فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ
( ترجمہ فی رحاب العقیدۃ)
مولف: آیتہ اللہ العظمیٰ سید محمد سعید طباطبائی حکیم(مدظہ العالی)
ترجمہ: مولانا شاہ مظاہر حسین
بسم الله الرحمن الرحیم
فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ جلد سوم
(ترجمہ فی رحاب العقیدۃ)
مولف
آیت اللہ العظمی سید محمد سعید طباطبائی حکیم (مد ظلہ العالی)
ترجمہ : مولانا شاہ مظاہر حسین
دوسری جلد
ناشر : انتشارات مرکز جہانی علوم اسلامی (قم ایران)
پہلاایڈیشن سنہ 1428 ھ مطابق سنہ 2007 ء سہ 1326 ھ شمسی
عرض ناشر
خدا وند متعال کی لامتناہی عنایتوں اور ائمہ معصومین کی لاتعداد توجہات کے سہارے آج ہم دنیا میں انقلاب تغیر مشاہدہ کررہے ہین وہ بھی ایسا بے نظیر انقلاب اور تغیر جو تمام آسمانی ادیان میں صرف دین " اسلام" میں پایا جاتا ہے
گویا عصر حاضر میں اسلام نے اپنا ایک نیا رخ پیش کیا ہے یعنی دنیا کے تمام مسلمان بیدار ہوکر اپنی اصل ،(اسلام)کی طرف واپس ہورہے ہیں اور اپنے اصول وفروع ی تلاش کررہے ہیں-
آخر ایسے انقلاب وتغیر کی وجہ کیا ہوسکتی ہے ؟ سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم اس بات پرغور کریں کہ اس وقت اس کے آثار تمام اسلامی ممالک حتی مغربی دنیا میں بھی رونما ہوچکی ہے ۔اور دنیا کے آزاد فکر انسان تیزی کے ساتھ اسلام کی طرف مائل ہورہے ہیناور اسلامی معارف اور اصول سے واقف اور آگاہ ہونے کے طالب ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اسلام دنیا والوں کو ہرروز کونسا جدید پیغام دے رہا ہے ؟
ایسے حساس اور نازک موقعوں پر ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسلام کوکسی قسم کی کمی اور زیادتی کے بغیر واضح الفاظ، قابل درک ، سادہ عبارتوں اورآسان انداز مین عوام بلکہ دنیا والوں کے سامنے پیش کریں اور جو حضرات اسلام اور دیگر مذاہب سے آشنا ہونا چاہتے ہیں ہم اسلام کی حقیقت بیانی سے ان کی صدیوں ی پیاس بجھادیں اور کسی کو اپنی جگہ کوئی بات کہنے یا فیصلہ لینے کا موقع نہ دیں۔
لیکن اس فرق کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ان سے تال میل نہ رکھا جائے یا ان کا نزدیک سے تعاون نہ کیا جائے ہونا تو یہ چایئے کہ تمام مسلمان ایک ہوکر ایک دوسرے کی مدد کریں اور اپنے اس آپسی تعاون اور تال میل کے سہارے مغرب کی ثقافتی حملوں کا جواب دیں اور اپنی حیثیت اور وجود کا اظہار کریں نیز اپنے مخالفین کو ان کے منصوبوں مین بھی کامیاب ہونے نہ دیں
سچ تو یہ ہے کہ ایسی مفاہمت ، تال میل ،مضبوطی اور گہرائی اسی وقت آسکتی ہے جب ہم اصول وضوابط کی رعایت کریں اس سے بھی اہم یہ ہے کہ تمام اسلامی فرقے ایک دوسرے ک معرفت اور شناخت حاصل کریں تاکہ ہر ایک کی خصوصیت دوسرے پر واضح ہو ، کیونکہ صرف معرفت سے ہی سوئے تفاہم ،غلط فہمی اور بدگمانی دورہوجائے گی اور امداد ،تعاون کا راستہ بھی خودبخود کھل جائے گا۔
آپ کے سامنے موجودہ " فی رحاب العقیدہ: نامی کتاب حضرت آیت اللہ العظمی سید محمد سعید حکیم دام ظلہ کی انتھک اور بے لوث کوششوں کا نتیجہ ہے جیسے اپنی مصروفیتوں کے باوجود کافی عرق ریزی کے ساتھ ، حوزہ علمیہ کھجوا بہار کے افاضل جناب مولانا مظاہر حسین صاحب نے ترجمہ سے آراستہ کیا اور حوزہ علمیہ کے ہونہار طالب افاضل نے اپنی بے مثال کوششوں سے نوک پلک سنوارتے ہوئے اس کتاب کی نشر واشاعت میں تعاول کیا ہے لہذا ہم اپنے تمام معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خداوند منان سے دعا گو ہیں کہ ہو ان تمام حضرات کو اپنے سایہ لطف وکرم میں رکھتے ہوئے روز افزوں ان کی توفیقات میں اضافہ کرے اور لغزشوں کو اپنی عفو وبخشش سے درگزر فرمائے ۔ آمین
مرکز جہانی علوم اسلامی
معاونت تحقیق
فہرست
عرض ناشر 3
فہرست 14
پیش لفظ 29
سوال نمبر۔8 33
مذہب شیعہ کے مخالف روایتوں پر عمل کرنا جائز نہیں 34
جن کی اہل سنت حضرات توثیق یا جرح کرتے ہیں ان پر اعتبار کرنے کی شیعوں کے یہاں کوئی گنجائش نہیں 35
عام معنائے صحابی کے دائرے میں آنے والے ہر صحابی کی روایت قابل قبول نہیں 36
بطور عموم عدالت صحابہ پر ابوزرعہ کا استدلال 38
صحابہ کے بارے میں اہل سنت کی غفلت کا نتیجہ 40
اہل سنت کی نظر میں رجال جرح و تعدیل مطعون ہیں 41
ذہبی کے بارے میں سبکی کے خیالات 64
ذہبی کے بارے میں قنوجی اور سخاوی کیا کہتے ہیں 69
معاصرین ایک دوسرے پر طعن کرتے ہیں 70
ذہبی پھر کہتے ہیں 72
جرح وبحث اور رائے، مذہب اور سلوک ( مسلک ) کے اعتبار سے 74
اہل سنت کے امام اور ان کے ہم پلہ افراد میں کوئی بھی طعن سے محفوظ نہیں ہے 77
پردے میں رہنے دیں پردہ اٹھائیں 80
حدیثیں قبول کرنے میں اہل سنت کے غیر متوازن اصول 82
اہل سنت ثقہ راوی سے حدیث لے لیتے ہیں چاہے وہ راوی ان کا ہم مذہب نہ ہو 83
اہل سنت مذہبی تعصب کی وجہ سے ثقہ راویوں سے حدیث نہیں لیتے 84
اہل سنت کی نواصب کے ساتھ جانبداری اور شیعوں سے گریز. ایک غیر متوازن نظریہ 86
خوارج کے بارے میں اہل سنت کا نظریہ 88
شیعوں سے گریز کیوں اور نواصب کی طرف میلان کیوں. ابن حجر کی توجیہ 90
حدیث “حب علی علیہ السلام ایمان “اور “غض علی علیہ السلام نفاق” پر ایک نظر 91
ایمان اور نفاق کے درمیان پہچان کا نام علی(ع) ہے 97
علی(ع) نے نواصب کے آباء و اجداد کو قتل کیا صرف اسی وجہ سے نواصب کے لئے بغض علی(ع) جائز ہے؟ 99
مذکورہ حدیث کا مخصوص کرنا اس کے ظاہری معنی سے خروج نہیں لازم آتا 100
انضار کی فضیلت اپنی جگہ اور اس حدیث کی حجیت اپنی جگہ 100
منافق دیندار سچے مگر شیعہ...نہیں 102
ابن حجر کا یہ احتمال دو باتوں کی وجہ سے ہے 102
ناصبی کے نفاق کی وضاحت 102
نواصب کا علی(ع) سے بغض اہل سنت کی نظر میں دیانت ہے 106
نواصب کیسے سچے ہوتے ہیں اس جھوٹ کو بھی دیکھ لیں 108
شیعوں کو جمہور اہل سنت جھوٹا کیوں کہتے ہیں 110
سنیوں اور شیعوں کی تکذیب کے کچھ پر لطف واقعے 110
معاویہ کے عیوب بیان کرنے والا بھی سنیوں کی نظر میں جھوٹا ہے 110
مجھے علم کے ہزار باب عطا ہوئے(حدیث) 111
علی(ع) خیر البشر 114
حدیث علی(ع) اور ان کی ذریت خاتم الاوصیاء ہیں قیامت تک 116
علی(ع) کے چہرے پر نظر کرنا عبادت ہے 116
اپنی اولاد کو بتائو کہ حب علی(ع) فرض ہے 117
حدیث طائر بریاں 118
اہل سنت کی طرف سے نواصب کی تصدیق اور مدح سرائی بھی 120
الفافا: نبی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہجو میں اشعار کہتا تھا 124
ابن عباس کا غلام عکرمہ مشہور جھوٹا 125
مشہور خبیث و زندیق خالد بن عبداللہ قسری 127
ابوبکر عبداللہ ابن ابی دائود 133
عبدالمغیث ابن زہیر 136
شیعہ، نواصب کی بہ نسبت صداقت کے زیادہ مستحق ہیں 137
احادیث کےمقابل غیر متوازن موقف 138
علمائے جمہور کے نزدیک کچھ صحاح ستہ کے بارے میں 139
صحت احادیث میں بخاری اور مسلم کی امتیازی حیثیت 140
مگر صحیحین پر اجماع نہیں ہے 142
غیر سبیل مومنین کے اتباع کی بات، پھر بدعتی بھی 142
بدعت اور اتباع غیر سبیل مومنین کا مطلب کیا ہے؟ 143
قطع کا دعوی کھلی ہوئی بکواس 144
حدیثوں کی صحت پر قطع کیسے حاصل ہوگیا سمجھ میں نہیں آتا 144
اہل سنت کا بیان خود صحیحین کی صحت کے خلاف ہے 144
امام بخاری اور ان کی کتاب صحیح بخاری 145
کچھ مسلم اور ان کی کتاب کے بارے میں 148
امام نسائی اور ان کی کتاب 152
ابن ماجہ پر ایک نظر 152
ابن ابی دائود پر ایک نظر 153
کتاب ترمذی کے بارے میں 153
راوی تضعیف و تکذیب بھی کرتے ہیں اور اسی سے روایت بھی لیتے ہیں 153
مجہول الحال راویوں سے روایت لیتے ہیں 154
ان کے یہاں تدلیس کا عام رواج 155
رجال حدیث میں عموما تدلیس رائج ہے 158
اہل تدلیس کی مذمت 159
مطعون راویوں سے روایت لیتے ہیں 160
اصول ستہ میں مرسل اور مقطوع حدیثیں 161
اصول ستہ میں معلوم البطلان حدیثوں کا پایا جانا 161
صحاح میں اہل بیت(ع) کی مخالفت کا ظہور ہے 168
مسلم اور بخاری کی اہمیت کا سبب 174
امام احمد کی تعظیم ان کی مسند سے بے توجہی 174
پس چہ باید کرد 177
شیعوں کی سلامت روی 178
پیغمبر(ص) کی حدیثوں کو سمجھنے سے اہل بیت(ع) کی حدیثوں سے اعراض صحیح نہیں ہے 179
ائمہ اہل بیت(ع) کی طرف رجوع کرنے کے فائدے 181
عقل تقاضہ کرتی ہے کہ طریق اہل بیت(ع) کی حدیثوں کو دوسروں پر مقدم رکھا جائے 182
حدیث نبوی(ص) کے بارے میں امیرالمومنین(ع) کا خطبہ 183
حدیث شریف آفتوں کی زد پر کیوں؟ 185
امیرالمومنین(ع) کے دور میں اعلان حق اور تصحیح حدیث کی کوششوں کی ابتداء 187
امیرکائنات(ع) کی شہادت اور اہل بیت اطہار(ع) کے ہاتھ سے حکومت نکل جانے کی وجہ سے تصحیح و اعلان حق کی کوشش سرتاج ہوگئی( دم توڑ گئی) 188
سنت نبوی(ص) میں تحریف کرنے اور اس کے ضائع کرنے کا نیا دور شروع ہوتا ہے 189
حدیث نبوی(ص) کو دوبارہ نشر و اشاعت سے روکا گیا 189
موضوع ( من گھڑھٹ) حدیثوں کا سیلاب 190
موضوع( جعلی) حدیثوں کے انتشار کے بعد سنت نبوی(ص) کی تدوین ہوتی ہے 191
فطری طور پر نتیجہ یہ نکلا 191
سنت نبوی(ص) کی تدوین کے بعد بہت ساری مشکلات 192
حدیث کی کتابیں لکھنے والوں نے بہت سی حدیثوں کی روایت تو کی لیکن اپنی کتابوں میں انہیں شامل کرنا ممنوع سمجھا ہے 192
معیار انتخاب کیا ہے؟ 194
حکومت اور عوام ، اہل حدیث پر پابندیاں عائد کرتے تھے 196
خدا اور رسول(ص) کی طرف سے ان مشکلوں کا حل ضرور ہونا چاہئے 199
ان مشکلوں کا حل صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ کوئی مرجع خدا کی طرف سے معین ہو 201
ائمہ اہل بیت(ع) کی مرجعیت کی کچھ دلیلیں 201
ولائے اہل بیت(ع) ہی سے دین کامل ہوتا ہے اور نعمتیں تمام ہوتی ہیں 204
اہل سنت کا اہل بیت(ع) کے بارے میں نظریہ 205
یہاں جوزجانی کیا کہتے ہیں 205
جوزجانی کے بارے میں کچھ عرض کرنا ہے 206
اہل سنت کا عصمت اہل بیت(ع) کا اعتراف نہ کرنا الگ بات ہے لیکن ان کی حدیثوں سے رخ نہیں موڑنا چاہئے 208
ائمہ اہل بیت(ع) کی مسند حدیثیں غیروں کی مسند حدیثوں سے کمتر نہیں ہیں 208
اگر یہ اسناد مجنون پر پڑھی جائیں تو وہ صحت پاجاتے 209
ائمہ اہل بیت(ع) کی مرسل حدیث بھی اہل سنت کی مسند کے برابر ہے 211
اہل بیت(ع) کے فتوے غیر اہل بیت پر مقدم ہیں 212
سوال نمبر.9 217
امام کی معرفت رکھنا اور امام کے بارے میں علم رکھنا صرف شیعوں ہی پر واجب نہیں ہے 217
موضوع امامت پر شیعہ اور غیر شیعہ دلیلوں کے درمیان ایک موازنہ ضروری ہے 218
اس منزل موازنہ میں اہل سنت کے طریقوں کی قید نہیں لگانی چاہئے 218
خبر متواتر کس کو کہتے ہیں؟ 221
بالخصوص امیرالمومنین(ع) کی امامت پر نصوص واردہ 222
وہ نصوص واردہ جن میں اہل بیت(ع) کے لئے عموم پایا جاتا ہے 223
وہ حدیثیں جن میں امیرالمومنین(ع) اورآپ کے گیارہ فرزندوں کی امامت کا تذکرہ ہے 225
امام بارہ ہیں اور امامت انہیں افراد میں منحصر ہے 225
ائمہ بنی ہاشم میں سے اور علوی ہوں گے 230
امامت صرف علی(ع) و فاطمہ(ع) کی اولاد میں منحصر ہے 231
جمہور کی اہل بیت(ع) کی شایان شان روایتیں 233
امیر المومنین علیہ السلام اورحسنین علیہما السلام کی مرویات سے احتجاج کرنا بالکل صحیح ہے 238
اہل بیت(ع) کے بارہ اماموں کے بارے میں انبیاء سابقین کی پیشین گوئیاں 238
اس سلسلہ میں کچھ شہادتیں موجودہ کتاب توریت سے بھی 241
ابن کثیر کہتے ہیں 243
ابن کثیر کے کلام پر مجھے کچھ کہنا ہے 244
امامت صرف عہد الہی ہے 244
حدیثوں کی روشنی میں امام کو پہچانئے 246
احادیث مذکورہ کے بارے میں کچھ سوالات اور ان کا جواب 276
ائمہ ہدی اماموں کی تعداد بتاتے ہیں 277
ہر امام کی امامت پر موجود روایتیں 282
وہ حدیثیں جو حسنین(ع) کی امامت پر بطور مشترک اشارہ کرتی ہیں 283
وہ حدیثیں جس میں صرف امام حسن(ع) کا تذکرہ ہے 292
وہ حدیثیں جس میں صرف امام حسین(ع) کا تذکرہ ہے 295
ابومحمد علی بن الحسین زین العابدین(ع) کی امامت پر نصوص 298
نصوص امامت زین العابدین(ع) پر ایک نظر 306
ابو جعفر محمد باقر(ع) کی امامت بھی منصوص من اللہ ہے 306
2.محمد باقر(ع) شیعوں کے پانچویں امام 306
حضرت محمد باقر(ع) کی امامت پر دلالت کرنے والی نصوص پر ایک نظر 309
جعفر صادق بن محمد باقر(ع) کی امامت پر واردہ نصوص 310
3.ابوعبداللہ جعفر بن محمد صادق(ع) گلدستہ امامت کا چھٹا گلاب 310
امام جعفر صادق(ع) کے بارے میں مزید عرض ہے کہ 314
اب اگر آپ یہ اعتراض کرتے ہیں: 314
“ پیغمبر(ص) کے اسلحے غیر امام کے پاس نہیں ہوا کرتے” حدیثوں سے ثابت ہے 316
امام موسی کاظم بن جعفر صادق علیہما السلام کی امامت پر نصوص 317
4. ابو ابراہیم امام موسی کاظم بن جعفر کاظم علیہما السلام: 317
اس مجموعہ پر ایک نظر 333
انتقال امامت باپ سے بیٹے تک اس سلسلہ میں کچھ دلیلیں 333
سلاح پیغمبر(ص) صرف امام برحق کے پاس اس سے متعلق کچھ دلیلیں 335
امام علی رضا(ع) کی امامت منصوص ہے 336
5. امام ابو الحسن علی بن موسی الرضا(ع) 336
امام رضا(ع) کی امامت پر نص کے لئے میں نے پیش کر دئیے 351
امام محمد بن علی الجواد علیہما السلام کی امامت منصوص ہے 353
6.ابو جعفر ثانی محمد بن علی الجواد علیہما السلام، گلدستہ امامت کا نواں گلاب: 353
امام جواد علیہ السلام کی امامت پر دلالت کرتی ہوئی حدیثوں پر ایک نظر 362
وہ حدیثیں جن سے یہ ثابت ہے کہ امامت اعقاب(نسلوں) میں ہے 362
امام جواد علیہ السلام کی کمسنی الہی تائید کا محکم اور مضبوط ثبوت ہے 364
ابو الحسن علی بن محمد الہادی علی النقی علیہما السلام کی امامت پر نصوص 369
7.گلدستہ امامت کا دسواں گلاب 369
امام ہادی(ع) کی امامت پر موجود نصوص کا خلاصہ 373
امام ابو محمد الحسن بن علی عسکری(ع) کی امامت پر نصوص 374
8.امام حسن عسکری(ع) گلدستہ امامت کا گیارہواں گلاب: 374
امام حسن عسکری(ع) کے متعلق نصوص پر ایک نص 381
جعفر بن امام ہادی(ع) کا دعوائے امامت 382
نصوص امامت قائم منتظر ( عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) 383
9. امام منتظر حجت بن حسن المہدی صاحب الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف و صلی اللہ علیہ و علی آبائہ الطاہرین 383
امام زمان حجت بن حسن(ع) کی امامت سے متعلق روایات پر ایک نظر 392
ایک جامع تبصرہ 393
وہ گروہ جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ائمہ(ع) کی تعداد بارہ ہے 393
زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہتی 398
ائمہ ہدی(ع) کے معجزات و کرامات 402
امام اپنی امامت کا اقرار کرتے ہیں 404
اہل سنت ائمہ اثنا عشر کی شخصیت کو قبول کرتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں 406
مامون عباسی کا نظریہ اور ایک بھیانک سازش 410
حضرت ابو الحسن الرضا(ع) سے مامون کا مکالمہ 410
مامون کا مقصد کیا تھا؟ نوبختی سے پوچھئے 411
مامون کے بارے میں قفطی کی باتیں 413
مامون کا اپنے رویہ سے خود خوف زدہ ہونا 414
مسلمان امام رضا(ع) اور آپ کے آباء طاہرین(ع) کے مزارات کا احترام کرتے ہیں 418
دوسرے فرقوں کے پاس کیا فرقہ امامیہ سے قوی تر دلیلیں ہیں؟ 425
ذمہ داری کو سمجھئے اور خطرناک انجام سے بچنے کو کوشش کیجئے 426
منابع و ماخذ 433
پیش لفظ
الحمد لله علی رب العالمین و الصلاة و السلام علی اشرف الانبیاء و المرسلین وخاتم النبیین و علی آله المعصومین
بے شک خالق کائنات کی معرفت اور دین کی تبلیغ و ترویج انسان کا پہلا فریضہ ہے اور دین اسلام میں سب سے زیادہ اہمیت عقیدہ کی ہے جس پر انسان کی سعادت و کامیابی اور نجات کا انحصار ہے جیسا کہ قرآن کریم اور احادیث پیغمبر اعظمؐ سے صاف واضح ہے کہ جنت عقیدہ ہی کی بنیاد پر ملے گی عمل کے ذریعہ نہیں اور ویسے بھی خود عمل کا دار و مدار عقیدہ ہی پر ہے، اسی وجہ سے دین میں عقیدہ اور عمل کی مثال درخت کی جڑ اور شاخوں سے دی جاتی ہے اور یہ بات ہر ذی عقل و شعور پر واضح ہے کہ اگر جڑ میں خرابی آجائے تو شاخیں خودبخود خشک ہوجاتی ہیں اسی بنا پر جڑ کی اہمیت زیادہ ہے اور اس کا تحفظ اور خیال زیادہ رکھا جاتا ہے اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرکز تحقیقات نشر علوم اسلامی امام حسن عسگری علیہ السلام نے جس کی بنیاد 16 جمادی الثانی 1425 بمطابق 2003 کو رکھی گئی، خدمت دین اور انسانی عقیدہ کی صحت اور پختگی کے لئے عالم جلیل و فاضل و کامل بحرالشریعہ آیۃ اللہ فی العالمین عالم تشیع کے عظیم الشان مرجع حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد سعید حکیم طباطبائی گراں بہا تالیف کا اردو ترجمہ کرایا جسے مرکز جہانی علوم اسلامی نے زیور طبع سے آراستہ کیا تا کہ ہر ایک کے لئے عقیدہ کی اصلاح و پختگی و تکمیل آسان ہوجائے
،آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد سعید حکیم طباطبائی دنیائے عالم کے عظیم المرتبت مرجع تشیع سید محسن حکیم طاب ثراہ کے نواسے ہیں جن کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ہے موصوف کی اس کے علاوہ بھی دیگر کتابیں زیر طبع ہیں جو انشااللہ عنقریب خدا کی توفیق و مدد اور آپ حضرات کی دعا سے منظر عام پر آجائیں گی،ادارہ بصد خلوص شکر گزار ہے آیۃ اللہ کا جنہوں نے اس گراں بہا تالیف کے ذریعہ سے قوم کی بے لوث خدمت کی اور ان محترم و مکرم علمائ و فضلائ مولانا مظاہر شاہ صاحب و مولانا کوثر مظہری صاحب مولانا سید نسیم رضا صاحب کا جنہوں نے اس کتاب کے ترجمہ و تصحیح کے ذریعہ ادارہ کا تعاون فرمایا ہم اس خدمت دین میں آپ حضرات کے نیک مشوروں کے خواہاں ہیں۔
آخر کلام میں خدائے مہربان سے دعاگو ہیں کہ ہمیں خلوص اور صدق نیت کے ساتھ خدمت دین کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائے۔
سید نسیم رضا زیدی
مرکز تحقیقات نشر علوم اسلامی امام حسن عسکریؑ قم المقدسہ ایران
﷽
خدا کی تعریف اور اشرف انبیاء(ص) او آپ کی آل پاک(ع) اور اصحاب مکرمین پر درود وسلام کے بعد، علامہ عالی قدر جناب سیدمحمد سعید حکیم صاحب خداوند عالم آپ کی حفاظت فرمائے اور آپ کی عمر کو طولانی فرماۓ۔ آمین۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
آپ نے میرے سوالوں کے جواب بھیجے وہ مجھ تک پہنچے، آپ نے جواب دینے پر بڑی محنت کی ہے، ہم آپ کے بے حد شکر گذار ہیں کہ آپ نے جواب دینے کی ذمہ داری قبول فرمائی اور کشادہ دلی سے کام لیا۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ سنی اور شیعہ کےدرمیان علمی گفتگو کا ایک دروازہ کھلا جو بہت اہم بات ہے، خاص طور سے شیعوں کے شرعی معاملات کو ان کے تصورات کے اعتبار سے سمجھنے کا موقع ملا جس کی وجہ سے تاریکی زائل ہوگئی اور اہل سنت، شیعہ مذہب کی جو غلط تفسیریں کرتے ہیں وہ بات معلوم ہوگئی اب سنی حضرات، شیعوں کے بارے میں نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوگئے اور انھیں اںصاف کی ںظر سے دیکھنے لگے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ موضوع کتنا اہم ہے۔
معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ آپ نے جو جواباب دیے ہیں اس کی کچھ تعلیقات بھی ہیں لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں ان کا جواب بھی جگر کاوی چاہتا ہے، اس لئے کہ آپ کے دیے ہوۓ
جوابوں کو بہت توجہ سے پڑھنے کی ضرورت ہے، ہمارے شہر کے سنی علما کی بھی یہی راۓ ہے اور ان کا بھی نظریہ اس گفتگو اور جواب کے بارے میں یہی ہے، میں دوسرے خطوں سے آپ کےعلم میں ان کے نظریات لانے کی کوشش کروں گا، البتہ اس وقت کچھ دوسرے سوالات جن کا لگاؤ نفسہدف سے ہے آپ کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں اور امید کرتا ہوں کہ جناب عالی ان کا جواب مرحمت فرمائیں گے، جس سے آپ کا نقطہ نظر واضح ہوسکے۔
آخر میں ایک ضروری بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ غدیر کے بارے میں جو سوال میں نے کیا تھا اس میں ایک بہت ضروری بات رہ گئی جو بیعت کی بات تھی
اس سوال کا مقصد یہ تھا کہ غدیر میں مولاۓ کائنات علی علیہ السلام کی بیعت واقع ہوئی تھی یا نہیں؟ واقعہ غدیر کے بارے میں تو مجھے معلوم ہے کہ اہل سنت کی کتابیں خصوصی طور پر اس واقعہ کے ذکر سے بھری پڑی ہیں امید کرتا ہوں کہ اس موضوع پر بھی آئندہ خطوط میں آپ توجہ فرمائیں گے۔
الحمد اللہ آپ کے جوابات بے مقصد نہیں ہیں، بلکہ ان سے فائدہ جلیلہ حاصل ہو رہا ہے آپ کے جواب دینے کا طریقہ بہت اچھا ہے، اور ترتیب بے مثال ہے خصوصا اس کے لئے جو ایسےسوالوں کا جواب دے رہا ہو، آخر میں التماس ہے کہ آپ اپنی دعاؤں میں مجھے یاد رکھیں گے میں خدا سے امید کرتا ہوں کہ وہ مجھے توفیق عطا فرماۓ تاکہ میں ان کے محبوب وپسندیدہ راہ پر گامزن اور مسلمانوں کی بھلائی کے کام کرسکوں۔
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین
سوال نمبر۔8
اہل سنت اور شیعہ قرآن مجید کی حجت اور اس کے صدور قطعی پر متفق ہیں، اختلاف صرف حدیث و سنت کے مآخذ او اسے حاصل کرنے کے طریقوں میں ہے اہل سنت صرف وہی حدیثیں لیتے ہیں جو ثقہ راویوں کے ذریعہ حضور سرورکائنات سے ان تک پہونچی ہیں، لیکن شیعہ حضرات(پیغمبر(ص) کی حدیثوں کے ساتھ ساتھ) اپنے اماموں سے بھی روایت لیتے ہیں، چاہے رسول اور امام کے درمیان کتنا ہی زیادہ فاصلہ زیادہ کیوں نہ ہو اس لئے کہ شیعہ حضرات ائمہ کی عصمت کے قائل ہیں حالانکہ جو لوگ اماموں سے روایت لیتے ہیں وہ ان کی نظر میں غیر معصوم ہوتے ہیں۔ ان کی حالت اہل سنت کے راویوں سے مختلف نہیں ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ( جب دونوں راوی غیر معصوم ہیں) تو شیعہ حضرات اہل سنت کی کتابوں پر اعتماد کیوں نہیں کرتے؟
خاص طور سے وہ شیعہ جو راویوں کے ثقہ ہونے کے قائل ہیں چاہے وہ راوی سنی ہی کیوں نہ ہو؟ اور اس کی روایت مذہب شیعہ کے خلاف ہی کیوں نہ ہو سنت کے لئے ضروری نہیں ہے جب سائل ہی کے قول کے مطابق دونوں کے راوی غیر معصوم ہیں تو سنی حضرات شیعہ کی کتابوں پر کیوں اعتماد کرتے؟ سنیوں کے لئے یہ بات اس لئے لازم نہیں ہے کہ سنی صرف پیغمبر(ص) سے روایت لیتے ہیں اور ائمہ کی عصمت کے قائل نہیں ہیں۔
جوابا عرض ہے کہ آپ کے مندرجہ بالا گفتگو میں دو باتیں بہت اہم اور قابل غور ہیں:
1۔ آپ کا یہ کہنا کہ اہل سنت کی کتابیں شیعوں کے نزدیک قابل اعتماد و رجوع کیوں نہیں ہیں خاص طور سے ان شیعوں کے نزدیک جو راوی کے لئے صرف ثقہ ہونا ضروری سمجھتے ہیں چاہے راوی مذہب شیعہ کے خلاف ہو یا صرف اس کی روایت مذہب شیعہ کے خلاف ہو ظاہرا اس سوال کی عبارت دقیق نہیں ہے اور اس سوال کرنے والے کا مقصد یہ ہے کہ( خاص طور سے وہ شیعہ جو ثقہ راوی کی روایت پر عمل کرنا جائز سمجھتے ہیں چاہے وہ راوی ان کے مذہب کے خلاف یا روایت ہی مذہب شیعہ کے خلاف ہو)
عرض ہے کہ جہاں تک روایت لینے کے جواز کا سوال ہے نہ کہ اس روایت پر عمل کرنے کا تو روایت لینا غیر ثقہ کافر سے بھی جائز ہے جیسا کہ تاریخی واقعات اور وہ حدیثیں جو احکام شرعیہ میں قابل اعتماد نہیں ہوتیں سب کا یہی حال ہے۔
مذہب شیعہ کے مخالف روایتوں پر عمل کرنا جائز نہیں
کوئی بھی شیعہ ایسی روایتوں کے بارے میں جواز عمل کا قائل نہیں ہے، جو شیعہ مذہب کے خلاف ہو، چاہے راوی کتنا ہی ثقہ کیوں نہ ہو بلکہ شیعہ ثقہ کی روایت بھی اگر مذہب شیعہ کے خلاف ہے تو اس پر عمل کرنے کو کوئی جائز نہیں سمجھتا اس لئے کسی بھی رای و نظریہ کو شیعہ نظریہ اس وقت کہا جاۓ گا جب شیعوں کا اجماع اس پر ثابت ہوجاۓ او اسی صورت میں اسے مذہب ائمہ اہل بیت(ع) کہا جاسکتا ہے جو بلاشک و تردید حق ہے کیونکہ وہ حضرات معصوم ہی اسی لئے ان کا مذہب حق ہے اور جو اس مذہب کے خلاف ہے وہ باطل محض ہے واجب ہےکہ اس سے اعراض کیا جاۓ، اس مذہب کے خلاف جو روایتیں آتی ہیں یا تو ان پر توجہ نہ کی جاۓ یا پھر ایسی روایتوں کو ائمہ حضرات کے علم پر چھوڑ دیا جاۓ یا پھر ان کی تاویل کر لی جاۓ۔
مخالف: مذہب شیعہ رای اگر ثقہ ہے تو اس کی روایت پر عمل کرنا شیعوں کے نزدیک بر بناۓ شہرت جائز ہے؟
اگر کوئی مسئلہ شیعوں کے درمیان اختلاف کا موضوع ہو یا شیعہ علماء کا اس مسئلہ پر متفق ہونا معلوم نہ ہو یا شیعہ علماء نے اس مسئلہ کا ذکر ہی نہ کیا ہو، یا بعض شیعہ علماء نے اس کا ذکر نہ کیا ہو تو صرف ایسی صورت میں مخالف مذہب شیعہ راوی اگر ثقہ ہے تو اس کی روایت پر عمل جائز ہے، جیسا کہ ہمارے علماء کی ایک جماعت نے تصریح کی ہے جب کہ یہ قول ان کے درمیان مشہور ہے۔ اگر چہ بعض حضرات اس کے مخالف ہیں مگر مشکل یہ ے کہ شیعوں کے اصول جرح و تعدیل اتنے سخت ہیں کہ ان کے معیار پر کسی راوی کا ثقہ اترنا مشکل ہے البتہ اگر اصول جرح و تعدیل پر راوی گہرا اترتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کی روایت پر عمل ہمارے نزدیک جائز ہے لیکن شرط یہی ہے کہ وہ راوی جرح و تعدیل کے ان اصولوں پر پورا اترے جو شیعوں کے نزدیک قابل اعتمار ہیں اور جس پر شیعہ بھروسہ کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جن راویان اہل سنت کی وثاقت شیعوں کے اصول جرح و تعدیل پر کامل پائی گئی ہے ان کی روایتوں پر بہت سے علماۓ شیعہ نے اعتبار کیا ہے جیسے اسماعیل بن ابی زیاد سکونی، حفص ابن غیاث، غیاث بن کلوب وغیرہ،
جن کی اہل سنت حضرات توثیق یا جرح کرتے ہیں ان پر اعتبار کرنے کی شیعوں کے یہاں کوئی گنجائش نہیں
ہمارے علماء جس راوی کی توثیق نہیں کرتے ہم اس کو ثقہ نہیں سمجھتے اس لئے کہ اہل سنت کے اصول جرح و تعدیل پر اعتماد ممکن نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی جرح و تعدیل کی بنیاد نفسانی تاثرات ہیں جو مقام استدلال میں ان عقلائی طریقوں کے مناسب نہیں جن پر تمام امور میں ہمارے عمل کا
دارومدار ہے اور انہیں کے ذریعہ خدا کی حجت قائم ہوتی ہے۔
اہل سنت کو چاہیئے کہ وہ اپنے جرح وتعدیل کے اصولوں پر نظر ثانی کر کے ان کے پاک و صاف کرلیں اور طریقہ استدلال کو منظم کرلیں اگر یہ کام ممکن ہو لیکن یہ کام وہ اسی صورت میں کرسکتے ہیں جب ان کے سامنے پہلے سے دلائل اور نشانیاں قائم نہ کردی گئی ہوں۔
عام معنائے صحابی کے دائرے میں آنے والے ہر صحابی کی روایت قابل قبول نہیں
( امر اول) اہل سنت کے نزدیک یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ جو صحابی ہے اس کی روایت قبول کرنا جائز ہے صحابی ان کے نزدیک اس کو کہتے جس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں سنی ہو اس لئے کہ ان کے نزدیک ہر صحابی بہر حال عادل ہے یہاں تک کہ صحابیت کی اس تعریف میں، معاویہ بن ابی سفیان، عمرو بن عاص، مغیرہ بن شعبہ، مروان بن حکم، ابوہریرہ، سمرۃ بن جندب اور ابوالعادیہ قاتل عمار جیسے، بہت سے لوگ شامل ہوجاتے ہیں۔
اہل سنت کا یہ نظریہ کہ” صحابہ سب کے سب عادل ہیں” واضح پر پر باطل ہے اور اس کا باطل ہے اور اس کا باطل ہونا اتنا واضح ہے کہ اس کے بطلان سے انکار اور ہٹ دھرمی کا کوئی فائدہ نہیں ہے اس لئے کہ کسی غلط بات کے صحیح ہونے پر اصرار کرنا، غلط افراد کو مقدس صفات سے منسوب کرنا اور ان کی طرف اچھے کلمات منسوب کرنے سے نہ غلط صحیح ہوسکتا ہے اور نہ جھوٹے سچے ہوسکتے ہیں نہ باطل حق ہوسکتا ہے اس بات کو میں نے کئی جگہ بہت وضاحت کے ساتھ عرض کیا ہے خصوصا آپ سابقہ سوالوں میں سے دوسرے سوال کے جواب میں ملاحظہ فرمائیں۔ میں نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ ال سنت کے
معناۓ صحابیت کو اگر صحیح تسلیم ہیں تو اس کے مطابق صحابی کا پرکھنا ضروری ہے اور اس منزل میں جس کا شریعت سے وابستہ ہونا ثابت ہوجاۓ وہ عادل ہے بلکہ مرتبہ عدالت سے بھی بڑھ کے مقام تقدیس میں قابل احترام ہے اور اس کی حدیث قبول کرنا ضروری ہے لیکن جو حدود شریعت سے نکلا ہوا ہے وہ فاسق ہے۔ بلکہ اس سے بھی پست یعنی مقام نفاق میں ہے اور اس کی بیان کردہ حدیث کو رد کرنا ضروری ہے۔ البتہ اگر خارجی قرائن سے اس کی وثاقت اورجھوٹ سے پرہیز ثابت ہوتا ہے تو ایسی صورت میں اس کی روایت قبول کی جائیگی یا نہیں اس میں اختلاف ہے اور جو شخص مجہول الاحوال ہے اس سے حدیث لینے میں توقف کیا جاتا ہے اور اس کے امر کو خدا پر چھوڑ دیا جا تا ہے وہی سب سے زیادہ جاننے والا ہے اور اسی پر مجہول الاحوال راوی کا حساب منحصر ہے۔
مندرجہ بالا مطالب علمی طریقہ استدلال اور عقلی میزان کا تقاضا ہیں صاحباں معرفت انہیں قواعد پر اپنے تمام امور میں عمل کرتے ہیں اور انہیں کے ذریعہ مخلوق پر اللہ کی طرف سے حجت قائم ہوتی ہے لیکن اہل سنت بہر حال اس قاعدے سے خارج ہیں اس کی وجہ وہ شبہات وشکوک ہیں جن کو مذہبی اختلاف نے جنم دیا ہے اکثر حکومتوں نے ان شبہات کو ہوا دی ہے اور تعصب کی وجہ سے دلوں میں راسخ ہوگئے ہیں اور جتنا زمانہ گزرتا گیا یہ شبہات تعصب کی وجہ سے پختہ محکم ہوتے رہے یہاں تک کہ ایک وقت آیا کہ جب مستقل ایک دین کی صورت اختیار کر گئے جن کو مانا جانے لگا اور مقدس مفاہیم ومطالب کی صورت میں آگئے جن سے بلا حدود بے نہایت دفاع کیا جاۓ لگا۔
چنانچہ ذہبی کہتے ہیں: “لیکن صحابہ تو ان کی بساط سمٹ چکی ہے جو کچھ ان کے درمیان ہوتا تھا ہوچکا ثقات کی طرح انہوں نے بھی غلطیاں کی ہیں۔
ان میں سے کوئی بھی غلطی سے سالم نہ رہا پھر بھی اگر انہوں نے غلطی کی ہے تو بہت معمولی ہے نقصان دہ ہرگز نہیں ہے اس لئے کہ انہیں صحابہ کی عدالت اور ان کے منقولات کی قبولیت پر عمل ہو
رہا ہے اور انھیں منقولات ہی کے ذریعہ ہمارا تدین بھی ہے”
دوسری جگہ یہی ذہبی کہتے ہیں کہ: میں نے اپنی کتاب میزان الاعتدال میں بہت سے ان ثقات کا تذکرہ کیا ہے جن کے ذریعہ بخاری، مسلم اور دوسرے محدثین نے احتجاج کیا ہے اور ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ شخص راوی یقینا ثقات میں سے ہے مگر اس کا نام مصنفات جرح میں موجود نہیں ہے اورجن راویوں کو میں نے اپنے نزدیک ضعیف ہونے کی باوجود ذکر کیا ہے اس کی وجہ یہی بتانا ہے کہ ضعیف قابل اعتراض نہیں ہے، میرے نزدیک ایسے بھی راوی گذرے ہیں جو میری نظر سےصحیح اور ثقہ ہیں اگر ان کے بارے میں کوئی بات کہی بھی گئی ہے تو اس پر توجہ نہیں دینی چاہیئے اس لئے کہ ہم اگر یہ دروازہ کھول دیں تو اس میں صحابہ کی ایک بڑی تعداد داخل ہو جاۓ گی جن میں تابعین اور ائمہ بھی شامل ہوجائیں گے اس لئے کہ کسی نہ کسی تاویل کی وجہ سے بعض صحابہ، بعض دوسرے صحابہ کو کافر کہتے ہوۓ دیکھے گئے ہیں لیکن خدا ان تمام صحابیوں سے راضی ہے اور ان کو بخش چکا ہے ان کا آپس میں اختلاف اورجھگڑا کرنا ہمارے لئے اصلا قابل توجہ نہیں ہے وہ معصوم بہر حال نہیں تھے اگر خوارج ان کوکافر کہتے بھی ہیں تو اس سے ان کی روایتوں کا درجہ گھٹتا نہیں ہے بلکہ ان کے بارے میں خوارج اور شیعوں کی گفتگو محض ان پر طعن کرنے والوں کی جرح ہے۔ لہذا اپنے رب کی حکمت کو دیکھو اور ہم اللہ سے سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔(1)
بطور عموم عدالت صحابہ پر ابوزرعہ کا استدلال
ابوزرعہ سے منقول ہے کہ ( جب بھی تم دیکھو کہ کوئی شخص اصحاب کی تنقیص کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ وہ زندیق ہے اس لئے کہ پیغمبرخدا(ص) ہمارے نزدیک بہر حال حق ہیں قرآن بہر حال حق ہے اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ الرواۃ الثقات، ص22۔ 23، متکلم۔
قرآن و سنت نبی کوہم تک پہونچانے والے صحابہ ہی ہیں تو ان مقدس صحابہ پر اعتراض کرنے والے چاہتے ہیں کہ ہمارے گواہوں کو مجروح کردیں تاکہ قرآن و سنت باطل ہوجائیں اصل میں اصحاب پر اعتراض کرنے والے بے وقوف ہی جرح کے زیادہ مستحق اور زندیق ہیں۔):
مذکورہ دلیل کی تردید:ابوزرعہ کی آنکھوں پر تعصب کی عینک ہے اس وجہ سے وہ چند باتوں کو نہیں دیکھ سکے۔
1۔ کتاب و سنت کو ہم تک پہونچانے والے صرف صحابہ ہی نہیں ہیں بلکہ تابعین اور تبع تابعین بھی ہیں، بلکہ وہ تمام لوگو ہیں جو زمانے کے اعتبار سے طبقات میں تقسیم ہیں کیا سب کی عدالت کے قائل ہیں اگر کوئی بعض کی جرح کرتا ہے تو کیا وہ بھی زندیق ہے؟
( چونکہ صحابہ کے بعد والے طبقات نے ہم تک کتاب اور سنت پہونچائی ہے تو آپ کے حکم کے مطابق ان پر جرح کرنے والا تو زندیق ہی ہوا) تو پھر صرف صحابہ ہی سے کیوں مخصوص کرتے ہیں؟
2۔ انبیاۓ گذشتہ، ان کی کتابیں اور شریعتیں سب حق ہیں اور آپ کے اصول کے مطابق انبیاۓ ماسبق کی آواز پر جس نے بھی لبیک کہا اور ان کی باتیں سنی وہ سب لوگ عادل و صا دق ہیں اور ان پر اعتراض کرنے والے زندیق ہیں۔
3۔ جو اہلیت تقدیس نہ رکھتا ہو اس کی تقدیس کرنا ناقابل تصدیق کی تصدیق کرنا، صحیح حدیث کو سقیم کے ساتھ مخلوط کرنا اور لوگوں پر حقیقت و حق کو مشتبہ و مشکوک کرنا ہے یہ ایسے کام ہیں جن سے زنادیق کا ہدف حاصل ہوتا ہے اور ان کے لئے اللہ تعالی کے دین، رسول خدا(ص) اور ان کی حدیث شریف پر عیب بیان کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اس لئے کہ صحابہ کے باہمی اختلافات اور محدثیں کی کمزوریوں نے زنادقہ کے لئے کافی گنجائش پیدا کردی تھی جب کہ صحابہ کے کردار کی نقاب کشائی اور
حقدار کو اس کا حق دینے اور حاملان حدیث صحابہ وغیر صحابہ پر تنقید کرنے، سچ اورجھوٹ کے درمیان تمیز دینے، حدیث شریف کوجھوٹی ومن گڑھت حدیثوں سے الگ کرنے سے زنادقہ کے راستے بند ہوجاتے ہیں یہ سعی وکوشش زنادقہ کو اپنے ہدف تک نہیں پہونچنے دیتی اس لئے کہ خالص حق ہر قسم کے عیوب ونقائص سے خالی ہوتا ہے۔
جناب ذہبی کہتے ہیں: (ضعیف راویوں کے باے میں دیندار و متقی ناقدین کا ناصحانہ کلام، دین خدا کی خیر خواہی اور سنت رسول خدا(ص) کی مدافعت کے لئے ہوتا ہے)(1) مذکورہ بالا مطالب اتنے واضح ہیں کہ ان کی مزید وضاحت کرنا گویا کلام کو طول دینا ہے لیکن لوگ اپنے اپنے معشوق کے سلسلے میں الگ الگ مذاہب کے قائل ہوتے ہیں۔ اور جو کسی چیز سے عشق کرتا ہے تو وہ اس کی آنکھ کو اندھا کرتا ہے۔
صحابہ کے بارے میں اہل سنت کی غفلت کا نتیجہ
ابوزرعہ جیسے لوگوں نے صحابہ کے بارے میں جو نظریہ پیش کیا ہے اس کی وجہ سے اہل سنت حضرات صحابہ کے چہرے سے نقاب نہ ہٹاسکے اور نہ ہی ثقہ راویوں کو غیر ثقہ سے تمیز دے سکے یہاں تک کہ صحابہ کے بارے میں جرح و تعدیل کا معیار کھو بیٹھے اور مجہول راویوں کی کثرت میں اضافہ ہوگیا اور ان کے حالات پردہ جہالت میں رہ گئے۔ ان حالات کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ اب اس دور میں اگر وہ صحابہ کے حالات کی تحقیق کرنا چاہیں اور شبہات سے اپنا دامن بچا کے عقلی طریقہ استدلال حاصل کر کے تقلید محض کے راستے کو چھوڑنا چاہیں تو نہیں چھوڑ سکتے اور عقل و ادراک کی کسوٹی پر صحابہ کے کردار کو اور نہ ہی کوئی ایسے موارد رہے جن پر اعتماد کر کے وہ صحابہ کا صحیح چہرہ دیکھ سکیں اور صدیاں گذرجانے کے بعد بھی نہیں جانچ سکتے اس لئے کہ اب ان کے پاس ان کی بے توجہی کی وجہ سے صحابہ کے صحیح حالات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ سیر اعلام النبلاء، ج13، ص682، عبدالرحمن بن حاتم کی سوانح حیات میں۔
نہیں رہے وجہ معرفت کے راستے ان کے لئے منقطع ہوچکے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے فرضی وجعلی واقعات پر ڈٹے رہنے پر مجبور ہیں وہ فرضی واقعات کو مقدس خیال کرتے ہیں اور اس کا دفاع کرتے ہیں ان مفروضات کی کمزوریوں سے نظر چراتے ہیں مگر یہ کہ انھیں میں سے کوئی حقیقت پسند، تعصب اور ہٹ دھرمی کی دیواروں کو توڑ کر صحابہ کے کردار کا نقد و تعدیل کے ذریعہ جائزہ لے لے پھر تو اجمالی اور تفصیلی طور سے ان مفروضات کو چھوڑ ہی دے گا۔
اہل سنت کی نظر میں رجال جرح و تعدیل مطعون ہیں
اہل سنت کی نظر میں جرح و تعدیل کرنے والے مطعون ہیں اور ان پر دو طرح کی طعن کی جاتی ہے:
طعون خاصہ، جو آحاد افراد کے لئے ہے ہم ان سے کچھ کا مختصرا ذکر کرتے ہیں۔
دیکھئے یہ مالک ابن انس ہیں جو ایک مستقل مذہب کے امام ہیں حمید بن اعرج سے روایت کر کے اس کی توثیق بھی کی ہے لیکن جب حمید کے بھائی نے ان پر حملہ کیا اور امام صاحب کو معلوم ہوا کہ وہ حمید کا بھائی ہے تو عجب جملہ فرمایا” اگر میں جانتا کہ حمید بن قیس اس کا بھائی ہے تو ہرگز حمید سے روایتیں نہ لیتا”(1)
ابن المدینی کہتے ہیں: امام مالک نے حمید اعرج کا ذکر موثق لوگوں میں کیا ہے، پھر کہنے لگے اس کے بھائی!( حمید) کو ضعیف قرار دیا “(2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ الکامل فی ضعفاء الرجال، ج5، ص8، تہذیب التھذیب ج7، ص432۔
1۔ تھذیب التھذیب، ج3، ص41۔
امام صاحب پر حمید بن قیس کے بھائی نے حملہ کیا تھا تو میری سمجھ میں نہیں آتا کہ حمید بن قیس کا اس میں کیا قصور تھا جس کی وجہ سے امام صاحب نے اس سے روایتیں لینا ترک کردیا اور اس بچارے کو ثقہ کہنے کے بعد ضعیف قرار دیدیا۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ابن حجر اسی حمید بن قیس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ابن قیس کو ابوزرعہ، احمد بن حنبل، ابوداؤد، ابن خراش، بخاری، یعقوب بن ابی سفیان اور ابن سعد نے ثقہ قرار دیا ہے”(1)
اگر راوی کی جرح کرنے میں لوگوں پر نفسانیات کی حکومت ہوسکتی ہے تو پھر راوی کی توثیق و تعدیل کرنے میں نفسانیات کی حکومت سے بچنے کی ضمانت کیا ہے؟ ابھی آئندہ صفحات میں طعون معاصرین یعنی بعض صحابہ کا دوسرے بعض صحابہ کو طعن کرنے اور ان طعون کے سلسلے میں گفتگو کرتے وقت جو اختلافات مذہب کی وجہ سے ہوۓ ہیں کچھ دوسرے طعون بھی امام مالک کے بارے میں آئیں گے۔
یحیی بن سعید قطان نے جب ہمام بن یحیی بن دینار کی جرح کی تو اس جرح کے بارے میں احمد بن حنبل نے کہا کہ” یحیی بن سعید نے اپنی کمسنی کے زمانے میں کوئی گواہی دی تھی جس کو ہمام نے قبول نہیں کیا تھا یحیی بن سعید
اسی وجہ سے ہمام کی جرح کرتے تھے یعنی یہ جرح انتقام کی وجہ تھی”۔(2)
آپ دیکھ رہے ہیں کہ امام احمد بن حنبل، یحیی بن سعید پر صریحی طور پر تہمت لگا رہے ہیں کہ یحیی کو حمام سے ناحق دشمنی تھی اب اگر یحیی کسی کی جرح یا تعدیل کرتے ہیں تو ان کی جرح و تعدیل پر کیسے اعتماد کیا جاسکتا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ تھذیب التھذیب، ج3، ص234۔
2۔ تھذیب التھذیب، ج11، ص61۔
ذہبی، یحیی بن معین کے بارے میں کہتے ہیں کہ ابوعمرو بن عبدللہ نے کہا: ہم نے محمد بن وضاح سے روایت کی ہے اور اس نے کہا ہے کہ میں نے یحیی بن معین سے امام شافعی کے بارے میں پوچھا تو کہا کہ وہ ثقہ نہیں ہیں ابن عبداللہ بھی کہتے ہیں کہ ابن معین کے بارے میں یہ صحیح ہے کہ وہ شافعی پر اعتراض کرتے تھے میں کہتا ہوں کہ ابن معین نے ایسا کر کے خود اپنے آپ کو اذیت پہونچائی ہے لوگ شافعی کے بارے میں ان کے قول پر توجہ نہیں دیتے تھے اور نہ ہی معتبر شخصیت کے بارے میں ان کے قول پر کوئی توجہ دیتا تھا ور اسی طرح جب وہ کسی کی توثیق کرتے تھے تو لوگ ناقابل اعتماد سمجھتے تھے لیکن” ان کی جرح و تعدیل کو قبول کرتے ہیں اور بہت سے حفاظ حدیث پر ان کو مقدم کرتے ہیں اور اس وقت تک مقدم کرتے ہیں جب تک وہ اپنے اجتہاد میں جمہور اہل سنت کی مخالفت نہیں کرتے اگر جمہور اہل سنت کسی کو ضعیف سمجھتے ہیں اور وہ انفرادی طور پر موثق یا اہل سنت کسی کو موثق سمجھتے ہیں اور وہ ضعیف ہے تو ایسی صورت میں تمام ائمہ کے قول کو تسلیم کیا جاتا ہے نہ کہ شاذ و نادر اقوال کو۔ ان کا تو ہر آدمی کے بارے میں اقوال بدلتا رہتا ہے اور ان کے بیان سے خطاۓ اجتہادی ظاہر ہوتی ہے جس کے ہم خود قائل ہیں اس لئے کہ وہ بہر حال انسان ہیں معصوم نہیں ہیں بلکہ کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ انہوں نے شیخ امام شافعی کی توثیق بھی کردی ہے ایک ہی آدمی کے بارے میں ان کا اجتہاد وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے اور وہ سوال کرنے والے کو کسی بھی آدمی کے بارے میں وقت سوال کے لحاظ سے جواب دیتے ہیں جس کی بنیاد ان کا ذاتی اجتہاد ہوتا ہے”۔
کاش کہ ذہبی نے اسی پر اکتفا کیا ہوتا لیکن وہ آگے چل کے کہتے ہیں” اور امام شافعی کے بارے میں ابن معین کا کلام کسک اجتہاد کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ان کا بیان ھوای نفس کی وجہ سے زبان کی تیزی اور ان کی عصبیت کا نتیجہ ہے، ابن معین محدث ہونے کے باوجود اپنے مذہب میں غالی حنفیوں میں
سے تھے( یعنی انتہا پسند تھے) حافظ ابو حامد بن شرتی لکھتے ہیں کہ یحیی بن معین اور ابو عبید دونوں امام شافعی کے بارے میں برا نظریہ رکھتے تھے خدا کی قسم ابن شرتی نے سچ کہا ہے کہ ان دونوں نے اپنے عالم زمانہ کے بارے میں اپنی ہی ذات کو بگاڑ لیا تھا”(1)
احمد بن حنبل سے منقول ہے کہ ابن معین نے شجاع سے ملاقات کی تو اس کو “ یا کذاب” یعنی اے جھوٹے! کہہ کر خطاب کیا۔ شجا ع نے برجستہ جواب دیا کہ اگر میں جھوٹا نہیں ہوں تو خدا تجھ کو ذلیل کرے۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ ابن معین کو شیخ (شجاع) کی بد دعا لگ گئی”۔(2) آئندہ صفحات پر امام احمد کا موقف ابن معین اور ان کے جیسے دیگر لوگوں کے بارے میں پیش کیا جاۓ گا۔
ابوزرعہ، یحیی بن معین کے بارے میں کہتے ہیں:” ان سے فائدہ نہیں حاصل کیا جاسکا اس لئے کہ وہ لوگوں کے بارے میں خرافات کہتے رہتے تھے”۔(3) اور منقولات ابن حجر میں اسی جیسے اور بہت سے اقوال علی ابن مدینی کی طرف سے ابن معین کے بارے میں وارد ہوۓ ہیں۔(4)
جب ابوالازہر نے فضائل میں عبدالرزاق کی حدیث کو معمر سے روایت کی اور انھوں نے عبید اللہ سے اور انھوں نے
ابن عباس سے اور انھوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کی طرف دیکھا اور فرمایا:” تم دنیا میں سردار ہو آخرت میں سردار ہو” اس حدیث کی خبر یحیی ابن معین کو دی گئی اور اس وقت اہل حدیث کی ایک جماعت ان کے پاس بیٹھی ہوئی تھی تو انھوں نے کہا یہ جھوٹا نیشاپوری کون ہے جو عبدالرزاق سے اس حدیث کو نقل کر رہا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ الرواۃ الثقات، ص29۔31۔
2۔ تھذیب الکمال، ج12، ص386۔ تاریخ بغداد، ج9، تہذیب التہذیب، ج4 ص275۔ سیر اعلام النبلاء، ج9، ص353۔ میزان الاعتدال، ج3، ص364۔
3۔ تہذیب التہذیب، ج11، ص248۔ سیر اعلام النبلاء، ج11، ص90۔
4۔ تہذیب الکمال، ج31، ص550۔ تہذیب التہذیب، ج11، ص248۔
ابوالازہر کھڑے ہوگئے اور کہا: وہ نیشاپوری میں ہوں۔ یہ سن کر یحیی مسکراۓ اور بولے مگر تم تو جھوٹے نہیں ہو اور ان کی سلامتی حواس پر خوش بھی ہوۓ۔ پھر کہا اس حدیث کا گناہ اس کے سرجاۓ گا جس نے تم سے یہ حدیث بیان کی ہے”(1)
آپ ملاحظہ فرمائیں کہ یحیی نے کس طرح ابوالازہر کی تکذیب کر ڈالی پھر اپنے ہی خیال کی تردید کر کے کہنے لگے راوی جھوٹا نہیں، حدیث جھوٹی ہے۔ اور اس جھوٹ کا مرتکب وہ جس نے حدیث تم سے بیان کی ہے۔ یعنی اس کے راویوں پر جھوٹ کی تہمت لگا دی، حالانکہ اس حدیث کے تمام راوی اہل سنت کے اعلام اور ثقہ افراد ہیں اور اگر یہ بھی مان لیا جاۓ کہ ان راویوں کی وثاقت ان کے نزدیک ثابت نہیں تھی پھر بھی حدیث کی تکذیب کو فعل مستحسن نہیں قرار دیا جاسکتا اس لئے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ غیر ثقہ راوی کی ہر روایت جھوٹ ہی ہو۔
شاید ابن معین کے پاس اس حدیث کو تکذیب کرنے کی وجہ یہ ہو کہ یہ حدیث ان کے مذہب اور ان کی خواہش کے مطابق نہیں ہے خصوصا اس حدیث کا آخری حصہ جہاں حضوراکرم(ص) نے فرمایا” تمہارا دوست میرا دوست ہے اور میرا دوست خدا کا دوست ہے تمہارا دشمن میرا دشمن اور میرا دشمن خدا کا دشمن ہے اور تمہارے دشمن کے لئے ویل ونفرین ہے”(2)
یا اس لئے ابن معین مولا علی علیہ السلام کے فضائل کو برداشت نہ کر پاۓ کہ وہ حضرت علی علیہ السلام سے دشمنی رکھتے ہیں یا یہ کہ دشمنِ علی علیہ السلام کو دوست رکھتے ہیں۔
جیسے معاویہ، عمرو بن عاص اور ان کے جیسے دوسرے لوگ جنھوں نے حضرت علی علیہ السلام کے مقابلہ میں تلوار اٹھائی اور علانیہ طور سے آپ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوۓ آپ کو گالیاں دیں اور ان کی بھر پور کوشش یہی رہی کہ نور علی علیہ السلام کو بجھا دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ تہذیب التہذیب، ج1، ص10۔ المستدرک علی الصحیحین، ج3، ص138۔ سیر اعلام النبلاء، ج9،ص575۔ تہذیب الکمال، ج1، ص262۔ تاریخ بغداد، ج4، ص41۔42۔
2۔ المستدرک علی الصحیحین، ج73، ص138۔
جب ابن معین کے نزدیک حدیث و راوی کی تکذیب کا یہی معیار ہے جب کہ اس مضمون کی حدیثیں استفاضہ( یعنی کثرت) کی حد تک ہیں تو پھر حدیث و راوی کی تصدیق کا معیار کیا ہوگا؟ خصوصا شیعوں کے لئے جن کے دلوں کو اللہ نے امیرالمومنین کی محبت، ان کے دوستوں سے دوستی، ان کے دشمنوں سے دشمنی رکھنے کی وجہ سے نورانی کر رکھا ہے۔
ابن المدینی ابو الحسن علی ابن عبداللہ بن جعفر جن سے بخاری اور دوسرے صاحبان صحاح نے روایت کیا ہے لیکن احمد بن حنبل نے ان کی تکذیب کی ہے(1) اور جھوٹا کہا ہے اور عمرو بن علی نے بھی ان کے بارے میں کچھ کلام کیا ہے۔(2)
ترمذی اپنی سند سے کہتے ہیں کہ: ( ابن داؤد نے معتصم سے کہا اے امیرالمومنین! امام احمد ابن حنبل کا خیال ہے کہ خدا آخرت میں دکھائی دے گا حالانکہ آنکھیں صرف محدود چیز پر ٹھہرسکتی ہیں اور اللہ کی کوئی حد نہیں، معتصم نے کہا پھر تمہارے پاس امام احمد ابن حنبل کی تردید کے لئے کیا دلیل ہے؟ تو ابن داوؤد نے کہ اے امیرالمومنین! میرے لئے
رسولخدا(ص) کا قول ہے۔اس نے پوچھا وہ کیا ہے؟ کہا مجھ سے جریر ابن عبد اللہ کے حوالے سے حدیث بیان کی گئی ہے وہ یہ کہ ایک بار ہم مہینے کی چودھویں رات میں سرکار دو عالم(ص) کے ساتھ تھے حضرت نے بدر کامل کا غور سے دیکھا پھر فرمایا تم لوگ جس طرح آج چاند دیکھ رہے ہو اسی طرح اپنے رب ذوالجلال کو عنقریب دیکھو گے اور اس کے دیکھنے سے سیر نہیں ہوگے۔ معتصم نے کہا ( یہ حدیث تو امام احمد ابن حنبل کے نظریے کی تائید کرتی ہے) تمہیں اس حدیث میں شک کیوں ہے؟
-----------------------
1۔ تہذیب التہذیب، ج7،ص209۔ تہذیب الکمال، ج21، ص27۔ تاریخ بغداد، ج11، ص458۔
2۔ تہذیب الکمال، ج21، ص22۔ 23۔ سیراعلام النبلاء، ج11، ص52۔ 53۔ تاریخ بغداد، ج11، ص458۔
ابن داؤد نے کہا میں اس حدیث کی اسناد پر غور کر رہا ہوں۔ یہ بات تو پہلے دن ہوئی پھر ابن ابی داؤد وہاں سے بغداد چلے آۓ جہا ں علی بن مدینی تنگدستی کی حالت میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ ابن ابی داؤد ابن مدینی کی خدمت میں حاضر ہوۓ اور بات کرنے سے پہلے ہی دس ہزار درہم دیکے کہا کہ یہ خلیفہ نے آپ کیلئے بھیجا ہے۔ اور حکم دیا ہے کہ آپ کے نان ونفقہ کا ذمہ حکومت کے حوالے ہے یہ دس ہزار درہم ابن مدینی ک دو سال کے لئے کافی تھا پھر کہا اے ابوالحسن رؤیت خدا کے بارے میں جریر بن عبداللہ والی حدیث کیا ہے؟ ابن مدینی نے کہا حدیث تو صحیح ہے۔ پوچھا اس کو غلط قرار دینے کی بھی کوئی گنجائش ہے ابن مدینی نے کہا قاضی صاحب مجھے اس برے فعل سے معاف کیجئے۔ ابن ابی داؤد نے کہا اے ابوالحسن یہ مسئلہ وقت کی ضرورت ہے۔ پھر ابی داؤد نے ابن مدینی کو خلعت اور خوشبو دی نیز زین و لجام کے ساتھ ایک عدد گھوڑا بھی پیش کیا( یہ نوازش دیکھ کر آخر شیخ صاحب پگھل ہی گئے) اور ابن مدینی نے کہدیا کہ اس حدیث کے سلسلہ سند میں ایک ایسا آدمی ہے جس کی روایت پر نہ عمل کرنا چاہئے۔ اور نہ اس سے روایت لینی چاہئے پوچھا وہ کون ہے؟ کہا وہ قیس ابن ابی حازم ہے جو ایک گنوار عرب ہے جو کھڑے ہوکر پیشاب کرتا ہے یہ سن کے ابن ابی داؤد نے ابن مدینی کی پیشانی کو بوسہ دیا اور معانقہ کیا جب دوسرا دن ہوا اور لوگ دربار معتصم میں حاضر ہوۓ تو ابن ابی داؤد نے کہا اے امیرالمومنین! رؤیت پروردگار کے ثبوت کے لئے جریر کی حدیث سے استدالال کیا جاتا ہے حالانکہ اس
روایت کو جریر سے قیس بن ابی حازم نے روایت کیا ہے اور وہ ایسا گنوار عرب ہے جو کھڑے ہوکر پیشاب کرتا ہے۔(1)
ابوبکر مروذی کہتے ہیں میں نے ابوعبداللہ احمد بن حنبل سے کہا کہ علی ابن مدینی ولید بن مسلم سے روایت کرتے ہیں انہوں نے عمر کے حوالے سے کہا کہ اس کو اس کے خالق پر چھوڑ دو۔ ابوعبداللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ تہذیب الکمال، ج21، ص22۔ 23۔ سیراعلام النبلاء، ج11، ص52۔ 53۔ تاریخ بغداد، ج11، ص458۔
نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں مجھ سے اس حدیث کی روایت ولید بن مسلم نے دوبار کی ہے دونوں بار کہا ہے کہ حدیث اس طرح ہے:
“ اس کو اس کے عالم کے حوالے کردو میں۔ ( ابوبکر مروذی) نے ابو عبداللہ سے کہا کہ عباس عنبری نے جب یہ حدیث عسکر میں بیان کی تو میں نے ابن مدینی سے کہا لوگ اس حدیث میں آپ کا انکار کرتے ہیں کہنے لگے میں نے یہ حدیث تم سے بصرہ میں بیان کی تھی اور یہ بھی کہا کہ ولید نے اس حدیث میں غلطی کی ہے یہ سن کے ابوعبداللہ کو غصہ آگیا کہنے لگے۔ جب مدینی یہ چاہتے ہیں کہ ولید غلط کار ہے تو اس سے حدیثیں کیوں لیتے ہیں؟ ایک غلط کار تو غلط حدیثیں ہی بیان کرے گا”(1)
ابن حجر کہتے ہیں کہ ابراہیم حربی سے پوچھا گیا کیا علی ابن مدینی پر جھوٹ کی تہمت بھی لگائی جاتی تھی؟ کہنے لگے نہیں بلکہ جب وہ حدیث بیان کرتے تھے تو اس حدیث میں اپنی طرف سے کوئی کلمہ اضافہ کردیتے تھے تاکہ ابن داؤد اس سے خوش رہیں۔ پوچھا گیا کیا علی بن مدینی احمد کو برا کہتے تھے؟ ابراہیم حربی نے کہا یہ بات بھی نہیں ہے البتہ جب وہ اپنی کتاب میں احمد سیمروی کی کوئی حدیث دیکھتے تھے تو کہتے تھے اس کو دیوار پر دے مارو، مقصد یہ تھا کہ قاضی ابن ابی داؤد خوش رہیں”۔(2)
جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں علی ابن مدینی کا حدیث میں تحریف کرنا محض اس لئے ہے کہ ابن ابی داؤد راضی رہیں کوئی فعل مستحسن نہیں تھا جو ثقہ ہے اس پر طعن کرنا اور اس کی حدیث کو دیوار پر دے مارنا۔ یہ ساری باتیں محض ابن ابی داؤد کی خوشی کے لئے تھیں۔ ظاہر ہے کہ ان افعال کی موجودگی میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ تاریخ بغداد، ج11، ص458۔ تہذیب التہذیب، ج7، ص309۔ تہذیب الکمال، ص21، ص26۔27۔ سیرالاعلام النبلاء، ج11، ص55۔
2۔ تہذیب التہذیب، ج7، ص310۔ تہذیب الکمال، ص21، ص26۔29۔ سیرالاعلام النبلاء، ج11، ص57۔
علی ابن مدینی کو سراہا نہیں جاسکتا علی ابن مدینی کو ابن داؤد کی خاطر داری اتنی ہی عزیز تھی تو انھیں ابن ابی داؤد کے سامنے ان کی ناپسندیدہ باتون کا ذکر ہی نہیں کرنا چاہئے تھا یا پھر اپنے گھر بیٹھے رہتے اور ان سے عطایا قبول نہ کرتے( کم سے کم اطاعت مخلوق میں معصیت خالق کرنے سے تو بچ جاتے)۔
عقیلی کہتے ہیں: کہ مجھ سے احمد بن محمد سلیمان رازی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں میں نے ازہربن جمیل سے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے ہم یحیی بن سعید القطان کی خدمت میں بیٹھے تھے اس وقت سہل بن حسان بن ابی جروبہ، اور ابن مدینی اور شاذ کوفی اور سلیمان صاحب بصری، قواریری اور سفیان الراس بھی آگئے پھر عبدالرحمن بن مہدی آۓ اور ابو سعید کو سلام کر کے بیٹھ گئے یحیی نے ان سے پوچھا کیا بات ہے میں آپ کے چہرے کو پریشان حال دیکھ رہا ہوں۔ کہنے لگے گزشتہ شب میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس کی وجہ سے خوف زدہ ہوں۔ یحیی نے کہا خدا خیر ہی کرے گا۔ علی ابن مدینی نے پوچھا ابوسعدی تم نے دیکھا کیا ہے؟
کہنے لگے ہم نے دیکھا کہ اصحاب کا ایک گروہ اوندھا کر دیا گیا ہے یعنی پیٹ کے بل لٹا دیا گیا ہے۔ علی(ع) نے کہا یہ تو بد خوابی ہے عبدالرحمن نے کہا اے علی خاموش ہوجا! بخدا تو بھی انھیں اوندھے لوگوں میں سے ہے۔ علی نے کہا ہاں میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور اللہ کہتا ہے ہم جس کو درازی عمر دیتے ہیں ان کو خلقت کی طرف پلٹا دیتے ہیں عبدالرحمن نے کہا لیکن خدا کی قسم یہ اس اس طرح کا معاملہ تیرے ساتھ نہیں ہے۔
ابن حجر کہتے ہیں میں نے احمد بن حنبل کی کتاب، کتاب العلل ان کے بیٹے کے پاس پڑھی، میں نے ان میں بہت سی حدیثیں دیکھیں جو ان کے باپ احمد نے علی ابن عبداللہ کے حوالے سے لکھی تھیں پھر علی ابن عبداللہ کے اسم کو مٹا دیا گیا تھا اور وہاں لکھ دیا گیا تھا ہم سے ایک آدمی نے بیان کیا پھر پوری حدیث ہی اڑا دی گئی تھی۔ میں نے عبداللہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا میرے والد علی
بن عبداللہ کے حوالے سے حدیثیں لکھتے تھے پھر ان کا نام لکھنا بند کردیا حتی ان سے حدیثیں لینا بھی بند کردیا، حضرمی کہتے ہیں مجھ سے عمر بن محمد نے علی بن مدینی کا ذکر کر کے کہا۔ گمان کیا جاتا ہے کہ اس حدیث میں یہ جملہ” ہم سے مجاہد نے بیان کیا” چھوٹ گیا ہے جس کو صرف اعمش نے لیث بن سلیم سے لے کر روایت کی ہے”(1)
امام احمد بن حنبل جرح و تعدیل کے نمایاں افراد میں ایک ہیں اور اہل سنت کے نزدیک ایک مانی ہوئی شخصیت ہیں لیکن بعض لوگوں نے ان کے جرح و تعدیل پر طعن کیا ہے۔
ابوبکر بن ابی حنیفہ نے لکھا ہے کہ یحیی بن معین سے کہا گیا کہ احمد بن حںبل کہتے جتھے کہ علی بن عاصم ثقہ تھے۔ کہنے لگے خدا کی قسم ان کے نزدیک بنام”علی” کوئی محدث ثقہ نہیں تھا اور نہ ان سے کبھی انھوں نے کوئی حدیث لی۔ آج علی ان کی نظر میں ثقہ کیسے ہوگئے؟۔(2)
آپ نے دیکھ لیا کہ ابن معین، احمد کے اوپر صریحا اتہام رکھ رہے ہیں۔ اور ان کی توثیق پر طعن کر رہے ہیں۔ ( احمد بن حنبل کے ثقہ راویوں میں ایک صاحب عامر بن صالح بن عبداللہ زبیری بھی ہیں احمد ان کی توثیق کرتے ہیں جب کہ) ابن معین نے عامر بن صالح کو کذاب کہا ہے۔(3) دار قطنی نے کہا ہے کہ عامر بن صالح متروک ہے۔(4) اور نسائی کہتے ہیں کہ ثقہ نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ الضعفاء للعقلی، ج3، ص235۔239۔
2۔ الجرح والتعدیل، ج6، ص198۔ تہذیب التہذیب،ج7، ص304۔ تہذیب الکمال، ج20، ص517۔ تاریخ بغدادی، ج11، ص455۔
3۔ الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی، ج2، ص72۔ میزان الاعتدال، ج4، ص17۔ المجروحین لابن حبان، ج2، ص188۔ المغنی فی الضعفاء، ص323۔ تہذیب التہذیب، ج5، ص62۔ الکاشف،ج1، ص23۔ تہذیب الکمال، ج14، ص46۔
4۔ میزان الاعتدال، ج4، ص17۔ الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی، ج2، ص72۔ المغنی فی الضعفاء، ص323۔ الکاشف، ج1، ص523۔ تہذیب الکمال، ج14، ص48۔ تاریخ بغداد، ج12، ص236۔
ہے۔(1) اور ازدی کہتے ہیں ذاہب الحدیث ہے۔(2) ذہبی کہتے ہیں کہ واہیات بکتا ہے۔(3) ابن عدی کہتے ہیں اس کی حدیثیں ثقات سے چرائی ہوئی ہیں۔(4) ابونعیم کہتے ہیں کہ وہ ہشام بن عروہ سے ممنوعات روایتیں نقل کرتا ہے جو کچھ بھی نہیں ہے۔(5) اس کے بارے میں ابوزرعہ سے پوچھا گیا تو کہنے لگا اکثر قابل انکار حدیثیں بیان کرتا ہے۔(6) ابن حبان نے کہا ہے کہ صحیح افراد سے جعلی حدیثیں بیان کرتا ہے۔ اس کی حدیثوں کو کتاب میں لکھنا جائز نہیں ہے مگر از راہ تعجب و مسخرہ جگہ دی جاسکتی ہے۔(7)
ابن حجر کہتے ہیں: وہ متروک الحدیث ہے۔(8) حاکم نیشاپوری کہتے ہیں: ہشام بن عروہ سے ممنوعات( وہ روایتیں جن کو نقل کرنے سے روکا گیا ہے) بیان کرتا ہے۔(9) ان تمام باتوں کے باوجود جناب احمد بن حنبل اس کی توثیق کرتے ہیں اور اس سے حدیثیں لیتے ہیں۔ ذہبی نے کہا ہے:” احمد ابن حنبل نے اس شخص سے زیادہ حدیثیں کسی اور کے حوالے سے نہیں بیان کی ہیں اور جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو کہنے لگے کہ وہ ثقہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی، ج2، ص72۔ میزان الاعتدال، ج4، ص17۔ الکامل فی ضعفاء الرجال، ج5، ص83۔ تہذیب التہذیب، ج5، ص62۔ تہذیب الکمال، ج14، ص47۔
2۔ الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی، ج2، ص72۔ تہذیب التہذیب، ج5، ص62۔ تہذیب الکمال، ج14، ص47۔
3۔ میزان الاعتدال، ج4، ص17۔
4۔ الکامل فی ضعفاء الرجال، ج5، ص83۔ تہذیب التہذیب، ج5، ص62۔ تہذیب الکمال، ج14، ص47۔
5۔ الضعفاء لابی نعیم، ص124۔ تہذیب التہذیب، ج5، ص62۔
6۔ سئوالات البرذعی، ص426۔
7۔ المجروحین لابن حبان، ج2، ص188۔ الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی، ج2، ص72۔ تہذیب التہذیب، ج5، ص62۔ تہذیب الکمال، ج14، ص47۔
8۔ تقریب التہذیب، ج1، ص287۔
9۔ المدخل الی الصحیح، ص182۔
او جھوٹ نہیں بولتا”(1) اس شخص نے علماۓ جرح و تعدیل کے ذہنوں کو بھڑکا دیا ہے گویا ہر نقاد حدیث اس کے بارے میں لکھنا ضروری سمجھتا ہے۔ چنانچہ احمد بن محمد قاسم نے لکھا ہے کہ یحییٰ بن معین نے کہا عامر بن صالح کذاب ہے خبیث ہے خدا کا دشمن ہے۔
پھر لکھتے ہیں کہ میں نے یحیی سے کہا: احمد ابن حنبل تو عامر ابن صالح سے روایت لیتے ہیں جبکہ وہ جانتے ہیں کہ ہم نے اس بوڑھے کو اس کی حیات ہی میں چھوڑ دیا تھا میں نے پوچھا ایسا کیوں ہے کہنے لگے مجھے حجاج اعور نے بتایا کہ میرے پاس عامر ابن صالح آیا ار میرے حوالے سے کچھ حدیثیں لکھیں جن کی روایت ہشام بن عروہ پھر ابوتمیمہ اور لیث بن سعد سے کی تھی اورہ وہ ( عامر بن صالح) چلا گیا پھر ان حدیثوں کو ہشام سے روایت کرنے لگا۔ یحیی نے یہ بھی کہا کہ احمد ابن حںبل جنون کا شکارہ ہیں جو عامر بن صالح سے حدیثیں بیان کرتے ہیں۔(2)
محمد ابن عقیل بھی کہتے ہیں: مقبلی نے اپنی کتاب “ العلم الشامخ “ میں جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ امام احمد اپنے فضل و ورع کے باوجود مسئلہ خلق قرآن میں ایسا مبتلا ہوۓ کہ انھوں نے اس مسئلہ کو عقیدہ توحید کے برابر بلکہ اس سے کچھ زیادہ قرار دیدیا پھر لکھتے ہیں وہ ہر اس راوی کی روایت کو رد کردیا کرتے تھے جو اس مسئلہ میں سند کے سلسلے میں خیانت کرتے تھے پھر ان کا تعصب کچھ اور بڑھ گیا اب وہ اس کے بھی تردید کردیا کرتے جو اس مسئلہ میں خاموشی اختیار کرتا( یعنی نہ انکار کرتا نہ اقرار کرتا) ایسے شخص کے بارے میں کہتے فلاں شخص واقفی اور ذلیل ہے وقت کے ساتھ ان کے نظریات میں غلو آتاگیا اور تعصب میں زیادتی ہوتی گئی پھر لکھتے ہیں کہ امام احمد فرماتے تھے میں ایسے شخص سے روایت نہیں لیتا جس نے مسئلہ خلق قرآن میں کسی قسم کا کوئی جواب دیا ہے جیسے یحیی بن معین۔(3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ میزان الاعتدال، ج4، ص17۔ الضعفاء، ص323۔
2۔ میزان الاعتدال، ج4، ص17۔الکامل فی ضعفاء الرجال، ج5، ص83۔
3۔ العتب الجمیل علی اہل الجرح والتعدیل، ص130۔
ذہبی نے احمد بن حنبل کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ فرماتے تھے جس جس نے خلق قرآن کے مسئلہ میں (میرے خلاف ) جواب دیا ہے اس سے میں روایت ہی نہیں لیتا جیسے یحییٰ اور ابونصر تمار و غیرہ۔(1)
ظاہر ہے کہ جب مسئلہ خلق قرآن سے اختلاف، اما صاحب کی نظر میں کس کی جرح کا سب سے بڑا سب تھا اور اس کی جرح میں امام صاحب اتنی عجلت سے کام لیتے تھے حالانکہ وہ غریب راوی اپنی جگہ پر ثقہ بھی ہوتا تھا تو پھر جو شخص مسئلہ خلق قرآن کے علاوہ دوسرے مسائل میں اگر امام صاحب سے اختلاف رکھتا ہو تو وہ ان جرح سے کیسے محفوظ رہ سکتا ہے۔ مثلا صحابہ کی عدالت میں توقف کا مسئلہ۔ ولاۓ اہل بیت اور دشمنان اہل بیت سے عداوت کا مسئلہ، ظاہر ہے کہ امام احمد بن حنبل ان تمام باتوں کے قائل تھے جو ان مسائل میں ان کا مخالف یا متوقف ( یعنی اظہار نظر نہیں کرتا) ہے وہ تو امام صاحب کی جرح سے محفوظ ہی نہیں رہ سکتا ہے۔ پھر وہ لوگ جو ناحق تعدیل میں توقف کرتے ہیں وہ بھی امام صاحب کی جرح سے محفوظ نہیں رہ سکتے اس سلسلے میں مزید ثبوت جنھیں چاہیئے آنے والے صفحا ت میں پیش کروں گا۔ انشائ اللہ۔
محمد بن یحییٰ ذہلی کے بارے میں ذہبی کہتے ہیں۔ آپ امام، اسلام کے بزرگ اور نیشاپور کے حافظ ہیں خراسان میں علم کی بزرگی انھیں پر منتہی ہوتی ہے یہ ثقہ بھی ہیں محتاط بھی ہیں۔ دیندار بھی ہیں اور سنت کی پیروی کرنے والے بھی ہیں ابوحاتم نے کہا ہے: محمد بن یحییٰ اپنے زمانے کے امام ہیں۔ ابوبکر بن زیاد نے کہا ہے محمد بن یحیی حدیث میں امیرالمومنین ہیں ۔۔۔۔(2)
ان تمام صفات کے باوجود محمد بن یحییٰ صاحب کی ذہنی سطح ملاحظہ فرمائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ میزان الاعتدال، ج7، ص222۔
2۔ تذکرۃ الحفاظ، ج2، ص530۔
حسن بن محمد بن جابر کہتے ہیں کہ جب محمد بن اسماعیل بخاری نیشاپور میں تشریف لاے تو محمد بن یحییٰ نے لوگوں سے کہا کہ “ اس شیخ کے پاس جاؤ یہ عالم اور مرد صالح ہے اس سے حدیثیں سنو! لہذا لوگ ان کے پاس جانے لگے اور ان سے حدیثیں سن کر قبول کرتے تھے نتیجہ میں محمد بن یحییٰ کی مجلس میں سناٹا چھا گیا پھر محمد بن یحییٰ امام بخاری سے حسد کرنے لگے اور ان پر اعتراض کرنے لگے”(1)
ابوحامد شرقی کہتے ہیں کہ محمد بن یحییٰ کہا کرتے تھے کہ قرآن کلام خدا ہے اور ہر جہت سے غیر مخلوق ہے چاہے وہ جہاں لے جایا جاۓ۔ جو اس عقیدے کا پابند ہے وہ لفظوں سے مستغنی ہے او قرآن کے بارے میں اس کے علاوہ جو کچھ کہا جاتا ہے اس سے مستغنی ہے جو قرآن کے مخلوق ہونے کا قائل ہے وہ کافر ہے اور ایمان سے خارج ہوچکا ہے۔ اس کی بیوی پر طلاق ہے اس سے توبہ کرائی جاۓ اگر توبہ کر لے تو ٹھیک ورنہ اس کی گردن مار دی جاۓ اس کا مال مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردیا جاۓ اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جاۓ۔ اس مسئلہ پر جو توقف کرتے ہوۓ (نظریہ دیئے بغیر) اور یہ کہتا ہے کہ میں قرآن کو مخلوق کہتا ہوں نہ غیر مخلوق وہ مثل کافر ہے اور جو کہتا ہے کہ قرآن کو جب میں پڑھتا ہوں تو میرے الفاظ مخلوق ہیں ایسا شخص بدعتی ہے اس کے پاس اٹھنا بیٹھنا نہیں چاہئے اور نہ اس سے بات کرنی چاہئے ہماری مجلس سے اٹھ کے جو محمد بن اسماعیل بخاری کی مجلس میں چلا جاۓ اس کو جھوٹا کہو محمد بن اسماعیل کی مجلس میں بیٹھنے والا اسی کا ہم مذہب ہے۔(2)
حاکم نے کہا میں نے محمد بن صالح بن ہانی سے سنا وہ کہہ رہے تھے میں نے احمد بن مسلمہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے بخاری کی خدمت میں عرض کیا کہ اے ابوعبداللہ یہ آدمی(یعنی ذہلی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ تاریخ بغداد، ج2، ص30، تفلیق التعلیق، ج5، ص430۔ 431۔
2۔ تاریخ بغداد، ج2، ص31۔32۔
خراسان میں بہت مقبول ہے خصوصا اس شہر میں اور اپنی بات پر بہت بضد ہ ہم میں سے کوئی بھی اس کا جواب دینے کی صلاحت نہیں رکھتا اب آپ نے کیا سوچا ہے۔ امام بخاری نے اپنی داڑھی پکڑی اور کہا میرے امور خدا کے حوالے ہیں اور بیشک اللہ دیکھنے والا ہے، پالنے والا تو جانتا ہے کہ میں بنشاپور میں فخر و انبساط کے لئے اور اترانے کے لئے نہیں آیا ہوں نہ مجھے ریاست کی طلب ہے میرا نفس وطن کی واپسی پر تیار نہیں ہوتا اس لئے ک وہاں میرے مخالفین کا غلبہ ہے یہ شخص (ذہلی) مجھ سے میری فضیلت کی وجہ سے حسد کرتا ہے یہ فضیلت صرف خدا کا عطیہ ہے پھر کہنے لگے اے احمد کل میں یہاں سے چلا جاؤں گا تاکہ میری غیر موجودگی میں صرف اس آدمی کی حدیثیں لو۔(1)
ان کا پورا تعارف ابراہیم بن یعقوب جوزجانی مسعدی ہے۔ ان کے بارے میں ابن حیان لکھتے ہیں یہ حروی المذہب تھے حالانکہ اس کے مدعی بھی نہیں تھے سنت کے بہت سخت پابند تھے اور حدیثوں کے حافظ تھے لیکن کبھی کبھی ان کی شدت پسندی حد سے بڑھ کے تشدد میں بدل جاتی تھی۔(2)
ابن حجر کہتے ہیں: جوزجانی کی جرح کو قبول نہ کرنے کی صرف ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے وہ یہ ہے کہ جب وہ اپنے اس شخص کی جرح کررہا ہو جس کی اس سے دشمنی ہو اور وہ دشمنی بھی مذہبی اختلاف کی بنیاد پر ہو تو اس کے بارے میں جوزجانی کی جرح نہیں قبول کرنی چاہئے۔ کوئی بھی صاحب عقل اگر تھوڑا سا فکر سے کام لے تو اس کو معلوم ہوجاۓ گا کہ اہل کوفہ کے بارے میں جوزجانی کی راۓ کیوں خراب ہے وجہ یہ ہے کہ جوزجانی شدید ناصبی تھے اور اہل کوفہ شیعہ مشہور ہیں آپ دیکھیں گے کہ کوفہ کی جرح کرنے میں وہ بہت تیز زبان ہیں اور سخت الفاظ استعمال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ تفلیق التعلیق، ج5، ص434۔
2۔ تہذیب التہذیب، ج1، ص159۔ الثقات لابن حبان، ج8، ص81،82۔
کرتے ہیں یہاں تک کہ ان کے قلم کی زد سے اعمش، ابونعیم، عبیداللہ بن موسی اور دوسرے اساطین و ارکان حدیث بھی محفوظ نہیں ہیں۔
میں عرض کرتا ہوں کہ جب جوزجانی صرف تعصب کی وجہ سے ایسے شخص کی جرح کرتا تھا جو جرح کا مستحق نہیں تھا تو پھر کیسے اطمینان کیا جاۓ کہ وہ اپنے اسی تعصب کی وجہ سے ان لوگوں کی تعدیل وتوثیق نہیں کرتا تھا جو اس کے مستحق نہیں ہوتے؟
اس کے علاوہ وہ ناصبی اور امیرالمومنین(ع) سے منحرف بھی تھا جیسا کہ ابن حجر نے اپنے سابقہ کلام میں اس بات کی تصریح کی ہے۔(1)
ابن عدی کہتے ہیں: جوزجانی حضرت علی(ع) کے معاملے میں اہل دمشق کی طرف شدت سے مائل تھا۔(2) دار قطنی کہتے ہیں اس(جوزجانی) کے اندر علی(ع) سے اںحراف پایا جاتا تھا ایک بار اس کے دروازے پر اصحاب حدیث جمع تھے کہ اس کے گھر سے ایک کنیز ایک چوزہ لے کے نکلی تاکہ اس کی ذبح کرے لیکن ذبح کرنے والا نہیں مل رہا تھا تو جوزجانی نے عجیب جملہ کہا: سبحان اللہ آج ایک مرغی ذبح کرنے پر کوئی تیار نہیں ہوتا اور علی نے روز روشن میں بیس ہزار سے بھی زیادہ مسلمانوں کو ذبح کر ڈالا۔(3)
ظاہر ہے کہ جب جوزجانی دشمن علی(ع) اور ناصبی تھا تو وہ منافق بھی ہوا چونکہ احادیث نبوی(ص) سے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ اس موضوع پر ہم آگے بھی گفتگو کریں گے ابھی تو یہ عرض کرنا ہے کہ ایک ناصبی، دشمن علی(ع) کے پاس دین کہاں رہا خصوصا ہم شیعوں کی نظر میں وہ دیندار کیسے ہوسکتا ہے؟ اس لئے کہ ہم شیعیان علی(ع) امیرالمومنین(ع) کے حق کو اچھی طرح جانتے ہیں اور ہمارا دین ہی ولاۓ علی(ع) ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ مقدمہ فتح الباری، ص390۔
2۔ تہذیب التہذیب، ج1، ص159۔میزان الاعتدال، ج1، ص205، الکامل فی ضعفاء الرجال، ج1، ص310، تذکرۃ الحفاظ، ج2، ص549۔
3۔ تہذیب التہذیب، ج1، ص159
راویان حدیث کے ایک نقاد ابو حاتم محمد ابن ادریس بھی ہیں ان کے بارے میں ذہبی کے خیالات ملاحظہ ہوں لکھتے ہیں: اگر ابوحاتم کسی کو ثقہ قرار دیں تو ان کے قول سے تمسک کرو اس لئے کہ وہ توثیق نہیں کرتے مگر صرف صحیح الحدیث آدمی کی البتہ اگر وہ کسی کے بارے میں جرح کریں یا یہ کہیں کہ اس کی حدیثوں سے احتجاج نہیں کیا جاسکتا تو توقت کرو اور یہ دیکھو کہ اس آدمی کے بارے میں دوسروں نے کیا کہا ہے اگر کسی نے اس کی توثیق کی ہے تو پھر ابوحاتم کی جرح پر توجہ مت دو اس لئے کہ ابوحاتم رجال حدیث پر خواہ مخواہ اعتراض کیا کرتے تھے یہاں تک کہ وہ حجت جنہیں ہے یا وہ قوی نہیں ہے یا سیس طرح کے الفاظ سے انھیں نوازا ہے۔(1) ذہبی دوسری جگہ لکھتے ہیں جرح و تعدیل کے معاملے میں مجھے ابوزرعہ کی گفتگو بھلی لگتی ہے پتہ چلتا ہے کہ ابوزرعہ اہل خبرہ اور صاحب ورع ہیں جب کہ ابوحاتم جراح ہیں ان کے بیانات باکل ہی ابوزرعہ کے خلاف ہیں۔(2)
ان کے بارے میں ذہبی نے طعن کی ہے۔ ایک حدیث کے بارے میں جو یحییٰ بن یمان سے مروی ہے بات ہو رہی تھی تو ذہبی نے کہا ترمذی نے اس حدیث کی تحسین کی ہے جب کہ اس کی سند میں تین راوی ضعیف ہیں۔ اس بناء پر ترمذمی کی تحسین سے دھوکا نہیں کھانا چاہیئے اس لئے تحقیق کے وقت اس روایت میں ضعیف راویوں کا غلبہ پایا جاتا ہے۔(3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ سیر اعلام النبلاء، ج13، ص360۔
2۔ سیر اعلام النبلاء، ج13، ص81۔
3۔ میزان الاعتدال، ج5، ص493۔
ذہبی نے کثیر بن عبدالمزنی کے بارے میں ایک گفتگو میں کہا کہ علماء ترمذی کی تصحیح پر اعتماد نہیں کرتے۔(1)
مبارکپوری صاحب کہتے ہیں ترمذی کی تحسین پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اس لئے کہ ان کے اندر تساہل پایا جاتا ہے۔(2) ذہیبی اسماعیل ابن رافع کے بارے میں لکھتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت نے انھیں ضعیف قرار دیا ہے۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ وہ متروک ہیں۔ پھر لکھتے ہیں کہ ترمذی اصل میں تلبیس ( خلط ملط) کرتے ہیں جہاں وہ لکھتے ہیں کہ بعض اہل علم نے ان( اسماعیل بن رافع) کی تضعیف کی ہے۔(3)
میں عرض کرتا ہوں کہ جب امام ترمذی تلبیس فرمایا کرتے تھے تو ان پر کیسے اعتماد کیا جاۓ اور اگر تلبیس نہیں کرتے تھے تو پھر ذہبی پر کیسے اعتماد کیا جاۓ جو ان پر تلبیس کا الزام لگا رہے ہیں۔
یہ بھی رجال حدیث کے نقادوں میں سے ہیں۔ ذہبی ان کے بارے میں لکھتے ہیں امام ابوعمرو بن صلاح نے ان کا تذکرہ طبقات شافعیہ میں کیا ہے۔ انھوں نے حدیثوں میں تصرف کر کے فاحش غلطیاں کی ہیں۔ ابوعمر نے بالکل صحیح کہا ہے کہ وہ بہت وہمی ہیں ان کے کچھ اوہام کی چھان بین حافظ ضیاء الدین نے کی ہے ابواسماعیل انصاری شیخ الاسلام کہتے ہیں میں نے یحییٰ بن عمار سے ابوحاتم بن حبان کے بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگے میں نے انھیں دیکھا تھا ہم لوگوں نے انھیں سجستان سے نکال دیا تھا ان کے پاس علم تو بہت زیادہ تھا۔ لیکن دین بہت کم تھا ابواسماعیل انصاری کہتے تھے کہ میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ تحفتہ الاحوذی، ج2، ص93۔
2۔ میزان الاعتدال، ج7، ص231۔
3۔ میزان الاعتدال، ج1، ص384۔
نے عبدالصمد بن محمد سے سنا وہ کہتے تھے کہ میرے والد فرمایا کرتے تھے لوگ ابن حبان کے خلاف تھے اس لئے کہ وہ کہتا تھا نبوت تو صرف علم اور عمل کا نام ہے۔ اس قول کی وجہ سے لوگوں نے اس کو زندیق قرار دے دیا اور اس کا باکل ہی چھوڑ دیا ان لوگوں نے جب اس بارے میں خلیفہ کو لکھا تو خلیفہ نے اس کے قتل کا حکم دیدیا۔(1)
ابن حجر نے ابونعیم احمد بن عبداللہ کے بارے میں میں لکھا ہے کہ وہ نمایاں افراد میں بڑے سچے انسان تھے۔ ان کے بارے میں شک کرنے والا بغیر کسی دلیل کے شک کرتا ہے لیکن یہ بھی خدا کی طرف سے ان کی سزا ہے اس لئے کہ وہ ابن منذہ کو غلط کہتے تھے۔ ابن منذہ بھی ابونعیم کے بارے میں اس سے بھی کہیں زیادہ رکیک باتیں کہتے تھے جن کی حکایت میں پسند نہیں کرتا۔ اور دونوں میں سے ہر ایک کا قول دوسرے کے بارے میں قبول نہیں کرتا بلکہ میرے نزدیک دونوں مقبول ہیں۔(2)
میں کہتا ہوں کہ جب ابونعیم محض ذاتی بغض کی بنیاد پر ابن منذہ پر اعتراض کرتے ہیں تو ان کے جرح و تعدیل پر کیسے اعتماد کیا جاۓ اس لئے کہ جو خواہشات نفس کی سواری کا سوار ہے وہ یقینا ایسا کرے گا پھر ایسے شخص کے مسلم جھوٹ اور صواب و خطا میں تفریق کیسے کیا جاسکتی ہے۔ یہی بات ابن منذہ کے بارے میں کہی جاۓ گی کہ جب ابونعیم اعلم بھی تھے صدوق بھی تھے تو پھر ابن منذہ ان کے بارے میں بغیر دلیل با تیں کر کے خود کو ذلیل ہی تو کررہے ہیں۔ ابن منذہ ابونعیم کے بارے میں ایسی غلط باتیں کرتے ہیں کہا ابن حجر ان کو نقل کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔ اس سلسلے میں مزید گفتگو وہاں کی جاۓ گی جہاں بعض معاصرین پر ان کے ہم عصروں کی جرح کا ذکر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ میزان الاعتدال، ج6، ص99۔ تذکرۃ الحفاظ، ج3، ص 921۔922۔
2۔ میزان الاعتدال، ج1، ص251۔ لسان المیزان، ج1، ص201۔
ذہبی نے حاکم نیشاپوری کے بارے میں جرح کی ہے۔ ابن قتیبہ کے حالات زندگی میں لکھتے ہیں عبداللہ مسلم ابن قتیبہ ابومحمد بہت سی کتابوں کے مصنف اور بڑے سچے انسان تھے۔
خطیب نے کہا ہے: دیندار اور فاضل تھے۔ حاکم نے کہا ہے: امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ قتیبی بڑا جھوٹا ہے۔ میں کہتا ہوں: یہ بہت گندی بات اور بکواس اور ایسے شخص کا کلام ہے جس کے دل میں خوف خدا نہیں ہے۔(1)
ان کے بارے میں اسی لئے حاکم نے کہا ہے کہ “ یہ کھلی بکواس اور ورع کی کمی کا نتیجہ ہے میں نے تو اس قول سے پہلے کسی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ قتیبی جھوٹا ہے بلکہ خطیب نے کہا ہے کہ وہ ثقہ ہے” مجھے احمد بن سلامہ نے حماد حرانی کے حوالے سے خبر دی ہے کہ انہوں نے سلفی سے سنا کہ وہ حاکم کے اس قول پر معترض تھے کہ “ ابن قتیبہ
سے روایت جائز نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں” قتیبہ توثیقات میں سے اور اہل سنت ہیں۔
پھر کہتے ہیں: لیکن حاکم نے محض اختلاف مذہب کی وجہ سے قتیبہ پر اعتراض کیا ہے۔(2)
ابن حجر کہتے ہیں: ابن قتیبہ سلفی کا؟!” مذہب کے باعث اختلاف” سے مقصد ناصبی ہونا ہے اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ابن قتیبہ اہل بیت(ع) سے منحرف تھا اور حاکم اس کی ضد تھے۔(3)
ابن حزم کے بارے میں ابن خلکان نے کہا ہے: وہ علماۓ متقدمین پر بہت اعتراض کرتے تھے کوئی عالم بھی ان کی زبان کے ڈنک سے محفوظ نہیں رہا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کے دل ان سے متنفر ہوگئے اور وہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ میزان الاعتدال، ج4، ص198۔
2۔ سیراعلام النبلاء، ج13، ص299۔
3۔ لسان المیزان، ج3، ص358۔
اپنے وقت کے فقہاء کے اعتراض کے اعتراض کا ہدف بن گئے لوگ ان سے بغض رکھنے لگے اور ان کے قول کی تردید کرنے لگے لوگوں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کردیا کہ وہ گمراہ ہیں اور ان کو برا کہنے لگے۔ ابولعباس بن العریف جن کا ذکر پہلے بھی ہوچکا ہے کہا کرتے تھے: ابن جزم کی زبان اور حجاج بن یوسف کی تلوار بھائی بہن ہیں۔ یہ بات انہوں نے اس لئے کہی تھی کہ ابن حزم ائمہ پر بہت کثرت اور شدت سے اعتراض کرتے تھے۔(1) ابن حزم نے ترمذی کے بارے میں کہا کہ وہ مجہول ہیں اس کے جواب میں ذہبی کہتے ہیں: ابو محمد بن حزم کے اس قول پر توجہ نہیں دینی چاہیئے جو انہوں نے اپنی کتاب الایصال میں فرائج بیان کرتے ہوۓ کہا ہے کہ ترمذی مجہول ہیں اصل میں ابن حزم ترمذی کی معرفت نہیں رکھتے شاید انہیں ترمذی کی دو کتابیں العلل اور جامع دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملا۔(2) ترمذی کے بارے میں ابن حزم کے مذکورہ قول پر تعقیب کرتے ہوۓ ابن حجر لکھتے ہیں:ترمذی کے بارے میں ایسی بات کہہ کے ابن حزم نے اپنی ہی جہالت کا اعلان کر دیا یہ تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ممکن ہے کہ ابن حزم، ترمذی کو نہ جانتا ہو اور ان کے حفظ و تصانیف سے نا واقف ہو اس لئے کہ اس آدمی نے امت کے مشہور حفاظ و ثقات کے بارے میں بھی بات کہی ہے اور یہی عبارت دہرائی ہے. جیسے ابوالقاسم بغوی، اسماعیل بن محمد بن صفار. اور ابو العباس الصم جیسے لوگ ( ان کے بارے میں بھی ان سے یہی بکواس ہے).
ابن حزم کے بارے میں ذہبی کہتے ہیں: ابن حزم ائمہ کو خطاب کرنے میں ادب کا لحاظ نہیں رکھتا تھا بلکہ گندی عبارتوں، گالیوں اور لڑنے جھگڑنے پر اتر آتا تھا اس کو ابھی اس کے عمل کے اعتبار سے ملی ائمہ کی جماعت نے اس کی کتابوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی اس کو چھوڑ دیا اور اس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ وفیات الاعیان، ج3، ص327۔
2۔ میزان الاعتدال، ج6، ص289۔
سے نفرت کرنے لگے ایک مرتبہ اس کی کتابیں بھی جلا دی گئیں. ابوبکر بن عربی نے علی بن محمد کے بارے میں کتاب القواصم والعواصم کے حاشیہ پر لکھا ہے ابن حزم نے نشو نما پائی. شافعی مذہب سے اس کا تعلق تھا پھر خود کو داؤد سے نسبت دی اس کے بعد سب کو چھوڑ چھاڑ کے صرف اپنے نظریات پر مستقل ہوگیا اور خود کو تمام اماموں کا امام سمجھنے لگا کبھی اپنی ری کو خود ہی وضع کرتا کبھی مرتفع کرتا خود ہی فیصلے کرتا خود ہی شریعت بناتا، دین خدا کی طرف ایسی باتوں کی نسبت دیتا جس کا دین خدا سے کوئی تعلق نہیں علماء کے خلاف ایسی باتیں کہتا جس کا کوئی عالم بھی قائل نہیں تھا مقصد یہ تھا کہ اس باتوں کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں علماء سے نفرت پیدا ہوجائے. ابوالعباس ابن عریض کہتے ہیں کہ ابن حزم کی زبان اور حجاج بن یوسف کی تلوار حقیقی بہنیں تھیں.
ابن حجر اس کے بارے میں فرماتے ہیں: اس کے حافظہ میں بڑی وسعت تھی مگر یہ کہ اپنے حافظہ پر بھروسہ کر کے تعدیل و تجریج اور راویوں کے ناموں کے بارے میں وہ خوش فہمی کا شکار ہوگیا. اور لوگوں پر حملے کرنے لگا اس کو برے اوہام نے گھیر لیا. یہاں تک کہ اندلس کے مورخ ابومروان ابن حبان کہتے ہیں : لوگوں کے دلوں میں ابن حزم کی طرف سے بڑھتے ہوئے بغض کا سبب یہ تھا کہ اس کا بنی امیہ کی طرف جھکائو تھا وہ بنی امیہ کے گذشتہ اور موجود افراد سے بھی شدید محبت کرتا تھا اور ان کی امامت کو صحیح جانتا تھا یہاں تک کہ لوگ اس کو ناصبی کہنے لگے. اس کی دشمنی علم یقین کی آگ سے بھی زیادہ روشن ہے.(1)
ابن جوزی کا پورا نام ابوالفرج عبد الرحمن ے. ابن اثیر، ابن جوزی ابوالفرج عبد الرحمن کے بارے میں کہتے ہیں : لوگوں پر کثرت سے اعتراض کرتا تھا خصوصا ان علماء پر جو اس کے مذہب کے خلاف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1. لسان المیزان، ج4، ص198. 200. علی بن احمد سعید بن حزم کے احوال میں.
تھے.(1) اور اس کے بارے میں ابوالفداء کہتے ہیں: وہ علماء پر کثرت سے اعتراض کرتا تھا.(2) ذہبی کہتے ہیں: ابن جوزی کی تالیفات میں کثرت سے اوھام ہیں اس نے جلدی جلدی میں جو سمجھ میں آگیا لکھ دیا اور پھر دوسری تصنیف کی کوشش کرنے لگا.(3)
سیوطی لکھتے ہیں: ابن جوزی نے اپنی کتاب میں ایسی حدیثیں بھر دی ہیں جن کی وضع پر تو کوئی دلیل نہیں لیکن وہ حدیثیں ضعیف ہیں. بلکہ ان میں کچھ حسن اور صحیح حدیثیں بھی ہیں تعجب کی بات یہ ہے کہ اس کتاب میں ایک حدیث صحیح مسلم سے بھی ہے جیسا کہ میں عنقریب وضاحت کروں گا. ذہبی کہتے ہیں : ابن جوزی اپنی کتاب میں اکثر حسن اور قوی حدیثوں کو جعلی حدیثوں کی فہرست میں ڈال دیتا ہے.(4)
سیوطی ابن جوزی کے بارے میں مزید فرماتے ہیں! تاریخ کبیر میں کہا: ابن جوزی کا حافظ صنعت کے اعتبار سے قابل تعریف نہیں ہے. بلکہ اس اعتبار سے قابل تعریف ہے کہ ان کے حافظہ میں اطلاعات کی کثرت ہے اور انہوں نے بہت کچھ جمع کر رکھا ہے.(5) اسی طرح کے کلمات ابن جوزی کے بارے میں اکثر لوگوں نے لکھے ہیں.
جوزی کی طرح امام ذہبی نے بھی تعصب میں مشہور ہیں ان کو اہل بیت(ع) اور ان کے ساتھیوں (شیعوں) سے خاص تعصب ہے آپ کا اسم گرامی محمد بن احمد بن عثمان ہے. ذہبی میزان الاعتدال اور سیر اعلام
...............................................
1. الکامل فی التاریخ، ج10، ص276، سنہ597ء، کے واقعات میں.
2. المختصر فی اخبارالبشر، ج3، ص101، سنہ597ئ کے واقعات میں.
3. تذکرة الحفاظ، ج4، ص1347، ابن جوزی کے حالات میں.
4. تدریب الراوی، ج1، ص278.
5. طبقات الحفاظ، ص480.481، ابن جوزی کے حالات میں.
النبلاء جیسی مشہور اور جلیل القدر کتابوں کے مئولف ہیں اہلسنت کے نزدیک بڑے جلیل القدر اور واجب التعظیم ہیں، ان کی حدیثوں سے اہل سنت احتجاج بھی کرتے ہیں ان تمام فضائل کے باوجود زیادہ تر لوگوں نے ان کے تعصب کی طرف متوجہ کیا ہے اور اس درجہ ان پر طعن کی ہے جس کو دیکھتے ہوئے ان کی جرح و تعدیل پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا.
ان کےشاگرد رشید سبکی فرماتے ہیں: انصاف یہ ہے کہ ہمارے استاد کے بارے میں جو کہا جاتا وہ ان سے بالاتر ہیں. اور سچائی اس بات کی مستحق ہے کی راستہ چلنے والا اس کو ترجیح دے( حق تو یہ ہے کہ) ہمارے استاد ذہبی حنبلی مذہب کی طرف بہت زیادہ مائل تھے اپنے دور کے اہل سنت کو بہت تنگ کرتے تھے ان کے نیزہ قلم کا نشان ابوالحسن اشعری تھے اس لئے کہ اہل سنت کے قافلے کے رہنما و سردار تھے یہی وجہ ہے کہ ذہبی نے اہل سنت کے کسی عالم کی سوانح حیات نہیں لکھی اور نہ انہیں کبھی خیر سےموصوف کیا مگر یہ کہ جب وہ بالکل مجبور ہوگئے تو انہوں نے تاریخ کبیر جیسی کتاب لکھی اور کیا عمدہ کتاب لکھی ہے کاش ان کے اندر تعصب نہ ہوتا.(1)
پھر وہی سبکی آگے بڑھ کے لکھتے ہیں:
اس طرح کے لوگوں میں ایک ہمارے استاد ذہبی بھی ہیں علم بھی رکھتے ہیں صاجب دیانت بھی لیکن اہل سنت پر افراطی حملے کرتے ہیں لہذا ان پر اعتماد کرنا روا نہیں ہے.
میں نے حافظ صلاح الدین خلیل بن کیکلدی علائی کی ایک تحریر سے یہ عبارت نقل کی ہے جو ذہبی کی حیثیت پر نص کرتی ہے لکھتے ہیں شیخ حافظ شمس الدین ذہبی کے دین و ورع اور شرافت جو لوگوں کے درمیان مشہور ہے اس میں کوئی شک نہیں کرسکتا، لیکن ان پر مذہب اثبات کا غلبہ ہے تاویل ہیں
.......................................................
1.طبقات الشافعیتہ الکبری، ج9، ص301، 104، محمد بن احمد بن عثمان بن قاہماز کے واقعات میں.
سے متنفر ہیں اور تنزیہ سے غافل ہیں ان کے نظریوں کا شدید اثر یہ ہوا کہ وہ اہل تنریہ سے بالکل منحرف اور اہل اثبات کی محبت میں دیوانے ہوگئے نتیجہ یہ ہوا کہ اگر وہ اہل اثبات میں سے کسی کے حالات زندگی لکھتے ہیں تو اس کے اوصاف کو تفصیل سے لکھتے ہیں اور اس کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں اس کی غلطیوں سے غفلت برتتے ہیں اور تا امکان ان کی تاویل کرتے ہیں لیکن اگر وہ اہل تنزیہ میں سے کسی کے بارے میں کہتے ہیں تو اس کی معمولی باتوں کو بھی پکڑ لیتے ہیں جیسے امام الحرمین اور غزالی وغیرہ. ایسے لوگوں کے صفات کو کم کر کے لکھتے ہیں اور ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے طعن کی ہے ان کے اقوال کثرت سے نقل کرتے ہیں. پھر انہیں اقوال کو دوبارہ لکھتے ہیں اور وضاحت سے لکھتے ہیں مشکل یہ ہے کہ ایسی غلطی کو وہ ان کا دین سمجھ لیتے ہیں اور اس کے دین کو سمجھ نہیں پاتے، خوبیوں سے اعراض کرتے ہیں چاہے جتنی روشن ہوں لیکن وہ ان کو بیان نہیں کرتے. اپنے مخالف مذہب کی اگر چھوٹی غلطی بھی پکڑ لیتے ہیں تو فورا اس کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں، ہمارے ہم عصروں کے بارے میں بھی یہی رویہ ہے اگر کسی حالات کو وہ نہیں لکھ پاتے جب بھی اپنے نوک قلم سے ایک زخم لگا ہی دیتے ہیں اور یہ لکھ دیتے ہیں کہ خدا اس کی اصلاح کرے ان تمام باتوں کا سبب صرف مذہبی اختلاف ہے. ہمارے استاد ذہبی کے سلسلے میں جو کچھ بیان کیا جاچکا ہے حقیقت اس سے کچھ زیادہ ہی ہے وہ ہمارے شیخ اور ہمارے معلم ہیں لیکن حق اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے. ہمارے شیخ تعصب کی ان حدوں کو پہونچے ہوئے ہیں کہ ان کی حالت دیکھ کر ہنسی آتی ہے. کبھی کبھی وہ اظہار تعصب میں مسخرے لکھتے ہیں. میں ان علماء مسلمین سے خوف زدہ ہوں جنہوں نے ہم تک شریعت نبویہ پہونچائی ہے چونکہ قیامت کے دن شیخ ذہبی سے اپنا حساب ضرور لیں گے ان میں سے اکثر اشعری ہیں اور ہمارے شیخ کی حالت یہ ہے کہ جب کسی اشعری پر قلم اٹھاتے ہیں تو ساری احتیاط بالائے طاق رکھ دیتے ہیں میرا عقیدہ ہے کہ یہ علماء قیامت
کے دن اس پروردگار کی بارگاہ میں ان سے مخاصمت کریں گے جس کی عدل پرور بارگاہ میں ان علماء کا ادنی بھی شیخ ذہبی سے کہیں زیادہ وجاہت رکھتا ہے میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارے شیخ کے ساتھ نرمی برتے اور ان علماء پر الہام کردے کہ وہ ان کو معاف کردیں اور اس معاملے میں ان کی شفاعت کریں.
جہاں تک مشائخ کا سوال ہے تو ان حضرات نے ان کی گفتگو پر غور کرنے سے منع کیا ہے. اور ان کے قول پر اعتبار کرنے سے روکا ہے ان کی تاریخی کتابوں میں سے صرف ان واقعات اور ان عبارتوں کو نقل کرنے کی اجازت دی ہے جن کو پڑھ کے ان پر عیب نہ لگایا جاسکے.
جہاں تک شیخ علائی کے قول کی بات ہے تو وہ مارے شیخ کے دین، ورع اور شرافت کے قائل ہیں لہذا ہمارا بھی اعتقاد یہی ہے اور جب میں ان کے قلم سے علماء پر حملے کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوٹ کہ شاید انہیں باتوں کو وہ دین سمجھتے ہوں حالانکہ انہوں نے جو لکھا ہے ان میں سے کچھ باتوں کے بارے میں مجھے یقین ہے کہ وہ جھوٹ ہے اور وہ بھی جھوٹ سمجھتے تھے لیکن مجھے یقین ہے کہ انہوں نے اپنی طرف سے وہ باتیں وضع نہیں کی ہیں. اسی طرح مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی کتاب میں ایسی باتیں لکھتے ہی اس لئے تھے کہ ان کی شہرت ہوجائے. اور مجھے یقین ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ ان ان باتوں کو سننے والا ان کی صحت پر یقین کرے محض اس لئے کہ جس کے بارے میں وہ بات کر رہے ہیں اس سے بغض ہے اور چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی ان سے نفرت کریں. جالانکہ انہیں نہیں معلوم تھا کہ وہ کس کے بارے میں جو الفاظ استعمال کررہے ہیں ان الفاظ کے مدلِّلات کیا ہیں؟ ان کی نیت بس یہ تھی کہ وہ اپنی اس تیزی قلم سے اپنے مذہب کی نصرت کررہے ہیں حالانکہ وہ علم شرعیہ سے واقف بھی نہیں تھے.
اب رہ گئی ان کی شرافت اور علم کی باتیں تو ان کے مرنے کے بعد جب مجھے ان کے کلام کو دیکھنے کی ضرورت ہوئی بھی تو غور کرنے کے بعد پتہ چلا کہ شیخ علائی نے ان کی شرافت نقس کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے سب ڈھول کا پول ہے میں ان کے کلام کا حوالہ دئیے بغیر اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا لہذا پہلے ان کے کلام کو دیکھتے اور جو چاہے ان کے قلمی کاناموں کو دیکھ سکتا ہے پھر ان کے کلام کو دیکھنے والے سے میرا ایک سوال ہے کہ کیا جب انسان غضبناک ہوتا ہے تو آپ کو شریف لگتا ہے یا غیر شریف؟ میرا مطلب ہے کہ پہلے آپ یہ سمجھ لیں کہ وہ غضبناک کب ہوتے ہیں وہ غضبناک اس وقت ہوتے ہیں جب اپنے مذہب کے خلاف ان تین مذاہب یعنی حنبلی، شافعی اور مالکی والوں کے بارے میں کچھ لکھنا شروع کرتے ہیں مجھے یقین ہے کہ یہ شخص جب ان میں سے کسی کے بھی حالات زندگی کو لکھنے لگتا ہے تو اس پر شدید غضب طاری ہوتا ہے اس کے باوجود وہ فرط غضب میں الفاظ کے معنی بھول جاتا ہے نتیجہ مقام ذم میں جو الفاظ وہ استعمال کرتا ہے اگر اس کے معنی سے باخبر ہوتا ہرگز استعمال نہیں کرتا.
مثال کے طور پر فخرالدین رازی کو لیجئے مجھے تعجب ہوتا ہے کہ ذہبی نے فخرالدین رازی کا نام ضعفاء کی فہرست میں لکھا ہے. اسی طرح سیف آمدی کا نام بھی ضعفاء کی فہرست میں ہے جب میں ان کے نام ضعیف راویوں کی فہرست میں دیکھا تو سوچا کہ یہ دونوں راوی کب سے ہوگئے جب کہ ان غریبوں نے کبھی کوئی روایت بیان نہیں کی نہ کسی نے ان پر جرح کی اور نہ میں نے یہ سنا کہ کسی نے ان کو ان علوم میں ضعیف قرار دیا ہو جو ان سے نقل کئے جاتے ہیں. پھر اس کتاب میں اس کی گنجائش کہاں سے نکل گئی. پھر میں نے کسی کو نہیں دیکھا فخرالدین رازی کو فخر کے نام سے پکارے یا لکھے کیونکہ لوگ ان کو یا امام رازی لکھتے ہیں یا ابن خطیب لکھتے ہیں. جب ان کا ترجمہ ( سوانح) کوئی لکھتا ہے تو انکا نام محمدین کی فہرست میں لکھا جاتا ہے مگر ہمارے شیخ نے ان کا نام(ف) کی فہرست میں لکھ کے فخر کے نام سے یاد کیا ہے.
پھر ہمارے شیخ اپنی کتاب کے آخر میں قسم کھا کر کہتے ہیں کہ میں نے اس میں ہوائے نفس اور تعصب کو دخیل بنایا ہے. میں کہتا ہوں کہ اس سے بڑی ہوائے نفس کیا ہوگی؟ ہونا یہ چاہئے تھا کہ یا تو وہ اپنے قلم کو قابو میں رکھتے یا ان کا تذکرہ ہی نہ کرتے. اب تو ان سے پوچھا جائے گا آپ نے غیر رواۃ کا تذکرہ کیوں کیا؟ یا پھر یہ سمجھ لوں کہ آپ کی یہ حرکت ہوائے نفس کا تقاضا نہیں ہے؟ ظاہر ہے شیخ جی جب اس حد تک پہونچ چکے ہیں تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ العیاذ باللہ ان کے دل پر ( تعصب) کی مہر لگی ہوئی ہے.(1)
سبکی مزید لکھتے ہیں : لیکن ہمارے استاذ ذہبی کی تاریخ ( خدا انہیں معاف کرے) اپنے حسن اور جمال میں ان کا جواب نہیں رکھتی لیکن اس کے اندر تعصب کی افراط ہے. کاش خدا ان کو گرفتار نہ کرے.اس لئے کہ اس تاریخ میں انھوں نے اہل دین پر کثرت سے حملے کئے ہیں اہل دین سے میری مراد وہ فقہاء ہیں جو اللہ کی مخلوقات میں درجہ اصطفے پر فائز ہیں شیخ نے شافعی اور حنفی اماموں پر بڑی زبان درازیاں کی ہیں اور پھر اشاعرہ پر کثرت سے حملہ کر کے مجسمہ کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے ہیں.
سوچئے جب اتنے بڑے حافظ اور نمایاں امام کا یہ حال ہے تو عام مورخین کے بارے میں کیا کہا جائے. یہی ہے کہ مورخین کی طرف سے کی گئی مدح یا ذم کو قبول نہ کیا جائے.
مگر اس شرط کے ساتھ جو امام الائمہ، حبر الامتہ شیخ امام والد ماجد نے لگائی ہے. میں نے ان کے دست مبارک سے یہ عبارت ان کے مجامع میں دیکھی ہے وہ لکھتے ہیں : میں ذہبی کی تاریخ کا مطالعہ کرتے کرتے اس وقت فکر کرنے پر مجبور ہوگیا جب شیخ ذہبی موفق ابن قدامہ حنبلی کے حالات بیان کرنے لگے اور پھر فخرالدین بن عساکر کے بارے میں گفتگو شروع کی انھوں نے
........................................
1.طبقات الشافعیہ الکبری، ج2، ص13. 15 عنوان جرح و تعدیل میں ایک قاعدہ! احمد بن صالح کی سوانح سے متعلق
قدامہ حنبلی کے حالات کو بہت طول دیا اور فخر رازی کے حالات میں کوتاہی کردی. کوئی بھی صاحب عقل ذہبیی کی اس چالاکی کو سمجھ سکتا ہے اس طویل و تقصیر کی بنیاد مذہبی اختلاف ہے ان میں سے ایک حنبلی ہے تو دوسرا اشعری. سب کے سب خدائے عالمین کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا حساب دینے والے ہیں.
سبکی نے کچھ اور باتیں کی ہیں لیکن ان کے بیان کی گنجائش نہیں ہے.
سخاوی کہتے ہیں : حافظ شام ابن ناصرالدین نے ذہبی برزالی اور مزی کا ایک تقابلی جائزہ لیا پھر یہ فیصلہ دیا ہے کہ صدر اول کے رجال کے بارے میں مزی کو تفوق حاصل ہے برزالی دونوں زمانے کے رجال اور اپنے ماضی قریب کے رجال کے بارے میں اچھی معرفت رکھتے ہیں. جب کہ ذہبی دونوں زمانے کے درمیان متوسطین کے بارے میں اچھی معرفت رکھتے ہیں اور ان بعض مشائخ نے اس معاملے میں ان کی تائید کی ہے.
لیکن برزالی اور مزی پر جب لوگوں کی سوانح بیان کرتے ہیں تو ہوائے نفس کا غلبہ کم ہوتا ہے جب کہ ذہببی کا معاملہ اس کے خلاف ہے. حافظ مرابط محمد بن عمر غرناطی اور تاج ابن سبکی نے ذہبی پر بڑی سخت تنقید کی ہے اور لوگوں کے حالات بیان کرنے کے بارے میں ان پر سخت اعتراض کیا ہے ان دونوں نے ان کی طرف سخت تعصب کو منسوب کیا ہے اور ان کی تحریر سوانح اس تعصب سے کہیں خالی بھی نہیں ہے خصوصا جب وہ حشویہ اور ان کے مخالف افراد کے حالات بیان کرتے ہیں( تو تعصب میں حد سے آگے بڑھ جاتے ہیں).
اب قارئین غور کریں کہ جب اہل سنت افراد امام ذہبی کے ہم مذہب ہیں ان کے بارے میں ذہبی کا یہ حال ہے تو شیعہ تو ان کے مذہب کے خلاف ہیں ان کے بارے میں انھوں نے کیا کیا نہیں لکھا ہوگا چو ان کی کتابوں کو دیکھے گا اس
پر ان کا ناصبی ہونا واضح ہوجائے گا ویسے ہم بھی اس بات کے کچھ شواہد آنے والے صفحات میں پیش کریں گے. انشاء اللہ.
طعون عامہ کے بارے میں گفتگو کے دوران گذشتہ افراد کے علاوہ کچھ دوسرے لوگوں پر بعض افراد کی طعن آئے گی.
قسم دوم وہ طعون عامہ جن کی وجہ سے اہل سنت کے تمام ارباب جرح و تعدیل کی وثاقت سلب ہوجاتی ہے اس لئے کہ ان طعون کی وجہ سے سب کا حال ایک جیسا ہے.
اہل سنت کے علماء اپنے معاصرین پر کھل کے طعن کرتے تھے گویا انھوں نے اس کو اپنا دستور بنالیا تھا. گذشتہ صفحات میں آپ نے دیکھا کہ حسن بن محمد بن جابر بن یحیی ذہلی نے محض حسد کی بناء پر امام بخاری پر کیسے کیسے اعتراض کئے. ابن حجر کے مطابق ابو نعیم صرف ہوائے نفس کی وجہ سے ابن منذہ پر طعن کرتے تھے اور ابن منذہ بھی ابونعیم کے بارے میں اتنی فحش باتیں کرتے تھے کہ جن کا ذکر مناسب نہیں ہے ان تمام باتوں کے باوجود دونوں بزرگوار ابن حجر کے نزدیک مقبول ہیں ابن حجر نے اپنی اس گفتگو کے آخر میں لکھا ہے کہ اگر علماء اپنے معاصرین پر اعتراض کرتخ ہیں تو اس اعتراض پر توجہ نہیں دینی چاہئے خصوصا جب یہ معلوم ہو کہ یہ طعن عداوت، حسد، یا اختلاف مذہب کا نتیجہ ہے. اس لئے کہ ان کمزوریوں سے تو وہی محفوظ رہ سکتا ہے جس کی اللہ حفاظت کرے. میرا خیال ہے کہ کوئی بھی زمانہ ایسا نہیں ہے جس میں علماء نے اپنے معاصرین پر تنقید نہ کی ہو انبیاء اور صدیقین کی بات دوسری ہے تم اگر چاہو تو اس طرح کے واقعات سے دفتر کا دفتر پر کرسکتے ہو. یہی ابن حجر، عمر بن علی کے بارے میں لکھے ہیں کہ علی ابن مدینی نے علی ابن عمر پر حملے کئے.
حاکم کہتا ہے کہ عمرو بن علی بھی ابن مدینی کے بارے میں کچھ نہ کچھ کہتے رہتے تھے حالانکہ خدا نے دونوں کو ایسا جلیل القدر مرتبہ دیا جو ان کے باہمی الزامات سے بہت بلند ہے. کہنے کا مقصد یہ ہے کہ معاصرین علماء جب اپنے ہم عصر افراد کے بارے میں باتیں کریں تو اس پر اعتبار نہیں کرنا چاہئے اس لئے کہ جو بات مفسر کے عنوان سے نہ ہو اس کے بیان میں کوئی ضمانت نہیں ہے.
ذہبی فرماتے ہیں: اقران ( معاصر) تو ایک دوسرے پر اعتراض کرتّے رہتے ہیں اس سلسلے میں کافی مواد موجود ہے لیکن میرا خیال ہے کہ اسے مختصر کرتے ہوئے روایت نہ کی جائے بلکہ ترک کردیا جائے اور طعن و تشنیع کا ذریعہ نہ بنایا جائے اور آدمی کا معاملہ عدل و انصاف کے ساتھ ہونا چاہئے.
ابن ابی دائود وہ بزرگ ہیں جو غدیر خم کی حدیث پر معترض ہیں. صرف اتنا ہی نہیں.(1) بلکہ اس حدیث کے منکر ہیں.(2) ذہبی، ابن ابی دائود کے باپ ہیں ان کے سلسلہ میں لکھتے ہیں احمد بن یوسف ارزق کہتے ہیں. میں نے ابوبکر ابن ابی دائود کو کہتے سنا کہ تمام لوگ ہمارے ہم مشرب ہیں سوائے اس کے کہ لوگ مجھے بغض علی کا الزام دیں.
حافظ بن عدی کہتے ہیں شروع شروع میں ابن ابی دائود کی طرف عداوت کی نسبت دی جاتی تھی جس کی وجہ سے ابن فرات نے انھیں بغداد سے نکال کر واسط بھیج دیا لیکن ابن عیسی نے ان کو واپس کردیا جس کی وجہ سے ابن ابی دائود فضائل علی(ع) میں حدیثیں بیان کرنے لگے( میں حافظ بن عدی کہتا ہوں کہ ابن ابی دائود) بڑے دل، گردے کے آدمی تھے اور ابن ابی دائود، و ابن
...............................
1.سیر اعلام النبلاء، ج14، ص274، محمد بن جریرکی سوانح حیات میں. تذکرة الحفاظ، ج2، ص713، محمد بن جریر بن یزید بن کثیر کی سوانح حیات میں.
2. معجم الادبائ، ج18، ص84، محمد بن جریر طبری کے احوال میں.
جریر اور ابن صاعد و ابن عیسی کے درمیان جنھوں نے ابن دائود کو اپنا مقرب بنا رکھا تھا
اختلافات پیدا ہوگیا نتیجہ میں ابن جریر ان کے پیچھے پڑ گئے اب مجمد بن عبد اللہ قطان کہتے ہیں کہ میں ابن جریر کی مجلس میں تھا کہ کسی نے کہا اب تو ابن ابی دائود لوگوں کے درمیان فضائل علی(ع) بیان کررہے ہیں تو ابن جریر نے کہا ابن دائود کی آواز اصل میں چوکی دار کی تکبیر ہے (یعنی ریا کاری ہے) میں ( حافظ بن عدی) کہتا ہوں ابن جری کا اعتراض
قابل توجہ نہیں ہے اس لئے کہ ابن ابی دائود اور ابن جریر میں عداوت تھی.(1)
ابن ابی دائود ( قدوة المحدثین حافظ ابوبکر عبداللہ حافظ کبیر ابو دائود کے فرزند) لیکن مجھے نہیں معلوم ان کے باپ نے ان میں کیا دیکھا کہ جھوٹا کہہ دیا میں نے علی ابن عبداللہ بن داہری سے سنا ہے کہ انہوں نے محمد بن احمد بن عمرو سے انہوں نے علی بن حسین بن جنید سے انہوں نے ابو دائود سے سنا کہ میرا بیٹا عبد اللہ کذاب ہے. پھر ابن عدی کہتے ہیں کہ ابن صاعد کہا کرتے تھے ابن دائود کے بارے میں ہم لوگوں کے لئے اس کے باپ کا قول ہی کافی ہے میں کہتا ہوں ابن صاعد کے قول پر اعتبار نہیں کرنا چاہئے جس طرح ابن دائود جب ابن صاعد کی تکذیب کرتا ہے تو ہم اس کو قبول نہیں کرتے. اسی طرح معاملے میں ابن جریر کا قول بھی ناقابل اعتبار ہے اس لئے کہ ان حضرات کے اندر ایک دوسرے سے عداوت تھی. معاصرین جب ایک دوسرے کے بارے میں اظہار خیال کریں تو توقف کرو. رہ گیا ابن دائود کے بارے میں ان کے باپ کا قول تو ظاہر ہے کہ ان کا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ میرا بیٹا حدیث میں جھوٹا ہے. ان کے کہنے کا مطلب تھا کہ میرا بیٹا مقام گفتگو میں جھوٹا ہے نہ کہ حدیث نبوی بیان کرنے میں. گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ عبداللہ بھی جوان
.......................................
1.سیر اعلام النبلاء، ج13، ص230، ابوبکر سجستانی کی سوانح حیات میں.
رعنا ہے پھر بڑا ہو کے سردار بن جائے گا.(1)
ذہبی اسی سلسلے میں پھر خامہ فرسا ہیں کہ بخاری نے اپنی کتاب میں اپنے رجال کے بارے میں ایک اچھی فصل ذکر کی ہے. ابراہیم ابن سعد اور صالح بن کیسان ان کا شمار رجال بخاری میں ہوتا ہے اور ابن اسحاق سے کثرت سے روایتیں بیان کی ہیں. بخاری فرماتے ہیں کہ اگر مالک کے بارے میں صحیح ہے کہ وہ ابن اسحاق سے کدورت رکھتے تھے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے اس لئے کہ آدمی کسی ایک دو بات میں اپنے ساتھی سے اختلاف کر کے اس پر تہمت لگا سکتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تمام امور میں اس پر تہمت لگا رہا ہے.
بخاری کہتے ہیں: ابراہیم بن منذر نے محمد بن فلیح کے حوالے سے کہا کہ امام مالک ہمیں شیخین قریش ( عمر و ابوبکر) سے روایت کرنے کو منع کرتے تھے حالانکہ ان کی کتاب موطا میں ان دونوں سے کثیر روایتیں موجود ہیں. لوگوں کے اعتراض سے اکثر افراد محفوظ نہیں ہیں جیسے شعبی پر ابراہیم کا اعتراض اور عکرمہ پر شعبی کا اعتراض نیز شعبی سے پہلے کے افراد پر شعبی کا اعتراض کچھ لوگوں نے تو اپنے معاصرین کی عزت نفس اور چان پر بھی حملہ کیا ہے لیکن واضح دلیل کے بغیر اس طرح کی باتوں پر توچہ نہیں دینی چاہئے ان باتوں سے ان کی عدالت بھی ساقط نہیں ہوتی جب تک برہان اور واضح حجت نہ قائم ہو جائے. اس سلسلے میں بہت باتیں کی گئی ہیں میں نے (بخاری) کہا کہ ائمہ جرح و تعدیل نادر غلطیوں سے محفوظ نہیں ہیں ان کے دلوں میں کینہ اور بغض موجود تھا اس لئے وہ آپس میں تلخ کلامی بھی کر لیا کرتے تھے لیکن یہ بات بہر حال مسلم ہے کہ معاصرین کا کلام ایک دوسرے کے بارے میں صرف خرافات ہے اور اس کا اعتبار نہیں ہے خصوصا جب کسی شخص کی توثیق ایک ایسی جماعت کررہی ہو جس کے قول سے انصاف کی بو آتی ہو یہ دونوں (یعنی محمد بن فلیج اور مالک) ایک دوسرے کے دشمن
------------------
1. تذکرة الحفاظ، ج2، ص767.772، ابن ابی دائود کی سوانح حیات میں.
تو تھے ہی اور دونوں ایک دوسرے کی نکتہ چینی کرتے تھے لیکن مالک کا رویہ محمد کے بارے میں کبھی نرم ہوجاتا تھا جب کہ محمد، مالک کے بارے میں کبھی بھی نرمی سے نہیں پیش آتے تھے. نتیجہ میں مالک بلند ہوگئے اور ستارے کی طرح چمکنے لگے یہ بلندی اعمال کے نتیجہ میں ان کو ملی تھی خصوصا ان کی اس محنت کے صلہ میں جو انھوں نے سیرت کے بارے میں کی تھی. ویسے احکام کے معاملے میں ان کی حدیثیں اتنی قابل توجہ نہیں ہیں بلکہ صحت کے مرتبہ سے کم ہو کر حسن کے مرتبہ تک پہنچتی ہیں. شواذ کو مستثنی کر لیں اس لئے کہ شواذ منکر حدیثوں میں شامل ہیں.ظ(1)
ظاہر ہے کہ اس طعن کی برگشت طعن کرنے والے کی دینی کمزوری اور قلت ورع کی طرف ہوتی ہے. لہذا اس کی طعن و جرح بلکہ توثیق و تعدیل پر کیسے بھروسہ کیا جاسکتا ہے اس لئے کہ جب اس کے دین نے ہوائے نفس کے تقاضے، دشمنی اور حسدکی وجہ سے اپنے حریف پر طعن کرنے سے نہیں روکا تو احسان یا کسی فائدہ وغیرہ کی امید کی وجہ سے غیر مستحق کی مدح وتعدیل کرنے سے بھی نہیں روکے گا.اسی طرح طعن صرف حریفوں ہی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ دوسرے لوگوں پر بھی ہوگی حتی وہ افراد بھی جو باعتبار زمانہ بہت سابق ہیں چونکہ یہ واضح ہے کہ محبت و بغص حریفوں یا ہم عصروں سے مخصوص نہیں ہے جیسا کہ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے.
مذہبی اختلاف، نظریاتی اختلاف یا چال چلن وغیرہ کے اختلاف کی بنیاد پر جرح و تضعیف کرنا وثاقت کے منافی نہیں ہے، ارباب جرح و تعدیل میں اس طرح کی باتیں عام ہیں. گذشتہ صفحات میں مسئلہ خلق قرآن کے مخالفین مے بارے میں احمد ابن حنبل کا کلام گذر چکا اور ابن خبان نے ابن جوزی پر کیسے کیسے حملے کئے اور آخر میں یہ لکھ دیا کہ آدمی تو سنت میں سخت ہے لیکن کبھی حد سے تجاوز کر جاتا ہے
.......................................
1.سیر اعلام النبلاء، ج7، ص40. 41 ابن اسحاق کی سوانح حیات میں.
جوزجانی کے بارے میں ابن حجر کا کلام بھی پیش کردیا گیا یحیی بن معین کا شافعی کے بارے میں ذہبی کے حوالے سے جو نظریہ تھا وہ بھی گزر چکا اور ذہبی کا اپنے مذہب کے مخالفین کے بارے میں جو موقف تھا اس سلسلے میں سبکی وغیرہ کی گفتگو بھی گزر چکی. امیرالمومنین کے ایک صحابی ہیں ان کو حارث اعور ہمدانی کے نام سے جانا جاتا ہے، قرطبی کہتا ہے”کہ شفیعی نے ان پر جھوٹ کا الزام لگایا ہے” لیکن ایسا نہیں
ہے اور نہ حارث سے کبھی جھوٹ ظاہر ہوا بلکہ شفیعی نے محبت علی(ع) کا انتقام لیا ہے چونکہ وہ مولا علی(ع) سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے اور ابوبکر کے مقابلہ میں ان کی تفضیل کے قائل تھے اور ان کو سب سے پہلا مسلمان سمجھتے تھے.
ابو عمرو ابن عبداللہ کہتے ہیں: مجھے یقین ہے کہ شعبی کو حارث ہمدانی کے بارے میں اپنے قول کی سزا ضرور ملے گی کہ مجھ سے حارث ہمدانی نے بیان کیا اور وہ(حارث) جھوٹوں میں سے ایک ہے(قول شعبی).(1)
ابن حجر کہتے ہیں: یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ ایک جماعت دوسری جماعت پر اگر طعن کرتی ہے تو اس طعن کا سبب اعتقادی اختلاف ہوتا ہے اس لئے قاری کو ہوشیار ہونا چاہیئے اور اس طرح کے اختلاف کو کوئی اہمیت نہیں دینی چاہے مگر یہ کہ اس کے حق ہونے کا یقین ہو جائے اسی طرح ایسا ہوتا ہے کہ صاحبان ورع کی جماعت ایسے ایسے لوگوں کی عیب جوئی کرتی ہے جو امور ضبط و احتیاط کے ہوتے ہوئے اس تضعیف کا کوئی اثر نہیں ہے اور خدا ہی توفیق دینے والا ہے.
سب سے زیادہ بعید اعتبار اس شخص کو ضعیف قرار دینا ہے جس نے بعض راویوں کو کسی ایسے امر کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہو جس میں اس کے غیر پر حمل ہوا ہو یا اس سخت رویہ کی وجہ سے ضعیف
.........................................
1. تفسیر القرطبی، ج1، ص5.
قرار دیا ہو جو حریفوں کے درمیان ہوتا ہے. اور اس سے زیادہ سخت بات یہ ہے کہ کوئی ضعیف راوی کسی قابل اعتبار اور اوثق شخص کی تضعیف کرے یا کوئی معمولی راوی جلیل القدر یا عارف حدیث کی تضعیف کرے تو یہ سب معتبر نہیں ہے.(1)
سبکی کہتے ہیں: جرج کرنے کے وقت اس بات کا ضرور خیال رکھیں کہ جارح اور مجروح کے عقائد کیا ہیں. اس لئے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جرح محض اختلاف عقائد کی بنیاد پر ہوتی ہے یعنی جارح اور مجروح کے عقیدے الگ الگ ہوتے ہیں اور جارح اسی بنا پر مجروح کی جرح کرتا ہے. رافعی نے اپنے مندرجہ قول میں اسی طرف اشارہ کیا ہے.
راویوں کا تذکیہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تذکیہ کرنے والے مذہبی تعصب اور ذاتی عداوت سے پاک ہوں، اس لئے کہ اس بات کا امکان بہر حال ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا دونوں خامیوں کہ وجہ سے کسی عادل کی جرح اور فاسق کا تذکیہ کر دیا جائے.
اکثر ائمہ جرح و تعدیل میں اس طرح کی غلطی کرتے ہیں، یہ حضرات کسی کی جرح محض اختلاف عقائد کی وجہ سے کردیتے ہیں اور جب تحقیق ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ جارح خطا کار اور مجروح صحیح و درست ہے. شیخ الاسلام سید المتاخرین تقی الدین بن دقیق نے اس غلطی می طرف اشارہ کیا ہے اپنی کتاب الاقتراح میں لکھتے ہیں مسلمانوں کی آبرو آگ کا ایک گڑھا ہے جس کے کنارے محدثین اور حکام کا گروہ کھڑا ہے.
متدرجہ بالا قول کے ثبوت کےلئے مقام مثال میں ہم بعض محدثین کا قول خود امام بخاری کے بارے میں پیش کرسکتے ہیں جو ابوزرعہ ابو حاتم نے بخاری کو محض اس لئے ترک کردیا کہ وہ مسئلہ خلق قرآن میں مخلوق کے قائل ہے کیا مسلمانوں میں کوئی ایسا بھی
------------------
1.مقدمہ فتح الباری، ج1، ص385.
ہے جو یہ کہنے کی جرت کرسکے کہ بخاری متروک ہیں حالانکہ وہ فن حدیث کے علمبردار اور اہل سنت والجماعت کے قافلہ سالار ہیں اس سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ ان قابل مدح افعال کو قابل مذمت قرار دیں. حق تو یہ ہے کہ مسئلہ لفظ (یعنی الفاظ قرآن) میں اپنی جگہ برحق تھے اس لئے کہ خدا کی مخلوق میں جس کے پاس ذرا بھی عقل ہے وہ اس بات میں شک کرہی نہیں سکتا کہ اس کے افعال حادثہ، خدا کی مخلوق ہیں اور تلفظ بھی اس افعال میں ہے اس لئے قرآن پڑھنے کے وقت اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ خدا کی مخلوق ہیں امام احمد نے اس افعال حادثہ کے لفظ کی بد صورتی کی وجہ سے، مخلوق ہونے سے انکار کر دیا ہے. اس طرح ابو حاتم بن حبان کے بارے میں بعض مجسمہ کا یہ کہنا ہے کہ ان کے پاس دین بہت کم تھا ہم نے اسے سجستان سے نکال دیا اس لئے کہ وہ اللہ کی حد کا انکار کرتے تھے. خدا را کوئی مجھے بتائے کہ شہر بدر ہونے کا زیادہ مستحق کون ہے آیا وہ اپنے پروردگار کو محدود قرار دیتا ہے یا وہ جو خدا کو جسمیت سے منزہ سمجھتا ہے اس طرح مثالیں بہت ہیں اور اسی طرح کے لوگوں میں ہمارے یہ شیخ ذہبی ہیں جو بڑے ذی علم و دیانت دار تو ہیں لیکن اہل سنت کے اوپر حد سے زیادہ اعتراض اور حملے کرنے والے ہیں ان کی جرح پر اعتماد کرنا بالکل ناجائز ہے.(1)
اسی لئے اہل سنت کے کلمات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی بھی طعن سے محفوظ نہیں ہے یہاں تک کہ ائمہ اہل سنت اور ان کے ہم پلہ افراد بھی امام شافعی کے بارے میں ان کے مخالفوں کی جرح آپ نے پڑھی، احمد بن حنبل پر جو اعتراضات ہوئے وہ بھی آپ کی نظر سے گزرے امام ابو حنیفہ کے بارے میں خطیب بغدادی کے طعن کرنے والوں کے بہت سے جملے نقل کئے ہیں نیز مالک کے بارے میں
-------------
1.طبقات الشافعیہ الکبری، ج2، ص12.13، احمد بن صالح کی سوانح حیات میں.
ذہبی کا کلام گزر چکا ہے اور یہ بھی لکھتے ہیں امام مالک امت کے درمیان ستارے کی طرح رہبری کرتے ہیں لیکن یہ بھی طعن سے محفوظ نہیں. اگر کوئی مالک کے کسی قول سے احتجاج کرتا ہے تو مخالف خود مالک ہی کی شخصیت کو مجروح کردے گا اسی طرح اوزاعی بھی ثقہ اور حجت ہیں اور کبھی کبھی محدثین سے متنفر اور وہم میں گرفتار ہو جاتے ہیں. زہری کے بارے میں ان کے یہاں بہت مشکوک اور قابل غور امر ہے.یا امام لفظوں کا مطلب سمجھنا ذرا مشکل ہے. اسی طرح زہری کے بارے میں ایسے شخص سے بھی گفتگو کی ہے جو سمجھ نہیں رکھتا یعنی اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے سیاہ خضاب کیا فوجی لباس پہنے اور ہشام بن عبد الملک کی خدمت میں رہے اور یہ دروازہ ہمیشہ وسیع ہے پانی جب دو قلہ تک پہونچ جائے تو اس پر گندگی کا اثر نہیں ہوتا مومن کی نیکیوں کا پلہ برائیوں سے بھاری ہو جائے تو وہ کامیاب ہے اگر ثقہ کے بارے میں کہی ہوئی باتیں مئوثر ہیں تو پھر ثقہ کا اثر کیوں نہیں ہے؟(1)
ان سب باتوں کے بعد ایسے اصول و ضوابط کو وضع کرنا کیسے ممکن جو عقلائی طور پر مقبول ہوں جو جرح و تعدیل اور حدیث کو رد یا قبول کرنے کا شرعی معیار ہو بخاری کا گذشتہ قول عجیب ہے تمام خامیوں کے باوجود عدالت ساقط نہیں ہوتی جب تک کہ کوئی قطعی دلیل اور یقینی برہان حاصل نہ ہو میں پوچھتا ہوں کہ ایک آدمی کسی عادل پر محض ہوائے نفس کی وجہ سے حملے کرتا رہے اس کی عدالت کو مجروح کرتا ہے کیا اس طعن کرنے والے کی عدالت ساقط ہونے کے لئے اس سے بھی زیادہ روشن دلیل کی ضرورت ہے؟ یا کوئی قابل اعتبار آدمی جو عادل بھی ہے کس کی جرح کرتا اور اس پر طعن کرتا ہے کیا مجروح کی عدالت ساقط ہونے کے لئے اس سے بھی اقوی دلیل کی ضرورت ہے؟
البتہ اس میپ کوئی شک نہیں کہ کسی کی عدالت کو ثابت کرنے کے لئے ایسی دلیل بہر حال
-----------------
1.الروات الثقات المتکلم فیھم بما لا یوجب درھم، ص25. 26.
