توضیح المسائل(آقائے سیستانی)
احکام تقلید
بسم الل ہ الرحمن الرحیم
الحمد لل ہ رب العالمین
والصلا ۃ والسلام علی اشرف الانبیآء والمرسلین
محمد و اٰل ہ الطیبین الطا ھ رین
واللعن ۃ الدآئم ۃ علی اعدآئ ھ م اجمعین
من الآن الی قیام یوم الدین
(مسئلہ 1 ) ہر مسلمان کے لئے اصول دین کو از روئے بصیرت جاننا ضروری ہے کیونکہ اصول دین میں کسی طور پر بھی تقلید نہیں کی جاسکتی یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص اصول دین میں کسی کی بات صرف اس وجہ سے مانے کہ وہ ان اصول کو جانتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اسلام کے بنیادی عقائد پر یقین رکھتا ہو اور اس کا اظہار کرتا ہو اگرچہ یہ اظہار از روئے بصیرت نہ ہو تب بھی وہ مسلمان اور مومن ہے۔ لہذا اس مسلمان پر ایمان اور اسلام کے تمام احکام جاری ہوں گے لیکن "مسلمات دین" کو چھوڑ کر باقی دینی احکامات میں ضروری ہے کہ انسان یا تو خود مجہتد ہو یعنی احکام کو دلیل کے ذریعے حاصل کرے یا کسی مجہتد کی تقلید کرے یا از راہ احتیاط اپنا فریضہ یوں ادا کرے کہ اسے یقین ہو جائے کہ اس نے اپنی شرعی ذمہ دار پوری کردی ہے۔ مثلا اگر چند مجتہد کسی عمل کو حرام قرار دیں اور چند دوسرے کہیں کہ حرام نہیں ہے تو اس عمل سے باز رہے اور اگر بعض مجتہد کسی عمل کو واجب اور بعض مستجب گردانیں تو اسے بجالائے۔ لہذا جو اشخاص نہ تو مجتہد ہوں اور نہ ہی احتیاط پر عمل پیرا ہوسکیں اور ان کے لئے واجب ہے کہ مجتہد کی تقلید کریں۔
2 ۔ دینی احکامات میں تقلید کا مطلب یہ ہے کہ کسی مجتہد کے فتوے پر عمل کیا جائے۔ اور ضروری ہے کہ جس مجتہد کی تقلید کی جائے وہ مرد۔ بالغ۔عاقل۔شیعہ اثنا عشری۔ حلال زادہ۔ زندہ اور عادل ہو۔ عادل وہ شخص ہے جو تمام واجب کاموں کو بجالائے اور تمام حرام کاموں کو ترک کرے۔ عادل وہ شخص ہے جو تمام واجب کاموں کو بجالائے اور تمام حرام کاموں کو ترک کرے۔ عادل ہونے کی نشانی یہ ہے کہ وہ بظاہر ایک اچھا شخص ہو اور اس کے اہل محلہ یا ہمسایوں یا ہم نشینوں سے اس کے بارے میں دریافت کیا جائے تو وہ اس کی اچھائی کی تصدیق کریں۔
اگر یہ بات اجملاً معلوم ہو کہ در پیش مسائل میں مجتہد کے فتوے ایک دوسرے سے مختلف ہیں تو ضروری ہے کہ اس مجتہد کی تقلید کی جائے جو "اعلم" ہو یعنی اپنے زمانے کے دوسرے مجتہدوں کے مقابلے میں احکام الہی کو سمجھنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہو۔
3 ۔ مجتہد اور اعلم کی پہچان تین طریقوں سے ہوسکتی ہے۔
* (اول) ایک شخص کو جو خود صاحب علم ہو ذاتی طور پر یقین ہو اور مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
* (دوم) دو اشخاص جو عالم اور عادل ہوں نیز مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کا ملکہ رکھتے ہوں، کسی کے مجتہد یا اعلم ہونے کی تصدیق کریں بشرطیکہ دو اور عالم اور عادل ان کی تردیدنہ کریں اور بظاہر کسی کا مجتہد یا اعلم ہونا ایک قابل اعتماد شخص کے قول سے بھی ثابت ہوجاتا ہے۔
* (سوم) کچھ اہل علم (اہل خبرہ) جو مجتہد اور اعلم کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہوں، کسی کے مجتہد یا اعلم ہونے کی تصدیق کریں اور ان کی تصدیق سے انسان مطمئن ہوجائے۔
4 ۔ اگر در پیش مسائل میں دو یا اس سے زیادہ مجتہدین کے اختلافی فتوے اجمالی طور پر معلوم ہوں اور بعض کے مقابلے میں بعض دوسروں کا اعلم ہونا بھی معلوم ہو لیکن اگر اعلم کی پہچان آسان نہ ہو تو اخوط یہ ہے کہ آدمی تمام مسائل میں ان کے فتووں میں جتنا ہو سکے احتیاط کرے (یہ مسئلہ تفصیلی ہے اور اس کے بیان کا یہ مقام نہیں ہے)۔ اور ایسی صورت میں جبکہ احتیاط ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس کا عمل اس مجتہد کے فتوے کے مطابق ہو۔ جس کے اعلم ہونے کا احتمال دوسرے کے مقابلے میں زیادہ ہو۔ اگر دونوں کے اعلم ہونے کا احتمال یکساں ہو تو اسے اختیار ہے ( کہ جس کے فتوے پر چاہے عمل کرے)۔
5 ۔ کسی مجتہد کا فتوی حاصل کرنے کے چار طریقے ہیں
* (اول) خود مجہتد سے (اس کا فتوی) سننا۔
* (دوم) ایسے دو عادل اشخاص سے سننا جو مجتہد کا فتوی بیان کریں۔
* (سوم) مجتہد کا فتوی کسی ایسے شخص سے سننا جس کے قول پر اطمینان ہو
* (چہارم) مجتہد کی کتاب (مثلاً توضیح المسائل) میں پڑھنا بشرطیکہ اس کتاب کی صحت کے بارے میں اطمینان ہو۔
6 ۔ جب تک انسان کو یہ یقین نہ ہوجائے کہ مجتہد کا فتوی بدل چکا ہے وہ کتاب میں لکھے ہوئے فتوے پر عمل کر سکتا ہے اور اگر فتوے کے بدل جانے کا احتمال ہو تو چھان بین کرنا ضروری نہیں۔
7 ۔ اگر مجتہد اعلم کوئی فتوی دے تو اس کا مقلد اس مسئلے کے بارے میں کسی دوسرے مجتہد کے فتوے پر عمل نہیں کر سکتا۔ تاہم اگر ہو (یعنی مجتہد اعلم) فتوی نہ دے بلکہ یہ کہے کہ احتیاط اس میں سے ہے۔ کہ یوں عمل کیا جائے مثلا احتیاط اس میں ہے کہ نماز کی پہلی اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد کے بعد ایک اور پوری سورت پڑھے تو مقلد کو چاہئے کہ یا تو اس احتیاط پر، جسے احتیاط واجب کہتے ہیں، عمل کرے یا کسی ایسے دوسرے مجتہد کے فتوے پر عمل کرے جس کی تقلید جائز ہو۔ (مثلاً فالاً علم)۔ پس اگر وہ (یعنی دوسرے مجتہد) فقط سورہ الحمد کو کافی سمجھتا ہو تو دوسری سورت ترک کی جاسکتی ہے۔ جب مجتہد اعلم کسی مسئلے کے بارے میں کہے کہ محل تامل یا محل اشکال ہے تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔
8 ۔ اگر مجتہد اعلم کسی مسئلے کے بارے میں فتوی دینے کے بعد یا اس سے پہلے احتیاط لگائے مثلاً یہ کہے کہ کس نجس برتن کو پانی میں ایک مرتبہ دھونے سے پاک ہوجاتا ہے اگرچہ احتیاط اس میں ہے کہ تین مرتبہ دھوئے تو مقلد ایسی احتیاط کو ترک کر سکتا ہے۔ اس قسم کی احتیاط کو احتیاط مستجب کہتے ہیں۔
9 ۔ اگر وہ مجتہد جس کی ایک شخص تقلید کرتا ہے فوت ہو جائے تو جو حکم اس کی زندگی میں تھا وہی حکم اس کی وفات کے بعد بھی ہے۔ بنا بریں اگر مرحوم مجتہد، زندہ مجتہد کے مقابلے میں اعلم تھا تو ہو شخص جسے در پیش مسائل میں دونوں مجتہدین کے مابین اختلاف کا اگرچہ اجمالی طور پر علم ہو اسے مرحوم مجتہد کی تقلید پر باقی رہنا ضروری ہے۔ اور اگر زندہ مجتہد اعلم ہو تو پھر زندہ مجتہد کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔ اس مسئلے میں تقلید سے مراد معین مجتہد کے فتوے کی پیروی کرنے (قصد رجوع) کو صرف اپنے لئے لازم قرار دینا ہے نہ کہ اس کے حکم کے مطابق عمل کرنا۔
10 ۔ اگر کوئی شخص کسی مسئلے میں ایک مجتہد کے فتوے پر عمل کرے، پھر اس مجتہد کے فوت ہوجانے کے بعد وہ اسی مسئلے میں زندہ مجتہد کے فتوے پر عمل کرلے تو اسے اس امر کی اجازت نہیں کہ دوبارہ مرحوم مجتہد کے فتوے پر عمل کرے۔
11 ۔ جو مسائل انسان کو اکثر پیش آتے رہتے ہیں ان کو یاد کر لینا واجب ہے۔
12 ۔ اگر کسی شخص کو کوئی ایسا مسئلہ پیش آئے جس کا حکم اسے معلوم نہ تو لازم ہے کہ احتیاط کرے یا ان شرائط کے مطابق تقلید کرے جن کا ذکر اوپر آچکا ہے لیکن اگر اس مسئلے میں اسے اعلم کے فتوے کا علم نہ ہو اور اعلم اور غیر اعلم کی آراء کے مختلف ہونے کا مجملاً علم ہو یا تو غیر اعلم کی تقلید جائز ہے۔
13۔ اگر کوئی شخص مجتہد کا فتوی کسی دوسرے شخص کو بتائے لیکن مجتہد نے اپنا سابقہ فتوی بدل دیا ہو تو اس کے لئے دوسرے شخص کو فتوے کی تبدیلی کی اطلاع دینا ضروری نہیں۔ لیکن اگر فتوی بتانے کے بعد یہ محسوس ہو کہ (شاید فتوی بتانے میں) غلطی ہوگئی ہے اور اگر اندیشہ ہو کہ اس اطلاع کی وجہ سے وہ شخص اپنے شرعی وظیفے کے خلاف عمل کرے گا تو احتیاط لازم کی بنا پر جہاں تک ہوسکے اس غلطی کا ازالہ کرے۔
14۔ اگر کوئی مکلف ایک مدت تک کسی کی تقلید کیے بغیر اعمال بجا لاتا رہے لیکن بعد میں کسی مجتہد کی تقلید کرلے تو اس صورت میں اگر مجتہد اس کے گزشتہ اعمال کے بارے میں حکم لگائے کہ وہ صحیح ہیں تو وہ صحیح متصور ہوں گے ورنہ طابل شمار ہوں گے۔
احکام طہارت
15 ۔ پانی یا مطلق ہوتا ہے یا مضاف۔ "مُضَاف" وہ پانی ہے جو کسی چیز سے حاصل کیا جائے مثلاً تربوز کا پانی (ناریل کا پانی) گلاب کا عرق (وغیرہ)۔ اس پانی کو بھی مضاف کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز سے آلودہ ہو مثلا گدلا پانی جو اس حد تک مٹیالا ہو کہ پھر اسے پانی نہ کہا جاسکے۔ ان کے علاوہ جو پانی ہو اسے "آب مُطلَق" کہتے ہیں اور اس کی پانچ قسمیں ہیں۔ (اول) کر پانی (دوم) قلیل پانی (سوم) جاری پانی (چہارم) بارش کا پانی (پنجم) کنویں کا پانی۔
16 ۔ مشہور قول کی بنا پر کُر اتنا پانی ہے جو ایک ایسے برتن کو بھر دے جس کی لمبائی،چوڑائی اور گہرائی ہر ایک ساڑھے تین بالشت ہو اس بنا پر اس کا مجموعہ ضرب 8 ۔ 7 ۔ 42 ( 87 ء 42) بالشت ہونا ضروری ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ اگر چھتیں بالشت بھی ہو تو کافی ہے۔ تاہم کرُ پانی کا وزن کے لحاظ سے تعین کرنا اشکال سے خالی نہیں ہے۔
17 ۔ اگر کوئی چیز عین نجس ہو مثلاً پیشاب یا خون یا وہ چیز جو نجس ہو گئی ہو جسیے کہ نجس لباس ایسے پانی میں گر جائے جس کی مقدار ایک کُر کے برابر ہو اور اس کے نتیجے کی بو، رنگ یا ذائقہ پانی میں سرایت کر جائے تو پانی نجس ہوجائے گا لیکن اگر ایسی کوئی تبدیلی واقع نہ ہو تو نجس نہیں ہوگا۔
18 ۔ اگر ایسے پانی کی بو، رنگ یا ذائقہ جس کی مقدار ایک کُرکے برابر ہو نجاست کے علاوہ کسی اور چیز سے تبدیل ہو جائے تو وہ پانی نجس نہیں ہوگا۔
19 ۔ اگر کوئی عین نجاست مثلاً خون ایسے پانی میں جاگرے۔ جس کی مقدار ایک کُر سے زیادہ ہو اور اس کی بُو، رنگ یا ذائقہ تبدیل کر دے تو اس صورت میں اگر پانی کے اس حصے کی مقدار جس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ایک کُر سے کم ہو تو سارا پانی نجس ہو جائے گا لیکن اگر اس کی مقدار ایک کُر یا اس سے زیادہ ہو تو صرف وہ حصہ نجس متصور ہوگا جس کی بُو، رنگ یا ذائقہ تبدیل ہوا ہے۔
20 ۔ اگر فوارے کا پانی (یعنی وہ پانی جو جوش مار کر فوارے کی شکل میں اچھلے) ایسے دوسرے پانی سے متصل ہو جس کی مقدار ایک کُر کے برابر ہو تو فوارے کا پانی نجس پانی کو پاک کر دیتا ہے لیکن اگر نجس پانی پر فوارے کے پانی کا ایک ایک قطرہ گرے تو اسے پاک نہیں کرتا البتہ اگر فوارے کے سامنے کوئی چیز رکھ دی جائے۔ جس کے نتیجے میں اس کا پانی قطرہ قطرہ ہونے سے پہلے نجس پانی سے متصل ہو جائے تو نجس پانی کو پلک کر دیتا ہے اور بہتر یہ ہے کہ فوارے کا پانی نجس پانی سے مخلوط ہو جائے۔
21 ۔ اگر کسی نجس چیز کو ایسے نل کے نیچے دھوئیں جو ایسے (پاک) پانی سے ملا ہوا ہو جس کی مقدار ایک کُر کے برابر ہو اور اس چیز کی دھوون اس پانی سے متصل ہو جائے۔ جس کی مقدار کرُ کے برابر ہو تو وہ دھوون پاک ہوگی۔ بشرطیکہ اس میں نجاست کی بُو، رنگ یا ذائقہ پیدا نہ ہو اور نہ ہی اس میں عین نجاست کی آمیزش ہو۔
22 ۔ اگر کُر پانی کا کچھ حصہ جم کر برف بن جائے اور کچھ حصہ پانی کی شکل میں باقی بچے جس کی مقدار ایک کُر سے کم ہو تو جونہی نجاست اس پانی کو چھوئے گی وہ نجس ہو جائے گا اور برف پگھلنے پر جو پانی سے بنے گا وہ بھی نجس ہوگا۔
23 ۔ اگر پانی کی مقدار ایک کُر کے برابر ہو اور بعد میں شک ہو کہ آیا اب بھی کُر کے برابر ہے یا نہیں تو اس کی حیثیت ایک کُر پانی ہی کی ہوگی۔ یعنی وہ نجاست کو بھی پاک کرے گا اور نجاست کے اتصال سے نجس بھی نہیں ہوگا۔اس کے برعکس جو پانی کُر سے کم تھا اور اگر اس کے متعلق شک ہو کہ اب اس کی مقدار ایک کُر کے برابر ہوگئی ہے یا نہیں تو اسے ایک کُر سے کم ہی سمجھا جائے گا۔
24 ۔ پانی کا ایک کُر کے برابر ہونا دو طریقوں سے ثابت ہوسکتا ہے۔ (اول) انسان کو خود اس بارے میں یقین یا اطمینان ہو (دوم) دو عادل مرد اس بارے میں خبر دیں۔
25 ۔ ایسے پانی کو قلیل پانی کہتے ہیں جو زمین سے نہ ابلے اور جس کی مقدار ایک کُر سے کم ہو۔
26 ۔ جب قلیل پانی کسی نجس چیز پر گرے یا کوئی نجس چیز اس پر گرے تو پانی نجس ہوجائے گا۔ البتہ اگر پانی نجس چیز پر زور سے گرے تو اس کا جتنا حصہ اس نجس چیز سے ملے گا نجس ہو جائے گا لیکن باقی پاک ہوگا۔
27 ۔ جو قلیل پانی کسی چیز پر عَین نجاست دور کرنے کے لئے ڈالا جائے وہ نجاست سے جدا ہونے کے بعد نجس ہو جاتا ہے۔ اور اسی طرح وہ قلیل پانی جو عین نجاست کے الگ ہوجانے کے بعد نجس چیز کو پاک کرنے کے لئے اس پر ڈالا جائے اس سے جدا ہو جانے کے بعد بنا بر احتیاط لازم مطلقاً نجس ہے۔
28 ۔ جس قلیل پانی سے پیشاب یا پاخانے کے مخارج دھوئے جائیں وہ اگر کسی چیز کو لگ جائے تو پانچ شرائط کے ساتھ اسے نجس نہیں کرے گا۔
(اول) پانی میں نجاست کی بُو، رنگ یا ذائقہ پیدا نہ ہوا ہو۔ (دوم) باہر سے کوئی نجاست اس سے نہ آملی ہو۔ (سوم) کوئی اور نجاست (مثلاً خون) پیشاب یا پاخانے کے ساتھ خارج نہ ہوئی ہو۔ (چہارم) پاخانے کے ذرے پانی میں دکھائی نہ دیں (پنجم) پیشاب یا پاخانے کے مخارج پر معمول سے زیادہ نجاست نہ لگی ہو۔
جاری پانی وہ ہے جو زمین سے اُبلے اور بہتا ہو۔ مثلاً چشمے کا پانی۔
29 ۔ جاری پانی اگرچہ کُرسے کم ہی کیوں نہ ہو نجاست کے آملنے سے تب تک نجس نہیں ہوتا جب تک نجاست کی وجہ سے اس کی بُو، رنگ یا ذائقہ بدل نہ جائے۔
30 ۔ اگر نجاست جاری پانی سے آملے تو اس کی اتنی مقدار جس کی بو، رنگ یا ذائقہ نجاست کی وجہ سے بدل جائے نجس ہے۔ البتہ اس پانی کا وہ حصہ جو چشمے سے متصل ہو پاک ہے خواہ اس کی مقدار کُر سے کم ہی کیوں نہ ہو۔ ندی کی دوسری طرف کا پانی اگر ایک کُر جتنا ہو یا اس پانی کے ذریعہ جس میں (بُو، رنگ یا ذائقے کی) کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی چشمے کی طرف کے پانی سے ملا ہوا ہو تو پاک ہے ورنہ نجس ہے۔
31 ۔ اگر کسی چشمے کا پانی جاری نہ ہو لیکن صورت حال یہ ہو کہ جب اس میں سے پانی نکال لیں تو دوبارہ اس کا پانی اُبل پڑتا ہو تو وہ پانی، جاری پانی کا حکم نہیں رکھتا یعنی اگر نجاست اس سے آملے تو نجس ہوجاتا ہے۔
32 ۔ ندی یا نہر کے کنارے کا پانی جو ساکن ہو اور جاری پانی سے متصل ہو، جاری پانی کا حکم نہیں رکھتا۔
33 ۔ اگر ایک ایسا چشمہ ہو جو مثال کے طور پر سردیوں میں اُبل پڑتا ہو لیکن گرمیوں میں اس کا جوش ختم ہوجاتا ہو اسی وقت جاری پانی کے حکم میں آئے گا۔ جب اس کا پانی اُبل پڑتا ہو۔
34 ۔ اگر کسی (تُرکی اور ایرانی طرز کے) حمام کے چھوٹے حوض کا پانی ایک کُر سے کم ہو لیکن وہ ایسے "وسیلئہ آب" سے متصل ہو جس کا پانی حوض کے پانی سے مل کر ایک کُر بن جاتا ہو تو جب تک نجاست کے مل جانے سے اس کی بُو، رنگ اور ذائقہ تبدیل نہ ہوجائے وہ نجس نہیں ہوتا۔
35 ۔ حمام اور بلڈنگ کے نلکوں کا پانی جا ٹنٹیوں اور شاوروں کے ذریعے بہتا ہے اگر اس حوض کے پانی سے مل کر جو ان نلکوں سے متصل ہو ایک کُر کے برابر ہو جائے تو نلکوں کا پانی بھی کُر پانی کے حکم میں شامل ہوگا۔
36 ۔ جو پانی زمین پر بہہ رہا ہو۔ لیکن زمین سے اُبل نہ رہا ہو اگر وہ ایک کُر سے کم ہو اور اس میں نجاست مل جائے تو وہ نجس ہو جائے گا لیکن اگر وہ پانی تیزی سے بہہ رہا ہو اور مثال کے طور پر اگر نجاست اس کے نچلے حصے کو لگے تو اس کا اوپر والا حصہ نجس نہیں ہوگا۔
37 ۔ جو چیز نجس ہو اور عین نجاست اس میں نہ ہو اس پر جہاں جہاں ایک بار بارش ہو جائے پاک ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر بدن اور لباس پیشاب سے نجس ہو جائے تو بنابر احتیاط ان پر دوبار بارش ہونا ضروری ہے مگر قالین اور لباس وغیرہ کا نچوڑنا ضروری نہیں ہے۔ لیکن ہلکی بوندا باندی کافی نہیں بلکہ اتنی بارش لازمی ہے کہ لوگ کہیں کہ بارش ہو رہی ہے۔
38 ۔ اگر بارش کا پانی عین نجس پر برسے اور پھر دوسری جگہ چھینٹے پڑیں لیکن عین نجاست اس میں شامل نہ ہو اور نجاست کی بُو، رنگ یا ذائقہ بھی اس میں پیدا نہ ہو تو وہ پانی پاک ہے۔ پس اگر بارش کا پانی خون پر برسنے سے چھینٹے پڑیں اور ان میں خون کے ذرات شامل ہوں یا خون کی بُو، رنگ یا ذائقہ پیدا ہوگیا ہو تو وہ پانی نجس ہوگا۔
39 ۔ اگر مکان کی اندرونی یا اوپری چھت پر عین نجاست موجود ہو تو بارش کے دوران جو پانی نجاست کو چھو کر اندرونی چھت سے ٹپکے یا پرنالے سے گرے وہ پاک ہے۔ لیکن جب بارش تھم جائے اور یہ بات علم میں آئے کہ اب جو پانی گر رہا ہے وہ کسی نجاست کو چھو کر آرہا ہے تو وہ پانی نجس ہوگا۔
40 ۔ جس نجس زمین پر بارش برس جائے وہ پاک ہوجاتی ہے اور اگر بارش کا پانی زمین پر بہنے لگے اور اندرونی چھت کے اس مقام پر جا پہنچے جو نجس ہے تو وہ جگہ بھی پاک ہو جائے گی بشرطیکہ ہنوز بارش ہو رہی ہو۔
41 ۔ نجس مٹی کے تمام اجزاء تک بارش کا مُطلَق پانی پہنچ جائے تو مٹی پاک ہوجائے گی۔
42 ۔ اگر بارش کا پانی ایک جگہ جمع ہو جائے خواہ ایک کُرسے کم ہی کیوں نہ ہو بارش برسنے کے وقت وہ (جمع شدہ پانی) کُر کا حکم رکھتا ہے اور کوئی نجس چیز اس میں دھوئی جائے اور پانی نجاست کی بُو، رنگ یا ذائقہ قبول نہ کرے تو وہ نجس چیز پاک ہو جائیگی۔
43 ۔اگر نجس زمین پر بچھے ہوئے پاک قالین (یادری) پر بارش برسے اور اس کا پانی برسنے کے وقت قالین سے نجس زمین پر پہنچ جائے تو قالین بھی نجس نہیں ہوگا اور زمین بھی پاک ہوجائے گی۔
44 ۔ ایک ایسے کنویں کا پانی جو زمین سے اُبلتا ہواگرچہ مقدار میں ایک کُر سے کم ہو نجاست پڑنے سے اس وقت تک نجس نہیں ہوگا۔ جب تک اس نجاست سے اس کی بُو، رنگ یا ذائقہ بدل نہ جائے۔ لیکن مستجب یہ ہے کہ بعض نجاستوں کے گرنے پر کنویں سے اتنی مقدار میں پانی نکال دیں جو مفصل کتابوں میں درج ہے۔
45 ۔ اگر کوئی نجاست کنویں میں گر جائے اور اس کے پانی کی بو، رنگ یا ذائقے کو تبدیل کر دے تو جب کنویں کے پانی میں پیدا شدہ یہ تبدیلی ختم ہو جائے گی پانی پاک ہو جائے گا اور بہتر یہ ہے کہ یہ پانی کنویں سے اُبلنے والے پانی میں مخلوط ہو جائے۔
46 ۔ اگر بارش کا پانی ایک گڑھے میں جمع ہوجائے اور اس کی مقدار ایک کُرسے کم ہو تو بارش تھمنے کے بعد نجاست کی آمیزش سے وہ پانی نجس ہوجائے گا۔
47 ۔ مضاف پانی (جس کے معنی مسئلہ نمبر 15 میں بیان ہوچکے ہیں) کسی نجس چیز کو پاک نہیں کرتا۔ ایسے پانی سے وضو اور غسل کرنا بھی باطل ہے۔
48 ۔ مضاف پانی کی مقدار اگرچہ ایک کُر کے برابر ہو اگر اس میں نجاست کا ایک ذرہ بھی پڑجائے تو نجس ہو جاتا ہے۔ البتہ اگر ایسا پانی کسی نجس چیز پر زور سے گرے تو اس کا جتنا حصہ نجس چیز سے متصل ہوگا۔ نجس ہوجائے گا اور جو متصل نہیں ہوگا وہ پاک ہوگا مثلاً اگر عرق گلاب کو گلاب دان سے نجس ہاتھ پر چھڑ کا جائے تو اس کا جتنا حصہ ہاتھ کو لگے گا نجس ہوگا اور جو نہیں لگے گا وہ پاک ہوگا۔
49 ۔ اگر وہ مُضاف پانی جو نجس ہو ایک کُر کے برابر پانی یا جاری پانی سے یوں مل جائے کہ پھر اسے مضاف پانی نہ کہا جاسکے تو وہ پاک ہو جائے گا۔
50 ۔ اگر ایک پانی مطلق تھا اور بعد میں اس کے بارے میں یہ معلوم نہ ہو کہ مضاف ہو جانے کی حد تک پہنچا ہے۔ انہیں تو وہ مطلق پانی متصور ہوگا یعنی نجس چیز کو پاک کرے گا اور اس سے وضو اور غسل کرنا بھی صحیح ہوگا اور اگر پانی مضاف تھا اور یہ معلوم نہ ہو کہ وہ مطلق ہوا یا نہیں تو وہ مضاف متصور ہوگا یعنی کسی نجس چیز کو پاک نہیں کرے گا اور اس سے وضو اور غسل کرنا بھی باطل ہوگا۔
51 ۔ ایسا پانی جس کے بارے میں یہ معلوم نہ ہو کہ مطلق ہے یا مضاف، نجاست کو پاک نہیں کرتا اور اس سے وضو اور غسل کرنا بھی باطل ہے۔ جونہی کوئی نجاست ایسے پانی سے آملتی ہے تو احتیاط لازم کی بنا پر وہ نجس ہو جاتا ہے خواہ اس کی مقدار ایک کُر ہی کیوں نہ ہو۔
52 ۔ ایسا پانی جس میں خون یا پیشاب جیسی عین نجاست آپڑے اور اس کی بو، رنگ یا ذائقے کو تبدیل کر دے نجس ہوجاتا ہے خواہ وہ کُر کے برابر یا جاری پانی ہی کیوں نہ ہو۔ تاہم اگر اس پانی کی بُو، رنگ یا ذائقہ کسی ایسی نجاست سے تبدیل ہوجائے جو اس سے باہر ہے مثلاً قریب پڑے ہوئے مُردار کی وجہ سے اس کی بُو بدل جائے تو احتیاط لازم کی بنا پر وہ نجس ہو جائے گا۔
53 وہ پانی جس میں عین نجاست مثلاً خون یا پیشاب گر جائے اور اس کی بُو، رنگ یا ذائقہ تبدیل کر دے اگر کُر کے برابر یا جاری پانی سے متصل ہو جائے یا بارش کا پانی اس پر برس جائے یا ہوا کی وجہ سے بارش کا پانی اس پر گرے یا بارش کا پانی اس دوران جب کہ بارش ہو رہی ہو پرنالے سے اس پر گرے اور جاری ہو جائے تو ان تمام صورتوں میں اس میں واقع شدہ تبدیلی زائل ہو جانے پر ایسا پانی پاک ہوجاتا ہے لیکن قول اقوی کی بنا پر ضروری ہے کہ بارش کا پانی یا کُر پانی یا جاری پانی اس میں مخلوط ہوجائے۔
54 ۔ اگر کسی نجس چیز کو بہ مقدار کر پانی جلدی پانی میں پاک کیا جائے تو وہ پانی جو باہر نکالنے کے بعد اس سے ٹپکے پاک ہوگا۔
55 ۔ جو پانی پہلے پاک ہو اور یہ علم نہ ہو کہ بعد میں نجس ہوا یا نہیں، وہ پاک ہے اور جو پانی پہلے نجس ہو اور معلوم نہ ہو کہ بعد میں پاک ہوا یا نہیں، وہ نجس ہے۔
56 ۔ کُتے، سُوّر اور غیر کتابی کافر کا جھوٹا بلکہ احتیاط مُستجب کے طور پر کتابی کافر کا جھوٹا بھی نجس ہے اور اس کا کھانا پینا حرام ہے مگر حرام گوشت جانور کا جھوٹا پاک ہے اور بلی کے علاوہ اس قسم کے باقی تمام جانوروں کے جھوٹے کا کھانا اور پینا مکروہ ہے۔
57 ۔ انسان پر واجب ہے کہ پیشاب اور پاخانہ کرتے وقت اور دوسرے مواقع پر اپنی شرمگاہوں کو ان لوگوں سے جا بالغ ہوں خواہ وہ ماں اور بہن کی طرح اس کے محرم ہی کیوں نہ ہوں اور اسی طرح دیوانوں اور ان بچوں سے جو اچھے بُرے کی تمیز رکھتے ہوں چھپا کر رکھے۔ لیکن بیوی اور شوہر کے لئے اپنی شرمگاہوں کو ایک دوسرے سے چھپانا لازم نہیں۔
58 ۔ اپنی شرمگاہوں کو کسی مخصوص چیز سے چھپانا لازم نہیں مثلاً اگر ہاتھ سے بھی چھپالے تو کافی ہے۔
59 ۔ پیشاب یا پاخانہ کرتے وقت احتیاط لازم کی بنا پر بدن کا اگلا حصہ یعنی پیٹ اور سینہ قبلے کی طرف نہ ہو اور نہ ہی پشت قبلے کی طرف ہو۔
60 ۔ اگر پیشاب یا پاخانہ کرتے وقت کسی شخص کے بدن کا اگلا حصہ رو بہ قبلہ یا پشت بقبلہ ہو اور وہ اپنی شرمگاہ کو قبلے کی طرف سے موڑ لے تو یہ کافی نہیں ہے اور اگر اس کے بدن کا اگلا حصہ رو بہ قبلہ یا پشت بہ قبلہ نہ ہو تو احتیاط یہ ہے کہ شرمگاہ کو رو بہ قبلہ یا پشت بہ قبلہ نہ موڑے۔
61 ۔ احتیاط مُستجب یہ ہے کہ اِستبراَ کے موقع پر، جس کے احکام بعد میں بیان کئے جائیں گے، نیز اگلی اور پچھلی شرم گاہوں کو پاک کرتے وقت بدن کا اگلا حصہ رو بہ قبلہ اور پشت بہ قبلہ نہ ہو۔
62 ۔ اگر کوئی شخص اس لئے کہ نامحرم اسے نہ دیکھے رو بہ قبلہ یا پشت بہ قبلہ بیٹھنے پر مجبور ہو تو احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ پشت بہ قبلہ بیٹھ جائے اگر پشت بہ قبلہ بیٹھنا ممکن نہ ہو تو رو بہ قبلہ بیٹھ جائے۔ اگر کسی اور وجہ سے رو بہ قبلہ یا پشت بہ قبلہ بیٹھنے پر مجبور ہو تو بھی یہی حکم ہے۔
63 ۔ احتیاط مُستجب یہ ہے کہ بچے کو رفع حاجت کے لئے رو بہ قبلہ یا پشت بہ قبلہ نہ بٹھائے۔ ہاں اگر بچہ خود ہی اس طرح بیٹھ جائے تو روکنا واجب نہیں۔
64 ۔ چار جگہوں پر رفع حاجت حرام ہے۔
1 ۔ بند گلی میں جب کہ وہاں رہنے والوں نے اس کی اجازت نہ دے رکھی ہو۔ 2 ۔ اس قطعہ زمین میں جو کسی کی نجی ملکیت ہو جب کہ اس نے اس رفع حاجت کی اجازت نہ دے رکھی ہو۔
3 ۔ ان جگہوں میں جو مخصوص لوگوں کے لئے وقف ہوں مثلاً بعض مدرسے 4 ۔ مومنین کی قبروں کے پاس جب کہ اس فعل سے ان کی بے حرمتی ہوتی ہو۔ یہی صورت ہر اس جگہ کی ہے جہاں رفع حاجت دین یا مذہب کے مقدسات کی توہین کا موجب ہو۔
65 ۔ تین صورتوں میں مقعد (پاخانہ خارج ہونے کا مقام) فقط پانی سے پاک ہوتا ہے۔
1 ۔ پاخانے کے ساتھ کوئی اور نجاست (مثلاً خون) باہر آئی ہو۔
2 ۔ کوئی بیرونی نجاست مقعد پر لگ گئی ہو۔
3 ۔مقعد کا اطراف معمول سے زیادہ آلودہ ہوگیا ہو۔
ان تین صورتوں کے علاوہ مقعد کو یا تو پانی سے دھویا جاسکتا ہے اور یا اس طریقے کے مطابق جو بعد میں بیان کیا جائے گا کپڑے یا پتھر وغیرہ سے بھی پاک کیا جاسکتا ہے اگرچہ پانی سے دھونا بہتر ہے۔
66 ۔ پیشاب کا مخرج پانی کے علاوہ کسی چیز سے پاک نہیں ہوتا۔ اگر پانی کُر کے برابر ہو یا جاری ہو تو پیشاب کرنے کے بعد ایک مرتبہ دھونا کافی ہے۔ لیکن اگر قلیل پانی سے دھویا جائے تو احتیاط مُستحب کی بنا پر دو مرتبہ دھونا چاہئے اور بہتر یہ ہے کہ تین مرتبہ دھوئیں۔
67 ۔ اگر مقعد کو پانی سے دھویا جائے تو ضروری ہے کہ پاخانے کا کوئی زرہ باقی نہ رہے البتہ رنگ یا بُو باقی رہ جائے تو کوئی حرج نہیں اور اگر پہلی بار ہی وہ مقام یوں دُھل جائے کہ پاخانے کا کوئی ذرہ باقی نہ رہے تو دوبارہ دھونا لازم نہیں۔
68 ۔ پتھر، ڈھیلا، کپڑا یا انہی جیسی دوسری چیزیں اگر خشک اور پاک ہوں تو ان سے مقعد کو پاک کیا جاسکتا ہے اور اگر ان میں معمولی نمی بھی ہو جو مقعد تک نہ پہنچے تو کوئی حرج نہیں۔
69 ۔ اگر مقعد کو پتھر یا ڈھیلے یا کپڑے سے ایک مرتبہ بالکل صاف کر دیا جائے تو کافی ہے۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ تین مرتبہ صاف کیا جائے اور (جس چیز سے صاف کیا جائے اس کے) تین ٹکڑے بھی ہوں اور اگر تین ٹکڑوں سے صاف نہ ہو تو اتنے مزید ٹکڑوں کا اضافہ کرنا چاہئے کہ مقعد بالکل صاف ہو جائے۔ البتہ اگر اتنے چھوٹے ذرے باقی رہ جائیں جو نظر نہ آئیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔
70 ۔ مقعد کو ایسی چیزوں سے پاک کرنا حرام ہے جن کا احترام لازم ہو (مثلا کاپی یا اخبار کا ایسا کاغذ جس پر خدا تعالی اور پیغمبروں کے نام لکھے ہوں) اور مقعد کے ہڈی یا گوبر سے پاک ہونے میں اشکال ہے۔
71 ۔ اگر ایک شخص کو شک ہو کہ مقعد پاک کیا ہے یا نہیں تو اس پر لازم ہے کہ اسے پاک کرے اگرچہ پیشاب یا پاخانہ کرنے کے بعد وہ یمیشہ متعلقہ مقام کو فوراً پاک کرتا ہو۔
72 ۔ اگر کسی شخص کو نماز کے بعد شک گزرے کہ نماز سے پہلے پیشاب یا پاخانے کا مخرج پاک کیا تھا یا نہیں تو اس نے جو نماز ادا کی ہے وہ صحیح ہے لیکن آئندہ نمازوں کے لئے اس (متعلقہ مقامات کو) پاک کرنا ضروری ہے۔
73 ۔ اِستِبرَاء ایک مستجب عمل ہے جو مرد پیشاب کرنے کے بعد اس غرض سے انجام دیتے ہیں تاکہ اطمینان ہو جائے کہ اب پیشاب نالی میں باقی نہیں رہا۔ اس کی کئی ترکیبیں ہیں جن میں سے بہترین یہ ہے کہ پیشاب سے فارغ ہوجانے کے بعد اگر مقعد نجس ہوگیا ہو تو پہلے اسے پاک کرے اور پھر تین دفعہ بائیں ہاتھ کی درمیانی انگلی کے ساتھ مقعد سے لے کر عضو تناسل کی جڑ تک سونتے اور اس کے بعد انگوٹھے کو عضو تناسل کے اوپر اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کو اس کے نیچے رکھے اور تین دفعہ سپاری تک سونتے اور پھر تین دفعہ سپاری کو جھٹکے۔
74 ۔ وہ رطوبت جو کبھی کبھی عورت سے مُلاَعَبَت یا ہنسی مذاق کرنے کے بعد مرد کے آلہ تناسل سے خارج ہوتی ہے اسے مَذِی کہتے ہیں اور وہ پاک ہے۔ علاوہ ازیں وہ رطوبت جو کبھی کبھی مَنِی کے بعد خارج ہوتی ہے۔ جیسے وذی کہا جاتا ہے یا وہ رطوبت جو بعض اوقات پیشاب کے بعد نکلتی ہے اور جسے ودی کہا جاتا ہے پاک ہے بشرطیکہ اس میں پیشاب کی آمیزش نہ ہو۔ مزید یہ کہ جب کسی شخص نے پیشاب کے بعد اِستِبراء کیا ہو اور اس کے بعد رطوبت خارج ہو جس کے بارے میں شک ہو کہ وہ پیشاب ہے یا مذکورہ بالا تین رطوبتوں میں سے کوئی ایک تو وہ بھی پاک ہے۔
75 ۔ اگر کسی شخص کو شک ہو کہ اِستِبراء کیا ہے یا نہیں اور اس کے پیشاب کے مخرج سے رطوبت خارج ہو جس کے بارے میں وہ نہ جانتا ہو کہ پاک ہے یا نہیں تو وہ نجس ہے۔ نیز یہ کہ اگر وہ وضو کر چکا ہو تو وہ بھی باطل ہوگا۔ لیکن اگر اسے اس بارے میں شک ہو کہ جو اِستِبراء اس نے کیا تھا وہ صحیح تھا یا نہیں اور اس دوران رطوبت خارج ہو اور وہ نہ جانتا ہے کہ وہ رطوبت پاک ہے یا نہیں تو وہ پاک ہوگی اور اس کا وضو بھی باطل نہ ہوگا۔
76 ۔ اگر کسی شخص نے اِستِبراء نہ کیا ہو اور پیشاب کرنے کے بعد کافی وقت گزر جانے کی وجہ سے اسے اطمینان ہو کہ پیشاب نالی میں باقی نہیں رہا تھا اور اس دوران رطوبت خارج ہو اور اسے شک ہو کہ پاک ہے یا نہیں تو وہ رطوبت پاک ہوگی اور اس سے وضو بھی باطل نہ ہوگا۔
77 ۔ اگر کوئی شخص پیشاب کے بعد استبراء کرکے وضو کرلے اور اس کے بعد رطوبت خارج ہو جس کے بارے میں اس کا خیال ہو کہ پیشاب ہے یا منی تو اس پر واجب ہے کہ احتیاطاً غسل کرے اور وضو بھی کرے البتہ اگر اس نے پہلے وضو نہ کیا ہو تو وضو کر لینا کافی ہے۔
78 ۔ عورت کے لئے پیشاب کے بعد استبراء نہیں ہے۔ پس اگر کوئی رطوبت خارج ہو اور شک ہو کہ یہ پیشاب ہے یا نہیں تو وہ رطوبت پاک ہوگی اور اس کے وضو اور غسل کو بھی باطل نہیں کرے گی۔
79 ۔ ہر شخص کے لئے مستحب ہے کہ جب بھی رفع حاجت کے لئے جائے تو ایسی جگہ بیٹھے جہاں اسے کوئی نہ دیکھے۔ اور بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت پہلے بایاں پاوں اندر رکھے اور نکلتے وقت پہلے دایاں پاوں باہر رکھے اور یہ بھی مستحب ہے کہ رفع حاجت کے وقت (ٹوپی، دوپٹے وغیرہ سے) سر ڈھانپ کر رکھے اور بدن کا بوجھ بائیں پاوں پر ڈالے۔
80 ۔ رفع حاجت کے وقت سورج اور چاند کی طرف منہ کرکے بیٹھنا مکروہ ہے لیکن اگر اپنی شرم گاہ کو کسی طرح ڈھانپ لے تو مکروہ نہیں ہے۔ علاوہ ازیں رفع حاجت کے لئے ہوا کہ رُخ کے بالمقابل نیز گلی کوچوں، راستوں، مکان کے دروازوں کے سامنے اور میوہ دار درختوں کے نیچے بیٹھنا بھی مکروہ ہے اور اس حالت میں کوئی چیز کھانا یا زیادہ وقت لگانا یا دائیں ہاتھ سے طہارت کرنا بھی مکروہ ہے اور یہی صورت باتیں کرنے کی بھی ہے لیکن اگر مجبوری ہو یا ذکر خدا کرے تو کوئی حرج نہیں۔
81 ۔ کھڑے ہو کر پیشاب کرنا اور سخت زمین پر یا جانوروں کے بلوں میں یا پانی میں بالخصوص ساکن پانی میں پیشاب کرنا مکروہ ہے۔
82 ۔ پیشاب اور پاخانہ روکنا مکروہ ہے اور اگر بدن کے لئے مکمل طور پر مضر ہو تو حرام ہے۔
83 ۔ نماز سے پہلے، سونے سے پہلے، مباشرت کرنے سے پہے اور انزال منی کے بعد پیشاب کرنا مستحب ہے۔
نجاسات
84 ۔ دس چیزیں نجس ہیں:
1 ۔ پیشاب 2 ۔ پاخانہ 3 ۔ منی 4 ۔ مُردار۔ خون " 6 ، 7" کتا اور سور 8 ۔ کافر 9 ۔ شراب 10 ۔نجاست خور حیوان کا پسینہ۔
85 ۔ انسان کا اور ہر اس حیوان کا جس کا گوشت حرام ہے اور جس کا خون جہندہ ہے یعنی اگر اس کی رگ کاٹی جائے تو خون اچھل کر نکلتا ہے، پیشاب اور پاخانہ نجس ہے۔ لیکن ان حیوانوں کا پاخانہ پاک ہے جن کا گوشت حرام ہے مگر ان کا خون اچھل کر نہیں نکلتا، مثلاً وہ مچھلی جس کا گوشت حرام ہے اور اسی طرح گوشت نہ رکھنے والے چھوٹے حیوانوں مثلاً مکھی، مچھر (کھٹمل اور پسو) کا فُضلہ یا آلائش بھی پاک ہے لیکن حرام گوشت حیوان کہ جو اچھلنے والا خون نہ رکھتا ہو احتیاط لازم کی بنا پر اس کے پیشاب سے بھی پرہیز کرنا ضروری ہے۔
86 ۔ جن پرندوں کا گوشت حرام ہے ان کا پیشاب اور فضلہ پاک ہے لیکن اس سے پرہیز بہتر ہے۔
87 ۔ نجاست خور حیوان کا پیشاب اور پاخانہ نجس ہے۔ اور اسی طرح اس بھیٹر کے بچے کا پیشاب اور پاخانہ جس نے سورنی کا دودھ پیا ہو نجس ہے جس کی تفصیل بعد میں آئے گی۔ اسی طرح اس حیوان کا پیشاب اور پاخانہ بھی نجس ہے جس سے کسی انسان نے بدفعلی کی ہو۔
88 ۔ انسان کی اور ہر اس جانور کی منی نجس ہے جس کا خون (ذبح ہوتے وقت اس کی شہ رگ سے)اچھل کر نکلے۔ اگرچہ احتیاط لازم کی بنا پر وہ حیوان حلال گوشت ہی کیوں نہ ہو۔
89 ۔ انسان کی اور اچھلنے والا خون رکھنے والے ہر حیوان کی لاش نجس ہے خواہ وہ (قدرتی طور پر) خود مرا ہو یا شرعی طریقے کے علاوہ کسی اور طریقے سے ذبح کیا گیا ہو۔
مچھلی چونکہ اچھلنے والا خون نہیں رکھتی اس لئے پانی میں مر جائے تو بھی پاک ہے۔
90 ۔ لاش کے وہ اجزاء جن میں جان نہیں ہوتی پاک ہیں مثلاً پشم، بال، ہڈیاں اور دانت۔
91 ۔ جب کسی انسان یا جہندہ خون والے حیوان کے بدن سے اس کی زندگی کے دوران میں گوشت یا کوئی دوسرا ایسا حصہ جس میں جان ہو جدا کر لیا جائے تو وہ نجس ہے۔
92 ۔ اگر ہونٹوں یا بدن کی کسی اور جگہ سے باریک سی تہہ (پیڑی) اکھیڑ لی جائے تو وہ پاک ہے۔
93 ۔ مُردہ مرغی کے پیٹ سے جو انڈا نکلے وہ پاک ہے لیکن اس کا چلکھا دھو لینا ضروری ہے۔
94 ۔ اگر بھیڑیا بکری کا بچہ (میمنا) گھاس کھانے کے قابل ہونے سے پہلے مرجائے تو وہ نپیر مایا جو اس کے شیردان میں ہوتا ہے پاک ہے لیکن شیردان باہر سے دھو لینا ضروری ہے۔
95 ۔ بہنے والی دوائیاں، عطر، روغن (تیل،گھی) جوتوں کی پالش اور صابن جنہیں باہر سے در آمد کیا جاتا ہے اگر ان کی نجاست کے بارے میں یقین نہ ہو تو پاک ہیں۔
96 ۔ گوشت، چربی اور چمڑا جس کے بارے میں احتمال ہو کہ کسی ایسے جانور کا ہے جسے شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہے پاک ہے۔ لیکن اگر یہ چیزیں کسی کافر سے لی گئی ہوں یا کسی ایسے مسلمان سے لی گئی ہوں۔ جس نے کافر سے لی ہوں اور یہ تحقیق نہ کی ہو کہ آیا یہ کسی ایسے جانور کی ہیں جسے شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہے یا نہیں تو ایسے گوشت اور چربی کا کھانا حرام ہے البتہ ایسے چمڑے پر نماز جائز ہے۔ لیکن اگر یہ چیزیں مسلمانوں کے بازار سے یا کسی مسلمان سے خریدی جائیں اور یہ معلوم نہ ہو کہ اس سے پہلے یہ کسی کافر سے خریدی گئی تھیں یا احتمال اس بات کا ہو کہ تحقیق کر لی گئی ہے تو خواہ کافر سے ہی خریدی جائیں اس چمڑے پر نماز پڑھنا اور اس گوشت اور چربی کا کھانا جائز ہے۔
97 ۔ انسان کا اور خون جہندہ رکھنے والے ہر حیوان کا خون نجس ہے۔ پس ایسے جانوروں مثلاً مچھلی اور مچھر کا خون جو اچھل کر نہیں نکلتا پاک ہے۔
98 ۔ جن جانوروں کا گوشت حلال ہے اگر انہیں شرعی طریقے سے ذبح کیا جائے اور ضروری مقدار میں اس کا خون خارج ہو جائے تو جو خون بدن میں باقی رہ جائے وہ پاک ہے لیکن اگر (نکلنے والا) خون جانور کے سانس کھینچنے سے یا اس کا سر بلند جگہ پر ہونے کی وجہ سے بدن میں پلٹ جائے تو وہ نجس ہوگا۔
99 مرغی کے جس انڈے میں خون کا ذرہ ہو اس سے احتیاط مستحب کی بنا پر پرہیز کرنا چاہئے۔ لیکن اگر خون زردی میں ہو تو جب تک اس کا نازک پردہ پھٹ نہ جائے سفیدی بغیر اشکال کے پاک ہے۔
100 ۔ وہ خون جو بعض اوقات چوائی کرتے ہوئے نظر آتا ہے نجس ہے اور دودھ کو بھی نجس کر دیتا ہے۔
101 ۔ اگر دانتوں کی ریخوں سے نکلنے والا خون لُعاب دہن سے مخلوط ہو جانے پر ختم ہو جائے تو اس لعاب سے پرہیز لازم نہیں ہے۔
102 ۔ جو خون چوٹ لگنے کی وجہ سے ناخن یا کھال کے نیچے جم جائے اگر اس کی شکل ایسی ہو کہ لوگ اسے خون نہ کہیں تو وہ پاک اور اگر خون کہیں اور وہ ظاہر ہو جائے تو نجس ہوگا۔ ایسی صورت میں جب کہ ناخن یا کھال میں سوراخ ہوجائے اگر خون کا نکالنا اور وضو یا غسل کے لئے اس مقام کا پاک کرنا بہت زیادہ تکلیف کا باعث ہو تو تیمم کر لینا چاہئے۔
103 ۔ اگر کسی شخص کو یہ پتہ نہ چلے کہ کھال کے نیچے خون جم گیا ہے یا چوٹ لگنے کی وجہ سے گوشت نے ایسی شکل اختیار کر لی ہے تو وہ پاک ہے۔
104 ۔ اگر کھانا پکاتے ہوئے خون کا ایک ذرہ بھی اس میں گر جائے تو سارے کا سارا کھانا اور برتن احتیاط لازم کی بنا پر نجس ہو جائے گا۔ ابال، حرارت اور آگ انہیں پاک نہیں کر سکتے۔
105 ۔ ریم یعنی وہ زرد مواد جو زخم کی حالت بہتر ہونے پر اس کے چاروں طرف پیدا ہو جاتا ہے اس کے متعلق اگر یہ معلوم نہ ہو کہ اس میں خون ملا ہوا ہے تو وہ پاک ہوگا۔
کتا اور سور جو زمین پر رہتے ہیں۔ حتی کے ان کے بال، ہڈیاں، پنجے، ناخن اور رطوبتیں بھی نجس ہیں البتہ سمندری کتا اور سور پاک ہیں۔
107 ۔ کافر یعنی وہ شخص جا باری تعالی کے وجود یا اس کی وحدانیت کا منکر ہو نجس ہے۔ اور اسی طرح غلات (یعنی وہ لوگ جو ائمہ علیہم السلام میں سے کسی کو خدا کہیں یا یہ کہیں کہ خدا، امام میں سما گیا ہے) اور خارجی و ناصبی (وہ لوگ جو ائمہ علیہم السلام سے بیر اور بغض کا اظہار کریں) بھی نجس ہیں۔
اس طرح وہ شخص جو کسی نبی کی نبوت یا ضروریات دین (یعنی وہ چیزیں جنہیں مسلمان دین کا جز سمجھتے ہیں مثلاً نماز اور روزے) میں سے کسی ایک کا یہ جانتے ہوئے کہ یہ ضروریات دین ہیں، منکر ہو۔ نیز اہل کتاب (یہودی، عیسائی اور مجوسی) بھی جو خاتم الانبیاء حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا اقرار نہیں کرتے مشہور روایات کی بنا پر نجس ہیں اگرچہ ان کی طہارت کا حکم بعید نہیں لیکن اس سے بھی پرہیز بہتر ہے۔
108 ۔ کافر کا تمام بدن حتی کہ اس کے بال، ناخن اور رطوبتیں بھی نجس ہیں۔
109 ۔ اگر کسی نابالغ بچے کے ماں باپ یا دادا دادی کافر ہوں تو وہ بچہ بھی نجس ہے۔ البتہ اگر وہ سوجھ بوجھ رکھتا ہو، اسلام کا اظہار کرتا ہو اور اگر ان میں سے (یعنی ماں باپ یا دادا دادی میں سے) ایک بھی مسلمان ہو تو اس تفصیل کے مطابق جو مسئلہ 217 میں آئے گی بچہ پاک ہے۔
110 ۔ اگر کسی شخص کے متعلق یہ علم نہ ہو کہ مسلمان ہے یا نہیں اور کوئی علامت اس کے مسلمان ہونے کی نہ ہو تو وہ پاک سمجھا جائے گا لیکن اس پر اسلام کے دوسرے احکامات کا اطلاق نہیں ہوگا۔ مثلاً نہ ہی وہ مسلمان عورت سے شادی کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جاسکتا ہے۔
111 ۔ جو شخص (خانوادہ رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے) بارہ اماموں میں سے کسی ایک کو بھی دشمنی کی بنا پر گالی دے وہ نجس ہے۔
112 ۔ شراب نجس ہے۔ اور احتیاط مستجب کی بنا پر ہر وہ چیز بھی جو انسان کو مست کر دے اور مائع ہو نجس ہے۔ اور اگر مائع نہ ہو جیسے بھنگ اور چرس تو وہ پاک ہے خواہ اس میں ایسی چیز ڈال دیں جو مائع ہو۔
113 ۔ صنعتی الکحل، جو دروازے، کھڑکی، میز یا کرسی وغیرہ رنگنے کے لئے استعمال ہوتی ہے، اس کی تمام قسمیں پاک ہیں۔
114 ۔ اگر انگور اور انگور کا رس خود بخود یا پکانے پر خمیر ہو جائے تو پاک ہے لیکن اس کا کھانا پیینا حرام ہے۔
115 ۔ کھجور، منقی،کشمش اور ان کا شیرہ خواد خمیر ہو جائیں تو بھی پاک ہیں اور ان کا کھانا حلال ہے۔
116 ۔ "فقاع" جو کہ جو سے تیار ہوتی ہے اور اسے آب جو کہتے ہیں حرام ہے لیکن اس کا نجس ہونا اشکال سے خالی نہیں ہے۔ اور غیر فقاع یعنی طبی قواعد کے مطابق حاصل کردہ "آپ جو" جسے "ماء الشعیر" کہتے ہیں، پاک ہے۔
117 ۔ نجاست کھانے والے اونٹ کا پسینہ اور ہر اس حیوان کا پسینہ جسے انسانی نجاست کھانے کی عادت ہو نجس ہے۔
118 ۔ جو شخص فعل حرام سے جُنب ہوا ہو اس کا پسینہ پاک ہے لیکن احتیاط مستحب کی بنا پر اس کے ساتھ نماز نہ پڑھی جائے اور حالت حیض میں بیوی سے جماع کرنا جبکہ اس حالت کا علم ہو حرام سے جنب ہونے کا حکم رکھتا ہے۔
119 ۔ اگر کوئی شخص ان اوقات میں بیوی سے جماع کرے جن میں جماع حرام ہے (مثلا رمضان المبارک میں دن کے وقت) تو اس کا پسینہ حرام سے جنب ہونے والے کے پسینے کا حکم نہیں رکھتا۔
120 ۔ اگر حرام سے جنب ہونے والا غسل کے بجائے تیمم کرے اور تیمم کے بعد اسے پسینہ آجائے تو اس پسینے کا حکم وہی ہے جو تیمم سے قبل والے پسینہ کا تھا۔
121 ۔ اگر کوئی شخص حرام سے جنب ہو جائے اور پھر اس عورت سے جماع کرے جو اس کے لئے حلال ہے تو اس کے لئے احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس پسینے کے ساتھ نماز نہ پڑھے اور اگر پہلے اس عورت سے جماع کرے جو حلال ہو اور بعد میں حرام کا مرتکب ہو تو اس کا پسینہ حرام ہے جنب ہونے والے کے پسینے کا حکم نہیں رکھتا۔
122 ۔ ہر چیز کی نجاست تین طریقوں سے ثابت ہوتی ہے:
(اول) خود انسان کو یقین یا اطمینان ہو کہ فلاں چیز نجس ہے۔ اگر کسی چیز کے متعلق محض گمان ہو کہ نجس ہے تو اس سے پرہیز کرنا لازم نہیں۔ لہذا قہوہ خانوں اور ہوٹلوں میں جہاں لاپروا لوگ اور ایسے لوگ کھاتے پیتے ہیں جو نجاست اور طہارت کا لحاظ نہیں کرتے کھانا کھانے کی صورت یہ ہے کہ جب تک انسان کو اطمینان نہ ہو کہ جو کھانا اس کے لئے لایا گیا ہے وہ نجس ہے اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔
(دوم) کسی کے پاس کوئی چیز ہو اور وہ اس چیز کے بارے میں کہے کہ نجس ہے وہ شخص غلط بیانی نہ کرتا ہو مثلاً کسی شخص کی بیوی یا نوکر یا ملازمہ کہے کہ برتن یا کوئی دوسری چیز جو اس کے پاس ہے نجس ہے تو وہ نجس شمار ہوگی۔
(سوم) اگر دو عادل آدمی کہیں کہ ایک چیز نجس ہے تو وہ نجس شمار ہوگی بشرطیکہ وہ اس کے نجس ہونے کی وجہ بیان کریں۔
123 ۔ اگر کوئی شخص مسئلے سے عدم واقفیت کی بتا پر جان سکے کہ ایک چیز نجس ہے یا پاک مثلاً سے یہ علم نہ ہو کر چوہے کہ مینگنی پاک ہے یا نہیں تو اسے چاہئے کہ مسئلہ پوچھ لے۔ لیکن اگر مسئلہ جانتا ہو اور کسی چیز کے بارے میں اسے شک ہو کہ پاک ہے یا نہیں مثلاً اسے شک ہو کہ وہ چیز خون ہے یا نہیں یا یہ نہ جانتا ہو کہ مچھر کا خون ہے یا انسان کا توہ وہ چیز پاک شمار ہوگی اور اس کے بارے میں چھان بین کرنا یا پوچھنا لازم نہیں ۔
124 ۔ اگر کسی نجس چیز کے بارے میں شک ہو کہ (بعد میں) پاک ہوئی ہے یا نہیں تو وہ نجس ہے۔ اگر کسی پاک چیز کے بارے میں شک ہو کہ (بعد میں) نجس ہوگئی ہے یا نہیں تو وہ پاک ہے۔ اگر کوئی شخصں ان چیزوں کے نجس یا پاک ہونے کے متعلق پتہ چلا بھی سکتا ہو تو تحقیق ضروری نہیں ہے۔
125 ۔ اگر گوئی شخص جانتا ہو کہ جو دو برتن یا دو کپڑے وہ استعمال کرتا ہے ان میں سے ایک نجس ہو گیا ہے لیکن اسے یہ علم نہ ہو کہ ان میں سے کون سا نجس ہوا ہے تو دونوں اس اجتناب کرنا ضروری ہے اور مثال کے طور پر اگر یہ نہ جانتا ہو کہ خود اس کا کپڑا نجس ہوا ہے یا وہ کپڑا جو اس کے زیر استمال نہیں ہے اور کسی دوسرے شخص کی ملکیت ہے تو یہ ضروری نہیں کہ اپنے کپڑے سے اجتناب کرے۔
پاک چیز نجس کیسے ہوتی ہے؟
126 ۔ اگر کوئی پاک چیز کسی نجس چیز سے لگ جائے اور دونوں یا ان میں سے ایک اس قدر تر ہو کہ ایک کی ترسی دوسری تک پہنچ جائے تو پاک چیز بھی نجس ہو جائے گی اور اگر وہ اسی تری کے ساتھ کسی تیسری چیز کے ساتھ لگ جائے تو اسے بھی نجس کر دیتی ہے اور مشہور قول ہے کہ جو چیز نجس ہوگئی ہو وہ دوسری چیز کو بھی نجس کر دیتی ہے لیکن یکے بعد دیگرے کئی چیزوں پر نجاست کا حکم لگانا مشکل ہے بلکہ طہارت کا حکم لگانا قوت سے خالی نہیں ہے۔ مثلا گرادیاں ہاتھ پیشاب سے نجس ہو جائے اور پھر یہ تر ہاتھ بائیں ہاتھ کو چھو جائے تو وہ لباس بھی نجس ہو جائے گا لیکن اگر اب وہ تر لباس کسی دوسری تر چیز کو لگ جائے تو وہ چیز نجس نہیں ہوگی اور اگر تری اتنی کم ہو کہ دوسری چیز کو نہ لگے تو پاک چیز نجس نہیں ہوگی خواہ وہ عین نجس کو ہی کیوں نہ لگی ہو۔
127 ۔ اگر کوئی پاک چیز کسی نجس چیز کو لگ جائے اور ان دونوں یا کسی ایک کے تر ہونے کے متعلق کسی کو شک ہو تو پاک چیز نجس نہیں ہوتی۔
128 ۔ ایسی دو چیزیں جن کے بارے میں انسان کو علم نہ ہو کہ ان میں سے کون سی پاک ہے اور کون سی نجس اگر ایک پاک تر چیز ان میں سے کسی ایک چیز کو چھو جائے تو اس سے پرہیز کرنا ضروری نہیں ہے لیکن بعض صورتوں میں مثلاً دونوں چیزیں پہلے نجس تھیں یا یہ کہ کوئی پاک چیز تری کی حالت میں ان میں سے کسی ایک کو چھو جائے (تو اس سے اجتناب ضروری ہے)۔
129 ۔ اگر زمین، کپڑا یا ایسی دوسری چیزیں تر ہوں تو ان کے جس حصے کو نجاست لگے گی وہ نجس ہو جائے گا اور باقی حصہ پاک رہے گا۔ یہی حکم کھیرے اور خربوزے وغیرہ کے بارے میں ہے۔
130 ۔ جب شیرے، تیل، (گھی) یاایسی ہی کسی اور چیز کی صورت ایسی ہو کہ اگر اس کی کچھ مقدار نکال لی جائے تو اس کی جگہ خالی نہ رہے تو جوں ہی وہ ذرہ بھر بھی نجس ہوگا سارے کا سارے نجس ہو جائے گا اگر اس کی صورت ایسی ہو کہ نکالنے کے مقام پر جگہ خالی رہے اگر چہ بعد میں پر ہی ہو جائے تو صرف وہی حصہ نجس ہوگا جسے نجاست لگی ہے۔ لہذا اگر چوہے کی مینگنی اس میں گر جائے تو جہاں وہ مینگنی گری ہے وہ جگہ نجس اور باقی پاک ہوگی۔
131 ۔ اگر مکھی یا ایسا ہی کوئی اور جاندار ایک ایسی تر چیز پر بیٹھے جو نجس ہو اور بعد ازاں ایک تر پاک چیز پر جابیٹھے اور یہ علم ہو جائے کہ اس جاندار کے ساتھ نجاست تھی تو پاک چیز نجس ہو جائے گی اور اگر علم نہ ہو تا پاک رہے گی۔
132 ۔ اگر بدن کے کسی حصے پر پسینہ اور وہ حصہ نجس ہو جائے اور پھر پسینہ بہہ کر بدن کے دوسرے حصوں تک چلا جائے تو جہاں جہاں پسینہ بہے گا بدن کے وہ حصے نجس ہو جائیں گے لیکن اگر پسینہ آگے نہ بہے تو باقی بدن پاک رہے گا۔
133 ۔ جو بلغم ناک یا گلے سے خارج ہو اگر اس میں خون ہو تو بلغم میں جہاں خون ہوگا نجس اور باقی حصہ پاک ہوگا لہذا اگر یہ بلغم منہ یا ناک کے باہر لگ جائے تو بدن کے جس مقام کے بارے میں یقین ہو کہ نجس بلغم اس پر لگا ہے نجس ہے اور جس جگہ کے بارے میں شک ہو کہ وہاں بلغم کا نجاست والا حصہ پہنچا ہے یا نہیں تو وہ پاک ہوگا۔
134 ۔ اگر ایک ایسا لوٹا جس کے پیندے میں سوراخ ہو۔ نجس زمین پر رکھ دیا جائے اور اس سے پانی بہنا بند ہوجائے تو جو پانی اس کے نیچے جمع ہوگا، وہ اس کے اندر والے پانی سے مل کر یکجا ہو جائے تو لوٹے کا پانی نجس ہو جائے گا لیکن اگر لوٹے کا پانی تیزی کے ساتھ بہتا رہے تو نجس نہیں ہوگا۔
135 ۔ اگر کوئی چیز بدن میں داخل ہو کر نجاست سے جا ملے لیکن بدن سے باہر آنے پر نجاست آلود نہ ہو تو وہ چیز پاک ہے چنانچہ اگر اینما کا سامان یا اس کا پانی مقعد میں داخل کیا جائے یا سوئی، چاقو یا کوئی اور ایسی چیز بدن میں چبھ جائے اور باہر نکلنے پر نجاست آلود نہ ہو تو نجس نہیں ہے۔ اگر تھوک اور ناک کا پانی جسم کے اندر خون سے جا ملے لیکن باہر نکلنے پر خون آلود نہ ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہے.
136 ۔ قرآن مجید کی تحریر اور ورق کو نجس کرنا جب کہ یہ فعل بے حرمتی میں شمار ہوتا ہو بلا شبہ حرام ہے اور اگر نجس ہو جائے تو فورا پانی سے دھونا ضروری ہے بلکہ اگر بے حرمتی کا پہلونہ بھی نکلے تب بھی احتیاط واجب کی بنا پر کلام پاک کو نجس کرنا حرام اور پانی سے دھونا واجب ہے۔
137 ۔ اگر قرآن مجید کی جلد نجس ہو جائے اور اس سے قرآن مجید کی بے حُرمتی ہوتی ہو تو جلد کو پانی سے دھونا ضروری ہے۔
138 ۔ قرآن مجید کو کسی عین نجاست مثلاً خون مُردار پر رکھنا خواہ وہ عین نجاست خشک ہی کیوں نہ ہو اگر قرآن مجید کی بے حرمتی کا باعث ہو تو حرام ہے۔
139 ۔ قرآن مجید کو نجس روشنائی سے لکھنا خواہ ایک حرف ہی کیوں نہ ہو اسے نجس کرنے کا حکم رکھتا ہے۔ اگر لکھا جا چکا ہو تو اسے پانی سے دھو کر یا چھیل کر یا کسی اور طریقے سے مٹا دینا ضروری ہے۔
140 ۔ اگر کافر کو قرآن مجید دینا بے حرمتی کا موجب ہو تو حرام ہے اور اس سے قرآن مجید واپس لے لینا واجب ہے۔
141 ۔ اگر قرآن مجید کا ورق یا کوئی ایسی چیز جس کا احترام ضروری ہو مثلاً ایسا کاغذ جس پر اللہ تعالی کا یا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ) یا کسی امام علیہ السلام کا نام لکھا ہو بیت الخلاء میں گر جائے تو اس کا باہر نکالنا اور اسے دھونا واجب ہے خواہ اس پر کچھ رقم ہی کیوں نہ خرچ کرنی پڑے۔ اور اگر اس کا باہر نکالنا ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس وقت تک اس بیت الخلاء کو استعمال نہ کیا جائے جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ وہ گل کر ختم ہو گیا ہے۔ اسی طرح اگر خاک شفابیت الخلاء میں گرجائے اور اس کا نکالنا ممکن نہ ہو تو جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ وہ بالکل ختم ہو چکی ہے، اس بیت الخلاء کو استعمال نہیں کرنا چاہئے۔
142 ۔ نجس چیز کا کھانا پینا یا کسی دوسرے کو کھلانا پلانا حرام ہے لیکن بچے یا دیوانے کو کھلانا پلانا بظاہر جائز ہے اور اگر بچہ یا دیوانہ نجس غذا کھائے پیئے یا نجس ہاتھ سے غذا کو نجس کر کے کھائے تو اسے روکنا ضروری نہیں۔
143 ۔ جو نجس چیز دھوئی جاسکتی ہو اسے بیچنے اور ادھار دینے میں کوئی حرج نہیں لیکن اس کے نجس ہونے کے بارے میں جب یہ دو شرطیں موجود ہوں تو خریدنے یا ادھار لینے والے کو بتانا ضروری ہے۔
(نجس چیز) کو کھانے یا پینے میں استعمال کرے گا۔ اگر ایسا نہ ہو تو بتانا ضروری نہیں ہے مثلاً لباس کے نجس ہونے کے بارے میں بتانا ضروری نہیں جسے پہن کر دوسرا فریق نماز پڑھے کیونکہ لباس کا پاک ہونا شرط واقعی نہیں ہے۔
(دوسری شرط) جب بیچنے یا ادھار دینے والے کو توقع ہو کہ دوسرا فریق اس کی بات پر عمل کرے گا اور اگر وہ جانتا ہو کہ دوسرا فریق اس کی بات پر عمل نہیں کرے گا تو اسے بتانا ضروری نہیں ہے۔
144 ۔ اگر ایک شخص کسی دوسرے کو نجش چیز کھاتے یا نجس لباس سے نماز پڑھتے دیکھے تو اسے اس بارے میں کچھ کہنا ضروری نہیں ۔
145 ۔ اگر گھر کا کوئی حصہ یا قالین (یا دری) نجس ہو اور وہ دیکھے کہ اس کے گھر آنے والوں کا بدن، لباس یا کوئی اور چیز تری کے ساتھ نجس جگہ سے جالگی ہے اور صاحب خانہ اس کا باعث ہوا ہو تو دو شرطوں کے ساتھ جو مسئلہ 143 میں بیان ہوئی ہیں ان لوگوں کو اس بارے میں آگاہ کر دینا ضروری ہے۔
146 ۔ اگر میزبان کو کھانا کھانے کے دوران پتہ چلے کہ غذا نجس ہے تو دونوں شرطوں کے مطابق جو (مسئلہ 143 میں) بیان ہوئی ہیں ضروری ہے کہ مہمانوں کو اس کے متعلق آگاہ کر دے لیکن اگر مہمانوں میں سے کسی کو اس بات کا علم ہو جائے تو اسکے لئے دوسروں کو بتانا ضروری نہیں۔ البتہ اگر وہ ان کے ساتھ یوں گھل مل کر رہتا ہو کہ ان کے نجس ہونے کی وجہ سے وہ خود بھی نجاست میں مبتلا ہو کر واجب احکام کی مخالف کا مرتکب ہوگا تو ان کو بتانا ضروری ہے۔
147 ۔ اگر کوئی ادھار لی ہوئی چیز نجس ہو جائے تو اسکے مالک کو دو شرطوں کے ساتھ جو مسئلہ 143 میں بیان ہوئی ہیں آگاہ کرے۔
148 ۔ اگر بچہ کہے کہ کوئی چیز نجس ہے یا کہے کہ اس نے کسی چیز کو دھو لیا ہے تو اس کی بات پر اعتبار نہیں کرنا چاہئے لیکن اگر بچے کی عمر مکلف ہونے کے قریب ہو اور وہ کہے کہ اس نے ایک چیز پانی سے دھوئی ہے جب کہ وہ چیز اس کے استعمال میں ہو یا بچے کا قول اعتماد کے قابل ہو تو اس کی بات قبول کر لینی چاہئے اور یہی حکم ہے جب کہ بچہ کہے کہ وہ چیز نجس ہے۔
مُطہرات
149 ۔ بارہ چیزیں ایسی ہیں جو نجاست کو پاک کرتی ہیں اور انہیں مطہرات کہا جاتا ہے۔
1 ۔ پانی 2 ۔ زمین 3 ۔ سورج 4 ۔ استحالہ 5 ۔ انقلاب 6 ۔ انتقال 7 ۔ اسلام 8 ۔ تبعیت 9 ۔ عین نجاست کا زائل ہو جانا 10 ۔ نجاست کھانے والے حیوان کا استبراء 11 ۔ مسلمان کا غائب ہوجانا 12 ۔ ذبح کئے گئے جانور کے بدن سے خون کا نکل جانا۔
ان مطہرات کے بارے میں مفصل احکام آئندہ مسائل میں بیان کئے جائیں گے۔
150 ۔ پانی چار شرطوں کے ساتھ نجس چیز کو پاک کرتا ہے۔
1 ۔ پانی مطلق ہو۔ مضاف پانی مثلاً عرق گلاب یا عرق بید مشک سے نجس چیز پاک نہیں ہوتی۔
2 ۔ پانی پاک ہو۔
3 ۔نجس چیز کو دھونے کے دوران پانی مضاف نہ بن جائے۔ جب کسی چیز کو پاک کرنے کے لئے پانی سے دھویا جائے اور اس کے بعد مزید دھونا ضروری نہ و تو یہ بھی لازم ہے کہ اس پانی میں نجاست کی بو، رنگ یا ذائقہ موجود نہ ہو لیکن اگر دھونے کی صورت اس سے مختلف ہو (یعنی وہ آخری دھونا نہ ہو) اور پانی کی بو، رنگ یا ذائقہ بدل جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ مثلاً اگر کوئی چیز کُر پانی یا قلیل پانی سے دھوئی جائے اور اسے دو مرتبہ دھونا ضروری ہو تو خواہ پانی کی بو، رنگ یا ذائقہ پہلی دفعہ دھونے کے وقت بدل جائے لیکن دوسری دفعہ استعمال کئے جانے والے پانی میں ایسی کوئی تبدیلی رونما نہ ہو تو وہ چیز پاک ہو جائے گی۔
4 ۔ نجس چیز کو پانی سے دھونے کے بعد اس میں عین نجاست کے ذرات باقی نہ رہیں۔
نجس چیز کو قلیل پانی یعنی ایک کُر سے کم پانی سے پاک کرنے کی کچھ اور شرائط بھی ہیں جن کا ذکر کیا جا رہا ہے:
151 ۔ نجس برتن کے اندرونی حصے کو قلیل پانی سے تین دفعہ دھونا ضروری ہے اور کُر یا جاری پانی کا بھی احتیاط واجب کی بنا پر یہی حکم ہے لیکن جس برتن سے کُتے نے پانی یا کوئی اور مائع چیز پی ہو اسے پہلے پاک مٹی سے مانجھنا چاہئے پھر اس برتن سے مٹی کو دُور کرنا چاہئے، اس کے بعد قلیل یا کُر یا جاری پانی سے دو دفعہ دھونا چاہئے۔ اسی طرح اگر کُتے نے کسی برتن کو چاٹا ہو اور کوئی چیز اس میں باقی رہ جائے تو اسے دھونے سے پہلے مٹی سے مانجھ لینا ضروری ہے البتہ اگر کتے کا لعاب کسی برتن میں گر جائے تو احتیاط لازم کی بنا پر اسے مٹی سے مانجھنے کے بعد تین دفعہ پانی سے دھونا ضروری ہے۔
152 ۔ جس برتن میں کتے نے منہ ڈالا ہے اگر اس کا منہ تنگ ہو تو اس میں مٹی ڈال کر خوب ہلائیں تاکہ مٹی برتن کے تمام اطراف میں پہنچ جائے۔ اس کے بعد اسے اسی ترتیب کے مطابق دھوئیں جس کا ذکر سابقہ مسئلے میں ہو چکا ہے۔
153 ۔ اگر کسی برتن کو سوّر چاٹے یا اس میں سے کوئی بہنے والی چیز پی لے یا اس برتن میں جنگلی چوہا مر گیا ہو تو اسے قلیل یا کُر یا جاری پانی سے ساتھ مرتبہ دھونا ضروری ہے لیکن مٹی سے مانجھنا ضروری نہیں۔
154 ۔ جو برتن شراب سے نجس ہو گیا ہو اسے تین مرتبہ دھونا ضروری ہے۔ اس بارے میں قلیل یا کُر یا جاری پانی کی کوئی تخصیص نہیں۔
155 ۔ اگر ایک ایسے برتن کو جو نجس مٹی سے تیار ہوا ہو یا جس میں نجس پانی سرایت کر گیا ہو کُر یا جاری پانی میں ڈال دیا جائے تو جہاں جہاں وہ پانی پہنچے گا برتن پاک ہو جائے گا اور اگر اس برتن کے اندرونی اجزاء کو بھی پاک کرنا مقصود ہو تو اسے کُر یا جاری پانی میں اتنی دیر تک پڑے رہنے دینا چاہئے کہ پانی تمام برتن میں سرایت کر جائے۔ اور اگر اس برتن میں کوئی ایسی نمی ہو جو پانی کے اندرونی حصوں تک پہنچنے میں مانع ہو تو پہلے اسے خشک کر لینا ضروری ہے اور پھر برتن کو کُر یا جاری پانی میں ڈال دینا چاہئے۔
156 ۔ نجس برتن کو قلیل پانی سے دو طریقے سے دھویا جا سکتا ہے۔
(پہلا طریقہ) برتن کو تین دفعہ بھرا جائے اور ہر دفعہ خالی کر دیا جائے۔
(دوسرا طریقہ) برتن میں تین دفعہ مناسب مقدار میں پانی ڈالیں اور ہر دفعہ پانی کو یوں گھمائیں کہ وہ تمام نجس مقامات تک پہنچ جائے اور پھر اسے گرا دیں۔
157 ۔ اگر ایک بڑا برتن مثلا دیگ یا مٹکا نجس ہو جائے تو تین دفعہ پانی سے بھرنے اور ہر دفعہ خالی کرنے کے بعد پاک ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر اس میں تین دفعہ اوپر سے اس طرح پانی انڈیلیں کہ اس کی تمام اطراف تک پہنچ جائے اور ہر دفعہ اس کی تہہ میں جو پانی جمع ہو جائے اس کو نکال دیں تو برتن پاک ہو جائے گا۔ اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ دوسری اور تیسری بار جس برتن کے ذریعے پانی باہر نکالا جائے اسے بھی دھولیا جائے۔
158 ۔ اگر نجس تانبے وغیرہ کو پگھلا کر پانی سے دھو لیا جائے تو اس کا ظاہری حصہ پاک ہو جائیگا۔
159 ۔ اگر تنور پیشاب سے نجس ہو جائے اور اس میں اوپر سے ایک مرتبہ پانی ڈالا جائے کہ اس کی تمام اطراف تک پہنچ جائے تو تنور پاک ہو جائے گا اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ یہ عمل دو دفعہ کیا جائے۔ اور اگر تنور پیشاب کے علاوہ کسی اور چیز سے نجس ہوا ہو تو نجاست دور کرنے کے بعد مذکورہ طریقے کے مطابق اس میں ایک دفعہ پانی ڈالنا کافی ہے۔ اور بہتر یہ ہے کہ تنور کی تہہ میں ایک گڑھا کھود لیا جائے جس میں پانی جمع ہو سکے پھر اس پانی کو نکال لیا جائے اور گڑھے کو پاک مٹی سے پُر کر دیا جائے۔
160 ۔ اگر کسی نجس چیز کو کُر یا جاری پانی میں ایک دفعہ یوں ڈبو دیا جائے کہ پانی اس کے تمام نجس مقامات تک پہنچ جائے تو وہ چیز پاک ہو جائے گی اور قالین یا دری اور لباس وغیرہ کو پاک کرنے کے لئے اسے نچوڑنا اور اسی طرح سے ملنا یا پاوں سے رگڑنا ضروری نہیں ہے۔ اور اگر بدن یا لباس پیشاب سے نجس ہو گیا ہو تو اسے کُر پانی میں دو دفعہ دھونا بھی لازم ہے۔
161 ۔ اگر کسی ایسی چیز کو جو پیشاب سے نجس ہو گئی ہو قلیل پانی سے دھونا مقصود ہو تو اس پر ایک دفعہ یوں پانی بہا دیں کہ پیشاب اس چیز میں باقی نہ رہے تو وہ چیز پاک ہو جائے گی۔ البتہ لباس اور بدن پر دو دفعہ پانی بہانا ضروری ہے تاکہ پاک ہو جائیں۔ لیکن جہاں تک لباس، قالین، دری اور ان سے ملتی جلتی چیزوں کا تعلق ہے انہیں ہر دفعہ پانی ڈالنے کے بعد نچوڑنا چاہئے تاکہ غسالہ ان میں سے نکل جائے۔ (غسالہ یا دھون اس پانی کو کہتے ہیں جو کسی دھوئی جانے والی چیز سے دُھلنے کے دوران یا دھل جانے کے بعد خود بخود یا نچوڑ نے سے نکلتا ہے۔)
162 ۔ جو چیز ایسے شیر خوار لڑکے یا لڑکی کے پیشاب سے جس نے دودھ کے علاوہ کوئی غذا کھانا شروع نہ کی ہو اور احتیاط کی بنا پر دو سال کا نہ ہو نجس ہو جائے تو اس پر ایک دفعہ اس طرح پانی ڈالا جائے کہ تمام نجس مقامات پر پہنچ جائے تو وہ چیز پاک ہو جائے گی لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ مزید ایک بار اس پر پانی ڈالا جائے۔ لباس، قالین اور دری وغیرہ کو نچوڑنا ضروری نہیں۔
163 ۔ اگر کوئی چیز پیشاب کے علاوہ کسی نجاست سے نجس ہو جائے تو وہ نجاست دور کرنے کے بعد ایک دفعہ قلیل پانی اس پر ڈالا جائے۔ جب وہ پانی بہہ جائے تو وہ چیز پاک ہو جاتی ہے۔ البتہ لباس اور اس سے ملتی جلتی چیزوں کو نچوڑ لینا چاہئے تاکہ ان کا دھوون نکل جائے۔
164 ۔ اگر کسی نجس چٹائی کو جو دھاگوں سے بنی ہوئی ہو کُر یا جاری پانی میں ڈبو دیا جائے تو عین نجاست دور ہونے کے بعد وہ پاک ہو جائے گی لیکن اگر اسے قلیل پانی سے دھویا جائے تو جس طرح بھی ممکن ہو اس کا نچوڑنا ضروری ہے (خواہ اس میں پاوں ہی کیوں نہ چلانے پڑیں) تاکہ اس کو دھوون الگ ہو جائے۔
165 ۔ اگر گندم، چاول، صابن وغیرہ کا اوپر والا حصہ نجس ہو جائے تو وہ کُر یا جاری پانی میں ڈبونے سے پاک ہو جائے گا لیکن اگر ان کا اندرونی حصہ نجس ہو جائے تو کُر یا جاری پانی ان چیزوں کے اندر تک پہنچ جائے اور پانی مطلق ہی رہے تو یہ چیزیں پاک ہو جائیں گی لیکن ظاہر یہ ہے کہ صابن اور اس سے ملتی جلتی چیزوں کے اندر آب مطلق بالکل نہیں پہنچتا۔
166 ۔ اگر کسی شخص کو اس بارے میں شک ہو کہ نجس پانی صابن کے اندرونی حصے تک سرایت کر گیا ہے یا نہیں تو وہ حصہ پاک ہوگا۔
167 ۔ اگر چاول یا گوشت یا ایسی ہی کسی چیز کا ظاہری حصہ نجس ہو جائے تو کسی پاک پیالے یا اس کے مثل کسی چیز میں رکھ کر ایک دفعہ اس پر پانی ڈالنے اور پھر پھینک دینے کے بعد وہ چیز پاک ہو جاتی ہے اور اگر کسی نجس برتن میں رکھیں تو یہ کام تین دفعہ انجام دینا ضروری ہے اور اس صورت میں وہ برتن بھی پاک ہو جائے گا لیکن اگر لباس یا کسی دوسری ایسی چیز کو برتن میں ڈال کر پاک کرنا مقصود ہو جس کا نچوڑنا لازم ہے تو جتنی بار اس پر پانی ڈالا جائے اسے نچوڑنا ضروری ہے اور برتن کو الٹ دینا چاہئے تاکہ جو دھوون اس میں جمع ہو گیا ہو وہ بہہ جائے۔
168 ۔ اگر کسی نجس لباس کو جا نیل یا اس جیسی چیز سے رنگا گیا ہو کُر یا جاری پانی میں ڈبویا جائے اور کپڑے کے رنگ کی وجہ سے پانی مضاف ہونے سے قبل تمام جگہ پہنچ جائے تو وہ لباس پاک ہو جائے گا اور اگر اسے قلیل پانی سے دھویا جائے اور نچوڑنے پر اس میں سے مضاف پانی نہ نکلے تو وہ لباس پاک ہو جاتا ہے۔
169 ۔ اگر کپڑے کو کُر یا جاری پانی میں دھویا جائے اور مثال کے طور پر بعد میں کائی وغیرہ کپڑے میں نظر آئے اور یہ احتمال نہ ہو کہ یہ کپڑے کے اندر پانی کے پہنچنے میں مانع ہوئی ہے تو وہ کپڑا پاک ہے۔
170 ۔ اگر لباس یا اس سے ملتی جلتی چیز کے دھونے کے بعد مٹی کا ذرہ یا صابن اس میں نظر آئے اور احتمال ہو کہ یہ کپڑے کے اندر پانی کے پہنچنے میں مانع ہوا ہے تو وہ پاک ہے لیکن اگر نجس پانی مٹی یا صابن میں سرایت کر گیا ہو تو مٹی اور صابن کا اوپر والا حصہ پاک اور اس کا اندرونی حصہ نجس ہو گا۔
171 ۔ جب تک عین نجاست کسی نجس چیز سے الگ نہ ہو وہ پاک نہیں ہوگی لیکن اگر بو یا نجاست کا رنگ اس میں باقی رہ جائے تو کوئی حرج نہیں۔ لہذا اگر خون لباس پر سے ہٹا دیا جائے اور لباس دھو لیا جائے اور خون کا رنگ لباس پر باقی بھی رہ جائے تو لباس پاک ہو گا لیکن اگر بو یا رنگ کی وجہ سے یہ یقین یا احتمال پیدا ہو کہ نجاست کے ذرے اس میں باقی رہ گئے ہیں تو وہ نجس ہوگی۔
172 ۔ اگر کُر جاری پانی میں بدن کی نجاست دور کر لی جائے تو بدن پاک ہو جاتا ہے لیکن اگر بدن پیشاب سے نجس ہوا ہو تو اس صورت میں ایک دفعہ سے پاک نہیں ہوگا لیکن پانی سے نکل آنے کے بعد دوبارہ اس میں داخل ہونا ضروری نہیں بلکہ اگر پانی کے اندر ہی بدن پر ہاتھ پھیرلے کہ پانی دو دفعہ بدن تک پہنچ جائے تو کافی ہے۔
173 ۔ اگر نجس غذا دانتوں کی ریخوں میں رہ جائے اور پانی منہ میں بھر کر یوں گھمایا جائے کہ تمام نجس غذا تک پہنچ جائے تو وہ غذا پاک ہو جاتی ہے۔
174 ۔ اگر سر یا چہرے کے بالوں کو قلیل پانی سے دھویا جائے اور وہ بال گھنے نہ ہوں تو ان سے دھوون جدا کرنے کے لئے انہیں نچوڑنا ضروری نہیں کیونکہ معمولی پانی خود بخود جدا ہو جاتا ہے۔
175 ۔ اگر بدن یا لباس کو کوئی حصہ قلیل پانی سے دھوتے جائے تو نجس مقام کے پاک ہونے سے اس مقام سے متصل وہ جگہیں بھی پاک ہو جائیں گی جن تک دھوتے وقت عموماً پانی پہنچ جاتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ نجس مقام کے اطراف کو علیحدہ دھونا ضروری نہیں بلکہ وہ نجس مقام کو دھونے کے ساتھ ہی پاک ہو جاتے ہیں۔ اور اگر ایک پاک چیز ایک نجس چیز کے برابر رکھ دیں اور دونوں پر پانی ڈالیں تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ لہذا اگر ایک نجس انگلی کو پاک کرنے کے لئے سب انگلیوں پر پانی ڈالیں اور نجس پانی یا پاک پانی سب انگلیوں تک پہنچ جائے تو نجس انگلی کے پاک ہونے پر تمام انگلیاں پاک ہو جائیں گی۔
176 ۔ جو گوشت یا چربی نجس ہو جائے دوسری چیزوں کی طرح پانی سے دھوئی جاسکتی ہے۔ یہی صورت اس بدن یا لباس کی ہے جس پر تھوڑی بہت چکنائی ہو جو پانی کو بدن یا لباس پہنچنے سے نہ روکے۔
177 ۔ اگر برتن یا بدن نجس ہو جائے اور بعد میں اتنا چکنا ہو جائے کہ پانی اس تک نہ پہنچ سکے اور برتن یا بدن کو پاک کرنا مقصود ہو تو پہلے چکنائی دور کرنی چاہئے تاکہ پانی ان تک (یعنی برتن یا بدن تک) پہنچ سکے۔
178 ۔ جو نل کُر پانی سے متصل ہو وہ کُر پانی کا حکم رکھتا ہے۔
179 ۔ اگر کسی چیز کو دھویا جائے اور یقین ہو جائے کہ پاک ہوگئی ہے لیکن بعد میں شک گزرے کہ عین نجاست اس سے دور ہوئی ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ اسے دوبارہ پانی سے دھولیا جائے اور یقین کر لیا جائے کہ عین نجاست دور ہوگئی ہے۔
180 ۔ وہ زمین جس میں پانی جذب ہو جاتا ہو مثلاً ایسی زمین جس کی سطح ریت یا بحری پر مشتمل ہو اگر نجس ہو جائے تو قلیل پانی سے پاک ہو جاتی ہے۔
181 ۔ اگر وہ زمین جس کا فرش پتھر یا اینٹوں کا ہو یا دوسری سخت زمین جس میں پانی جذب نہ ہوتا ہو نجس ہو جائے تو قلیل پانی سے پاک ہو سکتی ہے لیکن ضروری ہے کہ اس پر اتنا پانی گرایا جائے کہ بہنے لگے۔ جو پانی اوپر ڈالا جائے اگر وہ کسی گڑھے سے باہر نہ نکل سکے اور کسی جگہ جمع ہو جائے تو اس جگہ کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جمع شدہ پانی کو کپڑے یا برتن سے باہر نکال دیا جائے۔
182 ۔ اگر معدنی نمک کا ڈلا یا اس جیسی کوئی اور چیز اوپر سے نجس ہو جائے تو قلیل پانی سے پاک ہوسکتی ہے۔
183 ۔ اگر پگھلی ہوئی نجس شکر سے قند بنالیں اور اسے کُر یا جاری پانی میں ڈال دیں تو وہ پاک نہیں ہوگی۔
184 ۔ زمین پاوں کے تلوے اور جوتے کے نچلے حصہ کو چار شرطوں سے پاک کرتی ہے۔
(اول) یہ کہ زمین پاک ہو۔
(دوم) احتیاط کی بنا پر خشک ہو۔
(سوم) احتیاط لازم کی بنا پر نجاست زمین پر چلنے سے لگی ہو۔
(چہارم) عین نجاست مثلاً خون اور پیشاب یا متنجس چیز مثلاً متنجس مٹی پاوں کے تلوے یا جوتے کے نچلے حصے میں لگی ہو وہ راستہ چلنے سے یا پاوں زمین پر رگڑنے سے دور ہو جائے لیکن اگر عین نجاست زمین پر چلنے یا زمین پر رگڑنے سے پہلے ہی دور ہو گئی ہو تو احتیاط لازم کی بنا پر پاک نہیں ہوں گے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ زمین مٹی یا پتھر یا انیٹوں کے فرش یا ان سے ملتی جلتی چیز پر مشتمل ہو۔ قالین و دری وغیرہ اور چٹائی، یا گھاس پر چلنے سے پاوں کا نجس تلوا یا جوتے کا نجس حصہ پاک نہیں ہوتا۔
185 ۔ پاوں کا تلوا یا جوتے کا نچلا حصہ نجس ہو تو ڈامر پر یا لکڑی کے بنے ہوئے فرش پر چلنے سے پاک ہونا محل اشکال ہے۔
186 ۔ پاوں کے تلوے یا جوتے کے نچلے حصے کو پاک کرنے کے لئے بہتر ہے کہ پندرہ ہاتھ یا اس سے زیادہ فاصلہ زمین پر چلے خواہ پندرہ ہاتھ سے کم چلنے یا پاوں زمین پر رگڑنے سے نجاست دور ہوگئی ہو۔
187 ۔ پاک ہونے کے لئے پاوں یا جوتے کے نجس تلوے کا تر ہونا ضروری نہیں بلکہ خشک بھی ہوں تو زمین پر چلنے سے پاک ہو جاتے ہیں۔
188 ۔ جب پاوں یا جوتے کا نجس تلوا زمین پر چلنے سے پاک ہو جائے تو اس کی اطراف کے وہ حصے بھی جنہیں عموماً کیچڑ وغیرہ لگ جاتی ہے پاک ہو جاتے ہیں۔
189 ۔ اگر کسی ایسے شخص کے ہاتھ کی ہتھیلی یا گھٹنا نجس ہو جائیں جو ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چلتا ہو تو اس کے راستے چلنے سے اس کی ہتھیلی یا گھٹنے کا پاک ہو جانا محل اشکال ہے۔ یہی صورت لاٹھی اور مصنوعی ٹانگ کے نچلے حصے، چوپائے کے نعل، موٹر گاڑیوں اور دوسری گاڑیوں کے پہیوں کی ہے۔
190 ۔ اگر زمین پر چلنے کے بعد نجاست کی بو یا رنگ یا باریک ذرے جو نظر نہ آئیں پاوں یا جوتے کے تلوے سے لگے رہ جائیں تو کوئی حرج نہیں اگرچہ احتیاط مستحب یہ کہ زمین پر اس قدر چلا جائے کہ وہ بھی زائل ہو جائیں ۔
191 ۔ جوتے کا اندرونی حصہ زمین پر چلنے سے پاک نہیں ہوتا اور زمین پر چلنے سے موزے کے نچلے حصے کا پاک ہونا بھی محل اشکال ہے لیکن اگر موزے کا نچلا حصہ چمڑے یا چمڑے سے ملتی جلتی چیز سے بنا ہو (تو وہ زمین پر چلنے سے پاک ہو جائے گا)۔
192 ۔ سورج ۔ زمین، عمارت اور دیوار کو پانچ شرطوں کے ساتھ پاک کرتا ہے۔
(اول) نجس چیز اس طرح تر ہو کہ اگر دوسری چیز اس سے لگے تو تر ہو جائے لہذا اگر وہ چیز خشک ہو تو اسے کسی طرح تر کر لینا چاہئے تاکہ دھوپ سے خشک ہو۔
(دوم) اگر کسی چیز میں عین نجاست ہو تو دھوپ سے خشک کرنے سے پہلے اس چیز سے نجاست کو دور کر لیا جائے۔
(سوم) کوئی چیز دھوپ میں رکاوٹ نہ ڈالے۔ پس اگر دھوپ پردے، بادل یا ایسی ہی کسی چیز کے پیچھے سے نجس چیز پر پڑے اور اسے خشک کر دے تو وہ چیز پاک نہیں ہوگی البتہ اگر بادل اتنا ہلکا ہو کہ دھوپ کو نہ رو کے تو کوئی حرج نہیں۔
(چہارم) فقط سورج نجس چیز کو خشک کرے۔ لہذا مثال کے طور پر اگر نجس چیز ہوا اور دھوپ سے خشک ہو تو پاک نہیں ہوتی۔ ہاں اگر ہوا اتنی ہلکی ہو کہ یہ نہ کہا جاسکے کہ نجس چیز کو خشک کرنے میں اس نے بھی کوئی مدد کی ہے تو پھر کوئی حرج نہیں۔
(پنجم) بنیاد اور عمارت کے جس حصے میں نجاست سرایت کر گئی ہے دھوپ سے ایک ہی مرتبہ خشک ہو جائے۔ پس اگر ایک دفعہ دھوپ نجس زمین اور عمارت پر پڑے اور اس کا سامنے والا حصہ خشک کرے اور دوسری دفعہ نچلے حصے کو خشک کرے تو اس کا سامنے والا حصہ پاک ہوگا اور نچلا حصہ نجس رہے گا۔
193 ۔ سورج، نجس چٹائی کو پاک کر دیتا ہے لیکن اگر چٹائی دھاگے سے بنی ہوئی ہو تو دھاگے کے پاک ہونے میں اشکال ہے۔ اسی طرح درخت، گھاس اور دروازے، کھڑکیاں سورج سے پاک ہونے میں اشکال ہے۔
194 ۔ اگر دھوپ نجس زمین پر پڑے، بعد ازاں شک پیدا ہو کہ دھوپ پڑنے کے وقت زمین تر تھی یا نہیں یا تری دھوپ کے ذریعے خشک ہوئی یا نہیں تو وہ زمین نجس ہوگی۔ اور اگر شک پیدا ہو کہ دھوپ پڑنے سے پہلے عین نجاست زمین پر سے ہٹادی گئی تھی یا نہیں یا یہ کہ کوئی چیز دھوپ کو مانع تھی یا نہیں تو پھر بھی وہی صورت ہوگی (یعنی زمین نجس رہے گی)۔
195 ۔ اگر دھوپ نجس دیوار کی ایک طرف پڑے اور اس کے ذریعے دیوار کی وہ جانب بھی خشک ہو جائے جس پر دھوپ نہیں پڑی تو بعید نہیں کہ دیوار دونوں طرف سے پاک ہو جائے۔
196 ۔ اگر کسی نجس چیز کی جنس یوں بدل جائے کہ ایک پاک چیز کی شکل اختیار کرلے تو وہ پاک ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر نجس لکڑی جل کر راکھ ہو جائے یا کتا نمک کی کان میں گر کر نمک بن جائے۔ لیکن اگر اس چیز کی جنس نہ بدلے مثلاً نجس گیہوں کا آٹا پیس لیا جائے یا (نجس آٹے کی) روٹی پکالی جائے تو وہ پاک نہیں ہوگی۔
197 ۔ مٹی کا لوٹا اور دوسری ایسی چیزیں جو نجس مٹی سے بنائی جائیں نجس ہیں لیکن وہ کوئلہ جو نجس لکڑی سے تیار کیا جائے اگر اس میں لکڑی کی کوئی خاصیت باقی نہ رہے تو وہ کوئلہ پاک ہے۔
198 ۔ ایسی نجس چیز جس کے متعلق علم نہ ہو کہ آیا اس کا استحالہ ہوا یا نہیں (یعنی جنس بدلی سے یا نہیں) نجس ہے۔
99 اگر شراب خود بخود یا کوئی چیز ملانے سے مثلا سر کہ اور نمک ملانے سے سرکہ بن جائے تو پاک ہو جاتی ہے۔
200 ۔ وہ شراب جو نجس انگور یا اس جیسی کسی دوسری چیز سے تیار کی گئی ہو یا کوئی نجس چیز شراب میں گر جائے تو سرکہ بن جانے سے پاک نہیں ہوتی۔
201 ۔نجس انگور، نجس کشمش اور نجس کھجور سے جو سرکہ تیار کیا جائے وہ نجس ہے۔
202 ۔ اگر انگور یا کھجور کے ڈنٹھل بھی ان کے ساتھ ہوں اور ان سے سرکہ تیار کیا جائے تو کوئی حرج نہیں بلکہ اسی برتن میں کھیرے اور بینگن وغیرہ ڈالنے میں بھی کوئی خرابی نہیں خواہ انگور یا کھجور کے سرکہ بننے سے پہلے ہی ڈالے جائیں بشرطیکہ سرکہ بننے سے پہلے ان میں مشہ نہ پیدا ہوا ہو۔
203 ۔ اگر انگور کے رس میں آنچ پر رکھنے سے یا خود بخود جوش آجائے تو وہ حرام ہوجاتا ہے اور اگر وہ اتنا ابل جائے کہ اس کا دو تہائی حصہ کم ہوجائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے تو حلال ہو جاتا اور مسئلہ ( 114) میں بتایا جا چکا ہے کہ انگور کا رس جوش دینے سے نجس نہیں ہوتا۔
204 ۔ اگر انگور کے رس کا دو تہائی بغیر جوش میں آئے کم ہوجائے اور جو باقی بچے اس میں جوش آجائے تو اگر لوگ اس انگور کارس کہیں، شیرہ نہ کہیں تو احتیاط لازم کی بنا پر وہ حرام ہے۔
205 ۔اگر انگور کے رس کے متعلق یہ معلوم نہ ہو کہ جوش میں آیا ہے یا نہیں تو وہ حلال ہے لیکن اگر جوش میں آجائے اور یہ یقین نہ ہو کہ اس کا دو تہائی کم ہوا ہے یا نہیں تو وہ حلال نہیں ہوتا۔
206 ۔ اگر کچے انگور کے خوشے میں کچھ پکے انگور بھی ہوں اور جو رس اس خوشے سے لیا جائے اسے لوگ انگور کا رس نہ کہیں اور اس میں جوش آجائے تو اس کا پینا حلال ہے۔
207 ۔ اگر انگور کا ایک دانہ کسی ایسی چیز میں گر جائے جو آگ پر جوش کھارہی ہو اور وہ بھی جوش کھانے لگے لیکن وہ اس چیز میں حل نہ ہو تو فقط اس دانے کا کھانا حرام ہے۔
208 ۔ اگر چند دیگوں میں شیرہ پکایا جائے تو جو چمچہ جوش میں آئی ہوئی دیگ میں ڈالا جا چکا ہو اس کا ایسی دیگ میں ڈالنا بھی جائز ہے جس میں جوش نہ آیا ہو۔
209 ۔ جس چیز کے بارے میں یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کچے انگوروں کا رس ہے یا پکے انگوروں کا اگر اس میں جوش آجائے تو حلال ہے۔
210 ۔ اگر انسان کا خون یا اچھلنے والا خون رکھنے والے حیوان کا خون کوئی ایسا حیوان جس میں عرفا خون نہیں ہوتا اس طرح چوس لے کہ وہ خون اس حیوان کے بدن کا جز ہو جائے مثلاً مچھر، انسان یا حیوان کے بدن سے اس طرح خون چوسے تو وہ خون پاک ہو جاتا ہے اور اسے انتقال کہتے ہیں۔ لیکن علاج کی غرض سے انسان کا جو خون جونک چوستی ہے وہ جونک کے بدن کا جز نہیں بنتا بلکہ انسانی خون ہی رہتا ہے اس لئے وہ نجس ہے۔
211 ۔ اگر کوئی شخص اپنے بدن پر بیٹھے ہوئے مچھر کو مار دے اور وہ خون جو مچھر نے چوسا ہو اس کے بدن سے نکلے تو ظاہر یہ ہے کہ وہ خون پاک ہے کیونکہ وہ خون اس قابل تھا کہ مچھر کی غذا بن جائے اگرچہ مچھر کے خون چوسنے اور مارے جانے کے درمیان وقفہ بہت کم ہو۔ لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس خون سے اس حالت میں پرہیز کرے۔
212 ۔ اگر کوئی کافر "شہادتین" پڑھ لے یعنی کسی بھی زبان میں اللہ کی واحدانیت اور خاتم الانبیاء حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ) کی نبوت کی گواہی دیدے تو مسلمان ہوجاتا ہے۔ اور اگرچہ وہ مسلمان ہونے سے پہلے نجس کے حکم میں تھا لیکن مسلمان ہو جانے کے بعد اس کا بدن، تھوک، ناک کا پانی اور پسینہ پاک ہو جاتا ہے لیکن مسلمان ہونے کے وقت اگر اس کے بدن پر کوئی عین نجاست ہو تو اسے دور کرنا اور اس مقام کو پانی سے دھونا ضروری ہے بلکہ اگر مسلمان ہونے سے پہلے ہی عین نجاست دور ہو چکی ہو تب بھی احتیاط واجب یہ ہے کہ اس مقام کو پانی سے دھو ڈالے۔
213 ۔ ایک کافر کے مسلمان ہونے سے پہلے اگر اس کا گیلا لباس اس کے بدن سے چھو گیا ہو تو اس کے مسلمان ہونے کے وقت وہ لباس اس کے بدن پر ہو یا نہ ہو احتیاط واجب کی بنا پر اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
214 ۔ اگر کافر شہادتین پڑھ لے اور یہ معلوم نہ ہو کہ وہ دل سے مسلمان ہوا ہے یا نہیں تو وہ پاک ہے۔ اور اگر یہ علم ہو کہ وہ دل سے مسلمان نہیں ہوا۔ لیکن ایسی کوئی بات اس سے ظاہر نہ ہوئی ہو جو توحید اور رسالت کی شہادت کے منافی ہو تو صورت وہی ہے (یعنی وہ پاک ہے) ۔
215 ۔ تبعیت کا مطلب ہے کوئی نجس چیز کسی دوسری چیز کے پاک ہونے کی وجہ سے پاک ہونے کی وجہ سے پاک ہو جائے ۔
216 ۔ اگر شراب سرکہ ہو جائے تو اس کا برتن بھی اس جگہ تک پاک ہو جاتا ہے جہاں تک شراب جوش کھا کر پہنچی ہو اور اگر کپڑا یا کوئی دوسری چیز جو عموماً اس (شراب کے برتن) پر رکھی جاتی ہے اور اس سے نجس ہو گئی ہو تو وہ بھی پاک ہو جاتی ہے لیکن اگر برتن کی بیرونی سطح اس شراب سے آلودہ ہو جائے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ شراب کے سرکہ ہو جانے کے بعد اس سطح سے پرہیز کیا جائے۔
217 ۔ کافر کا بچہ بذریعہ تبعیت دو صورتوں میں پاک ہو جاتا ہے۔
1 ۔ جو کافر مرد مسلمان ہو جائے اس کا بچہ طہارت میں اس کے تابع ہے۔ اور اسی طرح بچے کی ماں یا دادی یا دادا مسلمان ہو جائیں تب بھی یہی حکم ہے۔ لیکن اس صورت میں بچے کی طہارت کا حکم اس سے مشروط ہے کہ بچہ اس نو مسلم کے ساتھ اور اس کے زیر کفالت ہو نیز بچے کا کوئی کافر رشتہ دار اس بچے کے ہمراہ نہ ہو۔
2 ۔ ایک کافر بچے کو کسی مسلمان نے قید کر لیا ہو اور اس بچے کے باپ یا بزرگ (دادا یا نانا وغیرہ) میں سے کوئی ایک بھی اس کے ہمراہ نہ ہو۔ ان دونوں صورتوں میں بچے کے تبعیت کی بنا پر پاک ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ جب باشعور ہو جائے تو کفر کا اظہار نہ کرے۔
218 ۔ وہ تختہ یا سل جس پر میت کو غسل دیا جائے اور وہ کپڑا جس سے میت کی شرمگاہ ڈھانپی جائے نیز غسال کے ہاتھ غسل مکمل ہونے کے بعد پاک ہو جاتے ہیں۔
219 ۔ اگر کوئی شخص کسی چیز کو پانی سے دھوئے تو اس چیز کے پاک ہونے پر اس شخص کا وہ ہاتھ بھی پاک ہو جاتا ہے جس سے وہ اس چیز کو دھوتا ہے۔
220 ۔ اگر لباس یا اس جیسی کسی چیز کو قلیل پانی سے دھویا جائے اور اتنا نچوڑ دیا جائے جتنا عام طور پر نچوڑا جاتا ہو تا کہجس پانی سے دھویا گیا ہے اس کا دھوون نکل جائے تو جو پانی اس میں رہ جائے وہ پاک ہے۔
221 ۔ جب نجس برتن کو قلیل پانی سے دھویا جائے تو جو پانی برتن کو پاک کرنے کے لئے اس پر ڈالا جائے اس کے بہہ جانے کے بعد جو معمولی پانی اس میں باقی رہ جائے وہ پاک ہے۔
222 ۔ اگر کسی حیوان کا بدن عین نجاست مثلاً خون یا نجس شدہ چیز مثلاً نجس پانی سے آلودہ ہو جائے تو جب وہ نجاست دور ہو جائے حیوان کا بدن پاک ہو جاتا ہے اور یہی صورت انسانی بدن کے اندرونی حصوں مثال کے طور پر منہ یا ناک اور کان کے اندر والے حصوں کی ہے کہ وہ باہر سے نجاست لگنے سے نجس ہو جائیں گے اور جب نجاست دور ہو جائے تو پاک ہو جائیں گے لیکن نجاست داخلی مثلاً دانتوں کے ریخوں سے خون نکلنے سے بدن کا اندرونی حصہ نجس نہیں ہوتا اور یہی حکم ہے جب کسی خارجی چیز کو بدن کے اندرونی حصہ میں نجاست داخلی لگ جائے تو وہ چیز نجس نہیں ہوتی۔ اس بنا پر اگر مصنوعی دانت منہ کے اندر دوسرے دانتوں کے ریخوں سے نکلے ہوئے خون سے آلودہ ہو جائیں تو ان دانتوں کو دھونا لازم نہیں ہے۔ لیکن اگر ان مصنوعی دانتوں کو نجس غذا لگ جائے تو ان کو دھونا لازم ہے۔
223 ۔ اگر دانتوں کی ریخوں میں غذا لگی رہ جائے اور پھر منہ کے اندر خون نکل آئے تو وہ غذا خون ملنے سے نجس نہیں ہوگی۔
224 ۔ ہونٹوں اور آنکھ کی پلکوں کے وہ حصے جو بند کرتے وقت ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں وہ اندرونی حصے کا حکم رکھتے ہیں۔ اگر اس اندرونی حصے میں خارج سے کوئی نجاست لگ جائے تو اس اندرونی حصے کو دھونا ضروری نہیں ہے لیکن وہ مقامات جن کے بارے میں انسان کو یہ علم نہ ہو کہ آیا انھیں اندرونی حصے سمجھا جائے یا بیرونی اگر خارج سے نجاست ان مقامات پر لگ جائے تو انہیں دھونا چاہئے ۔
225 ۔ اگر نجس مٹی کپڑے یا خشک قالین، دری یا ایسی ہی کسی اور چیز کولگ جائے اور کپڑے وغیرہ کو یوں جھاڑا جائے کہ نجس مٹی اس سے الگ ہو جائے تو اس کے بعد اگر کوئی تر چیز کپڑے وغیرہ کو چھو جائے تو وہ نجس نہیں ہوگی۔
226 ۔ جس حیوان کو انسانی نجاست کھانے کی عادت پڑگئی ہو اس کا پیشاب اور پاخانہ نجس ہے اور اگر اسے پاک کرنا مقصود ہو تو اس کا استبراء کرنا ضروری ہے یعنی ایک عرصے تک اسے نجاست نہ کھانے دیں اور پاک غذا دیں حتی کہ اتنی مدت گزر جائے کہ پھر اسے نجاست کھانے والا نہ کہا جاسکے اور احتیاط مستحب کی بنا پر نجاست کھانے والے اونٹ کو چالیس دن تک ، گائے کو بیس دن تک بھیڑ کو دس دن تک، مرغابی کو کو سات یا پانچ دن تک اور پالتو مرغی کو تین دن تک نجاست کھانے سے باز رکھا جائے۔ اگرچہ مقررہ مدت گزرنے سے پہلے ہی انہیں نجاست کھانے والے حیوان نہ کہا جاسکے (تب بھی اس مدت تک انہیں نجاست کھانے سے باز رکھنا چاہئے)۔
227 ۔ اگر بالغ اور پاکی، ناپاکی کی سمجھ رکھنے والے مسلمان کا بدن لباس یا دوسری اشیاء مثلاً برتن اور دری وغیرہ جو اس کے استعمال میں ہوں نجس ہو جائیں اور پھر وہ وہاں سے چلا جائے تو اگر کوئی انسان یہ سمجھے کہ اس نے یہ چیزیں دھوئی تھیں تو وہ پاک ہوں گی لیکن احتیاط مستحب ہے کہ ان کو پاک نہ سمجھے مگر درج ذیل چند شرائط کے ساتھ :
(اول) جس چیز نے اس مسلمان کے لباس کو نجس کیا ہے اسے وہ نجس سمجھتا ہو۔ لہذا اگر مثال کے طور پر اس کا لباس تر ہو اور کافر کے بدن چھو گیا ہو اور وہ اسے نجس نہ سمجتھا ہو تو اس کے چلے جانے کے بعد اس کے لباس کو پاک نہیں سمجھنا چاہئے۔
(دوم) اسے علم ہو کہ اس کا بدن یا لباس نجس چیز سے لگ گیا ہے۔
(سوم) کوئی شخص اسے اس چیز کو ایسے کام میں استعمال کرتے ہوئے دیکھے جس میں اس کا پاک ہونا ضروری ہو مثلاً اسے اس لباس کے ساتھ نماز پڑھے ہوئے دیکھے۔
(چہارم) اس بات کا احتمال ہو کہ وہ مسلمان جو کام اس چیز کے ساتھ کر رہا ہے اس کے بارے میں اسے علم ہے کہ اس چیز کا پاک ہونا ضروری ہے لہذا مثال کے طور پر اگر وہ مسلمان یہ نہیں جانتا کہ نماز پڑھنے والے کا لباس پاک ہونا چاہئے اور نجس لباس کے ساتھ ہی نماز پڑھ رہا ہے تو ضروری ہے کہ انسان اس لباس کو پاک نہ سمجھے۔
(پنچم) وہ مسلمان نجس اور پاک چیز میں فرق کرتا ہو۔ پس اگر وہ مسلمان نجس اور پاک چیز میں فرق کرتا ہو۔ پس اگر وہ مسلمان نجس اور پاک میں لاپروائی کرتا ہو تو ضروری ہے کہ انسان اس چیز کو پاک نہ سمجھے۔
228 ۔ اگر کسی شخص کو یقین یا اطمینان ہو کہ جو چیز پہلے نجس تھی اب پاک ہوگئی ہے یا وہ عادل اشخاص اس کے پاک ہونے کی خبر دیں اور ان کی شہادت اس چیز کی پاکی کا جواز ہے تو وہ چیز پاک ہے اسی طرح اگر وہ شخص جس کے پاس کوئی نجس چیز ہوگئے کہ وہ چیز پاک ہوگئی ہے اور وہ غلط بیاں نہ ہو یا کسی مسلمان نے ایک نجس چیز کو دھویا ہو گویہ معلوم نہ ہو کہ اس نے اسے ٹھیک طرح سے دھویا ہے یا نہیں تو وہ چیز بھی پاک ہے۔
229 ۔ اگر کسی نے ایک شخص کا لباس دھونے کی ذمہ دار لی ہو اور کہے کہ میں نے اسے دھو دیا ہے اور اس شخص کو اس کے یہ کہنے سے تسلی ہو جائے تو وہ لباس پاک ہے۔
230 ۔ اگر کسی شخص کی یہ حالت ہو جائے کہ اسے کسی نجس چیز کے دھوئے جانے کا یقین ہی نہ آئے اگر وہ اس چیز کو جس طرح لوگ عام طور پر دھوتے ہیں دھولے تو کافی ہے۔
231 ۔ جیسا کہ مسئلہ 98 میں بتایا گیا ہے کہ کسی جانور کو شرعی طریقے سے ذبح کرنے کے بعد اس کے بدن سے معمول کے مطابق (ضروری مقدار میں) خون نکل جائے تو جو خون اس کے بدن کے اندر باقی رہ جائے وہ پاک ہے۔
232 ۔ مذکورہ بالا حکم جس کا بیان مسئلہ 231 میں ہوا ہے احتیاط کی بنا پر اس جانور سے مخصوص ہے جس کا گوشت حلال ہو۔ جس جانور کا گوشت حرام ہو اس پر یہ حکم جاری نہیں ہو سکتا بلکہ احتیاط مستحب کی بنا پر اس کا اطلاق حلال گوشت والے جانور کے ان اعضاء پر بھی نہیں ہو سکتا جو حرام ہیں۔
233 ۔ جو برتن کتے، سور یا مردار کے چمڑے سے بنایا جائے اس میں کسی چیز کا کھانا پینا جب کہ تری اس کی نجاست کا موجب بنی ہو، حرام ہے اور اس برتن کو وضو اور غسل اور ایسے دوسرے کاموں میں استعمال نہیں کرنا چاہئے جنہیں پاک چیز سے انجام دینا ضروری ہو اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ کتے، سور اور مردار کے چمڑے کو خواہ وہ برتن کی شکل میں نہ بھی ہو استمعال نہ کیا جائے۔
234 ۔ سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا بلکہ احتیاط واجب کی بنا پر ان کو کسی طرح بھی استعمال کرنا حرام ہے لیکن ان سے کمرہ وغیرہ سجانے یا انہیں اپنے پاس رکھنے میں کوئی حرج نہیں گو ان کا ترک کر دینا احوط ہے۔ اور سجاوٹ یا قبضے میں رکھنے کے لئے سونے اور چاندی کے برتن بنانے اور ان کی خرید و فروخت کرنے کا بھی یہی حکم ہے۔
235 ۔ استکان (شیشے کا چھوٹا سا گلاس جس میں قہوہ پیتے ہیں) کا ہولڈر جو سونے یا چاندی سے بنا ہوا ہو اگر اسے برتن کہا جائے تو ہو سونے، چاندی کے برتن کا حکم رکھتا ہے اور اگر اسے برتن نہ کہا جائے تو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔
236 ۔ ایسے برتنوں کے استعمال میں کوئی حرج نہیں جن پر سونے یا چاندی کا پانی چڑھایا گیا ہو۔
237 ۔ اگر جست کو چاندی یا سونے میں مخلوط کر کے برتن بنائے جائیں اور جست اتنی زیادہ مقدار میں ہو کہ اس برتن کو سونے یا چاندی کا برتن نہ کہا جائے تو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔
238 ۔ اگر غذا سونے یا چاندی کے برتن میں رکھی ہو اور کوئی شخص اسے دوسرے برتن میں انڈیل لے تو اگر دوسرا برتن عام طور پر پہلے برتن میں کھانے کا ذریعہ شمار نہ ہو تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
239 ۔ حقے کے چلم کا سوراخوں والا ڈھکنا، چھری یا چاقو کا میان اور قرآن مجید رکھنے کا ڈبہ اگر سونے یا چاندی سے بنے ہوں تو کوئی حرج نہیں تاہم احتیاط مستحب یہ ہے کہ سونے چاندی کی بنی ہوئی عطر دانی، سرمہ دانی اور افیم دانی استمعال نہ کی جائیں۔
240 ۔ مجبوری کی حالت میں سونے چاندی کے برتنوں میں اتنا کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں جس سے بھوک مٹ جائے لیکن اس سے زیادہ کھانا پینا جائز نہیں۔
241 ۔ ایسا برتن استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں جس کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ یہ سونے یا چاندی کا ہے یا کسی اور چیز سے بنا ہوا ہے۔
عبادات (وضو)
242 ۔وضو میں واجب ہے کہ چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے جائیں اور سر کے اگلے حصے اور دونوں پاوں کے سامنے والے حصے کا مسح کیا جائے۔
243 ۔ چہرے کو لمبائی میں پیشانی کے اوپر اس جگہ سے لے کر جہاں سر کے بال اگتے ہیں ٹھوڑی کے آخری کنارے تک دھونا ضروری ہے اور چوڑائی میں بیچ کی انگلی اور انگوٹھے کے پھیلاو میں جتنی جگہ آجائے اسے دھونا ضروری ہے اگر اس مقدار کا ذرا سا حصہ بھی چھوٹ جائے تو وضو باطل ہے۔اور اگر انسان کو یہ یقین نہ ہو کہ ضروری حصہ پورا ڈھل گیا ہے تو یقین کرنے کے لئے تھوڑا تھوڑا ادھر ادھر سے دھونا بھی ضروری ہے۔
244 ۔ اگر کسی شخص کے ہاتھ یا چہرہ عام لوگوں کی بہ نسبت بڑے یا چھوٹے ہوں تو اسے دیکھنا چاہئے کہ عام لوگ کہاں تک اپنا چہرہ دھوتے ہیں اور پھر وہ بھی اتنا ہی دھو ڈالے۔ علاوہ ازیں اگر اس کی پیشانی پر بال اگے ہوئے ہوں یا سر کے اگلے حصے پر بال نہ ہوں تو اسے چاہئے کہ عام اندازے کے مطابق پیشانی دھو ڈالے۔
245 ۔ اگر اس بات کا احتمال ہو کہ کسی شخص کی بھوں، آنکھ کے گوشوں اور ہونٹوں پر میل یا کوئی دوسری چیز ہے۔ جو پانی کے ان تک پہنچنے میں مانع ہے اور اس کا یہ احتمال لوگوں کی نظروں میں درست ہو تو اسے وضو سے پہلے تحقیق کر لینی چاہئے اور اگر کوئی چیز ہو تو اسے دور کرنا چاہئے۔
246 ۔ اگر چہرے کی جلد بالوں کے نیچے سے نظر آتی ہو تو پانی جلد تک پہنچانا ضروری ہے اور اگر نظر نہ آتی ہو تو بالوں کا دھونا کافی ہے اور ان کے نیچے تک پانی پہنچانا ضروری نہیں۔
247 ۔ اگر کسی شخص کو شک ہو کہ آیا اس کے چہرے کی جلد بالوں کے نیچے سے نظر آتی ہے یا نہیں تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ بالوں کو دھوئے اور پانی جلد تک بھی پہنچائے۔
248 ۔ ناک کے اندرونی حصے اور ہونٹوں اور آنکھوں کے ان حصوں کا جو بند کرنے پر نظر نہیں آتے دھونا واجب نہیں ہے۔ لیکن اگر کسی انسان کو یہ یقین نہ ہو کہ جن جگہوں کا دھونا ضروری ہے ان میں کوئی جگہ باقی نہیں رہی تو واجب ہے کہ ان اعضاء کا کچھ اضافی حصہ بھی دھو لے تاکہ اسے یقین ہو جائے اور جس شخص کو اس (مذکورہ) بات کا علم نہ ہو اگر اس نے جو وضو کیا ہے اس میں ضروری حصے دھونے یا نہ دھونے کے بارے میں نہ جانتا ہو تو اس وضو سے اس نے جو نماز پڑھی ہے وہ صحیح ہے اور بعد کی نمازوں کے لئے وضو کرنا ضروری نہیں ہے۔
249 ۔ احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ ہاتھوں اور اسی طرح چہرے کو اوپر سے نیچے کی طرف دھویا جائے۔ اگر نیچے سے اوپر کی طرف دھوئے جائیں تو وضو باطل ہوگا۔
250 ۔ اگر ہتھیلی پانی سے تر کر کے چہرے اور ہاتھوں پر پھیری جائے اور ہاتھ میں اتنی تری ہو کہ اسے پھیرنے سے پورے چہرے اور ہاتھوں پر پانی پہنچ جائے تو کافی ہے۔ ان پر پانی کا بہنا ضروری نہیں۔
251 ۔ چہرہ دھونے کے بعد پہلے دایاں ہاتھ اور پھر بایاں ہاتھ کہنی سے انگلیوں کے سروں تک دھونا چاہئے۔
252 ۔ اگر انسان کو یقین نہ ہو کہ کہنی کو پوری طرح دھولیا ہے تو یقین کرنے کے لئے کہنی سے اوپر کا کچھ حصہ دھونا بھی ضروری ہے۔
253 ۔ جس شخص نے چہرہ دھونے سے پہلے اپنے ہاتھوں کو کلائی کے جوڑ تک دھویا ہو اسے چاہئے کہ وضو کرتے وقت انگلیوں کے سروں تک دھوئے۔ اگر وہ صرف کلائی کے جوڑ تک دھوئے گا تو اس کا وضو باطل ہوگا۔
254 ۔ وضو میں چہرے اور ہاتھوں کا ایک دفعہ دھونا واجب، دوسری دفعہ دھونا مستحب اور تیسری دفعہ یا اس سے زیادہ بار دھونا حرام ہے۔ ایک دفعہ دھونا اس وقت مکمل ہوگا جب وضو کی نیت سے اتنا پانی چہرے یا ہاتھ پر ڈالے کہ وہ پانی پورے چہرے یا ہاتھ پر پہنچ جائے اور احتیاطاً کوئی جگہ باقی نہ رہے لہذا اگر پہلی دفعہ دھونے کی نیت سے دس بار بھی چہرے پر پانی ڈالے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے یعنی جب تک مثلاً وضو کرنے یا چہرہ دھونے کی نیت نہ کرنے پہلی بار دھونا شمار نہیں ہوگا۔ لہذا اگر چاہے تو چند بار چہرہ کو دھولے اور آخری بار چہرہ دھوتے وقت وضو کی نیت کر سکتا ہے لیکن دوسری دفعہ دھونے میں نیت کا معتبر ہونا اشکال سے خالی نہیں ہے اور احتیاط لازم یہ ہے کہ اگرچہ وضو کی نیت سے نہ بھی ہو ایک دفعہ دھونے کے بعد ایک بار سے زائد چہرے یا ہاتھوں کو نہ دھوئے۔
255 ۔ دونوں ہاتھ دھونے کے بعد سر کے اگلے حصے کا مسح وضو کے پانی کی اس تری سے کرنا چاہئے جو ہاتھوں کو لگی رہ گئی ہو۔ اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ مسح دائیں ہاتھ سے کیا جائے جو اوپر سے نیچے کی طرف ہو۔
256 ۔ سر کے چار حصوں میں سے پیشانی سے ملا ہوا ایک حصہ وہ مقام ہے جہاں مسح کرنا چاہئے۔ اس حصے میں جہاں بھی اور جس اندازے سے بھی مسح کریں کافی ہے۔ اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ طول میں ایک انگلی کی لمبائی کے لگ بھگ اور عرض میں تین ملی ہوئی انگلیوں کے لگ بھگ جگہ پر مسح کیا جائے۔
257 ۔ یہ ضروری نہیں کہ سر کا مسح جلد پر کیا جائے بلکہ سر کے اگلے حصے کے بالوں پر کرنا بھی درست ہے لیکن اگر کسی کے سر کے بال اتنے لمبے ہوں کہ مثلاً اگر کنگھا کرے تو چہرے پر آگریں یا سر کے کسی دوسرے حصے تک جا پہنچیں تو ضروری ہے کہ وہ بالوں کی جڑوں پر یا مانگ نکال کر سر کی جلد پر مسح کرے۔ اور اگر وہ چہرے پر آگرنے والے یا سر کے دوسرے حصوں تک پہنچنے والے بالوں کو آگے کی طرف جمع کر کے ان پر مسح کرے گا یا سر کے دوسرے حصوں کے بالوں پر جو آگے کو بڑھ آئے ہوں مسح کرے گا تو ایسا مسح باطل ہے۔
258 ۔ سر کے مسح کے بعد وضو کے پانی کی اس تری سے جو ہاتھوں میں باقی ہو پاوں کی کسی ایک انگلی سے لے کر پاوں کے جوڑ تک مسح کرنا ضروری ہے۔ اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ دائیں پیر کا دائیں ہاتھ سے اور بائیں پیر کا بائیں ہاتھ سے مسح کیا جائے۔
259 ۔ پاوں پر مسح کا عرض جتنا بھی ہو کافی ہے لیکن بہتر ہے کہ تین جڑی ہوئی انگلیوں کی چوڑائی کے برابر ہو اور اس سے بھی بہتریہ ہے کہ پاوں کے پورے اوپری حصے کا مسح پوری ہتھیلی سے کیا جائے۔
260 ۔ احتیاط یہ ہے کہ پاوں کا مسح کرتے وقت ہاتھ انگلیوں کے سروں پر رکھے اور پھر پاوں کے ابھار کی جانب کھینچے یا ہاتھ پاوں کے جوڑ پر رکھ کر انگلیوں کے سروں کی طرف کھینچے۔ یہ درست نہیں کہ پورا ہاتھ پاوں پر رکھے اور تھوڑا سا کھینچے۔
261 ۔ سر اور پاوں کا مسح کرنے وقت ہاتھ پر کھینچنا ضروری ہے۔اور اگر ہاتھ کو ساکن رکھے اور سر یا پاوں کو اس پر چلائے تو باطل ہے لیکن ہاتھ کھینچنے کے وقت سر اور پاوں معمولی حرکت کریں تو کوئی حرن نہیں۔
262 ۔ جس جگہ کا مسح کرنا ہو وہ خشک ہونی چاہئے۔ اگر وہ اس قدر تر ہو کہ ہتھیلی کی تری اس پر اثر نہ کرے تو مسح باطل ہے لیکن اگر اس پر نمی ہو یا تری اتنی کم ہو کہ وہ ہتھیلی کی تری سے ختم ہو جائے تو پھر کوئی حرج نہیں۔
263 ۔ اگر مسح کرنے کے لئے ہتھیلی پر تری باقی نہ رہی ہو تو اسے دوسرے پانی سے تر نہیں کیا جاسکتا بلکہ ایسی صورت میں اپنی ڈاڑھی کی تری لے کر اس سے مسح کرنا چاہئے۔ اور ڈاڑھی کے علاوہ اور کسی جگہ سے تری لے کر مسح کرنا محل اشکال ہے۔
264 ۔ اگر ہتھیلی کی تری صرف سر کے مسح کے لئے کافی ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ سر کا مسح اس تری سے کیا جائے اور پاوں کے مسح کے لئے اپنی ڈاڑھی سے تری حاصل کرے۔
265 ۔ موزے اور جوتے پر مسح کرنا باطل ہے۔ ہاں اگر سخت سردی کی وجہ سے یا چور یا درندے وغیرہ کے خوف سے جوتے یا موزے نہ اتارے جاسکیں تو احتیاط واجب یہ ہے کہ موزے اور جوتے پر مسح کرے اور تیمم بھی کرے۔ اور تقیہ کی صورت میں موزے اور جوتے پر مسح کرنا کافی ہے۔
266 ۔ اگر پاوں کا اوپر والا حصہ نجس ہو اور مسح کرنے کے لئے اسے دھویا بھی نہ جاسکتا ہو تو تیمم کرنا ضروری ہے۔
267 ۔ ارتماسی وضو یہ ہے کہ انسان چہرے اور ہاتھوں کو وضو کی نیت سے پانی میں ڈبو دے۔ بظاہر ارتماسی طریقے سے دھلے ہوئے ہاتھ کی تری سے مسح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن ایسا کرنا خلاف احتیاط ہے۔
268 ۔ ارتماسی وضو میں بھی چہرہ اور ہاتھ اوپر سے نیچے کی طرف دھونے چاہئیں۔ لہذا جب کوئی شخص وضو کی نیت سے چہرہ اور ہاتھ پانی میں ڈبوئے تو ضروری ہے کہ چہرہ پیشانی کی طرف سے اور ہاتھ کہنیوں کی طرف سے ڈبوئے۔
229 ۔ اگر کوئی شخص بعض اعضاء کا وضو ارتماسی طریقے سے اور بعض کا غیر ارتماسی (یعنی ترتیبی) طریقے سے کرے تو کوئی حرج نہیں۔
270 ۔ جو شخص وضو کرنے لگے اس کے لئے مستحب ہے کہ جب اس کی نظر پانی پر پڑے تو یہ دعا پڑھے:۔
بِسِم اللہ وَ بِاللہ وَالحَمدُ للہ الّذی حَعَلَ المَآءَ طَھُوراوّلم یَجعَلہ نجسنا۔
جب وضو سے پہلے اپنے ہاتھ دھوئے تو یہ دعا پڑھے۔ اَللّھُمَّ اجعَلنی مِنَ التَّوَّابِینَ وَاجعَلنِی مِنَ المُتَھِرینَ۔
کُلّی کرنے وقت یہ دعا پڑھے۔ اَللّھُمَّ لَقِّنِّی حُجَّتِی یَومَ اَلقاکَ وَاَطلِق لِسَانیِ بِذِکرِکَ نام میں پانی ڈالتے وقت یہ دعا پڑھے:اَللّھُمَّ لاَ تُحَرِّم عَلَیَّ رِیحَ الجَنَّۃِ واجعَلنِی مِمَّن یَّشُمُّ رِیحَھَا وَرَوحَھَا وَ طِیبَھَا۔
چہرہ دھوتے یا دُعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ بَیِض وَجھِی یَومَ تَسوَدّ الوُجُوہ وَلَا تُسَوِدوَلاَ تُسَوِد وَجھِی یَومَ تَبیَضُّ الوُجُوہ۔
دایاں ہاتھ دھوتے وقت یہ دعا پڑھے۔ اَللّٰھُمَّ اَعطِنِی کِتَابیِ بِیَمِیِنی وَالخُلدَفِی الجِنَانِ بِیَسَارِی وَ حَاسِبنِی حِسَاباً یَّسِیراً۔
بایاں ہاتھ دھوتے وقت یہ دعا پڑھے۔ اَللّٰھُمَّ لاَ تُعطِنِی کِتَابِی بِشِمَالِی وَلاَ مِن وَّرَآ و ظَھِری وَلاَ تَجعَلھَا مَغلُولَۃً اِلٰی عُنُقِی وَاَعُوذُ بَکَ مِن مُّقَطَّعَاتِ النِیّراَنِ۔
سر کا مسح کرتے وقت یہ دُعا پڑھے۔ اَللّھُمَّ غَشِنِی عَلَی الصِراطِ یَومَ تَزِل فِیہ الاَقدَامُ وَاجعَل سَعیِی فِی مَا یُرضِیکَ عَنِّی یَاذَالجَلَالِ وَالِاکرَامِ۔
وضو کا صحیح ہونے کی چند شرائط ہیں۔
(پہلی شرط) وضو کا پانی پاک ہو۔ ایک قول کی بنا پر وضو کا پانی ایسی چیزوں مثلاً حلال گوشت حیوان کے پیشاب، پاک مُردار اور زخم کی ریم سے آلودہ نہ ہو جن سے انسان کو گھن آتی ہو اگرچہ شرعی لحاظ سے (ایسا پانی) پاک ہے اور یہ قول احتیاط کی بنا پر ہے۔
(دوسری شرط) پانی مطلق ہو۔
271 ۔ نجس یا مضاف پانی سے وضو کرنا باطل سے خواہ وضو کرنے والا شخص اس کے نجس یا مضاف ہونے کے بارے میں علم نہ رکھتا ہو یا بھول گیا ہو کہ یہ نجس یا مضاف پانی ہے۔ لہذا اگر وہ ایسے پانی سے وضو کرکے نماز پڑھ چکا ہو تو صحیح وضو کرکے دوبارہ نماز پڑھنا ضروری ہے۔
272 ۔ اگر ایک شخص کے پاس مٹی ملے ہوئے مضاف پانی کے علاوہ اور کوئی پانی وضو کے لئے نہ ہو اور نماز کا وقت تنگ ہو تو ضروری ہے کہ تیمم کر لے لیکن اگر وقت تنگ نہ ہو تو ضروری ہے کہ پانی کے صاف ہونے کا انتظار کرے یا کسی طریقے سے اس پانی کو صاف کرے اور وضو کرے۔
(تیسری شرط) وضو کا پانی مباح ہو۔
273 ۔ ایسے پانی سے وضو کرنا جو غصب کیا گیا ہو یا جس کے بارے میں یہ علم نہ ہو کہ اس کا مالک اس کے استعمال راضی ہے یا نہیں حرام اور باطل ہے۔ علاوہ ازیں اگر چہرے اور ہاتھوں سے وضو کا پانی غصب کی ہوئی جگہ پر گرتا ہو یا وہ جگہ جس میں وضو کر رہا ہے غصبی ہے اور وضو کرنے کے لئے کوئی اور جگہ بھی نہ ہو تو متعلقہ شخص کا فریضہ تیمم ہے اور اگر کسی دوسری جگہ وضو کر سکتا ہو تو ضروری ہے کہ دوسری جگہ وضو کرے۔ لیکن اگر دونوں صورتوں میں گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے اسی جگہ وضو کرلے تو اس کا وضو صحیح ہے۔
274 ۔ کسی مدرسے کے ایسے حوض سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں جس کے بارے میں یہ علم نہ ہو کہ آیا وہ تمام لوگوں کے لئے وقت کیا گیا ہے یا صرف مدرسے سے طلباء کے لئے وقف ہے اور صورت یہ ہو کہ لوگ عموماً اس حوض سے وضو کرتے ہوں اور کوئی منع نہ کرتا ہو۔
275 ۔ اگر کوئی شخص ایک مسجد میں نماز پڑھنا نہ چاہتا ہو اور یہ بھی نہ جانتا ہو کہ آیا اس مسجد کا حوض تمام لوگوں کے لئے وقف ہے یا صرف ان لوگوں کے لئے جو اس مسجد میں نماز پڑھتے ہیں تو اس کے لئے اس حوض سے وضو کرنا درست نہیں لیکن اگر عموماً وہ لوگ بھی اس حوض سے وضو کرتے ہوں جو اس مسجد میں نماز نہ پڑھنا چاہتے ہوں اور کوئی منع نہ کرتا ہو تو وہ شخص بھی اس حوض سے وضو کر سکتا ہے۔
276 ۔ سرائے، مسافرخانوں اور ایسے ہی دوسرے مقامات کے حوض سے ان لوگوں کا جو ان میں مقیم نہ ہوں، وضو کرنا اسی صورت میں درست ہے جب عموماً ایسے لوگ بھی جو وہاں مقیم نہ ہوں اس حوض سے وضو کرتے ہوں اور کوئی منع نہ کرتا ہو۔
277 ۔ بڑی نہروں سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ انسان نہ جانتا ہو کہ ان کا مالک راضی ہے یا نہیں۔ لیکن اگر ان نہروں کا مالک وضو کرنے سے منع کرے یا معلوم ہو کہ وہ ان سے وضو کرنے پر راضی نہیں یا ان کا مالک نابالغ یا پاگل ہو تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ ان نہروں کے پانی سے وضو نہ کرے۔
278 ۔ اگر کوئی شخص یہ بھول جائے کہ پانی غصبی ہے اور اس سے وضو کرلے تو اس کا وضو صحیح ہے۔ لیکن اگر کسی شخص نے خود پانی غصب کیا ہو اور بعد میں بھول جائے کہ یہ پانی غصبی ہے اور اس سے وضو کرلے تو اس کا وضو صحیح ہونے میں اشکال ہے۔
(چوتھی شرط) وضو کا برتن مباح ہو۔
(پانچویں شرط) وضو کا برتن احتیاط واجب کی بنا پر سونے یا چاندی کا بنا ہوا نہ ہو۔ ان دو شرطوں کی تفصیل بعد والے مسئلے میں آرہی ہے۔
279 ۔ اگر وضو کا پانی غصبی یا سونے یا چاندی کے برتن میں ہو اور اس شخص کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی پانی نہ ہو تو اگر وہ اس پانی کو شرعی طریقے سے دوسرے برتن میں انڈیل سکتا ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اسے کسی دوسرے برتن میں انڈیل لے اور پھر اس سے وضو کرے اور اگر ایسا کرنا آسان نہ ہو تو تیمم کرنا ضروری ہے۔ اور اگر اس کے پاس اس کے علاوہ دوسرا پانی موجود ہو تو ضروری ہے کہ اس سے وضو کرے۔ اور اگر ان دونوں صورتوں میں وہ صحیح طریقے پر عمل نہ کرتے ہوئے اس پانی سے جو غصبی یا سونے یا چاندی کے برتن میں ہے وضو کر لے تو اس کا وضو صحیح ہے۔
280 ۔ اگر کسی حوض میں مثال کے طور پر غصب کی ہوئی ایک اینٹ یا ایک پتھر لگا ہو اور عرف عام میں اس حوض میں سے پانی نکالنا اس اینٹ یا پتھر پر تصرف نہ سمجھا جائے تو (پانی لینے میں) کوئی حرج نہیں لیکن اگر تصرف سمجھا جائے تو پانی کا نکالنا حرام لیکن اس سے وضو کرنا صحیح ہے۔
281 ۔ اگر ائمۃ طاہرین علیہم السلام یا ان کی اولاد کے مقبرے کے صحن میں جو پہلے قبرستان تھا کوئی حوض یا نہر کھودی جائے اور یہ علم نہ ہو کہ صحن کی زمین قبرستان کے لئے وقف ہو چکی ہے تو اس حوض یا نہر کے پانی سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(چھٹی شرط) وضو کے اعضاء دھوتے وقت اور مسح کرتے وقت پاک ہوں۔
282 ۔ اگر وضو مکمل ہونے سے پہلے وہ مقام نجس ہو جائے جسے دھویا جا چکا ہے یا جس کا مسح کیا جاچکا ہے تو وضو صحیح ہے۔
283 ۔ اگر اعضائے وضو کے سوا بدن کا کوئی حصہ نجس ہو تو وضو صحیح ہے لیکن اگر پاخانے یا پیشاب کے مقام کو پاک نہ کیا ہو تو پھر احتیاط مستحب یہ ہے کہ پہلے انہیں پاک کرے اور پھر وضو کرے۔
284 ۔ اگر وضو کے اعضاء میں سے کوئی عضو نجس ہو اور وضو کرنے کے بعد متعلقہ شخص کو شک گزرے کہ آیا وضو کرنے سے پہلے اس عضو کو دھویا تھا یا نہیں تو وضو صحیح ہے لیکن اس نجس مقام کو دھو لینا ضروری ہے۔
285 ۔ اگر کسی کے چہرے یا ہاتھوں پر کوئی ایسی خراش یا زخم ہو جس سے خون نہ رکتا ہو اور پانی اس کے لئے مضر نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس عضو کے صحیح سالم اجزاء کو ترتیب وار دھونے کے بعد زخم یا خراش والے حصے کو کُر برابر پانی یا جاری پانی میں ڈبو دے اور اسے اس قدر دبائے کہ خون بند ہو جائے اور پانی کے اندر ہی اپنی انگلی زخم یا خراش پر رکھ کر اوپر سے نیچے کی طرف کھینچے تاکہ اس (خراش یا زخم) پر پانی جاری ہو جائے۔ اس طرح اس کا وضو صحیح ہو جائے گا۔
(ساتویں شرط) وضو کرنے اور نماز پڑھنے کے لئے وقت کافی ہو۔
286 ۔ اگر وقت اتنا تنگ ہو کہ متعلقہ شخص وضو کرے تو ساری کی ساری نماز یا اس کا کچھ حصہ وقت کے بعد پڑھنا پڑے تو ضروری ہے کہ تیمم کرلے لیکن اگر تیمم اور وضو کے لئے تقریباً یکساں وقت درکار ہو تو پھر وضو کرے۔
287 ۔ جس شخص کے لئے نماز کا وقت تنگ ہونے کے باعث تیمم کرنا ضروری ہو اگر وہ قصد قربت کی نیت سے یا کسی مستحب کام مثلاً قرآن مجید پڑھنے کے لئے وضو کرے تو اس کا وضو صحیح ہے۔ اور اگر اسی نماز کو پڑھنے کے لئے وضو کرے تو بھی یہی حکم ہے۔ لیکن اسے قصد قُربت حاصل نہیں ہوگا۔
(آٹھویں شرط) وضو بقصد قربت یعنی اللہ تعالی کی رضا کے لئے کیاجائے۔ اگر اپنے آپ کو ٹھنڈک پہنچانے یا کسی اور نیت سے کیا جائے تو وضو باطل ہے۔
288 ۔ وضو کی نیت زبان سے یا دل میں کرنا ضروری نہیں بلکہ اگر ایک شخص وضو کے تمام افعال اللہ تعالی کے حکم پر عمل کرنے کی نیت سے بجا لائے تو کافی ہے۔
(نویں شرط) وضو اس ترتیب سے کیا جائے جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے یعنی پہلے چہرہ اور اس کے بعد دایاں اور پھر بایاں ہاتھ دھویا جائے اس کے بعد سر کا اور پھر پاوں کا مسح کیا جائے اور احتیاط مستحب یہ ہےکہ دونوں پاوں کا ایک ساتھ مسح نہ کیا جائے بلکہ بائیں پاوں کا مسح دائیں پاوں کے بعد کیا جائے۔
(دسویں شرط) وضو کے افعال سر انجام دینے میں فاصلہ نہ ہو۔
289 ۔ اگر وضو کے افعال کے درمیان اتنا فاصلہ ہو جائے کہ عرف عام میں متواتر دھونا نہ کہلائے تو وضو باطل ہے لیکن اگر کسی شخص کو کوئی عذر پیش آجائے مثلاً یہ کہ بھول جائے یا پانی ختم ہو جائے تو اس صورت میں بلافاصلہ دھونے کی شرط معتبر نہیں ہے۔ بلکہ وضو کرنے والا شخص جس وقت چاہے کسی عضو کو دھولے یا اس کا مسح کرلے تو اس اثنا میں اگر ان مقامات کی تری خشک ہو جائے۔ جنہیں وہ پہلے دھوچکا ہو یا جن کا مسح کر چکا ہو تو وضو باطل ہوگا لیکن اگر جس عضو کو دھونا ہے یا مسح کرنا ہے صرف اس سے پہلے دھوئے ہوئے یا مسح کئے ہوئے عضو کی تری خشک ہو گئی ہو مثلاً جب بایاں ہاتھ دھوتے وقت دائیں ہاتھ کی تری خشک ہو چکی ہو لیکن چہرہ تر ہو تو وضو صحیح ہے۔
290 ۔ اگر کوئی شخص وضو کے افعال بلا فاصلہ انجام دے لیکن گرم ہوا یا بدن کی تپ یا کسی اور ایسی ہی وجہ سے پہلی جگہوں کی تری (یعنی ان جگہوں کی تری جنہیں وہ پہلے دھو چکا ہو یا جن کا مسح کر چکا ہو) خشک ہو جائے تو اس کا وضو صحیح ہے۔
291 ۔ وضو کے دوران چلنے پھرنے میں کوئی حرن نہیں لہذا اگر کوئی شخص چہرہ اور ہاتھ دھونے کے بعد چند قدم چلے اور پھر سر اور پاوں کا مسح کرے تو اس کا وضو و صحیح ہے۔
(گیارہویں شرط) انسان خود اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے اور پھر سر اور پاوں کا مسح کرے۔ اگر کوئی دوسرا اسے وضو کرائے یا اس کے چہرے یا ہاتھوں پر پانی ڈالنے یا سر اور پاوں کا مسح کرنے میں اس کی مدد کرے تو اس کا وضو باطل ہے۔
292 ۔ اگر کوئی کوئی شخص خود وضو نہ کر سکتا ہو تو کسی دوسرے شخص سے مدد لے لے اگرچہ دھونے اور مسح کرنے میں حتی الامکان دونوں کی شرکت ضروری ہے اور اگر وہ شخص اجرت مانگے تو اگر اس کی ادائیگی کر سکتا ہو اور ایسا کرنا اسکے لئے مالی طور پر نقصان دہ نہ ہو تو اجرت ادا کرنا ضروری ہے۔ نیز ضروری ہے کہ وضو کی نیت خود کرے اور اپنے ہاتھ سے مسح کرے اور اگر خود دوسرے کے ساتھ شرکت نہ کر سکتا ہو تو ضروری ہے کہ کسی دوسرے شخص سے مدد لے جو اسے وضو کروائے یا اس صورت میں احتیاط واجب یہ ہے کہ دونوں وضو کی نیت کریں۔ اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس کا نائب اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کی مسح کی جگہوں پر پھیرے ار اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ نائب اس کے ہاتھ سے تری حاصل کرے اور اس تری سے اس کے سر اور پاوں پر مسح کرے۔
293 ۔ وضو کے جا افعال بھی انسان بذات خود انجام دے سکتا ہو ضروری ہے کہ انھیں انجام دینے کے لئے دوسروں کی مدد نہ لے۔
(بارہویں شرط) وضو کرنے والے کے لئے پانی کے استعمال میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
294 ۔ جس شخص کو خوف ہو کہ وضو کرنے سے بیمار ہو جائے گا یا اس پانی سے وضو کرے گا تو پیاسارہ جائے گا اس کا فریضہ وضو نہیں ہے۔ اور اگر اسے علم نہ ہو کہ پانی اس کے لئے مضر ہے اور وہ وضو کر لے اور اسےوضو کرنے سے نقصان پہنچے تو اس کا وضو باطل ہے۔
295 ۔ اگر چہرے اور ہاتھوں کو اتنے کم پانی سے دھونا جس سے وضو صحیح ہو جاتا ہو ضرر رساں نہ ہو اور اس سے زیادہ ضرر رساں ہو تو ضروری ہے کہ کم مقدار سے ہی وضو کرے۔
(تیرہویں شرط) وضو کے اعضاء تک پانی پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
296 ۔ اگر کسی شخص کو معلوم ہو کہ اس کے وضو کے اعضاء پر کوئی چیز لگی ہوئی ہے لیکن اس بارے میں اسے شک ہو کہ آیا وہ چیز پانی کے ان اعضاء تک پہنچنے میں مانع ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ یا تو اس چیز کو ہٹا دے یا پانی اس کے نیچے تک پہنچائے۔
297 ۔ اگر نانخن کے نیچے میل ہو تو وضو درست ہے لیکن اگر ناخن کا ہونا جائے اور اس میل کی وجہ سے پانی کھال تک نہ پہنچے تو وضو کے لئے اس میل کا دور کرنا ضروری ہے۔ علاوہ ازیں اگر ناخن معمول سے زیادہ بڑھ جائیں تو جتنا حصہ معمول سے زیادہ بڑھا ہوا ہو اس کے نیچے سے میل نکالنا ضروری ہے۔
298 ۔ اگر کسی شخص کے چہرے، ہاتھوں، سر کے اگلے حصے یا پاوں کے اوپر والے حصے پر جل جانے سے یا کسی اور وجہ سے ورم ہو جائے تو اسے دھو لینا اور اس پر مسح کر لینا کافی ہے اور اگر اس میں سوراخ ہو جائے تو پانی جلد کے نیچے پہنچانا ضروری نہیں بلکہ اگر جلد کا ایک حصہ اکھڑ جائے تب بھی یہ ضروری نہیں کہ جو حصہ نہیں اکھڑا اس کے نیچے تک پانی پہنچایا جائے۔ لیکن جب اکھڑی ہوئی جلد کبھی بدن سے چپک جاتی ہو اور کبھی اوپر اٹھ جاتی ہو تو ضروری ہے کہ یا تو اسے کاٹ دے یا اس کے نیچے پانی پہنچائے۔
299 ۔ اگر کسی شخص کو شک ہو کہ اس کے وضو کے اعضاء سے کوئی چیز چپکی ہوئی ہے یا نہیں اور اس کا یہ احتمال لوگوں کی نظر میں بھی درست ہو مثلاً گارے سے کوئی کام کرنے کے بعد شک ہو کہ گارا اس کے ہاتھ سے لگا رہ گیا ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ تحقیق کر لے یا ہاتھ کو اتنا ملے کہ اطمینان ہو جائے کہ اگر اس پر گارا لگا رہ گیا تھا تو دور ہو گیا ہے یا پانی اس کے نیچے پہنچ گیا ہے۔
300 ۔ جس جگہ کو دھونا ہو یا جس کا مسح کرنا ہو اگر اس پر میل ہو لیکن وہ میل پانی کے جلد تک پہنچے میں رکاوٹ نہ ڈالے تو کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح اگر پلستر وغیرہ کا کام کرنے کے بعد سفیدی ہاتھ پر لگی رہ جائے جو پانی کو جلد تک پہنچنے سے نہ روکے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر شک ہو کہ ان چیزوں کی موجودگی پانی کے جلد تک پہنچنے میں مانع ہے یا نہیں تو انہیں دور کرنا ضروری ہے۔
301 ۔اگر کوئی شخص وضو کرنے سے پہلے جانتا ہو کہ وضو کے بعض اعضاء پر ایسی چیز موجود ہے جو ان تک پانی پہنچنے میں مانع ہے اور وضو کے بعد شک کرے کہ وضو کرتے وقت پانی ان اعضاء تک پہنچایا ہے یا نہیں تو اس کا وضو صحیح ہے۔
302 ۔ اگر وضو کے بعض اعضاء میں کوئی ایسی رکاوٹ ہو جس کے نیچے پانی کبھی تو خود بخود چلا جاتا ہو اور کبھی نہ پہنچتا ہو اور انسان وضو کے بعد شک کرے کہ پانی اس کے نیچے پہنچا ہے یا نہیں جب کہ وہ جانتا ہو کہ وضو کے وقت وہ اس رکاوٹ کے نیچے پانی پہنچنے کی جانب متوجہ نہ تھا تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ دوبارہ وضو کرے۔
303 ۔ اگر کوئی شخص وضو کرنے کے بعد وضو کے اعضاء پر کوئی ایسی چیز دیکھے جو پانی کے بدن تک پہنچنے میں مانع ہو اور اسے یہ معلوم نہ ہو کہ وضو کے وقت یہ چیز موجود تھی یا بعد میں پیدا ہوئی تو اس کا وضو صحیح ہے لیکن اگر وہ جانتا ہو کہ وضو کرتے وقت وہ اس رکاوٹ کی جانب متوجہ نہ تھا تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ دوبارہ وضو کرے۔
304 ۔ اگر کسی شخص کو وضو کے بعد شک ہو کہ جو چیز پانی کے پہنچنے میں مانع ہے وضو کے اعضاء پر تھی یا نہیں تو اس کا وضو صحیح ہے۔
305 ۔ اگر کوئی شخص وضو کے افعال اور شرائط مثلاً پانی کے پاک ہونے یا غصبی نہ ہونے کے بارے میں بہت زیادہ شک کرے تو اسے چاہئے کہ اپنے شک کی پروا نہ کرے۔
306 ۔ اگر کسی شخص کو شک ہو کہ اس کا وضو باطل ہوا ہے یا نہیں تو اسے یہ سمجھنا چاہئے کہ اس کا وضو باقی ہے لیکن اگر اس نے پیشاب کرنے کے بعد استبراء کئے بغیر وضو کے بعد اس کے مخرج پیشاب سے ایسی رطوبت خارج ہو جس کے بارے میں وہ یہ جانتا ہو کہ پیشاب ہے یا کوئی اور چیز تو اس کا وضو باطل ہے۔
307 ۔ اگر کسی شخص کو شک ہو کہ اس نے وضو کیا ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ وضو کرے۔
308 ۔ جس شخص کو معلوم ہو کہ اس نے وضو کیا ہے اور اس سے حدث بھی واقع ہو گیا ہے مثلاً اس نے پیشاب کیا ہے لیکن اسے یہ معلوم نہ ہو کہ کونسی بات پہلے واقع ہوئی ہے اگر یہ صورت نماز سے پہلے پیش آئے تو اسے چاہئے کہ وضو کرے اور اگر نماز کے دوران پیش آئے تو نماز توڑ کر وضو کرنا ضروری ہے اور اگر نماز کے بعد پیش آئے تو جو نماز وہ پڑھ چکا ہے وہ صحیح ہے البتہ دوسری نمازوں کے لئے نیا وضو کرنا ضروری ہے۔
309 ۔ اگر کسی شخص کو وضو کے بعد یا وضو کے دوران یقین ہو جائے کہ اس نے بعض جگہیں نہیں دھوئیں یا ان کا مسح نہیں کیا اور جن اعضاء کو پہلے دھویا ہو یا ان کا مسح کیا ہو ان کی تری زیادہ وقت گزر جانے کی وجہ سے خشک ہو چکی ہو تو اسے چاہئے کہ دوبارہ وضو کرے لیکن اگر وہ تری خشک نہ ہوئی ہو یا ہوا کی گرمی یا کیس اور ایسی وجہ سے خشک ہو گئی ہو تو ضروری ہے کہ جن جگہ وں ک ے بار ے م یں بھ ول گ یا ہ و ان ہیں اور ان کے بعد آن ے وال ی جگہ وں کو د ھ وئ ے یا ان کا مسح کرے اور اگر وضو ک ے دوران کس ی عضو کے د ھ ون ے یا مسح کرنے ک ے بار ے م یں شک کرے تو اسی حکم پر عمل کرنا ضروری ہے۔
310 ۔ اگر کس ی شخص کو نماز پڑھ ن ے ک ے بعد شک ہ و ک ہ اس ن ے وضو ک یا تھ ا یا نہیں تو اس کی نماز صحیح ہے ل یکن آئندہ نمازوں ک ے لئ ے وضو کرنا ضرور ی ہے۔
311 ۔ اگر کس ی شخص کو نماز کے دوران شک ہ و ک ہ آ یا اس نے وضو ک یا تھ ا یا نہیں تو اس کی نماز باطل ہے۔ اور ضرور ی ہے ک ہ و ہ وضو کر ے اور نماز دوبارہ پ ڑھے۔
312 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز کے بعد یہ سمجھے ک ہ اس کا وضو باطل ہ وگ یا تھ ا ل یکن شک ہ و ک ہ اس کا وضو نماز س ے پ ہ ل ے باطل ہ وا ت ھ ا یا بعد میں تو جو نماز پڑھ چکا ہے و ہ صح یح ہے۔
313 ۔ اگر کوئ ی شخص ایسے مرض میں مبتلا ہ و ک ہ اس ے پ یشاب کے قطر ے گرت ے ر ہ ت ے ہ وں یا پاخانہ روکن ے پر قادر ن ہ ہ و تو اگر اس ے یقین ہ و ک ہ نماز ک ے اول وقت س ے ل ے کر آخر وقت تک اس ے اتنا وقف ہ مل جائ ے گا ک ہ وضو کر ک ے نماز پ ڑھ سک ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس وقف ے ک ے دوران نماز پ ڑھ لے اور اگر اسے صرف اتن ی مہ لت مل ے جو نماز ک ے واجبات ادا کرن ے ک ے لئ ے کاف ی ہ و ت و اس دوران صرف نماز کے واجبات بجا لانا اور مستحب افعال مثلاً اذان، اقامت اور قنوت کو ترک کر د ینا ضروری ہے۔
314 ۔ اگر کس ی شخص کو (بیماری کی وجہ س ے ) وضو کرک ے نماز کا کچ ھ حص ہ پ ڑھ ن ے ک ی مہ لت ملت ی ہ و اور نماز ک ے دوران ا یک دفعہ یا چند دفعہ اس کا پ یشاب یا پاخانہ خارج ہ وتا ہ و تو احت یاط لازم یہ ہے ک ہ اس م ہ لت ک ے دوران وضو کر ک ے وضو کر ک ے نماز پر ھے ل یکن نماز کے دوران لازم ن ہیں ہے ک ہ پ یشاب یا پاخانہ خارج ہ ون ے ک ی وجہ س ے دوبار ہ وضو کر ے اگرچ ہ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ پان ی کا برتن اپنے سات ھ رک ھے اور جب ب ھی پیشاب یا پاخانہ خارج ہ و وضو کر ے اور باق ی ماندہ نماز پ ڑھے اور یہ احتیاط اس صورت میں ہے ک ہ جب پ یشاب یا پاخانہ خارج ہ ون ے کا وقف ہ طو یل نہ ہ و یا دوبارہ وضو کرن ے ک ی وجہ س ے ارکان نماز ک ے درم یان فاصلہ ز یادہ نہ ہ و ۔ بصورت د یگر احتیاط کا کوئی فائدہ ن ہیں۔
315 ۔ اگر کس ی شخص کو پیشاب یا پاخانہ بار بار یوں آتا کہ اس ے وضو کر ک ے نماز کا کچ ھ حص ہ پ ڑھ ن ے ک ی بھی مہ لت ن ہ ملت ی ہ و تو اس ک ی ہ ر نماز ک ے لئ ے بلا اشکال ا یک وضو کافی ہے بلک ہ اظ ہ ر یہ ہے ک ہ ا یک وضو چند نمازوں کے لئ ے ب ھی کافی ہے۔ ماسوا اس ک ے ک ہ کس ی دوسرے حدث م یں مبتلا ہ وجائ ے۔ اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ ہ ر نماز ک ے لئ ے ا یک بار وضو کرے ل یکن قضا سجدے ، قضا تش ہ د اور نماز احت یاط کے لئ ے دوسرا وضو ضرور ی نہیں ہے۔
316 ۔ اگر کس ی شخص کو پیشاب یا پاخانہ بار بار آتا ہ و تو اس ک ے لئ ے ضرور ی نہیں کہ وضو ک ے بعد فوراً نماز پ ڑھے اگرچ ہ ب ہ تر ہے ک ہ نماز پ ڑھ ن ے م یں جلدی کرے۔
317 ۔ اگر کس ی شخص کو پیشاب یا پاخانہ بار بار آتا ہ و تو وضو کرن ے ک ے بعد اگر و ہ نماز ک ی حالت میں نہ ہ و تب ب ھی اس کے لئ ے قرآن مج ید کے الفاظ کو چ ھ ونا جائز ہے۔
318 ۔ اگر کس ی شخص کو قطرہ قطر ہ پ یشاپ آتا رہ تا ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ نماز ک ے لئ ے ا یک ایسی تھیلی استمعال کرے جس م یں روئی یا کوئی اور چیز رکھی ہ و جو پ یشاب کو دوسری جگہ وں تک پ ہ نچن ے س ے روک ے اور احت یاط واجب یہ ہے ک ہ نماز س ے پ ہ ل ے نجس شد ہ ذکر کو د ھ ول ے۔ علاو ہ از یں جو شخص پاخانہ روکن ے پر قادر ن ہ ہ و اس ے چا ہ ئ ے ک ہ ج ہ اں تک ممکن ہ و نماز پ ڑھ ن ے تک پاخان ے کو دوسر ی جگہ وں تک پ ھیلنے سے روک ے اور احت یاط واجب یہ ہے ک ہ اگر باعث زحمت ن ہ ہ و تو ہ ر نماز ک ے لئ ے مقعد کو د ھ وئ ے۔
319 ۔ جو شخص پ یشاب پاخانے کو روکن ے پر قدرت ن ہ رک ھ تا ہ و تو ج ہ اں تک ممکن ہ و نماز م یں پیشاب یا پاخانے کو روک ے چا ہے اس پر کچ ھ خرچ کرنا پ ڑے بلک ہ اس کا مرض اگر آ سانی سے دور ہ و سکتا ہ و تو اپنا علاج کرائ ے۔
320 ۔ جو شخص اپنا پ یشاب یا پاخانہ روکن ے پر قادر ن ہ ہ و اس ک ے لئ ے صحت یاب ہ ون ے ک ے بعد یہ ضروری نہیں کہ جو نماز یں اس نے مرض ک ی حالت میں اپنے وظ یفہ کے مطابق پ ڑھی ہ وں ان ک ی قضا کرے ل یکن اگر اس کا مرض نماز پڑھ ت ے ہ وئ ے دور ہ و جائ ے تو احت یاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ جو نماز اس وقت پڑھی ہ و اس ے دوبار ہ پ ڑھے۔
321 ۔ اگر کس ی شخص کو یہ عارضہ لا حق ہ و ک ہ ر یاح روکنے پر قادر ن ہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ان لوگوں ک ے وظ یفہ کے مطابق عمل کر ے جو پ یشاب اور پاخانہ روکنے پر قدرت رک ھ ت ے ہ وں ۔
322 ۔ چ ھ چ یزوں کے لئ ے وضو کرنا واجب ہے۔
(اول) واجب نمازوں کے لئ ے سوائ ے نماز م یت کے ۔ اور مستحب نمازوں م یں وضو شرط صحت ہے۔
(دوم) اس سجدے اور تش ہ د ک ے لئ ے جو ا یک شخص بھ ول گ یا ہ و جب ک ہ ان ک ے اور نماز ک ے درم یان کوئی حدث اس سے سر زد ہ وا ہ و مثلاً اس ن ے پ یشاب کیا ہ و ل یکن سجدہ س ہ و ک ے لئ ے وضو کرنا واجب ن ہیں۔
(سوم) خانہ کعب ہ ک ے واجب طواف ک ے لئ ے جو ک ہ حج اور عمر ہ کا جز ہ و ۔
(چہ ارم) وضو کرن ے ک ی منت مانی ہ و یا عہ د ک یا ہ و یا قسم کھ ائ ی ہ و ۔
(پنجم) جب کسی نے منت مان ی ہ و ک ہ مثلاً قرآن مج ید کا بوسہ ل ے گا ۔
(ششم) نجس شدہ قرآن مج ید کو دھ ون ے ک ے لئ ے یا بیت الخلاء وغیرہ سے نکالن ے ک ے لئ ے جب ک ہ متعلق ہ شخص مجبور ہ و کر اس مقصد ک ے لئ ے اپنا ہ ات ھ یا بدن کا کوئی اور حصہ قرآن مج ید کے الفاظ س ے مس کر ے ل یکن وضو میں صرف ہ ون ے والا وقت اگر قرآن مج ید کو دھ ون ے یا اسے ب یت الخلاء سے نکالن ے م یں اتنی تاخیر کا باعث ہ و جس س ے کلام الل ہ ک ی بے حرمت ی ہ وت ی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ وضو کئ ے بغ یر قرآن مجید کو بیت الخلاء وغیرہ سے با ہ ر نکال ل ے یا اگر نجس ہ و گ یا ہ و تو اس ے د ھ و ڈ ال ے۔
323 ۔ جو شخص باوضو ن ہ ہ و اس ک ے لئ ے قرآن مج ید کے الفاظ کو چ ھ ونا یعنی اپنے بدن کا کوئ ی حصہ قرآن مج ید کے الفاظ س ے لگانا حرام ہے ل یکن اگر قرآن مجید کا فارسی زبان یا کسی اور زبان میں ترجمہ ک یا گیا ہ و تو اس ے چ ھ ون ے م یں کوئی اشکال نہیں۔
324 ۔ بچ ے اور د یوانے کو قرآن مجید کے الفاظ کو چ ھ ون ے س ے روکنا واجب ن ہیں لیکن اگر ان کے ا یسا کرنے س ے قرآن مج ید کی توہین ہ وت ی ہ و تو ان ہیں روکنا ضروری ہے۔
325 ۔ جو شخص باوضو ن ہ ہ و اس ک ے لئ ے الل ہ تعال ی کے ناموں اور ان صفتوں کو چ ھ ونا جو صرف اس ی کے لئ ے مخصوص ہیں خواہ کس ی زبان میں لکھی ہ وں احت یاط واجب کی بنا پر حرام ہے اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ آنحضرت (صل ی اللہ عل یہ وآلہ ) اور ائم ہ طا ہ ر ین علیہ م الصلوۃ والسلام اور حضرت فاطمہ زہ را عل یہ االسلام کے آسمائ ے مبارک ہ کو ب ھی نہ چ ھ وئ ے۔
326 ۔ اگر کوئ ی شخص کو یقین ہ و ک ہ (نماز کا) وقت داخل ہ و چکا ہے اور واجب وضو ک ی نیت کرے ل یکن وضو کرنے ک ے بعد اس ے پت ہ چل ے ک ہ اب ھی وقت داخل نہیں ہ وا ت ھ ا تو اس کا وضو صح یح ہے۔
328 ۔ م یت کی نماز کے لئ ے قبرستان جان ے ک ے لئ ے ، مسجد یا ائمۃ علیہ م السلام کے حرم م یں جائے ک ے لئ ے ، قرآن مج ید ساتھ رکھ ن ے ، اس ے پ ڑھ ن ے ، لک ھ ن ے اور اس کا حاش یہ چھ ون ے ک ے لئ ے اور سون ے ک ے لئ ے وضو کرنا مستحب ہے۔ اور اگر کس ی شخص کا وضو ہ و تو ہ ر نماز ک ے لئ ے دوبار ہ وضو کر نا مستحب ہے۔ اور مذکور ہ بالا کاموں م یں سے کس ی ایک کے لئ ے وضو کر ے تو ہ ر و ہ کام کر سکتا ہے جو باوضو کرنا ضرور ی ہے مثلاً اس وضو کے سات ھ نماز پ ڑھ سکتا ہے۔
329 ۔ سات چ یزیں وضو کو باطل کر دیتی ہیں:۔
(اول) پیشاب (دوم) پاخانہ (سوم) معد ے اور آنتوں ک ی ہ وا جو مقعد س ے خارج ہ وت ی ہے (چ ہ ارم) ن یند جس کی وجہ س ے ن ہ آنک ھیں دیکھ سکیں اور نہ کان سن سک یں لیکن اگر آنکھیں نہ د یکھ رہی ہ وں ل یکن کان سن رہے ہ وں تو وضو باطل ن ہیں ہ وتا (پنجم) ا یسی حالت جن میں عقل زائل ہ و ج اتی ہ و مثلا د یوانگی، مستی یا بے ہ وش ی (ششم) عورتوں کا استحاضہ جس کا ذکر بعد م یں آئے گا ( ہ فتم) جنابت بلک ہ احت یاط مستحب کی بنا پر ہ ر و ہ کام جس ک ے لئ ے غسل کرنا ضرو ری ہے۔
وہ چیز جس سے زخم یا ٹ و ٹی ہ وئ ی ہڈی باندھی جاتی ہے اور و ہ دو جو زخم یا ایسی ہی کسی چیز پر لگائی جاتی ہے جب یرہ کہ لات ی ہے۔
330 ۔ اگر وضو ک ے اعضا م یں سے کس ی پر زخم یا پھ و ڑ ا ہ و ہڈی ٹ و ٹی ہ وئ ی ہ و اور اس کا من ہ ک ھ لا ہ و اور پان ی اس کے لئ ے مضر ن ہ ہ و تو اس ی طرح وضو کرنا ضروری ہے جس ے عام طور پر ک یا جاتا ہے۔
331 ۔ اگر کس ی شخص کے چ ہ ر ے اور ہ ات ھ وں پر زخم یا پھ و ڑ ا ہ و یا اس (چہ ر ے یا ہ ات ھ وں) ک ی ہڈی ٹ و ٹی ہ وئ ی ہ و اور اس کا من ہ ک ھ لا ہ و اور اس پر پان ی ڈ النا نقصان و ہ ہ و تو اس ے زخم یا پھ و ڑے ک ے آ س پاس کا حصہ اس طرح اوپر س ے ن یچے کو دھ ونا چا ہ ئ ے ج یسا وضو کے بار ے م یں بتایا گیا ہے اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ اگر اس پر تر ہ ات ھ ک ھینچنا نقصان دہ ن ہ ہ و تو تر ہ ات ھ اس پر ک ھینچے اور اس کے بعد پاک کپ ڑ ا اس پر ڈ ال د ے اور گ یلا ہ ات ھ اس کپ ڑے پر ب ھی کھینچے۔ البت ہ اگر ہڈی ٹ و ٹی ہ وئ ی ہ و تو ت یمم کرنا لازم ہے۔
332 ۔ اگر زخم یا پھ و ڑ ا یا ٹ و ٹی ہڈی کسی شخص کے سر ک ے اگل ے حص ے یا پاوں پر ہ و اور اس کا من ہ ک ھ لا ہ و اور و ہ اس پر مسح ن ہ کر سکتا ہ و ک یونکہ زخم مسح کی پوری جگہ پر پ ھیلا ہ وا ہ و یا مسح کی جگہ کا جو حص ہ صح یح و سالم ہ و اس پر مسح کرنا ب ھی اس کی قدرت سے با ہ ر ہ و تو اس صورت میں ضروری ہے ک ہ ت یمم کرے اور احت یاط مستحب کی بنا پر وضو بھی کرے اور پاک کپ ڑ ا زخم وغ یرہ پر رکھے اور وضو ک ے پان ی کی تری سے جو ہ ات ھ وں پر لگ ی ہ و کپ ڑے پر مسح کر ے۔
333 ۔ اگر پ ھ و ڑے یا زخم یا ٹ و ٹی ہڈی کا منہ کس ی چیز سے بند ہ و اور اس کا کھ ولنا بغ یر تکلیف کے ممکن ہ و اور پان ی بھی اس کے لئ ے مضر ن ہ ہ و تو اس ے ک ھ ول کر وضو کرنا ضرور ی ہے خوا ہ زخم وغ یرہ چہ ر ے اور ہ ات ھ وں پر ہ و یا سر کے اگل ے حص ے اور پاوں ک ے اوپر وال ے حص ے پر ہ و ۔
334 ۔ اگر کس ی شخص کا زخم یا پھ و ڑ ا یا ٹ و ٹی ہ وئ ی ہڈی جو کسی چیز سے بند ھی ہ وئ ی ہ و اس ک ے چ ہ ر ے یا ہ ات ھ وں پر ہ و اور اس کا ک ھ ولنا اور اس پر پان ی ڈ النا مضر ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ آس پاس ک ے جتن ے حص ے کو د ھ ونا ممکن ہ و اس ے د ھ وئ ے اور جب یرہ پر مسح کرے۔
335 ۔ اگر زخم کا من ہ ن ہ ک ھ ل سکتا ہ و اور خود زخم اور جو چ یز اس پر لگائی گئی ہ و پاک ہو اور زخم تک پانی پہ نچانا ممکن ہ و اور مضر ب ھی نہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ پان ی کو زخم کے من ہ پر اوپر س ے ن یچے کی طرف پہ نچائ ے۔ اور اگر زخم یا اس کے اوپر لگائ ی گئی چیز نجس ہ و اور اس کا د ھ ونا اور زخم ک ے من ہ تک پان ی پہ نچانا ممکن ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس ے د ھ وئ ے اور وضو کرت ے وقت پان ی زخم تک پہ نچائ ے۔ اور اگر پان ی زخم کے لئ ے مضر ن ہ ہ و ۔ ل یکن زخم کے من ہ تک پان ی پہ نچانا ممکن ن ہ ہ و یا زخم نجس ہ و اور اس ے د ھ و یا نہ جاسکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ت یمم کرے۔
336 ۔ اگر جب یرہ اعضائے وضو ک ے کس ی حصے پر پ ھیلا ہ وا ہ و تو بظا ہ ر وضو جب یرہ سے کاف ی ہے ل یکن اگر جبیرہ تمام اعضائے وضو پر پ ھیلا ہ وا ہ و تو احت یاط کی بنا پر تیمم کرنا ضروری ہے اور وضوئ ے جب یرہ بھی کرے۔
337 ۔ یہ ضروری نہیں کہ جب یرہ ان چیزوں میں سے ہ و جن ک ے سات ھ نماز پ ڑھ نا درست ہے بلک ہ اگر و ہ ر یشم یا ان حیوانات کے اجزا س ے بن ی ہ و جن کا گوشت ک ھ انا جائز نہیں تو ان پر بھی مسح کرنا جائز ہے۔
338 ۔ جس شخص ک ی ہ ت ھیلی اور انگلیوں پر جبیرہ ہ و اور وضو کرن ے وقت اس ن ے تر ہ ات ھ اس پر ک ھینچا ہ و تو سر اور پاوں کا مسح اس ی تری سے کر ے۔
339 ۔ اگر کس ی شخص کے پاوں ک ے اوپر وال ے پور ے حص ے پر جب یرہ ہ و ل یکن کچھ حص ہ انگل یوں کی طرف سے اور کچ ھ حص ہ پاوں ک ے اوپر وال ے حص ہ ک ی طرف سے ک ھ لا ہ و تو جو جگ ہیں کھ ل ی ہیں وہ اں پاوں ک ے اوپر وال ے حص ے پر اور جن جگ ہ وں پر جب یرہ ہے و ہ اں جب یرہ پر مسح کرنا ضروری ہے۔
340 ۔ اگر چ ہ ر ے یا ہ ات ھ وں پر کئ ی جیرے ہ وں تو ان کا درم یانی حصہ د ھ ونا ضرور ی ہے اور اگر سر یا پاوں کے اوپر وال ے حص ے پر جب یرے ہ وں تو ان ک ے درم یانی حصے کا مسح کرنا ضرور ی ہے اور ج ہ اں جب یرے ہ وں و ہ اں جب یرے کے بار ے م یں احکام پر عمل کرنا ضروری ہے۔
341 ۔ اگر جب یرہ زخم کے آس پاس ک ے حصول کو معمول س ے ز یادہ گھیرے ہ وئ ے ہ و اور اس کو ہٹ انا بغ یر تکلیف کے ممکن ن ہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ متعلق ہ شخص ت یمم کرے بجز اس ک ے ک ہ جب یرہ و تیمم کی جگہ وں پر ہ و ک یونکہ اس صورت میں ضروری ہے ک ہ وضو اور ت یمم دونوں کرے اور دونوں صورتو ں میں اگر جبیرہ کا ہٹ انا بغ یر تکلیف کے ممکن ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس ے ہٹ ا د ے۔ پس اگر زخم چ ہ ر ے یا ہ ات ھ وں پر ہ و تو اس ک ے آس پاس ک ی جگہ وں ک ی دھ وئ ے اور اگر سر یا پاوں کے اوپر وال ے حص ے پر ہ و تو اس ک ے آس پاس ک ی جگہ وں کا مسح کر ے اور زخم ک ی جگہ ک ے لئ ے جب یرہ کے احکام پر عمل کر ے۔
342 ۔ اگر وضو ک ے اعضا پر زخم ن ہ ہ و یا ان کی ہڈی ہ وئ ی نہ ہ و ل یکن کسی دوسری وجہ س ے پانی ان کے لئ ے مضر ہ و یا تیمم کرنا ضروری ہے۔
343 ۔ اگر وضو ک ے اعضا ک ی کسی رگ سے خون نکل آ یا ہ و اور اس ے د ھ ونا ممکن ن ہ ہ و تو ت یمم کرنا لازم ہے۔ ل یکن اگر پانی اس کے لئ ے مضر ہ و تو جب یرہ کے احکام پر عمل کرنا ضرور ی ہے۔
344 ۔ اگر وضو یا غسل کی جگہ پر کوئ ی ایسی چیز چپک گئی ہ و جس کا اتارنا ممکن ن ہ ہ و یا اسے اتارن ے ک ی تکلیف نا قابل برداشت ہ و تو متعلق ہ شخص کا فر یضہ تیمم ہے۔ ل یکن اگر چپکی ہ وئ ی چیز تیمم کے مقامات پر ہ و تو اس صورت م یں ضروری ہے ک ہ وضو اور ت یمم دونوں کرے اور اگر چپ کی ہ وئ ی چیز دوا ہ و تو و ہ جب یرہ کے حکم م یں آتی ہے۔
345 ۔ غسل مس م یت کے علاو ہ تمام قسم ک ے غسلوں م یں غسل جبیرہ وضوئے جب یرہ کی طرح ہے ل یکن احتیاط لازم کی بنا پر مکلف شخص کے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ غسل ترت یبی کرے (ارتماس ی نہ کر ے ) اور اظ ہ ر یہ ہے ک ہ اگر بدن پر زخم یا پھ و ڑ ا ہ و تو مکلف کو غسل یا تیمم کا اختیار ہے۔ اگر و ہ غ سل کو اختیار کرتا ہے اور زخم یا پھ و ڑے پر جب یرہ نہ ہ و تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ زخم یا پھ و ڑے پر پاک کپ ڑ ا رک ھے اور اس کپ ڑے ک ے اوپر مسح کر ے۔ اور اگر بدن کا کوئ ی حصہ ٹ و ٹ ا ہ وا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ غسل کر ے اور احت یاط جبیرہ کے اوپر ب ھی مسح کرے اور اگر جب یرہ پر مسح کرنا ممکن نہ ہ و یا جو جگہ ٹ و ٹی ہ وئ ی ہے و ہ ک ھ ل ی ہ و تو ت یمم کرنا ضروری ہے۔
346 ۔ جس شخص کا وظ یفہ تیمم ہ و اگر اس ک ی تیمم کی بعض جگہ وں پر زخم یا پھ و ڑ ا ہ و یا ہڈی ٹ و ٹی ہ وئ ی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ وضوئ ے جب یرہ کے احکام ک ے مطابق ت یمم جبیرہ کرے۔
347 ۔ جس شخص کو وضوئ ے جب یرہ یا غسل جبیرہ کرکے نماز پ ڑھ نا ضرور ی ہ و اگر اس ے علم ہ و ک ہ نماز ک ے آخر وقت تک اس کا عذر دور ن ہیں ہ و گا تو و ہ اول وقت م یں نماز پڑھ سکتا ہے ل یکن اگر اسے ام ید ہ و ک ہ آخر وقت تک اس کا عُذر دور ہ و جائ ے گا تو اس ک ے لئ ے ب ہ تر یہ ہے ک ہ انتظ ار کرے اور اگر اس کا عذر دور ن ہ ہ و تو آخر وقت م یں وضوئے جب یرہ یا غسل جبیرہ کے سات ھ نماز ادا کر ے ل یکن اگر اول وقت میں نماز پڑھ ل ے اور آخر وقت تک اس کا عذر دور ہ و جائ ے تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ وضو یا غسل کرے اور دوبار ہ نماز پ ڑھے۔
348 ۔ اگر کوئ ی شخص آنکھ ک ی بیماری کی وجہ س ے پلک یں موند کر رکھ تا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ ت یمم کرے۔
349 ۔ اگر کس ی شخص کو یہ علم نہ ہ و ک ہ آ یا اس کا وظیفہ تیمم ہے یا وضوئے جب یرہ تو احتیاط واجب کی بنا پر اسے ت یمم اور وضوئے جب یرہ دونوں بجالانے چا ہ ئ یں۔
350 ۔ جو نماز یں کسی انسان نے وضوئ ے جب یرہ سے پ ڑھی ہ وں و ہ صح یح ہیں اور وہ اس ی وضو کے سات ھ آئند ہ ک ی نمازیں بھی پڑھ سکتا ہے۔
واجب غسل
واجب غسل سات ہیں : (پہ لا) غسل جنابت (دوسرا) غسل ح یض (تیسرا) غسل نفاس (چوتھ ا) غسل استحاض ہ (پانچواں) غسل مس م یت (چھٹ ا) غسل م یت اور (ساتواں) و غسل جو منت یا قسم وغیرہ کی وجہ س ے واجب ہ و جائ ے۔
351 ۔ دو چ یزوں سے انسان جُنُب ہ و جاتا ہے اول جماع س ے اور دوم من ی کے خارج ہ ون ے س ے خوا ہ و ن یند کی حالت میں نکلے یا جاگتے ہیں، کم ہ و یا زیادہ ، شہ وت ک ے سات ھ نکل ے یا بغیر شہ وت ک ے اور اس کا نکلنا متعلق ہ شخص ک ے اخت یار میں ہ و یا نہ ہ و ۔
352 ۔ اگر کس ی شخص کے بدن س ے کوئ ی رطوبت خارج ہ و اور و ہ یہ نہ جانتا ہ و ک ہ من ی ہے یا پیشاب یا کوئی اور چیز اور اگر وہ رطوبت ش ہ وت ک ے سات ھ اور اچ ھ ل کر نکل ی ہ و اور اس ک ے نکلن ے ک ے بعد بدن سست ہ و گ یا ہ و تو و ہ رطوبت من ی کا حکم رکھ ت ی ہے۔ ل یکن اگر ان تین علامات میں سے سار ی کی ساری یا کچھ موجود ن ہ ہ وں تو و ہ رطوبت من ی کے حکم م یں نہیں آئے گ ی۔ ل یکن اگر متعلقہ شخص ب یمار ہ و تو پ ھ ر ضرور ی نہیں کہ و ہ رطوبت اچ ھ ل کر نکل ی ہ و اور اس ک ے نکلن ے ک ے وقت بدن سست ہ و جائ ے بلک ہ اگر صرف ش ہ وت ک ے سات ھ نکل ے تو و ہ رطوبت من ی کے حکم م یں ہ وگ ی۔
353 ۔ اگر کس ی ایسے شخص کے مخرج پ یشاب سے جو ب یمار نہ ہ و کوئ ی ایسا پانی خارج ہ و جس م یں ان تین علامات میں سے جن کا ذکر اوپر وال ے مسئل ہ م یں کیا گیا ہے ا یک علامت موجود ہ و اور اس ے یہ علم نہ ہ و ک ہ باق ی علامات بھی اس میں موجود ہیں یا نہیں تو اگر اس پانی کے خارج ہ ون ے سے پ ہ ل ے اس ن ے وضو ک یا ہ وا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس ی وضو کو کافی سمجھے اور اگر وضو ن ہیں کیا تھ ا تو صرف وضو کرنا کاف ی ہے اور اس پر غسل کرنا لازم ن ہیں۔
254 ۔ من ی خارج ہ ون ے ک ے بعد انسان ک ے لئ ے پ یشاب کرنا مستحب ہے اور اگر پ یشاب نہ کر ے اور غسل ک ے بعد اس ک ے مخرج پ یشاب سے رطوبت خارج ہ و جس ک ے بار ے م یں وہ ن ہ جانتا ہ و ک ہ من ی ہے یا کوئی اور رطوبت تو وہ رطوبت من ی کا حکم رکھ ت ی ہے۔
355 ۔ اگر کوئ ی شخص جماع کرے اور عضو تناسل سپار ی کی مقدار تک یا اس سے ز یادہ عورت کی فرج میں داخل ہ و جائ ے تو خو اہ یہ دخول فرج میں ہ و یا دُبُر میں اور خواہ و ہ بالغ ہ وں یا نابالغ اور خواہ من ی خارج ہ و یا نہ ہ و دونوں جنب ہ و جات ے ہیں۔
356 ۔ اگر کس ی کو شک ہ و ک ہ عضو تناسل سپار ی کی مقدار تک داخل ہ وا ہے یا نہیں تو اس پر غسل واجب نہیں ہے۔
357 ۔ نعوذ بالل ہ اگر کوئ ی شخص کسی حیوان کے سات ھ وط ی کرے اور اس ک ی منی خارج ہ و تو صرف غسل کرنا کاف ی ہے اور اگر من ی خارج نہ ہ و اور اس ن ے وط ی کرنے س ے پ ہ ل ے وضو ک یا ہ وا ہ و تب ب ھی صرف غسل کافی ہے اور اگر وضو ن ہ کر رک ھ ا ہ و تو احت یاط واجب یہ ہے ک ہ غسل کر ے اور وضو ب ھی کرے اور مرد یا لڑ ک ے س ے وط ی کرنے ک ی صورت میں بھی یہی حکم ہے۔
358 ۔ اگر من ی اپنی جگہ س ے حرکت کر ے ل یکن خارج نہ ہ و یا انسان کو شک ہ و ک ہ من ی خارج ہ وئ ی ہے یا نہیں تو اس پر غسل واجب نہیں ہے۔
359 ۔ جو شخص غسل ن ہ کر سک ے ل یکن تیمم کر سکتا ہ و و ہ نماز کا وقت داخل ہ ون ے ک ے بعد ب ھی اپنی بیوی سے جماع کرسکتا ہے۔
360 ۔ اگر کوئ ی شخص اپنے لباس م یں منی دیکھے اور جانتا ہ و ک ہ اس ک ی اپنی منی ہے اور اس ن ے اس من ی کے لئ ے غسل ن ہ ک یا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ غسل کر ے اور جن نمازوں ک ے بار ے م یں اسے یقین ہ و ک ہ و ہ اس ن ے من ی خارج ہ ون ے ک ے بعد پ ڑھی تھیں ان کی قضا کرے ل یکن ان نمازوں کی قضا ضروری نہیں جن کے بار ے م یں احتمال ہ و ک ہ و ہ اس ن ے من ی خارج ہ ون ے س ے پ ہ ل ے پ ڑھی تھیں۔
وہ چیزیں جو مجنب پر حرام ہیں:
361 ۔ پانچ چ یزیں جنب شخص پر حرام ہیں:
(اول) اپنے بدن کا کوئ ی حصہ قرآن مج ید کے الفاظ یا اللہ تعال ی کے نام س ے خوا ہ و ہ کس ی بھی زبان میں ہ و مس ک رنا۔ اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ پ یغمبروں، اماموں اور حضرت زہ را عل یہ م السلام کے ناموں س ے ب ھی اپنا بدن مس نہ کر ے۔
(دوم) مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں جانا ایک دروازے س ے داخل ہ و کر دوسر ے درواز ے س ے نکل آئ ے۔
(سوم) مسجد الحرام اور اور مسجدی نبوی کے علاو ہ دوسر ی مسجدوں میں ٹھہ رنا ۔ اور احت یاط واجب کی بنا پر اماموں کے حرم م یں ٹھہ رن ے کا ب ھی یہی حکم ہے۔ ل یکن اگر ان مسجدوں میں سے کس ی مسجد کو عبور کرے مثلاً ا یک دروازے س ے داخل ہ و کر دوسر ے س ے با ہ ر نکل جائ ے تو کوئ ی حرج نہیں۔
(چہ ارم) احت یاط لازم کی بنا پر کسی مسجد میں کوئی چیز رکھ ن ے یا کوئی چیز اٹھ ان ے ک ے لئ ے داخل ہ ونا ۔
(پنجم) ان آیات میں سے کس ی آیت کا پرھ نا جن ک ے پر ھ ن ے س ے سجد ہ واجب ہ و جاتا ہے اور و ہ آ یتیں چار سورتوں میں ہیں ( 1) قرآن مجید کی 32 ویں سورۃ (آلمّ تنزیل) ( 2) 41 ویں سورۃ (حٰمٓ سجدہ ) ( 3) 53 ویں سورۃ (وَالنَّجم) ( 4) 96 ویں سورۃ (عَلَق)
362 ۔ نو چ یزیں جنب شخص کے لئ ے مکرو ہ ہیں:
(اول اور دوم) کھ انا پ ینا۔ ل یکن اگر ہ ات ھ من ہ د ھ ول ے اور کل ی کرلے تو مکرو ہ ن ہیں ہے اور اگر صرف ہ ات ھ د ھ ول ے تو ب ھی کراہ ت کم ہ وجائ ے گ ی۔
(سوم) قرآن مجید کی ساتھ س ے ز یادہ ایسی آیات پڑھ نا جن م یں سجدہ واجب ن ہ ہ وا ۔
(چہ ارم) اپن ے بدن کا کوئ ی حصہ قرآن مج ید کی جلد، حاشیہ یا الفاظ کی درمیانی جگہ س ے چ ھ ونا ۔
(پنجم) قرآنی مجید اپنے سات ھ رک ھ نا ۔
(ششم) سونا۔ البت ہ اگر وضو کرل ے یا پانی نہ ہ ون ے ک ی وجہ س ے غسل ک ے بدل ے ت یمم کرلے تو پ ھ ر سونا مکرو ہ ن ہیں ہے۔
(ہ فتم) م ہ ند ی یا اس سے ملت ی جلتی چیز سے خضاب کرنا ۔
(ہ شتم) بدن پر ت یل ملنا۔
(نہ م) احتلام یعنی سوتے م یں منی خارج ہ ون ے ک ے بعد جماع کرنا ۔
363 ۔ غسل جنابت واجب نماز پ ڑھ ن ے ک ے لئ ے اور ا یسی دوسری عبادات کے لئ ے واجب ہ و جاتا ہے ل یکن نماز میت، سجدہ س ہ و، سجد ہ شکر اور قرآن مج ید کے واجب سجدوں ک ے لئ ے غسل جنابت ضرور ی نہیں ہے۔
364 ۔ یہ ضروری نہیں کہ غسل ک ے وقت ن یت کرے ک ہ واجب غسل کر ر ہ ا ہے ، بلک ہ فقط قُربَ ۃ اِلَی اللہ یعنی اللہ تعال ی کی رضا کے اراد ے س ے غسل کر ے تو کاف ی ہے۔
365 ۔ اگر کس ی شخص کو یقین ہ و ک ہ نماز کا وقت ہ و گ یا ہے اور غسل واجب ک ی نیت کرلے ل یکن بعد میں پتہ چل ے ک ہ اس ن ے وقت س ے پ ہ ل ے غسل کر ل یا ہے تو اس کا غسل صح یح ہے۔
366 ۔ غسل جنابت دو طر یقوں سے انجام د یا جا سکتا ہے ترت یبی اور ارتماسی۔
367 ۔ ترت یبی غسل میں احتیاط لازم کی بنا پر غسل کی نیت سے پ ہ ل ے پورا سر اور گردن اور بعد م یں بدن دھ ونا ضرور ی ہے اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ بدن کو پ ہ ل ے دائ یں طرف سے اور بعد م یں بائیں طرف سے د ھ وئ ے۔ اور ت ینوں اعضاء میں سے ہ ر ا یک کو غسل کی نیت سے پان ی کے ن یچے حرکت دینے سے ترت یبی غسل کا صحیح ہ ونا اشکال س ے خال ی نہیں ہے اور احت یاط اس پر اکتفانہ کرن ے م یں ہے۔ اور اگر و ہ شخص جان بوج ھ کر یا بھ ول کر یا مسئلہ ن ہ جانن ے ک ی وجہ س ے بدن کو سر س ے پ ہ ل ے د ھ وئ ے تو اس کا غسل باطل ہے۔
368 ۔ اگر کوئ ی شخص بدن کو سر سے پ ہ ل ے د ھ وئ ے تو اس ک ے لئ ے غسل کا اعاد ہ کرنا ضرور ی نہیں بلکہ اگر بدن کو دوبار ہ د ھ ول ے تو اس کا غسل صح یح ہ و جائ ے گا ۔
369 ۔ اگر کس ی شخص کو اس بات کا یقین نہ ہ و ک ہ اس ن ے سر، گردن اور جسم کا دا یاں و بایاں حصہ مکمل طور پر د ھ ول یا ہے تو اس بات کا یقین کرنے ک ے لئ ے جس حص ے کو د ھ وئ ے اس ک ے سات ھ دوسر ے حص ے ک ی کچھ مقدار ب ھی دھ ونا ضرور ی ہے۔
370 ۔ اگر کس ی شخص کو غسل کے بعد پت ہ چل ے ک ہ بدن کا کچ ھ حص ہ د ھ لن ے س ے ر ہ گ یا ہے ل یکن یہ علم نہ ہ و ک ہ و ہ کونسا حص ہ ہے تو سر کا دوبار ہ د ھ ونا ضرور ی نہیں اور بدن کا صرف وہ حص ہ د ھ وا ضرور ی ہے جس ک ے ن ہ د ھ وئ ے جان ے ک ے بار ے م یں احتمال پیدا ہ وا ہے۔
371 ۔ اگر کس ی کو غسل کے بعد پت ہ چل ے ک ہ اس ن ے بدن کا کچ ھ حص ہ ن ہیں دھ و یا تو اگر وہ بائ یں طرف ہ و تو صرف اس ی مقدار کا دھ و ل ینا کافی ہے اور اگر دائ یں طرف ہ و تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اتن ی مقدار دھ ون ے ک ے بعد بائ یں طرف کو دوبارہ د ھ وئ ے اور اگر سر اور گردن د ھ لن ے س ے ر ہ گئی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اتن ی مقدار دھ ون ے ک ے بعد دوبار ہ بدن کو د ھ وئ ے۔
372 ۔ اگر کس ی شخص کو غسل مکمل ہ ون ے س ے پ ہ ل ے دائ یں یا بائیں طرف کا کچھ حص ہ د ھ وئ ے جان ے ک ے بار ے م یں شک گزرے تو اس ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ اتن ی مقدار دھ وئ ے اور اگر اس ے سر یا گردن کا کچھ حص ہ د ھ وئ ے جان ے ک ے بار ے م یں شک ہ و تو احت یاط لازم کی بنا پر سر اور گردن دھ ون ے ک ے بع د دائیں اور بائیں حصے کو دوبار ہ د ھ ونا ضرور ی ہے۔
ارتماسی غسل دو طریقے سے انجام د یا جا سکتا ہے۔ دَفع ی اور تَدرِیجِی۔
373 ۔ غسل ارتماس ی دفعی میں ضروری ہے ک ہ ا یک لمحے م یں پورے بدن ک ے سات ھ پان ی میں ڈ بک ی لگائے ل یکن غسل کرنے س ے پ ہ ل ے ا یک شخص کے سار ے بدن کا پان ی سے با ہ ر ہ ونا معتبر ن ہیں ہے۔ بلک ہ اگر بدن کا کچ ھ حص ہ پان ی سے با ہ ر ہ و اور غسل ک ی نیت سے پان ی میں غوطہ لگائ ے تو کاف ی ہے۔
374 ۔ غسل ارتماس ی تدریحی میں ضروری ہے ک ہ غسل ک ی نیت سے ا یک دفعہ بدن کو د ھ ون ے کا خ یال رکھ ت ے ہ وئ ے آ ہ ست ہ آ ہ ست ہ پان ی میں غوطہ لگائ ے۔ اس غسل م یں ضروری ہے ک ہ بدن کا پورا حص ہ غسل کرن ے س ے پ ہ ل ے پان ی سے با ہ ر ہ و ۔
375 ۔ اگر کس ی شخص کو غسل ارتماسی کے بعد پت ہ چل ے ک ہ اس ک ے بدن ک ے کچ ھ حص ے تک پان ی نہیں پہ نچا ہے تو خوا ہ و ہ اس مخصوص حصے ک ے متعلق جانتا ہ و یا نہ جانتا ہ و ضرور ی ہے ک ہ دوبار ہ غسل کر ے۔
376 ۔ اگر کس ی شخص کے پاس غسل ترت یبی کے لئ ے وقت ن ہ ہ و ل یکن ارتماسی غسل کے لئ ے وقت ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ارتماس ی غسل کرے۔
377 ۔ جس شخص ن ے حج یا عمرے ک ے لئ ے احرام باند ھ ا ہ و و ہ ارتماس ی غسل نہیں کر سکتا لیکن اگر اس نے ب ھ ول کر ارتماس ی غسل کر لیا ہ و تو اس کا غسل صح یح ہے۔
378 ۔ غسل ارتماس ی یا غسل ترتیبی میں غسل سے پ ہ ل ے سار ے جسم کا پاک ہ ونا ضرور ی نہیں ہے بلک ہ اگر پان ی میں غوطہ لگان ے یا غسل کے اراد ے س ے پان ی بدن پر ڈ الن ے س ے بدن پاک ہ و جائ ے تو غسل صح یح ہ وگا ۔
379 ۔ اگر کوئ ی شخص حرام سے جنب ہ وا ہ و اور گرم پان ی سے غسل کرل ے تو اگرچ ہ اس ے پس ینہ بھی آئے تب ب ھی اس کا غسل صحیح ہے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ ٹھ ن ڈے پان ی سے غسل کر ے۔
380 ۔ غسل م یں بال برابر بدن بھی اگر ان دھ لا ر ہ جائ ے تو غسل باطل ہے ل یکن کان اور ناک کے اندرون ی حصوں کا اور ہ ر اس چ یز کا دھ ونا جو باطن شمار ہ وت ی ہ و واجب ن ہیں ہے۔
381 ۔ اگر کس ی شخص کو بدن کے کس ی حصے ک ے بار ے م یں شک ہ و ک ہ اس کا شمار بدن ک ے ظا ہ ر م یں ہے یا باطن میں تو ضروری ہے ک ہ اس ے د ھ ول ے۔
382 ۔ اگر کان ک ی بالی کا سوراخ یا اس جیسا کوئی اور سوراخ اس قدر کھ لا ہ و ک ہ اس کا اندرون ی حصہ بدن کا ظا ہ ر شمار ک یا جائے تو اس ے د ھ ونا ضرور ی ہے ورن ہ اس کا د ھ ونا ضرور ی نہیں ہے۔
383 ۔ جو چ یز بدن تک پانی پہ نچن ے م یں مانع ہ و ضرور ی ہے ک ہ انسان اس ے ہٹ ا د ے اور اگر اس س ے پ یشتر کہ اس ے یقین ہ و جائ ے ک ہ و ہ چ یز ہٹ گ ئی ہے غسل کر ے تو اس کا غسل باطل ہے۔
374 ۔ اگر غسل ک ے وقت کس ی شخص کو شک گزرے ک ہ کوئ ی ایسی چیز اس کے بدن پر ہے یا نہیں جو بدن تک پانی پہ نچن ے م یں مانع ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ چ ھ ان ب ین کرے حت ی کہ مطمئن ہ و جائ ے ک ہ کوئ ی ایسی رکاوٹ ن ہیں ہے۔
385 ۔ غسل م یں کہ ان چ ھ و ٹے چ ھ و ٹے بالوں کو جو بدن کا جزوشمار ہ وت ے ہیں دھ ونا ضرور ی ہے اور لمب ے بالوں کا د ھ ونا واجب ن ہیں ہے بلک ہ اگر پان ی کو جلد تک اس طرح پہ نچائ ے ک ہ لمب ے بال تر ن ہ ہ وں تو غسل صح یح ہے ل یکن اگر انہیں دھ وئ ے بغ یر جلد تک پانی پہ نچاجا ممکن ن ہ ہ و تو ا نہیں بھی دھ و نا ضروری ہے تاک ہ پان ی بدن تک پہ نچ جائ ے۔
386 ۔ و ہ تمام شرائط جو وضو ک ے صح یح ہ ون ے ک ے لئ ے بتائ ی جا چکی ہیں مثلاً پانی کا پاک ہ ونا اور غصب ی نہ ہ ونا و ہی شرائط غسل کے صح یح ہ ون ے ک ے لئ ے ب ھی ہیں۔ ل یکن غسل میں یہ ضروری نہیں ہے ک ہ انسان بدن کو اوپر س ے ن یچے کی جانب دھ وئ ے۔ علاو ہ از یں غسل ترتیبی میں یہ ضروری نہیں کہ سر اور گردن د ھ ون ے ک ے بعد فوراً بدن کو د ھ وئ ے ل ہ ذا اگر سر اور گردن د ھ ون ے ک ے بعد توقف کر ے اور کچ ھ وقت گزرن ے ک ے بعد بدن کو د ھ وئ ے تو کوئ ی حرج نہیں بلکہ ضرور ی نہیں کہ سر اور گردن یا تمام بدن کو ایک ساتھ د ھ و ئے پس اگر مثال ک ے طور پر سر د ھ و یا ہ و اور کچ ھ د یر بعد گردن دھ وئ ے تو جائز ہے ل یکن جو شخص پیشاب یا پاخانہ ک ے نکلن ے کو ن ہ روک سکتا ہ و تا ہ م اس ے پ یشاب اور پاخانہ اندازاً اتن ے وقت تک ن ہ آتا ہ و ک ہ غسل کرک ے تماز پ ڑھ ل ے تو ضرور ی ہے ک ہ فوراً غسل کر ے اور غسل ک ے بعد ف وراً نماز پڑھ ل ے۔
387 ۔ اگر کوئ ی شخص یہ جانے بغ یر کہ حمام والاراض ی ہے یا نہیں اس کی اجرت ادھ ار رک ھ ن ے کا اراد ہ رک ھ تا ہ و تو خوا ہ حمام وال ے کو بعد م یں اس بات پر راضی بھی کرلے اس کا غسل باطل ہے۔
388 ۔ اگر حمام والا اد ھ ار غسل کرن ے ک ے لئ ے راض ی ہ و ل یکن غسل کرنے والا اس ک ی اجرت نہ د ینے یا حرام مال سے د ینے کا ارادہ رک ھ تا ہ و تو اس کا غسل باطل ہے۔
389 ۔ اگر کوئ ی شخص حمام والے کو ا یسی رقم بطور اجرت دے جس کا خمس ادا ن ہ ک یا گیا ہ و تو اگرچ ہ و ہ حرام کا مرتکب ہ وگا ل یکن بظاہ ر اس کا غسل صح یح ہ و گا اور مستحق ین کو خمس ادا کرنا اس کے ذم ے ر ہے گا ۔
390 ۔ اگر کوئ ی شخص مقعد کو حمام کے حوض ک ے پان ی سے پاک کر ے اور غسل کرن ے س ے پ ہ ل ے شک کر ے ک ہ چونک ہ اس ن ے حمام ک ے حوض س ے ط ہ ارت ک ی ہے اس لئ ے حمام والا اس ک ے غسل کرن ے پر راض ی ہے یا نہیں تو اگر وہ غسل س ے پ ہ ل ے حمام وال ے کو راض ی کر لے تو ص حیح ورنہ اس کا غسل باط ہ ہے۔
391 ۔ اگر کوئ ی شخص شک کرے ک ہ اس ن ے غسل ک یا ہے یا نہیں تو ضروری ہے ک ہ غسل کر ے ل یکن اگر غسل کے بعد شک کر ے ک ہ غسل صح یح کیا ہے یا نہیں تو دوبارہ غسل کرنا ضرور ی نہیں۔
392 ۔ اگر غسل ک ے دوران کس ی شخص سے حَدَثِ اصغر سرزد ہ وجائ ے مثلاً پ یشاب کردے تو اس غسل کو ترک کرک ے نئ ے سر ے س ے غسل کرنا ضرور ی نہیں ہے بلک ہ و ہ اپن ے اس غسل کو مکمل کر سکتا ہے اس صورت م یں احتیاط لازم کی بنا پر وضو کرنا بھی ضروری ہے۔ ل یکن اگر وہ شخص غسل ترت یبی سے غسل ارتماسی کی طرف یا غسل ارتماسی سے غسل ترت یبی یا ارتماسی دفعی کی طرف پلٹ جائ ے تو وضو کرنا ضرور ی نہیں ہے۔
393 ۔ اگر وقت ک ی تنگی کی وجہ مکلف شخص کا وظ یفہ تیمم ہ و ۔ ل یکن اس خیال سے ک ہ غسل اور نماز ک ے لئ ے اس ک ے پاس وقت ہے غسل کر ے تو اگر اس ن ے غسل قصد قربت س ے ک یا ہے تو اس کا غسل صح یح ہے اگرچ ہ اس ن ے نماز پ ڑھ ن ے ک ے لئ ے غسل ک یا ہو۔
394 ۔ جو شخص جن یب ہ و اگر و ہ شک کر ے ک ہ اس ن ے غسل ک یا ہے یا نہیں تو جو نمازیں وہ پ ڑھ چکا ہے و ہ صح یح ہیں لیکن بعد کی نمازوں کے لئ ے غسل کرنا ضرور ی ہے۔ اور اگر نماز ک ے بعد اس س ے حدث اصغر صادر ہ وا ہ و تو لازم ہے ک ہ وضو ب ھی کرے اور اگر وقت ہ و تو احت یاط لازم کی بنا پر جو نماز پڑھ چکا ہے اس ے دوبار ہ پ ڑھے۔
395 ۔ جس شخص پر کئ ی غسل واجب ہ وں و ہ ان سب ک ی نیت کرکے ا یک غسل کر سکتا ہے اور ظا ہ ر یہ ہے ک ہ اگر ان م یں سے کس ی ایک مخصوص غسل کا قصد کرے تو و ہ باق ی غسلوں کے لئ ے ب ھی کافی ہے۔
396 ۔ اگر بدن ک ے کس ی حصے پر قرآن مج ید کی آیت یا اللہ تعال ی کا نام لکھ ا ہ وا ہ و تو وضو یا غسل ترتیبی کرتے وقت اس ے چا ہ ئ ے ک ہ پان ی اپنے بدن پر اس طرح پ ہ نچائ ے ک ہ اس کا ہ ات ھ ان تحر یروں کو نہ لگ ے۔
397 ۔ جس شخص ن ے غسل جنابت ک یا ہ و ضرور ی نہیں ہے ک ہ نماز ک ے لئ ے وضو ب ھی کرے بلک ہ دوسر ے واجب غسلوں ک ے بعد ب ھی سوائے غسل اِستِخاضئ ہ مُتَوسِطّ ہ اور مستحب غسلوں ک ے جن کا ذکر مسئل ہ 651 میں آئے گا بغ یر وضو نماز پڑھ سکتا ہے اگرچ ہ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ وضو ب ھی کرے۔
اِستِحاضَہ
عورتوں کو جو خون آتے ر ہ ت ے ہیں ان میں سے ا یک خون استحاضہ ہے اور عورت کو خون استحاض ہ آن ے ک ے وقت مستحاض ہ ک ہ ت ے ہیں۔
398 ۔ خون استخاض ہ ز یادہ تر زرد رنگ کا اور ٹھ ن ڈ ا ہ وتا ہے اور فشار اور جلن ک ے بغ یر خارج ہ وتا ہے اور گا ڑھ ا ب ھی نہیں ہ وتا ل یکن ممکن ہے ک ہ کب ھی سیاہ یا سرخ اور گرم اور گاڑھ ا ہ و اور فشار اور سوزش ک ے سات ھ خارج ہ و ۔
399 ۔ اِستِحاض ہ ت ین قسم کا ہ وتا ہے : قل یلہ ، مُتَوسِطہ اور کث یرہ۔
قلیلہ یہ ہے ک ہ خون صرف اس روئ ی کے اوپر وال ے حص ے کو آلود ہ کر ے جو عورت اپن ی شرمگاہ م یں رکھے اور اس روئ ی کے اندر تک سرا یت نہ کر ے۔
اِسِتخاضئہ مُتَوسِطہ یہ ہے ک ہ خون روئ ی کے اندر تک چلا جائ ے اگرچ ہ اس ک ے ا یک کونے تک ہی ہ و ل یکن روئی سے اس کپ ڑے تک ن ہ پ ہ نچ ے جو عورت یں عموماً خون روکنے ک ے لئ ے باند ھ ت ی ہیں۔
اِستِخاضہ کثیرہ یہ ہے ک ہ خون روئ ی سے تجاوز کر ک ے کپ ڑے تک پ ہ نچ جائ ے۔
400 ۔ اِستخِاض ہ قل یلہ میں ہ ر نماز ک ے لئ ے عل یحدہ وضو کرنا ضروری ہے اور احت یاط مُستحب کی بنا پر روئی کو دھ ول ے یا اسے تبد یل کر دے اور اگر شرمگا ہ ک ے ظا ہ ر ی حصے پر خون لگا ہ و تو اس ے ب ھی دھ ونا ضرور ی ہے۔
401 ۔ اِستِخاض ہ مُتَوَسِطّ ہ م یں احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ عورت اپن ی نمازوں کے لئ ے روزان ہ ا یک غسل کرے اور یہ بھی ضروری ہے اِستِخاض ہ قل یلہ کے و ہ افعال سر انجام د ے جو سابق ہ مسئل ہ م یں بیان ہ و چک ے ہیں چنانچہ اگر صبح ک ی نماز سے پ ہ ل ے یا نامز کے دوران عورت کو اِستِخاضہ آجائ ے تو صبح ک ی نماز کے لئ ے غسل کرنا ضرور ی ہے ا گر جان بوجھ کر یا بھ ول کر صبح ک ی نماز کے لئ ے غسل ن ہ کر ے تو ظ ہ ر اور عصر ک ی نماز کے لئ ے غسل کرنا ضرور ی ہے اور اگر نماز ظ ہ ر اور عصر ک ے لئ ے غسل ن ہ کر ے تو نماز مغرب و عشاء س ے پ ہ ل ے غسل کرنا ضرور ی ہے خو اہ خون آرہ ا ہ و یا بند ہ و چکا ہ و ۔
402 ۔ استحاض ہ کث یرہ میں احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے ک ہ عورت ہ ر نماز ک ے لئ ے روئ ی اور کپڑے کا ٹ ک ڑ ا تبد یل کرے یا اسے د ھ وئ ے۔ اور ا یک غسل فجر کی نماز کے لئ ے اور ا یک غسل ظہ ر و عصر ک ی اور ایک غسل مغرب و عشاء کی نماز کے لئ ے کرنا ضرور ی ہے اور ظ ہ ر اور عصر ک ی نمازوں کے درم یان فاصلہ ن ہ رک ھے۔ اور اگر فاصلہ رک ھے تو عصر ی کی نماز کے لئ ے دوبار ہ غسل کرنا ضرور ی ہے۔ اس ی طرح اگر مغرب و عشاء کی نماز کے درم یاں فاصلہ رک ھے تو عشاء ک ی نماز کے لئ ے دوبار ہ غسل کرنا ضرور ی ہے۔ یہ مذکورہ احکام اس صورت م یں ہیں اگر خون بار بار روئی ہے پ ٹی پر پہ نچ جائ ے۔ اگر روئ ی سے پٹی تک خون پہ نچن ے م یں اتنا فاصلہ ہ و جائ ے ک ہ عورت اس فاصل ہ ک ے اندر ا یک نماز یا ایک سے ز یادہ نمازیں پڑھ سکت ی ہ و تو احت یاط لازم یہ ہے ک ہ جب خون روئ ی سے پ ٹی تک پہ نچ جائ ے تو روئ ی اور پٹی کو تبدیل کرلے یا دھ ول ے اور غسل کر ل ے۔ اس ی بنا پر اگر عورت غسل کرے اور مثلاً ظ ہ ر ک ی نماز پڑھے ل یکن عصر کی نماز سے پ ہ ل ے یا نماز کے دوران دوبار ہ خون روئ ی سے پ ٹی پر پہ نچ جائ ے تو عصر ک ی نماز کے لئ ے ب ھی غسل کرنا ضروری ہے ل یکن اگر فاصلہ اتنا ہ و ک ہ عورت اس دوران دو یا دو سے ز یادہ نمازیں پڑھ سکت ی ہ و مثلاً مغرب اور عشاء کی نماز خون کے دوبار ہ پ ٹی پر پہ نچن ے س ے پ ہ ل ے پ ڑھ سکت ی ہ و تو ظا ہ ر یہ ہے ک ہ ان نمازوں ک ے لئ ے دوبار ہ غسل کرنا ضرور ی نہیں ہے۔ ان تمام صورتوں م یں اظہ ر یہ ہے ک ہ استخاض ہ کث یرہ ہے م یں غسل کرنا وضو کے لئ ے ب ھی کافی ہے۔
403 ۔ اگر خون اِسخاض ہ ک ے وقت س ے پ ہ ل ے ب ھی آئے اور عورت ن ے اس خون ک ے لئ ے وضو یا غسل نہ ک یا ہ و تو نماز ک ے وقت وضو یا غسل کرنا ضروری ہے۔ اگرچ ہ و ہ اس وقت مستحاض ہ ن ہ ہ و ۔
404 ۔ مُستَحاضَ ہ مُتَوَسِط ہ جس ک ے لئ ے وضو اور غسل کرنا ضرور ی ہے احت یاط لازم کی بنا پر اسے چا ہ ئ ے ک ہ پ ہ ل ے غسل کر ے اور بعد م یں وضو کرے لیکن مُستَحاضہ کث یرہ میں اگر وضو کرنا چاہ ئ ے تو ضرور ی ہے ک ہ وضو غسل س ے پ ہ ل ے کر ے۔
405 ۔ اگر عورت کا اِسِحاض ہ قل یلہ صبح کی نماز کے بعد مُتَوَسط ہ ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ ظ ہ ر اور عصر ک ی نماز کے لئ ے غسل کر ے۔ اور اگر ظ ہ ر اور عصر ک ی نماز کے بعد مُتَوسِطَ ہ ہ و تو مغرب اور عشاء کی نماز کے لئ ے غسل کرنا ضرور ی ہے۔
406 ۔ اگر عورت کا استحاض ہ قل یلہ یا متوسطہ صبح ک ی نماز کے بعد کث یرہ ہ و جائ ے اور و ہ عورت اس ی حالت پر باقی رہے تو مسئل ہ 402 میں جو احکام گزر چکے ہیں نماز ظہ ر و عصر اور مغرب و عشاء پ ڑھ ن ے ک ے لئ ے ان پر عمل کرنا ضرور ی ہے۔
407 ۔ مستحاض ہ کث یرہ کی جس صورت میں نماز اور غسل کے درم یان ضروری ہے ک ہ فاصل ہ ن ہ ہ و ج یسا کہ مسئل ہ 402 میں گزر چکا ہے اگر نماز کا وقت داخل ہ ون ے س ے پ ہ ل ے غسل کرن ے ک ی وجہ س ے نماز اور غسل م یں فاصلہ ہ و جائ ے تو اس غسل ک ے سات ھ نماز صح یح نہیں ہے اور یہ مستحاضہ نماز ک ے لئ ے دوبار ہ غسل کر ے اور یہی حکم مستحاضہ متوسط ہ ک ے لئ ے ب ھی ہے۔
408 ۔ ضرور ی ہے ک ہ مسحاض ہ قل یلہ و متوسطہ روزان ہ ک ی نمازوں کے علاو ہ جن ک ے بار ے م یں حکم اوپر بیان ہ و چکا ہے ہ ر نماز ک ے لئ ے خوا ہ و ہ واجب ہ و یا مستحب، وضو کرے ل یکن اگر وہ چا ہے ک ہ ، روزا نہ ک ی وہ نماز یں جو وہ پ ڑھ چک ی ہ و احت یاط دوبارہ پ ڑھے یا جو نماز اس نے تن ہ ا پ ڑھی ہے دوبار ہ با جماعت پ ڑھے تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ تمام افعال بجالائ ے جن کا ذکر استحاض ہ ک ے سلسل ے م یں کیا گیا ہے البت ہ اگر و ہ نماز احت یاط، بھ ول ے ہ وئ ے سجد ے اور ب ھ ول ے ہ وئ ے تش ہ د ک ی بجا آوری نماز کے فورا بعد کر ے اور اس ی طرح سجدہ س ہ و کس ی بھی صورت میں کرے تو اس ک ے لئ ے ا ستحاضہ کے افعال کا انجام د ینا ضروری نہیں ہے۔
409 ۔ اگر کس ی مستحاضہ عورت کا خون رک جائ ے تو اس ک ے بعد جو پ ہ ل ی نماز پرھے صرف اس ک ے لئ ے استحاض ہ ک ے افعال انجام د ینا ضروری ہے۔ ل یکن بعد کی نمازوں کے لئ ے ا یسا کرنا ضروری نہیں۔
410 ۔ اگر کس ی عورت کو یہ معلوم نہ ہ و ک ہ اس کا استحاض ہ کون سا ہے تو جب نماز پ ڑھ نا چا ہے تو بطور احت یاط ضروری ہے ک ہ تحق یق کرنے ک ے لئ ے پ ہ ل ے ت ھ و ڑی سی روئی شرمگاہ م یں رکھے اور کچ ھ د یر انتظار کرے اور پ ھ ر روئ ی نکال لے اور جب اسے پت ہ چل جائ ے ک ہ اس کا استحاض ہ ت ین اقسام میں سے کون س ی قسم کا ہے تو اس قسم ک ے استحاض ہ ک ے لئ ے جن افعال کا حکم د یا گیا ہے ان ہیں انجام دے۔ ل یکن اگر وہ جانت ی ہ و ک ہ جس وقت تک و ہ نماز پ ڑھ نا چا ہ ت ی ہے اس کا استحاض ہ تبد یل نہیں ہ وگا تو نماز کا وقت داخل ہ ون ے س ے پہ ل ے ب ھی وہ اپن ے بار ے م یں تحقیق کر سکتی ہے۔
411 ۔ اگر مستحاض ہ اپن ے بار ے م یں تحقیق کرنے س ے پ ہ ل ے نماز م یں مشغول ہ و جائ ے تو اگر و ہ قربت کا قصد رک ھ ت ی ہ و اور اس ن ے اپن ے وظ یفے کے مطابق عمل ک یا ہ و مثلاً اس کا استحاض ہ قل یلہ ہ و اور اس ن ے اسحاض ہ قل یلہ کے مطابق عمل ک یا ہ و تو اس ک ی نماز صحیح ہے ل یکن اگر وہ قربت کا قصد نہ رک ھ ت ی ہ و یا اس کا عمل اس کے وظ یفہ کے مطابق ن ہ ہ و مثلاً اس کا استحاض ہ متوسط ہ ہ و اور اس ن ے عمل استحاض ہ قل یلہ کے مطابق ک یا ہ و تو اس ک ی نماز باطل ہے۔
412 ۔ اگر مستحاض ہ اپن ے بار ے م یں تحقیق نہ کر سک ے تو ضرور ی ہے ک ہ جو اس کا یقینی وظیفہ ہ و اس ک ے مطابق عمل کر ے مثلاً اگر و ہ یہ نہ جانت ی ہ و ک ہ اس کا استحاض ہ قل یلہ ہے یا متوسطہ تو ضرور ی ہے ک ہ استحاض ہ قل یلہ کے افعال انجام د ے اور اگر و ہ یہ نہ جانت ی ہ و ک ہ اس کا استح اضہ متوسطہ ہے یا کثیرہ تو ضروری ہے ک ہ استحاض ہ متوسط ہ ک ے افعال انجام د ے ل یکن اگر وہ جانت ی ہ و ک ہ اس س ے پ یشتر اسے ان ت ین اقسام میں سے کونس ی قسم کا استحاضہ ت ھ ا تو ضرور ی ہے ک ہ اس ی قسم کے استحاض ہ ک ے مطابق اپنا وظ یفہ انجام دے۔
413 ۔ اگر استحاض ہ کا خون اپن ے ابتدائ ی مرحلے پر جسم ک ے اندر ہی ہ و اور باہ ر ن ہ نکل ے تو عورت ن ے جو وضو یا غسل کیا ہ وا ہ و اس ے باطل ن ہیں کرتا لیکن اگر باہ ر آجائ ے تو خوا ہ کتنا ہی کم کیوں نہ ہ و وضو اور غسل کو باطل کر د یتا ہے۔
414 ۔ مستحاض ہ اگر نماز ک ے بعد اپن ے بار ے م یں تحقیق کرے اور خون ن ہ د یکھے تو اگرچہ اس ے علم ہ و ک ہ دوبار ہ خون آئے گا جو وضو و ہ کئ ے ہ وئ ے ہے اس ی سے نماز پ ڑھ سکت ی ہے۔
415 ۔ مستحاض ہ عورت اگر یہ جانتی ہ و ک ہ جس وقت س ے و ہ وضو یا غسل میں مشغول ہ وئ ی ہے خون اس ک ے بدن س ے با ہ ر ن ہیں آیا اور نہ ہی شرمگاہ ک ے اندر ہے تو جب تک اس ے پاک ر ہ ن ے کا یقین ہ و نماز پ ڑھ ن ے م یں تاخیر کر سکتی ہے۔
416 ۔ اگر مستحاض ہ کو یقین ہ و ک ہ نماز کا وقت گزرن ے س ے پ ہ ل ے پور ی طرح پاک ہ و جائ ے گ ی یا اندازاً جتنا وقت نماز پرھ ن ے م یں لگتا ہے اس م یں خون آنا بند ہ و جائ ے گا تو احت یاط لازم کی بنا پر ضروری ہے ک ہ انتظار کر ے اور اس وقت نماز پ ڑھے جب پاک ہ و ۔
417 ۔ اگر وضو اور غسل کے بعد خون آنا بظا ہ ر بند ہ و جائ ے اور مستحاض ہ کو معلوم ہ و ک ہ اگر نماز پ ڑھ ن ے م یں تاخیر کرے تو جتن ی دیر میں وضو، غسل اور نماز بجا لائے گ ی بالکل پاک ہ و جائ ے گ ی تو احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے ک ہ نماز کو موخر کر د ے اور جب بالکل پاک ہ و جا ئے تو دوبارہ وضو اور غسل کرکے نماز پ ڑھے اور اگر خون ک ے بظا ہ ر بند ہ ون ے ک ے وقت نماز کا وقت تنگ ہ و تو وضو اور غسل دوبار ہ کرنا ضرور ی نہیں بلکہ جو وضو اور غسل اس ن ے کئ ے ہ وئ ے ہیں انہی کے سات ھ نماز پ ڑھ سکت ی ہے۔
418 ۔ مستحاض ہ کث یرہ جب خون سے بالکل پاک ہ و جائ ے اگر اس ے معلوم ہ و ک ہ ج س وقت سے اس ن ے گذشت ہ نماز ک ے لئ ے غسل ک یا تھ ا اس وقت تک خون ن ہیں آیا تو دوبارہ غسل کرنا ضرور ی نہیں ہے بصورت د یگر غسل کرنا ضروری ہے۔ اگر اس حکم کا بطور کل ی ہ ونا احت یاط کی بنا پر ہے۔ اور مست حاضہ متوسطہ م یں ضروری نہیں ہے ک ہ خون س ے بالکل پاک ہ و جائ ے پ ھ ر غسل کر ے۔
419 ۔ مستحاض ہ قل یلہ کو وضو کے بعد اور مستحاض ہ متوسط ہ کو غسل اور وضو ک ے بعد اور مستحاض ہ کث یرہ کو غسل کے بعد (ان دو صورتوں ک ے علاو ہ جو مسئل ہ 403 میں آئی ہیں) فوراً نماز میں مشغول ہ ونا ضرور ی ہے۔ ل یکن نماز سے پ ہ ل ے اَ ذان اور اقامت کہ ن ے م یں کوئی حرج نہیں اور وہ ن ماز میں مستحب کام مثلاً قنوت وغیرہ پڑھ سکت ی ہے۔
420 ۔ اگر مستحاض ہ جس کا وظ یفہ یہ ہ و ک ہ وضو یا غسل اور نماز کے درم یان فاصلہ ن ہ رک ھے اگر اس ن ے اپن ے وظ یفہ کے مطابق عمل ن ہ ک یا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ وضو یا غسل کرنے ک ے بعد فوراً نماز میں مشغول ہ و جائ ے۔
421 ۔ اگر عورت کا خون استحاض ہ جار ی رہے اور بند ہ ون ے م یں نہ آئ ے اور خون کاروکنا اس ک ے لئ ے مضرن ہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ غسل ک ے بعد خون کو با ہ ر آن ے س ے روک ے اور اگر ا یسا کرنے م یں کوتاہی برتے اور خون نکل آئ ے تو جو نماز پ ڑھ ل ی ہ و اس ے دوبار ہ پ ڑھ ن ے بلک ہ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ دوبار ہ غسل کر ے۔
422 ۔ اگر غسل کرت ے وقت خون ن ہ رک ے تو غسل صح یح ہے ل یکن اگر غسل کے دوران استحاض ہ متوسط ہ استحاض ہ کث یرہ ہ و جائ ے تو از سر نو غسل کرنا ضرور ی ہے۔
423 ۔ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ مستحاض ہ روز ے س ے ہ و تو سارا دن ج ہ اں تک ممکن ہ و خون کو نکلن ے س ے روک ے۔
424 ۔ مش ہ ور قول ک ی بنا پر مستحاضہ کث یرہ کا روزہ اس صورت م یں صحیح ہ وگا ک ہ جس رات ک ے بعد ک ے دن و ہ روز ہ رک ھ نا چا ہ ت ی ہ و اس رات کو مغرب اور عشاء ک ی نماز کا غسل کرے۔ علاو ہ از یں دن کے وقت و ہ غسل انجام د ے جو دن ک ی نمازوں کے لئ ے واجب ہیں لیکن کچھ بع ید نہیں کہ اس ک ے روزے کی صحت کا انحصار غسل پر نہ ہ و ۔ اس ی طرح بنا بر اقوی مستحاضہ متوسط ہ م یں یہ غسل شرط نہیں ہے۔
425 ۔ اگر عورت عصر ک ی نماز کے بعد مستحاض ہ ہ و جائ ے اور غروب آفتاب تک غسل ن ہ کر ے تو اس ک ا روزہ بلا اشکال صح یح ہے۔
