلاغہ ج:16ص:33۔34


معاویہ نے بھی اس خط کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑا وہ لکھتا ہے((آپؑ نے وفات پیغمبرؐ کا تذکرہ کیا پھر آپ کی وفات کے بعد امر خلافت کے لئے مسلمانوں کے جھگڑے کا تذکرہ کیا اور یہ کہ لوگ آپ کے والد پر تغلب کرگئے تو اس بیان میں آپ نے ابوبکر صدیق،عمر فاروق،ابوعبیدہ امین،حواری پیغمبرؐ اور انصار مہاجرین کے صالح لوگوں پر تہمت لگائی ہے،میں آپ کی طرف سے ایسی باتوں کو ناگوار سمجھتا ہوں،آپ میرے نزدیک اور دوسرے لوگوں کے نزدیک بھی ان افراد میں ہیں جن کے بارے میں بدگمانی نہیں کی جاتی اور برا نہیں سمجھا جاتا نہ آپ کمینے لوگوں میں ہیں(معاذ اللہ)آپ سے تو میں قول سدید اور اچھی اچھی باتوں کی امید رکھتا ہوں(سننا چاہتا ہوں)(1)

4۔ابن اثیر لکھتے ہیں کہ!جب امام حسنؑ نے حکومت معاویہ کے حوالہ کرنے کا ارادہ کیا تو آپ منبر پر گئے اور خطبہ دیا:فرمایا((اے لوگو!ہم ہی تمہارے امیر اور تمہارے مہمان ہیں ہم ہی تمہارے نبیؐ کے وہ اہل بیتؑ ہیں جنھیں اللہ نے برائیوں سے دور رکھا اور ایسا پاک و پاکیزہ رکھا ہ جو پاک رکھنے کا حق ہے،آپ اس آیت کی تکرار کرتے رہے یہاں تک کہ مجسل میں کوئی نہیں تھا مگر یہ کہ رو رہا ہو اور لوگ اتنا روئے کہ ہچکیوں کی آواز بلند ہوگئی۔(2)

آپ دیکھیں!امام حسنؑ نے کس طرح یہ بات پکی کردی کہ حکومت و خلافت صرف اہل بیتؑ نبیؐ کا حق ہے آپ نے لوگوں کے ہمدردانہ جذبات اس طرح ابھارے کہ لوگ اہل بیتؑ کی مظلومیت پر ہچکیوں سے روئے۔

خلافت کے معاملے میں امام حسین علیہ السلام کا موقف

حضرت امام ابوعبداللہ الحسین الشہیدؑ نے اپنے بزرگوں کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے اکثر یاد دلایا کہ پیغمبرؐ کے بعد اہل بیتؑ کے علاوہ جس کے ہاتھ میں بھی خلافت رہی وہ غاصب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:16ص:35

(2)الکامل فی التاریخ ج:3ص:41،273 سنہکے واقعات،تاریخ طبری ج:3ص:41169 سنہکے واقعات


1۔منبر پر عمر کو ٹوک دیا فرمایا:میرے باپ کے منبر سے اتر اور اپنےباپ کے منبر پر جا۔عمر نے کہا میرے باپ کا کوئی منبر نہیں ہے۔(1)

بلکہ پورا واقعہ عبداللہ بن کعب سے سنئے،وہ کہتے ہیں جمعہ کے دن عمر پیغمبرؐ کے منبر پر خطبہ دے رہے تھے حسین بن علیؑ اٹھے آپ ابھی بہت کمسن تھے آپ نے فرمایا میرے جد کے منبر سے اترجا،عمر نے کہا بھتیجے رک جاؤ لیکن امام حسین ان کی روا پکڑ کر کھینچتے رہے اور بار بار کہتے رہے میرے جد کے منبر سے اترجا،آخر عمر کو خطبہ روکنا پڑا اور منبر سے اترے اور نماز کا حکم دیا۔(2)

2۔آپ کے دوسرے سوال کے جواب میں امام حسین علیہ السلام کی وصیت کا تذکرہ کیا ہے جو آپ نے اپنے بھائی محمد بن حنفیہ سے کی تھی آپ نے فرمایا تھا میں صرف اپنے جد کی امت کی اصلاح کے لئے نکلا ہوں،میرا ارادہ ہے کہ میں امربالمعروف و نہی عن المنکر کروں اور اپنے جد اور اپنے والد ماجد علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی سیرت پر عمل کروں۔

آپ کی اس وصیت سے یہ بات بھی واضح ہورہی ہے کہ وہ سیرت جو قابل پیروی(بلکہ واجب الاتباع)ہے وہ صرف حضور سرور کائناتؐ اور مولائے کائناتؑ کی سیرت ہے اس کے علاوہ کوئی سیرت قابل پیروی نہیں ہے۔

----------------

(1)سیراعلام النبلاءج:3ص:285حالات امام حسینؑ سیراعلام النبلاءحسین شہیدؑ کے حالات میں بعینہ الاصابۃج:2ص:77پر حسین بن علی بن ابی طالبؑ کے حالات میں،معرفۃ الثقات،ج:1ص:301حسین بن علی بن ابی طالب کے حالات میں تہذیب التہذیب ج:2ص:300،حسین بن علیؑ کے حالات میں،تہذیب الکمال ج:6ص:404،حسین بن علیؑ کے حالات میں،تاریخ واسط،ج:1ص:302،ابوالحسین سعد بن وہب بن مناف سلمی کے حالات میں،تاریخ الخلفاءج:1ص:203،عمر بن خطاب کے حالات میں،تاریخ بغدادج:1ص:141،حسین بن علیؑ کے حالات میں بغیۃ الطلب فی تاریخ الحلب ج:6ص:2584۔2585،حسین بن علی بن عبد مناف ابی طالب کے حالات میں،التحفۃ اللطیفۃ فی تاریخ المدینۃ الشریفہ ج:1ص:295،حسین بن علی کے حالات میں علل الدار قطنی،ج:2ص:125،تاریخ دمشق ج:14ص:175،حسین بن علیؑ کے حالات میں،کنزالعمال ج:13ص:654،حدیث:37662،تاریخ مدینہ منورہ ج:3ص:799،

(2)تاریخ مدینہ منورہ ج:3ص:798


یہی وجہ ہے کہ آپ مادی اعتبار سے کمزور پڑگئے،جو لوگ ابوبکر اور عمر کے چاہنےوالے تھے ان کی ہمدردیاں آپ سے مفقود ہوگئیں اور جس وقت آپ نے قیام کیا تھا اس وقت دونوں خلیفہ کے چاہنےوالے زیادہ تھے یعنی حکومت بنوامیہ کے ہاتھ میں تھی اور آپ دیکھ چکے ہیں کہ معاویہ نے اپنے دو خطوں میں جو امام حسنؑ کو بھیجے تھے یہ لکھا تھا کہ آپ ان دونوں کا انکار نہ کریں بنوامیہ ابوبکر و عمر کی مخالفت کو اہل بیتؑ کا سب سے کمزور پہلو سمجھتے تھے،ابھی مقام شہادت میں معاویہ کے وہ خطوط بھی پیش کئے جائیں گے جو اس حقیقت کو زیادہ ثابت کریں گے،امام حسینؑ اس بات کو اچھی طرح سمجھ رہے تھے کہ ابوبکر و عمر کا انکار آپ کی مادّی قوت کو کم کردے گا اور آپ کا ساتھ صرف اسی وجہ سے نہیں دیں گے لیکن آپ یہ بھی سمجھ رہے تھے کہ مادّی قوت اور فوجی طاقت حاصل کرنے سے اہم بات اظہار حق ہے،اہل بیتؑ کے مذہب کا اظہار اور اپنے استحقاق پر اصرار آپ کی نظر میں مادّی فتح اور فوجی غلبہ سے زیادہ اہم تھا اس لئے آپ نے جہاں جو بات کہی دو ٹوک کہی اور کھل کے اعلان کیا۔3۔آپ نے مکہ والوں اور اہل بصرہ کو ایک ہی طرح کا خط لکھا لیکن اس خط کا مضمون بھی صرف اظہار حق اور اعلان مظلومیت پر مشتمل تھا،آپ نے اس خط میں لکھا خداوند عالم نے حضرت محمد مصطفیٰﷺکو اپنی تمام مخلوقات سے منتخب کیا آپ کو نبوت سے عزت بخشی اور رسالت کے لئے اختیار کیا پھر اللہ نے آپ کو نبوت سے عزت بخشی اور رسالت کے لئے اختیار کیا پھر اللہ نے آپ کو اپنے پاس بلالیا،حضور سرور کائناتؐ نے اس کے بندوں کی خیرخواہی کی اور اللہ کا پیغام پہنچادیا،اہل بیتؑ آپ کے وارث اور ولی ہیں اور آپ کی جگہ لینے کے سب سے زیادہ مستحق ہم ہی ہیں لیکن ہماری قوم نے ہم پر دوسروں کو ترجیح دی تو ہم راضی رہے اور تفرقہ پردازی سے پرہیز کیا اور عافیت کو پسند کیا،حالانکہ ہمیں یقین ہے کہ ہم خلافت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں جنہیں ولی امر بنایا گیا ہے وہ ہمارے حق کے غاصب ہیں۔(1) آپ کا مندرجہ بالا کلام پکار پکار کے کہہ رہا ہے کہ امام حسینؑ صرف اہل بیتؑ کو مستحق خلافت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)تاریخ طبری ج:3ص:280کوفیوں کی طرف سے امام حسینؑ کو دعوت جانا اور مسلم ابن عقیلؑ کی روانگی۔بدایہ و نہایۃ ج:8ص:158،157 امام حسینؑ کے مکہ سے نکلنے کی وجہ اور دارالمارہ میں طلب کرنا ار مقتل کے حالات،


سمجھتے ہیں اور جو کچھ اس سلسلے میں تشدد ہوا اس پر اگر یہ لوگ راضی بھی رہے تو محض اس لئے کہ فرقہ بندی نہ ہو اور عافیت برقرار رہے اس لئے نہیں کہ وہ دوسروں کے لئے اپنے حق سے دست بردار ہوگئے تھے،ان کی ولایت پر راضی تھے اور ان کے حکم پر دستخط کررہے تھے بلکہ امام حسینؑ انھیں خلافت کا اہل ہی نہیں سمجھتے تھے۔

خلافت کے معاملے میں امام زین العابدین علیہ السلام کا موقف

1۔حضرت ابومحمد علی بن حسینؑ زین العابدین علیہ السلام بھی اپنے آبا و اجداد طاہرینؑ کے طریقے پر چلتے ہوئے اپنے حق کا اظہار دعاؤں میں کرتے ہیں اور اپنی معنی خیز دعاؤں میں ان لوگوں سے کھل کے اظہار ناراض گی کرتے ہیں جنہوں نے آپ کا حق غصب کیا آپ اللہ سے شکایت کرتے ہیں کہ آپ کے اہل بیتؑ پر ظلم کیا گیا،صحیفہ کاملہ کی اڑتالیسویں دعا کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو،آپ یہ دعا یوم الاضحیٰ اور یوم جمعہ کو پڑھا کرتے تھے اس مٰں فرماتے ہیں پالنےوالے یہ مقام تیرے منتخب بندوں کا ہے اور تیرے خلفا اور تیرے امانتداروں کی یہ جگہ ہے،وہ بلند درجہ تو نے ان خاص بندوں کو جس سے مخصوص کیا ہے یہاں تک کہ تیرے چنے ہوئے بندے مغلوب و مقہور اور گمنام ہوگئے وہ تیرے حکم کو بدلتا ہوا تیری کتاب کو تقسیم ہوتا ہوا اور تیری شریعت کی سمت سے تیرے فرائض کو تحریف ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور تیرے نبی کی سنت کو متروک دیکھ رہے ہیں پالنےوالے لعنت کر ان کے دشمنوں پر(اولین و آخرین پر جو دشمن اہل بیتؑ ہیں)اور ان پر جو ان کے اس فعل سے راضی ہیں اور ان کے مطیع ار فرمابردار ہیں۔

مندرجہ بالا دعا کے فقروں میں امام نے صراحت سے اپنی مظلومت کا زکر کیا ہے وہ مظلومیت جو حق کے چھن جانے اور منصب کے غصب ہوجانے کی وجہ سے اہل بیتؑ کو جھیلنی پڑی،یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ چونکہ حق،حقدار کو نہیں مل سکا اس کی وجہ سے دین میں تحریف ہوگئی اور احکام دین میں رکاوٹ آئی،آپ نے اس ظلم سے کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا ہے بلکہ آخری فقرے تو تعمیم


کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

2۔چبیسویں دعا میں آپ اپنے پڑوسی اور اپنے چاہنےوالوں کے لئے دعا کررہے ہیں جب ان کا تذکرہ کرتے ہیں تو فرماتے ہیں پالنےوالے!محمدؐ و آل محمد پر درود بھیج اور میرے پڑوسیوں کو اور ان کو جو ہمارے چاہنےوالے ہیں اور ہمارے حق کو پہچانتے ہیں اپنی افضل ولایت سے سرفراز فرما اور انھیں بھی جو ہمارے دشمنوں سے دور رہتے ہیں،مالک تو انھیں اپنی سنت قائم کرنے کی توفیق عنایت فرما۔

3۔صحیفہ کاملہ کی سیتالیسویں دعا ملاحظہ فرمائیں:جو آپ یوم عرفہ میں پڑھتے تھے،آپ فرماتے ہیں پالنےوالے تو نے ہر دور میں اپنے دین کی تائید ایسے امام سے کی جو تیرے بندوں کے لئے ایک نشانی،تیرے شہروں کے لئے منارہ نور ہوا کرتا ہے،تو نے اس کی رسی اپنی محبت سے باندھ دی اور اس کو اپنی مرضی تک پہنچنے کا ذریعہ قرار دیا تو نے اس کی اطاعت فرض کی اور اس کی نافرمانی سے ڈرایا تو نے حکم دیا تو نے اس کی اطاعت فرض کی اور اس کی نافرمانی سے ڈرایا تونے حکم دیا کہ اس کے امر کا امتثال کیا جائے اور اس کے نواہی سے باز رہا جائے کوئی آگے بڑھنےوالا اس سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرے نہ کوئی پیچھے رہنےوالا اس سے پیچھے رہنے کی کوشش کرے،پس وہ امام صاحبان خلوص کے لئے پناہ اور مومنین کے لئے گوشہ عافیت ہے،وہ امام تمسک کرنےوالوں کے لئے عروہ اور عالمین کی شان ہوا کرتا ہے۔

پالنےوالے درود بھیج ان کے چاہنےوالوں پر جو ان کے مقام کا اعتراف کرتے ہیں اور ان کے راستے کی پیروی کرتے ہیں،ان کے آثار کو تلاش کرتے ہیں اور ان کے سہارے سے متمسک ہیں،ان کی ولا کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں،ان کی امامت اور ان کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کرنےوالے ہیں اور ان کی اطاعت کے لئے بھرپور کوشش کرنےوالے ہیں،ان کے ایام فرج کے منتظر ہیں،انھوں نے اپنی آنکھیں ان کی طرف لگا رکھی ہیں،ان پر صلوٰت بھیج ایسی صلوات جو مبارک ہو اور ان کو پاک کرنےوالی ہو اور ان میں قوت نمو پیدا کرنےوالی ہو صبح و شام صلوت بھیج۔

مندرجہ بالا دعاؤں ہی ٹکڑے اگر چہ غصب منصب اور اظہار مظلومیت سے خالی ہیں


لیکن دونوں ہی ٹکڑوں میں آپ نے اپنا چاہنےوالوں کے لئے دعا کی ہے اور ان دعاؤں میں ان کے لئے دنیا و آخرت دونوں ہی کے لئے فلاح طلب کی ہے،آپ نے اپنے چاہنےوالوں کے جو صفات بیان کئے ہیں وہ صرف شیعیان امامیہ پر منطبق ہوتے ہیں،اگر تھوڑا غور کر کے سمجھیں تو پتہ چلےگا کہ ان دعاؤں میں امامؑ نے شیعوں کے عقائد کا اقرار کیا ہے اور ان کی تصدیق کی ہے اور اس عقیدے کی بھی تقریر فرمائی جو شیعہ ابوبکر و عمر کی خلافت کے سلسلہ میں رکھتے ہیں۔

جیسے دوسری دعا کا یہ فقرہ((اور تو نے اس(امام)کی طاعت فرض کی اور یہ کہ کوئی بڑھنےوالا اس سے آگے نہ بڑھے اور پیچھے رہنےوالا اس سے تاخر نہ کرے))یہ فقرے غاصبان خلافت پر کھلے ہوئے اعتراض ہیں آپ نے وضاحت کے ساتھ بتادیا کہ خلافت غصب کرنے والے اہل بیتؑ سے آگے بڑھنے کی کوشش کررہے تھے۔

خلافت کے معاملے میں امام محمد باقر علیہ السلام کا موقف

امام محمد باقر علیہ السلام کا موقف تو آپ کے پہلے سوال کے جواب میں بتادیا گیا ہے،جب اہل بدروالی حدیث پیش کی گئی تھی اور جمہور صحابہ کی نظروں کی وضاحت کے ساتھ حدیثوں کے جعلی(من گھڑت)ہونے کے سلسلے میں امام ابوجعفر محمد باقرؑ کا کلام پیش کیا گیا تھا،اس کلام کا ذکر ابن ابی الحدید نے بھی کیا ہے اور آپ کا یہ کلام اعلان کررہا ہے کہ خلافت اہل بیتؑ کا حق ہے اس کے ساتھ ہی آپ نے غصب خلافت کا شکوا بھی کیا ہے،آپ سوال اول کا جواب ملاحظہ کریں۔اصل بات یہ ہے کہ امام محمد باقرؑ کے کلام کے ساتھ دوسرے ائمہ اہل بیتؑ کا اس موضوع پر کلام اس کثرت سے وارد ہوا ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں ہے،اسی طرح شیعیان علیؑ کا کلام بھی ہے،لیکن ہم یہاں صرف ان باتوں پر اختصار کررہے ہیں جن کا تذکرہ علما جمہور نے بھی اپنی کتابوں میں کیا ہے اور جس کی دشہرت اس پائے کو پہنچی ہے کہ تجاہل یا انکار ممکن ہی نہیں ہے۔


خلافت کے مسئلہ میں محمد بن حنفیہ کا موقف

عبداللہ بن زبیر اپنے خطبہ میں مولائے کائناتؑ کی ذات پر رکیک حملہ کررہا تھا یہ خبر محمد بن حنفیہ تک پہنچی،آپ اسی وقت وہاں پہنچے،ابھی وہ خطبہ دے ہی رہا تھا لیکن آپ کے لئے ایک کرسی رکھ دی گئی،آپ اس پر بیٹھے اور اس کے خطبہ کو روک دیا پھر فرمایا اے گروہ عرب!تمہارے چہرے سیاہ ہوں،علیؑ کو برا کہا جارہا ہے اور تم سن رہے ہو!علیؑ دشمنان خدا کے خلاف اللہ کے ہاتھ ہیں اور اس کے حکم سے گرائی ہوئی ایک بجلی ہیں،خدا نے کافروں پر اور حق اللہ کا انکار کرنےوالوں پر علیؑ کو بجلی بنا کر گرایا تھا اور علیؑ نے کافروں کے کفر کی وجہ سے انھیں قتل کیا تو وہ انھیں برا کہنے لگے ان سے بغض رکھنے لگے اور کینہ و حسد اپنے دل میں چھپالیا،اس لئے کہ پیغمبرؐ زندہ تھے اور ابھی آپ کی وفات نہیں ہوئی تھی،پس جب اللہ نے پیغمبرؐ کو اپنے جوار میں منتقل کر لیا اور اپنے پاس موجود نعمتوں سے انھیں ملا دینا پسند کیا تو لوگوں کے دلوں کے کینے ظاہر ہوگئے،دل کا میل ظاہر ہوگیا،(لوگ علیؑ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے)کسی نے آپ کا حق چھیں لیا،کوئی آپ کو قتل کرنے کے لئے مشورے کرنے لگا اور کوئی آپ کو گالیاں دینے لگا اور جھوٹے عیب لگانے لگا۔۔۔۔(1)

دیکھا آپ نے جناب محمد بن حنفیہ نے دشمنان علیؑ سے تبرّا کیا،اپنی ناراض گی کا اظہار بھی کیا اور اس طرح یہ سب کچھ کیا کہ جس سے ثابت ہوجائے کہ وہ خلافت مغصوبہ پر راضی نہیں تھے اور غاصبوں کی خلافت،شرعی بنیاد پر نہیں تھی کہ وہ حق کے غصب سے بری الذمہ قرار پائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:4ص:62،مروج الذھب ج:3ص:90،معاویہ بن یزید بن معاویہ کے دور حکومت کا ذکر اور مروان بن حکم اور مختار بن ابی عبید و عبداللہ بن زبیر


خلافت کے بارے میں عباس بن عبدالمطلب کا موقف

جب ابوبکر نے عباس بن عبدالمطلب کو پیش کش کی کہ وہ اور ان کی اولاد خلافت میں سے کچھ حصہ لےلیں،سازش یہ تھی کہ یہ پیشکش بنوہاشم میں پھوٹ کا سبب بن جائے اور عباس بن عبدالمطلب اور ان کی اولاد علیؑ سے ٹوٹ کر علیٰیحدہ ہوجائیں لیکن عباس نے بہت جچا تلا جواب دیا،انھوں نے کہا:اگر تم پیغمبر کی وجہ سے خلافت کے طالب ہو تو تم نے ہمارا حق غصب کیا ہے اور اگر تم مومنین کے ذریعہ خلیفہ بنے ہو تو ہم بھی مومن ہیں لیکن ہم تمہاری خلافت سے راضی نہیں ہیں اور تمہاری باتوں میں کتنا اختلاف ہے تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ مومنین تم پر طعن کررہے ہیں اور تم کہہ رہے ہو کہ مومنین تمہاری طرف مائل ہوئے ہیں،بہرحال جو کچھ تم ہمیں دے رہے ہو اگر تمہارا حق ہے توا پنے پاس ہی رکھو اور اگر مومنین کا حق ہے تو تم فیصلہ کرنےوالے کون ہو اور اگر ہمارا حق ہے تو ہم اپنے حصے تقسیم نہیں کریں گے۔

تم جو یہ کہہ رہے ہو کہ پیغمبرؐ ہم میں سے بھی ہیں اور تم میں سے بھی تو پیغمبرؐ اس درخت سے ہیں جس کی ہم شاخیں ہیں لیکن تم پڑوسی ہو،(1)

امر خلافت میں فضل بن عباس کا نظریہ

فضل بن عباس نے قریش پر احتجاج کرتے ہوئے فرمایا((اے قریش کے لوگو!خصوصاً اے بنی تمیم!اس میں کوئی شک نہیں کہ تم نے نبی کی خلافت ہتھیا لی لیکن ہم لوگ تم سے زیادہ مستحق ہیں اگر ہم جو خلافت اہل ہیں خلافت طلب کرتے تو لوگوں کو دوسروں کے مطالبہ سے زیادہ ہمارا مطالبہ ناگوار گذرتا اس لئے کہ لوگ ہم سے حسد کرتے ہیں اور کینہ رکھتے ہیں۔لیکن ہم خلافت کا مطالبہ جو نہیں کر رہے ہیں اس کی ایک وجہ ہے وہ یہ کہ:ہمارا قائد نے ایک عہد کیا ہوا ہے جو انھیں طلبِ خلافت سے روک رہا ہے))(2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:1ص:221،الامامت و السیاست ج:1ص:18علی بن ابی طالبؑ کی بیت کیسے ہوئی تھی،تاریخ یعقوبی ج:2ص:126،125 واقعہ سقیفہ بنی ساعدہ اور ابوبکر کی بیعت

(2)شرح نہج البلاغہ ج:6ص:21


امر خلافت میں عبداللہ بن عباس کا موقف

اس موضوع پر عبداللہ بن عباس اور عمر بن خطاب سے اکثر گفتگو ہوئی ہے ان میں سے ایک مکالمہ حاضر ہے:

1۔طبری،ابن عباس سے وہ عمر سے روایت کرتے ہیں کہ عمر نے ان سے پوچھا اے ابن عباس تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری قوم کو تم سے محمدؐ کے بعد کس چیز نے روکا ابن عباس کہتے ہیں کہ مجھے اس سوال کا جواب دینا گوارہ نہ ہوا،میں نے کہا کہ اگر میں نہیں جانتا تو امیرالمومنین مجھے بتادیں عمر نے کہا:لوگوں کو یہ بات پسند نہ آئی کہ ایک ہی خاندان میں نبوت اور خلافت جمع ہو اور تم اپنی قوم کے سامنے فخر کرنے لگو اس لئے قریش نے خلافت اپنے لئے چن لی پس انھوں نے صحیح کیا اور ٹہر گئے،ابن عباس کہتے ہیں مٰں نے جواب دیا امیرالمومنین کو قیش نے اپنے لئے چن لیا اور انھوں نے صحیح کیا لیکن اگر اس کا انتخاب کیا ہوتا جسے اللہ نے اختیار کیا ہے تو زیادہ بہتر ہوتا نہ کوئی رد کرتا نہ حسد کرتا آپ نے جو یہ فرمایا کہ انھوں نے یعنی قریش نے کراہت محسوس کی کہ نبوت و خلافت ایک ہی خاندان میں جمع ہو تو اللہ نے کراہت کرنےوالوں کا تعارف بھی کرادیا ہے اور انجام بھی بتادیا ہے،ارشاد ہوتا ہے کہ((یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی نازل کی ہوئی باتوں کو مکروہ سمجھتے ہیں اس لئے ان کے اعمال حبط کردئے گئے))۔

عمر بولے میں نے سنا ہے کہ تم کہتے ہو،لوگوں نے ہم سے خلافت حسد اور ظلم سے چھین لی،ابن عباس نے کہا اے امیرالمومنین ظلم کے بارے میں تو عالم جاہل سب جانتے ہیں حسد کے بارے میں کہنا ہے کہ ابلیس نے ہمارے جد آدم پر حسد کیا اور ہم لوگ آدم کی اولاد میں سے ہیں اگر ہم بھی محسود ہوئے تو کیا ہوا؟(1)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)تاریخ طبری ج:3ص:289،موسسہ اعلمی بیروت،اس جگہ پر تاریخ طبری کے کمپیوٹری پروگرامؐ الالفیۃ))میں حذف ہے۔


2۔ابن ابی حدید نے عبداللہ بن عمر سے اس گفتگو کی حکایت کی ہے جو ابن عباس اور عمر کے درمیان ہوئی تھی دونوں بیانوں میں تھوڑا سا اختلاف بھی ہے اور کچھ اضافہ بھی،اضافہ یہ ہے کہ عمر نے تنگ آکر کہا کہ ابن عباس ہوش میں آؤ تم بنوہاشم کے دلوں نے قریش کی حکومت سے کینہ اور حسد کا بیڑا اٹھایا ہے تمہارے دل کینہ و حسد سے خالی ہو ہی نہیں سکتے،ابن عباس نے کہا امیرالمومنین ذرا زبان سنبھال کے اس لئے کہ بنوہاشم کے دلوں میں پیغمبرؐ خدا کابھی دل شامل ہے جسے اللہ نے پاک و پاکیزہ بنایا ہے اور بنوہاشم میں وہ اہل بیتؑ بھی ہیں جن کے بارے میں اللہ نے ارادہ کیا ہے کہ انھیں پاک رکھے اور ان سے ہر رجس کو دور رکھے اور ایسا پاک رکھے جیسا پاک رکھنے کا حق ہے اور آپ نے جو کینہ پروری والی بات کہی ہے تو اس کا دل کینے سے کیسے پاک رہےگا دیکھ رہا ہے کہ اس کی چیز دوسرے کے قبضہ میں ہے اور اس سے غصب کرلی گئی ہے؟

عمر نے کہا:ابن عباس تمہارے بارے میں کچھ سن رہا ہوں تم یہ کہتے پھر رہے ہو کہ یہ تمہارا حق تھا جو تم پر ظلم و جور کر کے چھین لیا گیا،ابن عباس نے جواب دیا کہ آپ جو حسد والی بات کہہ رہے ہیں تو ہم آدمؑ کی اولاد ہیں آدمؑ سے ابلیس نے حسد کیا حسد نے اس کو جنت سے نکال دیا گیا ہم آدمؑ کی اولاد ہیں محسود ہونا ہماری میراث ہے رہ گیا ظلم کا سوال تو امیرالمومنین آپ جانتے ہیں کہ حقدار کون ہے؟(1)

3۔دوسری حدیث میں ابن عباس اور عمر کی گفتگو کو ابن ابی الحدید نے مالی ابوجعفر محمد بن حبیب سے نقل کیا ہے ابن عباس کہتے ہیں کہ ایک دن میں عمر کے پاس پہنچا تو عمر کہنے لگے اے ابن عباس یہ شخص عبادت میں اتنی کوشش کررہا ہے کہ لگتا ہے کہ ریا کاری کررہا ہے میں نے پوچھا وہ کون ہے؟کہنے لگے تمہارا چچازاد بھائی یعنی علیؑ،میں نے کہا وہ ریا کاری نہیں کرتے اے امیرالمومنین عمر نے کہا وہ لوگوں کے سامنے خود کو سزاوار خلافت تو ظاہر کررہے ہیں میں نے کہا ظاہر کرنا کیا مطلب؟اور ان کو ظاہر کرنے کی کیا ضرورت ہے؟پیغمبرؐ تو ان کو خلافت دے کر ہی گئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:12ص:54


تھے لیکن آپ نے ان سے چھین لیا عمر نے کہا:اصل بات یہ ہے کہ وہ ابھی جوان اور کم عمر تھے عرب نے ان کے سن کو چھوٹا سمجھا اب وہ کامل ہوچکے ہیں کیا تم جانتے نہیں کہ اللہ نے کسی نبیؐ کو مبعوث نہیں کیا مگر چالیس سال کا ہونے کے بعد میں نے کہا اے امیرالمومنین لیکن جو لوگ صاحبان عقل و فہم ہیں وہ تو علیؑ کو اس دن سے کامل سمجھ رہے ہیں،جب اسلام کا منارہ بلند ہوا لیکن علیؑ کو محروم بھی سمجھتے ہیں(1) اس کے علاوہ بھی کئی بار عمر بن خطاب اور عبدالہ بن عباس سے گفتگو ہوئی جس کو عمر کی رائے پیش کرنے کے وقت لکھا جائےگا۔4۔عتبیٰ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ جب سفر کربلا میں امام حسینؑ مکہ پہنچے اور وہاں حج کو عمرہ سے بدل کر کوفہ جانے لگے تو اس وقت ابن زبیر اور ابن عباس ایک دن اکھٹا ہوئے ابن عباس نے ابن زبیر کے پہلو میں ٹہوکا مارا اور یہ شعر مقام مثال میں پڑھا۔ترجمہ شعر:اے چنڈول(قنبرہ)اپنے گھوسلے میں خوشی سے بیٹھ کہ اب فضا خالی ہوگئی،خوب چہہ چہہ کر اور جتنا چاہے چونچ مار اطمینان سے انڈے دے۔اے ابن زبیر!خدا کی قسم امام حسینؑ چلے گئے اور مکہ تمہارے لئے خالی ہوگیا،ابن زبیر نے کہا،خدا کی قسم تم(بنی ہاشم)کچھ نہیں سوچتے مگر یہ کہ خلافت صرف تم لوگوں کا حق ہے،ابن عباس نے کہا سنو!سوچتا وہ ہے جس کو شک ہو ہم لوگ تو یقین رکھتے ہیں۔(2)

5۔یہ ابن عباس ہی تھے جو خطبہ شقشقیہ کے ناتمام رہ جانے پر بول اٹھے تھے کہ مجھے کسی کلام کے نامکمل رہ جانے پر اتنا افسوس نہیں ہوا جتنا اس کلام کے نامکمل رہنے پر افسوس ہے،امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام اس خطبہ میں بات کو وہاں تک نہیں پہنچا سکے جہاں تک پہنچانے کا ارادہ رکھتے تھے۔(3) یہ بات سب کو معلوم ہے کہ خطبہ شقشقیہ میں عمر اور ابوبکر کی بھرپور شکایت کی گئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:12ص:80

(2)سیرہ اعلام النبلاءج:3ص:354،حالات عبداللہ ابن عباس شرح نہج البلاغہ ج:20ص:134

(3)نہج البلاغہ ج:1ص:37


خطبہ شقشقیہ مقام تنقید میں

ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے استاد ابوالخیر مصدق بن شبیب واسطی نے 603سنہمیں کہا کہ میں نے شیخ ابومحمد عبداللہ بن احمد جو ابن خشاب کے نام سے مشہور ہیں ان کے سامنے یہ خطبہ پڑھا تو جب میں اس منزل پر پہنچا(کہ ابن عباس کو خطبہ نامکمل رہنے کا افسوس رہا)ابن خشاب نے کہا اگر میں ہوتا اور ابن عباس کو یہ کہتے ہوئے سنتا تو یہ ضرور پوچھتا کہ کیا تمہارے چچازاد بھائی کے دلم یں کچھ اور بھی باقی تھا جو اس خطبہ مٰں نہیں کہہ سکے؟(کہ تم کو افسوس ہورہا ہے کہ جس منزل تک علیؑ خطبہ کو پہنچانا چاہتے تھے نہیں پہنچاسکے؟)خدا کی قسم انھوں نے اولین کو چھوڑا نہ آخرین کو اور ان کے دل میں جس کے بارے میں جو کچھ تھا وہ کہہ ڈالا سوائے پیغمبرؐ کے تذکرہ کے۔

مصدق کہتے ہیں کہ ابن خشاب پر مذاق اور مسخرے قسم کے آدمی تھے،مصدق کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ خطبہ امیرالمومنینؑ کا نہیں ہے؟بلکہ من گھڑت ہے،ابن خشاب بولے مجھے اسی طرح اس کے کلام علیؑ ہونے کا یقین ہے جیسے تمہارے مصدق ہونے کا،میں نے کہا لوگ کہتے ہیں یہ سید رضیؒ کا کلام ہے،وہ کہنے لگے اچھا بس خاموش رہو!رضی ہوں یا غیر رضی،کسی کا اتنا بڑا کلیجہ نہیں نہ کسی کو یہ اسلوب میسّر ہے))ہم نے رضی کے رسائل بھی پڑھے ہیں اور ان کے کلام منشور کا لہجہ ار طیرقہ ایراد بھی خوب پہچانتا ہوں اس کلام سے اس کا کوئی میل نہیں،پھر بولے میں نے اس خطبہ کو ان کتابوں میں دیکھا ہے جو رضی کی پیدائش سے دو سو سال پہلے لکھی گئی ہیں میں نے اس انداز تحریر میں اس کو دیکھا ہے جس کو میں خوب پہچانتا ہوں میں اس دور کے علم اور اہل ادب کے انداز تحریر سے بھی واقف ہوں جو رضی کے والد ابواحمد نقیب کی پیداےش کے پہلے موجود تھے۔

مصدق کہتے ہیں میں نے کہا کہ میں نے اس خطبہ کو اپنے استاد ابوالقاسم بلخی کی تصنیفات میں دیکھا،یہ ابوالقاسم بغدادی معتزلیوں کے امام ہیں یہ معتمد عباسی کے دور حکومت میں تھے،وہ دور علامہ رضی کے بہت پہلے کا زمانہ تھا،اس خطبہ کو میں نے شیعوں کے مناظر ابوجعفر بن قبہ کی کتاب میں بھی


دیکھا ہے ان کی یہ کتاب بہت مشہور ہے اور اس کا نام کتاب الانصاف ہے،یہ ابوجعفر،ابوالقاسم بلخی کے شاگرد تھے اور علامہ رضی کی پیدائش کے بہت پہلے انھوں نے دنیا کو چھوڑ دیا تھا۔(1)

امیرالمومنین علی علیہ السلام کے خاص اصحاب اور امر خلافت

امیرالمومنین علیہ السلام کے خاص اصحاب جو گروہ صحابہ کے بھی نمایاں لوگ تھے انھوں نے سقیفہ کے دن بھی اور سقیفہ کے بعد بھی اکثر فرمایا کہ خلافت صرف علیؑ کا حق ہے۔

اس سوال کے جواب کی ابتدائی عبارتوں میں کچھ کلام گذرچکا ہے،چوتھے سوال کے جواب میں بھی کچھ باتیں عرض کی جائیں گی اس وقت ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ کلام پیش کیا جائے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اصحاب خاص خلافت سے راضی تھے نہ اس کو صحیح سمجھتے تھے۔

صادق اللہجہ ابوذر اور امر خلافت

حافظ ابن مردویہ اپنی کتاب(جو عبداللہ شافعی کے مناقب کی رد میں لکھی گئی ہے اس کے صفحہ 87پر مرفوعاً اپنی سند کے ساتھ داؤد بن ابی عوف سے،انھوں نے معاویہ بن ثعلبہ لیثی سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا:کیا میں تم سے ایسی حدیث بیان کروں جس سے تم اختلاف نہ کرو؟میں نے کہا:بسم اللہ،تو انھوں نے کہا ابوذرؒ جب بیمار ہوئے تو علیؑ کو وصی بنایا،ایک آدمی ابوذرؒ کی عیادت کو پہنچا،اس نے کہا آپؒ نے امیرالمومنین عمر سے کیوں نہ وصیّت کی،علیؑ سے وصیّت کرنے سے تو بہتر ہی ہوتا،ابوذرؒ کہنے لگے(تم ہی تو کہتے ہو کہ امیرالمومنین سے وصیّت کرنی چاہئے تھی تو)جو حقیقت میں امیرالمومنین ہے اس سے میں نے وصیّت کردی،خدا کی قسم وہی امیرالمومنینؑ ہیں اور وہی وہ بہار ہیں.جہاں سکون ملاتا ہے،اگر وہ تم سے جدا ہوجائیں تو لوگ بھی تمہارا انکار کردیں گے اور زم تمہارا انکار کردےگی،اس آدمی نے کہا:ابوذر!میں جانتا ہوں کہ جو پیغمبرؐ کا محبوب تر ہے وہی آپ کا بھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:1ص:205۔206


محبوب تر ہے ابوذر نے کہا:تم نے بالکل صحیح سنا ہے،میں نے پوچھا کہ پھر اس وقت آپ کا سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟آپ نے فرمایا:یہی بزرگ جو مظلوم اور خانہ نشین ہے اور جس کا حق چھین لیا گیا یعنی علیؑ ابن ابی طالب۔(1)

حذیفہ اور امر خلافت

ابوشریح سے روایت ہے کہ:حذیفہ مدائن میں تھے ہم لوگ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ امام حسنؑ اور عمار کوفہ سے آئے اور لوگوں کو علیؑ کے لشکر میں شامل ہو کر جنگ کرنے پر ابھارنے لگے،حذیفہ نے کہا اے لوگو!امام حسنؑ اور عمار تمہیں علیؑ کے لشکر میں شامل ہو کر جنگ کرنے پر ابھارنے لگے،حذیفہ نے کہا اے لوگو!امام حسنؑ اور عمار تمہیں علیؑ کے حق میں لڑنے کے لئے بلانے آئے ہیں،سنو!جو حقیقی امیرالمومنین سے ملاقات کرنا چاہتا ہے وہ علیؑ کے ساتھ ہوجائے۔(2)

شوریٰ کے متعلق بعض صحابہ کا موقف

شعبی کی کتاب شوریٰ و مقتل عثمان کے حوالہ سے ابن ابی الحدید نے شوریٰ کے بارے میں لکھا ہے،شعبی کہتے ہیں اس کی روایت ابوبکر احمد بن عبدالعزیز جوہری نے اپنی کتاب((السقیفہ))کے زیادات میں کی ہے۔

ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ عثمان کی بیعت کئے بعد جو واقعات ہوئے ان میں سے ایک واقعہ یہ بھی ہے((عوانہ نے یزید بن جریر سے انھوں نے شعبی سے انھوں نے شقیق بن مسلمہ سے روایت کی ہے کہ بیعت عثمان کے بعد مولائے کائناتؑ جب اپنے قافلے میں پہنچے تو آپ نے قبیلہ بنوہاشم کو خطاب کر کے فرمایا:اے عبدالمطلب کے بیٹو!تمہاری قوم نے تم پر اسی طرح زیادتی کی جس طرح نبیؐ کی حیات میں کرتے تھے اگر تمہاری قوم اطاعت بھی کرےگی تو تمہیں امیر ہرگز نہیں بناسکتی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)ملحقات احقاق ج:8ص:679،الباب المتم للعشرین:الثالث مارواہ ابوذر

(2)انساب الاشراف ج:2ص:366،حالات امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام میں۔


خدا کی قسم یہ لوگ حق کی طرف بغیر تلوار کے آہی نہیں سکتے،اتنے میں عبداللہ بن عمر بن خطاب وہاں پہنچے اور کہنے لگے،ابوالحسنؑ کیا آپ بعض کو بعض سے لڑانا چاہتے ہیں،آپ نے فرمایا وائے ہو تجھ پر،تو چپ رہ اگر تیرے باپ نے میرا حق نہیں مارا ہوتا تو آج عثمان کی ہمت نہیں تھی کہ ہم سے لڑتا اور نہ ابن عوف کی اتنی ہمت تھی کہ وہ مجھ سے جھگڑا کرتا،یہ سن کر عبداللہ بن عمر فوراً کھڑا ہوگیا اور باہر نکل گیا،شعبی کہتے ہیں کہ:دوسرے دن مقدادؒ نکلے اور عبدالرحمٰن بن عوف سے ملے ان کا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگے تم نے جو کچھ کیا ہے اگر اس کا مقصد ذات باری تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے تو اللہ تمہیں دنیا و آخرت میں ثواب دے اور اگر تم نے محض دنیا کے لئے کیا ہے تو اللہ تہمارے مال میں اضافہ کرے یہ سن کر عبدالل کا نپ گئے اور بولے مقداد خدا پر رحم کرے سنو تو سہی مقداد نے کہا خدا کی قسم میں کچھ نہیں سنوں گا اور ان کا ہاتھ پکڑ کے کھینچتے ہوئے مولائے کائناتؑ کے پاس لائے،جناب امیرالمومنینؑ سے کہا آپ اٹھیں قتال کریں تا کہ ہم بھی آپؑ کے ساتھ آپ کی قیادت میں قتال کریں۔مولائے کائناتؑ نے فرمایا خدا تم پر رحم کرے،کس کے سہارے پر قتال کروں؟اتنے میں عمار آگئے اور آواز دی((اے اسلام کی طرف سے فریاد کرنےوالے اٹھ اور فریاد کر،معروفات مرگئے اور منکرات ظاہر ہوگئے))(ترجمہ شعر)خدا کی قسم کاش میرے مددگار ہوتے تو میں ان(غاصبوں)سے جنگ کرتا اگر ایک آدمی بھی ان سے جنگ کرنے کو اٹھتا تو خدا کی قسم میں دوسرا ہوتا،مولانئے کائنات نے فرمایا اے ابوالیقظان(عمار کی کنیت)خدا کی قسم ان کے خلاف ہمارے پاس مددگار نہیں ہیں اور میں تم لوگوں کو تکلیف مالایطاق نہیں دینا چاہتا پھر آپ اپنے گھر ہی میں بیٹھے رہے اور آپ کے پاس آپ کے اہل بیتؑ کے چند افراد تھے،عثمان کے خوف سے آپ کے پاس کوئی نہیں آتا تھا۔(1)

ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ عوانہ نے کہا ان سے اسماعیل نے کہا ان سے شعبی نے کہا کہ مجھ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:9ص:54۔55


سے عبدالرحمٰن بن جندب نے کہا انھوں نے اپنے باپ جندب بن عبداللہ ازدی کے حوالہ سے نقل کیا کہ جس دن عثمان کی بیعت ہوئی میں مدینہ میں ہی تھا میں آکر مقداد بن عمرو کے پاس بیٹھ گیا مقداد کہہ رہے تھے خدا کی قسم اس گھر کے رہنےوالو!اہل بیتؑ پر جیسی مصیبت آئی کسی گھر پر ویسی مصیبت نہیں آئی،عبدالرحمٰن بن عوف وہیں بیٹھے تھے مقداد اس جملہ سے تمہارا کیا مطلب ہے؟مقداد نے کہا میں اس گھروں والوں کو محض محبت پیغمبرؐ کی وجہ سے چاہتا ہوں،مجھے قریش پر تعجب ہورہا ہے کہ وہ پیغمبرؐ کا حوالہ دیکر لوگوں پر اپنی فضیلت ظاہر کرتے ہیں اور ان کے اہل بیتؑ سے نبیؐ کا اقتدار اور ان کا حق چھین لیتے ہیں،عبدالرحمٰن نے کہا بھئی میں نے تم لوگوں کے لئے کوئی کوشش اٹھا نہیں رکھی،مقداد بولے تم نے ایسے مرد کو چھوڑ دیا ہے جو حق کی بنیاد پر حکم دینےوالوں میں سے ہے اور حق کی بنیاد پر عدالت کرنےوالوں میں سے ہے خدا کی قسم اگر میں قریش کے خلاف مددگار پاتا تو ان سے ضرور جنگ کرتا جیسے بدر و احد میں ان سے لڑا تھا،عبدالرحمٰن ڈرگئے بولے تمہاری ماں تمہارے ماتم میں بیٹھے یہ باتیں اور لوگوں سے نہ کہنا دوسرے لوگ یہ کلام سنیں بھی نہیں،مجھے خوف ہے کہ تم فتنہ پردازی اور تفرقہ انگیزی کی طرف جارہے ہو!مقداد نے کہا:جو حق،اہل حق اور صاحبان امر کی طرف بلاتا ہے وہ اہل فتنہ نہیں ہوتا عبدالرحمٰن!صاحب فتنہ وہ ہے جو لوگوں کو باطل میں ڈبودے اور خواہش نفس کو حق پر ترجیح دے پس عبدالرحمٰن کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔۔پھر وہ عبدالرحمٰن کے پاس سے اٹھے اور چلے گئے،جندب بن عبداللہ کہتے ہیں میں مقداد کے پیچھے پیچھے چلا اور میں نے ان سے کہا اے بندہ خدا میں تمہارا مددگار ہوں،مقداد نے کہا خدا تم پر رحم کرے،یہ کام دو تین آدمیوں کے بس کا نہیں ہے جندب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں اسی وقت مولائے کاتناتؑ کی خدمت میں پہنچا،جب میں آپ کے پاس بیٹھ گیا تو میں نے عرض کیا اے ابوالحسنؑ!آپ کی قوم نے خلافت آپ سے چھین کر آپ کو کتنا نقصان پہنچایا ہے،آپ نے فرمایا:صبر جمیل ہی مناسب ہے اور اللہ ہی سے مدد مانگی جاتی ہے میں نے کہا لیکن آپ بھی بڑے صابر ہیں فرمایا صبر نہ کروں تو کیا کروں؟میں نے کہا کہ میں ابھی مقداد بن عمرو اور عبدالرحمٰن کے پاس بیٹھا تھا وہاں ان لوگوں مٰں اس طرح کی بحث ہوئی میں نے پوری بات


آپ کو بتادی آپ نے فرمایا:مقداد تو سچ کہہ رہے ہیں لیکن میں کیا کروں؟میں نے عرض کیا:آپ لوگوں تک اپنی بات پہنچائیں اور اپنی طرف انھیں متوجہ کریں،آپ لوگوں کو بتائیں کہ آپ نبیؐ کی خلافت کے سب سے زیادہ حق دار ہیں اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کے خلاف مظاہرہ کرنےوالوں کے مقابلے میں لوگ آپ کی مدد کریں،اگر سو میں سے دس آدمی بھی آپ کی تائید کرتے ہیں تو ان کو لیکر آپ دوسروں پر سختی کریں،اگر لوگ آپ کے ساتھ آجاتے ہیں تو ہمارا مقصد یہی ہے ورنہ آپ ان سے جنگ کریں،آپ صاحب عذر ہوں گے چاہے آپ شہید ہوجائیں یا باقی رہ جائیں،خدا کے نزدیک آپ کی حجت بلند ہی رہےگی آپ نے فرمایا:جندب کیا تم امید کرتے ہو کہ دس میں سے ایک آدمی بھی میری بیعت کرےگا؟میں نے کہا:مجھے تو یہی امید ہے،فرمایا((خدا کی قسم میں سمجھتا ہوں کہ سو میں سے ایک آدمی بھی میری بیعت نہیں کرےگا(تم دس فیصد امید کرتے ہو مجھے ایک فیصد کی بھی امید نہیں ہے)سنو!میں تمہیں بتاتا ہوں،حق یہ ہے کہ لوگ قریش کے بارے میں سوچتے ہیں کہ قریش محمدؐ کی قوم و قبیلہ والے ہیں لیکن قریش کہتے ہیں کہ آل محمد کو لوگوں پر نبوت کی وجہ سے فضیلت حاصل ہے،وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ قریش میں آل محمدؐ ہی اس امر خلافت کے حقدار ہیں نہ کہ دوسرے لوگ،اگر آل محمدؐ حاکم ہوگئے تو پھر ان کے ہاتھ سے حکومت کبھی نکالی ہی نہیں جاسکتی البتہ اگر دوسروں کے ہاتھ میں حکومت رہی تو قریش بھی اس میں حصہ دار ہوتے رہیں گے،خدا کی قسم لوگ دل سے تو ہمارا حق دینے کو بھی تیار نہیں ہوں گے))میں نے عرض کیا اے پیغمبرؐ کے چچازاد بھائی میں آپ پر قربان ہوجاؤں کیا آپ کی گفتگو کا وہاں اعلان کردوں؟اور لوگوں کو آپ کی طرف دعوت دوں؟آپ نے فرمایا ابھی اس کا وقت نہیں آیا ہے جندب کہتے ہیں،پھر میں عراق میں آگیا اور مسلسل لوگوں سے فضائل علیؑ بیان کرتا رہا مجھے کوئی آدمی ایسا نہیں ملا جو یہ بتاتا کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اس کو وہ ناگوار سمجھ رہا ہے یا اچھا مگر یہ کہنےوالے ضرور ملے کہ جندب یہ باتیں چھوڑو،ایسی باتیں کرو جو تم کو فائدہ پہنچائیں،میں نے کہا یہی باتیں توہیں جو تمہیں اور مجھے دونوں کے لئے فائدہ بخش ہیں،یہ سن کر لوگ میرے پاس سے اٹھ جاتے تھے اور مجھے تنہا چھوڑ کے چلے جاتے تھے۔


ابوبکر احمد بن عبدالعزیزی جوہری نے یہ اضافہ کیا ہے کہ،جندب نے کہا میری یہ باتیں ولید بن عقبہ تک پہنچی جو اس وقت ہمارا حاکم تھا،اس نے مجھے پکڑ کر بند کردیا،پھر میرے بارے میں کچھ لوگوں کی سفارش پہنچی تو مجھے رہا کردیا۔

اور جوہری روایت کرتے ہیں کہ عمار یاسر نے بیعت عثمان والے دن آواز دی اے مسلمانو!(ایک زمانہ تھا کہ ہم)ہم موجود تو تھے لیکن ہماری تعداد بہت کم تھی جس کی وجہ سے ہم بول نہین سکتے تھے تو اللہ نے اپنے دین کے ذریعہ ہمیں عزت دی اور اپنے رسولؐ کے ذریعہ ہمیں مکرم کیا،پس خدا کی حمد ہے اے قریش کے لوگو!آخر تم اپنے نبیؐ کے اہل بیتؑ کے ہاتھوں سے خلافت لیکے کبھی اس ہاتھ میں اور کبھی اس ہاتھ میں کب تک گھماتے رہوگے مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں خدا تم سے اس کو چھین کر دوسروں کو نہ دیدے جس طرح تم نے اس کو اہل حق سے چھینا ہے اور نااہلوں کےحوالے کردیا ہے۔

پس ہاشم بن ولید بن مغیرہ کہنےلگا اے سمیہ کے بیٹے تو بہت بڑھ بڑھ کے باتیں کررہا ہے تو اپنی قدر نہیں پہچانتا تو کون ہے قریش کے بارے میں حکم لگانےوالا؟تجھے قریش کے امر اور ان کی امارت سے کیا مطلب؟خاموش ہوجا،اس کے بعد تو قریش کا ہر آدمی بولنےلگا اور عمار کو ڈانٹنے لگا اور ان کو جھڑکیاں دینے لگا عمار نے کہا!الحمدللہ کہ اہل حق کو ہمیشہ ذلیل کیا گیا یہ کہہ کے اٹھے اور چلے گئے(1)

میں نے اس گفتگو کو اتنا طویل اس لئے کیا ہے کہ صدر اول میں جو عام واقعات رونما ہوئے ان کی واضح تصویر اس گفتگو میں ملتی ہے اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ صاحبان ذوق کے لئے تاریخوں اور حدیثوں میں سے اس طرح کے دوسرے واقعات و شواہد ڈھونڈھنے میں آسانی ہو۔

چوتھے سوال کے جواب میں نص کے بارے میں مزید بعض صحابہ کا نظریہ پیش کیا جائےگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:9ص:56۔58


بعض اعلام جمہور کی تصریحات

بعض اعلام جمہور اہل بیتؑ کے مخالف تو ہیں لیکن کبھی کبھی ان کی زبان سے بھی حق بات نکل ہی گئی ہے،انھوں نے عمداً یا سہواً،اکثر اعتراف کیا ہے کہ اہل بیتؑ مظلوم ہیں انھیں ستایا گیا اور ان کا حق غصب کیا گیا۔

عمر بن خطاب کا اعتراف حق

1۔ابن ابی الحدید،جوہری کی کتاب السقیفہ کے حوالہ سے اور موفقیات زبیر بن بکار کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ ابن عباس نے کہا:میں عمر کے ساتھ مدینہ کی گلی میں ٹہل رہا تھا،انھوں نے میرا ہاتھ پکڑ رکھا تھا،دفعتاً عمر کہنے لگےابن عباس میں تمہارے صاحب کو نہیں سمجھتا(علیؑ کو نہیں سمجھتا)مگر مظلوم،میں نے سونچا کہ بخدا یہ کہیں حق بات کہنے میں مجھ سے سبقت نہ کرجائیں،میں نے فوراً کہا،امیرالمومنین پھر ان کی ظلامت(حق)ان کو واپس کردیں تو یہ سنکر عمر نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے کھینچ لیا اور کچھ دور تک بڑبڑاتے ہوئے آگے بڑھ گئے،پھر رک گئے تو میں ان سے ملحق ہوگیا،عمر بولے،ابن عباس میرا خیال ہے کہ قوم نے تمہارے صاحب(علیؑ)کو اس لئے منع کیا کہ انھوں نے علیؑ کو چھوٹا سمجھا،میں نے اپنے دل میں کہا یہ تو پہلی والی بات سے بھی غلط ہے،پھر میں نے کہا((امیرالمومنین!لیکن اللہ نے تو انھیں چھوٹٓ نہیں سمجھا بلکہ سورہ برات(توبہ)کی تبلیغ کی ذمہ داری ابوبکر سے لیکر علیؑ کے ذمہ کردی))۔(1)

آپ نے عمر کے جملوں پر غور کیا!انھوں نے ابن عباس سے یہ نہیں کہا کہ تمہارے صاحب تو اس فیصلہ پر راضی اور خلافت کا اقرار کرتے ہیں پھر ظلامت کیسی جس کو واپس کیا جائے۔

ابن عباس سے ایک روایت اور بھی ہے کہ جب وہ(ابن عباس)عمر کے ساتھ شام کے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:6ص:45،ج12ص:46،تھوڑے سے فرق کے ساتھ


لئے نکلے تھے تو کہتے ہیں عمر نے مجھ سے کہا اے ابن عباس میں آپ سے آپ کے ابن عم کی شکایت کرتا ہوں میں نے ان سے کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ شام چلیں لیکن وہ شام جانے پر تیار نہیں ہوئے،دیکھتا ہوں کہ وہ ہمیشہ کچھ سونچتے رہتے ہیں،آپ بتاسکتے ہیں کہ وہ کس چیز کے لئے فکرمند ہیں؟میں نے کہا آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ان کے فکر کا سبب کیا ہے؟کہنے لگے میرا خیال ہے کہ وہ خلافت کے نہیں ملنے کی وجہ سے غمگین ہیں،میں نے کہا کہ یہی بات ہے،ان کا خیال ہے کہ پیغمبرؐ نے چاہا تھا کہ وہی خلیفہ ہوں،عمر نے کہا ابن عباس مانتا ہوں کہ پیغمبرؐ نے انھیں امیر بنانا چاہا تھا لیکن اس سے کیا ہوتا ہے؟حق تو یہ ہے کہ نبیؐ نے چاہا اور خدا نے نہیں چاہا۔(1) 2۔دوسری روایت میں ہے کہ عمر نے کہا پیغمبرؐ تو چاہتے ہی تھے کہ علیؑ خلیفہ ہوں لیکن میں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو فتنہ کے خوف کی وجہ سے روک دیا،مجھے ڈر ہوا کہ شیرازہ اسلام بکھر جائےگا،پیغمبرؐ بھی میرے دل کی بات جان گئے اور خاموش ہوگئے،نتیجہ میں وہی ہوا جس کا اللہ نے حتمی فیصلہ کیا تھا۔(2)

3۔ابن عباس کی گفتگو تیسیری بار عمر سے ہوئی،ابن عباس کہتے ہیں کہ عمر نے میری انگلویں کو اپنی انگلیوں میں پھنسار رکھا تھا اور مجھے لیکر چلے جارہے تھے یہاں تک کہ قبرستان جنۃ البقیع میں پہنچ گئے،وہاں جاکے بوالے ابن عباس تمہارے چچازاد بھائی(علیؑ)خدا کی قسم سب سے زیادہ مستحق خلافت ہیں لیکن ہم ان سے دو باتوں کے بارے میں خوف زدہ ہیں،ابن عباس کہتے ہیں عمر نے ایسی بات کہی کہ میں خود کو وضاحت چاہنے سے نہیں روک سکا میں نے پوچھ ہی لیا امیرالمومنین وہ کونسی دو باتیں ہیں(جن کی وجہ سے علیؑ خلافت کے اہل نہیں ہیں)کہنے لگے کمسنی اور بنی عبدالمطلب سے ان کی محبت،ہم انھیں دو باتوں سے ڈرتے ہیں۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:12ص:78

(2)شرح نہج البلاغہ ج:12ص:79

(3)شرح نہج البلاغہ ج:2ص:57


4۔چوتھی گفتگو کا ذکر گذشتہ صفحہ میں کیا جاچکا ہے۔

5۔مغیرہ بن شعبہ کہتا ہے کہ میں عمر بن خطاب کے پاس بیٹھا تھا اور ہم دونوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہا اے امیرالمومنین کیا آپ کو ان لوگوں کے بارے میں بھی کچھ خبر ہے جو ہیں تو اصحاب پیغمبرؐ لیکن ان کا خیال ہے کہ ابوبکر نے اپنے لئے اور آپ کے لئے جو کچھ حاصل کیا وہ ان کا حق تھا ہی نہیں یہ کام کسی کے مشورے اور رائے سے نہیں ہوا،وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ چلو ایک معاہدہ کریں کہ اس طرح کی بات پھر نہ ہو!عمر نے اس سے پوچھا کہ وہ لوگ کہاں ہیں؟اس نے کہا طلحہ کے گھر میں،پس عمر نکلے میں(مغیرہ)بھی ان کے ساتھ نکلا،میں نے دیکھا کہ وہ سخت غصہ کے عالم میں مجھے دیکھ رہے تھے،جب ان لوگوں کے پاس پہنچے تو ان لوگوں کو بہت ناگوار ہوا اور وہ لوگ سمجھ گئے کہ ان کےآنے کی وجہ کیا ہے،عمر ان لوگوں کے سامنے کھڑے ہوئے اور بولے تم لوگ کیا باتیں کررہے تھے؟خدا کی قسم تم میں آپس میں محبت اس وقت تک ہو ہی نہیں سکتی جب تک کہ یہ چار چیزیں ایک دوسرے کو چاہنے نہ لگیں،انسان اور شیطان کہ شیطان انسان کو بہکاتا ہے اور انسان شیطان پر لعنت کرتا ہے،آگ اور پانی،کہ پانی آگ کو بجھاتا ہے اور آگ پانی کو جلاتی ہے،اب تمہیں وقت نہیں دیا جائےگا تمہارا وقت پورا ہوچکا ہے،بےوقوف کا وقت وہی ہے جب وہ خرج کرے،مغیرہ کہتا ہے کہ یہ سن کر لوگ اِدھر اُدھر ہوگئے(بکھر گئے)ہر ایک نے ایک الگ ہی راستہ اپنایا پھر عمر نے مجھ(مغیرہ)سے کہا کہ جا کے علیؑ کا پتہ کرو اور انھیں گرفتار کرکے میرے پاس لاؤ،میں نے کہا امیرالمومنین میں ایسا نہیں کرسکتا،علیؑ کہیں باہر گئے ہوئے ہیں،عمر نے کہا جاکے ان کا پتہ کرو ورنہ میں تم کو فلاں کا بیٹا کہوں گا،میں یہ سن کر وہاں سے چلا اور علیؑ کے پاس پہنچا میں نے کہا آپ اپنے امام کے حکم سے اپنی جگہ رکے رہیں اور سمجھداری سے کام لیں،وہ صاحب سلطنت ہیں ورنہ آپ بھی پچھتائیں گے اور وہ بھی پچھتائیں گے،اتنے میں عمر آگئے اور علیؑ سے کہنے لگے،بخدا یہ امر خلافت نہیں نکلا ہے مگر صرف آپ کے ہاتھ سے،آپ نے فرمایا:عمر ڈرو!کہیں ایسا نہ ہو کہ جس کی وجہ سے ہم تمہاری اطاعت کررہے ہیں وہی تمہارے لئے فتنہ بن جائے،عمر نے کہا آپ چاہتے ہیں کہ آپ فتنہ پرور


بنیں؟فرمایا نہیں،لیکن میں تمہیں وہ باتیں یاد دلا رہا ہوں جو تم بھولتے جارہے ہو،پس عمر میری طرف(مغیرہ کی طرف)متوجہ ہوئے اور کہنے لگے تم یہاں سے چلے جاؤ،تم نے مجھ سے غصہ میں جو کچھ سنا وہی کافی ہے تو میں قریب ہی میں جاکر چھپ گیا اور میں اس انتظار میں کھڑا تھا بس اب ان کے درمیان جھگڑا ہونا ہی چاہتا ہے تو میں نے دیکھا دونوں باتیں تو کررہے تھے لیکن آپس میں راضی ہی الگ رہے تھے نہ کہ غضبناک پھر میں نے دیکھا دونوں ہنستے ہوئے الگ ہوگئے عمر میرے پاس آگئے اور میں ان کے ساتھ چلنے لگا میں نے عمر پوچھا کہ خدا آپ کو بخشے:کیا آپ غصہ میں ہیں تو انہوں نے علیؑ کی طرف اشارہ کیا اور کہنے لگے:خدا کی قسم اگر اس آدمی کے اندر مسخرہ پن(معاذ اللہ)نہیں ہوتا تو مجھے اس کی ولایت میں ذرا بھی شک نہیں تھا اگر چہ اس کے لئے مجھے قریش کی ناک رگڑنی پڑتی۔(1)

خلافت کے بارے میں عثمان بن عفان کا نظریہ

6۔ابن عباس سے عثمان کی ایک لمبی گفتگو ہوئی،اس کو ابن ابی الحدید نے زبیر بن بکار کے حوالہ سے ان کی اسناد کے ساتھ لکھا ہے ایک حصہ ملاحظہ ہو،عثمان نے ابن عباس سے کہا میں آپ کی رشتہ داری اور اسلام دونوں کا واسطہ دیتا ہوں،خدا کی قسم میں مغلوب ہوگیا اور آپ لوگوں کے معاملے میں آزمائش میں پڑگیا،بخدا میں تو یہی چاہتا تھا کہ مجھے چھوڑ کے امر خلافت کے ذمہ دار آپ ہی لوگ ہوتے،آپ لوگ مجھ سے یہ بار لے لیتے اور میں آپ کے مددگاروں میں ہوتا،اس وقت آپ لوگوں کے ساتھ میں اس سے بہتر سلوک کرتا جو آپ لوگ ابھی مجھ سے کررہے ہیں،میں یہ تو جانتا ہوں کہ حکومت(خلافت)آپ لوگوں کا حق ہے لیکن آپ کی قوم نے آپ کو اس حق سے محروم رکھا اور آپ کو الگ رکھ کے دوسروں کو خلیفہ بنایا،مجھے نہیں معلوم کے خلافت کو آپ نے خود چھوڑ دیا یا آپ کی قوم نے آپ کو خلافت سے باز رکھا۔

------------------

(1)العقد الفرید ج:4ص:261-262


ابن عباس نے کہا:امیرالمومنین رک جایئے،ہماری قوم نے ہم سے خلافت کو جو الگ کیا اس کے پیچھے حسد کا جذبہ کار فرما تھا جو آپ اچھی طرح جانتے ہیں،ہماری قوم نے جو ہمارے ساتھ بغاوت کی وہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں اور ہماری قوم کے درمیان اللہ حاکم ہے۔(1)

معاویہ کا خط محمد بن ابی بکر کے نام

7۔نصر بن مزاحم کی روایت کے مطابق محمد بن ابی بکر نے معاویہ کو ایک خط لکھا جس میں انھوں نے معاویہ کو مولائے کائناتؑ سے لڑنے سے منع کیا اور مولائے کائناتؑ کی مخالفت سے روکا تھا،معاویہ نے اس خط کا جواب دیا،اس خط میں معاویہ نے اقرار کیا کہ عمر اور ابوبکر نے مولائے کائناتؑ پر زیادتی کی تھی،خط کی عبارت کا ترجمہ حاضر ہے،معاویہ بن ابی سفیان کی طرف سے اپنے باپ پر عیب لگانےوالے محمد بن ابی بکر کی خدمت میں عرض ہے کہ تمہارا خط ملا جس میں تم نے اللہ کو اہل سلطنت و اقتدار بتایا ہے اور یہ کہ اس نے اپنے نبیؐ کو منتخب کیا اور سلطنت و اقتدار کا اہل قرار دیا اس کے ساتھ ہی تم نے کچھ باتیں اپنی طرف سے بھی لکھی ہیں جنھیں تم نے وضع کیا ہے ان باتوں سے تمہاری رائے کی کمزوری ظاہر ہورہی ہے اور تمہارے باپ پر بھی کچھ الزامات آرہے ہیں تم نے اپنے خط میں ابوطالب کے بیٹے کو حقدار خلافت بتایا ہے اور ان کیا اور حجت کو کامیاب کیا،تو نبیؐ کو اٹھالیا،تہمارے باپ اور ان کے فاروق،سب سے پہلے انھیں دو آدمیوں نے علیؑ کا حق چھینا اور ان کی مخالفت کی اس بات پر دونوں کے دل ملے ہوئے تھے اور دونوں بالکل متفق تھے پھر انھوں نے علیؑ سے اپنے لئے بیعت مانگی تو علیؑ نے ان کی بیعت کرنے میں تاخیر کی اور ان کی کمزوریاں انھیں بتادیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:9ص:9


تو انھوں نے علیؑ کے بارے میں برے ادارے کئے اور بڑے بڑے پروگرام بنائے،پس علیؑ نے(مجبور ہوکے)ان کی بیعت کی اور(خلافت)ان کے پاس چھوڑ دی،وہ دونون اپنے امور میں علیؑ کو شریک نہیں کرتے تھے اور اپنے راز سے علیؑ کو مطلع نہیں کرتے تھے پھر ان کا تیسرا عثمان بن عفان کھڑا ہوا انھیں دونون کی دکھائی ہوئی راہ پر عثمان بھی چلتے تھے اور انھیں کی سیرت پر عمل کرتے تھے ان کی(عثمان کی)حکومت کی تمہید تمہارے باپ ہی نے کی تھی اور ان کی بادشاہت کی بنیاد تمہارے باپ ہی نے رکھی تھی تو اگر ہم لوگ صحیح راستے پر ہیں تو یہ راستہ تمہارے باپ کا ہے انھیں شرف اوّلیت حاصل ہے اور اگر ہم لوگ غلط راستے پر ہیں تو یہ راستہ تمہارے باپ ہی نے بنایا تھا ہم لوگ تو شریک کار ہیں ہم نے انھیں سے رہنمائی لی ہے اور انھیں کے کام کی اقتدار کی ہے،اگر تمہارے باپ نے علیؑ کی مخالفت ہم سے پہلے نہ کی ہوتی تو ہم ہرگز علیؑ کے مخالف نہ ہوتے اور ان کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے لیکن ہم نے تمہارے باپ کو دیکھا تو انھیں کے نقش قدم پر چل پڑے اور انھیں کے فعل کی اقتدار کرنے لگے،بھائی!پہلے تم اپنے باپ کی عیب چینی کرو اور جو سمجھ میں آئے کہو یا پھر سکوت اختیار کرو۔(1) طبری لکھتے ہیں:ہشام بن ابی مخنف نے کہا کہ یزید بن ظبیان ھمدانی نے کہا کہ محمد بن ابی ببکر نے معاویہ کو حکومت حاصل ہونے کے بعد ایک خط لکھا تھا،پھر اس خط و کتابت کا تذکرہ کیا جو معاویہ اور محمد بن ابی بکر کے درمیان ہوتی رہی،میں ان خطوں کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا،اس لئے کہ اس میں کچھ ایسی باتیں لکھی گئی ہیں جسکو عامہ(سنی)برداشت نہیں کرپائیں گے۔(2) محاد بن ابی بکر کی ولایت کے بارے میں ابن اثیر نے بھی کچھ اس طرح کی بات لکھی ہے۔(3) طبری اور ابن اثیر یہ دونوں حضرات اس خط و کتابت کی تکذیب بھی نہیں کرتے اور تذکرہ بھی نہیں کرتے،تذکرہ اس لئے نہیں کرتے کہ عامہ(سنی)اس کو برداشت نہیں کرپائیں گے،ان دونوں مورخون کے سامنے عامہ(سنیوں)کو راضی رکھنا زیادہ اہم ہے اور واقعات و حقائق کو پیش کرنے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)وقعۃ صفین ص:121،118،دوسرے مصادر و منابع بھی پائے گئے ہیں،شرح نہج البلاغہ ج:3ص:188۔انساب الاشراف ج:3ص:165۔167۔اور مروج الذھب ج:3ص:20۔22

(2)تاریخ طبری ج:3ص:68، (3)الکامل فی التاریخ ج:3ص:157،ولایت قیس بن سعد،


دوسری جگہوں پر معاویہ کا اعتراف حق

8۔نصر نے ایک خط کا تذکرہ کیا ہے جو معاویہ نے امیرالمومنین علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا اس میں وہ لکھتا ہے،اما بعد بے شک خداوند عالم نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اپنے علم سے مصطفیٰ کیا اور اپنے وحی کا امین بنایا اور اپنی مخلوقات پر پیغمبرؐ بنایا اور اللہ نے مسلمانوں میں سے نبیؐ کے مددگار چنے اور ان مددگاروں کے ذریعہ آپ کی مدد کی نبیؐ کے سامنے اور ان مسلمانوں کی منزلت اسلام کے اعتبار سے ہوئی پھر ان لوگوں میں افضل فی الاسلام خدا و رسولؐ کا سب سے زیادہ خیز خواہ وہ ہوا جو نبیؐ کے بعد خلیفہ ہوا اور پھر اس خلیفہ اور تیسرے نمبر پردہ مظلوم خلیفہ(عثمان)لیکن علیؑ آپ نے سب سے حسد کیا اور سب کے خلاف بغاوت کی ہم نے محسوس کیا کہ آپ اب بھی اس معاملے میں آمادہ جنگ ہیں اور آپ کی گفتگو میں لگاؤ ہے،آپ کی ٹھنڈی سانس اور خلفا کے لئے آپ کی سستی کو ہم اچھی طرح سمجھ چکے ہیں ہر خلیفہ کے پاس آپ کو اس طرح کھینچ کے لیجایا جاتا ہے جیسے سرکش اونٹ کو کھینچا جاتا ہے،یہاں تک کہ آپ کراہت کے ساتھ بیعت کرتے تھے۔(1)

گذشتہ صفحات میں امیرالمومنین علیہ السلام کی تصریحات،جو آپ نے خلافت کے معاملے میں معاویہ کے خط کے جواب میں فرمائی تھیں پیش کی جاچکی ہیں،معاویہ نے لکھا تھا کہ آپ نے بہت تنگ آکے اور مجبور ہو کے ابوبکر کی بیعت کی تھی،اس بیعت کو توڑ دینا چاہتے تھے اور ان کی بیعت کو برا سمجھتے تھے۔

9۔روایت ہے کہ امام حسن علیہ السلام معاویہ کے پاس بیٹھے تھے اور دونوں میں کچھ نفرت انگیز گفتگو ہورہی تھی،پھر معاویہ نے آپ کی خدمت میں تین لاکھ(درہم یا دینار)پیش کئے جب آپ اٹھ کے چلے گئے تو یزید نے معاویہ سے کہا خدا کی قسم میں نے ایسا بےباک انداز گفتگو وہ بھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)وقعۃ صفین ص:86۔87،(شرح نہج البلاغہ ج:5ص:15ص:74 انساب الاشراف ج:3ص:66۔67،امر صفین المناقب للخوارزمی ص:251 العقد الفرید ج:4ص:307۔308،صبح الاعشی ج:1ص:273


