اہل ذکر۔۔۔۔۔۔؟- جلد 1
گروہ بندی مناظرے
مصنف محمد تیجانی سماوی (تیونس)
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


اہل ذکر....؟

ڈاکٹر محمد تیجانی سماوی

ترجمہ

نثار احمد زین پوری

انتشارات انصاریان

قم خیابان شہدا ص. پ187. تلفن 21744



نام کتاب................................................................اہل ذکر.....؟

تالیف...........................................................ڈاکٹر محمد تیجانی سماوی

ترجمہ.......................................................... نثار احمد زین پوری

کتابت ........................................................رضوان حیدر ہندی

کتابت سرورق.................................................پیغمبر عباس نوگانوی

ناشر .........................................................انتشارات انصاریان قم ایران

تعداد....................................................تین ہزار 3000

تاریخ ....................................................سنہ1371ھ شمسی


مقدمہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد لله رب العالمین و افضل الصلاة و ازکی التسلیم علی سیدنا و مولانا محمد المبعوث رحمة للعالمین سید الاولین والآخرین و المنزه عن کل ما هو مشین، و علی آله الطیبین الطاهرین اعلام الهدی و مصابیح الدجی و ائمة المسلمین.

اما بعد:

یہ چند سوالات میں نے مسلمان محققین کے لئے تیار کئے ہیں خصوصا اہلسنت کے لئے جن کا یہ گمان ہے کہ صرف وہی نبی(ص) کی صحیح سنت سے متمسک ہیں. یہی نہیں بلکہ وہ اپنے مخالف پر اعتراض کرتے ہیں اور انہیں برے القاب سے نوازتے ہیں.

اور بعض اسلامی ممالک میں تو سنت محمدی(ص) سے دفاع کے


نام پر انصار السنہ اور انصار الصحابہ نامی انجمنین وجود میں آگئی ہیں اور شیعوں کو کافر ثابت کرنے اور ان کے ائمہ و علماء کا مذاق اور مضحکہ اڑانے کے لئے متعدد کتابیں لکھی گئی ہیں اور اس فکر کو تمام اسلامی اور غیر اسلامی خطوں میں پہونچانے کے لئے عالمی ذرائع ابلاغ نشر کر رہے ہیں جن کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج لوگوں کی گفتگو کا موضوع شیعہ اور سنی بنے ہوئے ہیں.

بہت سے پروگراموں میں میری ملاقات بعض سچے اور زہین جوان مسلمانوں سے ہوئی جو شیعیت کی حقیقت اور اس کے خرافات کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور شیعوں کے خلاف جو کچھ کتابوں میں پڑھتے اور سنتے ہیں دونوں کے درمیان بہت فرق پاتے ہیں وہ یہ نہیں جانتے کہ حق کیا ہے. میں نے بعض سے گفتگو کی اور اپنی کتاب "ثم اہتدیت" ان کو ہدیہ کی الحمد للہ ان میں سے اکثر نے بحث و تمحیص کے بعد حق کو پہچان لیا اور اس کا اتباع کرنے لگے، لیکن یہ چیز ان گنے چنے جوانوں میں منحصر ہوکر رہ گئی ہے جن سے میری اتفاقا ملاقات ہوئی تھی. لیکن دوسرے جوانوں کے لئے ایسی ملاقات مشکل ہے. وہ مختلف افکار کے تانے بانے میں پھنسے ہوئے ہیں.

باوجودیکہ مطمئن کن دلیلیں اور ٹھوس حجتیں" ثم اہتدیت" اور " لاکون مع الصادقین" میں موجود ہیں، پھر بھی دونوں کتابیں شیعوں کے خلاف ہونے والے ان پروپیگنڈوں اور ان کے دفاع کے لئے کافی نہیں ہیں، جو ڈالر کے بل بوتے پر مختلف ذرائع ابلاغ سے نشر کئے جارہے ہیں.

اس کے باوجود اس شور وغل میں حق کی آواز گونجے گی، اورعنقریب اس سخت تاریکی میں نور حق چمکے گا اس لئے کہ یہ خدا کا وعدہ ہے اور اس کا وعدہ ضرور پورا ہوگا چنانچہ پروردگار عالم کا ارشاد ہے:


( يريدون‏ ليطفئوا نور اللّه‏ بأفواههم و اللّه متمّ نوره و لو كره الكافرون ) ( سورہ الصف، آیت/8)

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نور خدا کو اپنے منہ سے بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو مکمل کرنے والا ہے چاہے یہ بات کفار کو کتنی ہی ناگوار کیوں نہ ہو.

خداوند عالم صاف طور پر فرمارہے ہے کہ ان کے اعمال تباہ ہوجائیں گے چنانچہ ارشاد ہے:

( إِنَ‏ الَّذِينَ‏ كَفَرُوا يُنْفِقُونَ‏ أَمْوالَهُمْ‏- لِيَصُدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ فَسَيُنْفِقُونَها- ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ- وَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى‏ جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ ‏)

جن لوگوں نے کفر اختیار کیا یہ اپنے اموال کو صرف اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ لوگوں کو راہ خدا سے روکیں تو یہ خرچ بھی کریں گے اور اس کے بعد یہ بات ان کے لئے حسرت بھی بنے گی اور آخر میں مغلوب بھی ہو جائیں گے اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا یہ سب جہنم کی طرف لے جائیں گے.

اس لئے علماء، صاحبان قلم اور مفکرین پر واجب ہے کہ وہ اس کی لوگوں کے سامنے وضاحت کریں جو صورت حال ان کے سامنے ہے اور سیدھے راستہ کی ہدایت کریں. چنانچہ خداوند عالم کا ارشاد ہے:

( إِنَ‏ الَّذِينَ‏ يَكْتُمُونَ‏ ما أَنْزَلْنا مِنَ الْبَيِّناتِ


وَ الْهُدى‏ مِنْ بَعْدِ ما بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتابِ أُولئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَ يَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ إِلَّا الَّذِينَ تابُوا وَ أَصْلَحُوا وَ بَيَّنُوا فَأُولئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَ أَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ) ( بقر ہ ، آیت /160)

جو لوگ ہمارے نازل کئے ہوئے واضح بیانات اور ہدایات کو ہمارے بیان کردینے کے بعد بھی چھپاتے ہیں ان پر اللہ بھی لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں علاوہ ان لوگوں کے جو توبہ کرلیں اور اپنے کئے کی اصلاح کرلیں اور جس کو چھپایا ہے اس کو واضح کردیں تو ہم ان کی توبہ قبول کرلیتے ہیں کہ ہم بہترین توبہ قبول کرنے والے اور مہربان ہیں.

تو علماء اس موضوع کے سلسلہ میں صرف خدا اور حق پسندی کے تحت کیوں نہیں زبان کھولتے اور کیوں نہیں چھان بین کرتے جبکہ خداوند عالم ہدایت و بینات نازل کرچکا ہے. اور جب وہ دین کو کامل اور نعمت کو تمام کرچکا ہے جب رسول(ص) امانت ادا کرچکے ہیں. اور تبلیغ رسالت کرچکے ہیں. اور امت کو سمجھا چکے ہیں تو پھر یہ تفرقہ اور عداوة، بغض اور ایک دوسرے کو برے القاب سے نوازنا کیسا اور ایک دوسرے کو کافر کہنا کیوں؟

میں اپنے موقع پر تھوڑی دیر ٹھہر کر تمام مسلمانوں سے صاف طور پر کہوں گا کہ نجات اور اتحاد و سعادت اور جنت کا حصول دو بنیادی اصول پر موقوف ہے اور وہ ہیں کتاب خدا اور عترت رسول(ص) یا سفینة نجات پر سوار ہونے میں نجات ہے اور وہ سفینہ اہلبیت(ع) ہیں اور یہ بات میری اپنی ایجاد نہیں ہے. بلکہ یہ تو قرآن میں خدا کا اور حدیث میں رسول(ص) کا فرمان ہے


آج مسلمانوں کے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں.

1.یہ کہ اہلسنت والجماعت مذہب اہلبیت(ع) رسول(ص) کو قبول کر لیں یعنی شیعہ اثنا عشری کے ساتھ ہوجائیں اس طریقے سے مذہب شیعہ ان کے نزدیک پانچواں مذہب ہوجائے گا اور اس کے ساتھ وہی سلوک کریں جو دوسرے اسلامی مذاہب کے ساتھ اختیار کر رکھا ہے اس میں نقض نہ نکالیں اس کے ماننے والوں کو برے القاب سے نہ نوازیں اور طلبہ و روشن فکر افراد کو اس مذہب کو اختیار کرنے میں آزاد چھوڑ دیں. جس سے وہ مطمئن ہیں اسی طرح تمام مسلمانوں (سنی اور شیعوں) کو دوسرے اسلامی مذاہب جیسے زیدیہ وغیرہ کو بھی تسلیم کرنا چاہیئے، باوجودیکہ اس مشکل کا حل ہے لیکن ہماری امت میں صدیوں سے چلے آنے والے تفرقہ اور نفرت کے لئے اس کی حیثیت ایک قرص( tablate ) کی ہے.

2.یہ کہ تمام مسلمان ایک عقیدہ پر متحد ہوجائیں کہ جس کو کتاب خدا اور اس کے رسول(ص) نے بیان کیا ہے اور یہ ایک ہی طریقہ سے ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ سارے مسلمان ائمہ اہلبیت(ع) کا اتباع کریں کہ جن سے خدا نے رجس کو دور رکھا ہے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھا جو حق ہے، اور یہی وجہ ہے کہ سارے مسلمان ان کی اعلمیت اور ان کے تمام چیزوں پر مقدم ہونے پر متفق ہیں جیسے تقوی، ورع، زہد و اخلاق اور علم و عمل میں وہ سب پر فائق ہیں جبکہ صحابہ کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہے، پس مسلمانوں کو وہ چیز چھوڑ دینی چاہیئے جس میں اختلاف ہے اور اسے اختیار کرنا چاہیئے جس میں اتفاق ہے. جیسا کہ رسول(ص) کا ارشاد بھی ہے. مشکوک چیزوں کو چھوڑ کر غیر مشکوک کو اختیار کرو. اس طرح


امت ایک پلیٹ فارم جمع ہو جائے گی. اور اس اساسی قاعدہ پر متفق ہوجائے گی جو ہر چیز کا محور ہے جس کی بنیاد رسالتماب(ص) نے اپنے اس قول کے ذریعہ رکھی:

میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ رہا ہوں جب تک تم ان سے وابستہ رہوگے کبھی گمراہ نہ ہوگے اور وہ ہیں کتاب خدا اور میری عترت اہلبیت(ع).(1)

اور جب یہ حدیث مذہب میں اختلاف کے باوجود فریقین بلکہ تمام مسلمانوں کے نزدیک ثابت ہے تو مسلمانوں کے ایک گروہ کو کیا ہوگیا ہے وہ اس پر عمل نہیں کرنا؟؟؟ اگر سارے مسلمان اس حدیث پر عمل کرئے تو ان کے درمیان ایسی قوی وحدت اسلامی پیدا ہوجاتی جس کو (زمانہ کی) ہوا ہلا نہ سکتی اور طوفان اسے متزلزل نہیں کرسکتے تھے پروپیگنڈے اور دشمن اسلام اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے تھے.

میرے عقیدہ کے لحاظ سے مسلمانوں کو گلو خلاصی اور نجات کا واحد راستہ یہی ہے، اس کے علاوہ سب باطل و خرافات ہے قرآن و سنت میں غور کرنے والا، تاریخ پر اپنی عقل کے ساتھ نظر رکھنے والا بلاتردد میری موافقت کرے گا.

لیکن پہلی اساس تو اسی روز منہدم ہوگئی تھی جس روز رسول(ص) اس دنیا کو خیرباد کہنے والے تھے، صحابہ نے آپ کی حیات ہی میں اختلاف برپا کیا جس کی وجہ سے تفرقہ پڑگیا اور امت ٹکڑوں میں تقسیم

____________________

1.صحیح بخاری و مسلم


ہوگئی، اس طرح امت صدیوں سے دوسری اساس یعنی عترت و کتاب کی طرف رجوع کرنے کے سلسلہ میں پریشان رہی ہے. جیسا کہ ماضی میں بنی امیہ و بنی عباس کے زمانہ میں ذرائع ابلاغ نے اس کو ثابت کیا ہے. آج ہمارے زمانہ میں اہلبیت(ع) کا اتباع کرنے والوں کو کافر کہا جارہا ہے. ان کو گمراہ ثابت کرنے کی کوششیں جاری ہیں. اس وقت ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے وہ یہ کہ ان کا مقابلہ کیا جائے اور کھلم کھلا حق کا اظہار کیا جائے اور اس سلسلہ میں قرآن کریم کے اسلوب کو اختیار کیا جائے چنانچہ ارشاد ہے:

( ..قُلْ‏ هاتُوا بُرْهانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِينَ )

.... کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہوتو دلیل پیش کرو.(1)

اور برہان و حجت زبردستی کسی پر تحمیل نہیں کی جاسکتی ہیں اور نہ ہی آزاد منش افراد کو لالچ و طمع کے جال میں پھنسا کر یہ بات باور کرائی جاسکتی ہے کہ جنہوں نے اپنے نفسوں کو خدا کے لئے فروخت کردیا ہے اور اب حق کے عوض میں کسی دوسری شئی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اگر چہ اس کے لئے انہیں جان ہی پر کھیلنا پڑے.

اے کاش علمائے امت ایک کانفرنس منعقد کرتے اور ان مسائل کے سلسلہ میں فراخ دلی، روشن فکری اور بے لوث طریقہ سے، غور کرنے اور اس طرح امت اسلامی کی خدمت کرنے اور اس کے تفرقہ کو اتحاد میں بدلتے اور اس کے درد کا مداوا کرتے.

____________________

1.سورۃ بقرة آیت/111


یہ وحدت ہوکے رہے گی خواہ لوگوں کو یہ بات گوارہ ہو یا نہ. کیونکہ خدا نے ذریت مصطفی(ص) میں امام منتخب کیا ہے. چو عنقریب اس کو عدل و انصاف سے اسی طرح پر کرے گا جیسے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی یہ امام عترت طاہرہ(ع) میں سے ہوگا. خداوند عالم امت کی طول حیات سے اس کا امتحان لے رہا ہے. یہاں تک کہ جب اس کا وقت قریب آجائے گا تو اس کے امام کے انتخاب میں غلطی کو اس پر آشکار کردے گا اور اسے حق کی طرف رجوع کرنے اور اس اصل راستہ کے اتباع کی مہلت عطا کرے گا جس کی طرف محمد(ص) نے دعوت دی تھی وہ محمد(ص) جو یہ کہا کرتے تھے:

بار الہا میری قوم کی ہدایت فرما کیونکہ وہ نادان ہے.

اب وہ وقت آن پہونچا ہے کہ میں اپنی کتاب،( فاسئلوا اهل الذکر ) کو پیش کروں یہ کتاب کچھ سوالات پر مشتمل ہے کہ جس کے جوابات ائمہ اہلبیت(ع) کے آثار و مواقف سے دئے گئے ہیں امید ہے کہ تمام اسلامی ممالک کے مسلمان اس سے استفادہ کریں گے و ما توفیقی الا باللہ"

خدا سے میری دعا ہے کہ وہ میرے عمل کو قبول کرے اس میں خیرو برکت عطا کرے، یہ تو وحدت کی بنیاد ہے.

یہ میں اس لئے عرض کر رہا ہوں کہ آج تک مسلمان ایک دوسرے کے حقوق کا لحاظ کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئے ہیں.

اس بات کو میں نے اسلامی اور غیر اسلامی ممالک کے


سفر کے دوران محسوس کیا اور ابھی کچھ دنوں پہلے ہندوستان جانے کا اتفاق ہوا تھا کہ جہاں بیس کروڑ مسلمان ایک چوتھائی شیعہ اور تین حصہ سنی آباد ہیں ان کے بارے میں میں نے بہت کچھ سن رکھا تھا لیکن جس کا میں نے خود مشاہدہ کیا ہے وہ بہت ہی خوفناک اور حیرت انگیز ہے. یقینا مجھے امت کی حالت پر افسوس ہوا اور میں رو دیا. اگر ایمان و امید کا سہارا نہ ہوتا تو قلب حسرت و یاس سے بھر جاتا.

ہندوستان سے واپسی پر میں نے اہلسنت کے مرجع ابوالحسن ندوی کے نام ایک خط روانہ کیا تھا اور ان سے یہ وعدہ کیا تھا کہ میں اس خط کو مع آپ کے جواب کے نشر کروں گا، لیکن ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں آیا ہے. اس خط کو میں اس کتاب کے مقدمہ میں شامل کررہا ہوں تاکہ وہ ہمارے لئے تاریخی و ثیقہ بن جائے اور عنداللہ اور اور عندالناس ہمارے حق میں گواہی دے کہ ہم نے انہیں اتحاد کی دعوت دی تھی.

ڈاکٹر محمد تیجانی سماوی


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سید ابوالحسن ندوی ہندی

کے نام کھلا خط...!

السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ

مجھے محمد تیجانی سماوی تیونسی کہتے ہیں، خدا نے ہدایت و توفیق کے ذریعہ مجھ پر احسان کیا اور میں طویل تحقیق کے بعد مذہب شیعہ سے متمسک ہوگیا ہوں جبکہ اس سے قبل میں مالکی تھا اور شمالی افریقہ کے صوفیوں کے مشہور سلسلہ تیجانیہ کا پیروکار تھا، شیعہ علماء کے پاس آمد و رفت کے ذریعہ میں نے حق کو پہچانا اور اس سے متعلق ایک کتاب لکھی اور اس کا نام " ثم اھتدیت" رکھا جو آپ کے ملک"ھندوستان" میں بھی... مجمع علمی اسلامی، کی طرف سے متعدد زبانوں میں چھپ کر ختم ہوچکی ہے. اسی مناسبت سے مجھے ہندوستان آنے کی دعوت دی گئی.

سیدی عزیز میں مختصر زیارت کے لئے ہند آیا میں آپ سے ملاقات کرنا چاہتا تھا کیونکہ میں نے آپ کے بارے میں سنا تھا کہ اہلسنت


والجماعت کے مرجع آپ ہی ہیں. لیکن مسافت کی زیادتی اور وقت کی تنگی کی بنا پر ملاقات نہ کرسکا، اور صرف بمبئی، پونہ، جبل پور اور گجرات کے کچھ شہروں تک ہی جاسکا. لیکن ہندوستان میں سنی اور شیعوں کے درمیان بغض و عداوت دیکو کر بہت تکلیف ہوئی.

یقینا یہ بات میں پہلے بھی سنتا تھا کہ ہندوستان میں اسلام کے نام پر جنگ و جدال ہوتی ہے اور کبھی نیک مسلمانوں کا خون بہہ جاتا ہے میں اس کی تصدیق نہیں کرتا تھا، سوچتا تھا کہ مبالغہ آرائی ہے لیکن جو میں نے اپنے سفر کے دوران وہاں دیکھا اور سنا اس سے میری حیرت و تعجب ہوا ہوگئی. اور مجھے یہ یقین ہوگیا کہ ( یہاں) اسلام اور شیعہ سنی مسلمانوں کے خلاف پست سازشیں اور بڑی منصوبہ بندی سے کام ہورہا ہے. میرے اس علم و یقین کو اس بالمشافہہ گفتگو نے اور تقویت بخشی جو میرے اور اہلسنت کے علماء کی ایک جماعت کے درمیان ہوئی تھی. اس جماعت میں جماعت اسلامی کے مفتی شیخ عزیز الرحمن پیش پیش تھے یہ ملاقات ان ہی کی دعوت کی بنا پر بمبئی میں ان ہی کی مسجد میں ہوئی تھی.

میں صحیح طریقہ سے ان کے درمیان پہونچا بھی نہیں تھا کہ انہوں نے شیعیان اہلبیت(ع) پر لعن و طعن کرنا شروع کردی اور زہر اگلنے لگے وہ مجھے ذلیل اور قتل کرنا چاہتے تھے. کیونکہ انہیں یہ بات معلوم ہوچکی تھی کہ میں نے ایک کتاب لکھی ہے کہ جس میں اہلسنت کو مذہب اہلبیت(ع) اختیار کرنے کی دعوت دی ہے. لیکن میں ان کے ارادوں کو بھانپ گیا میں نے اپنے اعصاب پر قابو کیا اور مسکراتے ہوئے کہا: میں تمہارا مہمان ہوں، تم نے مجھے دعوت دی، میں حاضر ہوگیا. کیا تم نے مجھے اسی لئے بلایا ہے کہ مجھ پر سب و شتم کرو


کیا اسلام نے تمہیں اسی اخلاق کی تعلیم دی ہے؟ انہوں نے بہت ہی منہ پھٹ انداز میں اور حلفیہ جواب دیا: کہ میں اپنی عمر کے کسی دن میں مسلمان تھا ہی نہیں کیونکہ میں شیعہ ہوں اور شیعہ مسلمان نہیں ہیں.

میں نے کہا : میرے بھائیو! خدا سے ڈرو! ہمارا ایک خدا ایک نبی(ص)، ایک کتاب اور ایک قبلہ ہے، اور شیعہ خدا کو ایک جانتے ہیں اور نبی(ص) و اہلبیت(ع) کی اقتدا کرتے ہوئے اسلام پر عمل کرتے ہیں، وہ نماز پڑھتے ہیں روزہ رکھتے ہیں، زکوة دیتے ہیں، حج کرتے ہیں انہیں کافر قرار دینا تمہارے لئے کیسے جائز ہوگیا؟

انھوں نے مجھے جواب دیا: تمھارا قرآن پر ایمان نہیں ہے تم منافق ہو، تقیہ پر عمل کرتے ہو، تمھارے امام کہتے ہیں تقیہ میرے آباء و اجداد کا دین ہے، تم یہودی ہو، کیونکہ اسکا موسس عبداللہ ابن سبا یہودی ہے.

میں نے مسکراتے ہوئے کہا: مجھ سے شیعہ ہونے کی حیثیت سے گفتگو نہ کریں میں خود تمھاری طرح مالکی تھا اور تحقیق و چھان بین کے بعد میں اس بات سے مطمئن ہوگیا کہ اہلبیت(ع) کا اتباع کرنا بہتر ہے. کیا تمھارے پاس ایسی کوئی دلیل ہے کہ جس کے ذریعہ مجھ سے مجادلہ کر سکو یا پھر تم مجھ سے سوال کرو کہ میری دلیل کیا ہے. ہوسکتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سمجھا سکیں.

انہوں نے کہا! اہلبیت(ع) ازواج نبی(ص) ہیں. تم قرآن کے متعلق کچھ نہیں جانتے.

میں نے کہا: صحیح بخاری اور مسلم سے تو تمہارے قول کی مخالفت ثابت ہوتی ہے! انہوں نے کہا: جو کچھ صحیح بخاری و مسلم اور دوسری


حدیث کی کتابوں میں ایسی چیزیں مرقوم ہیں جس سے تم حجت قائم کرتے ہو وہ شیعوں کی گڑھی ہوئی حدیثیں ہیں جنہیں ہماری کتابوں میں سمو دیا گیا ہے.

میں نے ہنستے ہوئے انہیں جواب دیا : جب شیعوں نے تمہاری کتابوں اور صحاح میں غلط حدیثیں بھر دی ہیں تو ان کتابوں کا اور اس پر قائم تمہارے مذہب کا کوئی اعتبار نہیں ہے. ( میرے اس جملہ سے) وہ خاموش ہوگئے، لیکن ان میں سے ایک نے بے جوڑ گفتگو کا ازسر نو آغاز کیا اور کہا: جو بھی خلفائے راشدین، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی(ع) و سیدنا معاویہ اور سیدنا یزید رضی اللہ عنہ، کی خلافت پر ایمان نہیں رکھتا ہے وہ مسلمان نہیں ہے!!!

میں اس کی یہ بات سن کر ہکا بکا رہ گیا، اس لئے کہ میں نے اپنی زندگی میں یہ بات کبھی نہیں سنی تھی کہ. جو معاویہ و یزید کی خلافت پر ایمان نہیں رکھتا وہ کافر ہے، میں نے اپنے دل میں کہا: یہ بات تو کسی حد تک صحیح ہے کہ مسلمان ابوبکر و عمر اور عثمان سے راضی ہوجائیں لیکن یزید(لع) کے بارے میں تو میں نے ہندوستان کے علاوہ کہیں نہیں سنا تھا. میں نے ان سب کو مخاطب کرکے سوال کیا، کیا تم سب اس شخص کی رای سے متفق ہو؟ ان سب نے بیک زبان کہا: ہاں.

اب میں نے یہ سوچا کہ ان سے گفتگو کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے. اور میری سمجھ میں یہ بات آگئی کہ وہ مجھے غیظ دلا کر مجھ سے انتقام لینا چاہتے ہیں. اور صحابہ پر لعنت کے الزام میں مجھے قتل کردیں گے اور کسی کو خبر نہ ہوگی.

میں نے ان کی آنکھوں میں شرکو دیکھ لیا اور اپنے اس ساتھی


سے کہا" جو مجھے ان کے پاس لے گیا تھا " کہ مجھے یہاں سے فورا نکال لے چلو، چنانچہ اس نے مجھے نجات دلائی. حالانکہ وہ مجھ سے روا رکھے جانے والے سلوک پر، عذر خواہی کر رہا تھا. اور اس بات پر افسوس کر رہا تھا. اور یہ شخص کہ جو اس ملاقات کے ذریعہ حق کو پہچانتا تھا اس سے بری تھا. واضح رہے کہ یہ نوجوان اور مہذب شخص بمبئی کے مکتبہ اور مطبع اسلامیہ کا مالک شرف الدین تھا. وہ ہمارے درمیان ہونے والی مذکورہ گفتگو کا گواہ ہے. اس کے سامنے ان افراد کی بد اخلاقی کہ جو اپنے کو سب سے بڑا عالم تصور کرتے ہیں پوشیدہ نہ رہی.

میں نے انہیں چھوڑ دیا. حالانکہ مجھے مسلمانوں کے اس انحطاط پر افسوس ہورہا تھا. خصوصا ان لوگوں پر جو مرکز صدارت پربیٹھے ہوئے ہیں اور خود کو علماء کے نام سے پیش کرتے ہیں. پھر میں نے اپنے دل میں کہا جب اندھے تعصب میں علماء کی یہ حالت ہے تو(یہاں کے) عوام الناس اور جاہلوں کی کیا کیفیت ہوگی. اب میری سمجھ میں بہ بات آئی کہ ایسے معرکے اور جنگیں کیسے وجود میں آتی ہیں. جن میں محترم خون بہہ جاتا ہے عزتیں پامال ہو جاتی ہیں اور ہتکہ حرمت ہوتی ہے اور یہ سب کچھ اسلام سے دفاع کے نام پر ہوتا ہے. میں امت کی اس پست روش پر رو دیا کیونکہ اس امت کے سپرد خدا نے ہدایت کی ذمہ داری کی تھی اور رسول(ص) نے تاریک قلوب تک نور پہونچانے کی ذمہ داری لی تھی اور ابھی ہدایت کی شدید ضرورت ہے اور اس وقت صرف ہندوستان میں سات سو ملیون افراد غیر خدا کی پرستش کرتے ہیں گائے اور بتوں کی تقدیس کرتے ہیں اور بجائے اس کے کہ مسلمان انہیں موحد بنائیں ان کی ہدایت کرتے تاریکی سے نکال کر روشنی میں لائیں تاکہ وہ رب العالمین کو قبول کریں. آج ہم مسلمانوں کو خصوصا ہندوستان میں دیکھتے ہیں کہ انہیں


خود ہدایت کی ضرورت ہے.

لہذا میرے سید و سردار آپ کو دعوت نامہ ارسال کررہا ہوں کہ خدائے رحمن و رحیم، اس کے رسول(ص) اور غظیم اسلام کے نام پر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑیں اور تفرقہ بازی سے پرہیز کریں " میری گذارش ہے کہ آپ ایک شجاع مسلمان کا موقف اختیار کریں کہ جو خدا کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی اس پر شیطان کی دلی خواہش عصبیت و قبائلیت طاری ہوتی ہے.

میں آپ کو پر خلوص اور واضح موقف کی دعوت دیتا ہوں آپ لوگوں ہی پر خدا نے اس علاقہ کے لوگوں کی ہدایت کی ذمہ داری اس وقت تک عائد کی ہے جب تک آپ اسلام کا دم بھرتے رہیں گے. خدا آپ کے اس موقف سے ہرگز راضی نہیں ہوگا کہ آپ یہاں وہاں رونما ہونے والے حادثات سے راضی ہوں کہ جس کی قیمت شیعہ سنی مسلمانوں کو چکانا پڑتی ہے. قیامت کے روز خداوند عالم ہر چھوٹے بڑے کا آپ سے حساب لے گا، اور ہر نافرمانی کے متعلق آپ سے پوچھا جائے گا. کیونکہ صاحبان علم اور جاہل برابر نہیں ہیں ہر ایک پر اس کے ظرف و دانائی کےمطابق ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور شرافت کے لحاظ سے بزرگی و عظمت ملتی ہے.

لہذا جب تک آپ اپنے کو ھندوستان کا عالم سمجھتے رہیں گے اس وقت تک آپ کی ذمہ داری بھی عظیم رہے گی. اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آپ کے کچھ کہنے میں ہندوستان کے لوگوں کی صلاح بھی ہوسکتی ہے اور کبھی اس سے نسلیں ہلاک بھی ہوسکتی ہیں اے صاحبان عقل اللہ سے ڈرو!

بیشک خداوند عالم نے ملائکہ کے بعد علماء کو بلند مرتبہ عطا کیا ہے


چنانچہ ارشاد ہے:

‏( شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلهَ إِلَّا هُوَ- وَ الْمَلائِكَةُ وَ أُولُوا الْعِلْمِ قائِماً بِالْقِسْطِ ) سورہ آل عمران، آیت/18

اللہ خود گواہ ہے کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے ملائکہ اور صاحبان علم گواہ ہیں کہ وہ عدل کے ساتھ قائم ہے. اور جب خداوند عالم ہم سب کو یہ حکم دے رہا ہے یہ کہکر.

( وَ أَقِيمُوا الْوَزْنَ‏ بِالْقِسْطِ وَ لا تُخْسِرُوا الْمِيزانَ‏. ) سورہ رحمن، آیت/8

اور انصاف کے ساتھ وزن کو قائم کرو اور تولنے میں کم نہ تو لو.

اور جب مفسرین نے قیمتی مادی اشیاء میں عدلم قائم کرنے کے لئے کہا ہے تو ان عقائدی چیزوں میں عدالت سے کیوں کام نہیں لیتے کہ جو حق وباطل کے درمیان امتیازی حیثیت رکھتی ہیں، انہیں پر بشر کی ہدایت موقوف اور اس میں پوری انسانیت کی نجات کا راز مضمر ہے. خداوند عالم کا ارشاد ہے:

( وَ إِذا حَكَمْتُمْ‏ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ‏ )

اور جب کوئی فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو. نیز ارشاد ہے:

( يا داوُدُ إِنَّا جَعَلْناكَ‏ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لا تَتَّبِعِ الْهَوى‏ فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ )

اے دائود ہم نے تم کو زمین میں اپنا جانشین بنایا ہے لہذا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور


خواہشات کا اتباع نہ کرو کہ وہ راہ خدا سے منحرف کردے.اور رسول اکرم(ص) کا ارشاد ہے کہ:

حق بات کہو اگرچہ وہ تمہارے خلاف ہی ہو.نیز فرمایا: حق کہو خواہ وہ تلخ ہی ہو...

میرے عزیز محترم میں آپ کو کتاب خدا اور سنت رسول(ص) کی طرف دعوت دیتا ہوں کہ انہیں صاف صاف بیان کیجئے اگرچہ تلخ ہی ہو. یہ بات خدا کے نزدیک آپ کے لئے شاہد ہوگی اپنے پروردگار کی قسم کھا کے بتائیے کیا شیعہ آپ کے نزدیک مسلمان نہیں ہیں؟

کیا آپ کا یہ عقیدہ حق ہے کہ وہ کافر ہیں؟ کیا اہلبیت(ع) نبوی(ص) کے اتباع کرنے والے کہ جنہوں نے خدا کی وحدانیت و عظمت کے سلسلہ میں تمام فرقوں سے زیادہ کام کیا ہے. ان کا کہنا ہے کہ خدا مشابہت و ہم شکل ہونے اور جسمانیت سے پاک ہے، وہ اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور دوسرے فرقوں سے زیادہ ان کی عظمت کے قائل ہیں. ان کا قول ہے کہ نبی(ص) بعثت سے قبل بھی مطلق طور پر معصوم تھے. کیا آپ انہیں کافر کہتے ہیں؟

کیا جو لوگ خدا و رسول(ص) اور مومنوں سے دوستی رکھتے ہیں جو عترت نبی(ص) کو دوست رکھتے ہیں جیسا کہ ابن منظور نے لسان العرب میں مادۃ شیعہ کے ذیل میں تحریر کیا ہے، کیا ان کو آپ غیر مسلمان کہتے ہیں؟

کیا وہ شیعہ جو بہترین طریقے سے نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں مزید خدا و رسول(ص) کی اطاعت کرتے ہوئے اپنے اموال سے خمس نکالتے ہیں اور رمضان و دیگر ایام کے روزے رکھتے ہیں خانہ خدا کا حج بجالاتے ہیں


اور شعائر اللہ کی تعظیم کرتے ہیں اور اولیائے خدا کا احترام کرتے ہیں، دشمنان خدا اور اسلام دشمن طاقتوں سے اظہار برائت کرتے ہیں، کیا وہ آپ کے نزدیک مشرک ہیں.

کیا وہ لوگ جو اہلبیت(ع) میں سے ان بارہ(12) اماموں کی امامت کے قائم ہیں جن سے خدا نے رجس کو دور رکھا ہے اور اس طرح پاک کیا جو کہ حق ہے اور ان کی امامت پر رسول(ص) نے نص فرمائی ہے جیسا کہ اہلسنت علماء مثلا بخاری و مسلم وغیرہ نے اپنی صحاح میں تحریر کیا ہے. وہ آپ کے نظریہ کے مطابق دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے ہیں؟؟

کیا وہ لوگ مسلمان ہیں جو حیات نبی(ص) میں اور بعد نبی(ص) کسی روز بھی امامت سے متعارف نہیں تھے. اور اس نظریہ کو فارس (ایران) و مجوس کا نظریہ کہتے ہیں؟

کیا آپ اس وقت اس شخص کو کافر قرار دیتے ہیں جو یزید ابن معاویہ کو امام مانتا ہے کہ جس کے فسق کو ہر خاص و عام مسلمان جانتا ہے؟ اور یزید کی خست و ذلالت کے لئے تو یہی چیز کافی ہے کہ جس پر مسلمانوں کا اجماع بھی ہے کہ یزید نے بیعت لینے کے لئے، مدینہ منورہ کو اپنے لشکر کے لئے مباح کر دیا تھا. وہ جو چاہے کرے. پس اس کے فوجیوں نے ہزاروں بہترین صحابہ اور تابعین کو قتل کیا اور بے شمار عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ بالجبر زنا کیا جن سے پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد کو خدا ہی جانتا ہے. اس(یزید لع) کے لئے تو رہتی دنیا تک یہی رسوائی اور ذلت کافی ہے کہ اس نے جوانانِ جنت کے سردار کو قتل کیا اور رسول(ص) کی بیٹیوں کو بے پردہ کیا، امام حسین علیہ السلام کے دندان مبارک کو چھڑی لگائی اور مشہور اشعار میں اس کی مثال دی.


اے کاش بدر میں شہید ہونے والے میرے بزرگ ہوتے تو دیکھتے،، یہاں تک کہ اس نے کیا: یہ تو بنی ہاشم کا بادشاہ بننے کے لئے ڈھونگ تھا، ورنہ نہ کوئی فرشتہ آیا اور نہ وحی نازل ہوئی.

اس کے ان اشعار سے صاف طور پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کی نبوت اور قرآن مجید پر ایمان نہیں رکھتا تھا. کیا یہ حق ہے کہ جو یزیدلع اور اس کے باپ معاویہ پر لعنت کرے آپ اسے کافر قرار دیں؟ جو علی علیہ السلام پر لعنت کرتا تھا اور لعنت کرنے کا حکم دیتا تھا بلکہ صحابہ میں سے جو لعنت کرنے سے انکار کرتا تھا اسے تہ تیغ کر دیتا تھا جیسا کہ حجر ابن عدی کندی اور ان کے ساتھیوں کو قتل کیا. اس لعنت کے سلسلہ کو ایک سنت بنادیا کہ جو ستر(70) سال تک جاری رہی جبکہ وہ ( معاویہ) رسول(ص) کے اس قول سے واقف تھا:

"جس نے علی(ع) پر لعنت کی اس نے میرے اوپر لعنت کی اور جس نے میرے اوپر لعنت کی اس نے خدا کو برا کہا"

جیسا کہ اہلسنت کی صحاح میں یہ چیزیں بیان ہوئی ہیں. اس کے علاوہ اس کے بہت سے ایسے افعال ہیں جو اسلام کے منافی ہیں. اس نے اپنے بیٹے یزید کی بیعت لینے کے لئے بہت سے نیکوکار لوگوں کو قتل کیا. اور جعدہ بنت اشعث کے ذریعہ حسن ابن علی علیہما السلام کو قتل کرایا اس کے علاوہ اس کے اور بہت سے جرائم ہیں جنہیں اہلسنت کی تاریخ نے ذکر کیا ہے جیسا کہ شیعیان علی علیہ السلام نے اس کی شہادت دی ہے.

محترم میں آپ کے بارے میں یہ خیال نہیں کرتا ہوں کہ آپ


ان تمام چیزوں سے متفق ہوں گے ورنہ اسلام پر سلام، اور دنیا پر خاک، کیونکہ اس کے بعد نہ دنیا میں کوئی پیمانہ ہے نہ عقل ہے نہ شرع ہے نہ کوئی منطق ہے نہ کوئی دلیل ہے. خداوند عالم کا ارشاد ہے:

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَ كُونُوا مَعَ‏ الصَّادِقِينَ )

ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور صادقین کے ساتھ ہو جائو.

قسم خدا کی پاکستان کے عالم ابو الاعلی مودودی رحمتہ اللہ نے اپنی کتاب خلافت و ملوکیت کے ص106 پر ابوالحسن بصری سے نقل کیا ہے کہ:

قسم خدا کی معاویہ میں چار خصلتیں ایسی تھیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی ہوتی تو وہی اس کی ہلاکت کے لئے کافی تھی.

مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر خلیفہ بن بیٹھا جبکہ ان میں صحابہ اور با فضلیت افراد موجود تھے.

اپنے بعد اپنے بیٹے کو خلیفہ بنادیا جو شراب خوار حریر پوش اور طنبور بجاتا تھا.

زیاد کو اپنا بھائی بنایا، جبکہ رسول(ص) کا قول ہے کہ: بچہ صاحب فراش کا ہے اور زناکار کے لئے پتھر ہے.

اس کا، حجر اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرنا پس حجر اور ان کے اصحاب کےسلسلہ میں معاویہ پر ویل ہو( اس جملہ


کو تین مرتبہ دہرایا)

خدا ابو الاعلی مودودی پر رحم کرے کہ انہوں نے حق کا اظہار کیا اور اگر وہ چاہے تو ان خصلتوں سے زیادہ اس کی چالیس خصلتیں گنواتے لیکن مرحوم نے معاویہ کی ہلاکت کے لئے ان چار ہی کو کافی سمجھا.

شاید مودودی صاحب نے ان لوگوں کے جذبات کا خیال رکھا جو معاویہ کی تقدیس و احترام اور اسے رضی اللہ عنہ، کہنا سیکھتے ہیں بلکہ اس کے بیٹے یزید کو بھی اسی زمرہ میں شامل کر لیتے ہیں جیسا کہ خود میں نے علماء ہند سے سنا ہے."لا حول‏ و لا قوة الا بالله العلى العظيم"

اور انہیں باتوں کے تحت میں نے بھی ان لوگوں کے جذبات کا خیال رکھا تھا جنہوں نے مجھے رسوا کرنے کے لئے دعوت دی تھی ان میں سے میں نے ایک بات بھی بیان نہیں کی تھی کیونکہ مجھے اپنا ڈر تھا.

محترم میری آپ سے گذارش ہے کہ آپ واضح موقف کو اختیار کریں اور اس سے خدا کی رضا کو حاصل کریں بیشک خدا حق کے بارے میں ذرا بھی شرم نہیں کرتا، میں آپ سے یہ نہیں چاہتا کہ آپ ان کی برابری کے قائل ہوجائیں اور نہ ہی ان کی برائیوں سے پردہ ہٹانے کے لئے کہتا ہوں اس سلسلہ میں ہمارے اور آپ کے لئے تاریخ کافی ہے لیکن یہ ضرور چاہتا ہوں کہ آپ خود اعتراف کریں اور اپنے پیروں کو یہ بتائیں کہ جو ان ( معاویہ و یزید وغیرہ) کی امامت کے قائل نہیں ہیں اور ان سے محبت نہیں رکھتے وہی سچے اور حقیقی مسلمان ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آپ یہ کہیں کہ شیعہ ہمیشہ مظلوم رہے ہیں کیونکہ انہوں نے کبھی شجرۃ ملعونہ کی امامت کا اعتراف نہیں کیا ہے جس کی مثال خداوند کریم نے


قرآن مجید میں بیان فرمائی ہے.

آپ قسم کھا کے بتائیں کہ شیعوں کی کیا خطا ہے. رسول(ص) خود اپنے بعد اپنے اہلبیت(ع) کے اتباع کا حکم دیتے ہیں یہاں تک کہ انہیں سفینہ نوح سے تشبیہ دی جو اس پر سوار ہوا وہ نجات پائے گا اور جس نے اس سے روگردانی کی وہ ہلاک ہوگا. شیعوں کی کیا خطا ہے جبکہ وہ رسول(ص) کے اس حکم کا اتباع کرتے ہیں:

میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ رہا ہوں کتاب خدا اور میری عترت، جب تک ان سے وابستہ رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہوگے.

اور اس بات کو گواہیاں تو اہلسنت کتابوں میں بھی ہیں چہ جائیکہ شیعہ کی کتابیں.

لیکن رسول(ص) کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے ان کے شکر گزار ہوئے، انہیں دوسروں پر مقدم کرنے اور فضیلت دینے کے بجائے ان پر سب وشتم کرتے ہیں انہیں کافر کہتے ہیں ان سے بیزاری اختیار کرتے ہیں، یہ تو انصاف نہیں ہے اور نہ ہی یہ بات معقول ہے.

محترم ہمیں ان خرافات اور رکیک باتوں کو چھوڑ دینا چاہئے جو کسی دلیل و برہان پر استوار نہیں ہیں اور انہیں اپنی امت کے نوجوانوں پر تحمیل نہ کریں کہ شیعوں کا ایک خاص قرآن ہے یا شیعہ تو علی(ع) کو صاحب شریعت کہتے ہیں یا عبداللہ ابن سبا مذہب تشیع کا موسس ہے. اس کے علاوہ اور واہیات قسم کے اقوال ہیں کہ جن کے بارے میں خدا گواہ ہے کہ دشمنان اسلام اور عدو اہلبیت(ع) کا پروپیگنڈہ ہے جو انہوں نے اندھے تعصب اور جہالت کی بنا پر گڑھ دیا ہے


محترم میں یہ سوال کرتا ہوں کہ ہندوستان کے علماء کو جامعہ اظہر کے علماء سے کیا نسبت ہے کہ جنہوں نے مذہب شیعہ امامیہ کو قبول کرنے کا تیس سال قبل فتوی دیا تھا اور جامعہ اظہر ہی کے علمائے اعلام کا یہ بھی نظریہ ہے کہ فقہ جعفری کہ جس پر شیعہ عمل کرتے ہیں وہ ان تمام مذاہب اسلامی سے زیادہ روح اسلام سے قریب ہے کہ جو اس کی فرع ہیں اور ان علما کے راس و رئیس شیخ محمود سلتوت رحمتہ اللہ ہیں، پس کیا وہ علمائے اسلام اور مسلمانوں کو نہیں پہچانتے تھے؟ یا ہندوستان کے علما ان سے اعلم و اعرف ہیں. میں نہیں سمجھتا کہ آپ بھی اسی کے قائل ہوں گے...!

محترم! آنکھیں آپ پر لگی ہیں آپ کی محبت و شفقت کے لئے میرا قلب کھلا ہوا ہے، یقینا گذشتہ زمانہ میں میں بھی آپ کی طرح حقیقف سے بے خبر اور اہلبیت(ع) اور ان کے شیعوں سے ناواقف تھا. پس خدا نے اس حق کی طرف میری راہنمائی کی کہ جس کے علاوہ گمراہی و ضلالت ہے میں تعصب کی بندشوں اور اندھی تقلید سے آزاد ہوگیا ہوں اور مجھ پر بات آشکار ہوگئی ہے کہ زیادہ تر مسلمان ابھی تک باطل اور پروپیگنڈے کے پردوں میں چھپے ہوئے ہیں اور ان کو حقیقت تک پہونچنے نہیں دیا جاتا کہ کہیں سفینہ نجات پر سوار نہ ہو جائیں اور خدا کی رسی کو پکڑ نہ لیں جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ شیعہ و سنی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے سوائے اس اختلاف کے جو خلافت کے سلسلہ میں بعد رسول(ص) رونما ہوا. اس اختلاف کی بنیاد تمہارا صحابہ پر اعتقاد ہے جب کہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں آپس میں اختلاف تھا یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے پر لعنت کرتے تھے. لڑتے تھے اور بعض بعض کو قتل کرتے تھے.

پس اگر شیعوں کا اختلاف انہیں دین سے خارج کردیتا ہے


تو العیاذ باللہ صحابہ اس تہمت کے زیادہ مستحق ہیں میں نہیں سمجھتا کہ آپ اس کو برداشت کرسکیں گے، انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اس سلسلہ میں یہ بھی نہ کہیں کہ وہ دین سے خارج ہیں، اہلبیت(ع) کے تقدس و احترام کے سلسلے میں جو شیعوں کا نظریہ ہے وہی صحابہ کے تقدس و احترام کے سلسلہ ہیں اہلسنت کا نظریہ ہے پس دونوں موقفوں میں کتنا بعد ہے، اگر اس نظریہ میں شیعہ خطا پر ہیں تو اہلسنت بدرجہ اولی خطا کار ہیں. کیونکہ تمام صحابہ اہلبیت(ع) کو اپنے نفسوں پر مقدم کرتے تھے اور ان پر بلکل اسی طرح درود بھیتے تھا جس طرح نبی(ص) پر بھیجتے تھے، ہمیں کسی ایک صحابی کے بارے میں بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے نفس کو اہلبیت مصطفی(ص) پر مقدم کیا ہو یا علم و عمل کے لحاظ سے خود کو ان پر فضیلت دی ہو.

پس اب وہ وقت آن پہونچا ہے کہ شیعیان اہلبیت(ع) سے تاریخی تاریکی کو ہٹایا جائے ان سے قربت و بھائی چارگی قائم کی جائے نیک اور اچھے کاموں میں تعاون کیا جائے، اس امت کے لئے ویسے ہی خونریزی اور فتنہ انگیزی کیا کم ہے.

عنقریب خدا آپ کو ایک کلمہ پر جمع کردے گا ، اور آپ کے ذریعہ افتراق کو ختم کردے گا اور آپ کے سبب علیحدگی و سنگدلی کو دور کردے گا. آپ کے باعث اس زخم کا مداوا کرے گا، آپ کے توسط سے اس فتنہ کی آگ کو خاموش کرے گا، آپ ہی کے وسیلہ سے شیطان اور اس کے گروہ کو رسوا کرے گا. اور آپ خدا کے نزدیک کامیاب ہوجائیں گے. خصوصا آپ تو اہلبیت(ع) کی اولاد سے ہیں جیسا کہ میں نے سنا ہے لہذا ایسے اعمال بجالائے کہ جن کے سبب آپ ان(اہلبیت(ع)) کے ساتھ محشور ہوسکیں


"اور یہ تمہاری امت ایک ہی ہے میں تمہارا رب ہوں پس میری عبادت کرو" " اور کہدیجیئے کہ (نیک) عمل بجالائو کیونکہ خدا، اس کا رسول(ص) اورمومنین تمہارے اعمال کو دیکھتے ہیں" اور خدا ہمیں اور آپ کو توفیق مرحمت فرمائے اسی میں لوگوں اور شہروں کی فلاح ہے، خداوند عالم ہمیں اور آپ کو اپنے مخلص بندوں میں شمار فرمائے.

اس خط کے ہمراہ آپ کی خدمت میں اپنی کتاب " ثم اھتدیت" کا ایک نسخہ بھی ارسال کررہا ہوں، یہ کتاب میں نے اسی موضوع پر تالیف کی ہے میری طرف سے یہ ہدیہ ہے امید ہے کہ قبول فرمائیں گے.

وَ السَّلَامُ‏ عَلَيْكُمْ‏ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ.

مخلص محمد تیجانی السماوی، تیونسی


. پوچھ لو

آیہ فاسئلوا اہل الذکر مسلمانوں کو ہر مشکل کام میں اہل ذکر کی طرف رجوع کرنے کا حکم دے رہی ہے تاکہ وہ راہ راست سے اگاہ ہوجائیں. کیونکہ خداوند عالم نے انہیں تعلیم دینے کے بعد اس کام کے لئے منتخب کیا ہے یہی راسخون فی العلم ہیں اور یہی قرآن کی تاویل سے واقف ہیں.

یہ آیت اہلبیت(ع) یعنی محمد(ص) و علی(ع) و فاطمہ(س) و حسن(ع) و حسین(ع) کے تعارف کے لئے نازل ہوئی ہے. عہد نبی(ص) کے علاوہ قیام قیامت تک پنچتن پاک، اصحاب کساء میں سے حسین علیہ السلام کی نسل سے تو ائمہ ہوں گے کہ جن کو رسول(ص) نے معین کیا ہے. اور مناسب موقعوں پر ان کا تذکرہ بھی کیا ہے اور انہیں ائمہ ہدی، مصابیح الدجی، اہل ذکر، راسخون فی العلم کے القاب سے نوازا ہے.

یہ روایات عہد نبی(ص) ہی سے شیعوں کے نزدیک متواتر اور صحیح


ہیں. اہل سنت کے بعض علماء و مفسرین نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے اور اس آیت کے ذیل میں تحریر کیا ہے کہ یہ آیت اہلبیت علیہم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے ان میں سے بعض علماء کے اسماء یہاں مثال کے طور پر پیش کر رہا ہوں.

1.امام ثعلبی نے تفسیر کبیر میں سورہ نحل کی اسی آیت کے معنی کے ذیل میں.

2.ابن کثیر نے تفسیر القرآن کی جلد، 2، ص570 - 3.تفسیر طبری میں، جلد14، ص109

4.تفسیر آلوسی المسمی بہ روح المعانی جلد 14 ص134 - 5.تفسیر قرطبی جلد11 ص272

6. تفسیر حاکم المسمی بہ شواہد التنزیل جلد 1ص334 - 7. تفسیر تستری المسمی بہ احقاق الحق جلد3 ص482 - 8. قندوزی حنفی کی ینابیع المودة، ص51و 140

اگر آیت کے ظاہری معنی سے اہل کتاب" یہود و نصاری" مراد ہیں تو اس کے لئے ہم اس بات کو وضاحت کردینا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس آیت سے مراد یہود و نصاری نہیں ہیں.

اوّلا: اس لئے کہ قرآن نے متعدد آیات میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہود و نصاری نے خدا کے کلام میں تحریف کی اور اپنے ہاتھوں سے لکھ کر کہہ دیا کہ یہ خدا کی کتاب ہے تاکہ اس سے کچھ قیمت حاصل کرسکیں(قرآن) ان لوگوں کے بارے میں کذب اور ان کے ہاتھوں سے کلام خدا میں تحریف کی گواہی دے رہا ہے. یہ بات معقول نہیں ہے کہ قرآن ان کی اس حرکت کے باوجود ان سے رجوع کرنے کا حکم دے اور کہے کہ جو مسائل تم نہیں جانتے وہ یہود و نصاری سے پوچھ لو.


ثانیا:بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الشہادت کے باب" لایسئل اہل الشرک" کی جلد 3 ص163 پر ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ:

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ: اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو نہ انہیں جھٹلائو، یہ کہو ہم تو اللہ اور اس کے نازل کئے ہوئے پر ایمان لاچکے ہیں. آیت"

اس آیت سے یہود و نصاری کو چھوڑنا اور ان سے رجوع نہ کرنا آشکار ہے، کیونکہ عدم تصدیق و تکذیب دونوں ہی اس سوال کی نفی کررہے ہیں. کہ جس کا صحیح جواب طلب کیا جاتا ہے.

ثالثا: بخاری نے اپنی صحیح کی جلد8، ص208 : کتاب التوحید اللہ تعالی کے قول" کل یوم ھو فی شان،، کے باب میں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ:

انہوں نے کہا مسلمانو! تم اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں کیسے سوال کرتے ہو. جبکہ تمہاری کتاب وہ ہے جسے خدا نے اپنے نبی(ص) پر نازل کیا اور جو صرف اللہ کی طرف سے خبر دیتی ہے، وہ کوئی قصیدہ نہیں ہے. اور خدا تمہیں آگاہ کرچکا ہے کہ اہل کتاب. یہود و نصاری،، نے کتاب خدا میں تحریف کردی اور پھر اپنے ہاتھوں سے لکھ کر کہنے لگے(یہ) خدا کی کتاب ہے. تاکہ اس سے کچھ نفع حاصل کرسکیں. یا تمہیں اس چیز کے بارے میں ان سے سوال کرنے کو منع کیا ہے کہ جس کا تمہیں علم نہ ہو. خدا کی قسم ہم نے ان میں سے کسی کو نہیں دیکھا کہ وہ تم سے

اس چیز کے بارے میں سوال کرے جو تم پر نازل ہوئی ہے.


رابعا: اگر آج ہم اہل کتاب " نصاری" سے سوال کریں تو وہ کہتے ہیں کہ عیسی خدا ہیں. اور یہود انہیں جھٹلاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ عیسی کو نبی بھی نہیں مانتے ہیں. اور یہود و نصاری دونوں نبی(ص) اور اسلام کا انکار کرتے ہیں. اور کہتے ہیں: -محمد(ص)- بہت بڑے جھوٹے اور دجال ہیں. معاذ اللہ- کیا اس کے باوجود ہم آیت کا یہ مفہوم نکال سکتے ہیں کہ خدا نے ہمیں ان سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے- ناممکن ہے- اور جب ظاہر آیت سے اہل کتاب " یہود و نصاری" کا اہل ذکر ہونا سمجھ میں آتا ہے تو اس سے اس بات کی نفی نہیں ہوتی ہے کہ یہ آیت اہلبیت نبی(ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے. جیسا کہ شیعوں اور سنیوں کے نزدیک صحیح حدیثوں سے ثابت ہے. اور اسی سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ خداوند متعال نے ان ہی کو اس کتاب کے علم کا وارث ہے -کہ جس میں کسی قسم کی تفریط نہیں ہے.- بنایا ہے. اور اپنے بندوں میں سے انہیں اس لئے منتخب کیا ہے تاکہ لوگ تفسیر و تاویل قرآن کے بارے میں ان سے رجوع کریں اور جب وہ خدا و رسول(ص) کی اطاعت کریں گے تو ان کی ہدایت کی ضمانت بھی ہوگی.

خداوند عالم چاہتا تھا کہ تمام لوگوں کو اپنے برگزیدہ اور عالم کتاب افراد کا مطیع و فرمانبردار بنا دے تاکہ قیادت اور دنیا کے نظم و نسق کا مسئلہ حل ہوجائے پس اگر وہ لوگوں کے درمیان نہ رہیں گے تو ہر ایک پر ہوس طاری ہوجائے گی، لوگوں کے امور میں بد نظمی پیدا ہوجائے گی اور ہر ایک کے لئے اعلمیت کا دعوی کرنا ممکن ہوگا.

اس بات سے مطمئن ہوجانے کے بعد اہل ذکر سے مراد اہلبیت(ع)


ہیں، اس پر دلیل قائم کروں گا کہ اہل ذکر سے مراد اہلبیت(ع) ہی ہیں- عنقریب میں ایسے سوالات پیش کروں گا کہ اہل سنت کے پاس جن کا جواب نہیں ہے یا اگر جواب ہے، تو اس سے جان بوجھ کر پہلو تہی اختیار کرتے ہیں اور ایسی دلیل پیش کرتے ہیں جسے کوئی محقق قبول نہ کرسکے- ان سوالات کے حقیقی جوابات ائمہ اطہار(ع) ہی کے پاس ہیں کہ جنہوں نے دنیا کو علم و معرفت اور صالح عمل سے مالا مال کیا ہے.


پہلی فصل

اللہ سے متعلق

پہلا سوال:

رئویت خدا اور اس کے مجسم ہونے کے بارے میں؟

خداوند عالم اپنی کتاب میں ارشاد فرماتا ہے:

( لا تُدْرِكُهُ‏ الْأَبْصارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ ) انعام/103

آنکھیں اسے نہیں دیکھ سکتیں.

( ليس‏ كمثله‏ شئ ‏) شوری/11

اس کے مثل کے شئی نہیں ہے.

اور جب جناب موسی نے دیدار کی خواہش کی تو فرمایا:

( لَنْ‏ تَرَانِي ‏) اعراف/143

تم مجھے کبھی نہیں دیکھ سکتے


پس تم ان حدیثوں کو کیسے قبول کرتے ہو جو صحیح بخاری اور مسلم میں منقول ہیں کہ خداوند عالم اپنی مخلوق کے سامنے جلوہ افروز ہوگا، اور لوگ اسے چودہویں کے چاند کی طرح سے دیکھیں گے.(1) اور ہر شب جمعہ کو آسمان دنیا پر اترتا ہے.(2) جہنم میں اپنا پیر ڈال دے گا اور وہ بھرجائے گا.(3) وہ اپنی پنڈلی کھول دے گا تاکہ مومنین پہچان لیں.(4) وہ ہنستا ہے اور حیرت میں پڑ جاتا ہے.(5) ان کے علاوہ اور بہت سی روایات ہیں کہ جن سے خدا کا مجسم اور متحرک ہونا ثابت ہوتا ہے- مثلا- اس کے دو ہاتھ اور دو پیئر ہیں، پانچ انگلیاں ہیں، پہلی انگلی آسمانوں پر، دوسری زمینوں پر، تیسری درختوں پر چوتھی پانی اور ثری پر، اور پانچویں تمام مخلوقات پر رکھے ہوئے ہے.(6) وہ اپنے گھر میں قیام پذیر ہے. محمد(ص) تین مرتبہ اس کے پاس پہونچنے کے لئے اجازت طلب کرتے ہیں. خداوند متعال اس سے بزرگ و برتر ہے- پروردگار تو توصیف کرنے والوں کی توصیف سے پاک و پاکیزہ ہے.- ائمہ ہدی، مصابیح الدجی کے پاس ان تمام باتوں کا جواب یہ ہے کہ خداوند عالم ہم شکل وہم جنس، صورت و جسم اور شبیہہ و حد بندی سے پاک ہے. حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

____________________

1.صحیح بخاری ج7، ص205، صحیح مسلم ج1، ص112

2. صحیح بخاری ج2، ص47

3.صحیح بخاری ج8، ص178و ص187

4.صحیح بخاری ج8، ص182. صحیح مسلم ج1، ص115

5. صحیح بخاری ج6، ص33

6. صحیح بخاری ج8، ص183 صحیح مسلم ج1،ص124


الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَا يَبْلُغُ‏ مِدْحَتَهُ‏ الْقَائِلُونَ‏ وَ لَا يُحْصِي نِعَمَهُ الْعَادُّونَ وَ لَا يُؤَدِّي حَقَّهُ الْمُجْتَهِدُونَ الَّذِي لَا يُدْرِكُهُ بُعْدُ الْهِمَمِ وَ لَا يَنَالُهُ غَوْصُ الْفِطَنِ الَّذِي لَيْسَ لِصِفَتِهِ حَدٌّ مَحْدُودٌ وَ لَا نَعْتٌ مَوْجُودٌ وَ لَا وَقْتٌ مَعْدُودٌ وَ لَا أَجَلٌ مَمْدُودٌ فَطَرَ الْخَلَائِقَ بِقُدْرَتِهِ وَ نَشَرَ الرِّيَاحَ بِرَحْمَتِهِ وَ وَتَّدَ بِالصُّخُورِ مَيَدَانَ أَرْضِهِ أَوَّلُ الدِّينِ مَعْرِفَتُهُ وَ كَمَالُ مَعْرِفَتِهِ التَّصْدِيقُ بِهِ وَ كَمَالُ التَّصْدِيقِ بِهِ تَوْحِيدُهُ وَ كَمَالُ تَوْحِيدِهِ الْإِخْلَاصُ لَهُ وَ كَمَالُ الْإِخْلَاصِ لَهُ نَفْيُ الصِّفَاتِ عَنْهُ لِشَهَادَةِ كُلِّ صِفَةٍ أَنَّهَا غَيْرُ الْمَوْصُوفِ وَ شَهَادَةِ كُلِّ مَوْصُوفٍ أَنَّهُ غَيْرُ الصِّفَةِ فَمَنْ وَصَفَ اللَّهَ سُبْحَانَهُ فَقَدْ قَرَنَهُ وَ مَنْ قَرَنَهُ فَقَدْ ثَنَّاهُ وَ مَنْ ثَنَّاهُ فَقَدْ جَزَّأَهُ وَ مَنْ جَزَّأَهُ فَقَدْ جَهِلَهُ وَ مَنْ أَشَارَ إِلَيْهِ فَقَدْ حَدَّهُ وَ مَنْ حَدَّهُ فَقَدْ عَدَّهُ وَ مَنْ قَالَ فِيمَ فَقَدْ ضَمَّنَهُ وَ مَنْ قَالَ عَلَامَ فَقَدْ أَخْلَى مِنْهُ كَائِنٌ لَا عَنْ حَدَثٍ مَوْجُودٌ لَا عَنْ عَدَمٍ مَعَ كُلِّ شَيْ‏ءٍ لَا بِمُقَارَنَةٍ وَ غَيْرُ كُلِّ شَيْ‏ءٍ لَا بِمُزَايَلَةٍ فَاعِلٌ لَا بِمَعْنَى الْحَرَكَاتِ وَ الْآلَةِ بَصِيرٌ إِذْ لَا مَنْظُورَ إِلَيْهِ مِنْ خَلْقِهِ.(1)

تمام حمد اس اللہ کے لئے ہے، جس کی مدح تک بولنے والوں کی رسائی نہیں، جس کی نعمتوں کو گننے والے گن نہیں سکتے، نہ کوشش کرنے والے اس کا حق ادا کر سکتے ہیں، نہ بلند پرواز ہمتیں اسے پا سکتی ہیں نہ عقل و فہم

____________________

1.نہج البلاغہ شرح محمد عبدہ ج1، خطبہ اوّل


کی گہرائیاں اس کی تہ تک پہونچ سکتی ہیں. اس کے کمال ذات کی کوئی حد معین نہیں. نہ اس کے لئے توصیفی الفاظ ہیں نہ اس( کی ابتدا) کے لئے کوئی وقت ہے، جسے شمار میں لایا جاسکے، نہ اس کی کوئی مدت ہے جو کہیں پرختم ہو جائے.

بس جس نے ذات الہی کے علاوہ صفات مانے، اس نے اس کی ذات کا ایک دوسرا ساتھی مان لیا اور جس نے اس کی ذات کا کوئی اور ساتھی مانا اس نے دوائی پیدا کی جس نے دوئی پیدا کی. اس نے اس کے لئے جز بنا ڈالا اور جو اس کے لئے اجزائ کا قائل ہو وہ اس سے بے خبر رہا. اور جو اس سے بے خبر رہا اس نے اسے قابل اشارہ سمجھ لیا اور جس نے اسے قابل اشارہ سمجھ لیا اس نے اس کی حد بندی کردی اور جس نے اسے محدود سمجھا وہ اسے دوسری چیزوں ہی کی قطار میں لے آیا، جس نے یہ کہا کہ وہ کس چیز میں ہے اس نے اسے کسی شئی کے ضمن میں فرض کر لیا، اور جس نے یہ کہا کہ وہ کسی چیز پر ہے. اس نے اور جگہیں اس سے خالی سمجھ لیں. وہ ہے، ہوا نہیں، موجود ہے، مگر عدم سے وجود میں نہیں آیا. وہ ہر شئی کے ساتھ ہے، نہ جسمانی اتصال کی طرح، وہ ہر چیز سے علیحدہ ہے، نہ جسمانی دوری کے طور پر، وہ فاعل ہے. لیکن حرکات و آلات کا محتاج نہیں


وہ اس وقت بھی دیکھنے والا نہیں تھا، جب مخلوقات میں کوئی چیز دکھائی دینے والی نہ تھی.

میں نے جوان محققین کی توجہ اس خزانہ کی طرف مبذول کرائی ہے جو حضرت علی علیہ السلام نے چھوڑا ہے. جو کچھ نہج البلاغہ میں جمع کیا ہے وہ بہترین کتاب ہے. اس سے بلند کتاب صرف قرآن مجید ہے. مگر افسوس! کہ لوگ امویوں اور عباسیوں کے پروپیگنڈوں سے اور دہشتگردی اور حضرت علی علیہ السلام سے محبت رکھنے والوں کو قید خانہ میں ڈالدینے کی وجہ سے اس خزانہ سے بے خبر رہے ہیں.

اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہ ہوگا کہ : نہج البلاغہ میں ایسے بے شمار علوم و معارف موجود ہیں کہ جن کی ضرورت ہر زمانہ کے افراد کو رہی ہے. فلسفہ،سلوک، اور سیاسیات و حکمت کے علاوہ نہج البلاغہ میں علم اخلاق، علم اجتماع(سماجیات) علم اقتصاد اورخلا و فضا کے علم اور ٹیکنالوجی کی طرف قیمتی اشارے موجود ہیں.


تعلیق

دونوں عقیدوں میں واضح فرق ہے

اہل سنت والجماعت کا عقیدہ خدا کو اس طرح شکل و صورت والا مجسم بناکر پیش کرتا ہے جو دیکھا جاسکے، گویا وہ ایک انسان ہے جو چلتا ہے، اترتا ہے، مکان میں رہتا ہے، اس کے علاوہ اور بہت سی مکروہ باتیں ہیں کہ جن سے خداوند عالم بری ہے.شیعوں کا عقیدہ ہے کہ خدا ہم شکل، ہم جنس اور جسم سے پاک ہے. شیعہ کہتے ہیں کہ دینا و آخرت میں خدا کا دیدار محال ہے. اور خود میرا عقیدہ ہے کہ جن روایات سے اہل سنت خدا کی رئویت پر استدلال کرتے ہیں وہ سب صحابہ کے زمانہ میں یہودیوں نے گڑھی تھیں، کیونکہ کعب الاحبار جو"یہودی" جو عمر بن خطاب کے زمانہ میں مسلمان ہوا اور اس نے یہودی معتقدات کو بعض ضعیف العقل راویوں مثل ابوہریرہ اور وہب بن منبہ کے ذریعہ اسلام میں داخل کردیا. اور بخاری و مسلم میں زیادہ تر روایتیں ابوہریرہ سے مروی ہیں اور گذشتہ بحث میں یہ بیان گذر چکا ہے کہ ابوہریرہ، احادیث نبوی اور کعب الاحبار کی حدیثوں میں تمیز نہیں کر پاتے تھے. یہاں تک کہ ایک مرتبہ خطاب نے اسے اس بات پر مارا اور اس یہ حدیث نقل کرنے سے منع کیا کہ خدا نے زمین و آسمان کو سات روز میں پیدا کیا.

جب تک کہ اہلسنت والجماعت بخاری و مسلم کو معتبر سمجھتے رہیں گے اور انہیں تمام کتابوں سے زیادہ صحیح سمجھتے رہیں گے، اور ابوہریرہ پر اعتماد کرتے رہیں گے کہ جو اہل سنت کے نزدیک عمدۃ المحدثین راوی اسلام بن گیا


اس وقت تک اہلسنت اپنے عقیدوں کو نہیں بدل سکتے ہیں مگر یہ کہ وہ اندھی تقلید سے آزادی حاصل کرلیں، اور ائمہ ہدی(ع)، عترت نبی(ص)، باب العلم سے رجوع کریں...

یہ دعوت اہلسنت کے بزرگ افراد سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ذہین نوجوانوں سے بھی اس کا تعلق ہے بہتر ہے کہ وہ اندھی تقلید سے آزاد ہوجائیں، اور دلیل و برہان کا اتباع کریں.

دوسرا سوال

عدل الہی اور جبر سے متعلق

خداوند عالم قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:

( وَ قُلِ‏ الْحَقُ‏ مِنْ رَبِّكُمْ- فَمَنْ شاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَ مَنْ شاءَ فَلْيَكْفُرْ ) الکہف آیت/29

اور کہدو کہ حق تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے، اب جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کافر ہوجائے.

( لا إِكْراهَ‏ فِي‏ الدِّينِ‏ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ) بقرہ آیت/256

دین میں کسی طرح کا جبر نہیں ہے ہدایت گمراہی سے الگ اور واضح ہوچکی ہے.


( فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقالَ‏ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ. وَ مَنْ يَعْمَلْ مِثْقالَ‏ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ ‏) زلزلہ آیت/8

اور جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہے وہ اسے دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر بھی برائی کی ہے وہ اسے دیکھے گا.

( إِنَّما أَنْتَ مُذَكِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ ) غاشیہ آیت/22

تم صرف نصیحت کرنے والے ہو تم ان سب پر مسلط اور ان کے ذمہ دار نہیں ہو.

پھر تم ان احادیث کو کیوں قبول کرتے ہو جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مروی ہیں کہ خدا نے اپنے بندوں کے افعال کو ان کی پیدائش سے قبل ہی مقدر کر دیا تھا. بخاری نے اپنی صحیح(1) میں روایت کی ہے کہ:

آدم اور موسی میں حجت ہوگئی تو موسی نے فرمایا کہ:

اے آدم آپ ہمارے باپ ہیں لیکن آپ نے ہمیں مصیبت میں مبتلا کیا اور جنت سے نکلوا دیا.

جناب آدم نے فرمایا: اے موسی خدا نے تمہیں، اپنے کلام کے لئے منتخب کیا اور اپنے ہاتھ سے تمہارے لئے لکھا کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کر رہے ہو جو خدا نے میرے لئے میری خلقت سے چالیس سال قبل ہی مقدر کر دی تھی.

____________________

1. صحیح بخاری جلد 7 ص214 کتاب القدر باب تحاج آدم و موسی، صحیح مسلم جلد 8، ص49


پس آدم نے موسی پر تین حجتیں قائم کیں.

مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کی ہے کہ(1) :

تم میں سے ہر ایک کی خلقت اس طرح ہوتی ہے کہ اپنی ماں کے بطن میں چالیس روز رہتا ہے پھر اس کا علقہ ( گوشت کا لوتھڑا) بن جاتا ہے. پھر اس حالت میں چالیس روز رہتا ہے اور اس کے بعد مضغہ بن جاتا ہے اور چالیس روز تک اسی حالت میں رہتا ہے پھر فرشتہ کو بھیجا جاتا ہے، وہ اس میں روح پھونکتا ہے اور اسے چار چیزوں کا حکم دیا جاتا ہے کہ اس کا رزق، موت و عمل اور اس کی شقاوت و سعادت کو لکھ دی جائے، قسم اس ذات کی جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، تم میں سے جو بھی جنت کے لئے عمل انجام دے گا یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان فقط ایک گزر کا فاصلہ رہ جائے گا. تو وہ ( تقدیر کا) نوشتہ آگے بڑھ کر اس کی راہ روک دے گا اور وہ ایسے کام انجام دیگا جو جہنم میں لے جاتے ہیں، اور تم میں سے جو بھی برے کام انجام دے گا یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک گزر کا فاصلہ رہ جائے گا، تو وہ ( تقدیر کا) نوشتہ آگے بڑھے گا اور انسان اچھے کام انجام دینے لگے گا اور وہ اسے جنت میں لے جائیں گے.

____________________

1.صحیح مسلم جلد8،ص44 کتاب القدر بابکیفیة خلق الآدم فی بطن امه ، صحیح بخاری جلد7، ص210


اسی طرح مسلم نے اپنی صحیح میں ام المومنین عائشہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا رسول(ص) کو انصار میں سے کسی بچہ کی میت پر بلایا گیا تو میں نے کہا: خوشا نصیب اس کا کہ وہ جنت کا پرندہ ہے کیونکہ اس نے کوئی برا کام انجام نہیں دیا اور نہ اس سے واقف تھا. آپ نے فرمایا:

اے عائشہ اس کے علاوہ اور بہت کچھ! خدا نے جنت کے اہل پیدا کئے ہیں اور جنت کو ان کے لئے پیدا کیا ہے، اور جہنم کے بھی اہل پیدا کئے ہیں اور جہنم کو ان کے لئے پیدا کیا ہے در آنحالیکہ وہ اپنے آباء و اجداد کے صلبوں ہی میں تھے.(1) بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کی ہے کہ ایک شخص نے دریافت کیا یا رسول اللہ(ص) کیا اہل بہشت اہل جہنم سے پہچانے جاتے ہیں؟ فرمایا ہاں: تو اس نے کہا کہ پس ہم لوگ عمل کیوں انجام دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو عمل انجام دیا جاتا ہے وہ اسی کے لئے خلق کیا گیا ہے یا اس کے انجام دینے پر مجبور ہے.(2) پروردگارا تو پاک ہے، حمد تیرے ہی لئے مخصوص ہے، تو اس ظلم سے پاک و بلند ہے. ہم ان حدیثوں کو کیسے قبول کر لیں جو تیری کتاب کے سراسر خلاف ہیں اور جس میں تو نے فرمایا ہے کہ:

( إِنَ‏ اللَّهَ‏ لا يَظْلِمُ‏ النَّاسَ شَيْئاً وَ لكِنَّ النَّاسَ أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ‏) یونس/44

اللہ انسانوں پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا ہے بلکہ انسان خود ہی اپنے اوپر

____________________

1.صحیح مسلم جلد 8، ص55 کتاب القدر باب کل مولود یولد علی الفطرۃ

2 صحیح مسلم جلد 7، ص210 کتاب القدر باب جف القلم علی علم اللہ


کیا کرتے ہیں.

