اہل ذکر۔۔۔۔۔۔؟- جلد 2
گروہ بندی مناظرے
مصنف محمد تیجانی سماوی (تیونس)
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


اہل ذکر .....؟

ڈاکٹر محمد تیجانی سماوی

ترجمہ

نثار احمد زین پوری


نام کتاب --------- اہل ذکر

تالیف--------------- ڈاکٹر محمد تیجانی سماوی

ترجمہ----------------- نثار احمد زین پوری

ای بک تنظیم وترتیب ------- الحسنین علیھما السلام نیٹ ورک


پانچواں فصل

خلفائے ثلاثہ سے متعلق

جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ اہلسنت والجماعت رسول(ص) کے صحابہ میں سے کسی بھی صحابی پر تنقید و تبصرہ برداشت نہیں کرتے ہیں اور سب کو عادل قرار دیتے ہیں اور اگر کوئی وسیع النظر بعض صحابہ کے افعال کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے تو اہلسنت اس پر لعنت ملامت کرتے ہیں، بلکہ اسے کافر قرار دیتے ہیں اگرچہ اس تنقید کرنے والے کا تعلق انہیں کے علماء سے ہو جیسا کہ مصر وغیرہ کے بعض وسیع النظر علماء کے ساتھ پیش آیا ہے، مثلا شیخ محمود ابوریّہ صاحب"اضواء علی السنة المحمدیة" اور شیخ مضیرہ" قاضی شیخ محمد امین انطاکی صاحب" لماذا اخترت مذهب اهل البیت(ع)" اور سید محمد ابن عقیل جن کی کتاب" النصائح الکافیہ لمن یتولی معاویہ ہے" بلکہ مصر کے کچھ صاحبان قلم نے تو جامعہ ازہر کے وائس چانسلر شیخ محمود شلتوت کو بھی اس وقت کافر قرار دے دیا تھا. جب انھوں نے یہ فتوے دیا تھا کہ مذہب جعفری کو اختیار کرنا جائز ہے.


جب جامعہ ازہر کے واس چانسلر اور مصرکے مفتی پر صرف اس بات کی بنا پر طعن وتشنیع کی جاسکتی ہے کہ جنھوں نے اس مذہب شیعہ کوبر حق قرار دیا تھا. جو استاذ الائمہ جعفر صادق علیہ السلام کی طرف منسوب ہےتو اس شیعہ کا کیا حال ہوگا جس نے اس مذہب کو تحقیق اور اپنےآبائ و اجداد کے مذہب پرتنقید کے بعد اختیار کیا ہو ئظاہر ہے کہ اہلسنت اس کوہرگز برداشت نہیں کرسکیں گے. اسے تو دین سے خارج اور اسلام کا باغی قرار دیں گے، ان کے گمان میں گویا مذاہب اربعہ ہی اسلام ہے. اس کے علاوہ باطل ہی باطل ہے. ان لوگوں کی عقلیں منجمد اور پر پتھر پڑے ہیں یہ وہ عقلیں ہیں جن کے بارے میں ہمیں قرآن یہ بتاتا ہے کہ جب نبی(ص) نے انہیں دعوت دی تو انھوں نے ان سے سخت لڑائی لڑی کیونکہ نبی(ص) نے انھیں ایک خدا کی دعوت دی اور متعدد خداؤں کی پوجا سےمنع کیا.

چنانچہ ارشاد ہے:

( وَ عَجِبُوا أَنْ جاءَهُمْ مُنْذِرٌ مِنْهُمْ وَ قالَ الْكافِرُونَ هذا ساحِرٌ كَذَّابٌ* أَ جَعَلَ الْآلِهَةَ إِلهاً واحِداً إِنَّ هذا لَشَيْ‏ءٌ عُجابٌ‏ ) سورہ ص آیت 4

اور انھیں تعجب ہے کہ انھیں میں سے ڈرانے والا کیسے آگیا، اور کافروں نے صاف کہہ دیا کہ یہ تو جادوگر اورجھوٹا ہے.کیا اس نے سارے خداؤں کو جوڑ کر ایک خدا بنا دیا ہے یہ تو انتہائی تعجب خیز بات ہے.مجھے یقین ہے کہ مجھ کو ان دشواریوں کا مقابلہ کرنا ہوگا کہ جو ان متعصب افراد کی طرف سے پیدا کی جائیں گی جنھوں نے اپنے کو دوسروں کا حاکم بنا رکھا ہے اور ان کے نزدیک کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ صحابہ کی مدح کو ترک


کرکے ان پر تنقید کرے جبکہ صحابہ کی مدح کا دین سے کوئی ربط نہیں ہے. اور جب یہ دین سے مربوط نہیں ہے تو کسی کو یہ حق نہیں پہونچتا کہ وہ صحابہ کے اصول و فروع میں اس کا کہیں پتہ بھی نہیں ہے.

بعض متعصبین اپنے حلقوں میں اس بات کو رواج دے رہے ہیں کہ میری کتاب "ثم اھتدیت" ایسی ہے جیسی سلمان رشدمی کی" شیطانی آیات" اس پروپیگنڈے سے ان کامقصدیہ ہے کہ لوگ میری کتاب کامطالعہ نہ کریں اور مجھ پرلعنت و ملامت کرنے لگیں

جب کہ یہ دھوکہ اور عظیم بہتان ہے عنقریب رب العالمین اس کا حساب لے گا. یہ لوگ کیسے میری کتاب"ثم اھتدیت"کو کہ جوعصمت رسول(ص) کو قبول کرنے کی اور ائمہ اہلبیت(ع) کی اقتدار کی دعوت دیتی ہے. کہ جنہیں خدا نے ہر قسم کے رجس سے محفوظ اور طیب و طاہر رکھا ہے. " شیطانی آیات" سے تشبیہ دیتے ہیں جس میں اسلام اور نبی اسلام(ص) پر سب و شتم مندرج ہے. جس کا مصنف اسلام کو شیطانی پھونک تصور کرتا ہے؟؟

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ‏ آمَنُوا ) سورہ نساء، آیت/135

اے ایمان والو عدل و انصاف کے ساتھ قیام کرو اور اللہ کے لئے گواہ بنو چاہے اپنی ذات ہی کے خلاف کیو ں نہ ہو.