آپ(یعنی خلیفۃ المسلمین)سے نہیں دیکھا جیسا کہ حسن ابن علیؑ نے آپ سے روا رکھا اس کے باوجود آپ نے انھیں تین لاکھ دے دیئے!معاویہ نے کہا بیٹا حق تو انھیں کا ہے نہ تمہارا!ان میں سے جو بھی آئے اس پر تھوڑا مٹی ڈال دیا کرو(کچھ دیدیا کرو)(1)

عمرو بن عاص کی بات بھی سنئے

10۔ایک مجلس میں عمروعاص،معاویہ اور امام حسنؑ بیٹھے تھے،علیؑ کی بات نکلی تو عمروعاص نے کہا:وہ(علیؑ)ابوبکر کو گالی دیتے تھے،ان کی خلافت کو غلط سمجھتے تھے اور ان کی بیعت سے انکار کررہے تھے پھر بیعت کی بھی تو جبر و اکراہ کے بعد۔(2)

عبداللہ بن زبیر کا نظریہ

کے سابقہ کارناموں کو یاد دلانے کے ساتھ پیغمبرؐ سے ان کی قرابتداری کا بھی تذکرہ کیا ہے،میں اور تمہارے باپ دور پیغمبرؐ میں ساتھ ہی رہتے تھے اور ابوطالب کے بیٹے کا حق خود پر لازم سمجھتے تھے اور ان کو خود سے افضل مانتے تھے،جب اللہ نے نبیؐ برحق کو اپنی نبوت کے لئے منتخب کیا،اپنا وعدہ پورا کیا اور نبیؐ کی دعوت کو ظاہر عبداللہ بن زبیر کی گفتگو بھی ملاحظہ فرمائیں،ابن عباس ہیں،عبداللہ بن زبیر ابن عباس پر طعنہ زنی کرتے ہوئے کہاتا ہے وہ موجود تھے اور زبیر کے بیٹے کی بات پر اعتراض بھی کیا تھا عبداللہ بن زبیر بولے کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ابوبکر کی بیعت غلط تھی،اچانک تھی اور زبردستی ہوگئی،سنو!ابوبکر کی شان اس طرح کے کلمات سے بہت بلند ہے،لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر سقیفہ کا واقعہ نہ ہوتا تو حکومت ان کے ہاتھ میں آجاتی،پس ابن عباس بولے اے ابوبکر،عمر اور خلافت کے بارے میں بڑھ بڑھ کے بولنےوالے ذرا ہوش میں رہنا!بخدا وہ دونوں کامیاب نہیں ہوئے نہ ان میں سے ایک بھی کامیاب ہوا!ہمارے صاحب(علیؑ)ان دونوں سے بہتر ہیں چاہے وہ کتنا ہی کامیاب ہوجائیں،ہم نے آگے بڑھنےوالے کے تقدم کو اس لئے برا نہیں کہا کہ ہماری آنکھیں عیب دار ہیں،اگر ہمارے صاحب(علیؑ)کو خلافت میں مقدم رکھا جاتا تو وہ ہر طرح سے اہل ثابت ہوتے اور ہر سزاوار خلافت سے زیادہ سزاوار خلافت ہوتے۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:16ص:12، (2)شرح نہج البلاغہ ج:6ص:287-----(3)شرح نہج البلاغہ ج:20ص:132،


علمائے جمہور کی حدیثیں اس سلسلے میں کثرت سے ہیں جس کو ذوق نظر رکھنےوالا مختلف کتابوں میں دیکھ سکتا ہے،یہ تمام حدیثیں پکار کر کہہ رہی ہیں کہ امیرالمومنینؑ اور باقی اہل بیت علیہم السلام،غیروں کی خلافت پر راضی نہیں تھے نہ کسی خلیفہ کے مویّد تھے،وہ واقعات جو دور خلافت میں واقع ہوئے وہ سب کے سب علیؑ اور اہل بیتؑ رسولؐ کی مرضی کے خلاف تھے اور یہ حضرات دونوں خلفا سے سخت متنفر اور بالکل الگ تھے۔

علامہ علی بن فارقی کی باتیں

اس موقعہ پر ابن ابی الحدید کا قول ملاحطہ فرمائیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے مدرسہ بغداد کے مدرس علی بن فارقی سے پوچھا کہ کیا(معاملہ فدک میں)فاطمہؑ سچ کہہ رہی تھیں،انھوں نے کہا بالکل سچ کہہ رہیں تھیں،میں نے پوچھا پھر ابوبکر نے انھیں فدک دے کیوں نہیں دیا جب وہ ابوبکر کی نظر میں اپنے دعوے میں سچی تھیں!ابن فارقی یہ سن کر مسکرانے لگے پھر ایک لطیف اور پسندیدہ بات روا روی اور مزاحیہ انداز میں کہہ دی حالانکہ وہ بڑے معزز،محترم اور بہت کم ہنستے تھے،کہنے لگے اگر ابوبکر صرف دعوائے فدک پر فاطمہؑ کو فدک دیدیتے تو وہ دوسرے دن اپنے شوہر کے لئے دعوائے خلافت لیکر پہنچ جاتیں اور ان کو ان کی جگہ سے ہٹادیتیں اور ابوبکر کے پاس کوئی بہانہ نہیں تھا نہ کوئی بنیاد تھی جس پر وہ کھڑے ہوتے،اس لئے کہ وہ اپنے آپ اس طرح انھیں صادقہ مان کر اپنے کو محکوم کر بیٹھے پھر فاطمہؑ جو بھی دعویٰ کرتیں انھیں اس کی تصدیق کرنا پڑتی اور بغیر کسی گواہ و شہود کے ان کی بات ماننی پڑتی(استاد ابن فارقی کی)یہ باتیں کاملاً صحیح ہیں اگر چہ انھوں نے یہ باتیں ہنسی مزاق میں ہی کہی ہیں(1)

مندرجہ بالا واقعہ اس بات کا شاہد ہے کہ اھلبیتؑ اپنے حقِ خلافت سے دست بردار نہیں ہوئے تھے(یہ الگ بات ہے کہ وہ غاصبوں سے اپنا حق واپس لینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے)اور اگر ان کو استطاعت حاصل ہوتی تو ضرور اپنا حق واپس لےلیتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:16ص:284


وہ واقعات جن سے اہل بیتؑ کا خلافت پر عدم اقرار ثابت ہوتا ہے

امر ثانی:مورخین و اہل حدیث نے جو واقعات نقل کئے ہیں ان سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اہل بیت اطہارؑ نے کسی بھی دور خلفائے غاصبین کی خلافت کا اقرار نہیں کیا نہ اہل بیتؑ کے خاص لوگوں نے کبھی اقرار کیا،لوگ ان سے دشمنی بھی اس وجہ سے کرتے تھے کہ وہ حضرات خلافت کے منکر تھے،ان حضرات نے پہلے تو اپنا حق ظاہر کرنے کی کوشش کی پھر جب دیکھا کہ حق گو اور حق پرست بہت کم لوگ ہیں جو ان کی نصرت کے لئے ناکافی ہیں تو خاموش بیٹھ گئے اور بظاہر تسلیم ہوگئے لیکن یہ خاموش اور استسلام بھی اس لئے تھا کہ دشمن صرف انکار خلافت کی بنا پر ان کے در پئے آزار تھے،مسلسل دھمکیاں دی جارہی تھیں جس کی وجہ سے وہ دشمن کے مقابلہ میں سخت موقف نہیں اختیار کرسکے اور حالات سے سمجھوتہ کرکے ان کے ساتھ رہنے پر راضی ہوگئے۔

سقیفہ کی باتیں

1۔تاریخ میں یہ باتیں اچھی خاصی مشہور ہیں اور بہت وضاحت کے ساتھ ملتی ہیں کہ لوگوں نے امیرالمومنین علیہ السلام،آپ کے اہل بیتؑ اور اصحاب کو گھر میں بیٹھے رہنے پر مجبور کردیا تھا،اہل بیتؑ اور ان کے اصحاب خاص کو(جب بیعت کے لئے بلایا گیا تو)بیعت سے صاف انکار کردیا،دوسرے فریق نے ان پر سختی کی اور زبردستی کی اور زبردستی گھر سے نکالنے کی کوشش کی تا کہ وہ لوگ بیعت کرلیں یہ ساری باتیں تاریخ میں بہت تفصیل سے ملتی ہیں یہاں ان کے بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔(1)

ابن ابی الحدید،مسعودی کے حوالے سے لکھتے ہیں((عروہ بن زبیر اپنے بھائی کو الزام سے بری کرنے کی کوشش کرتا تھا،اس کے بھائی نے بنی ہاشم کے محلّہ کا محاصرہ کیا تھا اور ان کے جلانے کے لئے لکڑیاں اکھٹا کی تھیں،عروہ کہتا تھا کہ میرے بھائی نے یہ سب کچھ اسلامی اتحاد کے لئے کیا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)تاریخ یعقوبی ج:2ص:126،واقعہ سقیفہ بنی سعدہ اور ابوبکر کی بیعت،الامامۃ و السیاسۃ ج:1ص:15سعد بن عبادہ کا انکار بیعت کرنا،ص:16،شرح نہج البلاغہ ج:6ص:45،


اور اس لئے کہ مسلمانوں میں اختلاف نہ ہو،لوگ ایک جھنڈے(پرچم)کے نیچے آجائیں اور بات صرف ایک رہے،یہ کام اس نے عمر کی پیروی میں کیا تھا(انھوں نے اور((عمر نے))بھی یہ نیک کام کیا تھا؟!)جب بنی ہاشم نے ابوبکر کی بیعت کرنے میں دیر کی تو انھوں نے آگ اور لکڑی منگائی تا کہ ان کے گھروں کو جلادیں تو وہ نکلنے پر مجبور ہوجائیں گے۔(1)

ابھی گذشتہ صفحات میں معاویہ کا خط بھی گذرچکا ہے جس میں اس نے یہ لکھا تھا کہ امیرالمومنین علیؑ کو بیعت کے لئے سرکش اونٹ کی طرح کھینچا جاتا تھا۔(2)

امیرالمومنینؑ پر جب بیعت کے لئے سختی کی جارہی تھی تو آپؑ نے قبر پیغمبرؐ کی طرف رخ کرکے فریاد کی(اے میری ماں کے بیٹے اس قوم نے مجھے کمزور کردیا ہے اور قریب ہے کہ مجھے قتل کرڈالیں)(3)

اُدھر ابوبکر بھی مرنے کے وقت کہہ رہے تھے کاش میں نے پیغمبرؐ کی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر کی تفتیش نہ کی ہوتی،کاش میں نے بنت پیغمبرؐ کے گھر میں مردوں کو داخل نہ کیا ہوتا،چاہے وہ گھر مجھ سے جنگ ہی کے لئے بند کیا گیا ہوتا۔(4)

سقیفہ کے بعد کیا ہوا

2۔ایک جماعت امیرالمومنینؑ کے پاس آئی اور وہ لوگ کہنے لگے اے امیرالمومنینؑ آپ اپنے حق کے غاصبوں سے جنگ کریں،امیرالمومنینؑ نے فرمایا کہ:کل آپ لوگ تشریف لائیں لیکن اپنا سرمنڈا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاگہ ج:20ص:147،اور مروج الذھب ج:2ص:79،طبع بولاق مصر1283سنہ

(2)شرح نہج البلاغہ ج:3ص:30،مناقب خوارزمی ص:301،شرح نہج البلاغہ،ج:15ص:74،العقد الفریدج:4ص:308،انساب الاشراف ج:3ص:66۔67،وقعۃ الصفین،ص:87،لابن دمشقی،ج:1ص:357،صبح الاعشی،ج:1ص:228،

(3)الامامۃ و السیاسۃ ج:1ص:137،شرح نہج البلاغہ ج:11ص:111،

(4)تاریخ یعقوبی ج:2ص:137،مجمع الزوائدج:5ص:203،کتاب الصداقت،باب کراہۃ الولایت،الاحادیث المختارہ ج:1ص:89،المعجم الکبیرج:1ص:62،میزان الاعتدال ج:5ص:135،تاریخ دمشق ج:30ص:418،لسان المیزان ج:4ص:189،الضعفاءللعقیلی،ج:3ص:420،تاریخ طبری ج:2ص:353،


لیجئےگا جس سے جنگ پر آپ کی رضا معلوم ہوگی،دوسرے دن آپ کے پاس تین(1) یا چار آدمی سے زیادہ نہیں پہنچے۔(2)

3۔ابن ابی الحدید نے جوہری کی کتاب(السقیفہ)سے لکھا ہے کہ امیرالمومنینؑ نے صدیقہ عالم صلوات اللہ علیہا کو ایک خچر پر بٹھایا اور انصار کے ہر دروازے پر صدیقہ صلوات اللہ علیہا کو لیکر گئے،دونوں(معصوموں)نے انصار سے نصرت کا سوال کیا تا کہ غاصبوں سے اپنا حق واپس لے سکیں،لیکن انصار نے یہ بہانہ کیا کہ ابوبکر کی بیعت پہلے ہوچکی ہے اب کچھ نہیں ہوسکتا لیکن دونوں(معصوموں)نے انصار کا یہ عذر قبول نہیں کیا۔(3)

واقعات سقیفہ پر صدیقہ طاہرہ صلوات اللہ علیہا کا رد عمل

4۔یہ تو سب کو معلوم ہے کہ صدیقہ طاہرہ جناب فاطمہ زہرا صلوات اللہ علیہا شیخین سے غضبناک تھیں،غصہ کی وجہ شیخین کے کالے کر توت تھے،انھوں نے آپ کے شوہر کا حق اور ان کا حق فدک غصب کرلیا تھا۔

شیخین چاہتے تھے کہ معصومہؑ کی خدمت میں باریابی ہو اور ان کو راضی کرلیں لیکن معصومہؐ ان کو اپنے پاس آنے کی اجازت نہیں دیتی تھیں آخر انھوں نے مولائے کائناتؑ سے کہا کہ آپ سفارش کردیں تا ایک بار ہم صدیقہؐ کی خدمت میں پہنچ تو جائیں۔

مولائے کائناتؑ نے کسی طرح صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیھا کو راضی کیا اور ان دونوں کے لئے اجازت لےلی،جب دونوں صدیقہؐ کی خدمت میں پہنچے تو صدیقہ سلام اللہ علیھا نے اپنا رخ دیوار کی طرف کرلیا،یہ دیکھ کر دونوں گریہ و زاری کرنے لگے،صدیقہؐ نے فرمایا سنو!(یہ سب ڈرامہ بازی چھوڑو)میں تمہیں پیغمبرؐ کی ایک حدیث سناتی ہوں کیا تم اس کا اعتراف اور عملی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)تاریخ یعقوبی ج:2ص:126، (2)شرح نہج البلاغہ ج:11ص:14،

(3)شرح نہج البلاغہ ج:6ص:13،الامامۃ و السیاسۃ ج:1ص:16،بیعت ابوبکر سے امیرالمومنین کا انکار


تصدیق کروگے،دونوں نے کہا ہاں آپؐ نے فرمایا میں تمہیں خدا کا واسطہ دیکے پوچھتی ہوں کہ پیغمبرؐ نے کیا یہ نہیں فرمایا تھا؟کہ(فاطمہؐ کی رضا میری رضا اور فاطمہؐ کا غصہ میرا غصہ ہے۔

جو میری بیٹی فاطمہؐ سے محبت کرے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو فاطمہ کو راضی رکھے وہ مجھے راضی رکھتا ہے ار جو فاطمہ کو غضبناک کرے وہ مجھے غضبناک کرتا ہے)تم نے یہ حدیث سنی ہے یا نہیں؟دونوں نے کہا ہاں ہم نے پیغمبرؐ سے یہ حدیث سنی ہے،آپؐ نے فرمایا میں خدا اوراس کے فرشتوں کو گواہ بنا کے کہتی ہوں کے تم دونوں نے مجھے ناراض کیا ہے اور مجھے راضی نہیں رکھا ہے اور جب میں نبیؐ سے ملوں گی تو تم دونوں کی ضرور شکایت کروں گی۔

ابوبکر بولے:میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں اس کی ناراض گی اور آپ کی ناراضگی سے اے فاطمہ پھر ابوبکر پر گریہ طاری ہوا،اتنا روئے کہ لگتا تھا اب مرجائیں گے،لیکن معصومہ سلام علیہا مسلسل یہ کہتی رہیں کہ خدا کی قسم میں ہر نماز میں تمہارے لئے بددعا کروں گی۔(1)

5۔صدیقہ طاہرہؑ نے امیرالمومنین علیؑ کو وصیت کی تھی کہ وہ دونوں((جن سے آپؐ ناراض تھیں،آپ کے جنازہ میں شریک نہ ہوں اور ان کو جنازہ سے الگ رکھنے کے لئے آپ کا جنازہ شب میں اٹھایا جائے،نتیجہ میں آپ کے جنازہ میں چند افراد سے زیادہ شریک نہیں تھے جنازہ شب میں اٹھا اور نشان قبر چھپا دیا گیا جو آج تک ظاہر نہیں ہے(2) یہ ساری باتیں باتیں صرف اس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)الامامۃ و السیاسۃ ج:1ص:17،کیفیت بیعت امیرالمومنینؑ کے باب میں،اعلام النساء ج:4ص:124،فاطمہ بنت محمدؐ،

(2)حضرت فاطمہ زہراؐ کے حق کا غصب کرنے کا واقتہ نیز رات میں دفن ہونے اور صحابہ کے آپ کے دفن میں شریک نہ ہوکنے کا واقعہ،صحیح بخاری،ج:4ص:1549،کتاب مغازی باب غزوہ خیبر،صحیح بخاری،ج:6ص:2474،کتاب الفرائض باب قول النبیؐ:لا نورث ما تکناہ صدقۃ،صحیح مسلم،ج:3ص:1380،کتاب الجہاد السیر باب قول النبیؐ لانورث ماترکناہ صدقۃ،صحیح ابن حبان،ج:11ص:153،باب الغنائم،ذکر خمس،مسند ابی عوانہ،ج:4ص:251،مبدا کتاب جہاد،المصنف لعبد الرزاق،ج:5ص:472،فی خصومۃ علی و العباس،الطبقات الکبریٰ،ج:2ص:315،فی ذکر میراث رسول اللہؐ،الامامۃ و السیاسۃ،ج:1ص:17،کیفیت بیعت امیرالمومنینؑ،طرح التثریب،ج:1ص:150،حضرت فاطمہؐ کی سوانح حیات میں،الاصابۃ،ج:8ص:59حضرت فاطمہؐ کی سوانح حیات میں،اور دیگر مصادر و منابع تاریخی میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔


لئے تھیں کے معصومہ عالم صلوات اللہ علیھا شیخین کی حرکتوں سے عاجز تھیں اور ان کی باتوں کی عملی تردید پیش کررہیں تھیں تا کہ ثابت ہوجائے آپ ان سے اور ان کی کشتی والوں سے سخت بیزار ہیں یا یہ کہ آپ نے ان سے آنکھیں موڑلی تھیں اورتبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔

ابوبکر کی بیعت سے امیرالمومنینؑ کا باز رہنا

6۔امیرالمومنینؑ نے بہت دنوں تک یا کچھ دنوں تک(1) ابوبکر کی بیعت نہیں کی اور(بفرض محال)اگر بیعت کر بھی لی تو ان کی حکومت میں داخل نہیں ہوئے اور ان کے ساتھ رہن سہن کو برقرار نہیں رکھا مگر اس لئے کہ آپ کے آپ اسلالم کے نقصان پہنچنے سے خائف تھے،جیسا کہ آپ نے اہل مصر کو ایک خط میں لکھا،میں نے اپنے ہاتھ کو روکے رکھا یہاں تک کہ دیکھا لوگ اسلام سے واپس پلٹ رہے ہیں اور دین محمد کو مٹانے کی دعوت دے رہے ہیں تو میں ڈرا کہ اگر میں اسلام اور اہل اسلام کی مدد نہیں کروں گا تو اسلام میں رخنہ پڑھ جائےگا یا اسلام کی عمارت کو منہودم ہوتے ہوئے دیکھوں تو یہ تمہاری حکومت میرے ہاتھ سے نکلنے کی وجہ سے جو مصیبت آئی ہے اس مصیبت سے بڑی مصیبت ہوگی،حالانکہ دنیا کی حکومت تو محض چندوں کی ہے اور یہاں جو ہوتا ہے فوراً مٹ جاتا ہے یا گویا کہ دنیا بے موسم کا برستا ہوا بادل ہے پس میں اسلام کی مدافعت کے لئے اٹھ کھڑا ہوا،یہاں تک کہ باطل برباد ہوگیا اور مٹ گیا اور دین مطمئن ہوکے گنگنانے لگا(ٹھہرگیا)۔(2)

شوریٰ کے واقعات اور امیرالمومنینؑ اور آپؑ کے اصحاب کا نظریہ

7۔امیرالمومنینؑ نے شوریٰ کے واقعات کی اکثر شکایت کی ہے جس کی تفصیل گذشتہ صفحات میں پیش کی جاچکی ہے،سب جانتے ہیں کہ شوری کی بنیاد ہی زبردستی اور تغلّب پر رکھی گئی تھی،شوریٰ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)صحیح بخاری ج:4ص:1549،کتاب مغازی،باب غزوہ خیبر،صحیح مسلم ج:3ص:1380،کتاب جہاد و السیر،قول نبیؐ کے باب میں،ہم میراث نہیں چھوڑتے بلکہ جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے،صحیح ابن حبان ج:11ص:153،باب غنائم،مسند ابی عوانہ ج:4ص:251،المصنف لعبد الرزاق ج:5ص:472۔473،الامامۃ و السیاسۃ ج:1ص:17،

(2) نہج البلاغہ ج 3 ص:119


کے پہلے ہی یہ بات طے ہوچکی تھی کہ جو شوریٰ کے فیصلے سے انکار کرے اس کی گردن ماردی جائے اور عمر نے یہی وصیّت ابوطلحہ انصاری سے کی تھی۔

طبری کہتے ہیں کہ جب عبدالرحمٰن نے عثمان کی بیعت کرلی تو امیرالمومنینؑ نے ان سے کہا تم ایک زمانے سے ان کی حمایت کررہے ہو،یہ کوئی پہلا دن نہیں ہے کہ تم نے ہم پر زبردستی کی ہے،میں صبر جمیل کروں گا اور اللہ سے مدد طلب کروں گا،خدا کی قسم تم نے عثمان کو ولی اس لئے بنایا ہے کہ حکومت تمہارے پاس واپس آجائے اللہ تو ہر روز ایک الگ ہی شان میں ہے))عبدالرحمٰن نے کہا علیؑ اپنے نفس کے خلاف سبیل نہ پیدا کرو(صریحی دھمکی دی ہے قتل کی)(1)

کچھ دنوں کے بعد عبدالرحمٰن سے عثمان کی بات بگڑگئی اور عبدالرحمٰن نے جو امیدیں لگائی تھیں وہ عثمان پوری نہیں کرسکے تو مولائے کائناتؑ نے عبدالرحمٰن سے کہا:عوف کے بیٹے!عثمان نے تمہارے احسان کا کیا بدلہ دیا؟بہت سے بھروسہ کرنےوالے شرمندہ ہوئے ہیں اور انسان جب اپنے اعمال غیراللہ کے لئے انجام دیتا تو مدح کرنےوالے لوگ اس کی مذمت کرنے لگتے ہیں۔(2)

ابن ابی الحدید نے شعبی کے حوالے سے لکھا کہ اہل شوریٰ نے یہ طے کیا جو بیعت نہیں کرتا ہے اس کی یک زبان ہو کر مخالف کی جائے،تو وہ علیؑ کے پاس آئے اور بولے اٹھئے اور بیعت کر لیجئے،آپ نے فرمایا:اگر میں نہ کروں تو؟کہنے لگے ہم آپ سے جہاد کریں گے،پس آپ عثمان کے پاس گئے اور بیعت کرلی اس وقت آپ یہ کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اللہ کے رسولؐ نے سچ کہا تھا۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)تاریخ طبری ج:2ص:583،فی قصۃ الشوریٰ،شرح نہج البلاغہ ج:12ص:264،تاریخ مدینۃ لابن شبۃ ج:3ص:930،العقد الفریدج:4ص:259،العسجدۃ الثانیۃ فی خلافۃ عثمان

(2)شرح نہج البلاغہ ج:2ص:316،

(3)شرح نہج البلاغہ ج:9ص:55،


جوہری اور شعبی دونوں ہی نے عبدالرحمٰن بن عوف کی کوششں کی حکایت کی ہے،لکھتے ہیں:عبدالرحمان بن عوف نے کہا:عثمان نے ہاتھ کھولا تو انھوں نے بیعت کی اور ارباب شوریٰ بیعت کر کے جانے لگے سوائے علی ؑ کے،علی ؑ نے بیعت نہیں کی،پس عثمان لوگوں کے سامنے آئے اور خوشی سے ان کا چہرہ چمک رہا تھا،علی ؑ بھی نکلے تو آپ کے چہرہ سے سستی ظاہر ہو رہی تھی اور(ان دونوں مورخوں کے الفاظ میں)چہرہ تاریک تھا،آپ فرما رہے تھے اے ابن عوف!یہ پہلا دن ہماری مظلومیت اور تمہارے ظلم کا نہیں ہے ہمارا حق ہم سے چھین لیا اور ہم پر دوسروں کو ترجیح دی گئی یہ تو تم لوگوں کا ہمارے خلاف ہمیشہ کا دستور ہے اور یہ طریقہ تم نے ترکہ میں چھوڑا ہے ۔(1)

شوریٰ کے متعلق مولائے کائنات ؑ کے اصحاب خاص کے نظریات و موافقت کی تصریح کتابوں میں بھری پڑی ہے،ذوق جستجو رکھنےوالے کے لئے ان معلومات کا اکھٹا کرنا بہت آسان ہے ویسے ہم چوتھے سوال کے جواب میں بھی شوریٰ کے حوالے سے کچھ عرض کریں گے انشااللہ تعالیٰ ۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ابوبکر و عمر کے سلسلے میں شیعہ بس اتنا ہی کچھ کہتے ہیں جو ان کے امام امیرالمومنین علیہ السلالم اہل بیت ؑ اور اصحاب پیغمبر ؐ جو مولیٰ علی ؑ کے ہم نوا تھے نے فرمایا ہے اس سے زیادہ کچھ اور آپ شیعوں کا موقف مولیٰ علی ؑ ،اہل بیت ؑ اور اصحاب خاص پیغمبر ؐ سے زیادہ سخت موقف نہیں پائیں گے ۔

اب اگر کوئی حقائق کا انکار کرنا بھی چاہے اور یہ انکار بھی شک کی بنیاد پر یا خبر آحاد کی وجہ سے ہوگا یا اس وجہ سے کہ اسناد کی وضاحت نہیں ہوئی ہے یا اس وجہ سے کہ استدلال کرنے میں زور و زبردستی سے کام لیا گیا ہے تو وہ انکار قابل نہیں ہے کیونکہ کوئی شخص گذشتہ صفحات میں مرقوم تمام باتوں کا انکار اس کی تکذیب یا اس میں تشکیک و تجاہل نہیں کرسکتا اور نہ ہی ان کی مجموعی دلالت کو نقص کرسکتا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) شرح نہج البلاغہ ج: 9 ص: 53 ،


امیرالمومنین ؑ اور آپ کے معاصرین کے کلام کا اثر یہ ہوا کہ شیعیت کے عقائد ظاہر ہوگئے

آپ نے گذشتہ صفحات میں کچھ تصریحات پڑھیں اور کچھ باتیں چوتھے سوال کے جواب میں بھی آنےوالی ہیں،ان تمام باتوں کو دیکھنے کے بعد نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خلافت کے معاملے میں امیرالمومنین ؑ اور اصحاب پیغمبر ؐ کے نظریہ کے وقتاً فوقتاً وضاحت اور مسلسل تاکید سے ایک بڑا فائدہ جو ہوا وہ یہ کہ اکثر مسلمان اس حقیقت سے وقف اور متنبہ ہوگئے جو مسلسل چھپائی جارہی تھی،وہ حقیقت تھی خلافت کے بارے میں شیعہ عقیدہ،جب جمہور کے شور میں یہ آواز بالکل الگ سے بلند ہوئی تو لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور قرآن و سنّت میں اس کے لئے دلیلیں تلاش کرنے لگے پھر مزید دلیلیں ملتی گئیں یہاں تک کہ امیرالمومنین ؑ ہی کے زمانہ میں حقیقت آب بلّور کی طرح چمکنے لگی،ایک جماعت(شیعوں)کو اتنی بصیرت حاصل ہوگئی کہ ان لوگوں نے پختہ ارادہ کرلیا کہ اس حقیقت کو اعلان کرنے کے لئے اگر انھیں جہاد بھی کرنا پڑا تو کریں گے،بلکہ اگر جان و مال کی قربانی بھی دینی پڑی تو خوشی سے دیں گے،اگر چہ نبی ؐ کی سنت کو معطل کردیا تیا تھا،جیسا کہ میں نے آپ کے ساتویں سوال کے جواب میں عرض کیا ہے،سنّت نبی ؐ کے خلاف فیصلے ہوا کرتے تھے(لیکن شیعہ عقائد نبی ؐ کی سیرت اور قرآن کی آیتوں میں اتنا واضح تھے کہ)فرقہ شیعہ کا ایک مستقل وجود تاریخ نے اس دور میں درج کرلیا اور پھر یہ عقیدہ تدریجاً مضبوط ہوتا گیا اور یہ حق کا قافلہ آخر میں ہم تک پہنچا،بہتر سمجھتا ہوں کہ بعض شواہد کا تذکرہ کرتا چلوں ۔

1 ۔ جب جمل میں امیرالمومنین ؑ کا لشکر قبیلہ طے سے گذرا تو ایک بوڑھا جو قبیلہ طے سے تعلق رکھتا تھا اور بالکل ہی ضعیف ہوچکا تھا اس نے اپنی دونوں بھوؤں کو اٹھایا اور جناب امیرالمومنین ؑ کے چہرے پر نظر کی پھر پوچھا کیا آپ ہی ابوطالب ؑ کے بیٹے ہیں،فرمایا ہاں،اس نے کہا خوش آمدید اھلاً و سہلاً و مرحباً...اگر ہم نے آپ کی بیعت نہ بھی کی ہوتی اور آپ ہم سے مدد مانگتےتو قرابت پیغمبر ؐ کی


وجہ سے ہم آپ کی ضرور مدد کرتے اس لئے کہ آپ نے بڑے صالح ایام(اور بہت مشہور کارنامے)انجام دیئے ہیں،آپ کی سربلند سیرت کا بیان جو کچھ میں سنتا رہا ہوں اگر حق ہے تو مجھے قریش پر تعجب ہے کہ انھوں نے آپ کو موخّر کرکے آپ کے غیر کو مقدم کیا،انھوں نے حدود خدا کو توڑا اور خدا کے ساتھ زیادتی کی،آپ ہمارے یہاں تشریف لایئے،ہمارے قبیلہ میں کوئی آپ کی مخالفت نہیں کرےگا مگر وہ جو غلام ہوگا یا حرام زادہ ہوگا،مگر یہ کہ آپ اجازت دیں ۔(1)

آپ اس بوڑھے شخص کو دیکھیں وہ امیرالمومنین ؑ کی طرف صرف اس لئے جھک رہا ہے کہ آپ کے کارنامے اس تک پہنچے ہیں پھر وہ تعجب کررہا ہے کہ جب امیرالمومنین ؑ کی عبقریت کا شہرہ اتنا زیادہ ہے تو قریش نے آپ کے علاوہ کسی کو کیسے امیر بنالیا ۔

2 ۔ ابن ابی الحدید نے جناب ابوذر ؑ کی وفات کے سلسلہ میں لکھا ہے کہ ابوذر غفاری کے پاس آپ کی وفات کے وقت کچھ لوگ آئے تھے،حدیث نبوی ؐ ہے کہ((ابوذر ؑ کی وفات کے وقت ان کے پاس سے ایک جماعت گذرےگی))ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ مذکورہ بالا حدیث کو ابوعمر بن عبدالبر نے سوانح حیات جندب کے اول باب میں لکھنے سے پہلےلکھا ہے کہ ربذہ میں وفات ابوذر ؒ کے وقت جو جماعت گذری تھی اس میں حجر بن عدی اور مالک اشتر بھی تھے(حجر بن ادبر اور مالک بن الحارث اشتر)

میں(ابن ابی الحدید)کہتا ہوں کہ حجر بن ادبر وہی ہیں جن کو معاویہ نے بہت سنگدلی کے ساتھ شہید کردیا،آپ اعلام شیعہ اور عظیم لوگوں میں سے تھے اور مالک اشتر شیعوں میں اسی طرح مشہور ہیں جس طرح ابوالھذیل معتزلہ میں ۔

ہمارے استاد عبدالوہاب بن سکینہ کے سامنے کتاب الاستیعاب پڑھی جارہی تھیں میں وہیں موجود تھا جب پڑھنے والا مذکورہ بالا روایت تک پہنچا،میں اس کے ساتھ حدیث سن رہا تھا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)الامامۃ و السیاسۃ ج:1ص:52،حضرت علیؑ کی مدد کے لئے عدی بن حاتم کی اپنی قوم کو للکارنا۔


تو میرے استاد عمر بن عبداللہ الدّباس نے کہا اب تو شیعہ جو چاہے کہہ سکتے ہیں اس لئے کہ شیخ مفید اور سید مرتضی تو وہی کچھ کہتے ہیں جو عثمان اور متقدمیں عثمان کے بارے میں حجر بن عدی اور مالک اشتر کہتے تھے،یہ سن کر شیخ ابن سکینہ نے استاد دبّاس کو چپ ہوجانے کا اشارہ کیا تو وہ خاموش ہوگئے ۔(1)

3 ۔ شریح بن ہانی کو مولائے کائنات ؑ نے عمروعاص کو سمجھانے کے لئے بھیجا،شریح نے عمروعاص سے کہا دیکھو بھائی جو حق تھا وہ میں نے تم تک پہنچادیا،یہ سن کر عمروعاص کا چہرہ بگڑ گیا اور کہنے لگا:میں علی ؑ کا مشورہ قبول ہی کب کرتا ہوں؟!میں نہ ان کی طرف آؤں گا اور نہ ہی ان کی رائے کو کسی شمار میں رکھتا ہوں ۔(2)

شریح کہتے ہیں:میں نے کہا اے ابن نابغہ تجھے تیری مولا اور نبی ؐ کے بعد مسلمانوں کے سردار کی رائے قبول کرنے سے کس چیز نے بارز رکھا ہے؟آپ دیکھیں کہ شریح جو ایک شیعہ تھے،ان کے الفاظ جو انھوں نے امیرالمومنین ؑ کے لئے استعمال کئے اس بات کے ثبوت ہیں کہ شیعہ مولائے کائنات ؑ کو ابوبکر،عمر اور عثمان سے مقدم سمجھتے تھے.

4 ۔ تاریخ کہتی ہے کہ زیادہ جب کوفہ کا عامل تھا تو معاویہ نے اس کو خط لکھا جو حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں تھا،اس میں معاویہ نے یہ لکھا تھا کہ حجر بن عدی کا جرم ان کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ تخت خلافت کے لئے سوائے آل ابی طالب ؑ کے کسی کو صالح نہیں سمجھتے ۔(3)

5 ۔ جب عبداللہ بن زبیر نے ابن مطیع کو کوفہ کا والی بنایا تو اس نے کہا،میں ضرور بالضرور عثمان اور عمر کی سیرت کی پیروی کروں گا،سائب بن مالک کھڑے ہوگئے اور کہا:عمر کی سیرت تو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:15ص:100۔101،

(2)وقعۃ صفین ص:543،

(3)تاریخ طبری ج:3ص:51،226 سنہکےواقعات،الکامل فی التاریخ ج:3ص:51،333 سنہکےواقعات،مقتل شہید عثمان ج:1ص:225شہادت عمرو بن حمق خزاعی کے ذکر میں


ہمارے لئے بہت کم ضرر رساں ہے سیرت عثمان سے لیکن تجھ پر واجب ہے کہ سیرت علی ؑ کی پیروی کرے اس سے کم پر ہم راضی نہیں ہیں ۔(1)

6 ۔ بعض توابین(وہ لوگ جو خون حسین ؑ کا انتقام لینے کے لئے اٹھے تھے بعد میں جناب مختار کو اپنا امیر بنالیا)کہتے ہیں کہ حصین ابن نمیر آیا در حالیکہ اس نے ہمارے خلاف لشکر تیار کیا تھا جب وہ لوگ قریب آئے تو ہم نے انھیں اتحاد کی پیشکش کی اس کے لشکر نے یہ شرط رکھی کہ ہمارے ساتھ مل کر عبدالملک مروان کے ساتھ ہوجائیں اور اس کی اطاعت میں داخل ہوجائیں اور ہم نے انھیں یہ دعوت دی کہ وہ عبیداللہ ابن زیاد کو ہمارے حوالے کردیں تا کہ ہم اس کو اپنے کچھ بھائیوں کے انتقام میں قتل کرسکیں اور عبدالملک بن مروان کو ہٹادیا جائے،آل ابن زبیر کو ہمارے شہروں سے نکال دیا جائے پھر ہم یہ حکومت اپنے نبی ؐ کے اہل بیت ؑ کے حوالے کردیں جن کی وجہ سے اللہ نے ہمیں یہ ہمت اور کرامت بخشی ہے لیکن اس قوم نے ان شرطوں کو نہیں مانا تو ہم نے بھی ان کی شرطوں کو ٹھکرادیا ۔(2)

7 ۔ بنی امیہ کے امرا اور گورنر شیعیت کی جانچ اور پرکھ کرنے کے لئے کسی سے بھی یہ پوچھتے تھے تمہارا شیخین کے بارے میں کیا نظریہ ہے اور جو ان سے اظہار برائت کرتا تھا،شیعہ سمجھا جاتا تھا اور مواخذہ کا سزاوار ہوتا تھا،اس سے پتہ چلتا ہے کہ شیعوں کا عقیدہ عصر اولیٰ ہی میں مشہور ہوچکا تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)انساب الاشراف ج:6ص:383،قصہ امیر مختار،تاریخ طبری ج:3ص:66،435 سنہکےواقعات،الکامل فی التاریخ ج:4ص:28،جم66 سنہکےواقعات،الفتوح لابن اعثم کوفی،ج:3ص:249،ابتداء خروج مختارؑ

(2)تاریخ طبری ج:3ص:65،383 سنہکےواقعات اور توابین کا خروج،انساب الاشراف ج،6ص:371،فی امرالتوابین الفتوح لابن اعثم کوفی ج:3ص:345،تاریخ کامل ج:4ص:65،7 سنہکےواقعات


8 ۔ ملاحظہ کریں یہ ابوحمزہ شاری خارجی ہیاور بنوامیہ کے آخری دور میں مدینہ میں داخل ہوتا ہے(اور خطبہ دے کر شیعوں کی کچھ خاص پہچان بتا دیتا ہے ساتھ ہی یہ بھی کہ شیعیت اسلام کے صدر اول میں ہی اپنے عقائد میں منفرد تھی اور جانی پہچانی تھی)

ابوحمزہ خارجی کے خطبہ کو دیکھیں کہتا ہے کہ:اور ہمارے شیعہ بھائی جو اگر چہ دین میں ہمارے بھائی نہین ہیں لیکن میں نے خدا کا یہ قول سنا ہے کہ(اے لوگو!میں نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تمہارے اندر شعبے اور قبیلے قرار دیئے تا کہ تم پہچانے جاؤ)تو یہ وہ فرقہ ہےجس نے کتاب خدا کے ذریعہ غالب آنے کی کوشش کی اور خدا کو چھوڑ کے ایک گروہ بنالیا ان کی نگاہیں قرآن میں رس ہیں نہ فقہ میں بالغ نظری ہے،تو اب حقیقت کی جانچ نہیں کرتے اور اپنے معاملات کو خواہشات نفس کا قیدی بنادیا ہے،ان کے مذھب کی بنیاد ایک قوم کی محبت پر ہے جس کو انہوں نے لازم قرار دیا ہے اور وہ لوگ انھیں کی اطاعت کرتے ہیں،گمراہی ہو یا ہدایت،رجعت کا یقین رکھتے ہیں اور مرنے کے بعد حکومت کے منتظر ہیں اور قیامت کے پہلے مبعوث ہونے کے قائل ہیں،مخلوق کے لئے علم غیب کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ(جن لوگوں کو وہ عالم غیب سمجھتے ہیں ان میں کا کوئی آدمی یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کے گھر میں کیا ہے؟بلکہ یہ تک نہیں جانتا کہ اس کے کپڑے میں کیا لپٹا ہوا ہے؟یا اس کے جسم کو کس چیز نےگھیر رکھا ہے،گناہوں کی وجہ سے گناہگاروں کی مخالفت کرتے ہیں حالانکہ اسی پر وہ عمل کرتے ہیں اور اس سے نکلنے کا وہ راستہ نہیں پاتے،اپنے دین میں جفا کار اور کم عقل ہیں،انھوں نے اپنے دین کی باگ ڈ ور عرب کے ایک گھروالوں کے حوالہ کردی ہے،وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی(اہل بیت ؑ کی)محبت انھیں اعمال صالحہ سے بےنیاز کردےگی اور برے اعمال کی سزاؤں سے بچالےگی،خدا انھیں قتل کرےگا کہاں بہکے جارہے ہیں؟ ۔(1) مندرجہ بالا خطبہ اگر چہ شیعوں کی منقصت میں وارد ہوا ہے اور اس میں شیعوں پر بہت سارے الزامات عائد کئے گئے ہیں جن کی کوئی اصل و بنیاد نہیں ہے اور ایسے لوگوں سے شیعوں کو یہی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:5ص:119،


امید بھی ہے لیکن اس سے یہ تو پتہ چلتا ہے کہ شیعوں کے عقائد اسلامی دور کی ابتدا ہی میں شائع اور مشہور ہوچکے تھے ۔

9 ۔ حق تو یہ ہے کہ اگر شیعوں کے عقائد صدر اول میں نکھر کے سامنے نہ آچکے ہوتے،خصوصاً شیخین کے غصب خلافت اور موالئے کائنات ؑ اور اہل بیت ؑ کے استحقاق خلافت کا عقیدہ تو بنی عباس اتنی آسانی سے سریر آرائے سلطنت نہ ہوجاتے،انھوں نے اپنی حکومت کی اساس ہی شیخین سے اظہار برائت پر رکھی تھی اور لوگوں کو یہی بتا رہے تھے کہ شیخین کی خلافت شرعی نہیں تھی اور صرف اہل بیت ؑ مخصوص بالخلافہ ہیں،اس سلسلے میں کچھ شواہد میں نے آپ کے دوسرےسوال کے جواب میں پیش کئے ہیں،اگر چہ خلفائے بنوعباس بھی بدل گئے اور اہل بیت اطہار ؑ سے عداوت کا اظہار کردیا،شیعیت سے الگ ہوگئے اور اس کا انکار کرنے لگے اور اس کی شدت سے مخالفت کرنے لگے،نتیجہ میں ان کے خلاف علوئین کھڑے ہوگئے اور ان کی جنگجو جماعتیں خلافت کا مطالبہ کرنےلگیں ان کے پاس بھی یہی دلیل تھی کہ خلافت کا حق حق جب اہل بیت ؑ کا ہے تو اولاد علی ؑ ہونے کی وجہ سے اہل بیت ؑ سے رشتہ ہونے کے ناطے بنوعباس سے زیادہ حقدار خلافت ہیں،یعنی ان کے دعوےکا اساس بھی شیعت ہی تھی،اگر شیعوں کے عقائد مشہور و معروف و منفرد نہ ہوچکے ہوتے تو لوگ انقلاب کے نعرے کو شیعہ پلیٹ فارم سے بلند نہیں کرسکت تھے،شیعیت ایک مستقل مذہب اور حق کی علامت بن چکا تھا اور اس حد تک اس کو صحیح سمجھا جاتا تھا کہ اسی بنیاد پر مسلمانوں کو حق کی طرف بلایا جاتا تھا اور لوگ ان کی دعوت قبول کرتے تھے پھر شیعیت کو عمل میں لاکے حاکم بن جاتے تھے ۔

شیعہ عقائد کے چہرے پر یہ نکھار کس کا عطیہ ہے؟صرف امیرالمومنین ؑ کی کوشش کا نتیجہ تھا آپ اپنی زندگی میں صحابہ کو اپنی سیرت،اپنے خطبے اور اپنے طرز عمل سے مسلسل متوجہ کرتے رہے اور بتاتے رہے کہ خلافت میرا حق تھا جو غصب کرلیا گیا،میں آپ کے چوتھے سوال کے جواب میں یہ باتیںعرض کرچکا ہوں گذشتہ بیان کو سامنے رکھ کے سوچئے کس عبارت اور کس کتاب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام غاصبین خلافت سے راضی تھے،ان کا اقرار کرتے تھے اور ان کے حق میں دست بردار ہوگئے تھے تا کہ ان کی حکومت کی کوئی شرع عذر حاصل ہوسکے ۔


امیرالمومنین کا واضح موقف اور علما اہل سنت کا ادراک

حق بات تو یہ ہے کہ اہل سنت کے اکثر علما اور مخصوص افراد یہ اچھی طرح سمجھتے ہیں لیکن چونکہ امیرالمومنین ؑ کی عظمت سے وہ انکار نہیں کرسکتے اور آپ کی رفعت شان کا اقرار بھی کرتے ہیں لٰہذا آپ کے موقف کو غلط نہیں ٹھہراسکتے اور آپ کے دشمن کا بھی احتارم کرتے لٰہذا بعض مقامات پر غیراختیاری طور پر وہ آپ کے نظریات کا اظہار کربیٹھے ہیں کبھی کبھی ان کا خود اپنے نفس پر رقابو نہیں ہوتا اور حق ان کی زبان سے نکل ہی جاتا ہے،اس کی چند مثالیں اس وقت اس کتاب میں بھی گذرچکی ہیں جہاں ہم نے شیعوں کا ان کےائمہ ھدیٰ علیہم السلام سے اختصاص اور شیعوں کے نظریات کی ائمہ ؑ کی طرف سے تصدیق پیش کی تھی،اب ایک واقعہ پھر مقام مثال میں پیش کیا جارہا ہے،اسے غور سے پڑھیں اور دیکھیں کہ اہل سنت حضرات شیخین کی حقانیت کا زبردستی اقرار کرکے کس چیستان میں پھنس چکے ہیں ۔

شیخین کے متعلق امیرالمومنین ؑ کے موقف کے بارے میں اسمٰعیل حنبلی کا واقعہ

امیرالمومنین ؑ کی خلافت کے بارے میں شکایت کا تذکرہ کرنے کے بعد ابن ابی الحدید نے ایک پر لطف واقعہ لکھا ہے جو ذیل میں پیش کیا جاررہا ہے ۔

وہ کہتے ہیں مجھے یحییٰ بن سعید جو ابن عالیہ کے نام سے مشہور ہیں اور بغداد کے غربی علاقے میں((قطفتا))کےرہنےوالے ہیں ۔ بتایا(بیان کیا)کہ میں فخر اسمٰعیل بن علی حنبلی جو حنبلیوں کے فقیہ اور((غلام ابن منیٰ))کے نام سے مشہور ہیں کی خدمت میں حاضر تھا،آپ بغداد میں حنبلی فرقہ کے فقیہہ اور مناظرے میں ماہر مانے جاتے تھے،اس وقت وہ کسی منطقی بحث میں الجھے ہوئے تھے،بڑے شیرین گفتار تھے،میں نے انھیں دیکھا تھا اور ان سے روایتیں بھی کی ہیں،ان کی خدمت میں حاضر رہتا تھا اور ان کی باتیں سنتا تھا ان کی وفات 610 سنہمیں ہوئی ۔


ابن عالیہ کہتے ہیں کہ میں فخر اسماعیل کی خدمت میں حاضر تھا اور باتیں ہورہی تھیں کہ ایک حنبلی شخص آیا،اس شخص کا ایک کوفی کے پاس کچھ پیسہ قرض تھا اور اس نے اس کوفی سے اپنے قرض کا بہت سختی سے مطالبہ کیا تھا،اس کوفی نے یہ طے کیا تھا کہ یوم غدیر کی زیارت پر اس کا قرض ادا کرےگا،اس لئے یہ حنبلی اپنا قرض لینے کوفہ گیا تھا،یوم غدیر کا مطلب ہے(( 18 ذی الحجہ))اس تاریخ کو امیرالمومنین علیہ السلام کے مزار اقدس پر بہت بڑا مجمع ہوتا ہے لوگ دنیا کے ہر گوشے سے آپ کی زیارت کو آتے ہیں اور اتنا بڑا مجمع ہوتا ہے جو ناقابل شمار ہے ۔

ابن عالیہ کہتے ہیں جب شیخ فخر اسماعیل کی مجلس میں وہ حنبلی آیا تو وہ اس سے اس کے قرض کے بارے میں پوچھنے لگے کہ کوفہ میں تم نے کیا دیکھا اور کس سے ملے،تمہارے مقروض نے تمہارا قرض ادا کیا یا نہیں اور کیا اس کے پاس تمہارا پیسہ ابھی باقی ہے اور وہ شخص ان کا جواب دے ہی رہا تھا،یہاں تک کہ اس نے کہا اے میرے سردار:کاش آپ نے کبھی غدیر کے دن امیرالمومنین ؑ کی زیارت کی ہوتی اور دیکھتے کہ ان کے مزار پر کیا کیا ہوتا ہے،صحابہ کی کیسی فضیحت کی جاتی ہے اور کیسے برے افعال انجام دئے جاتے ہیں،صحابہ کو بلند آواز میں گالیاں دی جاتی ہیں،بغیر کسی خوف اور جھجک کےخلفا کو برا کھلا کہا جاتا ہے،یہ سن کر فخر اسماعیل نے کہا وہ تو ہے لیکن اس میں شیعوں کا کیا قصور ہے؟جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کا راستہ تو صاحب قبر ؑ نے دکھایا ہے اور صحابہ پر سب شتم کا دروازہ تو اس صاحبِ قبر(مولائے کائنات ؑ )نے کھولا ہے،اس حنبلی نے پوچھا صاحب قبر سے آپ کی مراد کون ہیں؟کہنے لگے:علی ابن ابی طالب علیہ السلام، ۔ اس نے کہا اے میرے سردار کیا یہ طریقہ علی ابن ابی طالب ؑ کا جاری کیا ہوا ہے،کیا علی ہی نے انھیں تعلیم دی ہے اور سب صحابہ کا راستہ دکھایا ہے وہ کہنے لگے خدا کی قسم ہاں،اس حنبلی نے کہا کہ جناب عالی!اگر علی ؑ حق پر ہیں تو ہم فلاں،فلاں سے محبت کیوں کرتے ہیں اور اگر علی ؑ باطل پر ہیں تو پھر ہم علی ؑ سے محبت کیوں کرتے ہیں اور ان سے اظہار برائت کیوں نہیں کرتے،دونوں میں سے ایک سے تو ہمیں تبرا کرنا چاہئے،علی ؑ سے یا شیخین سے ۔


ابن عالیہ کہتے ہیں:یہ سن کر فخر اسماعیل جلدی سے کھرے ہوگئے اور اپنی جوتیاں پہل لیں پھر بولے خدا لعنت کرے اسماعیل پر اگر اسے اس مسئلہ کا جواب معلوم ہو!یہ کہہ کر اپنے حرم میں داخل ہوگئے،ہم بھی اٹھے اور وہاں سے واپس چلے آئے ۔(1)

اس واقعہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ شیعہ اپنے ائمہ ؑ سے کبھی اختلاف نہیں کرتے بلکہ ہر قدم پر ان حضرات ؑ کی پیروی کرتے ہیں،قرآن اور سنت نبی ؐ نے شیعوں کو یہ،بتایا کہ اہل بیت علیہم السلام امّت کے مرجع اور امام ہیں اور اس بنیاد پر شیعوں نے اہل بیت ؑ کا دامن تھام لیا،اب شیعوں کا عمل شیخین کے معاملات میں شیعوں کے اماموں کا آئینہ دار ہے اور بس ہم جس موضوع پر گفتگو کررہے ہیں ابھی بہت سی باتیں اس سلسلے میں مقام شھادت میں آنے والی ہیں ۔

یہ دعویٰ کہ ائمہ ؑ شیخین کی خلافت کا اقرار کرتے تھے اور ان سے راضی تھےمحتاج دلیل ہے

اب صرف ایک بات رہ گئی جس کو اس سلسلے میں ضروری سمجھا جاسکتا ہے وہ یہ کہ جب یہ بات طے ہوچکی کہ خلافت کے مستحق صرف امیرالمومنین ؑ تھے جیسا کہ شیعہ کہتے ہیں اور یہی بات سوال میں بھی مفروض ہے،اس کے بعد یہ دعویٰ کہ امیرالمومنین اور دوسرے ائمہ اہل بیت ؑ اپنے اس حق خلافت سے دستبردار ہوچکے تھے اور غیروں کی خلافت کا اقرار کرچکے تھے،اصل کے خلاف ہے اس لئےمحتاج دلیل ہے اور دلیل بھی ایسی جس کے بعد بہانے اور عذر کی گنجائش نہ رہے ۔

اس لئے ہمیں اس بات کا حق حاصل ہے کہ جو آدمی اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ امیرالمومنین ؑ اپنے حق سے دستبردار ہوچکے تھے اور شیخین کی خلافت کا اقرار کرچکےتھے،کیا اس کے پاس اس دوعوے پر کوئی ایسی دلیل ہے جس پر اعتماد کیا جائے اور جس کی بنیاد پر یہ طے ہوجائے کہ گذشتہ باتیں غلط ہیں اور سابقہ تحریفات مردود ہیں یا جس دلیل کے ذریعہ سابقہ تصریحات سے منھ موڑ لیا جائے اور عملی طور پر وہ دلیل اتنی قومی ہو جو دوسری دلیلوں پر بھاری پڑے اگر اس کے پاس ایسی کوئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) شرح نہج البلاغہ ج: 9 ص: 308،307 ،


دلیل یہ ہے تو برائے مہربانی وہ پیش کرےتا کہ ہم اس پر نظر کریں ۔

لیکن گذشتہ تصریحات سے ایک بات بہرحال ثابت ہوتی ہے کہ شیخین کے بارے میں شیعوں کا نظریہ کسی تعصب اور عناد کی وجہ سے یا اصحابِ پیغمبر ؐ سے بغض و عداوت کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد بہت مضبوط دلیلوں پر ہے،وہ دلیلیں جو کامیاب انسانوں کی فہم و فراست کا نتیجہ ہیں،اب اگر کوئی خواہ مخواہ یہ بات کہے کہ نہیں ان کا کامیاب لوگوں نے غلطی کی ہے اس لئے کہ ان کی دلیلوں سے قوی تر دلیلیں جن سے وہ ناواقف تھے مقام استدلال میں موجود ہیں تو میں عرض کروں گا کہ پھر انھیں معذور سمجھا جائے،خاص طور سے اہل سنت کو تو یہ بات مان لینی چاہئے اس لئے کہ ان کے یہاں خطائے اجتہادی میں بہت گنجائش ہے،اس طرح کی باتوں میں خطائے اجتہادی پر بھی ثواب ملتا ہے جب کہ ان حضرات نے معاویہ،عمروعاص اور مغیرہ بن شعبہ جیسے لوگوں کو خطائے اجتہادی کا مجرم سمجھ کے معاف کردیا ہے تو...بہرحال اللہ نیتّوں سے واقف ہے اور وہی ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے ۔


سوال نمبر ۔ 4

کیا یہ ممکن ہے کہ صحابہ کی اتنی بڑی تعداد علی ؑ کی نص شرعی سے غافل رہی ہو اور ان پر نص کی موجودگی میں نص کی اندیکھی کی ہو؟جب کہ اللہ ان کے بارے میں فرماتا ہے کہ:تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے انتخاب کئے گئےہو کہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہو؟(1)

جواب:اس سوال کا جواب ہم کئی صورت سے دے سکتے ہیں ۔

صحابہ کا نص سے تغافل یا نبی ؐ کا امر امت سے اہمال،کون بدتر ہے؟

پہلی صورت:اگر یہ بات بعید از قیاس مان لی جائے کہ صحابہ نے امر خلافت کے معاملے میں نص کی طرف توجہ نہیں دی اور نص کی موجودگی میں مولائے کائنات ؑ کو چھوڑ کے دوسرے کو خلیفہ مان لیا تو اس سے زیادہ بعید از قیاس یہ ہے کہ نبی ؐ نے امر امت کی طرف توجہ نہیں دی اور بےسردار کی فوج چھوڑ کے چلے گئے،کیا یہ ممکن ہے کہ سرکار دو عالم ؐ نے امر خلافت کو بغیر نص کے چھوڑ دیا ہو،خلافت کے حدود کی وضاحت نہیں کی ہو اور اس کو قابل توجہ نہیں سمجھا ہو جب کہ آنےوالے وقتوں میں امر خلافت نے دین میں سب سے زیادہ اہمیت حاصل کرلی اور خلافت ہی مسلمانوں کے جملہ امور کی ترتیب و تنظیم اور نظم و ضبط کا مرکز قرار پائی،مسلمانوں کے درمیان جو بھی معرکہ ہوئے اور جتنی بھی خوں ریزی ہوئی وہ صرف اور صرف خلافت کے لئے ہوئی،ہر مسلمان کے دل میں خلافت کی لالچ،ہر آدمی کی خلافت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ آل عمران:آیت: 110


کے بارے میں الگ رائے،ہر آدمی کا خلافت کے بارے میں اپنا اجتہاد نہ کوئی ضاطبہ،نہ کوئی حد،نہ کوئی اصول،امر خلافت کی اہمیت کو دیکھئے خلیفہ کے عدم تشخیص کی وجہ سے مسلمانوں کو پہنچنےوالے نقصانات کا انداز کیجئے اور پھر سونچئے کے سرکار دو عالم ؐ نے اتنے اہم مسئلہ کو ت شنہ تفسیر چھوڑ دیا،نہ کوئی نص فرمائی نہ کوئی اشارہ کیا،یوں ہی امت کے ہاتھ میں دے کے چلے گئے اور وہ امت جس کے تمام انسان اپنی الگ الگ نظریے رکھتے ہیں،حضور ؐ کے تجربات شاہد ہیں کہ امت کو ایک شیرازہ میں باندھنا،ایک پلیٹ فارم پر لانا،ایک کلمہ پر متحد کرنا ایسا ہی ہے جیسے زندہ مین ڈ وں کو تولنا،پھر سوچئے کہ ان تمام باتوں کے باوجود اگر حضور سرور کائنات ؐ نے خلافت کے مسئلہ کو غیرمنصوص چھوڑدیا تو یہ اسلام عظیم کے ساتھ زیادتی نہیں تو کیا ہے؟حالانکہ خدا نے اسلام کو ناقص نہیں چھوڑا ہے،اپنی نبی ؐ کو مقام نبوت میں ناقص نہیں رکھا ہے،اس نے دین کو کامل کردیا اور اپنی نعمتیں تمام کردیں،پھر نبی ؐ کے بارے میں یہ کیسے خیال کیا جاسکتا ہے کہ آپ دین کو ناقص چھوڑ کے چلے گئے اور مات کو ایسی فوج قرار دیا جس کا کوئی سردار اور سپہ سالار نہیں تھا ۔ حضور سرور کائنات ؐ نے اس وقت جب کہ دعوت کا ابتدائی دور تھا،اس کےک پہلے دولت کا تصور پایا جاتا تھا نہ حکومت کا،سلطنت کی خواہش تھی نہ اقتدار کی،تب تو دعوت اسلام کو بغیر نظام و انتظام امور کے چھوڑا نہیں پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ حضور ؐ بغیر کسی نظام قاطع کے اسلام کو یوں ہی چھوڑ دیا جب کہ لوگوں کے دلوں میں حکومت کی طمع موجود تھی اور خلافت کی وجہ سے فخر و مباہات میں آگے بڑھنے کی ہوس پائی جاتی تھی،خاص طور سے جب کہ حضور سرور کائنات ؐ اپنے بعد ہونےوالے فتنوں سے متعدد جگہ باخبر کرچکے تھے،روایت یہاں تک ملتی ہے کہ حذیفہ ؒ کہتے ہیں سرکار ؐ نے فرمایا دجّال کے فتنہ سے زیادہ میں سے بعض مسلمانوں کے فتنوں سے خوف زدہ ہوں ۔(1)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)صحیح ابن حبان ج:15ص:218،ان احادیث کے باب میں جن میں فتنہ اور حوادث سے باخبر کیا گیا ہے،نیز ان اخبار کی علامتوں کے بیان میں جن کے ذریعہ انسان کی نجات ہوگی،اسی طرح،مجموع الزوائد،ج:7ص:335،میں موجود ہے مسند احمد ج:5ص:389،حذیفہ بن یمانی کے رسول اکرمؐ سے حدیث کے ضمن میں،موارد الضمان،ص:468،مسند البزراج ج:7ص:232۔233،جو طارق ابن شہاب نے حذیفہ سے روایت کی ہے ذیل میں،کنزالعمال ج:14،ص:322،حدیث:38812،


روایات میں ہےکہ مسلسل سرکار ؐ نے بُرے بادشاہوں کی حکومت سے امت کو خبردار کرتے رہے،یہ بھی بتاتے رہے کہ یہ برے حکمراں امت کا خون بہائیں گے اور ان کی ہتک حرمت کریں گے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ حضور سرور کائنات ؐ نے امر خلافت کو بیکار اور مہمل قرار دیا ہو اور اس پر کوئی نص وارد نہ کی ہو،ولایت کی تعریف نہ کی ہو اور اس کا تعارف نہ کرایا ہو اور حق و باطل،عدل و جور کی کوئی پہچان نہ بتائی ہو؟

اس سے زیادہ پر لطف بات تو یہ ہے کہ حضور ؐ اگر نص وارد بھی کرتے ہیں تو نامکمل جیسے صرف اس بیان پر کفایت کرتے ہیں کہ ائمہ قریش میں سے ہوں گے ۔(1)

بغیر کسی سنجیدہ تعریف کے،آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ قریش کے کس شعبے سے؟قریش میں تو اکثر وہ لوگ ہیں جو بہت بعد میں مسلمان ہوئے ۔ جب مغلوب ہوگئے تو مجبوری میں کلمہ پڑھ لیا،مسلمان ہونے سے پہلے انھوں نے اسلام سے ایک طویل جنگ لڑی،کافی خون بہائے،بہت سے اسلامی مصالح کو نقصان پہنچایا،جس کی وجہ سے دلوں میں بغض و حسد بھر گیا،پھر وہ بالکل آخر میں مسلمان ہوئے،کیا اماموں میں مولفۃ القلوب قریش بھی شامل ہیں ۔

پھر کیا قریش مجموعہ اضداد نہیں تھے،کیا ان کی دینداری،عفّت اور شرافت میں استقلال تھا؟سنئے!قریش میں ایمان کی بنیاد پر اگر درجہ بندی کی جائے اور مراتب کو ترتیب دیا جائے تو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)السنن الکبری للبیھقی ج:3ص:121،باب صاحبان کی نسبت اقتدار کی جائےگی اگر قرآن اور فقہ کے لحاظ سے سب برابر ہوں گے،ج:8ص:144۔143،السنن الکبریٰ،نسائی ج:3ص:143،الاحادیث المختارہ،ج:4ص:403،جو کچھ بکیر بن وہب نے انس سے،ج:6ص:143،پر روایت کی ہے،المستدرک علی صحیحین،ج:4ص:85،المصنف،ابن شیبۃ،ج:6ص:403۔402،کتاب الفضائل،مسند احمد،ج:3ص:129۔183،مسند انس بن مالک،ج:4ص:421،المعجم الاوسط ج:4ص:26،المعجم الصغیرج:1ص:260،مسند الطیاسی،ج:1ص:825۔284،مسند ابی یعلی ج:6ص:321،جو سعد بن ابراہیم نے انس سے روایت کی ہے،ج:7ص:94،جو سہل ابواسود نے انس سے روایت کی ہے،المعجم الکبیرج:1ص:252،نیز جن مصادر پر انس بن مالک نے تکیہ کیا ہے،


تاریخی اعتبار سے مندرجہ ذیل گروہ سامنے آتےہیں،پہلے درجہ پر اہل بیت نبی ؐ ہیں،اہل بیت نبی ؐ میں بھی اکچھ اعلیٰ اور کچھ کمتر ہیں،پھر ان کے بعد بدرجہ تنزیل ہی کی منزلیں ہیں،اور قریش دینداری اور تقویٰ سے دور ہو کے اخلاقی کم مائیگی،طغیان،جرم اور خباثت کی پستیوں میں گرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں،مثلاً بنوامیہ جو قرآن میں شجرہ ملعونہ(1) کے نام سے مشہور ہیں،آل ابوالعاص جنھوں نے مال خدا کو ہمیشہ اپنا مال سمجھا،بندگان خدا کو اپنا غلام اور دین کو فریب کاری(2) کا ذریعہ سمجھا پھر کیا ضابطہ اور کیسا قانون ہے جس کے ذریعہ قریش کے اماموں کو پر کھا جائے؟

سرکار دو عالم ؐ نے خاص طور سے امت کو ان لوگوں کی حرکتوں سے خبردار کرنا ضروری سمجھا اور بڑی وضاحت سے فرمایا کہ:اس امت کی ہلاکت قریش کے لون ڈ وں کے ہاتھوں ہوگی(3) اس طرح کی اور بھی حدیثیں ہیں جن کو دیکھنے کے بعد یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ سرکار دو عالم ؐ نے عام قریش کو امامت کا ذمہ دار بنایا ہوگا اور کوئی اختصاص اور تحدید کے بغیر جس پر بھی لفظ قریش کا اطلاق ہو اس کی امامت کا اعلان کردیا ہوگا،بغیر کسی ایسی حد بندی کے جس کے ذریعہ قریش کے ادنیٰ لوگوں کے دلوں میں حکومت کی امید منقطع ہوجائے اور ان کی ولایت شرعی اعتبار سے ممتنع ہوجائے یہ بھی تو دیکھئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) تفسیر القرطبی ج: 10 ص: 286 ،الدر المنثورج: 5 ص: 310 ،فتح القدیرج: 3 ص: 240 ۔ 239 ،روح المعانی ج: 15 ص: 107 ،لسان المیزان ج: 1 ص: 189 ،تاریخ طبری ج: 5 ،ص: 126 ،تفسیر طبری ج: 15 ص: 112 ،اور تفسیر ابن کثیرج: 2 ص: 50)

( 2) المستدرک علی صحیحین ج: 4 ص: 527 ،مجمع الزوائدج: 5 ص: 241 ،المعجم الاوسط ج: 8 ص: 6 ،المعجم الصغیرج: 2 ص: 271 مسند ابی یعلی ج: 11 ص: 402 والمعجم الکبیرج: 12 ص: 236 ،اورض: 19 ص: 382 ،الفتن لنعیم بن حماد ج: 1 ص: 130 ،

( 3) المستدرک علی صحیحین ج: 4 ص: 526 اورص: 572 ،کتاب الفتن و الملاحم،صحیح بخاری ج: 3 ص: 1319 کتاب المناقب باب اسلام میں علائم نبوت ج: 6 ص: 2589 ،مسند احمدج: 2 ص: 520 ،مسند ابی ہریرہ،مسند بن اسحاق بن راھویہ ج: 1 ص: 358 ۔ 359 ،المعجم الصغیرج: 1 ص: 334 ،مسند طیالسی ص: 327 ،فتح الباری ج: 11 ص: 478 ،السنن الواردہ فی الفتن ج: 2 ص: 472 ۔ 471 ،الفتن لنعیم بن حمادج: 1 ص: 130 ،باب بنی امیہ ص: 407 الفردوس بماثور الخطاب ج: 4 ص: 346 ،تاریخ کبیرج: 3 ص: 499 اور حالات سعید بن عمرو بن سعید بن العاصی الاموی القرشی،ج: 7 ص: 309 اور حالات مالک بن ظالم،الثقات ج: 5 ص: 388 اور حالات مالک بن ظالم،تھذیب التھذیب ج: 11 ص: 16 ،


کہ دھلڑے سے روایت لکھی جاتی ہے کہ عمرابن خطاب نے لکھا ہے کہ ابو بکر کی بیعت ایک بے سوچا سمجھا عمل تھا جس کے شر سے اللہ نے مومنین کو بچایا(1)

پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے خطرناک فتنوں سے نجات پانے کا کیا راستہ طے ہے جن کی کوئی حد نہیں معلوم ؟ کیا ان فتنوں کے شرسے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے؟

اس سے بھی زیادہ پر لطف بات یہ ہے کہ نبی ص نص خلافت سے غافل تھے مگر مسلمان جاگ رہا تھا(غافل نہیں تھا) اور تعین خلیفہ کو ضروری سمجھتا تھا کہ وہ باربار عمر سے کہتا ہے کہ حضور اپنے بعد کسی کو خلیفہ بنا کے جائیے(2)

بلکہ بعض لوگ تو ان خطرات کی تشریح بھی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ، عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ میں تنہائی میں اپنے باپ سے ملا تو انھوں نے مجھ سے لوگوں کے حالات پوچھے میں نے بتائے ، پھر میں نے عرض کیا اباجان ! کچھ لوگ ایسی باتیں کررہے ہیں جنھیں میں آپ تک پہنچانا ضروری سمجھتا ہوں ، لوگوں کا خیال ہے کہ آپ کسی کو خلیفہ نہیں بنائیں گے سوچئے اگر آپ اونٹ یا بکری کے چرواہے ہوتے اور آپ کو موت آجاتی اورآپ اپنے جانوروں کے گلے کو بغیر کسی چرواہے کے حوالہ کیے بغیر چلے جاتے تو پورا گلہ ضائع ہوجاتا ، پھر انسان تو بہرحال انسان ہے

--------------

(1)صحیح بخاری ج 6 ص:2503-2505 صحیح ابن حبان ج 2ص 148 باب حق الوالدین ، نیز اس بات کے انسان اپنے آباء سے پھر جائے کے بارے میں تو بیخ ، مجمع الزوائد ، ج 6ص 5 السنن الکبری ، نسائی ج:4 ص 273-272 المصنف، ابن شیبہ ج :ج:6 ص:453 ، مسند البراج :ج 1 ص :410 ، مسند احمد ، ج: 1ص: 55 عمربن خطاب کی مسند کے ضمن میں ،مسند الشہاب ، ج :1 ص : 237 ، جامع العلوم والحکم ،ص :386 ، التمہید ، ابن البر، ج:22 ص 154 الثّقات ، ابن حبان ،ج :2 ص:156-153 ، کتاب الخلفاء ابوبکر بن ابی قحافہ صدیق ،کا خلافت کے لئے چناؤ ، الفصل للموصل المدرج، ج"1ص 493 -490 ، الریاض النضرۃ ، ج:202، تاریخ طبری ، ج:2ص:235 ،حدیث سقیفہ السیرۃ النبویۃ ج:6 ص:78- ، سقیفہ بنی ساعدہ کے ذیل میں نیز اس کے علاوہ مصادر

(2)السنن الکبری للبیھقی ج: 8ص:148 ، مسندابی عوانہ ج:4ص:374 ، مسند ابی یعلی ، ج :اص:182 نیز دیگر مصادر


ان کی قیادت کا تو آپ کو انتظام کرنا ہی چاہئے ابن عمر کہتے ہیں کہ میرے ابا جان میری بات سے متفق ہوگئےور کچھ دیر تک اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھے سوچتے رہے،پھر بولے:خدائے عز و جل اپنے دین کی حفاظت کرےگا اگر میں نے کسی کو خلیفہ نہیں بنایا تو نبی ؐ نے بھی نہیں بنایا تھا اور اگر میں نے کسی کو خلیفہ بنایا تو ابوبکر نے بھی خلیفہ بنایا تھا ۔(1)

اس مفروضہ غفلت اور اہمال کا نتیجہ

پھر یہ بھی دیکھیں کہ نبی ؐ کی اس مفروضہ غفلت اور آپ ک زعم ناقص کے مطابق نبی ؐ کے اس اہمال سے امت کو کیا کیا نقصانات پہنچے،اہل سنت کی نظر میں امر خلافت کہاں منتہی ہوتا ہے کیونکہ ان کے فقہا میں خلافت کے تیئں حدود و شرط میں بے حد اختلاف پایا جاتا ہے،یہ تو رہا نظریاتی اختلاف اب آیئے ذرا عملی اعتبار سے بھی دیکھیں تو اس خلافت کے لئے لالچی لوگوں نے اور خلافت کو چھین کے اپنے قبضہ میں کرنےوالوں نے خلافت کو کہاں پہنچایا؟حکومت ان ذلیل پاجیوں کے ہاتھوں میں پہنچ گئی جو ظلم و جور اور طغیان کے ماحول کے پروردہ تھے اور جن کی مذمت میں خاموش رہنے سے زبانوں نے انکار کردیا ہے ۔