426 ۔ اگر کس ی عورت کا استحاضہ قل یلہ نماز سے پ ہ ل ے متوسط ہ یا کثیرہ ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ متوسط ہ یا کثیرہ کے افعال جن کا اوپر ذکر ہ وچکا ہے انجام د ے اور اگر استحاض ہ متوسط ہ کث یرہ ہ و جائ ے تو چا ہ ئ ے ک ہ استحاض ہ کث یرہ کے افعال انجام د ے۔ چنانچ ہ اگر و ہ استحاض ہ متوسط ہ کے لئے غسل کر چک ی ہ و تو اس کا یہ غسل بے فائد ہ ہ و گا اور اس ے استحاض ہ کث یرہ کے لئ ے دوبار ہ غسل کرنا ضرور ی ہے۔
427 ۔ اگر نماز ک ے دوران کس ی عورت کا استحاضہ متوسط ہ کث یرہ میں بدل جائے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز تو ڑ د ے اور استحاضہ کث یرہ کے لئ ے غسل کر ے اور اس ک ے دوسر ے افعال انجام د ے اور پ ھ ر اس ی نماز کو پڑھے اور احت یاط مستحب کی بنا پر غسل سے پ ہ ل ے وضو کر ے اور اگر اس ک ے پاس غسل ک ے لئ ے وقت ن ہ ہ و تو غسل ک ے بدل ے ت یمم کرنا ضروری ہے۔ اور اگر ت یمم کے لئ ے ب ھی وقت نہ ہ و تو احت یاط کی بنا پر نماز نہ تو ڑے اور اس ی حالت میں ختم کرے ل یکن ضروری ہے ک ہ وقت گزرن ے ک ے بعد اس نماز ک ی قضا کرے۔ اور اس ی طرح اگر نماز کے دوران اس کا استحاض ہ قل یلہ متوسطہ یا کثیرہ ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز کو تو ڑ د ے اور استحاض ہ متوسط ہ یا کثیرہ کے افعال انجام د ے۔
428 ۔ اگر نماز ک ے دوران خون بند ہ و جائ ے اور مستحاض ہ کو معلوم ن ہ ہ و ک ہ باطن م یں بھی خون بند ہ وا ہے یا نہیں تو اگر نماز کے بعد اس ے پت ہ چل ے ک ہ خون پور ے طور پر بند ہ و گ یا تھ ا اور اسک ے پاس اتنا وس یع وقت ہ و ک ہ پاک ہ و کر دوبار ہ نماز پ ڑھ سک ے تو اگر خون بند ہ ون ے س ے مایوس نہ ہ وئ ی ہ و تو احت یاط لازم کی بنا پر اپنے وظ یفہ کے مطابق وضو یا غسل کرے اور نماز دوبار ہ پ ڑھے۔
429 ۔ اگر کس ی عورت کا استحاضہ کث یرہ متوسطہ ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ پ ہ ل ی نماز کے لئ ے کث یرہ کا عمل اور بعد کی نمازوں کے لئ ے متوسط ہ کا عمل بجالائ ے مثلاً اگر ظ ہ ر ک ی نماز سے پ ہ ل ے استحاض ہ کث یرہ متوسطہ ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ ظ ہ ر ک ی نماز کے لئ ے غسل کر ے اور نماز عصر و مغرب و عشاء کے لئ ے صرف وضو کر ے ل یکن اگر نماز ظہ ر ک ے لئ ے غسل ن ہ کر ے اور اسک ے پاس صرف نماز عصر ک ے لئ ے وقت باق ی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز عصر ک ے لئ ے غسل کر ے اور اگر نماز عصر کے لئ ے ب ھی غسل نہ کر ے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز مغرب ک ے لئ ے غسل کر ے اور اگر اس ک ے لئ ے ب ھی غسل نہ کر ے اور اس ک ے پاس صرف نماز عشاء ک ے لئ ے وقت ہ و تو نماز عشاء ک ے لئ ے غسل کرنا ضرور ی ہے۔
430 ۔ اگر ہ ر نماز س ے پ ہ ل ے مستحاض ہ کث یرہ کا خون بند ہ و جائ ے اور دوبار ہ آجائ ے تو ہ ر نماز ک ے لئ ے غسل کرنا ضرور ی ہے۔
431 ۔ اگر استحاض ہ کث یرہ قلیلہ ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ عورت پ ہ ل ی نماز کے لئ ے کث یرہ والے اور بعد ک ی نمازوں کے لئ ے قل یلہ والے افعال بجالائ ے اور اگر استحاض ہ متوسط ہ قل یلہ ہ و جائ ے تو پ ہ ل ی نماز کے لئ ے متوسط ہ وال ے اور بعد ک ی نمازوں کے لئ ے قل یلہ والے افعال بجالانا ضرور ی ہے۔
432 ۔ مستحاض ہ ک ے لئ ے جو افعال واجب ہیں اگر وہ ان م یں سے کس ی ایک کو بھی ترک کر دے تو اس ک ی نماز باطل ہے۔
433 ۔ مستحاض ہ قل یلہ یا متوسطہ اگر نماز ک ے علاو ہ و ہ کام انجام د ینا چاہتی ہ و جس ک ے لئ ے وضو کا ہ ونا شرط ہے مثلاً اپن ے بدن کا کوئ ی حصہ قرآن مج ید کے الفاظ س ے چ ھ ونا چا ہ ت ی ہ و تو نماز ادا کرن ے ک ے بعد وضو کرنا ضرور ی ہے اور و ہ وضو جو جماز ک ے لئ ے ک یا تھ ا کاف ی نہیں ہے۔
434 ۔ جس مستحاض ہ ن ے اپن ے واجب غسل کر لئ ے ہ وں اسکا مسجد م یں جانا اور وہ اں ٹھہ رنا اور و ہ آ یات پڑھ نا جن ک ے پ ڑھ ن ے س ے سجد ہ واجب ہ و جاتا ہے اور اس ک ے شو ہ ر کا اس ک ے سات ھ مجامعت کرنا حلال ہے۔ خوا ہ اس ن ے و ہ افعال جو و ہ نماز ک ے لئ ے انجام د یتی تھی (مثلاً روئی اور کپڑے کے ٹ ک ڑے کا تبد یل کرنا) انجام نہ د یئے ہ وں اور بع ید نہیں ہے ک ہ یہ افعال بغیر غسل بھی جائز ہ وں اگرچ ہ احت یاط ان کے ترک کرن ے م یں ہے۔
435 ۔ جو عورت استحاض ہ کث یرہ یا متوسطہ م یں ہ و اگر و ہ چا ہے ک ہ نماز ک ے وقت س ے پ ہ ل ے اس آ یت کو پڑھے جس ک ے پ ڑھ ن ے س ے سجد ہ واجب ہ و جاتا ہے یا مسجد میں جائے تو احت یاط مستحب کی بنا پر ضروری ہے ک ہ غسل ک رے اور اگر اس کا شو ہ ر اس س ے مجامعت کرنا چا ہے تب ب ھی یہی حکم ہے۔
436 ۔ مستحاض ہ پر نماز آ یات کا پڑھ نا واجب ہے اور نماز آ یات ادا کرنے ک ے لئ ے یومیہ نمازوں کے لئ ے ب یان کئے گئ ے تمام اعمال انجام د ینا ضروری ہیں۔
437 ۔ جب ب ھی یومیہ نماز کے وقت م یں نماز آیات مستحاضہ پر واجب ہ و جائ ے تو و ہ چا ہے ک ہ ان دونوں نمازوں کو یکے بعد دیگرے ادا کرے تب ب ھی احتیاط لازم کی بنا پر وہ ان دونوں کو ا یک وضو اور غسل سے ن ہیں پڑھ سکت ی۔
438 ۔ اگر مستحاض ۃ قضا نماز پڑھ نا چا ہے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز ک ے لئ ے و ہ افعال انجام د ے جو ادا نماز ک ے لئ ے اس پر واجب ہیں اور احتیاط کی بنا پر قضا نماز کے لئ ے ان افعال پر اکتفا ن ہیں کر سکتی جو کہ اس ن ے ادا نماز ک ے لئ ے انجام د یئے ہ وں ۔
439 ۔ اگر کوئ ی عورت جانتی ہ و ک ہ جو خون اس ے آر ہ ا ہے و ہ زخم کا خون ن ہیں ہے لیکن اس خون کے استحاض ہ ، ح یض یا نفاس ہ ون ے ک ے بار ے م یں شک کرے اور شرعاً و ہ خون ح یض و نفاس کا حکم بھی نہ رک ھ تا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ استحاض ہ وال ے احکام ک ے مطابق عمل کر ے۔ بلک ہ اگر اس ے شک ہ و ک ہ یہ خون استحاضہ ہے یا کوئی دوسرا اور وہ دوسر ے خون ک ی علامات بھی نہ رک ھ تا ہ و تو احت یاط واجب کی بنا پر استحاضہ ک ے افعال انجام د ینا ضروری ہیں۔
حیض وہ خون ہے جو عموماً ہ ر م ہینے چند دنوں کے لئ ے عورتوں ک ے رحم س ے خارج ہ وتا ہے اور عورت کو جب ح یض کو خون آئے تو اس ے حائض ک ہ ت ے ہیں۔
440 ۔ ح یض کا خون عموماً گاڑھ ا اور گرم ہ وتا ہے اور اس کا رنگ س یاہ یا سرخ ہ وتا ہے۔ و ہ اچ ھ ل کر اور ت ھ و ڑی سی جلن کے سات ھ خارج ہ وتا ہے۔
441 ۔ و ہ خون جو عورتوں کو سا ٹھ برس پور ے کرن ے ک ے بعد آتا ہے ح یض کا حکم نہیں رکھ تا ۔ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ و ہ عورت یں جو غیر قریشی ہیں وہ پچاس سے سا ٹھ سال ک ی عمر کے دوران خون اس طرح د یکھیں کہ اگر و ہ پچاس سال س ے پ ہ ل ے خون د یکھ ت یں تو وہ خون یقیناً حیض کا حکم رکھ ت ا تو وہ مستحاض ہ وال ے افعال بجا لائ یں اور ان کاموں کو ترک کریں جنہیں حائض ترک کرتی ہے۔
442 ۔ اگر کس ی لڑ ک ی کو نو سال کی عمر تک پہ نچن ے س ے پہ ل ے خون آئ ے تو و ہ ح یض نہیں ہے۔
443 ۔ حامل ہ اور بچ ے کو دود ھ پلان ے وال ی عورت کو بھی حیض آنا ممکن ہے اور حامل ہ اور غ یر حاملہ کا حکم ا یک ہی ہے بس (فرق یہ ہے ک ہ ) حامل ہ عورت اپن ی عادت کے ا یام شروع ہ ون ے ک ے ب یس روز بعد بھی اگر حیض کی علامتوں کے سات ھ خون د یکھے تو اس کے لئ ے احت یاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ و ہ ان کاموں کو ترک کر د ے جن ہیں حائض ترک کرتی ہے اور مستحاض ہ ک ے افعال ب ھی بجالائے۔
444 ۔ اگر کس ی ایسی لڑ ک ی کو خون آئے جس ے اپن ی عمر کے نو سال پور ے ہ ون ے کا علم ن ہ ہ و اور اس خون م یں حیض کی علامات نہ ہ وں تو و ہ ح یض نہیں ہے اور اگر اس خون م یں حیض کی علامات ہ وں تو اس پر ح یض کا حکم لگانا محل اشکال ہے مگر یہ کہ اطم ینان ہ و جائ ے ک ہ یہ حیض ہے ۔ اور اس صورت میں یہ معلوم ہ وجائ ے گا ک ہ اس ک ی عمر پورے نو سال ہ و گئ ی ہے۔
445 ۔ جس عورت کو شک ہ و ک ہ اس ک ی عمر ساٹھ سال ہ و گئ ی ہے یا نہیں اگر وہ خون د یکھے اور یہ نہ جانت ی ہ و ک ہ یہ حیض ہے یا نہیں تو اسے سمج ھ نا چا ہ ئ ے ک ہ اس ک ی عمر ساٹھ سال ن ہیں ہ وئ ی ہے۔
446 ۔ ح یض کی مدت تین دن سے کم اور دس دن س ے ز یادہ نہیں ہ وت ی۔ اور اگر خون آن ے ک ی مدت تین دن سے ب ھی کم ہ و تو و ہ ح یض نہیں ہ وگا ۔
447 ۔ ح یض کے لئ ے ضر وری ہے ک ہ پ ہ ل ے ت ین دن لگاتار آئے ل ہ ذا اگر مثال ک ے طور پر کس ی عورت کو دو دن خون آئے پ ھ ر ا یک دن نہ آئ ے اور پ ھ ر ا یک دن آجائے تو و ہ ح یض نہیں ہے۔
448 ۔ ح یض کی ابتدا میں خون کا باہ ر آنا ضرور ی ہے ل یکن یہ ضروری نہیں کہ پور ے ت ین دن خون نکلتا رہے بلک ہ اگر شرم گا ہ م یں خون موجود ہ و تو کاف ی ہے اور اگر ت ین دنوں میں تھ و ڑے س ے وقت ک ے لئ ے ب ھی کوئی عورت پاک ہ و جائ ے ج یسا کہ تمام یا بعض عورتوں کے درم یان متعارف ہے ت ب بھی وہ ح یض ہے۔
449 ۔ ا یک عورت کے لئ ے یہ ضروری نہیں خہ اس کا خون پ ہ ل ی رات اور چوتھی رات کو باہ ر نکل ے ل یکن یہ ضروری ہے ک ہ دوسر ی اور تیسری رات کو منقطع نہ ہ و پس اگر پ ہ ل ے دن صبح سو یرے سے ت یسرے دن غروب آفتاب تک متواتر خون آتا رہے اور کس ی وقت بند نہ تو و ہ ح یض ہے۔ اور اگر پ ہ ل ے دن دوپ ہ ر س ے خون آنا شروع ہ و اور چوت ھے دن اس ی وقت بند ہ و تو اس ک ی صورت بھی یہی ہے ( یعنی وہ ب ھی حیض ہے ) ۔
450 ۔ اگر کس ی عورت کو تین دن متواتر خون آتا رہے پ ھ ر و ہ پاک ہ و جائ ے چنانچ ہ اگر و ہ دوبار ہ خون د یکھے تو جن دنوں میں وہ خون د یکھے اور جن دنوں میں وہ پاک ہ و ان تمام دنوں کو ملا کر اگر دس دن س ے ز یادہ نہ ہ وں تو جن دنوں م یں وہ خون د یکھے وہ ح یض کے دن ہیں لیکن احتیاط لازم کی بنا پر پاکی کے دنوں م یں وہ ان تمام امور کو جو پاک عورت پر واجب اور حائض ک ے لئ ے حرام ہیں انجام دے۔
451 ۔ اگر کس ی عورت کو تین دن سے ز یادہ اور دس دن سے کم خون آئ ے اور اس ے یہ علم نہ ہ و ک ہ یہ خون پھ و ڑے یا زخم کا ہے یا حیض کا تو اسے چا ہ ئ ے ک ہ اس خون کو ح یض نہ سمج ھے۔
452 ۔ اگر کس ی عورت کو ایسا خون آئے جس ک ے بار ے م یں اسے علم ن ہ ہ و ک ہ زخم کا خون ہے یا حیض کا تو ضروری ہے ک ہ اپن ی عبادات بجا لاتی رہے۔ ل یکن اگر اس کی سابقہ حالت ح یض کی رہی ہ و تو اس صورت م یں اسے ح یض قرار دے۔
453 ۔ اگر کس ی عورت کو خون آئے اور اس ے شک ہ و ک ہ یہ خون حیض ہے یا استحاضہ تو ضرور ی ہے ک ہ ح یض کی علامات موجود ہ ون ے ک ی صورت میں اسے ح یض قرار دے۔
454 ۔ اگر کس ی عورت کو خون آئے اور اس ے یہ معلوم نہ ہ و ک ہ یہ حیض ہے یا بکارت کا خون ہے تو ضرور ی ہے ک ہ اپن ے بار ے م یں تحقیق کرے یعنی کچھ روئ ی شرم گاہ م یں رکھے اور ت ھ و ڑی دیر انتظار کرے۔
پھ ر روئی باہ ر نکال ے۔ پس اگر خون روئ ی کے اطراف م یں لگا ہ و تو خون بکارت ہے اور اگر سار ی کی ساری روئی خون میں تر ہ و جائ ے تو ح یض ہے۔
455 ۔ اگر کس ی عورت کو تین دن سے کم مدت تک خون آئ ے اور پ ھ ر بند ہ و جائ ے اور ت ین دن کے بعد خون آئ ے تو دوسرا خون ح یض ہے اور پ ہ لا خون خوا ہ و ہ اس ک ی عادت کے دنوں ہی میں آیا ہ و ح یض نہیں ہے۔
456 ۔ چند چ یزیں حائض پر حرام ہیں:
1 ۔ نماز اور اس ج یسی دیگر عبادتیں جنہیں وضو یا غسل یا تیمم کے سات ھ ادا کرنا ضرور ی ہے۔ ل یکن ان عبادتوں کے ادا کرن ے م یں کوئی حرج نہیں جن کے لئ ے وضو، غسل یا تیمم کرنا ضروری نہیں جیسے نماز میت۔
2 ۔ و ہ تمام چ یزیں جو مجنب پر حرام ہیں اور جن کا ذکر جنابت کے احکام م یں آچکا ہے۔
3 ۔ عورت ک ی فرج میں جماع کرنا اور جو مرد اور عورت دونوں کے لئ ے حرام ہے خوا ہ دخول صرف سپار ی کی حد تک ہی ہ و اور من ی بھی خارج نہ ہ و بلک ہ احت یاط واجب یہ ہے ک ہ سپار ی سے کم مقدار م یں بھی دخول نہ ک یا جائے ن یز احتیاط کی بنا پر عورت کی دبر میں مجامعت نہ کر ے خو ہ و ہ ح ائض ہ و یا نہ ہ و ۔
457 ۔ ان دنوں م یں بھی جماع کرنا حرام ہے جن م یں عورت کا حیض یقینی نہ ہ و ل یکن شرعاً اس کے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ اپن ے آپ کو حائض قرار د ے۔ پس جس عورت کو دس دن س ے ز یادہ خون آیا ہ و اور اس ک ے لئ ے ضرور ی ہ و ک ہ اس حکم ک ے مطابق جس کا ذکر بعد م یں کیا جائے گا اپن ے آپ کو ات نے دن کے لئ ے حائض قرار د ے جتن ے دن ک ی اس کے کنب ے ک ی عورتوں کو عادت ہ و تو اس کا شو ہ ر ان دنوں م یں اس سے مجامعت ن ہیں کر سکتا۔
458 ۔ اگر مرد اپن ی بیوی سے ح یض کی حالت میں مجامعت کرے تو اس ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ استغفار کر ے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ کفار ہ ب ھی ادا کرے ، اس کا کفارہ مسئل ہ 460 میں بیان ہ وگا ۔
459 ۔ حائض س ے مجامعت ک ے علاو ہ دوسر ی لطف اندوزیوں مثلاً بوس و کنار کی ممانعت نہیں ہے۔
460 ۔ ح یض کی حالت میں مجامعت کا کفارہ ح یض کے پ ہ ل ے حص ے م یں اٹھ ار ہ چنوں ک ے برابر، دوسر ے حص ے م یں نو چنوں کے برابر اور ت یسرے حصے م یں ساڑھے چار چنوں ک ے برابر سک ہ دار سونا ہے مثلاً اگر کس ی عورت کو چھ دن ح یض کا خون آئے اور اس کا شو ہ ر پ ہ ل ی یا دوسری رات یا دن میں اس سے جماع کر ے تو ا ٹھ ار ہ چنوں ک ے برابر سونا د ے اور اگر ت یسری یا چوتھی رات یا دن میں جماع کرے تو نو چنوں ک ے برابر سونا د ے اور اگر پانچویں یا چھٹی رات یا دن میں جماع کرے تو سا ڑھے چار چنوں ک ے برابر سونا د ے۔
461 ۔ اگر سک ہ دار سونا ممکن ن ہ ہ و تو متعلق ہ شخص اس ک ی قیمت دے اور اگر سون ے ک ی اس وقت کی قیمت ہے جب ک ہ اس ن ے جماع ک یا تھ ا اس وقت ک ی قیمت جب کہ و ہ غر یب محتاج کو دینا چاہ تا ہ و مختلف ہ و گئی ہ و تو اس وقت ک ی قیمت کے مطابق حساب لگائ ے جب و ہ غر یب محتاج کو دینا چاہ تا ہ و ۔
462 ۔ اگر کس ی شخص نے ح یض کے پ ہ ل ے حص ے م یں بھی دوسرے حص ے م یں بھی اور تیسرے حصے م یں بھی اپنی بیوی سے جماع ک یا ہ و تو و ہ ت ینوں کفارے د ے جو سب مل کر سا ڑھے اکت یس چنے ( 05 ء 6 گرام) ہ و جات ے ہیں۔
463 ۔ اگر مرد کو جماع ک ے دوران معلوم ہ و جائ ے ک ہ عورت کو ح یض آنے لگا ہے تو ضرور ی ہے ک ہ فورا اس س ے جدا ہ و جائ ے اور اگر جدا ن ہ ہ و تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ کفار ہ د ے۔
465 ۔ اگر کوئ ی مرد حائض سے زنا کر ے یا یہ گمان کرتے ہ وئ ے نامحرم حا ئض سے جماع کر ے ک ہ و ہ اس ک ی اپنی بیوی ہے تب ب ھی احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ کفار ہ د ے۔
466 ۔ اگر کوئ ی شخص لاعلمی کی بنا پر یا بھ ول کر عورت س ے حالت ح یض میں مجامعت کرے تو اس پر کفار ہ ن ہیں۔
467 ۔ اگر ا یک مرد یہ خیال کرتے ہ وئ ے ک ہ عورت حائض ہے اس س ے مجامعت کر ے ل یکن بعد میں معلوم ہ و ک ہ حائض ن ہ ت ھی تو اس پر کفارہ ن ہیں۔
468 ۔ ج یسا کہ طلاق ک ے احکام م یں بتایا جائے گا عورت کو ح یض کی حالت میں طلاق دینا باطل ہے۔
469 ۔ اگر عورت ک ہیے کہ م یں حائض ہ وں یا یہ کہے ک ہ م یں حیض سے پاک ہ وں اور و ہ غلط ب یانی نہ کرت ی ہ و تو اس ک ی بات قبول کی جائے لیکن اگر غلط بیاں ہ و تو اس ک ی بات قبول کرنے م یں اشکال ہے۔
470 ۔ اگر کوئ ی عورت نماز کے دوران حائض ہ و جائ ے تو اس ک ی نماز باطل ہے۔
471 ۔ اگر عورت نماز ک ے دوران شک کر ے ک ہ حائض ہ وئ ی ہے یا نہیں تو اس کی نماز صحیح ہے ل یکن اگر نماز کے بعد اس ے پت ہ چل ے ک ہ نماز ک ے دوران حائض ہ وگئ ی تھی تو جو نماز اس نے پ ڑھی ہے و ہ باطل ہے۔
472 ۔ عورت ک ے ح یض سے پاک ہ وجان ے ک ے بعد اس پر واجب ہے ک ہ نماز اور دوسر ی عبادات کے لئ ے جو وضو، غسل یا تیمم کرکے بجالانا چا ہ ئ یں غسل کرے اور اس کا طر یقہ غسل جنابت کی طرح ہے اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ غسل س ے پ ہ ل ے وضو ب ھی کرے۔
473 ۔ عورت ک ے ح یض سے پاک ہ وجان ے ک ے بعد اگرچ ہ اس ن ے غسل ن ہ ک یا ہ و اس ے طلاق د ینا صحیح ہے اور اس کا شو ہ ر اس س ے جماع ب ھی کرسکتا لیکن احتیاط لازم یہ ہے ک ہ جماع شرم گا ہ د ھ ون ے ک ے بعد ک یا جائے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اس ک ے غسل کرن ے س ے پ ہ ل ے مرد اس س ے جماع ن ہ کر ے۔
البتہ جب تک وہ عورت غسل ن ہ کرل ے و ہ دوسر ے کام جو ح یض کے وقت اس پر حرام ت ھے مثلاً مسجد م یں ٹھہ رنا یا قرآن مجید کے الفاظ کو چ ھ و ٹ ا اس پر حلال ن ہیں ہ وت ے۔
474 ۔ اگر پان ی (عورت کے ) وضو اور غسل ک ے لئ ے کاف ی نہ ہ و اور تقر یباً اتنا ہ و ک ہ اس س ے غسل کر سک ے تو ضرور ی ہے ک ہ غسل کر ے اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ وضو ک ے بدل ے ت یمم کرے اور اگر پان ی صرف وضو کے لئ ے کاف ی ہ و اور اتنا ن ہ ہ و ک ہ اس س ے غسل ک یا جاسکے تو ب ہ تر یہ ہے ک ہ وضو کر ے ا ور غسل کے بدل ے ت یمم کرنا ضروری ہے اور اگر دونوں م یں سے کس ی کے لئ ے ب ھی پانی نہ ہ و تو غسل ک ے بدل ے ت یمم کرنا ضروری ہے۔ اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ وضو ک ے بدل ے ب ھی تیمم کرے۔
475 ۔ جو نماز یں عورت نے ح یض کی حالت میں نہ پ ڑھی ہ وں ان ک ی قضا نہیں لیکن رمضان کے و ہ روز ے جو ح یض کی حالت میں نہ رکھے ہ وں ضرور ی ہے ک ہ ان ک ے قضا کر ے اور اس ی طرح احتیاط لازم کی بنا پر جو روزے منت ک ی وجہ س ے مع ین دنوں میں واجب ہ وئ ے ہ وں اور اس ن ے ح یض کی حالت میں وہ روزے ن ہ رک ھے ہ وں تو ضرور ی ہے ک ہ ان ک ی قضا کرے۔
476 ۔ جب نماز کا وقت ہ وجائ ے اور عورت یہ جان لے ( یعنی اسے یقین ہ و) ک ہ اگر و ہ نماز پ ڑھ ن ے م یں دیر کرے گ ی تو خالص ہ وجائ ے گ ی تو ضروری ہے ک ہ فوراً نماز پ ڑھے اور اگر اس ے فقط احتمال ہ و ک ہ نماز م یں تاخیر کرنے س ے و ہ حائض ہ وجائ ے گ ی احتیاط لازم کی بنا پر یہی حکم ہے۔
477 ۔ اگر عورت نماز پ ڑھ ن ے م یں تاخیر کرے اور اول وقت م یں سے اتنا وقت گزر جائے جتنا ک ہ حدث س ے پان ی کے ذر یعے ، اور احتیاط لازم کی بنا پر تیمم کے ذر یعے طہ ارت حاصل کرک ے ا یک نماز پرھ ن ے م یں لگتا اور اسے ح یض آجائے تو اس نماز ک ی قضا اس عورت پر واجب ہے۔ ل یکن جلدی پڑھنے اور ٹھہ ر ٹھہ ر کر پ ڑھ ن ے اور دوسر ی باتوں کے بار ے م یں ضروری ہے ک ہ اپن ی عادت کا لحاظ کرے مثلاً اگر ا یک عورت جو سفر میں نہیں ہے اول وقت م یں نماز ظہ ر ن ہ پ ڑھے تو اس ک ی قضا اس پر اس صورت میں واجب ہ وگ ی جب کہ حدث س ے ط ہ ارت حاصل کرن ے ک ے بعد چار رکعت نماز پر ھ ن ے ک ے ب رابر وقت اول ظہ ر س ے گزر جائ ے اور و ہ حائض ہ و جائ ے اور اس عور ت کے لئ ے جو سفر م یں ہ و ط ہ ارت حاصل کرن ے ک ے بعد دو رکعت پ ڑھ ن ے ک ے برابر وقت گزرجانا ب ھی کافی ہے۔
478 ۔ اگر ا یک عورت نماز کے آخر وقت م یں خون سے پاک ہ و جائ ے اور اس ک ے پاس اندازاً اتنا وقت ہ و ک ہ غسل کرک ے ا یک یا ایک سے زائد رکعت پ ڑھ سک ے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز پ ڑھے ا ور اگر نہ پ ڑھے تو ضرور ی ہے ک ہ اس ک ی قضا بجالائے۔
479 ۔ اگر ا یک حائض کے پاس (ح یض سے پاک ہ ون ے ک ے بعد) غسل ک ے لئ ے وقت ن ہ ہ و ل یکن تیمم کر کے نماز وقت ک ے اندر پ ڑھ سکت ی ہ و تو احت یاط واجب یہ ہے ک ہ و ہ نماز ت یمم کے سات ھ پ ڑھے اور اگر ن ہ پ ڑھے تو قضا کر ے۔ ل یکن اگر وقت کی تنگی سے قطع نظر کس ی اور وجہ س ے اس کا فر یضہ ہی تیمم کرنا ہ و مثلاً اگر پان ی اس کے لئ ے مضر ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ت یمم کرکے و ہ نماز پ ڑھے اور اگر ن ہ پ ڑھے تو ضرور ی ہے ک ہ اس ک ی قضا کرے۔
480 ۔ اگر کس ی عورت کو حیض سے پاک ہ و جان ے ک ے بعد شک ہ و ک ہ نماز ک ے لئ ے و قت باقی ہے یا نہیں تو اسے چا ہ ئ ے ک ہ نماز پر ھ ل ے۔
481 ۔ اگر کوئ ی عورت اس خیال سے نماز ن ہ پ ڑھے ک ہ حدث س ے پاک ہ ون ے ک ے بعد ا یک رکعت نماز پڑھ ن ے ک ے لئ ے ب ھی اس کے پاس وقت ن ہیں ہے ل یکن بعد میں اسے پت ہ چل ے ک ہ وقت ت ھ ا تو اس نماز ک ی قضا بجالانا ضروری ہے۔
482 ۔ حائض ک ے ل ئے مستحب ہے ک ہ نماز ک ے وقت اپن ے آپ کو خون س ے پاک کر ے اور روئ ی اور کپڑے کا ٹ ک ڑ ا بدل ے اور وضو کر ے اور اگر وضو ن ہ کرسک ے تو ت یمم کرے اور نماز ک ی جگہ پر روبقبل ہ ب یٹھ کر ذکر، دعا اور صلوات میں مشغول ہ و جائ ے۔
483 ۔ حائض ک ے لئ ے قرآن مج ید کا پڑھ نا اور اس ے اپن ے سات ھ رک ھ نا اور اپن ے بدن کا کوئ ی حصہ اس ک ے الفاظ ک ے درم یانی حصے س ے چ ھ ونا ن یز مہ ند ی یا اس جیسی کسی اور چیز سے خضاب کرنا مکرو ہ ہے۔
484 ۔ حائض ک ی چھ قسم یں ہیں :
1 ۔ وقت اور عدد ک ی عادت رکھ ن ے وال ی عورت : یہ وہ عورت ہے جس ے یکے بعد دیگرے دو مہینوں میں ایک معین وقت پر حیض آئے اور اس ک ے ح یض کے دنوں ک ی تعداد بھی دونوں مہینوں میں ایک جیسی ہ و ۔ مثلاً اس ے یکے بعد دیگرے دو مہینوں میں مہینے کی پہ ل ی تاریخ سے ساتو یں تاریخ تک خون آتا ہ و ۔
2 ۔ وقت ک ی عادت رکھ ن ے وال ی عورت : یہ وہ عورت ہے جس ے یکے بعد دیگرے دو مہینوں میں معین وقت پر حیض آئے ل یکن اس کے ح یض کے دنوں ک ی تعداد دونوں مہینوں میں ایک جیسی نہ ہ و ۔
مثلاً یکے بعد دیگرے دو مہینوں میں اسے م ہینے کی پہ ل ی تاریخ سے خون آنا شروع ہ و ل یکن وہ پ ہ ل ے م ہینے میں ساتویں دن اور دوسرے م ہینے میں آٹھ و یں دن خون سے پاک ہ و ۔
3 ۔ عدد ک ی عادت رکھ ن ے وال ی عورت: یہ وہ عورت ہے جس ک ے ح یض کے دنوں ک ی تعداد یکے بعد دیگرے دو مہینوں میں ایک جیسی ہ و ل یکن ہ ر م ہینے خون آنے کا وقت یکساں نہ ہ و ۔ مثلاً پ ہ ل ے م ہینے میں اسے پانچو یں سے دسو یں تاریخ تک، اور دوسرے م ہینے میں بارھ و یں سے ستر ھ و یں تاریخ تک خون آتا ہ و ۔
4 ۔ مُضطَربَ ہ : یہ وہ عورت ہے جس ے چند م ہینے خون آیا ہ و ل یکن اس کی عادت معین نہ ہ وئ ی ہ و یا اس کی سابقہ عادت بگ ڑ گئ ی ہ و اور نئ ی عادت نہ بن ی ہ و ۔
5 ۔ مُبتَدِئَ ہ : یہ وہ عورت ہے جس ے پ ہ ل ی دفعہ خون آ یا ہ و ۔
6 ۔ نَاسِ یَہ: یہ وہ عورت ہے جو اپن ی عادت بھ ول چک ی ہ و ۔
ان میں سے ہ ر قسم ک ی عورت کے لئ ے عل یحدہ علیحدہ احکام ہیں جن کا ذکر آئندہ مسائل م یں کیا جائے گا ۔
485 ۔ جو عورت یں وقت اور عدد کی عادت رکھ ت ی ہیں ان کی دو قسمیں ہیں:۔
(اول) وہ عورت جس ے یکے بعد دیگرے دو مہینوں میں ایک مُعَیّن وقت پر خون آئے اور و ہ ا یک مُعَیّن وقت پر ہی پاک بھی ہ و جائ ے مثلاً یکے بعد دیگرے دو مہینوں میں اسے م ہینے کی پہ ل ی تاریخ کو خون آئے اور و ہ ساتو یں روز پاک ہ و جائ ے تو اس عورت ک ی حیض کی عادت مہینے کی پہلی تاریخ سے ساتو یں تاریخ تک ہے۔
(دوم) وہ عورت جس ے یکے بعد دیگرے دو مہینوں میں مُعَیّن وقت پر خون آئے اور جب ت ین یا زیادہ دن تک خون آچکے تو و ہ ا یک یا زیادہ دنوں کے لئ ے پاک ہ و جائ ے اور پ ھ ر اس ے دوبار ہ خون آجائ ے اور ان تمام دنوں ک ی تعداد جن میں اسے خون آ یا ہے بشمول ان درم یانی دنوں کے جن میں وہ پاک ر ہی ہے دس س ے ز یادہ نہ ہ و اور دونوں م ہینوں میں تمام دن جن میں اسے خون آ یا اور بیچ کے و ہ دن جن م یں پاک رہی ہ و ا یک جتنے ہ وں تو اس ک ی عادت ان تمام دنوں کے مطابق قرار پائ ے گ ی جن میں اسے خون آ یا لیکن ان دنوں کو شامل نہیں کر سکتی جن کے درم یان پاک رہی ہ و ۔ پس لازم ہے ک ہ جن دنوں م یں اسے خون آ یا ہ و اور جن دنوں م یں وہ پاک ر ہی ہ و دونوں م ہینوں میں ان دنوں کی تعداد ایک جتنی ہ و مثلاً اگر پ ہ ل ے م ہینے میں اور اسی طرح دوسرے م ہینے میں اسے پ ہ ل ی تاریخ سے ت یسری تاریخ تک خون آئے اور پ ھ ر ت ین دن پاک رہے اور پ ھ ر ت ین دن دوبارہ خون آئے تو اس عورت ک ی عادت چھ دن ک ی ہ و جائ ے گ ی اور اگر اسے دوسر ے م ہینے میں آنے وال ے خون ک ے دنوں ک ی تعداد اس سے کم یا زیادہ ہ و تو یہ عورت وقت کی عادت رکھ ت ی ہے ، عدد ک ی نہیں۔
486 ۔ جو عورت وقت ک ی عادت رکھ ت ی ہ و خوا ہ عدد ک ی عادت رکھ ت ی ہ و یا نہ رک ھ ت ی ہ و اگر اس ے عادت ک ے وقت یا اس سے ا یک دو دن یا اس سے ب ھی زیادہ دن پہ ل ے خون آجائ ے جب ک ہ یہ کہ ا جائ ے ک ہ اس ک ی عادت وقت سے قبل ہ و گئ ی ہے اگر اس خون م یں حیض کی علامات نہ ب ھی ہ وں تب ب ھی ضروری ہے ک ہ ان احکام پر عمل کر ے جو حائض ک ے لئ ے ب یان کئے گئ ے ہیں۔ اور اگر ابعد م یں اسے پت ہ چل ے ک ہ و ہ ح یض کا خون نہیں تھ ا مثلاً و ہ ت ین دن سے پ ہ ل ے پاک ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ جو عبادات اس ن ے انجام ن ہ د ی ہ وں ان ک ی قضا کرے۔
487 ۔ جو عورت وقت اور عدد ک ی عادت رکھ ت ی ہ و اگر اس ے عادت ک ے تمام دنوں م یں اور عادت سے چند دن پ ہ ل ے اور عادت ک ے چند دن بعد خون آئ ے اور و ہ کل ملا کر دس دن س ے ز یادہ نہ ہ وں تو و ہ سار ے کا سارا ح یض ہے اور اگر یہ مدت دس دن سے ب ڑھ جائ ے تو جو خون اس ے عادت ک ے دنوں م یں آیا ہے و ہ ح یض ہے اور جو عادت س ے پ ہ ل ے یا بعد میں آیا ہے و ہ استحاض ہ ہے اور جو عبادات وہ عادت س ے پ ہ ل ے اور بعد ک ے دنوں م یں بجا نہیں لائی ان کی قضا کرنا ضروری ہے۔ اور اگر عادت ک ے تمام دنوں م یں اور ساتھ ہی عادت سے کچ ھ دن پ ہ ل ے اس ے خون آئ ے اور ان سب دنوں کو مل ا کر ان کی تعداد دس سے ز یادہ نہ ہ و تو سارا ح یض ہے اور اگر دنوں ک ی تعداد دس سے ز یادہ ہ و جائ ے تو صرف عادت ک ے دنوں م یں آنے والا خون ح یض ہے اگرچ ہ اس م یں حیض کی علامات نہ ہ وں اور اس س ے پ ہ ل ے آن ے والا خون ح یض کی علامات کے سات ھ ہ و ۔ اور جو خون اس س ے پ ہ ل ے آئ ے و ہ استحاضہ ہے اور اگر عادت ک ے تمام دنوں م یں اور ساتھ ہی عادت کے چند دن بعد خون آئے اور کل دنوں ک ی تعداد ملا کر دس سے ز یادہ نہ ہ و تو سار ے کا سارا ح یض ہے اور اگر یہ تعداد دس سے ب ڑھ جائ ے تو صرف عادت ک ے دنوں م یں آنے والا خون ح یض ہے اور باق ی استحاضہ ہے۔
488 ۔ جو عورت وقت اور عدد ک ی عادت رکھ ت ی ہ و اگر اس ے عادت ک ے کچ ھ دنوں م یں یا عادت سے پ ہ ل ے خون آئ ے اور ان تمام دنوں کو ملا کر ان ک ی تعداد دس سے ز یادہ نہ ہ و تو و ہ سار ے کا سارا ح یض ہے۔ اور اگر ان دنوں ک ی تعداد دس سے ب ڑھ جائ ے تو جن دنوں م یں اسے حسب عادت خون آ یا ہے اور پ ہ ل ے ک ے چند دن شامل کرک ے عادت ک ے دنوں ک ی تعداد پوری ہ ون ے تک ح یض اور شروع کے دنوں کو استحاض ہ قرار د ے۔ اور اگر عادت ک ے کچ ھ دنوں ک ے سات ھ سات ھ عادت ک ے بعد ک ے کچ ھ دنوں م یں خون آئے اور ان سب دنوں کو ملا کر ان ک ی تعداد دس سے ز یادہ نہ ہ و تو سار ے کا سارا ح یض ہے اور اگر دس س ے ب ڑھ جائ ے تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ جن دنوں م یں عادت کے مطابق خون آیا ہے اس م یں بعد کے چند دن ملا کر جن دنوں ک ی مجموعی تعداد اس کی عادت کے دنوں ک ے برابر ہ و جائ ے ان ہیں حیض اور باقی کو استحاضہ قرار د ے۔
489 ۔ جو عورت عادت رک ھ ت ی ہ و اگر اس کا خون ت ین یا زیادہ دن تک آنے ک ے بعد رک جائ ے اور پ ھ ر دوبار ہ خون آئ ے اور ان دونوں خون کا درمیانی فاصلہ دس دن س ے کم ہ و اور ان سب دنوں ک ی تعداد جن میں خون آیا ہے بشمول ان درم یانی دنوں کے جن م یں پاک رہی ہ و دس س ے ز یادہ ہ و ۔ م ثلاً پانچ دن خون آیا ہ و پ ھ ر پانچ دن رک گ یا ہ و اور پ ھ ر پانچ دن دوبار ہ آ یا ہ و تو اس ک ی چند صورتیں ہیں :
1 ۔ و ہ تمام خو ن یا اس کی کچھ مقدار جو پ ہ ل ی بار دیکھے عادت کے دنوں م یں ہ و اور دوسرا خون جو پاک ہ ون ے ک ے بعد آ یا ہے عادت ک ے دنوں م یں نہ ہ و ۔ اس صورت م یں ضروری ہے ک ہ پ ہ ل ے تمام خون کو ح یض اور دوسرے خون کو استحاض ہ قرار د ے۔
2 ۔ پ ہ لا خون عادت ک ے دنوں م یں نہ آئ ے اور دوسرا تمام خون یا اس کی کچھ مقدار عادت ک ے دنوں م یں آئے تو ضرور ی ہے ک ہ دوسر ے تمام خون کو ح یض اور پہ ل ے کو استحاض ہ قرار د ے۔
3 ۔ دوسر ے اور پ ہ ل ے خون ک ی کچھ مقدار عادت ک ے دنوں م یں آئے اور ا یام عادت میں آنے والا پ ہ لا خون ت ین دن سے کم ن ہ ہ و اس صورت میں وہ مدت بمع درم یان میں پاک رہ ن ے ک ی مدت اور عادت کے دنوں م یں آنے وال ے دوسر ے خون ک ی مدت دس دن سے ز یادہ نہ ہ و تو دونوں م یں خون حیض ہیں اور احتیاط واجب یہ ہے ک ہ و ہ پاک ی کی مدت میں پاک عورت کے کام ب ھی انجام دے اور و ہ کام جو حائض پر حرام ہیں ترک کرے۔ اور دوسر ے خون ک ی وہ مقدار جو عادت ک ے دنوں ک ے بعد آئ ے استحاض ہ ہے۔ اور خون اول ک ی وہ مقدار جو ا یام عادت سے پ ہ ل ے آئ ی ہ و اور عرفاً ک ہ ا جائ ے ک ہ اس ک ی عادت وقت سے قبل ہ و گئ ی ہے تو و ہ خون، ح یض کا حکم رکھ تا ہے۔ ل یکن اگر اس خون پر حیض کا حکم لگانے س ے دوس رے خون ک ی بھی کچھ مقدار جو عادت ک ے دنوں م یں تھی یا سارے کا سارا خون، ح یض کا حکم لگانے س ے دوسر ے خون ک ی بھی کچھ مقدار جو عادت ک ے دنوں م یں تھی یا سارے کا س ارا خون، حیض کے دس دن س ے ز یادہ ہ و جائ ے تو اس صورت م یں وہ خون، خون استحاض ہ کا حکم رک ھ تا ہے مثلاً اگر عورت کی عادت مہینے کی تیسری سے دسو یں تاریخ تک ہ و اور اس ے کس ی مہینے کی پہ ل ی سے چ ھٹی تاریخ تک خون آئے اور پ ھ ر دو دن ک ے لئ ے بند ہ و جائ ے اور پ ھ ر پندر ھ و یں تاریخ تک آئے تو ت یسری سے دسو یں تاریخ تک حیج ہے اور گ یارہ و یں سے پندر ہ و یں تاریخ تک آنے والا خون استحاض ہ ہے۔
4 ۔ پ ہ ل ے اور دوسر ے خون ک ی کچھ مقدار عادت ک ے دنوں م یں آئے ل یکن ایام عادت میں آنے والا پ ہ لا خون ت ین دن سے کم ہ و ۔ اس صورت م یں بعید نہیں ہے ک ہ جتن ی مدت اس عورت کو ایام عادت میں خون آیا ہے اس ے عادت س ے پ ہ ل ے آن ے وال ے خون ک ی کچھ مدت ک ے سات ھ ملا کر ت ین دن پورے ک رے اور انہیں ایام حیض قرار دے۔ پس اگر ا یسا ہ و ک ہ و ہ دوسر ے خون ک ی اس مدت کو جو عادت کے دنوں م یں آیا ہے ح یض قرار دے۔ مطلب یہ ہے ک ہ و ہ مدت اور پ ہ ل ے خون ک ی وہ مدت جس ے ح یض قرار دیا ہے اور ان ک ے درم یان پاکی کی مدت سب ملا کر دس دن سے تجاوز ن ہ کر یں۔ تو یہ سب ایام حیض ہیں ورنہ دوسرا خون استحاض ہ ہے۔ اور بعض صورتوں م یں ضروری ہے ک ہ پ ہ ل ے پور ے خون کو ح یض قرار دے۔ ن ہ ک ہ اس خاص مقدار کو جس ے پ ہ ل ے خون ک ی کمی پورا کرنے ک ے لئ ے و ہ لازم ی طور پر حیض قرار دیتی ۔ اور اس م یں دو شرطیں ہیں:
(اول)اسے اپن ی عادت سے کچ ھ دن پ ہ ل ے خون آ یا ہ و ک ہ اس ک ے بار ی میں یہ کہ ا جائ ے ک ہ اس ک ی عادت تبدیل ہ و کر وقت س ے پ ہ ل ے ہ و گئ ی ہے۔
(دوم) وہ اس ے ح یض قرار دے تو یہ لازم نہ آئ ے ک ہ اس ک ے دوسر ے خون ک ی کچھ مقدار جو ک ہ عادت ک ے دنوں م یں آیا ہ و ح یض کے دس دن س ے ز یادہ ہ و جائ ے مثلاً اگر عورت ک ی عادت مہینے کی چوتھی تاریخ سے دس تار یخ تک تھی اور اسے م ہینے کے پ ہ ل ے دن س ے چوت ھے دن ک ے آخر ی وقت تک خون آئے اور دو دن ک ے لئ ے پاک ہ و اور پ ھ ر دوبار ہ اس ے پندر ہ تار یخ تک خون آئے تو اس صورت م یں پہ لا پور ے کا پورا خون ح یض ہے۔ اور اس ی طرح دوسرا وہ خون ب ھی جو دسویں دن کے آخر ی وقت تک آئے ح یض کا خون ہے۔
490 ۔ جو عورت وقت اور عدد ک ی عادت رکھ ت ی ہ و اگر اس ے عادت ک ے وقت خون ن ہ آئ ے بلک ہ اس ک ے علاو ہ کس ی اور وقت حیض کے دنوں ک ے برابر دنوں م یں حیض کی علامات کے سات ھ اس ے خون آئ ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس ی خون کو حیض قرار دے خوا ہ و ہ عادت ک ے وقت س ے پ ہ ل ے ا ٓئے یا بعد میں آئے۔
491 ۔ جو عورت وقت اور عدد ک ی عادت رکھ ت ی ہ و اگر اس ے عادت ک ے وقت ت ین یا تین سے ز یادہ دن تک خون آئے ل یکن اس کے دنوں ک ی تعداد اس کی عادت کے دنوں س ے کم یا زیادہ ہ و اور پاک ہ ون ے ک ے بعد اس ے دوبار ہ اتن ے دنوں ک ے لئ ے خون آئ ے جتن ی اس کی عادت ہ و تو اس ک ی چند صورتیں ہیں:
1 ۔ دونوں خون ک ے دنوں اور ان ک ے درم یان پاک رہ ن ے ک ے دنوں کو ملا کر دس دن س ے ز یادہ نہ ہ و تو اس صورت م یں دونوں خون ایک حیض شمار ہ وں گ ے۔
2 ۔ دونوں خون ک ے درم یان پاک رہ ن ے ک ی مدت دس دن یا دس دن سے ز یادہ ہ و تو اس صورت م یں دونوں خون میں سے ہ ر ا یک کو ایک مستقل حیض قرار دیا جائے گا ۔
3 ۔ ان دونوں خون ک ے درم یان پاک رہ ن ے ک ی مدت دس دن سے کم ہ و ل یکن ان دونوں خون کو اور درمیان میں پاک رہ ن ے ک ی ساری مدت کو ملا کر دس دن سے ز یادہ ہ و تو اس صورت م یں ضروری ہے ک ہ پ ہ ل ے آن ے وال ے خون کو ح یض اور دوسرے خون کو استحاض ہ قرار د ے۔
492 ۔ جو عورت وقت اور عدد ک ی عادت رکھ ت ی ہ و اگر اس ے دس س ے ز یادہ دن تک خون آئے تو جو خون اس ے عادت ک ے دنوں م یں آئے خوا ہ و ہ ح یض کی علامات نہ ب ھی رکھ تا ہ و تب ب ھی حیض ہے اور جو خون عادت ک ے دنوں ک ے بعد آئ ے خوا ہ و ہ ح یض کی علامات بھی رکھ تا ہ و استحاض ہ ہے۔ مثلاً اگ ر ایک ایسی عورت جس کی حیض کی عادت مہینے کی پہ ل ی سے ساتو یں تاریخ تک ہ و اس ے پ ہ ل ی سے بار ہ و یں تاریخ تک خون آئے تو پ ہ ل ے سات ھ دن ح یض اور بقیہ پانچ دن استحاضہ ک ے ہ وں گ ے۔
493 ۔ جو عورت یں وقت کی عادت رکھ ت ی ہیں اور ان کی عادت کی پہ ل ی تاریخ معین ہ و ان ک ی دو قسمیں ہیں :۔
1 ۔ و ہ عورت جس ے یکے بعد دیگرے دو مہینوں میں معین وقت پر خون آئے اور چند دنوں بعد بند ہ و جائ ے ل یکن دونوں مہینوں میں خون آنے ک ے دنوں ک ی تعداد مختلف ہ و ۔ مثلاً اس ے یکے بعد دیگرے دو مہینوں میں مہینے کی پہ ل ی تاریخ کو خون آئے ل یکن پہ ل ے م ہینے میں ساتویں دن اور دوسرے مہینے میں آٹھ و یں دن بند ہ و ۔ ا یسی عورت کو چاہ ئ ے ک ہ م ہینے کی پہ ل ی تاریخ کو اپنی عادت قرار دے۔
2 ۔ و ہ عورت جس ے یکے بعد دیگرے دو مہینوں میں معین وقت پر تین یا زیادہ دن آئے اور پ ھ ر بند ہ و جائ ے اور پ ھ ر دوبار ہ خون آئ ے اور ان تمام دنوں ک ی تعداد جن میں خون آیا ہے مع ان درم یانی دنوں کے جن م یں خون بند رہ ا ہے دس س ے ز یادہ ہ و ل یکن دوسرے م ہینے میں دنوں کی تعداد پہ ل ے م ہینے سے کم یا زیادہ ہ و مثلا پ ہ ل ے م ہینے میں آٹھ دن اور دوسر ے م ہینے میں نو دن بنتے ہ وں تو اس عورت کو ب ھی چاہ ئ ے ک ہ م ہینے کی پہ ل ی تاریخ کو اپنی حیض کی عادت کا پہ لا دن قرار د ے۔
494 ۔ و ہ عورت جو وقت ک ی عادت رکھ ت ی ہے اگر اس کو عادت ک ے دنوں م یں یا دادت سے دو ت ین دن پہ ل ے خون آئ ے تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ عورت ان کا احکام پر عمل کرے جو حائض ک ے لئ ے ب یان کئے گئ ے ہیں اور اس صورت کی تفصیل مسئلہ 486 میں گزر چکی ہے۔ ل یکن ان دو صورتوں کے علاو ہ مثلاً یہ کہ عادت س ے اس قدر پ ہ ل ے خون آئ ے ک ہ یہ نہ ک ہ ا جاسک ے ک ہ عادت وقت س ے قبل ہ و گئ ی ہے بلک ہ یہ کہ ا جائ ے ک ہ عادت ک ی مدت کے علاو ہ (یعنی دوسرے وقت م یں) خون آیا ہے یا یہ کہ ا جائ ے ک ہ عادت ک ے بعد خون آ یا ہے چنانچ ہ و ہ خون ح یض کی علامات کے سات ھ آئ ے تو ضرور ی ہے ک ہ ان احکام پر عمل کرے جو حائض ک ے لئ ے ب یان کئے گئ ے ہیں۔ اور اگر اس خون م یں حیض کی علامات نہ ہ وں ل یکن وہ عورت یہ جان لے ک ہ خون ت ین دن تک جاری رہے گا تب ب ھی یہی حکم ہے۔ اور اگر یہ نہ جانت ی ہ و ک ہ خون ت ین دن تک جاری رہے گا یا نہیں تو احتیاط واجب یہ ہے ک ہ و ہ کام ج و مستحاضہ پر واجب ہیں انجام دے اور و ہ کام جو حائض پر حرام ہیں ترک کرے۔
495 ۔ جو عورت وقت ک ی عادت رکھ ت ی ہے اگر اس ے عادت ک ے دنوں میں خون آئے اور اس خون ک ی مدت دس دن سے ز یادہ ہ و اور ح یض کی نشانیوں کے ذر یعے اس کی مدت معین نہ کر سکت ی ہ و تو اخوط یہ ہے ک ہ اپن ے رشت ہ داروں م یں سے بعض عورتوں ک ی عادت کے مطابق ح یض قرار دے چا ہے و ہ رشت ہ ما ں کی طرف سے ہ و یا باپ کی طرف سے زند ہ ہ و یا مردہ ل یکن اس کی دو شرطیں ہیں :
1 ۔ اس ے اپن ے ح یض کی مقدار اور اس رشتہ دار عورت ک ی عادت کی مقدار میں فرق کا علم نہ ہ و مثلاً یہ کہ و ہ خود نوجوان ہ و اور طاقت ک ے لحاظ س ے قو ی اور دوسری عورت عمر کے لحاظ س ے یاس کے نزد یک ہ و تو ا یسی صورت میں معمولاً عادت کی مقدار کم ہ وت ی ہے ا سی طرح وہ خود عمر ک ے ل حاظ سے یاس کے نزد یک ہ و اور رشت ہ دار عورت نوجوان ہ و ۔
2 ۔ اس ے اس عورت ک ی عادت کی مقدار میں اور اس کی دوسری رشتہ دار عورتوں ک ی عادت کی مقدار میں کہ جن م یں پہ ل ی شرط موجود ہے اختلاف کا علم ن ہ ہ و ل یکن اگر اختلاف اتنا کم ہ و ک ہ اس ے اختلاف شمار ن ہ ک یا جاتا ہ و تو کوئ ی حرج نہیں ہے اور اس عورت ک ے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے جو و قت کی عادت رکھ ت ی ہے اور عادت ک ے دنوں م یں کوئی خون نہ آئ ے ل یکن عادت کے وقت ک ے علاو ہ کوئ ی خون آئے جو دس دن س ے ز یادہ ہ و اور ح یض کی مقدار کو نشانیوں کے ذر یعے معین نہ کر سک ے۔
496 ۔ وقت ک ی عادت رکھ ن ے وال ی عورت اپنی عادت کے عالاو ہ وقت م یں آنے وال ے خون کو ح یض قرار نہیں دے سکت ی، لہ ذا اگر اس ے عادت کا ابتدائ ی وقت معلوم ہ و مثلاً ہ ر م ہینے کی پہ ل ی کو خون آتا ہ و اور کب ھی پانچویں اور کبھی چھٹی کو خون سے پاک ہ وت ی ہ و چنانچ ہ اس ے کس ی ایک مہینے م یں بارہ دن خون آئ ے اور و ہ ح یض کی نشانیوں کے ذر یعے اس کی مدت معین نہ کر سک ے تو چا ہ ئ ے ک ہ م ہینے کی پہ ل ی کو حیض کی پہ ل ی تاریخ قرار دے اور اس ک ی تعدا کے بار ے م یں جو کچھ پ ہ ل ے مسئل ہ م یں بیان کیا گیا ہے اس پر عمل ک رے۔ اور اگر اس ک ی عادت کی درمیانی یا آخری تاریخ معلوم ہ و چنانچ ہ اگر اس ے دس دن س ے ز یادہ خون آئے تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا حساب اس طرح کر ے ک ہ آخر ی یا درمیانی تاریخ میں سے ا یک اس کی عادت کے دنوں ک ے مطابق ہ و ۔
497 ۔ جو عورت وقت ک ی عادت رکھ ت ی ہ و اور اس ے دس دن س ے ز یادہ خون آئے اور اس خون کو مسئل ہ 495 میں بتائے گئ ے طر یقے سے مع ین نہ کر سک ے مثلاً اس خون م یں حیض کی علامات نہ ہ وں یا پہ ل ے بتائ ی گئی دو شرطوں میں سے ا یک شرط نہ ہ و تو اس ے اخت یار ہے ک ہ ت ین دن سے دس دن تک جتن ے دن حیض کی مقدار کے مناسب سمج ھے ح یض قرار دے۔ چ ھ یا آٹھ دنوں کو اپن ے ح یض کو مقدار کے مناسب سمج ھ ن ے ک ی صورت میں بہ تر یہ ہے ک ہ سات ھ دنوں کو ح یض قرار دے۔ ل یکن ضروری ہے ک ہ جن دنوں کو و ہ ح یض قرار دے و ہ دن اس ک ی عادت کے وقت ک ے مطابق ہ وں ج یسا کہ پ ہ ل ے مسئل ے م یں بیان کیا جاچکا ہے۔
498 ۔ جو عورت یں عدد کی عادت رکھ ت ی ہیں ان کی دو قسمیں ہیں:
1 ۔ و ہ عورت جس ک ے ح یض کے دنوں ک ی تعداد یکے بعد دیگرے دو مہینوں میں یکساں ہ و ل یکن اس کے خون آن ے ک ے وقت ا یک جیسا نہ ہ و اس صورت م یں جتنے دن اس ے خون آئ ے و ہی اس کی عادت ہ وگ ی۔ مثلاً اگر پ ہ ل ے م ہینے میں اسے پہ ل ی تاریخ سے پانچو یں تاریخ تک اور دوسرے م ہینے میں گیارہ و یں سے پندر ہ و یں تاریخ تک خون آئے تو اس ک ی عادت پانچ دن ہ وگ ی۔
2 ۔ و ہ عورت جس ے یکے بعد دیگرے دو مہینوں میں سے ہ ر ا یک میں تین یا تین سے ز یادہ دنوں تک خون آئے اور ا یک یا اس سے زائد دنوں ک ے لئ ے بند ہ و جائ ے اور پ ھ ر دوبار ہ خون آئ ے اور خون آن ے کا وقت پ ہ ل ے م ہینے اور دوسرے م ہینے میں مختلف ہ و اس صورت م یں اگر ان تمام دنوں کی تعداد جن میں خون آیا ہے بمع ان درم یانی دنوں کے جن م یں خون بند رہ ا ہے دس س ے ز یادہ نہ ہ و اور دونوں م ہینوں میں سے ہ ر ا یک میں ان کی تعدا بھی یکساں ہ و تو و ہ تمام دن جن م یں خون آیا ہے اس ک ے ح یض کی عادت کے دن شمار کئ ے جائ یں گے اور ان درم یانی دنوں میں جن میں خون نہیں آیا احتیاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ جو کام پاک عورت پر واجب ہیں انجام دے اور جو کام حائض پر حرام ہیں انہیں ترک کرے مثلاً اگر پ ہ ل ے م ہینے میں اسے پ ہ ل ی تاریخ سے ت یسری تاریخ تک خون آئے اور پ ھ ر دو دن ک ے لئ ے بند ہ و جائ ے اور پ ھ ر دوبار ہ ت ین دن خون آئے اور دو سرے مہینے میں گیارہ وں تاریخ سے ت یرہ و یں تک خون آئے اور و ہ دن ک ے لئ ے بند ہ وجائ ے اور پ ھ ر دو بار ہ ت ین دن خون آئے تو اس عورت ک ی عادت چھ دن ک ی ہ وگ ی۔ اور اگر پ ہ ل ے م ہینے میں اس آٹھ دن خون آئ ے اور دوسر ے م ہینے میں چار دن خون آئے اور پ ھ ر بند ہ و جائ ے اور پ ھ ر دوبا رہ آئے اور خون ک ے دنوں اور درم یان میں خون بند ہ وجان ے وال ے دنوں ک ی مجموعی تعداد آٹھ دن ہ و تو ظا ہ ر اً یہ عورت عدد کی عادت نہیں رکھ ت ی بلکہ مُضطَرِب ہ شمار ہ وگ ی۔ جس کا حکم بعد م یں بیان کیا جائے گا ۔
499 ۔ جو عورت عدد ک ی عادت رکھ ت ی ہ و اگر اس ے اپن ی عادت کی تعداد سے کم یا زیادہ دن خون آئے اور ان دنوں ک ی تعداد دس سے ز یادہ ہ و تو ان تمام دنوں کو ح یض قرار دے۔ اور اگر اس کی عادت سے ز یادہ خون آئے اور دس دن س ے تجاوز کر جائ ے تو اگر تمام کا تمام خون ا یک جیسا ہ و تو خون آنے ک ی ابتدا سے ل ے کر اس ک ی عادت کے دنوں تک ح یض اور باقی خون کو استحاضہ قرار د ے۔ اور اگر آن ے والا تمام خون ا یک جیسا نہ ہ و بلک ہ کچ ھ دن ح یض کی علامات کے سات ھ اور کچ ھ دن استحاض ہ ک ی علامات کے سات ھ ہ و پس اگر ح یض کی علامات کے سات ھ آن ے وال ے خون ک ے دنوں کی تعداد اس کی عادت کے دنوں ک ے برابر ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ان دنوں کو ح یض اور باقی دنوں کو استحاضہ قرار د ے اور اگر ان دنوں ک ی تعداد جن میں خون حیض کی علامات کے سات ھ آ یا ہ و عادت ک ے دنوں س ے ز یادہ ہ و تو صرف عادت ک ے دن ح یض اور باقی دن استحاضہ ہے اور اگر ح یض کے عل امات کے سات ھ آن ے وال ے خون ک ے دنوں ک ی تعداد عادت کے دنوں س ے کم ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ان دنوں ک ے سات ھ چند اور دنوں کو ملا کر عادت ک ی مدت پوری کرے اور ان ک و حیض اور باقی دنوں کو استحاضہ قرار د ے۔
500 ۔ مضطرب ہ یعنی وہ عورت جس ے چند م ہینے خون آئے ل یکن وقت اور عدد دونوں کے لحاظ س ے اس ک ی عادت معین نہ ہ وئ ی ہ و اگر اس ے دس دن س ے ز یادہ خون آئے اور سارا خون ا یک جیسا ہ و مثلاً تمام خون یا حیض کی نشانیوں کے سات ھ یا استحاضہ ک ی نشانیوں کے سات ھ آ یا ہ و تو اس کا حک م وقت کی عادت رکھ ن ے وال ی عورت کا حکم ہے ک ہ جس ے اپن ی عادت کے علاو ہ وقت م یں خون آئے اور علامات ک ے ذر یعے حیض کو استحاضہ س ے تم یز نہ د ے سکت ی ہ و تو احت یاط کی بنا پر اسے چا ہ ئ ے ک ہ اپن ی رشتہ دار عورتوں م یں سے بعض عورتوں ک ی عادت کے مطابق ح یض قرار دے اور اگر یہ ممکن نہ ہ و تو ت ین اور دس دن میں سے کس ی ایک عدد کو اس تفصیل کے مطابق جو مسئل ہ 495 اور 497 میں بیان کی گئی ہے اپن ے ح یض کی عادت قرار دے۔
501 ۔ اگر مضطر یہ کو دس دن سے ز یادہ خون آئے جس م یں سے چند دنوں ک ے خون م یں حیض کی علامات اور چند دوسرے دنوں ک ے خون م یں استحاضہ ک ی علامات ہ وں تو اگر و ہ خون جس م یں حیض کی علامات ہ وں ت ین دن سے کم یا دس دن سے ز یادہ مدت تک نہ آ یا ہ و تو اس تمام خون کو ح یض اور باقی کو استحاضہ قرار د ے ۔ اور ت ین دن کم اور دس دن سے زیادہ ہ و تو ح یض کے دنوں ک ی تعداد معلوم کرنے ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ جو حکم سابق ہ مسئل ے م یں گزرچکا ہے اس ک ے مطابق عمل کر ے اور اگر اس سابق ہ خون کو ح یض قرار دیئے کے بعد دس دن گزرن ے س ے پ ہ ل ے دوبار ہ ح یض کی علامات کی ساتھ خون آئے تو بع ید نہیں کہ اس ک ے استحاض ہ قرار د ینا ضروری ہ و ۔
502 ۔ مبتدئ ہ یعنی اس عورت کو جسے پ ہ ل ی بار خون آیا ہ و دس دن س ے ز یادہ خون آئے اور و ہ تمام خون جو متبدئ ہ کو آ یا ہے ج یسا ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ اپن ے کنب ے وال یوں کی عادت کی مقدار کو حیض اور باقی کو ان دو شرطوں کے سات ھ استحاض ہ قرار د ے ج و مسئلہ 495 میں بیان ہ وئ ی ہیں۔ اور اگر یہ ممکن نہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ مسئل ہ 497 میں دی گئی تفصیل کے مطابق ت ین اور دس دن میں سے کس ی ایک عدد کو اپنے ح یض کے دن قرار د ے۔
503 ۔ اگر مبتدئ ہ کو دس س ے ز یادہ دن تک خون آئے جب ک ہ چند دن آن ے وال ے خون م یں حیض کی علامات اور چند دن آنے وال ے خون م یں استحاضہ ک ی علامات ہ وں تو جس خون م یں حیض کی علامات ہ وں و ہ ت ین دن سے کم اور دس دن س ے ز یادہ نہ ہ و و ہ سارا ح یض ہے۔ ل یکن جس خون میں حیض کی علامات تھیں اس کے بعد دس دن گزرن ے س ے پ ہ ل ے دوبار ہ خون آئ ے اور اس م یں بھی حیض کی علامات ہ وں مثلاً پانچ دن س یاہ خون اور نو دن زرد خون اور پھ ر دوبار ہ پانچ دن س یاہ خون آئے تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ پ ہ ل ے آن ے وال ے خون کو ح یض اور بعد میں آنے وال ے دونوں خون کو استحاض ۃ قرار دے ج یسا کہ مضطرب ہ ک ے متعلق بتا یا گیا ہے۔
504 ۔ اگر مبتدئ ہ کو دس س ے ز یادہ دنوں تک خون آئے جو چند دن ح یض کی علامات کے سات ھ اور چند دن استحاض ہ ک ی علامات کے سات ھ ہ و ل یکن جس خون میں حیض کی علامات ہ وں و ہ ت ین دن سے کم مدت تک آ یا ہ و تو چا ہ ئ ے ک ہ اس ے ح یض قرار دے اور دنوں ک ی مقدار سے متعلق مسئل ہ 501 میں بتائے گئے طر یقے پر عمل کرے۔
505 ۔ ناس یہ یعنی ناسیہ یعنی وہ عورت جو اپن ی عادت کی مقدار بھ ول چک ی ہ و، اس ک ی چند قسمیں ہیں: ان میں سے ا یک یہ ہے ک ہ عدد ک ی عادت رکھ ن ے وال ی عورت اپنی عادت کی مقدار بھ ول چک ی ہ و اگر اس عورت کو کوئ ی خون آئے جس ک ی مدت تین دن سے کم اور دس دن س ے ز یادہ نہ ہ و تو ضروری ہے ک ہ و ہ ان تمام دنوں کو ح یض قرار دے اور اگر دس دن س ے ز یادہ ہ و تو اس ک ے لئ ے مضطرب ہ کا حکم ہے جو مسئل ہ 500 اور 501 میں بیان کیا گیا ہے صرف ا یک فرق کے سات ھ اور و ہ فرق یہ ہے ک ہ جن ا یام کو وہ ح یض قرار دے ر ہی ہے و ہ اس تعداد س ے کم ن ہ ہ وں جس تعداد ک ے متعلق و ہ جانتی ہے ک ہ اس ک ے ح یض کے دنوں ک ی تعداد اس سے کم ن ہیں ہ وت ی (مثلاً یہ کہ و ہ جانت ی ہے ک ہ پانچ دن س ے کم اس ے خون ن ہیں آتا تو پانچ دن حیض قرار دے گ ی) اسی طرح ان ایام سے ب ھی زیادہ دنوں کو حیض قرار نہیں دے سکت ی جن کے بار ے م یں اسے علم ہے ک ہ اس ک ی عادت کی مقدار ان دنوں سے ز یادہ نہیں ہ وت ی (مثلاً وہ جانت ی ہے ک ہ پانچ دن س ے ز یادہ اسے خون ن ہیں آتا تو پانچ دن سے ز یادہ حیض قرار نہیں دے سکت ی) اور اس جیسا حکم ناقص عدد رکھ ن ے وال ی عورت پر بھی لازم ہے یعنی وہ عورت جس ے عادت ک ے دنوں ک ی مقدار تین دن سے ز یادہ اور دس دن سے کم ہ ون ے میں شک ہ و ۔ مثلاً جس ے ہ ر م ہینے میں چھ یا ساتھ دن خون آتا ہ و و ہ ح یض کی علامات کے ذر یعے یا اپنی بعض کنبے وال یوں کی عادت کے مطابق یا کسی اور ایک عدد کو اختیار کرکے دس دن س ے ز یادہ خون آنے کی صورت میں دونوں عددوں (چھ یا سات) سے کم یا زیادہ دنوں کو حیض قرار نہیں دے سکت ی۔
506 ۔ مُبتَدِئَ ہ ، مُضطَرِبَ ہ ، نَاسِ یَہ اور عَدَد کی عادت رکھ ن ے وال ی عورتوں کو اگر خون آئے جس م یں حیض کی علامات ہ وں یا یقین ہ و ک ہ یہ خون تین دن تک آئے گا تو ان ہیں چاہ ئ ے ک ہ عبادات ترک کر د یں اور اگر بعد میں انہیں پتہ چل ے ک ہ یہ حیض نہیں تھ ا تو ان ہیں چاہ ئ ے ک ہ جو عبادات بجا ن ہ لائ ی ہ وں ان ک ی قضا کریں۔
507 ۔ جو عورت ح یض کی عادت رکھ ت ی ہ و خوا ہ یہ عادت حیض کے وقت ک ے اعتبار س ے ہ و یا حیض کے عدد ک ے اعتبا ر سے یا وقت اور عدد دونوں کے اعتبار س ے ہ و ۔ اگر اس ے یکے بعد دیگرے دو مہینوں میں اپنی عادت کے برخلاف خون آئ ے جس کا وقت یا دنوں کی تعداد یا وقت اور ان دونوں کی تعداد یکساں ہ و تو اس ک ی عادت جس طرح ان دو مہینوں میں اسے خون آ یا ہے اس م یں تبدیل ہ و جات ی ہے۔ مثلاً اگر پ ہ ل ے اس ے م ہینے کی پہ ل ی تاریخ سے ساتو یں تاریخ تک خون آتا تھ ا اور پ ھ ر بند ہ و جاتا ت ھ ا مگر دو م ہینوں میں اسے دسو یں تاریخ سے ستر ھ و یں تاریخ تک خون آیا ہ و اور پ ھ ر بند ہ وا ہ و تو اس ک ی عادت دسویں تاریخ سے ستر ھ و یں تاریخ تک ہ و جائ ے گ ی۔
508 ۔ ا یک مہینے سے مراد خون ک ے شروع ہ ون ے س ے ت یس دن تک ہے۔ م ہینے کی پہ ل ی تاریخ سے م ہینے کے آخر تک ن ہیں ہے۔
509 ۔ اگر کس ی عورت کو عموماً مہینے میں ایک مرتبہ خون آتا ہ و ل یکن کسی ایک مہینے میں دو مرتبہ آجائ ے اور اس خون م یں حیض کی علامات ہ وں تو اگر ان درم یانی دنوں کی تعداد جن میں اس خون نہیں آیا دس دن سے کم ن ہ ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ دونوں خون کو ح یض قرار دے۔
510 ۔ اگر کس ی عورت کو تین یا اس سے ز یادہ دنوں تک ایسا خون آئے جس م یں حیض کی علامات ہ وں اور اس ک ے بعد دس یا اس سے ز یادہ دنوں تک ایسا خون آئے جس م یں استحاضہ ک ی علامات ہ وں اور پ ھ ر اس ک ے بعد دوبار ہ ت ین دن تک حیض کی علامتوں کے سات ھ خون آئ ے تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ پ ہ ل ے اور آخری خون کو جس میں حیض کی علامات ہ وں ح یض قرار دے۔
511 ۔ اگر کس ی عورت کا خون دس دن سے پ ہ ل ے رک جائ ے اور اس ے یقین ہ و ک ہ اس ک ے باطن م یں خون حیض نہیں ہے تو ا سے چا ہ ئ ے ک ہ اپن ی عبادات کے لئ ے غسل کر ے اگرچ ہ گمان رک ھ ت ی ہ و ک ہ دس دن پور ے ہ ون ے س ے پ ہ ل ے دوبار ہ خون آجائ ے گا ۔ ل یکن اگر اس یقین ہ و ک ہ دس دن پور ے ہ ون ے س ے پ ہ ل ے اسے دوبارہ خون آجائ ے گا تو ج یسے بیان ہ وچکا اس ے چا ہ ئ ے ک ہ احت یاطاً غسل کرے اور اپن ی عبادات بجا لائے او ر جو چیزیں حائض پر حرام ہیں انہیں ترک کرے۔
512 ۔ اگر کس ی عورت کا خون دس دن گزرنے س ے پ ہ ل ے بند ہ و جائ ے اور اس بات کا احتمال ہ و ک ہ اس ک ے باطن م یں خون حیض ہے تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ اپن ی شرم گاہ م یں روئی رکھ کر کچ ھ د یر انتظار کرے۔ ل یکن اس مدت سے کچ ھ ز یادہ انتظار کرے جو عالم طور پر عورت یں حیض سے پاک ہ ون ے ک ی مدت کے درمیان کرتی ہیں اس کے بعد نکال ے پس اگر خون ختم ہ وگ یا ہ و تو غسل کر ے اور عبادات بجا لائ ے اور اگر خون بند ن ہ ہ و یا ابھی اس کی عادت کے دس دن تمام ن ہ ہ وئ ے ہ وں تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ انتظار کر ے اور اگر دس دن س ے پ ہ ل ے خون ختم ہ و جائ ے تو غسل کر ے اور اگر دسو یں دن کے خات مے پر خون آنا بند ہ و یا خون دس دن کے بعد ب ھی آتا رہے تو دسو یں دن غسل کرے اور اگر اس ک ی عادت دس دنوں سے کم ہ و اور و ہ جانت ی ہ و ک ہ دس دن ختم ہ ون ے س ے پ ہ ل ے یا دسویں دن کے خاتم ے پر خون بند ہ و جائ ے تو غسل کرنا ضروری نہیں ہے اور اگر احتمال ہ و ک ہ اس ے دس دن تک خون آئ ے گا تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ ا یک دن کے لئ ے عبادت ترک کر ے اور دسو یں دن تک بھی عبادت کو ترک کر سکتی ہے اور یہ حکم صرف اس عورت کے لئ ے مخصوص ہے جس ے عادت س ے پ ہ ل ے لگاتار خون ن ہیں آتا تھ ا ورن ہ عادت ک ے گزرنے ک ے بعد عبادت ترک کرنا جائز ن ہیں ہے۔
513 ۔ اگر کوئ ی عورت چند دنوں کو حیض قرار دے اور عبادت ن ہ کر ے۔ ل یکن بعد میں اسے پت ہ چل ے ک ہ ح یض نہیں تھ ا تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ جو نماز یں اور روزے و ہ دنوں م یں بجانہیں لائی ان کی قضا کرے اور اگر چند دن اس خ یال سے عبادات بجا لات ی رہی ہ و ک ہ ح یض نہیں ہے اور بعد م یں اسے پتہ چلے ک ہ ح یض تھ ا تو اگر ان دنوں م یں اس نے روز ے ب ھی رکھے ہ وں تو ان ک ی قضا کرنا ضروری ہے۔
514 ۔ بچ ے کا پ ہ لا جزو ماں ک ے پ یٹ سے با ہ ر آن ے ک ے وقت س ے جو خون عورت کو آئ ے اگر و ہ دس دن س ے پ ہ ل ے یا دسویں دن کے خاتم ے پر بند ہ و جائ ے تو و ہ خون نفاس ہے اور نفاس ک ی حالت میں عورت کو نفساء کہ ت ے ہیں۔
515 ۔ جو خون عورت کو بچ ے کا پ ہ لا جزو با ہ ر آن ے س ے پ ہ ل ے آئ ے و ہ نفاس ن ہیں ہے۔
516 ۔ یہ ضروری نہیں ہے ک ہ بچ ے ک ی حلقت مکمل ہ و بلک ہ اس ک ی خلقت نامکمل ہ و تب ب ھی اگر اسے "بچ ہ جننا" ک ہ ا جاسکتا ہے تو و ہ خون جو عورت کو دس دن تک آئ ے خون نفاس ہے۔
517 ۔ یہ ہ و سکتا ہے ک ہ خون نفاس ا یک لحظہ س ے ز یادہ نہ آئ ے ل یکن وہ دس دن س ے ز یادہ نہیں آتا۔
518 ۔ اگر کس ی عورت کو شک ہ و ک ہ اسقاط ہ وا ہے یا نہیں یا جو اسقاط ہ وا و ہ بچ ہ ت ھ ا یا نہیں تو اس کے لئ ے تحق یق کرنا ضروری نہیں اور جو خون اسے آئ ے و ہ شرعاً نفاس ن ہیں ہے۔
519 ۔ مسجد م یں ٹھہ رنا اور دوسر ے افعال جو حائض پر حرام ہیں احتیاط کی بنا پر نفساء پر بھی حرام ہیں اور جو کچھ حائض پر واجب ہے و ہ نفساء پر ب ھی واجب ہے۔
520 ۔ جو عورت نفاس ک ی حالت میں ہ و اس ے طلاق د ینا اور اس سے جماع کرنا حرام ہے ل یکن اگر اس کا شوہ ر اس س ے جماع کر ے تو اس پر بلا اشکال کفار ہ ن ہیں ۔
521 ۔ جب عورت نفاس ک ے خون س ے پاک ہ و جائ ے تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ غسل کر ے اور اپن ی عبادات بجالائے اور اگر بعد م یں ایک یا ایک بار سے ز یادہ خون آئے تو خون آن ے وال ے دنوں کو پاک ر ہ ن ے وال ے دنوں س ے ملا کر اگر دس دن یا دس دن سے کم ہ و تو سار ے کا سارا خون نفاس ہے۔ اور ضرور ی ہے ک ہ درم یان میں پاک رہ ن ے ک ے دنوں م یں احتیاط کی بنا پر جو کام پاک عورت پر واجب ہیں انجام دے اور جو کام نفساء پر حرام ہیں انہیں ترک کرے اور اگر ان دنوں م یں کوئی روزہ رک ھ ا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس ک ی قضا کرے۔ اور اگر بعد م یں آنے والا خون دس دن س ے تجاوز کر جائ ے اور وہ عورت عدد ک ی عادت نہ رک ھ ت ی ہ و تو خون ک ی وہ مقدار جو دس دن ک ے اندر آئ ی ہے اس ے نفاس اور دس دن ک ے بعد آن ے وال ے خون کو اس تحاضہ قرار د ے۔ اور اگر و ہ عورت عدد ک ی عادت رکھ ت ی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ احت یاطاً عادت کے بعد آن ے وال ے خون ک ی تمام مدت میں جو کام مستحاضہ کے لئ ے ہیں انجام دے اور جو کام نفساء پر حرام ہیں انہیں ترک کرے۔
522 ۔ اگر عورت خون نفاس س ے پاک ہ و جائ ے اور احتمال ہ و ک ہ اس ک ے باطن م یں خون نفاس ہے تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ کچ ھ روئ ی اپنی شرم گاہ م یں داخل کرے اور کچ ھ د یر انتظار کرے پ ھ ر اگر و ہ پاک ہ و تو عبادات ک ے لئ ے غسل کر ے۔
523 ۔ اگر عورت کو نفاس کا خون دس دن س ے ز یادہ آئے اور و ہ ح یض میں عادت رکھ ت ی ہ و تو عادت ک ے برابر دنوں ک ی مدت نفاس اور باقی استحاضہ ہے اور اگر عادت ن ہ رک ھ ت ی ہ و تو دس دن تک نفاس اور باق ی استحاضہ ہے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ جو عورت عادت رک ھ ت ی ہ و و ہ عادت ک ے بعد ک ے دن س ے اور جو عورت عادت ن ہ رک ھ ت ی ہ و و ہ دسو یں دن کے بعد س ے بچ ے ک ی پیدائش کے ا ٹھ ار ہ و یں دن تک استحاضہ کے افعال بجا لائ ے اور و ہ کام جو نفساء پر حرام ہیں انہیں ترک کرے۔
544 ۔ اگر کس ی عورت کو جس کی حیض کی عادت دس دن سے کم ہ و اپن ی عادت سے ز یادہ دن خون آئے تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ اپن ی عادت کے دنوں ک ی تعداد کو نفاس قرار دے اور اس ک ے بعد اس ے اخت یار ہے ک ہ دس دن تک نماز تر ک کرے یا مستحاضہ ک ے احکام پر عمل کر ے ل یکن ایک دن کی نماز ترک کرنا بہ تر ہے۔ اور اگر خون دس دن ک ے بعد ب ھی آتا رہے تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ عادت ک ے دنوں ک ے بعد دسو یں دن تک بھی استحاضہ قرار د ے اور جو عبادات و ہ ان دنوں م یں بجا نہیں لائی ان کی قضا کرے۔ مثلاً جس عورت ک ی عادت چھ دنوں ک ی ہ و اگر اس ے چ ھ دن س ے ز یادہ خون آئے تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ چھ دنوں کو نفاس قرار د ے۔ اور ساتو یں، آٹھ و یں، نویں اور دسویں دن اسے اخت یار ہے ک ہ یا تو عبادت ترک کرے یا استحاضہ ک ے افعال بجالائ ے اور اگر اس ے دس دن س ے ز یادہ خون آیا ہ و تو اس ک ی عادت کے بعد کے دن س ے و ہ استحاض ہ ہ وگا ۔
525 ۔ جو عورت ح یض میں عادت رکھ ت ی ہ و اگر اس ے بچ ہ جنن ے ک ے بعد ا یک مہینے تک یا ایک مہینے سے ز یادہ مدت تک لگاتار خون آتا رہے تو اس ک ی عادت کے دنوں ک ی تعداد کے برابر خون نفاس ہے اور جو خون، نفاس ک ے بعد دس دن تک آئ ے خوا ہ و ہ اس ک ی ماہ ا نہ عادت ک ے دنوں م یں آیا ہ و استحاض ہ ہے۔ مثلاً ا یسی عورت جس کے ح یض کی عادت ہ ر م ہینے کی بیس تاریخ سے ستائ یس تاریخ تک ہ و اگر و ہ م ہینے کی دس تاریخ کو بچہ جن ے اور ا یک مہینے یا اس سے ز یادہ مدت تک اسے متواتر خون آئ ے تو ستر ھ و یں تاریخ تک نفاس اور سترھ و یں تاریخ سے دس دن تک کا خون حت ی کہ و ہ خ ون بھی جو بیس تاریخ سے ستائ یس تاریخ تک اس کی عادت کے دنوں م یں آیا ہے استحاض ہ ہ وگا اور دس دن گزر ے ک ے بعد جو خون اس ے آئ ے اگر و ہ عادت ک ے دنوں م یں ہ و تو ح یض ہے خوا ہ اس م یں حیض کی علامات ہ وں یا نہ ہ وں ۔ اور اگر و ہ خون اس ک ی عادت کے دنوں م یں نہ آ یا ہ و تو اس ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ اپن ی عادت کے دنوں کا انتظار کر ے اگرچ ہ اس ک ے انتظار ک ی مدت ایک مہینہ یا ایک مہینے سے ز یادہ ہ و جائ ے اور خوا ہ اس مدت م یں جو خون آئے اس م یں حیض کی علامات ہ وں ۔ اور اگر و ہ وقت ک ی عادت والی عورت نہ ہ و اور اس ک ے لئ ے ممکن ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ اپن ے ح یض کو علامات کے ذر یعے معین کرے اور اگر ممکن ن ہ ہ و ج یسا کہ نفاس ک ے بعد دس دن جو خون آئ ے و ہ سارا ا یک جیسا ہ و اور ا یک مہینہ یا چند مہینے انہی کے سات ھ آتا ر ہے تو ضرور ی ہے ک ہ ہ ر م ہینے میں اپنے کنب ے ک ی بعض عورتوں کے ح یض کی جو صورت ہ و و ہی اپنے لئ ے قرار د ے اور اگر یہ ممکن نہ ہ و تو جو عدد اپن ے لئ ے مناسب سمج ھ ت ی ہے اخت یار کرے اور ان تمام امور ک ی تفصیل حیض کی بحث میں گزر چکی ہے۔
526 ۔ جو عورت ح یض میں عدد کے لحاظ س ے عادت ن ہ رک ھ ت ی ہ و اگر اس ے بچ ہ جنن ے ک ے بعد ا یک مہینے تک یا ایک مہینے سے ز یادہ مدت تک خون آئے تو اس ک ے پ ہ ل ے دس دنوں ک ے لئ ے و ہی حکم ہے جس کا ذکر مسئل ہ 523 میں آچکا ہے اور دوسر ی دہ ائ ی میں جو خون آئے و ہ استحاض ہ ہے اور جو خو ن اسے اس ک ے بعد آئ ے ممکن ہے و ہ ح یض ہ و اور ممکن ہے استحاض ہ ہ و اور ح یض قرار دینے کے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ اس حکم ک ے مطابق عمل کر ے جس کا ذکر سابق ہ مسئل ہ م یں گزر چکا ہے۔
527 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی ایسے مردہ انسان ک ے بدن کو چ ھ وئ ے جو ٹھ ن ڈ ا ہ و چکا ہ و اور جس ے غسل ن ہ د یا گیا ہ و یعنی اپنے بدن کا کوئ ی حصہ اس س ے لگائ ے تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ غسل مس م یت کرے خوا ہ اس ن ے ن یند کی حالت میں مردے کا بدن چ ھ وا ہ و یا بیداری کے عالم م یں اور خواہ اراد ی طور پر چھ وا ہ و یا غیر ارادی طور پر حتی کہ اگر اس کا ناخن یا ہڈی مردے ک ے ناخن یا ہڈی سے چ ھ و جائ ے تب ب ھی اسے چا ہ ئ ے ک ہ غسل کر ے ل یکن اگر مردہ ح یوان کو چھ وئ ے تو اس پر غسل واجب نہیں ہے۔
528 ۔ جس مرد ے کا تمام بدن ٹھ ن ڈ ا ن ہ ہ وا ہ و اس ے چ ھ ون ے س ے غسل واجب ن ہیں ہ وتا خوا ہ اس ک ے بدن کا جو حص ہ چ ھ وا ہ و و ہ ٹھ ن ڈ ا ہ و چکا ہ و ۔
529 ۔ اگر کوئ ی شخص اپنے بال مرد ے ک ے بدن س ے لگائ ے یا اپنا بدن مردے ک ے بالوں س ے لگائ ے تو اس پر غسل واجب ن ہیں ہے۔
530 ۔ مردہ بچ ے کو چ ھ ون ے پر حت ی کہ ا یسے سقط شدہ بچ ے کو چ ھ ون ے پر جس ک ے بدن م یں روح داخل ہ و چک ی ہ و غسل مس م یت واجب ہے اس بنا پر اگر مرد ہ بچ ہ پ یدا ہ و اور اس کا بدن ٹھ ن ڈ ا ہ و چکا ہ و اور و ہ ماں ک ے ظا ہ ر ی حصے کو چ ھ و جائ ے تو ماں کو چا ہ ئ ے ک ہ غسل مس م یت کرے بلک ہ اگر ظا ہ ر ی حصے کو مس ن ہ کر ے تب ب ھی ماں کو چاہ ئ ے ک ہ احت یاط واجب کی بنا پر غسل مس میت کرے۔
531 ۔ جو بچ ہ ماں ک ے مرجان ے اور اس کا بدن ٹھ ن ڈ ا ہ و جان ے ک ے بعد پ یدا ہ و اگر و ہ ماں ک ے بدن ک ے ظا ہ ر ے حص ے کو مس کر ے تو اس پر واجب ہے ک ہ جب بالغ ہ و تو غسل مس م یت کرے بلک ہ اگر ماں ک ے بدن ک ے ظا ہ ر ی حصے کو مس ن ہ کر ے تب ب ھی احتیاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ و ہ بچ ہ بالغ ہ ون ے ک ے بعد غسل مس م یت کرے۔
532 ۔ اگر کوئ ی شخص ایک ایسی میت کو مس کرے جس ے ت ین غسل مکمل طور پر دیئے جاچکے ہ وں تو اس پر گسل واجب ن ہیں ہ وتا ل یکن اگر وہ ت یسرا عمل مکمل ہ ون ے س ے پ ہ ل ے اسک ے بدن ک ے کس ی حصے کو مس کر ے تو خوا ہ اس حص ے کو ت یسرا غسل دیا جا چکا ہ و اس شخص ک ے لئ ے غسل مس م یت کرنا ضروری ہے۔
533 ۔ اگر کوئ ی دیوانہ یا نابالغ بچہ م یت کو مس کرے تو د یوانے کو عاقل ہ ون ے اور بچ ے کو بالغ ہ ون ے ک ے بعد غسل مس م یت کرنا ضروری ہے۔
534 ۔ اگر کس ی زندہ شخص ک ے بدن س ے یا کسی ایسے مردے ک ے بدن س ے جس ے غسل ن ہ د یا گیا ہ و ا یک حصہ جدا ہ و جائ ے اور اس س ے پ ہ ل ے ک ہ جدا ہ ون ے وال ے حص ے کو غسل د یا جائے کوئ ی شخص اسے مس کر ل ے تو قول اقو ی کی بنا پر اگرچہ اس حص ے م یں ہڈی ہ و غسل مس م یت کرنا ضروری نہیں۔
535 ۔ ا یک ایسی ہڈی کے مس کرن ے س ے جس ے غسل ن ہ د یا گیا ہ و خوا ہ و ہ مرد ے ک ے بدن س ے جدا ہ وئ ی ہ و یا زندہ شخص ک ے بدن س ے غسل واجب ن ہیں ہے اور دانت خوا ہ و ہ مرد ے ک ے بدن س ے جدا ہ وئ ے ہ وں یا زندہ شخص ک ے بدن س ے ان ک ے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے۔
536 ۔ غسل مس م یت کا طریقہ وہی ہے جو غسل جن ابت کا ہے ل یکن جس شخص نے م یت کو مس کیا ہ و اگر و ہ نماز پ ڑھ نا چا ہے تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ وضو ب ھی کرے۔
537 ۔ اگر کوئ ی شخص کئی میتوں کو مس کرے یا ایک میت کو کئی بار مس کرے تو ا یک غسل کافی ہے۔
537 ۔ جس شخص ن ے م یت کو مس کرنے ک ے بعد غسل ن ہ ک یا ہ و اس ک ے لئ ے مسجد م یں ٹھہ رنا اور ب یوی سے جماع کرنا اور ان آ یات کا پڑھ نا جن م یں سجدہ واجب ہے ممنوع ن ہیں ہے ل یکن نماز اور اس جیسی عبادات کے لئ ے غسل کرنا ضرور ی ہے۔
محتضر ، میت کے احکام
539 ۔ جو مسلمان محتضر ہ و یعنی جاں کنی کی حالت میں ہ و خوا ہ مرد ہ و یا عورت، بڑ ا ہ و یا چھ و ٹ ا، اسے احت یاط کی بنا پر بصورت امکان پشت کے بل یوں لٹ انا چا ہ ئ ے ک ہ اس ک ے پاوں ک ے تلو ے قبل ہ رخ ہ وں ۔
540 ۔ اول ی یہ ہے ک ہ جب تک م یت کا غسل مکمل نہ ہ و اس ے ب ھی روبقبلہ ل ٹ ائ یں لیکن جب اس کا غسل مکمل ہ و جائ ے تو ب ہ تر یہ ہے ک ہ اس ے اس حالت م یں لٹ ائ یں جس طرح اس نماز جنازہ پ ڑھ ت ے وقت ل ٹ ات ے ہیں۔
541 ۔ جو شخص جاں کن ی کی حالت میں ہ و اس ے احت یاط کی بنا پر رو بقبلہ ل ٹ انا ہ ر مسلمان پر واجب ہے۔ ل ہ ذا و ہ شخص جو جاں کن ی کی حالت میں ہے راض ی ہ و اور قاصر ب ھی نہ ہ و ( یعنی بالغ اور عاقل ہ و) تو اس کام ک ے لئ ے اس ک ے ول ی کی اجازت لینا ضروری نہیں ہے۔ اس ک ے علاو ہ کس ی دوسری صورت میں اس کے ول ی سے اجازت ل ینا احتیاط کی بنا پر ضروری ہے۔
542 ۔ مستحب ہے ک ہ جو شخص جاں کن ی کی حالت میں ہ و اس ک ے سامن ے شَ ہ ادتَ ین، بارہ اماموں ک ے نام اور دوسر ے د ینی عقائد اس طرح دہ رائ ے جائ یں کہ و ہ سمج ھ ل ے۔ اور اسک ی موت کے وقت تک ان چ یزوں کی تکرار کرنا بھی مستحب ہے۔
543 ۔ مستحب ہے ک ہ جو شخص جاں کن ی کی حالت میں ہ و اس ے مندرج ہ ذ یل دعا اس طرح سنائی جائے ک ہ سمج ھ ل ے :
"اَللّٰھ ُمَّ اغفِرلِ یَ مِن مَّعاصِیکَ وَاقبَل مِنّی الیَسِیرَ مِن طَاعَتِک یَامَن یَّقبَلُ الیَسِیرَ وَ یَعفُو عَنِ الکَثِیرِ اقبَل مِنّی الیَسِیرَ وَاعفُ عَنّی الکَثِیرَ اِنَّکَ اَنتَ العَفُوُّ الغَفُورُ ارحَمنِی فَاِنَّکَ رَحِیم"
544 ۔ کس ی کی جان سختی سے نکل ر ہی ہ و تو اگر اس ے تکل یف نہ ہ و تو اس ے اس جگ ہ ل ے جانا ج ہ اں و ہ نماز پ ڑھ ا کرتا ت ھ ا مُستحب ہے۔
545 ۔ جو شخص جاں کن ی کے عالم م یں ہ و اس ک ی آسانی کے لئ ے ( یعنی اس مقصد سے ک ہ اس ک ی جان آسانی سے نکل جائ ے ) اس ک ے سر ہ ان ے سور ہ یَسین، سُورہ صَافّات، سور ہ اَحزاب، آ یتُ الکُرسی اور سُورہ اعراف ک ی 54 ویں آیت اور سورۃ بَقَرہ ک ی آخری تین آیات پڑھ نا مُستحب ہے بل کہ قرآن مجید جتنا بھی پڑھ ا جاسک ے پ ڑھ ا جائ ے۔
546 ۔ جو شخص جاں کن ی کے عالم م یں ہ و اس ے تن ہ ا چ ھ و ڑ نا اور کوئ ی بھ ار ی چیز اس کے پ یٹ پر رکھ نا اور جُنُب اور حائض کا اس ک ے قر یب ہ ونا اس ی طرح کے پاس ز یادہ باتیں کرنا، رونا اور صرف عورتوں کو چھ و ڑ نا مکرو ہ ہے۔
547 ۔ مستحب ہے ک ہ مرن ے ک ے بعد م یت کی آنکھیں اور ہ ون ٹ بند کر د یئے جائیں اور اس کی ٹھ و ڑی کو باندھ د یا جائے ن یز اس کے ہ ات ھ اور پاوں س یدھے کر دیئے جائیں اور اس کے اوپر کپ ڑ ا ڈ ال د یا جائے۔ اور اگر موت رات کو واقع ہ و تو ج ہ اں موت واقع ہ وئ ی ہ و و ہ اں چراغ جلائ یں (روشنی کر دیں) اور جنازے م یں شرکت کے لئ ے مومن ین کو اطلاع دیں اور میت کو دفن کرنے م یں جلدی کریں لیکن اگر اس شخص کے مرن ے کا یقین نہ ہ و تو انتظار کر یں تاکہ صورت حال واضح ہ و جائ ے۔ علاو ہ از یں اگر میت حاملہ ہ و اور بچ ہ اس ک ے پ یٹ میں زندہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ دفن کرن ے م یں اتنا توقف کریں کہ اس کا پ ہ لو چاک کرک ے بچ ہ با ہ ر نکال ل یں اور پھ ر اس پ ہ لو کوس ی دیں۔
548 ۔ کس ی مسلمان کا غسل، حنوط، کفن، نماز میت اور دفن خواہ و ہ اثن ا عشری شیعہ نہ ب ھی ہ و اس ک ے ول ی پر واجب ہے۔ ضرور ی ہے ک ہ ول ی خود ان کاموں کو انجام دے یا کسی دوسرے کو ان کاموں ک ے لئ ے مع ین کرے اور اگر کوئ ی شخص ان کاموں کو ولی کی اجازت سے انجام د ے تو ول ی پر سے وجوب ساقط ہ و جاتا ہے بلک ہ اگر دفن اور اس ک ی مانند دوسرے امور کو کوئ ی شخص ولی کی اجازت کے بغ یر انجام دے تب ب ھی ولی سے وجوب ساقط ہ و جاتا ہے اور ان امور کو دوبار ہ انجام د ینے کی ضرورت نہیں اور اگر میت کا کوئی ولی نہ ہ و یا ولی ان کاموں کو انجام دینے سے منع کر ے تب بھی باقی مکلف لوگوں پر واجب کفائی ہے ک ہ میت کے ان کاموں کو انجام د یں اور اگر بعض مکلف لوگوں نے انجام د یا تو دوسروں پر سے وجوب ساقط ہ و جاتا ہے۔ چناچ ہ اگر کوئ ی بھی انجام نہ د ے تو تمام مکلف لوگ گنا ہ گار ہ وں گ ے اور ول ی کے منع کرن ے ک ی صورت میں اس سے اجازت ل ینے ک ی شرط ختم ہ و جات ی ہے۔
549 ۔ اگر کوئ ی شخص تجہیز و تکفین کے کاموں م یں مشغول ہ و جائ ے تو دوسروں ک ے لئ ے اس بار ے م یں کوئی اقدام کرنا واجب نہیں لیکن اگر وہ ان کاموں کو اد ھ ورا چ ھ و ڑ د ے تو ضرور ی ہے ک ہ دوسر ے ان ہیں پایہ تکمیل تک پہ نچائ یں۔
550 ۔ اگر کس ی شخص کو اطمینان ہ و ک ہ کوئ ی دوسرا میت (کو نہ لان ے ،کفنان ے اور دفنان ے ) ک ے کاموں م یں مشغول ہے تو اس پر واجب ن ہیں ہے ک ہ م یت کے (متذکر ہ ) کاموں ک ے بار ے م یں اقدام کرے ل یکن اگر اسے (متذکر ہ کاموں ک ے ن ہ ہ ون ے کا) محض شک یا گمان ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اقدام کر ے۔
551 ۔ اگر کس ی شخص کو معلوم ہ و ک ہ م یت کا غسل یا کفن یا نماز یا دفن غلط طریقے سے ہ وا ہے تو ضرور ی ہے ک ہ ان کاموں کو دوبار ہ انجام د ے ل یکن اگر اسے باطل ہ ون ے کا گمان ہ و ( یعنی یقین نہ ہ و) یا شک ہ و ک ہ درست ت ھ ا یا نہیں تو پھ ر اس بار ے م یں کوئی اقدام کرنا ضروری نہیں۔
552 ۔ عورت کا ول ی اس کا شوہ ر ہے اور عورت ک ے علاو ہ و ہ اشخاص ک ہ جن کو م یت سے م یراچ ملتی ہے اس ی ترتیب سے جس کا ذکر م یراث کے مختلف طبقوں م یں آئے گا دوسروں پر مقدم ہیں۔ م یت کا باپ میت کے ب یٹے پر اور میت کا دادا اس کے ب ھ ائ ی پر اور میت کا پدری و مادری بھ ائ ی اس کے صرف پدر ی بھ ائ ی یا مادری بھ ائ ی پر اس کا پدری بھ ائ ی اس کے مادر ی بھ ائ ی پر۔ اور اسک ے چچا ک ے اس ک ے ماموں پر مقدم ہ ون ے م یں اشکال ہے چنانچ ہ اس سلسل ے م یں احتیاط کے (تمام) تقاضوں کو پ یش نظر رکھ نا چا ہ ئ ے۔
553 ۔ نابالغ بچ ہ اور د یوانہ میت کے کاموں کو انجام د ینے کے لئ ے ول ی نہیں بن سکتے اور بالکل اس ی طرح وہ شخص ب ھی جو غیر حاضر ہ و و ہ خود یا کسی شخص کو مامور کرکے م یت سے متعلق امور کو انجام ن ہ د ے سکتا ہ و تو و ہ ب ھی ولی نہیں بن سکتا۔
554 ۔ اگر کوئ ی شخص کہے ک ہ م یں میت کا ولی ہ وں یا میت کے ول ی نے مج ھے اجازت د ی ہے ک ہ م یت کے غسل، کفن اور د فن کو انجام دوں یا کہے ک ہ م یں میت کے دفن س ے متعلق کاموں م یں میت کا وصی ہ وں اور اسک ے ک ہ ن ے س ے اطم ینان حاصل ہ وجائ ے یا میت اس کے تصرف م یں ہ و یا دو عادل شخص گواہی دیں تو اس کا قول قبول کر لینا چاہ ئ ے۔
555 ۔ اگر مرن ے والا اپن ے غسل، کفن،دفن اور نماز ک ے لئ ے اپن ے ول ی کے علاو ہ کس ی اور کو مقرر کرے تو ان امور ک ی ولایت اسی شخص کے ہ ات ھ م یں ہے اور یہ ضروری نہیں کہ جس شخص کو م یت نے وص یت کی ہ و ک ہ و ہ خود ان کاموں کو انجام د ینے کا ذمہ دار بن ے اور اس وص یت کو قبول کرے ل یکن اگر قبول کرلے تو ضرور ی ہے ک ہ اس پر عمل کر ے۔
556 ۔ م یت کو تین غسل دینے واجب ہیں : پہ ل ے ا یسے پانی سے جس م یں بیری کے پت ے مل ے ہ وئ ے ہ وں، دوسرا ا یسے پانی سے جس م یں کافور ملا ہ وا ہ و اور ت یسرا خالص پانی سے۔
557 ۔ ضرور ی ہے ک ہ ب یری اور کافور نہ اس قدر ز یادہ ہ وں ک ہ پان ی مضاف ہ و جائ ے اور ن ہ اس قدر کم ہ وں ک ہ یہ نہ ک ہ ا جاسک ے ک ہ ب یری اور کافور اس پانی میں نہیں ملائے گئ ے ہیں۔
558 ۔ اگر ب یری اور کافور اتنی مقدار میں نہ مل سک یں جتنی کہ ضرور ی ہے تو احت یاط مستحب کی بنا پر جتنی مقدار میسر آئے پان ی میں ڈ ال د ی جائے۔
559 ۔ اگر کوئ ی شخص احرام کی حالت میں مرجائے تو اس ے کافور کے پان ی سے غسل ن ہیں دینا چاہ ئ ے بلک ہ اس ک ے بجائ ے خالص پان ی سے غسل د ینا چاہ ئ ے ل یکن اگر وہ حج تَمتّع کا اِحرام ہ و اور و ہ طواف اور طواف ک ی نماز اور سعی کو مکمل کر چکا ہ و یا حج قران یا افراد کے احرام م یں ہو اور سر منڈ ا چکا ہ و تو ان دو صورتوں م یں اس کو کافور کے پان ی سے غسل د ینا ضروری ہے۔
560 ۔ اگر ب یری اور کافور یا ان میں سے کوئ ی ایک نہ مل سک ے یا اس کا استمعال جائز نہ ہ و مثلاً یہ کہ عصب ی ہ و تو احت یاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ ان م یں سے ہ ر اس چ یز کے بجائ ے جس کا ملنا ممکن ن ہ ہ و م یت کو خالص پانی سے غسل د یا جائے اور ا یک تیمم بھی کرایا جائے۔
561 ۔ جو شخص م یت کو غسل دے ضرور ی ہے ک ہ و ہ عقل مند اور مسلمان ہ و اور قول مش ہ ور ک ی بنا پر ضروری ہے ک ہ و ہ اثنا عشر ی ہ و اور غسل ک ے مسائل س ے ب ھی واقف ہ و اور ظا ہ ر یہ ہے ک ہ جو بچ ہ اچ ھے اور بر ے ک ی تمیز رکھ تا ہ و اگر و ہ غسل کو صح یح طریقے سے انجام د ے سکتا ہ و تو اس کا غسل دینا بھی کافی ہے چنانچ ہ اگر غ یر اثنا عشری مسلمان کی میت کو اس کا ہ م مذ ہ ب اپن ے مذ ہ ب ک ے مطابق غسل د ے تو مومن اثنا عشر ی سے ذم ہ دار ی ساقط ہ و جات ی ہے۔ ل یکن وہ اثنا عشر ی شخص میت کا ولی ہ و تو اس صورت م یں ذمہ دار ی اس سے ساقط نہیں ہ وت ی۔
562 ۔ جو شخص غسل د ے ضرور ی ہے ک ہ و ہ قربت ک ی نیت رکھ تا ہ و یعنی اللہ تعال ی کی خوشنودی کے لئ ے غسل د ے۔
563 ۔ مسلمان ک ے بچ ے کو خوا ہ و ہ وَلَدُالّزَنا ہی کیوں نہ ہ و غسل د ینا واجب ہے اور کافر اور اس ک ی اولاد کا غسل، کفن اور دفن شریعت میں نہیں ہے اور جو شخص بچپن س ے د یوانہ ہ و اور د یوانگی کی حالت میں ہی بالغ ہ و جائ ے اگر و ہ اسلام ک ے حکم م یں ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس ے غسل د یں۔
564 ۔ اگر ا یک بچہ چار م ہینے یا اس سے ز یادہ کا ہ و کرساقط ہ و جائ ے تو اس ے غسل د ینا ضروری ہے بلک ہ اگر چار م ہینے سے ب ھی کم کا ہ و ل یکن اس کا پورا بدن بن چکا ہ و تو احت یاط کی بنا پر اس کو غسل دینا ضروری ہے۔ ان دو صورتوں ک ی علاوہ احت یاط کی بنا پر اسے کپ ڑے م یں لپیٹ کر بغیر غسل دیئے دفن کر دینا چاہ ئ ے۔
565 ۔ مرد عورت کو غسل ن ہیں دے سکتا اس ی طرح عورت مرد کو غسل نہیں دے سکت ی۔ ل یکن بیوی اپنے شو ہ ر کو غسل د ے سکت ی ہے اور شو ہ ر ب ھی اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے اگرچ ہ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ ب یوی اپنے شو ہ ر کو اور شو ہ ر اپن ی بیوی کو حالت اختیار میں غسل نہ د ے۔
566 ۔ مرد اتن ی چھ و ٹی لڑ ک ی کو غسل دے سکتا ہے جو مم یز نہ ہ و اور عورت ب ھی اتنے چ ھ و ٹے ل ڑ ک ے کو غس ل دے سکت ی ہے جو مم یز نہ ہ و ۔
567 ۔ اگر مرد ک ی میت کو غسل دینے کے لئ ے مرد ن ہ مل سک ے تو و ہ عورت یں جو اس کی قرابت دار اور محرم ہ وں مثلاً ماں، ب ہ ن،پ ھ وپ ھی اور خالہ یا وہ عورت یں جو رضاعت یا نکاح کے سبب س ے اس ک ی محرم ہ و گئ ی ہ وں اس ے غسل د ے سکت ی ہیں اور اسی طرح اگر عورت کی میت کو غسل دینے کے لئ ے کوئی اور عورت نہ ہ و تو جو مرد اس ک ے قرابت دار اور محرم ہ وں یا رضاعت یا نکاح کے سبب س ے اس ک ے محرم ہ و گئ ے ہ وں اس ے غسل د ے سکت ے ہیں۔ دونوں صورتوں م یں لباس کے ن یچے سے غسل د ینا ضروری نہیں ہے اگرچ ہ اس طرح غسل د ینا احوط ہے سوائ ے شرمگا ہ وں ک ے (جن ہیں لباس کے ن یچے ہی سے غسل د ینا چاہ ئ ے ) ۔
568 ۔ اگر م یت اور غَسَّال دونوں مرد ہ وں یا دونوں عورت ہ وں تو جائز ہے ک ہ شرمگا ہ ک ے علاو ہ م یت کا بقی بدن برہ ن ہ ہ و ل یکن بہ تر یہ ہے ک ہ لباس ک ے ن یچے سے غسل د یا جائے۔
569 ۔ م یت کی شرم گاہ پر نظر ڈ النا حرام ہے اور جو شخص اس ے غسل د ے ر ہ ا ہ و اگر و ہ اس پر نظر ڈ ال ے تو گنا ہ گار ہے ل یکن اس سے غسل باطل ن ہیں ہ وتا ۔
570 ۔ اگر م یت کے بدن ک ے کس ی حصے پر ع ین نجاست ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس حص ے کو غسل د ینے سے پ ہ ل ے ع ین نجس دور کرے اورع اَولٰ ی یہ ہے ک ہ غسل شروع کرن ے س ے پ ہ ل ے م یت کا تمام بدن پاک ہ و ۔
571 ۔ غسل م یت غسل جنابت کی طرح ہے اور احت یاط واجب یہ ہے ک ہ جب تک م یت کو غسل ترتیبی دینا ممکن ہ و غسل اِرتماس ی نہ د یا جائے اور غسل ترت یبی میں بھی ضروری ہے ک ہ دا ہ ن ی طرف کی بائیں طرف سے پ ہ ل ے د ھ و یا جائے اور اگ ر ممکن ہ و تو احت یاط مستحب کی بنا پر بدن کے ت ینوں حصوں میں سے کس ی حصے کو پان ی میں نہ ڈ بو یا جائے بلک ہ پان ی اس کے اوپر ڈ الا جائ ے۔
572 ۔ جو شخص ح یض یا جنابت کی حالت میں مر جائے اس ے غسل ح یض یا غسل جنابت دینا ضروری نہیں ہے بلک ہ صرف غسل م یت اس کے لئ ے کاف ی ہے۔
573 ۔ م یت کو غسل دینے کی اجرت لینا احتیاط کی بنا پر حرام ہے اور اگر کوئ ی شخص اجرت لینے کے لئ ے م یت کو اس طرح غسل دے ک ہ یہ غسل دینا قصد قربت کے مناف ی ہ و تو غسل باطل ہے ل یکن غسل کے ابتدائ ی کاموں کی اجرت لینا حرام نہیں ہے۔
574 ۔ م یت کے غسل م یں غسل جبِیرہ جائز نہیں ہے اور اگر پان ی میسر نہ ہ و یا اس کے استعمال م یں کوئی امر مانع ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ غسل ک ے بدل ے م یت کو ایک تیمم کرائے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ ت ین تیمم کرائے جائ یں اور ان تین تیمم میں سے ا یک مَافیِ الذِّمَّہ ک ی نیت کرے یعنی جو شخص تیمم کرا رہ ا ہ و یہ نیت کرے ک ہ یہ تیمم اس شرعی ذمہ دار ی کو انجام دینے کے لئ ے کرا ر ہ ا ہ وں جو مج ھ پر واجب ہے۔
575 ۔ جو شخص م یت کو تیمم کرا رہ ا ہ و اس ے چا ہ ئ ے ک ہ اپن ے ہ ات ھ زم ین پر مارے اور م یت کے چ ہ ر ے اور ہ ات ھ وں ک ی پشت پر پھیرے اور احتیاط واجب یہ ہے ک ہ اگر ممکن ہ و تو م یت کو اس کے اپن ے ہ ات ھ وں س ے ب ھی تیمم کرائے۔
576 ۔ مسلمان م یت کو تین کپڑ وں کو کفن د ینا ضروری ہے جن ہیں لنگ، کُرتہ اور چادر ک ہ ا جاتا ہے۔
577 ۔ احت یاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ لنگ ا یسی ہ و جو ناف س ے گ ھٹ نوں تک بدن ک ی اطراف کو ڈھ انپ ل ے اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ س ینے سے پاوں تک پ ہ نچ ے اور (کُرت ہ یا) پیراہ ن احتیاط کی بنا پر ایسا ہ و ک ہ کند ھ وں ک ے سروں س ے آد ھی پنڈ ل یوں تک تمام بدن کو ڈھ انپ ے اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ پاو ں تک پہ نچ ے اور چادر ک ی لمبائی اتنی ہ ون ی چاہ ئ ے ک ہ پور ے بدن کو ڈھ انپ د ے اور احت یاط یہ ہے ک ہ چادر ک ی لمبائی اتنی ہ ون ی چاہ ئ ے ک ہ م یت کے پاوں اور سر ک ی طرف سے گر ہ د ے سک یں اور اس کی چوڑ ائ ی اتنی ہ ون ی چاہ ئ ے ک ہ اس کا ا یک کنارہ دوسر ے کنار ہ پر آسک ے۔
578 ۔ لنگ ک ی اتنی مقدار جو ناف سے گ ھٹ نوں تک ک ے حص ے کو ڈھ انپ ل ے اور (کُرت ے یا) پیراہ ن کی اتنی مقدار ہ و جو کند ھے س ے نصف پن ڈ ل ی ڈھ انپ ل ے کفن ک ے لئ ے واجب ہے اور اس مقدار س ے ز یادہ جو کچھ سابق ہ مسئل ے م یں بتایا گیا ہے و ہ کفن ک ی مستحب مقدار ہے۔
579 ۔ واجب مقدار ک ی حد تک کفن جس کا ذکر سابقہ مسئل ہ م یں ہ و چکا ہے م یت کے اصل مال س ے ل یا جاتا ہے اور ظا ہ ر یہ ہے ک ہ مستحب مقدار ک ی حد تک کفن میت کی شان اور عرف عام کو پیش نظر رکھ ت ے ہ وئ ے م یت کے اصل مال س ے ل یا جائے اگرچ ہ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ واجب مقدار س ے زائد کفن ان وارثوں ک ے حص ے س ے ن ہ ل یا جائے جو اب ھی بالغ نہ ہ وئ ے ہ وں ۔
580 ۔ اگر کس ی شخص نے وص یت کی ہ و ک ہ مستحب کفن ک ی مقدار جس کا ذکر دو سابقہ مسائل م یں آچکا ہے اس ک ے ت ہ ائ ی مال سے ل ی جائے یا یہ وصیت کی ہ و ک ہ اس کا ت ہ ائ ی مال خود اس پر خرچ کیا جائے ل یکن اس کے مَصرَف کا تع ین نہ ک یا ہ و یا صرف اس کے کچ ھ حص ے ک ے مَصرَف کا تع ین کیا ہ و تو مستحب کفن اس کے ت ہ ائ ی مال سے ل یا جاسکتا ہے۔
581 ۔ اگر مرن ے وال ے ن ے یہ وصیت نہ ک ی ہ و ک ہ کفن اس ک ے ت ہ ائ ی مال سے ل یا جائے اور متعلق ہ اشخاص چا ہیں کہ اس ک ے اصل مال س ے ل یں تو جو بیان مسئلہ 579 میں گزر چکا ہے اس س ے ز یادہ نہ ل یں مثلاً وہ مستحب کام جو ک ہ معمولا انجام ن ہ د یئے جاتے ہ وں اور جو م یت کی شان کے مطاب ق بھی نہ ہ وں تو ان ک ی ادائیگی کے لئ ے ہ رگز اصل مال س ے ن ہ ل یں اور بالکل اسی طرح اگر کفن معمول سے ز یادہ قیمتی ہ و تو اضاف ی رقم کو میت کے اصل مال س ے ن ہیں لینا چاہ ئ ے ل یکن جو ورثاء بالغ ہیں اگر وہ اپن ے حص ے م یں سے ل ینے کی اجازت دیں تو جس حد تک وہ لوگ اجازت د یں ان کے حصے س ے ل یا جاسکتا ہے۔
582 ۔ عورت کے کفن ک ی ذمہ دار ی شوہ ر پر ہے خوا ہ عورت اپنا مال ب ھی رکھ ت ی ہ و ۔ اس ی طرح اگر عورت کو اس تفصیل کے مطابق جو طلاق ک ے احکام م یں آئے گ ی طلاق رَجعی دی گئی ہ و اور و ہ عدت ختم ہ ون ے س ے پ ہ ل ے مر جائ ے تو شو ہ ر ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ اس ے کفن د ے۔ اور اگر شو ہ ر بالغ ن ہ ہ و یا دیوانہ ہ و تو شو ہ ر ک ے ول ی کو چاہ ئ ے ک ہ اس ک ے مال س ے عورت کو کفن د ے۔
583 ۔ م یت کو کفن دینا اس کے قرابت داروں پر واجب ن ہیں گو اس کی زندگی میں اخراجات کی کفالت ان پر واجب رہی ہ و ۔
584 ۔ احت یاط یہ ہے ک ہ کفن ک ے ت ینوں کپڑ وں م یں سے ہ ر کپ ڑ ا اتنا بار یک نہ ہ و ک ہ م یت کا بدن اس کے ن یچے سے نظر آئ ے ل یکن اگر اس طرح ہ و ک ہ ت ینوں کپڑ وں کو ملا کر م یت کا بدن اس کے ن یچے سے نظر ن ہ آئ ے تو بنابر اقو ی کافی ہے۔
585 ۔ غصب ک ی ہ وئ ی چیز کا کفن دینا خواہ کوئ ی دوسری چیز میسر نہ ہ و تب ب ھی جائز نہیں ہے پس اگر م یت کا کفن غَصبی ہ و اور اس کا مالک راضی نہ ہ و تو و ہ کفن اس ک ے بدن س ے اتار ل ینا چاہ ئ ے خوا ہ اس کو دفن ب ھی کیا جاچکا ہ و ل یکن بعض صورتوں میں (اس کے بدن س ے کفن اتارنا جائ ز نہیں) جس کی تفصیل کی گنجائش اس مقام پر نہیں ہے۔
586 ۔ م یت کو نجس چیز یا خالص ریشمی کپڑے کا کفن د ینا (جائز نہیں) اور احتیاط کی بنا پر سونے ک ے پان ی سے کام کئ ے ہ وئ ے کپ ڑے کا کفن د ینا (بھی) جائز نہیں لیکن مجبوری کی حالت میں کوئی حرج نہیں ہے۔
587 ۔ م یت کو نجش مُردار کی کھ ال کا کفن د ینا اختیاری حالت میں جائز نہیں ہے بلک ہ پاک مُردار ک ی کھ ال کو کفن د ینا بھی جائز نہیں ہے اور احت یاط کی بنا پر کسی ایسے کپڑے کا کفن د ینا جو ریشمی ہ و یا اس جانور کی اون سے ت یار کیا گیا ہ و جس کا گوشت ک ھ انا حرام ہ و اخت یاری حالت میں جائز نہیں ہے ل یکن اگر کفن حلال گوشت جانور کی کھ ال یا بال اور اون کا ہ و تو کوئ ی حرج نہیں اگرچہ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ ان دونوں چ یزوں کا بھی کفن نہ د یا جائے۔
588 ۔ اگر م یت کا کفن اس کی اپنی نجاست یا کسی دوسری نجاست سے نجس ہ و جائ ے تو (نجاست لگن ے س ے ) کفن ضائع ن ہیں ہ وتا (ا یسی صورت میں) جتنا حصہ نجس ہ وا ہ و اس ے د ھ ونا یا کاٹ نا ضرور ی ہے خوا ہ م یت کو قبر میں ہی کیوں نہ اتارا جاچکا ہ و ۔ اور اگر اس کا د ھ ونا یا کاٹ نا ممکن ن ہ ہ و ل یکن بدل دینا ممکن ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ بدل د یں۔
589 ۔ اگر کوئ ی ایسا شخص مر جائے جس ن ے حج یا عمرے کا احرام باند ھ رک ھ ا ہ و تو اس ے دوسروں ک ی طرح کفن پہ نانا ضرور ی ہے اور اس کا سر اور چ ہ ر ہ ڈھ انک د ینے میں کوئی حرج نہیں۔
590 ۔ انسان ک ے لئ ے اپن ی زندگی میں کفن، بیری اور کافور کا تیار رکھ نا مستحب ہے۔
591 ۔ غسل د ینے کے بعد واجب ہے ک ہ م یت کو حنوط کیا جائے یعنی اس کی پیشانی، دونوں ہ ت ھیلیوں، دونوں پاوں کے انگو ٹھ وں پر کافور اس طرح ملا جائ ے ک ہ کچ ھ کافور اس پر باقی رہے خوا ہ کچ ھ کافور بغ یر ملے باق ی بچے اور مستحب یہ ہے ک ہ م یت کی ناک پر بھی کافور ملا جائے۔ کافور پسا ہ وا اور تاز ہ ہ ونا چا ہ ئ ے اور اگر پرانا ہ ون ے ک ی وجہ س ے اس ک ی خوشبو زائل ہ و گئ ی ہ و تو کاف ی نہیں۔
592 ۔ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ کافور پ ہ ل ے م یت کی پیشانی پر ملا جائے ل یکن دوسرے مقامات پر ملن ے م یں ترتیب ضروری نہیں ہے۔
593 ۔ ب ہ تر یہ ہے ک ہ م یت کو کفن پہ نان ے س ے پ ہ ل ے حنوط ک یا جائے۔ اگرچ ہ کفن پ ہ نان ے ک ے دوران یا اس کے بعد ب ھی حنوط کریں تو کوئی حرج نہیں ہے۔
594 ۔ اگر کوئ ی ایسا شخص مر جائے جس ن ے حج یا عمرے ک ے لئ ے احر ام باندھ رک ھ ا ہ و تو اس ے حنوط کرنا جائز ن ہیں ہے مگر ان دو صورتوں م یں (جائز ہے ) جن کا ذکر مسئل ہ 559 میں گزر چکا ہے۔
595 ۔ ا یسی عورت جس کا شوہ ر مر گ یا ہ و اور اب ھی اس کی عدت باقی ہ و اگرچ ہ خوشبو لگانا اس ک ے لئ ے حرام ہے ل یکن اگر وہ مر جائ ے تو اس ے حنوط کرنا واجب ہے۔
596 ۔ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ م یت کو مشک،عنبر، عُود اور دوسری خوشبوئیں نہ لگائ ی جائیں اور انہیں کافور کے سات ھ ب ھی نہ ملا یا جائے۔
597 ۔ مستحب ہے ک ہ سَ ید الشہ داء امام حس ین علیہ السلام کی قبر مبارک کی مٹی (خاک شفا) کی کچھ مقدار کافور میں ملا لی جائے ل یکن اس کافور کو ایسے مقامات پر نہیں لگانا چاہ ئ ے ج ہ اں لگان ے س ے خاک شفا ک ی بے حرمت ی ہ و اور یہ بھی ضروری ہے ک ہ خاک شفا اتن ی زیادہ نہ ہ و ک ہ جب و ہ کافور ک ے سات ھ مل جائ ے تو اس ے کافور ن ہ ک ہ ا جاسک ے۔
598 ۔ اگر کافور ن ہ مل سک ے یا فقط غسل کے لئ ے کاف ی ہ و تو حنوط کرنا ضرور ی نہیں اور اگر غسل کی ضروری سے ز یادہ ہ و ل یکن تمام سات اعضا کے لئ ے کاف ی نہ ہ و تو احت یاط مستحب کی بنا پر چاہ ئ ے ک ہ پ ہ ل ے پ یشانی پر اور اگر بچ جائے تو دوسر ے مقامات پر ملا جائ ے۔
599 ۔ مستحب ہے ک ہ (درخت ک ی) دو تر و تازہ ٹہ ن یاں میت کے سات ھ قبر م یں رکھی جائیں۔
600 ۔ ہ ر مسلمان ک ی میت پر اور ایسے بچے ک ی میت پر جو اسلام کے حکم م یں ہ و اور پور ے چ ھ سال کا ہ و چکا ہ و نماز پ ڑھ نا واجب ہے۔
601 ۔ ا یک ایسے بچے ک ی میت پر جو چھ سال کا ن ہ ہ وا ہ و ل یکن نماز کو جانتا ہ و احت یاط لازم کی بنا پر لازم کی بنا پر نماز پڑھ نا چا ہ ئ ے اور اگر نماز کو ن ہ جانتا ہ و تو رجاء ک ی نیت سے نماز پ ڑھ ن ے م یں کوئی حرج نہیں اور وہ بچ ہ جر مرد ہ پ یدا ہ وا ہ و اس ک ی میت پر نماز پڑھ نا مستحب ن ہیں ہے۔
602 ۔ م یت کی نماز اسے غسل د ینے ، حنوط کرنے اور کفن پ ہ نان ے ک ے بعد پ ڑھ ن ی چاہ ئ ے اور اگر ان امور س ے پ ہ ل ے یا ان کے دوران پ ڑھی جائے تو ا یسا کرنا خواہ ب ھ ول چوک یا مسئلے س ے لاعلم ی کی بنا پر ہی کیوں نہ ہ و کاف ی نہیں ہے۔
603 ۔ جو شخص م یت کی نماز پرھ نا چا ہے اس ک ے لئ ے ضرور ی نہیں کہ اس ن ے وضو، غسل یا تیمم کر رکھ ا ہ و اور اس کا بدن اور لباس پاک ہ وں اور اگر اس کا لباس غصب ی ہ و تب ب ھی کوئی حرج نہیں۔ اگرچ ہ ب ہ تر یہ ہے ک ہ ان تمام چ یزوں کا لحاظ رکھے جو دوسر ی نمازوں میں لازمی ہیں۔
604 ۔ جو شخص نماز م یت پڑھ ر ہ ا ہ و اس ے چا ہ ئ ے ک ہ رو بقبل ہ ہ و اور یہ بھی واجب ہے ک ہ م یت کو نماز پڑھ ن ے وال ے ک ے سامن ے پشت ک ے بل یوں لٹ ا جائ ے ک ہ م یت کا سر نماز پڑھ ن ے وال ے ک ے دائ یں طرف ہ و اور پاوں بائ یں طرف ہ وں ۔
605 ۔ احت یاط مستحب کی بنا پر ضروری ہے ک ہ جس جگ ہ ا یک شخص میت کی نماز پڑھے و ی غصبی نہ ہ و اور یہ بھی ضروری ہے ک ہ نماز پ ڑھ ن ے ک ی جگہ م یت کے م قام سے اونچ ی یا نیچی نہ ہ و ل یکن معمولی پستی یا بلندی میں کوئی حرج نہیں۔
606 ۔ نماز پ ڑھ ن ے وال ے کو چا ہ ئ ے ک ہ م یت سے دور ن ہ ہ و ل یکن جو شخص نماز میت با جماعت پڑھ ر ہ ا ہ و اگر و ہ م یت سے دور ہ و جب ک ہ صف یں باہ م متصل ہ وں تو کوئ ی حرج نہیں۔
607 ۔ نماز پ ڑھ ن ے وال ے کو چا ہ ئ ے ک ہ م یت کے سامن ے ک ھڑ ا ہ و ل یکن اگر نماز، باجماعت پڑھی جائے اور جماعت ک ی صفت میت کے دونوں طرف س ے گزر جائ ے تو ان لوگوں ک ی نماز میں جو میت کے سامن ے ن ہ ہ وں کوئ ی اشکال نہیں ہے۔
608 ۔ احت یاط کی بنا پر میت اور نماز پرھ ن ے وال ے ک ے درم یان پردہ یا دیوار یا کوئی اور ایسی چیز حائل نہیں ہ ون ی چاہ ئ ے ل یکن اگر میت تابوت میں یا ایسی ہی کسی اور چیز میں رکھی ہ و تو کوئ ی حرج نہیں۔
609 ۔ نماز پ ڑھ ت ے وقت ضرور ی ہے ک ہ م یت کی شرمگاہ ڈھ ک ی ہ وئ ی ہ و اور اگر اس ے کفن پ ہ نانا ممکن ن ہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس شرمگا ہ کو خوا ہ لک ڑی یا اینٹ یا ایسی ہی کسی اور چیز سے ہی ڈھ انک د یں۔
610 ۔ نماز م یت کھڑے ہ و کر اور قربت ک ی نیت سے پ ڑھ ن ی چاہ ئ ے اور ن یت کرنے وقت م یت کو معین کر لینا چاہ ئ ے مثلاً ن یت کرنی چاہ ئ ے ک ہ م یں اس میت پر قُربہ اِلَ ی اللہ نماز پ ڑھ ر ہ ا ہ وں ۔
611 ۔ ا گر کوئی شخص کھڑے ہ و کر نماز م یت نہ پ ڑھ سکتا ہ و تو ب یٹھ کر پڑھ ل ے۔
612 ۔ اگر مرن ے وال ے ن ے وص یت کی ہ و ک ہ کوئ ی مخصوص شخص اس کی نماز پڑھ ائ ے تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ و ہ شخص م یت کے ول ی سے اجازت حاصل کر ے۔
613 ۔ م یت پر کئی دفعہ نماز پر ھ نا مکرو ہ ہے۔ ل یکن اگر میت کسی صاحب علم و تقوی کی ہ و تو مکرو ہ ن ہیں ہے۔
614 ۔ اگر م یت کو جان بوجھ کر یا بھ ول چوک ک ی وجہ س ے یا کسی عذر کی بنا پر بغیر نماز پڑھے دفن کر د یا جائے یا دفن کر دینے کے بعد پت ہ چل ے ک ہ جو نماز اس پر پر ھی جاچکی ہے و ہ باطل ہے تو م یت پر نماز پڑھ ن ے ک ے لئ ے اس ک ی قبر کو کھ ولنا جائز ن ہیں لیکن جب تک اس کا بدن پاش پاش نہ ہ و جائ ے اور جن شرائط کا نماز م یت کے سلسل ے م یں ذکر آچکا ہے ان ک ے سات ھ رَجَاء ک ی نیت سے اس ک ی قبر پر نماز پڑھ ن ے م یں کوئی حرج نہیں ہے۔
615 ۔ م یت کی نماز میں پانچ تکبیریں ہیں اور اگر نماز پرھ ن ے والا شخص مندرج ہ ذ یل ترتیب کے سات ھ پانچ تکب یریں کہے تو کاف ی ہے۔
نیت کرنے اور پ ہ ل ی تکبیر پڑھ ن ے ک ے بعد ک ہے۔ اَش ھ َدُ اَن لَّا اِلٰ ہ اِلَّا الل ہ و اَش ھ َدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ الل ہ اور دوسر ی تکبیر کے بعد ک ہے : اَللّٰ ھ ُمَّ صَلِّ ی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ اور تیسری تکبیر کے بعد ک ہے : اَللّٰ ھ ُمَّ اغفِر لِلمُئومِ نِینَ وَالمئومِنَاتِ۔
اور چھ و ٹی تکبیر کے بعد اگر م یت مرد ہ و تو ک ہے : اَللّٰ ھ ُمَّ اغفِر لِ ھ ٰذَا المَ یِّتِ۔
اور اگر میت عورت ہ و تو ک ہے : اَللّٰ ھ ُمَّ اغفِر لِ ھ ٰذَ ہ المَ یِّتِ اور اس کے بعد پانچو یں تکبیر پڑھے۔
اور بہ تر یہ ہے ک ہ پ ہ ل ی تکبیر کے بعد ک ہے : اَش ھ َدُ اَن لَّا اِلٰ ہ اِلَّا الل ہ وَحدَ ہ لَاشَرِ یکَ لَہ وَ اَش ھ َدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبدُ ہ وَرَسُولُ ہ اَرسَلَ ہ بِالحَقِّ بَشِ یرًا وَ نَذِیرًا بَینَ یَدَیِ السَّاعَۃ ِ ۔
اور دوسری تکبیر کے بعد ک ہے : اَللَّ ھ ُمَّ صَلِّ عَلٰ ی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِک عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّارحَم مُحَمَّدٍا وَّ اٰل مُحَمَّدٍ کَاَفضَلِ مَاصَلَّیتَ وَبَارَکتَ وَ تَرَحَّمتَ عَلٰٓی اِبرَاحِیمَ وَاٰلِ اِبرَاھ ِ یمَ اِنَّکَ حَمِید مَّجِید وَصَلِّ عَلٰ جَمِیعِ الاَنبِیَآءِ وَالمُرسَلِینَ وَالشُّھ َدَآءِ وَالصِّدِّ یقِینَ وَجَمِیعِ عِبَادِ اللہ الصَّالِحِ ینَ۔
اور تیسری تکبیر کے بعد ک ہے : اَللّٰ ھ ُمَّ اغفِر لِلمُئومِنِ ینَ وَالمُئومِنَاتِ وَالمُسلِمِینَ وَالمُسلِمَاتِ الاَحیَآءِ مِنھ ُم وَالاَموَاتِ تَابِع بَ ینَنَا وَبَینَھ ُم بِالخَیرَاتِ اِنَّک مجِیبُ الدَّعَوَابِ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیر۔
اور اگر میت مرد ہ و تو چوت ھی تکبیر کے بعد ک ہے : اَللَّ ھ ُمَّ اِنَّ ھ ٰذَا عَبدُکَ وَابنُ عَبدِکَ وَابِنُ اَمَتِکَ نَزَلَ بِکَ وَاَنَ خَ یر مَنزُولٍ بِہ اَللَّ ھ ُمَّ اِنَّا لَانَعلَمُ اِلَّا خَ یرًا وَّاَنتَ اَعلمُ بِہ مِنَّا اَللَّ ھ ُمَّ اِن کَانَ مُحسِناً فَزِدف ِٓی اِحسَانِہ وَاِن کَانَ مُسِسئاً فَتَجَاوَزعَن ہ وَاغفِرلُ ہ اَللَّ ھ ُمَّ اجعَل ہ عِندَ کَ فِ ی اَعلٰی عِلِّیینَ وَاخلُف عَلٰٓی اَھ لِ ہ فِ ی الغَابِرِینَ وَارحَمہ بِرَحم ہ بِرحمَتِکَ یَآاَرحَمَ الرَّاحِمِین اور اس کے بعد پانچو یں تکبیر پڑھے۔ ل یکن اگر میت عورت ہ و تو چوت ھی تکبیر کے بعد ک ہے : اَللَّ ھ ُمَّ اِنَّ ھ ٰذِ ہ اَمَتُکَ وَابنَ ۃ ُ عَبدِکَ وَابنَۃ ُ اَمَتِکَ نَزَلَت بِکَ وَاَنتَ خَیرُ مَنزُولٍ بِہ اَللَّ ھ ُمَّ اِنَّا لاَ نَعلَمُ مِن ھ َا اِلَّا خَ یرًا وَّاَنتَ اَعلَمُ بِھ َامِنَّا اَللَّ ھ ُمَّ اِن کَانَت مُحسِنَ ۃ ً فَزِد فِی اِحسَانِھ َا وَاِن کَانَت مُسِ یٓئَۃ ً فَتَجَاوَز عَنھ َا وَاغفِرلَ ھ َا اَللَّ ھ ُمَّ اجعَل ھ َا عِندکَ فِ یٓ اَعلٰی عِلِّیِینَ وَاخلُف عَلٰٓی اَھ لِ ھ َا فِ الغَابِرِ ینَ وَارحَمھ َا بِرحَم ھ َا بِرَحمَتِکَ یَآاَرحَمَ اِلرَّحِمِینَ۔
616 ۔ تکب یریں اوعر دعائیں (تسلسل کے سات ھ ) یکے بعد دیگرے اس طرح پڑھ ن ی چاہیئں کہ نماز اپن ی شکل نہ ک ھ و د ے۔
617 ۔ جو شخص م یت کی نماز با جماعت پڑھ ر ہ ا ہ و خوا ہ و ہ م قتدی ہی ہ و اس ے چا ہ ئ ے ک ہ اس ک ی تکبیریں اور دعائیں بھی پڑھے۔
618 ۔ چند چ یزیں نماز میت میں مستحب ہیں۔
1 ۔ جو شخص نماز م یت پڑھے و ہ وضو، غسل یا تیمم کرے۔ اور احت یاط میں ہے ک ہ ت یمم اس وقت کرے جب وضو اور غسل کرنا ممکن ن ہ ہ و یا اسے خدش ہ ہ و ک ہ اگر وضو یا غسل کریگا تو نماز میں شریک نہ ہ و سک ے گا ۔
2 ۔ اگر م یت مرد ہ و تو امام جو شخص اک یلا میت پر نماز پڑھ ر ہ ا ہ و م یت کے شکم ک ے سامن ے ک ھڑ ا ہ و اور اگر م یت عورت ہ و تو اسک ے س ینے کے سامن ے ک ھڑ ا ہ و ۔
3 ۔ نماز ننگ ے پاوں پ ڑھی جائے۔
4 ۔ ہ ر تکب یر میں ہ ا تھ وں کو بلند ک یا جائے۔
5 ۔ نماز ی اور میت کے درم یان اتنا کم فاصلہ ہ و ک ہ اگر ہ وا نماز ی کے لباس کو حرکت د ے تو و ہ جناز ے کو جا چ ھ وئ ے۔
6 ۔ نماز م یت جماعت کے سات ھ پ ڑھی جا 4 ے۔
7 ۔ امام تکب یریں اور دعائیں بلند آواز سے پ ڑھے اور مقتد ی آہ ست ہ پ ڑھیں۔
8 ۔ نماز با جماعت م یں مقتدی خواہ ا یک شخص ہی کیوں نہ ہ و امام ک ے پ یچھے کھ را ہ و ۔
9 ۔ نماز پ ڑھ ن ے والا م یت اور مومنین کے لئ ے کثرت س ے دعا کر ے۔
10 ۔ باجماعت نماز س ے پ ہ ل ے ت ین مرتبہ "اَلصَّلوٰ ۃ" کہے۔
11 ۔ نماز ا یسی جگہ پ ڑھی جائے ج ہ اں نماز م یت کے لئ ے لوگ ز یادہ تر جاتے ہ وں ۔
12 ۔ اگر حائض نماز م یت جماعت کے سات ھ پ ڑھے تو اک یلی کھڑی ہ و اور نماز یوں کی صف میں نہ ک ھڑی ہ و ۔
619 ۔ نماز م یت مسجدوں میں پڑھ نا مکرو ہ ہے ل یکن مسجد الحرام میں پڑھ نا مکرو ہ ن ہیں ہے۔
620 ۔ م یت کو اس طرح زمین میں دفن کرنا واجب ہے ک ہ اس ک ی بو باہ ر ن ہ آئ ے اور درندے ب ھی اس کا بدن باہ ر ن ہ نکال سک یں اور اگر اس بات کا خوف ہ و ک ہ درند ے اس کا بدن با ہ ر نکال ل یں گے تو قبر کو ا ینٹ وں وغیرہ سے پخت ہ کر د ینا چاہ ئ ے۔
621 ۔ اگر م یت کو زمیں میں دفن کرنا ممکن نہ ہ و تو دفن کرن ے ک ے بجائ ے اس ے کمر ے یا تابوت میں رکھ ا جاسکتا ہے۔
622 ۔ م یت کو قبر میں دائیں پہ لو اس طرح ل ٹ انا چا ہ ئ ے ک ہ اس ک ے بدن کا سامن ے کا حص ہ رو بقبل ہ ہ و ۔
623 ۔ اگر کوئ ی شخص کشتی میں مر جائے اور اس ک ی میت کے خراب ہ ون ے کا امکان ن ہ ہ و اور اس ے کشت ی میں رکھ ن ے م یں بھی کوئی امر مانع نہ ہ و تو لوگوں کو چا ہ ئ ے ک ہ انتظار کر یں تاکہ خشک ی تک پہ نچ جائ یں اور اسے زم ین میں دفن کر دیں ورنہ چا ہ ئ ے ک ہ اس ے کشت ی میں ہی غسل دے کر حنو ط کریں اور کفن پہ نائ یں اور نماز میت پڑھ ن ے ک ے بعد اس چ ٹ ائ ی میں رکھ کر اس کا من ہ بند کر د یں اور سمندر میں ڈ ال د یں کو کوئی بھ ار ی چیز اس کے پاوں م یں باندھ کر سمند م یں ڈ ال د یں اور جہ اں تک ممکن ہ و اس ے ا یسی جگہ ن ہیں گرانا چاہ ئ ے ج ہ اں جانور اس ے فورا لقم ہ بنال یں۔
624 ۔ اگر اس بات کا خوف ہ و ک ہ دشمن قبر کو ک ھ ود کر م یت کا جسم باہ ر نکال ل ے گا اور اس ک ے کان یا ناک یا دوسرے اعضاء کا ٹ ل ے گا تو اگر ممکن ہ و تو سابق ہ مسئل ے م یں بیان کیے گئے طر یقے کے مطابق اس ے سمندر م یں ڈ ال د ینا چاہ ئ ے۔
625 ۔ اگر م یت کو سمندر میں ڈ النا یا اس کی قبر کو پختہ کرنا ضرور ی ہ و تو اس ک ے اخراجات م یت کے اصل مال م یں سے ل ے سکت ے ہیں۔
626 ۔ اگر کوئ ی کافر عورت مر جائے اور اس ک ے پ یٹ میں مرا ہ وا بچ ہ ہ و اور اس بچ ے کا باپ مسلم ان ہ و تو اس عورت کو قبر م یں بائیں پہ لو قبل ے ک ی طرف پیٹھ کر کے ل ٹ انا چا ہ ئ ے تاک ہ بچ ے کا من ہ قبل ے ک ی طرف ہ و اور اگر پ یٹ میں موجود بچے ک ے بدن م یں ابھی جان نہ پ ڑی ہ و تب ب ھی احتیاط مستحب کی بنا پر یہی حکم ہے۔
627 ۔ مسلمان کو کافروں ک ے قبرستان م یں دفن کرنا اور کافر کو مسلمانوں کے قبرستان م یں دفن کرنا جائز نہیں ہے۔
268 ۔ مسلمان کو ا یسی جگہ ج ہ اں اس ک ی بے حرمت ی ہ وت ی ہ و مثلاً ج ہ اں کو ڑ ا کرک ٹ اور گندگ ی پھینکی جاتی ہ و، دفن کرنا جائز ن ہیں ہے۔
629 ۔ م یت کو غصبی زمین میں یا ایسی زمین میں جو دفن کے علاو ہ کس ی دوسرے مقصد مثلاً مسجد ک ے لئ ے وقت ہ و دفن کرنا جائز ن ہیں ہے۔
230 ۔ کس ی میت کی قبر کھ ود کر کس ی دوسرے مرد ے کو اس قبر م یں دفن کرنا جائز نہیں ہے ل یکن اگر قبر پرانی ہ وگئ ی ہ و اور پ ہ ل ی میت کا نشان باقی نہ ر ہ ا ہ و تو دفن کر سکت ے ہیں۔
631 ۔ جو چ یز میٹ سے جدا ہ و جائ ے خوا ہ و ہ اس ک ے بال، ناخن، یا دانت ہی ہ ون اس ے اس ک ے سات ھ ہی دفن کر دینا چاہ ئ ے اور اگر جدا ہ ون ے وال ی چیزیں اگرچہ و ہ دانت، ناخن یا بال ہی کیوں نہ ہ وں م یت کو دفنانے ک ے بعد مل یں تو احتیاط لازم کی بنا پر انہیں کسی دوسری جگہ دفن کر د ینا چاہ ئ ے۔ اور جو ناخن اور دانت انسان کی زندگی میں ہی اس سے جدا ہ و جائ یں انہیں دفن کرنا مستحب ہے۔
632 ۔ اگر کوئ ی شخص کنویں میں مر جائے اور اس ے با ہ ر نکالنا ممکن ن ہ ہ و تو چا ہ ئ ے ک ہ کنو یں کا منہ بند کر د یں اور اس کنویں کو ہی اس کے قبر قرار د یں۔
633 ۔ اگر کوئ ی بچہ ماں ک ے پ یٹ میں مر جائے اور اس کا پ یٹ میں رہ نا ماں ک ی زندگی کے لئ ے خطرناک ہ و تو چا ہ ئ ے ک ہ اس ے آسان تر ین طریقے سے با ہ ر نکال یں۔ چنانچ ہ اگر اس ے ٹ ک ڑے ٹ ک ڑے کرن ے پر ب ھی مجبور ہ وں تو ا یسا کرنے م یں کوئی حرج نہیں لیکن چاہ ئ ے ک ہ اگر اس عورت کا شو ہ ر ا ہ ل فن ہ و تو بچ ے کو اس ک ے ذر یعے باہ ر نکال یں اور اگر یہ ممکن نہ ہ و تو کس ی اہ ل فن عورت ک ے ذر یعے سے نکال یں اور اگر یہ ممکن نہ ہ و تو ا یسے محرم مرد کے ذر یعے نکالیں جو اہ ل فن ہ و اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہ و تو نا محرم مرد جو ا ہ ل فن ہ و بچ ے کو با ہ ر نکال ے اور اگر کوئ ی ایسی شخص بھی موجود نہ ہ و تو پ ھ ر جو شخص ا ہ ل فن ن ہ ہ و و ہ ب ھی بچے کو با ہ ر نکال سکتا ہے۔
634 ۔ اگر ماں مر جائ ے اور بچ ہ اس ک ے پ یٹ میں زندہ ہ و اور اگرچ ہ اس بچ ے ک ے زند ہ ر ہ ن ے ک ی امید نہ ہ و تب ب ھی ضروری ہے ک ہ ہ ر اس جگ ہ کو چاک کر یں جو بچے ک ی سلامتی کے لئ ے ب ہ تر ہے اور بچ ے کو با ہ ر نکالیں اور پھ ر اس جگ ہ کو ٹ انک ے لگا د یں۔
635 ۔ مستحب ہے ک ہ متعلق ہ اشخاص قبر کو ا یک متوسط انسان کے قد ک ے لگ ب ھ گ ک ھ و د یں اور میت کو نزدیک ترین قبرستان میں دفن کریں ماسوا اس کے ک ہ جو قبرستان دور ہ و و ہ کس ی وجہ س ے ب ہ تر ہ و مثلاً و ہ اں ن یک لوگ دفن کئے گئ ے ہ وں یا زیادہ لوگ وہ اں فاتح ہ پ ڑھ ن ے جات ے ہ وں ۔ یہ بھی مستحب ہے ک ہ جناز ہ قبر س ے چند گز دور زم ین پر رکھ د یں اور تین دفعہ کرک ے ت ھ و ڑ ا ت ھ و ڑ ا قبر ک ے نزد یک لے جائ یں اور ہ ر دفع ہ زم ین پر رکھیں اور پھ ر ا ٹھ ال یں اور چوتھی دفعہ قبر م یں اتار دیں اور اگر میت مرد ہ و تو ت یسری دفعہ زم ین پر اس طرح رکھیں کہ اس کا سر قبر ک ی نچلی طرف ہ و اور چوت ھی دفعہ سر ک ی طرف سے قبر م یں داخل کریں اور اگر میت عورت ہ و تو ت یسری دفعہ اس ے قبرک ے قبل ے ک ی طرف رکھیں اور پہ لو ک ی طرف سے قبر م یں اتار دیں اور قبر میں اتارتے وقت ا یک کپڑ ا قبر ک ے اوپر تان لیں۔ یہ بھی مستحب ہے ک ہ جناز ہ ب ڑے آرام ک ے سات ھ تابوت س ے نکال یں اور قبر میں داخل کریں اور وہ دعائ یں جنہیں پڑھ ن ے ک ے لئ ے ک ہ ا گ یا ہے دفن کرن ے س ے پ ہ ل ے اور دفن کرت ے وقت پ ڑھیں اور میت کو قبر میں رکھ ن ے ک ے بعد اس ک ے کفن ک ی گرہیں کھ ول د یں اور اس کا رخسار زمین پر رکھ د یں اور اس کے سر ک ے ن یچے مٹی کا تکیہ بنا دیں اور اس کی پیٹھ کے پ یچھے کچی اینٹیں یا ڈھیلے رکھ د یں تاکہ م یت چت نہ ہ و جائ ے اور اس س ے پ یشتر کہ قبر بند کر یں دایاں ہ ات ھ م یت کے دائ یں کندھے پر مار یں اور بایاں ہ ات ھ زور س ے م یت کے بائ یں کندھے پر رک ھیں اور منہ اس ک ے کان ک ے قر یب لے جائ یں اور اسے زور س ے حرکت د یں اور تین دفعہ کہیں اَسمَع اِفھ َم یَافُلَانَ ابنَ فُلاَنٍ ۔ اور فلان ابن فلان ک ی جگہ م یت کا اور اسکے باپ کا نام ل یں۔ مثلاً اگر اس کا اپنا نام موس ی اور اس کے باپ کو نام عمران ہ و تو ت ین دفعہ ک ہیں : اِسمَع اِفھ َم یَامُوسَی بنَ عِمرَانَ اس کے بعد ک ہیں : ھ َل اَنتَ عَلَ ی العَھ دِالَّذ ی فَارَقتَاَ عَلَیہ مِن شَھ َاَ ۃ ِ اَن لَّا اِلَّہ اِلَّا الل ہ وَحدَ ہ لَا شَرِ یکَ لَہ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّ ی اللہ عَلَ یہ وَاٰلِہ عَبلُ ہ وَرَسُولُ ہ وَسَ یِّدُالنَّبِیِینَ وَخَاتَمُ المُرسَلِینَ وَ اَنَّ عَلِیّاً اَمِیرُالمُئومِنِینَ وَسَیِّدُالوَصِیِّینَ وَاِمَلمُ نِ افتَرَضَ اللہ طَاعَتَ ہ عَلَ ی العٰلَمِینَ وَاَنَّ الحَسَنَ وَالحُسَینَ وَ عَلِیَّ بِنَ الحُسَینِ وَ مُحَمَّد بنَ عَلِیٍّ وَّ جَعفَرَبنَ مُحَمَّدٍ وَّ مُوسیَ بنَ جُعفَرٍ وَّ عَلِیَّ بنَ مُوسٰی وَ مُحَمَّدَبنَ عَلِیَّ بنَ مُحَمّدٍ وَالحَسَنَ بنَ عَلِیَّ وَّالقَآئِمَ الحُجَّۃ۔ المَ ھ دِ یَّ صَلَوٰاتُ اللہ عَلَ یھ ِم اَئِمَّۃ ُ المُئومِنِینَ وَحُجَعُ اللہ عَلَ ی الخَلقِ اَجمَعِینَ وَ اَئِتَمتَکَ اَئِمَّۃ ُ ھ ُدً ی اَبرَارُ یَا فُلَانَ ابنَ فُلانٍ اور فلان ابن فلان کی بجائے م یت کا اور اس کے باپ کا نا م لے اور پ ھ ر ک ہے : اِذَّا اَتَاکَ المَلَکَانِ المُقَرَّبَانِ رَسُولَ ینِ مِن عِندِ اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰ ی وَسَالَاکَ عَن رَّبِکَ وَعَن نَّبِیِّکَ وَعَن دِینِکَ وَعَن کِتَابِکَ وَعَن قِبلَتِکَ وَعَن اَئِمَّتِکَ فَلاَ تَخَف وَلاَ تَحزَن وَقُل فیِ جَوَابِھ ِ مَا اللہ رَبِّ ی وَ مُحَمّد صَلَّی اللہ عَلَ یہ وَاٰلِہ نَبِّ یی وَالاِسلَامُ دِینیِ وَالقُراٰنُ کِتابِی وَالکَعبَۃ ُ قِبلَتِی وَاَمِیرُ المُئومِنِینَ عَلِیُّ بنُ اَبِی طَالِبٍ اِمَامِی وَالحَسَنُ بنُ عَلِیٍّ المُجتَبٰے اَمَامِ ی وَالحُسَینُ بنُ عَلِیٍّ الشَّھ ِ یدُ بِکَربَلاَءَ اِمَامِی وَعَلَیٌّ زَینُ العَابِدِینَ اِمَامِی وَمُحَمَّدُ البَاقِرُ اِمِامِی وَجَعفَر الصَّادِقُ اِمَامِی وَمُوسیَ الکَاظِمُ اِمَامِی وَعَلِیُّ الرِّضَا اِمَامِی وَمُحَمَّدُ الجَوَادُ اِمَامِی وَعَلِیُّ الھ َادِ ی اِمَامِیی وَالحَسَنُ العَسکَرِیُّ اِمَامِی وَالحُجَّۃ ُ المُتَظَرُ اِمَامِی ھ ٰٓولاَءِ صَلَوَاتُ الل ہ عَلَ یھ ِم اَجمَعِینَ اَئِمَّتِی وَسَاَدَتِی وَشُفَعَآئِی بِھ ِم اَتَوَلّٰ ی وَمِن اَعدَآئِھ ِم اَتَبَرَّاُ فِ ی الدُّنیَا وَالاٰخِرَۃ ِ ثُمَّ اعلَم یَافُلانٍ اور فلان بن فلان کی بجائے م یت کا اور اس کے باپ کا نام ل ے اور پ ھ ر ک ہے : اَنَّ الل ہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰ ی نِعمَالرَّبُّ وَاَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللہ عَلَ یہ وَاٰلِہ نِعمَ الرَّسُولُ وَاَنَّ عَلِ یَّ بنَ اَبِی طَالِبٍ وَاَولاَدَہ المَعصُومِ ینَ الاَئِمَّۃ َ الاِثنَی عَشَرَنِعمَ الاَئِمَّۃ ُ وَاَنَّ مَاجَآءَ بِہ مُحَمَّدٌ صَلَّ ی اللہ عَلَ یہ وَاٰلِہ حَقٌّ وَّاَنَّ المَوتَ حَقٌّ وَّ سُئَوالَ مُنکَرٍ وَّ نَکِ یرٍ فِی القَبرِ حَقٌّ وَّ البَعثُ حَقٌّ وَّ النُّشُورَ حِقٌّ وَّالصِّرَاطِ حَقٌّ وَّالمِیزَانَ حَقٌّ وَّ تَطَایُرَالکُتُبِ حَقٌّ وَّاَنَّ الجَنَّۃ َ حَقٌّ وَّالنَّارَ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعُۃ َ اٰتِیَۃ ٌ لاَّ رَیبَ فِیھ َا وَاَنَّ اللہ یَبعثُ مَن فِی القُبُورِ۔ پ ھ ر ک ہے۔ "اَفَ ھ ِمتَ یَا فُلاَنُ" اور فلان کی بجائے م یت کا نام لے اور اس ک ے بعد ک ہے : ثَبَّتَکَ الل ہ بَالقَولِ الثَّابِتِ ھ َدَا کَ الل ہ اِ لٰی صِرَاطٍ مُّستَقِیمٍ عَرَّفَ اللہ بَ ینَکَ وَبَینَ اَولِیَآئِکَ فِی مُستَقَرٍّ مِّن رَّحمُتِہ۔ اس ک ے بعد ک ہے۔ "اَللَّ ھ ُمَّ جَافِ الاَرضَ عَن جَنبَیہ وَاَصعِد بَرُوحِہ ٓ اِلَ یکَ وَلَقِّہ مِنکُ بُر ھ َاناً اَللَّ ھ ُمَّ عَفوَکَ عَفوَکَ" ۔
636 ۔ مستحب ہے ک ہ جو شخص م یت کو قبر میں اتارے و ہ با ط ہ ارت، بر ہ ن ہ سر اور بر ہ ن ہ پا ہ و اور م یت کی پائنتی کی طرف سے قبر س ے با ہ ر نکل ے اور م یت کے عز یز اقربا کے علاو ہ جو لوگ موجود ہ وں و ہ ہ ات ھ ک ی پشت سے قبر پر م ٹی ڈ ال یں اور اِنَّالِلّٰہ وَاِنَّااِلَ یہ رَاجِعُونَ پڑھیں۔ اگر م یت عورت ہ و تو اس کا محرم اس ے قبر م یں اتارے اور اگر محرم ن ہ ہ و تو اس ک ے عز یز و اقربا اسے قبر م یں اتاریں۔
637 ۔ مستحب ہے ک ہ قبر مربع یا مستطیل بنائی جائے اور زم ین سے تقر یباً چار انگل بلند ہ و اور اس پر کوئ ی (کتبہ یا) نشانی لگا دی جائے تاک ہ پ ہ نچانن ے م یں غلطی نہ ہ و اور قبر پر پان ی چھڑ کاجائ ے ارو پان ی چھڑ کن ے ک ے بعد جو لوگ موجود ہ ہ وں و ہ اپن ی انگلیاں قبر کی مٹی میں گاڑ کر سات دفعہ سور ہ قدر پ ڑھیں اور میت کے لئ ے مغفرت طلب کر یں اور یہ دعا پڑھیں: اَللَّھ ُمَّ جَافِ الاَرضَ عَن جَنبَ یہ وَاَصعِد اِلَیکَ رَوحَہ وَلَقِّ ہ مِنک رِضوَاناًوَّاَسکِن قَبرَ ہ مِن رَّحمَتِکَ مَا تُغنِ یہ بِہ عَن رَّحمَ ۃ ِ مَن سِوَاکَ۔
638 ۔ مستحب ہے ک ہ جو لوگ جناز ے ک ی مشایعت کے لئ ے ہ وں ان ک ے چل ے جان ے ک ے بعد م یت کا ولی یا وہ شخص جس ے ول ی اجازت دے م یت کو ان دعاوں کی تلقین کرے جو بتائ ی گئی ہیں۔
639 ۔ دفن ک ے بعد مستحب ہے ک ہ م یت کے پس ماندگان کو پرسا د یا جائے ل یکن اگر اتنی مدت گزر چکی ہ وک ہ پُرسا د ینے سے ان کا دک ھ تاز ہ ہ و جائ ے تو پرس انہ د ینا بہ تر ہے یہ بھی مستحب ہے ک ہ م یت کے ا ہ ل خان ہ ک ے لئ ے ت ین دن تک کھ انا ب ھیجا جائے۔ ان ک ے پاس ب یٹھ کر اور ان کے گ ھ ر میں کھ انا ک ھ انا مکرو ہ ہے۔
640 ۔ مستحب ہے ک ہ انسان عز یز اقربا کی موت پر خصوصا بیٹے کی موت پر صبر کرے اور جب ب ھی میت کی یاد آئے اِنَّالِلّٰ ہ وَاِنَّا اِلَ یہ رَاجِعُونَ پڑھے اور م یت کے لئ ے قرآن خوان ی کرے اور ماں باپ ک ی قبروں پر جاکر اللہ تعال ی سے اپن ی حاجتیں طلب کرے اور قبر کو پخت ہ ک ر دے تاک ہ جلد ی ٹ و ٹ پ ھ و ٹ ن ہ جائ ے۔
641 ۔ کس ی کی موت پر بھی انسان کے لئ ے احت یاط کی بنا پر جائز نہیں کہ اپنا چ ہ ر ہ اور بدن زخم ی کرے اور اپن ے بال نوچ ے ل یکن سر اور چہ ر ے کا پ یٹ نا بنا بر اقوی جائز ہے۔
642 ۔ باپ اور ب ھ ائ ی کے علاو ہ کس ی کی موت پر گریبان چاک کرنا احتیاط کی بنا پر جائز نہیں ہے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ باپ اور ب ھ ائ ی کی موت پر بھی گریبان چاک نہ ک یا جائے۔
643 ۔ اگر عورت م یت کے سوگ م یں اپنا چہ ر ہ زخم ی کرکے خون آلود کرل ے یا بال نوچے تو احت یاط کی بنا پر وہ ا یک غلام کو آزاد کرے یا دس فقیروں کو کھ انا ک ھ لائ ے یا انہیں کپڑے پ ہ نائ ے اور اگر مرد اپن ی بیوی یا فرزند کی موت پر اپنا گریبان یا لباس پھ ا ڑے تو اس ک ے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے۔
644 ۔ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ م یت پر روتے وقت آواز ب ہ ت بلند ن ہ ک ی جائے۔
645 ۔ مناسب ہے ک ہ م یت کے دفن ک ے بعد پ ہ ل ی رات کو اس کے لئ ے دو رکعت نماز وحشت پ ڑھی جائے اور اس ک ے پ ڑھ ن ے کا طر یقہ یہ ہے ک ہ پ ہ ل ی رکعت میں سورہ الحمد ک ے بعد ا یک دفعہ آ یت الکرسی اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد ک ے بعد دس دفع ہ سور ہ قدر پ ڑھ ا جائ ے اور سلام نماز ک ے بعد ک ہ ا جائ ے :
اَللّٰھ ُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍوَّاٰلِ مُحَمَّدٍوَّابعَث ثَوَابَھ َا اِلٰ ی قَبرِ فُلاَنٍ۔ اور لفظ فلاں ک ی بجائے م یت کا نام لیا جائے۔
636 ۔ نماز وحشت م یت کے دفن ک ے بعد پ ہ ل ی رات کو کسی وقت بھی پڑھی جاسکتی ہے ل یکن بہ تر یہ ہے ک ہ اول شب م یں نماز عشا کے بعد پ ڑھی جائے۔
647 ۔ اگر م یت کو کسی دور کے ش ہ ر م یں لے جانا مقصود ہ و یا کسی اور وجہ س ے اس ک ے دفن م یں تاخیر ہ و جائ ے تو نماز وحش ت کو اس کے سابق ہ طر یقے کے مطابق دفن ک ی پہ ل ی رات تک ملتوی کر دینا چاہ ئ ے۔
نَبشِ قبر (قبر کا کھ ولنا)
648 ۔ کس ی مسلمان کا نبش قبر یعنی اس کی قبر کا کھ ولنا خوا ہ و ہ بچ ہ یا دیوانہ ہی کیوں نہ ہ و حرام ہے۔ ہ اں اگر اس کا بدن م ٹی کے سات ھ مل کر م ٹی ہ وچکا ہ و تو پ ھ ر کوئ ی حرج نہیں۔
649 ۔ امام زادوں، ش ہیدوں، عالموں اور صالح لوگوں کی قبروں کو اجاڑ نا خوا ہ ان ہیں فوت ہ وئ ے سال ہ ا سال گزر چک ے ہ ون اور ان ک ے بدن خاک ہ و گئ ے ہ وں، اگر ان ک ی بے حرمت ی ہ وت ی ہ و تو حرام ہے۔
650 ۔ چند صورت یں ایسی ہیں جن میں قبر کا کھ ولنا حرام ن ہیں ہے :
ا۔ جب م یت کو غصبی زمین میں دفن کیا گیا ہ و اور زم ین کا مالک اس کے و ہ اں ر ہ ن ے پر راض ی نہ ہ و ۔
2 ۔ جب کفن یا کوئی اور چیز جو میت کے سات ھ دفن ک ی گئی ہ و غصب ی ہ و اور اس کا مالک اس بات پر رضامند ن ہ ہ و ک ہ و ہ قبر م یں رہے اور اگر خود م یت کے مال م یں سے کوئ ی چیز جو اس کے وارثوں کو مل ی ہ و اس ک ے سات ھ دفن ہ وگئ ی ہ و اور اس ک ے وارث اس بات پر راض ی نہ ہ وں ک ہ و ہ چ یز قبر میں رہے تو اس ک ی بھی یہی صورت ہے البت ہ اگر مرن ے وال ے ن ے وص یت کی ہ و ک ہ دعا یا قرآن مجید یا انگوٹھی اس کے سات ھ دفن ک ی جائے اور اس ک ی وصیت پر عمل کیا گیا ہ و تو ان چیزوں کو نکالنے ک ے لئ ے قبر کو ن ہیں کھ ولا جاسکتا ہے۔ اس ی طرح ان بعض صورتوں میں بھی جب زمین یا کفن میں سے کوئ ی ایک چیز غصبی ہ و یا کوئی اور غصبی چیز میت کے سات ھ دفن ہ و گئ ی ہ و تو قبر کو ن ہیں کھ ولا جاسکتا ۔ ل یکن یہ اں ان تمام صورتوں کی تفصیل بیان کرنے ک ی گنجائش نہیں ہے۔
3 ۔ جب قبر کا ک ھ ولنا م یت کی بے حرمت ی کا موجب نہ ہ و اور م یت کو بغیر غسل دیئے یا بغیر کفن پہ نائ ے دفن ک یا گیا ہ و یا پتہ چل ے ک ہ م یت کا غسل باطل تھ ا یا اسے شرع ی احکام کے مطابق کفن ن ہیں دیا گیا تھ ا یا قبر میں قبلے ک ے رخ پر ن ہیں لٹ ا یا گیا تھ ا ۔
4 ۔ جب کوئی ایسا حق ثابت کرنے ک ے لئ ے جو نبش قبر س ے ا ہ م ہ و م یت کا بدن دیکھ نا ضروری ہ و ۔
5 ۔ جب م یت کو ایسی جگہ دفن ک یا گیا ہ و ج ہ اں اس ک ی بے حُرمت ی ہ وت ی ہ و مثلاً اس ے کافروں ک ے قبرستان م یں یا اس جگہ دفن ک یا گیا ہ و ج ہ اں غلاظت اور کو ڑ ا کرک ٹ پ ھینکا جاتا ہ و ۔
6 ۔ جب کس ی ایسے شرعی مقصد کے لئ ے قبر ک ھ ول ی جائے۔ جس ک ی اہ م یت قبر کھ ولن ے س ے ز یادہ ہ و مثلاً کس ی زندہ بچ ے حامل ہ عورت ک ے پ یٹ سے نکالنا مطلوب ہ و جس ے دفن کر د یا گیا ہ و ۔
7 ۔ جب یہ خوف ہ و ک ہ درند ہ م یت کو چیرپھ ا ڑ ڈ ال ے گا یا سیلاب اسے ب ہ ا ل ے جائ ے گا یا دشمن اسے نکال ل ے گا ۔
8 ۔ میت نے وص یت کی ہ و ک ہ اس ے دفن کرن ے س ے پ ہ ل ے مقدس مقامات ک ی طرف منتقل کیا جائے اور ل ے جات ے وقت اس ک ی بے حرمت ی بھی نہ ہ وت ی ہ و ل یکن جان بوجھ کر یا بھ ول ے س ے کس ی دوسری جگہ دفنا د یا گیا ہ و تو ب ے حرمت ی نہ ہ ون ے ک ی صورت میں قبر کھ ول کر اس ے مقدس مقامات ک ی طرف لے جا سکتے ہیں۔
651 ۔ اسلام ک ی مقدس شریعت میں بہ ت س ے غسل مستحب ہیں جن میں سے کچ ھ یہ ہیں:
1 ۔ غسل جمع ہ۔ اس کا وقت صبح ک ی اذان کے بعد س ے سورج غروب ہ ون ے تک ہے اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ ظ ہ ر ک ے قر یب بجالایا جائے (اور اگر کوئ ی شخص اسے ظ ہ ر تک انجام ن ہ د ے تو ب ہ تر ہے ک ہ ادا اور قضا ک ی نیت کئے بغ یر غروب آفتاب تک بجالائے ) اور اگر جمع ہ ک ے دن غسل ن ہ کر ے تو مستحب ہے کہ ہ فت ے ک ے دن صبح س ے غروب آفتاب تک اس ک ی قضا بجالائے۔ اور جو شخص جانتا ہ و ک ہ اس ے جمع ہ ک ے دن پان ی میسر نہ ہ وگا تو و ہ رجاء جمعرات ک ے دن غسل انجام د ے سکتا ہے اور مستحب ہے ک ہ انسان غسل جمع ہ کرت ے وقت یہ دعا پڑھے۔ "اَش ھ َدُ اَن لاَّ اِلٰ ہ اِلاَّ الل ہ وَحدَ ہ لا َ شَرِیکَ لَہ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبدُ ہ وَرَسُولُ ہ اَللّٰ ھ ُمَّ صَلِّ عَلٰ ی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّاجعَلنِی مِنَ التَّوَّبِینَ وَاجعَلنِی مِنَ المُتَطَھ ِّرِ ینَ"۔
2 تا 7 ۔ ما ہ رمضان ک ی پہ ل ی اور سترھ و یں رات اور انیسویں، اکیسویں اور تیئسویں راتوں کے پ ہ ل ے حص ے کا غسل اور چوب یسویں رات کا غسل۔
8 ۔ 9 ۔ ع ید الفطر اور عید قربان کے دن کا غسل ۔ اس کا وقت صبح ک ی اذان سے سورج غروب ہ ون ے تک ہے اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ ع ید کی نماز سے پ ہ ل ے کر ل یا جائے۔
10 ۔ 11 ۔ ما ہ ذ ی الحجہ ک ے آ ٹھ و یں اور نویں دن کا غسل اور بہ تر یہ ہے ک ہ نو یں دن کا غسل ظہ ر ک ے نزد یک کیا جائے۔
13 ۔ اس شخص کا غسل جس ن ے اپن ے بدن کا کوئ ی حصہ ا یسی میت کے بدن س ے مس ک یا ہ و جس ے غسل د یا گیا ہ و ۔
13 ۔ احرام کا غسل ۔
14 ۔ حرم مک ہ م یں داخل ہ ون ے کا غسل ۔
15 ۔ مک ہ مکرم ہ م یں داخل ہ ون ے کا غسل ۔
16 ۔ خان ہ کعب ہ ک ی زیارت کا غسل۔
17 ۔ کعب ہ م یں داخل ہ ون ے کا غسل ۔
18 ۔ ذبح اور نحر ک ے لئ ے غسل ۔
19 ۔ بال مون ڈ ن ے ک ے لئ ے غسل ۔
20 ۔ حرم مد ینہ میں داخل ہ ون ے کا غسل ۔
21 ۔ مد ینہ منورہ م یں داخل ہ ون ے کا غسل ۔
22 ۔ مسجد نبو ی میں داخل ہ ون ے کا غسل ۔
23 ۔ نب ی کریم صلی اللہ عل یہ وآلہ وسلم ک ی قبر مطہ ر س ے وداع ہ ون ے کا غسل ۔
24 ۔ دشمن ک ے سات ھ مبا ہ ل ہ کرن ے کا غسل ۔
25 ۔ نوزائد ہ بچ ے کو غسل د ینا۔
26 ۔ استخار ہ کرن ے کا غسل
27 ۔ طلب باران کا غسل
652 ۔ فق ہ اء ن ے مستحب غسلوں ک ے باب م یں بہ ت س ے غسلوں کا ذکر فرما یا ہے جن م یں سے چند یہ ہیں 1 ۔ ما ہ رمضان المبارک ک ی تمام طاق راتوں کا غسل اور اس کی آخری دہ ائ ی کی تمام راتوں کا غسل اور اس کی تیسویں رات کے آخر ی حصے م یں دوسرا غسل۔
2 ۔ ما ہ ذ ی الحجہ ک ے چوب یسویں دن کا غسل۔
3 ۔ ع ید نوروز کے دن اور پندر ہ و یں شعبان اور نویں اور سترہ و یں ربیع الاول اور ذی القعدہ ک ے پچ یسویں دن کا غسل۔
4 ۔ اس عورت کا غسل جس ن ے اپن ے شو ہ ر ک ے علاو ہ کس ی اور کے لئ ے خوشبو استعمال ک ی ہ و ۔
5 ۔ اس شخص کا غسل جو مست ی کی حالت میں سوگیا ہ و ۔
6 ۔ اس شخص کا غسل جو کس ی سولی چڑھے ہ وئ ے انسان کو د یکھ ن ے گیا ہ و اور اس ے د یکھ ا بھی ہ و ل یکن اگر اتفاقاً یا مجبوری کی حالت میں نظر گئی ہ و یا مثال کے طور پر اگر ش ہ ادت د ینے گیا ہ و تو غسل مستحب ن ہیں ہے۔
7 ۔ دور یا نزدیک سے معصوم یں علیہ م السلام کی زیارت کے لئ ے غسل ۔ ل یکن احوط یہ ہے ک ہ یہ تمام غسل رجاء کی نیت سے بجالائ ے جائ یں۔
653 ۔ ان مستحب غسلوں ک ے سات ھ جن کا ذکر مسئل ہ 651 میں کیا گیا ہے انسان ا یسے کام مثلاً نماز انجام دے سکتا ہے جن ک ے لئ ے وضو لازم ہے ( یعنی وضو کرنا ضروری نہیں ہے ) ل یکن جو غسل بطور رجاء کیے جائیں وہ وضو ک ے لئ ے کفا یت نہیں کرتے ( یعنی ساتھ سات ھ وضو کرنا ب ھی ضروری ہے)۔
654 ۔ اگر کئ ی مستحب غسل کسی شخص کے ذم ے ہ وں اور و ہ سب ک ی نیت کرکے ا یک غسل کر لے تو کاف ی ہے۔
تیمم
سات صورتوں میں وضو اور غسل کے بجائ ے ت یمم کرنا چاہ ئ ے :
وضو یا غسل کے لئ ے ضرور ی مقدار میں پانی مہیا کرنا ممکن نہ ہ و ۔
655 ۔ اگر انسان آباد ی میں ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ وضو اور غسل ک ے لئ ے پان ی مہیا کرنے ک ے لئ ے اتن ی جستجو کرے ک ہ بالاخر اس ک ے ملن ے س ے ناام ید ہ و جائ ے اور اگر ب یابان میں ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ راستوں م یں یا اپنے ٹھہ رن ے کی جگہ وں م یں یا اس کے آس پاس وال ی جگہ وں م یں پانی تلاش کرے اور احت یاط لازم یہ ہے ک ہ و ہ اں ک ی زمین ناہ موار ہ و یا درختوں کی کثرت کی وجہ س ے را ہ چلنا دشوار ہ و تو چاروں اطراف م یں سے ہ ر طرف پران ے زمان ے م یں کمان کے چل ے پر چ ڑھ ا کر پ ھینکے جانے وال ے ت یرکی 1 پرواز کے فاصل ے ک ے برابر پان ی کی تلاش میں جائے۔ ورن ہ ہ ر طرف اندا زاً دو بار پھینکے جانے وال ے ت یر کے فاصل ے ک ے برابر جستجو کر ے۔
656 ۔ اگر چار اطراف م یں سے بعض ہ موار اور بعض نا ہ موار ہ وں تو جو طرف ہ موار ہ و اس م یں دو تیروں کی پرواز کے برابر اور جو طرف نا ہ موار ہ و اس م یں ایک تیرکی پرواز برابر پانی تلاش کرے۔
657 ۔ جس طرف پان ی کے ن ہ ہ ون ے کا یقین ہ و اس طرف تلاش کرنا ضرور ی نہیں۔
658 ۔ اگر کس ی شخص کی نماز کا وقت تنگ نہ ہ و اور پان ی حاصل کرنے ک ے لئ ے اس ک ے پاس وقت ہ و اور اس ے یقین یا اطمینان ہ و ک ہ جس فاصل ے تک اس ک ے لئ ے پان ی تلاش کرنا ضروری ہے اس س ے دور پان ی موجود ہے تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ پان ی حاصل کرنے ک ے لئ ے و ہ اں جائ ے ل یکن اگر وہ اں جانا مشقت کا باعث ہ و یا پانی بہ ت ز یادہ دور ہ و ک ہ لوگ یہ کہیں کہ اس ک ے پاس پان ی نہیں ہے تو و ہ اں جانا لازم ن ہیں ہے اور اگر پان ی موجود ہ ون ے کا گمان ہ و تو پ ھ ر ب ھی وہ اں جانا ضرور ی نہیں ہے۔
659 ۔ یہ ضروری نہیں کہ انسان خود پان ی کی تلاش میں جائے بلک ہ و ہ کس ی اور ایسے شخص کو بھیج سکتا ہے جس ک ے ک ہ ن ے پر اس ے اطم ینان ہ و اور اس صورت م یں اگر ایک شخص کئی اشخاص کی طرف سے جائ ے تو کاف ی ہے۔
660 ۔ اگر اس بات کا احتمال ہ وک ہ کس ی شخص کے لئ ے اپن ے سفر ک ے سامان م یں یا پڑ او ڈ الن ے ک ی جگہ پر یا قافلے م یں پانی موجود ہے تو ضرور ی ہے ک ہ اس قدر جستجو کر ے ک ہ اس ے پان ی کے ن ہ ہ ون ے کا اطم ینان ہ و جائ ے یا اس کے حصول س ے ناام ید ہ و جائ ے۔
661 ۔ اگر ا یک شخص نماز کے وقت س ے پ ہ ل ے پان ی تلاش کرے اور حاصل ن ہ کر پائ ے اور نماز ک ے وقت تک و ہیں رہے تو اگر پان ی ملنے کا احتمال ہ و تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ دوبار ہ پان ی کی تلاش میں جائے۔
662 ۔ اگر نماز کا وقت داخل ہ ون ے ک ے بعد تلاش کر ے اور پان ی حاصل نہ کرپائ ے اور بعد وال ی نماز کے وقت تک اس ی جگہ ر ہے تو اگر پان ی ملنے کا احتمال ہ و تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ دوبار ہ پان ی کی تلاش میں جائے۔
663 ۔ اگر کس ی شخص کی نماز کا وقت تنگ ہ و یا اسے چور ڈ اکو اور درند ے کا خوف ہ و یا پانی کی تلاش اتنی کٹھ ن ہ و ک ہ و ہ اس صعوبت کو برداشت ن ہ کر سک ے تو تل اش ضروری نہیں۔
1 ۔ مجلس ی اول قدس سرہ ن ے مَن لاَ یَحضُرُہ الفَقِیہ کی شرح میں تیر کے پرواز ک ی مقدار دو سو قدم معین فرمائی ہے۔
664 ۔ اگر کوئ ی شخص پانی تلاش نہ کر ے حت ی کہ نماز کا وقت تنگ ہ و جائ ے اور پان ی تلاش کرنے ک ی صورت میں پانی میں مل سکتا تھ ا تو و ہ گنا ہ کا مرتکب ہ وا ل یکن تیمم کے سات ھ اس ک ی نماز صحیح ہے۔
665 ۔ اگر کوئ ی شخص اس یقین کی بنا پر کہ اس ے پان ی نہیں مل سکتا پانی کی تلاش میں نہ جائ ے اور ت یمم کر کے نماز پ ڑھ ل ے اور بعد م یں اسے پت ہ چل ے ک ہ اگر تلاش کرتا تو پان ی مل سکتا تھ ا تو احت یاط لازم کی بنا پر وضو کر کے نماز کو دوبار ہ پ ڑھے۔
666 ۔ اگر کس ی شخص کو تلاش کرنے پر پان ی نہ مل ے اور ملن ے س ے ما یوس ہ و کر ت یمم کے سات ھ نماز پ ڑھ ل ے اور نماز ک ے بعد اس ے پت ہ چل ے ک ہ ج ہ اں اس ن ے تلاش ک یا تھ ا و ہ اں پان ی موجود تھ ا اور اس ک ی نماز صحیح ہے۔
667 ۔ جس شخص کو یقین ہ و ک ہ نماز کا وقت تنگ ہے اگر و ہ پان ی تلاش کئے بغ یر تیمم کرکے نماز پ ڑھ ل ے اور نماز پ ڑھ ن ے ک ے بعد اور وقت گزرن ے س ے پ ہ ل ے اس ے پت ہ چل ے ک ہ پان ی تلاش کرنے ک ے لئ ے اس ک ے پاس وقت ت ھ ا تو احت یاط واجب یہ ہے ک ہ دوبار ہ نماز پ ڑھے۔
668 ۔ اگر نماز کا وقت داخل ہ ون ے ک ے بعد کس ی شخص کو وضو باقی ہ و اور اس ے معلوم ہ و ک ہ اگر اس ن ے اپنا وضو باطل کر د یا تو وہ دوبار ہ وضو کرن ے ک ے لئ ے پان ی نہیں ملے گا یا وہ وضو ن ہیں کر پائے گا تو اس صورت م یں اگر وہ اپنا وضو برقرار رک ھ سکتا ہ و تو احت یاط واجب کی بنا پر اسے چا ہ ئ ے ک ہ اس ے باطل ن ہ کر ے ل یکن ایسا شخص یہ جانتے ہ وئ ے ب ھی کہ غسل ن ہ کر پائ ے گا اپن ی بیوی سے جماع کر سکتا ہے۔
669 ۔ اگر کوئ ی شخس نماز کے وقت س ے پ ہ ل ے باوضو ہ و اور اس ے معلوم ہ و ک ہ اگر اس ن ے اپنا وضو باطل کر د یا تو دوبارہ وضو کرن ے ک ے لئ ے پان ی مہیا کرنا اس کے لئ ے ممکن ن ہ ہ وگا تو اس صورت م یں اگر وہ اپنا وضو برقرار رک ھ سکتا ہ و تو احت یاط واجب یہ ہے ک ہ اس ے باطل ن ہ کر ے۔
670 ۔ جب کس ی کے پاس فقط وضو یا غسل کے لئ ے پان ی ہ و اور و ہ جانتا ہ و ک ہ اس ے گراد ینے کی صورت میں مزید پانی نہیں مل سکے گا تو اگر نماز کا وقت داخل ہ و گ یا ہ و تو اس پان ی کا گرانا حرام ہے اور احت یاط واجب یہ ہے ک ہ نماز ک ے وقت س ے پ ہ ل ے ب ھی نہ گرائ ے۔
671 ۔ اگر کوئ ی شخص یہ جانتے ہ وئ ے ک ہ اس پان ی نہ مل سک ے گا، نماز کا وقت داخل ہ ون ے ک ے بعد اپنا وضو باطل کر د ے یا جو پانی اس کے پا س ہ و اس ے گراد ے تو اگرچ ہ اس ن ے (حکم مسئل ہ ک ے ) برعکس کام ک یا ہے ، ت یمم کے سات ھ اس ک ی نماز صحیح ہ وگ ی لیکن احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ اس نماز کی قضا بھی کرے۔
672 ۔ اگر کوئ ی شخص بڑھ اپ ے یا کمزوری کی وجہ س ے یا چور ڈ اکو اور جانور وغ یرہ کے خوف س ے یا کنویں سے پان ی نکالنے ک ے وسائل م یسر نہ ہ ون ے ک ی وجہ س ے پان ی حاصل نہ کر سک ے تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ ت یمم کرے۔ اور اگر پان ی مہیا کرنے یا اسے استعمال کرن ے م یں اسے اتن ی تکلیف اٹھ ان ی پڑے جو ناقابل برداشت ہ و تو اس صورت م یں بھی یہی حکم ہے۔ ل یکن آخری صورت میں اگر تیمم نہ کر ے اور وضو کر ے تو اس کا وضو صح یح ہ وگا ۔
673 ۔ اگر کنو یں سے پان ی نکالنے ک ے لئ ے ڈ ول اور رس ی وغیرہ ضروری ہ وں اور متعلق ہ شخص مجبور ہ و ک ہ اس ان ہیں خریدے یا کرایہ پر حاصل کرے تو خوا ہ ان ک ی قیمت عام بھ او س ے کئ ی گنا زیادہ ہی کیوں نہ ہ و اس ے چا ہ ئ ے ک ہ ان ہیں حاصل کرے۔ اور اگر پان ی اپنی اصلی قیمت سے م ہ نگا ب یچا جا رہ ا ہ و تو اس ک ے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے ل یکن اگر ان چیزوں کے حصول پر اتنا خرچ ا ٹھ تا ہ و ک ہ اس ک ے ج یب اجازت نہ د یتی ہ و تو پ ھ ر ان چ یزوں کا مہیا کرنا واجب نہیں ہے۔
674 ۔ اگر کوئ ی شخص مجبور ہ و ک ہ پان ی مہیا کرنے ک ے لئ ے قرض ل ے تو فرض ل ینا ضروری ہے ل یکن جس شخص کو علم ہ و یاگمان ہ و ک ہ و ہ اپن ے قرض ے ک ی ادائیگی نہیں کرسکتا اس کے لئ ے قرض ل ینا واجب نہیں ہے۔
675 ۔ اگر کنواں ک ھ ودن ے م یں کوئی مشقت نہ ہ و تو متعلق ہ شخص کو چا ہ ئ ے ک ہ پان ی مہیا کرنے ک ے لئ ے کنواں ک ھ ود ے۔
676 ۔ اگر کوئی شخص بغیر احسان رکھے کچ ھ پان ی دے تو اس ے قبول کر ل ینا چاہ ئ ے۔
677 ۔ اگر کس ی شخص کو پانی استعمال کرنے س ے اپن ی جان پر بن جانے یا بدن میں کوئی عیب یا مرض پیدا ہ ون ے یا موجودہ مرض ک ے طولان ی یا شدید ہ وجان ے یا علاج معالجہ م یں دشواری پیدا ہ ون ے کا خوف ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ ت یمم کرے۔ ل یکن اگر پانی کے ضرر کو کس ی طریقے سے دور کر سکت ا ہ و مثلاً یہ کہ پان ی کو گرم کرنے س ے ضرور دور ہ و سکتا ہ و تو پان ی گرم کرکے وضو کر ے اور اگر غسل کرنا ضرور ی ہ و تو غسل کر ے۔
678 ۔ ضرور ی نہیں کہ کس ی شخص کو یقین ہ و ک ہ پان ی اس کے لئ ے مضر ہے بلک ہ اگر ضرر کا احتمال ہ و اور یہ احتمال عام لوگوں کی نظروں میں معقول ہ و اور اس احتمال س ے اس ے خوف لاحق ہ و جائ ے تو ت یمم کرنا ضروری ہے۔
679 ۔ اگر کوئ ی شخص درد چشم میں مبتلا ہ و اور پان ی اس کے لئ ے مضر ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ت یمم کرے۔
680 ۔ اگر کوئ ی شخص ضرر کے یقین یا خوف کی وجہ س ے ت یمم کرے اور اس ے نماز س ے پ ہ ل ے اس بات کا پت ہ چل جائ ے ک ہ پان ی اس کے لئ ے نقصان د ہ ن ہیں تو اس کا تیمم باطل ہے اور اگر اس بات کا پت ہ نماز ک ے بعد چل ے تو وضو یاغسل کرکے دوبار ہ نماز پ ڑھ نا ضرور ی ہے۔
681 ۔ اگر کس ی شخص کو یقین ہ و ک ہ پ انی اس کے لئ ے مضر ن ہیں ہے اور غسل یا وضو کرلے ، بعد م یں اسے پت ہ چل ے ک ہ پان ی اس کے لئ ے مضر ت ھ ا تو اس کا وضو اور غسل دونوں باطل ہیں۔
682 ۔ اگر کس ی شخص کو یہ خوف ہ و ک ہ پان ی سے وضو یا غسل کرلینے کے بعد و ہ پ یاس کی وجہ س ے ب ے تاب ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ ت یمم کرے اور اس وج ہ س ے ت یمم کے جائز ہ ون ے ک ی تین صورتیں ہیں :
1 ۔ اگر پان ی وضو یا غسل کرنے م یں صرف کر دے تو و ہ خود فور ی طور پر یا بعد میں ایسی پیاس لگے گ ی جو اس کی ہ لاکت یا علالت کا موجب ہ وگ ی یا جس کا برداشت کرنا اس کے لئ ے سخت تکل یف کا باعث ہ وگا ۔
2 ۔ ا سے خوف ہ و ک ہ جن لوگوں ک ی حفاظت کرنا اس پر واجب ہے و ہ ک ہیں پیاس سے ہ لاک یا بیمار نہ ہ وجائ یں۔
3 ۔ اپن ے علاو ہ کس ی دوسرے ک ی خاطر خواہ اور انسان ہ و یا حیوان، ڈ رتا ہ و اور اس ک ی ہ لاکت یا بیماری یا بیتابی اسے گراں گزرت ی ہ و خوا ہ محترم نفوس م یں سے ہ و یا غیر محترم نفوس میں سے ہ و ان ت ین صورتوں کے علاو ہ کس ی صورت میں پانی ہ وت ے ہ وئ ے ت یمم کرنا جائز نہیں ہے۔
683 ۔ اگر کس ی شخص کے پاس اس پاک پان ی کے علاو ہ جو وضو یا غسل کے لئ ے ہ و اتنا نجس پان ی بھی ہ و جتنا اس ے پ ینے کے لئ ے در کار ہے تو ضرور ی ہے ک ہ پاک پان ی پینے کے لئ ے رک ھ ل ے اور ت یمم کرکے نماز پ ڑھے ل یکن اگر پانی اس کے سات ھیوں کے پ ینے کے لئ ے در کار ہ و تو ک ہ و ہ پاک پا نی سے وضو یا غسل کر سکتا ہے خوا ہ اس ک ے سات ھی پیاس بجھ ان ے ک ے لئ ے نجس پان ی پینے پر ہی مجبور کیوں نہ ہ وں بلک ہ اگر و ہ لوگ اس پان ی کے نجس ہ ون ے ک ے بار ے م یں نہ جانت ے ہ وں یا یہ کہ نجاست س ے پر ہیز نہ کرت ے ہ وں تو لازم ہے ک ہ پاک پان ی کو وضو یا غسل کے لئ ے صرف کر ے اور ا سی طرح پانی اپنے کس ی جانور یا نابالغ بچے کو پلانا چا ہے تب ب ھی ضروری ہے ک ہ ان ہیں وہ نجس پان ی پلائے اور پاک پان ی سے وضو یا غسل کرے۔
684 ۔ اگر کس ی شخص کا بدن یا لباس نجس ہ و اور اس ک ے پاس اتن ی مقدار میں پانی ہ و ک ہ ااس س ے وضو یا غسل کر لے تو بدن یا لباس دھ ون ے ک ے لئ ے پان ی نہ بچتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ بدن یا لباس دھ وئ ے اور ت یمم کر کے نماز پ ڑھے ل یکن اگر اس کے پاس ا یسی کوئی چیز نہ ہ و جس پر ت یمم کرے تو ضروری ہے ک ہ پان ی وضو یا غسل کے لئ ے استعمال کر ے اور نجس بدن یا لباس کے سات ھ نماز پ ڑھے۔
685 ۔ اگر کس ی شخص کے پاس سوائ ے ا یسے پانی یا برتن کے جس کا استعمال کرنا حرام ہے کوئ ی اور پانی یا برتن نہ ہ و مثلاً جو پان ی یا برتن اس کے پاس ہ و و ہ غصبی ہ و اور اس ک ے علاو ہ اس ک ے پاس کوئ ی پانی یا برتن نہ ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ وضو اور غسل ک ے بجائ ے ت یمم کرے۔
686 ۔ جب وقت اتنا تنگ ہ و ک ہ اگر ا یک شخص وضو یا غسل کرے تو سار ی نماز یا اس کا کچھ حص ہ وقت ک ے بعد پ ڑھ ا جاسک ے تو ضرور ی ہے ک ہ ت یمم کرے۔
687 ۔ اگر کوئ ی شخص جان بوجھ کر نماز پ ڑھ ن ے م یں اتنی تاخیر کرے ک ہ وضو یا غسل کا وقت باقی نہ ر ہے تو گو و ہ گنا ہ کا مرتکب ہ و گا ل یکن تیمم کے سات ھ اس ک ی نماز صحیح ہے۔ اگرچ ہ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اس نماز ک ی قضا بھی کرے۔
688 ۔ اگر کس ی کو شک ہ و ک ہ و ہ وضو یا غسل کرے تو نماز کا وقت باق ی رہے گا یا نہیں تو ضروری ہے ک ہ ت یمم کرے۔
689 ۔ اگر کس ی شخص نے وقت ک ی تنگی کی وجہ س ے ت یمم کیا ہ و اور نماز ک ے بعد وضو کر سکن ے ک ے باوجود ن ہ ک یا ہ و حت ی کہ جو پان ی اس کے پاس ت ھ ا و ہ ضائع ہ وگ یا ہ و تو اس صورت م یں کہ اس کا فر یضہ تیمم ہ و ض روری ہے ک ہ آئند ہ نمازوں ک ے لئ ے دوبار ہ ت یمم کرے خوا ہ و ہ ت یمم جو اس نے ک یا تھ ا ن ہ ٹ و ٹ ا ہ و ۔
690 ۔ اگر کس ی شخص کے پاس پان ی ہ و ل یکن وقت کی تنگی کے باعث ت یمم کرکے نماز پ ڑھ ن ے لگ ے اور نماز ک ے دوران جو پان ی اس کے پاس ت ھ ا و ہ ضائع ہ و جائ ے اور اگر اس کا فر یضہ تیمم ہ و تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ بعد ک ی نمازوں کے لئ ے دوبار ہ ت یمم کرے۔
691 ۔ اگر کس ی شخص کے پاس اتنا وقت ہ و ک ہ وضو یا غسل کرسکے اور نماز کو اس ک ے مستحب افعال مثلاً قامت اور قنوت ک ے بغ یر پڑھ ل ے تو ضرور ی ہے ک ہ غسل یا وضو کرلے اور اس ک ے مستحب افعال ک ے بغ یر نماز پڑھے بلک ہ اگر سور ہ پ ڑھ ن ے جتنا وقت ب ھی یہ بچتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ غسل یا وضو کرے اور بغ یر سورہ ک ے نماز پ ڑھے۔
692 ۔ م ٹی، ریت، ڈھیلے اور روڑی یا پتھ ر پر ت یمم کرنا صحیح ہے ل یکن احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ اگر م ٹی میسر ہ و تو کس ی دوسری چیز پر تیمم نہ ک یا جائے۔ اور اگر مت ی نہ ہ و تو ر یت یا ڈھیلے پر اور اگر ریت اور ڈھیلا بھی نہ ہ وں تو پ ھ ر رو ڑی یا پتھ ر پر ت یمم کیا جائے۔
693 ۔ جپسم اور چون ے ک ے پت ھ ر پر ت یمم کرنا صحیح ہے ن یز اس گردوغبار پر جو قالین، کپڑے اور ان ج یسی دوسری چیزوں پر جمع ہ وجاتا ہے اگر عرف عام میں اسے نرم م ٹی شمار کیا جاتا ہ و تو اس پر ت یمم صحیح ہے۔ اگرچ ہ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اخت یار کی حالت میں اس پر تیمم نہ کر ے۔ اس ی طرح احتیاط مستحب کی بنا پر اختیار کی حالت میں پکے جپسم اور چون ے پر اور پک ی ہ وئ ی اینٹ اور دوسرے معدن ی پتھ ر مثلاً عق یق وغیرہ پر تیمم نہ کر ے۔
694 ۔ اگر کس ی شخص کو مٹی، ریت، ڈھیلے یا پتھ ر ن ہ مل سک یں تو ضروری ہے ک ہ تر م ٹی پر تیمم کرے اور اگر تر م ٹی نہ مل ے تو ضرور ی ہے ک ہ قال ین، دری یا لباس اور ان جیسی دوسری چیزوں کے اندر یا اوپر موجود اس مختصر سے گردوغبار س ے جو عرف م یں مٹی شمار نہ ہ وتا ہ و ت یمم کرے ا ور اگر ان میں سے کوئ ی چیز بھی دستیاب نہ ہ و تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ ت یمم کے بغ یر نماز پڑھے ل یکن واجب ہے ک ہ بعد م یں اس نماز کی قضا پڑھے۔
695 ۔ اگر کوئ ی شخص قالین، دری اور ان جیسی دوسری چیزوں کو جھ ا ڑ کر م ٹی مہیا کر سکتا ہے تو اس کا گرد آلود چیز پر تیمم کرنا باطل ہے اور اس ی طرح اگر تر مٹی کو خشک کرے ک ے اس س ے سوک ھی مٹی حاصل کر سکتا ہے تو تر م ٹی پر تیمم کرنا باطل ہے ۔
696 ۔ جس شخص ک ے پاس پان ی نہ ہ و ل یکن برف ہ و اور اس ے پگ ھ لا سکتا ہ و تو اس ے پگ ھ لا کر پان ی بنانا اور اس سے وضو یا غسل کرنا ضروری ہے اور اگر ا یسا کرنا ممکن نہ ہ و اور اس ک ے پاس کوئ ی ایسی چیز بھی نہ ہ و ۔ جس پر ت یمم کرنا صحیح ہ و تو اس ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ دوسر ے وقت م یں نماز کو قضا کرے اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ برف س ے وضو یا غسل کے اعضا کو ترکر ے اور اگر ا یسا کرنا بھی ممکن نہ ہ و تو برف پر ت یمم کرلے اور وقت پر ب ھی نماز پڑھے۔
697 ۔ اگر م ٹی اور ریت کے سات ھ سوک ھی گھ اس ک ی طرح کی کوئی چیز (مثلاً بیج، پھ ل یاں) ملی ہ وئ ی ہ و جس پر ت یمم کرنا باطل ہ و تو متعلق ہ شخص اس پر ت یمم نہیں کر سکتا۔ ل یکن اگر وہ چ یز اتنی کم ہ و ک ہ اس ے م ٹی یا ریت میں نہ ہ ون ے ک ے برابر سمج ھا جاسکے تو اس م ٹی اور ریت پر تیمم صحیح ہے۔
698 ۔ اگر ا یک شخص کے پاس کوئ ی ایسی چیز نہ ہ و جس پر ت یمم کیا جاسکے اور اس کا خر یدنا یا کسی اور طرح حاصل کرنا ممکن ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس طرح م ہیا کرلے۔
699 ۔ م ٹی کی دیوار پر تیمم کرنا صحیح ہے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ خشک زم ین یا خشک مٹی کے ہ وت ے ہ وئ ے تر زم ین یا تر مٹی پر تیمم نہ ک یا جائے۔
700 ۔ جس چ یز پر انسان تیمم کرے اس کا پاک ہ ونا ضرور ی ہے اور اگر اس ک ے پاس کوئ ی ایسی پاک چیز نہ ہ و جس پر ت یمم کرنا صحیح ہ و تو اس پر نماز واجب ن ہیں لیکن ضروری ہے ک ہ اس ک ی قضا بجالائے اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ وقت م یں بھی نماز پڑھے۔
701 ۔ اگر کس ی شخص کو یقین ہ و ک ہ ا یک چیز پر تیمم کرنا صحیح ہے اور اس پر ت یمم کر لے بعد ازاں اس ے پت ہ چل ے ک ہ اس چ یز پر تیمم کرنا باطل تھ ا تو ضرور ی ہے ک ہ جو نماز یں اس تیمم کے سات ھ پ ڑھی ہیں وہ دوبار ہ پ ڑھے۔
702 ۔ جس چ یز پر کوئی شخص تیمم کرے ضرور ی ہے ک ہ و ہ عصب ی نہ ہ و پس اگر و ہ عضب ی مٹی پر تیمم کرے تو اس کا ت یمم باطل ہے۔
703 ۔ غصب ک ی ہ وئ ی فضا میں تیمم کرنا باطل نہیں ہے۔ ل ہ ذا اگر کوئ ی شخص اپنی زمین میں اپنے ہ ات ھ م ٹی پر مارے اور پ ھ ر بلا اجازت دوسر ے ک ی زمین میں داخل ہ وجائ ے اور ہ ات ھ وں کو پ یشانی پر پھیرے تو اس کا تیمم صحیح ہ وگا اگرچ ہ و ہ گنا ہ کا مرتکب ہ وا ہے۔
704 ۔ اگر کوئ ی شخص بھ ول ے س ے کر یا غفلت سے غصب ی چیز تیمم صحیح ہے ل یکن اگر وہ خود کوئ ی چیز غصب کرے اور پ ھ ر ب ھ ول جائ ے ک ہ غصب ک ی ہے تو اس چ یز پر تیمم کے صح یح ہ ون ے م یں اشکال ہے۔
705 ۔ اگر کوئ ی شخص غصبی جگہ م یں محبوس ہ و اور اس جگ ہ کا پان ی اور مٹی دونوں غصبی ہ وں تو ضرور ی ہے ک ہ ت یمم کرکے نماز پ ڑھے۔
706 ۔ جس چ یز پر تیمم کیا جائے احت یاط لازم کی بنا پر ضروری ہے ک ہ اس پر گردوغبار موجود ہ و جو ک ہ ہ ات ھ وں پرلگ جائ ے اور اس پر ہ ات ھ مارن ے ک ے بعد ضرور ی ہے ک ہ اتن ے زور س ے ہ ات ھ وں کو ن ہ ج ھ ا ڑے ک ہ سار ی گرد گر جائے۔
707 ۔ گ ڑھے وال ی زمین، راستے ک ی مٹی اور ایسی شور زمین پر جس پر نمک کی تہہ ن ہ جم ی ہ و ت یمم کرنا مکروہ ہے اور اگر ا س پر نمک کی تہہ جم گئ ی ہ و تو ت یمم باطل ہے۔
708 ۔ وضو یا غسل کے بدل ے کئ ے جان ے وال ے ت یمم میں چار چیزیں واجب ہیں:
1 ۔ ن یت ۔
2 ۔ دونوں ہ ت ھیلیوں کو ایک ساتھ ا یسی چیز پر مارنا یا رکھ نا جس پر ت یمم کرنا صحیح ہ و ۔ اور احت یاط لازم کی بنا پر دونوں ہ ات ھ ا یک ساتھ زم ین پر مارنے یا رکھ ن ے چا ہ ئ یں۔
3 ۔ پور ی پیشانی پر دونوں ہ ت ھیلیوں کو پھیرنا اور اسی طرح احتیاط لازم کی بنا پر اس مقام سے ج ہ اں سر ک ے بال اگت ے ہیں بھ نووں اور ناک ک ے اوپر تک پ یشانی کے دونوں طرف دونوں ہ ت ھیلیوں کو پھیرنا، اور احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ ہ ات ھ ب ھ نووں پر ب ھی پھیرے جائیں۔
4 ۔ بائ یں ہ ت ھیلی کو دائیں ہ ات ھ ک ی تمام پشت پر اور اس کے بعد دائ یں ہ ت ھیلی کو بائیں ہ ات ھ ک ی تمام پشت پر پھیرنا۔
709 ۔ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ ت یمم خواہ وضو ک ے بدل ے ہ و یا غسل کے بدل ے اس ے ترت یب سے ک یا جائے یعنی یہ کہ ا یک دفعہ ہ ات ھ زم ین پر مارے جائ یں اور پیشانی اور ہ ات ھ وں ک ی پشت پر پھیرے جائیں اور پھ ر ا یک دفعہ زم ین پر مارے جائ یں اور ہ ات ھ وں ک ی پشت کا مسح کیا جائے۔
710 ۔ اگر ا یک شخص پیشانی یا ہ ات ھ وں ک ی پشت کے ذرا س ے حص ے کا ب ھی مسح نہ کر ے تو اس کا ت یمم باطل ہے قطع نظر اس س ے ک ہ اس ن ے عمداً مسح ن ہ ک یا ہ و یا مسئلہ ب ھ ول گ یا ہ و ل یکن بال کی کھ ال نکالن ے ک ی ضرورت بھی نہیں۔ اگر یہ کہ ا جاسک ے ک ہ تمام پ یشانی اور ہ ات ھ وں کا مسح ہ و گ یاہے تو اتنا ہی کافی ہے۔
711 ۔ اگر کس ی شخص کو یقین نہ ہ و ک ہ ہ ات ھ ک ہ تمام پشت پر مسح کر لیا ہے تو یقین حاصل کرنے ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ کلائ ی سے کچ ھ اورپر وال ے حص ے کا ب ھی مسح کرے ل یکن انگلیوں کے درم یان مسح کرنا ضروری نہیں ہے۔
712 ۔ ت یمم کرنے وال ے کو پ یشانی اور ہ ات ھ وں کو پشت کا مسح احت یاط کی بنا پر اوپر سے ن یچے کی جانب کرنا ضروری ہے اور یہ افعال ایک دوسرے س ے متصل ہ ون ے چا ہیئں اور اگر ان افعال کے درم یان اتنا فاصلہ د ے ک ہ لوگ یہ نہ ک ہیں کہ ت یمم کر رہ ا ہے تو ت یمم باطل ہے۔
713 ۔ ن یت کرنے وقت لازم ن ہیں کہ اس بات کا تع ین کرے ک ہ اس کا ت یمم غسل کے بدل ے ہے یا وضو کے بدل ے ل یکن جہ اں دو ت یمم انجام دینا ضروری ہ وں ت ولازم ہے ک ہ ان م یں سے ہ را یک کو معین کرے اور اگر اس پر ا یک تیمم واجب ہ و اور ن یت کرے ک ہ م یں اس وقت اپنا وظیفہ انجام دے ر ہ ا ہوں تو اگرچہ و ہ مع ین کرنے م یں غلطی کرے (ک ہ یہ تیمم غسل کے بدل ے ہے یا وضو کے بدل ے ) اس کا ت یمم صحیح ہے۔
714 ۔ احت یاط مستحب کہ بنا پر ت یمم میں پیشانی، ہ ات ھ وں ک ی ہ ت ھیلیاں اور ہ ات ھ وں ک ی پشت جہ اں تک ممکن ہ و ضرور ی ہے ک ہ پاک ہ وں ۔
715 ۔ انسان کو چا ہ ئ ے ک ہ ہ ات ھ پر مسح کرت ے وقت انگو ٹھی اتار دے اور اگر پ یشانی یا ہ ات ھ وں ک ی پشت یا ہ ت ھیلیوں پر کوئی رکاوٹ ہ و مثلا ان پر کوئ ی چیز چپکی ہ وئ ی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اسے ہٹ ا د ے۔
716 ۔ اگر کس ی شخص کی پیشانی یا ہ ات ھ وں ک ی پشت پر زخم ہ و اور اس پر کپ ڑ ا یا پٹی وغیرہ بندھی ہ و جس کو ک ھ ولا ن ہ جاسکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس ک ے اوپر ہ ات ھ پ ھیرے۔ اور اگر ہ ت ھیلی زخمی ہ و اور اس پر کپ ڑ ا یا پٹی وغیرہ بندھی ہ و جس ے ک ھ ولان ہ جاسکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ کپ ڑےیا پٹی وغیرہ سمیت ہ ات ھ اس چ یز مارے جس پر ت یمم کرنا صحیح ہ و اور پ ھ ر پ یشانی اور ہ ات ھ وں ک ی پشت پر پھیرے۔
717 ۔ اگر کس ی شخص کی پیشانی اور ہ ات ھ وں ک ی پشت پر بال ہ وں تو کوئ ی حرج نہیں لیکن اگر سر کے بال پ یشانی پر آگرے ہ وں تو ضرور ی ہے ک ہ ان ہیں پیچھے ہٹ ا دے۔
718 ۔ اگر احتمال ہ و ک ہ پ یشانی اور ہ ت ھیلیوں یا ہ ات ھ وں ک ی پشت پر کوئی رکاوٹ ہے اور یہ احتمال لوگوں کی نظروں میں معقول ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ چ ھ ان ب ین کرے تاک ہ اس ے یقین یا اطمینان ہ و جائ ے ک ہ رکاو ٹ موجود ن ہیں ہے۔
719 ۔ اگر کس ی شخص کا وظیفہ تیمم ہ و اور خود ت یمم نہ کرسکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ کس ی دوسرے شخص س ے مدد ل ے تاک ہ و ہ مددگار متعلق ہ شخص ک ے ہ ات ھ وں کو اس چ یز پر مارے جس پر ت یمم کرنا صحیح ہ و اور پ ھ ر معتلق ہ شخص ک ے ہ ات ھ وں کو اس ک ی پیشانی اور دونوں ہ ات ھ وں ک ی پشت پر رکھ د ے تاکہ امکان کی صورت میں وہ خود اپن ی دونوں ہ ت ھیلیوں کو پیشانی اور دونوں ہ ات ھ وں ک ی پشت پر پھیرے اور اگر یہ ممکن نہ ہ و تو نائب ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ متعلق ہ شخص کو خود اس ک ے ہ ات ھ وں س ے ت یمم کرائے اور اگر ا یسا کرنا ممکن نہ تو تو نائب ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ اپن ے ہ ات ھ وں ک و اس چیز پر مارے جس پر ت یمم کرنا صحیح ہ و اور پ ھ ر متعلق ہ شخص ک ی پیشانی اور ہ ات ھ وں ک ی پشت پر پھیرے۔ ان دونوں صورتوں م یں احتیاط لازم کی بنا پر دونوں شخص تیمم کی نیت کریں لیکن پہ ل ی صورت میں خود مکلف کی نیت کافی ہے۔
720 ۔ اگر کوئ ی شخص تیمم کے دوران شک کر ے ک ہ و ہ اس کا کوئ ی حصہ ب ھ ول گ یا ہے یا نہیں اور اس حصے کا موقع گزر گ یا ہ و تو و ہ اپن ے شک کا لحاظ ن ہ کر ے اور اگر موقع ن ہ گزرا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس حص ے کا ت یمم کرے۔
721 ۔ اگر کس ی شخص کو بائیں ہ ات ھ کا مسح کرن ے ک ے بعد شک ہ و ک ہ آ یا اس نے ت یمم درست کیا ہے یا نہیں تو اس کا تیم صحیح ہے اور اگر اس کا شک بائ یں ہ ات ھ ک ے مسح ک ے بار ے م یں ہ و تو اس ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ اس کا مسح کر ے سوائ ے اس ک ے ک ہ لوگ یہ کہیں کہ ت یمم سے فارغ ہ وچکا ہے مثلاً اس شخص ن ے کوئ ی ایسا کام کیا ہ و جس ک ے لئ ے ط ہ ارت شرط ہے یا تسلسل ختم ہ و گ یا ہ و ۔
722 ۔ جس شخص کا وظ یفہ تیمم ہ و اگر و ہ نماز ک ے پور ے وقت میں عذر کے ختم ہ ون ے س ے ما یوس ہ و جائ ے تو ت یمم کر سکتا ہے اور اگر اس ن ے کس ی دوسرے واجب یا مستحب کام کے لئ ے ت یمم کیا ہ و اور نماز ک ے وقت تک اس کا عذر باق ی ہ و(جس ک ی وجہ س ے اس کا وظ یفہ تیمم ہے ) تو اس ی تیمم کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے۔
723 ۔ جس شخص کا وظ یفہ تیمم ہ و ا گر اسے علم ہ و ک ہ آخر وقت تک اس کا عذر باق ی رہے گا یا وہ عذر ک ے ختم ہ ون ے س ے ما یوس ہ و تو وقت ک ے وس یع ہ وت ے ہ وئ ے و ہ ت یمم کے سات ھ نماز پ ڑھ سکتا ہے۔ ل یکن اگر وہ جانتا ہ و ک ہ آخر وقت تک اس کا عذر دور ہ و جائ ے گا تو ضرور ی ہے ک ہ انتظار کر ے اور وضو یا غسل کرکے نماز پ ڑھے۔ بلک ہ اگر و ہ آخر وقت تک عذر ک ے ختم ہ ون ے س ے ما یوس نہ ہ و تو ما یوس ہ ون ے س ے پ ہ ل ے ت یمم کر کے نماز ن ہیں پڑھ سکتا ۔
724 ۔ اگر کوئ ی شخص وضو یا غسل نہ کر سکتا ہ و اور اس ے یقین ہ و ک ہ اس کا عذر دور ہ ون ے والا ن ہیں ہے یا دور ہ ون ے س ے ما یوس ہ و تو و ہ اپن ی قضا نمازیں تیمم کے سات ھ پ ڑھ سکتا ہے ل یکن اگر بعد میں عذر ختم ہ و جائ ے تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ و ہ نماز یں وضو یا غسل کرکے دوبار ہ پڑھے اور اگر اسے عذر دور ہ ون ے س ے ما یوسی نہ ہ و تو احت یاط لازم کی بنا پر قضا نمازوں کے لئ ے ت یمم نہیں کرسکتا۔
725 ۔ جو شخص وضو یا غسل نہ کر سکتا ہ و اس ک ے لئ ے جائز ہے ک ہ مستحب نماز یں دن رات کے ان نوافل ک ی طرح جن کا وقت معین ہے ت یمم کرکے پ ڑھے ل یکن اگر مایوس نہ ہ و ک ہ آخر وقت تک اس کا عذر دور ہ و جائ ے گا تو احت یاط لازم یہ ہے ک ہ و ہ نماز یں ان کے اول وقت م یں نہ پ ڑھے۔
726 ۔ جس شخص ن ے احت یاطاً گسل جبیرہ اور تیمم کیا ہ و اگر و ہ غسل اور ت یمم کے بعد نماز پ ڑھے اور نماز ک ے بعد اس س ے حدث اصغر صادر ہ و مثلاً اگر و ہ پ یشاب کرے تو بعد ک ی نمازوں کے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ وضو کر ے اور اگر حدث نماز س ے پ ہ ل ے صادر ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس نماز ک ے لئ ے بھی وضو کرے۔
727 ۔ اگر کوئی شخص پانی نہ ملن ے ک ی وجہ س ے یا کسی اور عذر کی بنا پر تیمم کرے تو عذر ک ے ختم ہ و جان ے ک ے بعد اس کا ت یمم باطل ہ و جاتا ہے۔
728 ۔ جو چ یزیں وضو کو باطل کرتی ہیں وہ وضو ک ے بدل ے کئ ے ہ وئ ے ت یمم کو بھی باطل کرتی ہیں اور جو چیزیں غسل کو باطل کرتی ہیں وہ غسل ک ے بدل ے کئ ے ہ وئ ے ت یمم کو بھی باطل کرتی ہیں۔
729 ۔ اگر کوئ ی شخص غسل نہ کر سکتا ہ و اور چند غسل اس پر واجب ہ وں تو اس ک ے لئ ے جائز ہے ک ہ ان غسلوں ک ے بدل ے ا یک تیمم کرے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ ان غسلوں م یں سے ہ ر ا یک کے بدل ے ا یک تیمم کرے۔
730 ۔ جو شخص غسل نہ کر سکتا ہ و اگر و ہ کوئ ی ایسا کام انجام دینا چاہے جس ک ے لئ ے غسل واجب ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ غسل ک ے بدل ے ت یمم کرے اور جو شخص وضو ن ہ کر سکتا ہ و اگر و ہ کوئ ی ایسا کام انجام دینا چاہے جس ک ے لئ ے وضو واجب ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ وضو ک ے بدل ے ت یمم کرے۔
731 ۔ اگر کوئ ی شخص غسل جنابت کے بدل ے ت یمم کرے تو نماز ک ے لئ ے وضو کرنا ضرور ی نہیں ہے ل یکن اگر دوسرے غسلوں ک ے بدل ے ت یمم کرے تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ وضو ب ھی کرے اور اگر و ہ وضو ن ہ کرسک ے تو وضو ک ے بدل ے ا یک اور تیمم کرے۔
732 ۔ اگر کوئ ی شخص غسل جنابت کے بدل ے ت یمم کرے ل یکن بعد میں اسے کس ی ایسی صورت سے دو چار ہ ونا پ ڑے جو وضو کو باطل کر د یتی ہ و اور بعد ک ی نمازوں کے لئ ے غسل ب ھی نہ کر سکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ وضو کر ے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ ت یمم بھی کرے۔ اور اگر وضو ن ہ کر سکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس ک ے بدل ے ت یمم کرے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اس ت یمم کو مافی الذمہ ک ی نیت سے بجا لائ ے ( یعنی جو کچھ م یرے ذمے ہے اس ے انجام د ے ر ہ ا ہ وں) ۔
733 ۔ کس ی شخص کو کوئی کام انجام دینے مثلاً نماز پڑھ ن ے ک ے لئ ے وضو یا غسل کے بدل ے ت یمم کرنا ضروری ہ و تو اگر و ہ پ ہ ل ے ت یمم میں وضو کے بدل ے ت یمم یا غسل کے بدل ے ت یمم کی نیت کرے اور دوسرا ت یمم اپنے وظ یفے کو انجام دینے کی نیت سے کر ے تو یہ کافی ہے۔
734 ۔ جس شخص کا فر یضہ تیمم ہ و اگر و ہ کس ی کام کے لئ ے ت یمم کرے تو جب تک اس کا ت یمم اور عذر باقی ہے و ہ ان کاموں کو کر سکتا ہے جو وضو یا غسل کرکے کرن ے چا ہ ئ یں لیکن اگر اس کا عذر وقت کی تنگی ہ و یا اس نے پان ی ہ وت ے ہ وئ ے نماز م یت یا سونے ک ے لئ ے ت یمم کیا ہ و تو و ہ فقط ان کاموں کو انجام د ے سکتا ہے جن ک ے لئ ے اس ن ے ت یمم کیا ہ و ۔
735 ۔ چند صورتوں م یں بہ تر ہے ک ہ جو نماز یں انسان نے ت یمم کے سات ھ پ ڑھی ہ وں ان ک ی قضا کرے :
(اول) پانی کے استعمال س ے ڈ رتا ہ و اور اس ن ے جان بوج ھ کر اپن ے آپ کو جنب کر ل یا ہ و اور ت یمم کر کے نماز پ ڑھی ہ و ۔
(دوم) یہ جانتے ہ وئ ے یا گمان کرتے ہ وئ ے ک ہ اس پان ی نہ مل سک ے گا عمداً اپن ے آپ کو جنب کر ل یا ہ و اور ت یمم کرکے نماز پ ڑھی ہ و ۔
(سوم) آخر وقت تک پانی کی تلاش میں نہ جائ ے اور ت یمم کرکے نماز پ ڑھے اور بعد م یں اسے پت ہ چل ے ک ہ اگر تلاش کرتا تو اس ے پان ی مل جاتا۔
(چہ ارم) جان بوج ھ کر نماز پ ڑھ ن ے م یں تاخیر کی ہ و اور آخر وقت م یں تیمم کرکے نماز پ ڑھی ہ و ۔
(پنجم) یہ جانتے ہ وئ ے یا گمان کرتے ہ وئ ے ک ہ پان ی نہیں ملے گا جو پان ی اس کے پاس تھ ا اس ے گرا د یا ہ و اور ت یمم کرکے نماز پ ڑھی ہ و ۔
احکام نماز
نماز دینی اعمال میں سے ب ہ تر ین عمل ہے۔ اگر یہ درگارہ ال ہی میں قبول ہ وگئ ی تو دوسری عبادات بھی قبول ہ و جائ یں گی اور اگر یہ قبول نہ ہ وئ ی تو دوسرے اعمال ب ھی قبول نہ ہ وں گ ے۔ جس طرح انسان اگر دن رات م یں پانچ دفعہ ن ہ ر م یں نہ ائ ے د ھ وئ ے تو اس ک ے بدن پر م یل کچیل نہیں رہ ت ی اسی طرح پنج وقتہ نماز ب ھی انسان کو گناہ وں س ے پاک کر د یتی ہے اور ب ہ تر ہے ک ہ انسان نماز اول وقت م یں پڑھے۔ جو شخص نماز کو معمول ی اور غیر اہ م سمج ھے و ہ اس شخص کو مانند ہے جو نماز ن ہ پ ڑھ تا ہ و ۔ رسول اکرم (صل ی اللہ عل یہ وآلہ ) ن ے فرما یا ہے ک ہ "جو شخص نماز کو اہ م یت نہ د ے اور اس ے معمول ی چیز سمجھے و ہ عذاب آخرت کا مستحق ہے " ا یک دن رسول اکرم (صلی اللہ عل یہ وآلہ ) مسجد م یں تشریف فرماتھے ک ہ ا یک شخص مسجد میں داخل ہ وا اور نماز پ ڑھ ن ے م یں مشغول ہ و گ یا لیکن رکوع اور سجود مکمل طور پر بجانہ لا یا۔ اس پر حضور (صل ی اللہ عل یہ وآلہ) نے فرما یا کہ اگر یہ شخص اس حالت میں مرجائے جبک ہ اس ک ے نماز پ ڑھ ن ے کا یہ طریقہ ہے تو یہ ہ مار ے د ین پرنہیں مرے گا ۔ پس انسان کو خ یال رکھ نا چا ہ ئ ے ک ہ نماز جلد ی جلدی نہ پ ڑھے اور نماز ک ی حالت میں خدا کی یاد میں رہے اور خشوع و خضوع اور سنج یدگی سے نماز پ ڑھے او ر یہ خیال رکھے ک ہ کس ہ ست ی سے کلام کر ر ہ ا ہے اور اپن ے آپ کو خداوند عالم ک ی عظمت اور بزرگی کے مقابل ے م یں حقیر اور ناچیز سمجھے۔ اگر انسان نماز ک ے دوران پور ی طرح ان باتوں کی طرف متوجہ ر ہے تو و ہ اپن ے آپ س ے ب ے خبر ہ وجاتا ہے ج یسا کہ نماز ک ی حالت میں امیرالمومنین امام علی ؑ ک ے پاوں س ے ت یر کھینچ لیا گیا اور آپ ؑ کو خبر تک ن ہ ہ وئ ی۔ علاو ہ از یں نماز پڑھے وال ے کو چا ہ ئ ے ک ہ توب ہ و اس تغفار کرے اور ن ہ صرف ان گنا ہ وں کو جو نماز قبول ہ ون ے م یں مانع ہ وت ے ہیں۔ مثلاً حسد، تکبر، غ یبت، حرام کھ انا، شراب پ ینا، اور خمس و زکوۃ کا ادا نہ کرنا ۔ ترک کر ے بلک ہ تمام گنا ہ ترک کرد ے اور اس ی طرح بہ تر ہے ک ہ جو کام نماز کا ثواب گ ھٹ ات ے ہیں وہ ن ہ کر ے مثلاً اونگ ھ ن ے ک ی حالت میں یا پیشاب روک کر نماز کے لئ ے ن ہ ک ھڑ ا ہ و اور نماز ک ے موقع پر آسمان ک ی جانب نہ د یکھے اور وہ کام کر ے جو نماز کا ثواب ب ڑھ ات ے ہیں مثلاً عقیق کی انگوٹھی اور پاکیزہ لباس پہ ن ے ، کنگ ھی اور مسواک کرے ن یز خوشبو لگائے۔
چھ نمازیں واجب ہیں :
1 ۔ روزان ہ ک ی نمازیں
2 ۔ نماز آ یات
3 ۔ نماز م یت
4 ۔ خان ہ کعب ہ ک ے واجب طواف ک ی نماز
5 ۔ باپ ک ی قضا نمازیں جو بڑے ب یٹے پر واجب ہیں۔
6 ۔ جو نماز یں اجارہ ، منت، قسم اور ع ہ د س ے واجب ہ و جات ی ہیں۔ اور نماز جمع ہ روزان ہ نمازوں م یں سے ہے۔
روانہ کی واجب نمازیں پانچ ہیں۔
ظہ ر اور عصر (ہ ر ا یک چار رکعت) مغرب (تین رکعت) عشا (چار رکعت) اور فجر (دو رکعت)
736 ۔ انسان سفر م یں ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ چار رکعت ی نمازیں ان شرائط کے سات ھ جو بعد م یں بیان ہ وں گ ی دو رکعت پڑھے۔
737 ۔ اگر لک ڑی یا کسی اور ایسی ہی سیدھی چیز کو ۔۔۔ جس ے شاخص ک ہ ت ے ہیں ۔۔۔ہ موار زم ین میں گاڑ ا جائ ے تو صبح ک ے وقت جب سورج طلوع ہ وتا ہے اس کا سا یہ مغرب کی طرف پڑ تا ہے اور جوں جوں سورج اونچا ہ وتا جاتا ہے اس کا سا یہ گھٹ تا جاتا ہے اور ہ مار ے ش ہ روں م یں اول ظہ ر شرع ی کے وقت کمی کے آخر ی درجے پر پ ہ نچ جاتا ہے اور ظ ہ ر گزرن ے ک ے بعد اس کا سا یہ مشرق کی طرف ہ و جاتا ہے اور جوں جوں سورج مغرب ک ی طرف ڈھ لتا ہے سا یہ بڑھ تا جاتا ہے۔ اس بنا پر جب سا یہ کمی کے آخر ی درجے تک پ ہ نچ ے اور دوبار ہ ب ڑھ ن ے لگ ے تو پت ہ چلتا ہے ک ہ ظ ہ ر شرع ی کا وقت ہ وگ یا ہے ل یکن بعض شہ روں مثلاً مکہ مکرم ہ م یں جہ اں بعض اوقات ظ ہ ر ک ے وقت سا یہ بالکل ختم ہ وجاتا ہے جب سا یہ دوبارہ ظا ہ ر ہ وتا ہے تو معلوم ہ و جاتا ہے ک ہ ظ ہ ر کا وقت ہ و گ یا ہے۔
738 ۔ ظ ہ ر اور عصر ک ی نماز کا وقت زوال آفتاب کے بعد س ے غروب آفتاب تک ہے ل یکن اگر کوئی شخص جان بوجھ کر عصر ک ی نماز کی ظہ ر ک ی نماز سے پ ہ ل ے پ ڑھے تو اس ک ی عصر کی نماز باطل ہے سوائ ے اس ک ے ک ہ آخر ی وقت تک ایک نماز سے ز یادہ پڑھ ن ے کا وقت باق ی نہ ہ و ک یوں کہ ا یسی صورت میں اگر اس نے ظ ہ ر ک ی نماز نہیں پڑھی تو اس کی ظہ ر ک ی نماز قضا ہ وگ ی اور اسے چا ہ ئ ے ک ہ عصر ک ی نماز پڑھے اور ا گر کوئی شخص اس وقت سے پ ہ ل ے غلط ف ہ م ی کی بنا پر عصر کی پوری نماز ظہ ر ک ی نماز سے پ ہ ل ے پ ڑھ ل ے تو اس ک ی نماز صحیح ہے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اس نماز کو نماز ظ ہ ر قرار د ے اور ماف ی الذمہ ک ی نیت سے چار رکعت اور پ ڑھے۔
739 ۔ اگر کوئ ی شخص طہ ر ک ی نماز پرھ ن ے س ے پ ہ ل ے غل طی سے عصر ک ی نماز پڑھ ن ے لگ جائ ے اور نماز ک ے دوران اس ے پت ہ چل ے ک ہ اس س ے غلط ی ہ وئ ی ہے تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ ن یت نماز ظہ ر ک ی جانب پھیر دے یعنی نیت کرے ک ہ جو کچ ھ م یں پڑھ چکا ہ وں اور پ ڑھ ر ہ ا ہ وں اور پ ڑھ وں گا و ہ تمام ک ی تمام نماز ظہ ر ہے اور جب نماز ختم کر ے تو اس ک ے بعد عصر ک ی نماز پڑھے۔
740 ۔ جمع ہ ک ی نماز صبح کی نماز کی طرح دو رکعت کی ہے۔ اس م یں اور صبح کی نماز میں فرق یہ ہے ک ہ اس نماز س ے پ ہ ل ے دو خطب ے ب ھی ہیں۔ جمع ہ ک ی نماز واجب تخییری ہے۔ اس س ے مراد یہ ہے ک ہ جمعہ ک ے دن مکلف کو اخت یار ہے ک ہ اگر نماز جمع ہ ک ی شرائط موجود ہ وں تو جمع ہ ک ی نماز پڑھے یا ظہ ر ک ی نماز پڑھے۔ ل ہ ذا اگر انسان جمع ہ ک ی نماز پڑھے تو و ہ ظ ہ ر ک ی نماز کی کفایت کرتی ہے ( یعنی پھ ر ظ ہ ر ک ی نماز پڑھ نا ضرور ی نہیں)۔
جمعہ کی نماز واجب ہ ون ے ک ی چند شرطیں ہیں :
(اول) وقت کا داخل ہ ونا جو ک ہ زوال آفتاب ہے۔ اور اس کا وقت اول زوال عرف ی ہے پس جب ب ھی اس سے تاخ یر ہ وجائ ے ، اس کا وقت ختم ہ و جاتا ہے اور پ ھ ر ظ ہ ر ک ی نماز ادا کرنی چاہ ئ ے۔
(دوم) نماز پڑھ ن ے والوں ک ی تعداد جو کہ بمع امام پانچ افراد ہے اور جب تک پانچ مسلمان اک ٹھے ن ہ ہ وں جمع ہ ک ی نماز واجب نہیں ہ وت ی۔
(سوم) امام کا جامع شرائط امامت ہ ونا مثلاً عدالت وغ یرہ جو کہ امام جماعت م یں معتبر ہیں اور نماز جماعت کی بحث میں بتایا جائے گا ۔ اگر یہ شرط پوری نہ ہ و تو جمع ہ ک ی نماز واجب نہیں ہ وت ی۔
جمعہ کی نماز کے صح یح ہ ون ے ک ی چند شرطیں ہیں :
(اول) باجماعت پڑھ ا جانا ۔ پس یہ نماز فرادی ادا کرنا صحیح نہیں اور جب مقتدی نماز کی دوسری رکعت کے رکوع س ے پ ہ ل ے امام ک ے سات ھ شامل ہ و جائ ے تو اس ک ی نماز صحیح ہے اور و ہ اس نماز پر ا یک رکعت کے رکوع س ے پ ہ ل ے امام ک ے سات ھ شامل ہ و جائ ے تو اس ک ی نماز صحیح ہے اور و ہ ا س نماز پر ایک رکعت کا اضافہ کر ے گا اور اگر و ہ رکوع م یں امام کو پالے ( یعنی نماز میں شامل ہ و جائ ے ) تو اس ک ی نماز کا صحیح ہ ونا مشکل ہے اور احت یاط ترک نہیں ہ وت ی (یعنی اسے ظ ہ ر ک ی نماز پڑھ ن ی چاہ ئ ے )
(دوم) نماز سے پ ہ ل ے دو خطب ے پ ڑھ نا ۔ پ ہ ل ے خطب ے م یں خظیب اللہ تعال ی کی حمد و ثنا بیان کرے ن یز نمازیوں کو تقوی اور پرہیز گاری کی تلقین کرے۔ پ ھ ر قرآن مج ید کا ایک چھ و ٹ ا سور ہ پ ڑھ کر (منبر پر لمح ہ دو لمح ہ ) ب یٹھ جائے اور پ ھ ر ک ھڑ ا ہ و اور دوبار ہ الل ہ تعال ی کی حمد و ثنا بجا لائے۔ پ ھ ر حضرت رسول اکرم (صل ی اللہ عل یہ وآلہ ) اور ائم ہ طا ہ ر ین علیہ م السلام پر درود بھیجے اور احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ مومن ین اور مومنات کے لئ ے استغفار (بخشش ک ی دعاء) کرے۔ ضرور ی ہے ک ہ خطب ے نماز س ے پ ہ ل ے پ ڑھے جائ یں۔ پس اگر نماز دو خطبوں س ے پ ہ ل ے شروع کر ل ی جائے تو صح یح نہیں ہ وگ ی اور زوال آفتاب سے پ ہلے خطب ے پ ڑھ ن ے م یں اشکال ہے اور ضرور ی ہے ک ہ جو شخص خطب ے پ ڑھے و ہ خطب ے پ ڑھ ن ے ک ے وقت ک ھڑ ا ہ و ۔ ل ہ ذا اگر و ہ ب یٹھ کر خطبے پ ڑھے گا تو صح یح نہیں ہ وگا اور دو خطبوں ک ے درم یان بیٹھ کر فاصلہ د ینا لازم اور واجب ہے۔ اور ضرور ی ہے ک ہ مختصر لمحوں ک ے لئ ے ب یٹھے۔ اور یہ بھی ضروری ہے ک ہ امام جماعت اور خط یب ۔۔۔ یعنی جو شخص خطبے پ ڑھے۔۔۔ ا یک ہی شخص ہ و اور اقو ی یہ ہے ک ہ خطب ے م یں طہ ارت شرط ن ہیں ہے اگرچ ہ اشتراط ( یعنی شرط ہ ونا) احوط ہے۔ اور احت یاط کی بنا پر اللہ تعال ی کی حمد و ثنا اسی طرح پیغمبر اکرام (صلی اللہ عل یہ وآلہ ) اور ائم ہ المسلم ین ؑ پر عرب ی زبان میں درود بھیجنا معتبر ہے اور اس س ے ز یادہ میں عربی معتبر نہیں ہے۔ بلک ہ اگر حاضر ین کی اکثریت عربی نہ جانت ی ہ و تو احت یاط لازم یہ ہے ک ہ تقو ی کے بار ے م یں وعظ و نصیحت کرنے وقت جو زبان حاضر ین جانتے ہیں اسی میں تقوی کی نصیحت کرے۔