چاہئے جو قاطع اور شبہات سے بالاتر ہو.ابھی کچھ دیر پہلے آپ نے ذہبی کا قول پڑھا کہ پانی جب دو قلہ تک پہنچ جائے.اب ذہبی صاحب سے کون پوچھے کہ آپ جو یہ فرماتے ہیں کہ پانی جب دو قلہ تک پہونچ جائے تو گندگی اس پر اثر نہیں کرتی اور مومن کی نیکیوں کا پلہ اگر برائیوں سے بھاری ہو جائے تو وہ فلاح پانے والوں میں ہے میں عرض کرتا ہوں ذہبی صاحب یہاں بات عقاب و ثواب کی نہیں ہو رہی ہے کہ کہا جائے برائیاں اچھائیوں کی وجہ سے دور ہو جاتی ہیں.(1) یہاں بات عدالت اور وثاقت کی ہو رہی ہے اتنی حسین حدیثیں سن کے ہم کیا کریں گے ہمیں یہ بتائیے کہ کسی بھی راوی پر اعتبار کیسے کیا جائے اور ثبوت وثاقت کے کیا اصول ہیں؟ ہم کس راوی کے بارے میں آپ حضرات کے گذشتہ بیان کی موجودگی میں ضبط کا اصول کیسے واضح کریں؟ سب سے زیادہ ہنسی آتی ہے عبداللہ بن دائود کے بارے میں خود ان کے والد ماجد کے قول پر کہ میرا بیٹا جھوٹا ہے اور پھر ذہبی صاحب کی تاویل بھی کچھ کم نہیں ہے کہ موصوف کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جھوٹا ہے مگر اپنی بات چیت میں جھوٹا ہے حدیث نبوی بیان کرنے میں جھوٹا نہیں ہے. یا اللہ جب ذہبی جیسے علماء ایسی رکیک اور بعید از قیاس
تاویلیں کریں گے تو بات مزید الجھ جائے گی یا نہیں. اس طرح کی تاویلیں التباس امر( بات کو پیچیدہ بنا دیتی ہیں) اور ضیاع علم کا سبب بنتی ہیں.
قارئین کرام. اس موضوع پر ابھی ہم اتنا ہی لکھنا کافی سمجھتے ہیں لیکن ارباب ذوق کو کوشش کی دعوت ضرور دیں گے.
.................................................
1.سورہ ہود، آیت 114.
بعض اہل حدیث کی جرح عمدا ترک کی جاتی ہے اور اس کے حالات کو پرد خفاء میں رکھا جاتا ہے. ارباب جرح و تعدیل بعض راویوں کے حالات کو عمدا پردے میں رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں عمدا جرح کرنا چھوڑ دیتے ہیں راوی کی ہمدردی میں نہیں بلکہ اپنی حدیث کی حفاظت کے لئے. یعنی حدیث کو مضبوط اور قوی کرنے کے لئے.
علماء اہل سنت کے یہاں تدلیس (دھوکہ) ایک دستور کی حیثیت رکھتی ہے چنانچہ حاکم تدلیس کی قسموں کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں. میں تدلیس کی یہ چھ قسمیں بیان کردی ہیں تاکہ علم درایہ کا طالب علم غور کرے اور اقل پر اکثر کا قیاس کرے. میں ان ائمہ حدیث کا نام بتانا مناسب نہیں سمجھتا جو تدلیس ایسے جرم کے مرتکب ہوتے رہے ہیں مقصد اپنی حدیث اور حدیث کے راویوں کی حفاظت کرنا ہے.(1)
ذہبی کہتے ہیں: اسی طرح چوتھی صدی اور اس کے بعد کے ان بزرگوں کو جن کی تضعیف کی گئی ہے میں نے قابل توجہ نہیں سمجھا اس لئے کہ اگر میں یہ دروازہ کھول دیتا تو پھر کتاب و اجزاء کے راویوں میں سے کوئی راوی محفوظ نہیں رہتا. شاذ و نادر کی بات دوسری ہے.(2)
ذہبی مزیدلکھتے ہیں: یہ بات سب جانتے ہیں کہ راوی کو بچانا اور اس کی پردہ پوشی کرنا بے حد ضروری ہے تیسری صدی کا نقطہ اختتام متقدمین اور متاخرین کے درمیان حد فاصل ہے اگر میں اس صدی کے راویوں کی کمزوری کو بیان کرنا شروع کردوں تو میرے ساتھ صرف چند افراد رہ جائیں گے اس لئے کہ اس صدی کے اکثر راوی یہ بھی نہیں سمجھتے تھےکہ وہ کیا روایت کررہے ہیں اور نہ حدیث کی
...........................................
1.معرفتہ علوم الحدیث، ص111.
2.المغنی فی الضعفاء. ص4.
شان جلالت سے واقف تھے انھوں نے بچپن میں روایتیں سنیں اور جب بوڑھے ہوگئے تو ان روایتوں سے احتجاج کی ضرورت محسوس کی.(1) پھر انھوں نے جن کے سامنے حدیث پڑھی اور سماع کے جس طبقہ پرحدیث ثابت ہوئی اسی پر اعتماد کیا جاسکتا ہے یہی اصول علم حدیث میں مبسوط طور پر بیان ہوئے ہیں.(2)
اب حضرات قارئین! میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ مجروح راویوں کی حفاظت کیسے ہوجائے گی؟
دوسری بات یہ کہ جب ارباب جرح و تعدیل کا اصول ہے کہ وہ راویوں کی اصلی حالات کو چھپاتے ہیں پھر خیانت کار ناقدوں کی توثیق پر کیسے اعتماد کیا جائے اور ان کی توثیق پر اعتماد کر کے کسی بھی راوی کی روایت کو کیسے قبول کرلیا جائے.
راوی کے حالات، جرح کا تقاضا کرتے ہیں جو توثیق کے خلاف ہیں آپ راوی کے اصلی حالات کو موجب جرح ہیں چھپا دیتے ہیں تو پھر حجیت کہاں باقی رہی؟
جو ہم اس راوی کی حدیث لے لیں ایسے میں تو تمام راوی مشکوک ہوگئے تو پھر حدیث کس سے لیں؟
پھر راوی کے اصلی حالات کو چھپا کے خود ارباب جرح و تعدیل کیا تدلیس کے مرتکب نہیں ہوئے ہیں ان کا فریضہ تو یہ تھا کہ راوی کے تمام حالات مالہ و ما علیہ( جو اس کے خلاف ہو اور جو اس کی حمایت میں) حدیث کے ردّ و قبول میں جن کی مداخلت ہے بیان کردیتے.
1.لسان المیزان، ج1، ص9 اصل خطبہ کرتے وقت.
2.میزان الاعتدال، ج1، ص115 مقدمہ میں.
مسلمانوں کا ہر فرقہ یہی سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور وہی مومن ہے اور اس کے عالاوہ سب لوگ باطل اور حق سے منحرف ہیں یہ ایک فطری بات ہے چنانچہ اہل سنت حضرات بھی دوسرے فرقوں کی طرح خود کو حق پر سمجھتے ہیں اور خودکو مومن سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کے دوسرے فرقوں کو حق سے خارج سمجھتے ہیں اچھا یہ کوئی اہم بات نہیں ہے اہم بات کسی بھی فرقے کی وہ دلیلیں ہیں جو وہ اپنی حقانیت کے ثبوت میں رکھتا ہے اور ہم اس وقت ان دلیلوں کی تحقیق کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے.
پھر اہل سنت حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ وہ شیعوں اور ناصبیوں کے درمیان درمیانی حیثیت رکھتے ہیں یعنی بیچ کی چیز ہیں.
شیعوں کی طرح تفضیل علی(ع) کرتے ہیں اور ناصبیوں کی طرح علی(ع) کو گالی بکتے ہیں یہاں پہ یہ بات اتنی اہم نہیں ہے کہ جس پر آپ کا وقت لیا چائے بلکہ اہم بات ان کے فریقین کی روایات اور احادیث اخدکرنے میں موقف کی ہے میرا خیال ہے کہ رد و قبول حدیث کے دو طریقوں میں سےکوئی ایک طریقہ ہونا چاہئے تھا.
1. پہلا طریقہ یہ ہونا چاہئے کہ : اہل سنت حضرات کسی بھی غیر سنی سے کوئی حدیث قبول نہ کریں چاہے راوی ثقہ ہو چاہے غیر ثقہ بلکہ یہ دیکھیں کہ وہ عادل ہے یا نہیں اس لئے کہ عدالت ایمان کی فرع ہے بلکہ معیاریہ ہوناچاہئےکہ راوی صرف جھوٹ سے پرہیز ہی نہ کرتا ہو بلکہ عادل بھی ہو اور اہل سنت کا ہم مذہب ہو شیعہ یا ناصبی نہ ہو ناصبی سے میری مراد ناصبیوں کے وہ تمام فرقے ہیں جو عثمانی اور خوارج وغیرہ کہے جاتے ہیں اگر مندرجہ بالا اصول کو اپنا لیا جائے تو ہرسنی کسی بھی غیر سنی کی روایت پر عمل نہیں کرے گا اس لئے کہ غیر اہل سنت بدعتی اور ایمان سے خارج ہوتا ہے جو اہل سنت کےعقیدے کا مخالف ہے اس کی
روایت نا قابل عمل ہے جیسا کہ ابھی آپ نے ملاحظہ فرمایا امام احمد بن حنبل مسئلہ خلق قرآن کے معاملے میں رویت پروردگار کے معاملے اسی اصول پر عمل پیرا ہیں اور اپنے مخالف کی کوئی روایت قبول نہیں کرتے.
2. دوسری صورت یہ نکلتی ہے کہ اہل سنت حضرات یہ طے کر لیں کہ راوی اگر ثقہ ہو اور جھوٹا نہ ہو تو اس کی بات وہ قبول کرں گے اور اس پر عمل کریں گے چاہے راوی مذہب میں ان کا مخالف ہو اور ہم عقیدہ نہ ہو جیسا کہ شیعوں کے نزدیک مشہور ہے( آپ کے قول کے مطابق سوال نمبر 8 ملاحظہ فرمائیں).
مندرجہ بالا اصولوں میں دوسرا اصول اہل سنت کے یہاں جاری ہے وہ ثقہ راویوں سے روایت لے لیتے ہیں چاہے وہ راوی ان کے مذہب کا مخالف ہو سبب یہ بیان کرتے ہیں کہ اگر ایسا نہیں کریں گے تو بہت سے آثار نبوت ضائع ہو جائیں گے.(1)
جوزجانی فرماتے ہیں: اہل کوفہ میں ایک قوم وہ بھی ہے جس کا مذہب قابل تعریف نہیں ہے لیکن وہی لوگ کوفہ میں ہل حدیث کے راس و رئیس ہیں جیسے ابواسحق. منصور اعمش اور زبید بن حارث وغیرہ. ایسے لوگوں سے حدیث ان کی صداقت بیان کی وجہ سے لی جاتی ہیں.(2)
.......................................................
1:-میزان الاعتدال، ج1، ص118. ابان بن تغلب کی سوانح حیات میں.
2:- احوال الرجال، ص78.80 فائدہ ابی ورقاء کے ترجمے میں، نیز انھیں الفاظ کے ساتھ میزان الاعتدال، ج3، ص97. زید بن حارث یافی کے ترجمے میں، اسی میں(اور ابو اسحاق جوزجانی نے کہا. اسی کی تکرار ہے معمولی عبارت میں کہ وہ اہل کوفہ میں سے تھے...)
علی بن مدینی لکھتے ہیں: اگر اہل بصرہ کو قدریہ ہونے کی وجہ سے ترک کردیا اور اہل کوفہ کو اس وجہ سے چھوڑ دیا جائے کہ وہ شیعہ ہیں تو حدیث کی کتابوں میں کچھ بھی باقی نہیں بچے گا اور سب خراب ہو جائے گا.
خطیب بغدادی لکھتے ہیں : علی ابن مدینی کے اس قول “ کتابیں خراب نہ ہوجائیں گی کا” مطلب یہ ہے کہ حدیثیں ضائع ہوجائیں گی.(1)
لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ مذکورہ بالا اصول کا استعمال وہ صربف ایک جگہ کرتے ہیں اور دو باتیں ایسی ہیں جو ان کے اس اصول سے میل نہیں کھاتے.
1.پہلی بات تو یہ ہے کہ ایک جگہ ایسی ہے جہاں ان حضرات کا مذکورہ بالا اصول ٹوٹ جاتا ہے اور یہ اختلاف مذہب کی بنا پر شیعہ راوی سے بھی حدیث نہیں قبول کرتے ہیں اگر کوئی راوی اپنے فرقے کی طرف دعوت دے رہا ہو تو اس کی حدیث بھی نہیں لیتے اور اگر رافضی ہے تو مطلقا نہیں لیتے ان کا گریز اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ ثقہ ہیں بلکہ اس گریز کی وجہ ان فرقوں سے اہل سنت کہ کینہ پروری اور ان کی دعوت سے عداوت ہے.
ذہبی کہتے ہیں:پھر سب سے بڑی بدعت ہے رفضکامل، اس میں غلو ابوبکر و عمر کے درجوں
...............................
1.الکفایتہ فی علم الرویہ، ص129، باب ذکر بع المنقول عن ائمه اصحاب الحدیث فی جواز الرواة عن اهل الاهو و الو البدع (یعنی اصحاب الحدیث ائمہ سے بعض منقول روایت کے بارے میں جو اہل ہوا و ہوس اور اہل بدعت سے اخذ روایت کو جائز سمجھتے ہیں)
کو گھٹانا. یا اس فعل کی طرف دعوت دینا ایسے لوگوں کی حدیث سے نہ حجت قائم ہوتی ہے نہ عزت میں اضافہ ہوتا ہے.(1)
سیوطی فرماتے ہیں: راہ صواب یہ ہے کہ رافضیوں اور اسلاف کو گالی بکنے والوں کی روایت قبول نہیں کرنی چاہئے اس
لئے کہ مسلمان کو گالی بکنے والا فاسق ہے لہذا اصحابہ اور سلف کو گالی بکنے والا تو بدرجہ اولی فاسق ہے ابن مبارک نے کہا ہے عمر بن ثابت سے حدیثیں اخذ نہ کرو وہ اسلاف کو گالیاں دیتے تھے.(2)
یونس بن خباب اسیدی کے ترجمہ میں ابن حجر لکھتے ہیں کہ دوری نے ابن معین سے کہا کہ یونس بن خباب برے آدمی ہیں عثمان کو گالی دیتے تھے ساجی نے کہا یونس آدمی سچے ہیں لیکن لوگوں نے ان کے عقیدہ کی خرابی کی وجہ سے ان پر اعتراض کیا ہے، ابن معین نے کہا ثقہ تھے لیکن عثمان پر سب کرتے تھے، اپنی کتاب الثقات میں ابن شاہین نے کہا کہ عثمان بن ابی شیبہ نے کہا یونس بن خباب ثقہ اور صدوق ہیں ابن حبان نے کہا ان سے روایت لینا حلال نہیں ہے حاکم ابو احمد کہتے ہیں یونس بن خباب کو یحیی اور عبد الرحمن نے چھوڑ دیا ہے اور بہت اچھا کیا ہے اس لئے کہ وہ عثمان کو گالیاں دیتے تھے اور جو شخص کسی بھی ایک صحابی کو گالی دے وہ اسی لائق ہے کہ اس سے روایت نہ لی جائے.(3)
خطیب بغدادی نے اپنی اسناد سے عبداللہ بن مبارک کے حوالے سے لکھا ہے کہ ابن مبارک نے کہا ابوعصمتہ نے ابو حنیفہ سے پوچھا کہ ہم آثار نبوت کس سے لیں آپ کس کے بارے میں حکم دیتے ہیں؟ فرمایا ہر اس آدمی سے روایت لو جو اپنے خواہشات میں عادل ہو سوائے شیعہ کے اس لئے
............................................
1.میزان الاعتدال، ج1، ص118 ابان بن تغلب کے سوانح حیات میں.
2.تدریب الراوی ، ج 1، ص326، 327النوع الثالث والعشرون صفة من تقبل روایة وما یتعلق ( قبول روایت اور اس سے متعلق تیسویں قسم)
3.تہذیب التہذیب، ج11، ص385 یونس بن خباب اسیدی کی سوانح حیات میں.
کہ ان کے عقیدہ کی اصل ہی اصحاب محمد کو گمراہ ثابت کرنا ہے اور اس سے بھی روایت مت لو جو سلطان کا ملازم ہے میں یہ نہیں کہتا سلطان ان سے جھوٹ بلواتا ہے ایسے کام کا حکم دیتا ہے جس کا کرنا جائز نہیں بلکہ سلطان کی ملازمت میں رہنے والے لوگ سلطانوں کے لئے راستے ہموار کرتے ہیں تاکہ عوام ان کے غلام بن جائیں اس لئے یہ دونوں گروہ ( شیعہ اور ملازمین سلطان) اس قابل نہیں ہیں کہ مسلمان کا امام بنیں.(1)
لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں صاحب دعوت کو سزا دینا یا اس کی دعوت سے گریز کرنے سے وہ جس حق کا حامل ہے وہ حق چھپ جائے گا اور یہ کوئی قابل ستائش بات نہیں ہے محض آپ کے فرقے کے خلاف دعوت دینے کی وجہ سے اس لئے حق نہ لیا جائے اور آثار نبوت کو ضائع کردیا جائے خصوصا حدیث کے مقابلے میں ان لوگوں سے حدیث نہ لی جاتی جن کی امانت داری مسلم اور قوت حفظ تسلیم شدہ ہے.
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بد نام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
دوسرے : ایک طرف شیعہ ہیں دوسری طرف نواصب ہیں بیچ میں اہل سنت ہیں لیکن اس درمیانی فرقے کے تعلقات میں طرفین کی نسبت سے توازن نہیں پایا جاتا.
برادران اہل سنت نواصب کے تمام فرقوں سے مثلا عثمانیہ اور خوارج وغیرہ سے کثرت سے روایت کرتے ہیں اور ساتھ ہی تصریح بھی کرتے رہتے ہیں کہ یہ لوگ ناصبی ہیں اور مولا علی(ع) کو
..............................................
1..الکفایتہ فی علم الرویہ، ص126، باب ذکر بع المنقول عن ائمہ اصحاب الحدیث فی جواز الرواة عن اہل الھو و الو البدع،اور اسی کے مانند سیوطی کی مفتاح الجنة ص38.
گالی دیتے ہیں بلکہ مولا علی(ع) کا بغض ان کے دلوں میں جڑ پکڑ چکا ہے بعض حضرات تو ان کی توثیق میں افراط اور زیادہ روی کا شکار ہوگئے ہیں جیسے ابو دائود کا قول کہ گمراہ اور خواہشات نفس کے پجاری کہتے ہیں بگڑے ہوئے لوگوں میں خوارج سب سے زیادہ صحیح الحدیث ہوتے ہیں ان سے زیادہ صحیح الحدیث کوئی نہیں پھر اسی مقام مدح میں عمران بن حطان اور ابو احسان اعرج کو بیان کرتے ہیں( دونوں بد بودارخارجی ہیں) مترجم غفرلہ(1)
رہی بات عثمانیوں کی وہ جمہور سے اس درجہ خلط ملط ہوگئے ہیں کہ نواصب اور اہل سنت میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے خصوصا عثمانی نواصب. جنہوں نے خود کو اہل سنت میں اس طرح ملا دیا ہے کہ پہچاننا مشکل ہے کہ کون سنی ہے اور کون عثمانی ایسا ہوتا ہے کہ اہل سنت کسی شخص کی انتہائی تعریف کرتے ہیں مثلا وہ سنت کا سخت پابند ہے اور اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں لیکن جب تحقیق کی جاتی ہے تو یہ آدمی اہل بیت کا دشمن اور خاندان امیہ کا چاہنے والا اور دشمنان اہل بیت سے دل کی گہرائیوں سے محبت کرنے والا ثابت ہوتا ہے یہ بات اتنا واضح ہے کہ اس کے لئے دلیل دینے کی بھی ضرورت نہیں اس بات کے کچھ شواہد بیان کئے جاچکے ہیں.
لیکن غریب شیعہ محض محب علی(ع) ہونے کی وجہ سے اس لائق نہیں ہے کہ برادران اہل سنت اس سے حدیث لیں شیعہ ان کی نظر میں کبھی اکثر اور کبھی مطلقا مہجور ہے یہ حضرات ہمیشہ اس فرقے کو اپنی زبان سے زخم لگاتے رہتے ہیں.
حالانکہ اگر شیعہ صرف اس وجہ سے مطعون ہیں کہ اصحاب پر اعتراض کرتے ہیں تو نواصب کے حملوں کا نشانہ تو بہت سے اصحاب ہیں وہ بھی ایسے اصحاب جنھوں نے اہل بیت(ع) پیغمبر(ص) کا
.......................................
1.الکفایتہ فی علم الروایہ، ص130، سیر اعلام النبلاء، ج4، ص214 عمران بن حطان کی سوانح حیات میں میزان الاعتدال، ج5، ص285 عمران بن حطان کے ترجمے میں، تہذیب التہذیب، ج8، ص113 عمران بن حطان کے ترجمے میں تہذیب الکمال، ج22، ص323، تدریب الراوی، ج1، ص326.
دامن تھام رکھا ہے اور ان سے ہی ہدایت پاتے ہیں نواصب جب اہل بیت کو برا کہتے ہیں اور ان سے بغض کا اظہار کرتے ہیں تو شیعوں کی کچھ زیادہ ہی دل آزاری ہوتی ہے.
شیعہ تو صحابہ کو صرف برا کہتا ہے اور ان کی غلطیوں کی نشان دہی کرتے ہیں جب کہ خوارج امیرالمومنین(ع) کہ براہ راست تکفیر کرتے ہیں اور انھیں صریحا کافر کہتے ہیں.حالانکہ امیرالمومنین علی(ع) کی مقدس ذات شیعہ اور سنی دونوں فرقوں میں اتفاقی طور پر قابل احترام ہے شیعہ تو آپ کو سید الصحابہ مانتے ہی ہیں سنی بھی آپ کو کم سے کم سادات صحابہ میں شمار کرتے ہیں لیکن خارجی اور عثمانی نواصب آپ کو علی الاعلان گالیاں دیتے ہیں اور لعنت کرتے ہیں حالانکہ دونوں فریق کے درمیان مشہور حدیث ہے کہ جو علی(ع) کو گالی دے وہ نبی(ص) کو گالی دیتا ہے اور جو علی(ع) سے بغض رکھے وہ نبی(ص) سے بغض رکھتا ہے. علی(ع) کے بارے میں سرورکائنات نے علی(ع) ہی سے خطاب کر کے فرمایا کہ تم کو محبوب نہیں رکھے گا مگر مومن اور تم سے بغض نہیں رکھے گا مگر منافق. یہ باتیں آپ کے چوتھے سوال کے جواب میں عرض کی جا چکی ہیں.(1)
علی(ع) وہ ہیں جن کے حق میں احمد بن حنبل فرماتے ہیں. ہم تک کسی صحابی کے فضائل علی(ع) کے فضائل سے زیادہ نہیں پہنچے.(2) دوسری جگہ امام موصوف فرماتے ہیں. اصحاب پیغمبر(ص) کے فضائل میں اتنی حدیثیں وارد نہیں ہوئیں جتنی علی ابن ابی طالب(ع) کے فضائل میں ہیں.(3)
............................................
1. مسند احمد، ج 1، ص128، 95 مسند علی بن ابی طالب، فتح الباری، ج 1، ص63، المسند المستخرج علی صحیح مسلم، ج 1، ص157، سنن ترمذی، ج5، ص463، کتاب کتاب المناقب، مجمع الزوائد، ج9، ص133، صحیح مسلم، ج1، ص76، صحیح ابن حبان، ج15، ص367.
2.فتح الباری، ج7، ص74.
3.المستدرک علی الصحیحین، ج3، ص116، فیض التقدیر، ج4، ص355، شواہد التنزیل للحکانی، ج1، ص27، تہذیب التہذیب، ج7، ص297، تاریخ دمشق، ج42، ص418.
زرقانی کہتے ہیں: احمد نسائی اور اسماعیل قاضی کا متفقہ فیصلہ ہے کہ عمدہ اسانید کے ساتھ علی(ع) کے فضائل میں جتنی حدیثیں وارد ہوئی ہیں کسی کے بارے میں نہیں ہوئیں.(1) نیشاپوری کہتے ہیں: حسن حدیثیں جتنی علی(ع) کے فضائل میں وارد ہوئیں ہیں کسی صحابی کے فضائل میں وارد نہیں ہوئیں.(2)
ان تمام باتوں کے باوجود خوارج اہل سنت کے نزدیک زیادہ مستند اور مقبول ہیں اور علی(ع) کے چاہنے والے متروک اور نا مقبول ہیں. جیسا کہ ابھی گذشتہ صفحات میں ابو دائود سے نقل کیا گیا. ابن ابی دائود خوارج کو مقبول سمجھنے میں انہوں نے دو نام لئے تھے عمران بن حطان اور حسان اعرج. ان میں سے عمران ابن حطان کا تعارف یہ ہے کہ جب اشقی الآخرین عبدالرحمن بن ملجم ملعون نے مولا علی(ع) اشعار میں ڈھل گئے دو شعر کا ترجمہ ملاحظہ ہو.
ترجمہ اشعار: کیا کہنا اس تقوی کی ضربت کا جو محض عرش والے کے رضا حاصل کرنے کے لئے لگائی گئی تھی. میں تو جب اس ضربت کو یاد کرتا ہوں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اس کی یہ ایک ضربت خدا کے نزدیک میزان اعمال میں تمام دنیا کے اعمال سے گراں تر ہے.(3)
لیکن ان اشعار کا خالق بخاری کی نظر میں بلکہ غیر بخاری کی نظر میں بھی اتنا مقبول ہے کہ اس سے حدیثیں لی جاتی ہیں اور اس کی رواتیں قبول کی جاتی ہیں.(4)
............................................
1.شرح الزرقانی، ج1، ص241، اور اس کی مانند الاستیعاب میں، ج3، ص1115.
2.فیض القدیر، ج4، ص355.
3.الاصابتہ، ج5، ص303، المحلی، ج10، ص484، سیر اعلام النبلاء، ج4، ص215.
4.صحیح بخاری، ج5، ص2194، صحیح ابن حبان، ج11، ص439،مجمع الزوائد، ج4، ص192، السنن الکبری البیہقی، ج3، ص266، سنن ابی دائود، ج4، ص72، والسنن الکبری للنسائی، ج5، ص466.
ابن حجر عسقلانی نے اعتراف کیا ہے کہ شیعہ اور نواصب کے درمیان اہل سنت کا رویہ یقینا غیر متوازن ہے اسی لئے ابن حجر اپنے مذہب کا دفاع کرتے ہیں:میں سوچتا تھا کہ آخر ہمارے علماء کا رویہ غیر متوازن کیوں ہے یعنی نواصب کی اکثر توثیق کی جاتی ہے.(1) جب شیعوں کو مطلقا کمزور سمجھا جاتا ہے. جب کہ مولا علی(ع) کے بارے میں یہ حدیث متفق علیہ ہے کہ ان سے محبت نہیں کرے گا مگر مومن اور بغض نہیں رکھے گا مگر منافق. ( مطلب یہ ہے کہ اس حدیث کو دیکھتے ہوئے نواصب جو بغض علی(ع) کے حامل ہیں وہ بہر حال منافق ہیں اور شیعہ جو محبت علی(ع) کے دعوے دار ہیں وہ بہر حال مومن ہیں. پھر اہل سنت کا میلان نواصب کی طرف اور اہل سنت کا شیعوں سے گریز ابن حجر کی سمجھ میں نہیں آتا ہے) مترجم غفرلہ.
آخر ابن حجر کی سمجھ میں اس اشکال کا جواب (ع) کا آہی گیا لکھتے ہیں کہ تھوڑا سا غور کرنے سے اس اشکال کا جواب مجھے مل گیا. وہ یہ کہ بغض علی(ع) کا نفاق ہونا یہاں ایک سبب سے مقید ہے اور وہ ہے علی کا نبی کی نصرت کرنا. اس لئے کہ انسان کو جس سے نقصان پہنچتا ہے اس کا بغض دل میں جڑ پکڑ لیتا ہے اور جس سے فائدہ پہنچتا ہے اس کی محبت دل میں گھر کرجاتی ہے یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے.
وہ حدیث جس میں حب و بغض علی(ع) کے نتائج معین کئے گئے ہیں عموم پر دلالت نہیں کرتی ہے. اس لئے کہ علی(ع) سے محبت کرنے والے تو کبھی حد سے بڑھ جاتے ہیں یہاں تک علی(ع) و ہ بھی بلکہ خدا تک کہنے لگتے ہیں حالانکہ خدا ان کے اتہام اور افتراء پردازی سے بہت بلند ہے.
اس کے علاوہ اسی طرح کی حدیث تو انصار کے بارے میں بھی وارد ہوئی ہے اور علماء نے اس حدیث کی شرح بھی یہی کی ہے کہ چونکہ انصار نے نبی کہ نصرت کی اس لئے ان کی محبت ایمان اور
...................................
1.العتب الجمیل علی اہل الجرح والتعدیل کتاب کے ص35 پر ابن جمر سے نقل کرتے ہیں غالبا کی جگہ غالبا استعمال کرتے ہے.
بغض نفاق ہے تو انصار اور علی دونوں کے بارے میں حدیث وارد ہوئی ہے کہ ان کی محبت ایمان اور بغض نفاق سبب دونوں حدیث میں ایک ہی ہے یعنی نبی
کہ نصرت لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ نواصب میں اکثر صادق اللہجہ اور دیانت دار جانتے ہیں برخلاف شیعوں کے شیعہ زیادہتر جھوٹے اور حدیثوں کے معاملے میں غیر محتاط ہوتے ہیں.
ایک بات یہ بھی ہے کہ نواصب علی کو عثمان کا قاتل سمجھتے ہیں یا کم سے کم قتل عثمان میں علی(ع) کا تعاون ان کے نزدیک مسلم ہے اس لئے علی(ع) سے بغض رکھنا ان کے خیال میں دینداری کا تقاضا اور پھر بغض علی(ع) رکھنے والوں میں ان لوگوں کا بھی اضافہ ہوجاتا ہے جن کے عزیز و اقارب علی(ع) سے جنگ کرنے میں مارے گئے.(1)
ابن حجر اپنی طویل گفتگو میں میری سمجھ سے مندرجہ ذیل دو باتیں کہنا چاہتے ہیں:
حدیث “حب علی علیہ السلام ایمان “اور “غض علی علیہ السلام نفاق” پر ایک نظر
امر اول: ابن حجر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حدیث میں حب علی(ع) کو ایمان اور بغض علی(ع) کو کفر اس لئے قرار دیا گیا ہے کہ علی(ع) نے نبی کی نصرت کی تھی لہذا جو علی(ع) سے محض نصرت نبی کی وجہ سے بغض رکھتاہے وہ یقینا منافق ہے لیکن نواصب منافق نہیں ہیں اس لئے کہ ان کا بغض علی(ع) سے مندرجہ بالا سبب سے نہیں ہے وہ علی(ع) سے اس لئے بغض رکھتے ہیں کہ ان کے خیال کے مطابق علی(ع) نے عثمان کو قتل کیا یا علی(ع) عثمان کے قتل میں مددگار تھے یا اس لئے کہ ان کے اعزہ و اقارب علی کے ہاتھوں مارے گئے ہیں.
ابن حجر پہلے ہی بات صاف کرچکے ہیں کہ حدیث میں عموم نہیں ہے اس لئے کہ محبت
............................................
1.تہذیب التہذیب، ج1، ص410 حماذہ بن زیارالازدی کی سوانح حیات میں.
علی(ع) میں علی(ع) کے چاہنے والے کبھی بکنے لگتے ہیں لہذا جو علی(ع) سے اس لئے دشمنی کرے کہ وہ ناصر نبی(ص) ہیں وہ منافق ہے اور نواصب کے بغض کا سبب حب عثمان ہے اس لئے وہ منافق نہیں.
میں کہتا ہوں یہ بڑی عجیب و غریب توجیہ ہے اس لئے کہ نبی کی نصرت صرف امیرالمومنین(ع) ہی نے تو نہیں کی ہے دوسروں نے بھی نصرت کی ہے لہذا یہی بات تمام نصرت کرنے والوں کے حق میں جاری ہوگی چاہے وہ جیسا بھی ہو نبی کی نصرت کرنے والے تو کفار و مشرکین بھی ہیں جیسے ہشام بن عمرو بن حارث اور زبیر بن ابوامیہ مخزومی اور زمعہ بن اسود اور ابو البختری بن ہشام یہ وہ ہیں جنہوں نے نبی کی بڑے کٹھن اوقات میں نصرت کی تھی جب سرکار شعب ابی طالب میں قطع تعلقات کی زندگی گزار رہے تھے تو انھوں نے کوشش کی تھی کہ وہ معاہدہ جو کعبہ میں لٹکایا گیا تھا اور نبی کے قطع تعلق کے بارے میں جس میں قسمیں کھائی گئی تھیں اس کو توڑ دیا جائے اس وقت بنو ہاشم شعب ابو طالب میں محصور تھے. اس طرح مطعم بن عدی نے بھی اس معاہدے کو توڑنے کی کوشش کی تھی بلکہ توڑ دیا تھا اس کے علاوہ جب نبی(ص) طائف سے با حال پریشان مکہ تشریف لائے تھے اور کوئی پناہ دینے کی ہمت نہیں کر رہا تھا تو یہی مطعم بن عدی تھا جس نے حضور کو پناہ دی تھی اور اپنی پناہ میں مکہ پہونچایا تھا تو کیا نصرت نبی کہ وجہ سے ان لوگوں کی محبت بھی ایمان اور ان کا بغض نفاق ہوسکتا ہے؟
اگر ابن حجرعسقلانی کی توجیہ مانی جائے تو جواب ہاں میں ہوگا.
( ابن حجر صاحب کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ایک حدیث کی توجیہ کردینے سے فضائل علی(ع) کم نہیں ہوجائیں گے البتہ قاری آپ کے خیالات پڑھ کے آپ کے ایمان، کفر و نفاق کے بارے میں ایک محکم فیصلہ تک پہونچ جائے گا) مترجم غفرلہ.
مولائے کائنات کے بارے میپ یہہی ایک حدیث تو وارد نہیں ہوئی اس مضمون کی یا اس سے ملتے جلتے مضمون کی بے شمار حدیثیں ہیں آپ کس کس کی توجیہ کریں گے اور اگر آپ یہ طے کر لیں کہ ہر حدیث کی ایسی توجیہ کریں گے تو پھر حدیث پیغمبر(ص) کا معنی گنجلک اور بے مفہوم ہو کے رہ جائے گا اس لئے کہ حدیث کی توجیہ اس کے غیر معنی کی طرف کرنے سے حدیث اپنا مفہوم کھو دیتی ہے اور بات بلاغت پیغمبر(ص) پر آتی ہے جبکہ پیغمبر(ص) صاحب حکمت اور حامل فصل خطاب ہیں.
اس کے علاوہ مولائے کائنات نے آپ کی اس توجیہ کو آپ کے بہت پہلے اپنے ایک جملہ سے غلط قرار دیا ہے مولا علی(ع) اپنے دور خلافت میں لوگوں کو اپنی نیت اور اپنے مقاصد جنگ سے سے با خبر رکھنےکے لئے ارشاد فرماتے ہیں اگر میں اپنی اس تلوار کو مومن کی گردن پر رکھ کےکہوں کہ مجھ سے دشمنی کرو ورنہ تیرا گلا کاٹ دوں گا جب بھی وہ مجھ سے دشمنی نہیں کرے گا اور اگر منافق کو دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے سب اس شرط پر دیدوں کہ وہ مجھ سے محبت کرے گا جب بھی محبت نہیں کرے گا اس لئے کہ نبی کی زبان صداقت نے میرے لئے یہ فیصلہ سنا دیا ہے کہ اے علی(ع) تم سے مومن دشمنی نہیں کرسکتا اور منافق محبت نہیں کرسکتا ابن حجر آپ اس بات کو مانیں یا نہ مانیں آپ کے بڑے اس کو مانتے تھے چنانچہ عمرو نے دیکھا ایک شخص مولا علی(ع) کو گالی دے رہا ہے فورا اس سے کہا میرا خال ہے کہ تو منافق ہے.
ایک سے ایک صحابہ کا بیان آپ کی اس توجیہ کی تردید کرتا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ عہد پیغمبر(ص) سے ہی منافقین کو بغض علی(ع) کے ذریعہ پہچانتے تھے.(1)
................................................
1.سنن الترمذی، ج5، ص635، المستدرک علی الصحیحین، ج3، ص139، حلیتہ الاولیاء، ج6، ص295، تذکرة الحفاظ، ج2، ص673، مجمع الزاوائد، ج9، ص132، فضائل الصحابہ لابن حنبل، ج2، ص579.
اس دور کے تاریخی شواہد بھی یہ بتاتے ہیں کہ علی(ع) کے دشمن نے کبھی یہ نہیں کہا کہ چونکہ علی نے نصرت پیغمبر(ص) کی ہے اس لئے ہم علی(ع) کے دشمن ہیں بلکہ ان کا کہنا تھا کہ علی(ع) حق کے معاملے میں کوئی رعایت نہیں کرتے علی(ع) حق کے معاملے میں پتھر سے زیادہ سخت ہیں ظاہر ہے کہ علی(ع) نے اگر ان کے ساتھ نرمی کہ ہوتی یا ڈھیل دی ہوتی تو وہ علی(ع) سے ہرگز دشمنی نہیں کرتے.اور جو علی(ع) سے دشمنی کرتا تھا اس کو دوست رکھتا تھا(1) اس نے کہا پیغمبر(ص) نے علی(ع) کو مسلمان فوج کے ایک دستہ پر امیر بنا کے یمن بھیجا ایک دوسرے دستے پر امیر بنا کے خالد بن ولید کو جیل کی طرف بھیجا اور ہدایت یہ دی تھی کہ جب دونوں دستے ملاقات کریں اکٹھا ہوجائیں تو دوستوں کے مشترکہ امیر علی(ع) ہوں گے دونوں دستوں نے اس حال میں ایک دوسرے سے ملاقات کی اور اس درجہ مال غنیمت حاصل کیا کہ اس سے قبل اتنا مال کبھی نہیں پایا تھا اور اس کے پانچویں حصہ سے علی(ع) نے ایک کنیز خریدی تو خالد بن ولید نے جب یہ دیکھا تو بریدہ کو بلایا اور کہا علی(ع) نے مال غنیمت میں سے صرف ایک کنیز لی ہے جا کے پیغمبر(ص) کو خبر کر دے میں مدینہ حہونا مسجد پیغمبر(ص) میں آپ کے حجرے کے قریب پہنچا مسجد میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے مجھ سے پوچھا کیوں آئے ہو؟ میں نے کہا علی(ع) نے مال خمس سے ایک کنیز لی ہے میں نبی کو اس خیانت کے بارے میں بتانے آیا ہوں اگر بات نبی تک پہونچ گئی تو علی(ع) نبی(ص) کی نگاہ سے گر جائیں گے پیغمبر(ص) یہ ساری باتیں پس دیوار سے سن رہے تھے حالت غضب میں باہر نکلے فرمایا اے لوگو!آخر تم علی(ع) کی منزلت گھٹانے کی فکر میں کیوں رہتے ہو؟ یاد رکھنا جو علی(ع) کو گھٹاتا ہے جو علی(ع) سے الگ ہوا وہ مجھ سے بھی الگ ہو گیا میں علی(ع) سے ہوں علی(ع) مجھ سے ہے علی(ع) کی خلقت میری طینت سے
------------------
2.مجمع الزوائد، ج9، ص127، مسند بن حنبل، ج5، ص350، فضائل الصحابہ لابن حنبل، ج2، ص690، فتح الباری، ج8، ص66،نیل الاوطار، ج7، ص110.
ہے اور میری خلقت طینت ابراہیم(ع) سے ہے جب کہ میں ابراہیم سے افضل ہوں اور بعض کی ذریت بعض سخ افض بھی ہے اور اللہ دیکھنے والا اور جاننے والا ہے(قرآن) اے بریدہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے بعد تم لوگوں کا علی(ع) ہی سرپرست ہے صرف ایک کنیز لے لی تو اتنا واویلا ہورہا ہے ارے علی(ع) کا حق اس سے بھی بہت زیادہ ہے بریدہ یہ سن کے بہت پریشان ہوا کہا یا رسول اللہ(ص) آپ کی صحبت سے مشرف ہوں اور صحبت کا واسطہ دیتا ہوں ایک بار پھر مجھ سے بیعت لے لیں نبی نے ہاتھ آگے بڑھا دیا اور میں نے پھر آپ کے ہاتھ پر بہ نام اسلام بیعت کر کے دوبارہ اسلام کی تجدید کی یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ علی(ع) کی محبت اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور مسلمان بغیر محبت علی(ع) کے مسلمان ہو ہی نہیں سکتا اسی وجہ سے بریدہ نے اپنے اسلام کی تجدید کو ضروری سمجھا انہیں بریدہ سے دوسری حدیث بھی ملاحظہ ہو کہتے ہیں میں علی(ع) سے زیادہ کسی سے بغض نہیں رکھتا میرے بغض علی(ع) کی انتہا یہ تھی کہ میں قریش کے ایک آدمی سے محض اس لئے محبت کرتا تھا کہ وہ علی(ع) کا دشمن تھا ایک بار رسول نے لشکربھیجا اس لشکر کا سردار وہی شخص تھا میں نے اس کے ساتھ صرف اس لئے جانا پسند کیا کہ وہ علی(ع) کا دشمن تھا اس شخص نے ایک خط میں علی(ع) کی شکایت لکھی اور نبی کے پاس بھیجنا چاہا تو میں نے اس سے یہی کہا کہ مجھے اس خط کے مصدق کے طور پر بھیج دو میں خط لئے خدمت پیغمبر(ص) میں پہنچا اور آپ کے لئے خط پڑھنا شروع کیا اور یہ بھی عرض کیا کہ میں اس کی تصدیق کرتا ہوں پس نبی نے میرا ہاتھ پکڑا اور خط مجھ سے لے لیا پھر پوچھا اے شخص کیا تو علی(ع) سے بغض رکھتا ہے میں نے کہا بے شک میں یہ نیک کام کرتا ہوں فرمایا علی(ع) سے بغض نہ رکھ اور اگر تو علی(ع) سے محبت کرتا ہے تو پھر زیادہ محبت کر اس ذات اقدس کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد(ص) کی جان ہے علی(ع) اور علی(ع) کا خمس میں جو حصہ ہے اس
کے مقابلے میں یہ کنیز بہت کم ہے.
عمر بن شاس اسلمی سے سنئے! وہ بھی اسی طرح کی ایک حدیث رکھتے ہیں کہتے ہیں میں علی(ع) کے زیر قیادت یمن کے لئے نکلا علی(ع) نے اس سفر میں بہت سختی کی یہاں تک کہ میں ان کا دل ہی دل میں دشمن ہوگیا جب میں مدینہ واپس آیا تو مسجد نبوی میں ایک ایک کو پکڑ کے علی(ع) کی شکایت کرتا پھر رہا تھا یہاں تک کہ رفتہ رفتہ یہ خبر پیغمبر(ص) تک پہونچی حضرت نے فرمایا اے عمرو! تم نے مجھے اذیت دی میں نے کہا میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں آپ کو اذیت دینے سے حضرت نے فرمایا جو علی(ع) کو اذیت دیتا ہے در اصل وہ مجھے اذیت دیتا ہے.
ابو رافع اسی عمر بن شاس کے بارے میں کہتے ہیں: جب ہ یمن سے واپس آیا تو علی(ع) کی مذمت کرتا پھر رہا تھا اور آپ کی شکایت کرتا تھا آخر پیغمبر(ص) نے اسے بلا بھیجا اور فرمایا عمرو مجھے بتا کہ وہ علی(ع) کی کیوں شکایت کر رہا ہے کیا علی(ع) نے اس کے اوپر کسی فیصلے میں ظلم کیا ہے یا اس کو حصہ کم دیا ہے اس نے کہا بخدا نہیں ان دونوں میں کوئی بات نہیں ہے فرمایا پھر کیوں بکواس کرتا پھر رہا ہے کہنے لگا حضور میں بغض علی(ع) میں مجبور ہوں( میرا دل محبت علی(ع) پر آمادہ نہیں ہوتا اور بغض علی(ع) میں نفس پر قابو نہیں رہتا) مترجم غفرلہ.
پس سرکار کے روئے اقدس پر غضب کا ایسا اثر ہوا کہ آپ کے چہرے سے ظاہر ہونے لگا فرمایا جو علی(ع) سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے اور مجھ سے بغض رکھتا ہے وہ اللہ سے بغض رکھتا ہے اور جو علی(ع) سے محبت کرتا ہے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور مجھ سے محبت کرتا ہے وہ اللہ سے محبت کرتا ہے.
اس سلسلے کی آخری دیث سعد بن وقاص سے سن لیں کہتے ہیں: میں اور میرے ساتھ دو آدمی مزید مسجد نبوی میں بیٹھے علی(ع) کی غیبت کررہے تھے کہ اتنے میں سرکاردوعالم اس حال میں تشریف لائے کہ چہرہ قدس سے آثار غضب ظاہر ہو رہے تھے ہم نے آپ کے غضب سے اللہ کی پناہ مانگی
حضور نے اسی عالم میں فرمایا: ارے میرے سمجھ میں نہیں آتا کہ میں تم لوگوں کو کیا کروں اور کیسے سمجھائوں کہ علی کو اذیت دینے والا مجھے اذیت دیتا ہے( ہزار بار کہہ چکا) مترجم غفرلہ.
علامہ بن حجر عسقلانی یہ تو چند نمونے تھے جو آپ کی خدمت میں حاضر کئے گئے اس کے علاوہ بھی بہت حدیثیں ہیں جن سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ علی(ع) سے بغض رکھنے والے نہ تو اس لئے بغض علی(ع) رکھتے ہیں کہ نبی کی نصرت کی تھی اور نہ بغض علی(ع) کا سبب علی(ع) کی طرف سے نصرت پیغمبر(ص) کا ہونا ہے بلکہ یہ اندر کی بات ہے جس کا راز دشمنان علی(ع) کی مائوں کے سوا کوئی نہیں جانتا. مترجم.
اس میں کوئی شک نہیں کہ مولا علی(ع) کی محبت ایمان کی نشانی اور علی کی دشمنی نفاق کی پہچان ہے اور مندرجہ بالا حدیثوں میں اسی بات کو لفظ بدل بدل کے واضح کیا گیا ہے. خصوصا پیغمبر(ص) کے عا لم معنی کی طرف انتقال کے بعد جب فتنے اٹھے اور حقیقت مشتبہ ہوگئی بہت مشکل تھا اس لئے کہ وحی کا دروازہ بند ہوچکا تھا اور آفتاب رسالت غروب ہوچکا تھا لیکن ماہتاب امامت اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا اور اس کی روشنی صراط مستقیم پر براہ راست پڑ رہی تھی اس لئے علی(ع) کی ذات اقدس نفاق کی وادی کے درمیان حد فاصل اور حق و باظل کے مابین امتیاز قرار پائی میرے اس دعوے کی دلیل میں چند حدیثیں حاضر خدمت ہیں.
حضور(ص) نے فرمایا: “اے علی(ع) تم نہ ہوتے تو میرے بعد مومنین کہ پہچان نا ممکن تھی”(1) حضور(ص) نے فرمایای میرے بعد فتنے ہوں گے جب ایسا ہو تو ( اے مسلمانوں) علی کے دامن کو مضبوطی سے تھام لینا اس لئے کہ قیامت کے دن علی(ع) ہی سب سے پہلے مجھے دیکھیں گے اور سب
------------
1.کنز العمال، ج13، ص152، حدیث3677.
سے پہلے مجھ سے مصافحہ کریں گے وہی صدیق اکبی ہیں اور وہی اس امت میں حق اور باطل کے درمیان فاروق ہیں وہی مومنین کے یعسوب ہیں اور مال، منافین کا یعسوب ہے.(1)
ابو رافع کہتے ہیں : میں ربذہ میں ابوذر غفاری کی زیارت کو پہونچا جب میں ان سے رخصت ہونے لگا تو مجھ سے اور میرّ ساتھ والوں سے ابوذر نے کہا اے ابو رافق عنقریب فتنہ اٹھنے والا ہے پس خدا سے ڈرنا اور اس وقت تم پر علی بن ابی طالب(ع) کی پیروی واجب ہے پس انھیں کے پیچھے پیچھے چلنا میں نے پیمبر(ص) سے سنا ہے کہ وہ علی(ع) سے فرما رہے تھے کہ اے علی(ع)تم وہ پہلے شخص ہو جو مجھ پر ایمان لائے اور تم ہی قیامت کے دن سب سے پہلے مجھ سے مصافحہ کرو گے تم ہی صدیق اکبر ہو اور تم ہی حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والے ہو اےعلی(ع) تم مومنین کے یعسوب ہو اور مال کافرین کا یعسوب ہے تم میرے بھائی اور وزیر اور میرے ترکہ میپ سب سے بہتر ہو تم ہی میرے قرض کو ادا کروگے اور میرے وعدوں کو پورا کروگے.(2)
اس حدیث سے ملتی جلتی دوسری حدیث ابن عباس سے بھی ہے کہ آپ کہتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی( اے حبیب) تم منذر (ڈرانے والے) ہو اور ہر قوم کا ہادی ہوتا ہے تو سرکاردو عالم نے علی(ع) کے شانے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا میں ڈرانے والا ہوں اور یہ ہر گروہ کا ہادی ہے پھر علی(ع) کے کاندھے کی طرف اشارہ کیا فرمایا اے علی(ع) تم ہی ہادی ہو میرے بعد ہدایت پانے والے صرف تم سے ہی ہدایت پائیں گے.(3)
.....................................................
1.الاستیعاب، ج4، ص1744، ابولیلی غفاری کی سوانح حیات کے ضمن میں،الاصابہ، ج7،ص357، میزان الاعتدال، ج1، ص339، لسان المیزان، ج1، ص357.
2.شرح نہج البلاغہ، ج13، ص228.
3.تفسیر طبری، ج13، ص108، تفسیر ابن کثیر، ج2، ص503، فتح الباری، ج8، ص376، روح المعانی، ج13، ص108، الدر المنثور،ج4، ص608.
اب میں پھر ابن حجر عسقلانی کی توجیہ کی طرف واپس آتا ہوں چلئے دیکھتے ہیں کہ ابن حجر اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے پھر کون سے لطیفے تخلیق کرتے ہیں انھوں نے حدیث کی خلاف ظاہر تاویل کر کے کئی جگہ ٹھوکر کھائی ہیں.
1.ابن حجر فرماتے ہیں انسانی طبیعت کا تقاضا یہ ہے کہ جس سے فائدہ پہونچتا ہے اس سے محبت ہوجاتی ہے اور جس سے نقصان پہنچتا ہے اس سے دشمنی ہوجاتی ہے.
لیکن میرا یہ کہنا ہے کہ سب سے پہلے یہ دیکھا جائے علی(ع) نے نواصب کے آباء و اجداد کو قتل کیوں کیا؟ کیا انہوں نے حکم الہی کی پیروی میں قتل کیا یا اس لئے کہ وہ سب کے سب خدا کے دشمن اور حکم خدا پر خروج کے مرتکب ہوتے تھے ارشاد ہوتا ہے جو لوگ خدا اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں انہیں تم ایسے لوگوں سے محبت کرتا ہوا ہرگز پائو گے جو خدا اور اس کے رسول سے جنگ کرتے رہتے ہیں ان (مومنین) کے باپ دادا ہوں یا بیٹے بھائی ہوں یا قبیلے والے، ان پر واجب ہے کہ وہ امیرالمومنین سے محبت کریں اس لئے کہ آپ نے حکم خدا کو نافذ فرمایا.(1)
اگر وہ علی(ع) سے محبت نہیں کرتے تو وہ کھلے ہوئے منافق قرار پائیں گے جیسے وہ لوگ جو رسول خدا(ص) سے صرف اس لئے بغض رکھتے تھے کہ رسول نے ان کے محبوب افراد کو قتل کرایا اس لئے کہ قتل ہونے والے ان سے دوستی کا دم بھرتے تھے جو خدا سے جنگ کررہے تھے اور وہ محبوب خدا کے دشمن تھے اور
.................................................
2.سورہ مجادلہ، آیت22.
اس کے دشمن تھے جو حکم خدا کو نافذ کرنے والا ہے لہذا ناصبیوں کا امیرالمومنین(ع) سے بغض رکھنا اس اعتبار سے ان کے نفاق میں تاکید ہوجاتی ہے.
ابن حجر نے فرمایا:
2.دوسری بات یہ ہے کہ حدیث”علی(ع) کی محبت ایمان اور ان سے بغض نفاق ہے” عموم پر دلالت نہیں کرتی اس لئے کہ دیکھا گیا ہے کہ غلو کرنے والے دشمن خدا اور رسول بھی علی(ع) سے محبت کرتے ہیں.
1.اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ حدیث شریف سے مراد مخصوص وہ لوگ ہیں جو اسلام کا دعوی کرتے ہیں اس لئے کہ ایمان اور نفاق کا تعلق انھیں لوگ سے ہے نیز انھیں میں مومن، منافق اور فاسق کی تقسیم ہوتی نہ کافر کی.
2. دوسری بات اگر آپ کے کہنے کے مطابق عموم مان بھی لیا جائے تو عموم کا دائرہ مسلمانوں کو بھی سمیٹ لے گا اس لئے کہ عموم کا مزاج ہی یہ ہے کہ وہ سب کو سمیٹ لیتا ہے لیکن حدیث کی دلالت التزامی کافروں سے خطاب ہونے کی باوجود تضمنی طور پر مسلمانوں کو بھی شامل ہوگی اس لئے کہ حدیث میں ایمان و نفاق کی قید کا تقاضہ ہے کہ مسلمان بھی مخاطب قرار پائیں تو اب حدیث کی دلالت تضمنی بتائے گی کہ علی(ع) کا چاہنے والا مومن اور ان کا دشمن منافق ہے لہذا اس اعتبار سے بھی یہ حدیث نواصب کے نفاق پر دلالت کرتی ہے اور ہم یہی ثابت کرنا چاہتے ہیں.
3.ابن حجر کہتے ہیں کہ اس حدیث میں کیا خاص بات ہے اس طرح کی حدیث تو انصار کے بارے میں بھی وارد ہوئی ہے.
جوابا عرض ہے کہ اس طرح کی حدیث اگر انصار کے بارے میں بھی وارد ہوتی ہے تو مان لینے میں کیا حرج ہے؟ مان لیا کہ انصار سے بعض رکھنے والا منافق ہے چاہے جس سے بغض رکھتا ہو، ابھی آپ کے چوتھے سوال کے جواب میں میں نے امیر کائنات(ع) کے حوالے سے عرض کیا ہے کہ سقیفہ میں کیا ہوا تھا، قریش کے اکثر لوگ منافق تھے اور انصار کو سرعام برا بھلا کہتے تھے انصار سے کھلم کھلا دشمنی، انصار کی اذیت رسانی، انصار سے بے توجہی اور ان کی توہین تو منافقین قریش کا شعار بن چکی تھی. عمرو بن عاص اور معاویہ بن ابوسفیان جیسے لوگ تو انصار کے ستانے کا موقع ڈھونڈتے تھے البتہ یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ حدیث کے عنوان میں وہ حضرات ہیں جو من جملہ انصار شمار کئے جاتے تھے شاذ و نادر نہیں کہا جاسکتا اس لئے کہ تاریخ شاہد ہے کہ انصار میں بھی منافقین بہر حال پائے جاتے تھے ظاہر ہے کہ ان سے محبت اور دشمنی ایمان اور نفاق کا معیار نہیں بن سکتی، اسی مضمون کی حدیث انصارکے لئے بھی اور امیرالمومنین(ع) کے لئے بھی ہے تو اس حدیث کی فضیلت میں انصار کے ساتھ امیرالمومنین(ع) کی شرکت سے کیا حدیث باطل ہو جائے گی.
دوسری بات یہ ہے کہ انصار کا دشمن منافق ہے اس سے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ نواصب کے لئے علت نفاق بغض انصار ہے. یہ جملہ اسی طرح کا ہے جیسے ہم عام طور پر کہتے ہیں کہ جو مومنین سے محبت کرے گا وہ ان کے ساتھ محشور ہوگا یا جو کفار سے بغض رکھے گا وہ قیامت میں کفار کی طرح عریان ہونے سے محفوظ رہے گا بر خلاف اس حدیث کے جو امیرالمومنین(ع) کے لئے وارد ہوئی ہے اس میں ایک فرد واحد کو ہر عنوان سے مجرد کر کے صرف اسی فرد کی فضیلت بیان کی گئی ہے اس کا مطلب ہے کہ خاص ذات علی(ع) سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے.
3. تیسری بات یہ ہے کہ اگر بادی النظر میں یہ مان بھی لیا جائے کہ انصار کے بارے میں آپ نے جو تاویل کی ہے وہ صحیح ہے تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ وہی تاویل مولا علی(ع) کی
فضیلت والی حدیث میں صحیح ہوگی جب کہ میں نے ابھی یہ ثابت کیا کہ آپ کی تاویل حدیث کے خصوص کو عموم میں بدلنے سے قاصر ہے.
آپ فرماتے ہیں یعنی ابن حجر کہ نواصب اکثر دین دار اور سچے ہوتے ہیں بر خلاف شیعوں کے کہ ان میں زیادہ تر جھوٹے اور حدیثوں کے نقل کے سلسلہ میں غیر محتاط ہیں.
1. پہلی بات یہ ہے کہ انھوں نے جب حدیث کو اس کے معنائے ظاہری کے خلاف محمول کیا تو اس قرینے سے یہ بات ان کی سمجھ میں آگئی کہ ناصبی سچا اور شیعہ جھوٹا ہے اس لئے کہ جب حدیث کے معنی اپنے ظاہری الفاظ کے مطابق نہیں ہیں تو اب حدیث کا مفہوم اپنے ظاہر معنی سے نکل جاتا ہے اور ابن حجر اس کو اپنی تاویل کی روشنی میں سمجھنے پر مجبور ہیں کہ نفاق کی، حدیث پیغمبر(ص) کی روشنی میں ایک ہی علامت ہے اور نہ علی(ع) سے بغض رکھنا ہے ابن حجر نے تاویل کر کے حدیث کے معنی ہی بدل دیئے، اب ظاہر ہے نواصب میں بغض علی(ع) پایا تو جاتا ہے لیکن ابن حجر کی نظر میں وہ منافق نہیں ہیں اس لئے کہ وہ بڑے پرہیزگار، دیانتدار ہیں بس ثابت ہوا کہ وہ اپنے دعوای اسلام میں جھوٹے نہیں ہیں اگر چہ عقیدے میں غلط ہیں.
اگر ابن حجر نے نفاق اور ایمان کا مطلب وہ لیا ہے جو ابھی مندرجہ بالا سطروں میں عرض کیا گیا ہے تو میں جواب میں عرض کروں گا کہ پہلے ابن حجر یہ بتائیں کہ دینداری کیا ہے، میری نظر میں تو دینداری کا مطلب یہ ہے کہ ان تمام باتوں پر ایمان لانا جو اللہ نے نازل کیا ہے اور جو کچھ اللہ نے ان پر فرض کیا
ہے اس پر ایمان کے لئے دل کو آمادہ کرنا اور صدق دل سے اللہ کی طرف سے نازل شدہ فرائض کی انجام دہی ہے اور ایسا ایمان اس وقت تک حاصل نہیں ہوگا جب تک دل کی فضا ک تعصب اور جذبات کی آلودگییوں سے پاک نہ کرلی جائے نیز ان تمام دلیلوں پر غور نہ کر لیا جائے جنہیں اللہ نے اپنے بندوں کے لئے قائم کی ہیں تا کہ بندہ حقیقتوں کا ادراک کر سکے اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر اللہ کی رضا کا طالب ہو جائے. اس بات کو ایک مثال سے سمجھئے جب کوئی سمجھدار انسان کسی خطرناک مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ اپنے علاج کے لئے شفا کی خاطر اچھے سے اچھے ڈاکٹروں کی تلاش، کافی محتاط انداز میں کرتا ہے، تعویذ گنڈا اور غیر عقلی طریقوں کی طرف متوحہ نہیں ہوتا معالجہ اور دوا کی تلاش کے وقت جذبات اور تعصبات سے کام نہیں لیتا بلکہ اس کی بھر پور کوشش ہوتی ہے کہ وہ شفاء کامل حاصل کرے حضور والا جسم کی شفا اور بدن کی سلامتی سے زیادہ روح کی سلامتی، دین کی سلامتی اور رضائے پروردگار کا حصول ضروری ہے اس لئے ایمان اور دیانت داری کہاں رہی؟
بہر حال اگر تمام انسان خلوص و توجہ کے ساتھ حقیقت پانا چاہیں تو ضرور پہونچ جائیں گے اس لئے کہ خداوند عالم نے حجتوں کی وضاحت کردی اور حقتک پہونچنے پہونچانے کے لئے دلیلیں قائم کر رکھی ہے ارشاد ہوتا ہے کہ،( خدا اس وقت تک کسی قوم کو گمراہ نہیں چھوڑتا جب تک یہ نہ بتا دے کہ ان کو کن باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے) (قراآن)
اس حقیقت کی وضاحت آپ کے لئے چھٹے سوال کے جواب میں بخوبی ذکر کردی گئی ہے.
اور اگر بادی النطر میں یہ مان بھی لیا جائے کہ کچھ ایسے حقایق ہیں کہ جس کے ذریعہ ایمان اور نفاق کو پہچانا جاسکتا ہے جب ناصبیوں کےعقیدے کے باطل ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں صرف تھوڑا تدبر کی ضرورت ہے مثلا 1. یہ دیکھیں کہ یہ عقیدہ کس ماحول کی
پیداوار ہے. 2. یہ دیکھیں کہ اس عقیدے کی حوصلہ افزائی اور ترویج کن لوگوںنے کی؟ 3. اس عقیدے کی ترویج کے لئے جو وسیلے اور اپنائے گئے ان پر غور کریں. 4. یہ دیکھیں کہ اس عقیدے کے کس طرح کے حامل افراد ہیں؟ اس طرح کی بے شمار دلیلیں ہیپ جو اس عقیدے کو باطل ٹھہراتی ہیں اور ان دلیلوں کو حاصل کر لینا کوئی مشکل نہیں ہے خصوصا صاحبان علم اور حاملان حدیث کے لئے.
لیکن افسوس! عشق اور دل کا میلان اس کا کوئی علاج نہیں ہے جب انسان کا دل کسی چیز کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے تو انسان عقل سے زیادہ جذبات کا شکار ہوجاتا ہے یہاں تک کہ دین میں کاٹ چھانٹ شروع کرتا ہے دین کو بھی دہ ایک حد تک مانتا ہے جب تک دین اس کی خواش کو نقصان نہیں پہونچاتا اور اس کے جذبات کو فائدہ پہونچاتا ہے وہ دین کو مانتا ہے، لیکن جہاں سے دین اس کے دل کے معاملات میں دخل دینے لگتا ہے ہیں سے انسان تعصب اور لڑائی جھگڑے کا راستہ اپنا لیتا ہے اور حق کو چھپانے کے لئے کبھی تکذیب کا سہار لیتا ہے تو کبھی تسخیر اور خاطر خواہ تاویلوں پر تکیہ کرتا ہے اور اسی کا نام نفاق ہے یاد رکھئے ! صرف ایمان کے فقدان اور دین کے اصلا انکار کرنے کا نہیں ہے بلکہ منافق ہونے کے لئے اتناہی کافی ہے کہ انسان دین کی ان چیزوں سے ایمان اٹھالے جو ہیں تو دین ہی کی باتیں لیکن اس کو عقلی نہیں لگتی اور صرف ایسی چیزوں پر ایمان لائے جو اس کے خواہشات نفس کو نقصان نہ پہونچاتی ہوں یا اس کے جذبات کے مطابق ہوں.
اہل سنت کے ایک قدر آور عالم دین اما احمد بن حنبل نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے عبد اللہ احمد بن حنبل کہتے ہیں :میں نے اپنے والد احمد بن حنبل سے پوچھا! بابا ! علی(ع) اور معاویہ کا کیا قصہ ہے؟ کہنے لگے بیٹا! پہلے یہ بات سمجھ لو کہ علی(ع) کے کثیر دشمن تھے انھوں نے علی(ع) کے اندر خامیاں تلاش
کرنے کی بھر پور کوششیں کیں لیکن نا کام رہے تو پھر وہ ایسے شخص کے پاس گئے جو علی(ع) سے جنگ و جدال کرتا رہتا تھا اور انہوں نے اسی کی آڑ میں اپنے دل کا بخار نکالا.(1)
ان باپ بیٹے کی گفتگو سے ایک بات و ضرور سمجھ میں آتی ہے کہ دشمنان علی(ع) کے پاس علی(ع) سے دشمنی کی کوئی وجہ نہیں تھی اور نہ ہی کوئی ایسی دلیل تھی جس پر تکیہ کر کے وہ بغض علی(ع) کو صحیح قرار دیتے جز خواہشات نفس کے جو نفاق کی علامت ہے.
یہیں پر یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ صرف صدق لہجہ اور دین میں ظاہرداری کرنا نواصب کو منافق حدیثیں اپنے مفاد سے الگ ہوجائیں گی جن میں امیرالمومنین(ع) کو ناحق حق و باطل قرار دیا ہے اور آپ ہی کی ذات اقدس ایمان و نفاق نیز ہدایت و ضلالت میں حد فاصل کھینچتی ہے.
یہ بھی ایک حیرت انگیز ہے کہ ناصبی افراد ان حدیثوں کو زور و شور کے ساتھ روایت بھی کرتے ہیں جس میں حضرت علی(ع) کو فارق حق و باطل قرار دیا گیا ہے اور پھر آپ سے اعلانیہ اظہار دشمنی کا بیان بھی دیتے ہیں. وجہ یہ بتاتے ہیں کہ علی(ع) نے ان کے آبا و اجداد نیز ان کے گھر والوں کو قتل کیا ہے اور ان ناصبیوں کے حمایتی ان کے صاحب دین و صادق اللہجہ ہونے کا ڈھنڈورا پیٹ کر یہ اعلان کرتے ہیں کہ ایسے لوگ منافق تو ہو ہی نہیں سکتے ہیں میں پوچھتا ہوں کہ حدیث پیغمبر(ص) سے مقام عمل میں صرف اس وجہ سے اختلاف کرنا کہ وہ حدیثیں کسی ذات یا ان کی خواہشات کے خلاف وارد ہوئی ہیں کیا اس سے بھی بڑا نفاق کچھ ہوسکتا ہے؟
بہر حال ابن حجر عسقلانی کے نواصب کی مدح سرائی کی دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس نے
..............................
1.تاریخ الخلفاء، ج1، ص199، معاویہ ابن ابی سفیان کی سوانح حیات کے ضمن میں. فتح الباری، ج7، ص104، تحفتہ الا حوذی، ج10
شیعوں اور ناصبیوں کے درمیان اہل سنت کے غیر متوازن نظریہ کی توجیہ کی ہے کہ منافق بغض علی(ع) کو دین سمجھتے ہیں اور اس معاملے میں وہ بہت سخت ہیں لہذا وہ دیانتدار ہیں این حجر نے عمدا ان حدیثوں سے چشم پوشی کی ہے جن میں امیرالمومنین(ع) کو مومن و منافق کے درمیان علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے اس سلسلے میں دو باتوں پر توجہ دیں.
1. ابن حجر کہتے ہیں: امیرالمومنین(ع) سے بغض رکھنا ناصبیوں کی دیانتدارای کی وجہ سے ہے اس لئے کہ وہ بغض علی(ع) کو دین سمجھتے ہیں اگرچہ یہ غلط اعتقاد ہے لیکن یہ بغض کسی تمرد اور مفاد کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ان کے دین کا تقاضہ ہے.
میں کہتا ہوں انصاف کا تقاضہ تو یہ تھا کہ جس طرح آپ نواصب کی طرف سے دفاع کررہے ہیں اسی طرح شیعوں کی طرف سے بھی دفاع کرتے ہوئے اسی اصول کو جاری کرتے اور یہ کہہ دیتے کہ شیعوں کے دل میں حب علی(ع) بھی ان کے دین اور دیانت داری کی وجہ سے ہے اس لئے کہ شیعوں نے حب علی(ع) کا دین ہونا ایسی دلیلوں سے حاصل کیا ہے جس کی تمامیت میں شک کی گنجائش نہیں ہے اگرچہ میں(ابن حجر) کا مخالف ہوں لیکن سمجھ میں بات نہیں آتی کہ آپ ایک اصول بناتے ہیں اور نواصب کے بارے میں اس کو جاری کردیتے ہیں لیکن اسی اصول کو شیعوں کے بارے میں آپ جاری نہیں کرتے بغض علی(ع) نواصب کا دین ہے وہ علی(ع) سے اظہار دشمنی میں سختی کریے تو دیندار قرار پائیں اور اسی بات کو ان کے ثقہ ہونے کی دلیل قرار دیا جائے ٹھیک اسی طرح شیعہ حب علی(ع) کو دین سمجھتے ہیں لیکن آپ محض حب علی(ع) کی وجہ سے شیعوں کو جھوٹا کہتے ہیں بلکہ مطلقا تکذیب کرتے ہیں.
اب مجھ سے سنئے اگر شیعوں کے تشیع کو آپ مفاد و تمرد کا تقاضہ سمجھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا شیعہ ہونا کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں ہے اور دینداری نہیں ہے تو آپ یہاں ہٹ دھرمی اور زبردستی سے کام لے رہے ہیں آپ کا کلام خود عناد اور تمرد کی طرف اشارہ کرتا ہے اس لئے کہ اگر انصاف کی نگاہ سے دیکھا جائے تو نواصب کی دلیلیں شیعوں کی دلیلوں کے مقابلے میں اتنی کمزور ہیں کہ دونوں کو ایک ہی میزان نظر میں نہیں تولا جاسکتا نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ نواصب کی دلیلیں شیعوں کی دلیلوں سے قویتر ہیں اور اس وجہ سے نواصب کو صاحب حجت اور اہل دین سمجھنا تو دور کی بات مسلمان نہیں سمجھا جاسکتا.
مزید لطف کی بات یہ ہے کہ اہل سنت حضرات مع ابن حجر عسقلانی کے اس بات پر متفق ہیں کہ امیرالمومنین(ع) کی نظر میں خلفاء ثلاثہ کی خلافت شرعی تھی امیرالمومنین(ع) عثمان کی خلافت کو بھی جائز اور شرعی سمجھتے ہیں شیعہ جب ان کے اس نظریہ کی تردید کرتے ہیں تو یہ حضرات سختی سے انکارکرتے ہیں اور پھر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ علی(ع) عثمان کی خلافت کو جائز اور شرعی مانتے تھے لیکن جب نواصب اس بات کا دعوی کرتے ہیں کہ علی(ع) نے عثمان کو قتل کیا یا قتل عثمان کا اشارہ کیا تو اہل سنت نواصب کے اس قول کو ان کے دیانت داری کا ثبوت مانتے ہے اور یہ بھول جاتے ہیں کہ علی(ع) نے اہل سنت کے قول کی مطابق اپنے چائز خلیفہ کو قتل کیا، یا قتل کرنے کی کوشش کی یہ کیسے ممکن ہے؟ یعنی جب شیعہ کہتے ہیں کہ علی(ع) کسی خلافت کو جائز نہیں سمجھتے تھے تو سنی کہتے ہیں یہ شیعوں کا تعصب اور عناد ہے اور جب نواصب کہتے ہیں کہ علی(ع) نے اپنے جائز خلیفہ کو قتل کیا یا قتل کا اشارہ کیا تو سنی کہتے ہیں یہ جملہ نواصب کی دینداری پر دلیل ہے، ارے سبحان اللہ، تو مشق ناز کر خون شہیداں میری گردن پر(غالب)
نواصب اپنے اس باطل عقیدہ کی وجہ سے اہل سنت کی نظر میں نہ متعصب ہیں نہ معاند ہیں بلکہ وہ اہل دین ہیں بغض علی(ع) ان کی مجبوری ہے صاحبان حق ہے صادق اللہجہ ہیں قابل توثیق ہیں ان کی روایتیں قبول کرنے کے لائق ہیں. (شاید یہ نظریہ عدل جہان گیری کا تقاضہ ہے)مترجم غفرلہ
اس سے بڑا لطیفہ یہ ہے کہ اہل سنت کی نواصب دوستی کی وجہ سے یہ معلوم ہوگیا کہ ان حضرات کے یہاں بھی دین کی تعریف نواصب کے سرداروں سے موالات کرنا ہے نواصب کے ان سردار اور قائدوں نے جنہوں نے نواصب کو گمراہ کیا اور خطاکاری کے تاریک غار میں انہیں قید کردیا جیسے معاویہ، عمرو عاص اور ان کی کشتی میں سوار ہونے والے تمام لوگ.
2.ابن حجر فرماتے ہیں: اکثر وہ افراد جو نواصب سے متصف ہیں اپنی صداقت گفتار میں مشہور اور دین سے متمسک ہوتے ہیں بخلاف ان لوگوں کے جو تشیع سے موصوف ہیں کی ان میں اکثر جھوٹے اور حدیثوں میں غیر محتاط ہوتے ہیں.
پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے بھی ثابت کیا کہ اہل سنت نواصب کی محبت میں دیوانے ہوچکے ہیں اور اس دیوانگی کی انتہا یہ ہے کہ اپنی کتابوں کو وہ نواصب کی مدح و ثنا سے سیاہ کئے رہتے ہیں اور ان کے نظریوں کا دفاع کرتے رہتے ہیں بلکہ ان میں گھل مل چکے ہیں اور اکثر اوقات یہ سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ اس گروہ میں ناصبی کون ہے اور سنی کون؟
ہمارے سنی بھائی صرف نواصب کی طرفداری نہیں کرتے بلکہ نواصب سے خود کو ملحق کرتے ہیں اور ان کی مدح و ثنا کرتے اور ان کے موقف کا دفاع کرتے ہیں جنہوں نے نواصب کو گمراہ کیا اور انہیں بغض علی(ع) کی طرف بلایا اور صراط مستقیم سے الگ کر کے شیطان ملعون کے راستے پر ڈال دیا
جیسے معاویہ، عمرو بن عاص، مروان بن حکم اور ان کے اتباع. یعنی نواصب کی تعریف اور طرفداری کرنا سنیوں کا دستور ہے جو قدیم دور سے چلا آرہا ہے دوسری بات یہ ہے کہ نواصب کے لئے ان کتابوں میں جتنی مدح و ثنا کے الفاظ وارد ہوتے ہیں شیعوں کے لئے اتنی ہی بلکہ ان سے زیادہ تعصب اور عناد کے الفاظ وارد ہوتے ہیں جو تشیع کے رفض پر مبنی ہے اس کے بارے میں ذہبی فرماتے ہیں: اب تقیہ اور نفاق ان کا اوڑھنا بچھونا ہے پھر اس حالت میں ان سے حدیثیں کیسے نقل کی جائیں؟ اور روایتیں کیسے قبول کی جائیں؟ حاشا و کلا(1)
پھر ذہبی فرماتے ہیں: اشہب کہتا ہے کہ مالک سے روافض کے بارے میں پوچھا گیا تو کہنے لگے دیکھو ان سے بات نہ کرنا اور ان سے روایت بھی نہ لینا اس لئے کہ وہ جھوٹے ہیں حرملہ کہتا ہے میں نے شافعی سے کہتے ہوئے سنا روافض سے زیادہ جھوٹی گواہی دینے والا میں کسی کو نہیں سمجھتا، مومل بن اہاب کہتے ہیں میں نے یزید ابن ہارون کو کہتے سنا ہر صاحب بدعت سے حدیث لے لو اگر وہ کوئی فرقہ نہ رکھتا ہے مگر خبر دار روافض سے حدیث مت لینا وہ بالکل جھوٹے ہوتے ہیں محمد بن سعید ابن اصبہانی کہتے ہیں میں نے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے جس سے بھی ملاقات کرو اس سے علم لے سکتے ہو لیکن روافض سے نہیں، روافض حدیثیں گڑھتے ہیں اور انہوں نے وضع حدیث کو اپنا دین بنا لیا ہے.(2)
ابراہیم بن شیبہ کہتے ہیں: اگر شیعوں میں یہ دو آدمی عباد بن یعقوب اور ابراہیم بن محمد بن میمون نہ ہوتے تو شیعوں سے حدیث لینا صحیح نہیں تھا.(3)
........................................
1.میزان الاعتدال، ج1، ص118، ابن بن تغلب کی سوانح حیات میں.
2.میزان الاعتدال، ج1، ص146، ابراہیم بن حکیم بن ظہیر کوفی کی سوانح حیات کے ضمن میں.
3.تہذیب التہذیب، ج5، ص95، عباد بن یعقوب رواجنی کے ترجمے میں.
اگر آپ نے سابقہ سوالوں میں سے تیسرے سوال کا جواب پڑھا ہے تو اس کو دیکھتے ہوئے اہل سنت کی طرف سے
شیعوں پر کذب و افتراء کے الزام کی بناء سنیوں کو برا، بھلا نہیں کہا جاسکتا اس لئے کہ اہل سنت شیعوں کو جھوٹا کہتے ہیں اس کی بھی ایک وجہ ہے چونکہ اہل سنت اہل بیت(ع) سے منہ موڑ چکے ہیں اور دشمنان اہل بیت(ع) سے ان کی خوب بنتی ہے اس لئے وہ شیعوں کے دشمن ہیں شیعوں کا ان کی نظر میں سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ (شیعہ) فضائل اہل بیت(ع) کو اجاگر کرتے ہیں اور دشمنان اہل بیت(ع) کے نقائض بیان کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے شیعوں کو یقین ہے کہ دشمن اہل بیت(ع) جھوٹا اور افترا پرداز ہوتا ہے چونکہ سنی فضائل اہل بیت(ع) سے ناواقف ہیں اور دشمنان اہل بیت(ع) کے حامی ہیں اس لئے وہ شیعوں پر جھوٹ اور کذب کا الزام لگاتے ہیں بلکہ یقین رکھتے ہیں اس لئے کہ انسان جس چیز کو نہیں جانتا اس کا دشمن ہوتا ہے.
اہل سنت شیعوں کی تکذیب کے بڑے عجیب و اسباب بتاتے ہیں جنہیں پڑھ کے ہنسی آتی ہے.
1.گذشتہ صفحات میں آپ نے پڑھا کہ یحیی بن معین نے ابوالازہر احمدبن ازہر کی صرف اس لئے تکذیب کی ہے کہ وہ نبی(ص) کے اس قول کے راوی تھے کہ آپ(ص) نے امیرالمومنین(ع) سے فرمایا: “تم دنیا میں بھی سردار ہو اور آخرت میں بھی”.
2. ذہبی کہتےہیں: ابراہیم بن حکم بن ظہیر کوفی شیعی کہ جس کیشریک نے جرح کی ہے، ابو حاتم نے ان کو کذاب کہا ہے ابو حاتم کہتے ہیں چونکہ یہ معاویہ کے نقائص بیان کرتے ہیں اس لئے ہم نے ان
سے جتنی روایتیں لی تھیں ان سب کو پھاڑ کے پھینکے دیا.(1)
ابوحاتم کی اس عبارت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ ابراہیم ابن حکم کو ثقہ سمجھتے تھے اور ان سے روایت بھی لیتے تھے لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ شخص معاویہ کی خامیاں بھی بیان کرتا ہے تو محض اسی وجہ سے وہ ابوحاتم کی نگاہ اعتبار سے گر گئے اور ان کی تمام روایت کردہ حدیثوں کو انہوں نے برباد کر دیا گویا ابوحاتم کو یہ بات قطعی طور پر معلوم تھی کہ معاویہ صرف خیر ہی خیر ہے اس میں کذب کی کوئی گنجائش نہیں جو معاویہ کی خامیاں روایت کرتا ہے وہ بداہتا جھوٹا ہے اور اس سے روایت لینا بہت بڑا گناہ ہے حالانکہ ابھی گذشتہ صفحات میں عرض کیا گیا ہے کہ احمد ابن حنبل نے معاویہ کے بارے میں کن خیالات کا اظہار کیا ہے میں عرض کرتا ہوں ان باپ بیٹوں کی گفتگو کے علاوہ بھی ایسی دلیلیں موجود ہیں جو معاویہ کے فسق اور نفاق پر صریحا دلالت کرتی ہیں.
3.ذہبی کہتے ہیں: مجھ سے حبان نے ان سے ابویعلی نے ان سے کامل بن طلحہ نے ان سے ابن لہیقہ نے ان سے حیی بن عبداللہ نے ان سے عبدالرحمن حنبلی نے ان سے عبداللہ بن عمرو نے کہا: رسول(ص) نے بیماری کے عالم میں فرمایا: میرے بھائی کو بلائو لوگوں نے ابوبکر کو بلا دیا آپ نے موصوف کو دیکھتے ہی منہ موڑ لیا پھر فرمایا میرے بھائی کو بلائو لوگوں نے عثمان کو بلا دیا آپ نے انھیں دیکھتے ہی رخ پھیر لیا لوگوں نے علی(ع) کو بلایا آپ نےعلی(ع) کو اپنی چادر میں لے لیا اور ان پر جھک گئے جب علی(ع) چادر کے باہر نکلے تو لوگوں نے پوچھا پیغمبر(ص) کیا فرما رہے تھے علی(ع)نے کہا:
..................................
1. میزان الاعتدال، ج1، ص146، ابراہیم ابن حکیم بن ظہیر کوفی کی سوانح حیات ے ذیل میں.
پیعمبر(ص) نے مجھے علی کے ہزار باب تعلیم کئے ہر باب سے مجھ پر ہزار ہزار باب علم کے کھل گئے.
(ذہبی کہتے ہیں) یہ حدیث منکر ہے بلکہ موضوع جیسی لگتی ہے(1) پھر ایک طویل گفتگو کے بعد ذہبی لکھتے ہے اس حدیث کے بارے میں احمد کا یہ کہنا کہ حدیث« علمنی الف باب» مشکوک ہے اس لئے کہ اس حدیث کی سند میں ابن لہیعہ ہے وہ حد سے زیادہ شیعہ ہے لیکن میں نے ( ذہبی نے) اس سے ابن لہیعہ کے بارے میں ایسی بات نہیں سنی اور نہ میں یہ اتنا ہوں کہ وہ اپنے تشیع میں حد سے زیادہ بڑھا ہوا تھا صرف وہ شخص اپنے جھوٹ کی وجہ سے بدنام نہیں ہے.
پس میرا خیال ہے کہ کس نے کتاب کامل میں یہ حدیث داخل کر دی ہے اس لئے کہ کامل کے مولف سے بھی جھوٹ کی امید نہیں کی جاتی وہ شیخ الحدیث ہیں اور سچے ہیں میرا یہی خیال صحیح ہے کہ کسی رافضی نے کامل میں یہ حدیث داخل کردی اور کامل کے مولف اس کو سمجھ نہیں پائے اور خدا بہتر جانتا ہے.(1)
آپ نے ملاحظہ کیا چونکہ اس حدیث میں امیرالمومنین(ع) کی فضیلت اور ابوبکر اور عثمان کی تنقیص ہے اس لئے جلدی سے اس حدیث کا انکار کر دیا گیا مجھے یقین ہے اگر معاملہ الٹا ہوتا تو جتنی جلدی اس حدیث کی تکذیب ہوتی ہے اس سے زیادہ جلدی اس کی تصدیق کردی جاتی.
پھر ذہبی کی بے چینین دیکھئے جیسخ پتنگے لک گئے ہوپ کہنے لگے اصل میے یہ حدیث کسی شیعہ کی شرارت ہے اس نخ کتاب کامل میپ یہ حدیث داخل کردی اور کامل کے مولف بے چارے جو شیخ اور قابل اطمینان ہیں اس بات کو سمجھ نہیں پائے اصل میں شیخ ذہبی نے پہلے بھر پور کوشش کی کہ اس حدیث کی اسناد میں کوئی نقص نکالیں جب انہیں علی(ع) میں کوئی نقص نہیں ملا تو چاہیئے تو یہ تھا کہ اس حدیث کو قبول کر کے حدیث کے مضمون کو مان لیتے اور بغض علی(ع) میں سے توبہ کر لیتے لیکن خدا برا کرے نواصب کے محبوں
.............................................
1.سر اعلام النبلاء، ج8، ص24، عبداللہ بن لہیقہ کی سوانح حیات میں.
1. سیر اعلام النبلاء، ج8، ص26، عبداللہ بن لہیقہ کی سوانح حیات میں.
اپنے انھوں نے کامل میں اس حدیث کے وجود کی عجیب توجیہ کی کہ اس حدیث کو کامل میں کسی شیعہ نے لکھ دیا ہے اس جملے سے ان کے خیال کے مطابق کامل پر بھی کوئی بات نہیں آتی اور حدیث کے منکر ہونے کا ایک ثبوت بھی مل گیا اسی کو کہتے ہیں ڈوبتے کو تنکے کا سہارا.
4.اب اس سے بڑا لطیفہ ملاحظہ ہو ذہبی لکھتے ہیں حسن بن محمد بن یحیی بن حسن بن جعفر بن عبد اللہ بن حسین بن زین العابدین علی بن حسین شہید علوی ابی طاہر نسابہ کے بھتیجے ہیں اسحاق ابری کے حوالے سے انتہائی بے شرمی کے ساتھ دبرای سے ایسی حدیث نقل کرتے ہیں جس کی اسناد سورج کی طرح روشن ہیں حدیث یہ ہے کہ علی(ع) خیر البشر ہیں.
دبری نے عبدالرزاق سے انہوں نے معمر بن عبد اللہ الصامت سے اور انہوں نے ابوذر سے مرفوعا بیان کیا کہ رسول نے فرمایا: علی(ع) اور ان کی ذریت قیامت تک خاتم الاوصیاء ہے یہ دونوں حدیثیں راوی کے کذب اور اس کے رفض پر دلالت کرتی ہیں( خدا اسے معاف کرے) اس سے ابن زرقویہ اور ابو علی بن شاذان نے روایت کی ہے.
مجھے اس علوی کے افتراء پر تعجب نہیں ہے بلکہ حیرت ہے خطیب پر کہ وہ اس علوی کے ترجمے میں کہتے ہیں مجھ سے حسن بن ابی طالب نے اس سے محمد بن اسحق قطیعی نے اس سے جابر نے مرفوعا بیان کیا کہ رسول(ص) نے فرمایا: کہ علی(ع) خیر البشر ہیں چجو اس سے انکار کرے وہ کافر ہے پھر خطیب کہتے ہیں یہ حدیث منکر ہے اور علوی کے سواء کسی اور نے اس کی روایت نہیں کی ہے بلکہ ان اسناد سے صرف اس علوی نے روایت کی ہے اور یہ حدیث ثابت نہیں ہے.
میں(ذہبی) کہتا ہوں کہ حافظ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ یہ حدیث”حدیث قلتین اور حدیث ماموں وارث ہوتا ہے کی طرح” ہے بلکہ ان حدیثوں سے کمتر درجہ میں ہے خذلان
سے خدا کی پناہ اس علوی نے سنہ357ھ میں وفات پائی کاش اس پر جھوٹ کی تہمت نہ لگی ہوتی تو اس کے دروازے پر محدثین کی بھیڑ ہوتی اس لئے کہ وہ بہر حال بہت بزرگ اور سن رسیدہ تھا.(1)
آپ نے دیکھا علامہ ذہبی نے کتنی آسانی سے آنکھ بند کر کے پہلی حدیث کے جھوٹی ہونے کا یقین کر لیا اور خطیب نے خذلان سے عبرت حاصل کی اس لئے کہ خطیب نے ان کی طرح اس حدیث کے جھوٹی ہونے کا یقین نہیں کیا تھا، حالانکہ یہ حدیث اپنے اسی مضمون کے ساتھ صحابہ اور تابعین کی ایک بڑی جماعت سے روایت کی ہے.(2) ان میں بعض لوگوں نے اسی حدیث کو نبی(ص) تک مرفوع کیا ہے.(3)
حدیث اتنی روشن اور واضح ہے کہ ذہبی کے علوہ اس کی تکذیب کرنے کی جسارت اہل سنت میں سے کسی نے نہیں کی ہے اور چونکہ اس حدیث سے مولاعلی(ع) کی خلافت بلافصل ثابت ہوتی ہے اس لئے مجبور ہو کے اہل سنت کے علماء نے اپنی اپنی سمجھ مطابق اس حدیث کی تاویل کی اور کسی نے کہا کہ اس حدیث کی رد سے علی(ع) اپنے زمانے میں تمام لوگوں میں خیر البشر ہیں اور یہ درجہ خیر اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب لوگوں نے آپ کی بیعت کی(4) تو کسی نے کہا علی(ع)
..................................
1 میزان الاعتدلال فی نقد الرجال، ج2، ص273.272، حسن بن محمد بن محمد بن یحیی کی سوانح حیات میں.
2.الفردوس بماثور الخطاب، ج3، ص62. سیر اعلام النبلاء. ج8،ص305. میان الاعتدال، ج2،ص214، اور ج3، ص 374، اور ج4، ص77. الکامل فی ضعفاء الرجال، ج4، ص10. تاریخ دمشق، ج42، ص374.373.372، کنزالعمال، ج11، ص625. ینابیع المودة، ج2، ص273.
3.الکامل فی ضعفاء الرجال، ج4، ص10. ولکشف الحشیث، ص243، تاریخ دمشق، ج42، ص373.372، البدیتہ والنہایہ، ج7، ص359، الموضوعات لابن جوزی،ج1، ص273.
4.میران الاعتدال، ج3، ص374 اور ص396. سیر اعلام النبلاء، ج8، ص205.
خلفاء ثلاثہ کے بعد سب سے افضل ہیں، وغیرہ لیکن کسی نے اس حدیث کے وضعی ہونے کا یقین نہیں کیا، اس کے علاوہ اس حدیث کو بہت ساری احادیث پیغمبر(ص) سے قوت ملتی ہے حدیث پیغمبر(ص) میں علی(ع) کے لئے اس طرح کے الفاظ کثرت سے پائے جاتے ہیں. مثلا علی(ع) امیرالمومنین ہیں.علی(ع) سید المسلمین ہیں قیامت میں خدا کے نزدیک سب سے زیادہ صاحب مرتبہ ہیں، علی(ع) امام المتقین ہیں اور حدیث طیر آئندہ صفحات میں آپ کے سامنے پیش کی جائے گی.
مذکورہ بالا حدیث کی تائید پیغمبر(ص) کے اس قول سے یہ بھی ہوتی ہے کہ آپ نے اپنی پارہ جگر فاطمہ صدیقہ(ع) سے فرمایا، فاطمہ کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ خداوند عالم نے تمام اہل زمین پر نظر کی اور ان میں تیرے باپ اور شوہر کو منتخب کیا.(1)
خود عبداللہ بن مسعود سے سنئے کہتے ہیں ہم آپس میں بات کرتے اور کہتے تھے کہ اہل مدینہ میں سب سے افضل علی بن ابی طالب(ع) ہیں عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں میں نے قرآن کے ستر(70) سورہ تو پیغمبر(ص) سے پڑھے لیکن قرآن اس کی نگرانی میں ختم کیا جو لوگوں میں سب سے بہتر تھا یعنی علی بن ابی طالب(ع).(2)
.......................................
1. مستدرک علی الصحیح، ج3، ص140، کتاب المعرفة الصحابہ من مناقب امیرالمومنین علی بن ابی طالب(ع) مما لم یخرجاہ ذکر اسلام ایمرالمومنین علی واللفظ لہ مجمع الزوائد، ج9، ص112. کتاب مناقب علی ابن ابی طالب باب منہ فی منزلتہ و مواخاتہ المعجم الکبیر، ج11، ص94.93،فیما رواہ مجاہد عن ابن باس تاریخ دمشق، ج42، ص130.135.136 فی ترجمتہ علی بن ابی طالب. الکشف الحشیث، ص215 فی ترجمتہ محمد بن احمد بن سفیان، میزان الاعتدال، ج4، ص346 فی ترجمتہ عبد الرزاق بن ہمام. الکامل فی ضعفاء الرجال، ج5، ص313 فی ترجمتہ عبدالرزاق بن ہمام ص331 ترجمتہ عبد السلام بن صالح. تاریخ بغدار، ج4، ص195.196 فی ترجمتہ احمد بن صالح. العلل المتنامعہ، ج1، ص323.224.225 اور بھی دوسرے منابع موجود ہیں.
2.مجمع الزوائد، ج9، ص116. المعجم الاواسط، ج5، ص101. المعجم الکبیر، ج9، ص76.
اور ابھی کچھ دیر پہلے احمد بن حنبل کا یہ اعتراف کہ فضائل علی میں جتنی حدیثیں ہیں اتنی کسی صحابی پیغمبر(ص) کے بارے میں نہیں ہیں اور قاضی اسماعیل نسائی اور ابو علی وغیرہ کا اقرار کہ حسن اسناد کے ساتھ جتنی حدیثیں فضائل علی(ع) میں ہیں اور کسی صحابی پیغمبر(ص) کی فضیلت میں نہیں ہیں.
دوسری حدیث کا بھی یہی حال ہے امیرالمومنین(ع) نبی اکرم(ص) کے وصی ہیں یہ بات کچھ ڈھکی چھپی نہیں ہے بلکہ صحابہ اور تابعین کے درمیان یہ بات عام طور سے مشہور اور مسلم ہے کہ نبی(ص) کے وصی علی(ع) ہیں آپ کے چوتھے سوال کا جواب میں بھی یہ بات دلائل و براہین سے ثابت کی جاچکی ہے اور جب یہ بات مسلم الثبوت ہے کہ نبی(ص)(ع) کے وصی علی ہیں تو پھر وصایت کا آپ کی ذریت طاہرہ میں قیامت تک باقی رہنا بعید از قیاس نہیں ہے اور پھر وصایت کا آپکی ذریت پر خاتمہ بھی کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے عجیب و غریب کہا جائے لیکن برا ہو دشمنی علی(ع) کا کہ ذہبی کے حلق سے یہ بات کسی طرح نہیں اترتی اس لئے کہ اس حدیث میں ذہبی کے لئے دو سقم ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ دونوں حدیثیں فضائل علی(ع) میں ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ دونوں حدیثوں کا راوی ایک علوی(شیعہ) ہے.
5.اسی طرح یہ حدیث بھی ملاحظہ فرمائیں ابن حبان کا کہنا ہے حسن ابن علی بن ذکریا ابو سعید علوی جو کوفہ کے رہنے والے تھے اور بصرہ میں سکونت اختیار کر لی تھی وہ ان شیوخ سے روایت کرتے ہیں، جن کو انہوں نے نہیں دیکھا تھا اور ان کے نام سے حدیثیں بیان کرتے ہیں جن سے انہوں نے ملاقات نہیں تھی وہ بغداد میں اس زمانے میں تھے جب میں بھی وہاں موجود تھا میں نے محض جانچنے کی نیت سے ان سے حدیث سننے کا ارادہ کیا تو ان کے حدیثوں کے مجموعہ میں سے ایک جزء کو لیا اس
میں لکھا تھا کہ ابو ربیع اور محمد بن عبد بن اعلی صنعانی نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے ان سے معمر نے ان سے زہری نے ان سے عروہ نے ان سے ابوبکر صدیق نے ان سے رسول اللہ(ص) نے کہا کہ علی(ع) کے چہرے پر نظر کرنا عبادت ہے اس میں اصحاب حدیث کو کوئی شک نہیں کہ یہ حدیث جعلی ہے نہ تو صدیق نے اس کی کبھی روایت کی اور نہ اس کے راوی ہی سچے ہیں نہ عروہ نے بیان کیا نہ زہری نے بیان کیا ن معمر ہی نے اس طرح کی بات کہی جو شخص اس طرح کی حدیثیں زہرانی اور صنعانی کے نام سے گڑھے اس بات کا یقین رکھتے ہوئے کہ مذکورہ بالا دونوں شخص بصرہ کے قابل اعتماد لوگوں میں سے ہیں وہ اہل عقل کے نزدیک اس قابل ہے کہ اس سے روایتیں نقل نہ کی جائیں.
احمد ابن عبہ ضبی سے ابن عینیہ نے ان سے ابو زبیر نے ان سے جاب نے ان سے رسول خدا(ص) نے فرمایا: ہم اپنی اولاد کو حکم دیں کہ و محبت علی(ع) کو فرض سمجھیں یہ حدیث بھی باطل ہے رسول نے مطلقا ایسا کوئی حکم نہیں دیا اور نہ جابر نے ایسی کوئی بات کہی نہ ابو زبیر نے کہا اور نہ ابن عینیہ نے ان اسناد سے نقل کیا اور نہ ہی ابن عبدہ نے ایسی کوئی حدیث بیان کی ہے اس لئے اس حدیث کے سننے والے کو اس کے موضوع اور جعلی ہونے میں ذرا بھی شک نہیں ہے لہذا میں اس شیخ کے پاس پھر نہیں گیا اور نہ اس سے کوئی حدیث سنی.(1)
میں کہتا ہوں ابن حبان زیادہ سے زیادہ دونوں حدیثوں کی اسناد کو ضعیف سمجھ سکتے تھے لیکن انہوں نے قطعی فیصلہ سنایا کہ مذکورہ بالا دونوں حدیثیں جعلی ہیں ظاہر ہے کہ اس کی وجہ دشمنی اور عداوت علی(ع) ہے اور کچھ نہیں قطعی طور پر پہلی والی حدیث تو متعدد اسناد سے وارد ہوئی ہے.(2)
.....................................
1.المجروحین، ج1، ص241، حسن بن علی بن ذکریا کی سوانح حیات کے ضمن میں.
2. مستدرک صحیحین، ج3، ص152. المعجم الکبیر، ج10، ص76،تاریخ دمشق، ج4، ص9، اور ج42، ص350.351.352.353. 355، حلیتہ الاولیاء، ج5، ص58. میزان الاعتدال،ج6، ص73. ولسان المیزان و کشف الحشیث وغیرہ.
اور دوسری احادیث بھی اس کے مشابہ ہے لیکن دوسری حدیث میں وہی چیزیں وارد ہوئی ہیں جو دیگر احادیث سے مشابہت رکھتی ہیں.( 1 )
نیز علی(ع) کی محبت اور عداوت سے متعلق مستفیض بلکہ متواتر احادیث ہیں.(2)
6.حدیث طیر بہت مشہور حدیث ہے تمام حفاظ حدیث نے اس کو صحیح قرار دیا ہے حدیث یوں ہے کہ حضور کے پاس ایک بھنا ہوا طائر لایا گیا تو حضور نے دعا کی پالنے والے اپنی محبوبترین مخلوق کو بھیج دے جو اس طائر کو میرے ساتھ کھائے حضور نے دوبارہ دعا کی دونوں بار صرف امیرالمومنین(ع) تشریف لائے اور انس جو اس وقت پیغمبر(ص) کے خادم تھے علی(ع) کو واپس کرتے رہے صرف اس امید پر کہ شاید ان کے قبیلہ کا کوئی آئے اور یہ فضیلت ان کے قبیلے کومل جائے یعنی انصار کو آخر تیسری بار سرکار نے دعا کی اور جب علی(ع) آئے تو رسول(ص) نے دروازہ کھولنے کا حکم دیا پھر علی(ع) خدمت پیغمبر(ص) میں حاضر ہوئے اور اس طائر کو حضرت کے ساتھ نوش فرمایا:(3)
..........................................
1.تاریخ ومشق، ج58، ص369. الفردوس بماثور الخطاب، ج2، ص244. تاریخ بغداد، ج12، ص351.
2.تاریخ دمشق، ج42، ص287.288. النہایہ فی غریب الحدیث، ج1، ص161. مادہ(بور) میں لسان العرب، ج4، ص87، وہی مادہ(بور)
3.راجع المستدرک علی الصحیحین،ج3، کتاب معرفتہ الصحابہ، ذکر اسلام امیرالمومنین علی، ص141.142. و تاریخ دمشق، ج42، ص247.248.249.250.251.252.253.254.255.256.257.258.259،علی ابن ابی طالب کے ترجمے میں اور ج45، ص84، عمر بن صالح بن عثمان کے ترجمے میں اور ج51، ص59، محمد بن احمد بن الطیب کے ترجمے میں اور محمع الزوائد، ج9، ص125، 126، والمعجم الاوسط، ج2، ص207، اور ج6، ص336، اور معجم الکبیر، ج1، ص253، سنن الترمذی، ج5، ص636، اور سنن الکبری للنسائی، ج5، ص107 اور مسند ابی حنفیہ، ص234. اور مسند البرازج، ج9، ص287، اور معجم الکبیر، ج7، ص82، فیما رواہ ثابت البجلی عن سفینہ، ج10، ص282، اور تاریخ الکبیر، ج2، ص12 احمد بن یزید بن ابراہیم کے ترجمے میں وغیرہ.
ذہبی مذکرہ بالا حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں حدیث طیر اگر چہ ضعیف ہے لیکن کثیر طریقوں سے روایت کی گئی ہے میں نے اسے ایک الگ جزء میں جگہ دی ہے ثابت تو نہیں ہے لیکن میں اس کے بطلان کا قائل بھی نہیں ہوں.(1)
ابن کثیر کہتے ہیں: بہر حال اس حدیث کی صحت کے بارے میں دل میں شک موجود ہے اگر چہ یہ کثیر طریقوں سے وارد ہوئی ہے.(2)
میرا خیال ہے کہ ابن کثیر اور ذہبی دونوں حضرات کو ذرا بھی تکلف اور شبہ نہ ہوتا اگر یہ دونوں حدیثیں غیر علی مثلا شیخین کے بارے میں وارد ہوئی ہوتیں اسناد چاہے جتنی کمزور ہوتیں لیکن یہ حضرات آنکھ بند کر کے یقین کر لیتے.
بغض علی(ع) ہی کا نتہیج ہخ کہ ابوئود جن کا ابھی ابھی ذکر ہوچکا ہے حدیث غدیر کے منکر ہیں نیز حدیث کو رد کرنے میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے کہتے ہیں اگر حدیث طیر صحیح ہے تو پھر نبی(ص) کی نبوت باطل ہے اس لئے اس حدیث میں نبی کا حاجب خیانت کا مرتکب ہو رہا ہے جب کہ نبی کا حاجب خائن ہو ہی نہیں سکتا.(3)
ابودائود کے مذکورہ بالا شگوفہ پر ذہبی کو غصہ آگیا اور انہوں نے سختی سے اس کی تردید کی ہے لکھتے ہیں، ابو دائود کی عبارت بالکل ردی اور بیکار ہے بلکہ ایک منحوس بات ہے حدیث طیر صحیح ہو یا غلط نبوت محمد(ص) بہر حال صحیح ہے بھلا نبوت محمد(ص) اور حدیث طیر میں رابطہ کیا ہے.
پھر ذہبی نے یہ لکھا ہے کہ بعض صحابہ کیسی بکواس کیا کرتے تھے.
لیکن پھر ذہبی کو ابن دائود پر رحم آگیا ہے یا کسی اور وجہ سے فورا ان کے گناہ میں تخفیف کر دی
............................................
1.سیر اعلام النبلاء، ج13، ص233، ابوبکر عبداللہ بن سلمان بن اشعث کے ترجمے میں.
2.تاریخ دمشق، ج58، ص369، الفردوس بماثور الخطاب، ج2، ص244. تاریخ بغداد، ج12، ص351.
تاریخ دمشق، ج42، ص287.288، النہایہ فی غریب الحدیث، ج1، ص161، مادہ(بور) میں لسان العرب، ج4، ص87، وہی مادہ(بور)
بلکہ مدح سرائی کردی کہتے ہیں ابو دائود نے اپنے اس قول میں خطائے اجتہاد کی ہے اور انہیں اپنی خطا کا اجر تو ملے گا ہی پھر ثقہ کےلئے بعید نہیں ہے کہ وہ خطا کار نہ ہو یا بھول چوک سے محفوظ ہو ابو دائود یہ اسلام کے بڑے علماء میں سے ہیں اور حفاظ حدیث میں سب سے زیادہ قابل اعتبار شخص ہیں(1) لطف کی بات یہ ہے کہ یہ وہی ذہبی ہیں جو ابھی طعن و تشنیع کے بارے میں لکھ چکے ہیں کہ ایک جماعت نے ابن ابی دائود پر طعن کی ہے اور غیروں کی کیا بات ہے خود موصوف کے کے والد ماجدفرماتے تھے کہ میرا بیٹا ابو دائود کذاب ہے بہر حال میں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بات چلے گی تو پھر دور تلک جائے گی.
اہل سنت حضرات نواصب کی تصدیق کرنے کے جوش میں جو مضحکہ خیز حرکتیں کرتے ہیں اور جب ان کی مدح و ثناء کرنے لگتے ہیں تو پیچھے مڑ کے نہیں دیکھتے اور بکتے ہی چلے جاتے ہیں جیسا کہ ابھی آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ابن حجر نواصب کی صداقت گفتار کے دیوانے ہیں اس جوش و خروش اور نواصب پر سنی کے میلان کی کچھ مثالیں پیش کر رہا ہوں.
1.ان کا تعارف پیش کیا جاچکا ہے ابن حبان کے قول کے مطابق جرح و تعدیل کے ماہر ہیں اور اہل سنت کے یہاں فہرست ثقات میں ان کا نام سر فہرست آتا ہے ابن حبان ان کے سنت میں قوی اور مضبوط ہونے کے قائل ہے مگر یہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ کبھی کبھی سنت کے جوش میں حد سے بڑھ جاتے ہیں چنانجہ ان کی اسی حرکت کی وجہ سے ابن حجر نے کہا کہ ان کی طعن کا اعتبار نہیں اور ایک خاص جماعت کے خلاف ان کی طعن قابل اعتبار نہیں ہے.
...................................
1.سیر اعلام النبلاء، ج13، ص233.
2.ان کا مکمل تعارف یوں ہے احمد ابن محمد بن عمرو بن مصعب مروزی کہ ان کا ذکر ذہبی نے کیا ہے اور ان کی خوب خوب تعریف کی ہے پھر لکھا ہے دارقطنی کہتے ہیں کہ مصعی حافظ حدیث اور شیرین زبان تھے سنت میں منفرد اور بدعتی افراد کی تردید میں سخت لیکن خود حدیثیں گڑھتے تھے ابن حبان نے کہا ہے یہ حدیث گڑھا کرتے تھے اور اسناد میں الٹ پھیر کرتے رہتے تھے میرا خیال ہے دس ہزار سے زیادہ ثقات کی سندوں میں الٹ پھیر کر چکے ہیں ان میں صرف تین ہزار حدیثیں میرخ قلم کی گرفت میں آچکی ہیں اپنی حیات کے آخر میں ایسے شیوخ سے حدیث بیان کرنے لگے تھے جنہیں انہوں نے کبھی دیکھا تک نہیں تھا میں نے ان سے پوچھا آپ کا سب سے قدیم شیخ کون ہے کہنے لگے احمد بن سیار پھر علی بن خشرم کے حوالے سے حدیث بیان کرنے لگے میں نے ان کی اس دو رخی پالیسی پر اعتراض کیا تو خط لکھ کے معافی مانگنے لگے لیکن ان تمام باتوں کے باوجود اپنے دور کے لوگوں سنت کے حوالے سے بہت سخت تھے سنت کی سب سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتے تھے ناموس سنت کے حافظ اور مخالف سنت کے سخت دشمن تھے خدا سے دعا ہے کہ ان کے گناہوں کی پردہ پوشی کرے.(1)
3.علماء نے صراحت کی ہے کہ یہ شخص پکا ناصبی تھا(2) اور امیرالمومنین(ع) پر لعنت کرتا تھا(3) اور گالیاں بھی دیتا تھا(4) یہ اکثر کہتا تھا میں علی(ع) سے محبت نہیں کرسکتا انہوں نے میرے آباء و اجداد
........................................
1. تذکرة الحفاظ، ج3، ص803.804.
2. الکاشف، ج1، ص319.
3. تاریخ دمشق، ج12، ص348.
4. الضعفاء للعقیلی، ج1، ص321. المجروحین، ج1، ص268. تہذیب الکمال، ج5، ص576. تاریخ بغداد، ج8، ص267.تاریخ دمشق، ج12، ص348. الانساب للسمعانی، ج3، ص51.
کو قتل کیا ہے.(1)
یحیی بن صالح سے پوچھا گیا تم حریز سے حدیث کیوں نہیں نقل کرتے جواب دیا ایسے شخص سے میں کیسے حدیثیں نقل کروں جس کے ساتھ میں نے سات سال تک نماز فجر پڑھی اور وہ مسجد سے اس وقت تک نہیں نکلتا تھا جب تک حضرت علی(ع) پر (70) مرتبہ لعنت نہیں کرلیتا تھا.(2)
اس ملعون کے بارے می ابن حبان کہتے ہیں علی ابن ابی طالب(ع) پر روزانہ صبح و شام(70) مرتبہ لعنت کرتا تھا لوگوں نے پوچھا ایسا کیوں کرتا ہے؟ کہنے لگا علی(ع) نے میرے باپ اور دادا کے سر کاٹے ہیں.(3)
اس شخص کا دل کتنا گند تھا آپ نے ملاحظہ فرمایا اور ان تمام غلاظتوں کے باوجود بخاری نے اس سے روایتیں نقل کی ہیں(4) اور ابن حجر کہتے ہیں حریز، ابوبکر بن ابی مریم اور صفوان کے بارے میں جب ان سے پوچھا گیا تو احمد نے کہا ان میں حریز جیسا کوئی نہیں اور حریز سے زیادہ کوئی ثابت نہیں ابراہیم بن جندب نے کہیا ابن معین کہتے تھے 1.حریز، 2.عبدالرحمن بن یزید بن جابر اور 3.ابن ابی مریم یہ تینوں ثقات ہیں ابن مدینی کہتے ہیں ہمارے علماء حدیث برابر اس( حریز) کی توثیق کرتے آئے ہیں وحیم نے کہا حمصی جید الاسناد اور صحیح الحدیث اور ثقہ ہیں فضل بن غسان نے کہا وہ ثابت ہے.(5)
........................................
1. تہذیب الکمال، ج5، ص575. سیر اعلام النبلاء، ج7، ص81. میزان الاعتدال، ج2، ص219. تہذیب التہذیب، ج2، ص209. تاریخ بغداد، ج8، ص267. تاریخ دمشق، ج12، ص348.
2. تہذیب التہذیب، ج2، ص209. تاریخ دمشق، ج12، ص349.
3. مجروحین، ج1، ص268. حریز بن عثمان کے ترجمے میں. تہذیب التہذیب، ج2، ص209.
4. صحیح بخاری، ج3، ص1302.
5. تہذیب التہذیب، ج2، ص208 حریز بن عثمان کے ترجمے میں.
معاذ بن معاذ کہتے ہیں: مجھ سے حریز بن عثمان نے حدیث بیان کی اور میں اہل شام میں اس سے زیادہ صاحب فضیلت کسی کو جانتا ہی نہیں.(1) ابن عدی کہتے ہیں: حریز شام کے رہنے والوں میں ثقہ تھا اس کا علی(ع) سے بغض مشہور تھا(2) احمد کہتے ہیں حریز صحیح الحدیث ہے مگر یہ کہ وہ علی(ع) پر حملے کرتا تھا(3) عمرو بن علی کہتے ہیں حریز علی(ع) کی تنقیص کرتا تھا اور آپ کو برا بھلا کہتا تھا مگر اپنی حدیثوں کا حافظ تھا(4) یہی عمر بن عدی دوسری جگہ کہتے ہیں.(5)
ابن عمار کہتے ہیں لوگ حریز پر تہمت لگاتے ہیں کہ وہ علی(ع) کی تنقیص کرتا ہے لیکن اس سے روایتیں نقل کرتے ہیں اور احتجاج بھی کرتے ہیں لوگوں نے اس کو چھوڑا نہیں ہے وغیرہ وغیرہ.(6)
اس حریز کی صداقت گفتار بھی ملاحظہ فرمائیں اور پھر ان حضرات کے خلوص نیت پر عش عش کریں جو اس کو ثقہ، ثابت اور صحیح الحدیث وغیرہ کے الفاظ سے یاد کرتے ہیں. اسماعیل بن عباس کہتے ہیں حریز کہہ رہا تھا کہ نبی(ص) سے علی(ع) کے بارے میں جو روایت ہے کہ علی(ع) میرے لئے ویسے ہی ہیں جیسے موسی(ع) کے لئے ہارون یہ حدیث صحیح ہے لیکن لوگوں نے سننے میں غلطی کی ہے پوچھا گیا تو پھر صحیح کیا ہے کہا صحیح یہ ہے کہ حضور(ص) نے ہارون کے بجائے قارون کہا تھا یعنی علی(ع)
........................................
1. تہذیب التہذیب، ج2، ص208. حریز بن عثمان کے ترجمے میں. تہذیب الکمال، ج5، ص572حریز بن عثمان کے ترجمے میں. تاریخ بغداد، ج8، ص268. الکامل فی ضعفاء الرجال، ج2، ص451 حریز بن عثمان کے ترجمے میں.
2. فتح الباری، ج1، ص396.
3. تہذیب التہذیب. ج2، ص208. حریز بن عثمان کے ترجمے میں. الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی، ج1، ص197. الکامل فی ضعفاء الرجال، ج2، ص451. تہذیب الکمال، ج5، ص572 حریز بن عثمان کے ترجمے میں.
4. تہذیب التہذیب، ج2، ص208 حریز بن عثمان کے ترجمے میں.
5. تہذیب التہذیب، ج2، ص208 حریز بن عثمان کے ترجمے میں.
6. تہذیب التہذیب، ج2، ص208 حریز بن عثمان کے ترجمے میں. تہذیب الکمال، ج5، ص575 حریز بن عثمان کے ترجمے میں. تاریخ بغداد، ج8، ص266 حریز بن عثمان کے ترجمے میں. تاریخ دمشق، ج12، ص347.
میرے لئے ویسے ہی ہیں جیسے موسی(ع) کے لئے قارون لوگوں نے کہا یہ روایت تم نے کس سے سنی ہے کہنے لگا ولید بن عبدالملک سے جب وہ منبر پر تھا.(1) ازدی نے ضعیف روایتوں کے ذیل میں یہ حدیث لکھی ہے کہ حریز بن عثمان کہتا تھا کہ جب نبی(ص) اپنے خچر پرسوار ہونے لگے تو علی نے خچر کی حزام( رسی) ڈھیلی کردی تاکہ نبی(ص) گر جائیں.(2)
جوہری اپنی کتاب سقیفہ میں لکھتے ہیں کہ محفوظ نے کہا میں نے یحیی بن صالح و حاظی سے پوجھا کہ تم حریز سے روایت کیوں نہیں لیتے جب کے بڑے بڑے مشایخ نے حریز جیسے لوگوں سے روایتیں لی ہیں کہنے لگے میں حدیث لینے اس کے پاس گیا تو تھا اس نے مجھے ایک کتاب دی میں نے اسے دیکھا اس میں لکھا تھا مجھ سے فلاں نے کہا اس سے فلان نے کہا کہ پیغمبر(ص) کی وفات کا وقت قریب ہوا تو آپ نے وصیت کی کہ علی(ع) کے ہاتھ کاٹ دئے جائیں یہ حدیث پڑھ کے میں نے اس کو کتاب واپس کردی اور اس سے حدیث لینا حلال نہیں سمجھا.(1) !!
4.خالد بن سلمہ العاص بن ہشام المخزومی جو الفافا کے نام سے مشہور تھا ابن حجر نے لکھا ہے احمد اور ابن معین اور مدینی کہتے ہیں یہ ثقہ ہے یہی بات ابن عمار یعقوب بن شیبہ اور نسائی نے بھی کہی ہے ابن حبان نے بھی اس کو ثقہ افراد میں شمار کیا ہے محمد بن حمید نے لکھاہے حریز نے اس کے بارے میں کہا کہ یہ مرجئہ فرقے کا سردار تھا اور علی(ع) سے بغض رکھتا تھا ابن عائشہ کہتے ہیں سرکاردو عالم کی ہجو میں شعرنظم کرکے بنی مروان کو سناتا تھا.(2)
........................................
1. تہذیب التہذیب، ج2، ص209، حریز بن عثمان کے ترجمے میں. تہذیب الکمال، ج5، ص577. تاریخ بغداد، ج8، ص268. تاریخ دمشق، ج12، ص349. التطریف فی التصحیف، ص44.
2. تہذیب التہذیب، ج2، ص209. ابن جوزی کی ضعفاء اور متروکین نامی کتاب، ج1، ص197. پر النصائح لکافیہ، ص117، نیز شرح نہج البلاغہ، تصحیف، ج4، ص70، کے حوالے میں نقل ہوئی ہے.
1. شرح نہج البلاغہ، ج4، ص70. -2. تہذیب التہذیب، ج3، ص83.
5. ابن عباس کا غلام عکرمہ جس کی حمد و ثنا میں ابن حجر نے زمین آسمان کے قلابے ملا دئے ہیں پھر خود ہی کہتے ہیں اس( عکرمہ) کو مسلم نے ترک کر دیا ہے صرف ایک حدیث اسے لی ہے جو سعید بن جبیر کے حوالے سے حج مقرون کے بارے میں ہے مسلم نے بھی اس کو یوں چھوڑ دیا کہ مالک اس پر اعتراض کرتے تھے اور ائمہ کی ایک جماعت نے مالک و عکرمہ کی تکذیب کی سزا بھی دی ہے اور اس کی حمایت میں کتابیں بھی لکھی ہیں البتہ جو لوگ اس کو واہی سمجھتے ہیں اس کی تین وجہ ہے وہ جھوٹا تھا خارجی نظریوں کا حامل تھا اور امراء سے جائزے(انعامات) قبول کرتا تھا اس کے جھوٹ کے بارے میں بھی کچھ اقوال ہیں جن میں شدید قول عبداللہ بن عمر کا ہے انہوں نے نافع سے کہا، دیکھو میری طرف اس طرح جھوٹ کی نسبت مت دو جیسا کہ عکرمہ، ابن عباس کی طرف جھوٹ کی نسبت دیتا تھا یہی جملہ سعید ابن مسیب نے اپنے غلام برد کے لئے بھی کہا اور جریر بن عبد الحمید یزید بن ابی زیاد کا قول نقل کرتا ہے کہ ایک دن میں علی ابن عبداللہ بن عباس کے پاس گیا تو دیکھا کہ انہوں نے عکرمہ کو باندھ رکھا ہے میں نے پوچھا اس کو کیوں باندھاہے؟ انھوں نے فرمایا یہ ملعون میرے باپ پر جھوٹ باندھتا ہے.(1)
ابن سیرین کے بارے میں ہے کہ اس سے کہتے تھے اگر وہ جنت میں جائے تو مجھے برا نہیں لگے گا مگر ہے وہ جھوٹا.(2)
......................................
1. مقدمہ فتح الباری، ج1، ص424.426.
2. مقدمہ فتح الباری، ج1،ص426.
عطا نے بھی اس کہ تکذیب کی ہے(1) اور یحیی بن سعید انصاری اور سعید بن جبیر نے بھی اس کو جھوٹا کہا ہے.(2)
عثمان بن مرہ کہتے ہیں میں نے قاسم سے کہا کہ مجھ سے عکرمہ نے یوں کہا میرا بھتیجا عکرمہ جھوٹا تھا ثبوت یہ ہے کہ صبح کو جو حدیث بیان کرتا تھا شام کو اسی حدیث کی مخالفت کرتا تھا.(3)
ابن حجر کہتے ہیں: عکرمہ کا ذکر کرتے ہوئے ایوب نے کہا ہے اس کے پاس عقل کم تھی(4) کہتے ہیں جس دن وہ مرا اس دن کثیر عزہ کی بھی موت ہوئی دونوں کے جنازے مسجد نبوی کے دروازے پر لائے گئے پس لوگوں نے کثیر کے جنازے پر نماز پڑھی اور اس کا جنازہ چھوڑ کے چلے گئے اس کے جنازے میں صرف حبشی شریک ہوئے.(5)
ابن حجر کہتے ہیں اسماعیلی نے اپنی کتاب مدخل میں نقل کیا ہے عکرمہ کے بارے میں لوگوں نے ایوب کو بتایا کہ وہ ٹھیک سے نماز پڑھتا ہے ایوب نے پوچھا کیا وہ نماز بھی پڑھتا تھا.(6)
ان تمام باتوں کے باوجود ابن حجر، عکرمہ کا بھر پور دفاع کرتے ہیں اور اس کو صحیح الحدیث کہتے ہوئے نہیں تھکتے.(7)
.............................................
1. مقدمہ فتح الباری، ج1، ص426. تہذیب التہذیب، ج7، ص238.
2. تہذیب التہذیب، ج7، ص238.
3. مقدمہ فتح الباری، ج1، ص426.
4. تہذیب التہذیب، ج7، ص238.
5. تہذیب التہذیب، ج7، ص240.
6. تہذیب التہذیب، ج7، ص238.
7. تہذیب التہذیب، ج7، ص234. 341.
6. خالد بن عبداللہ قسری، بنو امیہ کا گورنر تھا اور وہ ایسا تھا کہ اس کا خاندان کذب سے معروف تھا.(1)
ابن حبان کہتے ہیں: ثقہ افراد میں تھا.(2) ذہبی کہتے ہیں صدوق تھا،(3) اس لئے حدیث لینے والوں میں یہ نام مشہور ہیں.
اسماعیل ابن خالد، حبیب ابن حبیب جرمی، حمید طویل، اسماعیل ابن اوسط بن اسماعیل بجلی وغیرہ(4) بخاری اور ابو دائود بھی اس کے لئے حدیث اخراج کرتے ہیں.(5)
یحیی حمانی نے کہا کہ سیار سے پوچھا گیا کیا تم خالد سے بھی روایت کرتے ہو کہنے لگے کیوں نہیں خالد کذب سے بھی بالاتر ہے.(6)
یہ خالدبن عبداللہ امیرالمومنین(ع) کے سلسلے میں اتنا بڑا ناصبی تھا کہ جب عراق کا گورنرہوا تو امیرالمومنین(ع) پر بر سرعام لعنت کرتا تھا، تاریخ نے اس کے الفاظ محفوظ رکھے ہیں” پالنے والے لعنت بھیج علی بن ابی طالب(ع) بن عبدالملک بن ہاشم پر جو پیغمبر(ص) کے داماد، پیغمبر(ص) کی بیٹی کے شوہر اور حسن(ع) و حسین(ع)کے باپ تھے پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر کہنے لگا کیا میں نے اشارہ اور کنایہ سے کام لیا ہے...؟(7)
...................................................
1. الاغانی، ج22، ص18.
2. الاغانی، ج6، ص256.
3. میزان الاعتدال، ج2، ص415. المغنی فی الضعفاء، ج1، ص203.
4. تہذیب التہذیب، ج3، ص87.
5. راجع تہذیب التہذیب، ج3،ص87، المغنی فی الضعفاء، ج1، ص203.
6. تہذیب التہذیب، ج3، ص88. الجرح التعدیل، ج3، ص340. سیر اعلام النبلاء، ج5، ص426. بغیتہ الطلب فی تاریخ حلب، ج7، ص3072، تاریخ دمشق، ج16، ص138.
7. شرح نہج البلاغہ، ج4، ص57.
خالد قسری نے مسجد کوفہ میں ایک بڑا چمکدار طشت لیا اور اس کے لئے فرات سے متصل ایک نہر کھودی پھر ایک عیسائی اسقف کا ہاتھ پکڑے ہوئے مسجد میں لایا پھر اس طشت کے پاس کھڑا ہوا اور اسقف سے کہا میرے لئے برکت کیدعا کر بخدا تمہاری دعائوں میں علی ابن ابی طالب کی دعائوں سے زیادہ امید رکھتا ہوں.(1) محمد بن عبداللہ بن عمرو بن عثمان خالد کی خدمت میں پہونچا اس امید میں کہ اس کو کچھ انعام ملے گا لیکن اس کوکچھ بھی نہیں ملا، وہ یہ کہتا ہوا دربار سے واپس گیا نافع ہاشمیوں کے مقدر میں ہے اور ہمیں تو اس دربار سے جو تحفہ ملتا ہے وہ گالیاں ہیں جو خالد، علی بن ابی طالب(ع) کو منبر سے دیا کرتا ہے جب یہ بات خالد کو معلوم ہوئی تو کہنے لگا ہم بنو امیہ کےسب سے محبوب خلیفہ، عثمان ہیں.(2)
ابوجعفر اصفہانی کہتے ہیں! مداینی نے اپنی خبر میں کہا ہے کہ ابن شہاب بن عبداللہ نے بتایا کہ مجھ سے خالد بن عبداللہ قسری نے کہا کہ ایک کتاب لکھو جس میں نسب اور سیرت ہو میں نے کہا میں کتاب تو لکھوں گا لیکن میرے پاس سیرت علی(ع) کے بھی کچھ اجزاء ہیں کیا میں اس کتاب میں ان کو شامل کردوں یہ سنتے ہی وہ بولا ہرگز نہیں یہ تو اس قابل ہے کہ تو اسے جہنم میں ڈال دے.(3)
فراس بن جعدہ بن ہیرہ خالد کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت اس کے سامنے کچھ دانے پڑے ہوئے تھے خالد کہنے لگا کہ ایک ایک دانا اٹھاتا جا علی(ع) پر لعنت بھیجتا جا ہر لعنت کے بدلے میں ایک دینار لیتا جا(4) اس نے ایسا ہی کیا اور اچھی تعداد میں دینار جمع کر لیا اس کا ایک عامل تھا جس کا
.............................
1. انساب الاشراف، ج9، ص63.
2. انساب الاشراف، ج9، ص89.
3. الاغانی، ج22، ص21.
4. الاغانی، ج22، ص22.
نام خالد بن امی تھا خالد قسری کہتا تھا میرا خالد بن امی امانتداری میں علی(ع) سے افضل ہے،(1) خالد قسری نے ایک دن ابن عباس کے غلام عکرمہ کو دیکھا اس کے سر پر سیاہ عمامہ تھا کہنے لگا مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ غلام علی ابن ابی طالب(ع) سے مشابہ ہے میں امید کرتا ہوں کہ جس طرح اللہ نے اس حبشی کو سیاہ رو کیا ہے اسی طرح اس(...) کے چہرے کو بھی سیاہ کردے گا(2) اس کی فضول گوئی اور سرکشی کی انتہا یہ ہے کہ بنو مخزوم کا غلام نافع کہتا ہے ایک دن خالد منبر پر گیا اور پوچھنے لگا اے لوگو! کون افضل ہے اپنے اہل و عیال پر کسی نے جس کو خلیفہ بنایا ہے وہ خدا کا رسول اگر تم نہیں جانتے تو خلیفہ کی فضیلت ہم سے سنو! ابراہیم خلیل رحمن نے اللہ سے پانی مانگا تو آب شور پایا اور خلیفہ نے اسی اللہ سے پانی مانگا تو اس نے آب شیرین یعنی
فرات عنایب فرمائی ( زمزم ابراہیم و اسماعیل کی دعا کا نتیجہ ہے اور نہر فرات اس کے خیال کے مطابق شاہان بنو امیہ کی ایجاد ہے.(3)
خالد کہتا تھا لوگ زمزم کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ نہ خالی ہوگا اور نہ سوکھے گا حالانکہ وہ خالی بھی ہوگیا اور سوکھ بھی گیا لیکن البتہ امیرالمومنین(ع) ہشام نے زمزم سے جو نہر نکال کے تمہارے لئے مکہ تک پہنچائی ہے وہ اپنے حال پر باقی ہے اور رہے گی.(2)
زمزم کوزم جولان کے نام سے یاد کرتے ہیں(3) خالد نے ایک نالی کھود کے اسی زمزم کا
...................................
1. الاغانی، ج22، ص22.
2. الاغانی، ج22، ص24.
3. تاریخ طبری، ج3، ص678 سنہ99ھ کے واقعات میں. اخبار مکہ، ج3، ص60. البدایہ والنہایہ، ج9، ص76. البدء والتاریخ، ج6، ص41. الکامل فی التاریخ، ج4، ص250. الاغانی، ج22، ص24. انساب الاشراف، ج9، ص58.
4. انساب الاشراف، ج9، ص58. بقیتہ الطلب فی تاریخ حلب، ج7، ص3085. سیراعلام النبلاء، ج5، ص429. تاریخ دمشق، ج16، ص160.
5. الاغانی، ج22، ص22.
پانی مکہ تک پہونچایا تھا اور زمز کے کنارے ایک گڈھا کھود دیا تھا پھر خطبے میں کہنے لگا میں تمہارے لئے صحرا کا پانی لایا ہوں، جو ام خنافس یعنی زمزم کے پانی سے مشابہ نہیں ہے.(1)
اکثر کہتا تھا خدا کی قسم امیرالمومنین ہشام خدا کے نزدیک انبیاء خدا سے دیادہ مکرم ہیں(2) کہتا تھآ یہ بتائو پیغمبر(ص) اور جانشین میں فرق ہے یا نہیں؟ رسول(ص) کی حیثیت صرف پیغام لانے والے ہی کی ہے جب کہ خلیفہ اپنے اہل کا جانشین ہوتا ہے وہ کہنا چاہتا تھا کہ ہشام نبی سے بہتر ہے.(3)
اس ملعون کی ماں عیسائی تھی، اس لئے اس نے ایک گرجا گھر بنانے کا حکم دیا لوگ کہنے لگے بلاد اسلام میں گرجے کی کیا ضرورت؟ کہنے لگا ہاں یقینا گرجا بنائیں گے اگر ان کا دین تمہارے دین سے برا ہے تو خدا ان پر لعنت کرے گا(4) اس نے دار الامارہ میں ایک کنبہ اپنی ماں کے لئے بنوایا اور اس میں کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی وہ گرجا اسی طرح بند رہا یہاں تک کہ اس کی ماں کوفے میں آئی اور سب سے پہلا اپنا نجس قدم اس میں رکھا پھر اس نے موذنوں کو حکم دیا کہ جب تک گرجے میں ناقوس نہ پھونکے جائیں گے مسجدوں میں اذان نہ ہوگی.(5)
ایک دوسرے گرجے کا حال بھی سن ہی لیجئخ، ہشام بن کلبی اور ہیثم بن عدی کہتے ہیں: جب خالد ملعون نے اپنی ماں کے لئے کوفہ میں گرجا بنوا لیا تو بصرہ کے نصرانیوں نے بھی اس کی ماں سے بات کی اور اس کی ماں کو ایک خط لکھا جس میں بصرہ میں گرجا بنوانے کی گذارش کی، اس کی ماں نے
........................................
1. انساب الاشراف، ج9، ص58. تاریخ حلب، ج7، ص3085. سیر اعلام النبلاء، ج5، ص429. تاریخ دمشق،ج16.
2. الاغانی، ج22، ص22.
3. الاغانی، ج22، ص24.
4. انساب الاشراف، ج9، ص60.
5. انساب الاشراف، ج9، ص63.
خالد کو لکھ کے یہ ہدایت دی کہ بصرہ کے نصاری کے لئے بھی ایک گرجا بنوا دے، اس ملعون نے بلال کو لکھا کہ بصرہ میں ایک گرجا بنوا دے اس نے جواب دیا کہ بصرہ والے اعتراض کریں گے خالد نے لکھا بصرہ کے عیسائیوں کے لئے تو بنوا ہی دو خدا بصرہ کے مسلمانوں پر لعنت کرے اگرچہ ان کا دین نصرانیوں کے دین سے برا ہے تو بہر حال لبادین( جگہ کا نام) میں وہ گرجا بنایا گیا شاعر اہل بیت(ع) فرزدق نے اس واقعے کو بڑی حسرت و افسوس کے ساتھ نظم کیا ہے.
فرزدق کے اشعار کا ترجمہ:
یہاں(بصرہ) پر اس کی ماں کے لئے گرجا گھر بنا کے اس میں صلیب رکھ دی گئی ہے اور ہم مسلمانوں کی مسجدیں گرائی جارہی ہے.(1) بلاذری کہتے ہیں: مجھے ابو مسعود نے بتایا کہ خالد نے اپنی ماں کے لئے کوفے کے ڈاکخانے کے پاس اسی گلی میں گرجاگھر بنوایا تھا اس کی ماں نصرانی تھی فرزدق کہتے ہیں میری جان کی قسم اگر جریر نے بجیلہ کو زینت دی تو خالد ملعون نے بجیلہ کو ذلیل کردیا اس نے اپنی ماں کے لئے وہاپ گرجاگھر بنوایا اور اس میں صلیب رکھوائی جب کہ ہمیں نہیں معلوم کہ اس نے کوئی مسجد بھی بنوائی ہے(ترجمہ اشعار فرزدق)
ایک روایت میں آخر کا مصرعہ یوں ہے گرجوں کے لئے ہماری مسجدیں گرائی جارہی ہیں.(2)
مزید ایک لطیفہ سنئے جب بنوا عباس کا دورہ آیا تو ابوعباس سفاح یا دوسری روایت کی بناء پر ابو جہم بن عطیہ جو بنی عباس کی حکومت کا آدمی تھا کے دربار میں اسی خالد کا بھائی اسماعیل بن عبداللہ خطبہ دینے کھڑا ہوا اور اپنی تقریر میں بنی امیہ کے گورنروں کو آڑے ہاتھ لیا تو حجاج، بنی ہیرہ، اور یوسف
.....................................................
انساب الاشراف، ج9، ص63.64.
1. انساب الاشراف، ج9، ص65.
بن عمر کی خوب خوب مذمت کی لیکن اپنے بھائی خالد کا نام نہیں لیا یہ دیکھ کے حاضرین میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا اللہ خطیب کو جزاء خیر دے تم نے اہل بیت پر لعنت اور ان کے گورنروں کے تو بخئے ادھیڑ دیئے لیکن خالد کے بارے میں کچھ نہیں کہا اچھا ہم بتا دیتے ہیں خالد کون تھا وہ زوینیہ کا بیٹا تھا اس کی ماں کے پیٹ میں اکثر سور کا گوشت شراب کے ساتھ جمع رہتا تھا، اس نے ذمی کافروں کو مسلم عورتوں پر مسلط کردیا تھا جو مسلم عورتوں کو پستانوں سے باندھ کے لٹکا دیا کرتے تھے اس نے گرجے بھی بنوائے اور گرجے بنوانے میں کسی تکلیف یا شک سے کام نہیں لیا ابن نوفل نے دو شعر بھی پڑھے جس کا ترجمہ ہے.
اے امیرالمومنین!تم پر واجب ہے کہ خالد سے باز پرس کرے اور اس کے گورنروں سے بھی، کاش تو خالد کو طلب کرتا اس(خالد) نے گرجے گھر بنوائے جس میں اس کی ماں کے لئے صلیب رکھی گئی اور مسجدوں کو خراب کردیا جبکہ ان مسجدوں میں نماز ہوچکی تھی.(1) مبرد نے کہا ہے وہ ملعون مسجدوں کو خراب کرتا تھا اور گرجوں کو بنوایا کرتا تھا.(2)
بلاذری کہتے ہیں عمر بن قیس نے بتایا جب اس( خالد) ملعون سعید بن جبیر اور طلق بن حبیب کو مکہ میں گرفتار کیا تو اس سے پوچھا کیا تم ہماری کرستانیوں پر اعتراض کرتے ہو خدا کی قسم اگر امیرالمومنین ہشام مجھے تحریری حکم دیں تو میں کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجادوں.(3)
مدائنی کہتے ہیں کہ وہ: کہتا تھا اگر امیرالمومنین مجھے حکم دیں تو میں کعبہ کی ایک ایک اینٹ
-----------------
1. انساب الاشراف، ج9، ص89.90.
2. الکامل فی اللغتہ والادب والنحو والتصریف، ج3، ص812.
3. انساب الاشراف، ج9، ص59. اغانی، ج22، ص23.سیر اعلام النبلاء، ج5، ص429. تاریخ حلب، ج7، ص3085. المتوارین، ج1، ص60. تاریخ دمشق، ج16، ص161.
الگ کر کے شام منتقل کردوں.(1)
بلاذری کہتے ہیں: اس کے ایک نوکر نے ایک آدمی کو مار دیا لوگوں نے اس سے کہا کہ اپنے نوکر سے قصاص لے کہنے لگا واہ میں اپنے ہی نوکر سے قصاص لوں گا ایسا ہوا تو گویا میں نے اپنے نفس سے قصاص لوں گا اور جب اپنے نفس سے قصاص لوں گا تو گویا امیرالمومنین ہشام سے قصاص لیا اور امیرالمومنین سے قصاص لیا تو گویا رسول سے قصاص لیا اور رسول سے قصاص لیا تو خدا سے قصاص لیا.(2) اب آپ ہی بتائیں ایسے آدمی کو جھوٹ سے محفوظ کیسے سمجھا جائے اور پھر کیا ایسے شخص کا شمار ثقات میں ہوسکتا ہے؟!
7. ابوبکر عبداللہ ابن ابی دائود کے بارے میں ذہبی کہتے ہیں: یہ امام علامہ حافظ شیخ بغدادی ابوبکر سجستانی بہت سی کتابوں کے مصنف،(3) حدیث طیر کے سلسلے میں ان پر ذہبی کا ایک تبصرہ گذر چکا ہے وہاں ذہبی نے ان کی ان الفاظ میں مدح سرائی کی کہ یہ شخص اسلام کے اکابر علماء اور قابل اعتبار حفاظ میں ہیں؛
دوسری جگہ فرماتے ہیں:ابو احمد بن عدی نے ان کا ذکر اپنی کتاب کامل میں کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر میں نے شرط نہیں رکھی ہوتی کہ ہر مجروح محدث کا تذکرہ کروں گا تو ان کا ذکر نہیں کرتا؛(4)
............................................
1. الاغانی، ج22، ص22.
2. انساب الاشراف، ج9،ص69.اغانی، ج22، ص22. تاریخ حلب، ج7، ص3086. سیر اعلام النبلاء، ج5، ص429. تاریخ دمشق، ج16، ص161.
3. سیر اعلام النبلاء، ج13، ص221.222.
4. سیر اعلام النبلاء، ج13، ص227.
یہ آدمی بھی ناصبی مشہور ہے ثبوت کے لئے حدیث طیر کے بارے میں اس کی تعصب آمیز نا معقول باتیں کافی ہیں جو ابھی گذر چکی ہیں”طعن قرآن” کے باب میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ یہ حدیث غدیر کا منکر ہے جبکہ متواتر اور مشہور ہے.
ایک انتہائی توہین آمیز حدیث امیرالمومنین(ع) کے بارے میں اس نے روایت کی ہے، ابن عدی کہتے ہیں : میں نے محمد بن اسحق بن ضحاک بن عمرو ابن ابی عاصم نبیل سے سنا کہ اس نے محمد بن یحیی بن منذہ سے خدا کے سامنے گواہی
دے کے کہا کہ مجھ سے علی ابن ابی بکر دائود نے خدا کے سامنے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ زہری عروہ سے روایت کرتا ہے وہ کہتا تھا کہ علی کے ناخن اتنے بڑھ گئے تھے کہ وہ ازواج رسول کو ان سے نوچتے رہتے تھے.(1)
ذہبی ابن عدی سے اس خبر کو نقل کر کے کہتے ہیں کہ اصل میں ابن ابی دائود کچھ ہلکے دماغ کا تھا اسی طرح کی افواہ پھیلانے کی وہ سے اس کی گردن اور تلوارکے درمیان ایک بار محض ایک بالشت کا فاصل رہ گیا تھا محمد بن عبداللہ بن حفص ہمدانی جو اصفہان کا رئیس تھا اس طرح کی خبریں سن کے اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے ابن ابی دائود کو قید کر دیا تو اصفہان کے امیر نے ابو لیلی کی سفارش پر اسے آزاد کردیا اس کی کسی علوی سے دشمنی تھی لیکن اس کی نسبت ابوبکر کی طرف دی جاتی تھی اور اس غیر مناسب بات پر محمد بن یحیی منذہ حافظ اور محمد بن عباس اخرم اور احمد بن علی بن جارود سے گواہی بھی دلا دی پھر بات میں تندی آتی گئی اور ابولیلی کے قتل کا حکم صادر کر دیا یہ دیکھ کے ذکوانی نے حملے کر کے گواہوں کو زخمی کر ڈالا با وجودیکہ ذکوانی صاحب عظمت و شان شخص تھا اس نے ابوبکر کا ہاتھ پکڑا اور اسے وہاں سے نکال کر موت سے بچالیا.(2)
---------------------
1. الکامل فی الضعفاء الرجال، ج4، ص266. میزان الاعتدال، ج4، ص113.114. تذکرة الحفاظ، ج2، ص771. سیراعلام النبلاء، ج13، ص220. لسان المیزان، ج3، ص294.
2. سیر اعلام النبلاء، ج13، ص229.
بہر حال جہاں تک اس کی وثاقت اور جلالت قدر اور حفظ حدیث کا سوال ہے جس کا ذہبی اور ابن عدی نے بہت ڈھنڈھورا پیٹا ہے تو اس خبر سے ظاہر ہے جو ابھی آپ کی نظر سے گذری اور جس میں اس نے توہین آمیز بکواس کی ہے اس کے علاوہ طعن قرآن کے باب میں بھی اس کی وضاحت ہوچکی ہے خود اس کے باپ بھی کہتے تھے کہ میرا بیٹا عبداللہ جھوٹا ہے اس لئے ابن صاعد نے کہا ہے کہ جس کی توثیق ذہبی کرتے ہیں اس کے بارےمیں اس کے باپ کا قول ہمارے لئے کافی ہے.
( عربی میں مثل مشہور ہے کہ(اهل البیت ادری بما فیها) گھر والے گھر میں کیا ہے زیادہ جانتے ہیں) مترجم غفرلہ.
ابن ابی دائود کے باپ یہ بھی کہتے تھے کہ مصیبت یہ ہے کہ میرا بیٹا عبداللہ عہدہ قضا کا طالب ہے.(1)
ابراہیم بن ارومتہ اصفہانی نے کہا” ابوبکر بن ابی دائود بہت جھوٹا ہے”(2)
ابن عدی کہتے ہیں: میں نے ابوالقاسم بغوی سے سنا کہ ان کے پاس ابوبکر نے ایک خط لکھا جس میں اپنے دادا کی کسی حدیث کے بارے میں پوچھا تو ابوالقاسم نے خط پڑھ کر کہا: میرے نزدیک تو خدا کی قسم تونے علم کی لٹیا ہی ڈبو دی ہے.)(3)
ان تمام خامیوں اور خرابیوں کے باوجود آپ نے دیکھا کہ ذہبی اس کی موافقت میں کس بیقراری سے کوشاں ہیں اور طعن و تشنیع کے باب میں انہوں نے کس کس طرح اس کی حفاظت کی ہے.
“تو مشک ناز کر خون شہیداں میری گردن پر”
..........................................
1.سیر اعلام النبلاء، ج13، ص229.
2. سیر اعلام النبلاء، ج13، ص229
3. سیر اعلام النبلاء، ج13، ص229
یہ شخص شدت پسند ناصبی ہے لیکن ذہبی اس کے دیوانے ہیں اس کا پورا نام یوں ہے عبدالمغیث بن زہیر ن زہیر ابن علوی اس کے بارے میں ذہبی فرماتے ہیں ابوالعز بن ابوالحراب بغدادی حربی سنہ500ھ میں پیدا ہوئے یہ شیخ ہے، امام ہے،
محدث ہے، زاہد ہے، صالح ہے اسلاف میں سے جو باقی رہ گئے ہیں ان کی پیروی کرنے والا ہے اس نے آثار پر توجہ دی کتابیں پڑھیں نسخے لکھے جمع کیا اور کتابیں لکھیں کہ وہ شخص متورع ہے، دیندار ہے، سچا ہے، دین سے تمسک رکھتا ہے دلوں میں اس کی وقعت اور جلالت کا سکہ بیٹھا ہوا ہے، بہت سی روایتیں بیان کی اور طلبہ کو فائدہ پہونچایا.(1)
لیکناس کے ناصبی ہونے کے ثبوت میں ذہبی کی صرف یہ عبارت کافی ہے کہ اس عبدالمغیث نے فضائل یزید میں کچھ جزئ تالیف کئے اس کتاب میں اس نے بڑی عجیب و غریب چیزیں جمع کی ہیں کاش اس نے یہ کتاب نہ لکھی ہوتی تو بہتر ہوتا بہر حال ابن جوزی نے اس کی اس سیاہ کتاب کی تردید لکھ دی ان سے ناراض ہوگیا اور دونوں میں زبردست عداوت ہوگئی.(2)
اب اس کی صداقت بھی ملاحظہ فرمائیں اور جلالت و افادیت بھی دیکھیں ایک تو یہ کہ فضائل یزید میں کتاب لکھتا ہے اور اس کتاب میں عجائب کا ذخیرہ قرار دیتا ہے دوسرے یہ کہ ذہبی ہی نے لکھا ہے ایک بار کہنے لگا کہ مسلم بن یسار صحابی ہیں اور انہوں نے حدیث استلقا کو صحیح قرار دیا ہے حالانکہ یہ حدیث منکر ہے لوگوں نے کہا پھر تم کیوںاس حدیث کو صحیح مانتے ہو تم بھی انکار کردو کہنے لگا صحابی کی توہین ہوجائے گی.بہر حال ہمیں اس سے کیا مطلب کہ وہ صحابی یا غیر صحابی کی توہین کرتا ہے اور حدیث منکر کو صرف اس لئے صحیح قرار دیتا ہے کہ راوی کی توہین نہ ہو ہم تو اس شخص کے صداقت لہجہ اور جلالت قدر اور توثیق کو کھولنا چاہتے ہیں تاکہ تلاش کرنے والا پھسل کے گر نہ جائے.
..................................
1.سیر اعلام النبلاء، ج21، ص159.160.
2. سیر اعلام النبلاء، ج21، ص60.
اگر نگاہ انصاف سے دیکھا جائے اور نگاہوں سے تعصب کی عینک اتار دی جائے تو شیعہ نواصب کی بہ نسبت صداقت گفتار کے زیادہ مستحق ہیں.
اس کے چند اسباب ہیں:
1. ابھی آپ نے دیکھا ہے احمد ابن حنبل وغیرہ نے فضائل علی(ع) کے بارے میں گواہی دی ہے شیعوں کے پاس بے شمار دلائل ہیں اور اپنی حقانیت پر اتنی زبردست دلیلیں رکھتے ہیں جو انہیں اپنے مذہب کےبارے میں استغاثہ بخشی ہیں.