نص شرعی کے انکار کی وجہ سے ظلم و جور کا سلسلہ چل پڑا اور اسلام میں فتنے اٹھے،جنگیں ہوئیں،خون کی ندیاں بہہ گئیں نہ جانے کتنے پاکیزہ خون بہائے گئے جیسے امیرالمومنین ؑ کا خون،امام حسین ؑ کا خون،اہل بیت ؑ کے منتخب افراد کا خون،پھر ان سے کم مرتبےوالوں کا خون،حلانکہ السلام خون کی عظمت اور اس کی اہمیت کا اعلان کرتا ہے(پھر آپ کے زعم ناقص کے مطابق نبی ؐ کی غفلت کی وجہ سے)مقدسات اسلامی کی ایسی توہین کی گئی کہ جس کو بیان کرنے سے زبان اور قلم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) صحیح مسلم ج: 3 ص: 1455 ،مسند احمدج: 1 ص: 47 ،مسند ابی عوانہ ج: 4 ص: 375 کتاب الامارۃ،باب خلافت و ترکہ،مسند احمدج: 1 ص: 41 ،مسند عمر بن خطاب،مسند ابی عوانہ،ج: 4 ص: 375 ،سنن کبریٰ للبیہقی،ج: 8 ص: 148 ،المصنف لعبدالرزاق ج: 5 ص: 448 ،


دونوں ہی قاصر ہیں،حرمت کعبہ برباد ہوگئی،حرمین شریفین کی توہین کی گئی،دوسرے مقدسات کی حرمتیں بھی برباد کی گئیں ۔

یہ سب کچھ ہوا اور بہت کم میں ہوا اور یہ سب اس وقت ہوا جب وہ صحابہ جو نبی ؐ کے ساتھ زندگی گذار چکے تھے وافر مقدار میں موجود تھے انھوں نے نبی ؐ کی سلطنت دیکھی تھی،آپ کی حکومت و عدالت کا مشاہدہ کیا تھا اور آپ کی تعلیمات و ارشادات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا،آپ نے فتنوں کا تذکرہ ان کے سامنے کیا تھا،آپ نے فتنوں کا تذکرہ ان کے سامنے کیا تھا ۔

پھر تو دین کمزور ہوتا گیا اور مسلمان پست سے پست تر ہوتے گئے،وقت کے ساتھ ساتھ اسلام کے وجود میں ضعف آتا رہا یہاں تک کہ ہمارا یہ آتا ہے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ مسلمان کہاں سے کہاں پہنچ گئے،احساس کمتری،آپس کے اختلافات،کمزوری کا احساس مسلمانوں کی کم مائیگی جو کسی شرح و بیان کی محتاج نہیں ہے ۔ انا للہ و انّا الیہ راجعون

اسلام کی پائیدار بلندی اور اس کا کمال رفعت

اس موقعہ پر ابن ابی الحدید کہتے ہیں ابوجعفر طبری نے اپنی میں لکھا ہے کہ عمر نے قریش اور مہاجرین کے نمایا افراد کو دوسرے شہروں میں جانے پر پابندی عائد کردی تھی،اگر کوئی جاتا بھی تھا تو عمر کی اجازت سے اور ایک معین مدت کے لئے ہی جاتا تھا،پس انھوں نے عمر سے اس بات کا شکوہ کیا،یہ سن کر عمر کھڑے ہوئے اور ایک خطبہ دیا،کہنے لگے میں تو اسلام کی کسی اونٹ کی طرح برت رہا ہوں اسلام ابتدا میں اونٹ کے بچے کی طرح شیرخوار تھا،پھر اس کے دو دانت ہوئے،پھر چار دانت،پھر چھ دانت ہوئے،پھر وہ بالغ ہوگیا ہر اونٹ بالغ ہونے کے بعد نقصان کی طرف جاتا ہے تو پھر اسلام بھی بالغ ہونے کے بعد عُمر کی حدوں سے بڑھےگا تو نقصان کی طرف جائےگا یعنی بلوغ کے بعد اب صرف انحطاط کی منزل ہے،دیکھو اسلام بالغ ہوچکا ہے جیسے آٹھ سال کا کامل اونٹ اور قریش مال خدا کو اپنے لئے سمیٹ لینا چاہتے ہیں،قریش نے اپنے دل میں فرقہ پردازی اور قیادت سے الگ


ہونے کی ٹھان لی ہے لیکن جب تک خطاب کا بیٹا زندہ ہے یہ نہیں ہوگا،میں فرقہ پردازی کے دروازوں کو بند کردوں گا اور قریش کی گردن پکڑے رہوں گا اور انھیں آگ میں گرنے سے روکتا رہوں گا،(1)

دیکھا آپ نے!خلیفہ صاحب اسلما کو کس وضع کا پابند سمجھتے ہیں اسلام آٹھ سال کا اونٹ ہے،اب بڑھےگا تو بڑھاپے کی طرف جائےگا میرا خیال ہے کہ یہ واقعہ بیسوی ہجری کے آس پاس کا ہے،جب کہ یہ نشاط اسلامیہ کا ابتدائی دور تھا اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ اسلام اس وقت اپنے نقطہ کمال پر پہنچ چکا تھا اور اس دور میں جو خامیاں اور جو منفی واقعات ہوئے تھے ان سے صرف نظر بھی کرلیا جائے تو ماننا پڑےگا کہ خلیفہ صاحب کے خیال کے مطابق ان کے دور میں اسلام بیسوی ہجری میں کامل ہونے کے بعد اب نقصان کی طرف مائل ہے،بیس سال کی قلیل مدت اس کے کمال کی ہے،اس کے بعد نقص کا دور شروع ہوتا ہے،سوچنے کیا یہ بات کسی عقل میں آسکتی ہے؟اور کیا انصاف یہی کہتا ہے کہ عمر کے دور کے بعد اسلام مائل بہ نقصان ہے؟جب کہ خداوند عالم نے اس دین کو قیامت تک کے لئے بھیجا ہے کہ وہ ہر دور میں عالم بشریت کی ہدایت کرے اور اپنے گوارہ آبِ احکام و دستور سے انھیں سیراب کرے عالم انسانیت کی ھدایت کرے اور قیامت تک انسان اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا رہے ۔

کیا کوئی صاحب عقل یہ بات مان لےگا کہ جس اسلام سے خدا راضی ہوا،قیامت تک کے لئے ہدایت کا ذریعہ بنایا اس کے پائدار قوامین کو مکمل کیا وہ صرف بیس سال میں اپنے نقطہ کمال کو حاصل کر کے مائل بہ انحطاط ہے اور نقصان کی گہرائیوں میں گرتا چلا جائےگا ۔

جناب عالی!ماننا پڑےگا کہ امر خلافت ایسی چیز ہی نہیں تھی جس سے نبی ؐ برحق غفلت برتیں اور خود عمر بھی اپنے گذشتہ خطبہ میں اس حقیقت کے قائل ہیں اور اصل مستحق خلافت کو چھوڑ کے مسلمانوں کو جن واقعات کا سامنا کرنا پڑا وہ واقعات بھی اس بات کے شاہد ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) شرح نہج البلاغہ ج: 11 ص: 12 ،تاریخ طبری ج: 2 ص: 679 اور تاریخ دمشق ج: 39 ص: 302 اور باب حادثہ واقعہ جمل ص: 75 ،اور کنزالعمال ج: 14 ص: 75 ،حدیث: 37977


عدم نص کے نظریہ کی ناکامی وجود نص کی سب سے بڑی دلیل ہے

انصاف تو یہ ہے کہ اگر وجود نص پر کوئی دلیل سوائے عملی طور سے عدم نص کے نظریہ کی ناکامی اور اعلام و مسلمین پر بیتے حادثات اور خونریز واقعات کے نہ ہوتی تو تب بھی اللہ کی طرف مسلمانوں پر حجت تمام ہونے کے لئے کافی ہے جس کے مقابلے میں آپ کا استبعاد ٹھہر نہیں سکتا نہ ہی عموم صحابہ کا تجاہل اور نہ ہی اس حجت خدا کے خلاف خروج صحابہ معیار بن سکتا ہے چاہے صحابہ جس پائے کے ہوں اور جتنے بھی محترم کیوں نہ ہوں خدا خود ارشاد فرماتا ہے کہ:

(قُلْ فَلِلَّهِالْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ)(1)

ترجمہ آیت:((کہہ دیجئے(اے رسول ؐ )خدا کے لئے حجت بالغہ ہے اگر ہو چاہے تو وہ تم سب کی ہدایت کرسکتا ہے)) ۔

دوسری صورت:تعجب خیز بات تو یہ ہے کہ صحابہ اکثر نص شرعی سے غافل رہتے ہیں اور تجاہل برتتے ہیں ۔

خود نبی ؐ کی حیات میں صحابہ کی نص سے مخالفت

اوّلاً:صلح حدیبیہ کے بعد کے واقعات ملاحظہ فرمائیں،کثرت سے احادیث موجود ہیں کہ جمہور صحابہ نے چونکہ صلح حدیبیہ میں حضور ؐ سرور کائنات نے صحابہ کی خواہشوں کے خلاف اقرار صلح کرلیا تھا تو اب صحابہ نے یہ طے کرلیا کہ ہم نبی ؐ کا حکم نہین مانیں گے چنانچہ نبی ؐ قربانی اور تحلیق کے لئے صحابہ کو باربار حکم دیتے رہے اور مسلمان انکار کرتے رہے اور کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا ۔

اسی طرح حجۃ الوداع میں سرکار ؐ نے احرام کی حلیت کا حکم دیا اور اس کو عمرہ قرار دینے کا حکم دیا وہیں سے عمرہ تمتّع اور حج تمتع کی ابتدا ہوئی تو سرکار فرما رہے تھے کہ اپنے احرام کو کھول دو لیکن مسلمان برابر انکار کرتے رہے اور آپ کا حکم نہیں مانا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ انعام،آیت:149


مذکورہ دونوں حادثوں کی تفصیل پر غور کیجئے،آپ کے دوسرے سوال کے جواب میں دونوں واقعات کو بہت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے،تاریخ و حدیث کی دوسری کتابوں میں بھی یہ واقعات ملتے ہیں،پھر سوچئے کہ ان دونوں واقعات میں حکم پیغمبر ؐ سے سرتابی کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟پیغمبر ؐ ان صحابہ کے سامنے موجود ہیں اور آپ کے حکم سے سرتابی کی جارہی ہے آپ کے قول کی مخالفت کی جارہی ہے جب کہ اس سے صحابہ کا کوئی ذاتی فائدہ بھی دکھائی نہیں دیتا اب صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ صحابہ صرف ہٹ دھرمی اور خودرائی کی بنا پر سرکار دو عالم ؐ کی مخالفت کررہے تھے اور یہ ان کا پرانا طریقہ تھا ۔

دوسری مثالیں ملاحظہ فرمائیں،نبی ؐ اپنے ہاتھ سے لشکر تیار کرتے ہیں اسامہ کو اس کا سردار بناتے ہیں اور تمام مسلمانوں کو جن میں شیخین بھی شامل تھے اسامہ کی قیادت میں جہاد کے لئے نکلنے کا حکم دیتے ہیں لیکن صحابہ ٹس سے مس نہیں ہوتے اور غریب اسامہ مدینہ کے باہر سراپا انتظار بنے کھڑے ہیں کہ اب صحابہ آئیں اور ہم جہاد کے لئے جائیں،یہ نص شرعی کی مخالفت نہیں تو اور کیا ہے؟خدارا بتایئے:نبی ؐ کہتے ہیں قلم اور کاغذ لاؤ ایک تحریر لکھ دوں یا لکھوادوں کہ تم کبھی گمراہ نہیں ہوگے آپ چاہتی ہیں کہ ہر دور میں مسلمان گمراہی سے محفوظ رہے لیکن صحابہ مخالفت کرتے ہیں اور امت نبی ؐ کی ہدایت سے محروم ہوجاتی ہے جمعرات کی مصیبت جس دن یہ واقعہ ہوا تھا تاریخوں اور حدیثوں میں مشہور ہے اور آپ کہتے ہیں صحابہ نص سے غافل نہیں ہوسکتے:پھر یہ کیا ہے؟

مندرجہ بالا واقعات کو مقام مثال میں دیکھنے کے بعد کیا اب بھی آپ یہی کہتے ہیں کہ صحابہ کا نص سے غافل رہنا یا تجاھل کرنا بعید از قیاس ہے اور تعجب خیز ہے،حدیبیہ اور حج تمتع والے واقعات میں انکار سے ان کا کوئی ذاتی فائدہ نہیں تھا لیکن امر خلافت پر نص سے انکار یا تغافل میں تو بہت سےدنیاوی فائدے تھے اس لئےکہ اگر امیرالمومنین ؑ کی بیعت پر نص سے انکار کردیتے ہیں تو ان کےلئے پھر خلافت کی جگہ خالی ہوجاتی ہے اورکسی بھی ایرے غیرے کو خلیفہ بنادینے کی گنجائش نکلتی ہے ویسے بھی خلافت اور عافیت طلبی خود اتنا بڑا شرف ہے کہ جس کو حاصل کرنے کے لئے لالچی انسان ایمان اور نص پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بھی قربان کرسکتے ہیں ۔


حدیث حوض اور فتنوں سے ڈرانےوالی احادیث کی سنگینی کا پتہ دیتی ہیں

ثانیاً:حدیث حوض کو ہم بہت وضاحت کے ساتھ آپ کے سابقہ سوال کےجواب میں پیش کرچکے ہیں،خصوصاً احادیث حوض میں بعض حدیثیں ایسی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کی اکثریت کو حوض سے ہٹادیا جائےگاور ان میں سے بس چند لوگ باقی بچیں گے،یہ حدیثیں بتاتی ہیں کہ صحابہ میں نجات پانےوالے بہت کم لوگ ہیں،قرآن کی بہت سی آیتیں اور حدیثیں وہ ہیں جو فتنوں سے بچنے کی تقلین کرتی ہیں،ایسے فتنے جو امت پر بس آنےہی والے ہیں یہ آیتیں اور حدیثیں بتاتی ہیں کہ کتنی عظیم مصیبتیں آنےوالی ہیں اور کتنا خطرناک ماحول پیدا ہونےوالا ہے،میں نے ان آیتوں اور حدیثوں کو اکثر مقامات پر پیش کیا ہے ۔

سابقہ امتوں کے واقعات

حضور ؐ نے فرمایا کہ((تم اپنی سابقہ امتوں کی ایک بالشت اور ایک ایک ہاتھ پر پیروی کروگے یہاں تک کہ اگر وہ بجّو کے سوراخ میں داخل ہوئے ہیں تو تم بھی ان کی پیروی کروگے))صحابہ نے پوچھا حضور ؐ !کیا گذشتہ امتوں سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں؟آپ نے فرمایا پھر کون ہے؟کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ گذشتہ امتوں کی تباہی و بربادی کا سبب صرف یہ تھا کہ انھوں نے اپنے نبیوں کی مخالفت کی تھی خاص طور سے یہودیوں کے بارے میں تو قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ وہ دوبارارہ مستقیم سے بہکیں گے ارشاد ہوتا ہے:

(وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتَوْا عَلَىٰ قَوْمٍيَعْكُفُونَ عَلَىٰ أَصْنَامٍ لَّهُمْ قَالُوا يَا مُوسَى اجْعَل لَّنَا إِلَٰهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌتَجْهَلُونَ)(1)

ترجمہ آیت:((ہم بنواسرائیل کو لیکے چلے یہاں تک کہ وہ ایک ایسی قوم کے پاس آئے جو اپنے بتوں کا اعتکاف کرتی تھی تو کہنے لگے موسیٰ،ان کے خداؤں کی طرح ہمارا بھی ایک خدا بنادیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ الاعراف،آیت: 138


موسیٰ نے فرمایا تم جاہل لوگ ہو)) ۔

یہ پہلی کجی تھی اور دوسری کجی تب ظاہر ہوئی جب انھوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنایا تھا قرآن نے بہت سی آیتوں میں اس کا تذکرہ کیا ہے اور یہ واقعہ آج کل کی تورات(توریت)میں بھی موجود ہے،سورہ اسریٰ میں ارشاد ہوتا ہے کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد برپا کروگے اور ایک مرتبہ بہت بڑی سرکشی کروگے،اس فساد اور سرکشی کا نتجہ انھیں کے لئے نقصان دہ ہوگا ۔

مخالفت تو ایسی نصوص کی بھی کی گئی جو امامت کے لئے دلیل نہیں تھی

ثالثاً:وہ حدیثیں جو امیرالمومنین علیہ السلام،صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا اور اہل بیت علیہم السلام کے حق میں سرکار دو عالم ؐ نے عمومی طور پر ارشاد فرمائی تھیں،صحابہ نے ان کی مخالفت کو اپنے اوپر لازم قرار دیا تھا چاہے وہ خلافت پر نص ہوں یا نہ ہوں،جیسے حدیث ثقلین:جو اہل بیت ؑ سے تمسک کا حکم دیتی ہے،اس پر چھٹے سوال کے جواب میں گفتگو کی جائےگی ۔ انشاءاللہ

اس طرح حدیث سفینہ جس میں حضور ؐ نے فرمایا تھا کہ میرے اہل بیت ؑ سفینہ نوح جیسے ہیں جو اس میں سوار ہوا وہ نجات پائےگا اور جو اس سے منھ موڑےگا وہ ہلاک ہوجائےگا ۔(1) اور حضور اکرم ؐ کا اہل بیت اطہار ؑ کو مخاطب کرکے یہ فرمانا کہ جس سے تم سلامتی رکھوگے میں بھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) مستدرک علی صحیحین ج: 2 ص: 372 ،کتاب تفسیر،تفسیر سورہ ہود،ج: 3 ص: 163 ،کتاب معرفۃ الصحابۃ،آل رسول کے مناقب میں،مجمع الزوائدج: 9 ص: 148 ،کتاب مناقب،باب اہل پیغمبرؐ کی فصل میں مسند البرازج: 9 ص: 343 ،اسی مورد میں سعید بن مسیّب نے ابی ذر سے روایت کی ہے،المعجم الاوسط ج: 4 ص: 10 ،ج: 5 ص: 355 ،ج: 6 ص: 85 ،المعجم الصغیرج: 1 ص: 240 ،ج: 2 ص: 84 ،المعجم الکبیرج: 3 ص: 445 ،حسن بن علی کی باقی خبروں میں ج: 12 ص: 34 ،اسی مورد میں کہ سعید بن جبیر نے ابن عباس سے روایت کی ہے،مسند الشہاب ج: 2 ص: 273 ،باب گیارہ،دسواں جز،فیض القدیرج: 2 ص: 519 ،حلیۃ الاولیاءج: 4 ص: 306 ،تاریخ بغدادج: 7 ،ص: 336 ،ترجمہ الحسن بن ابی طیبۃ القاضی المصری،ج: 12 ص: 19 ،ترجمہ علی بن عمر بن شداد،فضائل الصحابہ عبداللہ بن احمد بن حنبل،ج: 2 ص: 785 ،اور اس کے علاوہ،منابع و مصادر


سلامتی رکھوں گا اور جس سے تم جنگ کروگے اس میں بھی جنگ کروں گا،(1) اس کے علاوہ وہ تمام حدیثیں جو عمومی طور پر اہل بیت ؑ کے حق میں وارد ہوئی ہیں،جیسے حدیث غدیر،جس میں حضرت ؐ نے فرمایا کہ امیرالمومنین ؑ مومنین کے نفسوں پر ان سے زیادہ حق رکھتے ہیں،حضور اکرم ؐ کا یہ قول کہ علی ؑ قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی ؑ کے ساتھ ہے(2) علی ؑ حق کے ساتھ ہیں اور حق علی ؑ کے ساتھ ہے(3) خدا علی ؑ پر رحم کرے:پالنےوالے حق کو ادھر موڑدے جدھر علی ؑ مڑے(4) علی ؑ مجھ سے ہیں میں علی ؑ سے ہوں ۔(5)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سنن ابن ماجہ ج:1ص:52،صحیح بن حبان،ج:15ص:434،سنن ترمذی ج:5ص:69،مستدرک علی صحیحین ج:3ص:161،کتاب صحابہ کی معرفت،و رسول اللہؐ کے اہل پیغمبرؐ کے مناقب میں،المصنف ابن ابی شیبۃ ج:6ص:378،کتاب فضائل،وہ چیز جو حسنؑ حسینؑ کے بارے میں آئی ہے،مجمع الزوائدج:9ص:169،کتاب مناقب،باب اہل بیتؑ کے فضائل کے بارے میں،المعجم الاوسط ج:3ص:179،ج:5ص:182،ج:7ص:197،معجم الشیوخ،ص:133،جس کی روایت محمد بن عمار بن عمروعاص بن مطیع ابوجعفر نے کی ہے،ص:380،المعجم الصغیرج:2ص:53،معجم الکبیرج:3ص:40،باقی اخبار حسن بن علیؑ میں ج:5ص:184،امالی المعاملی ص:44،سیر اعلام النبلاءج:2ص:122،ترجمہ فاطمہ بنت رسول اللہؐ ج:3ص:258،حالات حسن بن علی بن ابی طالبؑ میں،ج:10ص:432،تہذیب الکمال ج:3،ص:112،تاریخ بغدادج:7ص:137،-(2)مجمع الزوائدج:9ص:134،المستدرک علی صحیحین ج:3ص:134،المعجم الصغیرج:2ص:28،فیض القدیرج:4ص:356،المعجم الاوسط ج:5ص:135،الفردوس بماثور الخطاب ج:3ص:230،تاریخ الخلفاءج:2ص:173،اجمال الاصابۃ ص:55،الجامع الصغیرج:2ص:177،حدیث:5594،کنزالعمال ج:11ص:603،حدیث:32912،ینابیع المودۃ ج:1ص:124،ج:2ص:96۔396۔403،العصاح الکافیۃ ص:215،المناقب الخوارزمی ص:177-(3)مجمع الزوائدج:7ص:235،تاریخ بغدادج:14،ص:320،تاریخ دمشق ج:20ص:361،حالات سعد بن مالک بن ابی وقاص،ج:42ص:449،حلات علی ابن ابی طالبؑ،الامامۃ و السیاسۃ ج:1ص:68،ینابیع المودۃ ج:1ص:173،وغیرہ.-(4)سنن ترمذی ج:5ص:633،کتاب مناقب رسول اللہؐ باب مناقب علی ابن ابی طالبؑ،المعجم الاوسط ج:6ص:95،مسند البزارج:3ص:52،فیض القدیرج:2ص:236،ج:4ص:19،تذکرۃ الحفاظ ج:3ص:844،سیر اعلام النبلاءج:15ص:279،المستدرک علی صحیحین ج:3ص:134،الکامل فی ضعفاء الرجال ج:6ص:445،الضعفاء للعقیلی ج:4ص:210،المجروحین ج:3ص:10،تہذیب الکمال ج:10،ص:402،العلل المتناھیۃج:1ص:255،الریاض النضرۃج:1ص:243مسند ابی یعلی ج:1ص:418،مسند علی بن ابی طالبؑ،وغیرہ-(5)سنن ترمذی ج:5ص:636،کتاب مناقب رسول اللہؐ،سنن ابن ماجۃ ج:1ص:44،فضائل علی بن ابی طالبؑ میں،سنن کبری للنسائی ج:5ص:45،فضائل ابی بکر،عمر،عثمان،مسند احمد ج:4ص:165،الآحاد و المثانی ج:3ص:183،المعجم الکبیرج:4ص:16،السنۃ لابن ابی عاصم ج:2ص:566۔598،تذکرۃ الحفاظ ج:2ص:455،کشف الخلفاءج:1ص:236،تہذیب الاسماءج:1ص:318،فضائل الصحابۃ لابن حنبل ج:2ص:599،سیر اعلام النبلاءج:8ص:212،تاریخ دمشق،ج:42،ص:345،حالات علی ابن ابی طالبؑ میں اور اس کے علاوہ مصادر،


اوراے علی ؑ !((کیا تم مجھ سے اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہاری منزلت میرے لئے ویسی ہے جیسی ہاروں کی موسیٰ کے لئے،مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا))(1) مجھ پر شب معراج وحی آئی علی ؑ کے بارے میں جس میں تین باتیں گئیں:

1 ۔ علی ؑ سیدالمومنین ہے

2 ۔ علی ؑ امام المتقین ہے

3 ۔ علی ؑ روشن پیشانی والوں کا سردار ہے(2)

سرکار دو عالم ؐ نے علی ؑ کا تعارف اکثر ان الفاظ میں کرایا کہ علی ؑ امیرالمومنین ہیں(3) بلکہ بریدہ کی حدیث میں تو ہے کہ حضور ؐ نے ہمیں حکم دیا کہ علی ؑ امیرالمومنین کہہ کے سلام کرنا،اس وقت ہم سات آدمی تھے میں ان میں سب سے چھوٹا تھا ۔(4)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)صحیح بخاری ج:4ص:1602،کتاب المغازی،باب جنگ تبوک،اواسی طرح ج:3ص:1359،کتاب فضائل الصحابۃ،باب مناقب علی بن ابی طالبؑ،صحیح مسلم ج:4ص:1871۔1870،کتاب فضائل الصحابہ باب فضائل علی بن ابی طالبؑ صحیح ابن حبان ج:15ص:15،باب اخبار رسول اللہؐ،المستدرک علی صحیحین ج:2ص:367،کتاب تفسیر،تفسیر سورہ توبہ،ج:3ص:117،کتاب معرفت صحابہ،اور مناقب علی بن ابی طالبؑ میں سے کتاب معرفت صحابہ،الاحادیث المختارہ ج:3ص:207،

(2)المعجم الصغیرج:2ص:192،مجمع الزوائدج:9ص:121،کتاب مناقب علی ابن ابی طالبؑ،المستدرک علی صحیحین ج:3ص:148،اسد الغابۃج:1ص:69،حالات اسعد بن زرارہ انصاری،ج:3ص:116،حالات عبداللہ بن اسعد بن زرارہ انصاری،تاریخ دمشق ج:42،ص:302۔303،معجم الصحابۃج:1ص:70حالات ابجر بن غالب المزنی ج:2ص:112،موضوع ادھام الجمع و التفریق،ج:1ص:186۔185۔184۔183،الفردوس بماثور الخطاب ج:5ص:315،حلیۃ الاولیاءج:1ص:63،حالات علی بن ابی طالبؑ،تاریخ بغدادج:11ص:112،حالات عبدالجبار بن احمد بن عبیداللہ السمسار،ج:13ص:122،کشف الخفاءج:3ص:456،کنزالعمال ج:11ص:620۔619،میزان الاعتدال ج:7ص:207،الکامل فی ضعفاء الرجال ج:7ص:199،حالات یحی بن العلاء الرازی،

(3)تاریخ دمشق ج:42،ص:386۔303،حالات علی بن ابی طالبؑ،المناقب خوارزمی ص:85،موضع ادھام الجمع و التفریق،ج:1ص:185،الفردوس بماثور الخطاب ج:5ص:364،حلیۃ الاولیاءج:1ص:63لسان المیزان ج:1ص:107،میزان الاعتدال ج:1ص:191،حالات ابراہیم بن محمد بن میمون،

(4)تاریخ دمشق ج:42،ص:303،حالات علی بن ابی طالبؑ میں،


حضور ؐ نے فرمایا:علی ؑ میرے بعد تم لوگوں کے ولی ہیں ۔(1)

حضور ؐ نے ایک اور مقام پر فرمایا کہ:علی ؑ جو مجھ سے الگ ہوا وہ اللہ سے الگ ہوا اور جو تم نافرمانی کرتا ہے اور جو علی ؑ کی اطاعت کرے وہ میری اطاعت کرتا ہے اور جو علی ؑ کی نافرمانی کرے وہ میری نافرمانی کرتا ہے ۔(3) اور حضور کا یہ کہنا کہ اے علی تم میرے بعد امت کے اختلافات کو دور کروگے ۔(4) اور حضور ؐ کا یہ ارشاد کہ جو علی ؑ کو ستائے وہ مجھےستاتا ہے اور جو علی ؑ کو اذیت دے دو مجھے اذیت دیتا ہے.(5)

---------------

(1)مجمع الزوائدج:9ص:128،سنن کبری للنسائی ج:5ص:133،المعجم الاوسط،ج:6ص:163،مسند احمدج:5ص:356،الفردوس بماثورالخطاب ج:5ص:392،فتح الباری ج:8ص:68،تحفۃ الاحوزی ج:10ص:148۔146،فیض القدیر ج:4ص:357،الاصابۃج:6ص:623،الریاض النضرۃ ج:2ص:187،تاریخ دمشق ج:42،ص:189،حالات علی بن ابیطالبؑ میں،فضائل الصحابۃ لابن حنبل ج:2ص:688،البدایۃ و النہایۃج:7ص:346۔344،

(2)المستدرک علی صحیحین ج:3ص:133،کتاب معرفت صحابہ ص:158،مجمع الزوائدج:9ص:135،کتاب مناقب باب الحق مع علی،مسند البرازج:9ص:455،معجم شیوخ ابی بکر الاسماعیلی ج:3ص:800،المعجم الکبیرج:12،ص:423،فضائل الصحابہ ج:2ص:750،فیض القدیرج:4ص:357،میزان الاعتدال ج:3ص:30،ص:75،حالات رزین بن عقبہ میں،تاریخ دمشق ج:42،ص:307،حالات علی بن ابی طالبؑ میں،

(3)المستدرک علی صحیحین ج:3ص:131،معجم شیوخ ابی بکر اسماعیلی ج:1ص:485،الکامل فی ضعفاء الرجال ج:4ص:349،تاریخ دمشق ج:42،ص:307،حالات علی بن ابی طالبؑ میں

(4) المستدرک علی صحیحین ج 3: 132 ،تاریخ دمشق ج ،اص: 485 ،الکامل فی ضعفاء الرجال ج :ج ص:349 ، تاریخ دمشق ج :42 ص:307 ،حالات علی ابن ابی طالب-

(5)صحیح ابن حبان ج:15ص:365،المستدرک علی صحیحین ج:3ص:131،کتاب معرفت صحابہ،الاحادیث المختارہ ج:3ص:268۔267،موارد الظمان ص:453،مجمع الزوائد،ج:9ص:129،المصنف لابن ابی شیبۃج:6ص:371،فضائل علی بن ابی طالبؑ،مسند الشاشی ج:1ص:134،مسند البزارج:6ص:237،مشاہیر علماء الامصار ص:35،الثقات ج:3ص:273،التدوین فی اخبار قزوین ج:3ص:390،معجم الصحابۃ ج:2ص:201،الستیعاب ج:3ص:1101،حالات علی بن ابی طالبؑ میں،ص:1183،حالات عمر بن شاس بن عبید،الاصابۃج:6464،فضائل الصحابۃ لابن حنبل ج:2ص:579،633،تاریخ الخلفاءج:1ص:173،حالات علی بن ابی طالبؑ میں انساب الاشراف ج:2ص:379،اس کے علاوہ دوسرے مصادر،


اسی طرح جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں بھی حدیث پیغمبر ؐ کی مخالفت کی گئی،حضور اکرم ؐ نے فرمایا کہ:جو فاطمہ ؑ کو خوف زدہ کرے وہ مجھےخوفزدہ کرتا ہے اور جو فاطمہ ؑ کو اذیت دے وہ مجھے اذیت دیتا ہے(1) دوسرے مقام پر آپ ؐ نے فرمایا((فاطمہ ؑ تیری غضب کی وجہ سے خدا غضبناک ہوتا ہے اور تیری رضا کی وجہ سے خدا راضی ہوتا ہے ۔(2)

اس طرح کی بہت سی حدیثیں فضائل علی ؑ و فاطمہ ؑ و اہل بیت ؑ میں پائی جاتی ہیں جن کے معنی و مفاہیم ایک ہیں چاہے الفاظ مختلف ہوں،یہ حدیث اس کثرت سے پائی جاتی ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں اور نہ ان سے انکار ممکن ہے ان حدیثوں کے اجمال تفصیل میں تواتر پایا جاتا ہے بلکہ یہ حدیثیں تواتر کی حد سے بھی آگے ہیں،لیکن ان حدیثوں میں امیرالمومنین ؑ کی خلافت پر نص ہو یا نہ ہو بہرحال سقیفہ میں اور سقیفہ کے بعد کے واقعات میں ان حدیثوں کی شدید مخالفت کی گئی ان حدیثوں کا مذاق اڑایا گیا اور ان حدیثوں کی طرف کسی نے دھیاں نہیں دیا،علی ؑ و فاطمہ ؑ کے گھر پر حملہ کیا گیا،ان کی ہتک حرمت کی گئی،انھیں اذیت دی گئی،انھیں غضبناک کیا گیا،امیرالمومنین ؑ کو بیعت پر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)تفسیر ابن کثیرج:3ص:257،صحیح بخاری ج:5ص:2004،کتاب النکاح،صحیح ابن حبان ج:15ص:406،مسند ابی عوانۃج:3ص:70،سنن ترمذی ج:5ص:698،سنن کبریٰ للبیہقی ج:7ص:307،ج:10ص:288،سنن ابی داود،ج:2ص:226،سنن ابی ماجۃج:1ص:643،معتصرالمختصرج:1ص:307،المعجم الکبیرج:22ص:404،حالات حسین بن علیؑ میں ج:7ص:325،سیراعلام النبلاءج:2ص:119،فاطمہ بنت رسول اللہؐ کی سوانح حیات میں،تہذیب الکمال ج:22ص:599،حالات عیسی بن حماد بن مسلم،ج:35،ص:250،معجم الصحابۃج:3ص:110،صفوۃ الصفوۃج:2ص:13،معجم المحدثین ص:9غوامص الاسماءالمبھۃ ج:1ص:340،المغنی ج:10ص:186،فضائل الصحابۃ لابن حنبل ج:2ص:756،فضائل الصحابۃ للنسائی ص:78،

(2)المستدرک علی صحیحین ج:3ص:167،مجمع الزوائد،ج:9ص:203،الآحادوالمثانی ج:5ص:363،المعجم الکبیرج:1ص:108،ج:22ص:401،میزان الاعتدال ج:2ص:289،حالات حسین بن زیاد بن علی بن حسین بن علی علوی ج:4ص:185،الکامل فی ضعفاء الرجال ج:2ص:351،حالات حسین بن زید بن علی میں،التدوین فی اخبار قزوین ج:3ص:11،الاصابۃج:8ص:57،حالات فاطمۃ الزہراءؑمیں،تاریخ دمشق ج:3ص:165،باب اولاد فاطمۃ الزہراؑ کے ذکر میں،ص:120،


مجبور کیا گیا،آپ ؑ کو تیسری درجےکے لوگوں کا تابع اور مطیع قرار دیا گیا،ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ امت میں اختلاف کے وقت لوگ فیصلہ اور قول محکم کے لئے امیر کائنات ؑ کی طرف رجوع کرتے مگر اس کے برعکس امیرالمومنین ؑ کو ادنیٰ لوگوں کی پیروی مجبور کیا گیا،نبی ؐ نے حکم دیا تھا کہ اہل بیت ؑ سے تمسک کرو امت نے اہل بیت ؑ کا خذلان کیا،نبی ؐ نے فرمایا کہ اہل بیت ؑ سفینہ نوح جیسے ہیں اس سفینہ پرآؤگے تو نجات پاجاؤگے اور امت نے اس سفینہ ہی کو ڈ بونے کی کوشش کی،نبی ؐ نے فرمایا تھا علی ؑ تمہارے مولی ہیں،علی ؑ امیرالمومنین ہیں،امت نے کے بدلے میں اپنی ولایت اور امارت علی ؑ پر مسلط کردی،اس دور کے سب سے کمزور وجود کا نام علی ؑ ہوگیا،جس طرح بنواسرائیل نے جناب ہاروں کو کمزور کردیا تھا اسی طرح مسلمانوں نے علی ؑ کو سب سے کمزور سمجھ کے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑدئیے،شوریٰ کے دن بھی گذشتہ تمام حدیثوں کی مخالفت کی گئی،علی ؑ کو حاکم ہونا چاہئے تھا لیکن یہ حق عبدالرحمٰن بن عوف نے چھین کر عثمان کی خلافت کا فیصلہ سنا دیا اور حاکم برحق کو محکوم بناکے ابوطلحہ انصاری کو حکم دیا کہ اگر علی ؑ بیعت عثمان سے انکار کرتے ہیں تو وہ انھیں قتل کردے،عثمان کا مولا اور عبدالرحمٰن کے جابرانہ فیصلہ نے اسے رعایا اور مامور قرار دیا ۔

بلکہ انصاف سے دیکھ جائے تو شیخین(ابوبکر و عمر)نےنصوص نبوی ؐ کی زیادہ مخالفت کی ہے اور اکثر جہگوں پر خود کو نصوص نبوی ؐ کی پابند یوں سےآزاد قرار دیا ہے،تفصیل کتابوں میں موجود ہے جسے شک ہو وہ جاکے دیکھے،میں ان کتابوں کا حوالہ دینا ضروری نہیں سمجھتا اور اس مختصر میں اس کی گنجائش بھی نہیں ہے ۔

اب آپ فیصلہ کریں،شواہد کیا کہتے ہیں؟صحابہ نے ان نصوص شریفہ کی مخالفت کی یا نہیں؟صحابہ نے ان نصوص شریفہ سے تغافل برتایا نہیں؟ان حدیثوں میں تو امیرالمومنین ؑ کی امامت و خلافت پر کوئی نص بھی نہیں تھی لیکن صحابہ نے ہر اس حدیث کی مخالفت کی اور ہر اس نص سے تغافل برتا جس میں امیرالمومنین ؑ اور اہل بیت ؑ کے حق کی رعایت کا حکم دیا گیا تھا تو جب صحابہ ایسے نصوص کی


مخالفت کرسکتے ہیں تو امامت و خلافت پر نصوص نبوی ؐ کی مخالفت کرنے اور تغافل برتنے سے انھیں کون روکے گا؟وہ کیوں نہیں کریں گے؟اس لئے کہ وہ خود غاصب خلافت تھے،اگر نص پر عمل کرتےتو خلافت حقدار خلافت کو دینی پڑتی ۔

انصار نے الائمۃ من قریش کی مخالفت کی

انصاف سے بتائیں کیا((الائمۃ من قریش))نص نہیں ہے؟کیا اس سے قریش میں امامت کا محصور ہونا سمجھ میں نہیں آتا ہے؟پھر انصار جو قریش نہیں تھے انھوں نے دعوائےخلافت کرکے کیا اس نص کی مخالفت نہیں کی؟انصار صحابہ تھے کہ نہیں؟انصار وہ باوقار گروہ جن میں بہت سے سابق الاسلام تھے،نبی ؐ کی نصرت میں بھی سابق تھے،لیکن جب حکومت کی ہوس دل میں سمائی تو ان ہی صاحبان جبّہ و دستارنے سعد بن عبادہ کی بیعت کرنی چاہی اور الائمۃ من قریش کے نص صریح کی مخالفت کر بیٹھے(1) عام مسلمانوں کے درمیان یہ تو بہت مشہور حدیث تھی،کیا انصار نے یہ حدیث نہیں سنی تھی؟

ہاں قریش کی ایک جماعت نے جب دیکھا کہ انصار نص کی مخالفت کررہے ہیں تو انھوں نے ان کو ڈ انٹا اور سختی سے انکار کیا،یہاں تک کہ عمروعاص کہتا ہے قریب تھا کہ وہ اسلام کی رسّی کو ڈ ھیلی کردیں جیسا کہ انھوں نے اس کے لئے قتال کیا تھا اور جس طرح اسلام میں داخل ہوئے تھے قریب تھا کہ اسی طرح وہ اسلام سے نکل جاتے،خدا کی قسم اگر انھوں نے پیغمبر ؐ کا قول((الائمۃ من قریش))سنا تھا پھر بھی امامت کے دعویدار تھےتو وہ ہلاک ہوچکے تھے اور ہلاک کرچکے تھے اور اگر نہیں سنا تھا انھوں نے یہ قول!تو بھی وہ مہاجرین جیسے تو نہیں تھے ۔(2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)اس سوال کے جواب کے آغاز میں اسکے مصادر گذرچکے ہیں)

(2)شرح نہج البلاغہ ج:6ص:29


لیکن انصار آخر اس مذکورہ نص کے مخالف کیوں تھے ۔ صرف اس لئے کہ وہ نص ان کی مصلحتوں کے خلاف تھی اور ان کے مفاد کو مجروح کررہی تھی،اس طرح عمر نے بھی اس نص کو مبہل قرار دیا اور اس نص سے خارج ہونے کی پرواہ نہیں کی اور کسی نے ان کی مخالفت بھی نہیں کی،وقت وہ ہے جب انھیں زخمی کیا گیا اور موت کا فرشتہ ان کے سامنے آکے کھڑا ہوگیا اس وقت کہنے لگے اگر ابوحذیفہ کا غلام سالم زندہ ہوتا تو میں اس کو خلیفہ بنادیتا ۔(1) پھر کہا اگر معاژ بن جبل کو پاتا تو خلیفہ بنادیتا،پھر میں اپنے پروردگار سے ملتا تو وہ مجھ سے پوچھتا....(2)

سوچئے کیا سالم غلام ابوحذیفہ اور معاذ بن جبل جیسے لوگوں کے ہاتھوں خلافت سوچنے کی خواہش((الائمۃ من قریش))کے نص کی مخالفت نہیں ہے یہ دونوں مسلمان قریش سے نہیں تھے،

یہیں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تمام صحابہ کی طرف سے نص کی مخالفت کا اقدام ذرا بھی بعید از قیاس نہیں ہے،اس لئے کہ نص کی مخالفت ہی سے ان کے الّو سیدھے ہوررہے تھے،ان کی مصلحتوں کا افادہ ہورہا تھا اور وہ نقصان سے بچ رہے تھے،نص کی مخالفت تو صرف ان کو نقصان پہنچارہی تھی جو اہل بیت ؑ پیغمبر ؐ تھے اور پیغمبر کے بعد انھیں کمزور کردیا گیا تھا،جیسا کہ آئندہ صفحات میں عرض کیا جائےگا ۔

حاصل گفتگو یہ ہے کہ جب صحابہ ان نصوص نبوی ؐ کی مخالفت کرسکتے ہیں جن سے امامت و خلافت امیرالمومنین ؑ ثابت نہیں ہوتی تو پھر امامت و خلافت کے حامل نصوص کی مخالفت بعید از قیاس ہے نہ تعجب خیز،جیسا کہ شیعوں کے قول کے مطابق ایسی نص موجود ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)تاریخ طبری ج:2ص:580،العقد الفریدج:4ص:255،تاریخ دمشق ج:58ص:405۔404،مقدمہ ابن خلدون ص:194،حلیۃاولیاءج:1ص:177،صفوۃ الصفوۃج:1ص:388،کشف الخفاءج:2ص:428

(2)تاریخ دمشق ج:8ص:404۔403،مسند احمدج:1ص:18،فیض القدیرج:3ص:190،صفوۃالصفوۃج:1ص:367.


نبی نے صحابہ کو خبردار کردیا تھا کہ وہ امیرالمومنینؑ کے بارے میں نصوص کی مخالفت کریں گے

بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ حضور سرور کائنات ؐ نے اپنے صحابہ کو خبردار کردیا تھا کہ وہ علی ؑ کے بارے میں نصوص کی مخالفت کریں گے اور نصوص کو جاری ہونے سے روکیں گے،اگر امیرالمومنین ؑ اپنے حق کے لئے قیام بھی کریں گےتو صحابہ علی ؑ سے الگ ہوجائیں گے،اس لئے کہ حضور کائنات ؐ اپنے اصحاب کی نفسیات سے اچھی طرح واقف تھے اور ان کے دلوں میں کیا کچھ ہے اس سے اچھی طرح واقف تھے حضور ؑ سمجھ رہے تھے کہ وہ لوگ کس حد تک جاسکتے ہیں ۔

ثبوت کے لئے ملاحظہ ہو((جب عائشہ نے مولائے کائنات ؑ پر خروج کیا اور بصرہ تک پہنچ گئیں تو انھوں نے کوشش کی کہ ام سلمہ ؒ کو بھی اپنے ساتھ ملالیں اور دونوں مل کے علی ؑ پر خروج کریں لیکن ام المومنین ام سلمہ نے انکار کردیا بلکہ عائشہ کو بھی سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ امیرالمومنین ؑ سے نہ الجھیں،ام المومنین ام سلمہ نے عائشہ کو کچھ باتیں یاد دلائیں جو امیر کائنات ؑ کے حق میں تھیں اور انھیں روکنے کی کوشش کی،ان باتوں میں ایک واقعہ یہ بھی تھا کہ ام سلمہ نے عائشہ سے کہا:میں تمہیں ایک واقعہ یاد دلاتی ہوں،ہم لوگ یعنی میں اور تم سرکار دو عالم ؐ کے ساتھ سفر کررہے تھے،علی ؑ ہمارے ساتھ تھے،پیغمبر ؐ کی جوتیاں ٹانکا کرتے تھے اور کپڑے دھویا کرتے تھے ایک دن آپ کی جوتی میں سوراخ ہوگیا علی ؑ اس کو ٹانکنے کے لئے بیٹھ گئے،اس وقت علی ؑ ایک ببول کے درخت کے سایہ میں بیٹھے تھے اتنے میں تمہارے باپ اور عمر آگئےانھوں نے نبی ؐ سے حاضری کی اجازت لی،ہم لوگوں نے پردہ کرلیا اور وہ دونوں خدمت پیغمبر ؐ میں حاضر ہوئے،وہ نبی ؐ سے کہنے لگے،حضور ؐ ہمیں نہیں معلوم کہ آپ کی صحبت ہمیں کب تک حاصل رہےگی،کاش آپ بتایئےکہ آپ کے بعد آپ کا خلیفہ کون ہوگا؟تا کہ ہم آپ کے بعد اس کی پناہ میں چلے جاتے،حضور ؐ نے فرمایا:ویسے تو میں اس کی جگہ دیکھ رہا ہوں لیکن اگر میں تمہیں بتادوں تو تم اس سے الگ ہوجاؤگے جس طرح بنی اسرائیل ہارون بن عمران ؑ کو چھوڑکے الگ


ہوگئے تھے،یہ سن کر دونوں خاموش ہوگئے اور باہر چلے گئے،پھر جب نبی ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے نبی ؐ سے پوچھ لیا حالانکہ عائشہ تم نبی ؐ پر مجھ سے زیادہ جسارت کرتی تھیں،بہرحال میں نے نبی ؐ سے پوچھا:حضور ؐ آپ ان لوگوں پر کس کو خلیفہ بنانا چاہتے ہیں؟فرمایا جوتی ٹانکنےوالے کو تو ہم نے غور سے دیکھا اس وقت علی ؑ کے علاوہ جوتی ٹانکنےوالا کوئی نہیں تھا میں نے پوچھا یا رسول اللہ ؐ اس وقت تو جوتی ٹانکنےوالا علی ؑ کے علاوہ کوئی دکھائی نہیں دیتا؟آپ ؐ نے فرمایا:ہاں میری مراد بھی وہی ہے،عائشہ نے کہا،ہاں مجھے یاد آگیا،(1)

یہ وہ حقائق ہیں کہ جس کی بنیاد پر مجھے عرض کرنا ہے کہ صحابہ کےتغافل کی وجہ سے نص کو وجود کو بعید از قیاس نہیں سمجھا جاسکتا،بلکہ ضرورت ہے کہ نص کےدعوے پر منصفانہ نظر کی جائے اور اس دعوے پر جو دلیلیں دی جارہی ہیں ان پر کامل موضوعیت کے ساتھ جذبات سے دور ہوکے غور کیا جائے پھر وجدان کو حاکم بناکے ایک فیصلہ کیا جائے،شیعہ امیرالمومنین ؑ اور آپ کی معصوم اولاد ؑ کی خلافت کے بارے میں جن نصوص کا دعویٰ کرتے ہیں کیا وہ نصوص ان لوگوں کے بارے میں بھی وارد ہوئی ہیں جن کی خلافت کو جمہور صحیح قرار دیتے ہیں تو جمہور نے مقام استدلال میں ان نصوص کا استعمال کیا ہے کہ نہیں جب اس نکتہ پر غور کریں گےتو راستہ خود بخود مل جائےگا اس لئے کہ حق سبحانہ تعالیٰ صحیح راستے کی طرف ہدایت کرنےکا ذمہ دار ہے ۔

جن لوگوں نے نص کی مخالفت کی،ان کی تعداد بہت کم ہے

وجہ ثالث:جن لوگوں نے نص خلافت کی مخالفت کی اگر بقول شیعہ نص موجود ہے تو ان کی تعداد بہت کم ہے،صرف وہی لوگ نص کی مخالفت کرتے ہیں یا نص سے تغافل برتتے ہیں جنھوں نے امیرالمومنین ؑ کے خلاف تحریک کی قیادت کی ہے،آپ کے مقابلہ پر اترے ہیں اور خلافت کو ان سے چھین کے خود قبضہ جمالیا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:6ص:218


جہاں تک باقی لوگوں کا سوال ہے تو انھوں نے مخالفت نص کا اقدام کیا ہےنہ امیرالمومنین ؑ کی مخالفت کی ہے،بس انھوں نے واقعات کو ایک حقیقت سمجھ کے قبول کرلیا ہے اور اس کے بہت سے اسباب ہوسکتے ہیں یا تو انھوں نے نص اور حق کو اہم نہیں سمجھایا یہ سوچا کہ عافیت اسی میں ہے کہ حالات سے سمجھوتہ کرلیا جائے یا یہ سوچا کہ نصوص کی وجہ سے حقدار کو حق نہیں ملنے جارہا ہے یا اس لئے خاموش رہے کہ وہ نص کو بعید از قیاس سمجھ رہے تھے و غیرہ

انسانی سماج کا مزاق وقت کے دھارے کے ساتھ مڑجاتا رہا ہے

انسانی سماج کا مزاج یہ ہے کہ وہ وقت کے دھارے کے ساتھ کسی بھی تحریک اور انقلاب کی طرف بہت جلد مڑجاتا ہے اور اس میں رہنے،سہنے کی عادت ڈ ال دیتا ہے،تحریک یا انقلاب کے بانیوں کی تعداد بہت مختصر ہوتی ہے،یہی لوگ شریعت اور قانون کو بدلنے میں پیش پیش رہتے ہیں اور یہی لوگ اس تحریک سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں،پھر تو تحریک کی ذمہ داریاں ان لوگوں پر آپڑتی ہیں جو بالکل ہی بودے اور عام کالانعام ہوتے ہیں اور اس تحریک کو برقرار رکھ کے کچھ فائدہ وہ بھی اٹھالیتے ہیں،لیکن جب انسانی سماج پر غلط تحریک کی وجہ سے مصیبتں آتی ہیں،جو اس تحریک سے انکار کرنےوالے اور شریعت کی مخالفت کی وجہ سے حاصل ہونےوالے نقصانات کی نشاندہی کرنےوالے سامنے آتے ہیں اور ان کی مدد وہ لوگ کرتے ہیں جو قانون کی بالادستی اور شریعت کی پابندی کے قائل ہیں اور حق کی راہ میں ہر قربانی دینے کو تیار رہتے ہیں ایسے لوگ ہر دور میں کم رہے ہیں اور باقی لوگ؟دل میں تو شرع کی توہین کے منکر ہوتے ہیں لیکن ظاہر میں شروع کو کوئی اہمیت نہیں دیتے،اسی لئے وہ حق کو مقام حق تک پہنچانے کے لئے قربانیاں دینا بہت مشکل سمجھتے ہیں،اب یا تو بزدلی کریں یا اس لئے کہ ان کےاندر قربانی کا جذبہ پایا جاتا ہےمگر سوچتے ہیں کہ اگر شریعت کی حفاظت نہیں ہوسکی اور انقلاب نہ آسکا تو ہماری قربانیاں ضائع ہوجائیں گی اس لئے کہ مخالفین کی طاقت بہت زیادہ ہے اور ہم اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔


ابوبکر کی بیعت پر اہل مدینہ کے اتفاق کا دعویٰ

کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ مدینہ کے مہاجرین و انصار اور دوسرے لوگوں نے بھی ابوبکر کی بیعت پر اتفاق کرلیا تھا اور یک زبان ہوکے ان کی تائید کی تھی،الگ تھے تو صرف کچھ لوگ اور امیرالمومنین علی ؑ ،دعویٰ کچھ اس انداز میں کیا گیا ہے کہ لوگ سمجھیں کہ اگر نص موجود تھی بھی تو اہل مدینہ کی اتنی بڑی جماعت نے عمداً اس کی مخالفت کی اور نص کے خلاف عمل کیا،اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ عوام سامنے کی صورتحال سے سمجھوتہ کرلیتے ہیں اور اکثریت کسی نظریہ کی گہرائی پر نظر نہیں رکھتی،

مذکورہ دعویٰ کے بطلان کے شواہد

لیکن یہ دعویٰ خلاف واقع ہے،اس لئے کہ بیعت کے وقت جو واقعات اور حادثات سامنے آئے وہ اس اتفاق کے خلاف گواہی دیتے ہیں،حدیث کی کتابوں میں یہ قول ہر جگہ پایا جاتا ہے کہ ابوبکر کی بیعت ایک لغزش تھی(1) فلتہ(لغزش)کی تشریح تو فلتہ سے بھی ناکارہ ہے فلتہ کا مطلب مباغتہ ہے یعنی بغیر مشورہ کے،مورخین کا بیان بھی اسی بات کی شہادت دیتا ہے کہ بیعت ابوبکر اچانک حاصل ہوگئی،تاریخ کے آئینہ میں اس وقت مدینہ کی صحیح صورت حال کا جائزہ لیجئے،حضور سرور کائنات ؐ کی وفات ہوچکی ہے اہل مدینہ دہشت ناک حادثہ سے وحشت زدہ ہیں،مولائے کائنات ؑ اور دوسرے بنوہاشم حضور سرور کائنات ؑ کی تجہیز و تکفین میں مصروف ہیں اور ایک چھوٹی سی جماعت اپنی سازشوں میں لگی ہوئی ہے،وہ لوگ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اس وقت اقتدار اور خلافت پر قبضہ جمانےکا سب سے بہتر موقعہ ہے اس لئے کہ اہل مدینہ خبط ہیں اور اصل دعویدار ان خلافت بلکہ مستحقین خلافت پیغمبر ؐ کی تجہیز میں مشغول ہیں،اس وقت یہ جماعت ابوبکر کی بیعت کی پیشکش کرتی ہے اور نص کے خلاف(اگر نص موجود تھی)تو بہت چالاکی سے ابوبکر کو آگے بڑھا کےلوگوں سے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)اس سوال کے آغازِ جواب میں اس کا حوالہ گذرچکا ہے


بیعت مانگتی ہے اور لوگ حیرت و وحشت کے عالم میں تنکے کے سہارے کےطور پر ڈ وبنے سے بچنے کے لئے اس اقدام کو قبول کرتے ہیں(اس کہتے ہیں ہنگامی صورت حال سے فائدہ اٹھانا) اب ذرا مشہور تاریخ نگار یعقوبی سے سنئے اس وقت سقیفہ میں کای ہورہا ہے؟کس کی بیعت ہورہی ہے؟اور کیسے بیعت لی جارہی ہے؟یعقوبی لکھتا ہے براءبن عازب آئے اور بنوہاشم کے دروازے پر دستک دی اور آواز لگائی کہ اے بنوہاشم ابوبکر کی بیعت ہوگئی،بنوہاشم میں سے کسی نے کہا:مسلمان ہمارے غیاب میں کوئی غیاب میں کوئی اہم فیصلہ نہیں کرسکتے،ہم محمد ؐ کے قریب ترین ہیں،عباس بولے انھوں نے فیصلہ کر بھی لیا،ربّ کعبہ کی قسم:حالانکہ مہاجرین و انصار کو شک بھی نہیں تھا کہ علی ؑ کےعلاوہ کسی کی بیعت ہوگی،مہاجرین و انصار کےایک گروہ نے ابوبکر کی بیعت سے اختلاف کیا اور مولائے کائنات ؑ کی طرف مائل ہوئے،ان میں عباس بن عبدالمطلب فضل بن عباس،زبیر بن عوام بن عاص(یہی نام چھپی ہوئی کتاب میں لکھا ہے)خالد بن سعید،مقداد بن عمرو،سلمان فارسی،ابوذر غفاری،عمار بن یاسر،براءبن عازب اور اُبی بن کعب تھے،(1)

ابوبکر کی بیعت کے مخالفین میں فردہ بن عمر انصاری بھی تھے،یہ بڑی قدآور شخصیت تھی اور راہِ خدا میں جہاد کرنےوالے شہسواروں کے سردار تھے،ہر سال اپنے باغ کی کھجوروں میں سے ایک ہزار وسق صدقہ نکالتے تھے،اپنی قوم کے سردار اور شاعر تھے،آپ امیرالمومنین ؑ کے اصحاب میں سے تھےآپ نے جنگ جمل میں مولائےکائنات ؑ کی حمایت میں جہاد کیا تھا ۔(2)

ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ جب ابوبکر کی بیعت ہوگئی تو بنی تیم کے لوگ(ابوبکر کا قبیلہ بھی تیم تھا)فخر کرنے لگے،یہ بیان محمد بن اسحاق کا ہے حالانکہ مہاجرین کو اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہی صاحب الامر ہیں انصار کےنمایاں افراد کو بھی اسی بات کا یقین تھا ۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)تاریخ یعقوبی ج:2ص:124،روایت سقیفہ بنی ساعدہ اور ابوبکر کی بیعت)

(2)شرح نہج البلاغہ ج:6ص:28۔29

(3)شرح نہج البلاغہ ج:6ص:21


انصار کی کوشش کہ سعد بن عبادہ کی بیعت ہوجائے

میرا خیال ہے کہ((اور یہ خیال حقیقت سے بہت قریب بھی ہے کہ))انصار مدینہ نے سعد بن عبادہ کی بیعت کی تجویز اس لئے رکھی تھی کہ وہ دیکھ رہے تھے کہ اگر وہ خلافت پر قبضہ کرنے میں جلدی نہیں کریں گے تو قریش مسند خلافت مارلے جائیں گےپھر قریش ہی حاکم ہوں گے اور انصار محکوم انصار کی یہ پیشکش علی ؑ کے خلاف نہیں تھی اور نہ اس لئے تھی کہ انصار نص سے ناواقف تھے بلکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ قریش خلافت کی لالچ میں نص کی مخالفت کررہے ہیں علی ؑ سے محض بغض و عناد کی وجہ سے خلافت کو غصب کرلینا چاہتے ہیں،علی ؑ کے اسلامی کارنامے یعنی علی ؑ کا راہِ خدا میں جہاد،قریش کو ان کے کفر کی وجہ سے سزا دیتا و غیرہ،قریش کے دل میں علی ؑ کےبغض کو پیدا کرچکا ہے حالانکہ علی ؑ ہی وہ ہیں جن کی حکومت نبی ؐ کی حکومت سمجھی جاتی ہے،علی ؑ ہی وہ ہیں جنہوں نے کفارِ قریش کا خون بہایا ہے،ان کی بنیادیں کھودی ہیں اور ذاتِ باری تعالی کے معاملے میں سب سے سخت ہیں،علی ؑ احکام و حدودِ الٰہی کے سخت پابند ہیں اور بغیر کسی رعایت،محبت یا رخصت کے حدود الہیہ کو جاری کرنےمیں سب سے آگے ہیں ۔

منافقین و طلقاء کی کارستانیاں

علیؑ کے بارے میں حکم نبیؐ کی مخالفت اور علیؑ کی وجہ سے نبیؐ کی طرف بُغض کےآثار نبیؐ کی زندگی ہی میں دکھائی دینےلگے،منافقین طلقا اور ان کے حلیفوں نے اپنی سازشوں کے جال،حیات پیغمبر ہی میں پھیلا دیتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے وادی عقبہ کےمشہور واقعہ میں نبیؐ کو مارڈالنے کی کوشش کی،دوسرےسوال کے جواب میں اس واقعہ کو بیان کیا جاچکا ہے،اسی طرح انہوں نے مختلف مقامات پر حکم پیغمبرؐ سے تجاہل برتا،نبیؐ جیش اسامہ میں جانے پر باربار حکم دیتے رہے اور یہ لوگ مدینے میں بیٹھے رہے اور حکم نبیؐ کو نہیں مانا۔

آخر وقت میں نبی ؐ کو ایسی تحریر دینے سے روکدیا جو انھیں گمراہی سے بچاسکتی تھی،دوسرےسوال کے جواب میں اس کی طرف بھی اشارہ کیا جاچکا ہے ۔ غدیر خم میں جب آپ پہونچے تو ان لوگوں نے آپ کی مخالفت کی حضرت ؐ نے اس بات کا شدت سے احساس کیا اور ان لوگوں کو یہ کہہ کےتنبیہ فرمائی


کے اے لوگوں میرےدستور تہماری مخالفت اور کنارہ کشی مجھے بہت ناگوار گذرتی ہے مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ تمہارےدل میں میرے خاندان کی طرف سے سب سے زیادہ بغض بھرا ہواہے،(1) جب آپ مکہ مکرمہ سےواپس آئےتو لوگ آپ سے اجازت لےکےجانےلگے،آپ نے ان کو جازت تو دیدی لیکن یہ بھی فرمایا:کہ آخر بات کیا ہے،میرے خاندان کے لوگ دوسرے خاندانوں سےزیادہ تہمارا بغض جھیل رہے ہیں ۔(2) لوگ اہل بیت ؑ سے علانیہ بغض و عداوت کا اظہار کرنےلگےتھے،چنانچہ ابن عباس حضور ؐ کی خدمت میں آئے اور کہنےلگے اے خدا کےرسول ؐ ہم جب باہر نکلتے ہیں تو قریش کو آپس میں بات کرتے ہوئے دیکھتے ہیں لیکن قریش ہمیں دیکھتے ہی خاموش ہوجاتے ہیں،یہ سن کر حضور ؐ غضبناک ہوئے(3) دوسری روایت میں ہےکہ جب قریش آپس میں ایک دوسرے سے ملتے تھے تو مسکراتے ہوئے چہروں کے ساتھ لیکن جب ہم(عباس بن عبدالمطلب)لوگوں سے ملتے ہیں تو ان کا منہ لوح جاتا ہےیہ سن کر حضور ؐ غضبناک ہوئے ۔(4) اس طرح کے بہت سارےشواہد ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگ حکم پیغمبر سے برابر تجاہل کرتے تھے،انہوں نے حیات پیغمبر ؐ ہی میں پختہ ارادہ کرلیا تھا کہ خلافت اہل بیت ؑ کے ہاتھ نہیں لگنےدیں گے ۔ اس خیال کو دو باتوں سے مزید تقویت مل رہی تھی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) تاریخ دمشق ج: 42 ص: 227 ،العمدۃ لابن بطریق ص: 107 ،مسند شامیین طبرانی ج: 3 ص: 223 ،روایت قبیصہ جابر انصاری سے

( 2) صحیح ابن جبان ج: 1 ص: 444 ،باب فرض ایمان مسند احمدج: 4 ص: 16 ،مجمع الزوائدج:آـ 20 ،کتاب ایمان ج: 10 ص: 408 ،مسند طیاسی ص: 182 ،الاحاد و المثانی ج: 5 ص: 24 ،معجم الکبیرج: 5 ص: 49 ۔ 50 ۔ 51 ،شعب الایمان ج: 1 ص: 364 ،حلیۃالاولیاءج: 6 ص: 286 ،تھذیب الکمال ج: 9 ص: 208 ،موضح اوھام الجمع و التفریق ج: 2 ص: 520 ،موارد ظمان ج: 1 ص: 32)

( 3) مسنداحمدج: 4 ص: 165 ،تفسیر ابن کثیرج: 4 ص: 114 ،مجمع الزوائدج: 1 ص: 88 کتاب الایمان ج: 9 ص: 170 ،مسند البرازج: 6 ص: 131 ،مسندالمطلب بن ربعیہ ج: 2 ص: 918 معجم الصحابہ ج: 2 ص: 1194 المعجم الاوسط ج: 5 ص: 52 ،ج: 7 ص: 373 ،المعجم الصغیرج: 1 ص: 399 ،سیراعلام النبلاءج: 2 ص: 88 ،ج: 12 ص: 156 ،تھذیب الکمال ج: 33 ص: 340 ،تاریخ بغدادج: 3 ص: 376)

( 4) المستدرک علی صحیحین ج: 3 ص: 376 ،کتاب معرفت الصحابہ ج: 54 ص: 85 ،السنن الکبری للنسائی ج: 5 ص: 51 ،کتاب مناقب،فضائل علیؑ سنن ترمذی ج: 5 ص: 652 ،کتاب کتاب المناقب:مصنف لابن ابی شیبۃ ج: 6 ص: 382 ،مسند البراز،ج: 4 ص: 140 ،المعجم الکبیرج: 20 ص: 284 ۔ 285 ،تعظیم قدرالصلاۃج: 1 ص: 453 ۔ 455 ،تھذین الکمال ج: 14 ص: 228 ،فضائل الصحابہ للنسائی ص: 22


آنےوالےفتنوں کےبارےمیں رسول خدا ؐ کی پیشین گوئیاں

1 ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ قرآن مجید کی طرف سے اور خود سرکارِ دو عالم ؐ کی طرف سے مسلسل آنےوالے فتنوں کی پیشین گوئی کی جارہی تھی اور ان سے بچنے کی ہدایت دی جارہی تھی یہ بتایا جارہا تھا کہ فتنے بہرحال واقع ہوں گےاور بہت سخت دور آئےگا،دوسرے سوال کےجواب میں اس سلسلے میں کچھ عرض کیا جاچکا ہے،قرآن،پیغمبر ؐ کےرویائے صادقہ پر آپ کو تسلی دیتا ہوا کہتا ہے میں نے آپ کے خواب کو صرف لوگوں کے لئے ایک فتنہ قرار دیا ہے اور قرآن قرآن میں شجرہ ملعونہ بھی ہے اور ہم انہیں ڈ راتے ہیں مگر وہ اپنی سرکشی میں اضافہ ہی کرتےجاتے ۔(1) یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب پیغمبر ؐ نے خواب میں دیکھا تھا کہ کچھ لوگ بندوں کی طرح آپ کے منبر پر اچھل کود کررہے ہیں ۔(2)

آنحضرت ؐ دین اور اہل بیت ؑ پر آنےوالی مصیبتوں اور حکومت کےانحراف کی خبر باربار دیتے رہے

آپ ؐ نےفرمایا:اس امت کی ہلاکت قریش کے لون ڈ وں کے ہاتھوں ہوگی ۔(3)

حضرت ؐ نےفرمایا:تم ضرور اسلام کے ہر بندھن کو توڑ دوگےاور جب بھی کوئی بندھن ٹوٹےگا تم اسی فرقے کےہوجاؤگے،تم سب سے پہلا بندھن حکومت کا اور آخری بندھن نماز کا توڑوگے ۔(4)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ اسراء،آیت: 60)- ( 2) تفسیر قرطبی ج: 10 ص: 283 ۔ 282 ،تفسیرطبری ج: 15 ص: 112 ۔ 113 ،تفسیرابن کثیرج: 3 ص: 50 ،تاریخ طبری ج: 5 ص: 634 ،شرح نہج البلاغہ ج: 9 ص: 220 ،مجمع الزوائدج: 5 ص: 243 ۔ 244 ،مسند ابی یعلی ج: 11 ص: 348 ۔علل متناھیہ ج: 2 ص: 701 ،مستدرک صحیحین ج: 4 ص: 527 ،کنزالعمال ج: 11 ص: 358 ،حدیث: 3137 ،سیرہ اعلام النبلاءج: 2 ص: 108) ( 3) اس کا حوالہ گذشتہ سوال کے جواب میں گذرچکا ہے)

( 4) صحیح ابن حبان ج: 15 ص: 111 ،آپ کی امت کےدرمیان جو کچھ حوادث اور فتن رونما ہوں گےکےبارے میں خبریں،مجمع الزوائدج: 7 ص: 281 ،کتاب الفتن،مسنداحمدج: 5 ص: 251 ،موارد الظمان ج: 1 ص: 87 ،کتاب الصلاۃ،جس نے نماز کی پابندی کی اور جس نے اسے ترک کردیا کے بیان میں المعجم الکبیرج: 8 ص: 98 ،شعب الایمان،ج: 4 ص: 326 ،ج: 6 ص: 69 ،فصل جماعت اور رکعت کی فضیلت،اور تفرقہ سے کراہت کے بیان میں،مسندالشامیین ج: 2 ص: 411 ،السنۃ عبداللہ بن احمد ج: 1 ص: 356 ،الترغیب و الترہیب ج: 1 ص: 216 ،تعظیم قدر الصلاۃ ج: 1 ص: 415 ،الفردوس بماثورالخطاب ج: 2 ص: 445 ،فیض القدیرج: 5 ص: 399 ۔ 263 ،اور اس کے علاوہ مصادر،


حضرت ؐ فرمایا:دیکھو!اسلام کی چکی چل چُکی ہےاسے کتاب خدا کے ساتھ ہی چلاتے رہو ۔

خبردار ہوجاؤ!کہ سلطنت اور کتاب میں ہونےوالی ہے،جب ایسا ہوتو تم کتابِ خدا سے جُدا مت ہونا ۔(1)

آپ ؐ نے امیرالمومنین ؑ سے فرمایا:امّت میرے بعد تم سےغدّاری کرےگی،(2) امیرالمومنین ؑ نےدیکھا پیغمبراعظم ؐ رورہے ہیں آپ نےرونے کا سبب پوچھا تو حضور ؐ نےفرمایا:اس قوم کےدل تمہاری طرف سےکینوں سےبھرے ہوئے ہیں اور یہ کینے ظاہر نہیں کریں گےمگر میرےبعد،(3) آپ نے بنی ہاشم سےفرمایا:تم میرےبعد کمزور بنادیئے جاؤگے(4)

اورآپ ؐ نے انصار سےفرمایا:میرےبعد تم لوگ نشانہ انتقام بنوگے ۔(5)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) مجمع الزوائدج: 5 ص: 238 ،مسند شامیین ج: 1 ص: 379 ،معجم صغیرج: 2 ص: 42 معجم کبیرج: 20 ص: 90 ،فیض قدیرج: 3 ص: 534 حلیۃ الاولیاءج: 5 ص: 165)

( 2) اس کا حوالہ تیسرےسوال کےجواب میں گذرچکا ہے)

( 3) مجمع الزوائدج: 9 ص: 118 مسند البرازج: 2 ص: 293 ،مسند ابی یعلی ج: 1 ص: 426 ،معجم کبیرج: 11 ص: 73 ،تاریخ بغدادج: 12 ص: 398 ،میزان الاعتدال ج: 5 ص: 431 فضل بن عمیرہ قیسمی کےحالات میں،ج: 7 ص: 315 ،الکامل فی ضعفاءالرجال ج: 7 ص: 173 ،تھذیب الکمال ج: 23 ص: 239 ،علل متناہیہ ج: 1 ص: 343 ۔ 244 ،تاریخ دمشق ج: 42 ص: 322 ۔ 323 ۔ 324)

( 4) مجمع الزوائدج: 9 ص: 34 ،مسنداحمدج: 6 ص: 339 ،معجم کبیرج: 25 ص: 23 ،الفردوس بما ثور الخطاب ج: 1 ص: 394)

( 5) صحیح بخاری ج: 3 ص: 1381 ،کتاب فضائل الصحابہ،باب رسول اکرم کا قول ہماری ملاقات تک صبر کرو،ج: 4 ص: 1574 ،کتاب المغازی،باب غزوہ الطائف،صحیح مسلم ج: 2 ص: 738 ،کتاب الزکوٰۃ،صحیح ابن حبان ج: 16 ص: 264 ،صحابہ اور تابعین کے فضائل کے باب میں،الاحادیث المختارۃ،ج: 4 ص: 272 ،مسند ابی عوانۃ ج: 4 ص: 415 ،مجمع الزوائدج: 10 ،ص: 33 ۔ 31 ،السنن الکبریٰ بیہقی ج: 6 ص: 339 ،مسنداحمدج: 3 ص: 111 ۔ 167 ۔ 17 ،مسند ابن مالک کی ج: 4 ص: 42 ،پر عبداللہ بن زید بن عاصم المازنی کی حدیث،ص: 292 ،پر اور براء بن عازب کی حدیث، 4 ص: 352 ،مسند رویانی ج: 2 ص: 183 ،المعجم الکبیرج: 1 ص: 208 ،السنن الواردۃ فی الفتن ج: 1 ص: 203 ،البیان و التعریف،ج: 1 ص: 352 ،مسند رویانی ج: 2 ص: 183 ،المعجم الکبیرج: 1 ص: 208 ،السنن الواردۃ فی الفتن ج: 1 ص: 203 ،البیان و التعریف،ج: 1 ص: 254 ،سیر اعلام النبلاءج: 2 ص: 452 ،فضائل الصحابۃ ابن حنبل ج: 2 ص: 808 ،وغیرہ منابع،