(سوم) یہ کہ جمع ہ ک ی دو نمازوں کے درم یان ایک فرسخ سے کم فاصل ہ ن ہ ہ و ۔ پس جب جمع ہ ک ی دوسری نماز ایک فرسخ سے کم فاصل ہ پر قائم ہ و اور دو نماز یں بیک وقت پڑھی جائیں تو دونوں باطل ہ وں گ ی اور اگر ایک نماز کو دوسری پر سبقت حاصل ہ و خوا ہ و ہ تکب یرۃ الاحرام کی حد تک ہی کیوں نہ ہ و تو و ہ (نماز جس ے سبقت حاصل ہ و) صح یح ہ وگ ی اور دوسری باطل ہ وگ ی لیکن اگر نماز کے بعد پت ہ چل ے ک ہ ا یک فرسخ سے کم فاصل ہ پر جمع ہ ک ی ایک اور نماز اس نماز سے پ ہ ل ے یا اس کے سات ھ سات ھ قائم ہ وئ ی تھی تو ظہ ر ک ی نماز واجب نہیں ہ وگ ی اور اس سے کوئ ی فرق نہیں پڑ تا کہ اس بات کا علم وقت میں ہ و یا وقت کے بعد ہ و ۔ اور جمع ہ ک ی نماز کا قائم کرنا مذکورہ فاصل ے ک ے اندر جمع ہ ک ی دوسری نماز قائم کرنے م یں اس وقت مانع ہ وتا ہے جب و ہ نماز خود صح یح اور جامع الشرائط ہ و ورن ہ اس ک ے مانع ہ ون ے م یں اشکال ہے اور ز یادہ احتمال اس کے مانع ن ہ ہونے کا ہے۔
741 ۔ جب جمع ہ ک ی ایک ایسی نماز قائم ہ و جو شرائط کو پورا کرت ی ہ و اور نماز قائم کرن ے والا امام وقت یا اس کا نائب ہ و تو اس صورت م یں نماز جمعہ ک ے لئ ے حاضر ہ ونا واجب ہے۔ اور اس صورت ک ے علاو ہ حاضر ہ ونا واجب ن ہیں ہے۔ پ ہ ل ی صورت میں حاضری کے وجوب ک ے لئ ے چند چ یزیں معتبر ہیں :
(اول) مکلف مرد ہ و ۔ اور جمع ہ ک ی نماز میں حاضر ہ ونا عورتوں ک ے لئ ے واجب ن ہیں ہے۔
(دوم) آزاد ہ ونا ۔ ل ہ ذا غلاموں ک ے لئ ے جمع ہ ک ی نماز میں حاضر ہ ونا واجب ن ہیں ہے۔
(سوم) مقیم ہ ونا ۔ ل ہ ذا مسافر ک ے لئ ے جمع ہ ک ی نماز میں شامل ہ ونا واجب ن ہیں ہے۔ اس مسافر م ی 9 ں جس کا فریضہ قصر ہ و اور جس مسافر ن ے اقامت کا قصد ک یا ہ و اور اسکا فر یضہ پوری نماز پڑھ نا ہ و، کوئ ی فرق نہیں ہے۔
(چہ ارم) ب یمار اور اندھ ان ہ ہ ونا ۔ ل ہ ذا ب یمار اور اندھے شخص پر جمع ہ ک ی نماز واجب نہیں ہے۔
(پنجم) بوڑھ ا ن ہ ہ ونا ۔ ل ہ ذا بو ڑھ وں پر یہ نماز واجب نہیں۔
(ششم) یہ کہ خود انسان ک ے اور اس جگ ہ ک ے درم یان جہ اں جمع ہ ک ی نماز قائم ہ و دو فرسخ س ے ز یادہ فاصلہ ن ہ ہ و اور جو شخص دو فرسخ ک ے سر ے پر ہ و اس ک ے لئ ے حاضر ہ ونا واجب ہے اور اس ی طرح وہ شخص جس ک ے لئ ے جمع ہ ک ی نماز میں بارش یا سخت سردی وغیرہ کی وجہ س ے حاضر ہ ونا مشکل یا دشوار ہ و تو حاضر ہ ونا واجب ن ہیں ہے۔
742 ۔ چند احکام جن کا تعلق جمع ہ ک ی نماز سے ہے یہ ہیں :
(اول) جس شخص پر جمعہ ک ی نماز ساقط ہ وگئ ی ہ و اور اس کا اس نماز م یں حاضر ہ ونا واجب ن ہ ہ و اس ک ے لئ ے جائز ہے ک ہ ظ ہ ر ک ی نماز اول وقت میں ادا کرنے ک ے لئ ے جلد ی کرے۔
(دوم) امام کے خطب ے ک ے دوران بات یں کرنا مکروہ ہے ل یکن باتوں کی وجہ س ے خطب ہ سنن ے م یں رکاوٹ ہ و تو احت یاط کی بنا پر باتیں کرنا جائز نہیں ہے۔ اور جو تعداد نماز جمع ہ ک ے واجب ہ ون ے ک ے لئ ے معتبر ہے اس م یں اور اس سے ز یادہ کے درم یان کوئی فرق نہیں ہے۔
(سوم) احتیاط کی بنا پر دونوں خطبوں کا توجہ س ے سننا واجب ہے ل یکن جو لوگ خطبوں کے معن ی نہ سمج ھ ت ے ہ وں ان ک ے لئ ے توج ہ س ے سننا واجب ن ہیں ہے۔
(چہ ارم) جمع ہ ک ے دن ک ی دوسری اذان بدعت ہے اور یہ وہی اذان ہے جس ے عام طور پر ت یسری اذان کہ ا جاتا ہے۔
(پنجم) ظاہ ر یہ ہے ک ہ جب امام جمع ہ خطب ہ پ ڑھ ر ہ ا ہ و تو حاضر ہ ونا واجب ن ہیں ہے۔
(ششم) جب جمعہ ک ی نماز کے لئ ے اذان د ی جارہی ہ و تو خر ید فروخت اس صورت میں جب کہ و ہ نماز م یں مانع ہ و حرام ہے اور اگر ا یسا نہ ہ و تو پ ھ ر حرام ن ہیں ہے اور اظ ہ ر یہ ہے ک ہ خر ید و فروخت حرام ہ ون ے ک ی صورت میں بھی معاملہ باطل ن ہیں ہ وتا ۔
(ہ فتم) اگر کس ی شخص پر جمعہ ک ی نماز میں حاضر ہ ونا واجب ہ و اور و ہ اس نماز کو ترک کر ے اور ظ ہ ر ک ی نماز بجا لائے تو اظ ہ ر یہ ہے ک ہ اس ک ی نماز صحیح ہ وگ ی۔
743 ۔ احت یاط واجب یہ ہے ک ہ جب تک مشرق ک ی جانب کی وہ سرخ ی جو سورج غروب ہ ون ے ک ے بعد ظا ہ ر ہ وت ی ہے انسان ک ے سر پر س ے ن ہ گزر جائ ے و ہ مغرب ک ی نماز نہ پ ڑھے۔
744 ۔ مغرب اور عشا ک ی نماز کا وقت مختار شخص کے لئ ے آد ھی رات تک رہ تا ہے ل یکن جن لوگوں کو کوئی عذر ہ و مثلاً ب ھ ول جان ے ک ی وجہ س ے یا نیند یا حیض یا ان جسیے دوسرے امور ک ی وجہ س ے آد ھی رات سے پ ہ ل ے نماز پ ڑھ سکت ے ہ وں تو ان ک ے لئ ے مغرب اور عشا ک ی نماز کا وقت فجر طلوع ہ ون ے تک باق ی رہ تا ہے۔ ل یکن ان دونوں نمازوں کے درم یان متوجہ ہ ون ے ک ی صورت میں ترتیب معتبر ہے یعنی عشا کی نماز کو جان بوجھ کر مغرب ک ی نماز سے پ ہ ل ے پ ڑھے تو باطل ہے۔ ل یکن اگر عشا کی نماز ادا کرنے ک ی مقدار سے ز یادہ وقت باقی نہ ر ہ ا ہ و تو اس صورت لازم ہے ک ہ عشا ک ی نماز کو مغرب کی نماز سے پ ہ ل ے پ ڑھے۔
745 ۔ اگر کوئ ی شخص غلط فہ م ی کی بنا پر عشا کی نماز مغرب کی نماز سے پ ہ ل ے پ ڑھ ل ے اور نماز ک ے بعد اس امر ک ی جانب متوجہ ہ و تو اس ک ی نماز صحیح ہے اور ضرور ی ہے ک ہ مغرب ک ی نماز اس کے بعد پ ڑھے۔
746 ۔ اگر کوئ ی شخص مغرب کی نماز پڑھ ن ے س ے پ ہ ل ے ب ھ ول کر عشا ک ی نماز پڑھ ن ے م یں مشغول ہ و جائ ے اور نماز ک ے دوران اس ے پت ہ چل ے ک ہ اس ن ے غلط ی کی ہے اور ابھی وہ چوت ھی رکعت کے رکوع تک ن ہ پ ہ نچا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ مغرب ک ی نماز کی طرف نیت پھیرلے اور نماز کو تمام کرے اور بعد میں عشا کی نماز پڑھے اور اگر چوت ھی رکعت کے رکوع م یں جاچکا ہ و تو اس ے عشا ک ی نماز قرار دے اور ختم کر ے اور بعد م یں مغرب کی نماز بجالائے۔
747 ۔ عشا ک ی نماز کا مختار شخص کے لئ ے آد ھی رات ہے اور رات کا حساب سورج غروب ہ ون ے ک ی ابتدا سے طلوع فجر تک ہے۔
748 ۔ اگر کوئ ی شخص اختیاری حالت میں مغرب اور عشا کی نماز آدھی رات تک نہ پ ڑھے تو احت یاط واجب کی بنا پر ضروری ہے ک ہ اذان صبح س ے پ ہ ل ے قضا اور ادا ک ی نیت کئے بغ یر ان نمازوں کو پڑھے۔
749 ۔ صبح ک ی اذان کے قر یب مشرق کی طرف سے ا یک سفیدی اوپر اٹھ ت ی ہے ، جس ے فجر اول ک ہ ا جاتا ہے جب یہ سفید پھیل جائے تو فجر دوم اور صبح ک ی نماز کا اول وقت ہے اور صبح ک ی نماز کا آخری وقت سورج نکلتے تک ہے۔
750 ۔ انسان نماز م یں اس وقت مشغول ہ و سکتا ہے جب اس ے یقین ہ و جائ ے ک ہ وقت داخل ہ وگ یا ہے یا دو عادل مرد وقت داخل ہ وگ یا ہے یا دو عادل مرد وقت داخل ہ ون ے ک ی خبر دیں بلکہ کس ی وقت شناس شخص کی جو قابل اطمینان ہ و اذان پر یا وقت داخل ہ ون ے ک ے بار ے م یں گواہی پر بھی اکتفا کیا جاسکتا ہے۔
751 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی ذاتی عذر مثلاً بینائی نہ ہ ون ے یا قید خانے م یں ہ ون ے ک ی وجہ نماز کا اول وقت داخل ہ ون ے کا یقین نہ کرسک ے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز پ ڑھ ن ے م یں تاخیر کرے حت ی کہ اس ے یقین یا اطمینان ہ و جائ ے ک ہ وقت داخل ہ وگ یا ہے۔ اس ی طرح اگر وقت داخل ہ ون ے کا یقین ہ و نے میں ایسی چیز مانع ہ و جو مثلاً بادل، غبار یا ان جیسی دوسری چیزوں (مثلاً دھ ند) ک ی طرح عموماً پیش آتی ہ و تو احت یاط لازم کی بنا پر اس کے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے۔
752 ۔ اگر مذکور ہ بالا طر یقے سے کس ی شخص کو اطمینان ہ و جائ ے ک ہ نماز کا وقت ہ و گ یا ہے اور و ہ نماز م یں مشغول ہ و جائ ے ل یکن نماز کے دوران اس ے پت ہ چل ے ک ہ اب ھی وقت داخل نہیں ہ وا تو اس ک ی نماز باطل ہے اور اگر نماز ک ے بعد پت ہ چل ے ک ہ اس ن ے سار ی نماز وقت سے پ ہ ل ے پ ڑھی ہے تو اس کے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے ل یکن اگر نماز کے د وران اسے پت ہ چل ے ک ہ وقت داخل ہ وگ یا ہے یا نماز کے بعد پت ہ چل ے ک ہ نماز پ ڑھ ت ے ہ وئ ے وقت داخل ہ وگ یا تھ ا تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔
753 ۔ اگر کوئ ی شخص اس امر کی جانب متوجہ ن ہ ہ و ک ہ وقت ک ے داخل ہ ون ے کا یقین کرکے نماز م یں مشغول ہ ونا چا ہ ئ ے ل یکن نماز کے بعد اس ے معلوم ہ و کہ اس ن ے سار ی نماز وقت میں پڑھی ہے تو اس ک ی نماز صحیح ہے اور اگر اس ے یہ پتہ چل جائ ے ک ہ اس ن ے وقت س ے پ ہ ل ے نماز پ ڑھی ہے یا اسے یہ پتہ ن ہ چل ے ک ہ وقت م یں پڑھی ہے یا وقت سے پ ہ ل ے پ ڑھی ہے تو اس ک ی نماز باطل ہے بلک ہ اگر نماز ک ے بعد اس ے پت ہ چل ے ک ہ نماز ک ے دوران وقت داخل ہ وگ یا تھ ا تب ب ھی اسے چا ہ ئ ے ک ہ اس نماز کو دوبار ہ پ ڑھے۔
754 ۔ اگر کس ی شخص کو یقین ہ و ک ہ وقت داخل ہ وگ یا ہے اور نماز پ ڑھ ن ے لگ ے ل یکن نماز کے دوران شک کر ے ک ہ وقت داخل ہ وا ہے یا نہیں تو اس کی نماز باطل ہے ل یکن اگر نماز کے دوران اس ے یقین ہ و ک ہ وقت داخل ہ وگ یا ہے اور شک کر ے ک ہ جتن ی نماز پڑھی ہے و ہ وقت م یں پڑھی ہے یا نہیں تو اس کی نماز صحیح ہے۔
755 ۔ اگرنماز کا وقت اتنا تنگ ہ و ک ہ نماز ک ے بعد مستحب افعال ادا کرن ے س ے نماز ک ی کچھ مقدار وقت ک ے بعد پ ڑھ ن ی پڑ ت ی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ مستحب امور کو چ ھ و ڑ د ے مثلاً اگر قنوت پ ڑھ ن ے ک ی وجہ س ے نماز کا کچ ھ حص ہ وقت ک ے بعد پ ڑھ نا پ ڑ تا ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ قنوت ن ہ پ ڑھے۔
756 ۔ جس شخص ک ے پاس نماز ک ی فقط ایک رکعت ادا کرنے کا وقت ہ و اس ے چا ہ ئ ے ک ہ نماز ادا ک ی نیت سے پ ڑھے البت ہ اس ے جان بوج ھ کر نماز م یں اتنی تاخیر نہیں کرنی چاہ ئ ے۔
757 ۔ جو شخص سفر م یں نہ ہ و اگر اس ک ے پاس غروب آفتاب تک پانچ رکعت نماز پ ڑھ ن ے ک ے انداز ے ک ے مطابق وقت ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ ظ ہ ر اور عصر ک ی دونوں نمازیں پڑھے ل یکن اگر اس کے پاس اس س ے کم وقت ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ ظ ہ ر اور عصر کی دونوں نمازیں پڑھے ل یکن اگر اس کے پاس اس س ے کم وقت ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ صرف عصر ک ی نماز پڑھے اور بعد م یں ظہ ر ک ی نماز قضا کرے اور اس ی طرح اگر آدھی رات تک اس کے پاس پانچ رکعت پ ڑھ ن ے ک ے انداز ے ک ے مطابق وقت ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ مغرب اور عشا ک ی نماز پڑھے اور اگر وقت اس کم ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ صرف عشا ک ی نماز پڑھے اور بعد م یں ادا اور قضا کی نیت کئے بغ یر نماز مغرب پڑھے۔
758 ۔ جو شخص سفر م یں ہ و اگر غروب آفتاب تک اس ک ے پاس ت ین رکعت نماز پڑھ ن ے ک ے انداز ے ک ے مطابق وقت ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ ظ ہ ر اور عصر ک ی نماز پڑھے او ر اگر اس سے کم وقت ہ و تو چا ہ ئ ے ک ہ صرف عصر پ ڑھے اور بعد م یں نماز ظہ ر ک ی قضا کرے اور اگر آد ھی رات تک اس کے پاس چار ر کعت نماز پڑھ ن ے ک ے انداز ے ک ے مطابق وقت ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ مغرب اور عشا ک ی نماز پڑھے اور اگر نماز ک ے ت ین رکعت کے برابر وقت باق ی ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ پ ہ ل ے عشا ک ی نماز پڑھے اور بعد م یں مغرب کی نماز بجا لائے تاک ہ نماز مغرب ک ی ایک رکعت وقت میں انجام دی جائے ، اور ا گر نماز کی تین رکعت سے کم وقت باق ی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ پ ہ ل ے عشا ک ی نماز پڑھے اور بعد م یں مغرب کی نماز ادا اور قضا کی نیت کئے بغ یر پڑھے اور اگر عشا ک ی نماز پڑھ ن ے ک ے بعد معلوم ہ و جائ ے ک ہ آد ھی رات ہ ون ے م یں ایک رکعت یا اس سے ز یادہ رکعتیں پڑھ ن ے ک ے لئ ے وقت باق ی ہے تو اسے چا ہ ئ ے ک ہ مغرب ک ی نماز فوراً ادا کی نیت سے بجالائ ے۔
759 ۔ انسان ک ے لئ ے مستحب ہے ک ہ نماز اول وقت م یں پڑھے اور اس ک ے متع لق بہ ت ز یادہ تاکید کی گئی ہے اور جتنا اول وقت ک ے قر یب ہ و ب ہ تر ہے ماسوا اس ک ے ک ہ اس م یں تاخیر کسی وجہ س ے ب ہ تر ہ و مثلاً اس لئ ے انتظار کر ے ک ہ نماز جماعت ک ے سات ھ پ ڑھے۔
760 ۔ جب انسان ک ے پاس کوئ ی ایسا عذر ہ و ک ہ اگر اول وقت م یں نماز پڑھ نا چا ہے تو ت یمم کر کے نماز پ ڑھ ن ے پر مجبور ہ و اور اس ے علم ہ و ک ہ اس کا عذر آخر وقت تک باق ی رہے گا یا آخر وقت تک عذر کے دور ہ ون ے س ے ما یوس ہ و تو و ہ اول وقت م یں تیمم کرکے نماز پ ڑھ سکتا ہے ل یکن اگر مایوس نہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ عذر دور ہ ون ے تک انتظار کر ے اور اگر اس کا عذر دور ن ہ ہ و تو آخر وقت م یں ماز پڑھے اور یہ ضروری نہیں کہ اس قدر انتظار کر ے ک ہ نماز ک ے صرف واجب افعال انجام د ے سک ے بلک ہ اگر اس ک ے پاس مستحبات نماز مثلاً اذان، اقامت اور قنوت ک ے لئ ے ب ھی وقت ہ و تو و ہ ت یمم کرکے ان مستحبات ک ے سات ھ نماز ادا کر سکتا ہے اور ت یمم کے علاو ہ دوسر ی مجبوریوں کی صورت میں اگرچہ عذر دور ہ ون ے س ے ما یوس نہ ہ وا ہ و اس ک ے لئ ے جائز ہے ک ہ اول وقت م یں نماز پڑھے۔ ل یکن اگر وقت کے دوران اس کا عذر دور ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ دوبار ہ نماز پ ڑھے۔
761 ۔ اگر ا یک شخص نماز کے مسائل اور شک یات اور سہ و یات کا علم نہ رک ھ تا ہ و اور اس ے اس بات کا احتمال ہ و ک ہ اس ے نماز ک ے دوران ان مسائل م یں سے کوئ ی نہ کوئ ی مسئلہ پ یش آئے گا اور اس ک ے یاد نہ کرن ے ک ی وجہ س ے کس ی لازمی حکم کی مخالفت ہ وت ی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ان ہیں سیکھ ن ے کے لئ ے نماز کو اول وقت س ے موخر کر د ے ل یکن اگر اسے ام ید ہ و ک ہ صح یح طریقے سے نماز انجام د ے سکتا ہے۔ اور اول وقت م یں نماز پڑھ ن ے م یں مشغول ہ و جائ ے پس اگر نماز م یں کوئی ایسا مسئلہ پ یش نہ آئ ے جس کا حکم ن ہ جانتا ہ و تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔ اور اگر کوئ ی ایسا مسئلہ پیش آجائے جس کا حکم ن ہ جانتا ہ و تو اس ک ے لئ ے جا ئز ہے ک ہ جن دو باتوں کا احتمال ہ و ان م یں سے ا یک عمل کرے اور نماز ختم کر ے تا ہ م ضرور ی ہے ک ہ نماز ک ے بعد مسئل ہ پوچ ھے اور اگر اس ک ی نماز باطل ثابت ہ و تو دوبار ہ پ ڑھے اور اگر صح یح ہ و تو دوبار ہ پ ڑھ نا لازم ن ہیں ہے۔
762 ۔ اگر نماز کو وقت وس یع ہ و اور قرض خوا ہ ب ھی اپنے قرض کا مطالب ہ کر ے تو اگر ممکن ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ پ ہ ل ے قرض ہ ادا کر ے اور بعد م یں نماز پڑھے اور اگر کوئ ی ایسا دوسرا واجب کام پیش آجائے جس ے فوراً بجا لانا ضرور ی ہ و تو اس ک ے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے مثلاً اگر د یکھے کہ مسجد نجس ہ وگئ ی ہے تو ضرور ی ہے ک ہ پ ہ ل ے مسجد کو پاک کرے اور بعد م یں نماز پڑھے اور اگر مذکورو ہ بالا دونوں صورتوں م یں پہ ل ے نماز پ ڑھے تو گنا ہ کا مرتکب ہ وگا ل یکن اس کی نماز صحیح ہ وگ ی۔
763 ۔ ضرور ی ہے ک ہ انسان نماز عصر، نماز ظ ہ ر ک ے بعد اور نماز عشا، نماز مغرب ک ے بعد پ ڑھے اور اگر جان بوج ھ کر نماز عصر نماز ظ ہ ر س ے پ ہ ل ے اور نماز عشا نماز مغرب س ے پ ہ ل ے پ ڑھے تو اس ک ی نماز باطل ہے۔
764 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز ظہ ر ک ی نیت سے نماز پ ڑھ ن ی شروع کرے اور نماز ک ے دوران اس ے یاد آئے ک ہ نماز ظ ہ ر پ ڑھ چکا ہے تو و ہ ن یت کو نماز عصر کی جانب نہیں موڑ سکتا بلکہ ضرور ی ہے ک ہ نماز تو ڑ کر نماز عصر پ ڑھے اور مغرب اور عشا ک ی نماز میں بھی یہی صورت ہے۔
765 ۔ اگر نماز عصر ک ے دوران کس ی شخص کو یقین ہ و ک ہ اس ن ے نماز ظ ہ ر ن ہیں پڑھی ہے اور و ہ ن یت کو نماز ظہ ر ک ی طرف موڑ د ے تو جون ہی اسے یاد آئے ک ہ و ہ نماز ظ ہ ر پ ڑھ چکا ہے تو ن یت کو نماز عصر کی طرف موڑ د ے اور نماز مکمل کر ے۔ ل یکن اگر اس نے نماز ک ے بعض اجزاء کو ظ ہ ر ک ی نیت سے انجام ن ہ د یا ہ و یا ظہ ر ک ی نیت سے انجام د یا ہ و تو اس صورت م یں ان اجزا کو عصر کی نیت سے دوبار ہ انجام د ے ل یکن اگر وہ جز ا یک رکعت ہ و تو پ ھ ر ہ ر صورت م یں نماز باطل ہے۔ اس ی طرح اگر وہ جز ا یک رکعت کا رکوع ہ و یا دور سجدے ہ وں تو احت یاط لازم کی بنا پر نماز باطل ہے۔
766 ۔ اگر کس ی شخص کو نماز عصر کے دوران شک ہ و ک ہ اس ن ے نماز ظ ہ ر پ ڑھی ہے یا نہیں تو ضروری ہے ک ہ عصر ک ی نیت سے نماز تمام کر ے اور بعد م یں ظہ ر ک ی نماز پڑھے ل یکن اگر وقت اتنا کم ہ و ک ہ نماز پر ھ ن ے ک ے بعد سورج ڈ وب جاتا ہ و اور ا یک رکعت نماز کے لئ ے ب ھی وقت باقی نہ بچت ا ہ و تو لازم ن ہیں ہے ک ہ نماز ظ ہ ر ک ی قضا پڑھے۔
767 ۔ اگر کس ی شخص کو نماز عشا کے دوران شک ہ و جائ ے ک ہ اس ن ے مغرب کی نماز پڑھی ہے یا نہیں تو ضروری ہے ک ہ عشا ک ی نیت سے نماز ختم کر ے اور بعد م یں مغرب کی نماز پڑھے۔ ل یکن اگر وقت اتنا کم ہ و ک ہ نماز ختم ہ ون ے ک ے بعد آد ھی رات ہ و جات ی ہ و اور ا یک رکعت نماز کا وقت بھی نہ بچتا ہ و تو نماز مغرب ک ی قضا اس پر لازم نہیں ہے۔
768 ۔ اگر کوئی شخص نماز عشا کی چوتھی رکعت کے رکوع م یں پہ نچن ے ک ے بعد شک کر ے ک ہ اس ن ے نماز مغرب پ ڑھی ہے یا نہیں تو ضروری ہے ک ہ نماز مکمل کر ے۔ اور اگر بعد م یں مغرب کی نماز کے لئ ے وقت باق ی ہ و تو مغرب ک ی نماز بھی پڑھے۔
769 ۔ اگر کوئ ی شخص ایسی نماز جو اس نے پ ڑھ ل ی ہ و احت یاط دوبارہ پ ڑھے اور نماز ک ے دوران اس ے یاد آئے ک ہ اس نماز س ے پ ہ ل ے وال ی نماز نہیں پڑھی تو وہ ن یت کو اس نماز کی طرف نہیں موڑ سکتا ۔ مثلاً جب و ہ نماز عصر احت یاطاً پڑھ ر ہ ا ہ و اگر اس ے یاد آئے ک ہ اس ن ے نماز ظ ہ ر ن ہیں پڑھی تو وہ ن یت کو نماز ظہ ر ک ی طرف نہیں موڑ سکتا ۔
770 ۔ نماز قضا ک ی نیت نماز ادا کی طرف اور نماز مستحب کی نیت نماز واجب کی طرف موڑ نا جائز ن ہیں ہے۔
771 ۔ اگر ادا نماز کا وقت وس یع ہ و تو انسان نماز ک ے دوران یہ یاد آنے پر ک ہ اس ک ے ذم ے کوئ ی قضا نماز ہے ، ن یت کو نماز قضا کی طرف موڑ سکتا ہے بشرط یکہ نماز قضا کی طرف نیت موڑ نا ممکن ہ و ۔ مثلاً اگر و ہ نماز ظ ہ ر م یں مشغول ہ و تو ن یت کو قضائے صبح ک ی طرف اسی صورت میں موڑ سکتا ہے ک ہ ت یسری رکعت کے رکوع م یں داخل نہ ہ وا ہ و ۔
772 ۔ مستحب نماز یں بہ ت س ی ہیں جنہیں نفل کہ ت ے ہیں، اور مستحب نمازوں میں سے روان ہ ک ے نفلوں ک ی بہ ت ز یادہ تاکید کی گئی ہے۔ یہ نمازیں روز جمعہ ک ے علاو ہ چونت یس رکعت ہیں جن میں سے آ ٹھ رکعت ظ ہ ر ک ی، آٹھ رکعت عصر ک ی، چار رکعت مغرب کی، دو رکعت عشا کی، گیارہ رکعت نماز شب (یعنی تہ جد) ک ی اور دو رکعت صبح کی ہ وت ی ہیں اور چونکہ احت یاط واجب کی بنا پر عشا کی دو رکعت نفل بیٹھ کر پڑھ ن ی ضروری ہیں اس لئے و ہ ا یک رکعت شمار ہ وت ی ہے۔ ل یکن جمعہ ک ے دن ظ ہ ر اور عصر ک ی سولہ رکعت نفل پر چار رکعت کا اضاف ہ ہ و جاتا ہے۔ اور ب ہ تر ہے ک ہ یہ پوری کی پوری بیس رکعتیں زوال سے پ ہ ل ے پ ڑھی جائیں۔
773 ۔ نماز شب ک ی گیارہ رکعتوں میں سے آت ھ رکعت یں نافلہ شب ک ی نیت سے اور دو رکعت نماز شفع ک ی نیت سے اور ا یک رکعت نماز وتر کی نیت سے پ ڑھ ن ی ضروری ہیں اور نافلہ شب کا مکمل طر یقہ دعا کی کتابوں میں مذکور ہے۔
774 ۔ نفل نماز یں بیٹھ کر بھی پڑھی جاسکتی ہیں لیکن بعض فقہ ا ک ہ ت ے ہیں کہ اس صورت م یں بہ تر ہے ک ہ ب یٹھ کر پڑھی جانے وال ی نفل نماز کی دو رکعتوں کو ایک رکعت شمار کیا جائے مثلاً جو شخص ظ ہ ر ک ی نفلیں جس کی آٹھ رکعت یں ہیں بیٹھ کر پڑھ نا چا ہے تو اس ک ے لئ ے ب ہ تر ہے ک ہ س ولہ رکعتیں پڑھے اور اگر چا ہے ک ہ نماز وتر ب یٹھ کر پڑھے تو ا یک ایک رکعت کی دو نمازیں پڑھے۔ تا ہ م اس کام کا ب ہ تر ہ ونا معلوم ن ہیں ہے۔ ل یکن رجا کی نیت سے انجام د ے تو کوئ ی اشکال نہیں ہے۔
775 ۔ ظ ہ ر اور عصر ک ی نفلی نمازیں سفر میں نہیں پڑھ ن ی چاہ ئ یں اور اگر عشا کی نفلیں رجا کی نیت سے پ ڑھی جائے تو کوئ ی حرج نہیں ہے۔
776 ۔ ظ ہ ر ک ی نفلیں نماز ظہ ر س ے پ ہ ل ے پ ڑھی جاتی ہے۔ اور ج ہ اں تک ممکن ہ و اس ے ظ ہ ر ک ی کی نماز سے پ ہ ل ے پ ڑھ ا جائ ے اور اس کا وقت اول ظ ہ ر س ے ل ے کر ظ ہ ر ک ی نماز ادا کرنے تک باق ی رہ تا ہے۔ ل یکن اگر کوئی شخص ظہ ر ک ی نفلیں اس وقت تک موخر کر دے ک ہ شاخص ک ے سا یہ کی وہ مقدار جو ظ ہ ر ک ے بعد پ یدا ہ و سات ھ م یں سے دو حصوں ک ے برابر ہ و جائ ے مثلاً شاخص ک ی لمبائی ساتھ بالشت اور سا یہ کی مقدار دو بالشت ہ و تو اس صورت م یں بہ تر یہ ہے ک ہ انسان ظ ہ ر ک ی نماز پڑھے۔
777 ۔ عصر ک ی نفلیں عصر کی نماز سے پ ہ ل ے پ ڑھی جاتی ہیں۔ اور جب تک ممکن ہ و اس ے عصر ک ی نماز سے پ ہ ل ے پ ڑھ ا جائ ے۔ اور اس کا وقت عصر ک ی نماز ادا کرنے تک باق ی رہ تا ہے۔ ل یکن اگر کوئی شخص عصر کی نفلیں اس وقت تک موخر کر دے ک ہ شاخص ک ے سا یہ کی وہ مقدار جو ظ ہ ر ک ی بعد پیدا ہ و سات میں سے چار حصوں تک پ ہ نچ جائ ے تو اس صورت م یں بہ تر ہے ک ہ انسان عصر ک ی نماز پڑھے۔ اور اگر کوئ ی شخص ظہ ر یا عصر کی نفلیں اس کے مقرر ہ وقت ک ے بعد پ ڑھ نا چا ہے تو ظ ہ ر ک ی نفلیں نماز ظہ ر ک ے بعد اور عصر ک ی نفلیں نماز عصر کے بعد پ ڑھ سکتا ہے ل یکن احتیاط کی بنا پر ادا اور قضا کی نیت نہ کر ے۔
778 ۔ مغرب ک ی نفلوں کا وقت نماز مغرب ختم ہ ون ے ک ے بعد ہ وتا ہے اور ج ہ اں تک ممکن ہ و اس ے مغرب ک ی نماز کے فوراً بعد بجالائ ے ل یکن اگر کوئی شخص اس سرخی کے ختم ہ ون ے تک جو سورج ک ے غروب ہ ون ے ک ے بعد آسمان م یں دکھ ائ ی دیتی ہے مغرب ک ی نفلوں میں تاخیر کرے تو اس وقت ب ہ تر یہ ہے ک ہ عشا کی نماز پڑھے۔
779 ۔ عشا ک ی نفلوں کا وقت نماز عشا ختم ہ ون ے ک ے بعد س ے آد ھی رات تک ہے اور ب ہ تر ہے ک ہ نماز عشا ختم ہ ون ے ک ے فوراً بعد پ ڑھی جائے۔
780 ۔ صبح ک ی نفلیں صبح کی نماز سے پ ہ ل ے پ ڑھی جاتی ہے اور اس کا وقت نماز شب کا وقت ختم ہ ون ے ک ے بعد س ے شروع ہ وتا ہے اور صبح کی نماز کے ادا ہ ون ے تک باق ی رہ تا ہے اور ج ہ اں تک ممکن ہ و صبح ک ی نفلیں صبح کی نماز سے پ ہ ل ے پر ھ ن ی چاہ ئ یں لیکن اگر کوئی شخص صبح کی نفلیں مشرق کی سرخی ظاہ ر ہ ون ے تک ن ہ پ ڑھے تو اس صورت م یں بہ تر یہ ہے ک ہ صبح ک ی نماز پڑھے۔
781 ۔ نماز شب کا اول وقت مش ہ ور قول ک ی بنا پر آدھی رات ہے اور صبح ک ی اذان تک اس کا وقت باقی رہ تا ہے اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ صبح ک ی اذان کے قر یب پڑھی جائے۔
782 ۔ مسافر اور و ہ شخص جس ک ے لئ ے نماز شب کا آد ھی رات کے بعد ادا کرنا مشکل ہ و اس ے اول شب م یں بھی ادا کر سکتا ہے۔
783 ۔ مش ہ ور مستحب نما زوں میں سے ا یک نماز غفیلہ ہے جو مغرب اور عشا ک ی نماز کے درم یان پڑھی جاتی ہے ۔ اس ک ی پہ ل ی رکعت میں الحمد کے بعد کس ی دوسری سورۃ کے بجائ ے یہ آیت پڑھ ن ی ضروری ہے : وَذَا النُّونِ اِذ ذَّ ھ َبَ مُغَاضِباً اَن لَّن نَّقدِ عَلَ یہ فَنَادٰی فِی الظُّلُمٰتِ اَن لاَّ اِلٰہ اِلاَّ اَنتَ سُبحٰنَکَ اِنِّ ی کُنتُ مِنَ الظّٰلِمِینَ فَاستَجَبناَ لَہ وَنَجَّ ینٰہ مِنَ الغَمِّ وَ کَذٰلِکَ نُنجِی المُئومِنِینَ۔ اور دوسر ی رکعت میں الحمد کے بعد بجائ ے کس ی اور سورۃ کے یہ آیت پڑھے : وَ عِندَ ہ مَفَاتِحُ الغَ یبِ لاَ یَعلَمُہ آ اِلاَّ ھ ُوَ وَ یَعلَمُ مَا فِی البَرِّ وَالبَحرِ وَمَا تَسقُطُ مِن وَّرَقَۃ ٍ اِلاَّ یَعلَمُھ َا وَلاَ حَبَّۃ ٍ فِی ظُلُمٰتِ الاَرضِ وَلاَ رَظبٍ وَّلاَ یَابِسٍ اِلاَّ فِی کِتٰبٍ مُّبِینٍ ۔ اور اس ک ے قنوت م یں یہ پڑھے : اللّٰ ھ ُمّ اِنِّ یٓ اَسئَلُکَ بِمَفَاتِحِ الغَیبِ الَّتِی لاَ یَعلَمُھ َآ اِلاَّ اَنتَ تُصَلِّی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اَن تَفعَلَ بِی کَذَا وَ کَذَا۔ اور کَذَا وَ کَذَا ک ی بجائے اپن ی حاجتیں بیان کرے اور اسک ے بعد ک ہے : اللّٰ ھ ُمَّ اَنتَ وَلِ یُّ نِعمَتِی وَالقَادِرُ عَلٰی طَلِبَتِی تَعلَمُ حَاجَتِی فَاَسئَلُکَ بِحَقِّ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ عَلِیہ وَعِلَیھ ِمُ السَّلاَمُ لَمَّا قَضَیتَہ الِ ی۔
784 ۔ خان ہ کعب ہ جو مک ہ مکرم ہ م یں ہے و ہ ہ مارا قبل ہ ہے ل ہ ذا ( ہ رمسلمان ک ے لئ ے ) ضرور ی ہے ک ہ اس ک ے سامن ے ک ھڑے ہ و کر نماز پ ڑھے ل یکن جو شخص اس سے دور ہ و اگر و ہ اس طرح ک ھڑ ا ہ و ک ہ لوگ ک ہیں کہ قبل ے ک ی طرف منہ کر ک ے نماز پ ڑھ ر ہ ا ہے تو کاف ی ہے اور دوسر ے کام جو قبل ے ک ی طرف منہ کر ک ے انجام د ینے ضروری ہیں۔ مثلاً ح یوانات کو ذبح کرنا۔ ان کا ب ھی یہی حکم ہے۔
785 ۔ جو شخص ک ھڑ ا ہ و کر واجب نماز پر ھ ر ہا ہ و ضرور ی ہے ک ہ اس کا س ینہ اور پیٹ قبلے ک ی طرف ہ و ۔۔۔۔ بلک ہ اس کا چ ہ ر ہ قبل ے س ے ب ہ ت ز یادہ پھ را ہ وا ن ہیں ہ ونا چا ہ ئ ے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اس ک ے پاوں ک ی انگلیاں بھی قبلہ ک ی طرف ہ وں ۔
786 ۔ جس شخص کو ب یٹھ کر نماز پڑھ ن ی ہ و ضرور ی ہے ک ہ اس کا س ینہ اور پیٹ نماز کے وقت قبل ے ک ی طرف ہ و ۔ بلک ہ اس کا چ ہ ر ہ ب ھی قبلے س ے ب ہ ت ز یادہ پھ را ہ وا ن ہ ہ و ۔
787 ۔ جو شخص ب یٹھ کر نماز نہ پ ڑھ سک ے ضرور ی ہے ک ہ دائ یں پہ لو ک ے بل یوں لیٹے کہ اس ک ے بدن کا اگلا حص ہ قبل ے ک ی طرف ہ و اور اگر یہ ممکن نہ ہ و تو ضرور ی ہے بائ یں پہ لو ک ے بل یوں لیئے کہ اس ک ے بدن کا اگلا حص ہ قبل ے ک ی طرف ہ و ۔ اور جب تک دائ یں پہ لو ک ی بل لیٹ کر نماز پڑھ نا ممکن ہ وا احت یاط لازم کی بنا پر بائیں پہ لو ک ے بل ل یٹ کر نماز نہ پ ڑھے۔ اور اگر یہ دونوں صورتیں ممکن نہ ہ وں تو ضرور ی ہے ک ہ پشت ک ے بل یوں لیٹے کہ اسک ے پاوں ک ے تلو ے قبل ے ک ی طرف ہ وں ۔
788 ۔ نماز احت یاط، بھ ولا ہ وا سجد ہ اور ب ھ ولا ہ وا تش ہ د قبل ے ک ی طرف منہ کر ک ے ادا کرنا ضرور ی ہے اور احت یاط مستحب کی بنا پر سجدہ س ہ و ب ھی قبلے ک ی طرف منہ کر ک ے ادا کر ے۔
789 ۔ مستحب نماز راست ہ چلت ے ہ وئ ے اور سوار ی کی حالت میں پڑھی جاسکتی ہے اور اگر انسان ان دونوں حالتوں م یں مستحب نماز پڑھے تو ضرور ی نہیں کہ اس کا من ہ قبل ے ک ی طرف ہ و ۔
790 ۔ جو شخص نماز پ ڑھ نا چا ہے ضرور ی ہے ک ہ قبل ے ک ی سمت کا تعین کرنے ک ے لئ ے کوشش کر ے تاک ہ قبل ے ک ی سمت کے بار ے م یں یقین یا ایسی کیفیت جو یقین کے حکم م یں ہ و ۔ مثلاً د و عادل آدمیوں کی گواہی۔۔۔ حاصل کرل ے اور اگر ا یسا نہ کر سک ے تو ضرور ی ہے ک ہ مسلمانوں ک ی مسجد کے مح راب سے یا ان کی قبروں سے یا دوسرے طر یقوں سے جو گمان پ یدا ہ و اس ک ے مطابق عمل کر ے حت ی کہ اگر کس ی ایسے فاسق یا کافر کے ک ہ ن ے پر جو سائنس ی قواعد کے ذر یعے قبلے کا رخ پ ہ چانتا ہ و قبل ے ک ے بار ے م یں گمان پیدا کرے تو و ہ ب ھی کافی ہے۔
791 ۔ جو شخص قبل ے ک ی سمت کے بار ے م یں گمان کرے ، اگر و ہ اس س ے قو ی ترگمان پیدا کر سکتا ہ و تو و ہ اپن ے گمان پر عمل ن ہیں کرسکتا مثلاً اگر مہ مان، صاحب خان ہ ک ے ک ہ ن ے پر قبل ے ک ی سمت کے بار ے م یں گمان پیدا کرلے ل یکن کسی دوسرے طر یقے پر زیادہ قوی گمان پیدا کر سکتا ہ و تو اسے صاحب خانہ ک ے ک ہ ن ے پر عمل ن ہیں کرنا چاہ ئ ے۔
792 ۔ اگر کس ی کے پاس قبل ے کا رخ متع ین کرنے کا کوئ ی ذریعہ نہ ہ و (مثلاً قطب نما) یا کوشش کے باوجود اس کا گمان کس ی ایک طرف نہ جاتا ہ و تو اس ک ا کسی بھی طرف منہ کرک ے نماز پ ڑھ نا کاف ی ہے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اگر نماز کا وقت وس یع ہ و تو چار نماز یں چاروں طرف منہ کر ک ے پ ڑھے ( یعنی وہی ایک نماز چار مرتبہ ا یک ایک سمت کی جانب منہ کرک ے پ ڑھے ) ۔
793 ۔ اگر کس ی شخص کو یقین یا گمان ہ و ک ہ قبل ہ دو م یں میں ہے ا یک طرف ہے تو ضرور ی ہے ک ہ دونوں طرف من ہ کر ک ے نماز پ ڑھے۔
794 ۔ جو شخص کئ ی طرف منہ کر ک ے نماز پ ڑھ نا چا ہ تا ہ و اگر و ہ ا یسی دو نمازیں پڑھ نا چا ہے جو ظ ہ ر اور عصر ک ی طرح یکے بعد دیگرے پڑھ ن ی ضروری ہیں تو احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ پ ہ ل ی نماز مختلف سمتوں کی طرف منہ کرک ے پ ڑھے اور بعد م یں دوسری نماز شروع کرے۔
795 ۔ جس شخص کو قبل ے ک ی سمت کا یقین نہ ہ و اگر و ہ نماز ک ے علاو ہ کوئ ی ایسا کام کرنا چاہے جو قبل ے ک ی طرف منہ کر ک ے کرنا ضرور ی ہے مثلاً اگر و ہ کوئ ی حیوان ذبح کرنا چاہ تا ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ گمان پر عمل کر ے اور اگر گمان پ یدا کرنا ممکن نہ ہ و تو جس طرف من ہ کرک ے و ہ ک ام انجام دے درست ہے۔
792 ۔ ضرور ی ہے ک ہ مرد خوا ہ اس ے کوئ ی بھی نہ د یکھ رہ ا ہ و نماز ک ی حالت میں اپنی شرمگاہ وں کو ڈھ انپ ے اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ ناف س ے گ ھٹ نوں تک بدن ب ھی ڈھ انپ ے۔
797 ۔ ضرور ی ہے ک ہ عورت نماز ک ے وقت اپنا تمام بدن حتٰ ی کہ سر اور بال ب ھی ڈھ انپ ے اور احت یاط مُستحب یہ ہے ک ہ پاوں ک ے تلو ے ب ھی ڈھ انپ ے البت ہ چ ہ ر ے کا جتنا حص ہ وضو م یں دھ و یا جاتا ہے اور کلائ یوں تک ہ ات ھ اور ٹ خنوں تک پاوں کا ظا ہ ر ی حصہ ڈھ انپا ضرور ی نہیں ہے ل یکن یہ یقین کرنے ک ے لئے ک ہ اس ن ے بدن ک ی واجب مقدار ڈھ انپ ل ی ہے ضرور ی ہے ک ہ چ ہ ر ے ک ی اطراف کا کچھ حص ہ اور کلائ یوں سے ن یچے کا کچھ حص ہ ب ھی ڈھ انپ ے۔
798 ۔ جب انسان ب ھ ول ے ہ وئ ے سجد ے یا بھ ول ے ہ وئ ے تش ہ د ک ی قضا بجا لا رہ ا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اپن ے آپ کو اس طرح ڈھ انپ ے جس طرح نماز ک ے وقت ڈھانپا جاتا ہے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ سجد ہ س ہ و ادا کرن ے ک ے وقت ب ھی اپنے آپ کو ڈھ انپ ے۔
799 ۔ اگر انسان جان بوج ھ کر یا مسئلہ ن ہ جانن ے ک ی وجہ س ے غلط ی کرتے ہ وئ ے نماز م یں اپنی شرم گاہ ن ہ ڈھ انپ ے تو اس ک ی نماز باطل ہے۔
800 ۔ اگر کس ی شخص کو نماز کے دوران پت ہ چل ے ک ہ اس ک ی شرم گاہ ننگ ی ہے تو ضرور ی ہے ک ہ اپن ی چھ پائ ے اور اس پر لازم ن ہیں ہے ک ہ نماز دوبار ہ پ ڑھے ل یکن احتیاط یہ ہے ک ہ جب اس ے پت ہ چل ے ک ہ اس ک ی شرم گاہ ننگ ی ہے تو اس ک ے بعد نماز کا کوئ ی جز انجام نہ د ے۔ ل یکن اگر اسے نماز کے بعد پتہ چلے ک ہ نماز ک ے دوران اس ک ی شرم گاہ ننگ ی تھی تو اس کی نماز صحیح ہے۔
801 ۔ اگر کس ی شخص کالباس کھڑے ہ ون ے ک ی حالت میں اس کی شرمگاہ کو ڈھ انپ ل ے ل یکن ممکن ہ و ک ہ دوسر ی حالت میں مثلاً رکوع اور سجود کی حالت میں نہ ڈھ انپ ے تو اگر شرمگا ہ ک ے ننگا ہ ون ے ک ے وقت اس ے کس ی ذریعے سے ڈھ انپ ل ے تو اس ک ی نماز صحیح ہے ل یکن احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ اس لباس کے سات ھ نماز ن ہ پ ڑھے۔
802 ۔ انسان نماز م یں اپنے آپ کو گ ھ اس پ ھ ونس اور درختوں ک ے (ب ڑے ) پتوں س ے ڈھ انپ سکتا ہے ل یکن احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ ان چ یزوں سے اس وقت ڈھ انپ ے جب اس ک ے پاس کوئ ی اور چیز نہ ہ و ۔
803 ۔ انسان ک ے پاس مجبور ی کی حالت میں شرم گاہ چ ھ پان ے ک ے لئ ے کوئ ی چیز نہ ہ و تو اپن ی شرم گاہ ک ی کھ ال نما یاں نہ ہ ون ے ک ے لئ ے گارا یا اس جیسی کسی دوسری چیز کولیت پوت کر اسے چ ھ پائ ے۔
804 ۔ اگر کس ی شخص کے پاس کوئ ی چیز ایسی نہ ہ و جس س ے و ہ نماز م یں اپنے آپ ک و ڈھ انپ ے اور اب ھی وہ ا یسی چیز ملنے س ے ما یوس بھی نہ ہ وا ہ و تو ب ہ تر یہ ہے ک ہ نماز پ ڑھ ن ے م یں تاخیر کرے اور اگر کوئ ی چیز نہ مل ے تو آخر وقت م یں اپنے وظ یفے کے مطابق نماز پ ڑھے ل یکن اگر وہ او ل وقت میں نماز پڑھے اور اس کا عذر آخر وقت تک باق ی نہ ر ہے تو احت یاط واجب یہ ہے ک ہ نماز کو دوبار ہ پ ڑھے۔
805 ۔ اگر کس ی شخص کے پاس جو نماز پ ڑھ نا چا ہ تا ہ و اپن ے آپ کو ڈھ انپن ے ک ے لئ ے درخت ک ے پت ے ، گ ھ اس، گارا یا دلدل نہ ہ و اور آخرت وقت تک کس ی ایسی چیز کے ملن ے س ے ما یوس ہ و جس س ے و ہ اپن ے آپ کو چ ھ پا سک ے اگر اس ے اس بات کا اطم ینان ہ و کہ کوئ ی شخص اسے ن ہیں دیکھے گا تو وہ ک ھڑ ا ہ و کر اس ی طرح نماز پڑھے جس طرح اخت یاری حالت میں رکوع اور سجود کے سات ھ نماز پ ڑھ ت ے ہیں لیکن اگر اسے اس بات کا احتمال ہ و ک ہ کوئ ی شخصاسے د یکھ لے گا تو ضرور ی ہے ک ہ اس طرح نماز پ ڑھے ک ہ اس ک ی شرم گاہ نظر ن ہ آئ ے مثلاً ب یٹھ کر نماز پڑھے یا رکوع اور سجود جو اختیاری حالت میں انجام دیتے ہیں ترک کرے اور رکوع اور سجود کو اشار ے س ے بجالائ ے اور احت یاط لازم یہ ہے ک ہ ننگا شخص نماز ک ی حالت میں اپنی شرمگاہ کو اپن ے بعض اعضا ک ے ذر یعے مثلاً بیٹھ ا ہ و تو دونوں رانوں س ے اور ک ھڑ ا ہ و تو دونوں ہ ات ھ وں س ے چ ھ پال ے۔
806 ۔ نماز پ ڑھ ن ے وال ے ک ے لباس ک ی چھ شرط یں ہیں :
(اول) پاک ہ و ۔
(دوم) مُباح ہ و ۔
(سوم) مُردار کے اجزا س ے ن ہ بنا ہ و ۔
(چہ ارم) حرام گوشت ح یوان کے اجزا س ے ن ہ بنا ہ و ۔
(پنجم اور ششم) اگر نماز پڑھ ن ے والا مرد ہ و تو اس کا لباس خالص ریشم اور زر دوزی کا بنا ہ و ن ہ ہ و ۔ ان شرطوں ک ی تفصیل آئندہ مسائل م یں بتائی جائے گ ی۔
807 ۔ نماز پ ڑھ ن ے وال ے کا لباس پاک ہ ونا ضرور ی ہے۔ اگر کوئ ی شخص حالت اختیار میں نجس بدن یا نجس لباس کے سات ھ نماز پ ڑھے تو اس ک ی نماز باطل ہے۔
808 ۔ اگر کوئ ی شخص اپنی کوتاہی کی وجہ س ے یہ نہ جانتا ہ و ک ہ نجس بدن اور لباس ک ے سات ھ نماز باطل ہے اور نجس بدن یا لباس کے سات ھ نماز پ ڑھے تو احت یاط لازم کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔
809 ۔ اگر کوئ ی شخص مسئلہ ن ہ جانن ے ک ی وجہ س ے کوتا ہی کی بنا پر کسی نجس چیز کے بار ے م یں یہ جانتا ہ و ک ہ نجس ہے مثلاً یہ نہ جانتا ہ و ک ہ کافر کا پس ینہ نجس ہے اور اس (پس ینے) کے سات ھ نماز پ ڑھے تو اس ک ی نماز احتیاط لازم کی بنا پر باطل ہے۔
810 ۔ اگر کس ی شخص کو یہ یقین ہ و ک ہ اس کا بدن یا لباس نجس نہیں ہے اور اسک ے نجس ہ ون ے ک ے بار ے م یں اسے نماز ک ے بعد پت ہ چل ے تو اس کی نماز صحیح ہے۔
811 ۔ اگر کوئ ی شخص یہ بھ ول جائ ے ک ہ اس کا بدن یا لباس نجس ہے اور اس ے نماز ک ے دوران یا اس کے بعد یاد آئے چنانچ ہ اگر اس ن ے لاپروائ ی اور اہ م یت نہ د ینے کی وجہ س ے ب ھ لا د یا ہ و تو احت یاط لازم کی بنا پر ضروری ہے ک ہ و ہ نماز کو دوبار ہ پ ڑھے اور اگر وقت گزر گ یا ہ و تو ا س کی قضا کرے۔ اور اس صورت ک ے علاو ہ ضرور ی نہیں ہے ک ہ و ہ نماز کو دوبار ہ پ ڑھے۔ ل یکن اگر نماز کے دوران اس ے یاد آئے تو ضرور ی ہے ک ہ اس حکم پر عمل کر ے جو بعد وال ے مسئل ے م یں بیان کیا جائے گا ۔
812 ۔ جو شخص وس یع وقت میں نماز میں مشغول ہ و اگر نماز ک ے دوران اس ے پت ہ چل ے ک ہ اس کا بدن یا لباس نجس ہے اور اس ے یہ احتمال ہ و ک ہ نماز شروع کرن ے ک ے بعد نجس ہ وا ہے تو اس صورت م یں اگر بدن یا لباس پاک کرنے یا لباس تبدیل کرنے یا لباس اتار دینے سے نماز ن ہ ٹ و ٹے تو نم از کے دوران بد ن یا لباس پاک کرے یا لباس تبدیل کرے یا اگر کسی اور چیز نے اس ک ی شرم گاہ کو ڈھ انپ رک ھ ا ہ و تو لباس اتار د ے ل یکن جب صورت یہ ہ و ک ہ اگر بدن یا لباس پاک کرے یا اگر لباس بدلے یا اتارے تو نماز ٹ و ٹ ت ی ہ و یا اگر لباس اتارے تو ننگا ہ و جاتا ہ و تو احت یاط لازم کی بنا پر ضروری ہے ک ہ دوبار ہ پاک لباس ک ے سات ھ نماز پ ڑھے۔
813 ۔ جو شخص تنگ وقت م یں نماز میں مشغول ہ و اگر نماز ک ے دوران اس ے پت ہ چل ے ک ہ اس کا لباس نجس ہے اور اس ے یہ احتمال ہ و ک ہ نماز شروع کرن ے ک ے بعد نجس ہ وا ہے تو اگر صورت یہ ہ و ک ہ لباس پاک کرن ے یا بدلنے یا اتارنے س ے نماز ن ہ ٹ و ٹ ت ی ہ و اور و ہ لباس اتار سکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ لباس کو پاک کر ے یا بدلے یا اگر کسی اور چیز نے اس ک ی شرم گاہ کو ڈھ انپ رک ھ ا ہ و تو لباس اتار د ے اور نماز ختم کر ے ل یکن اگر کسی اور چیز نے اس ک ی شرمگاہ کو ن ہ ڈھ انپ رک ھ ا ہ و اور و ہ لباس پاک ن ہ کر سکتا ہ و اور اس ے بدل ب ھی نہ سکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس ی نجس لباس کے سات ھ نماز کو ختم کر ے۔
814 ۔ کوئ ی شخص جو تنگ وقت میں نماز میں مشغول ہ و اور نماز ک ے دوران پت ہ چل ے ک ہ اس کا بدن نجس ہے اور اس ے یہ احتمال ہ و ک ہ نماز شروع کرن ے ک ے بعد نجس ہ وا ہے تو اگر صورت یہ ہ و ک ہ بدن پاک کرن ے س ے نماز ن ہ ٹ و ٹ ت ی ہ و تو بدن کو پاک کر ے اور اگر نماز ٹ و ٹ ت ی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اسی حالت میں نماز ختم کرے اور اس ک ی نماز صحیح ہے۔
815 ۔ ا یسا شخص جو اپنے بدن یا لباس کے پاک ہ ون ے ک ے بار ے م یں شک کرے اور جستجو ک ے بعد کوئ ی چیز نہ پا کر اور نماز پ ڑھے اور نماز ک ے بعد اس ے پت ہ چل ے ک ہ اس کا بدن یا لباس نجس تھ ا تو اس ک ی نماز صحیح ہے اور اگر اس ن ے جستجو ن ہ ک ی ہ و تو احت یاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ نماز کو دوبارہ پ ڑھے اور اگر وقت گزر گ یا ہ و تو اس ک ی قضا کرے۔
816 ۔ اگر کوئ ی شخص اپنا لباس دھ وئ ے اور اس ے یقین ہ و جائ ے ک ہ لباس پاک ہ و گ یا ہے ، اس ک ے سات ھ نماز پ ڑھے اور نماز ک ے بعد اس ے پت ہ چل ے ک ہ پاک ن ہیں ہ وا ت ھ ا تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔
817 ۔ اگر کوئ ی شخص اپنے بدن یا لباس میں خون دیکھے اور اسے یقین ہ و ک ہ یہ نجس خون میں سے ن ہیں ہے مثلاً اس ے یقین ہ و ک ہ مچ ھ ر کا خون ہے ل یکن نماز پڑھ ن ے ک ے بعد اس ے پت ہ چل ے ک ہ یہ اس خون میں سے ہے جس ک ے سات ھ نماز ن ہیں پڑھی جاسکتی تو اس کی نماز صحیح ہے۔
818 ۔ اگر کس ی شخص کو یقین ہ و ک ہ اس ک ے بدن یا لباس میں جو خون ہے و ہ ا یسا نجس خون ہے جس ک ے سات ھ نماز صح یح ہے مثلاً اس ے یقین ہ و ک ہ زخم اور پ ھ و ڑے کا خون ہے ل یکن نماز کے بعد اس ے پت ہ چل ے ک ہ یہ ایسا خون ہے جس ک ے سات ھ نماز باطل ہے تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔
819 ۔ اگر کوئ ی شخص یہ بھ ول جائ ے ک ہ ا یک چیز نجس ہے اور گ یلا بدن یا گیلا لباس اس چیز سے چ ھ و جائ ے اور اس ی بھ ول ک ے عالم م یں وہ نماز پ ڑھ ل ے اور نماز ک ے بعد اس ے یاد آئے تو اس ک ی نماز صحیح ہے ل یکن اگر اس کا گیلا بدن اس چیز کو چھ و جائ ے جس کا نجس ہ ونا و ہ ب ھ ول گ یا ہے اور اپنے آپ کو پاک کئ ے بغ یر وہ غسل کر ے اور نماز پ ڑھے تو اس کا غسل اور نماز باطل ہیں ما سوا اس صورت کے ک ہ غسل کرن ے س ے بدن ب ھی پاک ہ و جائ ے۔ اور اگر وضو ک ے گ یلے اعضا کا کوئی حصہ اس چ یز سے چ ھ و جائ ے جس ک ے نجس ہ ون ے ک ے بار ے م یں وہ ب ھ ول گ یا ہے اور اس س ے پ ہ ل ے ک ہ و ہ اس حص ے کو پاک کر ے و ہ وضو کر ے اور نماز پ ڑھے تو اس کا وضو اور نماز دونوں باطل ہیں ماسوا اس صورت کے ک ہ وضو کرن ے اس ے وضو ک ے اعضا ب ھی پاک ہ و جائ یں۔
820 ۔ جس شخص کے پاس صرف ا یک لباس ہ و اگر اس کا بدن اور لباس نجس ہ و جائ یں اور اس کے پاس ان م یں سے ا یک کو پاک کرنے ک ے لئ ے پان ی ہ و تو احت یاط لازم یہ ہے ک ہ بدن کو پاک کر ے اور نجس لباس ک ے سات ھ نماز پ ڑھے۔ اور لباس کو پاک کرک ے نجس بدن ک ے سات ھ نماز پ ڑھ نا جائز ن ہیں ہے۔ ل یکن اگر لباس کی نجاست بدن کی نجاست سے ب ہ ت ز یادہ ہ و یا لباس کی نجاست بدن کی نجاست کے لحاظ س ے ز یادہ شدید ہ و تو اس ے اخت یار ہے ک ہ لباس اور بدن م یں سے جس ے چا ہے پاک کر ے۔
821 ۔ جس شخص ک ے پاس نجس لباس ک ے علاو ہ کوئ ی لباس نہ ہ و ضرور ی ہے ک ہ نجس لباس ک ے سات ھ نماز پر ھے اور اس کی نماز صحیح ہے۔
822 ۔ جس شخص ک ے پاس دو لباس ہ وں اگر و ہ یہ جانتا ہ و ک ہ ان م یں سے ا یک نجس ہے ل یکن یہ نہ جانتا ہ و ک ہ کون سانجس ہے اور اس ک ے پاس وقت ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ دونوں لباس ک ے سات ھ نماز پ ڑھے ( یعنی ایک دفعہ ا یک لباس پہ ن کر اور ا یک دفعہ دوسرا لباس پ ہ ن کر دو دفعہ و ہی نماز پڑھے) مثلاً اگر وہ ظ ہ ر اور عصر ک ی نماز پڑھ نا چا ہے تو ضرور ی ہے ک ہ ہ ر ا یک لباس سے ا یک نماز ظہ ر ک ی اور ایک نماز عصر کی پڑھے ل یکن اگر وقت تنگ ہ و تو جس لباس ک ے سات ھ نماز پ ڑھ ل ے کاف ی ہے۔
823 ۔ نماز پ ڑھ ن ے وال ے کا لباس مباح ہ ونا ضرور ی ہے۔ پس اگر ا یک ایسا شخص جو جانتا ہ و ک ہ غصب ی لباس پہ ننا حرام ہے یا کوتاہی کی وجہ س ے مسئل ہ کا حکم ن ہ جانتا ہ و اور جان بوج ھ کر اس لباس ک ے سات ھ نماز پ ڑھے تو احت یاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔ ل یکن اگر لباس میں وہ چیزیں شامل ہ وں جو تن ہ ا شرمگا ہ کو ن ہیں ڈھ انپ سکتیں اور اسی طرح وہ چ یزیں جن سے اگرچ ہ شرمگا ہ کو ڈھ انپا جاسکتا ہ و ل یکن نماز پڑھ ن ے وال ے ن ے ان ہیں حالت نماز میں نہ پ ہ ن رک ھ ا ہ و مثلاً ب ڑ ا رومال یا لنگوٹی جو حبیب میں رکھی ہ و اور اس ی طرح وہ چ یزیں جنہیں نمازی نے پ ہ ن ر کھ ا ہ و اگرچ ہ اس ک ے پاس ا یک مباح سترپوش بھی ہو۔ ا یسی تمام صورتوں میں ان (اضافی)چیزوں کے غصب ی ہ ون ے س ے نماز م یں کوئی فرق نہیں پڑ تا اگرچ ہ احت یاط ان کے ترک کر د ینے میں ہے۔
824 ۔ جو شخص یہ جانتا ہ و ک ہ غصب ی لباس پہ ننا حرام ہے ل یکن اس لباس کے سات ھ نماز پ ڑھ ن ے کا حکم ن ہ جانتا ہ و اگر و ہ جان بوج ھ کر غصب ی لباس کے سات ھ نماز پ ڑھے تو ج یسا کہ سابق ہ مسئل ے م یں تفصیل سے بتا یا گیا ہے احت یاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔
825 ۔ اگر کوئ ی شخص نہ جانتا ہ و یا بھ ول جائ ے ک ہ اس کا لباس غصب ی ہے اور اس لباس ک ے سات ھ نماز پر ھے تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔ ل یکن اگر وہ شخص خود اس لباس کو غصب کرے اور پ ھ ر ب ھ ول جائ ے ک ہ اس غصب ک یا ہے اور اس ی لباس میں نماز پڑھے تو احت یاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔
726 ۔ اگر کس ی شخص کو علم نہ ہ و یا بھ ول جائ ے ک ہ اس کا لباس غصب ی ہے ل یکن نماز کے دوران اس ے پت ہ چل جائ ے اور اس ک ی شرمگاہ کس ی دوسری چیز سے ڈھ ک ی ہ وئ ی ہ و اور و ہ فوراً یا نماز کا تسلسل توڑے بغ یر غصبی لباس اتار سکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ فوراً اس لباس کو اتار د ے اور اگ ر اس کی شرمگاہ کس ی دوسری چیز سے ڈھ ک ی ہ وئ ی نہ ہ و یا وہ غصب ی لباس کو فوراً نہ اتار سکتا ہ و یا اگر لباس کا اتارنا نماز کے تسلسل کو تو ڑ د یتا اور صورت یہ ہ و ک ہ اس ک ے پاس ا یک رکعت پڑھ ن ے جتنا وقت ب ھی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز کو تو ڑ د ے اور اس لباس ک ے سات ھ نماز پ ڑھے جو غصبی نہ ہ و اور اگر اتنا وقت ن ہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز ک ی حالت میں لباس اتار دے اور "بر ہ ن ہ لوگوں ک ی نماز کے مطابق" نماز ختم کر ے۔
827 ۔ اگر کوئ ی شخص اپنی جان کی حفاظت کے لئ ے غصب ی لباس کے سات ھ نماز پ ڑھ ن ے یا مثال کے طور پر غصب ی لباس کے سات ھ اس لئ ے نماز پ ڑھے تاک ہ چور ی نہ ہ وجائ ے تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔
828 ۔ اگر کوئ ی شخص اس رقم لباس خریدے جس کا خمس اس نے ادا ن ہ ک یا ہ و تو اس لباس ک ے سات ھ نماز پ ڑھ ن ے ک ے لئ ے و ہی حکم ہے جو غصب ی لباس کے سات ھ نماز پ ڑھ ن ے کا ہے۔
829 ۔ ضرور ی ہے ک ہ نماز پ ڑھ ن ے وال ے کا لباس اور ہ ر و ہ چ یز جو شرم گاہ چ ھ پان ے ک ے لئ ے ناکاف ی ہے احت یاط لازم کی بنا پر جہ ند ہ خون وال ے مرد ہ ح یوان کے اجزاء س ے ن ہ بن ی ہ و بلک ہ اگر لباس اس مرد ہ ح یوان مثلاً مچھ ل ی اور سانپ سے ت یار کیا جائے جس کا خون ج ہ ند ہ ن ہیں ہ وتا تو ا حتیاط مستحب یہ ہے ک ہ اس ک ے سات ھ نماز ن ہ پ ڑھی جائے۔
830 ۔ اگر نجس مردار ک ی ایسی چیز مثلاً گوشت اور کھ ال جس م یں روح ہ وت ی ہے نماز پ ڑھ ن ے وال ے ک ے ہ مرا ہ ہ و تو کچ ھ بعید نہیں ہے ک ہ اس ک ی نماز صحیح ہ و ۔
831 ۔ اگر حلال گوشت مردار ک ی کوئی ایسی چیز جس میں روح نہیں ہ وت ی مثلاً بال اور ان نماز پڑھ ن ے وال ے ک ے ہ مرا ہ ہ و یا اس لباس کے سات ھ نماز پ ڑھے جو ان چ یزوں سے ت یار کیا گیا ہ و تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔
832 ۔ ضرور ی ہے ک ہ نماز پ ڑھ ن ے وال ے کا لباس ۔۔۔ ان چ یزوں کے علاو ہ جو صرف شرم گا ہ چ ھ پان ے ک ے لئ ے ناکاف ی ہے مثلاً جراب ۔۔۔ جانوروں ک ے اجزا س ے ت یار کیا ہ وا ن ہ ہ و بلک ہ احت یاط لازم کی بنا پر ہ ر اس جانور ک ے اجزا س ے بنا ہ وا ن ہ ہ و جس کا گوشت ک ھ انا حرام ہے اس ی طرح ضروری ہے ک ہ نم از پڑھ ن ے وال ے کا لباس اور بدن حرام گوشت جانور ک ے پ یشاب، پاخانے ، پس ینے ، دودھ اور بال س ے آلود ہ ن ہ ہ و ل یکن اگر حرام گوشت جانور کا ایک بال اس کے لباس پر لگا ہ و تو کوئ ی حرج نہیں ہے۔ اس ی طرح نماز گزار کے ہ مرا ہ ان م یں سے کوئ ی چیز اگر ڈ ب یہ (یا بوتل وغیرہ) میں بند رکھی ہ و تب ب ھی کوئی حرج نہیں ہے۔
833 ۔ حرام گوشت جانور مثلاً بل ی کے من ہ یا ناک کا پانی یا کوئی دوسری رطوبت نماز پڑھ ن ے وال ے ک ے بدن یا لباس پر لگی ہ و اور اگر و ہ تر ہ و تو نماز باطل ہے ل یکن اگر خشک ہ و اور اس کا ع ین جزو زائل ہ و گ یا ہ و تو نماز صح یح ہے۔
834 ۔ اگر کسی کا بال یا پسینہ یا منہ کا لعاب نماز پ ڑھ ن ے وال ے ک ے بدن یا لباس پرلگا ہ و تو کوئ ی حرج نہیں۔ اس ی طرح مردارید، موم اور شہ د اس ک ے ہ مرا ہ ہ و تب ب ھی نماز پڑھ نا جائز ہے۔
835 ۔ اگر کس ی کو شک ہ و ک ہ لباس حلال گوشت جانور س ے ت یار کیا گیا ہے یا حرام گوشت جانور سے ت و خواہ و ہ مقام ی طور پر تیار کیا گیا ہ و یا زر آمد کیا گیا ہ و اس ک ے سات ھ نماز پ ڑھ نا جائز ہے۔
836 ۔ یہ معلوم نہیں ہے ک ہ س یپی حرام گوشت حیوان کے اجزا م یں سے ہے ل ہ ذا س یپ (کے ب ٹ ن وغ یرہ) کے سات ھ نماز پ ڑھ نا جائز ہے۔
837 ۔ سمور کا لباس ( ) اور اس ی طرح گلہ ر ی کی پوستین پہ ن کر نماز پ ڑھ ن ے م یں کوئی حرج نہیں لیکن احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ گل ہ ر ی کی پوستین کے سات ھ نماز ن ہ پ ڑھی جائے۔
838 ۔ اگر کوئ ی شخص ایسے لباس کے سات ھ نماز پ ڑھے جس ک ے متعلق و ہ ن ہ جانتا ہ و یا بھ ول گ یا ہ و ک ہ حرام گوشت جانور س ے ت یار ہ وا ہے تو احت یاط مستحب کی بنا پر اس نماز کو دوبارہ پ ڑھے۔
839 ۔ زر دوز ی کا لباس پہ ننا مردوں ک ے لئ ے حرام ہے اور اس ک ے سات ھ نماز پ ڑھ نا باطل ہے ل یکن عورتوں کے لئ ے نماز م یں یا نماز کے علاو ہ اس ک ے پ ہ نن ے م یں کوئی حرج نہیں ہے۔
840 ۔ سونا پ ہ ننا مثلاً سون ے ک ی زنجیر گلے م یں پہ ننا، سون ے ک ی انگوٹھی ہ ات ھ م یں پہ ننا، سون ے ک ی گھڑی کلائی پر باندھ نا اور سون ے ک ی عینک لگانا مردوں کے لئ ے حرام ہے اور ان چ یزوں کے سات ھ نماز پ ڑھ نا باطل ہے۔ ل یکن عورتوں کے لئ ے نماز م یں اور نماز کے علاو ہ ان چ یزوں کے ا ستعمال میں کوئی حرج نہیں۔
841 ۔ اگر کوئ ی شخص نہ جانتا ہ و یا بھ ول گ یا ہ و تو اس ک ی انگوٹھی یا لباس سونے کا ہے یاشک رکھ تا ہ و اور اس ک ے سات ھ ناز پ ڑھے تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔
842 ۔ نماز پ ڑھ ن ے وال ے مرد کا لباس حت ی کہ احت یاط مستحب کی بنا پر ٹ وپ ی اور ازار بند بھی خالص ریشم کا نہیں ہ ونا چا ہ ئ ے اور نماز ک ے علاو ہ ب ھی خالص ریشم پہ ننا مردوں ک ے لئ ے حرام ہے۔
843 ۔ اگر لباس کا تمام استر یا اس کا کچھ خالص ر یشم کا ہ و تو مرد ک ے لئ ے اس کا پ ہ ننا حرام اور اس ک ے سات ھ نماز پ ڑھ نا باطل ہے۔
844 ۔ جب کس ی لباس کے بار ے م یں یہ علم نہ ہ و ک ہ خالص ر یشم کا ہے یا کسی اور چیز کا بنا ہ وا ہے تو اس کا پہ ننا جائز ہے اور اس ک ے سات ھ نماز پ ڑھ ن ے م یں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
845 ۔ ر یشمی رومال یا اسی جیسی کوئی چیز مرد کی جیب میں ہ و تو کوئ ی حرج نہیں ہے اور و ہ نماز کو باطل ن ہیں کرتی۔
846 ۔ عورت ک ے لئ ے نماز م یں یا اس کے علاو ہ ر یشمی لباس پہ نن ے م یں کوئی حرج نہیں ہے۔
847 ۔ مجبور ی کی حالت میں غصبی اور خالص ریشمی اور زردوزی کا لباس پہ نن ے م یں کوئی حرج نہیں۔ علاو ہ از یں جو شخص یہ لباس پہ نن ے پر مجبور ہ و اور اس ک ے پاس کوئ ی اور لباس نہ ہ و تو و ہ ان لباسوں ک ے سات ھ نماز پ ڑھ سکتا ہے۔
848 ۔ اگر کس ی شخص کے پاس غصب ی لباس کے علاو ہ کوئ ی لباس نہ ہ و اور و ہ یہ لباس پہ نن ے پر مجبور ن ہ ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ ان احکام ک ے مطابق نماز پ ڑھے جو بر ہ ن ہ لوگوں ک ے لئ ے بتائ ے گئ ے ہیں۔
849 ۔ اگر کس ی کے پاس درند ے ک ے اجزا س ے بن ے ہ وئ ے لباس ک ے علاو ہ اور کوئ ی لباس نہ ہ و اور و ہ یہ لباس پہ نن ے پر مجبور ہ و تو اس لباس ک ے س اتھ نماز پ ڑھ سکتا ہے اور اگر لباس پ ہ نن ے پر مجبور ن ہ ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ ان احکام ک ے مطابق نماز پ ڑھ ن ے جو بر ہ ن ہ لوگوں ک ے لئ ے بتائ ے گئے ہیں۔ اور اگر اس ک ے پاس غ یر شکاری حرام جانوروں کے اجزا س ے ت یار شدہ لباس ک ے سوا دوسرا لباس ن ہ ہ و اور و ہ اس لباس کو پ ہ نن ے پر مج بور نہ ہ و تو احت یاط لازم یہ ہے ک ہ دو دفع ہ نماز پ ڑھے۔ ا یک بار اسی لباس کے سات ھ اور ا یک بار اس طریقے کے مطابق جس کا ذکر بر ہ ن ہ لوگو ں کی نماز میں بیان ہ و چکا ہے۔
850 ۔ اگر کس ی مرد کے پاس خالص ر یشمی یا زربفتی لباس کے سوا کوئ ی لباس نہ ہ و اور و ہ لباس پ ہ نن ے پر مجبور ن ہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ان احکام ک ے مطابق نماز پ ڑھے جو بر ہ ن ہ لوگوں ک ے لئ ے بتائ ے گئ ے ہیں۔
851 ۔ اگر کس ی کے پاس ا یسی کوئی چیز نہ ہ و جس س ے و ہ اپن ی شرم گاہ وں کو نماز م یں ڈھ انپ سک ے تو واجب ہے ک ہ ا یسی چیز کرائے پر ل ے یا خریدے لیکن اگر اس پر اس کی حیثیت سے ز یادہ خرچ اٹھ تا ہ و یا صورت یہ ہ و ک ہ اس کام ک ے لئ ے خرچ برداشت کر ے تو اس ک ی حالت تباہ ہ و جائ ے تو ا ن احکام کے مطابق نماز پ ڑھے جو بر ہ ن ہ لوگوں ک ے لئ ے بتائ ے گئ ے ہیں۔
852 ۔ جس شخص ک ے پاس لباس ن ہ ہ و اگر کوئ ی دوسرا شخص اسے لباس بخش د ے یا ادھ ار د ے د ے تو اگر اس لباس کا قبول کرنا اس پر گراں ن ہ گزرتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس ے قبول کرل ے بلک ہ اگر اد ھ ار ل ینا یا بخشش کے طور پر طلب کرنا اس ک ے لئ ے تکل یف کا باعث نہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ جس ک ے پاس لباس ہ و اس س ے اد ھ ار مانگ ل ے یا بخشش کے طور پر طلب کر ے۔
853 ۔ اگر کوئ ی شخص ایسا لباس پہ ننا چا ہے جس کا کپ ڑ ا، رنگ یا سلائی رواج کے مطابق ن ہ ہ و تو اگر اس کا پ ہ ننا اس ک ی شان کے خلاف اور تو ہین کا باعث ہ و تو اس کا پ ہ ننا حرام ہے۔ ل یکن اگر وہ اس لباس ک ے سات ھ نماز پ ڑھے اور اس ک ے پاس شرمگا ہ چ ھ پان ے ک ے لئ ے فقط و ہی لباس ہ و ت و اس کی نماز صحیح ہے۔
854 ۔ اگر مرد زنان ہ لباس پ ہ ن ے اور عورت مردان ہ لباس پ ہ ن ے اور اس ے اپن ی زینت قرار دے تو احت یاط کی بنا پر اس کی پہ ننا حرام ہے ل یکن اس لباس کے سات ھ نماز پ ڑھ نا ہ ر صورت م یں صحیح ہے۔
855 ۔ جس شخص کو ل یٹ کر نماز پرھ ن ی چاہے اگر اس کا لحاف درند ے ک ے اجزا س ے بلک ہ احت یاط کی بنا پر ہ ر حرام گوشت جانور ک ے اجزاء س ے بنا ہ و یا نس یا ریشمی ہ و اور اس ے پ ہ ناوا ک ہ ا جاسک ے تو اس م یں بھی نماز جائز نہیں ہے۔ ل یکن اگر اسے محض اپن ے اوپر ڈ ال ل یا جائے تو کوئ ی حرج نہیں اور اس سے نماز باطل ن ہیں ہ وگ ی البتہ گد یلے کے استمعال م یں کسی حالت میں بھی کوئی قباحت نہیں ماسوا اس کے ک ہ اس کا کچ ھ حص ہ انسان اپن ے اوپر لپ یٹ لے اور اس ے عرف عام م یں پہ ناوا ک ہ ا جائ ے تو اس صورت م یں اس کا بھی وہی حکم ہے جو لحاف کا ہے۔
856 ۔ ت ین صورتوں میں جن کی تفصیل نیچے بیان کی جارہی ہے اگر نماز پ ڑھ ن ے وال ے کا بدن یا لباس نجس بھی ہ و تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔
(اول) اس کے بدن ک ے زخم، جراحت یا پھ و ڑے ک ی وجہ س ے اس ک ے لباس یا بدن پر خون لگ جائے۔
(دوم) اس کے بدن یا لباس پر درہ م ۔ جس ک ی مقدار تقریباً انگوٹھے ک ے اوپر وال ی گرہ ک ے برابر ہے۔ ک ی مقدار سے کم خون لگ جائ ے۔
(سوم) وہ نجس بدن یا لباس کے سات ھ نماز پ ڑھ ن ے پر مجبور ہ و ۔
علاوہ ازیں ایک اور صورت میں اگر نماز پڑھ ن ے وال ے کا لباس نجس ب ھی ہ و تو اس ک ی نماز صحیح ہے اور و ہ صورت یہ ہے ک ہ اس کا چ ھ و ٹ ا لباس مثلاً موزہ اور ٹ وپ ی نجس ہ و ۔
ان چاروں صورتوں کے مفصل احکام آئند ہ مسئلوں م یں بیان کئے جائ یں گے۔
857 ۔ اگر نماز پ ڑھ ن ے وال ے ک ے بدن یا لباس پر زخم یا جراحت یا پھ و ڑے کا خون ہ و تو و ہ اس خون ک ے سات ھ یا اس وقت تک نماز پڑھ سکتا ہے جب تک زخم یا جراحت یا پھ و ڑ ا ٹھیک نہ ہ و ج ائے اور اگر اس ک ے بدن یا لباس پر ایسی پیپ ہ و جو خون ک ے سات ھ نکل ی ہ و یا ایسی دوائی ہ و جو زخ م پر لگائی گئی ہ و اور نجس ہ و گئ ی ہ و تو اس ک ے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے۔
858 ۔ اگر نماز پ ڑھ ن ے وال ے ک ے بدن یا لباس پر ایسی خراش یا زخم کا خون لگا ہ و جو جلد ی ٹھیک ہ و جاتا ہ و اور جس کا د ھ ونا آسان ہ و تو اس ک ی نماز باطل ہے۔
859 ۔ اگر بدن یا لباس کی ایسی جگہ جو زخم س ے فاصل ے پر ہ و زخم ک ی رطوبت سے نجس ہ و جائ ے تو اس ک ے سات ھ نماز پ ڑھ نا جائز ن ہیں ہے ل یکن اگر لباس یا بدن کی وہ جگ ہ جو عموماً زخم ک ی رطوبت سے آلود ہ ہ وجات ی ہے ا س زخم کی رطوبت سے نجس ہ و جائ ے تو اس ک ے سات ھ نماز پ ڑھ ن ے م یں کوئی حرج نہیں۔
860 ۔ اگر کس ی شخص کے بدن یا لباس کو اس بواسیر سے جس ک ے مس ے با ہ رن ہ ہ وں یا اس زخم سے جو من ہ اور ناک وغ یرہ کے اندر ہ و خون لگ جائ ے تو ظا ہ ر یہ ہے ک ہ و ہ اس ک ے سات ھ نماز پ ڑھ سکتا ہے البت ہ اس بواسیر کے خون ک ے سات ھ نماز پ ڑھ نا بلا اشکال جائز ہے جس ک ے مس ے مقعد ک ے با ہ ر ہ وں ۔
861 ۔ اگر کوئ ی ایسا شخص جس کے بدن پر زخم ہ و اپن ے بدن یا لباس پر ایسا خون دیکھے جو درہ م س ے ز یادہ ہ و اور یہ نہ جانتا ہ و ک ہ یہ خون زخم کا ہے یا کوئی اور خون ہے تو احت یاط واجب یہ ہے ک ہ اس خون ک ے سات ھ نماز پ ڑھے۔
862 ۔ اگر کس ی شخص کے بدن پر چند زخم ہ وں اور و ہ ا یک دوسرے ک ے اس قدر نزد یک ہ وں ک ہ ا یک زخم شمار ہ وت ے ہ وں تو جب تک و ہ زخم ٹھیک نہ ہ وجائ یں ان کے خون ک ے سات ھ نماز پ ڑھ ن ے م یں کوئی حرج نہیں لیکن اگر وہ ا یک دوسرے س ے اتن ے دور ہ وں ک ہ ان میں سے ہ ر زخم ا یک علیحدہ زخم شمار ہ و تو جو زخم ٹھیک ہ و جائ ے ضرور ی ہے ک ہ نماز ک ے لئ ے بدن اور لباس کو د ھ و کر اس زخم ک ے خون س ے پاک کر ے۔
863 ۔ اگر نماز پر ھ ن ے وال ے ک ے بدن یا لباس پر سوئی کی نوک کے برابر ب ھی حیض کا خون لگا ہ و تو اس ک ی نماز باطل ہے۔ اور احت یاط کی بنا پر نجس حیوانات مثلاً سّور، مُردار اور حرام گوشت جانور نیز نفاس اور استحاضہ ک ی بھی یہی صورت ہے ل یکن کوئی دوسرا خون مثلاً انسان یا حلال گوشت حیوان کے خون ک ی چھینٹ بدن کے کئ ی حصوں پر لگی ہ و ل یکن اس کی مجموعی مقدار ایک درہ م س ے کم ہ و تو اس ک ے سات ھ نماز پ ڑھ ن ے م یں کوئی حرج نہیں ہے۔
864 ۔ جو خون بغ یر استر کے کپ ڑے پر گر ے اور دوسر ی طرف پہ نچ جائ ے و ہ ا یک خون شمار ہ وتا ہے ل یکن اگر کپڑے ک ی دوسری طرف الگ سے خون آلود ہ ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ ان م یں سے ہ ر ا یک کو علیحدہ خون شمار کیا جائے۔ پس اگر و ہ خون جو کپ ڑے ک ے سامن ے ک ے رخ اور پچ ھ ل ی طرف ہے مجم وعی طور پر ایک درہ م س ے کم ہ و تو اس ک ے سات ھ نماز صح یح ہے اور اگر اس س ے ز یادہ ہ و تو اس ک ے سات ھ نماز باطل ہے۔
865 ۔ اگر استر وال ے کپ ڑے پر خون گر ے اور اس ک ے استر تک پ ہ نچ جائ ے یا استر پر گرے اور کپ ڑے تک پ ہ نچ جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ ہ ر خون کو الگ شمار ک یا جائے۔ ل یکن اگر کپڑے کا خون اور استر کا خون اس طرح مل جائ ے ک ہ لوگوں ک ے نزد یک ایک خون شمار ہ و تو اگر کپ ڑے کا خون اور است ر کا خون ملا کر ایک درہ م س ے کم ہ و تو اس ک ے سات ھ نماز صح یح ہے اور اگر زیادہ ہ و تو اس ک ے سات ھ نماز باطل ہے۔
866 ۔ اگر بدن یا لباس پر ایک درہ م س ے کم خون ہ و اور کوئ ی رطوبت اس خون سے مل جائ ے اور اس ک ے اطراف کو آلود ہ کر د ے تو اس ک ے سات ھ نماز باطل ہے خوا ہ خون اور جو رطوبت اس س ے مل ی ہے ا یک درہ م ک ے برابر ن ہ ہ وں ل یکن اگر رطوبت صرف خون سے مل ے اور اس ک ے اطراف کو آلود ہ ن ہ کر ے تو ظا ہ ر یہ ہے ک ہ اس ک ے سات ھ نماز پ ڑھ ن ے م یں کوئی حرج نہیں ہے۔
867 ۔ اگر بدن یا لباس پر خون نہ ہ و ل یکن رطوبت لگنے ک ی وجہ س ے خون س ے نجس ہ و جائ یں تو اگرچہ جو مقدار نجس ہ وئ ی ہے و ہ ا یک درہ م س ے کم ہ و تو اس ک ے سات ھ ب ھی نماز نہیں پڑھی جاسکتی۔
868 ۔ بدن یا لباس پر جو خون ہ و اگر و ہ ا یک درہ م س ے کم ہ و اور کوئ ی دوسری نجاست اس سے آلگ ے مثلاً پ یشاب کا ایک قطرہ اس پر گر جائ ے اور و ہ بدن یا لباس سے لگ جائ ے تو اس ک ے سات ھ نماز پ ڑھ نا جائز ن ہیں بلکہ اگر بدن اور لباس تک ن ہ ب ھی پہ نچ ے تب ب ھی احتیاط لازم کی بنا پر اس میں نماز پڑھ نا صح یح نہیں ہے۔
769 ۔ اگر نماز پ ڑھ ن ے وال ے کو چ ھ و ٹ ا لباس مثلاً ٹ وپ ی اور موزہ جس س ے شرمگا ہ کو ن ہ ڈھ انپا جاسکتا ہ و نجس ہ و جائ ے اور و ہ احت یاط لازم کی بنا پر وہ نجس مردار یا نجس العین حیوان مثلاً کتے (ک ے اجزا) سے ن ہ بنا ہ و تو اس ک ے سات ھ نماز صح یح ہے اور اس ی طرح اگر نجس انگوٹھی کے ساتھ نماز پ ڑھی جائے تو کوئ ی حرج نہیں۔
870 ۔ نجس چ یز مثلاً نجس رومال، چابی اور چاقو کا نماز پڑھ ن ے وال ے ک ے پاس ہ ونا جائز ہے اور بع ید نہیں ہے ک ہ مطلق نجس لباس (جو پ ہ نا ہ وا ن ہ ہ و) اس ک ے پاس ہ و تب ب ھی نماز کو کوئی ضرر نہ پ ہ نچائ ے ( یعنی اس کے پاس ہ وت ے ہ وئ ے نماز صح یح ہ و) ۔
871 ۔ اگر کوئ ی شخص جانتا ہ و ک ہ جو خون اس ک ے لباس یا بدن پر ہے و ہ ا یک درہ م س ے کم ہے ل یکن اس امر کا احتمال ہ و ک ہ یہ اس خون میں سے ہے جو معاف ن ہیں ہے تو اس ک ے لئ ے جائز ہے ک ہ اس خون ک ے سات ھ نماز پ ڑھے اور اس کا د ھ ونا ضرور ی نہیں ہے۔
872 ۔ اگر و ہ خون جو ا یک شخص کے لباس یا بدن پر ہ و ا یک درہ م س ے کم ہ و اور اس ے یہ علم نہ ہ و ک ہ یہ اس خون میں سے ہے جو معاف ن ہیں ہے ، نماز پ ڑھ ل ے اور پ ھ ر اس ے پت ہ چل ے ک ہ یہ اس خون میں سے ت ھ ا جو معاف ن ہیں ہے ، تو اس ک ے لئ ے دوبار ہ نماز پ ڑھ نا ضرور ی نہیں اور اس وقت بھی یہی حکم ہے جب و ہ یہ سمجھ تا ہ و ک ہ خون ا یک درہ م س ے کم ہے اور نماز پ ڑھ ل ے اور بعد م یں پتہ چل ے ک ہ اس ک ی مقدار ایک درہ م یا اس سے ز یادہ تھی، اس صورت میں بھی دوبارہ نماز پ ڑھ ن ے ک ی ضروری نہیں ہے۔
وہ چیزیں جو نمازی کے لباس م یں مستحب ہیں۔
873 ۔ جو شخص چند نماز ی کے لباس م یں مستحب ہیں کہ جن م یں سے تحت الحنک ک ے سات ھ عمام ہ ، عبا، سف ید لباس، صاف ستھ را لباس، خوشبو لگانا اور عت یق کی انگوٹھی پہ ننا ہیں۔
874 ۔ چند چ یزیں نمازی کے لباس م یں مکروہ ہیں جن میں سے س یاہ ، میلا اور تنگ لباس اور شرابی کا لباس پہ ننا یا اس شخص کا لباس پہ ننا جو نجاست س ے پر ہیز نہ کرتا ہ و اور ا یسا لباس پہ ننا جس پر چ ہ ر ے ک ی تصویر بنی ہ و اس ک ے علاو ہ لباس ک ے ب ٹ ن ک ھ ل ے ہ ونا اور ا یسی انگوٹھی پہ نن ا جس پر چہ ر ے
کی تصویر بنی ہ و مکرو ہ ہے۔
نماز پڑھ ن ے وال ے ک ی جگہ ک ی سات شرطیں ہیں :
پہ ل ی شرط یہ ہے ک ہ و ہ مباح ہ و ۔
875 ۔ جو شخص غصب ی جگہ پر اگرچ ہ و ہ قال ین، تخت اور اسی طرح کی دوسری چیزیں ہ وں، نماز پ ڑھ ر ہ ا ہ و تو احت یاط لازم کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے ل یکن غصبی چھ ت ک ے ن یچے اور غصبی خیمے میں نماز پڑھ ن ے م یں کوئی حرج نہیں ہے۔
876 ۔ ا یسی جگہ نماز پ ڑھ نا جس ک ی منفعت کسی اور کی ملکیت ہ و تو منفعت ک ے مالک ک ی اجازت کے بغ یر وہ اں نماز پ ڑھ نا غصب ی جگہ پر نماز پ ڑھ ن ے ک ے حکم م یں ہے مثلاً کرائ ے ک ے مکان م یں مالک مکان یا اس شخص کی اجازت کے بغ یر کہ جس ن ے و ہ مکان کرائ ے پر ل یا ہے نماز پ ڑھے تو احت یاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔ اور اگر مرن ے وال ے ن ے وص یت کی ہ و ک ہ اس ک ے مال کا ت یسرا حصہ فلاں کام پر خرچ ک یا جائے تو جب تک ک ہ ت یسرے حصے کو جدا ن ہ کر یں اس کی جائداد میں نماز نہیں پڑھی جاسکتی۔
877 ۔ اگر کوئ ی شخص مسجد میں بیٹھ ا ہ و اور دوسرا شخص اس ے با ہ ر نکال کر اس ک ی جگہ پر قبض ہ کر ے اور اس جگ ہ نماز پ ڑھے تو اس ک ی نماز صحیح ہے اگرچ ہ اس ن ے گنا ہ ک یا ہے۔
878 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی ایسی جگہ نماز پ ڑھے جس ک ے غصب ی ہ ون ے کا اس ے علم ن ہ ہ و ا ور نماز کے بعد اس ے پت ہ چل ے یا ایسی جگہ نماز پ ڑھے جس ک ے غصب ی ہ ون ے کو و ہ ب ھ ول گ یا ہ و اور نماز ک ے بعد اس ے یاد آئے تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔ ل یکن کوئی اسیا شخص جس نے خود و ہ جگ ہ غصب ک ی ہ و ا ور وہ ب ھ ول جائ ے اور و ہ اں نماز پ ڑھے تو اس ک ی نماز احتیاط کی بنا پر باطل ہے۔
879 ۔ اگر کوئ ی شخص جانتا ہ و ک ہ یہ جگہ غصب ی ہے اور اس م یں تصرف حرام ہے ل یکن اسے یہ علم نہ ہ و ک ہ غصب ی جگہ پر نماز پ ڑھ ن ے م یں اشکال ہے اور و ہ و ہ اں نماز پ ڑھے تو احت یاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔
880 ۔ اگر کوئ ی شخص واجب نماز سواری کی حالت میں پڑھ ن ے پر مجبور ہ و اور سوار ی کا جانور یا اس کی زین یا نعل غصبی ہ و تو اس ک ی نماز باطل ہے اور اگر و ہ شخص اس جانور پر سوار ی کی حالت میں مستحب نماز پڑھ نا چا ہے تو اس کا ب ھی یہی حکم ہے۔
881 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی جائداد میں دوسرے ک ے سات ھ شر یک ہ و اور اس کا حص ہ جدا ن ہ ہ و تو اپن ے شراکت دار ک ی اجازت کے بغ یر وہ اس جائداد پر تصرف ن ہیں کر سکتا اور اس پر نماز نہیں پڑھ سکتا ۔
882 ۔ اگر کس ی شخص ایک ایسی رقم سے کوئ ی جائداد خریدے جس کا خمس اس نے ادا ن ہ ک یا ہ و تو اس جائداد پر اس کاتصرف حرام ہے۔ اور اس م یں اس کی نماز جائز نہیں۔
883 ۔ اگر کس ی جگہ کا مالک زبان س ے نماز پ ڑھ ن ے ک ی اجازت دے د ے اور انسان کو علم ہ و ک ہ و ہ دل س ے راض ی نہیں ہے تو اس ک ی جگہ پر نماز پ ڑھ نا جائز ن ہیں اور اگر اجازت نہ د ے ل یکن انسان کو یقین ہ و ک ہ و ہ دل س ے راض ی ہے تو نماز پر ھ نا جائز ہے۔
884 ۔ جس متوف ی نے زکو ۃ اور اس جیسے دوسرے مال ی واجبات ادا نہ کئ ے ہ وں اس ک ی جائداد میں تصرف کرنا اگر واجبات کی ادائیگی میں مانع نہ ہ و مثلاً اس ک ے گ ھ ر م یں ورثاء کی اجازت سے نماز پ ڑھی جائے تو اشکال ن ہیں ہے۔ اس ی طرح اگر کوئی شخص وہ رقم جو متوف ی کے ذم ے ہ و ادا کر دے یا یہ ضمانت دے ک ہ ادا کر د ے گا تو اس ک ی جائداد میں تصرف کرنے م یں بھی کوئی اشکال نہیں ہے۔
885 ۔ اگر متوف ی لوگوں کا مقروض ہ و تو اس ک ی جائداد میں تصرف کرنا اس مردے ک ی جائداد میں تصرف کرنے ک ے حکم م یں ہے جس ن ے زکوٰ ۃ اور اس کی مانند دوسرے مال ی واجبات ادا نہ کئ ے ہ وں ۔
886 ۔ اگر متوف ی کے ذم ے قرض ن ہ ہ و ل یکن اس کے بعض ورثاء کم سن یا مجنون یا غیر حاضر ہ وں تو ان ک ے ول ی کی اجازت کے بغ یر اس کی جائداد میں تصرف حرام ہے اور اس م یں نماز جائز نہیں۔
887 ۔ کس ی کی جائداد میں نماز پڑھ نا اس صورت م یں جائز ہے جبک ہ اس کا مالک صر یحاً اجازت دے یا کوئی ایسی بات کہے جس س ے معلوم ہ و ک ہ اس ن ے نماز پ ڑھ ن ے ک ی اجازت دے د ی ہے مثلاً اگر کس ی شخص کو اجازت دے ک ہ اس ک ی جائداد میں بیھٹے یا سوئے تو اس س ے سمج ھ ا جاسکتا ہے ک ہ اس ن ے نماز پ ڑھ ن ے ک ی اجازت بھی دے د ی ہے یا مالک کے راض ی ہ ون ے پر دوسر ی وجوہ ات ک ی بناء پر اطمینان رکھ تا ہ و ۔
888 ۔ وس یع و عریض زمین میں نماز پڑھ نا جائز ہے اگرچ ہ اس کا مالک کم سن یا مجنون ہ و یا وہ اں نماز پ ڑھ ن ے پر راض ی نہ ہ و ۔ اس ی طرح وہ زم ینیں کہ جن ک ے درواز ے اور د یوار نہ ہ وں ان م یں ان کے مالک ک ی اجازت کے بغ یر نماز پڑھ سکت ے ہیں۔ ل یکن اگر مالک کمسن یا مجنون ہ و یا اس کے راضی نہ ہ ون ے کا گمان ہ و تو احت یاط لازم یہ ہے ک ہ و ہ اں نماز یہ پڑھی جائے۔
889 ۔ (دوسر ی شرط) ضروری ہے ک ہ نماز ی کی جگہ واجب نمازوں م یں ایسی نہ ہ و ک ہ ت یز حرکت نمازی کے ک ھڑے ہ ون ے یارکوع اور سجود کرنے م یں مانع ہ و بلک ہ احت یاط لازم کی بنا پر ضروری ہے ک ہ اس ک ے بدن کو ساکن رک ھ ن ے م یں بھی مانع نہ ہ و اور اگر وقت ک ی تنگی یا کسی اور وجہ س ے ا یسی جگہ مثلاً بس، ٹ رک، کشت ی یاریل گاڑی میں نماز پڑھے تو جس قدر ممکن ہ و بدن ک ے ٹھہ راو اور قبل ے ک ی سمت کا خیال رکھے اور اگر ٹ رانسپور ٹ قبل ے س ے کس ی دوسری طرف مڑ جائ ے تو اپنا من ہ قبل ے ک ی جانب موڑ د ے۔
890 ۔ جب گا ڑی، کشتی یاریل گاڑی وغیرہ کھڑی ہ وئ ی ہ وں تو ان م یں نماز پڑھ ن ے م یں کوئی حرج نہیں اور اسی طرح جب چل رہی ہ وں تو اس حد تک ن ہ ہ ل جل ر ہی ہ وں ک ہ نماز ی بدن کے بدن ک ے ٹھہ راو م یں حائل ہ وں ۔
891 ۔ گندم، جو اور ان ج یسی دوسری اجناس کے ڈھیر پر جو ہ ل ے جل ے بغ یر نہیں رہ سکت ے نماز باطل ہے۔ (بور یوں کے ڈھیر مراد نہیں ہیں)۔
(تیسری شرط) ضروری ہے ک ہ انسان ا یسی جگہ نماز پ ڑھ ن ے ج ہ اں نماز پور ی پڑھ ل ینے کا احتمال ہ و ۔ ا یسی جگہ نماز پ ڑھ نا صح یح نہیں ہے جس ک ے متعلق اس ے یقین ہ و ک ہ مثلاً ہ وا اور بارش یا بھیڑ بھ ا ڑ ک ی وجہ س ے و ہ اں پور ی نماز نہ پ ڑھ سک ے گا گو اتفاق س ے پور ی پڑھ ل ے۔
892 ۔ اگر کوئ ی شخص ایسی جگہ نماز پ ڑھے ج ہ اں ٹھہ رنا حرام ہ و مثلاً کس ی ایسی مخدوش چھ ت ک ے ن یچے جو عنقریب گرنے وال ی ہ و تو گو و ہ گنا ہ کا مرتکب ہ وگا ل یکن اس کی نماز صحیح ہے۔
893 ۔ کس ی ایسی چیز پر نماز پڑھ نا صح یح نہیں ہے جس پر ک ھڑ ا ہ ونا یا بیٹھ نا حرام ہ و مثلا قال ین کے ا یسے حصے ج ہ اں الل ہ تعال ی کا نام لکھ ا ہ و ۔ چونک ہ ( یہ اسم خدا) قصد قربت کرنے م یں مانع ہے اس لئ ے (نماز پ ڑھ نا) صح یح نہیں ہے۔
(چوتھی شرط) جس جگہ انسان نماز پ ڑھے اس ک ی چھ ت اتن ی نیچی نہ ہ و ک ہ س یدھ ا کھڑ ا ن ہ ہ وسک ے اور ن ہ ہی وہ جگ ہ اتن ی مختصر ہ و ک ہ رکوع اور سجد ے ک ی گنجائش نہ ہ و ۔
894 ۔ اگر کوئ ی شخص ایسی جگہ نماز پ ڑھ ن ے پر مجبور ہ و ج ہ اں بالکل س یدھ ا کھڑ ا ہ ونا ممکن ن ہ ہ و تو اس ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ بیٹ کر نماز پڑھے اور اگر رکوع اور سجود ادا کرن ے کا امکان ن ہ ہ و تو ان ک ے لئ ے سر س ے اشار ہ کر ے۔
895 ۔ ضرور ی ہے ک ہ پ یغمبر اکرم (صلی اللہ عل یہ وآلہ ) اور ائم ۃ اہ ل ب یت علیہ م السلام کی قبر کے آگ ے اگر ان ک ی بے حرمت ی ہ وت ی ہ و تو نماز ن ہ پ ڑھے۔ اس ک ے علاو ہ کس ی اور صورت میں اشکال نہیں۔
(پانچویں شرط) اگر نماز پڑھ ن ے ک ی جگہ نجس ہ و تو اتن ی مرطوب نہ ہ و ک ہ اس ک ی رطوبت نماز پڑھ ن ے وال ے ک ے بدن یا لباس تک پہ نچ ے ل یکن اگر سجدہ م یں پیشانی رکھ ن ے ک ی جگہ نجس ہ و تو خوا ہ و ہ خشک ب ھی ہ و نماز باطل ہے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ نماز پ ڑھ ن ے ک ی جگہ ہ رگز نجس ن ہ ہ و ۔
(چھٹی شرط) احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے ک ہ عورت مرد س ے پ یچھے کھڑی ہ و اور کم از کم اس ک ے سجد ہ کرن ے ک ی جگہ سجد ے ک ی حالت میں مرد کے دو زانوں ک ے برابر فاصل ے پر ہ و ۔
896 ۔ اگر کوئ ی عورت مرد کے برابر یا آگے ک ھڑی ہ و اور دونوں ب یک وقت نماز پڑھ ن ے لگ یں تو ضروری ہے ک ہ نماز کو دوبار ہ پ ڑھیں۔ اور یہی حکم ہے اگر ا یک، دوسرے س ے پ ہ ل ے نماز ک ے لئ ے ک ھڑ ا ہ و ۔
897 ۔ اگر مرد اور عورت ا یک دوسرے ک ے برابر ک ھڑے ہ وں یا عورت آگے ک ھڑی ہ و اور دونوں نماز پ ڑھ ر ہے ہ وں ل یکن دونوں کے درم یان دیوار یا پردہ یا کوئی اور ایسی چیز حائل ہ و ک ہ ا یک دوسرے کون ہ د یکھ سکیں یا ان کے درم یان دس ہ ات ھ س ے ز یادہ فاصلہ ہ و تو دونوں ک ی نماز صحیح ہے۔
(ساتویں شرط) نماز پڑھ ن ے وال ے ک ی پیشانی رکھ ن ے ک ی جگہ ، دو زانو اور پاوں ک ی انگلیاں رکھ ن ے جگ ہ س ے چار مل ی ہ وئ ی ہ وئ ی انگلیوں کی مقدار سے ز یادہ اونچی یا نیچی نہ ہ و ۔ اس مسئل ے ک ی تفصیل سجدے ک ے احکام م یں آئے گ ی۔
898 ۔ نا محرم مرد اور عورت کا ا یک ایسی جگہ ہ ونا ج ہ اں گنا ہ م یں مبتلا ہ ون ے کا احتمال ہ و حرام ہے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ ا یسی جگہ نماز ب ھی نہ پر ھیں۔
899 ۔ جس جگ ہ ستار بجا یا جاتا ہ و اور اس ج یسی چیزیں استعمال کی جاتی ہ وں و ہ اں نماز پ ڑھ نا باطل ن ہیں ہے گو ان کا سننا اور استعمال کرنا گنا ہ ہے۔
900 ۔ احت یاط واجب یہ ہے ک ہ اخت یار کی حالت میں خانہ کعب ہ ک ے اندر اور اس ک ی چھ ت ک ے اوپر واجب نماز ن ہ پ ڑھی جائے۔ ل یکن مجبوری کی حالت میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
901 ۔ خان ہ کعب ہ ک ے اندر اور اس ک ی چھ ت ک ے اوپر نفل ی نمازیں پڑھ ن ے م یں کوئی حرج نہیں ہے بلک ہ مستحب ہے ک ہ خان ہ کعب ہ ک ے اندر ہ ر رکن ک ے مقابل دو رکعت نماز پ ڑھی جائے۔
902 ۔ اسلام ک ی مقدس شریعت میں بہ ت تاک ید کی گئی ہے ک ہ نماز مسجد م یں پڑھی جائے۔ دن یا بھ ر ک ی ساری مسجدوں میں سب سے ب ہ تر مسجد الحرام اور اس ک ے بعد مسجد نبو ی ہے اور اس ک ے بعد مسجد کوف ہ اور اس ک ے بعد ب یت المقدس کا درجہ ہے۔ اس ک ے بعد ش ہ ر ک ی جامع اور اس کے بعد محل ے ک ی مسجد اور اس کے بعد بازار ک ی مسجد کا نمبر آتا ہے۔
903 ۔ عورتوں ک ے لئ ے ب ہ تر ہے ک ہ نماز ا یسی جگہ پ ڑھیں جو نا محرم سے محفوظ ہ ون ے ک ے لحاظ س ے دوسر ی جگہ وں س ے ب ہ تر ہ و خوا ہ و ہ جگ ہ مکان یا مسجد یا کوئی اور جگہ ہ و ۔
904 ۔ ائم ہ ا ہ ل ب یت علیہ م السلام کے حرموں م یں نماز پڑھ نا مستحب ہے بلک ہ مسجد م یں نماز پڑھ ن ے س ے ب ہ تر ہے او ر روایت ہے ک ہ حضرت ام یر المومنین علیہ السلام کے حرم پاک م یں نماز پڑھ نا دو لاک ھ نمازوں ک ے برابر ہے۔
905 ۔ مسجد م یں زیادہ جانا اور اس مسجد میں جانا آباد نہ ہ و ( یعنی جہ اں لوگ ب ہ ت کم نماز پ ڑھ ن ے آت ے ہ وں) مستحب ہے اور اگر کوئ ی شخص مسجد کے پ ڑ وس م یں رہ تا ہ و اور کوئ ی عذر بھی نہ رک ھ تا ہ و تو اس ک ے لئ ے مسجد ک ے علاو ہ کس ی اور جگہ نماز پ ڑھ نا مکرو ہ ہے۔
906 ۔ جو شخص مسجد م یں نہ آتا ہ و، مستحب ہے ک ہ انسان اس ک ے سات ھ مل کر ک ھ انا ک ھ ائ ے ، اپن ے کاموں م یں اس سے مشور ہ ن ہ کر ے ، اس ک ے پ ڑ وس م یں نہ ر ہے اور ن ہ اس س ے عورت کا رشتہ ل ے اور ن ہ اس ے رشت ہ د ے۔ ( یعنی اس کا سوشل بائیکاٹ کرے ) ۔
907 ۔ چند مقامات پر نماز پ ڑھ نا مکرو ہ ہے جن م یں سے کچ ھ یہ ہیں :
1 ۔ حمام
2 ۔ شور زم ین
3 ۔ کس ی انسان کے مقابل
4 ۔ اس درواز ے ک ے مقابل جو ک ھ لا ہ و
5 ۔ س ڑ ک، اور کوچ ے م یں بشرطیکہ گزرنے والوں ک ے لئ ے باعث زحمت ن ہ ہ و اور اگر ان ہیں زحمت ہ و تو ان ک ے راست ے م یں رکاوٹ ڈ النا حرام ہے۔
6 ۔ آگ اور چراغ ک ے مقابل
7 ۔ باورچ ی خانے م یں اور ہ ر اس جگ ہ ج ہ اں آگ ک ی بھٹی ہ و ۔
8 ۔ کنو یں کے اور ا یسے گڑھے ک ے مقابل جس م یں پیشاب کیا جاتا ہ و ۔
9 ۔ جان دار کے فو ٹ و یا مجسمے ک ے سامن ے مگر یہ کہ اس ے ڈھ انپ د یا جائے ۔
10 ۔ ا یسے کمرے م یں جس میں جنب شخص موجود ہ و ۔
11 ۔ جس جگ ہ فو ٹ و ہ و خوا ہ ہ و نماز پ ڑھ ن ے وال ے ک ے سامن ے ن ہ ہ و ۔
12 ۔ قبر ک ے مقابل
13 ۔ قبر ک ے اوپر
14 ۔ دو قبروں ک ے درم یان
15 ۔ قبرستان م یں۔
908 ۔ اگر کوئ ی شخص لوگوں کی رہ گزر پر نماز پ ڑھ ر ہ ا ہ و یا کوئی اور شخص اس کے سامن ے ک ھڑ ا ہ و تو نماز ی کے لئ ے مستحب ہے ک ہ اپن ے سامن ے کوئ ی چیز رکھ ل ے اور اگر و ہ چ یز لکڑی یا رسی ہ و تو ب ھی کافی ہے۔
909 ۔ مسجد ک ی زمین، اندرونی اور بیرونی چھ ت اور اندرون ی دیوار کو نجس کرنا حرام ہے اور جس شخص کو پت ہ چل ے ک ہ ان م یں سے کوئ ی مقام نجس ہ و گ یا ہے تو ضرور ی ہے ک ہ اس ک ی نجاست کو فوراً دور کرے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ مسجد ک ے د یوار کا بیرونی حصے کو ب ھی نجس نہ ک یا جائے اور اگر وہ نجس ہ و جائ ے تو نجاست کا ہٹ انا لازم ن ہیں لیکن اگر دیوار کا بیرونی حصہ نجس کرنا مسجد ک ی بے حرمت ی کا سبب ہ و تو قطعاً حرام ہے اور اس قدر نجاست کا زائل کرنا ک ہ جس س ے ب ے حرمت ی ختم ہ و جائ ے ضرور ی ہے۔
910 ۔ اگر کوئ ی شخص مسجد کو پاک کرنے پر قادر ن ہ ہ و یا اسے مدد ک ی ضرورت ہ و جو دست یاب نہ ہ و تو مسجد کا پاک کرنا اس پر واجب ن ہیں لیکن یہ سمجھ تا ہ و ک ہ اگر دوسر ے کو اطلاع د ے گا تو یہ کام ہ و جائ ے گا تو ضرور ی ہے ک ہ اس ے اطلاع د ے۔
911 ۔ اگر مسجد ک ی کوئی جگہ نجس ہ وگئ ی ہ و جس ے ک ھ ود ے یا توڑے بغ یر پاک کرنا ممکن نہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس جگ ہ کو ک ھ ود یں یا توڑیں جب کہ جزو ی طور پر کھ ودنا یا توڑ نا پ ڑے یا بے حرمت ی کا ختم ہ ونا ممکل طور پر ک ھ ودن ے یا توڑ ن ے پر موقف ہ و ورن ہ تو ڑ ن ے م یں اشکال ہے۔ جو جگ ہ کھ ود ی گئی ہ و اس ے پر کرنا اور جو جگ ہ تو ڑی گئی ہ و اس ے تعم یر کرنا واجب نہیں ہے ل یکن مسجد کی کوئی چیز مثلاً اینٹ اگر نجس ہ وگئ ی ہ و تو ممکن ہ صورت م یں اسے پان ی سے پاک کر ک ے ضرور ی ہے ک ہ اس ک ی اصلی جگہ پر لگا د یا جائے۔
912 ۔ اگر کوئ ی شخص مسجد کو غصب کرے اور اس ک ی جگہ گ ھ ر یا ایسی ہی کوئی چیز تعمیر کرے یا مسجد اس قدر ٹ و ٹ پ ھ و ٹ جائ ے ک ہ اس ے مسجد ن ہ ک ہ ا جائ ے تب ب ھی احتیاط مستحب کی بنا پر اسے نجس ن ہ کر ے ل یکن اسے پاک کرنا واجب ن ہیں۔
913 ۔ ائم ہ ا ہ ل ب یت علیہ م السلام میں سے کس ی امام کا حرم نجس کرنا حرام ہے اگر ان ک ے حرموں م یں سے کوئ ی حرم نجس ہ و جائ ے اور اس کا نجس ر ہ نا اس ک ی بے حرمت ی کا سبب ہ و تو اس کا پاک کرنا واجب ہے بلک ہ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ خوا ہ ب ے حرمت ی نہ ہ وت ی ہ و تب ب ھی پاک کیا جائے۔
914 ۔ اگر مسجد ک ی چٹ ائ ی نجس ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس ے د ھ و کر پاک کر یں اور اگر چٹ ائ ی کا نجس ہ ونا مسجد ک ی بے حرمت ی شمار ہ وتا ہ و اور و ہ د ھ ون ے س ے خراب ہ وت ی ہ و اور نجس حص ے کا کا ٹ د ینا بہ تر ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس ے کا ٹ د یا جائے۔
915 ۔ اگر کس ی عین نجاست یا نجس چیز کو مسجد میں لے جان ے س ے مسجد ک ی بے حرمت ی ہ وت ی ہ و تو اس کا مسجد م یں لے جانا حرام ہے بلک ہ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اگر ب ے حرمت ی نہ ہ وت ی ہ و تب ب ھی عین نجاست کو مسجد میں نہ ل ے جا یا جائے۔
916 ۔ اگر مسجد م یں مجلس عزا کے لئ ے قنات تان ی جائے اور فرش بچ ھ ا یا جائے اور س یاہ پردے ل ٹ کائ ے جائ یں اور چائے کا سامان اس ک ے اندر ل ے جا یا جائے تو اگر یہ چیزیں مسجد کے تقدس کو پامال ن ہ کرت ی ہ وں اور نماز پ ڑھ ن ے م یں بھی مانع نہ ہ وت ی ہ وں تو کوئ ی حرج نہیں۔
917 ۔ احت یاط واجب یہ ہے ک ہ مسجد ک ی سونے س ے ز ینت نہ کر یں اور احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ مسجد کو انسان اور ح یوان کی طرح جانداروں کی تصویروں سے ب ھی نہ سجا یا جائے۔
918 ۔ اگر مسجد ٹ و ٹ پ ھ و ٹ ب ھی جائے تب ب ھی نہ تو اس ے ب یچا جاسکتا ہے اور ن ہ ہی ملکیت اور سٹ رک م یں شامل کیا جاسکتا ہے۔
919 ۔ مسج د کے دروازوں، ک ھڑ ک یوں اور دوسری چیزوں کا بیچنا حرام ہے اور اگر مسجد ٹ و ٹ پ ھ و ٹ جائ ے تب ب ھی ضروری ہے ک ہ ان چ یزوں کو اسی مسجد کی مرمت کے لئ ے استمعال ک یا جائے اور اگر اس مسجد ک ے کام ک ی نہ ر ہی ہ وں تو ضرور ی ہے ک ہ کس ی دوسری مسجد کے کام م یں لایا جائے اور اگ ر دوسری مسجدوں کے کام ک ی بھی نہ ر ہی ہ وں تو ان ہیں بیچا جاسکتا ہے اور جو رقم حاصل ہ و و ہ بصورت امکان اس ی مسجد کی مرمت پرورنہ کس ی دوسری مسجد کی مرمت پر خرچ کی جائے۔
920 ۔ مسجد کا تعم یر کرنا اور ایسی مسجد کی مرمت کرنا جو مخدوش ہ و مستحب ہے اور اگر مسجد اس قدر مخدوش ہ و ک ہ اس ک ی مرمت ممکن نہ ہ و تو اس ے گرا کر دوبار ہ تعم یر کیا جاسکتا ہے بلک ہ اگر مسجد ٹ و ٹی پھ و ٹی نہ ہ و تب ب ھی اسے لوگوں ک ی ضرورت کی خاظر گرا کر وسیع کیا جاسکتا ہے۔
921 ۔ مسجد کو صاف ست ھ را رک ھ نا اور اس م یں چراغ جلانا مستحب ہے اور اگر کوئ ی شخص مسجد میں جانا چاہے تو مستحب ہے ک ہ خوشبو لگائ ے اور پاک یزہ اور قیمتی لباس پہ ن ے اور اپن ے جوت ے ک ے تلووں ک ے بار ے م یں تحقیق کرے ک ہ ک ہیں نجاست تو نہیں لگی ہ وئ ی۔ ن یز یہ کہ مسجد م یں داخل ہوتے وقت پہ ل ے دا یاں پاوں اور باہ ر نکلت ے وقت پ ہ ل ے با یاں پاوں رکھے اور اس ی طرح مستحب ہے ک ہ سب لوگوں س ے پ ہ ل ے مسجد م یں آئے اور سب س ے بعد م یں نکلے۔
922 ۔ جب کوئ ی شخص مسجد میں داخل ہ و تو مستحب ہے ک ہ دو رکعت نماز تح یت و احترام مسجد کی نیت سے پ ڑھے اور اگر واجب نماز یا کوئی اور مستحب نماز پڑھے تب ب ھی کافی ہے۔
923 ۔ اگر انسان مجبور ن ہ ہ و تو مسجد میں سونا، دنیاوی کاموں کے بار ے م یں گفتگو کرنا اور کوئی کام کاج کرنا اور ایسے اشعار پڑھ نا جن م یں نصیحت اور کام کی کوئی بات نہ ہ و مکر و ہ ہے۔ ن یز مسجد میں تھ وکنا، ناک ک ی آلائش پھینکنا اور بلغم تھ وکنا ب ھی مکروہ ہے بلک ہ صورتو ں حرام ہے۔ اور اس ک ے علاو ہ گمشدہ (شخص یا چیز) کو تلاش کرتے ہ وئ ے آواز کو بلند کرنا ب ھی مکروہ ہے۔ ل یکن اذان کے لئ ے آواز بلند کرن ے ک ی ممانعت نہیں ہے۔
924 ۔ د یوانے کی مسجد میں داخل ہ ون ے د ینا مکروہ ہے اور اس ی اس بچے کو ب ھی داخل ہ ون ے د ینا مکروہ ہے جو نماز یوں کے لئ ے باعث زحمت ہ و یا احتمال ہ و ک ہ و ہ مسجد کو نجس کر د ے گا ۔ ان دو صورتوں ک ے علاو ہ بچ ے کو مسجد م یں آنے د ینے میں کوئی حرج نہیں۔ اس شخص کا مسجد م یں جانا بھی مکروہ ہے جس ن ے پ یاز، لہ سن یا ان سے مشاب ہ کوئ ی چیز کھ ائ ی ہ و ک ہ جس ک ی بو لوگوں کو ناگوار گزرتی ہ و ۔
925 ۔ ہ ر مر د اور عورت کے لئ ے مستحب ہے ک ہ روزان ہ ک ی واجب نمازوں سے پ ہ ل ے اذان اور اقامت ک ہے اور ا یسا کرنا دوسری واجب یا مستحب نمازوں کے لئ ے مشروع ن ہیں لیکن عید فطر اور عید قربان سے پ ہ ل ے جب ک ہ نماز با جماعت پ ڑھیں تو مستحب ہے ک ہ ت ین مرتبہ "اَلصَّلوٰ ۃ" کہیں۔
926 ۔ مستحب ہے ک ہ بچ ے ک ی پیدائش کے پ ہ ل ے دن یا ناف اکھڑے س ے پ ہ ل ے اس ک ے دائ یں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے۔
927 ۔ اذان ا ٹھ ار ہ جملوں پر مشتمل ہے۔
اَللّٰہ اَکبَرُ اَللّٰہ اَکبَرُ اَللّٰ ہ اَکبَرُ اَللّٰ ہ اَکبَرُ
اَشھ َدُ اَن لاَّ اِلٰہ اِلاَّ الل ہ اَشھ َدُ اَن لاَّ اِلٰ ہ اِلاَّ الل ہ
اَشھ َدُ اَن مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللہ اَش ھ َدُ اَن مُحَمَّدًا رَّسُولُ الل ہ
حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃ ِ حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃ ِ
حَیَّ عَلَی الفلاَحِ حَیَّ عَلَی الفَلاَحِ
حَیَّ عَلَی خَیرِالعَمَلِ حَیَّ عَلٰی خَیرِ العَمَلِ
اَللّٰہ اَکبَرُ اَللّٰہ اَکبَرُ
لاَّ اِلٰہ اِلاَّ الل ہ لاَّ اِلٰ ہ اِلاَّ الل ہ
اور اقامت کے ستر ہ جمل ے ہیں یعنی اذان کی ابتدا سے دو مرتب ہ اَللّٰ ہ اَکبَرُ اور آخر س ے ا یک مرتبہ لاَّ اِلٰ ہ اِلاَّ الل ہ کم ہ و جاتا ہے اور حَ یَّ عَلٰی خَیرِالعَمَلِ کہ ن ے ک ے بعد دو دفع ہ قَدقَامَتِ الصَّلاَ ۃ ُ کا اضافہ کر د ینا ضروری ہے۔
928 ۔ اَش ھ َدُ اَنَّ عَلِ یًّا وَلِیُّ اللہ اذان اور اقامت کا جزو ن ہیں ہے ل یکن اگر اَشھ َدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ الل ہ ک ے بعد قربت ک ی نیت سے ک ہ ا جائ ے تو اچ ھ ا ہے۔
اَللہ اَکبَرُ یعنی خدائے تعال ی اس سے بزرگ تر ہے ک ہ اس ک ی تعریف کی جائے اَش ھ َدُ اَن لاَّ اِلٰ ہ اِلاَّ الل ہ یعنی میں گواہی دیتا ہ وں ک ہ یکتار اور بے مثل الل ہ ک ے علاو ہ کوئ ی اور پرستش کے قابل ن ہیں ہے۔
اَشھ َدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللہ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد بن عبدالل ہ (صل ی اللہ عل یہ وآلہ ) الل ہ ک ے پ یغمبر اور اسی کی طرف سے ب ھیجے ہ وئ ے ہیں۔
اَشھ َدُ اَنَّ عَلِیًّا اَمِیرَالمُئومِنِینَ وَلِیُّ اللہ یعنی گواہی دیتا ہ وں ک ہ حضرت عل ی علیہ السلام مومنوں کے ام یر اور تمام مخلوق پر اللہ ک ے ول ی ہیں۔
حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃ ِ یعنی نماز کی طرف جلدی کرو۔
حَیَّ عَلَی الفلاَحِ یعنی رستگاری کے لئ ے جلد ی کرو۔
حَیَّ عَلَی خَیرِالعَمَلِ یعنی بہ تر ین کام کے لئ ے جو ک ہ نماز ہے جلد ی کرو۔
قَدقَامَتِ الصَّلاَۃ ُ یعنی التحقیق نماز قائم ہ وگئ ی۔
لاَّ اِلٰہ اِلاَّ الل ہ یعنی یکتا اور بے مثل الل ہ ک ے علاو ہ کوئ ی اور پرستش کے قابل ن ہیں۔
929 ۔ ضرور ی ہے ک ہ اذان اور اقامت ک ے جملوں ک ے درم یان زیادہ فاصلہ ن ہ ہ و اور اگر ان ک ے درم یان معمول سے فاصل ہ رک ھ ا جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ اذان اور اقامت دوبار ہ شروع س ے ک ہی جائیں۔
930 ۔ اگر اذان یا اقامت میں آواز کو گلے م یں اس طرح پھیرے کہ غنا ہ و جائ ے یعنی اذان اور اقامت اس طرح کہے ج یسا لہ و و لعب اور ک ھیل کود کی محفلوں میں آواز نکالنے کا دستور ہے تو و ہ حرام ہے اور اگر غنا ن ہ ہ و تو مکرو ہ ہے۔
931 ۔ تمام صورتوں م یں جب کہ نماز ی دو نمازوں کو تلے اوپر ادا کر ے اگر اس ن ے پ ہ ل ی نماز کے لئ ے اذان ک ہی ہ و تو بعد وال ی نماز کے لئ ے اذان ساقط ہے۔ خوا ہ دو نمازوں کا جمع کرنا ب ہ تر ہ و یا نہ ہ و مثلاً عرف ہ ک ے دن جو نو یں ذی الحجہ کا دن ہے ظ ہ ر اور عصر ک ی نمازوں کا جمع کرنا اور عید قربان کی رات میں مغرب اور عشا کی نمازوں کا جمع کرنا اس شخص کے لئ ے جو مشعرالحرام م یں ہ و ۔ ان صورتوں م یں اذان کا ساقط ہ ونا اس س ے مشروط ہے ک ہ دونمازوں ک ے درم یان بالکل فاصلہ ن ہ ہ و یا بہ ت کم فاصل ہ ہ و ل یکن نفل اور تعقیبات پڑھ ن ے س ے کوئ ی فرق نہیں پڑ تا اور احتیاط واجب یہ ہے ک ہ ان صوتوں م یں اذان مشروعیت کی نیت سے ن ہ ک ہی جائے بلک ہ آخر ی دو صورتوں میں اذان کہ نا مناسب ن ہیں ہے اگرچ ہ مشروع یت کی نیت سے ن ہ ہ و ۔
932 ۔ اگر نماز جماعت ک ے لئ ے اذان اور اقامت ک ہی جاچکی ہ و تو جو شخص اس جماعت ک ے سات ھ نماز پ ڑھ ہ و اس ک ے لئ ے ضرور ی نہیں کہ اپن ی نماز کے لئ ے اذان اور اقامت کہے۔
933 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز کے لئ ے مسجد م یں جائے اور د یکھے کہ نماز جماعت ختم ہ و چک ی ہے تو جب تک صف یں ٹ و ٹ ن ہ جائ یں اور لوگ منتشر نہ ہ وجائ یں وہ اپن ی نماز کے لئ ے اذان اور اقامت ن ہ ک ہے یعنی ان دونوں کا کہ نا مستحب تاک یدی نہیں بلکہ اگر اذان د ینا چاہ تا ہ و تو ب ہ تر یہ ہے کہ ب ہ ت آ ہ ست ہ ک ہے۔ اور اگر دوسر ی نماز جماعت قائم کرنا چاہ تا ہ و تو ہ رگز اذان اور اقامت ن ہ ک ہے۔
934 ۔ ا یسی جگہ ج ہ اں نماز جماعت اب ھی ابھی ختم ہ وئ ی ہ و اور صف یں نہ ٹ و ٹی ہ وں اگر کوئ ی شخص وہ اں تن ہ ا یا دوسری جماعت کے سات ھ جو قائم ہ و ر ہی ہ و ن ماز پڑھ نا چا ہے تو چ ھ شرطوں ک ے سات ھ اذان اور اقامت اس پر س ے ساقط ہ و جات ی ہے۔
1 ۔ نماز جماعت مسجد م یں ہ و ۔ اور اگر مسجد م یں نہ ہ و تو اذان اور اقامت کا ساقط ہ ونا معلوم ن ہیں۔
2 ۔ اس نماز ک ے لئ ے اذان اور اقامت ک ہی جاچکی ہ و ۔
3 ۔ نماز جماعت باطل ن ہ ہ و ۔
4 ۔ اس شخص کو ن ماز اور نماز جماعت ایک ہی جگہ پر ہ و ۔ ل ہ ذا اگر نماز جماعت مسجد ک ے اندر پ ڑھی جائے اور و ہ شخص مسجد ک ی چھ ت پر نماز پ ڑھ نا چا ہے تو مستحب ہے ک ہ اذان اور اقامت ک ہے۔
5 ۔ نماز جماعت ادا ہ و ۔ ل یکن اس بات کی شرط نہیں کہ خود اس ک ی نماز بھی ادا ہ و ۔
6 ۔ اس شخص ک ی نماز اور نماز جماعت کا وقت مشترک ہ و مثلاً دونوں نماز ظ ہ ر یا دونوں نماز عصر پڑھیں یا نماز ظہ ر جماعت س ے پ ڑھی جارہی ہے اور و ہ شخص نماز عصر پ ڑھے یا وہ شخص ظ ہ ر ک ی نماز پڑھے اور جماعت ک ی نماز، عصر کی نماز ہ و اور اگر جماعت ک ی نماز عصر ہ و اور آخر ی وقت میں وہ چا ہے ک ہ مغرب ک ی نماز ادا پڑھے تو اذان اور اقامت اس پر س ے ساقط ن ہیں ہ وگ ی۔
935 ۔ جو شرط یں سابقہ مسئل ہ م یں بیان کی گئی ہیں اگر کوئی شخص ان میں سے ت یسری شرط کے بار ے م یں شک کرے یعنی اسے شک ہ و ک ہ جماعت ک ی نماز صحیح تھی یا نہیں تو اس پر سے اذان اور اقامت ساقط ہے ل یکن اگر وہ دوس ری پانچ شرائط میں سے کس ی ایک کے بار ے م یں شک کرے تو ب ہ تر ہے کہ رجاء مطلوبیت کی نیت سے اذان اور اقامت ک ہے۔
936 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی دوسرے ک ی اذان جو اعلان یا جماعت کی نماز کے لئ ے ک ہی جائے ، سن ے تو مستحب ہے ک ہ اس کا جو حص ہ سن ے خود ب ھی اسے آ ہ ست ہ آ ہ ست ہ د ہ رائ ے۔
937 ۔ اگر کس ی شخص نے کس ی دوسرے ک ے اذان اور اقامت سن ی ہ و خوا ہ اس ن ے ان جملوں کو د ہ را یا ہ و یا نہ د ہ را یا ہ و ن ہ د ہ را یا ہ و تو اگر اس اذان اور اقامت اور اس نماز ک ے درم یان جو وہ پ ڑھ نا چا ہ تا ہ و ز یادہ فاصلہ ن ہ ہ وا ہ و تو و ہ اپن ی نماز کے لئ ے اذان اور اقامت ک ہہ سکتا ہے۔
938 ۔ اگر کوئ ی مرد عوت کی اذان کو لذت کے قصد س ے سن ے تو اس ک ی اذان ساقط نہیں ہ وگ ی بلکہ اگر مرد کا اراد ہ لذت حاصل کرن ے کا ن ہ ہ و تب ب ھی اس کی اذان ساقط ہ ون ے م یں اشکال ہے۔
939 ۔ ضرور ی ہے ک ہ نماز جماعت ک ی اذان اور اقامت مرد کہے ل یکن عورتوں کی نماز جماعت میں اگر عورت اذان اور اقامت کہہ د ے تو کاف ی ہے۔
940 ۔ ضرور ی ہے ک ہ اقامت، اذان ک ے بعد ک ہی جائے علاو ہ از یں اقامت میں معتبر ہے ک ہ ک ھڑے ہ و کر اور حدث س ے پاک ہ و کر (وضو یا غسل یا تیمم کرکے ) ک ہی جائے۔
941 ۔ اگر کوئ ی شخص اذان اور اقامت کے جمل ے بغ یر ترتیب کے ک ہے مثلاً حَ یَّ عَلَی الفَلاَحِ کا جملہ حَ یَّ عَلَی الصَّلاَۃ سے پ ہ ل ے ک ہے تو ضرور ی ہے ک ہ ج ہ اں س ے ترت یب بگڑی ہ و و ہ اں س ے دوبار ہ ک ہے۔
942 ۔ ضرور ی ہے ک ہ اذان اور اقامت ک ے درم یان فاصلہ ن ہ ہ و اور اگر ان ک ے درم یان اتنا فاصلہ ہ و جائ ے ک ہ جو اذان ک ہی جاچکی ہے اس ے اس اقامت ک ی اذان شمار نہ ک یا جاسکے تو مستحب ہے ک ہ دوبار ہ اذان ک ہی جائے ۔ علاو ہ از یں اگر اذان اور اقامت کے اور نماز ک ے درم یان اتنا فاصلہ ہ و جائ ے ک ہ اذان اور اقامت اس نماز ک ی اذان اور اقامت شمار نہ ہ و تو مستحب ہے ک ہ اس نماز ک ے لئ ے دوبار ہ اذان اور اقامت ک ے اور نماز ک ے درم یان اتنا فاصلہ ہ و جائ ے ک ہ اذان اور اقامت اس نماز ک ی اذان اور اقامت شمار نہ ہ و تو مستحب ہے ک ہ اس نماز ک ے لئ ے دوبار ہ اذان ا ور اقامت کہی جائے۔
943 ۔ ضرور ی ہے ک ہ اذان اور اقامت صح یح عربی میں کہی جائیں۔ ل ہ ذا اگر کوئ ی شخص انہیں غلط عربی میں کہے یا ایک حرف کی جگہ کوئ ی دوسرا حرف کہے یا مثلاً ان کا ترجمہ اردو زبان م یں کہے تو صح یح نہیں ہے۔
944 ۔ ضرور ی ہے ک ہ اذان اور اقامت، نماز کا وقت داخل ہ ون ے ک ے بعد ک ہی جائیں اور اگر کوئی شخص عمداً یا بھ ول کر وقت س ے پ ہ ل ے ک ہے تو باطل ہے مگر ا یسی صورت میں جب کہ وسط نماز م یں وقت داخل ہ و تو اس نماز پر صحیح کا حکم لگے گا ک ہ جس کا مسئل ہ 752 میں ذکر ہ و چکا ہے۔
945 ۔ اگر کوئ ی شخص اقامت کہ ن ے س ے پ ہ ل ے شک کر ے ک ہ اذان ک ہی ہے یا نہیں تو ضروری ہے ک ہ اذان ک ہے اور اگر اقامت ک ہ ن ے م یں مشغول ہ و جائ ے اور شک کر ے ک ہ اذان ک ہی ہے یا نہیں تو اذان کہ نا ضرور ی نہیں۔
946 ۔ اگر کوئ ی شخص اقامت کہ ن ے ک ے دوران کوئ ی جملہ ک ہ ن ے س ے پ ہ ل ے ا یک شخص شک کرے ک ہ اس ن ے اس س ے پ ہ ل ے والا جمل ہ ک ہ ا ہے یا نہیں تو ضروری ہے ک ہ جس جمل ے ک ی ادائیگی کے بار ے م یں اسے شک ہ وا ہ و اس ے ادا کر ے ل یکن اگر اس اذان یا اقامت کا کوئی جملہ ادا کرت ے ہ وئ ے شک ہ و ک ہ ا س نے اس س ے پ ہ ل ے والا جمل ہ ک ہ ا ہے یا نہیں تو اس جملے کا ک ہ نا ضرور ی نہیں۔
947 ۔ مستحب ہے ک ہ اذان ک ہ ت ے وقت انسان قبل ے ک ی طرف منہ کرک ے ک ھڑ ا ہ و اور وضو یا غسل کی حالت میں ہ و اور ہ ات ھ وں کو کانوں پر رک ھے اور آواز کو بلند کر ے اور ک ھینچے اور اذان کے جملوں ک ے درم یان قدرے فاصل ہ د ے اور جملوں ک ے درم یان باتیں نہ کر ے۔
948 ۔ مستحب ہے ک ہ اقامت ک ہ ت ے وقت انسان کا بدن ساکن ہ و اور اذان ک ے مقابل ے م یں اقامت آہ ست ہ ک ہے اور اس ک ے جملوں کو ا یک دوسرے س ے ملا ن ہ د ے ل یکن اقامت کے جملوں ک ے درم یان اتنا فاصلہ ن ہ د ے جتنا اذان ک ے جملوں ک ے درم یان دیتا ہے۔
949 ۔ مستحب ہے ک ہ اذان اور اقامت ک ے درم یان ایک قدم آگے ب ڑھے یا تھ و ڑی دیر کے لئ ے ب یٹھ جائے یا سجدہ کر ے یا اللہ کا ذکر کر ے یا دعا پڑھے یا تھ و ڑی دیر کے لئ ے ساکت ہ و جائ ے یا کوئی بات کرے یا دو رکعت نماز پڑھے ل یکن نماز فجر کی اذان اور اقامت کے درم یان کلام کرنا اور نماز مغرب کی اذان اور اقامت کے درم یان نماز پڑھ نا ( یعنی دو رکعت نماز پڑھ نا) مستحب ن ہیں ہے۔
950 ۔ مستحب ہے ک ہ جس شخص کو اذان د ینے پر مقرر کیا جائے و ہ عادل اور وقت شناس ہ و، ن یز یہ کہ بلند آ ہ نگ ہ و اور اونچ ی جگہ پر اذان د ے۔
واجبات نماز گیارہ ہیں:
1 ۔ ن یت 2 ۔ ق یام 3 ۔ تکب یرۃ الاحرام 4 ۔ رکوع 5 ۔ سجود 6 ۔ قراءت 7 ۔ ذکر 8 ۔ تش ہ د 9 ۔ سلام 10 ۔ ترت یب 11 ۔ مُوَالات یعنی اجزائے نماز کا پ ے در پ ے بجا لانا ۔
951 ۔ نماز ک ے واجبات م یں سے بعض اس ک ے رکن ہیں یعنی اگر انسان انہیں بجا نہ لائ ے تو خوا ہ ا یسا کرنا یا عمداً ہ و یا غلطی سے ہ و نماز باطل ہ و جات ی ہے اور بعض واجبات رکن ن ہیں ہیں یعنی اگر وہ غلط ی سے چ ھ و ٹ جائ یں تو نماز باطل نہیں ہ وت ی۔
نماز کے ارکان پانچ ہیں :
1 ۔ ن یت
2 ۔ تکب یرۃ الاحرام (یعنی نماز شروع کرتے وقت الل ہ اکبر ک ہ نا)
3 ۔ رکوع س ے متصل ق یام یعی رکوع میں جانے س ے پ ہ ل ے ک ھڑ ا ہ ونا
4 ۔ رکوع
5 ۔ ہ ر رکعت م یں دو سجدے۔ اور ج ہ اں تک ز یادتی کا تعلق ہے اگر ز یادتی عمداً ہ و تو بغ یر کسی شرط کے نماز باطل ہے۔ اور اگر غلط ی سے ہ وئ ی ہ و تو رکوع م یں یا ایک ہی رکعت کے دو سجدوں م یں زیادتی سے احت یاط لازم کی بنا پر نماز باطل ہے ورن ہ باطل ن ہیں۔
952 ۔ ضرور ی ہے ک ہ انسان نماز قربت ک ی نیت سے یعنی خداوند عالم کی خوشنودی حاصل کرنے ک ے لئ ے پ ڑھے اور یہ ضروری نہیں کہ ن یت کو اپنے دل س ے گزرا ے یا مثلاً زبان سے ک ہے ک ہ چار رکعت نماز ظ ہ ر پ ڑھ تا ہ وں قُربَ ۃ ً اِلَی اللہ۔
953 ۔ اگر کوئی شخص ظہ ر ک ی نماز میں یا عصر کی نماز میں نیت کرے ک ہ چار رکعت نماز پ ڑھ تا ہ وں ل یکن اس امر کا تعین نہ کر ے ک ہ نماز ظ ہ ر ک ی ہے یاعصر کی تو اس کی نماز باطل ہے۔ ن یز مثال کے طور پر اگر کس ی شخص پر نماز ظہ ر ک ی قضا واجب ہ و اور و ہ اس قضا نماز یا نماز ظہ ر کو "ظ ہر کے وقت" م یں پڑھ نا چا ہے تو ضرور ی ہے ک ہ جو نماز و ہ پ ڑھے ن یت میں اس کا تعین کرے۔
954 ۔ ضرور ی ہے ک ہ انسان شروع س ے آخر تک اپن ی نیت پر قائم رہے۔ اگر و ہ نماز م یں اس طرح غافل ہ و جائ ے ک ہ اگر کوئ ی پوچھے ک ہ و ہ ک یا کر رہ ا ہے تو اس ک ی سمجھ م یں نہ آئ ے ک ہ ک یا جواب دے تو اس ک ی نماز باطل ہے۔
955 ۔ ضرور ی ہے ک ہ انسان فقط خداوند عالم ک ی خوشنودی حاصل کرنے ک ے لئ ے نماز پ ڑھے پس جو شخص ر یا کرے یعنی لوگوں کو دکھ ان ے ک ے لئ ے نماز پ ڑھے تو اس ک ی نماز باطل ہے خوا ہ یہ نماز پڑھ نا فقط لوگوں کو یا خدا اور لوگوں دونوں کو دکھ ان ے ک ے ل ئے ہ و ۔
956 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز کا کچھ حص ہ ب ھی اللہ تعال ی جل شانہ ک ے علاو ہ کس ی اور کے لئ ے بجا لائ ے خوا ہ و ہ حص ہ واجب ہ و مثلاً سور ہ الحمد یا مستحب ہ و مثلاً قنوت اور اگر غ یر خدا کا یہ قصد پوری نماز پر محیط ہ و یا اس بڑے حص ے ک ے تدارک س ے بطلان لازم آتا ہ و تو اس ک ی نماز باطل ہے۔ اور اگر نماز تو خدا ک ے لئ ے پ ڑھے ل یکن لوگوں کو دکھ ان ے ک ے لئ ے کس ی خاص جگہ مثلاً مسجد م یں پڑھے یا کسی خاص وقت مثلاً اول وقت میں پڑھے یا کسی خاص قاعدے س ے مثلاً باجماعت پ ڑھے تو اس ک ی نماز بھی باطل ہے۔
957 ۔ ہ ر نماز ک ے شروع م یں اَللہ اکبر ک ہ نا واجب اور رکن ہے اور ضرور ی ہے ک ہ انسان الل ہ ک ے حروف اور اکبر ک ے حروف اور دو کلم ے الل ہ اور اکبر پ ے در پ ے ک ہے اور یہ بھی ضروری ہے ک ہ یہ دو کلمے صح یح عربی میں کہے جائ یں اور اگر کوئی شخص غلط عربی میں کہے یا مثلاً ان کا اردو میں ترجمہ کر ک ے ک ہے تو صحیح نہیں ہے۔
958 ۔ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ انسان نماز ک ی تکبیرۃ الاحرام کو اس چیز سے مثلاً اقامت یا دعا سے جو و ہ تکب یر سے پ ہ ل ے پ ڑھ ر ہ ا ہ و ن ہ ملائ ے۔
959 ۔ اگر کوئ ی شخص چاہے ک ہ الل ہ اکبر کو اس جمل ے ک ے سات ھ جو بعد م یں پڑھ نا ہ و مثلاً بِسمِ الل ہ الرَّحمٰنِ الرَّحِ یم سے ملائ ے تو ب ہ تر یہ ہے ک ہ اَکبَرُ ک ے آخر ی حرف "را" پر پیش دے ل یکن احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ واجب نماز م یں اسے ن ہ ملائ ے ۔
960 ۔ تکب یرۃ الاحرام کہ ت ے وقت ضرور ی ہے ک ہ انسان کا بدن ساکن ہ و اور اگر کوئ ی شخص جان بوجھ کر اس حالت میں تکبیرۃ الاحرام کہے ک ہ اس کا بدن حرکت م یں ہ و تو (اس ک ی تکبیر) باطل ہے۔
961 ۔ ضرور ی ہے ک ہ تکب یر، اَلَحمد، سورہ ، ذکر اور دعا کم س ے کم اتن ی آواز سے پ ڑھے ک ہ خود سن سک ے اور اگر اونچا سنن ے یا بہ ر ہ ہ ون ے ک ی وجہ س ے یا شور و غل کی وجہ س ے ن ہ سن سک ے تو اس طرح کہ نا ضرور ی ہے ک ہ اگر کوئ ی امر مانع نہ ہ و تو سن ل ے۔
962 ۔ جو شخص کس ی بیماری کو بنا پر گونگا ہ و جائ ے یا اس کی زبان میں کوئی نقص ہ و جس ک ی وجہ س ے الل ہ اکبر ن ہ ک ہہ سکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ جس طرح ب ھی ممکن ہ و اس طرح ک ہے اور اگر بالکل ہی نہ ک ہہ سکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ دل م یں کہے اور اس ک ے لئ ے انگل ی سے اس طرح اشار ہ کر ے کہ جو تکب یرہ سے مناسب رک ھ تا ہ و اور اگر ہ وسک ے تو زبان اور ہ ون ٹ کو ب ھی حرکت دے اور اگر کوئ ی پیدائشی گونگا ہ و تو اس ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ و ہ اپن ی زبان اور ہ ون ٹ کو اس طرح حرکت د ے ک ہ جو کس ی شخص کے تکب یر کہ ن ے س ے مشاب ہ ہ و اور اس ک ے لئ ے اپن ی انگلی سے ب ھی اشارہ کر ے۔
963 ۔ انسان ک ے لئ ے مستحب ہے ک ہ تکب یرۃ الاحرام کے بعد ک ہے :
"یَامُحسِنُ قَد اَتَاکَ المُسِٓئُ وَقَد اَمَرتَ المُحسِنَ اَن یَّتَجَاوَزَعنِ المُسِٓی اَنتَ المُحسِنُ وَاَناالمُسِیٓئُ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ وَّتَجَاوَزعَن قَبِیعِ مَا تَعلَمُ مِنِّی۔ "
(یعنی) اے اپن ے بندوں پر احسان کرن ے وال ے خدا ! یہ گنہ گار بند ت یری بارگاہ م یں آیا ہے اور تون ے حکم د یا ہے ک ہ ن یک لوگ گناہ گاروں س ے در گز ر کریں۔ تو احسان کرن ے والا ہے اور م یں گناہ گار ہ وں ۔ محمد (صل ی اللہ عل یہ وآلہ ) اور آل محمد (عل یہ م السلام) کے طف یل میری برائیوں سے جن ہیں تو جانتا ہے در گزر فرما ۔
964 ۔ (انسان ک ے لئ ے ) مستحب ہے ک ہ نماز ک ی پہ ل ی تکبیر اور نماز کی درمیانی تکبریں کہ ت ے وقت ہ ات ھ وں کو کانوں ک ے برابر تک ل ے جائ ے۔
965 ۔ اگر کوئ ی شخص شک کرے ک ہ تکب یرۃ الاحرام کہی ہے یا نہیں اور قرات میں مشغول ہ و جائ ے تو اپن ے شک ک ی پروا نہ کر ے اور اگر اب ھی کچھ ن ہ پ ڑھ ا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ تکب یر کہے۔
966 ۔ اگر کوئ ی شخص تکبیرۃ الاحرام کہ ن ے ک ے بعد شک کرے ک ہ صح یح طریقے سے تکب یر کہی ہے یا نہیں تو خواہ اس ن ے آگ ے کچ ھ پ ڑھ ا ہ و یا نہ پ ڑھ ا ہ و اپن ے شک ک ی پروا نہ کر ے۔
968 ۔ تکب یرۃ الاحرام کہ ن ے س ے پ ہ ل ے اور اسک ے بعد ت ھ و ڑی دیر کے لئ ے ک ھڑ ا ہ ونا واجب ہے تاک ہ یقین ہ و جائ ے ک ہ تکب یر قیام کی حالت میں کہی گئی ہے۔
969 ۔ اگر کوئ ی شخص رکوع کرنا بھ ول جائ ے الحمد اور سور ہ ک ے بعد ب یٹھ جائے اور پ ھ ر اس ے یاد آئے ک ہ رکوع ن ہیں کیا تو ضروری ہے ک ہ ک ھڑ ا ہ و جائ ے اور رکوع م یں جائے۔ ل یکن اگر سیدھ ا کھڑ ا ہ وئ ے بغ یر جھ ک ے ہ ون ے ک ی حالت میں رکوع کرے تو چونک ہ و ہ ق یام متصل برکوع بجا نہیں لایا اس لئے اس کا یہ رکوع کفایت نہیں کرتا۔
970 ۔ جس وقت ا یک شخص تکبیرۃ الاحرام یا قراءت کے لئ ے ک ھڑ ا ہ و ضرور ی ہے ک ہ بدن کو حرکت ن ہ د ے اور کس ی طرف نہ ج ھ ک ے اور احت یاط لازم کی بنا پر اختیار کی حالت میں کسی جگہ ٹیک نہ لگائ ے ل یکن اگر ایسا کرنا بہ امر مجبور ی ہ و تو کوئ ی اشکال نہیں۔
971 ۔ اگر ق یام کی حالت میں کوئی شخص بھ ول ے س ے بدن کو حرکت د ے یا کسی طرف جھ ک جائ ے یا کسی جگہ ٹیک لگالے تو کوئ ی اشکال نہیں ہے۔
972 ۔ احت یاط واجب یہ ہے ک ہ ق یام کے وقت انسان ک ے دونوں پاوں زم ین پر ہ وں ل یکن یہ ضروری نہیں کہ بدن کا بوج ھ دونوں پاوں پر ہ و چنانچ ہ اگر ا یک پاوں پر بھی ہ و تو کوئ ی اشکال نہیں۔
973 ۔ جو شخص ٹھیک طور پر کھڑ ا ہ و سکتا ہ و اگر و ہ اپن ے پاوں ا یک دوسرے س ے اتن ے جدا رک ھے ک ہ اس پر ک ھڑ ا ہ ونا صادق ن ہ آتا ہ و تو اس ک ی نماز باطل ہے۔ اور اس ی طرح اگر معمول کے خلاف پ یروں کو کھڑ ا ہ ون ے ک ی حالت میں بہ ت ک ھ لا رک ھے تو احت یاط کی بنا پر یہی حکم ہے۔
974 ۔ جب انسان نماز م یں کوئی واجب ذکر پڑھ ن ے م یں مشغول ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا بدن ساکن ہ و اور جب مستحب ذکر م یں مشغول ہ و تب ب ھی احتیاط لازم کی بنا پر یہی حکم ہے اور جس وقت و ہ قدر ے آگ ے یا پیچھے ہ ونا چا ہے یا بدن کو دائیں یا بائیں جانب تھ و ڑی سی حرکت دینا چاہے ت و ضروری ہے ک ہ اس وقت کچ ھ ن ہ پ ڑھے۔
975 ۔ اگر متحرک بدن ک ی حالت میں کوئی شخص مستحب ذکر پڑھے مثلاً رکوع سجد ے م یں جانے ک ے وقت تکب یر کہے اور اس ذکر ک ے قصد ے س ے ک ہے جس کا نماز م یں حکم دیا گیا ہے تو و ہ ذکر صح یح نہیں لیکن اس کی نماز صحیح ہے۔ اور ضرور ی ہے ک ہ انسان اللّٰ ہ وَقُوَّتِ ہ وَاَقعدُ اس وقت ک ہے جب کھڑ ا ہ و ر ہ ا ہ و ۔
976 ۔ ہ ات ھ وں اور انگل یوں کو الحمد پڑھ ت ے وقت حرکت د ینے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ ان ہیں بھی حرکت نہ د ی جائے۔
977 ۔ اگر کوئ ی شخص الحمد اور سورہ پ ڑھ ت ے وقت یا تسبیحات پڑھ ت ے وقت ب ے اخت یار اتنی حرکت کرے ک ہ بدن ک ے ساکن ہ ون ے ک ی حالت سے خارج ہ و جائ ے تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ بدن ک ے دوبار ہ ساکن ہ ون ے جو کچ ھ اس ن ے حرکت ک ی حالت میں پڑھ ا ت ھ ا، دوبار ہ پ ڑھے۔
978 ۔ نماز ک ے دوران اگر ک وئی شخص کھڑے ہ ون ے ک ے قابل ن ہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ب یٹھ جائے اور اگر ب یٹھ بھی نہ سکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ل یٹ جائے ل یکن جب تک اس کے بدن کو سکون حاصل ن ہ ہ و ضرور ی ہے ک ہ کوئ ی واجب ذکر نہ پ ڑھے۔
979 ۔ جب تک انسان ک ھڑے ہ و کر نماز پ ڑھ سکتا ہ و ضرور ی ہے ک ہ ن ہ ب یٹھے مثلاً اگر کھڑ ا ہ ون ے ک ی حالت میں کسی کا بدن حرکت کرتا ہ و یا وہ کس ی چیز پر ٹیک لگانے پر یا بدن کو تھ و ڑ ا سا ٹیرھ ا کرنے پر مجبور ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ج یسے بھی ہ وسک ے ک ھڑ ا ہ و کر نماز پ ڑھے ل یکن اگر وہ کس ی طرح بھی کھڑ ا ن ہ ہ وسکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ س یدھ ا بیٹھ جائے اور بیٹھ کر نماز پڑھے۔
980 ۔ جب تک انسان ب یٹھ سکے ضرور ی ہے ک ہ و ہ ل یٹ کر نماز پڑھے اور اگر و ہ س یدھ ا ہ و کر ن ہ ب یٹھ سکے تو ضرور ی ہے ک ہ ج یسے بھی ممکن ہ و ب یٹھے اور اگر بالکل نہ ب یٹھ سکے تو ج یسا کہ قبل ے ک ے احکام م یں کہ ا گ یا ہے ضرور ی ہے ک ہ دائ یں پہ لو ل یٹے اور دائیں پہ لو پر ن ہ ل یٹ سکتا ہو تو بائیں پہ لو پر ل یٹے۔ اور احت یاط لازم کی بنا پر ضروری کہ جب تک دائ یں پہ لو پر ل یٹ سکتا ہ و بائ یں پہ لو پر ن ہ ل یٹے اور اگر دونوں طرف لیٹ نا ممکن نہ ہ و تو پشت ک ے بل اس طرح ل یٹے کہ اس ک ے تلو ے قبل ے ک ی طرف ہ وں ۔
981 ۔ جو شخص ب یٹھ کر نماز پرھ رہ ا ہ و اگر و ہ الحمد اور سور ہ پ ڑھ ن ے ک ے بعد ک ھڑ ا ہ وسک ے اور رکوع ک ھڑ ا ہ و کر بجا لا سک ے تو ضرور ی ہے ک ہ ک ھڑ ا ہ و جائ ے اور ق یام کی حالت سے رکوع م یں جائے اور اگر ا یسا نہ کر سک ے تو ضرور ی ہے ک ہ رکوع ب ھی بیٹھ کر بجالائے۔
982 ۔ جو شخص کرنماز پ ڑھ ر ہ ا ہ و اگر و ہ نماز ک ے د وران اس قابل ہ و جائ ے ک ہ ب یٹھ سکے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز ک ی جتنی مقدار ممکن ہ و ب یٹھ کر پڑھے اور اگر ک ھڑ ا ہ وسک ے تو ضرور ی ہے ک ہ جتن ی مقدار ممکن ہ و ک ھڑ ا ہ و کر پ ڑھے ل یک جب تک اس کے بدن کو سکون حاصل ن ہ ہ وجائ ے ضرور ی ہے ک ہ کوئی واجب ذکر نہ پ ڑھے۔
983 ۔ جو شخص ب یٹھ کر نماز پڑھ ر ہ ا ہ و اگر نماز ک ے دوران اس قابل ہ و جائ ے ک ہ ک ھڑ ا ہ وسک ے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز ک ی جتنی مقدار ممکن ہ و ک ھڑ ا ہ و پ ڑھے ل یکن جب تک اس کے بدن کو سکون حاصل ن ہ ہ و جائ ے ضرور ی ہے ک ہ کوئ ی واجب ذکر نہ پ ڑھے۔
984 ۔ اگر کس ی ایسے شخص کو جو کھڑ ا ہ و سکتا ہ و یہ خوف ہ و کہ ک ھڑ ا ہ ون ے ب یمار ہ و جائ ے گا یا اسے کوئ ی تکلیف ہ وگ ی تو وہ ب یٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے اور اگر ب یٹھ ن ے سے ب ھی تکلیف کاڈ ر ہ و تو ل یٹ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔
985 ۔ اگر کس ی شخص کو اس بات کی امید ہ و ک ہ آخر وقت م یں کھڑ ا ہ و کر نماز پ ڑھ سک ے گا اور و ہ اول وقت م یں نماز پڑھ لے اور آخر وقت م یں کھڑ ا ہ ون ے پر قادر ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ دوبار ہ نماز پ ڑھے ل یکن اگر کھڑ ا ہ و کر نماز پ ڑھ ن ے س ے ما یوس ہ و اور اول وقت م یں نماز پڑھ ل ے بعد ازاں و ہ ک ھڑے ہ ون ے ک ے قابل ہ و جائ ے تو ضرور ی نہیں کہ دوبار ہ نماز پ ڑھے۔
986 ۔ (انسان ک ے لئ ے ) مستحب ہے ک ہ ق یام کی حالت میں جسم سیدھ ا رکھے اور کند ھ وں کو ن یچے کی طرف ڈھیلا چھ و ڑ د ے ن یز ہ ات ھ وں کو رانوں پر رک ھے اور انگل یوں کو باہ م ملا کر رک ھے اور نگا ہ سجد ہ ک ی جگہ پر مرکوز رک ھے اور بدن کو بوج ھ دونوں پاوں پر یکساں ڈ ال ے اور خشوع اور خضو ع کے سات ھ ک ھڑ ا ہ و اور پاوں آگ ے پ یچھے نہ رک ھے اور اگر مرد تو پاوں ک ے درم یان تین پھیلی ہ وئ ی انگلیوں سے ل ے کر ا یک بالشت تک کا فاصلہ رک ھے اور اگر عورت ہ و تو دونوں پاوں ملا کر رک ھے۔
987 ۔ ضرور ی ہے ک ہ انسان روزان ہ ک ی واجب نمازوں کی پہ ل ی اور دوسری رکعت میں پہ ل ے الحمد اور اس ک ے بعد احت یاط کی بنا پر کسی ایک پورے سور ے ک ی تلاوت کرے اور وَالضَّحٰ ی اور اَلَم نَشرَح کی سورتیں اور اسی طرح سورہ ف یل اور سورہ قر یش احتیاط کی بنا پر نماز میں ایک سورت شمار ہ وت ی ہیں۔
988 ۔ اگر نماز کا وقت تنگ ہ و یا انسان کسی مجبوری کی وجہ س ے سور ہ ن ہ پ ڑھ سکتا ہ و مثلاً اس ے خوف ہ و ک ہ اگر سور ہ پ ڑھے گا تو چور یا درندہ یا کوئی اور چیز اسے نقصان پ ہ نچائ ے گ ی یا اسے ضرور ی کام ہ و تو اگر و ہ چا ہے تو سور ہ ن ہ پ ڑھے بلک ہ وقت تنگ ہ ون ے ک ی صورت میں اور خوف کی بعض حالتوں میں ضروری ہے ک ہ و ہ سور ہ ن ہ پر ھے۔
989 ۔ اگر کوئ ی شخص جان بوجھ کر الحمد س ے پ ہ ل ے سور ہ پ ڑھے تو اس ک ی نماز باطل ہ وگ ی لیکن اگر غلَطی سے الحمد س ے پ ہ ل ے سور ہ پ ڑھے اور پ ڑھ ن ے ک ے دوران یاد آئے تو ضرور ی ہے ک ہ سور ہ کو چ ھ و ڑ د ے اور الحمد پ ڑھ ن ے ک ے بعد سور ہ شروع س ے پ ڑھے۔
990 ۔ اگر کوئ ی شخص الحمد اور سورہ یا ان سے کس ی ایک کا پڑھ نا ب ھ ول جائ ے اور رکوع م یں جانے ک ے بعد اس ے یاد آئے تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔
991 ۔ اگر رکوع ک ے لئ ے ج ھ کن ے س ے پ ہ ل ے کس ی شخص کو یاد آئے ک ہ اس ن ے الحمد اور سور ہ ن ہیں پڑھ ا تو ضرور ی ہے ک ہ پ ڑھے اور اگر یہ یاد آئے ک ہ سور ہ ن ہیں پڑھ ا تو ضرور ی ہے ک ہ فقط سور ہ پ ڑھے ل یکن اگر اسے یاد آئے ک ہ فقط الحمد ن ہیں پڑھی تو ضروری ہے ک ہ پ ہ ل ے الحمد اور اس ک ے بعد دوبار ہ سور ہ پ ڑھے اور اگر ج ھ ک ب ھی جائے ل یکن رکوع حد تک پہ نچن ے س ے پ ہ ل ے یاد آئے ک ہ الحمد اور سور ہ یا فقط سورہ یا فقط الحمد نہیں پڑھی تو ضروری ہے ک ہ ک ھڑ ا ہ و جائ ے اور اس ی حکم کے مطابق عمل کر ے۔
992 ۔ اگر کوئ ی شخص جان بوجھ کر فرض نماز م یں ان چار سوروں میں سے کوئ ی ایک سورہ پ ڑھے جن م یں آیہ سجدہ ہ و اور جن کا ذکر مسئل ہ 361 میں کیا گیا ہے تو واجب ہے ک ہ آ یہ سجدہ پ ڑھ ن ے ک ے بعد سجد ہ کر ے ل یکن اگر سجدہ لائ ے تو احت یاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے اور ضرور ی ہے کہ اس ے دوبار ہ پ ڑھے اور اگر سجد ہ ن ہ کر ے تو اپن ی نماز جاری رکھ سکتا ہے اگرچ ہ سجد ہ ن ہ کرک ے اس ن ے گنا ہ ک یا ہے۔
993 ۔ اگر کوئ ی شخص بھ ول کر ا یسا سورہ پ ڑھ نا شروع کر د ے جس م یں سجدہ واجب ہ و ل یکن آیہ سجدہ پر پ ہ نچن ے س ے پ ہ ل ے اس ے خ یال آجائے تو ضرور ی ہے ک ہ اس سور ہ کو چ ھ و ڑ د ے اور کوئ ی دوسرا سورہ پ ڑھے اور آ یہ سجدہ پ ڑھ ن ے ک ے بعد خ یال آئے تو ضرور ی ہے ک ہ جس طرح سابق ہ مسئل ہ م یں کہ ا گیا ہے عمل کر ے۔
994 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز کے دوران کس ی دوسرے کو آ یہ سجدہ پ ڑھ ت ے ہوئی سنے تو اس ک ی نماز صحیح ہے ل یکن احتیاط کی بنا پر سجدے کا اشار ہ کر ے اور نماز ختم کرن ے ک ے بعد اس کا سجد ہ بجالائ ے۔
995 ۔ مستحب نماز م یں سورہ پ ڑھ نا ضرور ی نہیں ہے خوا ہ و ہ نماز منت مانن ے ک ی وجہ س ے ہی واجب کیوں نہ ہ وگئ ی ہ و ۔ ل یکن اگر کوئی شخص ایسی مستحب نمازیں ان کے احکام ک ے مطابق پ ڑھ نا چا ہے مثلاً نماز وحشت ک ہ جن م یں مخصوص سورتیں پڑھ ن ی ہ وت ی ہیں تو ضروری ہے ک ہ و ہی سورتیں پرھے۔
996 ۔ جمع ہ ک ی نماز میں اور جمعہ ک ے دن ظ ہ ر ک ی نماز میں پہ ل ی رکعت میں الحمد کے بعد سور ہ جمع ہ اور دوسر ی رکعت میں الحمد کے بعد سور ہ منافقوں پ ڑھ نا مستحب ہے۔ اور اگر کوئ ی شخص ان میں سے کوئ ی ایک سورہ پ ڑھ نا شروع کر د ے تو احت یاط واجب کی بنا پر اسے چ ھ و ڑ کر کوئ ی دوسرا سورہ ن ہیں پڑھ سکتا ۔
997 ۔ اگر کوئ ی شخص الحمد کے بعد سور ہ اخلاص یا سورہ کافروں پ ڑھ ن ے لگ ے تو و ہ اس ے چ ھ و ڑ کر کوئ ی دوسرا سورہ ن ہیں پڑھ سکتا ا لبتہ اگر نماز جمع ہ یا جمعہ ک ے دن نماز ظ ہ ر م یں بھ ول کر سور ہ جمع ہ اور سور ہ منافقون ک ی بجائے ان دو سورتوں م یں سے کوئ ی سورہ پ ڑھے تو ان ہیں چھ و ڑ س کتا ہے اور سور ہ جمع ہ اور سور ہ منافقون پ ڑھ سکتا ہے اور احت یاط یہ ہے ک ہ اگر نصف تک پ ڑھ چکا ہ و تو پ ھ ر ان سوروں کو ن ہ چ ھ و ڑے۔
998 ۔ اگر کوئ ی شخص جمعہ ک ی نماز میں یا جمعہ ک ے دن ظ ہ ر ک ی نماز میں جان بوجھ کر سور ہ اخلاص یا سورہ کافرون پ ڑھے تو خوا ہ و ہ نصف تک ن ہ پ ہ نچا ہ و احت یاط واجب کی بنا پر انہیں چھ و ڑ کر سور ہ جمع ہ اور سور ہ منافق وں نہیں پڑھ سکتا ۔
999 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز میں سورہ اخلاص یا سورہ کافرون ک ے علاو ہ کوئ ی دوسرا سورہ پ ڑھے تو جب تک نصف تک ن ہ پ ہ نچا ہ و اس ے چ ھ و ڑ سکتا ہے اور دوسرا سور ہ پ ڑھ سکتا ہے۔ اور نصف تک پ ہ نچن ے ک ے بعد بغ یر کسی وجہ ک ے اس سور ہ کو چ ھ و ڑ کر دوسرا سور ہ پ ڑھ نا احت یاط کی بنا پر جائز نہیں۔
1000 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی سورے کا کچ ھ حص ہ ب ھ ول جائ ے یا بہ امر مجبور ی مثلاً وقت کی تنگی یا کسی اور وجہ س ے اس ے مکمل ن ہ کرسکت ے تو و ہ اس سور ہ کو چ ھ و ڑ کر کوئ ی دوسرا سورہ پ ڑھ سکتا ہے خوا ہ نصف تک ہی پہ نچ چکا ہ و یا وہ سور ہ اخلاص یا سورہ کافرون ہی ہ و ۔
1001 ۔ مرد پر احت یاط کی بنا پر واجب ہے ک ہ صبح اور مغرب و عشا ک ی نمازوں پر الحمد اور سورہ بلند آواز س ے پ ڑھے اور مرد اور عورت دونوں پر احت یاط کی بنا پر واجب ہے ک ہ نماز ظ ہ ر و عصر م یں الحمد اور سورہ آ ہ ست ہ پ ڑھیں۔
1002 ۔ احت یاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ مرد صبح اور مغرب و عشا ک ی نماز میں خیال رکھے ک ہ الحمد اور سور ہ ک ے تمام کلمات حتٰ ی کہ ان ک ے آخر ی حرف تک بلند آواز سے پ ڑھے۔
1003 ۔ صبح ک ی نماز اور مغرب و عشا کی نماز میں عورت الحمد اور سورہ بلند آواز س ے یا آہ ست ہ ج یسا چاہے پ ڑھ سکت ی ہے۔ ل یکن اگر نا محرم اس کی آواز سن رہ ا ہ و اور اس کا سننا حرام ہ و تو احت یاط کی بنا پر آہ ست ہ پ ڑھے۔
1004 ۔ اگر کوئ ی شخص جس نماز کی بلند آواز سے پ ڑھ نا ضرور ی ہے اس ے عمداً آ ہ ست ہ پ ڑھے یا جو نماز آہ ست ہ پ ڑھ ن ی ضروری ہے اس ے عمداً بلند آواز س ے پ ڑھے تو احت یاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔ ل یکن اگر بھ ول جان ے ک ی وجہ س ے یا مسئلہ ن ہ جانن ے ک ی وجہ س ے ا یسا کرے تو (اس کی نماز) صحیح ہے۔ ن یز الحمد اور سورہ پ ڑھ ن ے ک ی دوران بھی اگر وہ متوج ہ ہ و جائ ے ک ہ اس س ے غلط ی ہ وئ ی ہے تو ضرور ی نہیں کہ نماز کا جو حص ہ پ ڑھ چکا ہ و اس ے دوبار ہ پ ڑھے۔
1005 ۔ اگر کوئ ی شخص الحمد اور سورہ پ ڑھ ن ے ک ے دوران اپن ی آوز معمول سے ز یادہ بلند کرے مثلاً ان سورتوں کو ا یسے پڑھے ج یسے کہ فر یاد کر رہ ا ہ و تو اس ک ی نماز باطل ہے۔
1006 ۔ انسان ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ نماز ک ی قرائت کو سیکھ لے تاک ہ غلط ن ہ پ ڑھے اور جوشخص کس ی طرح بھی پورے سور ہ الحمد کو نہ س یکھ سکتا ہ و جس قدر ب ھی سیکھ سکتا ہ و س یکھے اور پڑھے ل یکن اگر وہ مقدار ب ہ ت کم ہ و تو احت یاط واجب کی بنا پر قرآن کے دوسر ے سوروں م یں سے جس قدر س یکھ سکتا ہ و اس ک ے سات ھ ملا کر پ ڑھے اور اگر ا یسا نہ کر سکتا ہ و تو تسب یح کو اس کے سات ھ ملاکر پ ڑھے اور اگر کوئ ی پورے سور ہ کو ن ہ س یکھ سکتا ہ و تو ضرور ی نہیں کہ اس ک ے بدل ے کچ ھ پ ڑھے۔ اور ہ ر حال م یں احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ نماز کو جماعت ک ے سات ھ بجالائ ے۔
1007 ۔ اگر کس ی کو الحمد اچھی طرح یاد نہ ہ و اور و ہ س یکھ سکتا ہ و اور نماز کا وقت وس یع ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ س یکھ لے اور اگر وقت تنگ ہ و اور و ہ اس طرح پ ڑھے ج یسا کہ گزشت ہ مسئل ے م یں کہ ا گ یا ہے تو اس ک ی نماز صحیح ہے ل یکن اگر ممکن ہ و تو عذاب س ے بچن ے ک ے لئ ے جماعت ک ے سات ھ نماز پ ڑھے۔
1008 ۔ واجبات نماز سک ھ ان ے ک ی اجرات لینا احتیاط کی بنا حرام لیکن مستحبات نماز سکھ ان ے ک ی اجرت لینا جائز ہے۔
1009 ۔ اگر کوئ ی شخص الحمد اور سورہ کا کوئ ی کلمہ ن ہ جانتا ہ و یا جان بوجھ کر اس ے ن ہ پ ڑھے یا ایک حرف کے بجائ ے دوسرا حرف ک ہے مثلاً "ض" ک ی بجائے "ظ" ک ہے یا جہ اں ز یر اور زبر کے بغ یر پڑھ نا ضرور ی ہ و و ہ اں ز یر اور زبر لگائے یاتشدیدحذف کر دے تو اس ک ی نماز باطل ہے۔
1010 ۔ اگر انسان ن ے کوئ ی کلمہ جس طرح یاد کیا ہ وا س ے صح یح سمجھ تا ہ و اور نماز م یں اسی طرح پڑھے اور بعد م یں اسے پت ہ چل ے ک ہ اس ن ے غلط پ ڑھ ا ہے تو اس ک ے لئ ے نماز کا دوبار ہ پ ڑھ نا ضرور ی نہیں۔
1011 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی لفظ کے زبر اور ز یر سے واقف ن ہ ہ و یا یہ نہ جانتا ہ و ک ہ و ہ لفظ ( ہ ) س ے ادا کرنا چا ہ ئ ے یا (ح) سے تو ضرور ی ہے ک ہ س یکھ لے اور ا یسے لفظ کو دو (یا دو سے زائد) طر یقوں سے ادا کر ے۔ اور اگر اس لفظ کا غلط پ ڑھ نا قرآن یا ذکر خدا شمار نہ ہ و تو اس ک ی نماز باطل ہے۔ اور اگر دونوں طر یقوں سے پ ڑھ نا صح یح ہ و مثلاً " اِھ دِنَاالصِّراطَ المُستَقِ یمَ" کو ایک دفعہ (س) س ے اور ا یک دفعہ (ص) س ے پ ڑھے تو ان دونوں طر یقوں سے پ ڑھ ن ے م یں کوئی مضائفہ ن ہیں۔
1012 ۔ علمائ ے تجو ید کاکہ نا ہے ک ہ اگر کس ی لفظ میں واو ہ و اور اس لفظ س ے پ ہ ل ے وال ے حرف پر پ یش ہ و اور اس لفظ م یں داد کے بعد والا حرف ہ مز ہ ہ و مثلاً "سُوٓءٍ" تو پ ڑھ ن ے وال ے کو چا ہ ئ ے ک ہ اس داد کو مدک ے سات ھ ک ھینچ کر پڑھے۔ اس ی طرح اگر کسی لفظ میں "الف" ہ و اور اس لفظ میں الف سے پ ہ ل ے وال ے حرف پر زبر ہ و اور اس لفظ م یں الف کے بعد والا حرف ہ مز ہ ہ و مثلاً جآءَ تو ضرور ی ہے ک ہ اس لفظ کے الف کو ک ھینچ کر پڑھے۔ اور اگر کس ی لفظ میں "ی" سے پ ہ ل ے وال ے حرف پر ز یر ہ و اور اس لفظ م یں "ی" کے بعد والا حرف ہ مز ہ ہ و مثلاً "جَ یٓءَ " تو ضروری ہے کہ " ی" کومد کے سات ھ پ ڑھے اور اگر ان حروف "داد، الف اور یا" کے بعد ہ مز ہ ک ے بجائ ے کوئ ی ساکن حرف ہ و یعنی اس پر زبر، زیر یا پیش میں سے کوئ ی حرکت نہ ہ و تب ب ھی ان تینوں حروف کو مدکے سات ھ پ ڑھ نا ضرور ی ہے ۔ ل یکن ظاہ راً ا یسے معاملے م یں قرات کا صحیح ہ ونا مدپر موقف نہیں۔ ل ہ ذا جو طر یقہ بتایا گیا ہے اگر کوئ ی پر اس پر عمل نہ کر ے تب ب ھی اس کی نماز صحیح ہے ل یکن وَلاَالضَّآلِّینَ جیسے الفاظ میں تشدید اور الف کا پورے طور پر ادا ہ ونا مد پر ت ھ و ڑ ا سا توقف کرن ے م یں ہے ل ہ ذا ضرور ی ہے ک ہ الف کو ت ھ و ڑ ا سا ک ھینچ کر پڑھے۔
1013 ۔ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ انسان نماز م یں وقف بحرکت اور وصل بسکون نہ کر ے اور وقف بحرکت ک ے معن ی یہ ہیں کہ کس ی لفظ کے آخر م یں زیر زبر پیش پڑھے اور لفظ اور اس ک ے بعد ک ے لفظ ک ے درم یان فاصلہ درم یان فاصلہ د ے مثلاً ک ہے اَلرَّحمٰنِ الَّرحِ یمِ اور اَلَّرحِیمِ کے میم کو زیر دے اور اس ک ے بعد قدر ے فاصل ہ د ے اور ک ہے مَالِکِ یَومِ الدِّینِ اور وصل بسکون کے معن ی یہ ہیں کہ کس ی لفظ کی زیر زبر یا پیش نہ پ ڑھے اور اس لفظ کو بعد ک ے لفظ س ے جو ڑ د ے مثلاً یہ کہے اَلرَّحمٰنِ الَّرحِ یمِ اور اَلرَّحِیمِ کے م یم کو زیر نہ د ے اور فوراً مَالِکِ یَومِ الدِّینِ کہے۔
1014 ۔ نماز ک ی تیسری اور چوتھی رکعت میں فقط ایک دفعہ الحمد یا ایک دفعہ تسب یحات اربعہ پ ڑھی جاسکتی ہے یعنی نماز پڑھ ن ے والا ا یک دفعہ ک ہے سُبحَاَنَ الل ہ وَالحَمدُ لِلّٰ ہ وَلاَ اِلٰ ہ اَلاَّ الل ہ وَالل ہ اَکبَرُ اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ ت ین دفعہ ک ہے۔ اور و ہ ا یک رکعت میں الحمد اور دوسری رکعت میں تسبیحات بھی پڑھ سکتا ہے۔ اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ دونوں رکعتوں م یں تسبیحات پڑھے۔
1015 ۔ اگر وقت تنگ ہ و تو تسب یحات اربعہ ا یک دفعہ پ ڑھ نا چا ہ ئ ے اور اگر اس قدر وقت ب ھی نہ ہ و تو بع ید نہیں کہ ا یک دفعہ سُبحاَنَ الل ہ ک ہ نا لازم ہ و ۔
1016 ۔ احت یاط کی بنا پر مرد اور عورت دونوں پر واجب ہے ک ہ نماز ک ی تیسری اور چوتھی رکعت میں الحمد یا تسبیحات اربعہ آ ہ ست ہ پ ڑھیں۔
1017 ۔ اگر کوئ ی شخص تیسری اور چوتھی رکعت میں الحمد پڑھے تو واجب ن ہیں کہ اس ک ی بِسمِ اللہ ب ھی آہ ست ہ پ ڑھے ل یکن مقتدی کے لئ ے احت یاط واجب یہ ہے ک ہ بِسمِ الل ہ ب ھی آہ ست ہ پ ڑھے۔
1018 ۔ جو شخص تسب یحات یاد نہ کر سکتا ہ و یا انہیں ٹھیک ٹھیک پڑھ ن ہ سکتا ہ و ضرور ی ہے ک ہ و ہ ت یسری اور چوتھی رکعت میں الحمد پڑھے۔
1019 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز کی پہ ل ی دو رکعتوں میں یہ خیال کرتے ہ وئ ے ک ہ یہ آخری دو رکعتیں ہیں تسبیحات پڑھے ل یکن رکوع سے پ ہ ل ے اس ے صح یح صورت کا پتہ چل جائ ے تو ضر وری ہے ک ہ الحمد اور سور ہ پ ڑھے اور اگر اس ے رکوع ک ے دوران یا رکوع کے بعد پت ہ چل ے تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔
1020 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز کی کی آخری دو رکعتوں میں یہ خیال کرتے ہ وئ ے ک ہ یہ پہ ل ی دو رکعتیں ہیں الحمد پڑھے یا نماز کی پہ ل ی دو رکعتوں میں یہ خیال کرتے ہ وئ ے ک ہ یہ آخری دو رکعتیں الحمد پڑھے تو اس ے صح یح صورت کا خواہ رکوع س ے پ ہ ل ے پت ہ چل ے یا بعد میں اس کی نماز صحیح ہے۔
1021 ۔ اگر کوئ ی شخص تیسری یا چوتھی رکعت میں الحمد پڑھ نا چا ہ تا ہ و ل یکن تسبیحات اس کی زبان پر آجائیں یا تسبیحات پڑھ نا چا ہ تا ہ و ل یکن الحمد اس کی زبان پر آجائے اور اگر اس ک ے پ ڑھ ن ے کا بالکل اراد ہ ن ہ ت ھ ا تو ضرور ی ہے ک ہ اس ے چ ھ و ڑ کر دوبار ہ الحمد یا تسبیحات پڑھے ل یکن اگر بطور کلی بلا ارادہ ن ہ ہ و ج یسے کہ اس ک ی عادت وہی کچھ پ ڑھ ن ے ک ی ہ و جو اس ک ی زبان پر آیا ہے تو و ہ اس ی کو تمام کر سکتا ہے اور اس ک ی نماز صحیح ہے۔
1023 ۔ جس شخص ک ی عادت تیسری اور چوتھی رکعت میں تسبیحات پڑھ ن ے ک ی ہ و اگر و ہ اپن ی عادت سے غفلت برت ے اور اپن ے وظ یفے کی ادائیگی کی نیت سے الحمد پ ڑھ ن ے لگ ے تو و ہی کافی ہے اور اس ک ے لئ ے الحمد یا تسبیحات دوبارہ پ ڑھ نا ضرور ی نہیں۔
1023 ۔ ت یسری اور چوتھی رکعت میں تسبیحات کے بعد اِستِغفار کرنا مثلاً ک ہے "اَستَغفِرُالل ہ رَبِّ یِ وَاَتُوبُ اِلَیہ" یا کہے "اَللّٰ ھ ُمَّ اغفِرل یِ" اور اگر نماز پڑھ ن ے والا رکوع ک ے لئ ے ج ھ کن ے س ے پ ہ ل ے استغفار ہ پ ڑھ ر ہ ا ہ و یا اس سے فارغ ہ و چکا ہ و اور اس ے شک ہ و جائ ے کہ اس نے الحمد یا تسبیحات پڑھی ہیں یا نہیں تو ضروری ہے ک ہ الحمد یا تسبیحات پڑھے۔
1024 ۔ اگر ت یسری یا چوتھی رکعت میں یا رکوع میں جاتے ہ وئ ے شک کر ے ک ہ اس ن ے الحمد یا تسبیحات پڑھی ہیں یا نہیں تو اپنے شک ک ی پروا نہ کر ے۔
1025 ۔ اگر نماز پ ڑھ ن ے والا شک کر ے ک ہ آ یا اس نے کوئ ی آیت یا جملہ درست پڑھ ا ہے یا نہیں مثلاً شک کرے ک ہ قُل ہ وَالل ہ اَحَد درست پ ڑھ ا ہے یا نہیں تو وہ اپن ے شک ک ی پروانہ کر ے ل یکن اگر احتیاط وہی آیت یا جملہ دوبار ہ صح یح طریقے سے پ ڑھ د ے تو کوئ ی حرج نہیں اور اگر کئی بار بھی شک کرے تو کئ ی بار پڑھ سکتا ہے۔ ہ اں اگر وسوس ے ک ی حد تک پہ نچ جائ ے اور پ ھ ر ب ھی دوبارہ پ ڑھے تو احت یاط مستحب کی بنا پر پوری نماز دوبارہ پ ڑھے۔
1026 ۔ مستحب ہے ک ہ پ ہ ل ی رکعت میں الحمد پڑھ ن ے س ے پ ہ ل ے "اَعُوذُ بِالل ہ مِنِ الشَّ یطَانِ الرَّجِیمِ" کہے اور ظ ہ ر اور عصر ک ی پہ ل ی اور دوسری رکعتوں میں بِسمِ اللہ بلند آوا ز سے ک ہے اور الحمد اور سور ہ کو مم یز کرکے پ ڑھے اور ہ ر آ یت کے آخر پر وقف کر ے یعنی اسے بعد والی آیت کے سات ھ ن ہ ملائ ے اور الحمد اور سور ہ پر ھ ت ے وقت آ یات کے معنوں ک ے طرف توج ہ رک ھے۔ اور اگر جماعت س ے نماز پ ڑھ ر ہ ا ہ و تو امام جماعت ک ے سور ہ الحمد ختم کرن ے ک ے بعد اور اگر فُرادٰی نماز پڑھ ر ہ ا ہ و تو سور ہ الحمد پ ڑھ ن ے ک ے بعد ک ہے "الحَمدُ لِلّٰ ہ رَبِّ العَا لَمِینَ" اور سورہ قُل ھ ُوَالل ہ اَحَد پ ڑھ ن ے ک ے بعد ا یک یا دو تین دفعہ " کَذَالِکَ الل ہ رَبِّ ی " یا تین دفعہ " کَذَلِکَ الل ہ رَبُّناَ" ک ہے اور سور ہ پ ڑھ ن ے ک ے بعد اور ت ھ و ڑی دیر رکے اور اس ک ے بعد رکوع س ے پ ہ ل ے ک ی تکبیر کہے یا قنوت پڑھے۔
1027 ۔ مستحب ہے ک ہ تمام نمازوں ک ی پہ ل ی رکعت میں سورہ قدر اور دوسر ی رکعت میں سورہ اخلاص پ ڑھے۔
1028 ۔ پنج گان ہ نمازوں م یں سے کس ی ایک نماز میں بھی انسان کا سورہ اخلاص کا ن ہ پ ڑھ نا مکرو ہ ہے۔
1029 ۔ ا یک ہی سانس میں سورہ قُل ھ ُوَالل ہ اَحَد کا پ ڑھ نا مکرو ہ ہے۔
1030 ۔ جو سور ہ انسان پ ہ ل ی رکعت میں پڑھے اس کا دوسر ی رکعت میں پڑھ نا مکرو ہ ہے ل یکن اگر سورہ اخلاص دونوں رکعتوں م یں پڑھے تو مکرو ہ ن ہیں ہے۔
1031 ۔ ضرور ی ہے ک ہ ہ ر رکعت م یں قرائت کے بعد اس قدر ج ھ ک ے ک ہ اپن ی انگلیوں کے سر ے گ ھٹ ن ے پر رک ھ سک ے اور اس عمل کو رکوع ک ہ ت ے ہیں۔
1032 ۔ اگر رکوع جتنا ج ھ ک جائ ے ل یکن اپنی انگلیوں کے سر ے گ ھٹ نوں پر ن ہ رک ھے تو کوئ ی حرج نہیں ۔
1033 ۔ اگر کوئ ی شخص رکوع عام طریقے کے مابق ن ہ بجا لائ ے مثلاً بائ یں یا دائیں جانب جھ ک جائ ے تو خوا ہ اس ک ے ہ ات ھ گ ھٹ نوں تک پ ہ نچ ب ھی جائیں اس کا رکوع صحیح نہیں ہے۔
1034 ۔ ضرور ی ہے ک ہ ج ھ کنا رکوع ک ی نیت سے ہ و ل ہ ذا اگر کس ی اور کام کے لئ ے مثلاً کس ی جانور کو مارنے ک ے لئ ے ج ھ ک ے تو اس ے رکوع ن ہیں کہ ا جاس کتا بلکہ ضرور ی ہے ک ہ ک ھڑ ا ہ و جائ ے اور دوبار ہ رکوع ک ے لئ ے ج ھ ک ے اور اس عمل ک ی وجہ س ے رکن م یں اضافہ ن ہیں ہ وتا اور نماز باطل ن ہیں ہ وت ی۔
1035 ۔ جس شخص ک ے ہ ات ھ یا گھٹ ن ے دوسر ے لوگوں ک ے ہ ات ھ وں اور گ ھٹ نوں س ے مختلف ہ وں مثلاً اس ک ے ہ ات ھ اتن ے لمب ے ہ وں ک ہ اگر معمول ی سا بھی جھ ک ے تو گ ھٹ نوں تک پ ہ نچ جائ یں یا اس کے گ ھٹ ن ے دوسر ے لوگوں ک ے گ ھٹ نوں ک ے مقابل ے م یں نیچے ہ وں اور اس ے ہ ات ھ گ ھٹ نوں تک پ ہ نچان ے ک ے لئ ے ب ہ ت زیادہ جھ کنا پ ڑ تا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اتنا ج ھ ک ے جتنا عموماً لوگ ج ھ کت ے ہیں۔
1036 ۔ جو شخص ب یٹھ کر رکوع کر رہ ا ہ و اس ے اس قدر ج ھکنا ضروری ہے ک ہ اس کا چ ہ ر ہ اس ک ے گ ھٹ نوں ک ے بالمقابل جا پ ہ نچ ے اور ب ہ تر ہے ک ہ اتنا ج ھ ک ے ک ہ اس کا چ ہ ر ہ سجد ے ک ی جگہ ک ے قر یب جاپہ نچ ے۔
1037 ۔ ب ہ تر یہ ہے ک ہ اخت یار کی حالت میں رکوع میں تین دفعہ "سُبحَانَ الل ہ " یا ایک دفعہ "سُبحَانَ رَبِّ ی العَظِیمَ وَبِحَمدِہ " ک ہے اور ظا ہ ر یہ ہے ک ہ جو ذکر ب ھی اتنی مقدار میں کہ ا جائ ے کاف ی ہے ل یکن وقت کی تنگی اور مجبوری کی حالت میں ایک دفعہ "سبحَانَ الل ہ " ک ہ ن ا ہی کافی ہے۔
1038 ۔ ذِکرِ رکوع مسلسل اور صح یح عربی میں پڑھ نا چا ہ ئ ے اور مستحب ہے ک ہ اس ے ت ین یا پانچ یا ساتھ دفع ہ بلکہ اس س ے ب ھی زیادہ پڑھ ا جائ ے۔
1039 ۔ رکوع ک ی حالت میں ضروری ہے ک ہ نماز پ ڑھ ن ے وال ے کا بدن ساکن ہ و ن یز ضروری ہے ک ہ و ہ اپن ے اخت یار سے بدن کو اس طرح حرکت ن ہ د ے ک ہ اس پر ساکن ہ ونا صادق ن ہ آئ ے حتٰ ی کہ احت یاط کی بنا پر اگر وہ واجب ذکر م یں مشغول نہ ہ و تب ب ھی یہی حکم ہے۔
1040 ۔ اگر نماز پ ڑھ ن ے والا اس وقت جبک ہ رکوع کا واجب ذکر ادا کر ر ہ ا ہ و ب ے اخت یار اتنی حرکت کرے ک ہ بدن ک ے سکون ک ی حالت میں ہ ون ے س ے خارج ہ وجائ ے تو ب ہ تر یہ ہے ک ہ بدن ک ے سکون حاصل کرن ے ک ے بعد دوبار ہ ذکر کو بجالائ ے ل یکن اگر اتنی کم مدت کے لئ ے حرکت کر ے ک ہ بدن ک ے س کون میں ہ ون ے ک ی حالت میں خارج نہ ہ و یا انگلیوں کو حرکت دے تو کوئ ی حرج نہیں ہے۔
1041 ۔ اگر نماز پ ڑھ ن ے والا اس س ے پ یشتر کہ رکوع جتنا ج ھ ک ے اور اس کا بدن سکون حاصل کر ے جان بوج ھ کر ذکر رکوع پ ڑھ نا شروع کر د ے تو اس ک ی نماز باطل ہے۔
1042 ۔ اگر ا یک شخص واجب ذکر کے ختم ہ ون ے س ے پ ہ ل ے جان بوج ھ کر سر رکوع س ے ا ٹھ ال ے تو اس ک ی نماز باطل ہے اور اگر س ہ واً سر ا ٹھ ال ے اور اس س ے پ یشتر کہ رکوع ک ی حالت سے خارج ہ و جائ ے اس ے یاد آئے ک ہ اس ن ے ذکر رکوع ختم ن ہیں کیا تو ضروری ہے ک ہ رک جائ ے اور ذکر پ ڑھے۔ اور اگر اسے رکوع ک ی حالت سے خارج ہ ون ے ک ے بعد یاد آئے تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔
1043 ۔ اگر ا یک شخص ذکر کی مقدار کے مطابق رکوع ک ی حالت میں نہ ر ہ سکتا ہ و تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اس کا بق یہ حصہ رکوع س ے ا ٹھ ت ے ہ وئ ے پ ڑھے۔
1044 ۔ اگر کوئ ی شخص مرض وغیرہ کی وجہ س ے رکوع م یں اپنا بدن ساکن نہ رک ھ سک ے تو اس ک ی نماز صحیح ہے ل یکن ضروری ہے ک ہ رکوع ک ی حالت میں خارج ہ ون ے س ے پ ہ ل ے واجب ذکر اس طر یقے سے ادا کر ے ج یسے اوپر بیان کیا گیا ہے۔
1045 ۔ جب کوئ ی شخص رکوع کے لئ ے ن ہ ج ھ ک ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ کس ی چیز کا سہ ارا ل ے کر رکوع بجالائ ے اور اگر س ہارے ک ے ذر یعے بھی معمول کے مطابق رکوع ن ہ کر سک ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس قدر ج ھ ک ے ک ہ عُرفاً اس ے رکوع ک ہ ا جاسک ے اور اگر اس قدر ن ہ ج ھ ک سک ے تو ضرور ی ہے ک ہ رکوع ک ے لئ ے سر سے اشار ہ کر ے۔
1046 ۔ جس شخص کو رکوع ک ے لئ ے سر س ے اشار ہ کرنا ضرور ی ہ و اگر و ہ اشار ہ کرن ے پر قادرن ہ ہو تو ضروری ہے ک ہ رکوع ک ی نیت کے سات ھ آنک ھ وں کو بند کر ے اور ذکر رکوع پ ڑھے اور رکوع س ے ا ٹھ ن ے ک ی نیت سے آنک ھ وں کو ک ھ ول د ے اور اگر اس قابل ب ھی نہ ہ و تو احت یاط کی بنا پر دل میں رکوع کی نیت کرے اور اپن ے ہ ات ھ س ے رکوع ک ے لئ ے اشار ہ کر ے اور ذکر رکوع پ ڑھے۔
1047 ۔ جو شخص ک ھڑے ہ و کر رکوع ن ہ کرسک ے ل یکن جب بیٹھ ا ہ و تو رکوع ک ے لئ ے ج ھ ک سکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ک ھڑے ہ وکر نماز پ ڑھے اور رکوع ک ے لئ ے سر س ے اشار ہ کر ے۔ اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ ا یک دفعہ پ ھ ر نماز پ ڑھے اور اس ک ے رکوع ک ے وقت ب یٹھ جائے اور رکوع ک ے لئ ے ج ھ ک جائ ے۔
1048 ۔ اگر کوئ ی شخص رکوع کی حد تک پہ نچن ے ک ے بعد سر کو ا ٹھ ال ے اور دوبار ہ رکوع کرن ے ک ی حد تک جھ ک ے تو اس ک ی نماز باطل ہے۔
1049 ۔ ضرور ی ہے ک ہ ذکر رکوع ختم ہ ون ے ک ے بعد س یدھ ا کھڑ ا ہ و جائ ے اور جب اس کا بدن سکون حاصل کرل ے اس ک ے بعد سجد ے م یں جائے اور اگر جان بوج ھ کر کھڑ ا ہ ون ے س ے پ ہ ل ے یا بدن کے سکون حاصل کرن ے س ے پ ہ ل ے سجد ے م یں چلا جائے تو اس ک ی نماز باطل ہے۔
1050 ۔ اگر کوئ ی شخص رکوع ادا کرنا بھ ول جائ ے اور اس س ے پ یشتر کہ سجد ے ک ی حالت میں پہ نچ ے اس ے یاد آجائے تو ضرور ی ہے ک ہ ک ھڑ ا ہ و جائ ے اور پ ھ ر رکوع م یں جائے۔ اور ج ھ ک ے ہ وئ ے ہ ون ے ک ی حالت میں اگر رکوع کی جانب لوٹ جائ ے تو کاف ی نہیں۔
1051 ۔ اگر کس ی شخص کو پیشانی زمین پر رکھ ن ے ک ے بعد یاد آئے ک ہ اس ن ے رکوع ن ہیں کیا تو اس کے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ لو ٹ جائ ے اور ک ھڑ ا ہ ون ے ک ے بعد رکوع بجالائ ے۔ اور اگر اس ے دوسر ے سجد ے م یں یاد آئے تو احت یاط لازم کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔
1052 ۔ مستحب ہے ک ہ انسان رکوع م یں جانے س ے پ ہ ل ے س یدھ ا کھڑ ا ہ و کر تکب یر کہے اور رکوع م یں گھٹ نوں کو پ یچھے کی طرف دھ ک یلے۔ پ یٹھ کو ہ موار رک ھے۔ گردن کو ک ھینچ کر پیٹھ کے برابر رک ھے۔ دونوں پاوں ک ے درم یان دیکھے۔ ذکر س ے پ ہ ل ے یا بعد میں درود پڑھے اور جب رکوع ک ے بعد ا ٹھے اور سیدھ ا کھڑ ا ہ و تو بدن ک ے سکون ک ی حالت میں ہ وت ے ہ وئ ے "سَمِعَ الل ہ لِمَن حَمِدَ ہ " ک ہے۔
1053 ۔ عورتوں ک ے لئ ے مستحب ہے ک ہ رکوع م یں ہ ات ھ وں کو گ ھٹ نوں س ے اوپر رک ھیں اور گھٹ نوں کو پ یچھے کی طرف نہ د ھ ک یلیں۔
1054 ۔ نماز پر ھ ن ے وال ے ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ واجب اور مستحب نمازوں ک ی ہ ر رکعت م یں رکوع کے بعد دو سجد ے کر ے۔ سجد ہ یہ ہے ک ہ خاص شکل م یں پیشانی کو خضوع کی نیت سے زم ین پر رکھے اور نماز ک ے سجد ے ک ی حالت میں واجب ہے ک ہ دونوں ہ ت ھیلیاں، دونوں گھٹ ن ے اور دونوں پاوں ک ے انگ وٹھے زمین پر رکھے جائ یں۔
1055 ۔ دو سجد ے مل کر ا یک رکن ہیں اور اگر کوئی شخص واجب نماز میں عمداً یا بھ ول ے س ے ا یک رکعت میں دونوں سجدے ترک کر د ے تو اس ک ی نماز باطل ہے۔ اور اگر ب ھ ول کر ا یک رکعت میں دو سجدوں کا اضافہ کر ے تو احت یاط لازم کی بنا پر یہی حکم ہے۔
1056 ۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر ا یک سجدہ کم یا زیادہ کر دے تو اس ک ی نماز باطل ہے اور اگر س ہ واً ا یک سجدہ کم یا زیادہ کرے تو اس کا حکم بعد م یں بیان کیا جائے گا ۔
1057 ۔ جو شخص پ یشانی زمین پر رکھ سکتا ہ و اگر جان بوج ھ کر یا سہ واً پ یشانی زمین پر نہ رک ھے تو خوا ہ بدن ک ے دوسر ے حص ے زم ین سے لگ ب ھی گئے ہ وں تو اس ن ے سجد ہ ن ہیں کیا لیکن اگر وہ پ یشانی زمین پر رکھ د ے اور س ہ واً بدن ک ے دوسر ے حص ے زم ین پر نہ رک ھے یا سہ واً ذکر ن ہ پ ڑھے تو اس کا سجد ہ صح یح ہے۔
1058 ۔ ب ہ تر یہ ہے ک ہ اخت یار کی حالت میں سجدے م یں تین دفعہ "سُبحَانَ الل ہ " یا ایک دفعہ "سُبحَاَنَ رَبِّ الاَعلٰ ی وَبِحَمدِہ " پ ڑھے اور ضرور ی ہے ک ہ یہ جملے مسلسل اور صح یح عربی میں کہے جائ یں اور ظاہ ر یہ ہے ک ہ ہ ر ذکر کا پ ڑھ نا کاف ی ہے ل یکن احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے ک ہ اتن ی ہی مقدار میں ہ و اور مستحب ہے ک ہ "سُ بحَانَ رَبِّیَ الاَعلٰی وَبِحَمدِہ " ت ین یا پانچ یا سات دفعہ یا اس سے ب ھی زیادہ مرتبہ پ ڑھے۔
1059 ۔ سجد ے ک ی حالت میں ضروری ہے ک ہ نماز ی کا بدن ساکن ہ و اور حالت اخت یار میں اسے اپن ے بدن کو اس طرح حرکت ن ہیں دینا چاہ ئ ے ک ہ سکون ک ی حالت سے نکل جائ ے اور جب واجب ذکر م یں مشغول نہ ہ و تو احت یاط کی بنا پر یہی حکم ہے۔
1060 ۔ اگر اس پ یشتر کہ پ یشانی زمین سے لگ ے اور بدن سکون حاصل کرل ے کوئ ی شخص جان بوجھ کر ذکر سجد ہ پ ڑھے یا ذکر ختم ہ ون ے س ے پ ہ ل ے جان بوج ھ کر سر سجد ے س ے ا ٹھ ال ے تو اسک ی نماز باطل ہے۔
1061 ۔ اگر اس س ے پ یشتر کہ پ یشانی زمین پر لگے کوئ ی شخص سہ واً ذکر سجد ہ پ ڑھے اور اس س ے پ یشتر کہ سر سجد ے س ے ا ٹھ ائ ے اس ے پت ہ چل جائ ے ک ہ اس ن ے غلط ی کی ہے تو ضرور ی ہے ک ہ ساکن ہ و جائ ے اور دوبار ہ ذکر پ ڑھے۔
1062 ۔ اگر کس ی شخص کو سر سجدے س ے ا ٹھ ال ینے کے بعد پت ہ چل ے ک ہ اس ن ے ذکر سجد ہ ختم ہ ون ے س ے پ ہ ل ے سر ا ٹھ ا ل یا ہے تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔
1063 ۔ جس وقت کوئ ی شخص ذکر سجدہ پ ڑھ ر ہ ا ہ و اگر و ہ جان بوج ھ کر سات اعضائ ے سجد ہ م یں سے کس ی ایک کو زمین پر سے ا ٹھ ائ ے تو اس ک ی نماز باطل ہ و جائ ے گ ی لیکن جس وقت ذکر پڑھ ن ے م یں مشغول نہ ہ و اگر پ یشانی کے علاو ہ کوئ ی عضو زمین پر سے ا ٹھ ال ے اور دوبار ہ رک ھ د ے تو کوئ ی حرج نہیں ہے۔ ل یکن اگر ایسا کرنا اس کے بدن ک ے ساکن ہ ون ے ک ے مناف ی ہ و تو اس صورت م یں احتیاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔
1064 ۔ اگر ذکر سجد ہ ختم ہ ون ے س ے پ ہ ل ے کوئ ی شخص سہ واً پ یشانی زمین اٹھ ال ے تو اس ے دوبار ہ زم ین پر نہیں رکھ سکتا اور ضرور ی ہے ک ہ اس ے ا یک سجدہ شمار کر ے ل یکن اگر دوسرے اعضا س ہ واً زم ین پر سے ا ٹھ ائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ ان ہیں دوبارہ زم ین پر رکھے اور ذکر پ ڑھے۔
1065 ۔ پ ہ ل ے سجد ے کا ذکر ختم ہ ون ے ک ے بعد ضرور ی ہے ک ہ ب یٹھ جائے حت ی کہ اس کا بدن سکون حاصل کرل ے اور پ ھ ر دوبار ہ س جدے م یں جائے۔
1066 ۔ نماز پ ڑھ ن ے وال ے ک ی پیشانی رکھ ن ے ک ی جگہ گ ھٹ نوں اور پاوں ک ی انگلیوں کے سروں ک ی جگہ س ے چار مل ی ہ وئ ی انگلیوں سے ز یادہ بلند یا پست نہیں ہ ون ی چاہ ئ ے۔ بلک ہ احت یاط واجب یہ ہے ک ہ اس ک ی پیشانی کی جگہ اس ک ے ک ھڑے ہ ون ے ک ی جگہ س ے چار مل ی ہ وئ ی انگلیوں سے ز یادہ نیچی یا اونچی بھی نہ ہ و ۔
1067 ۔ اگر کس ی ایسی ڈھ لوان جگ ہ م یں اگرچہ اس کا ج ھ کاو صح یح طور پر معلوم نہ ہ و نماز پ ڑھ ن ے وال ے ک ی پیشانی کی جگہ اس ک ے گ ھٹ نوں اور پاوں ک ی انگلیوں کے سروں ک ی جگہ س ے چار مل ی ہ وئ ی انگلیوں سے ز یادہ بلند یا پست ہ و تو اس ک ی نماز میں اشکال ہے۔
1068 ۔ اگر نماز پ ڑھ ن ے والا اپن ی پیشانی کی غلطی سے ا یک ایسی چیز پر رکھ د ے جو گ ھٹ نوں اور اس ک ے پاوں ک ی انگلیوں کے سروں ک ی جگہ س ے چار مل ی ہ وئ ی انگلیوں سے ز یادہ بلند ہ و اور ان ک ی بلندی اس قدر ہ و ک ہ یہ نہ ک ہہ سک یں کہ سجد ے ک ی حالت میں ہے تو ضرور ی ہے ک ہ سر کو ا ٹھ ا ئے اور ایسی چیز پر جس کی بلندی چار ملی ہ وئ ی انگلیوں سے ز یادہ نہ ہ و رک ھے اور اگر اس ک ی بلندی اس قدر ہ و ک ہ ک ہہ سک یں کہ سجد ے ک ی حالت میں ہے تو پ ھ ر واجب ذکر پ ڑھ ن ے ک ے بعد متوج ہ ہ و تو سر سجد ے س ے ا ٹھ ا کر نماز کو تمام کر سکتا ہے۔ اور اگر واجب ذکر پڑھ ن ے س ے پ ہ ل ے متو جہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ پ یشانی کو اس چیز سے ہٹ ا کر اس چ یز پر رکھے ک ہ جس ک ی بلندی چار ملی ہ وئ ی انگلیوں کے برابر یا اس سے کم ہ و اور واجب ذکر پ ڑھے اور اگر پ یشانی کو ہٹ اتا ممکن ن ہ ہ و تو واجب ذکر کو اس ی حالت میں پڑھے اور نماز کو تمام کر ے اور ضرور ی نہیں کہ نماز کو دوبارہ پڑھے۔
1069 ۔ ضرور ی ہے ک ہ نماز پ ڑھ ن ے وال ے ک ی پیشانی اور اس چیز کے درم یان جس پر سجدہ کرنا صح یح ہے کوئ ی دوسری چیز نہ ہ و پس اگر سجد ہ گا ہ اتن ی میلی ہ و ک ہ پ یشانی سجدہ گا ہ کو ن ہ چ ھ وئ ے تو اس کا سجد ہ باطل ہے۔ ل یکن اگر سجدہ گا ہ کارنگ تبد یل ہ وگ یا ہ و تو کوئ ی حرج نہیں۔
1070 ۔ ضرور ی ہے ک ہ سجد ے م یں دونوں ہ ت ھیلیاں زمین پر رکھے ل یکن مجبوری کی حالت میں ہ ات ھ وں ک ی پشت بھی زمین پر رکھے تو کوئ ی حرن نہیں اور اگر ہ ات ھ وں ک ی پشت بھی زمین پر رکھ نا ممکن ن ہ ہ و تو احت یاط کی بنا ضروری ہے ک ہ ہ ات ھ وں ک ی کلائیاں زمین پر رکھے اور اگر ان ہیں بھی نہ رکھ سک ے تو پ ھ ر ک ہ ن ی تک جو حصہ ب ھی ممکن ہ و زم ین پر رکھے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہ و تو پ ھ ر بازو کا رک ھ نا ب ھی کافی ہے۔
1071 ۔ (نماز پ ڑھ ن ے وال ے ک ے لئ ے ) ضرور ی ہے ک ہ سجد ے م یں پاوں کے دونوں انگو ٹھے زم ین پر رکھے ل یکن ضروری نہیں کہ دونوں انگو ٹھ وں ک ے سر ے زم ین پر رکھے بلک ہ ان کا ظا ہ ر ی یا باطنی حصہ ب ھی رکھے تو کاف ی ہے۔ اور اگر پاوں ک ی دوسری انگلیاں یا پاوں کا اوپر والا حصہ زم ین پر رکھے یا ناخن لمبے ہ ون ے ک ی بنا پر انگوٹھ وں ک ے سر ے زم ین پر نہ لگ یں تو نماز باطل ہے اور جس شخص ن ے کوتا ہی اور مسئلہ ن ہ جانن ے ک ی وجہ س ے اپن ی نمازیں اس طرح پڑھی ہ وں ضرور ی ہے ک ہ ان ھیں دوبارہ پ ڑھے۔
1072 ۔ جس شخص ک ے پاوں ک ے انگو ٹھ وں ک ے سروں س ے کچ ھ حص ہ ک ٹ ا ہ وا ہ و ضرور ی ہے ک ہ جتنا باق ی ہ و و ہ زم ین پر رکھے اور اگر انگو ٹھ وں کا کچ ھ حص ہ ب ھی نہ بچا ہ و اور اگر بچا ب ھی ہ و تو بہ ت چ ھ و ٹ ا ہ و تو احت یاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ باق ی انگلیوں کو زمین پر رکھے اور اگر اس ک ی کوئی بھی انگلی نہ ہ و تو پاوں کا جتنا حص ہ ب ھی باقی بچا ہ و اس ے زم ین پر رکھے۔
1073 ۔ اگر کوئ ی شخص معمول کے خلاف سجد ہ کر ے مثلا س ینے اور پیٹ کو زمین پر ٹ کائ ے یا پاوں کو کچھ پ ھیلائے چنانچہ اگر ک ہ ا جائ ے ک ہ اس ن ے سجد ہ ک یا ہے تو اس ک ی نماز صحیح ہے ل یکن اگر کہ ا جائ ے ک ہ اس ن ے پاوں پ ھیلائے ہیں اور اس پر سجدہ کرنا صادق ن ہ آتا ہ و تو اس ک ی نماز باطل ہے۔
1074 ۔ سجد ہ گا ہ یا دوسری چیز جس پر نماز پڑھ ن ے والا سجد ے کر ے ضرور ی ہے ک ہ پاک ہ و ل یکن اگر مثال کے طور پر سجد ہ گا ہ کو نجس فرش پر رک ھ د ے یا سجدہ گا ہ ک ی ایک طرف نجس ہ و اور و ہ پ یشانی پاک طرف رکھے تو کوئ ی حرج نہیں ہے۔
1075 ۔ اگر نماز پ ڑھ ن ے وال ے ک ی پیشانی پر پھ و ڑ ا یا زخم یا اس طرح کی کوئی چیز ہ و ۔ جس ک ی بنا پر وہ پ یشانی زمین پر نہ رک ھ سکتا ہ و مثلاً اگر و ہ پ ھ و ڑ ا پور ی پیشانی کو نہ گ ھیرے ہ وئ ے ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ پ یشانی کے صحت مند حص ے س ے سجد ہ کر ے اور اگر پ یشانی کی صحت مند جگہ پر سجد ہ کرنا اس بات پر موقوف ہ و ک ہ زم ین کو کھ ود ے اور پ ھ و ڑے کو گ ڑھے م یں اور صحت مند جگہ ک ی اتنی مقدار زمین پر رکھے ک ہ سجد ے ک ے لئ ے کاف ی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس کام کا انجام د ے۔
1076 ۔ اگر پ ھ و ڑ ا یا زخم تمام پیشانی پر پھیلا ہ وا ہ و تو نماز پ ڑھ ن ے وال ے ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ اپن ے چ ہ ر ے ک ہ کچ ھ حص ے س ے سجد ہ کر ے اور احت یاط لازم یہ ہے ک ہ اگر ٹھ و ڑی سے سجد ہ کرسکتا ہ و تو ٹھ و ڑی سے سج دہ کر ے اور اگر ن ہ کر سکتا ہ و تو پ یشانی کے دونوں اطراف م یں سے ا یک طرف سے سجد ہ کر ے اور اگر چ ہ ر ے س ے سجد ہ کرنا کس ی طرح بھی ممکن نہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ سجد ے ک ے لئ ے اشار ہ کر ے۔
1077 ۔ جو شخص ب یٹھ سکتا ہ و ل یکن پیشانی زمین پر نہ رک ھ سکتا ہ و ضرور ی ہے ک ہ جس قدر ب ھی جھ ک سکتا ہ و ج ھ ک ے اور سجد ہ گا ہ یا کسی دوسری چیز کو جس پر سجدہ صح یح ہ و کس ی بلند چیز پر رکھے اور اپن ی پیشانی اس پر اس طرح رکھے ک ہ لوگ ک ہیں کہ اس ن ے سجد ہ ک یا ہے ل یکن ضروری ہے ک ہ ہ ت ھیلیوں اور گھٹ نوں اور پاوں ک ے انگو ٹھ وں کو معمول ک ے مطابق زم ین پر رکھے۔
1078 ۔ اگر کوئ ی ایسی بلند چیز نہ ہ و جس پر نماز پ ڑھ ن ے والا سجد ہ گا ہ یا کوئی دوسری چیز جس پر سجدہ کرنا صح یح ہ و رک ھ سک ے اور کوئ ی شخص بھی نہ ہ و جو مثلاً سجد ہ گا ہ کو ا ٹھ ائ ے اور پک ڑے تا ک ہ و ہ شخص اس پر سجد ہ کر ے تو احت یاط یہ ہے ک ہ سجد ہ گا ہ یا دوسری چیز کو جس پر سجدہ کر رہ ا ہ و ہ ات ھ س ے ا ٹھ ائ ے اور اس پر سجد ہ کر ے۔
1079 ۔ اگر کوئ ی شخص بالکل ہی سجدہ ن ہ کر سکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ سجد ے ک ے لئ ے سر س ے اشار ہ کر ے اور اگر ا یسا نہ کرسک ے تو ضرور ی ہے ک ہ آنک ھ وں س ے اشار ہ کر ے اور اگر آنک ھ وں س ے ب ھی اشارہ ن ہ کرسکتا ہ و تو احت یاط لازم کی بنا پر ضروری ہے ک ہ ہ ات ھ وغ یرہ سے سجد ے ک ے لئ ے اشار ہ کرے اور دل م یں بھی سجدے ک ی نیت کرے اور واجب ذکر ادا کر ے۔
1080 ۔ اگر کس ی شخص کی پیشانی بے اخت یار سجدے ک ی جگہ س ے ا ٹھ جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ حت ی الامکان اسے دوبار ہ سجد ے ک ی جگہ پر ن ہ جان ے د ے قطع نظر اس ک ے ک ہ اس ن ے سجد ے کا ذکر پڑھ ا ہ و یا نہ پ ڑھ ا ہ و یہ ایک سجدہ شمار ہ وگا ۔ اور اگر سر کو ن ہ روک سک ے اور و ہ ب ے اخت یار دوبارہ س جدے کی جگہ پ ہ نچ جائ ے تو و ہی ایک سجدہ شمار ہ وگا ۔ ل یکن اگر واجب ذکر ادا نہ ک یا ہ و تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اس ے قربت مُطلَقَ ہ ک ی نیت سے ادا کر ے۔
1081 ۔ ج ہ اں انسان ک ے لئ ے تق یہ کرنا ضروری ہے و ہ اں و ہ قال ین یا اسطرح کی چیز پر سجدہ کر ے اور یہ ضروری نہیں کہ نماز ک ے لئ ے کس ی دوسری جگہ جائ ے یا نماز کو موخر کرے تا ک ہ اس ی جگہ پر اس سبب ک ے ختم ہ ون ے ک ے بعد نماز ادا کر ے۔ ل یکن اگر چٹ ائ ی یا کسی دوسری چیز جس پر سجدہ کرنا صح یح ہ و اگر و ہ اس طرح سجد ے کر ے ک ہ تق یہ کی مخالفت نہ ہ وت ی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ پ ھ ر و ہ قال ین یا اس سے ملت ی جلتی چیز پر سجدہ ن ہ کر ے۔
1082 ۔ اگر کوئ ی شخص (پرندوں کے ) پروں س ے ب ھ ر ے گد ے یا اسی قسم کی کسی دوسری چیز پر سجدہ کر ے جس پر جم سکون ک ی حالت میں نہ ر ہے تو اس ک ی نماز باطل ہے۔
1083 ۔ اگر انسان ک یچڑ والی زمین پر نماز پڑھ ن ے پر مجبور ہ و اور بدن اور لباس کا آلود ہ ہ و جانا اس ک ے لئ ے مشقت کا موجب ن ہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ سجد ہ اور تش ہ د معمول ک ے مطابق بجالائ ے اور اگر ا یسا کرنا مشقت کا موجب ہ و تو ق یام کی حالت میں سجدے ک ے لئ ے سر س ے اشار ہ کر ے ا ور تشہ د ک ھڑے ہ و کر پ ڑھے تو اس ک ی نماز صحیح ہ وگ ی۔
1084 ۔ پ ہ ل ی رکعت میں اور مثلاً نماز ظہ ر، نماز عصر، اور نماز عشا ک ی تیسری رکعت میں جس میں تشہ د ن ہیں ہے احت یاط واجب یہ ہے ک ہ انسان دوسر ے سجد ے ک ے بعد ت ھ و ڑی دیر کے لئ ے سکون س ے ب یٹھے اور پھ ر ک ھڑ ا ہ و ۔
1085 ۔ سجد ہ زم ین پر اور ان چیزوں پر کرنا ضروری ہے جو ک ھ ائ ی اور پہ ن ی نہ جات ی ہ وں اور زم ین سے اگت ی ہ وں مثلاً لک ڑی اور درختوں کے پت ے پر سجد ہ کر ے۔ ک ھ ان ے اور پ ہ نن ے ک ی چیزوں مثلاً گندم، جو اور کپاس پر اور ان چیزوں پر جو زمین کے اجزاء شمار ن ہیں ہ وت یں مثلاً سونے ، چ اندی اور اسی طرح کی دوسری چیزوں پر سجدہ کرنا صح یح نہیں ہے ل یکن تار کول اور گندہ ب یروزا کی مجبوری کی حالت میں دوسری چیزوں کے مقابل ے م یں کہ جن پر سجد ہ کرنا صح یح نہیں سجدے ک ے لئ ے اول یت دے۔
1086 ۔ انگور ک ے پتوں پر سجدہ کرنا جبک ہ و ہ کچ ے ہ وں اور ان ھیں معمولاً کھ ا یا جاتا ہ و جائز ن ہیں۔ اس صورت ک ے علاو ہ ان پر سجد ہ کرن ے م یں ظاہ راً کوئ ی حرج نہیں۔
1087 ۔ جو چ یزیں زمین سے اگت ی ہیں اور حیوانات کی خوراک ہیں مثلاً گھ اس اور ب ھ وسا ان پر سجد ہ کرنا صح یح ہے۔
1088 ۔ جن پ ھ ولوں کو ک ھ ا یا نہیں جاتا ان پر سجدہ صح یح ہے بلک ہ ان ک ھ ان ے ک ی دواوں پر بھی سجدہ صح یح ہے جو زم ین سے اگت ی ہیں اور انھیں کوٹ کر یا جوش دیکر انکا پانی پیتے ہیں مثلاً گل بنفشہ اور گل گاو زبان، پر ب ھی سجدہ صح یح ہے۔
1089 ۔ ا یسی گھ اس جو بعض ش ہ روں م یں کھ ائ ی جاتی ہ و اور بعض ش ہ روں میں کھ ائ ی تو نہ جات ی ہ و ۔ ل یکن وہ اں اس ے اش یاء خوردنی میں شمار کیا جاتا ہ و اس پر سجد ہ صح یح نہیں اور کچے پ ھ لوں پر ب ھی سجدہ کر صح یح نہیں ہے۔
1090 ۔ چون ے ک ے پت ھ ر اور جپسم پر سجد ہ کرنا صح یح ہے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اخت یار کی حالت میں پختہ جپسم اور چون ے اور ا ینٹ اور مٹی کے پک ے ہ وئ ے برتنوں اور ان س ے ملت ی جلتی چیزوں پر سجدہ ن ہ ک یا جائے۔
1091 ۔ اگر کاغذ کو ا یسی چیز سے بنا یا جائے ک ہ جس پر سجد ہ کرنا صح یح ہے مثلاً لک ڑی اور بھ وس ے س ے تو اس پر سجد ہ ک یا جاسکتا ہے اور اس ی طرح اگر روئی یا کتان سے بنا یا گیا ہ و تو ب ھی اس پر سجدہ کرنا صح یح ہے ل یکن اگر ریشم یا ابریشم اور اسی طرح کی کسی چیز سے بنا یا گیا ہ و تو اس پر سجدہ صح یح نہیں ہے۔
1092 ۔ سجد ے ک ے لئ ے خاک شفا سب چ یزوں سے ب ہ تر ہے اس ک ے بعد م ٹی، مٹی کے بعد پت ھ ر اور پت ھ ر ک ے بعد گ ھ اس ہے۔
1093 ۔ اگر کس ی کے پاس ا یسی چیز نہ ہ و جس پر سجد ہ کرنا صح یح ہے یا اگر ہ و تو سرد ی یا زیادہ گرمی وغیرہ کی وجہ س ے اس پر سجد ہ ن ہ کرسکتا ہ و تو ا یسی صورت میں تار کول اور گندہ ب یروزا کو سجدے ک ے لئ ے دوسر ی چیزوں پر اولیت حاصل ہے ل یکن اگر ان پر سجدہ کرنا ممکن ن ہ ہ و تو ضروری ہے ک ہ اپن ے لباس یا اپنے ہ ات ھ وں ک ی پشت یا کسی دوسری چیز پر کہ حالت اخت یار میں جس پر سجدہ جائز ن ہیں سجدہ کر ے ل یکن احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ جب تک اپن ے کپ ڑ وں پر سجد ہ ممکن ہ و کس ی دوسری چیز پر سجدہ ن ہ کر ے۔
1094 ۔ ک یچڑیر اور ایسی نرم مٹی پر جس پر پیشانی سکون سے ن ہ ٹ ک سک ے سجد ہ کرنا باطل ہے ۔
1095 ۔ اگر پ ہ ل ے سجد ے م یں سجدہ گا ہ پ یشانی سے چپک جائ ے تو دوسر ے سجد ے ک ے لئ ے اس ے چ ھڑ ا ل ینا چاہ ئ ے۔
1096 ۔ جس چ یز پر سجدہ کرنا ہ و اگر نماز پ ڑھ ن ے ک ے دوران و ہ گم ہ و جائ ے اور نماز پ ڑھ ن ے وال ے ک ے پاس کوئ ی ایسی چیز نہ ہ و جس پر سجد ہ کرنا صحیح ہ و تو جو ترت یب مسئلہ 1093 میں بتائی گئ ہے اس پر عمل کر ے خوا ہ وقت تنگ ہ و یا وسیع، نماز کو توڑ کر اس کا اعاد ہ کر ے۔
1097 ۔ جب کس ی شخص کو سجدے ک ی حالت میں پتہ چل ے ک ہ اس ن ے اپن ی پیشانی کسی ایسی چیز پر رکھی ہے جس پر سجد ہ کرنا باطل ہے چنانچ ہ واجب ذکر ادا کرن ے ک ے بعد متوج ہ ہ و تو سر سجد ے س ے ا ٹھ ائ ے اور اپن ی نماز جاری رکھے اور اگر واجب ذکر ادا کرن ے س ے پ ہ ل ے متوج ہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اپنی پیشانی کو اس چیز پر کہ جس پر سجد ہ کرنا صح یح ہے لائ ے اور واجب ذکر پ ڑھے ل یکن اگر پیشانی لانا ممکن نہ ہ و تو اس ی حال میں واجب ذکر ادا کر سکتا ہے اور اس ک ی نماز ہ ر دو صورت م یں صحیح ہے۔
1098 ۔ اگر کس ی شخص کو سجدے ک ے بعد پت ہ چل ے ک ہ اس ن ے اپن ی پیشانی کسی ایسی چیز پر رکھی ہے جس پر سجد ہ کرنا باطل ہے تو کوئ ی حرج نہیں ۔
1099 ۔ الل ہ تعال ی کے علاو ہ کس ی دوسرے کو سجد ہ کرنا حرام ہے۔ عوام م یں سے بعض لوگ جو ائم ہ عل یہ م السلام کے مزارات مقدس ہ ک ے سامن ے پ یشانی زمین پر رکھ ت ے ہیں اگر وہ الل ہ تعال ی کا شکر ادا کرنے ک ی نیت سے ا یسا کریں تو کوئی حرج نہیں ورنہ ا یسا کرنا حرام ہے۔
1100 ۔ چند چ یزیں سجدے م یں مستحب ہیں :
1 ۔ جو شخص ک ھڑ ا ہ و کر نماز پ ڑھ ر ہ ا ہ و و ہ رکوع سر ا ٹھ ان ے ک ے بعد مکمل طور پر ک ھڑے ہ و کر اور ب یٹھ کر نماز پڑھ ن ے والا رکوع ک ے بعد پور ی طرح بیٹھ کر سجدہ م یں جانے ک ے لئ ے تکب یر کہے۔
2 ۔ سجد ے م یں جاتے وقت مرد پ ہ ل ے اپن ی ہ ت ھیلیوں اور عورت اپنے گ ھٹ نوں کو زم ین پر رکھے۔
3 ۔ نماز ی ناک کو سجدہ گا ہ یا کسی ایسی چیز پر رکھے جس پر سجد ہ کرنا درست ہ و ۔
4 ۔ نماز ی سجدے ک ی حالت میں ہ ات ھ ک ی انگلیوں کو ملا کر کانوں کے پاس اس طرح رک ھے ک ہ ان ک ے سر ے رو ب ہ قبل ہ ہ وں ۔
5 ۔ سجد ے م یں دعا کرے ، الل ہ تعال ی سے حاجت طلب کرے اور یہ دعا پڑھے :
"یَاخَیرَ المَسئُولِینَ وَیاَخَیرَ المُعطِینَ ارزُقنِی وَ ارزُق عَیَالِی مِن فضلِکَ فَاِنَکَ ذُوالفَضلِ الَظِیمِ "۔
یعنی :اے ان سب م یں سے ب ہ تر جن س ے ک ہ مانگا جاتا ہے اور ا ے ان سب س ے برتر جو عطا کرت ے ہیں۔ مج ھے اور م یرے اہ ل و ع یال کو اپنے فضل و کرم س ے رزق عطا فرما ک یونکہ تو ہی فضل عظیم کا مالک ہے۔
6 ۔ سجد ے ک ے بعد بائ یں ران پر بیٹھ جائے اور دائ یں پاوں کا اوپر والا حصہ ( یعنی پشت) بائیں پاوں کے تلو ے پررک ھے۔
7 ۔ ہ ر سجد ے ک ے بعد جب ب یٹھ جائے اور بدن کو سکون حاصل ہ وجائ ے تو تکب یر کہے۔
8 ۔ پ ہ ل ے سجد ے ک ہ بعد جب بدن کو سکون حاصل ہ و جائ ے تو "اَستَغفِرُالل ہ رَبّ یِ وَاَتُوبُ اِلَیہ" کہے۔
9 ۔ سجد ہ ز یادہ دیر تک انجام دے اور ب یٹھ ن ے کے وقت ہ ات ھ وں کو رانوں پر رک ھے
10 ۔ دوسر ے سجد ے م یں جانے ک ے لئ ے بدن ک ے سکون ک ی حالت میں اَللہ اَکبَر ک ہے :
11 ۔ سجدوں م یں درود پڑھے۔
12 ۔ سجد ے یا قیام کے لئ ے ا ٹھ ت ے وقت پ ہ ل ے گ ھٹ نوں کو اور ان ک ے بعد ہ ات ھ وں کو زم ین سے ا ٹھ ائ ے۔
13 ۔ مرد ک ہ ن یوں اور پیٹ کو زمین سے ن ہ لگائ یں نیز بازووں کو پہ لو س ے جدا رک ھیں۔ اور عورت یں کہ ن یاں اور پیٹ زمین پر رکھیں اور بدن کے اعضاء کو ا یک دوسرے س ے ملال یں۔ ان ک ے علاو ہ دوسر ے مستحبات ب ھی ہیں جن کا ذکر مفصل کتابوں میں موجود ہے۔
1101 ۔ سجد ے م یں قرآن مجید پڑھ نا مکرو ہ ہے اور سجد ے ک ی جگہ کو گردوغبار ج ھ ا ڑ ن ے ک ے لئ ے پ ھ ونک مارنا ب ھی مکروہ ہے بلک ہ اگر پ ھ ونک مارن ے ک ی وجہ س ے دو حرف ب ھی منہ س ے عمداً نکل جائ یں تو احتیاط کی بنا پر نماز باطل ہے اور ان ک ے علاو ہ اور مکرو ہ ات کا ذکر ب ھی مفصل کتابوں میں آیا ہے۔
1102 ۔ قرآن مج ید کی چار سورتوں یعنی وَالنَّجم، اِقرَا، الٓمّ تنزیل اور حٰمٓ سجدہ م یں سے ہ ر ا یک میں ایک آیہ سجدہ ہے جس ے اگر انسان پ ڑھے یا سنے تو آ یت ختم ہ ون ے ک ے بعد فوراً سجد ہ کرنا ضرور ی ہے اور اگر سجد ہ کرنا ب ھ ول جائ ے تو جب ب ھی اسے یاد آئے سجد ہ کر ے اور ظ اہ ر یہ ہے ک ہ آ یہ سجدہ غ یر اختیاری حالت میں سنے تو سجد ہ واجب ن ہیں ہے اگرچ ہ ب ہ تر یہ ہے ک ہ سجد ہ ک یا جائے۔
1103 ۔ اگر انسان سجد ے ک ی آیت سننے کے وقت خود ب ھی وہ آ یت پڑھے تو ضرور ی ہے ک ہ دو سجد ے کر ے۔
1104 ۔ اگر نماز ک ے علاو ہ سجد ے ک ی حالت میں کوئی شخص آیہ سجدہ پ ڑھے یا سنے تو ضرور ی ہے ک ہ سجد ے س ے سر ا ٹھ ائ ے اور دوبار ہ سجد ہ کر ے۔
1105 ۔ اگر انسان سوئ ے ہ وئ ے شخص یا دیوانے یا بچے س ے جو قرآن سمج ھ کر ن ہ پ ڑھ ر ہ ا ہ و سجد ے ک ی آیت سنے یا اس پر کان دھ ر ے تو سجد ہ واجب ہے۔ ل یکن اگر گرامافون یا ٹیپ ریکارڈ سے (ر یکارڈ شد ہ آیہ سجدہ ) سن ے تو سجد ہ واجب ن ہیں۔ اور سجد ے ک ی آیت ریڈیو پر ٹیپ ریکارڈ کے ذر یعے نشر ک ی جائے تب ب ھی یہی حکم ہے۔ ل یکن اگر کوئی شخص ریڈیوں اسٹیشن سے (برا ہ راست نشر یات میں) سجدے ک ی آیت پڑھ ن ے اور انسان اس ے ر یڈیو پر تو سجدہ واجب ہے۔
1106 ۔ قرآن کا واجب سجد ہ کرن ے ک ے لئ ے احت یاط واجب کی بنا پر ضروری ہے ک ہ انسان ک ی جگہ غصب ی نہ ہ و اور احت یاط مستحب کی بنا پر اس کے پ یشانی رکھ ن ے ک ی جگہ اس ک ے گ ھٹ نوں اور پاوں ک ی انگلیوں کے سروں ک ی جگہ س ے چار مل ی ہ وئ ی انگلیوں سے ز یادہ اونچی یا نیچی نہ ہ و ل یکن یہ ضروری نہیں کہ اس ن ے وضو یا غسل کیا ہ وا ہ و یا قبلہ رخ ہ و یا اپنی شرمگاہ کو چ ھ پائ ے یا اس کا بدن اور پیشانی رکھ ن ے ک ی جگہ پاک ہ و ۔ اس ک ے علاو ہ جو ش رائط نماز پڑھ ن ے وال ے ک ے لباس ک ے لئ ے ضرور ی ہیں وہ شرائط قرآن مج ید کا واجب سجدہ ادا کرن ے وال ے ک ے لباس ک ے لئ ے ن ہیں ہیں۔
1107 ۔ احت یاط واجب یہ ہے ک ہ قرآن مج ید کے واجب سجد ے م یں انسان اپنی پیشانی سجدہ گا ہ یا کسی ایسی چیز پر رکھے۔ جس پر سجد ہ کرنا صح یح ہ و اور احت یاط مستحب کی بنا پر بدن کے دوسر ے اعضاء زم ین پر اس طرح رکھے۔ جس طرح نماز ک ے سلسل ے م یں بتایا گیا ہے۔
1108 ۔ جب انسان قرآن مج ید کا واجب سجدہ کرن ے ک ے اراد ے س ے پ یشانی زمین پر رکھ د ے تو خوا ہ و ہ کوئ ی ذکر نہ ب ھی پڑھے تب ب ھی کافی ہے اور ذکر کا پ ڑھ نا مستحب ہے۔ اور ب ہ تر ہے ک ہ یہ پڑھے :
"لآَ اِلٰہ الاَّ الل ہ حَقّاً حقّاً، لآَ اِلٰ ہ اِلاَّ الل ہ اِ یماَناً وّتَصدِیقاً،لآَ اِلٰہ الاَّ الل ہ عُبُودِ یَّۃ ً وَّرِقاً، سَبَحتُّ لَکَ یَارَبِّ تَعَبُّدًا وَّرِقّاً، مُستَنکِفاً وَّلاَ مُستَکبِرًا، بَل اَنَا عَبدٌ ذَلِیلٌ ضَعِیفٌ خَآئِفٌ مُّستَجِیرٌ۔
1109 ۔ سب واجب اور مستحب نمازوں ک ی دوسری رکعت میں اور نماز مغرب کی تیسری رکعت میں اور ظہ ر، عصر اور عشا ک ی چوتھی رکعت میں انسان کے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ دوسر ے سجد ے ک ے بعد ب یٹھ جائے اور بدن ک ے سکون ک ی حالت میں تشہ د پ ڑھے یعنی کہے اَش ھ َدُ اَن لاَّ اِلٰ ہ اِلاَّ وَحدَ ہ لاَ شَرِ یکَ لَہ وَ اَش ھ َدُ اَنَّ مُحَمَّمدًا عَبدُ ہ وَرَسُولُ ہ اَللّٰ ھ ُمَّ صَلِّ عَل یٰ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ اور اگر کہے اَش ہ دُ اَن لاَّ اِلٰ ہ اِلاَّ الل ہ وَ اَش ھ َدُ اَنَّ مُحَمَّمدًا صَلَّ ی اللہ عَلَ یہ وَاٰلِہ عَبدُ ہ وَرَسُولُ ہ تو بنابر اقو ی کافی ہے۔ اور نماز وتر م یں بھی تشہ د پ ڑھ نا ضرور ی ہے۔
110 ۔ ضرور ی ہے ک ہ تش ہ د ک ے جمل ے صح یح عربی میں اور معمول کے مطابق مسلسل ک ہے جائ یں۔
1111 ۔ اگر کوئ ی شخص تشہ د پ ڑھ نا ب ھ ول جائ ے اور ک ھڑ ا ہ و جائ ے ، اور رکوع س ے پ ہ ل ے اس ے یاد آئے ک ہ اس نے تش ہ د ن ہیں پڑھ ا تو ضرور ی ہے ک ہ ب یٹھ جائے اور تش ہ د پ ڑھے اور پ ھ ر دوبارا ک ھ را ہ و اور اس رکعت م یں جو کچھ پ ڑھ نا ضرور ی ہے پ ڑھے اور نماز ختم کر ے۔ اور احت یاط مستحب کی بنا پر نماز کے بعد ب ے جا ق یام کرے اور نماز ک ے سلام ک ے بعد احت یاط مستحب کی بنا پر تشہ د ک ی قضا کرے۔ اور ضرور ی ہے ک ہ ب ھ ول ے ہ و ے تش ہ د ک ے لئ ے دو سجد ہ س ہ و بجا لائ ے۔
1112 ۔ مستحب ہے ک ہ تش ہ د ک ی حالت میں انسان بائیں ران پر بیٹھے اور دائیں پاوں کی پشت کو بائیں پاوں کے تلو ے پر رک ھے اور تش ہ د س ے پ ہ ل ے ک ہے "اَلحَمدُ لِلّٰ ہ " یا کہے۔ "بِسمِ الل ہ وَ بِالل ہ وَالحَ مدُ لِلّٰہ وَ خَ یرُالاَسمَآءِ لِلّٰہ " اور یہ بھی مستحب ہے ک ہ ہ ات ھ ران وں پر رکھے اور انگل یاں ایک دوسرے ک ے سات ھ ملائ ے اور اپن ے دامن پر نگا ہ ڈ ال ے اور تش ہ د م یں صلوات کے بعد ک ہے :"وَتَقَبَّل شَفَاعَتَ ہ وَارفَع دَرَجَتَ ہ " ۔
1113 ۔ مستحب ہے ک ہ عورت یں تشہ د پ ڑھ ت ے وق ت اپنی رانیں ملا کر رکھیں۔
1114 ۔ نماز ک ی آخری رکعت کے تش ہ د ک ے بعد جب نماز ی بیٹھ ا ہ و اور اس کا بدن سکون ک ی حالت میں ہ و تو مستحب ہے ک ہ و ہ ک ہے : "اَلسَّلاَمُ عَلَ یکَ اَیُّھ َاالنَّبِ یُّ وَرَحمَۃ ُ اللہ وَبَرکَاتُ ہ " اور اس ک ے بعد ضرور ی ہے ک ہ ک ہے اَلسَّلاَمُ عَلَ یکُم اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اَلسَّلاَمُ عَلَ یکُم اور احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ اَلسَّلاَمُ عَلَ یکُم کے جمل ے ک ے سات ھ وَرَحمَ ۃ ُ اللہ وَبَرکَاتُ ہ ک ے جمل ے کا اضاف ہ کر ے یا یہ کہے اَلسَّلاَمُ عَلَ ینَا وَعَلیٰ عِبَادِ اللہ الصَّالِح یِینَ لیکن اگر اس اسلام کو پڑھے تو احت یاط واجب یہ ہے ک ہ اس ک ے بعد اَلسَّلاَمُ عَلَ یکُم بھی کہے۔
1115 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز کا سلام کہ نا ب ھ ول جائ ے اور اس ے ا یسے وقت یاد آئے جب اب ھی نماز کی شکل ختم نہ ہ وئ ی ہ و اور اس ن ے کوئ ی ایسا کام بھی نہ ک یا ہ و جس ے عمداً اور س ہ واً کرنے س ے نماز باطل ہ و جات ی ہ و مثلاً قبل ے ک ی طرف پیٹھ کرنا تو ضروری ہے ک ہ سلام ک ہے اور اس ک ی نماز صحیح ہے۔
1116 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز کا سلام کہ نا ب ھ ول جائ ے اور اس ے ا یسے وقت یاد آئے جب نماز ک ی شکل ختم ہ وگئ ی ہ و یا اس نے کوئ ی ایسا کام کیا ہ و جس ے عمداً اور س ہ واً کرن ے س ے نماز باطل ہ و جات ی ہے مثلاً قبل ے ک ی طرف پیٹھ کرنا تو اس کی نماز صحیح ہے۔