2. شیعوں کے ذہن کی تربیت ایسے معصوم اماموں کے یہاں ہوئی ہے جو صدق و شرف میں امت کے درمیان بہت اونچا مقام رکھتے ہیں تیسرے سوال کے جواب میں یہ بات عرض کی جا چکی ہے.
جس طرح نواصب اس بات کے حقدار ہیں کہ انہیں کذاب اور افترا پرداز کہا جائے کیونکہ وہ تہی دست ہیں جیسا کہ ابھی احمد بن حنبل کا بیان امیرالمومنین(علیہ السلام) کے حق میں گذر چکا ہے ایک تو وہ تہی دست اور محتاج ہیں دوسرے یہ کہ انہوں نے اپنے معاویہ، عمرو عاص اور مروان بن حکم جیسے رہبروں کی اقتداء کی ہے اور ان کے قدم بہ قدم ساتھ رہیں چونکہ ہر جنس اپنی جنس سے مانوس ہوتی ہے، نیز ہر ماموم کا ایک امام ہوتا ہے جس کی اقتداء اور پیروی کی جاتی ہے.
کبوتر با کبوتر باز با باز کند ہم جنس با ہم جنس پرواز
ہرماموم کا ایک امام ہوتا ہے جس کی وہ پیروی کرتا ہے، اس خدا کی حمد جس نے ہمیں دین حق اور دین اہل بیت کی ہدایت کی اگر اس نے ہدایت نہ کی ہوتی تو ہم ہرگز ہدایت نہیں پاسکتے تھے.(1)
.............................................
1.سورہ الاعراف، آیت4.
پانچویں بات یہ ہے کہ حدیثوں کی دنیا میں مقام سیرت و فضائل میں دو طرح کی حدیثیں پائی جاتی ہیں.
1. کچھ حدیثیں وہ ہیں جو فضائل اہل بیت(ع) اور ان کے دشمنوں کی مذمت میں وارد ہوئی ہیں اسی حساب سے فقہ و عقائد میں بھی وہ حدیثیں اہل بیت(ع) اور محبان اہل بیت کو عام مکتب فکر سے الگ کرتی ہیں.
2. کچھ حدیثیں وہ ہیں جو دشمنان اہل بیت(ع) کے مناقب اور عذر تراشی کے عنوان سے ذکر کی گئی ہیں نیز ایسی حدیثیں بھی بیان کی گئی ہیں جو ان کے فقہی اور عقیدتی جنبہ کو مخصوص کرتی ہیں.
آپ محسوس کریں گے کہ برادران اہل سنت مذکورہ بالا پہلی قسم کی حدیثوں کو لینے میں بڑی چھان بین اور بحث و تمحیص سے کام لیتے ہیں اور راویوں پرسخت جرح کرتے ہیں اور اسناد کی بھی چھان بین کر کے اس حدیث کو غلط یا کم سے کم مجروح ثابت کرنے کا کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے چاہے حدیث کی اسناد آئینہ کی طرح چمکتی ہوں اور پیمانہ روایت صادقین کی صداقت سے چھلک رہا ہو، حالانکہ انہیں راویوں سے جب دوسری قسم کی حدیث یعنی دشمنان اہل بیت کے مناقب میں حدیث آتی ہے تو یہ حضرات آنکھ بند کر کے یقین کر لیتے ہیں اور ان حدیثوں کے اعتقاد کے لئے دوسری ضعیف حدیثوںاور راویوں کو پیش کر دیتے ہیں سب سے غلط بات یہ ہے کہ خود ہی سند کو مطعون بناتے ہیں اور محض سند کے مطعون ہونے کی وجہ سے حدیثوں کے منکر اور نا قابل قبول ہونے کا حکم صادر کر دیتے ہیں بلکہ ہر اس حدیث کی تکذیب کرتے ہیں اور اس کے وضعی ہونے کا حکم لگا دیتے ہیں جو ان کے جذبات کے خلاف اور خواہشات نفس کے منافی ہوتی ہے.
حالانکہ مذکورہ بالا دوسری قسم کی حدیثوں کے بارے میں ذکر ان کا یہ حیرت انگیز رویہ بدل جاتا ہے دشمنان اہل بیت(ع) کے مناقب میں کمزور ترین اسناد سے ذکر ہوئی حدیث بھی ان کے لئے
ناقابل قبول تو دور کی بات ہے بلکہ واجب التسلیم ہوتی ہے وہ اس حدیث کو اتنا شائع اور اس سے قبل عام کر دیتے ہیں کہ وہ حدیث شواہد سے مستغنی ہوجاتی ہےمیں نے اس ناروا سلوک کی بعض مثالیں کچھ دیر پہلے پیش کی ہیں.
حالانکہ یہ بات طے ہے کہ جب سنت شریفہ صرف روایت اور اسناد ہی کے ذریعہ حاصل ہوسکتی ہے تو بہت ضروری ہے کہ راوی اور سند کے سلسلے میں تعصب اور جانبداری سے کام نہ لیا جائے اور چھان پھٹک کا عمل مضبوط اور محفوظ بنیادوں پر کیا جائے.
اس کے علاوہ میں برادران اہل سنت سے ایک بات اور عرض کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ فضائل اہل بیت(ع) کی حدیثوں پر انصاف سے غور کیا جائے نیز تاریخی شواہد پر منصفانہ نظر رکھی جائے کہ اہل بیت(ع) اور شیعیان اہلی بیت(ع) نے قید و بند اور توبیخ اور تنکیل کا ایک طویل دور گذارا ہے جب فضائل اہل بیت(ع) کی حدیثیں بیان کرنے کے جرم میں زبانیں کاٹ لی جاتی تھیں ہر دور میں حکومت کی پوری پہلی اور آخری کوشش ہوتی تھی کہ فضائل اہل بیت(ع) مٹایا جائے اور دشمنان اہل بیت کےفضائل کی نشر و اشاعت کی جائے محبان اہل بیت(ع) دیواروں میں زندہ چن دیئے جائیں اور ان کے وجود سے قید خانوں کو بھر دیا جائے دشمنان اہل بیت(ع) کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انھیں انعام و اکرام سے نواز کے فکر مال و دولت سے بے نیاز کر دیا جائے کہ وہ بے فکر ہو کے دشمنان اہل بیت(ع) کی منقبت اور اہل بیت(ع) کی مذمت میں زیادہ سے زیادہ حدیثیں گڑھ سکیں تاریخ کے اس المیہ اور حکومتوں کی اس پر تشدد نگرانی اور چوکسی میں، کوئی سچ بولنے میں تکلف محسوس کرتا تھا وہ غریب جھوٹی حدیثیں کیا گڑھتا اس کو تو سچ بولنے کی بھی ہمت نہیں تھی پس ایسے اہل بیت(ع) کے فضائل میں اگر کچھ حدیثیں آگئیں تو اس کی وجہ یہ تھی کہ حق اور سچ کو غلبہ ہمیشہ رہا ہے اور رہے گا. انشاء اللہ.
برادران اہل سنت کے یہاں پانچ یا چھ کتابیں اصول حدیث کی حیثیت رکھتی ہیں ان کتابوں میں ان کے نظرئیے کے مطابق صرف صحیح حدیثیں پائی جاتی ہیں اس لئے انہیں صحاح ستہ کہا جاتا ہے اہل سنت
ان کتاب کی حدیثوں پر آنکھ بند کر کے اعتماد کرتے ہیں یہاں تک کہ روز بہان لکھتے ہیں، علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صحاح ستہ پر تعلیقات کے علاوہ اگر کوئی حلف اٹھائے کہ طلاق قول رسول فعل رسول اور تقریر رسول سے ثابت ہوتی ہے اور اس کی تائید صحاح ستہ نہیں کرے تو طلاق نہیں ہوگی اور میان بیوی کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا.(1)
صحاح ستہ میں یہ دو کتابیں یعنی صحیح مسلم اور صحیح بخاری اصح الکتب مانی جاتی ہیں، ان دونوں کتابیں کی صحت پر عام اہل سنت کو اتنا اعتماد کہ ان دونوں کو صحیحین کہا جاتا ہے اور یہ لفظ جب بولا جاتا ہے تو اس کا اطلاق صرف انہیں دو کتابوں پر ہوتا ہے صحیحین سے تبادر ذہنی صحیح مسلم اور صحیح بخاری کا ہوتا ہے یہاں تک کہ ابن حجر لکھتے ہیں شیخین یعنی صحیح بخاری اور مسلم نے جو روایتیں اپنی کتابوں میں لکھی ہیں وہ روایتیں قرآن مجید کے بعد صحیح ترین ہیں اور اس پر ایسا اجماع حاصل ہے لہذا صرف نظر نہیں کیا جاسکتا.(2)
ابوعمرو بن صلاح کہتے ہیں ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری نے سب سے پہلے اپنی کتاب صحیح بخاری میں صحیح حدیثیں جمع کیں، ان کے بعد ابوالحسین مسلم بن حجاج قشیری نے اپنی کتاب صحیح مسلم لکھی، حالانکہ انہوں نے بخاری سےبھی حدیثیں لی ہیں اور استفادہ کیا ہے یہی وجہ ہے کہ بہت سے اساتذہ جو بخاری میں پائے جاتے ہیں وہ صحیح مسلم میں بھی موجود ہیں، ان دونوں کی کتابیں کتاب خدا کے بعد صحیح ترین ہیں.(3)
نووی کہتے ہیں: فصل، علماء(رحمہم اللہ) کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن عزیز کے بعد صحیح
...................................
1. دلائل الصادق، ج2، ص380.381.
2. الصواعق المحرقہ، ج1، ص31.
3. مقدمہ فتح الباری،ج1،ص10.
بخاری اور صحیح مسلم اصح الکتب ہیں تمام کتابوں سے زیادہ فوائد ظاہرہ اور معارف غامضہ کی حامل ہیں یہ بات بھی صحیح ہے کہ مسلم کبھی بخاری سے استفادہ کر لیتے ہیں اور اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ علم حدیث میں کتاب بخاری کی کوئی نظیر نہیں ملتی(1) امام نووی پھر فرماتے ہیں امام حرمین نے کہا ہے کہ اگر کوئی آدمی حلفیہ بیان دے کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے اور صحیحین میں کوئی حدیث اس طلاق کو صحیح نہیں مانتی یعنی ان کتابوں میں حدیث نبوی سے اس طلاق کی تائید نہ ہوتی ہو تو وہ طلاق نہیں ہوئی وہ حلف اٹھاتا رہے طلاق کے نہیں ہونے کی وجہ یہ ہے کہ علمائے ان دونوں کتابوں کی صحت پر اجماع کیا ہے.(2)
سیوطی لکھتے ہیں: شیخ یعنی ابن صلاح نے کہا ہے کہ بخاری اور مسلم نے یا ان میں سے کسی ایک نے جو بھی روایت کی ہے وہ قطع کا فائدہ دیتی ہے یعنی مقطوع بالصحة ہے اس سے علم قطعی حاصل ہوتا ہے جو اس کے علم قطعی ہونے کے مخالف ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے قطع نہیں بلکہ ظن حاصل ہوتا ہے، صرف امت نے امام بخاری یا مسلم سے ظن کا فائدہ حاصل کیا ہے اس لئے کہ ان کے لئے ظن پر عمل کرنا واجب ہے اور ظن میں کبھی غلطی بھی ہوسکتی ہے ان کے جواب میں عرض ہے کہ میں بھی پہلے اپنی بات کا رجحان رکھتا تھا اور اسی بات کو مضبوط سمجھتا تھا لیکن پھر مجھ پر یہ بات واضح ہوگئی کہ میراپہلا نظریہ ہی صحیح تھا اس لئے کہ یہ بات طے ہے کہ جو معصوم من اللہ ہوتا ہے اسے ظن نہیں بلکہ قطع ہوتا ہے اور امت کا اجماع خطا سے محفوظ ہےچونکہ امت کا ان کتابوں کی صحت پر اجماع ہے اس لئے ان کی صحت قطعی ہے امام الحرمین نے یہ صاف لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص حلف اٹھا کر کہے کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے اور صحیحین میں قول نبی(ص) سے وہ طلاق ثابت نہیں ہوتی ہو تو طلاق نہیں ہوگی اس لئے کہ مسلمانوں کا ان دونوں کی صحت پر اجماع ہے میں کہوں گا میری مراد تو یہی ہے اس کے علاوہ کوئی نظریہ بھی نہیں ہے.(3)
..............................................
1. شرح النووی علی صحیح مسلم، ج1، ص14.
2. شرح النووی علی صحیح مسلم، ج1، ص19.
3. تدریب الراوی، ج1، ص131.134.
دہلوی کہتے ہیں: جہاں تک صحیحین کا سوال ہے تو محدثین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان میں جتنی حدیثیں ہیں چاہے متصل ہوں چاہے مرفوع بہر حال مقطوع بالصحة ہیں اور اپنے جمع کرنے والوں تک متواتر ہیں جو بھی ان دونوں اماموں کی حدیثوں کو کمزور سمجھتا ہے وہ بدعتی ہے اور مومنین کے علاوہ راہ کا سالک ہے.(1)
علماء اہل سنت کہتے ہیں شیخین نے جن روایات کو نقل کیا ہے اس پر عمل کرنا تمام امت مسلمہ کے لئے جائز ہے.(2)
ابھی آپ نے ابن حجر ہیثمی کا قول ملاحظہ فرمایا کہ دونوں کتابوں کی صحت پر مسلمانوں کی ایک معتدبہ جماعت کا اجماع ہے اس سے کیا ثابت ہوتا ہے یہی نہ کہ غیر معتدبہ جماعت اجماع سے خارج ہے اور کچھ لوگوں کا ان کتابوں پر احماع نہیں ہے وجہ یہ ہے کہ ان کتابوں کی روایتیں ان جذبات اور ہوائےنفس کی مخالفت کرتی ہیں، اب سیوطی کی بات پر بھی توجہ دیں سیوطی صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ ایک سے زیادہ لوگوں نے اجماع کی مخالفت کی ہے صحیح تو یہ ہے کہ صحیحین کے وکیلوں اور حامیوں کی عبارتوں پر تھوڑی سی توجہ دی جائے تو سمجھ میں یہ بات آجاتی ہے خود اہل سنت کا
ان کی صحت پر اجماع نہیں ہے چہ جائیکہ پوری امت مسلمہ! اس سلسلے میپ بہت سے علماء نے اجماع کی نفی کی ہے خصوصا ہماے دور میپ اتنے لوگ مخالف ہیں جن کا شمار ممکن نہیں.
لطف کی بات یہ ہے کہ ہمارے برادران اہل سنت کسی ایک بات کو طے کر لیتے ہیں اور ان لوگوں سے تحاہل عارفانہ کرتے ہیں جو ان کے ہوائے نفس کے مخالف ہیں پھر اپنی اس بات کو صحیح ثابت کرنے
......................................
2. حجة اللہ البالغہ، ج1، ص282 باب طبقات کتب الحدیث.
3. الکشف الحثیث، ص112، انہیں الفاظ میں فتح الباری، ج13، ص457 پر بھی ہے.
کے لئے زبردستی کا دعوی کرتے ہیں اور مسلسل بکتے رہتے ہیں کہ اس پر اجماع ہے، اس پر اجماع ہے، جو اس کا مخالف ہے وہ بدعتی ہے غیر سبیل مومنین کا تابع ہے اور مسلسل اپنے مفروضہ کو حق کہہ کر شہرت دیتے رہتے ہیں( آپ نے دیکھا کہ صحیحین کے بارے میں اجماع کا ڈھنڈھورا پیٹنے والے اور خود اپنی عبارتوں کی گرفت میں ہیں اور قلم کی لغزش کو نہیں روک پاتے نتیجہ میں اپنے ہی دعوے کے خلاف لکھتے چلے جاتے ہیں) مترجم غفرلہ.
مشکل یہ ہے کہ ہمارے بڑے بھائی بدعت کا مطلب نہیں سمجھتے اور ہرجگہ بدعت کی تلوار تان دیتے ہیں، بدعت کا مطلب ہے سنت کے خلاف، بدعتی وہ ہے جو ان باتوں کو شرع سمجھے جس کو اللہ نے شرع نہیں قرار دیا ہے اور جس کو پیغمبر(ص) نے شرع بتا کے نہیں پہنچایا ہے، ارشاد ہے( یہ رہبانیت ہے جسے انہوں نے اختراع کر لی ہے ورنہ ہم نے ان پر واجب نہیں قرار دی تھی)(1)
اسی طرح غیر سبیل مومنین کے اتباع کا مطلب مسلمانوں کے مسلمات کے مخالفت نہیں ہوتا، جب کہ صحیحین کی صحت وہ مسلمہ ہے جو متاخرین کے خیال خاص کا مرہون منت ہے.
اسی طرح غیر سبیل مومنین کو بھی سمجھنے میں غلطی کی گئی ہے، ایک راستہ ہے جو اللہ کا راستہ ہے اللہ اور اللہ کا رسول مسلمانوں کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دیتے ہیں اب اگر کوئی اس راستے سے الگ راستہ بنا کے پیغمبر(ص) کو تکلیف پہنچاتا ہے تو کہا جائے گا کہ یہ اتباع غیر سبیل مومنین ہے، اس کو خود قرآن مجید پڑھ کے سمجھئے، ارشاد ہوتا ہے( ہدایتوں کی وضاحت کے بعد بھی جو رسول(ص) کو مشقت میں ڈالے یعنی
...............................
1.سورہ الحدید، آیت 27.
رسول کو تکلیف پہنچائے اور مومنین کے راستے کو چھوڑ کے اپنے راستے پر چلے تو ہم اس کو ادھر ہی موڑ دیں گے جدھر وہ مڑ رہا ہے اور اس کو جہنم میں جھونک دینگے جہنم بہت برا ٹھکانہ ہے.(1)
حیرت کی بات یہ ہے کہ امام مسلم اور بخاری کے دیوانے ان اصولی کتابوں کے مندرجات پر قطع کا دعوی کرتے ہیں جو بیکار کی بکواس ہے، اس لئے کہ رجال سند میں واسطوں کی کثرت، سنت شریفہ کا دور پیغمبر(ص) میں مشکلات سے دوچار ہونا، جیسے کذب متعمد، وہم اور ایسے قرینوں کا ضائع ہونا جن کے ذریہ حدیث کی مراد و موارد سمجھنے میں سہارا ملتا تھا بعض جھوٹی حدیثوں کا علم سے براہ راست ٹکرائو، یا ان جھوٹی حدیثوں کے وجود سے پیدا ہوتے ہوئے وہم حدیثوں کے معنی کو خلاف ظاہر لینا وغیرہ، وہ اسباب ہیں جن کو ملا جلا ک ایک ایسا ماحول بنتا ہے جو قطع کے لئے تو ہرگز سازگار نہیں ہے پھر ان حضرات کو....
زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس ماحول میں قطع تو ناممکن ہے البتہ اس بات پر وثوق ہے کہ یہ حدیثیں پیغمبر(ص) سے صادر ہوئی ہیں یا یہ کہ چونکہ ان میں حجیت کے شرائط پائے جاتے ہیں اس لئے ان پر عمل جائز ہے.
صحیحین کی حدیثوں کی صحت پر احماع تو خیر کیا حاصل ہوگا، اہل سنت کے بیانات پر نظر کی جائے تو ان حدیثوں پر وثوق بھی مشکل سے حاصل ہوتا ہے یعنی خود انہیں حضرات کے بیان کو دیکھتے ہوئے انہیں
................................................
1.سورہ نساء، آیت 115.
ثقہ کہنا بھی مشکل ہے ثقہ حدیثوں کا وہ معیار جو منطق اور عقل وضع کرتی ہے اور س کے ذریعہ عنداللہ حجیت حاصل ہوتی ہے، اس معیار پر وہ پوری نہیں اترتیں، اہل سنت حضرات نے دوسری کتابوں میں صحت حدیث کا جو معیار معین فرمایا ہے اس معیار کی بنا پر صحیحین کی حدیثوں کو ثقہ بھی نہیں کہا جاسکتا، پہلی بات تو یہ ہے کہ خود اہل سنت بھائی صحاح ستہ کے جمع کرنے والوں کے بارے میں مطمئن نہیں ہیں اور کیفیت جمع کو مشکوک سمجھتے ہیں.
1.امام بخاری کے بارےمیں بہت سی باتیں پہلے بھی عرض کی جاچکی ہیں، اہل جرح و تعدیل کے بارے میں اور ان کی جرح کے بارےمیں بھی بات ہوچکی ہے، ان حضرات کا یہ خیال ہےکہ اصحاب جرح و تعدیل پر اگر کوئی طعن کرتا ہےتو اس طعن سے ان حدیث پر کوئی اثر نہیں پڑے گا.
2. اب بخاری کے بارے میں محمد بن یحیی ذہلی کا قول ملاحظہ ہو، محمد بن یحیی ذہلی جمہور اہل سنت کے بڑے علماء میں شمار کئے جاتے ہیں، جب انہیں معلوم ہوا کہ امام بخاری تلفظ بالقرآن کو مخلوق سمجھتے ہیں اور لوگوں نے محض اسی عقیدہ کی وجہ سے امام صاحب سے تعلقات منقطع کرلئے ہیں صرف امام مسلم ان کی مجلس میں جاتے ہیں محمد بن یحیی نے فرمایا، آگاہ ہو جائو جو قرآن کے الفاظ کے مخلوق ہونے کا قائل ہے اس کا ہماری مجلس میں بیٹھنا جائز نہیں ہے یہ سن کے مسلم کھڑے ہوئے اور مجلس کے باہر آئے پھر محمد بن یحیی نے بخاری کے بارے میں کہا: یہ شخص میری موجودگی میں اس شہر میں نہیں رہ سکتا ہے بخاری نے جب یہ سنا تو ان کو خوف ہوا کہ کہیں محمد بن یحیی ان کا قتل نہ کرا دیں پس امام بخاری نے وہ شہر چھوڑ دیا(1) مطاعن اہل جرح و تعدیل کے مطاعن کے باب میں یہ باتیں عرض کی جاچکی ہیں.
..................................
1. سیر اعلام النبلاء، ج12، ص460.
3. امام بخاری کے اسی عقیدہ کی وجہ سے ابوحاتم رازی اور ابوزرعہ رازی(1) نے ان سے روایت لینے سے منع کیا ہے ابوحاتم رازی ار ابوزرعہ رازی اہل سنت کے بڑے علما میں شمار کئے جاتے ہیں.
4. ذہبی نے اپنی کتاب المغنی فی الضعفاء(2) میں امام بخاری پر اعتراض کیا ہے یہاں تک کہ منادی نے بہت سخت الفاظ میں اس کے ذہبی سے واقع ہونے والے کا انکار کیا ہے.(3)
5. محب ابن ازہرسجستانی لکھتے ہیں میں بصرہ میں سلیمان ابن حرب کی مجلس میں بیٹھا تھا اور اسماعیل بخاری بھی وہاں تشریف فرما تھے لیکن حدیث نہیں لکھ رہے تھے پوچھا گیا یہ حدیث کیوں نہیں لکھ رہے ہیں لوگوں نےکہا جب بخاری واپس جائیں گے تو یہاں کی سنی ہوئی حدیث وہاں لکھیں گے.(4)
احمد بن ابی جعفر کہتے ہیں کہ محمد بن اسماعیل نے کہا: میں نے بہت سی حدیثیں بصرہ میں سنی اور انہیں شام میں لکھا میں جو حدیثیں سنی انہیں بصرہ میں آکے لکھا میں نے کہا اے ابوعبداللہ!آپ بھولتے نہیں اور ایسی حدیثیں کمال کے ساتھ لکھ لیتے ہیں ہے سن کے وہ خاموش ہوگئے(5)
6. بخاری اپنی کتاب کی شہرت سے پہلے ہی مر گئے اس لئے ان کی روایتوں اور نسخوں میں اختلاف پایا جاتا ہے.
ابو الولید باجی کہتے ہیں: ابو ذرعبد بن احمد ہروی حافظ نے کہا مجھ سے ابو اسحاق مستملی ابراہیم بن احمد نے کہا میں نے کتاب بخاری کو ان کی اصل کتاب سے نقل کیا، ان کی اصل کتاب محمد
..................................
1. الجرح والتعدیل، ج7،ص191.
2. المغنی فی الضعفاء، ج2. ص557.
3. تفیق التعلیق، ج5، ص391.
4. تاریخ بغداد، ج2، ص11. تفیق التعلیق، ج5، ص417؛ فتح الباری، ج1، ص487.
5. فیض التقدیر، ج1، ص24.
بن یوسف فربری کے پاس تھی میں نے دیکھا کہ وہ کتاب مکمل نہیں تھی، اس میں بہت سے لوگوں کے ترجمے نہیں تھے کہیں حدیثیں تھیں لیکن ان حدیثوں کے راوی کے ترجمے نہیں تھے کہیں راویوں کے ترجمے تھے لیکن ان راویوں سے حدیثیں نہیں تھیں.
مذکورہ بالا بات کی صحت پر دلیل یہ ہے کہ ابواسحق مستملی، ابو محمد سرخسی،
ابوہیثم کشمیہنی اور ابو زید مروزی نے ایک ہی اصل سے روایتیں نقل کی ہیں لیکن ان کی روایتوں میں تقدیم و تاخیر پائی جاتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے جہاں بھی رقعہ یا کسی پرچے میں کوئی حدیث پائی اپنے مجموعہ میں اس کا اضافہ کرلیا یہی وجہ ہے کی تم دو ترجموں یا اس سے زیادہ کے درمیان میں کوئی حدیث نہیں پاتے یہ بات بھی اس وقت واضح ہوئی جب ہمارے اہل شہر نے اس کی طرف توجہ دی انہوں نے چاہا کہ جس کی حدیث ہے اس کے حالات بھی وہیں بیان ہوجانا چاہئے اب اس کی تاویل ایسی کرنی چاہئے جو جائز نہیں ہے.(1)
ابن حجر کہتے ہیں کہ بخاری نے سعید بن زید کے اسلام کا تذکرہ سیرت نبوی کے شروع میں کیا لیکن عبدالرحمن بن عوف اور سعید بن زید کے مناقب کا تذکرہ اپنی کتاب میں نہیں کیا ہے حالانکہ دونوں افراد عشرہ مبشرہ کے اصحاب میں شامل ہیں میراخیال ہے کہ یہ نام بخاری کی غلطی سے نہیں ہیں اصل میں بعد والوں کی غلطی ہے جنہوں نے کتاب بخاری کو من و عن نقل نہیں کیا جیسا کہ ابھی لکھا جاچکا ہے کہ امام بخاری صاحب نے مسودہ چھوڑ دیا اور اس مسودہ میں جن کا تذکرہ تھا اس میں حفظ ترتیب کا خیال نہیں رکھا گیا تھا اور افضلیت، سابقیت اور سن وغیرہ کا کوئی لحاظ نہیں رکھا تربیت کا طریقہ پہلے رائج تھا پس جب کسی کا لحاظ نہیں کیا گیا تو ہر ایک ترجمہ الگ لکھنے لگا اور پھر جیسے جیسے لکھتا گیا بعض کو بعض سے ضم کردیا گیا.(2)
...............................................
1.التعدیل والجرح، ج1، ص310.311.
2. مقدمہ فتح الباری، ج7، ص93.
7. ذہبی کہتے ہیں: مسلم کا مزاج الگ ہے انہوں نے بخاری سے بھی انحراف کیا ہے اور ان سے کسی حدیث کونقل نہیں کیا ہے، اپنی صحیح میں ان کے نام کا حوالہ دیا ہے اپنی کتاب کو ان خطوط پر ترتیب دیا ہے جس سے انہوں نے ذاتی طور پر ملاقات کی اس نے جو حدیث لکھی وہاں”عن” کا استعمال کیا، اس کے علاوہ راوی کا معاصر ہونا کافی سمجھتے تھے اور دونوں راویوں کی ملاقات کا ہونا ضروری نہیں جانتے تھے یعنی اگر وہ وسائط میں عن فلان عن فلان کہتے تھے تو اس کا مطلب یہ تھا کہ دونوں راوی معاصر ہیں ان کی نظر میں یہ ضروری نہیں تھا کہ ان دونوں نے آپس میں ملاقات بھی کی ہو، جو محدث اس بات کی شرط لگاتا تھا یعنی دونوں راویوں کے ملاقات کی اس کی مسلم توبیخ بھی کرتے تھے، حالانکہ اس شرط کے قائل امام بخاری اور ان کے استاد علی بن مدینی تھے.(1)
8. سعید برذعی کہتے ہیں: میں نے ابوزرعہ سے ملاقات کی جب ان کے سامنے مسلم کا ذکر آیا تو کہنے لگے یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے وقت کے پہلے آگے بڑھنا چاہا پھر یہیں انہوں نے ایک ایسا عمل انجام دیا جو ان کو آگے بڑھا رہا تھا اور جس کو وہ ڈھال کے طور پر استعمال کرتے تھے.(2)
9. دوسرے لفظوں میں ابوزرعہ نے کہا؛ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے قبل از وقت آگے بڑھنا چاہا تو ایسا عمل کیا (کتاب لکھی) جس کو وہ ڈھال کے طور پر استعمال کرتے رہے انہوں نے ایک کتاب لکھی پھر اس کو نیا کارنامہ قرار دیا تاکہ قبل از وقت اس کے ذریعہ اپنی ریاست قائم کریں.(3)
برذعی کہتے ہیں: کہ ان (ابوزرعہ) کے پاس ایک دن کوئی شخص صحیح مسلم لے کے آیا میں وہیں
................................................
1. تہذیب الکمال، ج4، ص419.
2. تاریخ بغداد، ج4، ص272.
3.سئوالات البرذعی، ص675.
بیٹھا ہوا تھا ابوزرعہ نے صحیح مسلم کو پڑھنا شروع کیا جب انہوں نے اسباط بن نصر سے حدیث دیکھی تو کہنے لگے یہ کتاب صحت سے کتنی دور ہے اس میں اسباط بن نصر جیسے لوگوں سے حدیث ہے، پھر انہوں نے قطن بن نسیر سے بھی حدیث دیکھی کہنے لگے یہ پہلے بھی برا ہے، قطن بن نسیر ثابت سے حدیثیں لے کے انہیں انس کے حوالے سے بیان کرتا تھا پھر آگے بڑھا اور کہنے لگے امام مسلم احمد بن عیسی مصری سے بھی حدیث لیتے ہیں حالانکہ احمد بن عیسی مصری وہ ہے جس کے بارے میں خود اہل مصر کو ہمیشہ شک رہا پھر اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا یعنی جھوٹ کا شک رہا پھر کہنے لگے یہ شخص( امام مسلم) مذکورہ بالا افراد سے حدیثیں لیتا ہے اور محمد عجلان جیسے لوگوں کو چھوڑ دیتا ہے اس کہ وجہ سے اہل بدعت کو ہم پر اعتراض کرنے کا موقع ملتا ہے نتیجہ یہ ہے کہ جب ان اہل بدعت پر کسی حدیث سے حجت قائم کی جاتی ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ حدیث کتاب صحیح میں نہیں ہے. برذعی کہتے ہیں میں نے دیکھا ابوزرعہ اس کتاب(مسلم) کی اور اس کے مرویات کی مذمت کرتے رہتے تھے پھر اس کے بعد امام مسلم شہر ( ری) چلے گئے مجھے معلوم ہوا کہ وہاں وہ ابو عبداللہ محمد بن مسلم بن وارہ کے پاس گئے محمد بن وارہ نے انہیں بہت ستایا اور ان کی اس کتاب وجہ سے مذمت کی اور وہی باتیں کہیں جو ابورزعہ کہہ چکے تھے یعنی ان( مسلم) کی کتاب سے اہل بدعت کوہمارے خلاف اعتراض کا موقع ملتا ہے.(2)
10. ابوقریش حافظ کہتے ہیں: میں ابوزرعہ کے پاس تھا کہ مسلم بن حجاج آئے اور ان کوسلام کیا پھر کچھ دیر تک دونوں باتیں کرتے رہے جب وہ چلے گئے تو میں نے ابوقریش سے کہا یہی وہ شخص ہے جس نے صحیح میں 4000ہزار حدیثیں جمع کی ہیں ابو قریش نے کہا اور باقی چھوڑ کیوں دی پھر بولے اس شخص کے پاس عقل نہیں ہے اگر ذرا بھی عقلمند ہوتا تو محمد بن یحیی کو اہمیت دیتا اور اگر ایسا کرتا تو آدمی بن جاتا.(2)
.....................................................
1. تہذیب الکمال، ج1، ص419.420. سیراعلام النبلاء، ج12، ص471. تاریخ بغداد، ج4، ص272. سئوالات البرذعی، ص675.676.
2. سیر اعلام النبلاء، ج12، ص280.281.571، تہذیب الکمال، ج26، ص627
11. ابراہیم بن ابی طالب نے مسلم سے پوچھا کہ تم نے صحیح میں سوید سے کیسے روایت نقل کی؟ کہنے لگے پھر حفص بن مسیرہ سے حدیثیں کہاں سے لائے ہو؟(1)
عجیب بات ہے اگر ثقہ سے حدیث نہ ملے تو غیر ثقہ سخ حدیث لینا قابل تعریف بات تو نہیں ہے اسی لئے ذہبی نے کہا:(مسلم کی حدیث کو اصول کے لئے نہیں پیش کرنا چاہیئے کاش انہوں نے حفص بن مسیرہ کی حدیثوں کا اندراج کچھ درجہ گھٹا کے کیا ہوتا.(2)
12. ذہبی نے کہا:مکی بن عبدان کہتے ہیں: اسحاق بن راہویہ کے دور میں دائود بن علی اصفہانی نیشاپور پہونچے ان کے اعزاز میں ایک نشست منعقد ہوئی اس مجلس میں یحیی بن ذہلی حاضر ہوئے اور مسلم بن حجاج بھی آئے ایک مسئلہ زیر بحث آیا تو یحیی نے اس مسئلہ پر بات کرنی شروع کی لیکن دائود نے انہیں ڈانٹ دیا اور فرمایا اے لڑکے تم چپ رہو، مسلم نے دائود کو ڈانٹتے ہوئے دیکھا لیکن یحیی کی مدد نہیں کی یحیی اپنے باپ کے پاس گئے اور ان سے شکایت کی ان کے باپ نے پوچھا دائود تم کو ڈانٹ رہے تھے تو وہاں کون تھا؟ کہنے لگے وہاں تو مسلم بن حجاج بھی تھے لیکن انہوں نے میری مدد نہیں کی ان کے والد نے کہا یہ تو مسلم نے بہت غلط کیا اچھا اب میں نے ان سے جتنی حدیثیں روایت کی ہیں سب واپس لے لوں گا یہ بات مسلم تک پہونچی تو مسلم نے ان سے جتنی حدیثیں لکھی تھیں ایک زنبیل میں جمع کیں اور ان کے پاس بھیج دیں پھر بولے اب ان سے کوئی حدیث نبوی نہیں لوں گا.(3)
13 نووی کہتے ہیں: مسلم نے صلاة پیغمبر(ص) کی صفت میں جہاں حدیثیں لکھی ہیں وہاں بھی کہا ہے کہ یہاں جو کچھ بھی میں نے دیکھا ہے وہ سب صحیح نہیں ہے یعنی اس کتاب صحیح میں صفت صلاة کے بارے میں جو حدیثیں ہیں وہ سب کے سب صحیح نہیں ہیں، کہتے ہیں میں نے یہاں صرف
.....................................
1. سیر اعلام النبلاء، ج11، ص418. میزان الاعتدال، ج3، ص347. تہذیب التہذیب، ج4، ص241.
2. سیر اعلام النبلاء، ج11، ص418.
3.سیر اعلام النبلاء، ج12، ص571.572.
علماء کی مجمع علیہ( جس پر سب نے اتفاق کیا ہے) حدیثیں لکھ دی ہیں نووی کہتے ہیں ان کی یہ عبارت اشکال سے خالی نہیں ہے اس لئے کہ انہوں نے ایسی حدیثیں لکھی ہیں جس کی صحت میں اختلاف ہے اس لئے کہ ان میں وہ حدیثیں بھی ہیں جن کا میں نے ان سے ذکر کیا ہے اور وہ حدیثیں بھی جن کا میں نے ان سے ذکر نہیں کیا ہے اور ان حدیثوں کی صحت میں اختلاف ہے.
شیخ کہتے ہیں: اس کا جواب دو طریقوں سے دیا جاسکتا ہے.
پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جن حدیثوں کی صحت میں اجماع کی شرطیں موجود تھیں انہوں نے انہیں لکھ دیا اگرچہ ان میں سے بعض حدیثیں بعض کے نزدیک مجمع علیہ کی حیثیت نہیں رکھتیں.
دوسری بات یہ ہے کہ وہ کہنا چاہتے ہیں کہ ثقات نے حدیثوں کے متن و اسناد میں اختلاف کیا ہے وہ حدیثیں انہوں نے یہاں ذکر نہیں کی ہیں، لیکن بعض راویوں کی توثیق میں ثقات کا اختلاف ہے اس کا بھی تذکرہ انہوں نے نہیں کیا ہے یہ بات ان کی گفتگو سے بھی ظاہر ہے یہ بات انہوں نے اس وقت بتائی جب ان سے، ابوہریرہ کی روایت کے بارے میں سوال کیا گیا جب نماز میں قرائت(سورہ فاتحہ) کی جائے خاموش رہے، کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ کہنے لگے جی ہاں صحیح ہے پوچھا گیا پھر آپ نے اپنی کتاب میں اس کو کیوں نہیں لکھا؟ کہنے لگے اس کی صحت پر اجماع نہیں اور پھر مذکورہ بالا کلام سے جواب دیا جس کا حوالہ نووی نے دیا ہے.
مذکورہ بالا تمام باتوں کے باوجود ان کی کتابوں میں ایسی حدیثیں موجود ہیں جن کی اسناد میں اختلاف ہے اس لئے کہ وہ حدیثیں ان کے نزدیک صحیح ہیں اس معاملے میں انہوں نے اپنی لگائی ہوئی شرط کی ان دیکھی کی ہے یا کسی اور سبب سے ایسا کیا ہے، میں نے ان کا ادراک کیا ہے اور اس کی وجہ بھی بیان کی ہے یہ شیخ کے کلام کا آخری حصہ ہے.(1)
.............................................
1. شرح النووی علی صحیح مسلم، ج1، ص16.
14. ابن حجر، احمد بن صالح مصری کے ترجمے میں لکھتے ہیں کہ خطیب نے کہ ا” احمد بن صالح کی حدیثوں سے تمام ائمہ احادیث نے احتجاج کیا ہے سوائے امام نسائی کے” کہا جاتا ہے کہ احمد کی سب سے بڑی خرای یہ تھی کہ خطیب کہتے ہیں: احمد نے اپنی مجلس میں نسائی کے ساتھ زیادتی کی تھی اس لئے امام صاحب ان سے حدیثیں نہیں لیتے تھے یہی وجہ تھی کہ دونوں میں جھگڑا رہتا تھا.(1)
عقیلی کہتے ہیں: احمد بن صالح کسی کے بارے میں اس وقت تک نہیں بولتے تھے جب تک ان سے سوال نہ کیا جائے، ایک بار امام اسائی ان سے ملنے آئے ان کے ساتھ ایسے اصحاب بھی تھے جو وہاں کے رہنے والے نہیں تھے احمد نے امام نسائی سے ملنے سے انکار کردیا امام نسائی کو بہت غصہ آیا اور انہوں نے جتنی حدیثیں جمع کی تھیں ان میں سے احمد کی حدیثوں کو غلط قرار دیا اور کچھ بر بھلا بھی کہا، حالانکہ اس سے احمد بن صالح کا کوئی نقصان نہیں ہوا وہ تو امام بھی ہیں اور ثقہ بھی ہیں.(2)
میں عرض کرتا ہوں کہ جب راویوں پر طعن و تشنیع اور ان کی روایتوں سے اعراض کی وجہ صرف دلی جذبات اور
تعصب ہو تو پھر توثیق و مدح کی بنیاد بھی تو یہی جذباتیت اور تعصب ہوسکتے ہیں پھر تو نہ جرح قابل اعتماد رہی اور نہ توثیق.
15. ابن حجر نے کہا، کتاب سنن ابن ماجہ، میں ضعیف حدیثوں کی کثرت ہے، کہتے ہیں سری کا یہ قول مجھ تک پہنچا کہ ابن ماجہ کی ہر منفرد حدیث اکثر ضعیف ہوتی ہے پھر میں نے دیکھا حافظ شمس الدین محمد بن علی الحسینی نے یہ الفاظ لکھے ہیں ہم نے اپںے شیخ حافظ ابو الحجاج مزی سے سنا، فرماتے تھے کہ ابن ماجہ کی منفرد حدیثیں ضعیف ہوتی ہیں.(3)
-------------------
1. تہذیب التہذیب، ج1، ص36.
2 التعدیل والجرح ،ج 1 ص 325 فتح الباری ، ج 1 ص 386، تہذیب التہذیب ، ج1 ص36
3.تہذیب التہذیب، ج9، ص428.
ابودائود اپنی، سنن کے بارے میں کہتے ہیں، میں نے اپنی کتاب میں سنن صحیح کو لکھ دیا ہے اور جو حدیثیں بہت کمزور ہیں ان کو لکھنے کے ساتھ ان کی کمزور کی وضاحت بھی کردی ہے.(1)
سیوطی نے ابن ابی دائود کی مندرجہ بالا عبارت پر نوٹ لگایا، اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے جن حدیثوں میں تھوڑی کمزوری دیکھی اس کا بیان کرنا ضروری نہیں سمجھا اور وضاحت کرنی ضروری نہیں سمجھا.(2)
16. علامہ ذہبی اور مبارکپور کا قول اس کتاب کے بارے میں گذر چکا دونوں عالموں نے اس کتاب کی تحسین اور تصحیح پر طعن کیا ہے بلکہ ذہبی نے اس طعن کو علماء کی طرف منسوب کیا ہے.
17. شیخ مظفر فرماتے ہیں، ذہبی نے اپنی کتاب میزان الاعتدال میں اور ابن حجر نے اپنی کتاب تہذیب التہذیب میں لکھا ہے کہ امام بخاری جس جماعت کی تضعیف کرتے ہیں اسی جماعت کی روایت کردہ خبروں سے احتجاج بھی کرتے ہیں، یہ بات ان دونوں عالموں کی کتاب میں اس جماعت کے ترجمے سے ظاہر ہوتی ہے، ذہبی اور ابن حجر کی کتاب میں اس جماعت کا ترجمہ موجود ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بخاری نے ان کی تضعیف کی ہے اور انہیں سے روایت بھی لی ہے اس جماعت کے افراد کے کچھ نام مثال کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں( مترجم غقرلہ) جیسے ایوب بن عائذ، ثابت بن،
..................................
1. سیر اعلام النبلاء، ج13، ص213. تدریب الراوی، ج1، ص169. تذکرة الحفاظ،ج2، ص592. المنہل الراوی، ص38.
2. تدریب الراوی، ج1، ص169.
محمد العاہد، حصین بن عبدالرحیم السلمی، جمران بن اہان، عبدالرحمن بن یزید بن جابر ازدی، کھمس بن منہال، محمد بن یزید اور مقیم بن بحرہ.
میں نے امام بخاری کا تذکرہ خاص طور سے اس لئے کیا کہ وہ اہل سنت کے نزدیک صحیح ترین افراد کے رئیس ہیں، ورنہ ایک حمام میں سب ننگے ہیں مثال کے طور پر ابو دائود نے نعیم بن حماد خزاعی، بنو امیہ کے غلام ولیدبن مسلم اور ہشام بن عمار سلمی کی تکذیب بھی کی ہے اور انہیں سے روایت بھی لی ہے. صالح بن بشیر کے بارے میں کہا اس کے حوالے سے حدیث نہیں لکھنی چاہئے، عاصم بن عبداللہ کے بارے میں بھی یہی الفاظ کہے پھر ان سے روایت بھی لی ہیں، جب کہ خیال ہے کہ ثقہ کے علاوہ وہ کسی سے حدیث لیتے ہی نہیں جیسا کہ انہوں نے اپنی کتاب تہذیب التہذیب میں دائود بن امیہ کے ترجمے میں لکھا ہے.
امام نسائی، عبدالرحمن بن یزید تمیم دمشقی، عبدالرحمن بن مخارق اور عبدالوہاب بن عطا خفاف کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ سب متروک ہیں پھر انہیں لوگوں سے روایت بھی لیتے ہیں.
اسی طرح ترمذی نے سلیمان بن ارقم ابی معاذ بصری، اور عاصم بن عمرو بن حفص کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ دونوں متروک ہیں پھر انہیں سے اپنی سنن میں روایت بھی کی ہے.(1)
18.شیخ مظفر(رہ) فرماتے ہیں، امام بخاری اور مسلم اگرچہ اہل سنت کے عظیم علماء اور جلیل القدر افراد میں شمار ہوتے ہیں جن کی صحت مسلم ہے لیکن یہ حضرات اکثر اجماع کی مخالفت کرتے ہیں ان کی حدیثیں صحیح ترین حدیثیں مانی جاتی ہے لیکن یہ ایسی جماعت کی حدیثوں سے احتجاج کرتے ہیں جو اصلا مجہول الحال ہے، اس لئے کہ ایک جماعت نے ان مجہول الحال افراد سے ان سے کسی ایک شخص
1.دلائل الصدق، ج1، ص14.13.
کے حوالے سے روات کی ہے، حالانکہ یہ ایک شخص بھی جس سے روایت کر رہا ہے اس کی قدح یا مدح پر کوئی نص نہیں کرتا، شخص واحد کی روایت سے یہ لوگ احتجاج کرتے ہیں اور اس کی خبر کو کافی سمجھتے ہیں ہم مقام مثال میں ان کا تذکرہ کریں گے ویسے آپ تہذیب التہذیب بھی دیکھیں گے تو میری بات کی تصدیق ہوجائے گی.(1)
19. اہل سنت حضرات کے یہاں حدیثوں میں تدلیس بہت ہوتی ہے، تدلیس کا مطلب ہے راوی کا تشخص اس طرح کہنا کہ اس سے قاری کے ذہن میں دوسرے کے راوی ہونے کا وہم پیدا ہو جائے( مثلا اگر راوی عبداللہ ہے لیکن اہل سنت اس کو کمزور راوی سمجھتے ہیں تو یہ لوگ تدلیس کرنا چاہتے ہیں تو عبداللہ کا نام ولدیت کے ساتھ نہیں لیتے تاکہ قاری اس عبداللہ سے عبداللہ بن عمر سمجھے جو ان کی نظر میں مقبول شخصیت ہے مترجم غفرلہ) جیسے اگر روایت کسی غیر مقبول شخص سے لی گئی ہے لیکن اس مقبول نے روایت غیر مقبول سے لی ہے تو یہ لوگ غیر مقبول والا واسطہ بیان ہی نہیں کرتے اور ابتداء ہی مقبول واسطے سے کرتے ہیں، اس کے علاوہ بھی تدلیس کی کئی صورتیں ہیں.
ذہبی نے عبداللہ بن صالح بن محمد بن جہینی مصری کے سلسلے میں لکھا ہے کہ ان پر اکثر لوگوں نے طعن کی ہے، بخاری نے عبداللہ بن صالح سے اپنی کتاب صحیح میں روایت بھی لی ہے اور صحیح حدیثوں میں ان روایتوں کو رکھا ہے لیکن تدلیس کے ساتھ یعنی وہ یہ لکھتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ نے بیان کیا، اور اس کے نسب کا تذکرہ نہیں کرتے.(2)
بخاری کی تدلیس کی دوسری مثال ملاحظہ ہو، وہ محمد بن سعید مصلوب شامی سے روایت لیتے
.........................................
1.دلائل الصدق، ج1، ص14.13.
2. میزان الاعتدال، ج4، ص122، عبداللہ بن صالح کے ترجمے میں.
ہیں جو مشہور جھوٹا ہے،(1) حدیثیں وضع کر کے ان تدلیس کردیتا تھا(2) زندیق ہونے کی وجہ سے قتل کیا گیا،(3) لیکن اس زندیق سے صرف بخاری ہی نہیں بلکہ ابن ماجہ اور ترمذی بھی روایت کی ہے(4) اور دوسرے محدثین کی بھی اس پر نگاہ کرم ہے.
یہ لوگ اس مشہور جھوٹ سے روایت لینے کے وقت تدلیس کیسے کرتے ہیں یہ ذہبی سے سنئے لکھتے ہیں: زہری، عبادہ بن نسیی؛ اور ایک جماعت نے روایت کی ابن عجلان، ثوری، مروان فزاری، ابو معاویہ، محاربی اور بہت سے دوسرے لوگوں نے بھی اس سے روایت لی ہے مگر اس کا نام یوں بدل دیا ہےکہ اس پر پردہ پڑ جاتا ہے چونکہ وہ ایک کمزور راوی ہے اس لئے یہ لوگ اس سے روایت کرنے کے وقت تدلیس کرتے ہیں عبداللہ بن احمد بن سوادة کہتے ہیں: انہوں نے سو سے کچھ زیادہ طریقوں سے اس کے نام کو بدلا ہے میں نے ان تمام ناموں کو ایک کتاب میں جمع کیا ہے(5)
ابن جوزی رقم طراز ہیں: محمد بن سعید بن ابی قیس شامی مصلوب شخص حدیثیں گڑھتا تھا اور لوگوں سے حدیثیں گڑھتا تھا اور لوگوں سے حدیثیں گڑھوا کر بیان کرتا تھا زندیق ہونے کی وجہ سے اس کو پھانسی دی گئی محدثین کی ایک بڑی جماعت نے اس کا نام بدل کے روایت کیا ہے اور اس کا ذکر مبہم رکھا ہے ان کی یہ حرکت شدید عتاب کی مستحق ہے اور انہوں نے لازمی طور پر گناہ کیا ہے اس لئے کہ جو جھوٹے شخص کو تدلیس کر کے پیش کرتا ہے وہ شریعت لینے میں قول باطل کو ترجیح دیتا ہے.(6) اسی طرح کی بات ابن حجر نے بھی لکھی ہے.(7)
.......................................
1 میزان الاعتدال، ج2، ص165. تہذیب التہذیب، ج9، ص163. الضعفاء والمتروکین لابن الجوزی، ج3، ص65. الکامل فی ضعفاء الرجال، ج6، ص140.
2. المقتنی فی سردالکنی، ج1، ص353. الکامل فی ضعفاء الرجال، ج6، ص140. تہذیب التہذیب، ج9، ص163.
3. الجرح والتعدیل، ج7، ص262. میزان الاعتدال، ج6، ص164. الکامل فی ضعفاء الرجال، ص6، ص140، تہذیب التہذیب، ج9، ص163.
4. تہذیب التہذیب، ج9، ص163.
5. میزان الاعتدال، ج6، ص164.166.
6. الضعفاء والمتروکین لابن جوزی، ج3، ص65.
7. تہذیب التہذیب، ج9، ص163.
البتہ ذہبی نے کوشش کی ہے کہ عوام کا بخاری سے حسن ظن بر قرار رہے اس لئے ان کے جرم تدلیس پر خطاء اجتہادی کی ملمع کاری کرتے ہوئے فرماتے ہیں: امام بخاری نے تو اس مصلوب سے بہت سی جگہوں پر روایت لی ہے لیکن ان کا خیال یہ رہا ہوگا کہ یہ کوئی شخص ہے بلکہ اس کو ایک جماعت خیال کیا ہوگا(1) کہ ان مقامات پر جہاں انہوں نے اس سے روایت لی ہے اس شخص کو واحد نہ سمجھ کے ایک جماعت سمجھا ہوگا اس لئے کہ اس کے نام میں ایک جماعت سے مشابہت موجود ہے پس بخاری نے اس شخص واحد کذاب کے بجائے اس کے نام سے جماعت سمجھا، میں کہتا ہوں یہ توجیہ بعید از قیاس تو خیر ہے ہی اس کے ساتھ ہی بخاری کا ایک دوسرا عیب بھی ظاہر کرتی ہے یعنی وہ رجال کی معرفت نہیں رکھتے تھے.ابن حجر لکھتے ہیں: محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ بخاری جو امام ہیں ان کے بارے میں عبداللہ بن منذہ نے کہا ہے کہ وہ تدلیس کرتے تھے ابن منذہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ بخاری جہاں بھی قال فلاں اور قال لنا فلاں کہتے ہیں وہاں تدلیس کرتے ہیں حالانکہ ابن منذہ کے اس قول سے کسی نے اتفاق نہیں کیا ہے اس لئے بخاری کے اس فلاں لنا فلاں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا جملہ بخاری اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں جس کو انہوں نے اپنے کان سے سنا نہیں ہے بلکہ کسی سے سنا ہے لیکن اپنی یہ شرط پوری نہیں تھی یا شاید وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مجھ سے کہا یا میرے لئے کہا گیا وغیرہ تو یہ انداز تحریر بخاری کی تدلیس کی طرف اشارہ نہیں کرتا بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ ان کے فن حدیث کی ایک نئی سنت ہے جو ان کی ایجاد ہے.(2) ابن منذہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ امام مسلم نے جن حدیثوں کو اپنے مشائخ سے نہیں سنا اس کی روایت یوں کرتے ہیں کہ مجھ سے فلاں نے کہا،(3) یہی تدلیس ہے مرحوم شیخ مظفر نے علماء اہل سنت کی تدلیس کے بارے میں بہت طویل گفتگو کی ہے جس کا یہاں پر تذکرہ کرنا ممکن نہیں ہے.(4)
......................................
1. میزان الاعتدال،ج6، ص166.
2. طبقات المدلسین، لابن حجر، ص24.
3. طبقات المدلسین، لابن حجر، ص26.
4. دلائل الصدق، ص15.16.
برادران اہل سنت کے عام رجال حدیث میں تدلیس اتنی رائج ہے کہ شعبہ لکھتے ہیں: میں نے عمرو بن مرہ اور ابن عون کے علاوہ رجال حدیث میں کسی کو تدلیس سے پاک نہیں پایا.(1)
ذہبی لکھتے ہیں بقیہ عجائب و غرائب کا خالق اور منکرات کا راوی عبدالحق نے غیر حدیث میں لکھا ہے، بقیہ کی حدیثوں سے احتجاج نہیں کیا جاتا پھر اسی بقیہ سے احدیثیں بھی لی ہیں اور ان حدیثوں کی کمزوری ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے ابوالحسن بن قطان کہتے ہیں( بقیہ) ضعفاء کے حوالے سے روایت کرتا اور تدلیس کرتا اور تدلیس کو جائز سمجھتا تھا اگر ہر بات صحیح ہے تو پھر اس کی عدالت فاسد ہے میں کہتا ہوں خدا کس قسم یہ بات صحیح ہے وہ ایسا کرتا تھا اور صرف وہی نہیں ولید بن مسلم بھی ایسا کرتے تھے بلکہ ایک بڑی جماعت اس نیک کام کو کرتی تھی یہ ایک مصیبت اور بلائ عظیم ہے لیکن انہوں نے یہ کام اجتہاد کی بنیاد پر کیا ہے اس شخص کے نام کو ساقط کر کے انہوں نے تدلیس اس لئے کی ہے کہ وہ شخص عمدا جھوٹ بولتا تھا یہ بہترین عذر ہے جو ان کی طرف سے پیش کیا جاسکتا ہے.(2)
ذہبی نے سیر اعلام نبلاء میں ابوالحسن بن قطان کی ایک گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے ہاں مجھے یقین ہے کہ وہ (بقیہ) تدلیس کرتا تھا اس کا رفیق ولید بن مسلک اور دوسرے لوگ بھی تدلیس کے مرتکب ہوتے رہتے تھے لیکن ان کی مجبوری تھی ان کے بارے میں یہ خیال نہیں کیا جاسکتا ہے انہوں نے اپںی حدیثوں کی وضع اسی وجہ سے کی ہے.(3)
ابن جنان لکھتے ہیں: میں حمص یا تو سب سے اہم کام یہ تھا کہ میں وہاں بقیہ کے حالات معلوم کروں میں نے اس کی حدیثوں کی تلاش کی اور ایک نسخہ تیار کیا وہ حدیثیں بھی تلاش کیں جو کوئی
.............................................
1. سیر اعلام النبلاء، ج5، ص197، تہذیب التہذیب، ج8، ص89. التعدیل والجرح، ج3، ص975. میزان الاعتدال، ج5، ص346.
2. میزانالاعتدال، ج2، ص53.54.
3. میزان الاعتدال، ج8، ص528.
اونچا درجہ نہیں رکھتی تھیں بہر حال سب کچھ دیکھ کے میں نے محسوس کیا کہ بقیہ ثقہ اور مامون ہے لیکن تدلیس کرتا ہے عبداللہ بن عمرو اور شعبہ کے نام سے تدلیس کرتا ہے وہ حدیثیں لیتا ہے مجاشع بن عمرو، سری بن عبدالحمید، عمرو بن موسی میتمی جیسے لوگوں سے ان حدیثوں کو منسوب کردیتا ہے ان ثقات کی طرف جنہیں اس نے اپنے دور میں دیکھا تھا یعنی ان ضعفاء کے اقوال کو ان ثقات کی طرف منسوب کر کے تدلیس کردیتا ہے اب وہ یوں حدیث بیان کرتا ہے عبداللہ نے کہا، مالک نے کہا تو لوگ سمجھتے ہیں کہ عبداللہ نے بقیہ سے کہا اور مالک نے بقیہ سے کہا دونوں راویوں کے درمیان جو ناقابل اعتبار نام ہے وہ ساقط ہو حاتا ہے.(1) ویسے مدلسین کے بارے میں ایک جماعت نے کتابیں اور رسالے لکھے ہیں ان مصنفین کے نام یہ ہیں حسین بن علی کرابیسی،(2) علی بن مدینی،(3) نسائی،(4) دارقطنی،(5) ابوالوفاء حلبی،(6) ابن حجر عسقلانی،(7) اور سیوطی وغیرہ(8)
خطیب بغدادی فرماتے ہیں اکثر اہل علم کے نزدیک تدلیس ایک مکروہ فعل ہے بعض علمائ نے تو اس کی بہت مذمت کی ہے بعض علماء اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ تدلیس سے بری ہیں(9) شعبتہ کہتے
................................................
1. میزان الاعتدال، ج2، ص47.
2. ابن ندیم کی الفہرست، ج1، ص256، کشف الظنون، ج1، ص89.
3. الفہرست، ابن ندیم، ج1، ص322.
4. کشف الظنون، ج1، ص89.
5. کشف الظنون، ج1، ص89.
6. کشف الظنون، ج1، ص89.
7. کشف الظنون، ج1، ص89.
8. الکفایہ فی علم الروایہ، ص355.
9. الکفایہ فی علم الروایہ. ص355.
ہیں:تدلیس جھوٹ کا بھائی ہے(1) یہ بھی فرمایا کہ تدلیس زنا سے شدید گناہ ہے تدلیس کرنے کی بہ نسبت میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ آسمان سے پھینک دیا جائوں اسی طرح بہت سے علماء نے اس فعل کی مذمت کی ہے،(2) ابی اسامہ نے کہا: خداوند عالم مدلسین کا خانہ خراب کرے وہ تو میرے ننزدیک کذاب ہیں،(3) ابن مبارک نے کہا: میرے نزدیک تدلیس حدیث سے بہتر یہ ہے کہ میں آسمان سے منھ کے بل پھینک دیا جائوں.(4)
اس میں کوئی شک نہیں کہ بخاری اور مسلم بلکہ اصول ستہ کےہرمولف نے اپنی کتابوں میں ایسے لوگوں سے روایت کرنے میں تکلف سے کام نہیں لیا ہے جو مطعون ہیں حالانکہ ان کی کتابوں پر صحاح کا اعلان ہوتا ہے تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ صحاح ستہ جن کی صحت اور وثاقت کے بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں ایسے راویوں کی روایتوں سے بھری پڑی ہیں جنہیں جھوٹ، تدلیس اور نصب سے پرہیز نہیں ہے شیخ مظفر مرحوم نے اسی کتاب دلائل صدق کے مقدمہ پر ان افراد کی ایک بڑی جماعت کا تذکرہ کیا ہے اہل سنت کے بڑے عالم ابن حجر نے اس طرح کے لوگوں کی نشان دہی کرنے کے لئے الگ سے ایک رسالہ لکھا ہے جس کا نام ہے فی مقدمہ فتح الباری المطعون من رجال البخاری اس رسالہ میں رجال مطعون کا نام دے کے ابن حجر نے اس کی دفاع کی کوشش کی ہے.
.............................................
1.الکفایہ فی علم الروایہ، ص356.
2. الکفایہ فی علم الروایہ، ص356.
3. الکفایہ فی علم الروایہ، ص356.
4. الکفایہ فی علم الروایہ، ص356.
ہم اس سلسلے میں مزید جستجو نہیں کرنا چاہتے میرا خیال ہے کہ قاری کو مذکورہ بالا صفحات پڑھنے کے بعد خود یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ جن کتابوں میں مطعون، کاذب، مدلس اور ناصبی افراد سے روایتیں بھری پڑی ہوں کیا انہیں صحاح کا نام دیا جاسکتا ہے یہ سوال مطعون اور بخاری ہی کے لئے نہیں بلکہ ان تمام جھوٹی چھ کتابوں کے لئے ہے انہیں برادران اہل سنت صحاح کے نام سے جانتے ہیں اور اس کی حدیثوں کو قبول کرنے پر اجماع کے دعوے دار ہیں نیز جن کی خبروں کومقطوع الصحتہ مانتے ہیں میں کہتا ہوں ان خبروں کو ثقہ نہیں کہا جاسکتا صحیح اور مقطوع الصحہ ہونا تو دور کی بات ہے.
20. یہ بات سب کو معلوم ہے کہ صحاح ستہ میں مرسل(1) اور مقطوع(2) حدیثوں کی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے پھر ان کتابوں کے مصنفوں کے لئے جائز نہیں ہے کہ ایسی احادیث کی صحت کو مقطوع سمجھیں ان کے بعد آنے والوں کے لئے اس طرح کا عقیدہ تو بالکل ہی خارج از قیاس ہے اس لئے کہ بعد والے تو ان حدیثوں کے صدور کے وقت موجود نہیں تھے اور نہ کسی معصوم شخصیت کی طرف رجوع کرسکتے تھے ایسا معصوم جس کی تصحیح یا تکذیب سے حدیثوں کی صحیح معرفت حاصل ہو بلکہ میں کہتا ہوں کہ وہاں تو ہر دور میں جذبات، اجتہادات اور ظن کی اجارہ داری ہی قطع کی گنجائش کہاں ہے ظن وغیرہ کی حجیت پر اللہ نے کئی آیتیں نازل کی ہیں رہ گئی حدیث صداقت تو ہمارے بڑے بھائی حدیثوں کی چھان بین اور حدیثوں کی نقد و جرح میں بلکہ اخذ اصول میں ہمیشہ سہل انگاری اور تساہلی سے کام لیتے رہے ہیں.
امرثانی. ان کتابوں میں ایسی حدیثیں بھی ہیں جو سراسر عقل کے خلاف ہیں اور جس کا باطل ہونا سب کو معلوم ہے عقل،نص صریح نیز کتاب کریم کے مخالف ہیں، کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں.
...............................................
1.صحیح بخاری، ج1، ص150.
2.صحیح بخاری، ج1، ص445، کتاب الجنائز.
1. ان کتابوں میں ایسی حدیثیں موجود ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ جسم رکھتا ہے مکان رکھتا ہے انتقال زمانی و مکانی کرتا ہے اور اللہ تغیر پذیر بھی( معاذ اللہ) اس سلسلے میں بس اتنا کافی ہے ورنہ بات نکلے گی تو پھر دور تک جائے گی اور یہاں پر تفصیل میں جانے کی گنجائش نہیں ہے ویسے ہمارے علماء نے اپنی کتابوں میں ان مسائل پر سیر حاصل بحث کی ہے.
2. عائشہ سے شیخین ( مسلم و بخاری) روایت کرتے ہیں فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم پر وحی کی ابتداء رویائے صادقہ سے نیند میں ہوئی پھر آپ پر حق اس وقت آیا جب آپ غار حرا میں ہوا کرتے تھے فرشتہ آپ کے پاس غار میں آیا اور بولا، پڑھئے نبی کہتے ہیں میں نے کہا میں قاری نہیں ہوں پس اس نے مجھ کو پکڑ کے دبا دیا یہاں تک مجھے تکلیف محسوس ہوئی پھر چھوڑ کے کہا پڑھئے: میں نے کہا میں پڑھا لکھا نہیں ہوں اس نے مجھے تیسری بار پکڑا اور دبا کے چھوڑ دیا پھر کہا پڑھئے: اپنے رب کا نام جس نے پیدا کیا.
یہاں تک کہ، انسان کو ان باتوں کی تعلیم دی جو وہ نہیں جانتا تھا.
پس سرکار دو عالم(ص) اس حال میں گھر کی طرف جلے کہ آپ کے اعضاء و جوارح میں رعشہ تھا یہاں تک کہ آپ خدیجہ کے پاس آئے اور فرمایا مجھے اڑھا دو مجھے اڑھا دو پس لوگوں نے آپ پر کمبل اڑھا دیا تو آپ کے جسم کی لرزش جاتی رہی آپ نے خدیجہ سے فرمایا خدیجہ دیکھو تو مجھے کیا ہوگیا ہے او خدیجہ سے ساری بات بتا دی پھر کہنے لگے مجھے اپنی جان کا خوف ہے ام المومنین نے فرمایا نہیں نہیں اچھائی کی امید رکھئے خدا آپ کو کبھی ذلیل نہیں کرے گا اس لئے کہ آپ صلہ رحم کرتے ہیں لوگوں کے بار کو اٹھاتے ہیں سچ بولتے ہیں مہمان نوازی کرتے ہیں اور مصیبتوں میں حق کی مدد کرتے ہیں.
پھر ام المومنین ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزیز ابن قصی کے پاس گئیں ورقہ ام المومنین کے باپ کی طرف سے چچا زاد بھائی تھے ایام جاہلیت میں نصرانی مذہب کے پیرو تھے عربی لکھنا
جانتے تھے اور انہوں نے عربی میں انجیل لکھی تھی اب بہت بوڑھے ہوچکے تھے آنکھوں کی بینائی ضائع ہوچکی تھی بہر حال خدیجہ نے ان سے کہا اے ابن عم اپنے بھتیجے کی باتیں سنئیے ورقہ نے کہا اے محمد(ص)! بولو کیا کہہ رہے ہو سرکار دو عالم نے من و عن پوری کہانی سنا دی ورقہ کہنے لگے یہ تو وہی ناموس ہے جو موسی(ع) پر نازل ہوئی تھی.(1)
مذکورہ بالا روایت کو جو دونوں صحیح یعنی مسلم اور بخاری میں موجود ہے غور سے پڑھئے تو آپ کی سمجھ میں بات آجائے گی کہ یہ روایت کذب و افتراء کے کس درجہ پر فائز ہے؟ یہ روایت بتاتی ہے کہ پیغمبر(ص) کو یہ معلوم نہیں کہ وہ نبی ہیں فرشتہ آیا اس نے آپ کو پڑھایا پھر بھی آپ کو یقین نہیں آیا کہ آپ نبی ہیں حالانکہ تاریخ کہتی ہے کہ آپ کی ابتداء حیات ہی سے آپ کی ذات میں آثار نبوت و رسالت نمایاں ہوچکے تھے، محدثین کہتے ہیں کہ آپ کی پیشانی پر نور نبوت چمک رہا تھا کہ کفار و مشرکین آپ کی انفرادی حیثیت کے قائل تھے نہیں معلوم تھا تو صرف آپ کو نہیں معلوم تھا نبی ہیں خدیجہ کو بھی کچھ پتہ نہیں تھا وہ آپ کو ورقہ ابن نوفل کے پاس لے کے گئیں وہاں ورقہ ابن نوفل نے محض انداز اور جودت فکر کی بنیاد پر بتایا کہ مبارک ہو آپ نبی ہوگئے یا اللہ ہم کس کی تصدیق کریں ورقہ کے ذہانت کی یا نبی کی نبوت کی یا اس حدیث کی جو نبی(ص) کو درجہ وحی و الہام سے گھٹا کے ایک عام آدمی کی فہرست میں داخل کرتی ہے.
ابوہریرہ کے حوالے سے شیخین کی یہ روایت بھی ملاحظہ ہو ابوہریرہ کہتے ہیں پیغمبر(ص) نے دعا کی پالنے والے میں تجھ سے ایک معاہدہ کرتا ہوں تو اس کی مخالفت نہ کرنا اس لئے کہ میں صرف ایک بشر ہوں پس میں نے اگر کسی مومن کو اذیت دی ہو، گالی دی ہو، لعنت کی ہو یا تازیانہ مارا ہو تو میرے اس فعل کو اس مومن کے لئے نماز، زکوة اور قربانی قرار دینا جس کے ذریعہ تو قیامت تک اس کو خود سے قربت کرتا رہنا.(2)
.............................................
1.صحیح بخاری، ج6، ص256، کتاب البقیر؛ صحیح بخاری، ج1، ص140، کتاب الایمان؛ رسول اللہ پر وحی کا آغاز.
2.صحیح مسلم، ج4، ص3008، کتاب البر والصلتہ والآداب.
مذکورہ بالا حدیث کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کیا وہ سچی ہوسکتی ہے؟ اگر یہ حدیث سچی ہے تو پھر نبی(ص) میں جو صاحب خلق عظیم ہیں اور ان شاہان جور میں جن کی پہچان سرکشی اور ظلم ہے کیا فرق رہا؟ اور جب نبی(ص) صرف ایک بشر ہیں اور بشر بھی ایسے جو جذبات کے محکوم اور بے گناہ مومن پر ظلم کرتے ہیں جب بے گناہ پر ظلم محض جذبات سے متاثر ہوکے کیا جاسکتا ہے تو گناہ گار کی تعریف بھی جذبات سے مغلوب ہوکے کی جاسکتی ہے پھر نبوت اور رسالت کہاں پہنچی؟!
اس حدیث کو صحیح مان لینے کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نبی کی زبان سے کسی کی مدح و ثناء اور نبی کی زبان سے کسی پر لعنت کوئی حیثیت نہیں رکھتی اور نبی کی بشری جذبات کا تقاضہ قرار پاتی ہے حالانکہ ہمارا عقیدہ ہے نبی کسی کی تعریف کرتے ہیں تو یہ ممدوح کے ایمان کی نشانی ہے اسی طرح نبی کس کی مذمت یا کسی پر لعنت کرتے ہیں تو یہ ملعون کے نفاق کی پہچان ہے اس کے علاوہ یہ حدیث کیا نبی کی ہتک حرمت نہیں کرتی اور یہ حدیث کیا نبی کو لوگوں کی نگاہ اعتبار سے ساقط نہیں کرتی؟(معاذ اللہ من ذالک)
لیکن صاحب بصیرت اس بات کو خوب سمجھتا ہے کہ اس طرح کی حدیث سرکار رسالت پر کھلا ہوا افتراء اور بہتان ہیں ان حدیثوں کو موجودگی کا سبب یہ ہے کہ سرکار رسالت(ص) نے بہت سے منافقین قریش کی اکثر مذمت کی اور ان پر لعنت کی پس آپ کی لعنت اور مذمت کی وزن کو گھٹانے کے لئے منافقین نے اس طرح کی حدیثیں گڑھ کے حفاظ حدیث کے حوالے کردیں یہ سیرت نبی کو گھٹانے کی دوسری کوشش ہے اس لئے کہ وہ لوگ پہلی کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے پہلی کوشش کب ہوئی تھی؟ آپ کو یاد ہوگا آپ کے چوتھے سوال کے جواب میں عبداللہ بن عمر سے ایک روایت گذر چکی ہے، عبداللہ بن عمر کہتے ہیں: میرا طریقہ یہ تھا کہ میں پیغمبر(ص) سے جو کچھ سنتا تھا یاد رکھنے کے خیال سے لکھ لیا کرتا تھا قریش کو یہ بات بہت بری لگی وہ کہنے لگے صاحبزادے یہ تو بہت بری بات ہےکہ آپ نبی سے جو کچھ سنتے ہیں لکھ لیتے ہیں ذرا سوچئے تو نبی ایک بشر ہیں کبھی غصہ میں بولتے ہیں کبھی خوش ہو کے بولتے ہیں( مطلب یہ کہ نبی کے بشری جذبات کو دین نہ بنائو) مترجم غفرلہ.
ابن عمر کہتے ہیں، پس میں نے حدیثیں لکھنا بند کردیں لیکن جب سرکار رسالت(ص) کو معلوم ہوا تو فرمایا میاں تم لکھتے رہو! اس لئے کہ اس کی قسم جس کی دست قدرت میں میری جان ہے میں نہیں بولتا مگر حق.(1)
سنت نبوی کے باب کو مسدود کرنے کی منافقین کیسی کیسی سازشیں کرتے تھے انشاء اللہ میں اس سلسلے میں وقت پر اپنی عادت سے بطدے کے مزید عرض کروں گا.
(اب ایک مضحکہ خیز روایت پھر ملاحظہ کریں) مترجم غفرلہ
3. مسلم اپنی سند سے ابن عباس سے روایت کرتے ہیں، مسلمان ابوسفیان کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے اور اس کے پاس اٹھتے بیٹھتے نہیں تھے، اس نے نبی سے عرض کی حسین ترین خاتون ام حبیبہ ہے آپ اس سے نکاح کر لیں فرمایا کر لیا اب دوسری بات بولو کہنے لگا معاویہ کو اپنا کاتب وحی قرار دیں، فرمایا یہ بھی صحیح،تیسری خواہش کیا ہے؟ کہنے لگا مجھے مسلمانوں کے لشکر کا امیر بنا دیں، تاکہ میں کفار سے اسی طرح لڑتا رہوں جیسا زندگی بھر مسلمانوں سے لڑتا رہا.(2)
جمہور اہل سنت کے نمایاں افراد کی ایک جماعت نے اس روایت پر طعن کیا ہے، ابن قیم کہتے ہیں کہ مسلم نے اپنی صحیح میں یہ حدیث نقل کی ہے عکرمہ بن عمار نے کہا مجھ سے ابن عباس نے کہا کہ مسلمان ابوسفیان کی کوئی حیثیت نہیں سمجھتے تھے اور اس کے پاس اٹھتے بیٹھتے نہیں تھے الی آخر.
حدیث، اس حدیث کو حفاظ کی ایک جماعت نے مردود قرار دیا ہے اور اس حدیث کو مسلم کے اغلاط میں شمار کیا ہے، چنانچہ ابن حزم کہتے ہیں اس حدیث کے موضوع ہونے میں کوئی شک نہیں
...............................................
1.مسند احمد، ج2، ص164. سنن ابی دائود، ج3، ص318. سنن دای، ج1، ص136. المستدرک علی الصحیحین، ج1، ص176. تحفتہ الاحوذی، ج7، ص357.
2.صحیح مسلم، ج4، ص1945، کتاب فضائل الصحابہ.
اور اس حدیث کی آفت عکرمہ بن عمار ہے(1) دلیل یہ ہے ک اس سے کسی کو اختلاف نہیں کہ سرکار دو عالم(ص)نے فتح مکہ سے پہلے ام حیببہ سے نکاح کیا تھا جب ان کا باپ کافر تھا.
ابوالفرج جوزی اپنی کتاب “الکشف” میں لکھتے ہیں یہ روایت راویوں کے وہم کا نتیجہ ہے اس کے موہوم ہونے میں گنجائش نہیں،نہ کوئی تردد ہے لوگوں نے عکرمہ پر جھوٹ کا الزام لگایا ہے، عکرمہ بن عمار جو اس کا راوی ہے جھوٹا ہے یحیی بن سعید انصاری نے اس کی تضعیف کی ہے اور کہا ہے اس کی حدیثیں صحیح نہیں ہوتیں، اسی طرح احمد بن حنبل نے کہا کہ یہ حدیث ضعیف حدیثوں میں سے ایک ہے بخاری نے تو عکرمہ سے کوئی حدیث ہی نہیں لی البتہ مسلم اس سے حدیثیں لیتے تھے اس لئے کہ یحیی ابن معین نے اس( عکرمہ) کو ثقہ کہا ہے.
ابن جوزی کہتے ہیں؛ میں تو اس بات کا عئل ہوں کہ یہ حدیث ایک وہم ہے، اس لئے کہ تاریخ شاہد ہے کہ ام حبیبہ پہلے عبداللہ بن جحش کے عقد میں تھیں انہیں اولاد بھی ہوئی تھی جو عبداللہ کے نطفے سے تھی پھر دونوں نے ہجرت کی اس وقت دونوں مسلمان تھے اور ہجرت حبشہ کے لئے ہوئی تھی وہاں جا کے عبداللہ بن جحش نصرانی ہوگیا لیکن ام حبیبہ اپنے دین پر باقی رہیں پس سرکار دو عالم(ص) نے شاہ نجاش کے ذریعہ ان کے پاس پیغام بھیجا تو شاہ نجاشی نے پیغمبر(ص) کی تزویج ام حبیبہ سے کردی اور پیغمبر(ص) کی طرف سے چار ہزار دینار مہر ادا کیا یہ بات سنہ7 ہجری کی ہے نبوت (؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اشتباہ ہے احتمالا ثبوت ہوگا نہ نبوت) یہ ہے کے ابوسفیان زمانہ امن میں مدینہ آیا اور اپنی بیٹی ام حبیبہ کے گھر گیا اس نے اہا کہ اپنے نجس جسم کے ساتھ فرش پیغمبر(ص) پر بیٹھ جائے لیک ام حبیبہ نے بستر سمیٹ دیا پس وہ اس سعادت سے محروم رہا اس میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے معاویہ اور ابو سفیان فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے اور یہ بات بھی کوئی ماننے کو تیار نہیں کہ پیغمبر(ص) نے ابوسفیان (جیسے مکار) ک مسلمانوں کے لشکر کا امیر بنایا تھا.
................................
1.اگر اس میں آفت عکرمہ بن عمار کی وجہ سے ہے جب کہ وہ تابعین کے پہلے طبقہ میں شمار ہوتا ہے تو پھر کیسے بعد کے راویوں پر یہ بات پوشیدہ رہی یہاں تک کہ مسلم پر یہ سلسلہ منتہی ہوجاتا ہے؟
البتہ لوگوں نے اس حدیث کو صحی ثابت کرنے کی کوشش میں بڑی فاسد تاویلیں کی ہیں جیسے کسی نے کہا اصل میں ابوسفیان اس حدیث میں تجدید نکاح چاہتا ہے کسی نے کہا یہ بات نہیں ہے اصل میج ابوسفیان سمجھتا تھا کہ بغیر اس کے اذن نکاح ادھورا ہے اس لئے اس نے نبی سے اس طرح کا سوال کیا اورنبی نے بھی سوچا کہ چلو اس کی مرضی یوں ہے تو یوں ہی صحیح اس کا دل تو خوش ہو جائے گا اس لئے نبی نے فرمایا کہ ٹھیک ہے میں(دوبار) صیغہ جاری کر لوں گا کسی نہ کہا ابوسفیان نے سمجھا کہ تخییر کی وجہ سے طلاق ہوگئی تو اس نے اس خواہش سے گویا نبی کو رجوع کرنے کے لئے کہا اور پھر اپنی طرف سے نکاح کی خواہش کی ایک صاحب نے کہا یہ سب کچھ نہیں تھا بلکہ ابوسفیان یہ سمجھ رہا تھا کہ ام حبیبہ سے پیغمبر(ص) ناراض ہیں اور نا پسند کرتے ہیں اس لئے اس نے کہا کہ ایک بار پھر انکحت کہہ دیں تا کہ نکاح استمرار ہو جائے نہ ابتداء نکاح مقصود ہو ایک صاحب بہت دور کی کوڑی لائے کہنے لگے اصل میں ابوسفیان نے اپنے اسلام کی شرط رکھی تھی یہ بات اس کے مسلمان ہونے سے پہلے کی ہے وہ خدمت پیغمبر(ص) میں اسلام لانے کے لئے حاضر ہوا تو کہنے لگا کہ میں تو اسی وقت مسلمان ہوں گا جب آپ میری یہ تین شرطیں مانیں گے یا اس کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر میں مسلمان ہو جائوں تو آپ مجھے یہ تین فضیلتیں عنایت فرمائیں گے، جناب محب الدین طبری نے اسی آخری تاویل پر اعتماد کیا ہے ان سے اس روایت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب میں مذکورہ بالا توجیہ فرمائی پھر ایک لمبی تقریر فرمائی بلکہ ایک صاحب نے تو کمال کر دیا کہنے لگے اصل میں ابوسفیان چاہتا تھا کہ سرکار دو عالم(ص) اس کی دوسری بیٹی سے بھی نکاح کر لیں وہ نیا مسلمان تھا اور جمع بین اختین کے مسئلے سے نا واقف تھا یہ مسئلہ اس کی بیٹی ام حبیبہ کو بھی معلوم نہیں تھا یہاں تک کہ ام المومنین نے پیغمبر(ص) سے پوچھا، راوی نے ابوسفیان کی بیٹی کے نام میں غلطی کی ہے. ظاہر ہے کہ یہ تاویلیں اصلا باطل اور فاسد ہیں ائمہ حدیث اور ارباب علم اس طرح کی تاویلوں کو پسند نہیں کرتے اور راویوں کی غلطی کو ان فاسد خیالات کو ڈھال بنا کے نہیں چھپاتے اور اتنی لچر تاویل کو قبول نہیں کرتے ان دلیلوں
کے بطلان کے لئے تھوڑی سی فکر ہی کافی ہے.
آخری تاویل یوں دیکھنے میں تو ذرا کم فاسد ہے لیکن سوچئے تو تمام تاویلوں سے زیادہ باطل اور جھوٹ کا پلندہ ہے، وہ حدیث خود اپنی در پر صراحت کرتی ہے ملاحظہ فرمائیے، اس تاویل کے مطابق ابوسفیان پیغمبر(ص) سے کہتا ہے میں ام حبیبہ کا نکاح آپ سے کرنا چاہتا ہوں، نبی کہتے ہیں بہتر ہے کر دو، اب اگر ابوسفیان کی مراد اس کی دوسری بیٹی تھی تو نبی کبھی “ہاں” نہیں کہتے کیوں کہ اگر ابوسفیان جاہل مسئلہ تھا نبی(ص) تو مسئلے سے واقف تھے اس تاویل کے غلط ہونے میں بحث و تردد کی کوئی گنجائش نہیں ہے.(1) میں نے یہ تین حدیثیں تو صرف نمونے کے طور پر آپ کے سامنے پیش کی ہیں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ جن حدیث کی کتابوں کو صحاح کے لیبل سے زینت دی گئی ہے ان کتابوں کے اندر کیسے کیسے خرافات اور غلط روایات کو جگہ دی گئی ہے میں اس سلسلے کو یہیں تمام کرتا ہوں اور صاحبان ذوق کو مزید جستجو کے لئے آواز دیتا ہوں.
امر ثالث : اصول ستہ میں اہل بیت اطہار(ع) کے خلاف بہت سی روایتیں ہیں بلکہ اصول ستہ کا رجحان فکر اہل بیت(ع) کی مخالفت کی طرف ہے.
1. اس حقیقت کا پہلا ثبوت یہ ہے کہ ان کتابوں میں اہل بیت اطہار(ع) سے روایتیں نہیں لی گئی ہیں حالانکہ افراد اہل بیت اپنی صداقت اور اپنے تقدس میں لاثانی اور لا جواب تھے جیسے حضرت صادق آل محمد جعفر صادق(ع) اور دوسرے وہ افراد بھی جو اہل بیت(ع) کے خانوادہ سے تھے دوسری طرف ان کتابوں میں ایسے لوگوں سے روایتیں بھری پڑی ہیں جن کی بد کرداری جھوٹ اور فریب کاری نوشتہ دیوار اور اہل بیت(ع) سے دشمنی ظاہر ہے جیسے مروان بن حکم، سمرہ بن جندب اور عمران ابن حطان وغیرہ.
......................................
1.سنن ابن دائود پر ابن قسیم کا حاشیہ، ج6، ص75.76، اور اس سے ملتی جلتی زاد الہاد، ج1، ص109.112، پر ہے فصل ازدواج نبی(ص) سے متعلق، جلاء الافہام، ص248.
2. دوسری بات یہ ہے کہ ان کتابوں میں فضائل اہل بیت(ع) میں کم سے کم حدیثیں بیان کی گئی ہیں جو تھوڑی بہت حدیثیں اس موضوع پر پائی جاتی ہیں وہ شدید حذف و ترمیم کا شکار ہیں فضائل اہل بیت(ع) میں جو حدیثیں ہیں ان میں کوشش یہ کی جاتی ہے کہ تخفیف کر کے یا تضعیف کر کے اہل بیت(ع) کے مرتبہ کو کم کیا جائے یا کم کر کے پیش کیا جائے اسی طرح دشمنان اہل بیت(ع) کے بارے میں جو حدیثیں ہیں اور ان حدیثوں سے دشمنوں کی تخفیف ہوتی ہے تو یہ کوشش کی جاتی ہے کہ ان حدیثوں کو تضعیف قرار دیا جائے خاص طور سے مسلم اور بخاری میں یہ حرکت زیادہ کی گئی ہے ان کتابوں میں حقیقت بہت صاف جھلکتی ہے چند مثالیں ملاحظہ ہوں.
1. سابقہ سوالوں کے ساتویں سوال کے جواب میں عرض کیا جاچکا ہے کہ بخاری نے حدیث غدیر کو اپنی کتاب میں جگہ نہیں دی ہے حالانکہ حدیث غدیر کی شہرت تواتر سے کہیں زیادہ ہے.
2. حدیث غدیر کے ساتھ مسلم کا رویہ منافقانہ ہے انہوں نے حدیث غدیر میں سرکار دو عالم(ص) کے خطبہ میں سے اس خطبے کو اڑا ہی دیا ہے جس میں ولایت امیرالمومنین(ع) کا ذکر ہے حالانکہ ولایت امیرالمومنین(ع) ہی اس خطبے کا مقصد ہے.
3. حدیث ثقلین ایک ایسی حدیث ہے جو تواتر کی حدوں سے کہیں آگے ہے لیکن بخاری نے اس حدیث کو جگہ نہیں دی ہے.
4. بخاری اور مسلم نے اسود سے روایت کی ہے: لوگوں نے عائشہ سے کہا کہ علی نبی کے وصی ہیں عائشہ نے کہا پیغمبر(ص) نے ان کو وصی کب بنایا آپ آخر وقت میں میرے سینے پر تکیہ کر کے لیٹے تھے یا یہ کہا کہ میری گود میں تھے پس آپ نے طشت مانگا پھر آپ میری گود ہی میں پیٹ کے بل ہوگئے میں تو یہ بھی نہ سمجھ سکی کہ آپ وفات پاچکے ہیں پھر آپ نے علی کو وصی کب بنایا؟(1) لیکن ام سلمہ سے ایک روایت پائی جاتی ہے جو عائشہ کی روایت کے بالکل برعکس ہے فرماتی
..............................................
1.صحیح بخاری، ج3، ص1006، کتاب الوصایا.
ہیں: اس ذات کس قسم جس کی قسم میں کھاتی ہوں کہ پیغمبر(ص) سے علی(ع) سے زیادہ قریب تھے جب ہم دوسرے دن حضرت کی خدمت میں پہونچے تو آپ بار بار پوچھ رہے تھے علی(ع) آئے؟ علی آئے؟ صدیقہ طاہرہ(ع) نے کہا بابا آپ ہی نے تو انہیں کسی کام سے بھیجا ہے ام سلمہ کہتی ہیں اس کے بعد علی(ع) آگئے ہم نے سمجھا نبی(ص) علی(ع) سے کوئی راز کی بات کہنا چاہتے ہیں اس لئے ہم لوگ حجرے سے باہر نکل گئے اور دروازے پر بیٹھ گئے میں دروازے سے زیادہ قریب تھی پھر رسول اللہ(ص) نے علی(ع) کو خود سے لپٹا لیا اور علی(ع) کو اپنے داہنے طرف لیٹا کے راز کی باتیں کرتے رہے آپ کا انتقال ہوگیا پس علی(ع) پیغمبر(ص) سے سب سے زیادہ قریب تھے.(1)
ام المومنین ام سلمہ کی اس روایت کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہیں جو امیرالمومنین(ع) اور آپ کی اولاد طاہرہ سے مروی ہےجس میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضور سرور کائنات(ص) نے امیرالمومنین(ع) کی گود میں وفات پائی اور صرف علی(ع) ہی تھے جو آخری وقت میں پیغمبر(ص) کے پاس موجود تھے.(2)
مندرجہ بالاروایت کی ابن عباس کی گفتگو سے مزید تاکید ہو جاتی ہے کیونکہ ابن عباس نے عائشہ کے بیان کا انکار کیا ہے روایت یوں ہے ابو عطفان کہتے ہیں میں نے ابن عباس سے پوچھا آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا وفات پیغمبر(ص) کے وقت آپ کا سر اقدس کسی کی گود میں تھا؟ ابن عباس نے کہا ہاں اس وقت آپ علی(ع) کے سینے سے تکیہ لگائے ہوئے تھے میں(ابو غلطان) نے کہا عروہ نے مجھے بتایا کہ ان سے عائشہ نے کہا پیغمبر(ص) نے میری ٹھڈی اور گردن کے درمیان وفات پائی ابن عباس نے کہا کیا تمہاری عقل میں بھی یہی بات آتی ہے نہیں خدا کی قسم پیغمبر(ص) نے وقت
..................................
1.المستدرک علی الصحیحین، ج3، کتاب معرفتہ الصحابہ، مجمع الزوائد،ج9، ص112، المصنف لابن ابی شیبہ، ج6، ص356، مسند اسحاق بن راہویہ، ج1، ص129. 130. مسند احمد ج6، ص300. مسند ابی لیلی، ج12، ص364.404 فضائل الصحابہ لابن حنبل، ج2، ص686. البدایہ والنہایہ، ج7، ص360.
2.الطبقات الکبری، ج2، ص263. فتح الباری، ج8، ص139.
وفات علی(ع) کے سینے پر تکیہ کیا تھا علی(ع) ہی نے آپ کو غسل دیا میرے بھائی فضل بن عباس نے علی(ع) کی غسل دینے میں مدد کی تھی.(1) اس طرح کی ایک اور روایت جابر ابن عبداللہ انصاری سے بھی ہے کہتے ہیں ہم لوگ عمر کے زمانہ خلافت میں عمر کے پاس بیٹھے تھے کعب احبار کھڑے ہوئے اور عمر سے پوچھا کہ امیرالمومنین(ع) بتائیے رسول(ص) کا آخر کلام کیا تھا عمر کہنے لگے علی(ع) سے پوچھو کعب احبار نے پوچھا علی(ع) کہاں ہیں؟ کہا وہاں بیٹھے ہوئے ہیں کعب احبار علی(ع) کے پاس گئے اور وہی سوال کیا علی(ع) نے فرمایا: اس وقت نبی میرے سینے کا سہارا لئے ہوئے کاندھے سے تکیہ کر کے بیٹھے فرما رہے تھے الصلاة الصلاة کعب نے کہا اس طرح انبیاء کی آخری وصیت ہوتی ہے اور اسی کا انہیں حکم دیا گیا ہے اس بات پر وہ مبعوث بھی ہوتے ہیں کعب نے عمر سے پوچھا اے امیرالمومنین نبی کو غسل کس نے دیا تھا کہنے لگے علی(ع) سے پوچھو کعب نے علی(ع) سے پوچھا تو فرمایا: میں نے غسل دیا تھا اور عباس بیٹھے ہوئے تھے.(2) خود عائشہ سے مروی ہے ایک روایت مندرجہ بالا حقیقت کی تائید کرتی ہے عائشہ سے دو عورتوں نے پوچھا کہ ہمیں غسل کے بارے میں بتائیے کہنے لگیں اس شخص کے بارے میں میں کیا بتائوں جس نے وقت وفات نبی(ص) کے دہن اقدس پر ہاتھ رکھا اور نبی کی جان اس کے ہاتھ میں نکلی پھر اس نے اپنے اسی ہاتھ کو اپنے چہرے پر مل لیا جب لوگوں نے پیغمبر(ص) کے دفن کرنے میں اختلاف کیا تو علی(ع) نے کہا کہ زمین کا وہ ٹکڑا جس پر اللہ کے انبیاء وفات پاتے ہیں اللہ کے نزدیک سب سے محبوب ہوتا ہے دونوں عورتیں کہنے لگیں( کہ جب آپ یہ سب جانتی تھیں) تو آپ نے علی(ع)پر خروج کیوں کیا؟ عائشہ نے کہا یہ تو مقدر کی بات اور تقدیر کا فیصلہ تھا مگر مجھے افسوس اتنا ہے کہ اگر میرے لئے ممکن ہوتا تو زمین پر جو کچھ ہے اس کو میں اس گناہ کا فدیہ بنا دیتی.(3)
........................................
1.الطبقات الکبری، ج2، ص263. فتح الباری، ج8، ص139. کنزالعمال، ج7، ص253.254. حدیث18791.
2.الطبقات الکبری، ج2، ص263. فتح الباری، ج8، ص139.
3.مسند ابی یعلی، ج8، ص279. مجمع الزوائد، ج9، ص112. تاریخ دمشق، ج42، ص394. البدایہ والنہایہ، ج7، ص360.361.
عائشہ سے دوسری حدیث بھی ملاحظہ ہو کہتی ہیں پیغمبر(ص) نے فرمایا جب آپ میرے گھر میں عالم احتضار میں تھے میرے حبیب کو بلائو میں نے کہا تم پروائے ہو علی بن ابی طالب(ع) کو بلائو وہ پیغمبر(ص) سوائے ان کے کسی کو نہیں بلا رہے ہیں جب علی(ع) آئے تو نبی(ص) سنبھل کے بیٹھ گئے اور اپنی چادر پھیلا کے علی(ع) کو اس میں داخل کر لیا پھر علی(ع) لیٹے رہے یہاں تک کے آپ کی وفات ہوگئی.(1)
ایک ہی واقعہ کے بارے میں عائشہ کا در نظریہ دیکھ کے آپ کو تعجب نہیں ہونا چاہئے اس لئے کہ یہ اختلاف نظر اصل میں اختلاف حالات کی دین ہے خصوصا عثمان کے بارے میں جو ان کا رویہ تھا اس کی وجہ سے اس نظریہ پر خاصہ اثر پڑا ہے.
میرا خیال ہے کہ مذکورہ بالا حدیثیں جن میں نبی کے آخری وقت میں علی(ع) کو آپ کے پاس دکھایا گیا ہے مزاج نبوت کے زیادہ مناسب اور شان رسالت کے شایان شان ہے اس لئے ان کی صحت میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے یہ بات بالکل بعید از قیاس اور بعید از عقل ہےکہ کائنات آدم و عالم کا آخری نبی اور عالم انسانیت کا قیامت تک کے لئے ہادی اعظم اپنا آخری وقت کسی عورت کی گود میں گذارے جب کہ آخری وقت وہ اہم ترین لمحہ ہوتا ہے جس میں کوئی بھی ناظم اور مدبر اپنے مشن کی کامیابی کا انتظام کرتا ہے اور اپنے مشن کو کامیابی سے چلانے والوں کی محبت میں گذارتا تاکہ اس کو ایک مکمل پروگرام دے سکے، اسی لئے پہلی حدیث میں جب ابن عباس نے راوی سے سنا کہ عائشہ کہتی ہیں نبی نے میں گود میں جان دی تو فورا پوچھا کیا تم کو یہ بات معقول لگتی ہے بہر حال ان تمام باتوں کے با وجود بخاری اور مسلم نے عائشہ کی پہلی حدیث پر اعتبار کیا ہے اور ام سلمہ کی حدیث کو اس کی صحت اور قرین قیاس و عقل ہونے کے باوجود مہمل قرار دیا ہے اور اپنی کتاب میں نہیں لکھا یہاں تک کہ حاکم کو اس بات کا احساس ہوا اور انہوں نے اپنی مستدرک میں اس حدیث ک شامل کر لیا تاکہ سمجھ میں آئے کہ بخاری اور مسلم سے یہ حدیث چھوٹ گئی ہے پھر اس حدیث کو دوسری حدیثوں سے تقویت بھی دی.
..................................
1.المناقب للخوارزمی، ص68. تاریخ دمشق، ج42، ص393. ینابیع المودة، ج2، ص163. ذخائر العقبی، ص72.
5.بخاری اور مسلم نے پنجشنبہ کی مصیبت کے نام جو واقعہ مشہور ہے اس کا تذکرہ کیا ہے پنچشنبہ اپنی زندگی کے آخری پنجشنبہ کو جب پیغمبر(ص) نے چاہا تھا کہ ایسی تحریر و حوالے کر دیں کہ آپ کی امت قیامت تک گمراہی سے محفوظ ہوجائے پیغمبر(ص) کے اس ارادے کو رد کر دیا گیا تھا دونوں محدثین یعنی بخاری اور مسلم نے اس واقعہ کو تو لکھا ہے لیکن اس جسور کا نام گول کر گئے ہیں جس نے نبی(ص) کو رد کیا تھا اسی طرح رد کرنے والے کا یہ جملہ نہیں لکھا ہے کہ پیغمبر(ص) ہذیان بک رہے ہیں.(1) لیکن جب کسی مجبوری کے تحت رد کرنے والے کا نام بتانا ہی پڑتا ہے تو پھر بڑی ذہانت سے عمر کی زبان سے نکلے ہوئے جملے میں تحریف کر دی اور یہ لکھا کہ قول پیغمبر(ص) کو رد کرنے والے تو عمر ہی تھے اور انہوں نے یہ کہہ کے پیغمبر(ص) کی تردید کردی کہ نبی(ص) پر درد کا غلبہ ہے.(2)
6. اس جھوٹی عمر ابن عاص کی یہ حدیث بھی آپ کی نظروں سے گذر چکی ہے جس میں حضور(ص) نے فرمایا کہ آل ابوطالب میرے اولیا نہیں ہیں بلکہ میرا ولی اللہ اور صالح المومنین ہے(3) اس حدیث کو مسلم اور بخاری دونوں نے لکھا ہے.
7. اس جھوٹی اور نا معقول حدیث کو بھی بخاری اور مسلم نے لکھنا بہت ضروری سمجھا ہے جو ابھی گذر چکی ہےکہ مسلمانوں نے ابوسفیان سے معاملہ کر لیا اور وہ نبی کے پاس اپنی گذارشات لے کے آیا تھا حالانکہ وہ مورخین کے اجماع کے صریحا خلاف ہے مورخین کا اس بات پر اجماع ہے کہ نیی(ص) نے ابوسفیان کے اسلام لانے کے پہلے ام حبیبہ سے عقد کیا تھا.
نمونے کے طور پر چند حدیثیں دونوں حضرات کی کتاب سے پیش کی گئی ہیں تاکہ ثابت ہوسکے کہ یہ لوگ دشمنان اہل بیت(ع) کو حدیثوں کے اندر کتنا اوپر اٹھاتے ہیں اور اہل بیت(ع) کی کتنی تخفیف
......................................
1.صحیح بخاری، ج3، ص111. کتاب الجہاد والسیر، صحیح مسلم، ج3، ص1259.
2.صحیح بخاری، ج5، ص2146، صحیح مسلم، ج3، ص1259.
3.پہلے سوال کے جواب میں ان کے مصادر کی طرف اشارہ ہوچکا ہے، ج2، ص59.
اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جمہور اہل سنت کی صحاح خصوصا اصح الکتب صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں رجحان فکر اہل بیت کے خلاف ہے اور ترجیحات اہل بیت(ع) کی ضد میں ہیں.
شاید مسلم اور بخاری کی اہل سنت کے نزدیک خصوصیت خاصہ کی وجہ بھی یہی ہے لاشعوری طور پر سہی اہل سنت مسلم اور بخاری کی طرف اسی وجہ سے زیادہ متوجہ ہیں اور ان کتابوں کی تعظیم و احترام میں کوتاہی حرام سمجھتے ہیں سابقہ سوالوں کے تیسرے سوال کے جواب میں عرض کیا جا چکا ہے اہل سنت حضرات اہل بیت(ع) سے انحراف کو بہت ضروری خیال کرتے ہیں اور جہاں اہل بیت(ع) کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے وہاں ان کی دلچسپیاں بڑھ جاتی ہیں ورنہ حدیث کی ہزاروں کتابوں میں مسلم اور بخاری کو خاص ترجیح دینا کوئی معنی نہیں رکھتا.
میرے مندرجہ بالا دعوے کی روشن دلیل اہل سنت کے امام احمد بن حنبل کے بارے میں متضاد نظریہ ہے امام احمد کی شخصیت اہل سنت کے یہاں بہت اہمیت رکھتی ہے اصول میں ان کو مقدم سمجھا جاتا ہے اس لئے کہ انہوں نے اپنے نظریہ کی وجہ سے تازیانے کھائے ہیں علی بن مدینی کہتے ہیں خدا نے اس دین کی تائید ود آدمیوں کے ذریعہ کی ہے ایک یوم ردہ کے ذریعہ ابوبکر سے اور دوسرے یوم محنت کے ذریعہ احمد سے(1) ابوعبید کہتے ہیں علم از افراد پر منتہی ہوتا ہے جس میں امام احمد سب سے بڑے فقیہ ہیں(2) شافعی کہتے ہیں میں جب بغداد سے نکلا تھا اور تو بغداد شہر میں امام احمد سے افضل اعلم اور افقہ کوئی نہیں تھا(3) امام احمد کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ حنابلہ کے امام ہیں آپ جانتے ہیں کہ حنابلہ اپنے فرعی مسائل میں کتنے سخت ہیں اور ان کا مذہب اصول ستہ کے پہلے بھی موجود تھا چاہے وہ امام
.........................................
1.2.3.تذکرة الحفاظ، ج1، ص432 احمد بن حنبل کے ترجمے میں.
بخاری ہوں یاان کے بعد آنے والے، ( تو آپ نے دیکھا کہ امام احمد کی اہل سنت کے نزدیک کیا حیثیت ہے اب تاریخ کا ایک عجوبہ ملاحظہ کریں) مترجم غفرلہ.
انہیں امام احمد نے حدیث کی ایک جامع کتاب لکھی گئی مقصد یہ تھا کہ امت اپنے اصول و فروع کے مسائل میں ان کی کتاب کو مرجع قرار دے چنانچہ ابو موسی علی ابن عمر مدینی اپنی سند سے لکھتے ہیں کہ مجھ سے احمد بن حنبل نے کہا میں نے اپنی اس کتاب میں سات سو پچاس سے زیادہ احادیث پیغمبر(ص) جمع کر دی ہیں اور جو بھی رکھا ہے بہت ٹھوک بجا کے رکھا ہے مسلمانوں کے درمیان ہر مختلف فیہ مسئلہ کا جواب اس کتاب میں حدیث پیغمبر(ص) سے دیا گیا ہے پس تم لوگوں کے لئے اس کتاب کو مرجع قرار دیا اور یہ سمجھ لو کہ اس کتاب کے باہر جو کچھ ہے وہ بہر حال حجت نہیں ہے.(1)
عبداللہ بن احمد بن حنبل اپنی سند سے کہتے ہیں میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپ وضع کتاب کو کیوں مکروہ سمجھتے ہیں جب کہ آپ نے خود ایک مسند لکھی ہے کہنے لگے میں نے اس کتاب کو امام قرار دیا ہے کہ جب بھی لوگ سنت پیغمبر(ص) میں اختلاف کریں( فیصلہ کے لئے) اسی کتاب کی طرف رجوع کریں.(2)
ابوموسی جن کا تذکرہ ابھی گذر چکا ہے کہتے ہیں امام صاحب نے اپنی اس کتاب میں نہیں حدیث لی مگر صرف ان افراد سے جن کی صداقت اور دیانت ان کے نزدیک ثابت تھی پس جس کی امانت مخدوش تھی امام صاحب نے ان سے کوئی حدیث نہیں لی پھر اپنی اسی بات کا ثبوت بھی دیا ہے(3) یہی وجہ ہے کہ سبکی کہتے ہیں احمد بن حنبل کی مسند امت کی اصولی کتاب ہے،(4) اور سیوطی کہتے ہیں مسند احمد میں جو کچھ ہے وہ مقبول ہے.
........................................
1.خصائص مسند احمد، ص13. التقید، ص161، المعقد الارشد،ج1، ص366، حنبل بن اسحاق بن حنبل کے ترجمے میں.
2.خصائص مسند احمد، ص14، التقید، ص161.
3.خصائص مسند احمد، ص14.15.
4.طبقات الثافعیتہ الکبری، ج2، ص21، احمد بن حنبل کی سوانح حیات کے ضمن میں.
بلکہ جو ضعیف ہے وہ بھی حسن کے قریب ہے(1) ان تمام باتوں کے باوجود احمد بن حنبل کی مسند کا نام صحاح ستہ کی فہرست میں نہیں ہے چہ جائیکہ اس کتاب کو صحیح مسلم اور صحیح بخاری کے مقارن قرار دیا جائے اور ان سے افضل سمجھا جائے بلکہ ہمارے اکثر بھائی تو اس حدیث کو محض اس لئے معمولی بتانا چاہتے ہیں کہ وہ ان کے رجحانات کے خلاف ہے تو کہتے ہیں یہ حدیث سواء مسند احمد ابن حنبل کے کہیں نہیں پائی جاتی ( یعنی اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے) مترجم غفرلہ.
آخر کیوں مسند احمد اتنی غیر اہم کیوں ہوگئی مسند اتنی نا قابل توجہ کیوں ہوگئی آئیے میں آپ کو بتائوں امام صاحب نے ایک بڑی سیاسی غلطی کر دی ہے اس کتاب میں انہوں نے علی اور اہل بیت پیغمبر(ص) کے بہت سارے فضائل نقل کر ڈالے ہیں جب کہ دوسری کتابوں نے اس سے اجتناب کیا ہے اگر برادران اہل سنت اس کتاب کو بھی صحاح میں شمار کرتے یا صحاح سے مقدم مانتے تو اس نظریہ کا نتیجہ ان کے لئے پریشان کن ہوتا اور اس عمل کے نتیجہ سے جو پیچیدہ مسائل پیدا ہوتے ان سے چھٹکار مشکل ہوجاتا.
اب و کتاب احمد کو اصول ستہ سے مقدم بھی سمجھتے ہیں اس کتاب میں مندرجہ حدیثوں کے قبول کرنے کا دعوی بھی کرتے ہیں لیکن اس کے اندر خامیاں ہیں کہ وہ مقام عمل میں اس کی حدیثوں پر بھروسہ نہیں کرتے جب تک ان
حدیثوں کو علم تنقید سے نہیں گذارتے اور ان اصول ضوابط پر پیش نہیں کرتے، یہ تو صحیح ہے کہ اہل سنت مسند احمد کو اصول ستہ سے مقدم جانتے ہیں اور یہ بھی صحیح ہے کہ ان کی مسند میں جو حدیثیں ہیں ان کو قبول کرنے کا دعوی بھی کرتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کتاب میں سلبیات نہیں ہیں اس لئے اس کی ان حدیثوں کو جو منفی پہلو رکھتی ہیں اس وقت تک قبول نہیں کیا جاسکتا جب تک انہیں حجیت کے اصول و ضوابط پر پیش نہ کر دیا جائے ایسے اصول و ضوابط جو صاحبان عقل کے نزدیک شرعی طور پر قابل قبول ہیں، برادران اہل سنت کو بھی اس بات کو
........................................
1.کشف الحخفاء للعجلونی، ج1، ص9 کنز العمال، ج1، ص10.
سمجھنا چاہئے کہ مسند احمد کی تعریف میں اتنے پر جوش الفاظ استعمال کرنے کا فائدہ کیا ہے، آپ کسی کتاب کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیں اس کی مرکزیت ثابت کرنے کے لئے حسین ترین الفاظ سے اس کے گرد پھول اگا دیں تقدس کی جالی اور تعظیم کے خوبصورت غلاف سے اس کو مزین کردیں مگر اس کا فائدہ کیا ہوگا؟
آپ نے تو مسلم اور بخاری کو کتاب باری کے بعد اصح الکتب قرار دیا آپ کے دہلوی صاحب نے فیصلہ کر دیا کہ جو بخاری اور مسلم کے مندرجات کو کمتر سمجھتا ہے وہ بدعتی اور غیر سبیل مومنین کا راہی ہے، اور بہت سی وہ باتیں بھی لکھی گئیں اور کہی گئیں جو آپ کی تقلید اور شخصیت پرستی کا تقاضہ ہیں لیکن اس سے فائد کیا ہوا اس بوقلمونی کا نتیجہ قرآن مجید کی اس آیت کو پڑھ کے معلوم کر لیں حس میں ارشاد ہوتا ہے، “ جیسے چمکتا ہوا سراب جس کو پیاسا دور سے پانی سمجھتا ہے یہاں تک کہ جب اس کے قریب پہونچتا ہے تو وہاں کچھ نہیں ملتا البتہ اللہ کو اپنے پاتا ہے اور اللہ اس کا پورا پورا حساب کر دیتا ہے اللہ بہت جلد حساب کرنے والا ہے.(1) میرا خیال ہے کہ اس طویل گفتگو کے بعد آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ برادران اہل سنت کے اضطراب کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس حدیث کے قبول کرنے کا کوئی معیار نہیں، نہ عقلی اصول ان کے پاس ہیں نہ شرعی دلیلیں، جو قیامت میں خدائے تعالی کے سامنے عذر بنا کے پیش کی جاسکیں.جس دن دوست دوست کو کوئی فائدہ نہیں پہونچائے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی.(2)
اب تک کے معروضات کا نتیجہ یہ نکلا کہ اہل سنت کو چاہئے پہلے اپنے اصول جرح و تعدیل کو ٹھیک کریں یعنی نقد و جرح اور رد و قبول احادیث کے لئے ایک اصول بنائیں جو شرع و عقل کے مطابق اور تمام امور میں تمام لوگوں کے نزدیک قابل قبول ہو پھر تھوڑی ہمت سے کام لے کے اور تھوڑی شجاعت کا
.................................
1.سورہ النور، آیت39.
2.سورة الدخان، آیت 41.
مظاہرہ کر کے اسی اصول پر تمام حدیثوں کو جانچ لیں اور تعصبات و جذبات کو دل سے نکال کے جو حدیثیں اس اصول کے مطابق ہوں اس کو قبول کریں ورنہ رد کردیں.
اس معاملے میں الحمد للہ شیعہ سلامت روی کے قائل ہیں دلیلوں کو لازم سمجھتے ہیں اور اپنی دلیلوں پرقائم بھی رہتے ہیں ان کی دلیلیں بندگی یا اجتہاد کا نتیجہ نہیں ہوتیں اور نہ وہ اپنے دین میں تقلید ہی کے قائل ہیں وہ اس طرح کی حدیثوں پر نہ عمل کرتے ہیں نہ قبول کرتے ہیں جو حدیثیں اصول جرح و تنقید کے معیار پر پوری نہیں اترتیں اور جب تک ان کی حجیت معین نہیں ہوجاتی تسلیم نہیں کرتے.
اصول جرح و تعدیل میں بھی وہ صرف اس میزان کو تسلیم کرتے ہیں جو شرع اورعقل کے مطابق ہو اور دین و شریعت کی بنیاد پر ہو اس حیثیت سے کہ جرج و تعدیل میں حق و حقیقت کا لحاظ رکھا جائے اور جرج و تعدیل کے ذریعہ حق تک پہنچا جائے پس ان کے یہاں تعصب اور جذبات کی جرح و تعدیل میں کوئی گنجائش نہیں ہے.
اسی طرح حدیثوں کی بھی صرف ان کتابوں پر اعتماد کرتّے ہیں جن کے مولفین کی دینی اور عرفانی حیثیت تسلیم شدہ ہوتی ہے اور جن کا تورع نا قابل انکار ہوتا ہے اور کوئی بھی نا ائز تنقید ان کے وثوق کو ساقط نہیں کرتی.
پھر بھی وہ اپنی کتابوں کی تمام حدیثوں کو مقطوع الصحت نہیں مانتے حالانکہ ان کے علماء نے ان حدیثوں پر عمل بھی کیا ہے ان کی تصحیح بھی کی ہے لیکن پھر بھی شیعہ پہلے ان حدیثوں کی اسانید پر توجہ دیتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ یہ اپنے موضوع پر دلالت کرتی ہے یانہیں نیز ان ضوابط کے تقاضے پورے کرتی ہے یا نہیں جن پر ہر متجہد اعتماد کرتا ہے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان تمام باتوں کی تحقیق کے لئے الحمد للہ ان کے نزدیک اجتہاد کا دروازہ کھلا ہا ہے اور تقلید خارج از دین ہے تقلید صرف وہ کرسکتا ہے جو عامی محض ہےاور ان امور پر نظر کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا.
یہ اہل بیت اطہار(ع) کا احسان ہے کہ انہوں نے اپنے چاہنے والوں کے ذہن کی تربیت و تادیب ہی اسی انداز سے کی ہخ ان کے اذہان علمی استدلال کے راستوں پر سوچتے ہیں اور اسی علمی استدلا ک اپنے دل میں جگہ دیتے ہیں ہمارے ائمہ(ع) نے اس طریقہ استدلال کو ہمارے یہاں متعارف کرایا ہے اور ہمار علمی ماجول دینی آب و ہوا میں اسی طریقہ استدلال کا حامل رہا ہے، اس اللہ کی حمد جس نے ہمیں اس کی ہدایت دی اگر وہ ہدایت نہیں دیتا تو ہم ہدایت نہیں پاسکتے تھے.(1) ہم اس کے شکر گذار ہیں وہی ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین وکیل اور بہترین دوست ہے اور بہترین مددگار ہے.
آپ نے اپنے اس سوال میں کہا: شیعوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اہل بیت کی حدیثوں پر اعتماد کریں جب کہ اہل سنت کے لئے یہ ضروری نہیں ہے یعنی شیعوں کی کتابوں پر اعتماد کرنا اس لئے کہ وہ براہ راست پیغمبر(ص) سے اسانید کے واسطے سے روایت لیتے ہیں اور یہ ان کے لئے کافی ہے کیونکہ وہ ائمہ(ع) کی عصمت کے قائل نہیں ہیں.
میں کہتا ہوں کہ آپ کی باتوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ کی کتابوں پر اعتماد نہ کرنا قابل تعریف عمل سمجھتے ہیں.
1.یہ بات تو بہر حال قابل تعریف ہے کہ اہل سنت احادیث نبی کو کافی سمجھتے ہیں لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ائمہ ہدی علیہم السلام کی حدیثوں سے رو گردانی کر کے وہ کوئی بہت قابل تعریف کام
...........................................
1.سورہ اعراف، آیت43.
کر رہے ہیں اس لئے کہ اگر احدیث نبوی(ص) کی طرف رجوع کرنا واجب ہے تو پھر احادیث نبوی ہی کی طرف جوع کرنا چاہیئے، چاہے اسناد اور طریقے مختلف ہوں یعنی اہل سنت کے اسناد اور طریقے اگر حجیت کے شرائط کو پورا کرتے ہیں تو ان کے ذریعہ حدیث نبوی کی طرف رجوع کرنا واجب ہے اسی طرح ائمہ اہل بیت(ع) کی حدیثیں بھی جو نبی تک منتہی ہوتی ہیں اور جن کی اسناد میں ائمہ ہدی علیہم السلام راوی ہیں ان کے ذریعہ نبی(ص) کی طرف رجوع کرنا واجب ہے.
بعض احادیث نبوی کو کافی سمجھ کے دوسری احدیث نبوی کی طرف توجہ نہیں دینا بے مطلب بات ہے ورنہ شیعہ بھی ایساکرتے یعنی جو حدیثیں ائمہ اہل بیت(ع) سے شیعوں تک پہنچی ہیں صرف انہیں کو کافی سمجھ کے اہل سنت کے طریقوں سے جو حدیثیں پہنچی ہیں انہیں چھوڑ دیتے لیکن شیعہ ایسا نہیں کرتے بلکہ وہ ان حدیثوں کو بھی قابل توجہ سمجھتے ہیں جو اگرچہ اہل سنت کے طریقوں سے مروی ہیں لیکن حجیت اور دلالت کے معیار پر پوری اترتی ہیں، میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اہل سنت حضرات صرف مرویات نبوی(ص) کے کافی ہونے کا دعوی کس طرح کرتے ہیں اس لئے کہ ہم دیکھتے ہیں جب احادیث نبوی(ص) میں انہیں مسائل کا جواب نہیں ملتا تو یہی حضرات دوسرے راویوں کی طرف متوجہ ہونے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور احکام حاصل کرنے کے لئے قیاس، استحسان، اور اہل شہرت کے عمل کی طرف رجوع کرتے ہیں اس لئے کہ ان احکام کے سلسلے میں ان کے پاس حدیث نبوی(ص) موجود نہیں ہوتی.
ایک طرف تو یہ حضرات حدیث نبوی(ص) کے کافی ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور دوسری طرف ان کے بڑے عالم ابوالمعالی جوینی یہ لکھتے ہیں کہ اہل تحقیق کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ جو قیاس کا منکر ہے اس کو علماء امت شمار نہیں کرنا چاہئے نہ وہ حامل شریعت ہوسکتا ہے اس لئے کہ ایسے لوگ خواہ مخواہ کا عناد رکھنے والے اور ان چیزوں میں ہٹ دھرمی کرنے والے ہیں جس کی حقانیت اور فیض تواتر سے ثابت ہوچکا ہے شریعت کا بڑا حصہ اجتہاد سے ثابت ہوا ہے ورنہ نصوص کی مقدار تو شریعت کے دسویں حصہ کو بھی کافی نہیں ہے( یعنی نصوص ہمارے پاس بہت کم موجود ہیں اگر صرف نصوص پر اکتفا کی
جائے تو احکام شرعی کا دسواں حصہ بھی نہیں معلوم ہوگا(1) اس لئے قیاس پر عمل کرنا بہت ضروری ہے قیاس کا مخالف امت کا عالم نہیں ہوسکتا) مترجم غفرلہ
ائمہ اہل بیت(ع) کی حدیثوں کی طرف رجوع کرنے سے اہل سنت کو بہت سے فائدے حاصل ہوسکتے ہیں.
1. بہت سے اپنے مسائل میں جن میں ائمہ اہل بیت(ع) کے طریقوں سے حدیث موجود ہے لیکن اہل سنت کے
طریقوں سے حدیث نبوی(ص) موجود نہیں ہے اگر اہل سنت یہ طے کر لیں کہ طریق ائمہ سے جو حدیث حاصل ہوتی ہے ان مذکورہ مسائل میں انہیں حدیثوں پر عمل کیا جاسکتا ہے تو پھر قیاس وغیرہ کا محتاج ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی اس لئے کہ اہل سنت کے طریقے سے نہ سہی ائمہ اہل بیت(ع) کے طریقے سے ہی نص تو ان کے پاس بہر حال موجود ہوگی.
2. یہ بھی ہوتا ہے کچھ مسائل کے بارے میں طریق اہل سنت سے بھی حدیث موجود ہے اور طرق ائمہ اہل بیت(ع) سے بھی لیکن طریق اہل بیت(ع) سے جو حدیث ہے وہ اہل سنت کے حدیث کی تشریح اور تفسیر کرتی ہے
اور اس کخ ذرقعہ مقام تفسیر میں جو اختلاف موجود ہے اس کو رفع کیا جاسکتا ہے چونکہ دو حدیثوں میں جمع کی صورت نکالی جاسکتی ہے اور طرق ائمہ سے وارد حدیث طریق اہل سنت سے حاصل شدہ حدیث رفع کرتی ہے جیسا کہ اکثر ہوتا ہے کہ ایک حدیث دوسری حدیث کی تفسیر کرتی ہے تو اہل سنت اس نقطہ نظر سے ائمہ اہل بیت(ع) سے بھی فائدہ حاصل کرسکتے ہیں.
.........................................
1.سیر اعلام النبلاء، ج13، ص105، دائود بن علی کے ترجمے میں.
3. یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک حدیث طریق اہل سنت سے اور اس کے متعارض دوسری حدیث طریق اہل بیت(ع) سے وارد ہوتی ہے دونوں حدیثیں ایک دوسرے کے متعارض اور متنافی ہیں دونوں میں جمع کی کوئی صورت نہیں ہے نہ ان میں سے ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہے کہ دونوں حدیثوں میں راجح حدیث کو لے لیا جائے جب ترجیحی پہلو نہیں نکلتا ہے تو توقف کرنا طے ہے ایسی صورت میں توقف کا فائدہ حاصل ہوتی ہیں تو وہ لوگ توقف کرتے ہیں اور دونوں میں جمع کی صورت نہیں پیدا ہونے کی وجہ سے دونوں کو ساقط کر دیتے ہیں.
حاصل گفتگو یہ ہے کہ صرف اس لئے کہ اہل سنت کی کتابوں میں صرف احادیث نبوی(ص) کو اپنے طریقوں پر جمع کر دیا ہے اہل بیت(ع) کے طریقوں سے وارد حدیثوں کو چھوڑ دینا اور ان سے روگردانی کرنا قابل تعریف ہے نہ فائدہ مند اس لئے حق کا بعض حصہ بعض دوسرے حصے کے لئے کفایت نہیں کرتا.
( بلکہ ہٹ دھرمی اور تعصب سے دامن بچا کے ہم جب بھی غیر جانبدارانہ نظر ڈالتے ہیں تو عقل یہ فیصلہ کرتی ہے کہ اہل بیت(ع) کی احادیث کو غیروں پر مقدم کرنا بہت ضروری اور عقل کا تقاضہ ہے.) مترجم غفرلہ.
ایک نظر اسلام کے قرن اولی کی تاریخ پر ڈالیے اور دیکھیے کہ احادیث نبوی(ص) کو کن آفتوں اور حادثوں سے گذرنا پڑا ہے پھر آپ کی سمجھ میں یہ بات آجائے گی کہ اہل بیت اطہار(ع) کے واسطوں سے حاصل شدہ حدیثوں کو مقدم رکھنا کیوں ضروری ہے؟
جب آپ دیکھیں گے کہ تاریخ حدیث نبوی(ص) سے کیا بدسلوکی کرتی ہے اور حدیث نبوی(ص) کو تدوین سے پہلے ہی سیرت نبی کو مٹانے اور حق کو ضائع کرنے کی کتنی منظم سازشیں کی گئی ہیں.
امیرالمومنین(ع) سے پوچھا گیا کہ مولا یہ نئی نئی حدیثوں اور لوگوں کے پاس موجود حدیثوں میں اتنا واضح اختلاف کیسے ہوا؟
آپ نے فرمایا، لوگوں کے پاس حق بھی ہے اور باطل بھی، صدق بھی ہے اور کذب بھی، ناسخ بھی ہے اور منسوخ بھی ہے، عام بھی ہے اور خاص بھی، محکم بھی ہے اور متشابہ بھی، محفوظ بھی ہے موہوم بھی، پیغمبر(ص) پر تو آپ کی زندگی میں جھوٹ باندھا گیا یہاں تک کہ آپ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا: جو مجھ پر جان بوحھ کے جھوٹ باندھے اس کی بیٹھک کو آگ سے بھر دیا جائے گا تمہارے پاس حدیث پہچانے والے چار طرح کے لوگ ہوتے ہیں پانچواں نہیں.
1.وہ مرد منافق جو ایمان کا اظہار کرتا ہے اسلام میں بناوٹ کرتا ہے اور رنجیدہ نہیں ہوتا نہ کوئی حرج محسوس کرتا ہے پیغمبر(ص) پر عمدا جھوٹ باندھتا ہے اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ ہ جھوٹا اور منافق ہے تو اس سے نہ حدیث قبول کریں اور نہ اس کی تصدیق کریں لیکن تو یہ کہتے ہیں وہ پیغمبر(ص) کا صحابی ہے اس نے پیغمبر(ص) سے براہ راست سنا ہے اور حدیثیں حاصل کی ہیں نتیجہ میں لوگ اس سے اسی کے لفظوں میں حدیث لیتے ہیں حالانکہ خدا نے تو تمہیں منافقین کے بارے میں خبردار کر دیا ہے اور اچھی طرح منافقین کو پہچنوا دیا ہے یہ منافقین نبی(ص) کے بعد بھی باقی رہے اور انہوں نے گمراہ اماموں کے دربار میں کذب و افتراء کا بازاز گرم کیا، بہتان اور جھوٹ کے ذریعہ جہنم کی طرف دعوت دینے والے اماموں سے ملے ایسے ہی لوگوں کو خدمت کا موقع دیا گیا اور لوگوں کی گردنوں پر حاکم بنا دیا اور ان کے ذریعہ دنیا حاصل کی لوگ تو بادشاہ اور دنیا کے ساتھ رہتے ہی ہیں مگر صرف وہ لوگ جنہیں اللہ بخشنے کی توفیق دے چار میں سے ایک کا تعارف تو ہوگیا.
2.دوسرا وہ جس نے حدیث نبی(ص) سے سنی ضرور لیکن اس کو یاد نہیں رکھ سکا نتیجہ میں وہم کا شکار ہوگیا وہ عمدا جھوٹ تو نہیں بولتا لیکن اپنے وہم کو حدیث سمجھ کے اپنے سامنے رکھتا ہے اور اسی کی روایت کرتا اور اسی پر عمل کرتا ہے اور یہ کہا ہے کہ میں نے ہر بات رسول اللہ(ص) سے سنی ہے، پس اگر مسلمانوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ اس کو وہم ہوا ہے تو اس سے حدیثیں قبول نہیں کریں گے وہ خود بھی اگر یہ جان جائے کہ اس کی روایتیں وہم کا نتیجہ ہیں تو انہیں چھوڑ دے گا.
3.تیسرا وہ ہے جس نے نبی(ص) کو کسی چیز کے بارے میں امر کرتے ہوئے سنا لیکن آپ نے جب اس کام کی نہی کی تو وہ موجود نہی تھا اس لئے نہیں سن سکا یا کسی چیز کی نہی سنا اور اس کے بارے میں جب نبی(ص) نے امر کیا تو نہیں سن سکا اب وہ اوامر و نواہی کے بارے میں نہیں جانتا اس کو منسوخ یاد ہے ناسخ نہیں معلوم اور اس کو معلوم ہو جائے کہ اس کے پاس جو کچھ ہے منسوخ ہے تو اس کو چھوڑ دے گا اور مسلمانوں کو بھی اگر معلوم ہو جائے کہ اس کے پاس منسوخ حدیثیں ہیں تو لوگ اس سے حدیثیں قبول نہیں کریں گے.
4.چوتھا آدمی وہ ہے جو پیغمبر(ص) پر اور خدائے پیغمبر(ص) پر جھوٹ نہیں باندھتا بلکہ خوف خدا اور تعظیم پیغمبر(ص) کی بنیاد پر جھوٹ کا دشمن ہے اس کو وہم نہیں ہوتا بلکہ اس نے نبی(ص) سے جیسا سنا ویسا یاد رکھا اس میں نہ زیادتی کی نہ ہی کمی اس کے پاس ناسخ محفوظ ہے اسی پر عمل کرتا ہے اور منسوخ بھی محفوظ ہے جس سے وہ پرہیز کرتا ہے خاص اور عام کو پہچانتا ہے اور ہر چیز کو اس کی جگہ پر رکھتا ہے محکم اور متشابہ کو پہچانتا ہے.
کبھی ایسا ہوتا تھا کہ کلام پیغمبر(ص) کے دو رخ ہوتے تھے کلام خاص اور کلام عام سننے والا سن تو لیتا تھا لیکن اس کو یہ نہیں معلوم ہوتا تھا خدا اور خدا کے رسول(ص) نے اس کلام سے کیا مراد لیا ہے وہ حدیث کو لیتا تھا اور چونکہ معنی سے واقف نہیں تھا اس لئے غیر معنی کی طرف توجیہ کر دیتا تھا اس کو یہ نہیں معلوم کہ اس حدیث کا مقصد کیا ہے اور حدیث کی حدوں سے خارج ہے پیغمبر(ص) کا ہر صحابی آپ سے سوال بھی نہیں کرتا تھا اور سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کرتا تھا بلکہ اصحاب پیغمبر(ص) تو چاہتے تھے کہ
کوئی اعرابی یا مسافر آکے پیغمبر(ص) سے مسئلہ پوچھے تو وہ جواب سن کے فائدہ اٹھا لیں لیکن میرے سامنے جب بھی کوئی مسئلہ آتا تھا میں پیغمبر(ص) سے بخ تکلف ہو کے پوچھتا تھا اور اس کو یاد رکھتا تھا وہ مجھے اب تک یاد ہے یہی وہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے لوگوں میں حدیثوں کا اختلاف پایا جاتاہے نیز کمزور حدیثیں روایت کرنے کی بھی یہی وجہ ہے.
پوچھنے والے کا انداز سوال بتا رہاہے کہ بدعتی حدیثیں اور خبروں میں اختلاف اتنا جاری و سار ہوگیا تھا ہ لوگ مقام حیرت و شک میں تھے اور حق کی تمیز کی صلاحیت کھو بیٹھے تھے یہاں تک کہ سائل نے امیرالمومنین(ع) سے پوچھنے کی ضرورت محسوس کی اور امیر المومنین(ع) کے جواب دینے کا انداز یہ بتا رہا ہے کہ لوگوں کو معلوم نہیں تھا کہ حدیثوں میں آلودگی ہو چکی ہے اور حدیث نبوی کو وہم و گمان ور کذب و افترا سے خلط ملط کر کے بیان کیا جارہا ہے عام مسلمان اس اختلاط سے غافل تھے ان کے پاس جو حدیثیں بھی پہونچی تھیں ان پر وہ آنکھ بند کر کے عمل کرتے تھے اور اندھا اعتماد کرتے تھے محض اس لئے کہ وہ اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ حدیثیں صحابی کے ذریعہ آرہی ہیں اور حدیث کے معاملے میں صحابی رسول (ص) پر افترا نہیں کرسکتا ان کے گمان میں بھی یہ نہیں تھا کہ صحابی جھوٹا اور منافق بھی ہوسکتا ہے وہ تو صحابی کو صحابی کی حیثیت سے جانتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ صحابی جھوٹ نہیں بول سکتا نہ اس کو وہم ہوسکتا ہے اور ناسخ و منسوخ سے بھی خوب واقف ہے.
ہر صاحب نظر کو یہ سوال کرنے کا حق ہے کہ آخر حدیث نبی(ص) ہی پر اتنی آفتیں کیوں آتی ہیں اس سوال کا جواب یہ ہے کہ چونکہ حدیث نبوی(ص) حکام وقت کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی اس لئے ہر مسلمان حکومت نے اس پر سختی سے پابندیاں عائد کیں اور ان کی تالیف و تدوین سے روکنے کی بھرپور کوشش کی اصحاب پیغمبر(ص) کو حدیث کی نشر و اشاعت کا بہت کم موقع دیا گیا اور اگر حدیث پیغمبر(ص) کو نشر و اشاعت کی اجازت دی بھی گئی تو سخت پابندیوں کے دائرے میں دی گئی صرف
ایسی حیدثیں عام کرنے کی کوشش کی گئی جو بظارہ حکام وقت اور حکومت سے متعارض نہیں ہیں یہ بات میں سابقہ سوالوں کے ساتویں سوال کے جواب میں عرض کرچکا ہوں.
محض اس خوف سے کہ سیرت نبوی(ص) اور حدیث رسول عوام تک پہونچ جائے گی اکابر اصحاب کو مدینہ کے باہر جانے سے روکا جاتا رہا اور کبھی اجازت دی بھی گئی تو حکومت کی سخت نگرانی میں جس کی وجہ سے اصحاب پیغمبر(ص) آزادی کے ساتھ حدیث پیغمبر(ص) کی نشر و اشاعت نہیں کرسکے یا تو اس لئے کہ حکومت ان کے اوپر بے تحاشہ ظلم کرتی تھی یا وہ اس بات سے خوف زدہ تھے کہ اگر حدیثوں کی اشاعت کی جائے گی تو وہ ان کے عتاب کا شکار ہو جائیں گے نتیجہ یہ ہوا کہ حدیثیں جمود کا شکار ہوگئیں اور خصوصا عمر کے دور میں حدیثیں کچھ زیادہ ہی اس آفت کا شکار ہوئیں.
اس لئے کہ عمر نے اصحاب پیغمبر(ص) کو مدینہ سے باہر دوسرے شہروں میں جانے سے سختی سے روک دیا تھا اور ان کے ارکان حکومت میں منافقین مولفتہ القلوب (سست عقیدہ) اور فتح مکہ والے مسلمانوں کی کثرت تھی جو حکومت کے کرتا دھرتا تھے اور اس طرف امیرالمومنین(ع) نے اپنے کلام میں اشارہ فرمایا ہے جو گذشتہ صفحات میں پیش کیا گیا اور میں نے اس کلام کی طرف آپ کے ان سوالوں میں چوتھے سوال کے جواب بھی اشارہ کیا تھا.
یہی وہ اسباب تھے جن کی وجہ سے حدیثوں میں ملاوٹ ہوئی اور لوگ حق اور باطل کو سمجھنے سے قاصر رہے مسلمانوں کے معاملات خراب ہوئے اب مسلم عوام ہر اس حدیث پر عمل کرتے تھے جو ان تک پہونچتی تھیں اور اس حدیث کو سچا کہہ کر پیش کیا جاتا تھا اس لئے وہ حقیقت حال سے غافل اور حکومت انہیں غافل رکھنا بھی چاہتی تھی خاص خاص افراد کو اس بات کا ادراک تھا بھی تو وہ حیران تھے کہ کس کو مانیں اور کس کو چھوڑیں یہاں تک کہ ایسے لوگ امیرالمومنین(ع) سے سوال کرنے پر مجبور ہوتے تھے.
تاریخ کا عجوبہ ہے یہ بات کہ یہ کچھ وفات پیغمبر(ص) کے فورا بعد صرف تین دہائیوں میں ہوتا
رہا لیکن کسی صحابی نے اس کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی ایسی بات نہیں تھی کہ صحابہ موجود نہیں تھے ان تین دہائیوں میں صحابہ کی وافر تعداد موجود تھی اور اکثر صحابہ متورع پاک دامن اور صاحب کردار تھے لیکن حکومت خوف زدہ اور دار و رسن سے دہشت زدہ تھے جب عثمان کے آخری دور میں حکومت کی پکڑ کمزور ہوئی تو انھیں حق بیان کرنے کی کچھ آزادی ملی خصوصا مولائے کائنات کے دور میں تو حکومت نے ان کا خوب ساتھ دیا اور انہوں نے بھی اپنے عقیدے ایمان اور احادیث پیغمبر(ص) کی کھل کے نشر و اشاعت کی اپنے سوال کا جواب دیکھیں.
امیرالمومنین(ع) کے دور میں اعلاء کلمہ حق اور مسلمانوں کی بگڑی ہوئی حالت کو سدھارنے کی کوشش شروع ہوئی اور بہت حد تک کامیابی بھی ہوئی مگر کاش یہ الت برقرار رہتی تاکہ امیر المومنین(ع) اہل بیت اطہار(ع) بہتر محتاط صحابہ اور تابعین جو نیکیوں میں ان کی پیروی کرنے والے اور مقدس صحابہ سے حدیثیں لینے والے تھے مسلسل اپنی کوششیں جاری رکھتے تو اسلام کی کچھ اور ہی شکل ہوتی اور حقیقی اسلام ان کے ہاتھ میں ہوتا اس لئے کہ یہ وہ لوگ تھے جو اپنی صداقت گفتار میں مشہور تھے اس کے علاوہ عوام پر خاصہ اثر بھی رکھتے تھے اور عوام کو حق کی طرف متوجہ کرنے اور حق کو یاد دلانے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے انھوں نے حق کا بار اٹھایا تھا اس باتیں غور سے سنی تھیں اور اس کے ذریعہ حدیثیں بیان کرتے تھے اور اسی کی طرف دعوت دیتے تھے سختیوں کو جھیل کے طویل مدت تک حق کی ترویج کررہے تھے حکومت کے ظلم و سرکشی میں اعانت کرنے کے لئے انہوں نے حق کا ناحق استعمال نہیں کیا تھا عوام الناس بھی ان کے تقدس، خلوص اور بے غرضی سے متاثر تھے.
جوزجانی نے اپنے کلام میں اسی طرح کے شیعیان اہل بیت(ع) کی طرف اشارہ کیا ہے حالانکہ جو
ز جانی اور نواصب کوئی بھی ان کے مذہب سے راضی نہیں ہے پھر بھی ان کی دیانت داری اور تقدس و خلوص کا اعتراف کرتے ہوئے جوزجانی نے یہ عبارت لکھی ہے اہل کوفہ میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جس کا مذہب قابل تعریف نہیں تھا وہ لوگ اہل کوفہ کے محدثین کے راس و رئیس جیسے ابو الاسحق، منصور، زبید بن حارث یامی، اعمش اور ان کے معاصر محض صداقت گفتار کی وجہ سے انہیں برداشت کرتے تھے.
میں کہتا ہوں کاش اس طرج کے لوگوں کی کوششیں کچھدنوں تک اور جاری رہتیں اور تصحیح کا عمل بیان حق کےساتھ اسی طرج چلتا رہتا تو آج تاریخ اس دور پر فخر کرتی لیکن افسوس کہ اہل بیت(ع) کے ہاتھ سے حکومت نکل گئی اور غضب یہ ہوا کہ معاویہ جیسے مکار اور دنیا پرست انسان کے ہاتھ میں حکومت چلی گئی جس کے بارے میں مولائخ کائنات نے فرمایا ہے اس کاگمراہ کن ہونا ظاہر ہے اس کی بے حیائی سب کے سامنے ہے اپنی مجلس میں صاحب کرم اور با عظمت انسان کو عیب دار بناتا ہے اور صاحب حکمت کو اپنے پاس بیٹھا کے اس کی عقل کو ضبط کر کے بیوقوف بنا دیتا ہے وہی معاویہ مملکت اسلامیہ کا بلا شرکت غیرہ حاکم ہوتا ہے اور مقام نخیلہ میں حکومت حاصل کرنے کے بعد پہلے خطبہ میں ڈیگیں مارتا ہوا انتہائی بے حیائی سے اعلان کرتا ہے اور اپنی حکومت کی پالیسی کا اظہار کرتا ہے مسلمانوں کا حاکم ہے لیکن اپنی حکومت کی پالیسی کا اعلان ان لفظوں سے کرتا ہے ابھی تو کوفہ میں داخل بھی نہیں ہوا ہے مقام نخلیہ میں اس کے خطبے کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں کہتا ہے سنو! لوگو! میں نے تم سے اس لئے قتال نہیں کیا کہ تم روزے رکھو نمازیں پڑھو حج کرو اور زکوة نکالو یہ سب تو تم کرتے ہی ہو یہ میں جانتا ہوں میری جنگ صرف اس لئے تھی کہ میں تم پر حکومت حاصل کروں اللہ نے میرا مقصد مجھے دیا اگر چہ تم لوگوں کو ناگوار ہے.
سنت نبوی(ص) ایک بار پھر تحریف کا نشانہ بنتی ہے معاویہ کوفہ میں اپنی پالیسی واضح کر کے نام کا واپس آتا ہے اور سنت نبوی(ص) کو بدلنے اور اس کو ضائع کرنے کا نیا دور شروع ہوتا ہے شام والوں میں وہ خطبہ دیتا ہے اے لوگو پیغمبر(ص) نے مجھ سے کہا تھا کہ میرے بعد تم خلافت حاصل کرو گے تو تم اس مقدس سرزمین کو اختیار کر لو کیونکہ اس سر زمین میں ابدال( بزرگ علماء) سو رہے ہیں تو میں نے تمہیں اور تمہاری سرزمین کو اپنے لئے منتخب کیا ہے پس تم ابوتراب پر لعنت کرو پس لوگوں نے ان پر لعنت کی، دوسرے دن اس نے ایک مضمون لکھا پھر اہل شام کو جمع کرکے ان سامنے پڑھا اس میں لکھا تھا یہ وہ مکتوب ہے جسے امیرالمومنین معاویہ نے لکھا ہے معاویہ جو اس خدا کی وحی کا دوست ہے جس نے محمد(ص) کو نبی مبعوث کیا محمد(ص) نا خواندہ تھے نہ پڑھ سکتے تھے اور نہ لکھ سکتے تھے تو خدا نے ان کی اہل سے ان کے لئے ایک وزیر منتخب کیا جو امانت دار لکھنے والا تھا لہذا وحی جو محمد(ص) پر نازل ہوتی تھی میں لکھا کرتا تھا محمد(ص) یہ نہیں جانتے تھے کہ میں نے کیا لکھ دیا ہے میرے اور خدا کے درمیان اس معاملے میں کوئی نہیں تھا.
شام میں جو لوگ اس وقت حاضر تھے سب نے کہا آپ نے سچ فرمایا: اے امیرالمومنین!(1)
معاویہ کے اس تاریک دور میں عہد صحابہ کو پس پشت ڈال دیا گیا اور صاحبان ایمان کی سرگرمیاں آہستہ آہستہ ختم نہیں ہوئیں بلکہ اچانک رک گئیں اسلامی ثقافت کی تصحیح کی طرف ان کے بڑھتے قدم
..............................................
1.شرح نہج البلاغہ، ج4، ص72.
رک گئے آوازیں دھیمی پڑ گئیں اور بہت سے حقائق مخفی ہوگئے معاویہ اپنے اسلاف کے طریقہ پر عمل کرتے ہوئے سنت نبوی کی بھی روک تھام شروع کردی اس نے کہا اے لوگو! پیغمبر(ص) سے کم روایتیں بیان کرو اگر حدیث ہی بیان کرنا چاہتے ہو تو صرف وہ حدیثیں بیان کرو جو عمر کے عہد میں بیان کی جا چکی ہیں(1) بلکہ معاویہ کے در میں فتنوں کا دریا اپنی طغیانی کے نقطہ کمال تک پہونچ گیا اور سر کشی کی انتہا ہوگئی.
آپ کے ان سوالوں میں چوتھے سوال کے جواب میں میں نے اس سلسلے میں بہت کچھ عرض کیا ہے جہاں میں نے لکھا ہے کہ صحابہ امیرالمومنین(ع) کی نصرت کرتے رہے اور آپ کی شہادت کے بعد عہد اموی میں اس نصرت کی وجہ سے سزائیں بھی جھیلتے رہے.
یوں لگائی نقب اسلام کی دیواروں میں
مال چوری کا بکا شام کی بازاروں میں
(پیام)
پھر تو عہد اموی میں موضوع حدیث کی ایک باڑھ سی آگئی اور حکومت نے فضائل امیرالمومنین(ع) اور فضائل اہل بیت(ع) کی حدیثوں پر سختی سے روک تھام لگا دی.
میں کہتا ہوں ان سوالوں کے چوتھے نمبر کے سوال کے جواب میں موضوع حدیثوں کے بارے میں عرض کیا ہے وہیں پر یہ بھی عرض کیا ہے کہ امام ابو جعفر باقر(ع) کے ساتھ ہی مدائنی اور نفطویہ نے اس سلسلے میں کیا افادات کئے ہیں.
..............................
1.کنز العمال، ج10، ص291، حدیث29473؛ المعجم الکبیر، ج19، ص370.
تاریخ شاہد ہے کہ سنت نبوی(ص) کی تدوین عمر بن عبد العزیز کے دور ہی میں ہوئی ان کے پہلے کے بادشاہوں نے سنت کو جامد اور معطل کرنے کی کوشش کی ہے مدون کرنے کی کوشش نہیں کی ہے عمر بن عبدالعزیز کا دور موضوع حدیثوں کی اشاعت کے بہت بعد کا دور تھا ظاہر ہے کہ مولائے کائنات(ع) کی ظاہری حکومت کے پہلے بھی کافی حدیثیں گڑھی گئیں اور آپ کی حکومت کے بعد بھی بہت زیادہ حدیثیں بنائی گئیں جب ان موضوع اور جعلی حدیثوں کو دیانت دار افراد کئی مرتبہ روایت کرچکے اور لوگ ان کے حق ہونے کا یقین کرچکے بلکہ عقیدہ بنا چکے اس لئے کہ ان کا شیوع اور ان کی روایت اس کثرت سے ہوئی کہ لوگ ان کو حق ماننے پر مجبور تھے جیسا کہ امام باقر(ع) اور علامہ مدائنی نے ذکر کیا ہے تو بہت بعد میں عمر بن عبدالعزیز کا دور آیا اور حکومت نے اپنی نگرانی میں سنت نبوی کی تدوین شروع کی تو نتیجہ ظاہر ہے.
آپ خود ہی فیصلہ کر لبں کہ اس تدوین کے نتیجے میں امت کو کیا ملنا چائے کیا حقیقی سنت نبوی(ص) سے مسلمان بہرہ یاب ہوسکتا ہے عمر بن عبدالعزیز کے پہلے سنت نبی(ص) کے متعلق کتنے حقائق گذشتہ حکومتوں میں ضائع ہوچکے ہیں یا حکومت کے ہاتھوں عمدا ضائع کئے جا چکے ہیں اور ان کی جگہ پر راویوں نے حسن نیت کی بنیاد پر کتنی محرف حدیثوں کو حدیث بنا کے پیش کر دیا ہے یا گمراہ کن سازشوں اور منافقین کی کارستانیوں کے ہمراہ میں کتنی تحریف شدہ حدیثیں دین میں داخل ہوچکی ہیں اس کا حساب کس کے پاس ہے، موضوع حدیثوں کے معارض کتنی حقیقی حدیثیں ہیں جن کے ذریعہ امت میں شبہ و شک کی بھر مار ہوگئی ہے اور کتنی حدیثیں وہ ہیں جو تحریف سے محفوظ ہیں اس کا جواب
کون دے گا مسلمان کیسے پہچانے گا کہ ان حدیثوں میں حق کون ہے اور باطل موضوع کون ہے اور اصل کون اور لوگوں کے سامنے جب سائل آئیں گے تو وہ کس طرح عمل کریں گے اس لئے کہ عوام تو اس بات کے محتاج ہیں کہ انہیں دین کی تعلیم دی جائے اور احکام دین کی معرفت کرائی جائے پھر کس حدیث پر عمل کرنے سے عوام کو روکا جائے گا اور کس پر عمل کرنے کی ہدایت کی جائے گی؟
یہی حال ان واقعات کا ہے جو نبی(ص) کے بعد واقع ہوئے ظاہر ہے کہ نبی(ص) کے بعد جو حالات سامنے آئے ان کے بارے میں عوام الناس کے لئے سنت نبوی(ص) میں کوئی حدیث دستیاب نہیں تھی پھر وہ کس طرف رجوع کریں گے اور کس ہدایت پر عمل کریں گے.