( إِنَ‏ اللَّهَ‏ لا يَظْلِمُ‏ مِثْقالَ ذَرَّةٍ ) نساء/40

خدا کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا ہے.

( وَ لا يَظْلِمُ‏ رَبُّكَ‏ أَحَداً) کہف/49 اور تمہارے پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرتا ہے.

( وَ ما ظَلَمَهُمُ‏ اللَّهُ‏ وَ لكِنْ كانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ‏ ) آل عمران آیت/117

اور خدا نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں.

( وَ ما كانَ‏ اللَّهُ‏ لِيَظْلِمَهُمْ‏ وَ لكِنْ كانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ .) توبہ/70، عنکبوت/40، روم/9

خدا کسی پر ظلم کرنے والا نہیں ہے، لوگ خود اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہیں.

( وَ ما ظَلَمْناهُمْ‏ وَ لكِنْ كانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ‏) زخرف آیت/76

اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا ہے یہ تو خود ہی اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے.

( ذلِكَ‏ بِما قَدَّمَتْ‏ يَداكَ وَ أَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ ) انفال آیت/51

یہ اس لئے کہ تمہارے پچھلے اعمال کا نتیجہ یہی ہے اور خدا اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے.


( مَنْ‏ عَمِلَ‏ صالِحاً فَلِنَفْسِهِ وَ مَنْ أَساءَ فَعَلَيْها وَ ما رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ ) فصلت/46

جو بھی نیک عمل کرے گا وہ اپنے لئے کرے گا اور جو برا کرے گا اس کا ذمہ دار بھی وہ خود ہی ہوگا اور آپ کا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے.

اور حدیث قدسی میں فرماتا ہے:

میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کیا ہے اور تمہارے لئے بھی حرام قرار دیا ہے پس ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو.

پس وہ مسلمان جو خدا اور اس کی عدالت و رحمت پر ایمان رکھتا ہے وہ اس بات کو کیسے تسلیم کرسکتا ہے کہ خدا نے لوگوں کو پیدا کیا اور ان میں سے بعض کو جنت نشین اور بعض کو جہنم مکین بنا دیا. اور ان کے تمام اعمال کو معین کردیا. پس ہر ایک شخص ان کاموں کے انجام دینے پر مجبور ہے. ان روایات کے لحاظ سے کہ جو قرآن کریم کے مخالف ہیں اور اس فطرت کے خلاف ہیں جس پر خدا نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اور عقل و وجدان کے خلاف بھی ہیں اور انسانوں کے حقوق وسیع نہیں ہیں.

ہم اس مذہب کو کیسے قبول کر لیں جو عقلوں کو اس بات میں محدود کرتا ہے کہ انسان خوف کا لوتھڑا ہے جو قدرت کے ہاتھوں کی کٹھپتلی ہے. وہ جیسے چاہتی ہے نچاتی ہے تاکہ اس کے بعد اسے جہنم میں ڈال دے. یہ وہ عقیدہ ہے جو عقلوں کوخلق و ایجاد اور تعجب خیز اختراع و ارتقا سے باز رکھتا ہے اور انسان بے حس و حرکت بن جاتا ہے. اور اسی حالت پر برقرار رہتا ہے جس میں


ہے. یا جو کچھ اس کے پاس ہے اس پر خوش رہتا ہے اس لئے کہ وہ مجبور پیدا کیا گیا ہے.

ہم ان روایات کو کیسے قبول کر لیں جو عقل سلیم کے خلاف ہیں جو ہمارے لئے ایسا تصور پیش کرتی ہیں کہ خدا خالق جبار، قوی ہے، اور اسے حق ہے کہ وہ اپنے کمزور بندوں کو اس لئے پیدا کرے کہ جہنم کی آگ میں جلایا جائے، کسی جرم کی بناء پر نہیں کیونکہ اسے یہ بھی اختیار ہے کہ وہ جو چاہے کرے. کیا عقلا ایسے خدا کو رحیم، حکیم اور عادل کہتے ہیں؟

اگر ہم غیر مسلم علما اور ذہین افراد سے گفتگو کریں اور انہیں یہ بتائیں کہ ہمارا پروردگار ان صفات کا حامل ہے، اور ہمارا دین لوگوں کی پیدائش سے قبل ہی ان کی شقاوت و سعادت کی فیصلہ کردیتا ہے تو کیا وہ اسلام قبول کر لیں گے؟ اور گروہ گروہ دین میں داخل ہوں گے؟؟

پروردگارا! تو پاک ہے، یہ وہ خرافات ہیں جنہیں امویوں نے اپنے عیوب کی پردہ پوشی کے لئے رواج دیا ہے، محقق اس راز سے بخوبی واقف ہے، یہ باطل قول ہے کیونکہ تیرے کلام کے مخالف ہے.

تیرے رسول(ص) نے تیری طرف جھوٹ کی نسبت نہیں دی ہے کہ جو تیری وحی کے خلاف ہو، یہ تو ثابت ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا کہ:

جب تمہارے پاس میری کوئی حدیث پہونچے تو اسے خدا کی کتاب سے ملائو، اگر کتاب خدا کے موافق ہے تو اسے لے لو اور اگر اس کے خلاف ہے تو اسے دیوار پر دے مارو!

یہ تمام اور ایسی ہی بہت سی حدیثیں ہیں کہ جو کتاب خدا، سنت


رسول(ص) اور وجدان و عقل کے خلاف ہیں. لہذا انہیں دیوار پر مار دینا چاہیئے اور ان کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہئیے. اگرچہ انہیں بخاری و مسلم ہی نے نقل کیا ہو، کیونکہ بخاری اور مسلم معصوم عن الخطا نہیں ہیں. اس جھوٹے دعوے کی رد کے لئے ہماری یہ دلیل کافی ہے کہ اللہ نے بشریت کی طویل تاریخ میں اپنی مخلوق کے پاس انبیاء و مرسلین بھیجے تاکہ مفسد بندوں کی اصلاح کریں، اور صراط مستقیم کی ہدایت کریں، اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیں. اور صالح بندوں کو جنت کی بشارت دیں، اور مفسد لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں.

خدا اپنے بندوں کے حق میں عادل و رحیم ہے، اور ان ہی لوگوں پر عذاب کرے گا جن کے پاس رسول بھیج کر حجت تمام کر دی ہے، چنانچہ ارشاد ہے:

( مَنِ‏ اهْتَدى‏ فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَ مَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها وَ لا تَزِرُ وازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى‏ وَ ما كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا ) اسرا/15

جو شخص بھی ہدایت حاصل کرتا ہے وہ اپنے فائدہ کے لئے کرتا ہے، اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے وہ بھی اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور کوئی کسی کا بوجھ اٹھانے والا نہیں ہے اور ہم تو اس وقت تک عذاب کرنے والے نہیں ہیں جب تک کوئی رسول نہ بھیج دیں.

پس جن روایات کو بخاری و مسلم نے جمع کیا ہے اور جن سے یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ خدا اپنے بندوں کے اعمال ان کی پیدائش سے قبل ہی لکھ دیتا ہے. ان میں سے بعض کو جنتی اور بعض کو جہنمی قرار دیتا ہے. جیسا کہ


ہم پہلے بھی اس کی طرف اشارہ کرچکے ہیں. اور اس بات پر اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے.

میں کہتا ہوں اگر یہ صحیح ہے تو رسولوں کی، بعثت اور کتابوں کا نزول بے کار ہوگا! خداتوند عالم اس سے بزرگ و برتر ہے، خدا نے وہی مقدر کیا جو حق تھا. پس ہمیں اس قسم کی باتیں کہنے کا حق نہیں ہے، معبود! تو اس بہتان عظیم سے پاک ہے.

( تِلْكَ‏ آياتُ‏ اللَّهِ‏ نَتْلُوها عَلَيْكَ بِالْحَقِّ وَ مَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعالَمِينَ ‏) آل عمران/ 108

یہ آیات الہی ہیں جن کی ہم حق کے ساتھ تلاوت کر رہے ہیں اور اللہ عالمین کے بارے میں ہرگز ظلم نہیں چاہتا.

اس کا جواب ائمہ ہدی، مصابیح الدجی، منارة امت کے پاس یہ ہے کہ خداوند عالم ظلم اور کار عبث سے بری ہے.

آئیے ہم باب مدینة العلم امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے کچھ سنیں، وہ لوگوں کے لئے اس اعتقاد کی تشریح فرماتے ہیں کہ جو ان بعض مسلمانوں کے ذہن میں تھا جنہوں نے باب مدینة العلم کو چھوڑ دیا تھا. چنانچہ آپ نے ایک صحابی کے جواب میں اس وقت فرمایا جب اس نے یہ سوال کیا تھا کہ: کیا ہمارا شام جانا اللہ کی قضا و قدر کے مطابق ہے؟ فرمایا:

" وَيْحَكَ‏ لَعَلَّكَ‏ ظَنَنْتَ‏ قَضَاءً لَازِماً وَ قَدَراً حَاتِماً لَوْ كَانَ ذَلِكَ كَذَلِكَ لَبَطَلَ الثَّوَابُ وَ الْعِقَابُ وَ سَقَطَ الْوَعْدُ وَ الْوَعِيدُ إِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ أَمَرَ عِبَادَهُ


تَخْيِيراً وَ نَهَاهُمْ تَحْذِيراً وَ كَلَّفَ يَسِيراً وَ لَمْ يُكَلِّفْ عَسِيراً وَ أَعْطَى عَلَى الْقَلِيلِ كَثِيراً وَ لَمْ يُعْصَ مَغْلُوباً وَ لَمْ يُطَعْ مُكْرِهاً وَ لَمْ يُرْسِلِ الْأَنْبِيَاءَ لَعِباً وَ لَمْ يُنْزِلِ الْكُتُبَ لِلْعِبَادِ عَبَثاً وَ لَا خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا( ذلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ ) (1)

خدا تم پر رحم کرے شاید تم نے حتمی و لازمی قضا و قدر سمجھ لیا ہے، اگر ایسا ہوتا ہے تھ پھر نہ ثواب کا سوال پیدا ہوتا نہ عذاب کا، نہ وعدے کے کچھ معنی ہوتے نہ وعید کے، خداوند عالم نے بندوں کو مختار بنا کر مامور کیا ہے(عذاب سے) ڈراتے ہوئے نہی کی ہے، اس نے آسان تکلیف دی ہے، دشواریوں سے بچایا ہے، قلیل اعمال کا زیادہ اجر عطا کرتا ہے. اس کی نافرمانی اس لئے نہیں ہوتی کہ وہ مغلوب ہوگیا ہے، اور نہ اس کی اطاعت اس لئے کی جاتی ہے کہ اس نے مجبور کی رکھا ہے،اس نے انبیاء کو بطور تفریح نہیں بھیجا، اور نہ بندوں کے لئے کتابیں بے فائدہ نازل کی ہیں، اور نہ زمین و آسمان اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اسے بیکار پیدا کیا ہے، یہ تو ان لوگوں کا خیال ہے جنہوں

____________________

1.نہج البلاغہ، شرح محمد عبدہ جلد/4 ص673.674


نے کفر اختیار کیا. افسوس ہے ان لوگوں پر جنہوں نے کفر اختیار کر کے آتش جہنم کمائی.

یہاں یہ بات ذکر کر دینا مناسب ہے کہ اہلسنت والجماعت خدا کو ظلم اور کار عبث سے پاک سمجھتے ہیں، اس سلسلہ میں جب آپ ان میں سے کسی سے سوال کریں گے تو وہ خدا کی طرف ظلم کی نسبت نہیں دے گا لیکن اس کا نفس ان احادیث کی تردید کرنے میں پس و پیش میں پڑ جاتا ہے کہ جن کو بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے وہ انہیں صحیح سمجھتا ہے. اسی لئے آپ اسے معقول بحث کے وقت دیکھیں گے کہ وہ یہ دعوی کرتا ہے کہ خدا کے لئے اس(فعل) کو ظلم نہیں کہا جاتا، کیونکہ وہ خالق ہے اور خالق کو اپنی مخلوقات کے بارے میں سب کچھ کرنے کا حق ہے!

اور جب اس سے یہ سوال ہوتا ہے کہ خدا کسی بندے کی خلقت سے قبل اس کے جہنمی ہونے کا کیسے حکم لگاتا ہے، کیا اس لئے کہ اس نے اس بندے کے لئے پہلے ہی شقاوت لکھ دی تھی، اور دوسرے بندے کےلئے اس کی خلقت سے قبل ہی جنتی ہونے کا حکم لگا دیتا ہے کیا اس لئے کہ خدا نے پہلے ہی سعادت لکھ دی تھی، کیا اس میں دونوں کے لئے ظلم نہیں ہے؟ کیونکہ جو جنت میں داخل ہو رہا ہے وہ اپنے عمل کی بنا پر نہیں، بلکہ خدا نے اس کے لئے جنت کو مقرر کیا تھا، اسی طرح جہنم میں داخل ہونے والا بھی اپنے گناہوں کی بنا جہنم میں داخل نہیں ہو رہا ہے بلکہ یہ تو خدا نے اس کے لئے مقرر کر دیا تھا، کیا یہ ظلم اور کیا قرآن کے خلاف نہیں ہے؟ تو پاک و پاکیزہ ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے. اس کے اس متناقض موقف کے بارے میں آپ کچھ نہیں سمجھ سکتے. یہ تو واضح ہے اس لئے کہ وہ بخاری و مسلم کو قرآن کی


مانند سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ کتاب خدا کے بعد صحیح ترین کتاب بخاری اور مسلم ہے، یہ ہیں وہ مصائب جن میں مسلمان مبتلا ہیں. اموی اور ان کے بعد عباسی اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوگئے کہ ان کی بدعت اور عقائد پھیل گئے. ان کے آثار اور بے نتیجہ سیاست آج تک باقی ہے کیونکہ مسلمان اسے بہت بڑی میراث سمجھتے ہیں اس لئے کہ ان کے خیال میں انہوں نے نبی(ص) کی صحیح حدیثوں کو جمع کیا ہے اگر مسلمانوں کو یہ معلوم ہوجاتا کہ انہوں نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے رسول(ص) کی طرف کتنی جھوٹی باتوں کی نسبت دی ہے تو وہ کبھی ان حدیثوں کی تصدیق نہ کرتے خصوصا ان حدیثوں کی جو کتابِ خدا کی مخالف ہیں.

(قرآن کریم کی حفاظت کی ذمہ­داری خدا نے خود لی ہے وہ صحابہ کے پاس محفوظ تھا، صحابہ نبی(ص) کو پڑھ کر سنایا کرتے تھے اس لئے وہ ( بنی امیہ و بنی عباس) قرآن میں تو تحریف نہ کرسکے لیکن سنت مطہرہ میں جیسی چاہی، جس کے لئے چاہی حدیث گڑھ لی، وہ محافظ قرآن و سنت، اہل بیت(ع) کے دشمن تھے، ہر حادثہ کے لئے ایک حدیث گڑھ لی، اور اسے نبی(ص) کی طرف منسوب کر دی اور مسلمانوں کو یہ فریب دیا کہ تمام حدیثوں سے زیادہ یہ حدیثیں صحیح ہیں، پس مسلمانوں نے حس ظن کرتے ہوئے انہیں مان لیا اور میراث کے طور پر انہیں ایک دوسرے کی طرف منتقل کرتے رہے، حق تو یہ ہے کہ شیعوں نے بھی رسول (ص) یا ائمہ(ع) میں سے کسی نہ کسی کی حدیث میں کمی زیادتی کی ہے اور اسے رسول(ص) کی طرف منسوب کر دیا،طول تاریخ اس فعل سے مسلمانوں میں سنی، شیعہ کوئی نہیں بچا، لیکن شیعہ اہلسنت والجماعت پر تین چیزوں میں فوقیت رکھتے ہیں. یہ تین چیزیں انہیں تمام اسلامی فرقوں پر امتیاز بخشتی ہیں.


اور ان کے صحیح اور قرآن و سنت و عقل کے مطابق عقائد کو ظاہر کرتی ہیں. وہ تین چیزیں یہ ہیں:

اوّلا وہ اہلبیت(ع) سے محبت رکھتے ہیں اور ان پر کسی کو فوقیت نہیں دیتے، اور یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ اہلبیت(ع) وہ ہیں جن سے خدا نے رجس و کثافت کو دور رکھا ہے اور انہیں اس طرح پا ک فرمایا جس طرح حق تھا.

ثانیا ائمہ اہلبیت(ع) بارہ(12) ہیں جن کی حیات کا سلسلہ تین صدیوں پر محیط ہے، اور یہ سب کےسب تمام احکام و احادیث کے سلسلہ میں متفق ہیں، ان کے درمیان ان چیزوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے جو ان کے شیعوں نے علم و معرفت کے ذریعہ حاصل کی ہے. ان کے عقائد وغیرہ میں کوئی تناقض نہیں ہے.

ثالثا انہیں اپنی کتابوں میں خطا و صواب کے احتمال کا اعتراف ہے، کتاب خدا کے سوائ کہ جس میں کسی طرح سے باطل داخل نہیں ہوسکتا،، کسی بھی کتاب کو کلی طور پر صحیح نہیں سمجھتے ہیں. آپ کی اطلاع کے لئے اتنا کافی ہے کہ ان کی عظیم ترین کتابوں میں سے ایک اصول کافی ہے. وہ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ اس میں ہزاروں حدیثیں جھوٹی ہیں. لہذا آپ نے ان کے علماء و مجتہدین کو دیکھا ہوگا کہ وہ مستقل تحقیق اور چھان بین میں لگے رہتے ہیں پس ان کتابوں سے انہیں احادیث کو لیتے ہیں جو متن اور سند کے لحاظ سے صحیح ثابت ہوتی ہیں اور قرآن و عقل کے خلاف نہیں ہوتیں.

لیکن اہلسنت نے اپنے اوپر ان کتابوں کو لازم قرار دے


لیا ہے وہ جنہیں صحاح ستہ کا نام دیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان میں ہے وہ سب صحیح ہے اہلسنت کی اکثریت بغیر کسی تحقیق و جستجو کے یہ بات کہتی ہے، ورنہ ان کتابوں میں بہت سی ایسی احادیث مروی ہیں کہ جن کی بنیاد علمی دلیل پر استوار ہے، بلکہ ان میں صریح طور پر کفر موجود ہے. اور قرآن و اخلاق و افعال رسول(ص) کے سراسر خلاف ہیں اس سلسلہ میں قارئین کے لئے شیخ محمود ابوریہ مصری کی کتاب"اضوا علی السنة المحمدیة " کا مطالعہ کافی ہوگا اس سے معلوم ہوجائے گا کہ صحاح ستہ کی کیا قدر و قیمت ہے. بحمد اللہ اب بہت سے جوان محققین ان زنجیروں سے آزاد ہوگئے ہیں، اور حق و باطل میں فرق کرنے لگے ہیں بلکہ ان کے متعصب سرغنہ میں سے بھی بہت سے صحاح کی روایات کا انکار کرنے لگے ہیں، لیکن اس لئے نہیں کہ ان کے نزدیک ان بعض احادیث میں ضعف ثابت ہوگیا ہے بلکہ اس لئے کہ ان میں شیعوں کی حجت و دلیل موجود ہے کہ جن کے ذریعہ وہ فقہی احکام اور غیبت کے عقائد ثابت کرتے ہیں، جس عقیدہ و حکم کے شیعہ قائل ہیں وہ صحاح ستہ میں سے کسی نہ کسی میں آج بھی موجود ہے.

بعض متعصبوں نے مجھ سے کہا کہ جب تمہارا یہ عقیدہ ہے کہ بخاری کی حدیثیں صحیح نہیں ہیں تو اس کی حدیثوں سے احتجاج کیوں کرتے ہو؟ میں نے جواب دیا کہ نہ ہی بخاری کی ساری حدیثیں صحیح ہیں اور نہ ساری جھوٹی ہیں حق حق ہے باطل، باطل ہے اس میں فرق کرنا ہمارا کام ہے.

ایک صاحب نے کہا: کیا آپ کے پاس کوئی خاص خوردبین ہے کہ جو صحیح و غلط کو بتاتی ہے؟ میں نے کہا : جو تمہارے پاس ہے وہی ہمارے پاس ہے. جس بات پر سنی شیعہ متفق ہیں وہ صحیح ہے کیونکہ طرفین کے نزدیک اس کی صحت ثابت ہوچکی ہے. ہم اہلسنت سے انہیں کو قبول کرنے کے لئے کہتے ہیں.


جن کو خود صحیح سمجھتے ہیں. جس حدیث میں اختلاف ہے خواہ وہ ایک کے نزدیک صحیح بھی ہو اس کو مدمقابل کے لئے حجت قرار نہیں دیا جاسکتا ہے، اسے قبول کر لینے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے، بالکل اسی طرح غیر مسلم کو بھی ہم اس کے قبول کرنے پر مجبور نہیں کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس کے ذریعہ اس پر حجت قائم کرسکتے ہیں....

اس سلسلہ میں میں آپ کے سامنے ایک مثال پیش کرتا ہوں کہ جس کے بعد کوئی اشکال باقی نہیں رہے گا. اور نہ ہی متعدد طریقوں سے اس تنقید کو رد کیا جاسکے گا.

شیعوں کا دعوی ہے کہ رسول(ص) نے18 ذی الحجہ کو حجة الوداع کے روز غدیر خم میں علی(ع) کو مسلمانوں کا خلیفہ مقرر کیا اور فرمایا:

" من‏ كنت‏ مولاه‏ فهذا مولاه اللّهمّ وال من والاه و عاد من عاداه "

جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی(ع) مولا ہیں بار الہا علی(ع) کے دوست کو دوست اور علی(ع) کے دشمن کو دشمن رکھ.

اس حدیث اور واقعہ کو اہلسنت والجماعت کے بہت سے علماء نے اپنی صحاح و مسانید اور تواریخ میں نقل کیا ہے، پس شیعہ اس سے اہلسنت پر حجت قائم کرسکتے ہیں.

اہل سنت والجماعت کا دعوی ہے کہ رسول(ص) نے مرض موت میں ابوبکر کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں اور فرمایا: خدا و رسول(ص) اور مومنین صرف ابوبکر سے راضی ہیں.

شیعوں کی کتابوں میں اس حدیث و واقعہ کا کہیں وجود نہیں


ملتا ہے، ہاں ان کے یہاں یہ روایت ملتی ہے کہ رسول(ص) نے علی علیہ السلام کو بلوایا لیکن عائشہ نے اپنے باپ ابوبکر کو بلایا، جب رسول(ص) نے یہ صورتحال دیکھی تو عائشہ سے فرمایا: " انکن لوبحیات یوسف" تم ہی جیسی عورتیں یوسف کے ساتھ بھی تھیں اور خود نماز پڑھانے کی غرض سے گھر سے نکلے اور ابوبکر کو مصلے سے ہٹا دیا: یہ انصاف نہیں ہے اہلسنت شیعوں پر ان احادیث سے احتجاج کریں کہ جو انہیں سے مخصوص ہیں، خصوصا ان احادیث سے جن میں تناقض پایا جاتا ہے اور واقعات و تاریخ ان کی تکذیب کرتی ہیں، اس لئے کہ رسول(ص) نے ابوبکر کو جیش اسامہ میں شریک ہونے کا حکم دیا تھا. اور اس لشکر کے سردار اسامہ تھے، اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ امیر لشکر ہی پیش امام ہوتا ہے. اور یہ بات تو تاریخ سے ثابت ہے کہ وفات رسول(ص) کے وقت ابوبکر مدینہ میں موجود نہیں تھے وہ تو سنح میں اپنے امیر اسامہ ابن زید کہ جن کی عمر سترہ(17) سال بھی نہیں تھی، کی قیادت میں روانہ ہونے کی تیاری کررہے تھے. کیا اس کے باوجود ہم اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ رسول(ص) نے نماز کی امامت کے لئے ابوبکر کو متعین فرمایا تھا؟ مگر یہ کہ ہم عمر خطاب کے اس قول کی تصدیق کریں کہ ( معاذ اللہ) رسول(ص) ہذیان بک رہے ہیں انہیں نہیں معلوم کہ میں کیا کر رہا ہوں اور کیا کہہ رہا ہوں؟ یہ تو آنحضرت(ص) کے لئے سوچا بھی نہیں جاسکتا ہے بلکہ یہ محال ہے اور شیعہ اس کے قائل نہیں ہیں.

یہاں محقق کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی بحث میں خدا سے ڈرے عصبیت پرستی سے کام نہ لے کہ راہ حق سے ہٹ جائے اور ہوائے نفس کی پیروی کرنے کے نتیجہ میں گمراہ ہوجائے، حق کےسامنے سر تسلیم خم کردینا اس لئے واجب ہے خواہ حق فریق ثانی کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو. اسے اپنے نفس کو عواطف و انانیت سے آزاد کر کے ان لوگوں میں شامل ہوجانا چاہیئے کہ جن کی خدا نے اپنے اس قول میں


تعریف کی ہے:

( فَبَشِّرْ عِبادِ الَّذِينَ‏ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُولئِكَ الَّذِينَ هَداهُمُ اللَّهُ وَ أُولئِكَ هُمْ أُولُوا الْأَلْبابِ‏ .) زمر آیت:18

ان لوگوں کو بشارت دے دیجئے جو باتوں کو سنتے ہیں اور جوبات اچھی ہوتی ہے اس کا اتباع کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہیں خدا نے ہدایت دی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو صاحب عقل ہیں.

اس وقت یہ بات معقول نہیں ہوگی جب یہودی کہیں کہ حق ہمارے پاس ہے، نصاری دعوی کریں کہ حق ہمارے پاس ہے. مسلمان دعوی کریں کہ حق ہمارے پاس ہے اور سب کے احکام و عقائد مختلف ہوں!

بحث کرنے والے کو تینوں ادیان کی تحقیق کرنا چاہئیے اور ان کا آپس میں موازنہ کرنا چاہئیے تاکہ حق آشکار ہوجائے.

اور یہ بات معقول نہیں ہے کہ اہلسنت یہ دعوی کریں کہ حق ہمارے ساتھ ہے. اور شیعہ کہیں کہ ہم ہی حق پر ہیں. جبکہ ان کے احکام و عقائد میں اختلاف ہے. حق تو ایک ہی ہے اس کے ٹکڑے نہیں ہوسکتے.

اور بحث کرنے والے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ غیر جانبدار ( نیوٹرل) ہو کے طرفین کے اقوال کی تحقیق کرے. اور ایک دوسرے کا موازنہ کرے اور عقل سے فیصلہ کرے تاکہ اس پر حق آشکار ہوجائے. یہ تو ہر حق کے دعویدار فرقہ کے لئے خدا کی ندا ہے، چنانچہ فرماتا ہے:

( قُلْ‏ هاتُوا بُرْهانَكُمْ‏ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِينَ ‏) بقرہ/111


ان سے کہدیجئے کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی دلیل لے آئو.

اکثریت حق پر گامزن نہیں ہے. بلکہ مسئلہ اس کے برعکس ہے جو کہ صحیح ہے جیسا کہ خداوند عالم کا ارشاد ہے:

( وَ إِنْ‏ تُطِعْ‏ أَكْثَرَ مَنْ‏ فِي‏ الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ) انعام/116

اور اگر آپ روئے زمین کی اکثریت کا اتباع کر لیں گے تو یہ راہ خدا سے بہکا دیں گے.

نیز فرماتا ہے:

( وَ ماأ َكْ ثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْ تَ بِمُؤْ مِنِي نَ ) یوسف/103

آپ کسی قدر کیوں نہ چاہیں انسانوں کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں ہے.

اور جس طرح تہذیب و تمدن اور ٹیکنالوجی و دولت مندی اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ مغرب حق پر اور مشرق باطل پر ہے خداوند عالم فرماتا ہے:

( فَلا تُعْجِبْكَ‏ أَمْوالُهُمْ وَ لا أَوْلادُهُمْ إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِها فِي الْحَياةِ/ الدُّنْيا وَ تَزْهَقَ أَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كافِرُونَ ‏) التوبة/ 55

تمہیں ان کے اموال اور اولاد حیرت میں نہ ڈال دیں. پس اللہ کا ارادہ یہی ہے کہ انہیں کے ذریعہ ان پر زندگانی دنیا میں عذاب کرے اور حالت کفر ہی میں ان کی جان نکل جائے.


خدا سے متعلق اہل ذکر کا نظریہ

حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:

" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي بَطَنَ‏ خَفِيَّاتِ‏ الْأَمُوُرِ وَ دَلَّتْ عَلَيْهِ أَعْلَامُ الظُّهُورِ وَ امْتَنَعَ عَلَى عَيْنِ الْبَصِيرِ فَلَا قَلْبُ مَنْ لَمْ يَرَهُ يُنْكِرُهُ وَ لَا عَيْنُ مَنْ أَثْبَتَهُ تُبْصِرُهُ سَبَقَ فِي الْعُلُوِّ فَلَا شَيْ‏ءَ أَعْلَى مِنْهُ وَ قَرُبَ فِي الدُّنُوِّ فَلَا شَيْ‏ءَ أَقْرَبُ مِنْهُ فَلَا اسْتِعْلَاؤُهُ بَاعَدَهُ عَنْ شَيْ‏ءٍ مِنْ خَلْقِهِ وَ لَا قُرْبُهُ سَاوَاهُمْ فِي الْمَكَانِ بِهِ لَمْ يُطْلِعِ الْعُقُولَ عَلَى تَحْدِيدِ صِفَتِهِ وَ لَمْ يَحْجُبْهَا عَنْ وَاجِبِ مَعْرِفَتِهِ فَهُوَ الَّذِي تَشْهَدُ لَهُ أَعْلَامُ الْوُجُودِ عَلَى إِقْرَارِ قَلْبِ ذِي الْجُحُودِ تَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يَقُولُ الْمُشَبِّهُونَ بِهِ وَ الْجَاحِدُونَ لَهُ عُلُوّاً كَبِيراً.

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ‏ يَسْبِقْ‏ لَهُ‏ حَالٌ‏ حَالًا فَيَكُونَ أَوَّلًا قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِراً وَ يَكُونَ ظَاهِراً قَبْلَ أَنْ يَكُونَ بَاطِناً كُلُّ مُسَمًّى بِالْوَحْدَةِ غَيْرَهُ قَلِيلٌ وَ كُلُّ عَزِيزٍ غَيْرَهُ ذَلِيلٌ وَ كُلُّ قَوِيٍّ غَيْرَهُ ضَعِيفٌ وَ كُلُّ مَالِكٍ غَيْرَهُ مَمْلُوكٌ وَ كُلُّ عَالِمٍ غَيْرَهُ مُتَعَلِّمٌ وَ كُلُّ قَادِرٍ غَيْرَهُ يَقْدِرُ وَ يَعْجِزُ وَ كُلُّ سَمِيعٍ غَيْرَهُ يَصَمُّ عَنْ لَطِيفِ الْأَصْوَاتِ وَ يُصِمُّهُ كَبِيرُهَا


وَ يَذْهَبُ عَنْهُ مَا بَعُدَ مِنْهَا وَ كُلُّ بَصِيرٍ غَيْرَهُ يَعْمَى عَنْ خَفِيِّ الْأَلْوَانِ وَ لَطِيفِ الْأَجْسَامِ وَ كُلُّ ظَاهِرٍ غَيْرَهُ [غَيْرُ بَاطِنٍ‏] بَاطِنٌ وَ كُلُّ بَاطِنٍ غَيْرَهُ غَيْرُ ظَاهِرٍ لَمْ يَخْلُقْ مَا خَلَقَهُ لِتَشْدِيدِ سُلْطَانٍ وَ لَا تَخَوُّفٍ مِنْ عَوَاقِبِ زَمَانٍ وَ لَا اسْتِعَانَةٍ عَلَى نِدٍّ مُثَاوِرٍ وَ لَا شَرِيكٍ مُكَاثِرٍ وَ لَا ضِدٍّ مُنَافِرٍ وَ لَكِنْ خَلَائِقُ مَرْبُوبُونَ وَ عِبَادٌ دَاخِرُونَ لَمْ يَحْلُلْ فِي الْأَشْيَاءِ فَيُقَالَ هُوَ [فِيهَا] كَائِنٌ وَ لَمْ يَنْأَ عَنْهَا فَيُقَالَ هُوَ مِنْهَا بَائِنٌ لَمْ يَؤُدْهُ خَلْقُ مَا ابْتَدَأَ وَ لَا تَدْبِيرُ مَا ذَرَأَ وَ لَا وَقَفَ بِهِ عَجْزٌ عَمَّا خَلَقَ وَ لَا وَلَجَتْ عَلَيْهِ شُبْهَةٌ فِيمَا قَضَى وَ قَدَّرَ بَلْ قَضَاءٌ مُتْقَنٌ وَ عِلْمٌ مُحْكَمٌ وَ أَمْرٌ مُبْرَمٌ الْمَأْمُولُ مَعَ النِّقَمِ الْمَرْهُوبُ مَعَ النِّعَمِ. لَيْسَ‏ لِأَوَّلِيَّتِهِ‏ ابْتِدَاءٌ وَ لَا لِأَزَلِيَّتِهِ انْقِضَاءٌ هُوَ الْأَوَّلُ وَ لَمْ يَزَلْ وَ الْبَاقِي بِلَا أَجَلٍ خَرَّتْ لَهُ الْجِبَاهُ وَ وَحَّدَتْهُ الشِّفَاهُ حَدَّ الْأَشْيَاءَ عِنْدَ خَلْقِهِ لَهَا إِبَانَةً لَهُ مِنْ شَبَهِهَا لَا تُقَدِّرُهُ الْأَوْهَامُ بِالْحُدُودِ وَ الْحَرَكَاتِ وَ لَا بِالْجَوَارِحِ وَ الْأَدَوَاتِ لَا يُقَالُ لَهُ مَتَى وَ لَا يُضْرَبُ لَهُ أَمَدٌ بِحَتَّى الظَّاهِرُ لَا يُقَالُ مِمَّ وَ الْبَاطِنُ لَا يُقَالُ فِيمَ لَا شَبَحٌ فَيُتَقَصَّى وَ لَا مَحْجُوبٌ فَيُحْوَى تَعَالَى عَمَّا يَنْحَلُهُ الْمُحَدِّدُونَ مِنْ صِفَاتِ الْأَقْدَارِ وَ نِهَايَاتِ الْأَقْطَارِ وَ تَأَثُّلِ الْمَسَاكِنِ وَ تَمَكُّنِ الْأَمَاكِنِ فَالْحَدُّ لِخَلْقِهِ مَضْرُوبٌ وَ إِلَى غَيْرِهِ مَنْسُوبٌ لَمْ يَخْلُقِ


الْأَشْيَاءَ مِنْ أُصُولٍ أَزَلِيَّةٍ وَ لَا مِنْ أَوَائِلَ أَبَدِيَّةٍ بَلْ خَلَقَ مَا خَلَقَ فَأَقَامَ‏ حَدَّهُ‏ وَ صَوَّرَ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ لَيْسَ لِشَيْ‏ءٍ مِنْهُ امْتِنَاعٌ وَ لَا لَهُ بِطَاعَةِ شَيْ‏ءٍ انْتِفَاعٌ عِلْمُهُ بِالْأَمْوَاتِ الْمَاضِينَ كَعِلْمِهِ بِالْأَحْيَاءِ الْبَاقِينَ وَ عِلْمُهُ بِمَا فِي السَّمَاوَاتِ الْعُلَى كَعِلْمِهِ بِمَا فِي الْأَرَضِينَ السُّفْلَى‏"

تمام حمد اس اللہ کے لئے ہے جو چھپی ہوئی چیزوں کی گہرائیوں میں اترا ہوا ہے. اس کے ظاہر و ہویدہ ہونے کی نشانیاں اس کے وجود کا پتہ دیتی ہیں، گو وہ دیکھنے والے کی آنکھ سے نظر نہیں آتا، پھر بھی نہ دیکھنے والی آنکھ اس کا انکار نہیں کرسکتی اور جس نے اس کا اقرار کیا اس کا دل اس کی حقیقت کو نہیں پاسکتا وہ اتنا بلند و برتر ہے کہ کوئی چیز اس سے بلند­تر نہیں ہوسکتی اور اتنا قریب سے قریب­تر ہے کہ کوئی شئی اس سے قریب­تر نہیں ہے اور نہ اس کی بلندی نے اسے مخلوقات سے دور کردیا ہے. اور نہ اس کے قریب نے اسے دوسروں کی سطح پر لاکر ان کے برابر کردیا ہے. اس نے عقلوں کو اپنی صفتوں کی حدود نہایت پر مطلع نہیں کیا اور ضروری مقدار میں معرفت حاصل کرنے کے لئے ان کے آگے پردے بھی حائل نہیں کئے، وہ ذات ایسی ہے کہ جس کے وجود کے نشانات اس طرح کی شہادت دیتے ہیں کہ( زبان سے) انکار کرنے والے کا دل بھی اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکتا، اللہ ان لوگوں کی باتوں سے بہت بلند و برتر ہے،


جو مخلوقات سے اس کی تشبیہ دیتے ہیں، اور اس کے وجود کا انکار کرتے ہیں.(1)

تمام حمد اس اللہ کے لئے ہے کہ جس کی ایک صفت سے دوسری صفت کو تقدم نہیں کہ وہ آخر ہونے سے پہلے اول اور باطن ہونے سے پہلے ظاہر رہا ہو، اللہ کے علاوہ جسے بھی ایک کہا جائے گا وہ قلت و کمی میں ہوگا، اس کے سوا ہر باعزت ذلیل اور ہر قوی کمزور و عاجز اور ہر مالک مملوک اور ہر جاننے والا سیکھنے والے کی منزل میں ہے، اس کے علاوہ ہر قدرت و تسلط والا کبھی قادر ہوتا ہے اور کبھی عاجز اور اس کے علاوہ ہر سننے والا خفیف آوازوں کے سننے سے قاصر ہوتا ہے اور بڑی آوازیں ( آپنی گونج سے) اسے بہرا کر دیتی ہیں اور دور کی آوازیں اس تک پہونچتی نہیں ہیں اور اس کے ماسوا ہر دیکھنے والا مخفی رنگوں اور لطیف جسموں کے دیکھنے سے نابینا ہوتا ہے. کوئی ظاہر اس کے علاوہ باطن نہیں ہوسکتا اور کوئی باطن اس کے سوا ظاہر نہیں ہوسکتا. اس نے اپنی کسی مخلوق کو اس لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ اپنے اقتدار کی بنیادوں کو مستحکم کرے یا زمانےکے عواقب و نتائج سے اسے کوئی خطرہ تھا، یا کسی برابر والے کے حملہ آور ہونے یا کثرت پر اترانے والے شریک یا بلندی میں ٹکرانے والے مد مقابل کے خلاف اسے مدد حاصل کرنا تھی.

____________________

1.خطبہ/49


بلکہ یہ ساری مخلوق اسی کے قبضے میں ہے اور سب اس کے عاجز و ناتوان بندے ہیں. وہ دوسری چیزوں میں سمایا ہوا نہیں ہے. کہ یہ کہا جائے کہ وہ ان کے اندر ہے اور نہ ان چیزوں سے دور ہے کہ یہ کہا جائے کہ وہ ان چیزوں سے الگ ہے ایجاد خلق اور تدبیر عالم نے اسے خستہ و درماندہ نہیں کیا. اور نہ ( حسب منشای چیزوں کے پیدا کرنے سے عجز اسے دامن گیر ہوا ہے اور نہ اسے اپنے فیصلوں اور اندازوں میں شبہ لاحق ہوا ہے. بلکہ اس کے فیصلے مضبوط، علم محکم اور احکام قطعی ہیں. مصیبت کے وقت بھی اسی کی آس رہتی ہے، اور نعمت کے وقت بھی اس کا ڈر لگا رہتا ہے.(1)

اس کی اولیت کی کوئی ابتدا اور نہ اس کی ازلیت کی کوئی انتہا ہے، وہ ایسا اول ہے جو ہمیشہ سے ہے، اور بغیر کسی مدت کی حدبندی کے ہمیشہ رہنے والا ہے پیشانیاں اس کے آگے ( سجدہ میں) گری ہوئی ہیں، اور لب اس کی توحید کے معترف ہیں اس نے تمام چیزوں کو ان کے پیدا کرنے کے وقت ہی سے جداگانہ صورتوں اور شکلوں میں محدود کردیا، تا کہ اپنی ذات کو ا ن کی مشابہت سے الگ رکھے، تصورات اسے محدود و حرکات اور اعضاء و جوارح کے ساتھ متعین نہیں کرسکتے اس کے لئے یہ نہیں کہا جاسکتا ہے وہ کب سے ہے اور نہ یہ کہہ کر اس کی مدت مقرر کی جاسکتی ہے کہ وہ کب تک ہے، وہ ظاہر ہے لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کس سے ( ظاہر ہوا) وہ باطن ہے مگر

____________________

1.خطبہ/63


یہ نہیں کہا جائیگا کہ (کس میں) وہ نہ دور سے نظر آنے والا کوئی ڈھانچہ جو کہ مٹ جائے اور نہ کسی حجاب میں ہے کہ محدود ہوجائے. اسے محدود سمجھ لینے والے جن اندازوں اور اطراف و جوانب کی حدوں اور مکانوں میں بسنے اور جگہوں میں ٹھہرنے کو اس کی طرف منسوب کردیتے ہیں، وہ ان نسبتوں سے بہت بلند ہے. حدیں تو اس کو مخلوق کے لئے قائم کی گئی ہیں اور دوسروں ہی کی طرف ان کی نسبت دی جایا کرتی ہے اس نے اشیاء کو کچھ ایسے مواد سے پیدا نہیں کیا کہ جو ہمیشہ سے ہو اور نہ ایسی مثالوں پر بنایا کہ جو پہلے سے موجود ہوں. بلکہ اس نے جو چیز پیدا کی اسے مستحکم کیا، اورجو ڈھانچہ بنایا اسے اچھی شکل و صورت دی، کوئی اس کے حکم سے سرتابی نہیں کرسکتا نہ اس کو کسی اطاعت سے، کوئی فائدہ پہونچتا ہے. اسے پہلے مرنے والوں کا ویسا ہی علم ہے جیسا باقی رہنے والے زندہ لوگوں کا اور جس طرح بلند آسمانوں کی چیزوں کو جانتا ہے. ویسے ہی زمینوں کی چیزوں کو پہچانتا ہے.(1)

____________________

1.خطبہ/161


دوسری فصل

رسول(ص) سے متعلق

دوسرا سوال عصمت رسول(ص) کے بارے میں

خداوند عالم اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں فرماتا ہے:

( وَ اللَّهُ يَعْصِمُكَ‏ مِنَ‏ النَّاسِ ‏) مائدہ/67

اور خدا تمہیں لوگوں سے محفوظ رکھے گا.

نیز فرماتا ہے:

( وَ ما يَنْطِقُ‏ عَنِ‏ الْهَوى‏ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحى ‏) نجم/3

وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے ہیں، جو وحی ہوتی ہے وہی کہتے ہیں.

دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:

( وَ ما آتاكُمُ‏ الرَّسُولُ‏ فَخُذُوهُ وَ ما نَهاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ) حشر/7


جس چیز کا رسول حکم دیں اسے بجا لائو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو.

ان آیات کو واضح دلالت رسول(ص) کی عصمت مطلقہ پر ہے، اور تم لوگ(اہلسنت) کہتے ہو کہ تبلیغ قرآن کے وقت رسول(ص) معصوم تھے. اور اس کے علاوہ دوسرے اوقات میں تمام لوگوں کو طرح صحیح کام بھی کرتے تھے اور غلط بھی اور متعدد واقعات و روایات سے اس پر استدلال کرتے ہو جیسا کہ تمہاری صحاح میں موجود ہے.

اس کے بعد آپ کے اس دعوے پر کون سی دلیل و حجت ہے کہ کتاب خدا اور سنت نبی(ص) سے تمسک کافی ہے جبکہ یہ سنت تمہارے نزدیک غیر محفوظ اور اس میں خدا کا امکان ہے.

تمہارے معتقدات کے لحاظ سے کتاب خدا اور حدیث نبی(ص) سے تمسک ضلالت و گمراہی سے محفوظ نہیں ہے، خصوصا جبکہ ہمیں یہ معلوم ہے کہ پورے قرآن کی تفسیر بیان کرنے والی حدیث نبی(ص) ہے، تمھارے پاس کون سی دلیل ہے کہ وہ تفسیر کتاب خدا کے مخالف نہیں ہے؟

ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ: رسول(ص) نے مصلحت کی بنا پر احکام میں بہت جگہوں پر قرآن کی مخالف کی ہے:

میں تعجب سے کہا: اس مخالفت کے سلسلے میں کوئی مثال ہے؟

اس نے کہا: قرآن کہتا ہے:

( الزَّانِيَةُ وَ الزَّانِي‏ فَاجْلِدُوا كُلَّ واحِدٍ مِنْهُما مِائَةَ جَلْدَةٍ .) نور/2


جبکہ رسول(ص) نے زانی و زاینہ کو سنگسار کرنے کا حکم دیا اور یہ حکم قرآن میں نہیں ہے.

میں نے کہا : زنائے محصنہ کرنے والے ( شادی شدہ) کے لئے سنگسار کا حکم دیا ہے. خواہ مرد ہو یا عورت اورغیر شادی شدہ مرد وعورت کو کوڑے لگانے کا حکم دیا ہے.

اس نے کہا: قرآن میں شادی شدہ و غیر شادی شدہ نہیں ہے، خدا نے مخصوص طور پر نہیں بکلہ مطلق طور پر فرمایا ہے کہ : زانی و زانیہ.

میں نے کہا: اس لحاظ سے تو قرآن میں ہر حکم مطلق ہے اسے رسول(ص) نے مخصوص کیا ہے، اور یہ قرآن کے مخالف ہے. تم ہی تو کہہ رہے ہو کہ رسول(ص) نے اکثر احکام میں قرآن کی مخالفت کی ہے.

اس نے بوکھلا کے کہا: فقط قرآن معصوم ہے، کیونکہ اس کی حفاظت کی خود خدا نے ذمہ­داری لی ہے. لیکن رسول(ص) بشر ہیں، ا ن سے خطا بھی ہوسکتی ہے، جیسا کہ آپ کی شان میں قرآن فرماتا ہے:

( قُلْ إِنَّما أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ )

میں نے کہا: پھر تم صبح، ظہر و عصر اور مغرب و عشا کی نمازیں کیوں پڑھتے ہو کیونکہ قرآن نے بغیر وقت کی تخصیص کے نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے؟

اس نے جواب دیا کہ: قرآن میں ہے کہ:

( إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً )


نماز مومنین پر وقت کے ساتھ واجب کی گئی ہے. صرف رسول(ص) نماز کے اوقات بیان کردیتے ہیں.

میں نے کہا: اوقات نماز کے بارے میں رسول(ص) کی تصدیق کیوں کرتے ہو، جبکہ زانی کے لئے سنگسار کے حکم میں ان کی تردید کرتے ہو؟

موصوف نے مجھے بے نتیجہ اور متناقض فلسفہ سے مطمئن کرنے کی انتھک کوشش کی لیکن وہ اپنے مدعا پر کوئی عقلی و منطقی دلیل قائم نہ کرسکے، مثلا ان کا یہ قول کہ نماز متعلق شک کی گنجائش نہیں ہے، کیونکہ رسول(ص) نے اپنی پوری حیات میں ہر روز پانچ مرتبہ نماز ادا کی ہے، لیکن رجم ( سنگسار) پر اطمینان کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ آپ نے اپنی پوری زندگی میں ایک یا دو مرتبہ انجام دیا ہوگا. اسی طرح اس کا یہ کہنا کہ رسول(ص) سے اس وقت کوئی غلطی نہیں ہوتی تھی جب خدا رسول(ص) کو اپنے پیغام پہونچانے کا حکم دیتا تھا. لیکن جب اپنی طرف سے کوئی بات کہتے تھے تو وہ معصوم نہیں ہوتے تھے. اسی لئے صحابہ آپ سے ہر ایک بات میں یہ پوچھتے تھے کہ یہ آپ اپنی طرف سے کہہ رہے ہیں یا خدا کا پیغام ہے، پس اگر رسول(ص) کہتے کہ خدا کی طرف سے ہے تو صحابہ بغیر چون و چرا قبول کر لیتے تھے. اور اگر یہ فرماتے کہ میں اپنی عقل سے کہہ رہا ہوں تو اس وقت صحابہ آپ(ص) سے بحث و مباحثہ کرتے اور آپ کو نصیحت کرتے تھے اور رسول(ص) صحابہ کی رائے کو تسلیم کر لیتے تھے اور کبھی تو بعض صحابہ کی رائے کی موافقت اور آپ کی رائے کی مخالفت میں قرآن نازل ہوتا تھا. جیسا کہ بدر کے قیدیوں کے سلسلہ میں ہوا ایسے اور بھی بہت سے مشہور واقعات ہیں. میں نے بھی اسے مطمئن کرنے کی پوری کوشش کی لیکن بے فائدہ ثابت ہوئی کیونکہ اہلسنت والجماعت اسی سے مطمئن ہوتے ہیں ان کی صحاح ایسی روایات سے بھری پڑی ہیں کہ جن سے رسول(ص) کی عصمت مخدوش ہوتی ہے. اور آپ کو عام


انسانوں سے بھی پست قرار دیتی ہیں ایک ذہین یا فوج کے سپہ سالار سے یا صوفیوں کے شیخ طریقت بھی کم رتبہ انسان بنا کر پیش کرتی ہیں. میں نے اس بات میں مبالغہ نہیں کیا ہے کہ وہ عام لوگوں سے بھی رسول(ص) کو کم رتبہ سمجھتے ہیں کیونکہ جب ہم اہلسنت کی صحاح کی بعض روایات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان سے واضح طور پر یہی سمجھ میں آتا ہے کہ امویوں کی فکر اس عہد سے آج تک مسلمانوں کی عقلوں میں کار فرما ہے.

جب ہم ان احادیث کی غرض وغایت کی تحقیق کریں گے تو ایک حتمی نتیجہ پر پہونچ جائیں گے. اور وہ یہ کہ امویوں نے اپنے عہد حکومت میں مسلمانوں سے حدیثیں گڑھوائیں، سب سے زیادہ معاویہ ابن ابو سفیان نے یہ کام کرایا. بنی امیہ ایک روز بھی اس بات کے معتقد نہیں ہوئے کہ محمد ابن عبداللہ، اللہ کے رسول(ص) یا وہ نبی برحق ہیں وہ تو زیادہ سے زیادہ آپ کو جادو گر سمجھتے تھے کہ جو لوگوں پر غالب آگئے تھے اور غریب و مستضعف لوگوں کے نام پر اپنی حکومت مضبوط کرتی تھی خصوصا غلاموں نے ان کی دعوت کو قبول کیا اور مدد کی.

بنی امیہ کا یہی گمان تھا، اور بعض ظن و گمان گناہ ہوتے ہیں جب ہم تواریخ کی کتب کا مطالعہ کریں گے تو معاویہ اور اس کی شخصیت واضح ہوگی اور یہ بات بھی آشکار ہوجائے گی کہ اس نے اپنی زندگی میں کیا کیا خصوصا حکومت کے زمانہ میں کیا کارنامے تھے. اس وقت یہ گمان حقیقت میں بدل جائے گا.

ہم سب جانتے ہیں کہ معاویہ کون ہے، اس کی ولدیت کیا ہے، ابوسفیان، اس کی ماں ہندہ، وہ طلیق بن طلیق تھا کہ جس نے جوانی کو اپنے باپ کے ساتھ رسول(ص) سے جنگ اور ان کی تبلیغ کے خاتمہ کے لئے لشکر جمع کرنے میں گذار تھا. لیکن جب ان کی تمام کوششیں بے کار ہوگئیں اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غالب ہو گئے تو موقع غنیمت سمجھ کر اسلام قبول کر لیا. حالانکہ مطمئن نہ تھا. رسول(ص) نے بھی شرافت


اور خلق عظیم کی بنا پر انہیں معاف کردیا اور کہدیا کہ تم آزاد ہو، لیکن رسول(ص) کی وفات حسرت آیات کے بعد ابوسفیان فتنہ پردازی اور اسلام کو نقصان پہونچانے کی کوشش کرنے لگا. ایک شب امام علی علیہ السلام کے پاس آیا اور آپ کو ابوبکر کی حکومت و خلافت کے بارے میں برانگیختہ کرنا چاہا اور کہنے لگا کہ اموال و افواج سے میں حاضر ہوں، لیکن حضرت علی علیہ السلام اس کے ارادے کو سمجھ گئے اور اس کی باتوں کو رد کردیا، ابوسفیان کی تمام عمر اسلام اور مسلمانوں کی دشمنی میں گذری یہاں تک کہ جب خلافت کی باگ ڈور اس کے چچا زاد بھائی عثمان ابن عفان کے ہاتھوں میں آئی تو اس نے اپنے کفر و نفاق کا کھل کر اظہار کیا اور کہا: اے بنی امیہ! خلافت کو گیند کی طرح نچائو ابوسفیان قسم کھا کے کہتا ہے کہ جنت و جہنم کوئی چیز نہیں ہے.(1) ابن عساکر نے اپنی تاریخ کی جلد6 کے ص407 پر انس سے روایت کی ہے کہ جس زمانہ میں ابوسفیان کی آنکھوں کی بصارت ختم ہوچکی تھی، عثمان کے پاس آیا اور کہا کہ یہاں کوئی اور تو نہیں بیٹھا ہے؟ انھوں نے کہا کہ نہیں کوئی نہیں ہے: ابوسفیان نے کہا کہ: جاہلیت والا قانون جاری کرو، اور ملک کو آسودگی میں بدلو اور عظیم عہدوں کو بنی امیہ میں تقسیم کردو.ابوسفیان کے بیٹے معاویہ کے بارے میں آپ جانتے ہیں کہ معاویہ کون ہے؟ ہم یہاں اس کے حالات کو قلم بلند کر رہے ہیں. اور یہ کہ اس نے شام میں اپنی حکومت کے زمانہ میں امت محمدی(ص) کے ساتھ کیا سلوک کیا.مورخین لکھتے ہیں کہ جب معاویہ مسند خلافت پر جبرا متمکن ہوا تو اس نے قرآن و سنت کی ہتک کی، شریعت کی حدود کو پس پشت ڈال دیا اور ایسے افعال کا مرتکب ہوا جن کے لکھنے سے قلم کے تقدس پر حرف آتا ہے اور

____________________

1.طبری جلد11/ص357، مروج الذہب جلد1/ص440


بیان کرنے سے زبان کی عظمت جاتی ہے، ہم ان عیوب پر اپنے سنی بھائیوں کی خاطر پردہ ڈالتے ہیں کیونکہ ان کے دل معاویہ کی محبت سے سرشار ہیں اور اس کا دفاع کرتے ہیں.

لیکن ہم معاویہ کے نفسیات اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں اس کے عقیدہ کو بیان کئے بغیر نہیں چھوڑیں گے، عقیدہ کے سلسلہ میں معاویہ بھی اپنے باپ دادا سے جدا نہیں ہے اس نے ہندہ جگر خوار کا دودھ پیا ہے کہ جو زنا و فسق و فجور میں مشہور تھی(1) اسی طرح اسے اپنے باپ شیخ المنافقین سے میراث ملی تھی کہ جس نے دل سے کبھی اسلام قبول نہیں کیا تھا.

جیسا کہ ہم نے باپ کے نفسیات کے بارے میں بیان کیا تھا وہی آپ بیٹے کے لئے تصور کر لیجئے، لیکن معاویہ چالاکی اور نفاق میں اپنے باپ سے بھی آگے تھا.

زبیر ابن بکار مطوف ابن مغیرہ نے ابن شعبہ ثقفی سے روایت کی ہے انہوں نے کہا کہ:

ایک روز میرے والد معاویہ کے پاس گئے اور معاویہ سے گفتگو کر کے میرے پاس آئے اور معاویہ کا تذکرہ کر رہے تھے، ان کی عقل اس حرکت سے بہت پریشان تھی جو انہوں نے معاویہ سے سرزد ہوتے دیکھی تھی اور وہ یہ کہ جب ایک رات میرے والد واپس آئے تو میں نے انہیں رنجیدہ پایا، تھوڑی دیر تو میں خاموش رہا اور خیال کیا کہ کوئی بات ہوگئی ہوگی

____________________

1.ربیع الابرار جلد3/باب القربات والانسان، شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید جلد1/ ص111


پھر میں نے کہا آج کی رات میں آپ کو رنجیدہ کیوں دیکھ رہا ہوں؟

انہوں نے جواب دیا: بیٹے میں خبیث ترین شخص کے پاس سے آرہا ہوں. میں نے کہا: کیا ہوا؟

انہوں نے کہا: کہ آج معاویہ کے پاس کوئی نہیں تھا میں نے معاویہ سے کہا کہ اے امیرالمومنین آپ اپنی مراد کو پاگئے ہیں، اگر آپ عدل کا اظہار کریں، سخاوت سے کام لیں تو آپ کی عظمت و بزرگی میں اضافہ ہوگا اور اگر اپنے بھائی بنی ہاشم کو خبر گیری کریں تو ان کے لئے صلہ رحم ہوگا. قسم خدا کی آج ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تمہارے لئے باعث خوف ہو.

اس سے آپ کو دائمی ثواب ملے گا اور آپ کا ذکر باقی رہے گا. معاویہ نے کہا افسوس صد افسوس! میں کس ذکر کی بقا کی امید کروں، بنی تمیم کے ایک شخص کے ہاتھ میں حکومت و خلافت آئی تو اس نے عدل سے کام لیا، اور کچھ کرنا تھا کیا، جب وہ ہلاک ہوگیا تو اس کا ذکر بھی ختم ہوگیا، ہاں کوئی کہنے والا کبھی ابوبکر کہہ دیتا ہے، پھر بنی عدی کے ایک شخص کے ہاتھ میں زمام خلافت آئی تو اس نے اپنی سی کی اور دس سال سخاوت کی، قسم خدا کی جیسے وہ ہلاک ہوا ویسے ہی اس کا ذکر فنا ہوگیا مگر یہ کہ کبھی کوئی عمر کے نام سے یاد کر لینا ہے. پھر ہمارے خاندانی عثمان بن عفان خلافت کے مدار الہام بنے ان کے بعد مسند خلافت پر وہ شخص جلوہ افروز ہوا کہ نسب میں جس کی برابری کوئی نہیں کر سکتا، اس نے جو کچھ کیا کیا اور جو اس کے ساتھ ہوا ہوا، اور جب


وہ ہلاک ہوگیا تو اس کا ذکر اور اس کے ساتھ کئے جانے والے سلوک کا ذکر بھی ختم ہوگیا، لیکن بنی ہاشم کی فرد کا نام با آواز بلند ہر روز پانچ مرتبہ لیا جاتا ہے، اشہد ان محمدا رسول اللہ، بدبخت اس کے ہوتے ہوئے کون سا عمل اور کون سا تذکرہ باقی رہے گا؟ قسم خدا کی قتال کے علاوہ اب کوئی چارہ کار نہیں.(1)

بدبخت کمینہ خدا تجھے رسوا کرے، تو نے ذکر رسول(ص) کو دفن کرنے کی ٹھانی ہے، اور اس سلسلہ میں بے شمار دولت خرچ کی ہے، لیکن تیری ساری تگ و دد بے کار ہوگئی کیونکہ خدا تیری گھاٹ میں ہے. اور اپنے رسول(ص) کے لئے فرماتا ہے:

( وَ رَفَعْنا لَكَ‏ ذِكْرَكَ )

تم اس ذکر کو کبھی دفن نہیں کرسکتے جس کو رب العزت نے بلند کیا ہے، تم اپنی پوری کوشش اپنے ہمنوائوں کو جمع کرنے کے بعد بھی اس شمع کو نہیں بجھا سکتے جسے خدا نے روشن کیا ہے، خدا اپنے نور کو کامل اور تمہارے نفاق کو آشکار کر کے رہے گا. اگر تم مشرق و مغرب کے بھی بادشاہ بن جائو گے تو بھی تمہاری ہلاکت کے ساتھ ساتھ تمہارا نام مٹ جائے گا. مگر یہ کہ کوئی ذاکر تمہارے ان سیاہ کارناموں کا تذکرہ کرے گا کہ جن کے ذریعہ تم اسلام کو نابود کرنا چاہتے تھے، جیسا کہ رسول(ص) نے فرمایا ہے.(2) ذریت ہاشم محمد(ص) ابن عبداللہ کا ذکر صدیوں اور نسلوں کے بعد

____________________

1.کتاب الموفقات، ص576، طبع وزارت الاوقاف بغداد، سنہ1392 مروج الذہب جلد1، ص321، شرح ابن ابی الحدید جلد5، ص130، الغدیر جلد10 ص283..

2.کتاب صفین ص44.


بھی باقی رہے گا. یہاں تک کہ خدا پورے کرہ ارض پر ان کی حکومت قائم کرے گا. اور جب بھی ذاکر آپ کا ذکر کرے گا تو صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کرے گا.

تمہاری اور بنی امیہ کی ناک گھسی جاتی رہے گی کہ انہوں نے تمہاری حکومت و خلافت کو اہلبیت کے خلاف مستحکم بنانے کو کوشش کی اور ان کے فضائل کو چھپانا چاہا لیکن ان کے فضائل پھیلتے گئے روز قیامت جب تم خدا سے ملاقات کرو گے وہ تم پر غضبناک ہوگا کیونکہ اس کی شریعت میں تحریف کی لہذا اس کی سزا تمہیں ملے گی.

اور جب ہم ان کے خلف نا سلف یزید ابن معاویہ شراب خور، فاسق و فاجر کو دیکھتے ہیں تو جس طرح ان سے ذلت و رسوائی، شراب خوری، زناکاری قمار بازی میراث میں ملی تھی اسی طرح عقیدہ بھی معاویہ اور ابوسفیان سے میراث میں ملا تھا، اگر بیہودہ صفات اسے میراث میں نہ ملے ہوتے تو معاویہ اسے اپنا جانشین نہ بناتا اور مسلمانوں پر مسلط نہ کرتا، وہ سب اسے بخوبی جانتے تھے جب کہ ان میں فضلائے صحابہ حسین ابن علی(ع) سید شباب اہل جنت ایسے افراد موجود تھے میں یقین کےساتھ کہتا ہوں کہ معاویہ نے اسلام اور مسلمانوں کی توہین میں اپنی تمام عمر اور حرام طریقہ سے حاصل کی ہوئی کافی دولت صرف کی تھی اور ہم یہ دیکھ چکے کہ وہ رسول(ص) کے نام کو کس طرح مٹا دینا چاہتا تھا لیکن جب وہ اپنی کوشش میں کامیاب نہ ہوسکا تو وصی نبی(ص) حضرت علی علیہ السلام کے خلاف جنگ کی آگ بھڑکائی اور اس وقت تک آپ سے لڑتا رہا جب تک جبرا بادشاہ نہ بن بیٹھا، بری باتوں کو رواج دیا، اپنی حکومت کے سارے عالوں کو منبروں سے ہر نماز کے بعد حضرت عل علیہ السلام اور اہلبیت نبی(ص) پر لعنت کرنے کے لئے لکھا، اصل میں معاویہ اس راستہ سے رسول(ص) پر لعنت کرنا چاہتا تھا، اور جب اس نے اپنی موت


کو قریب دیکھا اور نامراد و ناکام دنیا سے رخت سفر بندھتے دیکھا تو اپنے بیٹے یزید کو بلاکر امت کاحاکم بنادیا تا کہ اس کے اور اس کے باپ ابوسفیان کے ارادوں کو یزید پورا کرے آگاہ ہو جائو! وہ مقاصد اسلام کی نابودی اور جاہلیت کی بازگشت تھی.(1)

فاسق و فاجر یزید نے زمام خلافت کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنے باپ کی ترغیب کےمطابق اپنے سرداروںکو اسلام کو نابود کرنے کا حکم دے دیا، پہلا اقدام اس نے یہ کیا کہ مدینہ رسول(ص) کو اپنے کافر لشکر کے لئے مباح کردیا، اشکر نے تین روز کی مدت میں جو کچھ کیا کیا، دس ہزار بہترین صحابہ کو قتل کیا اس بت پرست نے سید شباب اہل جنت، ریحانۃ النبی(ص) بلکہ تمام اہلبیت(ع) کو قتل کیا حالانکہ وہ امت کے چاند تھے، اور اہلبیت عصمت کی چادر چھین لی،( انا لله و انا الیه راجعون)

اگر خدا نے اسے جلد ہی جہنم واصل نہ کیا ہوتا تو یہ بدبخت و کمینہ مزید اسلام و مسلمانوں کے سرپر بلا لاتا، جس طرح ہم نے یزید کے باپ دادا کے عقیدہ کا انکشاف کیا اسی طرح اس بحث میں یزید کے عقیدہ کا بھی انکشاف کرنا اہمیت کا حامل ہے.مورخین کا بیان ہے کہ حسرہ وہ بدترین سانحہ ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان مرد و عورت قتل ہوئے ہیں اور ہزاروں باکرہ لڑکیوں کا افضا ہوا ہے، اور ہزاروں

____________________

1.العقد الفرید جلد/2 ص301 پر ابن عبدربہ نے نقل کیا ہے کہ معاویہ نے منبر سے حضرت علی(ع) پر لعنت کی اور اپنے کارندوں کو لکھا کہ منبر سے حضرت علی(ع) پر لعنت کیا کریں سو انھوں نے شروع کردی ام سلمہ نے معاویہ کو لکھا: تم منبروں سے خدا و رسول(ص) پر لعنت کررہے ہو، اس لئے کہ تم علی بن ابی طالب(ع) اور ان کے دوستوں پر لعنت کررہے ہو، اور میں گواہی دیتی ہوں کہ خدا و رسول(ص) انہیں دوست رکھتے ہیں لیکن معاویہ نے ان باتوں پر اعتماد نہ کیا.


اسی لشکر کے سپاہیوں سے حاملہ ہوئیں، اور اس درندگی کو دیکھ کر باقی لوگوں نے اس بات پر یزید کی بیعت کر لی کہ وہ یزید کے غلام ہیں اور جس نے بیعت سے انکار کیا وہ قتل کیا گیا. اور جب یزید کو اس شرمناک واقعہ کی اطلاع دی گئی کہ جس کی مثال تاریخ بھی پیش کرنے سے قاصر ہے. جس میں روا رکھے جانے والے مظالم کے سامنے مغلوں، تاتاریوں اور اسرائیلیوں کے جرائم ماند نظر آتے ہیں، تو وہ بہت خوش ہوا اور رسول اسلام(ص) کی شماتت کا اظہار کرتے ہوئے زبعری کے وہ اشعار پڑھتا ہے.(1) جو اس نے جنگ احد کے بعد پڑھے تھے.

ليت‏ أشياخي‏ ببدر شهدوا

 

جزع الخزرج من وقع الاسل‏

لأهلّوا و استهلّوا فرحا

 

ثم قالوا يا يزيد لا تشل‏

قد قتلنا القرم من ساداتهم‏

 

و عدلناه ببدر فاعتدل‏

لعبت هاشم بالملك فلا

 

خبر جاء و لا وحي نزل‏

لست من خندف إن لم أنتقم‏

 

من بني أحمد ما كان فعل‏

     

کاش بدر میں قتل ہونے والے بزرگ ہوتے تو آج تلور کی باڑ سے گھبرائے ہوئے خزرج کو دیکھنے اور خوشی سے اچھل پڑتے پھر کہتے اے یزید تیرے ہاتھ شل نہ ہوں یقینا ہم نے( بنی ہاشم کے) سورمائوں کو قتل کیا اور ہی ہم نے بدر میں قتل ہونے والوں کا بدلہ لیا ہے. اگر میں اولاد احمد(ص) سے انتقام نہ لوں تو خذف سے نہیں ہوں یہ تو بنی ہاشم کا بادشاہت حاصل کرنے

____________________

1.انساب الاشراف بلاذری جلد5، ص43، لسان المیزان جلد6، ص294، تاریخ ابن کثیر جلد8، ص221، الاصابۃ جلد3، ص473.


کے لئے ایک ڈھونگ تھا ورنہ نہ کوئی وحی نازل ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی خبر آئی ہے.

اور اس کا دادا ابوسفیان خدا و رسول(ص) کا پہلا دشمن صاف لفظوں میں یہ کہتا ہے کہ:

اے بنی امیہ خلافت کو گیند کی طرح نچائو ابوسفیان قسم کھا کے کہتا ہے کہ جنت و جہنم کچھ نہیں ہے،

اور اس کا باپ معاویہ خدا و رسول(ص) کا دوسرا دشمن صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ:

اس وقت جب موذن آذان میں اشہد ان محمداً رسولُ اللہ کہتا ہے. کم بخت اس کے کون سا ذکر و عمل باقی ہے؟.

قسم خدا کی قتال کے علاوہ کوئی اور چارہ کار نہیں ہے.

لعبت هاشم بالملك فلا

 

خبر جاء و لا وحي نزل‏

یہ تو ( بنی ہاشم کا بادشاہت حاصل کرنے کے لئے ایک ڈھونگ تھا. ورنہ نہ کوئی وحی نازل ہوئی ہے اور نہ کوئی خبر آئی ہے.


ہم خدا و رسول(ص) اور اسلام کے بارے میں ان کے عقائد سے آگاہ ہوچکے اور ان کے اعمال شنیعہ کا مطالعہ کرچکے کہ جن کے ذریعہ وہ اسلام کے ستون اور رسول اسلام(ص) کی شخصیت کو مخدوش کرنا چاہتے تھے اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے ان میں سے ہم نے بہت ہی مختصر کا تذکرہ کیا ہے اگر ہم وسعت دینا چاہیں تو صرف معاویہ کے ایسے اعمال کے لئے ایک ضخیم جلد درکار ہے، ایک زمانہ میں جن پر ننگ و عار اور فضیحت کی بنیاد ہے اگر چہ بنی امیہ سے بخشش و عطا وصولنے والے بغص علمائے سوء نے ان عیوب کی پردہ پوشی کی حتی المقدور کوشش کی ہے، ان علماء کو لالچ نے اندھا بنادیا تھا، انہوں نے دنیا کو آخرت کے عوض خریدا تھا اور باطل سے حق کا سودا کر لیا تھا، حالانکہ وہ حقیقت سے واقف تھے، اکثر مسلمان اس سازش کا شکار ہوگئے.

اس مختصر بحث میں جو چیز اہمیت کی حامل ہے وہ یہ کہ مسلمانوں پر بنی امیہ اور ان کے پیروکاروں کا کتنا اثر ہوا کہ جنہوں نے سو سال تک مسلمانوں پر حکومت کی ہے جب کہ انھوں نے اپنا پرانا مسلک نہیں چھوڑا تھا.

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ منافقوں کا مسلمانوں پر بہت برا اثر پڑا ان کے عقیدے بدل دیئے، اخلاق و معاملات اور راستوں میں تبدیلی پیدا کر دی یہاں تک کہ ان کی عبادات میں رخنہ ڈال دیا اور نہ یہ کیسے ممکن تھا کہ امت حق کو نصرت سے چشم پوشی کر کے دشمنان خدا و رسول(ص) کے شانہ بشانہ ہوتی اور اولیائے خدا کی ذلت و رسوائی نہ ہوتی. اور ہمارے لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم طلیق ابن طلیق ، لعین ابن لعین معاویہ کی خلافت تک رسائی کی تفسیر کریں. کہ جو اپنے کو رسول(ص) کا خلیفہ کہہ رہا تھا، ایک وقت میں مورخین ہمیں فریب دیتے ہیں کہ لوگوں نے عمر ابن خطاب سے کہا کہ اگر ہم آپ کو کجروی پر دیکھے تو شورش برپا کردیتے (تلواروں سے آپ کامقابلہ کرتے) انہیں مورخین


کو ہم یہ لکھتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ معاویہ نے قہر و غلبہ سے مسند خلافت پر قبضہ کر لیا اور اپنے پہلے خطبہ میں تمام صحابہ سے کہا کہ میں نے تم سے نماز پڑھنے روزے رکھنے کے لئے جنگ نہیں کی ہے میں نے تو تم پر اپنی حکومت کے استحکام کے لئے جنگ کی تھی سو آج میں تمہارا حاکم ہوں، صحابہ میں سے کسی نے جنبش نہ کی اور نہ ہی کسی نے کوئی اعتراض کیا بلکہ اس کے نقش قدم پر چلتے رہے، اور یہ ہی نہیں بلکہ جس سال معاویہ خلیفہ ہوا اس سال کا نام بھی عام الجماعت رکھ دیا حالانکہ وہ سال عام الفرقہ تھا.

اس کے بعد ہم صحابہ کو اس بات پر راضی دیکھتے ہیں کہ معاویہ اپنے بیٹے کو ولی بنا دے جس کے بارے میں وہ نا واقف نہ تھے، معاویہ کے اس فعل سے بھی ان میں کوئی تحریک پیدا نہ ہوئی، ہاں جن صالح افراد میں پیدا ہوئی تھی انہیں یزید نے حادثہ حرہ میں قتل کرادیا اور باقی بچ جانے والوں سے اس بات پر بیعت لی کہ وہ یزید کے غلام ہیں، ان تمام باتوں کا کیا جواب ہوسکتا ہے؟ اس کے بعد ہم مومنوں کی امارت و رسالت کی باگ ڈور بنی امیہ کے فاسق ترین اشخاص مروان ابن حکم اور ولید ابن عقبہ وغیرہ کے ہاتھوں میں دیکھتے ہیں.

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مومنوں کے حاکم و امیر نے مدینہ رسول(ص) کو مباح قرار دے دیا لشکر نے جو کچھ کیا، کیا، عصمت دری کی خانہ خدا کو آگ لگائی، حرم خدا میں بہترین صحابہ کا قتل عام کیا، مومنوں کے حاکم نے ذریت رسول(ص) کا خون بہایا یعنی ریحانہ و ذریت رسول(ص) کو تہ تیغ کیا، ان کی بیٹیوں کو قید کیا، امت میں سے کسی میں جرائت نہ ہوئی اور کسی نے بھی جوانان جنت کے سردار کی مدد نہ کی.