اسی آیت کی وجہ سے میں کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتا. میں تو


خداکی رضا کا خواستگار ہوں مجھے اس وقت تک کہ

خدا کی رضا کا خواستگار ہوں مجھے اس وقت تک کسی ملامت گر کی ملامت کی کوئی پرواہ نہیں ہے جب تک میں صحیح اور خالص اسلام کا دفاع کررہا ہوں اور نبی(ص) کو ہر خطا سے محفوظ ثابت کر رہا ہوں خواہ یہ کام بعض مقرب صحابہ پر تنقید ہی کے ساتھ انجام پذیر ہو رہا ہو. خواہ وہ صحابہ خلفائے راشدین ہی میں سے کیوں نہ ہوں. کیونکہ رسول(ص) کا خطاؤں سے منزہ ہونا تمام لوگوں سے اولی ہے. میرے محترم و ذہین قارئیں میری تالیفات سے یہ بات سمجھتے ہیں کہ میرا مقصد کیا ہے میرا مقصد صحابہ کی شان گھٹانا اور ان کی عظمت کم کرنا نہیں ہے بلکہ رسول(ص) اور آپ کی عصمت کا دفاع کرنا ہے. اور ان شبہات کو دور کرنا ہے جو امویوں اور عباسیوں نے ابتدائی صدیوں میں اسلام اور نبی اسلام(ص) سے جوڑ دیئے ہیں. جو زبردستی مسلمانوں کے حاکم بن بیٹھے تھے. جو اپنے پست اغراض اور اپنی بے نتیجہ سیاست کے تحت دین خدا میں من مانی رد و بدل کر لیا کرتے تھے. ان کی اس گھناؤنی سازش کا مسلمانوں پر بہت بڑا اثر ہوا. مسلمانوں نے حسن نیت کی بنا پر ان(امویوں اور عباسیوں) کا اتباع کیا. ان کی روایت کردہ احادیث کو بے چوں و چرا حقیقت سمجھ کر قبول کیا اور یہ تصور کیا کہ یہی اسلام ہے لہذا مسلمانوں پر اس کا قبول کرنا واجب ہے اور ان کی چھان بین کرنا صحیح نہیں ہے.

اگر مسلمانوں کو حقیقت معلوم ہوجاتی تو کبھی ان کا اتباع نہ کرتے اور نہ ان کی نقل کی ہوئی احادیث کا اعتبار کرتے، پھر اگر تاریخ ہمیں یہ بتاتی کہ صحابہ نے رسول(ص) کے اوامر و نواہی کی اطاعت کی، آپ(ص) کے احکام پر کوئی مناقشہ و اعتراض نہیں کیا ہے اور رسول(ص) کی آخری حیات میں آپ(ص) کے حکم سے سرکشی نہیں کی تو ہم ان سب کو عادل تسلیم کر لیتے اور پھر ہمارے لئے اس سلسلہ میں بحث کی گنجائش نہ رہتی لیکن قرآن و حدیث کی نص سے ان میں سے کچھ دروغ گو، کچھ منافق اور کچھ فاسق ہیں.


انہوں نے آپ(ص) کے سامنے اختلاف کیا، آپ(ص) کے حکم کی خلاف ورزی کی یہاں تک کہ آپ(ص) پر ہذیان کا بہتان لگایا نوشتہ نہ لکھنے اور جیش اسامہ میں شریک نہ ہو کر آپ(ص) کے حکم سے سر کشی کی نبی(ص) کے خلیفہ کے بارے میں اس قدر اختلاف کیا کہ آپ(ص) کو بے غسل و کفن چھوڑ دیا اور خلافت کے بارے میں جھگڑنے لگے کوئی اس پر راضی ہوا اور کسی نے انکار کر دیا. آپ(ص) کی وفات کے بعد ہر شئی میں اختلاف پیدا کیا یہاں تک کہ ایک دوسرے کو کافر کہنے لگے، ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے. کسی نے کسی سے برائت اختیار کی اور ایک دین خدا متعدد مذہبوں اور مسلکوں میں تقسیم ہوگیا. اس کیفیت کے پیش نظر ہمارے لئے ضروری ہے کہ اس کی علت تلاش کریں اور یہ دیکھیں کہ لوگوں کے لئے بہترین امت کس سبب سے پستی میں گر پڑی، ذلیل و حقیر ترین اور کلی طور پر جاہل امت قرار پائی کہ جس کہ ہتک حرمت کی جا رہی ہے جس کے مقدسات کو پامال کیا جا رہا ہے جس کے قبیلوں کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے. جیسے وطن سے بے وطن کیا جا رہا ہے، تجاوز کرنے والوں کے مقابلہ کی بھی اس میں سکت نہیں ہے اور نہ ہی ننگ و عار کے داغ کو پیشانی سے الگ کرنے کی صلاحیت ہے.