نبی اعظم ؐ اور مولائے کائنات ؑ منافقین کے ٹکراؤ سے بچتے تھے

2 ۔ انص ٓ ر یہ بھی دیک ھرہے تھے کہ سرکارِ دو عالم ؐ اور مولائے کائنات ؑ منافقین اور طلقا سے تا حدامکان ٹکرانا نہیں چاہتے ہیں اور ان سے اُلجھنا نہیں چاہتے ہیں،دونوں حضرات ان لوگوں کو سزا نہیں دینا چاہتے اس لئے کہ اس سے خواہ مخواہ کا فتنہ اُٹھ کھڑا ہوگا،معاملات بگڑ جائیں گے اور فضول باتیں پیدا ہوں گی مثلاً السام کے چہرے کو بگاڑنےکی کوشش،نبی ؐ اور آلِ نبی ؐ کی توہین،اس کےعلاوہ دعوت اسلام کو بھی جلد یا دیر سے ایسا نقصان پہنچےگا جس کا تدارک ممکن نہیں ہوگا،شواہد ملاحظہ ہوں ۔

کیس صحابی نےعرض کیا کہ حضور ؐ !جن لوگوں نےوادی عقبہ میں آپ کو قتل کرنا چاہا تھا اُن کےنام ظاہر کر کےانہیں قتل کردیں آپ نے فرمایا:میں اس بات کو مکروہ سمجھتا ہوں کہ عرب کہیں:محمد ؐ نے ایک قوم کی مدد سے دشمنوں پر فتح حاصل کی اور جب فتحیاب ہوگئے تو اُسی قوم کو قتل کرنا شروع کردیا(1) اسی طرح جب لوگوں نے عبداللہ بن اُبی کے قتل کا مطالبہ کیا تو آپ نے فرمایا:لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ محمد ؐ پنے ہی اصحاب کو قتل کررہے ہیں(2) ان واقعات کے علاوہ بھی بہت سے موقع آئے جب انصار نے دیکھا کہ مولائے کائنات ؑ اور حضور سرورِ دو عالم ؐ ،منافقین اور یاکاروں سے چشم پوشی کرتے ہیں اور حتی الامکان ان سے اُلجھنا نہیں چاہتے،یہ تمام باتیں دیکھ کے انصار یہ سمجھ گئے کہ قریش اور اُن کے ہم خیال لوگ موقعہ کی تلاش میں ہیں اور آج موقعہ ملا ہے تو علی ؑ سے حکومت کو چھین لینا چاہتے ہیں،اس لئے انصار نے یہ سوچا کہ جب علی ؑ کے ہاتھ میں حکومت رہنی ہی نہیں ہے تو کیوں نہ پہلے ہم کوشش کریں اور قریش کے لئے راستہ بند کردیں،اس لئے کہ انصار کو یہ توقع تھی کہ اگر خلافت کا پلّہ جُھکا اور خلافت اپنے مرکز سے ہٹی تو منافقین اور طلقا اس پر قابض ہوکے حاکم بن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) تفسیر ابن کثیرج: 2 ص: 373 ،سبل الہدی و الرشادج: 5 ص: 467 ،الدر المنثور ج: 4 ص: 244 ،روح المعانی ج: 10 ص: 139)

( 2) تاریخ المدینہ ج: 1 ص: 266 اور اسی طرح ص: 360


جائیں گے اور چونکہ انصار نے قریش کے خلاف سرکارِ دو عالم ؐ کی نصرت کی ہے اس لئے یہ عرب کے بُدّواں سے انتقام لینے میں ذرا بھی سُستی نہیں کریں گے اور نصرت پیغمبر ؐ کی سزا بلکہ سخت ترین سزا دیں گے ۔

اگر انصار یہ سمجھ لیتے کہ خلافت امیرالمومنین ؑ ہی کے ہاتھ مٰں ہے تو بہت ممکن تھا کہ وہ مولائے کائنات ؑ پر غالب آنے کی اور آپ سے خلافت چھیننے کی،نیز نص وارد سے تجاہل کی کوشش نہیں کرتے،میرے اس خیال کی شہادت وہ واقعات دیتے ہیں جنہیں مورخین نے((احداثِ سقیفہ))کے عنوان سے لکھا ہے اور اہلِ حدیث نے جن کی طرف اشارہ کیا ہے ۔

انصار کے آرا اور ان کے نظریے

ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ جوہری نے اپنی کتاب((السقیفہ))میں لکھا ہے کہ ابوبکر نے انصار کو خطاب کر کے بتایا کہ((مہاجرین قریش))انصار سے زیادہ خلافت کے مستحق ہیں تو انصار نے ان کا جواب دیا،خدا کی قسم ہم اس خَیر کی وجہ سے تم سے حسد نہیں کرتے جو خیر خدا نے تم تک پہنچایا ہے،تم سے زیادہ ہمارا کوئی محبوب ہے نہ پسندیدہ،بلکہ ہم مستقبل سے خوف زدہ ہیں اور اس بات سے ڈ رتے ہیں کہ کہیں یہ امر ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں نہ پہنچ نائے جو نہ ہم میں سے ہیں اور نہ تم میں سے ۔(1)

دوسری روایت میں ہے کہ حباب بن منذر کھڑے ہوئے یہ بدری صحابی تھے،انہوں نے کہا:ایک ہم میں سے امیر ہوجائے،ایک تم میں سے،اے لوگو!ہم تم سے اس امر کو الگ نہیں کرنا چاہتے،ہمیں خوف ہے تو اس بات کا کہ کہیں اس حکومت پر وہ لوگ نہ غالب آجائیں جن کے باپ،بھائیوں کو ہم نے قتل کیا ہے ۔

عمر بولے:اگر ایسا ہوا تو میں اس کی مخالفت بھرپور طریقے سے کروں گا ۔(2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:6ص:7۔8،

(2)انساب الاشراف ج:2ص:260طبقات الکبری ج:3ص:182،تاریخ دمشق ج:30ص:275شرح نہج البلاغہ ج:2ص:53،کنزالعمال ج:5ص:606حدیث:14072


تیسری روایت میں ہے کہ حباب کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم تجھ سے یا تیرے اصحاب سے حسد نہیں کرتے ہم تو اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ کہیں وہ لوگ خلافت پر قابض نہ ہوجائیں جنہیں ہم نے قتل کیا ہے،پھر تو وہ لوگ ہم سے بدلہ لینا شروع کردیں ۔(1)

ایک دوسرے روایت میں ہے کہ حباب نے انصار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:تم لوگ مجھے خاموش رہنے کی تلقین کر رہے ہو،بہرحال تم نے تو انجام پر غور کئے بغیر جو سمجھ میں آیا کیا لیکن میں خدا کی قسم مستقبل پر غور کر رہا ہوں کہ تمہاری اولاد ان کے دروازوں پر دستک دیکے پانی مانگے گی اور وہ انہیں سیراب کرنے سے انکار کردیں گے ابوبکر بولے:حباب تم کس وقت سے ڈ ر رہے ہو؟حباب نے کہا تم سے نہیں ڈ رتا،تمہارے بعد آنے والے لوگوں سے خوف زدہ ہوں،ابوبکر نے کہا:اگر ایسا ہوا اور تم وہ باتیں دیکھنے لگو جن کو تم نہیں چاہتے ہو تو پھر اختیار تمہارے ہاتھ میں دےدیں گے،حباب نے کہا:ابوبکر افسوس تو اسی کا ہے کہ ایسا نہیں ہوسکےگا،میں تو اس وقت کی بات کر رہا ہوں جب نہ تم ہوگے نہ ہم ہوں گے اور ہمارے بعد وہ قوم آئے گی جو ہمارے بیٹوں کو سخت عذاب میں گرفتار کرے گی اور خدا ہی اسی سے طلبِ استعانت ہے ۔(2)

انصار و غیرہ نے خلافت کے لئے امیرالمومنین ؑ کا نام لیا

یعقوبی کہتا ہے کہ سقیفہ میں جب ابوعبیدہ کی بیعت کی تجویز اور عمر کی طرف سے ابوبکر کی بیعت کی تجویز رکھی گئی تو عبدالرحمٰن بن عوف کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:اے گروہ انصار اگر چہ تم صاحبِ فضیلت ہو لیکن ابوبکر،عمر اور علی ؑ کی طرح نہیں ہو،یہ سن کر منذر بن ارقم کھڑے ہوئے اور کہنے لگے تم نے جن کا ذکر کیا ہم ان کی فضیلت کے منکر نہیں ہیں،اس لئے کہ ان مذکورہ لوگوں میں ایک شخص ایسا ہے کہ اگر وہ خلافت کا مطالبہ کرے تو اس سے کوئی اختلاف کرےگا،نہ جھگڑا،ان کی مراد علی بن ابی طالب ؑ سے تھی ۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)انساب الاشراف ج:2ص:263،امر سقیفہ (2)الفتوح لابن اعثم ج:1ص:100۔111،خبر سقیفہ (3)تاریخ یعقوبی ج:2ص:123،خبر سقیفہ اور بیعت ابوبکر


ابن ابی الحدید،زبیر بن بکار سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابوبکر کی بیعت ہوگئی تو ایک جماعت نے ابوبکر کو جلوس کی شکل میں لیکے مسجدِ نبوی تک پہنچا دیا اور ان کے پاس بیٹھے رہے،جب دن ختم ہونے لگا تو لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے،پس انصار کا ایک گروہ جمع ہوا اور مہاجرین کا ایک گروہ جمع ہوا اور دونوں ایک دوسرے سے غصّہ ہونے لگے،غصّہ کی بنیاد سقیفہ تھی،عبدالرحمٰن بن عوف کہنے لگے:اے گروہِ انصار اگر چہ تم صاحبِ فضیلت ہو،نصرتِ پیغمبر ؐ میں سبقت کرنے والے اور سابق الایمان ہو لیکن تم میں ابوبکر،عمر،علی ؑ اور ابوعبیدہ جیسا کوئی نہیں ہے،زید بن ارقم نے جواب دیا:اے عبدالرحمٰن!جن کی فضیلت کا تم نے ذکر کیا،ہم ان کے منکر نہیں ہیں،لیکن سیدالانصار سعد ابن عبادہ تو ہمیں میں سے ہیں تم نے قریش کے جن لوگوں کا نام لیا،ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے ایک شخص ایسا ہے جو اگر خلافت اپنے لئے طلب کرے تو اس سے کوئی جھگڑا نہیں کرےگا یعنی علی ابن ابی طالب ؑ۔(1)

ابن اعثم نے عبدالرحمٰن اور زید بن ارقم کی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے آخر میں لکھا ہے کہ زید بن ارقم نے کہا:عبدالرحمٰن!اگر علی ابن ابی طالب اور دوسرے بنوہاشم تدفینِ نبی ؐ میں مصروف نہ ہوتے اور آپ کے لئے غمگین ہوکے اپنے گھروں میں بیٹھے نہ ہوتے تو امرِ خلافت کی طرف کسی کی بھی پُر ہوس نگاہیں نہ اٹھتیں اور اس کی لالچ میں کوئی نہیں پڑتا،جاؤ لیکن اپنے اصحاب کو ایسی چیز کے بارے میں ہیجان میں مبتلا نہ کرو جس کا تم مقابلہ نہیں کرسکتے ۔(2)

طبری اور ابن اثیر کہتے ہیں کہ سقیفہ میں جب ابوعبیدہ،ابوبکر اور عمر کی بیعت کا معاملہ اٹھا تو عمر نے فوراً ابوبکر کی بیعت کر لی اور دوسرے حاضرین نے بھی بیعت کرلی،اسی وقت انصار بولے یا انصار کی نمائندگی کرتا ہوا کوئی انصاری بولا ہم تو سوائے علی ؑ کے کسی کی بیعت نہیں کریں گے ۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:6ص:19۔20

(2)الفتوح الابن اعثم ج:1ص:12)

(3)تاریخ طبری ج:2ص:233،روز وفات رسول خداؐ،الکامل فی التاریخ ج:2ص:220،خبر سقیفہ اور بیعت ابوبکر،چاپ1348سنہمطبعہ منیریۃ


صحابہ کی جماعت کے نمایاں افراد علی ؑ کی طرف مائل تھے

ابن ابی الحدید جوہری کے حوالہ سے ان کی سندوں کے ساتھ جریر بن مغیرہ سے روایت کرتے ہیں کہ سلمان،زبیر اور انصار کی خواہش تھی کہ نبی ؐ کے بعد علی ؑ ہی کی بیعت کی جائے ۔(1) اسی طرح دوسرے مورخین نے بھی لکھا ہے کہ مولائے کائنات ؑ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ گھر میں بیٹھ گئے یہاں تک کہ ابوبکر کی ایک جماعت نے ان پر ہجوم کیا ۔(2)

ابن ابی الحدید جوہری کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ علی ؑ کے گھر میں بہت سے آدمی تھے ۔(3)

انصار ابوبکر کی بیعت کرکے پچھتا رہے تھے

یہ بات بھی سبھی جانتے ہیں کہ اگر چہ انصار کی اکثریت نے ابوبکر کی بیعت کرلی تھی،اس کے باوجود ابن ابی الحدید،زبیر بن بکار کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ جب ابوبکر کی بیعت ہوگئی اور جب ابوبکر کا معاملہ سُلجھ گیا تو انصار کے کثیر افراد ابوبکر کی بیعت کر کے پچھتا رہے تھے اور ایک دوسرے کو ملامت کر رہے تھے،وہ امیرالمومنین ؑ کا نام لے رہے تھے اور آپ کا نام لیکر فریاد کر رہے تھے،حالانکہ مولائے کائنات ؑ اپنے گھر میں بیٹھے تھے اور باہر نہیں نکل رہے تھے(انصار کی اس بیزاری کی جہ سے)وہ مہاجرین جو ابوبکر کے ساتھ تھے اور وہ لوگ جو فتحِ مکہ کے دن مہمان ہوئے تھے اور جن کا انصار اور اسلام نے خون بہایا تھا،تنگ ہونے لگے اس موقعہ پر بہت سی باتیں ہوئیں بہت سی تقریریں ہوئیں اور بہت سے اشعار نظم کئے گئے ۔(4)

جوہری،ابوسعید خدری سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے برا بن عاذب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:2ص:49ج:6ص:43

(2)ریاض الغضرہ،ج:2ص:205۔206،ص:123۔125،تاریخ یعقوبی ج:2ص:126،الامامۃ و السیاسۃ ج:1ص:16،العقد الفرید ج:4ص:242،العسجدۃ الثانیۃ

(3)شرح نہج البلاغہ ج:6ص:48

(4)شرح نہج البلاغہ ج:6ص:23یعقوبی فی التاریخ ج:2ص:125


کو کہتے ہوئے سنا کہ میں ہمیشہ بنی ہاشم سے محبت کرتا رہا،جب سرکارِ دو عالمؐ کی وفات ہوئی تو مجھے ڈر ہوگیا کہ قریش امرِ خلافت کو بنی ہاشم سے نکال لے جائیں گے تو میری حالت کسی جلد باز عاشق جیسی ہوگئی،پھر ہو(برا ابن عاذب)بیعت ابوبکر کا ذکر کرتے ہیں،یہاں تک کہ میں(برا بن عاذب)بنی بیاضہ کے میدان میں پہنچا تو دیکھا کہ کچھ لوگ آپس میں راز داری کی باتیں کر رہے ہیں،میں جب ان کے قریب پہنچا تو وہ لوگ خاموش ہوگئے،میں وہاں سے چلنے لگا،انہوں نے مجھے پہنچان لیا تھا لیکن میں نے انہیں نہیں پہچانا تھا،تو انہوں نے مجھے اپنے پاس بلایا،میں اُن کے پاس گیا تو دیکھا کہ وہاں مقداد بن اسود،عبدادہ بن صامت،سلمان فارسی،ابوذر،حذیفہ اور ابوھثیم بن تیہان تھے،حذیفہ کہہ رہے تھے کہ میں نے تمہیں جو بات بتائی ہے وہ ہو کر رہے گی،بخدا میں نے نہ جھوٹ بولا نہ مجھے جھٹلایا گیا،پھر کہا جا کے اُبی بن کعب سے پوچھ لو،ان کو بھی وہ سب کچھ معلوم ہے جو مجھے معلوم ہے،برا کہتے ہیں:پس ہم لوگ اُبی بن کعب کے پاس پہنچے اور ان کے دروازے پر دستک دی،انہوں نے اندر سے پوچھا تم لوگ کون ہو اور تمہاری ضرورت کیا ہے،ہم نے کہا:دروازہ کھولو بات ایسی نہیں ہےکہ پردہ کے پیچھے سے ہو،وہ بولے دروازہ تو میں نہیں کھولوں گا،البتہ تم جس کام کے لئے آئے ہو میں جان گیا ہوں،لگتا ہے تم امرِ خلافت کے بارے میں بات کرنے کے لئے آئے ہو،ہم نے کہا:ہاں!وہ کہنے لگے کیا تم میں حذیفہ بھی ہیں ہم نے کہا:ہاں،وہ کہنے لگے جو وہ کہہ رہے ہیں وہی صحیح ہے،خدا کی قسم میں تو اپنا دروازہ نہیں کھولوں گا جب تک حالات اسی طرح چلتے رہیں گے،اس کے بعد تو اس سے بُری حالت ہونےوالی ہے،میں تو خدا ہی سے شکوا کرتا ہوں۔(1)

امیرالمومنین ؑ کو کمزور کرنے کی کوشش میں عباس کا استعمال

ابوبکر کی بیعت کو صحابہ بُرا کہہ رہے تھے اور اُسے توڑنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے،اسی وجہ سے ابوبکر نے ارادہ کیا کہ امیرالمومنین ؑ کو کمزور کریں اور آپ ؑ کے خاندان میں پُھوٹ ڈ ال دیں،سازش

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) شرح نہج البلاغہ ج: 2 ص: 51 ۔ 52


یہ تھی کہ عباس اور اولاد عباس کو خلافت میں کچھ اختیاردے کر اپنی طرف ملالیں تاکہ وہ لوگ امیرالمومنین سے رشتہ توڑ کر اور آپ کو چھوڑ کران کی طرف ہوجائیں ، ابوبکر نے عباس سے کہا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ کچھ لوگ مسلمانوں کی عام روش سے ہٹ کے باتیں کررہے ہیں انہوں نے تم لوگوں کو اپنی پناہ گاہ بنا رکھا ہے ، تم (بنوھاشم)ان لوگوں کے لئے مضبوط قلعہ اور ان کی حمایت میں بولنے والے شاندار خطیب ہوگئے ہو،ہو تو سنو !یا تو اس میں داخل ہوجاؤ جس میں سب لوگ داخل ہوئے ہیں (یعنی میری خلافت مان لو) یا پھر لوگوں کو جس کی طرف وہ مائل ہوگئے ہیں اس سے باز رکھو ہم تمھارے پاس آئے ہیں کہ تمھارے لئے امر خلافت میں سے کچھ حصہ دیدیں جو تمھارے بعد تمھاری اولادکے بھی کام آئے-

اس کے بعد عمرنے گفتگوشروع کی اور انہوں نے بھی ابوبکر کی تصدیق کی ، عمرنے کہا:ہم تمھارے پاس کسی ایسی ضرورت کے لئے نہیں آئے ہیں ،لیکن ہمیں یہ برا لگتا ہے کہ مسلمان کی جماعت جس بات پر مجتمع ہوچکی ہے تم اس پر طمع کرو اور تمھاری اور ان کی مصبیتیں بڑھ جائیں، عام مسلمانوں کے بارے میں اور اپنے بارے میں ذرا سوچ سمجھ کے چلو(1)

عباس نے جو ان باتوں کا جواب دیا تھا وہ بھی تیسرے سوال کے جواب میں پیش کیا جاکا ہے-

ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے برسرمنبر ابو بکر کو غلط کہا

شیعہ روایتوں میں ہے کہ مہاجرین وانصار میں سے بارہ آدمیوں نے ابو بکر کو " جب وہ منبر پرجمعہ کا خطبہ دے رہے تھے " غلط کہا ان کے نام یہ ہیں

1-خالد بن سعیدبن عاصم

2- مقداد بن اسود

3- ابی بن کعب

--------------

(1)شرح نہ ج البلاغہ ج:1ص:220


4 ۔ عمار بن یاسر

5 ۔ ابوذر غفاری

6 ۔ سلمان فارسی

7 ۔ بریدہ اسلمی

8 ۔ خذیمہ بن ثابت ذوالشہادتین

9 ۔ سہل ابن حنیف

10 ۔ عثمان ابن حنیف

11 ۔ ابوایوب انصاری

12 ۔ ابوہیثم بن تیہان

ان لوگوں نے ابوبکر کو یاد دلایا کہ خلافت کے اصل مسحتق امیرالمومنین علی بن ابی طالب ؑ ہیں،پیغمبر ؐ نے آپ کی خلافت پر نص کیا ہے،انہوں نے ابوبکر کو نصیحت کی اور ہر آدمی نے بہت طویل گفتگو کی جس کے بیان کی یہاں گنجائش نہیں ہے ۔(1)

صدیقہ طاہرہ ؐ کا خطبہ اور آپ کا انصار کو خاص طور سے قیام کی دعوت دینا

اسی طرح معصومہ عالم ؐ نے مسجدِ نبوی میں ابوبکر سے براہِ راست فدک کا مطالبہ کیا،مورّخین کا بیان ہے کہ معصومہ ؑ نے ابوبکر سے فدک کا مطالبہ کیا،ان کی خلافت پر اعتراض کیا اور جو کچھ پیغمبر ؐ کے بعد ہوا اس کی مذمّت کی،پھر آپ انصار کی طرف مخاطب ہوئیں اور ان کی بات پر مذمت کی انہوں نے نصرت اہلبیت ؑ سے دست کشی کی،آپ نے انہیں تکلیف شرعی کی طرف متوجہ کر کے اس کو ادا کرنے پر ابھارا،آپ کے لہجہ میں بڑی شدت تھی،آخر کلام میں آپ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) بحارالانوار ج: 28 ص: 189 ،ذرا سے اختلاف کے ساتھ ملاحظہ ہو،کتاب الخصال باب 12 ،ص: 429


نے فرمایا کہ سقیفہ میں جو کچھ ہوا اور اس کے بعد جو ہو رہا ہے یہ خدا کے خلاف ہے،مصیبتوں کا راغی ہے اور اس کے بارے میں تمام مسلمان سختی سے مسئول ہونگے،آخر میں فرماتی ہیں کہ:میں نے جو کچھ کہا،یہ جان لینے کے بعد کہا کہ تمہارے دل میں ہمیں چھوڑ دینے کا جذبہ بھرچکا ہے اور تمہارے دلوں نے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے لیکن میں نے جو کچھ کہا وہ میرے دل کی بات تھی،غصّہ کی وجہ سے نکلا ہوا جھاگ ہے اور سینہ سے نکلا ہوا بلغم ہے،میں نے کہاتا کہ حجت پوری ہو اور وہ حجت تمہارے سامنے موجود تھی لیکن تم نے اُسے اپنے اونٹ کے پیچھے بٹھادیا،حق کا راستہ چھوڑ کے چلے،ننگ باقی رہا اور ہمیشہ کی بےعزتی کا داغ لگ گیا،وہ بےعزتی جو تمہیں خدا کی بھزکائی ہوئی آگ تک پہنچادےگی((وہ آگ جو دلوں کو جلاتی ہے))تم خدا کی آنکھوں کے سامنے کیا کر رہے ہو عنقریب ظالم لوگوں جان جائیں کہ جس ٹھکانے پہنچنےوالے ہیں،میں اس کی بیٹی ہوں جو تمہیں عذابِ شدید سے ڈ رایا کرتا تھا،پس تم بھی عمل کرو،ہم بھی عمل کر رہے ہیں،تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کررہے ہیں ۔(1)

خطبہ کی تاثیر توڑنے کے لئے ابوبکر کی چال

معصومہ عالم ؐ نے جو خطبہ دیا اس کا اثر یہ ہوا کہ مسلمانوں میں چیخ پُکار مچ گئی،خصوصاً انصار میں آثار اضطراب ظاہر ہوئے اور ان میں تحریک پیدا ہوگئی،ابن ابی الحدید لکھتے ہیں کہ:جوہری نے((کتاب السقیفہ))میں لکھا ہے کہ محمد بن زکریا نے کہا:ان سے جعفر بن محمد بن عمارہ نے پہلی اسناد کے ساتھ بیان کیا کہ ابوبکر نے جب یہ خطبہ سُنا تو اُن پر،آپ کی گفتگو بہت گراں گزری،فوراً منبر پر آئے اور کہنے لگے،اے لوگو!یہ سب باتیں کیا ہیں؟یہ باتیں اور یہ خواہش عہد پیغمبر ؐ میں کہاں تھیں؟کسی نے سنا ہے تو کہے اور کوئی شاہد ہے تو بولے،اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)حوالہ تیسرے سوال کے جواب میں گذرچکا ہے


ایک لومڑی(اشارہ امیرالمومنین ؑ کی طرف ہے،معاذ اللہ)جس کی دُم(اشارہ معصومہ ؑ کی طرف ہے،معاذ اللہ)اس کے وجود کی گواہ ہے،وہی ہر فتنہ کی پرورش کر رہا ہے،وہی کہہ رہا ہے کہ درخت کے بوڑھے ہونے کے بعد اس میں برگ و بار نکل آئے،وہ کمزوروں سے مدد مانگتا ہے اور عورتوں کی مدد طلب کرتا ہے،اس کے نزدیک محبوب ترین شئی بغاوت ہے،خبردار ہوجاؤ!میں چاہوں تو بول سکتا ہوں اور جب میں بولوں گا تو وہ خاموش ہوجائے گی،اُس نے جو چھوڑ دیا ہے اُس کے بارے میں،میں خاموش ہوں ۔

پھر ابوبکر انصاری کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے:اے گروہِ انصار تمہارے بیوقوفوں کی بات مجھ تک پہنچی،تم عہدِ پیغمبر ؐ کی پابندی کے سب سے زیادہ مستحق ہو وہ تمہارے پاس آئے تو تم نے پناہ دی اور مدد کی،دیکھو جو اس بات کا مستحق نہیں ہے میں اس کے لئے نہ ہاتھ کھولنے والا ہوں نہ زبان،پھر وہ منبر سے اتر گئے اور معصومہ ؑ عالم وہاں سے تشریف لے گئیں ۔(1)

قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یہاں پر ابوبکر نے سقیفہ اور سقیفہ کے بعد کے واقعات پر تبصرہ کرنے والوں کے خلاف جان بوجھ کے سختی کی ہے جب کہ دوسروں کے لئے انہوں نے سختی نہیں کی اور ابوبکر کا یہ خطبہ سب و شتم اور تہدید و تشدید سے بھرا ہوا ہے جس کی صرف ایک وجہ ہماری سمجھ میں آتی ہے اور وہ ہے مستحقینِ خلافت اور مستحقین فدک کے مطالبہ کو سختی سے کچلنا،اس لئے کہ معصومہ ؐ کے خطبہ میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ خلافت کسی طرح امیرالمومنین ؑ تک پہنچے اور ابوبکر اس خطبہ کے مقاصد کو بھانپ گئے اور فوراً اپنے خطبہ میں اس بات کو احساس دلا دیا کہ اس طرح کی کوشش کا(قبل اس کے کہ یہ کوششیں طاقت پکڑے کے عام ہوں)تدارک کرنا بےحد ضروری ہے اور نے کیا بھی وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اگر یہ نظریہ آگے بڑھ گیا تو اُن کی خلافت کولے ڈ وبےگا اور انہیں ایسے نتائج کا سامنا کرنا پڑےگا جن کے بارے میں وہ خود نہیں جانتے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)شرح نہج البلاغہ ج:6ص:214۔215


جب تک امیرالمومنین ؑ مسلمانوں سے الگ رہے لوگ جہاد کرنے کے لئے نہیں نکلے

مدائنی نے عبداللہ بن جعفر سے،انہوں نے ابوعون کے حوالہ سے ایک روایت بیان کی ہے جو اس بات کاسب سے مضبوط ثبوت ہے کہ صدر اسلام کے جہمور مسلمین،مولائے کاتنات ؑ کے حق خلافت کے بارے میں نص پر ایمان رکھتے تھے کہ ابوبکر کی حکومت غیرشرعی اور غیراسلامی ہے،روایت ملاحظہ ہو ۔

ابوعوان کہتے ہیں((جب عرب مرتد ہونے لگے تو عثمان مولائے کائنات ؑ کی خدمت میں پہنچے اور کہنے لگے اے میرے چچا کے بیٹے کوئی بھی میرے پاس نہیں آرہا ہے،دشمن سامنے ہے آپ نے بیعت نہیں کی ہے،یہ سن کے مولائے کائنات ؑ ابوبکر کے پاس گئے،ابوبکر آپ کو دیکھ کے کھڑے ہوگئے،دونوں گلے ملے اور پھر دونوں ایک دوسرے کو پکڑ کے رونے لگے اس کے بعد آپ نے بیعت کر لی ۔ یہ دیکھ کے مسلمان خوش ہوگئے ۔ لوگوں نے عمدگی سے جنگ کی اور فوجیں بھیجی گئیں(1) ( آپ نے دیکھا کہ لوگ امیرالمومنین علیہ السلام کی شوکت کا انتظار کر رہے تھے ۔ اور یہ سمجھ رہے تھے کہ جب تک آپ سے مشورہ نہیں لیا جائےگا جنگ،جنگ رہے گی جہاد فی سبیل اللہ نہیں ہوسکےگا اور مولائے کائنات ؑ نے بھی یہ دیکھا کہ لوگ مرتد ہو رہے ہیں اسلام کا نقصان ہو رہا ہے تو آپ بھی محض حفاظت اسلام کی خاطر ساتھ دینے پر تیار ہوگئے ۔ اسی نظریہ کی وضاحت آپ نے ان الفاظ میں کی ہے،آپ نے اہل مصر کو جو خط لکھا تھا اس کے الفاظ کا ترجمہ دیکھئے ۔ ((لوگوں نے میری رعایت نہیں کی مگر یہ کہ فلاں کی طرف دوڑ پڑے اور اس کی بیعت کرنے لگے میں نے بھی اپنے ہاتھ کو روک لیا،یہاں تک کہ لوگ اسلام سے(کفر کی طرف)واپس ہونے لگے اور دینِ محمد ؐ کے مٹانے کی دعوت دینے لگے تو مجھے خوف ہوا کہ اگر میں اسلام اور اہلِ اسلام کی نصرت نہیں کروں گا تو اسلام کی دیوار میں رخنہ پڑجائےگا یا وہ منہدم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) انساب الاشراف ج: 2 ص: 270 ،امر سقیفہ۔


ہوجائے گی اور یہ مصیبت اس مصیبت سے کہیں زیادہ بڑی ہے جو میرے ہاتھ سے حکومت نکلنے کی وجہ سے مجھے حاصل ہوئی ہے ۔(1)

مدینہ منورہ میں جو لوگ بھی تھے ان کا نظریہ وہی تھا جو اوپر کی سطروں میں پیش کیا گیا ۔

بیرون مدینہ کے قبیلوں کا نظریہ اور مرتدین سے جنگ کی حقیقت

وہ قبیلے جو مدینہ کے باہر تھے اور مسلمان ہوچکے تھے اور جن سے ابوبکر کی طرف سے جنگ کی گئی انہیں لوگ مرتد کہیں ہیں،اگر ارتداد کا مطلب یہ ہے کہ وہ زکوٰۃ نہیں دیتے تھے یا انہوں نے زکوٰۃ دینا بندکر دی اور ان میں سے کچھ لوگوں نے ضروریاتِ اسلام کا انکار کیا یا ضروریات دین میں سے کچھ باتوں کا انکار کردیا تو خیر ۔

لیکن بعض مورخین نے غیرارادی طور پر کچھ حقائق لکھ دیئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ معاملہ وہ نہیں تھا جو اوپر بیان کیا گیا بلکہ بات کچھ اور تھی جس کو الزام ارتداد کے پردے میں چھپا دیا گیا ہے اور بات تھی ابوبکر کی خلافت کی ان قبیلوں کے حلق سے خلافت ابوبکر کی بات کس طرح اُترتی ہی نہیں تھی،وجہ یہ تھی کہ خلافت ابوبکر پر نہ عہد نبوی ؐ میں اشارہ کیا گیا تھا نہ وہ ابوبکر کے قبیلہ کو اتنا اہم سمجھتے تھے کہ اس جیسے معمولی قبیلہ میں خلافت جائے،حکومت ابوبکر سے الگ رہنے ہی کو لوگوں نے ارتداد پر محمول کر لیا تھا،اب جو حکومت سے رفض کرے چاہے اسلام سے خارج ہو یا نہ ہو،بہرحال مرتد تھا،اس لئے کہ اس وقت مسلمان ایک ہنگامی حالت سے گذر رہے تھے،نبی ؐ کی وفات کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کی ہیبت میں کمی آئی تھی پھر صحابہ میں اختلاف،اہلبیت نبی ؐ اور بنی ہاشم،جن کی عربوں کے دلوں میں بڑی ہیبت اور عظمت تھی،پھر نبی ؐ کی وجہ سے بھی اسلام اور اہلبیت ؑ کی عظمت میں روز بروز اضافہ ہوتا جاتا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)نہج البلاغہ ج:3ص:119


بنی ہاشم اور اہلبیت ؑ کو بھی لوگوں نے بالکل الگ کردیا تھا،جس کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کی ہیبت ساقط ہوگئی،ایسے دور میں لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ حکومتِ ابوبکر سے انکار ہی مرتد ہونے کے لئے کافی ہے ۔

خاص طور سے امیرالمومنین علیہ السلام کو الگ کر کے مسلمانوں نے اپنی ہیبت کھودی تھی اس لئے کہ امیرالمومنین ؑ گویا کہ نبی ؐ کا کشادہ ہاتھ اور آپ کی مجاہدانہ زندگی میں آپ کی سب سے کاٹ دار تلوار تھے اس کے علاوہ امیرالمومنین ؑ کی شخصیت بھی ذاتی طور پر سب سے زیادہ قابل توجہ اور احترام کے قابل تھی،آپ کی صلاحیت و شجاعت،آپ کا علم و عمل اور آپ کے مثالی کارنامے اسلامی دنیا میں اتنے مشہور اور مسلم تھے کہ عرب اپنی جگہ یہ طے کرچکے تھے کہ نبی ؐ کے بعد اگر کوئی جانشین نبی ؐ ہے تو علی ؑ اور بس،میرے اس قول کے ثبوت میں اپنے تیسرے سوال کا جواب ملاحظہ کریں،میں نے عرض کیا ہے کہ جب اجلّاء صحابہ خلافت کے بارے میں اپنا خیال ظاہر کرتے تھے جیسے سلمانِ فارسی،ابوذر غفاری و غیرہ،تو صاف کہتے تھے کہ اگر مسلمان اس خلافت کو اپنے نبی ؐ کے اہلبیت ؑ ہی میں رہنے دیتے تو دو آدمی بھی آپس میں اختلاف نہیں کرتے،یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی یہ باتیں بےبنیاد نہیں تھیں،نبی ؐ نے انہیں بتایا تھا تو وہ لوگوں کو بتارہے تھے،اس حقیقت کے چند شواہد ملاحظہ ہوں ۔

اہل بیتؑ کو خلافت سے الگ رکھنے اور بیعتِ ابوبکر سے بعض عرب قبیلوں کا انکار

اس دور کے کسی عرب شاعر کے اشعار میں حقیقت حال ملاحظہ ہو:

ترجمہ:جب تک پیغمبر ؐ ہمارے درمیان رہے ہم ان کی اطاعت کرتے رہے پس اے خدا کے بندوں!یہ ابوبکر کو کیا ہوا ہے؟

کیا ابوبکر کے مرنے کے بعد ان کا بیٹا بکر ان کا(خلافت میں)وارث ہوگا یہ تو کمر کو توڑنے والی


بات ہے ۔(1)

قبیلہ طے نے کہا ہم ہرگز ابوفصیل(ابوبکر)کی بیعت نہیں کریں گے ۔(2)

بنی فزارہ اور بنی اسد نے کہا:خدا کی قسم ہم تو ابوفصیل(ابوبکر)کی بیعت ہرگز نہیں کریں گے ۔(3)

ابن اعثم کوفی لکھتے ہیں کہ ایک ناقہ زکات میں لے لیا گیا،حالانکہ وہ مال زکات میں نہیں آتا تھا،زکات وصولنے والا زیاد بن لبید تھا،اب اس ناقہ کے لئے زیاد بن لبید اور ناقہ کے مالک کے قبیلے کے درمیان جھگڑا ہونے لگا،حارثہ بن سراقہ زکات کے اونٹوں کے پاس آیا اور اختلافی ناقہ کو نکال کے اس کے مالک سے کہا،لو اپنا ناقہ لے لو،اب اگر کوئی بولے تو اس کی ناک تلوار سے کاٹ دو ہم لوگ حیات پیغمبر ؐ میں صرف پیغمبر ؐ کی اطاعت کرتے تھے،اگر ان کے اہل بیت ؑ میں سے ان کی جگہ کوئی بیٹھا ہوتا تو ہم ضرور اس کی اطاعت کرتے،لیکن یہ ابوقحافہ کا بیٹا تو خدا کی قسم ہماری گردنوں پر نہ اس کی بیعت ہے نہ ہم اس کی اطاعت کریں گے،پھر اس نے کچھ اشعار پڑھے ان میں سے ایک شعر یہ تھا ۔

((جب تک پیغمبر ؐ ہمارے درمیان تھے ہم ان کی اطاعت کرتے تھے،اس پر بہت تعجب ہے جو ابوبکر کی اطاعت کرتا ہے))

((زیاد بن لبید نے جب یہ شعر سنا تو حارثہ بن سراقہ کو کچھ اشعار لکھ بھیجے جن میں ایک شعر یہ تھا))

((ہم تم سے راہِ خدا میں لڑتے رہیں گے اور اللہ اپنے امر پر غالب ہے یہاں تک کہ تم لوگ ابوبکر کی اطاعت کرنے لگو))

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)تاریخ طبری ج:2ص:255،بدایۃ النہایۃ ج:6ص:313،معجم البلدان ج:2ص:271،المحلی ج:11ص:193مسئلہ2199،تاریخ دمشق ج:25ص:160،الاغانی ج:2ص:149،تاریخ المدینۃ ج:2ص:247۔248،

(2)تاریخ طبری ج:2ص:260،تاریخ دمشق ج:25ص:164،حالات زندگی طلیعۃ بن خویلا

(3)تاریخ طبری ج:2ص:261،الثقات ج:2ص:166


زیاد بن لبید کے یہ اشعار جب ان تک پہنچے تو بنی کندہ کے قبیلے،غضبناک ہوئے اور وہ لوگ اشعث بن قیس کے پاس آئے اشعث نے کہا:اے اہل کندہ تم اپنے بارے میں مجھے بتاؤ اگر تم منع زکات اور ابوبکر سے جنگ پر بیعت کرچکے تھے تو تم نے زیاد بن لبید کو قتل کیوں نہیں کردیا،اس کے چچا کے بیٹوں میں سے کسی نے جواب دیا کہ اشعث تم سچ کہتے ہو،صحیح رائے تو یہی تھی کہ زیاد بن لبید کو قتبل کردیا جاتا اور زکات کے اونٹوں کو اس سے واپس لے لیا جاتا،ہم لوگ تو قریش کے غلام بن کے رہ گئے ہیں،کبھی بنوامیہ ہمارے پاس آتے ہیں اور جو چاہتے ہیں لے لیتے ہیں تو کبھی زیاد بن لبید جیسے لوگ بھیجے جاتے ہیں وہ ہمارا مال بھی لے لیتے ہیں اور قتل کی دھمکیاں بھی دیتے ہیں،خدا کی قسم قریش کی لالچ بھری نگاہیں برابر ہمارے مال پر لگی ہوئی ہیں،اس کے بعد اس نے کچھ اشعار پڑھے جن میں ایک شعر یہ تھا کہ((اگر ہم اسی طرح صدقہ وصول کرنے والوں کا مطالبہ کرتے رہے تو ہم صرف ان کے غلام بن کے رہ جائیں گے ۔

پھر اشعث بن قیس بولنے لگے اور کہا اے کندہ والو!اگر تم ہماری رائے سے متفق ہو تو ایک ہوجاؤ،اپنے شہروں میں جمع رہو،اور اپنے اہل خانہ کا احاطہ کرلو،اپنے مال سے زکات دینا بند کردو ۔ اس لئے کہ مجھے یقین ہے کہ عرب،بنوتیم(ابوبکر کا قبیلہ)کی اطاعت کا اقرار نہیں کریں گے اور بطحا کے سادات یعنی بنوہاشم کو چھوڑ کے کبھی دوسرے کی طرف مائل نہیں ہوں گے،اس لئے کہ بنی ہاشم ہی ہمارے لئے عمدہ ہیں اور ہمارے اوپر وہی حکم جاری کرسکتے ہیں،وہی صلاحیت رکھنے والے ہیں دوسرے نہیں،راوی کہتا ہے پھر زیاد بن لبید،بنی کندہ کی ایک شاخ جس کو بنوذھل بن معاویہ کہتے تھے،وہاں پہنچا اور جو کچھ ہوچکا تھا اس کی انہیں خبر کی اور انہیں ابوبکر کی اطاعت کی دعوت بھی دی،تو بنوتمیم کا ایک شخص آگے بڑھا((جس کا نام حارث بن معاویہ))تھا اور زیاد سے بولا:دیکھو تم ایسے شخص کی اطاعت کی دعوت دے رہے ہو جس سے نہ ہمارا معاہدہ ہے نہ تمہارا،زیاد بن لبید نے کہا تم سچ کہہ رہے ہو ۔

(نہ ہم پابند عہد ہیں نہ تم)لیکن ہم نے امرِ خلافت کے لئے اسی کو اختیار کیا ہے ۔


کچھ عربوں کا اہل بیت ؑ کی خلافت کے لئے احتجاج

حارث نے کہا:پھر بتاؤ تم لوگوں نے اہلبیت پیغمبر ؐ کو خلافت سے کیوں الگ کردیا،وہ لوگ خلافت کے سب سے زیادہ مستحق تھے،اس لئے کہ خداوند عالم کا ارشاد ہے:کتاب خدا میں بعض رشتہ دار دوسرے بعض سے زیادہ اولیٰ و حقدار ہیں ۔

زیاد بن لبید نے کہا سنو!مہاجرین و انصار اپنے بارے میں تم سے زیادہ باخبر ہیں،حارث بن معاویہ نے جواب دیا:خدا کی قسم یہ بات نہیں ہے،بلکہ چونکہ تم اہل بیت ؑ سے حسد کرتے ہو اس لئے تم نے ان سے خلافت چھین لی،میرے دل کو تو یہ بات بالکل نہیں لگتی کہ پیغمبر ؐ چلے جائیں اور اپنے بعد کسی کو منصوب نہ کریں،

اے شخص!تو ہمارے پاس سے چلا جا،تو خدا کی مرضی کے خلاف ہمیں دعوت دے رہا ہے،پھر حارث نے ایک شر پڑھا:

((ایسا لگتا ہے کہ پیغمبر ؐ امت کو لاوارث چھوڑ کے چلے گئے حالانکہ آپ کی اطاعت کی جاتی تھی،آپ پر درود ہو آپ نے کسی کو خلیفہ نہیں بنایا؟ ۔ )

راوی کہتا ہے کہ اتنے یں عرفجہ بن عبداللہ ذہلی اچھل کے سامنے آئے اور کہنے لگے خدا کی قسم حارث بن معاویہ سچ کہتا ہے،اس شخص(زیاد بن لبید)کو اپنے یہاں سے نکال باہر کرو،اس کا ساتھی(ابوبکر)شائستہ خلافت نہیں ہے وہ کسی بھی طرح خلافت کا مستحق نہیں ہے،انصار و مہاجرین،نبی ؐ سے زیادہ اس امت کی مصلحتوں کو نہیں جانتے،پھر لوگ زیاد بن لبید کی طرف بڑھے اور اس کو اپنے علاقہ سے دھکہ دیکر نکال دیا،وہ لوگ تو اس کے قتل کا ارادہ کرچکے تھے،پھر زیاد نے قبائل کندہ کی طرف جانا ہی چھوڑ دیا کہ وہ انہیں اطاعتِ ابوبکر کی دعوت دے اور وہ لوگ اس کو اسے کوئی ناگوار اور ناشائستہ جواب دیں،جب وہ مدینہ واپس آیا اور ابوبکر سے ملا تو اس نے بنوکندہ کی ساری باتیں کہہ دیں اور ابوبکر کو بتایا کہ قبائل کندہ نے ارتداد اور نافرمانی کا پختہ ارادہ کرلیا ہے،پھر یہ خبر بھی فوراً ہی پہنچی کہ اہلِ


کندہ اپنے کئے پر پشیمان ہیں،پھر ایک آدمی جواب کے بادشاہوں کی نسل سے تھا سامنے آیا اس کا نام ابضعہ بن مالک تھا،اس نے آکے اہلِ کندہ کو سمجھایا کہ اے قبیلہ والو!ہم نے اپنے لئے وہ آگ بھڑکائی ہے جس کے بارے میں میرا خیال ہے کہ وہ بجھے گی نہیں بلکہ بہت سے لوگوں کو اپنے لپیٹ میں لیکے چٹ کرجائے گی میری رائے یہ ہے کہ ہم جو کچھ کرچکے ہیں اس کا تدارک کرلیں،ابوبکر کو خط لکھ کر انہیں یہ بتائیں کہ ہم ان کی اطاعت کرنے اور زکات دینے کے لئے تیار ہیں اور ان کی خلافت و امامت پر راضی ہیں ۔

پھر احمد بن اعثم نے ذکر کیا ہے کہ ابوبکر نے اشعث کو ایک خط لکھا،جب اشعث تک یہ خط پہنچا اور اس نے خط پڑھا تو نامہ برکے پاس آیا اور کہا:تمہارے صاحب(ابوبکر)یہ لکھتے ہیں کہ اگر ہم اس کی مخالفت کریں گے تو ہم پر کفر کا الزام آئےگا اور اس کا آدمی اگر ہمارے قبیلہ اور بھائی بھتیجوں کو قتل کردے تو اس پر کفر کا الزام نہیں آئےگا،نامہ برنے کہا:ہاں اشعث تم کفر کے ملزم ہوگے،اس لئے کہ خدا نے تمہارے اوپر کفر واجب قرار دیا ہے کیونکہ تم مسلمانوں کی مخالفت کر رہے ہو ۔(1)

سابقہ بیان سے نتجہ کیا نکلا

جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں یہ تاریخی واقعات بتا رہے ہیں کہ مدینہ کے باہر اور اندر بہت سے لوگ ابوبکر کے مخالفت تھے اور ابوبکر نے جو جنگیں لڑی ہیں ان کی بنیاد ارتداد نہیں تھی بلکہ ابوبکر کی حکومت کی مخالفت تھی اور ان کی نافرمانی تھی،یہ واقعات اس بات کے بھی شاہد ہیں کہ مدینہ کے اندر اور باہر لوگوں کی اکثریت بنی ہاشم کو حکومت کے لئے مستحق تر سمجھتی تھی،مگر یہ کہ اُن پر لوگ غالب آگئے،لوگ یہ بھی سمجھتے تھے کہ اگر امیرالمومنین ؑ پیغمبر ؐ کے بعد صاحبِ امر مان لئے جاتے تو اُن سے آگے بڑھنے کی کوئی ہمت نہیں کرسکتا تھا،مسلمانوں میں کوئی اختلاف اور کشیدگی نہ ہوتی اور اسلام کی ہیبت بھی دلوں پر باقی رہتی،ساتھ ہی یہ لڑائیاں بھی نہ ہوتیں جن میں بہت سارا خون بہا اور کثرت سے مسلمانوں کی ہتک حُرمت ہوئی ۔


تاریخ کے اس بیان سے ہمارے اس نظریہ کو بھی تقویت ملتی ہے کہ اگر نَص موجود تھی جیسا کہ شیعہ کہتے ہیں تو نص سے صرف چند لوگ ہی غافل تھے جو مہاجرین و انصار سے لگاؤ رکھتے تھے ۔

ابوبکر کی بیعت کے بارے میں جدید الاسلام لوگوں کا موقف

اجلّہ صحابہ مہاجرین و انصار تو عجیب فتنہ میں پڑے تھے اور ابوبکر کی کُھل کے تائید نہیں کر رہے تھے،خوف کی وجہ سے کُھل کے امیرالمومنین ؑ کی حمایت بھی نہیں کر رہے تھے ۔ ہاں ابوبکر کی تائید کرنے والوں میں وہ لوگ پیش،پیش تھے جو اسلام میں نئے داخل ہوئے تھے رغبت کی وجہ سے یا خوف کی وجہ سے،جب انہوں نے دیکھا کہ اسلام کی بنیاد مضبوط ہوچکی ہے اور اب اس سے دنیا حاصل کی جاسکتی ہے تو جلدی جلدی کلمہ پڑھ کے مسلمان ہوگئے،انہیں ہادی اعظم ؐ نے طلقا اور قرآن مجید نے منافقین کے شاندار لقب سے نوازا ہے،جیسے مغیرہ بن شعبہ،عمروعاص،خالد بن ولید،سھل بن عمرو،عکرمہ بن ابی جہل،حارث بن ہشام و غیرہ ۔

یہ لوگ تائید بیعت میں پیش پیش تھے اور جو بیعت سے انکار کرتا تھا یہ لوگ اپنی متعصّبانہ فطرت اور جاہلانہ وحشت سے مجبور ہو کے اس غریب پر ظلم و جَور کا کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے تھے،مثلاً خانہ امیرالمومنین ؑ پر ہجوم انصار پر سختی کرنا،ان پر طعن و تشنیع کرنا(اصحاب ردہ کے خلاف جنگ میں پیش پیش ہونا،پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ وہ لڑائیاں ارتداد کے خلاف نہیں تھیں بلکہ صرف حکومتِ ابوبکر کی حمایت میں تھیں)یا ابوبکر کی سلطنت و حکومت کو مضبوط کرنے کے لئے جنگ کرنا و غیرہ ۔

حکومت کو مضبوط کرنے میں رنگروٹ مسلمانوں کا پیش پیش ہونا

جدید الاسلام افراد نے مدینہ میں حکومت کو مضبوط کرنے میں اتنی کوششیں کیں کہ آخر میں حکومت نے انہیں کو فوج کی قیادت اور شہروں کی گورنری کے لئے منتخب کرنا اور بحال کرنا شروع کیا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) الفتوح لابن اعثم م ج: 1 ،ص: 49 ۔ 57 ،ذکر ارتداد اہل حضرت موت۔


حکومت نے صاحب منزلت مہاجرین و انصار کو چھوڑ دیا،یا تو اس لئے کہ سیاست کا تقاضہ یہی تھا،حکومت ان کی صاف گوئی،قوت کردار اور زہد و تقویٰ سے خوفزدہ یا ان سے ناراض تھی ۔ عمر کہتے ہیں:ہم منافق قوت سے مدد لیتے ہیں،اس کا گناہ اسی کی گردن پر ۔(1)

کسی نے عمر سے کہا:((تم نے یزید بن ابی سفیان،سعید بن عاص،معاویہ اور فلاں فلاں کو،طلقا میں سے مولفۃ القلوب اور طلقا کے بیٹوں کو گورنر بنادیا اور علی ؑ ،عباس جیسے بزرگوں کو اور طلحہ و زبیر کو چھوڑ دیا))عمر نے کہا:جہاں تک علی ؑ کا سوال ہے تو اُن کا سوال ہے تو اُن سے ہوشیار رہنا ضروری ہے،لیکن قریش کے دوسرے لوگوں کا جو تم نے نام لیا ہے،اگر انہیں گورنر بنا کے بھیجدوں تو یہ شہروں میں پھیل جائیں گے اور بہت فساد پیدا کریں گے(2) قیس بن حازم کہتے ہیں کہ زبیر،عمر کے پاس آئے اور ان سے جنگ میں جانے کی اجازت مانگی،عمر نے کہا:یم تو اپنے گھر میں بیٹھے رہو،تم پیغمبر ؐ کے زمانے میں جہاد تو کر ہی چکے ہو،زبیر نے یہ مطالبہ کئی مرتبہ کیا،آخر عمر نے تیسری بار بھی یہی کہا کہ اپنے گھر میں بیٹھو،بخدا میں مدینہ کے اطراف میں دیکھتا رہتا ہوں تا کہ تم اور تمہارے اصحاب مدینہ سے باہر نہ نکل جائے اور اصحاب محمد ؐ کو فساد پر آمادہ نہ کردئے ۔(3)

عمر کو اصحاب سے یہ خوف تھا کہ وہ کثرت سے فساد کریں گے صرف اس بنیاد پر کہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ لوگ حکومت سے ھماھنگ نہیں ہیں انھیں یہ خوف تھا کہ حکومت کہیں ہاتھ سے نکل نہ جائے،اسی لئے انہوں نے اصرار کرکے ابوبکر کو مجبور کیا کہ وہ خالد بن سعید بن عاص کو لشکر کی قیادت سے معزول کردیں،فوج شام کو فتح کرنے جارہی تھی،سردار خالد بن سعید بن عاص تھے انہوں نے ابوبکر سے اصرار کیا کہ خالد بن سعید بن عاص کو معزول کردیں ۔ وجہ صرف یہ تھی کہ سعید بن عاص

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) المصنف لابن ابی شیبۃ ج: 6 ص: 200 ،کنزالعمال ج: 4 ص: 614 ،حدیث: 11775 ،سنن کبریٰ للبیھقی ج: 9 ص: 36 ،اور اسی طرح کنزالعمال میں ج: 5 ص: 771 حدیث: 14338

( 2) شرح نہج البلاغہ ج: 9 ص: 29 ۔ 30

( 3) المستدرک علی صحیحین ج: 3 ص: 129 ،باب مناقب امیرالمومنینؑ عون المعبود ج: 11 ص: 246 ۔ 247


کی طرف سے ان کے دل میں کینہ بھرا ہوا تھا،اس لئے کہ انہوں نے ابوبکر کی بیعت کرنے میں تاخیر کا جُرم کیا تھا اور بنی ہاشم و بنی مناف کو خلافت طلب کرنے پر اُبھارتے رہتے تھے،آخر کار ابوبکر نے ان کو معزول کردیا اور اُن کی جگہ یزید بن ابوسفیان کو قائد بنادیا ۔(1) اس بات کی وضاحت انہوں نے(عمر نے)اپنے خطبہ میں کی ہے جو انہوں نے اپنے دورِ خلافت میں دیا تھا،جب لوگوں نے ان سے شکایت کی کہ آپ نے اصحاب کبار کو مدینہ کا قیدی بنادیا ہے تو کہا:خبردار ہوجاؤ!بےشک قریش کے دل میں فرقہ واریت چھپی ہوئی ہے وہ لوگ گردنوں سے قلادہ بیعت اتار دینا چاہتے ہیں لیکن خطاب کا بیٹا جب تک زندہ ہے وہ آگ کی گھاٹی کے سامنے کھڑا رہےگا اور قریش کی گردنوں کو پکڑ کے آگ سے مسلسل بچاتا رہےگا ۔

حالانکہ یہی عمر،ابوعبیدہ جراح کی بحالی پر دل سے راضی تھے بلکہ خود انہیں گورنر بنا کر بھی بھیجا،حالانکہ وہ مہاجرین اولین میں سے تھے لیکن چونکہ ان کی طرف سے کوئی خوف نہیں تھا کیونکہ وہ حکومت سے ہماہنگ تھے اس لئے وہ ان کے دور میں گورنری کے سب سے زیادہ اہل قرار پائے ۔

یہ بھی قابل توجہ بات ہے کہ عمر،منافقین اور طلقا کے فتنوں سے مطمئن کیوں تھے،جب اتنے بڑے بڑے صحابی فتنہ پیدا کرسکتے تھے تو منافقین اور طلقا سے مطمئن رہنے کی کیا وجہ تھی؟صرف اس لئے مطمئن تھے کہ وہ لوگ حکومت کی مشنیری سے ہماہنگ و ہم آواز ہوگئے تھے،ورنہ حق تو یہ ہے کہ وہ بلادِ خدا اور بندگان خدا کے لئے سب سے بڑا خطرہ تھے،اگر وہ فتنہ و فساد کا ارادہ کر لیتے تو پھر ان کو روکنا بےحد مشکل ہوجاتا،جیسا کہ معاویہ کے دور میں اس کی حرکتوں سے ثابت ہوا،اگر ان کو حکومت نے لفٹ نہ دی ہوتی تو کم سے کم وہ اتنا تو کرتے ہی کہ سابقون فی الاسلام کے ساتھ تعاون کرتے اور اُن کا مقابلہ کرتے جو لوگ حکومت کا مقابلہ کرنے کو تیار رہتے تھے اور اُن کی طرف دعوت دیتے،بلکہ اگر طلقا و منافقین اُن کی حکومت میں فتنہ نہیں بھی برپا کرتے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) طبقات الکبریٰ ج: 4 ص: 97 ۔ 98 ،المستدرک علی صحیحین ج: 3 ص: 279 ،تاریخ یعقوبی ج: 2 ص: 133 ،تاریخ طبری ج: 2 ص: 331 ،تاریخ دمشق ج: 16 ص: 78 ،شرح نہج البلاغہ ج: 2 ص: 58 ۔ 59


جب بھی اُن سے ہاتھ ملانے کا کوئی جواز نہیں تھا،حکومت نے مسلمانوں کے امور کی باگ ڈ ور اُن(ذلیل لوگوں کے)حوالہ کردی حالانکہ ان سے افضل لوگ موجود تھے،صاحبانِ فضل کی موجودگی میں تیسرے درجہ کے لوگوں کو مسلمانوں کے امور کا ذمہ دار بنانا یہ مسلمانوں سے خیانت نہیں تو اور کیا ہے؟حدیثیں اس اقدام کی ممانعت کرتی ہیں اور مذمت بھی کرتی ہیں ۔

ابن عباس سے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالم ؐ نے فرمایا:((جو مسلمانوں کا عامل کسی کو بنائے اور یہ بھی جانتا ہو کہ قوم میں اس کے ذریعہ بنائے گئے شخص سے بہتر لوگ موجود ہیں جو کتاب خدا اور سنتِ نبی ؐ کو اس سے زیادہ جانتے ہیں تو اس نے خدا سے،خدا کے رسول ؐ سے اور عام مسلمانوں سے خیانت کی ہے ۔(1)

بلکہ اسی طرح کا قول عمر سے بھی منسوب کیا گیا ہے(2) کہ انہوں نے کہا:جو کسی فاجر کو عامل بنائے اور وہ جانتا ہو کہ وہ فاجر ہے تو بنانے والا بھی فاجر جیسا ہے،(3) تاریخ شاہد ہے کہ فسّاق و فُجّار قوم کو عامل بنانے سے بہت سی حرمتیں ضائع ہوئیں اور دین کی مخالفت ہوئی ۔

حاصلِ کلام میں یہ کہ نص سے تجاہل اور اندیکھی مہاجرین و انصار کی اکثریت نے کبھی نہیں کی،خصوصاً ان لوگوں نے،جن کی شان اور مرتبے بلند تھے ان میں سے اکثر کی دلی خواہش یہ تھی کہ امیرالمومنین ؑ اور اہلبیت ؑ ہی امّت کے مسئول اور صاحب امر ہوں،اس کلیہ کے شواہد کے سامنے پیش کئے جاچکے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) السنن الکبریٰ للبیھقی ج: 10 ص: 118 ،المستدرک علی صحیحین ج: 4 ص: 104 السنۃ لابن ابی اعصم ج: 2 ص: 627 ،مجمع الزوائد ج: 5 ص: 211 ،معجم الکبیرج: 11 ص: 114 ،الترغیب و الترھیب ج: 3 ص: 125 ،الدرایۃ فی تخریج احادیث الہدایۃ ج: 2 ص: 165 ،نصب الرایۃ،ج: 4 ص: 62 ،سبل الاسلام ج: 4 ص: 190 ،تاریخ بغداد ج: 6 ص: 76 ،الکامل فی الضعفاء الرجال ج: 2 ص: 352 ،الضعفاء للعقیلی ج: 1 ص: 247 ،تھذیب التھذیب ج: 2 ص: 313

( 2) المستدرک علی صحیحن ج: 3 ص: 304 ،سیرہ اعلام نبلاءج: 1 ص: 460 ،الکشف الحثیث ج: 1 ص: 178 ،لسان المیزان ج: 4 ص: 118

( 3) کنز العمال ج: 5 ص: 61 حدیث: 14306


عام صحابہ کی نصرتِ حق میں تقصیر

البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اکثر صحابہ نے حق کی نُصرت میں سُستی کی اور منصوص امام کی دعوت پر بروقت لبیک نہیں کہہ سکے،اگر بقول شیعوں کے نَص موجود تھی تو عام صحابہ اس نص کے نظرانداز کرنے میں نصرت حق میں کوتاہی اور واجب الاطاعۃ کی آواز پر لبیک نہ کہنے کے مجرم ثابت ہوتے ہیں ۔

آپ کے تیسرے سوال کے جواب میں یہ بات پیش کی جاچکی ہے کہ امیرالمومنین ؑ برابر یہ شکوہ کرتے رہے کہ آپ کی مدد نہیں کی جارہی ہے،آپ کے پاس ایک جماعت آئی بھی کہ ہم آپ کی بیعت کرنے کو تیار ہیں تو آپ نے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ یہ محض زبانی دعویٰ ہے فرمایا:کل سرمن ڈ ا کر آنا،لیکن دوسرے دن تین یا چار آدمی سے زیادہ نہیں آئے،آپ نے یہ اعلان کردیا تھا((اگر چالیس آدمی بھی ہمارے ساتھ ہوتے تو غاصب حکومت کا تختہ پلٹ دیتا اور اپنا حق حاصل کرلیتا)) ۔

اس طرح آپ نے ایک خچر پر صدیقہ زہرا ؐ کو بٹھایا اپنے ساتھ امام حسن ؑ اور امام حسین ؑ کو لیا اور انصار کے گھروں کا چکر لگایا آپ بھی ان سے نصرت طلب فرماتے اور حضرتِ معصومہ ؐ بھی ان سے نصرت کا سوال کرتی رہیں اور وہ لوگ یہی عذر پیش کرتے رہے کہ اے بی بی ہم ابوبکر کی بیعت کرچکے ہیں اور اگر(نبی ؐ کے)چچازاد بھائی ہمارے پاس پہلے آتے تو ہم ان کی بیعت سے عدول نہیں کرتے،(1) ان واقعات کو معاویہ نے اپنے خط میں بھی لکھا ہے جو اس نے امیرِ کائنات حضرت علی ؑ کو بھیجے تھے اور شیعہ روایتوں میں بھی کثرت سے یہ واقعات ملتے ہیں،لیکن کوئی یہ ہرگز نہ سمجھے کہ صحابہ،مولائے کائنات ؑ سے اس لئے پہلو تہی کررہے تھے کہ وہ نص سے جاہل تھے یا نص کی اندیکھی کررہے تھے،بلکہ ان کا مولا علی ؑ سے یہ گریز محض حکومت کے خوف کی وجہ سے تھا یا اس لئے کہ اُن کا خیال تھا کہ مولائے کائنات ؑ کو عام مسلمانوں کی تائید اس حد تک مل ہی نہیں سکتی کہ اُن کا حق انھیں واپس مل جائے،کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ امیرالمومنین ؑ نے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) الامامۃ و السیاسۃ ج: 1 ص: 16 ،نہج البلاغہ ج: 6 ص: 13


طلب نصرت کی ابتدا تو کردی ہے لیکن آپ کی نظر میں اسلام عظیم کی وحدت اور اس کی عظمت کی سب سے زیادہ اہمیت ہے اور جب آپ یہ دیکھیں گے کہ آپ کے خروج سے اسلام عظیم کی اجتماعی حیثیت،وقار اور اتحاد کو نقصان پہنچ رہا ہے تو بیٹھ جائیں گے،ان خیالات نے صحابہ کو یہ یقین دلا دیا تھا کہ اس کشمکش میں آپ کا سب سے کمزور پہلو اسلام کی محبت ہے،اسی وجہ سے آپ کی مادی قوت بھی قابل اعتبار نہیں ہے ۔

امیرالمومنین ؑ کے اصولی موقوف پر بعض شواہد

مولائے کائنات کا نقطہ نظر کیا تھا؟اور آپ نے اصول کو کس قدر اہمیت دی تھی؟اس کے چند شواہد پیش کئے جاتے ہیں،مثلاً آپ سقیفہ میں اس وقت نہیں پہنچ سکے جب لوگ آپ پر سبقت کررہے تھے اور خلافت کی کھچڑی پَک رہی تھی،آپ نے اس وقت نہ پہنچنے کا یہ معقول عذر پیش کیا کہ میں پیغمبر ؐ کے جنازے کی تجہیز و تکفین چھوڑ کے آپ کی خلافت کے لئے لوگوں سے جنگ نہیں کر سکتا تھا(1) عباس بن عبدالمطلب نے آپ سے کہا:آیئے ہم آپ کی بیعت کرتے ہیں،تا کہ لوگ کہیں عم پیغمبر ؐ نے پیغمبر ؐ کے ابن اعم(چچازاد)کی بیعت کرلی،پھر آپ سے کوئی نہیں لڑےگا،آپ نے فرمایا:چچا!میں پسند نہیں کرتا کہ یہ کام پردے کے پیچھے ہو میں تو چاہتا ہوں جو کچھ ہو علانیہ ہو ۔(2) اس طرح ابوسفیان نے((جس کے قبیلہ کی قوت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا))جب آپ کے نقطہ نظر کو موڑ کے قبائلی تعصّب کا رُخ دینا چاہا اور کوشش کی کہ امیرالمومنین ؑ کو قبائلی بنیادوں پر مطالبہ خلافت کی طرف لے جائے تو آپ نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا بلکہ اُسے ڈ انٹ دیا ۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) الامامۃ و السیاسۃ ج: 1 ص: 16 ،شرح نہج البلاغہ ج: 6 ص: 13 الفتوح لابن اعثم ص: 13

( 2) شرح نہج البلاغہ ج: 9 ص: 196 ،ج: 11 ص: 9

( 3) المستدرک علی صحیحین ج: 3 ص: 83 ،المصنف لعبد الرزاق ج: 5 ص: 451 ،الاستیعاب ج: 3 ص: 974 ،ج: 4 ص: 1679 ،تاریخ الخلفاءج: 1 ص: 67 ،انساب الاشراف ج: 2 ص: 271 ،تاریخ طبری ج: 2 ص: 237 ،شرح نہج البلاغہ ج: 2 ص: 45


جب کہ ابوبکر نے اس کی خوشامد کر کے راضی کرلیا اور صدقہ کے اموال دیئے(1) اور اس کے بیٹے کو گورنر بنادیا(2) نتیجہ میں وہ اس کی اولاد اور گھر والے ابوبکر کے مددگار اور تائید کرنےوالوں میں شامل ہوگئے ۔

میرا خیال تو یہ ہے کہ شاید تاریخ کا یہ اصول دین بن چکا ہے کہ کسی نبی کی امت میں بھی اختلاف ہوتا ہے تو امت کے باطل پرست افراد اہل حق پر غالب آجاتے ہیں ۔(3) وجہ یہ ہے کہ اہل حق کی اصول پرستی اپنے اصولوں کی قربانی پر سمجھوتہ نہیں کرتی اور مددگاروں سے محروم رہ جاتی ہے جب کہ امت کے اہل باطل فرصت سے فائدہ اٹھالیتے ہیں اور پھر نتیجہ میں مادّی اعتبار سے اہل باطل ہی فتحیاب ہوتے ہیں ۔

نتیجہ چاہے تو ہو،امام منصوص کی آواز پر لبیک کہنا واجب ہے

لیکن صحابی ہوں یا غیر صحابی،صرف یہ کہہ دینے سے کہ امام منصوص کے پاس طاقت نہیں ہے یا ان کی کامیابی کا ہمیں یقین نہیں ہے اس لئے ہم ان کی نصرت پر آمادہ نہیں ہوتے،نہ واجب ادا ہوجائےگا اور نہ ان کو بری الذّمہ سمجھا جائےگا بلکہ ہر انسان پر امام منصوص کی اطاعت اور اس کی دعوت پر لبیک کہنا واجب ہے نتیجہ چاہے جو ہو عام انسان کو امام منصوص کی نصرت کے بارے میں نہ اجتہاد کا حق پہنچتا ہے نہ غور کی مہلت،اس لئے کہ امام منصوص جانتا ہے کہ لوگوں کی بھلائی کس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) العقد الفرید ج: 4 ص: 240 ،شرح نہج البلاغہ ج: 2 ص: 44

( 2) الطبقات الکبری ج: 4 ص: 97 ۔ 98 ،المستدرک علی صحیحین ج: 3 ص: 279 ،تاریخ یعقوبی ج: 2 ص: 133 ،تاریخ طبری ج: 2 ص: 331 ،تاریخ دمشق ج: 16 ص: 78 ،شرح نہج البلاغہ ج: 2 ص: 58 ۔ 59

( 3) مجمع الزوائد ج: 1 ص: 157 ،المعجم الاوسط ج: 7 ص: 370 ،فیض القدیر ج: 5 ص: 415 ،حلیۃ الاولیا ج: 4 ص؛ 313 ،تذکرۃ الحفاظ ج: 1 ص: 87 ،کنز العمال ج: 1 ص: 183 حدیث 929 ،الجامع الصغیر للسیوطی ج: 2 ص: 481 حدیث 7799 ،شرح نہج البلاغہ ج: 5 ص: 181


چیز میں ہے حالانکہ لوگ مصلحتوں سے ناواقف اور مفید نتائج سے بےخبر ہوتے ہیں جیسا کہ صلح حدیبیہ میں واقعہ پیش آیا،نبی ؐ کو معلوم تھا کہ اس صلح سے کیا کیا فائدہ حاصل ہونےوالا ہے در حالیکہ مسلمان عواقب و نتائج سے ناواقفیت کی بنا پر مخالفت پر اتر آئے تھے اس سلسلہ میں بعض مطالب دوسرے سوال کے جواب میں گذر چکے ہیں ۔

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جلد بازی میں اٹھایا ہوا کوئی قدم فتح کا سبب بن جاتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مسلسل منصوبہ بندی کرنے کے باوجود آدمی شکست سے دوچار ہوتا ہے،اچھا!اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ حق کی نصرت پر لبیک کہنے اور باطل کی مخالفت میں جنگ کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے پھر بھی اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ غافل متبہ ہوجاتے ہیں،خدا کے لئے حجّت قائم ہوجاتی ہے اور نصرتِ حق میں اُٹھی ہوئی آواز دلوں کو جگا دیتی ہے،میرا خیال ہے کہ یہ فائدہ بھی کچھ کم نہیں ہے،دینِ خدا اور خدا کی طرف دعوت دینےوالوں کو یہ عظیم فائدہ تو حاصل ہو ہی جاتا ہے اور یہی فائدہ کیا کم ہے ۔

ابوسالم جیشانی کہتے ہیں:میں نے سنا مولائے کائنات ؑ کوفہ میں فرما رہے تھے کہ((میں اس لئے لڑ رہا ہوں کہ حق قائم ہو،حالانکہ حق ہرگز قائم نہیں ہوسکے گا جب تک حکومت معاویہ والوں کے ہاتھ میں رہےگی))روای کہتا ہے کہ میں نے اپنے اصحاب سے کہا:یہاں ٹھہرنے کا مقام نہیں ہے در حالیکہ ہمیں بتلادیا جاچکا ہے کہ معاویہ کے طرفداروں کو حق حکومت نہیں ہے پھر ہم نے آپ سے مصر جانے کی اجازت طلب کی آپ نے ہم میں سے جس کو چاہا اجازت دی آپ نے ہر ایک کو ایک ایک ہزار درہم دیئے اور ہمارے گروہ سے ایک حصہ ان کے ساتھ وہیں ٹھہرگیا(1)

آپ نے ملاحظہ کیا کہ امام ؑ کو معلوم تھا کہ معاویہ آپ پر غالب ہوگا اس کے باوجود آپ نے حق کی راہ میں جہاد سے منہ نہیں موڑا اور صاحبانِ بصیرت افراد بھی آپ کے ہمراہ حق کے محاذ پر ڈ ٹے رہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) الفتن لنعیم بن حماد ج: 1 ص: 127


اسود دوئلی کی حدیث ملاحظہ ہو،وہ اپنے باب ابوالاسود دوئیلی سے روایت کرتے ہیں کہ مولائے کائنات ؑ نے فرمایا:((میرے پاس عبداللہ بن سلام آئے،اس وقت میں نے رکاب میں پیر ڈ ال رکھے تھے اور عراق کے لئے عازمِ سفر تھا،عبداللہ بن سلام نے مجھ سے کہا:آپ عراق نہ جائیں،اگر آپ عراق جائیں گے تو آپ کو تلوار کی دھار کا سامنا کرنا پڑےگا،میں نے(مولائے علی ؑ نے)کہا خدا کی قسم یہ بات تو ہادی برحق ؐ مجھے تم سے پہلے بتاچکے ہیں))،ابوالاسود کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں سوچا:میں نے آج تک ایسا آدمی بھی نہیں دیکھا جو جنگ کے لئے تیار ہو اور لوگوں سے ایسی باتیں کرتا ہو ۔(1)

آپ نے غور کیا کہ امام ؑ لوگوں کو اپنے عنقریب قتل(شہید)ہونے کی خبر بھی دے رہے ہیں اور لوگوں کو جہاد کی دعوت بھی دے رہے ہیں،صرف یہ ثابت کرنے کے لئے کہ جہاد کا ہدف،فتح و نُصرت سے بہت بلند ہے ۔