1117 ۔ اگر کوئ ی شخص جان بوجھ کر نماز ک ی ترتیب الٹ د ے مثلاً الحمد س ے پ ہ ل ے سور ہ پ ڑھ ل ے یا رکوع سے پ ہ ل ے سجد ے بجالائ ے تو اس ک ی نماز باطل ہ وجات ی ہے۔
1118 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز کا کوئی رکن بھ ول جائ ے اور اس ک ے بعد کا رکن بجالائ ے مثلاً رکوع کرن ے س ے پ ہ ل ے دو سجد ے کر ے تو اس ک ی نماز احتیاط کی بنا پر باطل ہے۔
1119 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز کو کوئی رکن بھ ول جائ ے اور ا یسی چیز بجالائے جو اس ک ے بعد ہ و اور رکن ن ہ ہ و مثلاً اس س ے پہ ل ے ک ہ دو سجد ے کر ے تش ہ د پ ڑھ ل ے تو ضرور ی ہے ک ہ رکن بجالائ ے اور جو کچ ھ ب ھ ول کر اس س ے پ ہ ل ے پ ڑھ ا ہ و اس ے دوبار ہ پ ڑھے۔
1120 ۔ اگر کوئ ی شخص ایک ایسی چیز بھ ول جائ ے جو رکن ن ہ ہ و اور اس ک ے بعد کا رکن بجالائ ے مثلاً الحمد ب ھ ول جائ ے اور رکوع م یں چلاجائے تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔
1121 ۔ اگر کوئ ی شخص ایک ایسی چیز بھ ول جائ ے جو رکن ن ہ ہ و اور اس چ یز کو بجالائے جو اس ک ے بعد ہ و اور و ہ ب ھی رکن نہ ہ و مثلاً الحمد ب ھ ول جائ ے اور سور ہ پ ڑھ ل ے تو ضرور ی ہے ک ہ جو چ یز بھ ول گ یا ہ و و ہ بجائ ے اور اس ک ے بعد و ہ چ یز جو بھ ول کر پ ہ ل ے پ ڑھ ل ی ہ و دوبارہ پ ڑھے۔
1122 ۔ اگر کوئ ی شخص پہ لا سجد ہ اس خ یال سے بجالائ ے ک ہ دوسرا سجد ہ ہے یا دوسرا سجدہ اس خ یال سے بجالائ ے ک ہ پ ہ لا سجد ہ ہے تو اس ک ی نماز صحیح ہے اور اس ک ی پہ لا سجد ہ ، پ ہ لا سجد ہ اور دوسرا سجد ہ دوسرا سجد ہ شمار ہ وگا ۔
1123 ۔ ضرور ی ہے ک ہ انسان نماز مولات کے سات ھ پ ڑھے یعنی نماز کے افعال مثلاً رکوع، سجود اور تش ہ د تواتُر اور تسلسل ک ے سات ھ بجالائ ے۔ اور جو چ یزیں بھی نماز میں پڑھے معمول ک ے مطابق پ ے در پ ے پ ڑھے اور اگر ان ک ے درم یان اتنا فاصلہ ڈ ال ے ک ہ لوگ یہ نہ ک ہیں کہ نماز پ ڑھ ر ہا ہے تو اس ک ی نماز باطل ہے۔
1124 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز میں سہ واً حروف یا جملوں کے درم یان فاصلہ د ے اور فاصل ہ اتنا ن ہ ہ و ک ہ نماز ک ی صورت برقرار نہ ر ہے تو اگر و ہ اب ھی بعد والے رکن م یں مشغول نہ ہ وا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ حروف یا جملے معمول ک ے مطابق پ ڑھے اور اگر بعد ک ی کوئی چیز پڑھی جاچکی ہ و ت و ضروری ہے ک ہ اس ے د ہ رائ ے اور اگر بعد ک ے رکن م یں مشغول ہ و گ یا ہ و تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔
1125 ۔ رکوع اور سجود کو طول د ینا اور بڑی سورتیں پڑھ نا مُوَالات کو ن ہیں توڑ تا ۔
1126 ۔ تمام واجب اور مستحب نمازوں م یں دوسری رکعت کے رکوع س ے پ ہ ل ے قنوت پ ڑھ نا مستحب ہے ل یکن نماز شفع میں ضروری ہے ک ہ اس ے رجاءً پ ڑھے اور نماز وتر م یں بھی باوجودیکہ ایک رکعت کی ہ وت ی ہے رکوع س ے پ ہ ل ے قنوت پ ڑھ نا مستحب ہے۔ اور نماز ک ی جمعہ ک ی ہ ر رکعت م یں ایک قنوت، نماز آیات میں پانچ قنوت، نماز عید فطر و قربان کی پہ ل ی رکعت میں پانچ قنوت اور دوسری رکعت میں چار قنوت ہیں۔
1127 ۔ مستحب ک ہ قنوت پ ڑھ ت ے وقت ہ ات ھ چ ہ ر ے ک ے سامن ے اور ہ ت ھیلیاں ایک دوسری کے سات ھ ملا کر آسمان ک ی طرف رکھے اور انگو ٹھ وں ک ے علاو ہ باق ی انگلیوں کو آپس میں ملائے اور نگا ہ ہ ت ھیلیوں پر رکھے۔
1128 ۔ قنوت م یں انسان جو ذکر بھی پڑھے خوا ہ ا یک دفعہ "سُبحَانَ الل ہ " ہی کہے کاف ی ہے اور ب ہ تر ہے ک ہ یہ دعا پڑھے۔ لاَّ اِلٰ ہ اِلاَّ الل ہ الحَلِ یمُ الکَرِیمُ، لآَ اِلٰہ اِلاَّ الل ہ العَلِ یُّ العَظِیمُ، سُبحَانَ اللہ رَبِّ السَّمٰوَاتِ السَّبعِ وَرَبِّ الاَرَضِ ینَ السَّبعِ وَمَافِیھ ِنَ وَمَا بَینَھ ُنَّ وَرَبِّ العَرشِ العَظِیمِ وَالحَمدُ لِلّٰہ رَبِّ العَالَمِ ینَ۔
1129 ۔ مستحب ہے ک ہ انسان قنوت بلند آواز س ے پ ڑھے ل یکن اگر ایک شخص جماعت کے سات ھ نماز پ ڑھ ر ہ ا ہ و اور امام اس ک ی آواز سن سکتا ہ و تو اس کا بلند آواز س ے قنوت پ ڑھ نا مستحب ن ہیں ہے۔
1130 ۔ اگر کوئ ی شخص عمداً قنوت نہ پ ڑھے تو اس ک ی قضا نہیں ہے اور اگر ب ھ ول جائ ے اور اس س ے پ ہ ل ے ک ہ رکوع ک ی حد تک جھ ک ے اس ے یاد آجائے تو مستحب ہے ک ہ ک ھڑ ا ہ و جائ ے اور قنوت پ ڑھے۔ اور اگر رکوع م یں یاد آجائے تو مستحب ہے ک ہ رکوع ک ے بعد قضا کر ے اور اگر سجد ے م یں یاد آئے تو مستحب ہے ک ہ سلام ک ے بعد اس ک ی قضا کرے۔
بِسمِ اللہ الَّرحِ یمِ :"بِسمِ اللہ " یعنی میں ابتدا کرتا ہ وں خدا ک ے نام س ے اس ذات ک ے نام س ے جس م یں تمام کملات یکجا ہیں اور جو ہ ر قسم ک ے نقص س ے مُنَزَّ ہ ہے۔ "اَلرَّحمٰنِ " اس ک ی رحمت وسیع اور بے انت ہ ا ہے۔ "الرَّحِ یمِ " اس کی رحمت ذاتی اور اَزَلیِ و اَبَدیِ ہے۔ "اَلحَمدُ لِلّٰ ہ رَبِّ العَالَمِ ینَ"۔ یعنی ثنا اس خداوند کی ذات سے مخصوص ہے جو تمام موجودات کا پالن ے والا ہے۔ "اَلرَّحمٰنِ الرَّحِ یمِ۔ " اس ک ے معن ی بتائے جاچک ے ہیں۔ "مَالِکِ یَومِ الدِّینِ" یعنی وہ توانا ذات ک ہ جزا ک ے دن ک ی حکمرانی اس کے ہ ات ھ م یں ہے۔ "ا ِیَّاکَ نَعبُدُ وَاِیَّاکَ نَستَعِینُ" یعنی ہ م یں فقط تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور فقط تجھی سے مدد طلب کرت ے ہیں "اِھ دِنَاالصِّرَاطَ المُستَقِ یمَ" یعنی ہ م یں راہ راست ک ی جانب ہ دا یت فرما جو کہ د ین اسلام ہے "صِراطَ الَّذِ ینَ اَنعَمتَ عَلَیھ ِم " یعنی ان لوگوں کے را ستے کی جانب جنہیں تو نے اپن ی نعمتیں عطا کی ہیں جو انبیاء اور انبیاء کے جانش ین ہیں۔ "غَ یرِالمَغضُوبِ عَلَیھ ِم وَلاَ الضَّآلِّینَ" یعنی نہ ان لوگوں ک ے راست ے ک ی جانب جن پر تیرا غضب ہ وا اور ن ہ ان ک ے راست ے ک ی جانب جو گمراہ ہیں۔
بِسمِ اللہ الرَّحمٰنِ الرَّحِ یمِ۔ اس ک ے معن ی بتائے جاچک ے ہیں۔
"قُل ھ ُوَالل ہ اَحَدٌ" یعنی اے محمد صل ی اللہ عل یہ وآلہ وسلم آپ ک ہہ د یں کہ خداوند ی وہی ہے جو یکتا خدا ہے۔ "الل ہ الصَّمدُ" یعنی وہ خدا جو تمام موجودات س ے ب ے ن یاز ہے۔ "لَم یَلِدوَلَم یُولَد" یعنی نہ اس ک ی کوئی اولاد ہے اور ن ہ و ہ کس ی کی اولاد ہے۔ "وَلَم یَکُن لَّہ کُفُوًا اَحَدٌ" اور مخلوقات میں سے کوئ ی بھی اس کے مثل ن ہیں ہے۔
"سُبحَانَ رَبِّیَ العَظِیمِ وَبِحَمدہ " یعنی میرا پروردگار بزرگ ہ ر ع یب اور ہ ر نقص س ے پاک اور مُنَزَّ ہ ہے ، م یں اس کی ستائش میں مشغول ہ وں ۔ "سُبحَانَ رَبِّ یَ الاَعلٰی وَبِحَمدِہ " یعنی میرا پروردگار جو سب سے بالاتر ہے اور ہ ر ع یب اور نقص سے پاک اور مُنَزَّ ہے ، میں اس کی ستائش میں مشغول ہ وں ۔ "سَمِعَ الل ہ لِمَن حَمِدَ ہ " یعنی جو کوئی خدا کی ستائش کرتا ہے خدا اس ے سنتا ہے اور قبول کرتا ہے۔
"اَستغفِرُاللہ رَبِّ ی وَاَتُوبُ اِلَیہ" یعنی میں مغفرت طلب کرتا ہ وں اس خداوند س ے جو م یرا پالنے والا ہے۔ اور م یں اس کی طرف رجوع کرتا ہ وں ۔ "بِحَولِ الل ہ وَقُوَّتِ ہ ٓ اَقُومُ وَاَقعُدُ" یعنی میں خداتعالی کی مدد سے ا ٹھ تا اور ب یٹھ تا ہ وں ۔
لآَ اِلٰہ اِلاَّ الل ہ الحَلِ یمُ الکَرِیمُ" یعنی کوئی خدا پرستش کے لائق ن ہیں سوائے اس یکتا اور بے مثل خدا ک ے جو صاحب حلم و کرم ہے۔ "لآَ اِلٰ ہ الاَّ الل ہ العَلِ یُّ العَظِیمُ" یعنی کوئی خدا پرستش کے لائق ن ہیں سوائے اس یکتا اور بے مثل خدا ک ے جو بلند مرتب ہ او ر بزرگ ہے۔ "سُبحَانَ الل ہ رَبِّ السَّمٰوَاتِ السَّبعِ وَرَبِّ الاَرَضِ ینَ السَّبعِ" یعنی پاک اور مُنَزَّہ ہے و ہ خدا جو سات آسمانوں اور سات زم ینوں کا پروردگار ہے۔ "وَمَافِ یھ ِنَّ وَمَافِیھ ِنَّ وَمَا بَینَھ ُنَّ وَرَبِّ العَرشِ العَظِیمِ" یعنی وہ ہ ر اس چ یز کا پروردگار ہے جو آسمانوں اور زم ینوں میں اور ان کے درم یان ہے اور عرش اعظم کا پروردگار ہے۔
"وَالحَمدُلِلّٰہ رَبِّ العَالَمِ ینَ" اور حمد و ثنا اس خدا کے لئ ے مخصوص ہے جو تمام موجودات کا پالن ے والا ہے۔
"سُبحَانَ اللہ وَالحَمدُلِلّٰ ہ وَلآَ اِلٰ ہ اِلاَّ الل ہ اَکبَرُ" یعنی خدا تعالی پاک اور مُنَزَّہ اور ثنا اس ی کے لئ ے مخصوص ہے اور اس ب ے مثل خدا ک ے علاو ہ کوئ ی خدا پرستش کے لائق ن ہیں اور وہ اس س ے بالاتر ہے ک ہ اس ک ی (کَمَاحَقُّہ ) توص یف کی جائے۔
"اَلحَمدُلِلّٰہ ، اَش ھ َدُ اَن لاَّ اِلٰ ہ الاَّ الل ہ وَحدَ ہ لاَ شَرِ یکَ لَہ " یعنی ستائش پروردگار کے لئ ے مخصوص ہے اور م یں گواہی دیتا ہ وں ک ہ سوائ ے اس خدا ک ے جو یکتا ہے اور جس کا کوئ ی شریک نہیں کوئی اور خدا پرستش کے لائق ن ہیں ہے ۔ "وَاَش ھ َدُ اَنَّ مُحَمَّدًا وَ رَسُولُہ" اور میں گواہی دیتا ہ وں ک ہ مُحمّد صل ی اللہ عل یہ وآلہ وسلم خدا ک ے بند ے اور اس کے رسول ہیں "اللّٰھ ُمَّ صَلِّ عل یٰ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ" یعنی اے خدا رحمت ب ھیج محمد اور آل محمد پر۔ "وَتَقبَّل شَفَاعَتَ ہ وَارفَع دَرَجَتَ ہ " ۔ یعنی رسول اللہ ک ی شفاعت قبول کر اور آنحضرت (صلی اللہ عل یہ وآلہ ) کا درج ہ اپن ے نزد یک بلند کر۔ "اَل سَّلاَمُ عَلَیکَ اَیُّھ َاالنّبِ یُّ وَرَحمَۃ ُ اللہ وَبَرَکَاتُ ہ " یعنی اے الل ہ ک ے رسول آپ پر ہ مارا سلام ہ و اور آپ پر الل ہ ک ی رحمتیں اور برکتیں ہ وں ۔ "اَلسَّلامُ عَلَ یناَ وَعَلٰی عِبَادِ اللہ الصّٰلِحِ ینَ" یعنی ہ م نماز پ ڑھ ن ے والوں پر اور تمام صالح بندوں پر الل ہ ک ی طرف سے سلامت ی ہ و ۔ "اَلسَّلاَمُ عَلَ یکُم وَرَحمَۃ ُ اللہ وَبَرکَاتُ ہ " یعنی تم مومنین پر خدا کی طرف سے سلامت ی اور رحمت و برکت ہ و ۔
1131 ۔ مستحب ہے ک ہ نماز پ ڑھ ن ے ک ے بعد انسان کچ ھ د یر کے لئ ے تعق یبات یعنی ذکر، دعا اور قرآن مجید پڑھ ن ے م یں مشغول رہے۔ اور ب ہ تر ہے ک ہ اس س ے پ ہ ل ے ک ہ و ہ اپن ی جگہ س ے حرکت کر ے ک ہ اس کا وضو، غسل یا تیمم باطل ہ و جائ ے روب ہ قبل ہ ہ و کر تعقبات پ ڑھے اور یہ ضروری نہیں کہ تعقیبات عربی میں ہ وں ل یکن بہ تر ہے ک ہ انسان و ہ دعائ یں پڑھے جو دعاوں ک ی کتابوں میں بتائی گئی ہیں اور تسبیح فاطمہ ان تعق یبات میں سے ہے جن ک ی بہ ت ز یادہ تاکید کی گئی ہے ۔ یہ تسبیح اس ترتیب سے پ ڑھ ن ی چاہ ئ ے : 34 دفعہ "اَلل ہ اَکبَرُ" اس ک ے بعد 33 دفعہ "اَلحَمدُلِلّٰ ہ" اور اس کے بعد 33 دفعہ "سُبحَانَ الل ہ " اور سُبحَان َ اللہ ، اَلحَمدُ لِلّٰ ہ س ے پ ہ ل ے ب ھی پڑھ ا جاسکتا ہے ل یکن بہ تر ہے ک ہ اَلحَمدُ لِلّٰ ہ ک ے بعد پ ڑھے۔
1132 ۔ انسان ک ے لئ ے مستحب ہے ک ہ نماز ک ے بعد سجد ہ شکر بجالائ ے اور اتنا کاف ی ہے ک ہ شکر ک ی نیت سے پ یشانی زمین پر رکھے ل یکن بہ تر ہے ک ہ سو دفع ہ یا تین دفعہ یا ایک دفعہ "شُکرًا لِّلّٰ ہ " یا "عَفوًا" کہے اور یہ بھی مستحب ہے ک ہ جب ب ھی انسان کو کوئی نعمت ملے یا کوئی مصیبت ٹ ل جائ ے سجد ہ شکر بجالائ ے۔
پیغمبر اکرم (صلی اللہ عل یہ وآلہ ) پر صَلَوات (دُرود)
1133 ۔ جب ب ھی انسان حضرت رسول اکرم (صلی اللہ عل یہ وآلہ ) کا اسم مبارک مثلاً محمد اور اَحمَد یا آنحضرت کا لقب اور کنیت مثلاً مصطفیٰ اور ابوالقاسم (صلی اللہ عل یہ وآلہ ) زبان س ے ادا کر ے یا سنے تو خوا ہ نماز م یں ہی کیوں نہ ہ و مستحب ہے ک ہ صَلَوَات ب ھیجے۔
1134 ۔ حضرت رسول اکرم (صل ی اللہ عل یہ وآلہ ) کا اسم مبارک لکھ ت ے وقت مستحب ہے ک ہ انسان صَلَوَات ب ھی لکھے اور ب ہ تر ہے ک ہ جب ب ھی آنحضرت کو یاد کرے تو صَلَوَات ب ھیجے۔
مبطلات نماز ، شکّیات نماز ، سجدہ س ہ و
1135 ۔ بار ہ چ یزیں نماز کو باطل کرتی ہیں اور انہیں مبطلات کہ ا جاتا ہے۔
(اول) نماز کے دوران نماز ک ی شرطوں میں سے کوئی شرط مفقد ہ و جائ ے مثلاً نماز پ ڑھ ت ے ہ وئ ے متعلق ہ شخص کو پت ہ چل ے ک ہ جس کپ ڑے س ے اس ن ے سترپوش ی کی ہ وئ ی ہے و ہ غصب ی ہے۔
(دوم) نماز کے دوران عمداً یا سہ واً یا مجبوری کی وجہ س ے انسان کس ی ایسی چیز سے دوچار ہ و جو وضو یا غسل کو باطل کرے مثلاً اس کا پ یشاب خطا ہ و جائ ے اگرچ ہ احت یاط کی بنا پر اس طرح نماز کے آخر ی سجدے ک ے بعد س ہ واً یا مجبوری کی بنا پر تاہ م جو شخص یا پاخانہ ن ہ روک سکت ا ہ و اگر نماز ک ے دوران م یں اس کا پیشاب یا پاخانہ نکل جائ ے اور و ہ اس طر یقے پر عمل کرے جو احکام وضو ک ے ذ یل میں بتایا گیا ہے تو اس ک ی نماز باطل نہیں ہ وگ ی اور اسی طرح اگر نماز کے دوران مُستَحاض ہ کو خون آجائ ے تو اگر و ہ اِستخاض ہ س ے متعلق احکام ک ے مطابق عمل کر ے تو اس کی نماز صحیح ہے۔
1136 ۔ جس شخص کو ب ے اخت یار نیند آجائے اگر اس ے یہ پتہ ن ہ چل ے ک ہ و ہ نماز ک ے دوران سو گ یا تھ ا یا اس کے بعد سو یا تو ضروری نہیں کہ نماز دوبار ہ پ ڑھے بشرط یکہ یہ جانتا ہ و ک ہ جو کچ ھ نماز م یں پڑھ ا ہے و ہ اس قدر ت ھ ا ک ہ اس ے عرف م یں نماز کہیں۔
1137 ۔ اگر کس ی شخص کو علم ہ و ک ہ و ہ اپن ی مرضی سے سو یا تھ ا ل یکن شک کرے ک ہ نماز ک ے بعد سو یا تھ ا یا نماز کے دوران یہ بھ ول گ یا کہ نماز پ ڑھ ر ہ ا ہے اور سوگ یا تو اس شرط کے سات ھ جو سابق ہ مسئل ے م یں بیان کی گئی ہے اس ک ی نماز صحیح ہے۔
1138 ۔ اگر کوئ ی شخص نیند سے سجد ے ک ی حالت میں بیدار ہ و جائ ے اور شک کر ے ک ہ آ یا نماز کے آخر ی سجدے م یں ہے یا سجدہ شکر م یں ہے تو اگر اس ے علم ہ و ک ہ ب ے اخت یار سو گیا تھ ا تو ضرور ی ہے ک ہ نماز دوبار ہ پ ڑھے اور اگر جانتا ہ و ک ہ اپن ی مرضی سے سو یا تھ ا اور اس بات کا احتم ال ہ و ک ہ غفلت ک ی وجہ س ے نماز ک ے سجد ے م یں سوگیا تھ ا تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔
(سوم) یہ چیز مبطلات نماز میں سے ہے ک ہ انسان اپن ے ہ ات ھ وں کو عاجزا ی اور ادب کی نیت سے باند ھے ل یکن اس کام کی وجہ س ے نماز کا باطل ہ ونا احت یاط کی بنا پر ہے اور اگر مشروع یت کی نیت سے انجام د ے تو اس کام ک ے حرام ہ ون ے م یں کوئی اشکال نہیں ہے۔
1139 ۔ اگر کوئ ی شخص بھ ول ے س ے یا مجبوری سے یا تقیہ کی وجہ س ے یا کسی اور کام مثلاً ہ ات ھ ک ھ جان ے اور ا یسے ہی کسی کام کے لئ ے ہ ات ھ پر ہ ات ھ رک ھ ل ے تو کوئ ی حرج نہیں ہے۔
(چہ ارم) مبطلات نماز م یں سے ا یک یہ ہے ک ہ الحمد پ ڑھ ن ے ک ے بعد آم ین کہے۔ آم ین کہ ن ے س ے نماز کا اس طرح باطل ہ ونا غ یر ماموم میں احتیاط کی بنا پر ہے۔ اگرچ ہ آم ین کہ ن ے کو جائز سمج ھ ت ے ہ وئ ے آم ین کہے تو اس کے حرام ہ ون ے م یں کوئی اشکال نہیں ہے۔ ب ہ ر حال اگر ام ین کو غلطی یا تقیہ کی وجہ س ے ک ہے تو اس ک ی نماز میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
(پنجم) مبطلات نماز میں سے ہے ک ہ بغ یر کسی عذر کے قبل ے س ے رخ پ ھیرے لیکن اگر کسی عذر مثلاً بھ ول کر یا بے اخت یاری کی بنا پر مثلاً تیز ہ وا ک ے ت ھ پ یڑے اسے قبل ے س ے پ ھیر دیں چنانچہ اگر دائ یں یا بائیں سمت تک نہ پ ہ نچ ے تو اس ک ی نماز صحیح ہے ل یکن ضروری ہے ک ہ جس ے ہی عذر دور ہ و فوراً اپنا قبل ہ دسرت کر ے۔ اور اگر دائ یں یا بائیں طرف مڑ جائ ے خوا ہ قبل ے ک ی طرف پشت ہ و یا نہ ہ و اگر اس کا عذر ب ھ ولن ے ک ی وجہ سے ہ و اور جس وقت متوج ہ ہ و اور نماز کو تو ڑ د ے تو اس ے دوبار ہ قبل ہ رخ ہ و کر پ ڑھ سکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز کو دوبار ہ پ ڑھے اگرچ ہ اس نماز کی ایک رکعت وقت میں پڑھے ورن ہ اس ی نماز پر اکتفا کرے اور اس پر قضا لازم ن ہیں اور یہی حکم ہے اگر قبل ے س ے اس کا پ ھ رنا ب ے اخت یاری کی بنا پر ہ و چنانچ ہ قبل ے س ے پ ھ ر ے بغ یر اگر نماز کو دوبارہ وقت م یں پڑھ سکتا ہ و ۔ اگرچ ہ وقت م یں ایک رکعت ہی پڑھی جا سکتی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز کو نئ ے سر ے س ے پ ڑھے ورن ہ ضرور ی ہے ک ہ اس ی نماز کو تمام کرے اعاد ہ اور قضا اس پر لازم ن ہیں ہے۔
1140 ۔ اگر فقط اپن ے چ ہ ر ے کو قبل ے س ے گ ھ مائ ے ل یکن اس کا بدن قبلے ک ی طرف ہ و چنانچ ہ اس حد تک گردن کو مو ڑے ک ہ اپن ے سرک ے پ یچھے کچھ د یکھ سکے تو اس ک ے لئ ے ب ھی وہی حکم ہے جو قبل ے س ے پ ھ ر جان ے وال ے ک ے لئ ے ہے جس کا ذکر پ ہ ل ے ک یا جاچکا ہے۔ اور اگر اپن ی گردن کو تھ و ڑ ا سا م وڑے کہ عرفا ک ہ ا جائ ے اس ک ے بدن کا اگلا حص ہ قبل ے ک ی طرف ہے تو اس ک ی نماز باطل نہیں ہ وگ ی اگرچہ یہ کام مکروہ ہے۔
(ششم) مبطلات نماز میں سے ا یک یہ ہے ک ہ عمداً بات کر ے اگرچ ہ ا یسا کلمہ ہ و ک ہ جس م یں ایک حرف سے ز یادہ نہ ہ و اگر و ہ حرف بامعن ی ہ و مثلاً (ق) ک ہ جس ک ے عر بی زبان میں معنی حفاظت کرو کے ہیں یا کوئی اور معنی سمجھ م یں آتے ہ وں مثلاً (ب) اس شخص ک ے جواب م یں کہ جو حروف ت ہ ج ی کے حرف دوم ک ے بار ے م یں سوال کرے اور اگر اس لفظ س ے کوئ ی معنی بھی سمجھ م یں نہ آت ے ہ وں اور و ہ دو یا دو سے ز یادہ حرفوں سے مرکب ہ و تب ب ھی احتیاط کی بنا پر (وہ لفظ) نماز کو باطل کر د یتا ہے۔
1141 ۔ اگر کوئ ی شخص سہ واً کلم ہ ک ہے جس ک ے حروف ا یک یا اس سے ز یادہ ہ وں تو خوا ہ و ہ کلم ہ معن ی بھی رکھ تا ہ و اس شخص ک ی نماز باطل نہیں ہ وت ی لیکن احتیاط کی بنا پر اس کے لئ ے ضرور ی ہے ج یسا کہ بعد م یں ذکر آئے گا نماز ک ے بعد و ہ سجد ہ س ہ و بجالائ ے۔
1142 ۔ نماز ک ی حالت میں کھ انسن ے ، یا ڈ کار ل ینے میں کوئی حرج نہیں اور احتیاط لازم کی بنا پر نماز میں اختیار آہ ن ہ ب ھ ر ے اور ن ہ ہی گریہ کرے۔ اور آخ اور آ ہ اور ان ہی جیسے الفاظ کا عمداً کہ نا نماز کو باطل کر د یتا ہے۔
1143 ۔ اگر کوئ ی شخص کوئی کلمہ ذکر ک ے قصد ے س ے ک ہے مثلاً ذکر ک ے قص ہ س ے اَللّٰ ہ اَکبَرُ ک ہے اور اس ے ک ہ ت ے وقت آواز کو بلند کر ے تاک ہ دوسر ے شخص کو کس ی شخص کو کسی چیز کی طرف متوجہ کر ے تو اس م یں کوئی حرج نہیں۔ اور اس ی طرح اگر کوئی کلمہ ذکر ک ے قصد س ے ک ہے اگرچ ہ جانت ا ہ و ک ہ اس کام ک ی وجہ س ے کوئ ی کسی مطلب کی طرف متوجہ ہ وجائ ے گا تو کوئ ی اگر بالکل ذکر کا قصد نہ کر ے یا ذکر کا قصد بھی ہ و اور کس ی بات کی طرف متوجہ ب ھی کرنا چاہ تا ہ و تو اس م یں اشکال ہے۔
1144 ۔ نماز م یں قرآن پڑھ ن ے (چار آ یتوں کا حکم کہ جن م یں واجب سجدہ ہے قراءت ک ے احکام مسئل ہ نمبر 992 میں بیان ہ وچکا ہے ) اور دعا کرن ے م یں کوئی حرج نہیں لیکن احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ عرب ی کے علاو ہ کس ی زبان میں دعا نہ کر ے۔
1145 ۔ اگر کوئ ی شخص بغیر قصد جزئیت عمداً یا احتیاطاً الحمد اور سورہ ک ے کس ی حصے یا اذ کار نماز کی تکرار کرے تو کوئ ی حرج نہیں۔
1146 ۔ انسان کو چا ہ ئ ے ک ہ نماز ک ی حالت میں کسی کو سلام نہ کر ے اور اگر کوئ ی دوسرا شخص اسے سلام کر ے تو ضرور ی ہے ک ہ جواب د ے ل یکن جواب سلام کی مانند ہ ونا چا ہ ئ ے یعنی ضروری ہے ک ہ اصل سلام پر اضاف ہ ہ و مثلاً جواب م یں یہ نہیں کہ نا چا ہ ئ ے۔ سَلاَمٌ عَلَ یکُم وَرَحمَۃ ُ اللہ وَبَرَکَاتُہ ، بلک ہ احت یاط لازم کی بنا پر ضروری ہے ک ہ جواب م یں عَلَیکُم یا عَلیَک کے لفظ کو سلام ک ے لفظ پر مقدم ن ہ رک ھے اگر و ہ شخص ک ہ جس ن ے سلام ک یا ہے اس ن ے اس طرح ن ہ ک یا ہ و بلک ہ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ جواب مکمل طور پر د ے جس طرح ک ہ اس ن ے سلام ک یا ہ و مثلاً اگر کہ ا ہ و "سَلاَمُ عَلَ یکُم" تو جواب میں کہے " سَلاَمُ عَلَ یکُم" اور اگر کہ ا ہ و "اَلسَّلاَمُ عَلَ یکُم" تو کہے "اَلسَّلاَمُ عَلَ یکُم" اور اگر کہ ا ہ و "سَلاَمٌ عَلَ یک" تو کہے "سَلاَمٌ عَلَ یک" لیکن عَلَیکُم السَّلاَمُ" کے جواب م یں جو لفظ چاہے ک ہہ سکتا ہے۔
1147 ۔ انسان کو چا ہ ئ ے ک ہ خوا ہ و ہ نماز ک ی حالت میں ہ و یا نہ ہ و سلام کا جواب فوراً د ے اور اگر جان بوج ھ کر یا بھ ول ے س ے سلام کا جواب د ینے میں اتنا وقت کرے ک ہ اگر جواب د ے تو و ہ اس اسلام کا جواب شمار ن ہ ہ و تو اگر و ہ نماز ک ی حالت میں ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ جواب ن ہ د ے ا ور اگر نماز کی حالت میں نہ ہ و تو جواب د ینا واجب نہیں ہے۔
1148 ۔ انسان کو سلام کا جواب اس طرح د ینا ضروری ہے ک ہ سلام کرن ے والا سن ل ے ل یکن اگر سلام کرنے والا ب ہ را ہ و یا سلام کہہ کر جلد ی سے گزر جائ ے چنانچ ہ ممکن ہ و تو سلام کا جواب اشار ے س ے یا اسی طرح کسی طریقے سے اس ے سمج ھ ا سک ے تو جواب د ینا ضروری ہے۔ اس ک ی صورت کے علاو ہ جواب دینا نماز کے علاو ہ کس ی اور جگہ پر ضرور ی نہیں اور نماز میں جائز نہیں ہے۔
1149 ۔ واجب ہے ک ہ نماز ی اسلام کے جواب کو سلام ک ی نیت سے ک ہے۔ اور دعا کا قصد کرن ے م یں بھی کوئی حرج نہیں یعنی خداوندعالم سے اس شخص ک ے لئ ے سلامت ی چاہے جس ن ے سلام ک یا ہ و ۔
1150 ۔ اگر عورت یا نامحرم مرد یا وہ بچ ہ جو اچ ھے بر ے م یں تمیز کر سکتا ہ و نماز پ ڑھ ن ے وال ے کو سلام کر ے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز پ ڑھ ن ے والا اس ک ے سلام کا جواب د ے اور اگر عورت "سَلاَمٌ عَلَ یکَ" کہہ کر سلام کر ے تو جواب م یں کہہ سکتا ہے "سَلاَمٌ عَلَ یکِ" یعنی کاف کو زیر دے۔
1151 ۔ اگر نماز پ ڑھ ن ے والا سلام کا جواب ن ہ د ے تو و ہ گنا ہ گار ہے ل یکن اس کی نماز صحیح ہے۔
1152 ۔ کس ی ایسے شخص کے سلام کا جواب د ینا جو مزاح اور تَمَسخُر کے طور پر سلام کر ے اور ا یسے غیر مسلم مرد اور عورت کے سل ام کا جواب دینا جو ذمّی نہ ہ وں واجب ن ہیں ہے اور اگر ذمّ ی ہ وں تو اخت یاط واجب کی بنا پر ان کے جواب م یں کلمہ "عَلَ یکَ" کہہ د ینا کافی ہے۔
1154 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی گروہ کو سلام کر ے تو ان سب پر سلام کا جواب د ینا واجب ہے ل یکن اگر ان میں سے ا یک شخص جواب دے د ے تو کاف ی ہے۔
1155 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی گروہ کو سلام کر ے اور جواب ا یک ایسا شخص دے جس کا سلام کرن ے وال ے کو سلام کرن ے کا اراد ہ ن ہ ہ و تو (اس شخص ک ے جواب د ینے کے باوجود) سلام کا جواب اس گرو ہ پر واجب ہے۔
1156 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی گروہ کو سلام کر ے اور اس گرو ہ م یں سے جوشخص نماز م یں مشغول ہ و و ہ شک کر ے ک ہ سلام کرن ے وال ے کا اراد ہ اس ے ب ھی سلام کرنے کا ت ھ ا یا نہیں تو ضروری ہے ک ہ جواب ن ہ د ے اور اگر نماز پ ڑھ ن ے وال ے کو یقین ہ و ک ہ اس شخص کا ارادا ہ اس ے ب ھی سلام کرنے کا ت ھ ا لیکن کوئی شخص سلام کا جواب دے د ے تو اس صورت م یں بھی یہی حکم ہے۔ ل یکن اگر نماز پڑھ ن ے وال ے کو معلوم ہ و ک ہ سلام کرن ے وال ے کا اراد ہ اس ے ب ھی سلام کرنے کا ت ھ ا اور کوئ ی دوسرا جواب نہ د ے تو ضرور ی ہے ک ہ سلام کا جواب د ے۔
1157 ۔ سلام کرنا مستحب ہے اور اس امر ک ی بہ ت تاک ید کی گئی ہے ک ہ سوار پ یدل کو اور کھڑ ا ہ وا شخص ب یٹھے ہ وئ ے کو اور چ ھ و ٹ ا ب ڑے کو سلام کر ے۔
1157 ۔ سلام کرنا مستحب ہے اور اس امر ک ی بہ ت تاک ید کی گئی ہے ک ہ سوار پ یدل کو اور کھڑ ا ہ وا شخص ب یٹھے ہ وئ ے کو اور چ ھ و ٹ ا ب ڑے کو سلام کر ے۔
1158 ۔ اگر دو شخص آپس م یں ایک دوسرے کو سلام کر یں تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے ک ہ ان م یں سے ہ ر ا یک دوسرے کو اس ک ے سلام کا جواب د ے۔
1159 ۔ اگر انسان نماز ن ہ پر ھ ر ہ ا ہ و تو مستحب ہے ک ہ سلام کا جواب اس سلام س ے ب ہ تر الفاظ م یں دے مثلاً اگر کوئ ی شخص "سَلاَمٌ عَلَیکُم" کہے تو جواب م یں کہے "سَلاَمٌ عَلَ یکُم وَرَحمَۃ ُ اللہ " ۔
(ہ فتم) نماز ک ے مبطلات میں سے ا یک آواز کے سات ھ اور جان بوج ھ کر ہ نسنا ہے۔ اگرچ ہ ب ے اخت یار ہ نس ے۔ اور جن باتوں ک ی وجہ س ے ہ نس ے و ہ اخت یاری ہ وں بلک ہ احت یاط کی بنا پر جن باتوں کی وجہ س ے ہ نس ی آئی ہ و اگر و ہ اخت یاری نہ ب ھی ہ وں تب ب ھی وہ نماز ک ے باطل ہ ون ے کا موجب ہ و ں گی لیکن اگر جان بوجھ کر بغ یر آواز یا سہ واً آواز ک ے سات ھ ہ نس ے تو ظا ہ ر یہ ہے ک ہ اس ک ی نماز میں کوئی اشکال نہیں۔
1160 ۔ اگر ہ نس ی کی آواز روکنے ک ے لئ ے کس ی شخص کی حالت بدل جائے مثلاً اس کا رنگ سرخ ہ و جائ ے تو اخت یاط واجب یہ ہے ک ہ و ہ نماز دوبار ہ پ ڑھے۔
(ہ شتم) احت یاط واجب کی بنا پر یہ نماز کے مبطلات م یں سے ہے ک ہ انسان دن یاوی کام کے لئ ے جان بوج ھ کر آواز س ے یا بغیر آواز کے روئ ے ل یکن اگر خوف خدا سے یا آخرت کے لئ ے روئ ے تو خوا ہ آ ہ ست ہ روئ ے یا بلند آواز سے روئ ے کوئ ی حرج نہیں بلکہ یہ بہ تر ین اعمال میں سے ہے۔
(نہ م) نماز باطل کرن ے والی چیزوں میں سے ہے ک ہ کوئ ی ایسا کام کرے جس س ے نماز ک ی شکل باقی نہ ر ہے مثلاً اچ ھ لنا کودنا اور اس ی طرح کا کوئی عمل انجام دینا۔ ا یسا کرنا عمداً ہ و یا بھ ول چوک ک ی وجہ س ے ہ و ۔ ل یکن جس کام سے نماز ک ی شکل تبدیل نہ ہ وت ی ہ و مثلاً ہ ات ھ س ے اشار ہ کرنا اس م یں کوئی حرج نہیں ہے۔
1161 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز کے دوران اس قدر ساکت ہ و جائ ے ک ہ لوگ یہ نہ ک ہیں کہ نماز پ ڑھ ر ہ ا ہے تو اس ک ی نماز باطل ہ و جات ی ہے۔
1162 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز کے دوران کوئ ی کام کرے یا کچھ د یر ساکت رہے اور شک کر ے ک ہ اس ک ی نماز ٹ و ٹ گئ ی ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ نماز کو دوبار ہ پ ڑھے اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ نماز پور ی کرے اور پ ھ ر دوبار ہ پ ڑھے۔
(دہ م) مبطلات نماز م یں سے ا یک کھ انا اور پ ینا ہے۔ پس اگر کوئ ی شخص نماز کے دوران اس طرح ک ھ ائ ے یا پئے ک ہ لوگ یہ نہ ک ہیں کہ نماز پ ڑھ ر ہ ا ہے تو خوا ہ اس کا یہ فعل عمداً ہ و یا بھ ول چوک ک ی وجہ س ے ہ و اس ک ی نماز باطل ہ و جات ی ہے۔ البت ہ جو شخص روز ہ رک ھ نا چا ہ تا ہ و اگر و ہ صبح کی اذان سے پ ہ ل ے مستحب نماز پ ڑھ ر ہ ا ہ و اور پ یاسا ہ و اور اس ے ڈ ر ہ و ک ہ اگر نماز پور ی کرے گا تو صبح ہ و جائ ے گ ی تو اگر پانی اس کے سامن ے دو ت ین قدم کے فاصل ے پر ہ و تو و ہ نماز ک ے دوران پان ی پی سکتا ہے۔ ل یکن ضروری ہے ک ہ کوئ ی ایسا کام مثلاً "قبلے س ے من ہ پ ھیرنا" کرے جو نماز کو باطل کرتا ہے۔
1163 ۔ اگر کس ی کا جان بوجھ کر ک ھ انا یا پینا نماز کی شکل کو ختم نہ ب ھی کرے تب ب ھی احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے ک ہ نماز کو دوبار ہ پ ڑھے خوا ہ نماز کا تسلسل ختم ہ و یعنی یہ نہ ک ہ ا جائ ے ک ہ نماز کو مسلسل پ ڑھ ر ہ ا ہے یا نماز کا تسلسل ختم نہ ہ و ۔
1164 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز کے دوران کوئ ی ایسی غذا نگل لے جو اس ک ے من ہ یا دانتوں کے ر یخوں میں رہ گئ ی ہ و تو اس ک ی نماز باطل نہیں ہ وت ی۔ اس ی طرح اگر ذر اسی قند یا شکر یا انہیں جیسی کوئی چیز منہ م یں رہ گئ ی ہ و اور نماز ک ی حالت میں آہ ست ہ آ ہ ست ہ گُ ھ ل کر پ یٹ میں چلی جائے تو کوئی حرج نہیں۔
(یاز دہ م) مبطلات نماز م یں سے دو رکعت ی یا تین رکعتی نماز کی رکعتوں میں یا چار رکعتی نمازوں کی پہ ل ی دو رکعتوں میں شک کرنا ہے بشرط یکہ نماز پڑھ ن ے والا شک ک ی حالت میں باقی رہے۔
(دوازدہ م) مبطلات نماز م یں سے یہ بھی ہے ک ہ کوئ ی شخص نماز کا رکن جان بوجھ کر یا بھ ول کر کم کرد ے یا ایک ایسی چیز کو جو رکن نہیں ہے جان بوج ھ کر گ ھٹ ائ ے یا جان بوجھ کر کوئ ی چیز نماز میں بڑھ ائ ے۔ اس ی طرح اگر کسی رکن مثلاً رکوع یا دو سجدوں کو ایک رکعت میں غلطی سے ب ڑھ ا دے تو احت یاط واجب کی بنا پر اس کی نماز باطل ہ و جائ ے گ ی البتہ ب ھ ول ے س ے تکب یرۃ الاحرام کی زیادتی نماز کو باطل نہیں کرتی۔
1165 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز کے بعد شک کر ے ک ہ دوران نماز اس ن ے کوئ ی ایسا کام کیا ہے یا نہیں جو نماز کو باطل کرتا ہ و تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔
1166 ۔ کس ی شخص کا نماز میں اپنا چہ ر ہ دائ یں یا بائیں جانب اتنا کم موڑ نا ک ہ لوگ یہ نہ ک ہیں کہ اس ن ے اپنا من ہ قبل ے س ے مو ڑ ل یا ہے مکرو ہ ہے۔ ورن ہ ج یسا کہ ب یان ہ وچکا ہے اس ک ی نماز باطل ہے۔ اور یہ بھی مکروہ ہے ک ہ کوئ ی شخص نماز میں اپنی آنکھیں بند کرے یا دائیں اور بائیں طرف گھ مائ ے اور اپن ی ڈ ا ڑھی اور ہ ات ھ وں س ے ک ھیلے اور انگلیاں ایک دوسری میں داخل کرے اور ت ھ وک ے اور قرآن مج ید یا کسی اور کتاب یا انگوٹھی کی تحریر کو دیکھے۔ اور یہ بھی مکروہ ہے ک ہ الحمد، سور ہ اور ذکر پ ڑھ ت ے وقت کس ی کی بات سننے ک ے لئ ے خاموش ہ و جائ ے بلک ہ ہ ر و ہ کام جو خضوع و خشوع کو کالعدم کر د ے مکرو ہ ہے۔
1167 ۔ جب انسان کو ن یند آرہی ہ و اور اس وقت ب ھی جب اس نے پ یشاب اور پاخانہ روک رک ھ ا ہ و نماز پ ڑھ نا مکرو ہ ہے اور اس ی طرح نماز کی حالت میں ایسا موزہ پ ہ ننا ب ھی مکروہ ہے جو پاوں کو جک ڑ ل ے اور ان ک ے علاو ہ دوسر ے مکرو ہ ات ب ھی مفصل کتابوں میں بیان کئے گئ ے ہیں۔
1168 ۔ اخت یاری حالت میں واجب نماز کا توڑ نا احت یاط واجب کی بنا پر حرام ہے ل یکن مال کی حفاظت اور مالی یا جسمانی ضرر سے بچن ے ک ے لئ ے نماز تو ڑ ن ے م یں کوئی حرج نہیں بلکہ ظا ہ راً و ہ تمام ا ہ م د ینی اور دنیاوی کام جو نمازی کو پیش آئیں ان کے لئ ے نماز تو ڑ ن ے م یں کوئی حرج نہیں۔
1169 ۔ اگر انسان اپن ی جان کی حفاظت یا کسی ایسے شخص کی جان کی حفاظت جس کی نگہ داشت واجب ہ و اور و ہ نماز تو ڑے بغ یر ممکن نہ ہ و تو انسان کو چا ہ ئ ے ک ہ نماز تو ڑ د ے۔
1170 ۔ اگر کوئ ی شخص وسیع وقت میں نماز پڑھ ن ے لگ ے اور قرض خوا ہ اس س ے اپن ے قرض ے کا مطالب ہ کر ے اور و ہ اس ک ا قرضہ نماز ک ے دوران ادا کرسکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس ی حالت میں ادا کرے اور اگر بغ یر نماز توڑے اس کا قرض ہ چکانا ممکن ن ہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز تو ڑ د ے اور اس کا قرض ہ ادا کر ے اور بعد م یں نماز پڑھے۔
1171 ۔ اگر کس ی شخص کو نماز کے دوران پت ہ چل ے ک ہ مسجد نجس ہے اور وقت تنگ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز تمام کر ے اور اگر وقت وس یع ہ و اور مسجد کو پاک کرن ے س ے نماز ن ہ ٹ و ٹ ت ی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز ک ے دوران اس ے پاک کر ے اور بعد م یں باقی نماز پڑھے اور اگر نماز ٹ و ٹ جات ی ہ و اور نماز کے بعد مسجد کو پاک کرنا ممکن ہ و تو مسجد کو پاک کرن ے کے لئ ے اس کا نماز تو ڑ نا جائز ہے اور اگر نماز ک ے بعد مسجد کا پاک کرنا ممکن ن ہ ہ و تو اس ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ نماز تو ڑ د ے اور مسجد کو پاک کر ے اور بعد م یں نماز پڑھے۔
1172 ۔ جس شخص ک ے لئ ے نماز کا تو ڑ نا ضرور ی ہ و اگر و ہ نماز ختم کر ے تو و ہ گنا ہ گار ہ وگا ل یکن اس کی نماز صحیح ہے اگرچ ہ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ دوبار ہ نماز پ ڑھے۔
1173 ۔ اگر کس ی شخص کو قراءت یا رکوع کی حد تک جھ کن ے س ے پ ہ ل ے یاد آجائے ک ہ و ہ اذان اور اقامت یا فقط اقامت کہ نا ب ھ ول گ یا ہے اور نماز کا وقت وس یع ہ و تو مستحب ہے ک ہ ان ہیں کہ ن ے ک ے لئ ے نماز تو ڑ د ے بلک ہ اگر نماز ختم ہ ون ے س ے پ ہ ل ے اس ے یاد آئے ک ہ ان ہیں بھ ول گ یا تھ ا تب ب ھی مستحب ہے ک ہ ان ہیں کہ ن ے ک ے لئ ے نماز تو ڑ د ے۔
نماز کے شک یات کی 22 قسمیں ہیں۔ ان م یں سے سات اس قسم ک ے شک ہیں جو نماز کو باطل کرتے ہیں اور چھ اس قسم ک ے شک ہیں جن کی پروا نہیں کرنی چاہ ئ ے اور باقی نو اس قسم کے شک ہیں جو صحیح ہیں۔
1174 ۔ جو شک نماز کو باطل کرت ے یہ ں وہ یہ ہیں:
1 ۔ دو رکعت ی واجب نماز مثلاً نماز صبح اور نماز مسافر کی رکعتوں کی تعداد کے بار ے م یں سک البتہ نماز مستحب اور نماز احت یاط کی رکعتوں کی تعداد کے بار ے م یں شک نماز کو باطل نہیں کرتا۔
2 ۔ ت ین رکعتی نماز کی تعداد کے بار ے م یں شک۔
3 ۔ چار رکعت ی نماز میں کوئی شک کرے ک ہ اس ن ے ا یک رکعت پڑھی ہے یا زیادہ پڑھی ہیں۔
4 ۔ چار رکعت ی نماز میں دوسرے سجد ہ م یں داخل ہ ون ے س ے پ ہ ل ے نماز ی شک کرے ک ہ اس ن ے دو رکعت یں پڑھی ہیں یا زیادہ پڑھی ہیں۔
5 ۔ دو اور پانچ رکعتوں م یں یا دو اور پانچ سے ز یادہ رکعتوں میں شک کرے۔
6 ۔ ت ین اور چھ رکعتوں م یں یا تین اور چھ س ے ز یادہ رکعتوں میں شک کرے۔
7 ۔ چار اور چ ھ رکعتوں ک ے درم یان شک یا چار اور چھ س ے ز یادہ رکعتوں کے درم یان شک، جس کی تفصیل آگے آئ ے گ ی۔
1175 ۔ اگر انسان کو نماز باطل کرن ے وال ے شکوک م یں سے کوئ ی شک پیش آئے تو ب ہ تر یہ ہے ک ہ جس یے ہی اسے شک ہ و نماز ن ہ تو ڑے بلک ہ اس قدر غور و فکر کر ے ک ہ نماز ک ی شکل برقرار نہ ر ہے یا یقین یا گمان حاصل ہ ون ے س ے ناام ید ہ و جائ ے۔
1176 ۔ و ہ شکوک جن ک ی پروا نہیں کرنی چاہ ئ ے مندرج ہ ذ یل ہیں :
1 ۔ اس فعل م یں شک جس کے بجالان ے کا موقع گزر گ یا ہ و مثلاً انسان رکوع م یں شک کرے ک ہ اس ن ے الحمد پ ڑھی ہے یا نہیں۔
2 ۔ سلام نماز ک ے بعد شک ۔
3 ۔ نماز کا وقت گزر جان ے ک ے بعد شک ۔
4 ۔ کث یرُالشک کا شک۔ یعنی اس شخص کا شک جو بہ ت ز یادہ شک کرتا ہے۔
5 ۔ رکعتوں ک ی تعداد کے بار ے م یں امام کا شک جب کہ ماموم ان ک ی تعداد جانتا ہ و اور اس ی طرح ماموم کا شک جبکہ امام نماز ک ی رکعتوں کی تعداد جانتا ہ و ۔
6 ۔ مستحب نمازوں اور نماز احت یاط کے بار ے م یں شک۔
1177 ۔ اگر نماز ی نماز کے دوران شک کر ے ک ہ اس ن ے نماز کا ا یک واجب فعل انجام دیا ہے یا نہیں مثلاً اسے شک ہ و ک ہ الحمد پ ڑھی ہے یا نہیں جبکہ اس سابق کام کو عمداً ترک کر ک ے جس کام م یں مشغول ہ و اس کام م یں شرعاً مشغول نہیں ہ ونا چا ہ ئ ے ت ھ ا مثلاً سور ہ پ ڑھ ت ے وقت شک کر ے کہ الحمد پڑھی ہے یا نہیں تو ضروری ہے ک ہ اپن ے شک ک ی پروا نہ کر ے۔ اس صورت ک ے علاو ہ ضرور ی ہے ک ہ جس چ یز کی انجام دہی کے بار ے م یں شک ہ و، بجالائ ے۔
1178 ۔ اگر نماز ی کوئی آیت پڑھ ت ے ہ وئ ے شک کر ے ک ہ اس س ے پ ہ ل ے ک ی آیت پڑھی ہے یا نہیں یا جس وقت آیت کا آخری حصہ پ ڑھ ر ہ ا ہ و شک کر ے ک ہ اس کا پ ہ لا حص ہ پ ڑھ ا ہے یا نہیں تو ضروری ہے ک ہ اپن ے شک ک ی پروا نہ کر ے۔
1179 ۔ اگر نماز ی رکوع یا سجود کے بعد شک کر ے ک ہ ان ک ے واجب افعال ۔ مثلاً ذکر اور بدن کا سکون ک ی حالت میں ہ ونا ۔ اس ن ے انجام د یئے ہیں یا نہیں تو ضروری ہے ک ہ اپن ے شک ک ی پروا نہ کر ے۔
1180 ۔ اگر نماز ی سجدے م یں جاتے وقت شک کر ے ک ہ رکوع بجا لا یا ہے یا نہیں یا شک کرے ک ہ رکوع ک ے بعد ک ھڑ ا ہ وا ت ھ ا یا نہیں تو ضروری ہے ک ہ اپن ے شک ک ی پروا نہ کر ے۔
1181 ۔ اگر نماز ی کھڑ ا ہ وت ے وقت شک کر ے ک ہ سجد ہ یا تشہ د بجالا یا ہے یا نہیں تو ضروری ہے ک ہ اپن ے شک ک ی پروا نہ کر ے۔
1182 ۔ جو شخص ب یٹھ کر یا لیٹ کر نماز پڑھ ر ہ ا ہ و اگر الحمد یا تسبیحات پڑھ ن ے ک ے وقت شک کر ے ک ہ سجد ہ یا تشہ د بجالا یا ہے یا نہیں تو ضروری ہے ک ہ اپن ے شک ک ی پروا نہ کر ے اور اگر الحمد یا تسبیحات میں مشغول ہ ون ے س ے پ ہ ل ے شک کر ے ک ہ سجد ہ یا تشہ د بجا لا یا ہے یا نہیں تو ضروری ہے ک ہ بجالائ ے۔
1183 ۔ اگر نماز ی شک کرے ک ہ نماز کا کوئ ی ایک رکن بجا لایا ہے یا نہیں اور اس کے بعد آن ے وال ے فعل م یں مشغول نہ ہ وا ہ و تو ضرور ی ہے اس ے بجالائ ے مثلاً اگر تش ہ د پ ڑھ ن ے س ے پ ہ ل ے شک کر ے ک ہ دو سجد ے بجالا یا ہے یا نہیں تو ضروری ہے ک ہ بجالائ ے اور اگر بعد م یں اسے یاد آئے کہ وہ اس رکن کو بجالا یا تھ ا تو ا یک رکن بڑھ جان ے ک ی وجہ س ے احت یاط لازم کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔
1184 ۔ اگر نماز ی شک کرے کہ ا یک ایسا عمل جو نماز کا رکن نہیں ہے بجالا یا ہے یا نہیں اور اس کے بعد آن ے وال ے فعل م یں مشغول نہ ہ وا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس ے بجالائ ے مثلاً اگر سور ہ پ ڑھ ن ے س ے پ ہ ل ے شک کر ے ک ہ الحمد پ ڑھی ہے یا نہیں تو ضروری ہے ک ہ الحمد پ ڑھے اور اگر اس ے ا نجام دینے کے بعد اس ے یاد آئے ک ہ اس ے پ ہ ل ے ہی بجالا چکا تھ ا تو چونک ہ رکن ز یادہ نہیں ہ وا اس لئ ے اس ک ی نماز صحیح ہے۔
1185 ۔ اگر نماز ی شک کرے ک ہ ا یک رکن بجالایا ہے یا نہیں مثلاً جب تشہ د پ ڑھ ر ہ ا ہ و شک کر ے ک ہ دو سجد ے بجا لا یا ہے یا نہیں اور اپنے شک ک ی پروا نہ کر ے اور بعد م ین اسے یاد آئے ک ہ اس رکن کو بجا ن ہیں لایا ہے یا نہیں اور اپنے شک ک ی پروا نہ کر ے اور بعد م یں اسے یاد آئے کہ اس رکن کو بجا ن ہیں لایا تو اگر وہ بعد وال ے رکن م یں مشغول نہ ہ وا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس رکن کو بجالائ ے اور اگر بعد وال ے رکن م یں مشغول ہ و گ یا ہ و تو اس ک ی نماز احتیاط لازم کی بنا پر باطل ہے مثلاً اگر بعد وال ی رکعت کے رکوع س ے پ ہ ل ے اس ے یاد آئے ک ہ دو سجد ے ن ہیں بجا لایا تو ضروری ہے ک ہ بجالائ ے اور اگر رکوع م یں یا اس کے بعد اس ے یاد آئے (ک ہ دو سجد ے ن ہیں بجالایا) تو اس کی نماز جیسا کہ بتا یا گیا، باطل ہے۔
1186 ۔ اگر نماز شک کرے ک ہ و ہ ا یک غیر رکنی عمل بجالایا ہے یا نہیں اور اس کے بعد وال ے عمل م یں مشغول ہ و چکا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اپن ے شک ک ی پروا نہ کر ے۔ مثلاً جس وقت سور ہ پ ڑھ ر ہ ا ہ و شک کر ے ک ہ الحمد پ ڑھی ہے یا نہیں لایا اور ابھی بعد والے رکن م یں مشغول نہ ہ وا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس عم ل کو بجالائے اور اگر بعد وال ے رکن م یں مشغول ہ وگ یا تو تو اس کی نماز صحیح ہے۔ اس بنا پر مثلاً اگر قنوت م یں اسے یاد آجائے ک ہ اس ن ے الحمد ن ہیں پڑھی تھی تو ضروری ہے ک ہ پ ڑھے اور اگر یہ بات اسے رکوع م یں یاد آئے تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔
1187 ۔ اگر نماز ی شک کرے ک ہ اس ن ے نماز کا سلام پ ڑھ ا ہے یا نہیں اور تعقیبات یا دوسری نماز میں مشغول ہ و جائ ے یا کوئی ایسا کام کرے جو نماز کو برقرار ن ہیں رکھ تا اور و ہ حالت نماز س ے خارج ہ وگ یا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اپن ے شک ک ی پروا نہ کر ے اور اگر ان صورتوں س ے پ ہ ل ے شک کرے تو ضروری ہے کہ سلام پ ڑھے اور اگر شک کر ے ک ہ سلام درست پ ڑھ ا ہے یا نہیں تو جہ اں ب ھی ہ و اپن ے شک ک ی پروانہ کر ے۔
1188 ۔ اگر نماز ی سلام نماز کے بعد شک کر ے ک ہ اس ن ے نماز صح یح طور پر پڑھی ہے یا نہیں مثلاً شک کرے ک ہ رکوع ادا ک یا ہے یا نہیں یا چار رکعتی نماز کے سلام ک ے بعد شک کر ے ک ہ چار رکعت یں پڑھی ہیں یا پانچ، تو وہ اپن ے شک ک ی پروانہ کر ے ل یکن اگر اسے دونوں طرف نماز ک ے باط ل ہ ون ے کا شک ہ و مثلاً چار رکعت ی نماز کے سلام ک ے بعد شک کر ے ک ہ ت ین رکعت پڑھی ہیں یا پانچ رکعت تو اس کی نماز باطل ہے۔
1189 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز کا وقت گزرنے ک ے بعد شک کر ے ک ہ اس ن ے نماز پ ڑھی ہے یا نہیں یا گمان کرے ک ہ ن ہیں پڑھی تو اس نماز کا پڑھ نا لازم ن ہیں لیکن اگر وقت گزرنے س ے پ ہ ل ے شک کر ے ک ہ نماز پ ڑھی ہے یا نہیں تو خواہ گمان کر ے ک ہ پ ڑھی ہے پ ھ ر ب ھی ضروری ہے ک ہ و ہ نماز پ ڑھے۔
1190 ۔ اگر کوئ ی شخص وقت گزرنے ک ے بعد شک کر ے ک ہ اس ن ے نماز دوست پ ڑھی ہے یا نہیں تو اپنے شک ک ی پروا نہ کر ے۔
1191 ۔ اگر نماز ظ ہ ر اور عصر کا وقت گزر جان ے ک ے بعد نماز ی جان لے ک ہ چار رکعت نماز پ ڑھی ہے ل یکن یہ معلوم نہ ہ و ک ہ ظ ہ ر ک ی نیت سے پ ڑھی ہے یا عصر کی نیت سے ت و ضروری ہے ک ہ چار رکعت نماز قضا اس نماز ک ی نیت سے پ ڑھے جو اس پر واجب ہے۔
1192 ۔ اگر مغرب اور عشا ک ی نماز کا وقت گزرنے ک ے بعد نماز ی کو پتہ چل ے ک ہ اس ن ے ا یک نماز پڑھی ہے ل یکن یہ علم نہ ہ و ک ہ ت ین رکعتی نماز پڑھی ہے یا چار رکعتی، تو ضروری ہے ک ہ مغرب اور عشا دون وں نمازوں کی قضا کرے۔
1193 ۔ کث یرالشک وہ شخص ہے جو ب ہ ت ز یادہ شک کرے اس معن ی میں کہ و ہ لوگ جو اس ک ی مانند ہیں ان کی نسبت وہ حواس فر یب اسباب کے ہ ون ے یا نہ ہ ون ے ک ے بار ے م یں زیادہ شک کرے۔ پس ج ہ اں حواس کو فر یب دینے والا سبب نہ ہ و اور ہ ر ت ین نمازوں میں ایک دفعہ شک کر ے تو ا یسا شخص اپنے ش ک کی پروا نہ کر ے۔
1194 ۔ اگر کث یرالشک نماز کے اجزاء م یں سے کس ی جزو کے انجام د ینے کے بار ے م یں شک کرے تو اس ے یوں سمجھ نا چا ہ ئ ے ک ہ اس جزو کو انجام د ے د یا ہے۔ مثلاً اگر شک کر ے ک ہ رکوع ک یا ہے یا نہیں تو اسے سمج ھ نا چا ہئے ک ہ رکوع کر ل یاہے اور اگر کسی ایسی چیز کے بار ے م یں شک کرے جو م بطل نماز ہے مثلاً شک کر ے ک ہ صبح ک ی نماز دو رکعت پڑھی ہے یا تین رکعت تو یہی سمجھے نماز ٹھیک پڑھی ہے۔
1195 ۔ جس شخص کو نماز ک ے کس ی جزو کے بار ے م یں زیادہ شک ہ وتا ہ و، اس طرح ک ہ و ہ کس ی مخصوص جزو کے بار ے م یں (کچھ ) ز یادہ (ہی) شک کرتا رہ تا ہ و، اگر و ہ نماز ک ے کس ی دوسرے جزو ک ے بار ے م یں شک کرے تو ضرور ی ہے ک ہ شک ک ے احکام پر عمل کر ے۔ مثلاً کس ی کو زیادہ شک اس بات میں ہ و تا ہ و ک ہ سجد ہ ک یا ہے یا نہیں، اگر اسے رکوع کرن ے ک ے بعد شک ہ و تو ضرور ی ہے شک ک ے حکم پر عمل کرے یعنی اگر ابھی سجدے م یں نہ گ یا ہ و تو رکوع کر ے اور اگر سجد ے م یں چلا گیا ہ و تو شک ک ی پروا نہ کر ے۔
1196 ۔ جو شخص کس ی مخصوص نماز مثلاً ظہ ر ک ی نماز میں زیادہ شک کرتا ہ و اگر و ہ کس ی دوسری نماز مثلاً عصر کی نماز میں شک کرے تو ضرور ی ہے ک ہ شک ک ے احکام پر عمل کر ے۔
1197 ۔ جو شخص کس ی مخصوص جگہ پر نماز پ ڑھ ت ے وقت ز یادہ شک کرتا ہ و اگر و ہ کس ی دوسری جگہ نماز پ ڑھے اور اس ے شک پ یدا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ شک ک ے احکام پر عمل کر ے۔
1198 ۔ اگر کس ی شخص کو اس بارے م یں شک ہ و ک ہ و ہ کث یر الشک ہ و گ یا ہے یا نہیں تو ضروری ہے ک ہ شک ک ے احکام پر عمل کر ے اور کث یر الشک شخص کو جب تک یقین نہ ہ و جائ ے ک ہ و ہ لوگوں ک ی عام حالت پر لوٹ آ یا ہے اپن ے شک ک ی پروا نہ کر ے۔
1199 ۔ اگر کث یر الشک شخص، شک کرے ک ہ ا یک رکن بجالایا ہے یا نہیں اور وہ اس شک ک ی پروا بھی نہ کر ے اور پ ھ ر اس ے یاد آئے ک ہ و ہ رکن بجا ن ہیں لایا اور اس کے بعد ک ے رکن م یں مشغول نہ ہ وا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس رکن کو بجالائ ے اور اگر بعد ک ے رکن م یں مشغول ہ وگ یا ہ و تو اس ک ی نماز احتیاط کی بنا پر باطل ہے مثلاً اگر شک کر ے ک ہ رکوع ک یا ہے یا نہیں اور اس شک کی پروا نہ کر ے اور دوسر ے سجد ے س ے پ ہ ل ے اس ے یاد آئے ک ہ رکوع ن ہیں کیا تھ ا تو ضرور ی ہے ک ہ رکوع کر ے اور اگر دوسر ے سجد ے ک ے دوسران اس ے یاد آئے تو اس ک ی نماز احتیاط کی بنا پر باطل ہے۔
1200 ۔ جو شخص ز یادہ شک کرتا ہ و اگر و ہ شک کر ے ک ہ کوئ ی ایسا عمل جو رکن نہ ہ و انجام کیا ہے یا نہیں اور اس شک کی پروا نہ کر ے اور بعد م یں اسے یاد آئے ک ہ و ہ عمل انجام ن ہیں دیا تو اگر انجام دینے کے مقام س ے اب ھی نہ گزرا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس ے انجام د ے اور اگر اس ک ے مقام س ے گزر گ یا ہ و تو اس ک ی نماز صحیح ہے مثلاً اگر شک کر ے ک ہ الحمد پ ڑھی ہے یا نہیں اور شک کی پروا نہ کر ے مگر قنوت پ ڑھ ت ے ہ وئ ے اس ے یاد آئے ک ہ الحمد ن ہیں پڑھی تو ضروری ہے ک ہ الحمد پ ڑھے اور اگر رکوع م یں یاد آئے تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔
1202 ۔ اگر کوئ ی شخص مستحب نماز کی رکعتوں میں شک کرے اور شک عدد ک ی زیادتی کی طرف ہ و جو نماز کو باطل کرت ی ہے تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ یہ سمجھ ل ے ک ہ کم رکعت یں پڑھی ہیں مثلاً اگر صبح کی نفلوں میں شک کرے ک ہ دو رکعت یں پڑھی ہیں یا تین تو یہی سمجھے ک ہ دو پ ڑھی ہیں۔ اور اگر ت عداد کی زیادتی والا شک نماز کو باطل نہ کر ے مثلاً اگر نماز ی شک کرے ک ہ دو رک عتیں پڑھی ہیں یا ایک پڑھی ہے تو شک ک ی جس طرف پر بھی عمل کرے اس ک ی نماز صحیح ہے۔
1203 ۔ رکن کا کم ہ ونا نفل نماز کو باطل کر د یتا ہے ل یکن رکن کا زیادہ ہ ونا اس ے باطل ن ہیں کرتا۔ پس اگر نماز ی نفل کے افعال م یں سے کوئ ی فعل بھ ول جائ ے اور یہ بات اسے اس وقت یاد آئے جب و ہ اس ک ے بعد وال ے رکن م یں مشغول ہ و چکا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس فعل کو انجام د ے او ر دوبارہ اس رکن کو انجام د ے مثلاً اگر رکوع ک ے دوران اس ے یاد آئے ک ہ سور ۃ الحمد نہیں پڑھی تو ضروری ہے ک ہ واپس لو ٹے اور الحمد پ ڑھے اور دوبار ہ رکوع م یں جائے۔
1204 ۔ اگر کوئ ی شخص نفل کے افعال م یں سے کس ی فعل کے متعلق شک کر ے خوا ہ و ہ فعل رکن ی ہ و یا غیر رکنی اور اس کا موقع نہ گزرا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس ے انجام د ے اور اگر موقع گزر گ یا ہ و تو اپن ے شک ک ی پروانہ کر ے۔
1205 ۔ اگر کس ی شخس کو دو رکعتی مستحب نماز میں تین یا زیادہ رکعتوں کے پ ڑھ ل ینے کا گمان ہ و تو چا ہ ئ ے ک ہ اس گمان ک ی پروا نہ کر ے اور اس ک ی نماز صحیح ہے ل یکن اگر اس کا گمان دو رکعتوں کا یا اس سے کم کا ہ و تو احت یاط واجب کی بنا پر اسی گمان پر عمل کرے مثلاً اگر اس ے گمان ہ و ک ہ ا یک رکعت پڑھی ہے تو ضرور ی ہے ک ہ احت یاط کے طور پر ایک رکعت اور پڑھے۔
1206 ۔ اگر کوئ ی شخص نفل نماز میں کوئی ایسا کام کرے جس ک ے لئ ے واجب نماز م یں سجدہ س ہ و واجب ہ و جاتا ہ و یا ایک سجدہ ب ھ ول جائ ے تو اس ک ے لئ ے ضرور ی نہیں کہ نماز ک ے بعد سجد ہ س ہ و یا سجدے ک ی قضا بجالائے۔
1208 ۔ اگر کس ی کو نو صورتوں میں چار رکعتی نماز کی رکعتوں کی تعداد کے بار ے م یں شک ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ فوراً غور و فکر کر ے اور اگر یقین یا گمان شک کی کسی ایک طرف ہ و جائ ے تو اس ی کی اختیار کرے اور نماز کو تمام کر ے ورن ہ ان احکام ک ے مطابق عمل کر ے جو ذ یل میں بتائے ج ارہے ہیں۔
وہ نو صورتیں یہ ہیں:
1 ۔ دوسر ے سجد ے ک ے دوران شک کر ے ک ہ دو رکعت یں پڑھی ہیں یا تین ۔ اس صورت م یں اسے یوں سمجھ ل ینا چاہ ئ ے ک ہ ت ین رکعتیں پڑھی ہیں اور ایک اور رکعت پڑھے پ ھ ر نماز کو تمام کر ے اور احت یاط واجب کی بنا پر نماز کے بعد ا یک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہ و کر بجالائ ے۔
2 ۔ دوسر ے سجد ے ک ے دوران اگر شک کر ے ک ہ دو رکعت یں پڑھی ہیں یا چار تو یہ سمجھ ل ے ک ہ چار پ ڑھی ہیں اور نماز کو تمام کرے اور بعد م یں دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہ و کر بجالائ ے۔
3 ۔ اگر کس ی کو دوسرے سجد ے ک ے دوران شک ہ و جائ ے ک ہ دو رکعت یں پڑھی ہیں یا تین یا چار تو اسے یہ سمجھ ل ینا چاہ ئ ے ک ہ چار پ ڑھی ہیں اور وہ نماز ختم ہ ون ے ک ے بعد دو رکعت نماز احت یاط کھڑے ہ و کر اور بعد م یں دو رکعت بیٹھ کر بجالائے۔
4 ۔ اگر کس ی شخص کو دوسرے سجد ے ک ے دوران شک ہ و ک ہ اس ن ے چار رکعت یں پڑھی ہیں یا پانچ تو وہ یہ سمجھے ک ہ چار پ ڑھی ہیں اور اس بنیاد پر نماز پوری کرے اور نماز ک ے بعد دو سجد ہ س ہ و بجا لائ ے۔ اور بع ید نہیں کہ یہی حکم ہ ر اس صورت م یں ہ و ج ہ اں کم از کم شک چار رکعت پر ہ و م ثلاً چار اور چھ رکعتوں ک ے درم یان شک ہ و اور یہ بھی بعید نہیں کہ ہ ر اس صورت م یں جہ اں چار رکعت اور اس س ے کم یا اس سے ز یادہ رکعتوں میں دوسرے سجد ے ک ے دوران شک ہ و تو چار رکعت یں قرار دے کر دونوں شک ک ے اعمال انجام د ے یعنی اس احتمال کی بنا پر کہ چار رکعت س ے کم پ ڑھی ہیں نماز احتیاط پڑھے اور اس احتمال ک ی بنا پر کہ چار رکعت س ے ز یادہ پڑھی ہیں بعد میں دو سجدہ س ہ و ب ھی کرے۔ اور تمام صورتوں م یں اگر پہ ل ے سجد ے ک ے بعد اور دوسر ے سجد ے م یں داخل ہ ون ے س ے پ ہ ل ے سابق ہ چار شک م یں سے ا یک اسے پ یش آئے تو اس ک ی نماز باطل ہے ۔
5 ۔ نماز ک ے دوران جس وقت ب ھی کسی کو تین رکعت اور چار رکعت کے درم یان شک ہ و ضرور ی ہے ک ہ یہ سمجھ ل ے ک ہ چار رکعت یں پڑھی ہیں اور نماز کو تمام کرے اور بعد م یں ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہ و ک ہ یا دو رکعت بیٹھ کر پڑھے۔
6 ۔ اگر ق یام کے دوران کس ی کو چار رکعتوں اور پانچ رکعتوں کے بار ے م یں شک ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ ب یٹھ جائے اور تش ہ د اور کا سلام پ ڑھے اور ا یک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہ وکر یا دو رکعت بیٹھ کر پڑھے۔
7 ۔ اگر ق یام کے دوران کس ی کو تین اور پانچ رکعتوں کے بار ے م یں شک ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ ب یٹھ جائے اور تش ہ د اور نماز کا سلام پ ڑھے اور دو رکعت نماز احت یاط کھڑے ہ و کر پ ڑھے۔
8 ۔ اگر ق یام کے دوران کس ی کو تین، چار اور پانچ رکعتوں کے بار ے م یں شک ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ ب یٹھ جائے اور تش ہ د پ ڑھے اور سلام نماز ک ے بعد دو رکعت نماز احت یاط کھ ر ے ہ و ہ و کر اور بعد م یں دو رکعت بیٹھ کر پڑھے۔
9 ۔ اگر ق یام کے دوران کس ی کو پانچ اور چھ رکعتوں ک ے بار ے م یں شک ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ ب یٹھ جائے اور تش ہ د اور نماز کا سلام پڑھے اور دو سجد ہ س ہ و بجالائ ے اور احت یاط مستحب کی بنا پر ان چار صورتوں میں بے جا ق یام کے لئ ے دو سجد ہ س ہ و ب ھی بجالائے۔
1209 ۔ اگر کس ی کو صحیح شکوک میں سے کوئ ی شک ہ و جائ ے اور نماز کو وقت اتنا تنگ ہ و ک ہ ناز از سرنو ن ہ پ ڑھ سک ے تو نماز ن ہیں توڑ ن ی چاہ ئ ے اور ضر وری ہے ک ہ جو مسئل ہ ب یان کیا گیا ہے اس ک ے مطابق عمل کر ے۔ بلک ہ اگر نماز کا وقت وس یع ہ و تب ب ھی احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ نماز ن ہ تو ڑے اور جو مسئل ہ پ ہ ل ے ب یان کیا گیا ہے اس پر عمل کر ے۔
1210 ۔ اگر نماز ک ے دوران انسان کو ان شکوک م یں سے کوئ ی شک لاحق ہ و جائ ے جن ک ے لئ ے ن ماز احتیاط واجب ہے اور و ہ نماز کو تمام کر ے تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ نماز احت یاط پڑھے اور نماز احت یاط پڑھے بغ یر از سر نو نماز نہ پ ڑھے اور اگر و ہ کوئ ی ایسا فعل انجام دینے سے پ ہ ل ے جونماز کو باطل کرتا ہ و از سر نو نماز پر ھے تو احت یاط کی بنا پر اس کی دوسری نماز بھی باطل ہے ل یکن اگر کوئی ایسا فعل انجام دینے کے بعد جونماز کو باطل کرتا ہ و نماز م یں مشغول ہ و جائ ے تو اس ک ی دوسری نماز صحیح ہے۔
1211 ۔ جب نماز کو باطل کرن ے وال ے شکوک م یں سے کوئ ی شک انسان کو لاحق ہ و جائ ے اور و ہ جانتا ہ و ک ہ بعد ک ی حالت میں منتقل ہ و جان ے پر اس کے لئ ے یقین یا گمان پیدا ہ وجائ ے گا تو اس صورت م یں جبکہ اس کا باطل شک شروع ک ی دو رکعت میں ہ و اس ک ے لئ ے شک ک ی حالت میں نماز جاری رکھ نا جائز نہیں ہے۔ مثلاً اگر ق یام کی حالت میں اسے شک ہ و ک ہ ا یک رکعت پڑھی ہے یا زیادہ پڑھی ہیں اور وہ جانتا ہ و ک ہ اگر رکوع م یں جائے تو کس ی ایک طرف یقین یا گمان پیدا کرے گا تو اس حالت م یں اس کے لئ ے رکوع کرنا جائز ن ہیں ہے اور باق ی باطل شکوک میں بظاہ ر اپن ی نماز جاری رکھ سکتا ہے تاک ہ اس ے یقین یا گمان حاصل ہ و جائ ے۔
1212 ۔ اگر کس ی شخص کا گمان پہ ل ے ا یک طرف زیادہ ہ و اور بعد م یں اس کی نظر میں دونوں اطراف برابر ہ وجائ یں تو ضروری ہے ک ہ شک ک ے احکام پر عمل کر ے اور اگر پ ہ ل ے ہی دونوں اطراف اس کی نظر میں برابر ہ وں اور احکام ک ے مطابق جو کچ ھ اس کا وظ یفہ ہے اس پر عمل ک ی بنیاد رکھے ا ور بعد میں اس کا گمان دوسری طرف چلاجائے تو ضرور ی ہے ک ہ اس ی طرف کو اختیار کرے اور نماز کو تمام کر ے۔
1213 ۔ جو شخص یہ نہ جانتا ہ و ک ہ اس کا گمان ا یک طرف زیادہ ہے یا دونوں اطراف اس کی نظر میں برابر ہیں تو ضروری ہے ک ہ شک ک ے احکام پر عمل کر ے۔
1214 ۔ اگرکس ی شخص کو نماز کے بعد معلوم ہ و ک ہ نماز کے دوران و ہ شک ک ی حالت میں تھ ا مثلاً اس ے شک ت ھ ا ک ہ اس ن ے دو رکعت یں پڑھی ہیں یا تین رکعتیں ہیں اور اس نے اپن ے افعال ک ی بنیاد تین رکعتوں پر رکھی ہ و ل یکن اسے یہ علم نہ ہ و ک ہ اس ک ے گمان م یں یہ تھ ا ک ہ اس ن ے ت ین رکعتیں پڑھی ہیں یا دونوں اطراف اس کی نظر میں برابر تھیں تو نماز احتیاط پڑھ نا ضرور ی ہے۔
1215 ۔ اگر ق یام کے بعد شک کر ے ک ہ دو سجد ے ادا کئ ے ت ھے یا نہیں اور اسی وقت اسے ان شکوک م یں سے کوئ ی شک ہ و جائ ے جو دو سجد ے تمام ہ ون ے ک ے بعد لاحق ہ وتا تو صح یح ہ وتا مثلاً و ہ شک کر ے ک ہ م یں نے دو رکعت پ ڑھی ہیں یا تین اور وہ اس شک ک ے مطابق عمل کر ے تو اس ک ی نماز صحیح ہے ل یکن اگر اسے تش ہ د پ ڑھ ت ے وقت ان شکوک م یں سے کوئ ی شک لاحق ہ و جائ ے تو بالفرض اس ے یہ علم ہ و ک ہ دو سجد ے ادا کئ ے ہیں تو ضروری ہے ک ہ یہ سمجھے ک ہ یہ ایسی دو رکعت میں سے ہے جس م یں تشہ د ن ہیں ہ وتا تو اس ک ی نماز باطل ہے۔ اس مثلا ک ی طرح جو گزر چکی ہے ورن ہ اس ک ی نماز صحیح ہے ج یسے کوئی شک کرے ک ہ دو رکعت پ ڑھی ہے یا چار رکعت۔
1216 ۔ اگر کوئ ی شخص تشہ د م یں مشغول ہ ون ے س ے پ ہ ل ے یا ان رکعتوں میں جن میں تشہ د ن ہیں ہے ق یام سے پ ہ ل ے شک کر ے ک ہ ا یک یا دو سجدے بجالا یا ہے یا نہیں اور اسی وقت اسے ان شکوک م یں سے کوئ ی شک لاحق ہ و جائ ے جو دو سجد ے تمام ہ ون ے ک ے بعد صح یح ہ و تو اس ک ی نماز باطل ہے۔
1217 ۔ اگر کوئ ی شخص قیام کی حالت میں تین اور چار رکعتوں کے بار ے م یں یا تین اور چار اور پانچ رکعتوں کے بار ے م یں شک کرے اور اس ے یہ بھی یاد آجائے ک ہ اس ن ے اس س ے پ ہ ل ی رکعت کا ایک سجدہ یا دونوں سجدے ادا ن ہیں کئے تو اس ک ی نماز باطل ہے۔
1218 ۔ اگر کس ی کا شک زائل ہ وجائ ے اور کوئ ی دوسرا شک اسے لاحق ہ و جائ ے مثلاً پ ہ ل ے شک کر ے ک ہ دو رکعت یں پڑھی ہیں تین رکعتیں اور بعد میں شک کیا تھ ا تو ہ ر دو شک ک ے حکم پ ر عمل کر سکتا ہے۔ اور نماز کو ب ھی توڑ سکتا ہے۔ اور جو کام نماز کو باطل کرتا ہے اس ے کرن ے ک ے بعد نماز دوبارہ پ ڑھے۔
1220 ۔ اگر کس ی شخص کو نماز کے بعد پت ہ چل ے ک ہ نماز ک ی حالت میں اسے کوئ ی شک لاحق ہ و گ یا تھ ا ل یکن یہ نہ جانتا ہ و ک ہ و ہ شک نماز کو باطل کرن ے وال ے شکو ک میں سے ت ھ ا یا صحیح شکوک میں سے ت ھ ا اور اگر صح یح شکوک میں سے ب ھی تھ ا تو اس کا تعلق صح یح شکوک کی کون سے قسم س ے ت ھا تو اس کے لئ ے جائز ہے ک ہ نماز کو کالعدم قرار د ے اور دوبار ہ پ ڑھے۔
1221 ۔ جو شخص ب یٹھ کر نماز پڑھ ر ہ ا ہ و اگر اس ے ا یسا شک لاحق ہ و جائ ے جس ک ے لئ ے اس ے ا یک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہ وکر یا دو رکعت بیٹھ کر پڑھ ن ی چاہ ئ ے تو ضرور ی ہے ک ہ ا یک رکعت بیٹھ کر پڑھے اور اگر و ہ ا یسا شک کرے جس ک ے لئ ے اس ے دو رکعت نماز احت یاط کھڑے ہ و کر پ ڑھ ن ی چاہئے تو ضروری ہے ک ہ دو رکعت ب یٹھ کر پڑھے۔
1222 ۔ جو شخص کھڑ ا ہ و کر نماز پ ڑھ تا ہ و اگر و ہ نماز احت یاط پڑھ ن ے ک ے وقت ک ھڑ ا ہ ون ے س ے عاجز ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز احت یاط اس شخص کی طرح پڑھے جو ب یٹھ کر نماز پڑھ تا ہے اور جس کا حکم سابق ہ مسئل ے م یں بیان ہ و چکا ہے۔
1223 ۔ جو شخص ب یٹھ کر نماز پڑھ تا ہ و اگر نماز احت یاط پڑھ ن ے کے وقت ک ھڑ ا ہ وسک ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس شخص ک ے وظ یفے کے مطابق عمل کر ے جو ک ھڑ ا ہ و کر نماز پ ڑھ تا ہے۔
1224 ۔ جس شخص پر نماز احت یاط واجب ہ و ضرور ی ہے ک ہ نماز ک ے سلام ک ے فوراً بعد نماز احت یاط کی نیت کرے اور تکب یر کہے پ ھ ر الحمد پ ڑھے اور رکوع م یں جائے اور دو سجد ے بجالائ ے۔ پس اگر اس پر ا یک رکعت نماز احتیاط واجب ہ و تو دو سجدوں ک ے بعد تش ہ د اور سلام پ ڑھے۔ اور اگر اس پر دو رکعت نماز احت یاط واجب ہ و تو دو سجدوں ک ے بعد پ ہ ل ی رکعت کی طرح ایک اور رکعت بجالائے اور تش ہ د ک ے بعد س لام پڑھے۔
1225 ۔ نماز احت یاط میں سورہ اور قنوت ن ہیں ہے اور احت یاط لازم کی بنا پر ضروری ہے ک ہ یہ نماز آہ ست ہ پ ڑھے اور اس ک ی نیت زبان پر نہ لائ ے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اس ک ی بِسمِ اللہ ب ھی آہ ست ہ پ ڑھے۔
1226 ۔ اگر کس ی شخص کو نماز احتیاط پڑھ ن ے س ے پ ہ ل ے معلوم ہو جائے ک ہ جو نماز اس ن ے پ ڑھی تھی وہ صح یح تھی تو اس کے لئ ے نماز احت یاط پڑھ نا ضرور ی نہیں اور اگر نماز احتیاط کے دوران ب ھی یہ علم ہ و جائ ے تو اس نماز کو تمام کرنا ضرور ی نہیں۔
1227 ۔ اگر نماز احت یاط پڑھ ن ے س ے پ ہ ل ے کس ی شخص کو معلوم ہ و جائ ے ک ہ اس ن ے نماز ک ی رکعتیں کم پڑھی تھیں اور نماز پڑھ ن ے ک ے بعد اس ن ے کوئ ی ایسا کام نہ ک یا ہ و جو نماز کو باطل کرتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس ن ے نماز کا جو حص ہ ن ہ پ ڑھ ا ہ و اس ے پ ڑھے اور ب ے محل سلام ک ے لئ ے احت یاط لازم کی بنا پر دو سجدہ س ہ و ادا کر ے اور اگر اس س ے کوئ ی ایسا فعل سر زد ہ وا ہے جو ن ماز کو باطل کرتا ہ و مثلاً قبل ے ک ی جانب پیٹھ کی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز دوبار ہ پ ڑھے۔
1228 ۔ اگر کس ی شخص کو نماز احتیاط کے بعد پت ہ چل ے ک ی اس کی نماز میں کمی احتیاط کے برابر ت ھی مثلاً تین رکعتوں اور چار رکعتوں کے درم یان شک کی صورت میں ایک نماز احتیاط پڑھے اور ب عد میں معلوم ہ و ک ہ اس ن ے نماز ک ی تین رکعتیں پڑھی تھیں تو ضروری ہے ک ہ نماز دوبار ہ پ ڑھے۔
1230 ۔ اگر کس ی شخص کو نماز احتیاط پڑھ ن ے ک ے بعد پت ہ چل ے ک ہ نماز م یں جو کمی ہ وئ ی تھی وہ نماز احت یاط سے ز یادہ تھی مثلاً تین رکعتوں اور چار رکعتوں کے ماب ین شک کی صورت میں ایک رکعت نماز احتیاط پڑھے اور بعد م یں معلوم ہ و ک ہ نماز ک ی دو رکعتیں پڑھی تھیں اور نماز احتیاط کے بعد کوئ ی ایسا کام کیا ہ و جو نماز کو باطل کرتا ہ و مثلاً قبل ے ک ی جانب پیٹھ کی تو ضروری ہے ک ہ نماز دوبار ہ پ ڑھے اور اگر کوئ ی ایسا کام نہ ک یا ہ و جونماز کو باطل کرتا ہ و تو اس صورت م یں بھی احتیاط لازم یہ ہے ک ہ نماز دوبار ہ پ ڑھے اور باق ی ماندہ ا یک رکعت ضم کرنے پر اکتفا نہ کر ے۔
1231 ۔ اگر کوئ ی شخص دو اور تین اور چار رکعتوں میں شک کرے اور ک ھڑے ہ و کر دو رکعت نماز احت یاط پڑھ ن ے ک ے بعد اس ے یاد آئے ک ہ اس نے نماز ک ی دو رکعتیں پڑھی تھیں تو اس کے لئ ے ب یٹھ کر دو رکعت نماز احتیاط پڑھ نا ضرور ی نہیں ۔
1232 ۔ اگر کوئ ی شخص تین اور چار رکعتوں میں شک کرے اور جس وقت و ہ ا یک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہ و کر پ ڑھ ہ و اس ے یاد آئے ک ہ اس ن ے نماز ک ی تین رکعتیں پڑھی تھیں تو ضروری ہے کہ نماز احت یاط کو چھ و ڑ د ے چنانچ ہ رکوع م یں داخل ہ ون ے س ے پ ہ ل ے اس ے یاد آیا ہ و تو ا یک رکعت ملا کر پڑھے اور اس ک ی نماز صحیح ہے اور احت یاط لازم کی بنا پر زائد سلام کے لئ ے دو سجد ہ بجالائ ے اور اگر رکوع م یں داخل ہ ون ے ک ے بعد یاد آئے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز کو دوبار ہ پ ڑھے اور احت یاط کی بنا پر باقی ماندہ رکعت ضم کرن ے پر اکتفا ن ہیں کرسکتا۔
1233 ۔ اگر کوئ ی شخص دو اور تین اور چار رکعتوں میں شک کرے اور جس وقت و ہ دو رکعت نماز احت یاط کھڑے ہ و کر پ ڑھ ر ہ ا ہ و اس ے یاد آئے ک ہ اس ن ے نماز ک ی تین رکعتیں پڑھی تھیں تو یہ اں بھی بالکل وہی حکم جاری ہ وگا جس کا ذکر سابق ہ مسئل ے م یں کیا گیا ہے۔
1234 ۔ اگر کس ی شخص کو نماز احتیاط کے دوران پت ہ چل ے ک ہ اس ک ی نماز میں کمی نماز احتیاط سے ز یادہ یا کم تھی تو یہ اں بھی بالکل وہی حکم جاری ہ وگا جس کا ذکر مسئل ہ 1232 میں کیا گیا ہے۔
1235 ۔ اگر کوئ ی شخص شک کرے ک ہ جو نماز احت یاط اس پر واجب تھی وہ اس ے بجالا یا ہے یا نہیں تو نماز کا وقت گزر جانے ک ی صورت میں اپنے شک ک ی پروانہ کر ے اور اگر وقت باق ی ہ و تو اس صورت م یں جبکہ شک اور نماز ک ے درم یان زیادہ وقفہ ب ھی گزرا ہ و اور اس ن ے کوئ ی ایسا کام بھی نہ کیا ہ و مثلاً قبل ے س ے من ہ مو ڑ نا جو نماز کو باطل کرتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز احت یاط پڑھے اور اگر کوئ ی ایسا کام کیا ہ و جو نماز کو باطل کرتا ہ و یا نماز اور اس کے شک ک ے درم یان زیادہ وقفہ ہ وگ یا ہ و تو احت یاط لازم کی بنا پر نماز دوبارہ پ ڑھ نا ضرور ی ہے ۔
1236 ۔ اگر ا یک شخص نماز احتیاط میں ایک رکعت کی بجائے دو رکعت پ ڑھ ل ے تو نماز احت یاط باطل ہ وجات ی ہے اور ضرور ی ہے ک ہ دوبار ہ اصل نماز پ ڑھے۔ اور اگر و ہ نماز م یں کوئی رکن بڑھ ا د ے تو احت یاط لازم کی بنا پر اس کا بھی یہی حکم ہے۔
1237 ۔ اگر کس ی شخص کو نماز احتیاط پڑھ ت ے ہ وئ ے اس نماز ک ے افعال م یں سے کس ی کے متعلق شک ہ و جائ ے تو اگر اس کا موقع ن ہ گزرا ہ و تو اس ے انجام د ینا ضروری ہے اور اگر اس کا موقع گزر گ یا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اپن ے شک ک ی پروانہ کر ے مثلاً اگر شک کر ے ک ہ الحمد پ ڑھی ہے یا نہیں اور ابھی رکوع میں نہ گ یا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ الحمد پ ڑھے اور اگر رکوع م یں جاچکا ہ و تو ضرور ی ہے اپن ے شک ک ی پروانہ کر ے۔
1238 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز احتیاط کی رکعتوں کے بار ے م یں شک کرے اور ز یادہ رکعتوں کی طرف شک کرنا نماز کو باطل کرتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ شک ک ی بنیاد کم رکھے اور اگر ز یادہ رکعتوں کی طرف شک کرنا نماز کو باطل نہ کرتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس ک ی بنیاد زیادہ پر رکھے مثلا جب و ہ دو رکعت نماز احت یاط پڑھ ر ہ ا ہ و اگر شک کر ے ک ہ دو رکعت یں پڑھی ہیں یا تین تو چونکہ ز یادتی کی طرف شک کرنا نماز کو باطل کرتا ہے اس لئ ے اس ے چا ہ ئ ے ک ہ سمج ھ ل ے ک ہ اس ن ے دو رکعت یں اور اگر شک کرے ک ہ ا یک رکعت پڑھی ہے یا دو رکعتیں پڑھی ہیں تو چونکہ ز یادتی کی طرف شک کرنا نماز کو باطل نہیں کرتا اس لئے اس سمج ھ نا چا ہ ئ ے ک ہ دو رکعت یں پڑھی ہیں۔
1239 ۔ اگر نماز احت یاط میں کوئی ایسی چیز جو رکن نہ ہ و س ہ واً کم یا زیادہ ہ و جائ ے تو اس ک ے لئ ے سجد ہ س ہ و ن ہیں ہے۔
1240 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز احتیاط کے سلام ک ے بعد شک کر ے ک ہ و ہ نماز ک ے اجزا اور شرائط م یں سے کوئ ی ایک جزو یا شرط انجام دے چکا ہے یا نہیں تو وہ اپن ے شک ک ی پروانہ کر ے۔
1241 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز احتیاط میں تشہ د پ ڑھ نا یا ایک سجدہ کرنا ب ھ ول جائ ے اور اس تش ہ د یا سجدے کا اپن ی جگہ پر تدارک ب ھی ممکن نہ ہ و تو احت یاط اور ایک سجدے ک ی قضا یا دو سجدہ س ہ و واجب ہ وں تو ضرور ی ہے ک ہ پ ہ ل ے نماز احت یاط بجالائے۔
1243 ۔ نماز ک ی رکعتوں کے بار ے م یں گمان کا حکم یقین کے حکم ک ی طرح ہے مثلاً اگر کوئ ی شخص یہ نہ جانتا ہ و ک ہ ا یک رکعت پڑھی ہے یا دو رکعتیں پڑھی ہیں اور گمان کرے ک ہ دو رکعت یں پڑھی ہیں تو وہ سمج ھے ک ہ دو رکعت یں پڑھی ہیں اور اگر چار رکعتی نماز میں گمان کرے ک ہ چار ر کعتیں پڑھی ہیں تو اسے نماز احت یاط پڑھ ن ے ک ی ضرورت نہیں لیکن افعال کے بار ے م یں گمان کرنا شک کا حکم رکھ تا ہے پس اگر و ہ گمان کر ے ک ہ رکوع ک یا ہے اور اب ھی سجدہ م یں داخل نہ ہ وا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ رکوع کو انجام د ے اور اگر و ہ گمان کر ے ک ہ الحمد ن ہیں پڑھی اور سورے م یں داخل ہ وچکا ہ و تو گمان ک ی پروا نہ کر ے اور اس ک ی نماز صحیح ہے۔
1244 ۔ روزان ہ ک ی واجب نمازوں اور دوسری واجب نمازوں کے بار ے م یں شک اور سہ و اور گمان ک ے حکم م یں کوئی فرق نہیں ہے مثلاً اگر کس ی شخص کو نماز آیات کے دوران شک ہ و ک ہ ا یک رکعت پڑھی ہے یا دو رکعتیں تو چونکہ اس کا شک دو رکعت ی نماز میں ہے ل ہ ذا اس ک ی نماز باطل ہے اور اگر و ہ گمان کر ے ک ہ یہ دوسری رکعت ہے یا پہ ل ی رکعت تو اپنے گمان ک ے مطابق نماز کو تمام کر ے۔
1245 ۔ ضرور ی ہے ک ہ انسان سلام نماز ک ے بعد پانچ چ یزوں کے لئ ے اس طر یقے کے مطابق جس کا آئند ہ ذکر ہ وگا دو سجد ے س ہ و بجالائ ے :
1 ۔ نماز ک ی حالت میں سہ واً کلام کرنا ۔
2 ۔ ج ہ اں سلام نم از نہ ک ہ نا چا ہ ئ ے و ہ اں سلام ک ہ نا ۔ مثلاً ب ھ ول کر پ ہ ل ی رکعت میں سلام پڑھ نا ۔
3 ۔ تش ہ د ب ھ ول جانا ۔
4 ۔ چار رکعت ی نماز میں دوسری سجدے ک ے دوران شک کرنا ک ہ چار رکعت یں پڑھی ہیں یا پانچ، یا شک کرنا کہ چار رکعت یں پڑھی ہیں یا چھ ، بالکل اس ی طرح جیسا کہ صح یح شکوک کے نمبر 4 میں گزر چکا ہے۔
ان پانچ صورتوں میں اگر نماز پر صحیح ہ ون ے کا حکم ہ و تو احت یاط کی بنا پر پہ ل ی، دوسری اور پانچویں صورت میں اور اقوی کی بنا پر تیسری اور چوتھی صورت میں دو سجدہ س ہ و ادا کرنا ضرور ی ہے۔ اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اگر ا یک سجدہ ب ھ ول ج ائے ج ہ اں ک ھڑ ا ہ ونا ضرور ی ہ و مثلا ً الحمد اور سورہ پ ڑھ ت ے وقت و ہ اں غلط ی سے ب یٹھ جائے یا جہ اں ب یٹھ نا ضروری ہ و مثلا تش ہ د پ ڑھ ت ے وقت و ہ اں غلط ی سے ک ھڑ ا ہ و جائ ے تو دو سجد ہ س ہ و ادا کر ے بلک ہ ہ ر اس چ یز کے لئ ے جو غلط ی سے نماز م یں کم یا زیادہ ہ و جائ ے دو سجد ہ س ہ و کر ان چند صورتوں ک ے احکام آئند مسائل م یں بیان ہ وں گ ے۔
1246 ۔ اگر انساں غلط ی سے یا اس خیال سے ک ہ و ہ نماز پ ڑھ چکا ہے کلام کر ے تو احت یاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ دو سجد ہ س ہ و کر ے۔
1247 ۔ اس آواز ک ے لئ ے جو ک ھ انسن ے س ے پ یدا ہ وت ی ہے سجد ہ س ہ و واجب ن ہیں لیکن اگر کوئی غلطی سے نال ہ و بکا کر ے یا (سرد) آہ ب ھ ر ے یا (لفظ) آہ ک ہے تو ضرور ی ہے ک ہ احت یاط کی بنا پر سجدہ س ہ و کر ے۔
1248 ۔ اگر کوئ ی شخص ایک ایسی چیز کو جو اس نے غلط پ ڑھی ہ و دوبار ہ صح یح طور پر پڑھے تو اس ک ے دوبار ہ پ ڑھ ن ے پر سجد ہ س ہ و واجب ن ہیں ہے۔
1249 ۔ اگر کوئی شخص نماز میں غلطی سے کچ ھ د یر باتیں کرتا رہے اور عموماً اس ے ا یک دفعہ بات کرنا سمج ھ ا جاتا ہ و تو اس ک ے لئ ے نماز ک ے سلام ک ے بعد دو سجد ہ س ہ و کاف ی ہیں۔
1250 ۔ اگر کوئ ی شخص غلطی سے تسب یحات اربعہ ن ہ پ ڑھے تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ نماز ک ے بعد دو سجد ہ س ہ و بجالائ ے۔
1251 ۔ ج ہ اں نماز کا سلام ن ہیں کہ نا چا ہ ئ ے اگر کوئ ی شخص غلطی سے اَلسَّلاَمُ عَلَ یناَ وَعَلیٰ عِبَادِ اللہ الصَّالِح یِن کہہ د ے یا الَسَّلامُ عَلَیکُم کہے تو اگر چ ہ اس ن ے "وَرَحمَ ۃ ُ اللہ وَبَرَکَاتُ ہ " ن ہ ک ہ ا ہ و تب ب ھی احتیاط لازم کی بنا پرضروری ہے ک ہ دو سجد ہ س ہو کرے۔ ل یکن اگر غلطی سے "اَلسَّلاَمُ عَلَ یکُ اَیُّھ َا النَّبِیُّ وَرَحمَۃ ُ اللہ وَبَرَ کَاتُ ہ " ک ہے تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ دو سجد ے س ہ و بجالائ ے۔
1252 ۔ ج ہ اں سلام ن ہیں پڑھ نا چا ہ ئ ے اگر کوئ ی شخص وہ اں غلط ی سے ت ینوں سلام پڑھ ل ے تو اس ک ے لئ ے دو سجد ہ س ہ و کاف ی ہیں۔
1253 ۔ اگر کوئ ی شخص ایک سجدہ یا تشہ د ب ھ ول جائ ے اور بعد ک ی رکعت کے رکوع س ے پ ہ ل ے اس ے یاد آئے تو ضرور ی ہے ک ہ پل ٹے اور (سجد ہ یا تشہ د) بجالائ ے اور نماز ک ے بعد احت یاط مستحب کی بنا پر بے جا ق یام کے لئ ے دو سجد ہ س ہ و کر ے۔
1254 ۔ اگر کس ی شخس کو رکوع میں یا اس کے بعد یاد آئے ک ہ و ہ اس س ے پ ہ ل ی رکعت میں ایک سجدہ یا تشہ د ب ھ ول گ یا ہے تو ضرور ی ہے ک ہ سلام نماز ک ے بعد سجد ے ک ی قضا کرے اور تش ہ د ک ے لئ ے دو سجد ہ س ہ و کر ے۔
1255 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز کے سلام ک ے بعد جان بوج ھ کر سجد ہ س ہ و ن ہ کر ے تو اس نے گنا ہ ک یا ہے اور احت یاط واجب کی بنا پر ضروری ہے ک ہ جس قدر جلد ی ہ وسک ے اس ے ادا کر ے اور اگر اس ن ے ب ھ ول کر سجد ہ س ہ و ن ہیں کیا تو جس وقت بھی اسے یاد آئے ضرور ی ہے ک ہ فوراً سجد ہ کر ے اور اس کے لئے نماز کا دوبار ہ پ ڑھ نا ضرور ی نہیں۔
1256 ۔ اگر کوئ ی شخص شک کرے ک ہ مثلاً اس پر دو سجدہ س ہ و واجب ہ وئ ے ہیں یا نہیں تو ان کا بجالانا اس کے لئ ے ضرور ی نہیں۔
1257 ۔ اگر کوئ ی شخص شک کرے ک ہ مثلاً اس پر دو سجد ہ س ہ و واجب ہ وئ ے ہیں یا چار تو اس کا دو سجدے ادا کرنا کاف ی ہے۔
1258 ۔ اگر کس ی شخص کو علم ہ و ک ہ دو سجد ہ س ہ و م یں سے ا یک سجدہ س ہ و ن ہیں بجالایا اور تدارک بھی ممکن نہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ دو سجد ہ س ہ و بجالائ ے اور اگر اس ے علم ہ و ک ہ اس ن ے س ہ واً ت ین سجدے کئ ے ہیں تو احتیاط واجب یہ کہ دوبار ہ دو سجد ہ س ہ و بجالائ ے۔
1289 ۔ سجد ہ س ہ و کا طر یقہ یہ ہے ک ہ سلام نماز ک ے بعد انسان فوراً سجدہ س ہ و ک ی نیت کرے اور احت یاط لازم کی بنا پر پیشانی کسی ایسی چیز پر رکھ د ے جس پر سجد ہ کرنا صح یح ہ و اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ سجد ہ س ہ و م یں ذکر پڑھے اور ب ہ تر ہے ک ہ ک ہے : "بِسمِ الل ہ وَبِالل ہ اَلس َّلاَمُ عَلَیکَ اَیُّھ َاالنَّبِ یُّ وَرَحمَۃ ُ اللہ وَبَرکَاتُ ہ " اس ک ے بعد اس ے چا ہ ئ ے ک ہ ب یٹھ جائے اور دوبار ہ سجد ے م یں جائے اور مذکور ہ ذکر پ ڑھے اور ب یٹھ جائے اور تش ہ د ک ے بعد ک ہے اَلسَّلاَمُ عَلَ یکُم اور اَولیٰ یہ ہے ک ہ "وَرَحم ۃ ُ اللہ وَبَرَکَاتُ ہ " کا اضاف ہ کر ے۔
1260 ۔ اگر انسان سجدہ اور تش ہ د ب ھ ول جائ ے اور نماز ک ے بعد ان ک ی قضا بجالائے تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ نماز ی کی تمام شرائط مثلاً بدن اور لباس کا پاک ہ ونا اور رو ب ہ قبل ہ ہ ونا اور د یگر شرائط پوری کرتا ہ و ۔
1261 ۔ اگر انسان کئ ی دفعہ سجد ہ کرنا ب ھ ول جائ ے مثلاً ا یک سجدہ پ ہ ل ی رکعت میں اور ایک سجدہ دوسر ی رکعت میں بھ ول جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز ک ے بعد ان دونوں سجدوں کو قضا بجالائ ے اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ ب ھ ول ی ہ وئ ی ہ ر چ یز کے لئ ے احت یاطاً دو سجدہ س ہ و کر ے۔
1262 ۔ اگر انسان ا یک سجدہ اور ا یک تشہ د ب ھ ول جائ ے تو احت یاطاً ہ ر ا یک کے لئ ے دو سجد ہ س ہ و بجالائ ے۔
1663 ۔ اگر انسان دو رکعتوں م یں سے دو سجد ے ب ھ ول جائ ے تو اس ک ے لئ ے ضرور ی نہیں کہ قضا کرت ے وقت ترت یب سے بجالائ ے۔
1264 ۔ اگر انسان نماز ک ے سلام اور سجد ے ک ی قضا کے درم یان کوئی ایسا کام کرے جس ک ے عمداً یا سہ واً کرن ے س ے نماز باطل ہ و جات ی ہے مثلاً پ یٹھ قبلے ک ی طرف کرے تو اح یتاط مستحب یہ ہے ک ہ سجد ے ک ی قضا کے بعد دوبار ہ نماز پ ڑھے۔
1265 ۔ اگر کس ی شخص کو نماز کے سلام ک ے بعد یاد آئے ک ہ آخر ی رکعت کا ایک سجدہ یا تشہ د ب ھ ول گ یا ہے تو ضرور ی ہے ک ہ لو ٹ جائ ے اور نماز کو تمام کر ے اور احت یاط واجب کی بنا پر بے محل سلام ک ے لئ ے دو سجد ہ س ہ و کر ے۔
1266 ۔ اگر ا یک شخص نماز کے سلام اور سجد ے ک ی قضا کے درم یان کوئی ایسا کام کرے۔ جس ک ے لئ ے سجد ہ س ہ و واجب ہ و جاتا ہ و مثلاً ب ھ ول ے س ے کلام کر ے تو احت یاط واجب کی بنا پر ضروری ہے ک ہ پ ہ ل ے سجد ے ک ی قضا کرے اور بعد م یں دو سجدہ س ہو کرے۔
1267 ۔ اگر کس ی شخص کو یہ علم نہ ہ و ک ہ نماز م یں سجدہ ب ھ ولا ہے یا تشہ د تو ضرور ی ہے ک ہ سجد ے ک ی قجا کرے اور دو سجد ہ س ہ و ادا کر ے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ تش ہ د ک ی بھی قضا کرے۔
1228 ۔ اگر کس ی شخص کو شک ہ و ک ہ سجد ہ یا تشہ د ب ھ ولا ہے یا نہیں تو اس کے لئ ے ان ک ی قضا کرنا یا سجدہ س ہ و ادا کرنا واجب ن ہیں ہے۔
1229 ۔ اگر کس ی شخص کو علم ہ و ک ہ سجد ہ ب ھ ول گ یا ہے اور شک کر ے ک ہ بعد ک ی رکعت کے رکوع س ے پ ہ ل ے اس ے یاد آیا تھ ا اور اس ے بجالا یا تھ ا یا نہیں تو احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ اس ے ک ی قضا کرے۔
1270 ۔ جس شخص پر سجد ے ک ی قضا ضروری ہو، اگر کسی دوسرے کام ک ی وجہ س ے اس پر سجد ہ س ہ و واجب ہ وجائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ احت یاط کی بنا پر نماز ادا کرنے ک ے بعد اولاً سجد ے ک ی قضا کرے اور اس ک ے بع سجد ہ س ہ و کر ے۔
1271 ۔ اگر کس ی شخص کو شک ہ و ک ہ نماز پ ڑھ ن ے ک ے بعد ب ھ ول ے سجد ے ک ی قضا بجالایا ہے یا نہیں اور نماز کا وقت نہ گزرا ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ سجد ے ک ی قضا کرے ل یکن اگر نماز کا وقت بھی گزر گیا ہ و تو احت یاط واجب کی بنا پر اس کی قضا کرنا ضروری ہے۔
1272 ۔ جب نماز ک ے واجبات م یں سے کوئ ی چیز جان بوجھ کر کم یا زیادہ کی جائے تو خوا ہ و ہ ا یک حرف ہی کیوں نہ ہ و نماز باطل ہے۔
1273 ۔ اگر کوئ ی شخص مسئلہ ن ہ جانن ے ک ی وجہ س ے نماز ک ے واجب ارکان م یں سے کوئ ی ایک کم کر دے تو نماز باطل ہے۔ اور و ہ شخص جو (کس ی دور افتادہ مقام پر ر ہ ن ے ک ی وجہ س ے ) مَسَائل تک رسائ ی حاصل کرنے س ے قاصر ہ و یا وہ شخص جس نے کس ی حجت (معتبر شخص یا کتاب وغیرہ) پر اعتماد کیا ہ و اگر واجب غ یر رکنی کو کم کرے یا کسی رکن کو زیادہ کرے تو نماز باطل ن ہیں ہ وت ی۔ چنانچ ہ اگر مسئل ہ ن ہ جانن ے ک ی وجہ س ے اگرچ ہ کوتا ہی کی وجہ س ے ہ و صبح اور مغرب اور عشا ک ی نمازوں میں الحمد اور سورہ آ ہ ست ہ پ ڑھے یا ظہ ر اور عصر ک ی نمازوں میں الحمد اور سورہ آواز س ے پ ڑھے یا سفر میں ظہ ر، عصر اور عشا ک ی نمازوں کی چار رکعتیں پڑھے تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔
1274 ۔ اگرنماز ک ے دوران کس ی شخص کا دھیان اس طرف جائے ک ہ اس کا وضو یا غسل باطل تھ ا یا وضور یا غسل کئے بغ یر نماز پڑھ ن ے لگا ہے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز تو ڑ د ے اور دوبار ہ وضو یا غسل کے سات ھ پ ڑھے اور اگر اس طرف اس کا د ھیان نماز کے بعد جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ وضو یا غسل کے ساتھ دوبار ہ نماز پ ڑھے اور اگر نماز کا وقت گزر گ یا ہ و تو اس ک ی قضا کرے۔
1275 ۔ اگر کس ی شخص کو رکوع میں پہ نچن ے ک ے بعد یاد آئے ک ہ پ ہ ل ے وال ی رکعت کے دو سجد ے ب ھ ول گ یا ہے تو اس ک ی نماز احتیاط کی بنا پر باطل ہے اور اگر یہ بات اسے رکوع م یں پہ نچن ے س ے پ ہ ل ے یاد آئے تو ضرور ی ہے ک ہ واپس م ڑے اور دو سجد ے بجالائ ے اور پ ھ ر ک ھڑ ا ہ و جائ ے اور ال حمد اور سورہ یا تسبیحات پڑھے اور نماز کو تمام کر ے اور نماز ک ے بعد اح یتاط مستحب کی بنا پر بے محل ق یام کے لئ ے دو سجد ہ س ہ و کر ے۔
1276 ۔ اگر کس ی شخص کو اَلسَّلاَمُ عَلَینَا اور اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم کہ ن ے س ے پ ہ ل ے یاد آئے ک ہ و ہ آخر ی رکعت کے دو سجد ے بجا ن ہیں لایا تو ضروری ہے ک ہ دو سجدے بجالائ ے اور دوبار ہ تش ہ د اور سلام پ ڑھے۔
1277 ۔ اگر کس ی شخص کو نماز کے سلام س ے پ ہ ل ے یاد آئے ک ہ اس ن ے نماز ک ے آخر ی حصے ک ی ایک یا ایک سے ز یادہ رکعتیں نہیں پڑھیں تو ضروری ہے ک ہ جتنا حص ہ ب ھ ول گ یا ہ و اس ے بجالائ ے۔
1278 ۔ اگر کس ی شخص کو نماز کے سلام ک ے بعد یاد آئے ک ہ اس ن ے نماز ک ے آخر ی حصے ک ی ایک یاایک سے ز یادہ رکعتیں نہیں پڑھیں اور اس سے ا یسا کام بھی سر زد ہ و چکا ہ و ک ہ اگر و ہ نماز م یں عمداً یا سہ واً ک یا جائے تو نماز کو باطل کر د یتا ہ و مثلا اس ن ے قبل ے ک ی طرف پیٹھ کی ہ و تو اس کی نماز باطل ہے اور اگر اس ن ے کو ئی ایسا کام نہ ک یا ہ و جس کا عمداً یا سہ واً کرنا نماز کو باطل کرتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ جتنا حص ہ پ ڑھ نا ب ھ ول گ یا ہ و اس ے فوراً بجا لائ ے اور زائد سلام ک ے لئ ے احت یاط لازم کی بنا پر دو سجدہ س ہ و کر ے۔
1279 ۔ جب کوئ ی شخص نماز کے سلام ک ے بعد ا یک کام انجام دے جو اگر نماز کے دوران عمداً س ہ واً سجد ے بجان ہیں لایا تو اس کی نماز باطل ہے اور اگر نماز کو باطل کرن ے والا کوئ ی کام کرنے س ے پ ہ ل ے اس ے یہ بات یاد آئے تو ضرور ی ہے ک ہ جو دو سجد ے ادا کرنا ب ھ ول گ یا ہے ان ہیں بجالائے اور دوبارہ تش ہ د اور سلام پ ڑھے اور جو سلام پ ہ ل ے پ ڑھ ا ہ و اس ک ے لئ ے احت یاط واجب کی بنا پر دو سجدہ س ہ و کر ے۔
1280 ۔ اگر کس ی شخص کو پتہ چل ے ک ہ اس ن ے نماز وقت س ے پ ہ ل ے پ ڑھ ل ی ہے تو ضرور ی ہے ک ہ دوبار ہ پ ڑھے اور اگر وقت گزر گ یا ہ و تو قضا کر ے۔ اور اگر یہ پتہ چل ے ک ہ قب لے ک ی طرف پیٹھ کر کے پ ڑھی ہے اور اب ھی وقت نہ گزرا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ دوبار ہ پ ڑھے اور اگر وقت گزر چکا ہ و او ر تردد کا شکار ہ و تو قضا ضرور ی ہے ورن ہ قضا ضرور ی نہیں۔ اور اگر پت ہ چل ے ک ہ قبل ے ک ی شمالی یا جنوبی سمت کے درم یان نماز ادا کی ہے اور وقت گزرن ے ک ے بعد پت ہ چلے تو قضا ضرور ی نہیں لیکن اگر وقت گزرنے س ے پ ہ ل ے متوج ہ ہ و اور قبل ے ک ی سمت تبدیل کرنے س ے معذور ن ہ ہ و مثلاً قبل ے ک ی سمت تلاش کرنے م یں کوتاہی کی ہ و تو احت یاط کی بنا پر دوبارہ نماز پ ڑھ نا ضرور ی ہے۔
مسافر کی نماز
ضروری ہے ک ہ مسافر ظ ہ ر عصر اور عشا ک ی نماز آٹھ شرط یں ہ وت ے ہ وئ ے قصر بجالائ ے یعنی دو رکعت پڑھے۔
(پہ ل ی شرط) اس کا سفر آٹھ فرسخ شروع س ے کم ن ہ ہ و اور فرسخ شرع ی ساڑھے پانچ ک یلومیٹ ر سے قدر ے کم ہ وتا ہے (م یلوں کے حساب س ے آ ٹھ فرسخ شرع ی تقریباً 28 میل بنتے ہیں)۔
1281 ۔ جس شخص ک ے جان ے اور واپس آن ے ک ی مجموعی مسافت ملا کر آٹھ فرسخ ہ و اور خوا ہ اس ک ے جان ے ک ی یا واپسی کی مسافت چار فرسخ سے کم ہ و یا نہ ہ و ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کر ک ے پ ڑھے۔ اس بنا پر اگر جان ے ک ی مسافت تین فرسخ اور واپسی کی پانچ فرسخ یا اس کے برعکس ہ و تو ضرو ری ہے ک ہ نماز قصر یعنی دو رکعتی پڑھے۔
1282 ۔ اگر سفر پر جان ے اور واپس آن ے ک ی مسافت آٹھ فرسخ ہ و تو اگرچ ہ جس دن و ہ گ یا ہ و اس ی دن یا اسی رات کو واپس پلٹ کر ن ہ آئ ے ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے ل یکن اس صورت میں بہ تر ہے ک ہ احت یاطاً پوری نماز بھی پڑھے۔
1283 ۔ اگر ا یک مختصر سفر آٹھ فرسخ س ے کم ہ و یا انسان کو علم نہ ہ و ک ہ اس کا سفر آ ٹھ فرسخ ہے یا نہیں تو اسے نماز قصر کرک ے ن ہیں پڑھ ن ی چاہ ئ ے اور اگر شک کر ے ک ہ اس کا سفر آ ٹھ فرسخ ہے یا نہیں تو اس کے لئ ے تحق یق کرنا ضروری نہیں اور ضروری ہے ک ہ پور ی نماز پڑھے۔
1284 ۔ اگر ا یک عادل یا قابل اعتماد شخص کسی کو بتائے ک ہ اس کا سفر آ ٹھ فرسخ ہے اور و ہ اس ک ی بات سے مطمئن ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے۔
1285 ۔ ا یسا شخص جسے یقین ہ و ک ہ اس کا سفر آ ٹھ فرسخ ہے اگر نماز قصر کر ک ے پ ڑھے اور بعد م یں اسے پت ہ چل ے ک ہ آ ٹھ فرسخ ن ہ ت ھ ا تو ضرور ی ہے ک ہ پور ی نماز پڑھے اور اگر وقت گزر گیا ہ و تو اس ک ی قضا لائے۔
1286 ۔ جس شخص کو یقین ہ و ک ہ جس جگ ہ و ہ جانا چا ہ تا ہے و ہ اں کا سفر آ ٹھ فرسخ ن ہیں یا شک ہ و ک ہ آ ٹھ فرسخ ہے یا نہیں اور راستے م یں اسے معلوم ہ و جائ ے ک ہ اس کا سفر آ ٹھ فرسخ ت ھ ا تو گو ت ھ و ڑ ا سا سفر باق ی ہ و ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے اور اگر پور ی نماز پڑھ چکا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ دوبار ہ قصر پ ڑھے۔ ل یکن اگر وقت گزر گیا ہ و تو قضا ضرور ی نہیں ہے۔
1287 ۔ اگر دو جگ ہ وں کا درم یانی فاصلہ چار فرسخ س ے کم ہ و اور کوئ ی شخص کئی دفعہ ان ک ے درم یان جائے اور آئ ے تو خوا ہ ان تمام مساف توں کا فاصلہ ملا کر آ ٹھ فرسخ ب ھہ ہ و جائ ے اس ے نماز پور ی پڑھ ن ی ضروری ہے۔
1288 ۔ اگر کس ی جگہ جان ے ک ے دو راست ے ہ وں اور ان م یں سے ا یک راستہ آ ٹھ فرسخ س ے کم اور دوسرا آ ٹھ فرسخ یا اس سے ز یادہ ہ و تو اگر انسان و ہ اں راست ے س ے جائ ے جو آ ٹھ فرسخ ہے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرکے پ ڑھے اور اگر اس راست ے س ے جائ ے جو آ ٹھ فرسخ ن ہیں ہے تو ضرور ی ہے ک ہ پور ی نماز پڑھے۔
1289 ۔ آ ٹھ فرسخ ک ی ابتدا اس جگہ س ے حساب کرنا ضرور ی ہے ک ہ ج ہ اں س ے گزر جان ے ک ے بعد آدم ی مسافر شمار ہ وتا ہے اور غالباً و ہ جگ ہ ش ہ ر ک ی انتہ ا ہ وت ی ہے ل یکن بعض بہ ت ب ڑے ش ہروں میں ممکن ہے و ہ ش ہ ر کا آخر ی محلہ ہ و ۔
(دوسری شرط) مسافر اپنے سفر ک ی ابتدا سے ہی آٹھ فرسخ ط ے کرن ے کا اراد ہ رک ھ تا ہ و یعنی یہ جانتا ہ و ک ہ آ ٹھ فرسخ تک کا فاصل ہ ط ے کر ے گا ل ہ ذا اگر و ہ اس جگ ہ تک کا سفر کر ے جو آ ٹھ فرسخ س ے کم ہ و اور و ہ اں پ ہ نچن ے ک ے بعد کس ی ایسی جگہ جان ے کا اراد ہ کر ے جس کا فاصل ہ ط ے کر دہ فاصلے س ے ملا کر آ ٹھ فرسخ ہ و جاتا ہ و تو چونک ہ و ہ شروع س ے آ ٹھ فرسخ ط ے کرن ے کا اراد ہ ن ہیں رکھ تا ت ھ ا اس لئ ے ضرور ی ہے ک ہ پور ی نماز پڑھے ل یکن اگر وہ و ہ اں س ے آ ٹھ فرسخ آگ ے جان ے کا اراد ہ کر ے یا مثلاً چار فرسخ جانا چاہتا ہ و اور پ ھ ر چار فرسخ ط ے کرک ے اپن ے وطن یا ایسی جگہ واپس آنا چا ہ تا ہ و ج ہ اں اس کا اراد ہ دس دن ٹھہ رن ے کا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے۔
1290 ۔ جس شخص کو یہ علم نہ ہ و ک ہ اس کا سفر کتن ے فرسخ کا ہے مثلاً کس ی گمشدہ (شخص یا چیز) کو ڈھ ون ڈ ن ے ک ے لئ ے سفر کر ر ہا ہ و اور ن ہ جانتا ہ و ک ہ اس ے پال ینے کے لئ ے اس ے ک ہ اں تک جانا پ ڑے گا تو ضرور ی ہے ک ہ پور ی نماز پڑھے۔ ل یکن اگر واپسی پر اس کے وطن یا اس جگہ تک کا ف اصلہ جہ اں و ہ دس دن ق یام کرنا چاہ تا ہ و آت ھ فرسخ یا اس سے ز یادہ بنتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے۔ مز ید براں اگر وہ سفر پر جان ے ک ے دوران اراد ہ کر ے ک ہ و ہ مثلاً چار فرسخ ک ی مسافت جاتے ہ وئ ے اور چار فرسخ ک ی مسافت واپس آتے ہ وئ ے ط ے کر ے گا تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرکے پ ڑھے۔
1291 ۔ مسافر کو نماز قصر کرک ے اس صورت م یں پڑھ ن ی ضروری ہے جب اس کا آ ٹھ فرسخ ط ے کرن ے کا پخت ہ اراد ہ ہ و ل ہ ذا اگر کوئ ی شخص شہ ر س ے با ہ ر جا ر ہ ا ہ و اور مثال ک ے طور پر اس کا اراد ہ یہ ہ و ک ہ اگر کوئ ی ساتھی مل گیا تو آٹھ فرسخ ک ے سفر پر چلاجاوں گا اور اس ے اطم ینان ہ و ک ہ ساتھی مل جائے گا تو اس ے نماز قصر کر ک ے پ ڑھ ن ی ضروری ہے اور اگر اس ے اس بار ے م یں اطمینان نہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ پور ی نماز پڑھے۔
1292 ۔ جو شخص آ ٹھ فرسخ سفر کرن ے کا اراد ہ رک ھ تا ہ و و ہ اگرچ ہ ہ ر روز ت ھ و ڑ ا فاصل ہ ط ے کر ے اور جب حَدِّ تَر خُّص ۔ جس ک ے معن ی مسئلہ 1327 میں آئیں گے۔ تک پ ہ نچ جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کر کے پ ڑھے ل یکن اگر ہ ر روز ب ہ ت کم فاصل ہ ط ے کر ے تو احت یاط لازم یہ ہے ک ہ اپن ی نمازی پوری بھی پڑھے اور قصر ب ھی پڑھے۔
1293 ۔ جو شخص سفر م یں کسی دوسرے ک ے اخت یار میں ہ و مثلاً نوکر جو اپن ے آقا ک ے سات ھ سفر کر ر ہ ا ہ و اگر اس ے علم ہ و ک ہ اس کا سفر آ ٹھ فرسخ کا ہے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے اور اگر اس ے علم ن ہ ہ و تو پور ی نماز پڑھے اور اس بار ے م یں پوچھ نا ضرور ی نہیں۔
1294 ۔ جو شخص سفر م یں کسی دوسرے ک ے اخت یار میں ہ و اگر و ہ جانتا ہ و یا گمان رکھ تا ہ و ک ہ چار فرسخ تک پ ہ نچن ے س ے پ ہ ل ے اس س ے جدا ہ و جائ ے گا اور سفر ن ہیں کرے گا تو ضرور ی ہے ک ہ پور ی نماز پڑھے۔
1295 ۔ جو شخص سفر م یں کسی دوسرے ک ے اخت یار میں ہ و اگر اس ے اطم ینان نہ ہ و ک ہ چار فرسخ تک پ ہ نچن ے س ے پ ہ ل ے اس س ے جدا ن ہیں ہ وگا اور سفر جار ی رکھے گا تو ضرور ی ہے ک ہ پور ی نماز پڑھے ل یکن اگر اسے اطم ینان ہ و اگرچ ہ احتمال ب ہ ت کم ہ و کہ اس ک ے سفر م یں کوئی رکاوٹ پ یدا ہ وگ ی تو ضروری ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے۔
(تیسری شرط) راستے م یں مسافر اپنے اراد ے س ے پ ھ ر ن ہ جائ ے۔ پس اگر و ہ چار فرسخ تک پ ہ نچن ے س ے پ ہ ل ے اپنا اراد ہ بدل د ے یا اس کا ارادہ مُتَزَلزل ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ پور ی نماز پرھے۔
1296 ۔ اگ ر کوئی کوئی کچھ فاصل ہ طر ے کرن ے ک ے بعد جو ک ہ واپس ی کے سفر کو ملا کر آ ٹھ فرسخ ہ و سفر ترک کر د ے اور پخت ہ اراد ہ کرل ے ک ہ اس ی جگہ ر ہے گا یا دس دن گزرنے ک ے بعد واپس جائ ے گا یا واپس جانے اور ٹھہ رن ے ک ے بار ے م یں کوئی فیصلہ نہ کر پائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ پور ی نماز پڑھے۔
1297 ۔ اگر کوئ ی شخص کچھ فاصل ہ ط ے کرن ے ک ے بعد جو ک ہ واپس ی کے سفر کو ملا کر آ ٹھ فرسخ ہ و سفر ترک کرد ے اور واپس جان ے کا پخت ہ اراد ہ کرل ے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے اگرچ ہ و ہ اس جگ ہ دس دن س ے کم مدت ک ے لئ ے ہی رہ نا چا ہ تا ہ و ۔
1298 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی ایسی جگہ ج انے ک ے لئ ے جو آ ٹھ فرسخ دور ہ و سفر شروع کر ے اور کچ ھ راست ہ ط ے کرن ے ک ے بعد کس ی اور جگہ جانا چا ہے اور جس جگ ہ س ے اس ن ے سفر شروع ک یا ہے و ہ اں س ے اس جگ ہ تک ج ہ ان و ہ اب جانا چا ہ تا ہے آ ٹھ فرسخ بنت ے ہ وں تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کر ک ے پڑھے۔
1299 ۔ اگر کوئ ی شخص آٹھ فرس خ تک فاصلہ ط ے کرن ے س ے پ ہ ل ے متردد ہ وجائ ے ک ہ باق ی راستہ ط ے کر ے یا نہیں اور دوران تردد سفر نہ کر ے اور بعد م یں باقی راستہ ط ے کرن ے کا پخت ہ اراد ہ کرل ے تو ضرور ی ہے ک ہ سفر ک ے خاتم ے تک نماز قصر پ ڑھے۔
1300 ۔ اگر کوئ ی شخص آٹھ فرسخ کا فاصل ہ ط ے کرن ے س ے پ ہ ل ے تردد کا شکار ہ و جائ ے ک ہ باق ی راستہ ط ے کر ے یا نہیں۔ اور حالت تردد م یں کچھ فاصل ہ ط ے کرل ے اور بعد م یں پختہ اراد ہ کرل ے ک ہ آ ٹھ فرسخ مز ید سفر کرے گا یا ایسی جگہ جائ ے ک ہ ج ہ اں تک اس کا جانا اور آنا آ ٹھ فرسخ ہو خواہ اس ی دن یا اسی رات وہ اں س ے واپس آئ ے یا نہ آئ ے اور و ہ اں دس دن سے کم ٹھہ رن ے کا اراد ہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ سفر ک ے خاتم ے تک نماز قصر پ ڑھے۔
1301 ۔ اگر کوئ ی شخص آٹھ فرسخ کا فاصل ہ ط ے کرن ے س ے پ ہ ل ے متردد ہ و جائ ے ک ہ باق ی راستہ ط ے کر ے یا نہیں اور حالت تردد میں کچھ فاصل ہ ط ے کرل ے اور بعد م یں پختہ اراد ہ کرل ے ک ہ باق ی راستہ ب ھی طے کر ے گا چنانچ ہ اس کا باق ی سفر آٹھ فرسخ س ے کم ہ و تو پور ی نماز پڑھ نا ضرور ی ہے۔ ل یکن اس صورت میں جبکہ تردد س ے پ ہ ل ی کی طے کرد ہ مسافت اور تردد ک ے بعد ک ی طے کرد ہ مصافت ملا کر آ ٹھ فرسخ ہ و تو اظ ہ ر یہ ہے ک ہ نماز قصر پ ڑھے۔
(چوتھی شرط) مسافر آٹھ فرسخ تک پ ہ نچن ے سے پ ہ ل ے اپن ے وطن س ے گزرن ے اور و ہ اں توقف کرن ے یا کسی جگہ دس دن یا اس سے ز یادہ دن رہ ن ے کا اراد ہ ن ہ رک ھ تا ہ و ۔ پس جو شخص یہ چاہ تا ہ و ک ہ آ ٹھ فرسخ تک پ ہ نچن ے س ے پ ہ ل ے اپن ے وطن س ے گزر ے اور و ہ اں توقف کر ے یا دس دن کسی جگہ پر ر ہے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز پور ی پڑھے۔
1302 ۔ جس شخص کو یہ علم نہ ہ و ک ہ آ ٹھ فرسخ تک پ ہ نچن ے س ے پ ہ ل ے اپن ے وطن س ے گزر ے گا یا توقف کرے گا یا نہیں یا کسی جگہ دس دن ٹھہ رن ے کا قصد کر ے گا یا نہیں تو ضروری ہے ک پور ی پڑھے۔
1303 ۔ و ہ شخص جو آ ٹھ فرسخ تک پ ہ نچن ے س ے پ ہ ل ے اپن ے وطن س ے گزرنا چا ہ تا ہ و تا ک ہ و ہ اں توقف ک رے یا کسی جگہ دس دن ر ہ نا چا ہ تا ہ و اور و ہ شخص ب ھی جو وطن سے گزرن ے یا کسی جگہ دس دن ر ہ ن ے ک ے بار ے م یں مُتَردِّد ہ و اگر و ہ دس دن ک ہیں رہ ن ے یا وطن سے گزرن ے کا اراد ہ ترک ب ھی کر دے تب ب ھی ضروری ہے ک ہ پور ی نماز پڑھے ل یکن اگر باقی ماندہ اور واپس ی کا راستہ ملا کر آ ٹھ فرسخ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے۔
(پانچویں شرط) مسافر حرام کام کے لئ ے سفر ن ہ کر ے اور اگر حرام کام مثلاً چور ی کرنے ک ے لئ ے سفر کر ے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز پور ی پڑھے۔ اور اگر خود سفر ہی حرام ہ و مثلاً اس سفر م یں اس کے لئ ے کوئ ی ایسا ضرر مُضمَر ہ و جس ک ی جانب پیش قدمی شرعاً حرام ہ و یا عورت شوہ ر ک ی اجازت کے بغ یر ایسے سفر پر جائے جو اس پر واجب ن ہ ہ و تو اس ک ے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے۔ ل یکن اگر سفر حج کے سفر ک ی طرح واجب ہ و تو نماز قصر کرک ے پ ڑھ ن ی ضروری ہے۔
1304 ۔ جو سفر واجب ن ہ ہ و اگر ماں باپ ک ی اولاد سے محبت ک ی وجہ س ے ان ک ے لئ ے اذ یت کا باعث ہ و تو حرام ہے اور ضرور ی ہے ک ہ انسان اس سفر م یں پوری نماز پڑھے اور (رمضان کا م ہینہ ہ و تو) روز ہ ب ھی رکھے۔
1305 ۔ جس شخص کا سفر حرام ن ہ ہ و اور و ہ کس ی حرام کام کے لئ ے ب ھی سفر نہ کر ر ہ ا ہ و و ہ اگرچ ہ سفر م یں گناہ ب ھی کرے مثلاً غ یبت کرے یا شراب پئے تب ب ھی ضروری ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے۔
1306 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی واجب کام کو ترک کرنے ک ے لئ ے سفر کر ے تو خوا ہ سفر م یں اس کی کوئی دوسری غرض ہ و یا نہ ہ و اس ے پور ی نماز پڑھ ن ی چاہ ئ ے۔ پس جو شخص مقروض ہ و اور اپنا قرض چکا سکتا ہ و اور قر ض خواہ مطالب ہ ب ھی کرے تو اگر و ہ سفر کرت ے ہ وئ ے اپنا قرض چکا سکتا ہ و اور قرض خواہ مطالب ہ ب ھی کرے تو اگر و ہ سفر کرت ے ہ وئ ے اپنا قرض ادا ن ہ کرسک ے اور قرض چکان ے س ے فرار حاصل کرن ے ک ے لئ ے سفر کر ے تو ضرور ی ہے ک ہ پور ی نماز پڑھے ل یکن اگر اس کا سفر کسی اور کام کے لئ ے ہ و تو اگرچ ہ و ہ سفر م یں ترک واجب کا مرتکب بھی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے۔
1307 ۔ اگر کس ی شخص کا سفر میں سواری کا جانور یا سواری کی کوئی اور چیز جس پر وہ سوار ہ و غصب ی ہ و یا اپنے مالک س ے فرار ہ ون ے ک ے لئ ے سفر کر ر ہ ا ہ و یا وہ غصب ی زمین پر سفر کر رہ ا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ پور ی نماز پڑھے۔
1308 ۔ جو شخص کس ی ظالم کے سات ھ سفر کر ر ہ ا ہ و اگر و ہ مجبور ن ہ ہ و اور اس کا سفر کرنا ظالم ک ی ظلم کرنے م یں مدد کا موجب ہ و تو اس ے پور ی نماز پڑھ ن ی ضروری ہے اور اگر مجبو ہ و یا مثال کے طور پر کس ی مظلوم کو چھڑ ان ے ک ے لئے اس ظالم ک ے سات ھ سفر کر ے تو اس ک ی نماز قصر ہ وگ ی۔
1309 ۔ اگر کوئ ی شخص سیروتفریح (یعنی پکنک) کی غرض سے سفر کر ے تو اس کا سفر حرام ن ہیں ہے اور ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے۔
1310 ۔ اگر کوئ ی شخص موج میلے اور سیرو تفریح کے لئ ے شکار کو جائ ے تو اس ک ی نماز جاتے و قت پوری ہے اور واپس ی پر اگر مسافت کی حد پوری ہ و تو قصر ہے۔ اور اس صورت م یں کہ اس ک ی حد مسافت پوری ہ و اور شکار پر جان ے ک ی مانند نہ ہ و ل ہ ذا اگر حصول معاش ک ے لئ ے شکار کو جائ ے ت و اس کی نماز قصر ہے اور اگر کمائ ی اور افزائش دولت کے لئ ے جائ ے تو اس ک ے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے اگرچ ہ اس صورت م یں احتیاط یہ ہے ک ہ نماز قصر کرک ے ب ھی پڑھے اور پور ی بھی پڑھے۔
1311 ۔ اگر کوئ ی شخص گناہ کا کام کرن ے ک ے لئ ے سفر کر ے اور سفر س ے واپس ی کے وقت فقط اس ک ی واپسی کا سفر آٹھ فرسخ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے اور اح یتاط مستحب یہ ہے ک ہ اگ ر اس نے توب ہ ن ہ ک ی ہ و تو نماز قصر کرک ے ب ھی پڑھے اور پور ی بھی پڑھے۔
1312 ۔ جس شخص کا سفر گنا ہ کا سفر ہ و اگر و ہ سفر ک ے دوران گنا ہ کا اراد ہ ترک کرد ے خوا ہ باق ی ماندہ مسافت یا کسی جگہ جانا اور واپس آنا آ ٹھ فرسخ ہ و یا نہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے۔
1313 ۔ جش شخص ن ے گنا ہ کرن ے ک ی غرض سے سفر ن ہ ک یا ہ و اگر و ہ راست ے م یں طے کر ے ک ہ بق یہ راستہ گنا ہ ک ے لئ ے ط ے کر ے گا تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ نماز پور ی پڑھے البت ہ اس ن ے جو نماز یں قصر کرکے پ ڑھی ہ وں و ہ صح یح ہیں۔
(چھٹی شرط) ان لوگوں میں سے ن ہ ہ و جن ک ے ق یام کی کوئی (مستقل) جگہ ن ہیں ہ وت ی اور ان کے گ ھ ر ان ک ے سات ھ ہ وت ے ہیں۔ یعنی ان صحرانشینوں (خانہ بدوشوں) ک ی مانند جو بیابانوں میں گھ ومت ے ر ہ ت ے ہیں اور جہ اں ک ہیں اپنے لئ ے اور اپن ے مو یشیوں کے لئ ے دان ہ پان ی دیکھ ت ے ہیں وہیں ڈیر اڈ ال د یتے ہیں اور پھ ر کچ ھ دنوں ک ے بعد دوسر ی جگہ چلے جات ے ہیں۔ پس ضرور ی ہے ک ہ ا یسے لوگ سفر میں پوری نماز پڑھیں۔
1314 ۔ اگر کوئ ی صحرا نشین مثلاً جائے ق یام اور اپنے ح یوانات کے لئ ے چراگا ہ تلاش کرن ے ک ے لئ ے سفر کر ے اور مال و اسباب اس ک ے ہ مرا ہ ہ و تو و ہ پور ی نماز پڑھے ورن ہ اگر اس کاسفرآ ٹھ فرسخ ہ و تو نماز قصر ک رکے پ ڑھے۔
1315 ۔ اگر کوئ ی صحرا نشین مثلاً حج، زیارت، تجارت یا ان سے ملت ے جلت ے کس ی مقصد سے سفر کر ے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے۔
(ساتویں شرط) اس شخص کا پیشہ سفر نہ ہ و ۔ پس جس شخص کا پ یشہ سفر ہ و یعنی یا تو اس کا کام ہی فقط سفر کرنا ہ و اس حد تک ک ہ لوگ اس ے کث یر السفر کہیں یا جو پیشہ اس نے اپن ے لئ ے اخت یار کیا ہ و اس کا انحصار سفر کرن ے پر ہ و مثلاً ساربان، ڈ رائ یور، گلہ بان اور ملاح ۔ اس قسم کے افراد اگرچہ اپن ے ذات ی مقصد مثلاً گھ ر کا سامان ل ے جان ے یا اپنے گ ھ ر والوں کو منتقل کرن ے ک ے لئ ے سفر کر یں تو ضروری ہے ک ہ نماز پور ی پڑھیں۔ اور جس شخص کا پ یشہ سفر ہ و اس مسئل ے م یں اس شخص کے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے جو کس ی دوسری جگہ پر کام کرتا ہ و ( یا اس کی پوسٹ نگ دو سری جگہ پر ہ و) اور و ہ ہ ر روز یا دو دن میں ایک مرتبہ و ہ اں تک کا سفر کرتا ہ و اور لو ٹ آتا ہ و ۔ مثلاً و ہ شخص جس ک ی رہ ائش ا یک جگہ ہ و اور کام مثلاً تجارت، معلم ی وغیرہ دوسری جگہ ہ و ۔
1316 ۔ جس شخص ک ے پ یشے کا تعلق سفر سے ہ و اگر و ہ کس ی دوسرے مقصد مثلاً حج یا زیارت کے لئ ے سفر کر ے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے لیکن اگر عرف عام میں کثیرالسفر کہ لاتا ہ و تو قصر ن ہ کر ے ل یکن اگر مثال کے طور پر ڈ رائ یور اپنی گاڑی زیارت کے لئ ے کرائ ے پر چلائ ے اور ضمناً خود بھی زیارت کرے تو ہ ر حال م یں ضروری ہے ک ہ پور ی نماز پڑھے۔
1317 ۔ و ہ بار بردار جو حاج یوں کو مکہ پ ہ نچان ے ک ے لئ ے سفر کرتا ہ و اگر اس کا پیشہ سفر کرنا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ پور ی نماز پڑھے اور اگر اس کا پ یشہ سفر کرنا نہ ہ و اور صرف حج ک ے دنوں م یں بار برداری کے لئ ے سفر کرتا ہ و تو اس ک ے لئ ے احت یاط واجب یہ ہے ک ہ نماز پور ی بھی پڑھے اور قصر کرکے ب ھی پڑھے ل یکن اگر سفر کی مدت کم ہ و مثلاً دو ت ین ہ فت ے تو بع ید نہیں ہے ک ہ اس ک ے لئ ے نماز قصر کرک ے پ ڑھ ن ے کا حکم ہ و ۔
1318 ۔ جس شخص کا پ یشہ بار برداری ہ و اور و ہ دور دراز مقامات س ے حاج یوں کو مکہ ل ے جاتا ہ و اگر و ہ سال کا کاف ی حصہ سفر م یں رہ تا ہ و تو اس ے پور ی نماز پڑھ ن ی ضروری ہے ۔
1319 ۔ جس شخص کا پ یشہ سال کے ک چھ حص ے م یں سفر کرنا ہ و مثلاً ا یک ڈ رائ یور جو صرف گرمیوں یا سردیوں کے دنوں م یں اپنی گاڑی کرائے پر چلاتا ہ و ضرور ی ہے ک ہ اس سفر م یں نماز پوری پڑھے اور احت یاط مستحب یہ ہے کو قصر کرک ے ب ھی پڑھے اور پور ی بھی پڑھے۔
1320 ۔ ڈ رائ یور اور پھیری والا جو شہ ر ک ے آس پاس دو تین فرسخ میں آتا جاتا ہ و اگر و ہ اتفاقاً آ ٹھ فرسخ ک ے سفر پر چلا جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے۔
1321 ۔ جش کا پ یشہ ہی مسافرت ہے اگر دس دن یا اس سے ز یادہ عرصہ اپن ے وطن م یں رہ جائ ے تو خوا ہ ابتدا س ے دس دن ر ہ ن ے کا ارادا ہ رک ھ تا ہ و یا بغیر ارادے ک ے اتن ے دن ر ہے تو ضرور ی ہے ک ہ دس دن ک ے بعد جب پ ہ ل ے سفر پر جائ ے تو نماز پور ی پڑھے اور اگر اپن ے وطن ک ے علاو ہ کس ی دوسری جگہ ر ہ ن ے کا قصد کرک ے یا بغیر قصد کے دس دن و ہ اں مق یم رہے تو اس ک ے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے۔
1322 ۔ چار 1 وادار جس کا پیشہ سفر کرنا ہ و اگر و ہ اپنے وطن یا وطن کے علاو ہ کس ی اور جگہ قصد کرک ے یا بغیر قصد کے دس دن ر ہے تو احت یاط مستحب ہے ک ہ دس دن ک ے بعد جب و ہ پ ہ لا سفر کر ے تو نماز یں مکمل اور قصر دونوں پڑھے۔
1323 ۔ چار وادار اور ساربان ک ی طرح جن کا پیشہ سفر کرنا ہے اگر معمول س ے ز یادہ سفر ان کی مشقت اور تھ کاو ٹ کا سبب ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر پ ڑھیں۔
1324 ۔ س یلانی کہ جو ش ہ ر ب ہ ش ہ ر س یاحت کرتا ہ و اور جس ن ے اپن ے لئ ے کوئ ی وطن معین نہ ک یا ہ و و ہ پور ی نماز پڑھے۔
1325 ۔ جس شخص کا پ یشہ سفر کرنا نہ ہ و اگر مثلاً کس ی شہ ر یا گاوں میں اس کا کوئی سامان ہ و اور و ہ اس ے ل ینے کے لئ ے سفر پر سفر کر ے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے۔ مگر یہ کہ اس کا سفر اس قدر ز یادہ ہ و ک ہ اس ے عرفاً کث یرالسفر کہ ا جائ ے۔
1326 ۔ جو شخص ترک وطن کرک ے دوسرا وطن اپنانا چا ہ تا ہ و اگر اس کا پ یشہ سفر نہ ہ و تو سفر ک ی حالت میں اسے نماز قصر کرک ے پ ڑھ ن ی ضروری ہے۔
(آٹھ و یں شرط) مسافر حدِّ تَرخّص تک پہ نچ جائ ے ل یکن وطن کے علاو ہ حَدِّخُّض معتبر ن ہیں ہے اور جون ہی کوئی شخص اپنی اقامت گاہ س ے نکل ے اس ک ی نماز قصر ہے۔
1327 ۔ حدترخض و ہ جگ ہ ہے ج ہ اں س ے ا ہ ل ش ہ ر مسافر کو ن ہ د یکھ سکیں اور اس کی علامت یہ ہے ک ہ و ہ ا ہ ل ش ہ ر کو ن ہ د یکھ سکے۔
1328 ۔ جو مسافر اپن ے وطن واپس آر ہ ا ہ و جب تک و ہ اپن ے وطن واپس ن ہ پ ہ نچ ے قصر نماز پ ڑھ نا ضرور ی ہے۔ اور ا یسے ہی جو مسافر وطن کی علاوہ کس ی اور جگہ دس دن ٹھہ رنا چا ہ تا ہ و و ہ جب تک اس جگ ہ ن ہ پ ہ نچ ے اس ک ی نماز قصر ہے۔
1329 ۔ اگر ش ہ ر اتن ی بلندی پر واقع ہ و ک ہ و ہ اں ک ے باشند ے دور س ے دک ھ ائ ی دیں یا اس قدر نشیب میں واقع ہ و ک ہ اگر انسان ت ھ و ڑ ا سا دور ب ھی جائے تو و ہ اں ک ے باشندوں کو ن ہ د یکھ سکے تو اس ش ہ ر ک ے ر ہ ن ے والوں م یں سے جو شخص سفر م یں ہ و جب و ہ اتنا دور چلا جائ ے ک ہ اگر و ہ ش ہ ر ہموار زمین پر ہ وتا تو و ہ ا ں کے باسند ے اس جگ ہ س ے د یکھے نہ جاسکت ے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے اور اس ی طرح اگر راستے ک ی بلندی یا پستی معمول سے ز یادہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ معمول کا لحاظ رک ھے۔
1330 ۔ اگر کوئ ی شخص ایسی جگہ س ے سفر کر ے ج ہ اں کوئ ی رہ تا ن ہ ہ و تو جب و ہ ا یسی جگہ پ ہ نچ ے ک ہ اگر ک وئی اس مقام (یعنی سفر شروع کرنے ک ے مقام) پر ر ہ تا ہ وتا تو و ہ اں س ے نظر ن ہ آتا تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے۔
1331 ۔ کوئ ی شخص کشتی یا ریل میں بیٹھے اور حد ترخص تک پہ نچن ے س ے پ ہ ل ے پور ی نماز کی نیت سے نماز پ ڑھ ن ے لگ ے تو اگر ت یسی رکعت کے رکوع س ے پ ہ ل ے حد ترخص تک پ ہ نچ جائ ے تو قصر نماز پ ڑھ نا ضرور ی ہے۔
1332 ۔ جو صورت پچ ھ ل ے مسئل ے م یں گزر چکی ہے اس ک ے مطابق اگر ت یسری رکعت کے رکوع ک ے بعد حد ترخص تک پ ہ نچ ے تو اس نماز کو تو ڑ سکتا ہے اور ضرور ی ہے ک ہ اس ے قصر کرک ے پ ڑھے۔
1333 ۔ اگر کس ی شخص کو یہ یقین ہ و جائ ے ک ہ و ہ حدترخص تک پ ہ نچ چکا ہے اورنماز قصر کرک ے پ ڑھے اور اس ک ے بعد معلوم ہ و ک ہ نماز ک ے وقت حدترخص تک ن ہیں پہ نچا ت ھ ا تو نماز دوبار ہ پ ڑھ نا ضرور ی ہے ۔ چنانچ ہ جب تک حدترخص تک ن ہ پ ہ نچا ہ و تو نماز ی پوری پڑھ نا ضرور ی ہے۔ اور اس صو رت میں جب کہ حدترخص س ے گز رچکا ہ و نماز قصر کرک ے پ ڑھے۔ اور اگر وقت نکل چکا ہ و تو نماز کو اس ک ے فوت ہ وت ے وقت جو حکم ت ھ ا اس ک ے مطابق ادا کر ے۔
1334 ۔ اگر مسافر ک ی قوت باصرہ غ یر معمولی ہ و تو اس ے اس مقام پر پ ہ نچ کر نماز قصر کرک ے پ ڑھ ن ی ضروری ہے ج ہ اں س ے متوسط قوت ک ی آنکھ ا ہ ل ش ہ ر کو ن ہ د یکھ سکے۔
1335 ۔ اگر مسافر کو سفر ک ے دوران کس ی مقام پر شک ہ و ک ہ حدِّ ترخّص پر پ ہ نچا ہے یا نہیں تو ضروری ہے ک ہ پور ی نماز پڑھے۔
1336 ۔ جو مسافر سفر ک ے دوران اپن ے وطن س ے گزر ر ہ ا ہ و اگر و ہ اں توقف کر ے تو ضرور ی ہے ک ہ پور ی نماز پڑھے اور اگر توقف ن ہ کر ے تو احت یاط لازم یہ ہے ک ہ قصر اور پور ی نماز دونوں پڑھے۔
1337 ۔ جو مسافر اپن ی مسافرت کے دوران اپن ے وطن پ ہ نچ جائ ے اور و ہ اں کچ ھ د یر ٹھہ ر ے تو ضرور ی ہے ک ہ جب تک و ہ اں ر ہے پور ی نماز پڑھے ل یکن اگر وہ چا ہے ک ہ و ہ اں س ے آ ٹھ فرسخ ک ے فاصل ے پر چلا جائ ے یا مثلاً چار فرسخ جائے اور پ ھ ر چار فرسخ ط ے کرک ے لو ٹے تو جس وقت و ہ حدِّ ترخ ّص پر پہ نچ ے ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کر ک ے پ ڑھے۔
1338 ۔ جس جگ ہ کو انسان ن ے اپن ی مستقل سکونت اور بود و باش کے لئ ے منتخب ک یا ہ و و ہ اس کا وطن ہے خوا ہ و ہ و ہ اں پ یدا ہ وا ہ و اور و ہ اس کا آبائ ی وطن ہ و یا اس نے خود اس جگ ہ کو زندگ ی بسر کرنے ک ے لئ ے اخت یار کیا ہ و ۔
1339 ۔ اگر کوئ ی شخص اراداہ رک ھ تا ہ و ک ہ ت ھ و ڑی سی مدت ایک ایسی جگہ ر ہے جو اس کا وطن ن ہیں ہے اور بعد م یں کسی اور جگہ چلا جائ ے تو و ہ اس کا وطن تصور ن ہیں ہ وتا ۔
1340 ۔ اگر انسان کس ی جگہ کو زندگ ی گزارنے ک ے لئ ے اخت یار کرے اگرچ ہ و ہ ہ م یشہ رہ ن ے کا قصد ن ہ رک ھ تا ہ و تا ہ م ا یسا ہ و ک ہ عرف عام م یں اسے و ہ اں مسافر ن ہ ک ہیں اور اگرچہ وقت ی طور پر دس دن یا دس دن سے ز یادہ دوسری جگہ ر ہے اس ک ے باوجود پ ہ ل ی جگہ ہی کو اس زندگی گزارنے ک ی جگہ کہیں گے اور و ہی جگہ اس ک ے وطن کا حکم رک ھ ت ی ہے۔
1341 ۔ جو شخص دو مقامات پر زندگ ی گزارتا ہ و مثلاً چ ھ م ہینے ایک شہ ر م یں اور چھ م ہینے دوسرے ش ہ ر م یں رہ تا ہ و تو دونوں مقامات اس کا وطن ہیں۔ ن یز اگر اس نے دو مقامات س ے ز یادہ مقامات کو زندگی بسر کرنے ک ے لئ ے اخت یار کر رکھ ا ہ و تو و ہ سب اس کا وطن شمار ہ وت ے ہیں۔
1342 ۔ بعض فق ہ اء ن ے ک ہ ا ہے ک ہ جو شخص کس ی ایک جگہ سکونت ی مکان کا مالک ہ و اگر و ہ مسلسل چ ھ م ہینے وہ اں ر ہے تو جس وقت تک مکان اس ک ی ملکیت میں ہے یہ جگہ اس ک ے وطن کا حکم رک ھ ت ی ہے۔ پس جب ب ھی وہ سفر ک ے دوران و ہ اں پ ہ نچ ے ضرور ی ہے ک ہ پور ی نماز پڑھے اگرچ ہ یہ حکم ثابت نہیں ہے۔
1343 ۔ اگر ا یک شخص کسی ایسے مقام پر پہ نچ ے جو کس ی زمانے م یں اس کا وطن رہ ا ہ و اور بعد م یں اس نے اس ے ترک کر د یا ہ و تو خوا ہ اس ن ے کوئ ی نیا وطن اپنے لئ ے منتخب ن ہ ب ھی کیا ہ و ضرور ی ہے ک ہ و ہ اں پور ی نماز پڑھے۔
1344 ۔ اگر کس ی مسافر کا کسی جگہ پر مسلسل دس دن ر ہ ن ے کا اراد ہ ہ و یا وہ جانتا ہ و ک ہ ب ہ امر مجبور ی دس دن تک ایک جگہ ر ہ نا پ ڑے گا تو و ہ اں اس ے پور ی نماز پڑھ ن ی ضروری ہے۔
1345 ۔ اگر کوئ ی مسافر کسی جگہ دس دن ر ہ نا چا ہ تا ہ و تو ضرور ی نہیں کہ اس کا اراد ہ پ ہ ل ی رات یا گیارہ و یں رات وہ اں رہ ن ے کا ہ و جون ہی وہ اراد ہ کر ے ک ہ پ ہ ل ے دن ک ے طلوع آفتاب س ے دسو یں دن کے غروب آفتاب تک و ہ اں ر ہے گا ضرور ی ہے ک ہ پور ی نماز پڑھے اور مثال ک ے طور پر اس کا اراد ہ پ ہ ل ے دن ک ی ظہ ر س ے گ یارہ و یں دن کی ظہ ر تک و ہ اں ر ہ ن ے کا ہ و تو اس ک ے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے۔
1346 ۔ جو مسافر کسی جگہ دس دن ر ہ نا چا ہ تا ہ و اس ے اس صورت م یں پوری نماز پڑھ ن ی ضروری ہے جب و ہ سار ے ک ے سار ے دن ا یک جگہ ر ہ نا چا ہ تا ہ و ۔ پس اگر و ہ مثال ک ے طور پر چا ہے ک ہ دس دن نَجَف اور کوف ہ یا تہ ران اور شم یران (یا کراچی اور گھ ارو) م یں رہے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرکے پڑھے۔
1347 ۔ جو مسافر کس ی جگہ دس دن ر ہ نا چا ہ تا ہ و اگر شروع س ے ہی قصد رکھ تا ہ و ک ہ ان دس دنوں ک ے درم یان اس جگہ ک ے آس پاس ا یسے مقامات پر جائے گا جو حدِّ تَرخّص تک یا اس سے ز یادہ دور ہ وں تو اگر اس ک ے جان ے اور آن ے ک ی مدت عرف میں دس دن قیام کے مناف ی نہ ہ و تو پور ی نماز پڑھے اور اگر مناف ی ہ و تو نماز قصر کرک ے پ ڑھے۔ مثلاً اگر ابتداء ہی سے اراد ہ ہ و ک ہ ا یک دن یا ایک رات کے لئ ے و ہ اں س ے نکل ے گا تو یہ ٹھہ رن ے ک ے قصر ک ے مناف ی ہے اور ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے ل یکن اگر اس کا قصد یہ ہ و ک ہ مثلاً آد ھے دن بعد نکل ے گا اور پ ھ ر فور اً لوٹے گا اگرچ ہ اس ک ی واپسی رات ہ ون ے ک ے بعد ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز پ ڑھے۔ مگر اس صورت م یں کہ اسک ے بار بار نکلن ے ک ی وجہ س ے عرفاً یہ کہ ا جائ ے ک ہ دو یا اس زیادہ جگہ ق یام پذیر ہے (تو نماز قصر پ ڑھے )
1348 ۔ اگر کس ی مسافر کا کسی جگہ دس دن ر ہ ن ے کا مُصَمّمَ اراد ہ ن ہ ہ و مثلا اس کا اراد ہ یہ ہ و ک ہ اگر اس کا سات ھی آگیا یا رہ ن ے کو اچ ھ ا مکان مل گ یا تو دس دن وہ اں ر ہے گا تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے۔
1349 ۔ جب کوئ ی شخص کسی جگہ دس دن ر ہ ن ے کا مصَمَّم اراد ہ ن ہ ہ و مثلاً اس کا اراد ہ یہ ہ و کہ اگر اس ک ہ اس ک ے و ہ اں ر ہ ن ے م یں کوئی روکاوٹ پ یدا ہ وگ ی اور اس کا یہ احتمال عقلاء کے نزد یک معقول ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے۔
1350 ۔ اگر مسافر کو علم ہ و ک ہ م ہینہ ختم ہ ون ے م یں مثلاً دس یا دس سے ز یادہ دن باقی ہیں اور کسی جگہ م ہینے کے آخر تک ر ہ ن ے کا ارادہ کر ے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز پور ی پڑھے ل یکن اگر اسے علم ن ہ ہ و ک ہ م ہینہ ختم ہ ون ے م یں کتنے دن باق ی ہیں اور مہینے کے آخر تک و ہ اں ر ہ ن ے کا اراد ہ کر ے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے اگرچ ہ جس وقت اس ن ے اراد ہ ک یا تھ ا اس وقت س ے م ہینہ کے آخر ی دن تک دس یا اس سے ز یادہ دن بنتے ہ وں ۔
1351 ۔ اگر مسافر کس ی جگہ دس دن ر ہ ن ے کا اراد ہ کر ے اور ا یک چار رکعتی نماز پڑھ ن ے س ے پ ہ ل ے و ہ اں ر ہ ن ے کا اراد ہ ترک کرد ے یا مُذَبذِب ہ و ک ہ و ہ اں ر ہے یا کہیں اور چلا جائے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز قصر کرک ے پ ڑھے ل یکن اگر ایک چار رکعتی نماز پڑھ ن ے ک ے بعد و ہ اں ر ہ ن ے کا اراد ہ ت رک کر دے یا مُذَبذِب ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ جس وقت تک و ہ اں ر ہے نماز پور ی پڑھے۔
1352 ۔ اگر کوئ ی مسافر جس نے ا یک جگہ دس دن ر ہ ن ے کا اراد ہ ک یا ہ و روز ہ رک ھ ل ے اور ظ ہ ر ک ے بعد و ہ اں ر ہ ن ے کا اراد ہ ترک کرد ے جب ک ہ اس ن ے ا یک چار رکعتی نماز پڑھ لی ہ و تو جب تک و ہ و ہ اں ر ہے اس ک ے روز ے درست ہیں اور ضروری ہے ک ہ اپن ی نمازیں پوری پڑھے اور اگر اس ن ے چار ر کعتی نماز نہ پ ڑھی ہ و تو احت یاطاً اس دن کا روزہ پورا کرنا ن یز اس کی قضا رکھ نا ضرور ی ہے۔ اور ضرور ی ہے ک ہ اپن ی نماز نمازیں قصر کرکے پ ڑھے اور بعد ک ے دنوں م یں وہ روز ہ ب ھی نہیں رکھ سکتا ۔
1353 ۔ اگر کوئ ی مسافر جس نے ا یک جگہ دس دن ر ہ ن ے کا اراد ہ ک یا ہ و و ہ اں ر ہ ن ے کا اراد ہ ترک کر د ے اور شک کر ے ک ہ و ہ اں ر ہ ن ے کا اراد ہ ترک کرن ے س ے پ ہ ل ے ا یک چار رکعتی نماز پڑھی تھی یا نہیں تو ضروری ہے ک ہ اپن ی نمازیں قصر کرکے پ ڑھے۔
1354 ۔ ا گر کوئی مسافر نماز کو قصر کرکے پ ڑھ ن ے ک ی نیت سے نماز م یں مشغول ہ و جائ ے اور نماز ک ے دوران مُصَمَّم اراد ہ کرل ے ک ہ دس یا اس سے ز یادہ دن وہ اں ر ہے گا تو ضرور ی ہے ک ہ نماز کو چار رکعت ی پڑھ کر ختم کر ے۔
1355 ۔ اگر کوئ ی مسافر جس نے ا یک جگہ دس دن ر ہ ن ے کا اراد ہ ک یا ہ و پ ہ ل ی چار رکعتی نماز کے دوران اپن ے اراد ے س ے باز آجائ ے اور اب ھی تیسری رکعت میں مشغول نہ ہ وا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ دو رکعت ی پڑھ کر ختم کر ے اور اپن ی باقی نمازیں قصر کرکے پ ڑھے اور اس ی طرح اگر تیسری رکعت میں مشغول ہ و گ یا ہ و اور رکوع م یں نہ گ یا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ب یٹھ جائے اور نماز کو بصورت قصر ختم کر ے اور اگر رکوع م یں چلا گیا ہ و تو اپن ی نماز توڑ سکتا ہے اور ضرور ی ہے ک ہ اس نماز کو دوبار ہ قصر کرک ے پ ڑھے اور جب تک و ہ اں ر ہے نماز قصر کرک ے پ ڑھے۔
1356 ۔ جس مسافر ن ے دس دن کس ی جگہ ر ہ ن ے کا اراد ہ ک یا ہ و اگر و ہ و ہ اں دس س ے ز یادہ دن رہے تو جب تک و ہ اں س ے سفر ن ہ کر ے ضرور ی ہے ک ہ نماز پور ی پڑھے اور یہ ضروری نہیں کہ دوبار ہ دس دن ر ہ ن ے کا اراد ہ کر ے۔
1357 ۔ جس مسافر ن ے کس ی جگہ دس دن ر ہ ن ے کا اراد ہ ک یا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ واجب روز ے رک ھے اور مستحب روز ہ ب ھی رکھ سکتا ہے اور ظ ہ ر، عصر اور عشا ک ی نفلیں بھی پڑھ سکتا ہے۔
1358 ۔ اگر کوئ ی مسافر جس نے کس ی جگہ دن ر ہ ن ے کا اراد ہ ک یا ہ و ا یک چار رکعتی نماز پڑھ ن ے ک ے بعد یا وہ اں دس دن ر ہ ن ے ک ے بعد اگرچ ہ اس ن ے ا یک بھی پوری نماز نہ پ ڑھی ہ و یہ چاہے ک ہ ا یک ایسی جگہ جائ ے جو چار فرسخ س ے کم فاصل ے پر ہ و اور پ ھ ر لو ٹ آئ ے اور اپن ی پہ ل ی جگہ پر د س دن یا اس سے کم مدت ک ے لئ ے جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ جان ے ک ے وقت س ے واپس ی تک اور واپسی کے بعد اپن ی نمازیں پوری پڑھے۔ ل یکن اگر اس کا اپنی اقامت کے مقام پر واپس آنا فقط اس وج ہ س ے ہ و ک ہ و ہ اس ک ے سفر ک ے راست ے م یں واقع ہ و اور اس کا سفر شرع ی مسافت (یعنی آٹھ فرسخ) ک ا ہ و تو اس ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ جان ے اور آن ے ک ے دوران اور ٹھہ رن ے ک ی جگہ م یں نماز قصر کر کے پ ڑھے۔
1359 ۔ اگر کوئ ی مسافر جس نے کس ی جگہ دس دن ر ہ ن ے کا اراد ہ ک یا ہ و ا یک چار رکعتی نماز پڑھ ن ے ک ے بعد چا ہے ک ہ کس ی اور جگہ چلا جائ ے جس کا فاصل ہ آ ٹھ فرسخ س ے کم ہ و اور دس دن و ہ اں ر ہے تو ضرور ی ہے ک ہ روانگ ی کے وقت اور اس جگ ہ ج ہ اں پر و ہ دس دن ر ہ ن ے کا اراد ہ رک ھ تا ہ و اپن ی نمازیں پوری پڑھے ل یکن اگر وہ جگ ہ ج ہ اں و ہ جانا چا ہ تا ہ و آ ٹھ فرسخ یا اس سے ز یادہ دور ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ روانگ ی کے وقت اپن ی نمازیں قصر کرکے پ ڑھے اور اگر و ہ و ہ اں دس دن ن ہ ر ہ نا چا ہ تا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ جتن ے دن و ہ اں ر ہے ان دنوں ک ی نمازیں بھی قصرکرکے پ ڑھے۔
1360 ۔ اگر کوئ ی مسافر جس نے کس ی جگہ دس دن ر ہ ن ے کا اراد ہ ک یا ہ و ا یک چار رکعتی نماز پڑھ ن ے ک ے بعد کس ی ایسی جگہ جانا چا ہے جس کا فاصل ہ چار فرسخ س ے کم ہ و اور مُذَبذِب ہ و ک ہ اپن ی پہ ل ی جگہ پر واپس آئ ے یا نہیں یا اس جگہ واپس آن ے س ے بالکل غافل ہ و یا یہ چاہے ک ہ واپس ہ وجائ ے ل یکن مُذَبذِب ہ و ک ہ دس دن اس جگ ہ ٹھہ ر ے یا نہیں یا وہ اں دس دن ر ہ ن ے ا ور وہ اں س ے سفر کرن ے س ے غافل ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ جان ے ک ے وقت س ے واپس ی تک اور واپسی کے بعد اپن ی نمازیں پوری پڑھے۔
1361 ۔ اگر کوئ ی مسافر اس خیال سے ک ہ اس ک ے سات ھی کسی جگہ دس دن ر ہ نا چا ہ ت ے ہیں اس جگہ دس دن ر ہ ن ے کا اراد ہ کر ے اور ا یک چار رکعتی نماز پڑھ ن ے ک ے بعد اس ے پت ہ چل ے ک ہ اس ک ے سات ھیوں نے ا یسا کوئی ارادہ ن ہیں کیا تھ ا تو اگرچ ہ و ہ خود ب ھی وہ اں ر ہ ن ے کا خ یال ترک کر دے ضرور ی ہے ک ہ جب تک و ہ اں ر ہے نماز پور ی پڑھے۔
1362 ۔ اگر کوئ ی مسافر اتفاقاً کسی جگہ ت یس دن رہ جائ ے مثلاً ت یس کے ت یس دنوں میں وہ اں س ے چلے جان ے یا وہ اں ر ہ ن ے ک ے بار ے م یں مُذَبزِب رہ ا ہ و تو ت یس دن گزرنے ک ے بعد اگرچ ہ و ہ ت ھ و ڑی مدت ہی وہ اں ر ہے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز پور ی پڑھے۔
1363 ۔ جو مسافر نو دن یا اس سے کم مدت ک ے لئ ے ا یک جگہ ر ہ نا چا ہ تا ہ و اگر و ہ اس جگ ہ نو دن یا اس سے کم مدت گزران ے ک ے بعد نو د ن یا اس سے کم مدت ک ے لئ ے دوبار ہ و ہ اں ر ہ ن ے کا اراد ہ کر ے اور اس ی طرح تیس دن گزر جائیں تو ضروری ہے ک ہ اکت یسویں دن پوری نماز پڑھے۔
1364 ۔ ت یس دن گزرنے ک ے بعد مسافر کو اس صورت م یں نماز پوری پڑھ ن ی ضروری ہے جب و ہ ت یس دن ایک ہی جگہ ر ہ ا ہ و پس اگر اس ن ے اس مدت کا کچ ھ حص ہ ا یک جگہ اور کچ ھ حص ہ دوسر ی جگہ گزارا ہ و تو ت یس دن کے بعد ب ھی اسے نماز قصر کرک ے پ ڑھ ن ی ضروری ہے۔
1365 ۔ مسافر مسجد الحرام، مسجد نبو ی اور مسجد کوفہ م یں بلکہ مک ہ مکرم ہ ، مد ینہ منورہ اور کوف ہ ک ے پور ے ش ہ روں م یں اپنی نماز پوری پڑھ سکتا ہے ن یز حضرت سَیِّدُالشہ داء علیہ السلام کے حَرم م یں بھی قبر مُطَہ ر س ے 14 گز کے فاصل ے تک مسافر اپن ی نماز پوری پڑھ سکتا ہے۔
1366 ۔ اگر کوئ ی ایسا شخص جسے معلوم ہ و ک ہ و ہ مسافر ہے اور اس ے نماز قصر کرک ے پ ڑھ ن ی ضروری ہے ان چار جگ ہ وں کے علاو ہ جن کا ذکر سابق ہ مسئل ہ م یں کیا گیا ہے کس ی اور جگہ جان بوج ھ کر پور ی نماز پڑھے تو اس ک ی نماز باطل ہے اور اگر ب ھ ول جائ ے ک ہ مسافر کو نماز قصر کرک ے پ ڑھنی چاہ ئ ے اور پور ی نماز پڑھ ل ے تو اس ک ے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے ل یکن بھ ول جان ے ک ی صورت میں اگر اسے نماز ک ے وقت ک ے بعد یہ بات یاد آئے تو اس نماز کا قضا کرنا ضرور ی نہیں۔
1367 ۔ جو شخص جانتا ہ و ک ہ و ہ مسافر ہے اور اس ے نماز قصر کرک ے پ ڑھ ن ی ضروری ہے اگر و ہ ب ھ ول کر پور ی نماز پڑھ ل ے اور بروقت متوج ہ ہ و جائ ے تو نماز دوبار ہ پ ڑھ نا ضرور ی ہے اور اگر وقت گزرن ے کے بعد متوج ہ ہ و تو احت یاط کی بنا پر قضا کرنا ضروری ہے۔
1368 ۔ جو مسافر یہ نہ جانتا ہ و ک ہ اس ے نماز قصر کرک ے پ ڑھ ن ی ضروری ہے اگر و ہ پور ی نماز پڑھے تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔
1369 ۔ جو مسافر جانتا ہ و ک ہ اس ے نماز قصر کرک ے پ ڑھ ن ی چاہ ئ ے اگر و ہ قصر نماز ک ے بعض خصوص یات سے ناواقف ہ و مثلاً یہ نہ جانتا ہ و ک ہ آ ٹھ فرسخ ک ے سفر م یں نماز قصر کرکے پ ڑھ ن ی ضروری ہے تو اگر و ہ پور ی نماز پڑھ ل ے اور نماز ک ے وقت م یں اس مسئلے کا پت ہ چل جائ ے تو احت یاط لازم کی بنا پر ضروری ہے ک ہ دوبار ہ نماز پ ڑھے اور اگر دوبار ہ ن ہ پ ڑھے تو اس ک ی قضا کرے ل یکن اگر نماز کا وقت گزرنے ک ے بعد اس ے (حکم مسئل ہ ) معلوم ہ و تو اس نماز ک ی قضا نہیں ہے۔
1370 ۔ اگر ا یک مسافر جانتا ہ و ک ہ اس ے نماز قصر کرک ے پ ڑھ ن ی چاہ ئ ے اور و ہ اس گمان م یں پوری نماز پڑھ ل ے ک ہ اس کا سفر آ ٹھ فرسخ س ے کم ہے تو جب اس ے پت ہ چل ے ک ہ اس کا سفر آ ٹھ فرسخ کا ت ھ ا تو ضرور ی ہے ک ہ جو نماز پور ی پڑھی ہ و اس ے دوبار ہ قصر کرک ے پ ڑھے اور اگر اس ے اس با ت کا پتہ نماز کا وقت گزر جان ے ک ے بعد چل ے تو قضا ضرور ی نہیں۔
1371 ۔ اگر کوئ ی شخص بھ ول ج ائے ک ہ و ہ مسافر ہے اور پور ی نماز پڑھ ل ے اور اس ے نماز ک ے وقت ک ے اندر ہی یاد آجائے تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ قصر کرک ے پ ڑھے اور اگر نماز ک ے وقت ک ے بعد یاد آئے تو اس نماز ک ی قضا اس پر واجب نہیں۔
1372 ۔ جس شخس کو پور ی نماز پڑھ ن ی ضروری ہے اگر و ہ اس ے قصر کرک ے پ ڑھے تو اس ک ی نماز ہ ر صورت م یں باطل ہے اگرچ ہ احت یاط کی بنا پر ایسا مسافر ہ و جو کس ی جگہ دس دن ر ہ ن ے کا اراد ہ رک ھ تا ہ و اور مسئل ے کا حکم ن ہ جانن ے ک ی وجہ س ے نماز قصر کرک ے پ ڑھی ہ و ۔
1373 ۔ اگر ا یک شخص چار رکعتی نماز پڑھ ر ہ ا ہ و اور نماز ک ے دوران اس ے یاد آئے ک ہ و ہ تو مسافر ہے یا اس امر کی طرف متوجہ ہ و ک ہ اس کا سفر آ ٹھ فرسخ ہے اور و ہ اب ھی تیسری رکعت کے رکوع م یں نہ گ یا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز کو دو رکعتوں پر ہی تمام کر دے اور اگر ت یسری رکعت کے رکوع م یں جاچکا ہ و تو احت یاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے اور اگر اس ک ے پاس ا یک رکعت پڑھ ن ے ک ے لئ ے ب ھی وقت باقی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز کو نئ ے سر ے س ے قصر کرک ے پ ڑھے۔
1374 ۔ اگر کس ی مسافر کو "نماز مسافر" کی بعض خصوصیات کا علم نہ ہ و مثلاً و ہ یہ جانتا ہ و ک ہ اگر چار فرسخ تک جائ ے اور واپس ی میں چار فرسخ کا فاصلہ ط ے کر ے تو اس ے نماز قصر کرک ے پ ڑھنی ضروری ہے اور چار رکعت وال ی نماز کی نیت سے نماز م یں مشغول ہ و جائ ے اور ت یسری رکعت کے رکوع سے پ ہ ل ے مسئل ہ اس ک ی سمجھ م یں آجائے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز کو دو رکعتوں پر ہی تمام کر دے اور اگر و ہ رکوع م یں اس امر کی جانب متوجہ ہ و تو احت یاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے اور اس صورت م یں اگر اس کے پاس ا یک رکعت پڑھ ن ے ک ے لئ ے ب ھی وقت باقی ہ و تو ضرور ی ہے کہ نماز کو نئے سر ے س ے قصر کرک ے پ ڑھے۔
1375 ۔ جس مسافر کو پور ی نماز پڑھ ن ی ضروری ہ و اگر و ہ مسئل ہ ن ہ جانن ے ک ی وجہ س ے دو رکعت ی نماز کی نیت سے نماز پ ڑھ ن ے لگ ے اور نماز ک ے دوران مسئل ہ اس ک ی سمجھ م یں آجائے تو ضرور ی ہے ک ہ چار رکعت یں پڑھ کر نماز کو تمام کر ے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ نماز ختم ہ ون ے ک ے بعد دوبار ہ اس نماز کو چار رکعت ی پڑھے۔
1376 ۔ جس مسافر ن ے اب ھی نماز نہ پ ڑھی ہ و اگر و ہ نماز کا وقت خت م ہ ون ے س ے پ ہ ل ے اپن ے وطن پ ہ نچ جائ ے یا ایسی جگہ پ ہ نچ ے ج ہ اں دس دن ر ہ نا چا ہ تا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ پور ی نماز پڑھے اور جو شخص مسافر ن ہ ہ و اگر اس ن ے نماز ک ے اول وقت م یں نماز نہ پ ڑھی ہ و اور سفر اخت یار کرے ت و ضروری ہے ک ہ سفر م یں نماز قصر کرکے پ ڑھے۔
1377 ۔ جس مسافر کو نماز قصر کرکے پ ڑھ نا ضرور ی ہ و اگر اس ک ی ظہ ر یا عصر یا عشا کی نماز قضا ہ و جائ ے تو اگرچ ہ و ہ اس ک ی قضا اس وقت بجالائے جب و ہ سفر م یں نہ ہ و ضرور ی ہے ک ہ اس ک ی دو رکعتی قضا کرے۔ اور اگر ان ت ین نمازوں میں سے کس ی ایسے شخص کی کوئی نماز قضا ہ و جائ ے ج و مسافر نہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ چار رکعت ی قضا بجالائے اگرچ ہ یہ قضا اس وقت بجالائے جب و ہ سفر م یں ہ وا ۔
1378 ۔ مستحب ہے ک ہ مسافر ہ ر قصر ک ے نماز ک ے بعد ت یس مرتبہ سُبحَانَ الل ہ وَالحَمدُ لِلّٰ ہ وَلاَ اِلٰ ہ اِلاَّ الل ہ وَالل ہ اَکبَرُ ک ہے اور ظ ہ ر، عصر اور عشا ک ی تعقیبات کے متعلق ب ہ ت ز یادہ تاکید کی گئی ہے بلک ہ ب ہ تر ہے ک ہ مسافر ان ت ین نمازوں کی تعقیب میں یہی ذکر ساٹھ مرتبہ پ ڑھے۔
1379 ۔ جس شخص ن ے اپن ی یومیہ نمازیں ان کے وقت ن ہ پ ڑھی ہ وں تو ضرور ی ہے ک ہ ان ک ی قضا بجالائے اگرچ ہ و ہ نماز ک ے تمام وقت ک ے دوران سو یا رہ ا ہ و یا اس نے مد ہ وش ی کی وجہ س ے نماز ن ہ پ ڑھی ہ و اور یہی حکم ہ ر دوسر ی واجب نماز کا ہے جس ے اس ک ے وقت م یں نہ پ ڑھ ا ہ و ۔ حت ی کہ احت یاط لازم کی بنا پر یہی حکم ہے اس نماز کا جو منت مانن ے ک ی وجہ س ے مُعَ یَّین وقت میں اس پر واجب ہ و چک ی ہ و ۔ ل یکن نماز عید فطر اور نماز عید قربان کی قضا نہیں ہے۔ ا یسی ہی جو نمازیں کسی عورت نے ح یض یا نفاس کی حالت میں نہ پ ڑھی ہ وں ان ک ی قضا واجب نہیں خواہ و ہ یومیہ نمازیں ہ وں یا کوئی اور ہ وں ۔
1380 ۔ اگر کس ی شخص کو نماز کے وقت ک ے بعد پت ہ چل ے ک ہ جو نماز اس ن ے پ ڑھی تھی وہ باطل ت ھی تو ضروری ہے ک ہ اس ن ماز کی قضا کرے۔
1381 ۔ جس شخص ک ی نماز قضا ہ و جائ ے ضرور ی ہے ک ہ اس ک ی قضا پڑھ ن ے م یں کوتاہی نہ کر ے البت ہ اس کا فوراً پ ڑھ نا واجب ن ہیں ہے۔
1382 ۔ جس شخص پر کس ی نماز کی قضا (واجب) ہ و و ہ مستحب نماز پ ڑھ سکتا ہے۔
1383 ۔ اگر کس ی شخص کو احتمال ہ و ک ہ قضا نماز اس ک ے ذمّ ے ہے یا جو نمازیں پڑھ چکا ہے و ہ صح یح نہیں تھیں تو مستحب ہے ک ہ احت یاطاً نمازوں کی قضا کرے۔
1384 ۔ یومیہ نمازوں کی قضا میں ترتیب لازم نہیں ہے سوائ ے ان نمازوں ک ے جن ک ی ادا میں ترتیب ہے مثلاً ا یک دن کی نماز ظہ ر و عصر یا مغرب و عشا۔ اگرچ ہ دوسر ی نمازوں میں بھی ترتیب کا لحاظ رکھ نا ب ہ تر ہے۔
1385 ۔ اگرکوئ ی شخص چاہے ک ہ یومیہ نمازوں کے علاو ہ چند نمازوں مثلاً نماز آ یات کی قضا کرے یا مثال کے طور پر چا ہے ک ہ کس ی ایک یومیہ نماز کی اور چند غیر یومیہ نمازوں کی قضا کرے تو ان کا ترت یب کے سات ھ قضا کرنا ضرور ی نہیں ہے۔
1376 ۔ اگر کوئ ی شخص ان نمازوں کی ترتیب بھ ول جائ ے جو اس ن ے ن ہیں پڑھیں تو بہ تر ہے ک ہ ان ہیں اس طرح پڑھے ک ہ اس ے یقین ہ و جائ ے ک ہ اس ن ے و ہ اس ی ترتیب سے پ ڑھی ہیں جس ترتیب سے و ہ قضا ہ وئ ی تھیں۔ مثلاً اگر ظ ہ ر ک ی ایک نماز اور مغرب کی ایک نماز کی قضا اس پر واجب ہ و اور اسے یہ معلوم نہ ہ و ک ہ کون س ی پہ ل ے قضا ہ وئ ی تھی تو پہ ل ے ا یک نماز مغرب اور اس کے بعد ا یک نماز ظہ ر اور دوبار ہ نماز مغرب پ ڑھے یا پہ ل ے ا یک نماز ظہ ر اور اس ک ے بعد ا یک نماز مغرب اور پھ ر دوبار ہ ا یک نماز ظہ ر پ ڑھے تاک ہ اس ے یقین ہ و جائ ے ک ہ جو نماز ب ھی پہ ل ے قضا ہ وئ ی تھی وہ پ ہ ل ے ہی پڑھی گئی ہے۔
1387 ۔ اگر کس ی شخص سے ا یک دن کی نماز ظہ ر اور کس ی اور دن کی نماز عصر یا دو نماز ظہ ر یا دو نماز عصر قضا ہ وئ ی ہ وں اور اس ے معلوم ن ہ ہ و ک ہ کونس ی پہ ل ے قضا ہ وئ ی ہ و ے تو اگر و ہ دو نماز یں چار رکعتی اس نیت سے پ ڑھے ک ہ ان م یں سے پ ہ ل ی نماز پہ ل ے دن ک ی قضا ہے اور دوسر ی، دوسرے دن کی قضا ہے تو ترت یب حاصل ہ ون ے ک ے لئ ے کاف ی ہے۔
1388 ۔ اگر کس ی شخص کی ایک نماز ظہ ر اور ا یک نماز عشا یا ایک نماز عصر اور ایک نماز عشا قضا ہ وجائ ے اور اس ے یہ معلوم نہ ہ و ک ہ کون س ی پہ ل ے قضا ہ وئ ی ہے تو ب ہ تر ہے ک ہ ان ہیں اس طرح پڑھے ک ہ اس ے یقین ہ و جائ ے ک ہ اس ن ے ان ہیں ترتیب سے پ ڑھ ا ہے مثلاً اگر اس س ے ا یک نماز ظہر اور ایک نماز عشا قضا ہ وئ ی ہ و اور اس ے یہ علم نہ ہ و ک ہ پ ہ ل ے کون س ی قضا ہ وئ ی تھی تو وہ پ ہ ل ے ا یک نماز ظہ ر، اس ک ے بعد ا یک نماز عشا، اور پھ ر دوبار ہ ا یک نماز ظہ ر پ ڑھے یا پہ ل ے ا یک نماز عشا، اس کے بعد ا یک نماز ظہ ر اور پ ھ ر دوبار ہ ا یک نماز عشا پڑھے۔
1389 ۔ اگر کس ی شخص کو معلوم ہ و ک ہ اس ن ے ا یک چار رکعتی نماز نہیں پڑھی لیکن یہ علم نہ ہ و ک ہ و ہ ظ ہ ر ک ی نماز تھی یا عشا کی تو اگر وہ ا یک چار رکعتی نماز اس نماز کی قضا کی نیت سے پ ڑھے جو اس ن ے ن ہیں پڑھی تو کافی ہے اور اس ے اخت یار ہے ک ہ و ہ نماز بلند آواز س ے پ ڑھے یا آہ ست ہ پ ڑھے۔
1390 ۔ اگر کس ی شخص کی مسلسل پانچ نمازیں قضا ہ و جائ یں اور اسے یہ معلوم نہ ہ و ک ہ ان م یں سے پ ہ ل ی کون سی تھی تو اگر وہ نو نماز یں ترتیب سے پ ڑھے مثلاً نماز صبح س ے شروع کر ے اور ظ ہ ر و عصر اور مغرب و عشا پ ڑھ ن ے ک ے بعد دوبار ہ نماز صبح اور ظ ہ ر و عصر اور مغرب پ ڑھے تو اس ے ترتیب کے بار ے م یں یقین حاصل ہ و جائ ے گا ۔
1391 ۔ جس شخص کو معلوم ہ و ک ہ اس ک ی یومیہ نمازوں میں سے کوئ ی نہ کوئ ی ایک نہ ا یک دن قضا ہ وئ ی ہے ل یکن ان کی ترتیب نہ جانتا ہ و تو ب ہ تر یہ ہے ک ہ پانچ دن رات ک ی نمازیں پڑھے اور اگر چ ھ دنوں م یں اس کی چھ نماز یں قضا ہ وئ ی ہ وں تو چ ھ دن رات ک ی نمازیں پڑھے اور اس ی طرح ہر اس نماز کے لئ ے جس س ے اس ک ی قضا نمازوں میں اضافہ ہ و ا یک مزید دن رات کی نمازیں پڑھے تاک ہ اس ے یقین ہ وجائ ے ک ہ اس ن ے نماز یں اسی ترتیب سے پ ڑھی ہیں۔ جس ترت یب سے قضا ہ وئ ی تھیں مثلاً اگر ساتھ دن ک ی سات نمازیں نہ پ ڑھی ہ وں تو سات دان رات ک ی نمازوں کی قضا کرے۔
1392 ۔ مثال ک ے طور پر اگر کس ی کی چند صبح کی نمازیں یا چند ظہ ر ک ی نمازیں قضا ہ و گئ ی ہ وں اور و ہ ان ک ی تعداد نہ جانتا ہ و یا بھ ول گ یا ہ و مثلاً یہ نہ جانتا ہ و ک ہ و ہ ت ین تھیں، چار تھیں یا پانچ تو اگر وہ چ ھ و ٹے عدد ک ے حساب س ے پ ڑھ ل ے تو کاف ی ہے ل یکن بہ تر یہ ہے ک ہ ات نی نمازیں پڑھے ک ہ اس ے یقین ہ و جائ ے ک ہ سار ی قضا نمازیں پڑھ ل ی ہیں۔ مثلا اگر و ہ ب ھ و ل گیا ہ و ک ہ اس ک ی کتنی نمازیں قضا ہ وئ ی تھیں اور اسے یقین ہ و ک ہ دس س ے ز یادہ نہ ت ھیں تو احتیاطاً صبح کی دس نمازیں پڑھے۔
1393 ۔ جس شخص ک ی گزشتہ دنوں ک ی فقط ایک نماز قضا ہ وئ ی ہ و اس ک ے لئ ے ب ہ تر ہے ک ہ اگر اس دن ک ی نماز کی فضیلت کا وقت ختم نہ ہ وا ہ و تو پ ہ ل ے قضا پ ڑھے اور اس ک ے بعد اس دن ک ی نماز میں مشغول ہ و ۔ ن یز اور اگر اس کی گزشتہ دنوں ک ی کوئی نماز قضا نہ ہ وئ ی ہ و ل یکن اسی دن کی ایک یا ایک سے ز یادہ نمازیں قضا ہ وئ ی ہ وں تو اگر اس دن ک ی نماز کی فضیلت کا وقت ختم نہ ہ وا ہ و تو ب ہ تر یہ ہے ک ہ اس دن ک ی قضا نمازیں ادا نماز سے پ ہ ل ے پ ڑھے۔
1394 ۔ اگر کس ی شخص کو نماز پڑھ ت ے ہ وئ ے یاد آئے ک ہ اس ی دن کی ایک یا زیادہ نمازیں اس سے قضا ہ وگئ ی ہیں یا گزشتہ دنوں ک ی صرف ایک قضا نماز اس کے ذم ے ہے تو اگر وقت وس یع ہ و اور ن یت کو قضا نماز کی طرف پھیرنا ممکن ہ و اور اس دن ک ی نماز کی فضیلت کا وقت ختم نہ ہ وا ہ و تو ب ہ تر یہ ہے ک ہ قضا نماز ک ی نمیت کرے۔ مثلاً اگر ظ ہ ر ک ی نماز میں تیسری رکعت کے رکوع س ے پ ہ ل ے اس ے یاد آئے ک ہ اس دن ک ی صبح کی نماز قضا ہ وئ ی ہے اور اگر ظ ہ ر ک ی نماز کا وقت بھی تنگ نہ ہ و تو ن یت کو صبح کی نماز کی طرف پھیردے اور نماز کو دو رکعتی تمام کرے اور اس ک ے بعد نماز ظہ ر پ ڑھے ہ اں اگر وقت تنگ ہ و یا نیت کو قضا نماز کی طرف نہ پ ھیر سکتا ہ و مثلاً نماز ظ ہ ر ک ی تیسری رکعت کے رکوع م یں اسے یاد آئے ک ہ اس ن ے صبح ک ی نماز نہیں پڑھی تو چونکہ اگر و ہ نماز صبح ک ی نیت کرنا چاہے تو ا یک رکوع جو کہ رکن ہے ز یادہ ہ و جاتا ہے اس لئ ے ن یت کو صبح کی قضا کی طرف نہ پ ھیرے۔
1395 ۔ اگر گزشت ہ دنوں ک ی قضا نمازیں ایک شخص کے ذم ے ہ وں اور اس دن ک ی (جب نماز پڑھ ر ہ ا ہے ) ا یک یا ایک سے ز یادہ نمازیں بھی اس سے قضا ہ وگئ ی ہ وں اور ان سب نمازوں کو پ ڑھ ن ے ک ے لئ ے اس ک ے پاس وقت ن ہ ہ و یا وہ ان سب کو اس ی دن نہ پ ڑھ نا چا ہ تا ہ و تو مستحب ہے ک ہ اس دن ک ی قضا نمازوں کو ادا نماز سے پ ہ ل ے پ ڑھے اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ سابق نماز یں پڑھ ن ے ک ے بعد ان قضا نمازوں ک ی جو اس دن ادا نماز سے پ ہ ل ے پ ڑھی ہ وں دوبار ہ پ ڑھے۔
1396 ۔ جب تک انسان زندہ ہے خوا ہ و ہ اپن ی قضا نمازیں پڑھ ن ے س ے قاصر ہی کیوں نہ ہ و کوئ ی دوسرا شخص اس کی قضا نمازیں نہیں پڑھ سکتا ۔
1397 ۔ قضا نماز باجماعت ب ھی پڑھی جاسکتی ہے خوا ہ امام جماعت ک ی نماز ادا ہ و یا قضا ہ و اور یہ ضروری نہیں کہ دونوں ا یک ہی نماز پڑھیں مثلاً اگر کوئی شخص صبح کی قضا نماز کو امام کی نماز ظہ ر یا نماز عصر کے سات ھ پ ڑھے تو کوئ ی حرج نہیں ہے۔
1398 ۔ مستحب ہے ک ہ سمج ھ دار بچ ے کو ( یعنی اس بچے کو جو بر ے ب ھ ل ے ک ی سمجھ رک ھ تا ہ و نماز پ ڑھ ن ے اور دوسر ی عبادات بجالانے ک ی عادت ڈ ال ی جائے بلک ہ مستحب ہے ک ہ اس ے قضا نماز یں پڑھ ن ے پر بھی آمادہ ک یا جائے۔
1399 ۔ باپ ن ے اپن ی کچھ نماز یں نہ پ ڑھی ہ وں اور ان ک ی قضا پڑھ ن ے پر قادر ہ و تو اگر اس ن ے امر خداوند ی کی نامرمانی کرتے ہ وئ ے ان کو ترک ن ہ ک یا ہ و تو اح یتاط کی بنا پر اسکے ب ڑے ب یٹے پر واجب ہے ک ہ باپ ک ے مرن ے ک ے بعد اس ک ی قضا نمازیں پڑھے یا کسی کو اجرت دے کر پ ڑھ وائ ے اور ماں ک ی قضا نمازیں اس پر واجب نہیں اگرچہ ب ہ تر ہے (ک ہ ماں ک ی قضا نمازیں بھی پڑھے ) ۔
1400 ۔ اگر ب ڑے ب یٹے کو شک ہ و ک ہ کوئ ی قضا نماز اس کے باپ ک ے ذم ے ت ھی یا نہیں تو پھ ر اس پر کچھ ب ھی واجب نہیں۔
1401 ۔ اگر ب ڑے ب یٹے کو معلوم ہ و ک ہ اس ک ے باپ ک ے ذم ے قضا نماز یں تھیں اور شک ہ و ک ہ اس ن ے و ہ پ ڑھی تھیں یا نہیں تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے ک ہ ان ک ی قضا بجالائے۔
1402 ۔ اگر یہ معلوم نہ ہ و ک ہ ب ڑ ا ب یٹ ا کون سا ہے تو باپ ک ی نمازوں کی قضا کسی بیٹے پر بھی واجب نہیں ہے ل یکن احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ ب یٹے باپ کی قضا نمازیں آپس میں تقسیم کرلیں بجالانے ک ے لئ ے قرع ہ انداز ی کرلیں۔
1403 ۔ اگر مرن ے وال ے ن ے وص یت کی ہ و ک ہ اس ک ی قضا نمازوں کے لئ ے کس ی کو اجیر بنایا جائے ( یعنی کسی سے اجرت پر نماز یں پڑھ وائ ی جائیں) تو اگر اجیر اس کی نمازیں صحیح طور پر پڑھ د ے تو اس ک ے بعد ب ڑے ب یٹے پر کچھ واجب ن ہیں ہے۔
1404 ۔ اگر ب ڑ ا ب یٹ ا اپنی ماں کی قضا نمازیں پڑھ نا چا ہے تو ضرور ی ہے ک ہ بلند آواز س ے یا آہ ست نماز پ ڑھ ن ے ک ے بار ے م یں اپنے وظ یفے کے مطابق عمل کر ے تو ضرور ی ہے ک ہ اپن ی ماں کی صبح، مغرب اور عشا کی قضا نمازیں بلند آواز سے پ ڑھے۔
1405 ۔ جس شخص ک ے ذم ے کس ی نماز کی قضا ہ و اگر و ہ باپ اور ماں ک ی نمازیں بھی قضا کرنا چاہے تو ان م یں سے جو ب ھی پہ ل ے بجالائ ے صح یح ہے۔
1406 ۔ اگر باپ ک ے مرن ے ک ے وقت ب ڑ ا ب یٹ ا نابالغ یا دیوانہ ہ و تو اس پر و اجب نہیں کہ جب بالغ یا عاقل ہ و جائ ے تو باپ ک ی قضا نمازیں پڑھے۔
1407 ۔ اگر ب ڑ ا ب یٹ ا باپ کی قضا نمازیں پرھ ن ے س ے پ ہ ل ے مرجائ ے تو دوسر ے ب یٹے پر کچھ ب ھی واجب نہیں۔
نماز جماعت
1408 ۔ واجب نماز یں خصوصاً یومیہ نمازیں جماعت کے سات ھ پ ڑھ نا مستحب ہے اور مسجد ک ے پ ڑ وس م یں رہ ن ے وال ے کو اور اس شخص کو جو مسجد ک ی اذان کی آواز سنتا ہ و نماز صبح اور مغرب و عشا جماعت ک ے سات ھ پ ڑھ ن ے ک ی بالخصوص بہ ت ز یادہ تاکید کی گئی ہے۔
1409 ۔ مُعَتَبر روا یات کے مطابق یا جماعت نماز فرادی نماز سے پچ یس گنا افضل ہے۔
1410 ۔ ب ے اعتنائ ی برتتے ہ وئ ے نماز جما عت میں شریک نہ ہ ونا جائز ن ہیں ہے اور انسان ک ے لئ ے یہ مناسب نہیں ہے ک ہ بغ یر عذر کے نماز جماعت کو ترک کر ے۔
1411 ۔ مستحب ہے ک ہ انسان صبر کر ے تاک ہ نماز جماعت ک ے سات ھ پ ڑھے اور و ہ باجماعت نماز جو مختصر پ ڑھی جائے اس فراد ی نماز سے ب ہ تر ہے جو طول د یکر پڑھی جائے اور و ہ نماز با جماعت اس نماز س ے ب ہ تر ہے جو اول وقت م یں فرادی یعنی تنہ ا پ ڑھی جائے اور و ہ نماز با جماعت جو فض یلت کے وقت م یں نہ پ ڑھی جائے اور فراد ی نماز جو فضیلت کے وقت م یں پڑھی جائے ان دونوں نمازوں م یں سے کون س ی نماز بہ تر ہے معلوم ن ہیں۔
1412 ۔ جب جماعت ک ے سات ھ نماز پ ڑھی جانے لگ ے تو مستحب ہے ک ہ جس شخص ن ے تن ہ ا نماز پ ڑھی ہ و و ہ دوبار ہ جماعت ک ے سات ھ پ ڑھے اور اگر اس ے بعد م یں پتہ چل ے ک ہ اس ک ی پہ ل ی نماز باطل تھی تو دوسری نماز کافی ہے۔
1413 ۔ اگر امام جماعت یا مقتدی جماعت کے سات ھ نماز پ ڑھ ن ے ک ے بعد ا سی نماز کو دوبارہ جماعت ک ے سات ھ پ ڑھ نا چا ہے تو اگرچ ہ اس کا مستحب ہ ونا ثابت ن ہیں لیکن رَجَاءً دوبارہ پ ڑھ ن ے ک ی کوئی مُمَانَعت نہیں ہے۔
1414 ۔ جس شخص کو نماز م یں اس قدر وسوسہ ہ وتا ہ و ک ہ اس نماز ک ے باطل ہ ون ے کا موجب بن جاتا ہ و اور صرف جماعت ک ے سات ھ نماز پ ڑھ ن ے س ے اسے وسوس ے س ے نجات ملت ی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ نماز جماعت ک ے سات ھ پ ڑھے۔
1415 ۔ اگر باپ یا ماں اپنی اولاد کو حکم دیں کہ نماز جماعت ک ے سات ھ پر ھے تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ نماز جماعت ک ے سات ھ پ ڑھے البت ہ جب ب ھی والدین کی طرف سے امرون ہی محبت کی وجہ س ے ہ و اور اس ک ی مخالفت سے ان ہیں اذیت ہ وت ی ہ و تو اولاد ک ے لئ ے ان ک ی مخالفت کرنا اگرچہ سرک شی کی حد تک نہ ہ و تب ب ھی حرام ہے۔
1416 ۔ مستحب نماز کس ی بھی جگہ احت یاط کی بنا پر جماعت کے سات ھ ن ہیں پڑھی جاسکتی لیکن نماز اِستِقاء جو طلب باران کے لئ ے پ ڑھی جاتی ہے جماعت ک ے سات ھ پ ڑھ سکت ے ہیں اور اسی طرح وہ نماز جو پ ہ ل ے واجب ر ہی ہ و اور پ ھ ر کس ی وجہ س ے مستحب ہ وگئ ی ہ و مثلاً نماز ع ید فطر اور نماز عید قربان جو امام مہ د ی علیہ السلام کے زمان ے تک واجب ت ھی اور ان کی غیبت کی وجہ س ے مستحب ہ وگئ ی ہے۔
1417 ۔ جس وقت امام جماعت یومیہ نمازوں میں سے کوئ ی نماز پڑھ ا ر ہ ا ہ و تو اس ک ی اقتدا کوئی سی بھی یومیہ نماز میں کی جاسکتی ہے۔
1418 ۔ اگر امام جماعت یومیہ نماز میں سے قضا شد ہ اپن ی نماز پڑھ ر ہ ا ہ و یا کسی دوسرے شخص ک ی ایسی نماز کی قضا پڑھ ر ہ ا ہ و جس کا قضا ہ ونا یقینی ہ و تو اس ک ی اقتدا کی جاسکتی ہے ل یکن اگر وہ اپن ی یا کسی دوسرے ک ی نماز احتیاطاً پڑھ ر ہ ا ہ و تو اس ک ی اقتدا جائز نہیں مگر یہ کہ مقتد ی بھی اختیاطاً پڑھ ر ہ ا ہ و اور امام ک ی احتیاط کا سبب مقتدی کی احتیاط کا بھی سبب ہ و ل یکن ضروری نہیں ہے ک ہ مقتد ی کی احتیاط کا کوئی دوسرا سبب نہ ہ و ۔
1419 ۔ اگر انسان کو یہ علم نہ ہ و ک ہ نماز امام پ ڑھ ر ہ ا ہے و ہ واجب پنج گان ہ نمازوں م یں سے ہے یا مستحب نماز ہے تو اس نماز م یں اس امام کی اقتدا نہیں کی جاسکتی۔
1420 ۔ جماعت ک ے صح یح ہ ون ے ک ے لئ ے یہ شرط ہے ک ہ امام اور مقتد ی کے درم یان اور اسی طرح ایک مقتدی اور دوسرے ا یسے مقتدی کے درم یان جو اس مقتدی اور امام کے درم یان واسطہ ہ و کوئ ی چیز حائل نہ ہ و اور حائل چ یز سے مراد و ہ چ یز ہے جو ان ہیں ایک دوسرے س ے جدا کر ے خوا ہ د یکھ ن ے میں مانع ہ و ج یسے کہ پرد ہ یا دیوار وغیرہ یا دیکھ ن ے میں حائل نہ ہ و ج یسے شیشہ پس اگر نماز کی تمام یا بعض حالتوں میں امام اور مقتدی کے درم یان یا مقتدی اور دوسرے ا یسے مقتدی کے درم یان جو اتصال کا ذریعہ ہ و کوئ ی ایسی چیز حائل ہ و جائ ے تو جماعت باطل ہ وگ ی اور جیسا کہ بعد میں ذکر ہ وگا عورت اس حکم س ے مستثن ی ہے۔
1421 ۔ اگر پ ہ ل ی صف کے لمبا ہ ون ے ک ی وجہ س ے اس ک ے دونوں طرف کھڑے ہ ون ے وال ے لوگ امام جماعت کو ن ہ د یکھ سکیں تب بھی وہ اقتدا کر سکت ے ہیں اور اسی طرح اگر دوسری صفوں میں سے کس ی صف کی لمبائی کی وجہ س ے اس ک ے دونوں طرف ک ھڑے ہ ون ے وال ے لوگ اپن ے س ے آگ ے وال ی صف کو نہ د یکھ سک یں تب بھی وہ اقتدا کر سکت ے ہیں۔
1422 ۔ اگر جماعت ک ی صفیں مسجد کے درواز ے تک پ ہ نچ جائ یں تو جو شخص دروازے ک ے سامن ے صف ک ے پ یچھے کھڑ ا ہ و اس ک ی نماز صحیح ہے۔ ن یز جو اشخاص اس شخص کے پ یچھے کھڑے ہ و کر امام جماعت ک ی اقتدا کر رہے ہ وں ان ک ی نماز بھی صحیح ہے بلک ہ ان لوگوں ک ی نماز بھی صحیح ہے جو دونوں طرف کھڑے نماز پ ڑھ ر ہے ہ وں اور کس ی دوسرے مقتد ی کے توسط س ے جماعت س ے متصل ہ وں ۔
1423 ۔ جو شخص ستون ک ے پ یچھے کھڑ ا ہ و اگر و ہ دائ یں یا بائیں طرف سے کس ی دوسرے مقتد ی کے توسط س ے امام جماعت س ے اتصال ن ہ رک ھ تا ہ و تو و ہ اقتدا ن ہیں کرسکتا ہے۔
1424 ۔ امام جماعت ک ے ک ھڑے ہ ون ی کی جگہ ضرور ی ہے ک ہ مقتد ی کی جگہ س ے ز یادہ اونچی نہ ہ و ل یکن اگر معولی اونچی ہ و تو حرج ن ہیں نیز اگر ڈھ لوان زم ین ہ و اور امام اس طرف ک ھڑ ا ہ و جو ز یادہ بلند ہ و تو اگر ڈھ لوان ز یادہ نہ ہ و اور اس طرح ہ و ک ہ عموماً اس زم ین کو مسطح کہ ا جائ ے تو کوئی حرج نہیں۔
1425 ۔ (نماز جماعت م یں) اگر مقتدی کی جگہ امام ک ی جگہ س ے اونچ ی ہ و تو کوئ ی حرج نہیں لیکن اگر اس قدر اونچی ہ و ک ہ یہ نہ ک ہ ا جاسک ے ک ہ و ہ ا یک جگہ جمع ہ وئ ے ہیں تو جماعت صحیح نہیں ہے۔
1426 ۔ اگر ان لوگوں ک ے درم یان جو ایک صف میں کھڑے ہ وں ا یک سمجھ دار بچ ہ یعنی ایسا بچہ جو اچھے بر ے ک ی سمجھ رک ھ تا ہ و ک ھڑ ا ہ و جائ ے اور و ہ لوگ ن ہ جانت ے ہ وں ک ہ اسک ی نماز باطل ہے تو اقتدا کر سکت ے ہیں۔
1427 ۔ امام ک ی تکبیر کے بعد اگر اگل ی صف کے لوگ نماز ک ے لئ ے ت یار ہ وں اور تکب یر کہ ن ے ہی والے ہ وں تو جو شخص پچ ھ ل ی صف میں کھڑ ا ہ و و ہ تکب یر کہہ سکتا ہے ل یکن احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ و ہ انتظار کر ے تاک ہ اگل ی صف والے تکب یر کہہ ل یں۔
1428 ۔ اگر کوئ ی شخص جانتا ہ و ک ہ اگل ی صفوں میں سے ا یک صف کی نماز باطل ہے تو و ہ پچ ھ ل ی صفوں میں اقتدا نہیں کر سکتا لیکن اگر اسے یہ علم نہ ہ و ک ہ اس صف ک ے لوگوں ک ی نماز صحیح ہے یا نہیں تو اقتدا کرسکتا ہے۔
1429 ۔ جب کوئ ی شخص جانتا ہ و ک ہ امام ک ی نماز باطل ہے مثلاً اس ے علم ہ و ک ہ امام وضو س ے ن ہیں ہے تو خوا ہ امام خود اس امر ک ی جانب متوجہ ن ہ ب ھی ہ و و ہ شخص اس ک ی اقتدا نہیں کر سکتا۔
1430 ۔ اگر مقتد ی کو نماز کے بعد پت ہ چل ے ک ہ امام عادل ن ہ تھ ا یا کافر تھ ا یا کسی وجہ س ے مثلاً وضو ن ہ ہ ون ے ک ی وجہ س ے اس ک ی نماز باطل تھی تو اس کی نماز صحیح ہے۔
1431 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز کے دوران شک کر ے ک ہ اس ن ے اقتدا ک ی ہے یا نہیں چنانچہ علامتوں ک ی وجہ س ے اس ے اطم ینان ہ و جائ ے ک ہ اقتدا ک ی ہے مثلاً ا یسی حالت میں ہ و جو مقتد ی کا وظیفہ ہے مثلاً امام کو الحمد اور سور ہ پ ڑھ ت ے ہ وئ ے سن ر ہ ا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نماز جماعت ک ے سات ھ ہی ختم کرے بصورت د یگر ضروری ہے ک ہ نماز فراد ی کی نیت سے ختم کر ے۔
1432 ۔ اگر نماز ک ے دوران مقتد ی کسی عذر کے بغ یر فرادی کی نیت کرے تو اس ک ی جماعت کے صح یح ہ ون ے م یں اشکال ہے۔ ل یکن اس کی نماز صحیح ہے مگر یہ کہ اس ن ے فراد ی نماز میں اس کا جو وظیفہ ہے ، اس پر عمل ن ہ ک یا ہ و یا ایسا کام جو فرادی نماز کو باطل کرتا ہے انجام د یا ہ و اگر چہ سہ واً ہ و مثلاً رکوع ز یادہ کیا ہ و بلک ہ بعض صورتوں م یں اگر فرادی نماز میں اس کا جو وظیفہ ہے اس پر عمل ن ہ ک یا ہ و تو ب ھی اس کی نماز صحیح ہے ہے۔ مثلاً اگر نماز ی کی ابتدا سے فراد ی کی نیت نہ ہ و اور قراءت ب ھی نہ ک ی ہ و ل یکن رکوع میں اسے ا یسا قصد کرنا پڑھے تو ا یسی صورت میں فرادی کی نیت سے تمام ختم کر سکتا ہے اور اس ے دوبار ہ پ ڑھ نا ضرور ی نہیں ہے۔
1433 ۔ اگر مقتد ی امام کے الحمد اور سور ہ پ ڑھ ن ے ک ے بعد کس ی عذر کی وجہ س ے فراد ی کی نیت کرے تو الحمد اور سور ہ پ ڑھ نا ضرور ی نہیں ہے ل یکن اگر (امام کے ) الحمد اور سور ہ ختم کرن ے س ے پ ہ ل ے فراد ی کی نیت کرے تو احت یاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ (الحمد اور سور ے ) جتن ی مقدار امام نے پ ڑھی ہ و و ہ ب ھی پڑھے۔
1434 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز جماعت کے دوران فراد ی کی نیت کرے تو پ ھ ر و ہ دوبار ہ جماعت ک ی نیت نہیں کرسکتا لیکن اگر مُذَبذِب ہ و ک ہ فراد ی کی نیت کرے یا نہ کر ے اور بعد م یں نماز کو جماعت کے سات ھ تمام کرن ے کا مُصَمَّم اراد ہ کر ے تو اسک ی جماعت صحیح ہے۔
1435 ۔ اگر کوئ ی شخص شک کرے ک ہ نماز ک ے دوران اس ن ے فراد ی کی نیت کی ہے یا نہیں تو ضروری ہے ک ہ سمج ھ ل ے ک ہ اس ن ے فراد ی کی نیت نہیں کی۔
1436 ۔ اگر کوئ ی شخص اس وقت اقتدا کرے جب امام رکوع م یں ہ و اور امام ک ے رکوع م یں شریک ہ و جائ ے اگرچ ہ امام ن ے رکوع کا ذکر پ ڑھ ل یا ہ و اس شخص ک ی نماز صحیح ہے اور و ہ ا یک رکعت شمار ہ وگ ی لیکن اگر وہ شخص بقدر رکوع ک ے ج ھ ک ے تا ہ م امام کو رکوع م یں نہ پاسک ے تو و ہ شخص اپن ی نماز فرادی کی نیت سے ختم کرسکتا ہے۔
1437 ۔ اگر کوئ ی شخص اس وقت اقتدا کرے جب امام ر کوع میں ہ و اور بقدر رکوع ک ے ج ھ ک ے اور شک کر ے ک ہ امام ک ے رکوع م یں شریک ہ وا ہے یا نہیں تو اگر اس کا موقع نکل گیا ہ و مثلاً رکوع ک ے بعد شک کر ے تو ظا ہ ر یہ ہے ک ہ اس ک ی جماعت صحیح ہے۔ اس ک ے علاو ہ دوسر ی صورت میں نماز فرادی کی نیت سے پور ی کرسکتا ہے۔
1438 ۔ اگر کوئ ی شخص اس وقت اقتدا کرے جب امام رکوع م یں ہ و اور اس س ے پ ہ ل ے ک ہ و ہ بقدر رکوع ج ھ ک ے ، امام رکوع س ے سر ا ٹھ ال ے تو اس ے اخت یار ہے ک ہ فراد ی کی نیت کرکے نماز پور ی کرے یا قربت مطلقہ ک ی نیت سے امام ک ے سات ھ سجد ے م یں جائے اور سجد ے ک ے بعد ق یام کی حالت میں تکبیرۃ الاحرام اور کسی ذکر کا قصد کیے بغیر دوبارہ تکب یر کہے اور نماز جماعت ک ے سات ھ پ ڑھے۔
1439 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز کی ابتدا میں یا الحمد اور سورہ ک ے دوران اقتدا کر ے اور اتفاقاً اس س ے پ ہ ل ے ک ہ و ہ رکوع م یں جائے امام اپنا سر رکوع س ے ا ٹھ ال ے تو اس شخص ک ی نماز صحیح ہے۔
1440 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز کے لئ ے ا یسے وقت پہ نچ ے جب امام نماز کا آخر ی تشہ د پ ڑھ ر ہ ا ہ و اور و ہ شخص چا ہ تا ہ و ک ہ نماز جماعت کا ثواب حاصل کر ے تو ضرور ی ہے ک ہ ن یت باندھ ن ے اور تکبر یہ الاحرام کہ ن ے ک ے بعد ب یٹھ جائے اوعر محض قربت ک ی نیت سے تش ہ د امام ک ے سات ھ پ ڑھے۔ ل یکن سلام نہ ک ہے اور انتظام کر ے تاک ہ امام نماز کا سلام پ ڑھ ل ے۔ اس ک ے بعد و ہ شخص ک ھڑ ا ہ ا جائ ے اور دوبار ہ ن یت کیے بغیر اور تکبیر کہے بغ یر الحمد اور سورہ پ ڑھے اور اس ے اپن ی نماز کی پہ ل ی رکعت شمار کرے۔
1441 ۔ مقتد ی کو امام سے آگ ے ن ہیں کھڑ ا ہ ونا چا ہ ئ ے بلک ہ احت یاط واجب یہ ہے ک ہ اگر مقتد ی زیادہ ہ وں تو امام ک ے برابر ن ہ ک ھڑے ہ وں ۔ ل یکن اگر مقتدی ایک آدمی ہ و تو امام ک ے برابر ک ھڑے ہ ون ے م یں کوئی حرج نہیں۔
1442 ۔ اگر امام مرد اور مقتد ی عورت ہ و تو اگر اس عورت اور امام ک ے درم یان یا عورت اور دوسرے مرد مقتد ی کے درم یان جو عورت اور امام کے درم یان اتصال کا ذریعہ ہ و پرد ہ وغ یرہ لٹ کا ہ و تو کوئ ی حرج نہیں۔
1443 ۔ اگر نماز شروع ہ ون ے ک ے بعد امام اور مقتد ی کے درم یان یا مقتدی اور اس تشخص کے درم یان جس کے توسط س ے مقتد ی امام سے متصل ہ و پرد ہ یا کوئی دوسری چیز حائل ہ و جائ ے تو جماعت باطل ہ و جات ی ہے اور لازم ہے ک ہ مقتد ی فرادی نماز کے وظ یفے پر عمل کرے۔
1444 ۔ احت یاط واجب ہے ک ہ مقتد ی کے سجد ے ک ی جگہ اور امام ک ے ک ھڑے ہ ون ے ک ی جگہ ک ے ب یچ ایک ڈ گ س ے ز یادہ فاصلہ ن ہ ہ و اور اگر انسان ا یک ایسے مقتدی کے توسط س ے جو اس ک ے آگ ے ک ھڑ ا ہ و امام س ے متصل ہ و تب ب ھی یہی حکم ہے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ مقتد ی کے ک ھڑے ہ ون ے ک ی جگہ اور اس س ے آگ ے وال ے شخص ک ے ک ھڑے ہ ون ے ک ی جگہ ک ے درم یان اس سے ز یادہ فاصلہ ن ہ ہ و جو انسان ک ی حالت سجدہ م یں ہ وت ی ہے۔
1445 ۔ اگر مقتد ی کسی ایسے شخص کے توسط س ے امام س ے متصل ہ و جس ن ے اس ک ے دائ یں طرف یا بائیں طرف اقتدا کی ہ و اور سامن ے س ے امام س ے متصل ن ہ ہ و تو احت یاط واجب کی بنا پر ضروری ہے ک ہ اس شخص س ے جس ن ے اس ک ی دائیں طرف یا بائیں طرف اقتدا کی ہ و ا یک ڈ گ س ے ز یادہ فاصلے پر ن ہ ہ و ۔
1446 ۔ اگر نماز ک ے دوران مقتد ی اور امام یا مقتدی اور اس شخص کے درم یان جس کے توسط سے مقتد ی امام سے متصل ہ و ا یک ڈ گ س ے ز یادہ فاصلہ ہ وجائ ے تو و ہ تن ہ ا ہ و جاتا ہے اور اپن ی نماز فرادی کی نیت سے جار ی رکھ سکتا ہے۔
1447 ۔ جو لوگ اگل ی صف میں ہ وں اگر ان سب ک ی نماز ختم ہ و جائ ے اور و ہ فوراً دوسر ی نماز کے لئ ے امام ک ی اقتدا نہ کر یں تو پچھ ل ی صف والوں کی نماز جماعت باطل ہ و جات ی ہے بلک ہ اگر فوراً ہی اقتدا کر لیں تب بھی پچھ ل ی صف کی جماعت صحیح ہ ون ے م یں اشکال ہے۔
1448 ۔ اگر کوئ ی شخص دوسری رکعت میں اقتدا کرے تو اس ک ے لئ ے الحمد اور سور ہ پ ڑھ نا ضرور ی نہیں البتہ قنوت اور تش ہ د امام ک ے سات ھ پ ڑھے اور احت یاط یہ ہے ک ہ تش ہ د پ ڑھ ت ے وقت ہ ات ھ وں ک ی انگلیاں اور پاوں کے تلووں کا اگلا حص ہ زم ین پر رکھے اور گ ھٹ ن ے ا ٹھ ال ے اور تش ہ د ک ے بعد ضروری ہے ک ہ امام ک ے سات ھ ک ھڑ ا ہ و جائ ے اور الحمد اور سور ہ پ ڑھے اور اگر سور ے ک ے لئ ے وقت ن ہ رک ھ تا ہ و تو الحمد کو تمام کر ے اور اپن ے رکوع م یں امام کے سات ھ مل جائ ے اور اگر پور ی الحمد پڑھ ن ے ک ے لئ ے وقت ن ہ ہ و تو الحمد کو چ ھ و ڑ سکتا ہے اور امام ک ے سات ھ رکوع م یں جائے۔ ل یکن اس صورت میں احیتاط مستحب یہ ہے ک ہ نماز کو فراد ی کی نیت سے پ ڑھے۔
1449 ۔ اگر کوئ ی شخص اس وقت اقتدا کرے جب امام چار رکعت ی نماز کی دوسری رکعت پڑھ ا ر ہ ا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اپن ی نماز کی دوسری رکعت میں جو امام کی تیسری رکعت ہ وگ ی دو سجدوں کے بعد ب یٹھ جائے اور واجب مقدار م یں تشہ د پ ڑھے اور پ ھ ر ا ٹھ ک ھڑ ا ہ و اور اگر ت ین دفعہ تسب یحات پڑھ ن ے کا وقت نہ رک ھ تا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ا یک دفعہ پ ڑھے اور رکوع م یں اپنے آپ کو امام ک ے سات ھ شر یک کرے۔
1450 ۔ اگر امام ت یسری یا چوتھی رکعت میں ہ و اور مقتد ی جانتا ہ و ک ہ اگر اقتدا کر ے گا اور الحمد پ ڑھے گا تو امام ک ے سات ھ رکوع م یں شامل نہ ہ وسک ے گا تو احت یاط واجب کی بنا پر ضروری ہے ک ہ امام ک ے رکوع م یں جانے تک انتظار کر ے اس ک ے بعد اقتدا کرے۔
1451 ۔ اگر کوئ ی شخص امام کے ت یسری یا چوتھی رکعت میں قیام کی حالت میں ہ ون ے ک ے وقت اقتدا کر ے تو ضرور ی ہے ک ہ الحمد اور سور ہ پ ڑھے اور اگر سور ہ پ ڑھ ن ے ک ے لئ ے وقت ن ہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ الحمد تمام کر ے اور رکوع م یں امام کے سات ھ شر یک ہ و جائ ے اور اگر پور ی الحمد پڑھ ن ے ک ے لئ ے وقت ن ہ ہ و تو الحمد کو چ ھ و ڑ کر امام ک ے سات ھ رکوع م یں جائے ل یکن اس صورت میں احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ فراد ی کی نیت سے نماز پور ی کرے۔
1452 ۔ اگر ا یک شخص جانتا ہ و ک ہ اگر و ہ سور ہ یا قنوت پڑھے تو رکوع م یں امام کے سات ھ شر یک نہیں ہ وسکتا اور و ہ عمداً سور ہ یا قنوت پڑھے اور رکوع م یں امام کے سات ھ شر یک نہ ہ و تو اس ک ی جماعت باطل ہ و جات ی ہے اور ضرور ی ہے ک ہ و ہ فراد ی طور پر نماز پڑھے۔
1453 ۔ جس شخص کو اطم ینان ہ و ک ہ اگر سور ہ شروع کر ے یا اسے تمام کر ے تو بشرط یکہ سورہ ز یادہ لمبا نہ ہ و و ہ رکوع م یں امام کے سات ھ شر یک ہ و جائ ے گا تو اس ک ے لئ ے ب ہ تر یہ ہے ک ہ سور ہ شروع کر ے یا اگر شروع کیا ہ و تو اس ے تمام کر ے ل یکن اگر سورہ اتنا ز یادہ طویل ہ و ک ہ اس ے اما م کا مقتدی نہ ک ہ ا جاسک ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس ے شروع ن ہ کر ے اور اگر شروع کر چکا ہ و تو اس ے پورا ن ہ کر ے۔
1454 ۔ جو شخص یقین رکھ تا ہ و ک ہ سور ہ پ ڑھ کر امام ک ے سات ھ رکوع م یں شریک ہ و جائ ے گا اور امام ک ی اقتدا ختم نہیں ہ وگ ی لہ ذا اگر و ہ سور ہ پ ڑھ کر امام ک ے سات ھ رکوع م یں شریک نہ ہ وسک ے تو اس ک ی جماعت صحیح ہے۔
1456 ۔ اگر کوئ ی شخص اس خیال سے ک ہ امام پ ہ ل ی یا دوسری رکعت میں ہے الحمد اور سور ہ ن ہ پ ڑھے اور رکوع ک ے بعد اس ے پت ہ چل جائ ے ک ہ امام ت یسری یا چوتھی رکعت میں تما تو مقتدی کی نماز صحیح ہے ل یکن اگر اسے رکوع س ے پ ہ ل ے اس بات کا پت ہ چل جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ الحمد اور سور ہ پڑھے اور اگر وقت تنگ ہ و تو مسئل ہ 1451 کے مطابق عمل کر ے۔
1457 ۔ اگر کوئ ی شخص یہ خیال کرتے ہ وئ ے الحمد اور سور ہ پ ڑھے ک ہ امام ت یسری یا چوتھی رکعت میں ہے اور رکوع س ے پ ہ ل ے یا اس کے بعد اس ے پت ہ چل ے ک ہ امام پ ہ ل ی دوسری رکعت میں تھ ا تو مقتد ی کی نماز صحیح ہے اور اگر یہ بات اسے الحمد اور سور ہ پ ڑھ ت ے ہ وئ ے معلوم ہ و تو (الحمد ا ور سورہ کا) تمام کرنا اس ک ے لئ ے ضرور ی نہیں۔
1458 ۔ اگر کوئ ی شخص مستحب نماز پڑھ ر ہ ا ہ و اور جماعت قائم ہ و جائ ے اور اس ے یہ اطمینان نہ ہ و ک ہ اگر مستحب نماز کو تمام کر ے گا تو جماعت ک ے سات ھ شر یک ہ و سک ے گا تو مستحب یہ ہے ک ہ جو نماز پ ڑھ ر ہ ا ہ و اس ے چو ڑ د ے اور نماز جما عت میں شامل ہ وجائ ے بلک ہ اگر اس ے یہ اطمینان نہ ہ و ک ہ پ ہ ل ی رکعت میں شریک ہ وسک ے گا تب ب ھی مستحب ہے ک ہ اس ی حکم کے مطابق عمل کر ے۔
1459 ۔ اگر کوئ ی شخص تین رکعتی یا چار رکعتی نماز پڑھ ر ہ ا ہ و اور جماعت قائم ہ وجائ ے اور و ہ اب ھی تیسری رکعت کے رکوع م یں نہ گ یا ہ و اور اس ے یہ اطمینان نہ ہ و ک ہ اگر نماز کو پورا کر ے گا تو جماعت م یں شریک ہ وسک ے گا تو مستحب ہے ک ہ مستحب نماز ک ی نیت کے سات ھ اس نماز کو دو رکعت پر ختم کر دے اور جماعت ک ے سات ھ شر یک ہ و جائ ے۔
1460 ۔ جو شخص امام س ے ا یک رکعت پیچھے ہ و اس ک ے لئ ے ب ہ تر یہ ہے ک ہ جب امام آخر ی رکعت کا تشہ د پ ڑھ ر ہ ا ہ و تو ہ ات ھ وں ک ی انگلیاں اور پاوں کے تلووں کا اگلا حص ہ زم ین پر رکھے اور گ ھٹ نوں کو بلند کر ے اور امام ک ے سلام پ ڑھ ن ے کا انتظار کر ے اور پ ھ ر ک ھڑ ا ہ و جائ ے اور اگر اس ی وقت فرادی کا قصد کرنا چاہے تو کوئ ی حرج نہیں۔
1462 ۔ اما م جماعت کے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ بالغ، عاقل، ش یعہ اثنا عشری، عادل اور حلال زادہ ہ و اور نماز صح یح پڑھ سکتا ہ و ن یز اگر مقتدی مرد ہ و تو اس کا امام ب ھی مرد ہ ونا ضرور ی ہے اور دس سال ہ بچ ے ک ی اقتدا صحیح ہ ونا اگرچ ہ وج ہ س ے خال ی نہیں، لیکن اشکال سے ب ھی خالی نہیں ہے۔
1463 ۔ جو شخص پہ ل ے ا یک امام کو عادل سمجھ تا ت ھ ا اگر شک کر ے ک ہ و ہ اب ب ھی اپنی عدالت پرقائم ہے یا نہیں تب بھی اس کی اقتدا کرسکتا ہے۔
1464 ۔ جو شخص ک ھڑ ا ہ و کر نماز پ ڑھ تا ہ و و ہ کس ی ایسے شخص کی اقتدا نہیں کر سکتا جو بیٹھ کر یا لیٹ کر نماز پڑھ تا ہ و اور جو شخص ب یٹھ کر نماز پڑھ تا ہ و و ہ کس ی ایسے شخص کی اقتدا نہیں کر سکتا جو لیٹ کر نماز پڑھ تا ہ و ۔
1465 ۔ جو شخص ب یٹھ کر نماز پڑھ تا ہ وو ہ اس شخص ک ی اقتدا کر سکتا ہے جو ب یٹھ کر نماز پڑھ تا ہ و ل یکن جو شخص لیٹ کر نماز پڑھ تا ہ و اس کا کس ی ایسے شخص کی اقتدا کرنا جو لیٹ کر یا بیٹھ کر نماز پڑھ تا ہ و محل اشکال ہے۔
1466 ۔ اگر امام جماعت کس ی عذر کی وجہ س ے نجس لباس یا تیمم یا جبیرے کے وضو س ے نماز پ ڑھے تو اس ک ی اقتدا کی جاسکتی ہے۔
1467 ۔ اگر امام کس ی ایسی بیماری میں مبتلا ہ و جس ک ی وجہ س ے و ہ پ یشاب اور پاخانہ ن ہ روک سکتا ہ و تو اس ک ی اقتدا کی جاسکتی ہے ن یز جو عورت مستحاضہ ن ہ ہ و و ہ مستحاض ہ عورت ک ی اقتدا کر سکتی ہے۔
1468 ۔ ب ہ تر ہے ک ہ جو شخص جذام یا برص کا مریض ہ و و ہ امام جماعت ن ہ بن ے اور احت یاط واجب یہ ہے ک ہ اس (سزا یافتہ ) شخص کی جس پر شرعی حد جاری ہ وچک ی ہ و اقتدا ن ہ ک ی جائے۔
1469 ۔ نماز ک ی نیت کرتے وقت ضرور ی ہے ک ہ مقتد ی امام کو مُعَیَّین کرے ل یکن امام کا نام جاننا ضروری نہیں اور اگر نیت کرے ک ہ م یں موجودہ امام جماعت ک ی اقتدا کرتا ہ وں تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔
1470 ۔ ضرور ی ہے ک ہ مقتد ی الحمد اور سورہ ک ے علاو ہ نماز ک ی سب چیزیں خود پڑھے ل یکن اگر اس کی پہ ل ی اور دوسری رکعت امام کی تیسری اور چوتھی رکعت ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ الحمد اور سور ہ ب ھی پڑھے۔
1471 ۔ اگر مقتد ی نماز صبح و مغرب و عشا کی پہ ل ی اور دوسری رکعت میں امام الحمد اور سورہ پ ڑھ ن ے ک ی آواز سن رہ ا ہ و تو خوا ہ و ہ کلمات کو ٹھیک طرح نہ سمج ھ سک ے اس ے الحمد اور سور ہ ن ہیں پڑھ ن ی چاہ ئ ے اور اگرامام ک ی آواز سن پائے تو مستحب ہے ک ہ الحمد اور سور ہ پ ڑھے ل یکن ضروری ہے ک ہ آ ہ ست ہ پ ڑھے اور اگر س ہ واً بلند آواز س ے پ ڑھے تو کوئ ی حرج نہیں۔
1472 ۔ اگر مقتد ی امام کی الحمد اور سورہ ک ی قراءَت کے بعض کلم ات سن لے تو جس قدر ن ہ سن سک ے و ہ پ ڑھ سکتا ہے۔
1473 ۔ اگر مقتد ی سہ واً الحمد اور سور ہ پ ڑھے یا یہ خیال کرتے ہ وئ ے ک ہ جو آواز سن ر ہ ا ہے و ہ امام ک ی نہیں ہے الحمد اور سور ہ پ ڑھے اور بعد م یں اسے پت ہ چل ے ک ہ امام ک ی آواز تھی تو اس کی نماز صحیح ہے۔
1474 ۔ اگر مقتد ی شک کرے ک ہ امام ک ی آواز سن رہ ا ہے یا نہیں یا کوئی آواز سنے اور یہ نہ جانتا ہ و ک ہ امام ک ی آواز ہے یاکسی اور کی تو وہ الحمد اور سور ہ پ ڑھ سکتا ہے۔
1475 ۔ مقتد ی کو نماز ظہ ر و عصر ک ی پہ ل ی اور دوسری رکعت میں احتیاط کی بنا پر الحمد اور سورہ ن ہیں پڑھ نا چا ہ ئ ے اور مستحب ہے ک ہ ان ک ی بجائے کوئ ی ذکر پڑھے۔
1476 ۔ مقتد ی کو تکبیرۃ الاحرام امام سے پ ہ ل ے ن ہیں کہ ن ی چاہ ئ ے بلک ہ احت یاط واجب یہ ہے ک ہ جب تک امام تکب یر نہ ک ہہ چک ے مقتد ی تکبیر نہ ک ہے۔
1477 ۔ اگر مقتد ی سہ واً امام س ے پ ہ ل ے سلام ک ہہ د ے تو اس ک ی نماز صحیح ہے اور ضرور ی نہیں کہ و ہ دوبار ہ امام ک ے سات ھ سلام ک ہے بلک ہ ظا ہ ر یہ ہے ک ہ اگر جان بوج ھ کر ب ھی امام سے پ ہ ل ے سلام ک ہہ د ے تو کوئ ی حرج نہیں ہے۔