میرے عقیدے کے لحاظ سے اس مرض کا واحد علاج ذاتی تنقید ہے اور انسان کو چاہئیے کہ وہ اپنے گریبان میں جھانکے. اپنے آباء و اجداد کی اندھی تقلید کرتے ہوئے فخر و مباہات نہ کرے. حقیقت معصومین(ع) ہمیں اس بات کی دعوت دیتے ہیں کہ ہم اپنے امراض اور تفرقہ بازی، تخلف اور نا کامی کے اسباب تلاش کریں اور جب ہم مرض کا انکشاف کر لیں تو پھر شفا یابی کے لئے اس کی دوا کی تشخیص کر لیں قبل اس کے کہ ہم گذر جائیں اور دوسری نسل آجائے.

یہی اصل مقصد ہے اور صرف خدا ہی لائق عبادت ہے وہی اپنے


بندوں کو سیدھے راستہ کی ہدایت کرتا ہے.

اور جب تک ہمارا مقصد صحیح رہے گا اس وقت تک اعتراض کرنے والوں کے اعتراض اور وہ متعصب لوگ جو صحابہ سے دفاع کے نام پر سب و شتم کے علاوہ کچھ جانتے ہی نہیں ان کی کوئی قیمت نہیں رہے گی. اور ہم ان پر ملامت نہیں کرتے ہیں نہ ہی ان کی طرف سے کدورت رکھتے ہیں. بلکہ ان کے حال پر گریہ کرتے ہیں اس لئے کہ وہ مجبور ہیں، انہیں صحابہ کا حسن ظن حقیقت تک نہیں پہونچنے دیتا، انہی کے مثل یہود و نصاری کی وہ اولاد ہیں جو اپنے آباء و اجداد کی طرف سے حسن ظن رکھتی ہیں اور اپنے نفسوں کو اسلام کی تحقیق کی زحمت نہیں دیتی، اپنے اسلاف کی اس بات پر اعتقاد رکھتی ہیں کہ محمد(ص) ( معاذ اللہ) کذاب ہیں اور وہ نبی(ص) نہیں ہیں. خداوند عالم کا ارشاد ہے:

( وَ ما تَفَرَّقَ‏ الَّذِينَ‏ أُوتُوا الْكِتابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ ما جاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ ) سورہ، بینہ، آیت/3

اور یہ اہل کتاب متفرق نہیں ہوئے مگر اس وقت جب ان کے پاس کھلی ہوئی دلیل آگئی.

صدیوں کے گذرنے کے سبب مسلمانوں کے لئے یہودیوں اور نصاری کو عقیدہ اسلام سے مطمئن کرنا مشکل ہوگیا ہے اس شخص کا کیا قصور ہے جو ان سے یہ کہتا ہے کہ توریت و انجیل جن پر تم قائل ہو وہ تحریف شدہ ہیں اور اپنے اس مدعا پر وہ قرآن سے استدلال کرتا ہے. پس کیا یہ ( استدلال کرنے والا) مسلمان انہیں مطمئن کر لیتا ہے؟

بالکل یہی حالت اس ضعیف العقل مسلمان کی ہے جو تمام صحابہ کی عدالت کا قائل ہے آیا اسے کوئی اس بات سے مطمئن کرسکتا ہے کہ کل صحابہ عادل نہیں ہیں


اور جب وہ معاویہ اور اس کے بیٹے یزید وغیرہ پر تنقید کو برداشت نہیں کرسکتے کہ جنہوں نے اسلام کو اپنے قبیح اعمال سے داغدار بنا دیا تو ظاہر ہے کہ وہ آپ کی بات کو ابوبکر، عمر اور عثمان، صدیق، فاروق اور جن سے ملائکہ حیا کرتے ہیں،، کے بارے میں کیسے برداشت کرسکتے ہیں. یا زوجہ نبی ام المومنین بنت ابوبکر عائشہ کہ جن کے متعلق ہو اہلسنت کی معتمد ترین کتب صحاح سے گذشتہ فصل میں گفتگو کرچکے ہیں ان کے بارے میں کوئی بات کیونکر برداشت کر سکتے ہیں. اب خلفائے ثلاثہ کے کردار کی باری آئی ہے. اب ہم ان کے ان افعال کا انکشاف کرتے ہیں جو اہلسنت کی صحاح، مسانید اور معتمد ترین تاریخی کتابوں میں مرقوم ہیں اولاً ہم اس بات کو بیان کرتے ہیں کہ تمام صحابہ کی عدالت کا مقولہ صحیح نہیں ہے. جب کہ بعض مقرب صحابہ میں بھی عدالت کا فقدان تھا.

ثانیاً ہم اپنے سنی بھائیوں کے لئے اس بات کا انکشاف کریں گے کہ یہ انتقادات سب و شتم نہیں ہیں بلکہ یہ توصرف حقیقت تک رسائی کے لئے کچھ پردوں کو اٹھانا ہے اور نہ ہی یہ شیعوں کی من گڑھت اور ان کی ایجاد ہے جیسا کہ عامہ کا دعوی ہے یہ تو اہلسنت کی ان کتابوں سے ماخوذ ہے جنہیں انہوں نے صحیح قرار دیا اور اپنے اوپر ان کا اتباع لازم کر لیا ہے.

ابوبکر حیات نبی(ص) میں

بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/6 ص46 کتاب تفسیر القرآن میں سورہ حجرات کے سلسلہ میں تحریر کیا ہے کہ ہم سے نافع ابن عمر نے اور انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ قریب تھا کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بلاک


ہو جاتے، دونوں میں رسول(ص) کے سامنے بلند آواز میں تو تو میں میں ہونے لگی تھی. جب آپ(ص) کے پاس بنی تمیم کا ایک وفد آیا تھا. ان میں سے ایک نے اقرع ابن جالس کو ان کا امیر بنانے کے لئے کہا دوسرے نے کسی اور شخص کی طرف اشارہ کیا. نافع کہتے ہیں کہ اس کا نام مجھے یاد نہیں ہے. ابوبکر نےعمر سے کہا تم ہمیشہ میرے خلاف سوچتے ہو. عمر نے جواب دیا کہ نہیں. اس سلسلہ میں دونوں کی آواز بلند ہوگئی پس خدا نے یا آیت نازل فرمائی.