یہ سارے مسائل تو نبی(ص) کے فوار بعد پید ہوئے تھے ابھی نبی(ص) کو گذرے ہوئے تیس سال بھی نہیں ہوئے تھے(پھر آج جب کہ چودہ سو سال ہوچکے ہیں ظاہر ہے کہ اس وقت حدیث نبوی سے حق تلاش کرنا تقریبا نا ممکن ہے) مترجم غفرلہ.
لیکن سنت نبوی(ص) کی تدوین کے بعد ایسا نہیں ہے کہ سیرت مقدسہ مشکلات سے آزاد ہوگئی بلکہ ہوا یہ کہ مشکلوں میں کچھ اضافہ ہی ہوا اور اس کثرت سے مسائل پیدا ہوئے کہ میں اس موضوع کو چاہے جتنا وسعت دوں ان مسائل کو پیش کرنے سے قاصر ہوں.
1.حاملان حدیث نے بہت سی حدیثوں کو جن کی انہوں نے خود روایت کی ہے اپنی کتابوں میں تدوین کے وقت داخل نہیں کیا.
ثبوت میں گذشتہ صفحات میں مسند احمد کا تذکرہ ملاحظہ فرمائیں امام احمد کا کہنا ہے کہ اہل سنت جن حدیثوں پر اعتماد کرتے تھے میں نے ان(5700) حدیثوں میں سے بھی ان حدیثوں کو چھانٹ کے لکھا ہے تب ہماری مسند تیار ہوئی ہے یعنی روایتیں ہیں علما اس پر اعتماد بھی کرتے ہیں لیکن تدوین کے وقت ان روایتوں کو اپنی کتاب میں شامل کرنا صحیح نہیں سمجھتے.
اسی طرح ابو علی غسانی کہتے ہیں: میں نے چھ لاکھ حدیثوں میں سے صحیح حدیثوں کو نکال لیا ہے.(1)
اسماعیل کہتے ہیں: کہ غسانی نے کہا میں نے اپنی کتاب میں سوائے صحیح کے کوئی حدیث نہیں لکھی اور صحیح میں سے اکثر کو چھوڑ دیا ہے.(2)
ابراہیم بن معقل کہتے ہیں: میں نے سنا بخاری کہہ رہے تھے میں نے اپنی دونوں جامع کتابوں میں سوائے صحیح کے کوئی حدیث نہیں داخل کی اور صحیح حدیثوں میں اکثر کو چھوڑ دیا ہے تاکہ کتاب طویل نہ ہوجائے،(3) بخاری سے بھی وارد ہے کہ انہوں نے کہا مجھے ایک لاکھ صحیح حدیثیں یاد ہیں جب کہ ان کی کتاب میں محض نو ہزار دو سو اسی(9280) حدیثیں پائی جاتی ہیں.(4)
ابوبکر بن داسہ کہتے ہیں: میں نے سنا ابو دائود کہہ رہے تھے کہ میں نے پیغمبر(ص) کے حوالے سے پانچ لاکھ حدیثیں لکھی پھر ان میں سے چار ہزار آٹھ سو حدیثیں الگ کر کے اپنی کتاب میں درج کیا یعنی سنن ابن دائود میں.(5)
...............................................
1.مقدمہ فتح الباری، ج1، ص7.
2.سیراعلام النبلائ، ج12، ص471. تفلیق التعلیق، ج5، ص426؛ مقدمہ الباری، ج1،ص7.
3.مقدمہ فتح الباری، ج1، ص7، سیر اعلام النبلاء، ج10، ص96؛ تہذیب التہذیب، ج9، ص42. تہذیب الکمال، ج24، ص442. تاریخ بغداد، ج2، ص9 و غیرہ منابع.
4.التقید، ج33، ص45؛ تذکرة الحفاظ، ج2، ص556.سیر اعلام النبلاء، ج12، ص451؛ تاریخ بغداد، ج2، ص215.
5.مقدمہ فتح الباری، ج1، ص465.
بیہقی کہتے ہیں کہ ابوزرعہ کو چھ لاکھ حدیثیں یاد تھیں(1) جن کی میں نے قرائت کی تھی صالح بن محمد نے ابوزرعہ سے نقل کیا کہ انہوں نے کہا میں دس ہزار حدیث حفظ کروں گا.(2)
احمد بن حنبل کہتے ہیں: میرے نزدیک ساڑھے سات لاکھ حدیثیں صحیح ہیں جب کہ ان کی مسند میں جو حدیثیں ہیں ان کی تعداد ساڑھے سات لاکھ سے بہت کم ہے(3) دوسرے علماء حدیث نے بھی اسی طرح کے دعوے کئے ہیں لیکن صحیح حدیثیں بہت کم اپنی کتابوں میں لکھی ہیں ان کے اقوال کے حوالے کی گنجائش نہیں ہے.
آپ یہ دیکھ رہے ہیں کہ علما جن حدیثوں کے صحیح ہونے کا دعوی کررہے ہیں انہیں میں سے کچھ حدیثیں لے رہے ہیں اور کچھ کو چھوڑ رہے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مقبول و متروک دونوں صحیح ہیں تو ایک صحیح کے لینے کی اور دوسرے چھوڑنے کی وجہ کیا ہے آخر، معیار انتخاب کیا ہے؟ کچھ تو معلوم ہوگیا وہ صحیح حدیثیں جنہیں ترک کردیا گیا ان کے ترک کرنے سے حق کا ترک کرنا لازم نہیں آتا اس طرح کا بیان پڑھ کے قاری یہ فیصلہ نہیں کرے گا کہ مولف کتاب نے ان حدیثوں کو لے لیا ہے جو اس کے مزاج کے مطابق ہیں اور انہیں چھوڑ دیا ہے جو اس کے خواہش نفس کے خلاف ہیں جب کہ مولفین حدیث خود ہی کہہ رہے ہیں کہ حدیثیں ساری کی ساری صحیح تھیں لیکن میں نے کچھ کو لے لیا ہے اور کچھ کو چھوڑ دیا ہے.
(اب اس ترک و قبول کے پیچھے راز کیا ہے؟ اس کو جاننے کے لئے محض ایک حدیث آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں آپ کی سمجھ میں بات آجائے گی کہ یہ ترک و قبول کا سلسلہ بے وجہ نہیں
...........................................
1.تہذیب التہذیب، ج7، ص29.
2.تہذیب التہذیب، ج7، ص30؛ سیر اعلام النبلاء، ج13،ص69؛ تہذیب الکمال، ج19، ص96.
3.تہذیب التہذیب، ج7، ص30.
ہے اور نہ اس ترک و قبول کے پیچھے مولف کے مزاج کی سادگی یا سادہ لوحی ہے بلکہ یہ ایک منظم ضابطہ ہے جس کو اہل سنت کے محدثین نے شروع سے برتا ہے) مترجم غفرلہ.
صرف ایک مثال عرض کر رہا ہوں جس سے یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ مولفین کی خواہش نفس حدیث کو کھلونا بنا کے کس طرح کھیلتی رہی ہے؟ ملاحظہ ہو.
خلال کہتے ہیں: مجھے محمد بن علی نے خبر دی انہوں نے کہا محمد سے کہ مھنی نے حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں میں نے احمد سے پوچھا احمد نے کہا مجھ سے خالد بن خداش نے کہا انہوں نے کہا اسلام کہتے تھے اور مجھے محمد بن علی نے خبر دی انھوں نے کہا مجھ سے یحیی نے کہا وہ کہتے ہیں خالد بن خداش سے سنا وہ کہتے ہیں سلام بن ابی مطیع ابو عوانہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کوفہ سے جو بدعتیں تم سمیٹ کے لائے ہو مجھے دیدو تو ابوعوانہ نے اپنے مکتوبات ان کے حوالے کر دیئے پس اسلام بن ابی مطیع نے انہیں تنور میں ڈال دیا.
میں نے خالد سے پوچھا آخر ان مکتوبات میں تھا کیا؟ انھوں نے کہا ان میں اعمش سے مروی حدیثیں تھیں، اس میں یہ حدیث کہ سالم بن ابی جعد نے ثوبان سے انھوں نے پیغمبر(ص) کے حوالے سے کہا تھا کہ حضور نے فرمایا: قریش کے لئے سیدھے ہو جائو اور اس طرح کی حدیثیں تھیں میں نے پوچھا اور کیا تھا کہا علی(ع) کی حدیث تھی کہ انھوں نے(علی (ع) نے) کہا میں جنت اور جنہم کا تقسیم کرنے والا ہوں میں نے خالد سے پوچھا کیا ابو عوانہ نے تم سے یہ حدیث اعمش کے حوالے سے بیان کی تھی کہنے لگے ہاں اور صحیح اسناد سے بیان کی تھی اس کے علاوہ مجھے عبداللہ بن احمد نے خبر دی ہے کہ میں نے اپنے باپ کو کہتے سنا کہ سلام بن ابی مطیع ایوب کے اصحاب میں ہیں اور ثقہ راویوں میں ان کا شمار ہوتا ہے نیک آدمی تھے اور ان کے حوالے سے عبد الرحمن بن مہدی مجھ سے حدیثیں بیان کرتا تھا.
پھر کہنے لگے ابواعوانہ نے ایک کتاب لکھی تھی جس میں اصحاب نبی(ص) کے نقائص و عیوب بیان کئے گئے تھے اور ان میں بلائیں تھیں تو ان کے پاس سلام بن ابی مطیع آئے اور
کہنے لگے اے ابو اعوانہ! مجھے یہ کتاب دیدو حس ابو اعوانہ نے ان کو وہ کتاب دی تو سلام نے اس کو جلا دیا اس کے اسناد صحیح ہیں.(1)
2.بعض حاملان حدیث کی روایتوں کو اہل سنت کے محدثین نے ان کی عدم وثاقت یا عدم دیانت کی وجہ سے نہیں چھوڑا ہے بلکہ صرف اس لئے متروک قرار دیا ہے کہ ان کی روایت ان کی خواہش اور ان کے مذہب سے میل نہیں کھاتی ہیں.
صرف ایک مثال ملاحظہ ہو کہ وہ جراح بن ملیح کی خدمت میں ہے کہ جابر نے کہا میرے پاس(70) ہزار حدیثیں صرف ابو حعفر محمد باقر(ع) سے ہیں اور سب کی اسناد نبی(ص) تک پہونچی ہیں.(2)
محمد بن عمر رازی کہتے ہیں: میں نے جریر کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے جابر بن یزید جعفی سے ملاقات کی تھی لیکن ان کے حوالے سے کوئی حدیث اس لئے نہیں لکھی کہ وہ عقیدہ رجعت کے قائل تھے.(3)
ظاہر ہے کہ رجعت پر ایمان کسی کے جھوٹ کا ثبوت نہیں ہے وہ صرف ایک عقیدہ ہے جو دلیلوں اور حدیثوں سے ثابت ہے یہ الگ بات ہے کہ آپ کو اس کی تصدیق بری لگتی ہے اور سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ عقیدہ اس قوم کا ہے جو مذہب میں آپ کا مخالف ہے اور آپ کی خواہش نفس کا پابند نہیں ہے.
3.اکثر اہل حدیث کو حدیثوں کی روایت سے روکا گیا اس لئے نہیں کہ وہ جھوٹے تھے بلکہ اس لئے کہ جو حدیثیں وہ روایت کرتے تھے وہ حکومت یا عوام کے مزاج کے خلاف ہوتی تھیں اور ان کے
......................................
1.السنتہ للخلال، ج3، ص310.
2.صحیح مسلم، ج1، ص20؛ میزان الاعتدال، ج2، ص107؛ الضعفاء للعقلی، ج1، ص193.
3. صحیح مسلم، ج1، ص20؛ میزان الاعتدال، ج2، ص104؛ الضعفاء للعقلی، ج1، ص192.
رجحان فکر اور عقیدے سے میل نہیں کھاتی تھیں ثبوت کے لئے عیش بن یونس کی حدیث ملاحظہ فرمائیں، کہتے ہیں کہ میں نے اعمش کو کبھی جھکتے ہوئے نہیں دیکھا مگر صرف ایک بار انھوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ علی(ع) نے کہا میں جنت اور جہنم کا تقسیم کرنے والا ہوں یہ بات کسیی طر اہل سنت تک پہونچ گئی پس وہ لگ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کیاتم ایسی حدیثیں بیان کرتے ہو جسسے روافض، زیدیہ اور شیعوں کو تقویت ملیت ہے اعمش نے کہا بھائی میں نے یہ حدیث سنی تھی تو روایت کر دی کہنے لگے کیا تم چو کچھ سنوگے اس کی روایت کروگے عیسی بن یونس کہتے ہیں اس دن میں نے اعمش کو جھکتے ہوئے دیکھا(1) ظاہر ہے کہ اسی طرح کی پابندیوں نے اعمش کو روایت حدیث سے باز رکھا ابوبکر بن غیاث کہتے ہیں میں نے اعمش سے کہا تم نے کبھی موسی بن ظریف انہوں نے عبایہ سے انہوں نے علی(ع) سے یہ حدیث بیان کی تھی کہ علی(ع) نے کہا میں جنت اور جہنم کا تقسیم کرنے والا ہوں کہنے لگے: بخدا میں نے یہ حدیث مذاق کے طور پر روایت کی تھی کہ میں نے کہا لوگوں نے تمہارے حوالے سے اس حدیث کو اپنی کتابوں میں نقل کر دیا ہے اور تم کہتے ہو کہ میں نے مذاق کے طور پر یہ حدیث روایت کی تھی(2)
ذہبی کہتے ہیں: شبابہ نے کہا مجھ سے ورقہ نے کہا کہ ہم اور مسعر اعمش کے پاس گئے تاکہ ان پر دو حدیثوں کے بارے میں عتاب کریں ایک حدیث تو یہ تھی کہ میں جنت اور جہنم کا تقسیم کرنے والا ہوں اور دوسری حدیث یہ کہ فلاں اس طرح صراط پر ہوں گے اعمش نے کہا کہ میں نے تو یہ دونوں حدیثیں ہرگز بیان نہیں کی ہے اور خریبی کہتے ہیں کہ ہم اعمش کے پاس تھے وہ ہمارے پاس جوش و
....................................................
1.الضعفاء للعقلی، ج3، ص461؛ لسان المیزان، ج3، ص247.
2.الضعفاء للعقلی، ج3، ص216، لسان المیزان، ج3، ص247؛ میزان الاعتدال، ج4، ص56؛ العلل المتناہیہ، ج2، ص945.
غضب میں آئے اور کہنے لگے : تم لوگوں کو موسی بن ظریف پر حیرت نہیں ہوتی وہ عبابہ اور علی(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ علی(ع) نے کہا میں جنت اور جہنم کا تقسیم کرنے والا ہوں.(1)
گذشتہ صفحات میں نے عرض کیا گیا ہے کہ اہل سنت کا نظریہ فضائل اہل بیت(ع) اورمناقب آل محمد(ص) کے بارے میں اور ان کے دشمنوں کے نقائص کے بارے میں ہے.
( کہ وہ ہمیشہ اہل بیت(ع) کے فضائل پر پردہ ڈالتے ہیں اور ان کے دشمنوں کے نقائص کو بھی یا چھپاتے ہیں یا فضائل بنا کے پیش کرتے ہیں) مترجم غفرلہ.
4.بہت سی حدیثیں ضائع ہوگئیں اور حالات کے تحت کوئی ان کی طرف متوجہ نہیں ہوا کچھ حدیثیں مہمل قرار دے کے چھوڑ دی گئیں کچھ جنگوں میں ضائع ہوگئیں کبھی کسی گھر میں آگ لگی اور حدیثیں اس آگ میں جل گئیں، آپ سرسری نظر سے تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو سمجھ لیں گے کہ حدیثوں پر ہر دور میں کچھ نہ کچھ آفت آتی رہی اور ان کے ضائع ہونے کا سبب بنتی رہی، ظاہر ہے کہ ضائع شدہ حدیثوں کی تدوین نا ممکن تھی اس لئے جب تدوین کا کام ہوا تو وہ حدیثیں توجہ و التفات سے محروم رہ گئیں.
بلکہ کچھ محدثین نے مختلف اسباب کی وجہ سے اپنی کتابوں کوضائع کر دیا ایک مثال ملاحظہ ہو، سہل بن حصین بن مسلم باہلی کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن حسن بن ابی الحسن باہلی سے کہلایا کہ اپنے باپ کی کتابیں میرے پاس بھیج دو پس انہوں نے میرے پاس بھیج دیا کہ جب وہ بوڑھے ہوگئے تھے تو انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ میرے لئے ان کتابوں کو جمع کردو تو میں نے جمع کر دیا تھا اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس کو کیا کیا جائے گا لہذا میں نے ان کے پاس کتابیں جمع کردیں انہوں نے خادم سے کہا کہ تنور گرم کرو جب تنور گرم ہوا تو انہوں نے ان تمام کتابوں کو جلا دیا.(2)
اس سلسلےمیں اگر بات کی جائے تو گفتگو طویل ہو جائے گی جستجو کرنے والے کے لئے اتنا
.............................................
1.میزان الاعتدال، ج4، ص55.56، لسان المیزان، ج3، ص247.
2.الطبقات الکبری، ج7، ص175. سیر اعلام النبلاء، ج4، ص574.
ہی کافی ہے اور اس کے بارے میں واقفیت حاصل کرنا آسان ہے جب کہ اس دور میں کچھ کتابوں نے صاحب ذوق کی اس طرف رہنمائی کردی ہے.
5. حدیث شریف کی آفتوں میں اصحاب جرح و تعدیل کی چھان پھٹک کا بھی اضافہ کر لیں ظاہر ہے کہ جرح و تعدیل بھی حدیثوپ کے لئے ایک مصیبت ہی ہے کہ جس کے سامنے کوئی حدیث جرح و تعدیل کے بعد صحیح سمجھی گئی ممکن ہے کہ دوسروں کے نزدیک صحیح نہ ہو اور جو غلط سمجھی گئی ممکن ہے وہ صحیح ہو لیکن بہر حال وہ ضائع کردی گئی اس سلسلے میں میں نے ان سوالوں کے قسم اول کے جواب میں ایک طویل گفتگو کی ہے.
گذشتہ صفحات میں آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ سنت نبوی(ص) جو تمام مشکل مسائل میں مسلمانوں کے لئے قرآن مجید کے بعد واحد مرجع ہے اس سنت نبوی(ص) کو وقت اور سیاست کے ہاتھوں کتنا نقصان پہنچا اور کس طرح ضائع کرنے کی کوشش کی گئی اس لئے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ چونکہ خداوند عالم ہر چیز کا عالم ہے اور اس کو یہ معلوم ہے کہ نبی(ص) کی امت کیسے کیسے اختلافات و افترا کا شکار ہونے والی ہے اللہ اور اس کے رسول(ص) نے ان فتنوں کے بارے میں قرآن مجید اور احادیث شریفہ میں بتایا بھی ہے کہ امت پر کیا گذرنے والی ہے انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں حدیث شریف اور سنت نبوی(ص) کی کیا حالت ہونے والی ہے تحریف کی کن منزلوں سے گذرنا ہے اس لئے یہ بات بھی یقینی ہے کہ خداوند عالم اور خود رسول خدا(ص) نے اپنی سنت شریفہ کے گرد ایک حفاظتی دائرہ ضرور بنایا ہوگا.
سنت شریفہ ر ج آفتیں آئی ہیں ان آفتوں میں طویل زمانہ کو بھی شمار کر لیں وقت گذرتا گیا حادثات سامنے آتے گئے فکر انسانی کے رجحانات میں انقلابات آتے رہے انسان کے مزاج نے ماضی کی روایتوں سے آزاد ہونے کی بھر پور کوشش کی اور گذشتہ زمانے سے خود کو آزاد کر بھی لیا پھر
زمانہ خالی تقاضوں کے مطابق بدل کےسماجی قدروں کی تعبیروں میں تبدیلی کر لی زمانہ میں انسان کو استقرار نہیں ہے مسلمان تو وقت کے مطابق مذہب کو بھی بدلنا چاہتا ہے اس لئے وہ حدیثوں کی تحریف کرتا ہے دین کو ہلکا کرنے کے لئے وقت کے مزاج کے مطابق اور عصری تقاضوں کے مطابق حدیثوں اور آیتوں کی تفسیر کرتا ہے ظاہر ہے کہ اس کا اثر تو حدیث اور سنت نبوی(ص) پر لازمی طور پر پڑے گا.
تو کیا آپ کا خیال ہے کہ ان تمام باتوں کا علم رکھتے ہوئے بھی خدا اور خدا کے رسول(ص) نے سنت نبوی(ص) کو بغیر حفاظت کے چھوڑ دیا ہوگا کہ سنت نبوی(ص) آفتوں میں گھری رہے اور مشکلوں میں پھنسی رہے اور اس کو مشکلوں سے نکالنے کا کوئی انتظام خدا اور اس کے رسول(ص) کی طرف سے نہ ہو؟
خصوصا اس لئے بھی کہ دین اسلام خاتم الادیان ہے اور اس دین کے نبی خاتم الانبیاء(ص) ہیں. اب کوئی جدید وحی آسمان سے نازل نہیں ہونے والی ہے جس کا انتظار کیا جائے اگر کچھ نیا ہوگا بھی تو اسی دین قیم کے اور اس کے قانون کے ضمن میں ہوگا جس قانون اور دین کو مکمل طور پر نبی اعظم(ص) پہونچا چکے ہیں.
میرا خیال ہے کہ اگر نگاہ انصاف سے گذشتہ صفحات کو پڑھا جائے تو ہر حق پسند یہ فیصلہ کرے گا کہ یقینا ان مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے خصوصا اس دور میں کہ جب کہ مسلمانوں کے درمیان دین کے اصول و فروع میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے اور مشکل یہ ہے مسائل کو حل کرنے کی مسلمان خود سے تو حل نہیں کرسکتے لہذا ماننا پڑے گا کہ خدا اور رسول(ص) کی طرف سے ان مسائل کا حل موجودہے.
اب مسائل کا حل ممکن ہی نہی ہے جب تک یہ نہ مانا جائے کہ اللہ نے ہر زمانے میں اس طرح کی مشکلوں کو حل کرنے کے لئے اپنی طرف سے کوئی مرجع معین کر دیا ہے تاکہ لوگ دینی امور میں اس کی طرف رجوع کریں وہ مرجع بھی دین اور حقیقت دین کا عالم ہونا چاہیئے تا کہ وہ معالم دین کو واضح کرسکے اور اختلافات کو رفع کرسکے اور بناوٹ اور تحریف سے روک سکے تاکہ مسلمان اپنے معاملات میں وضاحت اور دین میں بصیرت حاصل کرسکیں اور ایسا مرجع ہو جو خدا کی طرف سے حجت بالغہ ہو اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان صفات کا دعوی نہیں کیا گیا مگر صرف ائمہ اہل بیت(ع) کے لئے خدا کی طرف سے سند حجیت اور امت کے لئے مرجعیت صرف ائمہ اہلبیت(ع) کو حاصل ہے.
اب اگر کوئی یہ کہے کہ خدا کی طرف سے تعین مرجع کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور یہ دعوی کرے کہ مرجع کی کیا ضرورت ہے امت اپنے اختلافات کو دور کرنے کے لئے خود ہی کافی ہے یاخدا کو امت کا یہ اختلاف اور افتراق پسند ہے تو میں اس سے کہوں گا لیکن نبی(ص) اپنے بعد امت کے لئے مرجع کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ہیں اور ہمارے لئے کافی ہے کہ نبی(ص) نے اپنے بعد اہل بیت اطہار(ع) کو امت کا مرجع قرار دیا ہے اور سینکڑوں حدیثوں میں اس کی وضاحت کر دی ہے جیسے.
1.حدیث ثقلین جو بہت مشہور ہے بلکہ لفظی اختلاف کے باوجود معنوی طور پر تمام راویوں میں اتحاد ہے اور اتنے کثیر طریقوں سے وارد ہوئی ہے کہ تواتر کی حدوں سے کئی ہاتھ آگے بڑھی ہوئی ہے اگر چہ میں نے اس کی دلالت کی توضیح آپ کے سابقہ سوالوں میں چھٹے سوال کے جواب میں کردی ہے ویسے یہ حدیث اتنی مشہور، متواتر اور قطعی ہے کہ کسی توضیح کی محتاج نہیں ہے.
2.حضور کا یہ قول کہ ہمارے اہل بیت(ع) سفینہ نوح جیسے ہیں جو اس میں سوار ہوا نجات پائے گا اور جس نے منہ موڑا وہ ڈوب گیا.(1)
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس حدیث میں یہ اشارہ ہے کہ نجات مل ہی نہیں سکتی جب تک اہل بیت(ع) ہدایت نہ کریں اور ہلاکت یقینا اس کا مقدر ہے جو ان سے اعراض کرتا ہے اور انہیں چھوڑ دیتا ہے.
3. اور حضور(ص) کا یہ قول کہ ستارے اہل زمین کو ڈوبنے سے بچاتے ہیں اور ہمارے اہل بیت(ع) امت کو اختلاف سے امان دیتا ہے.(2)
ظاہر ہے کہ اختلاف سے امان دینے کا مطلب یہ ہے کہ اہل بیت(ع) شک و حیرت میں امت کا مرجع ہیں اور چونکہ اختلاف کسی زمانے کا پابند نہیں ہے بلکہ ہر دور میں ہوسکتا ہے اس لئے اختلاف سے بچنے کے لئے ہر دور میں ایک مرجع کا ہونا ضروری ہے تاکہ لوگ اس کی طرف رجوع کرسکیں اور اپنے اختلافات کو رفع کرسکیں.
4.حضور(ص) کا یہ فرمانا کہ جو چاہتا ہے کہ میرے جیسی حیات جئے اور میرے جیسی موت پائے اور جنت میں داخل ہو جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے انگور کا وہ باغ جس کو خدا نے اپنے دست قدرت سے لگایا ہے اور جنت خلد ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ علی(ع) سے تولا یعنی محبت کرے اور علی(ع) کے بعد ان کی ذریت سے تولا کرے اس لئے کہ وہ تو تمہیں ہدایت کے دروازے سے ہرگز نہیں نکالیں گے اور ضلالت کے دروازے میں ہرگز داخل نہیں کریں گے.(3)
............................................
1.المستدرک علی الصحیحین، ج3، ص162؛ کتاب معرفتہ الصحابہ، مجمع الزوائد، ج9، ص174. مسند رویانی، ج2، ص253. المعجم الکبیر، ج7، ص22. موضع اوہام الجمع والتفریق، ج2، ص463. کشف الخفاء، ج2، ص425. فضائل الصحابہ ابن حنبل، ج2، ص671 وغیرہ منابع.
2.کنز العمال، ج11، ص611، حدیث3296 الاصابہ، ج2،ص587.تاریخ دمشق، ج42، ص240.
3.چوتھے سوالوں کے جواب میں اس کے مصادر گذر چکے ہیں.
پس اس بات کا قطع کی اہل بیت(ع) امت کو باب ہدایت سے ہرگز نہیں نکالیں گے اور باب ضلالت میں ہرگز داخل نہیں کریں گے اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ہمیشہ حق کے ساتھ رہیں گے حق کی معرفت رکھیں گے اور حق کے معاملے میں غلطی نہیں کریں گے تو حق سمجھنے کے لئے اور حق تک پہونچنے کے لئے ان حضرات کی طرف رجوع کرنا طے ہوگیا.
اسی طرح کی حدیث زید بن ارقم سے ہے مگر اس میں یہ الفاظ ہیں کہ اس کو چاہئے کہ وہ علی(ع)سے تولا کرے اس لئے علی(ع) اس کو کبھی ہدایت کے دروازے سے نہیں نکالیں گے(1) جب یہ طے ہوگیا کہ علی(ع) ہی امت کے مرجع ہیں تو پھر آپ کی اولاد طاہرہ(ع) کی مرجعیت کے لئے وہ نصوص کافی ہیں جو نبی(ص) کی طرف سے وارد ہوئی ہیں اور ان حضرات کی مرجعیت کا تعین کرتی ہیں.
5.اور حضور(ص) کا یہ فرمانا کہ میرے بعد میری امت کے لئے ہر دور میں میرے اہل بیت(ع) میں سے ایک عدول ہوگا جو اس دین کو غالیوں کی تحریف سے دور رکھے گا مبطلین کی دخل اندازی سے بچائے گا اور جاہلوں کی تاویل سے نجات دے گا اور خبردار ہوجائو کہ تمہارے امام بارگاہ الہی میں وفد ہیں پس بہت غور کرو کہ تمہارا امام کون ہونا چاہئے یہ(2) حدیث بھی صراحتا اس بات پر دلالت کرتی ہے کہاہل بیت(ع) حق اور باطل کے درمیان تمیز کے لئے مرجع ہیں اور دین حنیف میں جو غلطیان سرزد ہوں گی ان کی تصحیح کرنے والے ہیں نیز عمدا جو تحریف کی جاتی ہے یا غلطی سے جو عمل ہو جاتا ہے اس کو ٹھیک کرنے والے ہیں.
6.حضرت مولائے کائنات(ع) فرمایا کرتے تھے میں اور میرے طیب و طاہر خاندان کی نسل اور میری عترت کے ابرار بچپن میں بھی بڑوں سے سمجھدار اور بڑے ہونے پر تمام انسانوں سے عالم
.................................................
1.المستدرک علی الصحیحین، ج3، ص139. مجمع الزوائد، ج9، ص108. تاریخ دمشق، ج42، ص242. حلیتہ الاولیاء، ج1، ص86. میزان الاعتدال، ج2، ص34، وغیرہ منابع.
2.ینابیع المودة، ج2، ص114.366. 439، الصواعق المحرقہ، ج2، ص441.442.676، ذخائر القضی فی مناقب ذوی القربی،ص17.
ہوتے ہیں ہمارے ہی ذریعہ خدا جھوٹ کو دور کرتا ہے ہمارے ہی ذریعہ کاٹ کھانے والے بھیڑئیے اور کتوں کے دانت توڑنا ہے ہمارے ہی ذریعہ خدا تمہاری مشکلوں کو دور کرتا ہے اور ہمارے ہی ذریعہ تمہاری گردنوں کو پھندوں سے آزاد کرتا ہے اور ہمارے ذریعہ خدا شروع کرتا ہے ہمارے ذریعہ ختم بھی کرتا ہے.(1)
مذکورہ بالا قول قرآن مجید کی اس آیت کے مطابق ہے جس میں خدا نے ارشاد فرمایا ہے کہ اے اہل بیت(ع)! خدا کا تو بس یہ ارادہ ہے کہ تمہیں ہر رجس سے دور رکھے اور ایسا پاک رکھے جیسا پاک رکھنے کا حق ہے(2) اس لئے کہ سب سے بڑا رجس دین میں غلطی کرنا ہے اس کے علاوہ کتنی آیتیں اور حدیثیں ہیں جو اہل بیت اطہار اور ائمہ ابرار(ع) کی مرجعیت کو صراحتا بیان کرتی ہیں.
ان آیتوں اور حدیثوں کے ساتھ امیرالمومنین(ع) کے حق میں جو خاص آیتیں اور حدیثیں وارد ہوئی ہیں ان کا بھی اضافہ کر لیں جیسے یہ کہ وہ حق کے ساتھ ہیں اور حق ان کے ساتھ ہے علم نبی(ص) کے راز دار اور وارث اور شہر علم نبی(ص) کے دروازے بھی وہی ہیں وغیرہ وغیرہ...
ان سوالوں میں چوتھے چھٹے اور ساتویں سوال کے جواب میں کچھ حدیثیں میں پیش کرچکا ہوں، جو ان حدیثوں اور آیتوں کو صحیح سمجھتا ہے وہ یہ بھی جانتا ہے کہ حضور نے ائمہ اہل بیت(ع) کو اپنے علم کا وارث بنایا ہے اور الحمد للہ میراث اپنے وارث کے پاس موجود اور باقی ہے اس سلسلے میں باقی باتیں نویں سوال کے جواب میں بھی عرض کی جائیں گی جہاں یہ دلیلیں دی جائیں گی کہ ائمہ اہل بیت(ع) میں ہی امامت باقی ہے اور امامت ان سے باہر کہیں نہیں پائی جاتی.
یہی وجہ ہے کہ ولائے اہل بیت(ع) ہی سے دین کامل ہوتا ہے ار نعمتیں تمام ہوتی ہیں اور خداوند عالم کی طرف سے اسلامی قانون جیسی عظیم نعمت اسلام کو حاصل ہوتی ہے یہ وہ حضرات ہیں جن کی ولا کا
...................................
1.کنز العمال، ج13، ص130، حدیث36413.
2.سورہ الاحزاب، آیت33.
تذکرہ آیہ اکمال دین میں شامل ہے(1) آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کیا تم پر اپنی نعمت تمام کی اور تمہارے لئے دین اسلام سے راضی ہوا سابقہ سوالوں میں چوتھے سوال کے جواب میں جہاں حدیث غدیر کا تذکرہ کیا گیا ہے وہیں دلیل کے عنوان سے وہ حدیثیں بھی پیش کی گئی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اعلان ولایت کے بعد ہی یہ آیت نازل ہوئی.
لیکن جہاں تک اہل سنت کا سوال ہے تو ان کی اجمالی یا تفصیلی دونوں ہی طرح کی روایتوں نے ولائے اہل بیت(ع) کے مخالف سمت میں رخ موڑ رکھا ہے اور وہ اپنے مسلمات و عقائد کو چھوڑنے پر تیار نہیں بلکہ انہیں عقائد کو حق اور باطل کے درمیان تمیز کا مرجع سمجھتے ہیں اور اہل بیت اطہار(ع) کو پس پشت ڈال دیا ہے.
جوزجانی کہتے ہیں: اہل کوفہ میں ایک گروہ ایسا ہے جس کا مذہب محمود اور پسندیدہ نہیں ہے وہ محدثین کوفہ کے راس و رئیس ہیں جیسے ابواسحق، عمرو بن عبداللہ، منصور اعمش، اور زید بن حارث وغیرہ اور ان کے ساتھی لوگ ان کی سچائی کی وجہ سے ان کی حدیثیں لینے پر مجبور ہیں لیکن جب ان کی مرویات کو میزان انصاف پر تولا جائے گا وہ میزان جس کو مسلمانوں کے اسلاف نے مقرر کیا ہے اور ان کے ائمہ ان پر بھروسہ کرتے ہیں تو پتہ چلے گا کہ ان کی حدیثیں اس معیار کے مطابق نہیں ہیں ایسی صورت میں میرے نزدیک توقف کرنا ہی صحیح ثابت ہے اس لئے کہ ہمارے اسلاف قول پیغمبر(ص) کو ہم سے زیادہ جاننے والے اور پیغمبر(ص) کی حدیث کو ہم سے بہتر تاویل کرتے تھے جو ان کے نزدیک اصل کی حیثیت رکھتی ہے.
...............................
1.سورہ مائدہ، آیت3.
وہب ابن منبہ نے کہا ہے: اہل کوفہ کی حدیث کو اعمش اور ابو اسحق نے بگاڑا ہے ابراہیم کہتے ہیں کہ اسی طرح مجھ سے اسحق بن ابراہیم نے بیان کیا کہ ان سے جریر نے کہا میں نے مغیرہ کو اکثر یہ کہتے سنا کہ اہل کوفہ کو اسحاق اور تمہارے اس اعمش نے برباد کردیا میرے نزدیک ان کے بعد آنے والے بھی اسی طرح ہیں اگر چہ وہ صاحبان مراتب ہیں لیکن ان کا مذہب برا اور زبان سچی ہے.(1)
جوزجانی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ مذکورہ بالا حضرات صادق اللسان ہیں پھر یہ بھی کہتے ہیں ان سچے لوگوں کی حدیثوں پر بھی توقف کرنا اس صورت میں بے حد ضروری ہے جب ان کی حدیثیں اس معیار پر پوری اتریں جو معیار اسلاف مسلمین اور ان کے ائمہ نے قائم کئے ہیں اس لئے کہ جوزجانی کے نزدیک وہی اسلاف مسلمین دین کے مرجع ہیں اور ان کے امام ہیں اس کے ساتھ ہی حدیث پیغمبر(ص) کی اور تاویل حدیث کے زیادہ جاننے والے ہیں ناظرین کا کیا خیال ہے؟
جوزجانی یہ ممدوح افراد آخر کون لوگ ہیں کیا ناظرین انہیں پہچانتے ہیں اگر نہیں پہچانتے تو جوزجانی کے اس کلام کو پھر سے پڑھیے آپ کی سمجھ میں آجائے گا یہ اسلاف مسلمین مرجع امت، اعمل قول رسول اور ماہرین تاویل کوئی اور نہیں یہ وہی لوگ ہیں جن کا شعار زندگی خلاف اہل بیت ہے(ع)، یہ لوگ جوزجانی کی نظر میں صرف اس لئے ممدوج اور معیار حدیث ہیں کہ یہ لوگ مذہب اہل بیت(ع) کے خلاف ہیں مذہب اہل بیت(ع) کے خلاف تھے اور مذہب اہل بیت(ع) کے خلاف رہیں گے.
اہل کوفہ کے مذکورہ راوی ممدوح المذہب ہیں اور انہوں نے اہل کوفہ کی حدیث میں فساد برپا کر دیا ہے حالانکہ وہی روات اہل کوفہ جوزجانی کی زبان میں صادق اللسان بھی ہیں اور حدیثوں کو خراب بھی کررہے ہیں.
...........................................
احوال الرجال، ص78.81.
عجیب بات یہ ہے وہی روات اہل کوفہ جو صادق اللسان بھی ہیں جوزجانی کے قول کے مطابق اہل کوفہ کی حدیثوں میں فساد کا سبب قرار پاتے ہیں، ناظرین کرام یہ دنیا ہے اس میں جب تک زندہ رہیں گے عجیب سے عجیب تر تماشے دیکھتے رہیں گے.
کاش جوزجانی اور ان کے اسلاف مسلمین اور علماء تاویل اہل بیت(ع) کی طرف پلٹتے وہ اہل بیت(ع) جنہیں اللہ نے رجس سے پاک رکھا ہے اور ایسا مطہر کیا ہے جیسا تطہیر کا حق ہے وہ اہل بیت(ع) جنھیں پیغمبر(ص) نے امت کا ایسا مرجع قرار دیا ہے جو امت کو ضلالت اور فرقہ بندی سے محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو آج میعاد بدل جاتا اور میزان میں تبدیلی آجاتی ہے وہی اہل صداقت جن کی زبان کی صداقت کی گواہی جوزجانی دے رہے ہیں مذموم مذہب کے بجائے مذہب حق کے حامل قرار پاتے ہیں اور اہل کوفہ کی حدیث میں بھی اصلاح ہوجاتی ہے، یہ بات بھی ظاہر ہوجاتی ہے کہ ان صاحبان زبان صداقت نے اہل کوفہ کو گمراہی سے بچانے کا کارنامہ انجام دیا ہے اور گمراہی سے محفوظ رکھا ہے.
آپ کہہ دیں کہ خدا ہی کی حجت ( حق تک) پہچانے والی ہے اور اگر وہ چاہے تو تم سب کو ہدایت کردے(1) ہم خدا کی حمد کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنے دین کی ہدایت کی اور توفیق عنایت فرمائی جس نے اس راستے کی طرف بلایا ہے ہم اس کا ابدی اور سرمدی شکریہ ادا کرتے ہیں.
ان تمام باتوں سے ایک حقیقت بہر حال ظاہر ہوجاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اہل سنت حدیثوں کے معاملے میں اہل بیت(ع) سے بہر حال مستغنی نہیں ہیں اور شیعوں کی طرف ان کی صداقت لسان کا اعتراف کر کے بہر حال رجوع کرنے کے محتاج ہیں اگر چہ ان کے مذہب سے واقف ہیں اور یہ بھی واضح ہوگیا کہ صرف نبی(ص) سے حدیث لیکے وہ دینی معلومات مکمل طور پر حاصل نہیں کرسکتے اس لئے حدیث نبوی(ص) سابقہ بیان کے زیر نظر بڑی آفتوں اور مصیبتوں سے گذری ہے.
.....................................
1.سورہ انعام، آیت149.
دوسری قابل تعریف بات:
آخر میں آپ نے فرمایا ہے اہل سنت اس لئے شیعہ کی کتابوں سے مستغنی ہیں کہ اہل بیت(ع) کی عصمت کے قائل نہیں ہیں آپ کے اس جملے کے جواب میں عرض ہے کہ، پہلی بات یہ ہے کہ، کیا اہل بیت(ع) کی عصمت اہل سنت کے اعتراف اور قائل ہونے کی محتاج ہے جو معصوم ہے وہ معصوم ہی رہے گا اہل سنت کے معصوم ماننے اور نہ ماننے سے ان کی عصمت پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ ان کی عصمت لا تعداد متواتر احادیث سے ثابت ہے.
1.وہ حق اور قرآن کے ساتھ ہیں حق اور قرآن ان کے ساتھ ہے وہ مسلمانوں کے مرجع قرار پاتے ہیں اور حق کی ہدیات کرتے ہیں وہ مسلمانوں کو گمراہی سے بچاتے ہیں مسلمانوں کے اختلاف کو دور کرتے ہیں دین کو آلودگیوں اور تحریفات سے پاک کرتے ہیں وغیرہ.
اگر دشمن انہیں تبلیغ میں معصوم نہ بھی مانےتو کم از کم یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ وہ بغیر بات نہیں کرتے بلکہ آیت تطہیر کا تقاضہ تو یہ ہے کہ وہ معصیت سے معصوم ہیں اور غیر تبلیغی امور میں بھی انہیں قرآن سے سند عصمت حاصل ہے، اہل سنت کا اس بات پر اصرار کہ وہ معصوم نہیں ہیں تو آپ کا یہ کہنا دلیلوں سے مردود ہوجاتا ہے اور اس طرح کی سیکڑوں دلیلیں ہیں.
2.دوسری بات یہ ہے کہ ائمہ ہدی علیہم السلام سے جو حدیثیں وارد ہوئی ہیں ان میں تین باتیں قابل توجہ ہیں.
1.پہلی بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں کے یہاں اسناد کا معصوم ہونا شرط نہیں ہے لہذا اہل سنت کا ائمہ کی عصمت کا قائل نہ ہونا ان کی روایات کے اخذ کرنے سے مانع نہیں ہے اور ان روایات پر عمل
کرنا جس طرح انھوں نے غیروں سے روایت کی ہے اور عمل بھی کیا ہے بلکہ اہل بیت(ع) غیروں سے اولی اور افضل ہیں کیونکہ امام اپنے باپ اور وہ اپنے آباء و اجداد اور وہ امیرالمومنین(ع) اور وہ پیغمبر(ص) سے حدیث نقل کرتے ہیں کیونکہ اولی ہیں اس لئے کہ علم فقہ، تقوی و پرہیزگاری، صداقت و راست گفتاری میں معراج کمال کو پہنچے ہوئے ہیں لہذا جس سند کی بازگشت ان حضرات کی طرف ہوتی ہے وہ عظیم الشان اور عالی مرتبہ اور قوی ہے.
جب کہ اکثر اہل سنت نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ ائمہ اہل بیت(ع) اپنے اسناد میں جن راویوں کا نام لیتے ہیں اگر وہ نام یعنی وہ سند مجنون پر پڑھ کے دم کر دو تو وہ صحت پا جاتے ہیں پوچھئے نہ احمد بن حنبل سے وہ تو حنابلہ کے امام ہیں احمد بن حنبل سے روایت کی گئی ہے کہ امام علی بن موسی الرضا(ع) جن اسناد سے روایت کرتے ہیں اگر وہ اسناد مجنون پر پڑھ دی جائیں تو وہ صحت مند ہو جائے،(1) بقول شاعر
یا علی(ع) اگر کہہ دو تو سدا دہن مہکے
پڑھ کے نام دم کر دو حشر تک بدن مہکے.
ابن مراویہ سے بھی پوچھ لیجئے وہ کہتے ہیں ابو حاتم بن ادریس رازی نے کہا ابوصلت عبد اللہ بن صالح ہروی کہتے تھے اگر یہ اسناد کسی مجنون پر پڑھ دی جائیں تو اس کو افاقہ ہو جائے.(2)
اور یہ محمد بن عبداللہ بن طاہر ہیں کہتے ہیں: میں اپنے باپ کے سرہانے بیٹھا تھا نیز ان کے پاس احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، اور اباصلت ہروی بھی تھے میرے والد نے حاضرین سے کہا کہ تم میں سے ہر ایک آدمی ایک حدیث بیان کرے ابوصلت نے کہا:
.......................................
1.الصواعق المحرقہ، ج2، ص595.
2.التدوین فی اخبار قزدین، ج3، ص482.
مجھ سے علی بن موسی الرضا(ع) نے کہا: اور یقینا وہ رضا تھے جیسا کہ ان کا نام تھا انھوں نے اپنے باپ موسی بن جعفر(ع) سے سنا انھوں نے اپنے باپ جعفر بن محمد(ع) سے سنا انھوں نے اپنے باپ محمد بن علی(ع) سے سنا انہوں نے اپنے باپ علی بن حسین(ع) سے سنا انہوں نے اپنے باپ حسین بن علی(ع) سے سنا انہوں نے اپنے باپ علی(ع) سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا: ایمان قول اور عمل کا نام ہے حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا: یہ کون اسناد ہیں( چونکہ ان اسناد اہل بیت(ع) سے نا آشنا تھے اس لئے اس کو تعجب بھی ہوا اور اجنبیت بھی محسوس ہوئی) مترجم غفرلہ.
میرے باپ نے کہا یہ سعوط المجانین ہے( پاگلوں کے لئے دوا ہے) اگر مجنون پر یہ نام پڑھ کے دم کئے جائیں تو وہ صحت پا جائے(1) اسی طرح ابونعیم نے بھی بعض بزرگ محدثین سے نقل کیا ہے.(2)
اور شیخ صدوق محمد بن علی بن حسین بن موسی بن بابویہ نے امام رضا(ع) سے آپ کی اسناد کے ساتھ اپنے آباء کرام سے انہوں نے نبی سے حدیث بیان کی ہے ایمان کا نام زبان سے اقرار دل سے معرفت اور ارکان پر عمل کرنا ہے.
پھر کہا ہمزہ بن محمد علوی کہتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن ابن ابی حاتم سے سنا کہنے تھے میں نے اپنے باپ سے سنا کہتے تھے کہ یہ حدیث ابو صلت ہروی عبداللہ بن صالح سے انہوں نے علی بن موسی الرضا(ع) سے انہوں نے اپنی اسناد سے اپنے آباء کرام سے روایت کی ہے کہ ابوحاتم کہتے ہیں کہ اگر یہ اسناد مجنون پر پڑھ دی جائیں تو وہ صحت پا جائے.(3)
عبدالرحمن بن حاتم کہتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ شام میں تھا میں نے ایک بے ہوش آدمی کو دیکھا تو مجھے یہ اسناد یاد آئیں میں نے سوچا چلو اس کا تجربہ کرلوں تو میں نے
................................
1.طبقات الشافعیہ الکبری، ج1، ص119.120. انہیں الفاظ میں عیون اخبار الرضا(ع)، ج2، ص205 بھی ملاحظہ ہو.
2.حلیتہ الاولیاء، ج3، ص192، محمد بن علی الباقر کی سوانح حیات میں.
3.عیون اخبار الرضا(ع)، ج2، ص205.
یہ اسماء مبارکہ جو اسناد میں ہیں اس بیہوش آدمی پر پڑھی تو وہ ہوش میں آکے کھڑا ہوگیا اور اپنا کپڑا جھاڑتے ہوئے چلا گیا.(1)
2.ایسی حدیثیں ہیں جن میں امام کا تذکرۃ نہیں کرتے اور براہ است نبی سے روایت کرتے ہیں وہ بادی النظر میں تو مرسل لگتی ہیں حالانکہ در حقیقت وہ مسند ہوتی ہیں اس لئے کہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ امام نے حدیث اپنے والد ماجدسے انہوں نے اپنے والد ماجد سے اور... سند کو اس لئے حذف کر دیا اختصار پیش نظر تھا اور اس بات کی اکثر حضرات نے صراحت بھی فرما دی ہے.
جابر کی حدیث میں ہے کہ میں(جابر) نے ابو جعفر محمد باقر(ع) سے عرض کی: مولا جب آپ مجھ سے کوئی حدیث بیان کریں تو اس کی اسناد بھی بیان کردیا کریں آپ نے فرمایا: مجھ سے میرے والد ماجد نے ان سے ان کے والد ماجد نے( میرے باپ نے میرے دادا سے ) انہوں نے رسول(ص) سے انہوں نے جبرئیل سے انہوں نے اللہ سے سنا جب بھی میں کوئی حدیث بیان کروں اس میں ان اسناد کو داخل کر دیا کرو.(2)
ہشام بن سالم اور حماد بن عثمان وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ ہم نے ابوعبداللہ جعفر صادق(ع) سے سنا آپ فرماتے تھے میری حدیث میرے والد کی حدیث ہے میرے والد کی حدیث میرے دادا کی حدیث ہے اور میرے دادا کی حدیث حسین(ع) کی حدیث ہے ان کی حدیث امام حسن(ع) کی حدیث ہے اور ان کی حدیث امیرالمومنین(ع) کی حدیث ہے اور ان کی حدیث رسول(ص) کی حدیث ہے اور رسول (ص) کی حدیث اللہ کی حدیث ہے، عزوجل.(3)
اس سلسلے میں ایک پر لطف بات وارد ہوئی ہے سالم بن ابی حفصہ کہتے ہیں: جب ابو حعفر محمد
.........................................
1.التدوین فی اخبار قزوین، ج3، ص482.
2.بحارالانوار، ج2، ص178.
3.الکافی، ج1،ص53؛بحارالانوار،ج2، ص179.
بن علی(ع) کی وفات ہوگئی تو میں نے اپنے اصحاب سے کہا چلو پہلے ابوعبداللہ جعفر صادق(ع) اور ان کے والد ماجد کی تعزیت پیش کرتے ہیں ہم لوگ آپ کی خدمت میں آئے اور آپ کو پرسہ دیا پھر میں نے کہا: انا للہ و انا الیہ راجعون؛ خدا کی قسم وہ گذر گیا جو کہتا تھا قال رسول اللہ، پیغمبر(ص) نے فرمایا اور اپنے اور رسول کے درمیان میں وہ کسی سے پوچھتا نہیں تھا خدا کی قسم اب دنیا میں ایسے لوگ نہیں ملتے.
کہتا ہے جناب ابوعبداللہ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر فرمایا اللہ کہتا ہے جو ایک کھجور بعنوان صدقہ دیتا ہے ہم اس کو یوں بڑھا دیتے ہیں جیسے کسان بیج سے کھیت تیار کرلیتا ہم اس کو بڑھاتے بڑھاتے کوہ احد کے برابر کردیتے ہیں.
کہتا ہے یہ سن کے میں نے اپنے اصحاب کے پاس آیا اور کہا میں نے اس سے عجیب بات آج تک نہیں دیکھی ہم تو ابوجعفر محمد بن علی(ع) کی اسی بات کو بڑا سمجھتے تھے کہ آپ فرماتے تھے رسول نے کہا اور براہ راست رسول(ص) سے روایت کرتے تھے لیکن ابوعبداللہ جعفر(ع) کہتے ہیں کہ اللہ نے کہا اور وہ اللہ اور اپنے درمیان کوئی واسطہ نہیں رکھتے.(1)
3.تیسری بات یہ ہے کہ اہل بیت اطہار(ع) کے وہ فتوے جو اسناد سے نبی(ص) تک پہونچتے ہیں ان پر عمل کرنا ان لوگوں پر تو واجب ہے ہی جو اہل بیت(ع) کو معصوم سمجھتے ہیں ان پر تو واجب ہے کہ وہ اہل بیت(ع) کے مقابلے میں دوسروں کے فتوے کو چھوڑ کے صرف اہل بیت(ع) کے فتوے پر ہی عمل کریں اس لئے کہ وہ لوگ جانتے ہیں کہ ان کے فتوے بھی اصل میں دین ہیں جن پر عمل کرنا واجب اور ان کی مخالفت باطل ہے.
.....................................
1.بحارالانوار، ج47، ص337.
لیکن جو لوگ اہل بیت(ع) کی عصمت کے قائل نہیں ہیں ان کے حق میں بھی وہ فتوے ان تمام مفتیوں کی طرح ہیں جن مفتیوں کے لئے ان کے نزدیک عصمت شرط نہیں ہے اس پر مسلمانوں کا اجماع بھی ہے اس لئے اہل سنت اپنے ائمہ کے فتووں پر عمل کرتے ہیں جب کہ ان کی عصمت کے قائل نہیں ہے.
لیکن چند امور کی وجہ سے ائمہ اہل بیت(ع) کے فتووں کو ترجیح حاصل ہے اور ان پر عمل کرنا واجب ہے.
1.اہل بیت اطہار(ع) کی باتوں سے جو استفادہ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ حضرات اپنی رائے سے فتوی دیا ہی نہیں کرتے بلکہ ان کے فتوے کی بنیاد وہ علم ہے جو انہیں پیغمبر(ص) سے میراث میں ملا ہے فضیل کی حدیث ملاحظہ کریں، ابوجعفر(ع) نے فضیل سے فرمایا اگر ہم اپنی رائے سے حدیثیں بیان کرنے لگیں تو لوگوں کو گمراہ کردیں گے جیسا کہ ہمارے پہلے والے گمراہ کن تھے( گذشتہ امتوں میں) لیکن ہم تو اپنے پروردگار سے بینہ حاصل کر کے بولتے ہیں یہ وہ بینہ ہے جو نبی(ص) کو خدا نے عنایت فرمایا ہے اور نبی(ص) نے ہمارے لئے کھول کے بیان کردیا.(1)
جابر کی حدیث میں؛ ابوجعفر(ع) نے فرمایا، اگر ہم لوگوں کو اپنی رائے اور اپنی خواہش سے فتوے دیں گے تم ہم ہلاک ہوجائیں گے لیکن ہم نبوی آثار اور اس علم کی بنیاد پر فتوے دیتے ہیں جو نسل در نسل میراث میں ہمیں ملا ہے اور ہم نے اس کو اس طرح محفوظ رکھا ہے جیسے لوگ اپنے سونے چاندی کو ذخیرہ کرتے ہیں.(2)
ابوجارود کی حدیث جو امام باقر(ع) سے روایت کرتے ہیں سرکار دو عالم(ص) نے مولائے کائنات(ع) کو اپنے پاس بلایا اس وقت آپ مرض موت میں گرفتار تھے آپ نے علی(ع) سے کہا: اے علی(ع) میرے قریت آئو تاکہ میں تمہیں وہ اسرار بتائوں جو اللہ نے مجھے بتائے ہیں اور وہ
................................
1.بحارالانوار،ج2، ص172.
2. بحارالانوار، ج2، ص172
امانتیں دیدوں جن کا اللہ نے مجھے امانت دار بنایا تھا تو پیغمبر(ص) نے علی(ع) کو وہ سب کچھ دیدیا اور علی(ع) نے حسن(ع) کو اور حسن(ع) نے حسین(ع) کو اور حسین(ع) نے میرے والد ماجد(ع) کو اور میرے والد بزرگوار نے مجھے وہ سب کچھ دیدیا جو ان کے بزرگوں سے ملا تھا، صلوۃ اللہ علیہم اجمعین.(1)
اور عنبہ کی حدیث ہے کہ ایک شخص نے جعفر صادق(ع) سے ایک مسئلہ پوچھا تو آپ نے اس کا جواب دیا اس نے کہا کہ اگر معاملہ اس طرح ہو تو پھر آپ کیا کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: دیکھو ہم نے جو بھی تم سے کہا ہے وہ قول پیغمبر(ص) سے مستفاد ہے اور ہم لوگ اپنی رائے سے کچھ بھی نہیں کہا کرتے.(2)
اس کے علاوہ بھی اس مسئلے پر کثیر نصوص پائے جاتے ہیں جن سے تواتر اجمالی مستفاد ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ.(3)
2.ائمہ اہل بیت(ع) کے فتوئوں کو دوسروں کے فتوئوں پر مقدم رکھنے کی دوسری وجہ ان کی بارے میں احتمال عصمت ہے شیعوں کی نظر میں تو ان کی عصمت قطعی ہے اور چونکہ ان کی عصمت کے خلاف کوئی دلیل نہیں پائی جاتی اس لئے شیعوں کے یہاں ان کے بارے میں احتمال عصمت ہے جب کہ غیر اہل بیت(ع) کی عصمت کے بارے میں نہ کسی نے دعوا کیا ہے اور نہ کوئی احتمال ہے بلکہ شیعہ سنی دونوں فرقوں ک اجماع ان کے غیر معصوم ہونے پر ہے.
3.تیسری وجہ وہ دلیلیں ہیں جو ان حضرات کی عصمت پر گذشتہ صفحات میں پیش کی گئیں اب اگر کوئی ان دلیلوں کو ان کی عصمت کے لئے کافی نہیں سمجھتا جب بھی کم سے کم ان دلیلوں سے تو یہ بات بہر ال ثابت ہوتی ہے کہ مسائل میں انہیں کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور ان کی حدیثوں اور فتوئوں کو غیر کی حدیثوں اور فتوئوں پر مقدم کرنا چاہئے اس لئے کہ یہ حضرات دوسروں سے زیادہ علم دین
...................................................
1. بحارالانوار، ج2، ص174
2.بحارالانوار، ج2، ص173.
3.الکافی، ج1، ص221.و بحارالانوار، ج2، ص172.179.
رکھتے اور امت کی امامت کے زیادہ مستحق ہیں.
ابن حجر ہیثمی حدیث ثقلین پیش کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ حضور(ص) نے فرمایا: ان دونوں ( اہل بیت(ع) اور قرآن) سے آگے نہ بڑھنا ورنہ ہلاک ہو جاو گے اور ان سے قاصر نہ رہنا ورنہ ہلاک ہو جائو گے ان کو بڑھانے کی کوشش نہ کرنا وہ تم سے زیادہ جانتے ہیں ابن حجر کہتے ہیں کہ حضور(ص) کے سابقہ کلمات اس بات کے شاہد ہیں کہ اہل بیت(ع) میں جو لوگ صاحبان مراتب اور متدین ہیں وہ دوسروں پر مقدم ہیں.(1) ابن حجر کا یہ قول ان روایتوں کے مطابق ہے جو اہل بیت اطہار(ع) سے وارد ہوئی ہیں اور امیرالمومنین(ع) کے اس قول سے بھی جس میں آپ نے فرمایا: کہاں ہیں وہ لوگ جن کو یہ غلط فہمی ہے کہ راسخون فی العلم ہم اہل بیت(ع) کے علاوہ ہیں ان کا قول جھوٹا اور ہمارے خلاف بغاوت ہے کہ اللہ نے ہمیں بلند کیا اور انہیں پست کیا اللہ نے ہمیں عطا کیا اور انہیں محروم کر دیا اللہ نے ہمیں داخل کیا اور انہیں باہر کر دیا ہمارے ہی ذریعہ ہدایت ہوتی ہے اور تاریکی روشنی میں بدلتی ہے ائمہ صرف قریش میں سے ہیں بنو ہاشم کے علاوہ دوسروں کے اندر امامت کی صلاحیت نہیں ہے اور بنو ہاشم کے علاوہ کوئی دوسر اولی ہونے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا ہے.(2) زرارہ کہتے ہیں: میں ابو جعفر محمد(ع) کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک کوفی نے آپ سے امیرالمومنین(ع) کے اس قول کے بارے میں پوچھا تھا کہ مجھ سے جو چاہو پوچھ لو تم مجھ سے نہیں پوچھو گے کسی خبر کے بارے میں مگر یہ کہ میں اس کی تمہیں خبر دوں گا.امام نے فرمایا کہ ہم اماموں کے پاس کوئی بھی علم نہیں ہے مگر یہ کہ امیرالمومنین(ع) سے حاصل ہوا ہے لوگوں کا جہاں دل چاہے جائیں اصل علم تو یہاں پر ہے یہ کہہ کے اپنے گھر کی طرف اشارہ کیا(3) ابوبصیر کہتے ہیں کہ میں نے ابوجعفر(ع) سے ولد الزنا کو گواہی کے بارے میں پوچھا کہ وہ جائز
......................................
1.الصواعق المحرقہ، ج2، ص465، تتمہ باب وصیتہ النبی(ص).
2.نہج البلاغہ، ج2، ص27.
3. الکافی، ج1، ص399.
ہے یا نہیں؟ آپ نے فرمایا: جائز نہیں ہے میں نے کہا حکم بن عتیبہ کا خیال ہے کہ جائز ہے.آپ نے فرمایا خدا اس کو معاف نہ کرے خدا نے حکم کے بارے میں کیا فرمایا ہے، یہ تو ایک یاد رکھنے کی چیز ہے آپ کے لئے اور آپ کی قوم کے لئے اب حکم داہنے بائیں مارا پھرے خدا کی قسم! علم نہیں لیا جاسکتا مگر ان اہل بیت(ع) سے جن پر جبرئیل نازل ہوئے ہیں.(1)
ابوب مریم کی حدیث ہے کہ ابوجعفر نے سلمہ بن کمیل اور حکم بن عتیبہ سے فرمایا: مشرق و مغرب میں گھومتے رہو بخدا تم دونوں علم نہیں پائو گے مگر وہ جو ہم اہل بیت(ع) سے افادہ ہوا ہے.(2) بہر حال اگر آپ ان ذوات مقدسہ کی عثمت کے قائل نہیں بھی ہیں جب بھی آپ کو ان حضرات سے اعراض کر کے دوسروں کی طرف متوجہ نہیں ہونا چاہئے جب کہ آپ غیروں کی عصمت کے بھی قائل نہیں ہیں تو زیادہ سے زیادہ آپ یہ کرسکتے ہیں کہ ان کے اور دوسروں کے درمیان یا تو تخییر کا فیصلہ کریں یا پھر ان حضرات کو دوسروں کے قول پر ترجیح دیں آخر کیا وجہ ہے کہ اہل سنت اہل بیت اطہار(ع) سے اعراض کرتے ہیں جب کہ عقل اس کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہے میرا خیال ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اہل سنت کے ناصبیوں سے بڑے مضبوط اور پائیدار تعلقات ہیں اسی وجہ سے ان حضرات کی فقہ اور عقائد بھی اہل بیت(ع) سے بالکل ہی الگ ہیں برادران اہل سنت اہل بیت(ع) سے سخت ناراض ہوں گذشتہ صفحات میں میرے اس دعوے پر شواہد پیش کئے جاچکے ہیں. آپ کا آٹھویں سوال کے جواب میں یہ سب کچھ عرض کیا گیا امید کرتا ہوں کہ آپ اسے کافی و وافی سمجھیں گے اور آپ جن حقائق کو سمجھانا چاہتے ہیں ان کی وضاحت ہوگئی ہم اللہ کے فضل و احسان سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہماری مدد کرے اور اپنی مکمل توفیق فرمائے اور ہمیں لغزش و ہلاکت سے بچائے، ہم قول و عمل میں خطا اور لغزش سے محفوظ رہنے کے امیدوار ہیں بیشک وہ ارحم الراحمین اور مومنین کا ولی ہے میری توفیق تو بس اللہ ہی کی طرف سے ہے اور میں اسی سے امید رکھتا ہوں وہ ہمارے لئے کافی اور بہترین وکیل ہے.(3)
...........................................
1.الکافی، ج1، ص399.
2.الکافی، ج1، ص399.
3.سورہ ھود، آیت88.
شیعوں کے نزدیک اصول دین میں خبر احاد پر عمل کرنا جائز نہیں ہے نیز ان کے یہاں ائمہ کی تشخیص کے لئے کوئی متواتر حدیث بھی نہیں پائی جاتی تو اگر امام کی شخصیت کی پہچان خبر احاد کی بنیاد پر ہوتی ہے تو اس پر عمل صحیح نہیں ہوگا اور وہ امام جو اس حدیث سے معین ہوتا ہے اس کا اتباع واجب نہیں ہوگا.
عمان الاردن. 7/12/2000م
جواب : اس سوال کا جواب دینے سے پہلے دو باتوں کی طرف آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں.
1.پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف شیعوں سے مخصوص نہیں بلکہ یہ مسئلہ جمہور اہل سنت بلکہ تمام مسلمانوں کا مسئلہ ہے اس لئے کہ عالم اسلام کے نزدیک یہ بات تسلیم کی جاچکی ہے کہ امام کی معرفت واجب ہے امام کے سامنے تسلیم ہونا واجب ہے امام کی بیعت اور اطاعت واجب ہے اور جو امام کو چھوڑ دیتا ہے یا نہیں پہچانتا ہے وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے جب کہ میں نے آپ کے سابقہ سوال کے چوتھے سوال کے جواب میں دلیلوں کے ساتھ عرض کیا ہے.
اور ابھی گذشتہ سوال کے جواب میں حضور سرور عالم(ص) کا یہ قول گذر چکا ہے کہ تمہارے امام تمہاری طرف سے بارگاہ الہی میں وفد ہوتے ہیں تو جسے اپنا وفد بنا کے بھیجو اس کے بارے میں پہلے بہت غور کر لو جب یہ طے ہوگیا کہ معرفت امام قطعی دلیلوں سے واجب ہے نہ کہ کمزور دلیلوں سے.
مسئلہ امامت کے سلسلے میں یہ بات بہت ضروری ہے کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس بڑی ذمہ داری سے عہدہ بر آ ہو جائے تاکہ اس کی موت جاہلیت پر نہ ہو بلکہ اسلام پر ہ تو اس کو چاہئے کہ وہ دنوں فرقوں کی دیلیوں کا گہری نظر سے مطالعہ کرے اور یہ دیکھے کہ شیعہ اپنے اماموں کی تعیین و تشخیص کے لئے کیا دلیلیں دیتے ہیں پھر ان کا موازنہ کرنے کے وقت ذات باری کو سامنے رکھے اور یہ سمجھے کہ خداوند عالم اس کے فیصلہ کا شاہد ہے پھر فیصلہ وجدان کے ہاتھ میں دیدے تاکہ وجدان یہ فیصلہ کرے کہ دونوں کی دلیلوں میں قوی تر دلائل کس کے ہیں وجدان جس کے حق میں فیصلہ کرے اس کو اپنے لئے لازم قرار دے اور اسی پرعمل کرے تاکہ جس دن وہ اللہ کے سانے کھڑا ہوگا اور اس کے سامنے پیش کیا جائے گا اس دن وہ اللہ کے سامنے عذر پیش کرسکے اس لئے کہ اس دن اس سے اس دین کے بارے میں پوچھا جائےگا جو اس پر فرض کیا گیا ان اماموں کے بارے میں پوچھا جائے گا جس کی امامت میں وہ رہا ہے اور جن سے اس نے دین لیا ہے.
2.اس جگہ اہل بیت(ع) کے طریقوں کی قید نہیں لگانی چاہیئے نہ ان کی روایتوں کی اور نہ ان کے مسلمات کی قید لگانی چاہئے چاہے وہ کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں اس لئے کہ شیعہ نقطہ نظر کو تو شیعہ دلیلوں ہی سے
ثابت کیا جاسکتا ہے البتہ جب شیعہ اہل سنت کے نظریہ امامت سے بطلان پر دلیلیں لاتے ہیں اور ان کے اس قول پر احتجاج کرتے ہیں کہ استیلاء ( قہر و غلبہ) کے ذریعہ سے جو خلافت حاصل کی جاتی ہے وہ شرعی ہے اس لئے خدا کے وصی یا نبی کی تبلیغ کی کوئی صرورت نہیں ہے تو اس وقت سنی دلیلوں پر بھی نظر کرنا ضروری ہوتا ہے اس لئے کہ شیعہ اس بات کو اچھا نہیں سمجھتے کہ جمہور اہل سنت پر ایسی دلیلوں سے احتجاج کریں جو ان کے سامنے قابل تسلیم نہیں ہیں اور ان کے نزدیک حجت قاطعہ کی حیثیت نہیں رکھتی ہے.
تو پہلی بات یہ ہے کہ شیعہ امامت کے بارے میں ہم صرف شیعوں کی دلیل پر نظر کریں گے اور سنی دلیلوں سے اس کو آزاد رکھیں گے اب دوسرا مرحلہ ہے وہ یہ کہ جب یہ بات ثابت ہوچکی کہ شیعہ اس کو امام مانتے ہیں جس کے بارے میں کلام خدا اور حدیث پیغمبر(ص) میں نص پائی جاتی ہے اور یہ نص پیش بھی کی جا چکی تو پھر اب یہ طے کرنا باقی رہ گیا کہ وہ کون سے اشخاص ہیں جن کی امامت پر نص وارد ہوئی ہے اس لئے کہ امامت اصول دین میں ہے اور امام کے بارے میں علم حاصل کرنا واجب ہے اس کے لئے اخبار احاد کافی نہیں ہیں تو اب معاملہ خاص شیعوں کا ہونا چاہئے شیعوں پر واجب ہے کہ وہ اپنے مذہب کے بارے میں ان دلیلوں پر اعتماد کریں جو باعث علم ہوں چاہے جس طریقے سے حاصل ہوں مقصد امامت کے بارے میں علم حاصل کرنا ہے تاکہ وہ امام کو پہچان سکیں اور جاہلیت کی موت سے محفوظ رہیں.
یہ بات تو طے ہے کہ اہل سنت حضرات شیعہ خبروں پر اعتماد نہیں کرتے اور ان پر گمراہی کا الزام رکھتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ایسی خبریں ہیں جن سے شیعوں کو گمراہ ثابت کیا جاسکتا ہے وہ ان فریقوں سے تجاہل کرتے ہیں جن سے شیعہ اخبار کی تقویت ہوتی ہے ان کے مضامین کی صحت پر یقین حاصل ہوسکتا ہے لیکن شیعہ تو اپنے بارے میں بہر حال جانتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور ان کے پاس اپنے نصوص ہیں جن سے اہل بیت(ع) کی حقانیت اور حقیقت ثابت ہوتی ہے چونکہ وہ حق پر ہیں اس لئے افتراء کذب اور بہتان سے مستثنی ہیں ان کے پاس اپنے عقلی اور نقلی قرائن موجود ہیں
جو ان کی خبروں کو تقویت پہونچاتے ہیں اور ان کے دعوے کو حق ثابت کرتے ہیں جس میں کوئی شک نہیں ہے.
تو اب یوج سمجھ لیک کہ جس طرجمسلمان اور دوسرے مذہیوں کے ماننے والے اسی طر شیعہ اور دوسرے اسلامی فرقے جسے کوئی مسلمان جب دوسرے کے سامنے دین اسلام کو جو ثابت کرنا چاہتا ہے تو ظاہر ہے وہ قرآن اور حدیث نبوی(ص) سے تو دلیل دے گا نہیں اس لئے کہ غیر مسلم کے لئے قران اور حدیث نبوی کی حجیت ثابت نہیں ہے اس لئے پہلے وہ اصل دین اور صداقت نبوت کو ان دلیلوں سے ثابت کرے گا جو دلیلیں اس غیر مسلم کے لئے قابل تسلیم اور حامل حجیت ہوں گی اس لئے وہ دلیلیں تو ہرگز کافی نہیں ہوں گی جو صرف مسلمانوں کو قائل کرسکتی ہوں.
لیکن جب بات آگے بڑھے گی اور اسلام کے فرعی مسائل پر گفتگو ہوگی جیسے امامت یا قیامت کی تشریح تو اب یہاں وہ دلیلیں کافی ہوں گی جو عام مسلمانوں کے لئے حجیت ہوں گی جن کے سامنے اسلام کی صداقت ثابت ہوچکی ہے اب ان دلیلوں کی ضرورت نہیں رہےگی جو غیر مسلم کیے لئے حجیت رکھتی ہیں اس لئے کہ یہ مسئلہ غیر مسلم کے لئے مخصوص نہ ہو کے مسلمانوں کے لئے مخصوص ہے بلکہ اگر کوئی غیر مسلم بھی اسلام کی صداقت پر ایمان لاتا ہے اور اس کی تصدیق کرتا ہے اس کے لئے بھی وہ دلیلیں کافی ہوں گی جو عام مسلمانوں کے لئے کافی ہوتی ہیں اور ان کا تعلق ان مسائل سے ہے جو اسلام پر متفرع ہوتے ہیں اس لئے کہ وہ دلیلیں اسلامی پیمانوں کی بنیاد پر ہوں گی اور اسلام کے ماننے والے ان پر ہمیشہ عمل کرتے اور یقین کرتے آئے ہیں ٹھیک اسی طرح اگر کوئی اہل سنت اس بات کا قائل ہوجاتا ہے کہ شیعوں کے قول کے مطابق امامت صرف اہل سنت کا حق ہے اس لئے کہ ان کی امامت کے بارے میں یقین حاصل ہے تو اب امام کو پہچاننے کے لئے بھی وہ سنی دلیلیں یا غیر شیعہ دلیلیں نہیں تلاش کرے گا بلکہ ان دلیلوں کی طرف رجوع کرے گا جو عقل کے میزان پر پوری اتر کے اہل بیت اطہار(ع) کی امامت کو ثابت کرتی ہیں اور امام کو ترجیح قرار دیتی ہیں.اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اہل سنت کی کتابوں میں یا ان کی روایتوں میں ایسے نصوص
موجود ہی نہیں ہیں جو شیعہ مذہب کی تائید کرتے ہیں بلکہ ایسے نصوص اب بھی موجود ہیں البتہ اس حیثیت سے موجود نہیں کہ ایک یہ حدیث سے تمام باتیں ثابت ہوجائیں.
جب بات یہاں تک پہونچ گئی تو مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ شیعوں کے نزدیک امامت کا موضوع اصول دین میں ہے اور اعتقاد کی حیثیت رکھتا ہے امام کی معرفت پر نجات موقوف ہے اور اس سے جاہل رہنے کے نتیجے میں ہلاکت یقینی ہے اس لئے امام کو شخصی طور پر پہچاننا اس کی امامت کے بارے جاننا لازم ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ نے امام کی امامت پر قطعی دلیل قائم کی ہے اور ایسی دلیل جس سے امام کی امامت کے بارے میں علم حاصل ہوتا ہے اس لئے کہ یہ ناممکن ہے کہ اللہ کسی چیز کو معرفت کو لازم و واجب قرار دیے اور اس کی معرفت کے اسباب مہیا نہ کرے.اس لئے عرض کرتا ہوں.
اگر خبر متواتر سے آپ کی مراد ایسی خبر ہے جس کو ایک ایسی جماعت روات کرتی آئی ہو جس کی صداقت کا علم ہو اور اتنی بڑی جماعت کا جھوٹ پر اجتماع نا ممکن ہو اس لئے کہ وہ کثیر ہیں اور یہی شرط طبقات سند کے تمام طبقوں میں ہو مثلا بیس آدمیوں نے بیس آدمیوں سے کہا ان بیس آدمیوں نے پھر بیس آدمیوں سے کہا اگر تواتر سے مراد آپ کی مذکورہ بالا تواتر ہے تو آپ تو کہہ ہی چکے ہیں کہ کسی بھی امام کے تشخیص کے لئے مذکورہ بالا تواتر حاصل نہیں ہے، لیکن علم آپ کے اس تواتر پر موقوف نہیں بلکہ میرا خیال ہے کہ آپ کی تعریف کردہ تو بہت سے اپںے مسائل کو حاصل نہیں ہے جن کا علم ضروریات دین یا تاریخی واقعات میں سے ہے جن پر کوئی نص نہیں پائی جاتی بلکہ اسی طرح کے ضروریات دین محض اجماع مسلمین سے ہی حاصل ہو جاتے ہیں اور مسلمانوں کے تمام فرقوں کے اجماع سے ثابت ہو جاتے ہیں ان ضروریات دین کا علم مسلمانوں نے نبی سے حاصل کیا ہے.
اور اگر آپ کی مراد تئاتر سے یہ ہے کہ خبر اس طرح منتقل ہوتی رہی ہو جو موجب علم ہے چاہے
اس مذکورہ خبر کا تقاصہ وہ دوسرے اخبار کے ذریعہ ہو یا قرائن کے ذریعہ علم حاصل ہو یا یہ کہ اس خبر کی تائید دوسری خبریں کرتی ہوں تو یہ تواتر اس جگہ حاصل ہے بلکہ امام کے تشخص کے معاملے میں آپ کے اس تواتر سے کہیں بلند مرتبہ وسائل حاصل ہیں مزید وضاحت کے لئے عرض کہ حضرت علی(ع) کی امامت کے بارے میں وہ کئی طرح کے نصوص ہیں.
پہلی قسم: ان نصوص واردہ کی پہلی قسم تو وہ ہے جو امیرالمومنین(ع) کے حق میں وارد ہوئی ہے، اس سلسلے میں میں کوئی طویل گفتگو نہیں کرنا چاہتا اس لئے کہ آپ کی امامت کا سب کو یقین ہے اور چونکہ بات شیعہ روایتوں کی ہوچکی ہے اس لئے اتنا عرض کرنا کافی ہے کہ آپ شیعوں کے پہلے امام ہیں.
میں نے یہاں اس طرح کی روایتوں کی طرف اس لئے اشارہ کیا کہ میں نے پہلے یہ عرض کیا تھا کہ نصوص کئی طرح سے وارد ہوتے ہیں تم معلوم ہوجائے کہ نصوص واردہ کی پہلی قسم یہ ہے.
ہاں امیرالمومنین(ع) کی امامت پر لفظ بدل برل کے نص وارد ہوئی ہے ایک ان نصوص واردہ کی ایک قسم وہ ہے جو آپ کی امامت، ولایت، ریاست اور طاعت کے واجب ہونے پر دلیل ہے جیسے حدیثی غدیر، دوسری قسم وہ ہے جس سے آپ کی دینی مرجعیت اور امامت ثابت ہوتی ہے جیسے علی حق اور قرآن کے ساتھ ہیں اور یہ دونوں چیزیں بھی علی(ع) کے ساتھ ہیں اور علی(ع) امت کے ہادی اور اختلاف امت کو دور کرنے والے ہیں وغیرہ.
دونوں مذکورہ قسموں میں بہت سی آیتیں اور حدیثیں دستیاب ہیں آپ کے چوتھے چھٹے اور آٹھویں سوال کے جواب میں یہ تمام نصوص پیش کئے جاچکے ہیں ان کے تذکرے کی یہاں نہ گنجائش ہے نہ ضرورت بلکہ جس کو تفصیل چاہے وہ اس موضوع پر ہمارے علماء کرام رضوان اللہ علیہم کی کتابیں دیکھیں جنہوں نے اپنی مذہبی کتابوں میں اسی موضوع پر بہت تفصیل سے گفتگو کی ہے.
دلیلوں کی یہ قسم اپنے مجموعہ کے ساتھ اس نص کی حجیت کا تقاضہ کرتی ہے جو ایک نبی سے آپ کی امامت پر صادر ہوتی ہے اور خاص آپ کی امامت اور عام طور سے اہل بیت اطہار(ع) کی امامت ثابت کرتی ہے نیز اجمالی طور پر آپ کی ذریت میں امامت کو محدود کر کے تفصیلی طور پر ان کی تعیین کرتی ہے.
دوسری قسم: ان دلیلوں کی ہے جن میں عمومی طور پر اہل بیت(َع) کے لئے امامت کا ثبوت پایا جاتا ہے ان سے تمسک لازم اور ان کی اطاعت کا وجوب پایا جاتا ہے یہ وہ دلیلیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل بیت(ع) ہی امت کے مرجع ہیں اور انہیں کے ذریعہ امت گمراہی اور ہلاکت سے محفوظ رہے گی اہل بیت(ع) ہی امت کو رشد و ہدایت کا راستہ بتاتے ہیں انہیں کے ذریعہ اختلاف بر طرف ہوتا ہے وغیرہ، چوتھے اور آٹھویں سوال کے جواب میں یہ باتیں بھی عرض کی جاچکی ہیں.
نصوص واردہ کی اس قسم میں اگرچہ اہل بیت اطہار(ع) کے ناموں کی صراحت اس طرح نہیں کی گئی ہے کہ امت کے مرجع کا نام کیا ہے لیکن امیرالمومنین(ع) تو یقینی طور پر اس میں شامل ہیں اس لئے کہ آپ سید اہل بیت ہیں اور اپنی عترت کے سردار ہیں یہ بات حدیث ثقلین پر گفتگو کے وقت ثابت کی جاچکی ہے جہاں یہ ثابت کیا گیا ہے حدیث ثقلین آپ کی امامت پر قوی تر دلیل ہے سابقہ سوالوں کے چھٹے سوال کا جواب دیکھیں.
اس لئے منجملہ وہ تمام موارد جہاں حضور نے ثقلین کی مرجعیت پیش کی ہے یا واقعہ غدیر وغیرہ امیرالمومنین(ع) کے سلسلے میں نص کی حیثیت رکھتے ہیں اب چونکہ امیرالمومنین(ع) اہل بیت(ع) کی ایک فرد ہیں اس لئے یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ حدیث ثقلین یا وہ نصوص جن عام اہل بیت کو امامت سے مخصوص کیا ہے ان سے صرف امیرالمومنین(ع) ہی مراد ہیں البتہ اس عموم میں بھی مرکزی حیثیت آپ کو حاصل ہے.
یہیں سے یہ بات بھی سمجھ میں اتی ہے کہ جس طرح امیرالمومنین(ع) کا اہل بیت میں شامل ہونا متعین ہے اسی سے آپ کے دونوں صاحبزادے امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) کا بھی اہل بیت(ع) میں ہونا شامل ہے اس لئے کہ آپ دونوں حضرات ورود نص کے وقت نبی کے دور میں اہل بیت(ع) موجود تھے اور ان کے علاوہ دوسرں کے بارے میں میں اس طرح کا کوئی احتمال نہیں پایا جاتا.
بلکہ اس دوسری قسم کی حدیثوں میں چونکہ یہ بتایا گیا ہے کہ اہل بیت(ع) ہی امت کا اختلاف دور کریں گے اور اس کو گمراہ سے بچا کے حق کی ہدایت کریں گے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امت کے لئے ہر زمانے میں اہل بیت(ع) کو حیثیت حاصل ہے جب تک امت رہے گی امت کی مرجعیت اہل بیت(ع) کو حاصل ہوگی اور امت جس زمانے میں بھی اختلاف کا شکار یا گمرہی میں گرفتار ہوگی اہل بیت(ع) ہی اس کے نجات وہندہ ہوں گے اس لئے ہر زمانے میں ہل بیت کا وجود لازمی ہے اور امت پر بھی حسین(ع) کے بعد اہل بیت(ع) کے اس فرد کی اطاعت واجب ہے جو اپنے زمانے میں اہل بیت(ع) کی نمایندگی کرنے والا امت کا امام ہوگا زمانے کے ساتھ امام زمانہ کا سلسلہ ہر دور میں باقی رہے گا جیسا کہ میں نے آٹھویں سوال کے جواب میں آخر میں عرض کیا تھا جہاں میں نے یہ دلیل دی تھی کہ دینی معاملات میں اہل بیت(ع) کی طرف رجوع کرنا واجب ہے.
بلکہ حضور سرورکائنات(ص) کے اس قول سے صراحت ہوتی ہے کہ حدیث میں جن عدول کا تذکرہ ہے وہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام ہیں حدیث ہے کہ ہر دور میں ہماری امت کے لئے ہمارے اہل بیت(ع) میں سے ایک عادل ہوگا جو اس دین کو غالیوں کی تحریف باطل کی دخل اندازی سے محفوظ رکھے گا اور جاہلوں کی تاویل کی نفی کرے گا پس خدا تک تمہاری قیادت کرنے والے تمہارے امام ہیں پس غور کرو کہ تم اپنے دین اور اپنی نمازوں میں کس کی اقتدا کرتے ہوں(1) اس حدیث میں عدول سے مراد ائمہ اہل بیت(ع) ہی ہیں جن کی امامت میں رہنا جن کی اطاعت امت پر واجب قرار دی جا رہی ہے.
.........................................
1.کمال الدین و تمام النعمہ، ص221، انہیں الفاظ میں قریب الاسناد کے ص77پر بھی ہے. الکافی، ج1، ص32. مقتضب الاثر، ص16. الفصول المختارة، ص325. اس کے علاوہ جمہور کے مصادر آٹھویں سوال کے جواب میں گذر چکے ہیں( اہل بیت امت کے مرجع ہیں کے ادلہ میں)
حاصل گفتگو یہ ہے کہ یقینی طور پر تو اس میں امیرالمومنین(ع) اور آپ کے دونوں صاحبزادے امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) شامل ہیں اور اجمالی طور پر یہ حدیث اشارہ کر رہی ہے باقی ائمہ اہل بیت(ع) کی طرف اگرچہ ان کی تعداد اور ان کے اسماء گرامی اس حدیث میں نہیں بتائے گئے ہیں لیکن دوسری حدیثوں میں تو ان حضرات کے نام کی صراحت کی گئی ہے اور ایک ایک کا نام لے کے تعارف کرایا گیا ہے.
تیسری قسم: تیسری قسم ان حدیثوں کی ہے جن میں امیرالمومنین(ع) کی امامت اور آپ کے گیارہ فرزندوں کے اعداد بتائے گئے ہیں لیکن ناموں کی صراحت نہیں کی گئی ہے یا امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) کے ناموں کی صراحت کی گئی ہے اور باقی ناموں کی نہیں.
اماموں کی تعداد میں سنی اور شیعہ حدیثوں میں اتفاق ہے دونوں بھائیوں کا کہنا ہے کہ امام بارہ ہوں گے اور بارہ ہیں شیعوں کی حدیثیں اس بات کی صراحت کرتی ہیں کہ امامت انہیں بارہ افراد میں منحصر ہے ایک زیادہ نہ ایک کم.
لیکن اہل سنت کی حدیثیں یہ بتاتی ہے کہ امام بارہ ہیں اور بس ان کی حدیثوں کا ظاہر معنی یہی ہے لیکن ان حدیثوں سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ امامت بس اسی میں محصور ہے اگرچہ ان کے وہاں امام اس عدد سے زیادہ پائے جاتے ہیں ظاہر ہے کہ جب ان کے یہاں بارہ سے زیادہ پائے جاتے ہیں تو اس عدد کا حدیثوں میں تذکرہ کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے خصوصا ایسی دلیلیں تو بالکل ہی بے فائدہ ہیں جن میں مطلقا عدد کا ذکر ہوا ہے لیکن اماموں کا تعارف نہیں کرایا گیا ہے یا تعارف ہوا
ہے تو صرف اس لفظ سے کہ وہ قریش میں سے ہوں گے البتہ تعبیر اس طرح ہوتی ہے کہ میرے بعد قریش سے بارہ خلیفہ یا بارہ امام ہوں گے تو ظاہر حدیث انحصار پر دلالت نہیں کرتا لیکن ن حدیثوں کی زبان یہ نہیں ہے ان حدیثوں سے اس بات کو تقویت ضرور ملتی ہے کہ امام بارہ کے عدد ہی میں منحصر ہیں.
بہر حال مقام استدلال میں کچھ حدیثیں پیش کی جارہی ہیں.
1.عبداللہ بن مسعود کی حدیث ملاحظہ کریں کہتے ہیں سرکار دو عالم(ص) نے فرمایا: میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے ان کی تعداد موسی کے نقیبوں کے برابر ہوگی(1) یہ بات تو معلوم ہے کہ جناب موسی کے بارہ نقیب تھے اس بنا پر یہ حدیث صراحت کرتی ہے کہ نقباء موسی اور خلفاء نبی میں عدد کے اعتبار سے مطابقت پائی جاتی ہے.
2.جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ حضور(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے سنا حضور(ص) فرما رہے تھے یہ امر پورا نہیں ہوگا جب تک ان کے درمیان 12/خلفاء نہ گذر جائیں پھر آپ نے مخفی طور پر کچھ فرمایا جو میں نے سن نہیں سکا تو میں نے اپنے والد سے پوچھا حضور(ص) کیا فرمارہے تھے میرے باپ نے کہا حضور(ص) نے فرمایا سب کے سب قریش سے ہوپ گے.(2) اس حدیث سے واضح ہوتی ہے کہ خلفاء کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یہ دین رہے گا اور ان خلفاء کی تعداد بارہ ہوگی اس معنی کی بہت سی حدیثیں ہیں.
3.ابن سمرہ عدوی سے روایت ہے کہ میں نے سنا پیغمبر(ص) فرما رہے تھے یہ دین قائم رہے گا یہاں تک کہ اس میں بارہ خلفاء قریش میں سے ہوں پھر قیامت کے قریب جھوٹے خروج
...............................................
1.کنز العمال، ج12،ص33، حدیث33859.نیز ج6،ص89، حدیث14971 میں بھی مذکور ہے. الفتن نعیم بن حماد، ج1، ص95.رسول خدا کے بعد خلفاء کی تعداد کے بیان میں. البدایہ والنہایہ، ج6، ص248 اخبار، قریش بارہ امام ہوں گے کے ضمن میں. الجامع الصغیر، ج1، ص35.
2.صحیح مسلم، ج3، ص1452. کتاب الامارة، باب لوگ قریش کے تابع ہیں نیز خلافت بھی قریش ہی میں ہے.
کریں گے(1)
یہ حدیث بتاتی ہے کہ بارہ خلفاء کی موجودگی تک غالب اور ظاہر رہے گا اور ان کے بعد جھوٹوں کا دار دورہ ہوگا جو قیامت کی شرطوں میں ہے.
اسی طرح دوسری حدیث بھی ہے جو سمرہ عدوی سے ہی مروی ہے کہ حضور(ص) نے فرمایا یہ امت سیدھے راستے پر چلتی رہے گی اور اپنے دشمنوں پر ظارہ رہے گی یہاں تک کہ اس میں بارہ خلیفہ گذریں گے جو سب کے سب قریش سے ہوں گے یہ فرمایا پھر اپنی منزل پر تشریف لائے تو قریش نے آپ سے ملاقات کی اور پوچھا پھر کیا ہوگا فرمایا تو پھر تو تعرج ہوگا ( یعنی قیامت آئے گی).
4.سمرہ سے حدیث ہے کہتے ہیں میں نے سنا حضور(ص) فرمارہے تھے میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے وہ سب کے سب قریش سے ہوں گے جب آپ اپنی منزل پر آئے تو قریش آپ کی خدمت میں آئے اور پوچھا پھر کیا ہوگا فرمایا پھر حرج ہوگا.
قریش کے سوال سے ظاہر ہے کہ انہوں نے حدیث سے حصر سمجھا یعنی خلافت بارہ عدد میں منحصر ہے اور خلافت قریش میں منحصر ہے حدیث اس زمانے کی طرف بھی اشارہ کر رہی ہے جو بارہ عدد خلفاء کی خلافت کے دور سے سازگار ہے قریش نے جاننا چاہا کہ اس زمانے کے بعد کیا ہوگا یہ بھی جان لیں.
.اور انس کی حدیث بھی دیکھتے چلیں حضور(ص) نے فرمایای یہ دین بارہ خلفاء تک قائم رہے گا اور جب وہ خلفاء گذر جائیں گے تو زمین اپنے اہل زمین کے ساتھ برباد ہو جائے گی( الٹ جائے گی)(2)
................................................
1.مسند ابی عوانہ، ج4، ص373، کتاب الامر کے آغاز میں، رسول خدا(ص) کے بعد ان خلفاء کی تعداد کے بیان میں جو اپنے مخالفین کی بھی مدد کرتے ہیں خداوند عالم کے ذریعہ انہیں کے ذریعہ دین کو تقویت دے گا اور وہ سب کے سب قریش سے ہوں گے جو خوارج کے قول کے بطلان کی دلیل ہے انہیں الفاظ میں مسند احمد، ج5، ص86.87 جابر
2.کنز العمال، ج12، ص34، حدیث33861.
اس حدیث سے زیادہ روشن ابوالطفیل کی حدیث ہے ابوالطفیل سے عبداللہ بن عدو نے کہا کہ مجھ سے پیغمبر(ص) نے فرمایا : جب بنی کعب بن لوی کے بارے افراد حکومت کریں گے تو پھر قیامت تک مار پیٹ ہوتی رہے گی.(1)
اس حدیث سے بھی زیادہ صراحت مسروق کی حدیث ملتی ہے کہتے ہیں ایک دن ہم لوگ عبد اللہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمیں قرآن پڑھا رہے تھے پس ایک آدمی نے ان سے پوچھا اے ابوعبدالرحمن کیا آپ لوگوں نے پیغمبر(ص) سے پوچھا تھا کہ اس امت میں کتنے خلیفہ مالک ہوں گے؟ عبداللہ نے کہا کہ جب سے میں عراق آیا ہوں تم سے پہلے کسی نے یہ سوال مجھ سے نہیں کیا ہاں ہم نے پوچھا تھا آپ نے فرمایا بنی اسرائیل کے نقیبوں کے عدد کے برابر بارہ ہوں گے.(2)
خلفاء کی تعداد کے بارے میں سوال کرنا خلفاء کا بارہ کے عدد میں محصور ہونے کا باعث ہے نہ کہ یہ عدد یعنی ان کے ضمن میں آتا ہے یعنی یہ سوال یہ بتاتا ہے کہ خلفاء کی عدد بارہ ہی میں محصور ہے ایسا نہیں ہے کہ خلفاء بارہ سے زیادہ ہیں اور یہ بارہ بھی ان ہی زیادہ کے ضمن میں آتے ہیں.
یہیں پر مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ اس قسم کہ حدیثیں دلالت کرتی ہیں کہ خلفاء اور ائمہ کی عدد بارہ ہیں محصور ہیں، لیکن یہ تعداد اہل سنت کے مذہب کے مطابق نہیں ہے اگر مطابقت رکھتی ہے تو صرف مذہب امامیہ سے مطابقت رکھتی ہے اگرچہ ایک جماعت نے اس غلطی سے رہائی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور دور دراز تاویلیں پیش کر کے ان نصوص کو ان کے ظاہری معنی بلکہ سرحی معنی سے موڑنے کی کوشش کی ہے جیسش کہ ہر صاحب فکر کے سامنے یہ بات ظاہر ہے.(3)
.................................
1.تاریخ بغداد، ج6، ص263، اسماعیل بن ذواد کی سوانح حیات کے ضمن میں. المعجم الاواسط، ج4، ص155. فتح الباری، ج13، ص213. تختہ الاحوذی، ج6، ص394. میزان الاعتدال، ج1، ص383. اسماعیل بن ذواد کی سوانح حیات کے ضمن میں. الکامل فی ضعفاء الرجال، ج3، ص123. ذواد بن علبتہ خازنی کی سوانح حیات کے ذیل میں.
2.المستدرک علی الصحیحن، ج4، ص546. کتاب الفتن والملاحم نیز انہیں الفاظ کے ساتھ مسند احمد کی ج1، ص398پر مسند عبد اللہ بن مسعود. مسند ابی لیلی، ج8، ص444، ج9،ص222. المعجم الکبیر، ج10، ص157. تحفتہ الاحوذی، ج6، ص394. تفسیر ابن کثیر، ج2، ص33، اور اس کے علاوہ مصادر.
3.فتح الباری کی، ج13، ص211.215 پر ابن حجر کی گفتگو ملاحظہ ہو.
ان نصوص صادقہ میں بعض ایسی حدیثیں ہیں جس سے اس قول کو پختگی ملتی ہے کہ ان خلفاء کو اگر کوئی چھوڑ دے گا یا ان سے کوئی عداوت کرے گا تو اس سے خلفاء کو کوئی نقصان نہیں پہونچے گا.
جیسے جابر بن سمرہ کی حدیث کہ کہتے ہیں پیغمبر(ص) منبر سے فرما رہے تھے کہ قریش سے بارہ حاکم ہوں گے کسی کی عداوت بھی انہیں نقصان نہیں پہونچائے گی،(1) انہیں جابر بن سمرہ سے حدیث ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ خدمت نبی میں حاضر تھا کہ آپ نے فرمایا اس امت کے بارہ قائم ہوں گے اور ان کو کسی رسوائی سے کوئی نقصان نہیں پہونچے گا.(2)
اب برادران اہل سنت کے مذہب کے مطابق خلافت اگر ظاہری اقتدار کے ذریعہ حاصل ہوگی تو ظاہر ہے کہ اس
خلافت کو رسوا کرنے والے خلافت کے لئے نقصان دہ تو ہوں گے اس لئے کہ اس رسوائی سے ان کی سلطنت کمزور بلکہ ختم ہوسکتی ہے اور جمہور کے نزدیک اس کی امامت باطل ہوجائے گی البتہ اگر خلافت نص اور جعل الہی کے ذریعہ ملے گی تو خلیفہ کو لوگوں کی عداوت اور خذلان سے کیا نقصان پہونچ سکتا ہے لوگوں کے اوپر غلبہ حاصل کر کے تو خلافت حاصل نہیں ہوتی ہے کہ ادھر حکومت کی پکڑ کمزور پڑی ادھر خلافت گئی خلافت تو خدا کا عطا کردہ منصب ہے اس لئے خلافت کو نقصان پہونچانے اور خلیفہ سے عداوت رکھنے والوں کو تو نقصان پہونچ سکتا ہے کہ وہ امام برحق کی اطاعت میں کوتاہی کر رہے ہیں خلیفہ اور امام کو کوئی نقصان نہیں پہونچا سکتا اور امیر المومنین(ع) کا یہ قول” میرے ارد گرد لوگوں کی کثرت میری عزت میں اور لوگوں کو مجھے چھوڑ کے ہٹ جانے سے میری وحشت میں کوئی زیادتی نہیں ہوتی اب کسی بھی صاحب انصاف کو یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ نصوص مذکورہ کی بنا پر امامت صرف بارہ افراد میں منحصر ہے.(3)
...................................
1. مجمع الزوائد، ج5، ص191، کتاب الخلافتہ؛ المعجم الکبیر، ج2، ص256 علی بن عمار کی جابر بن سمرہ سے روایت ذیل میں؛ فتح الباری، ج13، ص212.
2.المعجم الاوسط، ج3، ص201؛ المعجم الکبیر، ج2، ص196؛ کنز العمال، ج12، ص33، حدیث 33857.
3.سورہ مائدہ، آیت 105.
مذکورہ بالا حدیثوں پر غور کریں ان کے علاوہ کچھ حدیثیں ایسی ہیں جن میں یہ جملہ ہے کہ (خلفاء) سب قریش سے ہوں گے اور کچھ حدیثوں میں ارشاد ہوا کہ سب کے سب ہدایت اور دین حق پر عمل کرتے ہوں گے دوسری حدیثوں میں ہے ائمہ قریش میں سے ہوں گے اسی طرح کچھ حدیثوں میں ہے کہ( بارہ کے بارہ) خلفائ راشدین اور مہتدین ( ہدایت کرنے والے اور ہدایت یافتہ ہوں گے)
ان تینوں طرح کے حدیث اور طائفہ اولی کی حدیثوں کو دیکھنے کے بعد جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ ائمہ اورخلفاء قرشی ہیں سب کے سب ہدایت اور دین حق پر عمل کرنے والے ہیں سب کے سب راشدین اور مہتدین میں ہیں اور ان بارہ افراد کے علاوہ کسی کی امامت کو شرعی حیثیت حاصل نہیں ہے.
جب ان حدیثوں کا مطالعہ کرچکے تو اب ضروری ہے کہ ان خلفاء کا دوسری نصوص اور دلیلوں کے ذریعہ ایک تعارف و تشخص پیش کر دیا جائے، اس کے پہلے چوتھے سوال کے جواب میں عرض کیا جا چکا ہے کہ یہ ناممکن ہے کہ حضور سرور
دو عالم(ص) خلافت و امامت کو بیان کرنے کے وقت صرف یہ کہہ کے خاموش ہوجائیں کہ وہ قریش ہی سے ہوں گے اس لئے کہ اس طرح قریش کی ہر فرد امامت و خلافت کی دعویدار ہوسکتی ہے اور امت کے اندر خلافت کے لئے لوٹ مار اور اختلاف پیدا ہوسکتا ہے جیسا کہ ہوا نبی کے لئے ضروری ہے کہ خلافت کو قریش میں محدود کرنے کے بعد ان خلفاء کا مکمل تعارف اور تشخص بھی کرادیں تاکہ اختلاف و افتراق سے بچا سکیں.
ائمہ اثنا عشر والی حدیثوں میں سے کچھ وہ ہیں جن میں ارشاد ہوا ہے کہ امام بارہ ہوں گے(1) اور وہ بنی ہاشم میں سے ہوں گے ان سوالوں میں تیسرے سوال کے جواب میں عرض کیا گیا تھا کہ
..............................
1.ینابیع المودۃ، ج2، ص315، ج3، ص290.292.
امیرالمومنین(ع) نے فرمایا کہ سنوا ائمہ قریش میں سے ہیں اور بنو ہاشم کی شاخ میں سے ہیں.(1)
اس سلسلے میں کثیر حدیثیں شیعہ طریقوں سے وارد ہوئی ہیں جن کا احصاء ممکن نہیں ہے ان حدیثوں میں صراحت سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ ائمہ امیرالمومنین(ع) اور آپ کی اولاد طاہرہ(ع) میں سے ہیں اور ان حدیثوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان بارہ اماموں میں پہلے امام امیرالمومنین(ع) ہیں اور باقی گیارہ آپ کی اولاد طاہرہ میں سے ہیں( جو جانے پہچانے اور روشن چہروں والے ہیں جنہیں صرف وہ نہیں پہچان پاتا جس کی آنکھ تعصب کی سیاہ عینک چڑھی ہوئی ہے) مترجم غفرلہ.
فضیلتوں کی ہے معراج فاطمہ زہرا جسے بھی گود میں لے لے امام ہوجائیں.
اب جو حدیثیں میں پیش کرنے جا رہا ہوں ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان حدیثوں کو خاص فاطمیین کے معنی پر محمول کیا گیا ہے.
1.حدیث ثقلین وغیرہ کو غور سے پڑھیں اسی طرح کی حدیثوں میں عترت کی لفظ کا اطلاق فاطمیین پر ہوتا ہے اس لئے کہ ان حدیثوں میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے جس سے اہل بیت(ع) اور عترت نبی کی تقدیم کا حکم، ان کی اطاعت کا واجب ہونا ان سے تمسک کا واجب ہونا.
یہ بات محتاج وضاحت نہیں ہے کہ اہل بیت(ع) سے مراد خود حضور سرور عالم(ص)، مولائے کائنات علی ابن ابی طالب امیرالمومنین(ع)، صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہرا(ع) اور حسن اور حسین علیہم السلام ہیں بہت سی حدیثوں میں اس مطلب کا تذکرہ کیا گیا ہے پس ثابت ہوا کہ اہل بیت(ع) میں سے امت کے مرجع اور امام المبین کی ذات میں سے ہوں گے اس لئے کہ اہل بیت(ع) کا لفظ انہیں پر صادق آتا ہے اور انہیں سے منسوب ہے.
2.ان حدیثوں کو توجہ سے پڑھیں جن میں بتایا گیا کہ بارہ امام اہل بیت(ع) میں سے
....................................
1.نہج البلاغہ، ج2، ص27.
ہوں گے.
3.ان حدیثوں پر غائرانہ نظر ڈالیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ائمہ ذریت نبی(ص) اور عترت نبی ہی میں سے ہوں گے.
ان حدیثوں کی بناء پر وہ علویین دائرہ امامت سے خارج ہوجاتے ہیں جو ذریت نبی اور امام حسن(ع) و حسین(ع)سے نہیں ہیں.
مذکورہ مضامین کی حدیثیں اس کثرت سے پائی جاتی ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں ہے جس کو طلب ہو اس کو چاہئے کہ مطلوبہ مصادر میں تلاش کرے.(1)
اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ ائمہ اہل بیت(ع) کی امامت پر دلالت کرنے والی حدیثیں تو طریق ائمہ سے ہی مروی ہیں اس لئے ان حدیثوں سے ان کی امامت پر احتجاج ممکن نہیں ہے پہلے ائمہ کے طریقوں سے ان اماموں کی امامت ثابت کرو اس کے بعد ان کے قول کو مقام استدلال میں پیش کرو.تو میں عرض کروں گا، کہ ہم ان کے دعوائے امامت کے ذریعہ ان کی امامت کہاں ثابت کر رہے ہیں ہم تو ان روایتوں کے ذریعہ ان کی امامت ثابت کر رہے ہیں جو مروی تو انہیں کے طریق سے ہیں لیکن حدیثیں نبی کی ہیں یعنی ائمہ کے اقوال سے نہیں بلکہ نبی کی حدیثوں سے اپنے امام کی امامت ثابت کر رہے ہیں البتہ یہ حدیثیں انہیں اماموں سے مروی ہیں اور اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ائمہ ہدی علیہم السلام راویوں میں سب سے زیادہ قابل اعتماد اور سچے ہیں حالانکہ عام راویوں میں کوئی ایسا نہیں ہے جس کو اوثق و اصدق کہا جاسکے، اس کے علاوہ ان کے دعوائے امامت کو بھی کمزور نہیں سمجھنا چاہئے اس لئے کہ جمہور اہل بیت(ع) ان کے علم، ورع اور امانت داری کو تسلیم کرچکے ہیں پھر یہ کہ وہ امامت سے وہ منصب مراد لیتے ہیں جس کا تعین خدا کرتا ہے اور ابلاغ نبی کرتے ہیں اس سلسلے میں
..........................................
1.کمال الدین و تمام النعمہ، باب22،23، 24، ص211.286. بحارالانوار، ج23،ص104.154، اور ج36، ص192.373. نیز ا دو کے علاوہ.
کچھ اور باتیں بھی پیش کی جائیں گی جو نفع بخش ہوں گی.بہر حال ہم اس مقام پر ان کی روایتوں کو کافی سمجھتے ہیں اور دوسروں سے بے نیاز ہیں.
جمہور اہل سنت کے یہاں بھی مذکورہ بالا مضامین کی روایتیں پائی جاتی ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ اہل بیت(ع) ہی امامت کے مستحق اور امت کے امام ہیں.
1.سابقہ سوال کے جواب آخر میں ایک روایت پیش کی گئی تھی کہ ہماری امت کے ہر دور میں ہمارے اہل بیت(ع) سے ایک عادل ہوگا جو اس دین سے مبطلین کی تحریف اور ان کی مداخلت کی اور جاہلوں کے تاویل کی نفی کرے گا، سنو ہمارے ائمہ بارگاہ الہی میں تمہارے وفد ہیں پس سوچو کہ تمہارا وفد کون ہونا چاہئے.(1)
2.حضور کا یہ قول ستارے اہل زمین کو ڈوبنے سے بچاتے ہیں اور ہمارے اہل بیت(ع) ہماری امت کو اختلاف سے بچاتے ہیں،(2) عرض کیا جاچکا کہ یہ وصف حاصل ہی نہیں ہوسکتا مگر اس کو جو ہر دور میں امت کا مرجع ہو نیز انہیں ہر دور میں اختلاف سے بچا سکے.
3.حضور(ص) کا یہ قول؛ جو چاہتا ہے کہ میری زندگی جئے اور میری موت مرے اور اس جنت میں داخل ہو جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے چو انگوروں کا ایک باغ ہے جس کو اس نے اپنے دست قدرت سے لگایا ہے اور وہی جنت خلد ہے، تو اس کو چاہئے کہ وہ علی اور ان کے بعد ان کی ذریت سے تولا کرے، اس لئے کہ یہ ہرگز تمہیں ہدایت کے دروازے سے نہیں نکالیں گے اور گمراہی کے دروازے میں داخل نہیں کریں گے.-- 4. موفق بن احمد نے اپنے اسناد سے امام باقر(ع) سے اور انہوں نے اپنے والد ماجد سے انہوں نے امام حسین(ع) سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: میں نے اپنے جد رسول اللہ(ص) سے سنا
.....................................................
1.آٹھویں سوال کے جواب میں منابع کا ذکر تیسری جلد کے ص162 پر ہوچکا ہے.
2. آٹھویں سوال کے جواب میں منابع کا ذکر تیسری جلد کے ص165 پر ہوچکا ہے.
کہ آپ فرماتے تھے جو میری زندگی جینا چاہتا ہے اور میری موت مرنا چاہتا ہے اور اس جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے اور انگوروں کی ایک بیل اپنے دست قدرت سے بوئی ہے جس میں اپنی روح پھونک دی ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ علی(ع) کی ذریت طاہرہ ائمہ ہدی اور تاریکی کے چراغوں سے علی(ع) کے بعد محبت کرے اس لئے کہ یہ لوگ کبھی باب ہدایت سے نہیں نکالیں گے اور باب ضلالت میں داخل نہیں کریں گے جو ہلاکت کے دروزے تک لے جائے.
ابن شہر آشوب کہتے ہیں: مجھے ابوالموید مکی خطیب خوارزم نے چایس آدمیوں کے حوالے سے لکھوایا باسناد حسین بن علی(ع) کہ امام حسین(ع) نے فرمایا: میں نے نبی(ص) کو کہتے سنا کہ حضرت نے فرمایا جو چاہتا ہے کہ میری زندگی
جئے... مذکورہ بالا حدیث ہے جو متفاوت الفاظ میں بیان کی گئی ہے.(1)
5. جابر کی حدیث بھی دیکھ لیں کہتے ہیں پیغمبر(ص) نے فرمایا میں تمام نبیوں کا سردار ہوں علی(ع) تمام وصیوں کے سردار ہیں اور ہمارے اوصیاء میرے بعد بارہ ہوں گے جن کا پہلا علی(ع) ہے اور آخری قائم مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف)(2)
6.ابن عباس کی حدیث ہے، حضور(ص) نے فرمایا: جس کو یہ پسند ہو کہ میری زندگی جئے اور میری موت مرے اور اس جنت عدن میں رہے جسے میرے پروردگار نے بویا ہے اس کو چاہئے کہ میرے بعد علی(ع) سے محبت رکھے، علی(ع) کے چاہنے والے سے محبت کرے، اور میرے بعد(اولاد علی(ع) سے ہونے والے) اماموں کی اقتداء کرے کیونکہ وہ میری عترت ہیں، میری ہی طینت سے بنائے گئے ہیں، انہیں رزق طور کے پر علم و فہم دیا گیا ہے، میری امت میں سے جو لوگ ان کی فضیلت کو جھٹلائیں ان پر وائے ہے. اور ان لوگوں پر وائے ہے جو میری عترت سے مجھے الگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کو اللہ میری شفاعت نہ پہونچائے.(3)
...........................................
1.مناقب آل ابی طالب، ج1، ص250. ینابیع المودة، ج1، ص382. المناقب، خوارزمی، ص75.
2.ینابیع المودة، ج3، ص291.
3.حلیتہ الاولیاء، ج1، ص86، علی ابن ابی طالب کی بحث اور اخبار قزوین ج2، ص485 میں اختصار کے ساتھ ذکر کیا گیا.
7.ابن عباس ہی سے حدیث ہے کہ حضور(ص) نے فرمایا میرے خلفاء اور اوصیاء میرے بعد دنیا پر اللہ کی حجت ہیں وہ بارہ ہیں جن کا پہلا علی(ع) اور آخری میرا فرزند مہدی( عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف)
8.ابن عباس سے دوسری حدیث ہے کہتے ہیں میں نے سنا پیغمبر(ص) کہہ رہے تھے میں اور علی، حسن اور حسین اور ادلاد حسین( علیہم السلام) میں سے نو امام مظہر اور معصوم ہیں.(1)(2) 9. چوتھی حدیث بھی ابن عباس ہی سے ہے رسول اللہ(ص) نے فرمایا اے علی(ع) میں علم کا شہر اور تم اس کا دروازہ ہو شہر میں ہرگز نہیں آیا جاتا مگر دوازے کی طرف سے.جھوٹا ہے وہ جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ محمد(ص) (رسول) سے محبت کرتا ہے اور تم سے بغض رکھتا ہو اس لئے کہ میں تم سے ہوں اور تم مجھ سے ہو، تمہار گوشت میرا گوشت ہے اور تمہارا خون میرا خون ہے تمہاری روح میری روح ہے اور تمہارا باطن میرا باطن ہے اور تمہار اعلان میرا اعلان ہے تم میری امت کے امام اور اان پر میرے بعد میرے خلیفہ ہو خوش بخت ہے وہ جو تمہاری اطاعت کرے بدبخت ہے وہ جو تمہاری نافرمانی کرے فائدہ میں وہ ہے جو تم سے تولا رکھے اور گھاٹے میں ہے وہ جو تم سے عداوت رکھے. جس نے تم کو لازم جانا کامیاب ہوا جو تم سے جدا ہو جائے ناکام ہوا. تمہاری مثال اور تمہاری اولاد سے جو امام ہیں ان کی مثال میرے بعد یوں ہے جیسے نوح کا سفینہ، جو اس میں سوار ہوا نجات پا گیا اور جو اس سے الگ ہوا غرق ہوگیا. تم لوگ ستاروں کی طرح ہو کہ جب بھی کوئی ستارہ ڈوبتا ہے دوسرا ستارہ نکل آتا ہے یہ سلسلہ قیامت تک رہے گا.(3)
10.حضور سرور کائنات(ص) کا یہ قول اے لوگو! فضل، شرافت، منزلت اور ولایت(4) صرف پیغمبر(ص) اور ذریت پیغمبر(ص) کا حق ہے تمہیں بیہودہ لوگ دھوکہ نہ دے دیں.
...............................................
1.ینابیع المودة، ج3، ص295 اور انہیں الفاظ میں اس روایت کو فرائد السمطین ص383 پر نقل کیا گیا ہے.
2.ینابیع المودة، ج2، ص316، اور ج3، ص291.
3.ینابیع المودة، ج1، ص95،390،391.
4.ینابیع المودة، ج2، ص382،465.
11.سلمان فارسی کی نبی(ص) سے حدیث ہے جس میں آپ(ص) نے علی(ع) سے فرمایا اے علی(ع)! داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنو تو مقربین میں سے ہو جائو گے. علی(ع) نے پوچھا یا رسول اللہ(ص) مقربین کون ہیں فرمایا: جبرئیل اور میکائیل پوچھا یا رسول اللہ(ص) کس چیز کو انگوٹھی پہنوں فرمایا: عقیق احمر کی یہ وہ پہاڑ ہے جس نے وحدانیت پروردگار کا اقرار کیا اور میری نبوت اور تمہاری اور تمہاری اولاد کی ولایت و نیز امامت تمہارے چاہنے والوں کے لئے جنت اور تمہاری اولاد کے شیعوں کے لئے فردوس کا اقرار کیا.(1)
12.سلمان فارسی ہی سے مروی ہے، میں پیغمبر(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت امام حسین(ع) ان کے زانو پر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ حسین(ع کی آنکھوں کا بوسہ لے رہے تھے اور لبوں کو چوس رہے تھے اور فرما رہے تھے تم سردار ہو سردار کے فرزند ہو سردار کے بھائی ہو تم امام ہو امام کے فرزند ہو امام کے بھائی ہو تم حجت خدا ہو حجت خدا کے فرزند ہو حجت خدا کے بھائی ہو اور تم نو حجتوں کے باپ ہو جن کا نواں ان کا قائم ہوگا.(2)
13.آٹھویں سوال کے جواب میں حدیث پیش کی جا چکی ہے کہ علی(ع) اور اس کی ذریت قیامت تک خاتم الاوصیاء ہیں.(3) اس سلسلے میں ذہبی کا کلام اور اس پر ایک نظر بھی کی جا چکی ہے.
14.امیرالمومنین(ع) نے خطبہ میں فرمایا: خبر دار ہو جائو آل محمد(ص) کی مثال آسمان کے ستاروں کی جیسی ہے جب بھی ایک تازہ ڈوبتا ہے دوسرا اس کی جگہ نکل آتا ہے.(4)
15. کمیل بن زیاد نخعی سے گفتگو میں آپ نے فرمایا: ہاں! خدا کی قسم زمین ہرگز اللہ کی حجت قائم کرنے سے پہلے خالی نہیں ہوگی تاکہ اللہ کی حجتیں اور بینات باطل نہ ہوں وہ لوگ عدد کے اعتبار
......................................
1.مناقب، خوارزمی، ص346.
2.ینابیع المودة، ج3، ص394.
3.اس کا مدرک آٹھویں سوال کے جواب میں گذر چکا ہے.
4. نہج البلاغہ، ج1، ص194، انہیں لفظوں میں ینابیع المودة، ج1، ص391،95. ج3، ص450 پر لکھا ہے.
سے تو قلیل ہیں لیکن خدا کے نزدیک عظیم قدر و منزلت کے حامل ہیں انہیں کے ذریعہ اللہ اپںی حجتوں کو قائم کرتا ہے تا کہ وہ اپنے ہی جیسے لوگوں کو ادا کر دیں اور اپنے جیسے لوگوں میں اس کو بودیں ان کے پاس حقیقت امر کے علم نے ہجوم کر رکھا ہے یہ وہ ابدان ہیں جن کی روحیں ملاء اعلی پر معلق ہیں وہ زمین پر اللہ کےخلفاء اور اس کے دین کی طرف دعوت دینے والے لوگ ہیں.(1)
مذکورہ بالا جملے یہ بتا رہے ہیں کہ امام ایک منصب الہی کا نام ہے جس کو خداوند عالم جعل کرتا ہے گو یا کہ یہ جملے مذہب امامیہ کے عقائد کی تشریح کر رہے ہیں ان جملوں سے پتہ چلتا ہے کہ امام خدا کی طرف سے علوم کا حامل ہوتا ہے پھر سابق اس علم کو لاحق کے حوالے کرتا ہے کہ زمانہ ان کے وجود سے خالی نہیں رہتا.
16. اور کچھ ایسے نصوص انشائ اللہ پیش کئے جائیں گے جن میں سے کچھ نصوص کی تائید جمہور اہل سنت کی کتابوں سے بھی ہوتی ہے.
اور اس کا علم تو خدا ہی کو ہے جمہور اہل سنت کے یہاں کتنے نصوص ضائع ہوگئے یا انہوں نے عمدا ضائع کر دیئے اس لئے تو وہ حدیثیں ان کے عقائد کے خلاف بلکہ ان کے اساسی دعوی کے خلاف ہیں خصوصا اس لئے بھی کہ یہ حضرات اہل بیت(ع) پرہمیشہ ظلم کرتے رہے اور فضائل و مناقب اہل بیت(ع) کی نشر و اشاعت کو سختی سے رد کرتے رہے جیسا کہ گذشتہ صفحات میں عرض کیا جا چکا ہےخصوصا آٹھویں سوال کا جواب ملاحظہ فرمائیں.
...............................................
1.تذکرة الحفاظ، ج1، ص11، احوال امیر المومنین علی ابن ابی طالب انہیں الفاظ میں. حلیتہ الاولیاء نے ج1، ص180 احوال علی بن ابی طالب تہذیب الکمال، ج24، ص221. احوال کمیل بن زیاد بن نھیک میں. نہج البلاغہ،ج4، ص37.38. کنز العمال، ج301، ص263.264، حدیث29390. مناقب خوارزمی، ص366. ینابیع المودة، ج1، ص89. ج3، ص454. تاریخ دمشق، ج14، ص118. احوال حسین بن احمد بن سلمہ میں. ج50، ص254. احوال کمیل بن زیاد بن نھیک میں اور بعض حضرات نے صفوة الصفوة، ج1، ص331. احوال ابوالحسن علی بن ابی طالب میں ان فضائل سے متعلق کچھ جملے ذکر کئے ہیں.
گذشتہ معروضات پر نظر ڈالیں تو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ امیر المومنین علیہ السلام اور حسنین علیہما السلام کے
ارشادات کو ائمہ کے تعین و تشخص کے لئے مقام احتجاج میں پیش کرنا بالکل صحیح ہے(1) اس لئے کہ حضور سرور کائنات نے مولا علی(ع) سے ان کی ذریت کے بارے میں اور ان کی گھر کے اور اہل بیت(ع) کے اماموں کے بارے میں جو کچھ فرمایا ظاہر ہے چونکہ مکالمہ براہ راست اور بلا واسطہ ہوا اس لئے مولائے کائنات منزل یقین میں ہیں. بلکہ ان حدیثوں سے بھی احتجاج کرنا صحیح ہوگا جو ابو محمد الحسن بن علی اور ابو عبداللہ الحسین بن علی علیہما السلام سے وارد ہیں(2) اس لئے کہ یہ حضرات بھی نبی(ص) سے براہ راست روایت کرتے ہیں اور نبی کی طرح منزل یقین میں ہیں اس سلسلے میں عنقریب مزید عرض کیا جائے گا.
اب یہاں پر دو باتیں تشنہ بیان رہ گئی ہیں.
1.بارہ اماموں کے اہل بیت(ع) میں سے ہونے پر جو دلیلیں حاصل ہیں اور جو دینی اور تاریخی نصوص ملتے ہیں من جملہ ان انبیاء ما سبق کی بشارتیں بھی ہیں جو سابقہ ادیان کے انبیاء کی مبارک زبانوں پرجاری اور ساری رہی ہیں اور ادیان سابقہ کی کتابوں اور صحیفوں میں پائی جاتی ہیں یہ بشارتیں خاتم الانبیاء(ص) کے تتمہ کے طور پر وارد ہوئی ہیں اور ان ادیان کے علماء اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ بعض علمائ نے اس کا اقرار بھی کیا ہے.
.......................................
1.بحار الانوار، ج36، ص373و374 وغیرہ.
2.بحار الانوار، ج36، ص383.385، وغیرہ.
ہم صرف ایک بشارت کو تبرکا پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں. غیبت نعمانی میں لکھا ہے ابن عقدہ،محمد بن ہمام، عبدالعزیز اور عبد الواحد جو عبد اللہ بن یونس کے بیٹے ہیں عبد الرزاق بن ہمام سے روایت کرتے ہیں وہ معمر بن رشد سے وہ ابان بن ابی عباس سے وہ سلیم بن قیس ہلالی سے کہتے ہیں: جب ہم جنگ صفین میں امیر المومنین(ع) کے ساتھ جا رہے تھے تو ایک نصرانی عالم کی قیام گاہ کے پاس اترے اتنے میں اس قیام گاہ سے ایک بزرگ شخص باہر نکلا جس کا چہرہ خوبصورت اور ناک نقشہ حسین تھا اس کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی وہ چلتا ہوا امیرالمومنین(ع) کے پاس آیا اور سلام کر کے کہنے لگا میں جناب عیسی بن مریم کے حواریوں میں سے ایک حواری کی اولاد ہوں وہ حواری جناب عیسی کے بارہ حواریوں میں سے سب سے افضل تھے عیسی کے محبوب تر اور سب سے زیادہ سعادت مند تھے جناب عیسی نے انہیں اپنا وصی بنایا تھا اور انہیں کو اپنا علم، کتابیں اور حکمت ودیعت کی تھیں.
آج تک اس حواری کے گھر والے اس کے دین پرباقی رہے اور اس سے متمسک رہے نہ انہوں نے کفر اختیار کیا اور نہ ارتداد کیا. وہ کتابیں بھی میرے پاس محفوظ ہیں جنہیں جناب عیسی بن مریم نے لکھوایا تھا اور میرے باپ نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا. ان کتابوں میں وہ باتیں ہیں جس کولوگ جناب عیسی کے بعد کرنے والے ہیں. اس میں ہر بادشاہ کا نام ہے اور( اس میں لکھا ہوا ہے) کہ اللہ عرب میں جناب ابراہیم خلیل اللہ کی اولاد کی اولاد میں سرزمین مکہ سے متعلق تہامہ نامی جگہ پر ایک شخص کو بھیجے گا اور کہا کہ اس کتاب میں بارہ نام ہیں اس کتاب میں حضور کی بعثت کی تاریخ، ولادت کی تاریخ آپ کی ہجرت اور ان لوگوں کے بارے میں جو پیغمبر(ص) سے قتال کریں گے تفصیل سے بیان کیا ہے، ان کے بارے میں بھی وضاحت ہے جو نبی کہ نصرت کریں گے اورجو آپ سے دشمنی کریں گے. حضور کی مدت حیات کے بارے میں بھی ہے اور ان واقعات کے بارے میں بھی لکھا ہے جو ان کی امت کو پیش آنے والے ہیں، یہاں تک کہ جناب عیسی بن مریم آسمان سے اتریں گے اس کتاب میں تیرہ نام دیئے گئے ہیں جو جناب ابراہیم خلیل اللہ کے فرزند جناب اسماعیل کے نسل
سے ہوں گے، وہ لوگ خدا کی مخلوقات میں سب سے بہتر،خدا کے محبوب تر ہوں گے، اللہ ان کے دوستوں کا دوست اور ان کے دشمنوں کا دشمن ہوگا جو ان کی معصیت اللہ کی معصیت ہوگی ان کے نام ان کے نسب ان کی صفات ان میں سے ہر ایک کتنے دن زندہ رہے گا، ایک کے بعد سب کچھ لکھا ہوا ہے اسی میں یہ بھی لکھا کہ ان میں سے کتنے آدمی پردہ غیب میں ہوں گے اور اپنے دین کو اپنی قوم سے چھپائیں گے. اور کون ظہور کرے گا اور کون لوگ اس کی قیادت میں رہیں گے یہاں تک کہ جناب عیسی بن مریم آسمان سے اتریں گے اور اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے پھر اس امام سےکہیں گے آپ لوگ امام ہیں کسی کو بھی آپ سے آگے بڑھنے کا حق حاصل نہیں ہے اور جناب عیسی اس امام کوآگے بڑھائیں گے اور اس کے پیچھے نماز پڑھیں گےوہ جناب عیسی اور تمام لوگوں کی امامت کرے گا.
ان میں سب سے پہلے اور سب سے بہتر اور افضل رسول اللہ(ص) ہیں ان کا نام محمد(ص) ہے ان کو ان کے تمام اوصیاء ( اور تمام امت) اور ان اوصیاء کی اطاعت کرنے والوں اور ان سے ہدایت پانے والوں کے برابر اجر ملے گا،ان (محمد صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اور بھی نام ہیں: عبداللہ، یس، فتاح، خاتم، حاشر، عاقب، ماحی، قائد، نبی اللہ، صفی اللہ، جنب اللہ. جب بھی وہ ذکر کریں گے ان کا ذکر ہوگا وہ خدا کے نردیک اکرم المخلوقات اور محبوب ترین ہیں اللہ نے کوئی بھی ملک مکرم اور نبی مرسل نسل آدم سے نہیں پیدا کیا جو ان کے برابر ہو، خدا کے نزدیک سب سے بہتر ہیں اور ان سے زیادہ خدا کا کوئی محبوب نہیں ہے، قیامت کے دن وہ عرشالیہ پر بیٹھیں گےاور جس کی شفاعت کریں گے وہ بخش دیا جائےگا ان کے نام کے بارے میں قلم نے لوح محفوظ پر صداقت سے لکھ دیا: محمد رسول اللہ(ص).
ان کے بھائی وصی و وزیر ان کی امت میں ان کے خلیفہ اور ان( محمد(ص)) کے بعد خدا کے محبوب تر روز محشر لواء کےحامل، ماں اور باپ کی طرف سے ان کےچچا کے بیٹے علی بن ابی طالب(ع) نبی(ص) کے بعد ہر مومن کے ولی ووصی ہیں پھر محمد(ص) اور علی(ع) کےفرزند میں گیارہ مرد ہوں گے
ان میں پہلے نمبر پر دو کے نام ہارون کے بیٹے شبرو شبیر کے نام پر ہوں گے اور چھوٹے بیٹے کی نسل سے نو افراد ہوں گے ایک بعد بعد ایک ان کا آخر وہ ہوگا جس کے پیچھے عیسی نماز پڑھیں گے.(1) اس روایت کے علاوہ دوسری روایتیں بھی ہیں جو مذکورہ حقیقت کو بیان کرتی ہیں(2) جہاں جہاں موقع ملےگا ہم ان کی طرف اشارہ کرتے جائیں گے انشائ اللہ.
شیخ حسن طبرسی اپنی کتاب اعلام الوری میں جہاں نبی(ص) آخر کے بارے میں انبیاء کی بشارتوں کو بیان کیا ہے وہیں لکھتے ہیں: نبی کریم(ص) کے بارے میں انبیاء کی بشارتوں کے سلسلے میں مجھ سے ایسے شخص نے بیان کیا جس پر اعتماد کرتا ہوں اس نے کہا کہ توریت میں لکھا ہے: جب اسماعیل کی اولاد میں نبی آخر الزمان ظاہر ہوں گے تو ان ی صفت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے « لا شموعیل شهشخواهنی بیراختما او ثوهربیث اتوهربتی واتو بما دمادشینم آسور نسیئم و اناتیتو الکوی» کا دل یعنی اسماعیل کی نماز قبول کی اور میں نے اس میں برکت دی اور میں نے اس کو نمو عنایت کیا اس کو کثرت اولاد عنایت کی اس کے بیٹے کے ذریعہ جس کا نام محمد ہوگا اور اس کے نام کے عدد (92) ہوں گے، اس کی نسل سے ہم ایسے بارہ اماموں کو پیدا کریں گے جو بادشاہوں گے اور ہم اس کو کثیر تعداد میں قوم عنایت کریں گے. (3) اربلی کہتے ہیں: مجھ سے بعض یہود نے توریت کے بارے میں حکایت کی ہے اور میں نے خود عربی توریت میں دیکھا ہے اور راویوں نے بھی اس کو نقل کیا ہے: کہ اسماعیل کی نماز میں نے قبول کی اور اس کو برکت دی اس کی اولاد کو بڑھایا ان کی تعداد کو کثیر کیا، بمادماد( یعنی محمد) سے جس کے نام کے عدد حروف تہجی کے اعتبار سے بانوے(92) ہوں گے اس کے نسل سے بارہ امام بادشاہ پیدا کروں گا
......................................
1. نعمانی کی کتاب الغنیہ، ص 74.75. انہیں سے صاحب بحارالانوار نے، ج 36 ، ص 210.112. پر انہیں الفاظ میں لکھا ہے.
2. کافی، ج1، ص515.517، بحارالانوار، ج15، ص236.239،241.247. اور ج36، ص212.213، 214.225.
3.اعلام الوری با اعلام الہدی، ج1، ص59.
اور اس کو کثیر تعداد پر مشتمل قوم عنایت کروں گا اس مذکورہ مطلب کی ابتدا عبرانی زبان میں یوں ہوتی ہے«لاشموعیل شمعیشوخو» (1)
مجھ سے کچھ نو مسلم مسیحی نے بتایا کہ ان کے پاس عہد قدیم کا ایک محفوظ نسخہ ہے جس کا تعلق آٹھویں صدی عیسوی سے ہے اس میں تمام باتیں موجود ہیں جس کا تذکرہ علامہ طبرسی نے کیا ہے لیکن ابھی وہ نسخہ میری نظرسے نہیں گذراہے.
ایک دوسرے مسیحی نے بھی مجھ سے ایسی ہی بات کہی ہے بلکہ نبی اور اہل بیت(ع) کے بارے میں اس سے بھی زیادہ تعجب خیز بات کہی لیکن چونکہ وہ باتیں ضبط تحریر میں نہیں ہیں اس لئے ان کا بیان کرنا مناسب نہیں سمجھتا.بہر حال اس دور میں عہد قدیم کے جونسخے ہیں ان میں بھی اس مضمون کی قریب المعنی عبارتیں ہیں البتہ نبی(ص) کے نام کو مصلحتوں کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے. سفر تکوین کے سترہویں اصحاب میں لکھا ہے : لیکن اسماعیل نے تیری بات اس بارے میں سنی اور میں اس وجہ سے اسے برکت دوں اورمیں اس کی نسل میں بے پناہ اضافہ کروں گا اس کی نسل میں 12. رئیس پیدا ہوں گے اور اس کومیں عظیم امت بنائوں گا.اسی سے قریب المعنی وہ عبارت ہے جسے علامہ مجلسی نے عبرانی توریت کے حوالے سے حکایت کی ہے( جیسا کہ ان سے اہل کتاب کی ایک قابل اعتبار جماعت نے بیان کیا تھا(2) ابن کثیر کا ایک بیان بھی ابھی ذکر کیا جائے گا جسے انہوں نے اہل کتاب کے درمیان موجود توریت ہے.(3) اور یہ دونوں طبرسی اور اربلی سے متاخر ہیں.میرا خیال ہے کہ کتاب مذکور سے نبی(ص) کا نام حذف کرنے کی حرکت بہت بعد میں ہوئی ہے
...............................................
1.کشف الغمہ فی معرفتہ الائمہ، ج1، ص22.
2.بحارالانوار، ج36، ص214.
3.تاریخ ابن کثیر، ج6، ص25. ان روایتوں میں جو بارہ امام سے متعلق ہیں اور کہتی ہیں کہ وہ سب قریش سے ہوں گے.
اور اہل کتاب سے یہ بعید بھی نہیں ہے. قرآن مجید نے اس معاملے میں پہلے ہی پیشن گوئی کر دی تھی اور یہ لوگ چونکہ اس خدا کی طرف سے نازل کردہ ہدایت و بیانات کو چھپایا کرتے تھے، کلمات کو ان کی جگہوں سے تحریف کردیا کرتے تھے خدا پر ایسا افتراء اور الزام لگاتے تھے جس کا کتاب سے کوئی لگائو نہیں، اس دور میں بھی اس طرح کے واقعات ہو رہے ہیں جسے یہود کوخون مسیح سے بری کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ یہ بات ان کے سابقہ تعلیمات کے خلاف ہے.اہل کتاب نے ہر دور میں اپنی کتاب میں اپنے مزاج کے مطابق تحریف کی ان باتوں کو معلوم کرنے کے لئے ان کی تاریخ کا مطالعہ کرنا پڑے گا جب ہی معلوم ہو سکے گا کہ ان کی ان تحریفات کے اسباب کیا ہیں.جیسا کہ انہوں نے نبی کے بارہ پیشوائوں کے بارے میں حکایت کی ہے کہ ان بارہ اماموں میں مولائے کائنات جو پہلے امام ہیں ظاہر ہے کہ اولاد نبی نہیں ہیں یا تو انہوں نے اکثریت پرمحمول کر کے امیرالمومنین(ع) کوبھی نبی کی اولاد میں شامل کر دیا ہے یا عترت کی غلط تفسیر کی ہے اور عترت کے معنی اولاد لئے ہیں چونکہ ان کی کتابوں میں یہ لکھا ہے کہ نبی کی عترت میں بارہ امام ہوں گے تو اس کو عربی میں منتقل کرنے والوں نے یہ سمجھ لیا کہ عترت سے مراد ان کی اولاد ہے اس طرح کی غلطیان ترجمے میں ہوتی رہتی ہیں.
اس موضوع کے سلسلے میں ابن کثیر فرماتے ہیں: اس وقت جو توریت اہل کتاب کے پاس ہے اس میں اس معنی کی عبارت ہے: خدا نے ابراہیم کو اسماعیل کی بشارت دی اور یہ کہا( اولاد اسماعیل کو) بڑھائے گا اور کثیر کرے گا اور ان کی ذریت میں بارہ(12) عظیم اشخاص پیدا ہوں گے. اس کے بعد ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ہمارے استاد ابن تیمیہ کہتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جن کی بشارت جابر بن سمرہ کی حدیث میں دی گئی ہے اور یہ بات طے ہے کہ یہ حضرات زمانے کے اعتبار سے الگ الگ قوموں میں
ہوں گے اور جب تک یہ لوگ موجود نہ ہوجائیں قیامت نہیں آئے گی یہودیوں میں جو لوگ نئے مسلمان ہوئے ان میں سے اکثر لوگوں کو غلط فہمی ہوتی ہے ان کا خیال ہے کہ یہ بارہ(12)، وہی حضرات ہیں جن کا دعوی رافضی فرقہ کرتا ہے اور ان کی پیروی کرتا ہے.(1)
میں ابن کثیر سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کے شیخ ابن تیمیہ جو بھی فرمائیں لیکن جو یہودی مسلمان ہوئے ہیں ظاہر ہے کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں کچھ علامتیں اور دلیلیں پڑھی ہیں جن کی وجہ سے مسلمان ہوئے ہیں اور اپنی کتابوں کی دلیلوں اور عبارتوں سے وہ آپ اور آپ کے استاد کے استاد سے زیادہ واقف ہیں اور یہ بھی صحیح ہے کہ وہ تعصب اور غلطی سے پاک اور موضوعیت مسئلہ سے زیادہ قریب ہیں. دوسری بات جو آپ نے ابن تیمیہ کے حوالے سے فرمائی ہے اس سے ایک بات بہر حال ثابت ہو جاتی ہے کہ بارہ چاہے الگ الگ امتوں میں زمانے کے اعتبار سے ظاہر ہوں لیکن امامت کا انحصار انہیں بارہ مقدس افراد میں ہے بلکہ حدیثیں تو اس حقیقت پر صریحی دلالت کرتی ہیں. لہذا آپ حدیثوں کا مطالعہ فرمائیں.
2.دوسری بات یہ ہے کہ ان عبارتوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان نصوص کی بنیاد پر اور دوسرے بہت سے نصوص کو دیکھتے ہوئے امامت ایک ایسا امر ہے جو معہود من اللہ ہے اور لوگوں کو امام بنانے سے کوئی امام نہیں بنتا بلکہ نبی اور امام کے ذریعہ بھی کوئی امام نہیں بن سکتا. نبی اور امام کی ذمہ داری بس یہ ہے کہ وہ اس عہد الہی کو لوگوں تک پہونچا دیں اور بس.
.............................
1.تاریخ ابن کثیر، ج6، ص249.250.
شیعہ امامیہ کے عقیدے کی بنیاد بھی یہی ہے اور ان کی دعوت کا ہدف بھی یہی ہے. فرقہ شیعہ اپنی دعوت اسی بنیاد پر پیش کرتا آیا ہے اور ہمیشہ اسی عقیدے پر استدلال پیش کرتا رہا ہے. چودہ سو سال سے یہ سلسلہ جاری ہے اور اتنا مشہور ہوگیا ہے کہ اب شیعہ کے ساتھ اثناعشری کا لفظ بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اسی کے ذریعہ وہ تمام اسلامی فرقہ میں ممتاز ہوتے ہیں.
انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ اہل سنت کو ان کثرت سے پائے جانے والے نصوص پر غور کرنا چاہئے جو ان کی کتابوں میں ہیں اور ائمہ اثنا عشر کے تذکرے پر مشتمل ہیں اگرچہ ان میں سے اکثر حدیثوں میں صراحت نہیں کی گئی ہے لیکن برادران اہل سنت کے لئے سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ حدیثیں بہر حال ایسے افراد پر منطبق نہیں ہوتیں جنہوں نے قہر و غلبہ کے ذریعہ حکومت حاصل کی لیکن( افسوس تو اس بات کا ہے کہ) برادران اہل سنت انہیں لوگوں کی امامت کے قائل ہیں. ظاہر ہے کہ ائمہ اثنا عشر کا حدیثوں میں تذکرہ ہے وہ ان لوگوں سے الگ ہیں جنہوں نے قہر نہیں کی، نہ زبردستی لوگوں سے بیعت لی. اور پھر بھی وہ امام ہیں پس ماننا پڑے گا کہ ان کی امامت اللہ کی طرف سے معین ہوتی ہے. اکثر حدیثوں میں جہاں اثنا عشری اماموں کا تذکرہ ہوا ہے یہ بتایا گیا ہے کہ ان کی عدد نقباء بنی اسرائیل کے برابر ہوگی ان کے چھوڑنے والوں کا خذلان اور عداوت کرنے والوں کی عداوت انہیں کوئی نقصان نہیں پہونچائے گی. میں نے اس طرح کی حدیثوں کے بعد اس سلسلے میں بہت کچھ عرض کیا ہے.
اسی طرح کچھ حدیثیں اہل سنت کے طریقوں سے امیرالمومنین(ع) کے حق میں بھی وارد ہوئی ہیں مثلا یہ کہ وہ سید امیرالمومنین امام المتقین ہیں وہ مومنین کے امیر، ان کے ولی اور ان کے اولی
ہیں(1) ان کے علاوہ اور بہت سارے صفات بیان ہوئے ہیں جن سے آپ کی امامت ثابت ہوتی ہے ظاہر ہے کہ یہ حدیثیں بہت پہلے کی ہیں یعنی آپ کی بیعت تو سنہ30ھ کے بعد سرکار دو عالم(ص) کی وفات کے برسوں بعد ہوئی جب یہ حدیثیں جو اہل سنت کی کتابوں میں پائی جاتی ہیں وہ سرکار دو عالم(ص) سے مروی ہیں جو آپ کی بعثت سے بہت پہلے کا زمانہ ہے ان حدیثوں سے بھی اس بات کی وضاحت ہوتی ہے. آپ کی امامت عہد الہی ہے اور لوگوں کے بیعت کی محتاج نہیں ہے.
یہی بات امامت کی رفعت و شان کے مناسب بھی ہے. اس لئے کہ امامت ایک منصب ہے جس کا لگائو امت کی ذمہ داریوں میں سے ہے دین اسلام کی عظیم ذمہ داریوں کا کام ہوچکا. اسلام خدا کا دین ہے اور اس کے ذمہ دار افراد کے انتخاب کی ذمہ داری بھی خدا کی ذمہ داری ہے. ہماری خدا سے یہی دعا ہے کہ ہماری صحیح راستہ کی طرف ہدایت کرے اور ہمیں حق اور ہدایت پر ثابت قدم رکھے اور ہمیں ہر گمراہی اور کجی سے محفوظ رکھے.
حدیثوں کی چوتھی قسم: یہ وہ حدیثیں ہیں جو ایک ایک کر کے اماموں کا تعارف کراتی ہیں ان کے نام ان کے صفات اور ان کی ذمہ داریوں کو بتاتی ہیں. البتہ ایسی حدیثیں بہت زیادہ ہیں لیکن ان میں سے کچھ پیش کی جاتی ہیں:
1.امام ابو جعفر محمد باقر(ع) سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک کتاب تھی جس کو آپ نے اپنے اہل بیت(ع) کخ سامنے پڑھی وہ کتاب سرکار دو عالم(ص) نے امیرالمومنین(ع) سے لکھوائی یعنی
.....................................
1.ان کے بعض مصادر اور حوالے چوتھے سوال کے جواب میں،ج،ص ذکر کئے جا چکے ہیں اسی طرح انہیں بعض مصدر و منبع سابق سوالوں کے ساتویں سوال کے جواب میں بیان کئے جا چکے ہیں.
تحریر امیرالمومنین(ع) کی تھی اور کلمات پیغمبر(ص) کے تھے اس میں ائمہ اثناء عشر کے اسماء گرامی، ان حضرات کی مختصر حیات اور ان کی ذمہ داریوں کا تذکرہ ہے.(1)
2.اسحق بن عمار امام صادق(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ہمارے پاس ایک صحیفہ ہے جو رسول اللہ نے امیرالمومنین(ع) کے لئے لکھوایا تھا. پھر اس کتاب کا تذکرہ کیا جس کا ہم نے ابھی گذشتہ حدیث میں ذکر کیا ہے.(2)
3.حدیث لوح، جابر بن عبداللہ انصاری نے ایک تختی دیکھی تھی جو معصومہ عالم(ع) کے پاس تھی اس تختی میں ائمہ اثناء عشر کے اسماء گرامی تھے اور اس میں وہ تمام چیزیں مذکورہ تھیں جو سابق کتاب میں لکھی گئی ہیں.
یہ روایت متعدد طریقوں سے بکر بن صالح سے انہوں عبدالرحمن بن سالم سے انہوں نے ابو عبداللہ امام جعفر صادق(ع) سے بھی مروی ہے.(3)
4.ایک دوسری حدیث لوح، اس حدیث میں صرف ائمہ علیہم السلام کے اسماء طاہرہ دیئے گئے ہیں اور ان کے والدین کے نام ہیں لیکن اس میں مذکورہ کتاب کا کوئی تذکرہ نہیں ہے روایت ہے کہ اس تختی کے بارے میں امام محمد باقر(ع) نے جابر سے پوچھا تھا تو جابر نے ان سے بیان کیا.(4)
5. ایک اور حدیث لوح لیکن بطریق اختصار. محمد باقر(ع) نے فرمایا: مجھ سے جابر کہتے ہیں: میں معصومہ عالم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ کے دست مبارک میں ایک سنہری تختی تھی جس کی چمک سے آنکھیں خیرہ ہورہی تھیں اس میں بارہ نام تھے اس کے اوپری حصہ پر
................................
1.بحار الانوار، ج36، ص201. کمال الدین و تمام النعمہ، ص312.313.
2.بحارالانوار،ج36، ص200.
3.کافی، ج1، ص527.528. بحارالانوار، ج36، ص195.198.
4.بحارالانوار، ج36،ص195. کمال الدین و تمام النعمہ، ص306.307.
تین نام تھے اس کے وسط میں تین نام تھے اس کے آخر میں تین نام تھے اور کنارے پر تین نام تھے میں نے شمار کیا تو وہ بارہ تھے. میں نے صدیقہ سے پوچھا یہ کن لوگوں کے نام ہیں؟ معصومہ نے فرمایا:یہ اوصیاء کے نام ہیں ان میں سب سے پہلے میرے چچا زاد بھائی علی ہیں اور میری اولاد سے گیارہ اوصیاء ہیں ان کا آخر قائم آل محمد(عج) ہے. جابر کہتے ہیں : میں نے دیکھا اس میں تین جگہ محمد محمد محمد اور چار جگہ علی، علی علی، علی لکھا تھا.(1)
اس حدیث کے بارے میں دو سلسلہ سند ہیں جس میں جابر بن یزید نے محمد باقر(ع) سے یہ حدیث نقل کی. اور
چار سندیں ایسی ہیں جس میں حسن بن محبوب نے ابوالجارود سے انہوں نے امام محمد باقر(ع) سے اس حدیث کو نقل کیا.(2)
6.اسی طرح ایک اور حدیث ہے. لوح، جابر بن عبداللہ انصاری کے پاس تختی کی جو عبارت موجود تھی اس عبارت کا تقابل انہوں نے اس تختی سے کیا جو امام محمد باقر(ع) کے پاس تھی دونوں تختیوں کی عبارتیں ایک تھیں اور دونوں میں ائمہ اثناء عشر کے اسمائ مبارکہ تھے اور ان حضرات سے متعلقہ امور کا مختصر بیان بھی تھا اور یہ مطالب ایک ایسی روایت میں ہیں جس کا سلسلہ سند امام جعفر صادق(ع) سے ملتا ہے.(3)
7.جابر جعفی کی حدیث یہ کہتے ہیں میں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے سنا کہ اللہ نے اپنے نبی پر یہ آیت نارل فرمائی” اے ایمان لانے والو! اطاعت کرو اللہ کی اللہ کے رسول کی اور صاحبان امر کی جو تم میں سے ہیں” تو میں نے عرض کیا اے خدا کے نبی آپ نے اللہ اور اس کے رسول کے متعلق ہمیں معرفت بخشی اب آپ ہمیں ان لوگوں کے بارے میں بتائیے جن کی اطاعت کو اللہ نے آپ کی اطاعت کے برابر بتایا ہے؟
.............................................