1478 ۔ اگر مقتد ی تکبیرۃ الاحرام کے علاو ہ نماز ک ی دوسری چیزیں امام سے پ ہ ل ے پ ڑھ ل ے تو کوئ ی حرج نہیں لیکن اگر انہیں سن لے یا یہ جان لے ک ہ امام ان ہیں کس وقت پڑھ تا ہے تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ امام س ے پ ہ ل ے ن ہ پ ڑھے۔
1479 ۔ ضرور ی ہے ک ہ مقتد ی جو کچھ نماز م یں پڑھ ا جاتا ہے اس ک ے علاو ہ نماز ک ے دوسر ے افعال مثلاً رکوع اور سجود امام ک ے سات ھ یا اس سے ت ھ و ڑی دیر بعد بجالائے اور اگر و ہ ان افعا ل کو عمداً امام سے پ ہ ل ے یا اس سے کاف ی دیر بعد انجام دے تو اس ک ی جماعت باطل ہ وگ ی۔ ل یکن اگر فعادی شخص کے وظ یفے پر عمل کرے تو اس ک ی نماز صحیح ہے۔
1480 ۔ اگر مقتد ی بھ ول کر امام س ے پ ہ ل ے رکوع س ے سر ا ٹھ ال ے اور امام رکوع م یں ہی ہ و تو احت یاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ دو بارہ رکوع م یں چلاجائے اور امام ک ے سات ھ ہی سر اٹھ ائ ے۔ اس صورت م یں رکوع کی زیادتی جو کہ رکن ہے ک ہ نماز کو باطل ن ہیں کرتی لیکن اگر وہ دوبار ہ رکوع م یں جائے اور اس س ے پ یشتر کہ و ہ امام ک ے سات ھ رکوع م یں شریک ہ و امام سر ا ٹھ ال ے تو اح یتاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔
1481 ۔ اگر مقتد ی سہ واً سر سجد ے س ے ا ٹھ ال ے اور د یکھے کہ امام اب ھی سجدے م یں ہے تو احت یاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ دوبار ہ سجد ے م یں چلا جائے اور ار دونوں سجدوں م یں ایسا ہی اتفاق ہ و جائ ے تو دو سجدوں ک ے ز یادہ ہ و جان ے ک ی وجہ س ے جو ک ہ رکن ہے نماز باطل ن ہیں ہ وت ی۔
1482 ۔ جو شخص س ہ واً امام س ے پ ہ ل ے سجد ے س ے سر ا ٹھ ال ے اگر اس ے دوبار ہ سجد ے م یں جانے پر معلوم ہ و ک ہ امام پ ہ ل ے ہی سر اٹھ ا چکا ہے تو اس ک ی نماز صحیح ہے ل یکن اگر دونوں سجدوں میں ایسا ہی اتفاق ہ و جائ ے تو اح یتاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔
1483 ۔ اگر مقتد ی غلطی سے سر رکوع یا سجدہ س ے ا ٹھ ال ے اور س ہ واً یا اس خیال سے ک ہ دوبار ہ رکوع یا سجدے م یں لوٹ جان ے س ے امام ک ے سات ھ شر یک نہ ہ وسک ے گا رکوع یا سجدے م یں نہ جائ ے تو اس ک ی جماعت اور نماز صحیح ہے۔
1484 ۔ اگر مقتد ی سجدے س ے سر ا ٹھ ال ے اور د یکھے کہ امام سجد ے م یں ہے اور اس خیال سے ک ہ یہ امام کا پہ لا سجد ہ ہے اور اس ن یت سے ک ہ امام ک ے سات ھ سجد ہ کر ے ، سجد ہ م یں چلا جائے اور بعد م یں اسے معلوم ہ و ک ہ یہ امام کا دوسرا سجدہ ت ھ ا تو یہ مقتدی کا دوسرا سجدہ شمار ہ و گا ا ور اگر اس خیال سے سجد ے م یں جائے ک ہ یہ امام کا دوسرا سجدہ ہے اور بعد م یں معلوم ہ و ک ہ یہ امام کا پہ لا سجد ہ ت ھ ا تو ضرور ی ہے ک ہ اس ن یت سے سجد ہ تمام کر ے ک ہ امام ک ے سات ھ سجد ہ کر ر ہ ا ہ وں اور پ ھ ر دوبار ہ امام ک ے سات ھ سجد ے م یں جائے اور دونوں صورتوں م یں بہ تر یہ ہے ک ہ نماز کو جماعت ک ے سات ھ تمام کر ے اور پ ھ ر دوبار ہ ب ھی پڑھے۔
1485 ۔ اگر کوئ ی مقتدی سہ واً امام س ے پ ہ ل ے رکوع م یں چلا جائے اور صورت یہ ہ و ک ہ اگر دوبار ہ ق یام کی حالت میں آجائے تو امام ک ی قراءَت کا کچھ حص ہ سن سک ے تو اگر و ہ سر ا ٹھ ال ے اور دوبار ہ امام ک ے سات ھ رکوع م یں جائے تو اس ک ی نماز صحیح ہے اور اگر و ہ جان بوج ھ کر دوبار ہ ق یام کی حالت میں نہ آئ ے تو اس ک ی نماز باطل ہے۔
1486 ۔ اگر مقتد ی سہ واً امام س ے پ ہ ل ے رکوع م یں چلا جائے اور صورت یہ ہ و ک ہ اگر دوبار ہ ق یام کی حالت میں آئے تو امام ک ی قراءَت کا کوئی حصہ ن ہ سن سک ے تو اگر و ہ اس ن یت سے ک ہ امام ک ے سات ھ نماز پ ڑھے ، اپنا سر ا ٹھ ال ے اور امام ک ے سا تھ رکوع م یں جائے تو اس ک ی جماعت اور نماز صحیح ہے اور اگر و ہ عمداً دوبار ہ ق یام کی حالت میں نہ آئ ے تو اس ک ی نماز صحیح ہے ل یکن فُرادی شمار ہ وگ ی۔
1487 ۔ اگر مقتد ی غَلَطی سے امام س ے پ ہ ل ے سجد ے م یں چلا جائے تو اگر و ہ اس قصد س ے ک ہ امام ک ے سات ھ نماز پ ڑھے اپنا سر ا ٹھ ال ے اور امام ک ے سات ھ سجد ے م یں جائے تو اس ک ی جماعت اور نماز صحیح ہے اور اگر عمداً سجد ے س ے سر ن ہ ا ٹھ ائ ے تو اس ک ی نماز صحیح ہے ل یکن وہ فراد ی شمار ہ وگ ی۔
1488 ۔ اگر امام غلط ی سے ا یک ایسی رکعت میں قنوت پڑھ د ے جس م یں قنوت نہ ہ و یا ایک ایسی رکعت میں جس میں تشہ د ن ہ ہ و غلط ی سے تش ہ د پ ڑھ ن ے لگ ے تو مقتد ی کو قنوت اور تشہ د ن ہیں پڑھ نا چا ہ ئ ے ل یکن وہ امام س ے پ ہ ل ے ن ہ رکوع م یں جاسکتا ہے اور ن ہ امام ک ے ک ھڑ ا ہ ون ے س ے پ ہ ل ے ک ھڑ ا ہ و سکتا ہے بلک ہ ضرور ی ہے ک ہ امام ک ے تش ہد اور قنوت ختم کرنے تک انتظار کر ے اور باق ی ماندہ نماز اس ک ے سات ھ پ ڑھے۔
1489 ۔ اگر مقتد ی صرف ایک مرد ہ و تو مستحب ہے ک ہ و ہ امام ک ی دائیں طرف کھڑ ا ہ و اور اگر ا یک عورت ہ و تب ب ھی مستحب ہے ک ہ امام ک ی دائیں طرف کھڑی ہ و ل یکن ضروری ہے ک ہ اس ک ے سجد ہ کرن ے ک ی جگہ امام س ے اس ک ے سجد ے ک ی حالت میں دو زانوں کے فاصل ے پر ہ و ۔ اور اگر ا یک مرد اور ایک عورت یا ایک مرد اور چند عورتیں ہ وں تو مستحب ہے ک ہ مرد امام ک ی دائیں طرف اور عورت یا عورتیں امام کے پ یچھے کھڑی ہ وں ۔ اور اگر چند مرد اور ا یک یا چند عورتیں ہ وں تو مردوں کا امام ک ے پ یچھے اور عورتوں کا مردوں کے پ یچھے کھڑ ا ہ ونا مستحب ہے۔
1490 ۔ اگر امام اور مقتد ی دونوں عورتیں ہ وں تو احت یاط واجب یہ ہے ک ہ سب ا یک دوسری کے برابر برابر ک ھڑی ہ وں اور امام مقتد یوں سے آگ ے ن ہ ک ھڑی ہ و ۔
1491 ۔ مستحب ہے ک ہ امام صف ک ے درم یان میں آگے ک ھڑ ا ہ و اور صاحبان علم و فضل اور تقو ی و ورع پہ ل ی صف میں کھڑے ہ وں ۔
1492 ۔ مستحب ہے ک ہ جماعت ک ی صفیں منظم ہ وں اور جو اشخاص ا یک صف میں کھڑے ہ وں ان ک ے درم یان فاصلہ ن ہ ہ و اور ان ک ے کند ھے ا یک دوسرے ک ے کند ھ وں س ے مل ے ہ وئ ے ہ وں ۔
1493 ۔ مستحب ہے ک ہ "قَدقَامَتِ الصَّلاَ ۃ ُ " کہ ن ے ک ے بعد مقتد ی کھڑے ہ وجائ یں۔
1494 ۔ مستحب ہے ک ہ امام جماعت اس مقتد ی کی حالت کا لحاظ کرے جو دوسروں س ے کمزور ہ و اور قنوت اور رکوع اور سجود کو طول ن ہ د ے بجز اس صورت ک ے ک ہ اس ے علم ہ و ک ہ تمام و ہ اشخاص جن ہ وں ن ے اس کی اقتدا کی ہے طول د ینے کی جانب مائل ہیں۔
1495 ۔ مستحب ہے ک ہ امام جماعت الحمد اور سور ہ ن یز بلند آواز سے پ ڑھے جان ے وال ے اَذ کار پ ڑھ ت ے ہ وئ ے اپن ی آواز کو اتنا بلند کرے ک ہ دوسر ے سن سک یں لیکن ضروری ہے ک ہ آواز مناسب حد س ے ز یادہ بلند نہ کر ے۔
1496 ۔ اگر امام ک ی حالت رکوع میں معلوم ہ و جائ ے ک ہ کوئ ی شخص ابھی ابھی آیا ہے اور اقتدا کرنا چا ہ تا ہے تو مستحب ہے ک ہ رکوع کو معمول س ے دُگنا طُول د ے اور پ ھ ر ک ھڑ ا ہ و جائ ے خوا ہ اس ے معلوم ہ و جائ ے ک ہ کوئ ی دوسرا شخص بھی اقتدا کے لئ ے آ یا ہے۔
1497 ۔ اگر جماعت ک ی صفوں میں جگہ ہ و تو انسان ک ے لئ ے تن ہ ا ک ھڑ ا ہ ونا مکرو ہ ہے۔
1498 ۔ مقتد ی کا نماز کے اذکار کو اس طرح پ ڑھ نا ک ہ امام سن ل ے مکرو ہ ہے۔
1499 ۔ جو مسافر ظ ہ ر، عصر اور عشا ک ی نمازیں قصر کرکے پ ڑھ تا ہ و اس ک ے لئ ے ان نمازوں م یں کسی ایسے شخص کو اقتدا کرنا مکروہ ہے جو مسافر ن ہ ہ و اور جو شخص مسافر ن ہ ہ و اس ک ے لئ ے مکرو ہ ہے ک ہ ان نمازوں م یں مسافر کی اقتدا کرے۔
نماز آیات
1500 ۔ نماز آ یات جس کے پ ڑھ ن ے کا طر یقہ بعد میں بیان ہ وگا ت ین چیزوں کی وجہ س ے واجب ہ وت ی ہے :
ا۔ سورج گر ہ ن
2 ۔ چاند گر ہ ن، اگرچ ہ اس ک ے کچ ھ حص ے کو ہی گرہ ن لگ ے اور خوا ہ انسان پر اس ک ی وجہ س ے خوف ب ھی طاری نہ ہ وا ہ و ۔
3 ۔ زلزل ہ ، احت یاط واجب کی بنا پر، اگرچہ اس س ے کوئ ی بھی خوف زدہ ن ہ ہ وا ہ و ۔
البتہ بادلوں کی گرج، بجلی کی کڑ ک، سرخ و س یاہ آندھی اور انہی جیسی دوسری آسمانی نشانیاں جن سے اکثر لوگ خوفزد ہ ہ وجائ یں اور اسی طرح زمین کے حادثات مثلاً (در یا اور) سمندر کے پان ی کا سوکھ جانا اور پ ہ ا ڑ وں کا گرنا جن س ے اکثر لوگ خوفزد ہ ہ وجات ے ہیں ان صورتوں میں بھی احتیاط مستحب کی بنا پر نماز آیات ترک نہیں کرنا چاہ ئ ے۔
1501 ۔ جن چ یزوں کے لئ ے نماز آ یات پڑھ نا واجب ہے ک ہ اگر و ہ ا یک سے ز یادہ وقوع پذیر ہ وجائ یں تو ضروری ہے ک ہ انسان ان م یں سے ہ ر ا یک کے لئ ے ا یک نماز آیات پڑھے مثلاً اگر سورج کو ب ھی گرہ ن لگ جائ ے اور زلزل ہ ب ھی آجائے تو دونوں ک ے لئ ے دو الگ الگ نماز یں پڑھ ن ی ضروری ہیں۔
1502 ۔ اگر کس ی شخص پر کئی نماز آیات واجب ہ وں خوا ہ و ہ سب اس پر ا یک ہی چیز کی وجہ س ے واجب ہ وئ ی ہ وں مثلاً سورج کو ت ین دفعہ گر ہ ن لگا ہ و اور اس ن ے اس ک ی نمازیں نہ پ ڑھی ہ وں یا مختلف چیزوں کی وجہ س ے مثلاً سورج گر ہ ن اور چاند گر ہ ن اور زلزل ے ک ی وجہ س ے اس پر واجب ہ وئ ی ہ وں تو ان ک ی قضا کرتے وقت یہ ضروری نہیں کہ و ہ اس بات کا تع ین کرے ک ہ کون س ی قضا کون سی چیز کے لئ ے کر ر ہ ا ہے۔
1503 ۔ جن چ یزوں کے لئ ے آ یات پڑھ نا واجب ہے و ہ جس ش ہ ر م یں وقوع پذیر ہ وں فقط اس ی شہ ر ک ے لوگوں ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ نماز آ یات پڑھیں اور دوسرے مقامات ک ے لوگوں ک ے لئ ے اس کا پ ڑھ نا واجب ن ہیں ہے۔
1504 ۔ جب سورج یا چاند کو گرہ ن لگن ے لگ ے تو نماز آ یات کا وقت شروع ہ و جاتا ہے اور اس وقت تک ر ہ تا ہے جب تک و ہ اپن ی سابقہ حالت پر لو ٹ ن ہ آئ یں ۔ اگرچ ہ ب ہ تر یہ ہے ک ہ اتن ی تاخیر نہ کر ے ک ہ گر ہ ن ختم ہ ون ے لگ ے۔ ل یکن نماز آیات کی تکمیل سورج یا چاند گرہ ن ختم ہ ون ے ک ے بعد بھی کر سکتے ہیں۔
1505 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز آیات پڑھ ن ے م یں اتنی تاخیر کرے ک ہ چاند یا سورج، گرہ ن س ے نکلنا شروع ہ و جائ ے تو ادا ک ی نیت کرنے م یں کوئی حرج نہیں لیکن اگر اس کے مکمل طور پر گر ہ ن س ے نکل جان ے ک ے بعد نماز پ ڑھے تو پ ھ ر ضرور ی ہے کہ قضا ک ی نیت کرے۔
1506 ۔ اگر چاند یا سورج کو گرہ ن لگن ے ک ی مدت ایک رکعت نماز پرھ ن ے ک ے برابر یا اس سے ب ھی کم ہ و تو جو نماز و ہ پ ڑھ ر ہ ا ہے ادا ہے اور یہی حکم ہے اگر ان ک ے گر ہ ن ک ی مدت اس سے ز یادہ ہ و ل یکن انسان نماز نہ پ ڑھے یہ اں تک کہ گر ہ ن ختم ہ ون ے م یں ایک رکعت پڑھ ن ے ک ے برابر یا اس سے کم وقت باق ی ہ و ۔
1507 ۔ جب کب ھی زلزلہ ، بادلوں ک ی گرج، بجلی کی کڑ ک، اور اس ی جیسی چیزیں وقوع پذیر ہ وں تو اگر ان کا وقت وس یع ہ و تو نماز آ یات کو فوراً پڑھ نا ضرور ی نہیں ہے بصورت د یگر ضروری ہے ک ہ فوراً نماز آ یات پڑھے یعنی اتنی جلدی پڑھے ک ہ لوگوں ک ی نظروں میں تاخیر کرنا شمار نہ ہ و اور اگر تاخیر کرے تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ بعد م یں ادا اور قضا کی نیت کئے بغ یر پڑھے۔
1508 ۔ اگر کس ی شخص کو چاند یا سورت کو گرہ ن لگن ے کا پت ہ ن ہ چل ے اور ان ک ے گر ہ ن س ے با ہ ر آن ے ک ے بعد پت ہ چل ے ک ہ پور ے سورج یا پورے چاند کو گر ہ ن لگا ت ھ ا تو ضرور ی ہے ک ہ نماز آ یات کی قضا کرے ل یکن اگر اسے یہ پتہ چل ے ک ہ کچ ھ حص ے کو گر ہ ن لگا ت ھ ا تو ضرور ی ہے ک ہ نماز آ یات کی قضا کرے ل یکن اگر اسے یہ پتہ چل ے ک ہ کچ ھ حص ے کو گر ہ ن لگا ت ھ ا تو نماز آ یات کی قضا اس پر واجب نہیں ہے۔
1509 ۔ اگر کچ ھ لوگ یہ کہیں کہ چاند کو یا یہ کہ سورج کو گر ہ ن لگا ہے اور انسان کو ذات ی طور پر ان کے ک ہ ن ے س ے یقین یا اطمینان حاصل نہ ہ و اس لئ ے و ہ نماز آ یات نہ پ ڑھے اور بعد م یں پتہ چل ے ک ہ ان ہ وں ن ے ٹھیک کہ ا ت ھ ا تو اس صورت م یں جب کہ پور ے چاند کو یا پورے سورج کو گ رہ ن لگا ہ و ن ماز آیات پڑھے ل یکن اگر کچھ حص ے کو گر ہ ن لگا ہ و تو نماز آ یات کا پڑھ نا اس پر واجب ن ہیں ہے۔ اور یہی حکم اس صورت میں ہے جب ک ہ دو آدم ی جن کے عادل ہ ون ے ک ے بار ے م یں علم نہ ہ و یہ کہیں کہ چاند کو یا سورج کو گرہ ن لگا ہے اور بعد م یں معلوم ہ و ک ہ و ہ عادل تھے۔
1510 ۔ اگر انسان کو ما ہ ر ین فلکیات کے ک ہ ن ے پر جو علم ی قاعدے ک ی رو سے سورج کو اور چاند کو گر ہ ن لگن ے کا وقت جانت ے ہ وں اطم ینان ہ وجائ ے ک ہ سورج کو یا چاند کو گرہ ن لگا ہے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز آ یات پڑھے اور اس ی طرح اگر وہ ک ہیں کہ سورج یا چاند کو فلاں وقت گرہ ن لگ ے گ ا اور اتنی دیر تک رہے گا اور انسان کو ان ک ے ک ہ ن ے س ے اطم ینان حاصل ہ وجائ ے تو ان ک ے ک ہ ن ے پر عمل کرنا ضرور ی ہے۔
1511 ۔ اگر کس ی شخص کو علم ہ وجائ ے ک ہ جو نماز آ یات اس نے پ ڑھی ہے و ہ باطل ت ھی تو ضروری ہے ک ہ دوبار ہ پ ڑھے اور اگر وقت گزر گ یا ہ و تو اس ک ی قضا بجالائے۔
1512 ۔ اگر یومیہ نماز کے وقت نماز آ یات بھی انسان پر واجب ہ و جائ ے اور اس ک ے پاس دونوں ک ے لئ ے وقت ہ و تو جو ب ھی پہ ل ے پ ڑھ ل ے کوئ ی حرج نہیں ہے اور اگر دونوں م یں سے کس ی ایک کا وقت تنگ ہ و تو پ ہ ل ے و ہ نماز پ ڑھے جس کا وقت تنگ ہ و اور اگر دونوں کا وقت تنگ ہ و تو ضرور ی ہے کہ پ ہ ل ے یومیہ نماز پڑھے۔
1513 ۔ اگر کس ی شخص کو یومیہ نماز پڑھ ت ے ہ وئ ے علم ہ و جائ ے ک ہ نماز آ یات کا وقت تنگ ہے اور یومیہ نماز کا وقت بھی تنگ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ پ ہ ل ے یومیہ نماز کو تمام کرے اور بعد م یں نماز آیات پڑھے اور اگر یومیہ نماز کا وقت تنگ نہ ہ و تو اس ے تو ڑ د ے اور پ ہے نماز آ یات اور اس کے بعد یومیہ نماز بجالائے۔
1514 ۔ اگر کس ی شخص کو نماز آیات پڑھ ت ے ہ وئ ے علم ہ وجائ ے ک ہ یومیہ نماز کا وقت تنگ ہے تو ضرور ی ہے ک ہ نماز آ یات کو چھ و ڑ د ے اور یومیہ نماز پڑھ ن ے م یں مشغول ہ و جائ ے اور یومیہ نماز کو تمام کرنے ک ے بعد اس س ے پ ہ ل ے ک ہ کوئ ی ایسا کام کرے جو نماز کو باطل کرتا ہ و باق ی ماندہ نماز آیات وہیں سے پ ڑھے ج ہ اں س ے چ ھ و ڑی تھی۔
1515 ۔ جب عورت ح یض یا نفاس کی حالت میں ہ و اور سورج یا چاند کو گرہ ن لگ جائ ے یا زلزلہ آجائ ے تو اس پر نماز آ یات واجب نہیں ہے اور ن ہ ہی اس کی قضا ہے۔
1516 ۔ نماز آ یات کی دو رکعتیں ہیں اور ہ ر رکعت م یں پانچ رکوع ہیں۔ اس ک ے پ ڑھ ن ے کا طر یقہ یہ ہے ک ہ ن یت کرنے ک ے بعد انسان تکب یر کہے اور ا یک دفعہ الحمد اور ا یک پورا سورہ پ ڑھے اور رکوع م یں جائے اور پ ھ ر رکوع س ے سر ا ٹھ ائ ے پ ھ ر دوبار ہ ا یک دفعہ الحمد اور ا یک سورہ پ ڑھے اور پھ ر رکوع م یں جائے۔ اس عمل کو پانچ دفع ہ انجام د ے اور پانچو یں رکوع سے ق یام کی حالت میں آنے ک ے بعد دو سجد ے بجالائ ے اور پ ھ ر ا ٹھ ک ھڑ ا ہ و اور پ ہ ل ی رکعت کی طرح دوسری رکعت بجالائے اور تشہ د اور سلام پ ڑھ کر نماز تمام کر ے۔
1517 ۔ نماز آ یات میں یہ بھی ممکن یہ کہ انسان ن یت کرنے اور تکب یر اور الحمد پڑھ ن ے ک ے بعد ا یک سورے ک ی آیتوں کے پانچ حص ے کر ے اور ا یک آیت یا اس سے کچ ھ ز یادہ پڑھے اور بلک ہ ا یک آیت سے کم ب ھی پڑھ سکتا ہے ل یکن احتیاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ مکمل جمل ہ ہ و اور اس ک ے ب عد رکوع میں جائے اور پ ھ ر ک ھڑ ا ہ و جائ ے اور الحمد پ ڑھے بغ یر اسی سورہ کا دوسرا حص ہ پ ڑھے اور رکوع م یں جائے اور اس ی طرح اس عمل کو دہ راتا ر ہے حت ی کہ پانچو یں رکوع سے پ ہ ل ے سور ے کو ختم کرد ے مثلاً سور ہ فلق م یں پہ ل ے بِسمِ الل ہ الرَّحمٰنِ الرَّحِ یمِ ۔ قُل اَعُوذُ بِرَ بِّ الفَلَقِ ۔ پ ڑھے اور رکوع م یں جائے اس ک ے بعد ک ھڑ ا ہ و اور پ ڑھے مِن شَرَّ مَاخَلَقَ ۔ اور دوبار ہ رکوع م یں جائے اور رکوع ک ے بعد ک ھڑ ا ہ و اور پ ڑھے۔ وَمِن شَرِّغَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ ۔ پ ھ ر رکوع م یں جائے اور پھ ر ک ھڑ ا ہ و اور پ ڑھے ومِن شِرّالنَّفّٰثٰتِ فِ ی العُقَدِ اور رکوع میں چلا جائے اور پ ھ ر ک ھڑ ا ہ و جائ ے اور پ ڑھے وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ ۔ اور اس ک ے بعد پانچو یں رکوع میں جائے اور (رکوع س ے ) ک ھڑ ا ہ ون ے ک ے بعد دو سجد ے کر ے اور دوسر ی رکعت بھی پہ ل ی رکعت کی طرح بجالائے اور اس ک ے دوسر ے سجد ے ک ے بعد تش ہ د اور سلام پ ڑھے۔ اور یہ بھی جائز ہے ک ہ سور ے کو پانچ س ے کم حصوں م یں تقسیم کرے ل یکن جس وقت بھی سورہ ختم کر ے لازم ہے ک ہ بعد وال ے رکوع س ے پ ہ ل ے الحمد پ ڑھے۔
1518 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز آیات کی ایک رکعت میں پانچ دفعہ الحمد ا ور سورہ پ ڑھے اور دوسر ی رکعت میں ایک دفعہ الحمد پ ڑھے اور سور ے کو پانچ حصوں م یں تقسیم کر دے تو کوئ ی حرج نہیں ہے۔
1519 ۔ جو چ یزیں یومیہ نماز میں واجب اور مستحب ہیں البتہ اگر نماز آ یات جماعت کے سات ھ ہ و ر ہی ہ و تو اذان اور اقامت ک ی بجائے ت ین دفعہ بطور رَجَاء "اَلصَّلوٰ ۃ" کہ ا جائ ے ل یکن اگر یہ نماز جماعت کے سات ھ ن ہ پ ڑھی جارہی ہ و تو کچ ھ ک ہ ن ے ک ی ضرورت نہیں ۔
1520 ۔ نماز آ یات پڑھ ن ے وال ے ک ے لئ ے مستحب ہے ک ہ رکوع س ے پ ہ ل ے اور اس ک ے بعد تکب یر کہے اور پانچو یں اور دسویں رکوع کے بعد تکب یر سے پ ہ ل ے "سَمَعِ اللہ لِمَن حَمِدَ ہ " ب ھی کہے۔
1521 ۔ دوسر ے ، چوت ھے ، چ ھٹے ، آ ٹھ و یں اور دسویں رکوع سے پ ہ ل ے قنوت پ ڑھ نا مستحب ہے اور اگر قنوت صرف دسو یں رکوع سے پ ہ ل ے پ ڑھ ل یا جائے تب ب ھی کافی ہے۔
1522 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز آیات میں شک کرے ک ہ کتن ی رکعتیں پڑھی ہیں اور کسی نتیجے پر نہ پ ہ نچ سک ے تو اس ک ی نماز باطل ہے۔
1523 ۔ اگر (کوئ ی شخص جو نماز آیات پڑھ ر ہ ا ہ و) شک کر ے ک ہ و ہ پ ہ ل ی رکعت کے آخر ی رکوع میں ہے یا دوسری رکعت کے پ ہ ل ے رکوع م یں اور کسی نتیجے پر نہ پ ہ نچ سک ے تو اس ک ی نماز باطل ہے ل یکن اگر مثال کے طور پر شک کر ے ک ہ چار رکوع بجا لایا ہے یا پانچ اور اس کا یہ شک سجدے م یں جانے س ے پ ہ ل ے ہ و تو جس رکوع ک ے بار ے م یں اسے شک ہ و ک ہ بجالا یا ہے یا نہیں اسے ادا کرنا ضرور ی ہے ل یکن اگر سجدے ک ے لئ ے ج ھ ک گ یا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اپن ے شک ک ی پروانہ کر ے۔
1524 ۔ نماز آ یات کا ہ ر رکوع رکن ہے اور اگر ان م یں عمداً کمی یا بیشی ہ و جائ ے تو نماز باطل ہے۔ اور یہی حکم ہے اگر س ہ واً کم ی ہ و یا احتیاط کی بنا پر زیادہ ہ و ۔
1525 ۔ امام عصر عل یہ السلام کے زمان ہ حضور م یں عید فطر و عید قربان کی نمازیں واجب ہیں اور ان کا جماعت کے سات ھ پ ڑھ نا ضرور ی ہے ل یکن ہ مار ے زمان ے م یں جب کہ امام عصر عل یہ السلام عَیبَت کبری میں ہیں یہ نمازیں مستحب ہیں اور باجماعت یا فرادی دونوں طرح پڑھی جاسکتی ہیں۔
1526 ۔ نماز ع ید فطر و قربان کا وقت عید کے دن طلوع آفتاب س ے ظ ہ ر تک ہے۔
1527 ۔ ع ید قربان کی نماز سورج چڑھ آن ے ک ے بعد پ ڑھ نا مستحب ہے اور ع ید فطر میں مستحب ہے ک ہ سورج چ ڑھ آن ے ک ے بعد افطار ک یا جائے ، فطر ہ د یا جائے اور بعد م یں دو گانہ ع ید ادا کیا جائے۔
1528 ۔ ع ید فطر و قربان کی نماز دو رکعت ہے جس ک ی پہ ل ی رکعت میں الحمد اور سورہ پ ڑھ ن ے ک ے بعد ب ہ تر یہ ہے ک ہ پانچ تکب یریں کہے اور ہ ر دو تکب یر کے درم یان ایک قنوت پڑھے اور پانچو یں تکبیر کے بعد ا یک اور تکبیر کہے اور رکوع م یں چلاجائے اور پ ھ ر دو سجد ے بجالائ ے اور ا ٹھ کھڑ ا ہ و اور دوسر ی رکعت چار تکبیریں کہے اور ہ ر دو تکب یر کے درم یان قنوت پڑھے اور چوت ھی تکبیر کے بعد ا یک اور تکبیر کہہ کر رکوع م یں چلاجائے اور رکوع ک ے بعد دو سجد ے کر ے اور تش ہ د پ ڑھے اور چوت ھی تکبیر کے بعد ا یک اور تکبیر کہہ کر رکوع م یں چلا جائے اور رکوع ک ے بعد دو سجدے کر ے اور تش ہ د پ ڑھے اور سلام ک ہہ کرنماز کو تمام کر د ے۔
1529 ۔ ع ید فطر و قربان کی نماز کے قنوت م یں جو دعا اور ذکر کر بھی پڑھی جائے۔
"اَللّٰھ ُمَّ اَ ھ لَ الِکبرِ یَآءِ وَالعَظَمَۃ ِ وَ اَھ لَ الجُودِ وَالجَبَرُوتِ وَ اَ ھ لَ العَفوِ وَالرَّحمَ ہ وَ اَ ھ لَ التَّقوٰ ی وَ المَغِفَرۃ ِ اَسئَلُکَ بِحَقِّ ھ ٰذَا ال یَومِ الَّذِی جَعَلتَہ لِلمُسلِمِ ینَ عِیداً وَّلِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللہ عَلَ یہ وَاٰلِہ ذُخر ًا وَّ شَرَفاً وَّ کَرَامَۃ ً وَّ مَزِیدًا اَن تُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍوَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ اَن تُدخِلنِی فِی کُلِّ خَیرٍ اَدخَلتَ فِیہ مُحَمَّدًا وَّ اٰلَ مُحَمَّدٍ وَّ اَن تُخرِجَنیِ مِن کُلِّ سُوٓءٍ اَخرَجتَ مِنہ مُحَمَّدًا وَّ اٰلَ مُحَمَّدٍ صَلَوَات ُکَ عَلَیہ وَ عَلَیھ ِم اَللّٰھ ُمَّ اِنِّ یٓ اَساَلُکَ خَیرَ مَا سَئَلکَ بِہ عِبَادَکَ الصَّالِحُونَ وَاَعُوذُبِکَ مِمَّا استَعَاذَ مِن ہ عِبَادُکَ المُخلِصُونَ" ۔
1530 ۔ امام عصر عل یہ السلام کے زمان ہ غ یبت میں اگر نماز عید فطر و قربان جماعت سے پ ڑھی جائے تو احت یاط لازم یہ ہے ک ہ اس ک ے بعد دو خطب ے پ ڑھے جائ یں اور بہ تر یہ ہے ک ہ ع ید فطر کے خطب ے م یں فطرے ک ے احکام ب یان ہ وں اور ع ید قربان کے خطب ے م یں قربانی کے احکام ب یان کئے جا ئیں۔
1531 ۔ ع ید کی نماز کے لئ ے کوئ ی سورہ مخصو ص نہیں ہے ل یکن بہ تر ہے ک ہ پ ہ ل ی رکعت میں (الحمد کے بع) سور ہ شمس ( 91 واں سورہ ) پ ڑھ ا جائ ے اور دوسر ی رکعت میں (الحمد کے بعد) سور ہ غاش یہ ( 88 واں سورہ ) پ ڑھ ا جائ ے یا پہ ل ی رکعت میں سورہ اعل ی ( 87 واں سورہ ) اور دوسر ی رکعت میں سورہ شمس پڑھ ا جائ ے۔
1532 ۔ نماز ع ید کھ ل ے م یدان میں پڑھ نا مستحب ہے مک ہ مکرم ہ م یں مستحب ہے ک ہ مسجد الحرام م یں پڑھی جائے۔
1533 ۔ مستحب ہے ک ہ نماز ع ید کے لئ ے پ یدل اور پا برہ ن ہ اور باوقار طور پر جائ یں اور نماز سے پ ہ ل ے غسل کر یں اور سفید عمامہ سر پر باند ھیں۔
1534 ۔ مستحب ہے ک ہ نماز ع ید میں زمین پر سجدہ ک یا جائے اور تکب یریں کہ ت ے وقت ہ ات ھ وں کو بلند ک یا جائے اور جو شخص نماز ع ید پڑھ ر ہ ا ہ و خوا ہ و ہ امام جماعت ہ و یافرادی نماز پڑھ ر ہ ا ہ و نماز بلند آواز س ے پ ڑھے۔
1535 ۔ مستحب ہے ک ہ ع ید فطر کی رات کی مغرب و عشا نماز کے بعد اور ع ید فطر کے دن نماز صبح ک ے بعد اور نماز ع ید فطر کے بعد یہ تکبیریں کہی جائیں۔
" اَللہ اَکبَرُ ۔ اَلل ہ اَکبَرُ، لآَ اِلٰ ہ اِلاَّ الل ہ وَالل ہ اَکبَرُ، اَلل ہ اَکبَرُ وَلِلّٰ ہ الَحمدُ، اَلل ہ اَکبرُ عَلٰ ی مَاھ َدَانَا" ۔
1536 ۔ ع ید قربان میں دس نمازوں کے بعد جن م یں سے پ ہ ل ی نماز عید کے دن ک ی نماز ظہ ر ہے اور آخر ی بارہ و یں تاریخ کی نماز صبح ہے ان تکب یرات کا پڑھ نا مستحب ہے جن کا ذکر سابق ہ مسئل ہ م یں ہ وچکا ہے اور ان ک ے بعد ۔ اَلل ہ اَکبَرُ عَلٰ ی مَاَرَزَقَنَا مِن بَہیمَۃ ِ الاَنعَامِ وَالحَمدُ لِلّٰہ عَل یٰ مَآ اَبلاَنَا" پڑھنا بھی مستحب ہے ل یکن اگر عید قربان کے موقع پر انسان من ی میں ہ و تو مستحب ہے ک ہ یہ تکبیریں پندرہ نمازوں ک ے بعد پ ڑھے جن م یں سے پ ہ ل ی نماز عید کے دن نماز ظ ہ ر ہے اور آخر ی تیرہ و یں ذی الحجہ ک ی نماز صبح ہے۔
1537 ۔ نماز ع ید میں بھی دوسری نمازوں کی طرح مقتدی کو چاہ ئ ے ک ہ الحمد اور سور ہ ک ے علاو ہ نماز ک ے اذکار خود پ ڑھے۔
1539 ۔ اگر مقتد ی اس وقت پہ نچ ے جب امام نماز ک ی کچھ تکب یریں کہہ چکا ہ و تو امام ک ے رکوع م یں جانے ک ے بعد ضرور ی ہے جتن ی تکبیریں اور قنوت اس نے امام ک ے سات ھ ن ہیں پڑھی انہیں پڑھے اور اگر ہ ر قنوت م یں ایک دفعہ "سُبحاَنَ الل ہ " یا ایک دفعہ "اَلحَمدُلِلّٰ ہ " ک ہہ د ے تو ک افی ہے۔
1540 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز عید میں اس وقت پہ نچ ے جب امام رکوع م یں ہ و تو و ہ ن یت کرکے اور نماز ک ی پہ ل ی تکبیر کہہ کر رکوع م یں جاسکتا ہے۔
1541 ۔ اگر کوئ ی شخص نماز عید میں ایک سجدہ ب ھ ول جائ ے تو ضرو ری ہے ک ہ نماز ک ے بعد اس ے بجا لائ ے۔ اور اس ی طرح اگر کوئی ایسا فعل نماز عید میں سر زد ہ و جس ک ے لئ ے یومیہ نماز میں سجدہ س ہ و لازم ہے تو نماز ع ید پڑھ ن ے وال ے ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ دو سجد ہ س ہ و بجالائ ے۔
نماز کے لئ ے اج یر بنانا (یعنی اجرت دے کر نماز پ ڑھ وانا)
1542 ۔ انسان ک ے مرن ے ک ے بعد ان نمازوں اور دوسر ی عبادتوں کے لئ ے جو و ہ زندگ ی میں نہ بجالا یا ہ و کس ی دوسرے شخص کو اج یر بنایا جاسکتا ہے یعنی وہ نماز یں اسے اجرت د ے کر پ ڑھ وائ ی جاسکتی ہیں اور اگر کوئی شخص بغیر اجرت لئے ان نمازوں اور دوسر ی عبادتوں کو بجالائے تب ب ھی صحیح ہے۔
1543 ۔ انسان بعض مستحب کاموں مثلاً حج و عمر ے اور روض ہ رسول (صل ی اللہ عل یہ وآلہ ) یا قُبورِائمہ عل یہ م السلام کی زیارت کے لئ ے زند ہ اشخاص ک ی طرف سے اج یر بن سکتا ہے اور یہ بھی کر سکتا ہے۔ ک ہ مستحب کام انجام د ے کر اس کا ثواب مرد ہ یا زندہ اشخاص کو ہ د یہ کر دے۔
1544 ۔ جو شخص م یت کی قضا نماز کے لئ ے اج یر بنے اس ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ یا تو مجتہ د ہ و یا نماز تقلید کے مطابق صح یح طریقے پر ادا کرے یا احتیاط پر عمل کرے بشرط یکہ مَوَارِدِ احتیاط کو پوری طرح جانتا ہ و ۔
1545 ۔ ضرور ی ہے ک ہ اج یر نیت کرتے وقت م یت کو معین کرے او ر ضروری نہیں کہ م یت کا نام جانتا ہ و بلک ہ اگر ن یت کرے ک ہ م یں یہ نماز اس شخص کے لئ ے پ ڑھ ر ہ ا ہ وں جس ک ے لئ ے م یں اجیر ہ وا ہ وں تو کاف ی ہے۔
1546 ۔ ضرور ی ہے ک ہ اج یر جو عمل بجالائے اس ک ے لئ ے ن یت کے ک ہ جو کچ ھ م یت کے ذم ے ہے و ہ بجا لا ر ہ ا ہ وں اور اگر اج یر کوئی عمل انجام دے اور اس کا ثواب م یت کو ہ د یہ کر دے تو تو یہ کافی نہیں ہے۔
1547 ۔ اج یر ایسے شخص کو مقرر کرنا ضروری ہے جس ک ے بار ے م یں اطمینان ہ و ک ہ و ہ عمل کو بجالائ ے گا ۔
1548 ۔ جس شخص کو م یت کی نمازوں کے لئ ے اج یر بنایا جائے اگر اس ک ے بار ے م یں پتہ چل ے ک ہ و ہ عمل کو بجا نہیں لایا باطل طور پر بجا لایا ہے تو دوبار ہ (کس ی دوسرے شخص کو) اج یر مقرر کرنا ضروری ہے۔
1549 ۔ جب کوئ ی شخص شک کرے ک ہ اج یر نے عمل انجام د یا ہے یا نہیں اگرچہ و ہ ک ہے ک ہ م یں نے انجام د ے د یا ہے ل یکن اس کی بات پر اطمینان نہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ دوبار ہ اج یر مقرر کرے۔ اور اگر شک کر ے ک ہ اس ن ے صح یح طور پر انجام دیا ہے یا نہیں تو اسے صح یح سمجھ سکتا ہے۔
1550 ۔ جو شخص کوئ ی عذر رکھ تا ہ و مثلاً ت یمم کرکے یا بیٹھ کر نماز پڑھ تا ہ و اس ے احت یاط کی بنا پر میت کی نمازوں کے لئ ے اج یر بالکل مقرر نہ ک یا جائے اگرچ ہ م یت کی نمازیں بھی اسی طرح قضا ہ وئ ی ہ وں ۔
1551 ۔ مرد عورت ک ی طرف سے اج یر بن سکتا ہے اور عورت مرد ک ی طرف سے اج یر بن سکتی ہے اور ج ہ اں تک نماز بلند آواز س ے پ ڑھ ن ے کا سوال ہے ضرور ی ہے ک ہ اج یر اپنے وظ یفے کے مطابق عمل کر ے۔
1552 ۔ م یت کی قضا نمازوں میں ترتیب واجب نہیں ہے سوائ ے ان نمازوں ک ے جن ک ی ادا میں ترتیب ہے مثلا ا یک دن کی نماز ظہ ر و عصر یا مغرب و عشا جیسا کہ پ ہ ل ے ذکر ہ و چکا ہے۔
1553 ۔ اگر اج یر کے سات ھ ط ے ک یا جائے ک ہ عمل کو ا یک مخصوص طریقے سے انجام د ے گا تو ضرور ی ہے ک ہ اس عمل کو اس ی طریقے سے انجام د ے اور اگر کچ ھ ط ے نہ ہ وا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ عمل اپن ے وظ یفے کے مطابق انجام د ے اور اح یتاط مستحب یہ ہے ک ہ اپن ے وظ یفے میں سے جوب ھی احتیاط کے زیادہ قریب ہ و اس پر عمل کر ے مثلاً اگر م یت کا وظیفہ تسبیحات اربعہ ت ین دفعہ پ ڑھ نا ت ھ ا اور اس ک ی اپنی تکلیف ایک دفعہ پ ڑھ نا ہ و تو ت ین دفعہ پ ڑھے۔
1554 ۔ اگر اج یر کے سات ھ یہ طے ن ہ ک یا جائے ک ہ نماز ک ے مستحبات کس مقدار م یں پڑھے گا تو ضرور ی ہے ک ہ عموماً جتن ے مستحبات پ ڑھے جات ے ہیں انہیں بجالائے۔
1555 ۔ اگر انسان م یت کی قضا نمازوں کے لئ ے کئ ی اشخاص کو اجیر مقرر کرے تو جو کچ ھ مسئل ہ 1552 بتایا گیا ہے اس ک ی بنا پر ضروری نہیں کہ و ہ ہ ر اج یر کے لئ ے وقت مع ین کرے۔
1556 ۔ اگر کوئ ی شخص اجیر بنے ک ہ مثال ک ے طور پر ا یک سال میں میت کی نمازیں پڑھ د ے گا اور سال ختم ہ ون ے س ے پ ہ ل ے مرجائ ے تو ان نمازوں ک ے لئ ے جن ک ے بار ے م یں علم ہ و ک ہ و ہ بجا ن ہیں لایا کسی اور شخص کو اجیر مقرر کیا جائے اور جن نمازوں ک ے بار ے م یں احتمال ہ و ک ہ و ہ ان ہیں نہیں بجالایا احتیاط واجب کی بنا پر ان کے لئ ے ب ھی اجیر مقررکیا جائے۔
1557 ۔ جس شخص کو م یت کی قضا نمازوں کے لئ ے اج یر مقرر کیا ہ و اور اس ن ے ان سب نمازوں ک ی اجرت بھی وصول کر لی ہ و اگر و ہ سار ی نمازیں پڑھ ن ے س ے پ ہ ل ے مرجائ ے تو اگر اس ک ے سات ھ یہ طے ک یا گیا ہ و ک ہ سار ی نمازیں وہ خود ہی پڑھے گا تو اجرت د ینے والے باق ی نمازوں کی طے شد ہ اج رت واپس لے سکت ے ہیں یا اجارہ کو فسخ کر سکت ے ہیں اور اس کی اجرات المثل دے سکت ے ہیں۔ اور اگر یہ طے ن ہ ک یا گیا ہ و ک ہ سار ی نمازیں اجیر خود پڑھے گا تو ضرور ی ہے ک ہ اج یر کے ورثاء اس ک ے مال س ے باق یماندہ نمازوں کے لئ ے کس ی کو اجیر بنائیں لیکن اگر اس نے کوئ ی مال نہ چ ھوڑ ا ہ و تو اس ک ے ورثاء پر کچ ھ ب ھی واجب نہیں ہے۔
1558 ۔ اگر اج یر میت کی سب قضا نمازیں پڑھ ن ے س ے پ ہ ل ے مرجائ ے اور اس ک ے اپن ے ذم ے ب ھی قضا نمازیں ہ وں تو مسئل ہ سابق ہ م یں جو طریقہ بتایا گیا ہے اس پر عمل کرن ے ک ے بعد اگر فوت شد ہ اج یر کے مال س ے کچ ھ بچ ے اور اس صورت م یں جب کہ اس ن ے وص یت کی ہ و اور اس ک ے ورثاء ب ھی اجازت دیں تو اس کی سب نمازوں کے لئ ے اج یر مقرر کیاجاسکتا ہے اور اگر ورثاء اجازت ن ہ د یں تو مال کا تیسرا حصہ اس ک ی نمازوں پر صرف کیا جاسکتا ہے۔
روزے کے احکام
(شریعت اسلام میں) روزہ س ے مراد ہے خداوند عالم ک ی رضا کے لئ ے انسان اذان صبح س ے مغرب تک نوچ یزوں سے جو بعد م یں بیان کی جائیں گی پرہیز کرے۔
1559 ۔ انسان ک ے لئ ے روز ے ک ی نیت دل سے گزارنا یا مثلاً یہ کہ نا ک ہ "م یں کل روزہ رک ھ وں گا" ضرور ی نہیں بلکہ اس کا اراد ہ کرنا کاف ی ہے ک ہ و ہ الل ہ تعال ی کی رضا کے لئ ے اذان صبح س ے مغرب تک کوئ ی ایسا کام نہیں کرے گا جس س ے روز ہ باطل ہ وتا ہ و اور یقین حاصل کرنے ک ے لئ ے اس تمام وقت میں وہ روز ے س ے ر ہ ا ہے ضرور ی ہے ک ہ کچ ھ د یر اذان صبح سے پ ہ ل ے اور کچ ھ د یر مغرب کے بعد ب ھی ایسے کام کرنے س ے پر ہیز کرے جن س ے روز ہ باطل ہ و جاتا ہے۔
1560 ۔ انسان ما ہ رمضان المبارک ک ی ہ ر رات کو اس س ے اگل ے دن ک ے روز ے ک ی نیت کر سکتا ہے۔ اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ اس م ہینے کی پہ ل ی رات کو ہی سارے م ہینے کے روزوں ک ی نیت کرے۔
1561 ۔ و ہ شخص جس کا روز ہ رک ھ ن ے کا اراد ہ ہ و اس ک ے لئ ے ما ہ رمضان م یں روزے ک ی نیت کا آخری وقت اذان صبح سے پ ہ ل ے ہے۔ یعنی اذان صبح سے پ ہ ل ے روز ے ک ی نیت ضروری ہے اگرچ ہ ن یند یا ایسی ہی کسی وجہ س ے اپ نے اراد ے ک ی طرف متوجہ ن ہ ہ و ۔
1562 ۔ جس شخص ن ے ا یسا کوئی کام نہ ک یا ہ و جو روز ے کو باطل کر ے تو و ہ جس وقت ب ھی دن میں مستحب روزے ک ی نیت کرلے اگرچ ہ مغرب ہ ون ے م یں کم وقت ہی رہ گ یا ہ و، اس کا روز ہ صح یح ہے۔
1563 ۔ جو شخص ما ہ رمضان المبارک ک ے روزوں اور اس ی طرح واجب روزوں میں جن کے دن مع ین ہیں روزے ک ی نیت کئے بغ یر اذان صبح سے پ ہ ل ے سوجائ ے اگر و ہ ظ ہ ر س ے پ ہ ل ے ب یدار ہ و جائ ے اور روز ے ک ی نیت کرے تو اس کا روز ہ صح یح ہے اور اگر و ہ ظ ہ ر ک ے بعد ب یدار ہ و تو احت یاط کی بناپر ضروری ہے ک ہ قربت مطلق ہ ک ی نیت نہ کر ے اور اس دن ک ے روز ے ک ی قضا بھی بجالائے۔
1564 ۔ اگر کوئ ی شخص ماہ رمضان المبارک ک ے روز ے ک ے علاو ہ کوئ ی دوسرا روزہ رک ھ نا چا ہے تو ضرور ی ہے ک ہ اس روز ے کو مع ین کرے مثلاً ن یت کرے ک ہ م یں قضاکا یا کفار کا روزہ رک ھ ر ہ ا ہ وں ل یکن ماہ رمضان المبارک م یں یہ نیت کرنا ضروری نہیں کہ م یں ماہ رمضان ک ا روزہ ک ھ ر ہ ا ہ وں بلکہ اگر کسی کو علم نہ ہ و یا بھ ول جائ ے ک ہ ما ہ رمضان ہے اور کس ی دوسرے روز ے ک ی نیت کرے تب ب ھی وہ روز ہ ما ہ رمضان کا روز ہ شمار ہ وگا ۔
1565 ۔ اگر کوئ ی شخص جانتا ہ و ک ہ رمضان کا م ہینہ ہے اور جان بوج ھ کر ما ہ رمضان ک ے روز ے ک ے علاو ہ کس ی دوسرے روز ے ک ی نیت کرے تو و ہ روز ہ جس ک ی اس نے ن یت کی ہے و ہ روز ہ شمار ن ہیں ہ وگا اور اس ی طرح ماہ رمضان کا روز ہ ب ھی شمار نہیں ہ وگا اگر و ہ ن یت قصد قربت کے مناف ی ہ و ب لکہ اگر منافی نہ ہ و تب ب ھی احتیاط کی بنا پر وہ روز ہ ما ہ رمضان کا روز ہ شمار ن ہیں ہ وگا ۔
1566 ۔ مثال ک ے طور پر اگ ر کوئی شخص ماہ رمضان المبارک ک ے پ ہ ل ے روز ے ک ی نیت کرے ل یکن بعد میں معلوم ہ وک ہ یہ دوسرا یا تیسرا روزہ ت ھ ا تو اس کا روز ہ صح یح ہے۔
1567 ۔ اگر کوئ ی شخص اذان صبح سے پ ہ ل ے روز ے ک ی نیت کرنے ک ے بعد ب ے ہ وش ہ وجائ ے اور پ ھ ر اس ے دن م یں کسی وقت ہ وش آجائ ے تو احت یاط واجب کی بنا پر ضروری ہے ک ہ اس دن کا روز ہ تمام کر ے اور اگر تمام ن ہ کرسک ے تو اس ک ی قضا بجالائے۔
1568 ۔ اگر کوئ ی شخص اذان صبح سے پ ہ ل ے روز ے ک ی نیت کرے اور پ ھ ر ب ے حواس ہ و جائ ے اور پ ھ ر اس ے دن م یں کسی وقت ہ وش آجائ ے تو احت یاط واجب یہ ہے ک ہ اس دن کا روز ہ تمام کر ے اور اس ک ی قضا بھی بجالائے۔
1569 ۔ اگر کوئ ی شخص اذان صبح سے پ ہ ل ے روز ے ک ی نیت کرے اور سوجائ ے اور مغرب ک ے بعد ب یدار ہ و تو اس کا روز ہ صبح ہے۔
1570 ۔ اگر کس ی شخص کو علم نہ ہ و یا بھ ول جائ ے ک ہ ما ہ رمضان ہے اور ظ ہ ر س ے پ ہ ل ے اس امر ک ی جانب متوجہ ہ و اور اس دوران کوئ ی ایسا کام کر چکا ہ و جو روز ے کو باطل کرتا ہے تو اس کا روز ہ باطل ہ وگا ل یکن ضروری ہے ک ہ مغرب تک کوئ ی ایسا کام نہ کر ے جو روز ے کو باطل کرتا ہ و ا ور ماہ رمضان ک ے بعد روز ے ک ی قضا بھی کرے۔ اور اگر ظ ہ ر ک ے بعد متوج ہ ہ و ک ہ رمضان کا م ہینہ ہے تو احت یاط کی بنا پر یہی حکم ہے اور اگ ر ظہ ر س ے پ ہ ل ے متوج ہ ہ و اور کوئ ی ایسا کام بھی نہ ک یا ہ و جو روز ے کو باطل کرتا ہ و تو اس کا روز ہ صح یح ہے۔
1571 ۔ اگر ما ہ رمضان م یں بچہ اذان صبح س ے پ ہ ل ے بالغ ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ روز ہ رک ھے اور اگر اذان صبح ک ے بعد بالغ ہ و تو اس کا روز ہ اس پر واجب ن ہیں ہے۔ ل یکن اگر مستحب روزہ رک ھ ن ے کا اراد ہ کر ل یا ہ و تو اس صورت م یں احتیاط کی بنا پر اس دن کے روز ے کو پورا کرنا ضرور ی ہے۔
1572 ۔ جو شخص م یت کے روز ے رک ھ ن ے ک ے لئ ے اج یر بنا ہ و یا اس کے ذم ے کفار ے کا روز ے ہ وں اگر و ہ مستحب روز ے رک ھے تو کوئ ی حرج نہیں لیکن اگر قضا روزے کس ی کے ذمے ہ وں تو و ہ مستحب روز ہ ن ہیں رکھ سکتا اور اگر ب ھ ول کر مستحب روز ہ رک ھ ل ے تو اس صورت م یں اگر اسے ظ ہ ر س ے پ ہ ل ے یاد آ جائے تو اس کا مستحب روز ہ کالعدم ہ و جاتا ہے اور و ہ اپن ی نیت واجب روزے ک ی جانب موڑ سکتا ہے۔ اور اگر و ہ ظ ہ ر ک ے بعد متوج ہ ہ و تو احت یاط کی بنا پر اس کا روزہ باطل ہے اور اگر اس ے مغرب ک ے بعد یاد آئے تو اس ک ے روز ے کا صح یح ہ ونا اشکال س ے خال ی نہیں۔
1573 ۔ اگر ما ہ رمضان ک ے روز ے ک ے علاو ہ کوئ ی دوسرا مخصوص روزہ انسان پر واجب ہ و مثلاً اس ن ے منت مان ی ہ و ک ہ ا یک مقررہ دن کو روز ہ رک ھے گا اور جان بوج ھ کر اذان صبح ت ک نیت نہ کر ے تو اس کا روز ہ باطل ہے اور اگر اس ے معلوم ن ہ ہ و ک ہ اس دن کا روز ہ اس پر واجب ہے یا بھ ول ج ائے اور ظہ ر س ے پ ہ ل ے اس ے یاد آئے تو اگر اس ن ے کوئ ی ایسا کام نہ ک یا ہ و جو روز ے کو باطل کرتا ہ و اور روز ے ک ی نیت کرلے تو اس کا روز ہ صح یح ہے اور اگر ظ ہ ر ک ے بعد اس ے یاد آئے تو ما ہ رمضان ک ے روز ے م یں جس احیتاط کا ذکر کیا گیا ہے اس کا خ یال رکھے۔
1574 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی غیر مُعَیَّن واجب روزے ک ے لئ ے مثلاً روز ہ کفار ہ ک ے لئ ے ط ہ ر ک ے نزد یک تک عمداً نیت نہ کر ے تو کوئ ی حرج نہیں بلکہ اگر ن یت سے پ ہ ل ے مص مم ارادہ رک ھ تا ہ و ک ہ روز ہ ن ہیں رکھے گا یا مذبذب ہ و ک ہ روز ہ رک ھے یا نہ رک ھے تو اگر اس ن ے کوئ ی ایسا کام نہ ک یا ہ و جو روز ے کو باطل کرتا ہ و اور ظ ہ ر س ے پ ہ ل ے روز ے ک ی نیت کرلے تو اس کا روز ہ صح یح ہے۔
1575 ۔ اگر کوئ ی کافر ماہ رمضان م یں ظہ ر س ے پ ہ ل ے مسلمان ہ و جائ ے اور اذان صبح سے اس وقت تک کوئ ی ایسا کام نہ ک یا ہ و جو روز ے کو باطل کرتا ہ و تو احت یاط واجب کی بنا پر ضروری ہے ک ہ روز ے ک ی نیت کرے اور روز ے کو تمام کر ے اور اگر اس دن کا روز ہ ن ہ رک ھے تو اس ک ی قضا بجالائے۔
1576 ۔ اگر کوئ ی بیمار شخص ماہ رمضان ک ے کس ی دن میں ظہ ر س ے پ ہ ل ے تندرست ہ و جائ ے اور اس ن ے اس وقت تک کوئ ی ایسا کام نہ ک یا ہ و جو روز ے کو باطل کرتا ہ و تو ن یت کرکے اس دن کا روز ہ رک ھ نا ضرور ی ہے اور اگر ظ ہ ر ک ے بعد تندرست ہ و تو اس دن کا روز ہ اس پر واجب ن ہیں ہے۔
1577 ۔ جس دن ک ے بار ے م یں انسان کو شک ہ و ک ہ شعبان ک ی آخری تاریخ ہے یا رمضان کی پہ ل ی تاریخ، اس دن کا روزہ رک ھ نا اس پر واجب ن ہیں ہے اور اگر روز ہ رک ھ نا چا ہے تو رمضان المبارک ک ے روز ے ک ی نیت نہیں کر سکتا لیکن نیت کرے ک ہ اگر رمضان ہے تو رمضان کا روز ہ ہے اور اگر ر مضان نہیں ہے تو قضا روز ہ یا اسی جیسا کوئی اور روزہ ہے تو بع ید نہیں کہ اس کا روز ہ صح یح ہ و ل یکن بہ تر یہ ہے ک ہ قضا روز ے وغ یرہ کی نیت کرے اور اگر بعد م یں پتہ چل ے ک ہ ما ہ رمضان ت ھ ا تو رمضان کا روز ہ شمار ہ وگا ل یکن اگر نیت صرف روزے ک ی کرے اور بعد م یں معلوم ہ و ک ہ ر مضان تھ ا تب ب ھی کافی ہے۔
1578 ۔ اگر کس ی دن کے بار ے م یں انسان کو شک ہ و ک ہ شعبان ک ی آخری تاریخ ہے یا رمضان المبارک کی پہ ل ی تاریخ تو وہ قضا یا مستحب یا ایسے ہی کسی اور روزہ ک ی نیت کرکے روز ے رک ھ ل ے اور دن م یں کسی وقت اسے پت ہ چل ے ک ہ ما ہ رمضان ہے تو ضرور ی ہے ک ہ ما ہ رمضان ک ے روز ے ک ی نیت کرلے۔
1579 ۔ اگر کس ی مُعَیَّن واجب روزے ک ے بار ے م یں مثلاً رمضان المبارک کے روز ے ک ے بار ے م یں انسان مُذبذِب ہ و ک ہ اپن ے روز ے کو باطل کر ے یا نہ کر ے یا روزے کو باطل کرن ے کا قصد کر ے تو خوا ہ اس ن ے جو قصد ک یا ہ و اس ے ترک کرد ے اور کوئ ی ایسا کام بھی نہ کر ے جس س ے روز ہ باطل ہوتا ہ و اس کا روز ہ احت یاط کی بنا پر باطل ہ وجاتا ہے۔
1580 ۔ اگر کوئ ی شخص جو مستحب روزہ یا ایسا واجب روزہ مثلاً کفار ے کا روز ہ رک ھے ہ وئ ے ہ و جس کا وقت مُعَ یَّن نہ ہ و کس ی ایسے کام کا قصد کرے جو روز ے کو باطل کرتا ہ و مُذَبذِب ہ و ک ہ کوئ ی ایسا کام کرے یا نہ کر ے تو اگر وہ کوئ ی ایسا کام نہ کر ے اور واجب روز ے م یں ظہ ر س ے پ ہ ل ے اور مستحب روزے م یں غروب سے پ ہ ل ے دوبار ہ روز ے ک ی نیت کرلے تو اس کا روز ہ صح یح ہے۔
وہ چیزیں جو روزے کو باطل کرت ی ہیں۔
1581 ۔ چند چ یزیں روزے کو باطل کر د یتی ہیں:
1 ۔ ک ھ انا اور پ ینا۔
2 ۔ جماع کرنا ۔
3 ۔ اِستِمَنَاء ۔ یعنی انسان اپنے سات ھ یا کسی دوسرے ک ے سات ھ جماع ک ے علاو ہ کوئ ی ایسا فعل کرے جس ک ے نت یجے میں منی خارج ہ و ۔
4 ۔ خدا تعال ی پیغمبر اکرام (صلی اللہ عل یہ وآلہ ) اور ائم ہ طا ہ ر ین علیہ م السلام سے کوئ ی جھ و ٹی بات منسوب کرنا۔
5 ۔ غبار حلق تک پ ہ نچانا ۔
6 ۔ مش ہور قول کی بنا پر پورا سر پانی میں ڈ بونا ۔
7 ۔ اذان صبح تک جنابت، ح یض اور نفاس کی حالت میں رہ نا ۔
8 ۔ کس ی سَیَّال چیز سے حُقن ہ (ان یما) کرنا ۔
9 ۔ ق ے کرنا ۔
ان مبطلات کے تفص یلی احکام آئندہ مسائل م یں بیان کئے جائ یں گے۔
1582 ۔ اگر روز ہ دار اس امر ک ی جانب متوجہ ہ وت ے ہ وئ ے ک ہ روز ے س ے ہے کوئ ی چیز جان بوجھ کر ک ھ ائ ے یا پئے تو اس کا روز ہ باطل ہ وجاتا ہے قطع نظر اس س ے ک ہ و ہ چ یز ایسی ہ و جس ے عموماً ک ھ ا یا یا پیا جاتا ہ و مثلاً رو ٹی اور پانی یا ایسی ہ و جس ے عموماً ک ھ ا یا یا پیانہ جاتا ہ و مثلاً مٹی اور درخت کا شیرہ ، اور خواہ کم یا زیادہ حتی کہ اگر روز ہ دار مسواک من ہ س ے نکال ے اور دوبار ہ من ہ م یں لے جائ ے اور اس ک ی تری نگل لے تب ب ھی روزہ باطل ہ وجاتا ہے سوائ ے اس صورت ک ے ک ہ مسواک ک ی تری لعاب دہ ن م یں گھ ل مل کر اس طرح ختم ہ و جائ ے ک ہ اس ے ب یرونی تری نہ کہ ا جاسک ے۔
1583 ۔ جب روز ہ دار رک ھ انا ک ھ ا ر ہ ا ہ و اگر اس ے معلوم ہ وجائ ے ک ہ صبح ہ وگئ ی ہے تو ضرور ی ہے ک ہ جو لقم ہ من ہ م یں ہ و اس ے اگل د ے اور اگر جان بوج ھ کر و ہ لقم ہ نگل ل ے تو اس کا روز ہ باطل ہے اور اس حکم ک ے مطابق جس کا ذکر بعد م یں ہ وگا اس پر کفار ہ ب ھی واجب ہے۔
1584 ۔ اگر روز ہ دار غلط ی سے کوئ ی چیز کھ ال ے یا پی لے تو اس کا روز ہ باطل ن ہیں ہ وتا ۔
1585 ۔ جو انجکشن عضو کو ب ے حس کر د یتے ہیں یا کسی اور مقصد کے لئ ے استعمال ہ وت ے ہیں اگر روزے دار ان ہیں استعمال کرے تو کوئ ی حرج نہیں لیکن بہ تر یہ ہے ک ہ ان انجکشنوں س ے پر ہیز کیا جائے جو دوا اور غذا کی بجائے استعمال ہ وت ے ہیں۔
1586 ۔ اگر روز ہ دار دانتوں ک ی ریخوں میں پھ نس ی ہ وئ ی کوئی چیز عمداً نگل لے تو اس کا روز ہ باطل ہ وجاتا ہے۔
1587 ۔ جو شخص روز ہ رک ھ نا چا ہ تا ہ و اس ک ے لئ ے اذان صبح س ے پ ہ ل ے دانتوں م یں خلال کرنا ضروری نہیں ہے ل یکن اگر اسے علم ہ و ک ہ جو غذا دانتوں ک ے ر یخوں میں رہ گئ ی ہے و ہ دن ک ے وقت پ یٹ میں چلی جائے گ ی تو خلال کرنا ضروری ہے۔
1588 ۔ من ہ کا پان ی نگلنے س ے روز ہ باطل ن ہیں ہ وتا خوا ہ ترش ی وغیرہ کے تصور س ے ہی منہ م یں پانی بھ ر آ یا ہ و ۔
1589 ۔ سر اور س ینے کا بلغم جب تک منہ ک ے ان در والے حص ے تک ن ہ پ ہ نچ ے اس ے نگلن ے م یں کوئی حرج نہیں لیکن اگر وہ من ہ م یں آجائے تو احت یاط واجب یہ ہے ک ہ اس ے ت ھ وک د ے۔
1590 ۔ اگر روز ہ دار کو اتن ی پیاس لگے ک ہ اس ے پ یاس سے مرجان ے کا خوف ہ و جائ ے یا اسے نقصان کا اند یشہ ہ و یا اتنی سختی اٹھ انا پ ڑے جو اس ک ے لئ ے ناقا بل برداشت ہ و تو اتنا پان ی پی سکتا ہے ک ہ ان امور کا خوف ختم ہ و جائ ے ل یکن اس کا روزہ باطل ہ و جائ ے گا اور اگر ما ہ رمضان ہ و تو اخت یار لازم کی بنا پر ضروری ہے ک ہ اس س ے ز یادہ پانی نہ پ یئے اور دن کے حص ے م یں وہ کام کرن ے س ے پر ہیز کرے جس س ے روز ہ باطل ہ وجاتا ہے۔
1591 ۔ بچ ے یا پرندے کو ک ھ لان ے ک ے لئ ے غذا کا چبانا یا غذا کا چکھ نا اور اس ی طرح کے کام کرنا جس م یں غذاً عموماً حلق تک نہیں پہ نچت ی خواہ و ہ اتفاقاً حلق تک پ ہ نچ جائ ے تو روز ے کو باطل ن ہیں کرتی۔ ل یکن اگر انسان شروع سے جانتا ہ و ک ہ یہ غذا حلق تک پہ نچ جائ ے گ ی تو اس کا روزہ باطل ہ وجاتا ہے اور ضرور ی ہے ک ہ اس ک ی قضا بجالائے اور کفار ہ ب ھی اس پر واجب ہے۔
1592 ۔ انسان معمول ی نقاہ ت ک ی وجہ س ے روز ہ ن ہیں چھ و ڑ ا سکتا ل یکن اگر نقاہ ت اس حد تک ہ و ک ہ عموماً برداشت ن ہ ہ وسک ے تو پ ھ ر روز ہ چ ھ و ڑ ن ے م یں کوئی حرج نہیں۔
1593 ۔ جماع روز ے کو باطل کر دیتا ہے خوا ہ عضو تناسل سپار ی تک ہی داخل ہ و اور من ی بھی خارج نہ ہ وئ ی ہ و ۔
1594 ۔ اگر آل ہ تناسل سپار ی سے کم داخل ہ و اور من ی بھی خارج نہ ہ و تو روز ہ باطل ن ہیں ہ وتا ل یکن جس شخص کی سپاری کٹی ہ وئ ی ہ و اگر و ہ سپار ی کی مقدار سے کم تر مقدار داخل کر ے تو اگر یہ کہ ا جائ ے ک ہ اس ن ے ہ م بستر ی کی ہے تو اس کا روز ہ باطل ہ و جائ ے گا ۔
1595 ۔ اگر کوئ ی شخص عمداً جماع کا ارادہ کر ے اور پ ھ ر شک کر ے ک ہ سپار ی کے برابر دخول ہ وا ت ھ ا یا نہیں تو احیتاط لازم کی بنا پر اس کا روزہ باطل ہے اور ضرور ی ہے ک ہ اس روز ے ک ی قضا بجالائے ل یکن کفارہ واجب نہیں ہے۔
1596 ۔ اگر کوئ ی شخص بھ ول جائ ے ک ہ روز ے س ے ہے اور جماع کر ے یا اسے جماع پر اس طرح مجبور ک یا جائے ک ہ اس کا اخت یار باقی نہ ر ہے تو اس کا روز ہ باطل ن ہیں ہ وگا البت ہ اگر جماع ک ی حالت میں اسے یاد آجائے ک ہ روز ے س ے ہے یا مجبوری ختم ہ وجائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ فوراً جماع ترک کر دے اور اگر ا یسا نہ کر ے تو اس کا روز ہ باطل ہے۔
1597 ۔ اگر روز ہ دار اِستمِنَاء کر ے (استمناء ک ے معن ی مسئلہ 1581 بتائے جاچک ے ہیں) تو اس کا روزہ باطل ہ وجاتا ہے۔
1598 ۔ اگر ب ے اخت یاری کی حالت میں کسی کی منی خارج ہ وجائ ے تو اس کا روز ہ باطل ن ہیں ہے۔
1599 ۔ اگرچ ہ روز ہ دار کو علم ہ و ک ہ اگر دن م یں سوئے گا تو اس ے احتلام ہ و جائ ے گا یعنی سوتے م یں اس کی منی خارج ہ وجائ ے گ ی تب بھی اس کے لئ ے سونا جائز ہے خوا ہ ن ہ سون ے ک ی وجہ س ے اس ے کوئ ی تکلیف نہ ب ھی ہ و اور اگر اس ے احتلام ہ و جائ ے تو اس کا روز ہ باطل ن ہیں ہ وتا ۔
1600 ۔ اگر روز ہ دار من ی خارج ہ وت ے وقت ن یند سے ب یدار ہ و جائ ے تو اس پر یہ واجب نہیں کہ من ی کو نکلنے س ے روک ے۔
1601 ۔ جس روز ہ دار کو احتلام ہ وگ یا تو وہ پ یشاپ کرسکتا ہے خوا ہ اس ے یہ علم ہ و ک ہ پ یشاب کرنے سے باق یماندہ منی نالی سے با ہ ر آجائ ے گ ی۔
1602 ۔ جب روز ے دار کو احتلام ہ و جائ ے اگر اس ے معلوم ہ و ک ہ من ی نالی میں رہ گئ ی ہے اور اگر غسل س ے پ ہ ل ے پ یشاب نہیں کرے گا تو غسل ک ے بعد من ی اس کے جسم س ے خارج ہ وگ ی تو احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ غسل س ے پ ہ ل ے پ یشاب کرے۔
1603 ۔ جو شخص من ی نکالنے ک ے اراد ے س ے چ ھیڑ چھ ا ڑ اور دل لگ ی کرے تو خوا ہ من ی نہ ب ھی نکلے احت یاط لازم کی بنا پر ضروری ہے ک ہ روز ے کو تمام کر ے اور اس ک ی قضا بھی بجالائے۔
1604 ۔ اگر روز ہ دار من ی نکالنے ک ے اراد ے ک ے بغ یر مثال کے طور پر اپن ی بیوی سے چ ھیڑ چھ ا ڑ اور ہ نس ی مذاق کرے اور اس ے اطم ینان ہ و ک ہ من ی خارج نہیں ہ وگ ی تو اگرچہ اتفاقاً من ی خارج ہ و جائ ے اس کا روز ہ صح یح ہے۔ البت ہ اگر اس ے اطم ینان نہ ہ و تو اس صورت م یں جب منی خارج ہ وگ ی تو اس کا روزہ باطل ہ و جائ ے گا ۔
1605 ۔ اگر روز ہ دار زبان س ے یا لکھ کر یا اشارے س ے یا کسی اور طریقے سے الل ہ تعال ی یا رسول اکرم (صلی اللہ عل یہ وآلہ ) یا آپ کے (برحق) جانش ینوں میں سے کس ی سے جان بوج ھ کر کوئ ی جھ و ٹی بات منسوب کرے تو اگرچ ہ و ہ فوراً ک ہہ د ے ک ہ م یں نے ج ھ و ٹ ک ہ ا ہے یا توبہ کرل ے تب ب ھی احتیاط لازم کی بنا پر اس کا روزہ باطل ہے اور احت یاط مستحب کی بنا پر حضرت فاطمہ زَ ہ را سَلاَمُ الل ہ عَلَ یہ ا اور تمام انبیائے مرسلین اور ان کے جانش ینوں سے ب ھی کوئی جھ و ٹی بات منسوب کرنے کا یہی حکم ہے۔
1606 ۔ اگر (روز ہ دار) کوئ ی ایسی روایت نقل کرنا چاہے جس ک ے قطع ی ہ ون ے ک ی دلیل نہ ہ و اور اس ک ے بار ے م یں اسے یہ علم نہ ہ و ک ہ سچ ہے یا جھ و ٹ تو احت یاط واجب کی بنا پر ضروری ہے ک ہ جس شخص س ے و ہ روا یت ہ و یا جس کتاب میں لکھی دیکھی ہ و اس کا حوال ہ د ے۔
1607 ۔ اگر (روز ہ دار) کس ی چیز کے بار ے م یں اعتقاد رکھ تا ہ و ک ہ و ہ واقع ی قول خدایا قول پیغمبر (صلی اللہ عل یہ وآلہ ) ہے اور اس ے الل ہ تعال ی یا پیغمبر اکرم (صلی اللہ عل یہ وآلہ ) س ے منسوب کرن ے اور بعد م یں معلوم ہ و ک ہ یہ نسبت صحیح نہیں تھی تو اس کا روزہ باطل ن ہیں ہوگا۔
1608 ۔ اگر روز ے دار کس ی چیز کے بار ے م یں یہ جانتے ہ وئ ے ک ہ ج ھ و ٹ ہے اس ے الل ہ تعال ی اور رسول اکرم (صلی اللہ عل یہ وآلہ ) س ے منسوب کر ے اور بعد م یں اسے پت ہ چل ے ک ہ جو کچ ھ اس ن ے ک ہ ا ت ھ ا و ہ درست ت ھ ا تو احت یاط لازم کی بنا پر ضروری ہے ک ہ روز ے کو تمام کر ے اور اس ک ی قضا بھی بجالائے۔
1609 ۔ اگر روز ے دار کس ی ایسے جھ و ٹ کو جو خود روز ے دار ن ے ن ہیں بلکہ کس ی دوسرے ن ے گ ھڑ ا ہ و جان بوج ھ کر الل ہ تعال ی یا رسول اکرم (صلی اللہ عل یہ وآلہ ) یا آپ کے (برحق) جانش ینوں سے منسوب کر د ے تو احت یاط لازم کی بنا پر اس کا روزہ باطل ہ و جائ ے ل یکن اگر جس نے ج ھ و ٹ گ ھڑ ا ہ و اس کا قول نقل کر ے تو کوئ ی حرج نہیں ۔
1610 ۔ اگر روز ے دار س ے سوا ل کیا جائے ک ہ ک یا رسول محتشم (صلی اللہ عل یہ وآلہ ) ن ے ا یسا فرمایا ہے اور و ہ عمداً ج ہ اں جواب ن ہیں دینا چاہ ئ ے و ہ اں اثبات م یں دے اور ج ہ اں اثبات م یں دینا چاہ ئ ے و ہ اں عمداً نف ی میں دے تو احت یاط لازم کی بنا پر اس کا روزہ باطل ہ و جاتا ہے۔
1611 ۔ اگر کوئ ی شخص اللہ تعال ی یا رسول کریم (صلی اللہ عل یہ وآلہ ) کا قول درست نقل کر ے اور بعد م یں کہے ک ہ م یں نے ج ھ و ٹ ک ہ ا ہے یا رات کو کوئی جھ و ٹی بات ان سے منسوب کر ے اور دوسر ے دن جب ک ہ روز ہ رک ھ ا ہ و ہ و ک ہے ک ہ جو کچ ھ م یں نے گزشت ہ رات ک ہ ا ت ھ ا و ہ درست ہے تو اس کا روز ہ باطل ہ و جاتا ہے ل یکن اگر وہ روا یت کے (صح یح یا غلط ہ ون ے ک ے ) بار ے م یں بتائے (تو اس کا روز ہ باطل ن ہیں ہ وتا) ۔
1612 ۔ احت یاط واجب کی بنا پر کثیف غبار کو حلق تک پہ نچانا روز ے کو باطل کر د یتا ہے خوا ہ غبار کس ی ایسی چیز کا ہ و جس کا ک ھ انا حلال ہ و مثلاً آٹ ا یا کسی ایسی چیز کا ہ و جس کا ک ھ انا حرام ہ و مثلاً م ٹی ۔
1613 ۔ اقو ی یہ ہے ک ہ غ یر کثیف غبار حلق تک پہ نچان ے س ے روز ہ باطل ن ہیں ہ وتا ۔
1614 ۔ اگر ہ وا ک ی وجہ س ے کث یف غبار پیدا ہ و اور انسان متوج ہ ہ ون ے اور احت یاط کر سکنے ک ے باوجود احت یاط نہ کر ے اور غبار اس ک ے حلق تک پ ہ نچ جائ ے تو احت یاط واجب کی بنا پر اس کا روزہ باطل ہ و جاتا ہے ۔
1615 ۔ احت یاط واجب یہ ہے ک ہ روز ہ دار سگر یٹ اور تمباکو وغیرہ کا دھ وان ب ھی حلق تک نہ پ ہ نچائ ے۔
1616 ۔ اگر انسان احت یاط نہ کر ے اور غبار یا دھ واں وغ یرہ حلق میں چلا جائے تو اگر اسے یقین یا اطمینان تھ ا ک ہ یہ چیزیں حلق میں نہ پ ہ نچ یں گی تو اس کا روزہ صح یح ہے ل یکن اسے گمان ت ھ ا ک ہ یہ حلق تک نہیں پہ نچ یں گی تو بہ تر یہ ہے ک ہ اس روز ے ک ی قضا بجالائے۔
1617 ۔ اگر کوئ ی شخص یہ بھ ول جان ے پر ک ہ روز ے س ے ہے اح یتاط نہ کر ے یا بے اخت یار غبار وغیرہ اس کے حلق م یں پہ نچ جائ ے تو اس کا روز ہ باطل ن ہیں ہ وتا ۔
1618 ۔ اگر روز ہ دار جان بوج ھ کر سارا سر پان ی میں ڈ بو د ے تو خوا ہ اس کا باق ی بدن پانی سے با ہ ر ر ہے مش ہ ور قول ک ی بنا پر اس کا روزہ باطل ہ و جاتا ہے ل یکن بعید نہیں کہ ا یسا کرنا روزے کو باطل نہ کر ے۔ اگرچ ہ ا یسا کرنے م یں شدید کراہ ت ہے اور ممکن ہ و تو اس س ے احت یاط کرنا بہ تر ہے۔
1619 ۔ اگر روز ہ دار اپن ے نصف سر کو ا یک دفعہ اور باق ی نصف سر کو دوسری دفعہ پان ی میں ڈ بوئ ے تو اس کا روز ہ صح یح ہ ون ے م یں کوئی اشکال نہیں ہے۔
1620 ۔ اگر سارا سر پان ی میں ڈ وب جائ ے تو خوا ہ کچ ھ بال پان ی سے با ہ ر ب ھی رہ جائ یں تو اس کا حکم بھی مسئلہ ( 1618) کی طرح ہے۔
1621 ۔ پان ی کے علاو ہ دوسر ی سیال چیزوں مثلاً دودھ م یں سر ڈ بون ے س ے روز ے کو کوئ ی ضرر نہیں پہ نچتا ۔ اور مضاف پان ی میں سر ڈ بون ے کا ب ھی یہی حکم ہے۔
1622 ۔ اگر روز ہ دار ب ے ا ختیار پانی میں گر جائے اور اس کا پورا سر پان ی میں ڈ وب جائ ے یا بھ ول جائ ے ک ہ روز ے س ے ہے اور سر پان ی میں ڈ بو ل ے تو اس ک ے روز ے م یں کوئی اشکال نہیں ہے۔
1623 ۔ اگر کوئ ی روزہ دار یہ خیال کرتے ہ وئ ے اپن ے آپ کو پان ی میں گرا دے ک ہ اس کا سر پان ی میں نہیں ڈ وب ے گا ل یکن اس کا سارا سر پانی میں ڈ وب جائ ے تو اس ک ے روز ے م یں بالکل اشکال نہیں ہے۔
1624 ۔ اگر کوئ ی شخص بھ ول جائ ے ک ہ روز ے س ے ہے اور سر پان ی میں ڈ بو د ے تو اگر پان ی میں ڈ وب ے ہ وئ ے اس ے یاد آئے ک ہ روز ے س ے ہے تو ب ہ تر یہ ہے ک ہ روز ہ دار فوراً اپنا سر پان ی سے با ہ ر نکال ے۔ اور اگر ن ہ نکال ے تو اس کا روز ہ باطل ن ہیں ہ وگا ۔
1625 ۔ اگر کوئ ی شخص روزے دار ک ے سر کو زبردست ی پانی میں ڈ بو د ے تو اس ک ے روز ے م یں کوئی اشکال نہیں ہے ل یکن جب کہ و ہ اب ھی پانی میں ہے دوسرا شخص اپنا ہ ات ھ ہٹ ا ل ے تو ب ہ تر ہے ک ہ فوراً اپنا سر پان ی سے ب اہ ر نکال ل ے۔
1626 ۔ اگر روز ہ دار غسل ک ی نیت سے سر پان ی میں ڈ بو د ے تو اس کا روز ہ اور غسل دونوں صح یح ہیں۔
1627 ۔ اگر کوئ ی روزہ دار کس ی کو ڈ وبن ے س ے بچان ے ک ی خاطر سر کو پانی میں ڈ بو د ے خوا ہ اس شخص کو بچانا واجب ہی کیوں نہ ہ و تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ روز ے ک ی قضا بجالائے۔
1627 ۔ اگر جُنب شخص ما ہ رمضان المبارک م یں جان بوجھ کر اذان صبح تک غسل ن ہ کر ے تو اس کا روز ہ باطل ہے اور جس شخص کا وظ یفہ تیمم ہ و، اور و ہ جان بوج ھ کر ت یمم نہ کر ے تو اس کا روز ہ ب ھی باطل ہے اور ما ہ رم ضان کی قضا کا حکم بھی یہی ہے۔
1629 ۔ اگر جنب شخص ما ہ رمضان ک ے روزوں اور ان ک ی قضا کے علاو ہ ان واجب روزوں م یں جن کا وقت ماہ رمضان ک ے روزوں ک ی طرح معین ہے جان بوج ھ کر اذان صبح تک غسل ن ہ کر ے تو اظ ہ ر یہ ہے ک ہ اس کا روز ہ صح یح ہے۔
1630 ۔ اگر کوئ ی شخص ماہ رمضان الم بارک کی کسی رات میں جنب ہ وجائ ے تو اگر و ہ عمداً غسل ن ہ کر ے حت ی کہ وقت تنگ ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ ت یمم کرے اور روز ہ رک ھے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اس ک ی قضا بھی بجالائے۔
1631 ۔ اگر جنب شخص ما ہ رمضان م یں غسل کرنا بھ ول جائ ے اور ا یک دن کے بعد اس ے یاد آئے تو ضرور ی ہے ک ہ اس دن کا رو ہ قضا کر ے اور اگر چند دنوں ک ے بعد یاد آئے تو اتن ے دنوں ک ے روزوں ک ی قضا کرے جتن ے دنوں ک ے بار ے م یں اسے یقین ہ و ک ہ و ہ جنب ت ھ ا مثلاً اگر اس ے یہ علم نہ ہ و کہ ت ین دن جنب رہ ا یا چار دن تو ضروری ہے ت ین دنوں کے روزوں ک ی قضا کرے۔
1632 ۔ اگر ا یک ایسا شخص اپنے آپ کو جنب کرل ے جس ک ے پاس ما ہ رمضان ک ی رات میں غسل اور تیمم میں سے کس ی کے لئ ے ب ھی وقت نہ ہ و تو اس کا روز ہ باطل ہے اور اس پر قضا اور کفار ہ دونوں واجب ہیں۔
1633 ۔ اگر روز ہ دار یہ جاننے ک ے لئ ے جستجو کر ے ک ہ اس ک ے پاس وقت ہے یا نہیں اور گمان کرے ک ہ اس ک ے پاس غسل ک ے لئ ے وقت ہے اور اپن ے آپ کو جنب کرل ے اور بعد م یں اسے پت ہ چل ے ک ہ وقت تنگ ت ھ ا اور ت یمم کرے تو اس کا روز ہ صح یح ہے اور اگر بغ یر جستجو کئے گمان کر ے ک ہ اس ک ے پاس وقت ہے اور اپن ے آپ کو جنب کر ل ے اور بعد م یں اسے پت ہ چل ے ک ہ وقت تنگ ت ھ ا اور تیمم کرکے روز ہ رک ھے تو احت یاط مستحب کی بنا پر ضروری ہے ک ہ اس دن ک ے روز ے ک ی قضا کرے۔
1634 ۔ جو شخص ما ہ رمضان ک ی کسی رات میں جنب ہ و اور جانتا ہ و ک ہ اگر سوئ ے گا تو صبح تک ب یدار ہ ہ وگا اس ے بغ یر غسل کئے ن ہیں سونا چاہ ئ ے اور اگر و ہ غسل کرن ے س ے پ ہ ل ے اپن ی مرضی سے سو جائ ے اور صبح تک ب یدار نہ ہ و تو اس کا روز ہ باطل ہے اور قضا اور کفار ہ دونوں اس پر واجب ہیں۔
1635 ۔ جب جنب ما ہ رمضان ک ی رات میں سو کر جاگ اٹھے تو احت یاط واجب یہ ہے ک ہ اگر و ہ ب یدار ہ ون ے ک ے بار ے م یں مطمئن نہ ہ و تو غسل س ے پ ہ ل ے ن ہ سوئ ے اگرچ ہ اس بات کا احتمال ہ و ک ہ اگر دوبار ہ سو گ یا تو صبح کی اذان سے پ ہ ل ے ب یدا ہ و جائ ے گا ۔
1636 ۔ اگر کوئ ی شخص ماہ رمضان ک ی کسی رات میں جنب ہ و اور یقین رکھ تا ہ و ک ہ اگر سو گ یا تو صبح کی اذان سے پ ہ ل ے ب یدار ہ و جائ ے گا اور اس کا مصمم اراد ہ ہ وک ہ ب یدار ہ ون ے ک ے بعد غسل کر ے گا اور اس اراد ے کے سات ھ سو جائ ے اور اذان تک سوتا ر ہے تو اس کا روز ہ صح یح ہے۔ اور ا گر کوئی شخص صبح کی اذان سے پ ہ ل ے ب یدار ہ ون ے ک ے بار ے م یں مطمئن ہ و تو اس ک ے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے۔
1637 ۔ اگر کوئ ی شخص ماہ رمضان ک ی کسی رات میں جنب ہ و اور اس ے علم ہ و یا احتمال ہ وک ہ اگر سو گ یا تو صبح کی اذان سے پ ہ ل ے ب یدار ہ و جائ ے گا اور و ہ اس بات س ے غافل ہ و ک ہ ب یدار ہ ون ے ک ے بعد اس پر غسل کرنا ضرور ی ہے تو اس صورت م یں جب کہ و ہ سو جائ ے اور صبح ک ی اذان تک سویا رہے احت یاط کی بنا پر اس پر قضا واجب ہ و جات ی ہے۔
1638 ۔ اگر کوئ ی شخص ماہ رمضان ک ی کسی رات میں جنب ہ و اور اس ے یقین ہ و یا احتمال اس بات کا ہ و ک ہ اگر و ہ سو گ یا تو صبح کی اذان سے پ ہ ل ے ب یدار ہ وجائ ے گا اور و ہ ب یدار ہ ون ے ک ے بعد غسل ن ہ کرنا چا ہ تا ہ وتو اس صورت م یں جب کہ و ہ سو جائ ے اور ب یدار نہ ہ و اس کا روز ہ باطل ہے اور قضا اور کفارہ اس ک ے لئ ے لازم ہے۔ او ر اسی طرح اگر بیدار ہ ون ے ک ے بعد اس ے تردد ہ و ک ہ غسل کر ے یا نہ کر ے تو احت یاط لازم کی بنا پر یہی حکم ہے۔
1639 ۔ اگر جنب شخص ما ہ رمضان ک ی کسی رات میں سو کر جاگ اٹھے اور اس ے یقین ہ و یا اس بات کا احتمال ہ و ک ہ اگر دوبار ہ سو گ یا تو صبح کی اذان سے پ ہ ل ے ب یدار ہ و جائ ے گا اور و ہ مصمم اراد ہ ب ھی رکھ تا ہ و ک ہ ب یدار ہ ون ے ک ے بعد غسل کر ے گا اور دوبار ہ سو جائ ے اور اذان تک ب یدار نہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ بطور سزا اس دن کا روز ہ قضا کر ے۔ اور اگر دوسر ی نیند سے ب یدار ہ و جائ ے اور ت یسری دفعہ سو جائ ے اور صبح ک ی اذان تک بیدار نہ ہ و ت و ضروری ہے ک ہ اس دن ک ے روز ے ک ی قضا کرے اور احت یاط مستحب کی بنا پر کفارہ ب ھی دے۔
1640 ۔ جب انسان کو ن یند میں احتلام ہ و جائ ے تو پ ہ ل ی، دوسری اور تیسری نیند سے مراد و ہ ن یند ہے ک ہ انسان (احتلام س ے ) جاگن ے ک ے بعد سوئ ے ل یکن وہ ن یند جس میں احتلام ہ وا پ ہ ل ی نیند شمار نہیں ہ وت ی۔
1641 ۔ اگر کس ی روزہ دار کو دن م یں احتلام ہ و جائ ے تو اس پر فوراً غسل کرنا واجب ن ہیں۔
1642 ۔ اگر کوئ ی شخص ماہ رمضان م یں صبح کی اذان کے بعد جاگ ے اور یہ دیکھے کہ اس ے احتلام ہ و گ یا ہے تو اگرچ ہ اس ے معلوم ہ و ک ہ یہ احتلام اذان سے پ ہ ل ے ہ وا ہے اس کا ر وزہ صح یح ہے۔
1643 ۔ جو شخص رمضان المبارک کا قضا روز ہ رک ھ نا چا ہ تا ہ و اور و ہ صبح ک ی اذان تک جنب رہے تو اگر اس کا اس حالت م یں رہ نا عمداً ہ و تو اس دن کا روز ہ ن ہیں رکھ سکتا اور اگر عمداً ن ہ ہ و تو روز ہ رک ھ سکتا ہے اگرچ ہ احت یاط یہ ہے ک ہ روز ہ ن ہ رک ھے۔
1644 ۔ جو شخص رمضان المبارک کے قضا روز ے رک ھ نا چا ہ تا ہ و اگر و ہ صبح ک ی اذان کے بعد ب یدار ہ و اور د یکھے کہ اس ے احتلام ہ و گ یا ہے اور جانتا ہ و ک ہ یہ احتلام اسے صبح ک ی اذان سے پ ہ ل ے ہ وا ہے تو اقو ی کی بنا پر اس دن ماہ رمضان ک ے روز ے ک ی قضا کی نیت سے روز ہ رک ھ سکتا ہے۔
1645 ۔ اگر ما ہ رمضان ک ے قضا روزوں ک ے علاو ہ ا یسے واجب روزوں میں کہ جن کا وقت مع ین نہیں ہے مثلاً کفار ے ک ے روز ے م یں کوئی شخص عمداً اذان صبح تک جنب رہے تو اظ ہ ر یہ ہے ک ہ اس کا روز ہ صح یح ہے ل یکن بہ تر ہے ک ہ اس دن ک ے علاو ہ کس ی دوسرے دن روز ہ رک ھے۔
1646 ۔ اگر رمضان ک ے روزوں م یں عورت صبح کی اذان سے پ ہ ل ے ح یض یا نفاس سے پاک ہ و جائ ے اور عمداً غسل ن ہ کر ے یا وقت تنگ ہ ون ے ک ی صورت میں ۔ اگرچ ہ اس ک ے اخت یار میں ہ و اور رمضان کا روز ہ ہ و ۔ ت یمم نہ کر ے تو اس کا روز ہ باطل ہے اور احت یاط کی بنا پر ماہ رمضان ک ے قضا روز ے کا بھی یہی حکم ہے ( یعنی اس کا روزہ باطل ہے ) اور ان دو ک ے علاو ہ د یگر صورتوں میں باطل نہیں اگرچہ احوط یہ ہے ک ہ غسل کر ے۔ ما ہ رمضان م یں جس عورت کی شرعی ذمہ دار ی حیض یا نفاس کے غسل ک ے بدل ے ت یمم ہ و اور اس ی طرح احتیاط کی بنا پر رمضان میں اگر جان بوجھ کر اذان صب ح سے پ ہ ل ے ت یمم نہ کر ے تو اس کا روز ہ باطل ہے۔
1647 ۔ اگر کوئ ی عورت ماہ رمضان م یں صبح کی اذان سے پ ہ ل ے ح یض یا نفاس سے پاک ہ و جائ ے اور غسل ک ے لئ ے وقت ن ہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ت یمم کرے اور صبح ک ی اذان تک بیدار رہ نا ضرور ی نہیں ہے۔ جب جنب شخص کا وظ یفہ تیمم ہ و اس ک ے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے۔
1648 ۔ اگر کوئ ی عورت ماہ رمضان المبارک م یں صبح کی اذان کے نزد یک حیض یا نفاس سے پاک ہ و جائ ے اور غسل یا تیمم کسی کے لئ ے وقت باق ی نہ ہ و تو اس کا روز ہ صح یح ہے۔
1649 ۔ اگر کوئ ی عورت صبح کی اذان کے بعد ح یض یا نفاس کے خون س ے پاک ہ و جائ ے یا دن میں اسے ح یض یا نفاس کا خون آجائے تو اگرچ ہ یہ خون مغرب کے قر یب ہی کیوں نہ آئ ے اس کا روز ہ باطل ہے۔
1650 ۔ اگر عورت ح یض یا نفاس کا غسل کرنا بھ ول جائ ے اور اس ے ا یک دن یا کئی دن کے بعد یاد آئے تو جو روز ے اس ن ے رک ھے ہ وں و ہ صح یح ہیں۔
1651 ۔ اگر عورت ما ہ رمضان المبارک م یں صبح کی اذان سے پ ہ ل ے ح یض یا نفاس سے پاک ہ و جائ ے اور غسل کرن ے م یں کوتاہی کرے اور صبح ک ی اذان تک غسل نہ کر ے اور وقت تنگ ہ ون ے ک ی صورت میں تیمم بھی نہ کر ے تو اس کا روز ہ باطل ہے ل یکن اگر کوتاہی نہ کر ے مثلا منتظر ہ و ک ہ زمان ہ ح مام میسر آجائے خوا ہ اس مدت م یں وہ ت ین دفعہ سوئ ے اور صبح ک ی اذان تک غسل نہ کر ے اور ت یمم کرنے م یں بھی کوتاہی نہ کر ے تو اس کا روز ہ صح یح ہے۔
1652 ۔ جو عورت استحاض ہ کث یرہ کی حالت میں ہ و اگر و ہ اپن ے غسلوں کو اس تفص یل کے سات ھ ن ہ بجالائ ے جس کا ذکر مسئل ہ 402 میں کیا گیا ہے تو اس کا روز ہ صح یح ہے۔ ا یسے ہی استحاضہ متوسط ہ م یں اگرچہ عورت غسل ن ہ ب ھی کرے ، اس کا روز ہ صح یح ہے۔
1653 ۔ جس شخص ن ے م یت کو مس کیا ہ و یعنی اپنے بدن کا کوئ ی حصہ م یت کے بدن س ے چ ھ وا ہ و و ہ غسل مس م یت کے بغ یر روزہ رک ھ سکتا ہے اور اگر روز ے ک ی حالت میں بھی میت کو مس کرے تو اس کا روز ہ باط ن ہیں ہ و ت ا۔
1654 ۔ س یال چیز سے حقن ہ (ان یما) اگرچہ ب ہ امر مجبور ی اور علاج کی غرض سے ل یا جائے روز ے کو باطل کر د یتا ہے۔
1655 ۔ اگر روز ہ دار جان بوج ھ کر ق ے کر ے تو اگرچ ہ و ہ ب یماری وغیرہ کی وجہ س ے ا یسا کرنے پر مجبور ہ و اس کا روز ہ باطل ہ و جاتا ہے ل یکن اگر سہ واً یا بے اخت یار ہ و کر ق ے کر ے تو کوئ ی حرج نہیں۔
1656 ۔ اگر کوئ ی شخص رات کو ایسی چیز کھ ال ے جس ک ے بار ے م یں معلوم ہ و ک ہ اس ک ے ک ھ ان ے ک ی وجہ س ے دن م یں بے اخت یار قے آئ ے گ ی تو احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ اس دن کا روز ہ قضا کر ے۔
1658 ۔ اگر روز ہ دار ک ے حلق م یں مکھی چلی جائے چنانچ ہ و ہ اس حد تک اندر چل ی گئی ہ و ک ہ اس ک ے ن یچے لے جان ے کو نگلنا ن ہ ک ہ ا جائ ے تو ضرور ی نہیں کہ اس ے با ہ ر نکالا جائ ے اور اس کا روز ہ صح یح ہے ل یکن اگر مکھی کافی حد تک اندر نہ گئ ی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ با ہ ر نکال ے اگرچ ہ اس ے قے کرک ے ہی نکالنا پڑھے مگر یہ کہ ق ے کرن ے م یں روزہ دار کو ضرر اور شد ید تکلیف نہ ہ و ۔ اور اگر و ہ ق ے ن ہ کر ے اور اس ے نگل ل ے تو اس کا روز ہ باطل ہ و جائ ے گا ۔
1659 ۔ اگر روز ہ دار س ہ واً کوئ ی چیز نگل لے اور اس ک ے پ یٹ میں پہ نچ ے س ے پ ہ ل ے اس ے یاد آجائے ک ہ روز ے س ے ہے تو اس چ یز کا نکالنا لازم نہیں اور اس کا روزہ صح یح ہے۔
1660 ۔ اگر کس ی روزہ دار کو یقین ہ و ک ہ ڈ کار ل ینے کی وجہ س ے کوئ ی چیز اس کے حلق س ے با ہ ر آجائ ے گ ی تو احتیاط کی بنا پر اسے جان بوج ھ کر ڈ کار ن ہیں لینی چاہ ئ ے ل یکن اگر اسے ا یسا یقین نہ ہ و تو کوئ ی حرج نہیں۔
1661 ۔ اگر روز ہ دار ڈ کار ل ے اور کوئ ی چیز اس کے حلق یا منہ م یں آجائے تو ضرور ی ہے ک ہ اس ے اگل د ے اور اگر و ہ چ یز بے اخت یار پیٹ میں چلی جائے تو اس کا روز ہ صح یح ہے۔
ان چیزوں کے احکام جو روز ے کو باطل کرت ی ہیں۔
1662 ۔ اگر انسان جان بوج ھ کر اور اخت یار کے سات ھ کوئ ی ایسا کام کرے جو روز ے کو باطل کرتا ہ و تو اس کا روزہ باطل ہ و جاتا ہے اور اگر کوئ ی ایسا کام جان بوجھ کر ن ہ کر ے تو پ ھ ر اشکال ن ہیں لیکن اگر جنب سوجائے اور اس تفص یل کے مطابق جو مسئل ہ 1639 میں بیان کی گئی ہے صبح ک ی اذان تک غسل نہ کر ے تو اس کا روز ہ باطل ہے۔ چنانچ ہ اگر انسان ن ہ جانتا ہ و ک ہ جو بات یں بتائی گئی ہیں ان میں سے بعض روز ے کو باطل کرت ی ہیں یعنی جاہ ل قاصر ہ و اور انکار ب ھی نہ کرتا ہ و (بالفاظ د یگر مقصر نہ ہ و) یا یہ کہ شرع ی حجت پر اعتماد رکھ نا ہ و اور ک ھ ان ے پ ینے اور جماع کے علاو ہ ان افعال م یں سے کس ی فعل کو انجام دے تو اس کا روز ہ باطل ن ہیں ہ وگا ۔
1623 ۔ اگر روز ہ دار س ہ واً کوئ ی ایسا کام کرے جو روز ے کو باطل کرتا ہ و اور اس ک ے گمان س ے ک ہ اس کا روز ہ باطل ہ وگ یا ہے دوبار ہ عمداً کوئ ی اور ایسا ہی کام کرے تو اس کا روز ہ باطل ہ وجاتا ہے۔
1664 ۔ اگر کوئ ی چیز زبردستی روزہ دار ک ے حلق م یں انڈیل دی جائے تو اس کا روز ہ باطل نہیں ہ وتا ل یکن اگر اسے مجبور ک یا جائے مثلاً اس ے ک ہ ا جائ ے ک ہ اگر تم غذا ن ہیں کھ او گ ے تو ہ م تم ہیں مالی یا جانی نقصان پہ نچائ یں گے اور و ہ نقصان س ے بچن ے ک ے لئ ے اپن ے آپ کچ ھ ک ھ ال ے تو اس کا روز ہ باطل ہ و جائ ے گا ۔
1665 ۔ روز ہ دار کو ا یسی جگہ ن ہیں جانا چاہ ئ ے جس ک ے بار ے م یں وہ جانتا ہ و ک ہ لوگ کوئ ی چیز اس کے حلق م یں ڈ ال د یں گے یا اسے روز ہ تو ڑ ن ے پر مجبور کر یں گے اور اگر ا یسی جگہ جائ ے یا بہ امر مجبور ی وہ خود کوئ ی ایسا کام کرے جو روز ے کو باطل کرتا ہ و تو اس کا روز ہ باطل ہ وج اتا ہے۔ اور اگر کوئ ی چیز اس کے حلق میں انڈیل دیں تو احتیاط لازم کی بنا پر یہی حکم ہے۔
وہ چیزیں جو روزہ دار ک ے لئ ے مکرو ہ ہیں۔
1666 ۔ روز ہ دار ک ے لئ ے کچ ھ چ یزیں مکروہ ہیں اور ان میں سے بعض یہ ہیں:
1 ۔ آنک ھ م یں دوا ڈ النا اور سرم ہ لگانا جب ک ہ اس کا مز ہ یا بو حلق میں پہ نچ ے۔
2 ۔ ہ ر ا یسا کام کرنا جو کمزوری کا باعث ہ و مثلاً فصد ک ھ لوانا اور حمام جانا ۔
3 ۔ (ناک س ے ) ناس ک ھینچنا بشرطیکہ یہ علم نہ ہ و ک ہ حلق تک پ ہ نچ ے گ ی اور اگر یہ علم ہ و ک ہ حلق تک پ ہ نچ ے گ ی تو اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔
4 ۔ خوشبودار گ ھ اس (اور ج ڑی بوٹیاں) سونگھ نا ۔
5 ۔ عورت کا پان ی میں بیٹھ نا ۔
6 ۔ ش یاف استعمال کرنا یعنی کسی خشک چیز سے ان یما لینا۔
7 ۔ جو لباس پ ہ ن رک ھ ا ہ و اس ے تر کرنا ۔
8 ۔ دانت نکلوانا اور ہ ر و ہ کام کرنا جس ک ی وجہ س ے من ہ س ے خون نکل ے۔
9 ۔ تر لک ڑی سے مسواک کرنا ۔
10 ۔ بلاوج ہ پان ی یا کوئی اور سیال چیز منہ م یں ڈ النا
اور یہ بھی مکروہ ہے ک ہ من ی نکالنے ک ے قصد ک ے بغ یر انسان اپنی بیوی کا بوسہ ل ے یا کوئی شہ وت انگ یز کام کرے اور اگر ا یسا کرنا منی نکالنے ک ے قصد س ے ہ و اور من ی نہ نکل ے تو احت یاط لازم کی بنا پر روزہ باطل ہ و جاتا ہے۔
1667 ۔ اگر کوئ ی شخص ماہ رمضان ک ے روز ے کو ک ھ ان ے ، پ ینے یا ہ م بستر ی یا استمناء یا جنابت پر باقی رہ ن ے ک ی وجہ س ے باطل کر ے جب ک ہ جبر اور ناچار ی کی بنا پر نہیں بلکہ عمداً اور اخت یاراً ایسا کیا ہ و تو اس پر قضا ک ے علاو ہ کفار ہ ب ھی واجب ہ وگا اور جو کوئ ی مَتَذَکَّرہ امو ر کے علاو ہ کس ی اور طریقے سے روز ہ باطل کر ے تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ و ہ قضا ک ے علاو ہ کفار ب ھی دے۔
1668 ۔ جن امور کا ذکر ک یا گیا ہے اگر کوئ ی ان میں سے کس ی فعل کو انجام دے جب ک ہ اس ے پخت ہ یقین ہ و ک ہ اس عمل س ے اس کا روز ہ باطل ن ہیں ہ وگا تو اس پر کفار ہ واجب ن ہیں ہے۔
1669 ۔ ما ہ رمضان کا روز ہ تو ڑ ن ے ک ے کفار ے ک ے طور پر ضرور ی ہے ک ہ انسان ا یک غلام آزاد کرے یا ان احکام کے مطابق جو آئند ہ مسئل ے م یں بیان کئے جائ یں گے دو م ہینے روزے رک ھے یا ساٹھ فق یروں کو پیٹ بھ ر کر ک ھ انا ک ھ لائ ے یا ہ ر فق یر کو ایک مد تقریباً 4 ۔ 3 کلو طعام یعنی گندم یا جو یا روٹی وغیرہ دے اور اگر یہ افعال انجام دینا اس کے لئ ے ممکن ن ہ ہ و تو بقدر امکان صدق ہ د ینا ضروری ہے اور اگر یہ ممکن نہ ہ و تو توب ہ و استغفار کر ے اور احت یاط واجب یہ ہے ک ہ جس وقت (کفار ہ د ینے کے ) قابل ہ و جائ ے کفار ہ د ے۔
1670 ۔ جو شخص ما ہ رمضان ک ے روز ے ک ے کفار ے ک ے طور پر دو ما ہ روز ے رک ھ نا چا ہے تو ضرور ی ہے ک ہ ا یک پورا مہینہ اور اس سے اگل ے م ہینے کے ا یک دن تک مسلسل روزے رک ھے اور اگر باق ی ماندہ روز ے مسلسل ن ہ ب ھی رکھے تو کوئ ی اشکال نہیں۔
1671 ۔ جو شخص ما ہ رمضان ک ے روز ے ک ے کفار ے ک ے طور پر دو ماہ روز ے رک ھ نا چا ہے ضرور ی ہے ک ہ و ہ روز ے ا یسے وقت نہ رک ھے جس ک ے بار ے م یں وہ جانتا ہ و ک ہ ا یک مہینے اور ایک دن کے درم یان عید قربان کی طرح کوئی ایسا دن آجائے گا جس کا روز ہ رک ھ نا حرام ہے۔
1672 ۔ جس شخص کو مسلسل روز ے رک ھ ن ے ضرور ی ہیں اگر وہ ان ک ے ب یچ میں بغیر عذر کے ا یک دن روزہ ن ہ رک ھے تو ضرور ی ہے ک ہ دوبار ہ از سر نو روز ے رک ھے۔
1673 ۔ اگر ان دنوں ک ے درم یان جن میں مسلسل روزے رک ھ ن ے ضرور ی ہیں روزہ دار کو کوئ ی غیر اختیار عذر پیش آجائے مثلاً ح یض یا نفاس یا ایسا سفر جسے اخت یار کرنے پر و ہ مجبور ہ و تو عذر ک ے دور ہ ون ے ک ے بعد روزوں کا از سر نو رک ھ نا اس ک ے لئ ے واجب ن ہیں بلکہ و ہ عذر دور ہ ون ے کے بعد باقیماندہ روزے رک ھے۔
1674 ۔ اگر کوئ ی شخص حرام چیز سے اپنا روز ہ باطل کر د ے خوا ہ و ہ چ یز بذات خود حرام ہ و ج یسے شراب اور زنا یا کسی وجہ س ے حرا م ہ و جائ ے ج یسے کہ حلال غذا جس کا ک ھ انا انسان ک ے لئ ے بالعموم مضر ہ و یا وہ اپن ی بیوی سے حالت ح یض میں مجامعت کرے تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ کفار ہ جمع دے۔ یعنی اسے چا ہ ئ ے ک ہ ا یک غلام آزاد کرے اور دو م ہینے روزے رک ھے اور سا ٹھ فق یروں کو پیٹ بھ ر کر ک ھ نا ک ھ لائ ے یا ان میں سے ہ ر فق یر کو ایک مد گندم یا جَو یا روٹی وغیرہ دے اور اگر یہ تینوں چیزیں اس کے لئ ے ممکن ہ وں تو ان م یں سے جو کفار ہ ممکن ہ و، د ے۔
1675 ۔ اگر روز ہ دار جان بوج ھ کر الل ہ تعال ی یا نبی اکرم (صلی اللہ عل یہ وآلہ ) س ے کوئ ی جھ و ٹی بات منسوب کرے تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ کفار ہ جمع د ے جس ک ی تفصیل گزشتہ مسئل ہ م یں بیان کی گئی ہے۔
1676 ۔ اگر روز ہ دار ما ہ رمضان ک ے ا یک دن میں کئی دفعہ جماع یا استمناء کرے تو اس پر ا یک کفارہ واجب ہے ل یکن احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ ہ ر دفع ہ ک ے لئ ے ا یک ایک کفارہ د ے۔
1677 ۔ اگر روز ہ دار ما ہ رمضان ک ے ا یک دن میں جماع اور استمناء کے علاو ہ کئ ی دفعہ کوئ ی دوسرا ایسا کام کرے جو روز ے ک ے باطل کرتا ہ و تو ان سب ک ے لئ ے بلااشکال صرف ا یک کفارہ کاف ی ہے۔
1678 ۔ اگر روز ہ دار جماع ک ے علاو ہ کوئ ی دوسرا ایسا کام کرے جو روز ے کو باطل کرتا ہ و اور پ ھ ر اپن ی زوجہ س ے مجامعت ب ھی کرے تو دونوں کے لئ ے ا یک کفارہ کاف ی ہے۔
1679 ۔ اگر روز ہ دار کوئ ی ایسا کام کرے جو حلال ہ و اور روز ے کو باطل کرتا ہ و مثلاً پان ی پی لے اور اس ک ے بعد کوئ ی دوسرا ایسا کام کرے جو حرام ہ و اور روز ے کو باطل کرتا ہ و مثلاً حرام غذا ک ھ ال ے تو ا یک کفارہ کاف ی ہے۔
1680 ۔ اگر روز ے دا ر ڈ کار ل ے اور کوئ ی چیز اس کے من ہ م یں آجائے تو اگر و ہ اس ے جان بوج ھ کر نگل ل ے تو اس کا روز ہ باطل ہے اور ضرور ی ہے ک ہ اس ک ی قضا کرے اور کفار ہ ب ھی اس پر واجب ہ وجاتا ہے اور اگر اس چ یز کا کھ انا حرام ہ و مثلاً ڈ کار ل یتے وقت خون یا ایسی خوراک جو غذا کی تعریف میں نہ آتی ہ و اس ک ے من ہ م یں آجائے اور و ہ اس ے جان بوج ھ کر نگل ل ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس روز ے ک ی قضا بجا لائے اور احت یاط مستحب کی بنا پر کفارہ جمع ب ھی دے۔
1681 ۔ اگر کوئ ی شخص میت مانے ک ی ایک خاص دن روزہ رک ھے گا تو اگر و ہ اس دن جان بوج ھ کر اپن ے روز ے کو باطل کر د ے تو ضرور ی ہے ک ہ کفار ہ د ے اور اس کا کفار ہ اس ی طرح ہے ج یسے کہ منت تو ڑ ن ے کا کفار ہ ہے۔
1682 ۔ اگر روز ہ دار ا یک ایسے شخص کے ک ہ ن ے پر جو ک ہے ک ہ مغرب کا وقت ہ وگ یا ہے اور جس ک ے ک ہ ن ے پر اس ے اعتماد نہ ہ و روز ہ افطار کرل ے اور بعد م یں اسے پت ہ چل ے ک ہ مغرب کا وقت ن ہیں ہ وا یا شک کرے ک ہ مغرب کا وقت ہ وا ہے یا نہیں تو اس پر قضا اور کفارہ دونوں واجب ہ و جات ے ہیں۔
1683 ۔ جو شخص جان بوج ھ کر اپنا روز ہ باطل کرل ے اور اگر و ہ ظ ہ ر ک ے بعد سفر کر ے یا کفارے س ے بچن ے ک ے لئ ے ظہ ر س ے پ ہ ل ے سفر کر ے تو اس پر س ے کفار ہ ساقط ن ہیں ہ وتا بلک ہ اگر ظ ہ ر س ے پ ہ ل ے اتفاقاً اس ے سفر کرنا پ ڑھے تب ب ھی کفارہ اس پر واجب ہے۔
1684 ۔ اگر کوئ ی شخص جان بوجھ کر اپنا روز ہ تو ڑ د ے اور اس ک ے بعد کوئ ی عذر پیدا ہ و جائ ے مثلاً ح یض یا نفاس یا بیماری میں مبتلا ہ و جا ئے تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ کفار ہ د ے۔
1685 ۔ اگر کس ی شخص کو یقین ہ و ک ہ آج ما ہ رمضان المبارک ک ی پہ ل ی تاریخ ہے اور و ہ جان بوج ھ کر روز ہ تو ڑ د ے ل یکن بعد میں اسے پت ہ چل ے ک ہ شعبان ک ہ آخر ی تاریخ ہے تو اس پر کفار ہ واجب ن ہیں ہے۔
1686 ۔ اگر کس ی شخص کو شک ہ و کر آج رمضان ک ی آخری تاریخ ہے یا شوال کی پہ ل ی تاریخ اور وہ جان بوج ھ کر روز ہ تو ڑ د ے اور بعد م یں پتہ چل ے ک ہ پ ہ ل ی شوال ہے تو اس پر کفار ہ واجب ن ہیں ہے۔
1687 ۔ اگر ا یک روزہ دار ما ہ رمضان م یں اپنی روزہ دار ب یوی سے جماع کر ے تو اگر اس ن ے ب یوی کو مجبور کیا ہ و تو اپن ے روز ے کا کفار ہ اور احت یاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ اپن ی بیوی کے روز ے کا ب ھی کفارہ د ے اور اگر ب یوی جماع پر راضی ہ و تو ہ ر ا یک پر ایک ایک کفارہ واجب ہ و ج اتا ہے۔
1688 ۔ اگر کوئ ی عورت اپنے روز ہ دار شو ہ ر کو جماع کرن ے پر مجبور کر ے تو اس پر شو ہ ر ک ے روز ے کا کفار ہ ادا کرنا واجب ن ہیں ہے۔
1689 ۔ اگر روز ہ دار ما ہ رمضان م یں اپنی بیوی کو جماع پر مجبور کرے تو اس پر شو ہ ر ک ے روز ے کا کفار ہ ادا کرنا واجب ن ہیں ہے۔
1690 ۔ اگر روز ہ دار ما ہ رمضان المب ارک میں اپنی روزہ دار ب یوی سے جو سو ر ہی ہ و جماع کر ے تو اس پر ا یک کفارہ واجب ہ و جاتا ہے اور عورت کا روز ہ صح یح ہے اور اس پر کفار ہ ب ھی واجب نہیں ہے۔
1691 ۔ اگر شو ہ ر اپن ی بیوی کو یا بیوی اپنے شو ہ ر کو جماع ک ے علاو ہ کوئ ی ایسا کام کرنے پر مجبور کر ے جس س ے روز ہ باطل ہ و جاتا ہ و تو ان دونوں م یں سے کس ی پر بھی کفارہ واجب ن ہیں ہے۔
1692 ۔ جو آدم ی سفر یا بیماری کی وجہ س ے روز ہ ن ہ رک ھے و ہ اپن ی روزہ دار ب یوی کو جماع پر مجبور نہیں کرسکتا لیکن اگر مجبور کرے تب ب ھی مرد پر کفارہ واجب ن ہیں۔
1693 ۔ ضرور ی ہے ک ہ انسان کفار ہ د ینے میں کوتا ہی نہ کر ے ل یکن فوری طور پر دینا بھی ضروری نہیں۔
1694 ۔ اگر کس ی شخص پر کفارہ واجب ہ و اور و ہ کئ ی سال تک نہ د ے تو کفار ے م یں کوئی اضافہ ن ہیں ہ وتا ۔
1695 ۔ جس شخص کو بطور کفار ہ ا یک دن ساٹھ فق یروں کو کھ انا ک ھ لانا ضرور ی ہ و اگر ساٹھ فق یر موجود ہ وں تو و ہ ا یک فقیر کو ایک مد سے ز یادہ کھ انا ن ہیں دے سکتا یا ایک فقیر کو ایک سے زائد مرتب ہ پ یٹ بھ ر کر ک ھ لائ ے اور اس ے اپن ے کفار ے م یں زیادہ افراد کو کھ انا ک ھ لانا شمار ک رے البتہ و ہ فق یر کے ا ہ ل و ع یال میں سے ہ ر ا یک کو ایک مد دے سکتا ہے خوا ہ و ہ چ ھ و ٹے چ ھ و ٹے ہی کیوں نہ ہ وں ۔
1696 ۔ جو شخص ما ہ رمضان المبارک ک ے روز ے ک ی قضا کرے اگر و ہ ظ ہ ر ک ے بعد جان بوج ھ کر کوئ ی ایسا کام کرے جو روز ے ک ے باطل کرتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ دس فق یروں کو فرداً فرداً ایک مد کھ انا د ے اور اگر ن ہ د ے سکتا ہ و تو ت ین روزے رک ھے۔
1697 ۔ جو صورت یں بیان ہ وچک ی ہیں ان کے علاو ہ ان چند صورتوں م یں انسان پر صرف روزے ک ی قضا واجب ہے اور کفار ہ واجب ن ہیں ہے۔
1 ۔ ا یک شخص ماہ رمضان ک ی رات میں جنب ہ و جائ ے اور ج یسا کہ مسئل ہ 1639 میں تفصیل سے بتا یا گیا ہے صبح ک ی اذان تک دوسری نیند سے ب یدار نہ ہ و ۔
2 ۔ روز ے کو باطل کرن ے والا کام تو ن ہ ک یا ہ و ل یکن روزے ک ی نیت نہ کر ے یا ریا کرے ( یعنی لوگوں پر ظاہ ر کر ے ک ہ روز ے س ے ہ وں) یا روزہ رک ھ ن ے کا اراد ہ کر ے۔ اس ی طرح اگر ایسے کام کا ارادہ کر ے جو روز ے کو باطل کرتا ہ و ت و احتیاط لازم کی بنا پر اس دن کے روز ے ک ی قضا رکھ نا ضروری ہے۔
3 ۔ ما ہ رمضان المبارک م یں غسل جنابت کرنا بھ ول جائ ے اور جنابت ک ی حالت میں ایک ایک کئی دن روزے رک ھ تا ر ہے۔
4 ۔ ما ہ رمضان المبارک م یں یہ تحقیق کئے بغ یر کہ صبح ہ وئ ی ہے یا نہیں کوئی ایسا کام کرے جو روز ے کو باطل کرتا ہ و اور بعد م یں پتہ چل ے ک ہ صبح ہ وچک ی تھی تو اس صورت میں احتیاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ قُربت مطلق ہ ک ی نیت سے اس دن ان چ یزوں سے اجتناب کر ے جو روز ے کو باطل کرتی ہیں اور اس دن کے روز ے ک ی قضا بھی کرے۔
5 ۔ کوئ ی کے ک ہے ک ہ صبح ن ہیں ہ وئ ی اور انسان اس کے ک ہ ن ے ک ی بنا پر کوئی ایسا کام کرے جو روز ے کو باطل کرتا ہ و اور بعد م یں پتہ چل ے ک ہ صبح ہ وگئ ی تھی۔
6 ۔ کوئ ی کہے ک ہ صبح ہ وگئ ی ہے اور انسان اس ک ے ک ہ ن ے پر یقین نہ کر ے یا سمجھے ک ہ مذاق کر ر ہ ا ہے اور خود تحق یق نہ کر ے اور کوئ ی ایسا کام کرے جو روز ے کو باطل کرتا ہ و اور بعد م یں معلوم ہ و ک ہ صبح ہ وگئ ی تھی۔
7 ۔ ناب ینا یا اس جیسا کوئی شخص کسی کے ک ہ ن ے پر جس کا قول اس ک ے لئ ے شرعاً حجت ہ و روز ہ افطار کرل ے اور بعد م یں پتہ چل ے ک ہ اب ھی مغرب کا وقت نہیں ہ وا ت ھ ا ۔
8 ۔ انسان کو یقین یا اطمینان ہ و ک ہ مغرب ہ وگئ ی ہے اور و ہ روز ہ افطار کرل ے اور بعد م یں پتہ چل ے ک ہ مغرب ن ہیں ہ وئ ی تھی۔ ل یکن اگر مطلع ابر آلود ہ و اور انسان اس گمان ک ے تحت روز ہ افطار کرل ے ک ہ مغرب ہ وگئ ی ہے اور بعد م یں معلوم ہ و ک ہ مغرب ن ہیں ہ وئ ی تھی تو احتیاط کی بنا پر اس صورت میں قضا واجب ہے۔
9 ۔ انسان پ یاس کی وجہ س ے کل ی کرے یعنی پانی منہ م یں گھ مائ ے اور ب ے اخت یار پانی پیٹ میں چلاجائے۔ اگر نماز واجب ک ے وضو ک ے علاو ہ کس ی وضو میں کلی کی جائے تو احت یاط مستحب کی بنا پر اس کے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے ل یکن اگر انسان بھ ول جائ ے ک ہ روز ے س ے ہے اور پان ی گلے س ے اتر جائ ے یا پیاس کے علاو ہ کس ی دوسری صورت میں کہ ج ہ اں کل ی کرنا مستحب ہے ۔ جس یے وضو کرتے وقت ۔ کل ی کرے اور پان ی بے اخت یار پیٹ میں چلاجائے تو اس ک ی قضا نہیں ہے۔
10 ۔ کوئ ی شخص مجبوری، اضطرار یا تقیہ کی حالت میں روزہ افطار کر ے تو اس پر روز ے ک ی قضا رکھ نا لازم ہے ل یکن کفارہ واجب ن ہیں۔
1698 ۔ اگر روز ہ دار پان ی کے علاو ہ کوئ ی چیز منہ م یں ڈ ال ے اور و ہ ب ے اخت یار پیٹ میں چلی جائے یا ناک میں پانی ڈ ال ے اور و ہ ب ے اخت یار (حلق کے ) ن یچے اتر جائے تو اس پر قضا واجب ن ہیں ہے۔
1699 ۔ روز ہ دار ک ے لئ ے ز یادہ کلیاں کرنا مکروہ ہے اور اگر کل ی کے بعد لعاب د ہ ن نگلنا چا ہے تو ب ہ تر ہے ک ہ پ ہ ل ے ت ین دفعہ لعاب کو ت ھ وک د ے۔
1700 ۔ اگرکس ی شخص کو معلوم ہ و یا اسے احتمال ہ و ک ہ کل ی کرنے س ے ب ے اخت یار پانی اس کے حلق م یں چلاجائے گا تو ضرور ی ہے ک ہ کل ی نہ کر ے۔ اور اگر جانتا ہ و ک ہ ب ھ ول جان ے ک ی وجہ س ے پان ی اس کے حلق میں چلا جائے گا تب ب ھی احتیاط لازم کی بنا پر یہی حکم ہے۔
1701 ۔ اگر کس ی شخص کو ماہ رمضان المبارک م یں تحقیق کرنے ک ے بعد معلوم ن ہ ہ و ک ہ صبح ہ وگئ ی ہے اور و ہ کوئ ی ایسا کام کرے جو روز ے کو باطل کرتا ہے اور بعد م یں معلوم ہ و ک ہ صبح ہ وگئ ی تھی تو اس کے لئ ے روز ے ک ی قضا کرنا ضروری نہیں۔
1702 ۔ اگر کس ی شخص کو شک ہ و ک ہ مغرب ہ وگئ ی ہے یا نہیں تو وہ روز ہ افطار ن ہیں کر سکتا لیکن اگر اسے شک ہ و ک ہ صبح ہ وئ ی ہے یا نہیں تو وہ تحق یق کرنے س ے پ ہ ل ے ا یسا کام کر سکتا ہے جو روز ے کو باطل کرتا ہ و ۔
1703 ۔ اگر کوئ ی دیوانہ اچھ ا ہ وجائ ے تو اس ک ے لئ ے عالم د یوانگی کے روزوں ک ی قضا واجب نہیں۔
1704 ۔ اگر کوئ ی کافر مسلمان ہ وجائ ے تو اس پر زمان ہ کفر ک ے روزوں ک ی قضا واجب نہیں ہے ل یکن اگر ایک مسلمان کافر ہ و جائ ے اور پ ھ ر دوبار ہ مسلمان ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ا یام کفر کے روزوں ک ی قضا بجالائے۔
1705 ۔ جو روز ے انسان ک ی بے حواس ی کی وجہ س ے چ ھ و ٹ جائ یں ضروری ہے ک ہ ان ک ی قضا بجالائے خوا ہ جس چ یز کی وجہ س ے و ہ ب ے حواس ہ وا ہ و و ہ علاج ک ی غرض سے ہی کھ ائ ی ہ و ۔
1706 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی عذر کی وجہ س ے چند دن روز ے ن ہ رک ھے اور بعد م یں شک کرے ک ہ اس کا عذر کس ی وقت زائل ہ وا تا تو اس ک ے لئ ے واجب ن ہیں کہ جتن ی مدت روزے ن ہ رک ھ ن ے کا ز یادہ احتمال ہ و اس ک ے مطابق قضا بجالائ ے مثلاً اگر کوئ ی شخص رمضان المبارک سے پ ہ ل ے سفر کر ے اور اس ے معلوم نہ ہ و ک ہ ما ہ مبارک ک ی پانچویں تاریخ کو سفر سے واپس آ یا تھ ا یا چھٹی کو یا مثلاً اس نے ما ہ مبارک ک ے آخر م یں سفر شروع کیا ہ و اور ما ہ مبارک ختم ہ ون ے ک ے بعد واپس آ یا ہ و اور اس ے پت ہ ن ہ ہ و ک ہ پچ یسویں رمضان کو سفر کیا تھ ا ۔یا چھ ب یسویں کو تو دونوں صورتوں میں وہ کمتر دنوں یعنی پانچ روزوں کی قضا کر سکتا ہے اگرچ ہ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ ز یادہ دنوں یعنی چھ روزوں ک ی قضا کرے۔
1707 ۔ اگر کس ی شخص پر کئی سال کے ما ہ رمضان المبارک ک ے روزوں ک ی قضا واجب ہ و تو جس سال ک ے روزوں ک ی قضا پہ ل ے کرنا چا ہے کر سکتا ہے ل یکن اگر آخر رمضان المبارک کے روزوں ک ی قضا کا وقت تنگ ہ و مثلاً آخر ی رمضان المبارک کے پانچ روزوں ک ی قضا اس کے ذم ے ہ و اور آئند ہ ر مضان المبارک کے شروع ہ ون ے م یں بھی پانچ ہی دن باقی ہ وں تو ب ہ تر یہ ہے ک ہ پ ہ ل ے آخر ی رمضان المبارک کے روزوں ک ی قضا بجالائے۔
1708 ۔ اگر کس ی شخص پر کئی سال کے ما ہ رمضان ک ے روزوں ک ی قضا واجب ہ و اور و ہ روز ہ ک ی نیت کرتے وقت مع ین نہ کر ے کہ کون س ے رمضان المبارک ک ے روز ے ک ی قضا کر رہ ا ہے تو اس کا شمار آخر ی ماہ رمضان ک ی قضا میں نہیں ہ وگا ۔
1709 ۔ جس شخص ن ے رمضان المبارک کا قضا روز ہ رک ھ ا ہ و و ہ اس روز ے کو ظ ہ ر س ے پ ہ ل ے تو ڑ سکتا ہے ل یکن اگر قضا کا وقت تنگ ہ و تو ب ہ تر ہے ک ہ روز ہ ن ہ تو ڑے۔
1710 ۔ اگر کس ی نے م یت کا قضا روزہ رک ھ ا ہ و تو ب ہ تر یہ ہے ک ہ ظ ہ ر ک ے بعد روز ہ ن ہ تو ڑے۔
1711 ۔ اگر کوئ ی بیماری یا حیض یا نفاس کی وجہ س ے رمضان المبارک ک ے روز ے ن ہ رک ھے اور اس مدت ک ے گزرن ے س ے پ ہ ل ے ک ہ جس م یں وہ ان روزں ک ی جو اس نے ن ہیں رکھے ت ھے قضا کر سکتا ہ و مرجائ ے تو ان روزوں ک ی قضا نہیں ہے۔
1712 ۔ اگر کوئ ی شخص بیماری کی وجہ س ے رمضان المبارک ک ے روز ے ن ہ رک ھے اور اس ک ی بیماری آئندہ رمضان تک طول ک ھینچ جائے تو جو روز ے اس ن ے ن ہ رک ھے ہ وں ان ک ی قضا اس پر واجب نہیں ہے اور ضرور ی ہے ک ہ ہ ر دن ک ے لئے ا یک مد طعام یعنی گندم یا جَو یا روٹی وغیرہ فقیر کو دے ل یکن اگر کسی اور عذر مثلاً سفر کی وجہ س ے روز ے ن ہ رک ھے اور اس کا عذر آئند ہ رمضان المبارک تک باق ی رہے تو ضرور ی ہے ک ہ جو روز ے ن ہ رک ھے ہ وں ان ک ی قضا کرے اور احت یاط واجب یہ ہے ک ہ ہ ر ا یک دن کے لئ ے ا یک مد طعام بھی فقیر کو دے۔
1713 ۔ اگر کوئ ی شخص بیماری کی وجہ س ے رمضان المبارک ک ے روز ے ن ہ رک ھے اور رمضان المبارک ک ے بعد اس ک ی بیماری دور ہ وجائ ے ل یکن کوئی دوسرا عذر لاحق ہ و جائ ے جس ک ی وجہ س ے و ہ آئند ہ رمضان المبارک تک قضا روز ے ن ہ رک ھ سک ے تو ضرور ی ہے ک ہ جو روز ے ن ہ رک ھے ہ وں ان ک ی قضا بجالائے نیز اگر رمضان المبارک میں بیماری کے علاو ہ کوئ ی اور عذر رکھ تا ہ و اور رمضان المبارک ک ے بعد و ہ عذر دور ہ و جائ ے اور آئند ہ سال ک ے رمضان المبارک تک ب یماری کی وجہ س ے روز ے ن ہ رک ھ سک ے تو جو روز ے ن ہ رک ھے ہ وں ضرور ی ہے ک ہ ان کی قضا بجالائے اور احت یاط واجب کی بنا پر ہ ر دن ک ے لئ ے ا یک مد طعام بھی فقیر کو دے۔
1714 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی عذر کی وجہ س ے رمضان المبارک م یں روزے ن ہ رک ھے اور رمضان المبارک ک ے بعد اس کا عذر دور ہ وجائ ے اور و ہ آئند ہ رمضان المبارک تک عمداً روزوں ک ی قضا نہ بجال ائے تو ضرور ی ہے ک ہ روزوں ک ی قضا کرے اور ہ ر دن ک ے لئ ے ا یک مد طعام بھی فقیر کو دے۔
1715 ۔ اگر کوئ ی شخص قضا روزے رک ھ ن ے م یں کوتاہی کرے حت ی کہ وقت تنگ ہ و جائ ے اور وقت ک ی تنگی میں اسے کوئ ی عذر پیش آجائے تو ضرور ی ہے ک ہ روزوں ک ی قضا کرے اور احت یاط کی بنا پر ہ ر ا یک دن کے لئ ے ا یک مد طعام فقیر کو دے۔ اور اگر عذر دور ہ ون ے ک ے بعد مصمم اراد ہ رک ھ تا ہو کہ روزوں ک ی قضا بجالائے گا ل یکن قضا بجا لانے س ے پ ہ ل ے تنگ وقت م یں اسے کوئ ی عذر پیش آجائے تو اس صورت م یں بھی یہی حکم ہے۔
1716 ۔ اگر انسان کا مرض چند سال طور ک ھینچ جائے تو ضرور ی ہے ک ہ تندرست ہ ون ے ک ے بعد آخر ی رمضان المبارک کے چ ھٹے ہ وئ ے روزوں ک ی قضا بجالائے اور اس س ے پچ ھ ل ے سالوں ک ے ما ہ ہ ائ ے مبارک ک ے ہ ر دن ک ے لئ ے ا یک مد طعام فقیر کو دے۔
1717 ۔ جس شخص ک ے لئ ے ہ ر روز ے ک ے عوض ا یک مد طعام فقیر کو دینا ضروری ہ و و ہ چند دنوں کا کفار ہ ا یک ہی فقیر کو دے سکتا ہے۔
1718 ۔ اگرکوئ ی شخص ماہ رمضان المبارک ک ے روزوں ک ی قضا کرنے م یں کئی سال کی تاخیر کر دے تو ضرور ی ہے ک ہ قضا کر ے اور پ ہ ل ے سال م یں تاخیر کرنے ک ی بنا پر ہ ر روز ے ک ے لئ ے ا یک مدطعام فقیر کو دے ل یکن باقی کئی سال کی تاخیر کے لئ ے اس پر کچ ھ ب ھی واجب نہیں ہے۔
1719 ۔ اگر کوئ ی شخص رمضان المبارک کے روز ے جان بوج ھ کر ن ہ رک ھے تو ضرور ی ہے ک ہ ان ک ی قضا بجالائے اور ہ ر دن ک ے لئ ے دو م ہینے روزے رک ھے یا ساٹھ فق یروں کو کھ انا د ے یاایک غلام آزاد کرے اور اگر آئند ہ رمضان المبارک تک ان روزوں ک ی قضانہ کر ے تو احت یاط لازم کی بنا پر ہ ردن ک ے لئ ے ا یک مد طعام کفارہ ب ھی دے۔
1720 ۔ اگر کوئ ی شخص جان بوجھ کر رمضان المبارک کا روز ہ ن ہ رک ھے اور دن م یں کئی دفعہ جماع یا استمناء کرے تو اقو ی کی بنا پر کفارہ مکررن ہیں ہ وگا (ا یک کفارہ کاف ی ہے ) ا یسے ہی اگر کئی دفعہ کوئ ی اور ایسا کام کرے جو روز ے کو باطل کرتا ہ و مثلاً کئ ی دفعہ ک ھ انا ک ھ ائ ے تب ب ھی ایک کفارہ کاف ی ہے۔
1721 ۔ باپ ک ے مرن ے ک ے بعد ب ڑے ب یٹے کے لئ ے احت یاط لازم کی بنا پر ضروری ہے ک ہ باپ ک ے روزوں ک ی قضا اسی طرح بجالائے ج یسے کہ نماز ک ے سلسل ے م یں مسئلہ 1399 میں تفصیل سے بتا یا گیا ہے۔
1722 ۔ اگر کس ی کے باپ ن ے ما ہ رمضان المبارک ک ے روزوں ک ے علاو ہ کوئ ی دوسرے واجب روز ے مثلا سَنَّت ی روزے ن ہ رک ھے ہ وں تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ ب ڑ ا ب یٹ ا ان روزوں کی قضا بجالائے۔ ل یکن اگر باپ کسی کے روزوں ک ے لئ ے اج یر بنا ہ و اور اس ن ے و ہ روز ے ن ہ رک ھے ہ وں تو ان ر وزوں کی قضا بڑے ب یٹے پر واجب نہیں ہے۔
1723 ۔ جس مسافر ک ے لئ ے سفر م یں چار رکعتی نماز کے بجائ ے دو رکعت پ ڑھ نا ضرور ی ہ و اس ے روز ہ ن ہیں رکھ نا چا ہ ئ ے ل یکن وہ مسافر جو پور ی نماز پڑھ تا ہ و مثلاً و ہ شخص جس کا پ یشہ ہی سفر ہ و یا جس کا سفر کسی ناجائز کام کے لئ ے ہ و ضرور ی ہے ک ہ سفر م یں روزہ رک ھے۔
1724 ۔ ما ہ رمضان المبارک م یں سفر کرنے م یں کوئی حرج نہیں لیکن روزے س ے بچن ے ک ے لئ ے سفر کرنا مکرو ہ ہے اور اس ی طرح رمضان المبارک کی چوبیسویں تاریخ سے پ ہ ل ے سفر کرنا (ب ھی مکروہ ہے ) بجز اس سفر ک ے جو حج، عمر ہ یا کسی ضروری کام کے لئ ے ہ و ۔
1725 ۔ اگر ما ہ رمضان المبارک ک ے روزوں ک ے علاو ہ کس ی خاص دن کا روزہ انسان پر واجب ہ و مثلاً و ہ روز ہ اجار ے یا اجارے ک ی مانند کسی وجہ س ے واجب ہ وا ہ و یا اعتکاف کے دنوں م یں سے ت یسرا دن ہ و تو اس دن سفر ن ہیں کر سکتا اور اگر سفر میں ہ و اور اس کے لئ ے ٹھہ رنا ممکن ہ و تو ضروری ہے ک ہ دس دن ا یک جگہ ق یام کرنے ک ی نیت کرے اور اس دن روز ہ رک ھے ل یکن اگر اس دن کا روزہ منت ک ی وجہ س ے واجب ہ وا ہ و تو ظا ہ ر یہ ہے ک ہ اس دن سفر کرنا جائز ہے اور ق یام کی نیت کرنا واجب نہیں۔ اگرچ ہ ب ہ تر یہ ہے ک ہ جب تک سفر کرن ے ک ے لئ ے مجبور ن ہ ہ و سفر ن ہ کر ے اور اگر سفر م یں ہ و تو ق یام کرنے ک ی نیت کرے۔
1726 ۔ اگر کوئ ی شخص مستحب روزے ک ی منت مانے ل یکن اس کے لئ ے دن مع ین نہ کر ے تو و ہ شخص سفر م یں اسیا مَنّتی روزہ ن ہیں رکھ سکتا ل یکن اگر منت مانے ک ی سفر کے دوران ا یک مخصوص دن روزہ رک ھے گا تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ روز ہ سفر م یں رکھ ن ے ن یز اگر منت مانے ک ی سفر میں ہ و یا نہ ہو ایک مخصوص دن کا روزہ رک ھے گا تو ضرور ی ہے ک ہ اگرچ ہ سفر م یں تب بھی اس دن کا روزہ رک ھے۔
1727 ۔ مسافر طلب حاجت ک ے لئ ے ت ین دن مدینہ طیبہ میں مستحب روزہ رک ھ سکتا ہے اور اَحوَط یہ ہے ک ہ و ہ ت ین دن بدن، جمعرات اور جمعہ ہ وں ۔
1728 ۔ کوئ ی شخص جسے یہ علم نہ ہ و ک ہ مسافر کا روز ہ رک ھ نا باطل ہے ، اگر سفر م یں روزہ رک ھ ل ے اور دن ہی دن میں اسے حکم مسئل ہ معلوم ہ و جائ ے تو اس کا روز ہ باطل ہے ل یکن اگر مغرب تک حکم معلوم نہ ہ و تو اس کا روز ہ صح یح ہے۔
1729 ۔ اگر کوئ ی شخص یہ بھ ول جائ ے ک ہ و ہ مساف ہے یا یہ بھ ول جائ ے ک ہ مسافر کا روز ہ باطل ہ وتا ہے اور سفر ک ے دوران روز ہ رک ھ ل ے تو اس کا روز ہ باطل ہے۔
1730 ۔ اگر روز ہ دار ظ ہ ر ک ے بعد سفر کر ے تو ضرور ی ہے احت یاط کی بنا پر اپنے روز ے ک و تمام کرے اور اگر ظ ہ ر س ے پ ہ ل ے سفر کر ے اور رات س ے ہی سفر کا ارادہ رک ھ تا ہ و تو اس دن کا روز ہ ن ہیں رکھ سکتا بلک ہ اگر رات س ے سفر کا اراد ہ ن ہ ہ و تب ب ھی احتیاط کی بنا پر اس دن روزہ ن ہیں رکھ سکتا ل یکن ہ ر صورت م یں حد تَرخُّص تک پہ نچن ے س ے پ ہ ل ے ا یسا کوئی کام نہیں کرنا چاہ ئ ے جو روز ہ کو باطل کرتا ہ و ورن ہ اس پر کفار ہ واجب ہ وگا ۔
1731 ۔ اگر مسافر ما ہ رمضان المبارک م یں خواہ و ہ فجر س ے پ ہ ل ے سفر م یں ہ و یا روزے س ے ہ و اور سفر کر ے اور ظ ہ ر س ے پ ہ ل ے اپن ے وطن پ ہ نچ جائ ے یا ایسی جگہ پ ہ نچ جائ ے ج ہ اں و ہ دس دن ق یام کرنا چاہ تا ہ و اور اس ن ے کوئ ی ایسا کام نہ ک یا ہ وجو روز ے کو باطل کرتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس دن کا روز ہ رک ھے اور اگر کوئ ی ایسا کام کیا ہ و جو روز ے کو باطل کرتا ہ و تو اس دن کا روز ہ اس پر واجب ن ہیں ہے۔
1732 ۔ اگر مسافر ظ ہ ر ک ے بعد اپن ے وطن پ ہ نچ ے یا ایسی جگہ پ ہ نچ ے ج ہ اں دس دن ق یام کرنا چاہ تا ہ و تو و ہ اس دن کا روز ہ ن ہیں رکھ سکتا ۔
1733 ۔ مسافر اور و ہ شخص جو کس ی عذر کی وجہ س ے روز ہ ن ہ رک ھ سکتا ہ و اس ک ے لئ ے ما ہ رمضان المبارک م یں دن کے وقت جماع کرنا اور پ یٹ بھ ر کر ک ھ انا اور پ ینا مکروہ ہے۔
1734 ۔ جو شخص ب ڑھ اپ ے ک ی وجہ س ے روز ہ ن ہ رک ھ سکتا ہ و یا روزہ رک ھ نا اس ک ے لئ ے شد ید تکلیف کا باعث ہ و اس پر روز ہ واجب ن ہیں ہے ل یکن روزہ ن ہ رک ھ ن ے ک ی صورت میں ضروری ہے ک ہ ہ ر روز ے ک ے عوض ا یک مُدطعام یعنی گندم یا جَو یا روٹی یا ان سے ملت ی جلتی کوئی چیز فقیر کو دے۔
1735 ۔ جو شخص ب ڑھ اپ ے ک ی وجہ س ے ما ہ رمضان المبارک ک ے روز ے ن ہ رک ھے اگر و ہ رمضان المبارک ک ے بعد روز ے رک ھے ک ے قابل ہ وجائ ے تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ جو روز ے ن ہ رک ھے ہ وں ان ک ی قضا بجالائے۔
1736 ۔ اگر کس ی شخص کو کوئی ایسی بیماری ہ و جس ک ی وجہ س ے اس ے ب ہ ت ز یادہ پیاس لگتی ہ و اور و ہ پ یاس برداشت نہ کر سکتا ہ و یا پیاس کی وجہ س ے اس ے تکل یف ہ وت ی ہ و تو اس پر روز ہ واجب ن ہیں ہے ل یکن روزہ ن ہ رک ھ ن ے ک ی صورت میں ضروری ہے ک ہ ہ ر روز ے ک ے عوض ا یک مدطعام فقیر کو دے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ جتن ی مقدار اشد ضروری ہ و اس س ے ز یادہ پانی نہ پ یئے اور بعد میں جب روزہ رک ھ ن ے ک ے قابل ہ و جائ ے تو جو روز ے ن ہ رک ھے ہ وں احت یاط مستحب کی بنا پر ان کی قضا بجالائے۔
1737 ۔ جس عورت کا وضع حمل کا وقت قر یب ہ و اس کا روز ہ رک ھ نا خود اس ک ے لئ ے یا اس کے ہ ون ے وال ے بچ ے ک ے لئ ے مضر ہ و اس پر روز ہ واجب ن ہیں ہے اور ضرور ی ہے ک ہ و ہ ہ ر دن ک ے عوض ا یک مد طعام فقیر کو دے اور ضرور ی ہے ک ہ دونوں صورتوں م یں جو روزے ن ہ رک ھے ہ وں ان ک ی قضا بجالائے۔
1738 ۔ جو عورت بچ ے کو دود ھ پلات ی ہ و اور اس کا دود ھ کم ہ و خوا ہ و ہ بچ ے ک ی ماں ہ و یا دایہ اور خواہ بچ ے کو مفت دود ھ پلار ہی ہ و اگر اس کا روز ہ رک ھ نا خود ان کے یا دودھ پ ینے والے بچ ے ک ے لئ ے مضر ہ و تو اس عورت پر روز ہ رک ھ نا واجب ن ہیں ہے اور ضرور ی ہے ک ہ ہ ر دن ک ے عوض ا یک مدطعام فقیر کو دے اور دونوں صورتوں م یں جو روزے ن ہ رک ھے ہ وں ان ک ی قضا کرنا ضروری ہے۔ ل یکن احتیاط واجب کی بنا پر حکم صرف اس صورت میں ہے جبک ہ بچ ے کو دودھ پلان ے کا انحصار اس ی پر ہ و ل یکن اگر بچے کو دود ھ پلان ے کا کوئ ی اور طریقہ ہ و مثلاً کچ ھ عورت یں مل کر بچے ک و دودھ پلائ یں تو ایسی صورت میں اس حکم کے ثابت ہ ون ے م یں اشکال ہے۔
1739 ۔ م ہینے کی پہ ل ی تاریخ (مندرجہ ذ یل) چار چیزوں سے ثابت ہ وت ی ہے :
1 ۔ انسان خود چاند د یکھے۔
2 ۔ ا یک ایسا گروہ جس ک ے ک ہ ن ے پر یقین یا اطمینان ہ و جائ ے یہ کہے ک ہ ہ م ن ے چاند د یکھ ا ہے اور اس طرح ہ ر و ہ چ یز جس کی بدولت یقین یا اطمینان ہ و جائ ے۔
3 ۔ دو عادل مرد یہ کہیں کہ ہ م ن ے رات کو چاند د یکھ ا ہے ل یکن اگر وہ چاند ک ے الگ الگ اوصاف ب یان کریں تو پہ ل ی تاریخ ثابت نہیں ہ وگ ی۔ اور یہی حکم ہے اگر ان ک ی گواہی میں اختلاف ہ و ۔ یا اس کے حکم م یں اختلاف ہ و ۔ مثلاً ش ہ ر ک ے ب ہ ت س ے لوگ چاند د یکھ ن ے کی کوشش کریں لیکن دو عادل آدمیوں کے علاو ہ کوئ ی دوسرا چاند دیکھ ن ے کا دعوی نہ کرے یا کچھ لوگ چاند د یکھ ن ے کی کوشش کریں اور ان لوگوں میں سے دو عادل چاند د یکھ ن ے کا دعوی کریں اور دوسروں کو چاند نظر نہ آئ ے حالانک ہ ان لوگوں م یں دو اور عادل آدمی ایسے ہ وں جو چاند ک ی جگہ پ ہ چانن ے ، نگ اہ کی تیزی اور دیگر خصوصیات میں ان پہ ل ے دو عادل آدم یوں کی مانند ہ وں (اور و ہ چاند د یکھ ن ے کا دعوی نہ کر یں) تو ایسی صورت میں دو عادل آدمیوں کی گواہی سے م ہینے کی پہ ل ی تاریخ ثابت نہیں ہ وگ ی۔
4 ۔ شعبان ک ی پہ ل ی تاریخ سے ت یس دن گزر جائیں جن کے گزرن ے پر ما ہ رمضان المبارک ک ی پہ ل ی تاریک ثابت ہ وجات ی ہے اور رمضان المبارک ک ی پہ ل ی تاریخ سے ت یس دن گزر جائیں جن کے گزرن ے پر شوال ک ی پہ ل ی تاریخ ثابت ہ و جات ی ہے۔
1740 ۔ حاکم شرع ک ے حکم س ے م ہینے کی پہ ل ی تاریخ ثابت نہیں ہ وت ی اور احتیاط کی رعایت کرنا اولی ہے۔
1741 ۔ منجموں ک ی پیش گوئی سے م ہینے کی پہ ل ی تاریخ ثابت نہیں ہ وت ی لیکن اگر انسان کو ان کے ک ہ ن ے س ے یقین یا اطمینان ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس پر عمل کر ے۔
1742 ۔ چاند ا آسمان پر بلند ہ ونا یا اس کا دیر سے غروب ہ ونا اس بات ک ی دلیل نہیں کہ سابق ہ رات چاند رات ت ھی اور اسی طرح اگر چاند کے گرد حلق ہ ہ و تو یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے ک ہ پ ہ ل ی کا چاند گزشتہ رات نکلا ہے۔
1743 ۔ اگر کس ی شخص پر ماہ رمضان المبارک ک ی پہ ل ی تاریخ ثابت نہ ہ و اور و ہ روز ہ ن ہ رک ھے ل یکن بعد میں ثابت ہ و جائ ے ک ہ گزشت ہ رات ہی چاند تھی تو ضروری ہے ک ہ اس دن ک ے روز ے ک ی قضا کرے۔
1744 ۔ اگر کس ی شہ ر م یں مہینے کی پہ ل ی تاریخ ثابت ہ و جائ ے تو و ہ دوسر ے ش ہ روں م یں بھی کہ جن کا افق اس ش ہ ر س ے متحد ہ و م ہینے کی پہ ل ی تاریخ ہ وت ی ہے۔ یہ اں پر افق کے متحد ہ ون ے س ے مراد یہ ہے ک ہ اگر پ ہ ل ے ش ہ ر م یں چاند دکھ ائ ی دے تو دوسر ے ش ہ ر م یں بھی اگر بادل کی طرح کوئی رکاوٹ ن ہ ہ و تو چاند دک ھ ائ ی دیتا ہے۔
1745 ۔ م ہینے کی پہ ل ی تاریخ ٹیلی گرام (اور ٹیلکس یا فیکس) سے ثابت ن ہیں ہ وت ی سوائے اس صورت ک ے ک ہ انسان کو علم ہ و ک ہ یہ پیغام دو عادل مردوں کی شہ ادت ک ی رو سے کس ی دوسرے ا یسے طریقے سے آ یا ہے جو شرعاً معتبر ہے ۔
1746 ۔ جس دن ک ے متعلق انسان کو علم ن ہ ہ و ک ہ رمضان ا لمبارک کا آخری دن ہے یا شوال کا پہ لا دن اس دن ضرور ی ہے ک ہ روز ہ رک ھے ل یکن اگر دن ہی دن میں اسے پت ہ چل جائ ے ک ہ آج یکم شوال (روز عید) ہے تو ضرور ی ہے ک ہ روز ہ افطار کرل ے۔
1747 ۔ اگر کوئ ی شخص قید میں ہ و اور ما ہ رمضان ک ے بار ے م یں یقین نہ کر سک ے تو ضرور ی ہے ک ہ گم ان پر عمل کرے ل یکن اگر قوی گمان پر عمل کر سکتا ہ و تو ضع یف گمان پر عمل نہیں کر سکتا اور اگر گمان پر عمل ممکن نہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ جس م ہینے کے بار ے م یں احتمال ہ و ک ہ رمضان ہے اس م ہینے میں روزے رک ھے ل یکن ضروری ہے ک ہ و ہ اس م ہینے کو یاد رکھے۔ چنانچ ہ بعد م یں اسے معلوم ہ و ک ہ و ہ ما ہ رمضان یا اس کے بعد کا زمان ہ ت ھ ا تو اس ک ے ذم ے کچ ھ ن ہیں ہے۔ ل یکن اگر معلوم ہ و ک ہ ما ہ رمضان س ے پ ہ ل ے کا زمان ہ ت ھ ا تو ضرور ی ہے ک ہ رمضان ک ے روزوں ک ی قضا کرے۔
1748 ۔ ع ید فطر اور عید قربان کے دن روز ہ رک ھ نا حرام ہے ن یز جس دن کے بار ے م یں انسان کو یہ علم نہ ہ و ک ہ شعبان ک ی آخری تاریخ ہے یا رمضان المبارک کی پہ ل ی تو اگر وہ اس دن پ ہ ل ی رمضان المبارک کی نیت سے روز ہ رک ھے تو حرام ہے۔
1749 ۔ اگر عورت ک ے مستحب (نفل ی) روزہ رک ھ ن ے س ے شو ہ ر ک ی حق تلفی ہ وت ی ہ و تو عورت کا روز ہ رک ھ نا حرام ہے اور احت یاط واجب یہ ہے ک ہ خوا ہ شو ہ ر ک ی حق تلفی نہ ب ھی ہ وت ی ہ و اس ک ی اجازت کے بغ یر مستحب (نفلی) روزہ ن ہ رک ھے۔
1750 ۔ اگر اولاد کا مستحب روز ہ ۔ ماں باپ ک ی اولاد سے شفقت ک ی وجہ س ے ۔ ماں باپ ک ے لئ ے اذ یت کا موجب ہ و تو اولاد ک ے لئ ے مستحب روزہ رک ھ نا حرام ہے۔
1751 ۔ اگر ب یٹ ا باپ کی اجازت کے بغ یر مستحب روزہ رک ھ ل ے اور دن ک ے دوران باپ اس ے (روز ہ رک ھ ن ے س ے )منع کر ے تو اگر ب یٹے کا باپ کی بات نہ ماننا فطر ی شفقت کی وجہ س ے اذ یت کا موجب ہ و تو ب یٹے کو چاہ ئ ے ک ہ روز ہ تو ڑ د ے۔
1752 ۔ اگر کوئ ی شخص جانتا ہ و ک ہ روز ہ رک ھ نا اس ک ے لئ ے ا یسا مضر نہیں ہے ک ہ جس ک ی پروا کی جائے تو اگرچ ہ طب یب کہے ک ہ مضمر ہے اس ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ روز ہ رک ھے اور اگر کوئ ی شخص یقین یا گمان رکھ تا ہ و ک ہ روز ہ اس ک ے لئ ے مضر ہے تو اگرچ ہ طب یب کہے ک ہ مضر ن ہیں ہے ضرور ی ہے کہ و ہ روز ہ ن ہ رک ھے اور اگر وہ روز ہ رک ھے جبک ہ روز ہ رک ھ نا واقع ی مضر ہ و یا قصد قربت سے ن ہ ہ و تو اس کا روز ہ صح یح نہیں ہے۔
1753 ۔ اگر کس ی شخص کو احتمال ہ و ک ہ روز ہ رک ھ نا اس ک ے لئ ے ا یسا مضر ہے ک ہ جس ک ی پروا کی جائے اور اس احتمال ک ی بنا پر (اس کے دل م یں) خوف پیدا ہ و جائ ے تو اگر اس کا احتمال لوگوں ک ی نظر میں صحیح ہ وتو اس ے روز ہ ن ہیں رکھ نا چا ہ ئ ے۔ اور اگر و ہ روز ہ رک ھ ل ے تو سابق ہ مسئل ے کی طرح اس صورت میں بھی اس کا روزہ صح یح نہیں ہے۔
1754 ۔ جس شخص کو اعتماد ہ و ک ہ روز ہ رک ھ نا اس ک ے لئ ے مضر ن ہیں اگر وہ روز ہ رک ھ ل ے اور مغرب کے بعد اس ے پت ہ چل ے ک ہ روز ہ رک ھ نا اس ک ے لئ ے ا یسا مضر تھ ا ک ہ جس ک ی پروا کی جاتی تو احتیاط واجب کی بنا پر اس روزے ک ی قضا کرنا ضروری ہے۔
1755 ۔ مندرج ہ بالا روزوں ک ے علاو ہ اور ب ھی حرام روزے ہیں جو مفصل کتابوں میں مذکور ہیں۔
1756 ۔ عاشور ک ے دن روز ہ رک ھ نا مکرو ہ ہے اور اس دن کا روز ہ ب ھی مکروہ ہے جس ک ے بار ے م یں شک ہ و ک ہ عرف ہ کا دن ہے یا عید قربان کا دن۔
1757 ۔ بجز حرام اور مکرو ہ روزوں ک ے جن کا ذکر ک یا گیا ہے سال ک ے تمام دنوں ک ے روز ے مستحب ہیں اور بعض دنوں کے روز ے رک ھ ن ے ک ی بہ ت تاک ید کی گئی ہے جن م یں سے چند یہ ہیں :
1 ۔ ہ ر م ہینے کی پہ ل ی اور آخری جمعرات اور پہ لا بد ھ جو م ہینے کی دسویں تاریخ کے بعد آئ ے۔
اور اگر کوئی شخص یہ روزے ن ہ رک ھے تو مستحب ہے ک ہ ان ک ی قضا کرے اور اگر روز ہ بالکل ن ہ رک ھ سکتا ہ و تو مستحب ہے ک ہ ہ ر دن ک ے بدل ے ایک مُدطعام یا 6 ۔ 12 نخود سکہ دار چاند ی فقیر کو دے۔
2 ۔ ہ ر م ہینے کی تیرھ و یں، چودھ و یں اور پندرھ و یں تاریخ ۔
3 ۔ رجب اور شعبان ک ے پور ے م ہینے کے روز ے۔ یا ان دو مہینوں میں جتنے روز ے رک ھ سک یں خواہ و ہ ا یک دن ہی کیوں نہ ہ و ۔
4 ۔ ع ید نوروز کا دن
5 ۔ شوال ک ی چوتھی سے نو یں تاریخ تک
6 ۔ ذ ی قعدہ ک ی پچیسویں اور اکتیسویں تاریخ
7 ۔ ذ ی الحجہ ک ی پہ ل ی تاریخ سے نو یں تاریخ (یوم عرفہ ) تک ل یکن اگر انسان روزے ک ی وجہ س ے پ یدا ہ ون ے وال ی کمزوری کی بنا پر یوم عرفہ ک ی دعائیں نہ پ ڑھ سک ے تو اس دن کا روز ہ رک ھ نا مکرو ہ ہے۔
8 ۔ ع ید سعید غدیر کا دن ( 18 ذی الحجہ )
9 ۔ روز مبا ہ ل ہ ( 24 ۔ ذ ی الحجہ )
10 ۔ محرم الحرام ک ی پہ ل ی، تیسری اور ساتویں تاریخ
11 ۔ رسول اکرم (صل ی اللہ عل یہ وآلہ ) ک ی ولادت کا دن ( 17 ۔ رب یع الاول)
12 ۔ جماد ی الاول کی پندرہ تار یخ۔
نیز (عید بِعثَت یعنی) رسول اکرم (صلی اللہ عل یہ وآلہ ) ک ے ا علان رسالت کے دن ( 27 رجب) بھی روزہ رک ھ نا مستحب ہے۔ اور جو شخص مستحب روز ہ رک ھے اس ک ے لئ ے واجب ن ہیں ہے ک ہ اس ے اختتام تک پ ہ نچائ ے بلک ہ اگر اس کا کوئ ی مومن بھ ائ ی اسے ک ھ ان ے ک ی دعوت دے تو مستحب ہے ک ہ اس ک ی دعوت قبول کرلے اور دن م یں ہی روزہ ک ھ ول ل ے خوا ہ ظ ہ ر ک ے بعد ہی کیوں نہ ہ و ۔
وہ صورتیں جن میں مبطلات روزہ س ے پر ہیز مستحب ہے۔
1758 ۔ (مندرج ہ ذ یل) پانچ اشخاص کے لئ ے مستحب ہے ک ہ اگرچ ہ روز ے س ے ن ہ ہ وں ما ہ رمضان المبارک م یں ان افعال سے پر ہیز کریں جو روزے کو باطل کرت ے ہیں :
1 ۔ و ہ مسافر جس ن ے سفر م یں کوئی ایسا کام کیا ہ و جو روز ے کو باطل کرتا ہ و اور و ہ ظ ہ ر س ے پ ہ ل ے اپن ے وطن یا ایسی جگہ پ ہ نچ جائ ے ج ہ اں و ہ دس دن ر ہ نا چا ہ تا ہ و ۔
2 ۔ و ہ مسافر جو ظ ہ ر ک ے بعد اپن ے وطن یا ایسی جگہ پ ہ نچ جائ ے ج ہ اں و ہ دس دن ر ہ نا چا ہ تا ہ و ۔ اور اس ی طرح اگر ظہ ر س ے پ ہ ل ے ان جگ ہ وں پر پ ہ نچ جائ ے جب ک ہ و ہ سفر میں روزہ تو ڑ چکا ہ و تب ب ھی یہی حکم ہے۔
3 ۔ و ہ مر یض جو ظہ ر ک ے بعد تندرست ہ و جائ ے۔ اور یہی حکم ہے اگر ظ ہ ر س ے پ ہ ل ے تندرست ہ وجائ ے اگرچ ہ اس ن ے کوئ ی ایسا کام (بھی) کیا ہ و جو روز ے کو باطل کرتا ہ و ۔ اور طرح اگر ا یسا کام نہ ک یا ہ و تو اس کا حکم مسئل ہ 1576 میں گزر چکا ہے۔
4 ۔ و ہ عورت جو دن م یں حیض یا نفاس کے خون س ے پاک ہ و جائ ے۔
1759 ۔ روز ہ دار ک ے لئ ے مستحب ہے ک ہ روز ہ افطار کرن ے س ے پ ہ ل ے مغرب اور عشا ک ی نماز پڑھے ل یکن اگر کوئی دوسرا شخص اس کا انتظار کر رہ ا ہ و یا اسے اتن ی بھ وک لگ ی ہ و ک ہ حضور قلب ک ے سات ھ نماز پ ڑھ سکتا ہ و تو ب ہ تر ہے ک ہ پ ہ ل ے روز ہ افطار کر ے ل یکن جہ اں تک ممکن ہ و نماز فض یلت کے وقت م یں ہی ادا کرے۔
خمس کے احکام
1760 ۔ خمس سات چ یزوں پر واجب ہے۔
1 ۔ کاروبار ( یا روزگار) کا منافع
2 ۔ مَعدِن ی کانیں
3 ۔ گ ڑ ا ہ وا خزان ہ
4 ۔ حلال مال جو حرام مال م یں مخلوط ہ و جائ ے
5 ۔ غوط ہ خور ی سے حاصل ہ ون ے وال ے سمندر ی موتی اور مونگے
6 ۔ جنگ م یں ملنے والا مال غن یمت
7 ۔ مش ہ ور قول ک ی بنا پر وہ زم ین جو ذمی کافر کسی مسلمان سے خر یدے۔
ذیل میں ان کے احکام تفص یل سے ب یان کئے جائ یں گے۔
1761 ۔ جب انسان تجارت، صنعت و حرفت یا دوسرے کام د ھ ندوں س ے روپ یہ پیسہ کمائے مثال ک ے طور پر اگر کوئ ی اجیر بن کر کسی متوفی کی نمازیں پڑھے اور روز ے رک ھے اور اس طرح کچ ھ روپ یہ کمائے ل ہ ذا اگر و ہ کمائ ی خود اس کے اور اس ک ے ا ہ ل و ع یال کے سال ب ھ ر ک ے اخراجات س ے ز یادہ ہو تو ضروری ہے ک ہ زائد کمائ ی کا خمس یعنی پانچواں حصہ اس طر یقے کے مطابق د ے جس ک ی تفصیل بعد میں بیان ہ وگ ی۔
1726 ۔ اگر کس ی کو کمائی کئے بغ یر کوئی آمدنی ہ وجائ ے مثلاً کوئ ی شخص اسے بطور تحف ہ کوئ ی چیز دے اور و ہ اس ک ے سال ب ھ ر ک ے اخراجات س ے ز یادہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا خمس دے۔
1763 ۔ عورت کو جو م ہ ر ملتا ہے اور شو ہ ر، ب یوی کو طلاق خلع دینے کے عوض جو مال حاصل کرتا ہے ان پر خمس ن ہیں ہے اور اس ی طرح جو میراث انسان کو ملے اس کا ب ھی میراث کے معتبر قواعد ک ی رو سے یہی حکم ہے۔ اور اگر اس مسلمان کو جو ش یعہ ہے کس ی اور ذریعے سے مثلاً پدر ی رشتے دار ک ی طرف سے م یراث ملے تو اس مال ک ی "فوائد" میں شمار کیا جائے گا اور ضرور ی ہے ک ہ اس کا خمس د ے۔ اس ی طرح اگر اسے باپ اور ب یٹے کے علاو ہ کس ی اور کی طرف سے م یراث ملے ک ہ جس کا خود اس ے گمان تک ن ہ ہ و تو احت یاط واجب یہ ہے ک ہ و ہ م یراث اگر اس کے سال بھی کے اخراجات سے زیادہ ہ و تو اس کا خمس د ے۔
1724 ۔ اگر کس ی شخص کو کوئی میراث ملے اور اس معلوم ہ و ک ہ جس شخص س ے اس ے یہ میراث ملی ہے اس ن ے اس کا خمس ن ہیں دیا تھ ا تو ضرور ی ہے ک ہ وارث اس کا خمس د ے۔ اس ی طرح اگر خود اس مال پر خمس واجب نہ ہ و اور وارث کو علم ہ و کہ جس شخص س ے اس ے و ہ مال ورث ے م یں ملا ہے اس شخص ک ے ذمے خمس واجب الادا ت ھ ا تو ضرور ی ہے ک ہ اس ک ے مال س ے خمس ادا کر ے۔ ل یکن دونوں صورتوں میں جس شخص سے مال ورث ے م یں ملا ہ و اگر و ہ خمس د ینے کا معتقد نہ ہ و یا یہ کہ و ہ خمس د یتا ہی نہ ہ و تو ضرور ی نہیں کہ وارث و ہ خمس ادا کر ے جو اس شخص پر واجب ت ھ ا ۔
1765 ۔ اگر کس ی شخص نے کفا یت شعاری کے سبب سال ب ھ ر ک ے اخراجات ک ے بعد کچ ھ رقم پس انداز ک ی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس بچت کا خمس د ے۔
1766 ۔ جس شخص ک ے تمام اخراجات کوئ ی دوسرا شخص برداشت کرتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ جنتا مال اس ک ے ہ ات ھ آئ ے اس کا خمس د ے۔
1767 ۔ اگر کوئ ی شخص اپنی جائداد کچھ خاص افراد مثلاً اپن ی اولاد کے لئ ے وقف کر د ے اور و ہ لوگ اس جائداد م یں کھیتی باڑی اور شجرکاری کریں اور اس سے منافع کمائ یں اور وہ کمائ ی ان کے سال ب ھ ر ک ے اخراجات س ے ز یادہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس کمائ ی کا خمس دیں۔ ن یز یہ کہ اگر و ہ کسی اور طریقے سے اس جائداد س ے نفع حاصل کر یں مثلاً اسے کرائ ے ( یا ٹھیکے) پر دے د یں تو ضروری ہے ک ہ نفع ک ی جو مقدار ان کے سال ب ھ ر ک ے اخراجات س ے ز یادہ ہ و اس کا خمس د یں۔
1768 ۔ جو مال کس ی فقیر نے واجب یا مستحب صدقے ک ے طور پر حاصل ک یا ہ و اگر و ہ اس ک ے سال ب ھ ر ک ے اخراجات س ے ز یادہ ہ و یا جو مال اسے د یا گیا ہ و اس س ے اس ن ے نفع کما یا ہ و مثلاً اس ن ے ا یک ایسے درخت سے جو اس ے د یا گیا ہ و م یوہ حاصل کیا ہ و اور و ہ اس ک ے سال ب ھ ر ک ے اخراجات سے زیادہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا خمس د ے۔ ل یکن جو مال اسے بطور خمس یا زکوۃ دیا گیا ہ و ضرور ی نہیں کہ اس کا خمس د ے۔
1769 ۔ اگر کوئ ی شخص ایسی رقم سے کوئ ی چیز خریدے جس کا خمس نہ د یا گیا ہ و یعنی بیچنے والے س ے ک ہے ک ہ "م یں یہ چیز اس رقم سے خر ید رہ ا ہ وں" اگر ب یچنے والا شیعہ اثنا عشری ہ و تو ظا ہ ر یہ ہے ک ہ کل مال ک ے متعلق معامل ہ درست ہے اور خمس کا تعلق اس چ یز سے ہ و جاتا ہے جو اس نے اس رقم سے خر یدی ہے اور (اس معامل ے م یں) حاکم شرع کی اجازت اور دستخط کی ضرورت نہیں ہے۔
1770 ۔ اگر کوئ ی شخص کوئی چیز خریدے اور معاملہ ط ے کرن ے ک ے بعد اس ک ی قیمت اس رقم سے ادا کر ے جس کا خمس ن ہ د یا ہ و تو جو معامل ہ اس ن ے ک یا ہے و ہ صح یح ہے اور جو رقم اس ن ے فروشند ہ کو د ی ہے اس ک ے خمس ک ے لئ ے و ہ خمس ک ے مستحق ین کا مقروض ہے۔
1771 ۔ اگر کوئ ی شیعہ اثنا عشری مسلمان کوئی ایسا مال خریدے جس کا خمس نہ د یا گیا ہ و تو اس کا خمس ب یچنے والے ک ی ذمہ دار ی ہے اور خر یدار کے ذم ے کچ ھ ن ہیں۔
1772 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی شیعہ اثنا عشری مسلمان کو کوئی ایسی چیز بطور عطیہ دے جس کا خمس ن ہ د یا گیا ہ و تو اس ک ے خمس ک ی ادائیگی کی ذمہ دار ی عطیہ دینے والے پر ہے اور (جس شخص کو عط یہ دیا گیا ہ و) اس ک ے ذم ے کچ ھ ن ہیں۔
1773 ۔ اگر انسان ک و کسی کافر سے یا ایسے شخص سے جو خمس د ینے پر اعتقاد نہ رک ھ تا ہ و کوئ ی مال ملے تو اس مال کا خمس د ینا واجب نہیں ہے۔
1774 ۔ تاجر، دکاندار، کار یگر اور اس قسم کے دوسر ے لوگوں ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ اس وقت س ے جب ان ہ وں ن ے کاروبار شروع ک یا ہ و، ا یک سال گزر جائے تو جو کچ ھ ان ک ے سال ب ھ ر ک ے اخراجات س ے ز یادہ ہ و اس کا خمس د یں۔ اور جو شخص کس ی کام دھ ند ے س ے کمائ ی نہ کرتا ہ و اگر اس ے اتفاقاً کوئی نفع حاصل ہ و جائ ے تو جب اس ے یہ نفع ملے اس وقت س ے ا یک سال گزرنے ک ے بعد جتن ی مقدار اس کے سال ب ھ ر ک ے اخراجات س ے ز یادہ ہ و ضرور ی ہے ک ہ اس کا خمس د ے۔
1775 ۔ سال ک ے دوران جس وقت ب ھی کسی شخص کو منافع ملے و ہ اس کا خمس د ے سکتا ہے اور اس ک ے لئ ے یہ بھی جائز ہے ک ہ سال ک ے ختم ہ ون ے تک اس ک ی ادائیگی کو موخر کر دے اور اگر و ہ خمس ادا کرن ے ک ے لئ ے شمس ی سال (رومن کیلنڈ ر ) اختیار کرے تو کوئ ی حرج نہیں۔
1776 ۔ اگر کوئ ی تاجر یا دکاندار خمس دینے کے لئ ے سال ک ی مدت معین کرے اور اس ے منافع حاصل ہ و ل یکن وہ سال ک ے دوران مر جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس ک ی موت تک کے اخراجات اس منافع م یں سے من ہ ا کر ک ے باق ی ماندہ کا خمس د یا جائے۔
1777 ۔ اگر کس ی شخص کے بغرض تجارت خر یدے ہ وئ ے مال ک ی قیمت بڑھ جائ ے اور و ہ اس ے ن ہ ب یچے اور سال کے دوران اس ک ی قیمت گر جائے تو جتن ی مقدار تک قیمت بڑھی ہ و اس کا خمس واجب ن ہیں ہے۔
1778 ۔ اگر کس ی شخص کے بغرض تجارت خر یدے ہ وئ ے مال ک ی قیمت بڑھ جائ ے اور و ہ اس ام ید پر کہ اب ھی اس کی قیمت اور بڑھے گ ی اس مال کو سال کے خاتم ے ک ے بعد تک فروخت ن ہ کر ے اور پ ھ ر اس ک ی قیمت گر جائے تو جس مقدار تک ق یمت بڑھی ہ و اس کا خمس د ینا واجب ہے۔
1779 ۔ کس ی شخص نے مال تجارت ک ے علاو ہ کوئ ی مال خرید کر یا اسی کی طرح کسی طریقے سے حاصل ک یا ہ و جس کا خمس و ہ ادا کر چکا ہ و تو اگر اس ک ی قیمت بڑھ جائ ے اور و ہ اس ے ب یچ دے تو ضرور ی ہے ک ہ جس قدر اس چ یز کی قیمت بڑھی ہے اس کا خمس د ے۔ اس ی طرح مثلاً اگر کوئی درخت خریدے اور اس میں پھ ل لگ یں یا (بھیڑ خریدے اور وہ ) ب ھیڑ موٹی ہ و جائ ے تو اگر ان چ یزوں کی نگہ داشت س ے اس کا مقصد نفع کمانا ت ھ ا تو ضرور ی ہے ک ہ ان ک ی قیمت میں جو اضافہ ہ وا ہے اس کا خمس د ے بلک ہ اگر اس کا مقصد نفع کمانا ن ہ ب ھی رہ ا ہ و تب ب ھی ضروری ہے ک ہ ان کا خمس د ے۔
1780 ۔ اگر کوئ ی شخص اس خیال سے باغ (م یں پودے ) لگائ ے ک ہ ق یمت بڑھ جان ے پر ان ہیں بیچ دے گا تو ضرور ی ہے ک ہ پ ھ لوں ک ی اور درختوں کی نشوونما اور باغ کی بڑھی ہ وئ ی قیمت کا خمس دے ل یکن اگر اس کا ارادہ یہ رہ ا ہ و ک ہ ان درختوں ک ے پ ھ ل ب یچ کر ان سے نفع کمائ ے گا تو فقط پ ھ ل وں کا خمس دینا ضروری ہے۔
1781 ۔ اگر کوئ ی شخص بید مشک اور چنار وغیرہ کے درخت لگائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ ہ ر سال ان ک ے ب ڑھ ن ے کا خمس د ے اور اس ی طرح اگر مثلاً ان درختوں کی ان شاخوں سے نفع کمائ ے جو عموماً ہ ر سال کا ٹی جاتی ہیں اور تنہ ا ان شاخوں ک ی قیمت یا دوسرے فائدوں کو ملا کر اس ک ی آمدنی اس کے سال بھ ر ک ے اخراجات س ے ب ڑھ جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ ہ ر سال ک ے خاتم ے پر اس زائد رقم کا خمس دے۔
1782 ۔ اگر کس ی شخص کی آمدنی کی متعدد ذرائع ہ وں مثلاً جائداد کا کرا یہ آتا ہ و اور خر ید و فروخت بھی کرتا ہ و اور ان تمام ذرائع تجارت ک ی آمدنی اور اخراجات اور تمام رقم کا حساب کتاب یکجا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ سال ک ے خاتم ے پر جو کچ ھ اس ک ے اکراجات سے زائد ہ و اس کا خ مس ادا کرے۔ اور اگر ا یک ذریعے سے نفع کمائ ے اور دوسر ے ذر یعے سے نقصان ا ٹھ ائ ے تو و ہ ا یک ذریعے کے نقصان کا دوسر ے ذر یعے کے نقصان س ے تدارک کر سکتا ہے۔ ل یکن اگر اس کے دو مختلف پ یشے ہ وں مثلاً تجارت اور زراعت کرتا ہ و تو اس صورت م یں احتیاط واجب کی بنا پر وہ ا یک پیشے کے نقصان کا تدارک دوسر ے پ یشے کے نفع س ے ن ہیں کر سکتا۔
1783 ۔ انسان جو اخراجات فائد ہ حاصل کرن ے ک ے لئ ے مثلاً دلال ی اور باربرداری کے سلسل ے م یں خرچ کرے تو ان ہیں منافع میں سے من ہ ا کر سکتا ہے اور اتن ی مقدار کا خمس ادا کرنا لازم نہیں۔
1784 ۔ کاروبار ک ے منافع س ے کوئ ی شخص سال بھ ر م یں جو کچھ خوراک، لباس، گ ھ ر ک ے ساز و سامان، مکان ک ی خریداری، بیٹے کی شادی، بیٹی کے ج ہیز اور زیارات وغیرہ پر خرچ کرے اوس پر خمس ن ہیں ہے بشرط یکہ ایسے اخراجات اس کی حیثیت سے ز یادہ نہ ہ وں اور اس ن ے فضول خرچ ی بھی نہ ک ی ہ و ۔
1785 ۔ جو مال انسان منت اور کفار ے پر خرچ کر ے و ہ سالان ہ اخراجات کا حص ہ ہے۔ اس ی طرح وہ مال ب ھی اس کے سالان ہ اخراجات کا حص ہ ہے جو و ہ کس ی کو تحفے یا انعام کے طور پر بشرط یکہ اس کی حیثیت سے ز یادہ نہ ہ و ۔
1786 ۔ اگر انسان اپن ی لڑ ک ی شادی کے وقت تمام ج ہیز اکٹھ ا ت یار نہ کر سکتا ہ و تو و ہ اس ے کئ ی سالوں میں تھ و ڑ ا ت ھ و ڑ ا کر ک ے جمع کر سکتا ہے چنانچ ہ اگر ج ہیز خریدے جو اس کی حیثیت سے ب ڑھ کر ن ہ ہ و تو اس پر خمس د ینا لازم نہیں ہے اور اگر و ہ ج ہیز اس کی حیثیت سے ب ڑھ کر ہ و یا ایک سال کے منافع س ے دوسر ے سال م یں تیار کیا گیا ہ و تو اس کا خمس د ینا ضروری ہے۔
1787 ۔ جو مال کس ی شخص نے ز یارت بیت اللہ (حج) اور دوسر ی زیارات کے سفر پر خرچ ک یا ہ و و ہ اس سال ک ے اخراجات م یں شمار ہ وتا ہے جس سال م یں خرچ کیا جائے اور اگر اس کا سفر سال س ے ز یادہ طول کھینچ جائے تو جو کچ ھ و ہ دوسر ے سال م یں خرچ کرے اس کا خمس دینا ضروری ہے۔
1788 ۔ جو شخص کس ی پیشے یا تجارت وغیرہ سے منافع حاصل کر ے اگر اس ک ے پاس کوئ ی اور مال بھی ہ و جس پر خمس واجب ن ہ ہ و تو و ہ اپن ے سال ب ھ ر ک ے اخراجات کا حساب فقط اپن ے منافع کو مدنظر رک ھ ت ے ہ وئ ے کر سکتا ہے۔
1789 ۔ جو سامان کس ی شخص نے سال ب ھ ر ا ستعمال کرنے ک ے لئ ے اپن ے منافع س ے خر یدا ہ و اگر سال ک ے آخر م یں اس میں سے کچ ھ بچ جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا خمس د ے اور اگر خمس اس ک ی قیمت کی صورت میں دینا چاہے اور جب و ہ سامان خر یدا تھ ا اس ک ے مقابل ے م یں اس کی قیمت بڑھ گئ ی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ سال ک ے خاتم ے پر جو ق یمت ہ و اس کا حساب لگائ ے۔
1790 ۔ کوئ ی شخص خمس دینے سے پ ہ ل ے اپن ے منافع م یں سے گ ھ ر یلو استعمال کے لئ ے سامان خر یدے اگر اس کی ضرورت منافع حاصل ہ ون ے وال ے سال ک ے بعد ختم ہ و جائ ے تو ضرور ی نہیں کہ اس کا خمس د ے۔ اور اگر دوران سال اس ک ی ضرورت ختم ہ و جائ ے تو ب ھی یہی حکم ہے۔ ل یکن اگر وہ سامان ان چ یزوں میں سے جو عموماً آئند ہ سالوں م یں استعمال کے لئ ے رک ھی جاتی ہ و ج یسے سردی اور گرمی کے کپ ڑے تو ان پر خمس ن ہیں ہ وتا ۔ اس صورت ک ے علاو ہ جس وقت ب ھی اس سامان کی ضرورت ختم ہ و جائ ے احت یاط واجب یہ ہے ک ہ اس کا خمس دے اور یہی صورت زمانہ ز یورات کی ہے جب ک ہ عورت ک ا انہیں بطور زینت استعمال کرنے کا زمان ہ گزر جائ ے۔
1791 ۔ اگر کس ی شخص کو کسی سال میں منافع نہ ہ و تو و ہ اس سال ک ے اخراجات کو آئند ہ سال ک ے منافع س ے من ہ ا ن ہیں کر سکتا۔
1792 ۔ اگر کس ی شخص کو سال کے شروع م یں منافع نہ ہ و اور و ہ اپن ے سرمائ ے س ے خرچ ا ٹھ ائ ے اور سال ک ے ختم ہ ون ے س ے پ ہ ل ے اس ے منافع ہ و جائ ے تو اس ن ے جو کچ ھ سرمائ ے م یں سے خرچ ک یا ہے اس ے منافع س ے من ہ ا کر سکتا ہے۔
1793 ۔ اگر سرمائ ے کا کچ ھ حص ہ تجارت وغ یرہ میں ڈ وب جائ ے تو جس قدر سرما یہ ڈ وبا ہ و انسان اتن ی مقدار اس سال کے منافع م یں سے من ہ ا کرسکتا ہے۔
1794 ۔ اگر کس ی شخص کے مال م یں سے سرمائ ے ک ے علاو ہ کوئ ی اور چیز ضائع ہ و جائ ے تو و ہ اس چ یز کو منافع میں سے م ہیا نہیں کر سکتا لیکن اگر اسے اس ی سال میں اس چیز کی ضرورت پڑ جائ ے تو و ہ اس سال ک ے دوران اپن ے منافع س ے م ہیا کر سکتا ہے۔
1795 ۔ اگر کس ی شخص کو سارا سال کوئی منافع نہ ہ و اور و ہ اپن ے اخراجات قرض ل ے کر پور ے کر ے تو و ہ آئند ہ سالوں ک ے منافع س ے قرض ک ی رقم منہ ا ن ہیں کر سکتا لیکن اگر سال کے شروع م یں اپنے اخراجات پور ے کرن ے ک ے لئ ے قرض ل ے اور سال ختم ہ ون ے س ے پ ہ ل ے منافع کمائ ے تو اپن ے قرض ے ک ی رقم اس منافع میں سے من ہ ا کر سکتا ہے۔ اور اس ی طرح پہ ل ے صورت م یں وہ اس قرض کو اس سال ک ے منافع س ے ادا کرسکتا ہے اور منافع ک ی اس مقدار سے خمس کا کوئ ی تعلق نہیں۔
1796 ۔ اگر کوئ ی شخص مال بڑھ ان ے ک ی غرض سے یا ایسی املاک خریدنے کے لئ ے جس ک ی اسے ضرورت ن ہ ہ و قرض ل ے تو و ہ اس سال ک ے منافع س ے اس قرض کو ادا ن ہیں کر سکتا۔ہ اں جو مال بطور قرض ل یا ہ و یا جو چیز اس قرض سے خر یدی ہ و اگر و ہ تلف ہ وجائ ے تو اس صورت م یں وہ اپنا قرض اس سال ک ے منافع م یں سے ادا کر سکتا ہے۔
1797 ۔ انسان ہ ر اس چ یز کا جس پر خمس واجب ہ و چکا ہ و اس ی چیز کی شکل میں خمس دے سکتا ہے اور اگر چا ہے تو جتنا خمس اس پر واجب ہ و اس ک ی قیمت کے برابر رقم ب ھی دے سکتا ہے ل یکن اگر کسی دوسری جنس کی صورت میں جس پر خمس واجب نہ ہ و د ینا چاہے تو محل اشکال ہے بجز اس ک ے ک ہ ا یسا کرنا حاکم شرع کی اجازت سے ہ و ۔
1798 ۔ جس شخص ک ے مال پر خمس واجب الادا ہ و اور سال گزر گ یا ہ و ل یکن اس نے خمس ن ہ د یا ہ و اور خمس د ینے کا ارادہ ب ھی نہ رک ھ تا ہ و و ہ اس مال م یں تصرف نہیں کر سکتا بلکہ احت یاط واجب کی بنا پر اگر خمس دینے کا ارادہ رک ھ تا ہ و تب ب ھی وہ تصرف ن ہیں کرسکتا۔
1799 ۔ جس شخص کو خمس ادا کرنا ہ و و ہ یہ نہیں کر سکتا کہ اس خمس کو اپن ے ذم ے ل ے یعنی اپنے آپ کو خمس ک ے مستحق ین کا مقروض تصور کرے اور سارا مال استعمال کرتا ر ہے اور اگر استعمال کر ے اور و ہ مال تلف ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا خمس د ے۔
1800 ۔ جس شخص کو خمس ادا کرنا ہ و اگر و ہ حاکم شرع س ے مفا ہ مت کرک ے خمس کو اپن ے ذم ے ل ے ل ے تو سارا مال استعمال کر سکتا ہے اور مفا ہ مت ک ے بعد اس مال س ے جو منافع اس ے حاصل ہ و و ہ اس کا اپنا مال ہے۔
1801 ۔ جو شخص کاروبار م یں کسی دوسرے ک ے سات ھ شر یک ہ و اگر و ہ اپن ے منافع پر خمس د ے د ے اور اس کا حص ے د ار نہ د ے اور آئند ہ سال و ہ حص ے دار اس مال کو جس کا خمس اس ن ے ن ہیں دیا ساجھے م یں سرمائے ک ے طور پر پ یش کرے تو و ہ شخص (جس ن ے خمس ادا کر د یا ہ و) اگر ش یعہ اثنا عشری مسلمان ہ و تو اس مال کو استمعال م یں لاسکتا ہے۔
1802 ۔ اگر نابالغ بچ ے ک ے پاس کوئ ی سرمایہ ہ و اور اس سے منافع حاصل ہ و تو اقو ی کی بنا پر اس کا خمس دینا ہ وگا اور اسک ے ول ی پر واجب ہے ک ہ اس کا خمس د ے اور اگر ول ی خمس نہ د ے تو بالغ ہ ون ے ک ے بعد واجب ہے ک ہ و ہ خود اس کا خمس د ے۔
1803 ۔ جس شخص کو کس ی دوسرے شخص س ے کوئ ی مال ملے اور اس ے شک ہ و ک ہ (مال د ینے والے ) دوسر ے شخص ن ے اس کا خمس د یا ہے یا نہیں تو وہ (مال حاصل کرن ے والا شخص) اس مال م یں تصرف کرسکتا ہے۔ بلک ہ اگر یقین بھی ہ و ک ہ اس دوسر ے شخص ن ے خمس ن ہیں دیا تب بھی اگر وہ ش یعہ اثنا عشری مسلمان ہ و تو اس مال م یں تصرف کر سکتا ہے۔
1804 ۔ اگر کوئ ی شخص کاروبار کے منافع سے سال ک ے دوران ا یسی جائداد خریدے جو اس کی سال بھ ر ک ی ضروریات اور اخراجات میں شمار نہ ہ و تو اس پر واجب ہے ک ہ سال ک ے خاتم ے پر اس کا خمس د ے اور اگر خمس ن ہ د ے اور اس جائداد ک ی قیمت بڑھ جائ ے تو لازم ہے ک ہ اس ک ی موجودہ ق یمت پر خمس دے اور جائداد ک ے علاو ہ ق الین وغیرہ کے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے۔
1805 ۔ جس شخص ن ے شروع س ے ( یعنی جب سے اس پر خمس ک ی ادائیگی واجب ہ وئ ی ہ و) خمس ن ہ د یا ہ و مثال ک ے طور پر اگر و ہ کوئ ی جائداد خریدے اور اس کی قیمت بڑھ جائ ے اور اگر اس ن ے یہ جائداد اس ارادے س ے ن ہ خر یدی ہ و ک ہ اس ک ی قیمت بڑھ جائ ے گ ی تو بیچ دے گا مثلا ک ھیتی باڑی کے ل ئے زمین خریدی ہ و اور اس ک ی قیمت اس رقم سے ادا ک ی ہ و جس پر خمس ن ہ د یا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ق یمت خرید پر خمس دے اور مثلاً اگر ب یچنے والے کو و ہ رقم د ی ہ و جس پر خمس ن ہ د یا ہ و اور اس س ے ک ہ ا ہ و ک ہ م یں یہ جائداد اس رقم سے خر یدتا ہ وں تو ضروری ہے ک ہ اس جائداد ک ی موجودہ قیمت پر خمس دے۔
1806 ۔ جس شخص ن ے شروع س ے ( یعنی جب سے خمس ک ی ادائیگی اس پر واجب ہ وئ ی) خمس نہ د یا ہ و اگر اس ن ے اپن ے کاروبار ک ے منافع س ے کوئ ی ایسی چیز خریدی ہ و جس ک ی اسے ضرورت ن ہ ہ و اور اس ے منافع کمائ ے ا یک سال گزر گیا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا خمس د ے اور اگر اس ن ے گ ھ ر کا سازوسا مان اور ضرورت کی چیزیں اپنی حیثیت کے مطابق خر یدی ہ وں اور جانتا ہ و ک ہ اس ن ے یہ چیزیں اس سال کے دوران اس منافع س ے خر یدی ہیں جس سال میں اسے منافع ہ وا ہے تو ان پر خمس د ینا لازم نہیں لیکن اگر اسے یہ معلوم نہ ہ و تو احت یاط واجب کی بنا پر ضروری ہے ک ہ حاکم شرع س ے م فاہ مت کرے۔
1807 ۔ سون ے ، چاند ہ ، س یسے ، تانبے ، لو ہے (ج یسی دھ اتوں ک ی کانیں) نیز پیڑ ول یم، کوئلے ، ف یروزے ، عقیق، پھٹ کر ی یا نمک کی کانیں اور (اسی طرح کی) دوسری کانیں انفال کے زمر ے م یں آتی ہیں یعنی یہ امام عصر علیہ السلام کی ملکیت ہیں۔ ل یکن اگر کوئی شخص ان میں سے کوئ ی چیز نکالے جب کہ شرعا کوئ ی حرج نہ ہ و تو و ہ اس ے اپن ی ملکیت قرار دے سکتا ہے اور اگر و ہ چ یز نصاب کے مطابق ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا خمس د ے۔
1808 ۔ کان س ے نکل ی ہ وئ ی چیز کا نصاب 15 مثقال مروجہ سک ہ دار سونا ہے یعنی اگر کان سے نکال ی ہ وئ ی کسی چیز کی قیمت 15 مثقال سکہ دار سون ے تک پ ہ نچ جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس پر جو اخراجات آئ ے ہ وں ان ہیں منہ ا کرک ے جو باق ی بچے اس کا خمس د ے۔
1809 ۔ جس شخص ن ے کان س ے منافع کما یا ہ و اور جو چ یز کان سے نکالی ہ و اگر اس ک ی قیمت 15 مثقال سکہ دار سون ے تک ن ہ پ ہ نچ ے تو اس پر خمس تب واجب ہ وگا جب صرف یہ منافع یا اس کے دوسر ے منافع اس منافع کو ملا کر اس ک ے سال ب ھ ر ک ے اخراجات س ے ز یادہ ہ وجائ یں۔
1810 ۔ جپسم، چونا، چکن ی مٹی اور سرخ مٹی پر احتیاط لازم کی بنا پر معدنی چیزوں کے حکم کا اطلاق ہ وتا ہے ل ہ ذا اگر یہ چیزیں حد نصاب تک پہ نچ جائ یں تو سال بھ ر ک ے اخراجات نکالن ے س ے پ ہ ل ے ان کا خمس د ینا ضروری ہے۔
1811 ۔ جو شخص کان س ے کوئ ی چیز نکالے تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا خمس د ے خوا ہ و ہ کان زم ین کے اوپر ہ و یا زیر زمین اور خواہ ا یسی زمین میں ہ و جو کس ی کی ملکیت ہ و یا ایسی زمین میں ہ و جس کا کوئ ی مالک نہ ہ و ۔
1812 ۔ اگر کس ی شخص کو یہ معلوم نہ ہ و ک ہ جو چ یز اس نے کان س ے نکال ی ہے اس ک ی قیمت 15 مثقال سکہ دار سون ے ک ے برابر ہے یا نہیں تو احتیاط لازم یہ ہے ک ہ اگر ممکن ہ و تو وزن کرک ے یا کسی اور طریقے اس کی قیمت معلوم کرے۔
1813 ۔ اگر کئ ی افراد مل کر کان سے کئ ی چیز نکالیں اور اس کی قیمت 15 مثقال سکہ دار سون ے تک پ ہ نچ جائ ے ل یکن ان میں سے ہ ر ا یک کا حصہ اس مقدار س ے کم ہ و تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ خمس د یں۔
1814 ۔ اگر کوئ ی شخص اس معدنی چیز کو جو زیر زمین دوسرے ک ی ملکیت میں ہ و اس ک ی اجازت کے بغ یر اس کی زمین کھ ود کر نکال ے تو مش ہ ور قول یہ ہے ک ہ "جو چ یز دوسرے ک ی زمین سے نکال ی جائے و ہ اس ی مالک کی ہے " ل یکن یہ بات اشکال سے خال ی نہیں اور بہ تر یہ ہے ک ہ با ہ م معامل ہ ط ے ک رے اور اگر آپس میں سمجھ وت ہ ن ہ ہ وسک ے تو حاکم شرع ک ی طرف رجوع کریں تاکہ و ہ اس تنازع کا ف یصلہ کرے۔
1815 ۔ دف ینہ وہ مال ہے جو زم ین یا درخت یا پہ ا ڑ یا دیوار میں گڑ ا ہ وا ہ و اور کوئ ی اسے و ہ اں س ے نکال ے اور اس ک ی صورت یہ ہ و ہ اس ے دف ینہ کہ ا جاسک ے۔
1816 ۔ اگر انسان کو کس ی ایسی زمین سے دف ینہ ملے جو کس ی کی ملکیت نہ ہ و تو و ہ اس ے اپن ے قبض ے م یں لے سکتا ہے یعنی اپنی ملکیت میں لے سکتا ہے ل یکن اس کا خمس دینا ضروری ہے۔
1817 ۔ دف ینے کا نصاب 105 مثقال سکہ دار چاند ی اور 15 مثقال سکہ دار سونا ہے یعنی جو چیز دفینے سے مل ے اگر اس ک ی قیمت ان دونوں میں سے کس ی ایک کے ب ھی برابر ہ و تو اس کا خمس د ینا واجب ہے۔
1818 ۔ اگر کس ی شخص کو ایسی زمین سے دف ینہ ملے جو اس ن ے کس ی سے خر یدی ہ و اور اس ے معلوم ہ و ک ہ یہ ان لوگوں کا مال نہیں ہے جو اس س ے پ ہ ل ے اس زم ین کے مالک ت ھے اور و ہ یہ نہ جانتا ہ و ک ہ مالک مسلمان ہے یا ذمی ہے اور و ہ خود یا اس کے وارث زندہ ہیں تو وہ اس دف ینے کو اپنے قبض ے م یں لے سکتا ہے ل یکن اس کا خمس دینا ضروری ہے۔ اور اگر اس ے احتمال ہ و ک ہ یہ سابقہ مالک کا مال ہے جب ک ہ زم ین اور اسی طرح دفینہ یا وہ جگ ہ ضمناً زم ین میں شامل ہ ون ے ک ی بنا پر اس کا حق ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس ے اطلاع د ے اور اگر یہ معلوم ہ و ک ہ اس کا مال ن ہیں تو اس شکص کو اطلاع دے جو اس س ے ب ھی پہ ل ے اس زم ین کا مالک تھ ا اور اس پر اس کا حق ت ھ ا اور اس ی ترتیب سے ان تمام لوگوں کو اطلاع د ے جو خود اس س ے پ ہ ل ے اس زم ین کے مالک ر ہے ہ وں اور اس پر ان کا حق ہ و اور اگر پتہ چل ے ک ہ و ہ ان م یں سے کس ی کا بھی مال نہیں ہے تو پ ھ ر و ہ اس ے ا پنے قبضے م یں لے سکتا ہے ل یکن اس کا خمس دینا ضروری ہے۔
1819 ۔ اگر کس ی شخص کو ایسے کئی برتنوں سے مال مل ے جو ا یک جگہ دفن ہ وں اور اس مال ک ی مجموعی قیمت 105 مثقال چاندی یا 15 مثقال سونے ک ے برابر ہ و تو ضروری ہے ک ہ اس مال کا خمس د ے ل یکن اگر مختلف مقامات سے دف ینے ملیں تو ان میں سے جس دف ینے کی قیمت مذکورہ مقدار تک پ ہ نچ ے اس پر خمس واجب ہے اور جب دف ینے کی قیمت اس مقدار تک نہ پ ہ نچ ے اس پر خمس ن ہیں ہے۔
1820 ۔ جب دو اشخاص کو ا یسا دفینہ ملے جس ک ی قیمت 105 مثقال چاندی یا 15 مثقال سونے تک پ ہ نچت ی ہ و ل یکن ان میں سے ہ ر ا یک کا حصہ اتنا ن ہ بنتا ہ و تو اس پر خمس ادا کرنا ضرور ی نہیں ہے۔
1821 ۔ اگر کوئ ی شخص جانور خریدے اور اس کے پ یٹ سے اس ے کوئ ی مال ملے تو اگر اس ے احتمال ہ و ک ہ یہ مال بیچنے والے یا پہ ل ے مالک کا ہے او ر وہ جانور پر اور جوکچ ھ اس ک ے پ یٹ سے برآمد ہ وا ہے اس پر حق رک ھ تا ہے تو ضرور ی ہے ک ہ اس ے اطلاع د ے اور اگر معلوم ہ و ک ہ و ہ مال ان م یں سے کس ی ایک کا بھی نہیں ہے تو احت یاط لازم یہ ہے ک ہ اس کا خمس د ے اگرچ ہ و ہ مال دف ینے کے نصاب ک ے برابر ن ہ ہ و ۔ اور یہ حکم مچھ ل ی اور اس کی مانند دوسرے ا یسے جانداروں کے لئ ے ب ھی ہے جن ک ی کوئی شخص کسی مخصوص جگہ م یں افزائش و پرورش کرے اور ان ک ی غذا کا انتظام کرے۔ اور اگر سمندر یا دریا سے اس ے پک ڑے تو کس ی کو اس کی اطلاع دینا لازم نہیں۔
1822 ۔ اگر حلال مال حرام مال کے سات ھ اس طرح مل جائ ے ک ہ انسان ان ہیں ایک دوسرے س ے الگ ن ہ کر سک ے اور حرام مال ک ے مالک اور اس مال ک ی مقدار کا بھی علم نہ ہ و اور یہ بھی علم نہ ہ و ک ہ حرام مال ک ی مقدار خمس سے کم ہے یا زیادہ تو تمام مال کا خمس قربت مطلقہ ک ی نیت سے ا یسے شخص کو دے جو خمس کا اور مال مج ہ ول المالک کا مستحق ہے اور خمس د ینے کے بعد باق ی مال اس شخص پر حلال ہے۔
1823 ۔ اگر حلال مال حرام مال س ے مل جائ ے تو انسان حرام ک ی مقدار ۔ خوا ہ و ہ خمس س ے کم ہ و یا زیادہ۔ جانتا ہ و ل یکن اس کے مالک کو ن ہ جانتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اتن ی مقدار اس مال کے مالک ک ی طرف سے صدق ہ کر د ے اور احت یاط واجب یہ ہے ک ہ حاکم شرع س ے ب ھی اجازت لے۔
1824 ۔ اگر حلال مال حرام مال س ے مل جائ ے اور انسان کو حرام ک ی مقدار کا علم نہ ہ و ل یکن اس مال کے مالک کو پ ہ چانتا ہ و اور دونوں ا یک دوسرے کو راض ی نہ کرسک یں تو ضروری ہے کہ جتن ی مقدار کے بار ے م یں یقین ہ و ک ہ دوسر ے کا مال ہے و ہ اس ے د یدے۔ بلک ہ اگر دو مال اس ک ی اپنی غلطی سے مخلوط ہ وئ ے ہ وں تو احت یاط کی بنا پر جس مال کے بار ے م یں اسے احتمال ہ و ک ہ یہ دوسرے کا ہے اس ے اس مال س ے ز یادہ دینا ضروری ہے۔
1825 ۔ اگر کوئ ی شخص حرام سے مخلوط حلال مال کا خمس دے د ے اور بعد م یں اسے پت ہ چل ے ک ہ حرام ک ی مقدار خمس سے ز یادہ تھی تو ضروری ہے ک ہ جتن ی مقدار کے بار ے م یں علم ہ و ک ہ خمس س ے ز یادہ تھی اسے اس ک ے مالک ک ی طرف سے صدق ہ کر د ے ۔
1826 ۔ اگر کوئ ی شخص حرام سے مخلوط حلال مال کا خمس د ے یا ایسا مال جس کے مالک کو ن ہ پ ہ چانتا ہ و مال ک ے مالک ک ی طرف سے صدق ہ کر د ے اور بعد م یں اس کا مالک مل جائے تو اگر و ہ راض ی نہ ہ و تو احت یاط لازم کی بنا پر اس کے مال ک ے برابر اس ے د ینا ضروری ہے۔
1827 ۔ اگر حلال مال حرام مال س ے مل جائ ے اور حرام ک ی مقدار معلوم ہ و اور انسان جانتا ہ و ک ہ اس کا مالک چند لوگوں م یں سے ہی کوئی ایک ہے ل یکن یہ نہ جانتا ہ و ک ہ و ہ کون ہے تو ان سب کا اطلاع د ے چنانچ ہ ان م یں سے کوئ ی ایک کہے ک ہ یہ میرا مال ہے اور دوسر ے ک ہیں کہ ہ مارا مال ن ہیں یا اس مال کے بار ے م یں لاعلمی کا اظہ ار کر یں تو اسی پہ ل ے شخص کو و ہ مال دیدے اور اگر دو یا دو سے ز یادہ آدمی کہیں کہ یہ ہ مارا مال ہے اور صلح یا اسی طرح کسی طریقے سے و ہ معامل ہ حل ن ہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ تنازع ک ے حل ک ے لئ ے حاکم شرع س ے رجوع کر یں اور اگر وہ سب لاعلمی کا اظہ ار کر یں اور باہ م صلح ب ھی نہ کر یں تو ظاہ ر یہ ہے ک ہ اس مال ک ے مالک کا تع ین قرعہ انداز ی کے ذر یعے ہ وگا اور احت یاط یہ ہے ک ہ حاکم شرع یا اس کا وکیل قرعہ انداز ی کی نگرانی کرے۔
1828 ۔ اگر غواص ی کے ذر یعے یعنی سمندر میں غوطہ لگا کر لُئولُئو، مرجان یا دوسرے موت ی نکالے جائ یں تو خواہ و ہ ا یسی چیزوں میں سے ہ وں جو اگت ی ہیں۔ یا معدنیات میں سے ہ وں اگر اس ک ی قیمت 18 چنے سون ے ک ے برابر ہ وجائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا خمس د یا جائے خوا ہ ان ہیں ایک دفعہ میں سمندر سے نکالا گ یا ہ و یا ایک سے ز یادہ دفعہ م یں بشرطیکہ پہ ل ی دفعہ اور دوسر ی دفعہ غوط ہ لگان ے م یں زیادہ فاصلہ ن ہ ہ و مثلاً یہ کہ دو موسموں م یں غواصی کی ہ و ۔ بصورت د یگر ہ ر ا یک دفعہ م یں 18 چنے سون ے ک ی قیمت کے برابر ن ہ ہ و تو اس کا خمس د ینا واجب نہیں ہے۔ اور اسی طرح جب غواصی میں شریک تمام غوطہ خوروں م یں سے ہ ر ا یک کا حصہ 18 چنے سون ے ک ی قیمت کے برابر ن ہ ہ و تو ان پر اس خمس د ینا واجب نہیں ہے۔
1829 ۔ اگر سمندر م یں غوطہ لگائ ے بغ یر دوسرے ذرائع س ے موت ی نکالے جائ یں تو احتیاط کی بنا پر ان پر خمس واجب ہے۔ ل یکن اگر کوئی شخص سمندر کے پان ی کی سطح یا سمندر کے کنار ے س ے موت ی حاصل کرے تو ان کا خمس اس ے اس صورت میں دینا ضروری ہے جب جو موت ی اسے دست یاب ہ وئ ے ہ وں و ہ تنہ ا یا اس کے کاروبار ک ے دوسر ے منافع س ے مل کر اس ک ے سال ب ھ ر ک ے اخراجات س ے ز یادہ ہ و ۔
1830 ۔ مچ ھ ل یوں اور ان دوسرے (آب ی) جانوروں کا خمس جنہیں انسان سمندر میں غوطہ لگائ ے بغ یر حاصل کرتا ہے اس صورت م یں واجب ہ وتا ہے جب ان چ یزوں سے حاصل کرد ہ منافع تن ہ ا یا کاروبار کے دوسر ے منافع س ے مل کر اس ک ے سال ب ھ ر ک ے اخراجات س ے ز یادہ ہ و ۔
1831 ۔ اگر انسان کوئ ی چیز نکالنے کا اراد ہ کئ ے بغ یر سمندر میں غوطہ لگائ ے اور اتفاق س ے کوئ ی موتی اس کے ہ ات ھ لگ جائ ے اور و ہ اس ے اپن ی ملکیت میں لینے کا ارادہ کر ے تو اس کا خمس د ینا ضروری ہے بلک ہ احت یاط واجب یہ ہے ک ہ ہ ر حال م یں اس کا خمس دے۔
1832 ۔ اگر انسان سمندر م یں غوطہ لگائ ے اور کوئ ی جانور نکال لائے اور اس ک ے پ یٹ میں سے اس ے کوئ ی موتی ملے تو اگر و ہ جانور س یپی کی مانند ہ و جس ک ے پ یٹ میں عموماً موتی ہ وت ے ہیں اور وہ نصاب تک پ ہ نچ جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا خمس د ے اور اگر و ہ کوئ ی ایسا جانور ہ و جس ن ے اتفاقاً موت ی نگل لیا ہ و تو احت یاط لازم یہ ہے ک ہ اگرچ ہ و ہ حدنصاب تک ن ہ پ ہ نچ ے تب ب ھی اس کا خمس دے۔
1833 ۔ اگر کوئ ی شخص بڑے در یاوں مثلاً دجلہ اور فرات م یں غوطہ لگائ ے اور موت ی نکال لائے تو اگر اس در یا میں موتی پیدا ہ وت ے ہ وں تو ضرور ی ہے ک ہ (جو موت ی نکالے ) ان کا خمس د ے۔
1834 ۔ اگر کوئ ی شخص پانی میں غوطہ لگائ ے اور کچ ھ عنبر نکال لائ ے اور اس ک ی قیمت 18 چنے سون ے یا اس سے ز یادہ ہ و تو ضرور ی ہے کہ اس کا خمس د ے بلک ہ اگر پان ی کی سطح یا سمندر کے کنار ے س ے ب ھی حاصل کرے تو اس کا ب ھی یہی حکم ہے۔
1835 ۔ جس شخص کا پ یشہ غوطہ خور ی یا کان کنی ہ و اگر و ہ ان کا خمس ادا کر د ے اور پ ھ ر اس ک ے سال ب ھ ر ک ے اخراجات س ے کچ ھ بچ ر ہے تو اس ک ے لئ ے یہ لازم نہیں کہ دوبار ہ اس کا خمس ادا کرے۔
1836 ۔ اگر بچ ہ کوئ ی معدنی چیز نکالے یا اسے کوئ ی دفینہ مل جائے یا سمندر میں غوطہ لگا کر موت ی نکال لائے تو بچ ے کا ول ی اس کا خمس دے اور اگر ول ی خمس ادا نہ کر ے تو ضرور ی ہے ک ہ بچ ہ بالغ ہ ون ے ک ے بعد خود خمس ادا کر ے اور اس ی طرح اگر اس کے پاس حرام مال م یں حلال مال میں حلال مال ملا ہ وا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا ول ی اس مال کا پاک کرے۔
1837 ۔ اگر مسلمان امام عل یہ السلام کے حکم س ے کفار س ے جنگ کر یں اور جو چیزیں جنگ میں ان کے ہ ات ھ لگ یں انہیں "غنیمت" کہ ا جاتا ہے۔ اور اس مال ک ی حفاظت یا اس کی نقل و حمل وغیرہ کے مصارف من ہ ا کرن ے ک ے بعد اور جو رقم امام عل یہ السلام اپنی مصلحت کے مطابق خرچ کر یں اور جو مال، خاص امام علیہ السلام کا حق ہے اس ے عل یحدہ کرنے ک ے بعد باق یماندہ پر خمس ادا کیا جائے۔ مال غن یمت پر خمس ثابت ہ ون ے م یں اشیائے منقولہ اور غ یر منقولہ م یں کوئی فرق نہیں۔ ہ اں جن زم ینوں کا تعلق "انفال" سے ہے و ہ تمام مسلمانوں ک ی مشترکہ ملک یت ہیں اگرچہ جنگ ا مام علیہ السلام کی اجازت سے ن ہ ہ و ۔
1838 ۔ اگر مسلمان کافروں س ے امام عل یہ السلام کی اجازت کے بغ یر جنگ کریں اور ان سے مال غن یمت حاصل ہ و تو جو غن یمت حاصل ہ و و ہ امام عل یہ السلام کی ملکیت ہے اور جنگ کرن ے والوں کا اس م یں کوئی حق نہیں۔
1839 ۔ جو کچ ھ کافروں ک ے ہ ات ھ م یں ہے اگر اس کا مالک مُحتَرمُ المَال یعنی مسلمان یا کافرِ ذمّی ہ و تو اس پر غن یمت حاصل ہ و تو جو غن یمت حاصل ہ و و ہ امام عل یہ السلام کی ملکیت ہے اور جنگ کرن ے والوں کا اس م یں کوئی حق نہیں۔
1840 ۔ کافر حَرب ہ کا مال چرانا اور اس ج یسا کوئی کام کرنا اگر خیانت اور نقص امن میں شمار ہ و تو حرام ہے اور اس طرح ک ی جو چیزیں ان سے حاصل ک ی جائیں احتیاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ ان ہیں لوٹ ا د ی جائیں۔
1841 ۔ مش ہ ور یہ ہے ک ہ ناصب ی کا مال مومن اپنے لئ ے ل ے سکتا ہے البت ہ اس کا خمس د ے ل یکن یہ حکم اشکال سے خال ی نہیں ہے۔
1842 ۔ اگر کافر ذم ی مسلمان سے زم ین خریدے تو مشہ ور قول ک ی بنا پر اس کا خمس اسی زمین سے یا اپنے کس ی دوسرے مال س ے د ے ل یکن خمس کے عام قواعد ک ے مطابق اس صورت م یں خمس کے واجب ہ ون ے م یں اشکال ہے۔
1843 ۔ ضرور ی ہے ک ہ خمس دو حصوں م یں تقسیم کیا جائے۔ اس کا ا یک حصہ سادات کا حق ہے اور ضرور ی ہے ک ہ کس ی فقیر سید یا یتیم سید یا ایسے سید کو دیا جائے جو سفر م یں ناچار ہ وگ یا ہ و ۔ اور دوسرا حص ہ امام عل یہ السلام کا ہے جو ضرور ی ہے ک ہ موجود ہ زمان ے م یں جامع الشرائط مجہتد کر دیا جائے یا ایسے کاموں پر جس کی وہ مجت ہ د اجازت د ے خرچ ک یا جائے اور احت یاط لازم یہ ہے ک ہ و ہ مرجع اعلم عموم ی مصلحتوں سے آگا ہ ہ و ۔
1844 ۔ جس یتیم سید کو خمس دیا جائے ضرور ی ہے ک ہ و ہ فق یر بھی ہ و ل یکن جو سید سفر میں ناچار ہ و جائ ے و ہ خوا ہ اپن ے وطن م یں فقیر نہ ب ھی ہ و اس ے خمس د یا جاسکتا ہے۔
1845 ۔ جو س ید سفر میں ناچار ہ وگ یا ہ و اگر اس کا سفر گنا ہ کا سفر ہ و تو احت یاط واجب کی بنا پر ضروری ہے ک ہ اس ے خمس ن ہ د یا جائے۔
1846 ۔ جو س ید عادل نہ ہ و اس ے خمس د یا جاسکتا ہے ل یکن جو سید اثنا عشری نہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس ے خمس ن ہ د یا جائے۔
1847 ۔ جو س ید گناہ کا کام کرتا ہ و اگر اس ے خمس د ینے سے گنا ہ کرن ے م یں اس کی مدد ہ وت ی ہ و تو اس ے خمس ن ہ د یا جائے اور احوط یہ ہے ک ہ اس س ید کو بھی خمس نہ د یا جائے جو شراب پ یتاہ و یا نماز نہ پ ڑھ تا ہ و یا علانیہ گناہ کرتا ہ و گو خمس د ینے سے اس ے گنا ہ کرن ے م یں مدد نہ مل تی ہ و ۔
1848 ۔ جو شخص ک ہے ک ہ س ید ہ وں اس ے اس وقت تک خمس ن ہ د یا جائے جب تک دو عادل اشخاص اس ک ے س ید ہ ون ے ک ی تصدیق نہ کرد یں یا لوگوں میں اس کا سید ہ ونا اتنا مش ہ ور ہ و ک ہ انسان کو یقین اور اطمینان ہ و جائ ے ک ہ و ہ س ید ہے۔
1849 ۔ کوئ ی شخص اپنے ش ہ ر م یں سید مشہ ور ہ و اور اس ک ے س ید نہ ہ ون ے ک ے بار ے م یں جو باتیں کی جاتی ہ وں انسان کو ان پر یقین یا اطمینان نہ ہ و تو اس ے خمس د یا جاسکتا ہے۔
1850 ۔ اگر کس ی شخص کی بیوی سیدانی ہ و تو احت یاط واجب کی بنا پر ضروری ہے ک ہ شو ہ ر اس ے اس مقصد ک ے لئ ے خمس ن ہ د ے ک ہ و ہ اس ے اپن ے ذات ی استعمال میں لے آئ یں لیکن اگر دوسرے لوگوں ک ی کفالت اس عورت پر واجب ہ وں اور و ہ ان اخراجات ک ی ادائیگی سے قاصر ہ و تو انسان ک ے لئ ے جا ئز ہے ک ہ اپن ی بیوی کو خمس دے تاک ہ و ہ ز یر کفالت لوگوں پر خرچ کرے۔ اور اس عورت کو اس غرض س ے خمس د ینے کے بار ے م یں بھی یہی حکم ہے جبک ہ و ہ ( یہ رقم) اپنے غ یر واجب اخراجات پر صرف کرے ( یعنی اس مقصد کے لئ ے اس خمس ن ہیں دینا چاہ ئ ے ) ۔
1851 ۔ اگر انسان پر کس ی سید کے یا ایسی سیدانی کے اخراجات واجب ہ وں جو اس ک ی بیوی نہ ہ و تو احت یاط واجب کی بنا پر وہ اس س ید یا سیدانی کے خوراک اور پوشاک ک ے اخراجات اور باق ی واجب اخراجات اپنے خمس س ے ادا ن ہیں کر سکتا۔ ہ اں اگر و ہ اس س ید یا سیدانی کو خمس کی کچھ رق م اس مقصد سے د ے ک ہ و ہ واجب اخراجات ک ے علاو ہ اسے دوسر ی ضروریات پر خرچ کرے تو کوئ ی حرج نہیں۔
1852 ۔ اگر کس ی فقیر سید کے اخراجات کس ی دوسرے شخص پر واجب ہ وں اور و ہ شخص اس س ید کے اخراجات برداشت ن ہ کر سکتا ہ و یا استطاعت رکھ تا ہ و ل یکن نہ د یتا ہ و تو اس س ید کو خمس دیا جاسکتا ہے۔
1853 ۔ احت یاط واجب یہ ہے ک ہ کس ی ایک فقیر سید کو اس کے ا یک سال کے اخراجات س ے ز یادہ خمس نہ د یا جائے ۔
1854 ۔ اگر کس ی شخص کے ش ہ ر م یں کوئی مستحق سید نہ ہ و اور اس ے یقین یا اطمینان ہ و ک ہ کوئ ی ایسا سید بعد میں بھی نہیں ملے گا یا جب تک کوئی مستحق سید ملے خمس ک ی حفاظت کرنا ممکن نہ ہ و تو ضرور ی ہے کہ خمس دوسر ے ش ہ ر ل ے جائ ے اور مستحق کو پ ہ نچا د ے اور خمس دوسر ے ش ہ ر ل ے ج انے کے اخراجات خمس م یں سے ل ے سکتا ہے اور اگر خمس تلف ہ و جائ ے تو اگر اس شخص ن ے اس ک ی نگہ داشت م یں کوتاہی برتی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا عوض د ے اور اگر کوتا ہی نہ برت ی ہ و تو اس پر کچ ھ ب ھی واجب نہیں ہے۔
1855 ۔ جب کس ی شخص کے اپن ے ش ہ ر م یں خمس کا مستحق شخص موجود نہ ہ و تو اگرچ ہ اس ے یقین یا اطمینان ہ و ک ہ بعد م یں مل جائے گا اور خمس ک ے مستحق شخص ک ے ملن ے تک خمس ک ی نگہ داشت ب ھی ممکن ہ و تب ب ھی وہ خمس دوسر ے ش ہ ر ل ے جاسکتا ہے اور اگر و ہ خمس ک ی نگہ داشت م یں کوتاہی نہ برت ے اور و ہ تلف ہ و جائ ے تو اس ک ے لئ ے کوئ ی چیز دینا ضروری نہیں لیکن وہ خمس ک ے دوسر ی جگہ ل ے جان ے ک ے اخراجات خمس م یں سے ن ہیں لے سکتا ہے۔
1856 ۔ اگر کس ی شخص کے اپن ے ش ہ ر م یں خمس کا مستحق مل جائے تب ب ھی وہ خمس دوسر ے ش ہ ر ل ے جاکر مستحق کو پ ہ نچاسکتا ہے ال بتہ خمس کا ا یک شہ ر س ے دوسر ے ش ہ ر ل ے جانا اس قدرتاخ یر کا موجب نہ ہ و ک ہ خمس پ ہ نچان ے م یں سستی شمار ہ و ل یکن ضروری ہے ک ہ اس ے ل ے جان ے ک ے اخراجات خود ادا کر ے۔ اور اس صورت م یں اگر خمس ضائع ہ و جائ ے تو اگرچ ہ اس ن ے اس ک ی نگہ داشت م یں کوتاہی نہ برت ی ہ و و ہ اس کا ذم ہ دار ہے۔
1857 ۔ اگر کوئ ی شخص حاکم شرع کے حکم س ے خمس دوسر ے ش ہ ر ل ے جائ ے اور و ہ تلف ہ و جائ ے تو اس ک ے لئ ے دوبار ہ خمس د ینا لازم نہیں اور اسی طرح اگر وہ خمس حاکم شرع ک ے وک یل کو دے د ے جو خمس ک ی وصولی پر مامور ہ و اور و ہ وک یل خمس کو ایک شہ ر س ے دوسر ے ش ہ ر ل ے جائ ے تو اس ک ے لئ ے بھی یہی حکم ہے۔
1858 ۔ یہ جائز نہیں کہ کس ی چیز کی قیمت اس کی اصل قیمت سے ز یادہ لگا کر اسے بطور خمس د یا جائے۔ اور ج یسا کہ مسئل ہ 1797 میں بتایا گیا ہے ک ہ کس ی دوسری جنس کی شکل میں خمس ادا کرنا ما سوا سونے اور چاند ی کے سکو ں اور انہین جیسی دوسری چیزوں کے ہ ر صورت م یں محل اشکال ہے۔
1859 ۔ جس شخص کو خمس ک ے مستحق شخص س ے کچ ھ ل ینا ہ و اور چا ہ تا ہ و ک ہ اپنا قرض ہ خمس ک ی رقم سے من ہ ا کر ل ے تو احت یاط واجب کی بنا پر ضروری ہے ک ہ یا تو حاکم شرع سے اجازت ل ے یا خمس اس مستحق کو دیدے اور بعد میں مستحق شخص اسے و ہ مال قرض ے ک ی ادائیگی کے طور پر لو ٹ ا د ے اور و ہ یہ بھی کر سکتا ہے ک ہ خمس ک ے مستحق شخص ک ی اجازت سے اس کا وک یل بن کر خود اس کی طرف سے خمس ل ے ل ے اور اس س ے اپنا قرض چکا ل ے۔
1860 ۔ مالک، خمس ک ے مستحق شخص س ے یہ شرط نہیں کر سکتا کہ و ہ خمس ل ینے کے بع د اسے واپس لو ٹ ا د ے۔ ل یکن اگر مستحق شخص خمس لینے کے بعد اس ے واپس د ینے پر راضی ہ و جائ ے تو اس م یں کوئی حرج نہیں ہے۔ مثلاً جس شخص ک ے ذم ے خمس ک ی زیادہ رقم واجب الادا ہ و اور و ہ فق یر ہ و گ یا ہو اور چاہ تا ہ و ک ہ خمس ک ے مستح لوگوں کا مقروض ن ہ ر ہے تو اگر خمس کا مستحق شخص راضی ہ و جائ ے ک ہ اس س ے خمس ل ے کر پ ھ ر اس ی کو بخش دے تو اس م یں کوئی حرج نہیں ہے۔
زکوۃ کے احکام
1861 ۔ زکوٰ ۃ چند چیزوں پر واجب ہے۔
1 ۔ گ یہ وں 2 ۔ جَو 3 ۔ ک ھ جور 4 ۔ کشمش 5 ۔ سونا 6 ۔ چاند ی 7 ۔ اون ٹ 8 ۔ گائ ے 9 ۔ ب ھیڑ بکری 10 ۔ احت یاط لازم کی بنا پر مال تجارت۔
اگر کوئی شخص ان دس چیزوں میں سے کس ی ایک کا مالک ہ و تو ان شرائط ک ے تحت جن کا ذکر بعد م یں کیا جائے گا ضرور ی ہے ک ہ جو مقدار مقرر ک ی گئی ہے اس ے ان مصارف م یں سے کس ی ایک مد میں خرچ کرے جن کا حکم د یا گیا ہے۔
1862 ۔ سلت پر جو گ یہ وں کی طرح ایک نرم اناج ہے اور جس ے ب ے چ ھ لک ے ک ا جَو بھی کہ ت ے ہیں اور علس پر جو گیہ وں کی ایک قسم ہے اور صنعا ( یمن) کے لوگوں ک ی غذا ہے احت یاط واجب کی بنا پر زکوٰۃ دینا ضروری ہے۔
1863 ۔ زکوٰ ۃ کورہ دس چ یزوں پر اس صورت میں واجب ہ وت ی ہے جب مال اس نصاب ک ی مقدار تک پہ نچ جائ ے جس کا ذکر بعد م یں کیاجائے گا اور وہ مال انسان ک ی اپنی ملکیت ہ و اور اس کا مالک آزاد ہ و ۔
1864 ۔ اگر انسان گ یارہ مہینے گائے ، ب ھیڑ بکری، اونٹ ، سون ے یا چاندی کا مالک رہے تو اگرچ ہ بار ھ و یں مہینے کی پہ ل ی تاریخ کو زکوٰۃ اس پر واجب ہ و جائ ے گ ی لیکن ضروری ہے ک ہ اگل ے سال ک ی ابتدا کی حساب بارھ و یں مہینے کے خاتم ے ک ے بعد س ے کر ے۔
1865 ۔ سون ے ، چاند ی اور مال تجارت پر زکوۃ کے واجب ہ ون ے ک ی شرط یہ ہے ک ہ ان چ یزوں کا مالک، بالغ اور عاقل ہ و ۔ ل یکن گیہ وں،جَو، کھ جور، کشمش اور اس ی طرح اونٹ ، گائ ے اور ب ھیڑ بکریوں میں مالک کا بالغ اور عاقل ہ ونا شرط ن ہیں ہے۔
1866 ۔ گ یہ وں اور جَو پر زکوۃ اس وقت واجب ہ وت ی ہے جب ان ہیں "گیہ وں " اور "جَو" کہ ا جائ ے۔ کشمش پر زکو ۃ اس وقت واجب ہ وت ی ہے جب و ہ اب ھی انگور ہی کی صورت میں ہ وں ۔ اور ک ھ جور پر زکو ۃ اس وقت واجب ہ وت ی ہے جب (و ہ پک جائ یں اور) عرب اسے تمر ک ہیں لیکن گیہ وں اور جَو میں زکوۃ کا نصاب دیکھ ن ے اور زکوۃ دینے کا وقت وہ ہ وتا ہے جب یہ غلہ ک ھ ل یان میں پہ نچ ے اور ان (ک ی بالیوں) سے ب ھ وسا اور (دان ہ ) الگ ک یا جائے۔ جبک ہ ک ھ جور اور کشمش م یں یہ وقت وہ ہ وتا ہے جب ان ہیں اتار لیتے ہیں۔ اس وقت کو خشک ہ ون ے کا وقت ب ھی کہ ت ے ہیں۔
1867 ۔ گ یہ وں، جَو، کشمش اور کھ جور م یں زکوۃ ثابت ہ ون ے ک ے لئ ے ج یسا کہ سابق ہ مسئل ے م یں بتایا گیا ہے اقو ی کی بنا پر معتبر نہیں ہے ک ہ ان کا مالک ان م یں تصرف کر سکے۔ پس اگر مالک غائب ہ و اور مال ب ھی اس کے یا اس کے وک یل کے ہ ات ھ م یں نہ ہ و مثلا کس ی نے ان چ یزوں کو غصب کر لیا ہ و تب ب ھی زکوۃ ان چیزوں میں ثابت ہے۔
1868 ۔ سون ے ، چاند ی اور مال تجارت میں زکوۃ ثابت ہ ون ے ک ے لئ ے ۔ ج یسا کہ ب یان ہ و چکا ۔ ضرور ی ہے ک ہ مالک عاقل ہ و اگر مالک پورا سال یا سال کا کچھ حص ہ د یوانہ رہے تو اس پر زکوٰ ۃ واجب نہیں ہے۔
1869 ۔ اگر گائ ے ، ب ھیڑ ، اونٹ ، سون ے اور چاند ی کا مالک سال کا کچھ حص ہ مست (ب ے حواس) یا بے ہ وش ر ہے تو زکو ۃ اس پر سے ساقط ن ہیں ہ وت ی اور اسی طرح گیہ وں، جَو، اور کشمش کا مالک زکوٰۃ واجب ہ ون ے ک ے موقع پر مست یا بے ہ وش ہ وجائ ے تو ب ھی یہی حکم ہے۔
1870 ۔ گ یہ وں، جَو، کھ جور اور کشمش ک ے علاو ہ دوسر ی چیزوں میں زکوۃ ثابت ہ ون ے ک ے لئ ے یہ شرط ہے ک ہ مالک اس مال م یں تصرف کرنے ک ی قدرت رکھ تا ہ و پس اگر کس ی نے اس مال ک ی غصب کر لیا ہ و اور مالک اس مال م یں تصرف نہ کر سکتا ہ و تو اس م یں زکوٰۃ نہیں ہے۔
1871 ۔ اگر کس ی نے سونا اور چاند ی یا کوئی اور چیز جس پر زکوۃ دینا واجب ہ و کس ی سے قرض ل ی ہ و اور و ہ چ یز ایک سال تک اس کے پاس ر ہے تو ضرور ی ہے ک ہ اس ک ی زکوٰۃ دے اور جس ن ے قرض د یا ہ و اس پر کچ ھ واجب ن ہیں ہے۔
1872 ۔ گ یہ وں، جَو، کھ جور اور کشمش پ ر زکوٰۃ اس وقت واجب ہ وت ی ہے جب و ہ نصاب ک ی حد تک پہ نچ جائ یں اور ان کا نصاب تین سو صاع ہے جو ا یک گروہ (علماء) ک ے بقول تقر یباً 847 کیلو ہ وتا ہے۔
1873 ۔ جس انگور، ک ھ جور ، جو اور گ یہ وں پر زکوٰۃ واجب ہ وچک ی ہ و اگر کوئ ی شخص خود یا اس کے ا ہ ل و ع یال اسے ک ھ ال یں یا مثلاً وہ یہ اجناس کسی فقیر کو زکوۃ کی نیت کے بغ یر دے د ے تو ضرور ی ہے ک ہ جتن ی مقدار استعمال کی ہ و اس پر زکوٰ ۃ دے۔
1874 ۔ اگر گ یہ وں،جَو،ک ھ جور اور انگور پر زکوٰۃ واجب ہ ون ے ک ے بعد ان چ یزوں کا مالک مرجائے تو جتن ی زکوٰۃ بنتی ہ و و ہ اس ک ے مال س ے د ینی ضروری ہے ل یکن اگر وہ شخص زکو ۃ واجب ہ ون ے س ے پ ہ ل ے مرجائ ے تو ہ ر و ہ وارث جس کا حص ہ نصاب تک پ ہ نچ جائ ے ضرور ی ہے ک ہ اپن ے حص ے ک ی زکوۃ خود ادا کرے۔
1875 ۔ جو شخص حاکم شرح ک ی طرف سے زکوٰ ۃ جمع کرنے پر مامور ہ و و ہ گ یہ وں اور جو کے ک ھ ل یان میں بھ وسا (اور دان ہ ) الگ کرن ے ک ے وقت اور ک ھ جور اور انگور کے خشک ہ ون ے ک ے وقت زکوٰ ۃ کا مطالبہ کر سکتا ہے اور اگرمالک ن ہ د ے اور جس چ یز پر زکوٰۃ واجب ہ وگئ ی ہ و و ہ تلف ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا عوض د ے۔
1876 ۔ اگر کس ی شخص کے ک ھ جور ک ے درختوں، انگور ک ی بیلوں یا گیہ وں اور جَو کے ک ھیتوں (کی پیداوار) کا مالک بننے ک ے بعد ان چ یزوں پر زکوٰۃ واجب ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ ان پر زکوٰ ۃ دے۔
1877 ۔ اگر گ یہ وں، جَو، کھ جور اور انگور پر زکوٰ ۃ واجب ہ ون ے ک ے بعد کوئ ی شخص کھیتوں اور درختوں کو بیچ دے تو ب یچنے والے پر ان اجناس ک ی زکوٰۃ دینا واجب ہے اور جب و ہ زکو ۃ ادا کر دے تو خریدنے والے پر کچ ھ واجب ن ہیں ہے۔
1878 ۔ اگر کوئ ی شخص گیہ وں، جَو، کھ جور یا انگور خریدے اور اسے علم ہ و ک ہ ب یچنے والے ن ے ان ک ی زکوٰۃ دے د ی ہے یا شک کرے ک ہ اس ن ے زکوٰ ۃ دی ہے یا نہیں تو اس پر کچھ واجب ن ہیں ہے اور اگر اس ے معلوم ہ و ک ہ ب یچنے والے ن ے ان پر زکوٰ ۃ نہیں دی تو ضروری ہے ک ہ و ہ خود اس پر ز کوٰۃ دیدے لیکن اگر بیچنے والے ن ے دغل ک یا ہ و تو و ہ زکو ۃ دینے کے بعد اس س ے رجوع کر سکتا ہے اور زکو ۃ کی مقدار کا اس سے مطالب ہ کر سکتا ہے۔
1879 ۔ اگر گ یہ وں، جَو، کھ جور اور انگور کا وزن تر ہ ون ے ک ے وقت نصاب ک ی حد تک پہ نچ جائ ے اور خشک ہ ون ے ک ے وقت اس حد س ے کم ہ و جائ ے تو اس پر زکوٰ ۃ واجب نہیں ہے۔
1880 ۔ اگر کوئ ی شخص گیہ وں، جَو اور کھ جور کو خشک ہ ون ے ک ے وقت س ے پ ہ ل ے خرچ کر ے تو اگر و ہ خشک ہ و کر نصاب پر پور ی اتریں تو ضروری ہے ک ہ ان کو زکوٰ ۃ دے۔
1881 ۔ ک ھ جور ک ی تین قسمیں ہیں :۔
1 ۔ و ہ جس ے خشک ک یا جاتا ہے ( یعنی چھ وار ے ) ۔ اس ک ی زکوٰۃ کا حکم بیان ہ و چکا ہے۔
2 ۔ و ہ جو رُطَب (پک ی ہ وئ ی رس دار) ہ ون ے ک ی حالت میں کھ ائ ی جاتی ہے ۔
3 ۔ و ہ جو کچ ی ہی کھ ائ ی جاتی ہے۔
دوسری قسم کی مقدار اگر خشک ہ ون ے پر نصاب ک ی حد تک پہ نچ جائ ے تو احت یاط مستحب ہے ک ہ اس ک ی زکوۃ دی جائے۔ ج ہ ان تک ت یسری قسم کا تعلق ہے ظا ہ ر یہ ہے ک ہ اس پر زکوٰ ۃ واجب نہیں ہے۔
1882 ۔ جس گ یہ وں، جَو، کھ جور اور کشمش ک ی زکوٰۃ کسی شخص نے د ے د ی ہ و اگر و ہ چند سال اس ک ے پاس پ ڑی بھی رہیں تو ان پر دوبارہ زکوٰ ۃ واجب نہیں ہ وگ ی۔
1883 ۔ اگر گ یہوں،جَو، کھ جور اور انگور (ک ی کاشت) بارانی یا نہ ر ی زمین پر کی جائے یا مصر زراعت کی طرح انہیں زمین کی نمی سے فائد ہ پ ہ نچ ے تو ان پر زکو ۃ دسواں حصہ ہے اور اگر ان ک ی سینچائی (جھیل یا کنویں وغیرہ) کے پان ی سے بذر یعہ ڈ ول ک ی جائے تو ان پر زکو ۃ بیسواں حصہ ہے۔
1884 ۔ اگر گ یہ وں، جو، کھ جور اور انگور (ک ی کاشت) بارش کے پان ی سے ب ھی سیراب ہ و اور اس ے ڈ ول وغ یرہ کے پان ی سے ب ھی فائدہ پ ہ نچ ے تو اگر یہ سینچائی ایسی ہ و ک ہ عام طور پر ک ہ ا جاسک ے ک ہ ان ک ی سینچائی ڈ ول وغ یرہ سے ک ی گئی ہے تو اس پر زکو ۃ بیسواں حصہ ہے اور اگر یہ کہ ا جائ ے کہ یہ نہ ر اور بارش ک ے پان ی سے س یراب ہ وئ ے ہیں تو ان پر زکوٰۃ دسواں حصہ ہے اور اگر س ینچائی کی صورت یہ ہ و ک ہ عام طور پر ک ہ ا جائ ے ک ہ دونوں ذرائع س ے س یراب ہ وئ ے ہیں تو اس پر زکوۃ ساڑھے سات ف ی صد ہے۔
1885 ۔ اگر کوئ ی شک کرے ک ہ عام طور پر کون س ی بات صحیح سمجھی جائے گ ی اور اسے علم ن ہ ہ و ک ہ س ینچائی کی صورت ایسی ہے ک ہ لوگ عام طور پر ک ہیں کہ دونوں ذرائع س ے س ینچائی ہ وئ ی یا یہ کہیں کہ مثلاً بارش ک ے پان ی سے ہ وئ ی ہے تو اگر و ہ سا ڑھے سات ف ی صد زکوٰۃ دے تو کاف ی ہے۔
1886 ۔ اگر کوئ ی شک کرے اور اس ے علم ن ہ ہ و ک ہ عموماً ک ہ ت ے ہیں کہ دونوں ذرائع س ے س ینچائی ہ وئ ی ہے یا یہ کہ ت ے ہیں کہ ڈ ول وغ یرہ سے ہ وئ ی ہے تو اس صورت م یں بیسواں حصہ د ینا کافی ہے۔ اور اگر اس بات کا احتمال ب ھی ہ و ک ہ عموماً لوگ ک ہیں کہ بارش ک ے پان ی سے س یرابی ہ وئ ی ہے تب ب ھی یہی حکم ہے۔
1887 ۔ اگر گ یہ وں،جَو، کھ جور اور انگور بارش اور ن ہ ر ک ے پان ی سے س یراب ہ وں اور ان ہیں ڈ ول وغ یرہ کے پان ی کی حاجت نہ ہ و ل یکن ان کی سینچائی ڈ ول ک ے پان ی سے ب ھی ہ وئ ی ہ و اور ڈ ول ک ے پان ی سے آمدن ی میں اضافے م یں کوئی مدد نہ مل ی ہ و تو ان پر زکوٰ ۃ دسواں حصہ ہے اور اگر ڈ و ل وغیرہ کے پان ی سے س ینچائی ہ وئ ی ہ و اور ن ہ ر اور بارش ک ے پان ی کی حاجت نہ ہ و ل یکن نہ ر اور بارش ک ے پان ی سے ب ھی سیراب ہ وں اور اس س ے آمدن ی میں اضافے م یں کوئی مدد نہ مل ی ہ و تو ان پر زکوٰ ۃ بیسواں حصہ ہے۔
1888 ۔ اگر کس ی کھیت کی سینچائی ڈ ول وغ یرہ سے ک ی جائے اور اس س ے ملحق ہ زم ین میں کھیتی باڑی کی جائے اور و ہ ملحق ہ زم ین اس زمین سے فائد ہ ا ٹھ ائ ے اور اس ے س ینچائی کی ضرورت نہ ر ہے تو جس زم ین کی سینچائی ڈ ول وغ یرہ سے ک ی گئی ہے اس ک ی زکوٰۃ بیسواں حصہ اور اس س ے ملحق ہ ک ھیت کی زکوٰۃ احتیاط کی بنا پر دسواں حصہ ہے۔