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا- لا تَرْفَعُوا أَصْواتَكُمْ‏ ) حجرات، آیت/2

ایمان والو خبر دار اپنی آواز کو نبی(ص) کی آواز پر بلند نہ کرنا.

ابن زبیر کہتے ہیں کہ:آیت نازل ہونے کے بعد عمر خاموش ہوگئے یہاں تک کہ کوئی سوال بھی نہیں کرتے تھے اور نہ ہی ابوبکر سے اس کا تذکرہ کیا.

بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/8 ص145" کتاب الاعصام بالکتاب والسنة" باب" ما یکره من التعمق والتنازع" میں دکیع سے اور انہوں نے عمر ابن ابی ملیکہ سے نقل کیا ہے کہ یہ دونوں بزرگ ابوبکر و عمر اس وقت قریب تھا کہ ہلاک ہو جاتے جب بنی تمیم کا ایک وفد نبی(ص) کے پاس آیا تھا ان( ابوبکر و عمر) میں سے ایک نے اقرع ابن حابس تمیمی حنظلی کو ان کا امیر بنانے کے لئے کہا اور دوسرےنے ایک اور شخص کےلئے کہا ابوبکر نے کہا تم نے میری مخالفت کی ہے پس عمر نے کہا میں نے تمہاری مخالفت نہیں کی ہے اس سلسلہ میں نبی(ص) کے پاس دونوں کی آواز بلند ہوگئی تو خدا نے یہ آیت نازل فرمائی:

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْواتَكُمْ‏ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَ لا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ


أَنْ تَحْبَطَ أَعْمالُكُمْ وَ أَنْتُمْ لا تَشْعُرُونَ. إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْواتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ أُولئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوى‏ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَ أَجْرٌ عَظِيمٌ)

ایمان والو خبردار اپنی آواز کو نبی(ص) کی آواز پر بلند نہ کرنا اور ان سے اس طرح بلند آواز میں بات بھی نہ کرنا جس طرح آپس میں ایک ددسرے کا پکارتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہو جائیں اور تمہیں اس کا شعور بھی نہ ہو. بیشک جو لوگ رسول اللہ(ص) کے سامنے اپنی آواز کو دھیما رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے تقوی کے لئے آزما لیا ہے اور انہیں کے لئے، مغفرت و اجر عظیم ہے.

ابن ملیکہ کہتے ہیں کہ ابن زبیر کا قول ہے کہ اس کے بعد عمر خاموش ہوگئے اور اس کا تذکرہ ابوبکر سے نہیں کیا جب نبی(ص) سے کوئی بات کہتے تھے تو اس طرح بیان کرتے تھے جیسے راز کی بات، کوئی سوال بھی نہیں کرتے تھے.

بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/5 کے صفحہ116 پر بنی تمیم کے وفد کے بارے میں تحریر کیا ہے کہ ہم سے ہشام ابن یوسف نے بیان کیا ہے کہ ہم سے جریح نے بتایا کہ ابن ابو ملیکہ نے بیان کیا انہیں عبداللہ ابن زبیر نے خبر دی کہ نبی(ص) کے پاس بنی تمیم کا ایک وفد آیا تو ابوبکر نے کہا کہ قعقاع ابن معبد ابن زرارہ کو امیر بنایا جائے، عمر نے کہا نہیں بلکہ اقرع ابن حابس کو بنایا جائے. ابوبکر نے کہا کہ تم میری مخالفت کر رہے ہو! عمر نے کہا کہ میں نے قطعی آپ کی مخالف نہیں کی اسی کشمکش میں دونوں کی آواز بلند ہوگئی تو یہ آیت نازل ہوئی( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْواتَكُمْ‏ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ الخ )

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکر و عمر آداب اسلامی کے


دستور کے تحت پاس و لحاظ نہیں رکھتے تھے. اپنے نفسوں کو خدا و رسول(ص) پر مقدم کرتے تھے جب کہ نہ رسول(ص) کی اجازت ہوتی تھی اور نہ ہی رسول(ص) نے ان سے فرمایا تھا کہ تم بنی تمیم کی امارت میں اپنی رائے پیش کرو پھر انہوں نے اسی پر اکتفا نہ کی بلکہ نبی(ص) کے سامنے جھگڑنے لگے اور آپ کے سامنے بے ادبانہ چیخنے لگے اور اپنے اخلاق و آداب کے فرائض کی کوئی پرواہ نہ کی. نبی(ص) کی تعلیم و تربیت کے بعد کسی صحابی کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ان آداب و اخلاق کو بھلا دے.

اگر یہ واقعہ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں رونما ہوا ہوتا تو بھی ہم شیخین ( ابوبکر و عمر) کو معذور سمجھتے اور ان کے لئے تاویل کر لیتے.

لیکن روایات نے شک کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی. یہ حادثہ نبی(ص) کی حیات کے آخری ایام میں اس وقت رونما ہوا جب بنی تمیم کا ایک وفد نویں ہجری میں رسول(ص) کے پاس آیا اور اس کے بعد آپ(ص) چند ماہ زندہ رہے. جیسا کہ ان مورخین ومحدثین نے لکھا ہے کہ جنہوں نے رسول(ص) کے پاس بنی تمیم کے وفد کی آمد کا واقعہ قلم بند کیا ہے اور جیسا کہ قرآن مجید کے آخری سوروں میں ارشاد ہے:

( إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ‏ وَ الْفَتْحُ وَ رَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْواجاً )

جب خدا کی مدد اور فتح کی منزل آجائے گی اور آپ دیکھیں گے کہ لوگ دین خدا میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں.