انہی مومنوں کے امیروں میں سے ولید نے کتاب خدا کو پارہ پارہ کیا اور قرآن کو مخاطب کر کے کہا، جب روز حشر خدا کے پاس جانا تو کہدینا کہ پروردگارا مجھے ولید نے پارہ پارہ کیا.


انہی مومنوں کے امیروں نے حضرت علی ابن ابی طالب(ع) پر منبروں سے لعنت کی اور اپنی حکومت کے لوگوں کو علی علیہ السلام پر لعنت کا حکم دیا اس طریقہ سے وہ رسول(ص) پر لعنت کرتے تھے پھر بھی ان مومنوں میں کوئی حرکت و جنبش پیدا نہ ہوئی، اور اگر کسی نے علی علیہ السلام پر لعنت کرنے سے انکار کردیا تو اسے قتل کردیا گیا. دار پر چڑھا دیا گیا.انہی مومنوں کے امیروں نے کھلم کھلا شراب خوری، زناکاری، لہو و لعب، ناچ وغیرہ کا ارتکاب کیا. لیکن کوئی اہمیت نہ دی گئی. پس جب امت اسعدیہ کے حاکموں کے اخلاقی انحطاط کی یہ حالت ہے تو ان میں ایسے عوامل بھی ہوں گے جنہوں نے ان کے عقیدوں کو متاثر کیا ہوگا ہماری اس بحث کا یہ مہم عنصر ہے کیونکہ اس کا تعلق عصمت اور رسول(ص) کی شخصیت سے ہے.

اوّلاً جس سے ہماری تنبیہ کا تعلق ہے وہ یہ ہے کہ خلفائے ثلاثہ ابوبکر و عمر و عثمان نے حدیث نبی(ص) کو قلم بند کرنے سے منع کر دیا تھا بلکہ بیان کرنے سے بھی روک دیا تھا.ابوبکر نے اپنی خلافت کے زمانہ میں ایک روز لوگوں کو جمع کیا اور کہا تم لوگ رسول(ص) سے احادیث نقل کرتے ہو اور ان میں اختلاف کرتے ہو، اس سے تمہارے بعد لوگوں میں شدید اختلاف ہوگا لہذا آج سے تم رسول(ص) کی کوئی حدیث بیان نہ کرنا اور جو شخص تم سے سوال کرے اس سے کہدو ہمارے اور تمہارے درمیان کتاب خدا موجود ہے. اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام سمجھو.(1) اسی طرح عمر ابن خطاب نے لوگوں کو حدیث رسول(ص) بیان کرنے سے منع کیا، قرظہ ابن کعب کہتے ہیں جب ہم عمر ابن خطاب کے ساتھ عراق جارہے تھے اس

____________________

1.تذکرۃ الحفاظ، "ذہبی" جلد1، ص3002.


وقت درمیان راہ عمر نے کہا کہ تم لوگ جانتے ہو میں تمہارے ساتھ ساتھ کیوں چل رہا ہوں؟ سب نے کہا کہ ہماری عزت افزائی کے لئے انہوں نے کہا اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ جب تم دیہاتوں سے گذرو تو قرآن کو اس طرح پڑھنا جس طرح مکھیوں کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے انہیں احادیث سے آگاہ نہ کرنا کہ اس میں مشغول ہوجائیں، قرآن کو زیادہ پڑھو اور رسول(ص) سے کم روایت نقل کرو میں بھی تمہارا شریک کار ہوں.یہی راوی کہتا ہے کہ میں نے اس کے بعد کوئی حدیث نقل نہیں کی جب ہم لوگ عراق پہونچے تولوگ تیزی سے ہمارے پاس آئے تاکہ ہم سے حدیث کے بارے میں سوال کریں قرظہ نے ان سے کہا کہ ہمیں اس سے عمر نے منع کر دیا ہے.(1) عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ عمر ابن خطاب نے چپہ چپہ سے صحابہ کو جمع کر کے کہا: رسول(ص) کی حدیث بیان نہ کیا کرو. اور کہا کہ اس سلسلہ میں تا زندگی میرا ساتھ دینا اور مجھ سے جدا نہ ہونا پس صحابہ نے ان ک زندگی میں کوئی حدیث بیان نہ کی.(2) خطیب بغدادی اور ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ میں تحریر کیا ہے کہ: عمر ابن خطاب نے مدینہ میں تین صحابہ یعنی ابو درداء، ابن مسعود اور ابو مسعود انصاری کو جمع کرنے کا حکم دیا، صحابہ نے سوچا شاید عمر انہیں ایک انداز سے مرتب کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان میں کوئی اختلاف باقی نہ رہے اس لئے انہوں نے اپنی کتاب کو عمر کے حوالے کردیا اور عمر نے سب کو جلا دیا.(3)

____________________

1.مستدرک الحاکم جلد،1، ص110، کنز العمال جلد5، ص236.

2.سنن ابن ماجہ جلد1، ص12، سنن داری، جلد1، ص85، تذکرۃ الحفاظ جلد1.

3.الطبقات الکبری ابن سعد، جلد5، ص140.


اس کے بعد عثمان مسند خلافت پر آتے ہیں اور وہ تمام لوگوں کو آگاہ کرتے ہیں کہ کسی کو اجازت نہیں ہے کہ وہ ان حدیثوں کو بیان کرے جو ابوبکر و عمر کے زمانہ میں نہیں سنی گئیں.(1)

اس کے بعد معاویہ ابن ابوسفیان کا زمانہ آتا ہے جب وہ مسند خلافت پر متمکن ہوا تو منبر پر جاکر کہا: لوگو! خبر دار تم نے رسول(ص) سے کوئی حدیث نقل کی مگر وہ حدیث جو عہد عمر میں بیان کی گئی.(2)

رسول(ص) کو حدیثوں کے نقل کرنے پر پابندی میں کوئی نہ کوئی راز ضرور تھا اور وہ یہ کہ کوئی ان حدیثوں پرعمل نہ کرے ورنہ اس طویل مدت میں رسول(ص) کی حدیثوں کو نقل کرنے پر کیوں پابندی لگائی تھی. اور حدیثوں کا لکھنا بھی عمر ابن عبدالعزیز کے زمانہ میں شروع ہوا.

گذشتہ بحثوں سے خصوصا اس نص صریح سے خلافت کے بارے میں جس کا رسول(ص) نے اعلان کیا تھا. ابوبکر و عمر نے اس حدیث کو رسول(ص) سے نقل کرنے سے اس لئے منع کر دیا تھا کہ کہیں یہ نصوص دنیا کے گوشہ و کنار میں یہاپ تک کہ دیہاتوں میں نہ پہونچ جائیں کہ لوگوں پر یہ بات آشکار ہو جائے گی کہ عمر و ابوبکر کی خلافت شرعی نہیں ہے. بلکہ اس کے حقیقی وارث توعلی بن ابی طالب(ع) ہیں اور ان کے اس حق کو غصب کر لیا گیا ہے اس موضوع پر ہم اپنی کتاب. "لاکون مع الصادقین" میں سیر حاصل بحث کرچکے ہیں. مزید اطمینان کے لئے اس کا مطالعہ فرمائیں.عمر بن خطاب کے بارے میں تعجب خیز بات یہ ہے کہ وہ ہر اس

____________________

1.منتخب کنز العمال حاشیہ مسند احمد، جلد4، ص64.

2.خطیب بغدادی، شرف اصحاب الحدیث، ص91.


اور آپ کی طرف بھی ذکر(قرآن) کو نازل کیا ہے، ان کے لئے ان احکام کو واضح کردیں جو ان کی طرف نازل کئے گئے ہیں. یا یہ صاحب قرآن کو رسول(ص) سے بھی زیادہ جانتے تھے.یہ ان لوگوں کی کوشش ہے کہ جو کہتے ہیں کہ قرآن مجید اکثر عمر کی رائے کے موافق اور رسول(ص) کی رائے کے مخالف نازل ہوتا تھا، ان نا سمجھوں نے بہت بڑی بات کہہ دی. صحیح بخاری میں مجھے یہ واقعہ پڑھتے ہوئے ہمیشہ تعجب ہوتا ہے کہ عمر نے عمار یاسر کی روایت قبول کرنے سے انکار کردیا. خصوصا اس روایت کو جس میں نبی(ص) نے انہیں تیمم کا طریقہ تعلیم دیا تھا. اسی طرح عمار کے اس قول سے بھی مجھے تعجب ہوتا ہے کہ انہوں نے عمر کے خوف سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں اسے بیان نہ کروں، یہ بات تو واضح ہے کہ عمر حدیث رسول(ص) بیان کرنے والے پر غضبناک ہوتے تھے. اور راوی کو مصائب کا سامنا کرنا پڑتا تھا.

جب خلیفہ سے وہ صحابہ بھی خوف کھاتے تھے جن کا تعلق قبیلہ قریش سے تھا وہ مدینہ سے باہر نہیں حاسکتے تھے. یہاں تک کہ جو لوگ کہیں جاتے تھے انہیں حدیث بیان کرنے سے شدت کے ساتھ منع کیا جاتا تھا. ان کی ان کتابوں کو جن میں انہوں نے حدیثیں جمع کی تھیں جلا دیا گیا تھا. اور ان میں کچھ کہنے کی جرات بھی نہیں تھی. تو بے چارے عمار کی حیثیت ہی کیا تھی اور علی(ع) ابن ابی طالب کے شیعہ ہونے کے سبب ویسے بھی قریش کی نظروں میں خار تھے. اور جب ہم ٹھنڈے دل سے تامل کے ساتھ " یوم الخمیس" کہ جس روز رسول(ص) معبود حقیقی سے جاملے. کہ جس دن کو ابن عباس نے روز مصیبت کا نام دیا ہے. اس روز رسول(ص) نے حاضرین سے قلم و دوات طلب کیا تاکہ ان لوگوں کے لئے ایک نوشتہ لکھ دیں جس سے ان کے بعد کبھی گمراہ نہ ہوں، اس روز بھی ہم عمر ابن خطاب کو رسول(ص) پر اعتراض کرتے ہوئے دیکھتے ہیں." معاذ اللہ رسول(ص) پر ہذیان کا الزام لگاتے ہیں اور


متناقض رائے کا موافق تھا جس کا تعلق خلافت سے ہوتا تھا. ایک جگہ ہم انہیں ابوبکر کی بیعت کو استوار کرتے اور لوگوں سے جبرا بیعت لیتے دیکھتے ہیں جو اتفاقی امر تھا. اور خدا ہی نے اس کے شر سے محفوظ رکھا پھر انہیں خلافت سے متعلق چھ رکنی کمیٹی بناتے اور یہ کہتے دیکھتے ہیں کہ اگر میں علی(ع) ابن ابی طالب کو خلیفہ بنادوں تو وہ لوگوں کو صحیح راستہ پرچلائیں گے. پس جب انہیں خلیفہ کیوں نہیں بنایا اور قصہ پاک کیوں نہیں کیا. تاکہ اس سے امت محمد(ص) کی اصلاح و حفاظت ہوجاتی.اس کے بعد ہم پھر تناقض دیکھتے ہیں اور عمر ابن عوف کو ترجیح دیتے ہیں پھر تناقض دیکھتے ہیں اور عمر کہتے ہیں کہ اگر حذیفہ کا غلام سالم زندہ ہوتا تو میں اس کو خلیفہ بنا دینا.(1)

اس سے زیادہ تعجب خیز بات تو یہ ہے کہ ابوحفصہ عمر نے نبی(ص) سے حدیث نقل کرنے پر پابندی لگا دی، اور صحابہ کو مقید کردیا، باہر نکلنے سے منع کردیا اور جن لوگوں کو وہ کہیں تعینات کرتے تھے انھیں بھی لوگوں کے سامنے حدیث بیان کرنے سے پہلے ہی منع کر دیتے تھے. صحابہ کی ان کتابوں کو جلادیتے تھے جن میں نبی(ص) کی احادیث مرقوم تھیں، کیا عمر نہیں جانتے تھےکہ سنت نبی(ص) قرآن کو بیان کرتی ہے؟ کیا ان نظروں سے خدا کا یہ قول نہیں گذرا تھا:

( وَ أَنْزَلْنا إِلَيْكَ‏ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ .) نحل/44

____________________

1.اسی حدیث سے ابوحنیفہ نے لوگوں کی خلافت پر حجت قائم کی ہے اور اس طرح انہوں نے رسول(ص) کی اس حدیث کی مخالفت کی ہے کہ خلافت قریش ہی میں رہے گی اور شاید یہی وجہ ہے کہ ترکیوں نے خلافت حاصل کرنے کے لئے ابوحنیفہ کے مذہب کو قبول کر لیا اور نہیں امام اعظم کا نام دے دیا.


کہتے ہیں کہ ہمارے لئے کتاب خدا کافی ہے، اس واقعہ کو بخاری، مسلم، ابن ماجہ، نسائی، ابو دائود، اور امام احمد وغیرہ کے علاوہ بہت سے مورخین نے بھی نقل کیا ہے.

جب عمر خود رسول(ص) کو اپنی حدیث لکھنے سے منع کرسکتے ہیں اور وہ بھی صحابہ اور اہلبیت(ع) کے ایک جم غفیر کے سامنے جسارت کے ساتھ رسول(ص) کی شان میں گستاخی کرسکتے ہیں اور ان پر ہذیان کی تہمت لگاسکتے ہیں کہ جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ انہوں نے رسول(ص) کی وفات کے بعد زر خرید غلاموں اور لوگوں کو رسول(ص) کی احادیث نقل کرنے سے منع کردیا ہو اور پھر وہ خلیفہ (حاکم) وقت تھے جن کے پاس طاقت و ثروت موجود تھی. اور اس میں بھی شک نہیں ہے. کہ صحابہ کی کثیر تعدا کی تعالق انصار اور قریش سے تھا یہیہ بہترین افراد تھے، قبیلوں میں ان کا اثر و رسوخ تھا یہ قبیلے خوف، طمع یا نفاق کی وجہ سے آنحضرت(ص) کے ساتھ رہتے تھے ان صحابہ کی اکثریت کو بھی ہم عمر کی ہاں میں ہاں ملاتے دیکھتے ہیں کہ وہ نبی(ص) پر ہذیان کا الزام لگا رہے ہیں اور احادیث رسول(ص) کے لکھنے کی پابندی میں بھی ہم انہیں عمر کے شانہ بہ شانہ دیکھتے ہیں میرا عقیدہ ہے کہ نبی(ص) نے جو حدیث لکھوانے کو نظر انداز کیا ہے اس کا سب سے بڑا سبب یہی تھا کیونکہ وہ وحی کے ذریعہ اس بات کو جانتے تھے کہ منصوبے قوی ہیں اگر اس سلسلہ میں کوئی کتاب لکھی جائے گی تو اسلام کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے. رسول(ص) وہ چیز لکھنا چاہتے تھے جو امت کو ضلالت و گمراہی سے محفوظ، رکھنے والی تھی یعنی اگر امیر و خلفا موقف بدل دیں گے تو وہ کتاب ( اگر لکھی جائے) ضلالت و گمراہی سے محفوظ رہنے کا باعث ہوگی. پس رسول(ص) کے چہرہ اقدس کا رنگ کیسے متغیر نہ ہوتا جب کہ آپ بستر مرگ پر تھے اور آپ کے کان میں پروردگار کی طرف سے وحی کی مسلسل آواز آرہی تھی اپنی امت کی سرکشی دیکھ کر آپ کا دل حسرت و یاس سے بھر گیا.


( أَ فَإِنْ‏ ماتَ‏ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلى‏ أَعْقابِكُمْ )

یہ آیت عبث تو نازل نہیں ہوئی بلکہ یہ ایک حتمی نتیجہ ہے، کیونکہ خداوند عالم نے اپنے نبی(ص) کو امت کی دسیسہ کاریوں اور ان کے مکر و فریب سے آگاہ کردیا تھا. پس وہ تو آنکھوں کی خیانت اور دلوں میں چھپے ہوئے رازوں سے آگاہ ہے، اور قسم ہے اس ذات کی جس نے اپنے رسول(ص) کو عزت بخشی اور ان کو ہر ایک چیز سے با خبر کیا. اور ان کو اس سے کہیں بہتر جزا دی کہ جو ان کی امت کی طرف سے مل سکتی تھی. اور ان کو امت کے ارتداد و کفر کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا بلکہ آپ سے فرمایا:

( وَ يَوْمَ‏ يَعَضُ‏ الظَّالِمُ‏ عَلى‏ يَدَيْهِ يَقُولُ يا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا يا وَيْلَتى‏ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلاناً خَلِيلًا لَقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جاءَنِي وَ كانَ الشَّيْطانُ لِلْإِنْسانِ خَذُولًا، وَ قالَ الرَّسُولُ يا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هذَا الْقُرْآنَ مَهْجُوراً، وَ كَذلِكَ جَعَلْنا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ وَ كَفى‏ بِرَبِّكَ هادِياً وَ نَصِيراً .) فرقان/27-31

اس روز ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا اور کہے گا کہ کاش میں نے رسول(ص) کے ساتھ ہی راستہ اختیار کیا ہوتا. ہائے افسوس کاش میں نے فلان شخص کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا اس نے تو ذکر کے آنے کے بعد بھی مجھے گمراہ کر دیا اور شیطان انسان کو رسوا کرنے والا ہی ہے اور اس روز رسول(ص) آواز دے گا کہ پروردگارا اس میری قوم نے اس قرآن کو بھی نظر انداز کر دیا ہے اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے مجرمین میں سے


کچھ دشمن قرار دیئے ہیں اور ہدایت و امداد کے لئے تمھارا پروردگار کافی ہے.

اس بحث میں جس چیز کی طرف اشارہ کر دینا ضروری ہے وہ یہ غم انگیز نتیجہ ہے کہ جس تک ہم پہونچ چکے ہیں وہ نتیجہ یہ ہے کہ ابوسفیان اور معاویہ نبی(ص) کی شان میں گستاخی کرنے کی جرات نہ کرتے اگر ان کے سامنے عمر ابن خطاب کا رسول(ص) کے خلاف سابقہ مذموم موقف اور جسارت نہ ہوتی. خصوصا جب ہم رسول(ص) کے طول حیات میں عمر کے موقف کو دیکھتے ہیں تو عمر بے شمار موقعوں پر رسول(ص) کی مخالفت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں.اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مخالفت کے پس پشت ضرور کوئی بڑا راز مخفی تھا. اور وہ راز رسول(ص) کی شخصیت کو گرانا اور لوگوں کی نظروں میں ان کو ایک عام شخص ثابت کرنا تھا. اس میں نژاد پرستی، گمراہی اور خواہش نفس کی پیروی شامل تھی اور یہ سب کچھ اس لئے کیا جارہا تھا تاکہ لوگوں کو یہ باور کرادیں کہ رسول(ص) معصوم نہیں ہیں. اس کی دلیل یہ ہے کہ عمر این خطاب نے متعدد مواقع پر رسول(ص) کی مخالفت کی اور کہا گیا ہے کہ قرآن عمرابن خطاب کی تائید میں نازل ہوا، نوبت یہاں تک آپہونچی کہ خداوند عالم نے اپنے نبی(ص) کو ڈرایا. پس آپ(ص) رونے لگے اور کہنے لگے:

اگر خداوند عالم ہم کو مصیبت میں مبتلا کردے تو سوائے عمر ابن خطاب کے کوئی نجات دلانے والا نہیں ہے.(1)

کبھی عمر رسول(ص) کو حکم دیا کرتے تھے کہ آپ اپنی بیویوں سے پردہ کروائیں

____________________

1.ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں، مسلم، احمد بن حنبل، ابی دائود اور ترمذی سے نقل کیا ہے اور اسی طرح سیرت حلبیہ اور سیرت وحدانیہ کی جلد1 ص512 پر مرقوم ہے.


لیکن رسول(ص) عمر ابن خطاب کے کہنے کے مطابق عمل نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ عمر ابن خطاب کی تائید میں قرآن نازل ہوا ا ور نبی(ص) کو حکم دیا کہ آپ اپنی بیویوں سے پردہ کروائیں.(1)

شیطان رسول(ص) سے نہیں ڈرتا تھا لیکن عمر سے بھاگتا ہی نظر آتا تھا، اس کے علاوہ اور بہت سی مضحکہ خیز روایات ہیں کہ جو رسول(ص) کی عظمت و شخصیت کو مجروح کرتی ہیں اور صحابہ کی قدر ومنزلت میں اضافہ کرتی ہیں لیکن عمر کو اس سلسلہ میں زیادہ ہی اہمیت حاصل ہے. یہاں تک کہ ان کے چاہنے والوں نے خدا ان کو رسوا کرے رسول(ص) کے بارے میں یہ روایت بھی گڑھ دی کہ رسول(ص) کو عمر کی نبوت میں شک تھا. اور یہ حدیث انہوں نے اس لئے گڑھی ہے کہ ایک مرتبہ رسول(ص) نے فرمایا کہ جب بھی جبرئیل کو میرے پاس آنے میں تاخیر ہوتی ہے تو میں یہ ہی سمجھتا ہوں کہ وہ عمر ابن خطاب کے پاس گئے ہوں گے!! میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ اس قسم کی حدیثیں معاویہ ابن ابوسفیان کے زمانہ میں اس لئے گڑھی گئیں تا کہ حضرت علی(ع) کی عظمت و فضیلت پر پردہ ڈالا جاسکے اس لئے اس نے ابوبکر، عمر، عثمان کی تعریف اور ان کے فضائل کے سلسلے میں حدیثیں گڑھوائیں تاکہ لوگوں کی نظروں میں ان کی عظمت بڑھ جائے اور علی علیہ السلام کی شخصیت مجروح ہوجائے. اس سے دو مقصد سامنے آتے ہیں.

پہلا مقصد یہ کہ: علی علیہ السلام کی عظمت کو گھٹانا جیسا کہ ان کو ابوتراب کہتے ہیں. اور لوگوں کو ان کی طرف سے بدظن کرنا اور خلفائے ثلاثہ مو ان پر فوقیت دینا.

دوسرا مقصد یہ کہ: احادیث وضع کرانا تاکہ خلافت کے سلسلہ میں

____________________

1. صحیح بخاری جلد1، ص46.


حکم رسول(ص) اور ان کی وصیتوں کو پس پشت ڈال دیں بالخصوص حسنین(ع) کی خلافت کہ جو معاویہ کے ہمعصر تھے پس جب علی(ع) کے بارے میں خلفائے ثلاثہ نے حکم رسول(ص) کی پروا نہ کی تو معاویہ کے لئے اولاد علی(ع) کےبارے میں حکم رسول(ص) کی مخالفت کیا مشکل تھی.

پسر ہندہ نے اپنے مقصد میں بڑی کامیابی حاصل کی اس کی دلیل یہ ہے کہ جب ہم آج حضرت علی علیہ السلام کے علم و شجاعت، قرابت اور اسلام و مسلمانوں پر آپ کے احسان کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں تو ہماری آنکھوں کے سامنے "کسی کا یہ قول آتا ہے کہ" رسول اسلام(ص) نے فرمایا:

" اگر ابوبکر کے ایمان کو پوری امت کے ایمان کے ساتھ تولا جائے تو بھی ابوبکر کے ایمان کا پلہ بھاری رہے گا." اور کبھی ہماری نظروں ے سامنے کسی کا یہ قول آتا ہے کہ: عمر فاروق وہ ہیں جو حق کو باطل سے الگ کرتے ہیں.اور کبھی ہماری نظروں کے سامنے عثمان کے بارے میں کسی کا یہ قول آتا ہے کہ: عثمان ذوالنورین ہیں اور ان سے ملائکہ بھی شرم کرتے ہیں.

ان بحثوں کی تحقیق کرنے والے پر یہ بات آشکار ہوجائے گی کہ عمر ابن خطاب کو زیادہ فضیلت دی گئی ہے یہ کوئی اتفاقی امر نہیں ہے، ہرگز، کیونکہ اس کا موقف ہی رسالتمآب(ص) سے جھگڑنا اور ان کے حکم کی مخالفت کرنا تھا اس لئے قریش عمر کو بہت دوست رکھتے تھے. خصوصا قریش کی نگاہوں میں عمر کی اہمیت اسی وقت اور زیاہ بڑھ گئی تھی جب انھوں نے حضرت علی علیہ السلام سے خلافت چھین کر قریش کو دوبارہ حاکم بنا دیا تھا. پھر کیا تھا خلافت کی طمع بنی امیہ کے طلقا اور ملعون قسم کے لوگوں میں بھی پیدا ہوگئی اور سارے قریش اور ان کے راس و رئیس ابوبکر بخوبی جانتے تھے


مسلمانوں پر ہماری حکومت عمر ابن خطاب کی مرہون منت ہے. رسول(ص) کی مخالفت میں عمر بڑے جسور تھے اور عمر ہی نے حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کا نوشتہ لکھنے سے رسول(ص) کو باز رکھا تھا.عمر ہی وہ ہے جس نے لوگوں کو ڈرایا اور نبی(ص) کی وفات کے سلسلہ میں انہیں ابوبکر کی بیعت ہونے تک شک میں مبتلا رکھا تاکہ لوگ علی(ع) کی بیعت نہ کر لیں.سقیفہ کے چیمپین عمر ہی تھے. عمر ہی نے ابوبکر کی بیعت کو استحکام بخشا ور ان ہی نے ابوبکر کی بیعت سے منکر اور حضرت علی علیہ السلام کے گھر میں پناہ گزین افراد سے کہا کہ گھر سے باہر نکل آئو اور ابوبکر کی بیعت کر لو ورنہ میں گھر میں آگ لگا کر سب کو جلا دونگا. اسی عمر نے لوگوں سے جبرا ابوبکر کی بیعت لی، ابوبکر کی خلافت کے زمانہ میں خود عمر ہی نے عہدے تقسیم کئے، اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہ ہوگا کہ ابوبکر کے دور خلافت میں عمر ہی اصل حاکم تھے بعض مورخین نے لکھا ہے کہ جب مولفۃ القلوب ابوبکر کے پاس اپنا وہ حصہ لینے آئے جو خدا نے مقرر کیا اور رسول(ص) نے نوشتہ لے کر پھاڑ دیا. اور کہا ہمیں تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے، خدا نے اسلام کو عزت و سر افرازی عطا کی ہے، وہ تمہارا محتاج نہیں ہے. اگر تم اسلام قبول کرتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ ہمارے اور تمہارے درمیان تلوار ہے. عمر کا رویہ دیکھ کر وہ لوگ ابوبکر کے پاس آئے اور کہا کہ خلیفہ وہ ہیں یا آپ؟ تو ابوبکر نے عمر کے فعل سے خوش ہو کر کہا کہ وہی ہیں.(1) ایک مرتبہ ابوبکر نے دو صحابہ کے لئے ایک زمین کا قطعہ لکھ دیا اور اسے دستخط کے لئے عمر کے پاس بھیج دیا جب عمر کے پاس پہونچا تو انہوں نے اس پر تھوک دیا اور تحریر کو مٹا دیا، ان لوگوں نے عمر کو برابر بھلا کہا اور پھر ابوبکر کے پاس آئے اور ان سے

____________________

1.کتاب الجوہرة النیرہ فی الفقہ الحنفی جلد1، ص164.


غصہ میں کہا کہ: ہمیں نہیں معلوم خلیفہ آپ ہیں یا وہ؟ ابوبکر نے کہا کہ عمر، اس کے بعد عمر غضب کے عالم میں ابوبکر کے پاس آئے اور کہا کہ: تمہیں ان دونوں کو زمین دینے کا کوئی حق نہیں پہونچتا. ابوبکر نے کہا کہ میں نے آپ سے پہلے ہی کہا تھا کہ آپ اس کلام کے لئے مجھ سے زیادہ مناسب ہیں. لیکن آپ نے مجھ پر زور دیا.(1) یہاں پر یہ بات آشکار ہوجاتی ہے کہ عمر ابن خطاب کی بالعموم قریش میں اور خصوصا بنی امیہ میں تقویت کا راز کیا تھا. کہ وہ ان کو عبقری کے نام سے پکارنے لگے اور فاروق کے لقب سے نوازنے لگے، عدل مطلق کا خطاب دیا جانے لگا یہاں تک کہ رسول(ص) پر بھی ان کو فضیلت دینے لگے.یہیں سے دشمنان اسلام اور مستشرقین کے لئے دروازہ کھل گیا اور وہ کہنے لگے کہ محمد(ص) مرد عبقری تھے. اور ان کی قوم بت پرست تھی، پتھروں کے خدائووں کو پوجنا ان کی عادت تھی. محمد(ص) نے ان کی یہ عادت تو ختم کردی لیکن پرستش کے لئے حجر اسود چھوڑ گئے.ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ ہم عمر ابن خطاب کو حدیث رسول(ص) لکھنے سے منع کرنے میں پیش پیش دیکھتے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے صحابہ کو مدینہ میں مجبوس کردیا. حدیثوں کی کتابوں کو نذر آتش کر دیا تاکہ سنت نبی(ص) لوگوں میں رواج نہ پائیے.انہیں باتوں سے یہ نکتہ بھی ہماری سمجھ میں آجاتا ہے کہ علی(ع) کیوں گھر میں بیٹھ رہے تھے. اور آپ صرف اس وقت گھر سے نکلتے تھے جب صحابہ کسی مسئلہ کے حل کرنے سے عاجز ہوکر آپ کو مشکل کشائی کے لئے بلاتے تھے. عمر نے علی(ع) کو نہ شہر کا ولی بنایا اور نہ کوئی دوسرا منصب دیا. بلکہ انہیں میراث فاطمہ(ع) سے بھی محروم کردیا. آپ کے پاس

____________________

1.الاصابہ فی معرفۃ الصحابہ للحجر عسقلانی نے عیینہ کے حالات میں لکھا ہے نیز ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ کی ج2، ص108پر درج کیا ہے.


مال دنیا میں سے کچھ نہ تھا.شاید اسی لئے مورخوں نے یہ بھی لکھ دیا کہ جب آپ نے فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی وفات کے بعد لوگوں کی بے رخی دیکھی تو آپ بیعت کرنے پر مجبور ہوگئے.

اے ابوالحسن آپ کو مبارک ہو یہ لوگ آپ کے کیونکر دشمن نہ ہوتے اس لئے آپ نے ان کے بڑے بڑے سور مائوں اور عزیزوں کو تہ تیغ کیا تھا. ان کے شیرازہ کو منتشر کیا تھا، ان کی نیندیں حرام کر دی تھیں، ان کے فضائل کا سد باب کر دیا تھا، نیکیوں کے میدان میں ان کے لئے کوئی جگہ نہ چھوڑی تھی اس کے علاوہ آپ(ع) رسول(ص) کے ابن عم اور ان سے سب سے زیادہ قریب ہیں، فاطمہ زہرا(ع) کے شوہر اور سبطین سیدا شباب اہل الجنہ(ع) کے والد ہیں سب سے پہلے اسلام لائے اور سب سے زیادہ علم والے ہیں.

آپ کے چچا حمزہ سید الشہدا ہیں اور آپ کے حقیقی بھائی جعفر طیار ہیں، سید البطحا نبی(ص) کے کفیل ابو طالب آپ کے والد ہیں، سارے ائمہ آپ ہی کے صلب سے ہیں آپ سابقوں میں سابق اور لاحقوں میں لاحق ہیں، آپ شیر خدا اور اس کے رسول(ص) کے محافظ ہیں. آپ اللہ اور اس کے رسول(ص) کی شمشیر ہیں، آپ خدا و رسول(ص) کے امین ہیں چنانچہ آپ کو سورہ برائت دے کر بھیجا اور آپ کے بغیر وہ محفوظ بھی نہیں رہ سکتا تھا. آپ ہی صدیق اکبر ہیں، آپ کے بعد اس کا دعویدار مہا جھوٹا ہے. آپ فاروق اعظم ہیں کہ جس کے ساتھ ساتھ حق مڑتا تھا، باطل کی تاریکیوں میں آپ ہی سے حق کی شناخت ہوتی تھی، آپ کھلی اور واضح نشانی ہیں کہ جس کی محبت سے مومن کا ایمان اور دشمن سے منافق کا نقاق پہچانا جاتا ہے. آپ شہر علم کے دروازہ ہیں اور (رسول(ص) کے پاس) آنے والا اسی سے آئے گا، آپ تک رسائی کے بغیر رسول(ص) تک رسائی کا دعویدار جھوٹا ہے.پس اے ابوالحسن(ع) ان میں سے کون آپ کی برابری کرسکتا ہے


آپ جیسی فضیلتوں کا حامل کون ہے. اگر شرافت کا کوئی نمونہ ہے تو آپ عظمت و بزرگی کا آغاز و انجام ہیں. یقینا خدا نے جو اپنے فضل سے آپ کو عطا کیا ہے. اس پر حسد ہوگا. اور آپ کو اس لئے دور رکھا جائے گا کہ خدا نے اپنے قرب سے آپ کو محفوظ کیا ہے.

( وَ سَيَعْلَمُ‏ الَّذِينَ‏ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ... )

ہمارا قلم یقینا حضرت امیرالمومنین(ع) کی تعریف کی طرف مڑ گیا جو اپنی زندگی میں بھی مظلوم تھے اور موت کے بعد بھی مظلوم رہے.یقینا آپ کے لئے رسول(ص) میں اسوة حسنہ تھے وہ بھی اپنی زندگی اور مرنے کے بعد مظلوم تھے.کیونکہ آپ نے پوری زندگی جہاد، نصیحت اور مومنین کی نجات کی کوشش میں گذاری، لیکن لوگوں نے آخری وقت انہیں برے الفاظ سے نوازا، اپ پر ہذیان کا بہتان لگایا اور جب آپ نے لشکر اسامہ میں شرکت کا حکم دیا تو سرکشی و تمرد سے پیش آئے اور خلافت کی طمع میں سقیفہ میں جا بیٹھے اور آپ(ص) کے جسد مبارک کو بے گور و کفن چھوڑ دیا اور وفات کے بعد لوگوں کی نظروں میں آپ کی شخصیت کو گرانے کی کوشش میں لگ گئے. آپ(ع) کو غیر معصوم قرار دیا جبکہ قرآن و وجدان آپ(ع) کی عصمت کو گواہی دے رہے ہیں. اور یہ سب اس لئے تھا کہ ہر حکم زائل اور دنیا فانی ہے.

گذشتہ بحث سے ہمیں معلوم ہوگیا کہ صحابہ خلافت کے چکر میں رسول(ص) کی شخصیت مجروح کیا. پس جب خلافت میراث کے طور پر بنی امیہ ان کے راس و رئیس معاویہ کے ہاتھ میں پہونچی تو وہ اس کی طرف سے مطمئن ہوگئے لیکن وہ ان میں سے ایک کے گرد گھومنے والی نہیں تھی کسی نہ کسی دن ان کے ہاتھ سے جانی تھی، اسی لئے بنی امیہ نے رسول(ص) کی شخصیت و عظمت کی تنقیص


میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور ان کی شخصیت کے منافی احادیث گڑھوائیں. میرا عقیدہ ہے کہ اس کے دو(2) بڑے اسباب تھے:

پہلا سبب

رسول(ص) کی عظمت گھٹانا قبائل عرب کے درمیان نبی ہاشم کو رسول(ص) کی بدولت حاصل شدہ عزت و شرافت کو خالک میں ملانا اور نبی ہاشم کو ذلیل و خوار کرنا خصوصا جب ہمیں یہ علم ہے کہ بنی امیہ اپنے بھائی ہاشم سے ہمیشہ حسد کرتا رہا، اور ان کے خلاف مستقل نبردآزما رہا. سونے پہ سہاگہ یہ کہ علی(ع) رسول(ص) کے بلا تردید بنی ہاشم کے سردار تھے اور اس بات کو خاص وعام سب ہی جانتے ہیں کہ معاویہ کو حضرت(ع) سے سخت بغض تھا ان سے خلافت چھیننے کے لئے فسادات اور جنگوں کی آگ بھڑکاتا رہا، اور آپ کی شہادت کے بعد منبروں سے آپ پر لعنت کرائی. معاویہ کے لحاظ سے رسول(ص) کی شخصیت کی ہتک علی(ع) کی شخصیت کی شکست و ریخت میں منحصر تھی، بالکل اسی طرح جس طرح حضرت علی(ع) پر سب وشتم کرنا در حقیقت رسول(ص) پر سب وشتم کرنا ہے.

دوسرا سبب

رسول(ع) کی عزت اور قدر و قیمت گرانا اس لئے تھا کہ بنی امیہ اپنے ان سیاہ کرتوتوں، برے اعمال کی پردہ پوشی کرسکیں جن سے تاریخ بھری پڑِی ہے. جس طرح بنی امیہ نے رسول(ص) کی تصویر کشی کی کہ( معاذ اللہ) آپ خواہش نفس کے تابع، عورتوں کے ایسے ریسا تھے کہ واجبات تک کو چھوڑ دیتے تھے اور بعض کے تو ایسے عاشق ہوتے تھے کہ دوسری ازواج کی طرف مڑکر بھی نہ دیکھتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے عدل کا مطالبہ کیا.


پس جب رسول(ص) کی یہ کیفیت ہوگی تو پھر معاویہ و یزید ایسے (بدکار) لوگوں پر کیسے لعنت و ملامت کی جاسکے گی.

ممکن ہے دوسرے سبب میں یہ راز بھی پوشیدہ ہو کہ امویوں نے رسول(ص) کے لئے وہ روایات و احادیث گڑھیں کہ جن پر قبل اسلام عمل ہوتا تھا. اور مسلمان انہیں مسلم و صحیح رسول(ص) کے اقوال و افعال سمجھتے ہیں کہ سو وہ ان کے نزدیک سنتِ نبی(ص) ہیں.مثال کے طور پر بعض احادیث آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں کہ جو رسول(ص) کی عظمت کو گھٹائے اور ان کے مرتبہ کو کم کرنے کے لئے گڑھی گئی ہیں. میں اس موضوع کو پھیلانا نہیں چاہتا ہوں بلکہ اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے وہی تحریر کرونگا جو بخاری و مسلم نے اپنی صحاح میں روایت کی ہے.نبی(ص) کے بارے میں ذلت آمیز حدیثیں!

1.بخاری نے کتاب الغسل کے جماع کرکے دوبارہ جماع کرنے والے باب میں روایت کی ہے کہ انس نے کہا کہ:

نبی(ص) رات دن میں گیارہ بیویوں سے ایک گھنٹے کے اندر اندر مجامعت کرتے تھے، راوی کہتا ہے کہ میں نے انس سے پوچھا کہ نبی(ص) اس کی طاقت رکھتے تھے؟ انس نے کہا: ہم یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ انہیں تیس کی قوت عطا کی گئی تھی.

قارئین محترم اس اہانت آمیز روایت کو ملاحظہ فرمائیے کہ جو ہمارے سامنے رسول(ص) کو خواہشات کا پیکر بنا کر پیش کرتی ہے. (معاذ اللہ) آپ گیارہ بیویوں سے ایک گھنٹہ میں رات یا دن میں جماع کیا کرتے تھے. اس سرعت سے اور بغیر غسل کے پہلی سے فراغت حاصل کر کے دوسری سے جماع کرنے لگتے تھے.


قارئین محترم آپ تصور کیجئے، سوچئے کہ کیا انسان اپنی بیوی پر کسی حیوان کی جھپٹ پڑتا ہے. نہ اس کے ساتھ خوش فعلی کرتا ہے نہ اسے آمادہ کرتا ہے جبکہ یہ چیز ہم نے حیوانات میں بھی دیکھی ہے کہ وہ جماع کے عمل کو کافی دیر تک جاری رکھتے ہیں، پہلے اس کے مقدمات مہیا کرتے ہیں، تیار ہوتے ہیں تو رسول اعظم ایسا کیسے کرسکتے ہیں؟ خدا انہیں غارت کرے اور ان پر لعنت کرے....

اور یہ کہ اس زمانہ میں عرب جماع پر فخر کیا کرتے تھے، اور اسی کو مردانگی کی علامت قرار دیتے تھے. پس لوگوں نے رسول(ص) کے لئے یہ قصہ گڑھ دیا حاشا آپ خود فرماتے ہیں کہ:

اپنی بیویوں سے حیوانوں جیسا سلوک نہ کرو بلکہ اپنے اور ان کے درمیان کے مسائل ثالث سے حل کرو.

اس قسم کی روایات ہی نے نبی(ص) کے خلاف دشمنان اسلام کی زبان درازی کی جرات دلائی ہے کہ رسول(ص) جنس پرستی، جماع کے شوقین، عورتوں کے رسیا ایسی تہمتیں لگائی ہیں.

کیا اہم اس قصہ کے راوی انس ابن مالک سے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ آپ کو یہ واقعہ کس نے سنایا؟ آپ کو یہ کس نے بتایا کہ رسول(ص) اپنی گیارہ بیویوں سے ایک گھنٹے میں ہمبستری کر لیتے تھے؟

کیا نبی(ص) ہی نے یہ واقعہ سنایا تھا؟ کیا ہم میں سے کسی کے شایان شان یہ بات ہے کہ وہ اپنی زوجہ سے ہمبستری کی روداد کو لوگوں کے سامنے سنائے؟ کیا ازواج نبی(ص) نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے؟ کیا کسی مسلمان عورت کے لئے یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے شوہر سے مباشرت کی کیفیت کو مردوں کے سامنے بیان کرے؟ یا انس ابن مالک خود نبی(ص) کے تجسس میں رہتا تھا اور جب نبی(ص) اپنی بیویوں کےساتھ خلوت


میں ہوتے تو انس دروازوں کےسوراخوں سے جھانک کر دیکھا کرتے تھے؟ میں شیطانی وسوسوں سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں، جھوٹوں پر خدا کی لعنت کرے.

مجھے اس سلسلہ میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے کہ بنی امیہ اور بنی عباس کے حکام کہ جو عورتوں اور کنیزوں کے رسیا ہونے میں مشہور تھے انھوں نے اپنی گلو خلاصی کے لئے یہ واقعہ گڑھا ہے.

2.بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/3 ص132 اسی طرح مسلم نے اپنی صحیح کی جلد/7ص136 پر عائشہ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا کہ:

ایک روز چند ازواج نبی(ص) نے جناب فاطمہ(س) کو آپ کی خدمت میں بھیجا. فاطمہ(س) آئیں اور اجازت چاہی، آپ(ص) میرے پاس لیٹے ہوئے تھے. رسول(ص) نے اجازت دی، فاطمہ(س) نے عرض کی کہ یا رسول اللہ(ص) آپ کی ازواج نے مجھے آپ کی خدمت میں یہ پیغام دیکر بھیجا ہے کہ آپ اپنی ازواج اور بنت ابوبکر عائشہ کے درمیان عدل و انصاف سے کام لیں.

عائشہ کہتی ہیں کہ میں خاموش تھی، پھر عائشہ کہتی ہیں کہ رسول(ص) نے فاطمہ(س) سے فرمایا: میری لخت جگر کیا وہ چیز تمہیں پسند نہیں جو مجھے محبوب ہے. فاطمہ(س) نے عرض کی بالکل محبوب ہے آپ نے فرمایا تو اس(عائشہ) سے محبت کرو. روایت آگے بڑھ کر پھر کہتی ہے کہ:

دوسری مرتبہ ازواج نبی(ص) نے زوجہ نبی(ص) زینب بنت جحش کو بھیجا کہ آپ(ص) سے عائشہ اور دوسری ازواج کے درمیان عدل و انصاف کا تقاضا کرے زینب رسول(ص) کی خدمت میں آتی ہیں اور


رسول(ص) عائشہ کے پاس لیٹے ہیں اور عائشہ کی ٹانگوں پڑ کپڑا نہیں ہے، زینب ازواج نبی(ص) کی طرف سے ابوبکر کی بیٹی کے سلسلہ میں انصاف کا مطالبہ کرتی ہیں اور پھر عائشہ پر برس پڑتی ہیں، پھر عائشہ زینب پر لعن طعن کر کے جب خاموش ہوئی ہیں تو رسول(ص) کو ہنسی آجاتی ہے اور کہتے ہیں" یہ ابوبکر کی بیٹی ہے"

میں بلا خوف کے یہ بات کہتا ہوں کہ یہ روایت کہ جو رسول(ص) کو ہوا و ہوس کا شیدائی، بیویوں کے سلسلہ میں غیر عادل ہونا قرار دیتی ہے گڑھی ہوئی ہے، یہ وہ رسول(ص) ہے جس کی زبان سے قرآن کی یہ آیت بھی آئی ہے.

( فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَواحِدَةً أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُكُمْ)

اگر تمہیں ان میں انصاف نہ کرسکنے کا خطرہ ہو تو صرف ایک یا جو کنیزیں تمہاری ملکیت ہیں.

اور پھر رسول(ص) اپنی بیٹی فاطمہ(س) کو داخل ہونے کی کیسے اجارت دیتے ہیں جبکہ وہ اپنی زوجہ کے پاس اور اس عالم میں کہ عائشہ کے پیر پر چادر بھی نہیں تھی، اور رسول(ص) نہ اٹھ کے بیٹھتے ہیں نہ کھڑے ہوتے ہیں بلکہ لیٹے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیٹی کیا تمہیں وہ چیز پسند نہیں جو مجھے محبوب ہے؟ اور بالکل یہی حادثہ زینب کے داخل ہونے پر سامنے آتا ہے، جب وہ انصاف کا تقاضا کرتی ہیں تو آپ مسکراتے ہیں اور یہ کہکر ٹال دیتے ہیں کہ یہ ابوبکر کی بیٹی ہے.

قارئین کرام ان اہانت آمیز باتوں کو ملاحظہ فرمائیں کہ جن کو رسول(ص) سے منسوب کردیا گیا ہے. عدالت و مساوات کے بارے میں اہلسنت کا نظریہ دیکھئے وہ کہتے ہیں کہ عدل تو عمر ابن خطاب کے ساتھ دفن ہوگیا اور رسول(ص) کی ایسی تصور کشی کرتے ہیں کہ جو اخلاقی اقدار سے عاری ہے، بے حیائی کی کوئی حد ہے؟


اس روایت کی صحاح اہلسنت میں اور بہت سی مثالیں مل جائیں گی کہ جن سے راویوں کا مقصد یا تو کسی صحابی کی عزت افزائی ہے یا عائشہ کی فضیلت بڑھانا کیونکہ ابوبکر کی دختر ہے. پس اہلسنت جان بوجھ کر یا لا شعور طور پر رسول(ص) کی منقصت کرتے ہیں جیسا کہ میں گذشتہ بحث میں عرض کر چکا ہوں کہ یہ احادیث و روایات رسول(ص) کی عظمت و منزلت کم کرنے کے لئے گڑھی گئی ہیں. اسی کے مثل آپ کے سامنے تیسری روایت پیش کرتا ہوں.

3.مسلم نے اپنی صحیح میں فضائل عثمان ابن عفان کے باب میں عائشہ اور عثمان سے روایت کی ہے کہ:

ابوبکر نے رسول(ص) کے پاس آنے کی اجازت چاہی جبکہ آپ عائشہ کے پاس لیٹے ہوئے تھے آپ نے ابوبکر کو اجازت دی اور ایسے ہی لیٹے رہے، جب ابوبکر کی حاجت پوری ہوگئی اور وہ واپس چلے گئے تو عمر نے داخل ہونے کی اجازت طلب کی انہیں بھی اجازت دی لیکن ایسے ہی لیٹے رہے، ان کی ضرورت پوری ہوگئی تو وہ بھی لوٹ گئے. عثمان کہتے ہیں کہ پھر میں نے اجازت طلب کی تو آپ(ص) اٹھ کر بیٹھ گئے اور عائشہ سے فرمایا اپنے کپڑے صحیح کر کے بیٹھو. پس جب میری حاجت پوری ہوگئی تو میں بھی واپس آگیا عائشہ نے عرض کی اے اللہ کے رسول(ص) میں نے آپ کو ابوبکر و عمر کی آمد پر اس طرح گھبراتے ہوئے نہیں دیکھا جس طرح آپ عثمان کی آمد سے گھبرا گئے. رسول(ص) نے جواب دیا اے عائشہ عثمان شرم و حیا والے آدمی ہیں مجھے یہ خوف تھا کہ اگر میں ایسے لیٹا رہا تو عثمان میرے پاس نہیں آئیں گے. اور ان کی احتیاج پوری نہ ہوسکے گی.


یہ روایت بھی اسی روایت کے مثل ہے جس کو بخاری نے فضائل عثمان ابن عفان میں نقل کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ:

رسول(ص) ران کھولے ہوئے لیٹے تھے کہ ابوبکر نے باریابی کے لئے اجازت طلب کی آپ نے اجازت دی لیکن رانوں پر کپڑا نہ ڈالا پھر عمر نے اجازت چاہی آپ نے ان کو بھی اجازت دی اور ایسے ہی لیٹے رہے لیکن جب عثمان نے اجازت طلب کی تو رسول(ص) نے رانوں کو چھپایا اور کپڑے درست کر کے بیٹھ گئے جب عائشہ نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا کیا میں اس شخص سے شرم نہ کروں جس سے ملائکہ بھی شرم کرتے ہیں.

بنی امیہ کو خدا غارت کرے وہ اپنے سردار کی فضیلت بڑھانے کے لئے رسول(ص) کی منقصت کرتے تھے.

4.مسلم نے اپنی صحیح کے التقاء ختانین سے غسل واجب ہو جانے والے باب میں زوجہ نبی(ص) سے روایت کی ہے کہ:

ایک شخص نے رسول(ص) سے دریافت کیا کہ ایک شخص اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے اس کا بدن سست پڑ جاتا ہے کیا دونوں (میاں بیوی) پر غسل واجب ہے؟ عائشہ پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی رسول(ص) نے فرمایا کہ میں اور یہ (عائشہ) ایسے ہی کرتے ہیں پھر غسل کرتے ہیں.

اس روایت کی حاشیہ آرائی ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں. رسول(ص) کی راہنمائی سے آپ کی زوجہ عائشہ کے لئے جواز پیدا ہوگیا کہ وہ اپنے جماع کو خاص و عام سے بیان کریں. عائشہ بنت ابوبکر کی بیان کردہ ایسی اور بہت سی احادیث ہیں جن


سے رسول(ص) کی بزرگی پر حرف آتا ہے. اور آپ کی عظمت جاتی رہتی ہے ایک مرتبہ روایت کرتی ہیں کہ:

رسول(ص) اپنا رخساران کے رخسار پر رکھے ہوئے حبشیوں کا تماشا دیکھ رہے تھے.

کبھی رسول(ص) عائشہ کو کندھے پر اٹھائے ہوئے دکھائے جاتے ہیں اور کبھی ان کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے کہ جس میں عائشہ پر غالب آجاتی ہیں. اور رسول(ص) منتظر رہتے ہیں یہاں تک کہ آنحضرت(ص) موٹے تازے ہوجاتے ہیں. اور پھر مقابلہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تمہاری کاٹ ہے. کبھی آنحضرت(ص) اپنے گھر میں عائشہ کو اپنے دوش پر اٹھائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ عورتیں دف و مزمار بجاتی رہتی ہیں یہاں تک کہ ابوبکر جھڑکتے ہیں.

صحاح میں اور نہ جانے ایسی کتنی توہین آمیز روایات ہیں جن کا مقصد صرف رسول اسلام(ص) کی عظمت کو داغدار بنانا ہے. مثلا یہ روایت کہ:

آنحضرت(ص) پر سحر کردیا جاتا تھا تو آپ(ص) یہ نہیں سمجھ پاتے تھے کہ میں کیا کر رہا ہوں کیا کہہ رہا ہوں یہاں تک کہ آپ خیال کرتے تھے کہ ازواج میں سے کوئی ان کے پاس آئی ہے جب کہ کوئی نہیں آتی تھی.(1)

اسی طرح یہ روایت کہ:رسول(ص) صبح تک حالت جناب میں باقی رہتے تھے.(2)

____________________

1.بخاری جلد/4 ص68 و جلد/7 ص29

2.بخاری جلد/2 ص232 وص234


یا آپ گہری نیند سوجانے کے بعد اٹھتے تھے تو بغیر وضو کے نماز پڑھنے لگتے تھے.(1)

نماز میں شک ہوجاتا تھا تو یہ نہیں سمجھ پاتے تھے کہ کتنی رکعت نماز پڑھی ہے.(2)

رسول(ص) یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ روز قیامت ان کا کیا ہوگا.(3) اور ان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے گا.کھرے ہوکر پیشاب کرتے ہیں، اصحاب ان سے دور ہٹ جاتے ہیں اور رسول(ص) انہیں آواز دیتے ہیں تاکہ وہ قریب آجائیں اور وہ اس وقت تک پاس رہیں جب تک وہ فارغ نہ ہوجائیں.(4)

جی ہاں ! رسول(ص) اپنی زوجہ عائشہ بنت ابوبکر کی اتنی ناز برداری کیا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ انہیں کی ناز برداری کے لئے خود اور لوگوں کو جنگل میں عائشہ کے ہار کی تلاش کے لئے مقید کردیا تھا جبکہ نہ آپ کے پاس پانی تھا اور نہ ہی وہاں آس پاس کہیں پانی تھا. یہاں تک کہ لوگوں نے عاجز آکر عائشہ کے والد ابوبکر سے انکی شکایت کی پس ابوبکر آئے اور انہیں سرزنش کرنے لگے اور رسول(ص) اپنی زوجہ کے پہلو میں سوتے ہی رہے.

بخاری و مسلم نے اپنی صحیح کے باب تیمم میں عائشہ سے روایت

____________________

1.بخاری جلد/1 ص44 وص171

2.بخاری جلد/1 ص123 و ص65

3.بخاری جلد/2 ص71

4.صحیح مسلم جلد/2 ص157 باب المسح علی الخفین


کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ:

ایک مرتبہ ہم رسول(ص) کے ساتھ سفر میں تھے جب ہم"بیدا" (بیابان) یا بذات الجیش(1) میں پہونچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا. رسول(ص) اور دوسرے لوگ اسے تلاش کرنے کے لئے ٹھہر گئے جب کہ ان کے پاس یا کہیں آس پاس پانی موجود نہ تھا. لوگ ابوبکر کے پاس آئے اور کہنے لگے: کیا آپ نے عائشہ کی حرکت کو نہیں دیکھا، رسول(ص) اور ان کے ساتھ دوسرے لوگوں کو پریشان کردیا ہے، جبکہ ان کے پاس یا کہیں آس پاس پانی نہیں ہے: پس ابوبکر آئے جبکہ رسول اللہ(ص) عائشہ کے زانو پر سر رکھے ہوئے سورہے تھے، ابوبکر نے کہا: عائشہ تم نے رسول اللہ(ص) اور تمام لوگوں کو معطل کر دیا ہے، حالانکہ یہاں یا ان کے پاس پانی نہیں ہے. عائشہ کہتی ہیں کہ ابوبکر مجھ پر بہت غضبناک ہوئے اور بہت کچھ کہا اور کوکھ میں مارتے رہے مگر ان کی تعظیم کے لئے اس لئے نہ اٹھ سکی کہ میرے زانو پر رسول(ص) کا سر تھا، یہ پورا واقعہ گذر گیا رسول(ص)سوتے ہی رہے یہاں تک کہ اسی پانی نہ ہونے کہ حالت میں صبح ہوگئی تو خدا نے آیت تیمم .فتیمموا.... نازل فرمائی. اسید ابن خضیر کہ جو نقباء میں سے ایک ہیں کہتے ہیں: اے آل ابوبکر یہ تمہاری پہلی ہی برکت نہیں ہےتمہارے اور بہت سے برکات ہیں. عائشہ کہتی ہیں جب میرے اونٹ کو اٹھایا گیا تو میرا ہار اس کے نیچے سے

____________________

1.خیبر اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے


نکل آیا.(1)

ایک اسلام شناس مومن اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتا ہے کہ رسول(ص) نماز کو اتنی حقیر سمجھتے تھے اور مسلمانوں کو ایسے جنگل میں قید کردیا تھا جہاں پانی کا نام و نشان نہ تھا اور نہ ہی ان لوگوں کے ہمراہ تھا، یہ سارا قصہ آپ کی زوجہ کے ہار کے لئے تھا. اور پھر مسلمان نماز چھوٹ جانے کا افسوس کرتے ہیں اور اس کی ابوبکر سے شکایت کرتے ہیں ابوبکر عائشہ کے پاس جاتے ہیں دیکھا رسول(ص) اپنی زوجہ کے زانو پر سر رکھے سورہے ہیں، اور اس طرح نیند میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ ابوبکر کے داخل ہونے اور عائشہ کو ان کی ڈاٹ پھٹکار سے آپ(ص) کو مطلق خبر نہیں ہوتی، اور نہ ہی ان کے کوکھ میں مارنے کا علم ہوتا ہے رسول(ص) کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو پانی کے لئے زحمت میں مبتلا کریں، نماز کا وقت آجائے اور آپ زوجہ کو آغوش میں سر رکھے سوتے ہی رہیں.اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ روایت معاویہ ابن ابوسفیان کے زمانہ میں گڑھی گئی ہے. جس کی کوئی اساس نہیں ہے. ورنہ ایسے واقعہ کی ہم کیا تفسیر کریں گے کہ جس میں تمام صحابہ واقف تھے لیکن عمر ابن خطاب کو اس کی کوئی اطلاع نہیں تھی. انہیں معلوم نہیں تھا جیسا کہ تیمم کے بارے میں ان سے سوال کیا گیا چنانچہ بخاری و مسلم دونوں نے اپنی اپنی صحیح میں اس کو نقل کیا ہے.اس بحث میں مہم بات یہ ہے کہ ہم رسول(ص) کے خلاف سازش کو پہچانیں یہ بہت ہی پست اور رکیک سازش تھی جو رسول(ص) کی شخصیت کو مجروح کر رہی تھی، اور ان کی قدر و منزلت کو اس قدر داغدار بنا رہی تھی کہ آج ( جبکہ فسق و فجور کا دنیا میں عام رواج ہے) بھی ان باتوں کو کوئی انسان اپنے لئے برداشت نہیں کرسکتا ہے اس شخصیت کے

____________________

1.صحیح بخاری جلد/1 ص86 ،صحیح مسلم جلد/1 ص191


بارے میں ہمارا کیا فریضہ ہے تاریخ بشریت میں جسکی مثال نہیں اور جس کے اخلاق کی شہادت پروردگار اس طرح دے رہا ہے کہ " وہ اخلاق کے بلند مرتبہ پر فائز ہیں. میرا عقیدہ ہے کہ یہ سازشیں حجۃ الوداع اور بروز غدیر علی علیہ السلام کو خلیفہ مقرر کرنے کے بعد شروع ہوئیں کیونکہ ریاست و حکومت کی طمع رکھنے والوں کو معلوم ہوگیا تھا کہ اب ہمارے پاس اس نص کی مخالفت میں سرکشی اور فساد کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے خواہ پچھلے پائوں کی طرف لوٹنا پڑے. اس طرح نبی(ص) کے مقابلہ میں آنے والے افراد کے سلسلہ میں آپ صحیح فیصلہ کرسکیں گے خواہ اسی سر کشی کا تعلق نوشتہ لکھنے سے ہو یا جیش (لشکر) اسامہ میں شرکت نہ کرنے کی صورت میں ہو، اسی طرح وہ رسول(ص) کی وفات حسرت آیات کے بعد بھی سرکشی سے دست بردار نہیں ہوئے مثلا لوگوں سے جبرا(ابوبکر کی) بیعت لینا، بیعت نہ کرنے والوں کو جلا دینے کی دھمکی دینا کہ جن میں علی(ع) و فاطمہ(س) اور حسنین(ع) بھی شامل تھے لوگوں کو حدیث رسول(ص) نقل کرنے سے منع کرنا، ان کتابوں کو جلا دینا جو احادیث رسول(ص) سے مملوتھیں. صحابہ کو اس لئے قید کرنا تاکہ وہ احادیث رسول(ص) بیان نہ کرسکیں اسی طرح ان صحابہ کو قتل کر دینا. جنہوں نے ابوبکر کو زکوۃ دینے سے منع کردیا تھا کیونکہ ابوبکر ان کے نزدیک خلیفہ نہیں تھے. نبی(ص) کی موجودگی میں انہوں نے ابوبکر کی بیعت نہیں کی تھی فاطمہ زہرا(س) کے حق فدک، خمس اور میراث کو غصب کر لینا اور ان کے دعوے کو جٹھلانا حضرت علی علیہ السلام کو کسی قسم کی کوئی ذمہ داری اور عہدہ نہ دینا، بنی امیہ کے فاسق و فاجر لوگوں کو مسلمانوں کا حاکم بنا دینا، صحابہ کو نبی(ص) کے آثار و تبرکات کی تعظیم سے منع کرنا، اذان سے آپ کے نام نامی کو نکالنے کی کوشش کرنا، مدینہ منورہ کو کافر لشکر کے لئے مباح کردینا کہ جس نے جو چاہا کیا، منجنیق کے ذریعہ خانہ کعبہ پر آگ برسا کر جلا دینا حرم خدا میں صحابہ کے خون کی ہولی کھیلنا، عترت رسول(ص) کے خون سے اپنے ہاتھوں کو رنگین کرنا اور ان پر سب وشتم کرنا


اور لوگوں کو لعنت کرنے کا حکم دینا، اہلبیت(ع) کے شیعوں اور دوستوں کو یہاں تک کہ (دین خدا) ایک کھیل اور مذاق بن کے رہ گیا اور قرآن کو پارہ پارہ کیا جانے لگا.

اس سازش کا سلسلہ آج تک جاری ہے اور اس کے آثار و نتائج امت اسلامیہ میں سرایت کرتے چلے آرہے ہیں اور جب مسلمان معاویہ اور یزید سے خوش رہیں گے. اور ان کے افعال کو حقیقت کے جامہ میں پیش کرتے رہیں گے اور یہ کہتے رہیں گے کہ ان سے خطائے اجتہادی ہوئی ہے. انہیں (معاویہ و یزید کو) اس کا بھی خدا کے یہاں ایک اجر ملے گا. اور جب تک مسلمان شیعیان اہلبیت(ع) کے خلاف کتاب و مقالات لکھتے رہیں گے اور ان پر لعن طعن کرتے رہیں گے، اور جب تک حرم خدا اور حج کے زمانہ میں شیعیان اہلبیت(ع) کے خون بہانے کو مباح سمجھتے رہیں گے اس وقت تک اس سازش کا سلسلہ جاری رہے گا. اور ظہور حضرت مہدی(عج) تک اس کا سلسلہ جاری رہے گا.

میرے اندر اتنی سکت نہیں ہے کہ میں اس کا پورے طریقہ سے انکشاف کروں یا اس کی تفصیلی کیفیت کو قلم بند کروں، لیکن میری شائستہ کوشش یہی ہوگی کہ میں ان ذلت آمیز روایات سے رسول(ص) اور آپ کی عصمت کا دفاع کروں. اور ذہین اور آزاد طبیعت مسلمان کو یہ بات باور کرانے کی کوشش کروں گا کہ رسول(ص) کو خدا نے تمام لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا، اور آپ کو قمر و سراج منیر قرار دیا. وہ جلیل القدر با عظمت اور خدا کی نشانی ہیں، خلق خدا میں آپ پاکیزہ ترین انسان ہیں. ایسی روایات پر ہمارا خاموش بیٹھ جانا ممکن نہیں ہے. کہ جن کے گڑھنے کا مقصد رسول(ص) کی عظمت کو گھٹانا اور آپ(ص) کی قدر ومنزلت کو گرانا ہے. ہرگز نہیں ایسی روایات پر کبھی خاموش نہیں بیٹھیں گے اگر چہ اہلسنت کا ان پر اتفاق ہے. اور انہوں نے اپنی صحاح اور مسانید میں انہیں نقل بھی کیا ہے. یہی نہیں بلکہ اگر ان روایات


پر تمام اہل ارض اتفاق کر لیں تو بھی ہمارے لئے خدا کا یہ قول کافی ہے( وَ إِنَّكَ لَعَلى‏ خُلُقٍ‏ عَظِيمٍ ) یہ قول فیصل ہے اس کے علاوہ تمام اقوال باطل و بیکار ہیں.

سیدالانام، ضلالت و گمراہی سے نجات دلانے والے، منادی امنیت و سلامت کے بارے میں یہی شیعوں کا قول ہے.

( فاعتبروا يا أولي‏ الألباب )

رسول(ص) کے متعلق اہل ذکر کا نظریہ

یقول الامام علی(ع)" حَتَّى‏ أَفْضَتْ‏ كَرَامَةُ اللَّهِ‏ سُبْحَانَهُ إِلَى مُحَمَّدٍ ص فَأَخْرَجَهُ مِنْ أَفْضَلِ الْمَعَادِنِ مَنْبِتاً وَ أَعَزِّ الْأَرُومَاتِ مَغْرِساً مِنَ الشَّجَرَةِ الَّتِي صَدَعَ مِنْهَا أَنْبِيَاءَهُ وَ انْتَجَبَ مِنْهَا أُمَنَاءَهُ عِتْرَتُهُ خَيْرُ الْعِتَرِ وَ أُسْرَتُهُ خَيْرُ الْأُسَرِ وَ شَجَرَتُهُ خَيْرُ الشَّجَرِ نَبَتَتْ فِي حَرَمٍ وَ بَسَقَتْ فِي كَرَمٍ لَهَا فُرُوعٌ طِوَالٌ وَ ثَمَرٌ لَا يُنَالُ فَهُوَ إِمَامُ مَنِ اتَّقَى وَ بَصِيرَةُ مَنِ اهْتَدَى سِرَاجٌ لَمَعَ ضَوْؤُهُ وَ شِهَابٌ سَطَعَ نُورُهُ وَ زَنْدٌ بَرَقَ لَمْعُهُ سِيرَتُهُ الْقَصْدُ وَ سُنَّتُهُ الرُّشْدُ وَ كَلَامُهُ الْفَصْلُ وَ حُكْمُهُ الْعَدْلُ أَرْسَلَهُ عَلَى حِينِ فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ وَ هَفْوَةٍ عَنِ الْعَمَلِ وَ غَبَاوَةٍ مِنَ الْأُمَمِ... فبالغ‏ صلّى‏ اللّه‏ عليه‏


و آله‏ في‏ النّصيحة، و مضى على الطّريقة، و دعى إلى الحكمة و الموعظة الحسنة....

مُسْتَقَرُّهُ خَيْرُ مُسْتَقَرٍّ وَ مَنْبِتُهُ أَشْرَفُ مَنْبِتٍ فِي مَعَادِنِ الْكَرَامَةِ وَ مَمَاهِدِ السَّلَامَةِ قَدْ صُرِفَتْ نَحْوَهُ أَفْئِدَةُ الْأَبْرَارِ وَ ثُنِيَتْ إِلَيْهِ أَزِمَّةُ الْأَبْصَارِ دَفَنَ بِهِ الضَّغَائِنَ وَ أَطْفَأَ بِهِ النَّوَائِرَ. أَلَّفَ بِهِ إِخْوَاناً وَ فَرَّقَ بِهِ أَقْرَاناً أَعَزَّ بِهِ الذِّلَّةَ وَ أَذَلَّ بِهِ الْعِزَّةَ كَلَامُهُ بَيَانٌ وَ صَمْتُهُ لِسَانٌ‏ أَرْسَلَهُ‏ بِحُجَّةٍ كَافِيَةٍ وَ مَوْعِظَةٍ شَافِيَةٍ وَ دَعْوَةٍ مُتَلَافِيَةٍ أَظْهَرَ بِهِ الشَّرَائِعَ الْمَجْهُولَةَ وَ قَمَعَ بِهِ الْبِدَعَ الْمَدْخُولَةَ وَ بَيَّنَ بِهِ الْأَحْكَامَ الْمَفْصُولَةَ

أَرْسَلَهُ‏ بِالضِّيَاءِ وَ قَدَّمَهُ فِي الاصْطِفَاءِ فَرَتَقَ بِهِ الْمَفَاتِقَ وَ سَاوَرَ بِهِ الْمُغَالِبَ وَ ذَلَّلَ بِهِ الصُّعُوبَةَ وَ سَهَّلَ بِهِ الْحُزُونَةَ حَتَّى سَرَّحَ الضَّلَالَ عَنْ يَمِينٍ وَ شِمَالٍ".

حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں: یہاں تک کہ یہ الہی شرف محمد صل اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہونچا جنہیں ایسے معدنوں سے کہ جو پھلنے پھولنے کے اعتبار سے بہترین اور ایسی اصلوں سےکہ جو نشو و نما کے لحاظ سے بہت با وقار تھیں پیدا کیا. اس شجرہ سے کہ جس سے بہت سے انبیاء پیدا کئے اور جس میں


سے اپنے امین منتخب فرمائے، ان کی عزت بہترین عزت اور قبیلہ بہترین قبیلہ اور شجرہ بہترین شجرہ ہے جو سر زمین حرم پر اگا اور بزرگی کے سائے میں بڑھا جس کی شاخین دراز اور پھل دسترس سے باہر ہیں وہ پرہیز گاروں کے امام، ہدایت حاصل کرنے والوں کے لئے (سرچشمہ) بصیرت ہیں، وہ ایسا چراغ ہیں جس کی روشنی لو دیتی ہے وہ ایسا روشن ستارہ ہیں جس کا نور ضیاء پاش اور ایسا چقماق جس کی ضو شعلہ فشاں ے، ان کی سیرت ( افراط و تفریط سے بچ کر) سیدھی راہ پر چلنا اور سنت کی ہدایت کرنا، ان کا کلام حق و باطل کا فیصلہ کرنے والا اور حکم عین عدل ہے. اللہ نے انہیں اس وقت بھیجا کہ جب رسولوں کی آمد کا سلسلہ رکا ہوا تھا. بد عملی پھیلی ہوئی تھی، اور امتوں پر غفلت چھائی ہوئی تھی، پس نبی(ص) نے لوگوں کو سمجھانے بجھانے کا پورا حق ادا کیا. خود سیدھے راستے پر جمے رہے اور لوگوں کو حکمت و دانش کی طرف بلاتے رہے......(1)

رسول اکرم(ص) کا مقام بہترین مقام ہے، اور مرزبوم بہترین مرزبوم ہے ان کی طرف نیک لوگوں کے دل جھکا دئے گئے ہیں خدا نے ان کی وجہ سے فتنے دبائے ہیں اور( عداوتوں کے) شعلے بجھادئے ہیں، بھائیوں میں الفت پیدا کی اور جو (کفرمیں) اکٹھے تھے انہیں علیحدہ علیحدہ کردیا ( اسلام کی پستی اور ذلت کو عزت بخشی اور کفر کی عزت و بلندی کو ذلیل کردیا ان کا کلام (شریعت

____________________

1.نہج البلاغہ خطبہ نمبر93


کا) بیان اور سکوت ( احکام کی) زبان ہے...(1)

اللہ نے انہیں روشنی کے ساتھ بھیجا اور انتخاب کی منزل میں سب سے آگے رکھا تو ان کے ذریعہ سے تمام پراگندگیوں اور پریشانیوں کو دور کیا، اور غلبہ پانے والوں پر تلسط جمالیا... مشکلوں کو سہل اور دشواریوں کو آسان بنایا. یہاں تک کہ دائیں بائیں (افراط و تفریط) کی سمتوں سے گمراہی کو دور ہٹایا.(2)

____________________

1.نہج البلاغہ خطبہ نمبر94

2. نہج البلاغہ خطبہ نمبر211


تیسری فصل

اہلبیت علیہم السلام سے متعلق

تیسرا سوال: اہلبیت(ع) کون ہیں؟

خداوند عالم کا ارشاد ہے:

( إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ‏ لِيُذْهِبَ‏ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً. ) احزاب/33

(اے) اہلبیت(ع) اللہ کا بس یہ ارادہ ہے کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جس طرح پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے.

اہل سنت و الجماعت کہتے ہیں کہ یہ آیت ازواج نبی(ص) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، وہ اس مدعی پر آیت کے سیاق و سباق سے استدلال کرتے ہیں، پس ان کے زعم کے مطابق خدا نے نبی(ص) کی ازواج سے رجس کو دور کیا اور پاک


و پاکیزہ کر دیا. اہل سنت کے بعض افراد نے اہلبیت(ع) میں ازواج نبی(ص) کے ساتھ ساتھ علی(ع)،فاطمہ(ع) اور حسن(ع) و حسین(ع) کا بھی اضافہ کیا ہے. لیکن عقل و نقل اور تاریخ اس کی تردید کرتی ہے. کیونکہ اہلسنت اپنی صحاح میں روایت کرتے ہیں کہ یہ آیت پانچ اشخاص یعنی محمد(ص)، علی(ع) فاطمہ(ع) حسن(ع) وحسین(ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے. اور رسول(ص) نے خود اس آیت کو انہیں افراد سے مخصوص کیا ہے. جب علی(ع) و فاطمہ(س) اور حسنین(ع) چادر کے نیچے آگئے اس وقت آپ نے فرمایا پروردگارا! یہی میرے اہلبیت ہیں ان سے رجس کو دور فرما اور پاک و پاکیزہ رکھ.اہلسنت کے علماء کی ایک بڑی تعداد نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے. میں ان میں سے بعض کا ذکر کر رہا ہوں.

صحیح مسلم "باب فضائل اہلبیت النبی(ص) جلد/2 ص368----صحیح ترمذی جلد/5 ص30

مسند امام احمد بن حنبل جلد/1ص330----------مستدرک الحاکم جلد/3ص123

خصائص امام نسائی ص49--------------تلخیص الذہبی جلد/2 ص150

معجم الطبرانی جلد/1ص65-----------شواہد التنزیل للحاکم الحسکانی جلد/2ص11

البخاری فی التاریخ الکبری جلد/1 ص69--------------الاصابہ لابن حجر العسقلانی جلد/2 ص502


تفسیر الفخر الرازی جلد/2 ص700----- 13 ینابیع المودت للقندوزی حنفی ص107

مناقب الخوارزمی ص23- 15 السیرت الحلبیہ جلد/ 3 ص212

السیرت الدحلانیہ جلد/3 ص329 17 السد الغابہ لابن الاثیر جلد/2 ص12

18 تفسیر الطبری جلد/23 ص6 19 الدر المنثور للسیوطی جلد/5 ص198

20 تاریخ ابن عساکر جلد/1 ص185 21 تفسیر الکشاف للزمخشری جلد/1 ص193

22 احکام القرآن لابن عربی جلد/2 ص166 23 تفسیر القرطبی جلد/14 ص182

24 الصواعق المحرقہ لابن حجر ص85 25 الاستیعاب لابن عبد البر جلد/3 ص37

26 العقد الفرید لابن عبد ربہ جلد/4 ص311 27 منتخب کنز العمال جلد/5 ص96

28 مصابیح السنہ للبغوی جلد/2 ص278 29 اسباب النزول للواحدی جلد/2 ص203

30 تفسیر ابن کثیر جلد/3 ص483

ان کے علاوہ اہلسنت والجماعت کے اور بہت سے علماء نے بھی اس کو قلمبند کیا ہے. ہم اتنے ہی پر اکتفا کر کے آگے بڑھتے ہیں.