1889 ۔ جو اخراجات کس ی شخص نے گ یہ وں، جو، کھ جور اور انگور پر کئ ے ہ وں ان ہیں وہ فصل ک ی آمدنی سے من ہ ا کرک ے نصاب کا حساب ن ہیں لگا سکتا لہ ذا اگر ان م یں سے کس ی ایک کا وزن اخراجات کا حساب لگانے س ے پ ہ ل ے نصاب ک ی مقدار تک پہ نچ جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس پر زکوٰ ۃ دے۔
1890 ۔ جس شخص ن ے زراعت م یں بیج استعمال کیا ہ و خوا ہ و ہ اس ک ے پاس موجود ہ و یا اس نے خر یدا ہ و و ہ نصاب کا حساب اس ب یچ کو فصل کی آمدنی سے من ہ ا کر ک ے ن ہیں کر سکتا بلکہ ضرور ی ہے ک ہ نصاب کا حساب پور ی فصل کو مدنظر رکھ ت ے ہ وئ ے لگائ ے۔
1891 ۔ جو کچ ھ حکومت اصل ی مال سے (جس پر زکوٰ ۃ واجب ہ و) بطور محصول ل ے ل ے اس پر زکوۃ واجب نہیں ہے مثلاً اگر ک ھیت کی پیداوار 2000 کیلو ہ و اور حکومت اس م یں سے 1000 کیلو بطور لگان کے ل ے ل ے تو زکوٰ ۃ فقط 1900 کیلو پر واجب ہے۔
1892 ۔ احت یاط واجب کی بنا پر انسان یہ نہیں کر سکتا کہ جو اخراجات اس ن ے زکوٰ ۃ واجب ہ ون ے س ے پ ہ ل ے کئ ے ہ وں ان ہیں وہ پ یداوار سے من ہ ا کر ے اور صرف باق ی ماندہ پر زکو ۃ دے۔
1893 ۔ زکوٰ ۃ واجب ہ ون ے ک ے بعد جو اخراجات کئ ے جائ یں اور جو کچھ زکو ۃ کی کی مقدار کی نسبت خرچ کیا جائے و ہ پ یداوار سے من ہ ا ن ہیں کیا جاسکتا اگرچہ احت یاط کی بنا پر حکم شرع یا اس کے وک یل سے اس کو خرچ کرن ے ک ی اجازت بھی لے ل ی ہ و ۔
1894 ۔ کس ی شخص کے لئ ے یہ واجب نہیں کہ و ہ انتظار کر ے تاک ہ جو اور گ یہ وں کھ ل یان تک پہ نچ جائ یں اور انگور اور کھ جور ک ے خشک ہ ون ے کا وقت ہ و جائ ے پ ھ ر زکوٰ ۃ دے بلک ہ جون ہی زکوٰۃ واجب ہ و جائز ہے ک ہ زکوٰ ۃ کی مقدار کا اندازہ لگا کر و ہ ق یمت بطور زکوٰۃ دے۔
1895 ۔ زکوٰ ۃ واجب ہ ون ے ک ے بعد متعلق ہ شخص یہ کر سکتا ہے ک ہ ک ھڑی فصل کاٹ ن ے یا کھ جور اور انگور کو چنن ے س ے پ ہ ل ے زکوٰ ۃ مستحق شخص یا حاکم شرع یا اس کے وک یل کو مشترکہ طور پ یش کر دے اور اس ک ے بعد و ہ اخراجات م یں شریک ہ وں گ ے۔
1896 ۔ جب کوئ ی شخص فصل یا کھ جور اور ا نگور کی زکوٰۃ عین مال کی شکل میں حاکم شرع یا مستحق شخص یا ان کے وک یل کو دے د ے تو اس ک ے لئ ے ضرور ی نہیں کہ بلا معاوض ہ مشترک ہ طور پر ان چ یزوں کی حفاظت کرے بلک ہ و ہ فصل ک ی کٹ ائ ی یا کھ جور اور انگور ک ے خشک ہ ون ے تک مال زکوٰ ۃ اپنی زمین میں رہ ن ے ک ے بدل ے اجرت کا مطالب ہ کر سکتا ہے۔
1897 ۔ اگر انسان کئ ی شہ ر یوں میں فصل پکنے کا وقت ا یک دوسرے س ے مختلف ہ و اور ان سب ش ہ روں س ے فصل اور م یوے ایک ہی وقت میں دستیاب نہ ہ وت ے ہ وں اور یہ سب ایک سال کی پیداوار شمار ہ وت ے ہ وں تو اگر ان م یں سے جو چ یز پہ ل ے پک جائ ے وہ نصاب ک ے مطابق ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس پر اس کے پکن ے ک ے وقت زکوٰ ۃ دے اور باق ی ماندہ اجناس پر اس وقت زکوٰ ۃ دے جب و ہ دست یاب ہ وں اور اگر پ ہ ل ے پکن ے وال ی چیز نصاب کے برابر ن ہ ہ و تو انتظار کر ے تاک ہ باق ی اجناس پک جائیں۔ پ ھ ر اگر سب ملا کر نصاب ک ے برابر ہ وجائ یں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہے اور اگر نصاب ک ے برابر نہ ہ وں تو ان پر زکو ۃ واجب نہیں ہے۔
1898 ۔ اگر ک ھ جور اور انگور ک ے درخت سال م یں دو دفعہ پ ھ ل د یں اور دونوں مرتبہ ک ی پیداوار جمع کرنے پر نصاب ک ے برابر ہ وجائ ے تو احت یاط کی بنا پر اس پیداوار پر زکوٰۃ واجب ہے۔
1899 ۔ اگر کس ی شخص کے پاس غ یر خشک شدہ ک ھ جور یں ہ وں یا انگور ہ وں جو خشک ہ ون ے ک ی صورت میں نصاب کے مطابق ہ وں تو اگر ان ک ے تاز ہ ہ ون ے ک ی حالت میں وہ زکوٰ ۃ کی نیت سے ان ک ی اتنی مقدار زکوٰۃ کے مصرف م یں لے آئ ے جتن ی ان کے خشک ہ ون ے پر زکو ۃ کی اس مقدار کے برابر ہ و جو اس پر واجب ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
1900 ۔ اگر کس ی شخص پر خشک کھ جور یا کشمش کی زکوٰۃ واجب ہ و تو و ہ ان ک ی زکوٰۃ تازہ ک ھ جور یا انگور کی شکل میں نہیں دے سکتا بلک ہ اگر و ہ خشک ک ھ جور یا کشمش کی زکوۃ کی قیمت لگائے اور انگور یا تازہ ک ھ جور یں یا کشمش یا کوئی اور خشک کھ جور یں اس قیمت کے طور پر د ے تو اس م یں بھی اشکال ہے ن یز اگر کسی پر تازہ ک ھ جور یا انگور کی زکوۃ واجب ہ و تو و ہ خشک ک ھ جور یا کشمش دے کر و ہ زکوٰ ۃ ادا نہیں کر سکتا بلکہ اگر و ہ ق یمت لگا کر کوئی دوسری کھ جور یا انگور دے تو اگرچ ہ و ہ تاز ہ ہی ہ و اس م یں اشکال ہے۔
1901 ۔ جو کچ ھ حکومت اصل ی مال سے (جس پر زکوٰ ۃ واجب ہ و) بطور محصول ل ے ل ے اس پر زکوٰ ۃ واجب نہیں ہے مثلاً اگر ک ھیت کی پیداوار 2000 کیلو ہ و اور حکومت اس م یں سے 100 کیلو بطور لگان کے ل ے ل ے تو زکوٰ ۃ فقط 1900 کیلو پر واجب ہے۔
1892 ۔ احت یاط واجب کی بنا پر انسان یہ نہیں کر سکتا کہ جو اخراجات اس ن ے زکو ۃ واجب ہ ون ے س ے پ ہ ل ے کئ ے ہ وں ان ہیں وہ پ یداوار سے من ہ ا کر ے اور صرف باق ی ماندہ پر زکوٰ ۃ دے۔
1893 ۔ زکوٰ ۃ واجب ہ ون ے ک ے بعد جو اخراجات کئ ے جائ یں اور جو کچھ زکوٰ ۃ کی مقدار کی نسبت خرچ کیا جائے و ہ پ یداوار سے من ہ ا ن ہیں کیا جاسکتا اگرچہ احت یاط کی بنا پر ھ اکم شرع یا اس کے وک یل سے اس کو خرچ کرن ے ک ی اجازت بھی لے ل ی ہ و ۔
1894 ۔ کس ی شخص کے لئ ے یہ واجب نہیں کہ و ہ انتظار کر ے تاک ہ جو اور گ یہ وں کھ ل یان تک پہ نچ جائ یں اور انگور اور کھ جور ک ے خشک ہ ون ے کا وقت ہ و جائ ے پ ھ ر زکوٰ ۃ دے بلک ہ جون ہی زکوٰۃ دے بلک ہ جون ہی زکوٰۃ واجب ہ وجائز ہے ک ہ زکوٰ ۃ کی مقدار کا اندازہ لگا کر و ہ ق یمت بطور زکوۃ دے۔
1895 ۔ زکوٰ ۃ واجب ہ ون ے ک ے بعد متعلق ہ شخص یہ کر سکتا ہے ک ہ ک ھڑی فصل کاٹ ن ے یا کھ جور اور انگور کو چنن ے س ے پ ہ ل ے زکوٰ ۃ مستحق شخص یا حاکم شرع یا اس کے وک یل کو مشترکہ طور پر پ یش کر دے اور اس ک ے بد و ہ اخراجات م یں شریک ہ وں گ ے۔
1896 ۔ جب کوئ ی شخص فصل یا کھ جور اور انگور ک ی زکوٰۃ عین مال کی شکل میں حاکم شرع یا مستحق شخص یا ان کے وک یل کو دے د ے تو اس ک ے لئ ے ضرور ی نہیں کہ بلامعاوض ہ مشترک ہ طور پر ان چ یزوں کی حفاظت کرے بلکہ و ہ فصل ک ی کٹ ائ ی یا کھ جور اور انگور ک ے خشک ہ ون ے تک مال زکوٰ ۃ اپنی زمین میں رہ ن ے ک ے بدل ے اجرت کا مطالب ہ کر سکتا ہے۔
1897 ۔ اگر انسان کئ ی شہ روں م یں گیہ وں،جَو، کھ جور یا انگور کا مالک ہ و اور ان ش ہ روں م یں فصل پکنے کا وقت ا یک دوسرے س ے مختلف ہ و اور ان سب ش ہ روں س ے فصل اور م یوے ایک ہی وقت میں دستیاب نہ ہ وت ے ہ وں اور یہ سب ایک سال کی پیداوار شمار ہ وت ے ہ وں تو اگر ان م یں سے جو چ یز پہ ل ے پک جائے و ہ نصاب ک ے مطابق ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس پر اس ک ے پکن ے ک ے وقت زکوٰ ۃ دے اور باق ی ماندہ اجناس پر اس وقت زکوٰۃ دے جب و ہ دست یاب ہ وں اور اگر پ ہ ل ے پکن ے وال ی چیز نصاب کے برابر ن ہ ہ و تو انتظار کر ے تاک ہ باق ی اجناس پک جائیں۔ پ ھ ر اگر سب ملا کر نصاب ک ے برابر ہ وجائ یں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہے اور اگر نصاب ک ے برابر ن ہ ہ وں تو ان پر زکوٰ ۃ واجب نہیں ہے۔
1898 ۔ اگر ک ھ جو ر اور انگور کے درخت سال م یں دو دفعہ پ ھ ل د یں اور دونوں مرتبہ ک ی پیداوار جمع کرنے پر نصاب ک ے برابر ہ وجائ ے تو احت یاط کی بنا پر اس پیداوار پر زکوٰۃ واجب ہے۔
1899 ۔ اگر کس ی شخص کے پاس غ یر خشک شدہ ک ھ جور یں ہ وں یا انگور ہ وں جو خشک ہ ون ے ک ی صورت میں نصاب کے مطابق ہ وں تو اگر ان ک ے تاز ہ ہ ون ے ک ی حالت میں وہ زکوٰ ۃ کی نیت سے ان ک ی اتنی مقدار زکوٰۃ کے مصرف م یں لے آئ ے جتن ی ان کے خشک ہ ون ے پر زکوٰ ۃ کی اس مقدار کے برابر ہ و جو اس پر واجب ہے تو اس م یں کوئی حرج نہیں۔
1900 ۔ اگر کس ی شخص پر خشک کھ جور یا کشمش کی زکوٰۃ واجب ہ و تو و ہ ان ک ی زکوٰۃ تازہ ک ھ جور یا انگور کی شکل میں نہیں دے سکتا بلک ہ اگر و ہ خشک ک ھ جور یا کشمش کی زکوٰۃ کی قیمت لگائے اور انگور یا تازہ ک ھ جور یں یا کشمش یا کوئی اور خشک کھ جور یں اس قیمت کے طور پر د ے تو اس میں بھی اشکال ہے ن یز اگر کسی پر تازہ ک ھ جور یا انگور کی زکوٰۃ واجب ہ و تو و ہ خشک ک ھ جور یا کشمش دے کر و ہ زکوٰ ۃ ادا نہیں کر سکتا بلکہ اگر و ہ ق یمت لگا کر کوئی دوسری کھ جور یا انگور دے تو اگرچ ہ و ہ تاز ہ ہی ہ و اس م یں اشکال ہے۔
1901 ۔ اگر کوئ ی ایسا شخص مرجائے جو مقروض ہ و اور اس ک ے پاس ا یسا مال بھی ہ و جس پرزکوٰ ۃ وجاب ہ وچک ی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ جس مال پر زکوٰ ۃ واجب ہ وچک ی ہ و پ ہ ل ے اس م یں سے تمام زکوٰ ۃ دی جائے اور اس ک ے بعد اس کا قرض ہ ادا ک یا جائے۔
1902 ۔ اگر کوئ ی ایسا شخص مر جائے جو مقروض ہ و اور اس ک ے پاس گ یہ وں،جَو، کھ جور یا انگور بھی ہ و اور اس س ے پ ہ ل ے ک ہ ان اجناس پر زکوٰ ۃ واجب ہ و اس ک ے ورثاء اس کا قرض ہ کس ی دوسرے مال س ے ادا کرد یں تو جس وارث کا حصہ نصاب ک ی مقدار تک پہ نچتا ہ و ضرور ی ہے ک ہ زکوٰ ۃ دے اور ا گر اس سے پ ہ ل ے ک ہ زکو ۃ ان اجناس پر واجب ہ و متوف ی کا قرضہ ادا ن ہ کر یں اور اگر اس کا مال فقط اس قرضے جتنا ہ و تو ورثاء ک ے لئ ے واجب ن ہیں کہ ان اجناس پر زکوٰ ۃ دیں اوعر اگر متوفی کا مال اس کے قرض س ے ز یادہ ہ و جبک ہ متوف ی پر اتنا قرض ہ و ک ہ اگر اس ے ادا کرنا چا ہیں تو ادا کرسکیں ضروری ہے ک ہ گ یہ وں، جَو، کھ جور اور انگور م یں سے کچ ھ مقدار ب ھی قرض خواہ کو د یں لہ ذا جو کچ ھ قرض خوا ہ کو د یں اس پر زکوۃ نہیں ہے اور باق ی ماندہ مال پر وارثوں م یں سے جس کا ب ھی حصہ زکو ۃ کے نصاب ک ے برابر ہ و اس ک ی زکوٰۃ دینا ضروری ہے۔
1903 ۔ جس شخص ک ے پاس اچ ھی اور گھٹیا دونوں قسم کی گندم، جَو، کھ جور اور انگور ہ وں جن پر زکوٰ ۃ واجب ہ وگئ ی ہ و اس ک ے لئ ے احت یاط واجب یہ ہے ک ہ اچ ھی اور گھٹیادونوں اقسام میں سے الگ الگ زکوٰ ۃ نکالے۔
1904 ۔ سون ے ک ے نصاب دو ہیں :
اس کا پہ لا انصاب ب یس مثقال شرعی ہے جب ک ہ ہ ر مثقال شرع ی 18 نخود کا ہ وتا ہے پس جس وقت سون ے ک ی مقدار بیس مثقال شرعی تک جو آجکل کے پندر ہ مثقال ک ے برابر ہ وت ے ہیں پہ نچ جائ ے اور و ہ دوسر ی شرائط بھی پوری ہ وت ی ہ وں جو ب یان کی جاچکی ہیں تو ضروری ہے ک ہ انسان اس کا چال یسواں حصہ جو 9 نخود کے برابر ہ وتا ہے۔ زکوٰ ۃ کے طور پر د ے اور اگر سونا اس مقدار تک ن ہ پ ہ نچ ے تو اس پر زکوٰ ۃ واجب نہیں ہے۔ اور اس کا دوسرا انصاب چار مثقال شرعی ہے جو آجکل ک ے ت ین مثقال کے برابر ہ وت ے ہیں یعنی اگر پندرہ مثقال پر ت ین مثقال کا اضافہ ہ و جائ ے تو ضر وری ہے ک ہ تمامتر 18 مثقال پر ڈھ ائ ی فیصد کے حساب س ے زکوٰ ۃ دے اور اگر ت ین مثقال سے کم اضاف ہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ صرف 15 مثقال پر زکوٰۃ دے اور اس صورت م یں اضافے پر زکوٰ ۃ نہیں ہے اور جوں جوں اضاف ہ ہ و اس ک ے لئ ے یہی حکم ہے یعنی اگر تین مثقال اضافہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ تمامتر مقدار پر زکوٰ ۃ دے اور اگر اضاف ہ ت ین مثقال سے کم ہ و تو جو مقدار ب ڑھی ہ و اس پر کوئ ی زکوٰۃ نہیں ہے۔
1905 ۔ چاند ی کے نصاب دو ہیں :
اس کا پہ لا نصاب 105 مروجہ مثقال ہے ل ہ ذا جب چاند ی کی مقدار 105 مثقال تک پہ نچ جائ ے اور و ہ دوسر ی شرائط بھی پوری کرتی ہ و جو ب یان کی جاچکی ہیں تو ضروری ہے ک ہ انسان اس کا ڈھ ائ ی فیصد جو دو مثقال اور 15 نخود بنتا ہے بطور زکوٰ ۃ دے اور اگر و ہ اس مقدار تک ن ہ پ ہ نچ ے تو اس پر زکوٰ ۃ واجب نہیں ہے اور اس کا دوسرا نصاب 21 مثقال ہے یعنی اگر 105 مثقال پر 21 مثقال کا اضافہ ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ ج یسا کہ بتا یا جاچکا ہے پور ے 166 مثقال پر زکوٰۃ دے اور اگر 21 مثقال سے کم اضاف ہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ صرف 105 مثقال پر زکوٰۃ دے اور جو اضاف ہ ہ وا ہے اس پر زکوٰ ۃ نہیں ہے اور جتنا ب ھی اضافہ ہ وتا جائ ے یہی حکم ہے یعنی اگر 21 مثقال کا اضافہ ہ و تو ضرور ی ہے تمامتر مقدار پر زکوٰ ۃ دے اور اگر اس س ے کم اضاف ہ ہ و تو و ہ مقدار ج س کا اضافہ ہ وا ہے اور جو 21 مثقال سے کم ہے اس پر زکوٰ ۃ نہیں ہے۔ اس بنا پر انسان ک ے پاس جتنا سونا یا چاندی ہ و اگر و ہ اس کا چال یسواں حصہ بطور زکوٰ ۃ دے تو و ہ ا یسی زکوۃ ادا کرے گا جو اس پر واجب ت ھی اور اگر وہ کس ی وقت واجب مقدار سے کچ ھ ز یادہ دے مثلاً اگر کس ی کے پاس 110 مثقال چاندی ہ و اور و ہ اس کا چال یسوں حصہ د ے تو 105 مثقال کی زکوٰۃ تو وہ ہوگی جو اس پر واجب تھی اور 5 مثقال پر وہ ا یسی زکوٰۃ دے گا جو اس پر واجب ن ہ ت ھی۔
1906 ۔ جس شخص ک ے پاس نصاب ک ے مطابق سونا یا چاندی ہ و اگرچ ہ و ہ اس پر زکو ۃ دے د ے ل یکن جب تک اس کے پاس سونا یا چاندی پہ ل ے نصاب س ے کم ن ہ ہ وجائ ے ضرور ی ہے ک ہ ہ ر سال ان پر زکوٰ ۃ دے۔
1907 ۔ سون ے اور چاند ی پر زکوۃ اس صورت میں واجب ہ وت ی ہے جب و ہ ضرور ی ہے ڈھ ل ے ہ وئ ے سکوں ک ی صورت میں ہ وں اور ان ک ے ذر یعے لین دین کا رواج ہ و اور اگر ان ک ی مہ ر م ٹ ب ھی چکی ہ و تب ب ھی ضروری ہے ک ہ ان زکو ۃ دی جائے۔
1907 ۔ سون ے اور چاند ی پر زکوٰۃ اس صورت میں واجب ہ وت ی ہے جب و ہ ضرور ی ہے ڈھ ل ے ہ وئ ے سکوں ک ی صورت میں ہ وں اور ان ک ے ذر یعے لین دین کا رواج ہ و اور اگر ان ک ی مہ ر م ٹ ب ھی چکی ہ و تب ب ھی ضروری ہے ک ہ ان پر زکوٰ ۃ دی جائے۔
1908 ۔ و ہ سک ہ دار سونا اور چاند ی جنہیں عورتیں بطور زیور پہ نت ی ہ وں جب تک و ہ رائج ہ وں یعنی سونے اور چاند ی کے سکوں ک ے طور پر ان ک ے ذر یعے لین دین ہ وتا ہ و احت یاط کی بنا پر ان کی زکوٰۃ دینا واجب ہے ل یکن اگر ان کے ذر یعے لین دین کا رواج باقی نہ ہ و تو ان زکوٰ ۃ واجب نہیں ہے۔
1909 ۔ جس شخص ک ے پاس سونا اور چاند ی دونوں ہ ون اگر ان م یں سے کوئ ی بھی پہ ل ے نصاب ک ے برابر ن ہ ہ و مثلاً اس ک ے پاس 104 مثقال چاندی اور 14 مثقال سونا ہ و تو اس پر زکوٰ ۃ واجب نہیں ہے۔
1910 ۔ ج یسا کہ پ ہ ل ے بتا یا گیا ہے سون ے اور چاند ی پر زکوٰۃ اس صورت میں واجب ہ وت ی ہے جب و ہ گ یارہ مہینے نصاب کی مقدار کے مطابق کس ی شخص کی ملکیت میں رہیں اور اگر گیارہ مہینوں میں کسی وقت سونا اور چاندی پہ ل ے نصاب س ے کم ہ وجائ یں تو اس شخص زکوۃ واجب نہیں ہے۔
1911 ۔ اگر کس ی شخص کے پاس سونا اور چاند ی ہ و اور و ہ گ یارہ مہینے کے دوران ان ہیں کسی دوسری چیز سے بدل ل ے یا انہیں پگھ لا ل ے تو اس پر زکوٰ ۃ واجب نہیں ہے۔ ل یکن اگر وہ زکوٰ ۃ سے بچن ے ک ے لئ ے ان کو سون ے یا چاندی سے بدل ل ے یعنی سونے کو سون ے یا چاندی سے یاچاندی کو چاندی یا سونے س ے بدل ل ے تو احت یاط واجب ہے ک ہ زکوٰ ۃ دے۔
1912 ۔ اگر کوئ ی شخص بارھ و یں مہینے میں سونا یا چاندی پگھ لائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ ان پر زکوٰ ۃ دے اور اگر پگ ھ لان ے ک ی وجہ س ے ان کا وزن یا قیمت کم ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ ان چ یزوں کو پگھ لان ے س ے پ ہ ل ے جو زکو ۃ اس پر واجب تھی وہ د ے۔
1913 ۔ اگر کس ی شخص کے پاس جو سونا اور چاند ی ہ و اس م یں سے کچ ھ ب ڑھیا اور کچھ گ ھٹیا قسم کا ہ و تو و ہ ب ڑھیا کی زکوۃ بڑھیا میں سے اور گ ھٹیا کی زکوٰۃ گھٹیا میں سے د ے سکتا ہے۔ ل یکن احتیاط کی بنا پر وہ گ ھٹیا حصے م یں سے تماما زکوٰ ۃ نہیں دے سکتا بلک ہ ب ہ تر یہ ہے ک ہ سار ی زکوٰۃ بڑھیا سونے اور چاند ی میں سے د ے۔
1914 ۔ سون ے اور چاند ی کے سک ے جن م یں معمول سے ز یادہ دوسری دھ ات ک ی آمیزش ہ و اگر ان ہیں چاندی اور سونے ک ے سک ے ک ہ ا جاتا ہ و تو اس صورت م یں جب وہ نصاب ک ی حد تک پہ نچ جائ یں ان پر زکوٰۃ واجب ہے گو ان کا خالص حص ہ نصاب ک ی حد تک نہ پ ہ نچ ے ل یکن اگر انہیں سونے اور چاند ی کے سکے ن ہ ک ہ ا جاتا ہ و تو خواہ ان کا خالص حص ہ نصاب ک ی حد تک پہ نچ ب ھی جائے ان پر زکوٰ ۃ کا واجب ہ ونا محل اشکال ہے۔
1915 ۔ جس شخص ک ے پاس سون ے اور چاند ی کے سک ے ہ وں اگر ان م یں دوسری دھ ات ک ی آمیزش معمول کے مطابق ہ و تو اگر و ہ شخص ان ک ی زکوٰۃ سونے اور چاند ی کے ا یسے سکوں میں دے جن م یں دوسری دھ ات ک ی آمیزش معمول سے ز یادہ ہ و یا ایسے سکوں میں دے جو سون ے اور چاند ی کے بن ے ہ وئ ے ن ہ ہ وں لیکن یہ سکے اتن ی مقدار میں ہ وں ک ہ ان ق یمت اس زکوٰۃ کی قیمت کے برابر ہ و جو اس پر واجب ہ وگئ ی ہے تو اس م یں کوئی حرج نہیں ہے۔
1916 ۔ اون ٹ ، گائ ے اور ب ھیڑ بکری کی زکوٰۃ کے لئ ے ان شرائط ک ے علاو ہ جن کا ذکر آچکا ہے ا یک شرط اور بھی ہے اور و ہ یہ کہ ح یوان سارا سال صرف (خودرو) جنگلی گھ اس چرتا ر ہ ا ہ و ۔ ل ہ ذا اگر سارا سال یا اس کا کچھ حص ہ کا ٹی ہ وئ ی گھ اس ک ھ ائ ے یا ایسی چراگاہ م یں چرے جو خود اس شخص کی (یعنی حیوان کے مالک ک ی) یا کسی دوسرے شخص ک ی ملکیت ہ و تو اس ح یوان پر زکوٰۃ نہیں ہے ل یکن اگر وہ ح یوان سال بھ ر م یں ایک یا دودن مالک کی مملوکہ گ ھ اس ( یاچارا)کھ ائ ے تو اس ک ی زکوٰۃ واجب ہے۔ ل یکن اونٹ ، گائ ے اور ب ھیڑ کی زکوٰۃ واجب ہ ون ے م یں احتیاط کی بنا پر شرط یہ نہیں ہے ک ہ سارا سال ح یوان بے کار ر ہے بلک ہ اگر آب یاری یاہ ل چلانے یا ان جسے امور م یں ان حیوانوں سے استفاد ہ ک یا جائے تو احت یاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ ان ک ی زکوٰۃ دے۔
1918 ۔ اون ٹ ک ی نصاب بارہ ہیں۔
1 ۔ پانچ اون ٹ۔ اور ان ک ی زکوٰۃ ایک بھیڑ ہے اور جب تک اونٹ وں ک ی تعداد اس حد تک نہ پ ہ نچ ے ، زکوٰ ۃ (واجب) نہیں ہے۔
2 ۔ دس اون ٹ۔ اور ان ک ی زکوٰۃ دو بھیڑیں ہیں۔
3 ۔ پندر ہ اون ٹ۔ اور ان ک ی زکوٰۃ تین بھیڑیں ہیں۔
4 ۔ ب یس اونٹ۔ اور ان ک ی زکوٰۃ چار بھیڑیں ہیں ۔
5 ۔ پچ یس اونٹ۔ اور ان ک ی زکوٰۃ پانچ بھیڑیں ہیں۔
6 ۔ چ ھ ب یس اونٹ۔ اور ان ک ی زکوٰۃ ایک ایسا اونٹ ہے جو دوسر ے سال م یں داخل ہ و چکا ہ و ۔
7 ۔ چ ھ ت یس اونٹ۔ اور ان ک ی زکوٰۃ ایک ایسا اونٹ ہے جو ت یسرے سال میں داخل ہ وچکا ہ و ۔
8 ۔ چ ھیالیس اونٹ۔ اور ان ک ی زکوٰۃ ایک ایسا اونٹ ہے جو چوت ھے سال م یں داخل ہ وچکا ہ و ۔
9 ۔ اکس ٹھ اون ٹ۔ اور ان ک ی زکوٰۃ ایک ایسا اونٹ ہے جو پانچو یں سال میں داخل ہ وچکا ہ و ۔
10 ۔ چ ھ تر اون ٹ۔ اور ان ک ی زکوٰۃ دو ایسے اونٹ ہیں جو تیسرے سال میں داخل ہ وچک ے ہ وں ۔
11 ۔ اک یانوے اونٹ ۔ اور ان ک ی زکوٰۃ دو ایسے اونٹ ہیں جو چوتھے سال م یں داخل ہ وں ۔
12 ۔ ا یک سو اکیس اونٹ اور اس س ے اوپر جتن ے ہ وت ے جائ یں ضروری ہے ک ہ زکوٰ ۃ دینے والا یا تو ان کا چالیس سے چال یس تک حساب کرے اور ہ ر چال یس اونٹ وں ک ے لئ ے ا یک اونٹ د ے جو چوت ھے سال م یں داخل ہ وچکا ہ و یا چالیس اور پچاس دونوں سے حساب کر ے ل یکن ہ ر صورت م یں اس طرح حساب کرنا ضروری ہے ک ہ کچ ھ باق ی نہ بچ ے یا اگر بچے ب ھی تو نو سے ز یادہ نہ ہ و مثلاً اگر اس ک ے پاس 140 اونٹ ہ وں تو ضرور ی ہے ک ہ ا یک سو لئے دو ا یسے اونٹ د ے جو چوت ھے سال م یں داخل ہ وچک ے ہ وں اور چال یس کے لئ ے ا یک ایسا اونٹ د ے جو ت یسرے سال میں داخل ہ وچکا ہ و اور جو اون ٹ زکوٰ ۃ میں دیا جائے اس کا ماد ہ ہ ونا ضرور ی ہے۔
1919 ۔ دو نصابوں ک ے درم یان زکوٰۃ واجب نہیں ہے ل ہ ذا اگر ا یک شخص جو اونٹ رک ھ تا ہ و ان ک ی تعداد پہ ل ے نصاب س ے جو پانچ ہے ، ب ڑھ جائ ے تو جب تک و ہ دوسر ے نصاب تک جو دس ہے ن ہ پ ہ نچ ے ضرور ی ہے ک ہ فقط پانچ پر زکوٰ ۃ دے اور باق ی نصابوں کی صورت بھی ایسی ہی ہے۔
1920 ۔ گائ ے ک ے دو نصاب ہیں:
اس کا پہ لا نصاب ت یس ہے۔ جب کس ی شخص کی گایوں کی تعداد تیس تک پہ نچ جائ ے اور و ہ شرائط ب ھی پوری ہ وت ی ہ وں جن کا ذکر ک یا جاچکا ہے تو ضرور ی ہے ک ہ گائ ے کا ا یک ایسا بچہ جو دوسر ے سال م یں داخل ہ وچکا ہ و زکوٰ ۃ کے طور پر د ے اور احت یاط واجب یہ ہے ک ہ و ہ بچ ھڑ ا ہ و ۔ اور اس ک ا دوسرا نصاب چالیس ہے اور اس ک ی زکوٰۃ ایک بچھیا ہے جو ت یسرے سال میں داخل ہ وچک ی ہ و اور ت یس اور چالیس کے درم یان زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ مثلاً جس شخص ک ے پاس انتال یس گائیں ہ وں ضرور ی ہے ک ہ صرف ت یس کی زکوٰۃ دے اور اگر اس ک ے پاس چال یس سے ز یادہ گائیں ہ وں تو جب تک ان ک ی تعداد ساٹھ تک ن ہ پ ہ نچ جائ ے ضرور ی ہے ک ہ صرف چال یس پر زکوٰۃ دے۔ اور جب ان ک ی تعداد ساٹھ تک پ ہ نچ جائ ے تو چونک ہ یہ تعداد پہ ل ے نصاب س ے دگن ی ہے اس لئ ے ضرور ی ہے ک ہ دو ا یسے بچھڑے بطور زکوٰ ۃ دے جو دوسر ے سال م یں داخل ہ وچک ے ہ وں اور اس ی طرح جوں جوں گایوں کی تعداد بڑھ ت ی جائے ضرور ی ہے ک ہ یا تو تیس سے ت یس تک حساب کرے یا چالیس سے چال یس تک یا تین اور چالیس دونوں کا حساب کرے اور ان پر اس طر یقے کے مطابق زکوٰ ۃ دے جو بتا یا گیا ہے۔ ل یکن ضروری ہے ک ہ اس طرح حساب کرے ک ہ کچ ھ باق ی نہ بچ ے اور اگر کچ ھ بچ ے تو نو س ے ز یادہ نہ ہ و مثلا اگ ر اس کے پاس ستر گائ یں ہ وں تو ضرور ی ہے ک ہ ت یس اور چالیس کے مطابق حساب کر ے اور ت یس کے لئ ے ت یس کی اور چالیس کی زکوٰۃ دے ک یونکہ اگر وہ ت یس کے لحاظ س ے حساب کر ے گا تو دس گائ یں بغیر زکوٰۃ دیئے رہ جائ یں گی۔
1921 ۔ ب ھیڑ کے پانچ نصاب ہیں۔
پہ لا نصاب 40 ہے اور اس ک ی زکوٰۃ ایک بھیڑ ہے اور جب تک ب ھیڑ وں کی تعداد چالیس تک نہ پ ہ نچ ے ان پر زکوٰ ۃ نہیں ہے۔
دوسرا نصاب 121 ہے اور اس ک ی زکوٰۃ دو بھیڑیں ہیں۔
تیسرا نصاب 201 ہے اور اس ک ی زکوۃ تین بھیڑیں ہیں۔
چوتھ ا نصاب 301 ہے اور اس ک ی زکوٰۃ چار بھیڑیں ہیں۔
پانچواں نصاب 400 اور اس سے اوپر ہے اور ان کا حساب سو س ے سو تک کرنا ضرور ی ہے اور ہ ر سو ب ھیڑ وں پر ایک بھیڑ دی جائے اور یہ ضروری نہیں کہ زکوٰ ۃ انہی بھیڑ وں میں سے د ی جائے بلک ہ اگر کوئ ی اور بھیڑیں دے د ی جائیں یا بھیڑ وں کی قیمت کے برابر نقد ی دے د ی جائے تو کاف ی ہے۔
1922 ۔ دو نصابوں ک ے درم یان زکوٰۃ واجب نہیں ہے ل ہ ذا اگر کس ی کی بھیڑ وں کی تعداد پہ ل ے نصاب س ے جو ک ہ چال یس ہے ز یادہ ہ و ل یکن دوسرے نصاب تک جو 121 ہے ن ہ پ ہ نچ ی ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ صرف چال یس پر زکوٰۃ دے اور جو تعداد اس س ے ز یادہ ہ و اس پر زکوٰ ۃ نہیں ہے اور اس ک ے بعد ک ے نصابوں کے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے۔
1923 ۔ اون ٹ ، گائ یں اور بھیڑیں جب نصاب کی حد تک پہ نچ جائ یں تو خواہ و ہ سب نر ہ وں یا مادہ یا کچھ نر ہ وں اور کچ ھ ماد ہ ان پر زکوٰ ۃ واجب ہے۔
1924 ۔ زکوٰ ۃ کے ضمن م یں گائے اور ب ھینس ایک جنس شمار ہ وت ی ہیں اور عربی میں غیر عربی اونٹ ا یک جنس ہیں۔ اس ی طرح بھیڑ ، بکرے اور دنب ے م یں کوئی فرق نہیں ہے۔
1925 ۔ اگر کوئ ی شخص زکوٰۃ کے طور پر ب ھیڑ دے تو احت یاط واجب کی بنا پر ضروری ہے ک ہ و ہ کم از کم دوسر ے سال م یں داخل ہ وچک ی ہ و اور اگر بکر ی دے تو احت یاط ضروری ہے ک ہ و ہ ت یسرے سال میں داخل ہ وچک ی ہ و ۔
1926 ۔ جو ب ھیڑ کوئی شخص زکوٰۃ کے طور پر د ے اگر اس ک ی قیمت اس کی بھیڑ وں سے معمول ی سی کم بھی ہ و تو کوئ ی حرج نہیں لیکن بہ تر ہے ک ہ ا یسی بھیڑ دے جس ک ی قیمت اس کی ہ ر ب ھیڑ سے ز یادہ ہ و ۔ ن یز گائے اور اون ٹ ک ے بار ے م یں بھی یہی حکم ہے۔
1927 ۔ اگر کئ ی افراد باہ م حص ے دار ہ وں تو جس جس کا حص ہ پ ہ ل ے نصاب تک پ ہ نچ جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ زکوٰ ۃدے اور جس کا حصہ پ ہ ل ے نصاب س ے کم ہ و اس پر زکوٰ ۃ واجب نہیں۔
1928 ۔ اگر ا یک شخص کی گائیں یا اونٹ یا بھیڑیں مختلف جگھ وں پ ر ہ وں اور و ہ سب ملا کر نصاب ک ے برابر ہ وں تو ضرور ی ہے ک ہ ان ک ی زکوٰۃ دے۔
1929 ۔ اگر کس ی شخص کی گائیں، بھیڑیں یا اونٹ ب یمار اور عیب دار ہ وں تب ب ھی ضروری ہے ک ہ ان ک ی زکوٰۃ دے۔
1930 ۔ اگر کس ی شخص کی ساری گائیں، بھیڑیں یا اونٹ ب یمار یا عیب دار یا بوڑھے ہ وں تو و ہ خود ان ہی میں سے زکوٰ ۃ دے سکتا ہے ل یکن اگر وہ سب تندرست، ب ے ع یب اور جوان ہ وں تو و ہ ان ک ی زکوٰۃ میں بیمار یا عیب دار یا بوڑھے جانور ن ہیں دے سکتا بلک ہ اگر ان م یں سے بعض تندرست اور بعض ب یمار، کچھ ع یب دار اور کچھ ب ے ع یب اور کچھ بو ڑھے اور کچ ھ جو ان ہ وں تو احت یاط واجب یہ ہے ک ہ ان ک ی زکوٰۃ میں تندرست، بے ع یب اور جوان جانور دے۔
1931 ۔ اگر کوئ ی شخص گیارہ مہینے ختم ہ ون ے س ے پ ہ ل ے اپن ی گائیں، بھیڑیں اور اونٹ کس ی دوسری چیز سے بدل ل ے یا جو نصاب بنتا ہ و اس ے اس ی جنس کے اتن ے ہی نصاب سے بدل ل ے مثلاً چال یس بھیڑیں دے کر چال یس اور بھیڑیں لے ل ے تو اگر ا یسا کرنا زکوٰۃ سے بچن ے ک ی نیت سے ن ہ ہ و تو ا س پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ ل یکن اگر زکوٰۃ سے بچن ے ک ی نیت سے ہ و تو اس صورت م یں جب کہ دونوں چ یزیں ایک ہی نوعیت کا فائدہ رک ھ ت ی ہ وں مثلاً دونوں ب ھیڑیں دودھ د یتی ہ وں تو احت یاط لازم یہ ہے ک ہ اس ک ی زکوٰۃ دے۔
1932 ۔ جس شخص کو گائ ے۔ ب ھیڑ اور اونٹ ک ی زکوٰۃ دینی ضروری ہ و اگر و ہ ان ک ی زکوٰۃ اپنے کس ی دوسرے مال س ے د ے د ے تو جب تک ان جانوروں ک ی تعداد نصاب سے کم ن ہ ہ و ضرور ی ہے ک ہ ہ ر سال زکوٰ ۃ دے اور اگر و ہ زکوٰ ۃ انہی جانوروں میں سے د ے اور و ہ پ ہ ل ے نصاب سے کم ہ و جائ یں تو زکوٰۃ اس پر واجب نہیں ہے مثلاً جو شخص چال یس بھیڑیں رکھ تا ہ و اگر و ہ ان ک ی زکوٰۃ اپنے دوسر ے مال س ے د ے د ے تو جب تک اس ک ی بھیڑیں چالیس سے کم ن ہ ہ وں ضرور ی ہے ک ہ ہ ر سال ا یک بھیڑ دے اور اگر خود ان ب ھیڑ وں میں سے زکوٰ ۃ دے تو جب تک ان ک ی تعداد چالیس تک نہ پ ہ نچ جائ ے ا س پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔
جس مال کا انسان معاوضہ د ے کر مالک ہ وا ہ و اور اس ن ے و ہ مال تجارت اور فائد ہ حاصل کرن ے ک ے لئ ے محفوظ رک ھ ا ہ و تو احت یاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ (مندرج ہ ذ یل) چند شرائط کے سات ھ اس ک ی زکوٰۃ دے جو چالیسوں حصہ ہے۔
1 ۔ مالک بالغ اور عاقل ہ و ۔
2 ۔ مال نصاب ک ی مقدار تک پہ نچ گ یا ہ و اور و ہ نصاب سون ے اور چاند ی کے نصاب ک ے برابر ہے۔
3 ۔ جس وقت س ے اس مال س ے فائد ہ ا ٹھ ان ے ک ی نیت کی ہ و، اس پر ا یک سال گزر جائے
4 ۔ فائد ہ ا ٹھ ان ے ک ی نیت پورے سال باق ی رہے۔ پس اگر سال کے دوران اس ک ی نیت بدل جائے مثلاً اس کو اخراجات ک ی مد میں صرف کرنے ک ی نیت کرے تو ضرور ی نہیں کہ اس پر زکوٰ ۃ دے۔
5 ۔ مالک اس مال م یں پورا سال تصرف کر سکتا ہ و ۔
6 ۔ تمام سال اس ک ے سرمائ ے ک ی مقدار یا اس سے ز یادہ پر خریدار موجود ہ و ۔ پس اگر سال ک ے کچ ھ حص ے م یں سرمائے س ے کم تر مال کا خر یدار ہ و تو اس پر زکوٰ ۃ دینا واجب نہیں ہے۔
1933 ۔ زکوٰ ۃ کا مال آٹھ مصرف م یں خرچ ہ وسکتا ہے۔
1 ۔ فق یر۔ و ہ (غر یب محتاج)شخص جس کے پاس اپن ے اور اپن ے ا ہ ل و ع یال کے لئ ے سال ب ھ ر ک ے اخراجات ن ہ ہ وں فق یر ہے ل یکن جس شخص کے پاس کوئ ی ہ نر یا جائداد یا سرمایہ ہ و جس س ے و ہ اپن ے سال ب ھ ر ک ے اخراجات پور ے کر سکتا ہ و و ہ فق یر نہیں ہے۔
2 ۔ مَسکِ ین۔ و ہ شخص جو فق یر سے ز یادہ تنگدست ہ و، مسک ین ہے۔
3 ۔ و ہ شخص جو امام عصر عل یہ السلام یا نائب امام کی جانب سے اس کام پر مامور ہ و ک ہ زکوٰ ۃ جمع کرے ، اس ک ی نگہداشت کرے ، حساب ک ی جانچ پڑ تال کر ے اور جمع ک یا ہ وا مال امام عل یہ السلام یا نائب امام یا فقراء (و مساکین) کو پہ نچائ ے۔
4 ۔ و ہ کفار جن ہیں زکوٰۃ دی جائے تو و ہ د ین اسلام کی جانب مائل ہ وں یا جنگ میں یا جنگ کے علاو ہ مسلمانوں ک ی مدد کریں۔ اس ی طرح وہ مسلمان جن کا ا یمان ان بعض چیزوں پر جو پیغمبر اسلام صلی اللہ عل یہ وآلہ وسلم لائ ے ہیں کمزور ہ و ل یکن اگر ان کو زکوٰۃ دی جائے تو ان ک ے ایمان کی تقویت کا سبب بن جائے یا جو مسلمان (شہ نشا ہ ولا یت) امام علی علیہ السلام کی ولایت پر ایمان نہیں رکھ ت ے ل یکن اگر ان کو زکوٰۃ دی جائے تو و ہ ام یرالمومنین علیہ السلام کی ولایت (کبری) کی طرف مائل ہ وں اور اس پر ا یمان لے آئ یں۔
5 ۔ غلاموں کو خر ید کر انہیں آزاد کرنا۔ جس ک ی تفصیل اس کے باب م یں بیان ہ وئ ی ہے۔
6 ۔ و ہ مقروض جو اپنا قرض ادا ن ہ کرسکتا ہ و ۔
7 ۔ فِ ی سَبِیلِ اللہ یعنی وہ کام جن کا فا ئدہ تمام مسلمانوں کو پ ہ نچتا ہ و مثلاً مسجد بنانا، ا یسا مدرسہ تعم یر کرنا جہ اں د ینی تعلیم دی جاتی ہ و، ش ہ ر ک ی صفائی کرنا نیز سڑ کوں کو پخت ہ بنانا اور ان ہیں چوڑ ا کرنا اور ان ھی جیسے دوسرے کام کرنا ۔
8 ۔ اِبنُ السَّبِ یل یعنی وہ مسافر جو سفر م یں ناچار ہ وگ یا ہ و ۔
یہ وہ مد یں ہیں جہ اں زکوٰ ۃ خرچ ہ وت ی ہے ل یکن اقوی کی بنا پر مالک زکوٰۃ کو امام یا نائب امام کی اجازت کے بغ یر مد نمبر 3 اور مد نمبر 4 میں خرچ نہیں کر سکتا اور اسی طرح احتیاط لازم کی بنا پر مد نمبر 7 کا حکم بھی یہی ہے اور مذکور ہ مدوں ک ے احکام آئند ہ مسائل م یں بیان کئے جائ یں گے۔
1934 ۔ احت یاط واجب یہ ہے ک ہ فق یر اور مسکین اپنے اور اپن ے ا ہ ل و ع یال کے سال ب ھ ر ک ے اخراجات س ے ز یادہ زکوٰۃ نہ ل ے اور اگر اس ک ے پاس کچ ھ رقم یا جنس ہ و تو فقط اتن ی زکوٰۃ لے جتن ی رقم یا جنس اس کے سال ب ھ ر ک ے اخراجات ک ے لئ ے کم پ ڑ ت ی ہ و ۔
1935 ۔ جس شخص ک ے پاس اپنا پور ے سال کا خرچ ہ و اگر و ہ اس کا کچ ھ حص ہ استعمال کر ل ے اور بعد م یں شک کرے ک ہ جو کچ ھ باق ی بچا ہے و ہ اس ک ے سال ب ھ ر ک ے اخراجات ک ے لئ ے کاف ی ہے یا نہیں تو وہ زکوٰ ۃ نہیں لے سکتا ۔
1936 ۔ جس ہ نرمند یا صاحب جائداد یا تاجر کی آمدنی اس کے سال بھ ر ک ے اخراجات س ے کم ہ و و ہ اپن ے اخراجات ک ی کمی پوری کرنے ک ے لئ ے زکوٰ ۃ لے سکتا ہے اور لازم ن ہیں ہے ک ہ و ہ اپن ے کام ک ے اوزار یا جائداد یا سرمایہ اپنے اخراجات ک ے مصرف م یں لے آئ ے۔
1937 ۔ جس فق یر کے پاس اپن ے اور اپن ے ا ہ ل وع یال کے لئ ے سال ب ھ ر کا خرچ ن ہ ہ و ل یکن ایک گھ ر کا مالک ہ و جس م یں وہ ر ہ تا ہ و یا سواری کی چیز رکھ تا ہ و اور ان ک ے بغ یر گزر بسر نہ کرسکتا ہ و خوا ہ یہ صورت اپنے عزت رک ھ ن ے ک ے لئ ے ہی ہ و و ہ زکوٰ ۃ لے سکتا ہے اور گ ھ ر ک ے سامان، ب رتنوں اور گرمی و سردی کے کپ ڑ وں اور جن چ یزوں کی اسے ضرورت ہ و ان ک ے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے اور جو فق یر یہ چیزیں نہ رک ھ تا ہ و اگر اس ے ان ک ی ضرورت ہ و تو و ہ زکوٰ ۃ میں سے خر ید سکتا ہے۔
1938 ۔ جس فق یر کے لئ ے ہ نر س یکھ نا مشکل نہ ہ و احت یاط واجب کی بنا پر زکوٰۃ پرزندگی بسر نہ کر ے ل یکن جب تک ہ نر سک یھ ن ے میں مشغول ہ و زکوٰ ۃ لے سکتا ہے۔
1939 ۔ جو شخص پ ہ ل ے فقیر رہ ا ہ و اور و ہ ک ہ تا ہ و ک ہ م یں فقیر ہ وں تو اگرچ ہ اس ک ے ک ہ ن ے پر انسان کو اطم ینان نہ ہ و پ ھ ر ب ھی اسے زکوٰ ۃ دے سکتا ہے۔ ل یکن جس شخص کے بار ے م یں معلوم نہ ہ و ک ہ و ہ پ ہ ل ے فق یر رہ ا ہے یا نہیں تو احتیاط کی بنا پر جب تک اس کے فق یر ہ ون ے کا اطم ینان نہ ہ و پ ھ ر ب ھی اسے زکوٰ ۃ دے سکتا ہے۔
1940 ۔ جو شخص ک ہے ک ہ م یں فقیر ہ وں اور پ ہ ل ے فق یر نہ ر ہ ا ہ و اگر اس ک ے ک ہ ن ے س ے اطم ینان نہ ہ وتا ہ و تو احت یاط واجب یہ ہے ک ہ اس ے زکوٰ ۃ نہ د ی جائے۔
1941 ۔ جس شخص پر زکوٰ ۃ واجب ہ و اگر کوئ ی فقیر اس کا مقروض ہ و تو و ہ زکوٰ ۃ دیتے ہ وئ ے اپنا قرض اس میں سے وصول کر سکتا ہے۔
1941 ۔ اگر فق یر مر جائے اور اس کا مال اتنا ن ہ ہ و جتنا اس ن ے قرض ہ د ینا ہ و تو قرض خوا ہ قرض ے کو زکوٰ ۃ میں شمار کر سکتا ہے بلک ہ متوف ی کا مال اس پر واجب الادا قرضے ک ے برابر ہ و اور اس ک ے ورثا اس کا قرض ہ ادا ن ہ کر یں یا کسی اور وجہ س ے قرض خو اہ اپنا قرض ہ واپس ن ہ ل ے سکتا ہ و تب ب ھی وہ اپنا قرض ہ واپس ن ہ ل ے سکتا ہ و تب ب ھی وہ اپنا قرض ہ زکوٰ ۃ میں شمار کر سکتا ہے۔
1943 ۔ یہ ضروری نہیں کہ کوئ ی شخص جو چیز فقیر کو بطور زکوٰۃ دے اس ک ے بار ے م یں اسے بتائ ے ک ہ یہ زکوٰۃ ہے بلک ہ اگر فق یر زکوٰۃ لینے میں خفت محسوس کرتا ہ و تو مستحب ہے ک ہ اس ے مال تو زکوٰ ۃ کی نیت سے د یا جائے ل یکن اس کا زکوٰۃ ہ ونا اس پر ظا ہ ر ن ہ ک یا جائے۔
1944 ۔ اگر کوئ ی شخص یہ خیال کرتے ہ وئ ے کس ی کو زکوٰۃ دے ک ہ و ہ فق یر ہے اور بعد م یں اسے پت ہ چل ے ک ہ و ہ فق یر نہ ت ھ ا یا مسئلے س ے ناواقف ہ ون ے ک ی بنا پر کسی ایسے شخص کو زکوٰۃ دے د ے جس ک ے متعلق اس ے علم ہ و ک ہ و ہ فق یر نہیں ہے تو یہ کافی نہیں ہے ل ہ ذا اس ن ے جو چ یز اس شخص کو بطور زکوٰۃ دی تھی اگر وہ باق ی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس شخص س ے واپس ل ے کر مستحق کو د ے سکتا ہے اور اگر ل ینے والے کو یہ علم نہ ت ھ ا ک ہ و ہ مال زکوٰ ۃ ہے تو اس س ے کچ ھ ن ہیں لے سکتا اور انسان کو اپن ے مال س ے زکوٰ ۃ کا عوض مستحق کو دینا ضروری ہے۔
1945 ۔ جو شخص مقروض ہ و اور قرض ہ ادا ن ہ کرسکتا ہ و اگر اس ک ے پاس اپنا سال ب ھ ر کا خرچ ب ھی ہ و تب ب ھی اپنا قرضہ ادا کرن ے ک ے لئ ے زکوٰ ۃ لے سکتا ہے لیکن ضروری ہے ک ہ اس ن ے جو مال بطور قرض ل یا ہ و اس ے کس ی گناہ ک ے کام م یں خرچ نہ ک یا ہ و ۔
1946 ۔ اگر انسان ا یک ایسے شخص کو زکوٰۃ دے جو مقروض ہ و اور اپنا قرض ہ ادا ن ہ کرسکتا ہ و اور بعد م یں اسے پت ہ چل ے ک ہ اس شخص ن ے جو قرض ہ ل یا تھ ا و ہ گنا ہ ک ے کام پر خرچ ک یا تھ ا تو اگر وہ مقروض فق یر ہ و تو انسان ن ے جو کچ ھ اس ے د یا ہ وا اس ے سَ ہ م فقراء م یں شمار کر سکتا ہے۔
1947 ۔ جو شخص مقروض ہ و اور اپنا قرض ہ ادا ن ہ کرسکتا ہ و اگرچ ہ و ہ فق یر نہ ہ و تب ب ھی قرض خواہ قرض ے کو جو اس ے مقروض س ے وصول کرنا ہے زکوٰ ۃ میں شمار کر سکتا ہے۔
1948 ۔ جس مسافر کا زاد را ہ ختم ہ و جائ ے یا اس کی سواری قابل استعمال نہ ر ہے اگر اس کا سفر گنا ہ ک ی غرض سے ن ہ ہ و اور و ہ قرض ل ے کر یا اپنی کوئی چیز بیچ کر منزل مقصود تک نہ پ ہ نچ سکتا ہ و تو اگرچ ہ و ہ اپن ے سفر ک ے اخراجات حاصل کر سکتا ہ و تو و ہ فقط اتن ی مقدار میں زکوٰۃ لے سکتا ہے جس ک ے ذر یعے وہ اپن ی منزل تک پہ نچ جائ ے۔
1949 ۔ جو مسافر سفر م یں ناچار ہ وجائ ے اور زکوٰ ۃ لے اگر اس ک ے وطن پ ہ نچ جان ے ک ے بعد زکوٰ ۃ میں سے کچ ھ بچ جائ ے اس ے زکوٰ ۃ دینے والے کو واپس ن ہ پ ہ نچا سکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ زائد مال حاکم شرع کو پ ہ نچا د ے اور اس ے بتا دے ک ہ یہ مال زکوٰۃ ہے۔
1950 ۔ (مال کا) مالک جس شخص کو اپن ی زکوٰۃ دینا چاہ تا ہ و ضرور ی ہے ک ہ و ہ ش یعہ اثنا عشری ہ و ۔ اگر انسان کس ی کو شیعہ سمجھ ت ے ہ وئ ے زکوٰ ۃ دے د ے اور بعد م یں پتہ چل ے ک ہ و ہ ش یعہ نہ ت ھ ا تو ضرور ی ہے ک ہ دوبار ہ زکوٰ ۃ دے۔
1951 ۔ اگر کوئ ی شیعہ بچہ یا دیوانہ فقیر ہ و تو انسان اس ک ے سرپرست کو اس ن یت سے زکوٰ ۃ دے سکتا ہے ک ہ و ہ جو کچ ھ د ے ر ہ ا ہے و ہ بچ ے یا دیوانے کی ملکیت ہ وگ ی۔
1952 ۔ اگر انسان بچ ے یا دیوانے کے سرپرست تک ن ہ پ ہ نچ سک ے تو و ہ خود یا کسی امانت دار شخص کے ذر یعے زکوٰۃ کا مال ان پر خرچ کرسکتا ہے اور جب زکوٰ ۃ ان لوگوں پر خرچ کی جارہی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ زکوٰ ۃ دینے والا زکوٰۃ کی نیت کرے۔
1953 ۔ جو فق یر بھیک مانگتا ہ و اس ے زکوٰ ۃ دی جاسکتی ہے ل یکن جو شخص مال زکوٰۃ گناہ ک ے کام پر خرچ کرتا ہ و ضرور ی ہے ک ہ اس ے زکوٰ ۃ نہ د ے جائ ے بلک ہ ا حتیاط یہ ہے ک ہ و ہ شخص جس ے زکوٰ ۃ دینا گناہ ک ی طرف مائل کرنے کا سبب ہ و اگرچ ہ و ہ اس ے گنا ہ ک ے کام م یں خرچ نہ ب ھی کرے اس زکوٰۃ نہ د ی جائے۔
1954 ۔ جو شخص شراب پ یتا ہ و یا نماز نہ پ ڑھ تا ہ و اور اس ی طرح جو شخص کُھ لّم کُ ھ لاّ گنا ہ کب یرہ کا مرتکب ہ وتا ہ و تو اح یتاط واجب یہ ہے ک ہ اس ے زکوٰ ۃ نہ د ی جائے۔
1955 ۔ جو شخص مقروض ہ و اور اپنا قرض ہ ادا ن ہ کر سکتا ہ و اس کا قرض ہ زکوٰ ۃ سے د یا جاسکتا ہے خوا ہ اس شخص ک ے اخراجات زکوٰ ۃ دینے والے پر ہی واجب کیوں نہ ہ وں ۔
1956 ۔ انسان ان لوگوں ک ے اخراجات جن ک ی کفالت اس پر واجب ہ و ۔ مثلاً اولاد ک ے اخ راجات ۔ زکوٰ ۃ سے ادا ن ہیں کرسکتا لیکن اگر وہ خود اولاد کا خرچ ہ ن ہ د ے تو دوسر ے لوگ ان ہیں زکوٰۃ دے سکت ے ہیں۔
1957 ۔ اگر انسان اپن ے ب یٹے کو زکوٰۃ اس لئے د ے تاک ہ و ہ اس ے اپن ی بیوی اور نوکر اور نوکرانی پر خرچ کرے تو اس م یں کوئی حرج نہیں ہے۔
1958 ۔ باپ اپن ے ب یٹے کو سَہ م "ف یِ سَبِیلِ اللہ " م یں سے علم ی اور دینی کتابیں جن کی بیٹے کی ضرورت ہ و خر ید کر نہیں دے سکتا ۔ ل یکن اگر رفاہ عام ہ ک ے لئ ے ان کتابوں ک ی ضرورت ہ و تو احت یاط کی بنا پر حاکم شرع سے اجازت ل ے ل ے۔
1959 ۔ جو باپ ب یٹے کی شادی کی استطاعت نہ رک ھ تا ہ و و ہ ب یٹے کی شادی کے لئ ے زکوٰ ۃ میں سے خرچ کر سکتا ہے اور ب یٹ ا بھی باپ کے لئ ے ا یسا ہی کرسکتا ہے۔
1960 ۔ کس ی ایسی عورت کو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی جس کا شوہ ر اس ے خرچ د یتا ہ و اور ا یسی عورت جسے اس کا شو ہ ر خرچ ن ہ د یتا ہ و ل یکن جو حاکم شرع سے رجوع کرک ے شو ہ ر کو خرچ د ینے پر مجبور کر سکتی ہ و اس ے زکوٰ ۃ نہ د ی جائے۔
1961 ۔ جس عورت ن ے مُتعَ ہ ک یا ہ و اگر و ہ فق یر ہ و تو اس کا شو ہ ر اور دوسر ے ہیں۔ ہ اں اگر عَقد ک ے ک ہ موقع پر شو ہ ر ن ے یہ شرط قبول کی ہ و ک ہ س کا خرچ د ے گا یا کسی اور وجہ س ے اس کا خرچ د ینا شوہ ر پر واجب ہ و اور و ہ اس عورت ک ے اخراجات دیتا ہ و تو اس عورت کو زکوٰ ۃ نہیں دی جاسکتی۔
1962 ۔ عورت اپن ے فق یر شوہ ر کو زکوٰ ۃ دے سکت ی ہے خوا ہ شو ہ ر و ہ زکوٰ ۃ اس عورت پر ہی کیوں نہ خرچ کر ے۔
1963 ۔ س ید غیر سید سے زکوٰ ۃ نہیں لے سکتا ل یکن اگر خمس اور دوسرے ذرائع آمدن ی اس کے اخراجات ک ے لئ ے کاف ی نہ ہ وں اور غیر سید سے زکوٰ ۃ لینے پر مجبور ہ و تو اس س ے زکوٰ ۃ لے سکتا ہے۔
1924 ۔ جس شخص ک ے بار ے م یں معلوم نہ ہ و ک ہ س ید ہے یا غیر سید، اسے زکوٰ ۃ دی جاسکتی ہے۔
1965 ۔ ضرور ی ہے ک ہ انسان ب ہ قصد قربت یعنی اللہ تبارک و تعال ی کی خوشنودی کی نیت سے زکوٰ ۃ دے اور اپن ی نیت میں معین کرے ک ہ جو کچ ھ د ے ر ہ ا ہے و ہ مال ک ی زکوٰۃ ہے یا زکوٰۃ فطرہ ہے بلک ہ مثال ک ے طور پر اگر گ یہ وں اور جَو کی زکوٰۃ اس پر واجب ہ و اور و ہ کچ ھ رقم زکوٰ ۃ کے طور پر د ینا چاہے تو اس ک ے لئ ے یہ ضروری ہے ک ہ و ہ مع یں کرے ک ہ گ یہ وں کی زکوٰۃ دے ر ہ ا ہے یا جَو کی۔
1966 ۔ اگر کس ی شخص پر متعد چیزوں کی زکوٰۃ واجب ہ و اور و ہ زکوٰ ۃ میں کوئی چیز دے ل یکن کسی بھی چیز کی "نیت نہ کر ے " تو جو چ یز اس نے زکوٰ ۃ میں دی ہے اگر اس ک ی جنس وہی ہ و جو ان چ یزوں میں سے کس ی ایک کی ہے تو و ہ اس ی جنس کی زکوٰۃ شمار ہ وگ ی۔ فرض کر یں کہ کس ی شخص پر چالیس بھیڑ وں اور پندرہ مثقال سون ے ک ی زکوۃ واجب ہے اگر و ہ مثلاً ا یک بھیڑ زکوٰۃ میں دے اور ان چ یزوں میں سے (ک ہ جن پر زکوٰ ۃ واجب ہے ) کس ی کی بھی "نیت" نہ کر ے تو و ہ ب ھیڑ وں کی زکوٰۃ شمار ہ وگ ی۔ ل یکن اگر وہ چاند ی کے سک ے یا کرنسی نوٹ د ے جو ان (چ یزوں) کے ہ م جنس ن ہیں ہے تو بعض (علماء) ک ے بقول و ہ (سک ے یا نوٹ ) ان تمام (چ یزوں) پر حساب سے بان ٹ د یئے جائیں لیکن یہ بات اشکال سے خال ی نہیں ہے بلک ہ احتمال یہ ہے ک ہ و ہ ان چ یزوں میں سے کس ی کی بھی (زکوٰۃ ) شمار نہ ہ ونگ ے اور (ن یت نہ کرن ے تک) مالک مال ک ی ملکیت رہیں گے۔
1967 ۔ اگر کوئ ی شخص اپنے مال ک ی زکوٰۃ (مستحق تک) پہ نچان ے ک ے لئ ے کس ی کو وکیل بنائے تو جب و ہ مال زکوٰ ۃ وکیل کے حوال ے کر ے تو احت یاط واجب کی بنا پر ضروری ہے ک ہ ن یت کرے ک ہ جو کچ ھ اس کا وک یل بعد میں فقیر کو دے گا و ہ زکوٰ ۃ ہے اور اَحوطَ یہ ہے ک ہ زکوٰ ۃ فقیر تک پہ نچ ے کے وقت تک پ ہ نچن ے ک ے وقت تک و ہ اس ن یت پر قائم رہے۔
1968 ۔ اگر کوئ ی شخص مال زکوٰۃ قصد قربت کے بغ یر زکوٰۃ کی نیت سے حاکم شرع یا فقیر کو دے د ے تو اقو ی کی بنا پر وہ مال زکوٰ ۃ میں شمار ہ وگا اگرچ ہ اس ن ے قصد قربت ک ے بغ یر ادا کرکے گنا ہ ک یا ہے۔
1969 ۔ احت یاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ انسان گ یہ وں اور جَو کو بھ وس ے س ے الگ کرن ے ک ے موقع پر اور ک ھ جور اور انگور ک ے خشک ہ ون ے ک ے وقت زکوٰ ۃ فقیر کو دے د ے یا اپنے مال س ے عل یحدہ کر دے۔ اور ضرور ی ہے ک ہ سون ے ، چاند ی، گائے ، ب ھیڑ اور اونٹ ک ی زکوٰۃ گیارہ مہینے ختم ہ ون ے ک ے بعد فق یر کو دے یا اپنے مال س ے عل یحدہ کر دے ل یکن اگر وہ شخص کس ی خاص فقیر کا منتظر ہ و یا کسی ایسے فقیر کو زکوٰۃ دینا چاہ تا ہ و جو کس ی لحاظ سے (دوسر ے پر) برتر ی رکھ تا ہ و تو و ہ یہ کر سکتا ہے ک ہ زکوٰ ۃ علیحدہ نہ کر ے۔
1970 ۔ زکوٰ ۃ علیحدہ کرنے ک ے بعد ا یک شخص کے لئ ے لازم ن ہیں کہ اس ے فوراً مستحق شخص کو د ے د ے۔ ل یکن اگر کسی ایسے شخص تک اس کی رسائی ہ و، جس ے زکوٰ ۃ دی جاسکتی ہ و تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ زکوٰ ۃ دینے میں تاخیر نہ کر ے۔
1971 ۔ جو شخص زکوٰ ۃ مستحق شخص کو پہ نچا سکتا ہ و اگر و ہ اس ے زکوٰ ۃ نہ پ ہ نچائ ے اور اس ک ے کوتا ہی برتنے ک ی وجہ س ے مال زکوٰ ۃ تلف ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا عوض د ے۔
1972 ۔ جو شخص زکوٰ ۃ مستحق تک پہ نچا سکتا ہ و اگر و ہ اس ے زکوٰ ۃ پہ نچائ ے اور مال زکوٰ ۃ حفاظت کرنے ک ے باوجود تلف ہ وجائ ے تو زکوٰ ۃ ادا کرنے م یں تاخیر کی کوئی صحیح وجہ ن ہ ہ و ت و ضروری ہے ک ہ اس کا عِوض د ے ل یکن اگر تاخیر کرنے ک ی کوئی صحیح وجہ ت ھی مثلاً ایک خاص فقیر اس کی نظر میں تھ ا یا تھ و ڑ ا ت ھ و ڑ ا کر ک ے فقراء کو د ینا چاہ تا ت ھ ا تو اس کا ضامن ہ ونا معلوم ن ہیں ہے۔
1973 ۔ اگر کوئ ی شخص زکوٰۃ (عین اسی ) مال سے ادا کر د ے تو و ہ باق یماندہ مال میں تصرف کر سکتا ہے اور اگر و ہ زکوٰ ۃ اپنے کس ی دوسرے مال س ے ادا کر د ے تو اس پور ے مال م یں تصرف کرسکتا ہے۔
1974 ۔ انسان ن ے جو مال زکوٰ ۃ علیحدہ کیا ہ و اس ے اپن ے لئ ے ا ٹھ ا کر اس ک ی جگہ کوئ ی دوسری چیز نہیں رکھ سکتا ۔
1975 ۔ اگر اس مال زکوٰ ۃ سے جو کس ی شخص نے عل یحدہ کر دیا ہ و کوئ ی منفعت حاصل ہ و مثلاً جو ب ھیڑ بطور زکوٰۃ علیحدہ کی ہ و و ہ بچ ہ جن ے تو و ہ منفعت فق یر کا مال ہے۔
1976 ۔ جب کوئ ی شخص مال زکوٰۃ علیحدہ کر رہ ا ہ و اگر اس وقت کوئ ی مستحق موجود ہ و تو ب ہ تر ہے ک ہ زکوٰ ۃ اسے د ے د ے بجز اس صورت ک ے ک ہ کوئ ی ایسا شخص اس کی نظر میں ہ و جس ے زکوٰ ۃ دینا کسی وجہ س ے ب ہ تر ہ و ۔
1977 ۔ اگر کوئ ی شخص حاکم شرع کی اجازت کے بغ یر اس مال سے کاروبار کر ے جو اس ن ے زکوٰ ۃ کے لئ ے عل یحدہ کر دیا ہ و اور اس م یں خسارہ ہ و جائ ے تو اس زکوٰ ۃ میں کوئی کمی نہیں کرنی چاہ ئ ے ل یکن اگر منافع ہ و تو احت یاط لازم کی بنا پر ضروری ہے ک ہ مستحق کو د ے د ے۔
1978 ۔ اگر کوئ ی شخص اس سے پ ہ ل ے ک ہ زکوٰ ۃ اس پر واجب ہ و کوئ ی چیز بطور زکوٰۃ فقیر کو دے د ے تو و ہ زکوٰ ۃ میں شمار نہیں ہ وگ ی اور اگر اس پر زکوٰۃ واجب ہ ون ے ک ے بعد و ہ چ یز جو اس نے فق یر کو دی تھی تلف نہ ہ وئ ی ہ و اور فق یر ابھی تک فقیری میں مبتلا ہ و تو زکوٰ ۃ دینے والا اس چیز کو جو اس نے فق یر کو دی تھی زکوٰۃ میں شمار کر سکتا ہے۔
1979 ۔ اگر فق یر یہ جانتے ہ وئ ے ک ہ زکوٰ ۃ ایک شخص پر واجب نہیں ہ وئ ی اس سے کوئ ی چیز بطور زکوٰۃ کے ل ے ل ے اور و ہ چ یز فقیر کی تحویل میں تلف ہ و جائ ے تو فق یر اس کا ذمہ دار ہے اور جب زکوٰ ۃ اس شخص پر واجب ہ و جائ ے اور فق یر اس وقت تک تنگدست ہ و تو جو چ یز اس شخص نے فق یر کو دی تھی اس کا عوض زکوٰۃ میں شمار کر سکتا ہے۔
1980 ۔ اگر کوئ ی فقیر یہ نہ جانت ے ہ وئ ے ک ہ زکوٰ ۃ ایک شخص پر واجب ہ وئ ی اس سے کوئ ی چیز بطور زکوٰۃ لے ل ے اور و ہ چ یز فقیر کی تحویل میں تلف ہ وجائ ے تو فق یر ذمے دار ن ہیں اور دینے والا شخص اس چیز کا عوض زکوۃ میں شمار نہیں کر سکتا ۔
1981 ۔ مستحب ہے ک ہ گائ ے ، ب ھیڑ اور اونٹ ک ی زکوۃ آبرومند فقرا (سفید پوش غریب غربا) کو دی جائے اور زکوٰ ۃ دینے میں اپنے رشت ہ داروں کو دوسروں پر اور ا ہ ل ع لم کو بے علم لوگوں پر اور جو لوگ ہ ات ھ ن ہ پ ھیلاتے ہ وں ان کو منگتوں پر ترج یح دی جائے۔ ہ اں اگر فق یر کو کسی اور وجہ س ے زکوٰ ۃ دینا بہ تر ہ و تو پ ھ ر مستحب ہے ک ہ زکوٰ ۃ اس کو دی جائے۔
1982 ۔ ب ہ تر ہے ک ہ زکوٰ ۃ علانیہ دی جائے اور مستحب صدق ہ پوش یدہ طور پر دیا جائے۔
1983 ۔ جو شخص زکو ۃ دینا چاہ تا ہ و اگر اس ک ے ش ہ ر م یں کوئی مستحق نہ ہ و اور و ہ زکوٰ ۃ اس کے لئ ے مُعَ یّن مَد میں بھی صرف نہ کرسکتا ہ و تو اگر اس ے ام ید نہ ہ و ک ہ بعد م یں کوئی مستحق شخص اپنے ش ہ ر م یں مل جائے گا تو ضرور ی ہے ک ہ زکوٰ ۃ دوسرے ش ہ ر ل ے جائ ے اور زکوٰ ۃ کی مُعیّن مد میں صرف کرے اور اس ش ہ ر م یں لے جان ے ک ے اخراجات حاکم شرع ک ی اجازت سے مال زکوٰ ۃ میں سے ل ے سکتا ہے اور اگر مال زکوٰ ۃ تلف ہ و جائ ے تو و ہ ذم ے دار ن ہیں ہے۔
1984 ۔ اگر زکوٰ ۃ دینے والے کو اپن ے ش ہ ر م یں کوئی مستحق مل جائے تب ب ھی وہ مال زکوٰ ۃ دوسرے ش ہ ر ل ے جاسکتا ہے ل یکن ضروری ہے ک ہ اس ش ہ ر م یں لے جان ے ک ے اخراجات خود برداشت کر ے اور اگر مال زکوٰ ۃ تلف ہ و جائ ے تو و ہ خود ذم ے دار ہے بجز اس صورت ک ے ک ہ مال زکوٰ ۃ دوسرے ش ہ ر م یں حاکم شرع کے حکم س ے ل ے گ یا ہ و ۔
1985 ۔ جو شخص گ یہ وں، جَو، کشمش اور کھ جور بطور زک وٰۃ دے ر ہ ا ہ و، ان اجناس ک ے ناپ تول ک ی اجرت اس کی اپنی ذمے دار ی ہے۔
1986 ۔ جس شخص کو زکوٰ ۃ میں 2 مثقال اور 15 نخود یا اس سے ز یادہ چاندی دینی ہ و و ہ احت یاط مستحب کی بنا پر 2 مثقال اور 15 نخود کم چاندی کسی فقیر کو نہ د ے ن یز اگر چاندی کے علاو ہ کوئ ی دوسری چیز مثلا گیہ وں اور جو دینے ہ وں اور ان ک ی قیمت 2 مثقال اور 15 نخود چاندی تک پہ نچ جائ ے تو احت یاط مستحب کی بنا پر وہ ا یک فقیر کو اس سے کم ن ہ د ے۔
1987 ۔ انسان ک ے لئ ے مکرو ہ ہے ک ہ مستحق س ے درخواست کر ے ک ہ جو زکوٰ ۃ اس نے اس س ے ل ی ہے اس ی کے ہ ات ھ فروخت کرد ے ل یکن اگر مستحق نے جو چ یز بطور زکوٰۃ لی ہے اس ے ب یچنا چاہے تو جب اس ک ی قیمت طے ہ و جائ ے تو جس شخص ن ے مستحق کو زکوٰ ۃ دی ہ و اس چ یز کو خریدنے کے لئ ے اس کا حق دوسروں پر فائق ہے۔
1988 ۔ اگر کس ی شخص کو شک ہ و ک ہ جو زکوٰ ۃ اس پر واجب ہ وئ ی تھی وہ اس ن ے د ی ہے یا نہیں اور جس مال میں زکوٰۃ واجب ہ وئ ی تھی وہ ب ھی موجود ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ زکوٰ ۃ دے خوا ہ اس کا شک گزشت ہ سالوں ک ی زکوٰۃ کے متعلق ہی کیوں نہ ہ و ۔ اور (جس مال م یں زکوٰۃ واجب ہ وئ ی تھی) اگر وہ ضائع ہ و چکا ہ و تو اگرچ ہ اس ی سال کی زکوٰۃ کے متعلق ہی شک کیوں نہ ہ و اس پر زکوٰ ۃ نہیں ہے۔
1989 ۔ فق یر یہ نہیں کر سکتا کہ زکوٰ ۃ لینے سے پ ہ ل ے اس ک ی مقدار سے کم مقدار پر سمج ھ وت ہ کر ل ے یا کسی چیز کو اس کی قیمت سے ز یادہ قمیت پر بطور زکوٰۃ قبل کرے اور اس ی طرح مالک بھی یہ نہیں کر سکتا کہ مستحق کو اس شرط پر زکوٰ ۃ دے ک ہ و ہ مستحق اس ے واپس کر د ے گا ل یکن اگر مستحق زکوٰۃ لینے کے بعد راض ی ہ و جائ ے اور اس زکوٰ ۃ کو اسے واپس کر د ے تو کوئ ی حرج نہیں مثلاً کسی شخص پر بہ ت ز یادہ زکوٰۃ واجب ہ و اور فق یر ہ و جان ے ک ی وجہ س ے و ہ زکوٰ ۃ ادا نہ کرسکتا ہ و اور اس ن ے توب ہ کرل ی ہ و تو اگر فق یر راضی ہ وجائ ے ک ہ اس س ے زکوٰ ۃ لے کر پ ھ ر اس ے بخش دے تو کوئ ی حرج نہیں ۔
1990 ۔ انسان قرآن مج ید، دینی کتابیں یا دعا کی کتابیں سَہ م ف یِ سَبِیلِ اللہ س ے خر ید کر وقف نہیں کرسکتا۔ ل یکن اگر رفاہ عام ہ ک ے لئ ے ان چ یزوں کی ضرورت ہ و تو احت یاط لازم کی بنا پر حاکم شرع سے اجازت ل ے ل ے۔
1991 ۔ انسان مال زکوٰۃ سے جائداد خر ید کر اپنی اولاد یا ان لوگوں کو وقف نہیں کر سکتا جن کا خرچ اس پر واجب ہ و تاک ہ و ہ اس جائداد ک ی منفعت اپنے مصرف م یں لے آئ یں۔
1992 ۔ حج اور ز یارات وغیرہ پر جانے ک ے لئ ے انسان فِ ی سَبِیلِ اللہ ک ے حص ے س ے زکوٰ ۃ لے سکتا ہے اگرچ ہ و ہ فق یر نہ ہ و یا اپنے سال ب ھ ر ک ے اخراجات ک ے لئ ے زکوٰ ۃ لے چکا ہ و ل یکن یہ اس صورت میں ہے جب ک ہ اس کا حج اور ز یارات وغیرہ کے لئ ے جانا لوگوں ک ے مفاد م یں ہ و اور اح یتاط کی بنا پر ایسے کاموں میں زکوٰۃ خرچ کرنے ک ے لئ ے حاکم شرع س ے اجازت ل ے ل ے۔
1993 ۔ اگر ا یک مالک اپنے مال ک ی زکوٰۃ دینے کے لئ ے کس ی فقیر کو وکیل بنائے اور فق یر کو یہ احتمال ہ و ک ہ مالک کا اراد ہ یہ تھ ا ک ہ و ہ خود ( یعنی فقیر) اس مال سے کچ ھ ن ہ ل ے تو اس صورت م یں وہ کوئ ی چیز اس میں سے اپن ے لئ ے ن ہیں لے سکتا اور اگر فق یر کو یہ یقین ہ و ک ہ مالک کا ارادہ یہ نہیں تھ ا تو و ہ اپن ے لئ ے ب ھی لے سکتا ہے۔
1994 ۔ اگر کوئ ی فقیر اونٹ ، گائ یں، بھیڑیں، سونا اور چاندی بطور زکوٰۃ حاصل کرے اور ان م یں وہ سب شرائط موجود ہ وں جو زکوٰ ۃ واجب ہ ون ے ک ے لئ ے ب یان کی گئی ہیں ضروری ہے ک ہ فق یران پر زکوٰۃ دے۔
1995 ۔ اگر دو اشخاص ا یک ایسے مال میں حصہ دار ہ وں جس ک ی زکوٰۃ واجب ہ وچک ی ہ و اور ان م یں سے ا یک اپنے حص ے ک ی زکوٰۃ دے د ے اور بعد م یں وہ مال تقس یم کرلیں (اور جو شخص زکوٰۃ دے چکا ہے ) اگرچ ہ اس ے علم ہ و ک ہ اس ک ے سات ھی نے اپن ے حص ے ک ی زکوٰۃ نہیں دی اور نہ ہی بعد میں دے گا تو اس کا اپن ے حص ے م یں تصرف کرنا اشکال نہیں رکھ تا ۔
1996 ۔ اگر خمس اور زکوٰ ۃ کسی شخص کے ذم ے واجب ہ و اور کفار اور منت وغ یرہ بھی اس پر واجب ہ و اور و ہ مقروض ب ھی ہ و اور ان سب ک ی ادائیگی نہ کرسکتا ہ و تو اگر و ہ مال جس پر خمس یا زکوٰۃ واجب ہ وچک ی ہ و تلف ن ہ ہ وگ یا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ خمس اور زکوٰۃ دے اور اگر و ہ مال تلف ہ وگ یا ہ و تو کفار ے اور نذر س ے پ ہ ل ے زکوٰ ۃ، خمس اور قرض ادا کرے۔
1997 ۔ جس شخص ک ے ذم ے خمس یا زکوٰۃ ہ و اور حج ب ھی اس پر واجب ہ و اور و ہ مقروض ب ھی ہ و اگر و ہ مرجائ ے اور اس کا مال ان تمام چ یزوں کے لئ ے کاف ی نہ ہ و اور اگر و ہ مال جس پر خمس اور زکوٰۃ واجب ہ وچک ے ہ وں تلف ن ہ ہ وگ یا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ خمس یا زکوٰۃ ادا کی جائے اور اس کا باقی ماندہ مال قرض ک ی ادائیگی پر خرچ کیا جائے۔ اور اگر و ہ مال جس پر خمس اور زکوٰ ۃ واجب ہ وچک ی ہ و تلف ہ وگ یا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا مال قرض ک ی ادائیگی پر خرچ کیا جائے اور اس صورت م یں اگر کچھ بچ جائ ے تو حج ک یا جائے اور اگر ز یادہ بچا ہ و تو س ے خمس اور زکوٰ ۃ پر تقسیم کر دیا جائے۔
1998 ۔ جو شخص علم حاصل کرن ے م یں مشغول ہ و و ہ جس وقت علم حاصل ن ہ کر ے اس وقت اپن ی روزی کمانے ک ے لئ ے کام کرسکتا ہے۔ اگر اس علم حاصل کرنا واجب ع ینی ہ و تو فقراء ک ے حص ے س ے اس کو زکوٰ ۃ دے سکت ے ہیں اور اگر اس علم کا حاصل کرنا عوامی بہ بود ک ے لئ ے ہ و تو فِ ی سَبِیلِ اللہ کی مَد سے احت یاط کی بنا پر حاکم شرع کی اجازت سے اس کو زکوٰ ۃ دینا جائز ہے۔ اور ان دو صورتوں ک ے علاو ہ اس کو زکوٰ ۃ دینا جائز نہیں ہے۔
1999 ۔ ع ید الفطر کی (چاند) رات غروب آفتاب کے وقت جو شخص بالغ اور عاقل ہ و اور ن ہ تو فق یر ہ و ن ہ ہی کسی دوسرے کا غلام ہ و ضرور ی ہے ک ہ اپن ے لئ ے اور ان لوگوں ک ے لئ ے جو اس ک ے ہ اں ک ھ انا ک ھ ات ے ہ وں ف ی کس ایک صاع جس کے بار ے م یں کہ ا جاتا ہے ک ہ تقر یباً تین کلو ہ وتا ہے ان غذاوں میں سے جو اس ک ے ش ہ ر ( یا علاقے ) م یں استعمال ہ وت ی ہ وں مثلاً گ یہ وں یا جَو یا کھ جور یا کشمش یا چاول یا جوار مستحق شخص کو دے اور اگر ان ک ے بجائ ے ان ک ی قیمت نقدی کی شکل میں دے تب ب ھی کافی ہے۔ اور احت یاط لازم یہ ہے ک ہ جو غذا اس ک ے ش ہ ر م یں عام طور پر استعمال نہ ہ وت ی ہ و چا ہے و ہ گ یہ وں، جَو، کھ جور یا کشمش ہ و، ن ہ د ے۔
2000 ۔ جس شخص ک ے پاس اپن ے اور اپن ے ا ہ ل و ع یال کے لئ ے سال ب ھ ر کا خرچ ن ہ ہ و اور اس کا کوئ ی روزگار بھی نہ ہ و جس ک ے ذر یعے وہ اپن ے ا ہ ل و ع یال کا سال بھ ر کا خرچ پورا کرسک ے و ہ فق یر ہے اور اس پر فطر ہ د ینا واجب نہیں ہے۔
2001 ۔ جو لوگ ع ید الفطر کی رات غروب کے وقت کس ی شخص کے ہ اں ک ھ ان ے وال ے سمج ھے جائ یں ضروری ہے ک ہ و ہ شخص ان کا فطر ہ د ے ، قطع نظر اس س ے ک ہ و ہ چ ھ و ٹے ہ وں یا بڑے مسلمان ہ وں یا کافر، ان کا خرچہ اس پر واجب ہ و یا نہ ہ و اور و ہ اس ک ے شہ ر م یں ہ وں یا کسی دوسرے ش ہ ر م یں ہ وں ۔
2002 ۔ اگر کوئ ی شخص ایک ایسے شخص کو جو اس کے ہ اں ک ھ انا ک ھ ان ے والا گردانا جائ ے ، اس ے دوسر ے ش ہ ر م یں نمائندہ مقرر کر ے ک ہ اس ک ے ( یعنی صاحب خانہ ک ے ) مال س ے اپنا فطر ہ د ے د ے اور اس ے اطم ینان ہ و ک ہ و ہ شخص فطر ہ د ے د ے گا تو خود صاح ب خانہ ک ے لئ ے اس کا فطر ہ د ینا ضروری نہیں۔
2003 ۔ جو م ہ مان ع یدالفطر کی رات غروب سے پ ہ ل ے صاحب خان ہ ک ی رضامندی کے بغ یر اس کے گ ھ ر آئ ے اور اس ک ے ہ اں ک ھ انا ک ھ ان ے والوں م یں اگرچہ وقت ی طور پر شمار ہ و اس کا فطر ہ صاحب خان ہ پر واجب ہے۔
2004 ۔ جو م ہ مان ع یدالفطر کی رات غروب پہ ل ے صاحب خان ہ ک ی رضامندی کے بغ یر اس کے گ ھ ر آئ ے اور کچ ھ مدت صاحب کا خرچ ہ د ینے پر مجبور کیا گیا ہ و تو اس ک ے فطر ے ک ے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے۔
2005 ۔ جو م ہ مان ع یدالفطر کی رات غروب کے بعد وارد ہ و اگر و ہ صاحب خان ہ ک ے ہ اں ک ھ انا ک ھ ان ے والا شمار ہ و تو اس کا ف طرہ صاحب خان ہ پر احت یاط کی بنا پر واجب ہے اور اگر ک ھ انا ک ھ ان ے والا شمار ن ہ ہ و تو واجب ن ہیں ہے خوا ہ صاحب خان ہ ن ے اس ے غروب س ے پ ہ ل ے دعوت د ی ہ و اور و ہ افطار ب ھی صاحب خانہ ک ے گ ھ ر پر ہی کرے۔
2006 ۔ اگر کوئ ی شخص عیدالفطر کی رات غروب کے وقت د یوانہ ہ و اور اس ک ی دیوانگی عیدالفطر کے دن ظ ہ ر ک ے وقت تک باق ی رہے تو اس پر فطر ہ واجب ن ہیں ہے ورن ہ احت یاط واجب کی بنا پر لازم ہے ک ہ فطر ہ د ے۔
2007 ۔ غروب آفتاب س ے پ ہ ل ے اگر کوئ ی بچہ بالغ ہ و جائ ے یا کوئی دیوانہ عاقل ہ وجائ ے یا کوئی فقیر غنی ہ وجائ ے تو اگر و ہ فطر ہ واجب ہ ون ے ک ی شرائط پوری کرتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ فطر ہ د ے۔
2008 ۔ جس شخص پر ع یدالفطر کی رات غروب کے وقت فطر ہ واجب ن ہ ہ و اگر ع ید کے دن ظ ہ ر ک ے وقت س ے پ ہ ل ے تک فطر ہ واجب ہ ون ے ک ی شرائط اس میں موجود ہ و جائ یں تو احتیاط واجب یہ ہے ک ہ فطر ہ د ے۔
2009 ۔ اگر کوئ ی کافر عیدالفطر کی رات غروب آفتاب کے بعد مسلمان ہ و جائ ے تو اس پر فطر ہ واجب ن ہیں ہے ل یکن اگر ایک ایسا مسلمان جو شیعہ نہ ہ و و ہ ع ید کا چاند دیکھ ن ے کے بعد ش یعہ ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ فطر ہ د ے۔
2010 ۔ جس شخص ک ے پاس صرف اندازاً ا یک صاع گیہ وں یا اسی جیسی کوئی جنس ہ و اس ک ے لئ ے مستحب ہے ک ہ فطر ہ د ے اور اگر اس کے ا ہ ل و ع یال بھی ہ وں اور و ہ ان کا فطر ہ ب ھی دینا چاہ تا ہ و تو و ہ ا یسا کر سکتا ہے ک ہ فطر ے ک ی نیت سے ا یک صاع گیہ وں وغیرہ اپنے ا ہ ل و ع یال میں سے کس ی ایک و دے د ے اور و ہ ب ھی اسی نیت سے دوسر ے کو د ے د ے اور و ہ اس ی طرح دیتے رہیں حتی کہ و ہ جنس خاندان ک ے آخر ی فرد تک پہ نچ جائ ے اور ب ہ تر ہے ک ہ جو چ یز آخری فرد کو ملے و ہ کس ی ایسے شخص کو دے جو خود ان لوگوں م یں سے ن ہ ہ و جن ہ وں ن ے فطر ہ ا یک دوسرے کو د یا ہے اور اگر ان ل وگوں میں سے کوئ ی نابالغ ہ و تو اس کا سرپرست اس ک ی بجائے فطر ہ ل ے سکتا ہے اور احت یاط یہ ہے ک ہ جو چ یز نابالغ کے لئ ے ل ی جائے و ہ کس ی دوسرے کون ہ د ی جائے۔
2011 ۔ اگر ع ید الفطر کی رات غروب کے بعد کس ی کے ہ اں بچ ہ پ یدا ہ و تو اس کا فطر ہ د ینا واجب نہیں ہے ل یکن احتیاط واجب یہ ہے ک ہ جو اشخاص غروب ک ے بعد س ے ع ید کے دن ظ ہ ر س ے پ ہ ل ے تک صاحب خان ہ ک ے ہ اں ک ھ انا ک ھ ان ے والوں م یں سمجھے جائ یں وہ ان سب کا فطر ہ د ے۔
2012 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی کے ہ اں ک ھ انا ک ھ اتا ہ و اور غروب س ے پ ہ ل ے کس ی دوسرے ک ے ہ ان ک ھ انا ک ھ ان ے والا ہ وجائ ے تو اس کا فطر ہ اس ی شخص پر واجب ہے جس ک ے ہ اں و ہ ک ھ انا ک ھ ان ے والا بن جائ ے مثلاً اگر عورت غروب س ے پ ہ ل ے شو ہ ر ک ے گ ھ ر چل ی جائے تو ضروری ہے ک ہ شو ہ ر اس کا فطر ہ د ے۔
2013 ۔ جس شخص کا فطر ہ کس ی دوسرے شخص پر واجب ہ و اس پر اپنا فطر ہ خود د ینا واجب نہیں ہے۔
2014 ۔ جس شخص کا فطر ہ کس ی دوسرے شخص پر واجب ہ و اگر و ہ ن ہ د ے تو احت یاط کی بنا پر فطہ خود اس شخص پر فطر ہ واجب ہ وجاتا ہے۔ جو شرائط مسئل ہ 1999 میں بیان ہ وئ ی ہیں اگر وہ موجود ہ وں تو اپنا فطر ہ خود ادا کر ے ۔
2015 ۔ جس شخص کا فطر ہ کس ی دوسرے شخص پر واجب ہ و اگر و ہ خود اپنا فطر ہ د ے د ے تو جس شخص پر اس کا فطر ہ واجب ہ و اس پر س ے اس ک ی ادائیگی کا وجوب ساقط نہیں ہ وتا ۔
2016 ۔ جس عورت کا شو ہ ر اس کو خرچ ن ہ د یتا ہ و اگر و ہ کس ی دوسرے ک ے ہ اں ک ھ انا ک ھ ات ی ہ و تو اس کا فطر ہ اس شخص پر واجب ہے جس ک ے ہ اں و ہ ک ھ انا ک ھ ات ی ہے اور اگر و ہ کس ی کے ہ اں ک ھ انا ن ہ ک ھ ات ی ہ و اور فق یر بھی نہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اپنا فطر ہ خود د ے۔
2017 ۔ غ یر سَیِّد، سَیِّد کو فطرہ ن ہیں دے سکتا حت ی کہ اگر س ید اس کے ہ اں ک ھ انا ک ھ اتا ہ و تب ب ھی اس کا فطرہ و ہ کس ی دوسرے س ید کو نہیں دے سکتا ۔
2018 ۔ جو بچ ہ ماں یا دایہ کا دودھ پ یتا ہ و اس کا فطر ہ اس شخص پر واجب ہے جو ماں یا دایہ کے اخراج ات برداشت کرتا ہ و ل یکن اگر ماں یا دایہ کا خرچ خود بچے ک ے مال س ے پورا ہ و تو بچ ے کا فطر ہ کس ی پر واجب نہیں ہے۔
2019 ۔ انسان اگرچ ہ اپن ے ا ہ ل و ع یال کا خرچ حرام مال سے د یتا ہ و، ضرور ی ہے ک ہ ان کا فطر ہ حلال مال س ے د ے۔
2020 ۔ اگر انسان کس ی شخص کو اجرت پر رکھے ج یسے مستری، بڑھ ئ ی یا خدمت گار اور اس کا خرچ اس طرح دے ک ہ و ہ اس کا ک ھ انا ک ھ ان ے والوں م یں شمار ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا فطر ہ ب ھی دے۔ ل یکن اگر اسے صرف کام ک ی مزدوری دے تو اس (اج یر) کا فطرہ ادا کرنا اس پر واجب ن ہیں ہے۔
2021 ۔ اگر کوئ ی شخص عیدالفطر کی رات غروب سے پ ہ ل ے فوت ہ و جائ ے تو اس کا اور اس ک ے ا ہ ل و ع یال کا فطرہ اس ک ے مال س ے د ینا واجب نہیں۔ ل یکن اگر غروب کے بعد فوت ہ و تو مش ہ ور قول ک ی بنا پر ضروری ہے ک ہ اس کا اور اس ک ے ا ہ ل و ع یال کا فطرہ اس ک ے مال س ے د یا جائے۔ ل یکن یہ حکم اشکال سے خال ی نہیں ہے۔ اور اس مسئلے م یں احتیاط کے پ ہ لو کو ترک ن ہیں کرنا چاہ ئ ے۔
2022 ۔ فطر ہ اح یتاط واجب کی بنا پر فقط ان شیعہ اثنا عشری فقراء کو دینا ضروری ہے ، جو ان شرائط پر پور ے اترت ے ہ وں جن کا ذکر زکوٰ ۃ کے مستحق ین میں ہ وچکا ہے۔ اور اگر ش ہ ر م یں شیعہ اثنا عشری فقراء نہ مل یں تو دوسرے مسلمان فقراء کو فطر ہ د ے سکتا ہے ل یکن ضروری ہے ک ہ کس ی بھی صورت میں "ناصبی" کو نہ د یاجائے۔
2023 ۔ اگر کوئ ی شیعہ بچہ فق یر ہ و تو انسان یہ کر سکتا ہے ک ہ فطر ہ اس پر خرچ کر ے یا اس کے سرپرست کو د ے کر اس ے بچ ے ک ی ملکیت قرار دے۔
2024 ۔ جس فق یر کو فطرہ د یا جائے ضرور ی نہیں کہ و ہ عادل ہ و ل یکن احتیاط واجب یہ ہے ک ہ شراب ی اور بے نماز ی کو اور اس شخص کو جو کھ لم ک ھ لا گنا ہ کرتا ہ و فطر ہ ن ہ د یا جائے۔
2025 ۔ جو شخس فطر ہ ناجائز کاموں م یں خرچ کرتا ہ و ضرور ی ہے ک ہ اس ے فطر ہ ن ہ د یا جائے
2026 ۔ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ ا یک فقیر کو ایک صاع سے کم فطر ہ ن ہ د یا جائے۔ البت ہ اگر ا یک صاع سے ز یادہ دیا جائے تو کوئ ی اشکال نہیں ہے۔
2027 ۔ جب کس ی جنس کی قیمت اسی جنس کی معمولی قسم سے دگن ی ہ و مثلاً کس ی گیہ وں کی قیمت معمولی قسم کی گیہ وں کی قیمت سے دو چند ہ و تو اگر کوئ ی شخص اس (بڑھیا جنس) کا آدھ ا صاع بطور فطر ہ د ے تو یہ کافی نہیں ہے بلک ہ اگر و ہ آد ھ ا صاع فطر ہ ک ی قیمت کی نیت سے ب ھی دے تو ب ھی کافی نہیں ہے۔
2029 ۔ انسان ک ے لئ ے مستحب ہے ک ہ زکوٰ ۃ دینے میں اپنے فق یر رشتے داروں اور ہ مسا یوں کو دوسرے لوگوں پر ترج یح دے۔ اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ ا ہ ل علم و فضل اور د یندار لوگوں کو دوسروں پر ترجیح دے۔
2030 ۔ اگر انسان یہ خیال کرتے ہ وئ ے ک ہ ا یک شخص فقیر ہے اس ے فطر ہ د ے اور بعد م یں معلوم ہ و ک ہ و ہ فق یر نہ ت ھ ا تو اگر اس ن ے جو مال فق یر کو دیا تھ ا و ہ ختم ن ہ ہ وگ یا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ واپس ل ے ل ے اور مستحق ک و دے د ے اور اگر واپس ن ہ ل ے سکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ خود اپن ے مال س ے فطر ے کا عوض د ے اور اگر و ہ مال ختم ہ وگ یا ہ و ل یکن لینے والے کو علم ہ و ک ہ جو کچ ھ اس ن ے ل یا ہے و ہ فطر ہ ہے تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا عوض د ے اور اگر اس ے یہ علم نہ ہ و تو عوض د ینا اس پر واجب نہیں ہے اور ض روری ہے ک ہ انسان فطر ے کا عوض د ے۔
2031 ۔ اگر کوئ ی شخص کہے ک ہ م یں فقیر ہ وں تو اس ے فطر ے ن ہیں دیا جاسکتا بجز اس صورت کے ک ہ انسان کو اس ک ے ک ہ ن ے س ے اطم ینان ہ و جائ ے یا انسان کو علم ہ و ک ہ و ہ پ ہ ل ے فق یر تھ ا ۔
2032 ۔ ضرور ی ہے ک ہ انسان فطر ہ قربت ک ے قصد س ے یعنی اللہ تبارک و تعال ی کی خوشنودی کے لئ ے د ے اور اس ے د یتے وقت فطرے ک ی نیت کرے۔
2033 ۔ اگر کوئ ی شخص ماہ رمضان المبارک س ے پ ہ ل ے فطر ہ د ے د ے تو یہ صحیح نہیں ہے اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ ما ہ رمضان المبارک م یں بھی فطرہ ن ہ د ے البت ہ اگر ما ہ رمضان المبارک سے پ ہ ل ے کس ی فقیر کو قرضہ د ے اور جب فطر ہ اس پر واجب ہ وجائ ے ، قرض ے کو فطر ے م یں شمار کرلے تو کوئ ی حرج نہیں ہے۔
2034 ۔ گ یہ وں یا کوئی دوسری چیز جو فطرہ ک ے طور پر د ی جائے ضرور ی ہے ک ہ اس م یں کوئی اور جنس یا مٹی نہ مل ی ہ وئ ی ہ و ۔ اور اگر اس م یں کوئی ایسی چیز ملی ہ وئ ی ہ و اور خالص مال ا یک صاع تک پہ نچ جائ ے اور مل ی ہ وئ ی چیز جدا کئے بغ یر استعمال کے قابل ہ و یا جدا کرنے م یں حد سے ز یادہ زحمت نہ ہ و یا جو چیز ملی ہ وئ ی ہ و و ہ اتن ی کم ہ و ک ہ قابل توج ہ ن ہ ہ و تو کوئ ی حرج نہیں ہے۔
2035 ۔ اگر کوئ ی شخص عیب دار چیز فطرے ک ے طو ر پر دے تو احت یاط واجب کی بنا پر کافی نہیں ہے۔
2036 ۔ جس شخص کو کئ ی اشخاص کا فطرہ د ینا ہ و اس ک ے لئ ے ضرور ی نہیں کہ سارا فطر ہ ا یک ہی جنس سے د ے مثلاً اگر بعض افراد کا فطر ہ گ یہ وں سے اور بعض دوسروں کا جَو س ے د ے تو کاف ی ہے۔
2037 ۔ ع ید کی نماز پڑھ ن ے وال ے شخص کو احت یاط واجب کی بنا پر عید کی نماز سے پ ہ ل ے فطر ہ د ینا ضروری ہے ل یکن اگر کوئی شخص نماز عید نہ پ ڑھے تو فطر ے ک ی ادائیگی میں ظہ ر ک ے وقت تک تاخ یر کر سکتا ہے۔
2038 ۔ اگر کوئ ی شخص فطرے ک ی نیت سے اپن ے مال ک ی کچھ مقدار عل یحدہ کر دے اور ع ید کے دن ظ ہ ر ک ے وقت تک مستحق کو ن ہ د ے تو جب ب ھی وہ مال مستحق کو د ے ، فطر ے ک ی نیت کرے۔
2039 ۔ اگر کوئ ی شخص فطرے واجب ہ ون ے ک ے وقت فطر ہ ن ہ د ے اور الگ ب ھی نہ کر ے تو اس ک ے بعد ادا اور قضا ک ی نیت کئے بغ یر فطرہ د ے۔
2040 ۔ اگرکوئ ی شخص فطرہ الگ کر د ے تو و ہ اس ے اپن ے مصرف م یں لاکر دوسرا مال اس کی جگہ بطور فطر ہ ن ہیں رکھ سکتا ۔
2041 ۔ اگر کس ی شخس کے پاس ا یسا مال ہ و جس ک ی قیمت فطرہ س ے ز یادہ ہ و تو اگر و ہ شخص فطر ہ ن ہ د ے اور ن یت کرے ک ہ اس مال ک ی کچھ مقدار فطر ے ک ے لئ ے ہ وگ ی تو ایسا کرنے م یں اشکال ہے۔
2042 ۔ کس ی شخص نے جو مال فطر ے ک ے لئ ے ک یا ہ و اگر و ہ تلف ہ وجائ ے تو اگر و ہ شخص فق یر تک پہ نچ سکتا ت ھ ا اور اس ن ے فطر ہ د ینے میں تاخیر کی ہ و یا اس کی حفاظت کرنے م یں کوتا ہی کی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا عِوَض د ے اور اگر فق یر تک نہیں پہ نچ سکتا ت ھ ا اور اس ک ی حفاظت میں کاتاہی نہ ک ی ہ و تو پ ھ ر ذم ہ دار ن ہیں ہے۔
2043 ۔ اگر فطر ے د ینے والے ک ے اپن ے علاق ے م یں مستحق مل جائے تو احت یاط واجب یہ ہے ک ہ فطر ہ دوسر ی جگہ ن ہ ل ے جائ ے اور اگر دوسر ی جگہ ل ے جائ ے اور و ہ تلف ہ وجائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا عوض د ے۔
2044 ۔ ب یت اللہ ک ی زیارت کرنے اور ان اعمال کو بجالان ے کا نام "حج" ہے جن ک ے و ہ اں بجا لان ے کا حکم د یا گیا ہے اور اس ک ی ادائیگی ہ ر اس شخص ک ے لئ ے جو مندرج ہ ذ یل شرائط پوری کرتا ہ و تمام عمر م یں ایک دفعہ واجب ہے :
(اول) انسان بالغ ہ و ۔
(دوم) عاقل اور آزاد ہ و ۔
(سوم) حج پر جانے ک ی وجہ س ے کوئ ی ایسا ناجائز کام کرنے پر مجبور ن ہ ہ و جس کا ترک کرنا حج کرن ے س ے ز یادہ اہ م ہ و یا کوئی ایسا واجب کام ترک نہ ہ وتا ہ و جو حج س ے ز یادہ اہ م ہ و ۔
(چہ ارم) اِستِطاعت رک ھ تا ہ و ۔ اور صاحب اِستِطاعت ہ ونا چند چ یزوں پر منحصر ہے :
1 ۔ انسان راست ے کا خرچ اور اسی طرح اگر ضرورت ہ و تو سوار ی رکھ تا ہ و یا اتنا مال رکھ تا ہ و جس س ے ان چ یزوں کو مہیا کرسکے۔
2 ۔ اتن ی صحت اور طاقت ہ و ک ہ ز یادہ مشقت کے بغ یر مکہ مکرم ہ جا کر حج کر سکتا ہ و ۔
3 ۔ مک ہ مکرم ہ جان ے ک ے لئ ے راست ے م یں کوئی رکاوٹ ن ہ ہ و اور اگر راست ہ بند ہ و یا انسان کو ڈ ر ہ و ک ہ راست ے م یں اس کی جان یا آبروچلی جائے گ ی یا اس کا مال چھین لیا جائے گا تو اس پر حج واجب ن ہیں ہے ل یکن اگر وہ دوسر ے راست ے س ے جاسکتا ہ و تو اگرچ ہ و ہ راست ہ ز یادہ طویل ہو ضروری ہے ک ہ اس راست ے س ے جائ ے بجز اس ک ے ک ہ و ہ راست ہ اس قدر دور اور غ یر معروف ہ و ک ہ لوگ ک ہیں کہ حج کا راست ہ بند ہے۔
4 ۔ اس ک ے پاس اتنا وقت ہ و ک ہ مک ہ مکرم ہ پ ہ نچ کر حج ک ے اعمال بجالا سک ے۔
5 ۔ جن لوگوں ک ے اخراجات اس پر واجب ہ وں مثلاً ب یوی اور بچے اور جن لوگوں ک ے اخراجات برداشت کرنا لوگ اس ک ے لئ ے ضرور ی سمجھ ت ے ہ وں ان ک ے اخراجات اس ک ے پاس موجود ہ وں ۔
6 ۔ حج س ے واپس ی کے بعد و ہ معاش ک ے لئ ے کوئ ی ہ نر یا کھیتی یا جائیداد رکھ تا ہ و یا پھ ر کوئ ی دوسرا ذریعہ آمدنی رکھ تا ہ و یعنی اس طرح نہ ہ و ک ہ حج ک ے اخراجات ک ی وجہ س ے حج س ے واپس ی پر مجبور ہ وجائ ے اور تنگ ی ترشی میں زندگی گزارے۔
2045 ۔ جس شخص ک ی ضرورت اپنے ذات ی مکان کے بغ یر پوری نہ ہ وسک ے اس پر حج اس وقت واجب ہے جب اس ک ے پاس مکان ک ے لئ ے ب ھی رقم ہ و ۔
2046 ۔ جو عورت مک ہ مکرم ہ جاسکت ی ہ و اگر واپس ی کے بعد اس ک ے پاس اس کا اپنا کوئ ی مال نہ ہ و اور مثال ک ے طور پر اس کا شو ہ ر ب ھی فقیر ہ و اور اس ے خرچ ن ہ د یتا ہ و اور و ہ عورت عسرت م یں زندگی گزارنے مجبور ہ وجائ ے تو اس پر حج واجب ن ہیں۔
2047 ۔ اگر کس ی شخص کے پاس حج ک ے لئ ے زاد را ہ اور سوار ی نہ ہ و اور دوسرا اس ے ک ہے ک ہ تم حج پر جاو م یں تمہ ار سفر خرچ دوں گا اور تم ہ ار ے سفر حج ک ے دوران تم ہ ار ے ا ہ ل و ع یال کو بھی خرچ دیتا رہ و ں گا تو اگر اسے اطم ینان ہ و جائ ے ک ہ و ہ شخص اس ے خرچ د ے گا تو اس پر حج واجب ہو جاتا ہے۔
2048 ۔ اگر کس ی شخص کو مکہ مکرم ہ جان ے اور واپس آن ے کا خرچ اور جتن ی مدت اسے و ہ اں جان ے اور واپس آن ے م یں لگے اس ک ے لئ ے اس ک ے ا ہ ل و ع یال کا خرچ دے د یا جائے ک ہ و ہ حج کر ل ے تو ا گرچہ و ہ مقروض ب ھی ہ و اور واپس ی پر گزر بسر کرنے ک ے لئ ے مال ب ھی نہ رک ھ تا ہ و اس پر حج وا جب ہ وجاتا ہے۔ ل یکن اگر اس طرح ہ و ک ہ حج ک ے سفر کا زمان ہ اس اس ک ے کاروبار اور کام کا زمان ہ ہ و ک ہ اگر حج پر چلا جائ ے تو اپنا قرض مقرر ہ وقت پر ادا ن ہ کر سکتا ہ و یا اپنی گزر بسر کے اخراجات سال ک ے باق ی دنوں میں مہیا کر سکتا ہ و تو اس پر حج واجب ن ہیں ہے۔
2049 ۔ اگر کس ی کو مکہ مکرم ہ تک جان ے اور آن ے ک ے اخراجات ن یز جتنی مدت وہ اں جان ے اور آن ے م یں لگے اس مدت ک ے لئ ے اس ک ے ا ہ ل و ع یال کے اخراجات د ے د یئے جائیں اور اس سے ک ہ ا جائ ے ک ہ حج پر ج او لیکن یہ سب مصارف اس کی ملکیت میں نہ د یئے جائیں تو اس صورت میں جب کہ اس ے ا طمینان ہ و ک ہ د یئے ہ وئ ے اخراجات کا اس س ے پ ھ ر مطالب ہ ن ہیں کیا جائے گا اس پر حج واجب ہ و جاتا ہے۔
2050 ۔ اگر کس ی شخص کو اتنا مال دے د یا جائے جو حج ک ے لئ ے کاف ی ہ و اور یہ شرط لگائی جائے ک ہ جس شخص ن ے مال د یا ہے مال ل ینے والا مکہ مکرم ہ ک ے راست ے م یں اس کی خدمت کرے گا تو جس ے مال د یا جائے اس پر حج واجب ن ہیں ہ وتا ۔
2051 ۔ اگر کس ی شخص کو اتنا مال دیا جائے ک ہ اس پر حج واجب ہ و جائ ے اور و ہ حج کر ے تو اگرچ ہ بعد م یں وہ خود ب ھی (کہیں سے ) مال حاصل ک رلے دوسرا حج اس پر واجب ن ہیں ہے۔
2052 ۔ اگر کوئ ی شخص بغرض تجارت مثال کے طور پر جد ہ جائ ے اور اتنا مال کمائ ے ک ہ اگر و ہ اں س ے مک ہ جانا چا ہے تو استطاعت رک ھ ن ے ک ی وجہ س ے ضرور ی ہے ک ہ حج کر ے اور اگر و ہ حج کرل ے تو خوا ہ و ہ بعد م یں اتنی دولت کمالے ک ہ خود اپن ے وطن س ے ب ھی مکہ مکرم ہ جاسکتا ہ و تب ب ھی اس پر دوسرا حج واجب نہیں ہے۔
2053 ۔ اگر کوئ ی اس شرط پراجیربنے کہ و ہ خود ا یک دوسرے شخص ک ی طرف سے حج کر ے گا تو اگر و ہ خود حج کو ن ہ جاسک ے اور چا ہے ک ہ کس ی دوسرے اور کو اپن ی جگہ ب ھیج دے تو ضرور ی ہے ک ہ جس ن ے اس ے اج یر بنایا ہے اس س ے اجازت ل ے۔
2054 ۔ اگر کوئ ی صاحب استطاعت ہ و ک ہ حج کو ن ہ جائ ے اور پ ھ ر فق یر ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ خوا ہ اس ے زحمت ہی کیوں نہ ا ٹھ ان ی پڑے بعد م یں حج کرے اور اگر و ہ کس ی بھی طرح حج کو نہ جاسکتا ہ و اور کوئ ی اسے حج کرن ے ک ے لئ ے اج یر بنائے تو ضرور ی ہے ک ہ مک ہ م کرمہ جائ ے اور جس ن ے اسے اجیر بنایا ہ و اس ک ی طرف سے حج کر ے اور دوسر ے سال تک اگر ممکن ہ و تو مک ہ مکرم ہ م یں رہے اور پ ھ ر اپنا حج بجالائ ے ل یکن اگر اجیر بنے اور اجرت نقد ل ے ل ے اور جس شخص ن ے اس ے اج یر بنایا ہ و و ہ اس بات پر راض ی ہ و ک ہ اس ک ی طرف سے حج دوسر ے سال بجالا یا جائے جب ک ہ و ہ اطم ینان نہ رک ھ تا ہ و ک ہ دوسر ے سال ب ھی اپنے لئ ے حج پر جا سک ے گا تو ضرور ی ہے ک ہ اج یر پہ ل ے سال خود اپنا حج کر ے اور اس شخص کا حج جس ن ے اس کو اج یر بنایا تھ ا دوسر ے سال ک ے لئ ے ا ٹھ ا رک ھے۔
2055 ۔ جس سال کوئ ی شخص صاحب استطاعت ہ وا ہ و اگر اس ی سال مکہ مکرم ہ چلا جائ ے اور مقرر ہ وقت پر عرفات اور مشعر الحرام م یں نہ پ ہ نچ سک ے اور بعد ک ے سالوں م یں صاحب استطاعت نہ ہ و تو اس پر حج واجبن ہیں ہے۔ سوائ ے اس ک ے ک ہ چند سال پ ہ ل ے س ے صاحب استطاعت ر ہ ا ہ و اور حج پر ن ہ گ یا ہ و تو اس صورت م یں خواہ زحمت ہی کیوں نہ ا ٹھ ان ی پڑے اس ے حج کرنا ضرور ی ہے۔
2056 ۔ اگر کوئ ی شخص صاحب استطاعت ہ وت ے ہ وئ ے حج ن ہ کر ے اور بعد م یں بڑھ اپ ے ، ب یماری یا کمزوری کی وجہ س ے حج ن ہ کرسک ے اور اس بات س ے نا ام ید ہ و جائ ے ک ہ بعد م یں خود حج کرسکے گا تو ضرور ی ہے ک ہ کس ی دوسرے کو اپن ی طرف سے حج ک ے لئ ے ب ھیج دے بلک ہ اگر ناام ید نہ ب ھی ہ وا ہ و تو احتیاط واجب یہ ہے ک ہ ا یک اجیر مقرر کرے اور اگر بعد م یں اس قابل ہ و جائ ے تو خود حج کر ے۔ اور اگر اس ک ے پاس کس ی سال پہ ل ی دفعہ اتنا مال ہ وجائ ے جو حج ک ے لئ ے کاف ی ہ و اور ب ڑھ اپ ے یا بیماری یا کمزوری کی وجہ س ے حج ن ہ کرسک ے اور طاقت (وصحت) حاصل کرن ے س ے ناام ید ہ و تب بھی یہی حکم ہے اور ان تمام صورتوں م یں احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ جس ک ی طرف سے حج ک ے لئ ے جار ہ ا ہ و اگر و ہ مرد ہ و تو ا یسے شخص کو نائب بنائے جس کا حج پر جان ے کا پ ہ لا موقع ہ و ( یعنی اس سے پ ہ ل ے حج کرن ے ن ہ گ یا ہ و) ۔
2057 ۔ جو شخص حج کرن ے ک ے لئ ے کس ی دوسرے ک ی طرف سے اج یر ہ و ضرور ی ہے ک ہ اس ک ی طرف سے طواف النساء ب ھی کرے اور اگر ن ہ کر ے تو اج یر پر اس کی بیوی حرام ہ و جائ ے گ ی۔
2058 ۔ اگر جو شخص طواف النساء صح یح طور پر نہ بجالائ ے یا اس کو بجالانا بھ ول جائ ے اور چند روز بعد اسے یاد آئے اور راست ے س ے واپس ہ و کر بجالائ ے تو صح یح ہے ل یکن اگر واپس ہ ونا اس ک ے لئ ے باعث مشقت ہ و تو طواف النساء ک ی بجا آوری کے لئ ے کس ی کو نائب بنا سکتا ہے۔
مُعَامَلات
2059 ۔ ا یک بیوپاری کے لئ ے مناسب ہے ک ہ خر ید و فروخت کے سلسل ے م یں جن مسائل کا (عموماً) سامنا کرنا پڑ تا ہے ان ک ے احکام س یکھ لے بلک ہ اگر مسائل ن ہ س یکھ ن ے کی وجہ س ے کس ی واجب حکم کی مخالفت کرنے کا اند یشہ ہ و تو مسائل لازم ولابد ہے۔ حضرت امام جعفر صادق عَلَ یہ الصّلوٰۃ ُ وَالسّلام سے روا یت ہے ک ہ "جو پ ہ ل ے خر ید و فروخت کرے گا باطِ ل یا مُشتَبَہ معامل ہ کرن ے ک ی وجہ س ے ہ لاکت م یں پڑے گا ۔ "
2060 ۔ اگر کوئ ی مسئلے س ے ناواقف یت کی بنا پر یہ نہ جانتا ہ و ک ہ اس ن ے جو معامل ہ ک یا ہے و ہ صح یح ہے یا باطل تو جو مال اس نے حاصل ک یا ہ و اس ے استعمال ن ہیں کر سکتا مگر یہ کہ اس ے علم ہ وجائ ے ک ہ دوسرا فر یق اس مال کو استعمال کرنے پر راض ی ہے تو اس صورت م یں وہ استعمال ک ر سکتا ہے اگرچ ہ معامل ہ باطل ہ و ۔
2061 ۔ جس شخص ک ے پاس مال ن ہ ہ و اور کچ ھ اخراجات اس پر واجب ہ وں، مثلاً ب یوی بچوں کا خرچ، تو ضروری ہے ک ہ کاروبار کر ے۔ اور مستحب کاموں ک ے لئ ے مثلاً ا ہ ل و ع یال کی خوشحالی اور فقیروں کی مدد کرنے ک ے لئ ے کاروبار کرنا مستحب ہے۔
خرید و فروخت میں چند چیزیں مستحب شمار کی گئی ہیں :
(اول) فقر اور اس جیسی کیفیت کے سوا جنس ک ی قیمت میں خریداروں کے درم یان فرق نہ کر ے۔
(دوم) اگر وہ نقصان م یں نہ ہ و تو چ یزیں زیادہ مہ نگ ی نہ ب یچے۔
(سوم) جو چیز بیچ رہ ا ہ و و ہ کچ ھ ز یادہ دے اور جو چ یز خرید رہ ا ہ و و ہ کچ ھ کم ل ے۔
(چہ ارم) اگر کوئ ی شخص سودا کرنے ک ے بعد پش یمان ہ و کر اس چ یز کو واپس کرنا چاہے تو واپس ل ے ل ے۔
2062 ۔ خاص خاص معاملات جن ہیں مکروہ شمار ک یا گیا ہے ، یہ ہیں:
1 ۔ جائداد کا ب یچنا، بجز اس کے ک ہ اس رقم س ے دوسر ی جائداد خریدی جائے۔
2 ۔ گوشت فروش ی کا پیشہ اختیار کرنا۔
3 ۔ کفن فروش ی کا پیشہ اختیار کرنا۔
4 ۔ ا یسے (اوچھے ) لوگوں س ے معامل ہ کرنا جن ک ی صحیح تربیت نہ ہ وئ ی ہ و ۔
5 ۔ صبح ک ی اذان سے سورج نکلن ے ک ے وقت تک معامل ہ کرنا ۔
6 ۔ گ یہ وں، جَو اور ان جیسی دوسری اجناس کی خریدوفرخت کو اپنا پیشہ قرار دینا۔
7 ۔ اگر مسلمان کوئ ی جنس خرید رہ ا ہ و تو اس ک ے سود ے م یں دخل اندازی کرکے خر یدار بننے کا اظ ہ ار کرنا ۔
2063 ۔ ب ہ ت س ے معاملات حرام ہیں جن میں سے کچ ھ یہ ہیں:
1 ۔ نش ہ آور مشروبات، غ یر شکاری کتے اور سور ک ی خریدوفروخت حرام ہے اور احت یاط کی بنا پر نجس مردار کے متعلق ب ھی یہی حکم ہے۔ ان ک ے علاو ہ دوسر ی نجاسات کی خریدوفروخت اس صورت میں جائز ہے جب ک ہ ع ین نجس سے حلال فائد ہ حاصل کرنا مقصود ہ و مثلاً گوبر اور پاخان ے س ے ک ھ اد بنائیں اگرچہ احت یاط اس میں ہے ک ہ ان ک ی خرید و فروخت سے ب ھی پرہیز کیا جائے۔
3 ۔ ان چ یزوں کی خریدوفروخت بھی احتیاط کی بنا پر حرام ہے جن ہیں بالعموم مال تجارت نہ سمج ھ ا جاتا ہ و مثلاً درندوں ک ی خریدوفروخت اس صورت میں جبکہ ان س ے مناسب حد تک حلال فائد ہ ن ہ ہ و ۔
4 ۔ ان چ یزوں کی خریدوفروخت جنہیں عام طور پر فقط حرام کام میں استعمال کرتے ہ وں مثلاً جوئ ے کا سامان ۔
5 ۔ جس ل ین دین میں ربا (سود) ہ و ۔
6 ۔ و ہ ل ین دین جس میں ملاوٹ ہ و یعنی ایسی چیز کا بیچنا جس میں دوسری چیز اس طرح ملائی گئی ہ و ک ہ ملاو ٹ کا پت ہ ن ہ چل سک ے اور ب یچنے والا بھی خریدار کو نہ بتائ ے مثلاً ا یسا گھی بیچناجس میں چربی ملائی گئ ہ و ۔ حضرت رسول اکرم (صل ی اللہ عل یہ وآلہ ) کا ارشاد ہے " جو شخص ملاو ٹ کرک ے کوئ ی چیز کسی مسلمان کے ہ ات ھ ب یچتا ہے یا مسلمان کو نقصان پہ نچاتا ہے یا ان کے سات ھ مکروفر یب سے کام ل یتا ہے و ہ م یری امت میں سے ن ہیں ہے اور جو مسلمان اپن ے مسلمان ب ھ ائ ی کو ملاوٹ وال ی چیز بیچتا ہے تو خداوندتعال ی اس کی روزی سے برکت ا ٹھ ا ل یتا ہے اور اس ک ی روزی کے راستوں کو تنگ کر د یتا ہے اور اس ے اس ک ے حال پر چ ھ و ڑ د یتا ہے "
2064 ۔ جو پ اک چیز نجس ہ وگئ ی ہ و اور اس ے پان ی سے د ھ و کر پاک کرنا ممکن ہ و تو اس ے فروخت کرن ے م یں کوئی حرج نہیں ہے اور اگر اس ے د ھ ونا ممکن ن ہ ہ و تب ب ھی یہی حکم ہے ل یکن اگر اس کا حلال فائدہ عرف عام م یں اس کے پاک ہ ون ے پر منحصر ن ہ ہ و مثلاً بعض اقسام ک ے ت یل بلکہ اگر ا س کا حلال فائدہ پاک ہ ون ے پر موقوف ہ و اور اس کا مناسب حد تک حلال فائد ہ ب ھی ہ و تب ب ھی اس کا بیچنا جائز ہے۔
2065 ۔ اگر کوئ ی شخص نجس چیز بیچنا چاہے تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ اس ک ی نجاست کے بار ے م یں خریدار کو بتا دے اور اگر اس ے ن ہ بتائ ے تو و ہ ا یک حکم واجب کی مخالفت کا مرتکب ہ وگا مثلانجس پان ی کو وضو یا غسل میں استعمال کرے گا اور اس ک ے سات ھ اپن ی واجب نماز پڑھے گا یا اس نجس چیز کو کھ ان ے یا پینے میں استعمال کرے گا البت ہ اگر یہ جانتا ہ و ک ہ اس ے بتان ے س ے کوئ ی فائدہ ن ہیں کیوں کہ و ہ لاپرو شخص ہے اور نجس پاک کا خ یال نہیں رکھ تا تو ا سے بتانا ضرور ی نہیں۔
2066 ۔ اگرچ ہ ک ھ ان ے وال ی اور نہ ک ھ ان ے وال ی نجس دواوں کی خریدوفروخت جائز ہے ل یکن ان کی نجاست کے متعلق خر یدار کو اس صورت میں بتا دینا ضروری ہے جس کا ذکر سابق ہ مسئل ے م یں کیا گیا ہے۔
2067 ۔ جو ت یل غیر اسلامی ممالک سے در آمد کئ ے جات ے ہیں اگر ان کے نجس ہ ون ے ک ے بار ے م یں علم نہ ہ و تو ان ک ی خرید و فرخت میں کوئی حرج نہیں اور جو چربی کسی حیوان کے مرجان ے ک ے بعد حاصل ک ی جاتی ہے اگر اس ے کافر س ے ل یں یا غیر اسلامی ممالک سے منگائ یں تو اس صورت میں جب کہ اس ک ے بار ے م یں احتمال ہ و ک ہ ا یسے حیوان کی ہے جس ے شرعی طریقے سے ذبح ک یا گیا ہے تو گو و ہ پاک ہے اور اس ک ی خریدوفرخت جائز ہے ل یکن اس کا کھ انا حرام ہے اور ب یچنے والے ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ و ہ اس ک ی کیفیت سے خر یدار کو آگاہ کر ے ک یوں کہ خر یدار کو آگاہ کرن ے ک ی صورت میں وہ کس ی واجب حکم کی مخالفت کا مرتکب ہ وگا جس ے ک ہ مسئل ہ 2065 میں گزر چکا ہے۔
2068 ۔ اگر لوم ڑی یا اس جیسے جانوروں کو شرعی طریقے سے ذبح ن ہ ک یا جائے یا وہ خود مرجائ یں تو ان کی کھ ال ک ی خریدوفروخت احتیاط کی بنا پر جائز نہیں ہے۔
2069 ۔ جو چم ڑ ا غ یر اسلامی ممالک سے در آمد ک یا جائے یا کافر سے ل یا جائے اگر اس ک ے بار ے م یں احتمال ہ و ک ہ ا یک ایسے جانور کا ہے جس ے شرع ی طریقے سے ذبح ک یا گیا ہے تو اس ک ی خریدوفروخت جائز ہے اور اس ی طرح اس میں نماز بھی اقوی کی بنا پر صحیح ہ وگ ی۔
2070 ۔ جو ت یل اور چربی حیوان کے مرن ے ک ے بعد حاصل ک ی جائے یا وہ چم ڑ ا جو مسلمان سے ل یا جائے اور انسان کو علم ہ و ک ہ اس مسلمان ن ے یہ چیز کافر سے ل ی ہے ل یکن یہ تحقیق نہیں کی کہ یہ ایسے حیوان کی ہے ج یسے شرعی طریقے سے ذبح ک یا گیا ہے یا نہیں اگرچہ اس پر ط ہ ارت کا ح کم لگتا ہے اور اس ک ی خریدوفروخت جائز ہے ل یکن اس تیل یا چربی کا کھ انا جائز ن ہیں ہے۔
2071 ۔ نش ہ آور مشروبات کال ین دین حرام اور باطل ہے۔
2072 ۔ غصب ی مال کا بیچنا باطل ہے اور ب یچنے والے ن ے جو رقم خر یدار سے ل ی ہ و اس ے واپس کرنا ضرور ی ہے۔
2073 ۔ اگر خر یدار سنجیدگی سے سودا کرن ے کا اراد ہ رک ھ تا ہ و ل یکن اس کی نیت یہ ہ و ک ہ جو چ یز خرید رہ ا ہے اس ک ی قیمت نہیں دے گا تو اس کا یہ سوچنا سو دے ک ہ صح یح ہ ون ے م یں مانع نہیں اور ضروری ہے ک ہ خر یدار اس سودے ک ی قیمت بیچنے والے کو د ے۔
2074 ۔ اگر خر یدار چاہے ک ہ جو مال اس ن ے اد ھ ار خر یدا ہے اس ک ی قیمت بعد میں حرام مال سے د ے گا تب ب ھی معاملہ صح یح ہے البت ہ ضرور ی ہے ک ہ جتن ی قیمت اس کے ذم ے ہ و حلال مال س ے د ے تاک ہ اس کا اد ھ ار چکتا ہ وجائ ے۔
2075 ۔ موس یقی کے آلات مثلاً ستار اور طنبور ہ ک ی خریدوفروخت جائز نہیں ہے اور احت یاط کی بنا پر چھ و ٹے چ ھ و ٹے ساز جو بچوں ک ے ک ھ لون ے ہ وت ے ہیں ان کے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے۔ ل یکن (حلال اور حرام میں استعمال ہ ون ے وال ے ) مشترک ہ آلات مثلاً ر یڈیو اور ٹیپ ریکارڈ کی خریدوفروخت میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ انہیں حرام کاموں استعمال کرنے کا اراد ہ ن ہ ہ و ۔
2076 ۔ اگر کوئ ی چیز کہ جس س ے جائز فائد ہ ا ٹھ ا یا جاسکتا ہ و اس ن یت سے ب یچی جائے ک ہ اس ے حرام مصرف م یں لایا جائے مثلاً انگور اس ن یت سے ب یچا جائے ک ہ اس س ے شراب ت یار کی جائے تو اس کا سودا حرام بلک ہ احت یاط کی بنا پر باطل ہے۔ ل یکن اگر کوئی شخص انگور اس مقصد سے ن ہ ب یچے اور فقط یہ جانتا ہ و ک ہ خر یدار انگور سے شراب ت یار کرے گا تو ظا ہ ر یہ ہے ک ہ سود ے م یں کوئی حرج نہیں۔
2077 ۔ جاندار کا مجسم ہ بنانا احت یاط کی بنا پر مطلقاً حرام ہے (مطلقاً س ے مراد یہ ہے ک ہ مجسم ہ کامل بنا یا جائے یاناقص) لیکن ان کی خریدوفروخت ممنوع نہیں ہے اگرچ ہ احوط یہ ہے ک ہ اس ے ب ھی ترک کیا جائے ل یکن جاندار کی نقاشی اقوی کی بنا پر جائز ہے۔
2078 ۔ کس ی ایسی چیز کا خریدنا حرام ہے جو جُوئ ے یا چوری یا باطل سودے س ے حاصل ک ی گئی ہ و اور اگر کوئ ی ایسی چیز خرید لے تو ضرور ی ہے ک ہ اس ک ے اصل ی مالک کو لوٹ ا د ے۔
2079 ۔ اگر کوئ ی شخص ایسا گھی بیچے جس میں چربی کی ملاوٹ ہ و اور اس ے مُعَ یَّن کردے مثلاً ک ہے ک ہ م یں "یہ ایک من گھی بیچ رہ ا ہ وں" تو اس صورت م یں جب اس میں چربی کی مقدار اتنی زیادہ ہ و ک ہ اس ے گ ھی نہ ک ہ ا جائ ے تو معامل ہ باطل ہے اور اگر چرب ی کی مقدار اتنی کم ہ و ک ہ اس ے چرب ی ملا ہ وا ک ہ ا جائ ے تو معامل ہ صح یح ہے ل یکن خریدنے والے کو مال ع یب دار ہ ون ے ک ی بنا پر حق حاصل ہے ک ہ و ہ معامل ہ ختم کرسکتا ہے اور اپنا پ یسہ واپس لے سکتا ہے اور اگر چرب ی گھی سے جدا ہ و تو چرب ی کی جتنی مقدار کی ملاوٹ ہے اس کا معامل ہ باطل ہے اور چرب ی کی جو قیمت بیچنے والے ن ے ل ی ہے و ہ خر یدار کی ہے اور چرب ی، بیچنے والے کا مال ہے اور گا ہ ک اس م یں جو خالص گھی ہے اس کا معامل ہ ب ھی ختم کر سکتا ہے۔ ل یکن اگر معین نہ کر ے بلک ہ صرف ا یک من گھی بتا کر بیچے لیکن دیتے وقت چربی ملا ہ وا گ ھی دے تو گا ہ ک و ہ گ ھی واپس کرکے خالص گ ھی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
2080 ۔ جس جنس کو ناپ تول کر ب یچا جاتا ہے اگر کوئ ی بیچنے والا اسی جنس کے بدل ے م یں بڑھ ا کر ب یچے مثلاً ایک من گیہ وں کی قیمت ڈیڑھ من گیہ وں وصول کرے تو یہ سود اور حرام ہے بلک ہ اگر دو جنسوں م یں سے ا یک بے ع یب اور دوسری عیب دار ہ و یا ایک جنس بڑھیا اور دوسری گھٹیا ہو یا ان کی قیمتوں میں فرق ہ و تو اگر ب یچنے والا جو مقدار دے ر ہ ا ہ و اس س ے ز یادہ لے تب ب ھی سود اور حرام ہے۔ ل ہ ذا اگر و ہ ثابت تانبا د ے کر اس س ے ز یادہ مقدار میں ٹ و ٹ ا ہ وا تانبا ل ے یا ثابت قسم کا پیتل دے کر اس س ے ز یادہ مقدار میں ٹ و ٹ ا ہ وا پ یتل لے یا گھڑ ا ہ وا سونا دے کر اس سے ز یادہ مقدار میں بغیر گھڑ ا ہ وا سونا ل ے تو یہ بھی سود اور حرام ہے۔
2081 ۔ ب یچنے والا جو چیز زائد لے اگر و ہ اس جنس س ے مختلف ہ و جو و ہ ب یچ رہ ا ہے مثلاً ا یک من گیہ وں کو ایک من گیہ وں اور کچھ نقد رقم ک ے عوض ب یچے تب بھی یہ سود اور حرام ہے بلک ہ اگر و ہ کوئ ی چیز زائد نہ ل ے ل یکن یہ شرط لگائے ک ہ خر یدار اس کے لئ ے کوئ ی کام کرے گا تو یہ بھی سود اور حرام ہے۔
2082 ۔ جو شخص کوئ ی چیز کم مقدار میں دے ر ہ ا ہ و اگر و ہ اس ک ے سات ھ کوئ ی اور چیز شامل کر دے مثلاً ا یک من گیہ وں اور ایک رومال کو ڈیڑھ من گیہ وں کے عِوَض ب یچے تو اس میں کوئی حرج نہیں اس صورت میں جب کہ اس ک ی نیت یہ ہ و ک ہ و ہ رومال اس ز یادہ گیہ وں کے مقابل ے م یں ہے اور معامل ہ ب ھی نقد ہ و ۔ اور اس ی طرح اگر دونوں طرف سے کوئ ی چیز بڑھ ا د ی جائے مثلاً ا یک شخص ایک من گیہ وں اور ایک رومال کو ڈیڑھ من گیہ وں اور ایک رومال کے عوض ب یچے تو اس کے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے ل ہ ذا اگر ان ک ی نیت یہ ہ و ک ہ ا یک کا رومال اور آدھ ا من گ یہ وں دوسرے ک ے روما ل کے مقابل ے م یں ہے تو اس م یں کوئی اشکال نہیں ہے۔
2083 ۔ اگر کوئ ی شخص ایسی چیز بیچے جو میڑ اور گز کے حساب س ے ب یچی جاتی ہے مثلاً کپ ڑ ا یا ایسی چیز بیچے جو گن کر یچی جاتی ہے مثلاً اخرو ٹ اور ان ڈے اور ز یادہ لے مثلاً دس ان ڈے د ے اور گ یارہ لے تو اس م یں کوئی حرج نہیں۔ ل یکن اگر ایسا ہ و ک ہ معامل ے م یں دونوں چیزیں ایک ہی جنس سے ہ وں اور مدت مع ین ہ و تو اس صورت م یں معاملے ک ے صح یح ہ ون ے م یں اشکال ہے مثلاً دس اخرو ٹ نقدد ے اور بار ہ اخرو ٹ ا یک مہینے کے بعد ل ے۔ اور کرنس ی نوٹ وں کا فروخت کرنا ب ھی اسی زمرے م یں آتا ہے مثلاً تو مان کو نو ٹ وں ک ی کسی دوسری جنس کے بدل ے م یں مثلاً دینار یا ڈ الر کے بدل ے م یں نقد یا معین مدت کے لئ ے ب یچے تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر اپنی ہی جنس کے بدل ے م یں بیچنا چاہے اور ب ہ ت ز یادہ لے تو معامل ہ مع ین مدت کے لئ ے ن ہیں ہ ونا چا ہ ئ ے مثلاً سو تو مان نقد د ے اور ا یک سو دس تو مان چھ م ہینے کے بعد ل ے تو اس معامل ے ک ے صح یح ہ ون ے میں اشکال ہے۔
2084 ۔ اگر کس ی جنس کو اکثر شہ روں م یں ناپ تول کر بیچا جاتا ہ و اور بعض ش ہ روں م یں اس کا لین دین گن کر ہ وتا ہ و تو اقو ی کی بنا پر اس جنس کو اس شہ ر ک ی نسبت جہ اں گن کر ل ین دین ہ وتا ہے دوسر ے ش ہ ر م یں زیادہ قیمت پر بیچنا جائز ہے۔ اور اس ی طرح اس صورت میں جب شہ ر مختلف ہ وں اورا ایسا غلبہ درم یان میں نہ ہ و ( یعنی یہ نہ ک ہ اجاسک ے ک ہ اکثر ش ہ روں م یں یہ جنس ناپ تول کر بکتی ہے یا گن کر بکتی ہے ) تو ہ ر ش یر میں وہ اں ک ے رواج ک ے مطابق حکم لگا یا جائے گا ۔
2085 ۔ ان چ یزوں میں جو تول کر یا ناپ کر بیچی جاتی ہیں اگر بیچی جانے وال ی چیز اور اس کے بدل ے م یں لی جانے وال ی چیز ایک جنس سے ن ہ ہ وں اور ل ین دین بھی نقد ہ و تو ز یادہ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ل یکن اگر لین دین معین مدت کے لئ ے ہ و تو اس م یں اشکال ہے۔ ل ہ ذا اگر کوئ ی شخص ایک من چاول کو دو من گیہ وں کے بدل ے م یں ایک مہینے کی مدت تک بیچے تو اس لین دین کا صحیح ہ ونا اشکال س ے خال ی نہیں ۔
2086 ۔ اگر ا یک شخص پکے م یووں کا سودا کچے م یووں سے کر ے تو ز یادہ نہیں لے سکتا اور مش ہ ور (علماء) ن ے ک ہ ا ہے ک ہ ا یک شخص جو چیز بیچ رہ ا ہ و اور اس ک ے بدل ے م یں جو کچھ ل ے ر ہ ا ہ و اگر و ہ دونوں ا یک ہی چیز سے بن ی ہ وں تو ضرور ی ہے ک ہ معامل ے م یں اضافہ ن ہ ل ے مثلاً اگر و ہ ا یک من گائے کا گ ھی بیچے اور اس کے بدل ے م یں ڈیڑھ من گائے کا پن یر حاصل کرے تو یہ سود ہے اور حرام ہے ل یکن اس حکم کے کل ی ہ ون ے م یں اشکال ہے۔
2087 ۔ سود ک ے اعتبار س ے گ یہ وں اور جو ایک جنس شمار ہ وت ے ہیں لہ ذا مثال ک ے طور پر اگر کوئ ی شخص ایک من گیہ وں دے اور اس ک ے بدل ے م یں ایک من پانچ سیر جولے تو یہ سود ہے اور ح رام ہے۔ اور مثال ک ے طور پر اگر دس من جو اس شرط پر خر یدے کہ گ یہ وں کی فصل اٹھ ان ے ک ے وقت دس من گ یہ وں بدلے م یں دے گا تو چونک ہ جو اس ن ے نقد لئ ے ہیں اور گیہ وں کچھ مدت بعد د ے ر ہ ا ہے ل ہ ذا یہ اسی طرح ہے۔ ج یسے اضافہ ل یا ہ و اس لئ ے حرام ہے۔
2088 ۔ باپ ب یٹ ا اور میاں بیوی ایک دوسرے س ے سود ل ے سکت ے ہیں اور اسی طرح مسلمان ایک ایسے کافر سے جو اسلام ک ی پناہ م یں نہ ہ و سود ل ے سکتا ہے ل یکن ایک ایسے کافر سے جو اسلام ک ی پناہ م یں ہے سود کا ل ین دین حرام البتہ معامل ہ ط ے کر ل ینے کے بعد اگر سود د ینا اس کی شریعت میں جائز ہ و تو اس س ے سود ل ے سکتا ہے۔
2089 ۔ ب یچنے والے اور خر یدار کے لئ ے چ ھ چ یزیں شرط ہیں :
1 ۔ بالغ ہ وں ۔
2 ۔ عاقل ہ وں ۔
3 ۔ سَف یہ نہ ہ وں یعنی اپنا مال احمقانہ کاموں م یں خرچ نہ کرت ے ہ وں ۔
4 ۔ خر ید و فروخت کا ارادہ رک ھ ت ے ہ وں ۔ پس اگر کوئ ی مذاق میں کہے ک ہ م یں نے اپنا مال ب یچا تو معاملہ باطل ہ وگا ۔
5 ۔ کس ی نے ان ہیں خریدوفروخت پر مجبور نہ ک یا ہ و ۔
6 ۔ جو جنس اور اس ک ے بدل ے م یں جو چیز ایک دوسرے کو د ے ر ہے ہ وں اس ک ے مالک ہ وں ۔ اور ان ک ے بار ے م یں احکام آئندہ مسائل م یں بیان کئے جائ یں گے۔
2090 ۔ کس ی نابالغ بچے ک ے سات ھ سودا کرنا جو آزادانہ طور پر سودا کر ر ہ ا ہ و باطل ہے ل یکن ان کم قیمت چیزوں میں جن کی خریدوفروخت کا رواج ہے اگر نابالغ مگر سمج ھ دار بچ ے ک ے سات ھ ل ین دین ہ وجائ ے (توصح یح ہے ) اور اگر سودا اس ک ے سرپرست ک ے سات ھ ہ و اور نابالغ مگر سمج ھ د ار بچہ ل ین دین کا صیغہ جاری کرے ت و سوداہ ر صورت م یں صحیح ہے بلک ہ اگر جنس یا رقم کسی دوسرے آدم ی کا مال ہ و اور بچ ہ بح یثیت وکیل اس مال کے مالک ک ی طرف سے و ہ مال ب یچے یا اس رقم سے کوئ ی چیز خریدے تو ظاہ ر یہ ہے ک ہ سودا صح یح ہے اگرچ ہ و ہ سمج ھ دار بچ ہ آزادان ہ طور پ ر اس مال یا رقم میں (حق) تصرف رکھ تا ہ و اور اس ی طرح اگر بچہ اس کام م یں وسیلہ ہ و ک ہ رقم ب یچنے والے کو د ے اور جنس خر یدار تک پہ نچائ ے یا جنس خریدار کو دے اور رقم ب یچنے والے کو پ ہ نچائ ے تو اگرچ ہ بچ ہ سمج ھ دار ن ہ ہ و سودا صح یح ہے ک یونکہ در اصل دو بالغ افراد نے آپس میں سودا کیا ہے۔
2091 ۔ اگر کوئ ی شخص اس صورت میں کہ ا یک نابالغ بچے س ے سودا کرنا صح یح نہ ہ و اس س ے کوئ ی چیز خریدے یا اس کے ہ ات ھ کوئ ی چیز بیچنے تو ضروری ہے ک ہ جو جنس یا رقم اس بچے س ے ل ے اگر و ہ خود بچ ے کا مال ہ و تو اس ک ے سرپرست کو اور اگر کس ی اور کا مال ہ و تو اس ک ے مالک کو د ے د ے یا اس کے مالک ک ی رضا مندی حاصل کرے اور اگر سودا کرن ے والا شخص اس جنس یا رقم کے مالک کو ن ہ جانتا ہ و اور اس کا پت ہ چلان ے کا کوئ ی ذریعہ بھی نہ ہ و تو اس شخص ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ جو چ یز اس نے بچ ے س ے ل ی ہ و و ہ اس چ یز کے مالک ک ی طرفے بعنوان مَظَالم (ظلماً اور ناحق ل ی ہ وئ ی چیز) کسی فقیر کو دے د ے اور احت یاط لازم یہ ہے ک ہ اس کام م یں حاکم شرع سے اجازت ل ے۔
2092 ۔ اگر کوئ ی شخص ایک سمجھ دار بچ ے س ے اس صورت م یں سودا کرے جب ک ہ اس ک ے سات ھ سودا کرنا صح یح نہ ہ و اور اس ن ے جو جنس یا رقم بچے کو د ی ہ و و ہ تلف ہ و جائ ے تو ظا ہ ر یہ ہے ک ہ و ہ شخص بچ ے س ے اس ک ے بالغ ہ ون ے ک ے بعد یا اس کے سرپرست س ے مطالب ہ کر سکتا ہے اور اگربچ ہ سمج ھ دار ن ہ ہ و تو پ ھ ر و ہ شخص مطالب ے کا حق ن ہیں رکھ تا ۔
2093 ۔ اگر خر یدار یا بیچنے والے کو سودا کرن ے پر مجبور ک یا جائے اور سودا ہ وجان ے ک ے بعد و ہ راض ی ہ و جائ ے اور مثال کے طور پر ک ہے ک ہ م یں راضی ہ وں تو سودا صح یح ہے ل یکن احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ معامل ے کا ص یغہ دوبارہ پ ڑھ ا جائ ے۔
2094 ۔ اگر انسان کس ی کا مال اس کی اجازت کے بغ یر بیچ دے اور مال کا مالک اس ک ے ب یچنے پر راضی نہ ہ و اور اجازت ن ہ د ے تو سودا باطل ہے۔
2095 ۔ بچ ے کا باپ اور دادا نیز باپ کا وصی اور دادا کا وصی بچے کا مال فروخت کر سکت ے ہیں اور اگر صورت حال کا تقاضا ہ و تو مجت ہ د عادل ب ھی دیوانے شخص یا یتیم بچے کا مال یا ایسے شخص کا مال جو غائب ہ و فروخت کر سکتا ہے۔
2096 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی کا مال غصب کرکے ب یچ ڈ ال ے اور مال ک ے بک جان ے ک ے بعد اس کا مالک سود ے ک ی اجازت دے د ے تو سودا صح یح ہے اور جو چ یز غصب کرنے وال ے ن ے خر یدار کو دی ہ و اور اس چ یز سے جو منافع سود ے ک ے وقت س ے حاصل ہ و و ہ خر یدار کی ملکیت ہے اور جو چ یز خریدار نے د ی ہ و اور اس چ یز سے جو منافع سود ے ک ے وقت س ے حاصل ہ و و ہ اس شخص ک ی ملکیت ہے جس کا مال غصب ک یا گیا ہے۔
2097 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی کا مال غصب کرکے ب یچ دے اور اس کا اراد ہ یہ ہ و ک ہ اس مال ک ی قیمت خود اس کی ملکیت ہ وگ ی اور اگر مال کا مالک سودے ک ی اجازت دے د ے تو سودا صح یح ہے ل یکن مال کی قیمت مالک کی ملکیت ہ وگ ی نہ ک ہ غاصب ک ی۔
2098 ۔ جو چ یز بیچی جائے اور جو چ یز اس کے بدل ے م یں لی جائے اس ک ی پانچ شرطیں ہیں :
(اول) ناپ، تول یا گنتی وغیرہ کی شکل میں اس کی مقدار معلوم ہ و ۔
(دوم) بیچنے والا ان چیزوں کو تحویل میں دینے کا اہ ل ہ و ۔ اگر ا ہ ل ن ہ ہ و تو سودا صح یح نہیں ہے ل یکن اگر وہ اس کو کس ی دوسری چیز کے ک ے سات ھ ملا کر ب یچے جسے و ہ تحو یل میں دے سکتا ہ و تو اس صورت م یں لین دین صحیح ہے البت ہ ظا ہ ر یہ ہے ک ہ اگر خر یدار اس چیز کو جو خریدی ہ و اپن ے قبض ے م یں لے سکتا ہ و اگرچ ہ ب یچنے والا اسے اس ک ی تحویل میں دینے کا اہ ل ن ہ ہ و تو ب ھی لین دین صحیح ہے مثلاً جو گ ھ و ڑ ا ب ھ اگ گ یا ہ و اگر اس ے ب یچے اور خریدنے والا اس گھ و ڑے کو ڈھ ون ڈ سکتا ہ و تو اس سود ے م یں کوئی حرج نہیں اور وہ صح یح ہ وگا اور اس صورت م یں کسی بات کے اضافے ک ی ضرورت نہیں ہے۔
(سوم) وہ خ صوصیات جو جنس اور عوض میں موجود ہ وں اور جن ک ی وجہ س ے سود ے م یں لوگوں کو دلچسپی میں فرق پڑ تا ہ و مع ین کر دی جائیں۔
(چہ ارم) کس ی دوسرے کا حق اس مال س ے اس طرح وابست ہ ن ہ ہ و ک ہ مال مالک ک ی ملکیت سے خارج ہ ون ے س ے دوسر ے کا حق ضائع ہ و جائ ے۔
(پنجم) بیچنے والا خود اس جنس کو بیچے نہ ک ہ اس ک ی منفعت کو۔ پس مثال ک ے طور پر اگر مکان ک ی ایک سال کی منفعت بیچی جائے تو صح یح نہیں ہے ل یکن اگر خریدار نقد کی بجائے اپن ی ملکیت کا منافع دے مثلاً کس ی سے قال ین یا دری وغیر خریدے اور اس کے عوض م یں اپنا مکان کا ایک سال کا منافع اسے د ے د ے تو اس م یں کوئی حرج نہیں۔ ان سب ک ے احکام آئند ہ مسائل م یں بیان کئے جائ یں گے۔
2099 ۔ جس جنس کا سودا کس ی شہ ر م یں تول کر یا ناپ کا کیا جاتا ہ و اس ش ہ ر م یں ضروری ہے اس جنس کو تول کر یا ناپ کر ہی خریدے لیکن جس شہ ر م یں اس جنس کا سودا اسے د یکھ کر کیا جاتا ہ وں اس ش ہ ر م یں وہ اس ے د یکھ کر خرید سکتا ہے۔
2100 ۔ جس چ یز کی خریدوفروخت تول کرکی جاتی ہ و اس کا سودا ناپ کر ب ھی کیا جاسکتا ہے مثال ک ے طور پر اگر ا یک شخص دس من گیہ وں بیچنا چاہے تو و ہ ا یک ایسا پیمانہ جس میں ایک من گیہ وں سماتی ہ و دس مرتب ہ ب ھ ر کر د ے سکتا ہے۔
2101 ۔ اگر معامل ہ چوت ھی شرط کے علاو ہ جو شرائط ب یان کی گئی ہیں ان میں سے کوئ ی ایک شرط نہ ہ ون ے ک ی بنا پر باطل ہ و ل یکن بیچنے والا اور خریدار ایک دوسرے ک ے مال م یں تصرف کرنے پر راض ی ہ وں تو ان ک ے تصرف کرن ے م یں کوئی حرج نہیں۔
2102 ۔ جو چ یز وقت کی جاچکی ہ و اس کا سودا باطل ہے ل یکن اگر وہ چ یز اس قدر خراب ہ و جائ ے ک ہ جس فائد ے ک ے لئ ے وقف ک ی گئی ہے و ہ حاصل ن ہ ک یا جاسکے یا وہ چ یز خراب ہ ون ے وال ی ہ و مثلاً مسجد ک ی چٹ ائ ی اس طرح پھٹ جائ ے ک ہ اس پر نماز ن ہ پ ڑھی جاسکے تو جو شخص مُتَولِّ ی ہے یا جسے مَتَولِّی جیسے اختیارات حاصل ہ وں اور اس ے ب یچ دے تو کوئ ی حرج نہیں اور احتیاط کی بنا پر جہ اں تک ممکن ہ و اس ک ی قیمت اسی مسجد کے کس ی ایسے کام پر خرچ کی جائے جو وقت کرن ے وال ے ک ے مقصد س ے قر یب تر ہ و ۔
2103 ۔ جب ان لوگوں ک ے مَابَ ین جن کے لئ ے مال وقف ک یا گیا ہ و ا یسا اختلاف پیدا ہ و جائ ے ک ہ اند یشہ ہ و ک ہ اگر وقف شد ہ مال فروخت ن ہ ک یا گیا تو مال یا کسی کی جان تلف ہ و جائ ے گ ی تو بعض (فقہ اء) ن ے ک ہ ا ہے ک ہ و ہ ا یسا کر سکتے ہیں کہ مال ب یچ کر رقم ایسے کام پر خرچ کریں جو وقف کرنے وال ے ک ے مقصد س ے قر یب ہ و ل یکن یہ حکم محل اشکال ہے۔ ہ اں اگر وقف ک رنے والا یہ شرط لگائے ک ہ وقف ک ے ب یچ دینے میں کوئی مصلحت ہ و تو ب یچ دیا جائے تو اس صورت م یں اسے ب یچنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
2104 ۔ جو جائداد کس ی دوسرے کو کرائ ے پر د ی گئی ہ و اس ک ی خریدوفروخت میں کوئی حرج نہیں ہے ل یکن جتنی مدت کے لئ ے اس ے کرائ ے پر د ی گئی ہ و اتن ی مدت کی آمدنی صاحب جائداد کا مال ہے اور اگر خر یداد کو یہ علم نہ ہ و ک ہ و ہ جائداد کرائ ے پر د ی جاچکی ہے یا اس گمان کے تحت ک ہ کرائ ے ک ی مدت تھ و ڑی ہے اس جائداد کو خر ید لے تو جب اس ے حق یقت حال کا علم ہ و، و ہ سودا فسخ کر سکتا ہے۔
2105 ۔ ضرور ی نہیں کہ خر یدوفروخت کا صیغہ عربی زبان میں جاری کیا جائے مثلاً اگر ب یچنے والا فارسی (یا اردو) میں کہے ک ہ م یں نے یہ مال اتنی رقم پر بیچا اور خریدار کہے ک ہ م یں نے قبول ک یا تو سودا صحیح ہے ل یکن یہ ضروری ہے ک ہ خر یدار اور بیچنے والا (معاملے کا) دل ی ارادہ رکھ ت ے ہ وں یعنی یہ دو جملے ک ہ ن ے س ے ان ک ی مراد خرید و فروخت ہ و ۔
2106 ۔ اگر سودا کرت ے وقت ص یغہ نہ پ ڑھ ا جائ ے ل یکن بیچنے والا اس مال کے مقابل ے م یں جو وہ خر یدار سے ل ے اپنا مال اس ک ی ملکیت میں دے د ے تو سودا صح یح ہے اور دونوں اشخاص متعلق ہ چ یزوں کے مالک ہ وجات ے ہیں۔
2107 ۔ جن پ ھ لوں ک ے پ ھ ول گر چک ے ہ وں اور ان م یں دانے پ ڑ چک ے ہ وں اگر ان ک ے آفت (مثلاً ب یماریوں اور کپڑ وں ک ے حملوں) س ے محفوظ ہ ون ے یا نہ ہ ون ے ک ے بار ے م یں اس طرح علم ہ و ک ہ اس درخت ک ی پیداوار کا اندازہ لگا سک یں تو اس کے تو ڑ ن ے س ے پ ہ ل ے اس کا ب یچنا صحیح ہے ب لکہ اگر م علوم نہ ب ھی ہ و ک ہ آفت س ے محفوظ ہے یا نہیں تب بھی اگر دو سال یا اس سے ز یادہ عرصے ک ی پیداوار یا پھ لوں ک ی صرف اتنی مقدار جو اس وقت اس وقت لگی ہ و ب یچی جائے بشرط یکہ اس کی کسی حد تک مالیت ہ و تو معامل ہ صح یح ہے۔ اس ی طرح اگر زمین کی پیداوار یا کسی دوسری چیز کو اس کے ساتھ ب یچا جائے تو معامل ہ صح یح ہے ل یکن اس صورت میں احتیاط لازم یہ ہے ک ہ دوسر ی چیز (جو ضمناً بیچ رہ ا ہ و و ہ ) ا یسی ہ و ک ہ اگر ب یج ثمر آور نہ ہ وسک یں تو خریدار کے سرمائ ے کو ڈ وبن ے س ے بچال ے۔
2108 ۔ جس درخت پر پ ھ ل لگا ہ و، دان ے بنن ے اور پھ ول گرن ے س ے پ ہ ل ے اس کا ب یچنا جائز ہے ل یکن ضروری ہے ک ہ اس ک ے سات ھ کوئ ی اور چیز بھی بیچے جیسا کہ اس س ے پ ہ ل ے وال ے مسئل ے م یں بیان کیا گیا ہے یا ایک سال سے ز یادہ مدت کا پھ ل ب یچے۔
2109 ۔ درخت پر لگ ی ہ وئ ی وہ ک ھ جور یں جو زرد یا سرخ ہ و چک ی ہ وں ان کو ب یچنے میں کوئی حرج نہیں لیکن ان کے عوض م یں خواہ اس ی درخت کی کھ جور یں ہ وں یا کسی اور درخت کی، کھ جور یں نہ د ی جائیں البتہ اگر ا یک شخص کو کھ جور کا درخت کس ی دوسرے شخص ک ے گ ھ ر م یں ہ و تو اگر اس درخت ک ی کھ جوروں کا تخم ینہ لگا لیا جائے اور درخت کا مالک ان ہیں گھ ر ک ے مالک کو ب یچ دے اور ک ھ جوروں کو اس کا عوضان ہ قرار د یا جائے تو کوئ ی حرج نہیں۔
2110 ۔ ک ھیرے ، بینگن،سبزیاں اور ان جیسی (دوسری) چیزیں جو سال میں کئی دفعہ اترت ی ہ وں اگر و ہ اگ آئ ی ہ وں اور یہ طے کر ل یا جائے ک ہ خر یدار انہیں سال میں کتنی دفعہ تو ڑے گا تو ان ہیں بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے ل یکن اگر اگی نہ ہ وں تو ان ہیں بیچنے میں اشکال ہے۔
2111 ۔ اگر دان ہ آن ے ک ے بعد گندم ک ے خوش ے کو گندم س ے جو خود اس س ے حاصل ہ وت ی ہے یا کسی دوسرے خوش ے ک ے عوض ب یچ دیا جائے تو سودا صح یح نہیں ہے۔
2112 ۔ اگر کس ی جنس کو نقد بیچا جائے تو سودا ط ے پا جان ے ک ے بعد خر یدار اور بیچنے والا ایک دوسرے س ے جنس اور رقم کا مطالب ہ کر سکت ے ہیں اور اسے اپن ے قبض ے م یں لے سکت ے ہیں۔ منقول ہ چ یزوں مثلاً قالین، اور لباس کو قبضے م یں دینے اور غیر منقولہ چ یزوں مثلاً گھ ر اور زم ین کو قبضے م یں دینے سے مراد یہ ہے ک ہ ان چ یزوں سے دست بردار ہ و جائ ے اور ان ہیں فریق ثانی کی تحویل میں اس طرح دے د ے ک ہ جب و ہ چا ہے اس م یں تصرف کر سکے۔ اور (واضح ر ہے ک ہ ) مختلف چ یزوں میں تصرف مختلف طریقے سے ہ وتا ہے۔
2113 ۔ اد ھ ار ک ے معامل ے م یں ضروری ہے ک ہ مدت ٹھیک ٹھیک معلوم ہ و ۔ ل ہ ذا اگر ا یک شخص کوئی چیز اس وعدے پر ب یچے کہ و ہ اس ک ی قیمت فصل اٹھ ن ے پر ل ے گا تو چونک ہ اس ک ی مدت ٹھیک ٹھیک معین نہیں ہ وئ ی اس لئے سودا باطل ہے۔
2114 ۔ اگر کوئ ی شخص اپنا مال ادھ ار ب یچے تو جو مدت طے ہ وئ ی ہ و اس ک ی میعاد پوری ہ ون ے س ے پ ہ ل ے و ہ خر یدار سے اس ک ے عوض کا مطالب ہ ن ہیں کرسکتا لیکن اگر خریدار مرجائے اور اس کا اپنا کوئ ی مال ہ و تو ب یچنے والا طے شد ہ م یعاد پوری ہ ون ے س ے پ ہ ل ے ہی جو رقم لینی ہ و اس کا مط البہ مرنے وال ے ک ے ورثاء س ے کر سکتا ہے۔
2115 ۔ اگر کوئ ی شخص ایک چیز ادھ ار ب یچے تو طے شد ہ مدت گزرن ے ک ے بعد و ہ خر یدار سے اس ک ے عوض کا مطالب ہ کر سکتا ہے ل یکن اگر خریدار ادائیگی نہ کرسکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ب یچنے والا اسے م ہ لت د ے یا سودا ختم کر دے اور اگر و ہ چ یز جو بیچی ہے موجود ہ و تو اس ے واپس ل ے ل ے۔
2116 ۔ اگر کوئ ی شخص ایک ایسے ا یسے فرد کو جسے کس ی چیز کی قیمت معلوم نہ ہ و اس کی کچھ مقدار اد ھ ار د ے اور اس ک ی قیمت اسے ن ہ بتائ ے تو سودا باطل ہے۔ ل یکن اگر ایسے شخص کو جسے جنس ک ی نقد قیمت معلوم ہ و اد ھ ار پر م ہ نگ ے داموں ب یچے مثلاً کہے ک ہ جو جنس م یں تمہیں ادھ ار د ے رہ ا ہ وں اس کی قیمت سے جس پر م یں نقد بیچتا ہ وں ا یک پیسہ فی روپیہ زیادہ لوں گا اور خریدار اس شرط کو قبول کر لے تو ا یسے سودے م یں کوئی حرج نہیں ہے۔
2117 ۔ اگر ا یک شخص نے کوئ ی جنس ادھ ار فروخت ک ی ہ و اور اس ک ی قیمت کی ادائیگی کے لئ ے مدت مقرر ک ی گئی ہ و تو اگر مثال ک ے طور پر آد ھی مدت گزرنے ک ے بعد (فروخت کرن ے والا) واجب الادا رقم م یں کٹ وت ی کر دے اور باق ی ماندہ رقم نقد ل ے ل ے تو اس م یں کوئی حرج نہیں ہے۔
2118 ۔ معامل ہ سلف (پ یشگی سودا) سے مراد یہ ہے ک ہ کوئ ی شخص نقد رقم لے کر پورا مال جو و ہ مقرر ہ مدت ک ے بعد تحو یل میں دے گا، ب یچ دے ل ہ ذا اگر خر یدار کہے ک ہ م یں یہ رقم دے ر ہ ا ہ وں تاک ہ مثلاً چ ھ م ہینے بعد فلاں چیز لے لوں اور ب یچنے والا کہے ک ہ م یں نے قبول ک یا یا بیچنے والا رقم لے ل ے اور ک ہے ک ہ م یں نے فلاں چ یز بیچی اور اس کا قبضہ چ ھ م ہینے بعد دوں گا تو سودا صحیح ہے۔
2119 ۔ اگر کوئ ی شخص سونے یا چاندی کے سک ے بطور سلف ب یچے اور س کے عوض چاند ی یا سونے ک ے سک ے ل ے تو سودا باطل ہے ل یکن اگر کوئی ایسی چیز یا سکے جو سن ے یا چاندی کے ن ہ ہ وں ب یچے اور ان کے عوض کوئ ی دوسری چیز یا سونے یا چاندی کے سک ے ل ے تو سودا اس تفص یل کے مطابق صح یح ہے جو آئند ہ مسئل ے ک ی ساتویں شرط میں بتائی جائے گ ی اور احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ جو مال ب یچے اس کے عوض رقم ل ے ،کوئ ی دوسرا مال نہ ل ے۔
2120 ۔ معامل ہ سلف م یں ساتھ شرط یں ہیں :
1 ۔ ان خصوص یات کو جن کی وجہ س ے کس ی چیز کی قیمت میں فرق پڑ تا ہ و مُعَ یّن کر دیا جائے ل یکن زیادہ تفصیلات میں جانے ک ی ضرورت نہیں بلکہ اس ی قدر کافی ہے ک ہ لوگ ک ہیں کہ اس ک ی خصوصیات معلوم ہ وگئ ی ہیں۔
2 ۔ اس س ے پ ہ ل ے ک ہ خر یدار اور بیچنے والا ایک دوسرے س ے جدا ہ و جائ یں خریدار پوری قیمت بیچنے والے کو د ے یا اگر بیچنے والا خریدار کا اتنی ہی رقم کا مقروض ہ و اور خر یدار کو اس سے جو کچ ھ ل ینا ہ و اس ے مال ک ی قیمت کی کچھ مقدار ب یچنے والے کو د ے د ے تو اگرچ ہ اس مقدار ک ی نسبت سے سودا صح یح ہے ل یکن بیچنے والا سودا فتح کرسکتا ہے۔
3 ۔ مدت کو ٹھیک ٹھیک مُعَیّن کیا جائے۔ مثلاً اگر ب یچنے والا کہے ک ہ فصل کا قبض ہ ک ٹ ائ ی پر دوں گا تو چونکہ اس س ے مدت کا ٹھیک ٹھیک تعین نہیں ہ وتا اس لئ ے سودا باطل ہے۔
4 ۔ جنس کا قبض ہ د ینے کے لئ ے ا یسا وقت مُعَیّن کیا جائے جس م یں بیچنے والا جنس کا قبضہ د ے سک ے خوا ہ و ہ جنس کم یاب ہ و یا نہ ہ و ۔
5 ۔ جنس کا قبض ہ د ینے کی جگہ کا تع ین احتیاط کی بنا پر مکمل طور پر کیا جائے۔ ل یکن اگر طرفین کی باتوں سے جگ ہ کا پتا چل جائے تو اس کا نام ل ینا ضروری نہیں ۔
6 ۔ اس جنس کا تول یا ناپ معین کیاجائے اور جس چیز کا سودا عموماً دیکھ کر کیا جاتا ہے اگر اس ے بطور سلف ب یچا جائے تو اس م یں کوئی حرج نہیں ہے ل یکن مثال کے طور پر اخرو ٹ اور ان ڈ وں ک ی بعض قسموں میں تعداد کا فرق ضروری ہے ک ہ اتنا ہ و ک ہ لوگ اس ے ا ہ م یت نہ د یں۔
7 ۔ جس چ یز کو بطور سلف بیچا جائے اگر و ہ ا یسی ہ وں جن ہیں تول کر یا ناپ کر بیچا جاتا ہے تو اس کا عوض اس ی جنس سے ن ہ ہ و بلک ہ احت یاط لازم کی بنا پر دوسری جنس میں سے ب ھی ایسی چیز نہ ہ و جس ے تول کر یا ناپ کر بیچا جاتا ہے اور ا گر وہ چ یز جسے ب یچا جا رہ ا ہے ان چ یزوں میں سے ہ و جن ہیں گن کر بیچا جاتا ہ و تو احت یاط کی بنا پر جائز نہیں ہے ک ہ اس کا عوض خود اس ی کی جنس سے ز یادہ مقدار میں مقرر کرے۔
2121 ۔ جو جنس کس ی نے بطور سلف خر یدی ہ و اس ے و ہ مدت ختم ہ ون ے س ے پ ہ ل ے ب یچنے والے ک ے سوا کس ی اور کے ہ ات ھ ن ہیں بیچ سکتا اور مدت ختم ہ ون ے ک ے بعد اگرچ ہ خر یدار نے اس کا قبض ہ ن ہ ب ھی لیا ہ و اس ے ب یچنے میں کوئی حرج نہیں۔ البت ہ پ ھ لوں ک ے علاو ہ جن غلوں مثلاً گ یہ وں اور جو وغیرہ کو تول کر یا ناپ کر فروخت کیا جاتا ہے ان ہیں اپنے قبض ے م یں لینے سے پہ ل ے ان کا ب یچنا جائز نہیں ہے ماسوا اس ک ے ک ہ گا ہ گ ن ے جس ق یمت پر خریدی ہ وں اس ی قیمت پر یا اس سے کم ق یمت پر بیچے۔
2122 ۔ سلف ک ے ل ین دین میں اگر بیچنے والا مدت ختم ہ ون ے پر اس چ یز کا قبضہ د ے جس کا سودا ہ وا ہے تو خر یدار کے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ اس ے قبول کر ے اگرچ ہ جس چ یز کا سودا ہ وا ہے اس س ے ب ہ تر چ یز دے ر ہ ا ہ و جبک ہ اس چ یز کو اسی جنس میں شمار کیا جائے۔
2123 ۔ اگر ب یچنے والا جو جنس دے و ہ اس جنس س ے گ ھٹیا ہ و جس کا سودا ہ وا ہے تو خر یدار اسے قبول کرن ے س ے انکار کر سکتا ہے۔
2124 ۔ اگر ب یچنے والا اس جنس کی بجائے جس کا سودا ہ وا ہے کوئ ی دوسری جنس دے اور خر یدار اسے ل ینے پر راضی ہ و جائ ے تو اشکال ن ہیں ہے۔
2125 ۔ جو چ یز بطور سلف بیچی گئی ہ و اگر و ہ خر یدار کے حوال ے کرن ے ک ے لئ ے ط ے شد ہ وقت پر دست یاب نہ ہ وسک ے تو خر یدار کو اختیار ہے ک ہ انتظار کر ے تاک ہ ب یچنے والا اسے م ہیا کر دے یا سودا فسخ کر دے اور جو چ یز بیچنے والے کو د ی ہ و اس ے واپس ل ے ل ے اور احت یاط کی بنا پر وہ چ یز بیچنے والے کو ز یادہ قیمت پر نہیں بیچ سکتا ہے۔
2126 ۔ اگر ا یک شخص کوئی چیز بیچے اور معاہ د ہ کر ے ک ہ کچ ھ مدت بعد و ہ چ یز خریدار کے حوال ے کر د ے گا اور اس ک ی قیمت بھی کچھ مدت بعد ل ے گا تو ا یسا سودا باطل ہے۔
2127 ۔ اگر سون ے کو سون ے س ے یا چاندی کو چاندی سے ب یچا جائے تو چا ہے و ہ سک ہ دار ہ وں یا نہ ہ و اگر ان م یں سے ا یک کا وزن دوسرے س ے ز یادہ ہ و تو ا یسا سودا حرام اور باطل ہے۔
2128 ۔ اگ ر سونے کو چاند ی سے یا چاندی کو سونے س ے نقد ب یچا جائے تو سودا صح یح ہے اور ضرور ی نہیں کہ دونوں کا وزن برابر ہ و ۔ ل یکن اگر معاملے م یں مدت معین ہ و تو باطل ہے۔
2129 ۔ اگر سون ے یا چاندی کو سونے یا چاندی کے عوض ب یچا جائے تو ضرور ی ہے ک ہ ب یچنے والا اور خریدار ایک دوسرے س ے جدا ہ ون ے س ے پ ہ ل ے جنس اور اس کا عوض ا یک دوسرے ک ے حوال ے کر د یں اور اگر جس چیز کے بار ے م یں معاملہ ط ے ہ وا ہے اس ک ی کچھ مقدار ب ھی ایک دوسرے ک ے حوال ے ن ہ ک ی جائے تو معامل ہ باطل ہے۔
2130 ۔ اگر ب یچنے والے یا خریدار میں سے کوئ ی ایک طے شد ہ مال پورا پورا دوسر ے ک ے حوال ے کر د ے ل یکن دوسرا (مال کی صرف) کچھ مقدار حوال ے کر ے اور پ ھ ر و ہ ا یک دوسرے س ے جدا ہ و جائ یں تو اگرچہ اتن ی مقدار کے متعلق معامل ہ صح یح ہے ل یکن جس کو پورا مال نہ ملا ہ و و ہ سودا فسخ کر سکتا ہے۔
2131 ۔ اگر چاند ی کی کان کی مٹی کو خالص چاندی سے اور سون ے ک ی کان کی سونے ک ی مٹی کو خالص سونے س ے ب یچا جائے تو سودا باطل ہے۔ مگر یہ کہ جب جانت ے ہ وں ک ہ مثلاً چاند ی کی مٹی کی مقدار خالص چاندی کی مقدار کے برابر ہے ل یکن جیسا کہ پ ہ ل ے ک ہ ا جاچکا ہے چاند ی کی مٹی کو سونے کے عوض اور سون ے ک ی مٹی کو سونے ک ے عوض اور سون ے ک ی مٹی کو چاندی کے عوض ب یچنے میں کوئی اشکال نہیں۔
2132 ۔ معامل ہ فسخ کرن ے ک ے حق کو "خِ یَار" کہ ت ے ہیں اور خریدار اور بیچنے والا گیارہ صورتوں میں معاملہ فسخ کر سکت ے ہیں :
1 ۔ جس مجلس م یں معاملہ ہ وا ہے و ہ برخاست ن ہ ہ وئ ی ہ و اگرچ ہ سودا ہ و چکا ہ و اس ے "خِ یَار مجلس" کہ ت ے ہیں۔
2 ۔ خر ید و خروفت کے معامل ے م یں خریدار یابیچنے والا نیز دوسرے معاملات م یں طرفین میں سے کوئ ی ایک مغبون ہ و جائ ے اس ے "خِ یارِ غبن" کہ ت ے ہیں (مغبون سے مراد و ہ شخص ہے جس ک ے سات ھ فرا ڈ ک یا گیا ہ و) خ یار کی اس قسم کا منشا عرف عام میں شرط ارتکازی ہ وتا ہے یعنی ہ ر معامل ے م یں فریقین ذہ ن م یں یہ شرط موجود ہ وت ی ہے ک ہ جو مال حاصل کر ر ہ ا ہے اس ک ی قیمت مال سے ب ہ ت ز یادہ کم نہیں جو وہ ادا کر ر ہ ا ہے اور اگر اس ک ی قیمت کم ہ و تو و ہ معامل ے کو ختم کرن ے کا حق رک ھ تا ہے ل یکن عرف خاص کی چند صورتوں میں ارتکازی شرط دوسری طرح ہ و مثلاً یہ شرط یہ کہ اگر جو مال ل یا ہ و و ہ بلحاظ ق یمت اس مال سے کم ہ و جو اس ن ے د یا ہے تو دونوں (مال) ک ے درم یان جو کمی بیشی ہ وگ ی اس کا مطالبہ کر سکتا ہے اور اگر ممکن ن ہ ہ وسک ے تو معامل ے کو ختم کر د ے اور ضرور ی ہے ک ہ اس قس م کی صورتوں میں عرف خاص کا خیال رکھ ا جائ ے۔
3 ۔ سودا کرت ے وقت یہ طے ک یا جائے ک ہ مقرر ہ مدت تک فر یقین کو یاکسی ایک فریق کو سودا فسخ کرنے کا اخت یار ہ وگا ۔ اس ے "خِ یارِ شرط" کہ ت ے ہیں۔
4 ۔ فر یقین میں سے ا یک فریق اپنے مال کو اس ک ی اصلیت سے ب ہ تر بتا کر پ یش کرے جس ک ی وجہ س ے دوسر فر یق اس میں دل چسپی لے یا اس کی دل چسپی اس میں بڑھ جائ ے اس ے "خ یار تدلیس"کہ ت ے ہیں۔
5 ۔ فر یقین میں سے ا یک فریق دوسرے ک ے سات ھ شرط کر ے ک ہ و ہ فلاں کام انجام د ے گا اور اس شرط پر عمل ن ہ ہ و یا شرط کی جائے ک ہ ا یک فریق دوسرے فر یق کو ایک مخصوص قسم کا معین مال دے گا اور جو مال د یا جائے اس م یں وہ خصوص یت نہ ہ و، اس صورت م یں شرط لگانے والا فر یق معاملے ک و فسخ کر سکتا ہے ۔ اس ے "خِ یارِ تَخَلُّفِ شرط" کہ ت ے ہیں۔
6 ۔ د ی جانے وال ی جنس یا اس کے عوض م یں کوئی عیب ہ و ۔ اس ے "خ یار عیب" کہ ت ے ہیں۔
7 ۔ یہ پتا چلے ک ہ فر یقین نے جس جنس کا سودا کیا ہے اس ک ی کچھ مقدار کس ی اور شخص کا مال ہے۔ اس صورت م یں اگر اس مقدار کا مالک سودے پر راض ی نہ ہ و تو خر یدنے والا سودا فسخ کر سکتا ہے یا اگر اتنی مقدار کی ادائیگی کر چکا ہ و تو اس ے واپس ل ے سکتا ہے۔ اس ے "خ یار شرکت" کہتے ہیں۔
8 ۔ جس مُعَ یَّن جنس کو دوسرے فر یق نے ن ہ د یکھ ا ہ و اگر اس جنس کا مالک اس ے اس ک ی خصوصیات بتائے اور بعد م یں معلوم ہ و ک ہ جو خصوص یات اس نے بتائ ی تھیں وہ اس م یں نہیں ہیں یا دوسرے فر یق نے پ ہ ل ے اس جنس کو د یکھ ا تھ ا او اس کا خ یال تھ ا ک ہ و ہ خصوص یات اب ابھی اس میں باقی ہیں لیکن دیکھ ن ے کے بعد معلوم ہ و ک ہ و ہ خصوص یات اب اس میں باقی نہیں ہیں تو اس صورت میں دوسرا فریق معاملہ فسخ کر سکتا ہے۔ اس ے "خِ یارِ رُویَت" کہ ت ے ہیں۔
9 ۔ خر یدار نے جو جنس خر یدی ہ و اگر اس ک ی قیمت تین دن تک نہ د ے اور ب یچنے والے ن ے ب ھی وہ جنس خر یدار کے حوال ے ن ہ ک ہ ہ و تو ب یچنے والا سودے کو ختم کر سکتا ہے ل یکن ایسا اس صورت میں ہ و سکتا ہے جب ب یچنے والے ن ے خر یدار کو قیمت ادا کرنے ک ی مہ لت د ی ہ و ل یکن مدت معین نہ ک ی ہ و ۔ اور اگر اس کو بالکل م ہ لت ن ہ د ی ہ و تو ب یچنے والا قیمت کی ادائیگی میں معمولی سی تاخیر سے ب ھی سودا ختم کر سکتا ہے ۔ اور اگر اسے ت ین دن سے ز یادہ مہ لت د ی ہ و تو مدت پور ی ہ ون ے س ے پ ہ ل ے سودا ختم ن ہیں کر سکتا۔ اس س ے یہ معلوم ہ و جاتا ہے ک ہ جو جنس ب یچی ہے اگر و ہ بعض ا یسے پھ لوں ک ی طرح ہ و جو ا یک دن باقی رہ ن ے س ے ضائع ہ و جات ے ہیں چنانچہ خر یدار رات تک اس کی قیمت نہ د ے اور یہ شرط بھی نہ کر ے ک ہ ق یمت دینے میں تاخیر کرے گا تو ب یچنے والا سودا ختم کر سکتا ہے۔ اس ے "خ یار تاخیر" کہ ت ے ہیں۔
10 ۔ جس شخص ن ے کوئ ی جانور خریدا ہ و و ہ ت ین دن تک سودا فسخ کر سکتا ہے اور جو چ یز اس نے ب یچی ہ و اگر اس ک ے عوض م یں خریدار نے جانور د یا ہ و تو جانور ب یچنے والا بھی تین دن تک سودا فسخ کر سکتا ہے۔ اس ے "خ یار حیوان" کہ ت ے ہیں۔
11 ۔ ب یچنے والے ن ے جو چ یز بیچی ہ و اگر اس کا قبض ہ ن ہ د ے سک ے مثلاً جو گ ھ و ڑ ا اس ن ے ب یچا ہ و و ہ ب ھ اگ گ یا ہ و تو اس صورت م یں خریدار سودا فسخ کر سکتا ہے اس ے "خ یار تَعَذُّر تسلیم" کہ ت ے ہیں۔
(خیارات کی) ان تمام اقسام کے (تفص یلی) احکام آئندہ مسائل م یں بیان کئے جائ یں گے۔
2133 ۔ اگر خر ید کو جنس کی قیمت کا علم نہ ہ و یا وہ سودا کرت ے وقت غفلت برت ے اور اس چ یز کو عام قیمت سے م ہ نگا خر یدے اور یہ قیمت خرید بڑی حد تک مہ نگ ی ہ و تو و ہ سودا ختم کر سکتا ہے بشرط یکہ سودا ختم کرتے وقت جس قدر فرق ہ و و ہ موجود ب ھی ہ و اور اگر فرق موجود ن ہ ہ و تو اس کے بار ے م یں معلوم نہیں کہ و ہ سودا ختم کر سکتا ہے۔ ن یز اگر بیچنے والے کو جنس ک ی قیمت کا علم نہ ہ و یا سودا کرتے وقت غفلت برت ے اور اس جنس کو اس ک ی قیمت سے سستا ب یچے اور بڑی حد تک سستا بیچے تو سابقہ شرط ک ے مطابق سودا ختم کر سکتا ہے۔
2134 ۔ مشروط خر ید و فروخت میں جب کہ مثال ک ے طور پر ا یک لاکھ روپ ے کا مکان پچاس ہ زار روپ ے م یں بیچ دیا جائے اور ط ے ک یا جائے ک ہ اگر ب یچنے والا مقررہ مدت تک رقم واپس کر د ے تو سودا فسخ کر سکتا ہے تو اگر خر یدار اور بیچنے والا خرید و فروخت کی نیت رکھ ت ے ہ وں تو سودا صحیح ہے۔
2135 ۔ مشروط خر یدوفرخت میں اگر بیچنے والے کو اطم ینان ہ و ک ہ خر یدار مقررہ مدت م یں رقم ادا نہ کر سکن ے ک ی صورت میں مال اسے واپس کر د ے گا تو سودا صح یح ہے ل یکن اگر وہ مدت ختم ہ ون ے تک رقم ادا ن ہ کر سک ے تو و ہ خر یدار سے مال ک ی واپسی کا مطالبہ کرن ے کا حق ن ہیں رکھ تا ا ور اگر خریدار مر جائے تو اس ک ے ورثاء س ے مال ک ی واپسی کا مطالبہ ن ہیں کر سکتا۔
2136 ۔ اگر کوئ ی شخص عمدہ چائ ے م یں گھٹیا چائے ک ہ ملاو ٹ کرک ے عمد ہ چائ ے ک ے طور پر بیچے تو خریدار سودا فتح کر سکتا ہے۔
2137 ۔ اگر خر یدار کو پتا چلے ک ہ جو مُعَ یَّن مال اس نے خر یدا ہے و ہ ع یب دار ہے مثلاً ا یک جانور خریدے اور (خریدنے کے بعد) اس ے پتا چل ے ک ہ اس ک ی ایک آنکھ ن ہیں ہے ل ہ ذا اگر یہ عیب مال میں سودے س ے پ ہ ل ے ت ھ ا اور اس ے علم ن ہیں تھا تو وہ سودا فسخ کر سکتا ہے اور مال ب یچنے والے کو واپس کر سکتا ہے اور اگر واپس کرنا ممکن ن ہ ہ و مثلاً اس مال م یں کوئی تبدیلی ہ وگئ ی ہ و یا ایسا تصرف کر لیا گیا ہ و جو واپس ی میں رکاوٹ بن ر ہ ا ہ و تو اس صورت م یں وہ ب ے ع یب اور عیب دار مال کی قیمت کے فرق کا حساب کرک ے ب یچنے والے س ے (فرق ک ی) رقم واپس لے ل ے مثلاً اگر س ن ے کوئ ی مال چار روپے م یں خریدار ہ و اور اس ے اس ک ے ع یب دار ہ ون ے کا علم ہ و جائ ے تو اگر ا یسا ہی بے ع یب مال (بازار میں) آٹھ روپ ے کا اور ع یب دار چھ روپ ے کا ہ و تو چونک ہ ب ے ع یب اور عیب دار کی قیمت کا فرق ایک چوتھ ائ ی ہے اس لئ ے اس ن ے جتن ی رقم دی ہے اس کا ایک چوتھ ائ ی یعنی ایک روپیہ بیچنے والے س ے واپس ل ے سکتا ہے۔
2138 ۔ اگر ب یچنے والے کو پتا چل ے ک ہ اس ن ے جس مع ین عوض کے بدل ے اپنا مال ب یچا ہے اس م یں عیب ہے تو اگر و ہ ع یب اس عوض میں سودے س ے پ ہ ل ے موجود ت ھ ا اور اس ے علم ن ہ ہ وا ہ و تو و ہ سودا فسخ کر سکتا ہے اور و ہ عوض اس ک ے مالک کو واپس کر سکتا ہے ل یکن اگر تبدیلی یا تصرف کی وجہ سے واپس ن ہ کر سک ے تو ب ے ع یب اور عیب دار کی قیمت کا فرق اس قاعدے ک ے مطابق ل ے سکتا ہے جس کا ذکر سابق ہ مسئل ے م یں کیا گیا ہے۔
2139 ۔ اگر سودا کرن ے ک ے بعد اور قبض ہ د ینے سے پ ہ ل ے مال م یں کوئی عیب پیدا ہ و جائ ے تو خر یدار سودا فسخ کرسکتا ہے ن یز جو چیز مال کے عوض د ی جائے اگر اس م یں سودا کرنے ک ے بعد اور قبض ہ د ینے سے پ ہ ل ے کوئ ی عیب پیدا ہ و جائ ے تو ب یچنے والا سودا فسخ کر سکتا ہے اور اگر فر یقین قیمت کا فرق لینا چاہیں تو سودا طے ن ہ ہ ون ے ک ی صورت میں چیز کو لوٹ انا جائز ہے۔
2140 ۔ اگر کس ی شخص کو مال کے ع یب کا علم سودا کرنے ک ے بعد ہ و تو اگر و ہ (سودا ختم کرنا) چا ہے تو ضرور ی ہے ک ہ فوراً سود ے کو ختم کرد ے اور ۔ اختل اف کی صورتوں کو پیش نظر رکھ ت ے ہ وئ ے ۔ اگر معمول س ے ز یادہ تاخیر کرے تو و ہ سود ے کو ختم ن ہیں کر سکتا۔
2141 ۔ جب کس ی شخص کو کوئی جنس خریدنے کے بعد اس ک ے ع یب کا پتا چلے تو خوا ہ ب یچنے والا اس پر تیار نہ ب ھی ہ و خر یدار سودا فسخ کر سکتا ہے اور دوسر ے خ یارات کے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے۔
2142 ۔ چار صورتوں م یں خریدار مال میں عیب ہ ون ے ک ی بنا پر سودا فسخ نہیں کر سکتا اور نہ ہی قیمت کا فرق لے سکتا ہے۔
1 ۔ خر یدتے وقت مال کے ع یب سے واقف ہ و ۔
2 ۔ مال ک ے ع یب کو قبول کرے۔
3 ۔ سودا کرت ے وقت ک ہے : "اگر مال م یں عیب ہ و تب ب ھی واپس نہیں کروں گا اور قیمت کا فرق بھی نہیں لوں گا"۔
4 ۔ سود ے ک ے وقت ب یچنے والا کہے " م یں اس مال کو جو عیب بھی اس میں ہے اس ک ے سات ھ ب یچتا ہ وں"ل یکن اگر وہ ا یک عیب کا تعین کر دے اور ک ہے "م یں اس مال کو فلاں عیب کے سات ھ ب یچ رہ ا ہ وں" اور بعد م یں معلوم ہ و ک ہ مال م یں کوئی دوسرا عیب بھی ہے تو جو ع یب بیچنے والے ن ے مع ین نہ کیا ہ و اس ک ی بنا پر خریدار وہ مال واپس کرسکتا ہے اور اگر واپس ن ہ کرسک ے تو ق یمت کا فرق لے سکتا ہے۔
2143 ۔ اگر خر یدار کو معلوم ہ و ک ہ مال م یں ایک عیب ہے اور اس ے وصول کرن ے ک ے بعد اس م یں کوئی اور عیب نکل آئے تو و ہ سودا فسخ ن ہیں کرسکتا لیکن بے ع یب اور عیب دار مال کا فرق لے سکتا ہے ل یکن اگر وہ ع یب دار حیوان خریدے اور خیار کی مدت جو کہ ت ین دن ہے گزرن ے س ے پ ہ ل ے اس حیوان میں کسی اور عیب کا پتا چل جائے تو گو خر یدار نے اس ے اپن ی تحویل میں لے ل یا ہ و پ ھ ر ب ھی وہ اس ے واپس کر سکتا ہے۔ ن یز اگر فقط خریدار کو کچھ مدت تک سودا فسخ کرن ے کا حق حاصل ہ و اور اس مدت ک ے دوران مال م یں کوئی دوسرا عیب نکل آئے تو اگرچ ہ خر یدار نے و ہ مال اپنی تحویل میں لے ل یا ہ و و ہ سودا فسخ کر سکتا ہے۔
2144 ۔ اگر کس ی شخص کے پاس ا یسا مال ہ و جس ے اس نے بچشم خود ن ہ د یکھ ا ہ و اور کس ی دوسرے شخص ن ے مال ک ی خصوصیات اسے بتائ ی ہ وں اور و ہی خصوصیات خریدار کو بتائے اور و ہ مال اس ک ے ہ ات ھ ب یچ دے اور بعد م یں اسے ( یعنی مالک کو) پتا چلے ک ہ و ہ مال اس س ے ب ہ تر خصوص یات کا حامل ہے تو وہ سودا فسخ کر سکتا ہے۔
2145 ۔ اگر ب یچنے والا خریدار کو کسی جنس کی قیمت خرید بتائے تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ تمام چ یزیں بھی اسے بتائ ے جن ک ی وجہ س ے مال ک ی قیمت گھٹ ت ی بڑھ ت ی ہے اگرچ ہ اس ی قیمت پر (جس پر خریدار ہے ) یا اس سے ب ھی کم قیمت پر بیچے۔ مثلاً اس ے بتاتا ضرور ی ہے ک ہ مال نقد خر یدا ہے یا ادھ ار لہ ذا اگر مال ک ی کچھ خصوص یات نہ بتائ ے اور خر یدار کو بعد میں معلوم ہ و تو و ہ سودا فسخ کر سکتا ہے۔
2146 ۔ اگر انسان کوئ ی جنس کسی کو دے اور اس ک ی قیمت معین کر دے اور ک ہے " یہ جنس اس قیمت پر بیچو اور اس سے ز یادہ جتنی قیمت وصول کرو گے و ہ تم ہ ار ی محنت کی اجرت ہ وگ ی" تو اس صورت میں وہ شخص اس ق یمت سے ز یادہ جتنی قیمت بھی وصول کرے و ہ جنس ک ے مالک کامال ہ وگا اور ب یچنے والا مالک سے فقط محنتان ہ ل ے سکتا ہے ل یکن اگر معاہ د ہ بطور جعال ہ ہ و اور مال کا مالک ک ہے ک ہ اگر تو ن ے یہ جنس اس قیمت سے ز یادہ پر بیچی تو فاضل آمدنی تیرا مال ہے تو اس م یں کوئی حرج نہیں۔
2147 ۔ اگر قصاب نر جانور کا گوشت ک ہہ کر ماد ہ کا گوشت ب یچے تو وہ گن ہ گار ہ وگال ہ ذا اگر و ہ اس گوشت کا مع ین کر دے اور ک ہے ک ہ م یں یہ نر جانور کا گوشت بیچ رہ ا ہ وں تو خر یدار سودا فسخ کرسکتا ہے اور اگر قصاب اس گوشت کو مع ین نہ کر ے اور خریدار کو جو گوشت ملا ہ و ( یعنی مادہ کا گوشت) وہ اس پر راض ی نہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ قصاب اس ے نر جانور کا گوشت د ے۔
2148 ۔ اگر خر یدار بزاز سے ک ہے ک ہ مج ھے ا یسا کپڑ ا چا ہ ئ ے جس کا رنگ کچا ن ہ ہ و اور بزاز ا یک ایسا کپڑ ا اس ک ے ہ ات ھ فروخت کر ے جس کا رنگ کچا ہ و تو خر یدار سودا فسخ کر سکتا ہے۔
2149 ۔ ل ین دین میں قسم کھ انا اگر سچ ی ہ و تو مکرو ہ ہے اور اگر ج ھ و ٹی ہ و تو حرام ہے۔
2150 ۔ دو آدم ی اگر باہ م ط ے کر یں کہ اپن ے مشترک مال س ے ب یوپار کرکے جو کچ ھ نفع کمائ یں گے اس ے آپس م یں تقسیم کر لیں گے اور و ہ عرب ی یا کسی اور زبان میں شراکت کا صیغہ پڑھیں یا کوئی ایسا کام کریں جس سے ظا ہ ر ہ وتا ہ و ک ہ و ہ ا یک دوسرے ک ے شر یک بننا چاہ ت ے ہیں تو ان کی شراکت صحیح ہے۔
2151 ۔ اگر چند اشخاص اس مزدور ی میں جو وہ اپن ی محنت سے حاصل کرت ے ہ وں ا یک دوسرے ک ے سات ھ شراکت کر یں مثلاً چند حجام آپس میں طے کر یں کہ جو اجرت حاصل ہ وگ ی اسے آپس م یں تقسیم کر لیں گے تو ان ک ی شراکت صحیح نہیں ہے۔ ل یکن اگر باہ م ط ے کر ل یں کہ مثلاً ہ ر ا یک آدھی مزدوری معین مدت تک کے لئ ے دوسر ے ک ی آدھی مزدوری کے بدل ے م یں ہ وگ ی تو معاملہ صح یح ہے۔ اور ان م یں سے ہ ر ا یک دوسرے ک ی مزدوری میں شریک ہ وگا ۔
2152 ۔ اگر و ہ اشخاص آپس م یں اس طرح شراکت کریں کہ ان م یں سے ہ ر ا یک اپنی ذمے دار ی پر جنس خریدے اور اس کی قیمت کی ادائیگی کا بھی خود ذمے دار ہ و ل یکن جو جنس انہ وں ن ے خر یدی ہ و اس ک ے نفع م یں ایک دوسرے ک ے سات ھ شر یک ہ وں تو ا یسی شراکت صحیح نہیں، البتہ اگر ان م یں سے ہ ر ا یک دوسرے کو اپنا وک یل بنائے ک ہ جو کچ ھ و ہ اد ھ ار ل ے ر ہ ا ہے اس م یں اسے شر یک کر لے یعنی جنس کو اپنے اور اپن ے حص ہ دار ک ے لئ ے خر یدے۔ جس ک ی بنا پر دونوں مقروض ہ وجائ یں تو دونوں میں سے ہ ر ا یک جنس میں شریک ہ و جائ ے گا ۔
2153 ۔ جو اشخاص شراکت ک ے ذریعے ایک دوسرے ک ے شر یک کار بن جائیں ان کے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ بالغ اور عاقل ہ وں ن یز یہ کہ اراد ے اور اخت یار کے سات ھ شراکت کر یں اور یہ بھی ضروری ہے ک ہ و ہ اپن ے مال م یں تصرف کر سکتے ہ وں ل ہ ذا چونک ہ سف یہ ۔ جو اپنا بال احمقان ہ اور فضول کاموں پر خرچ کرتا ہے۔ اپن ے مال م یں تصرف کا حق نہیں رکھ تا اگر و ہ کس ی کے سات ھ شراکت کر ے تو صح یح نہیں ہے۔
2154 ۔ اگر شراکت ک ے معا ہ د ے م یں یہ شرط لگائی جائے ک ہ جو شخص کام کر ے گا یا جو دوسرے شر یک سے ز یادہ حصہ مل ے گا تو ضرور ی ہے ک ہ ج یسا طے ک یا گیا ہ و متعلق ہ شخص کو اس ک ے مطابق د یں اور اسی طرح اگر شرط لگائی جائے ک ہ جو شخص کام ن ہیں کرے گا یا زیادہ کام نہیں کرے گا یا جس کے کام ک ی دوسرے ک ے کام ک ے مقابل ے م یں زیادہ اہ م یت نہیں ہے اس ے منافع کا ز یادہ حصہ مل ے گا تب ب ھی شرط صحیح ہے اور ج یسا طے ک یا گیا ہ و متعلق ہ شخص کو اس ک ے مطابق د یں۔
2155 ۔ اگر شرکاء ط ے کر یں کہ سارا منافع کس ی ایک شخص کا ہ وگا یا سار نقصان کسی ایک کو برداشت کرنا ہ وگا تو شراکت صح یح ہ ون ے م یں اشکال ہے۔
2156 ۔ اگر شرکاء یہ طے ن ہ کر یں کہ کس ی ایک شریک کو زیادہ منافع ملے گا تو اگر ان م یں سے ہ ر ا یک کا سرمایہ ایک جتنا ہ و تو نفع نقصان ب ھی ان کے ماب ین برابر تقسیم ہ وگا اور ان کا سرما یہ برابر برابر نہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نفع نقصان سرمائ ے ک ی نسبت سے تقس یم کریں مثلاً اگر دو افراد شراکت کریں اور ایک کا سرمایہ دوسرے ک ے سرمائ ے س ے دُگنا ہ و تو نفع نقصان م یں بھی اس کا حصہ دوسر ے س ے دگنا ہ وگا خوا ہ دونوں ا یک جتنا کام کریں یا ایک تھ و ڑ ا کام کر ے یا بالکل کام نہ کر ے۔
2157 ۔ اگر شراکت ک ے معا ہ د ے م یں یہ طے ک یا جائے ک ہ دونوں شر یک مل کر خریدوفروخت کریں گے یا ہ ر ا یک انفرادی طور پر لین دین کرنے کا مجاز ہ وگا یا ان میں سے فقط ا یک شخص لین دین کرے گا یا تیسرا شخص اجرت پر لین دین کرے گا تو ضرور ی ہے ک ہ اس معا ہ د ے پر عمل کر یں۔
2158 ۔ اگر شرکاء یہ معین نہ کر یں کہ ان م یں سے کون سرمائ ے ک ے سات ھ خر یدوفروخت کرے گا تو ان م یں سے کوئ ی بھی دوسرے ک ی اجازت کے بغ یر اس سرمائے س ے ل ین دین نہیں کر سکتا۔
2159 ۔ جو شر یک شراکت کے سرمائ ے پر اخت یار رکھ تا ہ و اس ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ شراکت ک ے معا ہ د ے پر عمل کر ے مثلاً اگر اس س ے ط ے ک یا گیا ہ و ک ہ اد ھ ار خر یدے گا یا نقد بیچے گا یا کسی خاص جگہ س ے خر یدے گا تو جو معاہ د ہ ط ے پا یا ہے اس ک ے مطابق عمل کرنا ضرور ی ہے اور اگر اسک ے س اتھ کچھ ط ے ن ہ ہ وا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ معمول ک ے مطابق ل ین دین کرے تاک ہ شراکت کو نقصان ن ہ ہ و ۔ ن یز اگر عام روش کے عَلَ ی الرَّغم ہ و تو سفر م یں شراکت کا مال اپنے ہ مرا ہ ن ہ ل ے جائ ے۔
2160 ۔ جو شر یک شراکت کے سرمائ ے س ے سود ے کرتا ہ و اگر جو کچ ھ اس ک ے سات ھ ط ے ک یا گیا ہ و اس ک ے برخلاف خر یدوفروخت کرے یا اگر کچھ ط ے ن ہ ک یا گیا ہ و اور معمول ک ے خلاف سودا کر ے تو ان دونوں صورتوں م یں اگرچہ اقو ی قول کی بنا پر معاملہ صح یح ہے ل یکن اگر معاملہ نقصان د ہ ہ و یا شراکت کے مال م یں سے کچ ھ مال ضائع ہ و جائ ے تو جس شر یک نے معا ہ د ے یا عام روش کے عَلَی الَّرغم عمل کیا ہ و و ہ ذم ے دار ہے۔
2161 ۔ جو شر یک شراکت کے سرمائ ے س ے کاروبار کرتا ہ و اگر و ہ فضول خرچ ی نہ کر ے اور سرمائ ے ک ی نگہ داشت م یں بھی کوتاہی نہ کر ے اور پ ھ ر اتفاقاً اس سرمائ ے ک ی کچھ مقدار یا سارے کا سار سرما یہ تلف ہ وجائ ے تو و ہ ذم ے دار ن ہیں ہے۔
2162 ۔ جو شر یک شراکت کے سرمائ ے س ے کاروبار کرتا ہ و اگر و ہ ک ہے ک ہ سرما یہ تلف ہ وگ یا ہے تو اگر و ہ دوسر ے شرکاء ک ے نزد یک معتبر شخص ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا ک ہ نا ل یں۔ اور اگر دوسر ے شرکاء ک ے نزد یک وہ معتبر شخص ن ہ ہ و تو شرکاء حاکم شرع ک ے پاس اس ک ے خلاف دعو ی کر سکتے ہیں تاکہ حاکم شرع قضاوت ک ے اصولوں ک ے مطابق تنازع کا ف یصلہ کرے۔
2163 ۔ اگر تمام شر یک اس اجازت سے جو ان ہ وں ن ے ا یک دوسرے کو مال م یں تصرف کے لئ ے د ے رک ھی ہ و پ ھ ر جائ یں تو ان میں سے کوئ ی بھی شراکت کے مال م یں تصرف نہیں کر سکتا اور اگر ان میں سے ا یک اپنی دی ہ وئ ی اجازت سے پ ھ ر جائ ے تو دوسر ے شرکاء کو تصرف کا کوئ ی حق نہیں لیکن جو شخص اپنی دی ہ وئ ی اجازت سے پ ھ ر گ یا ہ و و ہ شراکت ک ے مال م یں تصرف کر سکتا ہے۔
2164 ۔ جب شرکاء م یں سے کوئ ی ایک تقاضا کرے ک ہ شراکت کا سرما یہ تقسیم کر دیا جائے تو اگرچ ہ شراکت ک ی معینہ مدت میں ابھی کچھ وقت باق ی ہ و دوسروں کو اس کا ک ہ نا مان ل ینا ضروری ہے مگر یہ کہ ان ہ وں ن ے پ ہ ل ے ہی (معاہ د ہ کرت ے وقت) سرمائ ے ک ی تقسیم کو رد کر دیا ہ و ( یعنی قبول نہ ک یا ہ و) یا مال کی تقسیم شرکاء کے لئ ے قابل ذکر نقصان کا موجب ہ و (تو اسک ی بات قبول نہیں کرنی چاہ ئ ے ) ۔
2165 ۔ اگر شرکاء میں سے کوئ ی مرجائے یا دیوانہ یا بے حواس ہ و جائ ے تو دوسر ے شرکاء شراکت ک ے مال م یں تصرف نہیں کرسکتے اور اگر ان م یں سے کوئ ی سفیہ ہ و جائ ے یعنی اپنا مال احمقانہ اور فضول کاموں م یں خرچ کرے تو اس کا ب ھی یہی حکم ہے۔
2166 ۔ اگر شر یک اپنے لئ ے کوئ ی چیز ادھ ار خر یدے تو اس نفع نقصان کا وہ خود ذم ے دار ہے ل یکن اگر شراکت کے لئ ے خر یدے اور شراکت کے معا ہ د ے م یں ادھ ار معامل ہ کرنا ب ھی شامل ہ و تو پ ھ ر نفع نقصان م یں دونوں شریک ہ وں گ ے۔
2167 ۔ اگر شراکت ک ے سرمائ ے س ے کوئ ی معاملہ ک یا جائے اور بعد م یں معلوم ہ و ک ہ شراکت باطل ت ھی تو اگر صورت یہ ہ و ک ہ معامل ہ کرن ے ک ی اجازت میں شراکت کے صح یح ہ ون ے ک ی قید نہ ت ھی یعنی اگر شرکاء جانتے ہ وت ے ک ہ شراکت درست ن ہیں ہے تب ب ھی وہ ا یک دوسرے ک ے مال م یں تصرف پر راضی ہ وت ے تو معامل ہ صح یح ہے اور جو کچ ھ اس معامل ے س ے حاصل ہ و و ہ ان سب کا مال ہے۔ اور اگر صورت یہ نہ ہ و تو جو لوگ دوسروں ک ے تصرف پر راض ی نہ ہ وں اگر و ہ یہ کہہ د یں کہ ہ م اس معامل ے پر راض ی ہیں تو معاملہ صح یح ہے۔ ورن ہ باطل ہے۔ دونوں صورتوں م یں ان میں سے جس ن ے ب ھی شراکت کے لئ ے کام ک یا ہ و اگر اس ن ے بلامعاوض ہ کام کرن ے ک ے اراد ے س ے ن ہ ک یا ہ و تو و ہ اپن ی محنت کا معاوضہ معمول ک ے مطابق دوسر ے شرکاء س ے ان ک ے مفاد کا خ یال رکھ ت ے ہ وئ ے ل ے سکتا ہے۔ ل یکن اگر کام کرنے کا معاوض ہ اس فائد ہ ک ی مقدار سے ز یادہ ہ و جو و ہ شراکت صح یح ہ ون ے ک ی صورت میں لیتا تو وہ بس اس ی قدر فائدہ ل ے سکتا ہے۔
2168 ۔ "صُلح" س ے مراد ہے کہ انسان کس ی دوسرے شخص ک ے سات ھ اس بات پر اتفاق کر ے ک ہ اپن ے مال س ے یا اپنے مال ک ے منافع س ے کچ ھ مقدار دوسر ے کو د ے د ے یا اپنا قرض یا حق چھ و ڑے د ے تاک ہ دوسرا ب ھی اس کے عوض اپن ے مال یا منافع کی کچھ مقدار اس ے د ے د ے یا قرض یا حق سے دستبردار ہ و جائے۔ بلک ہ اگر کوئ ی شخص عوض لئے بغ یر کسی سے اتفاق کر ے اور اپنا مال یا مال کے منافع ک ی کچھ مقدار اس کو د ے د ے یا اپنا قرض یا حق چھ و ڑ د ے تب ب ھی صلح صحیح ہے۔
2169 ۔ جو شخص اپنا مال بطور صلح دوسر ے کو د ے اس ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ و ہ بالغ اور عاقل ہ و اور صلح کا قصد رک ھ تا ہ و ن یز یہ کہ کس ی نے اس ے صلح پر مجبور ن ہ ک یا ہ و اور ضرور ی ہے ک ہ سَف یہ یا دیوالیہ ہ ون ے ک ی بنا پر اسے اپن ے مال م یں تصرف کرنے س ے ن ہ روکا گ یا ہ و ۔
6170 ۔ صلح کا ص یغہ عربی میں پڑھ نا ضرور ی نہیں بلکہ جن الفاظ س ے اس بات کا اظ ہ ار ہ و ک ہ فر یقین نے آپس م یں صلح کی ہے (توصلح) صح یح ہے۔
2171 ۔ اگر کوئ ی شخص اپنی بھیڑیں چرواہے کود ے تاک ہ و ہ مثلاً ا یک سال ان کی نگہ داشت کر ے یا انکے دود ھ س ے خود استفاد ہ حاصل کر ے اور گ ھی کی کچھ مقدار مالک کو د ے تو اگر چروا ہے ک ی محنت اور اس گھی کے مقابل ے م یں وہ شخص ب ھیڑ وں کے دود ھ پر صل ے کر ے تو معامل ہ صح یح ہے بلک ہ اگ ر بھیڑیں چرواہے کو ا یک سال کے لئ ے اس شرط ک ے سات ھ اجار ے پر د ے ک ہ و ہ ان ک ے دود ھ س ے استفاد ہ حاصل کر ے اور اس ک ے عوض اس ے کچ ھ گ ھی دے مگر یہ قید نہ لگائ ے ک ہ بالخصوص ان ھی بھیڑ وں کے دود ھ کا گ ھی ہ و تو اجار ہ صح یح ہے۔
2172 ۔ اگر کوئ ی قرض خواہ اس قرض ک ے بدل ے جو اس ے مقروض سے وصول کرنا ہے یا اپنے حق ک ے بدل ے اس شخص س ے صلح کرنا چا ہے تو یہ صلح اس صورت میں صحیح ہے جب دوسرا اس ے قبول کرل ے ل یکن اگر کوئی شخص اپنے قرض یا حق سے دستبردار ہ ونا چا ہے تو دوسر ے کا قبول کرنا ضرور ی نہیں۔
2173 ۔ اگر مقروض اپن ے قرض ے ک ی مقدار جانتا ہ و جبک ہ قرض خ واہ کو علم ن ہ ہ و اور قرض خوا ہ ن ے جو کچ ھ ل ینا ہ و اس س ے کم پر صلح کر ے مثلا اس ن ے پچاس روپ ے ل ینے ہ وں اور دس روپ ے پر صلح کرل ے تو باق یماندہ رقم مقروض کے لئ ے حلال ن ہیں ہے۔ سوائ ے اس صورت ک ے ک ہ و ہ جتن ے قرض کا د ین دار ہے اس ک ے متعلق خود قرض خوا ہ کو بتائ ے اور اس ے را ضی کرے یا صورت ایسی ہ و ک ہ اگر قرض خوا ہ کو قرض ے ک ی مقدار کا علم ہ و تاتب ب ھی وہ اس ی مقدار (یعنی دس روپے پر صلح کر ل یتا۔
2174 ۔ اگر دو آدم یوں کے پاس کوئ ی مال موجود ہ و یا ایک دوسرے ک ے ذم ے کوئ ی مال باقی ہ و اور ان ہیں یہ علم ہ و ک ہ ان دونوں اموال م یں سے ا یک مال دوسرے مال س ے ز یادہ ہے تو چونک ہ ان دونوں اموال کو ا یک دوسرے ک ے عوض م یں فروخت کرنا سود ہ ون ے ک ی بنا پر حرام ہے اس لئ ے ان دو نوں میں ایک دوسرے ک ے عوض صلح کرنا ب ھی حرام ہے بلک ہ اگر ان دونوں اموال م یں سے ا یک کے دوسر ے س ے ز یادہ ہ ون ے کا علم ن ہ ب ھی ہ و ل یکن زیادہ ہ ون ے کا احتمال ہ و تو احت یاط لازم کی بنا پر ان دونوں میں ایک دوسرے ک ے عوض صلح ن ہیں کی جاسکتی۔
2175 ۔ اگر دو اشخاص کو ا یک شخص سے یا دو اشخاص کو اشخاص سے قرض ہ وصول کرنا ہ و اور و ہ اپن ی اپنی طلب پر ایک دوسرے س ے صلح کرنا چا ہ ت ے ہ وں ۔ چنانچ ہ اگر صلح کرنا سود کا باعث ن ہ ہ و ج یسا کہ سابق ہ مسئل ے م یں کہ ا گ یا ہے تو کوئ ی حرج نہیں ہے مثلاً اگر دونوں کو دس من گ یہ وں وصول کرنا ہ و اور ا یک کا گیہ وں اعلی اور دوسرے کا درم یانے درجے کا ہ و اور دونوں ک ی مدت پوری ہ وچک ی ہ و تو ا ن دونوں کا آپس میں مصالحت کرنا صحیح ہے۔
2176 ۔ اگر ا یک شخص کو کسی سے اپنا قرض ہ کچ ھ مدت ک ے بعد واپس ل ینا ہ و اور و ہ مقروض ک ے سات ھ مقرر ہ مدت س ے پ ہ ل ے مع ین مقدار سے کم پر صلح کرل ے اور اس کا مقصد یہ ہ و ک ہ اپن ے قرض ے کا کچ ھ حص ہ معاف کرد ے اور باق یماندہ نقد لے ل ے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور یہ حکم اس صورت میں ہے ک ہ قرض ہ سون ے یا چاندی کی شکل میں یا کسی ایسی جنس کی شکل میں ہ و جو ناپ کر یا تول کر بیچی جاتی ہے اور اگر جنس اس قسم ک ی نہ ہ و تو قرض خوا ہ ک ے لئ ے جائز ہے ک ہ اپن ے قرض ے کو مقروض س ے یا کسی اور شخص سے کمتر مقدار پر صلح کرل ے یا بیچ دے ج یسا کہ مسئل ہ 2297 میں بیان ہ وگا ۔
2177 ۔ اگر دو اشخاص کس ی چیز پر آپس میں صلح کرلیں تو ایک دوسرے ک ی رضامندی سے اس صلح کو تو ڑ سکت ے ہیں۔ ن یز اگر سودے ک ے سلسل ے م یں دونوں کو یا کسی ایک کو سودا فسخ کرنے کا حق د یا گیا ہ و تو جس ک ے پاس حق ہے ، و ہ صلح کو فسخ کر سکتا ہے۔
2178 ۔ جب تک خر یدار اور بیچنے والا ایک دوسرے س ے جدا ن ہ ہ وگئ ے ہ وں و ہ سود ے کو فسخ کرسکت ے ہیں۔ ن یز اگر خریدار ایک جانور خریدے تو وہ ت ین دن تک سودا فسخ کرنے کا حق رک ھ تا ہے۔ اس ی طرح اگر ایک خریدار خریدی ہ وئ ی جنس کی قیمت تین دن تک ادا نہ کر ے اور جنس کو اپن ی تحویل میں نہ ل ے تو ج یسا کہ مسئل ہ 2132 میں بیان ہ وچکا ہے ب یچنے والا سودے کو فسخ کرسکتا ہے ل یکن جو شخص کسی مال پر صلح کرے و ہ ان ت ینوں صورتوں میں صلح فسخ کرنے کا حق ن ہیں رکھ تا ۔ ل یکن اگر صلح کا دوسرا فریق مصالحت کا مال دینے میں غیر معمولی تاخیر کرے یا یہ شرط رکھی گئی ہ و ک ہ مصالحت کا مال نقد د یا جائے اور دوسرا فر یق اس شرط پر عمل نہ کر ے تو اس صورت م یں صلح فسخ کی جاسکتی ہے۔ اور اس ی طرح باقی صورتوں میں بھی جن کا ذکر خرید و فروخت کے احکام م یں آیا ہے صلح فسخ ک ی جاسکتی ہے مگر مصالحت ک ے دونوں فر یقوں میں سے ا یک کو نقصان ہ و تو اس صورت میں معلوم نہیں کہ سودا فسخ ک یا جاسکتا ہے ( یانہیں)
2179 ۔ جو چ یز بذریعہ صلح ملے اگر و ہ ع یب دار ہ و تو صلح فسخ ک ی جاسکتی ہے ل یکن اگر متعلقہ شخص ب ے ع یب اور عیب دار کے ماب ین قیمت کا فرق لینا چاہے تو اس م یں اشکال ہے۔
2180 ۔ اگر کوئ ی شخص اپنے مال ک ے ذر یعے دوسرے س ے صلح کر ے اور اس ک ے سات ھ شرط ٹھہ رائ ے اور ک ہے "جس چ یز میں نے تم س ے صلح ک ی ہے م یرے مرنے ک ے بعد مثلاً تم اس ے وقف کر دو گ ے " اور دوسرا شخص ب ھی اس کو قبول کرلے تو ضرور ی ہے ک ہ اس شرط پر عمل کر ے۔
2181 ۔ کوئ ی چیز کرائے پر د ینے والے اور کرائ ے پر ل ینے والے ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ بالغ اور عاقل ہ ون اور کرا یہ لینے یا کرایہ دینے کا کام اپنے اخت یاط سے کر یں۔ اور یہ بھی ضروری ہے ک ہ اپن ے مال م یں تصرف کا حق رکھ ت ے ہ وں ل ہ ذا چونک ہ سَفِ یہ اپنے مال م یں تصرف کرنے کا حق ن ہیں رکھ تا اس لئ ے ن ہ و ہ کوئ ی چیز کرائے پر ل ے سکتا ہے اور ن ہ د ے سکتا ہے۔ اس ی طرح جو شخص دیوالیہ ہ و چکا ہ و و ہ ان چ یزوں کو کرائے پر ن ہیں دے سکتا جن م یں وہ تصرف کا حق ن ہ رک ھ تا ہ و اور ن ہ و ہ ان م یں سے کوئ ی چیز کرائے پر ل ے سکتا ہے ل یکن اپنی خدمات کو کرائے پر پ یش کر سکتا ہے۔
2182 ۔ انسان دوسر ے ک ی طرف سے وک یل بن کر اس کا مال کرائے پر د ے سکتا ہے یا کوئی مال اس کے لئ ے کرائ ے پر ل ے سکتا ہے۔
2183 ۔ اگر بچ ے کا سرپرست یا اس کے مال کا منتظم بچ ے کا مال کرائ ے پر د ے یا بچے کو کس ی کا اجیر مقرر کر دے تو کوئ ی حرج نہیں اور اگر بچے ک ے بالغ ہ ون ے ک ے بعد ک ی کچھ مدت کو ب ھی اجارے ک ی مدت کا حصہ قرار د یا جائے تو بچ ہ بالغ ہ ون ے ک ے بعد باق یماندہ اجارہ فسخ کرسکتا ہے اگرچ ہ صورت یہ ہ و ک ہ اگر بچ ے ک ے بالغ ہ ون ے ک ی کچھ مدت کو اجار ہ ک ی مدت کا حصہ ن ہ بنا یا جاتا تو یہ بچے ک ے لئ ے مص لحت کے عل ی الرغم ہ وتا ۔ ہ اں اگر و ہ مصلحت ک ہ جس ک ے بار ے م یں یہ علم ہ و ک ہ شارع مُقدس اس مصلحت کو ترک کرن ے پر راض ی نہیں ہے اس صورت م یں اگر حاکم شرع کی اجازت سے اجار ہ وقع ہ و جائ ے تو بچ ہ بالغ ہ ون ے ک ے بعد اجار ہ فسخ ن ہیں کرسکتا۔
2184 ۔ جس نابالغ بچ ے کا سرپرست ن ہ ہ و اس ے مجت ہ د ک ی اجازت کے بغ یر مزدوری پر نہیں لگایا جاسکتا اور جس شخص کی رسائی مجتہ د تک ن ہ ہ و و ہ ا یک مومن شخص کی اجازت لے کر جو عادل ہ و بچ ے کو مزدور ی پر لگا سکتا ہے۔
2175 ۔ اجار ہ د ینے والے اور اجار ہ ل ینے والے ک ے لئ ے ضرور ی نہیں کہ ص یغہ عربی زبان میں پڑھیں بلکہ اگر کس ی چیز کا مالک دوسرے س ے ک ہے ک ہ م یں نے اپنا مال تم ہیں اجارے پر د یا اور دوسرا کہے ک ہ م یں نے قبول ک یا تو اجارہ صح یح ہے بلک ہ اگر و ہ من ہ س ے کچ ھ ب ھی نہ ک ہیں اور مالک اپنا مال اجارے ک ے قصد س ے مُستاجِر کو د ے اور و ہ ب ھی اجارے ک ے قصد س ے ل ے تو اجار ہ صح یح ہ وگا ۔
2186 ۔ اگر کوئ ی شخص چاہے ک ہ اجار ے کا ص یغہ پڑھے بغ یر کوئی کام کرنے ک ے لئ ے اج یر بن جائے جون ہی وہ کام کر ے م یں مشغول ہ وگا اجار ہ صح یح ہ وجائ ے گا ۔
2187 ۔ جو شخص بول ن ہ سکتا ہ و اگر و ہ اشار ے س ے سمج ھ ا د ے ک ہ اس ن ے کوئ ی چیز اجارے پر دی ہے یا اجارے پرل ی ہے تو اجار ہ صح یح ہے۔
2188 ۔ اگر کوئ ی شخص مکان یا دکان یا کشتی یا کمرہ اجار ے پر ل ے اور اس کا مالک یہ شرط لگائے ک ہ صرف و ہ اس س ے استفاد ہ کر سکتا ہے تو مُستَاجِر اس ے کس ی دوسرے کو استعمال ک ے لئ ے اجار ے پر ن ہیں دے سکتا بجز اس ک ے ک ہ و ہ ن یا اجارہ اس طرح ہ و ک ہ اس ک ے فوائد ب ھی خود مستاجر سے مخصوص ہ وں ۔ مثلاً ا یک عورت ایک مکان یا کمرہ کرائ ے پر ل ے اور بعد م یں شادی کرلے اور کمر ہ یا مکان اپنی رہ ائش ک ے لئ ے کرائ ے پر د ے د ے ( یعنی شوہ ر کو کرائ ے پر د ے ک یونکہ بیوی کی رہ ائش کا انتظام ب ھی شوہ ر ک ی ذمے دار ی ہے ) اور اگر مالک ا یسی کوئی شرط نہ لگائ ے تو مستاج ر دوم کے سپرد کرن ے ک ے لئ ے احت یاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ مالک س ے اجازت ل ے ل ے ل یکن اگر وہ یہ چاہے ک ہ جتن ے کرائ ے پر ل یا ہے اس س ے ز یادہ کرائے پرد ے اگرچ ہ (کرا یہ رقم نہ ہ و) دوسر ی جنس سے ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس ن ے مرمت اور سفیدی وغیرہ کرائی ہ و یا اس کی حفاظت کے لئ ے ک چھ نقصان برادشت کیا ہ و تو و ہ اس ے ز یادہ کرائے پر د ے سکتا ہے۔
2189 ۔ اگر اج یر مُستَاجر سے یہ شرط طے کر ے ک ہ و ہ فقط اس ی کا کام کرے گا تو بجز اس صورت ک ے جس کا ذکر سابق ہ مسئل ے م یں کیا گیا ہے اس اج یر کو کسی دوسرے شخ ص کو بطور اجارہ ن ہیں دیا جاسکتا اور اگر اجیر ایسی کوئی شرط نہ لگائ ے تو اس ے دوسر ے کو اجار ے پر د ے سکتا ہے ل یکن جو چیز اس کو اجارے پر د ے ر ہ ا ہے ضرور ی ہے ک ہ اس ک ی قیمت اس اجارے س ے ز یادہ نہ ہ و جو اج یر کے لئ ے قرار د یا ہے۔ اور اس ی طرح اگر کوئی شخص خود کسی کا اجیر بن جائے اور کس ی دوسرے شخص کو و ہ کام کرن ے ک ے لئ ے کم اجرت پر رک ھ ل ے تو اس ک ے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے ( یعنی وہ اس ے ک م اجرت پر نہیں رکھ سکتا) ل یکن اگر اس نے کام ک ی کچھ مقدار خود انجام د ی ہ و تو پ ھ ر دوسر ے کو کم اجرت پر ب ھی رکھ سکتا ہے۔
2190 ۔ اگر کوئ ی شخص مکان دکان، کمرے اور کشت ی کے علاو ہ کوئ ی اور چیز مثلاً زمین کرائے پرل ے اور زم ین کا مالک اس سے یہ شرط نہ کر ے ک ہ صرف و ہی اس سے استفاد ہ کرسکتا ہے تو اگر جتن ے کرائ ے پر اس ن ے و ہ چ یز لی ہے اس س ے ز یادہ کرائے پر د ے تو اجار ہ صح یح ہ ون ے م یں اشکال ہے۔
2191 ۔ اگر کوئ ی شخص مکان یا دکان مثلاً ایک سال کے لئ ے سو روپ یہ کرائے پر ل ے اور اس کا آد ھ ا حص ہ خود استعمال کر ے تو دوسرا حص ہ سو روپ یہ کرائے پر چ ڑھ ا سکتا ہے ل یکن اگر وہ چا ہے ک ہ مکان یا دکان کا آدھ ا حص ہ اس س ے ز یادہ کرائے پر چ ڑھ ا د ے جس پر اس ن ے خود و ہ دکان یا مکان کرائے پر ل یا ہے مثلاً 120 روپے کرائ ے پر د ے د ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس ن ے اس م یں مرمت وغیرہ کا کام کرایا ہ و ۔
2192 ۔ جو مال اجار ے پر د یا جائے اس ک ی چند شرائط ہیں :
1 ۔ و ہ مال مع ین ہ و ۔ ل ہ ذا اگر کوئ ی شخص کہے ک ہ م یں نے اپن ے مکانات م یں سے ا یک مکان تمہیں کرائے پر د یا تو یہ درست نہیں ہے۔
2 ۔ مستاجر یعنی کرائے پر ل ینے والا اس مال کو دیک لے یا اجارے پر د ینے والا شخص اپنے مال ک ی خصوصیات اس طرح بیان کرے ک ہ اس ک ے بار ے م یں مکمل معلومات حاصل ہ وجائ یں۔
3 ۔ اجار ے پر د یئے جانے وال ے مال کو دوسر ے فر یق کے سپرد کرنا ممکن ہ و ل ہ ذا اس گ ھ و ڑے کو اجار ے پر د ینا جو بھ اگ گ یا ہ و اگر مستاجر اس کو ن ہ پک ڑ سک ے تو اجار ہ باطل ہے اور اگر پک ڑ سک ے تو اجار ہ صح یح ہے۔
4 ۔ اس مال س ے استفاد ہ کرنا اس ک ے ختم یا کالعدم ہ وجان ے پر موقوف ن ہ ہ و ل ہ ذا رو ٹی، پھ لوں اور دوسر ی خوردنی اشیاء کو کھ ان ے ک ے لئ ے کرائ ے پر د ینا صحیح نہیں ہے۔
5 ۔ مال س ے و ہ فائد ہ ا ٹھ انا ممکن ہ و جس ک ے لئ ے اس ے کرائ ے پر د یا جائے۔ ل ہ ذا ا یسی زمین کا زراعت کے لئ ے کرائ ے پر د ینا جس کے لئ ے بارش کا پان ی کافی نہ ہ و اور و ہ در یا کے پان ی سے ب ھی سیراب نہ ہ وت ی ہ و صح یح نہیں ہے۔
6 ۔ جو چ یز کرائے پر د ی جارہی ہ و و ہ کرائ ے پرد ینے والے کا اپنا مال ہ و اور اگرکس ی دوسرے کا مال کرائ ے پر د یا جائے تو معامل ہ اس صورت م یں صحیح ہے ک ہ جب اس مال کا مالک رضامند ہ و ۔
2193 ۔ جس درخت م یں ابھی پھ ل ن ہ لگا ہ و اس کا اس مقصد س ے کرائ ے پر د ینا کہ اس ک ے پ ھ ل س ے استفاد ہ ک یا جائے گا درست ہے اور اس ی طرح ایک جانور کو اس کے دود ھ ک ے لئ ے کرائ ے پر د ینے کا بھی یہی حکم ہے۔
2194 ۔ عورت اس مقصد ک ے لئ ے اج یر بن سکتی ہے ک ہ اس ک ے دود ھ س ے استفاد ہ ک یا جائے ( یعنی کسی دوسرے ک ے بچ ے کو اجرت پر دود ھ پلاسکت ی ہے ) اور ضرور ی نہیں کہ و ہ اس مقصد ک ے لئ ے شوہ ر س ے اجازت ل ے ل یکن اگر اس کے دود ھ پلان ے س ے شو ہ ر ک ی حق تلفی ہ وت ی ہ و تو پ ھ ر اس ک ی اجازت کے ب غیر عورت اجیر نہیں بن سکتی۔
2195 ۔ جس اِستِفَاد ے ک ے لئ ے مال کرائ ے پر د یا جاتا ہے اس ک ی چار شرطیں ہیں :
1 ۔ استفاد ہ کرنا حلال ہ و ۔ ل ہ ذا دکان کو شراب ب یچنے یا شراب ذخیرہ کرنے ک ے لئ ے کرائ ے پر د ینا اور حیوان کو شراب کی نقل و حمل کے لئ ے کرائ ے پر د ینا باطل ہے۔
2 ۔ و ہ عمل شر یعت میں بلامعاوضہ انجام د ینا واجب نہ ہ و ۔ اور احت یاط کی بنا پر اسی قسم کے کاموں م یں سے ہے حلال ا ور حرام کے مسائل سک ھ انا اور مردوں ک ی تجہیز و تکفین کرنا۔ ل ہ ذا ان کاموں ک ی اجرت لینا جائز نہیں ہے اور احت یاط کی بنا پر معتبر ہے ک ہ اس استفاد ے ک ہ لئ ے رق م دینا لوگوں کی نظروں میں فضول نہ ہ و ۔
3 ۔ جو چ یز کرائے پر د ی جائے اگر و ہ کثِ یرالفَوائد (اور کثیرُالمَقاصد) ہ و تو جو فائد ہ ا ٹھ ان ے ک ی مستاجر کو اجازت ہ و اس ے مع ین کیا جائے مثلاً ا یک ایسا جانور کرائے پر د یا جائے جس پر سوا ی بھی کی جا سکتی ہ و اور مال ب ھی لادا جاسکتا ہ و تو اس ے کرائ ے پر د یتے وقت یہ معین کرنا ضروری ہے ک ہ مستاجر اس ے فقط سوار ی کے مقصد ک ے لئ ے یا فقط بار برداری کے مقصد ک ے لئ ے استعمال کرسکتا ہےیا اس سے ہ ر طرح استفاد ہ کرسکتا ہے۔
4 ۔ استفاد ہ کرن ے ک ی مدت کا تعین کر لیا جائے۔ اور یہ استفادہ مدت مع ین کر کے حاصل ک یا جاسکتا ہے مثلاً مکان یا دکان کرائے پر د ے کر یا کام کا تعین کرکے حاصل ک یا جاسکتا ہے مثلاً درز ی کے سا تھ ط ے کر ل یا جائے ک ہ و ہ ا یک معین لباس مخصوص ذیزائن میں سئے گا ۔
2196 ۔ اگر اجار ے ک ی شروعات کا تعین نہ ک یا جائے تو اس ک ے شروع ہ ون ے کا وقت اجار ے کا ص یغہ پڑھ ن ے ک ے بعد س ے ہ وگا ۔
2197 ۔ مثال ک ے طور پر اگر مکان ا یک سال کے لئ ے کرائ ے پر د یا جائے اور معا ہ د ے ک ی ابتدا کا وقت صیغہ پڑھ ن ے س ے ا یک مہینہ بعد سے مقرر ک یا جائے تو اجار ہ صح یح ہے اگرچ ہ جب ص یغہ پڑھ ا جار ہ ا ہ و و ہ مکان کس ی دوسرے ک ے پاس کرائ ے پر ہ و ۔
2198 ۔ اگر اجار ے ک ی مدت کا تعین نہ ک یا جائے بلک ہ کرائ ے دار س ے ک ہ ا جائ ے ک ہ جب تک تم اس مکان م یں رہ و گ ے دس روپ ے ما ہ وار کرایہ دو گے تو اجار ہ صح یح نہیں ہے۔
2199 ۔ اگرمالک مکان، کرائ ے دار س ے ک ہے ک ہ م یں نے تج ھے یہ مکان دس روپے ما ہ وار کرائ ے پر د یا یا یہ کہے ک ہ یہ مکان میں نے تج ھے ا یک مہینے کے لئ ے دس روپ ے کرائ ے پر د یا اور اس کے بعد ب ھی تم جتنی مدت اس میں رہ و گ ے اس کا کرا یہ دس روپے ما ہ ان ہ ہ وگا تو اس صورت م یں جب اجارے کی مدت کی ابتدا کا تعین کر لیا جائے یا اس کی ابتدا کا علم ہ و جائ ے تو پ ہ ل ے م ہینے کا اجارہ صح یح ہے۔
2200 ۔ جس مکان م یں مسافر اور زائر قیام کرتے ہ وں اور یہ علم نہ ہ و ک ہ و ہ کتن ی مدت تک وہ اں ر ہیں گے اگر و ہ مالک مکان س ے ط ے کر ل یں کہ مثلاً ا یک رات کا ایک روپیہ دیں گے اور مالک مکان اس پر راض ی ہ و جائ ے تو اس مکان س ے استفاد ہ کرن ے م یں کوئی حرج نہیں لیکن چونکہ اجار ے ک ی مدت طے ن ہیں کی گئی لہ ذا پ ہ ل ی رات کے علاو ہ اجار ہ صح یح نہیں ہے اور مالک مکان پ ہ ل ی رات کے بعد جب ب ھی چاہے ان ہیں نکال سکتا ہے۔
2201 ۔ جو مال مُستَاجِر اجار ے ک ے طور پر د ے ر ہ ا ہ و ضرور ی ہے ک ہ و ہ مال معلوم ہ و ۔ ل ہ ذا اگر ا یسی چیزیں ہ وں جن کال ین دین تول کر کیا جاتا ہے مثلاً گ یہ وں تو ان کا وزن معلوم ہ ونا ضرور ی ہے اور اگر ا یسی چیزیں ہ وں جن کا ل ین دین گن کر کیا جاتا ہے مثلاً رائج الوقت سک ے ت و ضروری ہے ک ہ ان ک ی تعداد معین ہ و اور اگر و ہ چ یزیں گھ و ڑے اور ب ھیڑ کی طرح ہ وں تو ضرور ی ہے ک ہ کرا یہ لینے والا انہیں دیکھ لے مستاجران ک ی خصوصیات بتادے۔
2202 ۔ اگر زم ین زراعت کے لئ ے کرائ ے پر د ی جائے اور اس ک ی اجرت اسی زمین کی پیدوار قرار دی جائے جو اس وقت موجود ن ہ ہ و یا کلی طور پر کوئی چیز اس کے ذم ے قرار د ے اس شرط پر ک ہ و ہ اس ی زمین کی پیداوار سے ادا ک ی جائے گ ی تو اجارہ صح یح نہیں ہے اور اگر اجرت ( یعنی اس زمین کی پیداوار ) اجارہ کرت ے وقت موجود ہ و تو پ ھ ر کوئ ی حرج نہیں ہے۔
2203 ۔ ج س شخص نے کوئ ی چیز کرائے پر د ی ہ و و ہ اس چ یز کو کرایہ دار کی تحویل میں دینے سے پ ہ ل ے کرا یہ مانگنے کا حق ن ہیں رکھ تا ن یز اگر کوئی شخص کسی کام کے لئ ے اج یر بنا ہ و تو جب تک و ہ کام انجام ن ہ د ے د ے اجرات کا مطالب ہ کرن ے کا حق ن ہیں رکھ تا مگر بعض صورتوں م یں، مثلاً حج کی ادائیگی کے لئ ے اج یر جسے عموماً عمل ک ے انجام د ینے سے پ ہ ل ے اجرت د ے د ی جاتی ہے (اجرت کا مطالب ہ کرن ے کا حق رک ھ تا ہے ) ۔
2204 ۔ اگر کوئ ی شخص کرائے پر د ی گئی چیز کرایہ دار کی تحویل میں دے د ے تو اگرچ ہ کرا یہ دار اس چیز پر قبضہ ن ہ کر ے یا قبضہ حاصل کرل ے ل یکن اجارہ ختم ہ ون ے تک اس س ے فائد ہ ن ہ ا ٹھ ائ ے پ ھ ر ب ھی ضروری ہے ک ہ مالک کو اجرت ادا کر ے۔
2205 ۔ اگر ا یک شخص کوئی کام ایک معین دن میں انجام دینے کے لئ ے اج یر بن جائے اور اس دن و ہ کام کرن ے ک ے لئ ے ت یار ہ و جائ ے تو جس شخص ن ے اس ے اج یر بنایا ہے خوا ہ و ہ اس دن اس س ے کام ن ہ ل ے ضرور ی ہے ک ہ اس ک ی اجرت اسے د ے د ے۔ مثلاً اگر کس ی درزی کو ایک معین دن لباس سینے کے لئے اج یر بنائے اور درز ی اس دن کام کرنے پر ت یار ہ و تو اگرچ ہ مالک اس ے س ینے کے لئ ے کپ ڑ ا ن ہ د ے تب ب ھی ضروری ہے ک ہ اس ے اس ک ی مزدوری دے د ے۔ قطع نظر اس س ے ک ہ درز ی بیکار رہ ا ہ و اس ن ے اپنا یا کسی دوسرے کا کام ک یا ہ و ۔
2206 ۔ اگر اجار ے ک ی مدت ختم ہ و جان ے ک ے بعد معلوم ہ و ک ہ اجار ہ باطل ت ھ ا تو مستاجر ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ عام طور پر اس چ یز کا جو کرایہ ہ وتا ہے مال ک ے مالک کو د ے د ے مثلاً اگر و ہ ا یک مکان سو روپے کرائ ے پر ا یک سال کے لئ ے ل ے اور بعد م یں اسے پتا چلے ک ہ اجار ہ باطل ت ھ ا ت و اگر اس مکان کا کرایہ عام طور پر پچاس روپے ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ پچاس روپ ے د ے اور اگر اس کا کرا یہ عام طور پر دو سو روپے ہ و تو اگر مکان کرا یہ پر دینے والا مالک مکان ہ و یا اس کا وکیل مطلق ہ و اور عام طور پر گ ھ ر ک ے کرائ ے ک ی جو شرح ہ و اس ے جانتا ہ و تو ضرور ی نہیں ہے ک ہ مستاجر سو روپ ے س ے ز یادہ دے اور اگر اس ک ے برعکس صورت م یں ہ و تو ضرور ی ہے مستاجر دو سو روپ ے د ے ن یز اگر اجارے ک ی کچھ مدت گزرن ے ک ے بعد معلوم ہ و ک ہ اجار ہ باطل ت ھ ا تو جو مدت گزر چک ی ہ و اس پر ب ھی یہی حکم جاری ہ وگا ۔
2207 ۔ جس چیز کو اجارے پر ل یا گیا ہ و اگر و ہ تلف ہ و جائ ے اور مستاجر ن ے اس ک ی نگہ داشت م یں کوتاہی نہ برت ی ہ و اور اس ے غلط طور پر استمعال ن ہ ک یا ہ و تو (پ ھ ر و ہ اس چ یز کے تلف ہ ون ے کا) ذم ے دار ن ہیں ہے۔ اس ی طرح مثال کے طور پر اگر درز ی کو دیا گیا کپڑ ا تلف ہ و جائ ے تو اگر درزی نے ب ے احت یاطی نہ ک ی ہ و اور کپ ڑے ک ی نگہ داشت م یں بھی کوتاہی نہ برت ی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ اس کا عوض اس س ے طلب ن ہ کر ے۔
2208 ۔ جو چ یز کسی کاریگر نے ل ی ہ و اگر و ہ اس ے ضائع کر د ے تو (و ہ اس کا ) ذم ہ دار ہے۔
2209 ۔ اگر قصاب کس ی جانور کا سر کاٹ ڈ ال ے اور اس ے حرام کر د ے تو خوا ہ اس ن ے مزدور ی لی ہ و یا بلامعاوضہ ذبح ک یا ہ و ضرور ی ہے ک ہ جانور ک ی قیمت اس کے مالک کو ادا کر ے۔
2210 ۔ اگر کوئ ی شخص ایک جانور کرائے پر ل ے اور مع ین کرے ک ہ کتنا بوج ھ اس پر لاد ے گا تو اگر و ہ اس پر مُعَ یَّنَہ مقدار سے ز یادہ بوجھ لاد ے اور اس وج ہ س ے جانور مرجائ ے یا عیب دار ہ و جائ ے تو مستاجر ذم ے دار ہے۔ ن یز اگر اس نے بوج ھ ک ی مقدار مُعَیَّن نہ ک ی ہ و اور معمول س ے ز یادہ بوجھ جانور پر لاد ے اور جانور مر جائ ے یا عیب دار ہ و جائ ے تب ب ھی مَستَاجِر ذمے دار ہے اور دونوں صورتوں م یں مستاجر کے لئ ے یہ بھی ضروری ہے ک ہ معمول س ے ز یادہ اجرت ادا کرے۔
2211 ۔ اگر کوئ ی شخص حیوان کو ایسا (نازک) سامان لادنے ک ے لئ ے کرائ ے پر د ے جو ٹ و ٹ ن ے والا ہ و اور جانور پ ھ سل جائ ے یا بھ اگ ک ھڑ ا ہ و اور سامان کو تو ڑ پ ھ و ڑ د ے تو جانور کا مالک ذم ے دار ن ہیں ہے۔ ہ اں اگر مالک جانور کو معمول س ے ز یادہ مارے یا ایسی حرکت کرے جس ک ی وجہ س ے ج انور گر جائے اور لدا ہ وا سامان تو ڑ د ے تو مالک ذم ے دار ہے۔
2212 ۔ اگر کوئ ی شخص بچے کا ختن ہ کر ے اور و ہ اپن ے کام م یں کوتاہی یا غلطی کرے مثلاً اس ن ے معمول س ے ز یادہ (چمڑ ا) کا ٹ ا ہ و اور وہ بچ ہ مرجائ ے یا اس میں کوئی نقص پیدا ہ وجائ ے تو و ہ ذم ے دار ہے اور اگر اس ن ے کوتا ہی یا غلطی نہ ک ی ہ و اور بچ ہ ختن ہ کرن ے س ے ہی مرجائے یا اس میں کوئی عیب پیدا ہ و جائ ے چنانچ ہ اس بات ک ی تشخیص کے لئ ے ک ہ بچ ے ک ے لئ ے نقصان د ہ ہے یا نہیں اس کی طرف رجوع نہ ک یا گیا ہ و نیز وہ یہ بھی نہ جانتا ہ و ک ہ بچ ے کو نقصان ہ وگا تو اس صورت م یں وہ ذم ے دار ن ہیں ہے۔