اور جب حقیقت یہ ہے تو ابوبکر و عمر کی اس گستاخی کے لئے معذرت کرنے والے کیوں عذر تراشی کرتے ہیں جو نبی(ص) کے سامنے ہوتی تھیں اور پھر اگر اس واقعہ کو صرف روایت بیان کرتی تو بھی کوئی بات تھی. ہمارے اندر تنقید و تبصرہ کی جرات نہ ہوتی لیکن خدا حق کو بیان کرنے میں شرم نہیں کرتا ہے اس نے اس واقعہ کو


قرآن میں درج کر دیا ہے جس میں ابوبکر و عمر کی تند مزاجی اور تہدید کے بارے میں پڑھا جاسکتا ہے کہ اگر اب انہوں نے ایسا کیا تو خدا ان کے اعمال کو برباد کردے گا. حد ہوگئی راوی نے اپنے کلام کی ابتدا اس جملہ سے کی ہے : و کاد الخیر آن ان یہلکا ابو بکر و عمر.اس حادثہ کے راوی عبداللہ ابن زبیر ہمیں مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد جو عمر کی شان میں نازل ہوئی ہے" عمر جب رسول(ص) سے بات کرتے تھے تو اتنی آہستہ کرتے تھے کہ سنی نہیں جاتی تھی چہ جائیکہ سمجھ میں آتی. اس کے با وجود ابن زبیر نے اپنے جد ابوبکر کا تذکرہ نہیں کیا ہے. جبکہ تاریخ اور محدثین کے نقل کردہ واقعات اس کے بر عکس ہیں. اس کے لئے " رزیة یوم الخمیس" کا تذکرہ کافی ہے. وہ یہ کہ نبی(ص) کی وفات سے تین روز قبل بروز جمعرات، ہم نبی(ص) پر بہت بڑا بہتان لگاتے ہوئے دیکھتے ہیں. کہتے ہیں کہ رسول(ص) ہذیان بک رہے ہیں. اور ہمارے لئے کتاب خدا کافی ہے. اس کے بعد لوگوں میں اختلاف پیدا ہوگیا کوئی کہتا تھا کہ قلم و دوات دے دو تاکہ رسول(ص) تمہارے لئے نوشتہ لکھ دیں. اور کوئی عمر کے قول کی تکرار کرتا تھا. جب شور و غل زیادہ ہوگیا.(1) تو نبی(ص) نے فرمایا: میرے پاس سے چلے جائو میرںے پاس جھگڑنا تمہارے لئے سزاوار نہیں ہے.(2) اس شور وغل اور اختلاف انزاع کے الفاظ سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے خدا کے ان حدود کو پامال کر دیا تھا جو سورہ حجرات میں خدا نے ان کے لئے مقرر کی تھیں. جیسا کہ بیان گذر چکا ہے. ہمیں اس بات سے مطمئن نہیں کیا حاسکتا کہ ان(صحابہ) کا شور و غل اور اختلاف و نزاع بہت ہی وھیمی آواز میں

____________________

1.بخاری جلد/5 ص138 باب مرض النبی(ص) و وفاتہ

2.بخاری جلد/1 ص37 کتاب العلم


تھا بلکہ واقعہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ انہوں نے گلا پھاڑ پھاڑ کر چلانا شروع کر دیا تھا یہاں تک کہ پردہ کے پیچھے بیٹھی ہوئی عورتیں بھی اس نزاع میں شریک ہوگئیں اور کہنے لگیں کہ رسول(ص) کو دوات و قلم دے دو تا کہ تمہارے لئے نوشتہ لکھ دیں تو عمر نے ان سے کہا تم ہی جیسی عورتیں یوسف کے ساتھ بھی تھیں جب وہ بیمار ہوتے تھے تو تمہاری آنکھیں آنسو برساتی تھیں اور جب صحت یات ہوتے تھے تو انہیں پریشان کرتی تھیں. عمر کی بات سن کر رسول(ص) نے فرمایا: عورتوں سے کچھ نہ کہو وہ تم لوگوں سے بہتر ہیں.(1)

ان تمام باتوں سے ہماری سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ انہوں نے خداوند عالم کے اس قول کی اطاعت نہیں کی:

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُقَدِّمُوا بَيْنَ‏ يَدَيِ‏ اللَّهِ‏ وَ رَسُولِهِ‏.لا تَرْفَعُوا أَصْواتَكُمْ‏ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ )

اے ایمان لانے والو خدا و رسول(ص) کے سامنے اپنی بات کو آگے نہ بڑھائو. اور نبی کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرنا. اور انہوں نے عظمت رسول(ص) کا بالکل احترام نہ کیا اور نہ ہی لوگوں نے انہیں(عمر کو) اس ہذیان کا الزام لگاتے وقت تادیب کی.اور ابوبکر کے بارے میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ انہوں نے رسول(ص) کے سامنے بے ہودہ بات کہی اور یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب انہوں نے عروہ ابن مسعود سے کہا:"امصص بنظر اللاب" (2)

____________________

1.کنز العمال جلد/3 ص138

2.بخاری جلد/3 ص176


قسطلانی شارح بخاری اس عبارت پر حاشیہ لگاتے ہیں اور لکھتے ہیں حشفہ کو چوسنا عربوں میں غلیظ ترین گالی ہے پس جب رسول(ص) کے سامنے ایسی باتیں کہی جائیں گی تو خداوتد عالم کے اس قول کے کیا معنی ہوں گے:

( وَ لا تَجْهَرُوا لَهُ‏ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ )

اور ان سے اس طرح بلند آواز میں بات نہ کرنا جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو.