جب ان سب کو اس بات کا اعتراف ہے کہ خود رسول(ص) نے اس آیت کا مصداق بیان فرمایا ہے تو پھر آپ(ص) کے قول کے بعد صحابہ یا تابعین یا ان مفسرین کے اقوال کی کیا حقیقت ہے کہ جو اس آیت کو معاویہ کی خوشنودی اور اس سے بخشش لینے کی طمع میں ان معانی پر حمل کرنا چاہتے ہیی جو خدا و رسول(ص) کی مراد نہیں ہیں.اس طرح رسول(ص) نے ایک اور موقع پر اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اہلبیت(ع) میں ان کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے جب آیہ مباہلہ یعنی فقل تعالوا(1) الخ نازل ہوئی تو آپ(ص) نے علی(ع)، فاطمہ(ع) اور حسن(ع) و حسین(ع) کو ساتھ لیا اور فرمایا: یہی میرے بیٹے، مرد اور عورت ہیں. پس تم اپنے مردوں بیٹوں اور عورتوں کو لائو.

مسلم کی روایت میں" اللهم هائولاء اهلی" کی لفظ ہے.(2)

جن علمائے اہلسنت والجماعت کے مصادر کا میں نے ذکر کیا ہے ان سب کو اس بات کا اعتراف ہے کہ یہ آیت مذکورہ پانچ افراد کی شان میں نازل ہوئی ہے. ہم اس آیت کا مصداق ازواج نبی رضی اللہ عنہن ہی کو تسلیم کرتے اگر ان میں سے کسی ایک نے بھی اس کا دعوی کیا ہوتا خصوصا ام سلمہ و عائشہ کو بھی اس پر اصرار نہیں ہے. بلکہ ان میں سے ہر ایک نے یہی روایت کی ہے کہ یہ آیت رسول(ص)، علی(ع) فاطمہ(ع) اور حسن(ع) و حسین(ع) سے مخصوص ہے. ازواج کے اس اعتراف کو مسلم و ترمذی، حاکم وطبری، سیوطی و ذہبی اور ابن اثیر وغیرہ نے تحریر کیا ہے.

____________________

1.سورہ آل عمران آیت/61

2.صحیح مسلم جلد/7 ص121. فضائل علی ابن ابی طالب(ع) کے باب میں


پھر رسول(ص) نے اس شک اور اشکال کو خود ہی رفع کردیا تھا. کیونکہ آپ(ص) جانتے تھے کہ مسلمان قرآن پڑھیں گے اور آیت کے سیاق و سباق سے اہلبیت(ع) کی لفظ کو دوسروں پر حمل کریں گے لہذا جو چیز اہلبیت(ع) کے زمرہ سے ازواج نبی(ص) کو خارج کرتی ہے وہ یہ ہے کہ رسول(ص) اس آیت کے نازل ہونے کے بعد امت کو بتانے کے لئے چھ مہینے تک نماز سے قبل علی(ع) و فاطمہ(ع) اور حسنین(ع) کے دروازہ پر تشریف لے جاتے تھے اور فرماتے تھے: انما یرید اللہ الخ رسول(ص) کے اس عمل کو ترمذی نے اپنی صحیح کی جلد/ 5 ص21 پر اور حاکم نے مسدترک کی جلد/3 ص158 پر اور ذہبی نے اپنی تلخیص میں. احمد بن حنبل نے مسند کی جلد/3 ص259 پر ابن اثیر نے اسد الغابہ کی جلد/5 ص521 پر حسکانی نے شواہد التنزیل کی جلد/3 ص11پر، سیوطی نے درمنثور کی جلد/5 ص199 پر طری نے اپنی تفسیر کی جلد/22 کے ص6 پر، بلاذری نے انساب الاشراف کی جلد/2ص104 پر طبری نے اپنی تفسیر کی جلد/22 کے ص483 پر اور ہیثمی نے مجمع الزوائد کی جلد/9 کے ص168 پر تحریر کیا ہے اور جب ہم ان میں ائمہ اہلبیت(ع) اور شیعہ علماء کا اضافہ کرتے ہیں کہ جن کو اس سلسلہ میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ آیت محمد(ص)، علی(ع)، فاطمہ(ع)، اور حسن(ع) و حسین(ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے. پھر دشمنان اہلبیت(ع) اور معاویہ و بنی امیہ کے گماشتوں کی مخالفت کی کوئی حقیقت نہیں رہ جاتی کہ جو نور خدا کو اپنی پھونک سے بجھا دینا چاہتے ہیں. خدا اپنے نور کا کامل کر کے رہے گا اگرچہ کافرون کو یہ برا ہی کیوں نہ لگے.

یہاں اس بات کا نکشاف ہوجاتا ہے کہ نبی(ص) کی تفسیر سے ہٹ کر تفسیر کرنے ولے ہر زمانہ میں وہ افراد رہے ہیں جو بنی امیہ و بنی عباس کے زرخرید غلام تھے یہ وہ ناصب افراد تھے کہ جو علی علیہ السلام سے دشمنی رکھتے تھے اگرچہ یہ سارے کے سارے فقہا و علماء کے لباس میں ملبوس تھے.


اس بات کو عقل بھی کہتی ہے کہ آیت تطہیر میں ازواج نبی(ص) شامل نہیں ہیں.

1.جب ہم عائشہ کو دیکھتے ہیں کہ اس بات کی دعویدار ہیں کہ نبی(ص) تمام ازواج میں مجھ سے سب سے زیادہ محبت فرماتے تھے. اور ان سب سے زیادہ قریب تھیں یہاں تک کہ دیگر ازواج کو ان سے پرخاش ہوگئی تھی. جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ ازواج نبی(ص) نے کہلوایا کہ بنت ابوبکر کے سلسلہ میں عدل سے کام لیں. تو یہ بھی اہلبیت(ع) میں صاف طور سے نظر نہیں آتیں اور نہ ہی ان کے چاہنے والوں میں سے کسی نے یہ کہنے کہ جرات کی ہے کہ عائشہ اس آیت کے نزول کے دن کساء کے نیچے تھیں، پس محمد صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اقوال و افعال سے زیادہ کسی کے قول و فعل کی عظمت نہیں ہے اور ان کی اس میں کوئی عظیم حکمت تھی کہ انہوں نے اس آیت کے روز نزول اپنے اہلبیت(ع) ہی کو کساء کے نیچے جمع کیا اور بس، یہاں تک کہ جب ام المومنین ام سلمہ نے کساء کے نیچے آنے کا ارادہ کیا اور اپنے شوہر رسول(ص) سے اجازت طلب کی تو آپ(ص) نے داخل کساء ہونے سے منع کردیا. اور فرمایا تم خیر پر ہو.

2.پھر آیت اپنے مفہوم خاص و مفہوم عام کے لحاظ سے عصمت پر دلالت کررہی ہے، کیونکہ رجس کا دور کرنا ہر قسم کے چھوٹے بڑے گناہوں، رذیلوں کے دور کرنے کو شامل ہے. خصوصا جب ہم طہارت کی نسبت خدا کی طرف دیتے ہیں. جبکہ مسلمان اپنے بدنوں کی طہارت پانی اور مٹی سے کرتے ہیں کہ جس سے باطنی جسم پاک نہیں ہوسکتا ہے. پس خدا نے اہلبیت(ع) کی روح کو طاہر کیا اور عقل و قلب کو اس طرح پاک و پاکیزہ کردیا کہ شیطانی وسوسوں اور معصیت کے ارتکاب کا امکان ہی ختم ہوگیا. پس ان کے قلوب حرکات و سکنات میں اپنے خالق کے لئے صاف و شفاف اور مخلص رہے.

3.وہ سب انسانیت کے لئے طہارت کا نمونہ تھے کہ جن میں


زہد، تقوی، اخلاص،علم وحلم، شجاعت و مروت، و عفت و پاکیزگی، دنیا سے علیحدگی اور خدا سے تقرب شامل ہے. تاریخ نے ان کی طول حیات میں ایک بھی گناہ کی نشاندہی نہیں کی ہے.

جب یہ حقیقت واضح ہوگئی تو اب ہم ازواج نبی(ص) کے سلسلہ میں پہلی مثال کی طرف لوٹتے ہیں اور وہ یہ کہ عائشہ نے بلند مرتبہ، عالی شان اور بڑی شہرت حاصل کی تھی کہ جو نبی(ص) کی کسی دوسری زوجہ کو حاصل نہ ہوسکی. نہ صرف ان میں سے کسی کو یہ مرتبہ مل سکا بلکہ اگر ان سب کے ہم تمام فضائل کو جمع کرلیں تب بھی عائشہ بنت ابوبکر کے عشر عشیر تک نہیں پہونچیں گی. اس کے تو اہلسنت بھی قائل ہیں وہ کہتے ہیں کہ نصف دین تو عائشہ سے لیا گیا ہے.

اور اگر ہم تعصب سے الگ ہٹ دھرمی کو بالائے طاق رکھ کر حقیقت بینی سے کام لیں تو کیا یہ بات معقول ہے کہ وہ تمام گناہ اور معاصی سے پاک تھیں؟ یا خداوند عالم نے نبی(ص) کے بعد وہ طہارت کا حصار ان سے ہٹایا تھا. آئیے حقیقت تلاش کریں.


عائشہ نبی(ص) کی حیات میں

عائشہ کو جب ہم رسول(ص) کے ساتھ دیکھتے ہیں تو ان کی زندگی میں بہت سے گناہ اور معصیت نظر آتی ہیں. عائشہ نے بہت سے موقعوں پر حفصہ کے ساتھ مل کر ایسی شرارتیں کیں کہ نبی(ص) نے خدا کی حلال کی ہوئی چیزوں کو اپنے اوپر حرام کر لیا جیسا کہ بخاری و مسلم میں مرقوم ہے. اور دونوں نے نبی(ص) کے خلاف سازش بھی کی جیسا کہ صحاح اور تفاسیر کی کتابوں میں نقل ہوا ہے. ان میں سے دو واقعوں کا ذکر خدا نے اپنی کتاب قرآن مجید میں کیا ہے.

جس طرح اس کے قلب و عقل پر رشک طاری تھا کہ جس کی وجہ سے وہ نبی(ص) کے سامنے بے ادبی کیا کرتی تھی. نبی(ص) ایک مرتبہ خدیجہ کا ذکر خیر فرما رہے تھے کہ عائشہ نے کہا کہ مجھ میں اور خدیجہ میں زمین و آسمان کا فرق ہے، وہ ایسی بڑھیا تھی جس کے گالوں پر جھڑیاں پڑگئی تھیں. آپ کو خدا نے اس سے بہتر عطا کی


ہے عائشہ کی اس بات سے رسول(ص) اتنے غضبناک ہوئے کہ آپ کے رونگٹے کھڑے ہوگئے.(1) ایک مرتبہ آپ کی ازواج میں سے ایک نے آپ(ص) کی خدمت میں کھانے کا ایک کاسہ بھیجا(رسول(ص) اس وقت عائشہ کے گھر میں تھے) نبی(ص) بھوکے تھے لیکن عائشہ نے کاسہ پھینک دیا.(2) ایک مرتبہ نبی(ص) سے کہا: آپ یہ گمان کرتے ہیں کہ میں خدا کا نبی(ص) ہوں(3) اور کبھی آپ پر غضبناک ہوجاتی ہیں اور کہتی ہیں عدل سے کام لو جب کہ ان(عائشہ) کے والد وہاں موجود تھے. انہوں نے عائشہ کو اتنا مارا کہ خون بہہ نکلا.(4) ان کے رشک کی یہ انتہا تھی کہ اسماء بنت نعمان پر اس وقت تہمت لگائی جب وہ نبی(ص) کی زوجیت میں آئیں اور کہا کہ نبی(ص) اس عورت کو بہت زیادہ پسند فرماتے ہیں جو دخول کے وقت اعوذ باللہ منک کہتی ہے. اس سے عائشہ کا مقصد یہ تھا کہ یہ شریف و سادہ عورت جب یہ بات کہے گی تو نبی(ص) اسے طلاق دے دیں گے.(5) رسول(ص) کے سامنے ان کے بے ادبی کی حد ہوگئی تھی. ایک مرتبہ نبی(ص) نماز پڑھ رہے تھے اور یہ پیر پھیلائے سامنے بیٹھی تھیں جب آپ سجدہ میں جاتے ہیں تو پیر سمیٹ لیتی ہیں، اور جب کھڑے ہوتے ہیں تو پھیلا دیتی ہیں.(6)

____________________

1.صحیح بخاری جلد/4ص231 باب تزویج النبی(ص) خدیجہ اسی طرح صحیح مسلم میں ہے.

2.صحیح بخاری جلد/6ص157 باب الغیر8

3. احیاء علوم الدین امام غزالی جلد/2 ص29 کتاب ادب النکاح

4. کنز العمال جلد/7ص116 احیاء العلوم

5. طبقات ابن سعد جلد/8 ص145، اصابہ لابن حجر جلد/4ص233، تاریخ یعقوبی جلد2 ص29 =


ایک مرتبہ عائشہ اور حفصہ نے نبی(ص) کو اتنا پریشان کیا کہ آپ نے ایک مہینے کے لئے ازواج سے علیحدگی کی اختیار کر لی اور چٹائی پر سوتے رہے.(1) اور جب خداوند عالم نے یہ آیت نازل فرمائی:

( تُرْجِي‏ مَنْ‏ تَشاءُ مِنْهُنَّ وَ تُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشاءُ ) سورہ احزاب/50

ان میں سے جس کو چاہیں آپ الگ کردیں اور جس کو چاہیں اپنی پناہ میں رکھیں. تو بے حیائی کے ساتھ نبی(ص) سے کہتی ہیں کہ میں نے آپ کے پروردگار کو آپ کی خواہشات نفسانی ہی کے بارے میں تعجیل کرتے دیکھا ہے.(2) جب عائشہ کو غصہ آتا تھا( اور زیادہ تر آنا تھا) تو آپ(ص) کو نبی(ص) کہنا چھوڑ دیتی تھی. محمد(ص) بھی کہہ کے نہیں پکارتی تھیں بلکہ ابراہیم کے باپ کہہ کے صدا دیتی تھیں.(3) عائشہ نبی(ص) کی طرف سے زیادہ بدگمان رہتی تھیں، ان کی طرف سے نالاں رہتی تھیں لیکن نبی(ص) رئوف و رحیم تھے، آپ(ص) کا اخلاق بلند اور صبر مستحکم تھا آپ اکثر عائشہ سے فرمایا کرتے تھے" اے عائشہ اپنے شیطان کو روکو" اور اکثر آپ عائشہ و حفصہ بنت عمر کے بارے میں خدا کی تہدید پر افسوس کیا کرتے تھے، کتنی مرتبہ انہیں کی وجہ سے قرآن نازل ہوا. عائشہ و حفصہ کے بارے میں ارشاد ہے.

____________________

=6. صحیح بخاری جلد/ 3 ص101 باب الصلوة علی الفراش

1. صحیح بخاری جلد/3 ص105

2. صحیح بخاری جلد/6 ص128 ص24 باب ھل للمراة تہب نفسہا لاحد

3. صحیح بخاری جلد/6 ص158 باب غیرت النساء ووجدھن


( إِنْ‏ تَتُوبا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُما وَ إِنْ تَظاهَرا عَلَيْهِ ) تحریم آیت/3

تم دونوں توبہ کرو تمہارے دلوں میں کجی پیدا ہوگئی ہے. یعنی یہ حق سے منحرف ہوگئی ہیں.(1) اور خدا کا یہ قول کہ:

( وَ إِنْ‏ تَظاهَرا عَلَيْهِ‏ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ وَ جِبْرِيلُ وَ صالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَ الْمَلائِكَةُ بَعْدَ ذلِكَ ظَهِيرٌ ) تحریم آیت/3

اور اگر اس کے خلاف تم سازش کروگی تو یاد رکھو، اللہ اس کا سرپرست ہے اور جبرئیل اور نیک مؤمنین اور ملائکہ سب اس کے مددگار ہیں. عائشہ و حفصہ کے لئے خدا کی طرف سے یہ کھلی تنبیہ ہے، عائشہ اکثر حفصہ کے کہنے کے مطابق عمل کیا کرتی تھیں ایک جگہ خداوند عالم دونوں کے بارے میں فرماتا ہے:

( عَسى‏ رَبُّهُ‏ إِنْ‏ طَلَّقَكُنَ‏ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْواجاً خَيْراً مِنْكُنَّ مُسْلِماتٍ مُؤْمِناتٍ ) تحریم آیت/4

وہ اگر تمہیں طلاق بھی دے دے گا تو خدا تمہارے بدلے اسے تم سے بہتر مسلمہ و مومنہ بیویاں عطا کردے گا.عمر ابن خطاب کہتے ہیں یہ آیتیں عائشہ و حفصہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں.(2) اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ سے بہتر تو مسلمانوں کی مومنہ عورتیں ہیں.

____________________

1.صحیح بخاری جلد/3 ص106 باب الغرفہ والعلیہ من کتاب المظالم

2.صحیح بخاری جلد/ 6 ص69 و ص71 باب و اذا امر النبی الی بعض ازواجہ


نبی(ص) نے ایک مرتبہ انہیں وحیہ کلبی کی بہن کو دیکھنے کے لئے بھیجا کہ آپ(ص) اس سے نکاح کرنا چاہتے تھے، آپ نے عائشہ سے کہا کہ جائو دیکھ کر آئو جب وہ دیکھ کر واپس آئیں تو ان پر حمیت وغیرت طاری ہوچکی تھی، رسول(ص) نے دریافت کیا عائشہ تم نے اسے کیسا پایا؟ کہنے لگیں میں نے تو ان میں کوئی خاص بات نہیں دیکھی، آپ(ص) نے فرمایا: یقینا تم نے کوئی انوکھی بات ان میں دیکھی ہے اور تم اسے چھپا رہی ہو، تم نے اسے اتنے خوبصورت اور حسین دیکھا کہ جس سے تمہیں اپنی ہوا اکھڑنے کا خوف لاحق ہوگیا. عائشہ نے کہا: یا رسول اللہ(ص) بھلا آپ(ص) سے کوئی راز پوشیدہ رہ سکتا ہے اور کون آپ سے کوئی بات چھپا سکتا ہے.(1)

جو کچھ عائشہ نے نبی(ص) کے ساتھ کیا ہے ان میں سے اکثر سازشیں ایسی تھیں جن میں حفصہ بنت عمر بھی شریک رہتی تھی. عجیب! ہم ان دونوں عورتوں (عائشہ و حفصہ) میں ایسے تعلقات و فکری ہم آہنگی دیکھتے ہیں جیسی ان دونوں کے والد ابوبکر وعمر میں تھی مگر یہ کہ آپ کی ازواج میں عائشہ ہمیشہ قوی و جری رہیں. ہاں حفصہ بنت عمر اسے ہر چیز کے بارے میں اکسایا کرتی تھی بالکل اس طرح جس طرح ابوبکر جہاں کمزور پڑتے تھے وہاں عمر آگے بڑھتے تھے، وہ اس طرح معاملہ میں قوی و جرات مند تھے آپ نے گذشتہ بحثوں میں ملاحظہ فرمایا کہ ابوبکر اپنی خلافت کے زمانہ میں بھی کمزور تھے اصلی حاکم عمر ابن خطاب تھے، بعض مورخین نے لکھا ہے کہ جب عائشہ حضرت علی(ع) سے جنگ کرنے کے لئے مدینہ سے بصرہ کی طرف چلیں تو دیگر ازواج نبی(ص) سے بھی گذارش کی کہ تم بھی میرے ساتھ چلو لیکن حفصہ بنت عمر کے علاوہ اور کسی نے عائشہ کی بات کو تسلیم نہ کیا اس نے بھی عائشہ کے ساتھ چلنے کا ارادہ کیا لیکن اس کے بھائی عبداللہ ابن عمر

____________________

1. طبقات ابن سعد جلد/8 ص115، کنز العمال جلد/6 ص294


نے اسے روکا اور اس پر ناراض ہوئے تو اس نے رخت سفر کھول دیا.(1) اسی لئے خداوند عالم نے عائشہ اور حفصہ دونوں کو ایک ساتھ تہدید کی ہے. چنانچہ فرمایا ہے:

( وَ إِنْ تَظاهَرا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ وَ جِبْرِيلُ وَ صالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَ الْمَلائِكَةُ بَعْدَ ذلِكَ ظَهِيرٌ )

اور اس کے خلاف اگر تم اتفاق کروگی تو یاد رکھو کہ اللہ اس کا سرپرست اور جبرئیل و نیک مومنین اور ملائکہ سب اس کے مددگار ہیں. تحریم آیت4 اسی طرح یہ قول:

( إِنْ تَتُوبا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُما ) تحریم آیت/3

تم دونوں توبہ کرو تمہارے دلوں میں کجی پیدا ہوگئی ہے. یقینا سورہ تحریم میں خداوند عالم نے ان دونوں (عائشہ و حفصہ) اور دوسرے ان مسلمانوں کو آگہی کے لئے ایک مثال دی ہے جو ام المومنین کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ بغیر حساب و کتاب جنت میں داخل ہوں گی. کیونکہ وہ رسول(ص) کی بیوی ہیں. ہرگز نہیں : خداوند عالم نے اپنے بندوں میں سے ہر ایک مرد و عورت کو آگاہ کردیا ہے کہ زوجیت کوئی فائدہ یا نقصان پہونچانے والی نہیں ہے خواہ شوہر رسول(ص) ہی کیوں نہ ہو. خدا کے نزدیک جو ضرر رساں یا سودمند ہے وہ انسان کے اعمال ہیں چنانچہ ارشاد ہے:

( ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَ امْرَأَتَ لُوطٍ كانَتا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبادِنا صالِحَيْنِ فَخانَتاهُما، فَلَمْ يُغْنِيا عَنْهُما مِنَ اللَّهِ شَيْئاً وَ قِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ ) . تحریم آیت10

____________________

1.شرح ابن ابی الحدید جلد/2 ص80


خدا نے کفر اختیار کرنے والوں کے لئے نوح اور لوط کی زوجہ کی مثال بیان کی ہے کہ یہ دونوں ہمارے نیک بندوں کی زوجیت میں تھیں لیکن دونوں نے ان سے خیانت کی تو اس زوجیت نے خدا کی بارگاہ میں کوئی فائدہ نہیں پہونچایا اور ان سے کہدیا گیا کہ تم بھی تمام جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہو جائو. تحریم آیت/10

اور مومنوں کے لئے خدا نے زن فرعون کی مثال پیش کی ہے اور ان کا یہ قول نقل کیا ہے:

( رَبِ‏ ابْنِ‏ لِي‏ عِنْدَكَ‏ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهِ وَ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ وَ مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَها فَنَفَخْنا فِيهِ مِنْ رُوحِنا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِماتِ رَبِّها وَ كُتُبِهِ وَ كانَتْ مِنَ الْقانِتِينَ ) تحریم آیت/11/12

پروردگار میرے لئے اپنے یہاں بہشت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کی کارستانی سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں (کے ہاتھ) سے چھٹکارا عطا فرمایا. اور (دوسری مثال) عمران کی بیٹی مریم جس نے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور اس نے اپنے پروردگار کی باتوں کی اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور فرمانبرداروں میں تھی.

ان آیات کے بعد تمام لوگوں پر یہ بات آشکار ہوجاتی ہے کہ زوجیت اور صحبت میں اگرچہ بہت سے فضائل ہیں لیکن یہ دونوں عذاب خدا سے


نجات نہیں دلاسکتی، ہاں جب صالح اعمال سے منسلک ہونگی تو یہ بات دوسری ہے اور اگر برے اعمال ہوں گے تو عذاب بھی دوگنا ہوگا کیونکہ خدا کے عدل کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس شخص پر کم عذاب کرے کہ جس نے قریب والے کی طرح کہ جس کے گھر میں قرآن نازل ہوتا ہے. وحی نہ سنی ہو اور انسان نے حق پہچاننے کے بعد اس جاہل کی طرح حق کا انکار کردیا ہو جو حق سے واقف نہ ہو.

اب قارئین محترم ان کی بعض روایات کو تفصیل سے ملاحظہ فرمائیں. تاکہ ان اشخاص کو پہچانا جاسکے کہ جنہوں نے علی(ع) کو خلافت سے الگ رکھنے کے لئے بڑے بڑے کھیل کھیلے اور آپ سے برسر پیکار رہے.

اور آپ کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان کی طہارت اور ان سے رجس کے دور ہونے میں اتنا ہی بعد ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے. اکثر اہلسنت تو گڑھی ہوئی حدیثوں کے پیروکار ہیں کیونکہ انھوں نے بغیر سوچے سمجھے بنی امیہ کا اتباع کیا ہے.

خود اپنے خلاف

ہمیں عائشہ کی کہانی خود ان کی زبانی سننی چاہیئے اور یہ کہ حسد نے کیسے انہیں راہ راست سے دور کر دیا تھا اور نبی(ص) کے ساتھ وہ کس بد اخلاقی سے پیش آتے ہوئے کہتی ہیں:

ایک روز زوجہ نبی(ص) صفیہ نے آپ(ص) کی خدمت میں کھانا بھجوایا، رسول(ص) میرے یہاں تھے جب میں نے کنیز کو کھانا لاتے دیکھا تو میرے تن بدن میں آگ لگ گئی اور میں کانپنے لگی پس


میں نے پیالہ توڑ دیا اور کنیز کو بھگا دیا، پھر کہتی ہیں کہ. میں نے جب رسول(ص) کے چہرہ پر نظر کی تو غضب کے آثار دیکھے تو کہا کہ آج میں رسول(ص) سے پناہ چاہتی ہوں کہ مجھ پر لعنت و ملامت نہ کریں. آپ نے فرمایا تم امان میں ہو. میں نے کہا: یا رسول اللہ(ص) اس کا کفارہ کیا ہے؟ فرمایا: اس کے کھانے کے مثل کھانا اور پیالے کے مثل پیالہ.(1)

عائشہ پھر فرماتی ہیں کہ: آپ کو ایسی ایسی صفیہ مبارک ہو، مجھ سے نبی(ص) نے فرمایا: تم نے اتنی بڑی بات کہہ دی ہے کہ اگر اسے دریا کے پانی میں ملا دیا جائے تو سارا پانی گندا ہو جائے.(2)

سبحان اللہ! ام المومنین کا اخلاق کہاں ہے. اور ان حقوق کا نام و نشان کہاں ہے. جو اسلام نے ان پر فرض کئے ہیں. مثلا غیبت ، چغلی خوری؟ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان کا یہ قول کہ" آپ کو ایسی ایسی صفیہ مبارک ہو" اور رسول(ص) کا یہ کہنا کہ" تم نے بہت بڑی بات کہی ہے اگر اس کو دریا کے پانی میں ملا دیا جائے تو وہ بھی گندہ ہوجائے" عائشہ نے اپنی سوتن صفیہ کے بارے میں کتنی بڑی بات کہی ہے.

میرا خیال تو یہ ہے کہ اس حدیث کے راویوں نے عائشہ کی عظمت کے پیش نظر اور اس حدیث کی حیثیت کو کم کرنے کے لئے لفظِ کذا کذا ( ایسی ایسی) کا

____________________

1.مسند امام احمد ابن حنبل جلد/6 ص277، سنن نسائی جلد/2 ص148

2.صحیح ترمذی سے زرکشی نے ص73 پر نقل کیا ہے


اضافہ کردیا ہے. جیسا کہ ان کی عادت ہے.

ام المومنین عائشہ دیگر امہات المومنین سے اپنے حسد کے بارے میں خود فرماتی ہیں کہ:

میں نے ماریہ سے زیادہ کسی سے حسد نہیں کیا ان سے میرا حسد اس لئے تھا کہ وہ اتنی خوبصورت اور ایسے بالوں والی تھی کہ رسول(ص) اس پر رشک کیا کرتے تھے، رسول(ص) نے اولین بار اسے حارث ابن نعمان کے گھر میں اتارا تھا، وہ ہم سے خوف کھاگئی تو رسول(ص) نے اسے اس کے خاندان میں منتقل کردیا، آپ(ص) وہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، آپ(ص) کا وہاں تشریف لے جانا ہمارے اوپر اور شاق گذرتا تھا، پھر خدا نے انہیں لڑکا عطا کیا اور ہم ایسے ہی رہ گئے.(1)

عائشہ اس بارے میں کہ ان کا حسد ان کی سوتن ماریہ سے ان کے فرزند ابراہیم تک پہونچ گیا کہتی ہیں کہ:

جب ابراہیم پیدا ہوئے تو رسول(ص) اسے لے کر میرے پاس آئے اور فرمایا: میری طرف دیکھو!(یہ بالکل) میری شبیہ ہے. میں نے کہا کہ: مجھے تو آپ کی شبیہ نہیں لگتا. رسول(ص) نے فرمایا: کیا تمہیں اس کا گورا رنگ اور موٹا پن نظر نہیں آتا؟ عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا جو زیادہ بچوں والی عورت کا دودھ پئے وہ گورا اور موٹا ہوگا.(2)

____________________

1.طبقات ابن سعد جلد/8ص212، الانساب الاشراف جلد/1ص449، اصابہ فی معرفة الصحابہ للعسقلانی

2.طبقات ابن سعد جلد/1ص37 ترجمہ ابراہیم بن النبی(ص)، اسی طرح انساب الاشراف میں ہے


ان کا حسد تمام حدود سے تجاوز کرچکا تھا جب انہیں رسول(ص) کے بارے میں شک ہوتا اور بدگمانی و وسواس کا بھوت سر چڑھتا تو ایسی حرکتیں کرتیں جن کو بیان نہیں کیا جاسکتا ہے اکثر ایسے لیٹ جاتی تھیں جیسے سو رہی ہیں جبکہ رسول(ص) انہیں کے گھر میں سوئے ہوتے تھے پھر بھی وہ اپنے شوہر کے تعاقب میں رہتی تھیں اور ا ندھیرے میں ان کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھتی تھیں اور تعاقب کر کے دیکھتی تھیں کہ آپ کہاپ تشریف لے جارہے ہیں. آپ کے سامنے میں انہیں کی بیان کردہ روایت پیش کررہا ہوں جس کو مسلم نے اپنی صحیح میں اور امام احمد ابن حنبل نے مسند میں نقل کیا ہے کہتی ہیں کہ:

ایک شب رسول(ص) میرے پاس تشریف لائے ردا کو ایک طرف رکھ دیا اور نعلین اتار کر اپنے پائوں کے پاس رکھ لی اور اپنے بستر پر لیٹ گئے، تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ آپ(ص) یہ سوچ کر کہ میں(عائشہ) سو رہی ہوں جلدی سے اپنے ردا اٹھائی نعلین پہنی اور دروازہ کھو کر روانہ ہوئے میں نے روسری باندھی، دو پٹہ ڈالا، اور مقنع اوڑھا پھر ان کا تعاقب کیا. یہاں تک کہ وہ بقیع (قبرستان) پہونچ کر ٹھہر گئے. آپ(ص) کافی دیر تک کھڑے رہے پھر تین مرتبہ اپنے ہاتھوں کو بلند کیا اور واپس ہوئے، میں بھی واپس ہوئی وہ تیز تیز چلنے لگے تو میں نے بھی اپنی رفتار بڑھا دی، انہوں نے اور تیزی اختیار کی تو میں دوڑنے لگی، وہ گھر میں داخل ہوئے تو میں ان سے پہلے پہونچ کر لیٹ گئی تھی، رسول(ص) داخل ہوئے اور فرمایا: اے عائشہ تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اپنے شوہر سے بدظن ہو؟ عائشہ


کہتی ہیں میں نے کہا کچھ تو نہیں ہے.

آپ(ص) نے فرمایا کہ: تم بتائوگی یا لطیف و خبیر مجھے اس کی خبر دے گا. عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ(ص) میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ ہی بتائیے. آپ نے فرمایا: تم ہی وہ سیاہی تھیں جسے میں نے اپنے سامنے دیکھا تھا. میں نے کہا ہاں. اس سے میرا دل کانپ اٹھا. پھر آپ نے فرمایا کہ کیا تمہیں یہ گمان تھا کہ خدا و رسول(ص) تم پر ظلم کریں گے.(1)

ایک مرتبہ میں نے رسول(ص) کو اپنے پاس نہ پایا تو میں نے سوچا کہ آپ کسی کنیز کے پاس پہونچ گئے ہیں ان کی تلاش میں نکلی تو دیکھا کہ آپ(ص) سجدہ میں سر رکھے ہوئے فرما رہے ہیں" رب اغفر لی"(2)

پھر فرماتی ہیں کہ:

ایک شب رسول(ص) میرے پاس سے کہیں چلے گئے مجھ پر جنون طاری ہوگیا، تھوڑی دیر بعد آپ(ص) تشریف لے آئے اور میری حرکت دیکھ لی اور فرمایا: اے عائشہ تمہیں کیا ہوگیا ہے یہ بد گمانی؟ میں نے کہا کہ مجھے کیا ہوگیا کہ میں آپ(ص) جیسے انسانوں کو تلاش نہ کروں؟ رسول(ص) نے فرمایا: کیا تم پر

____________________

1.صحیح مسلم جلد/3 ص64، مسند احمد ابن حنبل جلد/2 ص421

2. مسند احمد ابن حنبل جلد/6 ص147


شیطان سوار ہوگیا تھا....(1)

یہ آخری روایت ہے جو واضح طور سے اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ جب انہیں بدگمانی ہوتی تھی تو ان سے عجیب و غریب حرکت دیکھنے میں آتی تھی. جیسے برتن توڑ دینا، لباس پھاڑ ڈالنا اسی لئے تو عائشہ نے اس روایت میں کہا ہے کہ جب رسول(ص) واپس آئے اور میری حرکت دیکھی تو کہا کہ: تمہارے اوپر شیطان سوار ہوگیا ہے؟اس میں کوئی شک نہیں ہے شیطان اکثر عائشہ پر سوار رہتا تھا یا ان میں حلول کر جاتا تھا. یقینا اس بدگمانی اور غیرت و حسد کی وجہ سے شیطان نے ان کے قلب کا راستہ دیکھ لیا تھا. رسول(ص) سے اس روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا: مرد کے لئے غیرت، ایمان، اور عورت کے لئے کفر ہے.

اگر مرد اپنی زوجہ کے سلسلہ میں غیرت دار ہے تو اس لئے کہ شرعی لحاظ سے یہ جائز نہیں ہے کہ زوجہ میں اس کا کوئی شریک ہو لیکن عورت کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کے سلسلہ میں غیرت دار ہو کیونکہ خداوند عالم نے مرد کے لئے ایک سے زیادہ زوجہ رکھنے کو مباح قرار دیا ہے. پس ایک صالحہ اور مومنہ عورت کہ جس کو خدا کے احکام کا یقین ہے وہ نفس کی ریاضت کی بنا پر سوتن کو قبول کر لیتی ہے. خصوصا جب اس کا شوہر عادل اور صرف خدا سے ڈرتا ہو پس اگر سید البشر نمونہ کمال و عدل صاحب خلق عظیم متعدد ازواج رکھے تو ان کے لئے کیا اشکال ہے؟ جس طرح عائشہ کی محبت میں واضح تناقض ہے اسی طرح اہلسنت کے اس قول میں بھی تناقض ہے کہ آنحضرت(ص) تمام ازواج میں

____________________

1.مسند احمد ابن حنبل جلد/6 ص115


سب سے زیاہ عائشہ سے محبت فرماتے تھے. اور وہی آپ کے نزدیک معزز تھیں یہاں تک کہ انہوں نے یہ روایت گڑھ دی کہ ازواج نبی(ص) میں سے بعض نے اپنی راتیں بھی عائشہ کو ھبہ کر دی تھیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ رسول(ص) عائشہ سے بہت زیادہ محبت فرماتے ہیں ان کے بغیر نہیں رہ سکتے کیا یہ ممکن ہے؟ جبکہ ہم یہ دیکھ تے ہیں کہ وہ عائشہ کے حسد کی توجیہ کرنے کے سلسلہ میں پریشان ہیں، بلکہ قضیہ اس کے برعکس ہے یعنی دیگر ازواج نبی(ص) کو عائشہ پر حسد کرنا چاہئیے تھا کیونکہ آنحضرت(ص) کو ان سے شدید محبت تھی. انہیں کی طرف مائل تھے، جیسا کہ اہلسنت کی روایت اور ان کا گمان ہے، اور جب وہ رسول(ص) کی چہیتی تھیں تو پھر ان کے حسد کے کیا معنی؟

تاریخ میں یہ بات کہیں نہیں ملتی مگر احادیث و سیَر کی کتابیں ان کی فضیلت سے بھری پڑی ہیں اور یہ کہ وہ رسول(ص) کی ایسی ناز و نخرے والی اور چہیتی بیوی تھیں کہ جس کی جدائی آنحضرت(ص) برداشت نہیں کرسکتے تھے.میرا عیدہ تو یہ ہے کہ یہ خرافات امویوں کی ایجاد ہیں جو عائشہ کو دوست رکھتے اور انہیں فضیلت دیتے تھے کیونکہ عائشہ نے بھی ان کے لئے بہت کچھ کیا تھا، جیسا کہ وہ چاہتے تھے اسی مناسبت سے حدیث بیان کر دیتی تھیں اور ان کے دشمن علی بن ابی طالب(ع) سے جنگ کی تھی.

اسی طرح میرا عقیدہ یہ بھی ہے کہ رسول(ص) عائشہ کو ان کی نازیبا حرکتوں کی بنا پر قطعی پسند نہیں کرتے تھے. جیسا کہ ہم ان کی حرکتیں بیان کرچکے ہیں! رسول(ص) جھوٹ بولنے والی، غیبت کرنے والی، عیب جوئی کرنے والی کو کیسے دوست رکھ سکتے ہیں اور اسے کیونکر پسند فرماسکتے ہیں. جو خدا و رسول(ص) کو ظالم سمجھتی ہو، خدا و رسول(ص) اسے کیسے دوست رکھ سکتے ہیں جو رسول(ص) کی ٹوہ میں رہتی ہو، آپ(ص) کے گھر سے بغیر اجازت کے اس لئے نکل جاتی ہے تاکہ دیکھے کہ آپ(ص) کہاں تشریف لے گئے ہیں. آپ(ص) اسے کیونکر


محبوب رکھ سکتے ہیں جو آپ(ص) کے سامنے آپ(ص) کی ازواج کو برا بھلا کہتی ہو. رسول(ص) اسے کس طرح عزیز رکھ سکتے ہیں جو آپ(ص) کے فرزند ابراہیم سے بغض رکھتی ہو اور ان کی ماں ماریہ پر بہتان لگاتی ہو.(1) رسول(ص) اسے کیونکر دوست رکھ سکتے ہیں جو آپ(ص) کے اور آپ(ص) کی ازواج کے درمیان جھوٹ کی نسبت دیتی ہو. کبھی آپ کے اور ان کے درمیان دشمنی پیدا کرا دینا چاہتی ہو. کہ جو طلاق کا باعث بنے. رسول(ص) اسے کیسے جان و دل سمجھ سکتے ہیں جو آپ کی لخت جگر زہرا(ع) سے بغض رکھتی ہو. اور آپ(ص) کے ابن عم حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے اتنا بغض رکھتی ہو کہ حضرت علی(ع) کا نام لینا بھی گوارہ نہ کرتی ہو اور کبھی ان سے خوش نہ رہتی ہو.(2) یہ تمام چیزیں تو آنحضرت(ص) کی حیات طیبہ کی ہیں لیکن اب رسول(ص) کی وفات کے بعد کے واقعات بیان کئے جا رہے ہیں. خدا و رسول(ص) ان تمام باتوں کو دوست نہیں رکھتے اور نہ ہی ان کے ارتکاب کو پسند کرتے ہیں کیونکہ اللہ حق ہے اور رسول(ص) حق کا نمونہ ہیں. ممکن نہیں ہے کہ آپ حق پر نہ ہونے والے کو دوست رکھیں. عنقریب آنے والی بحثوں میں ہم اس بات کو جان جائیں گے کہ رسول(ص) عائشہ سے قطعی طور پر خوش نہ تھے بلکہ آپ(ص) نے تو امت کو اس کے شر سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے.(3) میں نے اپنے ان بزرگوں سے پوچھا جو عائشہ کی محبت میں تفریط سے کام لیتے ہیں کہ نبی(ص) عائشہ سے کیوں اتنی محبت

____________________

1. اس سلسلہ میں علامہ جعفر مرتضی عاملی کی کتاب"حدیث الانک ... ملاحظہ فرمائیں

2. صحیح بخاری جلد/3 ص135" باب هبة الرجل لامراته من کتاب الهبة و فضلها.

3. الطبقات الکبری لابن سعد جلد/2 ص29


کیوں نہیں فرماتے تھے؟ انہوں نے متعدد جوابات دیئے لیکن سب رکیک و بیکار.ایک صاحب نے جواب دیا عائشہ کم سن اور خوبصورت تھیں. رسول(ص) نے فقط اسی باکرہ سے دخول کیا. عائشہ نے کسی دوسرے سے شادی نہیں کی تھی. دوسرے نے کہا اس لئے کہ عائشہ ابوبکر صدیق کی بیٹی تھیں جو آپ کے یار غار ہیں. تیسرے نے جواب دیا چونکہ عائشہ نے رسول(ص) سے نصف دین سیکھا اور وہ عالمہ و فقیہہ تھیں.

چوتھے نے کہا: چونکہ جبرئیل ان کی صورت میں نازل ہوتے تھے اور اسی وقت آتے تھے جب آپ(ص) عائشہ کے گھر میں ہوتے تھے.

قارئین محترم جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں کہ ان جوابات میں سے کسی ایک کی بھی بنیاد دلیل پر استوار نہیں ہے. اور نہ ہی اسے حقیقت وعقل سے واسطہ ہے. عنقریب ہم ان کو دلیلوں سے باطل کریں گے. پس جب رسول(ص) عائشہ سے ان کے حسن و خوبصورتی کی بناء پر محبت فرماتے تھے اور یہی ایسی باکرہ تھیں جن سے رسول(ص) نے دخول کیا تو وہ کون سی چیز تھی جس نے رسول(ص) کو ایسی حسین و جمیل عورتوں سے نکاح کرنے سے باز رکھا جن کا کوئی ثانی نہ تھا جن کا حسن قبائل عرب میں ضرب المثل تھا. جو فقط آپ کے اشارہ کی منتظر تھیں. جیسا کہ مورخین نے عائشہ کے رشک کے بارے میں تحریر کیا ہے کہ عائشہ زینب بنت جحش، صفیہ بنت حیی اور ماریہ قبطیہ کے حسن پر رشک کیا کرتی تھیں کیونکہ یہ سب عائشہ سے زیادہ حسین تھیں.

ابن سعد نے طبقات کی جلد/8 ص148 پر اور ابن کثیر نے اپنی تاریخ کی جلد/5 ص299 پر روایت کی ہے کہ نبی(ص) نے ملیکہ بنت کعب سے نکاح کیا وہ حسن و جمال میں یکتا سمجھی جاتی تھیں، ایک مرتبہ ان کے پاس عائشہ آئیں اور کہا تمہیں.


اپنے باپ کے قاتل سے نکاح کرتے ہوئے شرم نہیں آئی. ( عائشہ کے اکسانے سے) اس نے رسول(ص) سے طلاق مانگی آپ(ص) نے طلاق دیدی تو اس کے خاندان والے رسول(ص) کی خدمت میں آئے اور عرض کی یا رسول اللہ (ص) وہ بچی ہے اس کی باتوں کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اور پھر اسے بہکایا گیا ہے پس آپ رجوع کر لیجئے، لیکن رسول(ص) نے انکار کردیا. اس کے باپ کو فتح مکہ کے دن خالد ابن ولید نے قتل کیا تھا.

یہ روایت واضح طور پر اس بات کی طرف ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ رسول(ص) کو کمسن اور حسین و خوبصورت سے نکاح کرنے کا شوق نہیں تھا. اگر شوق ہوتا تو ملیکہ بنت کعب کو طلاق نہ دیتے، کیونکہ وہ کمسن بھی تھی اور حسن و جمال میں یکتا بھی.اور اس جیسے اور واقعات مختلف طریقوں سے ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ عائشہ نے نیک و شریف مومنات کو دھوکے دئیے اور انہیں رسول(ص) کی زوجیت سے محروم کردیا، جیسا کہ اسماء بنت نعمان کو طلاق دلوادی، ہوا یہ تھا کہ عائشہ کو ان کے حسن و جمال پر رشک ہوگیا تھا، اس نے اسماء کو فریب دیا اور کہا کہ نبی(ص) اس عورت کو بہت چاہتے ہیں جو دخول کے وقت ان سے" اعوذ باللہ منک" ( میں آپ سے خدا کی پناہ چاہتی ہوں) کہتی ہے. اور ملیکہ کو اس کے باپ کا قتل یاد دلاکر جذباتی بنا دیا تھا. اور اسے یہ باور کرایا تھا کہ تمہارے باپ کے قاتل رسول(ص) ہیں اور کہا تمہیں اپنے باپ کے قاتل سے نکاح کرتے ہوئے شرم نہ آئی. اس غریب کے پاس اس کے سوا اور کیا چارہ کار تھا کہ رسول(ص) سے طلاق طلب کرے. ہمیں یہاں یہ سوال کرنے کا حق پہونچتا ہے کہ رسول(ص) نے ان مذکورہ دونوں نیک و شریف عورتوں کو کیوں طلاق دے دی کہ جو عائشہ کی چال بازیوں کا شکار ہوئی تھیں؟

ہمارے لئے ہر چیز سے پہلے یہ فرض کرنا ضروری ہے کہ رسول(ص) معصوم


ہیں اور معصوم کسی پر ظلم نہیں کرتا ہے وہ تو صرف وہی کام انجام دیتا ہے جو حق ہوتا ہے.

لہذا ان دونوں کی طلاق میں ضرور کوئی حکمت پوشیدہ تھی جسے خدا اور اس کا رسول(ص) جانتا تھا جس طرح عائشہ کے ناشائستہ افعال کے باوجود طلاق نہ دینے میں کوئی حکمت تھی. آنے والی بحثوں میں ہم اس کی وضاحت کریں گے.

پہلی عورت یعنی اسماء بنت نعمان کی سادگی اور سادہ لوحی تو اسی وقت ظاہر ہوگئی تھی جب اس پر عائشہ کی حیلہ بازی کارگر ہوگئی تھی اور جب رسول(ص) نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اس نے کہدیا" اعوذ باللہ منک" ( میں آپ سے خدا کی پناہ چاہتی ہوں) رسول(ص) نے اس کی بات کو قبول کر لیا باوجویکہ وہ حسن و جمال میں یکتا تھی لیکن اس کی بیوقوفی کی بنا پر رسول(ص) نے اپنے پاس رکھنا گوارا نہ کیا. ابن سعد نے اپنی طبقات کی آٹھویں جلد کے ص145 پر ان عباس سے نقل کیا ہے کہ: رسول(ص) نے اسماء بنت نعمان سے نکاح کیا کہ جو اپنے زمانہ کی حَسین­ترین عورت تھی.شاید رسول(ص) اس واقعہ کے ذریعہ یہ بات بتانا جاہتے ہیں کہ عقلمندی جمال و خوبصورتی سے بہتر ہے. کتنی ہی حسین و جمیل عورتوں کو ان کی کند ذہنی برے کاموں کی طرف کھینچ لے گئی.لیکن ملیکہ بنت کعب کہ جو عائشہ کے فریب میں اس لئے آگئی تھی کہ وہ (رسول(ص)) تمہارے باپ کے قاتل ہیں پس رسول(ص) نے اس غریب کے ساتھ آنے والے حادثات کی بنا پر زندگی گزارنا گوار نہ کیا. ( اگر چہ وہ کمسن تھی اور اس کی کسی بات کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا تھا جیسا کہ خود اس کے خاندان والوں نے کہا تھا) کیونکہ یہ کند ذہنی کبھی بہت بڑے بڑے مصائب کا سبب بن جاتی ہے خصوصا عائشہ کی موجودگی میں تو اور خوف تھا. بوہ ہمیشہ ان سے کھیلا کرتی اور کبھی رسول(ص) کے ساتھ


خوشگوار زندگی نہ گزار پاتی لاریب اس کے علاوہ اور بہت سے اسباب ہونگے جنہیں رسول(ص) ہی جانتے تھے.

ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ رسول(ص) خوبصورتی، جسمانی شہوتوں اور جنسیات کی طرف نہیں دوڑتے تھے جیسا کہ بعض جاہل و ناواقف اور بعض مستشرقین کا گمان ہے کہ محمد(ص) حسِین و جمیل عورتوں کو اہمیت دیتے تھے.ہم دیکھ چکے ہیں کہ رسول(ص) نے کس طرح مذکورہ دو عورتوں کو طلاق دے دی اگرچہ وہ دونوں کمسن اور حسین ہی نہیں بلکہ اپنے زمانہ کی حسین­ترین تھیں جیسا کہ تاریخ و احادیث کی کتابوں میں نقل ہوا ہے پس اس شخص کی بات کی کوئی حقیقت نہیں جو یہ کہتا ہے کہ رسول(ص) عائشہ کو کم سنی اور خوبصورتی کی بنا پر زیادہ چاہتے تھے.لیکن جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ رسول(ص) عائشہ سے اس لئے زیادہ محبت رکھتے تھے کہ وہ ابوبکر کی بیٹی تھیں. تو یہ بات بالکل غلط ہے، ہاں ہم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں ہ ابوبکر کی وجہ سے عائشہ سے رسولے(ص) نے نکاح کیا تھا کیونکہ رسول(ص) نے بہت سے خاندانوں کی عورتوں سے سیاست کی بنا پر نکاح کئے تھے تاکہ ان خاندانوں میں محبت و مودت بڑھ جائے اور بغض و نفرت ختم ہو جائے اسی بنا پر معاویہ کی بہن ام حبیبہ بنت ابوسفیان سے آپ(ص) نے نکاح کیا تھا. تاکہ کسی کو کوئی پرخاش نہ رہے. کیونکہ وہ رحمۃ للعالمین تھے. کبھی تو آپ کی محبت عرب کے قبائل و خاندانوں سے تجاوز کر کے یہود و نصاری و قبطیوں کی دامادی تک پہونچ جاتی ہے اور اس کی وجہ یہی تھی تا کہ مختلف مذہب والے ایک دوسرے سے قریب ہوجائیں.

خصوصا جب ہم سیرت کی کتابوں کے لب لباب سے آگاہی حاصل کرتے ہیں تو یہ بات آشکار ہو جاتی ہے کہ ابوبکر نے خود رسول(ص) سے عائشہ سے نکاح کرنے کی خواہش کی تھی اسی طرح عمر نے بھی اپنی بیٹی حفصہ سے نکاح کرنے کی


خواہش کی تھی اور رسول(ص) نے دونوں کی خواہش کا بھرم رکھا کیونکہ آپ کا قلب تمام اہل ارض کے لئے وسیع تھا. خداوند عالم کا ارشاد ہے:

( وَ لَوْ كُنْتَ‏ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ‏ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ .) آل عمران آیت/159

اے پیغمبر اگر آپ سخت مزاج ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے.

اور جب ہم عائشہ کی بیان کردہ روایت کو دیکھتے ہیں کہ جس میں انھوں نے یہ بات کہی ہے کہ:

رسول(ص) کو داخل ہوئے تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ انھوں نے گمان کیا کہ میں سو رہی ہوں آپ(ص) نے آہستہ سے ردا اٹھائی دروازہ کھولا اور بند کر کے چلدئیے اس روایت سے عائشہ کے سلسلہ میں یہ بات غلط ثابت ہوتی ہے کہ رسول(ص) ان کے بغیر صبر ہی نہیں کرسکتے تھے.(1)

یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کوئی خیالی پلائو نہیں ہے بلکہ صحاح اہلسنت میں اس کی دلیلیں موجود ہیں مسلم وغیرہ نے اپنی اپنی صحیح میں روایت کی ہے کہ عمر ابن خطاب نے فرمایا: جب نبی(ص) نے اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار کر لی تو میں مسجد میں داخل ہوا تو لوگ کنکریاں پھینک رہے تھے اور کہہ رہے تھے رسول(ص) نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے، جبکہ انہیں پردہ کا حکم نہیں دیا تھا. میں نے کہا میں انہیں

____________________

1.صحیح مسلم جلد/3 ص64. مسند امام احمد جلد/6 ص221


ضرور سمجھائوں گا. عمر کہتے ہیں کہ میں عائشہ کے پاس پہونچا اور کہا:

اے بنت ابوبکر اب تمھاری یہ جرات ہوگئی کہ تم رسول(ص) کو اذیت دینے لگی ہو. عائشہ نے کہا اے پسر خطاب آپ کو کیا ہوگیا ہے آپ کا الزام آپ ہی کے سر! عمر کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں حفصہ کے پاس پہونچا اور اس سے کہا اب تمہاری یہ جرات ہوگئی ہے کہ تم رسول(ص) کو اذیت دو! خدا کی قسم تم اس بات کو جانتی ہو کہ رسول(ص) تمہیں پسند نہیں کرتے ہیں اگر میں نہ ہوتا تو اب تک تمہیں طلاق دے چکے ہوتے. ( یہ سن کر) حفصہ پر شدید رقت طاری ہوگئی.(1) یہ روایت صریح طور پر ہمیں یہ بات بتاتی ہے کہ نبی(ص) حفصہ بنت عمر سے محبت نہیں رکھتے تھے. بلکہ سیاسی مصلحت اور اقتضائے زمانہ کی وجہ سے رکھے ہوئے تھے.

اور جو چیز ہمارے اس یقین میں اضافہ کرتی ہے کہ ہمارا مسلک صحیح ہے وہ یہ کہ عمر ابن خطاب خدا کی قسم کھا کر کہہ رہے ہیں کہ رسول(ص) حفصہ سے محبت نہیں رکھتے تھے. پھر عمر نے یہ کہکر ہمارے یقین میں اور اضافہ کردیا کہ حفصہ جانتی ہے کہ رسول(ص) اس سے محبت نہیں رکھتے ہیں. یہ ایک تلخ حقیقت ہے. کہتے ہیں خدا کی قسم تم جانتی ہو کہ رسول(ص) تمہیں قطعی پسند نہیں فرماتے ہیں. اس کے بعد ہمارے لئے اس بات میں شک کی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ رسول(ص) نے بعض عورتوں سےسیاست کی بناء پر نکاح کیا تھا جیسا کہ عمر ابن خطاب کے قول سے ظاہر ہے کہ اگر میں نہ ہوتا تو رسول(ص) تمہیں طلاق دے دیتے.(2)

____________________

1.صحیح مسلم جلد/4 ص188 فی باب الایلاء و اعتزال انساء و تخییرھن و قولہ تعالی: و ان تظاہرا علیہ.


یہ روایت ہمیں اس سلسلہ میں ایک اور فکر دیتی ہے کہ نبی(ص) نے عائشہ بنت ابوبکر کو سیاست کی بنا پر طلاق نہیں دی اور ابوبکر کی بنا پر اس کی اذیتوں پر صبر کرتے رہے ورنہ حفصہ اس کی زیادہ حقدار ہیں کہ رسول(ص) اس سے محبت کرتے کیوں کہ اس سے عائشہ بنت ابوبکر کے عشر عشیر بھی ایسی چیز صادر نہیں ہوئی جو رسول(ص) کے لئے تکلیف کا باعث ہوتی. جب ہم بنی امیہ کی عائشہ کے فضائل میں گڑھی ہوئی حدیث سے قطع نظر اصل واقعہ کی تحقیق کریں گے تو یہ واضح ہوجائے گا کہ رسول(ص) کو عائشہ سے کتنا صدمہ پہونچا ہے. اور کتنی مرتبہ آپ ان پر غضبناک ہوئے ہیں. اب ہم ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ جس کو بخاری اور بہت سے اہلسنت کے محدثین نے نقل کیا ہے. اس سے اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ رسول(ص) کو عائشہ سے کتنی نفرت تھی. خود عائشہ بھی اس بات کو جانتی تھیں کہ ان کے شوہر نامدار رسول(ص) ان سے کتنی نفرت کرتے ہیں.

بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/7 کے باب قول المریض انی وجع او وارئساہ" میں تحریر کیا ہے.

میں نے قاسم ابن محمد سے سنا کہ انھوں نے کہا کہ عائشہ نے واراساہ( یعنی ہائے میرا سر پھٹا) کہا! تو رسول(ص) نے فرمایا اگر ایسا ہوگیا ہوتا تو میں تمہارے لئے خدا سے دعا کرتا! عائشہ نے کیا: وامصیبتاہ! خدا کی قسم میں یہ سمجھتی ہوں کہ آپ میرا مرجانا پسند کرتے ہیں.اگر ایسا ہوگیا تو آپ اپنی آخری عمر تک دوسری ازواج سے لطف اٹھاتے رہیں گے.(1)

____________________

1.صحیح بخاری جلد/7ص8 من کتاب المرضی والطب


کیا یہ روایت آپ کو یہ بات بتاتی ہے کہ نبی(ص) عائشہ سے محبت فرماتے تھے؟؟

آخر کار ہم اس نتیجہ پر پہونچے کہ بنی امیہ اور ان کے راس و رئیس معاویہ ابن ابوسفیان رسول(ص) سے بغض رکھتے تھے.

میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ کسی کو بڑھانے یا گرانے میں ان کے پاس ایک ہی پیمانہ تھا. اور وہ محمد(ص) اور ان کے اہلبیت علی(ع)، فاطمہ(ع) اور حسن(ع) و حسین(ع) سے شدید دشمنی اور بے انتہا بغض و حسد تھا. پس جو شخص رسول(ص) کا مخالف اور آپ کے اہلبیت اطہار(ع) کا دشمن ہوتا تھا اسے فضیلت دیتے تھے اور اس کی شان میں احادیث گڑھواتے تھے اسے مقرب بناتے تھے بڑے بڑے عہدوں سے سرفراز کرتے تھے بخشش سے نوازتے تھے اور لوگ اس کا احترام کرنے لگتے تھے.اور جو شخص رسول(ص) کا محب اور آپ کا دفاع کرنے والا ہوتا اس کی تذلیل کرتے مرتبہ سے گراتے بہتان لگاتے اس کی مذمت کے لئے احادیث گڑھواتے.

عمرا ابن خطاب اسی بنا پر بنی امیہ کی حکومت کے زمانہ سے مسلمانوں کے درمیان اسلام کی عظیم شخصیت بنے ہوئے ہیں کیونکہ وہ بات بات میں رسول(ص) کی مخالفت کیا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کی حیات کے آخری لمحات میں آپ پر ہذیان کا بہتان لگا دیا. لیکن علی ابن ابی طالب علیہ السلام کہ جو آپ کے لئے ایسے ہی تھے جیسے موسی کے لئے ہارون تھے. جو خدا و رسول(ص) کو دوست رکھتے تھے جن کو خدا و رسول(ص) دوست رکھتے تھے، جو ہر ایک مومن کے مولا تھے ان پر مسلمانوں کے منبروں سے اسی(80) سال تک لعنت کی جاتی رہی.اسی طرح عائشہ جو رسول(ص) کو خون کے گھونٹ پلاتی رہی.


اور اپنے پروردگار کے حکم کی مخالفت کی طرح رسول(ص) کے حکم کی مخالفت کرتی رہی. آپ کے جانشین سے جنگ کی انہی کی وجہ سے بڑے بڑے فتنوں نے سر اٹھایا کہ جن سے مسلمان بخوبی آگاہ ہیں جن میں ہزاروں (بے گناہ) مسلمانوں کا خون بہہ گیا وہ اسلام کی مشہورترین عورت ہوگئی. انہی سے احکام لئے جانے لگے. لیکن فاطمہ زہرا سیدہ نساء العالمین(ع) کہ جن کی ناراضگی سے خدا ناراض ہوتا ہے اور جن کی خوشنودی سے خدا راضی ہوتا ہے. وہ نسیا منسیا ہوگئیں. مخفیانہ طور پر رات میں دفن کی گئیں. جبکہ انہیں جلانے کی دھمکی دی گئی، بطن مبارک میں بچہ کو شہید کردیا گیا. اہلسنت میں سے ایک مسلمان بھی ان کی کسی ایک حدیث سے واقف نہیں ہے کہ جو انہوں نے اپنے پدر بزرگوار سے نقل کی ہے.

اسی طرح یزید ابن معاویہ اور زیاد انب ابیہہ، ابن مرجانہ، ابن مردان، اور حجاج اور ابن عاص وغیرہ جو قرآن اور نبی(ص) کی زبان میں فاسق و ملعون ہیں یہ سب امیرالمومنین اور مسلمانوں کے ذمہ دار بن گئے لیکن حسن(ع) و حسین(ع) سیدا شباب اہل الجنہ اس امت کے نبی(ص) کی اولاد، عترت رسول(ص) جو امت کے لئے باعث امان تھے انہیں قتل کیا گیا. قید میں ڈالا گیا، زہر دیا گیا.

اسی طرح ابو سفیان جیسے منافق کہ جو ہمیشہ رسول(ص) کے خلاف جنگ کی آگ بھڑکانے میں پیش پیش رہا اس کی شان میں قصیدے پڑھے جانے لگے. اس کا شکر ادا کیا جانے لگا، یہاں تک کہ یہ کہا جانے لگا کہ جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوگیا اس نے امان پائی، لیکن ابوطالب کہ جنہوں نے پوری عمر ہر طرح نبی(ص) کی حمایت و مدد کی اور حفاظت و پرورش کی، جو نبی(ص) کے مشن کی حمایت و مدد کی بنا پر اپنے خاندان والوں کی تک و تاژ کا نشانہ بنے رہے یہاں تک کہ نبی(ص) کے ساتھ تین سال تک شعب مکہ میں مقید رہے اور اسلام کی مصلحت کے پیش نظر


اپنا ایمان چھپائے رہے تاکہ قریش سے کچھ رسم و راہ باقی رہے اور وہ مسلمانوں کو تکلیف نہ پہونچائیں. ابوطالب(ع) کی مثال مومن آل فرعون کی سی ہے کہ جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھے. لیکن ان کی جزا جہنم کے شعلے بتائے کہ جہاں ان کے پاؤں جلا کر دماغ کو پگھلا دیا جائے گا. اسی طرح معاویہ ابن ابی سفیان طلیق ابن طلیق العین ابن اللعین، احکام خدا اور رسول(ص) کا مذاق اڑانے والا اسلام کی اہانت کرنے والا. اپنے مقصد کے حصور کے لئے نیکو کار لوگوں کو تہ تیغ کرتا ہے اور رسول(ص) پر کھلم کھلا لعنت کرتا ہے.(1) اس شخص کو کاتب وحی کہا جانے لگا ( آج بھی اہل سنت کہتے ہیں) کہ خدا نے اپنی وحی کا امین جیرئیل، محمد(ص) اور معاویہ کو قرار دیا ہے. یہاں تک کہ سیاسی اور صاحب حکمت و تدبیر بن گیا. لیکن ابوذر غفاری کہ جن سے زیادہ سچے انسان پر نہ آسمان نے سایہ کیا اور نہ زمین نے اٹھایا. وہ فتنہ پرور ہوگئے. انہیں زد و کوب کیا جاتا ہے اور ربذہ جلا وطن کردیا جاتا ہے. سلمان و مقداد اور عماء و حذیفہ بلکہ ہر مخلص صحابی کہ جو حضرت علی علیہ السلام سے محبت رکھتے تھے انہیں قتل کیا گیا ڈرایا گیا خوفزدہ کیا گیا.اسی طرح خلفاء کے پیروکار معاویہ کے حامی اور ظالم حکومت

____________________

1.اسی سلسلہ میں شاعر کہتا ہے:

عاندوا احمد(ص).. و عادوا علیا(ع) و تولوا منافقا و غویّاً

و اسرّوا سب النبی نفاقا حین سبّوا جهرا اخاه علیاً

انہوں نے" احمد(ص)" سے عناد اور علی(ع) سے عداوت کی اور منافق و گمراہوں سے محبت و دوستی کا رشتہ قائم کیا منافقانہ انداز سے نبی(ص) پر مخفی طور سے سب و شتم کیا جب کہ آپ(ص) کے بھائی علی(ع) پر کھلم کھلا لعنت کی.


لیکن ایجاد کردہ مذاہب کے پجاری اہلسنت والجماعت بن گئے حالانکہ انہوں نے اسلام کو تباہ کیا اور جس نے ان کی مخالفت کی اس کو کافر کے لقب سے نوازا، خواہ ائمہ اہلبیت طاہرین(ع) کا اتباع کرنے والا ہو.

لیکن مکتب اہلبیت(ع) کا اتباع کرنے والے باب مدینہ العلم کے پیروکار جو سب سے پہلے اسلام لائے، جس کے ساتھ ساتھ حق رہتا تھا، اور شیعیان اہلبیت(ع) ائمہ معصومین(ع) کی اقتدا کرنے والے بدعتی اور گمراہ ہوگئے. اور ان کی مخالفت کرنے والے ان سے جنگ و جدال کرنے والے مسلمان ٹھہرے.وَ لَا حَوْلَ‏ وَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ.

ارشاد ہے:

( وَ إِذا قِيلَ‏ لَهُمْ‏ لا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قالُوا إِنَّما نَحْنُ مُصْلِحُونَ* أَلا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَ لكِنْ لا يَشْعُرُونَ* وَ إِذا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَما آمَنَ النَّاسُ قالُوا أَ نُؤْمِنُ كَما آمَنَ السُّفَهاءُ أَلا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهاءُ وَ لكِنْ لا يَعْلَمُونَ ) بقرہ/ آیت/13

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ برپا کرو تو کہتے ہیں ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں حالانکہ یہ سب مفسد ہیں اور اپنے فساد کو سمجھتے بھی نہیں ہیں، جب ان سے کہا جاتا ہے کہ دوسرے مومنین کی طرح ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں کہ ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان اختیار کر لیں حالانکہ اصل میں یہی بیوقوف ہیں اور انہیں اس کی واقفیت بھی نہیں ہے.

اب ہم عائشہ سے رسول(ص) کی محبت کے موضوع کو چھیڑیں گے


کیونکہ انھوں نے رسول(ص) سے آدھا دین حاصل کیا تھا اور آپ خود فرمایا کرتے تھے کہ آدھا دین تم اس حمیرہ سے حاصل کرو. یہ حدیث باطل ہے اس کے صحیح ہونے کی کوئی بنیاد نہیں ہے. اور نہ ہی عائشہ کی بیان کردہ روایت مضحکہ خیز احکام کے بارے میں صحیح ہے. رسول اللہ(ص) ایسی حدیث بیان نہیں کرتے تھے. اس سلسلہ میں رضاعت کبیر والا مسئلہ ہمارے لئے کافی ہے. کہ جس کو خود عائشہ نے رسول(ص) سے نقل کیا ہے اور اس کو مسلم نے اپنی صحیح اور مالک نے اپنی موطا میں نقل کیا ہے. اس سلسلہ میں ہو اپنی کتاب" لاکون مع الصادقین" میں سیر حاصل بحث کرچکے ہیں. تفصیل بحث کو شائقین اسی میں ملاحظہ فرمائیں.

اس روایت شنیعہ کے بارے میں اتنا ہی کافی ہے کہ نبی(ص) کی تمام ازواج نے رضاعت کبیر پر عمل کرنے سے انکار کیا ہے اور اس حدیث کا انکار کیا ہے یہاں تک کہ اس روایت کا راوی بھی ایک سال تک اس روایت کو لفظی طور پر بیان کرنے سے ڈرتا رہا.

اور جب ہم صحیح بخاری کے باب" یقصر من الصلاة اذا خرج من موضعه" کے باب میں دیکھتے ہیں تو وہ زہری سے اور زہری نے عروہ سے اور عروہ عائشہ سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا کہ:

سب سے پہلے جو دو رکعت نماز فرض کی گئی اور پڑھی گئی وہ نماز سفر ہے، حالانکہ وطن میں پوری نماز پڑھی جاتی ہے، زہری کہتے ہیں : میں نے عروہ سے کہا کہ عائشہ کو کیا ہوگیا تھا کہ وہ پوری نماز پڑھتی تھیں؟ انھوں نے کہا کہ عثمان کی طرح انہوں نے بھی تاویل کر لی تھی.

مسلم نے اپنی صحیح کے باب" صلاة المسافرین و قصرها " میں


اور بخاری نے اس سے واضح عبارت میں زہری سے اور زہری نے عروہ سے اور عروہ نے عائشہ سے اس طرح نقل کیا ہے کہ:

سب سے پہلے جو دو رکعت نماز فرض کی گئی اور پڑھی گئی وہ نماز سفر ہے حالانکہ حضر میں نماز پوری ہے. زہری کہتے ہیں کہ میں نے عروہ سے کہا کہ عائشہ کو کیا ہوگیا کہ وہ سفر میں پوری نماز پڑھتی ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ عائشہ نے ایسے ہی تاویل کر لی جیسے عثمان نے کی تھی.

یہ تو واضح تناقض ہے کہ ایک مرتبہ عائشہ روایت کرتی ہیں کہ نماز مسافر دو رکعت فرض کی گئی ہے لیکن خدا کے حکم اور رسول(ص) کے عمل کی مخالفت کرتی ہیں اور عثمان کی سنت کو زندہ رکھنے کے لئے احکام خدا ورسول(ص) میں رد و بدل کردیتی ہیں. ایسے ہی اور بہت سے احکام اہلسنت کی صحاح میں نظر آتے ہیں لیکن وہ انہیں سمجھ نہیں پاتے ہیں کیونکہ وہ زیادہ تر ابوبکر وعمر کی تاویل اور عثمان و عائشہ اور معاویہ ابن ابی سفیان کی تاویل پر عمل کرتے ہیں.

پس جب حمیرا نے رسول(ص) نے نصف دین حاصل کیا اور جیسے چاہا احکام خدا میں تاویل کر لی تو میں سمجھتا ہوں کہ رسول(ص) ان سے قطعی راضی نہ ہونگے اور لوگوں کو ان کی اقتدا کا حکم نہ دیا ہوگا. صحیح بخاری اور اہلسنت کی دیگر صحاح میں ایسا اشارہ ملتا ہے کہ عائشہ کی اتباع میں خدا کی معصیت ہے.

لیک جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ رسول(ص) عائشہ سے اس لئے الفت رکھتے تھے کہ عائشہ سے نکاح کرنے سے قبل جبرئیل ان (عائشہ) کی صورت میں آنحضرت(ص) کے پاس آئے اور نکاح کے بعد اسی وقت نازل ہوتے تھے جب رسول(ص) عائشہ کے گھر میں تشریف فرما ہوتے تھے. یہ ایسی روایات ہیں جنہیں سن کر


دیوانوں کو بھی ہنسی آجائے. میں نہیں جانتا کہ جس صورت میں جبرئیل نازل ہوتے تھے وہ فوٹو گرافی والی صورت تھی یا لکڑی کا مجسمہ تھا. اس لئے کہ اہلسنت اپنی صحاح میں روایت کرتے ہیں کہ ابوبکر نے عائشہ کو خرموں کا طبق دے کر آنحضرت(ص) کی خدمت میں بھیجا تا کہ نبی(ص) انہیں دیکھ لیں کیونکہ ابوبکر نے رسول(ص) سے یہ خواہش کی تھی کہ آپ میری بیٹی سے نکاح کر لیجئے، کیا وہاں کوئی ایسا داعی تھا کہ جس کی بنا پر جبرئیل عائشہ کی صورت میں نازل ہوتے جبکہ عائشہ آپ(ص) کے گھر سے چند میٹر کے فاصلے پر ہی رہتی تھیں. میرا عقیدہ ہے کہ ماریہ قبطیہ کی صورت میں جبرئیل کو نازل ہونا چاہئیے تھا. کیونکہ وہ رسول(ص) سے دور مصر میں رہتی تھیں اور کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ آجائیں گی، وہ اس بات کی زیادہ مستحق تھیں کہ جبرئیل ان کی صورت میں رسول(ص) کے پاس آئیں اور ان سے پیدا ہونے والے ابراہیم کی بشارت دیں.

لیکن یہ روایات سب تو عائشہ کی گڑھی ہوئی ہیں کہ جن کے پاس اپنی سوتنوں پر فخر کرنے کے لئے کوئی چیز نہ تھی مگر یہی خیالی واقعات اور داستان، یا یہ روایات بنی امیہ نے عائشہ سے گڑھوائیں تا کہ ان کے ذریعہ سادہ لوح لوگوں میں عائشہ کی فضیلت کا بول بالا کیا جائے.

اور یہ بات کہ جبرئیل محمد(ص) کے پاس اسی وقت تشریف لاتے تھے جب آپ(ص) عائشہ کے گھر میں آرام فرما ہوتے تھے تو یہ پہلی بات سے بھی قبیح اور نفرت آور ہے. اور یہ بات قرآن کریم سے آشکار ہے کہ جب انہوں (عائشہ) نے رسول(ص) کے خلاف منصوبہ بنایا تو خدا نے انہیں تہدید کی اور اسی طرح انہیں جبرئیل اور صالح مومنین اور ملائکہ کے ذریعہ ڈرایا.

پس ہمارے علماء اور بزرگوں کے اقوال خیالی اپج ہیں اور ظن حق کے سلسلہ میں ذرہ برابر فائدہ نہیں پہونچاتا ہے.


ان سے کہہ دیجئے کہ تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو ہمیں بھی بتاؤ تم تو صرف خیالات کا اتباع کرتے ہو اور اندازوں کی باتیں کرتے ہو.

عائشہ نبی(ص) کے بعد

جب ہم نبی(ص) کی وفات کے بعد ام المومنین عائشہ بنت ابوبکر کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں، جب ان کے لئے کھلی فضا تھی اور جب ان کے والد ابوبکر امت اسلام کے خلیفہ اور رئیس بن گئے تھے اور عائشہ کو اسلامی حکومت میں بے پناہ عظمت ملی تھی کیونکہ رسول(ص) ان کے شوہر اور والد رسول(ص) کے خلیفہ تھے.