1. بحارالانوار، ج36، ص201، انہیں الفاظ میں کمال الیدن و تمام النعمہ، ص311، اعلام الوری یا اعلام الہدی، ج2، ص178 پر موجود ہے.
2.بحار الانوار، ج36، ص202.203. امالی صدوق، ص291.292.
3.بحار الانوار، ج36، ص202.203.امالی صدوق، ص291.292.
سرکار دو عالم(ص) نے فرمایا: اے جابر یہ وہ لوگ ہیں جو میرے بعد میرے خلیفہ اور مسلمانوں کے امام ہوں گے ان میں سب سے پہلے علی بن ابی طالب(ع) پھر حسن(ع) پھر حسین(ع)، پھر علی بن الحسین (ع)، پھر محمد بن علی(ع)، جو توریت میں باقر کے نام سے مشہور ہیں.( اے جابر تم عنقریب ان سے ملاقات کرو گے اور جب ان سے ملنا تو انہیں میرا سلام کہہ دینا.)
پھر صادق بن جعفر(ع)، پھر موسی بن جعفر(ع)، پھر علی بن موسی(ع)، پھر محمد بن علی(ع)، پھر علی بن محمد(ع)، پھر حسن بن علی(ع)، پھر میرا ہم نام محمد(ع) اور میری کنیت کا حامل( ابوالقاسم(ع)) خدا کی زمین میں
اسکی حجت اور اس کے بندوں میں بقیتہ اللہ بن حسن بن علی علیہم السلام ہوگا یہ وہی ہے جس کے ہاتھوں پر خدا مشرق و مغرب کی فتح عنایت فرمائے گا یہ وہی ہے جو اپنے شیعوں اور اپنے چاہنے والوں کی نظر سے پوشیدہ ہو جائے گا. اور اس کی امامت کا قائل نہیں ہوگا مگر وہ جس کے دل کا اللہ نے امتحان لے لیا ہے.(1)
8.علی بن عاصم امام جواد(ع) سے روایت کرتے ہیں انہوں نے اپنے آباء طاہرین سے اور انہوں نے امام حسین(ع) سے امام حسین(ع) کہتے ہیں : میں اپنے جد پیغمبر(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ کے نزدیک ابی بن کعب بیٹھے ہوئے تھے... اس حدیث میں نبی ابی بن کعب سے امام حسین(ع) کی عظمت اور آپ کی نو طیب و طاہر فرزندوں اور ان کے اسمائ گرامی کی خبر دیتے ہیں ہر ایک کی دعا کا تذکرہ کرتے ہیں. اور آخر میں ابی بن کعب سوال کرتے ہیں: یا رسول اللہ(ص) ، اللہ ان اماموں کے حالات کس طرح بیان کرتا ہے؟ فرمایا خدا نے مجھ پر بارہ صحیفے ناز کئے ہر صحیفے کے خاتمہ پر اس امام کا نام ہے جس امام کے بارے میں وہ صحیفہ ہے اور اس صحیفے میں اس امام کی صفتیں لکھی ہیں.(2)
...................................................
1.اعلام الوری با ا علام الہدی، ج2، ص181.182. انہیں الفاظ میں اس روایت کو ان کتابوں میں ملاحظہ کرسکتے ہیں: کمال الدین و تمام النعمہ، ص253، بحارالانوار، ج36، ص249.250.
2.بحارالانوار، ج36، ص204.209، انہیں الفاظ میں اس روایت کو دیکھ سکتے ہیں عیون اخبار الرضا(ع)، ج2، ص62.65. کمال الدین و تمام النعمہ، ص264.269.
9. حدیث مفضل بن عمر امام صادق(ع) سے انہوں نے اپنے آباء طاہرین(ع) سے انہوں نے امیرالمومنیں(ع) سے، امیرالمومنین(ع) فرماتے ہیں مجھ سے رسول اللہ نے فرمایا جب مجھے آسمانوں پر لے جایا گیا تو مجھ پر میرے رب نے وحی کی پھر آپ نے فضائل اہل بیت(ع) اور ان کی ولایت کے ضروری ہونے کے اعتبار سے طولانی حدیث بیان فرمائی جس کا خلاصہ اس طرح ہے کہ: خدا نے فرمایا اے نبی سر اٹھائو میں نے جب اپنا سر اٹھایا تو علی(ع) فاطمہ(ع)حسن(ع) حسین(ع) علی ابن الحسین(ع) محمد بن علی(ع) جعفر بن محمد(ع) موسی بن جعفر(ع) علی ابن موسی(ع) محمد بن علی(ع) علی ابن محمد(ع) حسن ابن علی(ع) کے انوار مقدسہ کے ساتھ خود کو پایا ان سب کے درمیان میں محمد ابن الحسن(ع) القائم المہدی(عج) کے نور کو دیکھا جو چمکتے ہوئے ستارے کے مانند تھا. میں نے پوچھا پالنے والے یہ کون لوگ ہیں؟ جواب ملا یہ ائمہ ہدی ہیں اور یہ قائم آل محمد(ص) ہے.(1)
10.اسی طرح کی حدیث ابو سلمی سے ہے کہ جو سرکار دو عالم(ص) کے اونٹ چراتے تھے کہتے ہیں کہ مجھ سے حضور(ص) نے فرمایا: جب مجھے شب معراج آسمانوں پر لے جایا گیا تو خدائے عزیز نے مجھ سے فرمایا.... پھر آپ نے ائمہ اثنائ عشری کے فضائل میں ایک طویل گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آپ نے ائمہ اثناعشری کی وہاں پر تصویریں دیکھیں اور انہیں ان کے نام سے پکارا. اس حدیث میں ہے کہ اے محمد(ص)! یہ حجتیں ہیں اور یہ تمہاری عترت کے منتقم ہیں( انتقام لینے والے).(2)
انہیں ابوسلمی سے دوسری حدیث بھی ہے جو شاید اس حدیث سے کچھ مختصر ہے.
محدثین کہتے ہیں کہ اس کو خوارزمی نے ابوسلمی کی طرف منسوب کیا ہے. اور علی بن ذکریا
......................................
1.کمال الدین و تمام النعمہ، ص252.253، انہیں الفاظ میں آپ اس روایت کو ان کتابوں میں ملاحظہ فرمائیں. بحارالانوار، ج36، ص245. کفایہ الاثر، ص152.153.
2.بحار الانوار، ج36، ص216.217. اور انہیں لفظوں کے ساتھ ص261.262، پر بھی ہے. مائتہ منقبتہ،ص37.39. مقتضب الاثر، ص11، الغنیہ شیخ طوسی کی ص247.248. الطرائف ص173.
بصری، محمد بن بدر، محمد بن جعفر قرمیسی، اور ابن عیاش بن کشمرد نے اس حدیث کی سند کو ابوسلمہ تک پہونچایا ہے.(1)
11.جابر جعفی سے حدیث ہے. کہتے ہیں : میں نے سالم بن عبداللہ بن عمر بن خطاب سے سنا کہ امام محمد بن
علی(ع) ( یعنی امام باقر(ع)) مکہ میں فرمارہے تھے کہ میں نے عبداللہ بن عمر سے سنا کہہ رہے تھے پیغمبر(ص) نے فرمایا: جب مجھے شب معراج آسمانوں پر لے جایا گیا... تو اس حدیث میں بھی اہل بیت اطہار(ع) کے بہت فضائل ہیں اور حدیث بہت بڑی ہے اس کے آخر میں یہ بیان ہے کہ حضور(ص) نے ان بارہ اماموں کی تصویریں وہاں دیکھیں اور ایک ایک کر کے ان کے اسماء مبارکہ کو ملاحظہ فرمایا پھر سالم نے حدیث مذکورہ کی کعب احبار کے سلسلہ سند میں سے ایک بیان سے تائید کی اور ہشام بن عبداللہ دستوانی( جو اس حدیث کے سلسلہ سند میں سے ایک ہیں) ان کی تائید ایک یہودی کے کلام سے بھی ہوتی ہے جو اپنے اسلام کو حدیث کی وجہ سے چھپاتا ہے.(1)
12. حدیث ثمالی میں ہے کہ ثمالی نے امام جعفر صادق(ع) سے اور آپ نے اپنےآباء کرام سے انہوں نے نبی سے انہوں نے جبرئیل سے انہوں نے اللہ سے. اس حدیث میں مولائے کائنات کے فضائل ہیں اور انہیں کی نسل کے گیارہ اماموں کی رفعت و شان کے بارے میں ایک تفصیلی گفتگو ہے اور ان کی امامت کے اقرار کو لازم قرار دیا گیا ہے. اسی حدیث میں ہے کہ جابر بن عبداللہ انصاری نے سرکار دو عالم(ص) سے ائمہ اثنا عشر کے بارے میں پوچھا تو سرکار دو عالم(ص) نے ان ائمہ اثنا عشر کے اسماء گرامی اور ان کے القاب بتائے.
پھر فرمایا: یہی لوگ ہمارے خلفاء ہماری اولاد اور ہماری عترت ہیں جس نے ان کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے ان کی نافرمانی کی، اس نے میری نا فرمانی کی
.................................................
1. اثبات الہداۃ بالخصوص والمعجزات، ج3، ص222.
2..بحارالانوار، ج36، ص222.224، اور انہیں لفظوں میں صاحب مقتب الاثر نے ص26پر لکھا ہے.
جس نے ان کا یا ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار کیا اس نے میرا انکار کیا. اللہ نے انہیں کی وجہ سے آسمانوں کو زمین پر گرنے سے روک دیا ہے مگر یہ کہ خدا اس کی اجازت دے، انہیں کے ذریعہ اللہ زمین کی حفاظت کرتا ہے تاکہ زمین اپنے اہل کو برباد نہ کردے.(1)
13.امام حسن عسکری(ع) سے روایت ہے جس میں آپ اپنے آباء طاہرین(ع) کے حوالے سے کہتے ہیں: کہ رسول(ص) نے فرمایا جو چاہتا ہے خدا سے اس حال میں ملاقات کرے کہ امن کی حالت میں ہو اور پاک و پاکیزہ اور یہ کہ اس کو یوم آخر قیامت کی پریشانیاں غم زدہ نہ کریں، اے علی(ع) ! اس کو چاہئے کہ وہ تم سے اور تمہارے دونوں فرزند امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) سے محبت کرے اور ان کی اولاد میں ہونے والے امام سے تولا کرے. اور اسی کے ساتھ آپ نے ائمہ اثنا عشری کے اسمائ مبارکہ کا تذکرہ فرمایا ان کے شیعوں کے فضائل کو بیان کیا ہے.(1)
14.جناب سلیم بن قیس کی حدیثہے جس میں قیس نے امیرالمومنین(ع) اورانہوں نے پیغمبر(ص) سخ نقل کیا. یہ حدیث بہت طولانی ہے پیغمبر(ص) نے علی(ع) کو مخاطب کرکے فرمایا: اے علی(ع) مجھے اس بات کا خوف نہیں کہ تم بھول جائو گے یا جاہل رہ جائو گے لیکن ان لوگوں کے بارے میں لکھ لو جو میرے بعد تمہارے شریک ہونے والے ہیں. پوچھا یا رسول اللہ ہمارے شرکاء کون ہیں؟ فرمایا: یہ وہیلوگ ہیں جن کا اللہ نے قرآن کیاس آیت میں تدکرہ کیا ہے: کہا اے ایمان لانے والو اطاعت کرو اللہ کی اور رسول اورصاحبان امر کی جو تم میں سے ہیں. مولائے کائنات نے کہا یا رسول اللہ آخر وہ کون لوگ ہیں فرمایا اے علی(ع) وہ ہمارے اوصیاء ہیں ( جو ہمارے بعد ہمارے جانشین ہیں) میں نے کہا : یا رسول اللہ(ص) ان کے نام بتائیں فرمایا: اےعلی(ع) پہلے تم ہو پھر اپنا دست مبارک
...........................................
1. کمال الدین و تمام النعمہ، ص258.259 اور انہیں الفاظ میں کتابوں میں دیکھیں : بحارالانوار، ج36، ص251.253. کفایة الاثر، ص144.145. احتجاج، ج1، ص87.88.
2.بحارالانوار، ج36، ص258. انہیں لفظوں کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں. مناقب آل ابی طالب،ج1، ص252. شیخ طوسی کی کتاب الغنیہ، ص122.
حسن(ع) اور حسین(ع) پر رکھے ہوئے فرمایا یہ میرے دونوں فرزند پھر کہا میرے بھائی تمہارا ہم نام( علی بن الحسین(ع)) پھر پیغمبر(ص) ایک ایک ککر کے بقیہ ائمہ اثنا عشری کا تذکرہ کیا ہے اور نام بتایا ہے.(1)
15. جعفر بن احمد مصری نے روایت کی ہے جس میں انہوں نے اپنے چچا حسن بن علی سے انہوں نے اپنے باپ سے
انہوں نے امام جعفر صادق(ع) سے انہوں نے اپنے آباء طاہرین(ع) سے انہوں نے کہا کہ: پیغمبر(ص) نے مولائے کائنات سے اپنی وفات کی رات میں ایک وصیت لکھوائی اس میں یہ لکھوایا کہ اے علی(ع) میرے بعد بارہ امام ہوں گے پھر آپ نے ان کے اسماء مبارکہ اور القاب لکھوائے ان میں سے کچھ وہ القاب ہیں جو آج کل مشہور نہیں ہیں.(2)
16. ابن عباس کی حدیث ہے ایک یہودی سرکار دو عالم(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اس کو لوگ نعثل کہتے تھے اس نے کہا اے محمد(ص)! میں آپ سے کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں، جب نبی نے اس کے تمام سوالوں کاحواب دے دیا تو کہنے لگا آپ نے سچ فرمایا اے محمد! پھر اس نے کہا آپ اپنے وصی کے بارے میں بھی بتائے وہ کون ہے اس لئے کہ کوئی نبی نہیں ہوتا مگر یہ کہ اس کا وصی بھی ہو، ہمارے نبی موسی بن عمران کے وصی تو جناب یوشع بن نون تھے.آپ نے فرمایا: ہاں بیشک، میرا وصی اور میرے بعد میراخلیفہ علی بن ابی طال(ع) اور اس کے بعد میرے سبطین امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) کے صلب سے نو(9) ائمہ ابرار ہیں نعثل نے اماموں کے نام پوچھے تو آپ نے ایک ایک کر کے سب کے نام گنائے، پھر فرمایا بارہ ہیں بارہ امام نقباء، بنی اسرائیل کے ہم عدد. پھر حدیث کے آخر میں ہے کہ وہ یہودی مسلمان ہوگیا.(3)
17.دوسری حدیث بھی ابن عباس ہی سے ہے وہ خدمت پیغمبر(ص) میں حاضر ہوئے
.................................................
1.اثبات الہداة بالنصوص و المعجزات، ج2، ص453.455. انہیں الفاظ میں شیخ مفید نے الاعتقادات، ص122 پر نقل ہے.
2.شیخ طوسی کی کتاب الغنیہ، ص150.151. بحارالانوار، ج36، ص260.261، مختصر بصائر الدرجات ص39.40.
3.بحار الانوار، ج36، ص283.285. اور انہیں الفاظ میں صاحب کفایہ الاثر ص12.14. پر لکھا ہے.
اس وقت امام حسن(ع) آپ کے کندھے پر اور امام حسین(ع) آپ کے زانو پر بیٹھے تھے آپ دونوں کو چوم رہے تھے اور دونوں کا بوسہ لے رہے تھے آپ نے ابن عباس کو بتایا کہ امام حسین(ع) کے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور آپ کی زیارت کا کیا ثواب ہے اس حدیث میں ہے کہ روضہ حسین(ع) کے قبہ کے نیچے دعائیں قبول ہوں گیان کی خاک سے شفا ملں گی اور ان کی نسل سے ائمہ ہوں گے. ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ(ص) آپ کے بعد کتنے امام ہوں گے فرمایا حواری عیسی اسباط موسی نقباء بنی اسرائیل کےہم عدد، میں نے پوچھا یا رسول اللہ(ص) وہ کتنے تھے فرمایا: بارہ تھے. اور میرے بعد امام بھی بارہ ہوں گے ان میں پہلے علی(ع) ان کے بعد میرے دونوں نواسے حسن(ع) اور حسین(ع) پھر باقی ائمہ اثنا عشری کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے اسماء مبارکہ بتائے.(1)
18.تیسری حدیث بھی ابن عباس ہی سے ہے. یہ نبی کے حوالے سے کہتے ہیں کہ جب امام حسین(ع) پیدا ہوئے تو ایک فرشتہ نے حسین(ع) کے وسیلے سے شفاعت مانگی اور نبی نے صدیقہ طاہرہ(ع) کو حسین کی شہادت کی خبر دین یہ سن کر معصومہ کونین رونے لگیں. اور اسی حدیث میں ہے کہ معصومہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا کاش میں نے اس بچے کوجنم نہیں دیا ہوتا پھر کہا حسین(ع) کا قاتل جہنمی ہوگا نبی(ص) نے فرمایا اے بیٹی میں اس بات کا گواہ ہوں کہ قاتل حسین(ع) جہنمی ہوگا اور تمہیں معلوم ہو کہ حسین(ع) شہید نہیں کئے جائیں گے مگر یہ کہ ان کے وارث علی ابن الحسین(ع) پیدا ہوچکے ہوں گے جن کی نسل سے ہدایت کرنے والے امام پیدا ہوتے رہیں گے. پھر نبی(ص) نے فرمایا میرے بعد جو امام ہوں گے ان میں ہادی علی ہیں، مہتدی حسن ہیں، ناصر حسین ہیں، منصور علی ابن الحسین ہیں، شافع محمد بن علی ہیں، نفع بخش جعفر ابن محمد ہیں، امین موسی بن جعفر ہیں، رضا علی ابن موسی ہیں، بہت زحمت کش اور مفید محمد ابن علی ہیں پناہ دینے والے علی ابن محمد ہیں، علم کا دریا حسن ابن
................................................
1.بحار الانوار، ج36، ص285.286، کفایتہ الاثر، ص17.18، نے بھی ایسے ہی بیان کیا ہے.
علی ہیں، اور جن کے پیچھے عیسی بن مریم نماز پڑھیں گے وہ قائم آل محمد(ص) ہیں یہ سن کر معصومہ خاموش ہوگئیں اور رونا بند کردیا.(1)
19.چوتھی حدیث جناب ابن عباس ہی سے ہے. ابن عباس نے مجلس شورا میں بے خوف ہوکے کہا تم لوگ کتنا ہمار حق مارو گے: کعبہ کے پروردگار کی قسم علی(ع) ہی امام اور خلیفہ ہیں اور ان کی اولاد سے گیارہ صاحبان مملکت ہوں گے جو حق کی بنیاد پر فیصلے کریں گے. ان میں پہلے امام حسن(ع) ہیں جو اپنے باپ کی وصیت کی بنیاد پر ان کے جانشین اور امام ہوں گے پھر امام حسن(ع) کی وصیت کی بنیاد پر ان کے بھائی امام حسین(ع) پھر اپنے باپ کی وصیت سے ان کے وصی علی بن الحسین اور اسی طرح بقیہ ائمہ کے بارے میں بتایا اور فرمایا کہ ہر سابق اپنے لاحق کے بارے میں وصیت کرے گا اسی حدیث میں ہے کہ علیم نے ابن عباس سے پوچھا کہ ان ناموں اور سلسلہ امامت کاعلم تم کو کہاں سے ملا؟ ابن عباس نے کہا پیغمبر(ص) نے علی(ع) کو علم کے ہزار باب تعلیم فرمائے جن میں سے ہر باب کے ہزار باب گشادہ ہوئے یہ علم ادھر ہی سے ملا ہے.(2)
20. سلمان فارسی کہتے ہیں ایک دن نبی نے خطبہ دیا تو کچھ باتیں میری سمجھ میں نہیں آئیں میں نے نبی سے ان کی تعبیر پوچھی تو نبی نے مجھ سے ان باتوں کی تفسیر بتائی اور اثنا عشری کے نام بتائے.اسی حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا: یہ ہمارے اوصیاء ہیں اور ہمارے بعد خلفاء ہیں یہ ائمہ ابرار ہیں یہ اسباط یعقوب اور حواری عیسی کے ہم عدد ہیں. میں نے کہا یا رسول اللہ(ص) ان کے نام بتا دیجئے آپ نے فرمایا ان میں پہلے اور ان کے سردار علی ابن ابی طالب(ع) ہیں اور میرے یہ دونوں نواسے ہیں اور ان کے بعد زین العابدین علی(ع).
...................................
1.کمال الدین و تمام النعمہ، ص282. 284، انہیں الفاظ میں ان کتابوں میں لکھا ہے: اثبات الھداة بالنصوص والمعجزات، ج2، ص395. بحار الانوار، ج43، ص248.250.
2.اثبات الھدة بالنصوص والمعجزات، ج3، ص224.225.
پھر بقیہ اماموں کے نام بتانے کے بعد فرمایا وہ ہماری عترت ہیں. ہمارے گوشت اور ہمارے خون سے ہیں ان کاحکم میرا حکم ہے. جو انہیں اذیت دے گا اللہ میری شفاعت اس تک نہیں پہونچنے دے گا.(1)
21. سلمان فارسی ہی سے دوسری حدیث بھی ہے جس میں نبی نے فرمایا: اللہ کوئی بھی نبی یا رسول نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس کے بارہ نقیب ہوتے ہیں. سلمان کیا تمہیں معلوم ہے کہ میرے بارہ نقیب جنہیں اللہ نے امامت کے لئے منتخب کیا ہے کون ہیں؟ میں نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتا ہے. پھر اس حدیث میں حضور(ص) نے ائمہ اثنا عشری کے نام بتائے.(2)
22. امام رضا(ع) اپنے آباء طاہرین(ع) سے روایت کرتے ہیں وہ امیرالمومنین(ع) سے راوی ہیں فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے بھائی پیغمبر(ص) نے فرمایا : جو چاہتا ہے خدا سے اس حال میں ملاقات کرے کہ خدا اس کو قبول کرتا ہو اور اس کی طرف سے اعراض نہ کرتا ہو تو اس کو چاہئے علی(ع) سے محبت کرے. پھر سرکار نے اس حدیث میں ائمہ اثنا عشر سے محبت کرنے والوں کے فضائل اور ائمہ اثنا عشر کے اسمائ گرامی بیان کئے ہیں. پھر فرماتے ہیں یہی حضرات اندھیروں میں چراغ، ہدایت کے امام اور تقوی کی علامتیں ہیں. جو ان کو اپنا ولی سمجھے اور ان سے محبت کرے اور اس کے لئے جنت کی ضمانت لیتا ہوں.(3)
23. انس بن مالک سے منقول ہے کہ ابوذر اور اصحاب پیغمبر(ص) کی ایک جماعت کے درمیان گفتگو ہو رہی تھی موضوع گفتگو امیرالمومنین اور حسنین علیہم السلام کے عظیم فضائل تھے پھر ان
..............................................
1.بحار الانوار، ج36، ص289.290، بالکل اسی طرح اس روایت کو صاحب کفایتہ الاثر نے ص42 پر لکھا ہے.
2.اثبات الھدة بالنصوص والمعجزات، ج3، ص197. اسی طرح اس حدیث کی ان کتابوں میں ملاحظہ کرسکتے ہیں: الھدایہ الکبری، ص375.376. بحار الانوار، ج53. ص142.143.
3.بحار الانوار، ج36، ص296. بعینہ اسی الفاظ میں ج27، ص107.108. میں بھی لکھا ہے. مقتضب الاثر ص13.14. الفضائل لثاذان، ص167.
اصحاب پیغمبر(ص) نے ابوذر کے کلام کی تصدیق نبی سے کرنا چاہی تو نبی نے ابو ذر کی تصدیق کی اور ان کی سچائی کا اقرار کیا. اسی حدیث میں آپ نے فرمایا معراج میں ائمہ اثنا عشر کے بارے میں آپ کو بتایا گیا اور اللہ نے نبی کو نبی کے عظیم فضائل اور آپ کی آل پاک سے ہونے والے ائمہ کے فضائل بیان کئے اور خداوند عالم نے انہیں ائمہ اثنا عشر کے انوار طیبہ دکھائے اور ان کے اسمائ مبارکہ بتائے اس کے بعد اللہ نے فرمایا اے محمد یہی لوگ تمہارے بعد امام ہونے والے ہیں جو مطہر ہیں اور تمہارے صلب سے ہیں.(1)
24.جابر بن عبداللہ انصاری کی حدیث ہے یہ ایک لمبی حدیث ہے جس میں جابر بن عبداللہ نے کہا کہ ایک یہودی
مقام خیبر میں جضور کی خدمت میں حاضر ہوا جس کا نام جندل بن جنادہ تھا اس نے حضور سے کچھ سوال کئے نبی نے اس کو جواب دیا نتیجہ میں وہ مسلمان ہوگیا پھر اس نے نبی سے آپ کے اوصیاء کا نام پوچھا سرکار دو عالم(ص) نے اس کو ائمہ اثنا عشر کے اسماء مبارکہ بتائے یہ سن کر جندل نے کہا اے پیغمبر خدا(ص) ہم نے اسی طرح توریت میں بھی لکھا دیکھا ہے.(2)
25. علقمہ اور سفیان بن عیینہ امام صادق(ع) سے روایت کرتے ہیں وہ اپنے والد اور وہ جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں جابر نے کہا کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا: حسین بن علی(ع) سے کہ اے حسین تمہاری صلب سے نو(9) امام ہوں گے انہیں میں اس امت کا مہدی ہوگا جب تمہارے والد شہید ہوجائیں گے تو ان کے بعد تمہارے بھائی حسن(ع) امام ہوں گے جب حسن(ع) کو بھی زہر دے دیا جائے گا تو تم امام ہو گے پھر تمہاری شہادت کے بعد تمہارا بیٹا علی(ع)... اسی طرح آپ نے
................................
1.بحار الانوار، ج36، ص302،303، الجواہر تسنتہ، ص279. کفایتہ الاثر، ص70.73.
2.بحار الانوار، ج36، ص304.306، انہیں الفاظ میں دوسری کتابوں میں بھی لکھا ہے. کفایتہ الاثر، ص57.61. ینابیع المودۃ، ج3، ص283.285.
بارہ اماموں کے ناموں کی تکمیل کی.(1)
26.انس بن مالک کہتے ہیں مجھ سے پیغمبر(ص) نے فرمایا جب مجھے آسمانوں پر لے جایا گیا تو میں نے ساق عرش پر لکھا ہوا دیکھا، لا الہ اللہ محمد رسول اللہ، میں نے محمد کی تائید اور نصرت علی سے کی پھر سرکار نے فرمایا میں نے وہاں بارہ نام نور سے لکھے ہوئے دیکھے اور وہ نام تھے علی ابن ابی طالب(ع) اور میرے دونوں سبط( حسن و حسین) پھر نو(9) نام تھے علی علی علی تین جگہ محمد محمد محمد دو جگہ جعفر موسی اور حسن ان کے درمیان چمک رہا تھا اور حجتہ بھی ان کے درمیان روشنی دے رہا تھا میں نے پوچھا مالک یہ کس کے نام ہیں میرے رب نے آواز دی اے محمد یہ تمہاری ذریت میں ہونے والے اوصیاء ہیں میں انہیں کے واسطے سے ثواب دیتا ہوں اور انہیں کی وجہ سے سزا دیتا ہوں.(2)
27. اسی حدیث کے قریب المعنی ابو امامہ کی وہ حدیث بھی ہے جس میں معراج کا تذکرہ ہے.(3)
28. حذیفہ بن یمان کی حدیث بھی حدیث معراج ہے کہتے ہیں: حضور(ص) نے ہمیں نماز پڑھائی پھر اپنے روئے مبارک کو ہماری طرف موڑا اور فرمایا اے میرے گروہ اصحاب میں تمہیں خدا سے تقوی کی وصیت کرتا ہوں پھر آپ نے اپنے خطبہ میں انہیں یاد دلایا، وعظ فرمایا اور پھر انہیں ثقلین یعنی کتاب و عترت سے تمسک پر تشویق میں نے( حذیفہ یمان) پوچھا سرکار آپ ہم پر اپنا خلیفہ کس کو بناتے ہیں؟ آپ نے فرمایا موسی بن عمران نے اپنا خلیفہ کس کو بنایا تھا میں نے کہا اپنے وصی یوشع بن نون کو. فرمایا حس میرا وصی اور میرے بعد میرے خلیفہ علی ابن ابی طالب(ع) ہیں وہ نیک لوگوں کے قائد ہیں، کافروں کو قتل کرنے والے ہیں جس نے ان کی مدد کی وہ منصور ہوا اور جس نے ان کو چھوڑا وہ
...............................................
1.بحار الانوار، ج36، ص306، 307. اور کفایتہ الاثر، ص61.62.
2. بحار الانوار، ج36، ص310. اور کفایتہ الاثر، ص75.74. الجواہر السنیہ، ص280.
3.بحار الانوار، ج36، ص321. کفایتہ الاثر، ص105.106.
خدا کی طرف سے ذلیل و رسوا(راندہ) ہوا میں نے پوچھا اے خدا کے رسول پھر آپ کے بعد امام کتنے ہوں گے؟ فرمایا نقباء بنی اسرائیل کے برابر، جن میں (9) تو صلب حسین سے ہوں گے.میں نے کہا حضور(ص) کیا آپ ان کے نام ہمیں نہیں بتائیں گے؟ فرمایا کیوں نہیں جب مجھے آسمانوں پر لے جایا گیا تو میں نے ساق عرش پر نظر کی، نور کی تحریر نظر آئی لکھا تھا لا الہ اللہ پھر تقریبا وہی الفاظ ہیں جو حدیث نمر26 میں انس کی حدیث میں ذکر ہوئے ہیں.(1)
29. ابو ایوب انصاری کی حدیث ہے جب مسلمانوں نے ابو ایوب کی ملامت کی کہ انہوں نے جنگ جمل میں علی(ع) سے مل کے مسلمانوں سے کیوں قتال کیا تو ابو ایوب نے فرمایا مجھ سے پیغمبر(ص) نے ناکثین، قاسطین اور مارقین علی کے ہم رکاب سے قتال کا ذکر فرمایا تھا. اور آنحضرت(ص) نے علی ابن ابی طالب(ع) اور ان کی نسل سے ائمہ کے کچھ فضائل بیان کئے ہیں. لوگوں نے پوچھا اے ابو ایوب پیغمبر(ص) نے آپ سے اپنے بعد کتنے اماموں کا عہد لیا تھا؟ ابو ایوب نے کہا: بارہ(12) کا. لوگوں نے پوچھا کیا ان کے نام بھی بتائے تھے ابو ایوب نے کہا بیشک حضرت نے فرمایا تھا کہ جب مجھے شب معراج آسمانوں پر لے جایا گیا میں نے ساق عرش پر نظر کی دیکھا نور سے لکھا ہوا تھا لا الہ اللہ... اس حدیث میں بھی وہی باتیں ہیں جو سابقہ حدیث نمبر26 انس کی حدیث میں ہیں.
30. ام المومنین ام سلمہ کی حدیث بھی ملاحظہ ہو. کہتی ہیں حضور سرور کائنات(ص) نے فرمایا: جب شب معراج مجھے آسمان پر لے جایا گیا تو میں نے دیکھا عرش پر لکھا ہوا تھا لا الہ اللہ محمد رسول اللہ اس( محمد(ص)) کی تائید میں نے علی(ع) سے کی اور نصرت بھی علی(ع) سے کی. اور میں نے عرش پر علی(ع) فاطمہ(ع) حسن(ع) اور حسین(ع) کے انوار دیکھے اور علی بن الحسین(ع)، محمد بن علی(ع)، جعفر بن محمد(ع)، موسی بن جعفر(ع)، علی ابن موسی(ع)، محمد بن علی(ع)، علی ابن محمد(ع)، حسن ابن علی(ع)، کے انوار دیکھے ان سب کے درمیان حجتہ آخر کا نور یوں چمک رہا تھا جیسے کوکب دری ہو میں نے پوچھا پالنے والے یہ( کوکب دری) کون
.............................
1.بحار الانوار، ج36، ص331.332. انہیں الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں. کفایتہ الاثر، ص136.138.
ہے اور یہ کون لوگ ہیں؟ آواز آئی اے محمد(ص) یہ علی فاطمہ حسن اور حسین علیہم السلام تمہارے سبطین کے نور ہیں اور یہ ان اماموں کے نور ہیں جو حسین(ع) کی نسل سے ہیں تمہارے بعد ہونے والے امام ہیں یہ سب کے سب مطہر اور معصوم ہیں اور یہ وہ حجت ہے جو زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح پر کرے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی.
31. امیرالمومنین(ع) کی حدیث میں ہے کہ جب آپ خطبہ لوء لوءۃ فرما چکے تو آپ ( امیر المومنین) سے ائمہ بر حق کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا بیشک پیغمبر(ص) نے مجھ سے عہد کیا ہے کہ منصب امامت کے مالک بارہ امام ہوں گے ان میں سے نو اولاد حسین(ع) میں سے ہوں گے نبی نے فرمایا کہ جب مجھے آسمان پر لے جایا گیا تو میں نے ساق عرش پر دیکھا وہاں لکھا تھا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں(خدا) نے پیغمبر(ص) کی تائید اور نصرت علی(ع) سے کی. اور میں نے وہاں بارہ نور دیکھے تو میں نے پوچھا مالک یہ نور کیسے ہیں؟ آواز آئی اے محمد یہ تمہاری ذریت میں ہونے والے اماموں کے نور ہیں.
امیر المومنین(ع) کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ(ص) کیا آپ ہمیں ان کا نام نہیں بتائیں گے فرمایا: ہاں اے علی(ع) ! تم میرے بعد امام اور خلیفہ ہو تم میرے قرضوں کو ادا کرو گے اور میرے وعدوں کو پورا کرو گے پھر تمہارے دونوں بیٹے حسن(ع) اور حسین(ع) کے بعد ان کے بیٹے علی زین العابدین(ع) پھر آپ نے باقی ائمہ اثنا عشر کے ناموں کا تذکرہ کیا اور ان کے القاب بھی بتائے بعض کے ایسے القاب بھی بتائے ہیں جو آج کل مشہور نہیں ہیں.(1)
32. محمد باقر(ع) کے حوالے سے غالب جہنی کی حدیث ہے جس میں محمد باقر(ع) فرماتے ہیں : پیغمبر(ص کے بعد نقباء بنی اسرائیل کے ہم عدد امام ہیں بنی اسرائیل کے بارہ نقیب تھے ان اماموں کی محبت رکھنے والا کامیاب ہے اور ان سے دشمنی رکھنے والا ہلاک ہے. ہمارے
......................................
1.بحار الانوار، ج36، ص354.356. کفایتہ الاثر، ص213.219.
والد نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا تھا جب مجھے شب معراج آسمانوں پر لے جایا گیا تو میں نے ساق عرش پر لکھا ہوا دیکھا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ان کی تائید میں نے علی(ع) کے ذریعہ کی... پھر اس حدیث میں معمولی تبدیلی کے ساتھ وہی الفاظ ہیں جو مذکورہ بالا حدیث میں ہیں.(1)
33. اس حدیث کے قریب المعنی جابر سے حدیث ہے جس میں محمد باقر(ع) سے جابر نے عرض کیا اے فرزند رسول لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کی نسل میں امامت قرار دی ہے... پھر آپ نے فرمایا اے جابر ہم لوگ وہ امام ہیں جن کی امامت پر رسول اللہ(ص) نے نص فرمائی ہے ہم وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں پیغمبر(ص) نے فرمایا کہ جب مجھے آسمانوں پر لے جایا گیا تو میں نے ان اماموں کے نام ساق پر نور سے لکھے ہوئے دیکھے وہ بارہ نام تھے ان میں علی(ع) تھے سبطین پیغمبر(ص) تھے، علی(ع)، محمد(ع)، جعفر(ع)، موسی(ع)، علی(ع)، محمد(ع)، علی(ع)، حسن(ع)، اور حجتہ قائم علیہم السلام ہیں یہ وہ ائمہ ہیں جس کا تعلق اہل بیت عصمت و طہارت(ع) سے ہے.(2) اس حدیث کو واثلہ کی حدیث سے بھی پختگی ملتی ہے اس لئے کہ واثلہ کی حدیث میں ہے. اللہ نے نبی کو حکم دیا کہ وہ امیرالمومنین(ع) کو اپنا وصی قرار دیں. پھر پیغمبر(ص) نے فرمایا: اور یہ کہ امام بارہ ہوں گے جو امانت دار اور معصوم ہوں گے اور یہ کہ اللہ نے ان( اماموں) کے نور پیغمبر(ص) کو شب معراج دکھائے تھے. لیکن حدیث واثلہ میں اسمائے مبارکہ کی تصریح نہیں ہے.(3)
34.ابوہریرہ سے حدیث ہے. کہتے ہیں سرکار صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں امام حسین(ع) داخل ہوئے. نبی امام حسین(ع) کو دیکھتے ہی مسرور ہوئے اور آپ نے فرمایا: پالنے والے میں اس(حسین(ع)) سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر
.....................................
1.اثبات الہدۃ بالنصوص والمعجزات، ج2، ص558.559. کفایتہ الاثر، ص224.225. بحار الانوار، ج36،ص 390.
2.بحار الانوار، ج36، ص375. ینابیع المودۃ، ج3، ص249.
3.اثبات الہداۃ بالنصوص والمعجزات، ج2، ص530.
اور جو اس سے محبت کرے اس سے بھی تو محبت کر.اے حسنین(ع) تم امام ہو امام کے بیٹے ہو اور ان نو ماموں کے باپ ہو جو تمہاری اولاد میں سے ہوں گے. وہ ائمہ ابرار ہیں پھر عبد اللہ بن مسعود ان کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور نبی بعض اماموں کے نام اور صفات اسی نشست میں بیان فرماتے ہیں اس کے بعد حدیث منقطع ہو جاتی ہے اور بعض اماموں کے نام اور صفات یہاں ذکر کرنے سے رہ جاتے ہیں.(1)
35. کراجکی اپنی اسناد کے ساتھ نبی سے روایت کرتے ہیں کہ جس نے فرمایا مجھے شب معراج جب آسمانوں پر لے جایا گیا تو اللہ نے مجھ پر وحی کی اے رسول ان انبیاء و مرسلین سے پوچھو جو تمہارے پہلے مبعوث کئے گئے تھے کہ ان کے مبعوث ہونے کی شرط کی تھی؟ میں نے ان سے پوچھا کی آپ حضرات کو کس شرط پر اور کس عہد پر مبعوث کیا گیا تھا؟ انہوں نے کہا آپ کی نبوت اور علی(ع) کی ولایت اور آپ دونوں کی ذریت سے ہونے والے اماموں کی امامت پر پھر اللہ نے مجھ پر وحی کی اے پیغمبر(ص) عرش کی طرف دیکھو میں نے عرش کی طرف دیکھا تو علی(ع)، حسن(ع)... اور آخر میں مہدی(عج) کا نام لکھا تھا.(2)
یہ حدیث بالکل جارود بن منذر کی حدیث کی طرح ہے چونکہ جب جارود خدمت پیغمبر(ص) میں حاضر ہوئے تھے اور آپ سے قیس بن ساعدہ کی وہ حدیث دہرائی تھی جس میں نبی(ص) نے اسمائ مبارکہ انہیں بتائے تھے اور یہ کہ یہ لوگ میرے اہل بیت(ع) میں سے ہوں گے. تو جارود نے نبی(ص) سے ان کے نام پوچھے تھے اور نبی نے ان کے نام بتائے تھے.(3)
36.کراجکی امیر المومنین(ع) سے اپنی اسناد کے ساتھ روایت کرتے ہیں جس میں امیرالمومنین(ع) فرماتے ہیں سرکار دو عالم نے شب معراج قصر دیکھے تھے جن کے صفات بیان کئے
........................................
1.بحار الانوار، ج36، ص312.314. کفایتہ الاثر، ص30.
2.اثبات الہداۃ بالنصوص والمعجزات، ج3، ص97.98. مقتضب الاثر، ص38. کنز الفوائد، ص258. بحار الانوار، ج15، ص247. ج18، ص297. ج26، ص301.302.
3.اثبات الہداۃ بالنصوص والمعجزات، ج3، ص202.204.
اسی حدیث میں ہے کہ حضور نے فرمایا کہ مجھ سے جبرئیل نے کہا اے پیغمبر اللہ نے آپ کے بھائی علی کے شیعوں کے لئے بنائے ہیں وہ علی جو آپ کے بعد کی امت پر آپ کے خلیفہ ہیں اس قصر کے مستحق آپ کے بیٹے حسن کے شیعہ ہیں اور ان کے بھائی حسین کے شیعہ ہیں اور ان کے بعد ان کے فرزند علی بن الحسین(ع) کے شیعہ ہیں.... بیہ ائمہ ہدای(ع) کے ناموں کا بھی ذکر ہے پھر جبرئیل نے کہا: “اے محمد(ص)! وہی لوگ آپ کے بعد پیشوا ہیں” ہدایت کی علامتیں اور اندھیری راتوں میں چراغ کی حیثیت رکھتے ہیں.(1)
37.ابو سلیمان نبی(ص) سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ نے آپ پر شب معراج وحی فرمائی: اے محمد! میں نے تمہیں علی فاطمہ حسن حسین اور حسین(ع) کے بیٹوں کو اپنے نور کے ایک حصیہ سے پیدا کیا اے محمد! کیا تم انہیں دیکھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا پالنے والے میں ضرور دیکھنا چاہتا ہوں ارشاد ہوا عرش کی داہنی طرف دیکھو می نے جب نگاہ اٹھائی تو کیا دیکھا کہ میری علی، باطمہ، حسن، حسین، علی بن حسین اور بقیہ ائمہ کی صورتیں تھیں آخر میں مہدی تھے پھر ارشاد ہوا اے محمد! یہ آپ کی ذریت میں سے میری حجتیں ہیں اور یہ آپ کی عترت کے اوپر جو مظالم ہوں گے ان کا انتقام لینے والا ہے اور میرے اولیاء بر حق پر حجت ہے.(2)
38.اس سلسلہ میں امیرالمومنین(ع) کا ایک مناشدہ( حلف اٹھوانا اور قسم دینا) بھی ذکر ہوا ہے. آپ منبر پر خطبہ دے رہے تھے اور آپ نے حدیث ثقلین کا تذکرہ کیا اور پھر پوچھا کہ اس حدیث کو جس نے بھی پیغمبر(ص) سے سنا ہے وہ اٹھ کے گواہی دے. بدری مجاہدین کی بارہ افراد پر مشتمل ایک جماعت نے اس کی گواہی دی انہوں نے کہا ہم شہادت دیتے ہیں کہ جس دن وفات پیغمبر(ص) ہوئی تھی اس دن آپ(ص) نے حدیث ثقلین ارشاد فرمائی تھی آپ نے اپنے خطبہ میں جیسے ہی ثقلین کی تصریح کی تو عمر بن خطاب غصے کی حالت میں کھڑے ہوگئے اور کہا یا رسول اللہ(ص) کیا آپ سب
.....................................
1.اثبات الہداۃ بالنصوص والمعجزات، ج3، ص103.104. نوادر المعجزات، ص77. دلائل الامامہ، ص476.
2. .اثبات الہداۃ بالنصوص والمعجزات، ج3، ص175.176. الطرائف، ص173.
اہل بیت ثقلین میں ہیں جواب دیا نہیں، صرف میرے اوصیاء جن میں میرے بعد میرے بھائی اور وزیر میرے وارث اور میری امت کے خلیفہ اور ہر مومن کے ولی علی(ع) ہیں اور علی(ع) کی اولاد میں گیارہ افراد ہیں. علی(ع) پہلے امام ہیں اور ان سب سے بہتر ہیں پھر میرے یہ دونوں فرزند ( اور اپنے دست مبارک سے حسن اور حسین(ع) کی طرف اشارہ فرمایا) پھر میرے فرزند حسین(ع) کا وصی جو میرے بھائی علی(ع) کا ہم نام ہوگا پھر بارہ اماموں کا تذکرہ کیا.(1)
39. یہ روایت امیر المومنین(ع) سے ہے جو متعدد سلسلہ سند سے نقل ہوئی ہے امام فرماتے ہیں: میں نبی کے پاس بیٹھا تھا ام سلمہ کے گھر میں اتنے میں صحابہ کی ایک جماعت داخل ہوئی پھر اسی حدیث میں سلمان فارسی کا اوصیاء کے بارے میں سوال کرنا اور نبی کا جواب دینا بتایا ہے یعنی پیغمبر(ص) نے ایک طولانی بیان حدیث میں انبیاء کے اوصیاء کا ذکر کیا.پھر اسی حدیث میں آنحضرت نے فرمایا میں اس امت کی امانت علی(ع) کو دے رہا ہوں. مولائے کائنات(ع) نے کہا اے پیغمبر خدا(ص) کیا دوسرے انبیاء اور اوصیاء نے بھی ائمہ اثنا عشر کا ذکر کیا ہے اور وضاحت کی ہے فرمایا ہاں بے شمار انبیاء اور اوصیاء نے بیان کیا ہے، پھر کہا اے علی(ع)! امامت میں تمہارے حوالے کر رہا ہوں تم اپنے بیٹے حسن(ع) کو دے دینا حسن(ع) اپنے بھائی حسین(ع) کو دیں گے حسین(ع) اپنے بیٹے علی ابن الحسین(ع) کو دیں گے... پھر امام حسن العسکری(ع) تک سلسلہ سے نبی(ص) نے سب کے نام لئے پھر فرمایا حسن عسکری(ع) اس کو اپنے بیٹے حجتہ قائم کو دیں گے پھر حجتہ قائم کی غیبت ہوگی جب تک اللہ چاہے گا یہ غیبت دو طرح کی ہوگی ایک غیبت دوسری غیبت سے طولانی ہوگی.(2)
40. عیسی بن موسی الہاشمی اپنے والد سے وہ اپنے آباء کرام سے وہ امام حسین(ع) سے وہ امیرالمومنین(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ جناب امیر نے فرمایا میں ام سلمہ کے گھر میں پیغمبر(ص) کے پاس
........................................
1.اثبات الہداۃ بالنصوص والمعجزات، ج3، ص118.114. کتاب سلیم بن قیس، ص300.
2.بحار الانوار، ج36، ص333.335. اور انہیں الفاظ کے ساتھ کفایتہ الاثر، ص146.151. پر مطالعہ فرمائیں.
حاضر ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی...” اے اہل بیت خدا کا تو بس یہ ارادہ ہے کہ.... ( آیت تطہیر) اس کے بعد نبی نے فرمایا اے علی! یہ آیت تمہارے، میرے نواسوں اور تمہاری اولاد سے ہونے والے اماموں کے بارے میں نازل ہوئی ہے میں نے پوچھا خدا کے رسول آپ کے بعد کتنے امام ہیں فرمایا اے علی(ع) ! ایک تو تم ہو پھر تمہارے دونوں بیٹے حسن(ع) و حسین(ع) اور حسین(ع) کے بعد علی(ع) ابن الحسین(ع)... اسی طرح بارہ اماموں کے نام ولدیت کے ساتھ بیان فرمایا.پھر پیغمبر(ص) نے فرمایا میں نے اسی طرح ان کے اسماء گرامی ساق عرش پر لکھے ہوئے دیکھے تو میں نے اپنے اللہ سے پوچھا جواب ملا اے محمد یہ تمہارے بعد ہونے والے امام ہیں جو سب کے سب مطہر اور معصوم ہیں اور ان کے دشمن ملعون ہیں.(1)
41. امام حسن(ع) سے ایک طویل حدیث ہے جس میں حدیث ثقلین کے بارے میں نبی(ع) کا خطبہ ہے پھر آپ نے فرمایا زمین حجت خدا سے ہرگز خالی نہیں رہتی لیکن جب ظاہر ہوتا ہے تو لوگ اس کی اطاعت نہیں کرتے ہیں یا یہ کہ حالات کے نامساعد ہونے کی وجہ سے لوگوں کی نگاہوں سے دور ہو جاتا ہے( یعنی غیبت اختیار کر لیتا ہے) پھر امام حسین(ع) کا سوال اور نبی(ص) کا جواب ہے جس میں بتایا کہ امام بارہ ہوں گے پھر آپ نے ترتیب سے ان کے نام بیان کئے ہیں اور پھر ان سے متعلق بعض باتیں بیان کی ہیں.(2)
42. امام حسن(ع) ہی سے دوسری حدیث ہے جس میں کہتے ہیں میں نے سنا کہ پیغمبر(ص) مولائے کائنات علی بن ابی طالب(ع) سے فرما رہے تھے تم میرے علم کے وارث ہو میری حکمت
.............................
1.بحار الانوار، ج36، ص336.337. انہیں لفظوں کے ساتھ ملاحظہ کریں کفایتہ الاثر، ص156. الجواہر السنیہ، ص284.
2. بحار الانوار، ج36، ص336.337. انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ کریں کفایتہ الاثر، ص163.166 میں موجود ہیں.
کے معدن ہو میرے بعد امام ہو جب تم شہید ہوجائو گے تو تمہارا بیٹا حسن(ع) امام ہوگا. پھر یکے بعد دیگرے بقیہ اماموں کے اسمائے گرامی کا ذکر کیا.(1)
43. امام حسین(ع) سے روایت ہے کہ نبی(ص) نے فرمایا مجھ سے جبرئیل نے کہا کہ جب اللہ نے ساق عرش پر نام محمد لکھا تو میں نے بارگاہ الہی میں عرض کیا پالنے والے مجھے لگتا ہے کہ یہ نام جو ساق عرش پر ہے تیری مخلوقات میں تجھے سب سے زیادہ عزیز ہے. تو مجھے اس نے زمین آسمان کے درمیان بارہ ایسے سائے دیکھے جو روح او رجسموں کی عکاسی کر رہے تھے جبرئیل نے کہا پالنے والے تجھے انہیں لوگوں کے حق کا واسطہ ان کے بارے میں مجھے بتا دے ارشاد ہوا، یہ علی کا نور ہے، یہ فاطمہ کا نور ہے، یہ حسن کا نور ہے،.... یہ حسن عسکری(ع) کا نور ہے، اور آخر میں فرمایا یہ حجتہ القائم کا نور ہے، جو منتظر ہے، امام حسین(ع) کہتے ہیں رسول اللہ(ص) فرماتے تھے کوئی بھی بندہ ان کے وسیلہ سے خدا کی بارگاہ میں قریب ہونا نہیں چاہے گا مگر یہ کہ اللہ اس کی گردن کو جہنم سے آزاد کردے گا.(2)
44. امام حسین(ع) ہی سے دوسری حدیث بھی ہے، جس میں آپ کہتے ہیں رسول اللہ(ص) نے حضرت علی(ع) سے فرمایا: میں مومنین پر ان کے نفسوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں. پھر اے علی(ع)! تم ان مومنین پر ان کے نفسوں سے زیادہ اولی ہو. تمہارے بعد حسن(ع) ان کے بعد حسین(ع) پھر سلسلہ سے ائمہ اثنا عشری کا تذکرہ ہے. ان حضرات کے ناموں کے ساتھ پیغمبر(ص) نے بتایا کہ وہ ایک کے بعد ایک مومنین کے نفسوں پر ا ن سے زیادہ اولی ہیں پھر فرمایا وہ لوگ ائمہ ابرار ہیں وہ حق کے ساتھ ہیں اور حق ان کے ساتھ ہے.(3)
45. امام حسین(ع) ہی سے ایک تیسری حدیث بھی ہے. فرماتے ہیں کہ جب اللہ نے یہ
..........................
1. بحار الانوار، ج36، ص340. اسی طرح کفایتہ الاثر، ص167پر موجود.
2. بحار الانوار، ج36، ص340. اسی طرح کفایتہ الاثر، ص170پر موجود.
3. بحار الانوار، ج36، ص345. انہیں الفاظ کے ساتھ صاحب کفایتہ الاثر نے ، ص177پر لکھا ہے.
آیت نازل کی” اولو الارحام...” رشتہ داروں میں ایک دوسرے کا وارث ہے تو میں نے پیغمبر(ص) سے اس کی تفسیر پوچھی آپ نے فرمایا: اس آیت سے تم لوگوں کے علاوہ کئی اور مراد نہیں ہے تم لوگ ہی اولو الارحام ہو جب میں مرجائوں گا تو تمہارے باپ علی(ع) میرے وارث اور میرے قائم مقام ہیں جب تمہارے باپ گذر جائیں گے تو تمہارے بھائی حسن(ع) ان کے وارث ہوں گے حسن(ع) کے وارث تم ہو گے میں نے پوچھا یا رسول اللہ(ص) میرے بعد کون ہوگا؟ تمہارا بیٹا علی(ع) پھر ائمہ اثنا عشر کے باقی نام بتائے اور فرمایا: ان میں سے ہر ایک اپنے باپ کا وارث اور اولی ہوگا. پھر فرمایا کہ جب حسن عسکری(ع) گذر جائیں گے تو تمہارے نویں بیٹے کی غیبت ہوگی یہ ہیں تمہاری اولاد سے نو امام.(1)
46. امام حسین(ع) سے اس سلسلے کی چوتھی حدیث ہے جس میں ایک اعرابی کے سوال کے جواب میں بارہ اماموں کی تعداد اور نام بتائے ہیں راوی کا بیان ہے کہ اعرابی ائمہ ہدی کے نام پوچھتا ہے تو امام حسین(ع) کچھ دیر تک سر جھکائے رہتے ہیں پھر سر اٹھا کے فرماتے ہیں اے عرب برادر بیشک نبی(ص) کے بعد میرے باپ امیرالمومنین علی ابن ابی طالب(ع) ہی خلیفہ اور امام تھے.
ان کے بعد میرے بھائی حسن(ع) اور میں اور ان کے بعد میری اولاد سے میرے نو بیٹے ان میں میرا بیٹا علی ان کا بیٹا محمد تمام اماموں کے نام ترتیب سے بتاتے ہوئے فرمایا اور ان کا بیٹا قائم ال محمد( عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف)(2)
تیسرے گروہ کے بارے میں یہ بات عرض کی جاچکی ہے کہ امام حسین(ع) تو یقینی طور پر اہل بیت(ع) میں شامل ہیں لہذا اماموں کی تعیین کے سلسلے میں آپ کا قول حجت ہے اگر چہ اسے نبی کی طرف نسبت نہ دیں بلکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ آنحضرت( امام حسین(ع)) اسی طرح کہ امر توقیفی میں
......................................
1. اثبات الہداۃ بالنصوص والمعجزات، ج2، ص545. 546. کفایتہ الاثر، ص175.176.
2. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج2، ص556. بحار الانوار، ج36، ص384.385.
نبی کے سوا کسی اور سے خبر نہیں دے سکتے.
47. سہل بن سعد انصاری کی حدیث ہے آپ کہتے ہیں( میں فاطمہ بنت رسول(ص) سے اماموں کے بارے میں پوچھا تو ) فاطمہ(ع) نے کہا: میرے والد ماجد علی ابن ابی طالب(ع) سے فرماتے تھے کہ اے علی(ع) ! تم امام ہو اور میرے بعد میرے خلیفہ ہو تم مومنین کے نفسوں پر ان سے زیادہ صاحب اختیار ہو. جب تم شہید ہو جائو گے تو تمہارا بیٹا حسن(ع) امام ہوگا وہ بھی مومنین پر ان کے نفسوں سے اولی ہوگا پھر حسین(ع) اس کے بعد سلسلہ وار ائمہ اثنا عشر کے اسمائے گرامی کا ذکر کیا ٹھیک اسی طرح جس امام حسین(ع) کی دوسری اور تیسری حدیث میں گذر چکا ہے.(1)
48. اور اسی کے قریب المعنی محمد بن سالم کی حدیث ہے، وہ امام باقر(ع) کے حوالے سے کہتے ہیں کہ محمد باقر(ع) نے فرمایا کہ علی ابن ابی طالب(ع) سے رسول نے فرمایا اے علی(ع) ! میں مومنین پر ان کے نفسوں سے اولی ہوں پھر اے علی(ع) تم میرے بعد ان کے نفسوں پر اولی ہو پھر حسن پھر حسین پھر علی ابن الحسین(ع). اور پھر بقیہ ائمہ اثنا عشر کا تذکرہ ہے.(2)
49. یحیی بن زید بن علی بن الحسین سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے اماموں کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: امام بارہ ہیں چار گذر چکے ہیں آٹھ باقی ہیں میں نے کہا: ان کے نام بتادیں کہنے لگے گذرے ہوئے علی ابن ابی طالب(ع)، حسن، حسین اور علی ابن الحسین(ع) ہیں اور جو باقی ائمہ ہیں ان کے نام یہ ہیں میرے بھائی محمد باقر(ع) ان کے بعد حعفر صادق(ع) جو محمد باقر(ع) کے فرزند ہیں ان کے بعد ان کے فرزند موسی(ع) ان کے بعد ان کے فرزند علی(ع) پھر ان کے فرزند محمد(ع) پھر ان کے فرزند علی(ع) پھر ان کے فرزند حسن عسکری(ع) پھر ان کے بعد ان کے فرزند حجت(ع) ہیں میں نے پوچھا : بابا کیا آپ اس میں نہیں ہیں؟ کہا نہیں لیکن میں عترت میں ہوں میں نے پوچھا: پھر ان کے نام آپ کو کہاں سے معلوم ہوئے کہا یہ وہ عہد ہے جو پیغمبر(ص)
...........................................
1. بحار الانوار، ج36، ص252.251. کفایہ الاثر، ص195.
2.اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج3، ص94.95.
سے ہم تک پہونچا ہے.(1)
اور اسی کے ہم معنی حدیث ابراہیم بن عبد اللہ بن العلا سے ہے جو زید شہید بن علی ابن الحسین علیہم السلام سے روایت کرتے ہیں اس حدیث میں اس طرح ہے کہ میرے ہی خاندان میں مصطفی(ص) اور میرے ہی خاندان میں مرتضی(ع) ہیں میرے ہی خاندان میں مہدی ہوں گے جو اس امت کے قائم ہوں گے میں نے پوچھا کیا آپ کے نبی نے یہ بتایا ہے کہ آپ کے قائم کا قیام کب ہوگا؟ فرمایا تم ان سے ہرگز نہیں مل سکو گے ابھی چھ اوصیاء آئیں گے پھر خدا ہمارے قائم کے خروج میں جلدی کرے گا وہ زمین کو عدل و انصاف سے یوں بھر دے گا جیسے وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی میں نے کہا اے فرزند رسول کیا آپ صاحب امر نہیں ہیں؟ فرمایا میں بھی عترت سے ہوں پھر میں بڑھا تو آپ میری طرف بڑھ گئے میں نے کہا یہ بتائیے یہ بات جو آپ نے ہمیں بتائی ہے اپنی طرف سے کہی ہے یا پیغمبر(ص) کے حوالے سے؟ کہنے لگے: اگر چہ علم غیب کی باتیں میں بہت کچھ جانتا ہوں لیکن میں نے یہ بات اپنی طرف سے نہیں کہی ہے بلکہ پیغمبر(ص) کے عہد کی بات ہے.(2)
50.متعدد طریقوں سے ایک حدیث ابوسلمہ سے وارد ہوئی ہے. ابوسلمہ نے عائشہ سے پوچھا : کہ کیا تمہارے نبی(ص) نے بتایا ہے کہ ان کے بعد کتنے خلیفہ ہوں گے؟ کہنے لگیں ہاں اس کے بعد ایک کتاب کھولی پھر بولیں : ہمارے پاس ایک کمرہ تھا جب جبرئیل آنے والے ہوتے تو نبی(ص) اسی کمرے میں چلے جاتے ایک روز نبی(ص) نے اسی کمرے میں جاتے وقت مجھ سے کہا کسی کو میرے پاس مت آنے دینا اتنے ہی میں امام حسین(ع) اس کمرے میں داخل ہوئے اور پوشیدہ ہوگئے اور مجھے معلوم بھی نہیں ہوا پھر عائشہ نے بتایا جبرئیل نے امام حسین(ع) کی شہادت کی خبر نبی(ص) کو دی اور یہ بھی بتایا کہ اللہ قائم اہل بیت(ع) کے ذریعہ اس کا انتقام لے گا جبرئیل نے یہ بھی بتایا کہ قائم آل محمد(ص) ان اماموں کی نسل سے ہوں گے جو حسین(ع) کی ذریت میں ہونے والے ہیں. ہر امام کا نام بتایا
...................................
1. اثبات الہداۃ بالنصوص والمعجزات، ج2، ص565. کفایتہ الاثر، ص304. بحار الانوار، ج46، ص198.
2.اثبات الہداۃ بالنصوص والمعجزات، ج2، ص563. کفایتہ الاثر، ص300. بحار الانوار، ج46، ص202.
پھر (عائشہ نے) فرمایا کہ اے ابو سلمہ جب تک میں زندہ ہوں اس بات کو کسی سے نہ بتانا تو میں نے بھی پوشیدہ رکھا جب عائشہ اپنے انجام کو پہنچ گئیں تو امام علی(ع) نے مجھے بلایا اور کہا: کہ مجھے وہ خبر بتائو جو عائشہ نے تمہیں دی تھی میں نے کہا کون سی خبر اے امیرالمومنین(ع) فرمایا: وہی خبر جس میں میرے بعد میرے اوصیاء کے اسمائ مبارکہ ہیں تو میں نے وہ خبر بتائی اور مولا علی(ع) نے سنی.(1) یہ حدیث اگرچہ کچھ عجیب سی لگتی ہے لیکن اس حدیث کی تائید اس خبر سے ہوتی ہے جو محمد بن عبدالرحمن بن شردین صنعانی سے ہے وہ مثنی سے وہ اپنے باپ سے وہ عائشہ سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں: میں نے عائشہ سے پوچھا کہ نبی(ص) کے کتنے خلیفہ ہیں؟ عائشہ نے کہا میرے پاس ان کے نام لکھے ہیں پیغمبر(ص) نے لکھوائے تھے میں نے کہا: مجھے دکھائیے انہوں نے دکھانے سے انکار کیا اس حدیث میں عائشہ ناموں کو دکھانے سے انکار کرتی ہیں(2) اس لئے کہ وہ ان کی خلافت پسند ہی نہیں کرتی تھیں جن کے نام ان(عائشہ) کے پاس ناگوار اور ناپسندیدہ افراد کی فہرست میں ہیں.
51.کثیر سلسلہ سند سے برقی نے ابو ہاشم دائود بن قاسم جعفری سے انہوں نے امام ابو جعفر محمد بن علی جواد(ع) سے روایت کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جناب خضر پیغمبر(ع) امیرالمومنین(ع) سے گفتگو کرتے ہیں. اس وقت امام حسن(ع) بھی وہاں موجود تھے خضر نے مولا علی(ع) سے تین سوال کئے آپ نے (علی) نے امام حسن(ع) سے فرمایا کہ بیٹا تم ان کے جواب دے دو امام حسن(ع) نے جواب دئیے جس کے بعد جناب خضر نے کلمہ شہادتین پڑھا اور کہنے لگے میں اس کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ آپ علی(ع) وصی پیغمبر(ص) ہیں اور میں آپ کی وصایت و خلافت کی ہمیشہ گواہی دیتا رہوں گا پھر امام حسن(ع) کی طرف اشارہ کر کے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ تم ان کے (علی(ع)) وصی ہو اور حجت قائم ہو اور گواہی دیتا ہوں کہ تمہارے بعد حسین بن علی(ع)
...............................................
1. بحار الانوار، ج36، ص348.350. کفایتہ الاثر، ص187.190.
2. بحار الانوار، ج36، ص300. اعلام الوری با اعلام الہدی کے مولف بھی ج2، ص164 پر انہیں الفاظ میں لکھا ہے.
تمہارے والد کے وصی اور حجت قائم ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حسین(ع) کے بعد علی بن الحسین(ع) حجت قائم ہیں اور اپنے باپ کے وصی ہیں اسی طرح خضر نے تمام اماموں کی امامت کی گواہی دی جو ذریت حسین(ع) سے ہونے والے تھے اور یہ بتایا کہ ان میں سے ہر ایک اپنے باپ کا قائم مقام ہوگا یہاں تک کہ بات قائم آل محمد تک پہنچی خضر نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ حسن عسکری بن علی(ع) کی اولاد میں سے ایک مرد ہوگا جس کا نہ نام لیا جائے گا نہ کنیب بتائی جائے گی جب تک اس کے ظہور کا زمانہ نہ آجائے ظہور کے بعد وہ زمین کو عدل و انصاب سے یوں ہی پر کر دے گا جس طرح وہ ظلم سے بھری ہوگی وہ حسین بن علی(ع) کے مقصد کو قائم کرنے والا ہوگا(1) پھر آخر میں کہتے ہیں السلام علیک یا امیرالمومنین ورحمتہ اللہ وبرکاتہ.(2)
52. ایک حدیث جس کی سند عبداللہ بن ابی اوفی تک پہونچی ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ(ص) نے فرمایا: خداوند عالم نے جناب ابراہیم کی آنکھوں سے پردہ ہٹایا تو ابراہیم نے انوار نبی(ص) و علی و فاطمہ و حسن وحسین علیہم السلام کو دیکھا ابراہیم نے ان کے بارے میں خدا سے پوچھا تو خدا نے ابراہیم سے ان حضرات کا تعارف کرایا پھر نو انوار مقدسہ دیکھے جو نور کا ایک حلقہ بتائے ہوئے تھے ابراہیم نے کہا میرے خدا میرے سردار پھر نو نور اور دیکھ رہا ہوں جو ان پانچ انوار مقدسہ کو اپنے حلقہ میں کئے ہوئے ہیں ارشاد ہوا اے ابراہیم یہ نو امام انہیں پانچ انوار مقدسہ کی ذریت سے امام ہونے والے ہیں ابراہیم نے پوچھا اے میرے اللہ اور سردار میں انہیں کن سے پہچانوں ارشاد ہوا اے ابراہیم ان میں پہلے نمبر پر علی ابن الحسین(ع) ہیں اور دوسرے نمبر پر محمد فرزند علی ہیں پھر جعفر فرزند محمد پھر موسی فرزند جعفر پھر علی فرزند
1.کتاب اعلام الوری باعلام الہدی میں ہے کہ ( وہ حسن بن علی کے مقصد کو قائم کرنے والا ہوگا) مصنف صاحب کہتے ہیں کہ یہ نسخہ زیادہ بہتر ہے.
2.بحار الانوار، ج36، ص414.416، انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں : کمال الدین و تمام النعمہ، ص213.215، الامامہ والتبصرة، ص106.108، عیون اخبار الرضا ، ج2، ص67.69. الاستنصار، ص31.33. شیخ طوسی کی کتاب الغیبہ، ص154. 155. اور دوسرے بھی مصادر منابع ہیں.
موسی ہیں پھر محمد فرزند علی پھر علی فرزند محمد اور حسن فرزند علی اور آخر میں قائم مہدی ہیں.( 1 )
53. معمولی اختلاف کے ساتھ اسی سے ملتی جلتی حدیث امام باقر(ع) کے حوالے سے جابر بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ نے ابراہیم کو پیدا کیا تو ان کی آنکھوں سے پردہ ہٹایا تو انہوں نے عرش کے داہنے پہلو میں ایک نور دیکھا وہ نور امیرالمومنین علی(ع)، صدیقہ طاہرہ(ع)، امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) نیز ان کی اولاد میں ہونے والے اماموں کا تھا.......لیکن اس حدیث میں نور نبی(ص) کا تذکرہ نہیں ہے. شاید کہ حدیث میں بیان کرنے سے رہ گیا اس لئے کہ اس حدیث میں یہ ہے کہ پانچ انوار مقدسہ کو نو انوار طاہرہ نے حلقہ کئے ہوئے تھے پانچ انوار میں نبی(ص) کا نور تو شامل ہی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے نبی(ص) کا بھی نور دیکھا تھا.( 2 )
54. اسی موضوع سے ملتی جلتی وہ حدیث بھی ہے جسے ابن عیاش، محمد بن احمد بن عبیداللہ ہاشمی سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے سامرہ میں سنہ339ھ میں خبر دی گئی یعنی محمد بن احمد ہاشمی نے خبر دی کہ مجھ سے میرے والد کے چچا موسی بن عیسی نے بتایا انہیں زبیر بن بکار نے اور انہیں عتیق بن یعقوب نے انہیں عبداللہ بن ربیعہ نے بتایا کہ میرے باپ نے مجھ سے کہا کہ میں تم سے ایک بات کہتا ہوں جس کو تم پوشیدہ رکھنا اور جب تک میں زندہ ہوں لوگوں سے اس کو چھپانا مگر یہ کہ اللہ اس کے بارے میں جب اجازت دے. میں اس آدمی کے ساتھ تھا جو ابن زبیر کی طرف سے کعبہ کا عامل تھا وہ( عامل کعبہ) کہتا ہے: ابن زبیر نے عاملوں کو حکم دیا کہ دور دور تک چلے جائیں تو ہم لوگ ایک چٹان کے پاس پہنچے جو اونٹ کی طرح تھی میں نے اس چٹان پر ایک کتاب پائی جو اس چٹان پر رکھی ہوئی تھی میں نے اسے اٹھایا اور چھپا لیا جب میں گھر واپس آیا تو اس کتاب کو نکال کر دیکھنے لگا میں نے دیکھا وہ ایک کتاب تو ہے لیکن یہ نہیں پتہ چل رہا تھا کہ کس چیز کے بارے میں ہے اور مجھے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اس میں لکھا کیا ہے وہ یوں لپٹی ہوئی تھی جیسے کتابیں لپٹی ہوئی ہوتی ہیں میں نے اس کو
………………….
1.بحار الانوار، ج36، ص213.214. الفضائل الشاذان، ص158.
2. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج3، ص85.86. بحار الانوار، ج36، ص151.
کھول کے پڑھنا شروع کیا لکھا تھا خدا کے نام سے جس کو اولویت حاصل ہے اور اس کے پہلے کوئی نہیں ہے حکمت صاحبان حکمت سے مت روکو ورنہ یہ ان پر ظلم ہے اور حکمت غیر مستحق کو نہ دو ورنہ یہ حکمت ظلم ہے اللہ جس کو چاہتا ہے اپنے نور تک پہونچاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اپنے نور کی ہدایت کرتا ہے اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے.اس خدا کے نام سے جو سب سے پہلے ہے اور جس کی کوئی انتہا نہیں ہر نفس کے اعمال پر ناظر و حاکم ہے اس کا عرش پانی پر تھا پھر اس نے اپنی مخلوقات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا اور انہیں اپنی حکمت سے ان کو صورت بخشی اپنی مشیت سے جیسی چاہی ان کی پہچان بنائی انہیں شعبوں اور قبیلوں میں قرار دیا اور گھروں میں جگہ دی اس لئے کہ ان کے بارے میں وہ علم سابق رکھتا تھا پھر ان قبیلوں میں ایک عزت دار قبیلہ قرار دیا اور اس کا نام قریش رکھا یہ لوگ اہل امانت ہیں.پھر اللہ نے اس قبیلہ قریش میں ایک گھر قرار دیا جس کو بناوٹ اور رفعت کے اعتبار سے خصوصیت بخشی وہ گھر عبد المطلب کے بیٹوں کا ہے جو اس گھر کا آباد کرنے والے، مالک اور رہنے والے ہیں اس گھر میں ایک نبی منتخب کیا جس کا نام محمد ہوگا وہ آسمانوں میں احمد کے نام سے پکارا جاتا ہے خداوند عالم اس نبی(ص) کو آخر زمانہ میں مبعوث فرمائے گا اور انہیں کو اپنی رسالت کا مبلغ قرار دے گا. خدا کے بندوں کو اپنے دین کی طرف بلانے والا آسمانی کتابوں میں اس کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ انبیاء اس کی بشارت دیتے رہیں گے اور اس کے علم کا وارث خیر الاوصیاء ہوگا... اپنی نصرت سے اس(نبی(ص)) کی تائید کرے گا. اللہ اس(نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھائی ابن عم اور داماد سے اس(نبی(ص)) کے بازو مضبوط کرے گا وہ مددگار ثابت اس(نبی(ص)) کی بیٹی کا شوہر ہوگا اور (نبی(ص)) کا اس کے بعد وصی اللہ کی مخلوقات پر وہ( مددگار) حجت خدا ہوگا. نبی(ص) اس کو اپنی موت کے قریب اعلانیہ منصوب( بہ خلافت) کریگا وہ ہی باب اللہ ہے پھر اس کتاب میں وہ حالات لکھے تھے جن سے امیر کائنات کو دو چار ہونا پڑا اور امیر کائنات کے ان کی اولاد طاہرہ کے گیارہ اماموں کے نام ایک کے بعد دوسرے امام کا نام اور ان حضرات کے
بارے میں کچھ تفصیل تھی. وہ کتاب بہت لمبی تھی لہذا تمام مطالب کتاب کے ذکر کی اس مختصر کتاب میں گنجائش نہیں ہے.(1)
اس طرح ان حدیثوں کی تائید ابن شہر آشوب کی ایک حدیث سے ہوتی ہے وہ لکھتے ہیں عبداللہ بن محمد بغوی نے اپنی اسناد کےساتھ عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے، ابن عمر نے کہا: نبی(ص) نے فرمایا: اے علی(ع) میں اپنی امت کا نذیر(ڈرانے والا) ہوں تم اس امت کے ہادی ہو حسن(ع) اس کے قائد حسین(ع) سائق( راہ نجات کی طرف لے جانے والے) علی بن الحسین(ع) اس کے جامع (گمراہی سے بچا کر ایک راستہ پر اکٹھا کرنے والے) محمد ابن علی(ع) عارف جعفر بن محمد(ع) کاتب موسی بن جعفر(ع) شمار کرنے والے علی بن موسی(ع) تعبیر دینے والے اور نجات دلانے والے ہیں. اس امت میں بغض و کینہ رکھنے والے کو چھوڑ دینے والے ہیں اور امت کے مومنین کو قریب کرنے والے ہیں. محمد بن علی(ع) اس کے قائد و سائق ہیں علی ابن محمد(ع) اس کو صحیح کرنے والے ہیں اور قائم خلف اس امت کے ساقی، راہنما اور ناظر و شاہد ہیں.” بیشک صاحبان عقل کے لئے اس میں نشانیاں ہیں.”
مذکورہ بالا حدیث کی روایت ایک جماعت نے جابر بن عبداللہ سے نبی(ص) کے حوالے سے کی ہے ملاحظہ ہو: اعمش نے ابو اسحق سے انہوں نے سعید بن قیس سے انہوں نے علی ابن ابی طالب(ع) سے انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے ان دونوں ( علی(ع) اور جابر) نے نبی(ص) سے کہ نبی(ص) نے فرمایا: میں تم سب کو حوض پر لے جانے والا ہوں اور اے علی(ع) تم ساقی ہو حسن(ع) زائد ہیں( بچانے والے حمایت کرنے والے) حسین(ع) آمر(حکم دینے والے) ہیں
...................................
1.بحارالانوار، ج36، ص217.219
علی ابن الحسین(ع) فارط( پرچم ہدایت) محمد ابن علی(ع) ناشر جعفر ابن محمد(ص) سائق موسی بن جعفر(ع) محبت رکھنے والوں اور بغض رکھنے والوں کے شمار کنندہ اور منافقین کی قلع قمع کرنے والے علی ابن موسی(ع) مومنین کو زینت دنیے والے محمد ابن علی(ع) اہل جنت کو ان کے درجوں میں اتارنے والے علی بن محمد(ع) شیعوں کے خطیب اور شیعوں کا حورالعین سے نکاح کرانے والے اور حسن بان علی(ع) اہل جنت کے چراغ ہیں جن سے جتنی لوگ روشنی حاصل کریں گے اور ہادی مہدی قیامت کے دن شیعوں کی شفاعت کرنے والے ہیں حالانکہ اللہ سب کو حق شفاعت نہیں دیتا بس جس سے راضی ہوتا ہے اسی کو حق شفاعت بھی دیتا ہے.(1)
عجیب ترین بات تو یہ ہے کہ اخطب خوارزم موفق بن احمد مالی کی اپنی کتاب میں محمد بن الحسین بغدادی سے وہ ابوطالب حسین بن محمد سے وہ محمد بن احمد بن شاذان سے وہ احمد بن عبد اللہ سے وہ علی بن شاذان موصلی سے وہ محمد بن علی بن فضل سے وہ محمد بن قاسم سے وہ عباد بن یعقوب سے وہ موسی بن عثمان سے وہ اعمش سے وہ ابو اسحق سے وہ
حارث اور سعید بن ابو بشیرسے اور وہ پیغمبر سے. روایت بالکل وہی ہے جو ابھی گذشتہ صفحہ میں پیش کی گئی جس میں سرکار نے ائمہ اثنا عشر کے اسمائ مبارکہ اور القاب کا تذکرہ کیا ہے.(2)
مانتا ہوں کہ دونوں مذکورہ حدیثیں اگرچہ ائمہ اثنا عشر کی امامت پر صراحتہ دلالت نہیں کرتی ہیں لیکن ان حدیثوں میں اماموں کے نام کے ساتھ جن القاب کا تذکرہ کیا گیا ہے ظاہر ہے کہ وہی القاب ان حضرات کے امت سے ممتاز ہونے پر دلالت کرتے ہیں. اور ان کی امامت کو امت پر بالکل ویسے ہی ثابت کرتے ہیں جس طرح شیعہ فرقہ عقیدہ رکھتا ہے.
..........................................
1.بحار الانوار، ج36، ص270. بعینہ انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ کریں. مناقب آل ابی طالب، ج1، ص251.252. الاستبصار، ص23. الطرائف، ص174.
2.بحار الانوار، ج36، ص270.271.
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ گذشتہ صفحات میں اکثر حدیثیں وہ ہیں جو انہیں اصحاب اور انہیں اسناد سے روایت کی گئی ہیں جن اصحاب اور جن سلسلہ سند سے اہل سنت کی یہاں حدیثیں روایت کی جاتی ہیں لیکن طریقہ وہی ہے راوی وہی ہیں حدیثیں وہ نہیں ہیں اور اہل سنت کی کتابوں میں تو ان حدیثوں کا کسی کو پتہ نہیں ہے راوی وہی ہے لیکن ان کے یہاں وہ دوسری روایتیں بیان کرتے ہیں شیعہ کتابوں میں آتے ہی ان کا انداز بیان ہی نہیں بلکہ موضوع گفتگو بھی بدل جاتا ہے آخر کیوں؟ میرا خیال ہے کہ سابق میں بیان کئے گئے آٹھویں سوال کے جواب میں میری معروضات ملاحظہ فرمائیں تو آپ کو اس سوال کا تسلی بخش جواب مل جائے گا.
جواب یہ ہے کہ یہ حدیثیں اہل سنت کے اصول کے خلاف ہیں جن مسلمات کو وہ مانتے ہوئے آئے ہیں ان کی ضد میں ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ان حدیثوں سے اعراض کرنے پر مجبور ہیں اور اپنی حدیث کی کتابوں میں ان حدیثوں کو نہیں لیا کرتے. راوی وہی ہیں لیکن جب اہل سنت سے بات کرتے ہیں تو چونکہ یہ حدیثیں ان کے یہاں ممنوع ہیں لہذا وہ ان حدیثوں کو بیان کرنا بھی پسند نہیں کرتے.بلکہ حدیث کے راویوں کو یہ یقین تھا کہ یہ حدیثیں اگر اہل سنت سے بیان کریں گے تو ان پر (راویوں پر) کذب اور وضع حدیث کا الزام فورا آجائے گا اس کے لئے تا ریخی تجربہ شاہد ہے کہ اس طرح کی حدیثیں جس نے اگر بھی اہل سنت سے بیان کیں ان پر کذب، افتراء اور وضع حدیث وغیرہ کے الزامات آئے اور انہیں جھیلنے پڑے.اسی طرح ہمارا یہ دعوی بھی اپنی جگہ پر ثابت ہے کہ راویوں میں وہ لوگ بھی تھے جو یہ جانتے تھے کہ اہل سنت کی اہل بیت اطہار(ع) سے کوئی مطلب نہیں ہے اور نہ ان لوگوں سے جو اہل بیت(ع) سے موالات (دوستی) رکھتے تھے. اس لئے انہوں نے اس طرح کی حدیثیں اہل سنت
سے بیان ہی نہیں کی. اہل بیت اطہار(ع) سے اہل سنت کی بے توجہی اور بے نیازی کو ثابت کرنے کے لئے ہی انہیں راویوں اہل سنت سے اہل بیت(ع) کے حق میں کچھ ایسی حدیثیں بیان کر دیں جو گذشتہ نصوص سے کسی طرح کم نہیں ہیں جیسے حدیث ثقلین وغیرہ جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اہل بیت(ع)کے مخالفین گھاٹے میں ہیں اور اسی طرح وہ حدیثیں بھی اہل سنت سے بیان کی جن حدیثوں میں امیرالمومنین(ع) کی ولایت کا تذکرہ ہے( لیکن ان کا یہ اقدام محض اس لئے تھا کہ شاید یہ حدیثیں سن کے ہی اہل سنت اہل بیت اطہار(ع) کی طرف متوجہ ہوجائیں پھر سفینہ نجات پر سوار ہونا آسان ہو جائے گا) مترجم.
اب یہاں پر کچھ حیثیں پیش کی جا رہی ہیں جن میں خود اومہ اہل بیت(ع) نخ اماموج کی تعداد بارہ بتائی ہیں لیکن ان حدیثوں کو ان حضرات نے نبی سے منسوب نہیں کیا ہے ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ پھر یہ حدیثیں حجت کیسے ہوسکتی ہیں تو میں عرض کروں گا کہ ان جیسے علوم توقیفی ہیں اس طرح کی خبروں کے بارے میں محض اجتہاد اور چھٹی حس اور ذہانت کار ساز نہیں بلکہ آخر میں بات نبی ہی تک پہونچتی ہے اور ہر حدیث کی انتہا نبی ہی ہوتے ہیں جیسا کہ ابھی آپ نے زید بن علی کی حدیث میں ملاحظہ فرمایا کہ انہوں نے یہ بتایا کہ یہ خبر میرے باپ علی ابن الحسین(ع) نے اور ان کو حسین(ع) نے ان کو علی(ع) نے ان کو نبی(ص) نے بتائی تو اگرچہ یہ حدیثیں ائمہ ہدی سے مرسلا( یعنی سلسلہ سند میں بعض راویوں کے نام ذکر کئے بغیر) آئی ہیں لیکن اسناد میں کسی سے کم نہیں ہیں اور جب یہ بات معلوم ہے کہ ہر امام اپنے باپ سے اور وہ اپنے آباء طاہرین(ع) اور وہ نبی(ص) سے روایت کرتا ہے تو بیچ سے اسناد کو حذف کردینا حدیث کو غیر معتبر نہیں بنا سکتا جیسا کہ آٹھویں سوال کے جواب میں گذر چکا ہے.
اور یہ بھی تو دیکھئے کہ امام غیب اور مستقبل کی خبر دے رہے ہیں جو آخر کار سچ ثابت ہوتی ہے ہر امام اپنے بعد والے امام کے وجود کے بارے میں خبر دیتے ہوئے بارہ اماموں تک کی خبر دیتا ہے جو
اس کے زمانے میں موجود نہیں ہیں. اور پھر جیسے خبر دیتا ہے اسی سلسلے میں امامت ان کے یہاں پروان چڑھتی ہے اس طرح کی پیشن گوئی کا سچ ہونا ان حدیثوں کی صداقت کا اعلان ہے.
اگر اس بے معنی اعتراض پر دھیان نہ دیا جائے تو اس سے دو فائدے حاصل ہوتے ہیں ایک توریہ کہ ائمہ ہدی کا یہ بیان کہ ان کے بعد آنے والا امام فلان نام کا شخص ہوگا جس کے القاب یہ ہوں گے فرائض یہ ہوں گے آنے والے امام کی امامت کو ثابت کرتا ہے اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ ہر امام کی امامت پر ما قبل امام کے ذریعہ نص حاصل ہوجاتی ہے. اس لئے ہم نے ان حدیثوں کو اس چوتھے گروہ کے اختتام پر رکھا ہے اور نمونہ کے طور پر کچھ حدیثیں بیان کردی ہیں.
55.کمیت شاعر کی حدیث امام باقر(ع) سے. وہ کہتے ہیں: میں امام کی خدمت میں ایک قصیدہ پڑھ رہا تھا جب یہ شعر آیا( ترجمہ شعر خطاب امام سے ہے) تمہارا حق کب تمہیں ملے گا اور تمہارا دوسرا مہدی کب آئے گا” ختم ہوتے ہی امام باقر(ع) نے جلدی سے فرمایا: انشاء اللہ. بیشک ہمارا قائم اولاد حسین(ع) کا نواں فرزند ہوگا اس لئے کہ پیغمبر(ص) کے بعد امام بارہ ہیں اور بارہواں امام ہی قائم آل محمد(ع) ہے. کمیت نے کہا مولا ان اماموں کے نام تو بتادیں فرمایا وہ بارہ ہیں ان میں پہلے علی ابن ابی طالب(ع) پھر حسن ابن علی(ع) پھر حسین بن علی(ع) اس طرح پھر بارہ اماموں کے نام بتائے.(1)
56. جابر جعفی یہ کہتے ہیں: میں نے امام باقر(ع) سے اس آیت قرآن کی تاویل پوچھی( خدا کے نزدیک مہینوں کے عدد بس بارہ ہیں) جابر کہتے ہیں کہ میرے مولا نے میرا سوال سن کے ایک ٹھنڈی سانس لی پھر فرمایا: سال سے مراد تمہارے پیغمبر(ص) ہیں اور اس سال کے بارہ مہینے ہیں امیرالمومنین(ع) سے لے کے مجھ تک اور پھر میرے فرزند جعفر، ان کے فرزند موسی، ان کے فرزند علی ان کے فرزند محمد ان کے فرزند علی ان کے فرزند حسن اور پھر ان کے فرزند محمد مہدی ہادی(ع) بارہ امام
...........................
1.اثبات الہداۃ بالنصوص والمعجزات، ج2، ص560. بحار الانوار، ج36، ص391.
ہیں. جو اللہ کی رحمت ہیں اس کی مخلوقات پر اور اس کے علم اور وحی کے امانت دار ہیں.(1)
مذکورہ حدیث اگرچہ امام باقر(ع) سے ہے امام ہی آیت کی تفسیر کر رہے ہیں لیکن یاد رہے یہ تفسیر تفسیر بالبان ہے جسے انہوں نے اپنے آبائے کرام سے اور ان کے آباء کرام نے نبی(ص) سے حاصل کی.
اس حدیث کی تائید دائود درقی کی حدیث سے ہو رہی ہے جو جعفر صادق(ع) سے ہے. دائود درقی کہتے ہیں امام نے ایک صحیفہ نکالا اور مجھ سے فرمایا پڑھو یہ صحیفہ جو ہم اہل بیت(ع) کے لئے خاص ہے. اس کا وارث باپ کے بعد بیٹا ہوتا ہے اور یہ سلسلہ سند پیغمبر(ص)سے اب تک چلا آیا ہے تمہیں معلوم ہو کہ یہ صحیفہ پیغمبر(ص) کا ودیعت کردہ ہے. دائود درقی کہتے ہیں میں نے اسے پڑھا. اس میں لکھا تھا خدا کے نزدیک تو سال کے بس بارہ مہینے ہیں جو خدا کی کتاب میں لکھا ہوا ہے. لیکن ان سے مراد علی ابن ابی طالب(ع) حسن، حسین، علی ابن الحسین علیہم السلام... بارہ اماموں تک ان کے اسماء لکھے ہوئے ہیں.(2)
اس حدیث میں اگرچہ ان حضرات پر صریحی دلالت موجود نہیں ہے لیکن ظاہر ہے کہ ان حضرات کا مہینوں کی تعداد سے امتیازی کیفیت پانا ان کی امامت پر اور ان کی اطاعت کے وجوب پر دلیل ہے. اور ان حضرات کی حدیثیں تو ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں.
57. اعمش امام صادق(ع) سے روایت کرتے ہیں جس میں امام بتاتے ہیں کہ امامت کس کے لئے واجب ہے اور امامت کی کیا پہچان ہے. اسی حدیث میں ہے کہ امام سے مراد امیرالمومنین(ع) امام المتقین... علی بن ابی طالب ہیں، ان کے بعد حسن ہیں پھر حسین ہیں... پھر باقی ائمہ اثنا عشری کا تذکرہ کیا گیا ہے.(3)
...............................
1. اثبات الہداۃ بالنصوص والمعجزات، ج2، ص463.464، شیخ طوسی کی کتاب الغنیہ، ص149. بحار الانوار، ج24، ص240.
2. اثبات الہداۃ بالنصوص والمعجزات، ج3، ص202. بحار الانوار، ج46، ص174. مقتضب الاثر،ص31.
3.کمال الدین تمام النعمہ، ص336. 337. انہیں الفاظ میں ملاحظہ ہو: اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج2، ص322.325.بحار الانوار، ج36، ص397.
58. حدیث عاصم بن حکید دعائے توسل کے سلسلے میں امام صادق(ع) سے مروی ہے” پالنے والے میں تجھ سے تقرب چاہتا ہو تیرے نبی اور رسول کےوسیلےسے.... اور تقرب چاہتا ہوں تیرے ولی اور تیری مخلوقات میں تیرے نیک بندے اور تیرے نبی کے وصی کے وسیلہ سے اور تجھ سے تقرب چاہتا ہوں نیک ولی، امام حسن بن علی(ع) کے وسیلے سے. اور تجھ سے تقرب چاہتا ہوں اس مقتول سے جس کے لاشہ پر نعل بندی کی گئی وہ شہید کربلا جس کا نام حسین بن علی(ع) ہے. اور تجھ سےتقرب چاہتا ہوں سیدالعابدین کے وسیلے سے...” اسی طرح ایک ایک کر کے بارہویں امام حضرت حجت منتظر کے وسیلہ سے قربت الہی کی دعا کی گئی ہے اس دعا میں یہ بھی کہ یہ وہ وسیلے ہیں جن کے بارے میں انبیاء اور خاتم الانبیاء(ص) نجباء طاہرین سبھی نے خبر دی.(1)
59.تیسری حدیث بھی جعفر صادق(ع) سے ہی ہے. آپ ایک دعا میں خدا سے عرض کرتے ہیں: میں تجھ سے دعا کرتا ہوں اس حق کے واسطے سے جو تو نے محمد و آل محمد(ص) اور امام علی(ع) اور حسن(ع) اور حسین(ع) اور علی ابن الحسین علیہم السلام... جیسے اماموں کے نزدیک قرار دیا ہے. پھر امام نے اسی ترتیب سے باقی ائمہ کا ذکر کیا ہے.(2)
60. ایک حدیث مسعدہ بن صدقہ کی ملاحظہ ہو. کہتے ہیں جعفر صادق(ع) نے حدیث ثقلین پیش کرنے کے بعد فرمایا: ہمارا قائم صلب حسن(ع) اور حسن(ع) صلب علی(ع) سے اور علی(ع) صلب محمد(ع) سے اور محمد(ع) صلب علی(ع) سے اور علی(ع) میرے اس بیٹے ( اس وقت آپ نے اشارہ کیا موسی کاظم(ع) کی طرف فرمایا) اور یہ میرےصلب سے ہیں. ہم بارہ امام ہیں ہم میں سے ہر ایک مطہر اور معصوم ہے.(3)
61.علقمہ بن محمد حضرمی کی حدیث ملاحظہ کریں. کہتے ہیں جعفر صادق(ع) نے فرمایا: امام بارہ ہیں میں نے عرض کیا مولا ان کے نام بتادیں؟ فرمایا جو گذر چکے ہیں وہ علی(ع)، حسن(ع)، حسین(ع)، علی بن الحسین(ع)، محمد بن علی علیہم السلام ہیں میں نے عرض کیا پھر آپ کے بعد کون ہے؟ فرمایا: میں نے اپنے
.......................................
1. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج2، ص472.473 مصباح المتہجدین، ص328.بحار الانوار، ج87.
2. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج2، ص473، مصباح المتہجدین، ص332.بحار الانوار، ج87، ص39.
3. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج2، ص473، کفایہ الاثر، ص266، بحار الانوار، ج36، ص408.409.
بیٹے موسی کو اپنا وصی بنایا ہے وہ میرے بعد امام ہیں. میں نے کہا موسی(ع) کے بعد کون ہے؟ فرمایا: ان کے فرزند جن کو رضا(ع) کے لقب سے پکارا جائے گا اور ان کے بعد ان کے فرزند محمد(ع) پھر محمد(ع) کے بعد ان کے بیٹے علی(ع) اور علی(ع) کے بعد ان کے بیٹے حسن(ع) اور پھر حسن(ع) کے بعد ان کے بیٹے مہدی(ع).(1)
62. یونس بن ظبیان کی حدیث امام صادق(ع) سے ہے فرمایا: اے یونس اگر تم علم چاہتے ہو تو ہم اہل بیت(ع) کے پاس آکر حاصل کرو کیونکہ ہم نے یہ علم نبی سے میراث میں پایا ہے اس کے بعد بارہ اماموں کا ذکر کیا میں نے عرض کیا مولا ان اماموں کے نام بتائیں. فرمایا : پہلے امام علی ابن ابی طالب(ع) ان کے بعد حسن(ع) و حسین(ع) اور حسین(ع) کے بعد علی ابن الحسین(ع).... اس کے بعد ترتیب وار باقی ائمہ اثنا عشر کے اسماء گرامی بیان کئے.(2)
63. عبداللہ بن جندب کہتے امام موسی کاظم(ع) نے فرمایا: عبد اللہ جب تم سجدہ شکر کرو تو حالت سجدہ میں کہو: پالنے والے میں تجھے گواہ بناتا ہوں اور تیرے فرشتوں اور انبیاء مرسلین کو اور تیری تمام مخلوفات کو گواہ بنا کے اقرار کرتا ہوں کہ اے اللہ تو ہی میرا پروردگار ہے اور اور اسلام میرا دین ہے محمد(ص) میرے نبی ہیںج علی(ع)، حسن(ع)، حسین(ع)، علی ابن الحسین(ع)، محمد بن علی(ع)، جعفر ابن محمد(ع)، موسی ابن حعفر(ع)، علی ابن موسی(ع)، محمد ابن علی(ع)، علی ابن محمد(ع)، حسن ابن علی(ع)، اور حجت قائم تمہارے امام ہیں. میں انہیں حضرات سے تولا (محبت) کرتا ہوں اور ان کے دشمنوں سے اظہار برائت کرتا ہوں.(3)
64.حدیث شرائع دین جسے امام علی رضا(ع) نے مامون عباسی کو لکھ کے دیا جس میں نبی کا ذکر کرنے کے بعد آپ نے لکھا نبی کے بعد مومنین پر حجت مسلمانوں کے امر کو قائم کرنے والے، قرآن مجید سے بولنے کا حق رکھنے والے، احکام قرآن کے عالم نبی کے بھائی، پیغمبر(ص) کے خلیفہ
......................................
1. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج2، ص563، کفایہ الاثر، ص267، بحار الانوار، ج36، ص410.409.
2.اثبات الھداة بالنصوص والمعجزات، ج2، ص561. کفایتہ الاثر، ص258.259. مختصر بصائر الدرجات، ص122. 123. بحار الانوار، ج36. ص403.405.
3.من لا یحضرہ الفقیہ، ج1، ص329.30. انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ کریں. اثبات الہداة بالنصوص والمعجزات، ج2، ص471.472.
وصی اور ولی کی منزلت نبی سے ایسی تھی جیسی ہارون سے موسی کی، علی ابن ابی طالب(ع) ہیں جو مومنین کے امیر روشن پیشانی یعنی روشن ضمیر افراد کے قائد، اوصیاء میں سب سے افضل انبیاء مرسلین کے علم کے وارث ہیں. ان کے بعد ان کے فرزند حسن اور حسین(ع) ہیں پھر حسین(ع) کے فرزند علی ابن الحسین زین العابدین(ع) ہیں پھر.... باقی ائمہ اثنا عشر کا تذکرہ فرمایا پھر کہتے ہیں میں ان حضرات کی وصایت اور امامت کی گواہی دیتا ہوں اور یہ کہ خدا کی زمین کسی بھی وقت اور زمانے میں حجت خدا سے خالی نہیں ہے اور یہ کہ یہی ائمہ اثنا عشر عروة الوثقی ہیں ائمہ ہدایت ہیں اور اہل دنیا پر اس وقت تک کے لئے حجت ہیں جب تک صرف خدا اس زمین اور اس کے رہنے والوں کا وارث نہ ہو جائے. اور یہ کہ جس نے بھی ان نفوس قدسیہ کی مخالفت کی خود گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے باطل ہے، حق اور ہدایت کا ترک کرنے والا ہے. چونکہ یہی حضرات قرآن کی تعبیر کرنے والے ہیں اور وضاحت سے سنت پیغمبر(ص) کو بیان کرنے والے ہیں. جو مرجائے اور انہیں نہ پہچانے وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے.(1)
ظاہر ہے کہ اس موضوع پر حدیثیں کثرت سے ہیں لہذا ہم نے جتنی بیان کی ہیں. میرے خیال میں کافی ہیں.
پانچواں گروہ: اس موضوع کے تحت میں وہ حجدیثیں پیش کروں گا جن میں حضور سرور عالم(ص) یا امام علی ابن ابی طالب(ع) کسی ایک امام یا ایک سے زیادہ اماموں پر نص فرماتے ہیں اگر چہ ایسی حدیثوں کا اکٹھا کرنا بہت مشکل کام ہے لیکن مجھے جتنی میسر ہوئیں حاضر ہیں.اس منزل میں ان نصوص نبوی کا تذکرہ کرنا ج مولائے کائنات علی ابن ابی طالب(ع) کی امامت پر دلالت کرتی ہیں کلام کے طول دینے کے مترادف ہے اس لئے کہ مذہب شیعہ میں بنیاد ہی ان نصوص وافراہ پر ہے اور شیعہ حضرات اس سلسلے میں کافی استدلال کرچکے ہیں اور کافی دلیلیں دے چکے ہیں
.....................................
1.عیون اخبار الرضا، ج1، ص130.129. بحار الانوار،ج65، ص261.262.
خصوصا مشہور ترین دلیلیں جن میں اہل بیت(ع) کے لئے عمومی یا امیرالمومنین(ع) کے لئے خصوصی تذکرہ ملتا ہے مثلا حدیث ثقلین اور حدیث غدیر اور وہ حدیثیں بھی جو چوتھے گروہ میں عرض کی گئیں.
امامین سبطین ابو محمد حسن زکی اور ابو عبداللہ حسین شہید اگرچہ بظاہر امیرالمومنین حضرت علی(ع) سے عظمت و مقام میں کچھ کم ہیں لیکن:پہلی بات یہ ہے کہ دونوں بزرگوار کس اس پہلے گروہ میں ہونا یقینی ہے جس میں عمومی طور پر اہلبیت(ع) کے لئے حدیثیں پیش کی گئیں. اور ابھی ابھی ہم نے چوتھے گروہ میں ایسی حدیثیں ذکر کی ہیں جو ان دونوں حضرات کی امامت کو صراحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں.دوسری بات یہ ہے کہ دونوں حضرات اہل بیت(ع) کے اس گروہ میں شامل ہیں جن میں امامت منحصر ہے جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جاچکا. پھر ان دونوں حضرات کی امامت پر شیعوں کا اجماع ہے. شیعہ فرقہ میں چاہے جتنا اختلاف پایا جائے( جیسے زیدیہ، اسماعیلیہ، مہدیہ وغیرہ) لیکن شیعوں کے تمام فرقوں کا اجماع مولائے کائنات اور حسنین(ع) کی امامت پر بہر حال ہے. اور اب میں اس سلسلے میں کچھ حدیثوں کا اضافہ کر رہا ہوں.
1.مجموعہ اولی : اس مجموعہ میں وہ حدیثیں عرض کروں گا جو خاص طور پر حسنین(ع) کے بارے میں وارد ہوئی ہیں جیسے نبی(ص) کا قول: حسن(ع) اور حسین(ع) دونوں امام ہیں کھڑے ہوں یا بیٹھے ہوں.(1)
.................................................
1.اثبات الہداۃ بالنصوص والمعجزات، ج5،ص129.اور انہیں الفاظ میں ص134 اور 142 میں تحریر ہے شیخ صدوق نے اپنی سند کے ساتھ علل الشرائع، ج1، ص211. پر اس روایت کو نقل کیا ہے. خزارتی نے ایک دوسری سند کے ساتھ کفایتہ الاثر ص36 پر، اور ایک دوسری سند کے ساتھ ص117 پر. اس روایت کو نقل کیا ہے. ابن شہر آشوب نے مناقب ج3، ص163 پر اسی روایت کو تحریر کیا. شیخ مفید نے مقدمات اصول ص48 پر. نکات کے ضمن فرمایا: تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ نبی(ص) نے حسنین(ع) کے بارے میں فرمایا: میرے یہ دونوں فرزند امام ہیں.. دعائم الاسلام، ج1، ص37 پر بھی مروی ہے. اور اسی طرح اس روایت کو ان کتابوں میں بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں: شیخ مفید کی کتاب الفصول المختار، ص303. انہیں کی ایک دوسری کتاب المسائل الجارود، ص35، اور الارشاد ص30. جناب کراجکی کی کتاب التعجب، ص52. روضتہ الواعظین، ص156. اعلام الوری باعلام الہدی. ج1، ص407.521.کشف الغمہ، ج2، ص156. مجمع البیان، ج2، ص311. غنیتہ النزوع، ص323.299. الطرائف،ص196. بحار الانوار، ج6، ص307. ج36،ص289.291.325. ج44، ص2.
اور حضور(ص) نے فرمایا : تم( حسنین(ع)) دونوں امام ہو اور تمہاری ماں کا حق شفاعت حاصل ہے.(1)
تیسری حدیث وہ ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ نبی نے دونوں بھائیوں کے ہاتھ میں کچھ کنکڑ دیئے حسنین کے ہاتھ میں کنکڑ آتے ہی تسبیح کرنے لگے یہ منظر دیکھتے ہی حضرت نے فرمایا: کنکڑ تسبیح نہیں کرتے مگر صرف نبی یا وصی نبی کے ہاتھوں میں. حسن(ع)و حسین(ع) میری عترت میرے اوصیاء اور خلفاء میں ہیں.(2)
امیرالمومنین(ع) کا امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) ( سے کہنا” تم دونوں میرے بعد امام ہو اور جنت کے جوانوں کے سردار ہو معصوم ہو خدا تمہاری حفاظت کرے اور تمہارے دشمنوں پر لعنت کرے...”(3)
اصبغ ابن نباتہ کی حدیث ہے. جب امیرالمومنین(ع) کو ابن ملجم ملعون نے ضربت لگائی تو آپ نے امام حسن(ع) او رامام حسین(ع) کو بلایا اور فرمایا میں آج کی رات وفات پا جائوں گا تم دونوں میری بات سنو! اے حسن(ع) تم میرے وارث اور میرے بعد اس امر(امامت) کے قائم کرنے والے ہو. اور تم اے حسین(ع) وصیت میں شریک ہو تم خاموش رہنا. اور حسن(ع) کے حکم کو مانتے رہنا جب تک حسن زندہ رہیں. جب حسن(ع) دنیا سے اٹھ جائیں گے تو تمہیں ان کے بعد بولنے کا حق ہے اور ان کی طرف سے تم امر امامت کے قائم ہو.(4)
اسی طرح کی ایک حدیث ہے جس میں امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) کی وصایت کا تذکرہ ہے. امام جعفر صادق(ع) سے ابوبصیر روایت کرتے ہیں.(5) اور محمد بن حنفیہ کی حدیث ہے جو زین العابدین(ع) سے ہے.(6) ان کے علاوہ اور بھی حدیثیں ہیں.
............................
1.اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج5،ص141، کشف الغمہ، ج2،ص129.
2. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج5،ص139.
3. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج5،ص133. بحار الانوار، ج43، ص265. کفایتہ الاثر، ص222.
4. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج5،ص140.
5.کافی، ج1، ص286.288. اور ص291.292.
6.کافی،ج1، ص348.
2.مجموعہ ثانیہ: اس مجموعہ میں ایسی تین حدیثیں ہیں جو ابھی امام سجاد زین العابدین(ع) کی امامت میں دلیلوں کے طور پر آئیں گی اور امام حسن عسکری(ع) کی امامت پر بھی مقام استدلال میں پیش کی جائیں گی. ان حدیثوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہر امام اپنے انگوٹھی مہر کنکری پر کندہ کرتے تھے تو اما حسن(ع) اور امام حسین(ع) نے بھی اپنے خاتم کے نقش کندہ کیا تھا.
3.مجموعہ ثالثہ: یہ مجموعہ بعض ان احادیث پر مشتمل ہے جس کا ذکر دوسرے گروہ کی حدیثوں میں گذر چکا ہے اس کے علاوہ کچھ دوسری حدیثیں بھی ہیں جس میں بعض اماموں کا ذکر ہوا ہے خاص طور سے امام حسنین(ع) کے نام کی صراحت بھی ہے چونکہ یہ حدیثیں بہت زیادہ ہیں لہذا تمام کو نقل کرنے کے بجائے ہم ان میں سے بعض ان حدیثوں کو نقل کررہے ہیں جن میں امام حسنین(ع) کے بعد والے بعض ائمہ کی امامت پر نص ہیں تاکہ ان کے ذریعہ ان حضرات کی امامت کو ثابت کیا جاسکے اور وہ حدیثیں یہ ہیں.
1.سلیم بن قیس عبداللہ بن جعفر طیار سے روایت کرتے ہیں کہ معاویہ ابن ابو سفیان کی مجلس میں ایک دن عبداللہ ابن جعفر طیار نے کہا: میں نے پیغمبر(ص) کو کہتے ہوئے سنا کہ میں مومنین پر ان کے نفسوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں اور علی ابن ابی طالب(ع) مومنین پر ان کے نفسوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں میرے بعد جب علی شہید ہوں گے تو میرا بیٹا حسن(ع) اولی بالمومنین اور حسن(ع) کے بعد میرا بیٹا حسین(ع) اولی بالمومنین ہوں گے اور جب وہ شہید ہوجائیں گے تو میرا بیٹا علی ابن الحسین(ع) اولی بالمومنین ہوگا. اے علی(ع)! عنقریب تمہاری اس سے ملاقات ہوگی. اور پھر علی ابن الحسین(ع) کے بعد میرا فرزند محمد بن علی(ع) اولی بالمومنین ہوگا عبداللہ ( بن جعفر) تم اس کو دیکھو گے اور اس طرح امامت کو بارہ افرار درجہ کمال تک پہنچائیں گے جن میں نو اولاد حسین(ع) سے ہوں گے.عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں میں نے اس حدیث پر حسن اور حسین، عبداللہ بن عباس، عمر بن ابی سلمہ اور اسامہ بن زید سے گواہی مانگی انہوں نے معاویہ کی نشست ہی میں میری تصدیق کی. سلیم بن قیس کہتے ہیں میں نے یہ روایت سلمان، ابوذر، مقداد اور اسامہ سے سنی تھی اور انہوں نے یہ حدیث پیغمبر
(ص) سے سنی تھی.(1)
2.ایک حدیث ہے جس میں حضرت جعفر صادق(ع) نے محمد بن ونعمان احول سے وصیت کی ہے. اس میں حضرت فرماتے ہیں اے فرزند نعمان عالم کو اس پر قدرت نہیں ہے کہ جو کچھ وہ جانتا ہے وہ سب کا سب تمہیں بتادے اس لئے کہ یہ اللہ کا راز ہے جو اللہ نے جبرئیل کو جبرئیل نے محمد(ص) کو محمد(ص) نے علی(ع) کو علی(ع) نے حسن(ع) کو حسن(ع) نے حسین(ع) کو حسین(ع) نے علی ابن الحسین(ع) کو علی(ع) نے محمد باقر(ع) کو اورمحمد باقر(ع) نے جس کو مناسب سمجھا بتایا.(2)
3.سلیم بن قیس نے کہا امیرالمومنین علی(ع) نے فرمایا:گ کہ نبی نے فرمایا اے علی(ع) خدا نے میرے لئے تمہارے بارے میں اور تمہارے شرکاء کے بارے میں جو تمہارے بعد ہوں گے دعا قبول کی ہے میں نے پوچھا میرے بعد میرے شرکاء کون ہیں؟
حضرت نے جواب دیا یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے خود سے اور مجھ سے قریت کیا ہے اور فرمایا اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو اللہ کے رسول اور صاحبان امر کی جو تم میں سے ہیں. میں نے پوچھا: یا رسول اللہ وہ ہیں کون لوگ؟ فرمایا میرے اوصیاء ہیں جو حوض کوثر پر مجھ سے ملیں گے سب کے سب ہادی اور مہتدی ہوں گے. میں نے کہا آپ مجھے ان کے نام بتا دیں گے فرمایا یہ فرزند ( اور یہ کہہ کے دست اقدس امام حسن کے سر پر رکھا) پھر فرمایا اور میرا یہ فرزند ( حسین(ع) کے سر پر رکھ کے فرمایا)پر اس کا بیٹا جس کا نام علی ابن الحسین(ع) ہوگا اے علی(ع) ! تم اس سے ملاقات کروگے اور جب ملاقات ہو تو اس کو میرا سلام کہہ دینا پھر یہ امامت کا سلسلہ بارہ اماموں تک کامل ہوگا.(3)
.................................
1.عیون اخبار الرضا،ج2، ص52.53. انہیں لفظوں میں ان کتابوں میں بھی موجود ہے. بحار الانوار، ج36، ص231. الامامتہ والتبصرۃ. ص110.111، کافی، ج1، ص529. کمال الدین و تمام النعمہ، ص270. نعمانی صاحب کی کتاب الغنیہ، ص95.96. شیخ طوسی کی کتاب الغنیہ، ص138.
2.اثبات الھداۃ بالنصوص و المعجزات، ج2، ص488. تحف العقول، ص310. بحار الانوار، ج75، ص289.
3.کمال الدین و تمام النعمہ، ص284.285. انہیں الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں: اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج2، ص395.396.
دوسرے طریقہ سلسلہ سند سے یہ حدیث یوں ہے پھر علی(ع) کا فرزند اس کا نام محمد بن علی(ع) ہوگا اور بارہ اماموں تک سلسلہ امامت چلتا رہے گا.(1)
4.ابن عباس کی حدیث ہے کہتے ہیں جبرئیل امین خدائے عزوجل کی طرف سے پیغمبر اسلام (ص) پر نازل ہوئے ایک صحیفہ کے ساتھ جس میں سونے کی بارہ مہریں تھی اور کہا کہ بیشک خداوند عالم آپ پر سلام بھیجتا ہے اور یہ حکم دیتا ہے کہ اس صحیفہ کو اپنے اہل میں سے سب سے زیادہ نجیب کو عنایت فرمائیں جو اس صحیفہ کی پہلی مہر اٹھا کے اس میں جو کچھ لکھا ہے اس پر عمل کرے جب وہ اس دنیا سے جانے لگے تو اس صحیفہ کو اپنے وصی کےحوالے کر دے اسی طرح ہر جانے والا اپنے قائم مقام کے حوالے کرتا رہے لہذا پیغمبر(ص) نے علی ابن ابی طالب(ع)کے حوالے کر کے حکم کی تعمیل کی علی(ع) نے پہلی مہر اٹھائی اور اس پر عمل کیا پھر اس کو امام حسن(ع) کو دیا امام حسن(ع) نے اپنے حصہ کی مہر اٹھا کر اس پر عمل کر کے امام حسین(ع) کو دیا اور حسین(ع) نے علی ابن الحسین(ع) کو دیا پھرایک کے بعد ایک ہر امام دوسرے کے حوالے کرتا جائے گا یہاں تک ان کا آخر آجائے.
5.اسی طرح کی حدیث عمری سے مروی ہے جعفر صادق(ع) نے فرمایا: کہ اللہ نے اپنے نبی پر وفات کے پہلے ایک کتاب نازل کی اور کہا اے محمد(ص) یہ تمہاری وصیت ہے ان لوگوں کے نام جو تمہارے اہل میں نجیب لوگ ہیں. میں نے پوچھا جبرئیل نجیب سے کون لوگ مراد ہیں؟ جبرئیل نے کہا: علی ابن ابی طالب(ع) اور ان کے بیٹے. اس کتاب میں سونے کی مہر سے سربند بیان تھا لہذا نبی نے وہ کتاب امیرالمومنین کے حوالے کر دی اور حکم دیا کہ پہلی مہر کو کتاب سے الگ کر کے اس کے مکتوبات پر عمل کریں تو امیرالمومنین نے کتاب کی مہر اٹھا کے اس کے مکتوبات پرعمل کیا اس کتاب کو امام حسن(ع) کو دیا امام حسن(ع) نے بھی دوسری مہر اٹھا کے اس کتاب پر عمل کیا پھر امام حسین(ع) نے اس کتاب کی مہر الگ کر کے پڑھا اس میں لکھا تھا اپنی قوم کے ساتھ شہادت کے لئے نکلنا ہوگا، امام حسین(ع) نے ایسا ہی کیا پھر اسے علی ابن الحسین(ع) کے حوالے کر دیا علی ابن الحسین(ع) نے دیکھا لکھا تھا
...........................................
1.اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج3، ص36.37.
خاموش رہنا اور سرجھکا شکے رہنا پھر علی بن الحسین(ع) نے وہ کتاب محمد ابن علی(ع) کو دی ان کے لئے لکھا تھا کہ لوگوں سے حدیثیں بیان کرو اور فتوے دو. محمد باقر(ع) نے ایسا ہی کیا ہے. پھر محمد باقر(ع) نے یہ کتاب اپنے فرزند جعفر(ع) کو دی ان کے لئے بھی لکھا تھا کہ لوگوں سے حدیثیں بیان کرو اور فتوے دو انہوں نے ایسا ہی کیا. جعفر بن محمد(ع) نے وہ کتاب موسی بن جعفر(ع) کو دی اور اسی طرح موسی بن جعفر(ع) اپنے بعد والے امام کو دیں گے اور یہ سلسلہ مہدی آخر الزمان(عج) کے ظہور تک چلتا رہے گا.(1)
6. معاذ بن کثیر بھی ایک حدیث جعفر صادق(ع) سے بیان کرتے ہیں جس میں انتقال کتاب کا ذکر ہے.(2)
7.کنانی کی بھی ایک حدیث ان کے جد کے حوالے سے ہے جس میں امام جعفر صادق(ع) نے مذکورہ بالا مضمون کو بیان فرمایا ہے.(3)
جعفر ابن سماعہ(4) اور یونس بن یعقوب(5) سے الگ الگ حدیثوں میں امام حسن(ع) امام حسین علیہما السلام کی امامت کی تصریح ہے اور ان کے بعد کے اماموں کی طرف اشارہ ہے یعنی ان کے اسماء گرامی کا تذکرہ نہیں ہے.
8.متعدد اسانید سے نبی(ص) کے ذریعہ روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا: میں تمہارے درمیان دو امر چھوڑے جارہا ہوں جب تک دونوں یعنی کتاب خدا اور میرے اہل بیت(ع) سے متمسک رہو گے ہرگز میرے بعد گمراہ نہیں ہوگے پوچھا گیا یا رسول اللہ(ص) کیا آپ کے تمام اہل بیت(ع)؟ فرمایا: نہیں. بلکہ ان میں جو میرے اوصیاء ہیں ان میں میرے بھائی وصی، وارث اور میری امت کے خلیفہ
................................
1.کافی، ج2، ص280.281. امالی شیخ صدوق، ص486. کمال الدین و تمام النعمہ، ص669.امالی شیخ طوسی، ص441 ابن شہر آشوب کی مناقب، ج1، ص257. بحار الانوار، ج36، ص192.193. اسی طرح اور بھی مصادر ہیں.
2.کافی، ج1، ص179.180. بحار الانوار، ج48. ص27. نعمانی صاحب کی کتاب الغنیہ، ص52. الجواہر السنیہ، ص622.
3. بحار الانوار، ج36، ص192.193. کمال الدین وتمام النعمہ، ص669.670.
4.بحار الانوار، ج36، ص203. 204.
5.بحار الانوار، ج36، ص210.
پھر میرے بعد ہر مومن کے ولی علی ابن ابی طالب(ع) ہیں. وہ ان میں اول اور سب سے بہتر ہیں پھر ان کے بعد میرا یہ فرزند ( امام حسن(ع) کی طرف اشارہ کر کے) پھر اس کے بعد میرا یہ فرزند( امام حسین(ع) کی طرف اشارہ کر کے فرمایا) پھر میرا وہ فرزند جو میرے بھائی کا ہم نام ہوگا پھر ان کے بعد ان کا وصی میرے ہم نام ہوگا پھر اس کی اولاد سے سات افراد جو سب کے سب یکے بعد دیگرے زمین خدا میں شہدا خدا ہیں اور خدا کی مخلوقات پر اس کی حجت ہیں.(1)
9.عبد الصمد بن بشیر امام باقر(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت نے فرمایا: جب نبی(ص) پر وہ مرض طاری
ہوا جس میں آپ کی وفات ہوئی، آپ نے علی(ع) سے فرمایا: اے علی(ع) ! میرے قریب آئو تاکہ میں تمہیں وہ راز بتا دوں جو اللہ نے مجھے بتایا ہے اور وہ امانت دیدوں جو اللہ نے مجھے دی ہے تو پیغمبر(ص) نے علی(ع) کو اور علی نے حسن کو اور حسن نے حسین کو اور حسین نے علی ابن الحسین(ع) کو اور میرے والد علی ابن الحسین(ع) نے مجھے اس طرح سے ہر ایک نے اپنے بعد والے کو اسرار امامت تعلیم فرمائے اور امانت حوالے کی.(2)
10. سلیم شامی کی حدیث ہے جسے انہوں نے علی(ع) کو کہتے ہوئے سنا میری اولاد میں ہونے والے میرے اوصیاء ہدابت یافتہ امام ہیں ہم سب کے سب محدث ہیں میں نے پوچھا یا امیرالمومنین وہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا حسن اور حسین پھر میرا بیٹا علی ابن الحسین علیہم السلام ( راوی کا بیان ہے کہ علی ابن الحسین(ع) اس وقت شیر خوار تھے) پھر امام نے ایک ایک امام کا تذکرہ آخر الزمان قائم آل محمد تک کیا.(3)
11.محمد بن مسلم کی حدیث میں ہے وہ کہتے ہیں میں نے امام صادق(ع) سے پوچھا کہ
.....................................
1.اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج3، ص35. نعمانی صاحب کی الغنیہ، ص73.
2. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج2، ص300. بصائر الدرجات، ص398. الھداۃ الکبری، ص243.
3.اثبا الہداة بالنصوص والمعجزات، ج2، ص499. انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں؛ بحار الانوار ، ج26، ص79. بصائرالدرجات، ص392. الاختصاص، ص329.
امام حسین(ع) کی انگوٹھی کس کے پاس گئی فرمایا امام حسین(ع) نے اپنے فرزندعلی ابن الحسین(ع) کو وصیت کی اور اپنی انگوٹھی ان کی انگلی میں پہنائی اور امامت کی ذمہ داری ان کے حوالے کی جیسا کہ پیغمبر(ص) نے علی کے حوالے کیا تھا اور علی نے حسن کے حوالے کیا تھا اور حسن نے حسین کے حوالے. پھر وہ انگوٹھی میرے والد ماجد محمد ابن علی کے پاس آئی انہوں نے مجھے دیا میں اپنے بیٹے کو دوں گا او یہ سلسلہ بارہویں امام تک پہنچے گا ویسے وہ انگوٹھی ابھی میرے پاس ہے.(1)
12. سلیم ابن قیس کی حدیث ہے وہ کہتے ہیں میں امیرالمومنین(ع) کی وصیت کے وقت موجود تھا آپ نے اپنا
وصی امام حسن(ع) کو بنایا اور وصیت کا شاہد امام حسین(ع) کو ان کے ساتھ ہی محمد حنفیہ موجود تھے. اور آپ(علی) کی تمام اولاد اور رئوسائے شیعہ علی کے اہل بیت(ع) بھی پھر امیرالمومنین نے امام حسن(ع) کو کتاب اور اپنا اسلحہ عنایت فرمایا اور کہا: اے فرزند! رسول اللہ(ص) نے مجھے وصیت کی تھی کہ میں تمہیں اپنا وصی بنائوں اور اپنی کتابیں اور اسلحہ تمہیں دے دوں جس طرح پیغمبر(ص) نے مجھے وصی بنایا تھا اور اپنی کتابیں اور اسلحہ میرے حوالے کیا تھا. میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ جب تمہاری موت کا وقت آئے تو یہ اسلحہ اور کتابیں اپنے بھائی حسین(ع) کے حوالے کرنا اور انہیں اپنا وصی بنانا. پھر امیر کائنات(ع) اپنے بیٹےحسین(ع) کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: پیغمبر(ص) نے حکم دیا ہے کہ تم اپنے اس بیٹے کو یہ چیزیں دے دینا.( اور اشارہ کیا علی ابن الحسین(ع) کی طرف) پھر امیرالمومنین(ع) نے علی ابن الحسین(ع) کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا اے فرزند! رسول نے یہ حکم دیا ہے کہ تم یہ چیزیں اپنے بیٹے محمد کے حوالے کر دینا اور انہیں رسول کا میری طرف سے سلام کہہ دینا.(2)
13. جابر کی حدیث بھی اسی مضمون کی کچھ اضافہ کے ساتھ ہے.(3)
................................
1.بحار الانوار، ج46، ص17؛ امالی شیخ صدوق، ص207.208.
2.کافی، ج1، ص297و298.انہیں الفاظ کے ساتھ ان کتابوں میں بھی موجود ہے: بحارالانوار، ج43، ص322. دعائم الاسلام، ج2، ص348. من یحضرہ الفقیہ، ج4، ص189. تہذیب الاحکام، ج9، ص176. کتاب سلیم بن قیس.
3.کافی، ج1، ص298.299. بحار الانوار، ج42، ص250.
14. مذکورہ دو حدیثوں کا مضمون امامحسن اور امام حسین سے امیر المومنین(ع) کی وصیت، نیز علی بن الحسین(ع) کےلئے امام حسین(ع) کی وصیت میں اور پھر اس وصیت کا محمد باقر(ع) تک منتقل ہونے کے سلسلے میں ایک اور حدیث امام جعفرصادق(ع) ملتی ہے جو ابو جارود سے مروی ہے اس کے آخر میں ہے کہ امام حسین(ع) معرکہ کربلا میں وقت شہادت کے قریب پہنچے تو آپ نے اپنی بڑی بیٹی فاطمہ بنت الحسین(ع) کو بلایا اور کتاب مذکور جو ملفوف تھی ان کے حوالے کر کے ظاہری وصیت بھی کی چونکہ اس وقت تو علی ابن حسین(ع) ظاہرا ہوش میں نہیں تھے، صاحب فراش تھے. اور اپنے مرض کی وجہ سے باہر نہیں نکل سکتے تھے مگر خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہے تھے. بہر حال فاطمہ بنت الحسین(ع) نے وہ کتاب علی بن حسین(ع) کو دی پھر بخدا وہ کتاب مجھ تک پہنچی.(1) اسی حدیث کو ایک دوسرے رخ سے اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ جب امام حسین(ع) کو معرکہ کربلا کا سامنا کرنا پڑا اور وقت شہادت قریب آیا تو آپ نے اپنی صاحبزادی فاطمہ کبری بنت الحسین(ع) کو بلایا اور اپنی ایک لپٹی ہوئی کتاب اور ظاہری وصیت عنایت فرمائی اور فرمایا نور نظر اس کو تم اپنے پاس رکھو اور میرےسب سے بڑے بیٹے کو دیدینا، جب علی بن حسین(ع) واپس ہوئے تو فاطمہ کبری نے وہ امانت بھائی کو دیدی، اور وہ اب ہمارے پاس موجود ہے.(2)
15. اسی کے قریب المعنی حدیث حمران کی بھی ہے جو جعفر صادق(ع) سے ہے.(3)
16.معلے بن خنیس جعفر صادق(ع) سے روایت کرتے ہیں جس میں حضرت نے فرمایا : بیشک کتب امامت امیرالمومنین(ع) کے پاس تھیں، جب امیرالمومنین(ع) عراق جانے لگے تو آپ نے وہ کتابیں ام سلمہ کے حوالے کر دیں، جب مولائے کائنات کی شہادت ہوگئی تو وہ کتابیں حسن(ع) کے پاس تھیں حسن(ع) کی موت کے وقت حسین(ع) کے پاس آئیں حسسین(ع) جب شہید ہونے لگے تو آپ نے علی بن الحسین(ع) کو دیدیا پھر وہ کتابیں میرے والد ماجد کے پاس آئیں.(4)
....................................
1.کافی، ج1، ص290.291.
2.بحار الانوار،ج26، ص50
3.کافی، ج1، ص235. بحار الانوار، ج26، ص207.
4.بحار الانوار، ج26، ص50. بصائر الدرجات، ص182.187.
17. عمر ابن ابان کی حدیث بھی اسی مضمون کی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ علم اور امامت کے وارث امام جعفر صادق(ع) ہیں. عمر بن ابان کہتے ہیں: میں نے ابو عبداللہ سے پوچھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ وفات پیغمبر(ص) کے وقت
پیغمبر(ص) نے ایک مہر شدہ صحیفہ ام سلمہ کو دیا تھا امام نے کہا کہ جب پیغمبر(ص) وفات پاگئے تو آپ کے علم اور اسلحہ اور وہاں جو کچھ تھا سب کے وارث امیرالمومنین(ع) ہوئے پھر امام حسن(ع) پھر امام حسین(ع) میں نے کہا پھر میراث علی بن الحسین(ع) تک پہنچی پھر محمد بن علی(ع) تک جو آپ کے والد تھے آپ تک پہنچی فرمایا: ہاں.(1)
18. علاء بن سیابہ کی حدیث میں بھی قریب قریب یہی مضمون ہے(2)
19.اسی طرح کا مضمون دوسری حدیث میں ہے جو فیض بن مختار سے مروی ہے کہ امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا یہ وصیت امام موسی کاظم(ع) تک پہونچے گی(3) ، موسی کاظم(ع) کی امامت پر جب نصوص پیش کی جائیں گی تو اس کا تذکرہ آئے گا انشائ اللہ.
ان تمام حدیثوں کے باوجود کچھ ایسی حدیثیں بھی ہیں جن میں تنہا امام حسن(ع) کی امامت پر نص ہیں ویسے تو حدیثوں کی زبان میں امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) ایک ساتھ اتنی مرتبہ آئے ہیں کہ دونوں نام کو ایک کر کے حسنین(ع) بولا جانے لگا ہے لیکن امام حسن(ع) کی انفرادی حیثیت بھی ہے اور آپ کی امامت اور فضائل میں انفرادی طور پر بھی حدیثیں وارد ہوئی ہیں. امیرالمومنین(ع) کی وصیت جو خاص امام حسن(ع) سے تھی وہ ایک واضح نص ہے.(4) اس کے علاوہ ابو سعید عقیص سے ایک
....................................
1.کافی، ج1، ص235.236. بصائر الدرجات، ص206. روضتہ الواعظین، ص210، الارشاد، ج2، ص189.
2.بحار الانوار، ج26، ص209.
3.بحار الانوار، ج48، ص26.27، اختیار معرفتہ الرجال، ج2، ص642.643.
4.کافی، ج1، ص298. بحار الانوار، ج43، ص322. اثبات الھداة بالنصوص والمعجزات، ج5، ص130.140.
حدیث آئی ہے جس میں بیان کرتے ہیں! جب امام حسن(ع) نے معادیہ ابن ابی سفیان سے صلح کر لی تو لوگ ان کے پاس آئے اور آپ کے فیصلے پر اعتراض کیا. تو آپ نے فرمایا تم پر وائے ہو، تمہیں کیا معلوم کہ میں کیا جانتا ہوں! بخدا میں نے جو کچھ اپنے شیعوں کے حق میں کیا ہے وہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جس پرسورج چمکتا اور غروب ہوتا ہے. کیا تم نہیں جانتے کہ میں تمہارا واجب الاطاعت امام ہوں اور جوانان جنت کے سردارھ میں سے ہوں لوگوں نے کہا : ہاں آپ نے صحیح ارشاد فرمایا....(1)
اس کے علاوہ بھی دو باتیں قابل غور ہیں:
1. امام حسن(ع) نے امیرالمومنین(ع) کے بعد جو قیام کیا ظاہر ہے کہ یہ قیام بغیر نص کے ہو ہی نہیں سکتا. طائفہ ثالثہ میں اس طرح کی حدیثیں گزر چکی ہیں. اس کے علاوہ اس دور کے شیعوںکا آپ کی امامت پر اجماع ہے اور اس اجماع کی بنیاد بھی پیغمبر(ص) اور مولائے کائنات(ع) کی وارد شدہ نصوص پر ہے. آپ کی امامت اور آپ کے قیام بالحق کا اعتراف تو بعض جمہور اہل سنت نے بھی کیا ہے، ابن کثیر ائمہ اثنا عشر کے نام اور ان کا تعارف پیش کرتے ہیں اس لئے کہ امام بارہ ہوں گے یہ حدیث تو ان کے وہاں بھی مشہور اور معروف ہے. بہر حال ابن کثیر ب اماموں کو معین کرتے ہیں تو لکھتے ہیں: بارہ امام یوں ہیں پہلے تو چار خلیفہ ابوبکر عمر عثمان اور علی(ع) ان حضرات کی خلافت تحقیق شدہ ہے، پھر اس کے بعد امام حسن بن علی(ع) جیسا کہ ان کی خلافت واقع ہوئی اور ان کی خلافت کی تصریح مولائے کائنات علی(ع) نے کی تھی اور اپنا وصی قرار دیا تھا اور اہل عراق نے امام حسن(ع) سے بیعت کی تھی....(2)خود امام حسن(ع) کا وہ خطبہ جو آپ نے اپنے والد ماجد امیرالمومنین(ع) کی شہادت کے
..............................
1.اثبات الھداة بالنصوص والمعجزات، ج5، ص128. کمال الدین و تمام النعمہ، ص316، کفایہ الاثر، ص225. الاحتجاج، ج2، ص9. بحار الانوار، ج44، ص19. ج15، ص132.
2.البدایہ والنہایہ، ج6،ص249. وہ روایتیں جو کہتی ہیں کہ امام بارہ ہوں گے اور سب کے سب قریش سے ہوں گے.
بعد دیا تھا وہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس وقت امامت و خلافت صرف آپ کا اور آپ کے اہل بیت(ع) کا حق تھا، چنانچہ اس خطبہ میں فرماتے ہیں : اے لوگو جو مجھے پہچانتا ہے وہ پہچانتا ہے اور جو مجھے نہیں پہچانتا ہے وہ جان لے کہ میں حسن بن علی(ع) ہوں میں فرزند نبی(ص) ہوں، میں فرزند وصی ہوں، میں فرزند بشیر ہوں میں فرزند نذیر ہوں، میں اس کا بیٹا ہوں جو خدا کی طرف اجازت خدا سے بلانے والا ہے ، میں روشن چراغ کا فرزند ہوں، میں اہل بیت(ع) میں سے ہوں وہ اہل بیت(ع) جس پر جبرئیل نازل ہوتے ہیں اور جن کے پاس جبرئیل آسمانوںپربلند ہوتے ہیں، میں الل بیت(ع) میں سے ہوں جن سے اللہ نے ہر برائی کو دور رکھا ہے اور ایسا پلک و پاکیزہ کیا ہے جیسسا کہ پاک رکھنے کا حق ہے، میں ان اہل بیت(ع) میں سے ہوں جس کی محبت اللہ نے مسلمانوں پر فرض کی ہے، اسی سلسلہ میں خدا فرماتا ہے “ اے حبیب آپ کہہ دیں کہ میں تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے قرابت داروں سے محبت کرو اور جو نیکی کرے گا ہم اس کی نیکی میں اضافہ کریں گے” اور نیکی سے مراد ہم اہلبیت(ع) سے محبت ہے.(1) اور ابن عباس کے بارے میں ہے کہ جب امام یہ خطبہ دے چکے تو ابن عباس نے اٹھ کے لوگوں سے کہا: اے لوگو! یہ تمہارے نبی کے فرزند اور تمہارے امام کے وصی ہیں تم ان کی بیعت کرو یہ سنتے ہی لوگوں نے بیعت کی.(2)
دوسری روایت میں یوں ہے کہ آپ نے خطبے میں فرمایا: میرے حبیب میرے جد رسول
..................................
1.المستدرک علی الصحیحین، ج3، ص188. کتاب معرفتہ الصحابہ، حسن بن علی ابی طالب کے فضائل ان کی ولادت و شہادت انہیں الفاظ میں ہے. الندیہ الطاہرہ، ص74. ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی، ج1، ص138. اس صفحہ پر کچھ امام حسن(ع) کے فضائل سے متعلق کچھ باتیں ذکر کی ہیں اس میں حضرت علی(ع) کی شہادت پر امام حسن(ع) نے خطبہ دیا ہے ابھی نقل کیا ہے. مقاتل الطالبین، ص33. شرح نہج البلاغہ، ج16، ص30. نظم دار السمطین، ص147. ینابیع المودة، ج1، ص40.41. ج2، ص212.213. ج3، ص363.364، بحار الانوار، ج43، ص361.اور دوسرے مصادر بھی ہیں.
2.الارشاد ، ج2، ص18. اعلام الوری فی اعلام الہدی، ص407. بحار الانوار، ج43، ص362.
اللہ(ص) نے فرمایا تھا کہ صاحبان امر 12 امام ہوں گے جو آپ کے اہل بیت(ع) اور چنندہ افراد میں سے ہوں گے ان میں سے ہر ایک یا مقتول ہوگا یا مسموم.(1)
دوسری بات یہ ہے کہ آپ کے بھائی امام حسین(ع) ( جو اس وقت موجود تھے انہوں) نے آپ کی امامت قبول فرمائی تھی. اس لئے وہ تمام حدیثیں امام حسن(ع) کی امامت پر دالات کرتی ہیں جو امام حسین(ع) کی امامت پر دلالت کرتی ہیں چاہے وہ نبی(ص) سے وارد ہوئی ہوں یا مولا علی(ع) سے.
1.جو حدیثیں پیغمبر(ص) سے اس موضوع کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں اور بتاتی ہیں کہ امامت آپ کی ذریت میں ہوگی، ان کی دو قسمیں ہیں
ایک مجموعہ ان حدیثوں کا ہے جن میں امام علی(ع)، حسن(ع) اور حسین(ع) اور ذریت حسین(ع) کی امامت پر نص وارد ہوتی ہے اور یہ حدیثیں مجموعہ ثانیہ اور ثالثہ میں گذر چکی ہیں البتہ ان حدیثوں میں امام حسین(ع) کی امامت پر خاص طور سے نص نہیں ہے.
حدیثوں کا دوسرا مجموعہ ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ امامت ذریت حسین(ع) سے مخصوص ہے اور امامت اولاد حسین(ع) ہی میں رہے گی اور یہ حدیثیں بھی بہت زیادہ ہیں.(2)
البتہ ان میں سے اکثر حدیثیں خود انہیں اثنا عشر ائمہ سے وارد ہوئی ہیں جو آپ کی اولاد میں سے ہیں اس لے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان حدیثوں سے احتجاج صحیح نہیں ہے اس لئے کہ ان حدیثوں سے احتجاج ان کی امامت کی فرع ہے لیکن یہ اعتراص اس لئے قابل توجہ نہیں ہے کہ ان میں اکثر حدیثیں وہ ہیں جو نبی(ص) سے مروی ہیں اور ان حضرات نے یہ دعوی اپنی طرف سے نہیں
......................
1.بحار الانوار، ج43، ص364.
2.بحار الانوار، ج25،ص254. 255. ج43، ص245.254.ج44، ص221.222.232.233.234.
کیا ہے. یہ بات بوی مسلم ہے کہ ان حضرات کی روایتیں صداقت اور دوسری جہتوں کے لحاظ سے کسی سے بھی کم نہیں ہیں بلکہ غیروں سے کہیں زیادہ بلند مرتبہ اور رفیع الشان ہیں جیسا کہ میں نے کئی بار عرض کیا ہے پھر آیندہ یہ بھی دیکھیں گے کہ ان حضرات کا دعوی کتنا اہم ہے.بہر حال جو بھی ہو یہ نصوص اگرچہ صراحتہ امامت حسین(ع) پر دلالت نہیں کرتی لیکن ان کی امامت پر دلالت بطور ملازمت ہے اس لئے کہ یہ بات واضح ہے کہ ان کی ذریت کو امامت مل ہی نہیں سکتی جب تک حسین(ع) کی طرف انتقال امامت نہ ہو جیسا کہ باقی نصوص میں صراحت کی گئی ہے.
2.کچھ خاص حدیثیں بھی اس مقام پر نقل کی جارہی ہیں جیسے مفض بن عمر کی حدیث ہے جس میں مفضل بن عمر نے بیان کیا ہے کہ امام حسن(ع) نے اپنے بھائی محمد بن حنفیہ کے پاس پیغام بھیجا اور تاکید فرمائی کہ میری شہادت کے بعد وہ امام حسین(ع) کی امامت کو تسلیم کر لیں اور محمد بن حنفیہ نے آپ کی اس بات کو تسلیم اور امام حسین(ع) کی فضیلت کا اعتراف کیا آپ کخ رفعت مقام کو قبول کیا اور ایک روایت بیان کی جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ نے سرکار دو عالم کو اختیار دیا تھا کہ حضور ابراہیم ( اپنے فرزند) کو باقی رہنے دیں جو آگے چل کے امام ہوں یا امام حسین(ع) کو امامت کے لئے باقی رہنے دیا جائے ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے اب امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) کی امامت میں شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی حسین(ع) کی ذریت میں نو امام(ع) کی امامت پر روایتیں:
اب وہ نصوص پیش کی جاتی ہیں جن میں بتایا گیا کہ باقی ائمہ اثناعشر کون ہوں گے میں نے اس کے پہلے بہت سی حدیثیں مقام استدلال میں پیش کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ باقی نو امام ذریت حسین(ع) سے ہیں اور یہ نصوص طاہرہ اس کثرت سے پائی جاتی ہیں جن کو حد تواتر حاصل ہے.
ان حدیثوں میں کچھ حدیثیں وہ ہیں جن میں قرآن مجید کی آیتوں سے استدلال کیا گیا ہے جیسے اولو الارحام... صاحبان رجم دوسرے کے وارث ہیں. کتاب خدا پر اللہ ہر چیز کا جاننے
والا ہے. اس آیت سے مراد یہ ہے کہ امام سابق سے امامت لاحق کی طرف منتقل ہوتی ہے جو اس امام سے اقرب ہے وہ اس امام سابق کا ولد صلبی ہے یہ الگ بات ہے کہ امام حسین(ع) کے پہلے یہ قاعدہ جاری نہیں تھا اس لئے کہ آیت تطہیر نے آکے امامت کے ارد گرد ایک دائرہ کھینچ دیا تھا اور نبی نے قرآن مجید کی اس آیت اور اس کی تفسیر میں ارشاد فرمایا تھا کہ مولا علی(ع) امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) امام ہیں جیسا کہ آپ نے دوسری حدیثوں میں ان تینوں بزرگواروں کو امامت کا اعلان عام کر دیا تھا اور فرمایا تھا کہ ایک دوسرے پر کسی کو فوقیت حاصل نہیں مگر رتبہ اور سن کے اعتبار سے.اولوالارحام والی آیت نازل ہونے کے بعد امیرالمومنین(ع) کو بھی یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) کے علاوہ کسی اور کی امامت پر نص کرتے اس لئے کہ آپ کی اولاد میں صرف انہیں دونوں کو امامت کا حق حاصل تھا اس لئے آیت تطہیر اور حدیث پیغمبر(ص) سے ان حضرات کی امامت پر نص وارد ہوچکی تھی.اسی طرح امام حسن(ع) کو بھی اس بات کا حق حاصل نہیں تھا کہ وہ اپنی اولاد میں سے کسی کی امامت پر نص فرماتے اس لئے کہ خدا اور نبی(ص) کی طرف سے ایک امام منصوص یعنی امام حسین(ع) موجود تھے.لیکن امام حسین(ع) جب شہادت کی طرف بڑھ رہے تھے تو آپ کی امامت میں مذکورہ نص کے اعتبار سے کوئی شریک نہیں تھا کہ جسے آپ امام بننے سے منع کرتے اور اس کے حق میں آیہ قرآنی کو جاری ہونے سے روکتے لہذا یہ بات طے ہوگئی کہ صلب حسین(ع) میں امامت منتقل ہوگی اس لئے کہ آیہ کریمہ اولو الارحام اولی... کا تقاضا یہی تھا اور اس پر عمل کرنے میں کوئی رکاوٹ بھی نہیں تھی.
آیہ وافی ہدایتہ( واولو الارحام....) سے عوام الناس انہیں بھی ذریت حسین(ع) کی امامت پر دلیل دیتے ہیں جن تک باقی ائمہ اثنا عشر کے اسماء گرامی کی صراحت والی حدیثیں نہیں پہونچ سکیں کیونکہ وہ حدیثیں ظہور اور شہرت کے لحاظ سے ان حدیثوں کی طرح نہیں ملتی جیسی مولا علی(ع) اور
حسنین(ع) کے اسماء مبارکہ کے لئے ملتی ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان حصرات کی امامت پر کوئی دلیل نہیں ہیں میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ان حدیثوں کو ویسی شہرت حاصل نہیں ہے جیسی مولائے علی(ع) اور امام حسن(ع) و حسین(ع) کے بارے میں حدیثوں کو شہرت حاصل ہے خصوصا جب ہم دیکھتے ہیں آیت تطہیر کے نزول کے وقت یہ حضرات موجود تھے اور ان کا اہل بیت میں ہونا درجہ یقینی اور مسلم ہے جیسا کہ خاص اور عام نصوص طاہرہ ان حضرات کی امامت پر دلالت کرتی ہیں جیسے ثقلین اور وہ حدیثیں جن میں یہ مضمون ہے: امام بارہ ہوں گے اور سب کے سب ذریت نبی(ص) سے.
اسی طرح ان احادیث سے بخوبی واضح ہے کہ اولوالارحام والی آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ امامت، حسین(ع) کے بعد ان کی ذریت اور نسل کے درمیان جاری رہے گی، اور ہر امام سے ان کے بیٹے کی طرف منتقل ہوگی اس لئے کہ وہ اپنے باپ سے قریب تر ہے نہ کہ بھائی اور چچا زاد بھائیوں کی طرف. اور ائمہ ہدی(ع) سے نصوص کا فیضان بھی اسی دعوے پر نص ہے.(1)
جب آپ کی سمجھ میں یہ بات آگئی تو اب ہم ان نو اماموں کے بارے میں جو ذریت حسین(ع) میں ہیں ایک ایک کر کے سب کی امامت پر حدیثیں پیش کرنا چاہتے ہیں اور آپ ان حدیثوں میں ان نصوص کا اضافہ کر لیجئے گا جن میں ائمہ اثنا عشری کے اسمائ مبارکہ کی صراحت کی گئی ہے اور میں نے اسے چوتھے گروہ میں ذکر کیا ہے.
امام زین العابدین علی بن الحسین(ع) کی امامت پر ابھی 19/عدد حدیثیں گذر چکی ہیں ان حدیثوں میں امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) کی امامت پر نص کے ساتھ علی ابن الحسین(ع) کی امامت پر بھی نص ہے. 19/ حدیثیں تو وہ ہیں جن میں آپ کے نام کی صراحت کی گئی ہے اور وہ حدیثیں ایسی ہیں جن میں آپ کے نام کی طرف اشارہ ہے لیکن تصریح نہیں کی گئی ہے لہذا ان حدیثوں
...............................
1.الکافی، ج1،ص285.286.بحارالانوار، ج25، ص249.261. اور دوسرے بھی مصادر اس سلسلے میں ہیں.
کو نظر میں رکھتے ہوئے کچھ حدیثوں کا اضافہ کیا جارہا ہے.
1.فضیل کی حدیث امام محمد باقر(ع) سے ہے جس میں امام فرماتے ہیں کہ جب امام حسین(ع) عراق جانے لگے تو ام المومنین ام سلمہ کو کتاب دی وصیت کی نیز دوسرے اسرار امامت کے حوالے کئے اور یہ فرمایا کہ جب میرا سب سے
بڑا بیٹا آپ کے پاس آئے تو جو کچھ میں نے آپ کو دیا ہے اس کے حوالے کر دیجئے گا جب امام حسین(ع) کی شہادت ہوگئی اور لٹا ہوا قافلہ مدینہ واپس آیا تو ام سلمہ نے علی ابن الحسین(ع) کو وہ امانتیں ودیعت کیں.(1)
2.اسی طرح کی حدیث ابو بکر حضرمی سے ہے لیکن وہ جناب جعفر صادق(ع) کے ارشادات پر مبنی ہے.(2)
ابھی گذشتہ صفحات میں ابو جارود کے حوالے سے ایک حدیث گذر چکی ہے جو امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) کی امامت پر نص تھی اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ امام حسین(ع) نے فاطمہ بنت حسین(ع) کے حوالے وصیت کی تھی تاکہ وہ علی بن الحسین(ع) کو آپ کی شہادت کے بعد دیدیں. بظارہ دونوں روایتوں میں اختلافات بلکہ منافات نظر آتا ہے جب کہ ایسا نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے کہ امام حسین(ع) نے دو وصیتین کی ہوں ایک ظاہری وصیت جس کا امانت دار فاطمہ بنت الحسین(ع) تھیں اور دوسری باطنی وصیت جس کی امانت دار ام سلمہ تھیں.