جب کہ خدا نے رسول(ص) کے بارےمیں خود فرمایا ہے کہ آپ خلق عظیم پر فائز ہیں. اور جب آپ(ص) کی حیا پردہ نشین کنواری لڑکی سے بھی زیادہ ہے جیسا کہ بخاری اور مسلم نے روایت کی ہے.(1) اور دونوں نے صراحت کے ساتھ تحریر کیا ہے کہ رسول(ص) نہ بد خلق تھے اور نہ بے ہودہ کلام کرتے تھے رسول(ص) فرماتے تھے کہ تم میں سب سے اچھا وہ شخص ہے جس کا اخلاق اچھا ہے(2) پس ان مقرب صحابہ کو کیا ہوگیا تھا جو اس خلق عظیم سے متاثر نہ تھے.ان تمام چیزوں کے علاوہ ایک بات میں کہتا ہوں اور وہ یہ کہ ابوبکر نے اس حکم رسول(ص) کی اطاعت نہیں کی جب آپ(ص) نے اسامہ کو ان کا امیر بنایا اور ابوبکر کو ایک عام فوجی کی حیثیت دی اور جیش اسامہ سے تخلف کرنے والوں کی سخت سرزنش کی یہاں تک فرمایا کہ جیش اسامہ سے تخلف کرنے والوں پر خدا لعنت کرے.(3) اور مورخین و سیرت نگار افراد نے لکھا ہے کہ یہ جملہ آپ(ص) نے اس وقت ارشاد فرمایا جب آپ(ص) کو یہ خبر ملی کہ لوگ اسامہ کو امیر بنانے کے سلسلہ

____________________

1.بخاری کتاب المناقب باب صفہ النبی(ص)، مسلم فی کتاب الفضائل باب کثرة حیاتہ(ص)

2.مسلم کتاب الفضائل باب کثرة حیات النبی(ص)، بخاری کتاب المناقب باب صفة النبی(ص)

3.ملل و نحل شہرستانی، چوتھا مقدمہ کتاب السقیفہ مصنف ابوبکر احمد ابن العزیز جوہری


میں برا بھلا کہہ رہے ہیں.اس طرح ابوبکر جلدی سے سقیفہ پہونچے اور حضرت علی ابن ابی طالب(ع) کو خلافت سے دور رکھنے والوں میں شریک ہوگئے اور رسول(ص) کے غسل و کفن اور تجہیز و تدفین کی کوئی پرواہ نہ کی بلکہ تمام کاموں کو چھوڑ کر منصب خلافت و زعامت کے معاملات میں مشغول ہوگئے کہ جس کی طرف ان کی گردن اٹھی ہوئی تھی وہ قریبی صحبت کہاں چلی گئی، وہ دوستی کیا ہوئی؟ اخلاق کیا ہو گیا؟ مجھے ان صحابہ کے موقف پر تعجب ہوتا ہے کہ جن کے نبی(ص) نے اپنی پوری زندگی ان کی ہدایت و تربیت اور نصیحت میں گذاری،

( عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ‏ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ.. )

اور اس پر تمہاری ہر مصیبت شاق ہوتی وہ تمہاری ہدایت کے بارے میں حرص رکھتا ہے اور مومنین کے حال پر شفیق و مہربان ہے.

وہی آپ(ص) کے جسد مبارک کو بے گور و کفن چھوڑ کر رسول(ص) کا خلیفہ معین کرنے کے لئے سقیفہ کی طرف دوڑ پڑے. ہم اگر چہ آج بیسویں صدی میں زندگی گذار رہے ہیں جس کو بد ترین صدی کہا جاتا ہے. جس میں اخلاق نام کی کوئی چیز نہیں ہے اقدار دھواں بن چکے ہیں اس کے باوجود جب مسلمانوں میں کوئی مرجاتا ہے تو اس کے پڑوسی و ہمسایہ جلدی سے اس کے غسل و کفن اور تجہیز و تدفین کے کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں اور رسول(ص) کے اس قول کا اتباع کرتے ہوئے کہ" میت کا احترام اور اس کا دفن کرنا ہے" اسے سپرد لحد کرتے ہیں.

امیر المومنین علی(ع) ابن ابی طالب نے اپنے اس قول سے حقائق کا انکشاف کیا ہے کہ:

" أَمَا وَ اللَّهِ لَقَدْ تَقَمَّصَهَا ابْنُ‏ أَبِي‏ قُحَافَةَ أَخُو تَيْمٍ وَ إِنَّهُ لَيَعْلَمُ


أَنَّ مَحَلِّي مِنْهَا مَحَلُّ الْقُطْبِ مِنَ الرَّحَى..."(1)

خدا کی قسم فرزند قحافہ نے خلافت کی قمیص کو زبردستی پہن لیا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ خلافت میں میرا وہی مقام ہے جو چکی میں کیل کا ہوتا ہے.

اس کے بعد ابوبکر نے فاطمہ(ع) کے گھر پر ہجوم کو مباح قرار دیا اور انہیں دھمکی دی کہ اگر بیعت سے تخلف کرنے والے باہر نہ نکلے تو ہم گھر کو آگ لگا دیں گے. اس سلسلہ میں مورخین نے جو کچھ لکھا ہے اور راویوں نے نسلا بعد نسل جو نقل کیا ہے اس سے ہم ( فی الحال) چشم پوشی کر رہے ہیں تفصیل کے لئے تاریخی کتابوں کا مطالعہ فرمائیں.