امام ابوعبداللہ الحسین ؑ کو دیکھئے،مکّہ مکرمہ میں آپ انقلاب کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور اسی سلسلے میں مدینہ کے بنوہاشم کو لکھتے ہیں ۔

"بسم الله الرحمن الرحیم: حسین ؑ بن علی ؑ کی طرف سے محمد بن علی اور ان کے قبیلہ(یعنی بنی ہاشم)کو معلوم ہو کہ جو مجھ سے آملے گا وہ درجہ شہادت پر فائز ہوگا اور جو مجھ سے ملحق نہیں ہوگا وہ فتح بھی نہیں پاسکتا،والسلام(2)

اسی طرح جب آپ نے مکہ سے عراق جانے کا ارادہ کیا تو خطبہ دیا،خطبہ کے الفاظ ملاحظہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) المستدرک علی صحیحین ج: 3 ص: 151 ،کتاب معرفۃ الصحابۃ،مناقب امیرالمومنینؑ،امام حاکم نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ اگر چہ شیخین نے نقل نہین کیا ہے لیکن ان کی شرط پر پوری روایت پوری اترتی ہے اور صحیح ہے،صحیح ابن جبان،ج: 15 ص: 127 ،موارد الظمآن،ج: 1 ص: 245 ،تاریخ دمشق،ج: 42 ،ص: 546

( 2) کامل الزیارات ص: 157 ،بصائر الدرجات ص: 502 ،نوادر المعجزات ص: 110 ،دلائل الامامۃ ص: 188 ،الخرائج و الجرائح ج: 2 ص: 771 ۔ 772


فرمائیں:((الحمداللہ و ماشاءاللہ تعالی قوت صرف اللہ کی ہے،خدا کا درود ہو اس کے نبی ؐ پر،موت انسان کے گلے سے یوں ہی لپٹی ہے جیسے دوشیزہ کے گلے میں گلوبند لپٹا رہتا ہے،مجھے اپنے اسلاف سے ملاقات کی خواہش نے اسی طرح بے چین کیا ہوا ہے جیسے یعقوب ؑ کے دل میں یوسف ؑ سے شوقِ ملاقات،میرے لئے ایک مقتل چُنا گیا ہے جس کی طرف میں جا رہا ہوں،گویا کہ صحرا کے اُموی بھیڑیئے میرے بند بند کو کاٹ رہے ہیں اور میرے جسم سے اپنی بھوک مٹا رہے ہیں،کاتب تقدیر نے جو دن اپنے قلم سے لکھ دیا ہے اس سے انسان الگ نہیں ہوسکتا،خدا کی مرضی ہی ہم اہلبیت ؑ کی رضا ہے،ہم اس کی بلاؤں پر صبر کرتے ہیں،وہ ہمیں صبر کرنے والوں کا اجر دےگا،پیغمبر ؐ سے ان کے گوشت الگ نہیں کیا جاسکتا،بلکہ آپ کے جسم کے تمام حصے محضرِ قدس میں اکٹھا ہونے والے ہیں،جس سے آپ کی آنکھیں ٹھن ڈ ی ہوں گی اور آپ نے جو وعدہ کیا ہے ہمیں لوگوں کے ذریعہ پورا ہوگا ۔ پس جو اپنی جان کو ہماری راہ میں قربان کرنا چاہتا ہے اور اپنے نفس کو خدا سے ملاقی کرنے پر آمادہ کرچکا ہے اسے چاہیے کہ ہمارے ساتھ چلے اس لئے کہ میں کل انشاءاللہ جانے والا ہوں)) ۔(1)

اگر عاشقانِ حق کا نقطہ نظر اور طرزِ زندگی سمجھ سکتے ہیں تو امام حسین ؑ کے کلمات ملاحظہ فرمایئے،دیکھئے!امام حسین ؑ کی نظر میں فتح کیا ہے اور کامیابی کسے کہتے ہیں،مذکورہ خطبہ میں فرماتے ہیں کہ((میں قتل کردیا جاؤں گا))آپ اپنے قتل کی علی الاعلان خبر دے رہے ہیں اور اپنے خط میں((جو آپ نے بنوہاشم کو لکھا ہے))آپ نے جنگ سے پہلے ہی اپنی فتح کا اعلان کردیا ہے،اور اس فتح کے لئے لوگوں سے مدد مانگ رہے ہیں،وہ فتح بھی کیا ہے،ایسی فتح جو بغیر قتل اور شہادت کے حاصل نہیں ہوسکتی ۔

یہ وہ فتح ہے جسے عام انسان ناکامی اور شکست سمجھتا ہے،اسی لئے لوگوں نے امام حسین ؑ کو مشورہ دیا تھا کہ خروج مت کیجئے،لیکن امام وقت جانتا ہے کہ کس وقت کیا ضروری ہے اسی لئے آپ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) مقتل الحسین للمقرم ص: 193 ۔ 194 ،کشف الغمہ ج: 2 ص: 239 ،بحارالانوار ج: 44 ص: 366 ۔ 367


نے خروج پر اصرار کیا،اپنے خاص شیعوں پر بھروسہ کرتے ہوئے آپ نے قیام فرمایا اور آپ کے خاص چاہنے والوں نے بھی امرِ خدا کا امتثال کیا اور آپ کے ساتھ سر سے کفن باندھ کے نکل پڑے،انہوں نے حقِ پیغمبر ؐ کو ادا کیا اور امام ؑ کے ساتھ درجہ شہادت پر فائز ہوئے ان لوگوں کو فتحِ مبین اور سعادت ازلی نصیب ہوئی جو ان کے پروردگار نے ن کے لئے مقدر کردی تھی ۔

بہرحال صورتِ حال جو بھی ہو،جب امام وقت مدد کے لئے پکارے تو امت پر اس کی نصرت واجب ہے،اس وقت نتائج سے خوفزدہ ہو کر صدائے امام ؑ کو نظرانداز کردینا غلط ہے،اُمت کی تکلیف شرعی ہے امام ؑ کی آواز پر لبیک کہنا،اس لئے کہ امام ؑ کی آواز خدا کی طرف سے اور اس کے حکم سے بُلند ہوتی ہے اور خدا نے امام ؑ کی پیروی کا حکم دیا ہے،جیسا کہ امیرالمومنین ؑ نے اپنے مخلص شیعوں کی تعریف میں ارشاد فرمایا کہ((انہوں نے اپنے قائد پر اعتماد کیا تو اس کی پیروی کی)) ۔(1)

شیعوں کو یہی شکایت ہے کہ صحابہ کی کثیر تعداد نے سقیفہ میں امام منصوص سے منہ موڑ لیا،جب کہ ان کے سامنے واضح نص موجود تھی،انہوں نے امام ؑ کی دعوت پر لبیک نہیں کہی،امام ؑ کی کمر مضبوط نہیں کی اور ان کی مدد نہیں کی کہ وجہ حق کو غاصبانِ حق سے واپس لے سکتے اس لئے کہ مرادِ خدا بھی یہی تھی ۔

امام منصوص کی نصرت نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں نے نص کی اندیکھی کی

شیعوں کے قول کے مطابق نص کی موجودگی میں امام ؑ کی نصڑت نہ کرنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے نص کی اندیکھی کی،یا نَص پر توجہ نہیں دی بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے سُستی کی اور ایک واجب کو ادا کرنے میں کوتاہی کی،حقدار کی نصرت اور اس کو حق دلانے کے لئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) نہج البلاغہ ج: 2 ص: 109 ،ینابیع المودۃ ج: 2 ص: 29


انہیں جہاد کرنا چاہئے تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا،جس طرح غزوہ بدر میں صحابہ گھر سے نکلنا نہیں چاہتے تھے،یہ ان کی غلطی تھی جب پیغمبر ؐ حکم دے رہے تھے تو اُنہیں بہانہ نہیں بتانا چاہئے تھا،قرآن مجید اس وقت کی حکایت کرتا ہوا کہتا ہے((جیسا کہ تمہارے پروردگار نے تمہیں حق کے ساتھ تمہارے گھر سے نکالا حالانکہ مومنین کے ایک گروہ کو یہ کام بہت ناگوار گزر رہا تھا وہ تم سے حق کے بارے میں خواہ مخواہ اُلجھ رہے تھے جب کہ ان کے سامنے حق کی وضاحت ہوچکی تھی،لیکن ایسا لگتا تھا جیسے ان کو موت کی طرف کھینچا جارہا ہو اور وہ موت کا انتظار کررہے ہوں)) ۔(1)

اسی طرح معرکہ اُحد و حُنین میں ان کا جنگ سے فرار کرنا،خندق میں ان کا نبی ؐ کی نصرت سے انکار کرنا اور غزوہ تبوک میں نکلنے کے وقت نبی ؐ سے ان کی مخالفت اور بھی بہت سارے واقعات ہیں جس میں انہوں نے نبی ؐ کی نصرت و حمایت یا تائید سے پہلو تہی کی ہے،اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ نبی ؐ کی تکذیب کررہے تھے یا نبی ؐ کی نبوت کو جُھٹلا رہے تھے ۔

اسی طرح اہل کوفہ نے امیرالمومنین ؑ کی نُصرت سے آپ کے آخرِ ایام میں پہلو تہی کی امام حسن ؑ کی نصرت میں سستی کی یا مسلمانوں نے امام حسین ؑ کی نصرت میں کوتاہی کی،اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ ان حضرات کی امامت کے قائل نہیں تھے یا نص سے تجاہل کر رہے تھے ۔

امامِ منصوص کی نصرت نہیں کرنا ایسا گناہ ہے جو قابلِ توبہ ہے

البتہ امام ؑ کی نصرت نہیں کرنا بہت بڑا گناہ ہے،جیسے میدان جنگ سے فرار جس کی اللہ نے بہت زیادہ مذمت کی ہے یہ گناہ کبیرہ میں شمار ہوتا ہے جیسے وہ لوگ جنہوں نے پیغمبر ؐ سے اس جہاد میں منہ موڑ لیا جس میں شرکت کی اللہ نے سخت تاکید کی تھی لیکن پھر اللہ نے توبہ کا دروازہ کھول دیا اور جس طرح وہ اپنے بندوں کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیا کرتا ہے،اس گناہ کو بھی بخش دیا،جنگ اُحد سے بھاگنے والے مسلمانوں کو معاف کر کے ان کی مغفرت کی صراحت بھی کردی ہے،اسی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ انفال آیت: 5 ۔ 6


طرح اللہ نے تین مخصوص افراد کی مغفرت کی تصریح کردی،اشارد ہوتا ہے((اور وہ تین افراد جو جنگ سے پیچھے رہ گئے تھے یہاں تک کہ زمین اپنی وسعتوں کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ کے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں ہے پھر انہیں معاف کردیا تا کہ وہ پاک ہوجائیں،اللہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنےوالا اور رحم کرنے والا ہے ۔(1)

صحابہ کی امیرالمومنین ؑ کی طرف واپسی اور آپ کی مدد کرنا

صحابہ نے امیرالمومنین ؑ کی نصرت سے ہاتھ اٹھا کر بڑا گناہ کیا لیکن پھر انہیں احساس ہوا کہ امیرالمومنین ؑ کے ہاتھ سے خلافت نکل جانے سے کتنی خرابیاں پیدا ہوئیں اور اس احساس کی وجہ سے وہ لوگ امیرالمومنین ؑ اور اہل بیت ؑ کی طرف پلٹے اور قتلِ عثمان کے بعد امیرالمومنین ؑ کی بیعت کے لئے ممکنہ حالات پیدا ہوئے،اس لئے کہ صحابہ نے امیرالمومنین ؑ کے بارے میں جو تقصیر کی تھی اس کا انھیں احساس ہوگیا تھا ۔

قتل عثمان کے بعد صحابہ کا امیرالمومنین ؑ کی ہمراہی کرنا

قتلِ عثمان کے بعد مسلمان اجتماعی طور پر مولائے کائنات ؑ کی طرف بڑھے اور سب نے آپ کی بیعت پر اصرار کیا،اس تاریخی اتحاد کے پیچھے بہت سے آپ کے مخلص صحابہ کی تبلیغ اور امیرالمومنین ؑ کی حقانیت کا ہاتھ تھا،آپ کے مخلص صحابہ مسلمانوں کو مسلسل متوجہ کرتے رہے کہ خلافت کے اصلی حقدار مولائے کاتنات ؑ ہیں جو تمام مسلمانوں سے افضل ہیں،حالانکہ جب پوری امت عثمان کے خلاف تھی اور لوگ عثمان کی فضیحت کرنے میں لگے ہوئے تھے،تاریخ شاہد ہے کہ مولائے کائنات ؑ عثمان کے ساتھ بہت نرمی کا برتاؤ کررہے تھے اور قتلِ عثمان کے بعد بھی آپ مسلم حکومت کی سربراہی قبول کرنے پر تیار نہیں تھے،لیکن یہ صحابہ ہی تھے جنہوں نے لوگوں کو اُبھارا اور لوگ آپ کی بیعت پر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ توبہ آیت: 118


مُضر ہوگئے پھر آپ کی بیعت کے بعد آپ کی مدد بھی کی تمام جنگوں میں آپ کے ساتھ ساتھ رہے اور آپ کی حکومت کو مضبوط کرنے میں پیش پیش رہے،ان تمام باتوں کے شواہد حدیث و تاریخ کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں،میں بھی کچھ شواہد پیش کر رہا ہوں ۔

1۔ ابوجعفر اسکافی کہتے ہیں:قتلِ عثمان کے بعد صحابہ مسجد میں جمع ہوئے اور امامت کے مسئلے پر گفتگو ہونے لگی،تو ابوھیثم ابن تیہان،رفاعہ بن رافع،مالک بن عجلان،ابوایوب انصاری اور عمار یاسر نے مشورہ دیا کہ اب تو خلافت علیؑ کو مل ہی جانی چاہئے اور علیؑ کے فضائل و مناقب،آپ کے کارنامے،آپ کا جہاد اور آپ کی پیغمبرؐ سے قرابت قریبہ کو مقام احتجاج می پیش کرتے ہوئے ان لوگوں نے طے کیا کہ علیؑ ہی مستحقِ خلافت ہیں،ان میں سے کچھ تو وہ تھے جو مولائے کائنات کو اس زمانہ میں سب سے افضل سمجھتے تھے اور کچھ کا کہنا تھا کہ امیرالمومنینؑ تمام مسلمانوں سے افضل ہیں پھر لوگوں نے آپ کی بیعت کرلی۔ (1) جب اجلہ صحابہ نے آپ کی بیعت کرلی تو لوگوں کو آپ کی بیعت پر اُبھارا اور آپ کی طرف علی الاعلان دعوت دینا شروع کی یہ صحابہ لوگوں سے آپ کا حق،آپ کا مرتبہ اور آپ کے فضائل بیان کر کے مسلسل آپ کی طرفداری کررہے تھے اور انہوں نے آپ کی حکومت کو مضبوط کرنے میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیا اور اُسے چلانے میں آپ کی بہت مدد کی۔ آئندہ صفحات میں ہم ان تصریحات کو لکھیں گے جو آپ کی فضیلت میں صحابہ کی طرف سے کی گئیں اور وہ خطبہ بھی پیش کریں گے جو آپ نے اپنی بیعت ہونے کے بعد فرمایا تھا۔

2 ۔ اسی طرح اسکافی ان حالات پر بھی روشنی ڈ التے ہیں جو آپ کی بیعت کے بعد پیدا ہوئے،چونکہ آپ نے مال کی تقسیم برابری سے کی اور آپ کے پہلے جو حکومتیں تھیں ان کے دور میں بدکردار افراد غیر شرعی طور پر مالِ خدا سے فائدہ اٹھا رہے تھے،آپ نے ان پر اعتراض کیا اس لئے آپ سے چند افراد،جن کا غیرشرعی مفاد مجروح ہو رہا تھا آپ سے ناراض ہوگئے اور اختلاف و نفاق پیدا کرکے اپنے ناحق مطالبوں کو منوانا چاہا،اصحاب اس وقت متنبّہ ہوگئے اور اس صورتِ حال کو ختم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) شرح نہج البلاغی ج: 7 ص: 36


کرنے کی بھرپور کوششیں شروع کریدں چنانچہ اسکافی لکھتے ہیں((جب مخالفین حکومت کی ساشیں سامنے آئیں تو عمار بن یاسر اپنے اصحاب کے پاس آئے اور کہنے لگے:چلو اپنے بھائیوں کے اس گروہ کے پس جو اختلاف پیدا کررہے ہیں اُن کے بارے میں ہمارے پاس کچھ خبریں پہنچی ہیں اور ہم ان کی سازشوں کو دیکھ بھی رہے ہیں کہ وہ اختلاف پیدا کررہے ہیں اور اپنے امام پر حملہ کررہے ہیں،جفاکاروں نے زبیر اور اعسرعاق یعنی طلحہ کے یہاں بہت مداخلت پیدا کرلی ہے))،

پس ابوہثیم،عمار،ابوایوب،سہل بن حنیف اور اُن کے ساتھ ایک جماعت اٹھ کھڑی ہوئی،وہ لوگ مولائے کائنات ؑ کے پاس آئے اور کہنے لگے،امیرالمومنین ؑ آپ اپنے معاملات پر غور کیجئے،قریش کی یہ شاخ(طلحہ و زبیر)((جو آپ ہی کی قوم سے ہیں))،آُ سے ناراض ہوگئی ہے انہوں نے آپ سے کیا ہوا عہد توڑ دیا ہے آپ سے وعدہ کرکے وعدہ خلافی کی ہے اور در پردہ آپ کو چھوڑ دینے کی وہ ہمیں دعوت دے رہے ہیں،خدا آپ کو آپ کے حق پر باقی رکھے،ان کی مخالفت کی وجہ یہ ہے کہ وہ آپ کی رہبری کا ناگوار سمجھتے ہیں اور بیت المال سے ملنے والی اضافی امداد کو کھوچکے ہیں،چونکہ آپ نے ان کو اور کچھ لوگوں کو ایک ہی میزانِ نظر میں رکھا ہے اس لئے وہ لوگ آپ کو بُرا کہہ رہے ہیں،انہوں نے آپ پر آپ کے دشمن کو ترجیح دی ہے اور اُسے بڑھا کرکے پیش کیا ہے،وہ لوگ خونِ عثمان کا بدلہ لینے کے لئے مظاہرہ کررہے ہیں،جماعت میں فرقہ پیدا کررہے ہیں اور گمراہوں سے محبت کررہے ہیں،آپ اپنی رائے ظاہر کریں))(1) آپ ملاحظہ کررہے ہیں کہ خاص صحابہ کس طرح امیرالمومنین ؑ کے حق کی وضاحت کررہے ہیں،آپ کی خیرخواہی میں لگے ہوئے ہیں،آپ کی طرف لوگوں کو دعوت دے رہے ہیں اور آپ کی حکومت کو مضبوط کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔

3 ۔ خفاف بن عبداللہ طائی معاویہ سے قتل عثمان کے بعد کے واقعات بیان کرتا ہوا کہتا ہے پھر لوگ علی ؑ کی بیعت کے لئے ٹوٹ پڑے جیسے کہ ٹ ڈ یوں کا لشکر آتا ہے پھر امیرالمومنین ؑ نے چلنے کا ارادہ کیا تو آپ کے ساتھ مہاجرین و انصار کا بڑا مجمع نے جھجک چل پڑا،صرف تین افراد نے آپ کی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) شرح نہج البلاغی ج: 7 ص: 39


قیادت میں جہاد کرنے سے گریز کیا اور وہ تین افراد،سعد بن مالک،عبداللہ بن عمر،محمد بن مسلمہ ہیں،لیکن علی ؑ نے کسی کو بھی اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہیں کیا،جو لوگ آپ کے ساتھ آسانی سے شریک ہوئے تھے ان کی وجہ سے آپ بےنیاز تھے اور جو لوگ حیل،حُجت کررہے تھے ان کی آپ نے ضرورت بھی نہیں محسوس کی ۔(1)

4 ۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ جنگ جمل کے لئے جب امیرالمومنین ؑ نکلے تو آپ کے ساتھ آٹھ سو انصار تھے اور چارسو بیعت رضوان والے صحابہ تھے ۔(2) ایک روایت میں ہے کہ آپ کے ساتھ سات سو انصار تھے ۔(3)

5 ۔ معاویہ نے جب عبداللہ بن عمر کو خط لکھ کے مدد مانگی تو انہوں نے جواب میں لکھا((وہ نظریہ جس کی وجہ سے تمہارے دل میں لالچ پیدا ہوا ہے وہ تمہاری رائے ہے لیکن میں نے انصار و مہاجرین میں علی ؑ سے لگاؤ نہیں رکھا ہے اور طلحہ و زبیر نے ام المومنین عائشہ کو بھی چھوڑ دیا ہے تو کیا تمہاری پیروی کرلوں!

پھر ابن عمر نے ابن غزیہ سے کہا کہ اس شخص(معاویہ)کا جواب دو ابن غزیہ کا باپ ایک گوشہ نشین زاہد تھا اور وہ خود قریش کا سب سے بڑا شاعر تھا،اس نے ابن عمر کی فرمائش پر معاویہ کے خط کے جواب میں کچھ اشعار کہے ۔

ترجمہ اشعار:ہم نے علی ابن ابی طالب ؑ کو اصحابِ محمد ؐ کے درمیان چھوڑ دیا ہے حالانکہ ہمیں امید نہیں تھی کہ وہ جس چیز(خلافت)سے دور رکھے گئے ہیں اس پالیں گے انصار ان کے ساتھ ہیں اور مہاجرین کی ہمدردیاں بھی ان کے ساتھ ہیں اور مہاجرین و انصار علی ؑ کی قیادت میں شیروں کی طرح جال میں جکڑے ہوئے ہیں یعنی سب ان کے ساتھ ہیں ۔(4)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) وقعۃ صفین ص: 65 الامامۃ و السیاسۃ ج: 1 ص: 74 ،شرح نہج البلاغہ ج: 3 ص: 111

( 2) تاریخ خلیفہ بن خیاط ج: 1 ص: 184 ،جنگ جمل کے تفصیلی واقعات،العقد الفرید ج: 4 ص: 289 ،جنگ جمل

( 3) انساب الاشراف ج: 3 ص: 30

( 4) وقعۃ صفین ص: 72 ۔ 73


6 ۔ محمد بن ابی بکر ایک خط معاویہ کو لکھا اور اس میں مولا علی ؑ کے فضائل کا تذکرہ کیا لکھتے ہیں:اور علی ؑ کے ساتھ علی ؑ کے فضائل اور آپ سابقات تو ہیں ہی اس کے علاوہ وہ مہاجرین و انصار ہیں جن کے فضائل قرآن بیان کرتا ہے اور اللہ ان کی تعریف کرتا ہے وہ علی ؑ کے مددگار ہیں علی ؑ سے شدید محبت کرتے ہیں اور ہمیشہ آپ کو گھرے رہتے وہ اپنی تلواروں کو جنبش دیتے ہیں اور علی ؑ کے لئے اپنا خون بہانے کو ہمیشہ تیار رہتے ہیں ۔(1)

7 ۔ امیرالمومنین ؑ جنگ جمل میں جانے کے لئے نکلے اور جب مقام فید پر پہنچے تو آپ کی خدمت میں قبیلہ بنی اسد اور قبیلہ طے حاضر ہوا اور آپ کی قیادت میں جہاد کرنے کے لئے خود کو یپش کیا،آپ نے فرمایا تم لوگ اپنے قریے(گاؤں)میں ہی رہو!میرے لئے مہاجرین کافی ہیں،(2)

8 ۔ امیرالمومنین ؑ نے معاویہ کو ایک خط لکھا((میں صحراؤں کو قطع کرتا ہوا تیری طرف بڑھ رہا ہوں،میرے ساتھ مہاجرین و انصار کی بڑی جماعت ہے اور ان کی اولاد جو نیکی میں اُن کی پیروی کرتی ہے وہ بڑی فوج کی صورت میں گرد اُراتے ہوئے تیری طرف بڑھ رہے ہیں اُن کے ساتھ اصحاب بدر کی ذرّیت اور ہاشمی تلواریں بھی ہیں ۔(3)

9 ۔ حضرت عقیل بن ابی طالب ؑ نے معاویہ سے کہا:جس روز میں تیرے پاس آنے کے لئے نکلا ہوں میں نے علی ؑ کے ساتھیوں پر نظر کی تو مجھے نہیں نظر آتے مگر مہاجرین و انصار اور تیرے ساتھیوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے دکھائی نہیں دیتے مگر طلقا کی اولاد اور جنگ احزاب کے بقیۃ السیف ۔(4)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) وقعۃ صفین ص: 119 ،شرح نہج البلاغہ ج: 3 ص: 188 ،مروج الذھب ج: 3 ص: 21 ،حالات معاویہ

( 2) الکامل فی التاریخ ج: 3 ص: 117 ،الفتنۃ و وقعۃ الجمل ج: 1 ص: 137 ،تاریخ طبری ج: 3 ص: 24 ،شرح نہج البلاغہ ج: 14 ص: 18

( 3) نہج البلاغہ ج: 3 ص: 35 ،شرح نہج البلاغہ ج: 15 ص: 184 ،مناقب الامام علی لابن الدمشقی ج: 1 ص: 737 ،ینابیع المودۃ ج: 3 ص: 447

( 4) الموفقیات ص: 335


10 ۔ حدیثوں میں لشکر کا بیان دیا ہوا ہے:امیرالمومنین ؑ کے لشکر کی ترتیب جنگِ صفین میں کچھ اس طرح تھی کہ امیرالمومنین ؑ خود قلبِ لشکر میں تشریف فرما تھے اور آپ کے ساتھ اہل مدینہ،اہلِ کوفہ اور اہل بصرہ تھے مدینہ والوں میں سب سے بھاری تعداد انصار کی تھی ۔(1) - 11 ۔ نصر بن مزاحم اپنی اسناد سے ابوسنان اسلمی سے روایت کرتے ہیں کہ جب مولا علی ؑ کو یہ بتایا گیا کہ معاویہ اور عمروعاص خطبہ دے دیلے لوگوں کو آپ کے خلاف ورغلا رہے ہیں تو آپ نے حکم دیا کہ لوگوں کو جمع کیا جائے،راوی کہتا کہ گویا میں علی ؑ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ نے اپنی کمال پر تکیہ لگا رکھا ہے،اصحاب پیغمبر ؐ آپ کے پاس جمع ہوگئے ہیں اور آپ کو اس طرح گھیر رکھا ہے جیسے لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ اصحابِ پیغمبر ؐ کا سب سے بڑا مجمع آپ کے ساتھ ہے ۔(2)

12 ۔ عمرو بن عاص نے معاویہ سے کہا:تم اہل شام کو ایسے آدمی سے لڑانا چاہتے ہو جو محمد ؐ سے قرابت قربیہ تو رکھتا ہی ہے اس کے ساتھ ہی تمہاری طرف اصحاب پیغمبر ؐ کی ایک بڑی جماعت لیکے آ رہا ہے،اصحاب محمد ؐ میں شہسوار بھی ہیں،قاریان قرآن بھی ہیں،قدیم الاسلام بھی ہیں،یہ ایسے لوگ ہیں جن کی لوگوں کے دلوں پر ہیبت بیٹھی ہوئی ہے ۔(3)

13 ۔ سعید بن قیس نے اپنے اصحاب کو خطاب کیا،انہوں نے اپنے خطبہ میں کہا:خداوند عالم نے ہمیں اپنی خاص نعمت سے مخصوص کیا ہے،ہم اس کا شکر ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے،اور اس کی کما حقّہ قدر نہیں نہیں کرسکتے،محمد ؐ کے چُنے ہوئے اصحاب((جو اہل خیر بھی ہیں))ہمارے ساتھ ہیں،اُس خدا کی قسم جو اپنے بندوں کے حال سے وقف ہے اگر ہمارا قائد نکّٹا حبشی بھی ہوتا اور بدری سپاہیوں میں ستر افراد کی تعداد ہمارے ساتھ ہوتی تو ہمیں فخر محسوس ہوتا اور ہماری سمجھداری قابلِ تعریف ہوتی،چہ جائے کہ ہمارا قائد پیغمبر ؐ کا ابنِ عم ہے ۔(4)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)تاریخ طبری ج:3ص:84،لوگوں کو جنگ پر آمادہ کرنے کی تیاری

(2)وقعۃ صفین ص:223

(3)وقعۃ صفین ص:222

(4)وقعۃ صفین ص:236۔237،شرح نہج البلاغہ ج:5ص:189،جمبرۃ خطب العرب ج:1ص:355،سعید بن قیس کے خطبہ میں


14 ۔ نصر کہتے ہیں کہ معاویہ نے نعمان بن بشیر اور مسلمہ بن مخلد انصاری کو بلایا بس یہی دو انصاری اس کے ساتھ تھے تو معاویہ نے کہا،اے دونو!مجھے اوس و خزرج کی طرف سے بہت غم ہوا ہے،انہوں نے اپنی تلواریں اپنے کاندھوں پر رکھی ہوئی ہیں اور مسلسل جنگ کی طرف بلا رہے ہیں یہاں تک کہ ہمارے اصحاب ڈ رگئے چاہے وہ بہادر ہوں یا بُزدل،اب حالت یہ ہے کہ جس شامی شہسوار کے بارے میں پوچھتا ہوں جواب ملتا ہے کہ اُسے انصار نے مار ڈ الا،انصار میدانِ جنگ میں نعرہ لگا رہے تھے کہ ہم انصار ہیں،میں مانتا ہوں انہوں نے رسول اسلام ؐ کو پناہ دی اور نُصرت بھی،لیکن انہوں نے اپنے تمام حقوق کو باطل کام(میری مخالفت)کرکے باطل کردیا ۔

جب معاویہ کی یہ باتیں انصار تک پہنچیں تو قیس بن سعد انصاری نے انصار کو جمع کیا اور خطبہ دینے کھڑے ہوئے،خطبہ میں کہا:معاویہ نے جو کچھ کہا ہے وہ آپ لوگوں کو معلوم ہوچکا ہے،میری جان کی قسم اگر آج آپ نے معاویہ کو غصہ دلایا ہے تو کوئی نئی بات نہیں ہے کل بھی آپ لوگوں نے غضب ناک کیا تھا اور اگر زمانہ اسلام میں آپ لوگوں نے معاویہ کو پچھاڑا ہے تو زمانہ کفر میں بھی آپ لوگ اسے پچھاڑ چکے ہیں، ۔ آپ اس کے خلاف جنگ کرکے کوئی گناہ نہیں کررہے ہیں بلکہ یہ تو آپ اس دین کی نصرت میں کررہے ہیں جس کی آپ پیروی کرتے ہیں،آج تو وہ کارنامہ انجام دیجئے جو کل کے کارناموں کو بُھلادے اور کل انشااللہ ایسے کام کیجئے گا جسے دیکھ کر لوگ آج کے کارنامے بھول جائیں(آپ لوگ تو منزل یقین پر فائز ہیں)آپ تو اس عَلم کے سارئے میں کھڑے ہیں جس عَلم کے داہنی طرف جبرائیل ؑ اور بائیں طرف میکائیل کھڑے ہو کے جہاد کرتے تھے جب کہ معاویہ کی قوم ابوجہل اور احزاب کے جھن ڈ ے کے ساتھ ہے ۔(1)

15 ۔ معاویہ نے نعمان کو بُلا کر میدان میں بھیجا کہ وہ قیس بن سعد بن عبادہ کو سمجھائے اور اُن سے کہے کہ وہ جنگ نہ کریں،نعمان نکلا اور دونوں صفوں کے درمیان کھڑا ہوا پھر اس نے کہا:اے قیس ابن سعد میں نعمان بن بشیر ہوں،یہ سُن کر قیس بن سعد نکلے اور دونوں میں گفتگو ہونے لگی،قیس نے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) وقعۃ صفین ص: 445 ۔ 447


دورانِ گفتگو کہا:خدا کی قسم اگر تمام عرب بھی معاویہ کے ساتھ ہوجاتا جب بھی انصار تو اُس سے لڑتے ہی اور تم جو یہ کہہ رہے ہو کہ ہم عام لوگوں کی طرح نہیں ہیں تو سنو!ہم لوگ اس جنگ میں اس طرح ہیں جیسے پیغمبر ؐ کے ساتھ تھے،اپنے چہروں کو تلواروں کی ڈ ھال اور گردنوں کو نیزوں کا نشانہ بنارہے ہیں،تا کہ حق کی فتح ہو اور امرِ خدا ظاہر ہوجائے اور دشمن کو یہ بات ناگوار گذرتی ہے تو گذرے نعمان ذرا دیکھو تو کہ معاویہ کے ساتھ کون لوگ ہیں؟یا تو طلیق ہیں،یا عرب کے دیہاتی یا خطہ یمن کے کچھ لوگوں کو دھوکہ سے ساتھ میں ملایا گیا ہے،دیکھو تو مہاجرین و انصار اور نیکی میں اُن کی پیروی کرنے والے جن سے خدا راضی ہے،کہاں پر ہیں؟پھر دیکھو!معاویہ کے ساتھ اپنے اور اپنے حقیر ساتھی(مسلمہ انصاری)کے علاوہ کسی اور انصاری کو بھی پاتے ہو؟اور تم دونوں نہ بدری ہو،نہ اُحد کے جانبازوں میں،نہ تم نے اسلام میں سبقت کی ہے،نہ تمہاری شان میں قرآن کی کوئی آیت اتری ہے،خدا کی قسم تم نے آج ہمیں دھوکہ دیا ہے تو ہمیں کوئی تعجب نہیں ہے کیونکہ اس سے پہلے تمہارے باپ ہم سے غداری کرچکے ہیں ۔(1)

بشیر بن سعد جو نعمان کا باپ تھا سب سے پہلے اسی نے ابوبکر کی بیعت کی تھی،جناب قیس بن سعد کا اشارہ((اس کے باپ کی غداری ہے))اسی طرف ہے،یہ بھی مشہور ہے کہ اس کے باپ نے یا تو سب سے پہلے بیعت(2) کی تھی یا ان لوگوں میں شامل تھے جن کو بیعتِ ابوبکر میں اوّلیت حاصل ہے ۔

16 ۔ واقعات صفین کے ذیل میں بیان کیا جاتا ہے کہ عمار بن یاسر نے بَدری سپاہیوں کی ایک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) وقعۃ صفین ص: 449 ،شرح نہج البلاغی ج: 8 ص: 87 ۔ 88 ،الامامۃ و السیاسۃ ج: 1 ص: 91 ۔ 92 ،جمبرۃ خطب العرب ج: 1 ص: 367 ،خلافت امام علیؑ

( 2) تاریخ یعقوبی ج: 2 ص: 124 ،الریاض النضرۃج: 2 ص: 215 ،الصابۃ ج: 1 ص: 311 ،فتح الباری ج: 7 ص: 31 ،الطبقات الکبری ج: 3 ص: 182)


بڑی تعداد لیکے اور دوسرے مہاجرین و انصار کے ساتھ عمروعاص پر حملہ کیا اس وقت وہ تنوخ اور نہد جیسے شامیوں کی قیادت کررہا تھا(1)

17 ۔ ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ:میں جنگ صفین کے نزدیک سے دیکھنے والے افراد میں سے ہوں وہ کہتے ہیں کہ:میں نے عمار یاسر کو دیکھا کسی بھی میدان یا وادی میں دکھائی نہیں دئیے مگر یہ کہ اصحاب محمد ؐ اُن کے ساتھ ساتھ جیسے کہ عمار یاسر اُن کے عَلَم ہوں جس کو وہ گھیرے رہتے تھے ۔(2)

18 ۔ ام الخیر بنت حریش نے عمار کی شہادت پر کہا:اے گروہِ مہاجرین و انصار!صبر کرو،اپنے پروردگار کی طرف سے بصیرت لے کے اپنے دین پر ثابت قدمی کے ساتھ جہاد کرتے رہو ۔(3)

19 ۔ عکرشہ بنت ائدطش یا اطرش نے جنگ صفین میں کہا:اے گروہِ مہاجرین و انصار!اپنے دین سے بصیرت لیکے جہاد کرتے رہو ۔(4)

اس کے علاوہ بھی بہت سے شواہد ہیں لیکن اختصار کے پیش نظر میں انہیں پیش نہیں کر رہا ہوں یہ تمام واقعات اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ جنگ صفین و جمل میں پیغمبر اعظم ؐ کے بلند مرتبہ اصحاب،مولائے کائنات حضرت علی ؑ کے ساتھ تھے اور آپ کو حقدارِ خلافت تسلیم کرکے آپ کے مخالفین سے جنگ کررہے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) مروج الذھب ج: 2 ص: 375

( 2) الاستیعاب ج: 3 ص: 1138 تاریخ طبری ج: 3 ص: 99 ،مقتل عمار بن یاسر،المجموع فی شرح المہذب للنوری ج: 19 ص: 162 ،شرح نہج البلاغہ ج: 10 ص: 104 ،اسد الغابہ ج: 4 ص: 46)

( 3) جمبرۃ خطب العرب ج: 1 ص: 371 ،تاریخ دمشق ج: 7 ص: 235 ،العقد الفرید ج: 2 ص: 90 ،صبح الاعشی فی صناعۃ الانشاء ج: 1 ص: 297 ،بلاغات النساء ص: 38 ،ام الخیر بنت حریش بارقینہ کی گفتگو کے ذیل میں،

( 4) بلاغات النسا ص: 71 ،العقد الفرید ج: 2 ص: 86 صبح الاعشی فی صناعۃ الانشا ج: 1 ص: 301 ،جمبرۃ خطب العرب ج: 1 ص: 368 ۔ 369 ،واقعۃ صفین میں شیعیت سے لبریز خطبے اور عکرشہ بنت اطرش کا خطبہ،


امیر المومنین علیہ السلام کی طرف سے اصحابِ پیغمبر ؐ بڑے اور ذمہ دار عہدوں پر رکھے جاتے تھے

امیرالمومنین ؑ کے خاص لوگوں میں اصحابِ پیغمبر ؐ ہی تھے جن میں سے کچھ آپ کے لشکر کے قائد اور کچھ مختلف شہروں کے گورنر بنائے گئے تھے،بڑی ذمہ داریاں،نمایاں اصحاب کو دی جاتی تھیں،جیسے عمار بن یاسر،ابوایوب انصاری،حذیفہ بن یمان،ابن تیہان،ذوالشھادتین،قیس بن سعد بن عبادہ،عمروہ بن حمق خزاعی،ہاشم بن عتبہ مرقال،عدی بن حاتم طائی،عبداللہ اور محمد دونوں بدیل بن ورقۃ خزاعی کے فرزند ہیں،سھل اور عثمان دونوں حنیف کے صاحبزادے ہیں،جابر بن عبداللہ انصاری و غیرہ ۔

امیرالمومنینؑ کا اپنے خاص اصحاب کے لئے گریہ و اضطراب

امیرالمومنین ؑ اپنے اصحاب خاص کو بہت شدت سے یاد فرماتے تھے،خصوصاً اس وقت جب آپ لوگوں کو جہاد کی دعوت دیتے تھے تو اپنے خطبوں میں ان صحابہ کرام کا تذکرہ بڑے دل پذیر انداز میں کرتے تھے،ایک خطبہ میں آپ فرماتے ہیں کہ((کہاں ہیں میرے وہ بھائی جو راہِ خدا پر چلے اور حق پر ہی گزرگئے،کہاں ہیں عمار،کہاں ہیں ابن تیہان،کہاں ہیں ذوالشھادتین اور ان کے جیسے لوگ،میرے وہ بھائی جنہوں نے موت سے شرط باندھ رکھی تھی اور جن کے بریدہ سر فاجروں کے دل کو ٹھن ڈ ا کرتے تھے،راوی کہتا ہے کہ پھر آپ نے اپنے ریشِ مبارک و مقدس پر ہاتھ پھیرا اور بہت دیر تک روتے رہے پھر فرمایا:ہائے میرے وہ بھائی جنہوں نے قرآن کی تلاوت کی تو اسی کو حاکم قرار دیا،فرض پر غور کیا تو اس کو قائم کیا،سنت پیغمبر ؐ کو وہ زندہ کرتے تھے اور بدعتوں کو مٹاتے تھےمجہاد کے لئے بلائے جاتے تو لبیک کہتے تھے،انہوں نے اپنے قائد پر بھروسہ کیا تو اس کی پیروی کی)) ۔(1)

امیرالمومنین ؑ کے بعد بھی ان میں سے کچھ مقدس افراد امام حسن ؑ کے دور تک باقی رہے،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)نہج البلاغہ ج:2ص:109


جب امام حسن ؑ صاحبِ امر ہوئے تو وہ افراد آپ کے ساتھ تھے یہاں تک کہ امام ؑ نے معاویہ سے مصالحت کی جب بھی وہ لوگ موجود تھے وہ امام ؑ پر جان نچھاور کرتے تھے اور آپ کے اہل بیت ؑ کے شیدائی تھے ۔

معاویہ اصحاب امیرالمومنینؑ سے انتقام لیتا ہے

معاویہ نے اصحاب علی ؑ کو مجرم محبت علی ؑ کی خوب سزادی ایک ایک سے چُن چُن کے بدلہ لیا،کسی کو قتل کرایا،کسی کو زندگہ دفن کرایا،کسی کو سولی پر چڑھایا،صرف اس لئے کہ وہ محبتِ علی ؑ اور ولائے پیغمبر ؐ میں گرفتار تھے اور مولائے کائنات ؑ کے بعد بھی معاویہ کے مخالفت تھے،یہاں تک کہ اس نے عمرو بن حمق خزاعی جیسے جلیل القدر صحابی کو آوارہ وطن ہونے پر مجبور کردیا اور جب وہ مومن شہید ہوگئے یا مرگئے تو ان کا سر کاٹ کے معاویہ کے پاس بھیج دیا گیا،اُس نے عمرو بن حمق کی بیوی کو قید کر رکھا تھا،عمرو بن حمق کے سر کو آپ کی بیوی کی گود میں رکھ دیا وہ مومنہ اپنے شوہر کا سر دیکھ کے رونے لگی اور بولی:بہت دنوں تک تم لوگوں نے اِن کو ہم سے دور رکھا تھا اور جب ہمیں ملایا تو تو ان کی شہادت کے بعد ملایا ۔(1)

حجر بن عدی اور اصحاب حجر کی شہادت پر مسلمانوں کا اظہار نفرت

معاویہ نے عظیم المرتبہ صحابہ حجر بن عدی کو اُن کی جماعت کے ساتھ مرج عذرا کی چراگاہ میں شہید کردیا یہ بہت مشہور واقعہ ہے،ان لوگوں کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے معاویہ کے گورنرز یاد کی کوفہ پر حکومت سے انکار کردیا تھا اور اس کے بعد امیرالمومنین علیہ السلام سے اظہار بر ات ب ھی نہیں کی،حجر و اصحابِ حجر کی شہادت سے عالمِ اسلام میں ایک شور برپا ہوگیا اور لوگ معاویہ کو ملعون و فاسق کہنے لگے،ہر مسلمان نے اس حادثہ فاجعہ کو اپنے طور پر اسلام اور مسلمان کے لئے ایک بڑی مصیبت سمجھا،چنانچہ دیکھئے!یہ عائشہ ہیں:جو حجر بن عدی کی شہادت پر معاویہ سے بہت ناراض

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) اسد الغابہ ج: 4 ص: 101 ،حالاتعمر بن الحمق،بدایہ و النہایہ ج: 8 ص: 48 ،تاریخ دمشق ج: 69 ص: 40


ہیں،جب شام پہنچیں اور معاویہ سے براہِ راست ملاقات ہوئی تو کہنے لگیں:اے معاویہ!تجھے حجر و اصحاب حجر کو قتل کرنے میں اللہ کا خوف محسوس نہیں ہوا؟(1)

دوسری روایت میں ہے کہ عائشہ نے کہا:کاش معاویہ کو معلوم ہوتا کہ کوفہ میں اس کی جسارتوں کو روکنے والے موجود ہیں تو وہ یہ جرات نہ کرتا کہ حجر اور اصحاب حجر کو کوفہ سے اٹھالے اور شام لے جاکے انھیں قتل کردے لیکن جگرِ خوارہ کا بیٹا یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مردِ راہ حق اب نہیں رہے،خدا کی قسم اگر وہ ہوتے تو....))(2) دوسرے مقام پر بھی انہوں نے معاویہ سے کہا:اے معاویہ!تو نے جو ظلم حجر اور اصحابِ حجر پر کیا(3) اور انہیں شہید کردیا اس کی وجہ کیا تھی تجھے اس فعلِ قبیح پر کس نے مجبور کیا؟(4)

جب عبداللہ بن عمر کو خبرِ شہادت حجر ملی تو وہ بازار میں تھے،انہوں نے یہ کبر سنتے ہی پُشت سے بندھا ہوا کپڑا چھوڑ دیا اور کھڑے ہوگئے پھر بڑی شدت سے روئے ۔(5) جب ربیع بن زیاد کو یہ خبر ملی((جو معاویہ کے گورنر تھے))تو انہوں نے دعا کی:پالنے والے اگر ربیع کا کوئی نیک عمل تجھے پسند آیا تو اب ربیع کو اس دنیا سے اٹھالے ۔(6) حسن بصری نے کہا:معاویہ کے اندر خرابیاں ہیں جن میں سے ہر ایک اس کی ہلاکت کے لئے کافی ہیں،ایک تو اس امت پر زبردستی مسلّط ہوجانا،دوسرے حجر و اصحاب حجر کو شہید کرنا،حجر کی وجہ سے اُس پروائے ہو حجر کی وجہ سے اس پروائے ۔(7)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) تاریخ طبری ج: 3 ص: 51،232 سنہکےواقعات

( 2) الاستیعاب ج: 4 ص: 126 حالات جعفر ابن عدی

( 3) البیان و التعریف ج: 2 ص: 72 ،فیض القدیر ج: 4 ص: 126

( 4) تاریخ طبری ج: 3 ص: 232 ،اور تاریخ دمشق ج: 12 ص: 226 ۔ 229 ۔ 230

( 5) الاستیعاب ج: 1 ص: 330 ،تاریخ دمشق ج: 12 ص: 227 ۔ 228 ۔ 229 ،بدایہ النہایہ ج: 8 ص: 55

( 6) الاستیعاب ج: 1 ص: 330 ،تھذیب التھذیب ج: 3 ص: 211 ،تھذیب الکمال ج: 9 ص: 79

( 7) تاریخ طبری ج: 3 ص: 232 ،الاستیعاب ج: 1 ص: 331 ،الکامل فی التاریخ ج: 3 ص: 337 ،ینابیع المودۃ ج: 2 ص: 27 ،شرح نہج البلاغہ ج: 2 ص: 262)


اس منزل میں دوسرے فقرے بھی ہیں جو مسلمانوں نے کہے،مسلمانوں نے شہادتِ حجر کی شدت سے مخالفت کی ہے،رضوان اللہ علیھم اجمعین(1)

لیکن میں اس جگہ وہ تمام باتیں عرض نہیں کروں گا،شہادت حجر کے بیان کو ختم کرنے سے پہلے صرف اس پیشین گوئی کے ذکر پر اکتفا کرتا ہوں جو سرکار دو عالم ؐ نے حجر اور اصحاب حجر کی شہادت کے سلسلے میں فرمائی تھی،آپ فرماتے ہیں((عذرا میں سات ایسے افراد شہید کئے جائیں گے جن کی شہادت پر خدا اور آسمان والے غضبناک ہوں گے)) ۔(2)

معاویہ نے اپنے تاریک دور میں اصحابِ علی ؑ پر بہت سختیاں کی ہیں ۔ صرف اس وجہ سے کہ ان کے دل میں محبت علی ؑ تھی اور وہ اہل بیت علیھم السلام کے چاہنے والے تھے،تاریخیں ایسے واقعات سے بھری پڑی ہیں اور کسی پر بھی معاویہ کی یہ حرکتیں پوشیدہ نہیں ہیں ۔

(معاویہ انصارِ خدا سے شدیدترین بغض رکھتا تھا،جب وہ مدینہ آیا تو اس سے ابوقتادہ انصاری کی اچانک ملاقات ہوگئی،معاویہ نے کہا:ابوقتادہ تمام مسلمان ہم سے ملنے کے لئے آئے سوائے تم انصاریوں کے،آخر تم لوگوں کو کس نے روکا ہے؟انہوں نے کہا:ہمارے پاس سواریاں نہیں تھیں،پوچھا تہمارے اونٹ کیا ہوئے؟فرمایا:بدر کے دن تم کو اور تمہارے باپ کو تلاش کرنے سے تھکے ہوئے تھے،کہنے لگا ٹھیک کہہ رہے ہو اے ابوقتادہ! ۔ ابوقتادہ نے کہا:ہادی برحق نے ہمیں خبر دی ہے کہ ہم لوگ نبی ؐ کے بعد کچھ نشانیاں دیکھیں گے،پوچھا:پھر نبی ؐ نے اس وقت کے لئے کوئی حکم بھی تو دیا ہوگا؟کہا:ہاں ہمیں صبر کا حکم دیا ہے،کہنے لگا:پھر صبر ہی کرو یہاں تک کہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) تاریخ طبری ج: 3 ص: 232 ۔ 233 ،تاریخ دمشق ج: 12 ص: 219 ۔ 132 ۔ 233 ،بدایہ و النہایہ ج: 8 ص: 54 ۔ 55

( 2) انساب الاشراف ج: 5 ص: 274 ،تاریخ دمشق ج: 12 ص: 226 ،جامع الصغیر ج: 2 ص: 61 ،حدیث 4765 ،بدایہ و النہایہ ج: 6 ص: 226 ،مقتل حجر بن عدی ج: 8 ص: 55 ،کنز العمال ج: 11 ص: 126 ،حدیث: 30887 ،ج: 13 ص: 587 ،حدیث 37509 ،ص: 588 حدیث: 37510 ،تاریخ یعقوبی ج: 2 ص: 231 ،النصائح الکافیہ ص: 83 ،فیض القدیر ج: 4 ص: 126 ،اور اسی طرح اصابہ میں ج: 2 ص: 38


نبی ؐ سے ملاقات کرو ۔(1)

ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر معاویہ کے پاس آئے،معاویہ نے ان کا خیر مقدم کیا،اور اپنے قریب بلا کر اپنے تخت پر بٹھایا پھر معاویہ نے کہا:اے ابوخبیب!اپنی حاجتیں بیان کرو انہوں نے معاویہ سے کچھ مانگا،پر معاویہ نے کہا:اس کے علاوہ بھی کچھ مانگو،انہوں نے کہا:ہاں،مہاجرین و انصار کا وظیفہ انھیں واپس دیدو اور ان کے بارے میں وصیتِ پیغمبر ؐ کی پابندی کرو،ان کے نیکوکاروں کو قبول کر اور ان میں جو غلط ہیں انہیں معاف کردو،معاویہ نے کہا:افسوس،بھیڑیں،بھیڑیوں سے نہیں بچ سکتیں وہ تو ان کی آنتیں بھی کھاچکا ہے ۔(2)

بنوامیہ،صحابہ کی اسلامی خدمات سے لوگوں کو بےخبر رکھنا چاہتے تھے

بنوامیہ کے دور میں بات یہاں تک پہنچی کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ صحابہ کے گذشتہ اسلامی خدمات سے لوگوں کو واقف کرایا جائے بلکہ کوشش یہ تھی کہ صحابہ کے کارناموں کا تذکرہ ہی نہ ہو ۔

ایک مرتبہ انصار کا وفد معاویہ کے دروازے پر حاضر ہوا،معاویہ کا حاجب ابودرّہ ان کے پاس آیا،انصار نے کہا:معاویہ سے ہمارے لئے اجازت لیکر آؤ،وہ معاویہ کے پاس واپس گیا،اس وقت اس کے پاس عمروعاص بیٹھا تھا،عمروعاص وہی شخص ہے جسے سقیفہ کے بعد انصار سے تکلیف پہنچی تھی اور انصار نے امیرالمومنین ؑ کی نصرت کی تھی جس کی وجہ سے عمروعاص کو مدینہ چھوڑنا پڑا تھا،بہرحال حاجب نے آکے کہا کہ معاویہ صاحب آپ کے دروازے پر انصار آئے ہیں،عمروعاص نے جب سنا کہ معاویہ کے ہاں انصار آئے ہیں،انصار کا لقب تو مدینہ والوں کو قران مجید اور سنتِ شریفہ سے ملا تھا اور مسلمانوں کے درمیان یہ لوگ انصار ہی کے لقب سے مشہور تھے،عمروعاص کو یہ بات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)الاستیعاب ج:3ص:1421سیراعلام نبلاء ج:2ص:453۔454،شعب الایمان ج:6ص:56۔57،الجامع المعمر بن راشد ج:11ص:60۔61،تاریخ دمشق ج:34ص:295۔296،حالات عبدالرحمٰن بن حسان ج:67ص:151،تاریخ الخلفاء ج:1ص:201 (2)شرح نہج البلاغہ ج:20ص:141


کیسے برداشت ہوتی کہ انصار کو انصار کو کہا جائے،اس سے کتابِ خدا اور سنتِ پیغمبر ؐ کی پیروی ہورہی تھی،اس لئے جب حاجب نے انھیں ملقب کرکے معاویہ کو خبر دی تو عمروعاص نے کہا:یہ کیا لقب ہے جس کو وہ لوگ نسب کے طور پر استعمال کر رہے ہیں انھیں ان کے نسب کی طرف پلٹاؤ،معاویہ نے اس کو سمجھایا کہ اس سے ہمیں پر الزام آئے گا،اس نے کہا:الزام کیا آئے گا یہ تو ایک بات کی جگہ دوسری بات ہے،اس کو پلٹانا ناممکن نہیں،معاویہ نے عمروعاص کی بات مان لی اور اپنے حاجب سے کہا کہ جا کے آواز دو کہ عمرو بن عامر کے بیٹوں کو بلایا گیا ہے،حاجب گیا اور اس نے آواز دی عمرو بن عامر کے بیٹوں کے لئے اجازت ہے،پس عمرو بن عامر کی اولاد داخل ہوئی لیکن ان میں جو انصار تھے وہ نہیں گئے،معاویہ نے حاجب سے کہا:اب جا کے آواز دو کہ اوس و خزرج کی اولاد کو بھی بلایا گیا ہے،پس اسنے باہر نکل کر یہی آواز لگائی،یہ سن کر نعمان بن بشیر انصاری کو بہت برا لگا،وہ آگے بڑھے اور یہ اشعار پڑھنے لگے ۔

ترجمہ اشعار اے سعد!ہمیں بار بار مت پکارو ہمارا سب سے نجیب نسب صرف یہ ہے کہ ہم انصار ہیں،یہ وہ نسب ہے جو ہماری قوم کے لئے اللہ نے اختیار کیا ہے اور یہ نسب کافروں پربہت بھاری ہے،تم لوگوں میں جو بدر کے میدان میں ہمارے ہاتھوں موت کی نیند سلا دیئے گئے،وہ قیامت کے دن جہنم کا ایندھن ہوں گے،یہ اشعار پڑھنے کے بعد نعمان بن بشیر غصہ میں کھڑے ہوگئے اور جانے لگے معاویہ نے انھیں واپس بلایا اور خوشامد کر کے راضی کرلیا،پھر ان کی اور ان کے ساتھ انصاریوں کی حاجتیں پوری کیں ۔(1)

امویوں کے دل میں بغض صحابہ جڑ پکڑ چکا تھا،مروان بن حکم کو یہ بھی گوارہ نہیں تھا کہ سرکار دو عالم ؐ نے جو پتھر عثمان بن مظعون کی قبر پر رکھا تھا اس کو وہ برقرار رکھتا،عثمان بن مظعون وہ پہلے مہاجر تھے جن کی وفات مدینہ میں ہوئی تھی،انھیں سرکار دو عالم ؐ نے جن البقیع میں دفن کرایا اور اپنے ہاتھوں سے اس قبر پر نشانی کے لئے پتھر رکھ دیا،اہل بیت ؑ پیغمبر ؐ میں سے جو بھی مرتا تھا انھیں کی قبر کے پاس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) الاغانی،ج: 16 ص: 56 ،اور ص: 50 ۔ 51


دفن کیا جاتا تھا،جب مروان بن حکم معاویہ کی طرف سے مدینہ کا گورنر ہوا اس پتھر کے پاس سے گذرا اور اسے اپنے ہاتھ اٹھا کے پھینک دیا اور کہنے لگا،عثمان بن مظعون کی قبر پر کوئی ایسا پتھر نہیں ہونا چاہئے جس کی وجہ سے ان کی پہچان ہو،بنوامیہ اس کے پاس آئے اور کہا کہ تو نے برا کیا ہےہ تو نے اس پتھر کو اٹھا کر پھینک دیا ہے جسے نبی ؐ نے اپنے ہاتھ سے رکھا تھا،تو نے بہت برا کام کیا،حکم دے کہ وہ پتھر وہاں واپس رکھ دیا جائے اس نے کہا،خدا کی قسم جس کو میں نے پھینک دیا وہ واپس نہیں ہوسکتا(1)

زبیر بن بکار کہتے ہیں کہ جب سلیمان بن عبدالملک ولی عہد سلطنت تھا تو ایک دن وہ مدینہ آیا اور ابان بن عثمان کو حکم دیا کہ وہ نبی ؐ کی سیرت اور آپ کے غزوات پر ایک کتاب لکھے،ابان نے کہا کہ ہمارے پاس ایک ایسی کتاب پہلے سے موجود ہے جسے ہم نے جن لوگوں کو قابل اعتبار سمجھا ہے ان سے تصحیح بھی کرالی ہے سلیمان بن عبدالملک نے کہا کہ ٹھیک ہے اسی کو لے آؤ سلیمان نے اس کام کے لئے دس کاتب مقرر کئے اور انھوں نے بہت محنت سے وہ کتاب لکھی،جب سلیمان کے سامنے وہ کتاب لائی گئی تو اسنے دیکھا کہ اس کتاب میں دونوں وادیوں(عقبی اولیٰ و عقبہ ثانیہ)میں انصار کے کارناموں کے بارے میں لکھا ہوا ہے پھر بدر میں انصار ہی کی نصرت کا تذکرہ ہے،سلیمان بن عبدالملک نے جب یہ دیکھا تو بھڑک اٹھا اور کہنے لگا یہ لوگ میری نظر میں اتنے صاحب فضیلت تو نہیں تھے اگر ان میں سے کچھ لوگ ہمارے گھر والے بھی ہیں تو ان کو ہلکا کر کے دکھایا ہے حالانکہ وہ لوگ ایسے ہیں نہیں،سنو!مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے کہ میں یہ کتاب لکھواؤں اور امیرالمومنین(عبدالملک مروان)سے اس کا تذکرہ کروں،وہ تو اس کتاب کی مخالفت کریں گے بس اس نے اس کتاب کو جلا دینے کا حککم دیا اور وہ جلا دی گئی پھر سلیمان اپنے باپ کے پاس واپس ہوا اور اس واقعہ کے بارے میں اسے بتایا،عبدالملک نے کہا:ایسی کتاب جس میں ہم لوگوں کی کوئی فضیلت ہی نہیں لکھی ہے اس کو آگے بڑھانے کی تمہیں کیا ضرورت ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)تاریخ المدینہ ج:1ص:101۔102


اس کتاب کو پڑھ کر تو اہل شام وہ سب جان جائیں گے جس سے ہم ان کو ناواقف رکھا چاہتے ہیں،سلیمان نے کہا:اے امیرالمومنین یہی وجہ ہے کہ میں نے اس کو جلانے کا حکم دیا،جتنا بھی لکھا جاچکا تھا سب جلادیا گیا عبدالملک نے یہ سن

کے اس کی رائے کو صحیح قرار دیا(1)

اہل مدینہ نے یزید کی بیعت توڑدی تھی جس کی وجہ سے واقعہ حرہ ہوا مدینہ کو تباہ کیا گیا اور لوٹا گیا،خلع بیعت کا سبب ہی یہی تھا کہ اہل مدینہ اپنے بزرگوں کی پیروی میں امویوں کے مخالف تھے اور بنوامیہ کے دلوں میں اہل مدینہ کے خلاف شدید بغض تھا ۔

بنوامیہ اور حقیقتوں کو بدلنے کی کامیاب کوشش

یہ عجیب بات ہے کہ بنوامیہ حقائق کو بدلنے کی کوشش میں کامیاب رہے جس کے نتیجہ میں آج اہل سنت معاویہ اور عمروعاص جیسے مسلمانوں سے محبت کرتے ہیں،ان کی حمایت میں کتاب لکھتے ہیں،تقریریں کرتے ہیں اور اسی طرح ان کا احترام کرتے ہیں جیسے ایک صحابہ کا احترام ہونا چاہئے،شیعہ جب ان جیسے لوگوں پر اعتراض کرتے ہیں تو اہل سنت احتجاجاً ان کی مخالفت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صحابی کو برا نہیں کہنا چاہئے بلکہ شیعوں کو یہ کہہ کر بدنام کرتے ہیں کہ یہ لوگ صحابہ کا احترام نہیں کرتے اور انھیں لعن و طعن کرتے ہیں،وجہ صرف یہ ہے کہ امویوں نے حقائق کو بگاڑ کے پیش کیا ہے،اور اپنے دور میں صحابیت کی جو تعریف بتائی ہے وہ صرف انھیں پر صادق آتی ہے،اہل سنت بھائیوں کو اموی پروپیگن ڈ ے نے یہ جاننے کی مہلت ہی نہیں دی کہ حقیقت کیا ہے؟اور صحابہ بنوامیہ کے کتنے مخالفت دشمنی کی حد تک پہنچی ہوئی تھی؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) الموفقیات ص: 331 ۔ 334


معاویہ کی ہلاکت کے بعد اہل بیتؑ کے بارے میں صحابہ کا نظریہ

ہم اپنے سلسلہ بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے اب یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ صحابہ کرام کا نظریہ معاویہ کی ہلاکت کے بعد کیا تھا؟تاریخ کا مطالعہ کریں تو صحابہ کو اہل بیت ؑ کے ساتھ ساتھ پائیں گے،(معاویہ کے مرنے کے بعد اب وہ سیاست مرچکی تھی،جسے اخلاقیات کے علما صاف لفظوں میں مکاری اور روباہی کہتے ہیں نتیجہ میں صحابہ کو اپنا موقف بیان کرنے کی کچھ آزادی ملی اور صحابہ اہل بیت ؑ کے ساتھ ہوگئے،ان میں سے کچھ تو وہ تھے جو ابوعبداللہ الحسین ؑ کے ساتھ عراق چلے گئے اور امام حسین ؑ مظلوم کی نصرت میں ؤپ کے سامنے جام شہادت سے سیراب ہوئے،ان میں انصاریوں کا ایک گروہ بھی تھا،انھیں میں انس بن مالک کاہلی بھی تھے جنھوں نے بدر سے حنین تک ہر جہاد میں نبی ؐ کی نصرت کی تھی،اور انھیں سے یہ حدیث بھی ہے جو کربلا کی طرف اشارہ کتی ہے،حضور سرور کائنات ؐ نے انھیں سے یہ فرمایا تھا کہ میرا یہ بیٹا حسین ؑ اس جگہ شہید کیا جائےگا جس کا نام کربالا ہے جو تم میں اسے اس وقت موجود ہوا سے چاہئے کہ اس کی(حسین ؑ کی)نصرت کرے ۔(1)

جب کربلا کا واقعہ پیش آیا تو اس وقت انس بن مالک بہت بوڑھے ہوچکے تھے آنکھوں پر لٹکی ہوئی بھنووں کو عمامہ کے نیچے ایک عصابہ(پٹی)سے باندھ رکھا تھا جب امام حسین ؑ مظلوم نے آپ کو اس حال میں دیکھا تو رونے لگے،اور فرمایا اے شیخ!خدا آپ کی کوششوں کو مشکور قرار دے انس بن مالک نے اس بڑھاپے میں اٹھارہ یزیدیوں کو جہنم واصل کیا،پھر آپ شہید ہوگئے،رضوان اللہ علیہ ۔(2) اس طرح بہت سے صحابہ تھے جنھوں نے اہل بیت ؑ کا دامن تھام لیا تھا،اہل بیت ؑ کے لئے قربانیاں دے رہے تھے،اور اہل بیت ؑ کے دشمنوں سے کھلی ہوئی دشمنی کررہے تھے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) الاصابہ ج: 1 ص: 121 تاریخ دمشق ج: 14 ص: 224 ،بدایہ و النہایہ ج: 8 ص: 199 ،ینابیع المودۃ ج: 3 ص: 8

( 2) مقتل الحسین للمقرم ص: 313


مناقب اہل بیتؑ بیان کرنے اور نص کی روایت کرنے میں صحابہ کی کوشش

صحابہ کی کثیر تعداد نے تو اپنا یہ فرضیہ بنالیا تھا کہ وہ امیرالمومنین علیہ السلام کے بارے میں نصوص نبوی ؐ کی تبلیغ کرتے رہیں اور مسلمانوں کے درمیان نص کے ساتھ ہی فضائل و مناقب اہل بیت ؑ کی نشر و اشاعت کرتے رہیں،وہ مسلسل امت کو اہل بیت ؑ کی طرف متوجہ کرتے رہتے تھے اور اہل بیت ؑ سے کسی بھی لمحہ غلفت نہیں کرتے تھے ۔

آپ کے سابقہ چوتھے سوال کے جواب میں عرض کیا جاچکا ہے کہ ابوایوب انصاری کے ساتھ انصار کی ایک جماعت نے امیرالمومنین ؑ کو مولا کہہ کے سلام کیا تا کہ حدیث غدیر کی تجدید ہوسکے،جس حدیث غدیر کو شیعہ،امیرالمومنین ؑ کی خلافت پر نص صریح مانتے ہیں،یہ اقدام شاید اس لئے بھی کیا گیا تھا کہ امیرالمومنین ؑ نے لوگوں کو قسم دی تھی کہ جو واقعہ غدیر میں موجود تھا وہ کھڑا ہوا اور جو کچھ سنا اور دیکھا تھا بیان کرے،صحابہ کی ایک جماعت نے اس آواز پر لبیک کہا اور کھڑے ہوکے گواہی دی ایک چھوٹی سی جماعت نے شہادت سے گریز بھی کیا لیکن اتنی بڑی جماعت کی گواہی کا یہ فائدہ ہوا کہ حدیث غدیر کی نشر و اشاعت اور شہرت ہوگئی کتابوں میں نقل کی گئی اور صحابہ نے کثرت سے اس کی روایت کی ۔

امام حسینؑ نے صحابہ کو اہل بیتؑ کا حق ثابت کرنے کے لئے جمع کیا

سلیم بن قیس ہلالی کہتے ہیں کہ امام حسین ؑ معاویہ کے آخری اوقات میں حج کے لئے تشریف لائے اس وقت مہاجرین و انصار کے نمایاں افراد جو باقی بچ رہے تھے وہ بھی آئے ہوئے تھے وہ لوگ بھی تھے جنہیں صالح اور عبادت گذار سمجھا جاتا تھا اور زمین کے مختلف گوشوں سے سمٹ کے مکہ میں آگئے تھے،یہ تھا مجمع یعنی سامعین اور خطیب تھے امام حسین ؑ آپ نے خدا کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا:مسلمانو!اس سرکش(معاویہ)نے ہمارے ساتھ اور ہمارے شیعوں کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اور کررہا ہے اسے


آپ دیکھ رہے ہیں اور شاہد ہیں،میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں اگر میں سچ کہوں تو آپ میری تصدیق کریں گے اور اگر میں جھوٹ بولوں تو آپ میری تکذیب کردیجئے گا،میں آپ سے اللہ کا اور اللہ کے رسول ؐ کا اور پیغمبر ؐ سے اپنی قرابت کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ جب آپ یہاں سے جائیں تو میری باتیں لیتے جائیں اور ان لوگوں کو میری طرف سے دعوت دین جو آپ کے قبیلہ میں آپ کے ناصر ہیں اور جن پر آپ اعتماد کرتے ہیں،آپ ہمارے حق کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں انھیں جاکے بتائیں کیوں کہ مجھے خوف ہے کہ کہیں یہ اَمر مٹ نہ جائے،حق تباہ اور مغلوب نہ ہوجائے حالانکہ اللہ اپنے نور کو مکمل کر کے رہےگا چاہے کافروں کو ناگوار گذرے))پھر قرآن میں اہل بیت ؑ کے بارے میں جتنی آیتیں نازل ہوئیں تھیں آپ نے ایک ایک آیت کی تلاوت کی اور سرکار دو عالم ؐ نے آپ کے والد ماجد آپ کی مادر گرامی آپ کے بھائی اور خود آپ کے بارے میں جو حدیثیں ارشاد فرمائی تھیں سب کو دہرایا،صحابہ کو جو مجمع وہاں موجود تھا آپ کے ہر جملہ پر کہہ رہا تھا،اللہ(برائے خدا)ہاں ہم نے سنا اور ہم گواہ ہیں اور جو تابعی تھے وہ کہہ رہے تھے بخدا ہم سے یہ حدیثیں صحابہ کے اس گروہ نے بیان کی ہیں جن کی صداقت و امانتداری کے ہم معترف ہیں ۔

پھر آپ نے فرمایا:میں آپ لوگوں کو خدا کی قسم دے کے کہتا ہوں یہ باتیں صرف ان لوگوں سے بیان کیجئے گا جن کے اوپر اور جن کے دین پر آپ بھروسہ کرتے ہیں پھر سب متفرق ہوگئے(1) جابر بن عبداللہ انصاری حدیث لوح کے راوی ہیں اللہ نے اپنے نبی ؐ پر ایک تختی نازل کی تھی جس میں بارہ اماموں کے نام لکھے ہوئے تھے ۔(2)

حق تو یہ ہے کہ اگر صحابہ نہیں ہوتے تو ہم تک اس وافر مقدار میں نصوص نبی نہیں پہنچتی،یہ تمام فضائل و مناقب اہل بیت ؑ اور مولائے کائنات ؑ کی امامت پر متواتر نصوص صحابہ کی ہی فیضان ہے،صحابہ نے صرف فضائل اہل بیت ؑ ہی پہنچانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ دشمنان اہل بیت ؑ کی مذمت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)کتاب سلیم بن قیس الہلالی ص:320۔323

(2)بحارالانوار ج:36ص:201۔202


میں حدیثیں اور ان کی گذری سیرت کی نقاب کشائی بھی انھیں صحابہ کرام کے ہاتھوں ہوئی،خاص طور سے صحابہ کرام اس وقت کھل کے سامنے آگئے جب حکومت کی طرف سے سنت نبوی ؐ کی نشر و اشاعت پر عائد کردہ پابندیاں ہٹ گئیں،ان پابندیوں کی طرف ہم آپ کے ساتویں سابقہ سوال کے جواب میں اشارہ کرچکے ہیں ۔

آخر ابوبکر اور عمر نے سنت نبوی کی اشاعت پر پابندی کیوں لگادی تھی؟

کبھی آپ نے غور فرمایا ہے کہ آخر عمر اور ابوبکر سنت نبوی ؐ کا شیاع کیوں نہیں چاہتے تھے؟حدیث پیغمبر ؐ کی روایت کرنے سے کیوں منع کرتے تھے؟عمر نے اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مدینہ سے نکلنے پر پابندی کیوں عائد کردی تھی؟صرف اس خوف سے کہ اگر حدیث نبوی کی روایت کی اجازت دیدی گئی تو صحابہ مولا کی خلافت پر نص کرنے والی حدیثیں بھی بیان کرجائیں گے،اگر صحابہ مختلف شہروں میں آنے جانے لگے تو مسلمانوں کو مناقب و فضائل اہل بیت ؑ سے واقف کردیں گے،نتیجہ ہماری حکومت کے لئے بہت خراب ہوگا اور ہماری حکومت کا نگاہ عوام میں اعتبار شرعی مجروح ہوجائےگا حکومت یہ اچھی طرح سمجھ رہی تھی کہ صحابہ کی اکثریت کے دل اہل بیت ؑ کی طرف متوجہ ہیں،وہ علی ؑ کی خلافت منصوصہ پر ایمان رکھتے ہیں،وہ اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ مولائے کائنات ؑ اور اہل بیت ؑ ہی حکومت اور خلافت کے حق دار ہیں،جیسا کہ میں نے ابھی کچھ صفات پہلے شواہد کے ساتھ یہ بات عرض کی ہے ۔

حاصل گفتگو یہ کہ صحابہ کی اکثریت جن میں مہاجرین و انصار کے سابقون اولون بھی شامل ہیں،اہل بیت ؑ اور امیرالمومنین علی ؑ کے ساتھ تھی یہ لوگ اس وقت بھی امیرالمومنین ؑ کو حقدار خلافت سمجھتے تھے،جب آپ کی عام بیعت نہیں ہوئی تھی اور آپ کی ظاہری خلافت کے دور میں بھی ان کا نظریہ یہی تھا اور آپ کی شہادت کے بعد بھی وہ اسی نظریہ پر باقی رہے ۔


اکثر صحابہ کے حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ مولائے کاتناتؑ کی امامت کے حق ہونے کا اعتراف کرتے تھے