3.یہ حدیث محمد بن وہبان سے ہے انہوں نے احمد بن محمد بن شرقی سے انہوں نے احمد بن ازہر اللہ بن عتبہ سے نقل کیا کہ ابن عتبہ کا بیان ہے کہ میں حسین ابن علی(ع) کی خدمت میں تھا اسی وقت علی ابن الحسین(ع) جو ابھی کمسن تھے تشریف لائے امام حسین(ع) نے انہیں اپنے پاس بلایا اور سینے سے لگایا دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا پھر فرمایا : میرے باپ تم پر قربان ہوں، تمہاری
..........................................
1.بحار الانوار، ج46، ص18؛ شیخ طوسی کی کتاب الغنیہ، ص195.196.
2.الکافی،ج1، ص304، بحار الانوار، ج46، ص19؛ ابن شہر آشوب کی کتاب المناقب، ج3، ص 308؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج1، ص483.
خوشبو کتنی پاک ہے اور تمہارے عادات و اطوار اور اخلاق کتنے اچھے ہیں! تم اپنی خوشبو اور حسن اخلاق میں مجھے حصہ دار بنائو. عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا اے فرزند رسول میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اگر خدا نخواستہ آپ کو کچھ ہوگیا تو ہم کس کی طرف رجوع کریں گے. فرمایا: میرے اسی فرزند ( علی بن الحسین(ع)) کی طرف میرا یہ بیٹا ابوالائمہ ہے میں کہا مولا یہ تو ابھی بہت چھوٹے ہیں فرمایا: ہاں لیکن اس کا فرزند محمد جب اس کی تکمیل کرے گا اس قت وہ نو سال کا ہوگا پھر خاموش ہو جائے گا اور وہ علم کو یوں شگافتہ کرے گا جیسا کہ شگافتہ کرنے کا حق ہے.(1)
4.جعفر بن زید بن موسی(ع) اپنے والد سے وہ اپنے آباء طاہرین سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن ام اسلم نبی کی خدمت میں حاضر ہوئیں اس وقت آپ ام اسلم کے گھر میں تھے ام اسلم نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یا رسول اللہ(ص) میں نے کتابوں میں پڑھا ہے اور جانتی ہوں کہ، نبی کا وصی ہوتا ہے تو آپ کا وصی کون ہے؟ آپ نے فرمایا: اے ام اسلم جو میرے فعل و کردار کا مالک ہو وہی میرا وصی ہوگا پھر آپ نے زمین سے تھوڑے کنکر اٹھائے انہیں دست مبارک میں رکھ کے مل دیا وہ آٹے کی طرح ہوگئے آپ نے اس کو گیلا کر کے اس پر اپنی انگوٹھی سے مہر لگا دی فرمایا جو یہ عمل کرے ہی میر وصی ہوگا میری زندگی میں بھی اور میرے مرنے کے بعد بھی ام اسلم کہتی ہیں میں وہاں سے نکلی اور امیرالمومنین(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، وصی پیغمبر(ص) کون ہے؟ فرمایا ہاں ابھی بتاتا ہوں آپ نے زمین پر پڑے ہوئے کنکروں پر ہاتھ مارا اور وہ آٹے کی طرح صفوف ہوگئے آپ نے اس کو گوندھ کے اس پر اپنی انگوٹھی کی مہر لگا دی اور فرمایا ام اسلم جو یہ عمل کرے وہی وصی ہے. کہتی ہیں پھر میں امام حسن(ع) کی خدمت میں آئی اور میں نے کہا: کیا آپ ہی اپنے باپ کے وصی ہیں؟ تو آپ نے بھی اپنے بزرگوں کی طرح کیا پھر میں امام حسین(ع) کی خدمت میں آئی میں آپ کو ابھی بچہ ہی سمجھتی تھی بہر حال میں نے پوچھا مولا
.....................................
1.بحار الانوار، ج46، ص19؛ کفایتہ الاثر، ص234.235.
کیا آپ اپنے بھائی کے وصی ہیں میرے باپ ماں آپ پر قربان ہوں. امام حسین(ع) نے فرمایا : میں اپنے بھائی کا وصی ہوں اے ام اسلم آپ کنکر مجھے دیں میں ثابت کروں گا پھر آپ نے بھی وہی عمل انجام دیا جو آپ کے بزرگوں نے انجام دیا تھا.
جب ام اسلم بوڑھی ہوگئیں یہاں تک کہ شہادت امام حسین(ع) کے بعد زین العابدین(ع) کا زمانہ آیا اور ام اسلم زین العابدین(ع) کی خدمت میں پہونچیں تو انہوں نے پوچھا آپ کے والد کا وصی کون ہے کیا آپ ہیں؟ فرمایا: ہاں اور آپ نے وہی عمل انجام دیا جو آپ کے آباء طاہرین(ع) نے انجام دیا تھا.(1)
حالانکہ اس طرح کی روایتیں معجزات و کرامات کے ذیل میں آتی ہیں لیکن میں نے نصوص کے ذیل میں اس روایت کو اس لئے داخل کیا ہے کہ معجزہ اور کرامت، امامت اور صاحب منصب الہی ہونے پر بہت بڑی نص ہے.
5.اسی طرح حبابتہ الوالبیہ کی ایک حدیث ہے حبابہ کہتی ہیں: میں نے امیر المومنین علی بن ابی طالب(ع) کو شب جمعہ میں دیکھا پھر میں امام کے پیجھے پیچھے چلی یہاں تک کہ آپ صحن مسجد میں جا کے بیٹھ گئے. میں نے آپ سے عرض کیا اے امیرالمومنین(ع)! خدا آپ پر رحم کرے امامت کی دلیل کیا ہے. فرمایا: اے حبابہ ذرا زمین پر پڑے ہوئے وہ کنکر تو اٹھانا میں نے کنکر اٹھا کے آپ کو دیئے آپ نے ان کنکروں کو دست مبارک میں لیا اور مٹھی میں لیکے مجھے واپس کیا تو میں نے دیکھا ان کنکروں پر آپ کی مہر ہوچکی تھی اور مہر مبارک کا نقش ابھر چکا تھا.
امیرالمومنین(ع) نے فرمایا: اے حبابہ! جب کوئی امامت کا دعوی کرے تو تم اس سے یہی دلیل مانگنا اس لئے کہ امام مفترض الطاعہ اپنے ہر ارادے کو عمل میں بدلنے کی قدرت رکھتا ہے اس کے لئے کوئی چیز بھی بعید مشکل نہیں ہے.
..................................
1.الکافی، ج1، ص355.356. اسی روایت کو دوسری سندوں کے ساتھ جس میں سند جمہور بھی شامل ہے اس سے بھی زیادہ تفصیل کے ساتھ بحار الانوار، ج25، ص185.190 میں لکھا ہے.
حبابہ کہتی ہیں میں انتظار کرتی رہی یہاں تک کہ امیرالمومنین(ع) کی شہادت ہوئی اور امام حسن(ع) کا دور آیا ایک دن میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ وہیں بیٹھے تھے جہاں اس دن میں نے امیر المومنین(ع) کو بیٹھے ہوئے
دیکھا تھا لوگ آپ سے مسائل پوچھ رہے تھے. آپ نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا حبابہ. میں نے کہا مولا حاضر ہوں. فرمایا تمہارے پاس جو ہے مجھے دیدو میں نے کنکر آپ کی خدمت میں پیش کئے آپ نے ان کنکروں پر اپنی مہر کر دی جس طرح سے امیر کائتات نے کی تھی. حبابہ کہتی ہے اس کے بعد میں امام حسین(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئی اس وقت آپ مسجد نبوی(ص) میں تشریف رکھتے تھے آپ نے مجھ کو قریب بلایا اور نزدیک بٹھاتے ہوئے فرمایا کے اے حبابہ دلالت ہی میں دلیل ہے اس چیز کی جس کو تم چاہتی ہو. کہ تم امامت کی دلیل چاہتی ہو. میں نے عرض کیا مولا یہی بات ہے. فرمایا تمہارے پاس جو کچھ ہو لائو میں نے کنکر پیش کئے آپ نے ہاتھ میں لیا اس پر مہر کا نقش ابھر گیا پھر مجھے واپس کردیا.
حبابہ کہتی ہیں جب امام زین العابدین(ع) کا دور آیا اس وقت میں بہت بوڑھی ہوچکی تھی میرے جسم میں رعشہ پڑ گیا تھا اور عمر ایک سو تین سال کی ہوچکی تھی ہانپتی کانپتی خدمت امام میں پہونچی تو دیکھا امام زین العابدین(ع) رکوع و سجود میں مصروف ہیں مجھے زیادہ دیر تک کھڑا ہونا مشکل تھا میں دلالت ( ثبوت کی فراہمی) سے مایوس ہوکر واپس پلٹی اتنے میں امام نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا اسی وقت میرا شباب پلٹ پڑا میں جوان ہوچکی تھی میں نے امام سے پوچھا مولا دنیا کتنی گذر گئی اور کتنی باقی ہے فرمایا حبابہ جہاں تک گذرنے کا سوال ہے تو جو گذر گیا ٹھیک ہی تھا لیکن اب دنیا میں باقی تو کچھ نہیں ہے. پھر فرمایا حبابہ تمہارے پاس جو کچھ ہے لائو میں نے کنکر خدمت میں پیش کئے آپ نے اس پر مہر لگا کر مجھے دے دیا.
حباب کہ تی ہیں پھر میں ابو جعفر(ع) محمد باقر(ع) اور ابو عبداللہ جعفر صادق(ع) ابوالحسن(ع) موسی کاظم(ع) اور امام علی رضا(ع) کی خدمت میں پہونچی اور سب نے اپنے آباء طاہرین(ع) کی طرح ان کنکروں پر
اپنی مہر لگا دی.(1)
شیخ کلینی فرماتے ہیں: امام علی رضا(ع) کے دور میں حبابہ صرف نو سال زندہ رہیں جیسا کہ محمد بن ہشام کا بیان ہیں.
6. ان دونوں حدیثوں کی طرح ایک حدیث ابو ہاشم جعفری کی بھی ہے جس کو انشاء اللہ اس وقت پیش کیا جائے گا جب امام حسن عسکری(ع) کی امامت پر نصوص پیش کی جائیں گی.(2)
7. امام باقر(ع) سے یہ روایت متعدد اسناد سے ذکر ہوئی ہے محمد بن حنفیہ اور زین العابدین(ع) کے درمیان مسئلہ امامت پر خلوت میں ایک گفتگو ہوئی تھی جس میں آپ نے انہیں اس سلسلہ میں اختلاف کرنے سے منع کیا.
اس حدیث میں ہے کہ ان سے امام زین العابدین(ع) نے فرمایا اے چچا آپ مجھ سے اس چیز کا دعوی بالکل نہ کریں جس کا آپ کو حق نہیں ہے میں نصیحت کرتا ہوں کہ آپ جاہلوں کے گروہ میں شاملنہہوں. اے چچا میرخ والد بزرگوار نے عراق کی طرف متوجہ ہونے سے پہلے ہی مجھے وصی بنا دیا تھا شہادت سے ایک گھنٹہ پہلے مجھے یہ عہدہ سپرد کر دیا تھا. ثبوت کے طور پر یہ پیغمبر(ص) کا اسلحہ ہے جو صرف میرے پاس ہے بیشک خدائے عزوجل نے امام حسین(ع) کے بعد وصی اور امام مقرر فرمایا ہے اگرآپ اس بات کو جاننا چاہتے ہیں تو چلیں حجر اسود کے پاس چلتے ہیں اور اس کو حاکم بنا کے فیصلہ اس کے ہاتھ میں دیتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت امام برحق کون ہے
................................
1.الکافی، ج1، ص346.347. انہیں لفظوں کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں. بحار الانوار، ج25 ، ص175.177؛ کمال الدین و تمام النعمہ، ص536.537؛ ابن شہر آشوب کی مناقب، ج1، ص257؛ اعلام الوری باعلام الہدی، ج1، ص408.409؛ کشف الغمہ، ج2، ص157.
2.الکافی، ج1، ص347؛ بحار الانوار، ج50، ص302.303؛ شیخ طوسی کی الغنیہ، ص203.204. جناب ثاقب کی کتاب، مناقب ص561.562؛ الحزائح والجرائح، ج1، ص428؛ اعلام الوری باعلام الہدی، ج2، ص139؛ کشف الغمہ، ج3، ص228.229.
اس گفتگو کے بعد دونوں بزرگوار حجر اسود کے پاس پہونچے اور محمد حنفیہ نے دعا کے لئے ہاتھ بلند کئے پھر حجر اسود کو پکار کے پوچھا کہ اس وقت امام کون ہے حجر اسود نے کوئی جواب نہیں دیا پھر حضرت علی(ع) ابن الحسین(ع) نے دعا کی اور حجر اسود سے پوچھا میں تجھ سے اس خدا کا واسطہ دے کے پوچھتا ہوں جس نے تیرے اندر انبیاء اوصیاء اور تمام لوگوں کی میثاق قرار دی ہے تو ہم دونوں کو بتا کہ حسین بن علی(ع) کے بعد وصی اور امام کون ہے کہتے ہیں یہ جملہ سنتے ہی حجراسود میں جنبش ہوئی اور اتنی واضح حرکت ظاہر ہوئی کہ لگتا تھا حجر اسود اپنی جگہ چھوڑ دے گا پھر خداوند عالم نے حجر اسود کو فصیح اور واضح عربی زبان میں گویا کیا. حجر اسود نے کہا خدا کی قسم وصایت اور امامت حسین ابن علی(ع) کے بعد علی ابن الحسین(ع) بن علی بن ابی طالب(ع) اور ابن فاطمہ0ع) بنت رسول اللہ(ع) تک منتقل ہوچکی ہے. راوی کا بیان ہے کہ امام محمد باقر(ع) فرماتے ہیں یہ سن کے محمد بن حنفیہ وہاں سے اس حال میں اٹھے کہ ان کے دل میں علی ابن الحسین(ع) کی ولا تھی.(1)یہ واقعہ اتنا مشہور ہوا کہ سید حمیری نے اس واقعہ کو اپنی نظم کا زیور پہنایا اور اپنے شعار کو زینت دی ملاحظہ ہو.
ترجمہ اشعار:
1.مجھے زمانے کے بار بار بدلنے پر تعجب ہے اور صاحب بیان ابو خالد کے معاملے پر بھی.
2.اور اس پر جس نے امامت کے مسئلہ پر میں طیب و طاہر نور جنت سے بحث کی جب کہ بحث کی کوئی گنجائش نہیں تھی.
3. یعنی جب کہ علی بن الحسین(ع) سے ان کے چچا امانت واپس لینے میں کوئی تکلف اور نرمی نہیں رکھتے تھے.
4.حب انہوں نے حجر اسود کو حاکم بنایا تو اس نے ان کے سوال کا جواب نہیں دیا جبکہ علی(ع)
-----------------
1.الکافی، ج1، ص348؛ انہیں لفظوں کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں. بحار الانوار، ج46، ص111؛ بصائر الدرجات، ص522؛ مختصر بصائر الدرجات، ص15. احتجاج، ج2، ص46.47. اعلام الوری باعلام الہدی، ج1، ص485.
ابن الحسین(ع) کے سوال کا جواب دیدیا.(1)
یہ راویت اگرچہ از قسم کرامت و معجزات ہے اور اس میں امام سابق کی نص نہیں ہے لیکن حجر اسود کی طرف سے نص ہے حجر اسود وہ پتھر ہے جس نے انبیاء کی میثاق پورا کیا اور یہ وہ پتھرہے جو قیامت میں مبعوث ہوگا اور لوگوں کی
وعدہ وفائی کی گواہی دے گا لہذا یہ گواہی کسی بھی امام کی نص سے کسی طرح کمتر درجہ نہیں ہے.(2)
8.جناب جابر امام باقر(ع) سے ایک روایت کرتے ہیں جس میں امام زین العابدین(ع) کی والدہ گرامی کے امام حسین(ع) تک پہونچنے کی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے اس حدث میں ہے کہ امیرالمومنین(ع) نے ان سے پوچھا تمہارا نام کیا ہے عرض کیا میرا نام تو جہاں شاہ ہے. امیرالمومنین(ع) نے فرمایا نہیں بلکہ تمہارا نام شہر بانو ہے. پھر امام حسین(ع) سے فرمایا اے ابو عبداللہ اس خاتون سے تمہاری نسل میں اہل ارض کا سب سے بہتر انسان پیدا ہوگا.(3)
یاد رہے کہ شیعوں کے عقیدے کے مطابق زمین پر سب سے بہتر انسان امام وقت ہوتا ہے بلکہ بعض کتابوں میں یہ روایت یوں ہے کہ امیرالمومنین(ع) نے امام حسین(ع) کو خطاب کر کے فرمایا
................................
1.اعلام الوری باعلام الہدی ، ج1، ص486. ابن شہر آشوب کی کتاب مناقب ابی طالب، ج3، ص288.
2.مستدرک علی الصحیحین، ج1، ص628. اول کتاب مناسک، شعب الایمان، ج3، ص451. شرح زرقانی، ج2، ص408. اخبار مکہ، ج1، ص92. نصب الرایہ، ج3، ص38. تدوین فی اخبار قزوین، ج3، ص151. اس کے علاوہ اور بھی بہت سے مدارک اور منابع ہیں جیسے علل الشرائع، ج2،ص424.423. 425. 426. کمال الدین وتمام النعمہ، ص3. تہذیب الاحکام، ج5، ص102. مختصر بصائر الدرجات، ص218، 219، 220. امالی شیخ، ص477. ثاقب فی مناقب، ص349. بحار الانوار، ج5، ص245. 246.، ج30، ص690. ان کے علاوہ اور بہت سے منابع اور مدارک ہیں.
3. الکافی، ج1، ص466.467.؛ انہیں لفظوں کے ساتھ قلمبند کیا ہے. بحار الانوار، ج46، ص9 پر.
عنقریب اس خاتون سے تمہار وہ بیٹا ہوگا جو تمہارے بعد اہل زمین پر سب سے بہتر انسان ہوگا یہ خاتون ذریہ طیبہ کی ماں ہیں یہ اوصیاء کی مادر گرامی ہیں.(1)
خاص زین العابدین(ع) کی امامت پر اس وقت جلدی میں جو حدیثیں میسر ہوسکیں اسے میں نے پیش کر دیا اب اگر ائمہ اثنا عشری کی امامت کے سلسلہ میں جو حدیثیں دوسرے گروہ میں پیش کی گئی ہیں انہیں بھی اس مجموعہ میں شامل
کر لیا جائے تو 80 حدیثوں سے زیادہ ہوتی ہیں یعنی آپ کی امامت پر نصوص کی کثرت ہے اور اس استدلال کو نظر میں رکھیں کہ« وَ أُولُوا الْأَرْحامِ بَعْضُهُمْ أَوْلى بِبَعْضٍ » (2) یعنی اولوا الارحام میں سے بعض بعض کا وارث ہیں تو ظاہر ہے کہ ذریت حسینیہ کا انحصار امام زین العابدین(ع) کی ذات گرامی میں ہے اور امام حسین(ع) کی شہادت کے بعد آپ ہی امام حسین(ع) کے خلف اکبر ہونے کی وجہ سے قریب ترین وارث ہیں.
جن حدیثوں سے امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) کی امامت پر استدلال کیا گیا ہے ان میں 16/ حدیثیں تو وہ ہیں جن میں امام محمد باقر(ع) کے نام پر بھی صراحت ہے اور حدیثیں وہ ہیں جن میں آپ کے نام کی طرف اشارہ ہے. پھر حبابہ الوالبیہ کی حدیث جس کا ذکر چوتھے امام کی امامت میں ہوچکا ہے اس میں بھی امام محمد باقر(ع) کی امامت پر نص ملتی ہے. اور ابو ہاشم جعفری کی حدیث جو امام حسن عسکری(ع) کی امامت کے سلسلے میں آنے والی ہے اس میں بھی آپ کی امامت پر نص ہے ان حدیثوں کے علاوہ اب کچھ دوسری حدیثیں ملاحظہ فرمائیں:
.....................................
1.بحار الانوار، ج46، ص11.
2.سورہ انفال، آیت75.
1.عثمان بن خالد کہتے ہیں جس مرض میں زین العابدین(ع) کی وفات ہوئی اسی مرض کی حالت میں امام نے اپنی تمام اولاد کو جمع کیا آپ کے بیٹے محمد، حسن، عبداللہ، عمر، زید اور حسین آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے امام نے اپنے فرزند محمد بن علی کو اپنا وصی بنایا اور آپ کا لقب باقر قرار دیا اپنی اولاد کے تمام امور محمد باقر(ع) کے ہاتھ میں دیئے آپ نے اپنی وصیت میں جو نصیحت فرمائی تھی اس کے الفاظ یہ تھے ( اے فرزند بیشک عقل روح کو چلانے والی ہے)(1)
2.مالک بن اعین جہنی کی حدیث ہے کہ علی ابن الحسین(ع) نے ا پنے فرزند محمد بن علی(ع) کو اپنا وصی بنایا اور فرمایا اے فرزند میں اپنے بعد تم کو اپنا خلیفہ بناتا ہوں ہمارے بعد تمہارے درمیان جانشین کی حیثیت سے کوئی نہیں آئے گا مگر یہ کہ اللہ قیامت کے دن اس کر گردن میں آگ کا ایک طوق پہنا دے گا. میں اس بات پر کی خدا نے تمہیں میرا وصی قرار دیا ہے خدا کی حمد اور اس کا شکر کرتا ہوں اے فرزند تم بھی اپنے ولی نعمت کا شکر ادا کرو...(2)
3.زہری کی حدیث ہے کہ میں حضرت علی ابن الحسین(ع) کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ مرض موت میں گرفتار تھے اس کے بعد آپ کے فرزند جناب محمد بن علی(ع) حاضر ہوئے تو امام نے بہت دیر تک محمد باقر(ع) سے راز کی باتیں کی پھر فرمایا نور نظر تم پر حسن خلق واجب ہے. زہری کہتے ہیں میں نے زین العابدین(ع) سے پوچھا اے فرزند رسول(ص) اگر خدا نہ خواستہ کوئی ایسا واقعہ ہو جائے جس کو بہر حال ہونا ہے( یعنی آپ کی وفات ہوجائے) تو ہم کس کی طرف آپ کے بعد رجوع کریں؟ آپ اپنا خلیفہ کس کو بناتے ہیں؟ حضرت نے اپنے بیٹے محمد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اے ابوعبداللہ ( یہ زہری کی کنیت ہے) میرے اس فرزند کی طرف رجوع کرنا یہی میرا وصی، میرا وارث میرے علم کا راز دار اور میرے علم کا معدن ہے میں نے عرض کیا فرزند رسول آپ نے اپنے سب سے بڑے صاحبزادے کو کیوں نہیں وصی بنایا؟ فرمایا : اے ابو عبداللہ امامت کا معیار بزرگی
............................
1.بحار الانوار، ج46، ص330؛ کفایہ الاثر، ص239.240.
2.بحار الانوار، ج46، ص332، کفایتہ الاثر، ص241.243.
اور کمسنی نہیں ہے بلکہ پیغمبر(ص)نے ہم سے جس طرح جس کے بارے میں عہد لیا ہے ہم اسی عہد کے پابند ہیں ہم نے اسی طرح لوح اور صحیفہ میں لکھا ہوا پایا ہے ہم نے عرض کیا اے فرزند رسول پھر پیغمبر(ص) نے امامت کے عہد میں کیا تعداد مقرر کی ہے یعنی آپ کے کتنے اوصیاء ہوں گے؟ فرمایا : ہم نے صحیفہ اور لوح میں پایا ہے کہ 12 /بارہ اوصیاء ہیں ان کے اسماء گرامی اور ان کے آباء کرام کے اسماء گرامی لوح میں لکھے ہوئے ہیں پھر فرمایا صلب محمد(ص) سے سات اوصیاء ہونے والے ہیں انہیں میں مہدی موعود( صلواۃ اللہ علیہم اجمعین)(1)
4.عیسی بن عبداللہ نے اپنے باپ سے انہوں نے اپنے دادا سے سنا وہ کہتے ہیں: علی بن الحسین(ع) مرض موت میں اپنے بیٹوں کی طرف متوجہ ہوئے اس وقت آپ کی تمام اولاد موجود تھی، پھر آپ اپنے فرزند محمد بن علی(ع) کی طرف متوجہ ہوئے پس فرمایا اے محمد یہ صندوق تم لے لو اور اپنے گھر لے جائو اس میں درہم و دینار تو نہیں ہے، لیکن یہ علم سے بھرا ہوا ہے.(2)
5.اسی حدیث کے قریب المعنی اسماعیل بن محمد بن عبداللہ بن علی بن الحسین(ع) کی حدیث ہے کہتے ہیں امام ابو جعفر(ع) نے فرمایا: کہ امام زین العابدین(ع) نے کہا نور نظر یہ صندوق لے جائو. باقر(ع) کہتے ہیں اس صندوق میں پیغمبر(ص) کا اسلحہ تھا.(3)
6.عیسی بن عبداللہ بن عمر ابوعبداللہ الصادق(ع) سے راوی ہیں کہ اس صندوق میں پیغمبر(ص) کے اسلحے اور آپ کی کتابیں تھیں.(4)
7.ابوبصیر کہتے ہیں محمد باقر(ع) نے فرمایا کہ میرے والد ماجد نے جو وصیت مجھے کی تھی اس میں ہدایت بھی تھی کہ نور نظر جب میں مرجائوں تو مجھے تمہارے علاوہ کوئی غسل نہیں دے گا اس
.................................
1.بحار الانوار، ج46،ص332.333. کفایتہ الاثر، ص241.242.
2.کافی،ج1، ص304. انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں: بحار الانوار، ج46، ص229؛ بصائر الدراجات، ص185.
3.کافی، ج1، ص305. ابن شہر آشوب کی کتاب مناقب، ج3، ص341.
4.بحار الانوار، ج46، ص229؛ بصائر الدرجات، ص201.
لئے کہ امام کو غیر امام غسل نہیں دے سکتا.(1)
8.ابان بن عثمان امام صادق(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ایک حدیث میں فرمایا: جابر ایک بار علی بن حسین(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے وہاں پر ان کے فرزند جناب محمد بن علی(ع) بھی موجود تھے لیکن ابھی وہ کمسن تھے، جابر نے پوچھا مولا یہ کون ہے؟ فرمایا یہ میرا بیٹا ہے اور میرے بعد صاحب امر ہے اس کا نام محمد باقر(ع) ہے.(2)
9.ابوخالد کابلی کی ایک طویل حدیث ہے جس میں وہ زین العابدین(ع) سے روایت کرتے ہیں، ابوخالد کہتے ہیں میں نے امام سے عرض کیا: مولا امیرالمومنین(ع) سے یہ قول نقل کیا جاتا ہے کہ زمین خدا کے بندوں کے لئے حجت خدا سے خالی نہیں رہتی تو پھر آپ کے بعد امام اور خدا کی حجت کون ہوگا؟ فرمایا: میرا بیٹا محمد، توریت میں اس کا نام باقر ہے وہ علم کو یوں شگافتہ کرے گا جو کہ شگافتہ کرنے کا حق ہے، وہی میرے بعد حجت اور امام ہے، اس کے بعد اس کا بیٹا جعفر جسے اہل آسمان اس کو صادق کے نام سے جانتے ہیں.(3)
امام محمد باقر(ع) کی امامت پر یہ 9 نصوص ہیں جسے میں نے جلدی جلدی میں مہیا کر کے لکھ دی ہیں چوتھے گروہ میں ائمہ اثناء عشر کے اسماء مبارکہ پر حدیثوں سے نص ثابت کی گئی ہے اگر انہیں بھی شامل کر لیا جائے تو 80 حدیثوں سے زیادہ ہوتی ہیں، پھر ذریت حسین(ع) والی حدیثوں کو بھی شامل کر لیں اس لئے کہ ذریت حسین(ع) کا انحصار امام محمد باقر(ع) اور آپ کے بھائیوں پر ہے امام محمد باقر(ع) کے بھائیوں میں کسی کے لئے امامت کا دعوی اگر پایا بھی جاتا ہے تو نص کے ذریعہ اس دعوے
.................................................
1.بحار الانوار، ج46، ص229. انہیں الفاظ کو نقل کیا ہے اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج5، ص264.265.
2.اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج5، ص263. انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں امالی شیخ صدوق، ص435.
3.بحار الانوار، ج36، ص386، ج47، ص9، کمال الدین و تمام النعمہ، ص391. اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص195.
پر دلیل نہیں پیش کی جاتی اور نہ امامت سے وہ امامت مراد ہوتی ہے جوشیعہ اثناء عشری فرقے کے عقیدے میں پائی جاتی ہے، اس لئے کہ اگرچہ زیدیہ فرقہ جناب زید کی امامت کا قائل ہے لیکن وہ انہیں محض اس لئے امام مانتا ہے کہ انہوں نے تلوار کے ساتھ قیام کیا تھا نہ کہ نص کی بنیاد پر، اس کے علاوہ زید شہید نے امام زین العابدین(ع) کی وفات کے بہت دنوں بعد قیام کیا اب اگر اس دور میں جو زین العابدین(ع) اور قیام زید شہید کے درمیان کی مدت ہے اگر محمد باقر(ع) کی امامت نہ مانی جائے تو پھر یہ مسلمہ عقیدہ چھوڑنا پڑے گا کہ زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہتی، جب کہ یہ عقیدہ کثرت سے پائی جانے والی نصوص اور احادیث نبوی(ص) سے حاصل کیا گیا ہے اور اس کی جڑیں بہت گہری ہیں. سابقہ سوالوں میں چوتھے سوال کے جواب میں یہ بات عرض کی جاچکی ہے.
امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کی امامت پر جو حدیثیں پیش کی گئی ہیں ان سات حدیثوں میں حضرت صادق(ع) کا نام اور تین حدیثوں میں آپ کی طرف اشارہ موجود ہے، اس کے علاوہ حبابہ والبیہ والی حدیث جس میں جعفر صادق(ع) کے جد امجد علی ابن الحسین(ع) کی امامت پر نص ہے اس میں بھی امام جعفر صادق(ع) کا تذکرہ ہے اور ابوخالد کابلی کی حدیث جس میں محمد باقر(ع) کی امامت پر نص ہے اس میں بھی آپ کے نام اور لقب اور آپ کی امامت پر نص پائی جاتی ہے ابھی ہم ابو ہاشم جعفری کی حدیث جس میں ابو محمد حسن عسکری(ع) کی امامت پر نص ہے وہ عنقریب پیش کرنے ولے ہیں اب ان مذکورہ نصوص کے ساتھ ساتھ مندرجہ ذیل حدیثوں کا بھی اضافہ کر لیں:
1.ابوصباح کنانی کہتے ہیں: ابو جعفر محمد باقر(ع) نے دیکھا کہ ابو عبداللہ صادق(ع) چلے آرہے ہیں مجھ سے فرمایا ان کو دیکھ رہے ہو یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن سے خدائے عزوجل نے فرمایا ہے ہم ان لوگوں پر احسان کرنا چاہتے ہیں جنہیں زمین میں کمزور کر دیا گیا ہے لہذا ہم انہیں
امام بنائیں گے اور انہیں کو وارث قرار دیں گے.(1)
2.متعدد اسانید کے ساتھ ایک حدیث طاہر سے مروی ہے جس میں طاہر کہتے ہیں: میں ابوجعفر(ص) کی خدمت میں تھا اتنے میں جعفر(ع) آئے ابو جعفر محمد(ع) نے فرمایا یہ( جعفر صادق(ع)) خیر البریہ ہیں یا یہ کہ یہ سب سے بہتر ہیں.(2)
3.جابر بن جعفی محمد باقر(ع) سے راوی ہیں کہ محمد باقر(ع) سے قائم کےبارے میں سوال کیا گیا آپ نے اپنا ہاتھ ابو عبداللہ امام صادق(ع) پر رکھا اور فرمایا خدا کی قسم یہی قائم آل محمد(ص) ہے.
عنبسہ کہتے ہیں جب محمد باقر(ع) کی شہادت ہوگئی تو میں ابوعبداللہ امام صادق(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور محمد باقر(ع) کے اس جملے کے بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا جابر ٹھیک کہتے ہیں پھر فرمایا: کیا تم نہیں سمجھتے کہ قائم آل محمد(ع) اصل میں سابق امام جگہ پر کھڑا ہوتا ہے اسی لئے اسے قائم کہتے ہیں.(3)
4.عبد الاعلی کی حدیث امام صادق(ع) سے ہے، حضرت نے فرمایا: یہاں جو کچھ ہے سب میرے والد نے مجھے ودیعت کیا ہے کیونکہ جب میرے والد( امام باقر(ع)) کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا کچھ گواہ لائو میں نے قریش کے چار افراد کو بلایا ان میں عبداللہ بن عمر کا غلام نافع بھی تھا اس کے بعد محمد باقر(ع) نے مجھ سے فرمایا لکھو یہ وہ وصیت ہے جسے یعقوب نے اپنے بیٹوں سے کی تھی اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لئے دین منتخب کیا ہے اسلام کی حالت میں ہی مرنا پھر حضرت محمد بن علی(ع) نے جعفر بن محمد(ع) سے وصیت کی اور انہیں حکم دیا کہ مجھے اسی چادر کا کفن دیا جائے جس میں میں جمعہ پڑھتا ہوں اور میرے اسی عمامے میں مجھے دفن کیا جائے پھر قبر کو
...........................................
1.کافی، ج1، ص306؛ ارشاد، ج2،ص180.
2.کافی، ج1، ص306.307؛ امامت و تبصرہ ، ص65؛ ارشاد، ج2،ص180. اعلام الوری باعلام الہدی، ج1،ص518؛ کشف الغمہ، ج2،ص380.
3. کافی، ج1، ص307. ھدایتہ الکبری، ص243. اعلام الوری باعلام الہدی، ج1، ص581.
چوکور بنا دیا جائے اور چار انگل اونچا کردیا جائے میری قبر میں دفن کے وقت جعفر صادق(ع) ہی اتریں، پھر محمد باقر(ع) نے گواہوں سے کہا: اب آپ لوگ جائیں خدا آپ لوگوں پر رحم کرے جب گواہ چلے گئے تو میں ( جعفر صادق(ع)) نے اپنے والد سے پوچھا بابا اس میں تو کوئی خاص بات ایسی نہیں تھی جس کے لئے شہادت کی ضرورت پڑی، امام نے کہا بیٹا میں اس بات کرنا گوار سمجھتا ہوں کہ تم پر غلبہ کیا جائے اور لوگ یہ کہیں کہ جعفر صادق(ع) محمد باقر(ع) کے وصی نہیں ہیں اس لئے کہ انہوں نے جعفر صادق(ع) کو وصی نہیں بنایا تھا میں چاہتا ہوں کہ یہ شہادت تمہارے لئے دلیل بن جائے.(1)
مذکورہ حدیث کے صدر مطلب سے کے میرے والد ماجد نے جو کہا تھا ودیعت فرمایا تھا چھٹے امام کی امامت پر نص حاصل ہوجاتی ہے اور حدیث کا باقی حصہ دلالت کرتا ہے کہ امام کی وصیت اپنے وارث کے لئے ہے اور ان خاص امور کے بارے میں وصیت اس کے حق میں ہے جس کے اندر وصی بنانے والے کی نظر میں علامت امامت پائی جاتی ہے، اس لئے امام محمد باقر(ع) نے جعفر صادق(ع) کو وصیت کرنے کے وقت چار گواہ طلب کر لئے تھے حالانکہ جن چیزوں کے بارے میں آپ نے وصیت کی ہے وہ اتنی اہم نہیں ہے کہ اس کے لئے شہادت اور گواہی وغیرہ کی کوئی ضرورت پڑے.
امام جعفر صادق(ع) کی امامت پر دوسری نصوص بھی پائی جاتی ہیں لہذا عبدالاعلی کی حدیث میں ہے کہ میں نے جعفر
صادق(ع) سے پوچھا کہ اگر امر امامت کا دعوی کرے تو اس کے پاس کیا دلیل ہونی چاہئے! یا اس کی امامت کے انکار کے لئے کیا دلیل ہونی چاہئے؟ تو فرمایا اس سے حلال اور حرام کے بارے میں سوال کیا جائے پھر آپ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تین دلیلیں ہیں جو صرف اس کے اندر جمع ہوتی ہیں جو اس کا مالک ہوتا ہے.
..............................
1.کافی، ج1، ص307؛ روضتہ الواعظین، ص308، ارشاد، ج2،ص 181، اعلام الوری اعلام الہدی، ج1، ص518.519. مناقب ابن شہر آشوب، ج3،ص398. کشف الغمہ، ج2، ص380.381.
1.اپنے پہلے امام سے قریب ترین ہونا.
2. پیغمبر(ص) کے اسلحوں کا اس کے پاس ہونا.
3. ظاہری وصیت کا اس کے متعلق ہونا ظاہری وصیت کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ مدینہ جائے اور عام لوگوں اور بچوں سے پوچھے کہ فلان نے کس وصی بنایا تو بچے بھی پکار اٹھیں کہ فلان بن فلان کو.(1)
4. اس حدیث کو دیکھ کے یہ کہا جاسکتا ہے کہ مذکورہ بالاحدیث میں غیر اہم امور کے بارے میں بھی جعفر صادق(ع) کو وصی بنایا جو من جملہ تائیدات نص میں سے ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امام باقر(ع) کے بعد جعفر صادق(ع) امام وقت اور ولی عصر ہیں.
5.عبدالغفار بن قاسم امام محمد باقر(ع) سے روایت کرتے ہیں میں نے کہا: اے فرزند پیغمبر(ص) اگر خدا نخواستہ آپ کو کچھ ہوگیا تو آپ کے بعد کون امام ہے؟ فرمایا جعفر صادق(ع) امام ہیں م لوگوں کو انہیں کی طرف رجوع کرنا ہوگا یہ ہمارے شیعوں کے سردار ہیں ائمہ کے باپ ہیں اور اپنے قول و فعل میں صادق ہیں.(2)
6.محمد بن مسلم سے حدیث ہے کہ میں ابو جعفر محمد بن علی باقر(ع) کی خدمت میں حاضرتھا اتنے میں آپ کے صاحبزادے جعفر(ع) تشریف لائے.. پھر امام محمد باقر(ع) نے مجھ سے فرمایا: اے محمد بن مسلم! یہی میرے بعد
تمہارے امام ہیں ان کی اقتدا کرو اور ان کے علم سے کسب فیض کرو خدا کی قسم یہی وہ صادق(ع) ہیں جن کے بارے میں ہم اہل بیت(ع) کو رسول اللہ (ص) نے بتایا تھا.(3)
....................................
1.کافی ، ج1، ص284. بحار الانوار، ج25، ص138؛ امامت و تبصرہ، ص138؛ خصال، ص117.
2.اثبات الھدی بالنصوص والمعجزات، ج5، ص328؛ کفایتہ الاثر، ص252؛ بحار الانوار، ج36، ص359.
3. اثبات الھدی بالنصوص والمعجزات، ج5، ص328؛ کفایتہ الاثر، ص253.254.
7. ابن نافع کی حدیث ملاحظہ کریں: وہ کہتے ہیں ابو جعفر محمد باقر(ع) نے فرمایا جب تم مجھے مفقود پانا تو اس( جعفر(ع)) کی اقتدا کرنا اس لئے کہ یہی امام اور میرے بعد خلیفہ ہیں.(1)
امام جعفر صادق(ع) کی امامت پر جو نصوص فی الحال میسر ہوئیں پیش کر دی گئیں ان حدیثوں میں امام جعفر صادق(ع) کو اختصاص حاصل ہے، اب چوتھے گروہ کی وہ حدیثیں جن میں ائمہ اثنا عشر کی امامت پر نص ہے اگر انہیں بھی ان حدیثوں میں شامل کر لیا جائے تو امام جعفر صادق(ع) کی امامت پر بہت زیادہ حدیثیں ہوجائیں گی.اس کے بعد دو حدیث کے مجموعے مزید حاضر ہیں:(پہلا مجموعہ) ان مستفیض حدیثوں کا ہے جس میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) کے بعد امامت پر امام کے بیٹے کا حق ہے نہ چچا کا اور نہ بھائی کا اور نہ ہی ماموں کا.
امام کا اولاد ہی میں منحصر ہونے کی حدیثوں میں تو زیادہ تر ایسی حدیثیں ہیں جو یا تو جعفر صادق(ع) سے یا آپ کی اولاد سے مروی ہیں پھر وہ اپنی ہی امامت پر خود استدلال کرتے ہیں تو ان کی بات قابل قبول کیسے ہوسکتی ہے؟
تو جوابا عرض ہے: کہ انہوں نے اپنی طرف سے بنا کے(گڑھ کے) تو یہ حدیثیں نہیں فرمائی ہیں اس لئے کہ یہ ایسے توقیفی امور ہیں جسے وہ حضرات اپنے آباء سے ہی حاصل کرسکتے ہیں اس لئے ان کے اقوال اصل میں ان حضرات کے حق میں ان کے آباء طاہرین(ع) کے حکم اور فیصلے کی اہمیت رکھتے ہیں، پھر ان میں سابقہ حدیثوں کا اضافہ بھی تو کر لیں.
دوسری بات یہ ہے کہ:
امام محمد باقر(ع) کی امامت تو گذشتہ دوسری دلیلوں سے ثابت ہوچکی
................................
1.اثبات الھدی بالنصوص والمعجزات، ج5، ص329؛ کفایتہ الاثر، ص254؛ بحار الانوار، ج47، ص15.
ہے اور جب امامت ثابت ہوچکی تو آپ سے جھوٹ کا امکان ممتنع اور ناممکن ہے اب آپ کی ہر بات قول معصوم ہوگی اس لئے ہمارے لئے صحیح ہے کہ آپ کے فرزند ارجمند امام صادق(ع) کی امامت پر نص کے ذریعہ استدلال کریں امام محمد باقر(ع) سے اس سلسلے میں حدیثیں وارد ہوئی ہیں، چنانچہ ملاحظہ فرمائیں یہ حدیث، ابو حمزہ کہتے ہیں محمد باقر(ع) نے فرمایا اے ابو حمزہ! زمین میں ہمارے عالم سے خالی نہیں رہ سکتی لوگ چاہے کم ہوں یا زیادہ ان میں ہمارا عالم بہر حال ہوگا اور اس عالک کو اللہ اس زمین سے اس وقت تک نہیں نکالے گا جب تک وہ اپنا وہ بیٹا نہ دیکھ لے جو اسی طرح عالم ہوتا ہے جیسا اس دنیا سے جانے والا عالم ( امام) یا پھر جو خدا چاہے.(1)
ابو بصیر کہتے ہیں کہ میں نے حمد باقر(ع) سے اس آیت کی تفسیر پوچھی “ کہ اللہ نے اس کی ذریت ( نسل) میں ایک کلمہ باقیہ قرار دیا ہے” تو آپ نے فرمایا : کہ کلمہ باقیہ کو حسین(ع) کی ذریت میں قرار دیا ہے جہاں بیٹا اپنے باپ کی جگہ امامت کا وارث ہوتا رہے گا نہ امام کا بھائی امام ہوگا نہ چچا اور نہ ماموں(2) اور یہی مطلب ان کے علاوہ دوسری حدیثوں سے بھی استفادہ ہوتا ہے.اسی وجہ سے امام حعفر صادق(ع) سے ان کی بھائیوں میں سے کسی نے امامت کے بارے میں ان سے کوئی اختلاف نہیں کیا ہے بلکہ نص کی بنیاد پر تو آپ کے خلاف آپ کے بھائیوں کے علاوہ بھی کوئی امامت شکا دعویدار نہیں ہوا. اگر زیدیہ فرقہ جناب زید کی امامت کے قائل ہیں بھی تو زید شہید جعفر صادق(ع) کے چچا تھے اور ان کے یہاں امامت کا مطلب یہ ہے امام وہ ہے کہ جو اہل بیت(ع) میں سے تلوار لیکر قیام کرے اور امامت کے لئے نص کی ضرورت نہیں لیکن گذشتہ بیانات سے اس نظریہ کا بطلان واضح ہے.
...............................
1.بحار الانوار، ج25، ص250.251؛ شیخ طوسی کی کتاب الغنیہ، ص222.223.
2.بحار الانوار، ج25، ص253، علل الشرائع، ج1، ص207.
“ پیغمبر(ص) کے اسلحے غیر امام کے پاس نہیں ہوا کرتے” حدیثوں سے ثابت ہے
( دوسرا مجموعہ) بہت سی حدیثوں میں یہ مضمون پایا جاتا ہے کہ سلاح پیغمبر(ص) کا مالک سوائے امام کے دوسرا نہیں ہوسکتا. اس سلسلے میں اہم ترین حدیث وہ ہے جو امام محمد باقر(ع) سے وارد ہے جیسے صفوان نے ابوالحسن رضا(ع) سے روایت کی ہے کہ امام محمد باقر(ع) فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے یہاں سلاح پیغمبر(ص) کو وہی حیثیت حاصل ہے جو بنی اسرائیل کے یہاں تابوت سکینہ کو حاصل تھی، جہاں تابوت سکینہ ہوتا تھا وہیں نبوت بھی ہوتی اسی طرح ہمارے یہاں جس کے پاس سلاح پیغمبر(ص) ہوتا ہے وہی صاحب امر ہوتا ہے. میں نے پوچھا کیا سلاح پیغمبر(ص) سے مراد علم پیغمبر(ص) ہے؟ فرمایا: نہیں.(1)
حسن بن ابوسارہ محمد باقر(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ہمارے یہاں سلاح پیغمبر(ص) کا وہی مرتبہ ہے جو بنی اسرائیل کے یہاں تابوت کا تھا، جب بنی اسرائیل کے کسی آدمی کے دروازے پر تابوت رکھ دیا جاتا تو بنی اسرائیل یہ سمجھ لیتے کہ اس کے پاس فرشتہ آیا اور وہ نبی ہے اسی طرح ہمارے درمیان جس کے پاس بھی سلاح پیغمبر(ص) ہوتو ہم سمجھتے ہیں کہ وہی امام وقت ہے.(2)
ان دو حدیثوں کے علاوہ بھی بہت سی حدیثیں ہیں جو محمد باقر(ع) کے بعد کے اماموں سے وارد ہوئی ہیں اور ان میں بھی اسی طرح کا مضمون ہے.(3)
یہ حدیثیں امام حعفر صادق(ع) کی امامت پر یوں دلالت کرتی ہیں ان حدیثوں کے ضمیر میں کچھ حدیثیں ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ سلاح پیغمبر(ص) محمد باقر(ع) کے بعد جناب جعفر صادق(ع) ہی کے پاس تھا، جیسا کہ عبدالاعلی ابن اعین کا بیان ہے کہ میں نے سنا جعفر صادق(ع)
................................
1.کافی، ج1، ص238؛ بحار الانوار، ج26، ص219.
2.بحار الانوار، ج26،ص221.
3.ملاحظہ فرمائیں کافی، ج1، ص232. 238. بحار الانوار، ج26،ص201.222.
فرماتے تھے: میرے پاس سلاح پیغمبر(ص) ہے اور مجھ سے اس سلسلے میں کوئی جھگڑا نہیں کرسکتا.(1) سعید سمان کا بیان بھی دیکھیں، کہتے ہیں امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا: بیشک میرے پاس پیغمبر(ص) کی تلوار ہے، اور بیشک میرے پاس پیغمبر(ص) کا علم ہے، آپ کی زرہ، خود اور مغفر ہے، میرے پاس ہمیشہ غلبہ پانے والا پیغمبر(ص) کا علم ہے، اسی طرح کی دوسری حدیثیں بھی ہیں.(2)مذکورہ بالا دو مجموعوں میں بیان کردہ حدیثیں بھی امام صادق(ع) کی امامت پر نص کے طور پر شامل کر لی جائیں اگرچہ سابقہ حدیثیں جو اس سلسلے میں پیش کی جا چکی ہیں وہی میرے دعوے کے ثبوت کے لئے بہت کافی ہیں اس لئے کہ ان میں بہت وضاحت سے دلیلیں پائی جاتی ہیں.(3)
آپ کی کنیت ابوالحسن یا ابوالحسن الاول ہے، العبد الصالح مشہور لقب ہے، عمری کی حدیثوں میں اور معاذ بن کثیر اور کنانی کی حدیثوں میں آپ کا نام آچکا ہے، ان حدیثوں میں یہ مضمون ہے کہ کتاب امامت میں ہر امام کے فرائض کا بیان ہے اور حسنین علیہما السلام کی امامت پر بیان شدہ حدیثوں میں بھی آپ کا نام آیا ہے، پھر حبابہ والبیہ والی حدیث جو کہ چوتھے امام کی امامت پر نص ہے وہ بھی آپ کے نام نامی پر شاہد ہے. اور ابھی! ہاشم زہری کی حدیث بھی پیش کی جائے گی جس میں امام حسن عسکری(ع) کی امامت پر دلیل کے ساتھ ماسبق ائمہ کی امامتوں کا بھی تذکرہ ہے اور موسی کاظم(ع) کا ذکر بھی اس میں شامل ہے.اس کے علاوہ کچھ اور حدیثوں کا اضافہ کیا جاتا ہے اور وہ درج ذیل ہیں:
.............................
1.کافی، ج1، ص234. بصائر الدرجات، ص204.206. ارشاد، ج2، ص188.
2.کافی، ج1، ص232.233. ارشاد، ج2، ص187. بحار الانوار، ج26،ص201.202. کشف الغمہ، ج2، ص384. 385.
3.کافی، ج1، ص232. 237، بحار الانوار، ج26، ص201. 202.
1.ابوبصیر کی حدیث جو امام موسی کاظم(ع) کی ولادت کی خبر دیتی ہے یہ حدیث آپ کی والدہ گرامی سے منقول ہے، ملاحظہ فرمائیں: ابوبصیر کہتے ہیں میں جعفر صادق(ع) کی خدمت میں حاضر تھا کہ خبر ملی حمیدہ مصفاة( والدہ موسی کاظم(ع)) کے یہاں ولادت ہوئی ہے یہ خبر سنتے ہی ابوعبداللہ صادق(ع) شاد و خرم گھر کے اندر تشریف لے گئے پر فورا ہی باہر آئے اس وقت جوش مسرت میں آپ نے آستییں چڑھا رکھی تھی اور ہنسنے کی وجہ سے آپ کے گہر ہائے
دندان دکھائی دے رہے تھے، ہم نے کہا اے فرزند رسول خدا(ع) آپ کو ہمیشہ ہنساتا رہے، آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈار رکھے، حمیدہ کے یہاں کون سا بچہ پیدا ہوا؟فرمایا خدا نے مجھے اولاد نرینہ سے نوازا ہے، وہ اللہ کی مخلوقات میں سب سے بہتر ہے، اس کی ماں نے مجھے ایسی خبر سنائی جو میں پہلے سے جانتا تھا، میں نے کہا آپ پر قربان ہو جائوں جناب حمیدہ نے اس کے بارے میں آپ کو کیا خبر دی، فرمایا حمیدہ نے مجھے بتایا کہ بچہ جیسے ہی زمین پر آیا اس نے دونوں ہاتھ زمین پر ٹیک دیئے اور آسمان کی طرف سر کو بلند کیا، میں نے حمیدہ کو بتایا کہ یہ پہچان پیغمبر(ص) کی ہے اور ان کے بعد یہ امام کی پہچان ہے( حجت خدا زمین پریوں ہی آیا کرتی ہے) لہذا حقیقت تمہارے سامنے ہے بخدا وہی میرے بعد تمہارا امام ہے.
1.اسی کے قریب المعنی ایک دوسری حدیث بھی ہے.(1)
2.معلی بن خنیس کہتے ہیں: امام صادق(ع) نے موسی کاظم(ع) کی والدہ حمیدہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ مصفاة ہے یعنی کثافت اور گندگی سے ایسی صاف ہے جیسے کہ کھرا سونا جو آلودگیوں سے پاک اور صاف ہوتا ہے فرشتے برابر اس کی حفاظت کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ مجھے خدا کی طرف سے کرامت اور میرے بعد ذمہ دار امام اور حجت کو مجھے ادا نہ کر دیں.(2)
3.یزید بن سلیط سے سنئے یہ کہتے ہیں: ہم ایک جماعت کے ساتھ مکے کے راستے میں
......................................
1.بحار الانوار، ج48، ص3.4.
2. کافی، ج1، ص477؛ بحار الانوار، ج48، ص60؛ مناقب ابن شہر آشوب، ج1،ص228
تھے اتنے میں حضرت صادق(ع) سے ملاقات ہوگئی میں نے عرض کیا: میرے ماں اور باپ آپ پر قربان ہوں، آپ حضرات تو آیت تطہیر والے ائمہ ہیں، حالانکہ موت تو آپ حضرات کو بھی آتی ہے تو آپ ہمیں یہ بتا دیں کہ خدا نخواستہ اگر آپ کو کچھ ہوگیا تو ہم کس کی طرف رجوع کریں؟ آپ نے فرمایا: ہاں میرے بیٹے تو یہ سب ہیں لیکن یہ ان کے سردار ہیں یہ کہہ کر اشارہ کا موسی کاظم(ع) کی طرف اور فرمایا ان کے اندر حکمت ہے علم ہے، فہم ہے، سخاوت ہے، معرفت ہے اور وہ تمام چیزیں ہیں جن کی عوام محتاج ہیں( اور وہ حاجتیں امام سے ہی پوری ہوتی ہیں) یعنی دینی اختلاف کے وقت رفع اختلاف کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے. میرے اسی فرزند سے اللہ اس امت کا یار و مددگار پیدا کرے گا.
یزید بن سلیط کہتے ہیں اس کے بعد میں ابوالحسن یعنی امام موسی کاظم(ع) کی زیارت کو گیا اور عرض کی میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوجائیں مجھے ویسی ہی خبر دیں جیسی خبر آپ کے والد ماجد نے مجھے دی ہے یہ سن کے امام ہنسنے لگے فرمایا اچھا سنو اے ابو عمارہ میں اپنے گھر سے نکلا تو اپنے تمام بیٹوں کے لئے ظاہر میں وصیت کی او راس میں میرا بیٹا علی شریک ہے لیکن انفرادی وصیت میں نے باطنی طور پر علی بن موسی(ع) کے لئے کی کہ وہ میرا وصی ہے میں نے خواب میں پیغمبر(ص) اور امیرالمومنین(ع) کو دیکھا، آنحضرت(ص) کے پاس ان کی تلوار اور مہر( انگوٹھی) تھی پھر پیغمبر(ص) نے فرمایا تمہارے اس بیٹے کی طرف جس کا نام علی(ع) ہے امر( امامت و...) منتقل ہو رہی ہے پھر فرمایا اے یزید! میں اسی سال گرفتار کر لیا جائوں گا اور ( میرا قائم مقام میرا بیٹا علی ابن موسی(ع) ہوگا) میرا بیٹا علی(ع) جس کا نام علی ابن ابی طالب(ع) کے نام پر ہے اور علی ابن الحسین(ع) کے نام پر ہے اس کو علی اول کا فہم، علم، نصرت اور عنایت کی گئی ہے اس کو گفتگو کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا مگر ہارون ( خلیفہ عباسی) کے مرنے کے چار سال بعد لہذا جب ہارون کے مرنے کے بعد چار سال گذر جائیں تو اس سے پوچھنا چاہو پوچھنا وہ انشائ اللہ تمہارے ہر سوال کا جواب دے گا.(1)
..........................
1.بحار الانوار، ج48، ص12.14؛ امامت وتبصرہ، ص77.81.
آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس حدیث میں جس طرح امام موسی کاظم(ع) کی امامت پر نصوص ہے اسی طرح امام علی رضا(ع) کی امامت پر نص ہے بلکہ یہ حدیث تو یہ بھی بتاتی ہے کہ اس امت کے غوث و مددگار بارہویں امام جو مہدی موعود اور قائم آل محمد(ع) ہیں.امام کاظم(ع) کی ذریت سے ہوںگے. اس سے یہ بات مزید پختہ اور مستند اور موکد ہوجاتی ہے کہ امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) کے بعد امامت کی بقاء ان کی نسلوں میں ہے. او رامامت امام وقت سے اس کے بیٹے کی طرف منتقل ہوتی ہے نہ کہ بھائی اور چچا کی طرف.
4.ان مذکورہ دونوں معاملات کے بارے میں ایک دوسری حدیث ابراہیم کرخی سے ملاحظہ ہو یہ کہتے ہیں: میں ابو عبداللہ جعفر صادق(ع) کی خدمت میں بیٹھا تھا اتنے میں ابوالحسن موسی بن جعفر(ع) داخل ہوئے اس وقت ان کی کمسنی تھی میں آگے بڑھا اور ان کی پیشانی کا بوسہ لیا پھر بیٹھ گیا اس کے بعد جناب جعفر صادق(ع) نے فرمایا اے ابو ابراہیم!میرخ بعد یہی مہرے امام ہیں... انہیں کی صلب سے اہل ارض کا بہترین فرد پیدا ہوگا جو اپنے جد کا ہم نام بھی ہوگا اور اپنے جد کے علم و احکام اور فضائل کا وارث بھی ہوگا. وہ امامت کا معدن اور سر چشمہ حکمت ہوگا اس کو بنی فلان( بنی عباس) کا ایک جبار شہید کرے گا اس لئے کہ اس کی ذات سے معجزات ظاہر ہوں گے اور وہ(جبار) ان کے حسد کی وجہ سے شہید کر ڈالے گا، لیکن اللہ اپنے امر( منصب امامت اور تبلیغ و ہدایت کا سلسلہ ) کو پہنچا کر رہے گا اگر چہ مشرکوں کو برا لگے اس ( خیر اہل ارض) کے صلب سے ائمہ اثناء عشر کے باقی افراد پیدا ہوں گے جو سب مہدی ہوں گے خداوند عالم ان کو اپنی کرامت سے مخصوص کرے گا نیز اپنے دار قدس میں جگہ دے گا پھر ان کے بارہویں امام کی امامت کا اقرار کرنے والا ایسا ہی جیسے کہ پیغمبر(ص) خدا کی نگاہوں کے سامنے تلوار کھینچ کے آپ کی حفاظت کرنے والا(1)
......................
1.بحار الانوار، ج48، ص15.16؛ کمال الدین و تمام النعمہ، ص334. غیبت نعمانی، ص90.91؛ اعلام ا لوری باعلام الھدی، ج2، ص235.
5.اسی طرح ایک اور نص امام علی رضا(ع) کی امامت پر مز ید ملاحظہ فرمائیں: نصر بن قابوس کی حدیث ہے جس میں وہ کہتے ہیں: میں نے امام ابو ابراہیم موسی بن جعفر(ع) کی خدمت میں تھا. میں نے آپ سے عرض کیا کہ میں نے آپ کے والد ماجد سے پوچھا کہ آپ کے بعد امام کون ہوگا؟ انہوں نے مجھے بتایا کہ آپ(موسی کاظم(ع)) امام ہوں گے. جب جعفر صادق(ع) کی وفات ہوئی تو لوگ دائیں بیائیں جانے لگے لیکن ہم اور ہمارے اصحاب آپ کی امامت کے قائل رہے. اب آپ فرمائیں کہ آپ کے بعد کون امام ہوگا؟ فرمایا: میرا بیٹا علی(رضا(ع)).(1)
6.دائود بن کثیر کی حدیث ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق(ع) سے عرض کیا خدا کرے کہ آپ سے پہلے مجھے موت اءے اگر خدا نخواستہ آپ کو کچھ ہوگیا تو آپ کے بعد امام کون ہوگا؟ فرمایا میرا بیٹا موسی(کاظم(ع)) دائود بن کثیر کہتے ہیں خدا کی قسم دیسا ہی ہوا جیسا کہ جعفر صادق(ع) نے فرمایا تھا اسی وجہ سے بخدا میں نے ایک لمحہ کے لئے بھی امام موسی کاظم(ع) کی امامت میں شک نہیں کیا پھر تقریبا30/ سال تک میں انتظار کرتا رہا اس کے بعد موسی کاظم(ع) کی خدمت میں پہنچا اور عرض کیا اگر خدا نخواستہ آپ کو کچھ ہوگیا تو پھر ہم کس کو امامت تسلیم کریں فرمایا میرے بیٹے علی( رضا(ع)) پھر موسی کاظم(ع) کی شہادت ہوگئی بخدا میں نے امام رضا(ع) کی امامت میں ایک لمحے کے لئے بھی شک نہیں کیا.(2) یہی مطلب ایک دوسری حدیث میں اختصار کے ساتھ ملتا ہے.(3)
7. عیسی بن عبداللہ بن محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب(ع) کی یہ حدیث ملاحظہ کریں، اس میں وضاحت کی گئی ہے کہ مہدی موعود امام موسی بن جعفر(ع) کے صلب سے ہونگے، عیسی بن عبداللہ کہتے ہیں میں نے جعفر صادق(ع) سے پوچھا کہ اگر خدا نخواستہ آپ کو کچھ ہوجائے تو پھر ہم کس کی
.............................
1.بحار الانوار، ج48، ص15.16؛ عیون اخبار الرضا، ج2، ص39.140؛ ارشاد، ج2،ص251؛ غیبت طوسی، ص38.
2.بحار الانوار، ج48، ص14؛ عیون اخبار الرضا، ج2، ص33.
3. کافی، ج1، ص312.
امامت میں رہیں گے؟ امام نے اپنے فرزند موسی(کاظم(ع)) کی طرف اشارہ فرمایا. میں نے پوچھا اگر جناب موسی( کاظم(ع)) کو کچھ ہوگیا پھر ہم کدھر جائیں گے؟ ان کے بیٹے کی طرف. پوچھا اگر بیٹے کو بھی کچھ ہوگیا اور ان کے چھوٹے بڑے بھائی موجود رہے تو ہم کدھر جائیں گے؟
فرمایا: ان کے بیٹے کی طرف پھر فرمایا اور امامت کا سلسلہ تو ہمیشہ یوں ہی ( باپ سے بیٹے تک) چلے گا.(1)
8. مفضل بن عمر کہتے ہیں: میں اپنے مولا جعفر بن محمد صادق(ع) کی خدمت میں آیا اور عرض کیا آپ ہمیں بتائیں کہ آپ کے بعد آپ کا کون خلیفہ ہوگا؟ فرمایا: اے مفضل میرا خلف موجود ہے میرے بعد میرا بیٹا موسی(کاظم(ع)) امام ہوگا، اور وہ خلف منتظر جس کی امید کی جاتی ہے اس کی بھی پہچانو! وہ ہے محمد بن حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی علیہم السلام.(2)
9. فیض بن مختار کہتے ہیں کہ، میں نے امام جعفر صادق(ع) سے پوچھا: مولا مجھے آتش جہنم سے بچائے اور یہ بتائیے کہ آپ کے بعد امام کون ہوگا؟ اتنے میں حضرت ابو ابراہیم موسی کاظم(ع) داخل ہوئے اس وقت آپ نوجوان تھے، صادق(ع) نے فرمایا: یہی تمہارے صاحب ہیں انہیں سے ہی تمسک کرنا.(3)
..............................
1.کافی، ج1، ص309؛ انہیں الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے، بحار الانوار، ج48،ص16؛ ارشاد،ج2، ص218؛ کشف الغمہ، ج3،ص11.
2.کمال الدین و تمام النعمہ، ص334؛ انہیں لفظوں کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں، بحار الانوار، ج48، ص15؛ اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج5، ص479. پر اس روایت کا ابتدائی حصہ نقل کیا گیا ہے.
3.کافی، ج1،ص307. بعید نہیں کہ یہ حدیث اس طولانی حدیث کا انتہائی ( ذیل حصہ ہو جس میں کتاب وصیت اور پھر اس کا یکے بعد دیگرے ائمہ تک منتقل ہونے کا تذکرہ ہے جیسا کہ اس بات کی طرف ان نصوص کے ضمن میں اشارہ کیا جا چکا ہے جو امام حسن(ع) اور امام حسین علیہم السلام کی امامت پر دلالت کرتی ہیں اور اسی روایت کو شیخ کلینی(رہ) نے دوسری سند کے ذریعہ نقل کیا ہے لیکن وہ حدیث بعینہ ایسی ہی ہے اور روضتہ الواعظین، ص213، ارشاد، ج2،ص217؛ بحار الانوار، ج48، ص18؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص10؛ کشف الغمہ، ج3، ص11 پر بھی یہ موجود ہے.
10. معاذ بن کثیر کہتے ہیں، میں نے جعفر صادق(ع) سے عرض کیا، خدا سے میری دعا ہے کہ جس طرح آپ کے والد کو آپ کی صورت میں یہ منزلت عنایت فرمائی ہے کہ ان کو مرنے سے پہلے ایک وارث ( امامت) عنایت فرمایا اسی طرح آپ کو بھی وارث عطا فرمائے امام نے فرمایا: خدا نے ایسا ہی کیا ہے. میں نے عرض کیا میں آپ پر قربان ہو جائوں وہ کون ہے؟ تو آپ نے عبد صالح( موسی کاظم(ع) کی طرف اشارہ فرمایا: اس وقت وہ سورہے تھے. فرمایا یہی سونے والا ہی وہی جوان ہے.(1)
11.اسحاق بن جعفر کہتے ہیں، ایک دن میں اپنے والد کی خدمت میں تھا اتنے میں علی بن عمر بن علی نے ان سے سوال کیا میں آپ پر قربان ہوجائوں، میں اور دوسرے لوگ آپ کے بعد کس کے محتاج ہیں( کس کی طرف رجوع کریں گے) فرمایا: جس نے دو زرد لباس پہن رکھے ہیں اور دو گیسو اس کے دونوں طرف نکلے ہوئے ہیں، وہ ابھی اسی دروازے سے تمہاری طرف آئے گا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے دروازہ کھولے گا، تھوڑی ہی دیر بعد ہمارے سامنے دو ہتھیلیاں دروازے کا سہارا لیتی ہوئی ظاہر ہوئیں آنے والے نے دروازہ کھولا پھر ابو ابرہیم( موسی بن جعفر(ع)) ہمارے سامنے داخل ہوئے.(2)
12. صفوان جمال کہتے ہیں جعفر صادق(ع) نے فرمایا کہ مجھ سے منصور بن حازم نے کہا، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، موت تو برحق اور جانیں تو آتی جاتی رہتی ہیں پھر اگر آپ کے ساتھ ایسا ہو جائے تو ہم کدھر رجوع کریں؟ صادق(ع) نے فرمایا، اگر ایسا ہوجائے تو یہ تمہارے صاحب ہیں، اور اپنا دست مبارک ابوالحسن موسی کے داہنے کندھوں پر رکھا جبکہ اس وقت موسی
1.کافی، ج1،ص308؛ روضتہ الواعظین،ص213؛ ارشاد، ج2،ص217؛ بحار الانوار، ج48، ص17؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص9؛ کشف الغمہ، ج3، ص10.
2. کافی، ج1،ص308؛ انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں؛ ارشاد، ج2،ص220؛ بحار الانوار، ج48، ص20؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص14؛ کشف الغمہ، ج3، ص12
کاظم(ع) محض پانچ سال کے تھے، اور عبداللہ بن جعفر(ع) وہیں بیٹھے ہوئے تھے.(1)
13.مفضل بن عمر کہتے ہیں: جعفر صادق(ع) کی مجلس میں ابوالحسن موسی(ع) کا تذکرہ آیا امام نے ان کو یاد کیا کہ وہ ابھی غلام( نوجوان) تھے پھر فرمایا: یہ وہ مولود ہے کہ ہم اہل بیت(ع) میں ہمارے شیعوں کے لئے اس سے زیادہ برکت والا کوئی پیدا ہی نہیں ہوا اور آخر میں مجھ سے فرمایا: تم لوگ اسماعیل پر جفانہ کرنا.(2) امام جعفر صادق(ع) کا یہ فرمانا “ کہ اس سے زیادہ کوئی صاحب برکت نہیں ہوا “ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ موسی کاظم0ع) امام ہیں ( اور یہ روایت امام موسی کاظم(ع) کی امامت پر نص ہے) اس لئے کہ غیر امام سب سے بڑا صاحب برکت نہیں ہوسکتا. خصوصا حضرت کا یہ فرمانا کہ “ اسماعیل پر جفا نہ کرنا” ایک پیش بندی ہے کیونکہ اسماعیل جعفر صادق(ع) کے بڑے بیٹے تھے اس لئے شیعوں کی توقعات انہیں سے وابستہ تھیں اور شیعہ ان کے بے حد تعظیم و اکرام کرتے تھے، اس لئے امام نے یہ چاہا کہ شیعوں کی غلظ فہمی کو دور کر دیں اور امام کاظم(ع) کی امامت پر نص کردیں، لہذا آپ نے فرمایا کہ امام تو تمہاری توقع کے خلاف جناب موسی کاظم(ع) ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس انکشاف کے بعد تم جناب اسماعیل کی شان میں کوئی گستاخی کرو اور ان پر ظلم کرو.
14.مفضل سے ایک دوسری حدیث ملاحظہ فرمائیں: کہتے ہیں میں ابو عبداللہ کی خدمت میں تھا کہ ابو ابراہیم آئے ابھی وہ غلام( نو جوان) تھے، صادق(ع) نے فرمایا: میں انہیں کو اپنا وصی بناتا ہوں. اپنے اصحاب میں سے تم ( مفضل) جس پر بھروسہ کرتے ہو اس کو بتا دینا.(3)
15.یعقوب سراج کی حدیث ہے، کہتے ہیں : میں امام جعفر صادق(ع) کی خدمت میں
..........................
1. کافی، ج1،ص309؛ ارشاد، ج2،ص218؛ بحار الانوار، ج48، ص18؛ کشف الغمہ، ج3، ص10.
2.کافی، ج1،ص309.
3.کافی، ج1،ص308؛ انہیں الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے؛ بحار الانوار، ج48، ص17؛ ارشاد، ج2،ص216.217؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص10؛ کشف الغمہ، ج3، ص10.
حاضر ہوا تو دیکھا آپ ابوالحسن موسی(کاظم(ع)) کے سرہانے کھڑے ہیں اس وقت موسی کاظم(ع) جھولے میں تھے اور جعفر صادق(ع) ان کے جھولے کی رسی کو کچھ لمبا کر رہے تھے میں بیٹھ گیا جب امام کا اس کام سے فارغ ہوئے تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا. آپ نے فرمایا اپنے امام سے قریب ہو اور انہیں سلام کرو، میں جھولے کے قریب ہوا اور سلام عرض کیا. جھولے سے بہ زبان فصیح جواب ملا( یعنی جھولے والے نے جواب دیا) پھر مجھ سے کہا یعقوب جائو تم نے اپنی بیٹی کا جو کل نام رکھا ہے اس کو بدل دو، امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا، سراج ان کی بات مانو تو ہدایت ملے گی.(1)
16.سلیمان بن خالد کہتے ہیں، ایک دن جعفر صادق(ع) نے ابوالحسن کو بلایا ہم لوگ وہاں بیٹھے تھے جب وہ آئے تو آپ نے فرمایا تم پر ان کی اطاعت واجب ہے ہمارے بعد یہی تمہارے ولی اور سرپرست ہیں.(2)
17. صفوان جمال نے کہا کہ میں نے جعفر صادق(ع) سے پوچھا: آپ کے بعد اس امر(امامت) کا صاحب کون ہے فرمایا: صاحب امر کھیلتا کودتا نہیں اور لہو لعب میں مصروف نہیں ہوتا اتنے میں موسی کاظم(ع) داخل ہوئے آپ کے پاس مکی بکری کا ایک بچہ تھا اور اس سے فرما رہے تھے اپنے پروردگار کا سجدہ کر یہ سن کر امام جعفر صادق(ع) آگے بڑھخ موسی کاظم(ع) کو سینے سے لگایا اور فرمایا: میرے ماں باپ اس پر قربان ہوں جو لہو لعب نہیں کرتا.(3)
..............................
1. کافی، ج1، ص310. انہیں الفاظ کےساتھ رجوع کریں. بحار الانوار، ج48، ص19؛ ارشاد، ج2، ص219؛ الثاقب فی المناقب، ص433. مناقب ابن شہر آشوب، ج3،ص407؛ اعلام الوری باعلام الہدی، ج2،ص14؛ کشف الغمہ، ج3،ص12.
2. کافی، ج1، ص310. انہیں الفاظ کےساتھ رجوع کریں. بحار الانوار، ج48، ص19؛ ارشاد، ج2، ص219؛ اعلام الوری باعلام الہدی، ج2،ص12.
3.کافی، ج1، ص311 بعینہ یہی روایت بحار الانوار، ج48، ص19؛ مناقب ابن شہر آشوب،ج3، ص432. میں ملاحظہ فرمائیں.
18. فیض بن مختار کہتے ہیں، میں جعفر صادق(ع) کی خدمت میں حاضر تھا کہ موسی کاظم(ع) تشریف لائے وہ ابھی غلام(نو جوان) تھے میں آگے بڑھا میں ان سے بغلگیر ہوا اور ان کا بوسہ لیا پھر جعفر صادق(ع) نے فرمایا: تم لوگ سفینہ ہو اور یہ ناخدا ہے. فیض کہتے ہیں پھر میں اسی سال حج کرنے گیا میرے پاس ود لاکھ دینار تھے میں نے جعفر صادق(ع) کی خدمت ایک لاکھ دینار بھیجے اور ایک لاکھ دینار موسی کاظم(ع کی خدمت میں بھیج دیئے. پھر جب میں صادق(ع) کی خدمت حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کیوں فیض! تم نے موسی کاظم(ع) کو میرے برابر کر دیا، ( میرا معادل سمجھا) میں نے عرض کیا میں نے تو آپ کے قول کے مطابق ہی ایسا کیا ہے! آپ نے فرمایا : فیض میں نے وہ بات اپنی طرف سے نہیں کہی تھی بلکہ خدا ہی نے ایسا کہا ہے.(1)
19. علی بن جعفر(ع) کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ ابو جعفر بن محمد(ع) ک اپنے خاص افراد اور شیعوں کی جماعت سے فرماتے ہوئے سنا میرے بیٹے موسی کو میرا بہترین وصی سمجھو، وہ میرے بیٹوں میں سب سے افضل ہیں اور میرے بعد والوں میں وہی میرے خلیفہ ہیں، وہی میری جگہ میرے قائم مقام ہیں، وہی تمام مخلوقات خدا پر میرے بعد خدا کی حجت ہیں.(2)
20. رزارہ بن اعین کہتے ہیں : جب اسماعیل بن جعفر(ع) کی وفات ہوئی تو میں( زرارہ) امام جعفر صادق(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت موسی کاظم(ع) جعفر صادق(ع) کے داہنے کھڑے تھے، اسی اثناء میں جعفر صادق(ع) نے اپنے اصحاب کی ایک جماعت کو اسماعیل کی وفات پر گواہ بنایا، اور وفات اسماعیل کا ان سے کئی بار اقرار لیا یہاں تک کہ اسماعیل کو قبر میں رکھ دیا زرارہ کہتے ہیں اس وقت امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا: پالنے والے گواہ رہنا، اور (حاضرین کو مخاطب کر کے فرمایا) آپ لوگ بھی گواہ رہیں اس لئے کہ عنقریب گروہ باطل شک کرنے والا ہے، وہ لوگ ( گروہ
.................................
1.کافی، ج1، ص311.
2.بحار الانوار،ج48، ص20 انہیں لفظوں کے ساتھ نقل کیا ہے اثبات الھدی بالنصوص والمعجزات، ج5. ص485. 486؛ مسائل علی بن جعفر، ص18؛ ارشاد، ج2، ص220؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص14؛ کشف الغمہ، ج3، ص13.
باطل) چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں، پھر موسی کاظم(ع) کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اور اللہ اپنے( اس) نور کو مکمل کر کے رہے گا چاہے مشرکین کو برا لگے.
پھر لوگوں نے قبر اسماعیل پر مٹی ڈالنی شروع کی اتنے میں امام نے پھر ہماری طرف مڑ کے اپنے قول کا اعادہ کیا اور فرمایا: وہ میت جو حنوط شدہ اور کفن میں لپٹی ہوئی اس قبر میں ہے وہ کون ہے؟ہم نے کہا( وہ ) اسماعیل( ہیں) فرمایا: پالنے والے گواہ رہنا. پھر آپ نے ( یعنی جعفر نے) موسی کاظم(ع) کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: یہی حق ہے حق اسی کے ساتھ ہے اس سے حق نکلے گا یہاں تک کہ خدا زمین اور اہل زمین کا وارث بنا دے گا.(1)
21. ولید بن صبیح ابوعبداللہ سے روایت کرتے ہیں امام جعفرصادق(ع) نے فرمایا کہ مجھ سے عبد الجلیل نے پوچھا کہ آپ نے اسماعیل کو ان کی وفات کے 3/سال پہلے وصی بنایا تھا؟ میں نے کہا: خدا کی قسم نہیں میں نے اگر وصی بنایا بھی تھا تو فلاں کو یعنی ابوالحسن موسی کاظم(ع) کو اور حضرت نے ان کا نام بھی لیا.(2)
22.حماد صائغ کہتے ہیں مفضل بن عمر سے میں نے سنا وہ امام صادق(ع) سے کچھ پوچھ رہے تھے کہ امام موسی کاظم(ع) نمودار ہوئے. جعفر صادق(ع) نے فرمایا : کیا تم صاحب کتاب علی کو دیکھ کے خوش ہوگے؟میں نے عرض کیا میرے لئے اس سے زیادہ مسرت کی بات اور کیا ہوگی. فرمایا یہ ہیں( موسی کاظم(ع)) کتاب علی کے مالک و وارث اس کتاب مکنون کے صاحب جس کے بارے میں خدا نے فرمایا ہے کہ اس کو چھوہی نہی سکتے مگر وہ لوگ جہنیں اللہ نے پاک رکھا ہے.(3)
23. اسحاق کہتے ہیں میں جعفر صادق(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ آپ کے
...................................
1.بحار الانوار، ج48، ص21. مناقب ابن شہر آشوب، ج1، ص229.
2.بحار الانوار، ج48، ص22؛ نعمانی کی کتاب الغنیہ، ص326.
3.بحار الانوار، ج48، ص23. انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں: اثبات الہداة بالنصوص والمعجزات، ج5،ص481. 482. غیبت نعمانی، ص327.
بعد اس امر امامت کا صاحب و وارث کون ہوگا فرمایا: چوپائےوالا. میں نے دیکھا موسی بن جعفر(ع) ابھی بچے تھے اور ایک مکی بکری کے بچے کےساتھ صحن خانہ میں تشریف رکھتے تھے آپ اس بکری بچے سےفرما رہے تھے اس خدا کا سجدہ کر جس نے تجھے پیدا کیا ہے.
24. سلمہ بن محرز کہتے ہیں: میں نے ابوعبداللہ امام صادق(ع) سے عرض کیا کہ ایک عجلہ کا رہنے والا بوڑھاسے پوچھ رہا تھا کہ تمہارے یہ شیخ امام کب تک باقی رہیں گے ایک دو سال میں ( حدیث میں یہی تعبیر ملتی ہے) ان کی وفات ہو جائے گی پھر تمہارے پاس کچھ بھی نہیں رہےگا جس کا تم انتظارکرو. آپ نےفرمایا: تم نے اس سے کیوں نہیں کہا کہ یہ موسی بن جعفر(ع) تو موجود ہی ہیں جنہوں نے ہر اس علم کا ادراک کر لیا ہے جس کا رجال ( یعنی ائمہ ) ادراک رکھتے ہیں اور میں نے ان کے لئے ایک کنیز بھی خرید دی ہے جو ان پر مباح ہے اور تمہاری موجودگی ہی میں انشاء اللہ ان کا خلیفہ (فقیہ) پیدا ہو جائے گا.(1)
25.عیسی شلقان کہتے ہیں : میں جعفر صادق (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے سوچا تھا آج میں خطاب کے لئے بیٹے ( یعنی عمر بن خطاب) کے بارے میں سوال کروں گا لیکن آپ نے کلام میں سبقت فرمائی اور میں ابھی بیٹھا بھی نہیں تھا کہ آپ نے فرمایا: اے عیسی ! تم جو کچھ بھی جاننا چاہتے ہو ان تمام چیزوں کے بارے میں میرے بیٹے سے پوچھنے سے تمہیں کس نے روکا ہے؟عیسی کہتے ہیں: یہ سن کر میں عبد صالح یعنی ساتویں امام کی خدمت میں حاضر ہوا ابھی بیٹھا بھی نہیں تھا کہ آپ نے کلام کی ابتداء کردی اور فرمایا: اے ! بیشک اللہ نے انبیاء سے نبوت کی میثاق لی اور ایک قوم کو ایمان کی توفیق عطا کی پھر ان سے ایمان چھین لیا ابن خطاب انہیں لوگوں میں سے تھا جن کو اللہ نے ایمان عاریتہ دیا تھا پھر ان سے لے لیا.
عیسی کہتے ہیں : یہ سن کے میں نے امام کو لپٹا لیا اور آپ کے دونوں آنکھوں کے درمیان
....................................
1.بحار الانوار، ج48، ص23؛ عیون اخبار الرضا،ج2، ص38.
بوسہ لیا پھر میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں بیشک ذریت ایک دوسرے کی وارث ہوتی ہے اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے.عیسی کہتے ہیں: پھر میں جعفر صادق(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے مجھے دیکھ کے فرمایا عیسی کیا ہوا میں نے عرض کیا میرےماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے تو ابھی کچھ کہا بھی نہیں تھا بلکہ ابھی عبد صالح کی خدمت میں
پہونچا ہی تھا کہ کچھ کہنے کے پہلے میرے ہر سوال کا جواب انہوں نے دے دیا مجھے یقین ہوگیا کہ بخدا وہی اس امر
امامت کے صاحب ہیں، فرمایا عیسی بخدا اگر تم میرے اس فرزند سے پوچھتے کہ مصحف کے دونوں دفتیوں کے بیچ میں کیا ہےتو وہ تمہیں اپنے علم کی بنیاد پرجواب دیتا.(1)
26. ایک حدیث دو کردیوں سے سنی گئی ہے ایک کردی کہتا ہے کہ ہم جب جعفر صادق(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ ان کے صاحبزادے اسماعیل وہاں بیٹھے ہیں. ہم لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ جعفر صادق(ع) کے بعد وہی امام ہیں. اور ایک طویل حدیث میں اس طرح ہے کہ ایک شخص نے امام صادق(ع) سے اس کے خلاف سنا داستان یہ ہے کہ یہ شخص دور سے کوفیوں کے پاس پہونچا جو کہہ رہے تھے اسماعیل امام صادق(ع) کے بعد امام ہوںگے اس شخص نے ان دونوں سے اس سلسلہ میں وہ بات بتائی جسے امام صادق(ع) نے سن رکھا تھا یعنی امام یہ کہہ رہے تھے تو ان سننے والوں میں سے ایک شخص نے تو اس کی بات قبول کر لیو اور دوسرے نے کہا کہ میں یہ بات خود امام صادق(ع) سے سننا چاہتا ہوں جب وہ امام صادق(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا : کہ فلاں نے جو بات تم سے کہی ہے وہی حق ہے. اس نے کہا: میں آپ پر قربان ہو جائوں میری خواہش ہے کہ آپ کی زبان مبارک سے سنوں! آپ نے فرمایا: سنو! میرے بعد تمہارے امام اور صاحب فلاں ہیں یعنی ابوالحسن موسی(ع) یاد رکھنا امامت کے سلسلہ میں کوئی بھی دعوی نہیں کرےگا مگر یہ کہ وہ جھوٹا ہوگا اور
..................................
1.بحار الانوار، ج48، ص24؛ قرب الاسناد، ص334. 335؛ الحزائح والجرائح، ج2، ص653.
افتراء پرداز ہوگا.(1)
27. ابوبصیر کہتے ہیں امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا: میں نے خدا سے دعا اور خواہش کی اور یہ تمنا ظاہر کی کہ امر امامت اسماعیل کے حق میں چلا جائے. لیکن خدا نے انکار کیا پھر یہ کہ امام سوائے موسی کاظم(ع) کے کسی کو نہیں قرار دیا.(2)
28. تھوڑے سے اختلاف کےساتھ علی بن ابی حمزہ نے بھی صادق(ع) سے اس مضمون کی روایت کی ہے.(3)
29.30.زید نرسی سے بھی تقریبا اسی مضمون کی دو روایتیں ہیں.(4)
31. جعفر صادق(ع) کے حوالے سے فیض بن مختار کی ایک طویل حدیث ہے فیض ابن مختار نے صادق(ع) سے پوچھا کہ آپ کے بعد ہم لوگ کس کو امام مانیں اسی اثناء امام موسی کاظم(ع) تشریف لائے جبکہ اس قت وہ پانچ سال کے تھے.
اسی حدیث میں ہے کہ ابوعبداللہ نے فرمایا: اے فیض! رسول اللہ کو ابراہیم اور موسی کے صحیفے دیئے گئے اور رسول (ص) نے وہ امانت ( صحیفے) علی کو دے دی علی(ع) نے حسن(ع) کو حسن(ع) نے حسین نے علی ابن الحسین علیہم السلام کو انہوں نے محمد بن علی(ع) کو جو میرے والد تھے اور محمد بن علی(ع) نے مجھے وہ صحیفے امانتا دیئے وہ میرے ہی پاس تھے میں نے اپنے اس بیٹے ( یعنی موسی کاظم(ع)) کو کمسنی ہی میں دیدیئے اب وہ صحیفے ان کے پاس ہیں. فیض کہتے ہیں کہ میں سمجھ گیا کہ امام کیا کہنا چاہتے ہیں. میں نے عرض کیا آپ مزید بتائیے. فرمایا: اے فیض! جب میرے والد چاہتے تھے ان کی کوئی دعا رد نہ ہو تو آپ مجھے اپنے داہنی طرف بیٹھاتے تھے وہ دعا کرتے تھے میں آمین کہتا تھا اور ان کی دعا
...........................
1.بحار الانوار، ج48، ص24؛ بصائر الدرجات، ص359.
2. بحار الانوار، ج48، ص25؛ بصائر الدرجات، ص360.
3.اثبات الھداة بالنصوص والمعجزات، ج5، ص484.485.
4. اثبات الھداة بالنصوص والمعجزات، ج5، ص484.485؛ بحار الانوار، ج47، ص269.
کبھی رد نہیں ہوئی تھی. میں اپنے اس بیٹے کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتا ہوں. میں نے کہا فرزند رسول کچھ اور فرمائیے فرمایا: اے فیض جب میرے والد ساتھ سفر کرتے اور کبھی پشت مرکب پر آپ کو نیند آنے لگتی میں سواری کو قریب کر کے اپنے والد ماجد کے سر کے نیچے اپنے بازئوں کا تکیہ کردیتا جس کی وجہ سے میرے والد تھوڑی دیر سو رہتے تھے. میرا یہ فرزند بھی میرے ساتھ ایسا ہی کرتا ہے. میں نے کہا میں آپ پر قربان ہو جائوں کچھ اور فرمائیے. آپ نے فرمایا : میں اپنے اس فرزند کے اندر وہی باتیں پاتا ہوں جو جناب یعقوب نے یوسف کے اندر پائی تھی. میں نے عرض کیا مولا کچھ اور فرمائیے. فرمایا: یہی تمہارا صاحب( یعنی امام) ہے جس کے بارےمیں میں تم مجھ سے پوچھنے آئے ہو یہ سننے کے بعد فیض کہتے ہیں میں اٹھا اور امام موسی کاظم(ع) سے بغل گیر ہوا ان کے سر کا بوسہ دیا اور خدا سے ان کے لئے دعا کی.(1)
32.عبداللہ بن فضل الہاشمی کہتے ہیں میں ابوجعفر صادق(ع) کی خدمت میں تھا کہ ایک شخص سرزمین طوس کا رہنے والا وہاں آیا اس نے امام سے پوچھا: مولا جو آپ کے جد امام حسین(ع) کی زیارت کرے اس کا کیا ثواب ہے؟ فرمایا: اے طوسی! جو قبر حسین(ع) کی زیارت کرتا ہے اس حال میں کہ وہ امام حسین (ع) کو کو اپنا امام مفترض الطاعہ ( جس کی اطاعت اللہ نے بندوں پر فرض کی ہے) سمجھتا ہو تو خدا اس کے پچھلے تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اور قیامت کے دن ستر گنہگاروں کے حق میں اس کی شفاعت قبول کرتا ہے اور زائر حسین(ع) قبر حسین(ع) کے پاس نہیں مانگتا کوئی حاجت مگر یہ کہ خدا اس کی حاجت کو پوری کرتا ہے. عبداللہ بن مفضل کہتے ہیں اتنے میں موسی بن جعفر(ع) تشریف لائے آپ نے انہیں اپنے زانو پر بیٹھا لیا اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ لیا پھر اس طوسی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے طوسی یہ امام خلیفہ اور میرے بعد حجت خدا ہیں ان کے صلب سے ایک مرد پیدا ہوگا جس کے ناموں میں سے ایک نام رضا ہوگا آسمانوں میں وہ خدا کی رضا اور زمین پر اللہ کے بندوں کے لئے رضائے خدا ہوگا وہ تمہاری زمین ( طوس) میں زہر سے شہید کیا
...............................
1.امالی صدوق، ص684. انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں. تہذیب الاحکام، ج6، ص108؛ بحار الانوار، ج99، ص42.43.
جائے گا اس کی شہادت کا سبب محض حاکم وقت کی ظلم اور سرکشی وہ تمہاری زمین پر غریب الوطنی میں دفن کیا جائے گا. خبردار ہوجائو جو اس کی زیارت اس کے عالم غربت میں کرے گا یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ اپنے باپ کے بعد امام وقت ہے اور اللہ کی طرف سے اس کی اطاعت فرض ہے اس کو پیغمبر(ع) کی زیارت کا ثواب ملے گا.(1)
33. ہارون بن خارجہ کہتے ہیں : مجھ سے ہارون بن سعد بلخی نے کہا: وہ اسماعیل جن کی طرف تم اپنی گردنیں لمبی کیا کرتے تھے یعنی جن کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھتے تھے وہ تو مرگئے اور جعفر بن محمد(ع) بہت بوڑھے ہو چکے ہیں آج یا کل وہ بھی مرجائیں گے پھر تو تم لوگ بغیر امام کے رہ جائو گے! ہارون بن خارجہ کہتے ہیں: میری سمجھ میں نہیں آیا کہ میں اس( ہارون بن سعد بلخی) کو کیا جواب دوں لہذا میں نے جعفر صادق(ع) کی خدمت میں اس کی باتیں بیان کیں آپ نے فرمایا افسوس،افسوس اس نے خدا سے ان کار کیا ہے بخدا یہ سلسلہ امامت منقطع نہیں ہوگا جب تک سلسلہ لیل و نہار منقطع نہ ہو. اب اگر اس(ہارون بن سعد) سے ملاقات ہو تو کہہ دینا ابھی تو موسی فرزند جعفر(ع) موجود ہیں جو بڑے ہوں گے تزویج کریں گے انہیں اولاد ہوگی ان کا بیٹا بھی انشائ اللہ ان کا خلیفہ اور امام ہوگا.(2)
34.ابن ابی یعفور کہتے ہیں میں امام صادق(ع) کی خدمت میں تھا اتنے میں موسی بن جعفر(ع) تشریف لائے اور بیٹھ گئے. جعفر صادق(ع) نے فرمایا: اے ابو یعفور! یہ میرے بیٹوں میں سب سے بہتر ہیں میں ان سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہوں...(3)
35.امام رضا(ع) کی امامت پر وارد نصوص کے سلسلے میں ایک حدیث ابھی عرض کروں گا
.................................
1.بحار الانوار، ج48، ص26.27. غیبت نعمانی، ص324.326. اخبار معرفتہ الرجال، ج2، ص643.644.
2.اثبات الہداۃ بالنصوص والمعجزات، ج5، ص 479. کمال الدین و تمام النعمہ، ص657. غیبت شیخ طوسی، ص41.42؛ بحار الانوار، ج49، ص26.
3. اثبات الہداۃ بالنصوص والمعجزات، ج5، ص 491. بحار الانوار، ج49، ص268. اختیار معرفتہ الرجا، ج2، ص762.
جس کی روایت حمزہ بن حمران نے صادق(ع) کے حوالے سے کی ہے. جو امام رضا(ع) کی امامت پر نص ہے. اور یہ تو معلوم ہی ہے کہ امامت، امام رضا(ع) تک امام موسی کاظم(ع) سے منتقل ہوکے پہنچی ہے.
حدیثوں کا یہی مجموعہ میسر ہوسکا ہے جو میں نے بہت جلدی میں اکٹھا کر کے امام موسی کاظم(ع) کے لئے ہدیہ کے طور پر پیش کردیا ہے چوتھے گروہ میں ائمہ اثنا عشری کی امامت پر حدیثیں کی گئی ہیں جس میں ان حضرات کے اسمائ گرامی بھی دیئے گئے ہیں اب اس مجموعہ میں انہیں بھی شامل کر لیا جائے تو امام موسی(ع) کا امامت پر100/ سے زیادہ حدیثیں ہوجاتی ہیں اور یہ تعداد ان دو مجموعوں کے علاوہ ہے جن کا ذکر امام صادق(ع) کی امامت سے متعلق نصوص میں گذر چکا ہے.
(اول) سابق میں مذکور حدیثوں سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ امامت کا سلسلہ امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) کے بعد باپ سے بیٹے تک چلتا رہے گا اور یہ سلسلہ کہیں بھی نہیں ٹوٹے گا یعنی ایسا نہیں ہے کہ امامت کسی امام سے اس کے بھائی چچا یا ماموں کی طرف منتقل ہو. مذکورہ حدیثوں میں اکثر ایسی حدیثیں ہیں جو امام محمد باقر(ع) اور امام جعفر صادق(ع) سے وارد ہوئی ہیں اور جو ان حضرات کی امامت کو نصوص سابقہ ثابت کرتی ہیں. یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امام جعفر صادق(ع) کے بعد آپ کی اولاد میں سوائے موسی کاظم(ع) کے کسی نے امامت کا دعوی نہیں کیا بجز دو لوگوں کے جس میں سے اسماعیل اور دوسرے عبداللہ افطح ہیں( جن کی امامت کئی طریقوں سے باطل ہے).
گذشتہ حدیثوں سے دو باتیں درجہ یقین تک پہونچ کے اصول تعین امامت کی سنت بن چکی ہیں اور وہ دو باتیں ہیں امام حسن(ع) اور حسین(ع) کے بعد بیٹوں کی طرف امامت کا منتقل ہونا اور
ائمہ اثنا عشر یعنی اماموں کی تعداد کا بارہ ہونا نہ ایک کم نہ ایک زیادہ، اب) اگر اسماعیل کا امامت پر نظر کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اسماعیل کی وفات امام جعفر صادق(ع) کی زندگی ہی میں ہوگئی اس لئے بیٹے ہونے کے باوجود امام جعفر صادق(ع) سے امامت اسماعیل تک منتقل نہیں ہوسکی چونکہ امام وقت زندہ تھے اس کے علاوہ نصوص میں صراحت سے ان کی امامت کا بطلان موجود ہے. پھر یہ کہ ان کی امامت کے قائل حضرات اثنا عشر کی تعداد میں زیادہ کے مرتکب ہوتے ہیں لہذا ان کی امامت باطل ہے. اور اس بطلان کی دلیل وہ کثیر تعداد میں حدیثیں ہیں جنہیں شیعہ اور اہل سنت نے روایت کی ہیں اور یہ حدیثیں تواتر سے بڑھ کر ہیں اور ان حدیثوں کی طرف اشارہ کیا جاچکا ہے.
پھر اسی اصول پر عبداللہ افطح کی امامت کو جانچ لیجئے صورت یہ ہے کہ عبداللہ افطح کی امامت کے بعد ان کی اولاد میں سے کسی کی امامت کا کوئی قائل نہیں دکھائی دیتا ہے بلکہ اگر ان کے بعد کوئی کسی کی امامت کا قائل ہے تو یا تو وہ عبداللہ افطح کے بھائی موسی کاظم(ع) کو مانتا ہے یا پھر امامت کو انہیں پر منتہی سمجھ کے سلسلہ امامت کے انقطاع کا قائل ہو جاتا ہے.
اب اگر مان لیا جائے کہ امامت کا سلسلہ عبداللہ افطح پر آکے ختم ہوگیا تو پھر اماموں کی تعداد سات ہوتی ہے اور ان کی تعداد بارہ تک نہیں پہنچی شیعوں کے ساتھ ساتھ جمہور اہل سنت کے یہاں بھی یہ عدد تسلیم شدہ ہے. اور اگر عبداللہ افطح کی وفات کے بعد سلسلہ امامت کو پھر آگے بڑھا کے امام موسی کاظم(ع) تک لایا جائے تو مندرجہ ذیل خرابیاں لازم آتی ہیں:
1.امامت ( اپنے اصول انتقال کے خلاف) بھائی کی طرف منتقل ہوتی ہے جب کہ نصوص کثیرہ سے یہ بات مانی جاچکی ہے کے امام حسین(ع) کے بعد امامت باپ سے بیٹے کو ملے گی بھائی چچا ماموں وغیرہ کو نہیں.
2.عبداللہ افطح کی امامت کے بطلان پر ائمہ اثنا عشر کا اجماع ہے اور ان کے شیعوں کا بھی اجماع ہے. شہادت کے لئے تعداد ائمہ والی حدیثیں ملاحظہ فرمائیں.
3.اگر عبداللہ افطح اپنے باپ جعفر صادق(ع) اور بھائی موسی کاظم(ع) کے بیچ میں امام ہیں تو
پھر بارہویں امام، حسن عسکری(ع) قرار پاتے ہیں اور یہ ذیل کی باتوں سے قطعا باطل ہے.
پہلی بات تو یہ ہے کہ شیعہ اور سنی روایتوں میں یہ بات متفقہ طور پر پائی جاتی ہے کہ امام ثانی عشر کا نام نبی(ص) کے نام پر ہوگا. اسی طرح دوسری حدیثیں بھی اسی بات پر دلالت کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ مہدی( کہ غیب والا آخری ہوگا اور) نبی(ص) کا ہم نام ہوگا.دوسری بات یہ ہے کہ اگر بارہویں امام حسن عسکری(ع) ہی ہیں تو پھر آپ کی وفات ہوچکی اور اب آپ کی وفات کے بعد زمین حجت خدا سے خالی ہوگی؟ جو بالکل ہی نا ممکن ہے کیونکہ میں نے آپ کے سابقہ سوالوں میں چوتھے سوال کے جواب میں یہ ثابت کردیا ہے کہ زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی.
4.ان تمام باتوں کے علاوہ اسماعیل اور عبداللہ افطح کی امامت کا قائل گروہ بالکل ختم ہوچکا ہے اور بظاہر کوئی ایسا گروہ نظر نہیں آتا جو اس کا دعویدار ہو. اور انشاء اللہ اس سلسلے میں اس وقت مزید عرض کیا جائے گا جب امامت پر موجود نصوص کو تقویت پہونچانے والے قرائن سے بحث کی جائے گی جو کہ اس کے بطلان پر وہ سب سے بڑا ثبوت ہوگا.
اسی طرح یہ بات طے ہوجاتی ہے کہ امامت امام صادق(ع) سے براہ راست امام موسی کاظم(ع) تک منتقل ہوئی اور ان دونوں ہستیوں کے بیچ میں عبداللہ افطح وغیرہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے.
ابھی امام محمد باقر(ع) اور جعفر صادق(ع) سے مروی بہت حدیثوں سے یہ ثابت کی جاچکی ہے کہ سلاح پیغمبر(ص) صرف امام برحق کے پاس ہوتے ہیں کسی دوسرے کے پاس پائے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے. ( اور یہ بھی عرض کیا جاچکا ہے کہ سلاح پیغمبر(ص) کی حیثیت ائمہ اہل بیت(ع) میں وہی ہے جو بنی اسرائیل میں تابوت سکینہ کی تھی جس کے دروازہ پر پایا جاتا تھا تو وہ نبی برحق ہوتا تھا) اس کے علاوہ اکثر حدیثیں اس بات کی شاہد ہیں کہ سلاح پیغمبر(ص) صرف امام موسی کاظم(ع)
کے پاس تھا اور جعفر صادق(ع) سے میراث میں ملا تھا محمد بن حکیم ابو ابراہیم یعنی امام موسی کاظم(ع) سے راویت ہیں کہ حضرت نے فرمایا: سلاح پیغمبر(ص) ہمارے پاس رکھا ہوتا ہے اور اس کے پاس غیر امام کوئی جا بھی نہیں سکتا. اسی طرح کچھ اور حدیثیں عنقریب بیان کی جائیں گی جن میں بیان کیا گیا ہے یہ سلاح امام رضا(ع) کے پاس تھا.
ظاہر ہے کہ یہ سلاح پیغمبر(ص) امام رضا(ع) تک آپ کے والد امام کاظم(ع) سے پہونچا تھا.
آپ کی امامت پر نص کے سلسلے میں مندرجہ ذیل حضرات سے حدیثیں لکھی جا چکی ہیں.
یزید بن سلیط، ابراہیم کرخی، نصر بن قابوس. دائود بن کثیر اور عبداللہ بن فضل ہاشمی یہ وہ حدیثیں ہیں جو امام رضا(ع) کے والد موسی کاظم(ع) کی امامت کے ثبوت میں پیش کی جا چکی ہیں جس کے ضمن میں آپ کی امامت بھی منصوص ہوتی ہے.
جس طرح حبابہ والبیہ کی وہ حدیث جو آپ کے جد امجد امام علی بن الحسین زین العابدین(ع) کی امامت پر نص ہے اس میں امام رضا(ع) کا تذکرہ ہے. اور ابو ہاشم جعفری کی وہ حدیث جو امام حسن عسکری(ع) کی امامت پر پیش کی جائے گی اس میں بھی امام رضا(ع) کی امامت پر نص پائی جاتی ہے اور یہ دونوں حدیثیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ امام کی تعداد معین ( یعنی بارہ) ہے.ان سابقہ نصوص کے ساتھ اب ان حدیثوں کا بھی اضافہ کر لیں.
1.امام رضا(ع) کی مادر گرامی جناب نجمہ خاتون فرماتی ہیں جب امام علی رضا(ع) میرے شکم میں تھے مجھے ذرا بھی بار محسوس نہیں ہوا نیند کی حالت میں اکثر میں تسبیح و تہلیل کی آوازیں سنتی تھی جو
میرے بطن میں آتی تھی. اس سے مجھے خوف محسوس ہوتا تھا اور ہول آتا تھا لیکن جب میری آنکھ کھل جاتی تو کوئی آواز سنائی نہیں دیتی تھی. جب امام رضا(ع) پیدا ہوئے تو آپ نے دونوں ہاتھ زمین پر رکھا اور سر کو آسمان کی طرف بلند کیا اور ہونٹوں کو یوں جنبش دیا جیسے کچھ کہہ رہے ہوں. اتنے میں آپ کے والد موسی کاظم(ع) تشریف لائے اور فرمایا اے نجمہ تم کو اپنے پروردگار کی طرف سے بخشی ہوئی خاص کرامت مبارک ہو. میں نے کپڑے میں لپیٹ کے امام رضا(ع) کو موسی کاظم(ع) کی خدمت میں پیش کیا امام نے امام رضا(ع) کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی. پھر آپ نے آب طلب کیا اور اس کو امام کی گردن پر ڈالا. پھر مجھے واپس کر کے فرمایا: یہ زمین خدا پر بقیہ اللہ ہے.(1)
2.محمدبن سنان کہتے ہیں : میں امام موسی کاظم(ع) کے عراق جانے کے ایک سال پہلے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ کے صاحبزادے علی(ع) آپ کے سامنے بیٹھے تھے. آپ نے فرمایا: جس نے میرے اس فرزند کا حق مارا اور میرے بعد اس کی امامت سے انکار کیا اس نے گویا بعد پیغمبر(ص) علی ابن ابی طالب(ع) کا حق مارا اور علی ابن ابی طالب(ع) کی امامت سے انکار کیا. محمد بن سنان کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: مولا اگر خدا مجھے حیات بخشی اور اس وقت تک زندہ رہا تو آپ کے لال کا حق ضرور دلوائوں گا اور آپ کے فرزند کی امامت کا ضرور اقرار کروں گا. فرمایا: تم نے سچ کہا اے محمد یقینا تم اس وقت زندہ رہوگے ان کا حق بھی دلوائو گے اور ان کی امامت کا اقرار بھی کرو گے بلکہ ان کے بعد ان کے بیٹے کی امامت کا بھی اقرار کرو گے. میں نے پوچھا ان کا نام کیا ہوگا؟ فرمایا : محمد(ع) عرض کیا سر و چشم حاضر ہوں. اور یہی حدیث امام محمد بن علی جواد(ع) کی امامت پر بھی نص ہے.(2)
.................................
1.بحار الانوار، ج49، ص9؛ عیون اخبار الرضا، ج2، ص29.30؛ کشف الغمہ، ج3، ص90.
2.کافی، ج1، ص319. انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں. بحار الانوار، ج29، ص21؛ ارشاد، ج2، ص253؛ غیبت شیہ طوسی، ص32.33.
3.حسین بن نعیم صحاف کی حدیث وہ کہتے ہیں کہ ہم تین آدمی میں، ہشام بن حکم اور علی بن یقطین تھے اس وقت بغداد میں تھے. علی بن یقطین نے کہا: میں عبد صالح کی خدمت میں بیٹھا تھا اسی اثناء آپ کے صاحبزادے علی(ع) تشریف لائے موسی کاظم(ع) نے فرمایا: اے علی ابن یقطین! یہ میرے بیٹوں کے سردار ہیں. انہیں میں نے اپنی کنیت ( ابوالحسن) دیدی ہے. حسین صحاف کہتے ہیں یہ سن کے ہشام بن حکم نے اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا اور کہا تم پر وائے ہو تم یہ بات کیسے کہہ رہے ہو؟ علی بن یقطین نے کہا بخدا میں نے امام سے سنا تھا وہی کہا ہے یہ اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں. ہشام نے کہا ( اس کا مطلب سمجھتے ہو) اس کا مطلب ہے کہ امام نے یہ بتایا کہ ان کے بعد امر امامت کے وہی ( علی رضا(ع)) ذمہ دار ہوں گے.(1) علی بن یقطین ہی سے ایک حدیث ہے کہ جب انہوں نے( علی بن یقطین) نے یہ بتایا کہ امام موسی کاظم(ع) کہہ رہے تھے کہ میں نے اپنے بیٹے علی(ع) کو اپنی کنیت دیدی ہے تو یہ سن کے ہشام یعنی( ابن سالم) نے اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا اور کہا خدا کی قسم امام اس جملے سے اپنی موت کی خبر دے رہے تھے.(2)
یہ حدیث دوسرے الفاظ میں بھی علی بن یقطین ہی سے مروی ہے لیکن تمام حدیثوں میں قریب قریب مذکورہ الفاظ ہی استعمال کے گئے ہیں(3)
4.علی بن یقطین کی ایک دوسری حدیث ہے کہ امام موسی کاظم(ع) نے مجھے قیدخانہ سے ایک خط لکھا اس میں آپ نے لکھا تھا کہ میرا فلان بیٹا میرے بیٹوں کا سردار ہے اور میں نے اس کو اپنی کنیت دی ہے.(4)
..............................
1. کافی، ج1، ص311. انہیں لفظوں کے ساتھ مطالعہ کریں. بحار الانوار، ج49، ص13؛ عیون اخبار الرضا، ج2، ص32؛ کفایتہ الاثر، ص271.
2.بحار الانوار، ج49، ص13؛ عیون اخبار الرضا. ج2، ص31؛ کشف الغمہ، ج3، ص91.
3.بحارالانوار، ج49،ص32.
4.کافی، ج1، ص313.
اس حدیث میں اگرچہ علی ابن یقطین نے( وقت اور مصلحت کے تقاضوں کا خیال کر کے) امام علی رضا(ع) کے نام
کی صراحت نہیں کی ہے لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اس خط میں امام رضا(ع) کے علاوہ کسی پر امام نے نص نہیں فرمائی ہے. اگرچہ آپ( جیسا کہ بعد میں آئے گا) یہ کہہ سکتے ہیں کہ امام نے کسی کی امامت پر نص نہیں فرمائی چونکہ قائم کا ذکر نہیں ہے.البتہ یہ مطلب بھی یقینی اور روشن ہے کہ اگر اس خط میں امام رضا(ع) کے علاوہ کسی اور کی امامت پر نص خود علی ابن یقطین نے سمجھا ہوتا تو پھر وہ امام رضا(ع) کی امامت کے ہرگز قائل نہ ہوتے. اس کے علاوہ ہمارے علماء نے اس حدیث کو امام رضا(ع) کی امامت پر نص کے طور پر ذکر کیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے علی ابن یقطین کی حدیث سے امام رضا(ع) ہی کا نام سمجھا ہے.
5.نعیم قابوسی کہتے ہیں کہ موسی کاظم(ع) نے فرمایا: بیشک میرا فرزند علی مرے بیٹوں میں سب سے بڑا ہے میرے نزدینک سب سے نیک ہے اور میرا سب سے محبوب ہے وہ میرے ساتھ علم جفر کا مطالعہ کرتا ہے اور جفر کو کوئی پڑھ ہی نہیں سکتا مگر نبی یا وصی نبی(ص).(1)
6.دائود رقی کہتے ہیں میں نے ابو ابراہیم سے عرض کیا مولا میں آپ پر قربان ہو جائوں. میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں مجھے جہنم سے بچا لیجئے تو امام موسی کاظم(ع) نے اپنے صاحبزادے ابوالحسن رضا(ع) کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یہی میرے بعد تمہارے صاحب اور امام ہیں.(2)
.............................
1.کافی، ج1، ص312. انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں. بحار الانوار، ج49، ص20؛ ارشاد، ج2، ص249.250. غیبت شیخ طوسی، ص36؛ مناقب ابن شہر آشوب، ج3، ص476؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص44؛ کشف الغمہ، ج3، ص64.
2. کافی، ج1، ص312. ارشاد، ج2، ص248؛ غیبت شیخ طوسی، ص34؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص44؛ کشف الغمہ، ج3، ص63. بحار الانوار، ج49، ص33.34.
اس طرح ایک دوسری حدیث بھی ہے.(1) سے لوں؟ فرمایا میرے بیٹے علی(ع) سے....(2)
7.زیاد بن مروان قندی جو واقفہ(نامی فرقہ) میں سے تھے اور واقفی وہ لوگ ہیں جن کا عقیدہ ہے کہ امام موسی کاظم(ع) پردہ غیب میں ہیں اور آپ کی رحلت نہیں ہوئی ہے آپ ہی قائم منتظر ہیں بہر حال قندی کہتے ہیں میں ایک دن امام موسی کاظم(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ کے صاحبزادے ابوالحسن الرضا(ع) وہاں بیٹھے تھے امام موسی کاظم(ع) نے مجھ سے کہا اے زیاد یہ میرا فلاں بیٹا ہے اس کا خط میرا خط اس کی بات میری بات اس کا پیغام میرا پیغام ہے اور یہ جو کچھ کہے بس اسی کی بات قابل قبول ہے.(3).
8.مخزومی کی حدیث بھی ملاحظہ فرمائیں. ( مخزومی کی ماں جعفر بن ابی طالب کی اولاد میں تھیں یہ مخزومی ماں کی طرف سے ہاشمی تھے) حدیث یوں ہے مخزومی کہتے ہیں ایک دن حضرت ابوالحسن موسی کاظم(ع) نے ہمیں بلا بھیجا جب ہم وہاں جمع ہوگئے تو فرمایا آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ میں نے آپ لوگوں کو کیوں زحمت دی ہم نے کہا نہیں فرمایا آپ گواہ رہیں کہ میرے یہ فرزند میرے وصی میرے امر پر قائم رہنے والے یعنی میرے تمام امور کے قیم و سرپرست اور میرے بعد میرے خلیفہ ہیں. جو یہ سمجھتا ہے کہ میرے پاس دین ہے اس کو چاہئے کہ وہ دین میرے اس بیٹے سے لے. اگر میں نے کسی سے کوئی وعدہ کیا ہے تو میرا یہ بیٹا اس کو پورا کرے گا. اور جو مجھ سے ملنا ضروری سمجھتا ہے
.............................
1.بحار الانوار، ج9،ص15.
2.کافی، ج1، ص312. انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں. بحار الانوار ، ج49، ص24؛ ارشاد، ج2، ص248.249. غیبت شیخ طوسی، ص34.35. اعلام الوری باعلام الہدی،ج2، ص44. 45.
3.کافی، ج1، ص312. انہیں لفظوں کے ساتھ مطالعہ فرمائیں: بحار الانوار، ج49، ص19؛ عیون اخبار الرضا، ج2، ص39؛ روضتہ الواعظین، ص222. ارشاد، ج2، ص250؛ غیبت شیخ طوسی، ص37؛ اعلام الوری باعلام الہدی، ج2، ص45؛ کشف الغمہ، ج3، ص64.
وہ مجھ سے مل نہیں سکتا مگر اس فرزند کی تحریری اجازت نامہ لے کے.(1)
9.دائود بن سلیمان کہتے ہیں: میں جناب ابو ابراہیم موسی کاظم(ع) کی خدمت میں تھا” میں نے عرض کیا مولا مجھے خوف ہے کہ کوئی حادثہ( یعنی آپ کی موت) ہوجائے اور میں آپ سے ملاقات نہ کرسکوں لہذا مجھے بتا دیں کہ آپ کے بعد امام کون ہے؟ فرمایا میرا فلاں بیٹا یعنی ابو الحسن علی الرضا(ع).(2)
10.دائود بن رزین کہتے ہیں: کہ میرے پاس ابوالحسن موسی کاظم(ع) کا کچھ مال تھا آپ نے ایک بار مجھ سے اس مال کا مطالبہ کیا میں نے آپ کی خدمت میں بھیج دیا آپ نے اس میں سے کچھ لیا اور باقی واحس بھیج دیا اور ہی بھی فرمایا میرے بعد اس مال کا باقی حصہ جو بھی تم سے طلب کرے گا وہی تمہارا امام ہوگا جب امام موسی کاظم(ع) کا انتقال ہوگیا تو آپ کے فرزند علی بن موسی(ع) نے میرے پاس پیغام بھیجا کہ وہ مال جو تمہارے پاس ہے بھیج دو اس مال کی کیفیت یہ ہے اور وہ ایسے ایسے ہے لہذا میرے پاس جو کچھ تھا اسے میں نے امام علی رضا(ع) کے پاس بھیج دیا.(3)
11.دائود بن رزین کہتے ہیں : میں ابو ابراہیم(ع) کی خدمت میں کچھ مال لے کے حاضر ہوا امام نے اس میں سے کچھ لیا اور کچھ میرے ہی پاس چھوڑ دیا میں نے عرض کیا خدا آپ کو سلامت رکھے آپ نے میرے پاس یہ مال کس لئے چھوڑ دیا؟ فرمایا اس امر امامت کا اہل و وارث اس مال کو تم سے جلدی طلب کرے گا( اس کے بعد آپ کی وفات ہوگئی) جب ہمارے پاس امام موسی کاظم(ع) کی
................................
1.کافی، ج1، ص312. انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ کریں: بحار الانوار،ج49، ص16؛ اعلام الوری باعلام الہدی، ج2، ص45.
2.کافی، ج2، ص313؛ بحار الانوار، ج1، ص24. 25؛ ارشاد، ج2، ص251؛ غیبت شیخ طوسی، ص28؛ اعلام الوری باعلام الہدی، ج2، ص46؛ کشف الغمہ، ج3، ص65.
3. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص23؛ عیون اخبار الرضا، ج1، ص237؛ بحار الانوار، ج49، ص23.
شہادت کی خبر آئی تو امام ابوالحسن الرضا(ع) ( جو آپ کےفرزند تھے) نے ہمارے پاس پیغام بھیجا اور اس مال کو ہم سے طلب کیا ہم نے انہیں دے دیا.(1)
12. اسماعیل بن فضل ہاشمی کہتے ہیں میں حضرت ابوالحسن موسی بن جعفر(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اس وقت سخت بیمار تھے میں نے عرض کیا مولا اگر وہ حادثہ ہوجائے جس کے نہ ہونے کی ہم خدا سے دعا کرتے ہیں( یعنی خدا نخواستہ آپ دنیا سے رخصت ہو جائیں) تو ہم کس کی طرف رجوع کریں؟ فرمایا: میرے بیٹے علی(ع) کی طرف. ان کی تحریر میری تحریر ہے اور وہ میرے وصی ہیں. اور میرے بعد میرے خلیفہ ہیں.(2)
13.علی ابن یقطین کہتے ہیں: کہ موسی بن جعفر(ع) نے ایک دن خود ہی گفتگو کا آغاز کیا اور فرمایا : یہ میرے سب سے سمجھدار فرزند ہیں( اور پھر اپنے ہاتھ سے امام علی رضا(ع) کی طرف اشارہ کیا اور) فرمایا میں نے انہیں اپنی کنیت دے دی ہے.(3) علی بن یقطین سے اسی طرح دوسری حدیثیں بھی ہیں.(4)
14.منصور بن یونس بزرخ کہتے ہیں ایک دن میں موسی بن جعفر(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا: منصور تمہیں نہیں معلوم آج کیا واقعہ ہوا؟ میں نے عرض کیا: مجھے نہیں معلوم. فرمایا: میں نے آج اپنے بیٹے علی(ع) کی وصایت کا اعلان کر دیا اور اپنے بعد ان کے خلیفہ ہونے کا بھی اعلان کر دیا ہے اس لئے تم ان کی خدمت میں جائو اور انہیں مبارک باد دو.(5)
.......................................
1.کافی، ج1، ص313. انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں. بحار الانوار، ج49، ص23؛ ارشاد، ج2، ص252.. غیبت شیخ طوسی، ص39؛ مناقب ابن شہر آشوب، ج3، ص476؛ کشف الغمہ، ج3، ص65.
2.بحار الانوار، ج49. ص13؛ عیون اخبار الرضا، ج2، ص31.
3. بحار الانوار، ج49. ص14؛ عیون اخبار الرضا، ج2، ص32.
4. بحار الانوار، ج49. ص23.
5. بحار الانوار، ج49. ص14؛ عیون اخبار الرضا، ج2، ص32؛ اخبار معرفتہ الرجال، ج2، ص768.
15.سلیمان مروزی کہتے ہیں : ابو الحسن موسی بن جعفر(ع) کی خدمت میں ایک دن اس ارادے سے حاضر ہوا تاکہ آپ سے پوچھوں کہ آپ کے بعد کون حجت ہے. جب میں حاضر ہوا تو ابھی میں نے پوچھا بھی نہیں تھا کہ آپ نے خود ہی کلام کی ابتداء کی اور فرمایا: اے سلیمان بیشک میرا علی(ع) میرا وصی اور میرے بعد لوگوں پر حجت ہے میرے بیٹوں میں سب سے زیادہ صاحب فضیلت ہے اگر تم میرے بعد زندہ رہے تو میرے شیعوں کے اوپر میرے اہل ولا کے درمیان اس بات کی شہادت دینا اور جو لوگ میرے خلیفہ کے بارے میں پوچھیں انہیں بتا دینا.(1)
16. علی ابن عبداللہ ہاشمی کہتے ہیں: ہم لوگ ایک بار قبر پیغمبر(ع) کے پاس جمع تھے ہم اور ہمارے احباب تقریبا 60/ آدمی تھے اتنے میں ابو ابراہیم موسی بن جعفر(ع) اپنے صاحبزادے علی(ع) کا ہاتھ پکڑے ہوئے تشریف لائے. آپ نے ہم لوگوں سے پوچھا کہ کیا تم لوگ بتا سکتے ہو کہ میں کون ہوں؟ ہم نے عرض کیا آپ ہمارے سردار اور ہمارے بزرگ ہیں. فرمایا : میرا نام اور نسب بیان کرو. ہم نے عرض کیا آپ موسی بن جعفر(ع) ہیں پوچھا اور میرے ساتھ کون ہے؟ ہم نے عرض کیا یہ آپ کے صاحبزادے علی بن موسی(ع) ہیں اس کے بعد آپ نے فرمایا اب گواہ رہنا یہ میری زندگی میں میرے وکیل اور میرے مرنے کے بعد میرے وصی ہیں.(2)
17. عبداللہ بن مرحوم کہتے ہیں: میں بصرہ سے مدینہ کے لئے نکلا. راستے میں میری ملاقات ابو ابراہیم سے ہوگئی آپ بصرہ جارہے تھے آپ نے مجھے بلا بھیجا جب میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے ایک خط دیا اور فرمایا اسے مدینہ پہنچا دینا میں نے پوچھا کس کے پاس فرمایا میرے بیٹے علی بن موسی(ع) کے پاس کیونکہ وہی میرے وصی ہیں میرے امور کے سر پرست اور میرے بیٹوں میں سب سے بہتر.(3)
....................................
1.بحار الانوار، ج49، ص15.
2.بحار الانوار، ج49، ص15؛ عیون اخبار الرضا، ج2، ص31.
3.بحار الانوار، ج49، ص15. انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں. اثبات الہدی بالنصوص والمعجزات، ج6، ص17. انہوں نے اس روایت کو عبداللہ بن محزوم سے نقل کیا ہے.
18. حیدر بن ایوب کہتے ہیں: کہ محمد بن زید ہاشمی نے کہا اب شیعہ علی ابن موسی(ع) کو اپنا نام مانتے ہیں میں نے پوچھا یہ کیسے ہوگیا؟ کہنے لگے موسی بن جعفر(ع) نے انہیں( علی بن موسی(ع)) کو بلایا تھا اور اپنا وصی بنایا تھا.(1)
حیدر بن ایوب سے اس سلسلے میں ایک تفصیلی حدیث بھی ہے جس میں وہ کہتے ہیں:
ہم لوگ مدینہ میں اس جگہ جس کو قبا کہا جاتا ہے وہیں پر محمد بن علی(ع) بھی آتے تھے اس دن وہ معینہ وقت سے کچھ تاخیر سے پہنچے ہم نے کہا آپ پر قربان ہوں آخر آپ نے اتنی تاخیر کیوں کی؟ کہنے لگے اصل میں آج مجھے ابو ابراہیم(ع) نے بلایا تھا ہم اولاد علی(ع) اور فاطمہ سلام اللہ علیہا سے17/ آدمی بلائے گئے تھے. ابو ابراہیم نے اپنے صاحبزادے علی بن موسی(ع) کو اپنا وصی اور وکیل بنایا. یہ وکالت و وصایت اپنی زندگی اور مرنے کے بعد بھی جاری رکھنے کا اعلان کیا اور فرمایا کہ ہر وہ امر جو ان کے اوپر جائز ہے ان کے صاحبزادے علی رضا(ع) پر بھی جائز ہے اس کے بعد ہم نے تمام فاطمین کو اس امر پر شاہد بنایا. پھر محمد بن زید کہتے ہیں اے حیدر، خدا کی قسم آج علی بن موسی(ع) کی امامت منعقد ہوگئی اور ضرور شیعہ ان کی امامت کے قائل ہوجائیں گے(موسی کاظم(ع) کی شہادت کے بعد) حیدر نے کہا بلکہ میری تو دعا ہے کہ خدا انہیں باقی رکھے. آخر یہ کیا بات ہوئی؟ محمدبن زید نے کہا اے حیدر جب انہوں (موسی کاظم(ع)) نے ان( علی رضا(ع)) کو اپنا وصی بنایا تو ان کی امامت طے ہوگئی.(2)
10. یزید بن سلیط کہتے ہیں: ایک دن ابو الحسن موسی کاظم(ع) نے مجھے بلایا ہم 30/ لوگ تھے آپ نے ہمیں گواہ بنا کے فرمایا کہ علی بن موسی رضا(ع) ان کے وصی اور ان کے بعد ان کے خلیفہ ہیں.(3)
.....................................
1.بحار الانوار،ج49، ص16.
2.بحار الانوار، ج49، ص16.17؛ عیون اخبار الرضا، ج2، ص37.
3.اثبات الھداة بالنصوص والمعجزات، ج6، ص30.
20. عبدالرحمن بن حجاج کہتے ہیں: کہ ابوالحسن موسی(ع) نے اپنے صاحبزادے علی رضا(ع) ک اپنا وصی بنایا اور اس وصایت کے ثبوت کے لئے ایک تحریر تیار کی جس میں گواہ کے طور پر اہل مدینہ کے 60/ نمایاں افراد کے دستخط لئے.(1)
21.حسین بن بشیر کہتے ہیں: حضرت ابوالحسن موسی بن جعفر(ع) نے اپنے صاحبزادے حضرت رضا(ع) کو ہمارے سامنے اس طرح اپنا قائم مقام بنایا جس طرح پیغمبر(ص) نےغدیر کے دن مولائے کائنات علی مرتضی(ع) کو اپنا قائم مقام بنایا تھا. پھر آپ نے فرمایا: اے اہل مدینہ! یا اس طرح فرمایا: اے اہل مسجد! یہ میرے بعد میرے وصی ہیں.(2)
22. حسن بن علی خزاز کہتے ہیں: ہم مکہ سے نکلے ہمارے ساتھ علی بن حمزہ بھی تھے اور ان کا کے پاس کافی مال و متاع تھا ہم نےان سے پوچھا یہ سب کیا ہے کہنے لگے یہ سب کچھ عبد صالح کا ہے آپ نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس کو ان کے صاحبزادے علی رضا(ع) تک پہنچا دوں کیونکہ انہوں نے علی رضا(ع) کو اپنا وصی بنایا ہے.(3)
24.جعفر بن خلف کہتے ہیں: میں نے سنا ابوالحسن موسی بن جعفر(ع) فرمارہے تھے کہ خوشبخت ہے وہ جو اس وقت تک مرجاتا ہی نہیں جب تک کہ وہ اپنا خلف نہ دیکھ لے اور اللہ نے مجھے میرے اس بیٹے کو جو میرا خلف ہے دکھا دیا ہے( یہ فرما کے اشارہ کیا اپنے صاحبزادے علی بن موسی(ع) کی طرف).(4)
25. اسی طرح کی حدیث موسی بن بکر سے بھی ہے کہتے ہیں: میں ابو ابراہیم کی خدمت
................................
1.بحار الانوار، ج49، ص17؛ عیون اخبار الرضا، ج2، ص37.
2. بحار الانوار، ج49، ص17؛ عیون اخبار الرضا، ج2، ص37.
3. بحار الانوار، ج49، ص17؛ عیون اخبار الرضا، ج2، ص37.38.
4. بحار الانوار، ج49، ص18؛ عیون اخبار الرضا، ج2، ص37.38.
میں تھا کہ آپ نے فرمایا امام جعفر صادق(ع) فرمایا کرتے تھے کہ وہ شخص خوش بخت ہے جو اس وقت تک نہیں مرتا جب تک کہ اپنے صلب سے اپنے خلف کو نہ دیکھ لے. پھر( امام موسی کاظم(ع)) نے اپنے صاحبزادے علی بن موسی(ع) کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : اور یہ ہیں میرے خلف، خداوند عالم نے میری قسمت سے میرا خلف مجھے دکھا دیا.(1)
26. حسین بن مختار کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ابو ابراہیم موسی کاظم(ع) کے پاس سے کچھ تختیاں لائی گئیں اس وقت موسی بن جعفر(ع) قید میں تھے ان تختیوں میں لکھا تھا میرا عہد میرے بڑے بیٹے تک پہونچے( یعنی میرا بیٹا میرا ولی عہد ہے).(2)
دوسری حدیث بھی اسی طرح ہے جس میں حسین بختیار کہتے ہیں جب ابوالحسن موسی(ع) ہمارے پاس بصرے سے ہو کے گذرے تو ہمارے لئے آپ کی طرف سے تختیاں لائی گئیں جن پر چوڑائی میں لکھا ہوا تھا میرا عہد میرے بڑے بیٹے کے لئے ہے.(3)
27.مفضل بن عمر کہتے ہیں کہ ایک دن میں ابوالحسن موسی بن جعفر(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے دیکھا آپ کی گود میں آپ کے صاحبزادے حضرت علی رضا(ع) تھے موسی کاظم(ع) ان کو چوم رہے ت ھے. ان کی زبان چوس رہے تھے کبھی انہیں اپنے کاندھے پر بٹھاتے اور کبھی خود سے لپٹا لیتے اور فرماتے جاتے تھے میرے باپ تم پر قربان ہوں تمہاری خوشبو کتنی عمدہ، خلقت کتنی پاک اور فضائل کتنے واضح ہیں میں نے عرض کیا مولا میں آپ پر قربان ہو جائوں! اس بچے کے لئے میں دل میں ویسی ہی مودت محسوس کر رہا ہوں جیسی آپ کے علاوہ کسی کے لئے محسوس نہیں کرتا. آپ نے فرمایا: اے مفضل! اس کی منزلت مجھ سے ایسی ہے جیسی میری منزلت میرے والد
.................................
1.بحار الانوار، ج49، ص26؛ کفایتہ الاثر، ص273. غیبت شیخ طوسی، ص41.
2.بحار الانوار، ج49، ص18.19؛ ارشاد، ج2، ص250؛ غیبت شیخ طوسی، ص36.37؛ اعلام الوری باعلام الہدی، ج2، ص46.
3.بحار الانوار، ج49، ص19.
سے تھی. پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی ذریت میں ایک دوسرے کا وارث بنتا ہے اور خدا سمیع و علیم ہے میں نے عرض کیا مولا اس کا مطلب، کیا میں یہ سمجھوں کہ یہ صاحبزادے ہی آپ کے بعد صاحب امر ہیں. فرمایا: ہاں جو ان کی اطاعت کرے وہ راشد ہے اور جو ان کی نا فرمانی کرے وہ کافر ہے.(1)
28. حسن بن حسن کہتے ہیں: میں نے ابوالحسن موسی(ع) سے عرض کیا کہ میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں فرمایا: (مستقبل کے امام سے) پوچھو میں نے پوچھا اس سے آپ کی مراد کون ہیں؟ میں تو آپ کے علاوہ کسی کو اپنا امام نہیں مانتا. فرمایا میرا بیٹا امام ہے میں نے اپنی کنیت اسے بخش دی. میں نے عرض کیا مولا مجھے آگ سے بچائیں. ابو عبداللہ( امام صادق(ع)) فرمایا کرتے تھے کہ آپ اس امر کے قائم ہیں فرمایا کیا میں قائم نہیں ہوں؟ پھر فرمایا امت میں جو امام ہوتا ہے وہی قائم امر ہوتا ہے جب وہ شہادت پا جاتا ہے تو اس کا ولی اور وارث جو اس کے بعد آتا ہے وہی قائم اور حجت ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ بھی غائب ہوجاتا ہے( یعنی مرجاتا ہے) لہذا( ہم شیعہ ائمہ اثناعشر(ع)) سب کے سب قائم ہیں. لہذا وہ تمام معاملات جو مجھ سے رکھتے ہو میرے اس بیٹے علی(ع) سے رکھنا اور بخدا میں نے یہ اپنی طرف سے نہیں کہا ہے بلکہ یہ خدا ہی کا فیصلہ ہے خدا نے ( علی رضا(ع)) سے محبت کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا ہے.(2)
29.علی بن جعفر کہتے ہیں: میں اپنے بھائی موسی بن جعفر(ع) کے پاس تھا بخدا موسی بن جعفر(ع) میرے والد کے بعد زمین پر خدا کی حجت تھے. میں موسی بن جعفر(ع) کی خدمت میں تھا کہ آپ کے صاحبزادے علی(ع) نمودار ہوئے. آپ نے مجھ سے فرمایا اے میرے بھائی علی، یہی تمہارے صاحب اور امام ہیں. میری نسبت سے اسی مرتبہ پر ہیں جس مرتبہ پر میں اپنے والد
.................................
1.بحار الانوار، ج49، ص20.21؛ عیون اخبار الرضا، ج2، ص40.
2.بحار الانوار، ج49، ص25. 26؛ غیبت شیخ طوسی، ص41.
کی نسبت سے ہوں. خدا تمہیں اپنے دین پر ثابت قدم رکھے. علی ابن جعفر کہتے ہیں یہ سن کر میں رونے لگا اور دل میں کہا خدا کی قسم امام اپنے مرنے کی خبر دے رہے ہیں کہ امام نے فرمایا اے علی بن جعفر تقدیرات الہی کو تو کوئی ٹال نہیں سکتا اور میرے لئے پیغمبر خدا (ص) امیر المومنین(ع) اور فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت نمونہ عمل ہے امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کی سیرت میرے لئے اسوہ حسنہ ہے. علی بن جعفر کہتے ہیں کہ یہ باتیں اس وقت کی ہیں جس کے تین دن بعد ہارون نے آپ کو دوسری بار قید کر دیا.(1)
30. نصر بن قابوس کا بیان ہے میں حضرت ابو الحسن(ع) کی خدمت میں آپ کے گھر میں موجود تھا آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ایک حجرے کے دروازے پر کھڑا کر دیا پھر آپ نے دروازہ کو کھولا تو میں نے دیکھا آپ کے صاحبزادے علی(ع) اس حجرے میں تشریف فرما ہیں اور ایک کتاب کا مطالعہ کر رہے ہیں امام نے فرمایا اے نصر کیا تم پہچانتے ہو یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا مولا یہ آپ کے فرزند علی(ع) ہیں امام نے کہا نصر کیا تم جانتے ہو یہ اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے کس کتاب کا مطالعہ کر رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا نہیں. فرمایا یہ وہی کتاب جفر ہے جس کا مطالعہ صرف وہی کرسکتا ہے جو نبی(ص) ہو یا وصی نبی(ص) ہو.(2)
31.حسن بن موسی کا بیان ہے کہ نشیط اور خالد دو خادم تھے جو امام ابو الحسن موسی(ع) کی خدمت میں تھے پس حسن کہتے ہیں کہ یحیی بن ابراہیم نے نشیط سے سنا انہوں نے خالد الجوان سے سنا کہ جب ابو الحسن رضا(ع) کی امامت میں لوگوں نے اختلاف کیا تو میں( نشیط) نے خالد سے کہا تم دیکھ رہے ہو کہ لوگوں کے اندر امر امامت میں کیسا اختلاف ہوگیا ہے؟ خالد نے کہا مجھ سے ابو الحسن(ع) نے فرمایا کہ میرا جانشین میرا ولد اکبر ہوگا وہ میرے بیٹوں میں سب سے بہتر اور افضل ترین ہے.(3)
.........................
1.بحار الانوار، ج49، ص26. 27؛ مسائل علی بن جعفر، ص21.22؛ غیبت شیخ طوسی، ص42.
2.بحار الانوار، ج49، ص27.
3.بحار الانوار، ج49، ص27.28.
32. حمزہ بن حمران امام صادق(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت نے فرمایا: میرا پوتا سر زمین خراسان پر اس شہر میں شہید کیا جائے گا جو طوس نام سے مشہور ہے جو اس کے حق کی معرفت کے ساتھ اس کی زیارت کرے گا میں قیامت کے دن اس کا ہاتھ پکڑ کے جنت میں داخل کروں گا اگرچہ وہ اہل کبائر میں سے ہو. میں نے عرض کیا آپ پر قربان ہوجائوں ان کے حق کی معرفت سے کیا مراد ہے فرمایا: ان کے حق کو پہچاننے کا مطلب یہ ہے کہ تم سمجھو وہ امام مفترض الطاعہ ہیں غریب الوطن اور شہید ہیں( ظاہر ہے کہ اس حدیث میں موضوع گفتگو امام رضا(ع) ہیں لہذا یہ حدیث بھی آپ کی امامت پر نص ہے.(1)
33.بکر بن صالح کہتے ہیں: میں نے ابراہیم بن ابی الحسن موسی(ع) سے کہا: آپ کا اپنے والد کے بارے میں کیا عقیدہ ہے؟ انہوں نے فرمایا وہ زندہ ہیں میں نے کہا پھر اپنے بھائی ابو الحسن علی(ع) کے بارے میں کیا خیال ہے؟ فرمایا: عالم ہیں ثقہ ہیں صدوق( بہت سچے) ہیں. میں نے عرض کیا لیکن وہ کہتے ہیں کہ آپ کے والد کا انتقال ہوگیا کہنے لگے وہ اپنی کہی ہوئی باتوں کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں یہ سن کے میں پھر ان کی طرف متوجہ ہوا وہ ابھی میری طرف مڑے میں نے پوچھا کیا آپ کے والد نے کسی کو وصی بھی بنایا ہے کہا ہاں میں پوچھا کس کو؟ کہا ہم پانچ آدمیوں کو بنایا ہے اور ہم میں علی رضا(ع) کو مقدم فرمایا ہے.
34.علی ابن حمزہ امام کاظم(ع) سے راوی ہیں. اور اس حدیث میں علی ابن جمزہ نے کہا کہ علی ابن یقطین نے امام موسی کاظم(ع) سے پوچھا مولا آپ کے بعد کون (امام) ہے؟ فرمایا یہ فرزند علی(ع) یہ میرے فرزندوں میں سب سے بہتر ہے. مجھ سے اس کی وہی نسبت ہے جو میرے والد سے میری تھی. میرا یہ فرزند شیعوں کے لئے ذخیرہ ہے اس کے پاس وہ علم ہے لوگ جس علم کے دنیا اور آخرت میں محتاج ہیں میرا یہ فرزند سید و سردار ہے اور بیشک وہ
.............................
1.اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص10.11.؛ من لا یحضرہ الفقیہ، ج2، ص584؛ عیون اخبار الرضا، ج1، ص290؛ امالی شیخ صدوق، ص183.
(یعنی علی رضا(ع)) مقربین میں سے ہے.(1)
35. احمد بن محمد بن ابی نصر بزنطی کہتے ہیں: میں امام رضا(ع) کی خدمت میں مقام قادسیہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں آپ پر قربان ہوجائوں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں اس لئے کہ میں نے آپ کے والد سے ایک بار جب وہ یہیں تشریف رکھتے تھے ان کے خلیفہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے آپ کی طرف میری راہنمائی فرمائی تھی.(2)
36. اسحاق بن موسی بن جعفر کہتے ہیں: کہ میرے والد اپنے بیٹوں سے اکثر فرماتے تھے یہ تمہارے بھائی علی ابن موسی(ع) عالم آل محمد(ص) ہیں ان سے تم اپنے دین کے بارے میں پوچھا کرو اور یہ جو کہیں اس کی حفاظت کرو( یاد رکھو) میں نے اپنے والد جعفر بن محمد سے اکثر یہ فرماتے ہوئے سنا اے موسی! آل محمد(ص) کا عالم تمہارے صلب سے ظاہر ہوگا کاش میں اس زمانہ درک کرتا اس کا نام امیرالمومنین(ع) کا نام ہوگا.(3)
37.محمد بن فضل ہاشمی کہتے ہیں کہ میں موسی بن جعفر(ع) کی خدمت میں آپ کی شہادت کے ایک دن پہلے حاضر ہوا آپ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! میں بہر حال شہید کردیا جائوں گا لہذا جب تم مجھے میری قبر دفن کر دینا تو یہاں ہرگز نہ آنا بلکہ میری امانتیں لینا اور انہیں میرے فرزند علی رضا(ع) تک پہونچا دینا اس لئے کہ وہی میرے وصی اور میرے بعد صاحب الامر ہیں.(4)
38. عمر بن واقد کہتے ہیں: جب موسی کاظم(ع) کو قید خانے میں زہر دے دیا گیا اور شہادت کا
.............................
1.اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص25.26.؛ غیبت شیخ طوسی، ص66.
2.اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص27؛ بحار الانوار، ج23، ص67.
3. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص28؛ بحار الانوار، ج49، ص100؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص64.65.
4. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص28؛ الثاقب فی المناقب،ص187؛ الخرائج والجرائح، ج1، ص341؛ بحار الانوار، ج49، ص73.
وقت قریب آیا تو میرے آقا نے مسیب کو بلایا اور فرمایا: اے مسیب میں آج کی شب( بطور اعجاز) مدینہ کوچ کرنے والا ہوں تاکہ اپنے فرزند علی رضا(ع) کو وہ عہدہ دیدوں جو میرے والد نے مجھے دیا تھا اور ان کو اپنا وصی اور خلیفہ مقرر کردوں اور یہ واضح کردوں کہ ان کا امر بھی میرا ہی امر ہے یہ سنکر جب میں رونے لگا تو آپ نے فرمایا اے مسیب! رئود نہیں بیشک میرے بیٹے علی(ع) تمہارے امام اور میرے بعد تمہارے مولا ہیں ان کی ولایت سے متمسک رہو جب تک ان کے ساتھ رہوگے ہرگز گمراہ نہیں ہوگے.(1)
یہ معروضات امام رضا(ع) کی امامت پر نص کے لئے میں نے پیش کر دیئے.اگرچہ ذرا جلدی میں اس سے زیادہ میسر نہیں ہوسکا اس لئے کہ ابھی دوسری بہت سی نصوص باقی ہیں جن سے استدلال وضاحت طلب ہے. اور فی الحال اس کی نہ گنجائش ہے نہ ضرورت اس لئے کہ میرے مطلوب پر جو حدیثیں چاہئے تھیں اور جتنی چاہئے تھیں وہ میں نے عرض کر دیں ان حدیثوں کے ساتھ ائمہ اثنا عشر کی امامت پر جو حدیثیں ہیں جن میں امام رضا(ع) کی امامت کا تذکرہ ضمنا یا علنا( واضح طور پر) موجود ہے یا صریحا اسم مبارک موجود ہے اگر انہیں بھی اضافہ کر لیں تو نصوص کی تعداد صد100/ سے زیادہ ہو جاتی ہیں اور چوتھے گروہ کے ساتھ ہی ان دو مجموعوں کی حدیثیں بھی شامل کر لیں جن میں امام صادق(ع) کی امامت پر نص ہے تو پھر.... حدیثوں کا شمار کرتے رہئے.بہر حال ایک نظر ڈال لیتے ہیں اور کچھ باتوں کی طرف متوجہ کرنا بھی مقصود ہے.
1.امام علی رضا(ع) کے آباء طاہرین علیہم السلام سے اکثر حدیثیں اس مضمون کی وارد ہوتی ہیں، امام حسن و امام علیہما السلام کے بعد امامت باپ سے بیٹے کی طرف منتقل ہوگی نہ کہ بھائی، چچا
.................................
1.عیون اخبار الرضا، ج2، ص94.96.
اور ماموں کی طرف، انہیں حدیثوں میں سے کچھ میں یہ بات ملتی ہے کہ موسی کاظم(ع) کے بعد آپ کی اولاد میں سے سوائے امام رضا(ع) کے کوئی بھی دعویدار امامت نہیں اٹھا.امام رضا(ع) کے علاوہ کوئی دعوے دار امامت تو نہیں ہوا لیکن واقفی فرقے کے لوگوں نے امام رضا(ع) کی امامت کو اپنے اس عقیدہ کی وجہ سے اختلافی بنا دیا کہ امام موسی کاظم(ع) کی شہادت ہی نہیں ہوئی بلکہ وہ غائب ہوگئے اور وہی امام مہدی منتظر ہیں( عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف). حالانکہ واقفیوں کا یہ دعوی اصلا باطل ہے اس لئے کہ:
پہلی بات یہ ہے کہ:امام موسی بن جعفر(ع) کی شہادت بدیہیات میں سے ہے یعنی رزو روشن کی طرح واضح ہے اور تمام عالم اسلام کو آپ کی موت کا قطع و یقین حاصل ہے.
دوسری بات یہ ہے کہ:میں نے بہت ساری حدیثیں اس مضمون کی ابھی کچھ صفحات پہلے پیش کی ہیں، جن کا مضمون یہ ہے کہ امام بارہ ہیں اور ان میں سے بارہویں امام مہدی آخر الزمان اور خاتم الائمہ(ع) ہیں ( ساتویں نہیں)
تیسری بات یہ ہے کہ:ابھی کچھ صفحات پہلے وہ حدیثیں بھی پیش کی گئی ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ مہدی منتظر(ع) حضرت سرکار دو عالم(ص) کے ہم نام ہیں، ( جناب موسی(ع) کے نہیں).
چوتھی بات یہ ہے کہ:وہ شاخ ہی نہیں جس پہ آشیانہ تھا، یعنی فرقہ واقفیہ کا اب کہیں دور دور تک وجود نہیں ہے وہ تاریخ شیعہ کے ہیجانی کیفیت کا ایک جھاگ تھا جو کب کا بیٹھ چکا ہے یا تحلیل ہوچکا ہے، یہ بات بذات خود اس عقیدہ کے بطلان پر دلیل ہے. موسی کاظم(ع) کی امامت پر نصوص پیش کرنے کے بعد کی حدیثیں اس عقیدہ کے بطلان پر دلیل ہیں.
امام رضا(ع) کی امامت پر دوسری سب سے مضبوط دلیل یہ ہے
سلاح پیغمبر(ص) آپ کے پاس تھی. کثیر حدیثیں اس مضمون کی پیش کی جاچکی ہیں کہ امام وقت ہی سلاح پیغمبر(ص) کا وارث ہوتا ہے، ضمیمہ کے طور پر دو حدیثیں مزید ملاحظہ ہوں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ سلاح پیغمبر(ص) کے وارث امام علی رضا(ع) تھے.
1.سلیمان بن جعفر کہتے ہیں: میں نے ابوالحسن رضا(ع) کو ایک خط لکھ کے پوچھا کیا آپ کے پاس سلاح پیغمبر(ص) ہے؟ آپ نے اپنے دست مبارک سے خط کا جواب دیا: یقینا میرے پاس ہے. سلیمان کہتے ہیں : میں علی رضا(ع) کی تحریر خوب پہچانتا ہوں( لہذا اس میں شک نہیں کہ یہ تحریر امام کی تھی)(1)
2.احمد بن عبداللہ کہتے ہیں: میں نے امام رضا(ع) سے پوچھا کہ شمشیر پیغمبر(ص) جو ذوالفقار کے نام سے مشہور ہے وہ کہاں سے آئی تھی؟ فرمایا اس کو جبرئیل لے کے آسمانوں سے اترتے تھے، اس کا قبضہ چاندی کا ہے وہ میرے پاس موجود ہے.(2)
امام محمد تقی جواد(ع) کی امامت پر سابقہ حدیثوں میں نص پیش کی گئی ہے آپ کے جد بزرگوار جناب موسی بن جعفر(ع) کی امامت پر ابراہیم کرخی اور عیسی بن عبداللہ کی حدیثوں میں نص ہے انہیں حدیثوں میں آپ کی امامت پر بھی نص موجود ہے اسی طرح ابن سنان کی حدیث جس میں امامت
..................................