یا جیسا کہ خود ان کا گمان ہے یا جیسا کہ انہیں یہ توہّم ہوگیا تھا کہ وہ ازواج نبی(ص) میں سب سے افضل ہیں اور یہ افضلیت کسی خاص چیز کی بنا پر نہیں بلکہ صرف اس بات کی بنا پر کہ رسول(ص) نے ان سے حالت بکر میں نکاح کیا تھا. ( معاذ اللہ) ان کے علاوہ رسول(ص) کو اور کوئی عورت باکرہ نہیں ملی تھی اور جب رسول(ص) نے داغِ جدائی دیا تو اس وقت یہ پورے شباب پر تھیں. رسول(ص) کی وفات کے وقت عائشہ کی عمر زیادہ سے زیادہ اٹھارہ سال تھی اس طرح وہ آنحضرت(ص) کے ساتھ چھ یا آٹھ سال رہیں، ابتدائی چند سال تو بیچگانہ کھیل کود میں گذرے حالانکہ اس وقت وہ رسول(ص) کی زوجیت میں، اور جیسا کہ رسول(ص) کی کنیز بریرہ نے عائشہ کے بارے میں کہا" یہ کمسن تھیں اور آٹا گوندھتے گوندھتے سوجایا کرتی تھیں. کتا آتا تھا اور آٹا کھاجاتا تھا."

ہاں اٹھارہ سال میں لڑکی جو ان بالغ ہوجاتی ہے جیسا کہ آجکل


کہا جاتا ہے. اور انہوں نے اپنی نصف عمر رسول(ص) اور اپنی دسیوں سوتنوں کے ساتھ گذاری اور بھی عورتیں تھیں جن کا تذکرہ ہم حیات عائشہ کے ذیل میں نہیں کرسکتے ہیں ان پر وہ اپنی سوتن سے بھی زیادہ غضبناک رہتی تھیں، کیونکہ رسول(ص) ان سے بے پناہ محبت فرماتے تھے اور ہیں جناب فاطمہ(ع) زہرا بنت رسول(ص) جن کی مادر گرامی خدیجہ ہیں. آپ جانتے ہیں خدیجہ کون ہیں؟ وہ صدیقہ کبری ہیں کہ جن پر جبرئیل نے سلام بھیجا اور انہیں یہ بشارت دی کہ جنت میں تمہارا ایسا مکان ہے جہاں کوئی شور و غل نہیں ہے.(1)

رسول(ص) خدیجہ کے سلسلہ میں کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے.

اور جب آپ خدیجہ کا ذکر فرماتے تو رشک و حسد سے عائشہ کا جگر پاش پاش ہوجاتا. اور دل جلنے لگتا، آپے سے باہر ہوجاتی اور خدیجہ کی شان میں دل کھول کرگستاخی کرتیں اور اپنے شوہر کے جذبات کی کوئی پروا نہ کرتی. خدیجہ کے بارے میں آپ نے عائشہ ہی سے بخاری، احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کی ہے کہ:

عائشہ کہتی ہیں کہ مجھے رسول(ص) کی کسی زوجہ پر اتنا رشک و حسد ہیں ہوا جتنا خدیجہ پر ہوا ہے.(2)

____________________

1.صحیح بخاری جلد/4 ص231 صحیح مسلم باب فضائل ام المومنین خدیجہ جلد/7 ص132


کیونکہ رسول(ص) اکثر ان کا تذکرہ اور تعریف کیا کرتے تھے. میں نے کہا کیا آپ قریش کی بڑھیا کا تذکرہ کیا کرتے ہیں جس کے گالوں میں جھریاں پڑگئی تھیں... مرگئی، خدا نے آپ کو اس سے بہتر عطا کی ہے. عائشہ کہتی ہیں کہ میری اس بات سے رسول(ص) کے چہرہ کا رنگ ایسا متغیر ہوگیا کہ اس قبل میں نے کبھی آپ کی یہ حالت نہیں دیکھی تھی، ہاں جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپ کے چہرہ پر ایسے اثرات نمودار ہوتے تھے، اور آپ نے فرمایا: خدا نے مجھے اس سے بہتر عطا نہیں کی ہے. وہ مجھ پر اس وقت ایمان لائی جب لوگ کافر تھے. اس نے اس وقت میری تصدیق کی جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا تھا. اس نے اپنا مال اس وقت میرے سپرد کیا جب لوگوں نے مجھے محروم کر رکھا تھا. خدا نے اس کے بطن سے مجھے اس وقت اولاد نرینہ عطا کی جب میری کسی بیوی سے کوئی اولاد نہ تھی.

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ رسول(ص) کی اس تردید سے اس شخص کا دعوی باطل ہو جاتا ہے کہ جو یہ کہتا ہے کہ عائشہ ازواج نبی(ص) میں افضل اور نبی(ص) کی چہیتی زوجہ تھیں اور یہ تاکید بھی ہوتی ہے کہ جدیجہ کی طرف سے عائشہ کے رشک و حسد میں اس وقت اور زیادہ شدت آگئی تھی جب رسول(ص) نے سرزنش کرتے ہوئے پھٹکارا اور عائشہ کو خبردار کیا کہ خدا نے مجھے خدیجہ سے اچھی زوجہ نہیں دی ہے. ایک جگہ رسول(ص) ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ وہ ہوس پرست نہیں ہیں اور خوبصورتی و بکارت کو بھی پسند نہیں کرتے ہیں، کیونکہ آنحضرت(ص) سے قبل خدیجہ دو شادیاں کرچکیں تھیں اور آپ(ص) سے پچیس(25) سال بڑی تھیں. اس کے باوجود رسول(ص) انہیں دوست رکھتے ہیں. اور ان کا ذکر کرتے ہیں تھکتے ہیں. میری جان کی قسم نبی(ص) کا یہ اخلاق تھا کہ وہ خدا کے لئے دوست رکھتے تھے اور خدا کے لئے بغض رکھتے تھے. اور پھر حقیقی روایات اور اس گڑھی ہوئی روایت میں واضح فرق ہے کہ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول(ص)


عائشہ سے زیادہ لگاؤ رکھتے تھے یہاں تک کہ آپ کی دیگر ازواج نے ایک مرتبہ ایک عورت کو آپ کی خدمت میں بھیجا اور کہلوایا کہ بنت قحافہ کے بارے میں عدل سے کام لیں.

کیا ہم ام المومنین عائشہ سے یہ سوال کرسکتے ہیں کہ آپ نے اپنی زندگی میں ایک مرتبہ بھی سیدہ خدیجہ کو نہیں دیکھا اور نہ ان سے ملاقات کی تو آپ انہیں عجوزہ حمراء الشدقین کیسے کہتی ہیں؟ کیا ایک عام مومنہ کا یہی اخلاق ہوتا ہے کہ جس پر غیر کی غیبت کرنا حرام ہے. جبکہ وہ زندہ ہو تو اس میت کے بارے میں آپ کے کیا خیالات ہونے چاہئیے جو اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پہونچ گئی ہے. اس زوجہ رسول(ص) کی غیبت میں تمہارا کیا کردار ہونا چائیے جس کے گھر میں جبرئیل نازل ہوتے تھے اور جسے جبرئیل نے جنت میں ایسے قصر کی بشارت دی تھی کہ جس میں کوئی شور و ہنگامہ نہیں ہے.(1)

اور تاکید کے ساتھ یہ عرض ہے کہ جو بغض و حسد عائشہ کے دل میں خدیجہ کی طرف سے موجیں مار رہا تھا اسے نکالنا چاہئیے تھا ورنہ دل پھٹ جاتا عائشہ کو فاطمہ(ع) بنت خدیجہ کے علاوہ اور کوئی نہ ملا وہ یا انہیں کی ہم عمر تھیں راویوں کے اختلاف کی رو سے کچھ بڑی تھیں.

اور یہ بات بھی تاکیدا عرض ہے کہ رسول(ص) کو خدیجہ سے گہری محبت تھی وہی ان کی اکلوتی بیٹی فاطمہ زہرا(ع) سے بھی تھی فقط فاطمہ(ع) ہی اپنے پدر بزرگوار کے ساتھ رہیں.

عائشہ کے حسد میں اس وقت اور اضافہ ہو جاتا تھا جب وہ (رسول(ص))

____________________

صحیح بخاری جلد/4 ص231، صحیح مسلم. باب فضل خدیجہ ام المؤمنین


فاطمہ(ع) کی تعظیم کرتے اور ان کو سیدہ نساء اہل الجنة کہتے سنتی تھیں.(1) پھر خدا نے ان کے بطن سے حسن(ع) و حسین(ع) سیدا شباب اہل الجنة مرحمت کئے. پھر عائشہ دیکھتی تھیں کہ رسول(ص) فاطمہ(ع) کے گھر تشریف لے جاتے اور وہاں نواسوں کی تربیت میں راتوں کو جاگتے گذارتے دیکھتی تھیں اور رسول(ص) فرماتے: میرے دونوں بیٹے اس امت کے پھول ہیں اور ان دونوں کو دوش مبارک پر سوار کرتے تو عائشہ کے حسد میں اس سے اور اضافہ ہو جاتا کیونکہ وہ بانجھ تھیں، اور اس حسد میں اس وقت اور اضافہ ہوجاتا جب ابوالحسنین(ع) فاطمہ(ع) کے شوہر بھی شامل ہو جاتے اس حسد کا کوئی خاص سبب نہیں تھا صرف رسول(ص) ان سے بہت زیادہ محبت فرماتے تھے، یا عائشہ کے والد پر رسول(ص) علی(ع) کو ہر موڑ پر مقدم رکھتے تھے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عائشہ ان باتوں کو دیکھتی تھیں. وہ یہ بھی دیکھتی تھیں کہ ابن ابی طالب(ع) ہر موڑ پر ان کے والد سے بازی لے جاتے ہیں عائشہ ہمیشہ اپنے والد کو رسول(ص) کی محبت کا مرکز بنانا چاہتی تھیں اور انہیں سب پر فوقیت دلانا چاہتی تھیں وہ جانتی تھیں کہ میرے باپ جنگ خیبر سے اپنے لشکر کو لے کر ناکام واپس لوٹے ہیں اور رسول(ص) نے رنجیدہ ہو کر فرمایا ہے کہ کل میں اس شخص کو علم دونگا جو اللہ اور اس کے رسول(ص) کو دوست رکھتا ہے اور خدا و رسول(ص) اسے دوست رکھتے ہیں جو بڑھ بڑھ کر حملہ کرنے والا ے فراری نہیں ہے. اور وہ فاطمہ(ع) کے شوہر علی ابن ابی طالب(ع) کی ذات ہے. پھر علی(ع) خیبر فتح کر کے اور صفیہ بنت حیی کو لے کر واپس آتے ہیں اور رسول(ص) صفیہ سے نکاح کر لیتے ہیں جس سے عائشہ کے دل کو سخت صدمہ پہونچتا ہے. آپ جانتے ہیں رسول(ص) نے عائشہ کے والد ابوبکر کو سورہ برائت دیا تھا اور حاجیوں میں تبلیغ کے لئے بھیجا تھا لیکن بعد میں علی(ع) ابن ابی طالب کو بھیجا اور آپ نے

____________________

1.صحیح بخاری جلد/4 ص209 و جلد/ 7 ص143


ابوبکر سے سورہ برائت لے لیا ان کے والد روتے ہوئے واپس آئے اور رسول(ص) سے اس کا سبب دریافت کیا تو رسول(ص) نے انہیں جواب دیا کہ: خدا نے مجھے حکم دیا ہے میرے پیغام کو تم یا تمہارے اہلبیت(ع) ہی میں سے کوئی پہونچا سکتا ہے.آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ رسول(ص) نے اپنے ابن عم علی(ع) کو اپنے بعد مسلمانوں کا خلیفہ مقرر کیا. اور صحابہ و ازواج حضرت علی(ع) کی خدمت میں مبارکبادی کے لئے پس سب سے پہلے ان کے والد ہی یہ کہتے ہوئے پہونچے"بخ‏ بخ‏ لك‏ يا ابن ابی طالب، أصبحت و امسیت مولى كلّ مؤمن و مؤمنة" ( اے ابن ابی طالب مبارک ہو آپ ہر مومن و مومنہ کے مولی ہوگئے.)آپ کو معلوم ہے کہ رسول(ص) نے ابوبکر کو ایک سترہ(17) سالہ جوان کی قیادت میں سفر کرنے اور نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا. جس کے داڑھی بھی نہیں آئی تھی.اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عائشہ ان حالات سے بہت متاثر تھیں، اس لئے کہ ان کے دل میں باپ کا ڈر تھا اور باپ کے لئے خلافت کی امنگ تھی. اور قریش کےرؤساء کے درمیان ہونے والی سازش میں شریک تھیں اسی وجہ سے فاطمہ(ع) اور علی(ع) کی طرف سے بغض میں اضافہ ہوگیا تھا. اور پوری کوشش اس بات پر صرف کر رہی تھیں کہ جس طرح بھی ممکن ہو ایسی راہ ہموار کی جائے حو ان کے باپ کے حق میں مفید ہو اور ہم نے دیکھا کہ کس طرح انھوں نے رسول(ص) کی جانب سے اپنے باپ کے پاس پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز جماعت پڑھا دیں، جب ان کو یہ معلوم ہوگیا تھا کہ رسول(ص) نے اس ذمہ­داری کو سنبھالنے کو لئے پیغام بھیجا ہے، اور جب رسول(ص) اسلام کو اس سازش کی خبر ملی تو آپ(ص) نکلنے کے لئے بے چین ہوگئے اور آپ نے ابوبکر کو ان کی جگہ سے ہٹا دیا. اور خود لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی اور عائشہ سے غصہ کے عالم میں کہا کہ یوسف کےساتھ بھی تمہاری جیسی عورتیں تھیں( اس سے یہ مراد ہے کہ اس کی سازشیں غلط تھیں)


اس مسئلہ میں جس کو عائشہ نے مختلف انداز سے روایت کیا ہے اگر کوئی غور و فکر کرے تو اس میں واضح تضاد نظر آئے گا. اس لئے کہ رسول اللہ(ص) نے اس واقعہ سے تین سال پہلے ان کے باپ کو لشکر میں شامل ہونے کو کہا تھا. اور حکم دیا تھا کہ اسامہ بن زید کی قیادت میں وہ چلے جائیں اور یہ سب جانتے ہیں کہ لشکر کا سردار امام جماعت ہوتا ہے. تو ابن زید اس لشکر میں ابوبکر کے امام تھے. جب عائشہ نے اپنے باپ کی توہیں کا احساس کیا اور اس میں رسول(ص) کے مقصد کو سمجھ لیا اور یہ جان لیا کہ رسول(ص) نے اس لشکر میں علی(ع) کو نہیں بھیجا کہ جس میں انصار و مہاجر میں قریش کے رؤسا شامل ہیں اور اکثر اصحاب کی طرح یہ بھی جان لیا کہ رسول(ص) چند دن کے مہمان ہیں اور شاید وہ عمر کی اس رائے سے موافق تھیں کہ جو اس نے کہا تھا کہ( معاذ اللہ) رسول(ص) کو ہذیان ہوگیا ہے. اور وہ نہیں جانتے کہ کیا کررہے ہیں اور ان کی قاتل غیرت سے انہیں اس بات پر اکسایا کہ وہ علی(ع) کے مقابلے میں اپنے باپ کی قدر و منزلت کو بڑھانے کے لئے جو بن پڑے وہ کر گزرے. اور اسی کام کے لئے انہوں نے اس بات کا انکار کیا کہ رسول(ص) اسلام نے علی(ع) کے لئے وصیت فرمائی ہے اور اسی لئے انہوں نے یہ کوشش کی کہ ضعیف العقل انسانوں کو یہ باور کرادیا جائے کہ رسول(ص) کو انہیں کے حجرے میں موت آئی ہے. لہذا ایک حدیث گڑھ لی کہ رسول اللہ(ص) نے مرض کے عالم میں عائشہ سے فرمایا کہ: اپنے بھائی اور باپ کو بلاؤ میں ان کے لئے ایک کتبہ لکھ دوں. ممکن ہے کہ عنقریب کوئی دعویدار پیدا ہوجائے اور اللہ اور رسول اللہ(ص) اور مومنوں نے سوائے ابوبکر کے سب کو منع کیا ہے. کیا کوئی ہے کہ جو عائشہ سے پوچھے: کہ کس چیز نے ان لوگوں کو بلانے سے روکا؟


علی(ع) کے خلاف عائشہ کا موقف

حضرت علی علیہ السلام کے خلاف عائشہ کے موقف میں ایک محقق کو عجیب و غریب بات ملے گی جس کے معنی صرف اہلبیت(ع) نبی(ص) سے عداوت و دشمنی کے علاوہ اور کچھ نہیں نکلتے. تاریخ نے حضرت علی(ع) ایسے بے نظیر انسان سے عائشہ کے بغض و نفرت کو محفوظ کیا ہے. ان کا بغض و حسد اس حد تک پہونچ گیا تھا کہ وہ آپ کے نام لینے کو بھی برداشت نہیں کرتی تھیں.(1) اور ایک آنکھ دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتی تھیں. جب عائشہ نے قتل عثمان کے بعد سنا کہ لوگوں نے حضرت علی(ع) کو ہاتھ پر بیعت کرلی ہے تو کہتی ہیں مجھے آسمان کا زمین پر گر پڑنا گوارا تھا لیکن علی(ع) کا خلیفہ بننا گوارا نہیں ہے. ان کو خلافت سے الگ کرنے کے لئے اپنی پوری کوشش کی اور آپ سے جنگ کے لئے بڑا لشکر جمع کر لیا. اور جب حضرت علی(ع) کو شہادت کی خبر سنی تو سجدہ شکر ادا کیا.کیا آپ کو میرے ساتھ ساتھ اہلسنت والجماعت پر تعجب نہیں ہوتا کہ جو اپنی صحاح میں روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول(ص) نے فرمایا:اے علی آپ سے وہی محبت رکھے گا جو مومن ہوگا اور وہی دشمنی رکھے گا جو منافق ہوگا.(2)

اور کبھی صحاح و مسانید اور تواریخ میں تحریر کرتے ہیں کہ عائشہ

____________________

1.صحیح بخاری جلد/1ص163، و جلد/3 ص153 و جلد/5 ص140

2.صحیح مسلم ج/1 ص61، صحیح ترمذی جلد/5 ص306، سنن نسائی جلد/8 ص116


امام علی(ع) سے بغض رکھتی تھیں وہ آپ کے نام کو بھی سننا پسند نہیں کرتی تھیں کیا یہ بات عورت کی ماہیت پر ان لوگوں کی طرف سے گواہی نہیں ہے؟

اسی طرح بخاری اپنی صحیح میں روایت کرتے ہیں کہ رسول(ص) نے فرمایا:

فاطمہ(ع) میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا اور جس نے مجھے غضبناک کیا اس خدا کو غضبناک کیا.(1)

پھر یہی بخاری روایت کرتے ہیں کہ فاطمہ(ع) دنیا سے کوچ کرگئیں حالانکہ وہ ابوبکر سے ناراض تھیں اور مرتے دم تک ان سے کلام نہیں کیا.(2) کیا ان کی تمام عقلا سمجھتے ہیں اسی لئے تو میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ حق اس وقت آشکار ہوتا ہے جب باطل پرست اسے چھپانا چاہتے ہیں. امویوں کے انصار و مددگاروں نے جھوٹی حدیثیں گڑھی ہیں.بے شک قرآن کے روز نزول سے قیامت تک لوگوں پر خدا کی حجت قائم رہے گی والحمد للہ رب العالمین.امام احمد ابن حنبل نے بیان کیا ہے کہ ابوبکر ایک مرتبہ رسول(ص) کے پاس آئے اور باریاب ہونے کی اجازت طلب کی لیکن داخل ہونے سے قبل عائشہ کے چیخنے کی آواز سنی کہ جو نبی(ص) سے کہہ ہی تھیں خدا کی قسم میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ آپ علی(ع) کو مجھ سے اور میرے والد سے زیادہ چاہتے ہیں. یہی کلمات عائشہ نے

____________________

1.بخاری جلد/4 ص210

2.صحیح بخاری جلد/5 ص82 وجلد/8 ص3


تین مرتبہ دہرائے.(1)

حضرت علی(ع) سے عائشہ کو اس قدر بغض تھا کہ علی(ع) کو نبی(ص) کے پاس ایک منٹ بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھیں اور نبی(ص) سے دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکیں.

ابن ابی الحدید معتزلی شرح نہج البلاغہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

ایک روز رسول(ص) نے حضرت علی(ع) کو ( اپنے) قریب بلایا آپ(ع) تشریف لائے اور آپ(ع) عائشہ کے درمیان بیٹھ گئے تو عائشہ نے کہا(علی(ع)) تمہیں میرے پہلو ہی میں بیٹھنے کی جگہ ملی ہے.

یہی معتزلی روایت کرتے ہیں کہ: ایک روز رسول(ص) اور حضرت علی(ع) باہم گفتگو کرتے ہوئے چلے جارہے تھے باتوں کا سلسلہ طویل ہوگیا تو عائشہ آئیں جب کہ وہ پیچھے پیچھے آرہی تھیں اور آپ دونوں کے درمیان حائل ہو کر کہنے لگیں: تم دونوں بہت دیر بات کر چکے. عائشہ کی اس حرکت پر رسول(ص) کو بہت غصہ آیا.(2)

ایک مرتبہ روایت کرتے ہیں کہ: ایک مرتبہ عائشہ رسول(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئیں دیکھا کہ آپ حضرت علی(ع) سے رازدارانہ گفتگو فرمارہے ہیں. یہ کیفیت دیکھ کر عائشہ چیخ پڑیں اور کہا اے ابن ابی طالب(ع) آخر تم میرے درپے کیوں ہو؟

____________________

1.مسند احمد ابن حنبل جلد/4 ص245

2.شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد/9 ص195


مجھے رسول(ص) کے ساتھ رہنے کا ایک وقت ملتا ہے... عائشہ کی یہ بات سن کر رسول(ص) غضبناک ہوئے.

عائشہ نے اپنے حسد اور سخت مزاجی و نوک زبان کی بنا پر رسول(ص) کو کتنی ہی مرتبہ غضبناک کیا.

کیا رسول(ص) اس مومن یا مومنہ سے خوش ہوں گے جس کا دل آپ کے ابن عم، آپ کی عترت کے سردار کی دشمنی سے لبریز ہو کہ جس کے بارے میں آپ فرماچکے ہیں کہ وہ خدا و رسول(ص) کو دوست رکھتا ہے اور خدا و رسول(ص) اسے دوست رکھتے ہیں.(1) جس کے بارے میں یہ فرماچکے ہوں کہ جو علی(ع) کو دوست رکھتا ہے وہ مجھے دوست رکھتا ہے(1) اور جس نے علی(ع) کو غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا اور جس نے مجھے غضبناک کیا اس نے خدا کو غضبناک کیا.(2)

اپنے گھروں میں رہو....

خداوند عالم نبی(ص) کو ازواج کو ان کے گھروں میں رہنے کا حکم دیتا ہے. اجنبی لوگوں کی نمائش کے لئے گھروں سے نکلنے کو منع کرتا ہے انہیں قرآن پڑھنے، نماز قائم کرنے، زکواۃ کی ادائیگی اور خدا ورسول(ص) کی اطاعت کا حکم دیتا ہے.نبی(ص) کی ازواج نے اس پر عمل کیا. تمام ازواج نے خدا و رسول(ص) کے حکم کی اطاعت کی، رسول(ص) نے اپنی وفات سے قبل اپنی ازواج کو اس طرح ڈرایا

____________________

1.بخاری و مسلم، فضائل علی(ع) ابن ابی طالب جلد/7 ص130

2-مستدرک حاکم جلد/3 ص130 حاکم نے بخاری و مسلم کی شرط پر اسے صحیح تسلیم کیا ہے.


کہ تم میں سے ایک اونٹ پر سوار ہوگی اور اس پر حواب کے کتے بھونکیں گے. عائشہ کے علاوہ اس پر سب نے عمل کیا. لیکن عائشہ نے ہر ایک کی مخالفت کی اور انھوں نے تمام تحذیرات کا ٹھٹھا کیا. مورخین نے تحریر کیا ہے. حفصہ بنت عمر بھی عائشہ کے ساتھ خروج کرنا چاہتی تھیں. لیکن ان کے بھائی عبداللہ نے انھیں روکا اور آیت سنائی تو انھوں نے اپنا ارادہ بدل دیا اور نہیں گئیں. لیکن عائشہ اونٹ پر سوار ہو کر چلیں اور ان پر جواب کے کتے بھونکے.

طہ حسین اپنی کتاب الفتنہ الکبری میں تحریر فرماتے ہیں کہ عائشہ ایک چشمہ کی طرف سے گذریں تو وہاں کے کتے ان پر بھونکنے لگے تو عائشہ نے اس جگہ کے بارے میں معلوم کیا ان سے بتایا گیا کہ اسے حواب کہتے ہیں یہ سن کر عائشہ بہت گھبرائیں اور کہا مجھے واپس لے چلو، میں نے رسول(ص) سے یہ فرماتے سنا ہے کہ تم میں سے کسی پر حواب کے کتے بھونکیں گے. یہ حالت دیکھ کر عبداللہ ابن زبیر آئے اور انہیں اس ارادہ سے باز رکھا اور بنی عامر کے چالیس افراد سے یہ جھوٹی گواہی دلوائی کہ یہ حواب نہیں ہے.

میرا تو عقیدہ یہ ہے کہ عائشہ کی ( بے جا فضیلت والی) حدیثیں بنی امیہ کے زمانہ اس لئے وضع کی گئیں ہیں تاکہ ان کی معصیتوں کو بلکا کیا جاسکے ان کا گمان ہے کہ عبداللہ بن زبیر نے عائشہ کو اس طرح فریب دیا کہ چالیس آدمیوں ان کے سامنے خدا کی قسم کھلوا کر کہلوا دیا کہ یہ حواب نہیں ہے. لہذا عائشہ معذور ہیں. وہ ناقص العقل اور لاغر ہیں. وہ چاہتے ہیں کہ اس طرح کم عقل لوگوں کو اس قسم کی روایات کے بارے میں نرم کر لیں اور انہیں یہ بات باور کرادیں کہ جب عائشہ حواب کے پاس سے گذریں اور انہوں نے کتوں کی آواز سنی تو اس جگہ کے بارے میں معلوم کیا اور بتایا گیا کہ یہ حواب ہے تو وہ بہت گھبرائیں اور کہا


مجھے واپس لے چلو. جن احمق لوگوں نے معصیت خدا کے سلسلہ میں عائشہ کے عذر کے لئے یہ روایت تراشی اور وہ حکم خدا یہ ہے کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں یا وہ چاہتے ہیں کہ عائشہ نے جو حکم رسول(ص) کی مخالفت کی ہے اس کے لئے عذر تراش لیں حکم رسول(ص) یہ تھا کہ گھروں میں رہنا واجب ہے اور اونٹ پر سوار ہونا یہ قضیہ دریائے حواب پر پہونچنے سے پہلے اور کتوں کے بھونکنے سے پہلے کا ہے.

کیا اہل سنت کو ام المومنین عائشہ کے لئے کوئی عذر مل سکتا ہے کہ انہوں نے ام المومنین ام سلمہ کی نصیحت پر عمل نہیں کیا تھا جس کو مورخین نے اس طرح نقل کیا ہے:

جب ام سلمہ نے عائشہ سے کہا کہ میں تمہیں اس دن کا واقعہ یاد دلاتی ہوں جب رسول(ص) آگے آگے چلے جارہے تھے اور ہم بھی ان کے ہمراہ تھے کہ ایک مرتبہ رسول(ص) ٹاٹ کے ٹکڑے پر بیٹھ گئے اور حضرت علی(ع) سے تنہائی میں گفتگو کرنے لگے اور گفتگو کا سلسلہ طویل ہوگیا تو تم نے ان پر ہجوم کرنا چاہا تو میں نے تمہیں اس سے روکا لیکن تم اس سے باز نہ آئیں اور ان کے پاس پہونچ گئیں تو تھوڑی دیر بعد روتی ہوئی واپس آئیں تو میں نے کہا کہ کیا ہوا؟ تم نے کہا جب میں ان کے پاس پہونچی تو وہ رازدارانہ باتیں کر رہے تھے، میں نے علی(ع) سے کہا مجھے ہفتے میں رسول(ص) کے ساتھ رہنے کے لئے ایک دن ملتا ہے اور آج میری باری ہے، اے ابن ابی طالب رسول(ص) کو چھوڑ دو. پس رسول(ص) میری طرف بڑھے حالانکہ غیظ سے آپ کا چہرہ سرخ تھا. کہا پچھلے پاؤں چلی جاؤ. خدا کی قسم جو بھی انہیں غضبناک کرتا ہے وہ


دائرہ ایمان سے خارج ہوجاتا ہے. میں شرمندہ ہو کر لوٹ آئی پھر عائشہ کہتی ہیں ہاں مجھے یاد ہے.

ام سلمہ کہتی ہیں آج میں تمہیں وہ واقعہ یاد دلاتی ہوں جب میں اور تم رسول(ص) کی خدمت میں تھیں تو رسول(ص) نے فرمایا تھا. تم میں سے کوئی اونٹ پر سوار ہوگی جس پر حواب کے کتے بھونکیں گے. وہ صراط مستقیم سے منحرف ہوگی. ہم نے کہا اس سے ہم خدا و رسول(ص) کی پناہ چاہتے ہیں. تو رسول(ص) نے تمہاری پشت پر ہاتھ مار کر فرمایا: اے حمیرا کہیں وہ عورت تم ہی نہ ہو.

عائشہ نے کہا: ہاں مجھے یاد ہے پھر ام سلمہ نے کہا تمہیں کیا وہ واقعہ بھی یاد ہے؟

جب تمہارے والد ابوبکر اور عمر آئے اور ہم دونوں پردے کے پیچھے کھڑی ہوگئی تھیں اور وہ جس ارادہ سے آئے تھے وہ بات شروع کی یہاں تک کہ ان دونوں نے کہا کہ یا رسول اللہ(ص) ہم نہیں جانتے کہ کب تک آپ کے شرف سے فیض یاب ہیں اگر آپ ہمیں یہ بتاتے جائیں کہ آپ کے بعد کون خلیفہ ہوگا تو ہمارے لئے آسانی ہوجاتی تو آپ(ص) نے ان دونوں سے فرمایا:

"مجھے معلوم ہے اس کا حقدار کون ہے لیکن اگر میں تمہیں بتادوں تو تم ضرور اس سے اسی طرح جدا ہوجاؤ گے جس طرح بنی اسرائیل نے ہارون سے جدائی اختیار کر لی تھی"

وہ دونوں خاموش رہے اور پھر اٹھ کر چلے گئے. ان کے جانے کے بعد ہم رسول(ص) کی خدمت میں پہونچے اور میں نے


عرض کی آپ کا ہم پر ایک سو ایک حق ہے، یا رسول اللہ(ص) آپ کی امت کا خلیفہ کون ہوگا؟ آپ(ص) نے فرمایا: جو جوتی ٹانک رہا ہے ہم آپ(ص) کے پاس آئے تو دیکھا علی(ع) ہیں تو تم نے کہا: یا رسول اللہ(ص) ہم نے صرف علی(ع) کو دیکھا ہے آپ(ص) نے فرمایا وہی ہیں"

عائشہ کہتی ہیں: ہاں مجھے یاد ہے، اب ام سلمہ نے ان سے کہا: اے عائشہ ان تمام باتوں کے باوجود تمہیں کون سی چیز خروج پر مجبور کر رہی ہے؟ عائشہ نے کہا: میں لوگوں کی اصلاح کے لئے نکل رہی ہوں.(1)

پس ام سلمہ نے انہیں سخت انداز میں خروج سے منع کیا اور ان سے کہا:

اسلام کا ستون قائم ہے اسے عورتیں صدمہ نہیں پہونچا سکتیں اور اگر اس میں رخنہ پیدا ہو جائے تو عورتیں اسے صحیح نہیں کرسکتیں ایسے معاملات میں عورت کی انتہائی کوشش چشم پوشی اور اپنی عزت و آبرو کی حفاظت ہونا چاہئے اسی طرح عائشہ نے بہت سے مخلص صحابہ کی بھی نصیحتیں نہیں سنیں. طبری نے اپنی تاریخ میں جاریہ ابن قدامہ سعدی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے عائشہ سے کہا:

اے ام المومنین، قسم خدا کی قتل عثمان ابن عفان آپ کے گھر سے نکلنے اور اونٹ پر سوار ہونے سے زیادہ سنگین نہیں ہے، اس لئے کہ خدا نے آپ پر پردہ واجب کیا ہے اور

____________________

1.شرح ابن ابی الحدید، جلد/2 ص77


عزت بخشی ہے لیکن آپ نے پردہ کو پس پشت ڈال دیا ہے اورعزت کو خاک میں ملادیا، جو تمہاری جنگ و قتال دیکھ رہا ہے وہ تمہارا قتل ہونا بھی دیکھے گا اگر آپ اپنی رضا سے آئی ہیں تو واپس لوٹ جائیں. اور اگر جبرا لائی گئی ہیں تو لوگوں سے مدد طلب کیجئے.(1)

کمانڈر ام المومنین

مورخین نے لکھا ہے کہ کل اور کی باگ ڈور عائشہ کے ہاتھ میں تھی جس کو چاہتی تھیں منصب و عہدہ عطا کرتی تھیں منصب الگ کردیتی تھیں، انہیں کے حکم سے سب کچھ ہوتا تھا. یہاں تک کہ ایک مرتبہ طلحہ و زبیر کے درمیان نماز کی امامت کے سلسلہ میں اختلاف ہوگیا ہر ایک چاہتا تھا کہ وہ نماز پڑھائے عائشہ نے اس میں مداخلت کی اور دونوں کو معزول کر دیا. اور اپنے بھانجے عبداللہ ابن زبیر کو امامت دے دی. یہی اپنے خطوط دے کر دوسرے شہروں میں پیغامبر بھیجتیں اور حضرت علی(ع) کے خلاف ان سے مدد طلب کرتی تھیں اور ان میں جاہلیت کی حمیت کو ابھارتی تھیں.

یہاں تک کہ عرب کے اہل طمع اور اوباش بیس(20) ہزار سے زیادہ کی تعداد میں حضرت علی(ع) سے جنگ کرنے اور آپ کو خلافت سے الگ کرنے کے لئے تیار ہوگئے. عائشہ نے وہ فتنہ پیدا کیا کہ جس میں ام المومنین کی مدد و دفاع کے نام پر

____________________

1.تاریخ طبری جلد/6 ص482


بے شمار لوگ قتل کئے گئے، مورخین کا کہنا ہے کہ جب عائشہ کے ہوا خواہوں نے والی بصرہ عثمان ابن حنیف پر چڑھائی کی اور ان کے ساتھ چالیس بیت المال کے محافظوں کو گرفتار کر لیا تو ان کو عائشہ کے سامنے پیش کیا گیا. عائشہ نے ان کے قتل کا حکم دے دیا. پس لوگوں نے انہیں بکریوں کی طرح ذبح کر دیا. کہا گیا ہے کہ ان لوگوں کی تعداد ایک سو چالیس تھی. کہا جاتا ہے کہ یہ پہلے مسلمان تھے جنہیں صبر کرنے کی وجہ سے قتل کیا گیا.(1)

شعبی نے مسلم ابن ابی بکر سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ:

جب طلحہ و زبیر بصرہ آئے تو میں نے اپنی تلوار حمائل کر لی اور ان دونوں کی مدد کرنا چاہتا تھا پس جب میں عائشہ کے پاس پہونچا تو دیکھا کہ وہ حکم چلا رہی ہیں اور کچھ باتوں سے روک رہی ہیں. یہاں مجھے رسول(ص) کی ایک حدیث یاد آگئی جو خود میں نے آنحضرت سے سنی تھی آپ فرما رہے تھے کہ:

وہ قوم کبھی فلاح نہیں پاسکتی جس کے امور کی باگ ڈور عورت کے ہاتو میں ہوتی ہے.

پس میں واپس آگیا.

اسی طرح بخاری نے مسلم ابن ابی بکر سے روایت کی ہے ان کا قول ہے:

____________________

1.تاریخ طبری جلد/5 ص178 شرح نہج البلاغہ جلد/2 ص501


جنگ جمل کے دوران مجھے ایک کلمہ کے ذریعہ فائدہ پہونچا. جب رسول(ص) کو یہ معلوم ہوا کہ فارس میں کسری کی بیٹی حکومت کر رہی ہے تو آپ نے فرمایا:

وہ قوم فلاح و بہبود کا منہ نہیں دیکھ سکتی جس کے امور کی باگ ڈور عورت کے ہاتھ میں ہو.(1)

ایک ہی وقت میں ام المومنین عائشہ کا مضحکہ خیز اور شک آور موقف سامنے آتا ہے کہ وہ خدا اور رسول(ص) کی معصیت کرتے ہوئے گھر سے نکلتی ہیں اور صحابہ سے کہتی ہیں کہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہو.

وہ تعجب خیز بات یہ ہے!! آپ اس کی وجہ جانتے ہیں؟

ابن ابی الحدید اپنی شرح میں،اور دوسرے مورخین نے تحریر کیا ہے کہ عائشہ نے بصرہ سے زید ابن صوحان عبدی کو ایک خط لکھا اس کا مضمون یہ تھا یہ خط ام المومنین عائشہ بنت ابو بکر زوجہ رسول(ص) کی طرف سے ان کے بیٹے زید ابن صوحان کے نام ہے.

اما بعد: تم اپنے گھر میں(بیٹھے) رہو اور لوگوں کو علی ابن ابی طالب(ع) کی مدد سے روکو! امید ہے کہ تمہارے بارے میں مجھے وہی اطلاع ملے گی جسے میں دوست رکھتی ہوں. کیونکہ میری اولاد میں تم معتمد ہو.

والسلام

____________________

1.صحیح بخاری جلد/8 ص97، باب الفتن، نسائی جلد/4 ص305، مستدرک جلد/4 ص525


اس مرد صالح نے انہیں وہی جواب لکھا جو ان کے شایان شان تھا. لکھتے ہیں.

یہ خط زید ابن صوحان کی طرف سے عائشہ بنت ابوبکر کے نام:

اما بعد! خدا نے کچھ چیزیں تم پر اور کچھ ہم پر واجب کی ہیں تمہارے اوپر گھر میں رہنا واجب ہے اور ہم پر جہاد کرنا واجب ہے. آپ کا خط ملا جس میں آپ نے مجھے خدا کی حکم کے خلاف عمل کرنے کا حکم دیا ہے. جو خدا نے تم پر واجب کیا ہے اسے میں انجام دوں اور جو مجھ پر واجب ہے تم اس پر عمل کرو میں نزدیک تمہاری اطاعت واجب نہیں ہے اور آپ کا یہ خط لائق جواب نہیں ہے.

یہاں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عائشہ نے جنگ جمل کے لشکر کی قیادت ہی پر اکتفا نہیں کی بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کی قیادت کی حرص میں مبتلا تھیں اور اس کے لئے وہ طلحہ و زبیر کو حکم دیتی تھیں، عامل و حکام کو خط لکھتی تھیں اور انہیں مختلف طریقوں سے طمع دے کر مدد طلب کرتی تھیں.

انہیں باتوں کی وجہ سے وہ اس مرتبہ پر پہونچیں اور بنی امیہ میں خوب شہرت پائی اور ان کی توجہ کا مرکز قرار پائیں. جو چیز ان کی عظمت و سطوف کا سبب بنی وہ ان کا حضرت علی(ع) کے مقابلہ میں آجانا تھا. کیونکہ حضرت علی(ع) کے مقابلہ میں شیر دل افراد، شہرت یافتہ پہلوان اور دلیر بھاگتے ہی نظر آتے تھے. لیکن عائشہ میدا میں ڈٹی رہیں. مدد طلب کرتی رہیں لوگوں کو گھروں سے باہر نکال دیتیں....


.................... اس لئے عقلیں متحیر، مورخین میں وہ لوگ پریشان ہیں جو جنگ جمل صغری میں علی(ع) کی آمد سے قبل ان کے موقف کو سمجھ گئے ہیں اور جنگ جمل کبری میں علی(ع) کی آمد کے بعد عائشہ نے لوگوں کو کتاب خدا کی طرف دعوت دینا شروع کر دی اور اپنے اس عناد کے سبب کہ جو انہیں اپنے بیٹوں سے تھا جو خدا و رسول(ص) کے مخلص تھے جنگ کرنے پر مصر ہیں.

نبی نے عائشہ اور ان کے فتنہ سے ڈرایا

یقینا نبی(ص) اپنے خلاف ہونے والی سازش کو بخوبی جانتے تھے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ آپ جانتے تھے کہ مردوں کے خلاف عورتیں فتنہ پھیلانے میں مہارت رکھتی ہیں. جس طرح آپ(ص) کو معلوم تھا کہ عورتوں کے مکر اتنے ہی عظیم ہوتے ہیں کہ اس کے ذریعہ پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹا دیں. خصوصا آپ اس بات کو پہچان چکے تھے کہ آپ کی زوجہ عائشہ اس میں غلطی سے دوچار ہوگئیں. کیونکہ ان کی طبیعت میں آپ کے خلیفہ علی(ع) کی طرف سے خصوصا اور اہل بیت(ع) کی طرف سے عموما بغض و کینہ بھرا ہوا ہے. کیوں نہ ہو آپ خود اپنی زندگی میں عائشہ کو اور اہل بیت(ع) سے ان کو دشمنی کو ملاحظہ فرما چکے تھے. اسی لئے کبھی عائشہ پر غضبناک ہوتے اور کبھی آپ کے چہرہ اقدس کا رنگ متغیر ہو جاتا. ہر مرتبہ ہی کوشش فرماتے تھے کہ عائشہ کو یہ بات باور کرا دیں کہ علی(ع) کا دوست خدا کا دوست ہے اور جو علی(ع) سے بغض رکھتا ہے وہ دشمن خدا اور منافق ہے. لیکن افسوس یہ احادیث ان کے نفوس میں اتر گئیں جو حق کو حق صرف اپنے فائدہ کے لئے سمجھتے ہیں.


اسی لئے جب رسول(ص) کو یہ معلوم ہوا کہ یہ بہت بڑا فتنہ ہے جس کو خدا نے اس امت کی آزمائش و امتحان کے لئے مقرر کردیا ہے جس طرح گذشتہ امتوں کو آزمائش میں مبتلا کیا تھا. ارشاد ہے:

( الم أَحَسِبَ‏ النَّاسُ‏ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا ءَامَنَّا وَ هُمْ لَايُفْتَنُونَ ) عنکبوت آیت/2

کیا ان لوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ وہ اس بات پر چھوڑ دئے جائیں گے کہ یہ کہدیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں.

اور ان کا امتحان نہیں لیا جائے گا.

یقینا رسول(ص) نے متعدد بار اپنی امت کو اس سے ڈرایا یہاں تک کہ ایک روز آپ کھڑے ہوئے اور عائشہ کے گھر کی طرف رخ کر کے فرمایا یہ فتنہ گاہ ہے. یہاں سے اس طرح فتنہ پھوٹے گا جس طرح شیطان کے سینگھ نکلتے ہیں.

بخاری نے اپنی صحیح کے باب"ماجاء فی بیوت ازواج النبی(ص)" میں نافع سے اور انھوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے کہا رسول(ص) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ آپ نے عائشہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا اور تین مرتبہ فرمایا: "یہاں فتنہ ہے جو شیطان کے سینگھ کی طرح نکلے گا"(1) اس طرح مسلم نے اپنی صحیح میں عکرمہ ابن عمار سے اور انہوں نے

____________________

1.صحیح بخاری جلد/4 ص46


سالم سے اور سالم نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ: ایک روز رسول(ص) عائشہ کے گھر سے نکلے اور فرمایا:

کفر کا سر یہاں ہے جو شیطان کے سینگھ کی طرح نکلے گا.(1)

اہل سنت کی اس توجیہ کی کوئی حقیقت نہیں ہے کہ رسول(ص) کی مراد مشرق ہے یہ تو گڑھی ہوئی بات ہے کیونکہ وہ ام المومنین عائشہ کو اس تہمت سے بچانا چاہتے ہیں.

نیز صحیح بخاری میں بیان ہوا ہے کہ: جب طلحہ و زبیر اور عائشہ بصرہ پہونچے تو علی(ع) نے( اپنے بیٹے) حسن(ع) اور عمار کو ہمارے پاس کوفہ روانہ کیا. یہ دونوں(حسن(ع) عمار) منبر پر گئے بس حسن(ع) ابن علی(ع) منبر کے سب سے اونچے زبز پر تشریف فرما ہوئے اورعمار ان سے نیچے، ہم لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے میں نے عمار یاسر کو فرماتے سنا کہ: عائشہ بصرہ پہونچ گئیں ہیں قسم خدا کی اگرچہ وہ دنیا و آخرت میں ہمارے نبی(ص) کی زوجہ ہیں لیکن خدائے تعالی نے تمہیں اس میں مبتلا کر دیا تا کہ یہ معلوم ہو جائے کہ تم خدا کی اطاعت کرتے ہو یا عائشہ کی.(2)

اللہ اکبر: یہ خبر بھی اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ عائشہ کہ اطاعت بھی معصیت ہے اور ان سے روگردانی اور ان کے خلاف قیام کرنے میں

____________________

1.صحیح مسلم جلد/8 ص181

2.صحیح بخاری جلد/8 ص97


خدا کی اطاعت ہے.

جیسا کہ ہم اس بحث میں ملاحظہ کرتے ہیں کہ بنی امیہ کے( زر خیز) راویوں نے آخرت کا اضافہ کر دیا ہے چنانچہ کہدیا" وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی(ص) کی زوجہ ہیں" تاکہ لوگوں کو فریب دیا جاسکے کہ خدا نے ان کے تمام گناہوں کو معاف کر دیا ہے اور داخل جنت کر دیا ہے اور ( اب بھی) ان کے شوہر حبیب خدا رسول(ص) ہیں. ورنہ عمار کو یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ عائشہ آخرت میں بھی آپ کی زوجہ ہیں.

یہ دوسرا حیلہ ہے کہ جو بنی امیہ کے زمانہ میں روایت گڑھنے والوں نے عائشہ کے لئے گڑھ دیا تھا. اور جب بھی وہ کوئی حدیث لوگوں کی زبان پر جاری دیکھتے تھے تو اس کا انکار و تکذیب نہیں کرسکتے تھے تو اس میں کسی فقرہ یا کلمہ کا اضافہ کر دیتے تھے. یا اس حدیث کے بعض الفاظ بدل دیتے تھے تاکہ اس حدیث کا زور ختم کر دیں یا اس کے مخصوص معنی ہی کو ختم کر دیں. جیسا کہ انہوں نے حدیث" انا مدینة العلم و علی بابها" میں" ابوبکر اساسها و عمر حیاطها و عثمان سقفها" کا اضافہ کر دیا ہے.

یہ بات انصافور محقق پر مخفی نہیں ہے لہذا وہ ان اضافوں کو باطل قرار دیتے ہیں کہ جن سے گڑھنے والوں کی ضعیف العقلی اور احادیث نبوی کے نور حکمت سے دوری واضح ہو جاتی ہے.

پس جب وہ اس قول کو ملاحظہ کرتے ہیں کہ ابوبکر اس کی اساس تو اس کے یہ معنی نکلتے ہیں کہ رسول(ص) کا سارا علم ابوبکر کے علم سے ماخوذ ہے اور یہ کفر ہے. جس طرح ان کے اس قول کہ عمر اس کی دیوار ہیں کے یہ معنی ہیں کہ عمر اس شہر میں لوگوں کو داخل نہیں ہونے دیتے یعنی لوگوں کو علم حاصل نہیں کرنے دیتے


اور ان کا یہ قول کہ عثمان اس کی چھت ہیں تو یہ سرے سے باطل ہے کیونکہ کوئی شہر ایسا نہیں ہے جس میں چھت پڑی ہو اور یہ محال بھی ہے جس طرح انہوں نے یہ ملاحظہ کیا کہ عمار خدا کی قسم کھا کے کہتے ہیں کہ عائشہ دنیا و اخرت میں نبی(ص) کی زوجہ ہیں تو یہ غیب کی خبر ہے ورنہ عمار کو حق کہاں سے حاصل ہوا کہ وہ نا معلوم شئی کے بارے میں قسم کھائیں؟ کیا اس سلسلہ میں کتاب خدا میں کوئی آیت ہے یا یہ کوئی حدیث ہے جو رسول(ص) نے عمار سے بیان فرمائی تھی؟

پس حدیث صحیح ہے کہ عائشہ بصرہ پہونچ چکی ہیں وہ تمہارے نبی(ص) کی زوجہ ہیں لیکن خدا نے ان کے ذریعہ تمہیں اس لئے امتحان میں مبتلا کیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ تم اس کی اطاعت کرتے ہو یا وہ.

ہم اس بات پر خدا کا شکر ادا کرتے ہیںکہ اس نے ہمیں عقل سے نوازا ہے کہ جس کے ذریعہ ہم حق کو باطل سے جدا کرتے ہیں اور ہمارے لئے راستہ کو واضح کیا پھر ہمیں متعدد چیزوں میں مبتلا کیا تاکہ روز قیامت ہمارے اوپر حجت قائم ہوجائے.

خاتمہ بحث

ہماری پوری گذشتہ بحث میں اہم پہلو یہ تھا کہ ام المومنین زوجہ رسول(ص) عائشہ بنت ابوبکر اہل بیت میں شمار نہیں ہوئی ہیں. جن کو ہر قسم کے گناہ سے محفوظ رکھا اور ہر رجس سے پاک رکھا ہے وہ معصوم ہیں.

عائشہ کے بارے میں اتنا ہی کافی ہے کہ انہوں نے اپنی عمر کے آخری ایام بہت ہی حسرت و یاس اور ندامت میں گذارے ہیں. اپنے


اعمال کو یاد کرتی ہیں تو آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں. شاید خدا ان کے گناہوں کو بخش دے. کیونکہ اپنے بندوں کے راز سے فقط وہی واقف ہے وہی ان کی نیتوں سے با خبر ہے، وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے. اور سینہ میں مخفی بھید سے واقف ہے، زمین و آسمان کی کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے ہم میں سے کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ ہم اس کی کسی مخلوق کے بارے میں جنتی یا جہنمی ہونے کا فیصلہ کریں، اس کا اختیار تو خدا ہی کو ہے. چنانچہ ارشاد ہے.

( لِلَّهِ ما فِي السَّماواتِ وَ ما فِي الْأَرْضِ وَ إِنْ‏ تُبْدُوا ما فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشاءُ وَ يُعَذِّبُ مَنْ يَشاءُ وَ اللَّهُ عَلى‏ كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدِيرٌ ) بقرہ/284

اللہ ہی کے لئے زمین و آسمان کی کل کائنات ہے تم اپنے دل کی باتوں کا اظہار کرو یا ان پر پردہ ڈال دو وہ سب کا حساب لے گا، وہ جس کو چاہے گا بخش دے گا اور جس پر چاہے گا عذاب کرے گا.اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے.

اس لحاظ سے ہمارے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ ہم ان کی شخصیت کو گرائیں یا ان پر لعنت کریں لیکن ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم ان کی اقتدا نہ کریں اور ان کے اعمال کو اچھا نہ سمجھیں بلکہ ان ہی حقیقت کی وضاحت کے پیش نظر لوگوں کے درمیان بیان کریں، ممکن ہے اس سے انہیں حق کی ہدایت ملے.

امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں.

"ولا تکونوا سبابین و لا لعانین و لکن قولوا: کان من فعلهم کذا و کذا لتکون ابلغ فی الحجة"


سب و شتم اور لعن و طعن کرنے والے نہ بن جائو لیکن اتنا بہر حال کہو کہ ان کے کارنامے یہ ہیں. تا کہ حجت تمام ہو جائے.

اہل بیت(ع) کے متعلق اہل ذکر کا نظریہ

سردار عترت امیرالمومنین(ع) فرماتے ہیں:.

"تَاللَّهِ لَقَدْ عُلِّمْتُ‏ تَبْلِيغَ‏ الرِّسَالاتِ‏ وَ إِتْمَامَ الْعِدَاتِ وَ تَمَامَ الْكَلِمَاتِ، وَ عِنْدَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ أَبْوَابُ الْحُكْمِ وَ ضِيَاءُ الْأَمْرِ."

خدا کی قسم مجھے پیغاموں کے پہونچانے وعدوں کے پورا کرنے اور آیتوں کی صحیح تاویل بیان کرنے کا خوب علم ہے ہم اہل بیت نبوت وہ ہیں جن کے پاس علم و معرفت کا خزانہ ہے اور شریعت کی روشن راہیں ہیں.

"أَيْنَ‏ الَّذِينَ‏ زَعَمُوا أَنَّهُمُ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ دُونَنَا كَذِباً وَ بَغْياً عَلَيْنَا أَنْ رَفَعَنَا اللَّهُ وَ وَضَعَهُمْ وَ أَعْطَانَا وَ حَرَمَهُمْ وَ أَدْخَلَنَا وَ أَخْرَجَهُمْ بِنَا يُسْتَعْطَى الْهُدَى وَ يُسْتَجْلَى الْعَمَى إِنَّ الْأَئِمَّةَ مِنْ قُرَيْشٍ غُرِسُوا فِي هَذَا الْبَطْنِ مِنْ هَاشِمٍ لَا تَصْلُحُ عَلَى سِوَاهُمْ وَ لَا تَصْلُحُ الْوُلَاةُ مِنْ غَيْرِهِمْ‏"

................................

1.نہج البلاغہ خطبہ نمبر118


کہاں ہیں وہ افراد جھوٹے ہیں ہم پر ستم روا رکھے ہوئے ہیں، وہ دعویدار علم و حکمت ہیں جب کہ راسخون فی العلم ہم ہیں اللہ نے ہمیں بلند کیا ہے اور انہیں پست قرار دیا ہے ہمیں منصب امامت سے سر فراز کیا ہے اور انہیں محروم رکھا ہے ہم وہ ہیں جن سے ہدایت کے متلاشی ہدایت حاصل کرسکتے ہیں اور گمراہی و تاریکی دور کی جاسکتی ہے. بلاشبہ امام قبیلہ قریش میں سے ہوں گے جو اسی قبیلہ کی ایک شاخ قبیلہ نبی ہاشم ہے جن کے صلب سے امام یکے بعد دیگرے ظاہر ہوں گے امامت وہ منصب جلیلہ ہے جو کسی کو زیب نہیں دیتی ہے اور نہ ان کے علاوہ کوئی اس کا اہل ہوسکتا ہے.(1)

"نَحْنُ‏ الشِّعَارُ وَ الْأَصْحَابُ وَ الْخَزَنَةُ وَ الْأَبْوَابُ لَا تُؤْتَى الْبُيُوتُ إِلَّا مِنْ أَبْوَابِهَا فَمَنْ أَتَاهَا مِنْ غَيْرِ أَبْوَابِهَا سُمِّيَ سَارِقاً فِيهِمْ كَرَائِمُ الْقُرْآنِ وَ هُمْ كُنُوزُ الرَّحْمَنِ إِنْ نَطَقُوا صَدَقُوا وَ إِنْ صَمَتُوا لَمْ يُسْبَقُوا."(2)

ہم اہل بیت(ع) رسول(ص) کے قرابتدار اور اصحاب خاص اور مخزن نبوت و باب العلم ہیں. جو شخص کسی گھر میں داخل ہونا چاہتا ہے اس کو چاہیئے کہ درواہ سے آئے جو دروازہ کو چھوڑ کر

____________________

1.نہج البلاغہ خطبہ نمبر142

2. نہج البلاغہ خطبہ نمبر152


کسی اور راہ سے داخل ہو وہ چور کہلائے گا، اہل بیت وہ ہیں جن کے بارے میں قرآن کی بے شمار آیتیں اتری ہیں اور وہ اللہ کے خزینے ہیں اگر ہم بولتے ہیں تو سچ اور خاموش رہتے ہیں تو کسی کو بولنے کا حق نہیں.

"هم‏ عيش‏ العلم‏ و موت الجهل، يخبر حلمهم عن علمهم، و ظاهرهم عن باطنهم، و صمتهم عن حكم منطقهم، لا يخالفون الحقّ و لا يختلفون فيه، هم دعائم الإسلام، و ولائج الاعتصام، بهم عاد الحقّ في نصابه، و انزاح الباطل عن مقامه، و انقطع لسانه عن منبته، عقلوا الدّين عقل وعاية و رعاية، لا عقل سماع و رواية، فإنّ رواة العلم كثير و رعاته قليل."(1)

اہل بیت علم کے لئے باعث حیات اور جہالت کے لئے سبب مرگ ہیں ان کا حلم ان کے علم کا، ان کا ظاہر ان کے باطن کا اور ان کی خاموشی ان کے کلام کی حکمتوں کا پتہ دیتی ہے. وہ نہ تو حق کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور نہ اس میں اختلاف پیدا کرتے ہیں. وہ اسلام کے ستون اور محافظت کے ذمہ­دار ہیں ان کی وجہ سے حق اپنی جگہ پلٹ آیا اور باطل اپنی جگہ سے ہٹ گیا اور اس کی زبان اس کی جڑ سے کٹ گئی، انہوں نے دین کو سمجھ کر

____________________

1.نہج البلاغہ خطبہ نمبر236


اور اس پر عمل کر کے پہچانا نہ کہ روایت و سماعت سے جانا. یوں تو علم کے راوی بہت ہیں مگر اس پر عمل پیرا ہو کر نگہ داشت کرنے والے کم ہیں.

"عِتْرَتُهُ‏ خَيْرُ الْعِتَرِ وَ أُسْرَتُهُ خَيْرُ الْأُسَرِ وَ شَجَرَتُهُ خَيْرُ الشَّجَرِ نَبَتَتْ فِي حَرَمٍ وَ بَسَقَتْ فِي كَرَمٍ لَهَا فُرُوعٌ طِوَالٌ وَ ثَمَرٌ لَا يُنَالُ.(1)

نَحْنُ‏ شَجَرَةُ النُّبُوَّةِ وَ مَحَطُّ الرِّسَالَةِ وَ مُخْتَلَفُ الْمَلَائِكَةِ وَ يَنَابِيعُ الْحِكْمَةِ وَ مَعَادِنُ الْعِلْمِ، نَاصِرُنَا وَ مُحِبُّنَا يَنْتَظِرُ الرَّحْمَةَ وَ عَدُوُّنَا وَ مُبْغِضُنَا يَنْتَظِرُ السَّطْوَةَ.(2)

رسول(ص) مقبول کی عترت بہترین عترت ہے اور سیرت بہترین سیرت ہے. شجرہ نبوت بہترین شجرہ ہے اور ایسا شجرہ ہے جو سرزمین حرم پر اگا اور بزرگی کے سائے میں بڑھا اس کی شاخین دراز اور پھل دسترس سے باہر ہیں.

ہم اہل بیت، نبوت کے درخت، رسالت کی قیام گاہ، ملائکہ کی فرودگاہ، علم کا معدن، اور حکمت کے سرچشمہ ہیں، ہماری نصرت کرنے والا رحمت کے لئے چشم براہ ہے اور ہم سے دشمنی و عناد رکھنے والے کو قہر الہی کا منتظر رہنا چاہیئے

____________________

1. نہج البلاغہ خطبہ نمبر94

2. نمبر107


"نَحْنُ‏ النُّجَبَاءُ وَ أَفْرَاطُنَا أَفْرَاطُ الْأَنْبِيَاءِ وَ أَنَا وَصِيُّ الْأَوْصِيَاءِ وَ أَنَا مِنْ حِزْبِ اللَّهِ وَ حِزْبِ رَسُولِهِ وَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ مِنْ حِزْبِ الشَّيْطَانِ وَ الشَّيْطَانُ مِنْهُمْ فَمَنْ شَكَّ فِينَا وَ عَدَلَ عَنَّا إِلَى عَدُوِّنَا فَلَيْسَ مِنَّا

فَأَيْنَ‏ تَذْهَبُونَ‏ وَ أَنَّى‏ تُؤْفَكُونَ‏ وَ الْأَعْلَامُ قَائِمَةٌ وَ الآْيَاتُ وَاضِحَةٌ وَ الْمَنَارُ مَنْصُوبَةٌ فَأَيْنَ يُتَاهُ بِكُمْ وَ كَيْفَ تَعْمَهُونَ وَ بَيْنَكُمْ عِتْرَةُ نَبِيِّكُمْ وَ هُمْ أَزِمَّةُ الْحَقِّ وَ أَعْلَامُ الدِّينِ وَ أَلْسِنَةُ الصِّدْقِ فَأَنْزِلُوهُمْ بِأَحْسَنِ مَنَازِلِ الْقُرْآنِ وَ رِدُوهُمْ وُرُودَ الْهِيمِ الْعِطَاشِ.(1)

أَيُّهَا النَّاسُ خُذُوهَا عَنْ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ ص إِنَّهُ يَمُوتُ مِنْ مَاتَ مِنَّا وَ لَيْسَ بِمَيِّتٍ وَ يَبْلَى مَنْ بَلِيَ مِنَّا وَ لَيْسَ بِبَالٍ فَلَا تَقُولُوا بِمَا لَا تَعْرِفُونَ فَإِنَّ أَكْثَرَ الْحَقِّ فِيمَا تُنْكِرُونَ وَ أَعْذِرُوا مَنْ لَا حُجَّةَ لَكُمْ عَلَيْهِ وَ هُوَ أَنَا أَ لَمْ أَعْمَلْ فِيكُمْ بِالثَّقَلِ الْأَكْبَرِ وَ أَتْرُكْ فِيكُمُ الثَّقَلَ الْأَصْغَرَ قَدْ رَكَزْتُ فِيكُمْ رَايَةَ الْإِيمَانِ.(2)

ہم اشراف قریش ہیں ہماری بلندی انبیاء کی بلندی ہے ہمارا گروہ اللہ کا گروہ ہے اور فتنہ پروروں کا گروہ شیطان

____________________

1.نہج البلاغہ خطبہ نمبر85

2....... نمبر85


کا گروہ ہے.

اے لوگو تم کہاں جا رہے ہو اور تمہیں کدھر موڑا جا رہا ہے جب کہ ہدایت کے بلند نشانات ظاہر و روشن اور حق کے مینار نصب ہیں اور تمہیں کہاں بہکایا جارہا ہے اور تم ہو کہ ادھر ادھر بھٹک رہے ہو جب کہ تمہارے نبی کی عترت تمہارے درمیان موجود ہے، وہ حق کی باگیں دین کے پرچم اور سچائی کی زبانیں، پس تم لوگ قرآن کی تنزیل کو اچھی طرح سمجھ لیتے ہو. لوگوں کو ہی ان کے پاس پیاسے اونٹوں کی طرح ان کے سرچشمہ ہدایت پر لے آئو.

اے لوگو! حضرت خاتم الانبیین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس ارشاد کو سنو کہ آپ نے ایک موقع پر فرمایا: ہم میں جو مرجاتا ہے وہ مردہ نہیں ہے، ہم میں سے بظاہر مردہ ہو کر بوسیدہ ہو جاتا ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ وہ کبھی بوسیدہ نہیں ہوتا ہے جو باتیں تم نہیں جانتے ہو ان کے متعلق زبان سے کچھ نہ نکالو اس لئے کہ حق کا بیشتر حصہ انہیں چیزوں میں ہوتا ہے جن سے تم بیگانہ و نا آشنا ہو جس شخص کی حجت تم پر تمام ہو اور تمہاری حجت کوئی اس پر تمام نہ ہو اس کو معذور سمجھو اور وہ ہیں ہوں. کیا میں تمہارے سامنے ثقل اکبر(قرآن) پر عمل نہیں کیا اور ثقل اصغر(اہل بیت) کو تم میں نہیں رکھا.


"انْظُرُوا أَهْلَ‏ بَيْتِ‏ نَبِيِّكُمْ‏ فَالْزَمُوا سَمْتَهُمْ وَ اتَّبِعُوا أَثَرَهُمْ فَلَنْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ هُدًى وَ لَنْ يُعِيدُوكُمْ فِي رَدًى فَإِنْ لَبَدُوا فَالْبُدُوا وَ إِنْ نَهَضُوا فَانْهَضُوا وَ لَا تَسْبِقُوهُمْ فَتَضِلُّوا وَ لَا تَتَأَخَّرُوا عَنْهُمْ فَتَهْلِكُوا"

اپنے نبی کی ذریت یعنی اہل بیت کی سیرت پر چلو اور ان کے نقش قدم کی پیروی کرو وہ تمہیں کبھی ہدایت سے باہر نہیں ہونے دیں گے اور نہ گمراہی و ہلاکت کی طرف جانے دیں گے، اگر وہ کہیں ٹھہریں تو تم بھی ٹھہر جائو اگر وہ اٹھیں تو تم بھی اٹھ کھڑے ہو، ان سے آگے نہ بڑھ جائو ورنہ گمراہ ہو جائو گے اور نہ انہیں چھوڑ کر پیچھے رہ جائو ورنہ تباہ ہو جائو گے.(1)

مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کے یہ ارشادات خصوصا اہل بیت(ع) طاہرین سے متعلق ہیں کہ جن سے اللہ نے رجس و کثافت سے ایسے پاک رکھا ہے جو حق ہے.

اگرہم ان کی اولاد میں سے ہونے والے ان ائمہ کے اقوال کی چھان بین کرتے کہ جنہوں نے لوگوں کے درمیان خطبے دئیے ہیں. جیسے امام حسن(ع) اور امام حسین(ع)، زین العابدین(ع)، و جعفر صادق(ع)، اور امام علی رضا علیہم السلام تو ہمیں بالکل وہی کلام ملتا جو آپ(علی(ع)) کا ہے. اور وہ انہیں باتوں کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے ملتے جن کی طرف آپ اشارہ فرماچکے ہیں اور ہر زمانہ اور

____________________

1.نہج البلاغہ خطبہ نمبر95


ہرجگہ کتاب خدا اور عترت رسول(ص) کی طرف لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں تاکہ انہیں گمراہی سے نکال کر راہ ہدایت پر گامزان کردیں. یہاں میں اس بات کا اور اضافہ کردوں کہ عصمت اہلبیت(ع) پر تاریخ بہترین گواہ ہے، ان کا علم و تقوی اور زہد و ورع، جود و کرم و برد باری و عفو و بخشش اور وہ تمام افعال جسے خدا و رسول(ص) دوست رکھتے ہیں تاریخ کے دامن میں محفوظ ہیں.

اسی طرح تاریخ اس بات پر بھی بہترین شاہد ہے کہ اس امت میں سے صوفی اور شیخ طریقت میں سے بعض افراد اور مذاہب کے پیشوا موجودہ اور گذشتہ زمانہ کے صالح علماء سب کو اہل بیت(ع) کی افضلیت کی اعتراف ہی اور علم و عمل کے لحاظ سے انہیں سب سے بلند قرار دیتے ہیں نیز رسول(ص) کے مخصوص قرابتدار کہتے ہیں.

ان تمام باتوں کے باوجود ایک مسلمان کے لئے جائز نہیں،، ہے کہ وہ اہل بیت(ع) کہ جن سے خدا نے رجس کو دور رکھا اور انہیں اس طرح پاک رکھا جو حق ہے. جنہیں رسول(ص) نے کسا کے نیچے کیا" ان میں نبی(ع) کی ازواج کا اضافہ کرے.

کیا تم نہیں دیکھتے کہ بخاری و مسلم و ترمذی، امام احمد اور نسائی نے اپنی اپنی صحاح اور مسانید میں احادیث فضائل نقل کرتے وقت اہل بیت کو ازواج نبی(ص) سے علیحدہ طور پر بیان کیا ہے.

جیسا کہ صحیح مسلم میں باب فضائل علی ابن ابی طالب(ع) میں بیان

____________________

1.صحیح بخاری جلد/7 ص130


ہوا ہے کہ زید ابن ارقم نے رسول(ص) سے روایت کی ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا:

آگاہ ہو جائو میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑنے والا ہوں، ایک کتاب خدا کہ جو حبل اللہ ہے جس نے اس کی پیروی کی اس نے ہدایت پائی اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ گمراہ ہوا.

اس کے بعد آپ(ص) نے فرمایا:

میں اپنے اہل بیت(ع) کے بارے میں تمہیں خدا کی یاد دلاتا ہوں میں اپنے اہل بیت(ع) کے بارے میں تمہیں خدا کی یاد دلاتا ہوں. میں اپنے اہل بیت(ع) کے بارے میں تمہیں خدا کی یاد دلاتا ہوں.

ہم نے کہا کیا آپ کے اہل بیت(ع) میں آپ کی ازواج بھی ہیں؟ فرمایا: نہیں خدا کی قسم عورت مرد کے ساتھ ایک زمانہ تک رہتی ہے جب وہ اسے طلاق دے دیتا ہے تو وہ اپنے ماں باپ کی طرف پلٹ جاتی ہے. ان کے اہل بیت(ع) ان کے خاندان والے وہ لوگ ہیں جن پر آپ(ص) کے بعد صدقہ حرام ہے.(1)

اسی طرح بخاری و مسلم میں نزول آیہ تیمم کے واقعہ کے ذیل میں یہ شہادت بھی ملتی ہے کہ عائشہ ابوبکر کی اولاد ہیں نبی(ص) کی آل سےنہیں ہیں.(2) پس ان کینہ پروروں کو جن کی کوشش فتنہ پردازی اور ٹھوس حقائق کو پامال کرنا ہے انہیں اس بات پر اصرار کیوں ہے؟

____________________

1.صحیح بخاری جلد/7 ص123 باب فضائل علی ابن ابی طالب(ع)

2.بخاری جلد/1 ص86 مسلم جلد/1 ص190


وہ شیعوں پر فقط اس لئے سب وشتم کرتے ہیں کہ شیعہ ام المومنین(عائشہ) کو اتنی فضیلت نہیں دیتے ہیں( اگر برا بھلا کہنے کا بھی معیار ہے تو) اپنی صحاح اور اپنے ان علماء کو کیوں برا نہیں کہتے جنہوں نے ازواج نبی(ص) کو اہل بیت(ع کے زمرہ سے نکالا ہے.

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ وَ لا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ‏ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَ قُولُوا قَوْلًا سَدِيداً يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمالَكُمْ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ فَقَدْ فازَ فَوْزاً عَظِيماً ) احزاب. آیت/71

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کرو تاکہ وہ تمہارے اعمال کی اصلاح کر دے اور تمہارے گناہوں کو بخش دے اور جو بھی خدا اور اس کے رسول(ص) کی اطاعت کرے گا وہ عظیم کامیابی کے درجہ پر فائز ہوگا.


چوتھی فصل

عام صحابہ سے متعلق

بے شک تمام شرعی احکام اور اسلامی عقائد ہم تک صحابہ کے ذریعہ پہونچے اور کوئی بھی اس بات کا دعویدار نہیں ہے کہ وہ کتاب خدا اور سنت رسول(ص) کے ذریعہ خدا کی عبادت نہیں کرتا ہے اور ان دونوں بنیادی مصدروں تک دنیا کے ہر مسلمان کی رسائی کا ذریعہ ہی ہیں.

چونکہ رسول(ص) کے بعد صحابہ کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا اور وہ متفرق ہوگئے اور ایک دوسرے پر سب و شتم اور لعنت و مذمت کرنے لگے یہاں تک کہ بعض نے بعض کو قتل کر دیا اس حالت کے ہوتے ہوئے ان سے بغیر چھان بین کے احکام حاصل کرنا ممکن نہیں ہے اور اسی طرح ان کے حالات کا مطالعہ کئے بغیر اور ان کی تاریخ پڑھے بغیر کہ حیات نبی(ص) اور بعد نبی(ص) ان کے کیا کارنامے تھے ان کے حق میں یا ان کے خلاف حکم لگانا ممکن نہیں ہے ہم حق کو باطل سے اور مومن


کو منافق سے جدا کرتے ہیں اور پلٹ جانے والوں سے شکر گذاروں کو پہچانتے ہیں.

جب کہ تمام اہلسنت اس بات کو اہمیت نہیں دیتے ہیں اور صحابہ پرتنقید و تبصرہ کرنے کو شدت سے منع کرتے ہیں اور ان پر بلا استثناء ایسے ہی درود بھیجتے ہیں جیسے محمد(ص) و آل(ع) محمد(ص) پر درود بھیجتے ہیں.

اہل سنت و الجماعت سے یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ کیا صحابہ پر تنقید و جرح کرنے سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے. یا اس سے کتاب (خدا) و سنت(رسول(ص)) کی مخالفت لازم آتی ہے؟

اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے مجھے حیات نبی(ص) اور حیات نبی(ص) کے بعد بعض صحابہ کے اعمال و اقوال پیش کرنا پڑیں گے. اس کا جواب ہمیں علمائے اہل سنت کی صحاح و مسانید اور تواریخ سےبھی مل جائے گا اس سلسلہ میں شیعوں کی کتابوں کا تذکرہ ضروری نہیں ہے. کیونکہ بعض صحابہ کے بارے میں شیعوں کا موقف شہرت یافتہ ہے پھر یہ بات زیادہ توضیح کی محتاج بھی نہیں ہے.

میں تمام شبہات کو رفع کئے دیتا ہوں تاکہ مد مقابل کے لئے کوئی حجت باقی نہ رہے جس سے وہ میرے اوپر احتجاج کرے. واضح رہے کہ اس فصل میں ہم جہاں بھی صحابہ کے متعلق گفتگو کریں گے اس سے تمام صحابہ مراد نہیں ہیں. بلکہ بعض صحابہ مراد ہیں. ظاہر ہے کہ بعض میں کبھی اکثریت ہوتی ہے اور کبھی اقلیت، اس چیز کو تو ہم بحث ہی سے سمجھ پائیں گے اس لئے کہ فتنہ پرور ہمارے اوپر اتہام لگاتے ہیں کہ ہم صحابہ کے خلاف ہیں. ہم صحابہ پر سب و شتم کرتے ہیں. اس طرح وہ سامعین کو بھڑکاتے ہیں اور تحقیق کرنے والوں کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں. جبکہ ہم صحابہ کو سب و شتم سے پاک سمجھتے ہیں.