2213 ۔ اگر معالج اپن ے ہ ات ھ س ے کس ی مریض کو دوا دے یا اس کے لئ ے دوا ت یار کرنے کو ک ہے اور دوا ک ھ ان ے ک ی وجہ س ے مر یض کو نقصان پہ نچ ے یا وہ مر جائ ے تو معالج ذم ہ دار ہے اگرچ ہ اس ن ے علاج کرن ے م یں کوتاہی نہ ک ی ہ و ۔
2214 ۔ جب معالج مر یض سے ک ہہ د ے اگر تم ہیں کوئی ضرر پہ نچا تو م یں ذمے دار ن ہیں ہ وں اور پور ی احتیاط سے کام ل ے ل یکن اس کے باوجود اگر مر یض کو ضرر پہ نچ ے یا وہ مرجائ ے تو معالج ذم ے دار ن ہیں ہے۔
2215 ۔ کرائ ے پر ل ینے والا اور جس شخص نے کوئ ی چیز کرائے پر د ی ہ و، و ہ ا یک دوسرے ک ی رضامندی سے معامل ہ فسخ کرسکت ے ہیں اور اگر اجارے م یں یہ شرط عائد کریں کہ و ہ دونوں یا ان میں سے کوئ ی ایک معاملے کو فسخ کرن ے کا حق رک ھ تا ہے تو و ہ معا ہ د ے ک ے مطابق اجار ہ فسخ کرسکت ے ہیں۔
2216 ۔ اگر مال اجار ہ پر د ینے والے یا مستاجر کو پتا چلے ک ہ و ہ گ ھ ا ٹے م یں رہ ا ہے تو اگر اجار ہ کرن ے ک ے وقت و ہ اس امر ک ی جانب متوجہ ن ہ ت ھ ا ک ہ و ہ گ ھ ا ٹے م یں ہے تو و ہ اس تفص یل کے مطابق ج و مسئلہ 2132 میں گزر چکی ہے اجار ہ فسخ کر سکتا ہے ل یکن اگر اجارے ک ے ص یغے میں یہ شرط عائد کی جائے ک ہ اگر ان م یں سے کوئ ی گھ ا ٹے م یں بھی رہے گا تو اس ے اجار ہ فسخ کرن ے کا حق ن ہیں ہ وگا تو پ ھ ر و ہ اجار ہ فسخ ن ہیں کرسکتے۔
2217 ۔ اگر ا یک شخص کوئی چیز ادھ ار پر د ے اور اس سے پ ہ ل ے ک ہ اس کا قبض ہ مستاجر کو د ے کوئ ی اور شخص اس چیز کو غصب کرلے تو مستاجر اجار ہ فسخ کر سکتا ہے اور جو چ یز اس نے اجار ے پر د ینے والے کو د ی ہ و اس ے واپس ل ے سکتا ہے۔ یا (یہ بھی کر سکتا ہے ک ہ ) اجار ہ فسخ ن ہ کر ے اور جتن ی مدت وہ چ یز غاصب کے پاس ر ہی ہ و اس ک ی عام طور پر جتنی اجرت بنے و ہ غاصب س ے ل ے ل ے ل ہ ذا اگر مستاجر ا یک حیوان کا ایک مہینے کا اجارہ دس روپ ے ک ے عوض کر ے اور کوئ ی شخص اس حیوان کو دس دن کے لئ ے غصب کر ل ے اور عام طور پر اس کا دس دن کا اجار ہ پندر ہ روپ ے ہ و تو مستا جر پندرہ روپ ے غاصب س ے ل ے سکت ے ہے۔
2218 ۔ ا گر کوئی دوسرا شخص مستاجر کو اجارہ کرد ہ چ یز اپنی تحویل میں نہ ل ینے دے یا تحویل میں لینے کے بعد اس پر ناجائز قبض ہ کرل ے یا اس سے استفاد ہ کرن ے م یں حائل ہ و تو مستاجر اجار ہ فسخ ن ہیں کر سکتا اور صرف یہ حق رکھ تا ہے ک ہ اس چ یز کا عام طور پر جتنا کرایہ بنتا ہ و و ہ غاص ب سے ل ے ل ے۔
2219 ۔ اگر اجار ے ک ی مدت ختم ہ ون ے س ے پ ہ ل ے مالک اپنا مال مستاجر ک ے ہ ات ھ ب یچ ڈ ال ے تو اجار ہ فسخ ن ہیں ہ وتا اور مستاجر کو چا ہ ئ ے ک ہ اس چ یز کا کرایہ مالک کو دے اور اگر (مالک مستاجر ک ے علاو ہ ) اس (مال) کو کس ی اور شخص کے ہ ات ھ ب یچ دے تب ب ھی یہی حکم ہے۔
2220 ۔ اگر اجار ے ک ی مدت شروع ہ ون ے س ے پ ہ ل ے جو چ یز اجارے پر ل ی ہے و ہ اس استفاد ے ک ے قابل ن ہ ر ہے جس کا تع ین کیا گیا تھ ا تو اجار ہ باطل ہ وجاتا ہے اور مستاجر اجار ہ ک ی رقم مالک سے واپس ل ے سکتا ہے اور اگر صورت یہ ہ و ک ہ اس مال س ے ت ھ و ڑ ا سا استفاد ہ ک یا جاسکتا ہ و تو مست اجر اجارہ فسخ کر سکتا ہے۔
2221 ۔ اگر ا یک شخص کوئی چیز اجارے پر ل ے اور و ہ کچ ھ مدت گزرن ے ک ے بعد جو استفاد ہ مستاجر ک ے لئ ے ط ے ک یا گیا ہ و اس ک ے قابل ن ہ ر ہے تو باق ی ماندہ مدت ک ے لئ ے اجار ہ باطل ہ وجاتا ہے اور مستاجر گزر ی ہ وئ ی مدت کا اجارہ "اُجرَ ۃ ُ المِثل" یعنی جتنے دن وہ چ یز استعمال کی ہ و ا تنے دنوں کی عام اجرت دے کر اجار ہ فسخ کرسکتا ہے۔
2222 ۔ اگر کوئ ی شخص ایسا مکان کرائے پر د ے جس ک ے مثلاً دو کمر ے ہ وں اور ان م یں سے ا یک کمرہ ٹ و ٹ پ ھ و ٹ جائ ے ل یکن اجارے پر د ینے والا اس کمرہ کو (مرمت کرک ے ) اس طرح بناد ے جس م یں سابقہ کمر ے ک ے مقابل ے م یں کافی فرق ہ و تو اس ک ے لئ ے و ہی حکم ہے جو اس س ے پ ہ ل ے وال ے مسئل ے م یں بتایا گیا ہے اور اگر اس طرح ن ہ ہ و بلک ہ اجار ے پر د ینے والا اسے فوراً بنا د ے اور اس س ے استفاد ہ حاصل کرن ے م یں بھی قطعاً فرق دافع نہ ہ و تو اجار ہ باطل ن ہیں ہ وتا ۔ اور کرائ ے دار ب ھی اجارے کو فسخ ن ہیں کرسکتا لیکن اگر کمرے ک ی مرمت میں قدرے تاخ یر ہ و جائ ے اور کرائ ے دار اس س ے استفاد ہ ن ہ کر پائ ے تو اس "تاخ یر" کی مدت تک کا اجارہ باطل ہ وجاتا ہے اور کرائ ے دار چا ہے تو سار ی مدت کا اجارہ ب ھی فسخ کرسکتا ہے البت ہ جتن ی مدت اس نے کمر ے س ے اس تفادہ ک یا ہے اس ک ی اُجرَۃ ُ المِثل دے۔
2223 ۔ اگر مال کرائ ے پر د ینے والا یا مستاجر مر جائے تو اجار ہ باطل ن ہیں ہ وتا ل یکن اگر مکان کا فائدہ صرف اس ک ی زندگی میں ہی اس کا ہ و مثلاً کس ی دوسرے شخص ن ے وص یت کی ہ و ک ہ جب تک و ہ (اجار ے پر د ینے والا) زندہ ہے مکان ک ی آمدنی اس کا مال ہ وگا تو اگر و ہ مکان کرائ ے پ ر دے د ے اور اجار ہ ک ی مدت ختم ہ ون ے س ے پ ہ ل ے مرجائ ے تو اس ک ے مرن ے ک ے وقت س ے اجار ہ باطل ہے اور اگر موجود ہ مالک اس اجار ہ ک ی تصدیق کر دے تو اجار ہ صح یح ہے اور جار ے پر د ینے والے ک ے موت ک ے بعد اجار ے ک ی جو مدت باقی ہ وگ ی اس کی اجرت اس شخص کو ملے گ ی جو موجودہ مالک ہ و ۔
2224 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی معمار کو اس مقصد سے وک یل بنائے ک ہ و ہ اس ک ے لئ ے کار یگر مہیا کرے تو اگر معمار ن ے جو کچ ھ اس شخص س ے ل ے ل یا ہے کار یگروں کو اس سے کم د ے تو زائد مال اس پر حرام ہے اور اس ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ و ہ رقم اس شخ ص کو واپس کر دے ل یکن اگر معمار اجبیر بن جائے ک ہ عمارت کو مکمل کر د ے گا اور و ہ اپن ے لئ ے یہ اختیار حاصل کرلے ک ہ خود بنائ ے گا یا دوسرے س ے بنوائ ے گا تو اس صورت م یں کہ کچ ھ کام خود کر ے اور باق یماندہ دوسروں سے اس اجرت س ے کم پر کروائ ے جس پر و ہ خود اج یر بنا ہے تو ز ائد رقم اس کے لئ ے حلال ہ وگ ی۔
2225 ۔ اگر رنگر یز وعدہ کر ے ک ہ مثلاً کپ ڑ ا ن یل سے رنگ ے گا تو اگر و ہ ن یل کے بجائ ے اس ے کس ی اور چیز سے رنگ د ے تو اس ے اجرت ل ینے کا کوئی حق نہیں۔
2226 ۔ "جعال ہ " س ے مراد یہ ہے ک ہ انسان وعد ہ کر ے ک ہ اگر ا یک کام اس کے لئ ے انجام د یا جائے گا تو و ہ اس ک ے بدل ے کچ ھ مال بطور انعام د ے گا مثلاً یہ کہے ک ہ جو اس ک ی گمشدہ چ یز بر آمد کرے گا و ہ اس ے دس روپ ے (انعام) د ے گا تو جو شخص اس قسم کا وعد ہ کر ے اس ے "جاعل" اور جو شخص و ہ کام انجام د ے اس ے "عامل" ک ہ ت ے ہیں۔ اور اجار ہ و جع الے م یں بعض لحاظ سے فرق ہے۔ ان م یں سے ا یک یہ ہے ک ہ ک ہ اجار ے م یں صیغہ پڑھ ن ے ک ے بعد اج یر کے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ کام انجام د ے۔ اور جس ن ے اس ے اج یر بنایا ہ و و ہ اجرت ک ے لئ ے اس کا مقروض ہ وجاتا ہے ل یکن جعالہ م یں اگرچہ عامل ایک معین شخص ہ و تا ہ م ہ وسکتا ہے ک ہ و ہ کام م یں مشغول نہ ہ و ۔ پس جب تک و ہ کام انجام ن ہ د ے۔ جاعل اس کا مقروض ن ہیں ہ وتا ۔
2227 ۔ جاعل ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ بالغ اور عاقل ہ و اور انعام کا وعد ہ اپن ے اراد ے اور اخت یار سے کر ے اور شرعاً اپن ے مال م یں تصرف کرسکتا ہ و ۔ اس بنا پر سف یہ کا جعالہ صح یح نہیں ہے اور بالکل اس ی طرح دیوالیہ شخص کا جعالہ ان اموال م یں صحیح نہیں ہے جن م یں تصرف کا حق نہ ر کھ تا ہ و ۔
2228 ۔ جاعل جو کام لوگوں س ے کرانا چا ہ تا ہ و ضرور ی ہے ک ہ و ہ حرام یا بے فائد ہ ن ہ ہ و اور ن ہ ہی ان واجبات میں سے ہ و جن کا بلامعاوض ہ بجالانا شرعاً لازم ہ و ۔ ل ہ ذا اگرکوئ ی کہے ک ہ جو ش خص شراب پیئے گا یا رات کے وقت کس ی عاقلانہ مقصد ک ے بغ یر ایک تاریک جگہ پر جائ ے گا یا واجب نماز پڑھے گا م یں اسے دس روپ ے دوں گا تو جعال ہ صح یح نہیں ہے۔
2229 ۔ جس مال ک ے بار ے م یں معاہ د ہ ک یا جارہ ا ہ و ضرور ی نہیں ہے ک ہ اس ے اس ک ی پوری خصوصیات کا ذکر کرکے مع ین کیا جائے بلک ہ اگر صورت حال یہ ہ و ک ہ کام کرن ے وال ے کو معلوم ہ و ک ہ اس کام کو انجام د ینے کے لئ ے اقدام کرنا حماقت شمار ن ہ ہ وگا تو کاف ی ہے مثلاً اگر جاعل یہ کہے کہ اگر تم ن ے اس مال کو دس روپ ے س ے ز یادہ قیمت پر بیچا تو اضافی رقم تمہ ار ی ہ وگ ی تو جعالہ صح یح ہے اور اس ی طرح اگر جاعل کہے ک ہ جو کوئ ی میرا گھ و ڑ ا ڈھ ون ڈ کر لائ ے گا م یں اسے گ ھ و ڑے م یں نصف شراکت یا دس من گیہ وں دوں گا تو بھی جعالہ صح یح ہے۔
2230 ۔ اگر کام ک ی اجرت مکمل طور پر مبہ م ہ و مثلاً جاعل یہ کہے ک ہ جو م یرا بچہ تلاش کر د ے گا م یں اسے رقم دوں گا ل یکن رقم کی مقدار کا تعین نہ کر ے تو اگر کوئ ی شخص اس کام کو انجام دے تو ضرور ی ہے ک ہ جاعل اس ے اتن ی اجرت دے جتن ی عام لوگوں کی نظروں میں اس عمل کی اجرت قرار پاسکے۔
2231 ۔ اگر عامل ن ے جاعل ک ے قول و قرار س ے پ ہ ل ے ہی وہ کام کر د یا ہ و یا قول و قرار کے بعد اس ن یت سے و ہ کام انجام د ے ک ہ اس ک ے بدل ے رقم ن ہیں لے گا تو پ ھ ر و ہ اجرت کا حقدار ن ہیں۔
2232 ۔ اس س ے پ ہ ل ے ک ہ عامل کام شروع کر ے جاعل جعال ہ کو منسوخ کرسکتا ہے۔
2233 ۔ جب عامل ن ے کام شروع کر د یا ہ و اگر اس ک ے بعد جاعل جعال ہ منسوخ کرنا چا ہے تو اس م یں اشکال ہے۔
2234 ۔ عامل کام کو ادھ ورا چ ھ و ڑ سکتا ہے ل یکن اگر کام ادھ ورا چ ھ و ڑ ن ے پر جاعل کو یا جس شخص کے لئ ے یہ کام انجام دیا جارہ ا ہے ک ہ کوئ ی نقصان پہ نچتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ کام کو مکمل کر ے۔ مثلاً اگر کوئ ی شخص کہے ک ہ جو کوئ ی میری آنکھ کا علاج کر د ے م یں اسے اس قدر معاوض ہ دوں گا اور ڈ اک ڑ اس ک ی آنکھ کا آپر یشن کر دے اور صورت یہ ہ و ک ہ اگر و ہ علاج مکمل ن ہ کر ے تو آنک ھ م یں عیب پیدا ہ وجائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ اپنا عمل تکم یل تک پہ نچائ ے اور اگر اد ھ ورا چ ھ و ڑ د ے تو جاعل س ے اجرت ل ینے کا اسے کوئ ی حق نہیں۔
2235 ۔ اگر عامل کام اد ھ ورا چ ھ و ڑ د ے اور و ہ کام ایسا ہ و جس ے گ ھ و ڑ ا تلاش کرنا ک ہ جس ک ے مکمل کئ ے بغ یر جاعل کو کوئی فائدہ ن ہ ہ و تو عامل، جاعل س ے کس ی چیز کا مطالبہ ن ہیں کرسکتا۔ اور اگر جاعل اجرت کو کام مکمل کرن ے س ے مشروط کر د ے تب ب ھی یہی حکم ہے۔ مثلاً و ہ ک ہے ک ہ جو کوئ ی میرا لباس سئے گا م یں اسے دس روپ ے دوں گا ل یکن اگر اس کی مراد یہ ہ و ک ہ جتنا کام ک یا جائے گا اتن ی اجرت دے گا تو پ ھ ر جاعل کو چا ہ ئ ے ک ہ جتنا کام ہ وا ہ و اتن ی اجرت عامل کودے د ے اگرچ ہ احت یاط یہ ہے ک ہ دونوں مصالحت ک ے طور پر ا یک دوسرے کو راض ی کرلیں۔
2236 ۔ مُزارع ہ ک ی چند قسمیں ہیں۔ ان م یں سے ا یک یہ ہے ک ہ (زم ین کا) مالک کاشتکار (مزارع) سے معا ہ د کرک ے اپن ی زمین اس کے اخت یار میں دے تاک ہ و ہ اس م یں کاشت کاری کرے اور پ یداوار کا کچھ حص ہ مالک کو د ے۔
2237 ۔ مُزاع ہ ک ی چند شرائط ہیں :
1 ۔ زم ین کا مالک کاشتکار سے ک ہے ک ہ م یں نے زم ین تمہیں کھیتی باڑی کے لئ ے د ی ہے اور کاشتکار ی بھی کہے ک ہ م یں نے قبول ک ی ہے یا بغیر اس کے ک ہ زبان ی کچھ ک ہیں مالک کاشتکار کو کھیتی باڑی کے اراد ے س ے زم ین دے د ے اور کاشتکار قبول کر ل ے۔
2 ۔ زم ین کا مالک اور کاشتکار دونوں بالغ اور عاقل ہ وں اور ب ٹ ائ ی کا معاہ د ہ اپن ے ادار ے اور اختیار سے کر یں اور سفیہ نہ ہ وں ۔ اور اس ی طرح ضروری ہے ک ہ مالک د یوالیہ نہ ہ و ۔ ل یکن اگر کاشتکار دیوالیہ ہ و اور اس کا مزارع ہ کرنا ان اموال م یں تصرف نہ ک ہ لائ ے جن م یں اسے تصرف کرنا منع ت ھ ا تو ا یسی صورت میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
3 ۔ مالک اور کاشتکار م یں سے ہ ر ا یک زمین کی پیداوار میں سے کچ ھ حص ہ مثلاً نصف یا ایک تہ ائ ی وغیرہ لے ل ے ۔ ل ہ ذا اگر کوئ ی بھی اپنے لئ ے کوئ ی حصہ مقرر ن ہ کر ے یا مثلاً مالک کہے ک ہ اس زم ین میں کھیتی باڑی کرو اور جو تمہ ارا ج ی چاہے مج ھے د ے د ینا تو یہ درست نہیں ہے اور اسی طرح اگر پیداوار کی ایک معین مقدار مثلاً دس من کاشتکار یا مالک کے لئ ے مقرر کرد ی جائے تو یہ بھی صحیح نہیں ہے۔
4 ۔ احت یاط کی بنا پر ہ ر ا یک کا حصہ زم ین کی پوری پیداوار میں مشترک ہ و ۔ اگرچ ہ اظ ہ ر یہ ہے ک ہ یہ شرط معتبرنہیں ہے۔ اس ی بنا پر اگر مالک کہے ک ہ اس زم ین میں کھیتی باڑی کرو اور زمین کی پیداوار کا پہ لا آد ھ ا حص ہ جتنا ب ھی ہ و تم ہ ارا ہ وگا اور دوسرا آد ھ ا حص ہ م یرا تو مزارعہ صحیح ہے۔
5 ۔ جتن ی مدت کے لئ ے زم ین کاشتکار کے قبض ے م یں رہ ن ی چاہ ئ ے اس ے مع ین کر دیں اور ضروری ہے ک ہ و ہ مدت اتن ی ہ و ک ہ اس مدت م یں پیداوار حاصل ہ ونا ممکن ہ و اور اگر مدت ک ی ابتدا ایک مخصوص دن سے اور مدت کا اختتام پ یداوار ملنے کو مقرر کر د یں تو کافی ہے۔
6 ۔ زم ین قابل کاشت ہ و ۔ اور اگر اس م یں ابھی کاشت کرنا ممکن نہ ہ و ل یکن ایسا کام کیا جاسکتا ہ و جس س ے کاشت ممکن ہ و جائ ے تو مزارع ہ صح یح ہے۔
7 ۔ کاشتکار جو چ یز کاشت کرنا چاہے ، ضرور ی ہے ک ہ اس کو مع ین کر دیا جائے۔ مثلاً مع ین کرے ک ہ چاول ہے یا گیہ وں، اور اگر چاول ہے تو کونس ی قسم کا چاول ہے۔ ل یکن اگر کسی مخصوص چیز کی کاشت پیش نظر نہ ہ و تو اس کا مع ین کرنا ضروری نہیں ہے۔ اور اس ی طرح اگر کوئی مخصوص چیز پیش نظر ہ و اور اس کا علم ہ و تو لازم ن ہیں ہے ک ہ اس ک ی وضاحت بھی کرے۔
8 ۔ مالک، زم ین کو معین کر دے۔ یہ شرط اس صورت میں ہے جبک ہ مالک ک ے پاس زم ین کے چند قطعات ہ وں اور ان قطعات ک ے لوازم کاشتکار ی میں فرق ہ و ۔ ل یکن اگر ان میں کوئی فرق نہ ہ و تو زم ین کو معین کرنا لازم نہیں ہے۔ ل ہ ذا اگر مالک کاشتکار س ے ک ہے ک ہ زم ین کے ان قطعات م یں سے ک سی ایک میں کھیتی باڑی کرو اور اس قطعہ کو مع ین نہ کر ے تو مزارع ہ صح یح ہے۔
9 ۔ جو خرچ ان م یں سے ہ ر ا یک کو کرنا ضروری ہ و اس ے مع ین کردیں لیکن جو خرچ ہ ر ا یک کو کرنا ضروری ہے ہ و اگر اس کا علم ہ و تو پ ھ ر اس کی وضاحت کرنا لازم نہیں۔
2238 ۔ اگر مالک کاشتکار س ے ط ے کر ے ک ہ پ یداوار کی کچھ مقدار ا یک کی ہ وگ ی اور جو باقی بچے گا اس ے و ہ آپس م یں تقسیم کر لیں گے تو مزارع ہ باطل ہے اگرچ ہ ان ہیں علم ہ و ک ہ اس مقدار کو عل یحدہ کرنے ک ے بعد کچ ھ ن ہ کچ ھ باق ی بچ جائے گا ۔ ہ ان اگر و ہ آپس م یں یہ طے کرل یں کہ ب یج کی جو مقدار کاشت کی گئی ہے یا ٹیکس کی جو مقدار حکومت لیتی ہے و ہ پ یداوار سے نکال ی جائے گ ی اور جو باقی بچے گا اس ے دونوں ک ے درم یان تقسیم کیا جائے گا تو مزارع ہ صح یح ہے ۔
2239 ۔ اگر مزارع ہ ک ے لئ ے کوئ ی مدت معین کی ہ و ک ہ جس م یں عموماً پیداوار دستیاب ہ وجات ی ہے ل یکن اگر اتفاقاً معین مدت ختم ہ و جائ ے اور پ یداوار دستیاب نہ ہ وئ ی ہ و تو اگر مدت مع ین کرتے وقت یہ بات بھی شامل تھی یعنی دونوں اس بات پر راضی تھے ک ہ مدت ختم ہ ون ے ک ے بعد اگرچ ہ پیداوار دستیاب نہ ہ و مزارع ہ ختم ہ وجائ ے گا تو اس صورت م یں اگر مالک اس بات پر راضی ہ و ک ہ اجرت پر یا بغیر اجرت فصل اس کی زمیں میں کھڑی رہے اور کاشتکار ب ھی راضی ہ و تو کوئ ی ھ رج ن ہیں اور اگر مالک راضی نہ ہ و تو کاشتکار کو مجبور کر سکتا ہے ک ہ فصل زم ین میں سے کا ٹ ل ے اور اگر فصل کاٹ ل ینے سے کاشتکار کا کوئ ی نقصان پہ نچ ے تو لازم ن ہیں کہ مالک اس ے اس کا عوض د ے ل یکن اگرچہ کاشتکار مالک کو کوئ ی چیز دینے پر راضی ہ و تب ب ھی وہ مالک کو مجبور ن ہیں کر سکتا کہ و ہ فصل اپن ی زمین پر رہ ن ے د ے۔
2240 ۔ اگر کوئ ی ایسی صورت پیش آجائے ک ہ زم ین میں کھیتی باڑی کرنا ممکن نہ ہ و مثلاً زم ین کا پانی بند ہ وجائ ے تو مزارع ہ ختم ہ وجاتا ہے اور اگر کاشتکار بلاوج ہ ک ھیتی باڑی نہ کر ے تو اگر زم ین اس کے تصرف م یں رہی ہ و اور مالک کا اس م یں کوئی تصرف نہ ر ہ ا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ عام شرح ک ے حساب س ے اس مدت کا کرا یہ مالک کو دے۔
2241 ۔ زم ین کا مالک اور کاشتکاری ایک دوسرے ک ی رضامندی کے بغ یر مزارعہ (کا معا ہ د ہ ) منسوخ ن ہیں کرسکتے ۔ ل یکن اگر مزارعہ ک ے معا ہ د ے ک ے سلسل ے م یں انہ وں ن ے شرط ط ے ک ی ہ و ک ہ ان م یں سے دونوں کو یا کسی ایک کو معاملہ فسخ کرن ے کا حق حاصل ہ وگا تو جو معا ہ د ہ ان ہ وں ن ے کر رک ھ ا ہ و اس کے مطابق معامل ہ فسخ کرسکت ے ہیں۔ اس ی طرح اگر ان دونوں میں سے ا یک فریق طے شد ہ شرائط ک ے خلاف عمل کر ے تو دوسرا فر یق معاملہ فسخ کر سکتا ہے۔
2242 ۔ زم ین کا مالک اور کاشتکار ایک دوسرے ک ی رضامندی کے بغ یر مزارعہ (کا معا ہ د ہ ) منسوخ ن ہیں کرسکتے۔ ل یکن اگر مزارعہ ک ے معا ہ د ے ک ے سلسل ے م یں انہ وں ن ے شرط ط ے ک ی ہ و ک ہ ان م یں سے دونوں کو یا کسی یاک کو معاملہ فسخ کرن ے کا حق حاصل ہ وگا تو جو معا ہ د ہ ان ہ وں ن ے کر رک ھ ا ہ و اس ک ے مطابق معامل ہ فسخ کر سکت ے ہیں۔ اس ی طرح اگر ان دونوں میں سے ا یک فریق طے شد ہ شرائط ک ے خلاف عمل کرے تو دوسرا فر یق معاملہ فسخ کر سکتا ہے۔
2243 ۔ اگر کاشت ک ے بعد پتا چل ے ک ہ مزارع ہ باطل ت ھ ا تو اگر جو ب یج ڈ الا گ یا ہ و و ہ مالک کا مال ہ و تو جو فصل ہ ات ھ آئ ے گ ی وہ ب ھی اسی کا مال ہ وگ ی اور ضروری ہے ک ہ کاشتکار ی کی اجرت اور جو کچھ اس ن ے خرچ ک یا ہ و اور کاشتکار ی کے مملو کہ جن ب یلوں اور دوسرے جانوروں ن ے زم ین پر کام کیا ہ و ان کا کرا یہ کاشتکار کو دے۔ اور اگر ب یج کاشتکار کا مال ہ و تو فصل ب ھی اسی کا مال ہے اور ضرور ی ہے ک ہ زم ین کا کرایہ اور جو کچھ مالک ن ے خرچ ک یا ہ و اور ان ب یلوں اور دوسرے جانوروں کا کرا یہ جو مالک کا مال ہ وں اور جن ہ وں ن ے اس زراعت پر کام ک یا ہ و مال ک کو دے۔ اور دونوں صورتوں م یں عام طور پر جو حق بنتا ہ و اگر اس ک ی مقدار طے شد ہ مقدار س ے ز یادہ ہ و اور دوسر ے فر یق کو اس کا علم ہ و تو ز یادہ مقدار دینا واجب نہیں۔
2244 ۔ اگر ب یج کاشتکار کا مال ہ و اور کاشت کے بعد فر یقین کو پتا چلے ک ہ مزارع ہ باطل ت ھ ا تو اگر مالک اور کاشتکار رضامند ہ وں ک ہ اجرت پر یا بلا اجرت فصل زمین پر کھڑی رہے تو کوئ ی اشکال نہیں ہے اور اگر مالک راض ی نہ ہ و تو (علماء ک ے ) ا یک گروہ ن ے ک ہ ا ہے ک ہ فصل پکن ے س ے پ ہ ل ے ہی وہ کاشتکار کو مجبور کر سکتا ہے کہ اس ے کا ٹ ل ے اور اگرچ ہ کاشتکار اس بات پر ت یار ہ و ک ہ و ہ مالک کو کوئ ی چیز دے د ے تب ب ھی وہ اس ے فصل اپن ی زمین میں رہ ن ے د ینے پر مجبور نہیں کرسکتا ہے۔ ل یکن یہ قول اشکال سے خال ی نہیں ہے اور کس ی بھی صورت میں مالک کاشتکار کو مجبور نہیں کرسکتا کہ و ہ کرا یہ دے کر فصل اس ک ی زمین میں کھڑی رہ ن ے د ے حت ی کہ اس س ے زم ین کا کرایہ طلب نہ کر ے (تب ب ھی فصل کھڑی رکھ ن ے پر مجبور ن ہیں کر سکتا)۔
2245 ۔ اگر ک ھیت کی پیداوار جمع کرنے اور مزارع ہ ک ی میعاد ختم ہ ون ے ک ے بعد ک ھیت کی جڑیں زمین میں رہ جائ یں اور دوسرے سال سر سبز ہ و جائ یں اور پیداوار دیں تو اگر مالک نے کاشتکار ک ے سات ھ زراعت ک ی جڑ وں م یں اشتراک کا معاہ د ہ ن ہ ک یا ہ و تو دوسر ے سال ک ی پیداوار بیج کے م الک کا مال ہے۔
2246 ۔ اگر انسان کس ی کے سات ھ اس قسم کا معا ہ د ہ کر ے مثلاً پ ھ ل دار درختوں کو جن کا پ ھ ل خود اس کا مال ہ و یا اس پھ ل پر اس احت یاط ہ و ا یک مقررہ مدت ک ے لئ ے کس ی دوسرے شخص ک ے سپرد کر د ے تاک ہ و ہ ان ک ی نگہ داشت کر ے اور ان ہیں پانی دے اور جتن ی مقدار وہ آپس م یں طے کر یں اس کے مطابق و ہ ان درختوں کا پ ھ ل ل ے ل ے تو ا یسا معاملہ "مُساقات" (آب یاری) کہ لاتا ہے۔
2247 ۔ جو درخت پھ ل ن ہیں دیتے اگر ان کی کوئی دوسری پیداوار ہ و مثلاً پت ے اور پ ھ ول ہ وں ک ہ جو کچ ھ ن ہ کچ ھ مال یت رکھ ت ے ہ وں مثلاً م ہ ند ی (اور پان) کے درخت ک ہ اس ک ے پت ے کام آت ے ہیں، ان کے لئ ے مساقات کا معامل ہ صح یح ہے۔
2248 ۔ مساقات ک ے معامل ے م یں صیغہ پڑھ نا لازم ن ہیں بلکہ اگر درخت کا مالک مساقات ک ی نیت سے اس ے کس ی کے سپرد کر د ے اور جس شخص کو کام کرنا ہ و و ہ ب ھی اسی نیت سے کام م یں مشغول ہ و جائ ے تو معامل ہ صح یح ہے۔
2249 ۔ درختوں کا مالک اور جو شخص درختوں ک ی نگہ داشت ک ی ذمے دار ی لے ضرور ی ہے ک ہ دونوں بالغ اور عاقل ہ وں اور کس ی نے ان ہیں معاملہ کرن ے پر مجبور ن ہ ک یا ہ و ن یز یہ بھی جروری ہے ک ہ سف یہ نہ ہ وں ۔ اس ی طرح ضروری ہے ک ہ مالک د یوالیہ نہ ہ و ۔ ل یکن اگر باغبان دیوالیہ ہ و اور مساقات کا معاملہ کرن ے ک ی صورت میں ان اموال میں تصرف کرنا لازم نہ آئ ے جن م یں تصرف کرنے س ے اس ے روکا گ یا ہ و تو کوئی اشکال نہیں ہے۔
2250 ۔ مساقات ک ی مدت معین ہ ون ی چاہ ئ ے۔ اور اتن ی مدت ہ ونا ضرور ی ہے ک ہ جس م یں پیداوار کا دستیاب ہ ونا ممکن ہ و ۔ اور اگر فر یقین اس مدت کی ابتدا معین کر دیں اور اس کا اختتام اس وقت کو قرار دیں جب اس کی پیداوار دستیاب ہ و تو معامل ہ صح یح ہے۔
2251 ۔ ضرور ی ہے ہ ر فر یق کا حصہ پ یداوار کا آدھ ا یا ایک تہ ائ ی یا اسی کی مانند ہ و اور اگر یہ معاہ د ہ کر یں کہ مثلاً سو من م یوہ مالک کا اور باقی کام کرنے وال ے کا ہ وگا تو معامل ہ باطل ہے۔
2252 ۔ لازم ن ہیں ہے ک ہ مساقات کا معامل ہ پ یداوار ظاہ ر ہ ون ے س ے پ ہ ل ے ط ے کرل یں۔ بل کہ اگر پ یداوار ظاہ ر ہ ون ے ک ے بعد معامل ہ کر یں اور کچھ کام باق ی رہ جائ ے جو ک ہ پ یداوار میں اضافے ک ے لئ ے یا اس کی بہ تر ی یا اسے نقصان س ے بچان ے ک ے لئ ے ضرور ی ہ و تو معامل ہ صح یح ہے۔ ل یکن اگر اس طرح کے کوئ ی کام باقی نہ ر ہے ہ وں ک ہ جو آب یاری کی طرح درخت کی پرورش کے لئ ے ضرور ی ہیں یا میوہ توڑ ن ے یا اس کی حفاظت جیسے کاموں میں سے باق ی رہ جات ے ہیں تو پھ ر مساقات ک ے معامل ے کا صح یح ہ ونا محل اشکال ہے۔
2253 ۔ خربوز ے اور ک ھیرے وغیرہ کی بیلوں کے بار ے م یں مساقات کا معاملہ بنابر اظ ہ ر صح یح ہے۔
2254 ۔ جو درخت بارش ک ے پان ی یا زمین کی نمی سے استفاد ہ کرتا ہ و اور جس ے آبپاش ی کی ضرورت نہ ہ و اگر اس ے مثلاً دوسر ے ا یسے کاموں کی ضرورت ہ و جو مسئل ہ 2252 میں بیان ہ وچک ے ہیں تو ان کاموں کے بار ے م یں مساقات کا معاملہ کرنا صح یح ہے۔
2255 ۔ دو افراد جن ہ وں ن ے مسافات ک ی ہ و با ہ م ی رضامندی سے معامل ہ ف سخ کرسکتے ہیں اور اگر مساقات کے معا ہ د ے ک ے سلسل ے م یں یہ شرط طے کر یں کہ ان دونوں کو یا ان میں سے کس ی ایک کو معاملہ فسخ کرن ے کا حق ہ وگا تو ان ک ے ط ے کرد ہ معا ہ د ہ ک ے مطابق معامل ہ فسخ کرن ے م یں کوئی اشکال نہیں اور اگر مساقات کے معامل ے م یں کوئی شرط طے کر یں اور اس شرط پر عمل نہ ہ و تو جس شخص ک ے فائد ے ک ے لئ ے و ہ شرط ط ے ک ی گئی ہ و و ہ معامل ہ فسخ کرسکتا ہے۔
2256 ۔ اگر مالک ماجائ ے تو مساقات کا معامل ہ فسخ ن ہیں ہ وتا بلک ہ اس ک ے وارث اس ک ی جگہ پات ے ہیں۔
2257 ۔ درختوں ک ی پرورش جس شخص کے سپرد ک ی گئی ہ و اگر و ہ مرجائ ے اور معا ہ د ے م یں یہ قید اور شرط عائد نہ ک ی گئی ہ و ک ہ و ہ خود درختوں ک ی پرورش کرے گا تو اس ک ے ورثاء اس ک ی جگہ ل ے ل یتے ہیں اور اگر ورثاء نہ خود درختوں ک ی پرورش کا کام انجام دیں اور نہ ہی اس مقصد کے لئ ے کس ی کو اجیر مقرر کریں تو حاکم شرع مردے ک ے مال س ے کس ی کو اجیر مقرر کردے گا او ر جو آمدنی ہ وگ ی اسے مرد ے ک ے ورثاء اور درختوں ک ے مالک ک ے ماب ین تقسیم کر دے گا اور اگر فر یقین نے معامل ے م یں یہ قید لگائی ہ و ک ہ و ہ شخص خود درختوں ک ی پرورش کرے گا تو اس ک ے مرن ے ک ے بع د معاملہ فسخ ہ و جائ ے گا ۔
2258 ۔ اگر یہ شرط طے ک ی جائے ک ہ تمام پ یداوار مالک کا مال ہ وگ ی تو مساقات باطل ہے ل یکن ایسی صورت میں پیداوار مالک کا مال ہ وگا اور جس شخص ن ے کام ک یا ہ و و ہ اجرت کا مطالب ہ ن ہیں کرسکتا لیکن اگر مساقات کسی اور وجہ س ے باطل ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ مالک آب یاری اور دوسرے ک ام کرنے ک ی اجرت درختوں کی نگہ داشت کرن ے وال ے کو معمول ک ے مطابق د ے ل یکن اگر معمول کے مطابق اجرت ط ے شد ہ اجرت س ے ز یادہ ہ و اور و ہ اس س ے مطلع ہ و تو ط ے شد ہ اجرت س ے ز یادہ دینا لازم نہیں۔
2289 ۔ "مُغارس ہ " یہ ہے ک ہ کوئ ی شخص زمین دوسرے ک ے سپرد کرد ے تاک ہ و ہ درخت لگائ ے اور جو کچ ھ حاصل ہ و و ہ دون وں کا مال ہ و تو بنابر اظ ہ ر یہ معاملہ صح یح ہے اگرچ ہ احت یاط یہ ہے ک ہ ا یسے معاملے کو ترک کر ے۔ ل یکن اس معاملے ک ے نت یجے پر پہ نچن ے ک ے لئ ے کوئ ی اور معاملہ انجام د ے تو بغیر اشکال کے و ہ معامل ہ صح یح ہے ، مثلاً فر یقین کسی طرح باہ م صلح اور اتفاق کرل یں یا نئے درخت لگان ے م یں شریک ہ وجائ یں پھ ر باغبان اپن ی خدمات مالک زمین کو بیج بونے ، درختوں ک ی نگہ داشت اور آب یاری کرنے ک ے لئ ے ا یک معین مدت تک زمین کی پیداوار کے نصف فائد ے ک ے عو ض کرایہ پر پیش کرے۔
2260 ۔ جو بچ ہ بالغ ن ہ ہ وا ہ و و ہ اپن ی ذمے دار ی اور اپنے مال م یں شرعاً تصرف نہیں کرسکتا اگرچہ اچ ھے اور بر ے کو سمج ھ ن ے م یں حد کمال اور رشد تک پہ نچ گ یا ہ و اور سرپرست ک ی اجازت اس بارے م یں کوئی فائدہ ن ہیں رکھ ت ی۔ ل یکن چند چیزوں میں بچے کا تصرف کانا صح یح ہے ، ان م یں سے کم قیمت والی چیزوں کی خریدوفروخت کرنا ہے ج یسے کہ مسئل ہ 2090 میں گزر چکا ہے۔ اس ی طرح بچے کا اپن ے خون ی رشتے داروں اور فر یبی رشتے داروں ک ے لئ ے وص یت کرنا جس کا بیان مسئلہ 2706 میں آئے گا ۔ ل ڑ ک ی میں بالغ ہ ون ے ک ی علامت یہ ہے ک ہ و ہ نوقمر ی سال پورے کرل ے اور ل ڑ ک ے کے بالغ ہ ون ے ک ی علامت تین چیزوں میں سے ا یک ہ وت ی ہے۔
1 ۔ ناف ک ے ن یچے اور شرم گاہ س ے اوپر سخت بالوں کا اگنا
2 ۔ من ی کا خارج ہ ونا ۔
3 ۔ بنابر مش ہ ور عمر ک ے پندر ہ قمر ی سال پورے کرنا ۔
2261 ۔ چ ہ ر ے پر اور ہ ون ٹ وں ک ے اوپر سخت بالوں کا اگنا بع ید نہیں کہ بلوغت ک ی علامت ہ و ل یکن سینے پر اور بغل کے ن یچے بالوں کا اگنا اور آواز کا بھ ار ی ہ وجانا اور ا یسی ہی دوسری علامات بلوغت کی نشانیاں نہیں ہیں مگر ان کی وجہ س ے انسان بالغ ہ ون ے کا یقین کرے۔
2262 ۔ د یوانہ اپنے مال م یں تصرف نہیں سکتا۔ اس ی طرح دیوالیہ یعنی وہ شخص جس ے اس ک ے قرض خوا ہ وں ک ے مطالب ے پر حاکم شرع نے اپن ے مال م یں تصرف کرنے س ے منع کر د یا ہ و، قرض خوا ہ وں ک ی اجازت کے بغ یر اس مال میں تصرف نہیں کرسکتا اور اسی طرح سفیہ یعنی وہ شخص جو اپنا مال احم قانہ اور فضول کاموں میں خرچ کرتا ہ و، سرپرست ک ی اجازت کے بغ یر اپنے مال م یں تصرف نہیں کرسکتا۔
2273 ۔ جو شخص کب ھی عاقل اور کبھی دیوانہ ہ وجائ ے اس کا د یوانگی کی حالت میں اپنے مال م یں تصرف کرنا صحیح نہیں ہے۔
2264 ۔ انسان کو اخت یار ہے مرض الموت ک ے عالم م یں اپنے آپ پر یا اپنے ا ہ ل و ع یال اور مہ مانوں پر اور ان کاموں پر جو فضول خرچ ی میں شمار نہ ہ وں جتنا چا ہے صرف کرے۔ اور اگر اپن ے مال کو اس ک ی (اصل) قیمت پر فروخت کرے یا کرائے پر د ے تو کوئ ی اشکال نہیں ہے ل یکن اگر مثلاً اپنا مال کسی کو بخش دے یا رائج قیمت سے سستا فروخت کر ے تو جتن ی مقدار اس نے بخش د ی ہے یا جتنی سستی فروخت کی ہے اگر و ہ اس ک ے مال ک ی ایک تہ ائ ی کے برا بر یا اس سے کم ہ و تو اس کا تصرف کرنا صح یح ہے۔ اور اگر ا یک تہ ائ ی سے ز یادہ ہ و تو ورثاء ک ی اجازت دینے کی صورت میں اس کا تصرف کرنا صحیح ہے اور اگر ورثاء اجازت ن ہ د یں تو ایک تہ ائ ی سے ز یادہ میں اس کا تصرف باطل ہے۔
"وکالت" سے مراد یہ ہے ک ہ و ہ کام جس ے انسان خود کرن ے کا حق رک ھ تا ہ و، ج یسے کوئی معاملہ کرنا ۔ اس ے دوسر ے ک ے سپرد کر د ے تاک ہ و ہ اس ک ی طرف سے و ہ کام انجام د ے مثلاً کس ی کو اپنا وکیل بنائے تاک ہ و ہ اس کا مکان ب یچ دے یا کسی عورت سے اس کا عقد کرد ے۔ ل ہ ذا سف یہ چونکہ اپن ے مال م یں تصرف کرنے کا حق نہیں رکھ تا اس لئ ے و ہ مکان ب یچنے کے لئ ے کس ی کو وکیل نہیں بنا سکتا۔
2265 ۔ وکالت م یں صیغہ پڑھ نا لازم ن ہیں بلکہ اگر انسان دوسر ے شخص کو سمج ھ اد ے ک ہ اس ن ے اس ے وک یل مقرر کیا ہے اور و ہ ب ھی سمجھ ا د ے ک ہ اس ن ے وک یل بننا قبول کرلیا ہے مثلاً ا یک شخص اپنا مال دوسرے کو د ے تاک ہ و ہ اس ے اس ک ی طرف سے ب یچ دے اور دوسرا شخص و ہ مال ل ے ل ے تو وکال ت صحیح ہے۔
2266 ۔ اگر انسان ا یک ایسے شخص کو وکیل مقرر کرے جس ک ی رہ ائش دوسر ے ش ہ ر م یں ہ و اور اس کو وکالت نام ہ ب ھیج دے اور و ہ وکالت نام ہ قبول کرل ے تو اگرچ ہ وکالت نام ہ ا سے کچ ھ عرص ے بعد ہی ملے پ ھ ر ب ھی وکالت صحیح ہے۔
2267 ۔ مُئَوکِّل یعنی وہ شخص جو دوسر ے کو وک یل بنائے اور و ہ شخص جو وک یل بنے ضرور ی ہے ک ہ دونوں عاقل ہ وں اور (وک یل بنانے اور وک یل بننے کا) اقدام قصد اور اخت یار سے کر یں اور مُئَوکّلِ کے معامل ے م یں بلوغ بھی معتبر ہے۔ مگر ان کاموں میں جن کو ممیز بچے کا انجام د ینا صحیح ہے۔ (ان م یں بلوغ شرط نہیں ہے ) ۔
2268 ۔ جو کام انسان انجام ن ہ د ے سکتا ہ و یا شرعاً انجام دینا ضروری نہ ہ و اس ے انجام د ینے کے لئ ے و ہ دوسر ے کا وک یل نہیں بن سکتا۔ مثلاً جو شخص حج کا احرام باند ھ چکا ہ و چونک ہ اس ے نکاح کا ص یغہ نہیں پڑھ نا چا ہ ئ ے اس لئ ے و ہ ص یغہ نکاح پڑھ ن ے ک ے لئ ے دوسر ے کا وک یل نہیں بن سکتا۔
2269 ۔ اگر کوئ ی شخص اپنے تمام کام انجام د ینے کے لئ ے دوسر ے شخص کو وک یل بنائے تو صح یح ہے ل یکن اگر اپنے کاموں م یں سے ا یک کام کرنے ک ے لئ ے دوسر ے کو وک یل بنائے اور کام کا تع ین نہ کر ے تو وکالت صح یح نہیں ہے۔ ہ اں اگر وک یل کو چند کاموں میں سے ا یک کام جس کا وہ خود انتخ اب کرے انجام د ینے کے لئ ے وک یل بنائے مثلاً اس کو وک یل بنائے ک ہ یا اس کا گھ ر فروخت کر ے یا کرائے پر د ے تو وکال ت صحیح ہے۔
2270 ۔ اگر (مُئَوکّلِ) وک یل کو معزول کردے یعنی جو کام اس کے ذم ے لگا یا ہ و اس س ے برطرف کر د ے تو وک یل اپنی معزولی کی خبر مل جانے ک ے بعد اس کام کو (مُئَوکّلِ ک ی جانب سے ) انجام ن ہیں دے سکتا ل یکن معزولی کی خبر ملنے س ے پ ہ ل ے اس ن ے و ہ کام کر د یا ہ و تو صح یح ہے۔
2271 ۔ مُئَوکّلِ خوا ہ موجود ن ہ ہ و وک یل خود کو وکالت سے کنار ہ کش کر سکتا ہے۔
2272 ۔ جو کام وک یل کے سپرد ک یا گیا ہ و، اس کام ک ے لئ ے و ہ کس ی دوسرے شخص کو وک یل مقرر نہیں کرسکتا لیکن اگر مُئَوکّلِ نے اس ے اجازت د ی ہ و ک ہ کس ی کو وکیل مقرر کرے تو جس طرح اس ن ے حکم دیا ہے اس ی طرح وہ عمل کرسکتا ہے ل ہ ذا اگر اس ن ے ک ہ ا ہ و ک ہ م یرے لئے ا یک وکیل مقرر کرو تو ضروری ہے ک ہ اس ک ی طرف سے وک یل مقرر کرے ل یکن از خود کسی کو وکیل مقرر نہیں کرسکتا۔
2273 ۔ اگر وک یل مُئَوکّلِ کی اجازت سے کس ی کو اس کی طرف سے وک یل مقرر کرے تو پ ہ لا وک یل دوسرے وک یل کو معزول نہیں کرسکتا اور اگر پہ لا وک یل مرجائے یامُئَوکّلِ کی اسے معزول کر د ے تب ب ھی دوسرے وک یل کی وکالت باطل نہیں ہ وت ی۔
2274 ۔ اگر وک یل مَئَوکّلِ کی اجازت سے کس ی کو خود اپنی طرف سے وک یل مقرر کرے تو مُئَوکّلِ اور پ ہ لاوک یل اس وکیل کو معزول کر سکتے ہیں اور اگر پہ لا وک یل مرجائے یا معزول ہ وجائ ے تو دوسر ی وکالت باطل ہ وجات ی ہے۔
2275 ۔ اگر (مُئَوکّلِ) کس ی کام کے لئ ے چند اشخاص کو وک یل مقرر کرے اور ان س ے ک ہے ک ہ ان م یں سے ہ ر ا یک ذاتی طور پر اس کام کو کرے تو ان م یں سے ہ ر ا یک اس کام کو انجام دے سکتا ہے اور اگر ان م یں سے ا یک مرجائے تو دوسروں ک ی وکالت باطل نہیں ہ وت ی، لیکن اگر یہ کہ ا ہ و ک ہ سب مل کر انجام د یں تو ان میں سے کوئ ی تنہ ا اس کام کو انجام ن ہیں دے سکتا اور اگر ان م یں سے ا یک مرجائے تو باق ی اشخاص کی وکالت باطل ہ وجات ی ہے۔
2276 ۔ اگر وک یل یا مُئَوکّلِ مرجائے تو وکالت باطل ہ وجات ی ہے۔ ن یز جس چیز میں تصرف کے لئ ے کس ی شخص کو وکیل مقرر کیا جائے اگر و ہ چ یز تلف ہ وجائ ے مثلاً جس ب ھیڑ کو بیچنے کے لئ ے کس ی کو وکیل مقرر کیا گیا ہ و اگر و ہ ب ھیڑ مرجائے تو و ہ وکالت باطل ہ وجائ ے گ ی اور اس طرح اگر وکیل یا مُئَوکّلِ میں سے کوئ ی ایک ہ م یشہ کے لئ ے د یوانہ یا بے حواس ہ و جائ ے تو وکالت باطل ہ وجائ ے گ ی۔ ل یکن اگر کبھی کبھی دیوانگی یابے حواسی کا دورہ پ ڑ تا ہ و تو وکالت کا باطل ہ ونا د یوانگی اور بے ہ واس ی کی مدت میں حتی کہ د یوانگی اور بے حواس ی ختم ہ ون ے ک ے بعد ب ھی مُطلَقاً محلِّ اِشکال ہے۔
2277 ۔ اگر انسان کس ی کو اپنے کام ک ے لئ ے وک یل مقرر کرے اور اس ے کوئ ی چیز دینا طے کر ے تو کام ک ی تکمیل کے بعد ضرور ی ہے ک ہ جس چ یز کا دینا طے ک یا ہ و و ہ اس ے د یدے۔
2278 ۔ جو مال وک یل کے اخت یار میں ہ و اگر و ہ اس ک ی نگہ داشت م یں کوتاہی نہ کر ے اور جس تصرف ک ی اسے اجازت د ی گئی ہ و اس ک ے علاو ہ کوئ ی تصرف اس میں نہ کر ے اور اتفاقاً و ہ مال تلف ہ وجائ ے تو اس ک ے لئ ے اس کا عوض د ینا ضروری نہیں۔
2279 ۔ جو مال وک یل کے اخت یار میں ہ و اگر و ہ اس ک ی نگہ داشت م یں کوتاہی برتے یا جس تصرف کی اسے اجازت د ی گئی ہ و ا س سے تجاوز کر ے اور و ہ مال تلف ہ وجائ ے تو و ہ (وک یل) ذمے دار ہے۔ ل ہ ذا جس لباس ک ے لئ ے اس ے ک ہ ا جائ ے ک ہ اس ے ب یچ دو اگر وہ اس ے پ ہ ن ل ے اور و ہ لباس تلف ہ وجائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا عوض د ے۔
2280 ۔ اگر وک یل کو مال میں جس تصرف کی اجازت دی گئی ہ و اس ک ے علاو ہ کوئ ی تصرف کے مثلاً اسے جس لباس ک ے ب یچنے کے لئ ے ک ہ ا جائ ے و ہ اس ے پ ہ ن ل ے اور بعد م یں وہ تصرف کر ے جس ک ی اسے اجازت د ی گئی ہ و تو و ہ تصرف صح یح ہے۔
مومنین کو خصوصاً ضرورت مند مومنین کو قرض دینا ان مستحب کاموں میں سے ہے جن ک ے متعلق احاد یث میں کافی تاکید کی گئی ہے۔ رسول اکرم (صل ی اللہ عل یہ وآلہ ) س ے روا یت ہے : "جو شخص اپن ے مسلمان ب ھ ائ ی کو قرض دے اس ک ے مال م یں برکت ہ وت ی ہے اور ملائک ہ اس پر (خدا ک ی) رحمت برساتے ہیں اور اگر وہ مقروض س ے نرم ی برتے تو بغ یر حساب کے اور ت یزی سے پل صراط پر س ے گزر جائ ے گا اور اگر کس ی شخص سے اس کا مسلمان ب ھ ائ ی قرض مانگے اور و ہ ن ہ د ے تو ب ہ شت اس پر حرام ہ و جات ی ہے "
2281 ۔ قرض م یں صیغہ پڑھ نا لازم ن ہیں بلکہ اگر ا یک شخص دوسرے کو کوئ ی چیز قرض کی نیت سے د ے اور دوسرا ب ھی اسی نیت سے ل ے تو قرض صح یح ہے۔
2282 ۔ جب ب ھی مقروض اپنا قرض ادا کرے تو قرض خوا ہ کو چا ہ ئ ے ک ہ اس ے قبول کرل ے۔ ل یکن اگر قرض ادا کرنے ک ے لئ ے قرض خوا ہ ک ے ک ہ ن ے س ے یا دونوں کے ک ہ ن ے س ے ا یک مدت مقرر کی ہ و تو اس صورت م یں قرض خواہ اس مدت ک ے ختم ہ ون ے س ے پ ہ ل ے اپنا قرض واپس ل ینے سے انکار کر سکتا ہے۔
2283 ۔ اگر قرض کے ص یغے میں قرض کی واپسی کی مدت معین کر دی جائے اور مدت کا تع ین مقروض کی درخواست پر ہ و یا جانبین کی درخواست پر، قرض خواہ اس مع ین مدت کے ختم ہ ون ے س ے پ ہ ل ے قرض ک ی ادائیگی کا مطالبہ ن ہیں کرسکتا۔ ل یکن اگر مدت کا تعین قرض خواہ ک ی درخواست پر ہ وا ہ و یا قرضے ک ی واپسی کے لئ ے کوئ ی مدت معین نہ ک ی گئی ہ و تو قرض خوا ہ جب ب ھی چاہے اپن ے قرض ک ی ادائیگی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
2284 ۔ اگر قرض خوا ہ اپن ے قرض ک ی ادائیگی کا مطالبہ کر ے اور مقروض قرض ادا کر سکتا ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ فوراً ادا کر ے اور اگر ادائ یگی میں تاخیر کرے تو گن ہ گار ہے۔
2285 ۔ اگر مقروض ک ے پاس ا یک گھ ر ک ہ جس م یں وہ ر ہ تا ہ و اور گ ھ ر ک ے اسباب اور ان لوازمات ک ہ جن ک ی اسے ضرورت ہ و اور ان ک ے بغ یر اسے پر یشانی ہ و اور کوئ ی چیز نہ ہ و تو قرض خوا ہ اس س ے قرض ک ی ادائیگی کا مطالبہ ن ہیں کرسکتا بلکہ اس ے چا ہ ئ ے ک ہ صبر کر ے ح تی کہ مقروض قرض ادا کرن ے ک ے قابل ہ و جائ ے۔
2286 ۔ جو شخص مقروض ہ و اور اپنا قرض ادا ن ہ کرسکتا ہ و تو اگر و ہ کوئ ی ایسا کام کاج کر سکتا ہ و جو اس ک ی شایان شان ہ و تو احت یاط واجب ہے ک ہ کام کاج کر ے اور اپنا قرض ادا کر ے۔ بالخصوص ا یسے شخص کے لئ ے جس ک ے لئ ے کام کرنا آس ان ہ و یا اس کا پیشہ ہی کام کاج کرنا ہ و بلک ہ اس صورت میں کام کا واجب ہ ونا قوت س ے خال ی نہیں۔
2287 ۔ جس شخص کو اپنا قرض خوا ہ ن ہ مل سک ے۔ اور مستقبل م یں اس کے یا اس کے وارث ک ے ملن ے ک ی امید بھی نہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ قرض ے کا مال قرض خوا ہ ک ی طرف سے فق یر کو دے د ے اور احت یاط کی بنا پر ایسا کرنے ک ی اجازت شرع سے ل ے ل ے اور اگر اس کا قرض خوا ہ س ید نہ ہ و تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ قرض ے کا مال س ید فقیر کو نہ د ے۔ ل یکن اگر مقروض کو قرض خواہ یا اس کے وارث ک ے ملن ے ک ی امید ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ انتظار کر ے اور اس کو تلاش کر ے اور اگر وہ ن ہ مل ے تو وص یت کرے ک ہ اگر و ہ مرجائ ے اور قرض خوا ہ یا اس کا وارث مل جائے تو اس کا قرض اس ک ے م ال سے ادا ک یا جائے۔
2288 ۔ اگر کس ی میت کا مال اس کے کفن دفن ک ے واجب اخراجات اور قرض س ے ز یادہ نہ ہ و تو اس کا مال ان ہی امور پر خرچ کرنا ضروری ہے اور اس ک ے وا رث کو کچھ ن ہیں ملے گا ۔
2289 ۔ اگر کوئ ی شخص سونے یا چاندی کے سک ے وغ یرہ قرض لے اور بعد م یں ان کی قیمت کم ہ و جائ ے تو اگر و ہ و ہی مقدار جو اس نے ل ی تھی واپس کر دے تو کاف ی ہے اور اگر ان ک ی قیمت بڑھ جائ ے تو لازم ہے ک ہ اتن ی ہی مقدار واپس کرے جو ل ی تھی لیکن دونوں صورتوں میں اگر مقروض اور قرض خواہ کس ی اور بات پر رضامند ہ وجائ یں تو اس میں کوئی اشکال نہیں۔
2290 ۔ کس ی شخص نے جو مال قرض ل یا ہ و اگر و ہ تلف ن ہ ہ وا ہ و اور مال کا مالک اس کا مطالب ہ کر ے تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ مقروض و ہی مال مالک کو دے د ے۔
2291 ۔ اگر قرض د ینے والا شرط عائد کرے ک ہ و ہ جتن ی مقدار میں مال دے ر ہ ا ہے اس س ے ز یادہ واپس لے گا مثلاً ا یک من گیہ وں دے اور شرط عائد کر ے ک ہ ا یک من پانچ کیلو واپس لوں گا یا دس انڈے د ے اور ک ہے ک ہ گ یارہ انڈے واپس لوں گا تو یہ سود اور حرام ہے بلک ہ اگر ط ے کر ے ک ہ م قروض اس کے لئ ے کوئ ی کام کرے گا یا جو چیز لی ہ و و ہ کس ی دوسری جنس کی کچھ مقدار ک ے سات ھ واپس کر ے گا مثلاً ط ے کر ے ک ہ (مقروض ن ے ) جو ا یک روپیہ لیا ہے واپس کرت ے وقت اس ک ے سات ھ ماچس ک ی ایک ڈ ب یہ بھی دے تو یہ سود ہ وگا اور حرام ہے۔ ن یز اگر مقروض کے سات ھ شرط کر ے ک ہ جو چ یز وہ قرض ل ے ر ہ ا ہے اس ے ا یک مخصوص طریقے سے واپس کر ے گا مثلاً ان گ ھڑے سون ے ک ی کچھ مقدار اس ے د ے اور شرط کر ے ک ہ گ ھڑ ا ہ وا سونا واپس کر ے گا تب ب ھی یہ سود اور حرام ہ وگا البت ہ اگر قرض خوا ہ کوئ ی شرط نہ لگائ ے بلک ہ مقروض خود قرض ے ک ی مقدار سے کچ ھ ز یادہ واپس دے تو ک وئی اشکال نہیں بلکہ (ا یسا کرنا) مستحب ہے۔
2292 ۔ سود د ینا سود لینے کی طرح حرام ہے ل یکن جو شخص سود پر قرض لے ظا ہ ر یہ ہے ک ہ و ہ اس کا مالک ہ و جاتا ہے اگرچ ہ اول ی یہ ہے ک ہ اس م یں تصرف نہ کر ے اور اگر صورت یہ ہ و ک ہ طرف ین نے سود کا معا ہ د ہ ن ہ ب ھی کیا ہ وتا اور رقم کا مالک اس بات پر راض ی ہ وتا ک ہ قرض ل ینے والا اس رقم میں تصرف کرلے تو مقروض بغ یر کسی اشکال کے اس رقم م یں تصرف کرسکتا ہے۔
2293 ۔ اگرکوئ ی شخص گیہ وں یا اسی جیسی کوئی چیز سودی قرضے ک ے طور پر ل ے اور اس ک ے ذر یعے کاشت کرے تو ظا ہ ر یہ ہے ک ہ و ہ پ یداوار کا مالک ہ وجاتا ہے اگرچ ہ اولٰ ی یہ ہے ک ہ اس س ے جو پ یداوار حاصل ہ و اس م یں تصرف نہ کر ے۔
2294 ۔ اگر ا یک شخص کوئی لباس خریدے اور بعد میں اس کی قیمت کپڑے ک ے مالک کو سود ی رقم سے یا ایسی حلال رقم سے جو سود ی قرضے پر ل ی گئی رقم کے سات ھ مخلوط ہ وگئ ی ہ و ادا کر ے تو اس لباس ک ے پ ہ نن ے یا اس کے سات ھ نماز پ ڑھ ن ے م یں کوئی اشکال نہیں لیکن اگر بیچنے والے س ے ک ہے ک ہ م یں یہ لباس اس رقم سے خر ید رہ ا ہ وں تو اس لباس کو پ ہ ننا حرام ہے اور اس لباس ک ے سات ھ نماز پ ڑھ ن ے کا حکم نماز گزار ک ے لباس ک ے احکام م یں گزرچکا ہے۔
2295 ۔ ا گر کوئی شخص کسی تاجر کو کچھ رقم د ے اور دوسر ے ش ہ ر م یں اس تاجر سے کم رقم ل ے تو اس م یں کوئی اشکال نہیں اور اسے "صَرفِ براءت" ک ہ ت ے ہیں۔
2296 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی کو کچھ رقم اس شرط پر د ے ک ہ چند دن بعد دوسر ے ش ہ ر م یں اس سے ز یادہ لے گا مثلاً 990 روپے د ے اور دس دن بعد دوسرے ش ہ ر م یں اس کے بدل ے ا یک ہ زار روپ ے ل ے تو اگر یہ رقوم (یعنی 990 اور ہ زار روپ ے ) مثال ک ے طور پر سون ے یا چاندی کی بنی ہ وں تو یہ سود اور حرام ہے ل یکن جو شخص زیادہ لے ر ہ ا ہ و اگر و ہ اضاف ے ک ے مقابل ے م یں کوئی جنس دے یا کوئی کام کر دے تو پ ھ ر اشکال ن ہیں تاہ م و ہ عام رائج نو ٹ جن ہیں گن کر شمار کیا جاتا ہ و اگر ان ہیں زیادہ لیا جائے تو کوئ ی اشکال نہیں ماسوا اس صورت کے ک ہ قرض د یا ہ و اور ز یادہ کی ادائیگی کی شرط لگائی ہ و تو اس صورت م یں حرام ہے یا ادھ ار پر ب یچے اور جنس اور اس کا عوض ایک ہی جنس سے ہ وں تو اس صورت م یں معاملے کا صح یح ہ ونا اشکال س ے خال ی نہیں ہے۔
2297 ۔ اگر کس ی شخص نے کس ی سے کچ ھ قرض ل ینا ہ و اور و ہ چ یز سونا یا چاندی یا ناپی یا تولی جانے وال ی جنس نہ ہ و تو و ہ شخص اس چ یز کو مقروض یا کسی اور کے پاس کم ق یمت پر بیچ کر اس کی قیمت نقد وصول کر سکتا ہے۔ اس ی بنا پر موجودہ دور م یں جو چیک اور ہ ن ڈیاں قرض خواہ مقرو ض سے ل یتا ہے ان ہیں وہ بنک ک ے پاس یا کسی دوسرے شخص ک ے پاس اس س ے کم ق یمت پر ۔ جس ے عام طور پر ب ھ او گرنا ک ہ ت ے ہیں ۔ ب یچ سکتا ہے اور باق ی رقم نقد لے سکتا ہے ک یونکہ رائج الوقت نوٹ وں کا ل ین دین ناپ تول سے ن ہیں ہ وتا ۔
2298 ۔ اگر کوئ ی شخص اپنے قرض خوا ہ کو حوال ہ د ے ک ہ و ہ اپنا قرض ا یک اور شخص سے ل ے ل ے اور قرض خوا ہ اس بات کو قبول کر ل ے تو جب " حوال ہ " ان شرائط ک ے سات ھ جن کا ذکر بعد م یں آئے گا مکمل ہ وجائ ے تو جس شخص ک ے نام حوال ہ د یا گیا ہے و ہ مقروض ہ وجائ ے گا اور اس ک ے بعد قرض خواہ پہ ل ے مقروض س ے اپن ے قرض کا مطالب ہ ن ہیں کرسکتا۔
2299 ۔ مقروض اور قرض خوا ہ اور جس شخص کا حوال ہ د یا جاسکتا ہ و ضرور ی ہے ک ہ سب بالغ اور عاقل ہ وں اور کس ی نے ان ہیں مجبور نہ ک یا ہ و ن یز ضروری ہے ک ہ سف یہ نہ ہ وں یعنی اپنا مال احمقانہ اور فضول کاموں م یں خرچ نہ کرت ے ہ وں اور یہ بھی معتبر ہے ک ہ مقروض اور قرض خوا ہ د یوالیہ نہ ہ وں ۔ ہ اں اگر حوال ہ ا یسے شخص کے نام ہ و جو پ ہ ل ے س ے حوال ہ د ینے والے کا مقروض ن ہ ہ و تو اگرچ ہ حوال ہ د ینے والا دیوالیہ بھی ہ و کوئ ی اشکال نہیں ہے۔
2300 ۔ ا یسے شخص کے نام حوالہ د ینا جو مقروض نہ ہ و اس صورت م یں صحیح نہیں ہے جب و ہ حوال ہ قبول ن ہ کر ے۔ ن یز اگر کوئی شخص چاہے ک ہ جو شخص ا یک جنس کے لئ ے اس کا مقروض ہے اس ک ے نام دوسر ی جنس کا حوالہ لک ھے۔ مثلاً جو شخص جَو کا مقروض ہ و اس ک ے نام گ یہ وں کا حوالہ لک ھے تو جب تک وہ شخص قبول ن ہ کر ے حوال ہ صح یح نہیں ہے۔ بلک ہ حوال ہ د ینے کی تمام صورتوں میں ضروری ہے ک ہ جس شخص ک ے نام حوال ہ ک یا جارہ ا ہے و ہ حوال ہ قبول کر ے اور اگر قبول ن ہ کر ے تو بنا بر اظ ہ ر (حوال ہ ) صح یح نہیں ہے۔
2301 ۔ انسان جب حوال ہ د ے تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ اس وقت مقروض ہو لہ ذا اگر و ہ کس ی سے قرض ل ینا چاہ تا ہ و تو جب تک اس س ے قرض ن ہ ل ے ل ے اس ے کس ی کے نام کا حوال ہ ن ہیں دے سکتا تاک ہ جو قرض اس ے بعد م یں دینا ہ و و ہ پ ہ ل ے ہی اس شخص سے وصول کرل ے۔
2302 ۔ حوال ہ ک ی جنس اور مقدار فی الواقع معین ہ ونا ضرور ی ہے پس اگر حوال ہ د ینے والا کسی شخص کا دس من گیہ وں اور دس روپے کا مقروض ہ و اور قرض خوا ہ کو حوال ہ د ے ک ہ ان دونوں قرضوں م یں سے کوئ ی ایک فلاں شخص سے ل ے لو اور اس قرض ے کو مع ین نہ کر ے تو حوال ہ درست ن ہیں ہے۔
2303 ۔ اگر قرض واقع ی معین ہ و ل یکن حوالہ د ینے کے وقت مقروض اور قرض خوا ہ کو اس ک ی مقدار یا جنس کا علم نہ ہ و تو حوال ہ صح یح ہے مثلاً اگر کس ی شخص نے دوسر ے کا قرض ہ رجس ٹ ر م یں لکھ ا ہ و اور رجس ٹ ر د یکھ ن ے سے پ ہ ل ے حوال ہ د ے د ے اور بعد م یں رجسٹ ر د یکھے اور قرض خواہ کو قرض ے ک ی مقدار بتا دے تو حوال ہ صح یح ہ وگا ۔
2304 ۔ قرض خوا ہ کو اخت یاط ہے ک ہ حوال ہ قبول ن ہ کر ے اگ رچہ جس ک ے نام کا حوال ہ د یا جائے و ہ دولت مند ہ و اور حوال ہ ک ے ادا کرن ے م یں کوتاہی بھی نہ کر ے۔
2305 ۔ جو شخص حوال ہ د ینے والے کا مقروض ن ہ ہ و اگر حوال ہ قبول کر ے تو اظ ہ ر یہ ہے ک ہ حوال ہ ادا کرن ے س ے پ ہ ل ے حوال ہ د ینے والے س ے حوال ے ک ی مقدار کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ مگر یہ کہ جو قرض جس ک ے نام حوال ہ د یا گیا ہے اس ک ی مدت معین ہ و اور اب ھی وہ مدت ختم ن ہ ہ وئ ی ہ و تو اس صورت م یں وہ مدت ختم ہ ون ے س ے پ ہ ل ے حوال ے د ینے والے س ے حوال ے ک ی مقدار کا مطالبہ ن ہیں کر سکتا اگرچہ اس ن ے ادائ یگی کر دی ہ و اور اس ی طرح اگر قرض خواہ اپن ے قرض س ے ت ھ و ڑی مقدار پر صلح کرے تو و ہ حوال ہ د ینے والے س ے فقط (ت ھ و ڑی) مقدار کا ہی مطالبہ کر سکتا ہے۔
2306 ۔ حوال ہ ک ی شرائط پوری ہ ون ے ک ے بعد حوال ہ د ینے والا اور جس کے نام حوال ہ د یا جائے حوال ہ منسوخ ن ہیں کر سکتے اور و ہ شخص جس ک ے نام کا حوال ہ د یا گیا ہے حوال ہ ک ے وقت فق یر نہ ہ و تو اگرچ ہ و ہ بعد م یں فقیر ہ و جائ ے تو قرض خوا ہ ب ھی حوالے کو منسوخ ن ہیں کرسکتا ہے۔ یہی حکم اس وقت ہے جب (و ہ شخص جس ک ے نام کا حوال ہ د یا گیا ہ و) حوال ہ د ینے کے وقت فق یر ہ و اور قرض خوا ہ جانتا ہ و ک ہ و ہ فق یر ہے ل یکن اگر قرض خواہ کو علم ن ہ ہ و ک ہ و ہ فق یر ہے اور بعد میں اسے پت ہ چل ے تو اگر اس وقت و ہ شخص مالدار ن ہ ہ وا ہ و قرض خوا ہ حوال ہ منسوخ کرک ے اپنا قرض حوالہ د ینے والے س ے ل ے سکتا ہے۔ ل یکن اگر وہ مالدار ہ وگ یا ہ و تو معلوم ن ہیں کہ معامل ے کو فسخ کرسکتا ہے ( یا نہیں)۔
2307 ۔ اگر مقروض اور قرض خوا ہ اور جس ک ے نام کا حوال ہ دیا گیا ہ و یا ان میں سے کس ی ایک نے اپن ے حق م یں حوالہ منسوخ کرن ے کا معا ہ د ہ ک یا ہ و تو جو معا ہ د ہ ان ہ وں ن ے ک یا ہ و اس ک ے مطابق و ہ حوال ہ منسوخ کر سکت ے ہیں۔
2308 ۔ اگر حوال ہ د ینے والا خود قرض خواہ کا قرض ہ ادا کر د ے یہ کام اس شخص کی خواہ ش پر ہ وا ہ و جس ک ے نام کا حوال ہ د یا گیا ہ و جبک ہ و ہ حوال ہ د ینے والے کا مقروض ب ھی ہ و تو و ہ جو کچ ھ د یا ہ و اس س ے ل ے سکتا ہے اور اگر اس ک ی خواہ ش ک ے بغ یر ادا کیا ہ و یا وہ حوال ہ د ہ ند ہ کا مقروض ن ہ ہ و تو پ ھ ر اس ن ے جو کچ ھ د یا ہے اس کا مطالب ہ اس س ے ن ہیں کرسکتا۔
2309 ۔ ر ہ ن یہ ہے ک ہ انسان قرض ک ے بدل ے اپنا مال یا جس مال کے لئ ے ضامن بنا ہ و و ہ مال کس ی کے پاس گرو ی رکھ وائ ے ک ہ اگر ر ہ ن رک ھ وان ے والا قرض ہ ن ہ لو ٹ ا سک ے یا رہ ن ن ہ چ ھڑ ا سک ے تو ر ہ ن ل ینے والا شخص اس کو عوض اس مال سے ل ے سک ے۔
2310 ۔ ر ہ ن م یں صیغہ پڑھ نا لازم ن ہیں ہے بلک ہ اتنا کاف ی ہے ک ہ گرو ی دینے والا اپنا مال گروی رکھ ن ے ک ی نیت سے گرو ی لینے والے کو د ے د ے اور و ہ اس ی نیت سے ل ے ل ے تو ر ہ ن صح یح ہے۔
2311 ۔ ضرور ی ہے ک ہ گرو ی رکھ وان ے والا اور گرو ی رکھ ن ے والا بالغ اور عاقل ہ وں اور کس ی نے ان ہیں اس معاملے ک ے لئ ے مجبور ن ہ ک یا ہ و اور یہ بھی ضروری ہے ک ہ مال گرو ی رکھ وان ے والا د یوالیہ اور سفیہ نہ ہ و ۔ د یوالیہ اور سفیہ کے معن ی مسئلہ 2262 میں بتائے جاچک ے ہیں۔ اور اگ ر دیوالیہ ہ و ل یکن جو مال وہ گرو ی رکھ وا ر ہ ا ہے اس کا اپنا مال ن ہ ہ و یا ان اموال میں سے ن ہ ہ و جس ک ے تصرف کرن ے س ے منع ک یا گیا ہ و تو کوئ ی اشکال نہیں ہے۔
2312 ۔ انسان و ہ مال گرو ی رکھ سکتا ہے جس م یں وہ شرعاً تصرف کر سکتا ہ و اور اگر کس ی دوسرے کا مال اس ک ی اجازت سے گرو ی رکھ د ے تو ب ھی صحیح ہے۔
2313 ۔ جس چ یز کو گروی رکھ ا جا ر ہ ا ہ و ضرور ی ہے ک ہ اس ک ی خرید و فروخت صحیح ہ و ۔ ل ہ ذا اگر شراب یا اس جیسی چیز گروی رکھی جائے تو درست ن ہیں ہے۔
2314 ۔ جس چ یز کو گروی رکھ ا جا ر ہ ا ہے اس س ے جو فائد ہ ہ وگا و ہ اس چ یز کے مالک ک ی ملکیت ہ وگا خوا ہ و ہ گرو ی رکھ وان ے والا ہ و یا کوئی دوسرا شخص ہ و ۔
2315 ۔ گرو ی رکھ ن ے وال ے ن ے جو مال بطور گرو ی لیا ہ و اس مال کو اس ک ے مالک ک ی اجازت کے بغ یر خواہ گرو ی رکھ وان ے والا ہ و یا کوئی دوسرا شخص کسی دوسرے ک ی ملکیت میں نہیں دے سکتا ۔ مثلاً ن ہ و ہ کس ی دوسرے کو و ہ مال بخش سکتا ہے ن ہ کس ی کو بیچ سکتا ہے۔ ل یکن اگر وہ اس مال کو کسی کو بخش دے یا فروخت کر دے اور مالک بعد م یں اجازت دے تو کوئ ی اشکال نہیں ہے۔
2316 ۔ اگر گرو ی رکھ ن ے والا اس مال کو جو اس ن ے بطور گرو ی لیا ہ و اس ک ے مالک ک ی اجازت سے ب یچ دے تو مال ک ی طرح اس کی قیمت گروی نہیں ہ وگ ی۔ اور یہی حکم ہے اگر مالک ک ی اجازت کے بغ یر بیچ دے اور مالک بعد م یں اجازت دے ( یعنی اس مال کی جو قیمت وصول کی جائے و ہ اس مال کی طرح گروی نہیں ہ وگ ی)۔ ل یکن اگر گروی رکھ وان ے والا اس چ یز کو گروی رکھ ن ے وال ے ک ی اجازت سے ب یچ دے تاک ہ اس ک ی قیمت کو گروی قرار دے تو ضرور ی ہے ک ہ مالک ک ی اجازت سے ب یچ دے اور اس ک ی مخالفت کرنے ک ی صورت میں معاملہ باطل ہے۔ مگر یہ کہ گرو ی رکھ ن ے وال ے ن ے اس ک ی اجازت دی ہ و (تو پ ھ ر معامل ہ صح یح ہے ) ۔
2317 ۔ جس وقت مقروض کو قرض ادا کر د ینا چاہ ئ ے اگر قرض خوا ہ اس وقت مطالب ہ کر ے اور مقروض ادائ یگی نہ کر ے تو اس صورت م یں جب کہ قرض خوا ہ مال کو فروخت کرک ے اپنا قرض ہ اس ک ے مال س ے وصول کرن ے کا احت یاط رکھ تا ہ و و ہ گرو ی لئے ہ وئ ے ما ل کو فروخت کرکے اپنا قرض ہ وصول کرسکتا ہے۔ اور اگر اخت یاط نہ رک ھ تا ہ و تو اس ک ے لئ ے لازم ہے ک ہ مقروض س ے اجازت ل ے اور اگر اس تک پ ہ نچ ن ہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ حاکم شرع س ے اس مال کو ب یچ کر اس کی قیمت سے اپنا قرض ہ وصول کرن ے ک ی اجازت لے اور دونوں صورتوں م یں اگر قرضے سے ز یادہ قیمت وصول ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ز ائد مال مقروض کو دیدے۔
2318 ۔ اگر مقروض ک ے پاس اس مکان ک ے علاو ہ جس م یں وہ ر ہ تا ہ و اور اس سامان ک ے علاو ہ جس ک ی اسے ضرورت ہ و اور کوئ ی چیز نہ ہ و تو قرض خوا ہ اس س ے اپن ے قرض کا مطالب ہ ن ہیں کر سکتا لیکن مقروض نے جو مال بطور گرو ی دیا ہ و اگرچ ہ و ہ مکان اور سامان ہی کیوں نہ ہ و قرض خوا ہ اس ے ب یچ کر اپنا قرض وصول کر سکتا ہے۔
2319 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی دوسرے کا قرض ہ ادا کرن ے ک ے لئ ے ضامن بننا چا ہے تو اس کا ضامن بننا اس وقت صح یح ہ وگا جب و ہ کس ی لفظ سے اگ رچہ و ہ عرب ی زبان میں نہ ہ و یا کسی عمل سے قرض خوا ہ کو سمج ھ ا د ے ک ہ م یں تمہ ار ے قرض ک ی ادائیگی کے لئ ے ضامن بن گ یا ہ وں اور قرض خوا ہ ب ھی اپنی رضامندی کا اظہ ار کر د ے اور (اس سلسل ے م یں) مقروض کا رضامند ہ ونا شرط ن ہیں ہے۔
2320 ۔ ضامن اور قرض خوا ہ دونوں ک ے لئ ے ضرور ی ہے بالغ اور عاقل ہ وں اور کس ی نے ان ہیں اس معاملے پر مجبور ن ہ ک یا ہ و ن یز ضروری ہے ک ہ و ہ سف یہ بھی نہ ہ وں اور اس ی طرح ضروری ہے ک ہ قرض خوا ہ د یوالیہ نہ ہ و، ل یکن یہ شرائط مقروض کے لئ ے ن ہیں ہیں مثلاً اگر کوئی شخص بچے ، د یوانے یا سفیہ کا قرض ادا کرنے ک ے لئ ے ضامن بن ے تو ضمانت صح یح ہے۔
2321 ۔ جب کوئ ی شخص ضامن بننے ک ے لئ ے کوئ ی شرط رکھے مثلاً یہ کہے ک ہ "اگر مقروض تم ہ ارا قرض ادا ن ہ کر ے تو م یں تمہ ارا قرض ادا کروں گا" تو اس ک ے ضامن ہ ون ے م یں اشکال ہے۔
2322 ۔ انسان جس شخص ک ے قرض ک ی ضمانت دے ر ہ ا ہے ضروری ہے ک ہ و ہ مقروض ہ و ل ہ ذا اگر کوئ ی شخص کسی دوسرے شخص س ے قرض ل ینا چاہ تا ہ و تو جب تک و ہ قرض ن ہ ل ے ل ے اس وقت تک کوئ ی شخص اس کا ضامن نہیں بن سکتا۔
2323 ۔ انسان اس ی صورت میں ضامن بن سکتا ہے جب قرض، قرض خوا ہ اور مقروض ( یہ تینوں) فی والوقع معین ہ وں ل ہ ذا اگر دو اشخاص کسی ایک شخص کے قرض خوا ہ ہ وں اور انسان ک ہے ک ہ م یں تم میں سے ا یک کا قرض ادا کردوں گا تو چونکہ اس ن ے اس بات کو مع ین نہیں کیا کہ و ہ ان م یں سے کس کا قرض ادا کر ے گا اس لئ ے اس کا ضامن بننا باطل ہے۔ ن یز اگر کسی کو دو اشخاص سے قرض وصول کرنا ہ و اور کوئ ی شخص کہے ک ہ م یں ضامن ہ وں ک ہ ان دو م یں سے ا یک کا قرض تمہیں ادا کر دوں گا تو چونکہ اس ن ے بات کو مع ین نہیں کیا کہ دونوں م یں سے کس کا قرض ہ ادا کر ے گا اس لئ ے اس کا ضامن بننا باطل ہے۔ اور اس ی طرح اگر کسی نے ا یک دوسرے شخص س ے مثال ک ے طور پر دس من گ یہ وں اور دس روپے لینے ہ وں اور کوئ ی شخص کہے ک ہ م یں تمہ ار ے دونوں قرضوں م یں سے ا یک کی ادائیگی کا ضامن ہ وں اور اس چ یز کو معین نہ کر ے ک ہ و ہ گ یہ وں کے لئ ے ضامن ہے یا روپوں کے ل ئے تو یہ ضمانت صحیح نہیں ہے۔
2324 ۔ اگر قرض خوا ہ اپنا قرض ضامن کو بخش د ے تو ضامن مقروض س ے کوئ ی چیز نہیں لے سکتا اور اگر و ہ قرض ے ک ی کچھ مقدار اس ے بخش د ے تو و ہ (مقروض س ے ) اس مقدار کا مطالب ہ ن ہیں کرسکتا۔
2325 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی کا قرضہ ادا کرن ے ک ے لئ ے ضامن بن جائ ے تو پ ھ ر و ہ ضامن ہ ون ے س ے مکر ن ہیں سکتا۔
2326 ۔ احت یاط کی بنا پر ضامن اور قرض خواہ یہ شرط نہیں کرسکتے کہ جس وقت چا ہیں ضامن کی ضمانت منسوخ کر دیں۔
2327 ۔ اگر انسان ضامن بنن ے ک ے وقت قرض خوا ہ کا قرض ہ ادا کرن ے ک ے قابل ہ و تو خوا ہ و ہ (ضامن) بعد م یں دیوالیہ ہ و جائ ے قرض خوا ہ اس ک ی ضمانت منسوخ کرکے پ ہ ل ے مقروض س ے قرض ک ی ادائیگی کا مطالبہ ن ہیں کر سکتا۔ اور اس ی طرح اگر ضمانت دیتے وقت ضامن قرض ادا کرنے پر قادر ن ہ ہ و ل یکن قرض خواہ یہ بات جانتے ہ وئ ے اس ک ے ضامن بنن ے پر راض ی ہ وجائ ے تب ب ھی یہی حکم ہے۔
2328 ۔ اگر انسان ضامن بنن ے ک ے وقت قرض خوا ہ کا قرض ہ ادا کرن ے پر قادر ن ہ ہ و اور قرض خوا ہ صورت حال س ے لاعلم ہ ون ے ک ی بنا پر اس کی ضمانت منسوخ کرنا چاہے تو اس م یں اشکال ہے خصوصاً اس صورت م یں جب کہ قرض خوا ہ ک ے اس امر ک ی جانب متوجہ ہ ون ے س ے پ ہ ل ے ضامن قرض ے ک ی ادائیگی پر قادر ہ وجائ ے۔
2329 ۔ اگر کوئ ی شخص مقروض کی اجازت کے بغ یر اس کا قرضہ ادا کرن ے ک ے لئ ے ضامن بن جائ ے تو و ہ قرض ہ ادا کرن ے پر م قروض سے کچ ھ ن ہیں لے سکتا ۔
2330 ۔ اگر کوئ ی شخص مقروض کی اجازت سے اس ک ے قرض ے ک ی ادائیگی کا ضامن بن جائے تو جس مقدار ک ے لئ ے ضامن بنا ہ و ۔ اگرچ ہ اس ے ادا کرن ے س ے پ ہ ل ے ۔ مقروض س ے اس کا مطالب ہ کر سکتا ہے۔ ل یکن جس جنس کے لئ ے و ہ مقروض ت ھ ا اس ک ی بجائے کوئ ی اور جنس قرض خواہ کو د ے تو جو چ یز دی ہو اس کا مطالبہ مقروض س ے ن ہیں کر سکتا مثلاً اگر مقروض کو دس من گیہ وں دینی ہ و اور ضامن دس من چاول د ے د ے تو ضامن مقروض س ے دس من چاول کا مطالب ہ ن ہیں کرسکتا لیکن اگر مقروض خود چاول دینے پر رضامند ہ وجائ ے تو پ ھ ر کوئ ی اشکال نہیں۔
2331 ۔ " کَفالَت" س ے مراد یہ ہے ک ہ کوئ ی شخص ذمہ ل ے ک ہ جس وقت قرض خوا ہ چا ہے گا و ہ مقروض کر اس ک ے سپرد کرد ے گا ۔ اور جو شخص اس قسم ک ی ذمے دار ی قبول کرے اس ے کف یل کہ ت ے ہیں۔
2332 ۔ کَفالَت اس وقت صح یح ہے جب کف یل کوئی سے الفاظ م یں خواہ عرب ی زبان کے ن ہ ب ھی ہ وں یا کسی عمل سے قرض خوا ہ کو یہ بات سمجھ ا د ے ک ہ م یں ذمہ ل یتا ہ وں ک ہ جس وقت تم چا ہ و گ ے م یں مقروض کو تمہ ار ے حوال ے کردوں گا اور قرض خوا ہ ب ھی اس بات کو قبول کرلے۔ اور احت یاط کی بنا پر کَفالَت کے صح یح ہ ون ے ک ے لئ ے مقروض ک ی رضامندی بھی مُعتَبَر ہے۔ بلک ہ احت یاط یہ ہے ک ہ کَفاَلت ک ے معامل ے م یں اسے طرح مقروض کو ب ھی ایک فریق ہ ونا چا ہے یعنی مقروض اور قرض خواہ دونوں کَفالَت کو قبول کر یں۔
2333 ۔ کف یل کے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ بالغ اور عاقل ہ و اور اس ے کف یل بننے پر مجبور ن ہ ک یا گیا ہ و اور و ہ اس بات پر قادر ہ و ک ہ جس کا کف یل بنے اس ے حاضر کر سکے اور اس ی طرح اس صورت میں جب مقروض کو حاضر کرنے ک ے لئ ے کف یل کو اپنا مال خرچ کرنا پڑے تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ سف یہ اور دیوالیہ نہ ہ و ۔
2324 ۔ ان پانچ چ یزوں میں سے کوئ ی ایک کفالت کو کالعدم کر دیتی ہے :
1 ۔ کف یل مقروض کو قرض خواہ ک ے حوال ے کر د ے یا وہ خود اپن ے آپ کو قرض خوا ہ ک ے حوال ے کر د ے۔
2 ۔ قرض خوا ہ کا قرض ہ ادا کر د یا جائے۔
3 ۔ قرض خوا ہ اپن ے قرض ے س ے دستبردار ہ و جائ ے۔ یا اسے کس ی دوسرے ک ے حوال ے کر د ے۔
4 ۔ مقروض یا کفیل میں سے ا یک مرجائے۔
5 ۔ قرض خوا ہ کف یل کو کفالت سے بَرِ یُّالذِّمَّہ قرار دے د ے۔
2335 ۔ اگر کوئ ی شخص مقروض کو قرض خواہ س ے زبردست ی آزاد کرادے اور قرض خوا ہ ک ی پہ نچ مقروض تک ن ہ ہ وسک ے تو جس شخص ن ے مقروض کو آزاد کرا یا ہ و ضرور ی ہے ک ہ و ہ مقروض کو قرض خوا ہ ک ے حوال ے کر د ے یا اس کا قرض ادا کرے۔
2336 ۔ اگر ا یک شخص کوئی مال کسی کو دے اور کہے ک ہ یہ تمہ ار ے پاس امانت ر ہے گا اور و ہ ب ھی قبول کرے یا کوئی لفظ کہے بغ یر مال کا مالک اس شخص کو سمجھ ا د ے ک ہ و ہ اس ے مال رک ھ وال ی کے لئ ے د ے ر ہ ا ہے اور و ہ ب ھی رکھ وال ی کے مقصد س ے ل ے ل ے تو ضرور ی ہے امانت دار ی کے ان احکام ک ے مطابق عمل کر ے جو بعد م یں بیان ہ وں گ ے۔
2337 ۔ ضرور ی ہے ک ہ امانت دار اور و ہ شخص جو مال بطور امانت د ے دونوں بالغ اور عاقل ہ وں اور کس ی نے ان ہیں مجبور نہ ک یا ہ و ل ہ ذا اگر کوئ ی شخص کسی مال کو دیوانے یا بچے ک ے پاس امانت ک ے طور پر رک ھے یا دیوانہ یا بچہ کوئ ی مال کسی کے پاس امانت ک ے طور پر رک ھے ت و صحیح نہیں ہے ہ ان سمج ھ دار بچ ہ کس ی دوسرے ک ے مال کو اس ک ی اجازت سے کس ی کے پاس امانت رک ھے تو جائز ہے۔ اس ی طرح ضروری ہے ک ہ ک ہ امانت رک ھ وان ے والا سف یہ اور دیوالیہ نہ ہ و ل یکن اگر دیوالیہ ہ و تا ہ م جو مال اس ن ے امانت ک ے طور پر رک ھ وا یا ہ و و ہ اس مال م یں سے ن ہ ہ و جس میں اسے تصرف کرنے س ے منع ک یا گیا ہے تو اس صورت م یں کوئی اشکال نہیں ہے۔ ن یز اس صورت میں کہ جب مال ک ی حفاظت کرنے ک ے لئ ے امانت دار کو اپنا مال خرچ کرنا پ ڑے تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ سف یہ اور دیوالیہ نہ ہ و ۔
2338 ۔ اگر کوئ ی شخص بچے س ے کوئ ی چیز اس کے مالک ک ی اجازت کے بغ یر بطور امانت قبول کرلے تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ چ یز اس کے مالک کو د ے د ے اور اگر و ہ چ یز خود بچے کا مال ہ و تو لازم ہے ک ہ و ہ چ یز بچے ک ے سرپرست تک پ ہ نچا د ے اور اگر و ہ مال ان لوگوں ک ے پاس پ ہ نچان ے س ے پ ہ ل ے تلف ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا عوض د ے مگر اس ڈ ر س ے ک ہ خدا نخو استہ تلف ہ وجائ ے اس مال کو اس ک ے مالک تک پ ہ نچان ے ک ی نیت سے ل یا ہ و تو اس صورت م یں اگر اس نے مال ک ی حفاظت کرنے اور اس ے مالک تک پ ہ نچان ے م یں کوتاہی نہ ک ی ہ و تو و ہ ضامن ن ہیں ہے اور اگر امانت ک ے طور پر م ال دینے والا دیوانہ ہ و تب ب ھی یہی حکم ہے۔
2339 ۔ جو شخص امانت کی حفاظت نہ کرسکتا ہ و اگر امانت رک ھ وان ے والا اس ک ی اس حالت سے باکبر ن ہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ شخص امانت قبول ن ہ کر ے۔
2340 ۔ اگر انسان صاحب مال کو سمج ھ ائ ے ک ہ و ہ اس ک ے مال ک ی حفاظت کے لئ ے ت یار نہیں اور اس مال کو امانت کے طور پر قبول ن ہ کر ے اور صاحب مال پ ھ ر ب ھی مال چھ و ڑ کر چلا جائ ے اور و ہ مال تلف ہ و جائ ے تو جس شخص امانت قبول ن ہ ک ی ہ و و ہ ذم ے دارن ہیں ہے ل یکن احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ اگر ممکن ہ و تو اس مال ک ی حفاظت کرے۔
2341 ۔ جو شخص کس ی کے پاس کوئ ی چیز بطور امانت رکھ وائ ے و ہ امانت کو جس وقت چا ہے منسوخ کرسکتا ہے اور اس ی طرح امین بھی جب چاہے اس ے منسوخ کرسکتا ہے۔
2342 ۔ اگر کوئ ی شخص امانت کی نگہ داشت ترک کرد ے اور امانت دار ی منسوخ کر دے تو ضرور ی ہے ک ہ جس قدر جلد ہ و سک ے مال اس ک ے مالک یا مالک کے وک یل یا سرپرست کو پہ نچا د ے یا انہیں اطلاع دے ک ہ و ہ مال ک ی (مزید) نگہ داشت ک ے لئ ے ت یار نہیں ہے اور اگر و ہ بغ یر عذر کے مال ان تک ن ہ پ ہ نچائ ے یا اطلاع نہ د ے اور مال تلف ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا عوض د ے۔
2343 ۔ جو شخص امانت قبول کر ے اگر اس ک ے پاس اس ے رک ھ ن ے ک ے لئ ے مناسب جگ ہ ن ہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس ک ے لئ ے مناسب جگ ہ حاصل کر ے اور امانت ک ی اس طرح نگہ داشت کر ے ک ہ یہ لوگ یہ نہ ک ہیں کہ اس ن ے نگ ہ داشت م یں کوتاہی کی ہے اور اگر و ہ اس کام م یں کوتاہی کرے اور امانت تلف ہ و جائے تو ضروری ہے ک ہ اس کا عوض د ے۔
2344 ۔ جو شخص امانت قبول کر ے اگر و ہ اس ک ی نگہ داشت م یں کوتاہی نہ کر ے اورن ہ ہی تعدّی کرے اور اتفاقاً و ہ مال تلف ہ و جائ ے تو و ہ شخص ذم ہ دار ن ہیں ہے ل یکن اگر وہ اس مال ک ی حفاظت میں کوتاہی کرے اور مال کو ا یسی جگہ رک ھے ج ہ اں و ہ ا یسا غیر محفوظ ہ و ک ہ اگر کوئ ی ظالم خبر پائے تو ل ے جائ ے یا وہ اس مال م یں تَعَدِّی کرے یعنی مالک کی اجازت کے بغ یر اس مال میں تصرف کرے مثلاً لباس کو استعمال کر ے یا جانور پر سواری کرے اور و ہ تلف ہ و جائ ے تو ضرور یہے کہ اس کا عوض اس ک ے مالک کو د ے۔
2345 ۔ اگر مال کا مالک اپن ے مال ک ی نگہ داشت ک ے لئ ے کوئ ی جگہ مع ین کر دے اور جس شخص ن ے امانت قبول ک ی ہ و اس س ے ک ہہ ک ہ "تم ہیں چاہ ئ ے ک ہ یہیں مال کا خیال رکھ و اور اگر اس ک ے ضائع ہ و جان ے کا احتمال ہ و تب ب ھی تم اس کو کہیں اور نہ ل ے جانا ۔ تو امانت کرن ے والا اس ے کس ی اور جگہ ن ہیں لے جاسکتا اور اگر و ہ مال کو کس ی دوسری جگہ ل ے جائ ے اور و ہ تلف ہ و جائ ے تو ام ین ذمہ دار ہے۔
2346 ۔ اگر مال کا مالک اپن ے مال ک ی نگہ داشت ک ے لئ ے کوئ ی جگہ مع ین کرے ل یکن ظاہ راً و ہ یہ کہہ ر ہ ا ہ و ک ہ اس ک ی نظر میں وہ جگ ہ کوئ ی خصوصیت نہیں رکھ ت ی بلکہ و ہ جگ ہ مال ک ے لئ ے محفوظ جگ ہ وں م یں سے ا یک ہے تو و ہ شخص جس ن ے امانت قبول ک ی ہے اس مال کو کس ی ایسی جگہ جو ز یادہ محفوظ ہ و یا پہ ل ی جگہ جتن ی محفوظ ہ و ل ے جاسکتا ہے اور اگر مال و ہ اں تلف ہ و جائ ے تو و ہ ذم ے دار ن ہیں ہے۔
2347 ۔ اگر مال کا مالک مرجائ ے تو امانت کا معامل ہ باطل ہ وجاتا ہے۔ ل ہ ذا اگر اس مال م یں کسی دوسرے کا حق ن ہ ہ و تو و ہ مال اس ک ے وارث کو ملتا ہے اور ضرور ی ہے ک ہ امانت دار اس مال کو اس ک ے وارث تک پ ہ نچائ ے یا اسے اطلاع د ے۔ اور اگر و ہ شرع ی عذر کے بغ یر مال کو اس کے وار ث کے حوال ے ن ہ کر ے اور خبر د ینے میں بھی کوتاہی برتے اور مال ضائع ہ وجائ ے تو و ہ ذم ے دار ہے ل یکن اگر وہ مال اس وج ہ س ے وارث کو ن ہ د ے اور اس ے خبر د ینے میں بھی کوتاہی کرے ک ہ جاننا چا ہ تا ہ و ک ہ و ہ شخص جا ک ہ تا ہے ک ہ م یں میت کا وارث ہ وں واقعاً ٹھیک کہ تا ہے یا نہیں یا یہ جانتا چاہ تا ہ و ک ہ کوئ ی اور شخص میت کا وارث ہے یا نہیں اور اگر (اس تحقیق کے ب یچ) مال تلف ہ و جائ ے تو و ہ ذم ے دار ن ہیں ہے۔
2349 ۔ اگر مال کا مالک مر جائے اور مال ک ی ملکیت کا حق اس کے ورثاء کو مل جائ ے تو جس شخص ن ے امانت قبول ک ی ہ و ضرور ی ہے ک ہ مال تمام ورثاء کو د ے یا اس شخص کو دے جس ے مال د ینے پر سب ورثاء رضامند ہ وں ۔ ل ہ ذا اگر و ہ دوسر ے ورثاء ک ی اجازت کے بغ یر تمام مال فقط ایک وارث کو دے دے تو و ہ دوسروں ک ے حصوں کا ذم ے دار ہے۔
2350 ۔ جس شخص ن ے امانت قبول ک ی ہ و اگر و ہ مرجائ ے یا ہ م یشہ کے لئ ے د یوانہ یا بے حواس ہ و جائ ے تو امانت کا معامل ہ باطل ہ وجائ ے گا اور اس ک ے سرپرست یا وارث کو چاہ ئ ے ک ہ جس قدر جلد ہ و سک ے مال ک ے مالک کو اطلا ع د ے یا امانت اس تک پہ نچائ ے۔ ل یکن اگر کبھی کبھ ار ( یا تھ و ڑی مدت کے لئ ے )د یوانہ یا بے حواس ہ وتا ہ و تو اس صورت م یں امانت کا معاملہ باطل ہ ون ے م یں اشکال ہے۔
2351 ۔ اگر امانت دار اپن ے آپ م یں موت کی نشانیاں دیکھے تو اگر ممکن ہ و تو احت یاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ امانت کو اس ک ے مالک، سرپر ست یا وکیل تک پہ نچاد ے یا اس کو اطلاع دے ، اور اگر یہ ممکن نہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ا یسا بندوبست کرے ک ہ اس ے طم ینان ہ و جائ ے ک ہ اس ک ے مرن ے کے بعد مال اس کے مالک کو مل جائ ے گا مثلاً وص یت کرے اور اس وص یت پر گواہ مقرر کر ے اور مال ک ے مالک کا نام اور مال ک ی جنس اور خصوصیات اور محل وقوع وصی اور گواہ وں کو بتا د ے۔
2352 ۔ اگر امانت دار اپن ے آپ م یں موت کی نشانیاں دیکھے اور جو طریقہ اس سے پ ہ ل ے مسئل ے م یں بتایا گیا ہے اس ک ے مطابق عمل ن ہ کر ے تو و ہ اس امانت کا ضامن ہ وگا ل ہ ذا اگر امانت ضائع ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا عوض دے۔ ل یکن اگر وہ جانبر ہ و جائ ے یا کچھ مدت گزرن ے ک ے بع د پشیمان ہ و جائ ے اور جو کچ ھ (سابق ہ مسئل ے م یں) بتایا گیاہے اس پر عمل کرے اور اظ ہ ر یہ ہے ک ہ و ہ ذم ے دار ن ہیں ہے۔
2353 ۔ "عار یہ" سے مراد یہ ہے ک ہ انسان اپنا مال دوسر ے کو د ے تاک ہ و ہ اس مال س ے استفادہ کر ے اور اس ک ے عوض کوئ ی چیز اس سے ن ہ ل ے۔
2354 ۔ عار یہ میں صیغہ پڑھ نا لازم ن ہیں اور اگر مثال کے طور پر کوئ ی شخص کسی کو لباس عاریہ کے قصد س ے د ے اور و ہ ب ھی اسی قصد سے ل ے تو عار یہ صحیح ہے۔
2355 ۔ غصب ی چیز یا اس چیز کو بطور عاریہ دینا جو کہ عار یہ دینے والے کا مال ہ و ل یکن اس کی آمدنی اس نے کس ی دوسرے شخص ک ے سپرد کرد ی ہ و مثلاً اس ے کرائ ے پر د ے رک ھ ا ہ و، اس صورت م یں صحیح ہے جب غصب ی چیز کا مالک یا وہ شخص جس ن ے عار یہ دی جانے وال ی چیز کو بطور اجارہ ل ے رک ھ ا ہ و اس ک ے بطور عار یہ دینے پر راضی ہ و ۔
2356 ۔ جس چ یز کی منفعت کسی شخص کے سپرد ہ و مثلاً اس چ یز کو کرائے پر ل ے رک ھ ا ہ و تو اس ے بطور عار یہ دے سکتا ہے ل یکن احتیاط کی بنا پر مالک کی اجازت کے بغ یر اس شخص کے حوال ے ن ہیں کر سکتا جس نے اس ے بطور عار یہ لیا ہے۔
2357 ۔ اگر د یوانہ ، بچہ ، د یوالیہ اور سفیہ اپنا مال عاریتاً دیں تو صحیح نہیں ہے ل یکناگر (ان میں سے کس ی کا) سرپرست عاریہ دینے کی مصلحت سمجھ تا ہ و اور جس شخص کا و ہ سرپرست ہے اس کا مال عار یتاً دے د ے تو اس م یں کوئی اشکال نہیں اسی طرح جس شخص نے مال عر یتاً لیا ہ و اس تک مال پ ہ نچان ے ک ے لئ ے بچ ہ وس یلہ بنے تو کوئ ی اشکال نہیں ہے۔
2358 ۔ عار یتاً ہ وئ ی چیز کی نگہ داشت م یں کوتاہی نہ کر ے اور اس س ے معمول س ے ز یادہ اِستِفادہ ب ھی نہ کر ے اور اتفاقاً و ہ چ یز تلف ہ و جائ ے تو و ہ شخص ذم ے دار ن ہیں ہے ل یکن اگر طرفین آپس میں یہ شرط کریں کہ اگر و ہ چ یز تلف ہ وجائ ے تو عار یتاً لینے والا ذمہ دار ہ وگا یا جو چیز عاریتاً لی وہ سونا یا چاندی ہ و تو اس ک ی عوض دینا ضروری ہے۔
2359 ۔ اگر کوئ ی شخص سونا یا چاندی عاریتاً لے اور یہ طے ک یا ہ و ک ہ اگر تلف ہ وگ یا تو ذمے دار ن ہیں ہ وگا پ ھ ر تلف ہ وجائ ے تو و ہ شخص ذم ے دار ن ہیں ہے۔
2360 ۔ اگر عار یہ پر دینے والا مرجائے تو عار یہ پر لینے والے ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ جو طر یقہ امانت کے مالک ک ے فوت ہ و جان ے ک ی صورت میں مسئلہ 2348 میں بتایا گیا ہے اس ی کے مطابق عمل کر ے۔
2361 ۔ اگر عار یہ دینے والے ک ی کیفیت یہ ہ و ک ہ و ہ شرعاً اپن ے مال م یں تصرف نہ کرسکتا ہ و مثلاً د یوانہ یا بے حواس ہ و جائ ے تو عار یہ لینے والے ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ اس ی طریقے کے مطابق عمل کر ے جو مسئل ہ 2347 میں امانت کے بار ے م یں اسی جیسی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔
2362 ۔ جس شخص ن ے کوئ ی چیز عاریتاً دی ہ و و ہ جب ب ھی چاہے اس ے منسوخ کر سکتا ہے اور جس ن ے کوئ ی چیز عاریتاً لی ہ و و ہ ب ھی جب چاہے اس ے منسوخ کر سکتا ہے۔
2363 ۔ کس ی چیز کا عاریتاً دینا جس سے حلال استفاد ہ ن ہ ہ وسکتا ہ و مثلا ل ہ و و لعب اور قمار باز ی کے آلات اور ک ھ ان ے پ ینے کا استعمال کرنے ک ے لئ ے سون ے اور چاند ی کے برتن عار یتاً دینا۔ بلک ہ احت یاط لازم کی بنا پر ہ ر قسم ک ے استعمال ک ے لئ ے عاریتاً دینا باطل ہے اور تزئ ین و آرائش کے لئ ے عار یتاً دینا جائز ہے اگرچ ہ احت یاط نہ د ینے میں ہے۔
2364 ۔ ب ھیڑ (بکریوں) کو ان کے دود ھ اور اُون س ے استفاد ہ کرن ے ک ے لئ ے ن یز نر حیوان کو مادہ ح یوانات کے سات ھ ملاپ ک ے لئ ے عار یتاً دینا صحیح ہے۔
2365 ۔ اگر کس ی چیز کو عاریتاً لینے والا اسے اس ک ے مالک یا مالک کے وک یل یا سرپرست کو دے د ے اور اس ک ے بعد و ہ چ یز تلف ہ و جائ ے تو اس چ یز کو عاریتاً لینے والا ذمے دار ن ہیں ہے ل یکن اگر وہ مال ک ے مالک یا اس کے وک یل یا سرپرست کی اجازت کے بغ یر مال کو خواہ ا یسی جگہ ل ے جائے ج ہ اں مال ک ا مالک اسے عموماً ل ے جاتا ہ و مثلاً گ ھ و ڑے کو اس اصطبل م یں باندھ د ے جو اس ک ے مالک ن ے اس ک ے لئ ے ت یار کیا ہ و اور بعد م یں گھ و ڑ ا تلف ہ و جائ ے یا کوئی اسے تلف کر د ے تو عار یتاً لینے والا ذمے دار ہے۔
2366 ۔ اگر ا یک شخص کوئی نجس چیز عاریتاً دے تو اس صورت م یں اسے چا ہ ئ ے ک ہ ۔ ج یسا کہ مسئل ہ 2065 گزر چکا ہے۔ اس چ یز کے نجس ہ ون ے ک ے بار ے م یں عاریتاً لینے والے شخص کو بتا د ے۔
2367 ۔ جو چ یز کسی شخص نے عار یتاً لی ہ و اس ے اس ک ے مالک ک ی اجازت کے بغ یر کسی دوسرے کو کرائ ے پر یا عاریتاً نہیں دے سکتا ۔
2368 ۔ جو چ یز کسی شخص نے عار یتاً ہ و اگر و ہ اس ے مالک ک ی اجازت سے کس ی اور شخص کو عاریتاً دے د ے تو اگر جس شخص ن ے پ ہ ل ے و ہ چ یز عاریتاً لی ہ و مر جائ ے یا دیوانہ ہ و جائ ے تو دوسرا عار یہ باطل نہیں ہ وتا ۔
2369 ۔ اگر کوئ ی شخص جانتا ہ و ک ہ جو مال اس ن ے عار یتاً لیا ہے و ہ غصب ی ہے تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ مال اس کے مالک کو پ ہ نچا د ے اور و ہ اس ے عار یتاً دینے والے کو ن ہیں دے سکتا ۔
2370 ۔ اگر کوئ ی شخص ایسا مال عاریتاً لے جس ک ے متعلق جانتا ہ و ک ہ و ہ غصب ی ہے اور اس س ے فائد ہ ا ٹھ ائ ے اور اس ک ے ہ ات ھ س ے و ہ مال تلف ہ و جائ ے تو مالک اس مال کا عوض اور جو فائد ہ عار یتاً لینے والے ن ے ا ٹھ ا یا ہے اس کا عوض اس س ے یا جس نے مال غصب ک یا ہ و اس س ے طلب کر سکت ا ہے اور اگر مالک عار یتاً لینے والے س ے عوض ل ے ل ے تو عار یتاً لینے والا جو کچھ مالک کو د ے اس کا مطالب ہ عار یتاً دینے والے س ے ن ہیں کرسکتا۔
2371 ۔ اگر کس ی شخص کو یہ معلوم نہ ہ و ک ہ اس ن ے ج و مال عاریتاً لیا ہے و ہ غصب ی ہے اور اس ک ے پاس ہ وت ے ہ وئ ے و ہ مال تلف ہ و جائ ے تو اگر مال کا مالک اس کا عوض اس س ے ل ے ل ے تو و ہ ب ھی جو کچھ مال ک ے مالک کو د یا ہ و اس کا مطالب ہ عار یتاً دینے والے س ے کرسکتا ہے ل یکن اگر اس نے جو چ یز عاریتاً لی ہ و و ہ سونا یا چاندی ہ و یا بطور عاریہ دینے والے ن ے اس س ے شرط ک ی ہ و ک ہ اگر و ہ چ یز تلف ہ وجائ ے تو و ہ اس کا عوض د ے گا تو پ ھ ر اس ن ے مال کا جو عوض مال ک ے مالک کو د یا ہ و اس کا مطالب ہ عار یتاً دینے والے س ے ن ہیں کرسکتا۔
نکاح کے احکام
عقدِازدِواج کے ذر یعے عورت، مرد پر اور مرد، عورت پر حلال ہ وجات ے ہیں اور عقد کی دو قسمیں ہیں پہ ل ی دائمی اور دوسری غیر دائمی۔ مقرر ہ وقت ک ے لئ ے عقد ۔ عقد دائم ی اسے ک ہ ت ے ہیں جس میں ازدواج کی مدت معین نہ ہ و اور و ہ ہ م یشہ کے لئ ے ہ و اور جس عورت س ے اس قسم کاعقد ک یا جا 4 ے اس ے دائم ہ ک ہ ت ے ہیں۔ اور غ یر دائمی عقد وہ ہے جس م یں ازدواج کی مدت معین ہ و مثلاً عورت ک ے سات ھ ا یک گھ ن ٹے یا ایک دن یا ایک مہینے یا ایک سال یا اس سے ز یادہ مدت کے لئ ے عقد ک یا جائے ل یکن اس عقد کی مدت عورت اور مرد کی عام عمر سے ز یادہ نہیں ہ ون ی چاہ ئ ے ک یونکہ اس صورت میں عقد باطل ہ و جائ ے گا ۔ جب عورت س ے اس قسم کا عقد ک یا جائے تو اس ے مُتع ہ یا صیغہ کہ ت ے ہیں۔
2372 ۔ ازدواج خوا ہ دائم ی ہ و یا غیر دائمی اس میں صیغہ (نکاح کے بول) پ ڑھ نا ضرور ی ہے۔ عورت اور مرد کا محض رضامند ہ ونا اور اس ی طرح (نکاح نامہ ) لک ھ نا کاف ی نہیں ہے۔ نکاح کا ص یغہ یا تو عورت اور مرد خود پڑھ ت ے ہیں یا کسی کو وکیل مقرر کر لیتے ہیں تاکہ و ہ ان ک ی طرف سے پڑھ دے۔
2373 ۔ وک یل کا مرد ہ ونا لازم ن ہیں بلکہ عورت ب ھی نکاح کا صیغہ پڑھ ن ے ک ے لئ ے کس ی دوسرے ک ی جانت سے وک یل ہ وسکت ی ہے۔
2374 ۔ عورت اور مرد کو جب تک اطم ینان نہ ہ وجائ ے ک ہ ان کے وک یل نے ص یغہ پڑھ د یا ہے اس وقت تک و ہ ا یک دوسرے کو محرمان ہ نظروں س ے ن ہیں دیکھ سکتے اور اس بات کا گمان ک ہ وک یل نے ص یغہ پڑھ د یا ہے کاف ی نہیں ہے بلک ہ اگر وک یل کہہ د ے ک ہ م یں نے ص یغہ پڑھ د یا ہے ل یکن اس کی بات پر اطمینان نہ ہ و تو اس ک ی بات پر بھ روس ہ کرنا محل اشکال ہے۔
2375 ۔ اگر کوئ ی عورت کسی کو وکیل مقرر کرے اور ک ہے ک ہ تم م یرا نکاح دس دن کے لئ ے فلاں شخص ک ے سات ھ پ ڑھ دو اور دس دن ک ی ابتدا کو معین نہ کر ے تو و ہ (نکاح خوان) وک یل جن دس دنوں کے لئ ے چا ہے اس ے اس مرد ک ے نکاح م یں دے سکتا ہے ل یکن اگر وکیل کو معلوم ہ و ک ہ عورت کا مقص د کسی خاصدن یا گھ ن ٹے کا ہے تو پ ھ ر اس ے چا ہ ئ ے ک ہ عورت ک ے قصد ک ے مطابق ص یغہ پڑھے۔
2376 ۔ عقد دائم ی یا عقد غیر دائمی کا صیغہ پڑھ ن ے ک ے لئ ے ا یک شخص دو اشخاص کی طرف سے وک یل بن سکتا ہے اور انسان یہ بھی کرسکتا ہے ک ہ عورت ک ی طرف سے و کیل بن جائے اور اس س ے خود دائم ی یا غیر دائمی نکاح کرلے ل یکن احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ نکاح دو اشخاص پ ڑھیں۔
2377 ۔ اگر عورت اور مرد خود اپن ے دائم ی نکاح کا صیغہ پڑھیں تو مہ ر مع ین کرنے ک ے بعد پ ہ ل ے عورت ک ہے "زَوَّجتُکَ نَفسِ ی عَلَی الصِّدَاقِ المَعلُومِ" یعنی میں نے اس م ہ ر پر جو مع ین ہ وچکا ہے اپن ے آپ کو تم ہ ار ی بیوی بنایا اور اس کے لمح ہ ب ھی بعد مرد کہے "قَبِلتُ التَّ زوِیجَ" یعنی میں نے ازدواج کو قبول ک یا تو نکاح صحیح ہے اور اگر و ہ کس ی دوسرے کو وک یل مقرر کریں کہ ان ک ی طرف سے ص یغہ نکاح پڑھ د ے تو اگر مثال ک ے طور پر مرد کا نام احمد اور عورت کا نام فاطم ہ ہ و اور عورت کا وک یل کہے "زَوَّجتُ مُوِکِّلَکَ اَحمَدَ مُوَکِّلَت یِ فَاطِمَۃ َ عَلَی الصِّدَاقِ المَعلُومِ" اور اس کے لمح ہ ب ھ ر بعد مرد کا وک یل کہے " قَبِلتُ التَّزوِ یجَ لِمُوَکِّلِی اَحمَدَ عَلَی الصِّدَاقِ المَعلُومِ" تو نکاح صحیح ہ وگا اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ مرد جو لفظ ک ہے و ہ عورت ک ے ک ہے جان ے وال ے لفظ ک ے مطابق ہ و مثلاً اگ ر عورت "زَوَّجتُ" کہے تو مرد ب ھی "قَبِلتُ التَّزوِیجَ" کہے اور قَبِلتُ النِّکَاحَ ن ہ ک ہے۔
2378 ۔ اگر خود عورت او ر مرد چاہیں تو غیر دائمی نکاح کا صیغہ نکاح کی مدت اور مہ ر مع ین کرنے ک ے بعد پ ڑھ سکت ے ہیں۔ ل ہ ذا اگر عورت ک ہے "زَوَّجتُکَ نَفسِ ی فِی المُدَّۃ ِ المَعلُومَۃ ِ عَلَی المَھ رِ المَعلُومِ" اور اس ک ے لمح ہ ب ھ ر بعد مرد ک ہے "قَبِلتُ" تو نکاح صح یح ہے اور اگر وہ کس ی اور شخص کو وکیل بنائیں اور پہ ل ے عورت کا وک یل مرد کے وک یل سے ک ہے "زَوَّجتُکَ مُوَکِّلَتِ ی مُوَکِّلَکَ فِی المُدَّۃ ِ المَعلُومَۃ ِ عَلَی المَھ رِ المَعلُومِ" اور اس ک ے بعد مرد کا وک یل توقّف کے بعد ک ہے۔ "قَبِلتُ التَّزوِ یجَ لِمُوَکِّلِی ھ ٰکَذَا" تو نکاح صحیح ہ وگا ۔
2379 ۔ نکاح ک ی چند شرطیں ہیں جو ذیل میں درج کی جاتی ہیں:
1 ۔ احت یاط کی بنا پر نکاح کا صیغہ صحیح عربی میں پڑھ ا جائ ے اور اگر خود مرد اور عورت ص یغہ صحیح عربی میں نہ پ ڑھ سکت ے ہ وں تو عرب ی کے علاو ہ کس ی دوسری زبان میں پڑھ سکت ے ہیں اور کسی شخص کو وکیل بنانا لازم نہیں ہے۔ البت ہ ان ہیں چاہ ئ ے ک ہ و ہ الفاظ ک ہیں جو زَوَّجتُ اور قَبِلتُ کا مفہ وم ادا کر سک یں۔
2 ۔ مرد اور عورت یا ان کے وک یل جو کہ ص یغہ پڑھ ر ہے ہ وں و ہ "قصد انشاء" رک ھ ت ے ہ وں یعنی اگر خود مرد اور عورت صیغہ پڑھ ر ہے ہ وں تو عورت کا "زَوَّجتُکَ نَفسِ ی " کہ نا اس ن یت سے ہ و ک ہ خود کو اس ک ی بیوی قرار دے اور مرد کا قَبِلتُ التَّزوِ یجَ کہ نا اس ن یت سے ہ و ک ہ و ہ ا س کا اپنی بیوی بننا قبول کرے اور اگر مرد اور عورت ک ے وک یل صیغہ پڑھ ر ہے ہ وں تو "زَوَّجتُ وَقَبِلتُ" ک ہ ن ے س ے ان ک ی نیت یہ ہ و ک ہ و ہ مرد اور عورت جن ہ وں ن ے انہیں وکیل بنایا ہے ا یک دوسرے ک ے م یاں بیوی بن جائیں۔
3 ۔ جو شخص ص یغہ پڑھ ر ہ ا ہ وضرور ی ہے ک ہ و ہ عاقل ہ و اور احت یاط کی بنا پر اسے بالغ ب ھی ہ ونا چا ہ ئ ے۔ خوا ہ و ہ اپن ے لئ ے ص یغہ پڑھے یاکسی دوسرے ک ی طرف سے وک یل بنایا گیا ہ و ۔
4 ۔ اگر عورت اور مرد ک ے وک یل یا ان کے سرپرست ص یغہ پڑھ ر ہے ہ وں تو و ہ نکاح ک ے وقت عورت اور مرد کو مع ین کرلیں مثلاً ان کے نام ل یں یا ان کی طرف اشارہ کر یں۔ ل ہ ذا جس شخص ک ی کئی لڑ ک یاں ہ وں اگر و ہ کس ی مرد سے ک ہے "زَوَّجتُکَ اِحدٰ ی بَنَاتِی" یعنی میں نے اپن ی بیٹیوں میں سے ا یک کو تمہ ار ی بیوی بنایا اور وہ مرد ک ہے "قَبِلتُ" یعنی میں نے قبول ک یا تو چونکہ نکاح کرت ے وقت ل ڑ ک ی کو معین نہیں خیا گیا اس لئے نکاح باطل ہے۔
5 ۔ عورت اور مزد ازدواج پر راض ی ہ وں ۔ ہ اں اگر عورت بظا ہ ر ناپسند یدگی سے اجازت د ے اور معلوم ہ و ک ہ دل س ے راض ی ہے تو نکاح صح یح ہے۔
2380 ۔ اگر نکاح م یں ایک حرف بھی غلط پڑھ ا جائ ے جو اس ک ے معن ی بدل دے تو نکاح باطل ہے۔
2381 ۔ و ہ شخص جو نکاح کا ص یغہ پڑھ ر ہ ا ہ و اگر ۔ خوا ہ اجمال ی طور پر۔ نکاح ک ے معن ی جانتا ہ و اور اس ک ے معن ی کو حقیقی شکل دینا چاہ تا ہ و تو نکاح صح یح ہے۔ اور یہ لازم نہیں کہ و ہ تفص یل کے سات ھ ص یغے کے معن ی جانتا ہ و مثلاً یہ جاننا (ضروری نہیں ہے ) ک ہ عرب ی زبان کے لحاظ سے فعل یا فاعل کونسا ہے۔
2382 ۔ اگر کس ی عورت کا نکاح اس کی اجازت کے بغ یر کسی مرد سے کر د یا جائے اور بعد م یں عورت اور مرد اس نکاح کی اجازت دے د یں تو نکاح صحیح ہے۔
2383 ۔ اگر عو رت اور مرد دونوں کو یا ان میں سے کس ی ایک کو ازدواج پر مجبور کیا جائے اور نکاح پ ڑھے جان ے ک ے بعد و ہ اجازت د ے د یں تو نکاح صحیح ہے اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ دوبار ہ نکاح پ ڑھ ا جائ ے۔
2384 ۔ باپ اور دادا اپن ے نابالغ ل ڑ ک ے یا لڑ ک ی (پوتے یا پوتی) یا دیوانے فرزند کا جو دیوانگی کی حالت میں بالغ ہ وا ہ و نکاح کرسکت ے ہیں اور جب وہ بچ ہ بالغ ہ وجائ ے یا دیوانہ عاقل ہ وجائ ے تو ان ہ وں ن ے اس کا جو نکاح ک یا ہ و اگر اس م یں کوئی خرابی ہ و تو ان ہیں اس نکاح کو برقرار رکھ ن ے یا ختم کرنے کا اخت یار ہے اور اگر کوئ ی خرابی نہ ہ و اور نابالغ ل ڑ ک ے یا لڑ ک ی میں سے کوئ ی ایک اپنے اس نکاح کو منسوخ کر ے تو طلاق یا دوبارہ نکاح پ ڑھ ن ے ک ی احتیاط ترک نہیں ہ وت ی۔
2385 ۔ جو ل ڑ ک ی سن بلوغ کو پہ نچ چک ی ہ و اور رَشِ یدَہ ہ و یعنی اپنا برا بھ لا سمج ھ سکت ی ہ و اگر و ہ شاد ی کرنا چاہے اور کنوار ی ہ و تو ۔ احت یاط کی بنا پر ۔ اس ے چا ہ ئ ے ک ہ اپن ے باپ یا دادا سے اجازت ل ے اگرچ ہ و ہ خود مختار ی سے اپن ی زندگی کے کاموں کو انجام د یتی ہ و البت ہ ماں اور ب ھ ائ ی سے اجازت ل ینا لازم نہیں۔
2386 ۔ اگر ل ڑ ک ی کنواری نہ ہ و یا کنواری ہ و ل یکن باپ یا دادا اس مرد کے سات ھ اس ے شاد ی کرنے ک ی اجازت نہ د یتے ہ وں جو عرفاً و شرعاً اس کا ہ م پل ہ ہ و یا باپ اور دادا بیٹی کے شاد ی کے معامل ے م یں کسی طرح شریک ہ ون ے ک ے لئ ے راض ی نہ ہ وں یا دیوانگی یا اس جیسی کسی دوسری وجہ سے اجازت دینے ک ی اہ ل یت نہ رک ھ ت ے ہ وں تو ان تمام صورتوں م یں ان سے اجازت ل ینا لازم نہیں ہے۔ اس ی طرح ان کے موجود ن ہ ہ ون ے یا کسی دوسری وجہ س ے اجازت ل ینا ممکن نہ ہ و اور ل ڑ ک ی کا شادی کرنا بیحد ضروری ہ و تو باپ اور دادا س ے اجازت ل ینا لازم نہیں ہے۔
2387 ۔ اگر باپ یا دادا اپنے نابالغ ل ڑ ک ے ( یاپوتے) کی شادی کر دیں تو لڑ ک ے ( یاپوتے) کو چاہ ئ ے ک ہ بالغ ہ ون ے ک ے بعد اس عورت کا خرچ دے بلک ہ بالغ ہ ون ے س ے پ ہ ل ے ب ھی جب اس کی عمر اتنی ہ و جائ ے ک ہ و ہ اس ل ڑ ک ی سے لذت ا ٹھ ان ے ک ی قابلیت رکھ تا ہ و اور ل ڑ ک ی بھی اس قدر چھ و ٹی نہ ہ و کہ شو ہ ر اس س ے لذت ا ٹھ ان ے ک ی قابلیت رکھ تا ہ و اور ل ڑ ک ی بھی اس قدر چھ و ٹی نہ ہ و ک ہ شو ہ ر اس س ے لذت ن ہ ا ٹھ ا سک ے تو ب یوی کے خرچ کا ذم ے دار ل ڑ کا ہے اور اس صورت ک ے علاو ہ ب ھی احتمال ہے ک ہ ب یوی خرچ کی مستحق ہ و ۔ پس احت یاط یہ ہے ک ہ مصالحت وغ یرہ کے ذر یعے مسئلے کو حل کرے۔
2388 ۔ اگر باپ یا دادا اپنے نابالغ ل ڑ ک ے ( یاپوتے) کی شادی کر دیں تو اگر لڑ ک ے ک ے پاس نکاح ک ے وقت کوئ ی مال نہ ہ و تو باپ یا دادا کو چاہ ئ ے ک ہ اس عورت کا م ہ ر د ے اور یہی حکم ہے اگر ل ڑ ک ے ( یاپوتے) کے پاس کوئ ی مال ہ و ل یکن باپ یا دادا نے م ہ ر ادا کرن ے ک ی ضمانت دی ہ و ۔ ا ور ان دو صورتوں کے علاو ہ اگر اس کا م ہ ر م ہ رالمثل س ے ز یادہ نہ ہ و یا کسی مصلحت کی بنا پر اس لڑ ک ی کا مہ ر م ہ رالمثل س ے ز یادہ ہ و تو باپ یا دادا بیٹے (یا پوتے ) ک ے مال س ے م ہ ر ادا کرسکت ے ہیں و گرنہ ب یٹے (یاپوتے) کے مال س ے م ہ رالمثل س ے ز یادہ مہ ر ن ہیں دے سکت ے مگر یہ کہ بچ ہ بالغ ہ ون ے ک ے بعد ان ک ے اس کام کو قبول کر ے۔
2389 ۔ اگر نکاح ک ے بعد مرد کو پتا چل ے ک ہ عورت م یں نکاح کے وقت مندرج ہ ذ یل چھ ع یوب میں سے کوئ ی عیب موجود تھ ا تو اس ک ی وجہ س ے نکاح کو فسخ کرسکتا ہے۔
1 ۔ د یوانگی۔ اگرچ ہ کب ھی کبھ ار ہ وت ی ہ و ۔
2 ۔ جذام ۔
3 ۔ برص ۔
4 ۔ اند ھ اپن ۔
5 ۔ اپا ہ ج ہ ونا ۔ اگرچہ زم ین پر نہ گ ھ س ٹ ت ی ہ و ۔
6 ۔ بچ ہ دان ی میں گوشت یا ہڈی ہ و ۔ خوا ہ جماع اور حمل ک ے لئ ے مانع ہ و یا نہ ہ و ۔ اور اگر مرد کو نکاح ک ے بعد پتا چل ے ک ہ عورت نکاح ک ے وقت افضا ہ وچک ی تھی یعنی اس کا پیشاب اور حیض کا مخرج یا حیض اور پاخانے کا مخرج ا یک ہ وچکا ت ھ ا تو اس صورت م یں نکاح کو فسخ کرنے م یں اشکال ہے اور احت یاط لازم یہ ہے ک ہ اگر عقد کو فسخ کرنا چا ہے تو طلاق ب ھی دے۔
2390 ۔ اگر عورت کو نکاح ک ے بعد پتا چل ے ک ہ اس ک ے شو ہ ر کا آل ہ تناسل ن ہیں ہے ، یا نکاح کے بعد جماع کرن ے س ے پ ہ ل ے ، یا جماع کرنے ک ے بعد، اس ک ا آلہ تناسل ک ٹ جائ ے ، یا ایسی بیماری میں مبتلا ہ و جائ ے ک ہ صحبت اورجماع ن ہ کرسکتا ہ و خوا ہ و ہ ب یماری نکاح کے بعد اور جماع کر نے سے پ ہ ل ے ، یا جماع کرنے ک ے بعد ہی کیوں نہ لاحق ہ وئ ی ہ و ۔ ان تمام صورتوں م یں عورت طلاق کے بغ یر نکاح کو ختم کرسکتی ہے۔ اور اگر عورت کو ن کاح کے بعد پتا چل ے ک ہ اس کا شو ہ ر نکاح س ے پ ہ ل ے د یوانہ تھ ا، یا نکاح کے بعد ۔ خوا ہ جماع س ے پ ہ ل ے ، یا جماع کے بعد ۔ د یوانہ ہ وجائ ے ، یا اسے (نکاح ک ے بعد) پتا چل ے ک ہ نکاح ک ے وقت اس ک ے فوط ے نکال ے گئ ے ت ھے یا مسل دیئے گئے ت ھے ، یا اسے پتا چل ے ک ہ نکاح ک ے وقت جذام یا برص میں مبتلا تھ ا تو ان تمام صورتوں م یں اگر عورت ازدواجی زندگی برقرار نہ رک ھ نا اور نکاح کو ختم کرنا چا ہے تو احت یاط واجب یہ ہے کہ اس کا شو ہ ر یا اس کا سرپرست عورت کو طلاق دے۔ ل یکن اس صورت میں کہ اس کا شو ہ ر جماع ن ہ کرسکتا ہ و اور عورت نکاح کو ختم کرنا چا ہے تو اس پر لازم ہے ک ہ پ ہ ل ے حاکم شرع یا اس کے وک یل سے رجوع کر ے اور حاکم شرع اس ے ا یک سال کی مہ لت د ے گا ل ہ ذا اگر اس دوران و ہ اس عورت یا کسی دوسری عورت سے جماع ن ہ کرسک ے تو اس ک ے بعد عورت نکاح کو ختم کرسکت ی ہے۔
2391 ۔ اگر عورت اس بنا پر نکاح ختم کرد ے ک ہ اس کا شو ہ ر ن امرد ہے تو ضرور ی ہے ک ہ شو ہ ر اس ے آد ھ ا م ہ ر د ے ل یکن اگر ان دوسرے نقائص م یں سے جن کا ذکر اوپر ک یا گیا ہے کس ی ایک کی بنا پر مرد یا عورت نکاح ختم کر دیں تو اگر مرد نے عورت ک ے سات ھ جماع ن ہ ک یا ہ و تو و ہ کس ی چیز کا ذمہ دار ن ہیں ہے اور اگر جماع ک یا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ پورا م ہ ر د ے۔ ل یکن اگر مرد عورت کے ان ع یوب کی وجہ س ے نکاح ختم کر ے جن کا ب یان مسئلہ 2389 میں ہ وچکا ہے اور اس ن ے عورت ک ے سات ھ جماع ن ہ ک یا ہ و تو کس ی چیز کا ذمے دار ن ہیں ہے ل یکن اگر جماع کے بعد نکاح ختم کر ے تو ضروری ہے ک ہ عورت کو پورا م ہ ر د ے۔
2392 ۔ اگر م رد یا عورت جو کچھ و ہ ہیں اس سے ز یادہ بڑھ ا چ ڑھ ا کر ان ک ی تعریف کی جائے تاک ہ و ہ شاد ی کرنے م یں دلچسپی لی۔ خوا ہ یہ تعریف نکاح کے ضمن م یں ہ و یا اس سے پ ہ ل ے ۔ اس صورت م یں کہ اس تعر یف کی بنیاد پر نکاح ہ وا ہ و ۔ ل ہ ذا اگر نکاح ک ے بعد دوسر ے فر یق کو اس بات کا غلط ہ ونا معلوم ہ وجائ ے تو و ہ نکاح کو ختم کرسکتا ہے اور اس مسئل ے ک ے تفص یلی احکام "مسائِلِ مُنتَخَحبَہ " ج یسی دوسری کتابوں میں بیان کئے گئ ے ہیں۔
2393 ۔ ان عورتوں ک ے سات ھ جو انسان ک ی محرم ہ وں ازدواج حرام ہے مثلاً ماں، ب ہ ن، ب یٹی، پھ وپ ھی، خالہ ، ب ھ ت یجی، بھ انج ی، ساس۔
2394 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی عورت سے نکاح کر ے چا ہے اس ک ے سات ھ جماع ن ہ ب ھی کرے تو اس عورت ک ی ماں، نانی اور دادی اور جتنا سلسلہ اوپر چلاجائ ے سب عورت یں اس مرد کی محرم ہ وجات ی ہیں۔
2395 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی عورت سے نکاح کر ے اور اس ک ے ساتھ ہ م بستر ی کرے تو پ ھ ر اس عورت ک ی لڑ ک ی، نواسی، پوتی اور جتنا سلسلہ ن یچے چلا جائے سب عورت یں اس مرد کی محرم ہ وجات ی ہیں خواہ و ہ عقد ک ے وقت موجود ہ وں یا بعد میں پیدا ہ وں ۔
2396 ۔ اگر کس ی مرد نے ا یک عورت سے نکاح ک یا ہ و ل یکن ہ م بستر ی نہ ک ی ہ و تو جب تک و ہ عورت اس ک ے نکاح م یں رہے۔ احت یاط واجب کی بنا پر۔ اس وقت تک اس ک ی لڑ ک ی سے ازدواج ن ہ کر ے۔
2397 ۔ انسان ک ی پھ وپ ھی اور خالہ اور اس ک ے باپ ک ی پھ وپ ھی اور خالہ اور دادا ک ی پھ وپ ھی اور خالہ باپ ک ی ماں (دادی) اور ماں کی پھ وپ ھی اور خالہ اور نان ی اور نانا کی پھ وپ ھی اور خالہ اور جس قدر یہ سلسلہ اوپر چلاجائ ے سب اس ک ے محرم ہیں۔
2398 ۔ شو ہ ر کا باپ اور دادا اور جس قدر یہ سلسلہ اوپر چلا جائ ے اور شو ہ ر کا ب یٹ ا، پوتا اور نواسا جس قدر بھی یہ سلسلہ ن یچے چلا جائے اور خوا ہ و ہ نکاح ک ے وقت دن یا میں موجود ہ وں یا بعد میں پیدا ہ وں سب اس ک ی بیوی کے محرم ہیں۔
2399 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی عورت سے نکاح کر ے تو خوا ہ و ہ نکاح دائم ی ہ و یا غیر جب تک وہ عورت اس ک ی منکوحہ ہے و ہ اس ک ی بہ ن ک ے سات ھ نکاح ن ہیں کرسکتا۔
2400 ۔ اگر کوئ ی شخص اس ترتیب کے مطابق جس کا ذکر طلاق ک ے مسائل م یں کیا جائے گا اپن ی بیوی کو طلاق رجعی دے د ے تو و ہ وعدت ک ے دوران اس ک ی بہ ن س ے نکاح ن ہیں کرسکتا لیکن طلاق بائن کی عدت کے دوران اس ک ی بہ ن س ے نکاح کرسکتا ہے اور مُتعَ ہ ک ی عدت کے دوران احت یاط واجب یہ ہے ک ہ عورت ک ی بہ ن س ے نکاح ن ہ کر ے۔
2401 ۔ انسان اپن ی بیوی کی اجازت کے بغ یر اس کی بھ ت یجی یا بھ انج ی سے شاد ی نہیں کرسکتا لیکن اگر وہ ب یوی کی اجازت کے بغ یر ان سے نکاح کرل ے اور بعد م یں بیوی اجازت دے د ے تو پ ھ ر کوئ ی اشکال نہیں۔
2402 ۔ اگر ب یوی کو پتا چلے ک ہ اس ک ے شو ہ ر ن ے اس ک ی بھ ت یجی یا بھ انج ی سے نکاح کرل یا ہے اور خاموش ر ہے تو اگر و ہ بعد م یں راضی ہ وجائ ے تو نکاح صح یح ہے اور اگر رضامند ن ہ ہ و تو ان کا نکاح باطل ہے۔
2403 ۔ اگر انسان خال ہ یا پھ وپ ھی کی لڑ ک ی سے شاد ی کرنے س ے پ ہ ل ے (نَعوذُ بِالل ہ ) خال ہ یا پھ وپ ھی سے زنا کر ے تو پ ھ ر و ہ اس ک ی لڑ ک ی سے احت یاط کی بنا پر شادی نہیں کرسکتا۔
2404 ۔ اگر کوئ ی شخص اپنی پھ وپ ھی کی لڑ ک ی یا خالہ ک ی لڑ ک ی سے شاد ی کرے اور اس س ے ہ م بستر ی کرنے ک ے بعد اس ک ی ماں سے زنا کر ے تو یہ بات ان کی جدائی کا موجب نہیں بنتی اور اگر اس سے نکاح ک ے بعد ل یکن جماع کرنے س ے پ ہ ل ے اس ک ی ماں سے زنا کر ے تو یہ بات ان کی جدائی کا موجب نہیں بنتی اور اگر اس سے نکاح ک ے بعد ل یکن جماع کرنے س ے پ ہ ل ے اس ک ی ماں سے زنا کر ے تب ب ھی یہی حکم ہے اگرچ ہ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اس صورت طلاق د ے کر اس س ے ( یعنی پھ وپ ھی زاد یا خالہ زاد ب ہ ن س ے ) جدا ہ وجائ ے۔
2405 ۔ اگر کوئ ی شخص اپنی پھ وپ ھی یا خالہ ک ے علاو ہ کس ی اور عورت سے زن ا کرے تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اس ک ی بیٹی کے سات ھ شاد ی نہ کر ے بلک ہ اگر کس ی عورت سے نکاح کر ے اور اس ک ے سات ھ جماع کرن ے س ے پ ہ ل ے اس ک ی ماں کے سات ھ زنا کر ے تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اس عورت س ے جدا ہ وجائ ے لیکن اگر اس کے سات ھ جماع کرل ے اور بعد م یں اس کی ماں سے زنا کر ے تو ب ے شک عورت س ے جدا ہ ونا لازم ن ہیں۔
2406 ۔ مسلمان عورت کا فرد مرد س ے نکاح ن ہیں کرسکتی۔ مسلمان مرد ب ھی اہ ل کتاب ک ے علاو ہ کافر عورتوں س ے نکاح ن ہیں کرسکتا۔ ل یکن یہ ود ی اور عیسائی عورتوں کی مانند اہ ل کتاب عورتوں س ے مُتعَ ہ کرن ے س ے کوئ ی حرج نہیں اور احتیاط لازم کی بنا پر ان سے دائم ی عقد نہ ک یا جائے ا ور بعض فرقے مثلاً ناصب ی جو اپنے آپ کو مسلمان سمج ھ ت ے ہیں کفار کے حکم م یں ہیں اور مسلمان مرد اور عورتیں ان کے سات ھ دائم ی یا غیر دائمی نکاح نہیں کرسکتے۔
2407 ۔ اگر کوئ ی شخص ایک ایسی عورت سے زنا کر ے جو رجع ی طلاق کی عدت گزار رہی ہ و تو احت یاط کی بنا پر۔ و ہ عورت اس پر حرام ہ وجات ی ہے اور اگر ا یسی عورت کے سات ھ زنا کر ے جو متع ہ یا طلاق بائن یا وفات کی عدت گزار رہی ہ و تو بعد م یں اس کے سات ھ نکاح کر سکتا ہے اگرچ ہ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اس س ے شاد ی نہ کر ے۔ اور رَجع ی طلاق اور بَائِن طلاق اور مُتعہ ک ی عِدّت اور وفات کی عِدّت کے معن ی طلاق کے احکام م یں بتائے جائ یں گے۔
2408 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی ایسی عورت سے زنا کر ے جو ب ے شو ہ ر ہ و مگر عدت م یں نہ ہ و تو احت یاط کی بنا پر توبہ کرن ے س ے پ ہ ل ے اس س ے شاد ی نہیں کرسکتا۔ ل یکن اگر زانی کے علاو ہ کوئی دوسرا شخص (اس عورت کے ) توب ہ کرن ے س ے پ ہ ل ے اس ک ے سات ھ شاد ی کرنا چاہے تو کوئ ی اشکال نہیں ہے۔ مگر اس صورت میں کہ و ہ عورت زناکار مش ہ ور ہ و تو احت یاط کی بنا پر اس (عورت) کے توب ہ کرن ے س ے پ ہ ل ے اس ک ے سات ھ شاد ی کرنا جائز نہیں ہے۔ اس ی طرح کوئی مرد زنا کار مشہ ور ہ و تو توب ہ کرن ے س ے پ ہ ل ے اس ک ے سات ھ شاد ی کرنا جائز نہیں ہے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اگر کوئ ی شخص زنا کا عورت سے جس س ے خود اس ن ے یا کسی دوسرے ن ے من ہ کالا ک یا ہ و شاد ی کرنا چاہے تو ح یض آنے تک صبر کر ے اور ح یض آنے ک ے بعد اس ک ے سات ھ شاد ی کرلے۔
2409 ۔ اگر کوئ ی شخص ایک ایسی عورت سے نکاح کر ے جو دوسر ے ک ی عدت میں ہ و تو اگر مرد اور عورت دونوں یا ان میں سے کوئ ی ایک جانتا ہ و ک ہ عورت ک ی عدت ختم نہیں ہ وئ ی اور یہ بھی جانتے ہ وں ک ہ عدت ک ے دوران عورت س ے نکاح کرنا حرام ہے تو اگرچ ہ مرد ن ے نکاح ک ے بعد عورت س ے جماع نہ ب ھی کیا ہ و اور عورت ہ م یشہ کے لئ ے اس پر حرام ہ وجائ ے گ ی۔
2410 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی ایسی عورت سے نکاح کر ے جو دوسر ے ک ی عدت میں ہ و اور اس س ے جماع کر ے تو خوا ہ اس ے یہ علم نہ ہ و ک ہ و ہ عورت عدت م یں ہے یا یہ نہ جانتا ہ و ک ہ عدت ک ے دوران عورت س ے نکاح کرنا حرام ہے و ہ عورت ہ م یشہ کے لئ ے اس شخص پر حرام ہ وجائ ے گ ی۔
2411 ۔ اگر کوئ ی شخص یہ جانتے ہ وئ ے ک ہ عورت شو ہ ر دار ہے اور (اس س ے شاد ی کرنا حرام ہے ) اس س ے شاد ی کرے تو ضرور ی ہے ک ہ اس عورت س ے جدا ہ و جائ ے اور بعد م یں بھی اس سے نکاح ن ہیں کرنا چاہ ئ ے۔ اور اگر اس شخص کو یہ علم نہ ہ و ک ہ عورت شو ہ ر دار ہے ل یکن شادی کے بعد اس س ے ہ م بستر ی کی ہ و تب ب ھی احتیاط کی بنا پر تب بھی یہی حکم ہے۔
2412 ۔ اگر شو ہ ر دار عورت زنا کر ے تو ۔ احت یاط کی بنا پر۔ و ہ زان ی پر ہ م یشہ کے لئ ے حرام ہ وجات ی ہے ل یکن شوہ ر پر حرام ن ہیں ہ وت ی اور اگر توبہ و استغفار ن ہ کر ے اور اپن ے عمل پر باق ی رہے ( یعنی زنا کاری ترک نہ کر ے ) تو ب ہ تر یہ ہے ک ہ اس کا شو ہ ر اس ے طلاق د ے د ے ل یکن شوہ ر کو چاہ ئ ے ک ہ اس کا م ہ ر ب ھی دے۔
2413 ۔ جس عورت کو طلاق مل گئ ی ہ و اور جو عورت متع ہ م یں رہی ہ و اور اس کے شو ہ ر ن ے متع ہ ک ی مدت بخش دی ہ و یا متعہ ک ی مدت ختم ہ وگئ ی ہ و اگر و ہ کچ ھ عرص ے ک ے بعد دوسرا شو ہ ر کر ے اور پ ھ ر اس ے شک ہ و ک ہ دوسر ے شو ہ ر س ے نکاح ک ے وقت پ ہ ل ے شو ہ ر ک ی عدت ختم ہ وئ ی تھی یا نہیں تو وہ اپن ے شک ک ی پروا نہ کر ے۔
2414 ۔ اغلام کروان ے وال ے ل ڑ ک ے ک ی ماں، بہ ن ا ور بیٹی اغلام کرنے وال ے پر ۔ جب ک ہ (اغلام کرن ے والا) بالغ ہ و ۔ حرام ہ وجات ے ہیں ۔ اور اگر اغلام کروان ے والا مرد ہ و یا اغلام کرنے والا نابالغ ہ وتب ب ھی احتیاط لازم کی بنا پر بھی یہی حکم ہے۔ ل یکن اگر اسے گمان و ک ہ دخول ہوا تھ ا یا شک کرے ک ہ دخول ہ وا ت ھ ا یا نہیں تو پھ ر و ہ حرام ن ہیں ہ وں گ ے۔
2415 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی لڑ ک ے ک ی ماں یا بہ ن س ے شاد ی کرے اور شاد ی کے بعد اس ل ڑ ک ے س ے اغلام کر ے تو احت یاط کی بنا پر وہ عورت یں اس پر حرام ہ و جات ی ہیں۔
2416 ۔ اگر کوئ ی شخص احرام کی حالت میں جو اعمال حج میں سے ا یک عمل ہے کس ی عورت سے شاد ی کرے تو اس کا نکاح باطل ہے اور اگر اس ے علم ت ھ ا ک ہ کس ی عورت سے احرام ک ی حالت میں نکاح کرنا اس پر حرام ہے تو بعد م یں وہ اس عورت س ے شاد ی نہیں کرسکتا۔
2417 ۔ جو عورت احرام ک ی حالت میں ہ و اگر و ہ ا یک ایسے مرد سے شاد ی کرے جو احرام ک ی حالت میں نہ ہ و تو اس کا نکاح باطل ہے اور اگر عورت کو معلوم ت ھ ا ک ہ احرام ک ی حالت میں شادی کرنا حرام ہے تو احت یاط واجب یہ ہے ک ہ بعد م یں اس مرد سے شاد ی نہ کر ے۔
2418 ۔ اگر مرد طواف النساء جو حج اور عمر مفرد ہ ک ے اعمال م یں سے ا یک عمل ہے بجا ن ہ لائ ے تو اس ک ی بیوی اور دوسری عورتیں اس پر حلال نہیں ہ وت یں اور اگر عورت طواف النساء نہ کر ے تو اس کا شو ہ ر اور دوسر ے مرد اس پر حلال ن ہیں ہ وت ے ل یکن اگر وہ بعد م یں طواف النساء بجالائیں تو مرد پر عورتیں اور عورتوں پر مرد حلال ہ و جات ے ہیں۔
2419 ۔ اگر کوئ ی شخص نابالغ لڑ ک ی سے نکاح کر ے تو اس ل ڑ ک ی کی عمر نوسال ہ ون ے س ے پ ہ ل ے اس ک ے سات ھ جماع کرنا حرام ہے۔ ل یکن اگر جماع کرے تو اظ ہ ر یہ ہے ک ہ ل ڑ ک ی کے بالغ ہ ون ے ک ے بعد اس س ے جماع کرنا حرام ن ہیں ہے خوا ہ اس ے افضاء ہی ہ وگ یا ہ و ۔ افضاء ک ے معن ی مسئلہ 2389 میں بتائے جاچکے ہیں۔ ل یکن احوط یہ ہے ک ہ اس ے طلاق د ے د ے۔
2420 ۔ جس عورت کو تین مرتبہ طلاق د ی جائے و ہ شو ہ ر پر حرام ہ وجات ی ہے۔ ہ اں اگر ان شرائط ک ے سات ھ جن کا ذکر طلاق ک ے احکام م یں کیا جائے گا و ہ عورت دوسر ے مرد س ے شاد ی کرے تو دوسر ے شو ہ ر ک ی موت یا اس سے طلاق ہ وجان ے ک ے بعد اور عدت گزر جان ے ک ے بعد اس کا پ ہ لا شو ہ ر دوبار ہ اس کے سات ھ نکاح کرسکتا ہے۔
2421 ۔ جس عورت کا دائم ی نکاح ہ و جائ ے اس ک ے لئ ے حرام ہے ک ہ شو ہ ر ک ی اجازت کے بغ یر گھ ر س ے با ہ ر نکل ے خوا ہ اس کا نکلنا شو ہ ر ک ے حق ک ے مناف ی نہ ب ھی ہ و ۔ ن یز اس کے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ جب ب ھی شوہ ر جنس ی لذتیں حاصل کرنا چاہے ت و اس کی خواہ ش پور ی کرے اور شرع ی عذر کے بغ یر شوہر کو ہ م بستر ی سے ن ہ روک ے۔ اور اس ک ی غذا، لباس رہ ائش اور زندگ ی کی باقی ضروریات کا انتظام جب تک وہ اپن ی ذمے دار ی پوری کرنے شو ہ ر پر واجب ہے۔ اور اگر و ہ یہ چیزیں مہیانہ کرے تو خوا ہ ان ک ے م ہیا کرنے پر قدرت رک ھ تا ہ و یا نہ رک ھ تا ہ و و ہ ب یوی کا مقروض ہے۔
2422 ۔ اگر کوئ ی عورت ہ م بستر ی اور جنسی لذتوں کے سلسل ے م یں شوہ ر کا سات ھ د ے کر اس ک ی خواہ ش پور ی نہ کر ے تو رو ٹی، کپڑے اور مکان کا و ہ ذم ے دار ن ہیں ہے اگرچ ہ و ہ شو ہ ر ک ے پاس ہی رہے اور اگر و ہ کب ھی کبھ ار اپن ی ان ذمے دار یوں کو پورا نہ کر ے تو مش ہ ور قول ک ے مطابق تب ب ھی روٹی، کپڑے اور مکان کا شو ہ ر پر حق ن ہیں رکھ ت ی لیکن یہ حکم محل اشکال ہے اور ہ ر صورت م یں بلااشکال اس کا مہ ر کالعدم ن ہیں ہ وتا ۔
2423 ۔ مرد کو یہ حق نہیں کہ ب یوی کو گھ ر یلو خدمت پر مجبور کرے
2424 ۔ ب یوی کے سفر ک ے اخراجات وطن میں رہ ن ے ک ے اخراجات س ے ز یادہ ہ وں تو اگر اس ن ے سفر شو ہ ر ک ی اجازت سے ک یا ہ و تو شو ہ ر ک ی ذمے دار ی ہے ک ہ و ہ ان اخراجات کو پورا کر ے۔ ل یکن اگر وہ سفر گا ڑی یا جہ از وغ یرہ کے ذر یعے ہ و تو کرائ ے اور سفر ک ے دوسر ے ضرور ی اخراجات کی وہ خود ذمے دار ہے۔ ل یکن اگر اس کا شوہ ر اس ے سفر م یں ساتھ ل ے جانا چا ہ تا ہ و تو اس ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ ب یوی کے سفر ی اخراجات برداشت کرے۔
2425 ۔ جس عورت کا خرچ اس ک ے شو ہ ر ک ے ذم ے ہ و اور شو ہ ر اس ے خرچ ن ہ د ے تو و ہ اپنا خرچ شو ہ ر ک ے اجازت ک ے بغ یر اس کے مال س ے ل ے سکت ی ہے اور اگر ن ہ ل ے سکت ی ہ و ا ور مجبور ہ و ک ہ اپن ی معاش خود بندوبست کرے اور شکا یت کرنے ک ے لئ ے حاکم شرع تک اس ک ی رسائی نہ ہ وتا ک ہ و ہ اس ک ے ش وہ ر کو ۔ اگرچ ہ ق ید کرکے ہی ۔ خرچ د ینے پر مجبور کرے تو جس وقت و ہ اپن ی معاش کا بندوبست کرنے م یں مشغول ہ و اس وقت شو ہ ر ک ی اطاعت اس پر واجب نہیں ۃے۔
2426 ۔ اگر کس ی مرد کی مثلاً دو بیویاں ہ وں اور و ہ ان م یں سے ا یک کے پاس ا یک رات رہے تو اس پر واجب ہے ک ہ چار راتوں م یں سے کوئ ی ایک رات دوسری کے پاس ب ھی گزارے اور صورت ک ے علاو ہ عورت ک ے پاس ر ہ نا واجب ن ہیں ہے۔ ہ اں یہ لازم ہے ک ہ اس ک ے پاس ر ہ نا بالکل ہی ترک نہ کرد ے اور اولی اور احوط یہ ہے ک ہ ہ ر چار راتوں م یں سے ا یک رات مرد اپنی دائمی منکوحہ ب یوی کے پاس ر ہے۔
2427 ۔ شو ہ ر اپن ی جوان بیوی سے چار م ہینے سے ز یادہ مدت کے لئ ے ہ م بستر ی ترک نہیں کرسکتا مگر یہ کہ ہ م بستر ی اس کے لئ ے نقصان د ہ یا بہ ت ز یادہ تکلیف کا باعث ہ و یا اس کی بیوی خود چار مہینے سے ز یادہ مدت کے لئ ے ہ م بستر ی ترک کرنے پر راض ی ہ و یا شادی کرتے وقت نکاح ک ے ضم ن میں چار مہینے سے ز یادہ مدت کے لئ ے ہ م بستر ی ترک کرنے ک ی شرط رکھی گئی ہ و اور اس حکم م یں احتیاط کی بنا پر شوہ ر ک ے موجود ہ ون ے یا مسافر ہ ون ے یا عورت کے منکوح ہ یا مَمتُوعہ ہ ون ے م یں کوئی فرق نہیں ہے۔
2428 ۔ اگر دائم ی نکاح میں مہ ر مع ین نہ ک یا جائے تو نکاح صح یح ہے اور اگر مرد عورت ک ے سات ھ جماع کر ے تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ اس کا م ہ ر اس ی جیسی عورتوں کے م ہ ر ک ے مطابق د ے البت ہ اگر متع ہ م یں مہ ر مع ین نہ ک یا جائے تو متع ہ باطل ہ وجاتا ہے۔
2429 ۔ اگر دائم ی نکاح پڑھ ت ے وقت م ہ ر د ینے کے لئ ے مدت مع ین نہ ک ی جائے تو عورت م ہ ر ل ینے سے پ ہ ل ے شو ہ ر کو جماع کرن ے س ے روک سکت ی ہے قطع نظر اس س ے ک ہ مرد م ہ ر د ینے پر قادر ہ و یا نہ ہ و ل یکن اگر وہ م ہ ر ل ینے سے پ ہ ل ے جماع پر راض ی ہ و اور شو ہ ر اس س ے جماع کر ے تو بعد م یں وہ شرعی عذر کے بغ یر شوہ ر کو جماع کرن ے س ے ن ہیں روک سکتی۔
مُتعَہ (مُعَیَّنَہ مُدّت کا نکاح)
2430 ۔ عورت ک ے سات ھ متع ہ کرنا اگرچ ہ لذت حاصل کرن ے ک ے لئ ے ن ہ ہ و تب ب ھی صحیح ہے۔
2431 ۔ احت یاط واجب یہ ہے ک ہ شو ہ ر ن ے جس عورت س ے متع ہ ک یا ہ و اس ک ے سات ھ چار م ہینے سے ز یادہ جماع ترک نہ کر ے۔
2432 ۔ جس عورت ک ے سات ھ متع ہ ک یا جا رہ ا ہ و اگر و ہ نکاح م یں یہ شرط عائد کرے ک ہ شو ہ ر اس س ے جماع ن ہ کر ے تو نکاح اور اس ک ی عائد کردہ شرط صح یح ہے اور شو ہ ر اس س ے فقط دوسر ی لذتیں حاصل کرسکتا ہے ل یکن اگر وہ بعد م یں جماع کے لئ ے راض ی ہ و جائ ے تو شو ہ ر ا س سے جماع کر سکتا ہے اور دائمی عقد میں بھی یہی حکم ہے۔
2433 ۔ جس عورت ک ے سات ھ متع ہ ک یا گیا ہ و خوا ہ و ہ حامل ہ ہ و جائ ے تب ب ھی خرچ کا حق نہیں رکھ ت ی۔
2434 ۔ جس عورت ک ے سات ھ متع ہ ک یا گیا ہ و و ہ ہ م بستر ی کا حق نہیں رکھ ت ی اور شوہ ر س ے م یراث بھی نہیں پاتی اور شوہ ر ب ھی اس سے م یراث نہیں پاتا۔ ل یکن اگر ۔ ان م یں سے کس ی ایک فریق نے یا دونوں نے ۔ م یراث پانے ک ی شرط رکھی ہ و تو اس شرط کا صح یح ہ ونا محل اشکال ہے۔ ل یکن احتیاط کا خیال رکھے۔
2435 ۔ جس عورت س ے متع ہ ک یا گیا ہ و اگرچ ہ اس ے یہ معلوم نہ ہ و ک ہ و ہ خرچ اور ہ م بستر ی کا حق نہیں رکھ ت ی اس کا نکاح صحیح ہے اور اس وج ہ س ے ک ہ و ہ ان امور س ے ناواقف ت ھی اس کا شوہ ر پر کوئ ی حق نہیں بنتا۔
2436 ۔ جس عورت س ے متع ہ ک یا گیا ہ و اگر و ہ شو ہ ر ک ی اجازت کے بغ یر گھ ر س ے با ہ ر جائ ے اور اس ک ے با ہ ر جان ے ک ی وجہ س ے شو ہ ر ک ی حق تلفی ہ و تو اس کا با ہ ر جانا حرام ہے اور اس صورت م یں جبکہ اس ک ے با ہ ر جان ے س ے شو ہ ر ک ی حق تلفی نہ ہ وت ی ہ وتب ب ھی احتیاط مستحب کی بنا پر شوہ ر کی اجازت کے بغ یر گھ ر س ے با ہ ر ن ہ جائ ے۔
2437 ۔ اگر کوئ ی عورت کسی مرد کو وکیل بنائے ک ہ مع ین مدت کے لئ ے اور مع ین رقم کے عوض اس کا خود اپنے سات ھ ص یغہ پڑھے اور و ہ شخص اس کا دائم ی نکاح اپنے سات ھ پ ڑھ ل ے یا مدت مقرر کئے بغ یر یا رقم کا تعین کئے بغ یر متعہ کا ص یغہ پڑھ د ے تو جس وقت عورت کو ان امور کا پتا چل ے اگر وہ اجازت د ے د ے تو نکاح صح یح ہے ورن ہ باطل ہے۔
2438 ۔ اگر محرم ہ ون ے ک ے لئ ے ۔ مثلاً ۔ باپ یا دادا اپنی نابالغ لڑ ک ی یا لڑ ک ے کا نکاح مع ینہ مدت کے لئ ے کس ی سے پ ڑھیں تو اس صورت میں اگر اس نکاح کی وجہ س ے کوئ ی فساد نہ ہ و تو نکاح صح یح ہے ل یکن اگر نابالغ لڑ کا شاد ی کی اس پوری مدت میں جنسی لذت لینے کی بالکل صلاحیت نہ رکھ تا ہ و یا لڑ ک ی ایسی ہ و ک ہ و ہ اس س ے بالکل لذت ن ہ ل ے سکتا ہ و تو نکاح کا صح یح ہ ونا محل اشکال ہے۔
2439 ۔ اگر باپ یا دادا اپنی بچی کا جو دوسری جگہ ہ و اور یہ معلوم نہ ہ و ک ہ و ہ زند ہ ب ھی ہے یا نہیں محرم بن جانے ک ی خاطر کسی عورت سے نکاح کر د یں اور زوجیت کی مدت اتنی ہ و ک ہ جس عورت س ے نک اح کیا گیا ہ و اس س ے استمتاع ہ وسک ے تو ظا ہ ر ی طور پر محرم بننے کا مقصد حاصل ہ و جائے گا اور اگر بعد میں معلوم ہ و ک ہ نکاح ک ے وقت و ہ بچ ی زندہ ن ہ ت ھی تو نکاح باطل ہے اور و ہ لوگ جو نکاح ک ی وجہ س ے بظا ہ ر محرم بن گئ ے ت ھے نامحرم ہیں۔
2440 ۔ جس عورت ک ے سات ھ متع ہ ک یا گیا ہ و اگر مرد اس ک ی نکاح میں معین کی ہ وئ ی مدت بخش دے تو اگر اس ن ے اس ک ے سات ھ ہ م بستر ی کی ہ و تو مرد کو چا ہ ئ ے ک ہ تمام چ یزیں جن کا وعدہ ک یا گیا تھ ا اس ے د ے د ے اور اگر ہ م بستر ی نہ ک ی ہ و تو آد ھ ا م ہ ر د ینا واجب ہے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ سارا م ہ ر اس ے د یدے۔
2441 ۔ مرد یہ کرسکتا ہے ک ہ جس عورت ک ے سات ھ اس ن ے پ ہ ل ے متع ہ ک یا ہ و اور اب ھی اس کی عدت ختم نہ ہ وئ ی ہ و اس س ے دائم ی عقد کرلے یا دوبارہ متع ہ کرل ے۔
2442 ۔ مرد ک ے لئ ے نامحرم عورت کا جسم د یکھ نا اور اسی طرح اس کے بالوں کو د یکھ نا خواہ لذت ک ے ار ادے س ے ہ و یا اس کے بغ یر یا حرام میں مبتلا ہ ون ے کا خوف ہ ا یا نہ ہ و حرام ہے اور اس ک ے چ ہ ر ے پر نظر ڈ النا اور ہ ات ھ وں کو ک ہ ن یوں تک دیکھ نا اگر لذت کے اراد ے س ے ہ و یا حرام میں مبتلا ہ ون ے کا خوف ہ و تو حرام ہے۔ بلک ہ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ لذت ک ے اراد ے ک ے بغ یر اور حرام میں مبتلا ہ ون ے کا خوف ن ہ ہ و تب ب ھی نہ د یکھے۔ اس ی طرح عورت کے لئ ے نامحرم مرد ک ے جسم پر نظر ڈ النا حرام ہے۔ ل یکن اگر عورت مرد کے جسم ک ے ان حصوں مثلاً سر، دونوں ہ ات ھ وں اور دونوں پن ڈ ل یوں پر جنہیں عرفاً چھ پانا ضرور ی نہیں ہے لذت ک ے اراد ے ک ے بغ یر نظر ڈ ال ے اور حرام م یں مبتلا ہ ون ے کا خوف ن ہ ہ و تو کوئ ی اشکال نہیں ہے۔
2443 ۔ و ہ ب ے پرد ہ عورت یں جنہیں اگر کوئی پردہ کرن ے ک ے لئ ے ک ہے تو اس کو ا ہ م یت نہ د یتی ہ وں، ان ک ے بدن ک ی طرف دیکھ ن ے میں اگر لذت کا قصد اور حرام میں مبتلا ہ ون ے کا خوف ن ہ ہ و تو کوئ ی اشکال نہیں ۔ اور ا س حکم میں کافر اور غیر کافر عورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اور ا سی طرح ان کے ہ ات ھ ، چ ہ ر ے اور جسم ک ے د یگر حصے جن ہیں چھ پان ے ک ی وہ عاد ی نہیں کوئی فرق نہیں ہے۔
2444 ۔ عورت کو چا ہ ئ ے ک ہ و ہ ۔ علاو ہ ہ ات ھ اور چ ہ ر ے ک ے۔ سر ک ے بال اور اپنا بدن نا محرم مرد س ے چ ھ پائ ے اور احت یاط لازم یہ ہے ک ہ اپنا بدن اور سر ک ے بال اس ل ڑ ک ے س ے ب ھی چھ پائ ے جو اب ھی بالغ تو نہ ہ وا ہ و ل یکن (اتنا سمجھ دار ہ و ک ہ ) اچ ھے اور بر ے کو سمج ھ تا ہ و اور احتمال ہ و کہ عورت ک ے بدن پر اس ک ی نظر پڑ ن ے س ے اس ک ی جنسی خوہ ش ب یدار ہ و جائ ے گ ی۔ ل یکن عورت نا محرم مرد کے سامن ے چہ ر ہ اور کلائ یوں تک ہ ات ھ ک ھ ل ے رک ھ سکت ی ہے۔ ل یکن اس صورت میں کہ حرام م یں مبتلا ہ ون ے کا خوف یا کسی مرد کو (ہ ات ھ اور چ ہ ر ہ ) دک ھ انا حرام م یں مبتلا کرنے ک ے ارا دے سے ہ و تو ان دونوں صورتوں م یں ان کا کھ لا رک ھ نا جائز ن ہیں ہے۔
2445 ۔ بالغ مسلمان ک ی شرم گاہ د یکھ نا حرام ہے۔ اگرچ ہ ا یسا کرنا شیشے کے پ یچھے سے یا آئینے میں یا صاف شفاف پانی وغیرہ میں ہی کیوں نہ ہ و ۔ اور احت یاط لازم کی بنا پر یہی حکم ہے کافر اور اس بچ ے ک ی شرم گاہ ک ی طرف دیکھ ن ے کا جو اچھے بر ے کو سمج ھ تا ہ و، البت ہ م یاں بیوی ایک دوسرے کا پورا بدن د یکھ سکتے ہیں۔
2446 ۔ جو مرد اور عورت آپس م یں محرم ہ وں اگر و ہ لذت ک ی نیت نہ رک ھ ت ے ہ وں تو شرمگا ہ ک ے علاو ہ ا یک دوسرے کا پورا بدن د یکھ سکتے ہیں۔
2447 ۔ ا یک مرد کو دوسرے مرد کا بدن لذت ک ی نیت سے ن ہیں دیکھ نا چاہ ئ ے اور ا یک عورت کا بھی دوسری عورت کے بدن کو لذت ک ی نیت سے د یکھ نا حرام ہے۔
2448 ۔ اگرکوئ ی مرد کسی نامحرم عورت کو پہ چانتا ہ و اگر و ہ ب ے پرد ہ عورتوں م یں سے ن ہ ہ و تو احت یاط کی بنا پر اسے اس ک ی تصویر نہیں دیکھ ن ی چاہ ئ ے۔
2449 ۔ اگر ا یک عورت کسی دوسری عورت کا یا اپنے شو ہ ر ک ے علاو ہ کس ی مرد کا انیما کرنا چاہے یا اس کی شرم گاہ کو د ھ و کر پاک کرنا چاہے تو ضرور ی ہے ک ہ اپن ے ہ ات ھ پر کوئ ی چیز لپیٹ لے تاک ہ اس کا ہ ات ھ اس (عورت یا مرد) شرم گاہ پر ن ہ لگ ے۔ اور اگر ا یک مرد کسی دوسرے مرد یا اپنی بیوی کے علاو ہ کس ی دوسری عورت کا انیما کرنا چاہے یا اس کی شرم گاہ کو د ھ و کر پاک کرنا چا ہے تو اس ک ے لئ ے ب ھی یہی حکم ہے۔
2450 ۔ اگر عورت نامحرم مرد س ے اپن ی کسی ایسی بیماری کا علاج کرانے پر مجبور ہ و جس کا علاج و ہ ب ہ تر طور پر کرسکتا ہ و تو و ہ عورت اس نامحرم مرد س ے اپنا علاج کراسکت ی ہے۔ چنانچ ہ و ہ مرد علاج ک ے سلسل ے م یں اس کو دیکھ ن ے یا اس کے بدن کو ہ ات ھ لگان ے پر مجبور ہ و تو (ا یسا کرنے میں) کوئی اشکال نہیں لیکن اگر وہ محض د یکھ کر علاج کرسکتا ہ و تو ضرور ی ہے اس عورت ک ے بدن کو ہ ات ھ ن ہ لگائ ے اور اگر صرف ہ ات ھ لگان ے س ے علاج کرسکتا ہ و تو پ ھ ر ضرور ی ہے ک ہ اس عورت پر نگا ہ ن ہ ڈ ال ے۔
2451 ۔ اگر انسان کس ی شخص کا علاج کرنے ک ے سلسل ے م یں اس کی شرم گاہ پر نگا ہ ڈ الن ے پر مجبور ہ و تو احت یاط واجب کی بنا پر اسے چا ہ ئ ے ک ہ آئ ینہ سامنے رک ھے اور اس م یں دیکھے لیکن اگر شرم گاہ پر نگا ہ ڈ الن ے ک ے علاو ہ کوئ ی چارہ ن ہ ہ و تو (ا یسا کرنے م یں ) کوئی اشکال نہیں۔ اور اگر شرم گاہ پر نگا ہ ڈ الن ے ک ی مدت آئینے میں دیکھ ن ے کی مدت سے کم ہ و تب ب ھی یہی حکم ہے۔
2452 ۔ جو شخص شاد ی نہ کرن ے ک ی وجہ س ے حرام "فعل" م یں مبتلا ہ وتا ہ و اس پر واجب ہے ک ہ شاد ی کرے۔
2453 ۔ اگر شو ہ ر نکاح م یں مثلاً یہ شرط عائد کرے ک ہ عورت کنوا ی ہ و اور نکاح ک ے بعد معلوم ہ و ک ہ و ہ کنوار ی نہیں تو شوہ ر نکاح کو فسخ کرسکتا ہے البت ہ اگر فسخ کر ے تو کنوار ی ہ ون ے اور کنوار ے ن ہ ہ ون ے ک ے ماب ین مقرر کردہ م ہ ر م یں جو فرق ہ و و ہ ل ے سکتا ہے۔
2454 ۔ نامحرم مرد اور عورت کا کس ی ایسی جگہ سات ھ ہ ونا ج ہ اں اور کوئ ی نہ ہ و جب ک ہ اس صورت م یں بہ کن ے کا اند یشہ بھی ہ و حرا م ہے چا ہے و ہ جگ ہ ا یسی ہ و ج ہ اں کوئ ی اور بھی آسکتا ہ و، البت ہ اگر ب ہ کن ے کا اند یشہ نہ ہ و تو کوئ ی اشکال نہیں ہے۔
2455 ۔ اگر کوئ ی مرد عورت کا مہ ر نکاح م یں معین کردے اور اس کا اراد ہ یہ ہ و ک ہ و ہ م ہ ر ن ہیں دے گا تو (اس س ے نکاح ن ہیں ٹ و ٹ تا بلک ہ ) صح یح ہے ل یکن ضروری ہے ک ہ م ہ ر ادا کر ے۔
2456 ۔ جو مسلمان اسلام س ے خارج ہ وجائ ے اور کفر اخت یاط کرے تو اس ے "مرتد" ک ہ ت ے ہیں اور مرتد کی دو قسمیں ہیں: 1 ۔ مرتد فطر ی 2 ۔ مرتد مل ی۔ مرتد فطر ی وہ شخص ہے جس ک ی پیدائش کے وقت اس ک ے ماں باپ دونوں یا ان میں کوئی ایک مسلمان ہ و اور و ہ خود ب ھی اچھے بر ے کو پ ہ چانن ے ک ے بعد مسلمان ہ و ہ وا ہ و ل یکن بعد میں کافر ہ وجائ ے ، اور مرتد مل ی اس کے برعکس ہے ( یعنی وہ شخص ہے جس ک ی پیدائش کے وقت ماں باپ دونوں یا ان میں سے ا یک بھی مسلمان نہ ہ و) ۔
2457 ۔ اگر عوعرت شاد ی کے بعد مرتد ہ وجا 4 ے تو اس کا نکاح ٹ و ٹ جاتا ہے اور اگر اس کے شو ہ ر ن ے اس ک ے سات ھ جماع ن ہ ک یا ہ و تو اس ک ے لئ ے عدت ن ہیں ہے۔ اور اگر جماع ک ے بعد مرتد ہ وجائ ے ل یکن یائسہ ہ وچک ی ہ و یا بہ ت چ ھ و ٹی ہ و تب ب ھی یہی حکم ہے ل یکن اگر اس کی عمر حیض آنے وا لے عورتوں کے برابر ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ اس دستور ک ے مطابق جس کا ذکر طلاق ک ے احکام م یں کیا جائے گا عدت گزار ے اور (علماء ک ے ماب ین) مشہ ور یہ ہے ک ہ اگر عدت ک ے دوران مسلمان ہ وجائ ے تو اس کا نکاح (ن ہیں ٹ و ٹ تا یعنی) باقی رہ تا ہے۔ اور یہ حکم وجہ س ے خال ی نہیں ہے اگرچ ہ بہتر یہ ہے ک ہ احت یاط کی رعایت ترک نہ ہ و ۔ اور یائسہ اس عورت کو کہ ت ے ہیں جس کی عمر پچاس سال ہ وگئ ی ہ و اور عمر رس یدہ ہ ون ے ک ی وجہ س ے اس ے ح یض نہ آتا ہ و اور دوبار ہ آن ے ک ی امید بھی نہ ہ و ۔
2458 ۔ اگر کوئ ی مرد شادی کے بعد مرتد فطر ی ہ وجائ ے تو اس ک ی بیوی اس پر حرام ہ وجات ی ہے اور اس عورت ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ وفات ک ے عدت ک ے برابر جس کا ب یان طلاق کے احکام م یں ہ وگا عدت رک ھے۔
2459 ۔ اگر کوئ ی مرد شادی کے بعد مرتد مل ی ہ وجائ ے تو اس کا نکاح ٹ و ٹ جاتا ہے ل ہ ذا اگر اس ن ے اپن ی بیوی کے سات ھ جماع ک یا ہ و یا وہ عورت یائسہ یا بہ ت چ ھ و ٹی ہ و تو اس ک ے لئ ے عدت ن ہیں ہے اور اگر و ہ مرد جماع ک ے بعد مرتد ہ و اور اس ک ی بیوی ان عورتوں کی ہ م سن ہ و جن ہیں حیض آتا ہے تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ عورت طلاق ک ی عدت کے برابر جس کا ذکر طلاق ک ے احکام م یں آئے گا عدت رک ھے۔ اور مش ہ ور یہ ہے ک ہ اگر اس ک ی عدت ختم ہ و نے س ے پ ہ ل ے اس کا شو ہ ر مسلمان ہ وجائ ے تو اس کا نکاح قائم ر ہ تا ہے۔ اور یہ حکم بھی وجہ س ے خال ی نہیں ہے البت ہ احت یاط کا خیال رکھ نا ب ہ تر ہے۔
2460 ۔ اگر عورت عقد م یں مرد پر شرط عائد کرے ک ہ اس ے (ا یک معین) شہ ر س ے با ہ ر ن ہ ل ے جائ ے اور مرد ب ھی اس شرط کو قبول کرلے تو ضرور ی ہے ک ہ اس عورت کو اس ک ی رضامندی کے بغ یر اس شہ ر س ے با ہ ر ن ہ ل ے جائ ے۔
2461 ۔ اگر کس ی عورت کی پہ ل ے شو ہ ر س ے ل ڑ ک ی ہ و تو بعد م یں اس کا دوسرا شوہ ر اس ل ڑ ک ی کا نکاح اپنے اس ل ڑ ک ے س ے کرسکتا ہے جو اس ب یوی سے ن ہ ہ و ن یز اگر کسی لڑ ک ی کا نکاح اپنے ب یٹے سے کر ے تو بعد م یں اس لڑ ک ی کی ماں سے خود ب ھی نکاح کرسکتا ہے۔
2462 ۔ اگر کوئ ی عورت زنا سے حامل ہ ہ وجائ ے تو بچ ے کو گرانا اس ک ے لئ ے جائز ن ہیں ہے۔
2463 ۔ اگر کوئ ی مرد کسی ایسی عورت سے زنا کر ے جو شو ہ ر دار ن ہ ہ و اور کس ی دوسرے ک ی عدت میں بھی نہ ہ و چنانچ ہ بعد میں اس عورت سے شاد ی کرلے اور کوئ ی بچہ پ یدا ہ وجائ ے تو اس صورت م یں کہ جب و ہ یہ نہ جانت ے ہ و ک ہ بچ ہ حلال نطف ے س ے ہے یا حرام نطفے س ے تو و ہ بچ ہ حلال زاد ہ ہے۔
2464 ۔ اگر کس ی مرد کو یہ معلوم نہ ہ و ک ہ ا یک عورت عدت میں ہے اور و ہ اس س ے نکاح کر ے تو اگر عورت کو ب ھی اس بارے م یں علم نہ ہ و اور ان ک ے ہ اں بچ ہ پ یدا ہ و تو و ہ حلال زاد ہ ہ وگا اور شرعاً ان دونوں کا بچ ہ ہ وگا ل یکن اگر عورت کو علم تھ ا ک ہ و ہ عدت م یں ہے اور عدت ک ے دور ان نکاح کرنا حرام ہے تو شرعاً و ہ بچ ہ باپ کا ہ وگا ۔ اور مذکور ہ دونوں صورتوں م یں ان دونوں کا نکاح باطل ہے اور ج یسے کہ ب یان ہ وچکا ہے و ہ دونوں ا یک دوسرے پر حرام ہیں۔
2465 ۔ اگر کوئ ی عورت یہ کہے ک ہ م یں یائسہ ہ وں تو اس ک ی یہ بات قبول نہیں کرنی چاہ ئ ے ل یکن اگر کہے ک ہ م یں شوہ ر دار ن ہیں ہ وں تو اس ک ی بات مان لینا چاہ ئ ے۔ ل یکن اگر وہ غلط ب یاں ہ و تو اس صورت م یں احتیاط یہ ہے ک ہ اس ک ے بار ے م یں تحقیق کی جائے۔
2466 ۔ اگر کوئ ی شخس کسی ایسی عورت سے شاد ی کرے جس ن ے ک ہ ا ہ و ک ہ م یرا شوہ ر ن ہیں ہے اور بعد م یں کوئی اور شخص کہے ک ہ و ہ عورت اس ک ی بیوی ہے تو جب تک شرعاً یہ بات ثابت نہ ہ وجائ ے ک ہ و ہ سچ ک ہہ ر ہ ا ہے اس ک ی بات کو قبول نہیں کرنا چاہ ئ ے۔
2467 ۔ جب تک ل ڑ کا یا لڑ ک ی دو سال کے ن ہ ہ وجائ یں باپ، بچوں کو ان کی ماں سے جدا ن ہیں کرسکتا اور احوط اور اولی یہ ہے ک ہ بچ ے کو سات سال تک اس ک ی ماں سے جدا ن ہ کر ے۔
2468 ۔ اگر رشت ہ مانگن ے وال ے ک ی دیانت داری اور اخلاق سے خوش ہ و تو ب ہ تر یہ ہے ک ہ ل ڑ ک ی کا ہ ات ھ اس کے ہ ات ھ م یں دینے سے انکار ن ہ کر ے۔ پ یغمبر اکرم (صلی اللہ عل یہ وآلہ ) س ے روا یت ہے ک ہ "جب ب ھی کوئی شخص تمہ ار ی لڑ ک ی کا رشتہ مانگن ے آئ ے اور تم اس شخص ک ے اخلاق اور د یانت داری سے خوش ہ و تو اپن ی لڑ ک ی کی شادی اس سے کردو ۔ اگر ا یسا نہ کرو گ ے تو گو یا زمین پر ایک بہ ت ب ڑ ا فتن ہ پ ھیل جائے گا ۔ "
2469 ۔ اگر ب یوی شوہ ر ک ے سات ھ اس شرط پر اپن ے م ہ ر ک ی مصالحت کرے ( یعنی اسے م ہ ر بخش د ے ) ک ہ و ہ دوسر ی شادی نہیں کرے گا تو واجب ہے ک ہ و ہ دوسر ی شادی نہ کر ے۔ اور ب یوی کو بھی مہ ر ل ینے کا کوئی حق نہیں ہے۔
2470 ۔ جو شخص ولد الزنا ہ و اگر و ہ شا دی کرلے اور اس ک ے ہ اں بچ ہ پ یدا ہ و تو و ہ حلال زاد ہ ہے۔
2471 ۔ اگر کوئ ی شخص ماہ رمضان المبارک ک ے روزوں م یں یا عورت کے حائض ہ ون ے ک ی حالت میں اس سے جماع کر ے تو گن ہ گار ہے ل یکن اگر اس جماع کے نت یجے میں ان کے ہ اں کوئ ی بچہ پ یدا ہ و تو و ہ حلال زاد ہ ہے۔
2472 ۔ جس عورت کو یقین ہ و ک ہ اس کا شو ہ ر سفر م یں فوت ہ وگ یا ہے اگر و ہ وفات ک ی عدت کے بعد شاد ی کرے اور بعد ازاں اس کا پ ہ لا شو ہ ر سفر س ے (زند ہ سلامت) واپس آجائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ دوسر ے شو ہ ر س ے جدا ہ و جائ ے اور و ہ پ ہ ل ے شو ہ ر پر حلال ہ وگ ی لیکن اگر دوسرے شو ہ ر ن ے اس س ے جماع کیا ہ و تو عورت ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ عدت گزار ے اور دوسر ے شو ہ ر کو چا ہ ئ ے ک ہ اس ج یسی عورتوں کے م ہ ر ک ے مطابق اس ے م ہ ر ادا کر ے ل یکن عدت (کے زمان ے ) کا خرچ (دوسر ے شو ہ ر ک ے ذم ے ) ن ہیں ہے۔
2473 ۔ اگر کوئ ی عورت ایک بچے کو ان شرائط ک ے سات ھ ک ے دود ھ پ لائے جو مسئل ہ 2483 میں بیان ہ وں گ ی تو وہ بچ ہ مندرج ہ ذ یل لوگوں کا محرم بن جاتا ہے۔
1 ۔ خود و ہ عورت ۔ اور اس ے رضاع ی ماں کہ ت ے ہیں۔
2 ۔ عورت کا شو ہ ر جو ک ہ دود ھ کا مالک ہے۔ اور اس ے رضاع ی باپ کہ ت ے ہیں۔
3 ۔ اس عورت باپ اور ماں ۔ اور ج ہ اں تک یہ سلسلہ اوپر چلا جائ ے اگر چہ و ہ اس عورت ک ے رضاع ی ماں باپ ہی کیوں نہ ہ وں ۔
4 ۔ اس عورت ک ے و ہ بچ ے جو پ یدا ہ وچک ے ہ وں یا بعد میں پیدا ہ وں ۔
5 ۔ اس عورت ک ی اولاد کی اولاد خواہ یہ سلسلہ جس قدر ب ھی نیچے چلاجائے اور اولاد ک ی اولاد خواہ حق یقی ہ و خوا ہ اس ک ی اولاد نے ان بچوں کو دود ھ پلا یا ہ و ۔
6 ۔ اس عورت ک ی بہ ن یں اور بھ ائ ی خواہ و ہ رضاع ی ہی کیوں نہ ہ وں یعنی دودھ پ ینے کی وجہ س ے اس عورت ک ے ب ہ ن اور ب ھ ائ ی بن گئے ہ وں ۔
7 ۔ اس عورت کا چچا اور پ ھ وپ ھی خواہ و ہ رضاع ی ہی کیوں نہ ہ وں ۔
8 ۔ اس عورت کا ماموں اور خال ہ خوا ہ و ہ رضاع ی ہی کیوں نہ ہ وں ۔
9 ۔ اس عورت ک ے اس شوہ ر ک ی اولاد جو دودھ کا مالک ہے۔ اور ج ہ اں تک ب ھی یہ سلسلہ ن یچے چلا جائے اگرچ ہ اس ک ی اولاد رضاعی ہی کیوں نہ ہ و ۔
10 ۔ اس عورت ک ے اس شو ہ ر ک ے ماں باپ جو دود ھ کا مالک ہے۔ اور ج ہ اں تک ب ھی یہ سلسلہ اوپر چلا جائ ے۔
11 ۔ اس عورت ک ے اس شو ہ ر ک ے ب ہ ن ب ھ ائ ی جو دودھ کا مالک ہے خوا ہ اس ک ے رضا ی بہ ن ب ھ ائ ی ہی کیوں نہ ہ وں ۔
12 ۔ اس عورت کا جو شو ہ ر دود ھ کا مالک ہے اس ک ے چچا اور پ ھ وپ ھیاں اور ماموں اور خالائیں۔ اور ج ہ اں تک یہ سلسلہ اوپر چلا جائ ے اور اگرچ ہ و ہ رضاع ی ہی کیوں نہ ہ وں ۔
اور ان کے علاو ہ کئ ی اور لوگ بھی دودھ پل انے ک ی وجہ س ے محرم بن جات ے ہیں جن کا ذکر آئندہ مسائل م یں کیا جائے گا ۔
2474 ۔ اگر کوئ ی عورت کسی بچے کو ان شرائط ک ے سات ھ دود ھ پلائ ے جن کا ذکر مسئل ہ 2483 میں کیا جائے گا تو اس بچ ے کا باپ ان ل ڑ ک یوں سے شاد ی نہیں کر سکتا جنہیں وہ عورت جنم د ے اور اگر ان م یں سے کوئ ی ایک لڑ ک ی ابھی اس کی بیوی ہ و تو اس کا نکاح ٹ و ٹ جائ ے گا ۔ البت ہ اس کا اس عورت ک ی رضاعی لڑ ک یوں سے نکاح کرنا جائز ہے اگرچ ہ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ ان ک ے سات ھ ب ھی نکاح نہ کر ے ن یز احتیاط کی بنا پر وہ اس عورت ک ے اس شو ہ ر ک ی بیٹیوں سے نکاح ن ہیں کر سکتا جو دودھ کا مالک ہے اگرچ ہ و ہ اس شو ہ ر ک ی رضاعی بیٹیاں ہ وں ل ہ ذا اگر اس وقت ان م یں سے کو ئی عورت اس کی بیوی ہ و تو احت یاط کی بنا پر اس کا نکاح ٹ و ٹ جاتا ہے۔
2475 ۔ اگر کوئ ی عورت کسی بچے کو ان شرائط ک ے سات ھ دود ھ پلائ ے جن کا ذکر مسئل ہ 2483 میں کیا جائے گا ت و اس عورت کا وہ شو ہ ر جو ک ہ دود ھ کا مالک ہے اس بچ ے ک ی بہ نوں کا محرم ن ہیں بن جاتا لیکن احتیاط مستجب یہ ہے ک ہ و ہ ان س ے شاد ی نہ کر ے ن یز شوہ ر ک ے رشت ہ دار ب ھی اس بچے ک ے ب ھ ائ ی بہ نوں ک ے محرم ن ہیں بن جاتے۔
2476 ۔ اگر کوئ ی عورت ایک بچے کو دود ھ پلائ ے تو و ہ اس ک ے ب ھ ائ یوں کی محرم نہیں بن جاتی اور اس عورت کے رشت ہ دار ب ھی اس بچے ک ے ب ھ ائ ی بہ نوں ک ے محرم ن ہیں بن جاتے۔
2477 ۔ اگر کوئ ی شخص اس عورت سے جس ن ے کس ی لڑ ک ی کو پورا دودھ پلا یا ہ و نکاح کرل ے اور اس س ے مجامعت کرل ے تو پ ھ ر و ہ اس ل ڑ ک ی سے نکاح ن ہیں کرسکتا۔
2487 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی لڑ ک ی سے نکاح کرل ے تو پ ھ ر و ہ اس عورت س ے نکاح ن ہیں کرسکتا جس نے اس ل ڑ ک ی کو پورا دودھ پلا یا ہ و ۔
2479 ۔ کوئ ی شخص اس لڑ ک ی سے نکاح ن ہیں کرسکتا جسے اس شخص ک ی ماں یا دادی نے دود ھ پلا یا ہ و ۔ ن یز اگر کسی شخص کے باپ ک ی بیوی نے ( یعنی اس کی سوتیلی ماں نے ) اس شخص ک ے باپ کا مملو کہ دود ھ کس ی لڑ ک ی کو پلایا ہ و تو ہ و شخص اس ل ڑ ک ی سے نکاح ن ہیں کرسکتا۔ اور اگر کوئ ی شخص کسی دودھ پ یتی بچی سے نکاح کر ے اور اس ک ے بعد اس ک ی ماں یا دادی یا اس کی سوتیلی ماں اس بچی کو دودھ پلاد ے تو نکاح ٹ و ٹ جاتا ہے۔
2480 ۔ جس ل ڑ ک ی کو کسی شخص کی بہ ن یا بھ اب ی نے ب ھ ائ ی کے دود ھ س ے پورا دود ھ پلا یا ہ و و ہ شخص اس ل ڑ ک ی سے نکاح ن ہیں کرسکتا۔ اور جب کس ی شخص کی بھ انج ی، بھ ت یجی یا بہ ن یا بھ ائ ی کی پوتی یا نواسی نے اس بچ ی کو دودھ پلا یا ہ و تب ب ھی یہی حکم ہے۔
2481 ۔ اگر کوئ ی عورت اپنی لڑ ک ی کے بچ ے کو ( یعنی اپنے نواس ے یا نواسی کو) پورا دودھ پلائ ے تو و ہ ل ڑ ک ی اپنے شو ہ ر پر حرام ہ وجائ ے گ ی۔ اور اگر کوئ ی عوعرت اس بچے کو دود ھ پلائ ے جو اس ک ی لڑ ک ی کے شو ہ ر ک ی دوسری بیوی سے پ یدا ہ وا ہ و تب ب ھی یہی حکم ہے ل یکن اگر کوئی عورت اپنے بیتے کے بچ ے کو ( یعنی اپنے پوت ے یا پوتی کو) دودھ پلائ ے تو اس ک ے بیٹے کی بیوی (یعنی دودھ پلائ ی کی بہ و) جو اس دود ھ پ یتے بچے ک ی ماں ہے اپن ے شو ہ ر پر حرام ن ہیں ہ وگ ی۔
2482 ۔ اگرکس ی لڑ ک ی کی سوتیلی ماں اس لڑ ک ی کے شو ہ ر ک ے بچ ے کو اس ل ڑ ک ی کے باپ کا مملوک ہ دود ھ پلاد ے تو اس احت یاط کی بنا پر جس کا ذکر مسئلہ 2474 میں کیا گیا ہے ، و ہ ل ڑ ک ی اپنے شو ہ ر پر حرام ہ و جات ی ہے خوا ہ بچ ہ اس ل ڑ ک ی کے بطن س ے یا کسی دوسری عورت کے بطن س ے ہ و ۔
2483 ۔ بچ ے کو جو دود ھ پلانا محرم بنن ے کا سبب بنتا ہے اس ک ی آٹھ شرط یں ہیں :
1 ۔ بچ ہ زند ہ عورت کا دود ھ پئ ے۔ پس اگرو ہ مرد ہ عورت کے پستان س ے دود ھ پئ ے تو اس کا کوئ ی فائدہ ن ہیں۔
2 ۔ عورت کا دود ھ فعل حرام کا نت یجہ نہ ہ و ۔ پس اگر ا یسے بچے کا دود ھ جو ولدالزنا ہ و کس ی دوسرے بچ ے کو د یا جائے تو اس دود ھ ک ے توسط س ے و ہ دوسرا بچ ہ کس ی کا محرم نہیں بنے گا ۔
3 ۔ بچ ہ پستان س ے دود ھ پئ ے۔ پس اگر دود ھ اس ک ے حلق م یں انڈیلا جائے تو ب یکار ہے۔
4 ۔ دود ھ خالص ہ و اور کس ی دوسری چیز سے ملا ہ و ن ہ ہ و ۔
5 ۔ دود ھ ا یک ہی شوہ ر کا ہ و ۔ پس جس عورت کو دود ھ اترتا ہ و اگر اس ے کو طلاق ہ و جائ ے اور و ہ عقد ثان ی کرلے اور دوسر ے شو ہ ر س ے حامل ہ ہ و جائ ے اور بچ ہ جنن ے تک اس ک ے پ ہ ل ے شو ہ ر کا دود ھ اس م یں باقی ہ و مثلاً اگر اس بچ ے کو خود بچ ہ جنن ے س ے قبل پ ہ ل ے شو ہ ر کا دود آ ٹھ دفع ہ او ر وضع حمل کے بعد دوسر ے شو ہ ر کا دود ھ سات دفع ہ پلائ ے تو و ہ بچ ہ کس ی کا بھی محرم نہیں بنتا۔
6 ۔ بچ ہ کس ی بیماری کی وجہ س ے دود ھ ک ی قے ن ہ کرد ے اور اگر ق ے کرد ے تو بچ ہ محرم ن ہیں بنتا ہے۔
7 ۔ بچ ے کو اس قدر دود ھ پلاجائ ے ک ہ اس ک ی ہڈیاں اس دودھ س ے مضبوط ہ وں اور بدن کا گوشت ب ھی اس سے بن ے اور اگر اس بات کا علم ن ہ ہ و ک ہ اس قدر دود ھ پ یا ہے یا نہیں تو اگر اس نے ا یک دن اور ایک رات یا پندرہ دفع ہ پ یٹ بھ ر کر دود ھ پ یاہ و تب بھی (محرم ہ ون ے ک ے لئ ے) کافی ہے جیسا کہ اس کا (تفص یلی) ذکر آنے وال ے مسئل ے م یں کیا جائے گا ۔ ل یکن اگر اس بات کا علم ہ و ک ہ اس ک ی ہڈیاں اس دودھ س ے مضبوط ن ہیں ہ وئ یں اور اس کا گوشت بھی اس سے ن ہیں بنا حالانکہ بچ ے ن ے ا یک دن اور ایک رات یا پندرہ دفع ہ دود ھ پ یا ہ و تو اس ج یسی صورت میں احتیاط کا خیال کرنا ضروری ہے۔
8 ۔ بچ ے ک ی عمر کے دو سال مکمل ن ہ ہ وئ ے ہ وں اور اگر اس ک ی عمر دو سال ہ ون ے ک ے بعد اس ے دود ھ پلا یا جائے تو و ہ کس ی کا محرم نہیں بنتا بلکہ اگر مثال ک ے طور پر و ہ عمر ک ے دو سال مکمل ہ ون ے س ے پ ہ ل ے آ ٹھ دفع ہ اور اس ک ے بعد سات ھ دفع ہ دود ھ پئ ے ت ب بھی وہ کس ی کا محرم نہیں بنتا۔ ل یکن اگر دودھ پلان ے وال ی عورت کو بچہ جن ے ہ وئ ے دو سال س ے ز یادہ مدت گزر چکی ہ و اور اس کا دود ھ اب ھی باقی ہ و اور و ہ کس ی بچے کو دود ھ پلائ ے تو و ہ بچ ہ ان لوگوں کا محرم بن جاتا ہے جن کا ذکر اوپر ک یا گیا ہے۔
2484 ۔ دود ھ پ ینے کی وجہ س ے محرم بنن ے ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ ا یک دن رات میں بچہ ن ہ غذا ک ھ ائ ے اور ن ہ کس ی دوسری عورت کا دودھ پئ ے ل یکن اگر اتنی تھ و ڑی غذا کھ ائ ے ک ہ لوگ یہ نہ ک ہیں کہ اس ن ے ب یچ میں غذا کھ ائ ی ہے تو پ ھ ر کوئ ی اشکال نہیں۔ ن یز یہ بھی ضروری ہے ک ہ پندر ہ مرتب ہ ایک ہی عورت کا دودھ پئ ے اور اس پندر ہ مرتب ہ دود ھ پ ینے کے درم یان کسی دوسری عورت کا دودھ ن ہ پئ ے اور ہ ر بار بلافاصل ہ دود ھ پئ ے۔ ہ اں اگر دود ھ پ یتے ہ وئ ے سانس ل ے یا تھ و ڑ ا ساصبر کر ے گو یا کہ جب اس ن ے پ ہ ل ی بار پستان منہ م یں لیا تھ ا اس وقت س ے ل ے کر اس ک ے س یر ہ وجان ے تک ایک دفعہ دود ھ پ ینا ہی شمار کیا جائے تو اس م یں کوئی اشکال نہیں۔
2485 ۔ اگر کوئ ی عورت اپنے شو ہ ر کا دود ھ کس ی بچے کو پلائ ے۔ بعد ازاں عقد ثان ی کرلے اور دوسر ے شو ہ ر کا دود ھ کس ی اور بچے آپس م یں محرم نہیں بنتے اگر چ ہ ب ہ تر یہ ہے ک ہ و ہ آپس م یں شادی نہ کر یں۔
2486 ۔ اگر کوئ ی عورت ایک شوہ ر کا دود ھ کئ ی بچوں کو پلائے تو و ہ سب بچ ے آپس م یں نیز اس آدمی کے اور اس عورت ک ے جنس ن ے ان ہیں دودھ پلا یا ہ و محرم بن جات ے ہیں۔
2487 ۔ اگر کس ی شخص کی کئی بیویاں ہ وں اور ان م یں سے ہ ر ا یک شرائط کے سات ھ جو ب یان کی گئی ہیں ایک ایک بچے کو دود ھ پلاد ے تو وہ سب بچ ے آپس م یں اور اس آدمی اور ان تمام عورتوں کے محرم بن جات ے ہیں۔
2488 ۔ اگر کس ی شخص کو دو بیویوں کو دودھ اترتا ہ و اور ان م یں سے ا یک کسی بچے کو مثال ک ے طور پر آ ٹھ مرتب ہ اور دوسر ی سات مرتبہ دود ھ پلاد ے تو و ہ بچ ہ کس ی کا بھی محرم نہیں بنتے۔
2489 ۔ اگر کوئ ی عورت ایک شوہ ر کا پورا دود ھ ا یک لڑ ک ے اور ا یک لڑ ک ی کو پلائے تو اس ل ڑ ک ی کے ب ہ ن ب ھ ائ ی اس لڑ ک ے ک ے ب ہ ن ب ھ ائ یوں کے محرم ن ہیں بن جاتے۔
2490 ۔ کوئ ی شخص اپنی بیوی کی اجازت کے بغ یر ان عورتوں سے نکاح ن ہیں کرسکتا جو دودھ پ ینے کی وجہ س ے اس ک ی بیوی کی بھ انج یاں یا بھ ت یجیاں بن گئی ہ وں ن یز اگر کوئی شخص کسی لڑ ک ے س ے اغلام کر ے تو و ہ اس ل ڑ ک ے ک ی رضاعی بیٹی، بہ ن، ماں اور داد ی سے یعنی ان عورتوں سے جو دود ھ پینے کی وجہ س ے اس ک ی بیٹی، بہ ن، ماں اور داد ی بن گئی ہ وں نکاح ن ہیں کرسکتا۔ اور احت یاط کی بنا پر اس صورت میں جبکہ لواطت کرن ے والا بالغ ہ و تب ب ھی یہی حکم ہے۔
2491 ۔ جس عورت ن ے کس ی شخص کے ب ھ ائ ی کو دودھ پلا یا ہ و و ہ اس شخص ک ی محرم نہیں بن جاتی اگرچہ احت یاط مسحب یہ ہے ک ہ اس شاد ی نہ کر ے۔
2492 ۔ کوئ ی آدمی دو بہ نوں س ے (ا یک ہی وقت میں) نکاح نہیں کرسکتا اگرچہ و ہ رضا 4 ی بہ ن یں ہی ہ وں یعنی دودھ پ ینے کی وجہ س ے ا یک دوسری کی بہ ن یں بن گئی ہ وں اور اگر و ہ دو عورتوں س ے شاد ی کرے اور بعد م یں اسے پتا چل ے ک ہ و ہ آپس م یں بہ ن یں ہیں تو اس صورت میں جب کہ ان ک ی شادی ایک ہی وقت میں ہ وئ ی ہ و اظ ہ ر یہ ہے ک ہ دونوں نکاح باطل ہیں۔ اور اگر نکاح ا یک ہی وقت میں نہ ہ وا ہ و تو پ ہ لا نکاح صح یح ہ و دوسرا باطل ہے۔
2493 ۔ اگر کوئ ی عورت اپنے شو ہ ر کا دود ھ ان اشخاص کا پلائ ے جن کا ذکر ذ یل میں کیا گیا ہے تو اس عورت کا شو ہ ر اس پر حرام ن ہیں ہ وتا اگرچ ہ ب ہ تر یہ ہے ک ہ احت یاط کی جائے۔
1 ۔ اپن ے ب ھ ائ ی اور بہ ن کو ۔
2 ۔ اپن ے چچا، پ ھ وپ ھی، اماموں اور خالہ کو ۔
3 ۔ اپن ے چچا اور ماموں ک ی اولاد کو۔
4 ۔ اپن ے ب ھ ت یجے کو۔
5 ۔ اپن ے ج یٹھ یا دیور اور نند کو۔
6 ۔ اپن ے ب ھ انج ے یا اپنے شو ہ ر ک ے ب ھ انج ے کو ۔
8 ۔ اپن ے شو ہ ر ک ی دوسری بیوی کے نواس ے یا نواسی کی۔
2494 ۔ اگر کوئ ی عورت کسی شخص کی پھ وپ ھی زاد یا خالہ زاد ب ہ ن کو دود ھ پلائ ے تو و ہ (عورت) اس شخص ک ی محرم نہیں بنتی لیکن احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ و ہ شخص اس عورت س ے شاد ی نہ کر ے۔
2495 ۔ جس شخص ک ی دو بیویاں ہ وں اگر اس ک ی ایک بیوی دوسری بیوی کے چچا ک ے ب یٹے کو دودھ پلائ ے تو جس عورت ک ے چچا ک ے ب یٹے نے دود ھ پ یا ہے و ہ اپنے شو ہ ر پر حرام ن ہیں ہ وگ ی۔
2496 ۔ بچ ے کو دود ھ پلان ے ک ے لئ ے سب عورتوں س ے ب ہ تر اس ک ی اپنی ماں ہے۔ اور ماں ک ے لئ ے مناسب ہے ک ہ بچ ے کو دود ھ پلان ے ک ی اجرت اپنے شو ہ ر س ے ن ہ ل ے اور شو ہ ر ک ے لئ ے اچ ھی بات یہ ہے ک ہ اس ے اجرت د ے اور اگر بچ ے ک ی ماں، دایہ (دودھ ماں) ک ے مقابل ے م یں زیادہ اجرت لینا چاہے تو شو ہ ر بچ ے کو اس س ے ل ے کر دا یہ کے سپرد کرسکتا ہے۔
2497 ۔ مستحب ہے ک ہ بچ ے ک ی دایہ شیعہ اثنا عشری، ہ وش مند، پاک دامن اور خوش شکل ہ و ۔ اور مکرو ہ ہے ک ہ و ہ غب ی، غیر شیعہ اثنا عشری، بد صورت، بد اخلاق یا حرام زادی ہ و ۔ اور یہ بھی مکروہ ہے۔ ک ہ اس عورت کو بطور دا یہ منتخب کیا جائے جس کا دود ھ ا یسے بچے س ے ہ و جو والدالزن ا ہ و ۔
2498 ۔ عورتوں ک ے لئ ے ب ہ تر ہے ک ہ و ہ ہ ر ا یک کے بچ ے کو دود ھ ن ہ پلائ یں کیونکہ ہ وسکتا ہے و ہ یہ یاد نہ رک ھ سک یں کہ ان ھ وں ن ےکس کسی کو دودھ پلا یا ہے اور (ممکن ہے ک ہ ) بعد م یں دو محرم ایک دوسرے س ے نکاح کرل یں۔
2499 ۔ اگر ممکن ہ و تو مستحب ہے ک ہ بچ ے کو پور ے 21 مہینے دودھ پلا یا جائے اور دوسال س ے ز یادہ دودھ پلانا مناسب ن ہیں ہے۔
2500 ۔ اگر دود ھ پلان ے ک ی وجہ س ے شو ہ ر کا حق تلف ن ہ ہ وتا ہ و تو عورت شو ہ ر ک ی اجازت کے بغ یر کسی دوسرے شخص ک ے بچ ے کو دود ھ پلاسکت ی ہے۔
2501 ۔ اگر کس ی عورت کا شوہ ر ا یک شیر خوار بچی سے نکاح کر ے اور و ہ عورت اس بچ ی کو دودھ پلائ ے تو مش ہ ور قول ک ی بنا پر وہ عورت اپن ے شو ہ ر ک ی ساس بن جاتی ہے اور اس پر حرام ہ وجات ی ہے۔ ل یکن یہ حکم اشکال سے خال ی نہیں ہے اور احت یاط کا خیال رکھ نا چا ہ ئ ے۔
2502 ۔ اگر کوئ ی چاہے ک ہ اس ک ی بھ اب ی اس کی محرم بن جائے تو بعض فق ہ ان ے فرما یا ہے ک ہ اس ے چا ہ ئ ے ک ہ کس ی شیر خوار بچی سے مثال ک ے طور پر دو دن ک ے لئ ے متع ہ کرل ے اور ان دونوں م یں ان شرائط کے سات ھ جن کا ذکر مسئل ہ 2483 میں کیا گیا ہے اس ک ی بھ اب ی اس بچی کو دودھ پلائ ے ت اکہ وہ اس ک ی بیوی کی ماں بن جائے۔ ل یکن یہ حکم اس صورت میں جب بھ ائ ی بھ ائ ی کے مملوک دود ھ س ے اس بچ ی کو پلائے محل اشکال ہے۔
2503 ۔ اگر کوئ ی کرد کسی عورت سے شاد ی کرنے س ے پ ہ ل ے ک ہے ک ہ رضاعت ک ی وجہ س ے و ہ عورت مج ھ پر حرام ہے مثلاً ک ہے ک ہ م یں نے اس عورت ک ی ماں کا دودھ پ یا ہے تو اگر اس بات ک ی تصدیق ممکن ہ و تو و ہ اس عورت س ے شاد ی نہیں کرسکتا اور اگروہ یہ بات شادی کے بعد ک ہے اور خود عورت بھی اس بات کو قبول کرے تو ان کا نکا ح باطل ہے۔ ل ہ ذا اگر مرد ن ے اس عورت س ے ہ م بستر ی نہ ک ی ہ و یا کی ہ و ل یکن ہ م بستر ی کے وقت عورت کو معلوم ہ و ک ہ و ہ اس مرد پر حرام ہے تو عورت کا کوئ ی مہ ر ن ہ ں اور اگر عورت کو ہ م بستر ی کے بعد پتا چل ے ک ہ و ہ اس مرد پر حرام ت ھی تو ضروری ہے ک ہ شو ہ ر اس ج یسی عورتوں کے م ہ ر ک ے مطابق اس ے م ہ ر د ے۔
2504 ۔ اگر کوئ ی عورت شادی سے پ ہ ل ے ک ہہ د ے ک ہ رضاعت ک ی وجہ س ے م یں اس مرد پر حرام ہ وں اور اس ک ی تصدیق ممکن ہ و تو و ہ اس مرد س ے شاد ی نہیں کرسکتی اور اگر وہ یہ بات شادی کے بعد ک ہے تو اس کا ک ہ نا ا یسا ہی جیسے کہ مرد شاد ی کے بعد ک ہے ک ہ و ہ عورت اس پر حرام ہے اور اس ک ے متعلق حکم سابقہ مسئل ے م یں بیان ہ وچکا ہے۔
2505 ۔ دود ھ پلانا جو محرم س ے بنن ے کا سبب ہے دو چ یزوں سے ثابت ہ وتا ہے :
1 ۔ ا یک ایسی جماعت کا خبر دینا جس کی بات پر یقین یا اطمینان ہ وجائ ے
2 ۔ دو عادل مرد اس ک ی گواہی دیں لیکن ضروری ہے ک ہ و ہ دود ھ پلان ے ک ی شرائط کے بار ے م یں بھی بتائیں مثلاً کہیں کہ ہ م ن ے فلاں بچ ے کو چوب یس گھ ن ٹے فلاں عورت ک ے پستان س ے دود ھ پ یتے دیکھ ا ہے اور اس ن ے اس دوران اور کوئ ی چیز بھی نہیں کھ ائ ی اور اسی طرح ان باقی شرائط کو بھی واشگاف الفاظ میں بیان کریں جن کا ذکر مسئلہ 2483 میں کیا گیا ہے۔ البت ہ ا یک مرد اور دو عورتوں یا چار عورتوں کی گواہی ہے جو سب ک ے سب عادل ہ وں رضاعت کا ثابت محل اشکال ہے۔
2506 ۔ اگر اس بات م یں شک ہ و ک ہ بچ ے ن ے اتن ی مقدار میں دودھ پ یا ہے جو محرم بنن ے کا سبب ہے یا نہیں پیا ہے یا گمان ہ و ک ہ اس نے اتن ی مقدار میں دودھ پ یا ہے تو بچ ہ کس ی کا بھی محرم نہیں ہ وتا ل یکن بہ تر یہ ہے ک ہ احت یاط کی جائے۔
طلاق کے احکام
2507 ۔ جو مرد اپن ی بیوی کو طلاق دے اس ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ بالغ اور عاقل ہ و ل یکن اگر دس سال کا بچہ اپن ی بیوں کو طلاق دے تو اس ک ے بار ے م یں احتیاط کا خیال رکھیں اور اسی طرح ضروری ہے ک ہ مرد اپن ے اخت یار سے طلاق د ے اور اگر اس ے اپن ی بیوی کو طلاق دینے پر مجبور کیا جائے تو طلاق باطل ہے اور یہ بھی ضروری ہے ک ہ و ہ شخص طلاق ک ی نیت رکھ تا ہ و ل ہ ذا اگر و ہ مثلاً مذاق مذاق م یں طلاق کا صیغہ کہے تو طلاق صح یح نہیں ہے۔
2508 ۔ ضرور ی ہے ک ہ عورت طلاق ک ے وقت ح یض یا نفاس سے پاک ہ و اور اس ک ے شو ہ ر ن ے اس پاک ی کے دوران اس س ے ہ م بستر ی نہ ک ی ہ و اور ان دو شرطوں ک ی تفصیل آئندہ مسائل م یں بیان کی جائے گ ی۔
2509 ۔ عورت کو ح یض یا نفاس کی حالت میں تین صورتوں میں طلاق دینا صحیح ہے :
1 ۔ شو ہ ر ن ے نکاح ک ے بعد اس س ے ہ م بستر ی نہ ک ی ہ و ۔
2 ۔ معلوم ہ و ک ہ و ہ حامل ہ ہے۔ اور اگر یہ بات معلوم نہ ہ و اور شو ہ ر اس ے ح یض کی حالت میں طلاق دے د ے اور بعد م یں شوہ ر کو پتا چل ے ک ہ و ہ حامل ہ ت ھی تو وہ طلاق باطل ہے اگرچ ہ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اس ے دوبار ہ طلاق د ے۔
3 ۔ مرد غیر حاضری یا ایسی ہی کسی اور وجہ س ے اپن ی بیوں سے جدا ہ وا اور یہ معلوم نہ ہ وسکتا ہ و ک ہ عورت ح یض یا نفاس سے س ے پاک ہے یا نہیں۔ ل یکن اس صورت میں احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے ک ہ مرد انتظار کر ے تاک ہ ب یوں سے جدا ہ ون ے ک ے بعد کم از کم ا یک مہینہ گزر جائے ا س کے بعد اس طلاق د ے۔
2510 ۔ اگر کوئ ی شخص عورت کو حیض سے پاک سمج ھے اور اس ے طلاق د ے د ے اور بعد م یں پتا چلے ک ہ و ہ ح یض کی حالت میں تھی تو اس کی طلاق باطل ہے اور اگر شو ہ راس ے ح یض کی حالت میں سمجھے اور طلاق د ے د ے اور بعد م یں معلوم ہ و ک ہ پاک ت ھی تو اس کی طلاق صحیح ہے۔
2511 ۔ جس شخص کو علم ہ و ک ہ اس ک ی بیوی حیض یا نفاس کی حالت میں ہے اگر و ہ ب یوی سے جدا ہ و جائ ے مثلاً سفر اخت یار کرے اور اس ے طلاق د ینا چاہ تا ہ و تو اس ے چا ہ ئ ے ک ہ اتن ی مدت صبر کرے جس م یں اسے یقین یا اطمینان ہ و جائ ے ک ہ و ہ عورت ح یض یا نفاس سے پاک ہ و گئ ی ہے اور جب و ہ یہ جان لے ک ہ عورت پاک ہے اس ے طلاق د ے۔ اور اگر اس ے شک ہ وتب ب ھی یہی حکم ہے ل یکن اس صورت میں غائب شخص کی طلاق کے بار ے م یں مسئلہ 2509 میں جو شرائط بیان ہ وئ ی ہیں ان کا خیال رکھے۔
2512 ۔ جو شخص اپن ی بیوی سے جدا ہ و اگر و ہ اس ے طلاق د ینا چاہے تو اگر و ہ معلوم کرسکتا ہ و ک ہ اس ک ی بیوی حیض یا نفاس کی حالت میں ہے یا نہیں تو اگرچہ عورت ک ی حیض کی عادت یا ان دوسری نشانیوں کو جو شرع میں معین ہیں دیکھ ت ے ہ وئ ے اس ے طلاق د ے اور بعد م یں معلوم ہ و ک ہ و ہ حیض یا نفاس کی حالت میں تھی تو اس کی طلاق صحیح ہے۔
2513 ۔ اگر کوئ ی شخص اپنی بیوی سے جو ح یض یا نفاس سے پاک ہ و ہ م بستر ی کرے اور پ ھ ر اس ے طلاق د ینا چاہے تو ضرور ی ہے ک ہ صبر کر ے حت ی کہ اس ے دوبار ہ ح یض آجائے اور پ ھ ر و ہ پاک ہ وجائ ے ل یکن اگر ایسی عورت کو ہ م بستر ی کے بعد طلاق د ی جائے جس ک ی عمر نو سال سے کم ہ و یا معلوم ہ و کہ و ہ حامل ہ ہے تو اس م یں کوئی اشکال نہیں اور اگر عورت یائسہ ہ و تب ب ھی یہی حکم ہے۔
2514 ۔ اگر کوئ ی شخص ایسی عورت سے ہ م بستر ی کرے جو ح یض یا نفاس سے پاک ہ و اور اس ی پاکی کی حالت میں اسے طلاق د ے د ے اور بعد م یں معلوم ہ و ک ہ و ہ طلاق د ینے کے وقت حامل ہ ت ھی تو وہ طلاق باطل ہے اور احت یاط مستحب یہ ہے ہ ک شو ہ ر اس ے دوبار ہ طلاق د ے۔
2515 ۔ اگر کوئ ی شخص ایسی عورت سے ہ م بستر ی کرے جو ح یض یا نفاس سے پاک ہ و پ ھ ر و ہ اس س ے جدا ہ وجائ ے مثلاً سفر اخت یار کرے ل ہ ذا اگر و ہ چا ہے ک ہ سفر ک ے دوران اس ے طلاق د ے اور اس ک ی پاکی یانا پاکی کے بار ے م یں نہ جان سکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اتن ی مدت صبر کرے ک ہ عورت کو ا س پاکی کے بعد ح یض آئے اور و ہ دوبار ہ پاک ہ و جائ ے اور احت یاط واجب یہ ہے ک ہ و ہ مدت ا یک مہینے سے کم ن ہ ہ و ۔
2516 ۔ اگر کوئ ی مرد ایسی عورت کو طلاق دینا چاہ تا ہ و جس ے پ یدائشی طور پر یاکسی بیماری کی وجہ س ے حیض نہ آتا ہ و اور اس عمر ک ی دوسری عورتوں کو حیض آتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ جب اس ن ے ا یسی عورت سے جماع ک یا ہ و اس وقت س ے ت ین مہینے تک اس سے جماع ن ہ کر ے اور بعد م یں اسے ط لاق دے د ے۔
2517 ۔ ضرور ی ہے ک ہ طلاق کا ص یغہ صحیح عربی میں لفظ "طالقٌ" کے سات ھ پ ڑھ ا جائ ے اور دو عادل مرد اسے سن یں۔ اگر شو ہ ر خود طلاق کا ص یغہ پڑھ نا چا ہے اور مثال ک ے طور پر اس ک ی بیوی کا نام فاطمہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ک ہے :زَوجَتِ ی فَاطِمَۃ ُ طَالِقٌ یعنی میری بیوی فاطمہ آزا د ہے اور اگر و ہ کس ی دوسرے شخص کو وک یل کرے تو ضرور ی ہے ک ہ وک یل کہے : "زَوجَ ۃ ُ مُوَکِّلِی فَاطِمَۃ ُ طَالِقٌ" اور اگر عورت معین ہ و تو اس کا نام ل ینا لازم نہیں ہے اور اگر مرد عرب ی میں طلاق کا صیغہ نہ پ ڑھ سکتا ہ و اور وک یل بھی نہ بنا سک ے تو و ہ جس زبان م یں چاہے ہر اس لفظ کے ذر یعے طلاق دے سکتا ہے جو عرب ی لفظ کے ہ م معن ی ہ و ۔
2518 ۔ جس عورتس ے متعہ ک یا گیا ہ و مثلاً ا یک سال ایک ایک مہینے کے لئ ے اس س ے نکاح ک یا گیا ہ و اس ے طلاق د ینے کا کوئی سوال نہیں۔ اور اس کا آزاد ہ ونا اس بات پر منحصر ہے ک ہ یا تو متعہ ک ی مدت ختم ہ و جائ ے یا مرد اسے مدت بخش د ے اور و ہ اس طرح ک ہ اس س ے ک ہے : "م یں نے مد ت تجھے بخش د ی۔ " اور کس ی کو اس پر گواہ قرار د ینا اور اس عورت کا حیض سے پاک ہ ونا لازم ن ہیں۔
2519 ۔ جس ل ڑ ک ی کی عمر (پورے ) نو سال ن ہ ہ وئ ی ہ و ۔ اور جو عورت یائسہ ہ وچک ی ہ و ۔ اس ک ی کوئی عدت نہیں ہ وت ی۔ یعنی اگرچہ شو ہ ر ن ے اس س ے مجامعت ک ی ہ و، طلاق ک ے بعد ک ے بعد و ہ فوراً دوسرا شوہ ر کر سکت ی ہے۔
2520 ۔ جس ل ڑ ک ی کی عمر ( پورے ) نو سال ہ وچک ی ہ و اور جو عورت یائسہ نہ ہ و، اس کا شو ہ ر اس س ے مجامعت کر ے تو اگر و ہ اس ے طلاق د ے تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ (ل ڑ ک ی یا) عورت طلاق کے بعد عدت رک ھے اور آزاد عورت ک ی عدت یہ ہے ک ہ جب اس کا شو ہ ر اس ے پاک ی کی حالت میں طلاق دے تو اس ک ے بعد و ہ اتن ی مدت صبر کرے ک ہ دو دفع ہ ح یض سے پاک ہ وجائ ے اور جون ہی اسے ت یسری دفعہ ح یض آئے تو اس ک ی عدت ختم ہ وجات ی ہے اور و ہ دوسرا نکاح کرسکت ی ہے ل یکن اگر شوہ ر عورت س ے مجامعت کرن ے س ے پ ہ ل ے اس ے طلاق د ے د ے تو اس ک ے لئ ے کوئ ی عدت نہیں یعنی وہ طلاق ک ے فوراً بعد دوس را نکاح کرسکتی ہے۔ ل یکن اگر شوہ ر ک ی منی جذب یا اس جیسی کسی اور وجہ س ے اس ک ی شرم گاہ م یں داخل ہ وئ ی ہ و تو اس صورت م یں اظہ ر ک ی بنا پر ضروری ہے ک ہ و ہ عورت عدت رک ھے۔
2521 ۔ جس عورت کو ح یض نہ آتا ہ و ل یکن اس کا سن ان عورتوں جیسا ہ و جن ہیں حیض آتا ہ و اگر اس کا شو ہ ر مجامعت کرن ے ک ے بعد اس ے طلاق د ے د ے تو ضرور ی ہے ک ہ طلاق ک ے بعد ت ین مہینے کی عدت رکھے۔
2522 ۔ جس عورت ک ی عدت تین مہینے ہ و اگر اس ے چاند ک ی پہ ل ی تاریخ کو طلاق دی جائے تو ضرور ی ہے ک ہ ت ین قمری مہینے تک یعنی جب چاند دیکھ ا جائے اس وقت س ے ت ین مہینے تک عدت رکھے اور اگر اس ے م ہینے کے دوران (کس ی اور تاریخ کو) طلاق دی جائے تو ضرور ی ہے ک ہ اس م ہینے کے باق ی دنوں میں میں اس کے بعد آن ے وال ے دوم ہینے اور چوتھے ک ے اتن ے دن جتن ے دن پ ہ ل ے م ہینے سے کم ہ وں عدت رک ھے تاک ہ ت ین مہینے مکمل ہ وجائ یں مثلاً اگر اسے م ہینے بیسویں تاریخ کو غروب کے وقت طلاق د ی جائے اور یہ مہینہ انتیس دن کا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ نو دن اس م ہینے کے اور ا س کے بعد دو م ہینے اور اس کے بعد چوت ھے م ہینے کے ب یس دن عدت رکھے بلک ہ احت یاط واجب یہ ہے ک ہ چوت ھے م ہینے کے اک یس دن عدت رکھے تاک ہ پ ہ ل ے م ہینے کے جتن ے دن عدت رک ھی ہے ان ہیں ملا کر دنوں کی تعداد تیس ہ وجائ ے۔
2523 ۔ اگر حامل ہ عورت کو طلاق د ی جائے تو اس ک ی عِدّت وَضع حَمل یا اِستاطِ حَمل تک ہے ل ہ ذا مثال ک ے طور اگر طلاق ک ے ا یک گھ ن ٹے بعد بچ ہ پ یدا ہ وجائ ے تو اس عورت ک ی عدت ختم ہ وجائ ے گ ی۔ ل یکن یہ حکم اس صورت میں ہے جن و ہ بچ ہ صاحب ہ عدت کا شرع ی بیٹ ا ہ و ل ہ ذا اگر عورت زنا سے حاملہ ہ وئ ی ہ و اور شو ہ ر اس ے طلاق د ے تو اس ک ی عدت بچے ک ے پ یدا ہ ون ے س ے ختم ن ہیں ہ وت ی۔
2524 ۔ جس ل ڑ ک ی نے عمر ک ے نو سال مکمل کرلئ ے ہ وں اور جو عورت یائسہ نہ ہ و اگر و ہ مثال ک ے طور پر کس ی شخص سے ا یک مہینے یا ایک سال کے لئ ے متع ہ کر ے تو اگر اس کا شو ہ ر اس س ے مجامعت کر ے اور اس عورت ک ی مدت تمام ہ وجائ ے یا شوہ ر اس ے مدت بخش د ے تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ عدت رک ھے۔ پس اگر اس ے ح یض آئے تو احت یاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ دو ح یض کے برابر عدت رکھے اور نکاح ن ہ کر ے اور اگر ح یض نہ آئ ے تو پ ینتالیس یا اسقاط ہ ون ے تک ہے۔ اگرچ ہ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ جو مدت وضع حمل یا پینتالیس دن میں سے ز یادہ ہ و اتن ی مدت کے لئ ے عدت رک ھے۔
2525 ۔ طلاق ک ی عدت اس وقت شروع ہ وت ی ہے جب ص یغہ کا پڑھ نا ختم ہ وجاتا ہے خوا ہ عورت کو پتا چل ے یا نہ چل ے ک ہ اس ے طلاق ہ وگئ ی ہے پس اگر اس ے عدت (ک ے برابر مدت) گزرن ے ک ے بعد پتا چل ے ک ہ اس ے طلاق ہ وگئ ی ہے تو ضرور ی نہیں کہ و ہ دوبار ہ عدت رک ھے۔
2526 ۔ اگر کوئ ی عورت بیوہ ہ وجائ ے تو اس صورت م یں جبکہ و ہ آزاد ہ و اگر و ہ حامل ہ ن ہ ہ و تو خوا ہ و ہ یائسہ ہ و یا شوہ ر ن ے اس س ے مُتع ہ ک یا ہ و یا شوہ ر ن ے اس س ے مجامعت ن ہ ک ی ہ و ضرور ی ہے ک ہ چار م ہینے اور دس دن عدت رکھے اور اگر حامل ہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ وضع حمل تک عدت رک ھے لیکن اگر چار مہینے اور دس دن گزرنے س ے پ ہ ل ے بچہ پ یدا ہ وجائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ شو ہ ر ک ی موت کے بعد چار م ہینے دس دن تک صبر کرے اور اس عدت کو وفات ک ی عدت کہ ت ے ہیں۔
2527 ۔ جو عورت وفات ک ی عدت میں ہ و اس ک ے لئ ے رنگ برنگا لباس پ ہ ننا، سرم ہ لگان ہ اور اس ی طرح دوسرے ا یسے کام جو زینت میں شمار ہ وت ے ہیں حرام ہیں۔
2528 ۔ اگر عورت کو یقین ہ وجائ ے ک ہ اس کا شو ہ ر مرچکا ہے اور عدت وفات تمام ہ ون ے ک ے بعد و ہ دوسرا نکاح کر ے اور پ ھ ر اس ے معلوم ہ و ک ہ اس ک ے شو ہ ر ک ی موت بعد میں واقع ہ وئ ی ہے تو ضرور ی ہے ک ہ دوسر ے شو ہ ر س ے عل یحدگی اختیار کرے اور احت یاط کی بنا پر اس صورت میں جب کہ و ہ حا ملہ ہ و وضع حمل تک دوسر ے شو ہ ر ک ے لئ ے وط ی شبہ ک ی عدت رکھے۔ جو ک ہ طلاق ک ی عدت کی طرح ہے۔ اور اس ک ے بعد پ ہ ل ے شو ہ ر ک ے لئ ے عدت وفات رک ھے اور اگر حامل ہ ن ہ ہ و تو پ ہ ل ے شو ہ ر ک ے لئ ے عدت وفات اور اس ک ے بعد دوسر ے شو ہ ر ک ے لئ ے وط ی شبہ ک ی عدت رکھے۔
2529 ۔ جس عورت کا شو ہ ر لاپت ہ ہ و یا لاپتہ ہ ون ے ک ے حکم م یں ہ و اس ک ی عدت وفات شوہ ر ک ی موت کی اطلاع ملنے ک ے وقت س ے شروع ہ وت ی ہے ن ہ ک ہ شو ہ ر ک ی موت کے وقت ہے۔ ل یکن اس حکم کا اس عورت کے لئ ے ہ ونا جو نابالغ یا پاگل ہ و اشکال ہے۔
2530 ۔ اگر عورت ک ہے ک ہ م یری عدت ختم ہ وگئ ی ہے تو اس ک ی بات قابل قبول ہے مگر یہ کہ و ہ غلط ب یان مشہ ور ہ و تو اس صورت م یں احتیاط کی بنا پر اس کی بات قابل قبول نہیں ہے۔ مثلاً و ہ ک ہے ک ہ مج ھے ا یک مہینے میں تین دفعہ خون آتا ہے تو اس بات ک ی تصدیق نہیں کی جائے گ ی مگر یہ کہ اس ک ی سہیلیاں اور رشتے دار عورت یں اس بات کی تصدیق کریں اور اس کی حیض کی عادت ایسی ہی تھی۔
2531 ۔ طلاق بائن و ہ ک ہ طلاق ہے جس ک ے بعد مرد اپن ی عورت کی طرف رجوع کرنے کا حق ن ہیں رکھ تا یعنی یہ کہ بغ یر نکاح کے دوبار ہ اس ے اپن ی بیوی نہیں بنا سکتا اور اس طلاق کو چھ قسم یں ہیں :
1 ۔ اس عورت کو د ی گئی طلاق جس کی عمر ابھی نو سال نہ ہ وئ ی ہ و ۔
2 ۔ اس عورت کو د ی گئی طلاق جا یائسہ ہ و ۔
3 ۔ اس عورت کو د ی گئی طلاق جس کے شو ہ ر ن ے نکاح ک ے بعد اس س ے جماع ن ہ ک یا ہ و ۔
4 ۔ جس عورت کو ت ین دفعہ طلاق د ی گئی ہ و اس ے د ی جانے وال ی تیسری طلاق۔
5 ۔ خُلع اور مبارات ک ی طلاق
6 ۔ حاکم شرع کا اس عورت کو طلاق د ینا جس کا شوہ ر ن ہ اس ک ے اخراجات برداشت کرتا ہ و ن ہ اس ے طلاق د یتا ہ و، جن ک ے احکام بعد م یں بیان کئے جائ یں گے۔
اور ان طلاقوں کے علاو ہ جو طلاق یں ہیں وہ رجع ی ہیں جس کا مطلب یہ ہے ک ہ جب تک عورت عدت م یں ہ و شو ہ ر اس س ے رجوع کر سکتا ہے۔
2532 ۔ جس شخص ن ے اپن ی عورت کو رجعی طلاق دی ہ و اس ک ے لئ ے اس عورت کو اس گ ھ ر س ے نکال د ینا جس میں وہ طلاق د ینے کے وقت مق یم تھی حرام ہے البت ہ بعض موقعوں پر ۔ جن م یں سے ا یک یہ ہے ک ہ عورت زنا کر ے تو اس ے گ ھ ر س ے نکال د ینے میں کائی اشکال نہیں ۔ ن یز یہ بھی حرام ہے ک ہ عورت غیر ضروری کاموں کے لئ ے شو ہ ر ک ی اجازت کے بغ یر اس گھ ر س ے با ہ ر جائ ے۔
2533 ۔ رجع ی طلاق میں مرد دو طریقوں سے عورت ک ی طرف رجوع کر سکتا ہے :
1 ۔ ا یسی باتیں کرے جن س ے مترشح ہ و ک ہ اس ن ے اس ے دوبار ہ اپن ی بیوی بنا لیا ہے۔
2 ۔ کوئ ی کام کرے اور اس کام س ے رجوع کا قصد کر ے اور ظا ہ ر یہ ہے ک ہ جماع کرن ے س ے رجوع ثابت ہ وجاتا ہے خوا ہ اس کا قصد رجوع کرن ے کا ن ہ ب ھی ہ و ۔ بلک ہ بعض (فق ہ اء) کا ک ہ نا ہے ک ہ اگرچ ہ رجوع کا قصد ن ہ ہ و صرف لپ ٹ ان ے اور بوس ہ ل ینے سے رجوع ثابت ہ وجاتا ہے البت ہ یہ قول اشکال سے خال ی نہیں ہے۔
2534 ۔ رجوع کرن ے م یں مرد کے لازم ن ہیں کہ کس ی کو گواہ بنائ ے یا اپنی بیوی کو (رجوع کے متعلق) اطلاع د ے بلک ہ اگر بغ یر اس کے ک ہ کس ی کو پتا چلے و ہ خود ہی رجوع کرلے تو اس کا رجوع کرنا صح یح ہے ل یکن اگر عدت ختم ہ وجان ے ک ے بعد مرد ک ہے ک ہ م یں نے عدت ک ے دوران ہی رجوع کر لیاتھ ا تو لازم ہے ک ہ اس بات کو ثابت کر ے۔
2535 ۔ جس مرد ن ے عورت کو رجع ی طلاق دی ہ و اگر و ہ اس س ے کچ ھ مال ل ے ل ے اور اس س ے مصالح ت کرل ے ک ہ اب تج ھ س ے رجوع ن ہ کروں گا تو اگرچ ہ یہ مصالحت درست ہے اور مرد پر واجب ہے ک ہ رجوع ن ہ کر ے ل یکن اس سے مرد ک ے رجوع کرن ے کا حق ختم نہیں ہ وتا اور اگر و ہ رجوع کر ے تو جو طلا ق دے چکا ہے و ہ عل یحدگی کا موجب نہیں بنتی۔
2536 ۔ اگر کوئ ی شخص اپنی بیوی کو دو دفعہ طلاق د ے کر اس ک ی طرف رجوع کرلے یا اسے دو دفع ہ طلاق د ے اور ہ ر طلاق ک ے بعد اس س ے نکاح کر ے یا ایک طلاق کے بعد رجوع کر ے اور دوسر ی طلاق کے بعد نکاح کر ے تو ت یسری طلاق کے بعد و ہ اس مرد پر حرام ہ وجائ ے گ ی۔ ل یکن اگر عورت تیسری طلاق کے بعد کس ی دوسرے مرد س ے نکاح کر ے تو و ہ پانچ شرطوں ک ے سات ھ پ ہ ل ے مرد پر حلال ہ وگ ی یعنی وہ اس عورت س ے دوبار ہ نکاح کرسک ے گا ۔
1 ۔ دوسر ے شو ہ ر کا نکاح دائم ی ہ و ۔ پوس ا گر مثال کے طور پر و ہ ا یک مہینے یا ایک سال کے لئ ے اس عورت س ے متع ہ کرل ے تو اس مرد ک ے اس س ے عل یحدگی کے بعد پ ہ لا شو ہ ر اس س ے نکاح ن ہیں کرسکتا۔
2 ۔ دوسرا شو ہ ر جماع کر ے اور احت یاط واجب یہ ہے ک ہ جماع فرج م یں کرے۔
3 ۔ دوسرا شو ہ ر اس ے طلاق د ے یا مرجائے۔
4 ۔ دوسر ے شو ہ ر ک ی طلاق کی عدت یا وفات کی عدت ختم ہ وجائ ے۔
5 ۔ احت یاط واجب کی بنا پر دوسرا شوہ ر جماع کرت ے وقت بالغ ہ و ۔
2537 ۔ اس عورت ک ی طلاق کو جو اپنے شو ہ ر ک ی طرف مائل نہ ہ و اور اس س ے نفرت کرت ی ہ و اپنا م ہ ر یا کوئی اور مال اسے بخش د ے تاک ہ و ہ اس ے طلاق د ے د ے طلاق خلع کہ ت ے ہیں۔ اور طلاق خلع م یں اظہ ر ک ی بنا پر معتبر ہے ک ہ عورت اپن ے شو ہ ر س ے اس قدر شد ید نفرت کرتی ہ و ک ہ اس ے وظ یفہ زوجیت ادا نہ کرن ے ک ی دھ کم ی دے۔
2538 ۔ جب شو ہ ر خود طلاق خلع کا ص یغہ پڑھ نا چا ہے تو اگر اس ک ی بیوی کا نام مثلاً فاطمہ ہ و تو عوض ل ینے کے بعد ک ہے :" زَو جَتِی فَاطِمَۃ ُ کَالَعتُھ َا عَلٰ ی مَا بَذَلَت" اور احتیاط مستحب کی بنا پر "ھ ِ یَ طَالِقٌ" بھی کہے یعنی میں نے اپن ی بیوی فاطمہ کو اس مال ک ے عوض جو اس ن ے مج ھے د یا ہے طلاق خلع د ے ر ہ ا ہ وں اور و ہ آزاد ہے ۔ اور اگر عورت مع ین ہ و تو طلاق خلع م یں اور نیز طلاق مبارات میں اس کا نام لینا لازم نہیں ۔
2539 ۔ اگر کوئ ی عورت کسی شخص کو وکیل مقرر کرے تاک ہ و ہ اس کا م ہ ر اس ک ے شو ہ ر کو بخش د ے اور شو ہ ر ب ھی اسی شخص کو وکیل مقرر کرے تاک ہ و ہ اس ک ی بیوی کو طلاق دے د ے تو اگر مثال ک ے طور پر شو ہ ر کا نام محمد اور ب یوی کا نام فاطمہ ہ و تو وک یل صیغہ طلاق یوں پڑھے "عن مَوَکّ ِلَتِی فَاطِمَۃ َ بَذَلتُ مَہ رَ ھ َا لِمُوَکِّلِ ی مُحَمَّدٍ لِیَخلَعَھ َا عَلَیہ" اور اس کے بعد بلافاصل ہ ک ہے "زَوج ۃ ُ مَوَکِّلِی خَالَعتُھ ا عَلٰ ی مَابَذَلَت ھ ِ یَ طَالِقٌ۔ اور اگر عورت کس ی کو وکیل مقرر کرے ک ہ اس ک ے شو ہ ر کو م ہ ر ک ے علاو ہ کوئ ی اور چیز بخش دے تاک ہ ا س کا شوہ ر اس ے طلاق د ے د ے تو ضرور ی ہے ک ہ وک یل لفظ "مَہ رَ ھ َا" ک ی بجائے اس چ یز کا نام لے مثلاً اگر عورت ن ے سو روپ ے د یئے ہ وں تو ضرور ی ہے ک ہ ک ہے : بَذّلَت مِاَ ۃ َ رُوبِیَۃ۔ "
2540 ۔ اگر م یاں بیوی دونوں ایک دوسرے کو ن ہ چا ہ ت ے ہ وں اور ا یک دوسرے س ے نفرت کرت ے ہ وں اور عورت مرد کو کچ ھ مال د ے تاک ہ و ہ اس ے طلاق د ے د ے تو اس ے طلاق مبارات ک ہ ت ے ہیں۔
2541 ۔ اگر شو ہ ر مبارات کا ص یغہ پڑھ نا چا ہے تو اگر مثلاً عورت کا نام فاطم ہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ک ہے :
"بَارَاتُ زَوجَتِی فَاطِمَۃ َ عَلٰی مَابَذَلَت" اور احتیاط لازم کی بنا پر "فَھ ِ یَ طَالِقٌ" بھی کہے یعنی میں اور میری بیوی فاطمہ اس عطا ک ے مقابل م یں جو اس نے ک ی ہے ا یک دوسرے س ے جدا ہ وگئ ے ہیں پس وہ آزاد ہے۔ اور اگر و ہ شخص کس ی کو وکیل مقرر کرے تو ضرور ی ہے ک ہ وکیل کہے : "عَن قِبَلِ مُوَکِّلِ ی بَارَاتُ زَوجَتَہ فَاطِمَ ۃ َ عَلٰی مَابَذَلَت فَھ ِ یَ طَالِقٌ" اور دونوں صورتوں میں کلمہ "عَلٰ ی مَابَذَلَت" کی بجائے اگر "بِمَا بَذَلَت" ک ہے تو کوئ ی اشکال نہیں ہے۔
2542 ۔ خلع اور مبارات ک ی طلاق کا صیغہ اگر ممکن ہ و تو صح یح عربی میں پڑھ نا جانا چا ہ ئ ے اور اگر ممکن ن ہ ہ و تو اس کا حکم طلاق ک ے حکم ج یسا ہے جس کا ب یان مسئلہ 2517 میں گزر چکا ہے ل یکن اگر عورت مبارات کی طلاق کے لئ ے شو ہ ر کو اپنا مال بخش د ے۔ مثلاً ارودو م یں کہے ک ہ " میں نے طلاق ل ینے کے لئ ے فلاں مال تم ہیں بخش دیا" تو کوئی اشکال نہیں۔
2543 ۔ اگر کوئ ی عورت طلاق خلع یا طلاق مبارات کی عدت کے دوران اپن ی بخشش سے پ ھ ر جائ ے تو شو ہ ر اس ک ی طرف رجوع کرسکتا ہے اور دوبار ہ نکاح کئ ے بغ یر اسے اپن ی بیوی بنا سکتا ہے۔
2544 ۔ جو مال شو ہ ر طلاق مبارات د ینے کے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ و ہ عورت ک ے م ہ ر س ے ز یادہ نہ ہ و ل یکن طلاق خلع کے سلسل ے م یں لیا جانے والا مال اگر م ہ ر س ے ز یادہ بھی ہ و تو کوئ ی اشکال نہیں۔
2545 ۔ اگر کوئ ی آدمی کسی نامحرم عورت سے اس گمان م یں جماع کرے ک ہ و ہ اس ک ی بیوی ہے تو خوا ہ عورت کو علم ہ و ک ہ و ہ شخص اس کا شو ہ ر ن ہیں ہے یا گمان کرے ک ہ اس کا شوہ ر ہے ضرور ی ہے ک ہ عدت رک ھے۔