1.بحار الانوار، ج26، ص211؛ بصائر الدرجات، ص205.
2.کافی، ج1، ص234؛ بصائر الدرجات، ص200؛ عیون اخبار الرضا، ح1، ص55؛ امالی شیخ صدوق، ص364؛ بحار الانوار،ج42، ص65.
موسوی یعنی امام رضا(ع) کی امامت پر نص ہے اس کا مضمون بھی آپ کی امامت پر ولالت کرتا ہے، پھر ایک حدیث جس کا میں مسلسل تذکرہ کر رہا ہوں وہ ابو ہاشم سے مروی ہے جس میں کنکروں پر مہر ے نقش ابھرنے کا تذکرہ ہے جو عنقریب امام حسن عسکری(ع) کی امامت پر پیش کی جائے گی ساتھ ہی امام محمد تقی(ع) کی امامت بھی اس سے منصوص ہوتی ہے، اب مزید ملاحظہ فرمائیں.
1.معمر بن خلاد کہتے ہیں:میں نے امام رضا(ع) کو کچھ کہتے ہوئے سنا، پھر فرمایا: تمہیں ان چیزوں کی ضرورت کیا ہے؟ یہ ابو جعفر(ع) ہیں میں نے انہیں اپنی جگہ دی ہے ہم اہل بیت(ع) میں چھوٹے اپنے بڑوں کے وارث ہوتے ہیں، نسلا بعد نسل قدم بہ قدم...(1)
2.حسین بن بشار ( یایسار) کہتے ہیں: ابن قیاما نے ابو الحسن رضا(ع) کو لکھا کہ اب امام کیسے ہوںگے آپ کے تو کوئی بیٹا نہیں ہے؟ امام رضا(ع) نے ناراضگی کے ساتھ جواب دیا تمہیں کیا معلوم کہ خدا نے ہمیں بیٹا دیا ہے کہ نہیں دیا ہے؟ خدا کی قسم کچھ زیادہ دن نہیں گذریں گے کہ اللہ مجھے اولاد نرینہ سے نوازے گا میرا وہ فرزند حق اور باطل کے درمیان فرق کریں والا ہوگا.(2)
3. ابن قیاما کہتے ہیں: میں علی بن موسی الرضا(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ کیا ایک وقت میں دو امام ہوسکتے ہیں؟فرمایا ہوسکتے ہیں لیکن ان میں سے ایک صامت ہوگا میں نے کہا لیکن آپ کے دور تو کوئی امام صامت نہیں ہے. اس وقت تک ان کے صاحبزادے ابو جعفر ثانی(ع) پیدا نہیں ہوئے تھے. لیکن امام نے فرمایا خدا ضرور میرے لئے ایک ایسی علامت(ولا) قرار دے گا جس سے حق ثابت ہوگا اور حقدار کو اس کا حق ملے گا اور باطل اور اہل باطل مٹ جائیں گے.
....................................
1.کافی،ج1، ص320؛ انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں؛ بحار الانوار، ج50، ص21؛ ارشاد، ج2، ص276؛ الاختصاص. ص279؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص93؛ کشف الغمہ، ج3، ص144.
2.کافی، ج1، ص321؛ بحار الانوار، ج50، ص22؛ ارشاد، ج2، ص277؛ اعلام الوری باعلام الہدی، ج2، ص94.
اس واقع کے ایک سال بعد جناب ابو جعفر محمد الجواد(ع) پیدا ہوئے.(1)
4. ابن مافیا کی دوسری حدیث ہے وہ کہتے ہیں: کہ میں ابو الحسن الرضا(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ کے صاحبزادے ابو جعفر محمد(ع) پیدا ہوچکے تھے آپ نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا خدا نے مجھے وہ فرزند عنایت فرمایا ہے جو میرا وارث اور آل دائود کا وارث ہے.(2)
5. حسین بن یسار کہتے ہیں امام علی رضا(ع) مقام صریا میں تھے اس وقت میں نے اور حسین ابن قیاما نے آپ سے رخصت ہونے کی اجازت چاہی امام نے فرمایا ٹھیک ہے جائو اپنا کام کر لو حسین ابن قیاما نے کہا وہ تو ٹھیک ہے لیکن کیا زمین امام سے خالی ہوجائے گی؟ امام نے فرمایا ہرگز نہیں. ابن قیاما نے پوچھا کیا ایک وقت میں دو امام ہوسکتے ہیں فرمایا بالکل ہوسکتے ہیں لیکن ان میں ایک صامت ہوگا یعنی نہیں بولے گا. ابن قیاما نے کہا اسی سے تو مجھے لگتا ہے کہ آپ امام نہیں ہیں فرمایا تم نے یہ کیسے سمجھ لیا؟ کہا آپ کے کوئی بیٹا نہیں جبکہ امامت اعقاب ( اولاد) میں چلتی ہے یعنی باپ کا وارث بیٹا باپ کی امامت کا بھی وارث ہوتا ہے امام رضا(ع) نے فرمایا خدا کی قسم زیادہ دن نہیں گذریں گے کہ خداوند عالم میرے صلب سے مجھے اولاد نرینہ عنایت فرمائی گا: وہ میرا قائم مقام ہوگا حق کو حق ثابت کرے گا اور باطل کو مٹا دے گا.(3)
6.ابن ابی نصر کہتے ہیں: مجھ سے ابن نجاشی نے کہا کہ تمہارے صاحب(امام رضا(ع)) کے بعد کون امام ہوگا؟ میں چاہتا ہوں کہ تم ان سے یہ سوال کرو تا کہ ہمیں معلوم ہو جائے. ابن نصر امام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابن نجاشی کا سوال دہرایا امام رضا(ع) نے فرمایا( ان سے کہہ دو)
..............................
1.کافی، ج1، ص321. انہیں لفظوں میں ملاحظہ فرمائیں: بحار الانوار، ج50،ص22؛ بحار الانوار، ج50،ص21؛ ارشاد، ج2، ص277؛ کشف الغمہ، ج30، ص144.
2.بحار الانوار، ج50، ص18؛ بصائرالدرجات، ص158.
3.بحار الانوار، ج50، ص34.
میرا بیٹا میرے بعد امام ہوگا پھر فرمایا کیا کوئی؟ جرات کرسکتا ہے کہ کہے میرا بیٹا اور اس کے پاس سرے سے کوئی بیٹا ہی نہ ہوا ہو؟!(1)
7.صفوان بن یحیی کہتے ہیں: میں نے امام رضا(ع) سے عرض کیا مولا جب تک ابو جعفر(ع) پیدا نہیں ہوئے تھے ہم آپ سے پوچھتے تھے کہ آپ کے بعد امام کون ہوگا تو آپ فرماتے تھے خدا مجھے اولاد نرینہ عنایت فرمائے گا اب تو اللہ نے آپ کو بیٹا دیا ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں اب تو یہ دعا ہے کہ خدا ہمیں آپ کی موت نہ دکھائے لیکن آپ کی اگر شہادت ہوگئی تو پھر ہم کس کو امام مانیں گے؟ آپ نے ابو جعفر(ع) کی طرف اشارہ کیا اس وقت ابو جعفر(ع) لوگوں کے سامنے کھڑے تھے. میں نے عرض کیا آقا آپ پر قربان ہو جائوں یہ تو ابھی تین سال کے ہیں! آپ نے فرمایا اس کو کمسنی کی وجہ سے کوئی نقصان نہیں ( یعنی اگر کمسن بھی ہیں تو کیا ہوا) عیسی بھی تو تین سال کی عمر میں حجت خدا بن گئے تھے.(2)
8.عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں: کہ ہم اور صفوان بن یحیی ایک دن امام رضا(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے
عرض کیا آقا آپ پر قربان ہو جائوں نعوذ باللہ اگر کوئی حادثہ ہوجائے تو ہم کس کی طرف رجوع کریں گے اس وقت امام رضا(ع) کے پاس ابو جعفر محمد(ع) کھڑے تھے ان کی عمر تین سال تھی جب میں نے امام رضا(ع) سے مستقبل کی امامت کے بارے میں سوال کیا تو امام نے اپنے فرزند محمد(ع) کی طرف اشارہ کر کے فرمایا میرے اسی فرزند کی طرف رجوع کرنا میں نے کہا مولا یہ تو ابھی بہت کم سن ہیں فرمایا ہاں کم سن تو ہیں لیکن خداوند عالم نے جناب عیسی(ع) کے ذریعہ حجتہ قائم کی تھی جب وہ محض دو سال کے تھے.(3)
.............................
1. کافی، ج1، ص320. انہیں لفظوں میں ملاحظہ فرمائیں: بحار الانوار، ج50،ص22،20؛ ارشاد، ج2، ص277؛ مناقب ابن شہر آشوب، ج2، ص449؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص93.94؛ کشف الغمہ، ج3، ص144.
2. کافی، ج1، ص320. انہیں لفظوں میں ملاحظہ فرمائیں: بحار الانوار، ج50،ص21؛ ارشاد، ج2، ص276؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص93؛ کشف الغمہ، ج3، ص144.
3.بحار الانوار، ج50، ص350؛ کفایہ الاثر، ص279.
9. معمر بن خلاد کہتے ہیں کہ اسماعیل بن ابراہیم کہہ رہے تھے کہ میں نے امام رضا(ع) سے عرض کیا میرے ایک بیٹے کی زبان میں ثقل ہے اس کو آپ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں آپ اس کے سرپر ہاتھ رکھ کے اس کے لئے دعا کردیں وہ آپ کا چاہنے والا ہے امام نے فرمایا: وہ ابو جعفر محمد(ع) کا چاہنے والا (غلام) ہے کل ان کے پاس بھیج دینا.(1)
10. خیرانی اپنے بیٹے سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں ابوالحسن الرضا(ع) کی خدمت میں خراسان میں تھا کہ ایک شخص نے آپ سے سوال کیا مولا اگر خدا نخواستہ آپ کو کچھ ہوجائے تو ہم کس کے پاس جائیں گے؟ فرمایا میرے بیٹے ابو جعفر(ع) کے پاس. پوچھنے والے نے سوچا کہ ابوجعفر(ع) تو ابھی بہت کم سن ہیں ابو الحسن رضا(ع) نے فرمایا: خدادند عالم نے عیسی بن مریم کی نبوت، رسالت اور صاحب شریعت ہونے کا اعلان اسی سن کیا تھا جس سن میں اس وقت ابو جعفر(ع) ہیں بلکہ وہ تو ابو جعفر(ع) سے بھی کم سن تھے جب انہوں نے خود ہی صاحب شریعت و کتاب ہونے کا اعلان کر دیا تھا.(2)
11. ابراہیم ابن محمود کی بھی ایک حدیث اسی مضمون کی ہے.(3)
12.امام رضا(ع) کے چچا علی ابن جعفر کہتے ہیں کہ بخدا، اللہ نے ابوالحسن رضا(ع) کی مدد کی پھر میں بڑھا اور میں نے بڑھ کے ابو جعفر محمد تقی(ع) کا لعاب دہن چوس لیا پھر میں نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ( محمد تقی(ع)) خدا کے نزدیک میرے امام ہیں یہ سن کے امام رضا(ع) رونے لگے اور فرمایا اے چچا! آپ نے میرے والد کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ رسول اللہ(ص) فرماتے تھے کہ میرے باپ قربان ہوں اس فرزند پر جو پاک و پاکیزہ رحم والی بہترین کنیز نوبیہ طیبہ کا بیٹا
..................................
1.کافی، ج1، ص321؛ بحار الانوار، ج50، ص36.
2.کافی، ج1، ص322؛ انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ کریں: بحار الانوار، ج50، ص23.24؛ روضتہ الواعظین، ص237.ارشاد، ج2، ص279؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص94؛ کشف الغمہ، ج3، ص145.
3.بحار الانوار، ج50، ص34. 35؛ کفایتہ الاثر، ص377.378.
ہوگا چچا کیا وہ فرزند میرے علاوہ کسی اور سے پیدا ہونے والا ہے( یعنی وہ فرزند میرے فرزند حضرت محمد تقی(ع) ہیں) میں نے کہا میں آپ پر قربان ہو جائوں آپ سچ کہہ رہے ہیں.(1)
13. جعفر بن محمد نوفلی کہتے ہیں: میں امام رضا(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا سلام کر کے بیٹھ گیا پھر میں نے عرض کیا مولا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ آپ کے والد ماجد( موسی بن جعفر(ع)) زندہ ہیں فرمایا خدا ان پر لعنت کرے وہ جھوٹ کہتے ہیں. میں نے کہا میرے لئے کیا حکم ہے؟ فرمایا میرے بعدمیرے فرزند محمد (تقی(ع)) کی اقتدا کرنا.(2)
14. مسافر کہتے ہیں مجھے شاہ خراسان امام رضا(ع) نے خراسان میں حکم دیا کہ ابو جعفر(ع) سے ملحق ہو جائو وہی تمہارے صاحب اور سرپرست ہیں.(3)
15.محمد بن اسماعیل بن بزیع امام رضا(ع) سے راوی ہے کہ میں نے امام رضا(ع) سے پوچھا کہ کیا امامت امام کے چچا یا ماموں کو مل سکتی ہے؟ فرمایا نہیں: پوچھا کیا بھائی کو مل سکتی ہے؟ فرمایا: نہیں. پوچھا پھر کس کو ملے گی فرمایا میرے بیٹے کو. حالانکہ اس وقت امام کا کوئی بیٹا نہیں تھا.(4)
16.عقبہ بن جعفر کہتے ہیں: میں نے ابوالحسن رضا(ع) سے پوچھا کہ آپ نے تو اچھی خاصی عمر گذاری اور ابھی تک آپ کے کوئی بیٹا نہیں ہوا فرمایا: اے عقبہ اس امامت کا صاحب امر اس وقت تک نہیں مرتا جب تک اپنا وارث نہ دیکھ لے.(5)
........................
1.کافی، ج1، ص322. 323؛ انہیں الفاظ کے ساتھ تحریر کیا ہے؛ بحار الانوار، ج50، ص21؛ مسائل علی بن جعفر، ص322.
2.اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص161؛ انہیں لفظوں کے ساتھ بحار الانوار، ج5، ص18؛ عیون اخبار الرضا، ج1، ص233؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص59. ملاحظہ فرمائیں.
3.بحار الانوار، ج50،ص34؛ اختیار معرفتہ الرجال، ج2، ص795.
4. کافی، ج1، ص286؛ بحارالانوار، ج50، ص35؛ الامامتہ والتبصرہ، ص59.
5.بحار الانوار، ج50.ص35؛ کفایتہ الاثر، ص279.
17.یحیی صنعا کہتے ہیں: میں امام رضا(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ مکہ میں تھے میں نے دیکھا امام کیلے چھیل چھیل کے اپنے فرزند ابو جعفر(ع) کو کھلا رہے ہیں میں نے کہا میں آپ پر قربان ہو جائوں یہ بچہ کون ہے؟ فرمایا: ہاں اے یحیی! یہ وہ بچہ ہے کہ ہمارے شیعوں کے لئے اس کے جیسا صاحب برکت بچہ اسلام میں اب تک پیدا نہیں ہوا.(1)
اس حدیث میں سائل کا سوال قابل توجہ ہے جیسے کہ سائل اس مولود کا انتظار کر رہا تھا جو امام رضا(ع) کے بعد امام وقت ہونے والا ہے اور امام نے جواب دے کے اس امام کا تعارف بھی کرا دیا.
18.ابن نافع کہتے ہیں: میں نے علی بن موسی رضا(ع) سے پوچھا آپ کے بعد صاحب امر کون ہوگا فرمایا ابن نافع ابھی اس دروازے سے وہ داخل ہونے والا ہے جو ان تمام چیزوں کا وارث ہے جن کا میں اپنے بزرگوں کی طرف سے وارث ہوا ہوں. وہی میرے بعد حجت خدا ہے. کہتے ہیں ابھی یہ باتیں ہورہی تھیں کہ محمد بن علی(ع) داخل ہوئے. پھر ابو الحسن رضا(ع) نے ہم سے فرمایا اے ابن نافع ان کو سلام کرو اور ان کی اطاعت کا اقرار کرو. ان کی روح میری روح اور میری روح پیغمبر(ص) کی روح ہے.(2)
19.زکریا بن آدم کہتے ہیں: کہ میں امام رضا(ع) کی خدمت تھا کہ آپ کے صاحبزادے ابو جعفر(ع) لائے گئے اس وقت وہ چار سال سے بھی کم تھے امام رضا(ع) نے انہیں اپنے سے قریب کیا اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا. پھر فرمایا: میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں تم ہی اس کے اہل ہو یعنی امامت کے اہل ہو.(3)
20.اہل بیت اطہار(ع) کے مشہور شاعر دعبل خزاعی کہتے ہیں میں نے اپنے مولا ابوالحسن رضا(ع) کی خدمت میں اپنا وہ قصیدہ پڑھا جس پہلا شعر ہے.
.................................
1.کافی، ج6، ص260.261؛ انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ کریں بحار الانوار، ج50،ص35.
2.اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص165؛ مناقب ابن شہر آشوب، ج3،ص494.
4.بحار الانوار، ج50،ص59.
آیات الہیہ کے مدارس و مرکز تلاوت سے خالی ہوگئے اور وحی کے گھر اجڑ کے چٹیل میدان ہوگئے( یعنی مدینہ اہل بیت(ع) کے نہ رہنے کی وجہ سے ویران ہوگیا)کہتے ہیں جب میں اس شعر پر پہنچا کہ امام کا ظاہر ہونا لا محالہ ہے وہ امام جو نام خدا اور اس کی برکتوں پر قائم ہوگا اس وقت ہر حق و باطل ہمارے درمیان مشخص اور معین ہوجائے گا پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق جزا اور سزا دی جائے گی.دعبل کہتے ہیں اس شعر کو سن کے امام علی رضا(ع) پر شدید گریہ طاری ہوا پھر آپ نے سر اٹھا کے میری طرف دیکھا اور فرمایا دعبل ان دو شعروں میں تمہاری زبان سے روح القدس بولے ہیں تمہیں معلوم ہے کہ وہ امام قائم(ع) کون ہیں اور کب ظہور کریں گے میں نے عرض کیا مولا مجھے یہ سب تو نہیں معلوم ہے. لیکن میں نے سنا ہے کہ آپ اہل بیت(ع) میں سے ایک امام خروج کریں گے اور زمین کو فساد سے پاک کر کے عدل سے بھر دیں گے فرمایا اے دعبل سنو یہ سلسلہ یوں ہے میرے بعد میرے بیٹے محمد امام ہوں گے محمد کے بعد ان کے بیٹے علی ان کے بعد ان کے بیٹےحسن اور حسن کے بعد ان کے صاحبزادے حجت ہیں جن کا غیبت میں انتظار کیا جائے گا.(1)
21. ابوالحسن بن ابی عباد امام رضا(ع) کے کاتب تھے، وہ کہتے ہیں، امام رضا(ع) جب بھی اپنے بیٹے محمد(ع) کا نام لیتے بغیر کنیت کے لیتے. ( ایک روز) مجھ سے فرماتے ہیں کہ میرے پاس ابو جعفر(ع) نے لکھا ہے اور پھر فرماتے ہیں ابو جعفر(ع) کے پاس لکھو کہ وہ مدینہ میں میرے وصی ہیں، امام رضا(ع) جب بھی اپنے فرزند کو مخاطب کرتے انداز تخاطب میں تعظیم کا پہلو نمایاں رہتا، ابو جعفر(ع) کا جواب بھی بہت ہی فصیح و بلیغ آیا کرتا. امام رضا(ع) ان کے لئے فرماتے ابو جعفر(ع) میرے وصی ہیں اور میرے بعد میرے لوگوں پر میرے خلیفہ ہیں.(2) اس حدیث
.................................
1.بحار الانوار، ج49، ص237.238؛ عیون اخبار الرضا(ع)، ج1، ص297؛ کمال الدین و تمام النعمہ، ص372؛ کفایتہ الاثر، ص275.277.
2. عیون اخبار الرضا، ج1، ص266.
میں بار بار وصی کا تذکرہ آیا ہے ظاہر ہے کہ یہ وصایت امامت سے متعلق ہے جیسا کہ تمام موجود نصوص میں وصایت کے لفظ سے یہی سمجھا گیا ہے.
22.امام رضا(ع) کی شہادت کے سلسلے میں ہرثمہ بن اعین سے یہ روایت بھی ملاحظہ کریں وہ کہتے ہیں امام رضا(ع) نے مجھ سے فرمایا کہ اے ہرثمہ، عنقریب مامون تمہیں بلائے گا اور تم سے کہے گا کہ تم شیعوں کا عقیدہ ہے کہ امام ک سوائے امام کے کوئی غسل نہیں دے سکتا، اب بتائو کہ تمہارے امام علی رضا(ع) اگر اس وقت یہاں شہید ہوجائیں تو انہیں غسل میت کون دے گا؟ ہم لوگ تو امام رضا(ع) کے ساتھ یہاں طوس میں ہیں اور امام رضا(ع) کے فرزند جو تمہارے خیال میں رضا(ع) کے بعد امام ہوں گے وہ سر زمین مدینہ میں ہیں؟ جب تم سے مامون یہ سوال کرے تو کہہ دینا کہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ یہ واجب نہیں ہے کہ امام کو صرف امام ہی غسل دے سکتا ہے اگر غسل میت میں کچھ افراد ( مددگار) بھی ہوجائیں غیر امام کے غسل دینے سے امام کی امامت باطل نہیں ہوتی، اور نہ ہی اس امام کی امامت باطل ہوگی جس کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ اپنے والد کو غسل دیتا. اگر ابوالحسن رضا(ع) مدینہ چھوڑ دئے جاتے ( یعنی تونے زبردستی مدینہ سے امام کو ہٹایا نہیں ہوتا) تو ان کے فرزند محمد(ع) ظاہر میں سب کی نگاہوں کے سامنے ان کو غسل دیتے لیکن پھر بھی( تو جان لے کہ) وہ اپنے والد کو مخفی طور پر یعنی ( بطور اعجاز) آکے غسل دیں گے.(1)
23.ابوصلت ہروی کی حدیث بھی امام رضا(ع) کی وفات کے سلسلے میں ہے جس میں یہ مضمون ہے کہ امام جواد(ع) نے دعوائے امامت فرمایا اور امام رضا(ع) نے ان کی امامت کا اقرار کیا. پھر امام رضا(ع) اور محمد تقی(ع) کے درمیان ایک دوسرے کا سلوک، یہ ساری باتیں امام محمد تقی(ع) کا امامت پر دلالت کرتی ہیں.(2)
..................................
1.عیون اخبار الرضا، ج1،ص276.
2.عیون اخبار الرضا، ج1، ص271.274.
البتہ یہ دونوں حدیثیں یعنی حدیث نمبر21 اور 22 میں وفات علی رضا(ع) کے مضمون میں شدید اختلاف ہے، تجہیز و تکفین وغیرہ کے واقعات میں بھی اختلاف ہے اور دونوں حدیثوں میں جمع کی صورت نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے لیکن اس سے ہمارے مقصد اور دعوے پر کوئی بات اس لئے نہیں آتی کہ ہم تو صرف امامت پر نصوص اکٹھا کر کے آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں.
امام ابو جعفر محمد بن علی جواد علیہما السلام کی امامت کے سلسلے میں مذکورہ بالا حدیثیں پیش کی گئیں ممکن ہے اس سے زیادہ حدیثیں بھی ہوں لیکن جلدی اور وقت کی تنگی کے باعث انہیں تلاش کرنا مشکل ہے پھر بھی اگر چوتھے گروہ کی ائمہ اثناء عشر والی حدیثوں کا جس میں امام جواد(ع) کی امامت پر بھی نص ہے شامل کر لیں تو تقریبا 90/ حدیثیں ہوجاتی ہیں.
امام محمد بن علی جواد علیہما السلام کی امامت کی تائید دو باتوں سے بہت زیادہ ہوتی ہے.
(اوّل) امام محمد بن جواد علیہما السلام کے آباء کرام سے اس مضمون کی بکثرت حدیثیں وارد ہوئی ہیں کہ امام حسن و امام حسین علیہما السلام کے بعد امام حسین(ع) کی نسل میں رہے گی یعنی باپ سے بیٹے تک منتقل ہوتی رہے گی نہ کہ بھائی سے بھائی، چچا، ماموں یا کسی اور رشتہ دار کی طرف، امام صادق(ع) کی امامت پر جو حدیثیں بطور نص وارد ہوئی ہیں وہ امام صادق(ع) کے پہلے کے اماموں کی امامت کے سلسلے کو بھی ثابت کرتی ہیں جیسے جیسے سلسلہء امامت آگے بڑھتا جاتا ہے، اس مضمون کی حدیثیں تدریجی طور پر بڑھتی جاتی ہیں اور ان حدیثوں سے یہ ثبوت بھی تدریجا ملتا ہے کہ امام کاظم(ع) اور امام رضا علیہما السلام کے بعد امامت انہیں حضرات کے اعقاب میں چلتی ہوئی آگے بڑھ کرامام مہدی(ع) بھی انہیں کی ذریت میں ثابت ہوتے ہیں.
اسی وجہ سے شیعوں کے درمیان یہ بات اب امام جواد(ع) کے دور میں محتاج ثبوت نہیں رہ گئی تھی، امام رضا(ع) کا وارث ان کے صاحبزادے کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا، تمام لوگوں کو اس بات کا یقین تھا کہ امام رضا(ع) کے بعد امامت ان کے صاحبزادے ہی کو ملے گی اگر وہ پیدا نہیں ہوئے تو بہر حال امام رضا(ع) کی موجودگی میں اور آپ کی حیات ہی میں پیدا ہوں گے اور چونکہ یہ بات بھی مسلسل حدیثوں سے مستفاد ہوتی رہی ہے کہ امام اس دنیا کو چھوڑنے سے پہلے اپنے وارث امام کو دیکھ لیتا ہے اس لئے امام رضا(ع) کی زندگی میں امام محمد(ع) کی ولادت قطعی اور یقینی تھی. امامت فی الاعقاب والی بات تو اتنی مشہور تھی کہ جب تک امام محمد تقی(ع) پیدا نہیں ہوئے تھے دشمنان علی رضا(ع) ان کی امامت کے انکار پر یہی دلیل دیتے تھے کہ یہ کیسا امام ہے جس کا کوئی وارث نہیں جب کہ شیعہ مطمئن ہو کے انتظار کر رہے تھے کہ جب امام کا وارث سامنے آئے گا تو دشمنوں کو خود بخود جواب مل جائے گا. پھر امام رضا(ع) کے سوائے جواد(ع) کے کوئی اولاد بھی نہیں ہوئی اور امام جواد(ع) کی ولادت سے دوست و دشمن دونوں کو دونوں اماموں کی امامت کا ثبوت مل گیا.
یہیں سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ شیعوں کے نزدیک امام رضا(ع) کے بعد امام جواد(ع) کی امامت قطعی اور یقینی ہے اگر اس سلسلے میں کوئی شیعہ امام رضا(ع) سے سوال کرتا بھی تھا تو اس کو دو وجہ تھی قبل ولادت امام جن لوگوں نے سوال کیا وہ حیرت کا نتیجہ تھا اور بعد ولادت جن لوگوں نے سوال کیا وہ اس لئے تھا کہ جب امام پیدا ہوجائیں تو ان کی امامت قبل کے امام سے منصوص ہو جانی چاہئے تاکہ دشمنوں کو کچھ کہنے کا موقع نہ ملے. یہی وجہ ہے کہ محمد بن عیسی ایک طویل حدیث میں امام جواد(ع) سے کچھ سوال کرتے ہیں اور امام جواد(ع) سوال کرنے کے پہلے ہی جواب دیتے ہیں کہ شبہ ختم ہوچکا ہے اس لئے کہ میرے علاوہ والد کا کوئی بیٹا نہیں ہے یہ سن کر محمد بن عیسی کہتے ہیں. میں آپ پر قربان ہو جائوں آپ نے سچ فرمایا.(1)
.........................
1.بحار الانوار، ج50، ص67.68؛ اختیار معرفتہ الرجال، ج2، ص859.
(دوم) امام جواد(ع) کا کمسنی ہی میں منصب پر فائز ہو جانا اور امامت کی ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے سنبھال کے اپنے شیعوں کی ضرورتوں کو پورا کرنا اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ امام جواد(ع) کی امامت کو خداوند عالم کی خصوصی تائید حاصل تھی.
شیعوں کے نزدیک امامت ایک اہم موضوع اور عظیم الشان منصب ہے شیعوں کے یہاں امام نہ عوام کا چنا ہوا نمایندہ ہوتا ہے نہ تلوار کے زور پر امامت حاصل ہوتی ہے یہ صرف اس کو ملتا ہے جس کو اللہ چاہے یہ کوئی عوامی حکومت نہیں ہے بلکہ ایک روحانی حکومت ہے اور امام ہی خدا اور بندے کے درمیان ایک رابط اور عروۃ الوثقی ہے یہی وجہ ہے کہ شیعوں کا امام براہ راست خدا کے یہاں سے علم لے کر آتا ہے. علوم الہی کے خزانے کی کنجی اور میراث انبیاء کا وارث ہوتا ہے خداوند عالم نے امام وقت کو کائنات میں تصرف کا اختیار خصوصی طور پر عطا کیا ہے جس کی وجہ سے امام سے معجزے اور خارق طبیعت افعال بھی اکثر صادر ہوتے ہیں. اسی وجہ سے خداوند عالم نے تمام عالم انسانیت پر امام برحق کی اطاعت و فرمان برداری کو واجب قرار دیا ہے.
غیر شیعہ مذہب میں امامت کا عقیدہ اس طرح نہیں ہے ان کے یہاں امامت ایک ایسا منصب ہے جس کو کوئی بھی حاصل کرسکتا ہے خاص طور سے صاحبان اقتدار جن کی خلافت کو قانونی حیثیت دے دیں وہی امام بن جاتا ہے کیونکہ شیعوں کا راستہ ان کے اغراض و مقاصد کی راہ میں رکاوٹ کا سبب بنتا ہے لہذا وہ اس راستہ کا انکار کرتے ہیں تاکہ اپنے غلط اور شوم ارادوں کو عملی کرسکیں.آپ جانتے ہیں کہ امام جواد(ع) کی گردن میں قلادہ امامت محض 8/ سال کی عمر میں ڈال دیا گیا یہ وہ عمر ہوتی ہے جس میں انسان ایک گھر اور ایک خاندان کی ضرورتوں کو محسوس نہیں کرسکتا اور ایک چھوٹے سے گھر کی ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا چہ جائیکہ ایک ایسی قوم کی قیادت جس کے افراد اطراف و اکناف عالم میں بکھرے ہوئے، سماجی، طبقاتی اور تہذیبی کشمکش میں گرفتار، ہر ایک طبقہ
اپنے گوناگون مسائل اور اپنے ماحول کے تقاضوں سے متاثر تھا اور اس ذہنی نظریاتی، سماجی اور سیاسی حالات کے اختلاف کے باوجود امام جواد(ع) کی ذات ایک جامع وسیلہ تھی جس کے پاس ہر سماج اور ثقافت بلکہ سماج کے ہر فرد کے مسئلہ کا حل تھا چاہے وہ مسئلہ جس ماحول سے اٹھا ہو ظاہر ہے کہ اگر حضرت جواد(ع) کمسنی ہی میں اس منصب عظیم کے مستحق نہیں ہوتے اور توجہ الہی ما مرکز نہیں ہوتے یعنی آپ کو خداوند عالم کی تائید حاصل نہیں ہوتی تو امام اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کرسکتے تھے اور لوگوں کے سامنے ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا یہاں تک کہ منصب امامت ختم ہوجاتا اور دعوت اسلامی کا دروازہ بند ہوجاتا.
لیکن تاریخ شاہد ہے کہ حضرت جواد(ع) اپنے قدموں پر بغیر کسی سہارے کے کھڑے تھے اور اپنے ٹھوس کردار اور معصوم افعال سے لوگوں کو اپنی امامت کا احساس دلا رہے تھے اور اپنی شخصیت کو منوا رہے تھے دوست و دشمن قریب بعید اور شیعہ سنی ہر ایک آپ کے فضل کا معترف اور آپ کی انفرادی حیثیت کا قائل تھا خود حکومت وقت کے سامنے آپ کا مرتبہ بہت بلند تھا اور اسی 8/سال کے بچے سے حکومت خوف زدہ تھی خلیفہ وقت کو چین کی نیند نہیں آتی تھی شیعہ اور موالیان اہل بیت(ع) تو آپ کے کشتگان محبت میں تھے ہی، جمہور اہل سنت بھی آپ کی جاذب نظر شخصیت کے دیوانے تھے اور بڑے بڑے علما کی آپ کے سامنے بولتی بند ہوجاتی تھی خود آپ کے خاندان کے وہ افراد جو سن میں آپ سے بڑے تھے بلکہ خاندان ابو طالب کے مشائخ ( بڑے بزرگ) کا درجہ رکھتے تھے آپ کی امامت کے معترف تھے اور محض اس لئے آپ کی اطاعت کرتے تھے کہ وہ امام وقت کی اطاعت اللہ کا حکم سمجھتے تھے اور چونکہ آپ ہی امام وقت تھے اس لئے بغیر آپ کی کمسنی کا خیال کئے خاندان کے بزرگ افراد آپ کی تعظیم اور احترام کرتے تھے اور آپ کے حکم کو مانتے تھے جیسے خود آپ کے چچا حسین بن موسی بن جعفر(ع) آپ کے والد کے چچا سید جلیل علی بن جعفر عریضی.
حسین ابن موسی کہتے ہیں” میں ابوجعفر جواد(ع) کی خدمت میں مدینے میں تھا اور وہیں پر علی بن جعفر(ع) بھی تھے اہل مدینہ میں سے ایک اعرابی بھی وہیں بیٹھا تھا اعرابی نے ابو جعفر محمد
جواد(ع) کی طرف اشارہ کر کے مجھ سے پوچھا کہ یہ جوان کون ہے؟ میں نے کہا یہ وصی پیغمبر(ص) ہیں. اعرابی نے کہا سبحان اللہ پیغمبر(ص) کی وفات کو تقریبا دو سال ہوئے اور اس کا سن یہ ہے ( یعنی بہت کم ہے) پھر یہ کم سن نو جوان وصی پیغمبر(ص) کیسے ہوسکتا ہے؟!میں نے کہا سنو یہ وصی پیغمبر(ص) ایسے ہوسکتے ہیں. ظاہر ہے کہ یہ علی بن موسی(ع) کے وصی ہیں علی موسی بن جعفر(ع) کے وصی ہیں اور موسی جعفر بن محمد(ع) کے وصی ہیں اور جعفر محمد بن علی(ع) کے وصی ہیں اور محمد علی بن حسین(ع) کے اور علی حسین بن علی(ع) کے وصی ہیں اور حسین بن علی(ع) کے وصی ہیں اور حسن بن علی بن ابی طالب(ع) کے وصی ہیں اور علی ابن ابی طالب(ع) پیغمبر(ص) کے وصی ہیں. اتنے میں طبیب آیا تاکہ محمد بن علی(ع) کی فصد کھولے یہ دیکھ کر علی بن جعفر(ع) کھڑے ہوگئے اور بولے ابھی آپ رک جائیں پہلے میں فصد کھلواتا ہوں تاکہ لوہے کی حدت میری رگ میں اتر جائے اور میں اس حدت کو آپ سے پہلے برداشت کروں میں نے اس اعرابی سے کہا یہ جذبہ فداکاری دیکھ رہے ہو؟! جانتے ہو یہ بزرگ جو امام سے پہلے لوہے کی حرارت خود برداشت کرنا چاہتے ہیں کون ہیں یہ اس جوان کے باپ کے چچا ہیں( یعنی دادا ہیں) جب علی بن جعفر(ع) نے آگے بڑھ کے آپ کی جوتیاں سیدھی کیں تاکہ آپ کو نعلیں پہننے میں آسانی ہو.(1)
علی بن جعفر(ع) کہتے ہیں کہ ایک آدمی جسے میں واقفی مذہب سمجھتا تھا مجھ سے پوچھنے لگا کہ تمہارے بھائی ابوالحسن بن موسی(ع) کا کیا ہوا؟ میں نے کہا شہید ہوگئے اس نے کہا آپ ان کی زوجیت میں چلی گئیں پھر ان کی جگہ ایک دوسرا امام ناطق آیا جو ان کا قائم مقام تھا اس نے پوچھا وہ ان کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ میں نے کہا ان کا مال وارثوں میں تقسیم ہوگیا اور ان کی عورتیں
.........................
1.معجم رجال الحدیث، ج12، ص316.317؛ ترجمہ علی بن جعفر، انہیں لفظوں کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں اختیار معرفتہ الرجال، ج2، ص729.
دوسرے ناطق کون تھا؟ میں نے بتایا ان کے صاحبزادے علی ابن موسی(ع) اس نے پوچھا پھر علی ابن موسی(ع) کا کیا ہوا؟ میں نے کہا وہ بھی شہید کرئیے گئے. پوچھا پھر کیا ہوا؟ میں نے کہا ان کے اموال تقسیم ہوگئے اور ان کی عورتوں کا نکاح ہوگیا ان کی جگہ ایک امام ناطق ان کا وارث ہوا. پوچھا وہ امام ناطق کون ہے؟ میں نے کہا ان کے بعد امام ناطق ان کے بیٹے ابو جعفر محمد بن علی(ع) ہیں. اس نے کہا کمال کی بات ہے تم ان کے دادا ہو اور تمہارا سن اتنا زیادہ ہوچکا ہے اور تم جعفر بن محمد(ع) کے بیٹے ہو( یعنی نسبی شرافت و نجابت بھی حاصل ہے) اس کے باوجود تم اس لڑکے کی امامت کے قائل ہو. علی بن جعفر(ع) کہتے ہیں میں نے اس سے کہا تم تو مجھے شیطان لگتے ہو پھر اپنی داڑھی پکڑ کے آسمان کی طرف اٹھائی اور کہا میرے پاس چارہ کار کیا ہے! خدا نے ابو جعفر محمد بن علی(ع) ہی کو اس منصب کا اہل سمجھا اور اس بڑھاپے کو اس منصب کا اہل نہیں سمجھا.(1)
اور محمد بن حسن بن عمار کہتے ہیں : میں علی بن جعفر بن محمد(ع) کی خدمت میں تھا، اس وقت وہ مدینے میں تھے، میں ان سے امام رضا(ع) کی حدیثیں لکھا کرتا تھا، یہ سلسلہ دو سال تک جاری رہا. ایک دن مسجد نبوی میں محمد بن علی(ع) تشریف لائے، علی بن جعفر(ع) انہیں دیکھتے ہی جلدی سے کھڑے ہوگئے دوش پر ردا بھی نہیں ڈالی جوتا بھی نہیں پہنا آگے بڑھ کے محمد بن علی تقی(ع) کے ہاتھوں کا بوسہ دیا اور تعظیم میں کھڑے رہے، ابو جعفر0ع) نے کہا چچا خدا آپ پر رحم کرے تشریف رکھئے، کہنے لگے اے میرے سردار میں کیسے بیٹھ جائوں جب کہ آپ کھڑے ہوئے ہیں، بہر حال جب حضرت محمد بن علی(ع) وہاں سے چلے گئے حاضرین نے علی بن جعفر(ع) کو برا بھلا کہنا شروع کیا، کہنے لگے آپ ان کے باپ کے چچا ہیں اور آپ ان کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں، علی بن جعفر(ع) نے کہا تم لوگ خاموش ہو جائو، پھر اپنی داڑھی پکڑ کے کہا جب اللہ نے اس سفید ریش کو امامت کا اہل نہیں سمجھا اور اس نو جوان کو امامت کا اہل قرار دیا اور مقام امامت پر فائز کردیا تو کیا میں
...............................
1.اختیار معرفتہ الرجال، ج2، ص728. انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں: معجم رجال الحدیث، ج12، 306.
ان کی فضیلت سے انکار کرسکتا ہوں؟ خدا کی پناہ اس بات سے جس پر تم مجھے آمادہ کرنا چاہتے ہو! میں تو ان کا غلام ہوں.(1)
انصاف تو یہ کہ اس طرح کی روایتیں امام محمد تقی(ع) اور آپ کے آباء طاہرین(ع) کی امامت پر قوی ترین دلیلیں ہیں، اس لئے کہ امام محمد تقی(ع) کی امامت ان کے آباء طاہرین(ع) کی امامت کی فرع ہے، کم سنی میں دعوائے امامت اور اس دعوائے امامت پر اپنے کردار اور علم سے دلیل، امامت کی حقیقت و حقانیت پر شاہد ہے، اس کے علاوہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ خداوند عالم کی امامت پر خاص توجہ ہوتی ہے، اور اللہ امام وقت کی خصوصی رعایت کرتا ہے، ارشاد ہوتا ہے کہ، خدا نے یہ واجب قرار دیا ہے کہ ضرور میں( خدا) اور میرے پیغمبر(ص) غائب ہوتے رہیں گے بیشک اللہ قوی اور عزیز ہے.(2)
بعینہ یہی دلیلیں امام ہادی بن محمد(ع) کی امامت کے سلسلے میں بھی جاری ہوتی ہیں یہ حضرت اس منصب علم پر بہت کمسنی میں فائز ہوگئے تھے اس سلسلے میں آئندہ صفحات میں عرض کیا جائے گا.
انصاف تو یہ ہے کہ یہ دلیلیں ائمہ اثنا عشر کے تمام اماموں کے بارے میں جاری ہوئی ہیں جیسا کہ ابھی قرائن کے بیان میں تفصیل پیش کی جائیگی جو نصوص کی تائید کرتے ہیں. لیکن چونکہ یہ دونوں امام یعنی امام ابو جعفر محمد تقی(ع) اور آپ کے صاحبزادے علی الہادی(ع) کمسنی ہی میں منصب امامت پر فائز ہوئے تھے اس لئے میں نے اس گفتگو کو انہیں دونوں حضرات سے مخصوص کردیا ہے.
...........................
1.کافی، ج1، ص322؛ معجم رجال الحدیث، ج12، ص317. احوال علی بن جعفر.
2. سورہ مجادلہ، آیت 21.
امام علی نقی(ع) کی امامت پر آپ کے والد ماجد کی امامت کے سلسلے میں جو نصوص ہیں وہ گذر چکی ہیں جن میں آپ کی امامت بھی شامل ہے، ان کے علاوہ ایک حدیث مزید آنے والے ہے جو حسن عسکری(ع) کی امامت کے سلسلے میں ہے اس حدیث کا راوی ابو ہاشم ہے جس میں کنکروں پر مہر کا تذکرہ ہے اب ان دلیلوں کو ملاحظہ فرمائیں:
1.خیرانی جن کے والد امام ابوجعفر(ع)کے دروازے پر ملازم تھے، ان کی یہ حدیث ہے اور احمد بن عیسی روزانہ سحر کے وقت امام کے دروازے پر حاضر ہو کے امام کی ضرورتیں پوچھا کرتے تھے، یا امام کی خیریت کے بارے میں معلوم کرتے تھے پھر خیرانی کہتے ہیں :اور ایک پیغامبر بھی تھا جو میرے والد اور ابو جعفر(ع) ( یعنی نویں امام تھے) کے درمیان پیغام لایا لے جایا کرتا تھا، جب وہ آتا تھا تو احمد وہاں سے ہٹ جاتے تھے اور اس قاصد کے ساتھ میرے تنہائی میں بات کرتے تھے. خیرانی کہتے ہیں کہ ایک شب میں نکلا، احمد مجلس( بزم) سے جاچکے تھے اور میرے والد قاصد سے تخلیہ میں بات کر رہے تھے، احمد کہیں قریب ہی تھے اس طرح کی میرے والد اور پیغامبر کے درمیان جو بات ہو رہی تھی وہ سن رہے تھے، پیغمامبر نے میرے والد سے کہا کہ تمہارے مولا تمہیں سلام کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں اب جانے والا ہوں اور امر امامت میرے بیٹے علی(ع) سے متعلق ہو رہا ہے، میرے بعد ان کی اطاعت تم لوگوں پر اسی طرح واجب ہے جس طرح میری اطاعت واجب تھی، پھر پیغامبر چلا گیا اور احمد اپنی جگہ پر واپس آئے اور میرے والد سے پوچھا کہ پیغامبر تم سے کیا کہہ رہا تھا؟ میرے والد نے کہا ٹھیک ہی کہہ رہا تھا. احمد نے کہا وہ جو کچھ کہہ رہا تھا میں نے سن لیا ہے. میرے والد نے کہا پھر اس کو چھپاتے کیوں ہو؟ تو اس نے جو کچھ سنا تھا اسے بیان
کردیا یہ سننے کے بعد میرے والد نے کہا: اس پر گواہ رہنا، ممکن ہے آگے چل کے کسی دن اس کی ضرورت پڑے، لیکن خبر دار وقت سے پہلے اسے ظاہر نہ کرنا.جب صبح ہوئی تو میرے والد نے10/ رقعے تیار کئے اور اس پر مہر لگا کے قبیلہ کے دس معتبر اور سرشناس لوگوں کو دیا اور کہا کہ دیکھو اس رقعہ کو تم سے طلب کرنے کے پہلے اگر میں مرجائوں تو اسے کھولنا اور اس میں جو کچھ لکھا ہے اس پر عمل کرنا. جب حضرت ابو جعفر(ع) ( یعنی نویں امام) کی شہادت ہوگئی تو میرے والد کا کہنا ہے کہ میں گھر سے نہیں نکلا جب تک کہ مجھے یقین یہ ہوگیا کہ400/ افراد میرے ساتھ ہیں.
اب رئوساء قبیلہ جمع ہوئے اور محمد بن فرح کے پاس یہ پوچھتے ہوئے آئے کہ ابو جعفر(ع) امام کے بعد کون امام ہے؟ تو محمد بن فرح نے میرے والد کے پاس یہ لکھا کہ لوگ میرے پاس جمع ہیں اگر شہرت کا خوف نہیں ہوتا تو میں ان لوگوں کو لیکر تمہارے پاس آتا بہتر یہ ہے کہ تم خود زحمت کرو ( اور امر امامت کے سلسلے میں ان کو تسلی دو) لہذا میرے والد سوار ہوئے اور محمد بن فرح کے پاس پہنچے وہاں ایک مجمع اکٹھا تھا لوگ میرے والد سے پوچھنے لگے کہ اس معاملے میں تمہارا کیا کہنا ہے ( یعنی تم کس کی امامت کے قائل ہو) تو میرے والد نے والد نے ان رقعوں کو لوگوں کے سامنے کھول کے دکھایا اور کہا کہ ہمیں تو اسی بات کا حکم دیا گیا ہے(یعنی علی بن محمد(ع) کی امامت کا) مجمع نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ اس بات پر کوئی دوسرا بھی گواہ ہو میرے والد نے کہا اللہ نے اس کا بھی انتظام کر رکھا ہے یہ ابوجعفر اشعری موجود ہیں جنہوں نے رسالہ میں لکھے ہوئے مضمون کو اپنے کانوں سے سنا ہے اور میرے والد نے کہا اس رات تم نے جو سنا تھا اس کو گواہی دو انہوں نے کہا( میں نے سنا تھا کہ ابو جعفر جواد(ع) نے اپنے بیٹے علی النقی(ع) کی امامت کا اعلان کیا تھا) مترجم غفرلہ.
میں شاہد ہوں میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے پس لوگ وہاں سے نہیں ہٹے تھے مگر یہ کہ سارا
مجمع حق کا قائل ہوچکا تھا.(1)
2.اسماعیل بن مہران کہتے ہیں جب ابو جعفر جواد(ع) پہلی مرتبہ مدینے سے بغداد کے لئے نکلے (چونکہ آپ دوبارہ نکلے تھے) تو میں نے آپ کے نکلنے کے وقت پوچھا کہ مولا مجھے خوف ہے کہ اس سفر میں آپ کو کچھ ہو نہ جائے اگر خدا نخواستہ کچھ ہو گیا تو پھر ہم لوگ کہاں جائیں گے یہ سن کے امام بہت زور سے ہنسے اور میری طرف مڑ کے فرمایا تم جس غیبت( موت) کے بارے میں سوچ رہے ہو وہ اس سال نہیں ہوگی لیکن جب آپ دوسری مرتبہ معتصم کے پاس جانے لگے تو میں نے پھر سوال کیا کہ مولا میں آپ پر قربان ہو جائوں آپ تو جارہے ہیں پھر ہم لوگ کس کی طرف رجوع کریں گے تو اس شدت سے روئے کہ ریش مبارک آنسوں سے تر ہوگئی اور فرمایا ہاں یہی وقت ہے میرے بارے میں پریشان ہونے کا( یعنی اس سفر میں میری موت یقینی ہے) اور امر ( امامت) میرے بعد میرے بیٹے علی(ع) کے ہاتھ میں ہوگا.(2)
3.صقر بن ابی دلف کہتے ہیں میں نے سنا ابو جعفر محمد بن علی رضا(ع) فرما رہے تھے بیشک میرے بعد میرے فرزند علی نقی(ع) امام ہیں ان کا قول میرا قول اور ان کی طاعت میری طاعت ہے ان کے بعد ان کے فرزند حسن عسکری(ع) امام ہیں ان کا امر ان کے باپ کا امر ہے ان کی اطاعت ان کے باپ کی اطاعت ہے اور ان کا قول ان کے باپ کا قول ہے پھر امام جواد خاموش ہوگئے میں نے کہا فرزند رسول یہ بھی تو فرمائیے حسن عسکری(ع) کے بعد کون امام ہوگا یہ سوال سن کے آپ شدت سے روئے پھر فرمایا ان کے بعد ان کے فرزند امام ہوں گے( جن کی صفت ) قائم بالحق اور منتظر ہے. میں نے پوچھا فرزند رسول(ص) انہیں قائم کیوں کہتے ہیں فرمایا اس لئے کہ وہ اس وقت قیام کریں گے جب ان کا ذکر مرچکا ہوگا اور اکثر لوگ ان کی امامت سے مرتد ہوچکے ہوں گے میں نے پوچھا انہیں منتظر کیوں کہتے ہیں فرمایا اس لئے کہ ان کی غیبت بہت دنوں تک ہوگی اور طویل مدت تک
..............................
1.کافی، ج1، ص324. انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں: بحار الانوار، ج50،ص119.121.
2. کافی، ج1، ص323. انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں: بحار الانوار، ج50،ص118.
رہے گی، مخلص افراد ان کے خروج کا انتظار کرتے ہوں گے شک کرنے والے ان کے منکر ہوجائیں گے سرکش ان کے ذکر کا مذاق اڑائیں گے ان کے ظہور کا وقت معین کرنے والے جھوٹ بولیں گے ان کے ظہور کی جلدی کرنے والے ہلاک ہوجائیں گے اور زمانہ غیبت میں صرف مسلمان نجات یافتہ ہوں گے.(1)
4.محمد بن عیسی کہتے ہیں بیشک ابو جعفر(ع) جب مدینہ سے عراق جانے لگے اور وہاں سے واپسی کا ارادہ کیا تو ابو الحسن علی(ع) کی امامت پر نص کر کے اپنی گود میں بٹھایا اور فرمایا یہ وہی بات ہے جو تم چاہتے تھے.(2)
5. امیہ ابن علی قیس کہتے ہیں: میں نے ابو جعفرجواد(ع) سے پوچھا آپ کے بعد کون امام ہوگا؟ فرمایا: میرے فرزند علی(ع).(3)
6.محمد بن اسماعیل بن بزیع کہتے ہیں: ابو جعفر ثانی نے مجھ سے فرمایا کہ یہ امر ( امامت) ابو الحسن علی نقی(ع) تک پہنچے گا جب کہ اس وقت وہ صرف سات سال کے ہوں گے. پھر فرمایا ہاں بلکہ سات سال سے بھی کم ہوں گے جیسا کہ جناب عیسی تھے(4)
7.محمد بن عثمان کوفی کہتے ہیں کہ امام جواد(ع) سے میں نے پوچھا مولا اگر خدا نخواستہ آپ کو کچھ ہوجائے تو پھر ہم کس کی طرف رجوع کریں گے فرمایا میرے اس فرزند کی طرف یعنی الوالحسن کی طرف.(5)
8.علی بن مہزیار کہتے ہیں: میں نے ابوالحسن علی نقی(ع) سے عرض کیا کہ میں نے آپ کے
..................................
1.کمال الدین وتمام النعمہ، ص387. انہیں الفاظ کے ساتھ مطالعہ فرمائیں کفایہ الاثر، ص283. اس روایت کو بحار الانوار، ج50، ص30.
2.بحار الانوار، ج50، ص123؛ عیون المعجزات، ص119.
3.اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص209.210؛ عیبت نعمانی، ص185.
4. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص211.
5. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص211.
والد سے ان کے بعد کے امام کے بارے میں پوچھا تھا تو انہوں نے آپ پر نص فرمائی تھی. اب آپ فرمائیں کہ امامت آپ کے بعد کس کے پاس ہوگی؟ فرمایا میرے بڑے بیٹے کے پاس. اور آپ نے اس جملے سے اپنے فرزند ابومحمد حسن عسکری(ع) پر نص فرمائی پھر فرمایا امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے بعد امامت بھائیوں میں کبھی نہیں منتقل ہوئی.(1)
یہ وہ نصوص ہیں جو جلدی میں امام علی النقی(ع) کی امامت پر مجھے میسر ہوسکیں یہاں کچھ ایسی حدیثیں بھی ہیں جو محتاج شرح ہیں اسی وجہ سے انہیں یہاں ذکر کرنا مناسب نہیں مذکورہ حدیثوں کے ساتھ ائمہ اثنا عشر کی امامت کے سلسلے میں چوتھے گروہ کی حدیثیں بھی شامل کر لی جائیں تو امام ابوالحسن علی النقی(ع) کی امامت پر حدیثوں کی تعداد ستر70/ سے کچھ زیادہ ہوجاتی ہے اس کے علاوہ آپ کی امامت پر دو مزید دلیلیں ہیں جو آپ کے والد ماجد کی امامت پر گذشتہ صفحات میں پیش کی جا چکی ہیں. اس لئے کہ ضوابط عامہ کی تکرار نفوس میں عملی طور پر جب ہوتی ہے تو موکد اور مشترک ہوجاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ کے والد کی امامت پر جس کثرت سے اعتراض کیا گیا ہے آپ کی امامت پر وہ کثرت نہیں پائی جاتی ہے. اعتراض کرنے والوں کے اعتراض میں جو شدت وہاں تھی وہ شدت یہاں نہیں پائی جاتی ہے. البتہ امام ہادی(ع) یعنی علی النقی(ع) اور آپ کے والد ماجد امام جواد(ع) کے حالات میں تھوڑا سا فرق اگر ہے تو یہ کہ امام جواد(ع) کے امام علی النقی(ع) کے علاوہ ایک اور صاحبزادے تھے جن کا نام موسی مبرقع تھا جب کہ امام جواد(ع) کے علاوہ امام رضا(ع) کا کوئی بیٹا نہیں تھا یعنی معاملہ صرف آپ کی ذات پر منحصر تھا جب کہ امام علی نقی(ع) کے زمانہ میں ان کے بھائی موسی بن محمد تقی(ع) بھی موجود تھے.
...............................
1. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص279. عیون المعجزات، ص123.
یہ الگ بات ہے کہ موسی مبرقع نے کبھی دعوی امامت نہیں کیا اور نہ ہی کسی نے ان کی امامت کا عقیدہ اختیار کیا کہ تردید کی نوبت آئے اور امام ہادی(ع) کی امامت کے لئے کسی کی ضرورت پڑے.
حضرت حسن عسکری() کی امامت پر دعبل خزاعی کی وہ حدیث دلالت کرتی ہے جسے کچھ صفحہ قبل امام جواد(ع) کی امامت پر پیش کیا گیا ہے اور صقر بن ابی دلف اور علی بن مہزیار کی وہ حدیثیں ہیں جن کا تذکرہ آپ کے والد کی امامت کے اثبات میں گزر چکا ہے انہیں مزید کچھ اور حدیثوں کا اضافہ کیا جاسکتا ہے.
1.سعد بن عبداللہ بنی ہاشم کی ایک جماعت سے راوی ہیں( جس میں حسن بن حسن افطس بھی شامل ہیں) روایت یہ ہے کہ جس دن ابو جعفر محمد بن علی الہادی(ع) کی وفات ہوئی اس دن بہت سے بنی ہاشم وہاں جمع تھے امام ہادی(ع) کے لئے ان ان صحن خانہ میں ایک چادر بچھا دی گئی تھی آپ اس پر تشریف فرماتے تھے اور لوگ آپ کو گھیرے ہوئے تھے راوی کہتا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق آپ کے گرد صرف آل ابو طالب اور بنی ہاشم کے پانچ سو افراد موجود تھے چاہنے والوں اور شیعوں کی تعداد اس کے علاوہ تھی. اتنے میں حسن بن علی گریباں چاک کئے ہوئے تشریف لائے. ابوالحسن علی النقی(ع) نے ان کی طرف ان کی طرف دیکھا پھر تھوڑی دیر بعد فرمایا اے فرزند خداوند عالم کا شکر ادا کرو تمہارے بارے میں بھی ایک بات رہ گئی ہے یہ سن کے حسن(ع) رونے لگے پھر” انا للہ و انا الیہ راجعون” کہا امام علی نقی(ع) نے خدا کی حمدکرتے ہوئے فرمایا: اس سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تمہاری ہی ذات میں نعمت کو تمام کرے ہم تو خدا کی طرف سے آئے ہیں اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا
ہے( یہ سن کر) ہم نے امام علی نقی(ع) سے پوچھا کہ یہ نوجوان کون ہے؟ تو معلوم ہوا کہ یہ حسن بن علی(ع) ہیں ہم نے اندازہ کیا تو ان کا سن لگ بھگ بیس سال رہا ہوگا یا کچھ زیادہ اس وقت ہم نے اسی دن انہیں پہچانا تھا اور ہم یہ بھی جان گئے کہ امام علی نقی(ع) نے ان کی امامت پر نص قرار دی ہے اور انہیں اپنا جانشین بنایا ہے.(1)
2.اسی مضمون کی حدیث علی بن جعفر سے ہے وہ کہتے ہیں : جس وقت دسویں امام کے فرزند کا انتقال ہوا میں ابوالحسن کی خدمت میں موجود تھا. آپ نے امام حسن عسکری(ع) سے فرمایا اے میرے فرزند ! میں اس بات پر خدا کا شکر ادا کر رہا ہوں کہ اس نے امامت کی ذمہ داری تم پر عائد کی.(2)
3.احمد بن محمد بن عبداللہ بن مروان انباری کہتے ہیں میں ابوجعفر محمد بن علی(ع)کے وفات کے دن ان کی خدمت میں حاضر تھا اتنے میں حضرت ابوالحسن(ع) تشریف لائے ان کے لئے کرسی لائی گئی وہ اس پر بیٹھے ان کے اہل بیت اس وقت ان کے گرد موجود تھے ابو محمد حسن عسکری(ع) ایک گوشے میں کھڑے تھے جب امام محمد بن علی(ع) کے امور سے فارغ ہوئے تو علی نقی(ع) اپنے صاحبزادے حسن عسکری(ع) کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے فرزند میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں جو اس نے امامت کی ذمہ داری تمہارے سپرد کی.(3)
4. محمد بن ابی صہبان کہتے ہیں جب جناب ابو جعفر محمد بن علی(ع) کی وفات ہوگئی تو ابوالحسن بن محمد(ع) کے
...............................
1.کافی، ج1، ص326.327؛ انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں: بحار الانوار، ج50،ص245؛ ارشاد، ج2، ص381. اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص135؛ کشف الغمہ، ج3، ص201.
2.کافی، ج1، ص326؛ بحار الانوار، ج50، ص244.
3.کافی، ج1، ص326. انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں: بحار الانوار، ج50، ص240؛ ارشاد، ج2، ص316.
لئے کرسی بچھائی گئی آپ اس پر بیٹھے اور آپ کے صاحبزادے ابو محمد محمد حسن آپ کے بغل میں کھڑے تھے جب امام علی نقی(ع) اپنے باپ کو غسل دے کے فارغ ہوئے تو آپ نے
ابو محمد حسن عسکری(ع) کی طرف دیکھا اور فرمایا اے بیٹے خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ تمہارے بارے میں امامت طے ہوگیا ہے.(1)
5.ابو ہاشم جعفری کہتے ہیں میں ابوالحسن علی(ع) کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ کے صاحبزادے ابو جعفر(ع) کا انتقال ہوچکا تھا میں اپنے دل میں سوچ رہا تھا کہ ابو جعفر(ع) اور ابو محمد حسن(ع) کا معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ابوالحسن موسی بن جعفر(ع) اور اسماعیل بن جعفر کا تھا جب کہ ابو جعفر(ع) کے بعد مرکز امید جناب ابومحمد(ع) تھے پس جناب ابوالحسن علی(ع) تشریف لائے اور میرے بولنے کے پہلے فرمایا اے ابو ہاشم خداوند عالم نے ابو محمد(ع) کے بارے میں اسی طرف فیصلہ کیا ہے جیسا کہ موسی کاظم(ع) کے بارے میں اسماعیل کے گذرنے کے بعد فیصلہ کیا تھا یہی بات تو تمہارے دل میں تھی اگر چہ باطل پرستوں کو یہ بات ناگوار ہے میرا فرزند ابو محمد الحسن(ع) میرے بعد میرا خلیفہ ہے اس کے پاس وہ علم ہے جس کی لوگوں کو ضرورت ہے اس کے پاس ہی آلات اور وسائل امامت ہیں.(2)
6. علی بن عمر عطار کہتے ہیں میں حضرت علی نقی(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا جب آپ کے صاحبزادے جناب جعفر زندہ تھے میں سوچتا تھا کہ امام علی نقی(ع) کے بعد وہی امام ہوں گے لہذا میں نے حضرت علی نقی(ع) سے عرض کیا مولا میں آپ پر قربان ہو جائوں آپ کا فرزند خصوصی( مستقبل کا امام) کون ہے؟ فرمایا جب تک میرا حکم نہ ہو کسیکو خصوصت مت دو. علی بن عمر کہتے ہیں اس کے بعد میں نے ایک مرتبہ آپ کو خط لکھا اور اس میں میں نے یہ سوال کیا تھا کہ آپ کے بعد کون امام ہوگا؟ آپ نے جواب میں لکھا امامت میرے بڑے بیٹے کی ہے اور ابو محمد حسن عسکری(ع) آپ کے بڑے صاحبزادے تھے.(3)
....................................
1.کافی، ج1، ص326، انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں: بحار الانوار، ج50، ص240. ارشاد، ج2، ص316. اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص134.
2.اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج2، ص277؛ غیبت طوسی، ص203؛ بحار الانوار، ج50، ص243.
3. کافی، ج1، ص327، انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں: بحار الانوار، ج50، ص241. ارشاد، ج2، ص319.
7. علی بن عمرو نوفلی کہتے ہیں میں ابوالحسن علی نقی(ع) کی خدمت میں آپ کے صحن خانہ میں تھا اتنے میں آپ کے صاحبزادے محمد(ع) میرے پاس سے گذرے. میں نے عرض کیا میں آپ پر قربان ہو جائوں کیا یہ صاحبزادے آپ کے بعد ہمارے امام ہیں؟ فرمایا نہیں تمہارے صاحب امر میرے بعد حسن عسکری(ع) ہیں.(1)
8. احمد بن عیسی علوی کہتے ہیں میں ابوالحسن علی نقی(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ مقام صریا میں تھے ہم نے آپ کو سلام کیا. اتنے میں آپ کے دونوں صاحبزادے ابو جعفراور ابو محمد(ع) بھی آگئے پس ہم ابو جعفرکی طرف بڑھے تاکہ انہیں سلام کریں امام علی نقی(ع) نے فرمایا یہ تمہارے امام نہیں ہیں تمہارے اوپر تمہارے امام کی تعظیم واجب ہے اور ابو محمد حسن عسکری(ع) کی طرف اشارہ کیا.(2)
9. شاہویہ بن عبداللہ جلاب کہتے ہیں، میرے پاس حضرت ابو ا لحسن علی نقی(ع) کا ایک خط آیا جس میں آپ نے مجھے مخاطب کر کے لکھا تھا میں نے سوچا کہ تم ابو جعفر(ع) کے خلف کے بارے میں پوچھو گے اور تم جاننے کے لئے پریشان ہوگے غمزدہ نہ ہو خداوند عالم کسی بھی قوم کو ہدایت کرنے کے بعد گمراہ نہیں کرتا جب تک کہ انہیں یہ نہ بتادے کہ انہیں کس چیز سے بچنا چاہئے. میرے بعد تمہارے امام میرے فرزند ابو محمد(ع) ہیں ان کے پاس وہ سب علم موجود ہے جس کے تم محتاج ہو. اللہ جس کو چاہتا ہے مقدم کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے موخر کرتا ہے( وہ قرآن میں فرماتا ہے) “ ہم جس کسی آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا اس کو تمہارے ذہن سے نکال دیتے ہیں تو اس سے بہتر نشانی تم کو دیدیا کرتے ہیں” اور میں نے اس خط میں وضاحت سے لکھ دیا ہے صاحب عقل اور بیدار ذہن والے کی قناعت کے لئے کافی ہے.(3)
..............................
1. کافی، ج1، ص326، انہیں لفظوں کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں: بحار الانوار، ج50، ص244.
2.بحار الانوار، ج50، ص242؛ غیبت طوسی، ص199.
3. کافی، ج1، ص328، انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں: بحار الانوار، ج50، ص242.243.
10. علی ابن مہزیار کہتے ہیں میں نے علی نقی(ع) سے عرض کیا اگر کوئی نا گوار حادثہ ہو جائے ( خدا کرے کہ نہ ہو) تو ہم کس کی طرف جائیں گے؟ فرمایا میرا عہدہ منصب میرے بڑے بیٹے کے لئے ہے.(1)
11. دائوو بن قاسم ابو ہاشم جعفری کہتے ہیں میں نے علی نقی(ع) کو یہ کہتے سنا کہ میرے بعد میرے خلف میرے فرزند اکبر حسن عسکری(ع) ہیں اس خلف کے بعد والا خلف تمہارے لئے کون رہے گا؟ میں نے عرض کیا مولا یہ سوال آپ کیوں کر رہے ہیں؟ فرمایا: اس لئے کہ اس کے بعد والے کو( حسن عسکری(ع) کے بعد والے کو) تم دیکھ ہی نہیں سکو گے اور اس کا نام لینا بھی تمہارے لئے جائز نہیں ہوگا. پوچھا پھر ہم کیسے ان کو یاد کریں گے؟ فرمایا: کہنا حجت آل محمد(ع) ( آل محمد(ع) کی حجت کہا کرنا)(2) دائود بن قاسم سے اسی طرح کی ایک اور حدیث ہے بلکہ بعینہ یہی حدیث مروی ہے.(3)
12. یحیی بن یسار کہتے ہیں ابو الحسن علی نقی(ع) نے اپنی وفات کے چار ماہ پہلے امام حسن عسکری(ع) کی وصایت کا اعلان کردیا تھا اور مجھے اس بات پر گواہ بنایا تھات اور اپنے چاہنے والوں کی ایک جماعت کو بھی گواہ بنایا تھا.(4)
13. عبداللہ ابن محمد اصفہانی کہتے ہیں امام علی نقی(ع) نے فرمایا میرے بعد تمہارے صاحب امر امام حضرت حسن
عسکری(ع) ہیں وہی میری نماز پڑھائیں گے. عبداللہ بن محمد کہتے ہیں میں اس کے پہلے امام حسن عسکری(ع) سے واقف نہیں تھا لیکن جب آپ کا جنازہ تیار ہوا تو حضرت ابو محمد(ع) نکلے اور آپ کی نماز جنازہ پڑھائی.(5)
................................
1. کافی، ج1، ص326، انہیں لفظوں کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں: بحار الانوار، ج50، ص244.
2. کافی، ج1، ص328، انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں: بحار الانوار، ج50، ص242.
3.اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص274.
4. کافی، ج1، ص325، انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں: بحار الانوار، ج50، ص346.
5. کافی، ج1، ص326، انہیں لفظوں کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں: بحار الانوار، ج50، ص243.244.
14. ایک حدیث عبد العظیم(رہ) سے ہے. عبدالعظیم حسنی(رہ) نے اپنا دین امام علی نقی(ع) کے سامنے پیش کیا اور ہر امام کی امامت کا اقرار کرتے ہوئے امام علی نقی(ع) کی امامت تک پہونچے. امام علی نقی(ع) نے فرمایا اور میرے بعد میرے فرزند حسن امام ہیں.
لیکن حسن عسکری(ع) کے بعد جو امام ہونے والا ہے اس دور میں لوگ کیا کریں گے؟ عبدالعظیم(رہ) نے کہا مولا آپ یہ کیوں فرما رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا اس لئے کہ لوگ اس امام کو دیکھ نہیں سکیں گے اور اس امام کا نام لینا بھی حلال نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ( پردہ غیب سے) نکلے گا اور زمین کو عدل انصاف سے اس بھر دے گا جس طرح وہ ظلم جور بھری ہوگی.(1)
15. صقر بن ابی دلف کہتے ہیں میں نے علی بن محمد بن علی رضا(ع) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میرے بعد میرے فرزند حسن عسکری(ع) امام ہوں گے ان کے بعد ان کے فرزند حضرت قائم امام ہوں گے وہ زمین کو عدل و انصاف سے یوں بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی.(2)
16. صقر بن ابی دلف سے دوسری حدیث بھی ملاحظہ ہو. کہتے ہیں یہ امام علی نقی(ع) نے ایام ہفتہ کو ائمہ ہدی سے مخصوص و معین کرتے ہوئے فرمایا جمعرات میرے بیٹے حسن عسکری(ع) کا دن ہے اور جمعہ میرے بیٹے کے فرزند کا دن ہے اس کے پاس حق کے قبیلے جمع ہوں گے وہ زمین کو عدل و انصاف سے یوں بھر دے گا جس طرح وہ ظلم جور سے بھر چکی ہوگی.(3)
17. احمد بن محمد بن رجا صاحب ترک کہتے ہیں حضرت ابوالحسن(ع) نے فرمایا میرے فرزند حسن عسکری(ع) میرے بعد قائم بالامر( یعنی امامت کے حقدار) ہیں.(4)
.............................
1. کمال الدین و تمام النعمہ، ص379.380. انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ کریں: بحار الانوار، ج50، ص329.
2. کمال الدین و تمام النعمہ، ص283. انہیں لفظوں کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں: بحار الانوار، ج50، ص239.
3.کمال الدین و تمام النعمہ،ص382.383.کفایتہ الاثر، ص291. روضتہ الواعظین، ص392. بحارالانوار، ج24، ص239.
4.اثبات الھداۃ بالنصوص و المعجزات، ج6، ص276. غیبت شیخ طوسی، ص199؛ بحار الانوار، ج50، ص242.
18. ابو بکر فہفکی کہتے ہیں میرے پاس ابوالحسن علی نقی(ع) کا ایک خط آیا جس میں لکھا تھا میرے فرزند حسن عسکری(ع) آل محمد(ص) میں گرم جوشی کے اعتبار سے سب سے زیادہ خیر خواہ اور ان میں سب سے زیادہ قابل اعتبار حجت ہیں وہ میرے بڑے فرزند ہیں امامت کے سلسلے میں وہی میرے خلف ہیں اور احکام انہیں تک منتہی ہوتے ہیں. تم جو کچھ مجھ سے پوچھنا چاہتے ہو انہیں سے پوچھا کرو لوگ جس علم کے محتاج ہیں وہ ان کے پاس ہے.(1)
19. محمد بن عیسی اپنی اسناد کے ساتھ امام ہادی (نقی(ع)) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ابو محمد(ع) میرے فرزند میرے خلف ( جانشین) ہیں.(2)
20. اسحق بن محمد نخعی کہتے ہیں کہ ابو ہاشم دائود ابن قاسم جعفری نے کہا کہ میں ابو محمد حسن عسکری(ع) کی بزم میں تھا ایک آدمی جو یمن سے آیا تھا اس کے لئے آپ سے ملنے کی اجازت طلب کی گئی امام نے اس کو اجازت دیدی وہ یمنی جو بہت موٹا لمبا اور جسیم تھا مجلس حسن عسکری(ع) میں داخل ہوا اور امام حسن(ع) کو ولی خدا کہہ کے سلام کیا امام نے اس کا سلام قبول کر کے جواب دیا اور وہ شخص میرے( ابو ہاشم جعفری) پہلو میں بیٹھ گیا میں نے اپنے دل میں سوچا کاش میں سمجھ سکتا کہ یہ شخص کون ہے؟ امام حسن عسکری(ع) نے فرمایا یہ اس اعرابیہ کی اولاد میں ہے جو میرے آباء کرام کے پاس کنکر لے کے ان کی حجت کے ثبوت میں مہریں لگوانے آیا کرتی تھی اور ان کنکروں پر ہمارے آباء کرام مہر کر دیا کرتے تھے آج یہ شخص اپنی جدہ ماجدہ کی طرح کنکر لیکے میرے پاس آیا ہے تاکہ میں اس پر مہر لگا دوں پھر امام نے فرمایا: ہاں مٹی لائو فورا اس شخص نے کچھ کنکر نکالے ان کنکروں کے ایک طرف چکنی جگہ تھی امام نے انہیں لیا پھر اپنی مہر نکالی اور ان پر لگا دی آپ کی مہر ان کنکروں پر صاف اتر گئی میں نے جو منظر دیکھا تھا چشم تصور سے اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں کہ اسن سخت پتھروں پر( حسن بن علی(ع) کے ذریعہ) مہر کے الفاظ کندہ ہوگئے.
..............................
1. کافی، ج1، ص327.328. انہیں الفاظا کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں: بحار الانوار، ح50، ص345.
2. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص279.
ابو ہاشم جعفری کہتے ہیں میں نے اس یمنی سے پوچھا بھائی تم نے امام حسن عسکری(ع) کو پہلے بھی کبھی دیکھا تھا؟ اس نے کہا واللہ کبھی نہیں. میں بہت دنوں سے زیارتوں کا تمنائی تھا یہاں تک کہ میں نے ایک جوان کو دیکھا میں مجھ سے کہہ رہا تھا کہ کھڑا ہو اور اندر جا لہذا میں امام کی خدمت میں حاضر ہوگیا پھر وہ یمنی کہتا ہوا اٹھا: خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے اہل بیت(ع)! کہ تم میں سے بعض بعض کی ذریت اور ایک دوسرے کی وارث ہیں میں خدا کو گواہ بنا کے کہتا ہوں کہ مولا بیشک آپ کا حق واجب ہے ٹھیک اسی طرح جس طرح امیرالمومنین(ع) اور ان بعد کے اماموں کا حق واجب تھا. یہ کہہ کے وہ شخص چلا گیا ابو ہاشم کہتے ہیں اس کے بعد میں نے اس کو کبھی نہیں دیکھا. اس روایت کے راوی اسحق کہتے ہیں کہ ابو ہاشم جعفری نے کہا میں نے اس شخص سے اس کا نام پوچھا تو اس نے کہا میرا نام مہج بن صلت بن عقبہ بن سمعان بن عاصم ابن غانم ابن ام غانم ہے. یہ وہی یمنی محترم عربی خاتون ہیں جن کے پاس وہ محترم کنکر موجود تھے جن پر امیرالمومنین(ع) اور ان کے وارثوں یہاں تک کہ ابو الحسن رضا(ع) کی مہر تھی.(1)
امام حسن عسکری(ع) کی امامت پر فی الحال جو نصوص میسر ہوئیں میں نے پیش کردیں چوتھے گروہ کی حدیثیں جن میں ائمہ اثنا عشر کا تذکرہ ہے انہیں بھی شامل کر لیں تو آپ کی امامت پر تقریبا 90/حدیثیں شاہد ہیں.
آپ کی امامت کی ایک مضبوط اور محکم دلیل یہ بھی ہے کہ امام حسین(ع) کے بعد امامت کا سلسلہ اعقاب ( یعنی نسل) میں قائم ہے امامت چچا، ماموں اور بھائی کو نہیں ملتی بلکہ امام کا بیٹا ہی امام
................................
1.کافی، ج1، ص347. غیبت شیخ طوسی، ص203.204.
ہوتا ہے اسی طرح امام علی نقی(ع) کے بعد آپ کے کسی بھائی نے امامت کا دعوی کیا بھی نہیں. اس لئے یہ اس بات کی پختہ دلیل ہے کہ آپ کو امامت اپنے والد سے میراث میں ملی.
البتہ امام حسن عسکری(ع) کی شہادت کے بعد آپ کے بھائی جعفر بن علی نقی(ع) دعویدار امامت نظر آتے ہیں یا کچھ لوگوں نے ان کی امامت کا دعوی کیا ہے اس لئے کہ ان لوگوں کا یا خود جعفر کا یہ دعوی ہے کہ امام حسن عسکری(ع) لا ولد تھے. جعفر کے مدعیان امامت کی بات پر غور کیا جائے تو ان کے پاس کہنے کے لئے صرف یہ ہے کہ یا تو امام حسن عسکری(ع) کے بعد ان کے بھی بھائی جعفر کو امام مان لیں یا پھر چونکہ ان کے خیال میں امام حسن عسکری(ع) بے اولاد شہید ہوئے تھے اس لئے کہ جعفر کے علاوہ انہوں نے اپنی نسل میں میں کوئی اولاد نہیں چھوڑی تھی. لیکن میں عرض کرچکا ہوں کہ امام کے بارے میں منقولہ دلیلوں سے یہ بات کئی مرتبہ ثابت ہوچکی ہے کہ امامت اعقاب میں رہے گی اور منصب امامت امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) کے بعد باپ سے بیٹے میں منتقل ہوگا نہ کہ بھائی سے بھائی کو. تو ہونا تو یوں چاہئے تھا کہ امام علی نقی(ع) سے امامت براہ راست جعفر تک پہنچی نہ کہ حسن عسکری(ع) کے واسطے سے. بہر حال کسی بھی حال میں جعفر(ع) کی امامت پر کوئی نص نہیں ہے چاہے وہ بھائی سے بھائی کو ملتی ہو یا باپ سے بیٹے کو.
مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ یہ تمام باتیں تو تب ہوں گی جب امام حسن عسکری(ع) کو بے اولاد مان لیا جائے. جب کہ قطعی دلیلوں سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ امام حسن عسکری(ع) دنیا میں اولاد نرینہ چھوڑ کے گئے تھے اور امام حسن عسکری(ع) کے فرزند حضرت حجت ابن عسکری(ع) کے وجود
سے جعفر بن علی(ع) کا دعوائے امامت خود بہ خود باطل ہوجاتا ہے. جعفر بن علی(ع) کی امامت کے بطلان کا مزید ثبوت ان دو باتوں سے ملتا ہے.
1.تاریخ و سیرت سے یہ بات پایئہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ جعفر میں امامت کی بالکل صلاحیت نہیں تھی وہ خود اس منصب کے اہل نہیں تھے ان کے وارثوں کی امامت تو دور کی بات ہے.
2. دوسری بات یہ ہے کہ جعفر کے دعویدار ان امامت کا اب کہیں کوئی پتہ نہیں ہے یہ فرقہ اگر تاریخ میں جھاگ کی طرح اٹھا بھی تھا تو کب کا بیٹھ چکا ہے اس فرقہ کا مٹ جانا ہی اس کے بطلان کی دلیل ہے جیسا کہ میں نے امام موسی بن جعفر(ع) کے تذکرہ کے وقت فرقہ اسماعیلیہ کے لئے عرض کیا تھا اور امام حسن عسکری(ع) کی امامت سے انکار کی بھی گنجائش نہیں ہے.
آپ کےآباء طاہرین کی امامت پر نصوص پیش کرنے کے بعد آپ کی امامت پر بھی نصوص پیش کرنے کا شرف حاصل کررہا ہوں. آپ کی امامت پر آپ کے آبائے کرام کی طرف سے وافر مقدار میں نصوص وارد ہوئی ہیں جیسے امام صادق(ع) کے حوالے سے مفضل بن عمر کی حدیث، موسی جعفر(ع) کے حوالے سے دعبل خزاعی شاعر کی حدیث، امام جواد(ع) کی امامت پر دلالت کرتی ہوئی امام رضا(ع) کی حدیث جو امام علی نقی(ع) کی امامت پر دلالت کرتی ہوئی صقر کی حدیث جیسے امام محمد تقی(ع) نے بیان فرمایا اور شاہ عبدالعظیم، ابو ہاشم جعفری اور صقر ابن دلف کے حوالے سے امام علی ہادی(ع) کے ارشادات جس میں آپ کے والد ماجد امام حسن عسکری(ع) کی امامت پر دلیلیں موجود ہیں. اب آگے ملاحظہ فرمائیں:
1.اس حدیث میں ثابت بن ابی صفیہ امام محمد باقر(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ امام محمد باقر(ع) نے فرمایا کہ حسین(ع) نے فرمایا خداوند عالم ہمارے قائم کو ظاہر کرے گا ہمارا قائم ظالمون
سے انتقام لے گا پوچھا گیا فرزند رسول آپ کا قائم کون ہے؟ فرمایا میری نویں پشت میں ہوگا میرے فرزند محمد بن علی(ع) کی اولاد میں ہوگا اس کا نسب یوں ہے حجت بن الحسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی بن جعفربن محمد بن علی بن الحسین علیہم السلام وہ طویل مدت تک غائب رہے گا پھر ظاہر ہوگا اور زمین کو عدل وا نصاف یوں بھر دے گا جیسے وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی.(1)
2. اس حدیث میں احمد بن اسحق اشعری راوی ہیں. وہ امام عسکری(ع) کے حوالے سے کہتے ہیں میں نے امام حسن عسکری(ع) سے پوچھا فرزند رسول پھر آپ کے بعد امام اور خلیفہ کون ہوگا؟ یہ سن کے آپ جلدی سے اٹھے اور اندرون خانہ تشریف لے گئے اور جب باہر نکلے تو آپ کے دوش مبارک پر ایک چاند کا ٹکڑا ( لڑکا) تھا اس کا چہرہ چودہویں چاند کی طرح چمک رہا تھا عمر بمشکل 3/ سال تھی امام حسن عسکری(ع) نے فرمایا اے احمد اگر تم خدا اور حجتہ ہائے خدا کے نزدیک مکرم نہ ہوتے تو میں اپنے اس فرزند کو تمہارے سامنے ہرگز نہیں لاتا اس کا نام رسول کا نام ہے اور کنیت رسول کی کنیت ہے یہ وہ ہے جو زمین کو عدل و انصاف سے یوں بھر دے گا جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی. میں نے عرض کیا مولا کوئی پہچان بھی بتا دیں تاکہ میرا دل مطمئن ہوجائے( یہ سننا تھا کہ) اس راکب دوش امامت بچے نے فصیح و بلیغ عربی میں کہا میں زمین خدا پر بقیتہ اللہ ہوں میں دشمنان خدا سے انتقام لینے والا ہوں اے احمد بن اسحق عین اور حقیقت و موثر کی موجودگی میں اثر کو مت ڈھونڈھو!(2)
3. احمد بن اسحق سے دوسری حدیث ہے کہتے ہیں میں نے حسن عسکری(ع) کو کہتے سنا، اس خدا کی حمد ہے جس نے مجھے دنیا سے اس وقت تک نہیں اٹھایا جب تک میرے خلف کو مجھے دکھا نہ دیا. میرا یہ خلف پیغمبر(ص) سے خلق اور جسمانی بناوٹ میں سب سے زیادہ مشابہ ہے.(3)
....................................
1.اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج7، ص138.
2.کمال الدین و تمام النعمہ، ص384؛ بحار الانوار، ج52، ص24؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص248.
3. .اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص427.کمال الدین و تمام النعمہ، ص409؛کفایتہ الاثر، ص295؛ بحار الانوار، ج51، ص161.
4. محمد بن علی بن ہلال کہتے ہیں میرے پاس ابو احمد حسن عسکری(ع) نے ایک تحریر بھیجی اپنی شہادت کے دو سال بعد، جس میں آپ نے اپنے خلف کے بارے میں خبر کی تھی پھر آپ نے اپنی شہادت کے تین دن پہلے تحریر بھیجی تھی جس میں آپ نے اپنے خلف کی نشان دہی کی تھی.(1)
5. عمرو اہوازی کہتے ہیں کہ مجھے ابو محمد حسن عسکری(ع) نے اپنے فرزند کو دکھایا اور کہا یہ میرے بعد تمہارے صاحب اور امام ہیں.(2)
6. ایک فارس کا رہنے والا امام حسن عسکری(ع) کے دروازے پر ملازم تھا تاکہ آپ کی خدمت کرے وہ کہتا ہے کہ ایک دن حضرت حسن عسکری(ع) نے مجھے آواز دی اندر آئو میں گھر میں داخل ہوا تو مجھے ایک کنیز نے آواز دی ادھر دیکھو میں ادھر مڑا تو امام حسن عسکری(ع) نے کنیز کو حکم دیا تیرے پاس جو فرزند ہے اس کے اوپر سے کپڑا ہٹا کر دکھا دے اس نے فورا اپنی گود میں موجود وجود سے کپڑا ہٹایا میں نے دیکھا ایک بچہ تھا گورا اور خوش روپھر امام نے اس کے سینے سے کپڑا ہٹایا تو میں نے دیکھا بالوں کی ایک لکیر سینے سے ناف تک دکھائی دے رہی تھی لیکن اس کا رنگ کالانہیں ہرا تھا امام حسن عسکری(ع) نے فرمایا یہی میرے بعد تمہارے صاحب الامر اور صاحب اختیار ہیں پھر آپ نے کنیز کو حکم دیا اور وہ اس بچے کو لیکے چلی گئی اس کے بعد میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھا.(3)
7. یعقوب بن منفوش ناقل ہیں میں ابو محمد حسن عسکری(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اپنے گھر میں ایک چبوترے پر تشریف رکھتے تھے اور سامنے ایک پردہ پڑا ہوا تھا میں نے عرض کیا اے میرے سردار! آپ کے بعد صاحب امر کون ہے؟ امام نے مجھے حکم دیا پردہ اٹھائو میں نے پردہ اٹھایا تو سامنے ایک بچہ دکھائی دیا. میں سمجھ نہیں پایا کہ اس کی عمر کیا ہوگی؟ پانچ سال یا اس کے قریب اتنے میں امام نے فرمایا یہ تمہارے صاحب( اور امام) ہیں پھر آپ اٹھے اور فرمایا اے فرزند! وقت
....................................
1. کافی، ج1، ص328؛ ارشاد، ج2، ص348؛ اعلام الھداۃ باعلام الھدی، ج2، ص250؛ کشف الغمہ، ج3، ص246.
2.کافی، ج1، ص328؛ روضتہ الواعظین، ص262.
3. کافی، ج1، ص329؛ کمال الدین و تمام النعمہ، ص436.
معلوم تک کے لئے پھر پردے میں چلے جائو.(1)
8. موسی بن جعفر بن وہب کہتے ہیں میں نے ابو محمد حسن بن علی(ع) کو یہ کہتے ہوئے سنا” گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں کے میرے بعد تم لوگ میرےخلف کے بارے میں اختلاف کا شکار ہوگئے ہو لیکن یاد رکھنا جو آدمی سرکار دو عالم کے بعد تمام اماموں کی امامت کا اقرار کرے اور میرے بیٹے کی امامت کا انکار کرے وہ ایسا ہی ہے جیسے اس نے تمام انبیاء اور رسولوں کی نبوتوں اور رسالتوں کا اقرار تو کیا ہو لیکن خاتم المرسلین(ص) کی نبوت کا انکار کر دیا ہو اور یہ بھی حق ہے کہ میرے اس فرزند کی غیبت اتنی طویل ہوگی کہ لوگ شک میں مبتلا ہوجائیں گے مگر جس کو اللہ محفوظ رکھے.(2)
9. ابو عمرو عثمان بن سعید عمری کہتے ہیں میں امام حسن عسکری(ع) کی خدمت حاضر تھا کہ آپ سے سوال کیا گیا کہ اس حدیث کے بارے میں کچھ بتائیں جو آپ کے آباء کرام سے روایت کی جاتی ہے کہ زمین قیامت تک کسی بھی
وقت حجت خدا سے خالی نہیں رہتی اور جو اپنے امام کو پہچانے بغیر مرجائے وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے. تو امام حسن عسکری(ع) نے فرمایا یہ حدیث اسی طرح صحیح اور حق ہے جس طرح تم روز روشن کو اس وقت دیکھ رہے ہو اور حق سمجھ رہے ہو. سوال کیا گیا فرزند رسول پھر آپ کے بعد حجت خدا اور امام کون ہے؟ آپ نے فرمایا میرے بعد میرے فرزند محمد حجت خدا ہیں وہی میرے بعد امام ہیں لہذا جو اس حال میں مر جائے کہ ان کو پہچانتا نہ ہو وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے.(3)
........................................
1. کمال الدین و تمام النعمہ، ص407. انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص425.426؛ خرائج و جرائح، ج2، ص958.
2. کمال الدین و تمام النعمہ، ص409. انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص427.428؛ کفایتہ الاثر، ص295.296.
3. کمال الدین و تمام النعمہ، ص409. انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص428؛ کفایتہ الاثر، ص296؛ بحار الانوار، ج5، ص160؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص253؛ کشف الغمہ، ج3، ص335.336.
ولادت کے وقت موجود تھیں آپ نصف شعبان کی شب میں پیدا ہوئے حکیمہ بنت محمد تقی(ع) نے آپ کی زیارت بھی کی تھی.
10. اس سلسلے میں حکیمہ بن محمد تقی(ع) کا بیان بھی ہے جس میں انہوں نے یہ بتایا ہے کہ میں ( حکیمہ) نصف شعبان کی رات کو خانہ عسکری(ع) میں موجود تھی میری موجودگی میں امام حجت و منتظر(ع) پیدا ہوئے امام حسن عسکری(ع) نے مجھ سے کہا تھا کہ پھوپھی اس شب خداوند عالم آپ کے لئے اپنی حجت کو ظاہر کرے گا جو زمین پر خدا کی حجت ہوگا اور اسی روایت سے ہے. کہ حکیمہ بنت محمد تقی(ع) حضرت ولی عصر(ع) کی.(1)
11. احمد بن ابراہیم کہتے ہیں: ایک دن میں خدیجہ بنت محمد بن علی(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا سنہ262ھ کی بات ہے میں نے ان سے پردہ سے گفتگو کی میں نے ان سے ان کے دین کے بارے میں پوچھا انہوں نے مجھے وہ تمام نام بتائے جن کی امامت کا انہیں اقرار تھا امام حسن عسکری(ع) کے بعد فرمایا اور میرا آخری امام فلاں بن حسن(ع) ہے پھر ان کا نام بھی لیا میں نے عرض کیا اے سید زادی میں آپ پر قربان ہوجائوں آپ نے انہیں اپنی آنکھ سے دیکھا ہےیا خبر سنی ہے فرمایا میں نے ابو محمد حسن سے خبر حاصل کی ہے انہوں نے اپنی ماں کو لکھ کے بتایا تھا.(2)
12. ابو غانم خادم کی حدیث ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ ابو محمد حسن عسکری(ع) کو ایک فرزند ہوا آپ نے ان کا نام محمد(ع) رکھا تین دن بعد امام حسن عسکری(ع) نے اپنے اس فرزند کو اپنے اصحاب کے سامنے پیش کیا اور فرمایا میرے بعد یہی تمہارے صاحب اور تم پر میرے خلیفہ ہیں یہ وہی قائم(ع) ہیں جن کے انتظار میں گردنیں لمبی ہوتی رہیں گی...... ( یعنی لوگ انتظار کرتے کرتے تھک جائیں گے)(3)
..................................
1. کمال الدین و تمام النعمہ، ص424.426. انہیں لفظوں کے ساتھ ملاحظہ کریں. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص430؛ بحار الانوار، ج51، ص2.3؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص214.215.
2. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج7، ص15؛ کمال الدین و تمام النعمہ، ص431؛ غیبت شیخ طوسی، ص230؛ بحارالانوار، ج51، ص364.
3. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص431؛ کمال الدین و تمام النعمہ، ص431؛ بحارالانوار، ج51، ص5.
13. احمد بن حسن بن اسحاق قمی کہتے ہیں کہ جب خلف صالح پیدا ہوئے تو میرے پاس امام حسن عسکری(ع) کی ایک تحریر آئی آپ کی یہ تحریر اس انداز میں تھی جس انداز میں آپ سے توقیعات وارد ہوئی تھیں امام نے اس میں مجھے (احمد بن اسحق) کو لکھا ایک فرزند پیدا ہوگیا تمہارے پاس یہ خبر ذخیرہ رہنی چاہئے اور تمام لوگوں سے یہ خبر پوشیدہ رہنی چاہئے ہم اس کی ولادت کی خبر ظاہر نہیں کرتے مگر صرف ان لوگوں کے لئے جو اس فرزند سے بہت زیادہ قرابت رکھتے ہیں یا بہت زیادہ موالات ( حجت) رکھتے ہیں میں نے چاہا کہ یہ مژدہ تمہیں سنائوں تاکہ خدا تمہیں اس خبر سے اس طرح خوش کرے جس طرح ہمیں خوش کیا ہے.(1)
14. محمد بن معاویہ بن حکم، محمدبن ایوب ابن نوح، محمد بن عثمان عمری، تینوں افراد کا مشترکہ بیان ہے کہ ابو محمد حسن عسکری(ع) نے اپنے فرزند کو اس وقت پیش کیا جب ہم لوگ آپ کے گھر میں موجود تھے ہم لوگ چالیس آدمی تھے آپ نے اپنے فرزند کو ہمارے سامنے پیش کیا اور فرمایا یہی میرے بعد تمہارے امام اور میرے بعد تم پر ہمارے خلیفہ ہیں ان کی اطاعت کرنا اور میرے بعد بکھر نہ جانا ورنہ تم دین کے سلسلہ میں ہلاک ہو جائو گے یعنی بھٹک جائو گے اور یہ بھی یاد رکھنا کہ آج کے بعد تم انہیں نہیں دیکھو گے اس واقعہ کو زیادہ دن نہیں گذرے تھے کہ حضرت حسن عسکری(ع) کی شہادت ہوگئی.(2) شیعوں کی ایک جماعت سے مذکورہ بالا حدیث کے قریب المعنی حدیث وارد ہوئی ہے ( اس حدیث کےراویوں میں نمایاں افراد یہ ہیں علی بن ہلال، احمد بن ہلال، محمد بن معاویہ بن حکیم، حسن بن ایوب بن نوح) یہ روایت بہت مشہور اور بہت طویل ہے، سب کا یہ اجماعی بیان ہے کہ ہم لوگ ابو محمد حسن بن علی(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے آپ کے بعد حجت خدا کون ہوگا استفسار
......................................
1. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص432. 433؛ اور انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں: کمال الدین و تمام النعمہ، ص433. 434. بحار الانوار، ج51، ص16.
2. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص433؛ غیبت شیخ طوسی، ص357؛ بحار الانوار، ج15، ص346.347. اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص252؛ کشف الغمہ، ج3، ص335.
کیا اس مجلس میں40/ افراد موجود تھے.(1)
15. ابو الادیان کہتے ہیں میں حسن بن علی(ع) کا خادم تھا میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا جب آپ مرض موت میں گرفتار تھے تو آپ نے میرے ہاتھ میں ایک خط دیا اور فرمایا اس کو لیکے مدائن چلے جائو تم پندرہ دن سفر میں رہو گے پھر سامرہ میں پندرہویں دن پہونچو گے اس وقت میرے گھر سے نوحہ و ماتم کی صدا بلند ہو رہی ہوگی اور مجھے تم غسل میت کے تختے پر دیکھو گے میں نے عرض کیا مولا جب ایسا ہوجائے گا تو پھر ہم کس کے پاس جائیں گے فرمایا جو تم سے میرے خطوں کا جواب طلب کرے گا وہی میرے بعد قائم بالامر ہوگا ابوالادیان کہتے ہیں: میرے مولا نے جیسا فرمایا تھا ویسا ہی ہوا حدیث کے آخر میں ہے جب جنازہ تیار ہوکر نماز کے لئے آیا تو جعفر بن محمد(ع) اپنے بھائی کے جنازہ کی نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے ابھی لوگوں نے پہلی تکبیر کہنی چاہی تھی کہ ایک بچہ ظاہر ہوا جس کا چہرہ گندم گوں بال گھنگھرالے اور دانت برف کی طرح سفید تھے اس نے جعفر بن علی(ع) کی ردا پکڑ کے کھینچا اور کہا چچا ٹھہر جائیں میں اپنے باپ کی نماز جنازہ پڑھانے کا آپ سے زیادہ حقد رکھتا ہوں یہ سنکر جعفر ہٹ گئے اور ان کا چہرہ خاکستری رنگ کا ہوگیا( یعنی اتر گیا) بچہ آگے بڑھا اور اس نے نماز جنازہ پڑھائی پھر امام حسن عسکری(ع) کو ان کے والد امام ہادی(ع) کے پہلو میں دفن کردیا گیا اس کے بعد میری طرف متوجہ ہو کر کہا: اے بصری! تمہارے پاس میرے خطوں کے جواب ہیں مجھے دو. پھر یہ حدیث یہیں پر ختم ہوجاتی ہے لیکن اس کے آخر میں مذکور ہے کہ اس بچے نے تھیلی کے اندر کیا ہے یہ بھی بتایا اور کس نے بھیجا ہے یہ بھی بتایا....(2)
16. ایک حدیث بشر سے ہے جس میں امام مہدی(ع) کی مادر گرامی کی خریداری کا واقعہ ہے جب وہ امام علی نقی(ع) کی خدمت میں لائی جاتی ہیں تو امام ان سے فرماتے ہیں بی بی میں تم کو
.......................................
1. غیبت شیخ طوسی، ص357. انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں : اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج7، ص25.
2. اس نے اپنی مناقب ص607 میں؛ خزائح و جرائح، ج3، ص1101.1102؛ بحار الانوار، ج50، ص332؛ اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج6، ص434.435؛ کمال الدین و تمام النعمہ، ص475. 476.
بشارت دیتا ہوں کہ تم سے وہ بچہ پیدا ہوگا جو دینا کے شرق و غرب کا مالک ہوگا اور زمین کو عدل و انصاف سے یوں بھر دے گا جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی اور اس روایت میں ہے کہ امام نے یہ بھی فرمایا کہ وہ صاحب امر فرزند میرے بیٹے حسن عسکری(ع) کے صلب سے پیدا ہوگا.(1)
17. کامل بن ابراہیم کی حدیث ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کامل بن ابراہیم امام حسن عسکری(ع) کی خدمت میں آئے تاکہ چند مسائل دریافت کریں اتنے میں آپ نے اپنے سامنے پڑا ہوا پردہ اٹھایا پردے کے پیچھے سے ایک چار سال کا بچہ اس طرح ظاہر ہوا جیسے کہ چاند نکل رہا ہے. اس بچے نے انہیں( کامل بن ابراہیم) ان کے مافی الضمیر کی خبر دی اور یہ بتایا کہ وہ کیا پوچھنا چاہتے ہیں. اور پھر واپس پردے میں چلا گیا اور پردہ وہیں پہلی جگہ آگیا. کامل بن ابراہیم حیرت زدہ بیٹھے تھے کہ امام حسن عسکری(ع) نے آواز دی کامل اب کیوں بیٹھے ہو تمہارے سوالوں کے جواب تو اس نے دے دیئے ہیں جو میرے بعد حجت خدا ہے.(2)
.18. اسماعیل بن علی نوبختی کہتے ہیں کہ جس مرض میں حضرت امام حسن عسکری(ع) کی شہادت ہوئی میں وہاں موجود تھا امام نے خادم کو حکم دیا کہ گھر کے اندر سے ایک بچے کو لے آئے جب وہ بچہ حجرے میں داخل ہوا تو راوی کی آنکھیں چکا چوند ہوگئیں رنگ موتی جیسا تھا بال گھنگھرالے، دانت برف کی طرح سفید تھے امام حسن عسکری(ع) نے صاحبزادے کو دیکھا تو رونے لگے اور فرمایا اے اپنے اہل بیت(ع) کے سردار ہمیں پانی پلائیے میں اپنے پروردگار کی طرف جا رہا ہوں بچے نے ایک بھرا ہوا جام امام کی خدمت میں پیش کیا امام نے پانی پیا پھر اس بچے سے فرمایا:جان پدر تمہیں بشارت ہو کہ تمہیں صاحب الزمان ہو تم ہی مہدی ہو تم ہی زمین خدا پر اس کی حجت ہو تم میرے بیٹے اور میرے وصی ہو میں تمہارا ( صلبی) باپ ہوں تم ہی محمد بن حسن بن علی بن محمد بن علی موسی بن جعفر بن محمد بن
..................................
1.کمال الدین وتمام النعمہ، ص417.423؛ روضتہ الواعظین، ص255؛ غیبت شیخ طوسی، 214، مناقب ابن شہر آشوب، ج3، ص540؛ بحار الانوار، ج51، ص10.
2. غیبت شیخ طوسی، ص246.247. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج7، ص19.20؛ بحار الانوار، ج25، ص337.
علی بن حسین بن علی ابن ابی طالب علیہم السلام ہو تم ہی کو پیغمبر(ص) نے اپنا بیٹا کہا اور تم ہی خاتم الاوصیاء اور ائمہ طاہرین علیہم السلام کے خاتم ہو رسول نے تمہاری آمد کی خوشخبری دی ہے تمہیں اپنا نام اور اپنی کنیت عنایت فرمائی ہے اللہ اہل بیت(ع) پر درود بھیجتا ہے وہ ہمارا رب ہے اور یہ کہہ کر حسن بن علی عسکری(ع) کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی( ان سب پر خدا کا درود و سلام ہو).(1)
19. محمد بن عبدالجبار کہتے ہیں: میں نے اپنے مولا حسن عسکری(ع) سے عرض کیا اے فرزند رسول(ع)! میں آپ پر قربان ہو جائوں، چاہتا ہوں کہ آپ مجھے یہ بتادیں کہ آپ کے بعد امام اور بندوں پر خدا کی حجت کون ہوگا؟ فرمایا: میرے بعد امام اور بندگان خدا پر حجت میرا صلبی بیٹا ہے جس کا نام پیغمبر(ص) کا نام اور جس کی کنیت پیغمبر(ص) کی کنیت ہے. وہی خاتم ہے اللہ کی حجتوں کا اور وہی آخر ہے خلفائے خدا کا.(2)
20. محمد بن علی بن حمزہ علوی کہتے ہیں میں نے ابو محمد حسن عسکری(ع) کو یہ کہتے سنا کہ بیشک خدا کا ولی بندگان خدا پر خدا کی حجت اور میرے بعد میرا خلیفہ سنہ255ھ میں 15/ شعبان کی رات کو پیدا ہوا اس حال میں کہ یہ مختون ( ختنہ شدہ) تھا.(3)
21. ابراہیم بن محمد بن فارس نیشاپوری کہتے ہیں کہ میں امام حسن عسکری(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے پاس ایک غلام( لڑکا) تھا میں نے صاحبزادے کے بارے میں امام سے پوچھا تو امام نے فرمایا یہ میرے فرزند اور میرے بعد میرے خلیفہ ہیں. یہ ہی ہیں جن کی غیبت بہت طویل ہوگی اور جب ظاہر ہوں گے تو دینا کو عدل و انصاف سے یوں بھر دیں گے جیسی وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی.(4)
...............................
1.غیبت شیخ طوسی، ص272.273؛ اور اسی حدیث کا کچھ حصہ اثبات الھداۃ بالنصوص و المعجزات، ج7، ص21؛ بحار الانوار، ج52، ص16.17. میں ذکر ہوا ہے.
2. اثبات الھداۃ والمعجزات، ج7، ص137.138؛ مستدرک الوسائل، ج12، ص280.
3.اثبات الھداۃ والمعجزات، ج7، ص130.
4. اثبات الھداۃ والمعجزات، ج7، ص139؛ مستدرک الوسائل، ج12، ص281.
22. علی بن عاصم کوفی کہتے ہیں ایک دن میں امام حسن عسکری(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ایک چادر پر تشریف رکھتے تھے آپ نے مجھے آثار انبیائ اور آثار اوصیاء و ائمہ علیہم السلام اس چادر میں دکھائے اور اس روایت میں ہے کہ آپ نے ابن عاصم سے فرمایا: یہ نشان میرے فرزند مہدی(ع) کا ہے جو اس چادر پر چلا پھرا اور بیٹھا ہے.(3)
23. ایک حدیث عیسی بن محمد جوہری سے روایت ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ میں ایک جماعت کے ساتھ امام حسن عسکری(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا مقصد تھا آپ کے یہاں ولادت فرزند پر مبارک با دینے آیا ہوں چونکہ ہمیں خبر ملی تھی کہ آپ کے یہاں ولادت پانے والے حضرت مہدی(ع) ہیں اس روایت میں ہے کہ جب ہم وہاں مبارک باد دینے پہونچے تو امام حسن عسکری(ع) نے فرمایا کہ تم میں کچھ لوگ وہ ہیں جن کے دل میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ میرا فرزند مہدی(ع) کہاں ہے؟ میں نے فرزند کو اسی طرح اللہ کے حوالہ کردیا ہے جس طرح مادر موسی نے موسی کو تابوت میں اس غرض کے ساتھ رکھا تھا خدا پھر موسی کو ان کے پاس واپس کردے.(2)
جلدی جلدی میں صرف اتنی ہی حدیثیں پیش کر سکا ہوں ان حدیثوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت حجت آخر شب 15/شعبان سنہ255ھ اس دنیا میں تشریف لاچکے ہیں آپ کو محض گواہ اور شاہد کے طور پر 200/ سے زیادہ آدمیوں نے دیکھا اور گفتگو کی. سوالات کے جوابات حاصل کئے. حضرت حسن عسکری(ع) نے کثیر افراد سے اپنا وارث اور امام آخر کہہ کے تعارف کرایا) اب اگر چوتھے گروہ کی حدیثیں بھی ان میں شامل کردی جائیں تو آپ کی امامت پر موجودہ حدیثوں کی تعداد 90/ سے زیادہ ہو جائیں گی.
................................
1. اثبات الھداۃ بالنصوص و المعجزات، ج7، ص142.143؛ بحار الانوار، ج50، ص304.305.
2. اثبات الھداۃ بالنصوص و المعجزات، ج7، ص143.
( اب تک آخری امام کی امامت کے بارے میں جو حدیثیں پیش کر جا چکی ہیں ان کا جائزہ لیتے ہیں اور ان کو تقسیم کر کے دیکھتے ہیں کہ حضرت حجت(ع) کی امامت اور آپ کے وجود ذی وجود پر یہ حدیثیں کس طرح سے روشنی ڈالتی ہیں اور آپ کی شخصیت و امامت کےکن پہلوئوں پر روشنی ڈالتی ہیں)
ان تمام باتوں کے علاوہ یہ بات تو متعدد بار ذکر کی جا چکی ہے کہ امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کے بعد امامت اعقاب میں منتقل ہوتی رہی اور یہ سلسلہ باپ سے بیٹے کی طرف جاری و ساری رہا ہے اور امامت حسنین(ع) کے بعد کسی بھی بھائی، چچا اور ماموں کے درمیان نہیں رہی اس مقام پر حدیثوں کے ایسے گروہ پیش کئے جارہے ہیں جو آپ کی امامت کی گواہی دیتے ہیں.
پہلا گروہ: سنی اور شیعہ کتابوں میں یہ مضمون حد تواتر سے بھی آگے بڑھا ہوا ہے کہ امام یا خلیفہ بارہ ہوں گے اس مضمون کی حدیثیں صرف بارہ اماموں کی امامت پر دلالت کرتی ہیں ظاہر ہے کہ جب گیارہویں امام حسن عسکری(ع) ہیں تو بارہویں امام لازمی طور پر آپ کے فرزند حضرت حجت(ع) ہیں.
دوسرا گروہ: ان روایتوں کا ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ذریت امام حسین(ع) سے 9/ امام ہوں گے.
وہ حدیثیں بھی پیش کی جا چکی ہیں جن کا مضمون یہ ہے کہ امامت ذریت حسین(ع) ہی سے مخصوص ہے اور یہ بھی کہ ذریت حسین(ع) سے قیام کرنے والے امام ہوں گے ظاہر ہے کہ جب ذریت حسین(ع) میں9/ امام ہیں اور آٹھویں حسن عسکری(ع) ہیں تو نویں حسن عسکری(ع) کے فرزند مہدی(ع) بہر حال ہیں.
تیسرا گروہ: ان روایتوں کا ہے جو کہتی ہیں: مہدی ذریت حسین(ع) میں ہوں گے:وہ حدیثیں جو سنیوں اور شیعوں(1) کے یہاں حد تواتر سے بھی آگے بڑھ چکی ہیں جن میں یہ کہا جا چکا ہے کہ مہدی ذریت حسین(ع) سے ہوں گے چونکہ مذکورہ حدیثوں میں جن نو اماموں کی امامت کا تذکرہ ہوا ہے ان میں آٹھ اماموں تک بہر حال مہدی نہیں ہیں اس لئے ماننا پڑے گا کہ ذریت حسین(ع) سے آٹھویں امام حسن عسکری(ع) ہیں اور نویں امام ان کے صاحبزادے مہدی(ع) ہیں.
چوتھا گروہ: ان روایتوں کا ہے جو بیان کرتی ہیں کہ: مہدی(ع) آخری امام ہیں:
ان حدیثوں کو بھی نظر رکھیں جن میں یہ مضمون ہے کہ مہدی(ع) آخری امام ہیں یا یہ کہ مہدی(ع) ذریت ائمہ کی آخری فرد ہیں اگر چہ ان حدیثوں میں نسب کی تحدید طبقہ کے اعتبار سے نہیں کی گئی ہے. اور اس طرح کی کثیر حدیثیں سنی اور شیعہ راویوں سے روایت کی گئی ہیں کہ ائمہ طاہرین(ع) کے گیارہویں نمبر کے امام ذریت حسین(ع) سے آٹھویں نمبر کے امام حسن عسکری(ع) ہیں اور یہ کہ امامت اعقاب میں جاری رہتی ہے تو لازمی طور پر امام حسن عسکری(ع) کے صاحبزادے ہی مہدی(ع) ہیں.
..............................................
1.رجوع کریں: غیبت شیخ طوسی. ص189. بحار الانوار، ج51،ص35. امامت و تبصرہ، ص110، باب مہدی اولاد حسین ہیں. کامل الزیارات، ص116. علل الشرائع، ج1، ص98. عیون اخبارالرضا، ج1، ص71. امالی شیخ صدوق، ص78. کمال الدین و تمام النعمہ، ص78،241.257.261. 260.336.359.527. معانی الاخبار، ص91.126. کفایتہ الاثر، ص188.250.199. روضتہ الواعظین، ص100. الھدایت الکبری، ص337. غیبت نعمانی،ص282.102.67.60.10. اختصاص، ص257. استبصار، ص9، اس کے علاوہ اور بہت سی کتابیں ہیں. اسی طرح اہلسنت حضرات کی ان کتابوں میں ملاحظہ کریں: ذخیرہ العقبی فی مناقب ذوی القربی، ج1، ص137. ان احادیث کے بیان میں جو کہتی ہیں مہدی آخری زمانہ میں ہوگا. پھر انہوں نے اس بات کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے جس میں سے ایک بات اسی حوالہ سے امام حسین(ع) سے مخصوص ہے ینابیع المودۃ، ج2، ص210.44.316، اور ج3، ص291.386.394.395.میزان الاعتدال، ج4، ص50. عباس بن بکارضی کے احوال میں. لسان المیزان، ج3، ص237.عباس بن بنکارضی کے احوال میں کشف حیثیت، ج1، ص147. عباس بن بکارضی کے احوال میں. فتن نعیم بن حماد،ج1، ص371.373.
پانچواں گروہ: ان احادیث کا ہے جو بیان کرتی ہیں کہ خروج مہدی(ع) آخری زمانے میں:
ان حدیثوں کا بھی جائزہ لیجئے جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مہدی(ع) آخری زمانہ میں خروج فرمائیں گے یا طویل غیبت کے بعد ظاہر ہوں گے جب کہ لوگ آپ سے مایوس ہوچکے ہوں گے اور ہرج و مرج میں مبتلا ہوں گے اور زمین ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی. پھرشیعہ اور جمہور اہلسنت کے یہاں ایسی حدیثیں موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امامت اعقاب میں ہوگی اور باپ سے بیٹے کو پہونچے گی تو امام حسن عسکری(ع) کی امامت سابقہ دلیلوں سے ثابت ہوچکی ہے لہذا ان کے صاحبزادے ہی مہدی(ع) ہیں.
چھٹا گروہ: ان حدیثوں کا ہے جو حضرت مہدی(ع) کے نسبی طبقات معین کرتی ہیں:
حضرت حجت(ع) کے آباء کرام سے بعض ایسی حدیثیں بھی وارد ہوئی ہیں جو طبقات نسل و توارث( ایک دوسرے سے میراث لینے) کے اعتبار سے آپ کا نسب معین کرتی ہیں.
1. امیرالمومنین(ع) کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے کہ جب آپ کے پاس امام حسن(ع) تشریف لاتے تو مولا فرماتے ہیں مرحبا اے فرزند رسول. لیکن حسین(ع) آتے تو فرماتے ہیں مرحبا اے بہترین کنیز کے بیٹے کے باپ. امیرالمومنین(ع) سے پوچھا گیا مولا بہترین کنیز کا بیٹا کون ہے فرمایا وہ مفقود الخبر ہو جائے گا چھوڑ دیا جائے گا جھڑک دیا جائیگا وہ محمد بن حس بن علی بن محمد بن علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین علیہم السلام یعنی اس حسین(ع) کا فرزند ہوگا اور یہ کہہ کے آپ نے اپنا ہاتھ حسین(ع) کے سر پر رکھا.(1)
2.ابو حمزہ ثمالی راوی ہے کہ میں ایک دن ابو جعفر محمد باقر(ع) کی خدمت میں حاضر تھا جب مجمع چلا گیا اور صرف میں رہ گیا تو آپ نے فرمایا اے ابو حمزہ وہ امر یقینی ہے جس میں خدا کے
..........................
1.اثبات الھداۃ بالنصوص و المعجزات، ج7، ص217؛ مقضب الاثر، ص31؛ بحار الانوار، ج51، ص110.111.
نزدیک تبدیلی کی گنجائش نہ ہو اور وہ یہ کہ ہم اہل بیت(ع) کے قائم کا قیام یقینی ہے....پھر فرمایا میرے ماں باپ قربان ہوں جس کا نام میرا نام ہوگا اور جس کی کنیت میری کنیت ہوگی میری اولاد میں ساتویں پشت میں ہوگا. میرے باپ قربان ہوں اس پر جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی.(1)
3.صفوان بن مہران امام صادق(ع) سے راوی ہیں کہ آپ سے پوچھا گیا آپ کے بیٹوں میں مہدی(ع) کون ہے؟
فرمایا ساتویں اولاد کا پانچواں اس کا وجود تم سے غائب ہو جائےگا...(2)
یہاں ساتویں سے مراد ساتویں امام موسی کاظم(ع) ہیں اور امام موسی کاظم(ع) کی پانچویں پشت میں سوائے حضرت حجت(ع) کے کوئی اور نہیں ہے.
4.عبداللہ بن ابی یعفور نے اسی مضمون کی حدیث امام صادق(ع) ہی سے نقل کی ہے.(3)
5.علی بن جعفر(ع) اپنے بھائی امام کاظم(ع) سے راوی ہیں کہ امام موسی کاظم(ع) نے فرمایا: جب میرے ساتویں کا پانچواں بیٹا مفقود الخبر ہو جائیے گا تو بس تمہارے دین کو صرف خدا ہی بچا سکتا ہے میں تمہارے دین کے بارے میں خدا کو یاد دلاتا ہوں دیکھو تم میں سے کسی کا دین زائل نہ ہو جائے خبر دار.(4)
6.یونس بن عبدالرحمن کہتے ہیں میں موسی بن جعفر(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور
...............................
1.اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات، ج7، ص64. اور ج7، ص141.142، تھوڑے اختلاف کے ساتھ اس طرح نقل کیا کہ” میرے بعد ساتواں”؛ غیبت نعمانی، ص86؛ بحار الانوار، ج24، ص241.242. ج36، ص393.394.
2.کمال الدین و تمام النعمہ، ص333؛ بحار الانوار، ج51، ص32؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص234.
3.کمال الدین و تمام النعمہ، ص338؛ بحار الانوار، ج51، ص32.
4.کمال الدین و تمام النعمہ، ص359.360؛ مسائل علی بن جعفر، ص325؛ الامامتہ والتبصرہ، ص113؛ کافی، ج1، ص336؛ علل الشرائع، ج1، ص244. 245.
پوچھا ے فرزند رسول(ع) کیا آپ ہی قائم بالحق ہیں؟ فرمایا میں قائم بالحق تو ہوں لیکن وہ قائم بالحق جو زمین کو پاک کرے گا وہ میری پانچویں پشت میں میرا بیٹا ہے اس کی غیبت طویل ہوگی یعنی طویل مدت تک غائب رہے گا.(1)
7. سید حمیری شاعر، امام صادق(ع) سے عرض کرتا ہے اے فرزند رسول(ع) ہمارے پاس آپ کے آبائے کرام سے غیبت اور غیبت کے صحیح ہونے کی خبریں آئی ہیں ہمیں بتائیں کہ آخر آپ اماموں میں سے کس کی غیبت واقع ہوگی؟ امام نے فرمایا غیبت ہمارے چھٹے بیٹے کی ہوگی نبی کے وہ بارہویں جانشین ہوں گے اور ہدایتوں کے ذمہ دار اماموں
میں وہ بارہویں امام ہوں گے.(2)
8. جنگ قادسیہ کے واقعات بیان کرتے ہوئے سلیمان دیلمی کہتے ہیں کہ یزد جرد اپنے گھر والوں کو چھوڑ کے بھاگتا ہوا نکلا اور ایوان کے دروازے پر کھڑا ہوا پھر بولا اے ایوان تجھ پر ( الوداعی) سلام، میں اب جارہا ہوں ممکن ہے پھر واپس آئوں یا میں آئوں گا یا وہ شخص جو میری اولاد سے ہوگا ابھی نہ اس کا زمانہ قریب آیا اور نہ وہ وقت قریب ہے. سلیمان کہتے ہیں میں نے جعفر صادق(ع) سے پوچھا کہ یزدجرد اپنے رجعت کرنے والے بیٹے سے کس کو مراد لے رہا تھا فرمایا وہ تمہارے صاحب ہیں یزد جرد جو قائم بامر اللہ ہیں. میری اولاد میں سے چھٹے پشت میں ہوں گے اور چونکہ یزد جرد نے انہیں بیٹا بنایا ہے اس لئے اس نے ان کو اپنا بیٹا کہا.(3)
9.ابو ہیثم بن ابی حبہ سے روایت ہے کہ امام صادق(ع) نے فرمایا جب یہ تین نام یکے بعد دیگرے ترتیب سے جمع ہوں گے تو چوتھا قائم ہوگا تین نام یہ ہیں محمد(ع)، علی(ع) اور حسن(ع).(4)
.................................
1. کمال الدین و تمام النعمہ، ص361؛ کفایتہ الاثر، ص269؛ بحار الانوار، ج51، ص151.
2.کمال الدین و تمام النعمہ، ص342؛ بحار الانوار، ج47، ص317؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج1، ص539.ج2، ص197.
3. .اثبات الھداۃ بالنصوص و المعجزات، ج7، ص.218.217؛ بحار الانوار، ج51، ص164.163.
4. کمال الدین و تمام النعمہ، ص333.334.
اور اس کے قریب المعنی یا بعینہ یہی حدیث ابو ہیثم تمیمی سے بھی ہے.(1)
10.حسین بن خالد امام رضا(ع) سے روایت کرتے ہیں اس حدیث میں ہے کہ امام رضا(ع) سے پوچھا گیا فرزند رسول(ع) آپ کے اہل بیت(ع) میں قائم کون ہے؟ فرمایا میری چوتھی پشت میں( ہونے والا میرا فرزند).(2)
11.ریان بن صلت راوی ہیں کہ امام رضا(ع) نے حضرت قائم کے بارے میں یوں آپ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا میری چوتھی پشت میں ہونے والا بیٹا. خدا اس کو اپنے پردے میں جب تک چاہئے گا غائب رکھے گا.(3)
12. عبدالعظیم حسنی(رہ) امام جواد(ع) کے سامنے اپنا عقیدہ رکھتے ہیں امام جواد(ع) فرماتے ہیں قائم وہی ہے جو مہدی ہے جس کا انتظار اس کی غیبت میں واجب ہے اور ظہور کی حالت میں اس کی اطاعت واجب ہے اور میری تیسری پشت میں ہونے والا بیٹا قائم آل محمد(ع) ہے.(4)
حضرت حجت(ع) کے وجود گرامی پر جو حدیثیں پیش کی گئی ہیں اگر چہ وہ وافر مقدار میں ہیں اور کافی ہی ہیں لیکن آپ کے وجود پر ایک بڑی دلیل خود زمین کا وجود ہے.
..................................
1. کمال الدین و تمام النعمہ، ص334؛ الامامہ والتبصرہ، ص114؛ بحار الانوار، ج51، ص143؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص234.
2. کمال الدین و تمام النعمہ، ص371.372؛ کفایتہ الاثر، ص274.275؛ بحار الانوار، ج52، ص321.322؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج1، ص539.ج2، ص241.
3. کمال الدین و تمام النعمہ، ص376؛ بحار الانوار، ج52، ص322؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص241.
4. کمال الدین و تمام النعمہ، ص377؛ کفایتہ الاثر، ص281.280؛ خرائج و جرائح، ج3، ص1171.1172؛ بحار الانوار، ج51، ص56؛ اعلام الوری باعلام الھدی، ج2، ص242.
گذشتہ صفحات میں کثیر حدیثیں عرض کی جاچکی ہیں کہ زمین امام اور حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی ہے! اور وہ حجت خدا یا تو شہرت کے ساتھ ظاہر ہوگا یا دشمنوں کے خطرہ کی وجہ سے پردہ میں ہوگا. آپ کے سابقہ سوالوں میں چوتھے سوال کے جواب میں یہ حدیث کئی طرح سے پیش کی جا چکی ہے.
اسی طرح حضور سرورکائنات(ص) کا یہ قول بھی میرے اس دعوے پر دلیل ہے کہ حضرت نے فرمایا: بیشک میری امت پر خلف میں میرے اہلبیت(ع) سے ایک پیکر عدل ہوگا جو اس زمین کو مبطلین کی تحریف، غالیوں کے اضافے اورجاہلوں کی تاویل کی نفی کریگا. یاد رکھنا تمہارے ائمہ تم کو خدا تک پہونچانے والے قائد ہوتے ہیں. اس لئے بہت سوچ سمجھ کے طے کرنا کہ تم دین اور اپنی نمازوں میں کس کی اقتدا کرتے ہو؟(1)
ان تمام باتوں کی موجودگی میں کوئی شک کرنے والا امام زمانہ کی امامت میں کیسے شک کرسکتا ہے.
اس لئے اکثر نصوص میں آپ کی امامت کے ثبوت کے سلسلے میں صرف یہ بیان کرنا کافی سمجھا گیا ہے کہ آپ لوگ جان جائیں کہ آپ پیدا ہوچکے ہیں، آپ موجود ہیں لیکن آپ کی جان کا خوف ہے اس لئے آپ کے وجود مبارک کو عمدا چھپایا جارہا ہے اس لئے بہت سی حدیثوں اور تاریخی نصوص میں بھی محض آپ کی ولادت اور آپ کے وجود کے بیان پر اختصار کیا گیا ہے.
سابقہ حدیثوں کے جو مختلف مجموعے پیش کئے گئے ہیں سچ تو یہ ہے کہ ایک ہی مجموعہ آپ کے وجود اور آپ کی حجت کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے لیکن اس کے باوجود آپ کے وجود کے بارے میں سوال کیا گیا ہے؟ اور عجیب بات یہ ہے کہ یہ سوالات شیعہ ذہنوں کی پیداوار ہیں؟ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ شیعہ جن کے عقیدہ کی تکمیل ہی آپ کے وجود مبارک سے باقی ہے بار بار
.............................
1. اہل بیت(ع) سے متعلق عام حدیثیں بیان کی جاچکی ہیں وہیں پر اس سوال کےجواب کی ابتدا ہی میں اس کے مصادر و منابع بھی مذکور ہیں.
سوال کیوں کررہے ہیں کیا انہیں اپنے اس عقیدہ پرخود پختگی حاصل نہیں ہے یا وہ امام کے وجود کا یقین نہیں رکھتے؟ دیکھئے شیعوں کے سوال کے بہت سے اسباب ہیں ان کے کسی بھی سوال کا کوئی بھی سبب ہوسکتا ہے مثلا وضاحت کے لئے یعنی کسی کے سامنے صورت حال بالکل واضح تھی اور کسی کے سامنے مبہم وہ جس کے سامنے آپ کا وجود مبہم تھا وہ وضاحت والے سے پوچھتا ہے تاکہ اس کے سامنے بھی وجود مبارک واضح ہو جائے اور ایک پختہ دلیل ہاتھ آئے.سوال کا ایک سبب ناواقفیت بھی ہوسکتا ہے اس لئے کہ وجود مبارک پر نص کرتی ہوئی حدیثیں تو بہت خاص لوگوں سے صادر ہوئی ہیں اور ان کا شیاع یا شہرت اس دور کے معمول اورعام افراد تک نہیں پہنچ سکی جس کی وجہ سے وہ کئی لوگوں سے سوال کرتے ہیں اور جواب سے مطمئن ہوتے ہیں. سوال کی وجہ طلب مزید بھی ہوسکتی ہے یا حجت کی پختگی بھی ہوسکتی ہے. اس کے علاوہ حسی امور، عقل کے حساب سے واقع ہوتے ہیں اور غیبی امور میں احسان کا ذوق تجسس بیدار ہو جاتا ہے.
عبداللہ ابن جعفر حمیری کہتے ہیں میں اور شیخ ابو عمرو(1) احمد بن اسحق کے پاس جمع ہوئے میں نے ابو عمرو سے کہا اے ابو عمرو میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں میرے سوال کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ میں مقام شک میں ہوں میرا اعتقاد و دین تو یہ ہے کہ زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی لیکن میں اپنے یقین میں اضافہ کرنا چاہتا ہوں( قرآن میں) ابراہیم(ع) نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ انہیں دکھائے کہ وہ مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے آواز آئی ابراہیم(ع)! ایمان نہیں ہے. عرض کیا بیشک ہے لیکن اطمینان حاصل کرنا چاہتا ہوں! مجھے ابو علی احمد بن اسحق نے بتایا کہ میں نے ابوالحسن علی
..............................
1.یہ ابو عمرو، در اصل عثمان بن سعید عمروی ہیں جو کہ امام زمانہ کے پہلے نائب خاص ہیں. اس سے قبل وہ امام زمانہ کے جد ابوالحسن علی بن محمد ہادی(ع) اور ان کے والد امام حسن عسکری(ع) کے وکلاء میں سے تھے. اور انہیں کے فرزند ابو جعفر محمد بن عثمان( جن کی شہرت خلافی ہے) امام زمانہ کے دوسرے نائب خاص ہیں اور یہ اس سے قبل امام ابو محمد حسن بن علی عسکری کے وکلاء میں سے تھے.
نقی(ع) سے پوچھا کہ میں کس سے معاملہ کروں اور کس سے حاصل کروں اور کس کا قول قبول کروں؟ تو امام نے فرمایا کہ عمری میرا ثقہ ہے وہ تم تک میرے حوالے جو کچھ پہونچاتا ہے وہ میری ہی طرف سے ہوتا ہے وہ تم سے میرے حوالے سے جو کہتا ہے وہ میرا ہی قول ہوتا ہے لہذا اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو بیشک وہ ثقہ اور مامون ہے. اور مجھے ابو علی نے بتایا کہ اس نے بھی ابو محمد حسن عسکری(ع) سے اسی طرح کے سوالات کئے تھے تو حسن عسکری(ع) نے فرمایا کہ عمری اور اس کے فرزند دونوں ہی ثقہ ہیں یہ دونوں جو کچھ میرے حوالے سے ادا کریں گے کہ وہ میری جانب سے ادا کریں گے اور یہ دونوں کی پیروی کرو اس لئے کہ یہ دونوں ہی ثقہ اور مامون ہیں تو یہ دو اماموں کی باتیں تھیں (نص ہے) جو تمہارے بارے میں اتنی معتبر باتیں کہہ کے گئے ہیں.
عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں یہ سن کے شیخ ابو عمرو سجدہ میں گر گئے اور رونے لگے پھر کہا اچھا پوچھو کیا پوچھتے ہو؟ میں نے کہا کیا آپ نے ابو محمد حسن عسکری(ع) کے خلف( حجت آخر) کو دیکھا ہے کہنے لگے ہاں، خدا کی قسم ان کی گردن ایسی ہے یہ کہہ کہ کر اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا. میں نے کہا اب صرف ایک بات اور پوچھنی ہے کہا وہ بھی پوچھو، میں نے کہا نام کیا ہے؟ شیخ نے کہا تم پر نام کے بارے میں سوال حرام ہے کہہ دیا گیا ہے کہ نام پوچھنا حرام ہے اور یہ فتوی میرا نہیں حلال و حرام کرنے والا میں کون ہوں؟ مجھے اس کا حق حاصل نہیں ہے لیکن یہ حکم تو پہلے ہی سے( حسن عسکری(ع)) ہے اس لئے کہ بادشاہ وقت کو معلوم ہے کہ حضرت حسن عسکری(ع) مرگئے اور لا ولد مرے ان کی میراث تقسیم ہوگئی افسوس ان کی میراث وہ لے گیا جس کو اس کا کوئی حق نہیں تھا اب امام کے عیال پریشان ہیں کسی کو جرائت نہیں ہے کہ انہیں پہچنوائے یا ان تک کچھ پہنچائے اس لئے کہ جب تک نام باقی ہے تو طلب بھی واقع ہوگی اس لئے اللہ سے ڈرو اور نام کے بارے میں سوال کرنے سے بچو!(1)
......................................
1.کافی، ج1، ص329.330؛ غیبت شیخ طوسی، ص243.244؛ بحار الانوار، ج51، ص347.348.
بہر حال میں نے آپ کے سامنے امام زمانہ(ع) کی امامت پر اور آپ کے حجت خدا ہونے پر قدرے تفصیل اور حسب گنجائش نصوص پیش کئے. ویسے یہ موضوع بڑا ہے اور شاخ در شاخ دور تک پھیلا ہوا ہے اس کا اکٹھا کرنا مرے بس میں نہیں اس موضوع پر کثرت سے کتابیں لکھی گئی ہیں مزید تفصیل درکار ہو تو ادھر رجوع کریں.
میں اس منزل پر آکر ائمہ اثنا عشر کی امامت پر نصوص اور حدیثوں کے سلسلے کو منتہی کرتا ہوں. اب میرا موضوع وہ قرائن ہیں جو ائم اثنا عشر کی امامت پر ایک ٹھوس دلیل کی حیثیت رکھتے ہیں اور جن کی واقعیت اور تاریخی اور استدلالی حیثیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا وہ قرینے نقلی اور عقلی استدلال کی صلاحیت رکھتے ہیں. ان میں سب سے پہلے میں معجزات اور کرامات کو بطور دلیل پیش کرنا چاہتا ہوں.
ائمہ ہدی(ع) سے جو معجزے صادر ہوئے ہیں ان کے ورود کا اندازہ بالکل انبیائے کرام کے معجزے و کرامات کی طرح ہے جیسے مردوں کو زندہ کرنا، مریضوں کو شفا دینا، اندھے اور مبروص کو مرض سے بری کرنا، حیوانوں کی زبان سمجھنا، غیب کی خبریں دینا، مستجاب الدعا ہونا، طی الارض کرنا، پتھروں سے گفتگو کرنا وغیرہ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ائمہ ھدی(ع) کو نظام کون و مکان میں خصوصی حق حاصل ہے اورعام انسانوں میں ان حضرات کو ایک خاص انفرادیت حاصل ہے.
افسوس کہ میرے پاس وقت نہیں ہے جو میں ایک ایک معجزے کا فردا فردا تذکرہ کروں اور میں اس کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتا اس لئے کہ معجزات کی روایتیں حد تواتر تک پہنچتی ہیں اور شہرت کی بلندیوں کو چھوتی ہوئی یقین کی منزل پر فائز ہیں اس کے علاوہ معجزات کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کس کو لکھا جائے اور کس کو چھوڑا جائے. البتہ سیرت ائمہ(ع) پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں ان میں کچھ تفصیل سے ان معجزات کا تذکرہ ہے.
بہر حال ائمہ ہدی(ع) کی ذات اور ان حضرات کے مشاہد مقدسہ سے معجزات و کرامات کا صدور اس بات کا شاہد ہے کہ اللہ نے انہیں علم، قدرت اور بالخصوص غیب کا کچھ حصہ عنایت فرمایا ہے تاکہ ان کے دعوے کی تصدیق ہو اور ان کی امامت پر مضبوط نص حاصل ہو اور ان کی حجیت موکد ہو جائے اور کسی بھی بہانے باز کو ان کے ا نکار کا کوئی بہانہ ہاتھ نہ آئے. معجزات کا صدور یا تو اس لئے ہوتا تھا کہ بعض حضرات کے حق میں نص واضح نہیں تھی یا بعض اوقات نص واضح نہیں تھی کیونکہ خود امت کی طرف سے ان دعوائے امامت یا نص کو پوشیدہ کرنے یا مشکوک کرنے کی کوشش کی جاتی تھی اور امام امام وقت سے تجاہل کرتی تھی لوگوں کے دلوں میں یہ مضمون مرکزیت حاصل کرلے اور اس طرح لوگوں کے دلوں میں بیٹھ جائے اس کا شمار بدیہیات میں ہونے لگے. ائمہ ہدای(ع) کے دست مبارک یا ان ذوات مقدسہ سے معجزات کا صدور ان کی امامت پر ٹھیک اس طرح نص ہے جس طرح انبیاء کرام کے معجزات ان حضرات کی نبوتوں کی شہادت دیتے ہیں اس لئے کہ خدا کے لئے یہ فعل قبیح ہے کہ وہ جھوٹے دعوے پر معجزات کے صدور کی اجازت دے. اگر ائمہ ہدی(ع) اپنے دعوائے امامت میں جھوٹے ہوتے( معاذ اللہ) تو پھر یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اللہ ان کو معجزے دکھانے کی اجازت دیتا. اس لئے کہ اس سے جھوٹ کو حوصلہ افزائی اور گمراہی پھیلانے والوں کی ہمت کے بڑھانے کا خطرہ تھا.
معجزات کے دکھانے کا مقصد خاص طور سے ائمہ ہدی(ع) کی امامت پر حجت قائم کرنا اور ان حضرات کے مخالفین کو منہ توڑ جواب دینا بھی ہے جیسے علی ابن الحسین(ع) سے حجر اسود کو گفتگو یا کنکروں کےسخت چہروں پر مہر مبارک کا طبع ہو جانا.
جہاں تک معجزات کا سوال ہے تو علمائے شیعہ کے نزدیک معجزات بھی نص ہیں اور نص کے ہم پایہ ہیں لیکن شیعہ امام کی امامت اور اس کا تقدس دلوں میں اس کی اہمیت عام شیعوں کے نزدیک نص سے زیادہ معجزات ہی کام آتے ہیں.
1.اس لئے کہ عام آدمی کے لئے نص کا حاصل کرنا آسان نہیں ہے خصوصا اس لئے کہ دشمنان امامت کا خوف اور تقیہ نص حاصل کرنے سے مانع ہوتا ہے.
2.اس لئے کہ معجزات اور خارق عادت عمل کی تاثیر دلوں پر نسبتا نصوص منقولہ سے زیادہ ہوتی ہے ظاہر ہے کہ خبر اور چشم دید واقعات میں فرق ہے یہی وجہ ہے کہ یہ معجزات حقیقت کو واضح کرنے میں اور امامیہ مذہب کو حق ثابت کرنے اور ان کے مذہب کی نشر واشاعت میں نص سے زیادہ کار آمد ثابت ہوتے ہیں.
ہم دیکھتے ہیں معجزات کا سلسلہ ان حضرات کی وفات کے بعد اور حضرت قائم(ع) کی غیبت کے بعد بھی جاری ہے شیعہ ان حضرات پر اعتماد کرتے ہیں ان کو مقام شفاعت میں پیش کرتے ہیں ان کے حق کو یاد دلاتے رہتے ہیں اور ان کے دعوے کی تصدیق کرتے رہتے ہیں چونکہ معجزات کا اثر چشم دید واقعات کی طرح ہمیشہ باقی رہتا ہے معجزات کی واقعیت اور ان کی حقیقت اتنی واضح ہے کہ وہ لوگ بھی جو اہل بیت(ع) کے حق کا اقرار نہیں کرتے یعنی شیعہ نہیں ہیں وہ بھی ان حضرات کی معجز نما شخصیت کے قائل ہیں. اس موضوع پر بات کی جائے تو بہت طویل ہوجائے گی انشاء اللہ تتمہ کلام میں اس موضوع پر مزید روشنی ڈالیں گے. فی الحال حقیقی قرائن میں سے دوسرا قرینہ ملاحظہ ہو.
( الثانی یعنی دوسرا قرینہ) ائمہ اثنا عشر(ع) کی امامت پر دوسرا قرینہ خود ان حضرات کا اپنی امامت کا اقرا ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ شیعوں کا جن مقدس ہستیوں کی امامت پر اعتقاد ہے ان پہ اعتقاد یوں ہی نہیں ہوگیا بلکہ ان حضرات نے دعوائے امامت کیا اس کے ساتھ ہی امامت کی ذمہ داریاں سنبھالیں، فرائض امامت انجام دیئے ان کے علاوہ اگر کسی نے دعوائے امامت کیا تو ان حضرات نے اس کو ظالم قرار دیا اور ان لوگوں سے اظہار برائت فرمایا جو لوگ ان سے محض خدا کی راہ میں ولا رکھتے تھے اور صرف ان کی ولایت کا اقرار کیا. اس طرح ان حضرات نے شیعوں کے اعتقاد کی تصدیق کی تاکہ ان کی امامت میں شک کی گنجائش باقی نہ رہ جائے.اس کے بعد اگر جمہور اہل سنت ان حضرات کی امامت کا انکار کرتے ہیں تو ان کے انکار کی ہماری
نظر میں کوئی اہمیت اس لئے نہیں ہے کہ اس سوال کے جواب میں مقدمہ عرض کیا جا چکا ہے کہ امامت شیعوں کا خاص مسئلہ اور خاص عقیدہ ہے امامت کا مفہوم ہی شیعوں کے یہاں بہت خاص ہے( اور جمہور اہل سنت امامت سے جو سمجھتے ہیں وہ بہت عام سی بات ہے اس لئے شیعوں کے امام کی امامت کو ثابت کرنے کے لئے سنی دلیلوں اور سنی طریقوں سے وارد نصوص کی نہ کوئی اہمیت ہے یہ ضرورت)ہمارے ائمہ کی امامت کے لئے صرف یہی دلیل کافی ہے کہ ہم ان کی امامت پر مطمئن اور ان کی امامت کے معتقد ہیں ہمارے پاس ایسی دلیلیں قرائن اور نصوص کی صورت میں موجود ہیں جن کی وجہ سے ہمیں اماموں کی امامت پر قطع حاصل ہے( اب اگر دوسرے لوگ مطمئن نہیں ہوتے ہوں تو یہ ان کی مشکل ہے ہماری نہیں.)
اس لئے کہ ائمہ ہدی(ع) اپنی امامت کا دعوی بے بنیاد نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے دعوائے امامت کی بنیاد:
1.خدا کی طرف سے منصوص ہے جو وحی کے طور پر نبی تک پہنچی اور نبی نے امت تک پہنچایا.
2.نبی کی میرات، علم کے مفاتیح اور ان کے اسرار، سابق امام لاحق امام کے حوالے کرتا رہا ہے تاکہ ذاتی کفایت اور شخصی امتیاز کے لئے دلیل رہے اور امام کی عظمت و طہارت ثابت ہوتی رہے.
اسی بنا پر ہمارا عقیدہ ہے کہ ہمارے اماموں کا دعوی کسی فکری جولان یا اجتہاد کی ایج نہیں ہے جس میں غلطی کا امکان ہو اور انسان اس غلطی کو خطا و اجتہاد کا لباس پہنائے بلکہ امامت کے دعویدار دو ہی قسم کے افراد ہوسکتے ہیں یا تو وہ ایسے سچے ہوں گے جس کی صداقت کمال تک پہونچی ہوئی ہو اور جو پاکیزگی نفس اور جلالت کردار میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ہوں گے یا پھر وہ ایسے جھوٹے ہوں گے جن کا کام افترا پردازی اور نفس پروری، فریب کاری اورگمراہ کرنے کی سازش کے ساتھ خدا پر جرائت کرنا اور اس کی ہتک حرمت کرنا ہوگا. ائمہ اثنا عشر کے اندر مذکورہ بالا صفات میں دوسرے نمبر کی صفات نہیں پائی جاتی ہیں کیونکہ آیت تطہیر نے ان حضرات کی مکاری، فریب کاری، ظلم، گمراہی، دھوکا، فریب، افتراء پردازی وغیرہ سے پا
کیزگی کا اعلان کردیا. اس لئے یہ طے ہے کہ وہ حضرات اپنے دعوائے امامت میں سچے ہیں اور ان حضرات کا احترام تمام امت پر فرض ہے کہ عام مسلمان انہیں مقدس اور صاحب جلالت شیعوں کو مانتا بھی ہے.
مزید یہ کہ تیسرے سوال کے جواب میں عرض کیا جا چکا ہے کہ شیعہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے مخصوص ہیں اور ان حضرات کے ساتھ ہی عمل کرتے رہے. اسلام کے صدر( اول) ہی میں شیعیان امامیہ نے اہل بیت اطہار(ع) کی امامت کا اعلان کردیا تھا اور یہ شیعہ اپنے اسی عقیدہ امامت سے پہچانے جاتے تھے. شیعوں نے صدر اسلام ہی میں ائمہ اہل بیت(ع) کو نصوص، معجزات اور عصمت کے ذریعہ ثابت کردیا تھا اور دوسروں کو قائل کرنے کے لئے انہیں مخصوص دلیلوں کا سہارا لیا کرتے تھے یہاں تک کہ شیعہ شعراء اس عقیدے کو اپنے اشعار میں نظم کرتے تھے اور یہ عقیدہ ان سے اس قدر مخصوص اور مشہور ہوچکا تھا کہ شیعوں کے دشمن اسی عقیدے کی بنا پر ان پر طعن و تشنیع کرتے تھے.
( الثالث یعنی تیسرا قرینہ) شیعوں کا ائمہ اثنا عشر کے لئے دعوائے امامت صرف ایک دعوی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ہشت پہلو( یعنی وسیع) عقیدہ ہے جو اپنے دامن میں بہت سے معانی سمیٹے ہوئے ہیں، کیونکہ شیعوں کا عقیدہ ہے:
1.ائمہ اہل بیت(ع) مستحق امامت ہیں اور ان کی امامت ہی منصوص من اللہ ہے ان کے مقابل میں جو بھی امتی خلافت کا دعوی کرتا ہے وہ جھوٹا ہے اس کی امامت غیر شرعی ہے چاہے وہ ان حضرات کے پہلے ہوا ہو یا ان کے بعد کا معاصر.
2.ائمہ اثنا عشر امت کے تمام افراد سے ممتاز ہیں ان کا علم ان کی معرفت اور ان کے بلند اخلاق صرف انہیں کو حاصل ہیں وہ ہر جہت سے کامل ہیں یہاں تک کہ مرتبہ عصمت پر فائز ہیں اور نبی ہی کی طرح معصوم ہیں.
3.چونکہ ائمہ اہل بیت اللہ کے نزدیک مقدس اور عظیم الشان حیثیت کے حامل ہیں اس لئے اللہ کے خاص لطف و کرم اور عنایت کے مرکز ہیں. یہی وجہ ہے کہ خدا کے نزدیک وہ تمام امت سے افضل قریب تر اور مخصوص ہیں ان کی شخصیت خدا سے اتنی قریب ہے کہ اس نے انہیں صلاحیت اعجاز بخشی ہے اور مفاتیح (کنجیاں) علم و قدرت عنایت فرمائے ہیں.
4.ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی موالات( یعنی تولا، قلبی محبت) اساس دین ہے اور یہ کہ جنت میں داخل ہو ہی نہیں سکتا مگر وہ جو ان کی معرفت رکھتا ہو اور جس کو وہ پہچانتے ہوں. اور جہنم میں جاہی نہیں سکتا مگر وہ جو ان کا انکار کرتا ہو یا وہ اس کا انکار کرتے ہوں.
یہ دعوی اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ صدر اول ہی سے شیعوں کی طرف سے مشہور اور ان سے مخصوص ہے.
اسی طرح یہ بات بھی صدر اسلام کی تاریخ سے ہی دیکھنے میں آرہی ہے کہ شیعہ اپنے وجود کو ہر دور میں منواتے رہے ہیں اور امت مسلمہ کے ہر طبقے میں ان کی اپنی ایک سماجی حیثیت رہی ہے ساتھ ہی شیعہ ہر دور میں اپنے دعوا کو ثابت کرتے رہے ہیں اور اس پر دلیلیں دیتے رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کی گردنیں ان کی طرف اٹھتی رہی ہیں.