اور ہم ان صحابہ کی خوشنودی کے خواہان ہیں جنہیں قرآن میں شاکرین کے نام سے یا کیا گیا ہے. ہاں جو لوگ نبی(ص) کے بعد اپنے پچھلے پائوں لوٹ گئے اور مرتد ہوگئے اور اکثر مسلمانوں کی گمراہی کا سبب بنے، ان پر تبرا کرتے ہیں، ان پر ہم سب لعن طعن کرتے ہیں. ہم تو صرف ان کے افعال کو منکشف کرتے ہیں جنہیں مورخین و محدثین نے بیان کیا ہے. تاکہ تحقیق کرنے والے کے لئے حق روشن ہو جائے یہ بھی ہمارے سنی بھائیوں کو برا لگتا ہے. اور وہ اسے سب و شتم کا نام دیتے ہیں.

جب قرآن مجید نے حق بیان کرنے میں تامل سے کام نہیں لیا بلکہ اسی نے ہمارے لئے یہ دروازہ وا کیا ہے اور اسی نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ صحابہ میں سے کچھ منافقین. فاسقین، ظالمین، مکذبین، مشرکین اور کفر کی طرف پلٹ جانے والے تھے اور خدا و رسول(ص) کو اذیت دینے والے تھے.

جب رسول(ص) کو جو اپنی خواہش نفس سے کچھ نہیں کہتے اور خدا کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا نہیں کرتے انہوں نے ہمارے لئے تبرے کا باب کھولا ہے اور انہوں نے ہمیں یہ خبر دی کہ صحابہ میں مرتدین، مارقین، ناکثین، قاسطین اور انہیں میں سے وہ شخص بھی ہے جو جہنم میں داخل ہوگا اور صحابیت اسے کچھ فائدہ نہ پہونچائے گی بلکہ یہ صحبت (رسول(ص)) اس پر حجت ہو جائے گی جو اس کے عذاب میں اضافہ کا سبب بنے گی.اس کے باوجود ہم ان سے بے زاری اختیار نہ کریں جب کہ قرآن مجید اور سنت رسول(ص) اس کی شہادت دے رہی ہے اہلسنت صحابہ پر تنقید کرنے سے اس لئے منع کرتے ہیں تا کہ حق آشکار نہ ہونے پائے اور مسلمانوں کو اس کی معرفت نہ ہونے پائے کہ وہ اولیائے خدا سے محبت اور دشمن خدا و رسول(ص) سے نفرت کرنے لگیں.


اس روز میں تیونس کے دار الحکومة کی بڑی مسجد میں (نماز پڑھنے کے لئے) گیا فریضہ کی ادائیگی کے بعد امام صاحب نمازیوں کے درمیان بیٹھے اور صحابہ پر سب و شتم کرنے والے لوگوں کو برا بھلا کہنے اور انہیں کافر ثابت کرنے لگے. انہوں نے اپنی بحث کو طول دیتے ہوے کہا:

ان لوگوں سے ہوشیار ہو جو حق کی معرفت اور علمی بحث کے دعووں کے پردے میں صحابہ کی عزت سے کھیلتے ہیں، ان پر خدا و رسول(ص) و ملائکہ اور لوگوں کی لعنت ہو. وہ لوگوں کو ان کے دین کے بارے میں مشکوک کرنا چاہتے ہیں جبکہ رسول(ص) نے فرمایا ہے کہ:

" جب میرے صحابی کے بارے میں تمہارے پاس کوئی غلط خبر پہونچے تو تم خاموش رہنا اس لئے کہ اگر تم(کوہ) احد کے برابر سونے کا انفاق کروگے تب بھی ( ان کی عظمت کے) دسویں حصہ کے برابر تمہیں عظمت نہیں ملے گی"

شیعیت کی طرف مائل میرے ایک ساتھی نے اس کی بات کا سلسلہ یہ کہتے ہوئے منقطع کردیا کہ یہ حدیث جھوٹی ہے اور رسول(ص) کی طرف اس کی نسبت دینا غلط ہے.

میرے ساتھی کی اس بات سے پیش امام اور بعض حاضرین مسجد آپے سے باہر ہوگئے اور پیشانیوں پر بل ڈال کر ہماری طرف متوجہ ہوئے. میں نے نرمی اختیار کی اور پیش امام سے کہا: میرے سید و سردار شیخ جلیل اس


مسلمان کی کیا تقصیر ہے جو قرآن مجید میں اس آیت کی تلاوت کرتا ہے:

( وَ ما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ‏ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَ فَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلى‏ أَعْقابِكُمْ وَ مَنْ يَنْقَلِبْ عَلى‏ عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئاً وَ سَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ ) آل عمران آیت/144

اور محمد(ص) تو صرف ایک رسول(ص) ہیں جن سے پہلے بہت سے رسول گذر چکے ہیں کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل ہو جائیں تو تم الٹے پیروں پلٹ جائو گے، تو جو بھی ایسا کرے گا وہ خدا کا کوئی نقصان نہیں کرے گا اور خدا تو عنقریب شکر گذاروں کو ان کی جزا دے گا.

اور اس مسلمان کا کیا گناہ ہے جو صحیح بخاری و مسلم میں اپنے صحابہ سے متعلق رسول(ص) کا یہ قول دیکھتا ہے.

قیامت کے دن تمہیں شمال کی طرف لے جایا جائے گا تو میں پوچھوں گا کہ کہاں؟ جواب ملے گا جہنم میں. خدا کی قسم میں پھر کہوں گا: پروردگارا یہ میرے صحابی ہیں جواب دیا جائے گا تمہیں نہیں معلوم انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا، یہ کافر ہی رہے، تو میں کہوں گا خدا عارت کرے ان کو کہ جنہوں نے میرے بعد شریعت بدلی، اور میں مخلصین کو بہت کم پاتا ہوں.

وہ سب میری طرف کان لگائے خاموشی کے عالم میں میری بات سن رہے تھے، بعض افراد نے مجھ سے معلوم کیا، کیا آپ وثوق کے ساتھ


کہہ رہے ہیں کہ یہ روایت بخاری میں موجود ہے؟ میں نے جواب دیا جی ہاں میں اتنے ہی یقین کے ساتھ کہہ رہا ہوں جیسا مجھے خدا کے واحد ہونے اور اس کے شریک نہ ہونے کا یقین ہے. اور اس بات کا یقین ہے محمد اس کے بندے اور رسول(ص) ہیں.

جب پیش امام صاحب نے دیکھا کہ میرے احادیث بیان کرنے سے لوگوں پر اثر ہو رہا ہے تو انہوں نے کہا: ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ فتنہ دبا ہوا ہے خدا اس پر لعنت کرے جو اسے بھڑکائے.

میں نے کہا: حضور فتنہ بھڑکان ہوا ہے دبا نہیں ہے. لیکن ہم سو رہے ہیں. ہم میں سے حق کی معرفت کے لئے جو بیدار ہوجاتا ہے. اور آنکھیں کھول لیتا ہے تو آپ اس پر یہ تہمت لگاتے ہیں کہ یہ فتنہ کو ہوا دے رہا ہے. بہر حال تمام مسلمانوں کی یہی خواہش ہے کہ وہ کتاب خدا سنت رسول(ص) کا اتباع کریں وہ ہمارے ان بزرگوں کا اتباع نہیں کرنا چاہتے جو معاویہ و یزید اور ابن عاص سے راضی ہوگئے.

میری بات کو امام نے یہ کہتے ہوئے کاٹ دیا کہ کیا تم سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب وحی سے راضی نہیں ہو؟ میں نے کہا اس موضوع کی شرح بہت طویل ہے اگر اس سلسلہ میں آپ میرا نظریہ معلوم کرنا چاہتے ہیں تو میں آپ کو اپنی کتاب " ثم اہتدیت" ہدیہ کرتا ہوں شاید وہ آپ کو گہری نیند سے بیدار کر دے اور آپ کی آنکھوں کے سامنے بعض حقائق کو آشکار کردے. پیش امام صاحب نے تردد کے ساتھ میری بات اور ہدیہ قبول کر لیا. لیکن ایک ماہ بعد انہوں نے مجھے بہترین خطا لکھا اور اس میں تحریر فرمایا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے مجھے صراط مستقیم کی ہدایت فرمائی اور ولایت اہل بیت علیہم السلام کو آشکار کیا. میں نے ان سے اس


خط کو ثم اھتدیت کے تیسرے ایڈیشن میں شائع کرنے کی اجازت طلب کی کیونکہ اس میں مودة کے معنی اس روح با صفا کا تذکرہ تھا کہ جس نے حق پہچانتے ہی اپنا لیا تھا اور کہا تھا ہے کہ اکثر اہل سنت حقائق کی طرف مائل تو ہیں بس پردہ ہٹنے کی دیر ہے.

لیکن انہوں نے تحریر فرمایا کہ اس خط کو مخفی رکھا جائے شائع نہ کیا جائے کیونکہ پیش امام صاحب کو اپنے مقتدیوں کو مطمئن و قانع کرنے کے لئے. خاصا وقت چاہئے، ان کی تعبیر کے مطابق ان کی کوشش بھی یہی ہے کہ ان کی دعوت (حق) بغیر کسی ہرج و مرج کے مکمل ہو جائے.

ہم اپنے مضمون کی طرف پلٹتے ہیں. گفتگو صحابہ کے متعلق ہو رہی تھی تا کہ ہم اس تلخ حقیقت کا انکشاف کریں جسے قرآن مجید اور سنت رسول(ص) نے بیان کیا ہے.

اس کا آغاز ہم کلام خدا سے کرتے ہیں کیونکہ اس میں کسی طرف سے بھی باطل داخل نہیں ہوسکتا ہے پس وہ قول فیصل اور صحیح حکم ہے بعص صحابہ کے بارے میں خداوند عالم کا ارشاد ہے:

( وَ مِنْ‏ أَهْلِ‏ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفاقِ لا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلى‏ عَذابٍ عَظِيمٍ .) توبہ / آیت/101

اہل مدینہ میں وہ بھی ہیں جو نفاق میں ماہر اور سرکش ہیں تم ان کو نہیں جانتے لیکن ہم خوب جانتے ہیں عنقریب ہم ان پر دہرا عذاب کریں گے اور پھر یہ عظیم عذاب کی طرف پلٹا دیئے جائیں گے.

( يَحْلِفُونَ‏ بِاللَّهِ‏ ما قالُوا وَ لَقَدْ قالُوا كَلِمَةَ


الْكُفْرِ وَ كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلامِهِمْ وَ هَمُّوا بِما لَمْ يَنالُوا )

یہ اپنی باتوں پر اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ ایسا نہیں کیا حالانکہ انہوں نے کلمہ کفر کہا ہے اور اپنے اسلام کے بعد کافر ہوگئے ہیں انہوں نے وہ ارادہ کیا جو حاصل نہ کرسکے. توبہ/74

( وَ مِنْهُمْ‏ مَنْ‏ عاهَدَ اللَّهَ لَئِنْ آتانا مِنْ فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ. فَلَمَّا آتاهُمْ مِنْ فَضْلِهِ بَخِلُوا بِهِ وَ تَوَلَّوْا وَ هُمْ مُعْرِضُونَ. فَأَعْقَبَهُمْ نِفاقاً فِي قُلُوبِهِمْ إِلى‏ يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ بِما أَخْلَفُوا اللَّهَ ما وَعَدُوهُ وَ بِما كانُوا يَكْذِبُونَ ) توبہ آیت/77

ان میں وہی ہیں جنہوں نے اپنے خدا سے عہد کیا کہ اگر وہ اپنے فضل و کرم سے کچھ عطا کر دے گا تو اس کی راہ میں صدقہ دیں گے اور نیک بندوں میں شامل ہو جائیں گے جب خدا نے اپنے فضل سے عطا کردیا تو بخل سے کام لیا اور کنارہ کش ہوکر پلٹ گئے تو ان کے بخل نے ان کے دلوں میں نفاق راسخ کردیا اس دن تک کے لئے جب یہ خدا سے ملاقات کریں گے کیونکہ انہوں نے خدا سے کئے ہوئے وعدہ کی مخالفت کی ہے اور جھوٹ بولے ہیں.

( الْأَعْرابُ‏ أَشَدُّ كُفْراً وَ نِفاقاً وَ أَجْدَرُ أَلَّا يَعْلَمُوا حُدُودَ ما أَنْزَلَ اللَّهُ عَلى‏ رَسُولِهِ وَ اللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ )

یہ دیہاتی کفر اور نفاق میں بہت سخت ہیں اور اسی قابل ہیں کہ جو کتاب خدا نے اپنے رسول(ص) پر نازل کی ہے


اس کے حدود اور احکام کو نہ پہچانیں اور اللہ خوب جاننے والا اور صاحب حکمت ہے. توبہ/ آیت/97

( وَ مِنَ‏ النَّاسِ‏ مَنْ‏ يَقُولُ‏ آمَنَّا بِاللَّهِ وَ بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَ ما هُمْ بِمُؤْمِنِينَ. يُخادِعُونَ اللَّهَ وَ الَّذِينَ آمَنُوا وَ ما يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَ ما يَشْعُرُونَ. فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً وَ لَهُمْ عَذابٌ أَلِيمٌ بِما كانُوا يَكْذِبُونَ )

کچھ ایسے بھی ہیں جو صاحب ایمان نہیں ہیں یہ خدا اور صاحبان ایمان کو دھوکا دینا چاہتے ہیں حالانکہ اپنے ہی کو دھوکا دیتے رہے ہیں اور اس کو سمجھتے بھی نہیں ہیں ان کے دلوں میں بیماری ہے جس کو خدا نے نفاق کی بنا پر اور بڑھا دیا ہے اب اس جھوٹ کے عوض میں انہیں دردناک عذاب ملے گا.

( إِذا جاءَكَ الْمُنافِقُونَ قالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ‏ لَرَسُولُ‏ اللَّهِ‏ وَ اللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَ اللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنافِقِينَ لَكاذِبُونَ اتَّخَذُوا أَيْمانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّهُمْ ساءَ ما كانُوا يَعْمَلُونَ ذلِكَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطُبِعَ عَلى‏ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لا يَفْقَهُونَ )

( اے میرے) پیغمبر یہ منافقین آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول(ص) ہیں اور اللہ ہی جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین اپنے دعوی میں جھوٹے ہیں انہوں نے اپنی قسموں کو


سپر بنا لیا ہے اور لوگوں کو راہ خدا سے روک رہے ہیں یہ ان کے بدترین اعمال ہیں کہ جو یہ انجام دے رہے ہیں یہ اس لئے ہے کہ یہ پہلے ایمان لائے پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی تو اب کچھ نہیں سمجھ رہے ہیں. منافقون آیت3.

( أَ لَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِما أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَ ما أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ‏ أَنْ‏ يَتَحاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَ قَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ وَ يُرِيدُ الشَّيْطانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالًا بَعِيداً وَ إِذا قِيلَ لَهُمْ تَعالَوْا إِلى‏ ما أَنْزَلَ اللَّهُ وَ إِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً فَكَيْفَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ بِما قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جاؤُكَ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ إِنْ أَرَدْنا إِلَّا إِحْساناً وَ تَوْفِيقاً )

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کا خیال یہ ہے کہ وہ آپ پر اور آپ کے پہلے نازل ہونے والی چیزوں پر ایمان لے آئے ہیں اور پھر یہ چاہتے ہیں کہ سرکش لوگوں کے پاس فیصلہ کرائیں جب کہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ طاغوت کا انکار کریں اور شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ انہیں گمراہی میں دور تک کھینچ کر لے جائے اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ حکم خدا اور اس کے رسول(ص) کی طرف آئو تو تم منافقین کو دیکھو گے کہ وہ شدت سے انکار کر دیتے ہیں پس اس وقت کیا ہوگا جب ان پر ان کے اعمال کی بنا پر مصیبت نازل ہوگی اور وہ آپ کے پاس آکر خدا کی قسم کھائیں گے کہ ہمارا مقصد فقط نیکی کرنا اور اتحاد پیدا کرنا تھا. نساء آیت/62


( إِنَ‏ الْمُنافِقِينَ‏ يُخادِعُونَ‏ اللَّهَ‏ وَ هُوَ خادِعُهُمْ وَ إِذا قامُوا إِلَى الصَّلاةِ قامُوا كُسالى‏ يُراؤُنَ النَّاسَ وَ لا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا ) ( النساء: 142)

منافقین خدا کو دھوکا دینا چاہتے ہیں اور خدا انہیں دھوکے میں رکھنے والا ہے اور یہ نماز کے لئے اٹھتے بھی ہیں تو سستی کے ساتھ لوگوں کو دکھانے کے لئے عمل کرتے ہیں اور اللہ کو بہت کم یاد کرتے ہیں.

( وَ إِذا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ‏ أَجْسامُهُمْ‏ وَ إِنْ يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ‏ كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ قاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ ‏) ( المنافقون:4)

اور جب آپ انہیں دیکھیں گے تو ان کے جسم بہت اچھے لگیں گے اور بات کریں گے تو اس طرح کہ آپ سننے لگیں لیکن حقیقت میں یہ ایسے ہیں جیسے دیوار سے لگائی ہوئی سوکھی لکڑیاں کہ ہر چیخ کو اپنے ہی خلاف سمجھتے ہیں اور یہ واقعا دشمن ہیں ان سے ہوشیار رہیئے خدا انہیں غارت کرے یہ کہاں بہکے چلے جا رہے ہیں.

( قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الْمُعَوِّقِينَ‏ مِنْكُمْ‏ وَ الْقائِلِينَ لِإِخْوانِهِمْ هَلُمَّ إِلَيْنا وَ لا يَأْتُونَ الْبَأْسَ إِلَّا قَلِيلًا أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ فَإِذا جاءَ الْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِي يُغْشى‏ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ فَإِذا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوكُمْ بِأَلْسِنَةٍ حِدادٍ أَشِحَّةً عَلَى الْخَيْرِ أُولئِكَ لَمْ يُؤْمِنُوا فَأَحْبَطَ اللَّهُ أَعْمالَهُمْ وَ كانَ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيراً" ) (احزاب :19)


خدا ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو جنگ سے روکنے والے ہیں اور اپنے بھائیوں سے یہ کہنے والے ہیں کہ ہماری طرف آجائو اور یہ خود میدان جنگ میں بہت کم آتے ہیں یہ تم سے جان چراتے ہیں اور جب خوف سامنے آجائے گا تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کی طرف اس طرح دیکھیں گے جیسے ان کی آنکھوں یوں پھر رہی ہیں جیسے موت کی غشی طاری ہو اور جب خوف چلا جائے گا تو آپ پر تیزتر زبانوں کے ساتھ حملہ کریں گے اور انہیں ملا غنیمت کی حرص ہوگی. یہ لوگ شروع ہی سے ایمان نہیں لائے ہیں لہذا خدا نے ان کے اعمال کو بر باد کر دیا ہے اور خدا کے لئے یہ کام بڑا آسان ہے.

( وَ مِنْهُمْ مَنْ‏ يَسْتَمِعُ‏ إِلَيْكَ‏ حَتَّى إِذا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِكَ قالُوا لِلَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ ما ذا قالَ آنِفاً أُولئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلى‏ قُلُوبِهِمْ وَ اتَّبَعُوا أَهْواءَهُمْ‏ ) ( محمد:16)

اور ان میں سے کچھ افراد ایسے بھی ہیں جو آپ کی باتیں بظاہر غور سے سنتے ہیں اور اس کے بعد جب آپ کے پاس سے باہر نکلتے ہیں تو جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے ان سے کہتے ہیں کہ انہوں نے ابھی کیا تھا یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا دی ہے اور انہوں نے اپنی خواہشات کا اتباع کر لیا ہے.

( أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَنْ لَنْ‏ يُخْرِجَ‏ اللَّهُ‏ أَضْغانَهُمْ‏


وَ لَوْ نَشاءُ لَأَرَيْناكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِيماهُمْ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِي لَحْنِ الْقَوْلِ وَ اللَّهُ يَعْلَمُ أَعْمالَكُمْ‏ .)

کیا جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کا مرض ہے یہ خیال کرتے ہیں کہ خدا ان کے دلوں کے کینوں کو باہر نہیں لائے گا اور اگر ہم چاہتے تو تمہیں ان لوگوں کو دکھا دیتے تو آپ ان کی پیشانی ہی سے ان کو پہچان لیتے. اور تم انہیں ان کے اندر گفتگو ہی سے ضرور پہچان لوگے اور خدا تمہارے اعمال سے واقف ہے.

( سَيَقُولُ‏ لَكَ‏ الْمُخَلَّفُونَ‏ مِنَ الْأَعْرابِ شَغَلَتْنا أَمْوالُنا وَ أَهْلُونا فَاسْتَغْفِرْ لَنا يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ ما لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ... ) (الفتح.1)

عنقریب یہ پیچھے رہ جانے والے گنوار آپ سے کہیں گے کہ ہمارے اموال اور اولاد نے مصروف کر دیا تھا لہذا آپ ہمارے حق میں استغفار کریں یہ لوگ اپنی زبان سے ایسی باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہے.

قرآن مجید کی یہ واضح آیتیں ان لوگوں کے نفاق کو بیان کر رہی ہیں جو مخلص صحابہ کی صفوں میں ایسے دھنس گئے تھے کہ اگر وحی کے ذریعہ خدا نہ بتاتا تو رسول(ص) سے بھی ان کی حقیقت کو نہ سمجھ پاتے.

لیکن ہمیشہ اہلسنت پر یہ ہمارا اعتراض رہا ہے کہ جو یہ کہتے ہیں کہ منافقین سے ہمیں کیا سروکار صحابہ منافق نہیں ہیں. یا کہتے ہیں کہ جو منافقین ہیں وہ صحابہ نہیں ہیں لیکن جب آپ ان سے سوال کریں گے کہ وہ منافقین کون لوگ ہیں جن کے بارے میں سورہ توبہ اور منافقون میں ایک سو پچاس سے زیادہ آیتیں نازل ہوئیں تو وہ جواب دیں گے کہ وہ عبداللہ ابن ابی اور عبداللہ ابن ابی سلول ہیں ان کے پاس ان دو ناموں


کے علاوہ تیسرا کوئی نام ہیں ہے.

سبحان اللہ! منافقین کی اتنی بڑی تعداد کہ نبی(ص) بھی ان میں سے بہت سوں کو نہیں جانتے تھے. تو پھر نفاق کو ابن ابی اور ابن ابی سلول میں کیسے منحصر کیا جاسکتا ہے؟ کہ جن کو تمام مسلمان جانتے تھے.اور جب رسول(ص) ان میں سے بعض کو جانتے تھے اور آپ نے حذیفہ یمانی کو ان کے نام بھی بتا دیئے تھے، جیسا کہ تم خود کہتے ہو. اور انہیں ان ناموں کے نقل کرنے سے منع کیا تھا. یہاں تک کہ عمر ابن خطاب نے اپنی خلافت کے زمانہ میں حذیفہ سے اپنے متعلق دریافت کیا کہ کیا میرا نام بھی منافقین کی فہرست میں ہے؟ کیا نبی(ص) نے میرا نام بھی بتایا ہے جیسا تم اپنی کتابوں میں روایت کرتے ہو؟(1) اور جب رسول(ص) نے منافقین کی ایک علامت بتا دی تھی کہ جس سے وہ پہچانے جاتے تھے اور وہ علامت ہے بغض علی ابن ابی طالب(ع) جب کہ تم اپنی صحاح میں لکھتے ہو.(2) پس وہ صحابہ کون ہیں جنہیں تم بلند مقام دیتے اور جن کے لئے رضی اللہ عنہ کہتے ہو جبکہ انہیں علی(ع) سے اتنا بغض ہوگیا تھا کہ آپ سے جنگ کی، آپ کو قتل کیا آپ(ع) کی زندگی اور موت کے بعد آپ(ع) پر اور آپ(ع) کے اہل بیت(ع) و محبین پر لعنت کی اور یہ سب تمہارے نزدیک اصحاب اخیار ہیں! رسول(ص) کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ آپ حذیفہ یمانی کو ان( منافقون) کے نام بتادیں اور مسلمانوں کو منافقون کی علامت بتا دیں تاکہ لوگوں پر حجت قائم

____________________

1.کنز العمال جلد/7 ص24، تاریخ ابن عساکر جلد/4 ص97، احیاء العلوم جلد/1 ص129

2.صحیح مسلم ج/1 ص61، ترمذی ج/5 ص306، سنن نسائی ج/8 ص116، کنزالعمال جلد/15 ص105


ہو جائے اور بعد میں نہ کہہ سکیں کہ ہمیں کچھ معلوم ہی نہ تھا.

آج اہل سنت کے اس قول کی کوئی حقیقت نہیں ہے کہ " ہم امام علی رضی اللہ عنہ و کرم اللہ وجہہ سے محبت رکھتے ہیں" ان کے لئے ہمارا یہ مشورہ ہے کہ قلب مومن میں ولی خدا اور دشمن خدا کی محبت جمع نہیں ہوتی ہے. خود امام علی(ع) نے فرمایا ہے کہ جو ہم کو اور ہمارے دشمنوں کو برابر قرار دے وہ ہم میں سے نہیں ہے.(1) پھر قرآن نے جہاں صحابہ کے بارے میں گفتگو کی ہے وہاں ان کے کچھ اور اوصاف بھی بیان کئے ہیں، اور کی شناخت بتائی ہے. جب ہم ان میں سے مخلص صحابہ کو علیحدہ کر لیتے ہیں تو باقی کو قرآن حکیم فاسق، خائن، متخاذلین، ناکثین واپس پلٹ جانے والے،خدا و رسول(ص) پر شک کرنے والے، میدان جہاد سے فرار کرنے والے، حق کے منکر، حکم خدا و رسول(ص) کا عصیان کرنے والے، جہاد سے جی چرانے والے، ہوائے نفس اور تجارت کے رسیاء تارک الصلوة، قول و فعل میں تضاد رکھنے والے، اپنے اسلام سے رسول(ص) پر احسان جتانے والے، سنگ دل، حق کو قبول نہ کرنے والے، خدا سے خوف نہ کھانے والے، نبی(ص) کی آواز پر آواز بلند کرنے والے، رسول(ص) کو اذیت دینے والے، منافقین کی باتوں پر کان نہ دھرنے والے قرار دیتا ہے. ہمیں اس مختصر مقدار پر ہی اکتفاء کرنی چاہئیے، کیونکہ اس موضوع پر بہت سی آیات موجود ہیں جنہیں ہم نے اختصار کے پیش نظر قلم بند نہیں کیا ہے. لیکن افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان آیات میں سے بعض کا تذکرہ کر دینا ضروری ہے.

____________________

1.نہج البلاغہ جلد/1 ص155


کہ جو صحابہ کی مذمت میں نازل ہوئی ہیں. اور وہ ان صفات سے متصف بھی تھے. لیکن وہ سیاست کے طفیل میں بعد رسول(ص) اور سلسلہ وحی کے انقطاع کے بعد سارے عادل ہوگئے اور اب کسی مسلمان میں ان کے متعلق کسی قسم کی تنقید کی جرات نہیں ہے.

قرآن بعض صحابہ کی حقیقت کا انکشاف کرتا ہے

منافقین والی آیتوں میں معاند کا تو وہم بھی نہیں ہوتا ہے منافقین کو صحابہ سے جدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جیسا کہ اہل سنت کو قول ہے. ہم منافقین سے مخصوص آیات کو سلسلہ وار جمع کیا ہے.

قرآن مجید میں خداوند عالم کا ارشاد ہے:

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ما لَكُمْ إِذا قِيلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي‏ سَبِيلِ‏ اللَّهِ‏ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ أَ رَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الْآخِرَةِ فَما مَتاعُ الْحَياةِ الدُّنْيا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ )

اے ایمان لانے والو تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا گیا کہ راہ خدا میں جہاد کے لئے نکلو تو تم زمین سے چپک کر رہ گئے. کیا تم آخرت کے بدلے زندگانی دنیا سے راضی ہوگئے ہو تو یاد رکھو کہ آخرت میں اس متاع زندگانی دنیا کی حقیقت بہت قلیل ہے


( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ‏ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ‏ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَ يُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكافِرِينَ يُجاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَ لا يَخافُونَ لَوْمَةَ لائِمٍ ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشاءُ وَ اللَّهُ واسِعٌ عَلِيمٌ )

اے صاحبان ایمان تم میں سے جو بھی اپنے دین سے پلٹ جائے گا تو عنقریب خدا ایک قوم کو لے آئے گا جو اس کی محبوب اور اس سے محبت کرنے والی، مومنین کے سامنے خاکسار اور کفار کے سامنے صاحب عزت، راہ خدا میں جہاد کرنے والی اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرنے والی ہوگی یہ فضل خدا ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے، وہ صاحب وسعت اور عظیم و دانا بھی ہے. مائدہ، آیت/54

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَخُونُوا اللَّهَ‏ وَ الرَّسُولَ وَ تَخُونُوا أَماناتِكُمْ وَ أَنْتُمْ تَعْلَمُونَ وَ اعْلَمُوا أَنَّما أَمْوالُكُمْ وَ أَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ وَ أَنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ )

اے ایمان والو خدا و رسول اور اپنی امانتوں کے بارے میں خیانت نہ کرو جبکہ تم جانتے بھی ہو اور یہ جان لو کہ یہ تمہاری اولاد اور تمہارے اموال ایک آزمائش ہیں اور خدا کے پاس اجر عظیم ہے. انفال، آیت/28

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَ لِلرَّسُولِ إِذا دَعاكُمْ‏ لِما يُحْيِيكُمْ‏ وَ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهِ وَ أَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ وَ اتَّقُوا فِتْنَةً لا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ


ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقابِ )

اے ایمان والو اللہ اور رسول(ص) کی آواز پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس امر کی طرف دعوت دیں جس میں تمہاری زندگی ہے اور یاد رکھو کہ خدا انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور تم سب اسی کی طرف حاضر کئے جائو گے اور تم اس فتنہ سے بچو جو صرف ظالمین کو پہونچنے والا نہیں ہے اور یاد رکھو کہ اللہ سخت ترین عذاب کا مالک ہے. انفال، آیت/25

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ‏ عَلَيْكُمْ إِذْ جاءَتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً وَ جُنُوداً لَمْ تَرَوْها وَ كانَ اللَّهُ بِما تَعْمَلُونَ بَصِيراً إِذْ جاؤُكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَناجِرَ وَ تَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا هُنالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَ زُلْزِلُوا زِلْزالًا شَدِيداً وَ إِذْ يَقُولُ الْمُنافِقُونَ وَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ ما وَعَدَنَا اللَّهُ وَ رَسُولُهُ إِلَّا غُرُوراً )

اے ایمان لانے والو اس وقت اللہ کی نعمت کو یاد رکھو جب کفر کے لشکر تمہارے سامنے آگئے اور ہم نے ان کے خلاف تمہاری مدد کے لئے تیز ہوا اور ایسے لشکر بھیج دیئے جن کو تم نے دیکھا بھی نہیں تھا اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے اس وقت جب کفار تمہارے اوپر کی طرف سے اور نیچے کی سمت سے آگئے اور دہشت سے نگاہیں خیرہ کرنے لگیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے اور تم خدا کے بارے میں طرح طرح کے خیالات میں مبتلا ہوگئے


اس وقت مومنین کا با قاعدہ امتحان لیا گیا. اور انہیں شدید قسم کے جھٹکے دئے گئے اور جب منافقین اور جن کے دلوں میں مرض تھا یہ کہہ رہے تھے کہ خدا و رسول(ص) نے ہم سے صرف دھوکہ دینے والا وعدہ کیا ہے. احزاب، آیت/12

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ‏ تَقُولُونَ‏ ما لا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتاً عِنْدَ اللَّهِ‏ أَنْ تَقُولُوا ما لا تَفْعَلُونَ )

اے ایمان والو آخر وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر عمل نہیں کرتے ہو اللہ کے نزدیک یہ سخت ناراضگی کا باعث ہے کہ تم وہ کہو جس پر عمل نہیں کرتے ہو. صف، آیت/3

( أَ لَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ‏ تَخْشَعَ‏ قُلُوبُهُمْ‏ لِذِكْرِ اللَّهِ وَ ما نَزَلَ مِنَ الْحَقِ )

کیا صاحبان ایمان کے لئے وہ وقت نہیں آیا ہے کہ ان کے دل ذکر خدا اور اس کی طرف سے نازل ہونے والے حق کے لئے نرم ہو جائیں. ( حدید آیت16)

( يَمُنُّونَ‏ عَلَيْكَ‏ أَنْ أَسْلَمُوا- قُلْ لا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلامَكُمْ بَلِ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ- أَنْ هَداكُمْ لِلْإِيمانِ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِينَ ‏) حجرات، آیت/17

یہ لوگ آپ پر احسان جتاتے ہیں کہ اسلام لے آئے ہیں تو آپ کہدیجئے کہ ہمارے اوپر احسان نہ رکھو بلکہ یہ تو خدا کا احسان ہے


کہ اس نے تم کو ایمان لانے کی ہدایت دے دی ہے اگر تم واقعا دعوائے ایمان میں سچے ہو.

( قُلْ‏ إِنْ‏ كانَ‏ آباؤُكُمْ‏ وَ أَبْناؤُكُمْ- وَ إِخْوانُكُمْ وَ أَزْواجُكُمْ وَ عَشِيرَتُكُمْ وَ أَمْوالٌ اقْتَرَفْتُمُوها- وَ تِجارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسادَها وَ مَساكِنُ تَرْضَوْنَها- أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ جِهادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ- وَ اللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفاسِقِينَ )

اے پیغمبر کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ، دادا، اولاد، برادران، ازواج، عشیرہ و قبیلہ اور وہ اموال جنہیں تم نے جمع کیا ہے اور وہ تجارت جس کے خسارہ کی طرف سے تم فکر مند رہتے ہو اور وہ مکانات جن کو تم پسند کرتے ہو تمہاری نگاہ میں اللہ، اس کے رسول(ص) اور راہ خدا میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو وقت کا انتظار کرو یہاں تک کہ امر الہی آجائے اور اللہ فاسق قوم کی ہدایت نہیں کرتا. توبہ، آیت/24

( قالَتِ‏ الْأَعْرابُ‏ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَ لكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا وَ لَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمانُ فِي قُلُوبِكُمْ ‏) حجرات، آیت/14

یہ بدو عرب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے ہو بلکہ یہ کہو کہ اسلام لے آئے ہیں کیونکہ ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے.

( إِنَّما يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ‏ بِاللَّهِ‏ وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ وَ ارْتابَتْ قُلُوبُهُمْ فَهُمْ فِي رَيْبِهِمْ يَتَرَدَّدُونَ .) توبہ، آیت/45


یہ اجارت صرف وہ لوگ طلب کرتے ہیں جن کا ایمان اللہ اور روز آخرت پر نہیں ہے اور ان کے دلوں میں شبہہ ہے اور وہ اسی شبہہ میں چکر کاٹ رہے ہیں.

( لَوْ خَرَجُوا فِيكُمْ‏ ما زادُوكُمْ إِلَّا خَبالًا وَ لَأَوْضَعُوا خِلالَكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ وَ فِيكُمْ سَمَّاعُونَ لَهُمْ وَ اللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ ) توبہ، آیت/47

اگر یہ تمہارے درمیان نکل بھی پڑتے تو تمہاری وحشت میں اضافہ ہی کر دیتے اورتمہارے درمیان فتنہ کی تلاش میں گھوڑے دوڑاتے پھرتے اور تم میں ایسے لوگ بھی تھے جو ان کی سننے والے بھی تھے اور اللہ تو ظالمین کو خوب جاننے والا ہے.

( فَرِحَ‏ الْمُخَلَّفُونَ‏ بِمَقْعَدِهِمْ خِلافَ رَسُولِ اللَّهِ وَ كَرِهُوا أَنْ يُجاهِدُوا بِأَمْوالِهِمْ وَ أَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ- وَ قالُوا لا تَنْفِرُوا فِي الْحَرِّ- قُلْ نارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّا لَوْ كانُوا يَفْقَهُونَ ‏)

جو لوگ جنگ تبوک میں نہیں گئے وہ رسول اللہ(ص) کے پیچھے بیٹھے رہ جانے پر خوش ہیں اور انہیں اپنے جان و مال سے رہ خدا میں جہاد ناگوار معلوم ہوتا ہے اور یہ کہتے ہیں کہ تم لوگ گرمی میں نہ نکلو تو پھر ( پیغمبر) آپ کہہ دیجئے کہ آتش جہنم اس سے زیادہ گرم ہے اگر یہ لوگ کچھ سمجھنے والے ہیں. ( توبہ، آیت81)

( ذلِكَ بِأَنَّهُمُ اتَّبَعُوا ما أَسْخَطَ اللَّهَ‏ وَ كَرِهُوا رِضْوانَهُ فَأَحْبَطَ أَعْمالَهُمْ أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَنْ لَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ أَضْغانَهُمْ وَ لَوْ نَشاءُ لَأَرَيْناكَهُمْ


فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِيماهُمْ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِي لَحْنِ الْقَوْلِ وَ اللَّهُ يَعْلَمُ أَعْمالَكُمْ ) محمد(ص)، آیت/30

یہ اس لئے کہ انہوں نے ان باتوں کا اتباع کیا ہے جو خدا کو ناراض کرنے والی ہیں اور اس کی مرضی کو ناپسند کیا ہے تو خدا نے بھی ان کے اعمال کو برباد کر رکھا ہے کیا جن لوگوں کے دلوں میں بیماری پائی جاتی ہے ان کا خیال یہ ہے کہ خدا ان کے دلوں کے کینوں کو باہر نہیں لائے گا اور ہم چاہتے تو انہیں دکھلا دیتے اور آپ چہرے کے آثار ہی سے پہچان لیتے اور ان کی گفتگو کے انداز سے تو پہچان ہی لیں گے اور اللہ تم سب کے اعمال سے خوب واقف ہے.

( وَ إِنَ‏ فَرِيقاً مِنَ‏ الْمُؤْمِنِينَ‏ لَكارِهُونَ يُجادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَ ما تَبَيَّنَ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ يَنْظُرُونَ ‏) انفال آیت/6

اگرچہ مومنین کی ایک جماعت اسے نا پسند کر رہی تھی یہ لوگ آپ سے حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے بارے میں بحث کرتے ہیں جیسے کہ موت کی طرف بہکائے جا رہے ہوں اور حسرت و یاس سے دیکھ رہے ہوں.

( ها أَنْتُمْ‏ هؤُلاءِ تُدْعَوْنَ‏ لِتُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَمِنْكُمْ مَنْ يَبْخَلُ، وَ مَنْ يَبْخَلْ فَإِنَّما يَبْخَلُ عَنْ نَفْسِهِ، وَ اللَّهُ الْغَنِيُّ وَ أَنْتُمُ الْفُقَراءُ، وَ إِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ ثُمَّ لا يَكُونُوا أَمْثالَكُمْ ) محمد آیت/38


ہاں تم لوگ وہی ہو جنہیں راہ خدا میں خرچ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے تو تم میں سے بعض لوگ بخل کرنے لگتے ہیں اور جو لوگ بخل کرتے ہیں وہ اپنے ہی حق میں بخل کرتے ہیں اور خدا سب سے بے نیاز ہے تم ہی سب اس کے محتاج ہو اگر تم منہ پھیر لوگے تو وہ تمہارے بدلے دوسری قوم کو لے آئے گا جو اس کے بعد تم جیسے نہ ہوں گے.

( مَنْ‏ يَلْمِزُكَ‏ فِي الصَّدَقاتِ فَإِنْ أُعْطُوا مِنْها رَضُوا وَ إِنْ لَمْ يُعْطَوْا مِنْها إِذا هُمْ يَسْخَطُونَ .) توبہ، آیت/58

اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو خیرات کے بارے میں الزام لگاتے ہیں کہ انہیں کچھ مل جائے تو راضی ہو جائیں گے اور نہ دیا جائے تو ناراض ہوجائیں گے.

( وَ مِنْهُمْ مَنْ‏ يَسْتَمِعُ‏ إِلَيْكَ‏ حَتَّى إِذا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِكَ قالُوا لِلَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ ما ذا قالَ آنِفاً أُولئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلى‏ قُلُوبِهِمْ وَ اتَّبَعُوا أَهْواءَهُمْ .) محمد(ص)، آیت/16

اور ان میں سے کچھ افراد ایسے بھی ہیں جو آپ کی باتیں بظاہر غور سے سنتے ہیں اور جب آپ کے پاس سے باہر نکلتے ہیں تو جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے تو ان سے کہتے ہیں کہ انہوں نے ابھی کیا کہا تھا ہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا دی ہے اور انہوں نے اپنی خواہشات کا اتباع کر لیا ہے.


( وَ مِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ‏ النَّبِيَ‏ وَ يَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَ يُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَ رَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ الَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذابٌ أَلِيمٌ ) توبہ، آیت/61

ان میں سے وہ بھی ہیں جو پیغمبر کو اذیت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ تو صرف کان ہیں آپ کہہ دیجئیے کہ تمہارے حق میں بہتری کے کان ہیں کہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور مومنین کی تصدیق کرتے ہیں اور صاحبان ایمان کے لئے رحمت ہیں اور جو لوگ رسول خدا کو اذیت دیتے ہیں ان کے واسطے دردناک عذاب ہے.

تحقیق کرنے والوں کے لئے واضح آیات کی یہ مقدار کافی ہے اس طرح صحابہ کو دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں.

1- جو خدا و رسول(ص) پر ایمان لائے اور اپنے امر و قیادت کو خدا ورسول(ص) کے سپرد کر دیا، ان کی اطاعت کی، ان کی صحبت میں زندگی گذاری اور ان کی خوشنودی میں جان دے دی، وہ کامیاب و رستگار ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے. قرآن انہیں شاکرین کے نام سے یاد کرتا ہے.

2- جو لوگ ظاہر میں خدا و رسول(ص) پر ایمان لائے لیکن ان کے دلوں میں بیماری رہی اور انہوں نے اپنے امور کو خدا و رسول(ص) کے سپرد نہیں کیا. ہاں شخصی فوائد و دنیاوی مصلحت کے تحت خاموش رہے اور احکام و امر رسالت کے بارے میں رسول(ص)سے جھگڑتے رہے....

یہ گھاٹا اٹھانے والے ہیں ان کی اکثریت ہے قرآن نے انہیں بہت ہی حقیر تعبیر سے یاد کیا ہے. چنانچہ ارشاد ہے:


( لَقَدْ جِئْناكُمْ‏ بِالْحَقِّ وَ لكِنَّ أَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كارِهُونَ ‏) زخرف، آیت/78

یقینا ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے لیکن تمہاری اکثریت تو حق کو ناپسند کرنے والی ہے.

اس سے محقق پر یہ بات منکشف ہو جائے گی کہ یہ اکثریت نبی(ص) کے ساتھ زندگی گزارتی تھی آپ کے پیچھے نماز پڑھتی تھی، حضر و سفر میں آپ کے ہمراہ رہتی تھی، اور آپ کے تقرب کا اس لئے ذریعہ ڈھونڈتی تھی تاکہ مخلص مومنین ان کی حالت سے واقف نہ ہوسکیں اور عبادت و تقوی کے لحاظ سے لوگوں کی نظروں میں خود کو ایسا بنا کر پیش کرتی تھی کہ جس پر مومنین رشک کرنے لگیں.(1) جب حیات نبی(ص) میں ان کی یہ حالت تھی تو نبی(ص) کے بعد انہوں نے کیا کچھ نہ کیا ہوگا.

اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ لوگ بہت چالاک تھے ان کی تعداد روز افزون تھی ان کے ہم خیال بہت زیادہ تھے اب کوئی نبی(ص) نہیں تھا جو انہیں پہچانتا اور نہ ہی وصی کا سلسلہ تھا جو ان کی حقیقت کا انکشاف کرتا خصوصا نبی(ص) کی وفات

____________________

1.امام احمد نے اپنی مسند میں اور ابن حجر نے اصابہ میں ذی اللہ یہ کے حالات میں انس ابن مالک سے نقل کیا ہے کہ رسول(ص) کے زمانہ میں ہم اس عبادت و جانفشانی پر تعجب کیا کرتے تھے ایک مرتبہ اس کی حالات کی خدمت میں بیان کی گئی لیکن آپ(ص) اس کے نام سے نہ سمجھ سکے پھر صفت بیان کی گئی پھر بھی آپ متوجہ نہ ہوسکے کچھ دیر بعد جب وہ نکلا تو ہم نے آنحضرت(ص) سے کہا یہ ہے وہ شخص رسول(ص) نے فرمایا : مجھے اس شخص کے متعلق بتا رہے ہو جس کے چہرے سے شیطنت آشکار ہے یہ اور اس کے اصحاب قرآن پڑھتے ہیں لیکن اسے تسلیم نہیں کرتے. دینی معاملات سے ایسے گذر جاتے ہیں جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے انہیں قتل کردو یہی شریر ہیں.


حسرت آیات کے بعد اہل مدینہ کے درمیان دیکھتے ہی دیکھتے افتراق پھیل گیا اسی طرح جزیرة العرب میں وہ لوگ مرتد ہوگئے جو کفر و نفاق میں بہت ہی سخت تھے، ان میں سے بعض نے تو نبوت کا دعوی کردیا جیسے مسیلمہ کذاب اور طلیحہ و سجاح بنت الحرث اور ان کے پیروکار، واضح رہے کہ یہ سب صحابہ تھے.

اگر ہم ان تمام باتوں سے چشم پوشی کر لیں اور صرف رسول(ص) کے ان صحابہ کو مورد نظر قرار دیں کہ جو مدینہ میں مقیم تھے تو ان کے بارے میں بھی ہمیں یقین ہے کہ ان میں بھی نفاق کے عناصر موجود تھے یہاں تک کہ ان میں بیشتر خلافت کے چکر میں اپنی پہلی حالت کی طرف پلٹ گئے تھے.

گذشتہ بحثوں میں ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ انہوں نے رسول(ص) اور ان کے جانشین کے خلاف کاروائی کی اور رسول(ص) کے احکام کی اس وقت مخالفت کی جب آپ بستر مرگ پر تھے.

یہ وہ حقیقت ہے جس کا اقرار تاریخ و سیرت نبی(ص) کی کتابوں کے مطالعہ کے وقت ہر ایک حق کا متلاشی کرے گا اور کتاب خدا میں اس بات کو جلی ترین عبارت میں بیان کیا گیا ہے. چنانچہ ارشاد ہے.

( وَ ما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ‏ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَ فَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلى‏ أَعْقابِكُمْ وَ مَنْ يَنْقَلِبْ عَلى‏ عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئاً وَ سَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ ) آل عمران، آیت/144

اور محمد(ص) تو صرف رسول ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گذرے ہیں کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل ہوجائیں تو تم الٹے پیروں پلٹ جائو گے تو جو ایسا کرے گا وہ خدا کو کوئی نقصان


نہ پہونچا سکے گا اور خدا شکر گزاروں کو عنقریب ان کی جزا دے گا.

پس صحابہ میں سے شکر گزار بہت تھے اور وہی دین پر باقی رہے اور اس زمانہ میں ثابت قدم رہے جب دوسرے رسول(ص) کے خلاف سازش میں مصروف تھے اور انہوں نے دین میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی.

یہ آیہ کریمہ اور اس کا محکم مفہوم اہل سنت کے اس دعوے کو باطل کر دیتا ہے کہ صحابہ کا منافقین سے کوئی تعلق نہ تھا اور اگر ہم ان کی اس بات کو قبول بھی کریں تو بھی باس آیت کا تعلق مخلص صحابہ سے صحابہ سے ہے کہ جو حیات نبی(ص) میں منافق نہیں تھے لیکن آپ کی وفات کے بعد الٹے پیروں اپنی پہلی حالت پر پلٹ گئے تھے.

ان کی کیفیت عنقریب اس وقت واضح ہوگی جب ہم حیات نبی(ص) میں اور ان کی حیات کے بعد صحابہ کے کارناموں کا جائزہ لیں گے اور ان کے بارے میں رسول(ص) کے اقوال کا تجزیہ کریں گے اور ان کے متعلق رسول(ص) کے اقوال سے تاریخ و حدیث و سیرت کی کتابیں بھری پڑی ہیں.

حدیث نبی(ص) بعض صحابہ کا راز فاش کرتی ہے

مخالف ان احادیث نبوی میں کہ جو صحابہ کے بارے میں وارد ہوئی ہیں کوئی خدشہ وارد نہیں کرسکے گا اور انہیں ضعیف قرار نہیں دے سکے گا، اس وقت ہم بخاری سے احادیث پیش کرتے ہیں جو اہل سنت کے نزدیک صحیح ترین کتاب ہے. اگر چہ بخاری نے صحابہ کی عزت بچانے کے لئے بہت احادیث کو چھپالیا ہے یہ بات تو ان کے متعلق مشہور ہے. اس لئے کہ بخاری کے علاوہ اہل سنت کی صحاح


میں واضح عبارت میں ان کا ضعف بیان کیا گیا ہے اس کے باوجود ہم اپنی صحت کے استحکام کے لئے بخاری کی مختصر احادیث ہی پر اکتفا کرتے ہیں.

بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/1 کی کتاب الایمان کے خوف المومن من یحبط عملہ و ہو لا یشعر میں تحریر کیا ہے کہ:

ابراہیم تمیمی نے کہا کہ میں نے اپنے قول کو اپنے عمل پر کبھی نہیں پرکھا، کیونکہ مجھے اس بات کا خوف ہے کہ کہیں میں جھوٹا ثابت نہ ہو جائوں. ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی(ص) کے ایسے تیس صحابہ سے ملاقات کی ہے کہ جنہیں اپنے بارے میں یہ خوف تھا کہ کہیں وہ منافق نہ ہوں. ان میں سے کوئی ایک بھی یہ دعوی نہیں کرتا تھا کہ ہم جبرئیل و میکائیل کے ایمان پر بر قرار ہیں.(1)

اور جب ابن ابی ملیکہ نے تیس(30) صحابہ نبی(ص) کو اپنے نفاق سے ڈراتا ہوا پایا اور وہ اپنے صحیح ایمان کا دعوی بھی نہیں کرسکتے تھے پھر اہل سنت کو کیا ہوگیا کہ وہ صحابہ کو انبیاء کی منزل تک پہونچاتے ہیں اور کسی کے متعلق تنقید سننا گوارا نہیں کرتے. بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/4 کی کتاب الجہاد و السیر کے جاسوس و تجسس والے باب میں تحریر کیا ہے کہ: حاطب ابن ابی بلتعہ رسول(ص) کے صحابی نے مشرکین مکہ کو رسول(ص) کے منصوبوں کی خبر دی جب اسے اس کے خط کے ساتھ رسول(ص) کی خدمت میں حاضر کیا گیا اور رسول(ص) نے اس سے دریافت کیا

____________________

1.صحیح بخاری، جلد/1 ص17


کہ یہ کیا ہے تو اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میں مکہ میں اپنے قرابتداروں کی حمایت کرنا چاہتا تھا. رسول(ص) نے اس کی تصدیق کی عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ(ص) اجازت دیجئے میں اس منافق کی گردن اڑادوں. کہا: یہ بدر میں شریک تھا تم لو جانتے ہی ہو کہ خدا نے اہل بدر کے بارے میں کیا فرمایا ہے. کہ تم جو چاہو کرو میں نے تمہیں معاف کیا.(1)

اور جب حاطب ایسا صحابی جو بدری صحابہ میں سے تھا نبی(ص) کے اسرار کو نبی(ص) کے دشمن و مشرکین کے پاس بھیج دیتا ہے اور اپنے قرابتداروں کی حمایت کی وجہ سے خدا و رسول(ص) کے ساتھ خیانت کرتا ہے اور عمر ابن خطاب اس کے نفاق کی گواہی دیتے ہیں تو ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو فتح خیبر و فتح حنین کے بعد یا فتح مکہ کے بعد جبرایا یا خوشی خواہ مسلمان ہوئے تھے.

بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/6 کتاب فضائل القرآن کے( سَواءٌ عَلَيْهِمْ‏ أَسْتَغْفَرْتَ‏ لَهُمْ‏ أَمْ لَمْ‏ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ‏ إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفاسِقِينَ ‏) والے باب میں تحریر کیا ہے کہ:

مہاجرین کے ایک شخص کا انصار کے کسی آدمی سے جھگڑا ہوگیا، انصاری نے انصار کو پکارا اور مہاجر نے مہاجرین سے مدد طلب کی جب رسول(ص) نے یہ سنا تو فرمایا: کیا جاہلیت کے جھگڑے لوٹ آئے؟ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ(ص)! مہاجرین کا ایک آدمی انصار سے لڑگیا. آپ نے فرمایا لڑائی جھگڑا ختم کرو کیونکہ یہ پوچ ( پوسیدہ) حرکت ہے.

رسول(ص) اس بات کے بعد فورا عبداللہ ابن ابی نے


کہا قسم خدا کی جب ہم مدینہ واپس جائیں گے تو جو لوگ شریف طاقتور اور با عزت ہیں وہ یقینا ذلیل و خوار لوگوں کو مدینہ سے باہر نکال دیں گے، شدہ شدہ یہ خبر رسول(ص) تک پہونچی عمر نے کھڑے ہو کر کہا پیغمبر(ص) خدا اجازت دیجئے تو میں اس منافق کی گردن مار دوں، پیغمبر(ص) نے فرمایا: جانے دو تا کہ لوگ یہ نہ کہیں پیغمبر(ص) اپنے اصحاب کو قتل کر رہے ہیں.(1)

اس حدیث سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ منافقین رسول(ص) کے اصحاب میں تھے، اسی لئے تو رسول(ص) نے عمر کی بات کی تائید کی عمر نے عبداللہ ابن ابی کو منافق کہا تھا، لیکن منافق ہونے کے باوجود پیغمبر(ص) نے عمر کو اس ( عبداللہ ابن ابی) کے قتل کرنے کی اجازت اس لئے نہیں دی کہ لوگ یہ کہنے لگیں گے کہ محمد(ص) اپنے اصحاب کو قتل کر رہے ہیں. محمد(ص) اس بات سے اچھی طرح واقف تھے کہ میرے اصحاب زیادہ تر منافق ہیں اگر منافقوں کو قتل کیا جائے تو آپ(ص) کے اصحاب کی تعداد بہت کم رہ جائے گی. کہاں ہیں اہلسنت؟ کیا وہ اس تلخ حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں؟ ان کے خیالات کو باطل کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے.

بخاری نے کتاب الشہادات جلد/3 باب حدیث افک میں تحریر کیا ہے کہ:

پیغمبر(ص) نے فرمایا: آیا کوئی ہے جو مجھے اس شخص سے نجات دلائے جو میرے اہل بیت(ع) کو اذیت دیتا ہے. یہ سن کر سعد ابی معاذ کھڑے ہوئے اور کہا اے پیغمبر(ص) قسم خدا کی

____________________

1.بخاری جلد/6 ص65


میں آپ کو اس سے نجات دلائوں گا خواہ اس کا تعلق اوس و خزرج کے قبیلہ ہی سے کیوں نہ ہو میں اس کی گردن مار دوں گا آپ ایسے موقعوں پر ہمیں بلائیے، ہم آپ کی مدد کو پہونچیں گے، حکم بجا لائیں گے، اس کے بعد سعد ابن عبادہ قبیلہ خرزج کے رئیس سے حمیت کے مارے نہ رہا گیا اور کھڑے ہو کر کہا تم جھوٹ کہتے ہو قسم خدا کی تم ان ( خزرج والوں) کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ا ن کے بعد اسید ابن خضیر کھڑے ہوئے اور کہا قسم خدا کی تم جھوٹ کہتے ہو ہم اسے لازمی قتل کریں گے. اور چونکہ تم منافق ہو اس لئے منافقوں کی طرفداری کر رہے ہو. نتیجہ یہ ہوا کہ قبیلہ اوس و خزرج والے جنگ پر آمادہ ہوگئے. پیغمبر(ص) منبر پر تھے اور انہیں، ( اوس خزرج والوں کو) ٹھنڈا کرنے کوشش کر رہے تھے یہاں تک کہ ان کا غیظ و غضب ختم ہوا اور وہ جنگ و خونریزی سے باز رہے.(1)

جب انصار کی بلند پایہ شخصیت سعد ابن عبادہ کو نبی(ص) کے سامنے منافق کہہ دیا گیا اور کسی نے ان کی حمایت تک نہ کی حالانکہ سعد ابن عبادة انہیں انصار کی فرد ہے جن کی خداوند عالم نے قرآن مجید میں توصیف بیان فرمائی ہے.یہ سب اوس و خزرج والے اس منافق کو قتل سے بچانے کے لئے جو پیغمبر(ص) کے اہل بیت(ع) کو اذیت دیتا ہے دونوں ایک دوسرے کے مقابلے میں آجاتے ہیں اور جنگ و پیکار کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور آن حضرت(ص) کے سامنے چیخنا چلانا شروع کردیتے ہیں.پس وہ لوگ کیونکر منافق نہیں ہوسکتے جنہوں نے زندگی بھر رسول خدا(ص) اور اسلام سے جنگ کی اور ان لوگوں کے منافق ہونے میں کیا شک ہے

____________________

1.صحیح بخاری جلد/3 ص156 و جلد/ 6 ص8


جنہوں نے آپ کی وفات کے بعد خلافت کے لئے آپ کی لخت جگر کے گھر کو جلانے کا ارادہ کر لیا تھا؟!!

بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/8 کی کتاب التوجید میں خداوند عالم کے اس قول کے بارے" تعرج الملائکة والروح الیه" میں تحریر کیا ہے کہ:

علی ابن ابی طالب(ع) نے یمن سے رسول خدا(ص) کی خدمت میں سونا بھیجا آپ نے اسے بعض لوگوں کے درمیان تقسیم کردیا تو قریش اور انصار کو یہ بات بری لگی تو انہوں نے کہا کہ: رسول(ص) نجد کے بڑے لوگوں کے درمیان سونا تقسیم کر دیا. اور ہمیں چھوڑ دیا؟ آپ نے فرمایا میں ان کے دلوں کو موہ لینے کے لئے ایسا کیا ہے. پس ایک شخص آگے بڑھا اور کہنے لگا. اے محمد(ص) خدا سے ڈرئے! نبی(ص) نے فرمایا اگر میں خدا کی معصیت کروں گا تو اس کی اطاعت کون کرے گا؟ اس نے مجھے دنیا والوں کے لئے امین بنایا ہے اور تم مجھے امیں نہیں سمجھتے؟ اس موقع پر خالد ابن ولید نے پیغمبر(ص) سے اس شخص کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی لیکن نبی(ص) نے اجازت نہ دی جب وہ شخص چلا گیا اس وقت آپ(ص) نے فرمایا یہ لوگ مجھ سے وابستہ اور میرے قریب رہنے والے لوگ ہیں. کہ جو قرآن کی تلاوت کرتے ہیں لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا اسلام سے ایسے خارج ہوتے ہیں جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے یہ مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں اور بت پرستوں کو اپنی مدد کے لئے بلاتے ہیں اگر ان پر میری دست رس ہوگی تو انہیں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا. (صحیح بخاری جلد/8 ص178)


یہ شخص رسول خدا(ص) کے اصحاب میں سے دوسرا منافق ہے جو بے ادبانہ آپ(ص) پرسونے کی تقسیم کے سلسلہ میں ظلم کا اتہام لگاتا ہے اور کہتا ہے اے محمد اللہ سے ڈرئیے باوجودیکہ نبی(ص) اس کے نفاق سے واقف ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ میرے پاس بیٹھنے والوں میں سے کچھ لوگ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے کمان سے تیر نکلتا ہے. اور وہ بت پرستوں سے مدد چاہیں گے ان تمام باتوں کے باوجود نبی(ص) نے خالد ابن ولید کو اس کے قتل سے باز رکھا.

یہ ان اہل سنت کا جواب ہے جو اکثر میرے اوپر یہ کہہ کر حجت قائم کرتے ہیں کہ اگر رسول(ص) یہ جانتے تھے کہ میرے صحابی منافق ہیں اور وہ عنقریب مسلمانوں کی گمراہی کا سبب قرار پائیں گے تو آپ پر دین کی حفاظت اور امت کی حمایت کی خاطر ان کا قتل واجب تھا.

بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/3کتاب الصلح باب اذا اشار الامام بالصلح" میں روایت کی ہے کہ:

ابن زبیر بیان کرتے ہیں کہ وہ حسرہ کے ایک گھاٹ کے بارے میں انصار میں سے اس شخص سے جھگڑ رہے تھے جو رسول(ص) کے ساتھ جنگ بدر میں شریک تھا وہ دونوں ( پانی) پی رہے تھے رسول(ص) نے زبیر سے کہا کہ پہلے تم پی لو اس کے بعد اپنے ہمسایوں کے پینے دو، انصاری کو غصہ آگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ(ص) اس لئے کہ وہ آپ کا چچا زاد بھائی ہے؟ یہ بات سن کر رسول(ص) کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور فرمایا پہلے تم پانی پی لو اور باقی کو محفوظ کر لو تا کہ اسے زمین پی جائے.

____________________

صحیح بخاری جلد/3 ص171


یہ آپ(ص) کے اصحاب میں سے نفاق کا دوسرا نمونہ ہے کہ جو سمجھتا ہے کہ رسول(ص) پر عصبیت طاری ہوگئی ہے اس لئے وہ اپنے چچا زاد بھائی ( ابن زبیر) کی طرفداری کر رہے ہیں اور یہ بات اس نے اتنی بے حیائی سے کہی کہ شدت غضب سے رسول(ص) کے چہرہ کا رنگ متغیر ہوگیا. عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پیغمبر(ص) نے روز حنین لوگوں میں مال (غنیمت) تقسیم کیا اقرع ابن حابس کو سو اونٹ عطا کئے اور اسی طرح عیینہ کو بھی سو اونٹ دئیے اور اشراف عرب کو بھی مال و دولت دیا اور اس روز تقسیم سے ان لوگوں کو متاثر کر لیا، اس شخص نے کہا کہ خدا کی قسم اس تقسیم میں نہ عدالت کا پاس و لحاظ رکھا گیا اور نہ ہی خدا کی رضا کا. راوی کہتا ہے میں نے کہا قسم خدا کی بہ بات میں ضرور پیغمبر(ص) کو بتائوں گا. میں رسول(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس واقعہ کی اطلاع دی آپ(ص) نے فرمایا اگر خدا و رسول(ص) عادل نہیں ہیں تو پھر کون عادل ہوگا؟ خدا موسی پر رحم کرخ انہیں اس سے بھی زیادہ تکلیفین دی گئیں اور انہوں نے صبر کیا.(1) یہ اصحاب رسول(ص) میں سے دوسرا منافق ہے شاید یہ شخص قریش کے سربرآوردہ افراد میں سے ہے راوی نے ڈر کے مارے اس کا نام نہیں لیا ہے کیونکہ اس وقت وہ حکومت کا خاص آدمی تھا. آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ کس اعتماد کے ساتھ اس نے قسم کھا کر کہا ہے کہ پیغمبر(ص) عادل نہیں ہیں، اور تقسیم میں خدا کی رضا کا خیال نہیں رکھا ہے. خدا محمد(ص) پر رحمت نازل کرے ان پر اس سے کہیں زیادہ ظلم ہوا اور آپ نے صبر کیا.

بخاری و مسلم نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم تقسیم غنیمت کے وقت رسول(ص) کے پاس موجود تھے جب بنی تمیم میں سے ذوالخویصرہ

____________________

1.صحیح بخاری جلد/4 ص61 باب بخشش عطایا بمولفة القلوب


نامی شخص رسول(ص) کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ(ص) اللہ عدل کیجئے. آپ(ص) نے فرمایا خدا تجھے غارت کرے اگر میں عدل نہ کروں گا تو پھر کون عدل سے کام لے گا، اگر میں نے عدل نہ کیا ہوتا تو تم خسارہ میں رہتے. یہ بات سن کر عمر نے کہا: یا رسول اللہ(ص) مجھے اجازت بدیجئے کہ اس شخص کی گردن ماردوں آپ نے فرمایا چھوڑو جانے دو اس کے بہت سے دوست ایسے ہیں کہ اپنے روزے نماز کے مقابلے میں تم سب کے روزے نماز کو حقیر سمجھتے ہیں یہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا ہے یہ دین سے اس طرح نکل جاتے ہیں جس طرح کمان سے تیر نکل جاتا ہے.(1)

یہ منافقین صحابہ میں سے ایک اور نمونہ ہے یہ لوگ مومنون کے سامنے اپنے تقوے اور خشوع کا بہت زیادہ اظہار کرتے ہیں. یہاں تک کہ نبی(ص) نے عمر سے فرمایا کہ وہ تمہارے روزے نماز کو اپنے روزے نماز کے سامنے ہیچ سمجھتے ہیں بیشک وہ اچھی طرح قرآن کو حفظ کرتے تھے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا تھا اور پھر رسول(ص) کا یہ قول " چھوڑو ! جانے دو! ان کے بہت سے دوست ایسے ہیں" اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ صحابہ میں ایک بڑی تعداد منافقین کی تھی.

عائشہ کہتی ہیں کہ پیغمبر(ص) نے ایک دستور مرتب کیا اور لوگوں کو اس پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا لیکن لوگوں نے اس پر عمل نہیں کیا. پس رسول(ص) نے خطبہ دیا اور خدا کی حمد و ستائش کے بعد فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو میرے دستور کے مطابق عمل نہیں کرتے، میں اس پر عمل کرتا ہوں قسم خدا کی میں ان سے

____________________

1.صحیح بخاری جلد/4 ص179" باب علامات النبوة فی الاسلام کتاب بدو الخلق


زیادہ خدا کو پہچانتا ہوں اور ان سے زیادہ خدا سے ڈرتا ہوں.(1)

یہ ان صحابہ کا ایک نمونہ ہے جو رسول(ص) کی سنت سے پہلو تہی کیا کرتے تھے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ صحابہ رسول(ص) کے افعال کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور اس لئے تو ہم رسول(ص) کو ان کے درمیان خطبہ دیتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ جس میں آپ خدا کی قسم کھا کے کہتے ہیں " میں ان سے زیادہ خدا کو پہچانتا ہوں اور ان سے زیادہ خدا سے خوف کھاتا ہوں" بخاری نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ چوتھی ذی الحجہ کو نبی(ص) تہلیل کرتے ہوئے حج کے لئے تشریف لائے جب ہم آپ(ص) کے پاس پہونچے تو آپ(ص) نے ہمیں حج کو عمرے سے بدلنے کا حکم دیا سو ہم نے حج کو عمرے سے بدل دیا تاکہ ہم اپنی بیویوں کے ساتھ رہیں. اسی سلسلہ میں ایک خبر گشت کرنے لگی، عطا کہتے ہیں کہ جابر نے کہا کہ ہم میں سے کوئی آدمی منی کی طرف جانے لگا جب کہ اس کے عضو تناسل سے منی ٹپک رہی تھی تو جابر نے کہا کہ اسے روکو ! شدہ شدہ یہ خبر رسول خدا(ص) تک پہونچی، آپ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا : کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ لوگ ایسا ایسا کہہ رہے ہیں. قسم خدا کی میں ان سے کہیں زیادہ نیک اور خدا ترس ہوں.(2) اصحاب رسول(ص( سے یہ ایک اور گروہ ہے جو احکام شرعیہ میں رسول(ص) کے حکم کی مخالفت کرتا ہے. اور آپ(ص) کا یہ قول کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ لوگ ایسا ایسا کہہ رہے ہیں اس بات پر دلالت کر رہی ہے اکثر لوگوں نے اپنی بیویوں کے لئے محل ہونے

____________________

1.صحیح بخاری جلد/7 ص96 کتاب الادب باب "من لم یواجہ الناس بالعتاب"

2.صحیح بخاری جلد/3 ص114


سے انکار کر دیا تھا کہہ دیا تھا کہ ہم تو پاک ہیں منی جانے میں کیا اشکال ہے جب کہ منی ان کے عضہ تناسل سے ٹپک رہی تھی. ان نادانوں سے یہ بات پوشیدہ رہی کہ جنسی کام کے بعد خدا نے ان کے اوپر عشل و طہارت واجب کیا ہے. پس وہ کیسے منی چلے جا رہے ہیں جبکہ منی ان کے عضو تناسل سے ٹپک رہی ہے؟ کیا وہ احکام خدا کو رسول(ص) سے زیادہ بہتر جانتے ہیں؟ یا وہ خدا سے رسول(ص) کی بہ نسبت زیادہ ڈرتے ہیں؟

لاریب رسول(ص) کے بعد عمر نے متعہ حج اور متعہ نساء دونوں کو اسی لئے حرام قرار دے دیا. پس جب وہ حیات نبی(ص) میں ایام حج میں نبی(ص) کے اس حکم کو ٹھکرا سکتے ہیں کہ " تم اپنی بیویوں سے نکاح کرو" تو آپ کے بعد ان کا متعہ کو حرام قرار دینا کوئی بعید نہیں ہے. وہ نبی(ص) کےحکم کی تعمیل نہیں کرنا چاہتے اور عقد متعہ کو زنا تصور کرتے ہیں. آج تمام اہلسنت کا یہی مسلک ہے.

بخاری نے انس ابن مالک سے اپنی صحیح میں روایت کی ہے کہ جب رسول(ص) کو خدا نے ہوازن کا مال غنیمت میں عطا کیا اور رسول(ص) نے وہ مال، ایک قریشی کو دے دیا تو انصار نے کہا خدا پیغمبر(ص) کی مغفرت کرے وہ تو سب کچھ قریش کو بخش دے رہے ہیں اور ہمیں محروم رکھ رہے ہیں. ہماری شمشیر سے قریش کا خون ٹپکتا ہے.پس رسول(ص) نے صرف انہیں ایک قبہ کے نیچے جمع کیا اور فرمایا کہ: اس بات کو پھر دہرائو جومجھ تک پہونچی ہے جب انہوں نے اپنی بات کا اعادہ کیا تو آپ(ص) نے فرمایا کہ میں نے انہیں لوگوں کو غنیمت دی ہے جو تازہ مسلمان ہیں کیا تم تاس بات سے راضی نہیں ہو کہ وہ لوگ اپنے وطن مال لے کر جائیں؟ کیا تم رسول خدا(ص) کے ساتھ اپنے گھروں کو( اسی طرح) نہیں پلٹے ہو. قسم خدا کی جو چیز تم لے کر اپنے گھروں کو پلٹے ہو وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ لوگ لے کر پلٹے ہیں


آپ(ص) کی اس بات سے انصار نے کہا کہ اے پیغمبر(ص) خدا ہم مطمئن و راضی ہوگئے. اس کے بعد آپ(ص) نے فرمایا: تم لوگ میرے بعد حب نفس اور شہوت کا مشاہدہ کرو گے پس تم خدا و رسول(ص) سے ملاقات کے وقت تک صبر کرنا. انس کہتے ہیں کہ ہم نے اس پر صبر نہیں کیا ہے.(1)

یہاں ہم ایک سوال کرنا چاہتے ہیں اور وہ یہ کہ آیا پورے معاشرہ انصار میں کوئی شخص ایسا ہے جو رسول(ص) کے ہر کام سے مطمئن ہوگیا ہو اور یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ رسول(ص) خواہشات و عصبیت سے بری تھے اور اس سلسلہ میں خدا کے اس قول کو سمجھتا ہو:

( فَلا وَ رَبِّكَ‏ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيما شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجاً مِمَّا قَضَيْتَ وَ يُسَلِّمُوا تَسْلِيماً ) نساء، آیت/65

قسم آپ کے پروردگار کی یہ ہرگز مومن نہ بن سکیں گے یہاں تک کہ اپنے اختلاف میں آپ کو حکم بنالیں اور جب آپ فیصلہ کر دیں تو پھر اپنے دل میں کسی قسم کی تنگی کا احساس نہ کریں اور قطعی طور پر آپ کے فیصلہ پر راضی ہو جائیں. ان میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول(ص) کے بارے میں انصار کے اس قول کی تردید کی ہو کہ خدا و رسول(ص) کی مغفرت کرے؟ ہرگز ان میں کامل الایمان آیت کے اقتضاء کے لحاظ سے ایک شخص بھی نہیں ہے. اور اس کے بعد ان کا یہ کہنا " ہاں یا رسول اللہ(ص) اب ہم راضی ہوگئے

____________________

صحیح بخاری جلد/4 ص60 کتاب الجہاد والسیر


سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ مطمئن نہیں ہوئے تھے. جیسا کہ اس سلسلہ میں انس ابن مالک کی گواہی موجود ہے کہ جو انصاری گذشتہ شہادت کے وقت موجود تھے انس کہتے ہیں کہ ہم سے صبر کرنے کی وصیت کی تھی لیکن ہم صبر نہیں کرتے. بخاری نے احمد ابن اشکاب سے اور انہوں نے محمد ابن فضیل سے انہوں نے علا ابن مسیب سے اور مسیب نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ میں نے برا ابن عازب رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اور کہا : آپ خوش نصیب ہیں کہ آپ نبی(ص) کے ساتھ رہے اور درخت کے نیچے ان کی بیعت کی!

برا ابن عازب نے کہا: بھتیجے تمہیں نہیں معلوم کہ ہم نے ان( رسول(ص)) کے بعد کیا کیا.(1)

یقینا برا ابن عازب نے سچ کہا ہے. بیشک اکثر لوگ اسے نہیں جانتے کہ صحابہ نے اپنے نبی(ص) کی وفات کے بعد کیا کیا؟ کسی نے ان کے جانشین پر ظلم کیا، انہیں خلافت سے دور رکھا، کسی نے ان کی پارہ جگر پر ظلم کیا اور انہیں جلا دینے کی دھمکی دی، ان کے خمس، عطیہ اور میراث کو غصب کر لیا، وصیت نبی(ص) کی مخالفت کی. احکام شریعت کو بدل ڈالا، حدیث نبوی(ص) کو جلا ڈالا، ان کے اہل بیت(ع) پر لعنت اور پراگندہ کر کے رسول(ص) کو اذیت دی اور حکومت منافقین و فاسقین و دشمنان خدا و رسول(ص) کو سونپ دی اور بہت سی بدعتیں ہیں جو انہوں نے رسول(ص) کے بعد کی ہیں. وہ عامہ ( اہلسنت) سے پوشیدہ ہیں اور وہ اتنے ہی حقائق سے واقف و با خبر ہیں جتنے مکتب خلفاء نے پیش کئے تھے، اس مکتب نے اپنی فنکاری اور شخصی اجتہاد سے احکام خدا و رسول(ص) میں تبدیلی کر دی اور اس تبدیلی کو بدعت حسنہ

____________________

1.بخاری جلد/5 ص66 کتاب المغازی باب غروة حدیبیہ


کا نام دیا.