2546 ۔ اگر کوئ ی آدمی کسی عورت سے یا جانتے ہ وئ ے زنا کر ے ک ہ و ہ اس ک ی بیوی نہیں ہے تو اگر عورت کو علم ہ و ک ہ و ہ آدم ی اس کا شوہ ر ن ہیں ہے اس ک ے لئ ے عدت رک ھ نا ضرور ی نہیں۔ ل یکن اگر اسے شو ہ ر ہ ون ے کا گمان ہ و تو احت یاط لازم یہ ہے ک ہ و ہ عورت عدت رک ھے۔
2547 ۔ اگر کوئ ی آدمی کسی عورت کو ورغلائے ک ے و ہ اپن ے شو ہ ر س ے متعلق ازدواج ی ذمے دار یاں پوری نہ کر ے تاک ہ اس طرح شو ہ ر اس ے طلاق د ینے پر مجبور ہ وجائ ے اور و ہ خود اس عورت ک ے سات ھ شاد ی کرسکے تو طلاق اور نکاح صح یح ہیں لیکن دونوں نے ب ہ ت ب ڑ ا گ ناہ ک یا ہے۔
2548 ۔ اگر عورت نکاح ک ے سلسل ے م یں شوہ ر س ے شرط کر ے ک ہ اگر اس کا شو ہ ر سفر اخت یار کرلے یا مثلاً چھ م ہینے اسے خرچ ن ہ د ے تو طلاق کا اخت یار عورت کو حاصل ہ وگا تو یہ شرط باطل ہے۔ ل یکن اگر وہ یوں شرط کرے ک ہ اب ھی سے شو ہ ر ک ی طرف سے وک یل ہے ک ہ اگر و ہ مسافرت اختیار کرے یا چھ م ہینے تک اس کے اخراجات پور ے ن ہ کر ے تو و ہ اپن ے آپ کو طلاق د ے گ ی تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
2549 ۔ جس عورت کا شو ہ ر لاپت ہ ہ و جائ ے اگر و ہ دوسرا شو ہ ر کرنا چا ہے تو ضرور ی ہے ک ہ مجت ہ د عادل ک ے پاس جائ ے اور اس ک ے حکم مطابق عمل کر ے۔
2550 ۔ د یوانے کے باپ دادا اس ک ی بیوی کو طلاق دے سکت ے ہیں۔
2551 ۔ اگر باپ یا دادا اپنے (نابالغ) ل ڑ ک ے ( یا پوتے ) کا کس ی عورت سے متع ہ کر د یں اور متعہ ک ی مدت میں اس لڑ ک ے ک ے مکلف ہ ون ے ک ی کچھ مدت ب ھی شامل ہ و مثلاً اپن ے چود ہ سال ہ ل ڑ ک ے کا کس ی عورت سے دو سال ک ے لئ ے متع ہ کر د یں تو اگر اس میں لڑ ک ے ک ی بھ لائ ی ہ و تو ہ ( یعنی باپ دادا) اس عورت کی مدت بخش سکتے ہیں لیکن لڑ ک ے ک ی دائمی بیوی کو طلاق نہیں دے سکت ے۔
2552 ۔ اگر کوئ ی شخص دو آدمیوں کو شرع کو مقرر کردہ علامت ک ی رو سے عادل سمج ھے اور اپن ی بیوی کو ان کے سامن ے طلاق د ے د ے تو کوئ ی اور شخص جس کے نزد یک ان دو آدمیوں کی عدالت ثابت نہ ہ و اس عورت ک ی عدت ختم ہ ون ے ک ے بعد س ک ے سات ھ خود نکاح کرسکتا ہے یا اسے کس ی دوسرے ک ے نکاح میں دے سکتا ہے اگرچ ہ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اس ک ے سات ھ نکاح س ے اجتناب کر ے اور دوسر ے کا نکاح ب ھی اس کے سات ھ ن ہ کر ے۔
2553 ۔ اگر کوئ ی شخص اپنی بیوی کے علم م یں لائے بغ یر اسے طلاق د ے د ے تو اگر و ہ اس ک ے اخراجات اس ی طرح دے جس طرح اس وقت د یتا تھ ا جب و ہ اس ک ی بیوی تھی اور مثلاً ایک سال کے بعد اس س ے ک ہے ک ہ "م یں ایک سال ہ وا تج ھے طلاق د ے چکا ہ وں" اور اس بات کو شرعاً ثابت ب ھی کر دے تو جو چیزیں اس نے اس مدت م یں اس عورت کو مہیا کی ہ وں اور و ہ ان ہیں اپنے استعمال م یں نہ لائ ی ہ و اس س ے واپس ل ے سکتا ہے ل یکن جو چیزیں اس نے استمعال کر ل ی ہ وں ان کا مطالب ہ ن ہیں کرسکتا۔
"غصب" کے معن ی یہ ہیں کہ کوئ ی شخص کسی کے مال پر حق پر ظلم (اور د ھ ونس یا دھ اندل ی) کے ذر یعے قابض ہ و جائ ے۔ اور یہ بہ ت ب ڑے گنا ہ وں م یں سے ا یک گناہ ہے جس کا مرتکب ق یامت کے دن سخت عذاب م یں گرفتار ہ وگا ۔ جناب رسول اکرم (صل ی اللہ عل یہ وآلہ ) س ے روا یت ہے "جو شخص کس ی دوسرے کی ایک بالشت زمین غصب کرے ق یامت کے دن اس زم ین کو اس کے سات ھ طبقوں سم یت طوق کی طرح اس کی گردن میں ڈ ال د یا جائے گا ۔ ”
2554 ۔ اگر کوئ ی شخص لوگوں کو مسجد یا مدرسے یا پل یا دوسری ایسی جگہ وں س ے جو رفا ہ حام ہ ک ے لئ ے بنائ ی گئی ہ وں استفاد ہ ن ہ کرن ے د ے تو اس ن ے ان کا حق غصب ک یا ہے۔ اس ی طرح اگر کوئی شخص مسجد میں اپنے (ب یٹھ ن ے کے ) لئ ے جگ ہ مختص کر ے اور دوسرا کوئ ی شخص اسے اس جگ ہ س ے نکال دے اور اسے اس جگ ہ س ے استفاد ہ کرن ے د ے تو و ہ گنا ہ گار ہے۔
2555 ۔ اگر گرد ی رکھ وان ے والا اور گرد ی رکھ ن ے والا یہ طے کر یں کہ جو چ یز گروی رکھی جارہی ہ و و ہ گرو ی رکھ ن ے وال ے یا کسی تیسرے شخص کے پاس رک ھی جائے تو گرو ی رکھ وان ے والا اس کا قرض ادا کرن ے س ے پ ہ ل ے اس چ یز کو واپس نہیں لے سکتا اور اگر و ہ چ یز واپس لی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ فوراً لو ٹ ا د ے۔
2556 ۔ جو مال کس ی کے پاس گرو ی رکھ ا گ یا ہ و اگر کوئ ی اور شخص اسے غصب کرل ے تو مال کامالک اور گرو ی رکھ ن ے والا دونوں غاصب س ے غصب ک ی ہ وئ ی چیز کا مطالبہ کر سکت ے ہیں اور اگر وہ چ یز غاصب سے واپس ل ے ل یں تو وہ گرو ی رہے گ ی اور اگر وہ چ یز تلف ہ و جائ ے اور و ہ اس کا عوض حا صل کریں تو وہ عوض ب ھی اصلی چیز کی طرح گروی رہے گا ۔
2557 ۔ اگر انسان کوئ ی چیز غصب کرے تو ضرور ی ہے ک ہ اس ک ے مالک کو لو ٹ ا د ے اور اگر و ہ چ یز ضائع ہ وجائ ے اور اس ک ی کوئی قیمت ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا عوض مالک کو د ے۔
2558 ۔ جو چ یز غصب کی گئی ہ و اگر اس س ے کوئ ی نفع ہ و مثلاً غصب ک ی ہ وئ ی بھیڑ کا بچہ پ یدا ہ و تو و ہ اس ک ے مالک کا مال ہے ن یز مثال کے طور پر اگر کس ی نے کوئ ی مکان غصب کر لیا ہ و تو خوا ہ غاصب اس مکان م یں نہ ر ہے ضرور ی ہے ک ہ اس کا کرا یہ مالک کو دے۔
2559 ۔ اگر کوئ ی بچے یا دیوانے سے کوئ ی چیز جو اس (بچے یا دیوانے) کا مال ہ و غصب کر ے تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ چ یز اس کے سرپرست کو د ے د ے اور اگر و ہ چ یز تلف ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا عوض د ے۔
2560 ۔ اگر و ہ آدم ی مل کر کسی چیز کو غصب کریں چنانچہ و ہ دونوں اس چ یز پر تسلط رکھ ت ے ہ وں تو ان م یں سے ہ ر ا یک اس پوری چیز کا ضامن ہے اگرچ ہ ان م یں سے ہ ر ا یک جدا گانہ طور پر اس ے غصب ن ہ کرسکتا ہے۔
2561 ۔ اگر کوئ ی شخص غصب کی ہ وئ ی چیز کو کسی دوسری چیز سے ملا د ے مثلاً جو گ یہ وں غصب کی ہ و اس ے جَوس ے ملاد ے تو اگر ان کا جدا کرنا ممکن ہ و تو خوا ہ اس م یں زحمت ہی کیوں نہ ہ و ضرور ی ہے ک ہ ان ہیں ایک دوسرے س ے عل یحدہ کرے اور (غصب ک ی ہ وئ ی چیز) اس کے مالک کو واپس کر د ے۔
2562 ۔ اگر کوئ ی شخص طلائی چیز مثلاً سونے ک ی بالیوں کو غصب کرے اور اس ک ے بعد اس ے پگ ھ لا د ے تو پگ ھ لان ے س ے پ ہ ل ے اور پگ ھ لان ے ک ے بعد ک ی قیمت میں جو فرق ہ و ضرور ی ہے ک ہ و ہ مالک کو ادا کر ے چنانچ ہ اگر ق یمت میں جو فرق پڑ ا ہ و و ہ ن ہ د ینا چاہے اور ک ہے ک ہ م یں اسے پ ہے ک ی طرح بنا دوں گا تو مالک مجبور نہیں کہ اس ک ی بات قبول کرے اور مالک ب ھی اسے مجبور ن ہیں کرسکتا کہ و ہ اس ے پ ہ ل ے ک ی طرح بنادے۔
2563 ۔ جس شخص ن ے کوئ ی چیز غصب کی ہ و اگر و ہ اس م یں ایسی تبدیلی کرے ک ہ اس چ یز کی حالت پہ ل ے س ے ب ہ تر ہ و جائ ے مثلاً جو سونا غصب ک یا ہ و اس ک ے بند بنا د ے تو اگر مال کا مالک اس ے ک ہہ ک ہ مج ھے مال اسی حالت میں (یعنی بندے ک ی شکل میں) دو تو ضروری ہے ک ہ اس ے د ے د ے اور جو ز حمت اس نے ا ٹھ ائ ی ہ و ( یعنی بندے بنان ے پر جو محنت ک ی ہ و) اس ک ی مزدوری نہیں لے سکتا اور اس ی طرح وہ یہ حق نہیں رکھ تا ک ہ مالک ک ی اجازت کے بغ یر اس چیز کو اس کو پہ ل ی حالت میں لے آئ ے ل یکن اگر اس کی اجازت کے بغ یر اس چیز کو پہ ل ے ج یسا کردے یا اور کسی شکل میں تبدیل کرے تو معلوم نہیں ہے ک ہ دونوں صورتوں م یں قیمت کا جو فرق ہے اس کا ضامن ہے یا (نہیں)۔
2564 ۔ جس شخص ن ے کوئ ی چیز غصب کی ہ و اگر و ہ اس م یں ایسی تبدیلی کرے ک ہ اس چ یز کی حالت پہ ل ے س ے ب ہ تر ہ وجائ ے اور صاحب مال اس ے اس چ یز کی پہ ل ی حالت میں واپس کرنے کو ک ہ ت ے تو اس ک ے لئ ے واجب ہے ک ہ اس ے اس ک ی پہ ل ی حالت میں لے آئ ے اور اگر تبد یلی کرنے ک ی وجہ س ے اس چ یز کی قیمت پہ ل ی حالت سے کم ہ وجائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس کا فرق مالک کو د ے ل ہ ذا اگر کو ئی شخص غصب کئے ہ وئ ے سون ے کا ہ ار بنال ے اور اس سون ے کا مالک ک ہے ک ہ تم ہ ار ے لئ ے لازم ہے ک ہ اس ے ک ہ پ ہ ل ی شکل میں لے آو تو اگر پگ ھ لان ے ک ے بعد سون ے ک ی قیمت اس سے کم ہ و جائ ے جتن ی ہ ار بنان ے سے پ ہ ل ی تھی تو غاصب کے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ ق یمتوں میں جتنا فرق ہ و اس ک ے مالک کو دے۔
2565 ۔ اگر کوئ ی شخص اس زمین میں جو اس نے غصب ک ی ہ و ک ھیتی باڑی کرے یا درخت لگائے تو زراعت، درخت اور ان کا پ ھ ل خود اس کا مال ہے اور زم ین کا مالک اس بات راضی نہ ہ و ک ہ درخت اس زم ین میں رہیں تو جس نے و ہ زم ین غصب کی ہ و ضرور ی ہے ک ہ خوا ہ ا یسا کرنا اس کے لئ ے نقصان د ہ ہی کیوں نہ ہ و و ہ فوراً اپن ی زراعت یا درختوں کو زمین سے اک ھیڑ ل ے نیز ضروری ہے ک ہ جتن ی مدت زراعت اور درخت اس زمین میں رہے ہ وں اتن ی مدت کا کرایہ زمین کے مالک کو د ے اور جو خراب یاں زمین میں پیدا ہ وئ ی ہ وں ان ہیں درست کرے مثلاً ج ہ اں درختوں کو اکھیڑ ن ے سے زم ین میں گڑھے پڑ گئ ے ہ وں اس جگ ہ کو ہ موار کر ے اور اگر ان خراب یوں کی وجہ س ے زم ین کی قیمت پہ ل ے س ے کم ہ وجائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ ق یمت میں جو فرق پڑے و ہ ب ھی ادا کرے اور و ہ زم ین کے مالک کو اس بات پر مجبور ن ہیں کرسکتا کہ زم ین اس کے ہ ات ھ ب یچ دے یا کرائے پر د یدے نیز زمین کا مالک بھی اسے مجبور ن ہیں کرسکتا کہ درخت یا زراعت اس کے ہ ات ھ ب یچ دے۔
2566 ۔ اگر زم ین کا مالک اس بات پر راضی ہ و جائ ے ک ہ زراعت اور درخت اس ک ی زمین میں رہیں تو جس شخص نے زم ین غصب کی ہ و اس ک ے لئ ے لازم ن ہیں کہ زراعت اور درختوں کو اک ھیڑے لیکن ضروری ہے ک ہ جب زم ین غصب کی ہ و اس وقت س ے ل ے کر مالک ک ے راض ی ہ ون ے تک ک ی مدت کا زمین کا کرایہ د ے۔
2567 ۔ جو چ یز کسی نے غصب ک ی ہ و اگر و ہ تلف ہ و جائ ے تو اگر و ہ چ یز گائے اور ب ھیڑ کی طرح کی ہ و جن ک ی قیمت ان کی ذاتی خصوصیات کی بنا پر عقلاء کی نظر میں فرداً فرداً مختلف ہ وت ی ہے تو ضرور ی ہے ک ہ غاصب اس چ یز کی قیمت ادا کرے اور اگر اس وقت اور ضرورت مختلف ہ ون ے ک ی وجہ سے اس ک ی بازار کی قیمت بدل گئی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ ق یمت دے جو تلف ہ ون ے ک ے وقت ت ھی اور احتیاط مستحب یہ ہے ک ہ غصب کرن ے ک ے وقت س ے ل ے کر تلف ہ ون ے تک اس چیز کی جو زیادہ سے ز یادہ قیمت رہی ہ و و ہ د ے۔
2568 ۔ جو چ یز کسی نے غصب ک ی ہ و اگر و ہ تلف ہ و جائ ے تو اگر و ہ گ یہ وں اور جَو کی مانند ہ و جن ک ی فرداً فرداً قیمت کا ذاتی خصوصیات کی بنا پر باہ م فرق ن ہیں ہ وتا تو ضرور ی ہے ک ہ (غاصب ن ے ) جو چ یز غصب کی ہ و اس ی جیسی چیز مالک کو دے ل یکن جو چیز دے ضرور ی ہے ک ہ اس ک ی قسم اپنی خصوصیات میں اس غصب کی ہ وئ ی چیز کی قسم کے مانند ہ و جو ک ہ تلف ہ وگئ ی ہے مثلاً اگر ب ڑھیا قسم کا چاول غصب کیا تھ ا تو گ ھٹیا قسم کا نہیں دے سکتا ۔
2569 ۔ اگر ا یک شخص بھیڑ جیسی کوئی چیز غصب کرے اور و ہ تلف ہ و جائ ے تو اگر اس ک ی بازار کی قیمت میں فرق نہ پ ڑ ا ہ و ل یکن جتنی مدت وہ غصب کرن ے وال ے ک ے پاس ر ہی ہ و اس مدت م یں مثلاً فربہ ہ و گئ ی ہ و اور پ ھ ر تلف ہ و جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ فرب ہ ہ ون ے ک ے وقت ک ی قیمت ادا کرے۔
2570 ۔ جو چ یز کسی نے غصب ک ی ہ و اگر کوئ ی اور شخص وہی چیز اس سے غصب کر ے اور پ ھ ر و ہ تلف ہ و جائ ے تو مال ان دونوں م یں سے ہ ر ا یک سے اس کا عوض ل ے سکتا ہے یا ان دونوں میں سے ہ ر ا یک سے اس ک ے عوض ک ی کچھ مقدار کا مطالب ہ کر سکتا ہے ل ہ ذا اگر مال کا مالک اس کا عوض پ ہ ل ے غ اصب سے ل ے ل ے تو پ ہ ل ے غاصب ن ے جو کچ ھ د یا ہ و و ہ دوسر ے غاصب س ے ل ے سکتا ہے ل یکن اگر مال کا مالک اس کا عوض دوسرے غاصب س ے ل ے ل ے تو اس ن ے جو کچ ھ د یا ہے اس کا مطالب ہ دوسرا غاصب پ ہ ل ے غاصب س ے ن ہیں کرسکتا۔
2571 ۔ جس چ یز کو بیچا جائے اگر اس م یں معاملے ک ی شرطوں میں سے کوئ ی ایک موجود نہ ہ و مثلاً جس چ یز کی خریدوفروخت وزن کرکے کرن ی ضروری ہ و اگر اس کا معامل ہ بغ یر وزن کئے ک یا جائے تو معامل ہ باطل ہے اور اگر ب یچنے والا اور خریدار معاملے س ے قطع نظر اس بات پر رضامند ہ وں ک ہ ا یک دوسرے ک ے مال م یں تصرف کریں تو کوئی اشکال نہیں ہے ورن ہ جو چ یز انہ وں ن ے ا یک دوسرے س ے ل ی ہ و وہ غصب ی مال کی مانند ہے اور ان ک ے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ ا یک دوسرے ک ی چیزیں واپس کر دیں اور اگر دونوں میں سے جس ک ے ب ھی ہ ات ھ وں دوسر ے کا مال تلف ہ و جائ ے تو خوا ہ اس ے معل وم ہ و یا نہ ہ و ک ہ معامل ہ باطل ت ھ ا ضرور ی ہے ک ہ اس کا عوض د ے۔
2572 ۔ جب ا یک شخص کوئی مال کسی بیچنے والے س ے اس مقصد س ے ل ے ک ہ اس ے د یکھے یا کچھ مدت اپن ے پاس رک ھے تاک ہ اگر پسند آئ ے تو خر ید لے تو اگر و ہ مال تلف ہ وجائ ے تو مش ہ ور قول ک ی بنا پر ضروری ہے ک ہ اس کا عوض اس ک ے مالک کو د ے۔
2573 ۔ اگر کس ی شخص کو کسی دوسرے کا گم شد ہ ا یسا مال ملے جو ح یوانات میں سے ن ہ ہ و اور جس ک ی کوئی ایسی نشانی بھی نہ ہ و جس ک ے ذر یعے اس کے مالک کا پتا چل سک ے تو خوا ہ اس ک ی قیمت ایک درہ م ۔ 12 چنے سک ہ دار چاند ی ۔ س ے کم ہ و یا نہ ہ و و ہ اپن ے لئ ے ل ے سکتا ہے ل یکن احتیاط مستحب ہے ک ہ و ہ شخص اس مال کو اس ک ے مالک ک ی طرف سے فق یروں کو صدقہ کر د ے۔
2574 ۔ اگر کوئ ی انسان کہیں گری ہ وئ ی ایسی چیز پائے جس ک ی قیمت ایک درہ م س ے کم ہ و تو اگر اس کا مالک معلوم ہ و ل یکن انسان کو یہ علم نہ ہ و ک ہ و ہ اس ک ے ا ٹھ ان ے پر راض ی ہے یا نہیں تو وہ اس ک ی اجازت کے بغ یر اس چیز کو نہیں اٹھ ا سکتا اور اگر اس ک ے مالک کا علم ن ہ ہ و تو احتیاط واجب یہ ہے ک ہ اس کو مالک ک ی طرف سے صدق ہ کر د ے اور جب ب ھی اس کا مالک ملے اور صدق ہ د ینے پر راضی نہ ہ و تو اس ے اس کا عوض د ے د ے۔
2575 ۔ اگر کوئ ی شخص ایک ایسی چیز پائے جس پر کوئ ی ایسی نشانی ہ و جس ک ے ذر یعے اس کے مالک کا پتا چلایا جاسکے تو اگرچ ہ اس ے معلوم ہ و ک ہ اس کا مالک ا یک ایسا کافر جس کا مال محترم ہے تو اس صورت م یں اس چیز کی قیمت ایک درہ م تک پ ہ نچ جائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ جس دن و ہ چ یز ملی ہ و اس س ے ا یک سال تک لوگوں کی بیٹھ کوں (یا مجلسوں) میں اس کا اعلان کرے۔
2576 ۔ اگر انسان خود اعلان ن ہ کرنا چا ہے تو ا یسے آدمی کو اپنی طرف سے اعلان کرن ے ک ے لئ ے ک ہہ سکتا ہے جس ک ے متعلق اس ے اطم ینان ہ و ک ہ و ہ اعلان کر د ے گا ۔
2577 ۔ اگر مذکور ہ شخص ا یک سال تک اعلان کرے اور مال کا مالک ن ہ مل ے تو اس صورت م یں جب کہ و ہ مال حرم پاک (مک ہ ) ک ے علاوہ کس ی جگہ س ے ملا ہ و و ہ اس ے اس ک ے مالک ک ے لئ ے اپن ے پاس رک ھ سکتا ہے تاک ہ جب ب ھی وہ مل ے اس ے د ے د ے یا مال کے مالک ک ی طرف سے فق یروں کو صدقہ کر د ے ا ور احتیاط لازم یہ ہے ک ہ و ہ خود ن ہ ل ے اور اگر و ہ مال اس ے حرم پاک م یں ملا ہ و تو احت یاط واجب یہ ہے ک ہ اس ے صدق ہ ک ردے۔
2578 ۔ اگر ا یک سال تک اعلان کرنے ک ے بعد ب ھی مال کا مالک نہ مل ے اور جس ے و ہ مال ملا ہ و و ہ اس ک ے مالک ک ے لئ ے اس ے اپن ے پاس رک ھ ل ے ( یعنی جب مالک ملے گا اس ے د ے دوں گا) اور و ہ مال تلف ہ و جائ ے تو اگر اس ن ے مال ک ی نگہ داشت م یں کوتاہی نہ برت ی ہ و اور تعد ی بھی نہ ک ی ہ و تو پھ ر و ہ ذم ے دار ن ہیں ہے ل یکن اگر وہ مال اس ک ے مالک ک ی طرف سے صدق ہ کر چکا ہ و تو مال ک ے مالک کو اخت یار ہے ک ہ اس صدق ے پر راض ی ہ و جائ ے یا اپنے مال ک ے عوض کا مطالب ہ کر ے اور صدق ے کا ثواب صدق ہ کرن ے وال ے کو مل ے گا ۔
2579 ۔ جس شخص کو کوئ ی مال ملا ہ و اگر و ہ اس طر یقے کے مطابق جس کا ذکر اوپر ک یا گیا ہے عمداً اعلان ن ہ کر ے تو پ ہ ل ے (اعلان ن ہ کرک ے اگرچ ہ ) اس ن ے گنا ہ ک یا ہے ل یکن اب اسے احتمال ہ و ک ہ (اعلان کرنا) مف ید ہ وگا تو پ ھ ر ب ھی اس پر واجب ہے ک ہ اعلان کر ے۔
2580 ۔ اگر د یوانے یا نابالغ بچے کو کوئ ی ایسی چیز مل جائے جس م یں علامت موجود ہ و اور اس ک ی قیمت ایک درہ م ک ے برابر ہ و تو اس کا سرپرست اعلان کرسکتا ہے ۔ بلک ہ اگر و ہ چ یز سرپرست نے بچ ے یا دیوانے سے ل ے ل ی ہ و تو اس پر واجب ہے ک ہ اعلان کر ے۔ اور اگر ا یک سال تک اعلان کرے پھ ر ب ھی مال کا مالک نہ مل ے تو ضرور ی ہے ک ہ جو کچ ھ مسئل ہ 2577 میں بتایا گیا ہے اس ک ے مطابق عمل کر ے۔
2581 ۔ اگر انسان اس سال ک ے دوران جس م یں وہ (ملن ے وال ے مال ک ے بار ے م یں) اعلان کر رہ ا ہ و مال ک ے مالک ک ے ملن ے س ے ناام ید ہ و جائ ے تو ۔ احت یاط کی بنا پر ۔ ضرور ی ہے ک ہ حاکم شرع ک ی اجازت سے اس مال کو صدق ہ کرد ے ۔
2582 ۔ اگر اس سال ک ے دوران جس م یں (انسان ملنے وال ے مال ک ے بار ے م یں) اعلان کر رہ ا ہ و و ہ مال تلف ہ و جائ ے تو اگر اس شخص ن ے اس مال ک ی نگہ داشت م یں کوتاہی کی ہ و یا تَعَّدی یعنی بیجا استعمال کرے تو و ہ ضامن ہے ک ہ اس کا عوض اس ک ے مالک کو دے اور ضرور ی ہے ک ہ اعلان کرتا ر ہے اور اگر کوتا ہی یا تَعَّدی نہ ک ہ ہ و تو پ ھ ر اس پر کچ ھ ب ھی واجب نہیں ہے۔
2583 ۔ اگر کوئ ی مال جس پر کوئی نشانی (یا مارکہ ) ہ و اور اس ک ی قیمت ایک درہ م تک پ ہ نچت ی ہ و ا یسی جگہ مل ے جس ک ے بار ے م یں معلوم ہ و ک ہ اعلان ک ے ذر یعے اس کا مالک نہیں ملے گا تو ضرور ی ہے ک ہ (جس شخص کو و ہ مال ملا ہ و) و ہ پ ہ ل ے دن ہی اسے احت یاط لازم کی بنا پر حاکم شرع کی اجازت سے اس ک ے مالک ک ی طرف سے فق یروں کو صدقہ کر د ے اور ضرور ی نہیں کہ و ہ ا یک سال ختم ہ ون ے تک انتظار کر ے۔
2584 ۔ اگرکس ی شخص کو کوئی چیز ملے اور و ہ اس ے اپنا مال سمج ھ ت ے ہ وئ ے ا ٹھ ال ے اور بعد م یں اسے پتا چل ے ک ہ و ہ اس کا اپنا مال ن ہیں ہے تو جو اس س ے پ ہ ل ے وال ے مسائل م یں بیان کئے گئ ے ہیں انہی کے مطابق عمل کر ے۔
2575 ۔ جو چ یز ملی ہ و ضرور ی ہے ک ہ اس طرح اعلان ک یا جائے۔ ک ہ اگر اس کا مالک سن ے تو اس ے غال ب گمان ہ و ک ہ و ہ چ یز اس کا مال ہے اور اعلان کرن ے م یں مختلف مواقع کے لحاظ س ے فرق ہ وتا ہے مثلاً بعض اوقات اتنا ک ہ نا ہی کافی ہے ک ہ "مج ھے کوئ ی چیز ملی ہے " ل یکن بعض دیگر صورتوں میں ضروری ہے ک ہ اس چ یز کی جنس کا تعین کرے مثلاً یہ کہے ک ہ "سون ے کا ا یک ٹ ک ڑ ا مج ھے ملا ہے " اور بعض صورتوں م یں اس چیز کی بعض خصوصیات کا بھی اضافہ ضرور ی ہے مثلاً ک ہے "سون ے ک ی بالیاں مجھے مل ی ہیں " لیکن بہ ر حال ضرور ی ہے ک ہ اس چ یز کی تمام خصوصیات کا ذکر نہ کر ے تاک ہ و ہ چ یز معین نہ ہ و جائ ے۔
2586 ۔ اگر کس ی کو کوئی چیز مل جائے اور دوسرا شخص ک ہے ک ہ یہ میرا مال ہے اور اس ک ی نشانیاں بھی بتا دے تو و ہ چ یز اس دوسرے شخص کو اس وقت د ینا ضروری ہے جب س ے اطم ینان ہ و جائ ے ک ہ یہ اسی کا مال ہے۔ اور یہ ضروری نہیں کہ و ہ شخص ا یسی نشانیاں بتائے جن ک ی طرف عموماً مال کا مالک بھی توجہ ن ہیں دیتا۔
2587 ۔ کس ی شخص کو جو چیز ملی ہ و اگر اس ک ی قیمت ایک درہ م تک پ ہ نچ ے تو اگر و ہ اعلان ن ہ کر ے اور اس چ یز کو مسجد یا کسی دوسری جگہ لوگ جمع ہ وت ے ہ وں رک ھ د ے اور و ہ چ یز تلف ہ وجائ ے یا کوئی دوسرا شخص اسے ا ٹھ ال ے تو جس شخص کو و ہ چ یز پڑی ہ وئ ی ملی ہ و و ہ ذم ے دار ہے۔
2588 ۔ اگر کس ی شخص کو کوئی ایسی چیز مل جائے جو ا یک سال تک باقی نہ ر ہ ت ی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ان تمام خصوص یات کے سات ھ جب تک ک ہ و ہ باق ی رہے اس چ یز کی حفاظت کرے جو اس ک ی قیمت باقی رکھ ن ے م یں اہ م یت رکھ ت ی ہ وں اور احت یاط لازم ہے ک ہ اس مدت ک ے دوران اس کا اعلان ب ھی کرتا رہے اور اگر اس کا مالک ن ہ مل ے تو احت یاط کی بنا پر ۔ حاکم شرع یا اس کے وک یل کی اجازت سے اس ک ی قیمت کا تعین کرے اور اس ے ب یچ دے اور ان پ یسوں کو اپنے پاس رک ھے اور اس ک ے سات ھ سات ھ اعلان ب ھی جاری رکھے اور اگر ا یک سال تک اس کا مالک نہ مل ے تو ضرور ی ہے ک ہ جو کچ ھ م سئلہ 2577 میں بتایا گیا ہے اس ک ے مطابق عمل کر ے۔
2589 ۔ جو چ یز کسی کو پڑی ہ وئ ی ملی ہ و اگر وضو کرت ے وقت یا نماز پڑھ ت ے وقت و ہ اس ک ے پاس ہ و اور اگر و ہ مالک ک ے ملن ے ک ی صورت میں اسے ن ہ لو ٹ انا چا ہ تا ہ و تو اس کا وضو اور نماز باطل ن ہیں ہ وگ ی۔
2590 ۔ اگر کس ی شخص کا جوتا اٹھ ا ل یا جائے اور اس ک ی جگہ کس ی اور کاجوتا رکھ د یا جائے اور اگر و ہ شخص جانتا ہ و ک ہ جو جوتا رک ھ ا ہے۔ و ہ اس شخص کا مال ہے جو اس کا جوتا ل ے گ یا ہے اور اس بات پر راض ی ہ و ک ہ جوتا و ہ ل ے گ یا ہے اس ک ے عوض اس کا جوتا رک ھ ل ے تو و ہ اپن ے جوت ے ک ے بجائ ے و ہ جوتا رک ھ سک تا ہے۔ اور اس ی طرح اگر وہ شخص جانتا ہ و ک ہ و ہ شخص اس کا جوتا ناحق اور ظلماً ل ے گ یا ہے تب ب ھی یہی حکم ہے ل یکن اس صورت میں ضروری ہے ک ہ اس جوت ے ک ی قیمت اس کے اپن ے جوت ے ک ی قیمت سے ز یادہ نہ ہ و ورن ہ ز یادہ قیمت کے متعلق مج ہ ول المالک کا حکم جاری ہ وگا اور ان دو صورتوں ک ے علاو ہ اس جوت ے پر مج ہ ول المالک کا حکم جار ی ہ وگا ۔
2591 ۔ اگر انسان ک ے پاس مج ہ ول المالک مال ہ و اور اس مال پر لفظ گم شد ہ کا اطلاق ن ہ ہ وتا ہ و تو اس صورت م یں کہ جب اس ے اطم ینان ہ و ک ہ اس ک ے اس مال م یں تصرف کرنے پر اس مال کا مالک راض ی ہ وگا ت و جس طرح بھی وہ اس مال م یں تصرف کرنا چاہے اس ک ے لئ ے جائز ہے۔ اور اگر اطم ینان نہ ہ و تو انسان ک ے لئ ے لازم ہے ک ہ اس ک ے مالک کو تلاش کر ے اور جب تک اس ک ے ملن ے ک ی امید ہ و اس وقت تک تلاش کر ے اور اس ک ے مالک ک ے ملن ے س ے ما یوس ہ ون ے ک ے بعد اس مال کو بطور صدق ہ فق یر کو دینا ضروری ہے۔ اور احت یاط لازم یہ ہے ک ہ حاکم شرع ک ی اجازت سے صدق ہ د ے اور ا گر بعد میں مال کا مالک مل جائے اور صدق ہ د ینے پر راضی نہ ہ و تو احت یاط کی بنا پر اسے اس کا عوض د ینا ضروری ہے۔
2592 ۔ ح یوان جنگلی ہ و یا پالتو۔ حرام گوشت ح یوانوں کے علاو ہ جن کا ب یان کھ ان ے اور پ ینے والی چیزوں کے احکام م یں آئے گا ۔ اس کو اس طر یقے کے مطابق ذبح ک یا جائے جو بعد م یں بتایا جائے گا تو اس ک ی جان نکل جانے ک ے بعد اس کو گوشت حلال اور بدن پاک ہے۔ ل یکن اونٹ ، مچ ھ ل ی اور ٹڈی کو ذبح کئے بغ یر کھ انا حلال ہ وجائ ے گا جس طرح ک ی آئندہ مسائل م یں بیان کیا جائے گا ۔
2593 ۔ و ہ جنگل ی حیوان جن کا گوشت حلال ہ و مثلاً ہ رن، چکور اور پ ہ ا ڑی بکری اور وہ ح یوان جن کا گوشت حلال ہ و اور جو پ ہ ل ے پالتو ر ہے ہ وں اور بعد م یں جنگلی بن گئے ہ وں مثلاً پالتو گائ ے اور اون ٹ جو ب ھ اگ گئ ے ہ وں اور جنگل ی بن گئے ہ وں اگر ان ہیں اس طریقے کے مطابق شکار ک یا جائے جس کا ذکر بعد م یں ہ وگا تو و ہ پاک اور حلال ہیں لیکن حلال گوشت والے پالتو ح یوان مثلاً بھیڑ اور گھ ر یلو مرغ اور حلال گوشت والے و ہ جنگل ی حیوان جو تربیت کی وجہ س ے پالتو بن جائ یں شکار کرنے س ے پاک اور حلال ن ہیں ہ وت ے۔
2594 ۔ حلال گوشت والا جنگل ی حیوان شکار کرنے س ے اس صورت م یں پاک اور حلال ہ وتا ہے جب و ہ ب ھ اگ سکتا ہ و یا اڑ سکتا ہ و ۔ ل ہ ذا ہ رن کا و ہ بچ ہ جو ب ھ اگ ن ہ سک ے اور چکور کا و ہ بچ ہ جو ا ڑ ن ہ سک ے شکار کرن ے س ے پاک اور حلال ن ہیں ہ وت ے اور اگر کوئی شخص ہ رن ی کو اور اس کے ا یسے بچے کو جو بھ اگ ن ہ سکتا ہ و ا یک ہی تیر سے شکار کر ے تو ہ رن ی حلال اور اس کا بچہ حرام ہ وگا ۔
2595 ۔ حلال گوشت والا و ہ ح یوان جو اچھ لن ے والا خون ن ہ رک ھ تا ہ و مثلاً مچ ھ ل ی اگر خود بخود مرجائے تو پاک ہے ل یکن اس کا گوشت کھ ا یا نہیں جاسکتا۔
2596 ۔ حرام گوشت والا و ہ ح یوان جو اچھ لن ے والا خون ن ہ رک ھ تا ہ و مثلاً سانپ اس کا مرد ہ پاک ہے ل یکن ذبح کرنے س ے و ہ حلال ن ہیں ہ وتا ۔
2597 ۔ کتا اور سور ذبح کرن ے اور شکار کرن ے س ے پاک ن ہیں ہ وت ے اور ان کا گوشت ک ھ انا ب ھی حرام ہے اور و ہ حرام گوشت والا ح یوان جو بھیڑیئے اور چیتے کی طرح چیرپھ ا ڑ کرنے والا اور گوشت ک ھ ان ے والا ہ وا اگر اس ے اس طر یقے کے مطابق ذبح ک یا جائے جس کا ذکر بعد م یں کیا جائے گا یا تیر یا اسی طرح کی کسی چیز سے شکار ک یا جائے تو و ہ پاک ہے ل یکن اس کا گوشت حلال نہیں ہ وتا اور اگر اس کا شکار شکار ی کتے ک ے ذر یعے کیا جائے تو اس کا بدن پاک ہ ون ے م یں بھی اشکال ہے۔
2598 ۔ہ ات ھی، ریچھ اور بندر جو کچھ ذکر ہ وچکا ہے اس ک ے مطابق درند ہ ح یوانوں کا حکم رکھ ت ے ہیں لیکن حشرات (کیڑے مکوڑے ) اور و ہ ب ہ ت چ ھ و ٹے ح یوانات جو زیر زمین رہ ت ے ہیں جیسے چوہ ا اور گو ہ (وغ یرہ) اگر اچھ لن ے والا خون رک ھ ت ے ہ وں اور ان ہیں ذبح کیا جائے یا شکار کیا جائے ت و ان کا گوشت اور کھ ا پاک ن ہیں ہ وں گ ے۔
2599 ۔ اگر زند ہ ح یوان کے پ یٹ سے مرد ہ بچ ہ نکل ے یا نکالا جائے تو اس کا گوشت ک ھ انا حرام ہے ۔
2600 ۔ ح یوان کو ذبح کرنے کا طریقہ یہ ہے ک ہ اس ک ی گردن کی چار بڑی رگوں کو مکمل طور پر کاٹ ا جائ ے ، ان م یں صرف چیرا لگانا یا مثلاً صرف گلا کاٹ نا احت یاط کی بنا پر کافی نہیں ہے اور در حق یقت یہ چار رگوں کا کاٹ نا ن ہ ہ وا ۔ مگر (شرعاً ذب یحہ اس وقت صحیح ہ وتا ہے ) جب ان چار لوگوں کو گلے ک ی گرہ ک ے ن یچے سے کا ٹ ا جائ ے اور و ہ چار گ یس سانس کی نالی اور کھ ان ے ک ی نالی اور دو موٹی رگیں ہیں جو سانس کی نالی کے دونوں طرف ہ وت ی ہیں۔
2601 ۔ اگر کوئ ی شخص چار رگوں میں سے بعض کو کا ٹے اور پ ھ ر ح یوان کے مرن ے تک صبر کر ے اور باق ی رگیں بعد میں کاٹے تو اس کا کوئ ی فائدہ ن ہیں لیکن اس صورت میں جب کہ چاروں رگ یں حیوان کی جان نکلنے س ے پ ہ ل ے کا ٹ د ی جائیں مگر جسب معمول مسلسل نہ کا ٹی جائیں تو وہ ح یوان پاک اور حلال ہ وگا اگرچ ہ احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ مسلسل کا ٹی جائیں۔
2602 ۔ اگر ب ھیڑیا کسی بھیڑ کا گلاس اس طرح پھ ا ڑ د ے ک ہ گردن ک ی ان چار رگوں میں سے جن ہیں ذبح کرتے وقت کا ٹ نا ضرور ی ہے کچ ھ ب ھی باقی نہ ر ہے تو و ہ ب ھیڑ حرام ہ وجات ی ہے اور اگر صرف سانس ک ی نالی بالکل باقی نہ ر ہے تب ب ھی یہی حکم ہے۔ بلک ہ اگر ب ھیڑیا گردن کا کچھ حص ہ پ ھ ا ڑ دے اور چاروں رگ یں سر سے ل ٹ ک ی ہ وئ ی یا بدن سے لگ ی ہ وئ ی باقی رہیں تو احتیاط کی بنا پر وہ ب ھیڑ حرام ہے ل یکن اگر بدن کا کوئی دوسرا حصہ پ ھ ا ڑے تو اس صورت م یں جب کہ ب ھیڑ ابھی زندہ ہ و اور اس طر یقے کے مطابق ذبح ک ی جائے جس کا ذکر بعد م یں ہ وگا تو و ہ حلال اور پاک ہ وگ ی۔
2603 ۔ ح یوان کو ذبح کرنے ک ی چند شرطیں ہیں :
1 ۔ جو شخص کس ی حیوان کو ذبح کرے خوا ہ مرد یا عورت اس کے لئ ے ضرور ی ہے ک ہ مسلمان ہ و اور و ہ مسلمان بچ ہ ب ھی جو سمجھ دار ہ و یعنی برے ب ھ ل ے ک ی سمجھ رک ھ تا ہ و ح یوان کو ذبح کر سکتا ہے ل یکن غیر کتابی کفار اور ان فرقوں کے لوگ جو کفار ک ے حکم م یں ہیں مثلاً نواصب اگر کسی حیوان کو ذبح کریں تو وہ حلال ن ہیں ہ وگا بلک ہ کتاب ی کافر (مثلاً یہ ود ی اور عیسائی) بھی کسی حیوان کو ذبح کرے اگرچ ہ بِسمِ الل ہ ب ھی کہے تو ب ھی احتیاط کی بنا پر وہ ح یوان حلال نہیں ہ وگا ۔
2 ۔ ح یوان کو اس چیز سے ذبح ک یا جائے جو لو ہے ( یااسٹیل) کی بنی ہ وئ ی ہ و ل یکن اگر لوہے ک ی چیز دستیاب نہ ہ و تو اس ے ا یسی تیز چیز مثلاً شیشے اور پتھ ر س ے ب ھی ذبح کیا جاسکتا ہے جو اس ک ی چاروں رگیں کاٹ د ے اگرچ ہ ذبح کرن ے ک ی (فوری) ضرورت پیش نہ آئ ی ہ و ۔
3 ۔ ذبح کرت ے وقت ح یوان قبلی کی طرف ہ و ۔ ح یوان کا قبلہ رخ ہ ونا خوا ہ ب یٹھ ا ہ و یا کھڑ ا ہ و دونوں حالتوں م یں ایسا ہ و ج یسے انسان نماز میں قبلہ رخ ہ وتا ہے اور اگر ح یوان دائیں طرف یا بائیں طرف لیٹ ا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ح یوان کی گردن اور اس کا پیٹ قبلہ رخ ہ و اور اس ک ے پ اوں ہ ات ھ وں اور من ہ کا قبل ہ رخ ہ ونا لازم ن ہیں ہے۔ اور جو شخص جانتا ہ و ک ہ ذبح کرت ے وقت ضرور ی ہے ک ہ ح یوان، قبلہ رخ ہ و اگر و ہ جان بوج ھ کر اس کا من ہ قبل ے ک ی طرف نہ کر ے تو ح یوان حرام ہ وجاتا ہے۔ ل یکن اگر ذبح کرنے والا ب ھ ول جائ ے یا مسئلہ ن ہ جانتا ہ و یا قبلے ک ے بار ے میں اسے اشتبا ہ ہ و یا یہ نہ جانتا ہ و ک ہ قبل ہ کس طرف ہے یا حیوان کا منہ قبل ے ک ی طرف نہ کرسکتا ہ و تو پ ھ ر اشکال ن ہیں اور احتیاط مستجب یہ ہے ک ہ ح یوان کو ذبح کرنے والا ب ھی قبلہ رخ ہ و ۔
4 ۔ کوئ ی شخص کسی حیوان کو ذبح کرتے وقت یا ذبح سے کچ ھ پ ہ ل ے ذبح کرن ے ک ی نیت سے خدا کا نام ل ے اور صرف بسم الل ہ ک ہہ د ے تو کاف ی ہے بلک ہ اگر صرف الل ہ ک ہہ د ے تو بع ید نہیں کہ کاف ی ہ و اور اگر ذبح کرن ے ک ی نیت کے بغ یر خدا کا نام لے تو و ہ ح یوان پاک نہیں ہ وتا اور اس کا گوشت بھی حرام ہے ل یکن اگر بھ ول جان ے ک ی وجہ س ے خدا کا نام ن ہ ل ے تو اشکال ن ہیں ہے۔
5 ۔ ذبح ہ ون ے ک ے بعد ح یوان حرکت کرے اگرچ ہ مثال کے طور پر سرف آنک ھ یا دم کی حرکت دے یا اپنا پاوں زمین پر مارے اور یہ حکم اس صورت میں ہے جب ذبح کرت ے وقت ح یوان کا زندہ ہ ونا مشکوک ہ و اور اگر مشکوک ن ہ ہ و تو یہ شرط ضرور نہیں ہے۔
6 ۔ ح یوان کے بدن س ے اتنا خون نکل ے جتنا معمول ک ے مطابق نکلتا ہے۔ پس اگر خون اس کی رگوں میں رک جائے اور اس س ے خون ن ہ نکل ے یا خون نکلا ہ و ل یکن اس حیوان کی نوع کی نسبت کم ہ و تو و ہ ح یوان حلال نہیں ہ وگا ۔ ل یکن اگر خون کم نکلنے ک ی وجہ یہ ہ و ک ہ اس ح یوان کا ذبح کرنے سے پہ ل ے خون ب ہہ چکا ہ و تو اشکال ن ہیں ہے۔
7 ۔ ح یوان کو گلے ک ی طرف سے ذبح ک یا جائے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ گردن کو اگل ی طرف سے کا ٹ ا جائ ے اور چ ھ ر ی کو گردن کی پشت میں گھ ونپ کر اس طرح اگل ی طرف نہ لا یا جائے ک ہ اس ک ی گردن پشت کی طرف سے ک ٹ جائ ے۔
2604 ۔ احت یاط کی بنا پر جائز نہیں ہے ک ہ ح یوان کی جان نکلنے س ے پ ہ ل ے اس کا سر تن س ے جدا ک یا جائے ۔ اگرچ ہ کرن ے س ے ح یوان حرام نہیں ہ وتا ۔ ل یکن لاپروائی یا چھ ر ی تیز ہ ون ے ک ی وجہ س ے سرجدا ہ و جائ ے تو اشکال ن ہیں ہے اور اس ی طرح احتیاط کی بنا پر حیوان کی گردن چیرنا اور اس سفید رگ کو جو گردن کے م ہ روں س ے ح یوان کی دم تک جاتی ہے اور نخاع ک ہ لات ی ہے ح یوان کی جان نکلنے س ے پ ہ ل ے کا ٹ نا جائز ن ہیں ہے۔
2605 ۔ اگر اون ٹ کو نحر کرنا مقصود ہ وتا ک ہ جان نکلن ے ک ے بعد و ہ پاک اور حلال ہ وجائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ ان شرائط ک ے سات ھ جو ح یوان کو ذبح کرنے ک ے لئ ے بتائ ی گئی ہیں چھ ر ی یا کوئی اور چیز جو لوہے ( یا اسٹیل) کی بنی ہ وئ ی اور کاٹ ن ے وال ی ہ و اون ٹ ک ی گردن اور سینے کے درم یان جوف میں گھ ونپ د یں۔ اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ اون ٹ اس وقت ک ھڑ ا ہ و ل یکن اگر وہ گ ھٹ ن ے زم ین پر ٹیک دے یا کسی پہ لو ل یٹ جائے اور قبل ہ رخ ہ و اس وقت چ ھ ر ی اس کی گردن کی گہ رائ ی میں گھ ونپ د ی جائے تو اشکال ن ہیں ہے۔
2606 ۔ اگر ون ٹ ک ی گردن کی گہ رائ ی میں چھ ر ی گھ ونپن ے ک ی بجائے اس ے ذبح ک یا جائے ( یعنی اس کی گردن کی چار رگیں کاٹی جائیں) یا بھیڑ اور گائے اور ان ج یسے دوسرے ح یوانات کی گردن کی گہ رائ ی میں اونٹ ک ی طرح چھ ر ی گھ ونپ ی جائے تو ان کا گوشت حرام اور بدن نجس ہے ل یکن اگر اونٹ کی چار رگیں کاٹی جائیں اور ابھی وہ زند ہ ہ و تو مذکور ہ طر یقے کے مطابق اس ک ی گردن کی گہ رائ ی میں چھ ر ی گھ ونپ ی جائے تو اس گوشت حلال اور بدن پاک ہے۔ ن یز اگر گائے یا بھیڑ اور ان جیسے حیوانات کی گردن کی گہ رائ ی میں چھ ر ی گھ ونپ ی جائے اور اب ھی وہ زند ہ ہ وں ک ہ انھیں ذبح کر دیا جائے تو و ہ پاک اور حلال ہیں۔
2607 ۔ اگرکوئ ی حیوان سرکش ہ وجائ ے اور اس طر یقے کے مطابق جو شرع ن ے مقرر ک یا ہے ذبح ( یانحر) کرنا ممکن نہ ہ و مثلاً کنو یں میں گرجائے اور اس بات کا احتمال ہ و ک ہ و ہیں مرجائے گا اور اس کا مذکور ہ طر یقے کے مطابق ذبح ( یانحر) کرنا ممکن نہ ہ و تو اس ک ے بدن پر ج ہ اں ک ہیں بھی زخم لگایا جائے اور اس زخم ک ے نت یجے میں اس کی جان نکل جائے و ہ ح یوان حلال ہے اور اس کا روب ہ قبل ہ ہ ونا لازم ن ہیں لیکن ضروری ہے ک ہ دوسر ی شرائط حیوان کو ذبح کرنے ک ے بار ے م یں بتائی گئی ہیں اس میں موجود ہ وں ۔
2608 ۔ فُق ہ اء رِضوَانُ الل ہ عَل یہ م نے ح یوانا کو ذبح کرنے م یں کچھ چ یزوں کو مستحب شمار کیا ہے :
1 ۔ ب ھیڑ کو ذبح کرتے وقت اس ک ے دونوں ہ ات ھ اور ا یک پاوں باندھ د یئے جائیں اور دوسرا پاوں کھ لا رک ھ ا جائ ے اور گائ ے کو ذبح کرت ے وقت اس ک ے چارو ں ہ ات ھ پاوں باند ھ د یئے جائیں اور دم کھ ل ی رکھی جائے اور اون ٹ کو نحر کرت ے وقت اگر و ہ ب یٹھ ا ہ وا ہ و تو اس ک ے دونوں ن یچے سے گ ھٹ ن ے تک یا بغل کے ن یچے ایک دوسرے س ے باند ھ د یئے جائیں اور اس کے پاوں ک ھ ل ے رک ھے جائ یں اور مستحب ہے ک ہ پرند ے کو ذبح کرن ے ک ے بعد چ ھ و ڑ د یا جائے تاک ہ و ہ اپن ے پر اور بال پ ھڑ پ ھڑ ا سک ے۔
2 ۔ ح یوان کو ذبح (یانحر) کرنے س ے پ ہ ل ے اس ک ے سامن ے پان ی رکھ ا جائ ے۔
3 ۔ (ذبح یا نحر کرتے وقت) ا یسا کام کیا جائے ک ہ ح یوان کو کم سے کم تکل یف ہ و مثلاً چ ھ ر ی خوب تیز کرلی جائے اور ح یوان کو جلدی ذبح کیا جائے۔
2609 ۔ ح یوانات کو ذبح کرتے وقت بعض روا یات میں چند چیزیں مکروہ شمار ک ی گئی ہیں :
1 ۔ ح یوان کی جان نکلنے س ے پ ہ ل ے اس ک ی کھ ال اتارنا
2 ۔ ح یوان کی ایسی جگہ ذبح کرنا ج ہ اں اس ک ی نسل کا دوسرا حیوان اسے د یکھ رہ ا ہ و ۔
3 ۔ شب جمع ہ کو یا جمع کے دن ظ ہ ر س ے پ ہ ل ے ح یوان کا ذبح کرنا۔ ل یکن اگر ایسا کرنا ضرورت کے تحت ہ و تو اس م یں کوئی عیب نہیں۔
4 ۔ جس چوپائ ے کو انسان ن ے پالا ہ و اس ے خود اپن ے ہ ات ھ س ے ذبح کرنا ۔
2610 ۔ اگر حلال گوشت جنگل ی حیوان کا شکار ہ ت ھیاروں کے ذر یعے کیا جائے اور و ہ مرجائ ے تو پانچ شرطوں ک ے سات ھ و ہ ح یوان حلال اور اس کا بدن پاک ہ وتا ہے۔
1 ۔ شکار کا ہ ت ھیار چھ ر ی اور تلوار کی طرح کاٹ ن ے والا ہ و یا نیزے اور تیر کی طرح تیز ہ و تاک ہ ت یز ہ ون ے ک ی وجہ س ے ح یوان کے بدن کو چاک کر د ے اور اگر ح یوان کا شکار جال یا لکڑی یا پتھ ر یا انہی جیسی چیزوں کے ذر یعے کیا جائے تو و ہ پاک ن ہیں ہ وتا اور اس کا ک ھ انا ب ھی حرام ہے۔ اور اگر ح یوان کا شکار بندوق سے ک یا جائے اور اس ک ی گولی اتنی تیز ہ و ک ہ ح یوان کے بدن م یں گھ س جائ ے اور اس ے چاک کرد ے تو و ہ ح یوان پاک اور حلال ہے۔ اور اگر گول ی تیز نہ ہ و بلکہ دباو ک ے سات ھ ح یوان کے بدن م یں داخل ہ و اور اس ے مار د ے یا اپنی گرمی کی وجہ س ے اس ک ا بدن جلا دے اور اس جلن ے ک ے اثر ے س ے ح یوان مرجائے تو اس ح یوان کے پاک اور حلال ہ ون ے م یں اشکال ہے۔
2 ۔ ضرور ی ہے ک ہ شکار ی مسلمان ہ و یا ایسا مسلمان بچہ ہ و جو بر ے ب ھ ل ے کو سمج ھ تا ہ و اور اگر غ یر کتابی کافر یا وہ شخص جو کافر ک ے حکم م یں ہ و ۔ ج یسے ناصبی۔ کس ی حیوان کا شکار کرے تو و ہ شکار حلال ن ہیں ہے۔ بلک ہ کتاب ی کافر بھی اگر شکار کرے اور بسم الل ہ کا نام ب ھی لے تب بھی احتیاط کی بنا پر وہ ح یوان حلال نہیں ہ وگا ۔
3 ۔ شکار ی ہ ت ھیار اس حیوان کو شکار کرنے ک ے لئ ے استعمال کر ے اور اگر مثلاً کوئ ی شخص کسی جگہ کو نشان ہ بنا ر ہ ا ہ و اور اتفاقاً ا یک حیوان کو مار دے تو و ہ ح یوان پاک نہیں ہے اور اس کا ک ھ انا ب ھی حرام ہے۔
4 ۔ ہ ت ھیار چلاتے وقت شکار ی اللہ کا نام ل ے اور بنابر اَقو یٰ اگر شانے پر لگن ے س ے پ ہ ل ے اغصبلل ہ کا نام ل ے تو ب ھی کافی ہے ل یکن اگر جان بوجھ کر الل ہ تعال ی کا نام نہ ل ے تو شکار حلال ن ہیں ہ وتا البت ہ ب ھ ول جائ ے تو کوئ ی اشکال نہیں۔
5 ۔ اگر شکار ی حیوان کے پاس اس وقت پ ہ نچ ے جب و ہ مرچکا ہ و یا گر زندہ ہ و تو ذبح کرن ے ک ے لئ ے وقت ن ہ ہ و یا ذبح کرنے ک ے لئ ے وقت ہ وت ے ہ وئ ے و ہ اس ے ذبح ن ہ کر ے حت ی کہ و ہ مرجائ ے تو ح یوان حرام ہے۔
2611 ۔ اگر دو اشخاص (مل کر) ا یک حیوان کا شکار کریں اور ان میں سے ا یک مذکورہ پور ی شرائط کے سات ھ شکار کر ے ل یکن دوسرے ک ے شکار م یں مذکورہ شرائط م یں سے کچ ھ کم ہ وں مثلاً ان دونوں م یں سے ا یک اللہ تعال ی کا نام لے اور دوسرا جان بوج ھ کر الل ہ تعال ی کا نام نہ ل ے تو و ہ حیوان حلال نہیں ہے۔
2612 ۔ اگر ت یر لگنے ک ے بعد مثال ک ے طور پر ح یوان پانی میں گرجائے اور انسان کو علم ہ و ک ہ ح یوان تیر لگنے اور پان ی میں گرنے س ے مرا ہے تو و ہ ح یوان حلال نہیں ہے بلک ہ اگر انسان کو یہ علم نہ ہ و ک ہ و ہ فقط ت یر لگنے س ے مرا ہے تب ب ھی وہ ح یوان حلال نہیں ہے۔
2613 ۔ اگر کوئ ی شخص غصبی کتے یا غصبی ہ ت ھیار سے کس ی حیوان کا شکار کرے تو شکار حلال ہے اور خود شکار ی کا مال ہ وجاتا ہے ل یکن اس بات کے علاو ہ ک ہ اس ن ے گنا ہ ک یا ہے ضرور ی ہے ک ہ ہ ت ھیار یا کتے ک ی اجرت اس کے مالک کو د ے۔
2614 ۔ اگر شکار کرن ے ک ے ہ ت ھیار مثلاً تلوار سے ح یوان کے بعض اعضاء مثلا ہ ات ھ اور پاوں اس ک ے بدن س ے جدا کرد یئے جائیں تو وہ عضو حرام ہیں لیکن اگر مسئلہ ( 2610) میں مذکورہ شرا ئط کے سات ھ اس ح یوان کو ذبح کیا جائے تو اس کا باق ی ماندہ بدن حلال ہ وجائ ے گا ۔ ل یکن اگر شکار کے ہ ت ھیار سے مذکور ہ شرائط ک ے سات ھ ح یوان کے بدن ک ے دو ٹ ک ڑے کر د یئے جائیں اور سر اور گردن ایک حصے م یں رہیں اور انسان اس وقت شکار کے پاس پ ہ نچ ے جب اس ک ی جان نکل چکی ہ و تو دونوں حص ے حلال ہیں۔ اور اگر ح یوان زندہ ہ و ل یکن اسے ذبح کرن ے ک ے لئ ے وقت ن ہ ہ و تب ب ھی یہی حکم ہے۔ ل یکن اگر ذبح کرنے ک ے لئ ے وقت ہ و اورممکن ہ و ک ہ ح یوان کچھ د یر زندہ ر ہے تو و ہ حص ہ جس م یں سر اور گردن نہ ہ و حرام ہے اور و ہ حص ہ جس م یں سر اور گردن ہ و اگر اس ے شرع کے مع ین کردہ طر یقے کے مطابق ذبح ک یا جائے تو حلال ہے ورن ہ و ہ ب ھی حرام ہے۔
2615 ۔ اگر لک ڑی یا پتھ ر یا کسی دوسری چیز سے جن س ے شکار کرنا صح یح نہیں ہے کس ی حیوان کے دو ٹ ک ڑے کر د یئے جائیں تو وہ حص ہ جس م یں سر اور گردن نہ ہ وں حرام ہے اور اگر ح یوان زندہ ہ و اور ممکن ہ و ک ہ کچ ھ د یر زندہ ر ہے اور اس ے شرع ک ے مع ین کردہ طر یقے کے مطابق ذبح ک یا جائے تو وہ حص ہ جس م یں سر اور گردن ہ وں حلال ہے ورن ہ و ہ حص ہ ب ھی حرام ہے۔
2616 ۔ جب کس ی حیوان کا شکار کیا جائے یا اسے ذبح ک یا جائے اور اس ک ے پ یٹ سے زند ہ بچ ہ نکل ے تو اگر اس بچے کو شرع ک ے مع ین کردہ طر یقے کے مطابق ذبح ک یا جائے تو حلال ورن ہ حرام ہے۔
2617 ۔ اگر کس ی حیوان کا شکار کیا جائے یا اسے ذبح ک یا جائے اور اس ک ے پ یٹ سے مرد ہ بچ ہ نکل ے تو اس صورت م یں کہ جب بچ ہ اس ح یوان کو ذبح کرنے س ے پ ہ ل ے ن ہ مرا ہ و اور اس ی طرح جب وہ بچ ہ اس ح یوان کے پ یٹ سے د یر سے نکلن ے ک ی وجہ س ے ن ہ مرا ہ و اگر اس بچ ے ک ی بناوٹ مکمل ہ و او ر اون یا بال اس کے بدن پر اگ ے ہ وئ ے ہ وں تو و ہ بچ ہ پاک اور حلال ہے۔
2618 ۔ اگر شکار ی کتا کسی حلال گوشت والے جنگل ی حیوان کا شکار کرے تو اس ح یوان کے پاک ہ ون ے اور حلال ہ ون ے ک ے لئ ے چ ھ شرط یں ہیں :
1 ۔ کتا اس طرح سد ھ ا یا ہ وا ہ و ک ہ جب ب ھی اسے شکار پک ڑ ن ے ک ے لئ ے ب ھیجا جائے چلا جائ ے اور جب اس ے جان ے س ے روکا جائ ے تو روک جائ ے۔ ل یکن اگر شکار سے نزد یک ہ ون ے اور شکار کو د یکھ ن ے کے بعد اس جان ے س ے روکا جائ ے اور ن ہ رک ے تو کوئی حرج نہیں ہے اور لازم ن ہیں ہے ک ہ اس ک ی عادت ایسی ہ و ک ہ جب تک مالک ن ہ پ ہ نچ ے شکار کو ن ہ ک ھ ائ ے بلک ہ اگر اس ک ی عادت یہ ہ و ک ہ اپن ے مالک ک ے پ ہ نچن ے س ے پ ہ ل ے شکار س ے کچ ھ ک ھ ال ے تو ب ھی حرج نہیں ہے اور اس ی طرح اگر اسے شکار کا خون پ ینے کی عادت ہ و تو اشکال ن ہیں۔
2 ۔ اس کا مالک اس ے شکار ک ے لئ ے ب ھیجے۔ اور اگر و ہ اپن ے آپ ہی شکار کے پ یچھے جائے اور کس ی حیوان کو شکار کرلے تو اس ح یوان کا کھ انا حرام ہے۔ بلک ہ اگر کتا اپن ے آپ شکار ک ے پ یچھے لگ جا 4 ے اور بعد م یں اس کا مالک بانگ لگائے تاک ہ و ہ جلد ی شکار تک پہ نچ ے تو اگرچ ہ و ہ مال ک کی آواز کی وجہ س ے ت یز بھ اگ ے پ ھ ر ب ھی احتیاط واجب کی بنا پر اس شکار کو کھ ان ے س ے اجتناب کرنا ضرور ی ہے۔
3 ۔ جو شخس کت ے کو شکار ک ے پ یچھے لگائے ضرور ی ہے ک ہ مسلمان ہ و اس تفص یل کے مطابق جو اسلح ہ س ے شکار کرن ے ک ی شرائط میں بیان ہ وچک ی ہے۔
4 ۔ کت ے کو شکار ک ے پ یچھے بھیجتے وقت شکاری اللہ تعال ی کا نام لے اور اگر جان بوج ھ کر الل ہ تعال ی کا نام نہ ل ے تو و ہ شکار حرام ل یکن اگر بھ ول جائ ے تو اشکال ن ہیں۔
5 ۔ شکار کو کت ے ک ے کا ٹ ن ے س ے جو زخم آئ ے و ہ اس س ے مر ے۔ ل ہ ذا اگر کتا شکار کا گلا گ ھ ون ٹ د ے یا شکار دوڑ ن ے یا ڈ ر جان ے ک ی وجہ س ے مرد جائ ے تو حلال ن ہیں ہے۔
6 ۔ جس شخص ن ے کت ے کو شکار ک ے پ یچھے بھیجا ہ و اگر و ہ (شکار کئ ے گئ ے ح یوان کے پاس) اس وقت پ ہ نچ ے جب و ہ مرچکا ہ و یا اگر زندہ ہ و تو اس ے ذبح کرن ے ک ے لئ ے وقت ن ہ ہ و ۔ ل یکن شکاری کے پاس پ ہ نچنا غ یر معمولی تاخیر کی وجہ س ے ن ہ ہ و ۔ اور اگر ا یسے وقت پہ نچ ے جب اس ے ذبح کرن ے ک ے لئے وقت ہ و ل یکن وہ ح یوان کو ذبح نہ کر ے حت ی کہ و ہ مرجائ ے تو و ہ ح یوان حلال نہیں ہے۔
2619 ۔ جس شخص ن ے کت ے کو شکار ک ے پ یچھے بھیجا ہ و اگر و ہ شکار ک ے پاس اس وقت پ ہ نچ ے جب و ہ اس ے ذبح کرسکتا ہ و تو ذبح کرن ے ک ے ل وازمات مثلاً اگر چھ ر ی نکالنے ک ی وجہ س ے وقت گزرجائ ے اور ح یوان مر جائے تو حلال ہے ل یکن اگر اس کے پاس ا یسی کوئی چیز نہ ہ و جس س ے ح یوان کو ذبح کرے اور وہ مر جائ ے تو بنابر اح یتاط وہ حلال ن ہیں ہ وتا البت ہ اس صورت م یں اگر وہ شخص اس ح یوان کو چھ و ڑ د ے تاک ہ کتا اس ے مار ڈ ال ے تو و ہ ح یوان حلال ہ وجاتا ہے۔
2620 ۔ اگر کئ ی کتے شکار ک ے پ یچھے پیچھے جائیں اور وہ سب مل کر کس ی حیوان کا شکار کریں تو اگر وہ سب ک ے سب ان شرائط کو پورا کرت ے ہ وں جو مسئل ہ 2618 میں بیان کی گئی ہیں تو شکار حلال ہے اور اگر ان م یں سے ا یک کتا بھی ان شرائط کو پورا نہ کر ے تو شکار حرام ہے۔
2621 ۔ اگر کوئ ی شخص کتے کو کس ی حیوان کے شکار ک ے لئ ے ب ھیجے اور وہ کتا کوئ ی دوسرا حیوان شکار کرلے تو و ہ شکار حلال اور پاک ہے اور اگر جس ح یوان کے پ یچھے بھیجا گیا ہ و اس ے ب ھی اور ایک حیوان کو بھی شکار کرلے تو و ہ دونوں حل ال اور پاک ہیں۔
2622 ۔ اگر چند اشخاص مل کر ا یک کتے کو شکار ک ے پ یچھے بھیجیں اور ان میں سے ا یک شخص جان بوجھ کر خدا کا نام ن ہ ل ے تو و ہ شکار حرام ہے ن یز جو کتے شکار ک ے پ یچھے بھیجے گئے ہ وں اگر ان م یں سے ا یک کتا اس طرح سدھ ا یا ہ وا ن ہ ہ و ج یسا کہ مسئل ہ 2618 میں بتایا گیا ہے تو و ہ ش کار حرام ہے۔
2623 ۔ اگر بازشکار ی کتے ک ے علاو ہ کوئ ی اور حیوان کسی جانور کا شکار کرے تو و ہ شکار حلال ن ہیں ہے ل یکن اگر کوئی شخص اس شکار کے پاس پ ہ نچ جائ ے اور و ہ اب ھی زندہ ہ و اور اس طر یقے کے مطابق جو شرع م یں معین ہے اس ے ذبح کرل ے تو پ ھ ر و ہ حلال ہے۔
2624 ۔ اگر مچ ھ ل ی کو جو پیدائش کے لحاظ س ے چ ھ لک ے وال ی ہ و ۔ اگرچ ہ کس ی عارضی وجہ س ے اس کا چ ھ لکا اتر گ یا ہ و ۔ پان ی میں زندہ پک ڑ ل یا جائے اور و ہ پان ی سے با ہ ر آکر ماجائ ے تو و ہ پاک ہے اور اس کا ک ھ انا حلال ہے۔ اور اگر و ہ پان ی میں مرجائے تو پاک ہے ل یکن اس کا کھ انا حرام ہے۔ مگر یہ کہ و ہ مچ ھیرے کے جال ک ے اندر پان ی میں مرجائے تو اس صورت م یں اس کا کھ انا حلال ہے۔ اور جس مچ ھ ل ی کے چ ھ لک ے ن ہ ہ وں اگرچ ہ اس ے پان ی سے زند ہ پک ڑ ل یا جائے اور پان ی کے با ہ ر مر ے و ہ حرام ہے۔
2625 ۔ اگر مچ ھ ل ی (اچھ ل کر) پان ی سے با ہ ر آگر ے یا پانی کی لہ ر اس ے با ہ ر پ ھینک دے یا پانی اتر جائے اور مچ ھ ل ی خشکی پر رہ جائ ے تو اگر اس ک ے مرن ے س ے پ ہ ل ے کوئ ی شخص اسے ہ ات ھ س ے یا کسی اور ذریعے سے پک ڑ ل ے تو و ہ مرن ے ک ے بعد حلال ہے۔
2626 ۔ جو شخص مچ ھ ل ی کا شکار کرے اس ک ے لئ ے لازم ن ہیں کہ مسلمان ہ و یا مچھ ل ی کو پکڑ ت ے وقت خدا کا نام ل ے ل یکن نہ ضرور ی ہے ک ہ مسلمان د یکھے یا کسی اور طریقے سے اس ے ( یعنی مسلمان کو) یہ اطمینان ہ و گ یا ہ و ک ہ مچ ھ ل ی کو پانی سے زند ہ پکرا ہے یا وہ مچ ھ ل ی اس کے جال م یں پانی کے اندر مرگئ ی ہے۔
2627 ۔ جس مر ی ہ وئ ی مچھ ل ی کے متعلق معلوم ن ہ ہ و ک ہ اس ے پان ی سے زند ہ پک ڑ ا گ یا ہے یا مردہ حالت م یں پکڑ ا گ یا ہے اگر و ہ مسلمان ک ے ہ ات ھ م یں ہ و تو حلال ہے ل یکن اگر کافر کے ہ ات ھ م یں ہ و تو خوا ہ و ہ ک ہے ک ہ اس ن ے اس ے زند ہ پک ڑ ا ہے ، حرام ہے مگر یہ کہ انسان کو اطم ینان ہ و ک ہ اس کافر نے مچ ھ ل ی کو پانی سے زند ہ پک ڑ ا ہے یا وہ مچ ھ ل ی اس کے جال م یں پانی کے اندر مرگئ ی ہے (تو حلال ہے ) ۔
2628 ۔ زند ہ مچ ھ ل ی کا کھ انا جائز ہے ل یکن بہ تر یہ ہے ک ہ اس ے زند ہ ک ھ ان ے س ے پر ہیز کیا جائے۔
2629 ۔ اگر زند ہ مچ ھ ل ی کو بھ ون ل یا جائے یا اسے پان ی کے با ہ ر مرن ے س ے پ ہ ل ے ذبح کر د یا جا 4 ے تو اس کا کھ انا جائز ہے اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ اس ے ک ھ ان ے س ے پر ہیز کیا جائے۔
2630 ۔ اگر پان ی سے با ہ ر مچ ھ ل ی کے دو ٹ ک ڑے کر لئ ے جائ یں اور ان میں سے ا یک ٹ ک ڑ ا زند ہ ہ ون ے ک ی حالت میں پانی میں گر جائے تو جو ٹ ک ڑ ا پان ی سے با ہ ر ر ہ جائ ے اس ے ک ھ انا جائز ہے اور احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ اس ے ک ھ ان ے س ے پر ہیز کیا جائے۔
2631 ۔ اگر ٹڈی کو ہ ات ھ س ے یا کسی اور ذریعے سے زند ہ پک ڑ ل یا جائے تو و ہ مرجان ے ک ے بعد حلال ہے اور یہ لازم نہیں کہ اس ے پک ڑ ن ے والا مسلمان ہ و اور اس ے پک ڑ ت ے وقت الل ہ تعال ی کا نام لے ل یکن اگر مردہ ٹڈی کافر کے ہ ات ھ م یں ہ و اور یہ معلوم نہ ہ و ک ہ اس ن ے اس ے زند ہ پک ڑ ا ت ھ ا یا نہیں تو اگرچہ و ہ ک ہے ک ہ اس ن ے اس زند ہ پک ڑ ا ت ھ ا و ہ حرام ہے۔
2632 ۔ جس ٹڈی کے پر اب ھی تک نہ اگ ے ہ وں اور ا ڑ ن ہ سکت ی ہ و اس کا ک ھ انا حرام ہے۔
2633 ۔ ہ ر و ہ پرند ہ جو شا ہین، عقاب، باز اور شکرے ک ی طرح چیرنے پھ ا ڑ ن ے والا اور پنج ے دار ہ و حرام ہے اور ظا ہ ر یہ ہے ک ہ ہ ر و ہ پرند ہ جو ا ڑ ت ے وقت پروں کو مارتا کم اور ب ے حرکت ز یادہ رکھ تا ہے ن یز پنجنے دار ہے ، حرام ہ وتا ہے۔ اور ہ ر و ہ پرند ہ جو ا ڑ ت ے وقت پروں کو مارتا زیادہ اور بے حرکت کم رک ھ تا ہے ، و ہ حلال ہے ، اس ی فرق کی بنا پر حرام گوشت پرندوں کو حلال گوشت پرندوں میں سے ان ک ی پرواز کی کیفیت دیکھ کر پہ چانا جاسکتا ہے۔ ل یکن اگر کسی پرندے ک ی پرواز کی کیفیت معلوم نہ ہ و تو اگر و ہ پرند ہ پو ٹ ا، سنگدان ہ اور پاوں ک ی پشت پر کانٹ ا رکھ تا ہ و تو و ہ حلال ہے اور اگر ان م یں سے کوئ ی ایک علامت بھی موجود نہ ہ و تو و ہ حرام ہے۔ اور احت یاط لازم یہ ہے ک ہ کو 4 ے ک ی تمام اقسام حتی کہ زاغ (پ ہ ا ڑی کوے ) س ے ب ھی اجتناب کیا جائے اور جن پرندوں کا ذکر ہ وچکا ہے ان ک ے علاو ہ دوسر ے تمام پرند ے مثلاً مرغ، کبوت اور چڑیاں یہ اں تک کہ شتر مرغ اور مور ب ھی حلال ہیں۔ ل یکن بعض پرندوں مثلاً مرغ، کبوتر اور چڑیاں یہ اں تک کہ شترمرغ اور مور ب ھی حلال ہیں۔ ل یکن بعض پرندوں جسیے ہ د ہ د اور اباب یل کو ذبح کرنا مکروہ ہے۔ اور جو ح یوانات اڑ ت ے ہیں مگر پر نہیں رکھ ت ے مثلاً چمگاد ڑ حرام ہیں اور احتیاط لازم کی بنا پر زنبور (بِھڑ ، ش ہ دک ی مکھی، تتیاً) مچھ ر اور ا ڑ ن ے وال ے دوسر ے ک یڑے مکوڑ وں کا ب ھی حکم ہے۔
2634 ۔ اگر اس حص ے کو جس م یں روح ہ و زند ہ ح یوان سے جدا کر ل یا جائے مثلاً زند ہ ب ھیڑ کی چکتی یا گوشت کی کچھ مقدار کا ٹ ل ے جائ ے تو و ہ نجس اور حرام ہے۔
2635 ۔ حلال گوشت ح یوانات کے کچ ھ اجزاء حرام ہیں اور ان کی تعداد چودہ ہے۔
1 ۔ خون ۔
2 ۔ فضل ہ۔
3 ۔ عضو تناسل ۔
4 ۔ شرمگا ہ۔
5 ۔ بچ ہ دان ی
6 ۔ غدود ۔
7 ۔ کپور ے۔
8 ۔ و ہ چ یز جو بھیجے میں ہ وت ی ہے اور چن ے ک ے دان ی کی شکل کی ہ وت ی ہے
9 ۔ حرام مغز جو ر یڑھ کی ہڈی میں ہ وتا ہے۔
10 ۔ بنابر احت یاط لازم وہ رگ یں جو ریڑھ کی ہڈی کے دونوں طرف ہ وت ی ہیں۔
11 ۔ پت ہ
12 ۔ تل ی
13 ۔ مثان ہ
14 ۔ آنک ھ کا ڈھیلا۔
یہ سب چیزیں پرندوں کے علاو ہ حلال گوشت ح یوانات میں حرام ہیں۔ اور پرندوں کا خون اور ان کا فضل ہ بلااشکال حرام ہے۔ ل یکن ان دو چیزوں (خون اور فضلے ) ک ے علاو ہ پرندوں م یں وہ چ یزیں ہ وں جو اوپر ب یان ہ وئ ی ہیں تو ان کا حرام ہ ونا احت یاط کی بنا پر ہے۔
2636 ۔ حرام گوشت ح یوانات کا پیشاب پینا حرام ہے اور اس ی طرح حلال گوشت حیوان ۔ حت ی کہ احت یاط لازم کی بنا پر اونٹ ۔ ک ے پ یشاب کا بھی یہی حکم ہے۔ ل یکن علاج کے لئ ے اون ٹ ، گائ ے اور ب ھیڑ کا پیشاب پینے میں اشکال نہیں ہے۔
2637 ۔ چکن ی مٹی کھ انا حرام ہے ن یز مٹی اور بجری کھ انا احت یاط لازم کی بنا پر یہی حکم رکھ تا ہے البت ہ (ملتان ی مٹی کے مماثل) داغستان ی اور آرمینیائی مٹی وغیرہ علاج کے لئ ے بحالت مجبور ی کھ ان ے م یں اشکال نہیں ہے۔ اور حصول شفاء ک ی غرض سے (س ید الشہ داء امام حس ین علیہ السلام کے مزار مبارک ک ی مٹی یعنی) خاک شفاء کی تھ و ڑی سی مقدار کھ انا جائز ہے۔ اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ خاک شفاء ک ی کچھ مقدار پان ی میں ملا لی جائے تاک ہ و ہ (حل ہ وکر) ختم ہ وجائ ے اور بعد م یں اس پانی کو پی لیا جائے۔
2638 ۔ ناک کا پان ی اور سینے کا بلغم جو منہ م یں آجائے اس کا ن گلنا حرام نہیں ہے ن یز اس غذا کے نگلن ے م یں جو خلال کرتے وقت دانتوں ک ے ر یخوں سے نکل ے کوئ ی اشکال نہیں ہے۔
2639 ۔ کس ی ایسی چیز کا کھ انا حرام ہے جو موت کا سبب بن ے یا انسان کے لئ ے سخت نقصان د ہ ہ و ۔
2640 ۔ گ ھ و ڑے ، خچر اور گد ھے کا گوشت ک ھ انا مکرو ہ ہے اور اگر کوئ ی شخص ان سے بد فعل ی کرے تو و ہ ح یوان حرام ہ وجاتا ہے اور جونسل بدفعل ی کے بعد پ یدا ہ و احت یاط کی بنا پر وہ ب ھی حرام ہ و جات ی ہے اور ان کا پ یشاب اور لید نجس ہ وجات ی ہے اور ضرور ی ہے ک ہ ان ہیں شہ ر س ے با ہ ر ل ے جاکر دوسری جگہ ب یچ دیا جائے اور اگر بدفعل ی کرنے والا اس ح یوان کا مالک نہ ہ و تو اس پر لازم ہے ک ہ اس ح یوان کی قیمت اس کے مالک کو د ے۔ اور اگر کوئ ی شخص حلال گوشت حیوان مثلاً گائے یا بھیڑ سے بدفعل ی کرے تو ان کا پ یشاب اور گوبر نجس ہ و جاتا ہے اور ان کا گوشت ک ھ ا نا حرام ہے اور احت یاط کی بنا پر ان کا دودھ پ ینے کا اور ان کی جونسل بدفعلی کے بعد پ یدا ہ و اس کا ب ھی یہی حکم ہے۔ اور ضرور ی ہے ک ہ ا یسے حیوان کو فوراً ذبح کرکے جلاد یا جائے اور جس ن ے اس ح یوان کے سات ھ بدفعل ی کی ہ و اگر و ہ اس کا مالک ن ہ ہ و تو اس ک ی قیمت اس کے مالک کو د ے۔
2641 ۔ اگر بکر ی کا بچہ سورن ی کا دودھ اتن ی مقدار میں پی لے ک ہ اس کا گوشت اور ہڈیاں اس سے قوت حاصل کر یں تو خود وہ اور اس ک ی نسل حرام ہ وجات ی ہے اور اگر و ہ اس س ے کم مقدار م یں دودھ پئ ے تو احت یاط کی بنا پر لازم ہے ک ہ اس کا استبراء ک یاجائے اور اس کے بعد و ہ حلال ہ و جاتا ہے۔ اور اس کا استبراء یہ ہے ک ہ سات دن پاک دود ھ پئے اور اگر اس ے دود ھ ک ی حاجت نہ ہ و تو سات دن گ ھ اس ک ھ ائ ے اور ب ھیڑ کا شیر خوار بچہ اور گائ ے کا بچ ہ اور دوسر ے حلال گوشت ح یوانوں کے بچ ے ۔ احت یاط لازم کی بنا پر ۔ بکر ی کے بچ ے ک ے حکم م یں ہیں۔ اور نجاست ک ھ ان ے و الے حیوان کاگوشت کھ انا ب ھی حرام ہے اور اگر اس کا استب راء کیا جائے تو حلال ہ وجاتا ہے اور اس ک ے استبراء ک ی ترکیب مسئلہ 226 میں بیان ہ وئ ی ہے۔
2642 ۔ شراب پ ینا حرام ہے اور بعض احاد یث میں اسے گنا ہ کب یرہ بتایا گیا ہے۔ حضرت امام جعفر صادق عل یہ السلام سے روا یت ہے ک ہ آپ ن ے فرما یا: " شراب برائیوں کی جڑ اور گنا ہ وں کا منبع ہے۔ جو شخص شراب پئ ے و ہ اپن ی عقل کھ و ب یٹھ تا ہے اور اس وقت خداتعال ی کو نہیں پہ چانتا، کوئ ی بھی گناہ کرن ے س ے ن ہیں چوکتا، کسی شخص کا احترام نہیں کرتا، اپنے قر یبی رشتے داروں ک ے حقوق کا پاس ن ہیں کرتا، کھ لم ک ھ لا برائ ی کرنے س ے ن ہیں شرماتا، پس ایمان اور خدا شناسی کی روح اس کے بدن س ے نکل جات ی ہے اور ناقص خب یث روح جو خدا کی رحمت سے دور ہ وت ی ہے اس ک ے بدن میں رہ جات ی ہے۔ خدا اور اس ک ے فرشت ے ن یز انبیاء مرسلین اور مومنین اس پر لعنت بھیجتے ہیں، چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہ وت ی، قیامت کے دن اس کا چ ہ ر ہ س یاہ ہ وگا اور اس ک ی زبان (کتے ک ی طرح) منہ س ے با ہ ر نکل ی ہ وئ ی ہ وگ ی، اس کی رال سینے پر ٹ پکت ی ہ وگ ی اور وہ پیاس کی شدت سے واو یلا کرے گا ۔ "
2643 ۔ جس دستر خوان پر شراب پ ی جارہی ہ و اس پر چ ینی ہ وئ ی کوئی چیز کھ انا حرام ہے اور اس ی طرح اس دستر خوان پر بیٹھ ا جس پر شراب پی جارہی ہ و اگر اس پر ب یٹھ ن ے سے انسان شراب پ ینے والوں میں شمار ہ وتا ہ و تو احت یاط کی بنا پر، حرام ہے۔
2644 ۔ ہ ر مسلمان پر واجب ہے ک ہ اس ک ے ا ڑ وس پ ڑ وس م یں جب کوئی دوسرا مسلمان بھ وک یا پیاس سے جاں بلب ہ و تو اس ے رو ٹی اور پانی دے کر مرن ے س ے بچائ ے۔
کھ انا کھ ان ے ک ے آداب
2645 ۔ ک ھ انا ک ھ ان ے ک ے آداب م یں چند چیزیں مستحب شمار کی گئی ہیں۔
1 ۔ ک ھ انا ک ھ ان ے س ے پ ہ ل ے ک ھ ان ے والا دونوں ہ ات ھ د ھ وئ ے۔
2 ۔ ک ھ انا ک ھ ا ل ینے کے بعد اپن ے ہ ات ھ د ھ وئ ے اور رومال (تولئ ے وغ یرہ) سے خشک کر ے۔
3 ۔ م یزبان سب سے پ ہلے ک ھ انا ک ھ انا شروع کر ے اور سب ک ے بعد ک ھ ان ے س ے ہ ات ھ ک ھینچے اور کھ انا شروع کرن ے س ے قبل م یزبان سب سے پ ہ ل ے اپن ے ہ ات ھ د ھ وئ ے اس ک ے بعد جو شخص اس ک ی دائیں طرف بیٹھ ا ہ و و ہ د ھ وئ ے اور اس ی طرح سلسلہ وار ہ ات ھ د ھ وت ے ر ہیں حتی کہ نوبت اس شخص تک آجائ ے جو اس کے بائ یں طرف بیٹھ ا ہ و اور ک ھ انا ک ھ ال ینے کے بعد جو شخص م یزبان کی بائیں طرف بیٹھ ا ہ و سب س ے پ ہ ل ے و ہ ہ ات ھ د ھ وئ ے اور اس ی طرح دھ وت ے چل ے جائ یں حتی کہ نوبت م یزبان تک پہ نچ جائ ے۔
4 ۔ ک ھ انا ک ھ ان ے س ے پ ہ ل ے بِسم الل ہ پ ڑھے ل یکن اگر ایک دسترخوان پر انواع و اقسام کے ک ھ ان ے ہ وں تو ان م یں سے ک ھ انا، ک ھ ان ے س ے پ ہ ل ے بِسم الل ہ پ ڑھ نا مستحب ہے
5 ۔ ک ھ انا دائ یں ہ ات ھ س ے ک ھ ائ ے۔
6 ۔ ت ین یا زیادہ انگلیوں سے ک ھ انا ک ھ ائ ے اور دو انگل یوں سے ن ہ ک ھ ائ ے
7 ۔ اگر چند اشخاص دسترخوان پر ب یٹھیں تو ہ ر ا یک اپنے سامن ے س ے ک ھ انا ک ھ ائ ے۔
8 ۔ چ ھ و ٹے چ ھ و ٹے لقم ے بنا کر ک ھ ائ ے
9 ۔ د ستر خوان پر زیادہ دیر بیٹھے اور کھ ان ے کو طول د ے۔
10 ۔ ک ھ انا خوب اچ ھی طرح چبا کر کھ ائ ے۔
11 ۔ ک ھ انا ک ھ ال ینے کے بعد الل ہ تعال ی کا شکر بجالائے۔
12 ۔ انگل یوں کو چاٹے۔
13 ۔ ک ھ انا ک ھ ان ے ک ے بعد دانتوں م یں خلال کرے البت ہ ر یحان کے تنک ے یا کھ جور ک ے درخت ک ے پت ے س ے خلال ن ہ کرے۔
14 ۔ جو غذا دسترخوان س ے با ہ ر گرجائ ے اس ے جمع کر ے اور ک ھ ال ے ل یکن اگر جنگل میں کھ انا ک ھ ائ ے ت مستحب ہے ک ہ جو کچ ھ گر ے اس ے پرندوں اور جانوروں ک ے لئ ے چ ھ و ڑ د ے۔
15 ۔ دن اور رات ک ی ابتدا میں کھ انا ک ھ ائ ے اور دن ک ے درم یان میں اور رات کے درم یان میں نہ ک ھ ائ ے۔
16 ۔ ک ھانا کھ ان ے ک ے بعد پ یٹھ کے بل ل یٹے اور دایاں پاوں بائیں پاوں رکھے ۔
17 ۔ ک ھ انا شروع کرت ے وقت اور ک ھ ال ینے کے بعد نمک چک ھے۔
18 ۔ پ ھ ل ک ھ ان ے س ے پ ہ ل ے ان ہیں پانی سے د ھ ول ے۔
وہ باتیں جو کھ انا ک ھ ات ے وقت مکرو ہ ہیں۔
2646 ۔ ک ھ انا ک ھ ات ے وقت چند بات یں مذموم شمار کی گئی ہیں۔
1 ۔ ب ھ ر ے پ یٹ پر کھ انا ک ھ انا
2 ۔ ب ہ ت ز یادہ کھ انا ۔ روا یت ہے ک ہ خداوند عالم ک ے نزد یک بہ ت ز یادہ کھ انا سب س ے بر ی چیز ہے۔
3 ۔ ک ھ انا ک ھ ات ے وقت دوسروں ک ے من ہ ک ی طرف دیکھ نا
4 ۔ گرم ک ھ انا ک ھ انا
5 ۔ جو چ یز کھ ائ ی یا پی جارہی ہ و اس ے پ ھ ونک مارنا ۔
6 ۔ دسترخوان پر ک ھ انا لگ جان ے ک ے بعد کس ی اور چیز کا منتظر ہ ونا ۔
7 ۔ رو ٹی کو چھ ر ی سے کا ٹ نا
8 ۔ رو ٹی کو کھ ان ے ک ے برتن ک ے ن یچے رکھ نا ۔
9 ۔ ہڈی سے چپک ے ہ وئ ے گوشت کو یوں کھ انا ک ہ ہڈی پر بالکل گوشت باقی نہ ر ہے ۔
10 ۔ اس پ ھ ل کا چ ھ لکا اتارنا جو چ ھ لک ے ک ے سات ھ ک ھ ا یا جاتا ہے۔
11 ۔ پ ھ ل پورا ک ھ ان ے س ے پ ہ ل ے پ ھینک دینا۔
2647 ۔ پان ی کے پ ینے کے آداب م یں چند چیزیں شمار کی گئی ہیں ؛
1 ۔ پان ی چوسنے ک ی طرز پر پیئے۔
2 ۔ پان ی دن میں کھڑے ہ و کر پ یئے۔
3 ۔ پان ی پینے س ے پہ ل ے بِسمِ الل ہ اور پ ینے کے بعد الحمد الل ہ ک ہے۔
4 ۔ پانی (غٹ اغ ٹ ن ہ پ یئے بلکہ ) ت ین سانس میں پیئے۔
5 ۔ پان ی پینے کے بعد حضرت امام حس ین علیہ السلام اور ان کے ا ہ ل حرم کو یا کرے اور ک ے قاتلوں پر لعنت ب ھیجے۔
2648 ۔ ز یادہ پانی پینا، مرغن کھ ان ے ک ے بعد پان ی پینا اور رات کو کھڑے ہ و کر پان ی پینا مذموم شمار کیا گیا ہے۔ علاو ہ از یں پانی بائیں ہ ات ھ س ے پ ینا اور اس طرح کوزے (وغ یرہ) کی ٹ و ٹی ہ وئ ی جگہ س ے اور اس جگ ہ س ے پ ینا جہ اں کوز ے کا دست ہ ہ و مذموم شمار ک یا گیا ہے۔
منت اور عہ د ک ے احکام
2649 ۔ "منّت" یہ ہے ک ہ انسان اپن ے آ پ پر واجب کرلے ک ہ الل ہ تعال ی کی رضا کے لئ ے کوئ ی اچھ ا کام کر ے گا یا کوئی ایسا کام جس کا نہ کرنا ب ہ تر ہ و ترک کر د ے گا ۔
2650 ۔ منت م یں صیغہ پڑھ نا ضرور ی ہے اور یہ لازم نہیں کہ ص یغہ عربی میں ہی پڑھ ا جائ ے ل ہ ذا اگر کوئ ی شخص کہے ک ہ "م یرا مریض صحت یاب ہ و گ یا تو اللہ تعال ی کی خاطر مجھ پر لازم ہے ک ہ م یں دس روپے فق یر کو دوں" تو اس کی منت صحیح ہے۔
2651 ۔ ضرور ی ہے ک ہ منت مانن ے والا بالغ اور عاقل ہ و ن یز اپنے اراد ے اور اخت یار کے سات ھ منت مان ے ل ہ ذا کس ی ایسے شخص کا منت ماننا جسے مجبور ک یا جائے یا جو جذبات میں آکر بغیر ارادے ک ے ب ے اخت یار منت مانے تو صح یح نہیں ہے۔
2652 ۔ کوئ ی سفیہ اگر منت مانے مثلاً یہ کہ کوئ ی چیز فقیر کو دے گا تو اس ک ی منت صحیح نہیں ہے۔ اور اس ی طرح اگر کوئی دیوالیہ شخص منت مانے ک ہ مثلاً اپن ے اس مال م یں سے جس م یں تصرف کرنے س ے اس ے روک د یا گیا ہ و کوئ ی چیز فقیر کو دے گا تو اس ک ی منت صحیح نہیں ہے۔
2653 ۔ شو ہ ر ک ی اجازت کے بغ یر عورت کا ان کاموں میں منت ماننا جو شوہ ر ک ے حقوق ک ے مناف ی ہ وں صح یح نہیں ہے۔ اور اس ی طرح عورت کا اپنے مال م یں شوہ ر ک ی اجازت کے بغ یر منت ماننا محل اشکال ہے ل یکن (اپنے مال م یں سے شو ہ ر ک ی اجازت کے بغ یر) حج کرنا، زکوٰۃ اور صدقہ د ینا اور ماں باپ سے حسن سلوک اور رشت ے داروں س ے صل ہ رحم ی کرنا (صحیح ہے ) ۔
2654 ۔ اگر عورت شو ہ ر ک ی اجازت سے منت مان ے تو شو ہ ر اس ک ی منت ختم نہیں کر سکتا اور نہ ہی اسے منت پر عمل کرن ے س ے روک سکتا ہے۔
2655 ۔ اگر ۔ ب یٹ ا باپ کی اجازت کے بغ یر یا اس کی اجازت سے منت مان ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس پر عمل کر ے ل یکن اگر باپ یا ماں اسے اس کام س ے جس ک ی اس نے منت مان ی ہ و اس طرح منع کر یں کہ ان ک ے منع کرن ے ک ے بعد اس پر عمل کرنا اس ک ے لئ ے ب ہ تر ن ہ ہ و تو اس ک ی منت کالعدم ہ و جائ ے گ ی۔
2656 ۔ انسان کس ی ایسے کام کی منت مان سکتا ہے جس ے انجام د ینا اس کے لئ ے ممکن ہ و ل ہ ذا جو شخص مثلاً پ یدل چل کر کربلا نہ جاسکتا ہ و اگر و ہ منت مان ے ک ہ و ہ اں تک پ یدل جائے گا تو اس ک ی منت صحیح نہیں ہے۔
2657 ۔ اگر کوئ ی شخص منت مانے ک ہ کوئ ی حرام یا مکروہ کام انجام د ے گا یا کوئی واجب یا مستحب کام ترک کر دے گا تو اس ک ی منت صحیح نہیں ہے۔
2658 ۔ اگر کوئ ی شخص منت مانے ک ہ کس ی مباح کام کو انجام دے گا یا ترک کرے گا ل ہ ذا اگر اس کام کا بجا لانا اور ترک کرنا ہ ر لحاظ س ے مساو ی ہ و تو اس ک ی منت صحیح نہیں اور اگر اس کام کا انجام دینا کسی لحاظ سے ب ہ تر ہ و اور انسان منت ب ھی اسی لحاظ سے مان ے مثلاً منت مان ے کہ کوئی (خاص) غذا کھ ائ ے گا تاک ہ الل ہ ک ی عبادت کے لئ ے اس ے توانائ ی حاصل ہ و تو اس ک ی منت صحیح ہے۔ ل یکن اگر بعد میں تمباکو کا استعمال ترک کرنا اس کے لئ ے نقصان د ہ ہ و تو اس ک ی منت کالعدم ہ وجائ ے گ ی۔
2659 ۔ اگر کوئ ی شخص منت مانے ک ہ واجب نماز ا یسی جگہ پ ڑھے گا ج ہ اں بجائ ے خود نماز پ ڑھ ن ے کا ثواب ز یادہ نہیں مثلاً منت مانے ک ہ نماز کمر ے م یں پڑھے گا تو اگر و ہ اں نماز پ ڑھ نا کس ی لحاظ سے ب ہ تر ہ و مثلاً چونک ہ و ہ اں خلوت ہے اس لئ ے انسان حضور قلب پ یدا کرسکتا ہے اگر ا س کے منت ماننے کا مقصد یہی ہے تو منت صح یح ہے۔
2660 ۔ اگر ا یک شخص کوئی عمل بجالانے ک ی منت مانے تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ عمل اس ی طرح بجالائے جس طرح منت مان ی ہ و ل ہ ذا اگر منت مان ے ک ہ م ہینے کی پہ ل ی تاریخ کو صدقہ د ے گا یا روزہ رک ھے گا یا (مہینے کی پہ ل ی تاریخ کو) اول ماہ ک ی نماز پڑھے گا تو اگر اس دن س ے پ ہ ل ے یا بعد میں اس عمل کو بجالائے تو کاف ی نہیں ہے۔ اس ی طرح اگر کوئی شخص منت مانے ک ہ جب اس کا مر یض صحت یاب ہ وجائ ے گا تو و ہ صدق ہ د ے گا تو اگر اس مر یض کے صحت یاب ہ ون ے س ے پ ہ ل ے صدق ہ د ے د ے تو کاف ی نہیں ہے۔
2661 ۔ اگر ک وئی شخص روزہ رک ھ ن ے ک ی منت مانے ل یکن روزوں کا وقت اور تعداد معین نہ کر ے تو اگر ا یک روزہ رک ھے تو کاف ی ہے۔ اگر نماز پ ڑھ ن ے ک ی منت مانے اور نمازوں ک ی مقدار اور خصوصیات معین نہ کر ے تو اگر ا یک دو رکعتی نماز پڑھ ل ے تو کاف ی ہے۔ اور اگر منت مان ے ک ی صدقہ د ے گا اور صدقے ک ی جنس اور مقدار معین نہ کر ے تو اگر ا یسی چیز دے ک ہ لوگ ک ہیں کہ اس ن ے صدق ہ د یا ہے تو پ ھ ر اس ن ے اپن ی منت کے مطابق عمل کر د یا ہے۔ اور اگر منت مان ے ک ہ کوئ ی کام اللہ تعال ی کی خوشنودی کے لئ ے بجالائ ے گا تو اگر ا یک (دو رکعتی) نماز پڑھ ل ے یا ایک روزہ رکھ لے یا کوئی چیز صدقہ د ے د ے تو اس ن ے اپن ی منت نبھ ال ی ہے۔
2662 ۔ اگر کوئ ی شخص منت مانے ک ہ ا یک خاص دن روزہ رک ھے گا تو ضرور ی ہے ک ہ اس ی دن روزہ رک ھے اور اگر جان بوج ھ کر روز ہ ن ہ رک ھے تو ضرور ی ہے ک ہ اس دن ک ے روز ے ک ی قضا کے علاو ہ کفار ہ ب ھی دے اور اظ ہ ر یہ ہے ک ہ اس کا کفار ہ قسم تو ڑ ن ے کا کفار ہ ہے ج یسا کہ بعد م یں بیان کیا جائے گا لیکن اس دن وہ اخت یاراً یہ کرسکتا ہے ک ہ سفر کر ے اور روز ہ ن ہ رک ھے۔ اور اگر سفر م یں ہ و تو لازم ن ہیں کہ ٹھہ رن ے ک ی نیت کرکے روز ہ رک ھے اور اس صورت م یں جب کہ سفر ک ی وجہ س ے یاکسی دوسرے عذر مثلاً ب یماری یا حیض کی وجہ س ے روز ہ ن ہ رک ھے تو لازم ہے ک ہ روز ے ک ی قضا کرے ل یکن کفارہ ن ہیں ہے۔
2663 ۔ اگر انسان حالت اخت یار میں اپنی منت پر عمل نہ کر ے تو کفار ہ د ینا ضروری ہے ۔
2664 ۔ اگر کوئ ی شخص ایک معین وقت تک کوئی عمل ترک کرنے ک ی منت مانے تو اس وقت ک ے گزرن ے ک ے بعد اس عمل کو بجالاسکتا ہے اور اگر اس وقت ک ے گزرن ے س ے پ ہ ل ے ب ھ ول کر یا بہ امر مجبور ی اس عمل کو انجام دے تو اس پر کچ ھ واجب ن ہیں ہے ل یکن پھ ر ب ھی لازم ہے ک ہ و ہ وقت آن ے تک ا س عمل کو انجام نہ د ے اور اگر اس وقت ک ے آن ے س ے پ ہ ل ے بغ یر عذر کے اس عمل کو دوبار ہ انجام د ے تو ضرور ی ہے کہ کفار ہ د ے۔
2665 ۔ جس شخص ن ے کوئ ی عمل ترک کرنے ک ی منت مانی ہ و اور اس ک ے لئ ے کوئ ی وقت معین نہ ک یا ہ و اگر و ہ ب ھ ول کر یا بہ امر مجبور ی یا غفلت کی وجہ س ے اس عمل کو انجام د ے تو اس پر کفار ہ واجب ن ہیں ہے ل یکن اس کے بعد جب ب ھی بہ حالت اخت یار اس عمل کو بجالائے ضرور ی ہے ک ہ کفار ہ د ے۔
2626 ۔ اگر کوئ ی شکص منت مانے ک ہ ہ ر ہ فت ے ا یک معین دن کا مثلاً جمعے کا روز ہ رک ھے گا تو اگر ا یک جمعے ک ے دن ع ید فطر یا عید قربان پڑ جائ ے یا جمعہ ک ے دن اس ے کوئ ی اور عذر مثلاً سفر در پیش ہ و یا حیض آجائے تو ضرور ی ہے ک ہ اس دن روزہ ن ہ رک ھے اور اس ک ی قضا بجالائے۔
2627 ۔ اگر کوئ ی شخص منت مانے ک ہ ا یک معین مقدار میں صدقہ د ے گا تو اگر و ہ صدق ہ د ینے سے پ ہ ل ے مرجائ ے تو اس ک ے مال م یں سے اتن ی مقدار میں صدقہ د ینا لازم نہیں ہے اور ب ہ تر یہ ہے ک ہ اس ک ے بالغ ورثاء م یں میراث میں سے اپن ے حص ے س ے اتن ی مقدار میت کی طرف سے صدق ہ د ے د یں۔
2628 ۔ اگر کوئ ی شخص منت مانے ک ہ ا یک معین فقیر کو صدقہ د ے گا تو و ہ کس ی دوسرے فق یر کو نہیں دے سکتا اور اگر و ہ مع ین کردہ فق یر مرجائے تو احت یاط مستحب یہ ہے ک ہ صدق ہ اس ک ے پسماندگان کو د ے۔
2629 ۔ اگر کوئ ی منت مانے ک ہ ائم ہ عل یہ م السلام میں سے کس ی ایک کی مثلاً حضرت امام حسین ؑ ک ی زیارت سے مشرف ہ وگا تو اگر و ہ کس ی دوسرے امام ک ی زیارت کے لئ ے جائ ے تو یہ کافی نہیں ہے۔ اور اگر کس ی عزر کی وجہ س ے ان امام ک ی زیارت نہ کرسک ے تو اس پر کچ ھ ب ھی واجب نہیں ہے۔
2670 ۔ جس شخص ن ے ز یارت کرنے ک ی منت مانی ہ و ل یکن غسل زیارت اور اس کی نماز کی منت نہ مان ی ہ و تو اس ک ے لئ ے ان ہیں بجالانا لازم نہیں ہے۔
2671 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی امام یا امام زادے ک ے حرم ک ے لئ ے مال خرچ کرن ے ک ی منت مانے اور کوئ ی خاص مصرف معین نہ کر ے تو ضرور ی ہے ک ہ اس مال کو اس حرم ک ی تعمیر ( ومرمت) روشنیوں اور قالین وغیرہ پر صرف کرے۔
2672 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی امام کے لئ ے کوئ ی چیز نذر کرے تو اگر کس ی معین مصرف کی نیت کی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس چ یز کو اسی مصرف میں لائے اور اگر کس ی معین مصرف کی نیت نہ ک ی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس ے ا یسے مصرف میں لے آئ ے جو امام س ے نسبت رک ھ تا ہ و مثلاً اس امام ؑ ک ے نادا ر زائرین پر خرچ کرے یا اس امام ؑ ک ے حرم ک ے مصارف پر خرچ کر ے یا ایسے کاموں میں خرچ کرے جو امام کا تذکر ہ عام کرن ے کا سبب ہ وں ۔ اور اگر کوئ ی چیز کسی امام زادے ک ے لئ ے نذر کر ے تب ب ھی یہی حکم ہے۔
2637 ۔ جس ب ھیڑ کو صدقے ک ے لئ ے یا کسی امام کے لئ ے نذر ک یا جائے اگر و ہ نذر ک ے مصرف م یں لائے جان ے س ے پ ہ ل ے دود ھ د ے یا بچہ جن ے تو و ہ (دود ھ یا بچہ ) اس کا مال ہے جس ن ے اس ب ھیڑ کو نذر کیا ہ و مگر یہ کہ ا س ک ی نیت عام ہ و( یعنی نذر رکنے وال ے ن ے اس ب ھیڑ ، اس کے بچ ے اور دودھ وغیرہ سب چیزوں کی منت مانی ہ و تو و ہ سب نذر ہے ) البت ہ ب ھیڑ کی اون اور جس مقدار میں وہ فرب ہ ہ و جائ ے نذر کا جزو ہے۔
2674 ۔ جب کوئ ی منت مانے ک ہ اگر اس کا مر یض تندرست ہ وجائ ے یا اس کا مسافر واپس آجائے تو و ہ فلاں کام کر ے گا تو اگر پتا چل ے ک ہ منت مانن ے س ے پ ہ ل ے مر یض تندرست ہ وگ یا تھ ا یا مسافر واپس آگیا تھ ا تو پ ھ ر منت پر عمل کرنا لازم ن ہیں۔
2675 ۔ اگر باپ یا ماں منت مانیں کہ اپن ی بیٹی کی شادی سید زادے س ے کر یں گے تو بالغ ہ ون ے ک ے بعد ل ڑ ک ی اس بارے م یں خود مختار ہے اور والد ین کی منت کی کوئی اہ م یت نہیں۔
2676 ۔ جب کوئ ی شخص اللہ تع الی سے ع ہ د کر ے ک ہ جب اس ک ی کوئی معین شرعی حاجت پوری ہ وجائ ے گ ی تو فلاں کام کرے گا ۔ پس جب اس ک ی حاجت پوری ہ وجائ ے تو ضرور ی ہے ک ہ و ہ کام انجام د ے۔ ن یز اگر وہ کوئ ی حاجت نہ ہ وت ے ہ وئ ے ع ہ د کر ے ک ہ فلاں کام انجام د ے گا تو و ہ کام کرنا اس پر وا جب ہ وجاتا ہے۔
2677 ۔ ع ہ د م یں بھی منت کی طرح صیغہ پڑھ نا ضرور ی ہے ۔ اور (علماء ک ے ب یچ) مشہ ور یہ ہے ک ہ کوئ ی شخص جس کام کے انجام د ینے کا عہ د کر ے ضرور ی ہے ک ہ یا تو واجب اور مستجب نمازوں کی طرح عبادت ہ و یا ایسا کام ہ و جس کا انجام د ینا شرعاً اس کے ترک کرن ے س ے ب ہ تر ہ و ل یکن ظاہ ر ہے کہ یہ بات معتبر نہیں ہے۔ بلک ہ اگر اس طرح ہ و ج یسے مسئلہ 2680 میں قسم کے احکام م یں آئے گا، تب ب ھی عہ د صح یح ہے اور اس کام کو انجام د ینا ضروری ہے۔
2678 ۔ اگر کوئ ی شخص اپنے ع ہ د پر عمل ن ہ کر ے تو ضرور ی ہے ک ہ کفار ہ د ے یعنی ساٹھ فق یروں کو پیٹ بھ ر کر ک ھ انا ک ھ لائ ے یا دو مہینے مسلسل روزے رک ھے یا ایک غلام کو آزاد کرے۔
2679 ۔ جب کوئ ی شخص قسم کھ ائ ے ک ہ فلاں کام انجام د ے گا یا ترک کرے گا مثلاً قسم ک ھ ائ ے ک ہ روز ہ رک ھے گا یا تمباکو استمعال کرے گا تو اگر بعد م یں جان بوجھ کر اس قسم ک ے خل اف عمل کرے تو ضرور ی ہے ک ہ کفار ہ د ے یعنی ایک غلام آزاد کرے یا دس فقیروں کو پیٹ بھ ر کر ک ھ انا ک ھلائے یا انھیں پوشاک پہ نائ ے اور اگر ان اعمال کو بجا ن ہ لاسکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ت ین دن روزے رک ھے اور یہ بھی ضروری ہے اور ک ہ روز ے مسلسل رک ھے۔
2680 ۔ قسم ک ی چند شرطیں ہیں:۔
1 ۔ جو شخص قسم ک ھ ائ ے ضرور ی ہے ک ہ و ہ بالغ اور عاقل ہ و ن یز اپنے اراد ے اور اخت یار سے قسم ک ھ ائ ے۔ ل ہ ذا بچ ے یا دیوانے یا بے حواس یا اس شخص کا قسم کھ انا جس ے مجبور ک یا گیا ہ و درست ن ہیں ہے۔ اور اگر کوئ ی شخص جذبات میں آکر بلا ارادہ یا بے اخت یار قسم کھ ائ ے تو اس ک ے لئ ے بھی یہی حکم ہے۔
2 ۔ (قسم ک ھ ان ے والا) جس کام ک ے انجام د ینے کی قسم کھ ائ ے ضرور ی ہے ک ہ و ہ حرام یا مکروہ ن ہ ہ و اور جس کام ک ے ترک کرن ے ک ی قسم کھ ائ ے ضرور ی ہے ک ہ و ہ واجب یا مستحب نہ ہ و ۔ اور اگر کوئ ی مباح کام کرنے ک ی قسم کھ ائ ے تو اگر عقلاء ک ی نظر میں اس کام کو انجام دینا اس کو ترک کرنے سے ب ہ تر ہ و تو اس ک ی قسم صحیح ہے اور اس ی طرح کسی کام کو ترک کرنے ک ی قسم کھ ائ ے تو اگر عقلاء ک ی نظر میں اسے ترک کرنا اس کو انجام د ینے سے ب ہ تر ہ و تو اس ک ی قسم صحیح ہے۔ بلک ہ دونوں صورتوں م یں اگر اس کا انجام دینا یا ترک کرنا عقلاء کی نظر میں بہ تر ن ہ ہ و ل یکن خود اس شخص کے لئ ے ب ہ تر ہ و تب ب ھی اس کی قسم صحیح ہے۔
3 ۔ (قسم ک ھ ان ے والا) الل ہ تعال ی کے ناموں م یں سے کس ی ایسے نام کی قسم کھ ائ ے جو اس ذات ک ے سوا کس ی اور کے لئ ے استعمال ن ہ ہ وتا ہ و مثلاً خدا اور الل ہ ۔ اور اگر ا یسے نام کی قسم کھ ائ ے جو اس ذات ک ے سوا کس ی اور کے ل 4 ے ب ھی استعمال ہ وتا ہ و ل یکن اللہ تعال ی کے لئ ے اتن ی کثرت سے استعمال ہ وتا ہ و ک ہ جب ب ھی کوئی وہ نام ل ے تو خدائ ے بزرگ و برتر ک ی ذات ہی ذہ ن م یں آتی ہ و مثلاً اگر کوئ ی خالق اور رازق کی قسم کھ ائ ے تو قسم صح یح ہے۔ بلک ہ اگر کسی ایسے نام کی قسم کھ ائ ے ک ہ جب اس نام کو تن ہ ا بولا جائ ے تو اس س ے صرف ذات بار ی تعالی ہی ذہ ن م یں نہ آت ی ہ و ل یکن اس نام کو قسم کھ ان ے ک ے مقام م یں استعمال کیا جائے تو ذات حق ہی ذہ ن م یں آتی ہ و مثلاً سم یع اور بصیر (کی قسم کھ ائ ے ) تب ب ھی اس کی قسم صحیح ہے۔
4 ۔ (قسم ک ھ ان ے والا) قسم ک ے الفاظ زبان پر لائ ے۔ ل یکن اگر گونگا شخص اشارے س ے قسم ک ھ ائ ے تو صح یح ہے اور اس ی طرح وہ شخص جو بات کرن ے پر قادر ن ہ ہ و اگر قسم کو لک ھے اور دل م یں نیت کر لے تو کاف ی ہے بلک ہ اس ک ے علاو ہ صورتوں م یں بھی (کافی ہے۔ ن یز) احتیاط ترک نہیں ہ وگ ی۔
5 ۔ (قسم ک ھ ان ے وال ے ک ے لئ ے ) قسم پر عمل کرنا ممکن ہ و ۔ اور اگر قسم ک ھ ان ے ک ے وقت اس ک ے لئ ے اس پر عمل کرنا ممکن ہ و ل یکن بعد میں عاجز ہ و جائ ے اور اس ن ے اپن ے آپ کو جان بوج ھ کر عاجز ن ہ ک یا ہ و تو جس وقت س ے عاجز ہ وگا اس وقت س ے اس ک ی قسم کالعدم ہ وجائ ے گ ی۔ اور اگر منت یا قسم یا عہ د پر عمل کرن ے س ے اتن ی مشقت اٹھ ان ی پڑے جو اس ک ی برداشت سے با ہ ر ہ و تو اس صورت م یں بھی یہی حکم ہے۔
2681 ۔ اگر باپ، ب یٹے کو یا شوہ ر، ب یوی کو قسم کھ ان ے س ے رو ک ے تو ان ک ی قسم صحیح نہیں ہے۔
2682 ۔ اگر ب یٹ ا، باپ کی اجازت کے بغ یر اور بیوی شوہ ر ک ی اجازت کے بغ یر قسم کھ ائ ے تو باپ اور شو ہ ر ان ک ی قسم فسخ کر سکتے ہیں۔
2683 ۔ اگر انسان ب ھ ول کر یا مجبوری کی وجہ س ے یا غفلت کی بنا پر قسم پر عمل نہ کر ے تو اس پر کفار ہ واجب ن ہیں ہے اور اگر اس ے مجبور ک یا جائے ک ہ قسم پر عمل ن ہ کر ے تب ب ھی یہی حکم ہے۔ اور اگر و ہ م ی قسم کھ ائ ے مثلاً یہ کہے ک ہ والل ہ م یں ابھی نماز میں مشغول ہ وتا ہ وں اور ہ م کی وجہ س ے مشغول ن ہ ہ و تو اگر اس کا و ہ م ا یسا ہ و ک ہ اس ک ی وجہ س ے مجبور ہ و کر قسم پر عمل ن ہ کر ے تو اس پر کفار ہ ن ہیں ہے۔
2684 ۔ اگر کوئ ی شخص قسم کھ ائ ے ک ہ م یں جو کچھ ک ہہ ر ہ ا ہ وں سچ ک ہہ ر ہ ا ہ وں تو اگر و ہ سچ ک ہہ ر ہ ا ہے تو اس کا قسم ک ھ انا مکرو ہ ہے اور اگر ج ھ و ٹ بول ر ہ ا ہے تو حرام ہے بلک ہ مقدمات ک ے ف یصلے کے وقت ج ھ و ٹی قسم کھ انا کب یرہ گناہ وں م یں سے ہے ل یکن اگر وہ اپن ے آپ کو یا کسی دوسرے مسلمان کو کسی ظالم کے شر س ے نج ات دلانے ک ے لئ ے ج ھ و ٹی قسم کھ ائ ے تو اس م یں اشکال نہیں بلکہ بعض اوقات ا یسی قسم کھ انا واجب ہ و جاتا ہے تا ہ م اگر تور یہ کرنا ممکن ہ و ۔ یعنی قسم کھ ات ے وقت قسم ک ے الفاظ ک ے ظا ہ ر ی مفہ وم کو چ ھ و ڑ کر دوسر ے مطلب ک ی نیت کرے اور جو مطلب ا س نے ل یا ہے اس کو ظا ہ ر ن ہ کر ے۔ تو ا حتیاط لازم یہ ہے ک ہ تور یہ کرے مثلاً اگر کوئ ی ظالم کسی کو اذیت دینا چاہے اور کس ی دوسرے شخص س ے پوچ ھے ک ہ ک یا تم نے فلاں شخص کو د یکھ ا ہے ؟ اور اس ن ے اس شخص کو ا یک منٹ قبل د یکھ ا ہ و تو و ہ ک ہے ک ہ م یں نے اس ے ن ہیں دیکھ ا او قصد یہ کرے کہ اس وقت س ے پانچ من ٹ پ ہ ل ے م یں نے اس ے ن ہیں دیکھ ا ۔
2685 ۔ اگر ا یک شخص کوئی چیز وقف کرے تو و ہ اس ک ی ملکیت سے نکل جات ی ہے اور و ہ خود یا دوسرے لوگ ن ہ ہی وہ چ یز کسی دوسرے کو بخش سکت ے ہیں اور نہ ہی اسے ب یچ سکتے ہیں اور نہ کوئ ی شخص اس میں سے کچ ھ بطور م یراث لے سکتا ہے ل یکن بعض صورتوں میں جن کا ذکر مسئلہ 2102 اور مسئلہ 2103 میں کیا گیا ہے اس ے ب یچنے میں اشکال نہیں۔
2686 ۔ یہ لازم نہیں کہ وقف کا ص یغہ عربی میں پڑھ ا جائ ے بلک ہ مثال ک ے طور پر اگر کوئ ی شخص کہے ک ہ م یں نے یہ کتاب طالب علموں کے لئ ے وقف کر د ی ہے تو وقف صح یح ہے بلک ہ عمل س ے ب ھی وقف ثابت ہ وجاتا ہے مثلاً اگر کوئ ی شخص وقف کی نیت سے چ ٹ ائ ی مسجد میں ڈ ال د ے یا کسی عمارت کو مسجد کی نیت سے اس طرح بنائ ے جس ے مساجد بنائ ی جاتی ہیں تو وقف ثابت ہ وجائ ے گا ۔ اور عموم ی اوقاف مثلاً مسجد، مدرسہ یا ایسی چیزیں جا عام لوگوں کے لئ ے وقف ک ی جائیں یا مثلاً فقراء اور سادات کے لئ ے وقف ک ی جائیں ان کے وقف ک ے صح یح ہ ون ے م یں کسی کا قبول کرنا لازم نہیں ہے بلک ہ بنا بر اظ ہ ر خصوص ی اوقاف مثلاً جو چیزیں اولاد کے لئ ے وقف ک ی جائیں ان میں بھی قبول کرنا معتبر نہیں ہے۔
2687 ۔ اگر کوئ ی شخص اپنی کسی چیز کو وقف کرنے ک ے لئ ے مع ین کرے اور وقف کرن ے س ے پ ہ ل ے پچ ھ تائ ے یا مر جائے تو وقف وقوع پذ یر نہیں ہ وتا ۔
2688 ۔ اگر ا یک شخص کوئی مال وقف کرے تو ضرور ی ہے ک ہ وقف کرن ے ک ے وقت س ے اس مال کو ہ م یشہ کے لئ ے وقف کر د ے اور مثال ک ے طور پر اگر و ہ ک ہے ک ہ یہ مال میرے مرنے ک ے بعد وقف ہ وگا تو چونک ہ و ہ مال صیغہ پڑھ ن ے ک ے وقت س ے اس ک ے مرن ے ک ے وقت تک وقف ن ہیں رہ ا اس لئ ے وقف صح یح نہیں ہے۔ ن یز اگر کہے ک ہ یہ مال دس سال تک وقف رہے گا اور پ ھ ر وقف ن ہیں ہ وگا یا یہ کہے ک ہ یہ مال دس سال کے لئ ے وقف ہ وگا پ ھ ر پانچ سال ک ے لئ ے وقف ن ہیں ہ وگا اور پ ھ ر دوبار ہ وقف ہ وجائ ے گا تو و ہ وقف صح یح نہیں ہے۔
2689 ۔ خصوص ی وقف اس صورت میں صحیح ہے جب وقف کرن ے والا وقف کا مال پ ہ ل ی پشت یعنی جن لوگوں کے لئ ے وقف ک یا گیا ہے ان ک ے یا ان کے وک یل یا سرپرست کے تصرف م یں دے د ے ل یکن اگر کوئی شخص کوئی چیز اپنے نابالغ بچوں ک ے لئ ے وقف کر ے اور اس ن یت سے ک ہ وقف کرد ہ چ یز ان کی ملکیت ہ وجائ ے اس چ یز کی نگہ دار ی کرے تو وقف صح یح ہے۔
2690 ۔ ظا ہ ر یہ ہے ک ہ عام اوقاف مثلاً مدرسوں اور مساجد وغ یرہ میں قبضہ معتبر ن ہیں ہے بلک ہ صرف وقف کرن ے س ے ہی ان کا وقف ہ ونا ثابت ہ وجاتا ہے۔
2691 ۔ ضرور ی ہے ک ہ وقف کرن ے والا بالغ اور ع اقل ہ و ن یز قصد اور اختیاط رکھ تا ہ و اور شرعاً اپن ے مال م یں تصرف کرسکتا ہ و ل ہ ذا اگر سف یہ ۔ یعنی وہ شخص جو اپنا مال احمقان ہ کاموں م یں خرچ کرتا ہ و ۔ کوئ ی چیز وقف کرے تو چونک ہ و ہ اپن ے مال م یں تصرف کرنے کا حق ن ہیں رکھ تا ا س لئے (اس کا ک یا ہ و وقف) صح یح نہیں۔
2692 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی مال کو ایسے بچے ک ے لئ ے وقف کر ے جو ماں ک ے پ یٹ میں ہ و اور اب ھی پیدا نہ ہ وا ہ و تو اس وقف کا صح یح ہ ونا محل اشکال ہے اور لازم ہے ک ہ احت یاط ملحوظ رکھی جائے ل یکن اگر کوئی مال ایسے لوگوں کے لئ ے وقف ک یا جائے جو اب ھی موجود ہ وں اور ان ک ے بعد ان لوگوں کے لئ ے وقف ک یا جائے جو بعد م یں پیدا ہ وں تو اگرچ ہ وقف کرت ے وقت و ہ ماں ک ے پ یٹ میں بھی نہ ہ وں و ہ وقف صح یح ہے۔ مثلاً ا یک شخص کوئی چیز اپنی اولاد کے لئ ے وقف کر ے ک ہ ان ک ے بعد اس ک ے پوتوں ک ے لئ ے وقف ہ وگ ی اور (اولاد کے ) ہ ر گرو ہ ک ے بعد آن ے والا گرو ہ اس وقف سے استفافہ کر ے گا تو وقف صح یح ہے۔
2693 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی چیز کو اپنے آپ پر وقف کر ے مثلاً کوئ ی دکان وقف کردے تاک ہ اس ک ی آمدنی اس کے مرن ے ک ے بعد اس ک ے مقبر ے پر خرچ ک ی جائے تو یہ وقف صحیح نہیں ہے۔ ل یکن مثال کے طور پر و ہ کوئ ی مال فقرا کے لئ ے وقف کر د ے اور خو د بھی فقیر ہ و جائ ے تو وقف ک ے منافع س ے استفاد ہ کرسکتا ہے۔
2694 ۔ جو چ یز کسی شخص نے وقف ک ی ہ و اگر اس ن ے اس کا متول ی بھی معین کیا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ہ دا یات کے مطابق عمل ہ و اور اگر واقف ن ے متول ی معین نہ ک یا ہ و اور مال مخصوص افراد پر مثلاً اپن ی اولاد لئے وقف ک یا ہ و تو و ہ افراد اس س ے استفاد ہ کرن ے م یں خود مختار ہیں اور اگر بالغ نہ ہ وں تو پ ھ ر ان کا سرپرست مختار ہے اور وقف س ے استفاد ہ کرن ے ک ے لئ ے حاکم شرع ک ی اجازت لازم نہیں لیکن ایسے کام جس میں وقف کی بہ تر ی یا آئندہ نسلوں ک ی بھ لائ ی ہ و مثلاً وقف ک ی تعمیر کرنا یا وقف کو کرائے پر د ینا کہ جس م یں بعد والے طبق ے ک ے لئ ے فائد ہ ہے تو اس کا مختار حاکم شرع ہے۔
2695 ۔ اگر مثال ک ے طور پر کوئ ی شخص کسی مال کو قفرا یا سادات کے لئ ے وقف کر ے یا اس مقصد سے وقف کر ے ک ہ اس مال کا منافع بطور خ یرات دیا جائے تو اس صورت م یں کہ اس ن ے وقف ک ے لئے متول ی معین نہ ک یا ہ و اس کا اخت یار حاکم شرع کو ہے۔
2696 ۔ اگر کوئ ی شخص کسی املاک کو مخصوص افراد مثلاً اپنی اولاد کے لئ ے وقف کر ے تاک ہ ا یک پشت کے بعد دوسر ی پشت اس سے استفاد ہ کر ے تو اگر وقف کا متول ی اس مال کو کرائے پر د ے د ے اور اس ک ے بعد مرجائ ے تو اجار ہ باط ل نہیں ہ وتا ۔ ل یکن اگر اس املاک کا کوئی متولی نہ ہ و اور ن لوگوں ک یلئے وہ املاک وقف ہ وئ ی ہے ان م یں سے ا یک پشت اسے کرائ ے پرد ے د ے اور اجار ے ک ی مدت کے دوران و ہ پشت مرجائ ے اور جو پشت اس ک ے بعد ہ و و ہ اس اجار ے ک ی تصدیق نہ کرل ے تو اجار ہ باطل ہ و جائ ے گا اور اس صورت م یں اگر کرایہ دار نے پور ی مدت کا کرایہ ادا کر رکھ ا ہ و تو مرنے وال ے ک ی موت کے وقت س ے اجار ے ک ی مدت کے خاتم ے تک کا کرا یہ اس (مرنے وال ے ) ک ے مال س ے ل ے سکتا ہے۔
2697 ۔ اگر وقف کرد ہ املاک برباد ب ھی ہ و جائ ے تو اس ک ے وقف کی حیثیت نہیں بدلتی بجز اس صورت کے ک ہ وقف ک ی ہ وئ ی چیز کسی خاص مقصد کے لئ ے وقف ہ و اور و ہ مقصد فوت ہ و جائ ے مثلاً کس ی شخص نے کوئ ی باغ بطور باغ وقف کیا ہ و تو اگر و ہ باغ خراب ہ و جائ ے تو وقف باطل ہ وجائ ے گا اور وقف کردہ مال واقف ک ی ملکیت میں دوبارہ داخل ہ وجائ ے گ ا۔
2698 ۔ اگر کس ی املاک کی کچھ مقدار وقف ہ و اور کچ ھ مقدار وقف ن ہ ہ و اور و ہ املاک تقس یم نہ ک ی گئی ہ و تو ہ ر و ہ شخص جس ے وقف م یں تصرف کرنے کا اخت یار ہے ج یسے حاکم شرع، وقت کامتولی اور وہ لوگ جن ک ے لئ ے وقف ک یا گیا ہے باخبر لوگوں ک ے رائ ے ک ے مطابق وقف شد ہ حص ہ جدا کرسکت ے ہیں۔
2699 ۔ اگر وقف کا متول ی خیانت کرے مثلاً اس کا منافع مع ین مدوں میں استعمال نہ کر ے تو حاکم شرع اس ک ے سات ھ کس ی امین شخص کو لگا دے تاک ہ و ہ متول ی کو خیانت سے روک ے اور اگر یہ ممکن نہ ہ و تو حاکم شرع اس ک ی جگہ کوئ ی دیانتدار متولی مقرر کرسکتا ہے۔
2700 ۔ جو قال ین (وغیرہ) امام بارگاہ ک ے لئ ے وقف ک یا گیا ہ و اس ے نماز پ ڑھ ن ے ک ے لئ ے مسجد م یں نہیں لے جا یا جاسکتا خواہ و ہ مسجد امام بارگا ہ س ے ملحق ہی کیوں نہ ہ و ۔
2701 ۔ اگر کوئ ی املاک کسی مسجد کی مرمت کے لئ ے وقف ک ی جائے ت و اگر اس مسجد کو مرمت کی ضرورت نہ ہ و اور اس بات ک ی توقع بھی نہ ہ و ک ہ آئند ہ یاکچھ عرصے بعد اس ے مرمت ک ی ضرورت ہ وگ ی نیز اس املاک کی آمدنی کو جمع کرکے حفاظت کرنا ب ھی ممکن نہ ہ و ک ہ بعد م یں اس مسجد کی مرمت میں لگادی جائے تو اس صورت م یں احتیاط لازم یہ ہے ک ہ اس املاک ک ی آمدنی کو اس کام میں صرف کرے جو وقف کرن ے وال ے ک ے مقصود س ے نزد یک تو ہ و مثلاً اس مسجد ک ی کوئی دوسری ضرورت پوری کر دی جائے یا کسی دوسری مسجد کی تعمیر میں لگا دی جائے۔
2702 ۔ اگر کوئ ی شخص کوئی املاک وقف کرے تاک ہ اس ک ی آمدنی مسجد کی مرمت پر خرچ کی جائے اور امام جماعت کو اور مسجد ک ے موذن کو د ی جائے تو اس صورت م یں کہ اس شخص ن ے ہ ر ا یک کے لئ ے کچ ھ مقدار مع ین کی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ آمدن ی اسی کے مطابق خرچ ک ی جائے اور اگر مع ین نہ کی ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ پ ہ ل ے مسجد ک ی مرمت کرائی جائے اور پ ھ ر اگر کچ ھ بچ ے تو متول ی اسے امام جماعت اور موذن ک ے درم یان جس طرح مناسب سمجھے تقس یم کر دے ل یکن بہ تر ہے ک ہ یہ دونوں اشخاص تقسیم کے متعلق ا یک دوسرے س ے مصالحت کرل یں۔
وصیت کے احکام
2703 ۔ "وص یت" یہ ہے ک ہ انسان تاک ید کرے ک ہ اس ک ے مرن ے ک ے بعد اس ک ے لئ ے فلاں فلاں کام کئ ے جائ یں یا یہ کہے ک ہ اس ک ے مرن ے ک ے بعد اس ک ے مال م یں سے کوئ ی چیز فلاں شخص کی ملکیت ہ وگ ی یا اس کے مال م یں سے کوئ ی چیز کسی شخص کی ملکیت میں دے د ی جائے یا خیرات کی جائے یا امور خیر یہ پر صرف کی جائے یا اپنی اولاد کے لئ ے اور جو لوگ اس ک ی کفالت میں ہ وں ان ک ے لئ ے کس ی کو نگران اور سرپرست مقرر کرے اور جس شخص کو وص یت کی جائے اس ے "وص ی" کہ ت ے ہیں۔
2704 ۔ جو شخص بول ن ہ سکتا ہ و اگر و ہ اشار ے س ے اپنا مقصد سمج ھ ا د ے تو و ہ ہ ر کام ک ے لئ ے وص یت کر سکتا ہے بلک ہ جو شخص بول سکتا ہو اگر وہ ب ھی اس طرح اشارے س ے وص یت کرے ک ہ اس کا مقصد سمج ھ م یں آجائے تو وص یت صحیح ہے۔
2705 ۔ اگر ا یسی تحریر مل جائے جس پر مرن ے وال ے ک ے دستخط یا مہ ر ثبت ہ و تو اگر اس تحر یر سے اس کا مقصد سمج ھ م یں آجائے اور پتا چل جائ ے ک ہ یہ چیز اس نے وص یت کی غرض سے لک ھی ہے تو اس کے مطابق عمل کرنا چا ہ ئ ے ل یکن اگر پتا چلے ک ہ مرن ے وال ے کا مقصد وص یت کرنا نہیں تھ ا اور اس نے کچ ھ بات یں لکھی تھی تاکہ بعد م یں ان کے مطابق وص یت کرے تو ا یسی تحریر وصیت کافی نہیں ہے۔
2706 ۔ جو شخص وص یت کرے ضرور ی ہے ک ہ بالغ اور عاقل ہ و، سف یہ نہ ہ و اور اپن ے اخت یار سے وص یت کرے ل ہ ذا نابالغ بچ ے کا وص یت کرنا صحیح نہیں ہے۔ مگر یہ کہ بچ ہ دس سال کا ہ و اور اس ن ے اپن ے رشت ے داروں ک ے لئ ے وص یت کی ہ و یا عام خیرات میں خرچ کرنے ک ی وصیت کی ہ و تو ان دونوں صورتوں میں اس کی وصیت صحیح ہے۔ اور اگر اپن ے رشت ے داروں ک ے علاو ہ کس ی دوسرے ک ے لئ ے وص یت کرے یا سات سالہ بچ ہ یہ وصیت کرے ک ہ "اس ک ے اموال م یں سے ت ھ و ڑی سی چیز کسی شخص کے لئ ے ہے یا کسی شخص کو دے د ی جائے " تو وص یت کا نافذ ہ ونا محل اشکال ہے اور ان دونوں صورتوں م یں احتیاط کا خیال رکھ ا جائ ے اور اگر کوئ ی شخص سفیہ ہ و تو اس ک ی وصیت اس کے اموال م یں نافذ نہیں ہے۔ ل یکن اگر اس اس کی وصیت اموال کے علاو ہ دوسر ے امور م یں ہ و مثلاً ان مخصوص کاموں ک ے متعلق ہ و جو موت ک ے بعد م یت کے لئ ے انجام د یئے جاتے ہیں تو وہ وص یت نافذ ہے۔
2707 ۔ جس شخص ن ے مثال ک ے طور پر عمداً اپن ے آپ کو زخم ی کر لیا ہ و یا زہ ر ک ھ ال یا ہ و جس ک ی وجہ س ے اس ک ے مرن ے کا یقین یا گمان پیدا ہ وجائ ے اگر و ہ وص یت کرے ک ہ اس ک ے مال ک ی کچھ مقدار کس ی مخصوص مصرف میں لائی جائے اور اس ک ے بعد و ہ مرجائ ے تو اس ک ی وصیت صحیح نہیں ہے۔
2708 ۔ اگر کوئ ی شخص وصیت کرے ک ہ اس ک ی املاک میں سے کوئ ی چیز کسی دوسرے کا مال ہ وگ ی تو اس صورت میں جب کہ و ہ دوسرا شخص وص یت کو قبول کرلے خوا ہ اس کا قبول کرنا وص یت کرنے وال ے ک ی زندگی میں ہی کیوں نہ ہ و و ہ چ یز "موصی" کی موت کے بعد اس ک ی ملکیت ہ وجائ ے گ ی۔
2709 ۔ جب انسان اپن ے آپ م یں موت کی نشانیاں دیکھ لے تو ضرور ی ہے ک ہ لوگوں ک ی امانتیں فوراً ان کے مالکوں کو واپس کر د ے یا انہیں اطلاع دے د ے۔ اس تفص یل کے مطابق جو مسئل ہ 2351 میں بیان ہ وچک ی ہے۔ اور اگر و ہ لوگوں کا مقروض ہ و اور قرض ے ک ی ادائیگی کا وقت آگیا ہ و اور قرض خوا ہ اپن ے قرض ے کا مطالب ہ ب ھی کر رہ ا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ قرض ہ ادا کرد ے اور اگر وہ خود قرض ہ ادا کرن ے ک ے قابل ن ہ ہ و یا قرضے ک ی ادائیگی کا وقت نہ آ یا ہ و یا قرض خواہ اب ھی مطالبہ ن ہ کر ر ہ ا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ا یسا کام کرے جس س ے اطم ینان ہ و جائ ے ک ہ اس کا قرض اس کی موت کے بعد قرض خوا ہ کو ادا کر د یا جائے گا مثلاً اس صورت م یں کہ اس ک ے ق رضے کا کس ی دوسرے کو علم ن ہ ہ و و ہ وص یت کرے اور گوا ہ وں ک ے سام ے وص یت کرے۔
2710 ۔ جو شخص اپن ے اپن ے آپ م یں موت کی نشانیاں دیکھ رہ ا ہ و اگر زکوٰ ۃ، خمس اور مظالم اس کے ذم ے ہ وں اور و ہ ان ہیں اس وقت ادا نہ کرسکتا ہ و ل یکن اس کے پاس مال ہ و یا اس بات کا احتمال ہ و ک ہ کوئ ی دوسرا شخص یہ چیزیں ادا کردے گا تو ضرور ی ہے ک ہ وص یت کرے اور اگر اس پر حج واجب ہ و تو اس کا ب ھی یہی حکم ہے۔ ل یکن اگر وہ شخص اس وقت اپن ے شرع ی واجبات ادا کرسکتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ فوراً ادا کر ے اگرچ ہ و ہ اپن ے آپ م یں موت کی نشانیاں نہ د یکھے۔
2711 ۔ جو شخص اپن ے آ پ میں موت کی نشانیاں دیکھ رہ ا ہ وا اگر اس ک ی نمازیں اور روزے قضا ہ وئ ے ہ وں تو ضرور ی ہے ک ہ وص یت کرے ک ہ اس ک ے مال س ے ان عبارات ک ی ادائیگی کے لئ ے کس ی کو اجیر بنایا جائے بلک ہ اگر اس ک ے پاس مال ن ہ ہ و ل یکن اس بات کا احتمال ہ وک ہ کوئ ی شخص بلا معاوضہ یہ عبادات بجالائے گا تب ب ھی اس پر واجب ہے ک ہ وص یت کرے ل یکن اگر اس کا اپنا کوئی ہ و مثلاً ب ڑ ا ل ڑ کا ہ و اور و ہ شخص جانتا ہ و ک ہ اگر اس ے خبر د ی جائے تو و ہ اس ک ی قضا نمازیں اور روزے بجالائ ے گا تو اس ے خبر د ینا ہی کافی ہے ، وص یت کرنا لازم نہیں۔
2712 ۔ جو شخص اپن ے آپ م یں موت کی نشانیاں دیکھ رہ ا ہ و اگر اس کا مال کس ی کے پاس ہ و یا ایسی جگہ چ ھ پا ہ وا ہ و جس کا ورثاء کو علم ن ہ ہ و تو اگر لاعلم ی کی وجہ س ے ورثاء کا حق تلف ہ وتا ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ان ہیں اطلاع دے اور یہ لازم نہیں کہ و ہ اپن ے نابالغ بچوں ک ے لئ ے ن گراں اور سرپرست مقرر کرے ل یکن اس صورت میں جب کہ نگراں کا ن ہ ہ ونا مال ک ے تلف ہ ون ے کا سبب ہ و یا خود بچوں کے لئ ے نقصان د ہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ان ک ے لئ ے ان ام ین نگران مقرر کرے۔
2713 ۔ وص ی کا عاقل ہ ونا ضرور ی ہے۔ ن یز جو امور موصی سے متعلق ہیں اور اسی طرح احتیاط کی بنا پر جو امور دوسروں سے متعلق ہیں ضروری ہے ک ہ وص ی ان کے بار ے م یں مطمئن ہ و اور ضرور ی ہے ک ہ مسلمان کا وص ی بھی احتیاط کی بناپر مسلمان ہ و ۔ اور اگر موص ی فقط نابالغ بچے ک ے لئ ے اس مقصد سے وص یت کرے تاک ہ و ہ بچپن م یں سرپرست سے اجازت لئ ے بغ یر تصرف کرسکے تو احت یاط کی بنا پر درست نہیں ہے۔ ل یکن اگر موصی کا مقصد یہ ہ و ک ہ بالغ ہ ون ے ک ے بعد یا سرپرست کی اجازت سے تصرف کر ے تو کوئ ی اشکال نہیں ہے۔
2714 ۔ اگر کوئ ی شخص کئی لوگوں کو اپنا وصی معین کرے تو اگر اس ن ے اجازت د ی ہ و ک ہ ان م یں سے ہ ر ا یک تنہ ا وص یت پر عمل کرسکتا ہے تو لازم ن ہیں کہ و ہ وص یت انجام دینے میں ایک دوسرے س ے اجازت ل یں اور اگر وصیت کرنے وال ے ن ے ا یسی کوئی اجازت نہ د ی ہ و تو خوا ہ اس ن ے ک ہ ا ہ و یا نہ ک ہ ا ہ و ک ہ دونوں مل کر وص یت پر عمل کریں انہیں چاہ ئ ے ک ہ ا یک دوسرے ک ی رائے ک ے مطابق وص یت پر عمل کریں اور اگر وہ مل کر وص یت پر عمل کرنے پر ت یار نہ ہ وں اور مل کر عمل ن ہ کرن ے م یں کوئی شرعی عذر نہ ہ و تو حاکم شرع ان ہیں ایسا کرنے پر مجبور کرسکتا ہے اور اگر و ہ حاکم شرع کا حکم ن ہ مان یں یا مل کر عمل نہ کرن ے کا دونوں ک ے پاس کوئ ی شرعی عذر ہ و تو و ہ ان م یں سے کس ی ایک کی جگہ کوئ ی اور وصی مقرر کر سکتا ہے۔
2715 ۔ اگر کوئ ی شخص اپنے وص یت سے منحرف ہ وجائ ے مثلاً پ ہ ل ے و ہ یہ کہے ک ہ اس ک ے مال ت یسرا حصہ فلاں شخص کو د یا جائے اور بعد م یں کہے ک ہ اس ے ن ہ د یا جائے تو وص یت کالعدم ہ وجات ی ہے اور اگر کوئ ی شخص اپنی وصیت میں تبدیلی کر دے مثلا ً کو اپنے بچوں کا نگران مقرر کر ے اور ب عد میں اس کی جگہ کس ی دوسرے شخص کو نگراں مقرر کرد ے تو اس ک ی پہ ل ی وصیت کالعدم ہ وجات ی ہے اور سرور ی ہے ک ہ اس ک ی دوسری وصیت پر عمل کیا جائے۔
2716 ۔ اگر ا یک شخص کوئی ایسا کام کرے جس س ے پتا چل ے ک ہ و ہ اپن ی وصیت سے منحرف ہ وگ یا ہے مثلاً جس مکان ک ے بار ے م یں وصیت کی ہ و ک ہ و ہ کس ی کو دیا جائے اس ے ب یچ دے یا۔ پ ہ ل ی وصیت کو پیش نظر رکھ ت ے ہ وئ ے ۔ کس ی دوسرے شخص کو اس ے ب یچنے کے لئ ے وک یل مقرر کر دے تو وص یت کالعدم ہ وجات ی ہے۔
2717 ۔ اگر کوئ ی شخص وصیت کرے ک ہ ا یک معین چیز کسی شخص کو دی جائے اور بعد م یں وصیت کرے ک ہ اس چ یز کا نصف حصہ کس ی اور شخص کو دیا جائے تو ضرور ی ہے اس چ یز کے دو حص ے کئ ے جائ یں اور ان دونوں اشخاص میں سے ہ ر ا یک کو ایک حصہ د یا جائے۔
2718 ۔ اگر کوئ ی شخص ایسے مرض کی حالت میں جس مرض سے و ہ مرجائ ے اپن ے مال ک ی کچھ مقدار کس ی شخص کو بخش دے اور وص یت کرے ک ہ م یرے مرنے ک ے بعد مال ک ی کچھ مقدار کس ی اور شخص کو بھی دی جائے تو اگر اس ک ے مال کا ت یسرا حصہ دونوں مال ک ے لئ ے کاف ی نہ ہ و اور ورثاء اس ز یادہ مقدار کی اجازت دینے پر تیار نہ ہ وں تو ضرور ی ہے پ ہ ل ے جو مال اس س ے بخشا ہے و ہ ت یسرے حصے س ے د یدیں اور اس کے بعد جو مال ماق ی بچے و ہ وص یت کے مطابق خرچ کر یں۔
2719 ۔ اگر کوئ ی شخص وصیت کرے ک ہ اس ک ے مال کا ت یسرا حصہ ن ہ ب یچا جائے اور اس ک ی آمدنی ایک معین کام میں خرچ کی جائے تو اس ک ے ک ہ ن ے ک ے مطابق عمل کرنا ضرور ی ہے۔
2720 ۔ اگر کوئ ی ایسے مرض کی حالت میں جس مرض سے و ہ مرجائ ے یہ کہے ک ہ و ہ اتن ی مقدار میں کسی شخص کا مقروض ہے تو اگر اس پر یہ تہ مت لگائ ی جائے ک ہ اس ن ے یہ بات ورثاء کو نقصان پہ نچان ے ک ے لئ ے ک ی ہے تو جو مقدار قرض ے ک ی اس نے مع ین کی ہے و ہ اس ک ے مال ک ے ت یسرے حصے س ے د ی جائے گ ی اور اگر اس پر یہ تہ مت ن ہ لگ ائی جائے تو اس کا اقرار نافذ ہے اور قرض ہ اس ک ے اصل مال س ے ادا کرنا ضرور ی ہے۔
2721 ۔ جس شخص ک ے لئ ے انسان وص یت کرے ک ہ کوئ ی چیز اسے د ی جائے یہ ضروری نہیں کہ وص یت کرنے ک ے وقت و ہ وجود رک ھ تا ہ و ل ہ ذا اگر کوئ ی انسان وصیت کرے ک ہ جو بچ ہ فلاں عورت ک ے پ یٹ سے پ یدا ہ و اس بچے کو فلاں چ یز دی جائے تو اگر و ہ بچ ہ وص یت کرنے وال ے ک ی موت کے بعد پ یدا ہ و ت و لازم ہے ک ہ و ہ چ یز اسے د ی جائے ل یکن اگر وہ وص یت کرنے وال ے ک ی موت کے بعد و ہ (بچ ہ ) پ یدا نہ ہ و اور وص یت ایک سے ز یادہ مقاصد کے لئ ے سمج ھی جائے تو ضرور ی ہے ک ہ اس مال کو کس ی ایسے دوسرے کام م یں صرف کیا جائے جو وص یت کرنے وال ے ک ے مقصد س ے ز یادہ قریب ہ و ورن ہ ورثاء خو د اسے آپس م یں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ل یکن اگر وصیت کرے ک ہ مرن ے ک ے بعد اس ک ے مال م یں سے کوئ ی چیز کسی شخص کا مال ہ وگ ی تو اگر وہ شخص وص یت کرنے وال ے ک ی موت کے وقت موجود ہ و تو ص یت صحیح ہے ورن ہ باطل ہے اور جس چ یز کی اس شخص کے لئ ے وص یت کی گئی ہ و ۔ (وص یت باطل ہ ون ے ک ی صورت میں) ورثاء اسے آپس م یں تقسیم کرسکتے ہیں۔
2722 ۔ اگر انسان کو پتا چل ے ک ہ کس ی نے اس ے وص ی بنایا ہے تو اگر و ہ وص یت کرنے وال ے کو اطلاع د ے د ے ک ہ و ہ اس ک ی وصیت پر عمل کرنے پر آماد ہ ن ہیں ہے تو لازم ن ہیں کہ و ہ اس ک ے مرن ے ک ے بعد اس وص یت پر عمل کرے ل یکن اگر وصیت کنندہ ک ے مرن ے س ے پ ہ ل ے انسان کو یہ پتا نہ چل ے ک ہ اس نے اس ے وص ی بنایا ہے یا پتا چل جائے ل یکن اسے یہ اطلاع نہ د ے ک ہ و ہ ( یعنی جسے وص ی مقرر کیا گیا ہے ) اس ک ی (یعنی موصی کی) وصیت پر عمل کرنے پر آماد ہ ن ہیں ہے تو اگر وص یت پر عمل کرنے م یں کوئی زحمت نہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ اس ک ی وصیت پر عملدر آمد کرے ن یز اگر موصی کے مرن ے س ے پ ہ ل ے وص ی کسی وقت اس امر کی جانب متوجہ ہ و ک ہ مرض ک ی شدت کی وجہ س ے یا کسی اور عذر کی بنا پر موصی کسی دوسرے شخص کو وص یت نہیں کرسکتا تو احتیاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ وص ی وصیت کو قبول کرلے۔
2723 ۔ جس شخص ن ے وص یت کی ہ و اگر و ہ مرجائ ے تو وص ی کو یہ اختیار نہیں کہ و ہ کس ی دوسرے کو م یت کا وصی معین کرے اور خود ان کاموں س ے کنار ہ کش ہ وجائ ے ل یکن اگر اسے علم ہ و ک ہ مرن ے وال ے کا مقصد یہ نہیں تھ ا ک ہ خود وص ی ہی ان کاموں کو انجام دینے میں شریک ہ و بلک ہ اس کا مقص د فقط یہ تھ ا ک ہ کام کر د یئے جائیں تو وصی کسی دوسرے شخص کو ان کاموں ک ی انجام دہی کے لئ ے اپن ی طرف سے وک یل مقرر کرسکتا ہے۔
2724 ۔ اگر کوئ ی شخص دو افراد کو اکٹھے وص ی بنائے تو اگر ان دونوں م یں سے ا یک مرجائے یا دیوانہ یا کافر ہ و جائ ے تو حاکم شرع اس ک ی جگہ ا یک اور شخص کو وصی مقرر کرے گا اور اگر دونوں مر جائ یں یا کافر یا دیوانے ہ و جائ یں تو حاکم شرع دو دوسرے اشخاص کو ان ک ی جگہ مع ین کرے گا لیکن اگر ایک شخص وصیت پر عمل کرسکتا ہ و تو دو اشخاص کا مع ین کرنا لازم نہیں۔
2725 ۔ اگر وص ی تنہ ا خوا ہ وک یل مقرر کرکے یا دوسرے کو اجرت د ے کر متوف ی کے کام انجام ن ہ د ے سک ے تو حاکم شرع اس ک ی مدد کے لئ ے ا یک اور شخص مقرر کرے گا ۔
2726 ۔ اگر متوف ی کے مال ک ی کچھ مقدار وص ی کے ہ ات ھ سے تلف ہ وجائ ے تو اگر وص ی نے اس ک ی نگہ داشت م یں کوتا ہی یا تعدی کی ہ و مثلاً اگر متوف ی نے اس ے وص یت کی ہ و ک ہ مال ک ی اتنی مقدار فلاں شہ ر ک ے فق یروں کو دے د ے اور وص ی مال کو دوسرے ش ہ ر ل ے جائ ے اور و ہ راست ے م یں تلف ہ و جائے تو وہ ذم ے دار ہے اور اگر اس ن ے کوتا ہی یا تعدی نہ ک ی ہ و تو ذم ے دار ن ہیں ہے۔
2727 ۔ اگر انسان کس ی شخص کو وصی مقرر کرے اور ک ہے ک ہ اگر و ہ شخص ( یعنی وصی) مر جائے تو پ ھ ر فلاں شخص وص ی ہ وگا تو جب پ ہ لا وص ی مرجائے تو دوسر ے وص ی کے لئ ے متوف ی کے کام انجام د ینا ضروری ہے۔
2728 ۔ جو حج متوف ی پر واجب ہ و ن یز قرضہ اور مال ی واجبات مثلاً خمس، زکوٰۃ اور مظالم جن کا ادا کرنا واجب ہ وا ن ہیں متوفی کے اصل مال س ے ادا کرنا ضرور ی ہے خوا ہ متوف ی نے ان ک ے لئ ے وص یت نہ ب ھی کی ہ و ۔
2729 ۔ اگر متوف ی کا ترکہ قرض ے س ے اور واجب حج س ے اور ان شرع ی واجبات سے جو اس پر واجب ہ وں مثلاً خمس اور زکوٰۃ اور مظالم سے ز یادہ ہ و تو اگر اس ن ے وص یت کی ہ و ک ہ اس ک ے مال کا ت یسرا حصہ یا تیسرے حصے ک ی کچھ مقدار ا یک معین مصرف میں لائی جائے تو اس ک ی وصیت پر عمل کرنا ضروری ہے اور اگر وص یت نہ ک ی ہ و تو جو کچ ھ بچ ے و ہ ورثاء کا مال ہے۔
2730 ۔ جو مصرف متوف ی نے مع ین کیاہ و اگر وہ اس ک ے مال ک ے ت یسرے حصے س ے ز یادہ ہ و تو مال ک ے ت یسرے حصے س ے ز یادہ کے بار ے م یں اس کی وصیت اس صورت میں صحیح ہے جب ورثاء کوئ ی ایسی بات یا ایسا کام کریں جس سے معلوم ہ و ک ہ ان ہ وں ن ے وص یت کے مطابق عمل کرن ے ک ی اجازت دے د ی ہے اور ان کا صرف راضی ہ ونا کاف ی نہیں ہے اور اگر و ہ موص ی کی رحلت کے کچ ھ عرص ے بعد ب ھی اجازت دیں تو صحیح ہے اور اگر بعض ورثاء اجازت د ے د یں اور بعض وصیت کو رد کردیں تو جنہ وں ن ے اجازت د ی ہ و ان ک ے حصوں ک ی حد تک وصیت صحیح اور نافذ ہے۔
2731 ۔ جو مصرف متوف ی نے مع ین کیا ہ و اگر اس پر اس ک ے مال ت یسرے حصے س ے ز یادہ لاگت آتی ہ و اور اس ک ے مرن ے س ے پ ہ ل ے ورثاء اس مصرف ک ی اجازت دے د یں (یعنی یہ اجازت دے د یں کہ ان ک ے حص ے س ے وص یت کو مکمل کیا جاسکتا ہے ) تو اس ک ے مرن ے ک ے بعد و ہ اپن ی دی ہ وئ ی اجازت سے منحر ف نہیں ہ وسکت ے۔
2732 ۔ اگر مرن ے والا وص یت کرے ک ہ اس ک ے مال ک ے تیسرے حصے خمس اور زکوٰ ۃ یا کوئی اور قرضہ جو اس ک ے ذم ے ہ و د یا جائے اور اس ک ی قضا نمازوں اور روزوں کے لئ ے اج یر مقرر کیا جائے اور کوئ ی مستحب کام مثلاً فقیروں کو کھ انا ک ھ لانا ب ھی انجام دیا جائے تو ضرور ی ہے ک ہ پ ہ ل ے ا س کا قرضہ مال ک ے ت یسرے حصے س ے د یا جائے اور اگ ر کچھ بچ جائ ے تو نمازوں اور روزوں ک ے لئ ے اج یر مقرر کیا جائے اور اگر پ ھ ر ب ھی کچھ بچ جائ ے تو جو مستحب کام اس ن ے مع ین کیا ہ و اس پر صرف ک یا جائے اور اگر اس ک ے مال کا ت یسرا حصہ صرف اس ک ے قرض ے ک ے برابر ہ و اور ورثاء ب ھی تہ ائ ی مال سے ز یادہ خرچ کرنے ک ی اجازت نہ د یں تو نماز، روزوں اور مستحب کاموں کے لئ ے ک ی گئی وصیت باطل ہے۔
2733 ۔ اگر کوئ ی شخص وصیت کرے ک ہ اس کا قرض ہ ادا ک یا جائے اور اس ک ی نمازوں اور روزوں کے لئ ے اج یر مقرر کیا جائے اور کوئ ی مستحب کام بھی انجام دیا جائے تو اگر اس ن ے یہ وصیت نہ ک ی ہ و ک ہ یہ چیزیں مال کے ت یسرے حصے س ے د ی جائیں تو ضروری ہے ک ہ اس کا قرض ہ اصل مال س ے د یا جائے اور پ ھ ر جو کچ ھ بچ جائ ے اس کا ت یسرا حصہ نماز، روزوں (ج یسی عبادات) اور ان مستحب کاموں کے مصرف م یں لایا جائے جو اس ن ے مع ین کئے ہیں اور اس صورت میں جبکہ ت یسرا حصہ (ان کاموں ک ے لئ ے ) کاف ی نہ ہ و اگر ورثا اجازت د یں تو اس کی وصیت پر عمل کرنا چاہ ئ ے اور اگر و ہ اجازت ن ہ د یں تو نماز اور روزوں کی قضا کی اجرت مال کے ت یسرے حصے س ے د ینی چاہ ئ ے اور اگر اس م یں سے کچ ھ بچ جائ ے تو وص یت کرنے وال ے ن ے جو مستحب کام مع ین کیا ہ و اس پر خرچ کرنا چا ہ ئ ے ۔
2734 ۔ اگرکو ئی شخص کہے ک ہ مرن ے وال ے ن ے وص یت کی تھی کہ اتن ی رقم مجھے د ی جائے تو اگر و ہ عادل مرد اس ک ے قول ک ی تصدیق کر دیں یا وہ قسم ک ھ ائ ے اور ا یک عادل شخص اس کے قول ک ی تصدیق کر دے یا ایک عادل مرد اور دو عادل عورتیں یا پھ ر چارعادل عورت یں اس کے قول ک ی گواہی دیں تو جتنی مقدار وہ بتائ ے اس ے د ے د ینی ضروری ہے اور اگر ا یک عادل عورت گواہی دے تو ضرور ی ہے ک ہ جس چ یز کا وہ مطالب ہ کر ر ہ ا و اس کا چوت ھ ا حص ہ اس ے د یا جائے اور اگر دو عادل عورت یں گواہی دیں تو اس کا نصف دیا جائے اور اگر ت ین عادل عورتیں گواہی دیں تو اس کا تین چوتھائی دیاجائے نیز اگر دو کتابی کافر مرد جو اپنے مذ ہ ب م یں عادل ہ وں اس ک ے قول ک ی تصدیق کریں تو اس صورت میں جب کہ مرن ے والا وص یت کرنے پرمجبور ہ وگ یا ہ و اور عادل مرد اور عورت یں بھی وصیت کے موقع پر موجود ن ہ ر ہے ہ وں تو و ہ شخص متوف ی کے مال س ے جس چ یز کا مطالبہ کر ر ہ ا ہ و و ہ اس ے د ے د ینی ضروری ہے۔
2735 ۔ اگر کوئ ی شخص کہے ک ہ م یں متوفی کا وصی ہ وں تاک ہ اس ک ے مال کو فلاں مصرف م یں لے آوں یا یہ کہے ک ہ متوف ی نے مج ھے اپن ے بچوں کا نگراں مقرر ک یا تھ ا تو اس کا قول اس صورت م یں قبول کرنا چاہ ئ ے جب ک ہ دو عادل مرد اس ک ے قول ک ی تصدیق کریں۔
2736 ۔ اگر مرن ے والا وص یت کرے ک ہ اس ک ے مال ک ی اتنی مقدار فلاں شخص کی ہ وگ ی اور وہ شخص وص یت کو قبول کرنے یا رد کرنے س ے پ ہ ل ے مرجائ ے تو جب تک اس ک ے ورثاء وص یت کو رد نہ کرد یں وہ اس چ یز کو قبول کرسکتے ہیں لیکن یہ حکم اس صورت میں ہے ک ہ وص یت کرنے والا اپن ی وصیت سے منحرف نہ ہ و جائ ے ورن ہ و ہ ( یعنی وصی یا اس کے ورثاء) اس چ یز پر کوئی حق نہیں رکھ ت ے۔
2737 ۔ جو اشخاص متوف ی سے رشت ے دار ی کو بناپر ترکہ پات ے ہیں ان کے ت ین گروہ ہیں :
1 ۔ پ ہ لا گرو ہ متوف ی کا باپ، ماں اور اولاد ہے اور اولاد ک ے ن ہ ہ ون ے ک ی صورت میں اولاد کی اولاد ہے ج ہ اں تک یہ سلسلہ ن یچے چلا جائے۔ ان م یں سے جو کوئ ی متوفی سے ز یادہ قریب ہ و و ہ ترک ہ پاتا ہے اور جب تک اس گرو ہ م یں سے اک شخص ب ھی موجود ہ و دوسرا اگر و ہ ترک ہ ن ہیں پاتا۔
2 ۔ دوسرا گرو ہ ، دادا ، داد ی ،نانا، نانی، بہ ن اور ب ھ ائ ی ہے اور ب ھ ائ ی اور بہ ن ن ہ ہ ون ے ک ی صورت میں ان کی اولاد ہے۔ ان م یں سے جو کوئ ی متوفی سے ز یادہ قریب ہ و تو ہ ترک ہ پاتا ہے۔ اور جب تک اس گرو ہ م یں سے ا یک شخص بھی موجود ہ و ت یسرا گروہ ترک ہ ن ہیں پاتا۔
3 ۔ ت یسرا گروہ چچا، پ ھ وپ ھی ماموں خالہ اور انک ی اولاد ہے۔ اور جب تک متوف ی کے چچاوں پ ھ وپ ھیوں، مامووں اور خلاوں میں سے ا یک شخص بھی زندہ ہ و اس ک ی اولاد ترکہ ن ہیں پاتی لیکن اگر متوفی کا پدری چچا اور ماں باپ دونوں کی طرف سے چچا زاد ب ھ ائ ی موجود ہ و تو ترک باپ اور م ال کی طرف سے چچازاد ب ھ ائ یوںکو ملے گا اور پدر ی چچا کو نہیں ملے گال یکن اگر چچایا چچازاد بھ ائ ی متعدد ہ وں یا متوفی کی بیوی زندہ ہ و ۔ تو یہ حکم اشکال سے خال ی نہیں ہے۔
2738 ۔ اگر خود متوف ی کا چچا، پھ وپ ھی، ماموں اور خالہ اور ان ک ی اولاد یا ان کی اولاد کی اولاد نہ ہ و تو اس ک ے باپ اور ماں ک ے چچا، پ ھ وپ ھی، ماموں اور خالہ ترک ہ پات ے ہیں اور اگر وہ ن ہ ہ وں تو ان ک ی اولاد ترکہ پات ی ہے اور اگر و ہ ب ھی نہ ہ و تو متوف ی کے دادا، داد ی کے چچا پھ وپ ھی، ماموں اور خالہ ترک ہ پات ے ہیں اور اگر وہ ب ھی نہ ہ وں تو ان ک ی اولاد ترکہ پات ی ہے۔
2739 ۔ ب یوی اور شوہ ر ج یسا کہ بعد م یں تفصیل سے بتا یا جائے گا ا یک دوسرے س ے ترک ہ پات ے ہیں۔
2740 ۔ اگر پ ہ ل ے گرو ہ م یں سے صرف ا یک شخص متوفی کا وارث ہ و مثلاً باپ یا ماں یا اکلوتا بیٹ ا یا اکلوتی بیٹی ہ و ت ومتوف ی کا مال اسے ملتا ہے اور اگر ب یٹے اور بیٹیاں وارث ہ وں تو مال کو یوں تقسیم کیا جاتا ہے ک ہ ہ ر ب یٹ ا بیٹی سے دگنا حص ہ پاتا ہے۔
2741 ۔ اگر متوف ی کے وارث فقط اس کا باپ اور اس ک ی ماں ہ وں تو مال ک ے ت ین حصے کئ ے جات ے ہیں جن میں سے دو حص ے باپ اور ا یک حصہ ماں کو ملتا ہے۔ ل یکن اگرمتوفی کے دو ب ھ ائ ی یا چار بہ ن یں یا ایک بھ ائ ی اور دو بہ ن یں ہ وں جو سب ک ے سب مسلمان، آزاد اور ایک باپ کی اولاد ہ وں خواہ ان کی ماں حقیقی ہ و یا سوتیلی ہ و اور کوئ ی بھی ماں حاملہ ن ہ ہ و تو اگرچ ہ و ہ متوف ی کے باپ اور ماں ک ے ہ وت ے ہ وئ ے ترک ہ ن ہیں پاتے ل یکن ان کے ہ ون ے ک ی وجہ س ے ماں کو مال چ ھٹ ا حص ہ ملتا ہے اور باق ی مال باپ کوملتا ہے۔
2742 ۔ جب متوف ی کے وارث فقط اس کا باپ، ماں اور ا یک بیٹی ہ و ل ہ ذا اگر اس ک ے گزشت ہ مسئل ے م یں بیان کردہ شرائط رک ھ ن ے وال ے دو پدر ی بھ ائ ی یا چار پدری بہ ن یں یا ایک پدری بھ ائ ی اور دو پدری بہ ن یں نہ ہ وں تو مال ک ے پانچ حص ے کئ ے جات ے ہیں۔ باپ اور ماں ان م یں سے ا یک ایک حصہ لیتے ہیں اور بیٹی تین حصے ل یتی ہے۔ اور اگر متوف ی کے سابق ہ ب یان کردہ شرائط وال ے دوپدر ی بھ ائ ی یا چار پدری بہ ن یں یا ایک پدری بھ ائ ی اور دو پدری بہ ن یں بھی ہ وں تو ا یک قول کے مطابق مال ک ے ۔ سابق ہ ترت یب کے مطابق ۔ پانچ حص ے کئ ے جائ یں گے اور ان افراد ک ے وجود س ے کو ئی اثر نہیں پڑ تا ل یکن (علماء کے ب یچ) مشہ ور یہ ہے ک ہ اس صورت م یں مال چھ حصوں م یں تقسیم ہ وگا ۔ اس م یں سے باپ اور ماں کو ا یک ایک حصہ اور ب یٹی کو تین حصے ملت ے ہیں اور جو ایک حصہ باق ی بچے گا اس ک ے پ ھ ر چار حص ے کئ ے جائ یں گے جس م یں سے ا یک حصہ باپ کو اور ت ین حصے ب یٹی کو ملتے ہیں۔ نت یجے کے طور پر متوف ی کے مال ک ے 24 حصے کئ ے جات ے ہیں جن میں سے 15 حصے ب یٹی کو، 5 حصے باپ کو اور 4 حصے ماں کو ملت ے ہیں چونکہ یہ حکم اشکال سے خال ی نہیں اس لئے ماں ک ے حص ے م یں 5 ۔ 1 اور 6 ۔ 1 میں جو فرق ہے اس م یں احتیاط کو ترک نہ ک یا جائے۔
2743 ۔ اگر متوف ی کے وا رث فقط اس کا باپ، ماں، اور ایک بیٹ ا ہ و تو مال ک ے چ ھ حص ے کئ ے جات ے ہیں جن میں سے باپ اور ماں کو ا یک ایک حصہ اور ب یٹے کو چار حصے ملت ے ہیں اور اگر متوفی کے (صرف) چند ب یٹے ہ وں یا (بصورت دیگر صرف) چند بیٹیاں ہ وں تو و ہ ان چار حصوں کو آپس م یں مساوی طور پر تقسیم کر لیتے ہیں اور اگر بیٹے بھی ہ وں اور ب یٹیاں بھی ہ وں تو ان چار حصوں کو اس طرح تقس یم کیا جاتا ہے ک ہ ہ ر ب یٹے کو ایک بیٹی سے دگنا حص ہ ملتا ہے۔
2744 ۔ اگر متوف ی کے وارث فقط باپ یا ماں اور ایک یا کئی بیٹے ہ وں تو مال ک ے چ ھ حص ے کئ ے جات ے ہیں جن میں سے ا یک حصہ باپ یا ماں کو اور پانچ حصے ب یٹے کو ملتے ہیں اور اگر کئی بیٹے ہ وں تو و ہ ان پانچ حصوں کو آپس م یں مساوی طور پر تقسیم کرلیتے ہیں۔
2745 ۔ اگر باپ یا ماں متوفی کے ب یٹ وں اور بیٹیوں کے سات ھ اس ک ے وارث ہ وں تو مال ک ے چ ھ حص ے کئ ے جات ے ہیں جن میں سے ا یک حصہ باپ یا ماں کو ملتا ہے اور باق ی حصوں کو یوں تقسیم کیا جاتا ہے ک ہ ہ ر ب یٹے کو بیٹی سے دگنا حص ہ ملتا ہے۔
2746 ۔ اگر متوف ی کے وارث فقط باپ یا ماں اور ایک بیٹی ہ وں تو مال ک ے چار حص ے کئ ے جات ے ہیں جن میں سے ا یک حصہ باپ یا ماں کو اور باقی تین حصے ب یٹی کو ملتے ہیں۔
2747 ۔ ا گر متوفی کے وارث فقط باپ یا ماں اور چند بیٹیاں ہ وں تو مال ک ے پانچ حص ے کئ ے جات ے ہیں ان میں سے ا یک حصہ باپ یا ماں کو ملتا ہے اور چار حص ے ب یٹیاں آپس میں مساوی طور پر تقسیم کر لیتی ہیں۔
2748 ۔ اگر متوف ی کی اولاد نہ ہ و تو اس ک ے ب یٹے کی اولاد ۔ خوا ہ و ہ ب یٹی ہی کیوں نہ ہ و ۔ متوف ی کے ب یٹے کا حصہ پات ی ہے اور ب یٹی کی اولاد ۔ خوا ہ و ہ ب یٹ ا ہی کیوں نہ ہ و ۔ متوف ی کی بیٹی کا حصہ پات ی ہے۔ مثلاً اگر متوف ی کا ایک نواسا (بیٹی کا بیٹ ا ) اور ایک پوتی (بیٹے کی بیٹی) ہ و تو مال ک ے ت ین حصے کئ ے جائ یں گے جن م یں سے ا یک حصہ نواس ے کو اور دو حص ے پوت ی کو ملیں گے۔
2749 ۔ جو لوگ رشت ہ دار ی کی بنا پر میراث پاتے ہیں ان کا دوسرا گروہ متوف ی کا دادا، دادی ، نانا، نانی، بھ ائ ی اور بہ ن یں ہیں اور اگر اس کے ب ھ ائ ی بہ ن یں نہ ہ وں تو ان ک ی اولاد میراث پاتی ہے۔
2750 ۔ اگر مت وفی کا وارث فقط ایک بھ ائ ی یا ایک بہ ن ہ و تو سارا مال اس کو ملتا ہے اور اگر کئ ی سگے ب ھ ائ ی یا کئی سگی بہ ن یں ہ وں تو مال ان م یں برابر برابر تقسیم ہ وجاتا ہے اور اگر سگ ے ب ھ ائ ی بھی ہ وں اور ب ہ ن یں بھی تو ہ ر ب ھ ائ ی کو بہ ن س ے دگنا حص ہ ملتا ہے مثلاً اگر متوف ی کے دو سگ ے ب ھ ائ ی اور ایک سگی بہ ن ہ و تو مال ک ے پانچ حص ے کئ ے جائ یں گے جن م یں سے ہ ر ب ھ ائ ی کو دو حصے مل یں گے اور ب ہ ن کو ا یک حصہ مل ے گا ۔
2751 ۔ اگر متوف ی کے سگ ے ب ہ ن ب ھ ائ ی موجود ہ وں تو پدر ی بھ ائ ی اور بہ ن یں جن کی ماں متوفی کی سوتیلی ماں ہ و م یراث پاتے اور اگر اس ک ے سگے ب ہ ن ب ھ ائ ی نہ ہ وں یا ایک پدری بہ ن ہ و تو سارا مال اس کو ملتا ہے اور اگر اس ک ے لئ ے کئ ی پدری بھ ائ ی یا کئی پدری بہ ن یں ہ وں تو مال ان کے درمیان مساوی طور پر تقسیم ہ وجاتا ہے اور اگر اس ک ے پدر ی بھ ائ ی بھی ہ وں اور پدر ی بہ ن یں بھی تو ہ ر ب ھ ائ ی کو بہ ن س ے دگنا حص ہ ملتا ہے۔
2752 ۔ اگر متوف ی کا وارث فقط ایک مادری بہ ن یا بھ ائ ی ہ و جو باپ ک ی طرف سے متوف ی کی سوتیلی بہ ن یا سوتیلا بھ ائ ی ہ و تو سارا مال اس ے ملتا ہے اور اگر چند مادر ی بھ ائ ی ہ وں یا چند مادری بہ ن یں ہ وں یا چند مادری بھ ائ ی اور بہ ن یں ہ وں تو مال ان کے درم یان مساوی طور پر تقسیم ہ وجاتا ہے۔
2753 ۔ اگر متوف ی کے سگ ے ب ھ ائ ی بہ ن یں اور پدری بھ ائ ی بہ ن یں اور ایک مادری بھ ائ ی یا ایک مادری بہ ن ہ و تو پدر ی بھ ائ ی بہ نوں کو ترک ہ ن ہیں ملتا اور مال کے چ ھ حص ے کئ ے جات ے ہیں جن میں سے ا یک حصہ مادر ی بھ ائ ی یا مادری بہ ن کو ملتا ہے اور باق ے حص ے سگ ے ب ھ ائ ی بہ نوں کوملت ے ہیں اور ہ ر ب ھ ائ ی دو بہ نوں ک ے برابر حص ہ پاتا ہے۔
2754 ۔ اگر متوف ی کے سگ ے ب ھ ائ ی بہ ن یں اور پدری بھ ائ ی بہ ن یں اور ایک مادری بھ ائ ی یا ایک مادری بہ ن ہ وں تو مال ک ے چ ھ حص ے کئ ے جات ے ہیں ان میں سے ا یک حصہ مادر ی بھ ائ ی یا مادری بہ ن کو ملتا ہے اور باق ی حصے پدر ی بہ ن ب ھ ائ یوں میں اس طرح تقسیم کئے جات ے ہیں کہ ہ ر ب ھ ائ ی کو بہ ن سے دگنا حص ہ ملتا ہے۔
2756 ۔ اگر متوف ی کے وارث فقط پدر ی بھ ائ ی بہ ن یں اور ایک مادری بھ ائ ی یا ایک مادری بہ ن ہ وں تو مال ک ے چ ھ حص ے کئ ے جات ے ہیں ان میں سے ا یک حصہ مادر ی بھ ائ ی یا مادری بہ ن کو ملتا ہے اور باق ی حصے پدر ی بہ ن ب ھ ائ یوں میں اس طرح تقسیم کئے جات ے ہیں کہ ہ ر ب ھ ائ ی کو بہ ن س ے دگنا حص ہ ملتا ہے۔
2756 ۔ اگر متوف ی کے وارث فقط پدر ی بھ ائ ی بہ ن یں اور چند مادری بھ ائ ی بہ ن یں ہ وں تو مال ک ے ت ین حصے کئ ے جات ے ہیں۔ ان م یں سے ا یک حصہ مادر ی بھ ائ ی بہ ن یں آپس میں برابر برابر تقسیم کرلیتے ہیں اور باقی دو حصے پدر ی بہ ن ب ھ ائ یوں کو اس طرح ملتے یں کہ ہ ر ب ھ ائ ی کا حصہ ب ہ ن س ے دگنا ہ وتا ہے۔
2757 ۔ اگر متوف ی کے وارث فقط اس ک ے ب ھ ائ ی بہ ن یں اور بیوی ہ وں تو ب یوی اپنا ترکہ اس تفص یل کے مطابق ل ے گ ی جو بعد میں بیان کی جائے گ ی اور بھ ائ ی بہ ن یں اپنا ترکہ اس طرح ل یں گے ج یسا کہ گذشت ہ مسائل م یں بتایا گیا ہے ن یز اگر کوئی عورت مر جائے اور اس ک ے وارث فقط اس ک ے بھ ائ ی بہ ن یں اور شوہ ر ہ وں تو نصف مال شو ہ ر کو مل ے گا اور ب ہ ن یں اور بھ ائ ی اس طریقے سے ترک ہ پائ یں گے جس کا ذکر گذشت ہ مسائل م یں کیا گیاہے لیکن بیوی یا شوہ ر ک ے ترک ہ پان ے ک ی وجہ س ے مادر ی بھ ائ ی بہ نوں ک ے حص ے م یں کوئی کمی نہیں ہ وگ ی تاہ م سگ ے ب ھ ائ ی بہ نوں یا پدری بھ ائ ی بہ نوں ک ے حص ے م یں کمی ہ وگ ی مثلاً اگر کسی متوفیہ کے وارث اس کا شو ہ ر اور مادر ی بہ ن ب ھ ائ ی اور سگے ب ہ ن ب ھ ائ ی ہ وں تو نصف مال شو ہ ر کو مل ے گا اور اصل مال ک ے ت ین حصوں میں سے ا یک حصہ مادر ی بہ ن ب ھ ائ یوں کو ملے گا اور جو کچ ھ بچ ے و ہ سگ ے ب ہ ن ب ھ ائ یوں کا مال ہ وا ۔ پس اگر ا س کا کل مال چھ روپ ے ہ و تو ت ین روپے شو ہ ر کو اور دو روپ ے مادر ی بہ ن ب ھ ائ یوں کو اور ایک روپیہ سگے ب ہ ن ب ھ ائ یوں کو ملے گا ۔
2758 ۔ اگر متوف ی کے ب ھ ائ ی بہ ن یں نہ ہ وں تو ان ک ے ترک ہ کا حص ہ ان ک ی (یعنی بھ ائ ی بہ نوں ک ی) اولاد کو ملے گا اور مادر ی بھ ائ ی بہ نوں ک ی اولاد کا حصہ ان ک ے ماب ین برابر تقسیم ہ وتا ہے اور جو حص ہ پدر ی بھ ائ ی بہ نوں ک ی اولاد یا سگے ب ھ ائ ی بہنوں کی اولاد کو ملتا ہے اس ک ے ب ارے میں مشہ ور ہے ک ہ ہ ر ل ڑ کا دو ل ڑ ک یوں کے برابر حص ہ پاتا ہے ل یکن کچھ بع ید نہیں کہ ان ک ے ماب ین بھی ترکہ برابر برابر تقس یم ہ و اور احوط یہ ہے ک ہ و ہ مصالحت ک ی جانب رجوع کریں۔
2759 ۔ اگر متوف ی کا وارث فقط دادا یا فقط دادی یا فقط نانا یا فقط نانی ہ و تو متوف ی کا تمام مال اسے مل ے گا اور اگر متوف ی کا دادا یا نانا موجود ہ و تو اس ک ے باپ ( یعنی متوفی کے پردادا یا پرنانا) کو ترکہ ن ہیں ملتا اور اگر متوفی کے وارث فقط اس ک ے دادا اور داد ی ہ وں تو مال ک ے ت ین حصے کئ ے جات ے ہیں جن میں سے دو حص ے دادا کو اور ا یک حصہ داد ی کو ملتا ہے اور اگر و ہ نانا اور نان ی ہ وں تو و ہ مال کو برابر برابر تقس یم کر لیتے ہیں۔
2760 ۔ اگر متوف ی کے وارث ا یک دادا یا دادی اور ایک نانا ہ وں تو مال ک ے ت ین حصے کئ ے جائ یں گے جن م یں سے دو حص ے دادا یا دادی کو ملیں گے اور ا یک حصہ نانا یا نانی کو ملے گا ۔
2761 ۔ اگر متوف ی کے وارث دادا اور داد ی اور نانا اور نانی ہ وں تو مال ک ے ت ین حصے کئ ے جات ے ہیں جن میں سے ا یک حصہ نانا اور نان ی آپس میں برابر برابر تقسیم کر لیتے ہیں اور باقی دو حصے دادا اور داد ی کو ملتے ہیں جن میں دادا کا حصہ دو ت ہ ائ ی ہ وتا ہے۔
2762 ۔ اگر متوف ی کے وارث فقط اس ک ی بیوی اور دادا، دادی اور نانا، نانی ہ وں تو ب یوی اپنا حصہ اس تفص یل کے مطابق ل یتی ہے جو بعد م یں بیان ہ وگ ی اور اصل مال کے ت ین حصوں میں سے ا یک حصہ نانا اور نان ی کو ملتا ہے جو و ہ آپس م یں برابر برابر تقسیم کرتے ہیں اور باقی ماندہ (یعنی بیوی اور نانا ،نانی کے بعد جو کچ ھ بچ ے ) دادا اور داد ی کو ملتا ہے جس م یں سے دادا، داد ی کے مقابل ے م یں دگنا لیتا ہے۔ اور اگر متوف ی کے وارث اس کا شو ہ ر اور دادا یا نانا اور دادی یا نانی ہ وں تو شو ہ ر کو نصف مال ملتا ہے اور دادا، نانا اور داد ی نانی ان احکام کے مطابق ترک ہ پات ے ہیں جن کا ذکر گزشتہ مسائل م یں ہ وچکا ہے۔
2763 ۔ ب ھ ائ ی ، بہ ن، ب ھ ائ یوں، بہ نوں ک ے سات ھ دادا، داد ی یا نانا، نانی اور داداوں، دادیوں یا ناناوں، نانیوں کے اجتماع ک ی چند صورتیں ہیں :
اول : نانا یا نانی اور بھ ائ ی یا بہ ن سب ماں ک ی طرف سے ہ وں ۔ اس صورت م یں مال ان کے درم یان مساوی طور پر تقسیم ہ وجاتا ہے اگرچ ہ و ہ مذکر اور مونث ک ی حیثیت سے مختلف ہ وں ۔
دوم : دادا یا دادی کے سات ھ ب ھ ائ ی یا بہ ن باپ ک ی طرف سے ہ وں ۔ اس صورت م یں بھی ان کے ماب ین مال مساوی طور پر تقسیم ہ وتا ہے بشرط یکہ وہ سب مرد ہ وں یا سب عورتیں ہ وں اور اگر مرد اور عورت یں ہ وں تو پ ھ ر ہ ر مرد ہ ر عورت ک ے مقابل ے م یں دگنا حصہ ل یتا ہے۔
سوم: دادا یا دادی کے سات ھ ب ھ ائ ی یا بہ ن ماں اور باپ ک ی طرف سے ہ وں اس صورت م یں بھی وہی حکم ہے جو گزشت ہ صورت م یں ہے اور یہ جاننا چاہے ک ہ اگر متوف ی کے پدر ی بھ ائ ی یا بہ ن، سگ ے ب ھ ائ ی یا بہ ن ک ے سات ھ جمع ہ و جائ ے تو تن ہ ا پدر ی بھ ائ ی یا بہ ن م یراث نہیں پاتے (بلک ہ سب ھی پاتے ہیں)۔
چہ ارم : دادے ، داد یاں اور نانے ، نان یاں ہ وں ۔ خوا ہ و ہ سب ک ے سب مرد ہ وں یا عورتیں ہ وں یا مختلف ہ وں اور اس ی طرح سگے ب ھ ائ ی اور بہ ن یں ہ وں ۔ اس صورت م یں جو مادری رشتے دار ب ھ ائ ی، بہ ن اور نان ے ، نان یاں ہ وں ترک ے م یں ان کا ایک تہ ائ ی حصہ ہے اور ان ک ے درم یان برابر تقسیم ہ وجاتا ہے خوا ہ و ہ مرد اور عورت ک ی حیثیت سے ا یک دوسرے س ے مختلف ہ وں اور ان م یں سے جو پدر ی رشتہ دار ہ وں ان کا حص ہ دو ت ہ ائ ی ہے جس م یں سے ہ ر مرد کو ہ ر عورت ک ے مقابل ے م یں دگنا ملتا ہے اور اگر ان م یں کوئی فرق نہ ہ و اور سب مرد یا سب عورتیں ہ وں تو پ ھ ر و ہ ترک ہ ان م یں برابر برابر تقسیم ہ وجاتا ہے۔
پنجم: دادا یا دادی ماں کی طرف سے ب ھ ائ ی، بہ ن ک ے سات ھ جمع ہ وجائ یں اس صورت میں اگر بہ ن یا بھ ائ ی بالفرض ایک ہ و تو اس ے مال کا چ ھٹ ا حص ہ ملتا ہے اور اگر کئ ی ہ وں تو ت یسرا حصہ ان ک ے درم یان برابر برابر تقسیم ہ وجاتا ہے اور جو باق ی بچے و ہ دادا یا دادی کا مال ہے اور اگ ر دادا اور دادی دونوں میں ہ وں تو دادا کو داد ی کے مقابل ے م یں دگنا حصہ ملتا ہے۔
ششم:نانا یا نانی باپ کی طرف سے ب ھ ائ ی کے سات ھ جمع ہ و جائ یں۔ اس صورت م یں نانا یا نانی کا تیسرا حصہ ہے خوا ہ ان م یں سے ا یک ہی ہ و اور ت ہ ائ ی بھ ائ ی کا حصہ ہے خوا ہ و ہ ب ھی ایک ہی ہ و اور اگر اس نانا یا نانی کے سات ھ باپ ک ی طرف سے ب ہ ن ہ و اور و ہ ا یک ہی ہ و تو و ہ آد ھ ا ح صہ لیتی ہے اور ا گر کئی بہ ن یں ہ وں تو دو ت ہ ائ ی لیتی ہیں اور ہ ر صورت م یں نانا یا نانی کا حصہ ا یک تہ ائ ی ہی ہے اور اگر ب ہ ن ا یک ہی ہ و تو سب ک ے حص ے د ے کر ترک ے کا چ ھٹ ا حص ہ بچ جاتا ہے اور اس ک ے بار ے م یں احتیاط واجب مصالحت میں ہے۔
ہ فتم : دادا یا دادیاں ہ وں اور کچ ھ نانا نان یاں ہ وں اور ان ک ے سات ھ پدر ی بھ ائ ی یا بہ ن ہ و خوا ہ و ہ ا یک ہی ہ و یا کئی ہ وں اس صورت م یں نانا یا نانی کا حصہ ا یک تہ ائ ی ہے اور اگر و ہ ز یادہ ہ وں تو ی ان کے ماب ین مساوی طور پر تقسیم ہ وجاتا ہے خوا ہ و ہ مرد اور عورت ک ی حیثیت سے مختلف ہی ہ وں اور باق ی ماندہ دو ت ہ ائ ی دادے یا دادی اور پدری بھ ائ ی یا بہ ن کا ہے اور اگر و ہ مرد اور عورت ک ی حیثیت سے مختلف ہ وں تو فرق ک ے سات ھ اور اگر مختلف ن ہ ہ وں تو برابر ان م یں تقسیم ہ وجاتا ہے۔ اور اگر ان دادوں، نانوں یا دادیوں نانیوں کے سات ھ مادر ی بھ ائ ی یا بہ ن ہ وں تو نانا یا نانی کا حصہ مادر ی بھ ائ ی یا بہ ن ک ے سات ھ ا یک تہ ائ ی ہے جو ان ک ے درم یان برابر برابر تقسیم ہ وجاتا ہے اگرچ ہ و ہ ب ہ ح یثیت مرد اور عورت ایک دوسرے س ے مختلف ہ وں اور دادا یا دادی کا حصہ دو ت ہ ائ ی ہے جو ان ک ے ماب ین اختلاف کی صورت میں (یعنی بہ ح یثیت مرد اور عورت اختلاف کی صورت میں) فرق کے سات ھ ورن ہ برابر برابر تقس یم ہ وجاتا ہے۔
ہ شتم : بھ ائ ی اور بہ ن یں ہ وں جن م یں سے کچ ھ پدر ی اور کچھ مادر ی ہ وں اور ان ک ے سات ھ دادا یا دادی ہ وں ۔ اس صورت م یں اگر مادری بھ ائ ی یا بہ ن ا یک ہ و تو ترک ے م یں اس کا چھ ا ٹ ا حص ہ ہے اور اگر ا یک سے ز یادہ ہ وں تو ت یسرا حصہ ہے جو ک ہ ان ک ے ماب ین برابر برابر تقسیم ہ وجاتا ہے اور باقی ترکہ پدر ی بھ ائ ی یا بہ ن اور داد ی یا دادی کا ہے جو ان ک ے بح یثیت مرد اور عورت مختلف نہ ہ ون ے ک ی صورت میں ان کے ماب ین برابر برابر تقسیم ہ وجاتا ہے اور مختلف ہ ون ے ک ی صورت میں فرق سے تقس یم ہ وتا ہے اور اگر ان ب ھ ائ یوں یا بہ نوں ک ے سات ھ نانا یا نانی ہ وں تو نا نا یا نانی اور مادری بھ ائ یوں اور بہ نوں کو ملا کر سب کا حص ہ ا یک تہ ائ ی ہ وتا ہے اور ان ک ے ماب ین برابر تقسیم ہ وجاتا ہے اور پدر ی بھ ائ یوں یا بہ نوں کا حص ہ دو ت ہ ائ ی ہ وتا ہے جو ان م یں بہ ح یثیت مرد اور عورت اختلاف کی صورت میں فرق سے اور اختلاف ن ہ ہ ون ے ک ی صورت میں برابر برابر تقسیم ہ وجاتا ہے۔
2764 ۔ اگر متوف ی کے ب ھ ائ ی یا بہ ن یں ہ وں تو ب ھ ائ یوں یا بہ نوں ک ی اولاد کی میراث نہیں ملتی لیکن اگر بھ ائ ی کی اولاد اور بہ ن ک ی اولاد کا میراث پانا بھ ائ یوں اور بہ نوں ک ی میراث سے مزاحم ن ہ ہ و تو پ ھ ر اس حکم کا اطلاق ن ہیں ہ وتا ۔ مثلاً اگر متوف ی کا پدری بھ ائ ی اور نانا ہ و تو پدری بھ ائ کو م یراث کے دو حص ہ اور نانا کو ا یک تہ ائ ی حصہ مل ے گا اور اس صورت م یں اگر متوفی کے مادر ی بھ ائ ی کا بیٹ ا بھی ہ و تو ب ھ ائ ی کا بیٹ ا نانا کے سات ھ ا یک تہ ا ئی میں شریک ہ وتا ہے۔
2765 ۔ م یراث پانے والوں ک ے ت یسرے گروہ م یں چچا، پھ وپ ھی، ماموں اور خالہ اور ان ک ی اولاد ہیں اور جیسا کہ ب یان ہ وچکا ہے اگر پ ہ ل ے اور دوسر ے گرو ہ م یں سے کوئ ی وارث موجود نہ ہ و تو پ ھ ر یہ لوگ ترکپ پاتے ہیں۔
2766 ۔ اگر متوف ی کا وارث فقط ایک چچا یا ایک پھ وپ ھی ہ و تو خوا ہ و ہ سگا ہ و یعنی وہ اور متوف ی ایک ماں باپ کی اولاد ہ وں یا پدری ہ و یا مادری ہ و سارا مال اس ے ملتا ہے۔ اور اگر چند چچا یا چند پھ وپ ھیاں ہ وں اور و ہ سب سگ ے یا سب پدری ہ وں تو ان ک ے درم یان مال برابر تقسیم ہ وگا ۔ اور اگر چ چا اور پھ وپ ھی دونوں ہ وں اور سب سگ ے ہ وں یا سب پدری ہ وں تو بنابر اقو ی چچا کو پھ وپ ھی سے دگنا حص ہ ملتا ہے مثلاً اگر دو چچا اور ا یک پھ وپ ھی متوفی کے وارث ہ وں تو مال پانچ حصوں م یں تقسیم کیا جاتا ہے جن م یں سے ا یک حصہ پوپ ھی کو ملتا ہے اور باق ی ماندہ چار حصوں کو دونوں چچا آپس میں برابر برابر تقسیم کر لیں گے۔
2767 ۔ اگر متوف ی کے وارث فقط کچ ھ مادر ی چچا یا کچھ مادر ی پھ وپ ھیاں ہ وں تو متوف ی کا مال ان کے ماب ین مساوی طور پر تقسیم ہ وگا اور اگر وارث مادر ی چچا اور مادری پھ وپ ھی ہ و تو چچا کو پ ھ وپ ھی سے دو گنا ترک ہ مل ے گا اگرچہ احت یاط یہ ہے ک ہ چچا کو جتنا ز یادہ حصہ ملا ہے اس پر باہ م تصف یہ کریں۔
2768 ۔ اگر متوف ی کے وارث چچا اور پ ھ وپ ھیاں ہ وں اور ان م یں سے کچ ھ پدر ی اور کچھ مادر ی اور کچھ سگ ے ہ وں تو پدر ی چچاوں اور پھ وپ ھیوں کو ترکہ ن ہیں ملتا اور اقوی یہ ہے ک ہ اگر متوف ی کا ایک مادری چچا یا ایک مادری پھ وپ ھی ہ و تو مال ک ے چ ھ حص ے کئ ے جات ے ہیں جن میں سے ا یک حصہ مادری چچا یا پھ وپ ھی کو دیا جاتا ہے اور باق ی حصے سگ ے چچاوں اور پ ھ وپ ھیوں کو ملتے ہیں اور بالفرض اگر سگے چچا اور پ ھ وپ ھیاں نہ ہ وں تو و ہ حص ے پدر ی چچاوں اور پھ وپ ھیوں کو ملتے ہیں۔ ا ور اگر متوفی کے مادر ی چچا اور مادری پھ وپ ھیاں بھی ہ وں تو مال ک ے ت ین حصے کئ ے جات ے ہیں جن میں سے دو حص ے سگ ے چچاوں اور پ ھ وپ ھیوں کو ملتے ہیں اور بالفرض اگر سگے چچا اور پ ھ وپ ھیاں نہ ہ وں تو پدر ی چچا اور پدری پھ وپ ھی کو ترکہ ملتا ہے اور ا یک حصہ مادر ی چچا اور پھ وپ ھی کو ملتا ہے اور مش ہ ور یہ ہے ک ہ مادر ی چچا اور مادری پھ وپ ھی کا حصہ ان ک ے ماب ین برابر برابر تقسیم ہ وگا ل یکن بعید نہیں کہ چچا کو پ ھ وپ ھی سے دگنا حص ہ مل ے اگرچ ہ احت یاط اس میں ہے ک ہ با ہ م تصف یہ کریں۔
2769 ۔ اگر متوف ی کا وارث فقط ایک ماموں یا ایک خالہ ہ و تو سارا مال ا سے ملتا ہے۔ اور اگر کئ ی ماموں بھی ہ وں اور خالائ یں بھی ہ وں اور سب سگ ے یا پدری یا مادری ہ وں تو بع ید نہیں کہ ماموں کو خال ہ س ے دگنا ترک ہ مل ے ل یکن برابر، برابر ملنے کا احتمال ب ھی ہے ل ہ ذا احت یاط کو ترک نہیں کرنا چاہ ئ ے۔
2770 ۔ اگر متوف ی کا وارث فقط ایک یا چند مادری ماموں اور خالائیں اور سگے ماموں اور خالائ یں ہ وں اور پدر ی ماموں اور خالائیں ہ وں تو پدر ی مامووں اور خالاوں کو ترکہ ن ہ ملنا محل اشکال ہے ب ہ ر حال بع ید نہیں کہ ماموں کو خال ہ س ے دگنا حص ہ مل ے ل یکن احتیاط باہ م رضامند ی سے معاملہ کرنا چا ہ ئ ے۔
2771 ۔ اگر متوف ی کے وار ث ایک یا چند ماموں یا ایک چند خالائیں یا ماموں اور خالہ اور ا یک یا چند چچا یا ایک یا چند پھ وپ ھیاں یا چچا اور پھ وپ ھی ہ وں تو مال ت ین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان م یں سے ا یک حصہ ماموں یا خالہ کو یا دونوں کو ملتا ہے اور باق ی دو حصے چچا یا پھ وپ ھی کو یا دونوں کوملتے ہیں۔
2772 ۔ اگر متوف ی کے وارث ا یک ماموں یا ایک خالہ اور چچا اور پ ھ وپ ھی ہ وں تو اگر چچا اور پ ھ وپ ھی سگے ہ وں یا پدری ہ وں تو مال ک ے ت ین حصے کئ ے جات ے ہیں ان میں سے ا یک حصہ ماموں یا خالہ کو ملتا ہے ، اور اقو ی کی بنا پر باقی سے دو حص ے چچا کو اور ا یک حصہ پ ھ وپ ھی کو ملتا ہے ل ہ ذا مال ک ے نو حص ے ہ وں گ ے جن م یں سے ت ین حصے ماموں یا خالہ کو اور چار حص ے چچا کو اور دو حص ے پ ھ وپ ھی کو ملیں گے۔
2773 ۔ اگر متوف ی کے وارث ا یک ماموں یا ایک خالہ اور ا یک مادری چچا یا ایک مادری پھ وپ ھی اور سگے یا پدری چچا اور پھ وپ ھیاں ہ وں تو مال کو ت ین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن م یں سے ا یک حصہ ماموں یا خالہ کو د یا جاتا ہے۔ اور باق ی دو حصوں کو چچا اور پھ وپ ھی آپس میں تقسیم کریں گے اور بع ید نہیں کہ چچا کو پ ھ وپ ھی سے دگنا حص ہ مل ے اگرچ ہ احت یاط کا خیال رکھ نا ب ہ تر ہے۔
2774 ۔ اگر متوف ی کے وارث چند ماموں یا چند خالائیں ہ وں جو سگ ے یا پدری یا مادری ہ وں اور اس ک ے چچا اور پ ھ وپ ھیاں بھی ہ وں تو مال ک ے ت ین حصے کئ ے جات ے ہیں۔ ان م یں سے دو حص ے اس دستور ک ے مطابق جو ب یان ہ وچکا ہے چچاوں اور پ ھ وپ ھیوں کے ماب ین تقسیم ہ وجات ے ہیں اور باقی ایک حصہ ماموں اور خالائیں جیسا کہ مسئل ہ 2770 میں گزر چکا ہے آپس م یں تقسیم کریں گے۔
2775 ۔ اگر متوف ی کے وارث مادر ی ماموں یا خالائیں اور چند سگے ماموں اور خالائ یں ہ وں یا فقط پدری ماموں اور خالائیں اور چچا و پھ وپ ھی ہ وں تو مال ک ے ت ین حصے کئ ے جات ے ہیں۔ ان م یں سے دو حص ے اس دستور ک ے مطابق جو ب یان ہ وچکا ہے چچا اور پ ھ وپ ھی آپس میں تقسیم کریں گے اور بع ید نہیں کہ باق یماندہ تیسرے حصے کو تقس یم میں باقی ورثا کے حص ے برابر ہ وں ۔
2776 ۔ اگر متوف ی کے چچا اور پ ھ وپ ھیاں اور ماموں اور خالائیں نہ ہ وں تو مال ک ی جو مقدار چچاوں اور پھ وپ ھیوں کو ملنی چاہ ئ ے و ہ ان ک ی اولاد کو اور جو مقدار مامووں اور خالاوں کو ملنی چاہ ئ ے و ہ ان ک ی اولاد کو دی جاتی ہے۔
2777 ۔ اگر متوف ی کے وارث اس ک ے باپ ک ے چچا، پ ھ وپ ھیاں، ماموں اور خالائیں اور اس کی ماں کے چچا، پ ھ وپ ھیاں، ماموں اور خالائیں ہ وں تو مال ک ے ت ین حصے کئ ے جات ے ہیں۔ ان م یں سے ا یک حصہ متوف ی کی ماں کے چچاوں، پ ھ وپ ھیاں، مامووں اور خالاوں کو بطور میراث ملے گا ۔ اور مش ہ ور قول کی بنا پر مال ان کے درم یان برابر، برابر تقسیم کر دیا جائے گا ل یکن احتیاط کے طور پر مصالحت کا خ یال رکھ نا چا ہ ئ ے۔ اور باق ی دو حصوں کے ت ین حصے کئ ے جات ے ہیں۔ ان م یں سے ا یک حصہ متوف ی کے باپ ک ے ماموں اور خالائ یں (یعنی ننھیالی رشتے دار) اس ی کیفیت کے مطابق آپس م یں برابر، برابر بانٹ ل یتے ہیں اور باقی دو حصے ب ھی اسی کیفیت کے مطابق متوف ی کے باپ ک ے چچاوں اور پ ھ وپ ھیوں (یعنی ددھیالی رشتے داروں) کو ملت ے ہیں۔
2778 ۔ اگر کوئ ی عورت بے اولاد مرجائ ے تو اس ک ے سار ے مال کا نصف حص ہ شو ہ ر کو اور باق ی ماندہ دوسر ے ورثاء کو ملتا ہے اور اگر کس ی عورت کو پہ ل ے شو ہ ر س ے یا کسی اور شوہ ر س ے اولاد ہ و تو سار ے مال کا چوت ھ ائ ی حصہ شو ہ ر کو اور باقی ماندہ دوسر ے ورثاء کو ملتا ہے۔
2779 ۔ اگر کوئ ی آدمی مرجائے اور اس ک ی کوئی اولاد نہ ہ و تو اس ک ے مال کا چ ھ وت ھ ائ ی حصہ اس ک ی بیوی کو اور باقی دوسرے ورثاء کو ملتا ہے۔ اور اگر اس آدم ی کو اس بیوی سے یا کسی اور بیوی سے اولاد ہ و تو مال کا آ ٹھ واں حص ہ ب یوی کو اور باقی دوسرے ورثاء کو ملتا ہے۔ اور گ ھ ر ک ی زمین، باغ، کھیت اور دوسری زمینوں میں سے عورت ن ہ خود زم ین بطور میراث حاصل کرتی ہے اور ن ہ ہی اس کی قیمت میں سے کوئ ی ترکہ پات ی ہے ن یز وہ گ ھ ر ک ی فضا میں قائم چیزوں مثلاً عمارت اور درختوں سے ترک ہ ن ہیں پاتی لیکن ان کی قیمت کی صورت میں ترکہ پات ی ہے۔ اور ج و درخت، کھیت اور عمارتیں باغ کی زمین، مزروعہ زم ین اور دوسری زمینوں میں ہ وں اور ان کا ب ھی یہی حکم ہے۔
2780 ۔ جن چ یزوں میں سے عورت ترک ہ ن ہیں پاتی مثلاً رہ ائش ی مکان کی زمین اگر وہ ان م یں تصرف کرنا چاہے تو ضرور ی ہے ک ہ دوسر ے ورثاء س ے اجازت ل ے اور ورثاء جب تک عورت کا حص ہ ن ہ د ے د یں ان کے لئ ے جائز ن ہیں ہے ک ہ اس ک ی اجازت کے بغ یر ان چیزوں میں مثلاً عمارتوں اور درختوں میں تصرف کریں ان کی قیمت سے و ہ ترک ہ پات ی ہے۔
2781 ۔ اگر عمارت اور درخت وغ یرہ کی قیمت لگانا مقصود ہ و تو ج یسا کہ ق یمت لگانے والوں کا معمول ہ وتا ہے ک ہ جس زم ین میں وہ ہیں اس کی خصوصیت کو پیش نظر رکھے بغ یر ان کا حساب کریں کہ ان ک ی کتنی قیمت ہے ، ن ہ ک ہ ان ہیں زمین سے اک ھڑے ہ وئ ے فرض کرک ے ان ک ی قیمت لگائیں اور نہ ہی ان کی قیمت کا حساب اس طرح کریں کہ و ہ بغ یر کرائے ک ے اس زم ین میں اسی حالت میں باقی رہیں یہ اں تک کہ اج ڑ جائ یں۔
2782 ۔ ن ہ روں کا پان ی بہ ن ے ک ی جگہ اور اس ی طرح کی دوسری جگہ زم ین کا حکم رکھ ت ی ہے اور ا ینٹیں اور دوسری چیزیں جو اس میں لگائی گئی ہ وں اور و ہ عمارت ک ے حکم م یں ہیں۔
2783 ۔ اگر متوف ی کی ایک سے ز یادہ بیویاں ہ وں ل یکن اولاد کوئی نہ تو مال کا چوت ھ ا حص ہ اور اگر اولاد ہ و تو مال کا آ ٹھ واں حص ہ اس تفص یل کے مطابق جس کا ب یان ہ وچکا ہے سب ب یویوں میں مساوی طور پر تقسیم ہ وتا ہے خوا ہ شو ہ ر ن ے ان سب ک ے سات ھ یا ان میں سے بعض ک ے سات ھ ہ م بس تری نہ ب ھی کی ہ و ۔ ل یکن اگر اس نے ا یک ایسے مرض کی حالت میں جس مرض سے اس ک ی موت واقع ہ وئ ی ہے کس ی عورت سے نکاح ک یا ہ و اور اس س ے ہ مبستر ی نہ ک ی ہ و تو و ہ عورت اس س ے ترک ہ ن ہیں پاتی اور وہ م ہ ر کا حق ب ھی نہیں رکھ ت ی۔
2784 ۔ اگر کوئ ی عورت مرض کی حالت میں کسی مرد سے شاد ی کرے اور اس ی مرض میں مرجائے تو خوا ہ مرد ن ے اس س ے ہ م بستر ی نہ ب ھی کی ہ و و ہ اس ک ے ترک ے م یں حصے دار ہے۔
2785 ۔ اگر عورت کو اس ترت یب سے رجع ی طلاق دی جائے جس کا ذکر طلاق ک ے احکام م یں کیا جاچکا ہے اور و ہ عدت ک ے دوران مرجائ ے تو شو ہ ر اس س ے ترک ہ پاتا ہے۔ اس ی طرح اگر شوہ ر اس عدت ک ے دورا ن فوت ہ وجائ ے تو ب یوی اس سے تک ہ پات ی ہے ل یکن عدت گزرنے ک ے بعد یا بائن طلاق کی عدت کے دوران ان میں سے کوئ ی ایک مرجائے تو دوسرا اس س ے ترک ہ ن ہیں پاتا۔
2786 ۔ اگر شو ہ ر مرض ک ی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے د ے اور بار ہ قمر ی مہینے گزرنے س ے پ ہ ل ے مر جائ ے تو عورت ت ین شرطیں پوری کرنے پر اس ک ی میراث سے ترک ہ پات ی ہے :
1 ۔ عورت ن ے اس مدت م یں دوسرا شوہ ر ن ہ ک یا ہ و اور اگر دوسرا شو ہ ر ک یا ہ و تو اس ے م یراث نہیں ملے گ ی اگرچہ احت یاط یہ ہے ک ہ صلح کرل یں (یعنی متوفی کے ورثاء عورت س ے مصالحت کرل یں)۔
2 ۔ طلاق عورت ک ی مرضی اور درخواست پر نہ ہ وئ ی ہ و ۔ ورن ہ اس ے م یراث نہیں ملے گ ی خواہ طلاق حاصل کرن ے ک ے لئ ے اس ن ے اپن ے شو ہ ر کو کوئ ی چیز دی ہ و یا نہ د ی ہ و ۔
3 ۔ شو ہ ر ن ے جس مرض م یں عورت کو طلاق دی ہ و اس مرح ک ے دوران اس مرض ک ی وجہ س ے یا کسی اور وجہ س ے مرگ یا ہ و ۔ ل ہ ذا اگر و ہ اس مرض س ے شفا یاب ہ وجائ ے اور کس ی اور وجہ س ے مرجائ ے تو عورت اس س ے م یراث نہیں پاتی۔
2787 ۔ جو کپ ڑے مرد ن ے اپن ی بیوی کو پہ نن ے ک ے لئ ے فرا ہ م کئ ے ہ وں اگرچ ہ و ہ ان کپ ڑ وں کو پ ہ ن چک ی ہ و پ ھ ر ب ھی شوہ ر ک ے مرن ے ک ے بعد و ہ شو ہ ر ک ے مال کا حص ہ ہ وں گ ے۔
2788 ۔ متوف ی کا قرآن مجید، انگوٹھی، تلوار اور جو کپڑے و ہ پ ہ ن چکا ہ و و ہ ب ڑے ب یٹے کا مال ہے اور اگر پ ہ ل ی تین چیزوں میں سے متوف ی نے کوئ ی چیز ایک سے ز یادہ چھ و ڑی ہ وں مثلاً اس ن ے قرآن مج ید کے دو نسخ ے یا دو انگوٹھیاں چھ و ڑی ہ وں تو احت یاط واجب یہ ہے ک ہ اس کا ب ڑ ا ب یٹ ا ان کے ب ارے م یں دوسرے ورثاء س ے مصالحت کر ے اور ان چار چ یزوں کے سات ھ رحل، بندوق، خنجر اور ج یسے دوسرے ہ ت ھیاروں کو بھی ملادیں تو "وجہ " س ے خال ی نہیں لیکن احتیاط واجب یہ ہے ک ہ ب ڑ ا ب یٹ ا ان چیزوں سے متعلق دوسر ے ورثاء س ے مصالحت کر ے۔
2789 ۔ اگر کس ی متوفی کے ب ڑے ب یٹے ایک سے ز یادہ ہ وں مثلاً دو ب یویوں سے دو ب یٹے بیک وقت پیدا ہ وں تو جن چ یزوں کا ذکر کیا جاچکا ہے ان ہیں برابر برابر آپس میں تقسیم کریں۔
2790 ۔ اگر متوف ی مقروض ہ و تو اگر اس کا قرض اس ک ے مال ک ے برابر یا اس سے ز یادہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ب ڑ ا ب یٹ ا اس مال سے ب ھی اس کا قرض ادا کرے جو اس ک ی ملکیت ہے اور جن کا سابق ہ مسئل ے م یں ذکر کیا گیا ہے یا اس کی قیمت کے برابر اپن ے مال س ے د ے۔ اور اگر متوف ی کا قرض اس کے مال س ے کم ہ و اور ذکر شد ہ چند چ یزوں کے علاو ہ جو باق ی مال اسے م یراث میں مل ہ و اگر و ہ ب ھی اس کا قرض ادا کرنے ک ے لئ ے کاف ی نہ ہ و تو ضرور ی ہے ک ہ ب ڑ ا ب یٹ ا ان چیزوں سے یا اپنے مال س ے اس کا قرض د ے۔ اور اگر باق ی مال قرض ادا کرنے ک ے لئ ے کاف ی ہ و تب ب ھی احتیاط لازم یہ ہے ک ہ ب ڑ ا ب یٹ ا جیسے کہ پ ہ ل ے بتا یا گیا ہے قرض ادا کرن ے م یں شرکت کرے مثلاً اگر متوف ی کا تمام مال ساٹھ روپ ے کا ہ و اور اس میں سے ب یس روپے ک ی وہ چ یزیں ہ وں جو ب ڑے ب یٹے کا مال ہیں اور اس پر تیس روپے قرض ہ و تو ب ڑے ب یٹے کو چاہ ئ ے ک ہ ان چ یزوں میں سے دس روپ ے متوف ی کے قرض ک ے سلسل ے م یں دے۔
2791 ۔ مسلمان کافر س ے ترک ہ پاتا ہے ل یکن کافر خواہ مسلمان متوف ی کا باپ یا بیٹ ا ہی کیوں نہ ہ و اس س ے ترک ہ ن ہیں پاتا۔
2793 ۔ جب کس ی متوفی کے ورثاء ک ہ تقس یم کرنا چاہیں تو وہ بچ ہ جو اب ھی ماں کے پ یٹ میں ہ و اور اگر زند ہ پ یدا ہ و تو م یراث کا حق دارہ وگا اس صورت م یں جب کہ ا یک سے ز یادہ بچوں کے پ یدا ہ ون ے کا احتمال ن ہ ہ و اور اطم ینان نہ ہ و ک ہ و ہ بچ ہ ل ڑ ک ی ہے تو احت یاط کی بنا پر ایک لڑ ک ے کا حصہ عل یحدہ کر دیں اور جو مال اس سے ز یادہ ہ و و ہ آپس م یں تقسیم کرلیں بلکہ اگر ا یک سے ز یادہ بچے ہ ون ے کا قو ی احتمال ہ و مثلاً عورت ک ے پ یٹ میں دو یا تین بچے ہ ون ے کا احتمال ہ و تو احت یاط کی بنا پر ضروری ہے ک ہ جن بچوں ک ے پ یداہ ون ے کا احتمال ہ و ان ک ے حص ے عل یحدہ کریں مثلاً اگر ایک لڑ ک ے یا ایک لڑ ک ی کی ولادت ہ و تو زائد ترک ے کو ورثاء آپس م یں تقسیم کرلیں۔
چند فِقہی اصطلاحات
(جو اس کتاب میں استعمال ہ وئ ی ہیں)
احتیاط وہ طر یقہ عمل جس سے "عمل" ک ے مطابق واقع ہ ہ ون ے کا یقین حاصل ہ وجائ ے۔
احتیاط لازم احتیاط واجب۔ د یکھ ئ ے لفظ "لازم"۔
احتیاط مستحب فتوے ک ے علاو ہ احت یاط ہے ، اس لئ ے اسکا لحاظ ضرور ی نہیں ہ وتا ۔
احتیاط واجب وہ حکم جو احت یاط کے مطابق ہ و اور فق یہ ے اس ک ے سات ھ فتو ی نہ د یا ہ و ا یسے مسائل میں مقلد اس مجتہ د ک ی تقلید کر سکتا ہے جو اعلم م یں سب سے ب ڑھ کر ہ و ۔
احتیاط ترک نہیں کرنا چاہیے جس مسئلے م یں یہ اصطلاح آئے اگر اس م یں مجتہ د کا فتو ی مذکور نہ (احت یاط کا خیال رہے ) ہ و اس کا مطلب احت یاط واجب ہ وگا ۔ اور اگر مجت ہ د کا فتو ی بھی مذکور ہ و تو اس س ے احت یاط کی تاکید مقصود ہ وت ی ہے۔
اَحوَط احتیاط کے مطابق ۔
اشکال ہے اس عمل ک ی وجہ س ے شرع ی تکلیف ساقط نہ ہ وگ ی۔ اس ے انجام ن ہ د ینا چاہ ئ ے۔ اس مسئل ے م یں کسی دوسرے مجت ہ د ک ی طرف رجوع کیا جاسکتاہے بشرط یکہ اس کے سات ھ فتو ی نہ ہ و ۔
اظہ رز یادہ ظاہ ر ۔ مسئل ے س ے متعلق دلائل س ے ز یادہ نزدیک دلیلوں کہ سات ھ منطبق ہ ون ے ک ے لحاظ س ے ز یادہ واضح ۔ یہ مجتہ د کا فتو ی ہے۔
اِفضاءکھ لنا ۔ پ یشاب اور حیض کے مقام کا ا یک ہ و جانا یا حیض اور پاخانے ک ے مقام کا ا یک ہ و جانا یا تینوں مقامات کا ایک ہ وجانا ۔
اَقویٰ قَوی نظریہ۔
اَولٰی بہ تر ۔ ز یادہ مناسب
ایقاع وہ معامل ہ جو یکطرفہ طور پر واقع ہ وجاتا ہے اور اس ے قبول کرنے وال ے ک ی ضرورت نہیں ہ وت ی جیسے طلاق میں صرف طلاق دینا کافی ہ وتا ہے ، قبول کرن ے ک ی ضرورت نہیں ہ وت ی۔
بعید ہے فتو یٰ اس کے مطابق ن ہیں ہے۔
جاہ لِ مُقَصِّروہ ناواقف شخص جس ک ے لئ ے مسائل کا س یکھ نا ممکن رہ ا ہ و ل یکن اسنے کوتا ہی کی ہ و اور جان بوج ھ کر مسائل معلوم ن ہ کئ ے ہ وں ۔
حاکم شرع وہ مجت ہ د جامع الشرائط جس کا حکم، شرع ی قوانین کی بنیاد پر نافذ ہ و ۔
حَدَثِ اصغرہ ر و ہ چ یز جس کی وجہ س ے نماز ک ے لئ ے وضو کرنا پ ڑے۔ یہ سات چیزیں ہیں: 1 ۔ پ یشاب 2 ۔ پاخان ہ 3 ریاح 4 ۔ ن یند 5 ۔ عقل کو زائل کرن ے وال ی چیزیں مثلاً دیوانگی، مستی یا بے ہ وش ی 6 ۔ اِستِحاض ہ 7 ۔ جن چ یزوں کی وجہ س ے غسل واجب ہ وتا ہے۔
حَدَث اکبروہ چ یز جس کی وجہ س ے نماز ک ے لئ ے غسل کرنا پ ڑے ج یسے احتلام، جماع
حَدّ تَرخّص مسافت کی وہ حد ج ہ اں س ے اذان ک ی آواز سنائی نہ د ے اور آباد ی کی دیواریں دکھ ائ ی نہ د یں۔
حرام ہ ر و ہ عمل، جس کا ترک کرنا شر یعت کی نگاہ وں م یں ضروری ہ و ۔
درہ م 10 ۔ 6 ۔ 12 چنوں کے برابر سک ہ دار چاند ی تقریباً 50 ء 21 گرام
ذِمّی کافریہ ود ی، عیسائی اور مجوسی جو اسلامی مملکت میں رہ ت ے ہ وں اور اسلام ک ے اجتماع ی قوانین کی پابندی کا وعدہ کرن ے ک ی وجہ س ے اس لامی حکومت ان کی جان، مال اور آبرو کی حفاظت کرے۔
رَجَاءِ مَطُلوبَیّت کسی عمل کو مطلوب پرودگار ہ ون ے ک ی امید میں انجام دینا۔
رجوع کرنا پلٹ نا ۔ اس کا استعمال دو مقامات پر ہ وا ہے :
( 1) ۔۔۔ اعلم جس مسئل ے م یں احتیاط واجب کا حکم دے اس مسئل ے م یں کسی دوسرے مجت ہ د ک ی تقلید کرنا۔
( 2) ۔۔۔ ب یوی کو طلاق رجعی دینے کے بعد عدت ک ے دوران ا یسا کوئی عمل انجام دینا یا ایسی کوئی بات کہ نا جس س ے اس بات کا پتا چل ے ک ہ اس ے دوبار ہ ب یوی لینا ہے۔
شاخص ظہ ر کا وقت معلوم کرن ے ک ے لئ ے زم ین میں گاڑی جانے وال ی لکڑی
شارع خداوند عالم، رسول اکرم صلی اللہ عل یہ وآلہ وسلم
طلاق بائن وہ طلاق جس ک ے بعد مرد کو رجوع کرن ے حق ن ہیں ہ وتا ۔ تفص یلات طلاق کے باب م یں دیکھ ئ ے۔
طلاق خلع اس عورت کی طلاق جو شوہ ر کرنا پسند کرت ی ہ و اور طلاق ل ینے کے لئ ے شو ہ ر کو اپنا م ہ ر یا کوئی مال بخش دے۔ تفص یلات طلاق کے باب م یں دیکھ ئ ے۔
طلاق رجعی وہ طلاق جس م یں مرد عدت کے دوران عورت ک ی طرف رجوع کر سکتا ہے۔ اس ک ے احکام طلاق ک ے باب م یں بیان ہ وئ ے ہیں۔
طواف نساء حج اور عمرہ مفرد ہ کا آخر ی طواف جسے انجام ن ہ د ینے سے حج یا عمرہ مفرد ہ کرن ے وال ے پر ہ م بستر ی حرام رہ ت ی ہے۔
ظاہ ر یہ ہے فتو ی یہ ہے (سوائ ے اس ک ے ک ہ عبارت م یں اس کے برخلاف کوئ ی قرینہ موجود ہ و) ۔
ظُہ ر شرعی ظہ ر شرع ی کا مطلب آدھ ا دن گزرنا ہے۔ مثلاً اگر دن بار ہ گ ھ ن ٹے کا ہ و تو طلوع آفتاب ک ے چ ھ گ ھ ن ٹے گزرن ے ک ے بعد اور اگر ت یرہ گھ ن ٹے کا ہ و توسا ڑھے چ ھ گ ھ ن ٹے گزرن ے ک ے بعد اور اگر گ یارہ گھ ن ٹے کا ہ و تو ساڑھے پانچ گ ھ ن ٹے گزرن ے ک ے بعد ظ ہ ر شرع ی کا وقت ہے۔ اور ظ ہر شرعی کا وقت جو کہ طلوع آفتاب ک ے بعد آد ھ ا دن گزرن ے س ے غروب آفتاب تک ہے بعض مواقع پر بار ہ بج ے س ے چند من ٹ پ ہ ل ے اور کب ھی بارہ بج ے س ے چند من ٹ بعد ہ وتا ہے۔
عدالت وہ معنو ی کیفیت جو تقوی کی وجہ س ے انسان م یں پیدا ہ وت ی ہے اور جس ک ی
وجہ سے و ہ واجبات کو انجام د یتا ہے اور محرمات کو ترک کرتا ہے
عقدمعاہ د ہ ، نکاح
فتوی شرعی مسائل میں مجتہ د کا نظر یہ۔
قرآن کے واجب سجد ے قرآن م یں پندرہ آ یتیں ایسی ہیں جن کے پ ڑھ ن ے یا سننے ک ے بعد خداوند عالم ک ی عظمت کے سامن ے سجد ہ کرنا چا ہ ئ ے ، ان م یں سے چار مقامات پرسجد ہ واجب اور گ یارہ مقامات پر مستحب (مندوب) ہے۔ آ یات سجدہ مندرج ہ ذ یل ہیں :
قرآن کے مستجب سجد ے 1 ۔ پار ہ 9 ۔۔۔ سور ہ اعراف ۔۔۔ آخر ی آیت
2 ۔ پار ہ 13 ۔۔۔ سور ہ رعد ۔۔۔ آ یت 15
3 ۔ پار ہ 14 ۔۔۔ سور ہ نحل ۔۔۔ آ یت 49
4 ۔ پار ہ 15 ۔۔۔ سور ہ بن ی اسرائیل۔۔۔ آ یت 107
5 ۔ پار ہ 16 ۔۔۔ سور ہ مر یم ۔۔۔ آ یت 58
6 ۔ پار ہ 17 ۔۔۔ سور ہ حج ۔۔۔ آ یت 18
7 ۔ پار ہ 17 ۔۔۔ سور ہ حج ۔۔۔ آ یت 77
8 ۔ پار ہ 19 ۔۔۔ سور ہ فرقان ۔۔۔ آ یت 60
9 ۔ پار ہ 19 ۔۔۔ سور ہ نمل ۔۔۔ آ یت 25
10 ۔ پار ہ 23 ۔۔۔ سور ہ صٓ ۔۔۔ آ یت 24
11 ۔ پارہ 30 ۔۔۔ سور ہ انشقاق ۔۔۔ آ یت 21
قرآن کے واجب سجد ے 1 ۔ پار ہ 21 ۔۔۔ سور ہ سجد ہ ۔۔۔ آ یت 15
2 ۔ پار ہ 24 ۔۔۔ سور ہ الٓمّ تنز یل۔۔۔ آ یت 37
3 ۔ پار ہ 27 ۔۔۔ سور ہ والنجم ۔۔۔ آخر ی آیت
4 ۔ پار ہ 30 ۔۔۔ سور ہ علق ۔۔۔۔ آخر ی آیت
قصد انشاءخرید و فروخت کے مانند کس ی اعتباری چیز کو اس سے مربوط الفاظ ک ے ذر یعے عالم وجود میں لانے کا اراد ہ۔
قصد قرُبت (قربت کی نیت)مرضی پروردگار سے قر یب ہ ون ے کا اراد ہ۔
قوت سے خال ی نہیں ہے فتو ی یہ ہے (سوائ ے اس ک ے ک ہ عبارت م یں اس کے برخلاف کوئ ی قرینہ موجود ہ و)
کفارہ جمع (مجموعاً کفارہ )ت ینوں کفارے ( 1) ساٹھ روز ے رک ھ نا ( 2) ساٹھ فق یروں کو پیٹ بھ ر ک ھ انا ک ھ لانا ( 3) غلام آزاد کرنا۔
لازم واجب، اگر مجتہد کسی امر کے واجب و لازم ہونے کا استفادہ آیات اور روایات سے اس طرح کرے کہ اس کا شارع کی طرف منسوب کرنا ممکن ہو تو اس کی تعبیر لفظ "واجب" کے ذریعے کی جاتی ہے اور اگر اس واجب و لازم ہونے کو کسی اور ذریعے مثلاً عقلی دلائل سے سمجھا ہو اس طرح کہ اس کا شارع کی طرف منسوب کرنا ممکن نہ ہو تو اس کی تعبیر لفظ "لازم" سے کی جاتی ہے۔ احتیاط واجب اور احتیاط لازم میں بھی اسی فرق کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔ بہر حال مُقلد کے لئے مقام عمل میں "واجب" اور "لازم" کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔
مباح وہ عمل جو شر یعت کی نگاہ وں م یں نہ قابل ستائش ہ و اور ن ہ قابل مذمت ( یہ لفظ واجب، حرام، مستحب اور مکروہ ک ے مقابل ے م یں ہے )
نجس ہ ر و ہ چ یز جو ذاتی طور پر پاک ہ و ل یکن کسی نجس چیز سے بالواسط ہ یا براہ راست مل جان ے ک ی وجہ س ے نجس ہ وگئ ی ہ و ۔
مجَہ ولُ المَالکوہ مال جس کا مالک معلوم ن ہ ہ و ۔
مَحرَم وہ قر یبی رشتے دار جن س ے کب ھی نکاح نہیں کیا جاسکتا۔
مُحرِم جو شخص حج یا عمرے ک ے احرام م یں ہ و ۔
محل اشکال ہے اس م یں اشکال ہے ، اس عمل کا صح یح اور مکمل ہ ونا مشکل ہے ( مقلد اس مسئلے م یں کسی دوسرے مج ہ تد ک ی طرف رجوع کرسکتا ہے بشرط یکہ اس کے سات ھ فتو ی نہ ہ و ۔ )
مُسَلَّمات دین وہ ضرور ی اور قطعی امور جو دین اسلام کا جزو لاینفک ہیں اور جنہیں سارے مسلمان د ین کا لازمی جرو مانتے ہیں جیسے نماز، روزے ک ی فرضیت اور ان کا وجوب۔ ان امور کو "ضروریات دین" اور "قطعیات دین" بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ وہ امور ہیں جن کا تسلیم کرنا دائرہ اسلام کے اندر رہنے کیلئے از بس ضروری ہے۔
مستحب پسندید۔ جو چیز شارع مقدس کو پسند ہو لیکن اسے واجب قرار نہ دے۔ ہر وہ حکم جس کو کرنے میں ثواب ہو لیکن ترک کرنے میں گناہ نہ ہو۔
مکروہ ناپسندیدہ، وہ کام جس کا انجام دینا حرام نہ ہو لیکن انجام نہ دینا بہتر ہو۔
نصاب معینہ مقدار یا معینہ حد۔
واجب ہروہ عمل جس کا انجام دینا شریعت کی نگاہوں میں فرض ہو۔
واجب تَخیِیری جب وجوب دو چیزوں میں کس ی ایک سے متعلق ہو تو ان میں سے ہر ایک کو واجب تخییری کہتے ہیں جیسے روزے کے کفارہ میں، تین چیزوں کے درمیان اختیار ہوتا ہے۔ 1 ۔ غلام آزاد کرنا 2 ۔ ساٹھ روزے رکھنا 3 ۔ ساٹھ فقیروں کو کھانا کھلانا۔
واجب عینی وہ واجب جو ہر شخص پر خود واجب ہو جیسے نماز روزہ۔
واجب کفائی ایسا واجب جسے اگر کچھ لوگ انجام دے دیں تو باقی لوگوں سے ساقط ہو جائے جسیے غسل میت سب پر واجب ہے لیکن اگر کچھ لوگ اسے انجام دے دیں تو باقی لوگوں سے ساقط ہوجائے گا۔
وقف اصل مال کو ذاتی ملکیت سے نکال کر اس کی منفعت کو مخصوص افراد یا امور خیریہ کے ساتھ مخصوص کر دینا۔
ولی سرپرست مثلاً باپ، دادا، شوہر یا حاکم شرع۔
5 نخود (چنے ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ا یک گرام
10 ۔ 6 ۔ 12 نخود۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تقر یباً 50 ء 3 گرام
18 نخود (یا ایک مثقال شرعی)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تق ریباً 50 ء 3 گرام
1 دینار(یا ایک مثقال شرعی)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تقر یباً 50 ء 3 گرام
ایک مثقال صیرفی ( 24 نخود)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تقر یباً 50 گرام
ایک مد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تقر یباً 750 گرام
ایک صاع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تقر یباً 3 کلو گرام
ایک کر (پانی) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تقر یباً 377 کلو گرام
فہرست مطالب
احکام تقلید 2
احکام طہارت 6
مطلق اور مضاف پانی 6
کُر پانی 6
قلیل پانی 7
جاری پانی 8
بارش کا پانی 9
کُنویں کا پانی 10
پانی کے احکام 10
بَیتُ الخَلاء کے احکام 12
اِستِبرَاء 14
رفع حاجت کے مُستَحَبّات اور مکرُوہات 15
نجاسات 17
پیشاب اور پاخانہ 17
منی 17
مُردار 17
خون 18
کُتا اور سُوّر 19
کافر 20
شراب 20
نجاست کھانے والے حیوان کا پسینہ 21
نجاست ثابت ہونے کے طریقے 21
احکام نجاسات 24
مُطہرات 27
پانی 27
زمین 32
سورج 33
استحالہ 34
انقلاب 35
انتقال 36
اسلام 36
تبعیت 37
عین نجاست کا دور ہونا 38
نجاست کھانے والے حیوان کا استبراء 39
مسلمان کا غائب ہو جانا 39
معمول کے مطابق (ذبیحہ کے) خون کا بہہ جانا 40
برتنوں کے احکام 40
عبادات (وضو) 42
وضو 42
ارتماسی وضو 45
دعائیں جن کا وضو کرتے وقت پڑھنا مستحب ہے 45
وضو صحیح ہونے کی شرائط 46
وضو کے احکام 52
وہ چیزیں جن کے لئ ے وضو کرنا چا ہ ئ ے 55
مبطلات وضو 56
جبیرہ وضو کے احکام 56
واجب غسل 61
جنابت کے احکام 61
وہ چیزیں جو مجنب کے لئ ے مکرو ہ ہیں 63
غسل جنابت 63
ترتیبی غسل 64
ارتماسی غسل 64
غسل کے احکام 65
اِستِحاضَہ 69
اِستِخاضہ کے احکام 69
حیض 75
حائض کے احکام 78
حائض کی قسمیں 81
1 ۔ وقت اور عدد ک ی عادت رکھ ن ے وال ی عورت 82
2 ۔ وقت ک ی عادت رکھ ن ے وال ی عورت 86
3 ۔ عدد ک ی عادت رکھ ن ے وال ی عورت 88
4 ۔ مُضطَرِبَ ہ 90
5 ۔ مُبتَدِئَ ہ 90
6 ۔ نَاسِ یَہ 91
حیض کے متفرق مسائل 92
نفاس 93
غسل مس میت 97
محتضر ، میت کے احکام 99
مرنے کے بعد ک ے احکام 100
غسل،کفن،نماز اور دفن کا وجوب 100
غسل میت کی کیفیت 101
کفن کے احکام 104
حَنُوط کے احکام 106
نماز میت کے احکام 107
نماز میت کا طریقہ 109
نماز میت کے مُستحبات 110
دفن کے احکام 111
دفن کے مستحبات 113
نماز وحشت 115
مستحب غسل 118
تیمم 121
تیمم کی پہ ل ی صورت 121
تیمم کی دوسری صورت 123
تیمم کی تیسری صورت 124
تیمم کی چوتھی صورت 124
تیمم کی پانچویں صورت 125
تیمم کی چھٹی صورت 125
تیمم کی ساتویں صورت 126
وہ چیزیں جن پر تیمم کرنا صحیح ہے 126
وضو یا غسل کے بدل ے ت یمم کرنے کا طر یقہ 128
تیمم کے احکام 129
احکام نماز 134
واجب نمازیں 134
روزانہ کی واجب نمازیں 135
ظہ ر اور عصر کی نماز کا وقت 135
نماز جمعہ ک ے احکام 136
مغرب اور عشا کی نماز کا وقت 139
صبح کی نماز کا وقت 140
اوقات نماز کے احکام 140
وہ نمازیں جو ترتیب سے پ ڑھ ن ی ضروری ہیں 143
مستحب نمازیں 144
روزانہ کی نفلوں کا وقت 145
نماز غُفیلہ 146
قبلے کے احکام 146
نماز میں بدن کا ڈھ انپنا 148
نمازی کے لباس ک ی شرطیں 150
پہ ل ی شرط 150
دوسری شرط 153
تیسری شرط 154
چوتھی شرط 154
پانچویں شرط 155
چھٹی شرط 156
جن صورتوں میں نمازی کا بدن اور لباس پاک ہ ونا ضرور ی نہیں 157
وہ چیزیں جو نمازی کے لباس م یں مکروہ ہیں 161
نماز کے پ ڑھ ن ے ک ی جگہ 161
وہ مقامات جہ اں نماز پ ڑھ نا مستحب ہے 165
وہ مقامات جہ اں نماز پ ڑھ نا مکرو ہ ہے 165
مسجد کے احکام 167
اذان اور اقامت 169
اذان اور اقامت کا ترجمہ 170
نماز کے واجبات 174
نِیّت 175
تکبیرۃ الاحرام 175
قیام یعنی کھڑ ا ہ ونا 177
قراءت 179
رکوع 186
سجود 189
وہ چیزیں جن پر سجدہ کرنا صح یح ہے 194
سجدہ کے مستحبات اور مکرو ہ ات 195
قرآن مجید کے واجب سجد ے 197
تشہ د 198
نماز کا سلام 199
ترتیب 199
مُوَالات 200
قُنوت 200
نماز کا ترجمہ 201
1 ۔ سور ہ الحمد کا ترجم ہ 201
2 ۔ سور ہ اخلاص کا ترجم ہ 201
3 ۔ رکوع، سجود اور ان ک ے بعد ک ے مستحب اذ کار کا ترجم ہ 202
4 ۔ قنوت کا ترجم ہ 202
5 ۔ تسب یحات اربعہ کا ترجم ہ 202
6 ۔ تش ہ د اور سلام کا ترجم ہ 203
تعقیبات نماز 203
مبطلات نماز ، شکّیات نماز ، سجدہ س ہ و 205
وہ چیزیں جو نماز میں مکروہ ہیں 211
وہ صورتیں جن میں واجب نمازیں توڑی جاسکتی ہیں 211
شکّیات نماز 212
وہ شک جو نماز کو باطل کرتے ہیں 212
وہ شک جن کی پروا نہیں کرنی چاہ ئ ے 213
جس فعل کا موقع گزر گیا ہ و اس م یں شک کرنا 214
سلام کے بعد شک کرنا 215
وقت کے بعد شک کرنا 216
کثیرُالشک کا شک کرنا 216
امام اور مقتدی کا شک 218
صحیح شکوک 218
نماز احتیاط پڑھ ن ے کا طر یقہ 222
سجدہ سہ و 225
سجدہ سہ و کا طر یقہ 227
بھ ول ے ہ وئ ے سجد ے اور تش ہ د ک ی قضا 227
نماز کے اجزا اور شرائط کو کم یا زیادہ کرنا 229
مسافر کی نماز 231
مُتَفَرِّق مَسَائِل 244
قضا نماز 246
باپ کی قضا نمازیں جو بڑے ب یٹے پر واجب ہیں 250
نماز جماعت 252
امام جماعت کی شرائط 259
نماز جماعت کے احکام 260
جماعت میں امام اور مقتدی کے فرائض 263
نماز جماعت کے مکرو ہ ات 264
نماز آیات 265
نماز کی آیات پڑھ ن ے کا طر یقہ 267
عید فطر اور عید قربان کی نماز 270
نماز کے لئ ے اج یر بنانا (یعنی اجرت دے کر نماز پ ڑھ وانا) 273
روزے کے احکام 276
نیت 276
کھ انا اور پینا 280
جماع 281
اِستِمنَاء 282
خدا و رسول پر بہ تان باند ھ نا 283
غبار کو حلق تک پہ نچانا 284
سر کو پانی میں ڈ بونا 285
اذان صبح تک جنابت، حیض اور نفاس کی حالت میں رہ نا 286
حقنہ لینا 289
قے کرنا 289
ایسے مواقع جن میں روزہ ک ی قضا اور کفارہ واجب ہ و جات ے ہیں 292
روزے کا کفارہ 292
وہ صورتیں جن میں فقط روزے ک ی قضا واجب ہے 295
قضاروزے کے احکام 297
مسافر کے روزوں ک ے احکام 300
وہ لوگ جن پر روزہ رک ھ نا واجب ن ہیں 302
مہینے کی پہ ل ی تاریخ ثابت ہ ون ے کا طر یقہ 303
حرام اور مکروہ روز ے 305
مستحب روزے 306
خمس کے احکام 308
کاروبار کا منافع 308
معدنی کانیں 315
گڑ ا ہ وا دف ینہ 317
وہ حلال مال جو حرام مال میں مخلوط ہ و جائ ے 318
غَوَّاصِی سے حاصل کئ ے ہ وئ ے موت ی 319
مال غنیمت 320
وہ زمین جو ذمی کافر کسی مسلمان سے خر یدے 321
خمس کا مصرف 321
زکوۃ کے احکام 325
زکوۃ واجب ہ ون ے ک ی شرائط 325
گیہ وں، جَو، کھ جور اور کشمش ک ی زکوۃ 326
سونے کا نصاب 333
چاندی کا نصاب 333
اونٹ ، گائے ب ھیڑ ، بکری کی زکوٰۃ 335
اونٹ کے نصاب 336
گائے کا نصاب 337
بھیڑ کا نصاب 337
مال تجارت کی زکوٰۃ 339
زکوٰۃ کا مصرف 340
مُستحِقّینِ زکوٰۃ کی شرائط 343
زکوٰۃ کی نیت 345
زکوٰۃ کے مُتَفَرِّق مَسائِل 345
زکوٰۃ ِ فِطرہ 350
زکوٰۃ فِطرہ کا مصرف 353
زکوٰۃ فطرہ ک ے متفرق مسائل 354
حج کے اَحکام 356
مُعَامَلات 360
خرید و فروخت کے احکام 360
خرید و فروخت کے مسُتحبّات 360
مکروہ معاملات 360
حرام معاملات 361
2 ۔ غصب ی مال کی خرید و فروخت 361
بیچنے والے اور خر یدارکی شرائط 366
جنس اور اس کے عِوض ک ی شرائط 368
خریدوفروخت کا صیغہ 370
پھ لوں کی خرید و فروخت 370
پھ لوں کی خرید و فروخت 370
نقد اور ادھ ار ک ے احکام 371
معاملہ سلف کی شرائط 372
معاملہ سلف کے احکام 373
سونے چاندی کو سونے چاند ی کے عوض ب یچنا 374
معاملہ فسخ کئے جان ے ک ی صورتیں 375
متفرق مسائل 379
شراکت کے احکام 380
صلح کے احکام 383
کرائے کے احکام 386
کرائے پر دیئے جانے وال ے مال ک ی شرائط 388
کرائے پر دیئے جانے وال ے مال س ے اِستِفَاد ے ک ی شرائط 389
کرائے کے متفرق مسائل 391
جعالہ کے احکام 395
مَزارعہ کے احکام 397
مُساقات اور مُغارسہ ک ے احکام 400
وہ اشخاص جو اپنے مال م یں تصرف نہیں کرسکتے 403
وکالت کے احکام 404
قرض کے احکام 406
حوالہ دینے کے احکام 409
رہ ن کے احکام 411
ضمانت کے احکام 413
کَفالَت کے احکام 415
امانت کے احکام 416
عاریہ کے احکام 419
نکاح کے احکام 422
نکاح پڑھ ن ے کا طر یقہ 423
نکاح کی شرائط 423
وہ صورتیں جن میں مرد یا عورت نکاح فسخ کرسکتے ہی 426
وہ عورتیں جن سے نکاح کرنا حرام ہے 427
دائمی عقد کے احکام 431
نا محرم پرنگاہ ڈ الن ے ک ے احکام 435
ازدواج کے مختلف مسائل 436
دودھ پلانے ک ے احکام 439
دودھ پلانے س ے محرم بنن ے ک ی شرائط 442
دودھ پلانے ک ے آداب 445
دودھ پلانے ک ے مختلف مسائل 445
طلاق کے احکام 448
طلاق کی عدت 450
وفات کی عدت 451
طلاق بائِن اور طلاق رَجعی 452
رجوع کرنے ک ے احکام 453
طلاق خلع 454
طلاق مبارات 455
طلاق کے مختلف احکام 456
غصب کے احکام 458
گم شدہ مال پان ے ک ے احکام 462
حیوانات کو شکار اور ذبح کرنے ک ے احکام 466
حیوانات کو ذبح کرنے کا طر یقے 467
حیوان کو ذبح کرنے ک ی شرائط 467
اونٹ کو نحر کرنے کا طر یقہ 469
حیوانات کو ذبح کرنے ک ے مستحبات 470
حیوانات کو ذبح کرنے ک ے مکرو ہ ات 470
ہ ت ھیاروں سے شکار کرن ے ک ے احکام 471
شکاری کتے س ے شکار کرنا 473
مچھ ل ی اور ٹڈی کا شکار 474
کھ ان ے پینے کی چیزوں کے احکام 476
کھ انا کھ ان ے ک ے آداب 480
پانی پینے کا آداب 482
وہ باتیں جو پانی پیتے وقت مکروہ ہیں 482
منت اور عہ د ک ے احکام 483
قسم کھ ان ے ک ے احکام 487
وقف کے احکام 490
وصیت کے احکام 494
میراث کے احکام 501
پہ ل ے گروہ ک ی میراث 502
دوسرے گروہ ک ی میراث 503
تیسرے گروہ ک ی میراث 508
بیوی اور شوہ ر ک ی میراث 510
مِیراث کے مختلف مسائل 512
چند فِقہی اصطلاحات 514
شرعی اوزان اور اعشاری اوزان 519