حالانکہ یہ باتیں سنی عقائد کے بارے میں نہیں کہہ سکتے ان کے یہاں امامت کا اگر کوئی تصور ہے بھی تو اس کےلئے مذکورہ بالا قرینے ہرگز نہیں پائے جاتے، بلکہ امامت نام ہے بادشاہ غالب کخ اقتدار کا جو ڈرا دھمکا کے منوایا جاتا ہے. یا ان علماء سے جن کی بات اہل سنت کے یہاں سنی جاتی ہے اسی طرح جو امت میں صاحب شان سمجھے جاتے ہیں ان کو مجبور کر کے اپنی امامت کا فتوی لیا جاتا ہے. یا پھر امامت نام ہے خلفاء ثلاثہ کے گرد ہجوم کا، ثلاثہ کی خلافت کو ثابت کرنے کے لئے ان کی شان کو بڑھایا جاتا ہے اور یہ عقیدہ خلافت و امامت بھی اس لئے ہے کہ خلفاء ثلاثہ دشمن اہل بیت(ع) تھے یعنی خلافت و امامت کی بنیاد ہی دشمنی اہل بیت(ع) پر ہے. بہر حال اہل سنت کے پاس امامت کا وہ صاف ستھرا، پاک و پاکیزہ عقیدہ نہیں ہے اور نہ ممکن ہے بلکہ اثنا عشری شیعوں کے علاوہ دوسرے
امامت کے دعویداروں کے پاس بھی اتنا صاف ستھرا عقیدہ نہیں پایا جاتا حالانکہ وہ لوگ بھی اہل بیت(ع) ہی سے متعلق ہیں( جیسے زیدیہ وغیرہ)اس کے علاوہ وہ ائمہ اہل بیت(ع) کی امامت پر شاہد خود ان حضرات کے کردار ہے وہ حضرات کوئی پردے میں تو رہنے والے تھے نہیں ان حضرات نے عام انسانوں کے درمیان زندگی گزاری ہے یہ ان سے الگ رہے نہ دور رہے بلکہ عوام کے درمیان رہے اور معاشرة کا ایک جزئ بن کے رہے اگر ان کا کردار بے عیب نہیں ہوتا اور ان کی شان عوام سےممتاز نہیں ہوتی اور اس کا سلوک بے عیب نہیں ہوتا بلکہ وہ تمام انسانوں جیسے ہوتے ان سے علمی غلطیاں ہوتیں اور ان کے عمل میں خامیاں پائی جاتیں تو ا ن کے دشمن خاموش نہیں بیٹھتے بلکہ ان کی سیرت کے کمزور پہلوئوں کو لیکے اچھلنے لگتے اور چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو بھی بڑھا چڑھا کے پیش کرتے تاکہ ان پر طعن و تشنیع کرسکیں اور ان کی شخصیت کو ضعیف اور مسخ کرسکیں تاکہ لوگوں کے دلوں سے ان کی عظمت ختم ہوجائے. کیا ایسا نہیں ہوا ہے؟ کیا محض اخوت کے نام پر ان کو بدنام کرنے کی سارش نہیں کی گئی ہے کیا اموی سیاست نے امیرالمومنین(ع) سے دشمنی کو جائز قرار دینے کے لئے خون عثمان کا الزام جناب امیر کے سر پر نہیں رکھا ہے اور اپنے سیاسی ڈرافٹ کو کیش نہیں کرایا ہے آپ سوچیں کہ جب ایک بے بنیاد اور چھوٹی سی بات کو لیکے دشمنوں نے اتنا شور مچایا تو خدا نخواستہ ائمہ کے اندر اگر واقعی کوئی خرابی کوئی کمزوری یا کردار میں کوئی سقم ہوتا تو کیا برادران اہل سنت خاموش بیٹھتے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ ائمہ اہل بیت(ع) کے کردار پر اہل سنت کی نظر ہمیشہ تنقیدی انداز میں رہی ہے لیکن کسی ضعیف سے ضعیف روایت میں بھی ائمہ اہل بیت(ع) کے نقص کا کہیے کوئی تذکرہ نہیں ہے یا کوئی ایسی بات نہیں پائی جاتی جو خلاف عصمت ہو حالانکہ صدر اسلام سے آج تک میڈیا اور وسائل تبلیغ ہمیشہ شیعہ دشمن عناصر کے ہاتھ میں رہے ہیں حکومت ان کی رہی ہے علماء ان کے رہے مفسرین و محدثین ان کے رہے لیکن ہمارے اماموں کے کردار میں کوئی خامی اور کمی نہیں تلاش کر سکے اگر کوئی خامی مل جاتی تو بخدا بہت پروپیگنڈا کیا جاتا. یہ اہم ترین قرینہ ہے ائمہ اثنا عشر کی امامت کے ہونے کا کہ دشمن تلاش کرنے کے با وجود ان میں کوئی سقم نہیں پاسکا بلکہ اللہ نے اپنے طریقوں سے ائمہ اہل بیت(ع) کی امامت کو مضبوط کیا، اپنی خاص عنایت کا مرکز بنایا، انہیں
لغزشوں اور کمزوریوں سے دور رکھا، انہیں ایسا پاک و پاکیزہ بنایا جیسا پاکیزگی کا حق تھا، دشمنوں کے راستے بند کردئے ان کی سازشین ناکام کردیں اور ان کی کوشش پر پانی پھیر دیا، اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ شیعوں کےساتھ اہل سنت بھی ان وجاہت و منزلت اور ان کی وقعت و عظمت کے قائل نظر آتے ہیں ان کی شخصیتیں دوستوں کے ساتھ دشمنوں کے سامنے بھی مسلمہ حیثیت اختیار کرچکی ہیں، گردنیں ان کے احترام میں جھکی ہوئی ہیں اور ا ن کے تقدس و جلالت اور تقدیس و عظمت پر امت مسلمہ متفق ہوچکی ہے.
حالانکہ دشمنوں کے دل اب بھی ان کی حقانیت کا اقرار کرنے پر تیار نہیں ہیں، ان کی تعلیم اور مفاہیم کو سمجھنے کی ضرورت نہیں محسوس کرتے سینوں میں ان کے شیعوں کی طرف سے بغض بھرا ہوا ہے اور عداوت کا ایک طوفان ہے جو دلوں سے اٹھ رہا ہے محض اس لئے کہ شیعہ ائمہ اہل بیت(ع) کی امامت کو دلیلوں سے ثابت کرتے ہیں اممت اثنا عشر کو مرکزیت دیتے ہیں انہوں نے امامت کی تعلیم کو جاری کیا اور اس کی ترویج کرتے رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ارباب اقتدار نے ہمیشہ ائمہ اہل بیت(ع) کی زندگی کو الگ کیا اور ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے رہے ہیں حالانکہ ان کے پاس ظلم کے جواز کے لئے سوائے عداوت اہل بیت(ع) کے کوئی دلیل نہیں تھی.
ظلم کا یہ سلسلہ ائمہ اہل بیت(ع) سے آگے بڑھا تو ان کے شیعوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیتا چلاگیا جو کشتی نجات کے سوار ہیں. شیعہ ہر دور میں مورد عقاب قرار پائے اور ہر زمانے کے حکام جور نے شیعوں کو سزا دینا ضروری سمجھا. شیعوں کا بدنام کرنا ان کے کردار کو مخدوش کرکے پیش کرنا ان پر طعن و تشنیع کرنا ہر حکومت کے دستور میں شامل رہا حالانکہ عقل کہتی ہے کہ مخالف کو مادی طور پر وہی نقصان پہونچتا ہے جس کے اصول بے جان ہوتے ہیں اور جس کے نظریوں میں دم نہیں ہوتا. جیسا کہ زین العابدین(ع) نے اپنی دعا میں ایک جملہ ارشاد فرمایا ہے کہ کمزور ظلم کا محتاج ہے( یعنی جو اندرونی طور پر کمزور ہوتا ہے وہ ظلم کر کے اپنی بات منواتا ہے.)(1)
..............................
1.صحیفہ سجادیہ، اڑتالیسویں دعا، یوم قربان اور جمعہ کے مواقع پر آپ کی دعا.
ائمہ اہل بیت(ع) پر ہر حکومت کی طرف سے ظلم و جور کا سلسلہ جاری رہا لیکن مامون عباسی ایک زبردست سیاست داں اور زمانہ ساز بادشاہ تھا اس نے اپنے دور میں امام وقت کو رخ بدل کر جملہ کہا تاکہ دنیا کے سامنے اس کی دشمنی اہل بیت(ع) بھی ظاہر نہ ہو اور امامت سے اپنے طور پر محروم بھی کردے اس لئے اس کے فتنہ پرداز ذہن نے ایک منفرد سازش رچی سازش یہ تھی کہ امام وقت کو ولی عہد سلطنت بنا کے آپ کے دل میں دنیا اور اقتدار کی خواہش کو پیدا کیا جائے اور پھر اس کو حوصلہ افزائی کے جائے آپ کے سامنے سلطنت کو پیش کیا جائے ظاہر ہے جب آپ اقتدار قبول کر لیں گے تو اقتدار کے تقاضوں کو بھی پورا کریں گے یعنی سلاطین کی طرح ظلم و غرور اور دوسری خامیاں بھی آپ کے اندر آجائیں گی اور لوگوں کے سامنے آپ کی پاکیزہ شہرت مسخ ہوجائے گی اور جلالت و تقدیس مجروح ہوجائے گی اس لئے اس نے امام رضا(ع) کی خدمت میں اپنی ولی عہدی کی پیش کش کی.
ابوصلت ہروی نے تو اس سلسلے میں ایک طویل مکالمہ پیش کیا ہے جس میں مامون، امام رضا(ع) کے سامنے سلطنت میں مداخلت کی پیشکش کرتا ہے اور امام رضا(ع) اس سے انکار کرتے ہیں( اس مکالمہ کے کچھ خاص گوشے پیش کئے جاتے ہیں.)
مامون: فرزند رسول میں سمجھتا ہوں کہ آپ اس امر( منصب اور عہدے) سے محض اس وجہ سے انکار کر رہے ہیں کہ آپ احساس کمتری کے شکار ہیں اور آپ اس امر ( ولی عہدی) سے اس لئے انکار کر رہے ہیں کہ لوگ یہ کہنے لگیں گے کہ امام رضا(ع) کا دل دنیا میں لگ گیا ہے.
امام: مامون خدا کی قسم جب سے میرے رب نے مجھے بنایا ہے میں نے جھوٹ کبھی نہیں بولا نہ میں نے کبھی دنیا سے دل لگایا، لیکن میں جانتا ہوں کہ اس پیشکش سے تیرا مقصد کیا ہے؟
مامون: میرا کیا مقصد ہے؟
امام: پہلے وعدہ کر کہ جب میں سچ بولوں گا مجھے تو کوئی نقصان نہیں پہونچائے گا.
مامون: میں وعدہ کرتا ہوں امان دوں گا.
امام: اس پیشکش سے تیرا مقصد صرف یہ ہے کہ لوگ کہنے لگیں کہ فرزند موسی رضا(ع) نے دنیا کی لالچ میں ولی عہدی قبول کر لی، زاہد نہیں ہیں بلکہ دنیا ان سے دور رہنا چاہتی تھی. دیکھا نہیں! کہ انہوں نے خلافت کی لالچ میں ولی عہدی قبول کر لی.یہ سن کر مامون غضبناک ہوگیا اور کہنے لگا آپ مجھ سے ہمیشہ ایسی ہی باتیں کہتے ہیں جو مجھے ناگوار ہوتی ہیں اور پھر میری سزا سے بچ بھی جاتے ہیں. میں خدا کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ یا تو آپ ولی عہدی قبول کریں ورنہ میں آپ کو اس پر مجبور کروں گا اور اگر آپ قبول نہیں کریں گے تو میں آپ کی گردن مار دوں گا. امام نے فرمایا خدا نے مجھے اپنے نفس کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع کیا ہے اگر تو ارادہ کرہی چکا ہے تو پھر جو تجھے اچھا لگے وہی کر! میں اس شرط پر ولی عہدی قبول کرتا ہوں کہ نہ کسی کو کوئی منصب دونگا اور نہ معزول کروں گا نہ کسی قانوں کو توڑوں گا نہ کسی طریقہ کو ختم کروں گا، حکومتی مسائل میں دور سے مشورہ دوں گا. مامون ان شرائط پر راضی ہوگیا اور امام رضا(ع) کو اپنا ولی عہد بنادیا جب کہ آپ اس بات سے کراہت محسوس کر رہے تھے.
محمد بن یحیی صولی کہتے ہیں : احمد بن عبداللہ کی باتیں مختلف جہتوں سے صحیح ثابت ہوئیں انہیں جہتوں میں سے ایک جہت بہ بھی ہے کہ عون بن محمد نے فضل بن سہل نوبختی یا اس کے بھائی کے بارےمیں خبر دی ہے کہ جب مامون نے امام رضا(ع) کو ولی عہد بنانے کا ارادہ کیا تو میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں پتہ چلائوں کہ مامون اس معاملہ میں مخلص ہےیا نہیں یعنی اس امر کو اتمام تک پہونچانا چاہتا
ہے یا محض سیاست ہے اور دکھاوا کر رہا ہے لہذا میں نے ایک خادم کو جو اس کے پوشیدہ خطوط لکھا کرتا تھا اور لے جایا کرتا تھا یہ خط لکھ کے دیا کہ ذوالریاستیں ولی عہدی کا عقد اس وقت کرنا چاہتا ہے جب سرطان طالع ہے اور مشتری برج شرف میں ہے اور جب سرطان کے طالع میں مشتری شرف پاتا ہے تو وہ برج برج منقلب ہوتا ہے کسی بھی کام کا انعقاد کیا جائے تو وہ پورا نہیں ہوتا ہے اس کے علاوہ مریخ برج میزان میں ہے اور یہ چوتھی نحوست ہے اور وتد زمین یعنی زمین کی کیل اور اس کا مرکزی حصہ عاقبت کے گھر میں ہے یہ تمام حالات کسی بھی عقد کو الٹ دینے کا سبب ہیں اور معقود لہ کو نکبت اور شکست حاصل ہوگی. میں نے امیرالمومنین(ع) کو یہ بات بتا دی ہے تاکہ اگر کوئی دوسرے سے یہ باتیں معلوم ہوں تو مجھ پر عقاب نہ ہو.
جواب میں مامون نے لکھا کہ جب میرا جواب تمہیں ملے تو اس کو خادم کےساتھ میرے پاس واپس بھیج دینا خبردار! تم کو جس بات کا پتہ چل چکا ہے دوسرے کو معلوم نہ ہو اور ذوالریاستین اپنے ارادہ سے باز نہ آجائے اگر ایسا ہوا تو اس گناہ کا ذمہ دار میں تمہیں سمجھوں گا، لہذا اس کی سزا بھی تمہیں ہی بھگتنی پڑے گی. بادشاہ کا یہ پیغام پڑھ کے مجھ پر دنیا شق ہوگئی اور میں نے تمنا کی کہ کاش میں نے اس کو یہ بات نہ لکھی ہوتی. پھر مجھے معلوم ہوا کہ فضل بن سہل ذوالریاستین بھی اس امر سے متنبہ ہوگیا ہے اور وہ اب اپنے ارادے سے پھر چکا ہے وہ بھی علم نجوم میں اچھی دسترس رکھتا ہے جب مجھے معلوم ہوا کہ فضل بن سہل نے ارادہ بدل دیا ہے تو اس کے پاس گیا اور پوچھا کہ کیا مشتری سے زیادہ سعد ستارہ بھی آسمان میں کوئی ہے؟ اس نے کہا نہیں. میں نے کہا پھر تم نے جو ارادہ کیا تھا اس پرعمل کرو، اس لئے کہ فلک کو ابھی سعدترین سے گزرنا ہے لہذا ولی عہدی کا انعقاد ہوا اور جب تک یہ کام نہیں ہوگیا میں مامون کے خوف سے خود کو زندوں میں شمار نہیں کررہا تھا.(1)
................................
1.عیون اخبار الرضا، ج1، ص159؛ مرج المہموم، ص142.143؛ بحارالانوار، ج59،ص132.133.
عبداللہ سہل بن نوبخت کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے قفطی نے جو خیالات کا اظہار کیا ہے مناسب لگتا ہے کہ اس مقام پر انہیں بھی پیش کردوں. قفطی لکھتے ہیں مامون نے یہ بات شدت سے محسوس کی کہ آل امیرالمومنین علی ابن ابی طالب(ع) منصور اور منصور کے بعد جو بھی ارباب اقتدار آئے ان کے ظلم کی وجہ سے خوف اور مایوسی کی زندگی گزارتے چلے آرہے ہیں. اس نے یہ بھی دیکھا کہ عوام کی نگاہوں سے ان کے حالات بالکل ہی پوشیدہ ہیں جس کی وجہ سے عوام ان کے بارے میں حسن ظن رکھنے لگی ہے اور ان کو نبی پیغمبر(ص) جیسا درجہ دینے لگی ہے ان کی تعریف اپنے الفاظ میں اس طرح کی ہے جو شریعت کی حدوں سے نکل کے غلو میں داخل ہے. پہلے تو مامون نے ارادہ کیا کہ اس عوام کو ان کے خیالات کی بنا پر سزا دے. پھر سوچا اس سے مخالفت پیدا ہوگی اور عوام کو ضد ہوجائے گی تو ان خیالات کی حوصلہ افزائی ہوگی. لہذا ان حالات پر مامون نے بہت غور کیا اور کہا کہ آل امیرالمومنین(ع) کی عظمت، ان کی جلالت و تقدس کا سکہ دلوں پر صرف اس لئے بیٹھا ہوا ہے کہ وہ لوگ عوام کے درمیان کھل کے نہیں آتے اگر وہ عوام کے درمیان آجائیں اورعوامی روابط بن جائے تو ان میں جو فسق و ظلم ہیں وہ عوام پر ظاہر ہوجائیں گے اور وہ عوام کی نگاہوں سے گر جائیں گے. ان کے فضائل، نقائص میں تبدیل ہوجائیں گے. پھر اس نے سوچا اگر انہیں ظاہر ہونے کا حکم دیا جائے گا تو وہ خوف زدہ ہوجائیں گے اور زیادہ پوشیدہ ہو جائیں گے پھر ہمارے بارے میں بدگمان بھی ہو جائیں گے بہترین رائے یہ ہے کہ انہیں میں سے کسی ایک کو آگے بڑھا کے ان کا امام بنایا جائے جب وہ اس بات کو محسوس کریں گے تو خود ہی مانوس ہوں گے اور آہستہ آہستہ عوام میں آجائیں گے اورعوام کے درمیان جب آجائیں گے تو عام آدمیوں کی سی حرکتیں ہی کریں گے اس لئے کہ وہ عام آدمی ہیں، تو عوام کے دل سے ان کی جلالت قدر جاتی رہے گی اور دلوں پر ان کے تقدس کی جو دھاک بیٹھی ہے ختم ہوجائے گی پھر معاملہ اپنی پہلی حالت پر واپس ہو جائے گا اپنے اس نظریہ کو اچھی طرح جانچ پرکھ کے
اس رائے کو سب سے زیادہ مناسب سمجھا اور خاص لوگوں سے بھی اس کے اندر کی بات کو ( سازش) کو پوشیدہ رکھا اور فضل بن سہل سے کہا کہ میں آل امیرالمومنین(ع) سے کسی ایک شخص آگے لانا چاہتا ہوں اب تم غور کر کے بتائو کہ وہ کون ہونا چاہئیے اس کے تمام لوگوں نے اجماعی طور پر یہ طے کیا کہ اس کے لئے موزون ترین شخص امام رضا(ع) ہیں پھر یہ طے ہوا کہ یہ کام فضل بن سہل کے ہاتھوں سے انجام پائے حالانکہ فضل بن سہل یہ بالکل نہیں جانتے تھے کہ اس کے اندر کیا سازش ہے انہوں نے علم نجوم سے ولی عہدی کا وقت نکالا تو معلوم ہوا کہ یہ وہ ساعت ہے جب کہ طالع سرطان ہے اور اس میں مشتری ہے. عبداللہ بن سہل بن نوبخت کہتا ہے کہ میں نے سوچا کہ اس بیعت کے بارے میں مامون کی نیت معلوم کروں کہ کس حد تک مخلص ہے. مخلص ہے بھی یا نہیں اس کا ظاہر اس کے باطن سے ملتا ہے یا نہیں. اس لئے کہ یہ بہت بڑی بات ہے اسی ہدف کے تحت میں نے بیعت کے پہلے اس کے پاس ایک رقعہ اس کے خاص خادم کے ہاتھ سے بھیجا جو اس کے نزدیک ثقہ اور بہت اہم اور معین تھا. میں نے اس رقعہ میں لکھا تھا کہ یہ بیعت ایسے لمحات میں ہورہی ہے جو نحس ہے اور بیعت درجہء کمال کو نہیں پہونچ پائے گی. اس کے بعد تقریبا وہی باتیں ہیں جو ابھی صولی والی روایت میں لکھی گئیں.(1) آپ نے قفطی کی عبارت پڑھ لی مامون کی نیت کا پتہ چل گیا جہاں تک شیعہ راویان حدیث اور مورخین کا سوال ہے تو ان کے یہاں کثرت سے اس مضمون کی روایتیں ملتی ہیں، کہ امام رضا(ع) نے اس ظالم کی ولی عہدی سے سختی سے انکار کیا تھا آپ نے یہ خبر بھی دیدی تھی کہ یہ کام سر انجام کو نہیں پہونچے گا بلکہ آپ نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ عنقریب یہی ظالم آپ کو قتل کرنے والا ہے.
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مامون امام رضا(ع) کو ولی عہد بنانے کی سازش میں کامیاب ہوگیا امام رضا(ع) نے جبر و اکراہ ہی سہی ولی عہدی قبول کر لی اور امام کی بیعت بھی ہوگئی لیکن اس کے
...............................
1.تاریخ الحکماء کتاب اخبار العلماء باخبار الحکماء، ص221.223سے.
فورا ہی بعد مامون کو یہ احساس شدت سے ستانے لگا کہ اس میں اس کی حکومت کے لئے بہت غلط ہوگیا ہے اور اس کی یہ حمایت بھری سازش خود اس کے لئے خوف و دہشت کا سبب بن گئی اس لئے کہ اب تک جو چراغ ہدایت زمانے کی تندتیز آندھیوں سے محفوظ بنی ہاشم اور شیعوں کا گلیوں اور چھوٹے چھوٹے گھروں میں روشنی پہونچا رہا تھا اچانک اس ولی عہدی کی وجہ سے دربار شاہی میں آفتاب بن کے چمکنے لگا جس کا اثر یہ ہوا کہ چھوٹے چھوٹے چراغوں میں روشنی نہ رہی. امام رضا(ع) عوام کے درمیان آئے اور لوگ آپ کے فضائل و کرامات بے نظیر جلالت، تقدس اور شان امامت کے گرویدہ ہونے لگے اب یہ فیض صرف شیعوں تک محدود نہیں رہا بلکہ عام مسلمان یا کہوں کہ عام انسان اس آفتاب عدالت کو دیکھنے اور اس کے نور سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے ٹوٹ پڑے اور لوگ آل محمد(ص) کے فضائل کا سر بازار اور بھرے دربار میں اعتراف کرنے لگے مزید یہ کہ آپ جب خراسان کا سفر کر رہے تھے تو دوران سفر آپ کے فضائل آپ سے آگے آگے تھے ولی عہدی کے وقت بھی خدا کی کرامت اور خاص توجہ آپ کی طرف تھی اور آپ کے ذاتی فضائل اور شخصی سیرت لوگوں کے دلوں کو بری طرح آپ کی طرف کھینچ رہی تھی، یہاں تک کہ جب آپ نے سلسلتہ الذہب کی حدیث نیشاپور میں بیان فرمائی تو اس حدیث کی اہل حدیث اورعوام کے دلوں پر ایک دھاک بیٹھ گئی.
اہل حدیث کے دلوں پر اس حدیث کے سلسلہء اسناد نے ایک عجیب اثر کیا اس لئے کہ حدیث خالص معصوم واسطوں
سے روایت کی گئی تھی امام(ع) نے اپنے آباءکرام سے یہ سلسلہ سرکار دو عالم تک ملایا تھا اتنا پاک و پاکیزہ سلسلہ تھا کہ اکثر لوگوں نے یہ یہ کہہ دیا کہ یہ اسناد اگر مجنون پر پڑھ دی جائے تو جنون سے نجات پا جائے گا.(1) آٹھویں سوال کے جواب کے آخر میں یہ بات گزر چکی ہے. جادو وہ ہے جو سر چڑھ کے بولے، حق بلند کیا نہیں جاتا ہے خود مامون کواس سلسلہ اسناد کی عظمت کا اعتراف کرنا پڑا چنانچہ جب وہ امام رضا(ع) کی ولی عہدی کی بیعت کرا رہا تھا
......................................
1.صواعق محرقہ، ج2، ص595.
اس وقت اس کی زبان پر حق ظاہر ہوگیا اور اس نے اس حق اعلان اپنے کیا ان الفاظ سے کیا” اے لوگو! تمہارے پاس علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب علیہم السلام کی بیعت کا وقت آگیا ہے خدا کی قسم اگر میں یہ اسماء مبارکہ کو گونگے پر پڑھ دوں تو وہ خدا کی اجازت سے بولنے اور سننے لگیں گے”.(1)
جب آپ کی بیعت مدینہ میں لی گئی تو عبدالجبار بن سعید بن سلیمان ماحقی کھڑا ہوا اور ایک فصیح و بلیغ خطبہ دینے کے بعد لوگوں سے پوچھا کہ کیا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ تمہارا ولی عہد کون ہے؟ جواب ملا نہیں. کہا تمہارے ولی عہد علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی ابن الحسین بن علی بن ابی طالب علیہم السلام ہیں پھر ایک شعر پڑھا جس کا ترجمہ یہ ہے کہ” ان کے آبائے طاہرین(ع) میں سات نام آتے ہیں یہ بادلوں سے سیراب ہونے والے لوگوں میں سب سے بہتر افراد ہیں.(2) آپ کی جلالت قدر اور عزت کا رعب خود مامون کے دل پر اتنا تھا کہ جب آپ کو زہر دے کے شہید کردیا تو مگر مچھ کے آنسو کی بہانے لگا اور اظہار افسوس کرنے لگا بہت مجبوری کی حالت میں صرف یہ دکھانے کے لئے کہ وہ آپ کی بہت زیادہ عزت کرتا ہے اپنے باپ ہارون کے پہلو میں آپ کو دفن کیا اور آپ کا قبلہ اپنے باپ سے مقدم کرایا بلکہ شہادت امام کے بعد بھی امام سے تعلق خاطر کا اظہار کرتا رہا اور آپ کے فرزند امام جواد(ع) کو خود سے قریب کرلیا تاکہ دنیا سمجھے کہ امام رضا(ع) کا چاہنے والا ہے اور آپ کی غیر موجودگی میں ان کی اولاد سے حسن سلوک کر رہا ہے.شہادت امام کے بعد بھی اس نے آپ ہی کے نام پر سکہ ڈھلوائے ولی عہدی کے بعد اس مملکت میں رائج سکہ پر امام رضا(ع) کا اسم گرامی کندہ کیا جانے لگا تھا اس طریقہ کو اس نے آپ کی شہادت کے بھی باقی رکھا بہت دنوں پہلے میں نے عراق میوزم میں وہ سکے دیکھے تھے اور اس کے بارے میں مجھے مسکوکات اثر یہ کے مدیر نے بتایا تھا ظاہر ہے کہ ان سکوں کو اتنے دنوں تک باقی رکھنے
......................................
1.عیون اخبار رضا، ج1، ص158. امالی شیخ صدوق، ص758. روضتہ الواعظین، ص229.
2.عیون اخبار رضا،ج1، ص157. مقاتل الطالبین، ص377. ارشاد، ج2، ص263.262. بحارالانوار، ج49، ص155.
اور موجود رہنے کا سبب سوائے اس کے کچھ نہیں کہ لوگ اس کو تبرک سمجھتے رہے اور اس کی برکت کی وجہ سے اس کی حفاظت کرتے رہے.بہر حال یہ تعلق خاطر یہ اظہار یگانگت اور یہ اظہار افسوس محض اس لئے تھا کہ مامون اپنے جرائم پر پردہ ڈالنا چاہتا تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ لوگ اس کو امام رضا(ع) کا قاتل سمجھیں یہ خوف بھی تھا کہ اگر لوگوں کو یہ یقین ہوجائے گا کہ جگر بند موسی کا قاتل ہوں تو لوگ مجھ سے انتقام لیں گے اور ضرورت لیں گے.
مامون کے بعد دوسرے عباسی خلفاء آئے، امامت فرزندان رضا(ع) کو میراث میں ملی تاریخ شاہد ہے کہ عباسی خلافت کے ہر بادشاہ کے دور میں فرزند رضا(ع) کو ایک خصوصیت اور امتیاز حاصل رہا یہاں تک کہ متوکل عباسی کی شکل میں تاریک ترین دور آیا یہ وہ ملعون خلیفہ ہے جس نے فاطمین ( یعنی اولاد فاطمہ(س)) پر ظلم وستم کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے اس نے ال رسول پر بڑے بڑے مظالم کئے شیعیان اہل بیت(ع) کو طرح طرح سے ستایا یہاں تک کہ قبر حسین(ع) کو منہدم(1) کر کے اس پر ہل چلوا دیا(2) حرمتیں پا مال کردیں برے افعال انجام دئیے اور اہل بیت(ع) پیغمبر(ص) پر ہر طرح کے مظالم ڈھائے کینہ پروری کی بنا پر یا سرکشی کی بنا پر چاہے جس وجہ سے ہو اہل بیت(ع) کو چین سے نہیں بیٹھنے دیا لیکن اس کے دل پر ہمارے ائمہ اہل بیت(ع) کی ایک ہیبت بیٹھی ہوئی تھی اور ظاہری طور پر ہی سہی ابوالحسن علی بن محمد ہادی(ع) کی عزت کیا کرتا تھا اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ ائمہ اہل بیت(ع) کا
............................
1.طبقات الشافعیہ الکبری، ج2، ص54. نجوم زاہرہ، ج2، ص283. اسحاق بن یحیی کی مرمر گورنری کے بیان میں. تاریخ طبری، ج5، ص312، سنہ236ھ ق کے واقعات میں. کامل فی التاریخ، ج6، ص108، سنہ236ھ ق سے متعلق واقعات میں اس باب کے ذکر میں جس میں متوکل کی حرم امام حسین بن علی بن ابی طالب(ع) سے بے حرمتی اور جسارت کو بیان کیا گیا ہے. ہدایہ و نہایہ، ج10، ص315،سنہ236ھ ق، کے واقعات میں. شذرت الذھب،ج1، ص86. سنہ236ھ ق کے حوادث میں. تاریخ الخلفاء، ج1، ص347 حالات متوکل باللہ میں.مآثر الانافتہ، ج1، ص231. متوکل باللہ کے سلسلےمیں حوادث و مجربات اس کی خلافت کے دوران.
2.طبقات الشافعیہ الکبری، ج2، ص54.
تقدس خدا کی طرف سے دلوں پر واجب قرار دیا گیا تھا اور ان حضرات کی جلالت قدر اور عظمت اتنی روشن تھی کہ اس سے تجاہل کرنا یا چشم پوشی کرنا ممکن ہی نہیں تھا اس لئے کہ ان کے کردار اور ان کی عظمت پر بچپن سے حجت ثابت ہوتی ہے امامت کا عقیدہ پختہ ہوتا ہے اور ہر طرح کے عذر کو قطع کیا جاتا.
شہادت امام رضا(ع)کے بعد آپ کی قبر مرجع خلائق اور درد مندوں دلوں کا کعبہ بن گئی مسلمانوں کے وفد زیارت کے لئے آنے لگے اس میں الحمد اللہ سنی شیعہ کی قید نہیں ہے بلکہ عام مسلمان مزار اقدس کی زیارت کو خدا سے قریب ہونے کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور بارگاہ الہی میں مزار اقدس کے توسل سے اپنی مشکلات کے حل اور اپنی قضائے حاجت کے لئے دعا کرتے ہیں خدا کا شکر ہے کہ اس سرچشمہ فیض سے سب ہی فائدہ اٹھاتے ہیں کیا شیعہ اور کیا سنی، بلکہ زیارت کے لئے تو غیر مسلم بھی آتے ہیں.یہ ابن حبان ہیں یہ وہی حضرت ہیں جن کا نام آپ کے تیسرے سوال کے جواب میں آیا ہے یہی حضرت ہیں جو جعفر صادق(ع) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں امام صادق(ع) کی روایتوں سے احتجاج کرتا ہوں مگر ان روایتوں سے نہیں جو ان کی اولاد بیان کرتی ہیں. اس کے باوجود امام رضا(ع) کی قبر کے بارے میں کہتے ہیں کہ میں نے امام رضا(ع) کے مزار کی کئی بار زیارت کی ہے جب بھی مجھ پر کوئی مشکل آتی ہے میں مشہد مقدس میں چلا جاتا ہوں مقام طوس میں امام رضا(ع) کی زیارت کرتا ہوں آپ کے وسیلے سے اللہ سے دعا کرتا ہوں اور اللہ میری مشکل حل کردیتا ہے میں نے اس بات کا بارہا تجربہ کیا ہے اور ہمیشہ مجھے ایک ہی نتیجہ ملا ہے یعنی زیارت رضوی حلال مشکلات ہے وسیلہ رضوی سے مصیبتیں دور ہوتی ہیں خدا ہمیں مصطفی(ص) اور اہل بیت مصطفی(ع) کی محبت پر موت دے.(1)
........................
1. ثقات، ج8، ص457. علی بن موسی رضا(ع) کے احوال میں.
ابوبکر محمد بن مومل بن حسن بن عیسی کہتے ہیں ہم ایک بار اہل حدیث کے امام ابوبکر بن خزیمہ اور انہیں کے ہم مرتبہ ابو علی ثقفی کے ساتھ نکلے ہمارے ساتھ مشائخ کی ایک جماعت بھی تھی یہ سب لوگ سرزمین طوس پر امام رضا(ع) کی زیارت کے لئے جارہے تھے جب ہم وہاں پہونچے تو اس بقعہ مبارکہ کے لئے ابن خزیمہ کا تواضع اور تضرع دیکھ کے حیرت زدہ رہ گئے.(1) میں کہتا ہوں کہ یہ خصوصیت صرف مزار رضا(ع) سے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ آپ کے آباء کرام کے مزارات مقدسہ کے فیضان کا بھی یہی حال ہے اور آپ کی اولاد میں جو ائمہ اہل بیت(ع) ہیں ان مشاہد مقدسہ کا بھی یہی عالم ہے کہ عاشقین و زائرین کے لئے کعبہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور غم زدہ افراد کی بہترین پناہ گاہ ہیں سنئے شیخ الحنابلہ ابو علی خلال کیا کہتے ہیں “ مجھے جب بھی کسی فکر نے ستایا اور کسی مشکل نے تنگ کیا میں نے موسی بن جعفر(ع) کے مزار پر پناہ لی ان کے وسیلہ سے اللہ سے دعا کی اور اللہ نے میری مشکل حل کی”(2) آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ جلالت قدر اور تقدس ان حضرات کو یوں ہی حاصل ہوگیا تھا، نہیں بلکہ یہ تمام باتیں ان حضرات کی امامت پر ایک ٹھوس دلی کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی(ص) کے بعد یہ حضرات خداوند عالم کے محبوب ترین بندے ہیں اور خدا کی نظر میں بس یہی وہ لوگ ہیں جن کے اندر قیادت کی صلاحیت ہے اور امت کی کشتی کو طوفان سے نجات دینے کی صلاحیت پائی جاتی ہے.زیادہ حیرت ناک تو یہ ہے کہ:
1.بعض ائمہ ھدی(ع) نے امامت کی ذمہ داریاں بالکل ابتدائے جوانی میں سنبھالیں جس وقت انسانی شہوت عروج پر ہوتی ہے بلکہ بعض حضرات تو بچپنے ہی میں اس عظیم منصب پر فائز ہوگئے جیسے حضرت محمد بن علی جواد(ع) اور علی بن محمد ہادی علیہما السلام انسان کی زندگی کا یہ دور ایسا ہوتا ہے جس
........................
1. تہذیب التہذیب، ج7، ص339، علی بن موسی رضا(ع) کے احوال میں.
2. تاریخ بغداد، ج1، ص120. بغداد کی ان قبور سے متعلق باب میں جو علمائ اور زہاد سے مخصوص ہیں.
سے کسی سنحیدگی اور مستقل مزاجی کی توقع نہیں کی جاسکتی چہ جائیکہ امامت کی عظیم ذمہ داریاں اور شیعہ قوم کی قیادت. لیکن تاریخ شاہد ہے منصب الہی کے تقاضوں کو پورا کرنے میں کمسنی کبھی رکاوٹ نہیں بنی.
2.دوسری بات جو بہت زیادہ قابل تعجب ہے وہ یہ ہے کہ خاندان میں دس افراد ہیں اور باپ سے بیٹے کا سلسلہ صرف نسبی اعتبار سے ہی نہیں بلکہ علم، کمال، ہیبت اور جلالت میراث یہ سب بالکل برابر سے ملی ہے اور بغیر کسی تفاوت و اختلاف کے یہ سلسلہ نسلا بعد نسل اس خاندان کے دسویں فرد تک پہنچا اور کسی بھی فرد میں تقدس و جلالت کی کوئی کمی محسوس نہیں ہوئی بلکہ دوست دشمن سبھی ان کی عظمتوں کا اعتراف ہر دور میں کرتے رہے ہیں. ایسی بات نہیں ہے کہ اس سلسلہ نسب میں صرف یہی افراد ہیں بلکہ ان کے معاصر انہیں آباء کرام اور انہیں اجداد کرام کی نسل سے دوسرے افراد بھی ان کے دور میں موجود ہیں لیکن مرکزیت اور مرجعیت صرف اسی سلسلے کے حصے میں آتی ہے اور امام کا وارث وہی فرزند ہوتا ہے جس کی امامت کا امام سابق اعلان کرتا ہے یوں بھی نہیں ہے کہ اس امام کا حکومت ساتھ دیتی ہے یا حکومت کی طرف سے اس کا پیروپیگنڈہ کیا جاتا ہے بلکہ حکومت تو سخت مخالف ہے اور یہ حضرات حکومت کی شرعی حیثیت کے قایل بھی نہیں ہیں پھر بھی امت میں ان کی شخصیت نا قابل انکار اور قابل احترام ہے کیا امامت کی تاریخ کا یہ تسلسل آپ کو معجزہ نہیں محسوس ہوتا؟
آخر اماموں کے دوسرے بیٹے بھی تو تھے وہ آثار امامت کے وارث کیوں نہیں ہوئے. قانون توارث( ایک دوسرے سے میراث پانا) کے تحت تو ہونا یہ چاہئے تھا کہ اگر کسی امام کے پانچ بیٹے ہیں تو اس امام کی خصوصیات یا اور اخلاقی صفات سب میں تھوڑا تھوڑا کسی میں کم کسی میں زیادہ پایا جانا چاہئے تھا مگر ایسا نہیں ہوتا بلکہ جو وارث امام ہے اس میں امام سابق کی تمام خصوصیات بھر پور انداز میں موجود ہیں جب کہ دوسرے بیٹوں میں دسواں بیسواں بلکہ بعض
اوقات دسواں حصہ بھی نہیں پایا جاتا جس سے یہ ماننا پڑے گا کہ یہ امامت کا ایک روشن معجزہ اور واضح دلیل ہے. اور یہ کہ این سعادت بزور بازو نیست بلکہ خداوند عالم نے انہیں خاص طور پر کچھ ایسی خصوصیت بخشی کہ وہ عام بشریت سے ممتاز ہوگئے. توجہ و عنایت الہی نے انہیں اپنے احاطے میں لے لیا اور سارے عالم انسانیت سے انہیں ممتاز کردیا تاکہ دلیلیں قائم ہوں حجتیں ثابت ہوں اور عذر منقطع ہوجائے تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل کی بنیاد پر ہلاک ہو اور جو نجات پائے وہ دلیل کی بنیاد پر نجات پائے.(1)
4.معجزات سے متعلق اور اسی جملہ سے سابق روایتوں کی تصدیق ہوتی ہے اور یہی آیت ان پر موید ہے اور موجود مدعا پر شاہد ہے. چوتھا قرینہ وہ ہے جس کی طرف میں نے چھٹے سوال کے جواب میں اشارہ کیا تھا کہ حق کے لئے ضروری ہے کہ وہ بہت واضح اور روشن ہوتا کہ کوئی دشمن حق یا ہٹ دھرم اس کا انکار نہ کر سکے یا کوئی جاہل عذر و تقصیر نہ پیش کرسکے. اپنی جہالت کو خدا کے سامنے عذر اور بہانے کے عنوان سے نہ پیش کرسکے تا کہ جو ہلاک ہو وہ دلیل کی بنیاد پر اور جو زندگی پائے وہ بھی دلیل کی بنیاد پر(2) اسی لئے حضور سرورکائنات(ص) فرمایا کرتے تھے کہ میں نے تمہیں عالم نور میں چھوڑا ہے جس کی راتیں دنوں کی طرح روشن ہیں اب سوائے ہلاک ہونے والے کے کوئی گمراہ ہو ہی نہیں سکتا.(3)
مندرجہ بالا حدیث اور آیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ، ہردور میں کسی ناطق بالحق( سچ بولنے والا) کا ہونا ضروری
ہے بلکہ اصول فطرت ہے ایسا ناطق جو عالم انسانیت کو حق کی دعوت دیتا ہو اور غفلت سے متنبہ کرتا ہو لوگ حق کو تلاش کریں اور اس کی دلیلوں پر غور کریں اگر ایسا نہ ہوا تو پھر انسان ترک حق میں اپنی غفلت کی وجہ سے معذور ہوگا اور اس پر عقاب بھی نہیں ہوگا یہ ان تمام دلیلوں
..............................
1.سورہ انفال، آیت42.
2.سورہ انفال، آیت42.
3.اس کا حوالہ ج2، ص334، پر چھٹے سوال کے جواب میں گزر چکا ہے.
کے خلاف ہے جو سابق میں دی گئیں.حضور سرور عالم(ص) کی مشہور حدیث میں اس حقیقت کو صراحت سے بیان کردیا گیا ہے جہاں حضور نے فرمایا کہ ہماری امت میں ہمیشہ ایک ایسا گروہ موجود رہے گا جو حق کا اظہار کرے گا اس گروہ کو چھوڑ دینے والے کو کوئی نقصان نہیں پہونچا سکیں گے یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں باقی رہیں گے کہ امر خدا ان تک پہنچے گا.(1)
اس سے دو باتیں بہر حال طے ہوگئیں پہلی بات تو یہ کہ امت مسلمہ کبھی گمراہی پر اجتماع نہیں کرے گی جیسا کہ اکثر افراد نے صراحت کی ہے. بلکہ اس نظریہ پر امت کا اتفاق ہوچکا ہے کہ امت گمراہی پر اجتماع نہیں کرے گی.
دوسری بات یہ ہے کہ بعض فرقوں کا مٹ جانا اور ان کے درمیان داعی الی الحق کا ظاہر نہ ہونا اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ وہ فرقے باطل اور حق کے مخالف تھے.اور جب فرقہ شیعہ یہ بات ثابت کرچکا ہے کہ حق اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ ہے اور نجات صرف اہل بیت(ع) کے اتباع اور ان کے اقتدا میں ہے اہل بیت(ع) ہی وہ حبل اللہ ہیں جن کے تمسک سے نجات ممکن ہے اور اہل بیت(ع) ہی وہ سفینہ ہیں جن کے سہارے سے پار اترنا ممکن ہے تو فطری طور پر اس حق پرست فرقہ کی طرف دوسروں کو توجہ دینی چاہئے چونکہ یہ وہ فرقہ ہے جو امامت و خلافت کو اہل بیت(ع) کا حق سمجھتا ہے اور جب دوسرے فرقوں کا بطلان ثابت ہوچکا ہے تو اب مان لینا چاہئے کہ حق فرقہ امامیہ اثنا عشریہ کے ساتھ ہے اور اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے.
اب مجھے کہنے دیجئے کہ فرقہ امامیہ اثنا عشریہ یعنی وہ فرقہ جو بارہ امام کی امامت کا قائل ہے اس لئے بھی قابل ترجیح ہے کہ
اس کا وجود اور اس کی کچھ خصوصیات دوسرے فرقوں کے بطلان پر شہادت دیتی ہیں چاہئے وہ فرقہ اہل بیت(ع) کی طرف منسوب ہو یا اہل بیت(ع) سے ان کی کوئی نسبت نہ ہو.
.............................
1.صحیح مسلم، ج3، ص1523. اور انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں:
1.شیعوں کا اس دور تک باقی رہنا اور ان کی دعوت کا ہر دور میں اور اس دور میں ظہور ہر دور میں ان کی طرف سے آواز اور دعوت کا انتشار تاکہ غافل جاگ جائیں اور عذر رفع ہوتا رہے اس کے ساتھ ہی ان فرقوں کا نام و عذر مٹ جانا جن کی صحن تاریخ میں کبھی دھوم مچی تھی لیکن اب ان کا کہیں وجود نہیں ہے جیسے واقفیہ اور فطحیہ وغیرہ.
2.اس حقیقت کا مسلم الثبوت ہونا کہ زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہتی اور زمین پر ایک ایسے امام کا وجود ہر دور میں رہتا ہے جس کی معرفت واجب اور جس کی اطاعت فرض ہوتی ہے اور چوتھے سوال کے جواب میں یہ عرض کیا جا چکا ہے کہ مذکورہ امامت نص سے ثابت ہونا چاہئے نہ کہ قہر و غلبہ کے ذریعہ یا ایسے راستوں سے جس کی کوئی منطقی دلیل نہیں جس طرح خوارج اور جمہور کا نظریہ ہے کہ امام وہ ہے جس کو لوگوں نے بیعت کر لی ہو. اور جیسے خروج بالسیف جیسا کہ زیدیہ فرقہ کا عقیدہ ہے اسی طرح اور دوسرے راستے.
3.شیعوں کا یہ عقیدہ کہ امام بارہ ہیں اور خاص طور پر یہ بات نصوص امامت سے متعلق دوسرے گروہ میں ثابت ہوچکی ہے اور یہ بات بھی بہت روایتوں سے ثابت ہوچکی ہے کہ امامت ایک عہد ہے جو معہود من اللہ ہے جیسے خدا نے پہلے نبی کو عطا کیا پھر نبی نے اپنے بعد والوں تک اس عہد کو پہنچایا.
4.قاعدہ لطف الہی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ امام کو معصوم ہونا چاہئے سابقہ سوالوں میں پانچواں سوال کے جواب میں قاعدہ لطف الہی پر ایک تفصیلی بحث ہوچکی ہے اور اسی کی تائید میں آٹھویں سوال کے جواب کے آخر میں اس جگہ پر عرض کیا جا چکا ہے جہاں بیان کیا گیا ہے کہ سنت شریفہ کے لئے کتنی مصیبتیں پیش آتی ہیں.
مندرجہ بالا تمام اسباب تقاضا کرتے ہیں کہ فرقہ شیعہ کو ترجیح دی جائے اس لئے کہ یہی ایک فرقہ ہے جو اس بات کا عقیدہ رکھتا ہے کہ حق اہل بیت(ع) کے ساتھ ہے اور امت اہل بیت(ع) میں محصور ہیں.اور جب یہ بات ثابت ہوچکی کہ شیعہ فرقہ حق اور نجات پانے والا ہے تو یہ بات بھی مان لینی چا
ہئے کہ یہ فرقہ حقہ، جس کی امامت پر اجماع کرے اور جس کو امام تسلیم کرے وہی امام برحق ہے اس لئے کہ ائمہ اہل بیت(ع) میں سے جس کی امامت پر بھی اس فرقہ کا اجماع ہوچکا ہے اس کی امامت صحیح اور برحق ہے. کیونکہ ائمہ اثنا عشر کے مجموعہ کے ہر فرد کی امامت پر متواترہ نصوص موجود ہیں حالانکہ ان نصوص کی ضرورت اس لئے نہیں تھی کہ میں نے ابھی عرض کیا ہے کہ گذشتہ صفحات میں مذکورہ قرائن ہی ان حضرات کی امامت پر دلالت کرنے کے لئے کافی ہیں. اگر نصوص موجود ہیں تو یہ نصوص ان قرائن کی تصدیق کے لئے وارد ہوئے ہیں.
بہر حال ائمہ اثنا عشر کی امامت پر جلدی میں جو نصوص مجھے میسر ہوئے ہیں وہ پیش کردئیے، جو قرینے میری سمجھ میں آئے بیان کر دئیے اور میں نے آپ کے تمام سوال کے جواب دینے میں اختصار سے کام لیا. لیکن اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ میرے پاس مواد نہیں اور حوالوں کی کمی ہے بلکہ اس اختصار کا سبب یہ ہے کہ ہمارے علما نے اس موضوع پر بہت تفصیل سے کتابیں لکھی ہیں لہذا ضرورت کے مطابق میں نے جواب دے دیا ہے اب اگر تفصیل کی ضرورت ہو تو ان کتابوں کی طرف رجوع کریں.
ہمیں بہر حال اس بات کا اطمینان حاصل ہے کہ ہم نے متعدد ذرائع سے اتمام حجت کی کوشش کی ہے اور ان دلیلوں کو پیش کرنے کے بعد مطمئن ہیں کہ جب ہم خدا کی بارگاہ میں جائیں گے اور اس کے سامنے کھڑے ہوں گے تو قیام حجت کے لئے ہمارے یہ جوابات کافی ہوں گے( چونکہ) “ اس خدا کی تعریف ہے کہ اس نے ہمیں اس راستے کی ہدایت فرمائی اور اگر خدا ہمیں ہدایت نہیں کرتا تو ہم ہرگز ہدایت نہیں پاتے. بیشک ہمارے پروردگار کی طرف سے پیغمبر(ص) برحق آئے.”(1) میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ دنیا و آخرت میں مجھے قول ثابت( صحیح بات اور سچے و خاص عقیدے) پر باقی رکھے اور ہمیں ہلاکت خیز وادیوں سے محفوظ رکھے. اس لئے کہ وہی سب سے زیادہ رحک کرنے والا اور مومنین کا ولی ہے.
...............................
1.سورہ اعراب، آیت43.
آخر کلام میں مجھے جو اہم ترین بات عرض کرنی ہے وہ یہ ہے کہ ایسا تو نہیں کہ مسئلہ امامت صرف فرقہ امامیہ سے مخصوص ہے لیکن ہم یہ عرض کرچکے ہیں کہ امامت شیعوں سے مخصوص نہیں بلکہ یہ تو ملت اسلامیہ کا عام معاملہ ہے اس لئے کہ جو امام وقت کو پہچانے بغیر مرجاتا ہے وہ جہالت کی موت مرتا ہے جیسا کہ نصوص اور حدیثوں سے ثابت ہے.
اس لئے ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ خدا اور قیامت سے خوف کھائے اور اپنے امام کو پہچان لے تاکہ جاہلیت کی موت سے محفوظ رہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان دلیلوں پر بہت غور کرے جن کے ذریعہ خدا نے ان لوگوں کی امامت کو بیان کیا ہے پھر شیعہ فرقے کی دلیلوں کو سامنے رکھے اور اپنی دلیلوں کا شیعہ فرقے کی دلیلوں سے ایک موازنہ کرے پھر جذبات اور روایت پرستی سے دل کو پاک کر کے وجدان اور ضمیر کے ہاتھ میں فیصلہ دیدے اور انسان اپنے بارے میں خوب اچھی طرح جانتا ہے.(1) پھر دیکھے کہ وجدان و ضمیر کا کیا فیصلہ ہے؟ قوی تر کون ہے اور کمزور کون؟ حق کیا ہے اور باطل کیا؟ تاکہ قیامت کے دن جب منادی آواز دے کہ” انہیں روکو ان سے پوچھا جائے گا تمہیں کیا ہوا تھا کہ آپس میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے تھے”(2) جب وہ دن آئیگا کہ ہر شخص اپنے نفس سے لڑے گا اور ہر نفس کو اس کے عمل کے مطابق پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ذرا بھی ظلم نہیں ہوگا”(3) اس دن خدا کو جواب دے سکے اور اپنے پروردگار کے سامنے معقول عذر پیش کرسکے.چونکہ اس دن ہر آدمی اپنے امام کے ساتھ بلایا جائے گا لہذا جس کے داہنے ہاتھ میں نامہ
...............................
1.سورہ قیامت، آیت14.
2.سورہ صافات، آیت24.25.
3.سورہ نحل، آیت111.
اعمال دیا جائے گا وہ اپنا نامہ اعمال پڑھ رہے ہوں گے اور ان پر کچھ بھی ظلم نہیں ہوگا اور جو اس دنیا میں اندھا ہوگا وہ قیامت میں بھی اندھا ہی ہوگا اور راستے کے اعتبار سے گمراہ ہوگا.”(1)
میں نے اپنے ان معروضات سے حق تبلیغ و نصیحت کو ادا کردیا اب ہر آدمی کو اختیار ہے کہ وہ اپنا راستہ منتخب کرلے.” اور خدا نے یہ ذمہ لیا ہے کہ وہ سیدھا راستہ دکھا دے راستے تو غلط بھی ہوتے ہیں اور خدا چاہے تو تم سب کی ( زبردستی) ہدایت کردے.”(2)
بہر حال ان تمام کوششوں کے باوجود مجھے اس بات کا احساس ہے کہ جواب کافی تو ہوگیا وافی نہیں ہوسکا ہے، اس کا سبب وقت کی کمی ہے جس کی وجہ سے میں شواہد اور داخلی قرینوں کو کم کر کے پیش کرنے میں مجبور تھا. بہر حال میں امید کرتا ہوں کہ اس طرح گفتگو کا مقصد محض مناظرہ نہیں ہوگا بلکہ ہماری یہ گفتگو حقیقت تک پہونچنے میں مددگار ہوگی اور حق کو پہچنوانے میں معاون ہوگی تاکہ حق کا حق ادا کیا جاسکے اور ذمہ داری کو سمجھ کے اس سے عہدہ بر آمد ہوسکے.
آخر کلام میں ایک ایسی بات کی طرف توجہ دلانا چاہتاہوں جس پر ہرمسلمان کو متوجہ ہونا چاہئے کہ اور کسی بھی حال میں اس سے غافل نہیں ہونا چاہئے، اور وہ یہ ہے کہ اسلام کی تاریخ شاہد ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں لوگوں میں شدید اختلاف ہوا اس اختلاف کی وجہ چاہے جو رہی ہو لیکن ہر اختلاف کا ایک ہدف ہوتا تھا وہ ہدف کبھی دینی اغراض کو حاصل کرنا تھا کبھی دنیاوی مقاصد کے لئے جد وجہد کا نتیجہ تھا کس کا مقصد کیا تھا کون شرارت پسند اور کون صلاح چاہتا تھا اس کا علم خدا کے پاس ہے اور وہی فیصلہ کرنے کا ذمہ دار ہے( لیکن یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اختلافات تو بظاہر ختم ہوگئے لیکن امت میں ان کے نتائج فرقوں کی صورت میں ظاہر ہیں) یہ نتیجے مثبت رہے ہوں یا منفی لیکن بانی
.........................................
1.سورہ اسراء، آیت71.72.
2.سورہ نحل، آیت9.
اختلاف کو اس کا پھل دنیا میں بھی بھوگتنا پڑا اور آخرت میں بھی اس کے ذمہ داروں کو بہر حال جواب دینا پڑے گا” پھر ہر ایک کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا”(1) اس لئے کہ اللہ کا مفاد کسی سے وابستہ نہیں ہے اور نہ اللہ کی کسی سے کوئی رشتہ داری ہے بلکہ ہم سب کے سب اللہ کے بندے ہیں اور اللہ کی نظر میں سب سے زیادہ عزت دار اور مستحق اکرام صرف وہ ہے جو سب سے زیادہ اس کی اطاعت کرنے والا صاحب تقوی ہو اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ذلیل وہ ہے جو سب سے زیادہ بدکردار اور اس کا نافرمان ہے.لیکن میں نے عرض کیا کہ اختلافات کے نتائج آنے والی نسلوں میں بھی مرتب ہوئے جس کا انجام یہ ہوا کہ مسلمانوں میں کتنے فرقے پیدا ہوگئے. ا گر چہ ان اختلافات کے پیدا ہوئے زمانہ گذر گیا اور بظاہر اذہان ان کے اچھے یا برے اثرات کی طرف متوجہ بھی نہیں ہیں لیکن اس کے نتائج کو آخرت میں بھوگتنا پڑے گا اور پھر ہم اپنے ہم خیال اور ہم عقیدہ لوگوں کے ساتھ محشور کئے جائیں گے جو جس کی پیروی کرے گا اور جو جس فریق کی حمایت کرے گا وہ اسی فریق کے ساتھ محشور ہوگا. اسلام کے دور اول میں اختلافات ہوئے فرقے بنے لوگوں نے تحریکیں چلائیں اب وہ لوگ تو موجود نہیں ہیں لیکن ہم لوگ ان تحریکوں کے بارے میں جانتے ہیں ان اختلافات کے حصہ دار ہیں ہم میں سے ہر ایک ماضی سے جڑا ہوا ہے اور کسی نہ کسی کے موقف کی حمایت کرتا ہے یہ طے شدہ بات ہے کہ ہم جن کے فعل سے راضی ہیں جس کے فعل کو پسند کرتے ہیں جن لوگوں کی تحریکوں کو اچھا سمجھتے ہیں انہیں لوگوں کے ساتھ محشور ہوں گے اس لئے کہ جو جس قوم کے فعل سے راضی رہتا ہے اس کے ساتھ ہوتا ہے انسان اس کے ساتھ ہوتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے. بیشک لوگوں کے اندر رضا اور غضب دونوں ہی پائے جاتے ہیں جیسا کہ نبی(ص) اور اہل بیت(ع) نے ارشاد فرمایا ہے.
...........................
1. سورہ نجم،آیت41.
سکونی امام صادق(ع) سے ایک روایت نقل کرتے ہیں جیسے امام صادق(ع) اپنے والد سے اور وہ علی(ع) سے کہ” رسول اللہ(ص) نے فرمایا جو کسی کے عمل کو دیکھے اور اس کو ناپسند کرے وہ گویا کہ اس عمل کو نہیں دیکھ رہا ہے اور جو کوئی کسی آدمی کے عمل کو انجام دینے کے وقت موجود نہ ہو لیکن اس عمل سے راضی ہو وہ گویا کہ اس عمل کا شاہد ہے.”(1) اور عبداللہ کی حدیث میں ملتا ہے ہے کہ” ایک شخص حضور سرور عالم(ص) کی خدمت میں آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ(ص) آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو کسی قوم سے محبت کرتا ہو لیکن ان سے ملحق نہ ہو سرکار نے فرمایا انسان تو اسی کے ساتھ ہوتا ہے جس سے محبت کرتا ہے.”(2) عبداللہ بن صامت کہتے ہیں ابوذر نے کہا کہ” میں نے پیغمبر(ص) سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ(ص) ہم ایسے لوگوں سے محبت کرتے ہیں جن کے اعمال کو ہم نے دیکھا نہیں ہے فرمایا: ابوذر تم انہیں کے ساتھ ہو جن سے تم محبت کرتے ہو. میں نے عرض کیا ہم بھی انہیں جیسے ہیں فرمایا بیشک تم بھی ویسے ہی ہو.”(3) اور امیرالمومنین(ع) نے ارشاد فرمایا کہ” بیشک انسان کے اندر رضا اور غضب دونوں چیزیں ہیں( اور وہ رضا و سخط پر اجماع کرتا ہے) لہذا جو کسی کام سے راضی ہے.
..................................
1.وسائل الشیعہ، ج11، ص409. باب 5 اوامر و نواہی اور اس سے متعلق ابواب سے حدیث2.
2.صحیح بخاری، ج5، ص2283. کتاب الادب، باب علامتہ حب فی اللہ عزوجل جیسا کہ ارشاد رب ہے” اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو میری اتباع کرو نتیجہ میں خدا بھی تم کو دوست رکھے گا” اور انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ کریں: صحیح مسلم، ج4،ص2034. کتاب البر والصلہ والادب، باب المراجع من احب. صحیح ابن حبان، ج2، ص316. باب الصحبتہ والمجالستہ ذکر الخبر المرخصی، قول، من زعم ان خطاب ھذا الخبر قصد بہ التخصیص دون العموم. اور اس کے علاوہ بھی بہت سے منابع و مدارک ہیں.
3.المعجم الاوسط، ج8، ص85. اور انہیں الفاظ کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں. الکامل فی ضعفاء الرجال، ج3، ص59، خلیل بن مرہ کے احوال میں.
وہ اس میں داخل ہے اور جو کسی کام کو ناپسند کرتا ہے وہ اس خارج ہے(1) اس طرح کی اکثر حدیثیں ہیں.(2)
اللہ جب یہودیوں کے بارے میں گفتگو کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ اکثر انہیں یہودیوں سے خطاب ہوا ہے جو زمانہ پیغمبر(ص) موجود تھے اسی وجہ سے اس آیت میں بھی خطاب انہیں یہودیوں سے ہے جو نبی(ص) سے براہ راست مخاصمت کررہے تھے قرآن میں ارشاد ہوا کہ وہ لوگ” کہنے لگے ہم سے تو اللہ نے یہ عہد لیا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک وہ اپنی ایسی قربانی نہ پیش کرے جس کو( آسمان سے) آگ اتر کے جلادے آپ ان سے کہیں کہ میں کوئی اکیلا رسول تھوڑا ہی ہوں تمہارے یہاں تو مجھ سے پہلے بھی پیغمبر(ص) تمہاری مطلوبہ نشانیوں کے ساتھ آچکے ہیں اور وہ معجزے بھی لائے تھے جس کا تم مطالبہ کررہے ہو لہذا تم سچے ہو تو انہیں کیوں قتل کیا؟”(1) دیکھئے یہاں اللہ انبیاء کے قتل کو ان یہودیوں سے منسوب کر رہا ہے جو نبی کے دور میں تھے حالانکہ قتل ان کے آباء و اجداد نے کیا تھا( لیکن چونکہ وہ اپنے اسلاف کے عمل پر راضی تھے اس لئے اللہ نے انہیں بھی قاتل قرار دیا.)
سرکار صادق آل محمد(ص) سے بھی اس مضمون کی متعدد حدیثیں وارد ہوئی ہیں، کہ چونکہ یہودی اپنے اسلاف کے فعل سے راضی تھے اور ان سے اظہار برائت نہیں کررہے تھے اس لئے اللہ نے اسلاف کے فعل کی نسبت ان کی طر ف دی اور انہیں بھی گناہ میں شامل بتایا ہے اگر چہ عملی طور پر
............................
1. وسائل الشیعہ، ج11، ص411. باب 5 اوامر و نواہی اور اس سے متعلق ابواب سے حدیث9.
2. ملاحظہ فرمائیں: صحیح بخاری، ج3، ص1349. کتاب فضائل الصحابہ، باب مناقب عمر بن خطاب ابو حفص قریشی عدوی اور ج5، ص2283، کتاب الادب، باب ماجاء فی الرجل ویلک. اور صحیح مسلم، ج4، ص2033.2032 کتاب البر والصلہ والادب، باب المرئ مع من احب. اس کے علاوہ بھی بہت سے منابع و مدارک ہیں.
3. سورہ آل عمران، آیت183.
وہ اس قتل میں شریک نہیں تھے.(1)
نتیجہ یہ نکلا کہ ایک صاحب عقل اور سمجھ دار آدمی کو چاہئیے کہ اپنے نفس کے بارے میں سوچے اور اپنے معاملات میں
محکم فیصلے کرے، دین کے بارے میں صاحب بصیرت ہو اپنے عقیدوں کے لئے دلیل رکھتا ہو اس سے محبت کرے جو محبت کے لائق ہے اور اس سے اظہار برائت کرے جو اظہار برائت کے لائق ہے اور اپنا عقیدہ ثابت کرنے اور دوسروں کے عقیدے کو ضعیف کرنے کے لئے محکم دلیلوں سے استدلال کرے لیکن اگر ایسا نہیں ہوا اور اس نے بے سوچے سمجھے ہر ایک کی ہاں میں ہاں ملائی تو وہ اسلاف کے گناہوں میں شریک مانا جائے گا اب اگر اسلاف صاحب کردار ہوئے تو وہ ان کے اچھے اخلاق و کردار کا ثمرہ پائے گا اور اگر وہ خدا نخواستہ برے ہوئے تو ان سے محبت کرنے والا بھی دینا و آخرت دونوں جگہ نقصان اٹھائے گا. یہ( اس کے حق میں) واضح گمراہی ہوگی.(2)
یاد رکھو فیصلہ کا دن قریب ہے جلد ہی پردے اٹھ جائیں گے اور حقیقت منکشف ہوجائے گی جب دلوں کے بھید جانچے جائیں گے اور چھٹکارے کا وقت نہیں رہے گا” جب وہ لوگ جن لوگوں نے پیروی کی تھی پیروی کرنے والوں سے تبرا کریں گے( اور اپنے ہی چاہنے والوں سے اظہار برائت کریں گے) اس وقت وہ عذاب کو دیکھ رہے ہوں گے اور ان سے اسباب منقطع ہوچکے ہوں گے پھر ان کی پیروی کرنے والے کہیں گے کاش ہمیں دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جاتا تو ہم بھی ان سے تبرا کرتے جس طرح آج یہ ہم سے تبرا کر رہے ہیں اس طرح اللہ انہیں ان کے اعمال دکھائے گا تاکہ انہیں اپنے اعمل پر پچھتاوا ہو لیکن وہ آگ سے نکلنے والے نہیں ہیں.”(3)
............................
1. وسائل الشیعہ، ج11، ص412. باب 5 اوامر و نواہی اور اس سے متعلق ابواب سے حدیث13.14. اور ص509، بات39، مذکورہ باب سے، حدیث5،6.
2.سورہ حج، آیت81.
3.سورہ بقرہ، آیت166.167.
مذکورہ بالا عبارت میں نے محض متوجہ کرنے اور مسلمانوں کو متنبہ کرنے کے لئے پیش کی ہے ( ورنہ) “ انسان اپنے نفس کے اوپر صاحب بصیرت ہے( یعنی انسان اپنے نفس کی حالت سے با خبر ہے)”(1) اور میں اگر کسی بات سے تمہیں روکتا ہوں تو اس کا مقصد تمہاری خواہ مخواہ مخالفت نہیں بلکہ جتنی اصلاح کرسکتا ہوں میں کوشش کرتا رہوں گا اور مجھے توفیق نہیں ملتی مگر اللہ سے، میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور اسی سے امید لگاتا ہوں.”(2)
میں خدا کی بارگاہ میں اس کے امتنان و کرم کے حوالے سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہم سب کو مستجاب الدعا لوگوں میں قرار دیے اور اپنی راہنمائی میں ہدایت دے ہم اس کے چاہنے والوں سے محبت اور اس کے دشمنوں سے عداوت کریں ہمارے لئے( صحیح انتخاب میں) وہ اپنی تائیدات و ( غلط انتخاب) تسدید میں اضافہ کرتا رہے اور ہمیں اپنے دین شریعت کی تحقیق و توضیح کی توفیق عنایت فرمائے، اور شک و شبہ کو دفع کرنے کی صلاحیت دے ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کے دین کی طرف حکمت اور موعظہ حسنہ سے دعوت دیں اور یہ دعوت بھی خلوص اور حسن نیت کی بنیاد پر ہو، خدا ہم سب کو خواب غفلت اور ضرر رساں اونگھ سے بیدار رکھے، مخذولین ( معتوب اور گمراہ لوگوں) کی سستی سے دور رکھے ہمیں بیکار کے لڑائی جھگڑے اور بحث و مباحثہ سے دور رکھے ہٹ دھرمی اور استکبار( تکبر و غرور) سے دور رکھے، ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جن کو جب اس نے پکارا تو اس نے لبیک کہا. وہ نصیحت کرتا ہے تو اثر لیتے ہیں، اور وہ یاد دلاتا ہے تو یہ لوگ یاد رکھتے اور راستہ دکھاتا ہے تو لوگ بصیرت حاصل کرتے ہیں. بیشک وہی سیدھے راستے کی ہدایت کرنے والا ہے اور وہ ہمارے لئے کافی ہے اور بہترین وکیل ہے بہترین مولا اور بہترین مددگار ہے.
..........................
1. سورہ قیامت، آیت14.
2.سورہ ھود، آیت88.
والحمد للہ رب العالمین و لہ الشکر والصبر ابدا دائما سرمدا. تمام تعریف اس خدا کے لئے ہے جو عالمین کا رب ہے اور کبھی ختم نہ ہونے والا دائمی شکر اسی کے لئے ہے. اور خدا کا درود ہو اس کے امانتدار پیغمبر(ص) اور ان کی با برکت روشن اور منتخب آل پاک(ع) پر اور سلام ہو بار بار ہزار بار، اللہ کی رحمت و برکت اور سلام ہو آپ پر اور آپ کے بھائیوں پر.
منابع و ماخذ
1. قرآن کریم.
2. اثبات الھداۃ بالنصوص والمعجزات: محمدبن الحسن الحر العاملی(ت سنہ1104ھ) علمیہ پریس. قم.
3. الآثار: ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری( ت سنہ182ھ) نشر دار الکتب العلمیہ. بیروت، سنہ1355ھ، تحقیق : ابو الوفا.
4. اجمال الاصابہ فی اقوال الصحابہ: خلیل بن کیکلدی العلائی( ت سنہ761ھ) پہلا ایڈیشن، نشر جمعیہ احیاء التراث الاسلامی- الکویت، سنہ1407ھ، تحقیق: د. محمد سلیمان الاشقر.
5. الآحاد المثانی: ابوبکر احمد بن عمرو بن الضحاک الشیبانی( ت 287ھ) پہلا ایڈیشن، نشر دار الرایہ- الریاض. سنہ1411ھ/سنہ1991ئ، تحقیق: د. باسم فیصل احمد الجوابرۃ.
6. الاحادیث المختارۃ: ابو عبداللہ محمد عبدالواحد الحنبلی المقدسی(ت سنہ643ھ)، پہلا ایڈیشن سنہ1410ھ، نشر مکتبہ النہضتہ الحدیثہ- مکہ مکرمہ، تحقیق: عبدالملک بن عبداللہ بن دھیش.
7. الاحتجاج: احمد بن علی الطبرسی(ت سنہ560ھ)، طبع و نشر منشورات دار النعمان للطباعہ والنشر، تحقیق: السید محمد باقر الخرسان.
8. احقاق الحق و ازھاق الباطل: القاضی السید نور اللہ الحسینی المرعشی التستری الشہید ببلاد الہند، سنہ1019ھ، مع تعلیمات آیت اللہ شہاب الدین النجفی، سرو اور کوشش حسن غفاری کی، نشر اسلامی پریس- تہران.
9. احکام القرآن: ابوبکر احمد بن علی الرازی الجصاص (ت سنہ370ھ) نشر دار احیاء التراث
10. العربی- بیروت، سنہ1405ھ، تحقیق: محمد الصادق قمحاوی.
11. احوال الرجال: ابو اسحاق ابراہیم بن یعقوب الجوزاجانی(سنہ259ھ)، پہلا ایڈیشن سنہ1405ھ، نشر موسسہ الرسالہ- بیروت، تحقیق: صبحی السامرائی.
12. الاخبار الطوال: ابو حنیفہ احمد بن دائود الدینوری(ت سنہ282ھ) پہلا ایڈیشن سنہ1960ء، نشر دار احیاء الکتب العربیہ، تحقیق: عبد المنعم عامر.
13. الاخبار مکہ: ابو عبداللہ محمد بن اسحاق بن العباس الفاکہی(ت سنہ275ھ) دوسرا ایڈیشن نشر دار خضر- بیروت، سنہ1414ھ، تحقیق: د، عبدالملک عبداللہ دھیش.
14. الاختصاص : الشیخ مفید(ت سنہ413ھ) حوزہ علمیہ کے استادوں کی جماعت کے وسیلے سے نشر اور چھپی: علی اکبر الغفاری.
15. اختیار معرفہ الرجال: الشیخ الطوسی (ت سنہ460ھ) نشر سنہ1403ھ، بعثت- قم، نشر موسسہ آل البیت( علیہم السلام)، تحقیق: میر داماد، محمد باقر الحسینی، السید مہدی الرجائی.
16. الادب المفرد: ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل البخاری الجعفی( ت 256ھ) دوسرا ایڈیشن، نشر دار البشائر الاسلامیہ،-بیروت،سنہ1409ھ/1989ء، تحقیق: محمد فواد عبدالباقی.
17. الارشاد فی معرفتہ حجج اللہ علی العباد: الشیخ مفید(ت 413ھ) طبع و نشر دار المفید، تحقیق: موسسہ آل البیب( علیہم السلام) لتحقیق التراث.
18. اسباب النزول الآیات: الواحدی( ت 468ھ). طبعہ سنہ1388ھ، نشر موسسہ الحلبی و شرکائوہ- القاہرہ.
19. اسباب ورود الحدیث: جلال الدین السیوطی( ت911ھ)، پہلا ایڈیشن ، نشر دار المکتبہ العلمیہ- بیروت، سنہ1404ھ/1984ء، تحقیق: یحیی اسماعیل احمد.
20. الاستیعاب فی معرفتہ الاصحاب: یوسف بن عبداللہ بن محمد بن عبدالبر(ت 463ھ) پہلا ایڈیشن، نشر دار الجیل- بیروت، سنہ1412ھ، تحقیق: علی محمد البجاوی.
21. الاستبصار فی النص علی الائمتہ الاطہار: ابو الفتح الکراجکی( ت 449ھ) طبعہ1405ھ، چاپخانہ دار الاضوائ- بیروت.
22. اسد الغابہ: عز الدین بن الاثیر(ت سنہ630ھ)، نشر انتشارات اسماعیلیان- تہران.
23. الاصابہ فی تمییز الصحابہ: ابن حجر العسقلانی(ت 852ھ) پہلا ایڈیشن سنہ1412ھ، نشر دار الجیل- بیروت، تحقیق: علی محمد البیجاوی.
24. الاعتقادات: الشیخ الصدوق(ت 381ھ) تحقیق: عصام ابن عبدالسید.
25. اعلام النساء: عمر رضا کحالتہ، طبعہ سنہ1378ھ/1959ئ، چاپخانہ المکتبہ الہاشمیہ- دمشق.
26. اعلام الوری باعالم الھدی: الفضل بن الحسن الطبرسی( ت548ھ)، طبعہ ربیع الاول سنہ1417ھ، ستارۃ-قم، نشر و تحقیق: موسسہ آل البیت(علیہم السلام) الاحیاء التراث- قم المشرفہ.
27. الاغانی: ابوالفرج الاصفہانی(ت356ھ) دوسرا ایڈیشن، نشر دار الفکر بیروت، تحقیق:سمیر جابر.
28. الاکتفاء بما تضمنہ من مغازی رسول اللہ والثلاثہ الخلفاء، ابو الربیع سلیمان بن موسی الکلاعی الاندلسی(ت 643ھ) پہلا ایڈیشن، نشر عالم الکتب- بیروت، سنہ1997ء، تحقیق: د، محمد کمال الدین عز الدین علی.
29. الاکمال فی رفع الارتیاب عن الموتلف و المختلف فی الاسمائ و الکنی والانساب: علی بن ھبۃ اللہ بن ابی نصر بن ماکولا(ت سنہ475ھ)پہلا ایڈیشن، نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت، سنہ1411ھ.
30. الامامتہ والسیاسۃ: ابو محمد عبداللہ بن مسلم ابن قتیبہ الدینوری(ت276ھ)طبعہ سنہ1418ھ/1997ء، دار الکتب العلمیہ، بیروت- لبنان، نشر محمد علی بیضون، تعلیق: خلیل المنصور.
31. امالی الصدوق: الشیخ الصدوق (ت 318ھ) طبعہ سنہ1417ھ، نشر موسسہ البعثہ، تحقیق: قسم الدراسات الاسلامیہ- موسسہ البعثہ- قم.
32. امالی الطوسی: محمد بن الحسن الطوسی(ت 460ھ) طبع دار الثقافہ سنہ1414ھ، نشر دار الثقافہ- قم، تحقیق: قسم الدراسات الاسلامیہ-موسسہ البعثہ.
33. امالی المحاملی: ابو عبداللہ الحسین بن اسماعیل الضبی المحاملی( ت 330ھ) پہلا ایڈیشن، نشر الکتبہ الاسلامیہ، دار ابن القیم، سنہ1412ھ، تحقیق:د. ابراہیم القیسی.
34. امالی مفید: الشیخ المفید(ت 413ھ) چاپخانہ اسلامیہ، نشر جماعہ المدرسین فی الحوزۃ العلمیہ- قم، تحقیق: الحسین استاد ولی علی اکبر غفاری.
35. الامامہ یوالتبصرۃ من الحیرہ: ابن بابویہ القمی(ت 329ھ) نشر و تحقیق: مدرسہ الامام المہدی(ع)-قم المقدسہ.
36. امتاع الاسماء بما للرسول من الابناء والاموال والحفدۃ والمتاع: تقی الدین احمد بن
37. علی المقریزی( ت 845ھ)، طبع لجنہ التالیف والترجمہ والنشر سنہ1941ھ، تصحیح و شرح: محمود شاکر.
38. الانساب: ابو سعید عبدالکریم بن محمد بن منصور التمیمی السمعانی(ت 562ھ) طبع و نشر دار الجنان سنہ1408ھ، تقدیم و تعلیق: عبداللہ عمر البارودی.
39. انساب الاشراف: احمد بن یحیی بن جابر البلاذری( ت 279ھ)، طبعہ سنہ1417ھ، دار الفکر للطباعہ والنشر والتوزیع، بیروت-لبنان، تحقیق: سہل زکار، د. ریاض زرکلی، باشراف مکتب البحوث والدراسات فی دار الفکر للطباعہ والنشر ولتوزیع.
40. الایمان لابن مندۃ: محمد بن اسحاق بن یحیی بن منذۃ(ت 395ھ)، دوسرا ایڈیشن، نشر موسسہ الرسالہ- بیروت، سنہ1406ھ، تحقیق: د. علی بن محمد بن ناصر الفقیہی.
41. بحار الانوار: المولی محمد باقر المجلسی( ت1111ھ)، طبع سنہ1403ھ/1983ء، المصححہ، طبع و نشر موسسہ الوفاء، بیروت، لبنان.
42. بحر الدم: احمد بن محمد بن حنبل(ت241ھ)پہلا ایڈیشن، نشر دار الرایہ- الریاض، سنہ1989ء، تحقیق: د. ابو اسامہ وصی اللہ بن محمد بن عباس.
43. البدء والتاریخ: مطہر بن طاہر المقدسی(ت507ھ)، نشر مکتبہ الثقافہ الدینیہ- القاہرہ.
44. البدایہ والنہایہ: ابو الفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی(ت 774ھ) نشر مکتبہ المعارف- بیروت.
45. بصائر ا لدرجات الکبری: محمد بن حسن بن فروخ الصفار(ت 290ھ)طبع مطبعہ الاحمدی- تہران، سنہ1404ھ، نشر موسسہ الاعلمی- تہران، تحقیق: میرزا محسن کوجہ باغی.
46. بغیتہ الطلب فی تاریخ حلب: کمال الدین عمر بن احمد بن ابی جرادۃ، پہلا ایڈیشن نشر دار الفکر-بیروت، سنہ1988ء، تحقیق: د. سہیل زکار.
47. بلاغات النساء: ابو الفضل بن ابی طاہر المعروف بابن طیفور(ت 380ھ) نشر مکتبہ بصیرتی- قم المقدسہ.
48. البیان والتبیین: ابو اعثمان عمرو بحر( ت 255ھ) پہلا ایڈیشن، نشر دار صعب- بیروت، سنہ1968ھ، تحقیق: المحامی فوزی عطوی.
49. البیان والتعریف: باراہیم بن محمد الحسینی(ت 1120ھ)، نشر دار الکتب العربی- بیروت، سنہ1401ھ، تحقیق: سیف الدین الکاتب.
50. تاج العروس من جواہر القاموس: محمد مرتضی الزبیدی(ت 1205ھ)، نشر مکتبہ الحیاۃ- بیروت.
51. تاریخ ابی الفداء (المختصر فی اخبار البشر): ابوالفداء عماد الدین اسماعیل بن علی الدوینی صاحب حماۃ(ت 732ھ)، پہلا ایڈیشن، چاپخانہ الحسینیہ المصریہ.
52. تاریخ بغدادی: احمد بن علی الخطیب البغدادی(ت 465ھ)، نشر دار ا لکتب العلمیہ- بیروت.
53. تاریخ جرجان: ابوالقاسم جمزۃ بن یوسف الجرجانی(ت 345ھ)، تیسرا ایڈیشن، نشر عالم الکتب- بیروت، سنہ1401ھ/1981ء، تحقیق: محمد عبدالمعید خان.
54. تاریخ الحکماء وہو مختصر الزوزنی المسمی بالمنتخبات الملتقطات من کتاب اخبار العلماء باخبار الحکماء: ابو الحسن جمال الدین علی بن یوسف القفطی، طبعہ برلین المحققہ.
55. تاریخ الخلفاء: عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی(ت 911ھ)، پہلا ایڈیشن، نشر مطبعہ السعادۃ- مصر، سنہ1371ھ/1952ئ، تحقیق: محیی الدین عبدالمجید.
56. تاریخ خلیفہ بن خیاط: ابو عمر خلیفہ بن خیاط اللیثی العصفری( ت 240ھ)، دوسرا ایڈیشن، نشر دار القلم- دمشق، موسسہ الرسالہ- بیروت، سنہ1397ھ، تحقیق: د، اکرم ضیاء العمری.
57. تاریخ دمشق: ابو القاسم علی بن الحسن بن ھبہ اللہ بن عبداللہ الشافعی المعروف عساکر (ت 571ھ) اعتمادا علی برنامج تاریخ دمشق بابن عساکر، اعداد الخطیب للنتاج والتسویق باشراف مرکز التراث البحاث الحسب الآلی.
58. تاریخ الطبری( تاریخ الامم والملوک): محمد بن جریر الطبری(ت 310ھ)، پہلا ایڈیشن سنہ1407ھ، نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت.
59. التاریخ الکبیر: محمد بن اسماعیل الخاری( ت 656ھ)، نشر دار الفکر تحقیق: السید ہاشم الندوی.
60. تاریخ المدینہ المنورۃ: عمر بن شبہ النمیری( ت 262ھ)، مطبعہ قدس- قم، نشر دار الفکر، تحقیق: فہیم محمد شلتوت.
61. تاریخ واسط: اسلم بن سہل الرزاز الواسطی( ت 292ھ). پہلا ایڈیشن، نشر عالم الکتب- بیروت، سنہ1406ھ، تحقیق: کورکیس عواد.
62. تاریخ الیعقوبی: احمد بن ابی یعقوب بن جعفر العباسی، نشر دار صادر-بیروت.
63. تالی تلخیص المتشابہ: ابوبکر احمد بن علی الخطیب البغدادی( ت 463ھ)، پہلا ایڈیشن، نشر دار الصمیعی- الریاض، سنہ1417ھ، تحقیق: مشہور بن حسن آل سلمان، احمد الشقیرات.
64. تحف العقول عن ال الرسول( صلی اللہ علیہم) : ابن شعبہ الحرانی(ت چوتھی قرن میں وفات پائی) طبعہ سنہ1404ھ، نشر موسسہ النشر الاسلامی جماعہ المدرسین، تحقیق: علی اکبر الغفاری.
65. تحفۃ الاحوذی بشرح جامع الترمذی: محمد بن عبدالرحمن المبارکفوری( ت 1353ھ)، نشر دار الکتب العلمیہ-بیروت.
66. التحفۃ اللطیفۃ فی تاریخ المدینہ الشریفہ: شمس الدین الشخاوی (ت 902ھ)، پہلا ایڈیشن، نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت، سنہ1993ء.
67. تحفۃ المحتاج الی ادلۃ المنہاج: عمر بن علی بن احمد الوادیاشی الاندلسی (ت 804ھ)،پہلا ایڈیشن، نشر دار حراء-مکہ المکرمہ، سنہ1406ھ، تحقیق: عبداللہ بن سعاف اللحیانی.
68. تدریب الراوی: عبد الرحمن بن ابی بکر السیوطی (ت 911ھ)، نشر مکتبۃ الریاض الحدیثہ-الریاض، تحقیق: عبدالوہاب عبداللطیف.
69. التدوین فی اخبار قزوین: عبدالکریم بن محمد الرافعی القزوینی، نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت، سنہ1987ء، تحقیق: عزیز اللہ العطاری.
70. تذکرۃ الحفاظ: ابو عبداللہ محمد بن احمد الذھبی (ت 748ھ)، طبعۃ سنہ1384ھ، نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت، تحقیق: عبد الرحمن بن یحیی.
71. تذکرۃ الخواص: یوسف الفرغلی بن عبداللہ البغدادی سبط الحافظ ابی الفرج عبدالرحمن بن الجوزی الحنفی (ت 654ھ)، منشورات المطبعۃ الحیدریۃ، النجف الاشرف- العراق/1383ھ. سنہ1954ء، قدم لہ السید محمد صادق بحر ا لعلوم.
72. الترغیب والترھیب: ابو محمد عبدالعظیم بن عبد القوی المنذری (ت 656ھ)، پہلا ایڈیشن، نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت، سنہ1417ھ، تحقیق: ابراہیم شمس الدین.
73. التطریف فی التصحیف: ابو الفضل عبدالرحمن بن ابی بکر بن محمد السیوطی (ت 911ھ)، پہلا ایڈیشن، نشر دار الفائز- عمان، تحقیق: د، علی حسن البواب.
74. تطہیر الجنان واللسان عن الخطور والتفوہ بثلب سیدنا معاویہ بن ابی سفیان: احمد بن حجر الہیثمی المکی (ت 974ھ)، المطبوع بہامش الصواعق المحرقہ الذین قدم لہ السید الجزائری، اخذت من نسخۃ قدیمۃ فی المطبعہ المیمنیہ- مصر سنہ1312ھ.
75. التعجب : محمد بن علی الکراجکی (ت 449ھ) طبع سنہ1410ھ، نشر مکتبہ المصطفوی- قم.
76. التعدیل و التجریح لمن خرج لہ البخاری فی الجامع الصحیح: ابو الولید الباجی سلیمان بن خلف بن سعد(ت 474ھ)، پہلا ایڈیشن، نشر دار اللواء للنشر والتوزیع- الریاض، سنہ1406ھ، تحقیق:د. ابو لبابہ حسین.
77. تعظیم قدر الصلاۃ: ابو عبداللہ محمد بن نصر بن الحجاج المروزی (ت 294) پہلا ایڈیشن، نشر مکتبۃ الدار- المدینہ المنورۃ، سنہ1496ھ، تحقیق: د. عبدالرحمن عبدالجبار الفریوائی.
78. تغلیق التعلیق: احمد بن علی بن محمد بن حجر العسقلانی (ت 852ھ)، پہلا ایڈیشن، نشر المکتب الاسلامی- بیروت، دار عمار- عمان، تحقیق: سعید عبدالرحمن موسی القزقی.
79. تفسیر القرآن العظیم: ابو الفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر (ت 774ھ)، طبعہ سنہ1301ھ، نشر دار الفکر- بیروت.
80. تفسیر الطبری( جامع البیان عن تاویل آی القرآن: ابو جعفر محمد بن جریر الطبری( ت310ھ)، طبعہ سنہ1405ھ، نشر دار الفکر. بیروت.
81. تفسیر قرطبی ( الجامع الاحکام القرآن): ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبی(ت 671ھ)، دوسرا ایڈیشن، سنہ1372ھ، نشر دار الشعب- القاہرۃ، بتحقیق: احمد عبدالعلیم البردونی.
82. تقریب التہذیب: ابو الفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی الشافعی(ت 852ھ)، پہلا ایڈیشن نشر دار الرشید- سوریا، سنہ1406ھ/1986ء، تحقیق: محمد عوامہ.
83. تقویۃ الایمان: محمد بن عقیل بن عبداللہ بن یحیی العلوی الحسینی طبعۃ سنہ1414ھ، نشر دار البیان العربی الرویس- بیروت.
84. التقید لمعرفۃ رواۃ السانید: ابو بکر محمد بن عبد الغنی البغدادی (ت 629ھ)، پہلا ایڈیشن، نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت، تحقیق: کمال یوسف الحوت.
85. التمہید والبیان فی مقتل الشہید عثمان المعروف بمقتل الشہید عثمان: محمد بن یحیی بن ابی بکر المالقی الاندلسی( ت 741ھ)، پہلا ایڈیشن نشر دار الثقافہ- الدوحہ- قطر،
سنہ1405ھ، تحقیق: محمود یوسف زاید.
86. التمہید لما فی الموطا من المعانی والاسانید: ابن عبدالبر النمری( ت 463ھ)، طبعہ سنہ1387ھ، نشر وزارۃ عموم الاوقاف والشئون الدینیہ- المغرب، تحقیق: مصطفی بن احمد العلوی و محمد عبدالکبیر البکری.
87. تہذیب الاحکام: الشیخ الطوسی(ت460ھ)، چوتھا ایڈیشن، خورشید، نشر دار الکتب الاسلامیہ، تحقیق: السید حسن الخرسان، تصحیح : الشیخ محمد الآخوندی.
88. تہذیب الاسماء: ابو زکریا محیی الدین یحیی بن شرف بن مری بن حسن بن حسین بن حزام، پہلا ایڈیشن، نشر دار الفکر- بیروت، سنہ1996ء.
89. تہذیب التہذیب: ابن حجر العسقلانی (ت852ھ)، پہلا ایڈیشن، نشر دار الفکر- بیروت.
90. تہذیب الکمال: ابو الحجاج المزی(ت 742ھ)، پہلا ایڈیشن، سنہ1400ھ، نشر موسسہ الرسالہ- بیروت، تحقیق: بشار عواد معروف.
91. التوحید: الشیخ الصدوق (ت 381ھ) طبعہ سنہ1387ھ، نشر جماعۃ المدرسین، قم، تحقیق: السید ہاشم الحسینی التہرانی.
92. الثاقب فی المناقب: ابن حمزہ الطوسی(ت 560ھ) طبع سنہ1412ھ، نشر مؤسسہ انصاریان- قم المقدسہ، تحقیق: الاستاد نبیل رضا علوان.
93. الثقات: ابو حاتم محمد بن حبان التمیمی البستی(ت 354ھ)، پہلا ایڈیشن سنہ1395ھ، نشر دار الفکر، تحقیق: السید شرف الدین احمد.
94. الجامع الصغیر: السیوطی(ت 911ھ)، نشر دار طائر العلم- جدۃ، تحقیق: محمد بن عبد الرئووف المناوی.
95. الجامع لاخلاق الراوی و آداب السامع: ابو بکر احمد بن علی الخطیب البغدادی(ت 463ھ)، طبعہ سنہ1403ھ، نشر مکتبہ المعارف- الریاض، تحقیق: د، محمود الطحانی.
96. الجامع: معمر بن راشدی الازدی(ت 151ھ)، دوسرا ایڈیشن سنہ1403ھ، المکتب الاسلامی- بیروت، تحقیق: حبیب الاعظمی( منشور کملحق بکتاب المصنف للصنعانی)
97. جامع العلوم والحکم: ابو الفرج عبد الرحمن بن احمد بن رجب الحنبل(ت 750ھ) پہلا ایڈیشن، نشر دار المعرفہ- بیروت.
98. الجرح والتعدیل: ابو محمد عبدالرحمن بن ابی حاتم محمد بن ادریس الرازی التمیمی(ت 327ھ) پہلا ایڈیشن، نشر دار احیاء التراث العربی- بیروت، سنہ1271ھ/سنہ1952ء.
99. جلاء الافہام فی فضل الصلاۃ علی محمد خیر الانام: ابو عبداللہ محمد بن ابی بکر ایوب الزرعی(ت 751ھ) دوسرا ایڈیشن، نشر دار العروبہ- الکویت، سنہ1407ھ/سنہ1987ء، تحقیق: شعیب الارنائووط، عبدالقادر الارنائووط.
100. جمہرۃ خطیب العرب: احمد زکی صفوت نشر المکتبہ العلمیہ- بیروت.
101. الجواہر السنیہ فی الاحادیث القدسیہ: الحر العاملی(ت 1104ھ) طبع و نشر مکتبہ المفید- قم.
102. جواہر العقدین فی فضل الشرفین شرف العلم الجلی والنسب العلی: علی بن عبداللہ الحسنی السمہودی(ت 911ھ) طبعہ/ سنہ1984ء، مطبعہ العانی- بغداد، تحقیق: موسی بنای العلیلی.
103. جواہر المطالب فی مناقب الامام الجلیل علی بن ابی طالب(ع): محمد بن احمد الدمشقی الباغونی الشافعی(ت871ھ) طبع دانش سنہ1415ھ، نشر مجمع احیاء الثقافہ الاسلامیہ- قم المقدسہ، تحقیق: الشیخ باقر المحمودی.
104. حاشیہ ابن القیم علی سنن ابی دائود: لمحمد با ابی بکر ایوب الرزعی ابی عبداللہ(ت 751ھ)، دوسرا ایڈیشن، نشر سنہ1415ھ،/سنہ1995ء، دار الکتب العلمیہ- بیروت.
105. حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح: احمد بن محمد بن اسماعیل الطحطاوی الحنفی(ت 1231ھ)، تیسرا ایڈیشن، نشر مکتبہ البایی الحلبی- مصر، سنہ1318ھ.
106. حجتہ اللہ البالغہ: الشیخ احمد المعروف بشاہ ولی اللہ ابن عبدالرحیم الدہلوی ملتزم الطبع والنشر دار الکتب الحدیثہ بالقاہرہ و مکتبہ المثنی بغداد، طبع: الاستقلا الکبری- مصر، حققہ و راجعہ: السید سابق.
107. حلیتہ الاولیاء و طبقات الاصفیاء: ابو نعیم احمد ابن عبداللہ الاصفہانی(ت 430ھ) چوتھا ایڈیشن سنہ1405ھ، نشر دار الکتاب العربی- بیروت.
108. خاتمہ مستدرک وسائل الشیعہ: المحقق النوری الطبرسی(ت 1320ھ) طبع ستارہ- قم، سنہ1415ھ، نشر و تحقیق: موسسہ آل البیت علیہم السلام لاحیاء التراث- قم.
109. الخرائج والجرائح: قطب الدین الراوندی(ت 573ھ) نشر و تحقیق: موسسہ الامام المہدی(ع)- قم المقدسہ-گ
110. خصائص مسند احمد: ابو موسی محمد بن عمر بن احمد المدینی(ت 581ھ) نشر مکتبہ التوبہ- الریاض، سنہ1410ھ.
111. الخصال: الشیخ الصدوق(ت 381ھ) نشر جماعہ المدرسین فی الحوزۃ العلمیہ، تحقیق: علی اکبر الغفاری.
112. الدرایہ فی تخریج احادیث الہدایہ: ابوالفضل احمدبن علی بن حجر العسقلانی(ت 852ھ) نشر دار المعرفہ- بیروت، تحقیق: السید عبداللہ ہاشم الیمانی المدنی.
113. الدر المنثور فی التفسیر بالماثور: جلال الدین السیوطی(ت911ھ) نشر دار الفکر- بیروت، سنہ1992ء.
114. دلائل الامامہ: ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم الطبری(چوتھی قرن کے شروع میں وفات پائی) طبع و نشر موسسہ البعثہ سنہ1413ھ، تحقیق: قسم الدراسات الاسلامیہ- موسسہ البعثہ- قم.
115. دلائل الصدق: الشیخ محمد حسن المظفر، نشر مکتبیہ بصیرتی- قم، شارع ارم ، 1395ھ،
116. دعائم الاسلام: نعمان بن محمد بن منصور بن احمد بن حیون التمیمی المغربی(ت 363ھ) نشر دار المعارف سنہ1383ھ/1963ء، تحقیق: آصف بن علی اصغر فیضی.
117. ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی: ابو العباس محب الدین احمد بن عبداللہ بن محمد بن ابی بکر بن محمد الطبری(ت 694ھ) نشر دار الکتب المصریہ.
118. الذریہ الطاہرۃ: ابو بشر محمد بن احمد بن حماد الدولانی(ت310ھ) پہلا ایڈیشن، نشر الدار السلفیہ- الکویت، تحقیق: سعد المبارک الحسن.
119. ذکر من اختلف العلمائ و نقاد الحدیث فیہ: عمر بن احمد بن عثمان ابن احمد (ت 385ھ) پہلا ایڈیشن، نشر اضواء السلف- الریاض، تحقیق: حماد بن محمد الانصاری.
120. ذکر من اسمہ شعبہ: ابو نعیم احمد بن اسحاق بن موسی بن مہران الاصفہانی(ت 430ھ) پہلا ایڈیشن، نشر مکتبہ الغرباء الاثریہ- المدینہ المنورۃ، سنہ1997ء. طارق محمد سلکوع العمودی.
121. ذیل تذکرۃ الحفاظ: ابو المحاسن محمد بن علی بن الحسن نب حمزۃ الحسینی الدمشقی(ت 748ھ) نشر دار احیاء التراث العربی.
122. رجال مسلم: ابو بکر احمد بن علی بن منجویہ الصبہانی(ت428ھ) پہلا ایڈیشن، نشر دار المعرفہ- بیروت، سنہ1407ھ، تحقیق: عبداللہ اللیثی.
123. رجال النجاشی: ابوالعباس احمد بن علی النجاشی الاسدی الکوفی(ت 450ھ) طبع
و نشر موسسہ النشر الاسلامی التابعہ الجماعہ المدرسین بقم المشرفہ، سنہ1416ھ، تحقیق: السید موسی الشبیری الزنجانی.
124. رسالتہ فی الجرح والتعدیل: ابو محمد بعد العظیم بن عبد القوی المنذری(ت656ھ). پہلا ایڈیشن، نشر مکتبہ دار الاقصی- الکویت، تحقیق: عبدالرحمن عبد الجبار الفریوائی.
125. الرواۃ الثقات متکلم فیہم بما لا یوجب ردہم: ابو عبداللہ محمد بن احمد بن عثمان بن قایماز الذہبی(ت748ھ) پہلا ایڈیشن، نشر دار البشائر الاسلامیہ- بیروت، سنہ1992ء، تحقیق: محمد ابراہیم الموصلی.
126. روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی: ابو الفضل شہاب الدین محمود الآلوسی(ت1270ھ) نشر دار احیاء التراث العربی- بیروت.
127. روضتہ الواعظین: محمد بن الفتال النیشابوری(ت508ھ) نشر منشورات الرضی-قم، ایران، تحقیق: السید محمد مہدی السید حسن الخراسانی.
128. الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ: ابو جعفر احمد بن عبداللہ الطبری(ت694ھ)، پہلا ایڈیشن، سنہ1996ء، نشر دار الغرب الاسلامی- بیروت، تحقیق: عیسی عبداللہ محمد مانع الحمیری.
129. زاد المسیر فی علم التفسیر: ابن الجوزی(ت597ھ) المکتب الاسلامی للطباعہ والنشر.
130. زاد المعاد فی ھدی خیر العباد: ابو عبداللہ محمدبن ابی بکر ایوب الزرعی(ت751ھ). چودھواں ایڈیشن، نشر موسسہ الرسالہ- بیروت، المکتبہ المنار الاسلامیہ- الکویت، نشر 1407/1986ئ، تحقیق : شعیب الارنائووط، عبدالقادر الرنائووط.
131. الزہد : احمد بن محمد بن حنبل الشیبیانی(ت241ھ) نشر دار الکتب ال العلمیہ- بیروت، سنہ1398ھ.
132. سبل السلام: محمد بن اسماعیل الصنعانی الامیر(ت852ھ) چوتھا ایڈیشن، نشر دار احیاء التراث العربی- بیروت، سنہ1379ھ، تحقیق: محمد بن عبدالعزیز الخولی.
133. سبل الھدی والرشاد فی سیرۃ خیر العباد: محمد بن یوسف الصالحی الشامی(ت942ھ)، طبع سنہ1414ھ، نشر دار الکتب العلمیہ-بیروت، تحقیق: الشیخ عادل احمد عبد الموجود.
134. السنہ لعبداللہ بن احمد بن حنبل: عبداللہ بن احمد بن حنبل الشیبانی(ت290ھ) پہلا
ایڈیشن، نشر دار ابن القیم- الدمام، سنہ1406ھ. بیروت، تحقیق: د: محمد سعید سالم القحطانی.
135. السنہ: ابو بکر احمد بن عمرو بن ابی عاصم الضحاک(ت287ھ)، پہلا ایڈیشن، سنہ1400ھ، نشر المکتب الاسلامی- بیروت، تحقیق: محمد ناصر الدین الالبانی.
136. السنتہ للخلال : ابو بکر احمد بن محمدبن ہارون بن یزید الخلال(ت 311ھ) پہلا ایڈیشن، نشر دار الرایہ- الریاض، سنہ1410ھ، تحقیق: د. عطیہ الزھرانی.
137. سنن ابی دائود: ابو دائود سلیمان بن الاشعث السجستانی(ت275ھ)، نشر دار الفکر، تحقیق: محمد محی الدین عبدالمجید.
138. سنن ابن ماجہ: ابو عبداللہ محمد بن یزید القزوینی(ت 275ھ)، نشر دار الفکر- بیروت، تحقیق: محمد فؤاد عبدالباقی.
139. سنن الترمذی( الجامع الصحیح): ابو عیسی محمد بن عیسی الترمذی(ت279ھ)، نشر دار الاحیاء التراث العربی- بیروت، تحقیق: احمد محمد شاکر و آخرون.
140. سنن الدار قطنی: ابو الحسن علی بن عمر الدار قطنی البغدادی(ت385ھ) نشر دار المعرفہ- بیروت، سنہ1386ھ/ سنہ1966ئ، تحقیق: السید عبداللہ ہاشم یمانی المدنی.
141. سنن الدارمی: ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی(ت 255ھ) پہلا ایڈیشن، سنہ1407ھ، نشر دار الکتاب العربی- بیروت، تحقق: فواز احمد زمرلی و خالد السبع المعلمی.
142. السنن الکبری: ابوبکر احمد بن الحسین البیہقی(ت458ھ) طبعہ سنہ1414ھ، نشر مکتبہ دار الباز- مکہ المکرمہ، تحقیق: محمد عبدالقادر عطا.
143. السنن الکبری: ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی(ت303ھ) ، پہلا ایڈیشن، سنہ1411ھ، نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت، تحقیق: د. عبدالغفار سلیمان البنداری. سید کسروی حسن.
144. السنن الواردۃ فی الفتن و غوائلہا و الساعۃ واشراطہا: ابو عمرو عثمان بن سعید المقری الدانی(444ھ) پہلا ایڈیشن، سنہ1416ھ، نشر العاصمہ- الریاض، تحقیق: ضیاء اللہ بن محمد ادریس المبارکفوری.
145. سوالات البرذعی: ابو زرعۃ عبیداللہ بن عبدالکریم بن یزید الرازی(ت264ھ) دوسرا ایڈیشن، نشر دار الوفاء المنصورۃ، تحقیق:د. سعدی الہاشمی.
146. سوالات البرقانی: ابو الحسن علی بن عمر الدار قطنی البغدادی(ت385ھ) پہلا ایڈیشن، نشر کتب خانہ جمیلی- پاکستان، تحقیق:د. عبدالرحیم محمد احمد القشقری.
147. سیر اعلام النبلاء: ابو عبداللہ محمد بن احمد الذہبی(ت748ھ) نواں ایڈیشن، سنہ1413ھ، نشر موسسہ الرسالۃ- بیروت، تحقیق: شعیب الارنائوط و محمد نعیم العرقسوسی.
148. سیرۃ ابن اسحاق المسماۃ بکتاب المبتدا والمبعث: محمد بن اسحاق بن یسار سنہ151ھ، نشر معہد الدراسات والابحاث للتعریب. تحقیق: محمد حمید اللہ.
149. السیرۃ الحلبیہ( انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون): علی بن برہان الدین الحلبی( ت1044ھ) نشر دار المعرفہ- بیروت، سنہ1400ھ.
150. السیرۃ النبوبتہ: عبدالملک بن ہشام الحمیری(ت213ھ) پہلا ایڈیشن، سنہ1411ھ، نشر دار الجیل- بیروت، تحقیق : طہ عبدالرئوف سعد.
151. شذرات الذہب فی اخبار من ذھب: عبدالحی بن احمد العکری الدمشقی(ت1089ھ) نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت.
152. شرح اصول اعتقاد اہل السنتہ والجماعتہ: ابو القاسم ھبتہ اللہ بن الحسن بن منصور اللالکائی(ت418ھ) پہلا ایڈیشن. نشر دار طیبہ- الریاض،سنہ1402ھ، تحقیق : د. احمد سعد حمدان.
153. شرح الزرقانی علی موطا الامام مالک: محمد بن عبدالباقی بن یوسف الزرقانی(ت1122ھ) پہلا ایڈیشن، نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت.
154. شرح مقاصد: مسعود بن عمربن عبداللہ، الشہیر بسعد الدین التفتازانی(ت793ھ) تحقیق و تعلیق ڈاکٹر عبدالرحمن عمیرۃ، پہلا ایڈیشن، سنہ1409ھ/سنہ1989ئ، منشورات الشریف الرضی.
155. شرح الموقف: السید علی بن محمد بن علی بن الحسینی الحنفی الاسترابادی، المعروف بالشریف الجرجانی(ت816ھ) دار الطباعتہ العامرۃ- 1257.
156. شرح نہج البلاغہ: ابن ابی الحدید (ت665ھ) نشر دار احیاء الکتاب العربی، تحقیق: محمد ابی الفضل ابراہیم.
157. شعب الایمان: ابوبکر احمد بن الحسین البیہقی(ت458ھ) پہلا ایڈیشن، نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت، سنہ1410ھ، تحقیق: محمد السعید بسیونی زغلول.
158. شواہد التنزیل لقواعد التفضیل فی الآیات النازلۃ فی اہل البیت: عبیداللہ بن احمد الحاکم
الحسکانی من اعلام القرن الخامس الہجری، طبع سنہ1411ھ، نشر مجمع احیاء الثقافہ الاسلامیہ، تحقیق الشیخ محمد باقر محمودی.
159. صبح الاعشی فی صناعہ الانشاء: احمد بن علی القلقشندی(ت821ھ) پہلا ایڈیشن، نشر دار الفکر- دمشق، سنہ1987، تحقیق: د، یوسف علی طویل.
160. صحیح ابن حبان بترتیب ابن بلبان: ابو حاتم محمد بن حبان التمیمی(ت354ھ) دوسرا ایڈیشن، نشر موسسہ الرسالہ- بیروت، تحقیق: شعیب الارنائووط.
161. صحیح ابن خزیمہ: ابوبکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ السلمی النیسابوری(ت311ھ) نشر المکتب الاسلامی- بیروت، سنہ1390ھ/ سنہ1970ء، تحقیق: د. محمد مصطفی الاعظمی.
162. صحیح البخاری: ابو عبداللہ بن اسماعیل البخاری(ت256ھ) دوسرا ایڈیشن، سنہ1407ھ، نشر دار ابن کثیر الیمامہ- بیروت، تحقیق: مصطفی دیب البغاء.
163. صحیح مسلم: ابو الحسین مسلم بن الحجاج النیشابوری(ت261ھ) نشر دار احیاء التراث- بیروت، تحقیق: محمد فئواد عبدالباقی.
164. الصحیفہ السجادیہ: الامام زین العابدین(ع).
165. صفوۃ الصفوۃ: ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن محمد(ت597ھ) دوسرا ایڈیشن، نشر دار المعرفہ- بیروت، سنہ1399ھ،/سنہ1979ئ، تحقیق: محمود فاخوری، د. محمد رواس قلعہ جی.
166. الصواعق المحرقہ علی اہل الرفض والضلال والزندقہ: ابوالعباس احمد بن محمد بن محمد بن علی، ابن حجر الہیثمی(ت973ھ) نشر موسسہ الرسالہ-بیروت، سنہ1997ئ، تحقیق: عبدالرحمن بن عبداللہ الترکی، و کامل محمد الخراط.
167. الضعفائ: ابو نعیم احمد بن عبداللہ بن احمد الصبہانی(ت430ھ) پہلا ایڈیشن، نشر دار الثقافہ- الدار البیضاء، سنہ1405ھ/ سنہ1984ئ، تحقیق: فاروق حمادۃ.
168. الضعفاء: ابو جعفر محمد بن عمرو العقیلی(ت322ھ) پہلا ایڈیشن، سنہ1404ھ، نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت، تحقیق: د. عبدالمعطی امین قلعجی.
169. الضعفاء والمتروکین: ابو الفرج عبدالرحمن بن محمد الجوزی( ت579ھ) پہلا ایڈیشن، سنہ1406ھ، نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت، تحقیق: عبداللہ القاضی.
170. الطبقات الشافعیہ الکبری: ابن السبکی (ت771ھ) پہلا ایڈیشن، المطبع الحسینیہ،
المصریہ الشہیرۃ.
171. الطبقات الکبری: محمد بن سعد البصری(ت230ھ) نشر دار صادر- بیروت.
172. طبقات المدلسین: ابوالفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی الشافعی(ت852ھ) پہلا ایڈیشن، نشر مکتبہ المنار- عمان، سنہ1403ھ/ سنہ1983ئ، تحقیق: د. عاصم بن عبداللہ القریوتی.
173. الطرائف : ابن طائووس الحسنی(ت664ھ) طبع الخیام- قم، سنہ1371ھ.
174. طرح التثریب فی شرح التقریب: ابو الفضل زین الدین عبدالرحیم بن الحسین بن عبدالرحمن العراقی(ت806ھ) طبع جمعیہ النشر والتالیف الازہریہ- مصر، سنہ1353ھ.
175. العتب الجمیل علی اہل الجرح والتعدیل: محمد بن عقیل(ت1350ھ) نشر ھیئہ البحوث الاسلامیہ- انڈونشیا، سنہ1391ھ.
176. العدد القویہ: العلامہ الحلی(ت726ھ) پہلا ایڈیشن، مطبعہ سید الشہداء نشر مکتبہ آیۃ الللہ المرعشی النجفی، تحقیق: السید مہدی رجائی.
177. العظمۃ: عبداللہ بن جعفر بن حیان الاصفہانی(ت369ھ)پہلا ایڈیشن، نشر دار العاصمہ- الریاض، تحقیق: رضاء اللہ بن محمد ادریس المبارکفوری.
178. العقد الفرید: ابو عمر احمد بن محمد بن عبد ربہ الاندلسی(ت328ھ) نشر دار الکتاب العربی- بیروت، شرحہ و ضبط و رتب فہارسہ: ابراہیم الابیاری، قدم لہ: د. عمر عبد السلام تدمری.
179. علل الدار قطنی: ابو الحسن علی بن عمر الدار قطنی البغدادی(ت385ھ) پہلا ایڈیشن، نشر دار طیبہ- الریاض، سنہ1405ھ/سنہ1985ء، تحقیق: د. محفوظ الرحمن زین اللہ السلفی.
180. العلل الشرائع: الشیخ الصدوق(ت381ھ) المطبعۃ الحیدریہ- نجف، نشر المکتبہ الحیدریہ، سنہ1386ھ/سنہ1966ئ.
181. العلل المتناہیہ: عبدالرحمن بن علی بن الجوزی(ت 597ھ) پہلا ایڈیشن، نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت، تحقیق: خلیل المیس.
182. العلل و معرفہ الرجال: احمد بن حنبل(ت241ھ) پہلا ایڈیشن، سنہ1408ھ، تحقیق: وصی اللہ بن محمد عباس.
183. العمدۃ: ابن بطریق الاسدی الحلی(توفی تقریبا سنہ600ھ میں) طبع و تحقیق جامعہ المدرسین- قم، سنہ1407ھ، نشر موسسہ النشر الاسلامی التابعہ لجماعہ المدرسین- قم.
184. عون المعبود: لمحمد شمس الحق العظیم آبادی ابی الطیب، دوسر ایڈیشن، نشر دار ا لکتب العلمیہ- بیروت، سنہ1315ھ.
185. عیون الاخبار: ابن قتیبہ، طبہ وزارۃ الثقافہ والارشاد القومی، الموسسہ المصریہ العامہ للتالیف.
186. عیون الاخبار الرضا(ع): الشیخ الصدوق(ت381ھ) طبعہ سنہ1970ء، منشورات المطبعہ الحیدریہ- النجف الاشرف.
187. عیون الحکم والمواعظ: علی بن محمد اللیثی الواسطی( چھٹی قرن ہجری میں وفات پائی) طبعہ سنہ1376ھ، طبع و نشر دار الحدیث، تحقیق: حسین الحسنی البیرجندی.
188. عیون المعجزات: الشیخ حسین بن عبدالوھاب(متوفی پانچویں قرن ہجری میں) طبع المطبعہ الحیدریہ- النجف، سنہ1369ھ، نشر محمد کاظم الشیخ صادق الکتبی.
189. الغدیر فی الکتاب والسنہ والادب: الشیہ عبدالحسین الامینی، چوتھا ایڈیشن، سنہ1397ھ/سنہ1977ئ، نشر الحاج حسن ایرانی.
190. غریب الحدیث: ابو عبید القاسم بن سلام الہروی(ت224ھ) طبع مجلس دائرۃ المعارف العثمانیہ- الہند، نشر دار الکتاب العربی-بیروت، سنہ1396ھ، تحقیق: محمد عبدالمعید خان.
191. غریب الحدیث: عبداللہ بن مسلم بن قتیبہ الدینوری(ت276ھ) طبع سنہ1408ھ، نشر دار الکتب العلمیہ- تحقیق: د. عبداللہ الجبوری.
192. غوامض الاسمائ المبہمہ: ابو القاسم خلف بن عبدالملک بن بشکوال(ت578ھ) پہلا ایڈیشن، نشر عالم الکتب- بیروت، سنہ1407ھ تحقیق: عز الدین علی السید، محمد کمال الدین عز الدین.
193. غنیۃ النزوع الی علمی الاصول والفروع: ابن زہرہ الحلبی(ت585ھ) طبع اعتماد- قم، سنہ1417ھ، نشر موسسہ الامام الصادق(ع) تحقیق: الشیخ ابراہیم البہادری باشراف الشیخ السبحانی.
194. الغنیہ: محمد بن الحسین الطوسی(ت460ھ) طبع بہمن، سنہ1411ھ، نشر موسسہ المعارف الاسلامیہ- قم المقدسہ، تحقیق: عباد اللہ التہرانی والشیخ علی احمد ناصح.
195. الغنیہ: محمد بن ابراہیم النعمانی(ت380ھ)، طبع و نشر مکتبہ الصدوق- تہران، تحقیق: علی اکبر الغفاری.
196. الفائق فی غریب الحدیث: محمود بن عمر الزمخشری(ت538ھ) دوسرا ایڈیشن، نشر دار المعرفہ- لبنان، تحقیق: محمد البجاوی، محمد ابو الفضل ابراہیم.
197. فتح الباری فی شرح صحیح البخاری: بن حجر العسقلانی(ت852ھ) طبعہ سنہ1379ھ، نشر دار المعرفہ- بیروت، تحقیق: محمد فئواد عبدالباقی، محب الدین الخطیب.
198. فتح القدیر الجامع بین فنی الروایہ والدرایہ فی علم التفسیر: محمد بن علی الشوکانی(ت1250ھ) درا احیاء التراث العربی- بیروت.
199. فتح المکلک العلی بصحۃ حدیث باب المدینۃ العلم: احمد بن محمد بن الصدیق الحسینی المغربی(ت1380ھ) نشر مکتبہ امیرالمومنین، اصفہانی، تحقیق: محمد ہادی الامینی.
200. الفتن : نعیم بن حماد المروی (ت288ھ) پہلا ایڈیشن سنہ1412ھ، نشر مکتبہ التوحید- القاہرۃ، تحقیق: سمیر امین الزہیری.
201. الفتنہ و وقعۃ الجمل: سیف بن عمر الضبی الاسدی(ت200ھ) پہلا ایڈیشن، نشر دار النفائس- بیروت، تحقیق: احمد راتب عرموش.
202. الفتوح : ابو محمد احمد بن اعثم الکوفی(تسنہ314ھ/سنہ926ئ) طبع سنہ1406ھ/ سنہ1986ئ، تقدیم و تعلیق: نعیم زر زور.
203. الفخری فثی الآداب السلطانیہ: محمد بن علی بن طاطبا، المعروف بابن الطقطقی(ت907ھ) تحقیق: ممدوح حسن محمد- نشر مکتبہ الثقافہ الدینیہ- سنہ1999ء.
204. فرج المہموم فی تاریخ علماء النجوم: علی بن موسی بن طائووس الحسینی(ت664ھ) طبع ونشر دار الذخائر للمطبوعات.
205. الفردوس بماثور الخطاب: ابو شجاع شیرویہ بن شہر ادر بن شیرویہ الدیلمی الہمدانی(ت509ھ) پہلا ایڈیشن، نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت، سنہ1986ء، تحقیق: السعید بن بسیونی زغلول.
206. الفرق بین الفرق و بیان الفرقہ الناجیہ: ابو منصور عبدالقاہر بن طاہر بن محمد البغدادی(ت429ھ) دوسرا ایڈیشن، سنہ1977ء، نشر دار الافاق الجیدۃ- بیروت.
207. الفصل فی الملل و الاہواء و النحل: ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم الظاہری(ت548ھ) نشر مکتبہ الخانجی- القاہرہ.
208. الفصل للوصل المدرج: ابوبکر احمد بن علی بن ثابت البغدادی(ت463ھ) پہلا
ایڈیشن، نشر دار الہجرۃ- الریاض، 1418، تحقیق:محمد مطر الزہرانی.
209. الفصول المختارۃ: الشیخ المفید(ت413ھ) طبع و نشر دار المفید- بیروت، لبنان، سنہ1414ھ/سنہ1993ء، تحقیق: السید میر علی شریفی.
210. فضائل الصحابہ: ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی، پہلا ایڈیشن، سنہ1403ھ، نشر موسسہ الرسالہ- بیروت، تحقیق: د. وصی اللہ محمد عباس.
211. فضائل الصحابہ: ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی، پہلا ایڈیشن، نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت، سنہ1405ھ.
212. الفضائل: شاذان بن جبرئیل القمی( ت660ھ تقریبا) طبع المطبعہ الحیدریہ- النجف الاشرف، نشر المکتبہ الحیدریہ، النجف الاشرف، سنہ1381ھ/ سنہ1962ء.
213. الفہرست: ابوالفرج محمد بن اسحاق الندیم(ت385ھ) نشر دار المعرفہ، بیروت، سنہ1398ھ/ سنہ1978ء.
214. الفہرست: ابو جعفر محمد بن الحسن الطوسی(ت460ھ) طبع موسسہ النشر الاسلامی سنہ1417ھ، نشر موسسہ نشر الفقاہۃ، تحقیق: الشیخ جواد القیومی.
215. الفوائد (مجلس من فوائد اللیث بن سعد): اللیث بن سعد المعری، پہلا ایڈیشن، سنہ1407ھ، نشر دار نشر عالم الکتب للنشر والتوزیع- الریاض، تحقیق: محمد بن رزوق الطرہوانی.
216. فیض القدیر شرح الجامع الصغیر: محمد عبدالرئووف المناوی(ت1331ھ) پہلا ایڈیشن، المکتبہ التجاریہ الکبری- مصر، سنہ1356ھ.
217. قرب الاسناد: ابو العباس عبداللہ الحمیری البغدادی(ت300ھ) طبع مہرقم، سنہ1414ھ، نشر و تحقیق: موسسہ آل البیت لاحیاء التراث- قم.
218. الکاشف: ابو عبداللہ الذہبی(ت748ھ) پہلا ایڈیشن، نشر دار القبلہ للثقافہ الاسلامیہ، موسسہ علو- جدۃ، سنہ1413ھ/1992ئ، تحقیق: محمد عوامہ.
219. الکافی: الشیخ الکلینی(ت329ھ) طبع حیدری، سنہ1388ھ، نشر درا الکتب اسلامیہ- آخوندی، تحقیق: علی اکبر غفاری.
220. کامل الزیارات: الشیخ جعفر بن محمد بن قولویہ القمی(ت368ھ) طبع موسسہ النشر الاسلامی، سنہ1317ھ، نشر موسسہ نشر الفقاہہ، تحقیق: الشیخ جوادی قیومی.
221. الکامل فی التاریخ: محمد بن محمد بن عبدالواحد الشیبانی(ت630ھ) دوسرا ایڈیشن، نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت، سنہ1415ھ/سنہ1995ئ، تحقیق: ابو الفداء عبداللہ القاضی.
222. الکامل فی ضعفاء الرجال: عبداللہ بن عدی الجرجانی(ت365ھ)، تیسرا ایڈیشن، سنہ1409ھ، نشر دار الفکر- بیروت، تحقق یحیی مختار غزاوی.
223. الکامل فی اللغہ: ابوالعباس المبرد، مطبعہ مسطفی البایی الحلبی واولادہ بمصر، پہلا ایڈیشن سنہ1356ھ، 1937ء، تحقیق: احمد محمد شاکر لقاضی الشرعی.
224. کتاب سلیم بن قیس الہلالی: ابو صادق سلیم بن قیس الہلالی العامری الکوفی( پہلی قرن ہجری میں وفات پائی) تحقیق: الشیخ محمد باقر الانصاری الزنجانی الخوئینی.
225. الکتاب المقدس: المطبعہ الکاثولیکیہ- عاریا. لبنان، سنہ1988ئ، منشورات دار المشرق.
226. الکشف الحثیث عن من رمی بوضع الحدیث: ابراہیم بن محمد الحلبی (ت سنہ841ھ) پہلا ایڈیشن، سنہ1407ھ، نشر عالم الکتب، مکتبہ النہضتہ العربیہ، تحقی صبحی السامرائی.
227. کشف الخفاء و مزیل الالباس عما اشتہر من الاحادیث علی السنہ الناس: اسماعیل بن محمد العجلونی الجراحی(ت1162ھ) چوتھا ایڈیشن، نشر موسسہ الرسالہ- بیروت، تحقیق: احمد القلاش.
228. کشف الظنون: مصطفی بن عبداللہ القسطنطینی الرومی الحنفی(ت1067ھ) نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت، سنہ1413ھ/سنہ1992ئ.
229. کشف الغمہ فی معرفتہ الائمہ: علی بن عیسی بن ابی الفتح الاربلی(ت693ھ) طبع و نشر دار الاضواء- بیروت، سنہ1405ھ، سنہ1985ء.
230. کفایۃ الاثر فی النص علی الائمۃ الاثنی عشر: الخزازی القمی الرازی(ت400ھ) طبع الخیام- قم، سنہ1401ھ، نشر انتشارات بیدار، تحقیق: السید عبدالطیف الحسینی الکوہکمری الخوئی.
231. کفایتہ فی علم الروایۃ: ابو بکر احمد بن علی بن ثابت الخطیب البغدادی(ت463ھ) نشر المکتبہ العلمیہ- المدینہ المنورۃ، تحقیق: ابو عبداللہ السورقی، ابراہیم حمدی المدنی.
232. کفایتہ الطالب فی مناقب علی بن ابی طالب(ع): ابو عبداللہ محمد بن یوسف بن محمد الکنجی الشافعی ( قتل فی سنہ658ھ،) دوسرا ایڈیشن، سنہ1390ھ/ سنہ1970ئ، نشر المطبعہ الحیدریہ- النجف الاشرف، تحقیق و تصحیح و تعلیق: محمد ہادی الامینی.
233. کمال الدین و تمام النعمہ: الشیخ الصدوق(ت 381ھ) طبع سنہ1405ھ، نشر موسسہ النشر الاسلامی التابعہ لجماعۃ المدرسین، تحقیق و تصحیح و تعلیق: علی اکبر غفاری.
234. کنز العمال: المتقی الہندی(ت975ھ) مطبعہ موسسہ الرسالہ- بیروت، نشر موسسہ
الرسالہ- بیروت، تحقیق: الشیخ بکری حیانی والشیخ صفوۃ السفا.
235. کنز الفوائد: العلامہ ابن محمد بن علی الکراجکی (ت449ھ) طبع سنہ1410ھ، نشر مکتبہ المصطفوی- قم.
236. لسان العرب: ابن منظور(ت711ھ) پہلا ایڈیشن، دار صادر- بیروت.
237. لسان المیزان: ابن حجر العسقلانی، تیسرا ایڈیشن، سنہ1306ھ، نشر موسسہ الاعلمی للمطبوعات- بیروت.
238. مآثر الاناقہ فی معالم الخلافہ: احمد بن عبداللہ القلقشندی(ت821ھ) دوسرا ایڈیشن، نشر مطبعہ حکومۃ الکویت- الکویت، سنہ1985ھ، تحقیق: عبدالستار احمد فراج.
239. مائۃ منقبہ من مناقب امیرالمومنین(ع): محمد بن احمد بن الحسن بن شاذان القمی( بقی حیا الی سنہ412ھ) طبع امیر- قم سنہ1407ھ، تحقیق ونشر: مدرسہ الامام المہدی(ع)- قم المقدسہ.
240. المجروحین من المحدثین والضعفاء والمتروکین: ابو حاتم محمد بن حبان التمیمی (ت354ھ) پہلا ایڈیشن، سنہ1396ھ، نشر دار الوعی- حلب، تحقیق: محمد ابراہیم زاید.
241. مجمع البیان فی تفسیر القرآن: امین الاسلام الفضل بن الحسن الطبرسی(ت 560ھ) طبع سنہ1415ھ، نشر موسسہ الاعلمی للمطبوعات- بیروت، تحقیق: لجنہ من العلماء و المحققین لاخصالین.
242. مجمع الزوائد و منبع الفوائد: علی بن ابی بکر الہثمی(ت807ھ)، طبعہ سنہ1407ھ، نشر دار الریان للتراث- القاہرۃ، دار الکتاب العربی- بیروت.
243. المجموع فی شرح المہذب: محیی الدین بن النووی(ت678ھ) نمونہ قم، نشر موسسہ قائم آل محمد(عج)- قم، تحقیق: شیخ فارس الحسون.
244. المحدث الفاصل بین الراوی والواعی: الحسن بن عبدالرحمن الرامہرمزی(ت360ھ) تیسرا ایڈیشن، نشر دار الفکر- بیروت، سنہ1404ھ، تحقیق: د. محمد عجاج الخطیب.
245. المحلی: ابن حزم الظاہری(ت456ھ) نشر دار الآفاق الجدیدۃ- بیروت، تحقیق: لجنہ احیاء التراث العربی.
246. مختصر بصائر الدرجات: الحسن بن سلیمان الحلی( نویں قرن ہجری میں وفات پائی) طبع سنہ1370ھ/سنہ1950ئ، نشر المطبعہ الحیدریہ- نجف.
247. المدخل الی السنن الکبری: ابوکر احمد بن الحسین البیہقی(ت458ھ) طبعہ 1404ھ، دار الخلفاھ للکتاب الاسلامی- الکویت، تحقیق: د. محمد ضیاء الرحمن الاعمظی.
248. المدخل الی الصحیح: ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن حمدویہ الحاکم، النیسابوری(ت405ھ) پہلا ایڈیشن، نشر موسسہ الرسالہ- بیروت، سنہ1404ھ، تحقیق: ربیع ہادی عمیر المدخلی.
249. مروج الذہب و معادن الجوہر: ابو الحسن علی بن الحسین المسعودی نشر دار الفکر للطباعہ والنشر والتوزیع، تحقیق و تعلیق: سعید محمد اللحام.
250. مسائل الامام احمد: ابو الحسن علی ابن الحسین المسعودی نشر دار الفکر للطباعہ والنشر والتوزیع، تحقیق و تعلیق: سعید محمد اللحام.
251. المسائل الجاوریہ: الشیخ المفید(ت413ھ) طبع و نشر: دار المفید- بیروت، سنہ1414ھ/سنہ1993ئ، تحقیق: الشیخ محمد کاظم مدیر شانجی.
252. مسائل علی بن جعفر: علی بن جعفر الصادق(ع)(ت 147ھ) طبع مہر- قم، سنہ1409ھ، نشر الموتمر العالمی للامام الرضا(ع)، تحقیق: موسسہ آل البیت علیہم السلام لاحیاء التراث- قم.
253. المستدرک علی الصحیحین: ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحاکم النیسابوری(ت405ھ) پہلا ایڈیشن، سنہ1411ھ، نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت، تحقیق: مصطفی عبدالقادر عطا.
254. مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل: المحقق النوری الطبرسی(ت1320ھ) طبع سنہ1408ھ، نشر و تحقیق: موسسہ آل البیت(ع) لاحیاء التراث.
255. المستفاد من ذیل تاریخ بغداد: ابن النجار البغدادی(ت643ھ) طبع دار الکتب العلمیہ- بیروت، سنہ1419ھ، نشر محمد علی بیضون، تحقیق: مصطفی عبدالقادر الفاریابی.
256. مسند ابی حنیفہ: ابو نعیم احمد بن عبداللہ بن احمد الاصبہانی(ت430ھ) پہلا ایڈیشن، نشر مکتبہ الکوثر- الریاض، سنہ1415ھ تحقیق: نظر محمد الفاریابی.
257. مسند ابی عوانہ: ابو عوانہ یعقوب بن اسحاق الاسفر ائینی(ت316ھ) پہلا ایڈیشن، نشر دار المعرفہ-بیروت، سنہ1998ئھ تحقیق: ایمن بن عارف الدمشقی.
258. مسند ابی یعلی: ابو یعلی امد بن علی الموصلی(ت307ھ) پہلا ایڈیشن، سنہ1404ھ، نشر درا المامون للتراث- دمشق، تحقیق: حسین سلیم اسد.
259. مسند احمد بن حنبل: احمد بن حنبل الشیبانی(ت241ھ) نشر موسسہ قرطبہ- مصر.
260. مسند ابن الجعد: علی بن الجعد الجوہری(ت230ھ) پہلا ایڈیشن، سنہ1410ھ، نشر موسسہ نادر- بیروت، تحقیق: عامر احمد حیدر.
261. المسند: ابوبکر عبداللہ بن الزبیر الحمیدی(ت219ھ) نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت، مکتبہ المتنبی- القاہرۃ، تحقیق: حبیب الرحمن الاعظمی.
262. مسند البزار: ابوبکر البزار(ت292ھ) پہلا ایڈیشن، سنہ1409ھ، نشر موسسہ علوم القرآن- بیروت، مکتبہ العلوم و الحکم- المدینہ.
263. مسند الحارث: الحارث بن ابی اسامہ(ت282ھ) پہلا ایڈیشن، نشر مرکز خدمہ السنہ والسیرۃ النبویہ- المدینہ المنورۃ، سنہ1413ھ/ سنہ1992ئ، تحقیق: د. حسن احمد بن صالح الباکری.
264. مسند الرویانی: ابوبکر محمد بن ہارون الرویانی(ت307ھ) پہلا ایڈیشن، نشر موسسہ القرطبہ- القاہرۃ، سنہ1416ھ، تحقیق: ایمن علی ابو یمانی.
265. مسند الشامین: سلیمان بن احمد الطبرانی(ت360ھ) پہلا ایڈیشن، سنہ1405ھ، نشر مکتبہ العلوم والحکم- المدینہ المنورہ، سنہ1410ھ، تحقیق: د. محفوظ الرحمن زین اللہ.
266. مسند الشہاب: ابو عبداللہ محمد بن سلامہ بن حعفر القضاعی(ت454ھ) دوسرا ایڈیشن، نشر موسسہ الرسالہ- بیروت، سنہ1407ھ/سنہ1986ئ، تحقیق: حمدی بن عبد المجید السلفی.
267. مسند الطیالسی: سلیمان بن دائود الطیالسی(ت204ھ) نشر دار المعرفہ- بیروت.
268. مسند عبد بن حمید(المنتخب من مسند عبد بن حمید): عبد بن حمید(ت249ھ)، پہلا ایڈیشن، سنہ1408ھ، نشر مکتبہ السنہ- القاہرۃ، تحقیق: صبحی السامرائی و محمود محمد خلیل الصعیدی.
269. مشاہیر علمائ الامصار: ابو حاتم محمد بن حبان بن احمد التمیمی البستی(ت354ھ) نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت، سنہ1959ء، تحقیق: م. فلایشمہر.
270. مصباح الزجاجہ: احمد بن ابی بکر اسماعیل الکنانی(ت840ھ) دوسرا ایڈیشن، نشر دار العربیہ- بیروت، سنہ1403ھ، تحقیق: محمد المنتقی لکشناوی.
271. مصباح المتہجد: الشیخ الطوسی(ت460ھ) طبع سنہ 1411ھ/ سنہ1991ء، نشر موسسہ فقہ
الشیعہ-بیروت، لبنان.
272. المصنف: ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ الکوفی(ت235ھ) پہلا ایڈیشن، سنہ1409ھ، نشر مکتب الرشید، الریاض، تحقیق: کمال یوسف الحوت.
273. المصنف: ابو بکر عبدالرزاق بن ہمام الصنعانی(ت211ھ) دوسرا ایڈیشن، نشر المکتب الاسلامی- بیروت: تحقیق: حبیب الرحمن الاعظمی.
274. المعارف: ابن قتیبہ الدینوری(ت276ھ) طبعہ سنہ1960ھ، مطبعہ دار الکتب.
275. معالم النتزیل (تفسیر البغوی): الحسین بن مسعود الفراء البغوی(ت516ھ) نشر دار المعرفہ- بیروت، دوسرا ایڈیشن، سنہ1407ھ/ سنہ1987ئ، تحقیق: خالد العک- مروان سوار.
276. معانی الاخبار: الشیخ الصدوق(ت381ھ) طبع و نشر انتشارات اسلامی، سنہ1361ھ، تحقیق: علی اکبر الغفاری.
277. المعتصر من المختصر من مشکل الآثار: ابو المحاسن یوسف بن موسی الحنفی، نشر عالم الکتب- بیروت، مکتبہ المتنبی- القاہرۃ.
278. معجم الادباء: یاقوت الحموی مطبوعات دار المامون، مطبعہ عیسی البایی الحلبی و شرکائوہ- مصر.
279. المعجم الاوسط: سلیمان بن احمد الطبرانی(ت360ھ) طبعہ سنہ1415ھ، نشر دار الحرمین- القاہرۃ، تحقیق: طارق بن عوض بن محمد و عبدالمحسن بن ابراہیم الحسینی.
280. معجم الرجال الحدیث و تفصیل طبقات الرواۃ: السید ابوالقاسم الموسوی الخوئی(ت1413ھ) پانچواں ایڈیشن، سنہ1413ھ، تحقیق: لجنۃ لتحقیق.
281. معجم الصحابہ: ابو الحسین عبدالباقی بن قانع(ت351ھ) پہلا ایڈیشن، نشر مکتبہ الغرباء الاثریہ- المدینہ المنورۃ، سنہ1418ھ، تحقیق: صلاح بن سالم المصراتی.
282. معجم الصغیر: سلیمان بن احمد الطبرانی(ت360ھ) پہلا ایڈیشن، سنہ1405ھ، نشر المکتب الاسلامی- بیروت، دار عمار- عمار، تحقیق: محمد شکور محمود الحاج امریر.
283. معجم الشیوخ ابو الحسین محمد بن احمد بن جمیع الصیداوی(ت402ھ) پہلا ایڈیشن، نشر موسسہ الرسالہ- بیروت، دار الایمان- طرابلس، سنہ1405ھ، تحقیق: د. عمر عبدالسلام تدمری.
284. معجم شیوخ ابی بکر الاسماعیلی: ابوبکر احمد بن ابراہیم بن اسماعیل الاسماعیلی
(ت371ھ) پہلا ایڈیشن، نشر مکتبہ العلوم والحکم- المدینہ المنورۃ، سنہ1410ھ، تحقیق: د. زیاد محمد منصور.
285. المعجم الکبیر: سلیمان بن احمد الطبرانی(ت360ھ) دوسرا ایڈیشن، سنہ1404ھ، نشر مکتبہ العلوم والحکم- الموصل، تحقیق: حمدی بن عبدالمجید السلفی.
286. معجم المحدثین: ابو عبداللہ محمد بن احمد بن عثمان الذہبی(ت348ھ) پہلا ایڈیشن، نشر مکتبہ الصدیق- الطائف، سنہ1408ھ تحقیق: د. محمد الحبیب الہیلہ.
287. معرفۃ الثقات: ابوالحسن احمد بن عبداللہ بن صالح العجلی الکوفی(ت261ھ) پہلا ایڈیشن، نشر مکتبہ الدار- المدینہ المنورۃ، سنہ1405ھ/ سنہ1985ئ، تحقیق: عبدالعلیم عبد العظیم البستوی.
288. معرفۃ علوم الحدیث: الحاکم النیسابوری(ت405ھ) دوسرا ایڈیشن، سنہ1337ھ، نشر المکتبہ العلمیہ- المدینہ المنورۃ، تحقیق: السید معظم حسین.
289. المغازی للواقدی: محمد بن عمر بن واقد(ت207ھ) مطبعہ جامعہ اکسفورد سنہ1966ئ، تحقیق: ڈاکٹر مارسدن جونس.
290. المغنی: ابو محمد بن عبداللہ بن احمد بن قدامہ المقدسی(ت620ھ) پہلا ایڈیشن، نشر دار الفکر- بیروت، سنہ1405ھ.
291. المغنی فی الضعفاء: ابو عبداللہ محمد بن احمد بن عثمان الذہبی(ت748ھ) تحقیق: نور الدین عتر.
292. مفتاح الجنہ فی الاحتجاج بالسنہ: عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی(ت911ھ) تیسرا ایڈیشن، نشر الجامعہ الاسلامیہ- المدینہ المنورۃ، سنہ1399ھ.
293. المفردات غریب القرآن: الراغب الاصفہانی(ت502ھ) طبع سنہ1404ھ، نشر دفتر نشر الکتاب.
294. مقاتل الطالبین: ابو الفرج الاصفہانی(ت356ھ) طبع المکتبہ الحیدریہ- النجف، نشر موسسہ دار الکتاب- قم.
295. مقتضب الاثر فی النص علی الائمۃ الاثنا عشر: احمد بن محمد بن عبیداللہ بن عیاش الجوہری(ت401ھ) المطبعہ العلمیہ- قم، نشر مکتبہ الطباطبائی- قم.
296. مقتل الحسین: عبدالرزاق الموسوی المقرم(ت1378ھ) تیسرا ایڈیشن سنہ1383ھ. النجف الاشرف.
297. المقتنی فی سرد الکنی: شمس الدین محمد بن احمد الذہبی(ت748ھ) نشر مطابع الجامعہ الاسلامیہ- المدینہ المنورۃ، سنہ1408ھ، تحقیق: محمد صالح عبدالعزیز المراد.
298. مقدمہ ابن خلدون: عبدالرحمن بن محمد بن خلدون الحضرمی، پانچواں ایڈیشن، دار القلم- بیروت، سنہ1984ئ.
299. المقصد الارشد فی ذکر اصحاب الامام احمد: برہان الدین ابراہیم بن محمد بن عبداللہ بن محمد بن مفلح(ت884ھ) پہلا ایڈیشن، نشر مکتبہ الرشد للنشر والتوزیع- الریاض، سنہ1990ء، تحقیق: عبدالرحمن بن سلیمان العثیمین.
300. المناقب: الخوارزمی، دوسرا ایڈیشن، طبع و نشر موسسہ النشر الاسلامی، تحقیق: مالک المحمودی.
301. مناقب آل ابی طالب: ابن شہر آشوب (ت588ھ) طبع المطبعہ الحیدریہ- النجف الاشرف، سنہ1386ھ، تحقیق: لجنۃ من اساتذۃ النجف الاشرف.
302. الملل والنحل: ابی الفتح عبدالکریم الشہرستانی(ت548ھ) تصحیح و تعلیق: احمد فہمی محمد- سنہ1368ھ.
303. المنتظم فی تاریخ الملوک والامم: ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن محمد بن الجوزی(ت597ھ) پہلا ایڈیشن، نشر دار صادر- بیروت، سنہ1358ھ.
304. من تکلم فیہ: ابو عبداللہ محمد بن احمد بن عثمان بن قایماز الذہبی(ت748ھ) پہلا ایڈیشن، نشر مکتبہ المنار، الزرقاء(سنہ1406ھ) تحقیق: محمد شکور امریر المیادینی.
305. من حدیث خیثمہ: خیثمہ بن سلیمان القرشی، (343ھ) پہلا ایڈیشن، نشر دار الکتاب العربی- بیروت، سنہ1980ئ/ سنہ1400ھ، تحقیق: د. عمر عبدالسلام.
306. من لایحضرہ الفقیہ: الشیخ الصدوق(ت381ھ) طبع سنہ1404ھ، نشر جامعۃ المدرسین سنہ1404ھ، تحقیق: علی اکبر غفاری.
307. منہاج السنۃ النوبۃ: ابو العباس احمد بن عبدالحلیم بن تیمیہ الحرانی(ت728ھ) پہلا ایڈیشن، موسسہ قرطبہ، سنہ1407ھ، تحقیق: محمد رشاد سالم.
308. المنہل الراوی: محمد بن ابراہیم بن جماعہ (ت733ھ) دوسرا ایڈیشن، نشر دار الفکر- دمشق، سنہ1406ھ، تحقیق: د. محیی الدین عبدالرحمن رمضان.
309. موارد الظمان: ابوالحسن علی بن ابی بکر الہیثمی(ت807ھ) نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت، تحقیق: محمد عبدالرزاق حمزۃ.
310. موضع اوہام الجمع والتفریق: احمد بن علی بن ثابت الخطیب البغدادی(ت463ھ) نشر دار المعرفہ- بیروت، سنہ1407ھ، د، عبدالمعطی امین قلعجی.
311. الموضوعات: علی بن جوزی(ت597ھ) پہلا ایڈیشن، سنہ1396ھ، نشر محمد عبدالمحسن صاحب المکتبہ السلفیہ- المدینہ المنورۃ، تحقیق: عبدالرحمن محمد عثمان.
312. موطا مالک: مالک بن انس(ت597ھ) دار احیاء التراث العربی- مصر، تحقیق: محمد فؤاد عبدالباقی.
313. الموفقیات: الزبیر بن بکار، مطبعہ العانی- بغداد، تقدیم: د، صالح احمد العلی، تحقیق: سامی مکی العانی.
314. میزان الاعتدال فی نقد الرجال: شمس الدین محمد بن احمد الذہبی(ت748ھ) پہلا ایڈیشن، نشر دار الکتب العلمیہ- بیروت، سنہ1995ئ، تحقیق: الشیخ علی محمد معوض والشیخ عادل احمد عبدالموجود.
315. النجوم الزاہرۃ فی ملوک مصر والقاہرۃ: ابوالمحاسن جمال الدین یوسف بن تغری بردی الاتابکی(ت874ھ) نشر موسسہ المصریہ العامہ للتالیف والترجمہ والطباعہ والنشر- مصر.
316. نزھۃ الناظر و تنبیہ الخاطر: الحسین بن محمد بن الحسن بن نصر الحلوانی(پانچواں قرن ہجری میں وفات پائی) طبعہ مہر- قم، سنہ1408ھ، نشر و تحقیق: مدرسہ الامام المہدی(ع).
317. النصائح الکافیہ لمن یتولی معاویہ: محمد بن عقیل(ت1350ھ) طبع دار الثقافہ، سنہ1412ھ، نشر دار الثقافہ- قم المقدسہ.
318. نصب الرایۃ: ابو محمد عبداللہ بن یوسف الحنفی الزیلعی(ت762ھ) نشر دار الحدیث- مصر، سنہ1357ھ، تحقیق: محمد یوسف البنوری.
319. نظم درر السمطین: الزرندی الحنفی(ت750ھ) پہلا ایڈیشن، سنہ1377ھ/ سنہ1958ئ.
320. النکت فی المقدمات الاصول: الشیخ مفید(ت413ھ) طبع و نشر دار المفید- بیروت، سنہ1414ھ/سنہ1993ئ، تحقیق: السید محمد رضا الحسنی الجلالی.
321. النہایۃ فی غریب الحدیث: ابن الاثیر(ت606ھ) طبع و نشر موسسہ اسماعیلیان- قم، تحقیق: طاہر احمد الزاوی، محمود ممد الطناحی.
322. نہج البلاغہ: الشریف الرضی(ت404ھ) طبع و نشر دار المعرفہ- بیروت، تحقیق: الشیخ محمد عبدہ.
323. نوادر المعجزات فی مناقب الائمۃ الہداۃ علیہم السلام: ابوجعفر محمد بن جریر بن رستم الطبری(چوتھی قرن ہجری کے شروع میں وفات پائی) طبع و نشر و تحقیق: موسسہ الامام المہدی(ع)، سنہ1410ھ.
324. نور البراہین فی اخبار السادۃ الطاہرین: للسید نعمۃ اللہ الموسوی الجزائری(ت1112ھ) پہلا ایڈیشن، سنہ1417ھ، طبع و نشر موسسہ النشر الاسلامی التابعۃ لجماعۃ المدرسین بقم المقدسہ، تحقیق: السید رجائی.
325. نیل الاوطار: محمد بن علی بن محمد الشوکانی(ت 1255ھ) نشر دار الجیل بیروت، سنہ1973ھ.
326. الھداۃ الکبری: ابوعبداللہ الحسین بن حمد انالخصیبی(ت334ھ) طبع سنہ1411ھ/ سنہ1991ئ، نشر البلاغ-بیروت.
327. وسائل الشیعہ : الحر العاملی(ت1104ھ) طبعہ سنہ1376ھ، المطبعہ الاسلامیہ- تہران.
328. وفیات الاعیان و انباء الزمان: ابوالعباس شمس الدین احمد بن محمد بن ابی بکر بن خلکان(ت681ھ) نشر دار الثقافہ- بیروت، سنہ1968ئ، تحقیق: د. اسحاق عباس.
329. وقعۃ صفین: نصر بن مزاحم المنقری(ت212ھ) دوسرا ایڈیشن، سنہ1382ھ، نشر الموسسہ العربیہ الحدیثہ للطبع والنشر والتوزیع، تحقیق: عبدالسلام محمد ہارون.
330. ینابیع المودۃ لذوی القربی: الشیخ سلیمان بن ابراہیم القندوزی الحنفی(ت1294ھ) پہلا ایڈیشن، سنہ1416ھ، نشر دار الاسوۃ، تحقیق: السید علی جمال اشرف الحسینی.