اسی لئے تو میں اپنے سنی بھائیوں سے کہتا ہوں کہ صحابہ کی صحبت سے فریب نہ کھانا. جب برا ابن عازب ایسے صف اوّل کے صحابی کہ جنہوں نے درخت کے نیچے پیغمبر(ص) کے ہاتھوں پر بیعت کی وہ کہتے ہیں کہ بھتیجے تمہیں میرا درخت کے نیچے بیعت کرنا اور پیغمبر(ص) کی صحبت سے شرفیاب ہونا دھوکہ میں نہ ڈال دے تمہیں نہیں معلوم میں نے ان کے بعد کیا کیا ہے جب کہ درخت کے نیچے بیعت کے بارے میں خدا کا ارشاد ہے:

( إِنَ‏ الَّذِينَ‏ يُبايِعُونَكَ‏ إِنَّما يُبايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّما يَنْكُثُ عَلى‏ نَفْسِهِ... ) سورہ فتح، آیت/10

بیشک جو لوگ آپ کی بیعت کرتے ہیں وہ در حقیقت اللہ کی بیعت کرتے ہیں اور ان کے ہاتھوں کے اوپر اللہ ہی کا ہاتھ ہے اس کے بعد جو بیعت توڑ دے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا.

بہت سے صحابہ نے زمانہ پیغمبر(ص) ہی میں بیعت توڑ دی تھی، رسول(ص) نے اپنے ابن عم علی ابن ابی طالب سے ان بیعت توڑنے والوں سے جہاد کرنے کا وعدہ لیا، جیسا کہ تاریخ کی کتابوں میں مرقوم ہے.

بخاری نے جابر ابن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ، شام سے تاجروں کا ایک قافلہ آیا جو اپنا کھانا وغیرہ ساتھ لایا تھا ہم پیغمبر(ص) کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے. (جب لوگوں نے قافلہ کی آمد کی آہٹ سنی تو) اکثر نماز توڑ کر بھاگ گئے. صرف بارہ افراد جماعت میں باقی بچے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی:


( وَ إِذا رَأَوْا تِجارَةً أَوْ لَهْواً انْفَضُّوا إِلَيْها وَ تَرَكُوكَ قائِماً ) (1)

یہ اصحاب رسول(ص) میں سے منافقین کا ایک اور گروہ ہے جس کے پاس نہ تقوی ہے نہ خوف خدا وخشوع بلکہ نئے آنے والے قافلہ اور تجارت کے لئے نماز جمعہ سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں اور رسول(ص) کو بارگاہ خدا میں عبادت کرتا ہوا چھوڑ دیتے ہیں.

کیا یہ بھی مسلمان ہیں کامل الایمان ہیں؟ یا یہ منافق ہیں؟ جو نماز کا مذاق اڑاتے ہیں. اور جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی سے بھرے ہوتے ہیں. ان لوگوں میں سے انہیں کو مستثنی کیا جاسکتا ہے خو نماز تمام ہونے تک نبی(ص) کے ساتھ رہے. واضح رہے کہ ایسے لوگوں کی تعداد صرف بارہ(12) تھی.

اگر کوئی صحابہ کے حالات و اخبار کا بغور مطالعہ کرے گا تو ان کے کارناموں کو دیکھ کر انگشت بدندان ہو جائے گا. اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ نماز جمعہ سے متعدد بار فرار کر چکے تھے اسی لئے تو خدا نے قرآن مجید میں فرمایا ہے( قُلْ ما عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجارَةِ )

قارئین محترم صحابہ کی نظر میں نماز جمعہ کا احترام عصر حاضر کے مسلمانوں سے زیادہ نہیں تھا. جس کا اندازہ آپ اس روایت سے لگا سکتے ہیں. بخاری نے سہیل ابن سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ:

____________________

1.صحیح بخاری جلد/1 ص225 و جلد/3 ص6و 7 کتاب الجمعہ


ہم روز جمعہ تفریح کر رہے تھے، ہمارے ساتھ ایک بڑھیا بھی تھی اس کا یہ وتیرہ تھا کہ وہ اس گھاس کی جڑ دیگچے میں ڈالتی تھی کہ جس کو ہم بدھ کے روز بوتے تھے اور اس میں جو کے دانے بھی ڈال دیتی تھی، اس کے بارے میں میں کچھ نہیں جانتا تھا مگر اتنا میں نے بڑھیا سے سنا کہ اس میں چربی نہیں ہے اور نہ ہی روغن نام کی کوئی چیز ہے جب ہم نماز جمعہ کے بعد اس کے پاس گئے تو اس نے وہی ہمارے سامنے پیش کیا. اس لئے ہم جمعہ کے روز تفریح کے لئے نکلتے تھے، لیکن نماز جمعہ سے قبل نہ ہم سوتے تھے اور نہ کچھ کھاتے تھے.

واہ واہ کیا کہنا ان صحابہ کا جو جمعہ کے روز رسول(ص) کی زیارت آپ(ص) کے خطبے اور موعظے کی سماعت اور آپ(ص) کی اقتدا میں نماز کی ادائیگی اور آپس میں ایک دوسرے کی ملاقات سے اور روز جمعہ کی مرحمت و برکت سے خوش نہیں ہوتے تھے بلکہ ان کی تمام خوشیاں اس مخصوص کھانے کے لئے ہوتی تھیں جسے روز جمعہ بڑھیا تیار کرتی تھی. اگر آج کا کوئی مسلمان یہ کہے کہ روز جمعہ میری خوشی کا باعث کھانا ہوتا ہے تو اس کو لا خیرا سمجھا جائے گا.

اور جب ہم اس کی مزید تحقیق اور چھان بین کریں گے تو معلوم ہوگا کہ شکر گزار لوگوں کی قرآن نے مدح سرائی کی ہے وہ صرف بارہ ہیں جو نماز کو چھوڑ کر لہو لعب میں نہیں گئے. اور یہی وہ لوگ ہیں جو متعدد معرکوں میں نبی(ص) کے ساتھ ثابت قدم رہے اور دوسرے پیٹھ پھرا کر بھاگ گئے.

بخاری نے بر ابن عازب سے روایت کی ہے کہ جنگ احد میں نبی(ص) نے عبداللہ ابن جبیر کی معیت میں پچاس افراد کو ایک درہ پر تعینان کیا اور فرمایا کہ جب تک میں تمہارے پاس پیغام نہ بھیجوں اس وقت تک تم اپنی جگہ نہ چھوڑنا خواہ تم یہ دیکھو کہ پرندے ہمیں نوچ رہے ہیں. جب لشکر اسلام نے کفار کو شکست


دے دی تو ابن جبیر کہتے ہیں میں نے عورتوں کو تیزی کے ساتھ بھاگتے ہوئے دیکھا کہ ان کی پنڈلیاں کھل گئی تھیں اور ا نہوں نے لباس سمیٹ لئے تھے عبداللہ ابن جبیر کے ساتھیوں نے غنیمت، غنیمت چلانا شروع کیا اور کہا تمہارا لشکر کامیاب ہوگیا اب کیا دیکھ رہے ہو؟ یہ حالت دیکھ کر عبداللہ ابن جبیر نے کہا کیا تم نے رسول(ص) کا قول بھلا دیا؟ لشکر والوں نے کہا قسم خدا کی ہم ضرور لوگوں کے مال غنیمت میں سے لیں گے پس جب یہ کفار کے قریب گئے تو انہوں نے پلٹ کر حملہ کر دیا اور مسلمان پسپا ہوگئے، جب رسول(ص) نے انہیں آواز دی تو اس وقت بھی آپ(ص) کے ساتھ بارہ افراد ہی تھے ( راوی کہتا ہے) اس معرکہ میں ہمارے ستر(70) افراد مارے گئے.(1) مورخین کا بیان ہے کہ اس غزوہ میں رسول(ص) کے ساتھ ایک ہزار(1000) صحابیوں نے شرکت کی تھی. اور سب جہاد فی سبیل اللہ کے شوق میں اور جنگ بدر کی کامیابی کے پیش نظر نکلے تھے لیکن انہوں نے حکم رسول(ص) کی مخالفت کی اور شکست فاش کا سبب بنے. اور انہیں کی وجہ8 سے ستر افراد بھی قتل ہوگئے، قتل ہونے والوں میں سر فہرست رسول(ص) کے چچا جناب حمزہ ہیں، بخاری کا کہنا ہے کہ باقی فرار کر گئے اور میدان کار زار میں نبی(ص) کے ساتھ صرف بارہ افراد باقی بچے تھے اور باقی کا کہیں پتا نہ تھا.لیکن بخاری کے علاوہ دوسرے مورخین نے ثابت رہنے والوں کی تعداد چار بتائی ہے ان میں سر فہرست علی ابن ابی طالب(ع) ہیں جو سامنے سے رسول(ص) کا دفاع کر رہے تھے اور مشرکین کو آپ تک نہیں پہونچنے دیتے تھے اور پشت سے ابو دجانہ، طلحہ و زبیر حفاظت کر رہے تھے کہا گیا ہے سبیل ابن حنیف بھی ساتھ تھے.

____________________

1.صحیح بخاری جلد/4 ص36 کتاب الجہاد و السیر " باب ما یکرہ من التفارع والاختلاف فی الحرب"


ایسے ہی موقعوں پر رسول(ص) کا یہ قول ہماری سمجھ میں آتا ہے کہ میں ان (صحابہ) میں سے کسی کو مخلص نہیں پاتا ہوں( اس سلسلہ میں عنقریب بحث آئے گی)

حالانکہ جنگ سے فرار کرنے والوں کو خدا نے آتش جہنم سے ڈرایا ہے چنانچہ ارشاد ہے:

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَ اذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيراً لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ‏ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا لَقِيتُمُ‏ الَّذِينَ‏ كَفَرُوا زَحْفاً فَلا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبارَ وَ مَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ إِلَّا مُتَحَرِّفاً لِقِتالٍ أَوْ مُتَحَيِّزاً إِلى‏ فِئَةٍ فَقَدْ باءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ وَ مَأْواهُ جَهَنَّمُ وَ بِئْسَ الْمَصِيرُ .) انفال، آیت/15/16

اے ایمان لانے والو جب کفار سے میدان جنگ میں ملاقات کرو تو خبردار انہیں پیٹھ نہ دکھانا، اور جو آج کے دن پیٹھ دکھائے گا وہ غضب الہی کا حقداد ہوگا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا جو بدترین انجام ہے علاوہ ان لوگوں کے جو جنگی حکمت عملی کی بنا پر پیچھے ہٹ جائیں یا کسی دوسرے گروہ کی پناہ لینے کے لئے اپنی جگہ چھوڑ دیں.

پس ان صحابہ کی کیا قدر و قیمت ہے جو لہو و لعب اور تجارت کے لئے نماز سے اور موت کے خوف سے میدان جنگ سے رسول(ص) کو نرغہ اعدا میں تنہا چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں. ان دونوں موقعوں پر تمام صحابہ پیٹھ دکھا کر بھاگ کھڑے ہوئے اور رسول(ص) کے ساتھ زیادہ سے زیادہ بارہ افراد باقی بچے، عقل والو! وہ صحابہ کہاں ہیں؟؟

ممکن ہے کہ بعض محققین ایسی روایات اور واقعات کو پڑھتے وقت ان(واقعات) کو ہلکا پھلکا سمجھیں اور یہ سوچین کبھی ایسا بھی ہوتا ہے، خدا انہیں


معاف کرے گا لیکن اگر صحابہ دوبارہ اس کے مرتکب نہ ہوئے ہوں.

ہرگز نہیں! بیشک قرآن مجید نے ایسی پست حرکتوں سے ہمیں آگاہ کیا ہے. خداوند عالم نے جنگ احد سے ان کے فرار کرنے کو اس طرح بیان فرمایا ہے.(1)

( وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ‏ اللَّهُ‏ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ حَتَّى إِذا فَشِلْتُمْ وَ تَنازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَ عَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ ما أَراكُمْ ما تُحِبُّونَ مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيا وَ مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ وَ لَقَدْ عَفا عَنْكُمْ وَ اللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ. إِذْ تُصْعِدُونَ وَ لا تَلْوُونَ عَلى‏ أَحَدٍ وَ الرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْراكُمْ فَأَثابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى‏ ما فاتَكُمْ وَ لا ما أَصابَكُمْ وَ اللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ .) آل عمران، آیت/153

خدا نے اپنا وعدہ اس وقت پورا کر دیا جب تم اس کے حکم سے کفار کو قتل کر رہے تھے. یہاں تک کہ تم نے کمزوری کا مظاہرہ کیا اور آپس میں جھگڑا کرنے لگے اور اس وقت خدا کی نافرمانی کی جب اس نے تمہاری محبوب شئی کو دکھا دیا تھا. تم میں کچھ دنیا کے طلبگار تھے. اور کچھ آخرت کے. اس کے بعد تم کو ان کفار کی طرف سے پھیر دیا تا کہ تمہارا امتحان لیا جائے

____________________

1.طاہر ابن عاشور کی تفسیر المتحریر والتنویر جلد/4 ص126، تفسیر طبری میں بھی ایسے ہی مرقوم ہے اور یہی چیز بخاری نے بھی اپنی صحیح کی جلد/5 ص29 پر تحریر کیا ہے.


اور پھر اس نے تمہیں معاف بھی کر دیا کہ وہ صاحبان ایمان پر بڑا فضل و کرم کرنے والا ہے، اس وقت کو یاد کرو جب تم بلندی پر جارہے تھے اور مڑکر کسی کو دیکھتے بھی نہ تھے جب کہ رسول(ص) پیچھے کھڑے تمہیں آواز دے رہے تھے. جس کے نتیجہ میں خدا نے تمہیں غم کے بدلے غم دیا تاکہ نہ اس پر رنجیدہ ہو جو چیز ہاتھ سے نکل گئی اور نہ اس مصیبت پر جو نازل ہوگئی ہے اور تمہارے اعمال سے خوب با خبر ہے.

یہ آیتیں جنگ احد کے بعد نازل ہوئی ہیں، مسلمانوں کی شکست اور پسپائی کا سبب مال دنیا کی وہ رغبت تھی جو انہیں اس وقت لاحق ہوئی جب انہوں نے عورتوں کو اس طرح لباس اٹھائے ہوئے دیکھا کہ ان کی پنڈلیاں نظر آرہی تھیں. جیسا کہ بخاری نے تحریر کیا ہے. اور قرآن کے مطابق ان لوگوں نے خدا و رسول(ص) کے حکم کی نا فرمانی کی کیا صحابہ نے اس حادثہ کو اہمیت دی اور اس سلسلہ میں خدا کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کیا اور پھر اس کے مرتکب نہ ہوئے؟

ہرگز نہیں انہوں نے توبہ تو کی ہی نہیں بلکہ جنگ حنین میں اس سے بڑے جرم کے مرتکب ہوئے. یہ معرکہ نبی(ص) کی حیات طیبہ کے آخری ایام میں ہوا تھا مورخین کا بیان ہے کہ اس معرکہ میں بارہ ہزار افراد شریک ہوئے تھے. اس کثرت کے باوجود اپنی عادت کے مطابق رسول اللہ(ص) کو دشمنان خدا مشرکین کے نرغہ میں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے. اور آپ(ص) کے ہمراہ بنی ہاشم کے صرف نو دس افراد باقی بچے یہاں بھی نمایاں علی(ع) ہی نظر آتے ہیں جیسا کہ یعقوبی وغیرہ نے تحریر کیا ہے(1)

____________________

1.محمود عباس عقاد عبقریہ خالد ص68


جب جنگ احد سے ان کا فرار کرنا قبیح اور رکیک حرکت تھی تو جنگ حنین سے فرار کرنا قبیح ترین اور پست ترین حرکت تھی کیونکہ جنگ احد میں ایک ہزار صحابہ میں سے آپ(ص) کے ساتھ فقط چار صابر افراد ثابت قدم رہے گویا ہر دوسو پچاس(250) میں سے ایک باقی بچا تھا.

لیکن حنین میں بارہ ہزار میں سے فقط دس(10) افراد نے نبی(ص) کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا. گویا بارہ سو(1200) میں سے ایک باقی بچا تھا.

جب کہ معرکہ احد ہجرت کے ابتدائی زمانہ میں ہوا تھا اور اس وقت مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اور جاہلیت سے وہ زمانہ قریب تھا لیکن جنگ حنین آٹھویں ہجری نبوی کے آخر میں ہوئی تھی اور نبی(ص) کی صرف دو سال عمر باقی تھی. اس کثرت و آمادگی کے باوجود کون سی مشکل آن پڑی تھی کہ وہ لوگ سر پر پیر رکھ کر ایسے بھاگے کہ نبی(ص) کی جان کی بھی پرواہ نہ کی.

قرآن مجید ان کے ذلیل موقف اور میدان جنگ سے فرار کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے چنانچہ ارشاد ہے:

( وَ يَوْمَ‏ حُنَيْنٍ‏ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئاً وَ ضاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِما رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِينَ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلى‏ رَسُولِهِ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَ أَنْزَلَ جُنُوداً لَمْ تَرَوْها وَ عَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَ ذلِكَ جَزاءُ الْكافِرِينَ .) سورہ توبہ، آیت/25/26

اور حنین کے دن بھی جب تمہیں اپنی کثرت پر نار تھا لیکن اس نے تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا اور تمہارے لئے زمین اپنی وسعتوں سمیت تنگ ہوگئی اور اس کے بعد تم پیٹھ پھیر کر


بھاگ نکلے، پھر اس کے بعد خدا نے اپنے رسول(ص) اور صاحبان ایمان پر سکون نازل کیا. اور وہ لشکر بھیجے جنہیں تم نے نہیں دیکھا اور کفر اختیار کرنے والوں پر عذاب نازل کیا کہ یہی کافرین کی جزا اور ان کا انجام ہے.

خداوند عالم یہ بتا رہا ہے کہ ہم نے اپنے رسول(ص) اور صبر کرنے والوں پر سکینہ نازل کر کے ثابت قدم رکھا اور پھر ملائکہ کے ذریعہ ان کی مدد کی اور انہوں نے ان کے شانہ بشانہ جنگ کی اور کافروں پر فتحیاب ہوئے، پس ان مرتد لوگوں کی ضرورت نہیں ہے جو موت کے خوف سے دشمن کے مقابلہ سے بھاگ کھڑے ہوئے اور اس طرح اپنے پروردگار و رسول(ص) کی معصیت کی اور جب بھی خدا نے ان کا امتحان لیا اسی وقت ناکام ثابت ہوئے.

اس سے زیادہ وضاحت کے لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جنگ حنین میں شکست کے سلسلہ میں بخاری کی روایت کو پیش کروں:

بخاری نے خداوند عالم کے اس قول کے متعلق( وَ يَوْمَ‏ حُنَيْنٍ‏ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئاً ) کہ قتادہ سے روایت کی ہے. قتادہ کہتے ہیں کہ:

جنگ حنین میں جب میں نے ایک مسلمان کو ایک مشرک سے جنگ کرتے دیکھا اور اس (مشرک) کے پیچھے دوسرا( مشرک) چھپا ہوا تھا. جو دھوکے سے مسلمان کو قتل کرنا چاہتا تھا میں تیزی سے اس دھوکہ دینے والے کی طرف بڑھا تو اس نے مجھ پر وار کرنے کی غرض سے ہاتھ اٹھایا میں نے بھی اس کے ہاتھ پر وار کیا تو اس کا ہاتھ کٹ گیا، لیکن اس نے


مجھے پکڑ لیا اور اتنے سخت طریقہ سے دبایا کہ مجھے ڈر لگنے لگا. جب اس نے مجھے تھوڑی مہلت دی تو میں نے اس کو ڈھکیل دیں اور پھر قتل کر دیا، بعد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو ان کے ساتھ میں بھی پسپا ہوگیا. جب مجھے عمر ابن خطاب ملے تو میں نے ان سے کہا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے؟ انہوں نے کہا یہ تو حکم خدا ہے.(1)

قسم خدا کی مجھے عمر ابن خطاب پر بہت تعجب ہوتا ہے کیونکہ وہ اہل ست کے نزدیک تمام اصحاب میں سب سے بڑے دلیر و شجاع شمار ہوتے ہیں " جبکہ وہ تمام صحابہ سے زیادہ دلیر و شجاع نہیں تھے" اہلسنت روایت کرتے ہیں کہ اللہ نے عمر کے ذریعہ اسلام کو عزت دی ہے، جب وہ اسلام لائے تو مسلمانوں نے لوگوں کو کھلم کھلا اسلام کی دعوت دی ہے جب کہ حقیقی اور واقعی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ عمرجنگ احد میں پیٹھ پھیر کر بھاگ کئے تھے، اسی طرح خیبر میں بھی پشت دکھا کر فرار کر گئے تھے اگر چہ رسول(ص) نے انہیں لشکر دے کر قلعہ خیبر فتح کرنے کے لئے بھیجا تھا، لیکن نا کام واپس آگئے، لشکر انہیں (عمر کو) اور یہ لشکر کو بزدل کہتے تھے.(2)

اور حنین میں بھی تمام فراریوں کے قدم بقدم بھاگ گئے شاید سب سے پہلے یہی بھاگے تھے، دوسرے لوگوں نے ان کا اتباع کیا تھا. کیونکہ ( اہلسنت کے بقول) یہی شجاع تھے، جب بہادر و شجاع ہی بھاگ کھڑا ہوگا تو پھر کون ٹھہرے گا

____________________

1. بخاری جلد/5 ص101 کتاب المغازی فی باب قول اللہ تعالی" اذ اعجبتکم کثرتکم...."

2.مستدرک حاکم جلد/3 ص37 ذہبی نے اپنی تلخیص میں تحریر کیا ہے.


اور شاید اسی لئے ہم ابو قتادہ کو پسپا ہونے والوں میں عمر ابن خطاب سے مخاطب پاتے ہیں، اور قتادہ ان سے تعجب سے پوچھتے ہیں لوگوں کو کیا ہوگیا ہے؟ عمر ابن خطاب نے میدان جنگ سے بھاگنے اور رسول اللہ(ص) کو دشمنوں کے درمیان چھوڑنے ہی پر اکتفا نہیں کی بلکہ ابو قتادہ کو یہ فریب بھی دیا کہ یہ تو حکم خدا ہے کیا عمر ابن خطاب کو جنگ سے فرار کرنے کا حکم خدا نے دیا تھا.

یا خدا نے انہیں میدان جنگ میں ثابت قدمی اور صبر و استقامت سے جمے رہنے کا حکم دیا تھا؟ خدا نے انہیں اور ان کے اصحاب کو یہ حکم دیا تھا:

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا لَقِيتُمُ‏ الَّذِينَ‏ كَفَرُوا زَحْفاً فَلا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبارَ ) انفال، آیت14

اے ایمان لانے والو جب میدان جنگ میں کافروں سے مقابلہ ہو تو انہیں پیٹھ نہ دکھانا.

جیسا کہ خداوند عالم نے ان سے اور ان کے اصحاب سے جنگ سے نہ بھاگنے کا عہد لیا تھا، چنانچہ ارشاد ہے:

( وَ لَقَدْ كانُوا عاهَدُوا اللَّهَ‏ مِنْ‏ قَبْلُ‏ لا يُوَلُّونَ الْأَدْبارَ وَ كانَ عَهْدُ اللَّهِ مَسْؤُلًا. ) احزاب، آیت/15

اور ان لوگوں نے اللہ سے یقینی عہد کیا تھا کہ ہرگز پیٹھ نہیں پھرائیں گے اور اللہ کے عہد کے بارے میں بہر حال سوال کیا جائے گا.

پس ابو حفصہ(عمر) کیسے میدان جنگ سے پشت پھرا کر بھاگ رہے ہیں اور طرہ یہ کہ اسے یہ خدا کا حکم کہہ رہے ہیں؟؟ وہ واضح آیات کہاں ہیں یا ان کے قلوب پر قفل لگے ہوئے ہیں؟


فی الحال ہم عمر ابن خطاب کی شخصیت سے بحث نہیں کرنا چاہتے بلکہ اس کے لئے ہم عنقریب مخصوص باب قائم کریں گے. لیکن بخاری کی یہ حدیث اس سے زیادہ تبصرہ چاہتی ہے جب کہ طائرانہ نظر اس کی اجازت نہیں دیتی ہے. اس وقت اہم چیز خود بخاری کی یہ گواہی ہے کہ صحابہ اپنی کثیر تعداد کے باوجود جنگ حنین سے فرار کر گئے تھے اور جو شخص ان جنگوں کے سلسلہ میں تاریخی کتابوں کا مطالعہ کرے گا اس پر عجائبات کی دنیا آشکار ہو جائے گا.اور جب اکثر صحابہ خدا کے حکم کی اطاعت نہیں کرتے تھے جیسا کہ گذشتہ بخث میں ہم دیکھ چکے ہیں، تو ان کا حیات رسول(ص) میں حکم رسول(ص) سے اعراض کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن آپ(ص) کی وفات کے بعد آپ(ص) کے احکام میں رد و بدل اور ان سے چشم پوشی کی، اس سلسلہ میں یہاں چند نمونے پیش کئے جاتے ہیں.

صحابہ اور رسول(ص) کی اطاعت!

ہم نبی(ص) کے ان اوامر سے ابتدا کر رہے ہیں جو آپ(ص) نے اپنی حیات میں صحابہ کو دئے اور صحابہ نے ان سے تمرد و سرکشی کی.ہم اختصار کے پیش نظر اور دیگر صحاح اہلسنت سے چشم پوشی کرتے ہوئے صرف بخاری کی روایتوں پر اکتفا کرتے ہیں اگر چہ ان(صحاح) میں بہت زیادہ اور واضح عبارتیں موجود ہیں.

بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/3 کی " کتاب الشروط فی الجہاد والمصالحہ مع اہل الحرب" میں صلح حدیبیہ کے قصہ اور رسول(ص) سے عمر ابن خطاب کی بے ادبانہ


گفتگو کے بعد اور صلح پر رسول(ص) کی موافقت، اس سلسلہ میں عمر کا شک یہاں تک کہ عمر نے کہدیا کہ کیا آپ(ص) خدا کے بر حق نبی(ص) نہیں ہیں؟ تحریر کیا ہے کہ: جب نبی(ص) صلح نامہ سے فراغت حاصل کرچکے تو اصحاب سے فرمایا کہ اٹھو! اپنی اپنی قربانی کرو اور سرمنڈوائو، بخاری لکھتے ہیں کہ صحابہ میں سے کوئی نہ اٹھا یہاں تک کہ نبی(ص) نے تین مرتبہ اسی جملہ کی تکرار کی اس کے باوجود کوئی نہ اٹھا. تو آپ(ص) ام سلمہ کے پاس تشریف لائے اور لوگوں کی حالت بتائی.(1) قارئین محترم کیا آپ کو نبی(ص) کے حکم سے صحابہ کی سرکشی پر تعجب نہیں ہے حالانکہ نبی(ص) نے تین مرتبہ حکم دیا لیکن کسی نے بھی تعمیل نہ کی؟؟ میں یہاں اس گفتگو کو بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں جو میری کتاب " ثم اہتدیت" کے چھپ جانے کے بعد میرے اور تیونس کے بعض علماء کے درمیان ہوئی تھی. کیونکہ انہوں ن ے صلح حدیبیہ کے سلسلہ میں میرا حاشیہ پڑھا تھا. انہوں نے اپنے لحاظ سے اس فقرے پر " کہ صحابہ نے رسول(ص) کے حکم سے سرتابی کی تھی" اس طرح حاشیہ لگایا کہ صحابہ میں علی(ع) ابن ابی طالب بھی شامل ہیں انہوں نے بھی حکم رسول(ص) کی اطاعت نہیں کی، میں نے ان کے شایان شان جواب دیا:اولا - یہ کہ علی(ع) ابن ابی طالب صحابہ میں شمار نہیں ہوتے تھے، کیونکہ وہ رسول(ص) کے ابن عم آپ(ص) کی بیٹی کے شوہر اور آپ(ص) کے فزندوں کے والد تھے اور پھر علی(ع) رسول(ص) کے ہمراہ ایک طرف اور دیگر صحابہ ایک طرف تھے. پس جب راوی صحیح بخاری میں یہ کہتا ہے کہ نبی(ص) نے صحابہ کو قربانی اور تقصیر کا حکم دیا تو اس نے صحابہ کے ضمن میں

____________________

1.صحیح بخاری جلد/3 ص183


علی(ع) کو شمار نہیں کیا. کیونکہ وہ تو رسول(ص) کے لئے ہی تھے جیسے موسی کے لئے ہارون تھے. کیا تم نہیں دیکھتے کہ رسول(ص) پر صلواة اس وقت تک کامل نہیں ہوتی جب تک اس میں آل کوشامل نہ کیا جائے. اور بلا اختلاف علی(ع) آل محمد(ص) کے سردار ہیں. پس ابوبکر و عمر اور عثمان و دیگر صحابہ پر صلوات بھیجنا صحیح نہیں ہے. مگر یہ کہ اس صلوات میں علی(ع) ابن ابی طالب اور محمد(ص) ابن عبداللہ کا ذکر بھی ہو.

ثانیا - رسول(ص) ہمیشہ اپنے بھائی علی(ع) کو اپنے ہدیہ میں شریک رکھتے تھے جیسا کہ حجة الوداع اس کا منہ بولتا ثبوت ہے. جب حضرت علی علیہ السلام یمن سے حج کے لئے تشریف لائے تو رسول(ص) نے دریافت کیا اے علی(ع) تم نے کس نیت سے احرام باندھا. عرض کی جو رسول(ص) کی نیت ہے پس نبی(ص) نے انہیں اپنے ہدیہ میں شریک فرمایا، اس واقعہ کو تمام محدثین و مورخین نے تحریر کیا ہے. پس صلح حدیبیہ کے دن بھی علی(ع) آنحضرت(ص) کے شریک ہوں گے.

ثالثا حدیبیہ میں صلح نامہ رسول(ص) کے املاء سے علی(ع) ہی نے تحریر فرمایا تھا. اور آپ نے اپنی پوری حیات میں اس سلسلہ میں کوئی اعتراض نہیں کیا نہ حدیبیہ سے متعلق اور نہ ہی دوسری شئی کے بارے میں. اور نہ ہی تاریخ نے یہ بتایا ہے کہ علی(ع) نے رسول(ص) کے حکم کی تعمیل میں کوئی تاخیر کی ہو یا کبھی کسی حکم سے رو گردانی کی ہو. ہرگز نہیں. اور ایک مرتبہ بھی کسی میدان سے اپنے بھائی کو نرغہ اعداء میں چھوڑ کر فرار نہیں کیا. بلکہ ہمیشہ خود کو آپ(ص) پر قربان کرتے تھے. مختصر یہ کہ علی(ع) نفس رسول(ص) تھے، اسی لئے تو نبی(ص) فرماتے ہیں. میرے اور علی(ع) کے علاوہ کسی دوسرے کے لئے مسجد میں مجنب ہونا جائز نہیں ہے.(1)

____________________

1.صحیح ترمذی جلد/5 ص304، تاریخ الخلفاء ص172، صواعق محرقہ ابن حجر ص121


میں نے اپنے دوستوں میں سے اکثر افراد کو اس بات پر قانع کیا اور انہوں نے اعتراف کیا کہ علی(ع) نے اپنی پوری حیات میں کبھی حکم رسول(ص) کی مخالفت نہیں کی.

بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/8 کی کتاب" الاعتصام بالکتاب والسنة" " کراهیة الخلافة.." والے باب میں عبداللہ ابن عباس سے نقل کیا ہے ابن عباس کہتے ہیں کہ:

آپ(ص) کے احتضار کے وقت لوگوں سے گھر بھرا ہوا تھا ان میں عمر ابن خطاب بھی تھے رسول(ص) نے فرمایا کہ:

لائو تمہارے لئے ایک نوشتہ لکھ دوں کہ جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہوگے. عمر نے کہا: بیشک نبی(ص) پر درد کی شدت ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے.( جب ہمارے پاس قرآن ہے تو) ہمارے لئے کتاب خدا کافی ہے. اس بات سے لوگوں میں اختلاف پیدا ہوگیا، اور شور و غل بڑھ گیا، بعض نے کہا نبی(ص) سے وہ نوشتہ لکھوا لو کہ جس سے تم کبھی گمراہ نہ ہو سکو. بعض نے عمر کا ہی قول دہرایا. جب نبی(ص) کے پاس شور و غل زیادہ ہوگیا تو آپ(ص) نے فرمایا: تم لوگ میرے پاس سے چلے جائو.

ابن عباس کہتے ہیں سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ نبی(ص) کو وہ نوشتہ نہ لکھنے دیا.(1)

نبی(ص) کا یہ دوسرا حکم ہے جس سے صحابہ نے آپ(ص) کے سامنے ہی انکار

____________________

1.صحیح بخاری جلد/8 ص161 و جلد/1 ص37 و جلد/5 ص138


کردیا اور اس طرح نبی(ص) کی اہانت کی.

یہ بات مد نظر رہے کہ عمر ابن خطاب نے نبی(ص) کے دوات و قلم طلب کرنے پر جسارت کے ساتھ لوگوں کو قلم و دوات دینے سے منع کر دیا اور کہہ دیا. معاذ اللہ رسول(ص) ہذیان بک رہے ہیں.

لیکن بخاری نے اس عبارت کو بہت ہی اچھے طریقہ سے بدل دیا اور لفظ ہذیان کو" غلب الوجع" سے بدل دیا کیونکہ اس جملہ کے قائل عمر ابن خطاب ہیں. آپ دیکھتے ہیں کہ بخاری جہاں روایت سے عمر کے نام کو جذف کرتے ہیں تو وہاں " جمع کا صیغہ " فقالوا! ہجر رسول اللہ یعنی لوگوں نے کہا رسول(ص) ہذیان بک رہے ہیں. نقل حدیث میں یہ ہے بخاری کی امانتداری ( اس سلسلہ میں ہم عنقریب ایک مخصوص باب تحریر کریں گے)

بہر حال یہ تو اکثر محدثین و مورخین نے لکھا ہے کہ عمر ابن خطاب نے نبی(ص) کے سامنے کہا: رسول(ص) (معاذ اللہ) ہذیان بک رہے ہیں اور بیشتر صحابہ نے عمر کا اتباع کیا اور ان لوگوں نے نبی(ص) کے سامنے وہی بات کہی تھی.ہم تصور کریں کہ رسول(ص) کی بزم میں جو اختلاف، شور و ہنگامہ اور یہ گستاخیاں ہوئیں ہیں اگر چہ تاریخ کی کتابوں نے انہیں ذکر کیا ہے مگر جو کچھ وہاں پیش آیا تھا اس کی مختصر سی جھلک ہے.(کیونکہ صحیح حالات کا اندازہ مشاہدہ ہی سے ہوتا ہے) مثلا ہم نے کتابوں میں جناب موسی کے واقعات پڑھے ہیں لیکن اگر اس کو فلم کی صورت میں ہمیں دکھایا جائے تو اس کی بات ہی دوسری ہوتی ہے. (شنیدہ کے بود مانند دیدہ)

بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/7 کی کتاب الادب کے باب " ما یجوز ( من الغضب والشدة لامر اللہ عز وجل) میں روایت کی ہے کہ


رسول(ص) نے ایک چٹائی بنائی اور جب رسول(ص) نماز کی غرض سے اس پرکھڑے ہوئے تو بہت سے لوگوں نے آپ(ص) کا اتباع کیا اور آپ کے ہمراہ نماز ادا کی رات میں وہ لوگ پھر جمع ہوئے لیکن رسول(ص) ان سے کبیدہ خاطر ہوچکے تھے اس لئے ان کے پاس نہیں گئے لیکن ان لوگوں نے شور مچانا اور دروازہ پیٹنا شروع کر دیا. تو آپ(ص) غیظ کے عالم میں نکلے اور فرمایا: تم اپنی بدعت پر ابھی تک باقی ہو. ایسا لگتا ہے کہ جیسے عنقریب تم اس نماز کو واجب سمجھنے لگو گے...........واجب نمازوں کے علاوہ نماز کے لئے سب سے بہترین جگہ گھر ہے.افسوس کہ عمر ابن خطاب نے رسول(ص) کے حکم کی مخالفت کی اور اپنی خلافت کے زمانہ میں لوگوں کو نماز نافلہ پر جمع کر لیا اور کہا کہ یہ بدعت ہے اور کتنی اچھی بدعت ہے.(2)

اور اس بدعت میں ان صحابہ نے عمر کا اتباع کیا جو ان کی رائے کو صحیح سمجھتے اور ان کے ہر قول و فعل کی تائید کرتے تھے لیکن علی(ع) ابن ابی طالب اور اہل بیت(ع) کہ جو صرف اپنے سردار رسول(ص) کے حکم کی تعمیل کرتے تھے اور کسی چیز سے اس کا سودا نہیں کرتے تھے انہوں نے عمر کی مخالفت کی اور جب ہر بدعت، ضلالت اور جہنم کا باعث ہے تو تم اس بدعت کے بارے میں کیا کہتے ہو جو رسول(ص) کے حکم کی مخالفت کے سبب وجود میں آئی ہے.بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/5 کی کتاب المغازی کے " غزوة زید بن حارث" والے باب میں ابن عمر سے روایت کی ہے کہ ابن عمر نے کہا

____________________

1.صحیح بخاری جلد/7 ص99 و جلد/2 ص252 و جلد/4 ص168

2.صحیح بخاری جلد/2 ص252 کتاب صلاة التراویح


رسول(ص) نے اسامہ کو ایک گروہ کا امیر بنایا تو ان لوگوں نے اس کی امارت کی مخالفت کی تو رسول(ص) نے فرمایا: اگر تم اس کی امارت سے خوش نہیں ہو تو اس کے والدین کی امارت سے بھی خوش نہیں تھے اور خدا کی قسم وہ امارت کے مستحق اور مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے اور اس کے بعد مجھے یہ عزیز ہے.(1)

اس واقعہ کو مورخین نے تفصیل سے لکھا ہے کہ انہوں نے رسول(ص) کو اس قدر غضبناک کیا تھا کہ آپ(ص) نے لشکر اسامہ کی مخالفت کرنے والوں پر لعنت کی. یہ وہ کمسن قائد و رہبر ہے جس کی عمر سترہ(17) سال ہے اور رسول(ص) نے اس لشکر کا امیر بنایا ہے کہ جس میں ابوبکر و عمر، طلحہ و زبیر، عبدالرحمن بن عوف اور قریش کی بہت سی بزرگ ہستیاں موجود ہیں لیکن اس لشکر میں علی ابن ابی طالب(ع) کو شامل نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے شیعوں میں سے کسی کو اس میں شریک ہونے کا رسول(ص) نے حکم دیا تھا.لیکن بخاری ہمیشہ صحابہ اسلف کی صرف بچانے کے لئے واقعات کو مختصر اور احادیث کو کتر وبیونت کے ساتھ نقل کرتے ہیں اس کے باوجود ان کی نقل کردہ احادیث میں اتنا کچھ موجود ہے. جو ایک حق کے طلبگار کے لئے کافی ہے.بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/2 کی کتاب الصوم کے باب التنکیل لمن اکثر الوصال" میں ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ:

____________________

1.صحیح بخاری جلد/5 ص84


رسول(ص) نے روزہ کی حالت میں ہمبستری کرنے سے روکا تو ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ(ص) آپ تو وصال کرتے ہیں آپ(ص) نے فرمایا کہ: تم میں میرے مثل کون ہے؟ مجھے میرے رب نے شکم سیر اور سیراب کیا ہے. جب انہوں نے وصال سے باز رہنے سے انکار کر دیا اور آئے دن توصال ہوتا رہا یہاں تک کہ رویت ہلال ہوگئی.اگر وہ ایسا ہی کرتے رہتے تو میں ان پر نفرین کرتا

کیا کہنا ان صحابہ کا کہ رسول(ص) جنہیں کسی چیز سے روکتے تھے لیکن وہ اس سے باز نہیں رہتے تھے آپ انہیں بار بار روکتے مگر وہ تھے کہ سنتے ہی نہ تھے کیا انہوں نے خدا کا یہ قول نہیں پڑھا تھا:

( ما آتاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ‏ وَ ما نَهاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقابِ‏ .) حشر، آیت/7

جو تم کو رسول(ص) دے دیں وہ لے لیا کرو اور جس سے منع کریں اس سے باز آئو اور خدا سے ڈرتے رہو بیشک خدا سخت عذاب دینے والا ہے.

باوجودیکہ اللہ تعالی نے اپنے رسول(ص) کی مخالفت پر شدید عذاب کی دھمکی دی ہے پھر بھی بعض صحابہ خدا کے وعدہ عذاب اور اس کی تہدید کو کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے تھے.

جب وہ اس صفت کے حامل تھے تو ان کے نفاق میں کیا شک ہے اگر چہ وہ ظاہر بظاہر بکثرت نماز پڑھتے اور روزے رکھتے تھے اور دین کے امور میں اتنے شدت پسند تھے کہ اپنی عورتوں سے نکاح تک کو حرام سمجھتے تھے کہ کہیں وہ ان عورتوں کے ساتھ جماع نہ کرے.


وہ اس فعل سے پرہیز کرتے تھے جس کو خود رسول(ص) انجام دیتے تھے جیسا کہ گذشتہ بحث میں بیان ہوچکا ہے.

بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/5 کی کتاب المغازی کے باب " بعث النبی خالد بن ولید الی بنی جذیمہ" میں زہری سے اور انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:

رسول(ص) نے خالد بن ولید کو بنی جذیمہ کے پاس بھیجا تا کہ انہیں اسلام کی دعوت دیں لیکن انہوں نے اسلمنا ( ہم اسلام لائے) کہنا پسند نہ کیا بلکہ یہ کہا کہ ہم نے بت پرستی چھوڑ دی ہے. پس خالد نے ان میں سے بعض کو قتل کر دیا اور بعض کو قیدی بنا لیا اور ہم لوگوں میں سے ہر ایک کے سپرد ایک ایک قیدی کر دیا. یہاں تک کہ خالد نے ایک روز ان قیدیوں کے قتل کا حکم بھی دے دیا. تو میں نے کہا قسم خدا کی میں اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور نہ ہی میرے دوسرے ساتھیوں نے اپنے قیدیوں کو قتل کیا یہاں تک کہ ہم رسول(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ بیان کیا تو رسول(ص) نے اپنے ہاتھوں کو بلند کر کے دو مرتبہ فرمایا: پروردگار میں خالد کے اس ظلم سے بری ہوں. ( صحیح بخاری جلد/5 ص107 و جلد/8 ص118)

مورخین نے اس واقعہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے اور اس کی علت بھی لکھی ہے کہ خالد بن ولید اور اس کی اطاعت کرنے والے صحابہ اس جرم کے کیوں مرتکب ہوئے. اور اس سلسلہ میں" کہ مسلمان کو قتل کرنا حرام ہے" رسول(ص) کے حکم کی تعمیل نہیں کی وہ قتل سب سے بڑا جرم ہے جس میں نیک افراد کا خون


بہایا جاتا ہے. اور پھر نبی(ص) نے اسلام کی دعوت دینے کا حکم دیا تھا نہ کہ ان کے قتل کرنے کا.

لیکن خالد پر جاہلیت والے جھگڑے اور شیطانی حمیت غالب آگئی تھی. اس کا سبب یہ تھا کہ بنی جذیمہ نے زمانہ جاہلیت میں خالد کے چچا الفاکہ ابن المغیرہ کو قتل کیا تھا لہذا خالد نے انہیں فریب دیا اور اپنے لشکر والوں سے کہا کہ تم اپنا اسلحہ رکھ دو کیونکہ یہ لوگ اسلام لے آئے ہیں اور اس کے بعد انہیں حکم دیا کہ پس گردن ان لوگوں کے ہاتھ باندھ دو اور ان میں سے بہت سے لوگوں کو قتل کر دیا.

جب بعض مخلص صحابہ کو خالد کی اس دشمنی کی اطلاع ملی تو خالد کے لشکر سے بھاگ کر نبی(ص) کے پاس آئے اور روداد سنائی تو آپ(ص) نے خالد کے اس فعل سے برائت کا اظہار فرمایا. اور علی(ع) ابن ابی طالب کو بھیج کر ان کے جان و مال کی دیت ادا فرمائی.

اس حادثہ کی مختصر تفصیل کے لئے " عباس محمود العقاد" کی "عبقریہ خالد" کا مطالعہ کافی ہے عقاد مذکور کتاب کے ص57 ص58 پر رقم طراز ہیں.

فتح مکہ کے بعد رسول(ص) دیہاتوں کو بتوں کی پرستش سے پاک کرنے کی طرف متوجہ ہوئے، ان میں بسنے والے قبائل کی طرف دعوت اسلام کے لئے چھوٹے چھوٹے لشکر روانہ کئے ان لشکروں میں سے ایک لشکر خالد ابن ولید کا تھا جو انصار و مہاجرین و بنی سلیم کے تین سو پچاس افراد پر مشتمل تھا اس لشکر کو بنی جذیمہ کی طرف انہیں دعوت اسلام دینے کے لئے بھیجا تھا ان لوگوں کو قتل کا حکم نہیں دیا تھا. زمانہ جاہلیت میں قبیلہ جذیمہ انتہائی شرپسند تھا اور لوگ اسے خون کا لوتھڑا کہتے تھے ان کی خونریزیوں میں سے ایک خالد کے چچا الفاکہ ابن المغیرہ اور اس کے چچا زاد بھائی اور عبدالرحمن ابن عوف کے والد کا قتل بھی ہے


اور بنی سلیم میں سے مالک ابن شرید اور اس کے تین بھائیوں کا قتل ہے اور ان کے علاوہ اور بہت سے قبائل ہیں.

جب خالد ابن ولید ان کے قریب پہونچا اور انہیں بھی یہ اطلاع ہوگئی کہ اس کے ساتھ بنی سلیم بھی ہیں تو بنی جذیمہ مسلح ہو کر جنگ کے لئے آمادہ ہوئے اور خالد کو وہاں اترنے سے منع کر دیا تو خالد نے دریافت کیا کہ تم مسلمان ہو؟ بعض لوگوں نے کہا جی ہاں! اور بعض نے کہا کہ ہم نے بت پرستی چھوڑ دی ہے پھر خالد نے کہا کہ تم اگر مسلمان ہو تو یہ ہتھیار کیوں اٹھائے ہوئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا ہ ہمارے اور قوم عرب کے درمیان دشمنی ہے. ہمیں یہ خوف تھا کہ کہیں تم لوگ وہی تو نہیں ہو. اس لئے ہم نے اسلحہ اٹھا لیا! پس خالد نے اپنے لشکر والوں سے کہا کہ اسلحہ رکھ دو ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے. ان میں سے حجدم نامی ایک شخص نے چیخ کر کہا: اے جذیمہ کی اولاد ویل ہو تم پر قسم خدا کی خالد اسلحہ رکھوا لینے کے بعد تمہیں گرفتار کرے گا اور اس کے بعد گردن مروا دے گا قسم خدا کی میں تو کبھی اپنا اسلحہ نہیں رکھوں گا لیکن لوگوں نے اس سے بھی اسلحہ رکھوا لیا اور کچھ افراد متفرق ہوگئے.

اس کے بعد خالد نے ان لوگوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا اور پھر قتل کرنے کے لئے کہدیا.بنی سلیم نے اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے انہیں قتل کیا اور انصار و مہاجرین قتل کرنے سے یہ کہہ کے مکر گئے کہ رسول(ص) نے ہمیں قتال کے لئے نہیں بھیجا ہے. جب اس سانحہ کی خبر آپ(ص) تک پہونچی تو آپ(ص) نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے تین بار فرمایا: پروردگار خالد بن ولید نے جو کچھ کیا ہے میں اس سے بری ہوں. اس کے بعد آنحضرت(ص) نے علی ابن ابی طالب(ع) کو بنی جذیمہ کے پاس بھیجا اور ان کے جان و مال کی دیت دلائی.


اس حادثہ سے ان بزرگ صحابہ کے درمیان خلفشار پیدا ہوگیا جو اس سریہ میں شریک ہوئے تھے. اور جو شریک نہیں ہوئے تھے یہاں تک کہ عبدالرحمن ابن عوف نے صاف صاف کہہ دیا کہ خالد نے جان بوجھ کر لوگوں کو قتل کیا ہے. تا کہ اپنے چچا کا انتقام لے سکتے. یہ تھا عقاد کا بیان.

یہ تھی وہ عبادت جس کو عقاد نے اپنی عبقریہ خالد میں قلمبند کیا ہے لیکن عقاد بھی اہلسنت کے دوسرے مفکرین کی طرح اس قصہ کو لکھنے کے بعد خالد کو بری قرار دیتے ہیں. لیکن ان کی باتوں میں کوئی دم خم نہیں ہے نہ ہی عقل سلیم اسے قبول کرتی ہے. عقاد کے پاس " عبقریہ ا لخالد" لکھنے کے علاوہ کوئی چارہ کار ہی نہ تھا.

جب کہ اس عذر کی حقیقت " تار عنکبوت" سے زیادہ نہیں ہے. جو بھی مطالعہ کرے گا وہ اس بے جا دفاع سے آگاہ ہو جائے گا.

معلوم نہیں کیسے انہوں نے عذر تراشی سے کام لیا جبکہ وہ خود اپنی تحریر میں اس بات کا اقرار کر چکے ہیں کہ نبی(ص) نے خالد ابن ولید کو ان کے پاس دعوت اسلام کے لئے بھیجا تھا قتال کا حکم نہیں دیا تھا. عقاد اس بات کا اعتراف بھی کرچکے ہیں کہ نبی جذیمہ نے ہتھیار و اسلحہ سجالئے تھے. لیکن خالد نے جب اپنے لشکر والوں سے کہا کہ تم اپنا اسلحہ اتار دو کیونکہ یہ لوگ اسلام قبول کر چکے ہیں تو بنی جذیمہ اس کے فریب میں آگئے. عقاد یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ حجدم نے ہتھیار رکھنے سے منع کر دیا اور اپنی قوم والوں سے کہا کہ عنقریب تم خالد کے فریب میں آجائو گے نیز اس نے کہا: ویل ہو تم پر بنی جذیمہ یہ خالد ہتھیار رکھوا لینے کے بعد تمہیں قید کرے گا اور گرفتار کرنے کے بعد گردن زدنی یقینی ہے. قسم خدا کی میں کبھی ہتھیار نہیں ڈالوں گا. عقاد ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ بنی جذیمہ نے اس سے بھی اصرار کے بعد


ہتھیار ڈلوا دئیے. اس سے ان کے اسلام اور ان کی حسن نیت کا پتا چلتا ہے.

پس جب رسول(ص) نے دعوت اسلام کے لئے بھیجا تھا اور جنگ کا حکم نہیں دیا تھا. جیسا کہ حناب عقاد خود فرما چکے ہیں تو نبی(ص) کے حکم کی مخالفت کے سلسلہ میں خالد کے پاس کون سا عذر ہے؟ عقاد صاحب یہ ایسا معمہ ہے جسے آپ حل نہیں کرسکتے.

اور جب بنی جذیمہ نے ہتھیار ڈال دئے تھے. اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر چکے تھے اور اپنے اس دوست پر بھی قابو پاگئے تھے جس نے ہتھیار نہ ڈالنے کی قسم کھائی تھی جیسا کہ عقاد صاحب آپ اعتراف کر چکے ہیں تو پھر ان لوگوں کو دھوکہ دے کر قتل کرنے اور ان سے ہتھیار رکھوانے کے سلسلہ میں خالد کے پاس کون سا عذر ہے؟

آپ ہی یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ خالد نے پہلے ان کے ہاتھ باندھنے کا حکم دیا اور بعد میں قتل کر دیا یہ دوسرا معمہ ہے جسے عقاد صاحب آپ حل نہیں کرسکتے ہیں. کیا اسلام مسلمانوں کو ان لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیتا ہے. جو ان سے جنگ نہیں کرتے؟ اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ انہوں نے( بنی جذیمہ) مسلمان ہونے کا اعلان نہیں کیا تھا تو یہ بات دشمن اسلام مستشرقین کے لئے حجت ہے جسے آج وہ رواج دے رہے ہیں.

ایک مرتبہ آپ اعتراف کرتے ہیں کہ نبی(ص) نے ان لوگوں کو جنگ کا حکم نہیں دیا تھا. جیسا کہ آپ خود تحریر کرچکے ہیں کہ مہاجرین و انصار نے خالد کا حکم نہیں مانا اور اسیر کو اس لئے قتل نہیں کیا کہ نبی(ص) نے قتل کا حکم نہیں دیا تھا پس عقاد صاحب خالد کے لئے جو آپ عذر خواہی کر رہے ہیں کہ اس کی کیا وجہ ہے؟


عقاد کی رد کے لئے تو اتنا ہی کافی ہے کہ انہوں نے اپنے عذر کو خور باطل کردیا اور سب کچھ کرنے کے بعد یہ کہکر خود ہی برباد کر دیا کہ:

اس سریہ میں حاضر ہونے والے باور حاضر نہ ہونے والے بزرگ صحابہ کے درمیان شدید اختلاف اور دشمنی ہوگئی پس جلیل القدر صحابہ خالد کے دشمن ہوگئے یہاں تک کہ اس کے لشکر سے فرار کر کے نبی(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خالد کی شکایت کی اور عبدالرحمن ابن عوف نے خالد پر یہ اتہام لگایا کہ اس نے جان بوجھ کر ان لوگوں کو اپنے چچا کے انتقام میں قتل کیا ہے. جیسا کہ عقاد نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے.

اور جب رسول(ص) نے آسمان کی طرف ہاتھوں کو بلند کر کے تین مرتبہ فرمایا تھا کہ پروردگارا خالد ابن ولید کے کرتوت سے میں بری ہوں.

اور جب نبی(ص) نے علی(ع) کو اموال دے کر اس لئے بھیجا تھا کہ بنی جذیمہ کے خون اور مال کی دیت ادا کریں جس سے وہ راضی ہوجائیں. جیسا کہ خود عقائد کا بیان ہے اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ مسلمان ہوچکے تھے. لیکن خالد نے ان پر ظلم و تعدی کی. کیا کوئی خالد کا دفاع کرنے والا عقاد سے یہ سوال کرسکتا ہے کہ کیا تم نہیں جانتے کہ نبی(ص) نے تین مرتبہ خدا سے خالد کے فعل سے برات کا اقرار کیا تھا؟ کیا تمہیں خبر نہیں ہے کہ جلیل القدر صحابہ خالد سے متنفر ہوگئے تھے؟ یا وہ صحابہ کہ جو اس کے ساتھ تھے اس کی غلط حرکتوں کو دیکھ یکر سر یہ سے بھاگ آئے تھے. یا عبدالرحمن ابن عوف کہ جو ان کے ساتھ سریہ میں تھے کیا وہ خالد کو عقاد سے زیادہ نہیں پہچانتے تھے؟ کہ جنہوں نے خالد پر یہ


الزام لگایا کہ اس نے اپنے چچا کے انتقام میں جان بوجھ کر سب کو قتل کیا ہے.

خدا اس اندھے تعصب اور جاہلیت والی حمیت کا برا کرے کہ جس نے عقاد کو اندھا بنا دیا اور نے اس واقعہ کو صرف چار سطروں میں لکھا ہے. لیکن جو کچھ بخاری نے لکھا ہے وہ بھی خالد اور ان صحابہ کی رسوائی کے لئے کافی ہے جنہوں نے نیکوکار مسلمانوں کے قتل میں اس کی اطاعت کی جیسے عقاد نے تحریر کیا ہے کہ بنی سلیم نے اس سلسلہ میں خالد کی اطاعت کی اور دیگر اعراب نے بھی اس کا ساتھ دیا. لیکن بخاری نے خالد کی اطاعت کرنے والے صحابہ سے صرف دو یا تین کو مستثنی کیا ہے. وہ بھی جو لشکر سے فرار کر کے نبی(ص) کے پاس آئے اور خالد کی شکایت کی جناب عقاد آپ کے بس کی بات نہیں ہے کہ اس سلسلہ میں آپ مجھے قانع کر دیں کہ انصار و مہاجرین کی تعداد تین سو پچاس تھی جیسا کہ آپ نے خود تصریح کی ہے کہ جنہوں نے خالد کی اس قتل کے سلسلہ میں اطاعت نہیں کی اور سب کے سب لشکر سے بھاگ کھڑے ہوئے آپ کی اس بات کی کوئی بھی محقق تصدیق نہیں کرے گا.

لیکن آپ نے اپنے صحابہ کی عزت بچانے کی کوشش کی ہے اور ہر طرح حقیقت کو چھپانے کی سعی کی ہے. لیکن اب پردہ اٹھانے اور حق کی معرفت کا وقت آگیا ہے.

خالد ابن ولید کے اور نہ جانے کتنے سیاہ کرتوت ہیں کہ جن سے ہمیں تاریخ آگاہ کرتی ہے. خصوصا رزو بطاح کہ جب ابوبکر نے خالد کو اس لشکر کا سردار بنایا جس میں صحابہ اولین شریک تھے تو اس موقع پر بھی اس نے مالک ابن نویرہ اور اس کے خاندان والوں کو فریب دیا اور جب انہوں نے ہتھیار ڈال دئے تو انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا اور مظلومانہ طور پر قتل کر دیا اور ( خود


خالد نے) اسی رات میں حادثہ کے بعد مالک کی زوجہ لیلی ارم تمیم سے زنا کیا کہ جس شوہر کو قتل کیا تھا. اور جب عمر نے خالد ابن ولید سے قصاص لینا چاہا اور اس سے کہا تم نے ایک مسلمان کو قتل کر کے اس کی زوجہ سے زنا کیا ہے.

قسم خدا کی میں تمہیں ضرور سنگسار کروں گا( عمر کی یہ کیفیت دیکھ کر) ابوبکر نے خالد کی طرفداری کی اور عمر سے کہا خالد کو کچھ نہ کہو: کیونکہ اس نے تاویل کی ہے اور اس کام میں اس سے خطا ہوگئی. یہ دوسرا قصہ ہے جس کی داستان طویل اور دہرانا نفرت آمیز ہے. کتنے مظلوموں کا حق ہڑپ کر لیا گیا کیونکہ اس کے غاصب طاقت والے اور با عزت سمجھے جاتے تھے. کتنے ظالموں کی مدد کی جاتی تھی کیونکہ وہ مالدار اور حاکم وقت کے مقرب ہوتے تھے. بخاری ہی کو دیکھئے کہ بنو جذیمہ کے قصہ کو کتنی کتروبیونت کے ساتھ نقل کیا ہے. لکھتے ہیں کہ نبی(ص) نے خالد کو بنی جذیمہ کے پاس بھیجا اس نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے اسلمنا نہ کہا بلکہ کہا کہ ہم نے بت پرستی چھوڑ دی ہے.جناب بخاری یہ بنو جذیمہ والے کیا اہل فارس ترک یا اہل نہود تھے کہ جو اسملنا نہ کہہ سکے. ان کا تعلق قبائل عرب سے تھا کہ جن کی زبان میں خدا نے قرآن نازل کیا ہے! لیکن اندھے تعصب اور اس گھنائونی سازش نے بخاری کو یہ بات لکھنے پر مجبور کیا کہ جو صحابہ کی عزت بچانے کے لئے کی گئی ہے اسی لئے بخاری نے خالد کو بری کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے. عقاد کو دیکھئے کہتے ہیں کہ خالد نے ان سے پوچھا کیا تم مسلمان ہو؟ پھر عقاد کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض نے کہا جی ہاں ہم مسلمان ہیں اور بعض نے کہا ہم نے بت پرستی چھوڑ دی ہے.اس لفظ( قبل) کی واضح دلالت اس بات پر ہے کہ اس قبیلہ نے کسی چیز سے تمسک کر لیا ہے اور اس کے ذریعہ وہ لوگوں کو توہم میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں


تاکہ خالد ابن ولید کی طرف سے عذر پیش کرسکیں. کیونکہ خالد خلافت غصب کرنے والے حاکم کی شمشیر برہنہ ور غاصب خلافت کا دفاع کرنے والا تھا. اور اس کے ساتھی اپنی قوت کا مظاہرہ کر رہے تھے تا کہ اگر کسی ذہن میں بعد وفات رسول(ص) سقیفہ کے غلط ہونے کا خیال بھی پیدا ہو تو وہ ہماری قوت دیکھ کر خاموش ہوجائے. "لا حول و لا قوة الا باللہ العلی بالعظیم"

رسول(ص) کی وفات کے بعد صحابہ نے سنت نبی(ص) کو برباد کر دیا

بخاری نے اپنی صحیح کی پہلی جلد کے باب " تضیع الصلواة" میں غیلان سے روایت کی ہے کہ انس ابن مالک نے کہا کہ مجھے عہد نبی(ص) کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی ہے. لوگوں نے کہا: نماز تو ہے، کہا کہ کیا تم نے اس کی بھی صورت نہیں بدل دی ہے اس میں تحریف نہیں کی ہے.

نیز کہتے ہیں میں نے زہری کو کہتے ہوئے سنا کہ میں دمشق میں انس ابن مالک کے پاس گیا تو دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں میں نے کہا آپ کے رونے کا سبب کیا ہے؟ کہا کہ میں نماز کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں دیکھتا ہوں اور (اب) اس میں بھی کترو بیونت کر دی گئی ہے.(1)

اسی طرح بخاری نے پہلی جلد کے " نماز صبح کی جماعت کی فضیلت"

____________________

1.صحیح بخاری جلد/1 ص134


والے باب میں روایت کی ہے کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا کہ میں نے سالم سے سنا کہ انہوں نے کہا میں نے ام درداء سے سنا کہ وہ کہہ رہی تھیں کہ ایک روز حالت غیظ میں ابو درداء میرے پاس آئے تو میں نے کہا آپ کو کس چیز نے غضبناک کیا. کہا آج میں امت محمد(ص) میں کوئی چیز نہیں دیکھتا ہوں مگر یہ کہ وہ صرف نماز جماعت پڑھتے ہیں.(1) بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/2 کے باب " الخروج الی المصلی بغیر منبر" میں ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: روز عید فطر و ضحی رسول(ص) جب مصلی پر تشریف لے جاتے تو نماز سے پہلے اور نماز کے بعد لوگوں کو وعظ کرتے تھے. یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ ایک روز میں مروان کے ساتھ جب وہ مدینہ کا حاکم تھا نماز عید فطر یا عید الاضحی کےلئے نکلا تو دیکھا وہ نماز سے قبل منبر پر جانا چاہتا ہے. میں نے اس کا کپڑا پکڑ کر کھینچ لیا اس نے کپڑا چھڑایا اور نماز سے قبل منبر پر جاکر خطبہ دیا میں نے کہا قسم خدا کی تم نے ( شریعت) بدل دی. اس نے کہا: ابو سعید جو تم جانتے ہو وہ ختم ہوگئی! میں نے کہا: جو کچھ میں جانتا ہوں قسم خدا کی وہ اس سے بہتر ہے جو میں نہیں جانتا. مروان نے کہا: لوگ نماز کے بعد ہمارے لئے بیٹھے رہیں گے اس لئے میں نے خطبہ نماز پر مقدم کر دیا ہے.(2) صحابہ انس ابن مالک اور ابو درداء کے زمانہ میں اور مروان ابن حکم کے زمانہ میں جو نبی(ص) کے زمانہ سے بہت قریب زمانے تھے سنت میں تغیر کر رہے تھے یہاں تک کہ نماز کو بھی بدل دیا تھا اور اپنے پست مصالح کے تحت سنت نبی(ص) میں رد و بدل کر رہے تھے. بنی امیہ کو دیکھئے کہ انہوں نے ہر خطبہ کے بعد منبروں سے

____________________

1.صحیح بخاری جلد/1 ص159

2.صحیح بخاری جلد/2 ص4


علی(ع) اور اولاد علی(ع) پر لعنت کرنے کو سنت بنا لیا تھا اسی لئے بہت سے لوگ عید الفطر و عیدالاضحی کی نماز کے بعد پراگندہ ہوجاتے تھے. کیونکہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ امام جماعت علی(ع) اور اولاد علی(ع) پر لعنت کرے. اس لئے نبی امیہ نے سنت نبی(ص) میں تغیر کر کے نماز عیدیں میں خطبہ کو نماز پر مقدم کر دیا تا کہ تمام مسلمانوں کے درمیان علی(ع) پر لعنت کرنا آسان ہو جائے اور انہیں رسوا کرسکیں. اس سنت (بد) کا بانی بنی امیہ کا راس و رئیس معاویہ ابن ابی سفیان ہے اور یہ سنت ان کے درمیان اس چیز سے بھی زیادہ اہم ہوگئی تھی کہ جو تقرب الہی کا ذریعہ تھی. بعض مورخین نے یہاں تک لکھا ہے کہ نبی امیہ کے ایک پیش امام نے نماز جمعہ کا خطبہ تمام کر دیا اور حضرت علی(ع) پر ( معاذ اللہ) لعنت کرنا بھول گیا تو لوگوں نےچاروں طرف سے چلا کر کہا، تم نے سنت کو فراموش کر دیا، سننت کو بھلا دیا.... آخر یہ سنت ہی کب تھی؟ مگر افسوس معاویہ ابن ابی سفیان کی اس بدعت پر اسی(80) سال تک عمل ہوتا رہا اور آج تک اس کےآثار باقی ہیں اس کے باوجود اہلسنت معاویہ سے خوش ہیں اور اس پر تنقید کرنے کی کسی میں جرات نہیں ہے کیونکہ وہ صحابہ میں شامل ہے.الحمد للہ امت اسلام کے مخلص محققین حق کو باطل سے الگ کرنے میں لگے ہیں ان میں سے اکثر نے صحابہ والے عقدہ کو بھی سمجھ لیا ہے کہ جو معاویہ اور اس کے پیروکاروں کی ایجاد تھی. اہلسنت بھی اس تناقض سے چھٹکارا پانے لگے ہیں. جب کہ وہ تمام صحابہ سے دفاع کرتے ہیں یہاں تک کہ جو صحابہ کی تنقیص کرتا ہے وہ اس پر لعنت کرتے ہیں. اور جب آپ ان سے کہیں گے " معاویہ ابن ابی سفیان کی لعنت نبی کو بھی شامل ہے" کیونکہ معاویہ نے افضل الصحابہ پر سب وشتم کیا ہے. اور یہ سب و شتم رسول(ص) کو شامل ہوتا ہے کیونکہ رسول(ص) نے خود فرمایا ہے جس نے علی(ع) پر سب و شتم کیا اس نے مجھ پر سب و شتم کیا اور جس نے مجھ پر سب و شتم


کیا اس نے خدا پر سب و شتم کیا.(1)

اس وقت ان کی زبان لڑ کھڑانے لگتی ہے، لکنت کرنے لگتی ہے اور جواب میں ایسی باتیں پیش کرتے ہیں کہ جو کسی چیز پر دلالت نہیں کرتی. اور فقط بے وقوفی اور اندھے تعصب پر مبنی ہوتی ہیں. ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہ جھوٹی باتیں شیعوں کی طرف سے گڑھی ہوئی ہیں اور کچھ کہتے ہیں کہ وہ رسول(ص) کے صحابی ہیں انہیں اختیار ہے جس کے لئے جو چاہیں کہیں لیکن ہم ان کی طرح نہیں ہیں کہ ہم ان پر تنقید کریں!

پروردگار تو پاک و پاکیزہ ہے. حمد تجھ ہی سے مخصوص ہے. تیرے کلام قرآن مجید نے مجھے حقائق کو سمجھنے کی توفیق عطا کی ہے. کہ جن کا سمجھنا میرے لئے دشوار اور ان پر اعتقاد رکھنا مشکل تھا اور جب بھی اس آیت کی تلاوت کرتا تھا:

( وَ لَقَدْ ذَرَأْنا لِجَهَنَّمَ‏ كَثِيراً مِنَ الْجِنِّ وَ الْإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لا يَفْقَهُونَ بِها وَ لَهُمْ أَعْيُنٌ لا يُبْصِرُونَ بِها وَ لَهُمْ آذانٌ لا يَسْمَعُونَ بِها أُولئِكَ كَالْأَنْعامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولئِكَ هُمُ الْغافِلُونَ ‏) اعراف، آیت/179

اور یقینا ہم نے انسان و جنات کی ایک کثیر تعداد کو گویا جہنم کے لئے پیدا کیا ہے، کہ ان کے پاس دل ہیں مگر سمجھتے نہیں ہیں اور آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں ہیں اور کان ہیں مگر سنتے نہیں ہیں یہ چوپایوں جیسے ہیں. بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں اور

____________________

1.مستدرک الحاکم جلد/3 ص121 اور حاکم نے اس حدیث کو شیخین کی شرط پر صحیح تسلیم کیا ہے اسی طرح ذہبی نے بھی اپنی تلخیص میں اس حدیث کو صحیح مانا ہے اور احمد ابن حنبل نے اپنی مسند کی جلد/6 ص323 پر نقل کیا ہے اور نسائی وغیرہ نے بھی اس کو صحیح مانا ہے.


یہی لوگ اصل میں غافل ہیں.

مجھے بہت تعجب ہوتا تھا اور میں اپنے آپ سے کہتا تھا یہ کیسے ممکن ہے؟ کیا حیوان اس انسان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے، کیا ممکن ہے کہ انسان پتھر کے سامنے جھکے اس کی پرستش کرے اور اس سے رزق طلب کرے؟ لیکن الحمد للہ میرا یہ تعجب اس وقت زائل ہوگیا جب خود میں نے ان لوگوں کو دیکھا. میں نے ہندوستان کا سفر کیا وہاں تعجب انگیز چیزیں دیکھیں وہاں میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے جو انسان کے خلیوں کو پہچانتے ہیں، علم تشریح کے ماہر ہیں لیکن گائے کی پوجا کرتے ہیں اگر اس گناہ کا ارتکاب جاہل ہندو کرتے تو ان کا عذر معقول ہوتا لیکن آپ نے دیکھا کہ ان میں سے پڑھے لکھے لوگ گائے، پتھر، سمندر، چاند، سورج کی پوجا کرتے ہیں. اس کے بعد آپ قرآن مجید کے مدلول سمجھ جائیں گے اور اسے "لازمی" تسلیم کریں گےخصوصا یہ کہ بشر حیوان سے زیادہ گمراہ ہے.

صحابہ جناب ابوذر کی نطر میں

بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/2 کے باب " ما ادیت زکوة فلیس بکنز" میں احنف ابن قیس سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں قریش کے معزز افراد کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک گھنے بالوں والا موٹے لباس والا آیا اور ان کے سامنے ٹھہر کر سلام کیا اور کہا مال جمع کرنے والوں کو گرم پتھر کی بشارت دے دو کہ جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور ایک پستان پر لگایا جائے گا جو مونڈھے کی ہڈی توڑ کر نکل جائے گا. پھر دوسرے مونڈھے پر لگایا جائے گا جو دوسرے پستان سے نکل جائے گا. پھر وہ شخص منہ پھیر کر چلا گیا اور اسٹول پر کر بیٹھ گیا میں بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے ان کے پاس جا بیٹھا جبکہ میں اسے متعارف نہیں تھا


میں نے ان سے کہا : میں نے ان لوگوں کو آپ کی باتوں سے خوش نہیں دیکھا؟ اس نے کہا وہ ناواقف ہیں مجھ سے میرے دوست نے فرمایا ہے. میں نے دریافت کیا آپ کے دوست کون ہیں؟ کہا نبی(ص) نے مجھ سے فرمایا ہے کہ: اے ابو ذر کیا تم احد کو دیکھتے ہو: ابوذر کہتے ہیں کہ میں نے جو آفتاب کی طرف دیکھا تو غروب ہوچکا تھا اور مجھے رسول(ص) اپنی کسی ضرورت کے لئے بھیجنا چاہتے تھے میں نے عرض کی جی ہاں: فرمایا مجھے احد کے برابر سونے چاندی کو جمع کرنے والا دوست نہیں ہے ہاں تین دینار والا دوست ہے. جبکہ یہ لوگ اس سے بے خبر ہیں صرف دنیا کو جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں قسم خدا کی میں ان سے سے قیامت تک دنیا و دین کے بارے میں سوال کرنے والا نہیں ہوں.(1)

بخاری اپنی ( صحیح کی) جلد/7 کے باب " ا لحوض" اور قول خدا( انا اعطیناک الکوثر ) میں عطا ابن یسار اور انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ نبی(ص) نے فرمایا:

میں حوض کوثر پر کھڑا ہوں گا کہ ایک گروہ آئے گا میں انہیں پہچان لوں گا اور ایک شخص ان کے اور میرے درمیان کھڑا ہوگا اور کہے گا انہیں جانے دو. میں دریافت کروں گا کہاں؟ وہ کہے گا جہنم میں قسم خدا کی میں پوچھوں گا کہ ان کی کیا خطا ہے وہ کہے گا کہ یہ آپ(ص) کے بعد مرتد ہوگئے تھے اور الٹے پیروں کفر کی طرف پلٹ گئے تھے.

اس کے بعد دوسرا گروہ آئے گا یہاں تک کہ پہچان لوں گا ایک شخص میرے اور ان کے درمیان

____________________

1.صحیح بخاری جلد/2 ص112


کھڑے ہوکر کہے گا: ان کو جانے دو میں معلوم کروں گا : کہاں؟ وہ کہے گا جہنم میں، میں پوچھوں گا ان کی کیا خطا ہے؟ وہ کہے گا یہ آپ کے بعد الٹے پیروں کفر کی طرف پلٹ گئے تھے. پس میں انہیں آزاد چوپائوں کے مثل پاتا ہوں.ابو سعید خدری سے مروی ہے کہ رسول(ص) سے کہا جائیگا کہ آپ(ص) نہیں جانتے انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا، بدعتیں کی ہیں. تو میں کہوں گا جس نے میرے بعد تغیر و تبدل کیا ہے خدا اسے اپنی رحمت سے دور رکھے.(1)

اسی طرح بخاری نے پانچویں جلد کے باب " غزوہ حدیبیہ" اور خدا کے اس قول کے بارے میں(لَقَدْ رَضِيَ‏ اللَّهُ‏ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ )میں علاء الدین ابن مسیب سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:میں نے برّا ابن عازب سے ملاقات کی اور کہا آپ خوش نصیب ہیں کہ آپ نے نبی(ص) کی صحبت پائی اور درخت کے نیچے ان کی بیعت کی: انہوں نے کہا: بھتیجے تمہیں نہیں معلوم ہم نے رسول(ص) کے بعد کیا کیا.(2)

یہ ایک بزرگ صحابی کی عظیم گواہی ہے کہ جو انہوں نے صریح طور پر اپنے اور لوگوں کے خلاف پیش کی ہے اور ان کی یہ گواہی خداوند کے اس قول :

____________________

1.صحیح بخاری جلد/7 ص209

2.صحیح بخاری جلد/5 ص66


(أَفَإِن‏ مَّاتَ‏ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَى‏ أَعْقَابِكُمْ ) کی موکد ہے.