چونکہ اکثر صحابہ اس بات کے معترف تھے کہ امامت امیرالمومنین ؑ کا حق ہے اور یہ سمجھ رہے تھے کہ روز اول ہی سے امام برحق مولائے کائنات ؑ ہیں اسی لئے وہ اپنے نظریہ کا اعلان مختلف موقعوں پر کرتے رہے تھے،ظاہر ہے کہ مولائے کائنات ؑ سے ان کی یہ یگانگت اور مولائے کائنات ؑ کو حقدار سمجھنا،دوسروں کو مولائے کائنات ؑ پر مقدم نہ کرنا،یہ تمام باتیں بےبنیاد تو نہیں تھیں،بلکہ مولائے کائنات ؑ کی ذات پر اس لئے متفق تھے کہ وہ اس نص سے واقف تھے جو مولیٰ علی علیہ السلام کی خلافت پر قائم ہوچکی تھی ۔

حضرت علیؑ کی بیعت ہوئی تو اکثر صحابہ نے یہ سمجھا کہ اب حق،حقدار تک پہنچا

میرے مندرجہ بالا دورے پر اگر کسی کو ذرا بھی شبہ ہو تو اسے تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہئے،میری بات تاریخ سے ثابت ہوجائے گی کہ جب امیرالمومنین ؑ کی بیعت ہوچکی تو صحابہ کی اکثریت اور عام لوگوں نے یہی سمجھا کہ گذشتہ حکومت کے مقابلے میں مولائے کائنات ؑ اولی بالامر ہیں اور آج حق،حقدار تک پہنچ گیا ہے،جیسا کہ خود امیرالمومنین ؑ کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے اور ابوجعفر اسکافی کا قول بھی اس دعوے کی دلیل میں گذشتہ صفحات میں پیش بھی کیا جاچکا ہے،جہاں اسکافی لکھتے ہیں کہ عثمان کے قتل کے بعد صحابہ مسجد نبوی میں جمع ہوئے تو خلافت کے بارے میں مشورہ ہونے لگا اور انھوں نے امیرالمومنین ؑ کے فضائل کا ذکر کیا،کچھ تو یہ کہہ رہے تھے کہ امیرالمومنین ؑ اپنے اہل زمانہ سے افضل ہیں اور کچھ کیا یہ خیال تھا کہ امیرالمومنین ؑ ہر دور کے مسلمانوں سے افضل ہیں،ظاہر ہے کہ صحابہ کی موخَرُ الذکر جماعت،جس کا خیال تھا کہ آپ تمام مسلمانوں سے افضل ہیں اس بات کی طرف اشارہ کر رہی تھی کہ امیرالمومنین ؑ ہی ولی امر اور اولیٰ بالامر ہیں ۔


آپ کے تیسرے سوال کے جواب میں عرض کیا جاچکا ہے کہ امیرالمومنین ؑ کی جب بیعت ہوچکی تو آپ نے پہلا خطبہ جو بیعت کے بعد دیا ہے اس میں اپنے حق کو ثابت کرتے ہوئے کچھ ایسے کلمات ارشاد فرمائے ہیں جو میرے دعوے پر دلیل ہیں،آپ فرماتے ہیں تم نے توبہ کو پس پشت ڈ ال دیا تم نے وہ امور انجام دیئے جو میرے خلاف ہے،میرے نزدیک ان غلطیوں کی وجہ سے تم نہ قابل تعریف تھے نہ صحیح راستے پر تھے ۔

جناب حذیفہ کا بیان بھی گذرچکا ہے،جب آپ نے سنا کہ امیرالمومنین ؑ اہل بصرہ کے خلاف مدد چاہتے ہیں تو حذیفہ نے اعلان کردیا((بے شک حسن ؑ اور عمار ؑ آئے ہیں کہ تمہیں نصرت پر تیار کریں،تو سنو!جو برحق اور حقیقی امیرالمومنین ؑ کی نصرت کرنا چاہتا ہے وہ جا کر علی ؑ کے لشکر میں شامل ہوجائے ۔(1)

یعقوبی اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ جب امیرالمومنین ؑ کی بیعت ہوگئی تو انصار کی ایک قوم نے تقریریں کیں ان میں سب سے پہلے ثابت ابن فقیس بن شماس انصاری نے تقریر کی،وہ انصار کے مشہور خطیب تھے،انھوں نے کہا:اے امیرالمومنین ؑ خدا کی قسم آپ سے پہلے جنھوں نے حکومت حاصل کی وہ حکومت میں آپ سے مقدم ہیں لیکن دین میں نہیں،اگر انھوں نے آپ سے سبقت کی تو آج آپ نے انھیں پیچھے چھوڑدیا حالانکہ خود آپ اور وہ لوگ بھی آپ کے مرتبہ سے ناواقف نہیں تھے اور آپ کی منزلت سے جاہل بھی نہیں تھے،وہ لوگ اپنی جہالت(لاعلمی)کی وجہ سے آپ کے محتاج تھے،لیکن آپ اپنے علم کی وجہ سے کسی کے محتاج نہیں ہیں ۔(2)

حاکم نیشاپوری لکھتے ہیں کہ خزیمہ بن ثابت انصاری نے امیرالمومنین ؑ کی بیعت کے وقت یہ اشعار پڑھے:

ترجمہ اشعار:جب ہم نے ابوالحسن ؑ کی بیعت کرلی تو وہ دہشت ناک فتنوں میں ہمارے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) انساب الاشراف ج: 2 ص: 366

( 2) تاریخ یعقوبی ج: 2 ص: 179 ،خلافت امیرالمومنینؑ کے بیان میں


لئے کافی ہے،ہم نے علی ؑ کو سب سے زیادہ کتاب و سنت کا پابند پایا،جس دن اونٹوں کی دوڑ کا مقابلہ ہوگا اس دن قریش اس کے اٹھائے ہوئے غبار کو شق نہیں کرسکیں گے،علی ؑ تو وہ ہیں کے جن کے اندر غیروں کی نیکیاں بھی پائی جاتی ہیں،لیکن غیروں میں علی ؑ کی نیکیاں نہیں پائی جاتی ہیں(غیروں میں جتنا بھی حسن عمل ہے وہ سب علی ؑ میں پایا جاتا ہے لیکن علی ؑ کا حسن عمل غیروں میں نہیں پایا جاتا ۔(1)

ظاہر ہے کہ قریش کے لوگ اگر چہ امیرالمومنین ؑ کی بیعت سے زیادہ خوش نہیں تھے لیکن بیعت کے وقت کسی نے آپ سے نزاع بھی نہیں کیا اس لئے خذیمہ بن ثابت نے یہ اشعار))قریش کے فیصلہ پر(جس میں انھوں نے نااہل لوگوں کو مولائے کائنات ؑ کے مقابلے میں مقدم کرکے ان کی بیعت کرلی تھی)اعتراض کے طور پر پڑھے ہیں بلکہ خذیمہ کے اشعار یہ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ شاعر مقام ولایت میں مولائے کائنات ؑ کو گذشتہ حاکموں پر بھی مقدم سمجھتے ہیں اور مولائے کائنات ؑ کے علاوہ کسی کی بھی(عمر،ابوبکر کی)حکومت کو ناجائز اور غلط سمجھتے ہیں ان اشعار میں جس عقیدے کا اعلان کیا گیا ہے اس کا زیادہ واضح اعلان ان اشعار میں ملتا ہے جو ہیں تو خذیمہ بن ثابت ہی کے لیکن جناب سید مرتضی ؒ نے ان کی روایت کی ہے ملاحظہ ہو ۔

ترجمہ اشعار:پیغمبر ؐ کے اہل بیت ؑ میں پیغمبر ؐ کا وصی اور آپ کا زمانہ گذشتہ میں شہسوار،سوائے خیرالنسا خدیجہ الکبری ؐ کے نبی ؐ کے ساتھ سب سے پہلے نماز پڑھنے والا نعمتوں والے خدا کی قسم علی ؑ جس کے سینہ میں ایک شجاع دل ہے اور ہر جنگ میں جس کو قوم کی سرداری حاصل رہی یہی وہ ہے جس کا نام امام سمجھ کے انگلیوں میں پڑھا جاتا رہے گا،یہاں تک کہ میں کفن میں منھ چھپالوں ۔(2)

اور حسن بن سلمہ کی حدیث میں ہے کہ((جب مولائے کائنات ؑ کو یہ معلوم ہوا کہ طلحہ زبیر اور

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) المستدرک علی صحیحین ج: 3 ص: 124 ،کتاب معرفت صحابہ مناقب امیرالمومنینؑ،الاصابۃ ج: 2 ص: 278 ،حالات خزیمہ بنت ثابت بن فاکہ میں۔( 2) الفصول المختارۃ،ص: 267


عائشہ مکہ سے بصرہ کی طرف(فساد کی نیت سے)چل پڑی ہیں تو آپ نے حکم دیا کہ نماز جماعت کا اعلان کردیا جائے،جب لوگ جمع ہوئے تو آپ نے خدا کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا:اما بعد جب خداوند عالم نے اپنے نبی ؐ کو اپنے پاس بلالیا تو ہم نے((جو آپ کے اہل بیت اہل خاندان،وارث آپ کےاولیا اور مخلوقات خدا میں آپ کے سب سے زیادہ حقدار تھے))یہ سونچا کہ لوگ ہم سے نبی کا حق نہیں چھینیں گے ابھی ہم یہ سونچ ہی رہے تھے کہ منافقین اپنی سازش میں کامیاب ہوگئے اور ہمارے نبی ؐ کا اقتدار ہم سے غصب کرکے ہمارے غیر کو سونپ دیا،خدا کی قسم ہم سب کی آنکھیں اس واقعہ پر بہت روئیں اور ہمارے دل اس ظلم کی وجہ سے ٹوٹ گئے،بہرحال لوگ حاکم ہوئے اور اپنی موت مرگئے آخر خدا نے حکومت ہمیں واپس دلادی یہ دونوں آدمی یعنی طلحہ اور زبیر بھی جب ہماری بیعت ہورہی تھی تو بیعت کرنے والوں میں تھے پھر بصرہ جا کے ہمارےخلاف اٹھ کھڑےہوئے تا کہ جماعت میں تفرتقہ پیدا کریں اور تمہاری طاقت کو آپس میں لڑا کے تقسیم کردیں،پالنے والے ان دونوں سے مواخذہ کر اس لئے کہ انھوں نے اس امت کو دھوکا دیا ہے اور عامۃ المسلمین پر بری نظر ڈ الی ہے ۔

یہ سن کر ابوھیثم بن تیہان کھڑے ہوئے اور کہنے لگے((امیرالمومنین ؑ قریش کے لوگ آپ سے دو وجہوں سے حسد کرتے ہیں،قریش کے منتخب افراد تو اس لئے آپ سے حسد کرتے ہیں کہ آپ درجے میں ان سے بلند ہیں اور قریش کے اشرار آپ سے حسد کرتے ہیں جس کی وجہ سے خدا نےان کے اعمال حبط کر لئے ہیں اور ان کے پشت پر گناہوں کا بار کچھ اور بڑھادیا ہے وہ تو آپ سے برابری کا برتاؤ کرنے پر تیار نہیں تھے اب وہ دیکھ رہے ہیں کہ آپ ان سے آگے بڑھ گئے ہیں اس وجہ سے وہ اپنے مقاصد میں ناکام ہوگئے ہیں اور کشتی ہار گئے ہیں آپ قریش پر قریش سے زیادہ حق رکھتے ہیں پھر انھوں نے چند اشعار پڑھے جن کا ترجمہ حاضر ہے ۔

ترجمہ اشعار:(اے امیرالمومنین ؑ )بےشک اس قوم نے آپ سے بغاوت کی اور آپ پر عیب لگانے کی کوشش کی انھوں نے امور قبیحہ آپ کی طرف منسوب کرنے چاہے حالانکہ وہ بے پرکی اڑاتے ہیں ایسی باتیں جن کے پاس اڑنے کے لئے مچھر کے برابر بھی پر نہیں بلکہ پرکا دسواں حصہ بھی نہیں،


روا بھی نہیں ہے کہ باتیں پھیل سکیں(آپ پر حملے کی وجہ یہ ہے کہ)انھوں نے آپ کے اوپر اللہ کی نعمتوں کو نازل ہوتے ہوئے دیکھا آپ کو انھوں نے ایک شاندار پر گوشت صاحب نعمت سمجھا انھوں نے دیکھا کہ آپ ایسے امام ہیں جن کے دامن میں تمام امور پناہ لیتے ہیں اور ایسی لجام ہیں کہ جن سے منھ زور گھوڑ بھی رام ہوجاتے ہیں ایسے حاکم ہیں جن کے اندر امامت،ہاشمیت اور بطحا کی عزت مرتکز ہے،اے نبی ؐ کے وصی ہم آپ کی سرکردگی میں حق کے ساتھ اسی طرح متصل ہیں جیسے چراغ سے چراغ کی روشنی متصل ہوتی ہے)) ۔(1)

آپ دیکھ رہے ہیں کہ امیرالمومنین ؑ کا خطبہ اور اس کے بعد ابن تیھان کے اشعار،یہ تمام چیزیں میرے دعوے پر دلیل ہیں،ابن تیھان کے مندرجہ ذیل اشعار بھی میرے دعوے پر دلیل ہیں

ترجمہ اشعار:جاکے طلحہ اور زبیر سے کہہ دو کہ ہم انصار ہیں انصار ہمارا نام ہی نہیں طریقہ عمل بھی ہے ہم وہ لوگ ہیں کہ جن کے کارنامے جنگ بدر کے میدان میں قریش دیکھ چکے ہیں،جب وہ کافر تھے،ہم اپنے نبی ؐ کے شعار اور ان کا اوڑھنا بچھونا ہیں(یعنی خدا کے بعد پیغمبر اسلام ؐ کو ہمارے اوپر بھروسہ تھا اور ہم ہی ان کے مددگار تھے)ہم اپنی آنکھیں اور اپنی جانیں نبی ؐ پر قربان کرتے رہے ہیں بے شک وصی پیغمبر ؐ ،علی ؑ ہمارے امام اور ولی امر ہیں اب تو پردے اٹھ چکے ہیں اور راز ظاہر ہوچکے ہیں))(2)

مولائے کائنات ؑ کی جب بیعت ہورہی تھی تو عبدالرحمٰن بن جعیل نے یہ اشعار پڑھے ۔

ترجمہ اشعار:میری جان کی قسم آج تم نے اس کی بیعت کی جو دین کا زبردست محافظ،صاحب عفت اور توفیقات کا مرکز ہے اس علی ؑ کی بیعت کی جو محمد مصطفیٰ ؐ کا وصی،ان کا چچازاد بھائی،دین اور تقویٰ کا بھائی سب سے پہلا نمازی ہے))(3) ان قصائد کے اشعار یہ اعلان کررہے ہیں کہ مسلمان شروع ہی سے مولائے کائنات ؑ کو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) امالی شیخ مفید ص: 154 ۔ 156 (2) شرح نہج البلاغہ ج: 1 ص: 143 ۔ 144 ( 3) شرح نہج البلاغہ ج: 1 ص: 143


غیروں پر مقدم سمجھتے تھے ابوبکر اور عمر کس شمار میں ہیں ۔

ایک واقعہ اور ملاحظہ فرمائیے،مولائے کائنات ؑ نے شریح بن ہانی کو عمرو بن عاص کے پاس بھیجا کہ وہ جا کر اس کو سمجھائیں اور ہدایت کریں شریح کہتے ہیں میں نے مولائے کائنات ؑ کا پیغام عمروعاص کو سنایا اس کے چہرے کا رنگ سیاہ ہوگیا اور وہ کہنے لگا میں نے علی ؑ کا مشورہ قبول کب کیا ہے جو آج قبول کروں میں ان کی رائے کو کسی شمار میں نہیں رکھتا شریح کہتے ہیں میں نے کہا اے نابغہ کے بیٹے تجھ سے بہتر تھے(یعنی ابوبکر و عمر)وہ ہی ان سے مشورہ لیتے تھے اور اس پر عمل بھی کرتےتھے کہنے گا میرے جیسے تجھ جیسے سے بات نہیں کرتے میں نے کہا اچھا یہ بتا تو اپنے ماں باپ میں سے کس کی وجہ سے میری بات میں دلچسپی نہیں لے رہا ہے،اپنے کمینہ باپ کی وجہ سے یا نابغہ ماں کی وجہ سے وہ یہ سن کر اٹھا اور چلا گیا ۔(1)

صحابہ کو پختہ یقین تھا کہ امیرالمومنینؑ ہی وصی پیغمبرؐ ہیں

بہت سے صحابہ جن کی تعداد بیس سے کچھ زیادہ ہے اور تابعین جو مولائے کائنات ؑ کے دور میں تھے ان کے اشعار خطبہ اور حدیثیں اس بات کا اعلان کرتی ہیں کہ انھیں علی ؑ کے وصی پیغمبر ؐ ہونے کا پختہ(پکا)یقین تھا اور وصی کا مطلب ہے امت میں نبی ؐ کا قائم مقام،جس طرح ہر نبی ؐ کا وصی اس کا قائم مقام ہوتا ہے،اس لئے کہ مولا علی ؑ کا وصی پیغمبر ؐ ہونا خود سرکار دو عالم ؐ کی بہت سی حدیثوں میں وارد ہوا ہے ۔(2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)وقعۃ صفین ص:543،ینابیع المودۃج:2ص:23

(2)فتح الباری ج:8ص:150،مجمع الزوائد ج:7ص:237،اور،ج:8ص:253،کتاب علامات نبوۃج:9ص:165،معجم الکبیر ج:3ص:57،ج:4ص:171،ج:6ص:221،معجم الاوسط ج:6ص:327،فضائل الصحابہ ج:2ص:615،الفردوس بما ثور الخطاب ج:3ص:336،کنز العمال ج:11ص:605،حدیث:32923 الکامل فی الضعفاء الرجال ج:4ص:14،الموضوعات ج:1ص:369۔374،تاریخ دمشق ج:42ص:130،392،حالات علی بن ابی طالبؑ،شرح نہج البلاغہ ج:13ص:210،المناقب للخوارزمی ص:147۔58،ینابیع المودۃ ج:1ص:235۔239۔241،ج:2ص:79۔163۔280۔279۔267۔232،ج:3ص:264۔291۔384


میری مراد وصایت سے ذاتی امور میں وصایت نہیں ہے بلکہ وصی بمعنی جانشین ہے اگر چہ وصایت کے اس معنی میں بھی شخصی امور میں وصایت آہی جاتی ہے ۔

وہ لوگ جن کا عقیدہ ہے کہ حقدار خلافت ابوبکر و عمر تھے،اس دعویٰ وصایت کو خفیف(ہلکا)سمجھتے ہیں

یہی وجہ ہے کہ جو لوگ شیخین کو خلیفہ مانتے ہیں انکے سامنے وصایت کا دعویٰ کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا اور وہ ایسی حدیثوں کا انکار کرتے ہیں ۔

ملاحظہ ہو،اسود سے روایت ہے عائشہ کے سامنے یہ ذکر آیا کہ نبی ؐ نے مولائے کائنات علی ؑ کو اپنا وصی بنایا تھا،عائشہ نے کہا کون کہتا ہے میں نبی ؐ کے پاس تھی اور میرے سینہ سے آپ ٹیک لگائے بیٹھے تھے پھر آپ نے ایک تشت منگایا پھر جھک گئے اور وفات پاگئے،میری سمجھ میں نہیں آتا کہ نبی ؐ نے علی ؑ کو وصی کب بنایا تھا؟(1)

آپ کے آٹھویں سوال کے جواب میں اس موضوع پر بھی گفتگو کی جائے گی انشااللہ تعالی ۔

طلحہ بن مصرف کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن اوفیٰ سے پوچھا:کیا نبی ؐ نے وصیت کی تھی کہنے لگے کہ نہیں میں نے کہا پھر رسول ؐ نے لوگوں پر وصیت کیسے واجب کردی؟اور خود وصیت نہیں کی؟کہنے لگے حضور ؐ نے کتاب خدا کے بارے میں وصیت کی تھی،(2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)صحیح بخاری ج:4ص:1619،کتاب المغازی،باب علالت و وفات نبیؐ(انک میت و انھم میتون ثم انکم یوم القیامۃ عند ربکم تختصمون)صحیح مسلم ج:3ص:1257،مسند احمد ج:6ص:32)اور اسی طرح دوسرے مدارک

(2)صحیح بخاری ج:4ص:1918،کتاب فضائل قرآن،باب وصیت،اور اسی طرح ج:3ص:1006،کتاب وصایا،باب وصیت،ج:4ص:1619،کتاب المغازی،باب نبیؐ کا علیل ہونا اور ان کی وفات و قول پروردگار(انکم میت و انھم میتوں ثم انکم یوم القیامۃ عند ربکم تختصمون)السنن الکبریٰ للبیھقی ج:6ص:266،کتاب الوھایا،مسند ابی عوانہ ج:3ص:475


مالک بن معول نے کہا:مجھ سے طلحہ نے کہا میں نے عبداللہ بن اوفیٰ سے سوال کیا،کیا رسول خدا ؐ نے وصیت کی تھی؟کہنے لگےنہیں میں نے پوچھا پھر دوسروں پر وصیت کیوں واجب کردی جب خود وصیت نہیں کی،کہنے لگے قرآن کے بارے میں وصیت کی تھی ۔ ہزیل بن شرحبیل نے کہا:ابوبکر خلیفہ پیغمبر ؐ پر حاکم بن بیٹھے وہ سمجھتے تھے گویا رسول خدا ؐ کی طرف سے انھیں یہ عہدہ ملا ہے اور وہی ان کی ناک میں خلافت کا موتی(بیر) ڈ ال گئے ہیں ۔(1)

اب ابن کثیر نے جو تحریر کیا ہے وہ بھی ملاحظہ فرمائیں،حالانکہ ان کی تحریر محض تعصب اور جذباتیت کا نتیجہ ہے لکھتے ہیں کہ:اور شیعوں کی جاہل اکثریت غلط گو قصہ خوان جو یہ کہتے ہیں کہ سرکار دو عالم ؐ نے علی ؑ خلافت کے بارے میں وصیت کی تھی،یہ جھوٹ،بہتان اور عظیم افترا ہے،اس سے بڑی غلطی لازم آتی ہے یعنی صحابہ خائن قرار پاتے ہیں اور یہ الزام بھی آتا ہے کہ انھوں نے پیغمبر ؐ کی وصیت کا نفاذ ترک کردیا،نبی ؐ کے بعد آپ کی وصیت کو نہیں تسلیم کیا،معمولی قصہ گو،جو یہ کہانیاں بازاروں میں اور عوام کے درمیان گڑھ کے بیان کرتے رہتے ہیں کہ نبی ؐ نے آداب و اخلاق میں علی ؑ کو اپنا وصی قرار دیا تھا یہ بھی من گھڑت ہی ہے،بلکہ بعض کمینے جاہلوں کی ایجاد ہے،اس پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا اور اس سے دھوکا نہیں کھایا جاسکتا مگر جو بالکل ہی جاہل اور غبی ہو ۔(2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)مسند ابی عوانہ ج:3ص:476،اور اسی طرح،ص:475،پر کتاب وصیت کے آغاز میں اس واضح خبر کے بیان میں کہ نبیؐ نے کسی کے لئے کوئی بات بعنوان وصیت نہیں کی ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ انھوں نے مال میں کوئی وصیت نہیں کی ہے اس لئے کہ آپ نے بعنوان میراث کوئی مال نہیں چھوڑا ہے بلکہ واجبات کا بیان کیا ہے،سنن دارامی،ج:2ص:496،کتاب الوصایا میں باب من لم یوص،مسند البراز،ج:8ص:297۔298،جو کچھ عبداللہ بن ابی اوفیٰ نے روایت کی ہے م فتح الباری،ج:5ص:361،البدایۃ و النہایۃ ج:5ص:251،طلحہ بن مصرف کے حالات میں الریاض النضرۃ،ج:2ص:197،تیرہویں فصل خلافت اور جو صحابہ سے متعلق ہے کے بیان میں،تاریخ الخلفاءج:1ص:7الفائق فی غریب الحدیث،ج:2ص:29،خزم کے مادہ میں،ج:5ص:149،وثب کے مادہ میں لسان العرب مادہ وثب اور مادہ خزم،غریب الحدیث،ابن سلام،ج:3ص:212۔213،ابوبکر صدیق کی حدیث کے ضمن میں

(2)البدایۃ و النہایۃ ج:7ص:225۔226


حاصل کلام یہ کہ بیعت امیرالمومنین علی علیہ السلام کے بعد وصیت کی حدیثوں کا شائع ہونا اور صحابہ کی ایک بڑی جماعت کا اس حدیث کی تاکید و تائید کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ صحابہ نص کے معترف تھے اور اس پر یقین رکھتے تھے ۔

عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کچھ دنوں تک ضرور مغلوب رہے اور حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر بیٹھے لیکن یہ دوسری بات ہے ورنہ صحابہ نص سے نہ تو جاہل تھے اور نہ تجاہل کر رہے تھے ۔

اہل بیتؑ کو جو بھی شکایتیں ہیں قریش سے ہیں نہ کہ صحابہ سے

یہی بات ہے کہ امیرالمومنین ؑ یا اہل بیت علیھم السلام نے جو بھی شکوے کئے ہیں وہ عام صحابہ سے نہیں ہیں بلکہ ان کی شکایتیں قریش اور ان کی پیروی کرنے والوں سے ہیں یہ بات گذشتہ صفحات میں ثابت ہوکی ہے اور گنجائش ہوتی تو میں دوسرے ثبوت بھی پیش کرتا ۔

بلکہ سقیفہ اور اس کے بعد کے جو بھی واقعات تاریخ پیش کرتی ہے ان میں اھل بیت ؑ کے خلاف جو اقدامات پائے جاتے ہیں وہ صرف قریش کی حرکتوں کا نتیجہ ہیں ان واقعات میں نہ مسلم عوام کا دخل ہے نہ صحابہ کا،یہاں تک کہ عُمر و عثمان کا بھی نام کہیں نہیں ملتا،جیسا کہ تیسرے سوال کے جواب میں عرض کیا گیا ۔

البتہ یہ واقعات ان مسلمانوں اور صحابیوں سے منسوب ضرور ہیں جو غصب خلافت کو شرعیت کی سند دینا چاہتے ہیں جیسے ابوبکر اور عباس کا مکالمہ اور امام حسن ؑ کے پاس بھیجے گئے معاویہ کے دو خط کے مضمون جیسا کہ تیسرے سوال کے جواب میں ان دونوں خطوط کی نقل پیش کی گئی ہے.

بہت سے صحابہ بلند مرتبہ پر فائز تھے

(اہل بیت اطہار ؑ سے خلوص اور قلبی لگاؤ کا نتیجہ تھا کہ)وہ صحابہ جو نبی ؐ کے بعد زندہ تھے،بلند مرتبوں پر فائز ہوئے،اور اعلیٰ فضیلتیں،اونچی منزلیں اور اجر عظیم حاصل کیا،جس طرح وہ صحابہ جو نبی ؐ کے دور میں


تھے انھوں نے نبی ؐ کی تصدیق کی،آپ کی نصرت کی اور آپ کی ہدایتوں سے مستفید ہوئے آپ کے بتائے ہوئے راستے پر چلے اور گذر گئے،یہ اس وقت کی بات ہے جب مسلمانوں میں شقاق و نفاق نہیں پیدا ہوا تھا،یہ لوگ مہاجرین و انصار کے نمایاں اراد تھے اور انھوں نے اسلام میں قابل تعریف نمونہ عمل چھوڑا ۔

ائمہ ہدی علیہم الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ کی بہت تعریف کی ہے

یہی وجہ سے کہ ائمہ اہل بیت ؑ نے صحابہ کی بہت تعریف ہے،ان کا شکریہ ادا کیا ہے،ان کی مدح کی ہے اور ان کے جہاد اور کوششوں کو سراہا ہے،امیرالمومنین ؑ علیہ السلام اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں ۔

ہم پیغمبر ؐ کے ساتھ تھے،جنگوں میں ہم اپنے باپ،بیٹے بھائی اور چچاؤں کو قتل کرتے تھے اور اس سے ہمارے ایمان اور تسلیم میں اضافہ ہی ہوتا تھا،ہم سختیوں کو جھیل جاتے تھے اور رنج کو برداشت کرتے تھے،اپنے دشمن سے جہاد میں کوشاں تھے،ایک آدمی ہمارا ہوتا تھا اور ایک دشمن کا،دونوں ایک دوسرے پر بپھرے ہوئے سان ڈ وں کی طرح ٹوٹ پڑتے تھے اور ایک دوسرے کی جان لینے کے درپے ہوجاتے تھے،ہم دونوں میں کوئی ایک اپنے سامنے والے کو موت کا پیالہ پلا دیتا تھا،کبھی ہم غالب آتے کبھی ہمارا دشمن،جب خدا نے ہمارے ایمان کی صداقت دیکھ لی تو ہمارے لئے نصرت اور ہمارے دشمن کے لئے شکست نازل کردی)) ۔(1)

مولائے کائنات ؑ ایک دوسرے خطبہ میں اصحاب کی مدح میں رطب اللسان ہیں،آپ فرماتے ہیں((میں نے نبی ؐ کے صحابہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ان کے جیسا تو اب کوئی دکھائی نہیں دیتا،وہ صبح کو خاک آلود اٹھتے تھے،اس لئے کہ ان کی راتیں یا مسجدوں میں گذرتی تھیں یا حالت قیام میں،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) نہج البلاغہ ج: 1 ص: 104 ۔ 105


کبھی زمین پر پیشانیاں رکھتے تھے،کبھی رخسار،جب قیامت کا ذکر آتا تو یوں تڑپتے جیسے آتش زیر پا ہو،ان کی پیشانی پر آنکھوں کے درمیان اونٹ کے گٹھنے کے نشان جیسا گھٹہ ہوتا تھا اس لئے کہ ان کے سجدے طویل ہوتے تھے،جب خدا کا ذکر ان کے سامنے ہوتا تو اس قدر روتے کہ آنسو ان کے جیب و گریبان کو تر کر دیتا اور خوف عقاب اور امید ثواب میں یوں کانپنے لگتے جیسے سخت آندھی میں درخت ہلنے لگتے ہیں ۔(1)

ایک دن عمروعاص نے انصار کے خلاف تقریر کی اور سقیفہ میں انصار نے جو باتیں کہی تھیں ان کی وجہ سے انھیں برا بھلا کہا ان کی مذمت میں کچھ اشعار بھی نظم کئے،اس سلسلہ میں قریش کے سادہ لوح افراد اور حدیث الاسلام لوگ اس کی تائید کر رہے تھے اور اس کی ہمت افزائی کررہے تھے،نتیجہ میں اس نے دوبارہ بھی یہ حرکت کی یہ دیکھ کر مولائے کائنات امیرالمومنین ؑ نے سختی سے اس کی مخالفت کی اور انصار کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے،آپ نے بہت غصہ میں فرمایا:اے قریش کے لوگو!انصار کی محبت ایمان اور ان سے بغض رکھنا نفاق ہے،ان پر جو واجب تھا انھوں نے ادا کردیا،تم پر جو واجب تھا وہ ابھی ادا نہیں ہوا بلکہ باقی ہے))پھر آپ نے طویل تقریر فرمائی اور فضل بن عباس کو بلا کے فرمایا کہ اپنے اشعار سے انصار کی مدح کریں،اس سلسلہ میں فضل بن عباس نے چند اشعار نظم کئے،آخر کار قریش کے لوگ عمروعاص کے پاس گئے اور کہنے لگے اے شخص علی ؑ کو غصہ آگیا ہے،اب تو رک جا!لیکن امیرالمومنین ؑ نے دوبارہ ایک تقریر فرمائی اور انصار کی صفائی پیش کی ان پر جو عیب لگائے تھے ان کی تکذیب کی،تمام مسلمانوں نے مولا علی ؑ کی تصدیق کی،بات یہاں تک پہنچی کہ عمروعاص کو مدینہ چھوڑنا پڑا اور جب تک امیرالمومنین ؑ اور مہاجرین اس سے راضی ہوئے وہ مدینہ میں واپس نہیں آسکا ۔(2) مولائے کائنات ؑ نے اپنے آخر کلام میں انصار کی خدمات کا اعتراف ان الفاظ میں کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)نہج البلاغہ ج:1ص:189۔190،کنز العمال ج:16ص:200،حدیث:4422،صفوۃ الصفوۃ ج:1ص:331۔332،تاریخ دمشق ج:42ص:492،حالات امیرالمومنین علی بن ابی طالبؑ میں۔(2)شرح نہج البلاغہ ج:6ص:29۔36


کہ:((خدا کی قسم انھوں نے اسلام کی پرورش اس طرح کی جس طرح گھوڑے کا ایک سالہ کمزور بچہ پرورش کیا جاتا ہے حلانکہ وہ بےنیاز تھے پھر بھی انھوں نے اپنے لمبے چوڑے ہاتھوں سے اور اپنی چلتی ہوئی زبانوں سے اسلام کا دفاع کیا)) ۔(1)

زرارہ بن اعین حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:تلواریں نہیں کھینچیں،نماز کی صفیں نہیں قائم ہوئیں،جنگ کی صفیں نہیں قائم ہوئیں،علیٰ الاعلان اذان نہیں دی گئیں اور قرآن میں((اے ایمان والو))کہہ کے نہیں پکارا گیا جب تک ابناقیلہ یعنی اوس و خزرج والے مسلمان نہیں ہوگئے))(2) اس کے علاوہ بھی امام ؑ نے کئی جگہوں پر صحابہ(انصار مدینہ)کی بہت تعریف کی ہے ۔

اسی طرح امام سجاد علی ابن الحسین علیہ السلام اپنے صحیفے کی چوتھی دعا میں اصحاب پیغمبر ؐ کے لئے مخصوص فقروں سے دعا فرماتے ہیں اور پیغمبر ؐ کی پیروی کرنے والوں اور آپ کی تصدیق کرنے والوں پر درود بھیجتے ہیں پالنے والے محمد ؐ کے خاص اصحاب جنھوں نے نبی ؐ کی صحابیت کو اچھے طریقہ سے نبھایا اور نبی ؐ کی نصرت میں ہر بلا کو بہتر خیال کیا نبی ؐ کی آواز پر لبیک کہا جب نبی ؐ نے اپنی رسالت پر دلیلیں ان کے سامنے پیش کیں انھوں نے نبی ؐ کے کلمہ کے اظہار کے لئے اپنی ازواج و اولاد سے مفارقت گوارا کی اور اپنے ہی باپ،بیٹوں سے جنگ کی تا کہ نبی ؐ کی نبوت ثابت ہوسکے،انھوں نے نبی ؐ کی مدد کی اور وہ لوگ جن کے دل محبت پیغمبر ؐ سے بندھے ہوئے تھے اور نبی ؐ کی مودّت میں ایسی تجارت کررہے تھے جو کبھی برباد نہیں ہوئی،ان سب پر سلام بھیج...تا آخر دعا ۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) نہج البلاغہ ج: 4 ص: 106

( 2) بحارالانوار ج: 22 ص: 312

( 3) ینابیع المودۃ ج: 3 ص: 428 ۔ 429


جو صحابہ حق پر ثابت قدم رہے ان کی محبت دینی فریضہ ہے

بلکہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام تو،ان صحابہ کی محبت کو جو حق پر ثابت قدم رہے ایک دینی فریضہ سمجھتے ہیں اور اسلام کے ان شرائع میں شمار کرتے ہیں جن کی پابندی واجب ہے،اعمش کی ایک حدیث ملاحظہ ہو،جو انھوں نے ابوعبداللہ جعفر بن محمد علیہ السلام کے حوالہ سے نقل کی ہے کہ امام ؑ نے دینی شرائع کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:((اور اولیا خدا کی محبت اور ان سے ولا واجب ہے،ان کے دشمنوں سے الگ رہنا اور ان سے الگ رہنا جنھوں نے آل محمد ؐ پر ظلم کیا،پیغمبر ؐ کی ہتک حرمت کی،ظلم کی بنیاد رکھی،سنت پیغمبر ؐ کو بدلا،انصاب و ازلام اور گمراہیوں کے امام،ظلم کی قیادت کرنے والے،بلکہ ہر دور کے ظالم سے الگ رہنا واجب ہے،اہل بیت ؑ کے تمام قاتلوں سے اظہار برائت کرنا واجب ہے،ان مومنین کی محبت واجب ہے جنھوں نے نبی ؐ کے بعد دین کو نہیں بدلا اور تغیر نہیں کیا جیسے سلمان فارسی ؓ ،ابوذر غفاری ؓ ،مقداد بن اسود کندی ؓ ،عمار بن یاسر ؓ ،جابر بن عبداللہ انصاری ؓ ،ابوالھیثم بن تیہان ؓ ،سہل بن حنیف،ابوایوب انصاری ؒ عبداللہ بن الصامت ؒ ،عبادہ بن الصامت ؒ ،خزیمہ بن الثابت ؓ ذوالشہادتین،ابوسعید خدری اور جو لوگ ان کے راستوں پر چلتے رہے اور ان کے جیسے اعمال انجام دیتے رہے،ایسے لوگوں کی پیروی کرنے والوں اور ان کی اقتدار میں رہنے والوں اور ان کی ہدایتوں پر عمل کرنے والوں سے بھی محبت واجب ہے)) ۔(1)

مامون عباسی نے حضرت ابوالحسن امام الرضا علیہ السلام سے عرض کیا کہ مختصر طور پر اسلام کی تعریف لکھ دیں،آپ نے تحریر فرمایا:((اسلام محض یہ ہے کہ انسان لا الہ الا اللہ کی شہادت دے))پھر آپ نے اسلام کے اصول و فروع لکھے من جملہ ان کے واجبات اسلام بھی بیان کئے پھر آپ نے لکھا کہ اور ان سے اظہار برائت کرنا جنھوں نے آل محمد کو قتل کیا انھیں ان کے گھروں سے بےگھر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)الخصال ص:607۔101،608،باب:فضائل من شرائع الدین۔


کیا ان پر ظلم کئے،ظلم کا طریقہ اپنایا اور نبی ؐ کی سنت کو بدل دیا اور امیرالمومنین علی علیہ السلام کی ولایت اور ان لوگوں سے محبت جو اپنے نبی ؐ کے راستے پر چلے،نہ تغیر کیا نہ تبدیلی،جیسے سلمان فارسی،ابوذر غفاری،مقداد بن اسود،عمار بن یاسر،حذیفہ یمانی،ابوالہیثم بن تیہان،سہل بن حنیف،عبادہ بن صامت،ابوایوب انصاری،خزیمہ بن ثابت ذوالشہادتین،ابوسعید خدری اور ان جیسے لوگ خدا ان سے راضی ہو اور ان پر خدا کی رحمت ہو اور ان کی پیروی کرنے والوں سے محبت کرنا،ان کے چاہئے والوں سے محبت کرنا اور ان کی ہدایتوں پر عمل کرنے والوں سے محبت کرنا ۔(1)

شیعوں کے پاک اماموں نے انھیں سمجھایا اور بتایا کہ صحابہ پیغمبر ؐ قابل تعظیم و احترام ہیں شیعوں نے اپنے اماموں سے ان کے مرتبوں کو پہچانا،یہی وجہ ہے کہ شیعہ،اپنے اماموں کی پیروی میں صحابہ پیغمبر ؐ سے محبت کرتے ہیں اور ان کی عزت کرتے ہیں،مقصد صرف یہ ہے کہ ان کا حق ادا ہو اور رضائے خدا حاصل ہوجائے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ((اور وہ لوگ جو ان کے(صاحبان ایمان کے)بعد آئے کہتے ہیں پالنے والے ہمیں بخش دے اور مہارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے باایمان رہ چکے ہیں اور ان صاحبان ایمان کی طرف سے ہمارے دل میں کھوٹ نہ قرار دے،اے ہمارے پروردگار بےشک تو مہربان بھی ہے اور رحیم بھی ہے،(2) ہمارے ائمہ ہدیٰ علیہم السلام کا کردار اس سلسلہ میں کافی ہے ۔

میں نے آپ کے دوسرے سوال کے جواب میں بھی عرض کیا تھا کہ دین صرف راہ خدا میں محبت اور خدا کے لئے بغض کا نام ہے دین اولیا خدا سے موالات اور دشمنان خدا سے دشمنی عداوت کا نام ہے اس سلسلہ میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں،جن میں سے بعض کا تذکرہ یہاں حسب حال کردیا گیا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) عیون الاخبار ج: 1 ص: 129 ۔ 134 ،اس باب میں کہ جو امام رضاؑ نے مامون کو اسلام و دین کی شریعت کے باب میں لکھا تھا

( 2) سورہ حشر آیت: 10


نتیجہ گفتگو

گذشتہ بیانات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اگر شیعوں کے قول کے مطابق امیرالمومنین علیہ السلام کی ولایت پر نص تھی اس نص کی تردید بہت کم لوگوں نے صرف ان لوگوں نے اس نص کو نہیں مانا یا تجاہل برتاجو تھے یا تو مہاجر و انصار لیکن امیرالمومنین ؑ کے خلاف قیام کے بانی تھے اسی طرح ان لوگوں کی پیروی کرنے والی جماعت بھی نص سے غافل رہی جیسے حدیث الاسلام لوگ جو کسی طرح اسلام میں داخل ہوگئے تھے لیکن باقی مہاجرین و انصار جو دین میں اپنی ایک حیثیت رکھتے تھے وہ نص کے مخالف نہیں تھے نہ انھوں نے ص کی تردید کی(بلکہ واقعات گواہ ہیں کہ انھیں نص کا یقین تھا اور اس یقین کا وہ موقعہ پاتے ہی اظہار کرنے لگتے تھے)

یہ الگ بات ہے کہ انھوں نے مولائے کائنات ؑ کی نصرت میں کوتاہی کی اور شروع میں حق نصرت ادا نہیں کرسکے،لیکن ان میں بھی کچھ وہ تھے جو مسلسل حق کی حمایت میں بولتے رہے اگر چہ ایسے کم لوگ تھے،بہرحال جب انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو وہ مولائے کائنات ؑ کی ولایت میں واپس آئے،آپ کی حمایت کرتے رہے آپ کے ساتھ جنگوں میں شرکت کی آپ کی کمر مضبوط کی اور آپ کی نصرت میں کوئی کوتاہی نہیں کی خدا کی نظر میں ان کی کوششیں منظور ہیں،خدا نے ان کے گناہوں کو بخش دیا،پھر پورا ثواب دیا،بےشک وہ توبہ قبول کرنے والا شکور غفور ہے ۔

صحابہ کا یہ شرف تھا کہ وہ نص کا یقین رکھتے تھے

آخر کلام میں ایک بہت ضروری بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم نے نص کے سلسلے میں جو بھی گفتگو کی اسے پڑھ کے یہ غلط فہمی نہیں پیدا ہونی چاہئے کہ ہم نص کی تائید یا اس کی مدافعت اس لئے کررہے ہیں کہ صحابہ کے طرز عمل میں اقرار نص اور اس سے عدم تجاہل پایا جاتا ہے یا یہ کہ مولائے کائنات ؑ کی فضیلت اور آپ کے مرتبہ کی بلندی،جو کچھ بھی ہے وہ اس لئے ہے کہ صحابہ آپ


سے محبت کرتے تھے اور صحابہ کی تائید آپ کو حاصل تھی اور صحابہ نے جنگوں میں آپ کا ساتھ دیا ۔

بلکہ نص نذات خود اتنی واضح اور روشن تھی اور مولائے کائنات ؑ کی فضیلت،آپ کی بلندیاں فی نفسہ اتنی واضح اور روشن کہ یہ دونوں حقیقتیں کسی بھی تائید و اظہار سے بےنیاز تھیں،نص موجود تھی،صحابہ کی تائید سے اس کی حقیقت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا،مولائے کائنات ؑ افضل ہیں،حق و باطل کے فاروق اعظم ہیں اور حق کی علامت ہیں،کسی کی تائید سے اس حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑےگا اور کسی کی تردید سے اس حقیقت پر کوئی الٹا اثر نہیں پڑے گا،نص کا وضوح اور مولیٰ کی افضلیت تائید اقرار سے بےنیاز ہے اس کی طرف خود امیرالمومنین ؑ نے اپنے خطبہ میں اشارہ فرمایا ہے،آپ فرماتے ہیں میرے پاس لوگوں کی کثرت سے نہ میری عزت میں کوئی زیادتی ہوتی ہے نہ لوگوں کے چھوڑ کر ہٹ جانے میں میری وحشت میں کوئی اضافہ ہوگا ۔(1)

بلکہ پیروی کرنے والوں،نص پر یقین کرنے والوں اور اس راہ میں لبیک کہتے ہوئے جہاد کرنےوالوں کے لئے شرف و فضیلت کی علامت ہیں،میں نے جو تائید نص اور تائید صحابہ کی باتیں کی ہیں اس سے مقصد یہ تھا کہ صحابہ کی فضیلت ظاہر ہو نہ کہ علی ؑ کی فضیلت ظاہر کرنا مقصد تھا ۔

میں اصل میں صحابہ کی مدافعت کرنا چاہتا تھا اور ان پر جو الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انھوں نے عہد کو توڑا،راستے کو بدلا،حق اور اہل حق کا راستہ چھوڑ دیا و غیرہ میں صحابہ کو ان الزامات سے بری کرنا چاہتا تھا،کوشش یہ نہیں تھی کہ صحابہ کی تائید کے ذریعہ نص کا وجود ثابت کیا جائے اور مولائے کائنات ؑ کی فضیلت ثابت کی جائے بلکہ کوشش یہ تھی کہ صحابہ پر جو تجاھل بالنص کا الزام اور مولائے کائنات ؑ سے منھ موڑنے کا جو الزام عائد کیا جاتا ہے اس کی تردید کی جائے ۔

اب تک جو گفتگو ہوتی رہی ہے وہ اسی تناظر میں ہوتی رہی ہے اور شیعان اہل بیت ؑ کے صالح اسلاف کا طریقہ رہا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) نہج البلاغہ ج: 3 ص: 62 ،الامامۃ و السیاسۃ ج: 1 ص: 51 ،الاغانی ج: 16 ص: 290 ،


اس موقعہ پر چند واقعات اپنے بیان کی تائید میں پیش کر رہا ہوں:

عبدالرحمان بن حجاج کہتے ہیں:ہم ابان بن تغلب کی خدمت میں تھےکہ ایک نوجوان آیا اور اس نے پوچھا اے ابوسعید!(ابان کی کنیت)ہمیں بتایئے کہ علی ؑ کے ساتھ پیغمبر ؐ کے کتنے صحابی تھے؟ابان نے کہا:کیا تائید صحابہ سے تم فضیلت علی ؑ کو تولنا چاہتے ہو؟اس نے کہا:ایسی ہی بات ہے،ابان نے کہا:خدا کی قسم ہم تو فضائل صحابہ کو اتباع علی ؑ سے تولتے ہیں ۔(1)

اس حدیث سے مشابہ ایک اور حدیث ہے،عبداللہ بن احمد بن حنبل کہتے ہیں:ایک دن میں اپنے باپ کے پاس بیٹھا تھا کہ کرخیوں کا ایک گروہ آیا اور ابوبکر،عمر اور عثمان کی خلافت کی بات چل نکلی اور لوگ بہت دیر تک اس موضوع پر باتیں کرتے رہے پس میرے باپ نے سر اٹھایا اور کہا:تم نے کتنی مرتبہ کہا علی ؑ اور خلافت،خلافت اور علی ؑ ،سنو!خلافت نے علی ؑ کو زینت نہیں دی تھی بلکہ علی ؑ نے خلافت کو زینت دی تھی ۔(2)

آیہ:کنتم خیر امة، پر گفتگو

اب ایک بات رہ جاتی ہے(وہ یہ کہ آپ نے فرمایا ہے کہ اگر بقول شیعہ نص موجود تھی تو اس دور کے مسلمانوں نے تائید کیوں نہیں کی؟جب کہ ان کی مدح خیر امت کی آیت اتری ہے اور اللہ انھیں خیرالامم کا خطاب دے رہا ہے)آیت یہ ہے کہ(تم سب سے بہترین امت جو لوگوں کے لئے منتخب کئے گئے ہو تمہاری خاصیت یہ ہے کہ تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہو( 1 ) شاید آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ خیر امت سے مراد صحابہ ہیں اور جب صحابہ کٰر امت ہیں تو انہوں نے نص کی تائید کیوں نہی کی اور تجاہل کیوں برتا،یہ بات بعید از قیاس ہے اور سمجھ میں نہیں آتی کہ آپ کے ذہن میں یہ سوال کیسے پیدا ہوا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) معجم الرجال الحدیث،ص: 133 ،ابان بن تغلب کے حالات میں۔

( 2)( تاریخ دمشق ج: 42 ص: 446 ،علی بن ابی طالبؑ کی سوانح حیات میں،تاریخ بغداد ج: 1 ص: 135 ،علی بن ابی طالبؑ کی سوانح حیات میں،المنتظم ج: 5 ص: 35،62 سنہ کےواقعات


اہل لغت کی صریحات تو دیکھیں!اہل لغت نے امت کے مختلف معانی بیان کئے ہیں،لیکن ظاہرتر اور سب سے جامع معنی وہ ہیں جو مفردات راغب میں لکھے ہیں،راغب کہتے ہیں:امت ہر اس جماعت کو کہتے ہیں جو کسی کام کے لئے مجتمع ہوں،ایک دین پر جمع ہونے والے بھی امت ہیں،ایک زمانے میں جمع ہونے والے بھی امت ہیں،ایک جگہ پر جمع ہونے والے بھی امت ہیں(1) البتہ یہاں اس آیت میں امت سے مراد عام امت مسلمہ ہے،اس امت کو خیر امت اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ خاتم الامم ہے اس کے نبی ؐ خاتم الانبیاء ہیں اور تمام انبیا سے اشرف ہیں،اس کا دین خاتم الادیان اور تمام دینوں سے افضل ہے،اس کی شریعت خاتم الشرائع اور تمام شریعتوں سے اکمل ہے اور اس لئے بھی کہ اس امت میں چاہے جتنا بھی اختلاف ہوجائے لیکن کفر باللہ اور شرک سے محفوظ رہے گی،یہودی،نبی ؐ کی غیبت میں مشرک ہوگئے تھے،انھوں نے بچھڑے کی پرستش شروع کردی تھی انھوں نے یہ بھی کہا تھا:((اے موسیٰ ؑ !ہمارے لئے ان کے خدا جیسا ایک خدا قرار دیجئے موسیٰ ؑ نے کہا:تم جاہل لوگ ہو،یہ لوگ جس مذہب پر ہیں وہ یقیناً برباد ہوجائےگا اور جو عمل یہ لوگ کر رہے ہیں وہ سب ملیا میٹ ہوجائےگا))(2) اور جس طرح عیسائی کافر ہوگئے،کہنے لگے((مسیح بن مریم ہی اللہ ہیں،(3) اور مشرک بھی ہوگئے،کہنے لگے((اللہ تو بس تین میں کا تیسرا ہے،(4) لیکن اس امت نے آج تک خود کو کفر و شرک سے بچائے رکھا،یہی وجہ ہے کہ یہ امت تمام امتوں سے افضل ہے ۔(5)

حدیث میں ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام سے ایک یہودی نے کہا کہ ابھی تم نے اپنے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ آل عمران:آیت 110

( 2) مفردات غریب القرآن ص: 23 ،ام کے مادہ میں۔

( 3) سورہ اعراف آیت: 138 ۔ 139

( 4) سورہ مائدہ آیت: 72

( 5) سورہ مائدہ آیت: 73


نبی ﷺ کو دفن بھی نہیں کیا تھا کہ تمہارے درمیان نبی ؐ کے بارے میں اختلاف ہوگیا آپ نے فرمایا:ہمارے درمیان نبی ؐ کی ذات اختلاف کا موضوع نہیں تھی بلکہ نبی ؐ کے معاملات میں اختلاف ہوا تھا،لیکن تم رو دریائے نیل سے نکلے اور ابھی تمہارے پیر خشک بھی نہیں ہوئے تھے کہ تم نے اپنے نبی سے کہا:ہمیں کافروں جیسا ایک خدا دیدیجئے اور تمہارے نبی نے کہا کہ تم جاہل لوگ ہو ۔(1)

جہاں تک صحابہ کا سوال ہے تو وہ امت کے عام افراد سے کوئی الگ نہیں ہیں ان میں بدکردار بھی ہیں،اچھے بھی ہیں،عہد خدا کی پائیداری کرنے والے بھی ہیں اور عہد خدا کو توڑنے والے بھی ہیں،اس سلسلے میں تفصیلی گفتگو آپ کے دوسرے سوال کے جواب میں عرض کی جاچکی ہے،اسے دہرانے سے کوئی فائدہ نہیں ۔

اور اگر یہی فرض کرلیا جائے کہ اس آیت میں امت سے مراد عام امت مسلمہ نہیں ہے بلکہ صرف وہ لوگ ہیں جو زمانہ خطاب میں موجود تھے تب تو یہ آیت صرف صحابہ کے لئے مخصوص نہیں ہوگی بلکہ اس دور کے تمام مسلمانوں کے لئے ہوگی جو مسلمان نزول آیت کے وقت موجود تھے چاہے انھیں حقیقت ہے کہ وہ سارے مسلمان کے لئے ہوگی جو مسلمان نزول آیت کے وقت موجود تھے چاہے انھیں صحبت پیغمبر نصیب ہوئی یا نبی ؐ سے دور رہنے کی وجہ سے شرف صحبت حاصل نہ ہوا ہو اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ سارے مسلمان،کجی اور کمزوریوں سے مامون و محفوظ نہیں تھے لٰہذا آیت کے مصداق صرف چند افراد ہی قرار پائیں گے اور اگر یہ مان لیا جائے کہ یہاں امت سے مراد صرف صحابی ہیں،صحابی وہ جس نے نبی ؐ کو دیکھا اور آپ سے حدیث سنی تو مدعیٰ یہ ہوگا کہ وہ سب کے سب خیر ہیں ان میں شر ذرا بھی نہیں ہے تو پھر دعویٰ دو طریقوں سے رد ہوجاتا ہے ۔

1 ۔ آیہ شریفہ یہ بالکل نہیں کہتی کہ جس کے اندر خیر ہے وہ شر سے خالی ہے فضیلت صاحب خیر کو اس لئے حاصل ہے کہ اس کے اندر خیر زیادہ ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے اندر شر بالکل بھی نہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) نہج البلاغہ ج: 4 ص: 75


2 ۔ اسی سوال کے جواب میں جو واقعات و احادیث بیان کی گئی ہیں ان سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آیت صحابہ کے مناسب حال ہو ہی نہیں سکتی،یہ ایسی بات ہے جس کا کوئی قائل نہیں ہے،یہاں تک کہ اہل سنت بھی تمام صحابہ کے خیر کے قائل نہیں ہیں وہ صحابہ کو شر سے پاک نہیں مانتے،نہ ان کی عصمت کے قائل ہیں،زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اہل سنت تمام صحابہ کی عدالت کے قائل ہیں لیکن عدالت کے ساتھ شر تو جمع ہوسکتا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ صحابہ کے اندر خیر نسبت کے لحاظ سے ہے یعنی صحابہ میں خیر کا تناسب دوسروں سے زیادہ ہے تو پھر امیرالمومنین ؑ پر نص سے جو اعراض کیا ہے یہ دعویٰ اس کے منافی ہے،اگر بقول شیعہ نص موجود ہوتی اس لئے کہ نص سے اعراض نہ انھیں کافر بنانا ہے نہ مشرک اس لئے کہ انبیائے ماسبق کے اصحاب تو کفر و شرک کے مرتکب ہوچکے ہیں اور دوسرے انبیا کے اصحاب کی جو تعداد حق پر ثابت قدم رہی وہ ہمارے نبی ؐ کے اصحاب کی تعداد سے بہت کم ہے نسبت کے اعتبار سے یہی بات صحابہ کے خیر پر ہونے کے لئے کافی ہے ۔

بہرحال جو بھی ہو یہ آیہ کریمہ ہمارے موضوع سے کسی طرح میل نہیں کھاتی اور آپ کے دعوے کو ثابت کرنے کے لئے بہرحال نافع نہیں ہے ۔

اس لئے کہ آپ نے کہا:یہ بات بعید از قیاس ہے کہ نص کی موجودگی میں خیر امت صحابہ نے تجاہل کیا،میں نے عرض کیا کہ یہ کوئی بعید از قیاس بات نہیں ہے اس لئے کہ نص کے اعراض سے گذشتہ بیان کے مطابق ان کےخیر امت ہونے پر حڑف نہیں آتا،ضرورت یہ ہے کہ نص پر غور یا جائے اور اس کے تلاش کی کوشش کی جائے،اس کی سند اور دلالت کی تحقیق کی جائے،نص کے مخالفین اگر موجود ہیں تو ان کی پیروی نہ کی جائے اس لئے کہ اس معاملے میں بڑی عظیم ذمہ داری ہے اور غلطی کا امکان بہت زیادہ ہے،لہذا نص کی تلاش خلوص نیت کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے،اس سلسلے میں کٹھ حجتی تحکم اور فتنہ و فساد سے پرہیز کرتے ہوئے خدا سے توفیق و تسدید کی التجا کی جائے کیونکہ تمام


امور اسی کے ہاتھ میں ہیں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے کہ:

خدا پر واجب ہے کہ وہ سیدھا راستہ دکھائے اور راستہ سے الگ ہٹ کر چلنے والا بھی انھیں میں سے ہے،اگر خدا چاہے تو تم سب کی ہدایت کردے))(1)

اور دوسرےمقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے کہ جو لوگ ہماری راہ میں جہاد کرتے ہیں ہم انھیں اپنے راستوں کی ہدایت کرتے ہیں اللہ ایک کام کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔(2) خدا ہی سیدھے راستہ کا ہادی ہے،وہی ہمارے لئے کافی ہے اور بہترین وکیل ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ نحل آیت:9

(2)سورہ عنکبوت آیت:69



سوال نمبر5

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ جب سے اسلامی خلافت ہوئی ہے مسلمان انتشار و افتراق کا شکار ہیں اس لئے مسلمانوں کو چاہئے بلکہ مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اس پر فتن دور میں محض انتشار و افتراق سے بچنے کے لئے یا دشمنوں کی سازشوں سے محفوظ رہنے کے لئے کسی ایک شخص کی خلافت یا امامت پر متحد ہوجائیں اور شیعہ و سنی متحد ہو کر اسے امام بنالیں،اس لئے کہ سنیوں کے پاس اس وقت کوئی خلیفہ نہیں ہے اور شیعوں کا بھی زمانہ غیبت میں یہی حال ہے کہ ان کے پاس کوئی مرکزی قیادت نہیں ہے،آپ کی اس سلسلہ میں کیا رائے ہے ۔ ؟

جواب:نے شک دور حاضر میں مسلمانوں کی حالت افسوسناک،بلکہ دردناک ہے،لیکن مسلمان اگر اپنے لئے کوئی خلیفہ امت کے انتظام اور اسلامی شریعت کے مطابق امور کے نفاذ کے لئے بنانا ضروری سمجھتے ہیں تو پھر دو باتوں پر سب سے پہلے غور کرنا پڑےگا ۔

اول:پہلے تو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ کون شخص ہے جس کو یہ عظیم منصب پر فائز کیا جائے کہ شریعت کے معیار پر پورا اترسکے یا یہ کہ شریعت کا لحاظ نہ کر کے اس کو اختیار کیفی سے دیا جائے کہ جیسے چاہے کرلے،شریعت کے میزان پر اس کو تولنے کی ضرورت نہیں ہے،اس کی دو صورت ہے ۔


اولاً:اگر شریعت کو معیار نہ بنا کے کسی کو بھی اس منصب کے لئے منتخب کیا جاتا ہے تو اس سے نہ واجب ادا ہوگا نہ انسان خدا کے سامنے جواب دہی سے بچ سکےگا،بلکہ جسکو ذمہ دار بنایا جائےگا وہ مسلمانوں کی طرف سے غیرشرعی طور پر مسلمانوں کے خون،مال،عزت اور مصالح کا ذمہ دار ہوجائےگا وہ مسلمان ان نتائج کے جھیلنے پر مجبور ہوں گے جو اس کے غیر شرعی اقدامات سے حاصل ہوں گے ۔

ثانیاً:جس کو بھی بغیر معیار شریعت کے خلیفہ بنایا جائے گا،ظاہر ہے کہ اس کو مسلمانوں کی عقیدت تو حاصل نہیں ہوگی نہ وہ شرعی طور پر مقدس سمجھا جائےگا،مسلمان اس کے حکم کو ماننا اپن مذہبی ذمہ داری نہیں سمجھے گا،جب کہ تنصیب خلافت کی بنیاد ہی یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان مذہبیت کا احساس پیدا کیا جاسکے ۔

اس کے علاوہ فقہی اختلافات بھی ایک بڑا مسئلہ ہے،مسلمانوں کے مختلف فرقے ہیں ہر ایک کی فقہ الگ الگ ہے،اگر منصوب خلافت کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ فقہ میں کوئی ایسا نظریہ دے سکے جس پر تمام اسلامی فرقہ متحد ہو کے عمل کریں اور اس عمل کے بعد خود کو بری الذمہ سمجھیں تو اس سے بہتر کیا ہوگا؟ورنہ پھر ہر ایک کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اپنے اجتھاد پر عمل کرے اور خود کو بری الذمہ محسوس کرے تا خدا کے سامنے مسئولیت سے محفوظ رہے ۔

ایسا ممکن ہے یا نہیں؟ایسا کرنے سے مقصد پورا ہوسکےگا یا نہیں؟یہ وہ سوالات ہیں جن کا وجاب کافی بحث و تمحیص کے بعد حاصل ہوگا،بلکہ ضروری یہ ہے کہ امت کے خاص لوگ س بحث کو موضوع بنا کہ بہت سنجیدگی کے ساتھ فقہی بحث کریں تا کہ امت مسلمہ ایک بہت بڑے خطرہ سے محفوظ رہ جائے اور اختلاف کو دور کر کے ایک پلیٹ فارم پر آجائے ۔

اس مشروع نظریہ کو عمل میں لانے کے لئے دور حاضر کے ماحول کا سازگار ہونا ضروری ہے

الثانی:آج مسلمان جس پُر محن دور سے گذر رہےہیں وہ آپ کے سامنے ہے،ساری دنیا مسلمانوں کو مٹانے پر تلی ہوئی ہے،طرح طرح کے مسائل نے اس امت کو گھیر رکھا ہے اور یہ دور مسلمانوں کے


خلاف صف بندی کرچکا ہے ایسے خطرناک دور میں کسی بھی ایسے اقدام سے بچنا بےحد ضروری ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کے اختلاف میں اضافہ ہو،اس لئے خلیفہ منتخب کرنے سے پہلے بہت غور و خوض کر لیجئے کہ آپ کا یہ قدم وقت کے پہلے تو نہیں اٹھ رہا ہے؟اور کہیں اس سے مسلمان مزید مسائل سے تو نہیں دوچار ہوجائےگا؟اگر ایسا ہے تو بہت پرہیز کریں اور بھرپور گریز کریں،جذبات میں آکے کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس کے نتیجہ میں امت مرحومہ کو مزید مصیبت میں گرفتار ہونا پڑے ۔

اس مشروع نظریہ کو نافذ نہ کرنے کی صورت میں دور حاضر میں مسلمانوں کی ذمہ داری

یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ آپ کے تجویز کردہ اصول کو عالم اسلام میں اجتماعی طور پر عمل میں نہیں لایا جاسکتا لیکن کم از کم مندرجہ ذیل باتوں کی طرف توجہ دی جاسکتی ہے اور ان پر عمل کر کے ہر صاحب ذوق اپنے واجب سے ادا ہوسکتا ہے اور اپنے فریضہ کو پورا کرسکتا ہے ۔

1 ۔ آپ کے تجویز کردہ اصول کے نافذ نہیں ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمان آپس میں اختلاف کے شکار ہیں اور ایک مرکز پر مرتکز نہیں ہیں،اختلاف یا تو مذہبی ہے یا سیاسی،اس سیاسی اختلاف کی وجہ بھی وہ حکومتیں ہیں جن پر اسلام کا لیل و نہار اور مسلمانوں کے ذھن و دماغ پر ہر دور میں اپنی چھاپ چھوڑتی رہی ہیں،اسلام دشمن عناصر کی حوصلہ افزائی اسی وجہ سے ہوئی اور اسلام دشمن عناصر کے حوصلہ بھی سی اختلاف کی وجہ سے بڑھے ہیں،اسی اختلافات کی بنیاد پردہ مسلمانوں کو کمزور کرتے ہیں،ان کے اندر انتشار پیدا کرتے ہے اور ان کی جماعت کو منتشر کرتے ہیں،اختلاف کی یہ زمین دشمنوں کے فتنوں کے بیج کو خواب اپج دیتی ہے اور دشمن مسلمانوں کے درمیان بغض و عداوت کی بہت اچھی فصل کاشت کرلیتا ہے کمزور،بیمار ذھن شبھوں کے گرفتار دماغ اور سادہ لوح عوام کو بہکا کے دشمن اسلام اور مسلمانوں کو خوب نقصان پہنچاتا ہے ۔


مذہبی اختلاف کی خلیج کو کم کرنا بہت ضروری ہے

اگر مسلمان اپنی جگہ یہ طے کرلیں کہ ہم اس سیاسی اختلاف کو ہوا نہیں دیں گے اسے اپنی انا کا سوال نہیں بنائیں گے اور اس سیاسی اختلاف کی وجہ سے ہم آپس میں نہیں لڑیں گے تو بےشک مسلمانوں کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہوجائے گی کہ وہ اپنے مذہبی اختلاف کی خلیجوں کو اگر پاٹ نہیں سکیں گے تو دوریوں کو کم ضرور کرسکیں گے،اس موضوع پر آپ کے سابقہ سوالوں کے نویں سوال کے جواب میں کافی گفتگو ہوچکی ہے برائے کرم اسے پھر ایک بار دیکھ لیں ۔

اگر مذہبی اختلاف میں کمی ہوئی اور مسلمان کھلے دل سے ایک مرکز پر جمع ہوسکے تو ان کی عظیم کامیابی ہوگی اگر تمام مسلمان آپ کی پیش کردہ تجویز کے تحت ایک شخص پر متحد نہ بھی ہوسکے اور شریعت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے کوئی حکومت قائم نہ بھی ہوسکی جب مسلمانوں کے لئے یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی ۔

بلکہ اگر تمام عالم اسلام ایک سطح پر نہ آئے اور یہ جذبہ اگر انفرادی طور پر پیدا ہو تو اس کی قدر کرنی چاہئے اور اسے معمولی نہیں سمجھنا چاہئے اگر ایک فرد کے اندر بھی یہ جذبہ پیدا ہوجائے کہ وہ مسلمانوں کے اختلافات کو مٹانے کی کوشش کر کے اور عالم اسلام کو ایک پائیدار اتحاد دینے کی خواہش رکھتا ہے تو ایسے شخص کی ہر غیور مسلمان کو قدر کرنی چاہئے کہ وہ ایسے آدمی کو اہمیت دے اور اس کی بھلائی کے بارے میں غور کرے اس لئے کہ وہ پوری امت کی بھلائی کے بارے میں سوچ رہا ہے کیونکہ جس کا حصول مشکل ہے اس کی وجہ سے مشکل الحصول کو ساقط نہیں کیا جاسکتا اور آدمی اپنے ہاتھ میں آئی ہوئی چڑیا کو درخت پر بیٹھی ہوئی چڑیا کی امید میں نہیں چھوڑسکتا یہ غقلمندی نہیں ہے ۔


یہ معلوم کرنا بہت ضروری ہے کہ مسلمانوں کے اختلاف اور سیاسی انحطاط کا سبب کیا ہے؟

تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں کا یہ سیاسی انحطاط اور یہ قابل افسوس حالت اس وجہ سے نہیں ہے کہ ماضی قریب میں ترکی حکومت یعنی اموی خلافت کا سقوط ہوگیا بلکہ قرن اولیٰ سے ہی مسلمان اس بیماری کا شکار ہیں،البتہ وقت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی پستی اور انحطاط میں اضافہ ہی ہوا ہے اور آج مسلمان تنزل کی اس منزل میں پہنچ گیا ہے جسے دیکھ کے دوسرے بھی افسوس کررہے ہیں،یہ منزل،یہ انحطاط،یہ بدحالی صرف اس وجہ سے آئی کہ مسلمان اسلام کے ان اصول سے منحرف ہوگئے جن پر اللہ انھیں چلانا چاہتا تھا،در اصل مسمانوں نے مفہوم خلافت کو سمجھا ہی نہیں خلافت کا نظام اپنے ہاتھ میں لیکے ہر ایرے غیرے کو خلیفہ تسلیم کرتے رہے اور زمانے کے انقلاب نے اس مقدس دین خلافت کو عثمانیوں کے ہاتھ میں پہنچادیا اور پھر ذلت کی انتہا یہ ہوئی کہ خلافت ان کے ہاتھوں سے نکل گئی اور مسلمانوں کی حالت مزید افسوسناک ہوگئی،وجہ صرف یہ تھی کہ مسلمانوں نے حکم اسلام کو ماننے سے انکار کیا اور خلافت کو لغو قرار دیا پھر اسلامی ملکوں کی تو تقیسم ہونے لگی وہ ممالک جو عثمانی خلافت کے ماتحت تھے مختلف ملکوں میں تقسیم ہوئے،ان پر مختلف افراد کی حکومت قائم ہوئی اور باقی ملکوں میں علامتی،رسمی یا عملی حکومتیں قائم ہوئیں،نتیجہ میں اسلام سیاسی،ثقافتی اور فی اعتبار سے تنزل پزیر ہوگیا ۔

یہ سب کچھ تو ہوا مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک غیور اور خوددار مسلمان کی ذمہ داری کیا ہے؟اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے نفس سے سوال کرے یہ دین خدا کا دین ہے یا نہیں؟کیا یہ وہی دین نہیں ہے جس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ ہے کہ یہ دین خاتم الادیان ہے؟کیا اللہ نے یہ بتایا نہیں ہے یہ دین اس وقت تک باقی رہے گا جب تک زمین اور زمین پر رہنے والے باقی رہیں گے؟کیا اللہ نے یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ یہ دین زمین پر حکومت کرے گا اور اسی کے مطابق عمل کرنے سے انسان اس دنیا کے خیرات و ثمرات سے بہرہ اندوز ہوسکے گا؟اور وہ اللہ جو عالم الغیب ہے کیا اسے نہیں معلوم


تھا کہ اسلام کہاں پہنچے گا؟مسلمان پستی اور تنزلی کی کون سی کھائیوں کی سیر کریں گے اور ان کی یہ حالت ہوجائے گی؟ان تمام سوالوں کا جواب یہ ہے کہ خدا سب کچھ جانتا تھا کہ مسلمان کی کیا حالت ہونےوالی ہے اور تنزلی اور پستیوں کی کن وادیوں کی سیر کریں گے اللہ یہ جانتا تھا تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے اپنے دین کو ان مشکلات کے حل کرنے کا طریقہ کیوں نہیں بتایا؟یہ دین مکمل ہے،یہ دین اپنے اندر تمام نعمتوں کو رکھتا ہے،یہ دین قیامت تک کے انسانوں کے لئے کافی ہے،یہ دین تمام عالم انسانیت کے لئے واجب العمل ہے،نہ اس کے پاس کوئی نظام حکومت نہیں ہے ایسا نظام حکومت جو تمام انسانوں کے لئے قابل تسلیم اور قابل عمل ہو،اپنے نفس سے پوچھو کیا ایسا ممکن ہے؟کیا یہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ خدا نے اپنے اس مضبوط قانون میں مسلمانوں کی اس پستی کا کوئی حل رکھا ہو؟کیا یہ ممکن ہے کہ اللہ نے عزت اسلام کی حفاظت کے لئے اسلامی حکومت کو دنیا میں باقی رکھنے کے لئے اسلام کے علم کو سربلند رکھنے کے لئے،اسلامی نعمتوں سے عالم اسلام کو بہر اندوز ہونے کے لئے اور اسلام کی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لئے اپنے دین میں کوئی راستہ معین نہیں کیا اور نہ کوئی طریقہ بتایا،کیا ایک انصاف پسند اور عزت دار صاحب ایمان اس بات کو پسند کرے گا کہ(خدا اپنے دین سے اتنا لاپرواہ ہوجائے اور اپنے دین کی باگ ڈ ور چوروں،رہزنوں،قذاقوں اور غیرذمہ دار کے ہاتھ میں دیکے)عالم انسانیت کو دائرہ اسلام میں آنے کے بعد قیامت تک ذلیل و خوار ہونے کے چھوڑ دے ۔

پھر ایک بہت اہم سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ مسلمانوں کی یہ پستی،یہ ذلت،یہ خواری صرف اس انحراف کا نتیجہ ہے جو نبی ؐ کے بعد روز اول مسلمانوں سے سرزد ہوا تھا اور مسلمان اسلامی خطوط پر چلنے کے بجائے اپنے ہاتھوں سے خلیفہ بنانے بیٹھ گئے اور بنا بھی لیا،مسلمانوں کی یہ پستی،یہ ذلت اور یہ بدحالی بہت بڑی دلیل ہے اس بات کی کہ مسلمان روز اول ہی صراط مستقیم سے بھٹک گئے تھے اور جب صراط مستقیم سے بھٹک گئے تو اس کے نتیجہ میں ذلت و خواری کے شکار ہوگئے،یہ نتیجہ ہے فیصلہ اپنے ہاتھ میں لینے کا ۔


یہ سب کچھ ہونے کے بعد بھی کیا مسلمانوں کے لئے آج یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کریں،روز اول جو انحراف ان سے سرزد ہوا تھا اس راستے کو چھوڑ دیں اور اس دینی حقیقت کو تلاش کریں جس کی وجہ سے اللہ نے اپنے دین کو کامل اور نعمتوںو تمام کر کے مسلمانوں کو عظمت بخشی تھی ۔

ہر مسلمان پر واجب ہے کہ ان مسائل کا جواب تلاش کرے جذبات سے آزاد ہو کے،عصبیت سے پاک ہو کے اور سابقہ منازعات یا مسلّمات سے نظر پھیر کے ان سوالوں کا جواب تلاش کرے،دنیا نے مسلمانوں کو بہت ذلیل کیا ۔ اب اس کو اپنے پرانے نظریات چھوڑ کے لکیر کا فقیر ہونا چھوڑ کے ان سوالوں کا جواب تلاش کرنا چاہئے ۔

ارشاد ہوتا ہے کہ:اے حبیب آپ ان سے کہہ دیں کہ خدا کی حجت تو منزل کمال تک پہنچانے والی ہے اگر خدا چاہے تو تم سب کی ہدایت کردے:(1)

اے حبیب!آپ انھیں یاد دلاتے رہیں،بیشک آپ تو صرف یا دلانے والے ہیں اور آپ ان کے نگران(ٹھیکیدار)تو ہیں نہیں ۔(2)

ہم تو صرف اللہ سے ہی توفیق مانگتے ہیں اور اسی سے امید لگاتے ہیں وہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہی بہترین وکیل ہے چوتھے سوال کے جواب میں بھی کچھ باتیں عرض کی جاچکی ہیں جو یہاں بھی فائدہ بخش ثابت ہوں گی،ان کی طرف رجوع کرلیں تو بہتر ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ انعام آیت: 149

( 2) سورہ غاشیہ آیت: 21 ۔ 22



سوال نمبر۔6

روایتوں میں ہے کہ سرکار دو عالم ؐ نے شدت مرض کی حالت میں ابوبکر کو نماز کی امامت کا حکم دیا تھا کیا اس بات کی طرف اشارہ نہیں ہے کہ سرکار دو عالم ؐ اپنے بعد ابوبکر کی خلافت پسند کرتے تھے،آپ کا اس سلسلے میں کیا خیال ہے؟

جواب:اس سوال کے جواب میں مندرجہ ذیل امور کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں ۔

امر اول:پہلی بات تو یہ ہے کہ جس روایت میں مدعی تنہا ہو اور فریق مخالف کے پاس بھی جو روایت نہیں پائی جاتی ہو اس روایت کو حجت بنا کے بحث کرنا احتجاج عقیم ہے جس سے نہ حق ثابت ہوتا نہ باطل کو دفع کیا جاسکتا ہے،صاحبان عقل کے نزدیک ایسا احتجاج منطقی نہیں ہے،اسی وجہ سے فریق مخالف کے خلاف نہ وہ حجت بن سکتا ہے،نہ فریق مخالفت اسے ماننا لازم سمجھتا ہے ۔

اگر شیعہ بھی اسی طرح صرف اپنے روایت کردہ واقعات سے احتجاج کرنا شروع کردیں تو پھر آفت آجائےگی،اس لئے کہ ان کے پاس ان کے موقف کی حمایت میں آپ سے زیادہ روایتیں پائی جاتی ہیں اگر چہ حد تواتر تک ںہیں پہونچی ہیں لیکن مقام آحاد میں ان کے پاس بہت سی روایتیں ہیں،اگر وہ ان روایتوں سے احتجاج کرنے لگے تو ان کے پاس ایسی روایتوں کی کمی نہیں ہے ۔

اس طرح کا احتجاج ممکن ہے کہ اہل سنت کی نظر میں صحیح ہو لیکن اللہ کی نظر میں صحیح نہیں ہے اس سوال کے جواب کے آخر میں مزید وضاحت ہوجائے گی انشااللہ تعالیٰ ۔


ایک بات کا یقین رکھئے کہ جہاں ایسا نزاع و اختلاف ہوتا ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں میں پھوٹ پڑنے کا امکان ہو،تو وہاں اللہ حق کو اس طرح واضح کرتا ہے کہ شک و شبہ کا لباس اتر جاتا ہے اور حق اس طرح روشن ہوتا ہے کہ اس کو نہیں ماننے کا کوئی بہانہ ہاتھ نہیں آتا،مکابرہ،ہٹ دھرمی اور کٹ حجتی کی بات دوسری ہے،جس کا اتکاب یا تو حد سے آگے بڑھنے والا کرتا ہے یا غفلت میں پیچھے رہ جانےوالا۔گذشتہ بیان کا لازمی نتیجہ ی نکلا کہ جب دو فریق حق کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں تو ان میں سے کوئی ایک ضرور غلط ہوتا ہے اور اس کے ناحق ہونے کا احتمال بہرحال پایا جاتا ہے اب حق سے یہ انحراف یا دشمنی کی وجہ سے ہے یا ہٹ دھرمی کی وجہ سے،اس لئے ان دونوں میں سے کوئی ایک ہٹ دھرمی یا عناد کی وجہ سے جھٹ ضرور بول رہا ہے،اب ایسا آدمی اگر اپنے نظریہ کی تائید میں کوئی روایت کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ دوسرے فریق کے لئے قابل اعتبار ہوگا،چاہے اس کے مذہب کے ماننے والے اس کے بارے میں کتنا ہی حُسن ظن رکھتے ہوں اور اسے کتنا ہی قابل اعتبار سمجھتے ہوں۔

البتہ جب حق روشن دلیلوں اور قطعی حجتوں کے ذریعہ ثابت ہوکے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا ہے اور حق،باطل سے الگ ہوجاتا ہے اس طرح کہ اس کے اندر کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے تو صاحبان حق بھی باطل پرستوں سے ممیّز ہوجاتے ہیں،صاحبان بصیرت اندھوں سے الگ ہوجاتے ہیں تو پھر نگاہ اعتبار کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے اور حسن ظن اس سے متعلق ہوجاتا ہے جسے اللہ نے حق کو ثابت کرنے کے لئے توفیق عنایت فرمائی ہے جس کی وجہ سے وہ راہ حق کا مالک ہوا اور اسے مزید روشن کیا،حق سے تمسک کیا اور اسے لازم سمجھا،ظاہر ہے کہ وہ آدمی اس کے مقابلہ میں تو صاحب عزت سمجھا جائے گا ہی جس نے حق کا انکار کیا اور خدا نے اسے ذلیل کر کے اس کے دل کو باطل کے سانچے میں ڈ ھال دیا جس کی وجہ سے وہ حق سے بے بہرہ رہا اور الگ ہوگیا،اب وہ اپنے پیچھے چلنے والے افراد کی نظر میں چاہے کتنا ہی بلند مرتبہ ہو اہل حق کی نظر میں تو ذلیل ہی رہے گا،یہاں امیرالمومنین علیہ السلام کا قول قابل غور ہے،کہ آپ نے فرمایا:((حق کو پہچانو!اہل حق کو پہچان لوگے))(1) سابقہ سوالوں میں چوتھے سوال کے جواب میں امیرالمومنین علیہ السلام کا یہ قول عرض کیا جاچکا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) تفسیر قرطبی ج: 1 ص: 340 ،فیض القدیر ج: 1 ص: 210 ،ج: 4 ص: 17 ،البیان و التبیین ج: 1 ص: 491 ،تاریخ یعقوبی ج: 2 ص: 210 ،خلافت امیرالمومنینؑ کے بیان میں،انساب الاشراف ج: 3 ص: 35 ،جمل کے واقعہ کے بیان میں۔


ابوبکر کی نماز کے بارے میں شیعوں کی روایت

جہاں تک شیعوں کا خیال ہے تو وہ اس روایت سے انکار کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ نبی ؐ نے ابوبکر کو ہرگز حکم نہیں دیا تھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں بلکہ شیعوں کا خیال ہے اور ان کی روایت کے مطابق یہ حرکت عائشہ کی تھی،عائشہ نے ابوبکر کو سرکار دو عالم ؐ کی حالت بتاتے ہوئے پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھادیں تا کہ ان کا مرتبہ بڑھے،ان کی خلافت کے لئے زمین ہموار ہوا اور خلافت کو علی ؑ سے آسانی سے غصب کیا جاسکے اور تمام اہل بیت ؑ کو عمومی طور پر محروم کیا جاسکے.