نبی(ص) کے بعد فاطمہ(ع) کے ساتھ ابوبکر کا برتائو

بخاری نے عائشہ سے روایت کی ہے کہ فاطمہ(ع) بنت نبی(ص) نے کسی کو اپنے والد کی میراث، مدینہ میں فئی اور فدک وخمس کے مطالبہ کے لئے ابوبکر کے پاس بھیجا تو ابوبکر نے کہا کہ رسول(ص) نے فرمایا ہے کہ ہم کسی کو وارث نہیں بناتے جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے. پس آل محمد(ص) اس مال سے کھا رہے ہیں اور قسم خدا کی میں صدقہ رسول(ص) میں کسی قسم کی رد و بدل نہیں کروں گا بلکہ اسے اسی حال پر برقرار رکھوں گا جس پر وہ رسول(ص) کے زمانہ میں تھا اور اس میں ایسے ہی تصرف کروں گا جیسے رسول(ص) کیا کرتے تھے پس ابوبکر نے فاطمہ(ع) کو کسی بھی چیز کے دینے سے انکار

____________________

1.خطبہ شقشقیہ


کردیا. اس سلسلہ میں فاطمہ(ع) ابوبکر پر غصبناک ہوگئیں اور ان سے قطع تعلق کر لیا اور مرتے دم تک ان سے کلام نہ کیا. آپ(ع) نبی(ص) کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں. جب انتقال فرمایا تو آپ(ع) کے شوہر علی(ع) نے نماز پڑھ کر رات میں سپرد لحد کیا اور ابوبکر کو اس کی اجازت نہ دی گئی. فاطمہ(ع) کی حیات میں علی(ع) کے پاس عذر تھا لیکن جب ان کا انتقال ہو گیا تو علی(ع) نے لوگوں کا منہ بند کرنے کے لئے ابوبکر سے مصالحت کر لی جبکہ فاطمہ(ع) کی زندگی میں آپ نے ایسا نہیں کیا تھا.(1)

مسلم نے ام المومنین عائشہ سے روایت کی ہے کہ فاطمہ علیہا السلام بنت رسول(ص) نے رسول(ص) کی وفات کے بعد ابوبکر سے کہا کہ مجھے میرے والد کی وہ میراث دی جائے جو رسول(ص) نے فئی وغیرہ کی صورت میں چھوڑی ہے. تو ابوبکر نے کہا کہ رسول(ص) کا قول ہے کہ ہم کسی کو وارث نہیں بناتے ہیں جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے.(یہ سن کر) فاطمہ(ع) غضبناک ہوگئیں اور ابوبکر سے روابط قطع کر لئے اور مرنے دم تک ان سے رسم و راہ نہ رکھی. آپ رسول(ص) کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں. عائشہ کہتی ہیں کہ فاطمہ(ع) نے ابوبکر سے رسول(ص) کے ترکہ اور خیبر و فدک میں سے اپنا حق طلب کیا تھا لیکن ابوبکر نے فاطمہ(ع) کو کچھ بھی دینے سے انکار کر دیا اور کہا میں وہی کروں گا جو رسول(ص) کیا کرتے تھے، میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں مجھ سے ان کے امر کی مخالفت نہ ہو جائے اور میں گمراہ نہ ہو جائوں، لیکن جہاں تک مدینہ کے صدقہ کی بات ہے تو وہ عمر علی(ع) و عباس کو پہلے ہی دے چکے ہیں اور فدک و خیبر کو عمر نے روک لیا اور کہا: یہ دونوں رسول(ص) کا صدقہ ہیں اور انہی کا حق ہے جیسے وہ ضرورت مندوں پر خرچ کیا کرتے تھے

____________________

1. صحیح بخاری جلد/5 ص83 کتاب المغازی باب غزوہ خیبر، صحیح مسلم کتاب الجہاد باب قول النبی(ص)"لانورث ما ترکنا فهو صدقة"


اور اب ان کا اختیار ولی امر کو ہے اور آج بھی اپنی حالت پر ہے.(1)

با وجودیکہ بخاری و مسلم نے ان روایات کو بہت اختصار اور کترو و بیونت کے ساتھ نقل کیا ہے تاکہ محقق پر حقیقت آشکار نہ ہوسکے، خلفائے ثلاثہ کی عزت بچانے کے سلسلہ میں اس کام میں انہیں مہارت حاصل ہے( اس موضوع پر انشاء اللہ ہم ان دونوں سے بحث کریں گے اور عنقریب اس وعدہ کو وفا بھی کرینگے.

اس کے باوجود یہ روایات ابوبکر کی حقیقت کے انکشاف کے لئے کافی ہے انہوں نے فاطمہ(ع) کے دعوے کو رد کر دیا اور انہیں غضبناک کیا اور فاطمہ(ع) نے ان سے قطع تعلق کر لیا اور مرتے دم تک اپنے موقف پر باقی رہیں اور آپ کی وصیت کے مطابق آپ کے شوہر نے رات میں مخفیانہ طور پر دفن کیا اور ابوبکر کو اس کی اجازت نہ دی گئی. جیسا کہ ان روایات سے ہماری سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ فاطمہ(ع) کی حیات میں حضرت علی(ع) نے ابوبکر کی بیعت نہیں کی تھی لیکن آپ لوگوں کا برتائو دیکھ کر بیعت پر مجبور ہوئے اور ابوبکر سے مصالحت کر لی.