اور نبی(ص) کے اس قول کی بھی موکد ہے کہ " مجھ سے کہا گیا یہ آپ کے بعد الٹے پائوں کفر کی طرف لوٹ گئے تھے،.

برّا بن عازب جلیل القدر صحابی اور ان سابقین و اولین سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی وہ اپنے اور دوسرے صحابہ کے خلاف یہ بات اس لئے کہتے ہیں کہ ہم نے وفات نبی(ص) کے بعد بدعتیں کیں لوگ ہمارے صحابی ہونے کے فریب میں نہ آئیں اور وہ اس طرح یہ وضاحت بھی کر دیتے ہیں کہ نبی(ص) کی صحبت اور درخت کے نیچے بیعت کرنا " جس کو بیعت رضوان کہا جاتا ہے" یہ دونوں چیزیں نبی(ص) کے بعد صحابہ کو گمراہ ہونے سے نہیں روک سکتیں.

بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/8 کے باب " قول النبی(ص): لتتبعن سنن من کان قبلکم" میں عطا ابن یسار سے اور انہوں نے ابو سعید خدری سے اور انہوں نے نبی(ص) سے روایت کی ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا:

تم اپنے سے پہلے والوں کی بالشت بہ بالشت اور قدم بہ قدم اتباع کرو گے یہاں تک کہ اگر وہ بچو کے بل میں گھسے ہوں گے تو تم بھی اسی کے بل میں گھسو گے. ہم نے کہا: یا رسول اللہ(ص) کیا وہ یہود و نصاری ہیں؟ آپ(ص) نے فرمایا: خواہ کوئی بھی ہو...؟!

____________________

1.صحیح بخاری جلد/8 ص151


بعض صحابہ کے متعلق تاریخ کی گواہی

قرآن اور حدیث کے بعد ہمارے پاس واضح ترین شہادت تاریخ ہے. اس لئے کہ لوگوں کا رہن سہن ان کے افعال و کردار، واقعات و حادثات جب قلمبند ہوتے ہیں تو تاریخ بن جاتی ہے.

جب ہم اہلسنت کی تاریخ کی کتابوں جیسے تاریخ طبری، تاریخ کامل طبقات ابن سعد، ابوالفداء اور ابن قتیبہ وغیرہ کا مطالعہ کریں گے تو عجیب و غریب چیزیں نظر آئیں گی اور جو کچھ اہل سنت صحابہ کی عدالت اور ان پر لعنت نہ کرنے کے بارے میں کہتے ہیں اسے ضرور سمجھ لیں گے.... یہ ایسا کلام ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ہے اور نہ ہی اسے عقل سلیم قبول کرتی ہے اور اس سے ایسے متعصب افراد اتفاق کریں گے جن کو تاریخ نے نور سے دور کر دیا ہے اور وہ محمد(ص) جو معصوم ہیں اور وحی کے علاوہ کچھ کہتے ہی نہیں ہیں، اور حق کے سوا کوئی کام انجام نہیں دیتے ہیں اور ا ن صحابہ کے درمیان فرق کرنے پر تیار نہیں ہیں کہ جن کے فسق و نفاق کی قرآن گواہی دے رہا ہے، آپ دیکھتے ہیں کہ وہ رسول(ص) سے کہیں زیادہ صحابہ کا دفاع کرتے ہیں اس سلسلہ میں ایک مثال پیش کرتا ہوں.

جب کسی سے آپ یہ کہیں گے کہ " سورہ عبس و تولی" سے رسول(ص) مراد نہیں ہیں بلکہ اس سے صحابہ کبار میں سے کوئی ایک ہے جس پر خدا اس لئے غضبناک ہوا ہے کہ وہ اندھے فقیر کو دیکھ کر تکبر کرتا ہے" تو آپ دیکھیں گے کہ وہ اس بات کو قبول نہیں کرے گا بلکہ کہے گا کہ محمد(ص) بھی بشر تھے ان سے بھی متعدد بار غلطیاں ہوئی ہیں. اور ان کے پروردگار نے متعدد بار ان پر عتاب کیا ہے.


وہ معصوم نہیں تھے. ہاں قرآن کی تبلیغ کے وقت معصوم تھے. یہ ہے رسول(ص) کے متعلق ان کا نظریہ.

اور اگر آپ یہ کہیں گے کہ عمر نے نماز تراویح کی بدعت کر کے بہت برا کیا یا خطا کی کیونکہ رسول(ص) نے لوگوں کو اس سے منع کیا تھا اور نافلہ نمازوں کو فرادی گھر پر پڑھنے کا حکم دیا تھا.

پھر ملاحظہ کیجئے گا وہ عمر ابن خطاب کا کس طرح دفاع کرتا ہے ایسی صفائی دے گا کہ جیسے مناقشہ کرنے والا قبول نہ کے اور کہے گا کہ یہ بدعت حسنہ ہے. وہ اپنی پوری طاقت و توانائی سے عمر کے لئے عذر تراشی کرے گا باوجودیکہ اس کی (تراویح کی) ممانعت کے لئے نبی(ص) کی نص موجود ہے اور جب آپ اس سے کہیں گے کہ عمر ابن خطاب نے مؤلفة القلوب کا حق غصب کر لیا تھا. کہ جس کا خدا نے قرآن مجید میں حکم دیا ہے. تو وہ کہے گا کہ سیدنا عمر سمجھ گئے تھے کہ اب اسلام قوی ہوگیا اب ہمیں ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لئے ان سے کہدیا ہمیں تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے اور پھر وہ (عمر) تمام لوگوں سے زیادہ قرآن کو جانتے تھے! کیا آپ کے لئے یہ تعجب خیز بات نہیں ہے؟؟

اس وقت انتہا ہوگئی جب میں نے ان میں سے ایک شخص سے کہا کہ بدعت حسنہ کو چھوڑئے اور مولفہ القلوب کے واقعہ سے بھی چشم پوشی کر لیجئے لیکن آپ عمر کے لئے اس واقعہ پر کون سا عذر پیش کریں گے کہ وہ در فاطمہ(ع) پر آکر کہتے ہیں کہ یا تو نکل کر بیعت کرو ورنہ میں گھر کو جلا کر خاکستر کردوں گا؟

اس نے مجھے بے تحاشا جواب دیا کہ عمر حق پر تھے کیونکہ اگر وہ علی(ع) کے ساتھ یہ سلوک نہ کرتے تو اکثر صحابہ ان سے روگردانی کر کے علی(ع) کے ساتھ ہو جاتے اور فتنہ پیدا ہو جاتا.


اس قماش کے لوگوں سے ہماری بحث بے فائدہ ہے. بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ اہل سنت کی اکثریت اسی نہج سے سوچتی ہ ے. کیونکہ حق سے نا واقف ہے اور حق کو عمر ابن خطاب ہی کے ساتھ تصور کرتی ہے. انہوں نے فائدہ توڑدیا اور حق کو لوگوں سے سمجھنے لگے جب کہ حق کے ذریعہ لوگوں کو پرکھنا چاہیئے. (قول علی(ع) ہے حق کو سمجھ لو تو اہل حق کو بھی سمجھ لوگے) پھر یہ عقیدہ ان میں اس طرح سرایت کر گیا کہ انہوں نے عمر ابن خطاب سے تجاوز کر کے تمام صحابہ کو عادل کہنا شروع کر دیا. اب کوئی کسی صحابی کو مورد طعن قرار نہیں دے سکتا. اور نہ ہی کوئی خدشہ ظاہر کرسکتا ہے. اور اس طرح ہر حق کے متلاشی انسان کے لئے سخت رکاوٹ پیدا کر دی ہے آپ دیکھیں گے کہ وہ ایک مانع سے چھٹکارا حاصل نہیں کرپاتا کہ بے شمار موانع اس کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں. ایک خطرہ سے نکلتا نہیں ہے کہ لا تعداد خطرات اس کا راستہ روک دیتے ہیں اور حق کے دامن تک کمزور و ضعیف انسان نہیں پہونچ سکتا. بلکہ وہی پہونچ سکتا ہے کہ جو صبر و شجاعت کا حامل اور صاحب عزم ہو.

جب ہم تاریخ کو دیکھتے ہیں تو بعض صحابہ کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے اور ان سے اعتبار اٹھ جاتا ہے اور ان کے وہ سیاہ کارنامے ظاہر ہو جاتے ہیں جس کو لوگوں سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی گئی یا ان کے یار و مددگار اسے چھپاتے رہے یا برے حکام ایسا کرتے رہے یا ان کے مقرب ایسا کرتے رہے.

جس چیز کی طرف بادی النظر میں ذہن جاتا ہے وہ رسول(ص) کی وفات کے بعد ان کا موقف کہ کس طرح رسول(ص) کے جنازہ کو چھوڑ دیا آپ(ص) کے غسل و کفن اور دفن کے بارے میں کچھ نہ کیا بلکہ سقیفہ میں جاکر میٹنگ کرنے لگے. اور خلافت کے بارے میں جھگڑنے لگے. جبکہ وہ اس کے حقدار کو پہچانتے تھے اور نبی(ص) کے زمانہ


میں ان کے ہاتھوں پر بیعت کر چکے تھے.جو چیز ہمارے لئے اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ انہوں نے علی(ع) اور بنی ہاشم کی غیبت کو غنیمت سمجھا کہ جنہوں نے اپنے اخلاقی اقدار کی وجہ سے رسول(ص) کا جنازہ نہیں چھوڑا. وہ جلدی ہی سے سقیفہ میں جا بیٹھے تا کہ قبل اس کے نبی ہاشم نبی(ص) کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوں خلافت کا فیصلہ کر دیا جائے. اور پھر اسے قبول کرنے پر بنی ہاشم کو مجبور کیا جائے. پھر وہ کچھ نہ کرسکیں گے کیونکہ سقیفہ میں جمع ہونے والوں نے آپس میں یہ طے کر لیا تھا کہ مخالفت کرنے والے کو قتل کر دیا جائے بہانہ یہ تراشا جائے کہ وہ فتنہ پردازی اور مخالفت پر تلے ہوئے تھے.مورخین نے بہت سی عجیب و غریب چیزیں قلمبند کی ہیں کہ جو ان دنوں صحابہ سے رونما ہوئی تھیں کہ جب رسول(ص) نہیں رہے تھے. وہ لوگ رسول(ص) کے خلیفہ اور امیرالمومنین بن گئے تھے. جیسے لوگوں کو دھمکیوں اور ذد و کوب کر کے بیعت لینا، اور در سیدہ(ع) پر سب کا جمع ہونا، دروازہ آپ کے پہلو پر گرانا اور بچے کا آپ کے شکم مبارک میں شہید ہو جانا، حضرت علی(ع) کو قیدی کی طرح لے جانا، اور کہنا کہ اگر بیعت سے انکار کیا تو قتل کر دئے جائو گے، فاطمہ(ع) کی میراث اور باغ فدک اور تمام حقوق کا غصب کرنا اور ذی القربی کے حق کو ہڑپ کر لینا یہاں تک کہ فاطمہ(ع) نے انتقال فرمایا میں کہ آپ(ع) ان لوگوں سے ناراض تھیں. آپ(ع)(زہرا(ع)) ہر نماز کے بعد ان لوگوں کے لئے بد دعا کرتی تھیں، مخفیانہ طور پر آپ(ع) کو رات میں دفن کیا گیا اور صحابہ آپ کے جنازہ میں بھی شریک نہ ہوئے، جیسے ان صحابہ کا قتل کرنا کہ جنہوں نے ابوبکر کو زکوة دینے سے انکار کر دیا تھا.(1) کیونکہ وہ جانتے تھے کہ علی(ع) کو

____________________

1.تاریخ کی کتابوں میں مالک ابن نویرہ کے قتل کا قصہ مشہور ہے.


خلافت سے دور رکھا گیا ہے اس لئے کے وہ غدیر خم میں نبی(ص) کی حیات میں علی(ع) کے ہاتھوں پر بیعت کرچکے تھے.جیسے ہتک حرمت، مسلمانوں کے نیک افراد کے قتل میں حدود خدا کی پامالی اور بغیر عدہ ختم ہوئے ان کی بیویوں سے زنا کرنا.(1)

جیسے احکام خدا و رسول(ص) میں رد و بدل کرنا جو قرآن و حدیث پر مبنی ہیں انہیں اپنی مصلحت کے تحت ذاتی اجتہاد سے بدل دینا.(2) جیسے ان میں سے بعض افراد کا مستقل شراب پینا اور زنا کرنا، حالانکہ وہ مسلمانوں کے ولی امر اور حاکم تھے.(3) جیسے بے گناہ ابوذر غفاری کو مدینہ رسول(ص) سے شہر بدر کرنا، چنانچہ ان کا عالم غربت میں وہیں انتقال ہوگیا اور عمار یاسر کو اتنا مارا کہ مرض فتق میں مبتلا ہوگئے اور عبداللہ ابن مسعود کو اتنا مارا کہ ان کی پسلیاں ٹوٹ گئیں، مخلص صحابہ کو عہدوں سے معزول کرنا اور ان کی جگہ نبی امیہ کے فاسق و منافق دشمن اسلام افراد کو مقرر کرنا.جیسے اہل بیت(ع) کہ جن سے خدا نے ہر رجس کو دور رکھا اور اس طرح پاک رکھا جو حق ہے" پر لعنت کرنا اور نیک صحابہ میں سے ان کو شیعوں اور دوستوں کو قتل کرنا.(4)

____________________

1. جیسا کہ خالد ابن ولید نے مالک ابن نویرہ کی زوجہ لیلی سے اس کے شوہر کے قتل کے بعد زنا کیا.

2. جیسے جناب فاطمہ(ع) کو میراث سے محروم کیا، ذوی القربی کا حق غصب کیا، مولفة ا لقلوب کا حق ہڑپ کیا اور متعہ نساء و متعہ حج کو حرام قرار دیدیا.

3. مغیرہ ابن شعبہ کا قصہ کہ اس نے ام جمیل سے زنا کیا. 4. جیسے معاویہ نے حجر ابن عدی.. ایسے جلیل القدر صحابی اور ان کے دوستوں کو قتل کیا ان کی صرف یہ خطا تھی کہ انہوں نے علی ابن ابی طالب(ع) پر لعنت نہیں کی تھی.


جیسے قوت قہر سے منصب خلافت پر قابض ہو جانا اور جوان کے آڑے آیا مختلف ذریعوں سے اس کا صفایا کر دینا. جیسے کھانے وغیرہ میں زہر ملانا.(1) پھانسی پر چڑھانا. جیسے یزید کا اپنے کا اپنے لشکر کے لئے مدینہ رسول(ص) کو مباح کر دینا کہ وہ جو چاہے کرے. با وجودیکہ رسول(ص) کا یہ قول ہے کہ" مدینہ میرا حرم ہے جو اس میں کوئی غلط کام کرے گا اس پر خدا ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے."

اور جیسے کہ ان کا ذلیل طمع اور فانی دنیا کے لئے امیر المومنین سید الوصیین، عترت طاہرہ کے راس و رئیس علی(ع) " کہ جن کو رسول(ص) سے وہی نسبت تھی جو ہارون کو موسی سے تھی" سے جمل و صفین اور نہروان میں جنگ کرنا.

جیسا کہ انہوں نے سیدا شباب اہل الجنہ امام حسن(ع) کو زہر سے اور امام حسین(ع) کو (تلوار) سے قتل کرنا اور علی ابن الحسین(ع) کے علاوہ پوری عترت رسول(ص) کو میدان کربلا میں تہہ تیغ کرنا ان اور بہت سے ایسے افعال ہیں جو انسانیت کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکا ہے. جنہیں رقم کرنے سے میرا قلم عاجز ہے. ان میں سے زیادہ تر باتوں کو اہل سنت و الجماعت جانتے ہیں اسی لئے وہ مسلمانوں کو تاریخ پڑھنے اور حیات صحابہ کی تحقیق کرنے سے منع کرتے ہیں.

____________________

1.مورخین کا بیان ہے کہ معاویہ اپنے مخالف کو مارتا تھا اور اس کو زہر آمیختہ شہد کھلاتا تھا تو وہ اس کے دربار سے واپس آتے آتے مرجاتا تھا.


اور آج جو ہلاکت خیز جرائم کا تذکرہ کتابوں میں ملتا ہے وہ سب بلا شک و شبہہ صحابہ کے افعال ہیں ان کے مطالعہ کے بعد ایک عاقل کے لئے یہ گنجائش نہیں رہ جاتی کہ وہ صحابہ کو بری سمجھے اور ان کی عدالت کا قائل ہو جائے اور ان پر طعن و تشنیع نہ کرے. ایسا تو وہی کرے گا جس کی عقل زائل ہوچکی ہے.

خصوصا ہم بعض صحابہ کی عدالت اور ان کی پاکیزگی و تقوے کے بارے میں سنتے ہیں اور خدا و رسول(ص) سے جو انہیں محبت وہ بھی معلوم ہے وہ زمانہ رسول(ص) میں ثابت قدم رہے یہاں تک کہ ان کی مدت حیات پوری ہوگئی اور انہوں نے کوئی رد و بدل نہیں کی پس خدا ان سے راضی ہوگیا اور انہیں اپنے حبیب محمد(ص) کے جوار میں جگہ دی.

وہ اس سے بری اور اعلی ہیں کہ ان کے بارے میں کچھ کہا جائے یا کوئی بہتان لگانے والا ان پر بہتان لگائے خداوند عالم نے اپنی کتاب میں مختلف موقعوں پر ان کی مدح فرمائی ہے جیسا کہ خدا نے بارہا نبی(ص) سے ان لوگوں کی محبت و خلوص کی تعریف کی ہے اور تاریخ نے ان ہی واقعات کو ثبت کیا ہے جو شرافت سے لبریز، خوف خدا اور شجاعت و تقوی سے مملو ہیں. پس وہ خوش نصیب ہیں ان کے لئے جنت عدن کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور شکر کرنے والوں کے لئے خدا کی رضا سب سے بڑا اجر ہے. لیکن یاد رہے شکر کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے!

لیکن جو اشخاص مصلحت کے تحت مسلمان بن گئے تھے اور ان کے دلوں میں ایمان راسخ نہیں ہوا تھا وہ برضا و رغبت رسول(ص) کے ساتھ نہیں تھے بلکہ اپنی غرض کے تحت رسول(ص) کے ساتھ لگ گئے تو قرآن نے ان کی سرزنش کی ہے اور رسول(ص) ان سے اور وہ رسول(ص) سے بچتے رہے. آپ نے متعدد موقعوں پر


ان لوگوں پر لعنت کی، تاریخ نے ان کے اعمال شنیعہ محفوظ کئے ہیں... یہ کسی احترام کے بھی لائق نہیں ہیں. چہ جائیکہ ہم ان سے خوش ہو جائیں اور ان کو انبیاء و شہداء اور صالحین کے برابر سمجھیں.

قسم میری جان کی یہی توقف حق ہے جو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اور ان خطوط سے تجاوز نہیں کرتا جو خدا نے اپنے بندوں کے لئے کھنیچے ہیں کہ وہ مومنین سے دوستی اور منافقین سے برات و دشمنی اختیار کریں. خداوند عالم اپنی کتاب میں ارشاد فرماتا ہے:

( أَ لَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ‏ تَوَلَّوْا قَوْماً غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ما هُمْ مِنْكُمْ وَ لا مِنْهُمْ وَ يَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ يَعْلَمُونَ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ عَذاباً شَدِيداً إِنَّهُمْ ساءَ ما كانُوا يَعْمَلُونَ اتَّخَذُوا أَيْمانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ فَلَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَ لا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً أُولئِكَ أَصْحابُ النَّارِ هُمْ فِيها خالِدُونَ يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعاً فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَما يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلى‏ شَيْ‏ءٍ أَلا إِنَّهُمْ هُمُ الْكاذِبُونَ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطانُ فَأَنْساهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ أُولئِكَ حِزْبُ الشَّيْطانِ أَلا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطانِ هُمُ الْخاسِرُونَ‏ إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ‏ اللَّهَ‏ وَ رَسُولَهُ‏ أُولئِكَ فِي الْأَذَلِّينَ* كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَ رُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ لا تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ- يُوادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ وَ لَوْ كانُوا آباءَهُمْ أَوْ أَبْناءَهُمْ- أَوْ إِخْوانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولئِكَ كَتَبَ فِي


قُلُوبِهِمُ الْإِيمانَ- وَ أَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ وَ يُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ خالِدِينَ فِيها- رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ- أُولئِكَ حِزْبُ اللَّهِ- أَلا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ‏) مجادلہ، آیت/14-22

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا ہے جنہوں نے اس قوم سے دوستی کر لی ہے جس پر خدا نے عذاب نازل کیا ہے کہ یہ نہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے اور یہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور خود بھی اپنے جھوٹ سے با خبر ہیں، انہوں نے اپنی قسموں کو سپر بنا لیا ہے اور راہ خدا میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں تو ان کے لئے رسوا کرنے والا عذاب ہے، اللہ کے مقابلہ میں ان کا مال اور ان کی اولاد کوئی کام آنے والا نہیں ہے. یہ سب جہنمی ہیں اور وہیں ہمیشہ رہنے والے ہیں. جو خدا ان سب کو دوبارہ زندہ کرے گا اور یہ اس سے بھی ایسی ہی قسمیں کھائیں گے جیسی تم سے کھاتے ہیں اور ان کا خیال ہوگا کہ ان کے پاس کوئی بات ہے حالانکہ یہ بالکل جھوٹے ہیں، ان پر شیطان غالب آگیا ہے اور اس نے انہیں ذکر خدا سے غافل کر دیا ہے. آگاہ ہو جائو کہ یہ شیطان کا گروہ ہے. اور شیطان کا گروہ بہر حال خسارہ میں رہنے والا ہے. بیشک جو لوگ خدا و رسول(ص) سے دشمنی کرتے ہیں ان کا شمار ذلیل ترین لوگوں میں ہے. اللہ نے یہ لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول(ص) غالب آنے والے ہیں. بیشک اللہ صاحب قوت اور صاحب عزت ہے. آپ کبھی بھی نہ دیکھیں گے کہ جو قوم اللہ


اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والی ہے وہ ان لوگوں سے دوستی کر رہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول(ص) سے دشمنی کرنے والے ہیں چاہے وہ ان کے باپ دادا، اولاد یا برادران یا عشیرہ اور قبیلہ والے ہی کیوں نہ ہوں. اللہ نے صاحبان ایمان کے دلوں میں ایمان لکھ دیا ہے اور ان کی اپنی خاص روح کے ذریعہ تائید کی ہے اور وہ انہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ انہیں میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے. خدا ان سے راضی ہوگا اور وہ خدا سے راضی ہوں گے یہی لوگ اللہ کا گروہ ہیں اور آگاہ ہو جائو کہ اللہ کا گروہ ہی نجات پانے والا ہے.

یہاں میں یہ بات ضرور سپرد قلم کروں گا کہ شیعہ ہی حق پر ہیں. کیونکہ وہ رسول(ص) اور ا ن کے اہل بیت(ع) سے اور ان ہی صحابہ سے محبت کرتے ہیں جنہوں نے شعار اہل بیت(ع) کو اپنایا اور ان مومنوں سے دوستی رکھتے ہیں جو قیامت تک طریق ائمہ کا اتباع کرتے رہیں گے شیعوں کے علاوہ اور سارے مسلمان تمام صحابہ سے محبت کرتے ہیں اور اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ انہوں نے خدا و رسول(ص) کو ناراض کیا ہے. اور اپنی اس بات پر خدا کے اس قول سے استدلال کرتے ہیں کہ:

( رَبَّنَا اغْفِرْ لَنا وَ لِإِخْوانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونا بِالْإِيمانِ وَ لا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا، رَبَّنا إِنَّكَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ .) سورہ حشر، آیت/10

پروردگارا ہمیں معاف کر دے اور ہمارے ان بھائیوں


کو بھی جنہوں نے ایمان میں ہم پر سبقت کی ہے. اور ہمارے دلوں میں صاحبان ایمان کے لئے کسی قسم کا کینہ قرار نہ دینا کہ تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے. اسی لئے آپ دیکھیں گے کہ وہ علی(ع) سے بھی راضی اور معاویہ سے بھی خوش، انہیں اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ معاویہ نے کیا کیا؟ کن جرائم کا مرتکب ہوا، کم سے کم معاویہ کو کفر گمراہ اور خدا و رسول(ص) سے جنگ کرنے والا کہا جا سکتا ہے یہ عجیب باتیں تو میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں. جن کو دھرانے میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے. کہ ایک صالح بندہ جلیل القدر صحابی حجر ابن عدی کی قبر کی زیارت کو گیا تو وہاں اس نے ایک شخص کو روتا ہوا پایا کہ جس کا گریہ بڑھتا ہی جا رہا تھا. اس نے سوچا کہ شاید یہ شیعہ ہے. اسی لئے اس سے معلوم کیا کہ تم کیوں رو رہے ہو؟ اس نے کہا میں اپنے سید و سردار حجر ابن عدی رضی اللہ عنہ پر رو رہا ہوں. اس نے پوچھا؟ ان پر کیا گذری؟

کہا: ہمارے سید و سردار معاویہ نے انہیں قتل کر دیا تھا.

صالح آدمی نے کہا کہ انہیں معاویہ نے کیوں قتل کیا تھا؟

اس نے کہا: کہ حجر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کرنے سے انکار کر دیا تھا.

صالح انسان نے اس سے کہا: کہ میں اب تمہارے اوپر روتا ہوں تاکہ اللہ تم سے راضی ہو جائے.

یہ تمام صحابہ کی محبت کے سلسلہ میں اتنا اصرار اور ضد کیوں ہے کہ تنہا محمد(ص) اور ان کی آل(ع) پر درود نہیں بھیجتے بلکہ اس میں " واصحابہ اجمعین" کا اضافہ کر لیتے ہیں حالانکہ نہ قرآن نے انہیں اس کا حکم دیا ہے اور نہ رسول(ص) نے اس کا مطالبہ کیا ہے


اور نہ ہی کسی صحابی نے اسے کہا ہے. بلکہ صلواة تو صرف محمد(ص) و آل محمد(ص) سے مخصوص ہے جیسا کہ قرآن میں(آیت) نازل ہوئی ہے اور جس کی تعلیم رسول(ص) نے صحابہ کو دی ہے اور اگر مجھے کسی چیز میں شک ہے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے. لیکن اس سلسلہ میں مجھے ہرگز شک نہیں ہوگا کہ خدا نے مومنین سے قرابتداروں کی محبت کا مطالبہ کیا ہے. اور قرابتدار صرف اہل بیت(ع) ہیں اور ان کی محبت کو مومنوں پر واجب قرار دیا ہے اور اسے رسالت محمدی(ص) کا اجر قرار دیا ہے. چنانچہ ارشاد خداوند عالم ہے:

( قُلْ‏ لا أَسْئَلُكُمْ‏ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى ‏) سورہ شوری، آیت/23

اہل بیت(ع) کی محبت کے سلسلہ میں سارے مسلمانوں کا اتفاق ہے جبکہ غیر اہل بیت(ع) کے متعلق اختلاف ہے. رسول(ص) کا ارشاد ہے:

" دَعْ‏ مَا يُرِيبُكَ‏ إِلَى مَا لَا يُرِيبُكَ"

جس میں شک ہو اسے چھوڑ دو اور بغیر شک والے کو اختیار کرلو.اہل بیت(ع) کی محبت کے بارے میں شیعوں کے نظریہ میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے. لیکن صحابہ کی محبت کے بارے میں اہل سنت کے نظریہ میں بہت زیادہ شکوک ہیں اور ایک مسلمان دشمن اہل بیت(ع) اور ان کے قاتلین سے کیونکر محبت کرسکتا ہے اور ان سے کیسے راضی ہوسکتا ہے. کیا یہ تناقض نہیں ہے؟ چھوڑئیے شطاح اور صوفیوں کے نظریہ کو جو یہ گمان کرتے ہیں کہ انسان کا قلب اس وقت تک صاف نہیں ہوسکتا، اور ایمان حقیقی اس کے دل میں جاگزین نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل تمام بندگان خدا یہود و نصاری، اور مشرکین و ملحدین کی عناد سے پاک نہ ہو جائے، اس سلسلہ میں ان کے عجیب و غریب اقوال ہیں جو


کلیسا کے عیسائیوں سے ملتے جلتے ہیں، ان کا یہ وہم ہے کہ خدا محبت ہے اور دین محبت ہے پس جو اس کی مخلوقات سے محبت کرے گا اسے نماز پڑھنے روزہ رکھنے حج وغیرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے.

میری جان کی قسم یہ تو دل بہلانے کی باتیں ہیں، قرآن و حدیث میں ان کا کہیں وجود بھی نہیں ہے. عقل بھی انہیں صحیح نہیں سمجھتی ہے. قرآن کہتا ہے:

( لا تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ- يُوادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ ) سورہ مجادلہ، آیت/22

آپ کبھی نہ دیکھیں جو قوم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والی ہے وہ ان لوگوں سے دوستی کر رہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول(ص) سے دشمنی رکھنے والے ہیں. نیز ارشاد ہے:

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَ النَّصارى‏ أَوْلِياءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِياءُ بَعْضٍ وَ مَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ‏ ) سورہ مائدہ، آیت/51

اے ایمان والو یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست و سرپرست نہ بنائو کہ یہ خود آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے کوئی انہیں دوست بنائے گا تو انہیں میں شمار ہو جائیگا بیشک اللہ ظالم قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے.

نیز ارشاد ہے:

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا آباءَكُمْ‏ وَ إِخْوانَكُمْ أَوْلِياءَ إِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْإِيمانِ وَ مَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ


فَأُولئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ‏. ) سورہ توبہ، آیت/23

اے ایمان والو خبر دار اپنے باپ، دادا اور بھائیوں کو اپنا دوست نہ بنائو، اگر وہ ایمان کے مقابلہ میں کفر کو دوست رکھتے ہوں اور جو شخص بھی ایسے لوگوں کو اپنا دوست بنائے گا وہ ظالموں میں شمار ہوگا.

نیز ارشاد ہے:

(يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي‏ وَ عَدُوَّكُمْ أَوْلِياءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوا بِما جاءَكُمْ مِنَ الْحَقِ ‏)سورہ ممتحنہ، آیت/1

اے ایمان والو خبر دار میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بنانا کہ تم ان کی طرف دوستی کی پیش کش کرو جب کہ انہوں نے اس حق کا انکار کر دیا ہے جو تمہارے پاس آچکا ہے.

رسول اکرم(ص) فرماتے ہیں:اس وقت تک کسی مومن کا ایمان کامل نہیں ہوسکتا جب تک اس کی محبت اور عداوت خدا کے لئے نہ ہو.نیز فرماتے ہیں کہ: کسی مومن کے قلب میں خدا اور اس کے دشمن کی محبت جمع نہیں ہوسکتی.

اس موضوع سے متعلق بہت سی احادیث ہیں اور عاقل کے لئے دلیل کے طور پر اتنا ہی کافی ہے کہ خدا نے مومنین کے لئے ایمان کو پسند کیا ہے. اور ان کے قلوب کو اسی سے زینت عطا کی ہے اور ان کے لئے کفر، گناہ اور فسق کو نا پسند


قرار دیا ہے انسان حق سے منحرف اور منکر ہونے کی بنا پر اپنے باپ، بیٹے یا بھائی سے نفرت کرنے لگتا ہے کیونکہ وہ شیطان کے راستہ پر چلنے لگتا ہے اور کبھی اجنبی انسان سے مسلمان ہونے کے ناتے محبت کرتا ہے.

ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم سب پر واجب ہے کہ ہماری محبت و مودت اور دوستی انہیں سے ہو جن کی مودت کے بارے میں خدا نے حکم دیا ہے اسی طرح یہ واجب ہے کہ ہمارا بغض و نفرت اور برات انہیں لوگوں سے ہونی چاہئیے جن سے نفرت و برات کا خدا نے حکم دیا ہے.اس لئے ہم علی(ع) اور ان کی اولاد میں سے ہونے والے ائمہ سے محبت کرتے ہیں حالانکہ ان کی مودت سے ہمارا کوئی سابقہ نہیں ہوتا، لیکن قرآن و حدیث تاریخ وعقل کی روسے ان میں کوئی خامی نہیں ملتی.

اور اسی بنا پر ہم صحابہ سے بیزار ہیں کہ ان کے حق خلافت کو غصب کر لیا حالانکہ پہلے ان سے بغض نہیں تھا لیکن قرآن و سنت اور تاریخ و عقل نے ہمارے سامنے ان کے بارے میں شکوک پیش کئے ہیں.

اور اس کے ساتھ ساتھ رسول(ص) نے ہمیں یہ حکم دیا کہ:

"دَعْ‏ مَا يُرِيبُكَ‏ إِلَى مَا لَا يُرِيبُكَ"

بس ایک مسلمان کے لئے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی مشکوک حکم کا اتباع کرے اور کتاب (خدا) کو چھوڑ دے کہ جس میں کوئی شک نہیں ہے.جس طرح ہر ایک مسلمان پر واجب ہے کہ وہ تمام قید و بند اور غلامی سے اپنے کو آزاد کرے اور اپنی عقل کو گذشتہ افکار سے اور کینہ و کدورت سے متاثر نہ ہونے دے کیونکہ نفس اور شیطان دونوں انسان کے بڑے دشمن ہیں جو انسان کے سامنے برے اعمال کو خوبصورت بنا کر پیش کرتے ہیں اور وہ انہیں


اچھا سمجھنے لگتا ہے امام بوصیری نے" قصیدہ البرزہ میں بہت اچھی بات کہی ہے.

و خالف النفس والشیطان و اعصمهما

و ان هما محضاک النصح فاتهم

نفس اور شیطان دونوں کی مخالفت اور نا فرمانی کرو اور ان سے بچو پس اگر یہ تمہیں مخلصانہ طور پر بھی نصیحت کریں تب بھی تم ان کی مذمت کرو.

نیک بندوں کے بارے میں مسلمانوں کو خدا سے ڈرنا چاہیئے لیکن جو لوگ متقی نہیں ہیں ان کی کوئی عزت بھی نہیں ہے. رسول(ص) کا ارشاد ہے کہ: فاسق کی سخن چینی میں کوئی حرج نہیں ہے تاکہ مسلمان اس کے کرتوت سے آگاہ ہوجائیں. اور اس کے فریب میں نہ آئیں اور اس سے محبت نہ کریں.

آج مسلمانوں کو ایک دوسرے کی صداقت کے ساتھ رہنمائی کرنی چاہئیے ان کی غم انگیز حالت کو ملاحظہ کرنا چاہئیے، فخر و مباہات کےسلسلہ میں ان کے اسلاف و بزرگ کافی ہیں، پس اگر ہمارے بزرگ حق پر تھے" جیسا کہ ہم آج تصور کرتے ہیں" تو آج ہم اس نتیجہ پر کیوں پہونچتے ہیں. یہ چیز تو اس انقلاب کی رہین منت ہے جو امت نبی(ص) روحی و ارواح العالمین لہ الفدا کی وفات کے بعد رونما ہوا:

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ‏ بِالْقِسْطِ شُهَداءَ لِلَّهِ وَ لَوْ عَلى‏ أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوالِدَيْنِ وَ الْأَقْرَبِينَ إِنْ يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيراً فَاللَّهُ أَوْلى‏ بِهِما فَلا تَتَّبِعُوا الْهَوى‏ أَنْ تَعْدِلُوا وَ إِنْ تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كانَ بِما تَعْمَلُونَ خَبِيراً .) سورہ نساء، آیت/135

اے ایمان والو! عدل و انصاف کے ساتھ قیام کرو


اور اللہ کے لئے گواہ بنو چاہے اپنی ذات یا اپنے والدین اور اقربا ہی کے خلاف کیوں نہ ہو. جس کے لئے گواہی دینا ہے وہ غنی ہو یا فقیر اللہ دونوں کے لئے تم سے اولی ہے لہذا خبردار خواہشات کا اتباع نہ کرنا تا کہ انصاف کرسکو اور اگر توڑ مروڑ سے کام لیا یا بالکل کنارہ کشی کر لی تو یاد رکھو اللہ تمہارے اعمال سے خوب با خبر ہے.

بعض صحابہ کے متعلق اہل ذکر کا نظریہ

حضرت علی علیہ السلام ان بعض سابق صحابہ کی اس طرح توصیف فرماتے ہیں:

"فَلَمَّا نَهَضْتُ‏ بِالْأَمْرِ نَكَثَتْ طَائِفَةٌ وَ قَسَطَتْ شِرْذِمَةٌ وَ مَرَقَ آخَرُونَ، كَأَنَّهُمْ لَمْ يَسْمَعُوا اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: ( تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُها لِلَّذِينَ لا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَ لا فَساداً وَ الْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ ‏) بَلَى وَ اللَّهِ لَقَدْ سَمِعُوهَا وَ لَكِنْ حُلِّيَتِ الدُّنْيَا فِي أَعْيُنِهِمْ وَ رَاقَهُمْ زِبْرِجُهَا" (1)

مگر اس کے باوجود جب میں امر خلافت کو لے کر اٹھا تو ایک گروہ نے بیعت توڑ ڈالی اور دوسرا دین سے نکل گیا

____________________

1.نہج البلاغہ، خطبہ نمبر3


اور تیسرے گروہ نے فسق اختیار کر لیا، گویا انہوں نے اللہ کا یہ اشارہ سنا ہی نہ تھا کہ" یہ آخرت کا گھر ہم نے ان لوگوں کے لئے قرار دیا ہے جو دنیا میں نہ( بے جا) بلندی چاہتے ہیں اور نہ فساد پھیلاتے ہیں اور اچھا انجام پرہیز گاروں کے لئے ہے" ہاں ہاں خدا کی قسم ! ان لوگوں نے اس کو سنا تھا اور یاد کیا تھا. لیکن ان کی نگاہوں میں دنیا کا جمال کھپ گیا اور اس کی سج دھج نے انہیں لبھا دیا.

نیز آپ نے انہیں کے لئے فرمایا:

"اتَّخَذُوا الشَّيْطَانَ‏ لِأَمْرِهِمْ مِلَاكاً وَ اتَّخَذَهُمْ لَهُ أَشْرَاكاً فَبَاضَ وَ فَرَّخَ فِي صُدُورِهِمْ وَ دَبَّ وَ دَرَجَ فِي حُجُورِهِمْ فَنَظَرَ بِأَعْيُنِهِمْ وَ نَطَقَ بِأَلْسِنَتِهِمْ فَرَكِبَ بِهِمُ الزَّلَلَ وَ زَيَّنَ لَهُمُ الْخَطَلَ فِعْلَ مَنْ قَدْ شَرِكَهُ الشَّيْطَانُ فِي سُلْطَانِهِ وَ نَطَقَ بِالْبَاطِلِ عَلَى لِسَانِهِ."(1)

انہوں نے اپنے ہرکام کا کرتا دھرتا شیطان کو بند رکھا ہے اور اس نے ان کو اپنا آلہ کار بنا لیا ہے اس نے ان کے سینوں میں انڈے دیئے ہیں اور بچے نکالے ہیں اور انہیں کی گود میں وہ بچے رینگتے اور اچھلتے کودتے ہیں، وہ دیکھتا ہے تو ان کی آنکھوں سے، بولتا ہے تو ان کی زبانوں سے، اس نے انہیں خطائوں کی راہ پر لگایا دیا ہے. اور بری باتیں سجا کر ان کے سامنے

..................................

1.نہج البلاغہ، خطبہ نمبر7


رکھی ہیں جیسے اس نے انہیں اپنے تسلط میں شریک بنا لیا ہو اور انہیں کی زبانوں سے اپنے کلام باطل کے ساتھ بولتا ہے.حضرت علی(ع) عمر عاص کے متعلق فرماتے ہیں:

" عَجَباً لِابْنِ‏ النَّابِغَةِ لَقَدْ قَالَ بَاطِلًا وَ نَطَقَ آثِماً أَمَا وَ شَرُّ الْقَوْلِ الْكَذِبُ إِنَّهُ يَقُولُ فَيَكْذِبُ وَ يَعِدُ فَيُخْلِفُ وَ يَسْأَلُ فَيُلْحِفُ‏ وَ يُسْأَلُ فَيَبْخَلُ وَ يَخُونُ الْعَهْدَ وَ يَقْطَعُ الْإِلَّ"(1)

نابغہ کے بیٹے پر حیرت ہے.... یاد رکھو بدترین قول وہ ہے جو جھوٹ ہو. اور وہ خود بات کرتا ہے تو جھوٹی اور وعدہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کرتا ہے، مانگتا ہے تو لپٹ جاتا ہے اور خود اس سے مانگا جائے تو اس میں بخل کر جاتا ہے، وہ پیمان شکنی اور قطع رحمی کرتا ہے.

رسول اکرم(ص) نے فرمایا:منافق کی تین علامتیں ہیں: جب وہ گفتگو کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، اور جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ کی خلاف ورزی کرتا ہے اور جب کسی کی امانت رکھتا ہے تو خیانت کرتا ہے.

اور یہ تمام بری صفتیں بلکہ اس سے بھی زیادہ وہ عمر بن عاص میں موجود ہیں!

جب حضرت ابوذر ربذہ کی طرف جلا وطن کیا گیا تو ان کی مدح میں اور عثمان اور عثمان کے ساتھیوں کی مذمت میں اور ان کی تن تنہائی کے بارے میں فرمایا:

____________________

1.نہج البلاغہ، خطبہ نمبر82


"يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّكَ‏ غَضِبْتَ‏ لِلَّهِ‏ فَارْجُ مَنْ غَضِبْتَ لَهُ إِنَّ الْقَوْمَ خَافُوكَ عَلَى دُنْيَاهُمْ وَ خِفْتَهُمْ عَلَى دِينِكَ فَاتْرُكْ فِي أَيْدِيهِمْ مَا خَافُوكَ عَلَيْهِ وَ اهْرُبْ مِنْهُمْ بِمَا خِفْتَهُمْ عَلَيْهِ فَمَا أَحْوَجَهُمْ إِلَى مَا مَنَعْتَهُمْ وَ مَا أَغْنَاكَ عَمَّا مَنَعُوكَ وَ سَتَعْلَمُ مَنِ الرَّابِحُ غَداً وَ الْأَكْثَرُ [حَسَداً] حُسَّداً وَ لَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرَضِينَ كَانَتَا عَلَى عَبْدٍ رَتْقاً ثُمَّ اتَّقَى اللَّهَ لَجَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْهُمَا مَخْرَجاً لَا يُؤْنِسَنَّكَ إِلَّا الْحَقُّ وَ لَا يُوحِشَنَّكَ إِلَّا الْبَاطِلُ فَلَوْ قَبِلْتَ دُنْيَاهُمْ لَأَحَبُّوكَ وَ لَوْ قَرَضْتَ مِنْهَا لَأَمَّنُوكَ."(1)

اے ابو ذر! تم اللہ کے لئے غضبناک ہوئے ہو تو پھر جس کی خاطر یہ تمام غم و غصہ ہے اسی سے امید بھی رکھو ان لوگوں کو تم سے اپنی دنیا کے متعلق خطرہ ہے اور تمہیں ان سے اپنے دین کے متعلق اندیشہ ہے لہذا جس چیز کےلئے انہیں تم سے کھٹکا ہے وہ انہیں کے ہاتھ میں چھوڑ دو اور جس شئی کے لئے تمہیں ان سے اندیشہ ہے اسے لے کر ان سے بھاگ نکلوا جس چیز سے تم انہیں محروم کر کے جا رہے ہو. کاش کہ وہ سمجھتے کہ وہ اس کے لئے کتنے حاجت مند ہیں. اور جس چیز کو انہوں نے تم سے روک لیا ہے. اس سے تم بہت ہی بے نیاز ہو اور جلد ہی تم جان لوگے کہ کل فائدہ میں رہنے والا کون ہے اور کس پر حسد

____________________

1.نہج البلاغہ، خطبہ نمبر129


کرنے والے زیادہ ہیں اگر یہ آسمان و زمین کسی بندے پر بند پڑے ہوں اور وہ اللہ سے ڈرے تو وہ اس کے لئے زمین و آسمان کی راہیں کھول دے گا، تمہیں صرف حق سے دلچسپی ہونا چاہئیے صرف باطل ہی سے گھبرانا چاہئیے اگر تم ان کی دنیا قبول کر لیتے تو وہ تمہیں چاہنے لگتے اور تم اس میں کوئی حصہ اپنے لئے مقرر کرا لیتے تو وہ تم سے مطمئن ہو جاتے.

مغیرہ ابن اخنس کے بارے میں فرماتے ہیں جو بزرگ صحابہ میں سے ہیں:

" يابن‏ اللّعين‏ الأبتر و الشجرة التي لا أصل لها و لا فرع‏ واللّه ما أعزّ اللّه من أنت ناصره،و قام من انت من هضة اخرج أبعد اللّه نواك ثمّ ابلغ جهدك فلا أبقى اللّه عليك‏ إن ابقيت."(1)

اے بے اولاد لعین کے بیٹے اور ایسے درخت کے پھل جس کی نہ کوئی جڑ ہے نہ شاخ تو بھلا مجھ سے کیا نپٹے گا- خدا کی قسم جس کا تجھ ایسا مدد گار ہو، اللہ اسے غلبہ و سر فرازی نہیں دیتا اور جس کا تجھ جیسا ابھارنے والا ہو( وہ اپنے پیروں پر) کھڑا نہیں ہوسکتا ہم سے دور ہو خدا تمہاری منزل کو دور رکھے اور اس کے بعد جو بن پڑے کرنا اور اگر کچھ بھی مجھ پر ترس کھائے تو خدا تجھ پر رحم نہ کرے.

حضرت علی علیہ السلام نے دو مشہور صحابہ طلحہ و زبیر کہ جنہوں نے

____________________

1.نہج البلاغہ، خطبہ نمبر133


پہلے آپ کی بیعت کی اور پھر بیعت توڑ کر آپ کے مد مقابل آئے،، کے متعلق فرمایا:

"وَ اللَّهِ مَا أَنْكَرُوا عَلَيَ‏ مُنْكَراً وَ لَا جَعَلُوا بَيْنِي وَ بَيْنَهُمْ نَصَفاً وَ إِنَّهُمْ لَيَطْلُبُونَ حَقّاً تَرَكُوهُ وَ دَماً سَفَكُوهُ

وَ إِنَّهَا لَلْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ فِيهَا الْحَمَأُ وَ الْحُمَّةُ وَ الشُّبْهَةُ الْمُغْدِفَةُ وَ إِنَّ الْأَمْرَ لَوَاضِحٌ وَ قَدْ زَاحَ الْبَاطِلُ عَنْ نِصَابِهِ وَ انْقَطَعَ لِسَانُهُ عَنْ شَغْبِهِ

فَأَقْبَلْتُمْ إِلَيَّ إِقْبَالَ الْعُوذِ الْمَطَافِيلِ عَلَى أَوْلَادِهَا تَقُولُونَ الْبَيْعَةَ الْبَيْعَةَ قَبَضْتُ كَفِّي فَبَسَطْتُمُوهَا وَ نَازَعْتُكُمْ يَدِي فَجَاذَبْتُمُوهَا

اللَّهُمَّ إِنَّهُمَا قَطَعَانِي وَ ظَلَمَانِي وَ نَكَثَا بَيْعَتِي وَ أَلَّبَا النَّاسَ عَلَيَّ فَاحْلُلْ مَا عَقَدَا وَ لَا تُحْكِمْ لَهُمَا مَا أَبْرَمَا وَ أَرِهِمَا الْمَسَاءَةَ فِيمَا أَمَّلَا وَ عَمِلَا وَ لَقَدِ اسْتَثَبْتُهُمَا قَبْلَ الْقِتَالِ وَ اسْتَأْنَيْتُ بِهِمَا أَمَامَ الْوِقَاعِ فَغَمَطَا النِّعْمَةَ وَ رَدَّا الْعَافِيَةَ.(1)

و فی رسالة منه الیهما فَارْجِعَا أيُّهَا الشَّيْخَانِ‏ عَنْ رَأْيِكُمَا، فَإِنَّ الآنَ أعْظَمَ أمْرِكُمَا الْعَارُ، مِنْ قَبْلِ أنْ يَتَجَمَّعَ الْعَارُ والنَّارُ، والسَّلامُ.(2)

____________________

1.نہج البلاغہ، خطبہ نمبر135

2.نہج البلاغہ، مکتوب نمبر54


خدا کی قسم انہوں نے مجھ پر کوئی سچا الزام نہیں لگایا اور نہ انہوں نے میرے اور اپنے درمیان انصاف برتا، وہ مجھ سے اس حق کا مطالبہ کرتے ہیں جسے خود ہی انہوں نے چھوڑ دیا اور اس خون کا عوض چاہتے ہیں جسے انہوں نے خود بہا دیا.

اور بلاشبہ یہی وہ باغی گروہ ہے جس میں ایک ہمارا سگا (زبیر) اور ایک بچھو کا ڈنک( حمیرا) ہے اور حق پر سیاہ پردہ ڈالنے والے شبہہ میں ہیں( اب تو ) حقیقت حال کھل کر سامنے آچکی ہے اور باطل اپنی بنیادوں سے ہل چکا ہے اور شر انگیزی سے اس کی زبان بند ہوچکی ہے.

تم اس طرح ( شوق و رغبت سے) بیعت بیعت پکارتے ہوئے میری طرف بڑھے جس طرح نئی بیاہی ہوئی بچوں والی اونٹیاں اپنے بچوں کی طرف، میں نے اپنے ہاتھوں کو اپنی طرف سمیٹا تو تم نے انہیں اپنی جانب سے پھیلایا میں نے اپنے ہاتھوں کو تم سے چھیننا چاہا مگر تم نے انہیں کھینچا.

خدایا ان دونوں نے میرے حقوق کو نظر انداز کیا ہے اور مجھ پر ظلم ڈھایا ہے اور میری بیعت کو توڑ دیا ہے اور میرے خلاف لوگوں کو اکسایا ہے لہذا تو جو انہوں نے گرہیں لگائی ہیں انہیں کھول دے اور جو انہوں نے بٹا ہے اسے مضبوط نہ ہونے دے اور انہیں ان کی امیدوں اور کرتوتوں کا برا نتیجہ دکھا، میں نے جنگ کے چھڑنے سے پہلے انہیں باز رکھنا چاہا اور لڑائی سے قبل انہیں ڈھیل دیتا رہا، لیکن انہوں نے اس نعمت


کی قدر نہ کی اور عافیت کو ٹھکرا دیا.

اور اپنے ایک خط میں طلحہ و زبیر کے بارے میں فرماتے ہیں:

بزرگوارو! اپنے اس رویہ سے باز آئو کیونکہ ابھی تو تم دونوں کے سامنے ننگ و عار کا مرحلہ ہے. مگر اس کے بعد تو اس ننگ و عار کے ساتھ( دوزخ) کی آگ بھی جمع ہو جائیگی.

والسلام

پھر مروان ابن حکم کے متعلق فرماتے ہیں کہ جس کو جنگ جمل کے موقع پر گرفتار کر لیا تھا، پھر بعد میں رہا کر دیا، یہ ان افراد سے ہے جنہوں نے بیعت کرنے کے بعد بیعت توڑ دی تھی:

" لَا حَاجَةَ لِي‏ فِي‏ بَيْعَتِهِ‏ إِنَّهَا كَفٌّ يَهُودِيَّةٌ لَوْ بَايَعَنِي بِيَدِهِ لَغَدَرَ بِسَبَّتِهِ أَمَا إِنَّ لَهُ إِمْرَةً كَلَعْقَةِ الْكَلْبِ أَنْفَهُ وَ هُوَ أَبُو الْأَكْبُشِ الْأَرْبَعَةِ وَ سَتَلْقَى الْأُمَّةُ مِنْهُ وَ مِنْ وُلْدِهِ يَوْماً أَحْمَرَ."(1)

اب مجھے اس کی بیعت کی ضرورت نہیں، یہ یہودی قسم کا ہاتھ ہے. اگر ہاتھ سے بیعت کرے گا تو ذلیل طریقے سے توڑ بھی دے گا تمہیں معلوم ہونا چاہئیے کہ یہ بھی اتنی دیر کہ کتا اپنی ناک چاٹنے سے فارغ ہو. حکومت کرے گا اور اس کے چار بیٹے بھی حکمراں ہوں گے، اور امت اس کے اور اس کے بیٹوٹ کے ہاتھوں سے سختیوں کے دن دیکھے گی.

____________________

1.نہج البلاغہ، خطبہ نمبر71


علی علیہ السلام ان صحابہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ جنہوں نے جنگ جمل کے موقع پر عائشہ کے ساتھ بصرہ کی طرف کوچ کیا تھا ان میں طلحہ و زبیر بھی تھے:

"فَخَرَجُوا يَجُرُّونَ‏ حُرْمَةَ رَسُولِ اللَّهِ ص كَمَا تُجَرُّ الْأَمَةُ عِنْدَ شِرَائِهَا مُتَوَجِّهِينَ بِهَا إِلَى الْبَصْرَةِ فَحَبَسَا نِسَاءَهُمَا فِي بُيُوتِهِمَا وَ أَبْرَزَا حَبِيسَ‏ رَسُولِ اللَّهِ ص لَهُمَا وَ لِغَيْرِهِمَا فِي جَيْشٍ مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا وَ قَدْ أَعْطَانِي الطَّاعَةَ وَ سَمَحَ لِي بِالْبَيْعَةِ طَائِعاً غَيْرَ مُكْرَهٍ فَقَدِمُوا عَلَى عَامِلِي بِهَا وَ خُزَّانِ‏ بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ وَ غَيْرِهِمْ مِنْ أَهْلِهَا فَقَتَلُوا طَائِفَةً صَبْراً وَ طَائِفَةً غَدْراً فَوَاللَّهِ [إِنْ‏] لَوْ لَمْ يُصِيبُوا مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا رَجُلًا وَاحِداً مُعْتَمِدِينَ‏ لِقَتْلِهِ بِلَا جُرْمٍ جَرَّهُ لَحَلَّ لِي قَتْلُ ذَلِكَ الْجَيْشِ كُلِّهِ إِذْ حَضَرُوهُ فَلَمْ يُنْكِرُوا وَ لَمْ يَدْفَعُوا عَنْهُ بِلِسَانٍ وَ لَا بِيَدٍ دَعْ مَا [إِنَّهُمْ‏] أَنَّهُمْ قَدْ قَتَلُوا مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِثْلَ الْعِدَّةِ الَّتِي دَخَلُوا بِهَا عَلَيْهِمْ‏"(1)

وہ لوگ ( مکہ سے) بصرہ کا رخ کئے ہوئے اس طرح نکلے کہ رسول اللہ(ص) کی حرمت و ناموس کو یوں کھینچے پھرتے تھے جس طرح کسی کنیز کو فروخت کے لئے ( شہر بہ شہر ) پھرایا جاتا ہے ان دونوں نے اپنی بیویوں کو تو گھر میں روک رکھا تھا اور رسول اللہ(ص)

____________________

1.نہج البلاغہ خطبہ نمبر170


کی بیوی کو اپنے اور دوسروں کے سامنے کھلے بندوں لے آئے تھے. ایک ایسے لشکر میں کہ جس کی ایک ایک فرد میری اطاعت تسلیم کئے ہوئےتھی اور بہ رضا و رغبت میری بیعت کرچکا تھا. یہ لوگ بصرہ میں میرے ( میرے مقرر کردہ) عامل اور مسلمانوں کے بیت المال کے خزینہ داروں اور وہاں کے دوسرے باشندوں تک پہونچ گئے اور کچھ لوگوں کو قید کے اندر مار مار کے، اور کچھ لوگوں کو حیلہ و مکر سے شہید کیا. خدا کی قسم اگر وہ مسلمانوں میں سے صرف ایک نا کردہ گناہ مسلمان کو عمدا قتل کرتے تو بھی میرے لئے جائز ہوتا کہ میں اس تمام لشکر کو قتل کروں کیونکہ وہ موجود تھے اور انہوں نے نہ توا سے برا سمجھا اور نہ زبان اور ہاتھ سے اس کی روک تھام کی چہ چائے کہ انہوں نے مسلمانوں کے اتنے آدمی قتل کر دئیے جتنی تعداد خود ان کے لشکر کی تھی. جسے لے کر ان پر چڑھ دوڑے تھے.

علی علیہ السلام صحابہ میں سے عائشہ کی اتباع کرنے والوں کے متعلق جنگ جمل کے موقع پر فرماتے ہیں:

" كُنْتُمْ‏ جُنْدَ الْمَرْأَةِ وَ أَتْبَاعَ الْبَهِيمَةِ رَغَا فَأَجَبْتُمْ وَ عُقِرَ فَهَزَمْتُمْ أَخْلَاقُكُمْ رِقَاقٌ وَ عَهْدُكُمْ شِقَاقٌ وَ دِينُكُمْ نِفَاقٌ

وَ أَمَّا فُلَانَةُ فَأَدْرَكَهَا رَأْيُ النِّسَاءِ وَ ضِغْنٌ غَلَا فِي صَدْرِهَا كَمِرْجَلِ الْقَيْنِ وَ لَوْ دُعِيَتْ لِتَنَالَ مِنْ غَيْرِي مَا أَتَتْ إِلَيَّ لَمْ تَفْعَلْ وَ لَهَا بَعْدُ حُرْمَتُهَا الْأَوْلَى وَ الْحِسَابُ


عَلَى اللَّهِ تعالی."(1)

تم ایک عورت کی سپاہ اور ایک چوپائے کے تابع تھے وہ بلبلایا تو تم لبیک کہتے ہوئے بڑھے اور وہ زخمی ہوا تو تم بھاگ کھڑے ہوئے.تم پست اخلاق اور عہد شکن ہو، تمہارے دین کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ ہے.

رہیں فلاں! تو ان میں عورتوں والی کم عقلی آگئی ہے اور لوہار کے لڑھائو کی طرح کینہ و عناد ان کے سینہ میں جوش مار رہا ہے اور جو سلوک مجھ سے کر رہی ہیں اگر میرے سوا کسی دوسرے سے ویسے سلوک کو ان سے کہا جاتا ہے تو وہ نہ کرتیں. ان سب چیزوں کے بعد بھی ہمیں ان کی سابقہ حرمت کا لحاظ ہے ان کا حساب و کتاب اللہ کے ذمہ ہے.

اور تمام قریش کے متعلق جو بلاشک و شبہہ اصحاب ہیں،، فرماتے ہیں:

" أَمَّا الِاسْتِبْدَادُ عَلَيْنَا بِهَذَا الْمَقَامِ وَ نَحْنُ الْأَعْلَوْنَ نَسَباً، وَ الْأَشَّدُّ بِالرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ نَوْطاً، فَإِنَّهَا كَانَتْ أَثَرَةً شَحَّتْ عَلَيْهَا نُفُوسُ قَوْمٍ وَ سَخَتْ عَنْهَا نُفُوسُ آخَرِينَ، وَ الْحَكَمُ اللَّهُ، وَ الْمَعْوَدُ إِلَيْهِ الْقِيَامَةُ ..: وَ دَعْ عَنْكَ نَهْباً صِيحَ فِي حَجَرَاتِهِ

وَ هَلُمَّ الْخَطْبَ فِي ابْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَلَقَدْ

____________________

1.نہج البلاغہ، خطبہ نمبر154


أَضْحَكَنِي الدَّهْرُ بَعْدَ إِبْكَائِهِ، وَ لَا غَرْوَ وَ اللَّهِ، فَيَا لَهُ خَطْباً يَسْتَفْرِغُ الْعُجْبَ وَ يُكْثِرُ الْأَوَدَ! حَاوَلَ الْقَوْمُ إِطْفَاءَ نُورِ اللَّهِ مِنْ مِصْبَاحِهِ، وَ سَدَّ فَوَّارِهِ مِنْ يَنْبُوعِهِ، وَ جَدَحُوا بَيْنِي وَ بَيْنَهُمْ شِرْباً وَبِيئاً، فَإِنْ يَرْتَفِعْ عَنَّا وَ عَنْهُمْ مِحَنُ الْبَلْوَى، أَحْمِلْهُمْ مِنَ الْحَقِّ عَلَى مَحْضِهِ، وَ إِنْ تَكُنِ الْأُخْرَى،( فَلا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَراتٍ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِما يَصْنَعُونَ‏. )

اس منصب پر خود اختیاری سے جم جانا، باوجودیکہ ہم نسب کے اعتبار سے بلند تھے، اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رشتہ و قرابت بھی قوی تھا ان کی یہ خود غرضی تھی جس میں کچھ لوگوں کے نفس اس پر مرمٹے تھے اور کچھ لوگوں کے نفسوں نے اس کی پروا تک نہ کی اور فیصلہ کرنے والا اللہ ہے اور اس کی طرف باز گشت قیامت کے روز ہے ( اس کے بعد حضرت(ع) نے بطور تمثیل یہ مصرع پڑھا) چھوڑ اس لوٹ مار کے ذکر کو کہ جس کا چاروں طرف شور مچا ہوا تھا.

اب تو اس مصیبت کو دیکھو کہ جو ابوسفیان کے بیٹے کی وجہ سے آئی ہے مجھے تو( اس پر) زمانہ نے رلانے کے بعد ہنسایا ہے. اور زمانہ کی(موجودہ روش سے) خدا کی قسم کوئی تعجب نہیں ہے. اس مصیبت پر تعجب ہوتا ہے کہ جس سے تعجب کی حد ہوگئی ہے. اور جس نے بے راہ رویوں کو بڑھا دیا ہے کچھ لوگوں نے اللہ کے روشن چزاغ کا نور بجھانا چاہا اور اس کے سرچشمہ(ہدایت) کے فوارے کو بند کرنے کے درپے ہوئے. اور میرے اور اپنے درمیان رہریلے گھونٹوں کی آمیزش کی. اگر اس


ابتلا کی دشواریاں ہمارے اور ان کے درمیان سے اٹھ جائیں تو میں انہیں خالص حق کے راستے پر لے چلوں گا اور اگر کوئی اور صورت ہوگئی تو پھر ان پر حسرت و افسوس کرتے ہوئے تمہارا دم نہ نکلے اس لئے کہ یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے.(1)

اسی مفہوم کے فقرات فاطمہ زہرا(ع) کے دفن کے موقع پر رسول(ص) کو خطاب کر کے فرمایا:

"وَ سَتُنَبِّئُكَ‏ ابْنَتُكَ‏ بِتَضَافُرِ أُمَّتِكَ عَلَى هَضْمِهَا فَأَحْفِهَا السُّؤَالَ وَ اسْتَخْبِرْهَا الْحَالَ هَذَا وَ لَمْ يَطُلِ الْعَهْدُ وَ لَمْ يَخْلُ مِنْكَ الذِّكْرُ ..."(2)

وہ وقت آگیا کہ آپ کی بیٹی آپ کو بتائیں کہ کس طرح آپ کی امت نے ان پر ظلم ڈھانے کے لئے ایکا کر لیا. آپ ان سے پورے طور پر پوچھیں اور تمام احوال و واردات دریافت کریں یہ ساری مصیبتیں ان پر بیت گئیں حالانکہ آپ کو گذرے ہوئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا اور نہ آپ کے تذکروں سے زبانیں بند ہوئی تھیں.

آپ معاویہ کے ایک خط میں فرماتے ہیں:

"فَإِنَّكَ‏ مُتْرَفٌ‏ قَدْ أَخَذَ الشَّيْطَانُ مِنْكَ مَأْخَذَهُ

____________________

1.نہج البلاغہ خطبہ نمبر160

2.نہج البلاغہ خطبہ نمبر200


وَ بَلَغَ فِيكَ أَمَلَهُ وَ جَرَى مِنْكَ مَجْرَى الرُّوحِ وَ الدَّمِ

وَ مَتَى كُنْتُمْ يَا مُعَاوِيَةُ سَاسَةَ الرَّعِيَّةِ وَ وُلَاةَ أَمْرِ الْأُمَّةِ بِغَيْرِ قَدَمٍ سَابِقٍ وَ لَا شَرَفٍ بَاسِقٍ وَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ لُزُومِ سَوَابِقِ الشَّقَاءِ وَ أُحَذِّرُكَ أَنْ تَكُونَ مُتَمَادِياً فِي غِرَّةِ الْأُمْنِيِّةِ مُخْتَلِفَ الْعَلَانِيَةِ وَ السَّرِيرَةِ

وَ قَدْ دَعَوْتَ إِلَى الْحَرْبِ فَدَعِ النَّاسَ جَانِباً وَ اخْرُجْ إِلَيَّ وَ أَعْفِ الْفَرِيقَيْنِ مِنَ الْقِتَالِ لِتَعْلَمَ أَيُّنَا الْمَرِينُ عَلَى قَلْبِهِ وَ الْمُغَطَّى عَلَى بَصَرِهِ فَأَنَا أَبُو حَسَنٍ قَاتِلُ جَدِّكَ وَ أَخِيكَ وَ خَالِكَ شَدْخاً يَوْمَ بَدْرٍ وَ ذَلِكَ السَّيْفُ مَعِي وَ بِذَلِكَ الْقَلْبِ أَلْقَى عَدُوِّي مَا اسْتَبْدَلْتُ دِيناً وَ لَا اسْتَحْدَثْتُ نَبِيّاً وَ إِنِّي لَعَلَى الْمِنْهَاجِ الَّذِي تَرَكْتُمُوهُ طَائِعِينَ وَ دَخَلْتُمْ فِيهِ مُكْرَهِينَ

وَ أَمَّا قَوْلُكَ‏ إِنَّا بَنُو عَبْدِ مَنَافٍ‏ فَكَذَلِكَ نَحْنُ وَ لَكِنْ لَيْسَ أُمَيَّةُ كَهَاشِمٍ وَ لَا حَرْبٌ كَعَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَ لَا أَبُو سُفْيَانَ كَأَبِي طَالِبٍ وَ لَا الْمُهَاجِرُ كَالطَّلِيقِ وَ لَا الصَّرِيحُ كَاللَّصِيقِ وَ لَا الْمُحِقُّ كَالْمُبْطِلِ وَ لَا الْمُؤْمِنُ كَالْمُدْغِلِ وَ لَبِئْسَ الْخَلْفُ خَلْفٌ يَتْبَعُ سَلَفاً هَوَى فِي نَارِ جَهَنَّمَ

وَ فِي أَيْدِينَا بَعْدُ فَضْلُ النُّبُوَّةِ الَّتِي أَذْلَلْنَا بِهَا الْعَزِيزَ وَ نَعَشْنَا بِهَا الذَّلِيلَ وَ لَمَّا أَدْخَلَ اللَّهُ الْعَرَبَ فِي دِينِهِ أَفْوَاجاً وَ أَسْلَمَتْ لَهُ هَذِهِ الْأُمَّةُ طَوْعاً وَ كَرْهاً كُنْتُمْ مِمَّنْ دَخَلَ فِي الدِّينِ إِمَّا رَغْبَةً وَ إِمَّا رَهْبَةً عَلَى حِينَ


فَازَ أَهْلُ السَّبْقِ بِسَبْقِهِمْ وَ ذَهَبَ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ بِفَضْلِهِمْ

وَ قَدْ دَعَوْتَنَا إِلَى‏ حُكْمِ‏ الْقُرْآنِ‏ وَ لَسْتَ مِنْ أَهْلِهِ وَ لَسْنَا إِيَّاكَ أَجَبْنَا وَ لَكِنَّا أَجَبْنَا الْقُرْآنَ فِي حُكْمِهِ

وَ السَّلَامُ

تم عیش و عشرت میں پڑے ہو، شیطان نے تم میں اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے، وہ تمہارے میں اپنی آرزوئیں پوری کرچکا ہے اور تمہارے اندر روح کی طرح سرایت کر گیا ہے. اور خون کی طرح رگ و پئے دوڑ رہا ہے.

اے معاویہ ! بھلا تم لوگ ( امیہ کی اولاد) کب رعیت پر حکمرانی کی صلاحیت رکھتے تھے اور کب امت کے امور کے والی و سرپرست تھے؟ بغیر کسی پیش قدمی اور بغیر کسی بلند عزت و منزلت کے ہم دیرینہ بدبختیوں کے گھر کر لینے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں. میں اس چیز پر تمہیں متنبہ کئے دیتا ہوں کہ تم ہمیشہ آرزئووں کے فریب پر فریب کھاتے ہو اور تمہارا ظاہر باطن سے جدا رہتا ہے.

تم نے مجھے جنگ کے لئے للکارا ہے تو ایسا کرو کہ لوگوں کو ایک طرف کرو اور خود (میرے مقابلہ میں) باہر نکل آئو، دونوں فریق کو کشست و خون سے معاف کرو تا کہ پتہ چل جائے کہ کس کے دل پر زنگ کی تہیں چڑھی ہوئی اور آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے. میں( کوئی اور نہیں) وہی ابو الحسن ہوں کہ جس نے


تمہارے نانا، تمہارے ماموں، اور تمہارے بھائی کے پرخچے اڑا کر بدر کے دن مارا تھا. وہی تلوار اب بھی میرے پاس ہے اور اسی دل کردے کے ساتھ اب بھی دشمن سے مقابلہ کرتا ہوں نہ میں نے کوئی دین بدلا ہے اور نہ کوئی نیا نبی کھڑا کیا ہے اور میں بلا شبہہ اسی شاہراہ پر ہوں جسے تم نے اپنے اختیار سے چھوڑ کر رکھا تھا. اور پھر بمجبوری اس میں داخل ہوئے.(1)

تمہارا یہ کہنا کہ ہم عبد مناف کی اولاد ہیں تو ہم بھی ایسےہی ہیں. مگر امیہ ہاشم کے اور حرب عبدالمطلب کے اور ابو سفیان ابو طالب کے برابر نہیں ہیں( فتح مکہ کے بعد) پھوڑ دیا جانے والا مہاجر کا ہم مرتبہ نہیں اور الگ سے نتھی کیا ہوا روشن و پاکیزہ نسب والے کے مانند نہیں اور غلط کار حق کے پرستار کا ہم پلہ نہیں اور منافق مومن کے ہم درجہ نہیں ہے. کتنی بری نسل ہے وہ نسل جو جہنم میں گر چکنے والے اسلاف کی ہی پیروی کر رہی ہے؟

پھر اس کے بعد ہمیں بنوت کا بھی شرف حاصل ہے کہ جس کے ذریعہ ہم نے طاقتور کو کمزور اور پست کو بلند و بالا کردیا اور حب اللہ نے عرب کو اپنے دین میں جوق در جوق داخل کیا اور امت اپنی خوشی سے اسلام لے آئی تو تم وہ لوگ تھے کہ جو لالچ یا ڈر سے اسلام لائے اس وقت کہ جب سبقت کرنے

____________________

نہج البلاغہ، مکتوب نمبر10


والے سبقت حاصل کر چکے تھے، اور مہاجرین اولین فضل و شرف کو لے جاچکے تھے.(1)

تم نے ہمیں قرآن کے فیصلہ کی طرف دعوت دی حالانکہ تم قرآن کے اہل نہیں تھے تو ہم نے تمہاری آواز پر لبیک نہیں کہی بلکہ قرآن کے حکم پر لبیک کہی.(2)

والسلام

( وَ قُلْ‏ جاءَ الْحَقُ‏ وَ زَهَقَ الْباطِلُ إِنَّ الْباطِلَ كانَ زَهُوقاً .)

اور کہدیجئے حق آگیا اور باطل فنا ہوگیا اور باطل کے لئے تو فنا ہے ہی.(3)

____________________

1.نہج البلاغہ مکتوب نمبر17

2.نہج البلاغہ مکتوب نمبر48

3.سورہ اسراء آیت/81


فہرست

مقدمہ 5

سید ابوالحسن ندوی ہندی 14

کے نام کھلا خط...! 14

. پوچھ لو 30

پہلی فصل 35

اللہ سے متعلق 35

پہلا سوال: 35

تعلیق 40

دوسرا سوال 41

عدل الہی اور جبر سے متعلق 41

خدا سے متعلق اہل ذکر کا نظریہ 59

دوسری فصل 65

رسول(ص) سے متعلق 65

دوسرا سوال عصمت رسول(ص) کے بارے میں 65

پہلا سبب 94

دوسرا سبب 94


رسول(ص) کے متعلق اہل ذکر کا نظریہ 107

تیسری فصل 111

اہلبیت علیہم السلام سے متعلق 111

عائشہ نبی(ص) کی حیات میں 118

خود اپنے خلاف 125

عائشہ نبی(ص) کے بعد 147

علی(ع) کے خلاف عائشہ کا موقف 154

اپنے گھروں میں رہو 157

کمانڈر ام المومنین 162

نبی نے عائشہ اور ان کے فتنہ سے ڈرایا 166

خاتمہ بحث 170

اہل بیت(ع) کے متعلق اہل ذکر کا نظریہ 172

چوتھی فصل 182

عام صحابہ سے متعلق 182

قرآن بعض صحابہ کی حقیقت کا انکشاف کرتا ہے 197

حدیث نبی(ص) بعض صحابہ کا راز فاش کرتی ہے 208

صحابہ اور رسول(ص) کی اطاعت! 232


رسول(ص) کی وفات کے بعد صحابہ نے سنت نبی(ص) کو برباد کر دیا 248

صحابہ جناب ابوذر کی نطر میں 252

بعض صحابہ کے متعلق تاریخ کی گواہی 256

بعض صحابہ کے متعلق اہل ذکر کا نظریہ 272

فہرست 289