آخر وقت میں حضور ؐ نے حفصہ کو ڈ انٹا تھا یہ بات سب کو معلوم ہے حضرت ؐ نے فرمایا تھا کہ تم سب کے سب یوسف والیاں ہو،حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ جملہ بھی حفصہ کی کمزوری کی نشان دہی کرتا تھا،اصل میں دونوں خواتین سرکار دو عالم ؐ کے وقت آخر میں اپنے اپنے باپ کو آگے بڑھانے کے چکر میں تھیں اور حضور ؐ اس بات کو اچھی طرح سے سمجھ گئے تھے ۔

حضور اکرم ؐ یوں بھی ابوبکر و عمر سے خاص طور سے رنجیدہ خاطر تھے اس لئے آپ نے ان دونوں کو اسامہ کے لشکر میں شامل کیا تھا اور انھیں اس وقت اسامہ کے ساتھ سفر میں ہونا چاہئے تھا،حضور ؐ نے تاکید فرمائی تھی کہ اسامہ کا لشکر جلد از جلد مدینہ چھوڑ دے،جیسا کہ سابقہ سوال کے دوسرے سوال کے جواب میں عرض کیا جاچکا ہے ۔

جب حضور اکرم ﷺ نے دیکھا کہ عائشہ کے حکم پر فوراً عمل ہوا اور ابوبکر نمازیوں کے امام بن گئے تو آپ اسی شدت مرض میں بےچین ہوکے باہر آئے تا کہ ابوبکر کو امامت سے روک دیں(مقصد تھا شبہ کو دور کرنا اور دشمنوں کا منہ بند کرنا)آپ اس حال میں نکلے کہ ایک ہاتھ علی ؑ کے کاندھے پر اور ایک ہاتھ فضل بن عباس کے کاندھے پر تھا اور کسی طرح مسجد میں پہنچ گئے،ابوبکر کو محراب سے ہٹایا اور خود آپ نے بیٹھ کے لوگوں کو نماز پڑھائی،((چرا کاری کند عاقل کہ باز آید پشیمانی))لیکن افسوس کہ سرکار دو عالم ؐ کا عمل شبہ کو دفع نہیں کرسکا وجہ یہ ہے کہ حکومت پر انھیں لوگوں نے


قبضہ جمالیا اور پھر اپنے اس اقدام کو صحیح ثابت کرنے کے لئے دلیلیں تالش کرنے لگے ۔

ظاہر ہے کہ وہی لوگ اسلام کی تقدیر کے مالک بن بیٹھے تھے،اب مذکورہ حادثہ کو جس طرح چاہا تو ڑمروڑ کے اپنے موقف کے مطابق کہا اور اسی کو اپنی حکومت پر نص کے طور پر استعمال کیا،ایسا کرنے سے انھیں کون روک سکتا تھا؟بہرحال یہی وہ اسباب تھے،جس کی وجہ سے سرکار دو عالم ؐ کا یہ عمل شبہہ کو دفع نہیں کرسکا اور مخالفین کو بات کرنے کی گنجائیش مل گئی،صحابہ کو پختہ یقین تھا کہ امیرالمومنین ہی وصی پیغمبر ہیں ۔

حادثہ صلوٰۃ کے سلسلے میں امیرالمومنینؑ کا عقیدہ سنیوں کی نظر میں

ابن ابی الحدید معتزلی نے عائشہ کے بارے میں امیرالمومنین کا یہ قول نقل کیا ہے((لیکن فلانی تو اس کو نسوانی نقطہ نظر نے گرفتار کرلیا(1) اور وہ اس حسد کا شکار ہوگئی جو اس کے دل میں پانی کی کھولتی ہوئی پتیلی کی طرح جوش مار رہا تھا))اس کے بعد ابن ابی الحدید نے اپنے شیخ ابویعقوب یوسف بن اسماعیل لمعانی کی ایک طویل گفتگو نقل کی ہے،جس میں انھوں نے یہ بتایا ہے کہ دو پارٹیاں تھیں،ایک طرف عائشہ اور ابوبکر تھے اور دوسرے طرف پارٹی میں جناب فاطمہ ؐ اور حضرت علی ؑ تھ اور ان دونوں پارٹیوں کے درمیان بغض و حسد اور عداوت و کینہ پروری کے کچھ اسباب تھے،ان دونوں پارٹیوں میں اختلاف کی وجہ ان کے مذہب کے مطابق یہ تھی کہ چونکہ سرکار دو عالم ؐ کے محبوب اور قریبی یہ چاروں تھے اور خدا کے نزدیک بھی بلند مرتبہ اور مقرب بارگاہ تھے اس لئے اگر ان کے دل میں نام و نمود کی خواہش اور جاہ و منصب کی طلب تھی تو تعجب نہیں ہونا چاہئے،یہ حضرات جاہ و منصب کی طلب میں ایک دوسرے و نیچا دکھانے کے لئے تہمتیں لگاتے تھے،ایک دوسرے کے خلاف بدگمان تھے اور دونوں پارٹیوں کے دل میں اپنے مخالف کے لئے بغض و حسد کے جذبات کا پایا جانا فطری بات تھی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) شرح نہج البلاغہ ج: 9 ص: 189


بہرحال یہ سب باتیں تو سوال دوم کے جواب میں بھی عرض کی جاچکی ہیں فی الحال میں عبارت کے ان حصول کو پیش کررہا ہوں جو ہمارے موضوع سے متعلق ہے،ہمارا موضوع ابوبکر کی نماز ہے ۔

ابن ابی الحدید اپنے استاد کی بات کا ذکر کررہے ہیں کہ انھوں نے دونون پارٹیوں میں بغض اور حسد کا بیان کرنے کے بعد(حالانکہ یہ سب بھی ان کے استاد کے نظریہ اور مسلمات کی اپج ہے)(وہ لکھتے ہیں کہ مذکورہ اسباب کی بنا پر فاطمہ ؐ و علی ؑ اور عائشہ و ابوبکر کی پارٹیاں الگ الگ تھیں اور دونوں میں بغض اور عناد حیات نبی ؐ میں بھی پایا جاتا تھا اور یہ اختلاف اپنی جگہ پر برقرار رہا،یہاں تک کہ نبی ؐ کو وہ مرض ہوا جس میں آپ کی وفات ہوئی تھی،مرض نے طول پکڑا،علی ؑ کو اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ نبی ؐ کے بعد لوگ میری ہی بیعت کریں گے اور کوئی آدمی کم از کم خلافت کے معاملہ میں مجھ سے نہیں لڑئےگا،علی ؑ کو اس حد تک یقین تھا کہ جب ان کے چچا نے وفات پیغمبر ؐ کے بعد علی ؑ سے کہا تم ہاتھ کھولو میں تمھاری بیعت کرتا ہوں تا کہ لوگ دیکھیں کہ عم پیغمبر ؐ نے ابن عم پیغمبر ؐ کی بیعت کرلی پھر دو آدمی بھی آپ کے خلافت نہیں جائیں گے تو علی ؑ نے کہا:چچا کیا میرے علاوہ بھی کسی کے دل میں خلافت کی خواہش پیدا ہوسکتی ہے؟عباس ابن مطلب نے کہا:یہ تو بعد میں معلوم ہوگا مولائے کائنات ؑ نے فرمایا چچا!میں نہیں چاہتا کہ بیعت جیسا اہم کام پردے میں ہو،میں چاہتا ہوں کہ یہ کام بالاعلان ہو!یہ سن کر عمّ پیغمبر ؐ خاموش ہوگئے ۔

جب حضور اکرم ﷺ کے اوپر مرض کی شدت ہوئی تو آپ نے اسامہ کا لشکر بھیجا اور اس لشکر میں ابوبکر و عمر کو شامل کردیا،ان کے علاوہ بڑے بڑے مہاجرین و انصار بھی شامل تھے،اس وجہ سے علی ؑ کو پختہ یقین ہوگیا کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو کچھ ہوگیا تو انھیں خلافت بہرحال حاصل ہوگی،اس لئے کہ مدینہ مخالفین سے خالی ہوچکا تھا علی ؑ یہ سمجھ گئے کہ زمین بالکل ہموار ہے،ان کی بیعت کا کام پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا اور اگر مخالفین جیش اسامہ سے اپس آکر مخالفت بھی کریں گے تو فسخ بیعت نہیں کرسکیں گے ۔

پھر اچانک پانسہ پلٹا،عائشہ نے اپنا آدمی بھیج کے ابوبکر کو جیش اسامہ سے واپس بلالیا،عائشہ نے


پیغام بھیجا کہ حضور ؐ کی موت کا وقت قریب ہے،اسی وقت ابوبکر کے نماز پڑھانے کا واقعہ بھی ہوا،علی ؑ فرماتے ہیں،عائشہ نے اپنے باپ کے غلام بلال سے کہا کہ جا کے ابا سے کہہ دو نماز پڑھادیں،حالانکہ پیغمبر ؐ نے یہ نہیں کہا تھا(جیسا کہ روایت کی جاتی ہے)بلکہ یہ فرمایا تھا کہ حاضرین میں سے کوئی نماز پڑھادے،کسی معین شخص کے بارے میں نہین فرمایا تھا،صبح کی نماز کا وقت تھا کہ حضور ؐ خود باہر نکلے،آپ کا آخری وقت تھا،ایک ہاتھ علی ؑ کے کاندھے پر تھا،دوسرا ہاتھ فضل بن عباس کے کاندھے پر،یہاں تک کہ آپ محراب میں داخل ہوئے،جیسا کہ خبروں میں ہے پھر آپ نماز پڑھ کے اپنے حجرے میں تشریف لے گئے اور سورج جب بلند ہوا تو آپ نے جان،جان آفرین کے سپرد کی،لوگوں نے ابوبکر کی نماز میں امامت کو ان کی خلافت کے لئے دلیل قرار دیا اور کہنے لگے کہ تم میں سے س کا نفس اتنا پاک ہے کہ جسے نبی ؐ خود نماز میں دو قدم آگے بڑھادیں،ان کا یہ کہنا ہے کہ نبی ؐ ،ابوبکر کو امامت سے ہٹانے کے لئے نہیں نکلے تھے بلکہ نبی ؐ نماز کی پابندی دکھانا چاہتے تھے کہ جتنا ممکن ہو انسان خود کو نبی ؐ ہی کی طرح پابند رکھے ۔ بہرحال اس بنیاد پر ابوبکر کی بیعت ہوگئی،حالانکہ مولائے کائنات ؑ کا کہنا ہے کہ یہ سازش عائشہ کی تھی،علی ؑ اس بات کا ذکر اپنے اصحاب سے اکثر کیا کرتے تھے،علی ؑ کا کہنا تھا کہ حضور ؐ نے اپنی عورتوں کو صواحب یوسف سے مشابہ اس لئے بنایا تھا کہ آپ ان کی اس سازش کی نشان دہی کرنا چاہتے تھے اور آپ ابوبکر کی امامت سے غضبناک تھے،اس لئے کہ عائشہ اور حفصہ دونوں نے اپنے اپنے باپ کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رکھی تھی اور علی ؑ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا خلافت ابوبکر سے انکار جو محسوس کیا اس کی وجہ تھی آپ کا اپنے حجرے سے نکلنا اور محراب سے ابوبکر کو ہٹانا،بہرحال اس کا کوئی اثر نہیں ہوا خلافت علی ؑ کو نہیں ملی،اس کی وجہ عائشہ کی سازش کامیاب ہوئی،علی ؑ کی خلافت سے محرومی،علی ؑ کے لئے سب سے عظیم مصیبت بلکہ حادثہ فاجعہ کا درجہ رکھتی تھی اور اس مصیبت کا سب علی ؑ کی نظر میں سوائے عائشہ کے کوئی نہیں تھا،اس واقعہ کا لگاؤ صرف عائشہ سےھا اس لئے علی ؑ اپنی تنہایوں میں اور اپنے خاص لوگوں کے درمیان عائشہ پر بدعا کرتے رہتے تھے اور اللہ سے عائشہ کے اس ظلم کی شکایت کرتے رہتے تھے ۔


ابن ابی الحدید کہتے ہیں میں نے اپنے استاد سے عرض کیا کہ کیا آپ کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ابوبکر کو عائشہ نے نماز کے لئے معین کیا تھا؟پیغمبر ؐ نے نہیں؟انھوں نے کہا:میں تو نہیں کتا لیکن علی ؑ کہتے ہیں اور میری تکلیف ان کی تکلیف سے الگ ہے،علی ؑ وہاں موجود تھے،وہاں موجود نہیں تھا،میرے پاس تو دلیل کے طور پر صرف وہ خبریں ہیں جو مجھ تک پہنچی ہیں اور ان خبروں میں یہ ہے کہ پیغمبر ؐ نے ابوبکر کو امامت کے لئے معین کیا تھا لیکن علی ؑ کا نظریہ خبروں کی بنیاد پر نہیں اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر ہے یا اس بنیاد پر کہ حالات کا جائزہ لینے علی ؑ کو ظن غالب حاصل ہوا تھا،تو یہ میرے استاد شیخ ابویعقوب کے کلام کا خلاصہ،یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ وہ شیعہ ہرگز نہیں تھے بلکہ بہت بڑے معتزلی تھے،البتہ نظریہ تفصیل میں وہ بغدادی تھے ۔(1)

میں نے ابن ابی الحدید کا یہ لمبا چوڑا بیان یہاں نقل کردینا اس لئے ضروری سمجھاتا کہ آپ پر یہ واضح ہوجائے کہ((خود حضور ؐ نے ابوبکر کی امامت کے لئے تقدیم کی تھی))یہ روایت متفق علیہ بہرحال نہیں ہے،شیعوں کو تو چھوڑ دیجئے خود اہل سنت کے علما اس بات کے قائل ہیں کہ اس نظریہ سے امیرالمومنین ؑ کو انکار تھا اور آپ عائشہ کی اس سازش سے بہت ناراض تھے،اہل سنت کے علما یہ کہتے ہیں کہ مولائے کائنات ؑ کے خیال کے مطابق عائشہ نے سرکار دو عالم ؐ کی بیماری اور کمزوری سے فائدہ اٹھایا اور ابوبکر کی امامت کے لئے نبی ؐ کی طرف سے جھوٹ کہلایا کہ ابوبکر ہی نماز پڑھادیں مقصد تھا ابوبکر کی خلاف کے لئے زمین ہموار کرنا اور نص کے خلاف جو حرکتیں انجام دی گئیں یہ عمل بھی من جملہ انھیں میں سے تھا،اس کی طرف میں ان سوالوں میں سے چوتھے سوال کے جواب میں اشارہ کرچکا ہوں،جب میں نے عرض کیا تھا کہ قریش نے انصار کو خلافت سے دور رکھنا چاہا اور کامیاب ہوئے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) شرح نہج البلاغہ ج: 9 ص: 196 ۔ 199


جب سرکار دو عالم ؐ نماز کے لئے نکلے تو آپ نے کیا کہا؟یہ بھی اختلافی مسئلہ ہے

حضور ؐ نے جب سنا کہ ابوبکر نماز پڑھا رہے ہیں تو آپ سے برداشت نہیں ہوا اور اس شدت سے مرض میں اپنوں کا سہارا لے کے باہر نکل پڑے،لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟اس میں اختلاف ہے ۔

1 ۔ اہل سنت کی کتابوں میں نماز کی جو روایتیں ملتی ہیں ان میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ابوبکر نماز پڑھا رہے تھے،حضور باہر نکل پڑے،پھر اس کے بعد کیا ہوا؟اس میں شدید اختلاف ہے کیا نبی ؐ نے باہر نکلتے ہی امامت کی باگ ڈ ور خود سنبھال لی اور ابوبکر کو ہٹادیا،پھر آپ نے بیٹھ کے نماز پڑھائی جن میں ابوبکر بھی شامل تھے یا ابوبکر باقی رکھی اور خود آپ نےلوگوں کے ساتھ مل کے ابوبکر کی اقتدا میں نماز پڑھی؟صحیح صورت حال کیا تھی؟اس میں اختلاف ہے،ابن حجر(1) اور علامہ شوکافی(2) کہتے ہیں کہ پہلی صورت حال روایتوں کے اعتبار سے زیادہ قوی ہے ۔

تو اگر پہلی صورت حال زیادہ صحیح ہے یعنی نبی ؐ نے ابوبکر کو ہٹا کے خود امامت کی تو یہ شیعوں کے دعویٰ سے زیادہ مطابق رکھتا ہے اس لئے کہ اگر حضور ؐ نے ابوبکر کو امامت صلوٰۃ(نماز)کے لئے اس لئے بڑھایا تا کہ اس سے خلافت ابوبکر کی طرف اشارہ مراد لیا جائے تو حضور ؐ کا نکلنا اور خود نماز کی امامت کرنا،یہ سب کچھ اس اشارہ کی نفی کرتا ہے یا کم سے کم سرکار ؐ کے اس عمل سے یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ آپ امامت کی غرض سے اس لئے بروقت نکل پڑے تا کہ لوگ ابوبکر کی امامت کو ان کی خلافت کے لئے دلیل نہ بنالیں،لہذا حضور ؐ کے نکلنے کا مقصد شبہہ کا ازالہ تھا،خلافت کی طرف اشارہ تو بہرحال نہیں تھا ۔

یہ الگ بات ہے کہ وقت نے اجازت نہیں دی اور ماحول سازگار نہیں تھا جس کی وجہ سے حضور کو اتنا موقعہ نہیں مل سکا کہ آپ امور کا کما حقّہ تدارک کرسکتے اور شبہہ کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتے،اگر چہ شبہہ کرنے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) فتح الباری ج: 2 ص: 155 (2) نیل الاوطا ج: 3 ص: 184


روایت کی کچھ کمزوریاں،جو اس روایت کے لئے مصیبت بنی ہوئی ہیں

2 ۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ روایت اتنی باحال پریشان ہے کہ جس نے بھی اس کہانی کو لکھا ہے اپنے ڈ ھنگ سے لکھا ہے،روایت کے اختلاف ہر عقلمند کے لئے قابل غور ہیں،اس اضطراب کا کچھ حصہ تو پہلے گذرچکا ہے،کچھ علمائے شیعہ نے بیان کیا ہے،کچھ علمائے اہل سنت نے بھی اس طرف توجہ دی ہے تفصیل میں جانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے،اس لئے کہ اس حدیث کے کئی شعبے ہیں اور ہر شعبہ،شبہات و اختلافات کی زد میں ہے ۔

یہ الگ بات ہے کہ بہت سے لوگ جن باتوں سے غافل رہے ہماری نظر وہاں تک پہنچ گئی،ابوبکر عبداللہ بن ابوملیکہ کی حدیث ملاحظہ ہو لکھتے ہیں،جب پیر کا دن آیا تو حضور سرور کائنات ؐ صبح کے وقت سر اقدس پر عصابہ(پٹی)باندھے ہوئے نکلے،ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے تو پیغمبر ؐ مسجد میں داخل ہوئے لوگوں نے آپ ؐ کو راستہ دینا شروع کیا اور ابوبکر کو احساس ہوگیا کہ پیغمبر ؐ مسجد میں داخل ہوچکے ہیں اس لئے کہ لوگ جس انداز سے راستہ دے رہے تھے وہ پیغمبر ؐ کے لئے ہی مخصوص تھا،بہرحال ابوبکر نے محراب سے ہٹ جانا چاہا،نبی نے ابوبکر کی پشت پر ہاتھ رکھا اور فرمایا لوگوں کو نماز پڑھاؤ،پھر آپ ابوبکر کے برابر میں داہنی طرف بیٹھ گئے اور نماز پڑھی ۔

جب آپ ؐ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کے سامنے آئے اور بآواز بلند خطبہ دینے لگے آواز اتنی بلند تھی کہ مسجد کے دروازے تک سنائی دے رہی تھی آپ نے فرمایا((لوگو!آگ بھڑک اٹھی ہے،فتنے اندھری رات کے ٹکڑوں کی طرح بڑھ رہے ہیں،خدا کی قسم میرے ذمہ تمہارا کچھ بھی نہیں ہے،میں نے حلال نہیں کیا مگر اسے جسے قرآن نے حلال کیا اور میں نے حرام نہیں کیا مگر اسے جسے تمہارے لئے قرآن نے حرام کیا))پس جب آپ فارغ ہوئے ۔(1)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) تاریخ طبری ج: 2 ص: 231 ،گیارہویں سال کے احداث کے بارے میں،السیرۃ النبویۃ ج: 6 ص: 71 ،البدءُ و التاریخ ج: 5 ص: 61


اب ہم اس موضوع پر تو بحث کرنا نہیں چاہتے کہ ابوبکر نے نبی ؐ کو نماز پڑھائی اس لئے کہ یہ بات اہل سنت کے نزدیک ممتنع نہیں ہے ہم تو اس جگہ نبی ؐ کے خطبہ کی طرف آپ کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں،آپ محسوس کر رہے ہیں کہ نبی ؐ نے نماز کے بعد جو خطبہ دیا اس کے لہجہ میں کتنی سختی ہے؟آپ امت کو بتا رہے ہیں کہ فتنے اور انقلاب کے لئے ماحول تیار ہوچکا ہے،آگ لہک چکی ہے ایسا لگتا ہے کہ ابھی ابھی اجو واقعہ ہوا ہے اس سے نبی ؐ کو بہت رنج پہنچا ہے،اس لئے کہ آپ نے حلال قرآن کو حلال اور حرام قرآن کو حرام کیا تھا ۔

اگر حضور ؐ نے ابوبکر کو امامت کا حکم اس نیت سے دیا تھا کہ لوگ اس سے ابوبکر کی خلافت کی طرف اشارہ سمجھیں تو پھر فتنہ اور انقلاب کی کیا بات تھی،کام تو آپ کے حکم کے مطابق ہی ہوا تھا اور چونکہ آپ کا ارادہ ہے تو ابوبکر کی امامت قرآن کے موافق ہوئی تھی،اس سے امت فتنوں سے محفوظ رہتی اس لئے کہ کام قرآن کے مطابق ہو رہا تھا،پھر آپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ آگ بھڑک گئی ہے،آپ کو تہدید و تشدید بھی نہیں کرنی چاہئے تھی،البتہ شیعوں کے نظریوں کے مطابق آپ ؐ کی تہدید اور فتنوں سے تخویف و غیرہ بالکل صحیح تھی،سرکار دو عالم ؐ بالکل صحیح فرما رہے تھے ۔

(سازش کی آگ عائشہ کی طرف سے بھڑکی اور ابوبکر کی امامت کا فتنہ بلند ہوا اور پھر رات کی سیاہی کی طرح تاریکی کے تین ٹکڑے پے در پے آگے بڑھے ۔ )

اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ حضور ؐ نے اپنے آخری خطبہ میں فتنہ سے مراد اہل ردہ کو لیا تھا تو یہ بات ماننے کے قابل نہیں ہے،اس لئے کہ ارتداد تو نبی ؐ کے بعد ہوا تھا اس کی وجہ سےنبی ؐ کا رنجیدہ ہونا ممکن ہی نہیں تھا پھر اسے فتنہ کہہ کے ماضی کے صیغے سے تعبیر کرنا اور اپنے خطبے میں شامل کرنا مناسب نہٰیں تھا،اس لئے حضور ؐ اپنے خطبے میں حلال و حرام کے لئے قرآن کے حوالہ سے بات کررہے ہیں،اگر اہل ردہ مراد تھے تو اہل ردہ انھیں کہا ہی جاتا ہے جو قرآن سے پھر گئے ہیں اور قرآن کو نہیں مانتے،پھر حضور اکرم ؐ ان کے لئے مقام استدلال میں قرآن کو کیوں لاتے ۔

میں نے یہ باتیں اس لئے عرض کردیں،تا کہ کوئی ہمیں ان باتوں سے غافل نہ سمجھے،اگر چہ آپ


کے سوال کا جواب ان باتوں پر موقوف نہٰیں ہے،سب سے اہم بات جس کو ہم ثابت کرنا چاہتے تھے وہ یہ کہ اس بات پر اتفاق نہیں ہے کہ نبی ؐ نے ابوبکر کو امامت کا حکم دیا تھا اور ہم یہ بات ثابت کرچکے ہیں،میں نے پہلے سوال کے جواب میں بھی عرض کیا تھا کہ لوگوں نے سنت پیغمبر ؐ کو توڑ مروڑ کے اہلبیت ؑ کے خلاف پیش کیا ہے،تا کہ دشمنان و مخالفین اہل بیت ؑ کو صحیح ٹھہرایا جائے اور اہل بیت ؑ کا حق غصب کیا جائے،آپ پہلے سوال کا جواب دوبارہ ملاحظہ فرمائیں ۔

نہ داستان نماز،ابوبکر کی خلافت پر نص ہے اور نہ ہی اصحاب نے اسے بیعت ابوبکر کے لئے لازم سمجھا

دوسری بات یہ ہے کہ حادث صلوٰۃ چاہے جیسے بھی واقع ہوا ہو خلافت ابوبکر پر نص بہرحال نہیں ہے،اس لئے کہ جمہور اہل سنت بالاتفاق اس بات کے قائل ہیں کہ پیغمبر ؐ نے اپنے بعد کے لئے کسی کے بارے میں کچھ نہیں کہا،زیادہ سے زیادہ اس بات کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ یہ اقدام ابوبکر کی بیعت کی طرف محض ایک اشارہ تھا،آپ نے اپنے سوال میں بھی یہی بات بیان کی ہے،آپ جانتے ہیں کہ کوئی بھی واقعہ،دیکھنے اور محسوس کرنے والوں کے زاویہ نگاہ کے اختلاف کے ساتھ مختلف نتیجے دے سکتا ہے،اس میں دیکھنے اور محسوس کرنے والوں کے رجحان فکر اور میلان نفس کا زیادہ دخل ہوتا ہے ۔

اب اس واقعہ کی اہمیت آپ اسی سے سمجھ لیں کہ یہ سب کچھ ہونے کے بعد انصار نے دعوائے خلافت کردیا اور خلافت کے لئے سعد بن عبادہ کی بیعت کا مطالبہ کردیا اور ابوبکر نے عمر اور ابوعبیدہ کو خلافت کے لئے پیش کردیا ان کی بیعت کی پیش کش کی پھر مرنے کے وقت جب جادو سر چڑھ کے بولنے لگا تو کہنے لگے:مجھے کسی بات کا افسوس نہیں مگر صرف تین حرکتوں کا،کاش میں نے یہ تینوں کام انجام نہ دیئے ہوتے اور تین کام میں نے نہیں کئے ہیں اے کاش کہ میں نے وہ تین کام انجام دئے ہوتے اور تین چیزوں کے بارے میں پس رسول خدا ؐ سے سوال کرنا چاہتا تھا اب وہ تین کام کہ کاش


میں انجام نہ دئے ہوتے پہلی بات تو یہ ہے کہ کاش سقیفہ کے دن میں خلافت کا ڈ ھول ابوعبیدہ یا عمر کے گلے میں باندھ دیتا،ان میں سے کوئی ایک امیر ہوتا اور میں وزیر...اور وہ تین چیزیں جن کے بارے میں کاش کہ رسول خدا ؐ سے پوچھ لیا ہو ان میں سے ایک یہ ہے کہ کاش میں پوچھ لیتا کہ آپ کے بعد خلیفہ کون ہوگا تا کہ کوئی خلافت کی اہلیت رکھنے والوں سے نزاع نہ کرنا..(1) غور کریں کہ اگر ابوبکر امامت صلوٰۃ سے اپنی خلافت کی طرف اشارہ سمجھتے ہوتے تو ہو بے چارے اس گومگو کی کیفیت میں کیوں رہتے؟نہ انھیں پیغمبر ؐ سے سوال کرنے کی خواہش ہوتی،نہ یہ آرزو کہ خلافت کی ڈ ھول ان دونوں میں سے کسی ایک کے گلے میں باندھ دیتے ۔

اسی طرح اگر نماز کے وقت کے حاضرین اسے خلافت ابوبکر کی طرف اشارہ سمجھتے تو امیرالمومنین علی ؑ ،عام بنوہاشم اور خواص صحابہ ابوبکر کی بیعت سے ہرگز کوتاہی نہ کرتے اور آپ کو یاد ہوگا کہ میں نے 4،3 نمبر کے سوالوں کے جواب میں یہ عرض کیا ہے کہ ابوبکر کی بیعت سے مولائے کائنات ؑ اور مہاجرین و انصار کے نمایاں افراد نے صاف طور پر انکار کیا اور بیعت کی بھی تو بہت ہی مکروہ عمل سمجھ کے کی ۔

اور سقیفہ میں جب انصار،سعد بن عبادہ کی طرف اور ابوبکر،عمر و ابوعبیدہ کی بیعت کی طرف مائل تھے،حالانکہ اگر حادثہ صلوٰۃ میں ابوبکر کی خلافت کی طرف اشارہ موجود تھا تو آخر یہ حضرات اس اشارہ سے کیوں منحرف تھے اگر اس لئے کہ ان لوگوں کا یہ عمل محض ارتجالاً اور بے سوچا سمجھا اقدام تھا اور ان کی جنگجو طبعیت کا تقاضا تھا،جس کی وجہ سے صلوٰۃ سے غفلت برتی گئی اور جب وقت آیا تو اسے مقام استدلال میں پیش نہیں کیا گیا،اس کا مطلب ہے کہ اس حادثہ کا ان لوگوں پر کوئی خاص اثر نہیں تھا تو ایسی صورت میں امیرالمومنین ؑ اور آپ جیسے لوگوں کا موقف اس بات کی دلیل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)مجمع الزوائد ج:5ص:201۔203،الاحادیث المختارۃ،ج:1ص:89۔90معجم الکبیر ج:1ص:62،الضعفاء للعقیلی ج:3ص:420۔421،میزان الاعتدال ج:5ص:135۔136،لسان المیزان ج:4ص:189،تاریخ طبری ج:2ص:353۔354،تاریخ دمشق ج:30ص:418۔420۔421۔422


ہے کہ ان حضرات کو بیعت ابوبکر سے اختلاف تھا اور ان کا ہر عمل احتجاج کی راہ میں تھا،جیسا کہ تیسرے اور چوتھے سوال کے جواب سے ظاہر ہے ۔

پھر ابوبکر نے اسی بیماری کے دور میں جو کچھ کہا وہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ حادثہ صلوٰۃ ان کی خلافت پر اشارہ نہیں تھا،جب ابوبکر کو مرتبہ خلافت ملا اور وہ اس تجربہ سے گذرے تو ان کی سمجھ میں بات آگئی کہ خلافت کرنے اور کپڑے بننے میں بہت فرق ہے،خلافت کی ذمہ داریوں کا احساس کر کے اور خود کو نااہل سمجھ ک انھوں نے بہت ہی حسرت و یاس کی حالت میں مذکورہ باتیں کہیں ہیں ۔

گذشتہ تصریحات آپ کے سامنے ہیں،نتیجہ نکالنا آپ کا کام ہے لیکن ان سب باتوں سے جو بات میری سمجھ میں آتی ہے وہ دو حال سے خالی نہیں ہے ۔

1 ۔ پہلی بات تو یہ ہے ک ابوبکر کو نماز کی امامت کرنے کا حکم پیِغمبر ؐ نے سرے سے دیا ہی نہیں تھا،بلکہ نماز کا معاملہ ایک سازش تھی اور یہ سازش اس طرح رچی گئی تھی کہ لوگوں کو خلافت ابوبکر پر نص جیسی معلوم ہونے لگے،بلکہ ایک طرح سے اس سازش میں نص کی طرف موڑنے کا اشارہ ملفوف تھا ۔

سازش کرنے والی نے ایک کمزور وقت اور وقت کے ایک کمزور لمحے سے فائدہ اٹھانا چاہا تھا تا کہ اس واقعہ کے سہارے اہل بیت ؑ سے حکومت چھین لی جائے اور جب کوئی مخالفت کرے جیسے شیعیان اہل بیت ؑ تو اس واقعہ کو مقام استدلال پیش کردیا جائے ۔

امام جماعت ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس آدمی کے اندر امامت عامّہ کی بھی صلاحیت ہے

2 ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ سرکار دو عالم ؐ نے ابوبکر کو امامت صلوٰۃ کا حکم دیا تھا تو اس سے بھی آپ کے موقف پر کوئی دلیل قائم نہیں ہوتی،اس لئے کہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ نماز میں امام ہونا اور ہے اور عالم اسلام کی سیاسی،مذہبی اور علمی امامت اور ہے کوئی ضروری نہیں کہ مسجد کے


امام کے اندر امت کی امامت کی صلاحت بھی موجود ہو ۔ تاریخ سے پوچھیئےمجب عمر زخمی ہوئے تو عبدالرحمٰن بن عوف نے امامت نماز کے فرائض انجام دیئے(1) خود عمر نے صھیب کو حکم دیا تھا کہ ان کے ہلاک ہونے کے بعد جب تک شوریٰ میں خلیفہ معین نہ ہوجائے(2) ( اور اس کی مدت تین دن تھی)اس وقت تک صھیب نماز پڑھاتے رہیں،اسی طرح جب مولائے کائنات ؐ مسجد کوفہ میں ابن ملجم ملعون کے ہاتھوں زخمی ہوئے تو آپ نے جعدہ بن ہبیرہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا ۔(3)

اب اگر کوئی یہ کہے کہ اسی امامت صلوٰۃ کی وجہ سے عمر نے ابوبکر کو آگے بڑھایا اور ان کی بیعت کی پیشکش کی تو میں عرض کروں گا کہ...

1 ۔ عمر نے اس امامت صلوٰۃ کی وجہ سے ابوبکر کو ّگے نہیں بڑھایا تھا،نہ اس بات کا دعویٰ کیا تھا کہ نبی ؐ نے ہی ان کو آگے بڑھایا ہے،اس لئے ہم انھیں امام مانتے ہیں اور نہ وہ اس بات کے دعویدار تھے کہ نبی ؐ کا ابوبکر کو امام بنانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے اندر امامت عامّہ کی اہلیت بھی ہے بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ عمر کی نظر میں نماز کی امامت ابوبکر کی ایک فضیلت تھی اس لئے انھوں نے ابوبکر کو آگے بڑھادیا،جیسے وہ اس بات کے قائل تھے کہ(اگر میں ابوعبیدہ جراح کو پاتا تو انھیں اپنے بعد خلیفہ بناتا،پھر جب اپنے رب کے پاس جاتا اور میرا رب مجھ سے پوچھتا کہ امت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) صحیح بخاری ج: 3 ص: 1354 ،صحیح ابن حبان ج: 14 ص: 193 ،المستدرک علی صحیحین ج: 3 ص: 97 ،سنن کبریٰ بیقھی ج: 3 ص: 113 ،المصنف لابن ابی شیبۃ ج: 1 ص: 406 ،مسند ابی یعلی ج: 5 ص: 116 ،حلیۃ الاولیاء ج: 4 ص: 151 ،کتاب الآثار:ص: 147 الثقات ج: 2 ص: 238 ،طبقات الکبریٰ ج: 3 ص: 337 ،نیل الاوطار ج: 6 ص: 158 ،موارد الظمان ص: 537 ،مجمع الزوائد ج: 9 ص: 76 مسند الحارث ج: 2 ص: 622)

( 2) صحیح ابن حبان ج: 15 ص: 333 ،المصنف لابن ابی شیبۃ ج: 7 ص: 437 ،مجمع الزوائد ج: 5 ص: 195 طبقات الکبریٰ ج: 3 ص: 61 ،ج: 3 ص: 341 ،فتح الباری ج: 7 ص: 68 سیرہ اعلام نبلاء ج: 2 ص: 26)

( 3) الاستیعاب ج: 3 ص: 1125 ،حضرت علیؑ کی سوانح حیات میں،مجمع الزوائد ج: 9 ص: 141 ،باب مناقب علی بن ابی طالبؑ،کتاب مناقب،معجم الکبیر ج: 1 ص: 99 ،علی بن ابی طالب حالات میں،نظم دررالمسطین ص: 141 مناقب للخوارزمی ص: 383 ،المنتظم ج: 5 ص: 173 کامل فی التاریخ ج: 3 ص: 256 ،ذخائز العقبی فی مناقب القربیٰ ج: 1 ص: 114


ؐ محمد کی خلافت کس کے حوالے کر کے آئے تو میں کہتا کہ میں نے تیرے بندے اور خلیل سے یہ سنا تھا کہ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ جراح ہے)(1) تو جس طرح عمر،ابوعبیدہ کے اندر فضیلت کے قائل تھے کہ انھیں پیغمبر ؐ نے امامت صلوٰۃ سونپی تھی،بشرطیکہ ایسا ہوا ہو،عمر تو یہ بھی کہتے تھے کہ((اگر میں ابوحذیفہ کے غلام کو پاتا تو اسی کو خلیفہ بنادیتا اور اپنے مالک سے جا کے کہتا کہ تیرے نبی ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ سالم اللہ سے شدید محبت کرنے والا ہے(2) اور عمر یہ بھی کہتے تھے کہ میں معاذ بن جبل کو پاتا تو اسے خلیفہ بنادیتا اور جب میرا مالک پوچھتا تو میں کہتا کہ تیرے حبیب کو یہ کہتے سنا تھا کہ جب علما قیامت کے دن اپنے پروردگار کے حضور میں حاضر ہوں گے تو معاذ بن جبل ان کے درمیان ایک بلند چٹان کی طرح ہوں گے ۔(3)

2 ۔ دوسری بات یہ ہے کہ عمر نے یہ دیکھا کہ حادثہ صلوٰۃ ان کے ہدف کو ثابت کرتا ہے اس لئے حادثہ صلوٰۃ کو توڑ مروڑ کے پیش کیا اور کمزور لمحون کا فائدہ اٹھا کے اپنے عمل کو ایک شرعی حیثیت دیدی،حالانکہ ابوبکر کی بیعت کا عمل خود ان کے کہنے کے مطابق ایک لغزش تھی لیکن عمر نے موقعہ سے خوب فائدہ اٹھایا اور کسی وضاحت کے طلب کرنے یا رد و تردید کرنے کا کوئی موقع ہی نہیں دیا،نہ کسی کو اس بات کا موقعہ دیا کہ وہ اس حادثہ کے مدلول حقیقی پر روشنی ڈ ال سکے ۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سیاست کے مداری اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے اور اپنے مختلف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)مسند الشیاشیی ج:2ص:93،مناقب ابی عبید اور اسکے علاوہ،مسند احمد ج:1ص:18،مسند عمر بن خطاب میں،فتح الباری ج:13ص:119،تحفۃ الاحوذی ج:6ص:399،فیض القدیر ج:3ص:190سیر اعلام نبلاء،ج:1ص:372،خالد بن ولید کے حالات میں،صفوۃ الصفوۃ ج:1ص:367،تاریخ طبری ج:2ص:580،تاریخ دمشق ج:58ص:405،معاذ بن جبل کے حالات میں،مستدرک علی صحیحین ج:3ص:300،کتاب معرفۃ صحابہ ابی عبیدہ بن جراح کے مناقب میں،طبقات الکبریٰ ج:3ص:413،ابی عبیدہ بن جراح کے حالات میں،فضائل الصحابہ لابن حنبل ج:2ص:742،اور تاریخ دمشق ج:25ص:461،عامر بن عبداللہ بن جراح کے حالات میں۔

(2)اس کا مدرک چوتھے سوال کے جواب میں گذرچکا ہے

(3)اس کا مدرک چوتھے سوال کے جواب میں گذرچکا ہے


اہداف تک پہنچنےکے لئے ایسے ہی لمحے کی تلاش میں رہتے ہیں(بیتو کا کام کرتے ہیں)موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں،وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہیں اور بیوقف عوام کو دھوکا دینے کے لئے بےہودہ استدلال اور بلاوجہ کی لفاظی سے فائدہ اٹھاتے ہیں ان کی دلیلیں جیسے صحرا میں سراب،جسے پیاسا پانی سمجھتا ہے لیکن جب وہاں پہنچتا ہے تو کچھ بھی نہیں پاتا بلکہ وہاں خود اللہ موجود رہتا ہے اور اس کا پورا پورا حساب کردیتا ہے،(1) اگر عمر نے ابوبکر کے لئے امامت صلوٰۃ کو دلیل خلافت بنا کے پیش کیا بھی تو یہ محض وقت کی آواز تھی ورنہ عمر،پیغمبر ؐ کے مرض کی حالت میں آپ کے ارشادات کی طرف کب دھیاں دینے والے تھے ۔

عمر نے ارشادات نبوی ؐ کا بھی احترام نہیں کیا خاص طور سے سرکار دو عالم ؐ نے بیماری کی حالت میں جو ہدایتیں دیں،عمر کی نظر میں ان کی کوئی اہمیت نہیں تھی آپ کہتے ہیں کہ حالت مرض میں نبی ؐ نے ابوبکر کو امامت نماز کا حکم دیا،عمر نے اس حکم کو خلافت ابوبکر کی دلیل بنا کے پیش کیا تو میں عرض کرتا ہوں کہ تعجب ہے عمر نے بیمار پیغمبر ؐ کو اتنی اہمیت کیسے دی؟

یہ واقعہ دوشنبہ کا ہے،ابھی چار دن قبل یعنی پنجشنبہ کے دن سرکار دو عالم ؐ حالت بیماری میں یہ فرما رہے تھے کہ:((قلم اور دوات لاؤ میں ایسی تحریر لکھ دوں کہ میرے بعد تم لوگ کبھی گمراہ نہ ہوگے))ادھر عمر اور حامیان عمر آپ کے قول کو رد کررہے تھے،عمر نے کہا آپ(معاذ اللہ)ہزیان بک رہے ہیں،پھر کہا کہ آپ پر درد کا غلبہ ہے،ہمارے لئے کتاب خدا کافی ہے یہ تمام باتیں دوسرے سوال کے جواب میں عرض کی جاچکی ہیں ۔

اس حدیث قرطاس کے بعد حادثہ صلوٰۃ سامنے آتا ہے،بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نبی ؐ کی وفات کے دن کا حادثہ ہے یعنی دوشنبہ کے دن کا ۔

اب تو مرض مزید بڑھ گیا ہوگا لیکن عمر نے نہیں کہا کہ حضور نے درد سے گھبرا کے ایسا حکم دیا ہوگا ذرا سونچئے گا کہ یہ سب کیوں ہورہا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ نور آیت:39


عمر نے خلافت کے بارے میں جب بھی گفتگو کی حادثہ صلوٰۃ کا ذکر بالکل نہیں کیا

لطف کی بات تو یہ ہے کہ سقیفہ کے بعد مر نے ابن عباس سے کئی دفعہ گفتگو کی،سقیفہ کی خوبیاں گنائیں،ابوبکر کی بیعت کو جائز قرار دیا،اپنے داماد کی بھرپور پیروی کی،بہت سی توجیہات پیش کیں،لیکن کبھی یہ نہیں کہا کہ ابوبکر کی بیعت اس لئے ضروری تھی کہ انھوں نے نبیؐ کے حکم سے ایک دن نماز جماعت کی امامت کی تھی،انھوں نے مولیٰ علیؑ کو خلافت سے محروم رکھنے کے لئے مکڑی کی طرح جالے بنے،جیسے یہ کہا کہ علیؑ خلافت کے لئے مناسب نہیں تھے اس لئے کہ وہ بہت کمسب تھے،اس لئے کہ وہ بنی عبدالمطلب سے محبت کرتے تھے،اس لئے کہ قریش کو یہ گوارہ نہ تھا کہ خاندان بنی ہاشم میں نبوت و خلافت(دونوں)جمع ہو و غیرہ..یہ بھی کہا کہ ابوبکر کی بیعت اچانک ایک حادثہ تھی اور یہ عرض کیا جاچکا ہے کہ فلتہ کا مطلب کم سے کم یہ ہوتا ہے کہ کسی کام کا بغیر مشورے کے اچانک ہوجانا،لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ بیعت میں جلد بازی فتنہ کے خوف سے کی گئی(1)

بہرحال اگر حادثہ صلوٰۃ اس قابل ہوتا کہ اسے مقام احتجاج میں پیش کیا جاسکے تو پھر کوئی تو کہتا،بلکہ سب سے پہلے اس کو پیش کیا جاتا کہ خلافت ابوبکر پر سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ حضورؐ نے ان کو امامت کا حکم دیا ہے۔ان تمام باتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس حادثہ کو صرف سقیفہ کے دن ہی پکڑے رہنا اور اس کو دلیل بنانا اصل میں مدلول حقیقی سے نگاہیں پھیرنے کی اور حقیقت حق سے باطل کی طرف موڑنے کی ایک کوشش تھی۔تیسری بات یہ ہے کہ مدعی کے لئے اپنے دعوے پر اس طرح کی کمزور دلیلیں لانا جو اشارے کنائے پر مشتمل ہو،منطق کا تقاضہ نہیں ہےجب کہ اس کے مخالف کے پاس اس طرح کی کمزور دلیلوں کو توڑنےکے لئے وافر مقدار میں مواد موجود ہیں،یہاں تو واضح دلیلیں اور روشن حجتیں پیش کرنے کی ضرورت ہے،جو مخالف کو لاجواب کردے اس دلیل کو توڑنے کے لئے شیعوں کے پاس تو اتنا مواد ہے کہ اس کے بیان کی یہاں گنجائش نہیں ہے،لیکن میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ حادثہ صلوٰۃ کا تقابل ان واقعات سے ضرور کیا جائےجو امیرالمومنینؑ کے حق میں جاتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)ریاض النضرۃ،ج:2ص:206،پہلا باب رسول اللہ کے خلیفہ ابوبکر کے فضائل کے بیان میں،فصل 13،خلافت کے بیان میں اور جو چیز صحابہ سے متعلق ہے،سقیفہ کی بیعت کو ذکر کیا اور جو اس میں پیش آیا۔


ایک تقابلی مطالعہ

میں صاحبان انصاف سے صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا حادثہ صلوٰۃ کی دلیل(جو ابوبکر کی خلافت کے حق میں ان کے قول کے مطابق ہے)ان روایتوں کے مقابلے میں کچھ دیر بھی ٹھہرسکے گی،جن روایتوں سے نبی کا امیرالمومنین ؑ سے اختصاص اور قربت مستفاد ہوتی ہے،احادثہ صلوٰۃ کی دلیل ان تمام روایتوں سے قوی تر ہے؟کیا تاریخ یہ نہیں بتاتی کہ علی ؑ نبی ؐ کے اخص تھے؟نبی ؐ کی زندگی میں اور نبی ؐ کے مرنے کے بعد بھی ان کے تمام امور کے ذمہ دار علی ؑ ہی تھے؟یہاں تک کہ آپ ہی نے نبی ؐ کی تجہیز و تکفین کی اور انھیں قبر میں اتارا،نبی ؐ نے تمام صحابہ کے درمیان علی ؑ کو یہ خصوصیت دی کہ آپ کو اپنا بھائی بتایا اور صی ٖ ہ مواخاۃ جاری کیا(1) نبی ؐ نے خدا کے حکم سے اپنی صاحبزادی فاطمہ زہرا صلوات اللہ علیہا کا عقد حضرت علی ؑ سے کیا ۔(2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) المستدرک علی صحیحین،ج: 3 ص: 16 ۔ 15 ،کتاب الھجرۃ،سنن ترمذی ج: 5 ص: 636 ،کتاب مناقب،علل دارقطنی،ج: 9 ص 205 ،الطبقات الکبریٰ ج: 3 ص: 22 ،علی ابن ابی طالبؑ کے حالات میں،فضائل صحابہ،ابن حنبل،ج: 2 ص: 597 ،فضائل علیؑ ص: 617 ،البدایۃ النھایۃ ج: 7 ص: 35،224 سنہکے حالات میں جس میں عثمان کے قتل کا بھی تذکرہ ہے اور امیرالمومنین علیؑ کی خلافت کا ذکر بھی ہے،تاریخ الخلفا ص: 170 ،السیرۃ النبویۃ،ج: 3 ص: 36 ،مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارگی،تاریخ دمشق ج: 42 ،ص: 96 ۔ 61 ۔ 53 ۔ 52 ۔ 51 ۔ 18 ،علی بن ابی طالبؑ کے حالات میں،تہذیب الاسما ص: 318 ،فیض القدیر،ج: 4 ص: 355 ،الریاض النضرۃ ج: 1 ص: 205 ،التدوین فی اخبار قزوین ج: 2 ص: 126 ،تحفۃ الاحوزی،ج: 10 ص: 152 ،تہذیب الکمال ج: 2 ص: 484 ،

( 2) مجمع الزوائد ج: 9 ص: 204 ،کتاب مناقب باب فاطمہ بنت رسول اللہؐ،المعجم الکبیر ج: 10 ص: 156 ،عبداللہ بن مسعود کی مسند میں،ج: 22 ص: 407 ،فاطمہ صلوٰۃ اللہ علیھا کی عمر،اور ان کی شہادت،مناقب اور کنیت و غیرہ کا ذکر،اور جناب فاطمہ کی شادی کا ذکر،تاریخ دمشق ج: 37 ص: 13 ،عبدالملک بن حبار کے حالات میں،ج: 42 ،ص: 126 ۔ 129 ،علی بن ابی طالبؑ کے حالات میں،ج: 52 ،ص: 445 ۔ 444 ،محمد بن دینا عرقی کے حالات میں،کنزالعمال ج: 11 ص: 600 ،حدیث: 32891 ،ص: 606 ،حدیث: 32929 ،البیان و التعریف،ج: 1 ص: 174 ،ج: 2 ص: 301 ،میزان الاعتدال ج: 4 ص: 422 ،عبدالنور بن عبداللہ المسمعی کے حالات میں،لسان المیزان ج: 4 ص: 77 عبدالنور عبداللہ مسمعی کے حالات میں،الکشف الحثیث،ص: 174 ،عبدالنور عبداللہ مسمعی کے حالات میں،


اور حضرت علی ؑ ہی آپ کی ذیرت کے باپ قرار پائے ۔(1)

نبی ؐ نے مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازوں کو بند کرادیا سوائے علی ؑ کے گھر کے دروازہ کے ۔(2) اس سے پتہ چلا کہ جو علی ؑ کے لئے حلال ہے وہ نبی ؐ کے لئے حلال ہے ۔(3) فاطمہ زہرا ؐ اور آپ کے دونوں صحاب زادے امام حسن ؑ و امام حسین ؑ ہیں(4) جن سے اللہ نے رجس کو دور رکھا ہے اور ایسا پاک کیا ہے جیسا پاک کرنے کا حق ہے اور نبی ؐ نے فرمایا کہ((اہل بیت ؑ کی مثال سفینہ نوح ؑ جیسی ہے،جو اس پر سوار ہوا وہ نجات پاگیا اور جو اس سے منھ موڑے گا وہ غرق ہوگا اور ہلاک ہوجائے گا ۔(5)

پھر نبی ؐ نے یہ نص فرمائی کہ((اہل بیت ؑ سے مراد امیرالمومنین علی ؑ ،آپ کی شریک حیات اور

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) مجمع الزوائد ج: 9 ص: 172 ،کتاب مناقب فاطمہ زہراؐ کے فضائل کا باب میں،اور آپ کی علیؑ سے شادی کے باب میں،معجم الکبیر ج: 3 ص: 43 ،جامع الصغیر ج: 1 ص: 262 ،فردوس ماثور الخطاب ج: 1 ص: 172 ،فیض القدیر ج: 2 ص: 233 ،کنز العمال ج: 11 ص: 600 حدیث: 32892 ،تاریخ دمشق ج: 42 ص: 259 ،تاریخ بغداد ج: 1 ص: 317 ،ینابیع المودۃ ج: 2 ص: 90 ۔ 237 ۔ 292 ۔ 245 ۔ 399 ۔ 447 ،میزان الاعتدال ج: 4 ص: 313 ،ض: 7 ص: 207 ،لسان المیزان ج: 3 ص: 429 ،علل متناہیہ ج: 1 ص: 214 ،کشف الخفاء ج: 2 ص: 157 ،نیل الاوطار ج: 6 ص: 139)

( 2) السنن الکبریٰ،نسائی ج: 5 کتاب الخصائص،امیرالمومنین علی بن ابی طالبؑ کی خصوصیات،ص: 113 ،اس سلسلے میں عمران بن حصین کی خبر کا تذکرہ،ص: 119 ۔ 118 ،رسول اکرمؐ کا بیان کہ میں علی کے دروازہ کے علاوہ سارے دروازوں کے بند کرنے کا حکم دیا ہے،سنن ترمذی ج: 5 ص: 641 ،المستدرک علی صحیحین ج: 3 ص: 135 ،مسند احمد بن حنبل ج: 1 ص: 175 ،مسند ابی اسحاق سعد بن وقاص،ص: 330 ،معتصر المختصر ج: 2 ص: 332 ،مجمع الزوائد ج: 9 ،ص: 115 ۔ 114 ،مسند رویانی ج: 1 ص: 277 ،مسند ابی یعلی ج: 2 ص: 61 ،مسند سعد بن ابی وقاص،ابن ابی عاصم کی سنت کے عنوان سے،ج: 2 ص: 603 ۔ 599 ،باب فضائل علیؑ کا تذکرہ،فتح الباری ج: 7 ص: 14 ،تفسیر قرطبی،ج: 5 ص: 208 ،

( 3) تاریخ دمشق ج: 42 ص: 140 ۔ 139 مسند الشاشیی ج: 1 ص: 146 ،میزان الاعتدال ج: 2 ص: 210 ،لسان میزان ج: 2 ص: 182 ،مناقب الخوارزمی ص: 109 ،ینابیع المودۃ ج: 1 ص: 160 ،تاریخ المدینۃ ج: 1 ص: 38

( 4) صحیح ابن حبان ج: 15 ص: 432 ،کتاب اخبار،مناقب صحابہ،السنن الکبری للنسائی ج: 5 ص: 107 ،کتاب خصائص،امیرالمومنین علی بن ابی طالبؑ کی خصوصیات میں،سنن ترمذی ج: 5 ص: 351 ،کتاب فضائل قرآن،المستدرک علی صحیحین ج: 2 ص: 451 ،کتاب تفسیر،تفسیر سورہ احزاب،مسند احمد ج: 4 ص: 107 ،واثلہ بن اسقع کی حدیث میں ج: 6 ص: 292 ،رسول اللہؐ کی بیوی ام سلمہؐ کی حدیث میں،معتصر المختصر ج: 2 ص: 266 ،مجمع الزوائد ج: 9 ص: 167 ،کتاب مناقب،مسند البراز ج: 6 ص: 210 ،المعجم الکبیر ج: 3 ص: 53 ،اخبار حسن بن علیؑ میں،ج: 25 ص: 9 ،مسند عمر بن ابی سلمۃ میں،ج: 22 ص: 66 مسند واثل - ( 5) اس کا مدرک گذشتہ چوتھے سوال کے جواب میں گذرچکا ہے۔


پھر فرمایا:کہ اہل بیت ؑ ہی ان ثقلین میں سے ایک ثقل ہیں جنھیں نبی ؐ نے اپنی امت کا خلیفہ بنایا ہے،آپ کے سابقہ سوالوں میں چھٹے سوال کے جواب میں اس حدیث پر کافی گفتگو ہوچکی ہے ۔

حضور سرور کائنات ؐ اہل بیت ؑ ہی کو لیکے نصارائے نجران کے مقابلہ میں نکلے(1) تا کہ معولم ہوجائے کہ یہ حضرات صرف نبی ؐ ہی کے قرابتدار نہیں ہیں بلکہ بارگاہ الٰہی میں بھی اتنے مقرب ہیں کہ ان کی دعا کا اثر ہوتا ہے ۔

اللہ ان کی دعائیں سنتا ہے اور قبول کرتا ہے،یہ بھی ثابت ہوجائے کہ یہ حضرات ہی در حقیقت دعوت اسلام کے ذمہ دار ہیں،اس کی حمایت میں لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کے عہد کے پابند ہیں ۔

انھیں کے لئے نبی ؐ نے فرمایا:میں اس سے صلح کروں گا جو ان سے صلح کرے گا اور اس سے جنگ کروں گا جو ان سے لڑے گا،(2) پھر آپ نے امیرالمومنین ؑ کو وصی بنایا اور یہ بات اتنی مشہور ہوئی کہ لوگ امیرالمومنین ؑ کو وصی کے نام سے پہچاننے لگے ۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) صحیح مسلم ج: 4 ص: 1871 ،کتاب فضائل صحابہ،باب فضائل علی ابن بی طالبؑ میں،المستدرک علی صحیحین ج: 3 ص: 163 ،کتاب معرفت صحابہ،سنن الکبری بیھقی،ج: 7 ص: 63 ،کتاب قسم الصدقات،مسند احمد ج: 1 ص: 185 ،مسند ابی اسحاق سعد بن ابی وقاص میں مسند سعد ص: 51 ،علی بن ابی طالبؑ کے حالات میں،الاصابۃ ج: 4 ص: 569 ،علی بن ابی طالبؑ کے حالات میں،معرفت علوم حدیث ص: 50 ،تفسیر طبری ج: 1 ص: 398 ،روح المعانی ج: 4 ص: 188 ،اسباب نزول آیات،ص: 68 ،شواہد التنزیل للحسکانی ج: 1 ص: 156 ۔ 159 ۔ 163 ۔ 164 ،وغیرہ۔

( 2) اس کا مدرک چوتھے سوال کے جواب میں گذرچکا ہے۔

( 3) المستدرک علی صحیحین ج: 3 ص: 188 ،مسند ابی یعلی ج: 4 ص: 344 ،مجمع الزوائد ج: 9 ص: 114 ۔ 113 ،حلیۃ الاولیاء ج: 2 ص: 74 ،معجم الکبیر ج: 6 ص: 221 الاصابۃ ج: 5 ص: 576 ،فضائل الصحابہ ج: 2 ص: 615 ،سیرہ اعلام نبلاء ج: 4 ص: 113 ،بقیۃ الکمال ج: 26 ص: 151 ،تھذیب التھذیب ج: 3 ص: 91 ،تاریخ دمشق ج: 42 ص: 532 ۔ 392 ،تاریخ واسط ص: 154 ،تاریخ بغداد ج: 11 ص: 112 ،ج:! 3 ص: 298 ،الذریۃ الطاہرہ ص: 74 ،فردوس بما ثور الخطاب ج: 3 ص: 336 ،فتح الباری ج: 8 ص: 387 ج: 5 ص: 139 ،الکامل الضعفا الرجال ج: 4 ص: 14 ،المجروحین ج: 1 ص: 279 ،بدایۃ النہایہ ج: 13 ص: 258 تاریخ طبری ج: 2 ص: 696 ،ج: 3 ص: 319 ،الکامل فی التاریخ ج: 3 ص: 419 ،المعرکۃ ج: 5 ص: 152 ،المنتظم ج: 10 ص: 128 ،البدءو التاریخ ج: 5 ص: 225 وفیات الاعیان ج: 5 ص: 379 ،تاریخ یعقوبی ج: 2 ص: 171 فی ایام عثمان بن عفان ص: 179 اور خلافت امیرالمومنین میں ص: 228


آنحضرت ؐ نے فرمایا:میرا وصی تمام اوصیا سے بہتر ہے ۔(1) چوتھے سوال کے جواب میں عرض کیا جاچکا ہے کہ یہاں وصایت سے مراد نبوت کی وصایت ہے مولائے کائنات پیغمبر خدا ؐ کے قرضوں کو ادا کرنے والے ہیں اور نبی ؐ کے وعدوں کو پورا کرنے والے ہیں ۔(2) اور امت نبی ؐ کے اختلافی مسائل کو حل کرنے والے ہیں،(3) آپ علم نبی ؐ کے وارث ہیں(4) اور شہر علم نبی ؐ کے دروازہ ہیں(5) جس سے داخل ہو کر علم نبی ؐ تک پہنچا جاسکتا ہے،جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے((نیکی یہ نہیں ہے کہ تم گھروں میں پس پشت داخل ہو،بلکہ نیکی یہ ہے کہ تقویٰ اختیار کرو،گھروں میں ان کے دروازوں سے داخل ہوا اور اللہ سے ڈ رو تا کہ تمہارا بھلا ہو)) ۔(6)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سیرہ ابن اسحاق ج:2ص:105،مجمع الزوائد ج:9ص:165،معجم الاوسط ج:6ص:327معجم الکبیر ج:3ص:57

(2)مجمع الزوائد ج:9ص:113 اور باب وصیت میں ص:121،احادیث المختار ج:2ص:131فضائل الصحابہ لابن حنبل ج:2ص:615تفسیر ابن کثیر ج:3ص:351،مسند احمد ج:1ص:111،تاریخ دمشق ج:42ص:47۔49۔50۔56۔471،الفردوس بما ثور الخطاب ج:3ص:61،معجم الکبیر ج:12ص:420،میزان الاعتدال ج:6ص:446،ج:7ص:5الکامل فی الضعفاء الرجال ج:6ص:397،المجروحین،ج:3ص:5

(3)اس کا مدرک چوتھے سوال کے جواب میں گذرچکا ہے۔

(4)المستدرک علی صحیحین ج:3ص:136،کتاب معرفۃ الصحابہ(صحابیوں کی پہچان،مناقب علی بن ابی طالبؑ،الاحاد و المثانی،ج:5ص:172،زید بن ابی اوفی کے حالات میں،المعجم الکبیر،ج:5ص:221،روایت زید بن ابی اوفی،ریاض النضرہ،ج:1ص:198،پہلا باب،فضائل الصحابہ لابن حنبل،ج:2ص:666۔638،فضائل علیؑ تاریخ دمشق ج:21،ص:415،سلمان بن اسلام کے حالات میں،ج:32،ص:53،علی بن ابی طالب کے حالات میں،و غیرہ۔

(5)المستدرک علی صحیحین ج:3ص:138۔137،کتاب معرفۃ الصحابۃ،مجمع الزوائد،ج:9ص:114،کتاب مناقب،علی بن ابی طالب ع کے مناقب میں،المعجم الکبیر ج:11ص:65،ابن عباس سے روایت،تذکرۃ الحفاظ ج:4ص:1231،سمرقندی کے حالات میں،سیر اعلام النبلاء ج:11ص:437،ابی صلت کے حالات میں تاریخ دمشق ج:42،ص:383۔382۔380۔379۔378،علی بن ابی طالب کے حالات میں،تہذیب التہذیب ج:7ص:296،علی بن ابی طالبؑ کے حالات میں،ص:374،عمر بن اسماعیل بن مجالد کے حالات میں،تہذیب الکمال ج:18،ص:79۔78۔77،عبدالسلام بن صالح کے حالات میں،ج:20ص:485،علی بن ابی طالب کے حالات میں،تاریخ جرجان ص:65،احمد بن سلمۃ بن عمر الکوفی کے حالات میں،تاریخ بغداد ج:7ص:172،جعفر بن محمد ابی جعفر کے حالات میں،ج:11ص:50۔49۔48،عبدالسلام بن صالح بن سلیمان کے حالات میں،کشف الخفاء ص:235،الفردوس بما ثور الخطاب ص:44،فیض القدیر ج:3ص:46،الجرح و التعدیل ج:6ص:99عمر بن اسماعیل بن مجالد کے حالات میں،و غیرہ۔ (6)سورہ بقرہ آیت:189۔


علی ؑ ہی امت نبی ؐ کے سب بڑے قاضی ہیں ۔(1) اور دنیا و آخرت میں آپ کے علمدار ہیں(2) اور یہ بھی کہ حضور سرور کائنات ؐ نے سورہ برائت کے ابتدائی حصوں کو ابوبکر کے حوالہ کیا کہ وہ جا کر مشرکین کے درمیان سنادیں پھر آپ نے امیرالمومنین ؑ کو بھیجا کہ ابوبکر سے سورہ لے لیں اور پیغِمبر ؐ کی طرف سے مشرکین کے درمیان اس سورہ کو پڑھ کے سنادیں،جب ابوبکر واپس آئے تو نبی ؐ سے پوچھا کہ خدا کے رسول ؐ کیا میرے بارے میں خداوند عالم نے کچھ نازل فرمایا ہے آپ نے فرمایا:نہیں لیکن جبرئیل آئے اور کہا کہ یہ فریضہ کوئی ادا نہیں کرسکتا مگر خود آپ یا پھر وہ جو آپ سے ہو ۔(3)

اور نبی ؐ نے فرمایا کہ علی ؑ مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں،میری طرف سے واجبات کوئی ادا نہیں کرسکتا مگر علی ؑ(4) اور فرمایا:اے علی ؑ جو مجھ سے الگ ہوا وہ خدا سے الگ ہوا اور جو تم سے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)الاستیعاب ج:1ص:17،فتح الباری ج:8ص:167،المعجم الصغیر ج:1ص:335،کشف الخفا ج:1ص:184،الریاض النضرۃ ج:1ص:228،تیسرا باب،تاریخ دمشق ج:47،ص:112،عویمر بن زید بن قیس ابی الدردا کے حالات میں،کنز العمال ج:11ص:642،حدیث:33121،ینابیع المودۃ ج:2ص:173،و غیرہ

(2)المعجم الکبیر ج:2ص:247،روایت سماک بن حزب،تاریخ دمشق ج:42،ص:331۔75،علی ابن ابی طالبؑ کے حالات میں،ج:39،ص:102،عثمان بن عفان کے حالات میں،الفردوس بما ثور الخطاب ج:1ص:،کنزالعمال ج:11ص:612،حدیث:32965،ج:13ص:136،حدیث:36437،ینابیع المودۃ ج:2ص:167،المناقب للخوارزمی ص:358،میزان الاعتدال ج:7ص:5،ناصح بن عبداللہ کوفی کے حالات میں،الکامل فی الضعفا الرجال ج:7ص:47،ناصح بن عبداللہ کے حالات میں و غیرہ

(3)مجمع الزوائد ج:7ص:29 المستدرک علی صحیحین ج:3ص:53،تفسیر ابن کثیر ج:2ص:334،مسند احمد ج:1ص:151،فتح الباری ج:8ص:320۔318،تحفۃ الاحوذی ج:8ص:386،فضائل الصحابہ لابن حنبل ج:2ص:703،تاریخ دمشق ج:42ص:348،شواہد التنزیل للحسکانی ج:1ص:311،کنز اعمال ج:2ص:422،حدیث:4400

(4)سنن ترمذی ج:5ص:636،کتاب مناقب،سنن ابن ماجۃ ج:1ص:44،علی بن ابی طالبؑ کے فضائل میں،سنن کبریٰ نسائی ج:5ص:45،ابوبکر و عمر و عثمان کے فضائل میں،مسند احمد ج:4ص:165،الاحاد و المثانی ج:3ص:183،المعجم الکبیر ج:4ص:16،حبشی بن جنادہ سلولی کی روایت السنۃ لابن ابی عاصم ج:2ص:566۔598،تذکرۃ الحفاظ،ج:2ص:455،کشف الخفا ج:1ص:236،تہذیب السما ج:1ص:318،فضائل الصحابۃ لابن حنبل ج:2ص:599،سیر اعلام النبلا ج:8ص:212،تاریخ دمشق ج:42،ص:345،علی بن ابی طالب کے حالات میں،و غیرہ


الگ ہوا وہ مجھ سے الگ ہوا،(1) اور فرمایا:جو میری اطاعت کرے و اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور جو میری نافرمانی کرے وہ اللہ کی نافرمانی کرتا ہے جو علیؑ کی اطاعت کرے وہ میری اطاعت کرتا ہے اور جو علیؑ کی نافرمانی کرے وہ میری نافرمانی کرتا ہے۔(2) اور فرمایا:شب معراج میں مجھ پر وحی آئی کہ علیؑ کی تین صفتیں ہیں،1۔علیؑ سیدالمومنین ہے،2۔علیؑ امام المتقین ہے۔3۔اور علیؑ روشن پیشانی والوں کا قائد ہے))(3) آپ نے اکثر علیؑ کا تعارف امیرالمومنین(4) کہہ کے کرایا ہے،بلکہ مسلمانوں کی ایک جماعت کو حکم دیا کہ علیؑ کو امیرالمومنین کہہ کے سلام کریں(5) آپ جنگ تبوک میں جانے لگے تو علیؑ ہی کو اہل مدینہ پر خلیفہ مقرر کیا اور فرمایا:مناسب نہیں ہے کہ میں چلا جاؤں مگر یہ کہ تم(علیؑ)میرے خلیفہ رہو،(6) اور یہ کہ مدینہ کی اصلاح ہو ہی نہیں سکتی مگر مجھ سے یا تم(علیؑ)(7) سے،دوسری روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا((تم میرے لئے ویسے ہی ہو جیسے ہاروں موسیٰ کے لئے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبیؐ نہ ہوگا۔(8)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)المستدرک علی صحیحین ج:3ص:133،کتاب معرفۃ الصحابہ،مجمع الزوائد ج:9ص:135،کتاب مناقب،باب الحق مع علی،مسند البراز ج:9ص:455،معجم شیوخ ابی بکر الاسماعیلی ج:3ص:800،المعجم الکبیر ج:12،ص:423،فضائل صحابۃ ج:2ص:570،فیض القدیر ج:4ص:357،میزان الاعتدال ج:3ص:30،داود بن عوف کے حالات میں،ص:75،رزین بن عقبہ کے حالات میں،تاریخ دمشق ج:42،ص:307،علی بن ابی طالبؑ کے حالات میں،و غیرہ

(2)المستدرک علی صحیحین ج:3ص:131،کتاب معرفۃ الصحابہ معجم شیوخ ابی بکر اسماعیلی ج:1ص:485،الکامل فی ضعفا الرجال ج:4ص:349،عبادۃ بن زیاد کے حالات میں،تاریخ دمشق ج:42،ص:307،علی بن ابی طالبؑ کے حالات میں،و غیرہ

(3)اس کا مدرک چوتھے سوال کے جواب میں گذرچکا ہے

(4)اس کا حوالہ چوتھے سوال کے جواب میں گذرچکا ہے (5)تاریخ دمشق ج:42ص:303

(6)المستدرک علی صحیحین ج:3ص:143،کتاب معرفت صحابہ امیرالمومنینؑ کے اسلام کا ذکر،مجمع الزوائد ج:9ص:120،کتاب مناقب باب مناقب علی بن ابی طالبؑ میں،مسند احمد ج:1ص:330،مسند عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب،المعجم الکبیر ج:12،ص:98،السنۃ لابن ابی عاصم ج:2ص:566۔565،الاصابۃ ج:4ص:568،علی بن ابی طالبؑ کے حالات میں،ریاض النضرۃ ج:2ص:190،تیسری فصل میں،فضائل صحابہ لابن حنبل ج:2ص:648،

(7)المستدرک علی صحیحین ج:2ص:367،کتاب تفسیر،تفسیر سورہ توبہ،کنزالعمال ج:11ص:607،حدیث32933،ج:13ص:172،حدیث:36517،ینابیع المودۃ ج:1ص:344،میزان الاعتدال ج:2ص:324،حفص بن عمر الابلی کے حالات میں،لسان المیزان ج:2ص:324،حفض بن عمر الابلی کے حالات میں،و غیرہ

(8)اس کا مدرک چوتھے سوال کے جواب میں گذرچکا ہے


ابن عباس سے روایت ہے:وہ امیرالمومنین ؑ کے حوالے سے کہتے ہیں جب نبی ؐ پر یہ آیت نازل ہوئی((وانذر عشیرتک الاقربین))اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئے)) تو بنی عبدالمطلب سے نبی ؐ سے گفتگو ہونے لگی پھر نبی ؐ نے خطبہ دیا اور فرمایا:اے بنوعبدالمطلب!میں تمہارے پاس دنیا آخرت کی بھلائی لیکر آیا ہوں،مجھے اللہ نے حکم دیا ہے کہ میں تم لوگوں کو اس کی طرف بلاؤں،پس تم میں سے کون ہے جو اس شرط پر میرا ہاتھ بٹائے کہ وہ تمہارے درمیان میرا بھائی،وصی اور خلیفہ قرار پائے))ابن عباس کہتے ہیں کہ یہ سن کے لوگ آپ کو چھوڑ ک چلے گئے ۔

ابن عباس کہتے ہیں کہ مولائے کائنات ؑ نے فرمایا:میں اس وقت بہت کمسن تھا میری آنکھیں چھوٹی اور پن ڈ لیاں پتلی تھیں،لیکن میں نے آواز دی یا رسول اللہ ؐ میں آپ کا ہاتھ بٹاؤں گا اور اس امر میں آپ کی وزارت کروں گا سرکار دو عالم ؐ نے یہ سن کے میری گردن پر ہاتھ رکھا اور فرمایا:بےشک یہ میرا بھائی میرا وصی اور تم لوگوں میں میرا خلیفہ ہے ۔ اس کی باتیں سنو اور اس کا حکم مانو!علی ؑ فرماتے ہیں یہ سن کے لوگ ہنسنے لگے اور(میرے والد)ابوطالب ؑ سے کہنے لگے کہ یہ)حضور اکرم ؐ )تو کو حکم دیتے ہیں کہ اپنے بیٹے کی بات سنو اور اس کا حکم مانو!(1)

اللہ نے ولایت علی ؑ کو یہ کہہ کے ثابت کیا کہ((بےشک تمہارا ولی تو اللہ ہے اور اس کا رسول ؐ ہے اور وہ صاحبان ایمان ہیں جو حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں))(2) حدیثیں بتاتی ہیں کہ یہ آیت امیرالمومنین ؑ کی شان میں نازل ہوئی ہے ۔(3)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) تاریخ طبری ج: 1 ص: 542 ۔ 543 ، ،شرح نہج البلاغہ ج:3 ص210 ،تفسیر ابن کثیر ج:3 ص 352 البدایہ والنہایہ ج :3ص:40 تفسیر طبری ج9ص:122

(2)سورہ مائدہآیت :55

(1)تفسیر قرطبی ج: 6 ص: 288 ،تفسیر ابن کثیر ج: 2 ص: 72 مجمع الزوائد ج: 7 ص: 17 ،کتاب التفسیر، ،کتاب المعجم الاوسط ج: 6 ص: 218 ۔فتح القدیر ج: 2 ص: 3 ،زاد المسیر ج: 2 ص: 382 ،احکام القرآن جصاص،ج: 4 ص: 102 ،باب نماز میں معمولی فعل،روح المعانی ج: 6 ص: 167 ،شواہد التزیل،حسکانی ج: 1 ص: 211 ۔ 210 ۔ 209 ،تاریخ دمشق ج: 42 ،ص: 357 ،علی بن ابی طالبؑ کے حالات میں اور ج: 5 ص: 303 ،عمر بن علی بن ابی طالبؑ کے حالات میں،کنز العمال ج: 13 ،ص: 108 ،حدیث: 36354 ،و غیرہ منابع،


اسی طرح پیغمبر ؐ نے بھی ولایت علی ؑ یہ کہہ کے ثابت کی ہے کہ((میرے بعد علی ہی تمہارے ولی ہیں))(1) بلکہ نبی ؐ نے علی ؑ کو مومنین پر ان کے نفوس سے بھی اولیٰ قرار دیا ہے،حدیث غدیر آپ کے سابقہ سوالوں کے ساتویں سوال کے جواب میں گذرچکی ہے،حدیث غدیر کے سیاق سے امیرالمومنین ؑ کی امامت ثابت ہوتی ہے اس لئے کہ اولیٰ بالمومنین صرف وہی ہوسکتا ہے جس کے اندر مومنین کی قیادت کی صلاحیت ہو پس ثابت ہوا کہ امامت مکمل ہو ہی نہیں سکتی جب تک امام کو ماموم پر اولیت نہ حاصل ہو،اس کتاب کے مقدمہ میں اس سلسلے میں گفتگو ہوچکی ہے،اس کے علاوہ بھی بہت سی حدیثیں ہیں جو خاص طور سے علی ؑ اور عام طور سے اہل بیت ؑ کے حق میں وارد ہوئی ہیں ۔

فضائل علی ؑ و اہل بیت ؑ میں،میں نے یہ آیتیں اور حدیثیں پیش کردی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان تمام آیات و احادیث کے حوالہ اسناد بھی پیش کروں گا اور یہ کہ ہر حدیث و آیت کا مدلول کیا ہے؟اور ان آیات و احادیث پر کیا اعتراضات ہوئے ہیں؟دشمنان اہل بیت ؑ نے جو ان حدیثوں کے رخ کو موڑنا چاہا ہے اس کے مفہوم میں تحریف کی ہے اور شیعوں نے جو اس کے جوابات دیئے ہیں ان تمام باتوں کو میں اس وقت عرض کرنے کی حالت(پوزیشن)میں نہین ہوں،اگر چہ یہ سب کچھ لکھا جائے تو کئی جلد کتابیں تیار ہوجائیں گی اور گفتگو بہت طویل ہوجائے گی،اس سلسلے میں ہمارے علمائے ابرار ؓ نے جو کتابیں تحریر فرمائی ہیں اور ان آیات و احادیث کی جو چھان بین کی ہے وہی کافی ہے،میں نے بہت اختصار و اجمال سے کام لیا ہے اور جو کچھ بھی عرض کیا ہے وہ سند اور حوالے کا محتاج نہیں ہے ۔

----------------

( 1) مجمع الزوائد ج: 9 ص: 128 ،سنن کبری نسائی ج: 5 ص: 133 ،کتاب خصائص خصوصیت علی بن ابی طالبؑ میں،المعجم الاوسط ج: 6 ص: 163 ،مسند احمد ج: 5 ص: 356 ،برید اسلمی کی حدیث میں،الفردوس بما ثور الخطاب ج: 5 ص: 392 ،فتح الباری ج: 8 ص: 67 ،تحفۃ الاحوذی ج: 10 ،ص: 147 ۔ 146 ،فیض القدیر ج: 4 ص: 357 ،الاصابۃ ج: 6 ص: 623 ،وہب بن حمزہ کے حالات میں،الریاض النضرۃ ج: 2 ص: 187 ،تاریخ دمشق ج: 42 ص: 189 ،حالات علی بن ابی طالب،فضائل الصحابہ لابن حنبل ج: 2 ص: 688 ،البدایۃ و النہایۃ ج: 7 ص: 346 ۔ 344 ،


اسی طرح میرا مقصد یہ بھی نہیں ہے کہ ہر حدیث کے مدلول کی کوئی تعریف کروں کہ کونسی حدیث علی ؑ اور اہل بیت ؑ کی کس فضیلت پر دلالت کرتی ہے،بلکہ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ ایک انصاف پسند کو یقین آجائے کہ ایک طرف اہل بیت ؑ اور علی ؑ کے فضائل میں احادیث و آیات کا ذخیرہ موجود ہے جو متفق علیہ اور ناقبال انکار ہے،ان مضبوط دلیلوں کے مقابلے میں ابوبکر کی فضیلت میں ایک لولی لنگڑی اور مریض حدیث حادثہ صلوٰۃ کی ہے،کیا ان مضبوط دلائل کو چھوڑ کے اس اپاہج حدیث کی بنیاد پر ایک صاحب انصاف کی نظر میں علی ؑ کو محروم اور ابوبکر کو خلیفہ تسلیم کرلینا صحیح ہے؟انصاف آپ کے ہاتھ میں ہے ۔

ان تمام باتوں کا ماحصل یہ ہے کہ حقائق آپ کے سامنے ہیں اور ہر انسان کو اختیار ہے کہ جو اسے اچھا لگے وہ اپنالے اور آثار و قرائن کی بنیاد جو واقعیت سے قریب معلوم ہو اسے اختیار کر لے،البتہ مقصد رضائے پروردگار ہونا چاہئے اور خدا کے سامنے معقول عذر پیش کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئے اس لئے کہ ہم سب کو اسی کے سامنے پیش ہونا ہے اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے،ارشاد ہوتا ہے((ایک دن آئے گا جب ہر نفس پنی انجام دی ہوئی نیکیوں کو اپنے سامنے موجود پائے گا اور جس نے برائیاں انجام دی ہیں وہ تمنا کریں گے کہ کاش ان کے اور ان کے اعمال کے درمیان ایک لمبا فاصلہ ہوتا،اللہ اپنے آپ سے تمہیں ڈ راتا ہے اور اللہ تو اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے))(1) غالباً گذشتہ صفحات میں اور ابھی تھوڑی دیر پہلے بھی یہ بات عرض کی جاچکی ہے کہ بعض مورخین کے مطابق عام مہاجرین و انصار کو اس معاملے میں ذرا بھی شک نہیں تھا کہ خلافت علی ؑ کا حق ہے اور علی ؑ ہی پیغمبر ؐ کے بعد صاحب امر ہیں،جیسا کہ اہل بیت ؑ اور ایک بڑی جماعت بھی یہ سمجھ رہی تھی کہ خلافت اہل بیت ؑ کا حق ہے اور اہل بیت ؑ میں بھی خاص طور سے علی ؑ کا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ آل عمران آیت 30


خلافت ایک اہم منصب ہے،اس کی طرف صرف اشار کرنا کافی نہیں ہے

4 ۔ خلافت کی اہمیت کے پیش نظر صرف اس کی طرف اشارہ و تلمیح سے کام لے کر خلیفہ کا معین کرنا کافی نہیں ہے،خصوصاً اس لئے بھی کہ یہ منصب اپنے اندر اتنی چمک اور کشش رکھتا ہے کہ ہر ایک کے دل میں اس کی خواہش پیدا ہوسکتی ہے اور کوئی بھی اس کی طمع کرسکتا ہے ۔

یہاں تو لوگ نصوص صریحہ کی تاویل کرنے سے باز نہیں آتے بلکہ ان کو اپنے مقصد کے مطابق توڑ مروڑ کے تحریف کرکے ان کے رخ کو اپنی طرف موڑ دیتے ہیں اور اصل منصوص بالخلافۃ کو محروم کردے رہے ہیں پھر اشارے کنائے کی کیا حیثیت ہے؟اشاروں سے غافل رہنا تو آسان ہے،جس طرح اشاروں سے کھیلنا آسان ہے،بلکہ اس طرح کے اہم امور میں اشاروں پر اکتفا کرنا تو فتنوں کو جنم دیتا ہے امت میں اختلاف کا سبب بنتا ہے،امت کو وادی حیرت و ضلال میں ڈ ال دیتا ہے،حالانکہ اسلام کی مضبوط شریعت ان کمزوریوں سے پاک ہے اور اسلام کا عظیم نبی ؐ ان نقائص سے منزّہ ہے ۔

حقیقت کا شبہات سے پاک ہونا ضروری ہے

سابقہ سوالوں کے جواب میں یہ بات عرض کی جاچکی ہے کہ حقیقت روشن ہوتی ہے،اس میں شک و شبہہ کی گنجائش نہیں ہوتی،اس لئے کہ خداوند عالم نے اس کے لئے حجت کا فیہ کا انتظام کیا ہے،جس سے انکار وہی کرےا جس کو حق سے دشمنی ہوگی یا پھر وہ انکار کرے گا جو حق کو محض غفلت اور سستی کی وجہ سے ٹالنا چاہتا ہے اور خدا کے نزدیک ان دونوں کے پاس کوئی عذر نہیں ہے ہمارے لئے بہتر یہی ہے کہ اس سلسلے میں کافی وقت نظر کے ساتھ حقیقت کا یقین اور اس کی حد بندی کرلیں گذشتہ باتوں کی بنیاد پر ہم اس حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں،لیکن اس کے ان مضامین کا بلکہ اکثر مضامین کا تذکرہ کرنا بہتر ہے ۔


دعوتِ اصلاح کے راستے میں رکاوٹیں

اصلاحی دوتوں کو بہت سی رکاوٹوں اور مشکلوں کا سامان کرنا پڑتا ہے،یہ مشکلات دعوت کی نشر و اشاعت کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہیں اور سماج کے ہر طبقہ تک نہیں پہنچنے دیتی ہیں یہ مشکلیں دعوت کے اوامر و نواہی میں مانع ہوتی ہیں اور ان کی تنقید نہیں ہوپاتی،ایسا یا تو دعوت کی کمزوری کی وجہ سے ہوتا ہے یا وہ خارجی عوامل ہیں جن کی وجہ سے دعوت کے پھیلنے میں تاخیر،بلکہ تعویق ہوتی ہے۔

سب سے بڑی رکاوٹ خود اہل دعوت کا داخلی اختلافات ہوتا ہے

دعوت اصلاح کے سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ اہل دعوت کا داخلی اختلافات ہوتا ہے جو ان کے ذاتی اجتھاد کا نتیجہ ہوتا ہے یا پھر یہ کہ لوگ جان بوجھ کے اپنے اغراض و اھداف کے مطابق ان کی تحریف کرلیتے ہیں اور دعوت کو اس کی حدوں سے باہر نکال دیتے ہیں تا کہ اس تحریف سے وہ مقاصد حاصل ہوسکیں جو دعوت کے خلاف یا اس کو نقصان پہنچانے والے ہیں،اکثر تو ایسا ہوتا ہے کہ داخلی اختلافات اور ذاتی اجتھاد کی وجہ سے خود دعوت کا چہر مسخ ہوجاتا ہے اور اصلاح کی دعوت کو موت آجاتی ہے ۔

اختلاف و افتراق ہی کے درمیان آسمانی مذہب کی جانچ ہوجاتی ہے

آسمانی مذہب کی جانچ پرکھ تو اسی اختلاف و افتراق پر منحصر ہے،اس لئے آسمانی مذہب کسی بھی کمی یا نقص سے پاک ہوتا ہے،کیونکہ آسمانی مذہب اس خدائے واحد و عادل کی طرف سے صادر ہوتا ہے،جو مدیر،لطیف خبیر،علیم اور حکیم ہے ۔(1) (( گوشہ چشم کے اشاروں کے ساتھ دلوں کے حالات بھی جانتا ہے))اس کی نظر سے آسمان و زمین کا کوئی ذرہ بھی پوشیدہ نہیں ہے(2) اور وہ ہر چیز پر محیط ہے اس پروردگار کی طرف سے جو بھی نظام آئے گا وہ اسکا مشروع کیا ہوا ہوگا،سب سے کامل نظام ہوگا اور جہاں بھی وہ نظام بھیجا جائے گا وہاں کے ماحول کے مطابق ہوگا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ غافر آیت: 19 (2) سورہ سبا آیت: 3


قرآن مجید،اختلاف سے بچنے کی سخت ہدایت کرتا ہے

یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید اختلاف و افتراق سے بچنے کی سخت تاکید کرتا ہے اور وحدت اور اتفاق کی پر زور دعوت دیتا ہے ارشاد ہوتا ہے((اور خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور اختلاف نہ کرو)(1) دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے:ان کے جیسے نہ ہوجاؤ جنہوں نے آپس میں اختلاف کیا اور روشن نشانیاں آنے بعد متفرق ہوگئے،ان کے لئے بڑا عذاب ہے ۔(2)

پھر ارشاد ہوتا ہے : وہ لوگ جو اپنے دین میں تفرقہ پیدا کرکے ایک الگ گروہ بناتے ہیں آپ ان سے کوئی مطلب نہیں ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے ، پھر انھیں بتایا جائے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں(3)

نبی کا اعلان کہ امت میں فرقے ہوں گے

اس کے ساتھ ہی پیغِمبر اعظم ؐ نے بھی بارہا اعلان کیا کہ امت میں اختلاف ہوگا اور فرقے پیدا ہوجائیں گےٹھیک اسی طرح جیسے سابقہ امتوں میں اختلاف ہوچکا ہے،آپ نے فرمایا:یہودیوں کے اکہتر فرقے ہوئے ایک جنتی بقیہ جہنمی ہیں،نصرانیوں کے بہتر فرقے ہوئے ایک جنتی اور اکہتر جہنمی ہیں اور یہ(میری)امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی،بہتر جہنمی اور ایک جہنمی اور ایک جنتی ہوگا ۔(4)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ آل عمران آیت:103

(2)سورہ آل عمران آیت:105

(3)سورہ نعام آیت:159

(4)مجمع الزوائد ج:6ص:233،کتاب قتال اہل بغی باب خوارج اور ج:7ص:258،کتاب فتن،باب امتوں کا مختلف فرقوں میں بٹ جانا،اور سنتوں کی پیروی کرنا،تفسیر قرطبی ج:4ص:160،تفسیر ابن کثیر ج:2ص:78،سنن درامی ج:2ص:314،کتاب سیر باب امتوں کا آپس میں فرقہ فرقہ ہونا،مصابح الزجاجۃ ج:4ص:179،کتاب فتن،امتوں کا آپس میں بٹ جانا،مسند ابی یعلی ج:6ص:341،وہ روایات جو ابونضرہ بن انس سے کی ہے،معجم الکبیر ج:8ص:273،اعتقاد اہل سنت ج:1ص:103،السنۃ لابن عاصم ج:1ص:32،الترغیب و الترھیب ج:1ص:44،حلیۃ الاولیاء ج:3ص:227)


یہ روایت ان حدیثوں کے مطابق ہے جو سرکار دو عالم ؐ سے تواتر کے ساتھ وارد ہوئی ہیں(کہ امت مسلمہ سابقہ امتوں کے راستے پر چلے گی)حدیث میں ہے کہ(بیشک تم ضرور پیروی کروگے اپنے پہلے والوں کے قدم بہ قدم اور دست بہ دست،اگر وہ بجوکے سوراخ میں بھی داخل ہوتے تھے تو تم بھی داخل ہوگے)راوی نے پوچھا کیا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مراد گذشتہ لوگوں سے یہود و نصاریٰ ہیں؟آپ نے فرمایا پھر کون؟(1)

اس لئے سابقہ امتوں کے افتراق میں شک کی تو کوئی گنجائش ہی نہیں ہے،قرآن مجید بہت وضاحت سے ان کے اختلاف پر روشنی ڈ التا ہے ۔

مسلمانوں کو فتنوں سے ڈرایا گیا اور انہیں خوف دلایا گیا

افتراق امت کی پیش گوئی کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ مسلمانوں کو اکثر فتنوں سے ڈ رایا گیا اور ان کے برے انجام سے آگاہ کیا گیا،انہیں بتایا گیا کہ ان کا امتحان لازمی ہے اور آزمائش حتمی ہے،ارشاد ہوتا ہے کہ:((وہ لوگ جو امر الٰہی کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈ رنا چاہئے کہ انہیں یا تو کوئی فتنہ دبوچ لے گا یا وہ عذاب الیم سے دوچار ہوجائیں گے)) ۔(2) ایک مقام پر ارشاد ہوا ہے کہ:اس فتنہ سے ڈ رو جو خاص ان لوگوں کو نہیں پہنچے گا جنھوں نے ظلم کیا ہے اور یہ جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے(3) اور پھر ارشاد ہوا:محمد نہیں ہیں مگر رسول ان کے پہلے بھی رسول گذرچکے ہیں،پس اگر وہ مرجائیں یا قتل ہوجائیں تو کیا تم اپنے پچھلے مذہب پر واپس ہوجاؤگے؟اور جو اپنے پچھلے پیروں واپس ہوگا اس سے خدا کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا،خدا عنقریب شکرگذاروں کو جزا دے گا ۔(4) ارشاد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) صحیح بخاری ج: 6 ص: 2269 ،اور ج: 3 ص: 1274 ،سنن ابن ماجہ ج: 2 ص: 1322 ،کتاب فتن،امتوں کا آپس میں فرقہ فرقہ ہونا،مجمع الزوائد ج: 7 ص: 261 ،مستدرک علی صحیحین ج: 1 ص: 93 ،صحیح ابن جبان ج: 15 ص: 95 ،مسند احمد ج: 2 ص: 511 ۔ 327 ،مسند ابی ہریرہ ج: 3 ص: 89 ،مسند طیالسی ج: 2 ص: 289 ،

( 2) سورہ نور آیت: 63 (3) سورہ انفال آیت: 25 (4) سورہ آل عمران آیت: 144


خداوند ہوا کہ((کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انھیں یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا اور آزمایا نہیں جائے گا؟اس سے پہلے بھی ہم لوگوں کو آزماچکے ہیں اور اللہ تو جانتا ہی ہے کہ ان میں جھوٹا کون ہے اور سچا کون ہے؟(1) ایک مقام پر خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے((اللہ مومنین کو اسی حال میں نہیں چھوڑ دےگا جیسے تم ہو یہاں تک کہ خبیث اور طیب الگ الگ ہوجائے اللہ تمہیں غیب کی خبر نہیں دینے جارہا ہے ۔(2)

سرکار دو عالم ؐ نے فرمایا:ہمارے بعد کا فرمت ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو))اور حدیث حوض میں آپ نے ارشاد فرمایا:

لیکن تم نے میرے بعد بہت سے حرکتیں انجام دیں اور پچھلے مذہب پر رجعت قہری کر بیٹھے))اس کے علاوہ بھی بہت سی حدیثیں ہیں جو آپ کے سابقہ سوالوں میں سے دوسرے سوال کے جواب میں پیش کی جاچکی ہیں ۔

اختلاف کے نتائج سے آگاہ کیا گیا اور اس کے خطروں سے خبردار کیا گیا

کسی بھی حقیقت پسند انسان کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ فتنوں سے بچنے کے لئے اور اختلاف سے پرہیز کی ہدایت کے لئے جو آیتیں اور احادیث وارد ہوئی ہیں ان کے مضامین بہت سخت ہیں اور ان میں بھیانک نتائج سے متنبہ کیا گیا ہے مثلاً جو لوگ اس فتنے میں ملوث ہوں گے انھیں انقلاب پذیر،مرتد،خبیث اور کافر جیسے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے،یہ فیصلہ کردیا گیا ہے کہ جو حق کی مخالفت کرکے کوئی فرقہ بنائے گا وہ اپنے فرقہ کے ساتھ جہنم میں جائے گا اس لئے کہ فرقہ حق سے خروج کے بعد کفر سے الحاق لازمی ہے،جو خسران اور ہلاکت کا سبب ہے،صرف اسلام کی ظاہری صورت اور اس کا اعلان دعوت کسی بھی طرح نفع بخش نہیں ہوگا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ عنکبوت آیت: 2 ۔ 3

( 2) سورہ آل عمران آیت: 179


قرآن مجید نے سابقہ امتوں کے کردار کو مقام مثال میں رکھ کے سمجھایا ہے ارشاد ہوا:اور ان لوگوں کی طرح مت ہوجاؤ جنھوں نے فرقے بنائے اور روشن آیتیں آنے کے بعد بھی اختلاف کر بیٹھے،ان کے لئے تو بڑا عذاب ہے،اس دن کچھ چہرے نورانی اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے ان سے کہا جائے گا کہ کیا تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے اب اپنے کفر کا مزہ چکھو اور جن کے چہرےنورانی ہوں گے وہ تو اللہ کی رحمت کے سائے میں ہوں گے اور ہمیشہ رحمت میں ہی رہیں گے ۔(1)

ارشاد خداوندی ہوا کہ:((اللہ چاہتا تو وہ لوگ جنھوں نے دلیلیں آنے کے بعد بھی آپس میں قتال کیا نہ کرتے لیکن انھوں نے اختلاف کیا پس ان میں سے کچھ تو مومن ہی رہے اور کچھ کافی ہوگئے)) ۔(2)

ایک اور مقام پر ارشاد ہوا:((اس سے اختلاف کرنے والے تو صرف بغاوت کی بنا پر اختلاف کر رہے ہیں اس لئے کہ یہ اختلاف،ان کے پاس نشانیاں آنے کے بعد شروع ہوا ہے،پس صاحبان ایمان کو تو اللہ نے ہدایت پر باقی رکھا اور اس اختلاف سے انھیں اپنی اجازت سے بچائے رکھا اور اللہ جسے چاہتا ہے راہ مستقیم کی ہدایت کرتا ہے))(3)

خطرناک اختلاف کے پیش نظر واضح و آشکار حجت کا ہونا لازم ہے

دین میں اختلاف،ایک خطرناک اختلاف ہے،دین میں فرقہ بندی ایک بہت ہی نقصان دہ عمل ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس کے خلاف واضح حجت اور کافی مواد موجود ہوتا کہ اگر کوئی دین سے خارج ہوجائے تو روز قیامت یہ عذر نہ پیش کرسکے کہ ہم کیا کریں؟سمجھ نہیں پائے بلکہ دلیلیں اتنی واضح ہونی چاہئیں کہ جو دین سے خارج ہوتا ہے وہ صرف اپنے دل کی گندگی و شقاوت ہی کی بنیاد پر نکلے یا پھر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ آل عمران آیت: 105 ۔ 107

( 2) سورہ بقری آیت: 253

( 3) سورہ بقری آیت: 213


پھر اس وجہ سے کہ وہ چمگادڑ کی طرح اندھا ہی رہنا چاہتا ہے اور حق کو دیکھنا ہی نہیں چاہتا اس کے سامنے سورج موجود ہے لیکن آنکھوں کو بند کئے پڑا ہے،سچائی سے غفلت یا تو اندھی تقلید کی وجہ سے ہے یا بےجا تعصب کی وجہ سے یا کوئی ایسا سبب ہے جسے کوئی معقول عذر نہیں کہا جاسکتا ۔ ارشاد درب العزت ہوتا ہے((ہم نے جہنم کے لئے بہت سے ایسےانسان و جنّات پیدا کئے ہیں جن کے پاس آنکھیں ہیں لیکن وہ دیکھ نہیں سکتے،کان ہے لیکن وہ سنتے نہیں ہیں،دل رکھتے ہیں لیکن سمجھاتے نہیں،وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے زیادہ گمراہ،اصل میں وہ غافل لوگ ہیں ۔(1)

آپ جانتے ہیں کہ انبیا کی بیعثت کا اہم ترین مقصد یہ ہے کہ حق پر حجۃ کا فیہ قائم ہوجائے،ہدایت کی علامتیں اور ایمان کے راستے واضح ہوجائیں تا کہ انسان جہنم سے بچنے اور جنت کے حاصل کرنے کا طریقہ جان لے،((تا کہ جو ہلاکت ہو وہ بغیر دلیل کے ہلاک نہ ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے))(2) (( اور تا کہ پیغمبروں کے بھیجنے کے بعد لوگوں کو خدا کے خلاف کوئی حجت میسر نہ ہو))(3) ارشاد خدائے تعالیٰ ہوتا ہے:((خدا کسی قوم کی ہدایت کرنے کے بعد گمراہ نہیں کیا کرتا،جب تک ان چیزوں کو واضح نہ کردے جن سے انھیں ڈ رنا ہے،اللہ تو ہر چیز سے واقف ہے))(4)

اسی طرح کے مضامین آیات کریمہ اور احادیث شریفہ سے مستفاد ہوتے ہیں جب اللہ یہ کہہ چکا ہے،خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور فرقے نہ بناؤ(5) اور یہ بھی ارشاد ہوا کہ((بیشک یہ میرا راستہ ہے جو بالکل سیدھا ہے،پس اس کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو،ورنہ تم خدا کے راستہ سے الگ ہوجاؤگے،اللہ اسی بات کی تم سے سفارش کرتا ہے تا کہ تم صاحب تقویٰ ہوجاؤ)) ۔(6)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ اعراف آیت:179 (2)سورہ انفال آیت:42

(3)سورہ نسائ آیت:165

(4)سورہ توبہ آیت:115

(5)سورہ آل عمران آیت:103

(6)سورہ انعام آیت:153


تو جب فرقہ بنانا اور اختلاف پیدا کرنا اتنا بڑا گناہ اور خطرناک عمل ہے تو کیا رفع اختلاف کے لئے یہ کافی ہے کہ حق کو مبہم چھوڑ دیا جائے کہ حبل متین کو شک کے تانے بانے میں الجھا دیا جائے یہ نہ بتایا جائے کہ حبل متین سے اعتصام کیسے ہوگا؟صراط مستقیم کیا ہے؟اور اس کی پیروی کرنے والوں کے لئے کیسے تحقق ہوگا؟سب کچھ تشنہ تفسیر رہے اور لوگوں کو اپنے طور پر اجتھاد کرنے کی کھلی چھوٹ مل جائے اس کے بعد پھر ہر فرقہ یہ دعویٰ کرنے لگے کہ حق تو فقط اسی کے پاس ہے اور دوسرے افراد باطل والے ہیں نہیں:بلکہ حق یہ ہے کہ خداوند عالم عادل اور کریم ہے،وہ کبھی نہیں چاہتا کہ اس کے بندے جہنم کے ایندھن بنیں،وہ یہ نہیں چاہتا کہ بندوں کے پاس جہالت کو رفع کرنے کے لئے واضح حجت نہ ہو اور قطعی عذر نہ ہو،خدا نہیں چاہتا ہے کہ حق کے بارے میں شک کی تھوڑی سی بھی گنجائش باقی رہ جائے اور نہ اتنا پیچیدہ ہوجائے کہ اصول کے بارے میں اجتھاد،تلاش،غور و فکر کی ضرورت محسوس کی جائے ۔

یہ تمام باتیں اس لئے عرض کررہا ہوں تا کہ آپ کو اس بات کا یقین ہوجائے کہ جب لوگ حقیقت سے اختلاف کی کوشش کرتے ہیں اور حق کو شک کے گھیرے میں لیکر بحث و مناظرہ کرتے ہیں تو حق کے پاس اپنے ثبوت کے لئے بہت ہی محکم دلیلیں اورروشن نشانیاں ہوتی ہین جن سے انکار کی بنیاد صرف دشمنی یا سیاہ بختی ہی ہوسکتی ہے ۔

اس بات کی مزید تائید خداوند عالم کے اس قول سے ہوتی ہے ارشاد ہوا((ان کے جیسے نہ ہوجانا جو دلیلیں آنے کے بعد بھی فرقہ بن گئے اور اختلاف کر بیٹھے(1) اس لئے کہ اختلاف و فرقہ بندی سے روکنے کے لئے کافی دلیلیں موجود تھیں اگر وہ لوگ اس کی پیروی کرتے اور عمداً ان دلیلوں کو نظرانداز نہ کرتے تو حق تک بہرحال پہنچ سکتے تھے ۔

خود سرور کائنات ؑ نے ارشاد فرمایا کہ:میں نے تمہیں روشنی میں کھڑا کردیا ہے،اس(روشنی)میں لا کے چھوڑا ہے جس کی راتیں بھی دن کی طرح روشن ہیں،اس کے باجود بھی گمراہ نہیں ہوگا مگر وہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ آل عمران آیت:105


جس کے مقدر میں ہلاکت ہے ۔(1)

اس لئے کہ حق واضح اور روشن ہے اگر امت خلوص دل سے طلب کرنے کی کوشش کرے تو ہرگز محروم نہیں رہے گی،فتنہ پرور راتیں اور امتحان کے اندھرے شبہ کی تاریکیاں،حق پر پردہ نہیں ڈ ال سکتی ہیں اور حق کی علامتوں کو ضائع کرسکتی ہیں نہ اس کے آثار مٹاسکتی ہیں،بشرطیکہ چشم بینا اور گوش شنوا ہو ۔

اختلاف کا سب سے بڑا سبب ریاست طلبی ہے

حق تو یہ ہے کہ اختلاف اور فرقہ بندی کا سب سے بڑا سبب اقتدار و حکومت ہے،لوگوں پر حکومت کرنے کی خواہش اور انسانوں پر تسلّط حاصل کرنے کا جذبہ وہ ہے جس کی وجہ سے دعوت اصلاح دینے والوں کے درمیان اختلاف اور انتشار پیدا ہوتا ہے

1 ۔ ہر انسان میں فطری پر حکومت و اقتدار کی خواہش ہوتی ہے اور کبھی کبھی یہ جذبہ بہت شدید ہوجاتا ہے،نتیجہ میں انسان حکومت وقت سے اختلاف کر کے اپنا ایک الگ گروہ بنا لیتا ہے

2 ۔ حق بہرحال تلخ ہوتا ہے اور حق کی حکومت کو عام انسان برداشت کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہے حالانکہ دعوت اصلاح کا پہلا اصول حکومت حقّہ کا قیام اور حق کا نفاذ ہے،ظاہر ہے کہ حق کو اکثریت برداشت نہیں کر پاتی اور اس کے خلاف علم بغاوت بلند کردیتی ہے چونکہ اصول پرست افراد جو حکومت حقہ کے ذمہ دار ہوتے ہیں،وہ حرف بہ حرف قانون کے پابند ہوتے ہیں اور قانون کی پابندی کرنا چاہتے ہیں،یہ بات بھی عام لوگوں پر گراں گذرتی ہے ۔

اسی کی طرف عمر بن خطاب نے اشارہ کیا تھا،جب امر خلافت کے سلسلے میں ابن عباس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) مسند احمد ج: 4 ص: 126 ،تفسیر قرطبی ج: 7 ص: 138 ،مستدرک علی صحیحین ج: 1 ص: 175 ،السنۃ لابن ابی عاصم ج: 1 ص: 19 ،معجم الکبیر ج: 18 ص: 247 ۔ 257 ،مصباح الزجاجۃ ج: 1 ص: 5 ۔


سے ان کی گفتگو ہورہی تھی تو عمر نے کہا تھا:خدا کی قسم اے ابن عباس!بے شک تمہارے چچازاد بھائی علی ؑ خلافت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں لیکن قریش ان کو برداشت نہیں کرپائیں گے،اس لئے کہ اگر انھیں حاکم بنادیا جائے تو وہ قریش کو حق کی تلخی کا مزہ چکھا کے رہیں گے،ان کی حکومت میں رخصت کی گنجائش نہیں ہوگی،نتیجہ میں لوگ ان کی بیعت توڑ دیں گے اور ان سے جنگ کرنا شروع کردیں گے ۔(1) امام جماعت ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس آدمی کے اندر امامت عامّہ کی بھی صلاحیت ہے ۔

اسلام میں پہلا اختلاف سلطنت ہی کے لئے ہوا اور یہ سب سے خطرناک اختلاف تھا

یہاں یہ بات بھی عرض کرتا چلوں کہ سب سے بڑا اور سب سے پہلا اختلاف جو امت اسلامیہ میں پیدا ہوا وہ خلافت و امامت کے سلسلے میں ہوا اور مصیبت یہ ہے کہ جیسے ہی حضور اکرم ؐ کی وفات ہوئی اس عظیم اختلاف میں امت مبتلا ہوگئی ۔

امامت اور خلافت کے موضوع پر صدر اسلام میں اتنے فتنے پیدا ہوئے،وہ چیخ پکار مچی اور اتنا ہنگامہ ہوا کہ جو بیان کے لائق نہیں ہے،یہاں تک کہ مخالفین اسلام بھی مسلمانوں پر طعن و تشنیع کرنے لگے اور یہ سلسلہ جاری ہے ۔

لٰہذا ہمیں اس بات پر غور کرنا بہت ضروری ہے کہ جب امامت اسلام کا سب سے اختلافی مسئلہ ہے تو اللہ نے اسے تشنہ تفسیر نہیں چھوڑا ہوگا بلکہ اس مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر اور اس میں گنجائش اختلاف ہونے کی وجہ سے اللہ نے سب سے زیادہ اسی کی وضاحت پر زور دیا ہوگا،اس مسئلہ کی شرعی حیثیت اور قانونی اہمیت کے پیش نظر اس کو سب سے زیادہ روشن،واضع صاف اور کھلا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)تاریخ یعقوبی ج:2ص:159،عمر بن خطاب کے ایام میں


ہوا ہونا چاہئے کہ یہ فتنہ انگیز راتوں میں بھی سورج کی طرح چمکتا ہوا نظر آئے تا کہ اتمام حجت کے بعد بھی اگر کوئی اختلاف کرے،روشن دلیلوں کے بعد بھی اگر کوئی ہٹ دھرمی سے کام لے،حجتوں کے غلبے کے باوجود اگر کوئی اختلاف پر اصرار کرے تو نگاہ اعتبار فوراً یہ فیصلہ کرلے کہ اس اختلاف کے نتیجہ میں مخالف کو صرف گمراہی،ہلاکت،ہمیشہ کا نقصان اور جہنم کا ٹھکانہ نصیب ہوگا ۔

اسلام،معرفتِ امام کو سختی سے واجب اور اس کی اطاعت فرض قرار دیتا ہے

مندرجہ بالا مضمون کی تائید میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں جیسے((جو مرجائے اور اپنے امام وقت کو نہ پہچانے وہ جاہلیت کی موت مرا ہے))یا((جو بغیر امام کے مرجائے وہ جاہلیت کی موت مرا ہے))اسی طرح کی بہت سی حدیثیں جو سابقہ سوالوں کے چوتھے سوال کے جواب میں گذرچکی ہیں ۔

ان احادیث سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ امام کو نہ پہنچاننے والا سخت سزا کا مستحق ہے،بلکہ ہلاکت کا حقدار ہے اور امام وقت کو امام تسلیم نہ کرنے سے اور اس کا یقین نہ رکھنے سے مخالف امام کے خلاف حجت واضحہ قائم ہوجاتی ہے،جس حجت سے نکلنانا ممکن ہے اور جہالت کا عذر ناقابل قبول ہے ۔

حاکم برحق کی مادی کمزوری یہ ہے کہ وہ قانون شرع میں رعایت نہیں کرتا

خصوصاً حاکم صالح کی اصول پسندی جس کی وجہ سے وہ نظام الٰہی کو چلانے کی ذمہ داری کا حامل ہوا،اس کو اجازت نہیں دیتی کہ حکومت کو برقرار رکھنے کے لئے اور اپنی سلطنت کو چلانے کے لئے شریعت کے معاملے میں نرم پالیسی اختیار کرے اور سیاست سے کام لے اور یہی اس کی مادّی کمزوری ہے جسے اگر وہ دور کرنا چاہے تو اسے دین سے سودے بازی کرنی پڑے گی اور اس کے بدلے میں قانون الٰہی کو اس کی تمام وضاحتوں کے ساتھ چھوڑ دینا پڑے گا،دین کی سختی اور تیزی جس کے اوپر عمل کے مطابق وعد و وعید کا ترتب ہوتا ہے اسے چھوڑنی پڑے گی،لیکن اس کی اصول پسندی اس بات کو گوارہ


نہیں کرے گی بلکہ وہ تو نفاذ قانون میں اتنا سخت ہوتا ہے کہ اہل دین تقویٰ اور اپنے خاص لوگوں کو بھی شریعت کے حدود سے آگے نہیں بڑھنے دیتا،اگر چہ وہ لوگ اس کی دعوت کا اعلان کرنا چاہتے ہیں اور حق سے متمسک بھی رہتے ہیں،لیکن وہ انھیں دین کی حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دیتا،تا کہ ان کے ذریعہ وہ دوسروں پر حجت قائم کرے اور انہیں اہل دین کو ایک نمونہ بنا کے پیش کرسکے ۔

ناممکن ہے کہ نبیؐ نے امامت کی طرف صرف اشارے پر اکتفا کی ہو

اسی وجہ سے یہ بات عقل میں نہیں آتی اور عام آدمی اسے ناممکن سمجھتا ہے کہ نبی ؐ نے امر خلافت کی وضاحت کے لئے صرف تلمیحات،اشارات اور کنایات پر اکتفا کیا ہے،صورت مسئلہ کا تو تقاضا یہ ہے کہ یہاں بیان صریح ہونا چاہئے اور ایسی وضاحت ہونا چاہئے جس میں شک کی کوئی گنجائش اور اشتباہ کا کوئ شائبہ بھی نہ رہ جائے کہ اگر کوئی حد سے نکلے بھی تو محض اپنے عناد اور دشمنی کی وجہ سے یا پھر وہ ایسا جاہل ہو جس کی جہالت کا عذر ناقابل قبول ہو،آپ نے ابھی جو فرمایا کہ حادثہ صلواۃ میں امامتِ ابوبکر کی طرف اشارہ ملتا ہے تو آپ کو یہ جاننا چاہئے کہ مسئلہ امامت،اشارات و کنایات سے حل ہونے والا نہیں ہے،اس کے لئے تو واضح اور روشن دلیل چاہئے ۔

اسلام کے پاس ایسے نظام کا ہونا ضروری ہے جو خلافت کی تکمیل کرتا ہو!

5 ۔ پانچویں بات یہ ہے کہ امر خلافت اسلام کا سب سے اہم مسئلہ بھی ہے اور سب سے زیادہ الجھا ہوا مسئلہ بھی ہے،یہ ناممکن ہے کہ نبی ؐ نے صرف ابوبکر کی امامت کی طرف اشارہ کو کافی سمجھا ہو یا کسی دوسرے شخص کی طرف اشارہ کردیا ہو،بلکہ کسی ایک شخص کو امام معیّن کرنا بھی کافی نہیں ہوگا چاہے کتنی ہی وضاحت کے ذریعہ معیّن کیا جائے ۔

یہاں تو ضرورت ایک ایسے نظام کام کی ہے،ایک ایسے پیمانے کی ہے کہ جو پیمانہ ہمیشہ ہمیشہ تک قائم رہے کہ جب بھی کوئی امام دنیا سے اٹھے دوسرے امام اسی اصول و ضوابط کے معیار پر معیّن


ہوجائے یعنی ایک معیار ہونا چاہئے جس کے مطابق امام کی شناخت ہوسکے،نظام بھی ایسا ہو جو واضح دلیلوں اور روشن حجتوں کا حامل ہو جس سے مسلمان کسی بھی دور میں اختلاف نہ کرسکے اور جس کی مخالفت کے لئے کوئی عذر نہ پیش کرسکے،چونکہ اسلام رہتی دنیا تک باقی رہے گا اس لئے وہ نظام جس کے معیار پر خلیفہ کا تعّین ہوتا ہے،اسے بھی اتنا پائدار ہونا چاہئے کہ وہ رہتی دنیا تک قائم رہے ۔

آپ کے سابقہ سوالوں کے چوتھے سوال کے جواب میں یہ تمام باتیں عرض کی جاچکی ہیں،ظاہر ہے کہ انہیں دُہرانے کی یہاں ضرورت نہیں ہے،جو حق کو پہچاننا چاہتا ہے،حقیقت تک پہنچنا چاہتا ہے اور اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ ان عبارتوں کا مطالعہ کرے ۔

آپ کے سوالوں کا یہی جواب ممکن ہوسکا ہے،میں اللہ سے مدد اور توفیق،تسدید اور تائید کا سوال کرتا ہوں،وہی ہمارے لئے کافی ہے اور بہترین وکیل ہے ۔



سوال نمبر ۔ 7

کیا یہ صحیح ہے کہ ائمہ ہدیٰ علیہم السلام ہی معاملات زندگی اور ضروریات دین کے علم سے مخصوص ہیں،دوسرے لوگ نہیں،جب کہ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے کہ((آج میں نے تمہارے دین کو کامل کیا،تم پر نعمتیں تمام کیں اور میں تمہارے لئے دین اسلام سے راضی ہوا،(1)

جواب: ۔ اس سوال کے جواب میں چند باتیں عرض کی جارہی ہیں

ائمہؑ کا علم دین سے اختصاص اکمال دین کے منافی نہیں ہے

1 ۔ پہلی بات یہ کہ ائمہ ہدی علیہم السلام کا اختصاص بالعلم،اکمال دین کے منافی نہیں ہے اس لئے کہ اکمال دین کا مطلب ہے اس کے تمام احکام کی تشریع ہونا اور امت کے حق میں اسے صحیح قرار دینا،لیکن لوگوں تک اس دین کا پہنچنا اور اس کی تبلیغ معنائے اکمال سے خارج ہے،یہ تو ایک الحاقی مرحلہ ہے جو قانون بننے اور اس قانون کو صحیح قرار دینے کے بعد کی ضرورت ہے ۔

مثلاً ہمارے اس دور میں بھی قانون ساز اسمبلی یا کونسل قانون بناتی ہے اور تا امکان ایسے قوانین(جو ضروریات انسانی کے تقاضوں کو پورا کرنے میں کامل صلاحیت رکھتے ہیں)وضع کرتی ہے،پھر اس قانون کو می ڈ یا کے حوالے کرتی ہے تا کہ اس کا اعلان سرکاری جریدوں میں یا ری ڈ یو و غیرہ پر ہوجائے کیونکہ قانون بنانے کا فائدہ اس وقت تک حاصل نہیں ہوگا جب تک قانون لوگوں تک پہنچا نہ دیا جائے تا کہ لوگ اس پر عمل کرنا شروع کردیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں،اب دین اسلام کی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) سورہ مائدہ آیت 3


طرف آئیں،اللہ نے اسلام کا قانون وضع کیا،لیکن صرف قانون وضع کردینے سے لوگوں کو کای فائدہ ہوا؟اس لئے لطف الٰہی کے قاعدہ کو تسلیم کرتے ہوئے فرقہ امامیہ کہتا ہے کہ اس کی حکمت اور لطف و کرم کا تقاضا یہ ہے کہ وہ پیغمبروں اور اماموں کو بھیجے،یہ ارسال(انبیا و ائمہ علیہم السلام کا خدا کی طرف بھیجا جانا)اس پر واجب ہے،لیکن یہ ایک دوسری بات ہے اس کا اکمال دین سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یعنی دین کا کامل ہونا اس کی تبلیغ پر موقوف نہیں ہے ۔

اتنا ہی بتا دینا کافی ہے کہ احکام دین کا مرجع کون ہے؟

لیکن اکمال دین کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امت کہ ہر فرد کو احکام دین سے واقف کرادیا جائے اور دین کا ہر فرعی حکم ان تک بلکہ ان میں سے ہر ایک تک پہنچا دیا جائے،بلکہ حصول علم کا امکان پیدا کردینا کافی ہے اور یہ امکان اس وقت بہرحال حاصل ہوجاتا ہے جب ائمہ ؑ کے بارے میں یہ مان لیا جاے کہ وہ اللہ سے علم حاصل کرتے ہیں اور ان کے پاس علم حاصل کرنے کا طریقہ اور ذریعہ موجود ہے،یہی وجہ ہے کہ وہ امت پر امام نصب کیے گئے ہیں،انھیں اللہ نے حلال اور حرام کی دلیل بنایا ہے،تشریع و احکام کی معرفت کا مرجع قرار دیا ہے،انھیں کو امت کے اوپر حجت کافیہ بنایا ہے تا کہ امت دین کے معاملات میں ان کی طرف رجوع کرے اور ان سے دین کو سمجھے ۔

اسے یوں سمجھ لیجئے کہ دور نبی ؐ میں بھی امت کے تمام افراد تو دین کے قوانین اور اس کے تمام احکام سے واقف نہیں تھے،دین کے تمام احکام کا علم تو صرف نبی ؐ سے مخصوص تھا البتہ امت کے لئے یہ ممکن تھا کہ نبی ؐ کی طرف رجوع کرکے دین کے احکام و قوانین کو حاصل کرلے،اس لئے امت کو نبی ؐ کی اطاعت کا حکم دیا گیا تھا اور یہ کہ نبی ؐ سے دین حاصل کریں ۔

بلکہ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جمہور اہل سنت کے نزدیک بھی عام مسلمان ہر دور میں احکام دین سے جاہل رہتا ہے وہ احکام جو کتاب و سنت میں بیان کردئے گئے ہیں اگر چہ سنت کے تعین میں اختلاف ہے،مگر بہرحال مسلمان ان احکام سے ناواقف رہتا ہے اور جب تک ان فقیہوں کی طرف


رجوع نہیں کرتا جنہیں احکام دین میں دلیلوں کے ذریعہ صلاحیت استنباط حاصل ہے تو اسے دین کی معرفت نہیں ہو پاتی حالانکہ اس سے دین کے کامل ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔

اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ شیعوں کے نزدیک ائمہ اہل بیت ؑ ان فقیہوں سے زیادہ حقدار ہیں کہ امت ان کی طرف رجوع کرے،اس لئے کہ وہ معصوم عن الخطا ہیں اور ان پر بھروسہ کر کے امت کو کسی طرح کے نقصان کا امکان نہیں ہے جب کہ فقہا کی طرف رجوع کرنے سے بہت سے احکام میں امت نقصان اٹھاتی رہتی ہے،اس لئے کہ فقہا کا علم بہرحال ناقص ہے اور ان سے اکثر غلطیان سرزد ہوتی رہتی ہیں اور اختلاف ہوتا رہتا ہے،جیسا کہ ظاہر ہے ۔

البتہ اگر ائمہ اہل بیت علیہم السلام بھی(معاذ اللہ)علم دین کو(جو ان کے پاس ہے)چھپانا شروع کردیں اور اس کے افادہ میں امت کے ساتھ بخالت سے کام لیں تو چونکہ علم دین ان کے لئے مخصوص ہے اس لئے ایسی صورت میں امت نقصان سے دوچار ہوگی اور علم سے محروم رہ جائے گی ۔ لیکن یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ ائمہ اہل بیت ؑ نے افادہ علم میں کبھی کوتاہی نہیں کی اور طالبان علم سے کبھی اپنا علم نہیں چھپایا بلکہ وہ حضرات ؑ ہمیشہ امت کی رشد و ہدایت کے لئے تیار رہے اور ان کی خواہش رہی کہ امت کے اندر دین حقیقی کا طور و طریقہ اور مذہبی ماحول پیدا ہوسکے اس سلسلے میں دلیل کے طور پر مولائے کائنات ؑ کا وہ مشہور قول پیش کرتا ہوں کہ آپ نے فرمایا:مجھ سے جو پوچھنا چاہو پوچھ لو قبل اس کے کہ مجھے اپنے ہاتھوں سے کھودو!(1)

اور اسی طرح کا اعلان امام جعفر صادق ؑ نے بھی فرمایا جو آپ کے تیسرے سوال کے جواب میں تحریر کیا جاچکا ہے ۔

اب یہ الگ بات ہے کہ امت نے اپنے بادشاہوں اور سلاطین کے رعب و اثر میں آکے خود ہی ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے منھ موڑلیا،بلکہ ان پر زندگی تنگ کردی اور انہیں گوشہ نشین ہونے پر مجبور کردیا،نتیجہ میں امت ان کے خیر سے محروم رہی اور ان کے علوم و معارف سے فائدہ نہیں اٹھاسکی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) اس کا مدرک گذشتہ سوال نمبر تین کے جواب میں گذرچکا ہے


اس کے باوجود وہ حضرات اپنے پاکیزہ علم کو نشر کرتے رہے اور شیعہ ان سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ شیعوں کو ان کے علوم کا بہترین حصہ حاصل ہوا ۔

آپ کے تیسری سوال کے جواب میں یہ بات عرض کی جاچکی ہے ۔

جمہور اہل سنت کی روایتوں کے مطابق بھی بہت سے صحابہ علم میں ممتاز تھے

2 ۔ دوسری بات یہ ہے کہ جمہور اہل سنت کا دعویٰ ہے کہ بہت سے صحابہ کو بعض علوم دینیہ میں خاص معرفت حاصل تھی اور شریعت کے کچھ احکام وہ انفرادی طور پر جانتے تھے،اہل سنت نے اس سلسلے میں حدیثیں بھی روایت کی ہیں ۔ مسروق سے روایت ہے کہ ہم عبداللہ بن عمر کے پاس بیٹھا کرتے تھے اور ان سے حدیثیں لیتے تھے مسروق کہتے ہیں کہ ان کے پاس ایک دن ابن نمیر بیٹھے تھے تو ہم نے عبداللہ بن مسعود کا ذکر کیا عبداللہ بن عمر نے کہا:تم نے ایسے شخص کو یاد کیا ہے کہ جب سے میں نے پیغمبر ؐ سے ان کے بارے میں ایک جملہ سنا ہے،اس وقت سے میں ان سےمحبت کرنے لگا ہوں حضور ؐ نے فرمایا کہ:قرآن کو چار افراد سے حاصل کرو!آپ نے ابن ام عبد کے نام سے ابتدا کی پھر فرمایا:معاذ بن جبل،ابی بن کعب اور ابوحذیفہ کے غلام سالم ۔(1)

(ابن ام عبد سے مراد عبداللہ بن مسعود ہیں)

ابن غنم کہتے ہیں کہ ہم نے ابوعبیدہ اور عبادہ ابن صامت سے سنا،جب ہم عبداللہ کے پاس بیٹھے تھے،وہ دونوں کہہ رہے تھے:معاذ بن جبل انبیا کے بعد اولین و آخرین میں سب سے بڑے عالم ہیں اور بیشک اللہ ان کے ذریعہ ملائکہ پر فخر کرتا ہے(2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) صحیح مسلم ج: 3 ،ص: 1913 ،اور اسی طرح،ص: 1914 ،صحیح بخاری ج: 3 ،ص: 1372 ،ص: 1385 ،ج: 4 ص: 1912 ،المستدرک علیٰ صحیحین،ج: 3 ص: 250 ،سنن الترمذی،ج: 5 ص: 673 ،السنن الکبریٰ للنسائی،ج: 5 ص: 9 مسند احمد،ج: 2 ،ص: 189

( 2) المستدرک علیٰ صحیحین،ج: 3 ص: 304 ،سیر اعلام النبلاء،ج: 1 ص: 460 ،کشف الحثیث ج: 1 ،ص: 178 ،لسان المیزان ج: 4 ،ص: 118


ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک دن عمر نے جابیہ میں خطبہ دیا اور کہا:اے لوگو!جو قرآن کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے وہ ابی ابن کعب کے پاس جائے،جو فرائض کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے وہ زید بن ثابت سے رجوع کرے،جو فقہ کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے وہ معاذ بن جبل کے پاس جائے،اور جو مال چاہتا ہے وہ میرے پاس آئے مجھے(عمر کے خیال کے مطابق)اللہ نے مال کا مالک اور اس کا تقسیم کرنے والا بنایا ہے ۔(1)

ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں:عمر کے بارے میں یہ روایت صحیح ہے کہ انھوں نے کہا:جو فقہ چاہتا ہے وہ معاذ کے پاس جائے ۔(2)

یزید بن عمیر کہتے ہیں کہ جب معاذ ابن جبل مرنے لگے تو لوگوں نے ان سے کہا ابوعبدالرحمٰن ہمیں وصیت کرو،انھوں نے کہا مجھے بٹھادو،پھر بولے:علم اور ایمان کے مکانات ہیں جو انھیں تلاش کرے گا وہ حاصل کرلے گا یہ بات تین مرتبہ کہی،پس علم چار آدمیوں سے طلب کرو،عویمر ابودردا سے،سلمان فارسی سے،عبداللہ بن مسعود سے اور عبداللہ بن سلام سے،جو یہودی سے مسلمان ہوئے ہیں،میں نے پیغمبر ؐ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ وہ جنت میں داخل ہونے والے دس افراد میں دسویں ہیں ۔(3)

اب میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ آخر ان لوگوں کے دعوائے اختصاص بالعلم پر آپ کو اعتراض کیوں نہیں ہے؟اور ائمہ اہل بیت ؑ کے بارے میں اعتراض کیوں ہے؟ ۔ ان لوگوں کا بعض علوم سے اختصاص کمال دین کے منافی کیوں نہیں ہے؟اور ائمہ اہل بیت ؑ کا اختصاص کمال دین کا منافی کیوں ہے؟جب کہ ائمہ اہل بیت ؑ کا علم ان کے جد امجد مولائے کائنات علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے میراث میں ملا ہے،وہ علی ؑ جن کے بارے میں سلونی کے دعویٰ کو آپ غلط نہیں کہہ سکتے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)مجمع الزوائد ج:1ص:135،مستدرک علی صحیحین ج:3ص:306سنن کبری للبیھقی ج:6ص:210،سنن کبریٰ للنسائی ج:2ص:156،

(2)فتح الباری ج:7ص:126

(3)مستدرک علی صحیحین ج:3ص:304،صحیح ابن حبان ج:16ص:122،سنن کبریٰ للنسائی ج:5ص:70،مسند احمد ج:5ص:242


وہ صحابہ کے علما اور ان کے سادات میں شمار ہوتے ہیں اگر آپ اہل بیتؑ کی ایک جماعت شیعوں کے اس دعوے کو قبول نہ کریں کہ علی صحابہ میں اعلم اور ان کے سردار ہیں۔

اہل سنت کو اہل بیتؑ کے ممتاز بالعلم ہونے کا اعتراف ہے

3۔ تیسری بات یہ ہے کہ صرف شیعہ ہی اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ ائمہ اہل بیتؑ علم میں امتیازی شان رکھتے ہیں،بلکہ اکثر اہل سنت بھی اس کے قائل ہیں۔ 1۔ پیغمبر کی مشہور حدیث ہے کہ علیؑ مسلمانوں میں اعلم یا صحابہ میں اعلم ہیں اور ان سب سے افضل ہیں))(1) اور سب سے بڑے قاضی ہیں۔ (2) -2۔ عبداللہ بن مسعود سے حدیث ہے کہ قرآن سات حروف پر نازل ہوا اور ہر حرف کا ظاہر اور باطل ہے اور علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہی کو اس کے ظاہر و باطن کا علم ہے۔ (3)

3۔ ابن عباس کہتے ہیں علیؑ کے پاس ستّر ایسے عہد(مجموعہ علمی جسے رسول خداؐ نے عطا فرمایا تھا)ہیں جن میں سے ان کے غیر کو ایک بھی عہد حاصل نہیں ہے۔ (4)

4۔ انس بن مالک کہتے ہیں کہ نبیؐ نے علیؑ سے کہا کہ امت کے اختلاف کی میرے بعد تم ہی وضاحت کروگے(تمہارے ہی ذریعہ اختلاف ختم ہوگا)(5)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)مستدرک علی صحیحین ج:3ص:57،مجمع الزوائد ج:9ص:101۔102،فردوس بما ثور الخطاب ج:1ص:370،مسند احمد ج:5ص:26،معجم الکبیر ج:1ص:94،ج:20ص:229،المصنف لابن ابی شیبۃ ج:6ص:374۔371،المصنف لعبد الرزاق ج:5ص:490،الاحاد و المثانی ج:1ص:142،

(2)چھٹے سوال کے جواب میں اس کا مدرک گذرچکا ہے

(3)تاریخ دمشق ج:42ص:400،فیض القدیر ج:3ص:46،حلیۃ الاولیاء ج:1ص:65،ینابیع المودۃ ج:1ص:215،ج:3ص:146

(4)تاریخ دمشق ج:42ص:391،السنۃ لابن ابی عاصم ج:2ص:564،علی بن ابی طالبؑ کے حالات میں،مجمع الزوائد ج:9ص:113،معجم الصغیر ج:2ص:161،فیض القدیر ج:4ص:357،تھذیب التھذیب ج:1ص:173،تھذیب الکمال ج:2ص:311،ینابیع المودۃ ج:1ص:233،حلیۃ الاولیاء ج:1ص:68،علی بن ابی طالبؑ کے حالات میں،

(5)چوتھے سوال کے جواب میں اس کا مدرک گذرچکا ہے


5 ۔ شافعی کہتے ہیں:علی ؑ نہ ہوتے تو باغیوں کے بارے میں حکم معلوم ہی نہ ہوتا ۔(1)

6 ۔ اور اب تمام باتوں سے اوپر امیرالمومنین ؑ کے بارے میں ایک قول مشہور اور متواتر ہے کہ آپ ؑ ہی شہر علم نبی ؐ کا در ہیں ۔(2)

نبی کی حکمت کے دروازہ ہیں ۔(3) علم نبی ؐ کے وارث ہیں،(4) علوم کے خزانہ ہیں،(5) خازن ہیں،(6) اور ظرف قابل ہیں ۔(7)

7 ۔ خود امیرالمومنین ؑ فرماتے ہیں کہ مجھے پیغمبر ؐ نے علم کے ہزار ابواب تعلیم فرمائے اور ہر باب سے مجھ پر علم کے ہزار باب کھلے ۔

اس حدیث کو جمہور اہل سنت نے روایت کیا ہے ۔(8)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( 1) صواعق محرقہ ص: 79

( 2) چھٹے سوال کے جواب میں اس کا مدرک گذرچکا ہے،اور کتاب الغدیر میں بھی ہے ج: 6 ص: 61

( 3) سنن ترمذی ج: 5 ص: 637 ،حدیث خیثمہ ص: 200 ،حلیۃ الاولیاء ج: 1 ص: 64 فضائل الصحابہ ج: 2 ص: 31 ،تھذیب الاسماء ص: 319 ،علل ترمذی للقاضی ص: 375 ،فیض القدیر ج: 3 ص: 46 ،میزان الاعتدال ج: 5 ص: 53 ،ج: 6 ص: 31 ،ص: 279 ،المجروحین ج: 2 ص: 94 ،لسان المیزان ج: 4 ص: 144 ،ج: 5 ص: 19 ،الکامل فی الضعفاء الرجال ج: 5 ص: 177 ،الکشف الحثیث ص: 214 ،تھذیب الکمال ج: 21 ص: 277 ،تاریخ بغداد ج: 11 ص: 203 ،علل الدار قطنی ج: 3 ص: 247 ،سوالات البرذعی ص: 519 ،کشف الخفاء ج: 1 ص: 235 ،

( 4) چھٹے سوال کے جواب میں اس کا مدرک گذرچکا ہے

( 5) تاریخ دمشق ج: 42 ص: 385 ،فیض القدیر ج: 4 ص: 356 ،میزان الاعتدال ج: 3 ص: 449 الکامل فی الضعفاء الرجال ج: 3 ص: 101 ،التدوین فی اخبار قزوین ج: 1 ص: 89 ،علل متناھیہ ج: 1 ص: 226 جامع الصغیر ج: 2 ص: 177 ،حدیث 5593 ،ینابیع المودۃ ج: 1 ص: 159 ۔ 389 ۔ 390 ،ج: 2 ص: 96 ۔ 77 ،مناقب للخوارزمی ص: 87 ،شرح نہج البلاغہ ج: 9 ص: 165

( 6) شرح نہج البلاغہ ج: 9 ص: 165 (7) کفایۃ الطالب ص: 167 ۔ 168 ،باب 37

( 8) کنزالعمال ج: 13 ص: 114 ۔ 115 ،حدیث: 36372 ،تاریخ دمشق ج: 42 ،ص: 385 ،سیر اعلام نبلاء ج: 8 ص: 24 ۔ 26 ،البدایۃ و النہایۃ،ج: 7 ص: 360 ،فتح الباری ج: 5 ص: 363 ،میزان الاعتدال ج: 2 ص: 401 ج: 4 ص: 174 ،الکامل فی الضعفاء ج: 2 ص: 450 ،کشف الحثیث ج: 1 ص: 160 ،المجروحین ج: 2 ص: 14 ،علل متناہیہ ج: 1 ص: 221 ،درر السمطین ص: 113 ،ینابیع المودۃ ج: 1 ص: 222 ۔ 231


شیخ صدوق ؒ نے پانچ طریقوں سے امیرالمومنین ؑ سے روایت کیا ہے اور بیس سے زائد طریقوں سے آپ کی اولاد طاہرین میں سے ائمہ ؐ سے نقل کیا ہے،اس کے ساتھ ہی کچھ الفاظ بھی وارد کئے ہیں،جن سے اس مضمون کی تائید ہوتی ہے ۔(1)

بکیر کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے اس حدیث کی روایت کی ہے جس نے ابوجعفر محمد باقر علیہ السلام سے یہ روایت سنی ہے پھر فرمایا:(ان ہزار ابواب میں سے)سوائے ایک باب کے،دوسروں کے لئے کوئی باب بھی نہیں کھلا صرف ایک باب یا دو باب اور جہاں تک میرا علم ساتھ دیتا ہے ایک ہی باب فرمایا تھا ۔(2)

ابوبصیر کی حدیث میں ہے کہ ان ابواب میں سے قیامت تک لوگوں کو صرف دو حرفوں کا علم حاصل ہوگا ۔(3)

یہ بھی مشہور ہے کہ عمر اور ابوبکر،خاص طور سے عمر پیچیدہ مسائل میں علی ؑ ہی کے در پر آتے تھے،ابھی چوتھے سوال کے جواب میں یہ بات گذرچکی ہے کہ ثاقب ابن شماس ابن قیس نے علی ؑ کی بیعت کے وقت کہا تھا کہ لوگوں سے نہ آپ کا مرتبہ پوشیدہ ہے نہ خود آپ سے آپ کا مرتبہ پوشیدہ ہے،آپ اپنی منزل سے خدا نخواستہ جاہل نہیں ہیں،لوگ جن باتوں کو نہیں جانتے ان کے لئے آپ کے محتاج ہیں اور آپ اپنے علم کی وجہ سے کسی کے محتاج نہیں ہیں ۔(4)

یہاں تک کہ خلیل ابن احمد فراہیدی سے علی ؑ کی امامت پر بھرپور دلیل مانگی گئی تو انھوں نے کہا:((احتیاج الکل الیہ و استغناء عن الکل))حضرت علی علیہ السلام کی امامت کا ثبوت یہ ہے کہ سب علم میں علی ؑ کے محتاج ہیں اور علی سب سے بےنیاز ہیں(کسی کے محتاج نہیں)(5)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)الخصاص ص:164 (2)الخصاص ص:642۔252،

(2)الخصال ص:649

(4)تاریخ یعقوبی ج:2ص:179

(5)معجم رجال الحدیث ج:8ص:81،خلیل نحوی کی سوانح حیات


تو علی ؑ کی معصوم اولاد یعنی ائمہ اہل بیت ؑ کو بھی علی ؑ کو بھی علی ؑ کا علم اسی طرح میراث میں ملا جس طرح علی ؑ کو علم پیغمبر ؐ میراث میں ملا ہے اور پیغمبر ؐ کو انبیائے ماسبق کا علم میراث میں ملا ہے،ائمہ ؑ علم علی ؑ کے وارث علی ؑ پیغمبر ؐ کے وارث اور پیغمبر ؐ علم انبیائے ماسلف کے وارث،اسی لئے شیعہ بھی علم دین کی روایت انھیں ائمہ اہل بیت ؑ سے نقل کرتے ہیں.

ائمہ اہل بیت ؑ کی برکت سے ہی شیعوں کا دینی ماحول اور ثقافت علمی پروان چڑھتی ہے ۔

آپ کے تیسرے سوال کے جواب میں بھی کچھ باتیں عرض کی گئیں جو یہاں پر نفع بخش ہیں ۔

والحمد لله رب العالمین