بخاری و مسلم نے جس حقیقت کی پردہ پوشی کی ہے وہ یہ ہے کہ جناب فاطمہ(ع) سے یہ دعوی کیا تھا کہ مجھے میرے والد نے اپنی حین حیات باغ فدک عطا کیا تھا پس وہ میراث نہیں ہے. اگر اس بات کو فرض کر لیا جائے کہ انبیاء وارث نہیں بناتے ہیں. جیسا کہ ابوبکر نے نبی(ص) سے روایت کی ہے اور اس کے ذریعہ فاطمہ(ع) کی تکذیف کی ہے تو روایت نصوص قرآن کے معارض ہے کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ سلیمان دائود کے وارث بنے اور یہ گڑھی ہوئی روایت فدک کو شامل نہیں ہوتی

____________________

1.صحیح مسلم جلد/2 کتاب الجہاد باب قول النبی(ص)"لا نورث ما ترکنا فهو صدقة" اور صحیح بخاری نے اس حدیث کو کتاب قرض الخمس کے باب "قرض الخمس" میں نقل کیا ہے.


اس لئے کہ فدک عطیہ ہے میراث نہیں ہے.

یہی وجہ ہے کہ آپ تمام مورخین، مفسرین اور محدثین کو یہ لکھتے ہوئے دیکھیں گے کہ فاطمہ علیہا السلام نے فدک پر اپنی ملکیت کا دعوی کیا تو ابوبکر نے ان کے دعوے کو رد کر دیا اور ان سے اپنے دعوے کے ثبوت کے لئے گواہ طلب کئے. فاطمہ(ع) نے علی(ع) ابن ابی طالب اور ام ایمن کو بطور گواہ پیش کیا لیکن ابوبکر نے ان دونوں کی گواہی قبول نہ کی اور انہیں نا کافی قرار دے دیا. ابن حجر اس واقعہ کو اس طرح تحریر کرتے ہیں" فاطمہ(ع) نے یہ دعوی کیا کہ رسول(ص) نے فدک مجھے بخش دیا تھا لیکن فاطمہ(ع) اس سلسلہ میں علی(ع) اور ام ایمن کے علاوہ اور گواہ پیش نہ کرسکیں اور گواہی کا نصاب نا مکمل رہ گیا.(1)

امام فخر الدین رازی اپنی تفسیر میں رقمطراز ہیں کہ جب رسول(ص) نے وفات پائی تو فاطمہ(ع) نے دعوی کیا کہ رسول(ص) نے مجھے فدک عطا کر دیا تھا. ابوبکر نے کہا فقر کی حالت میں آپ تمام لوگوں سے عزیز اور ثروتمندی کے عالم میں سب سے زیادہ محبوب ہیں لیکن مجھے آپ کے دعوے کی صحت معلوم نہیں ہے اس لئے آپ کے حق میں فیصلہ نہیں کرسکتا ہوں. فخر رازی کہتے ہیں کہ کنیز رسول(ص) ام ایمن نے فاطمہ(ع) کی گواہی دی پس ابوبکر نے کہا کہ ایسا گواہ لائیے جس کی گواہی قبول کی جا سکے. فاطمہ(ع) گواہ نہ لاسکیں.(2) جناب فاطمہ(ع) نے یہ دعوی کیا کہ رسول(ص) نے مجھے فدک بخش دیا تھا ابوبکر نے ان کا دعوی رد کر دیا اور اس سلسلہ میں علی(ع) اور ام ایمن کی گواہی قبول نہ کی اس واقعہ کو ابن تیمیہ، صاحب سیرت حلبیہ اور قیم جوزی وغیرہ نے بھی تحریر کیا ہے.

____________________

1.صواعف محرقہ ابن حجر ہیثمی ص21

2.تفسیر مفاتیح الغیب رازی جلد/8 ص125 تفسیر سورہ حشر


لیکن بخاری اور مسلم دونوں نے اس کو اختصار کے ساتھ لکھا ہے انہوں نے صرف یہ لکھا ہے کہ فاطمہ(ع) نے اپنی میراث کا مطالبہ کیا اس سے وہ قارئین کو یہ بات باور کرانا چاہتے ہیں کہ فاطمہ(ع) کی ناراضگی بے محل تھی اس لئے کہ ابوبکر نے اس حدیث پر عمل کیا جو رسول(ص) سے سنی تھی. پس معاذ اللہ سیدہ(ع) ظالمہ اور ابوبکر مظلوم ہیں. بخاری و مسلم کی یہ ساری تگ و دو ابوبکر کی عزت کے تحفظ کے لئے ہیں اس لئے وہ واقعہ نقل کرنے میں بھی امانتداری سے کام نہیں لیتے ہیں. اور نہ ہی ان احادیث کو صحیح تسلیم کرتے ہیں کہ جو خلفا کے حقائق کا انکشاف کرتی ہیں. اور ان پر پڑے ہوئے پردوں کو ہٹاتی ہیں کہ جو امویوں اور خلافت راشدہ کے نمک خواروں نے ڈال دیئے تھے. خواہ نبی(ص) کے خلاف ہو یا ان کی پارہ جگر فاطمہ(ع) کے خلاف ہو. اسی لئے بخاری و مسلم اہلسنت کے نزدیک محدثین کے سردار بن گئے ہیں اور اہلسنت ان کی کتابوں کو کتاب خدا کے بعد صحیح ترین کتاب مانتے ہیں اور یہ ایسی حق پوشی ہے جو کسی علمی دلیل پر استوار نہیں ہے عنقریب انشاء اللہ ہم مستقل باب میں اس کے بارے میں بحث کریں گے تاکہ ہم حقیقت کے متلاشی افراد کے لئے اس کا انکشاف کرسکیں.

اس کے باوجود مسلم و بخاری پر ہمارا اعتراض ہے کہ جنہوں نے فضائل فاطمہ زہرا(ع) کو بہت ہی اختصار کے ساتھ لکھا ہے لیکن ان کی کتابوں میں وہ سب کچھ موجود ہے جو ابوبکر کی پستی پر دلالت کرتی ہے جو بخاری و مسلم سے زیادہ جناب سیدہ(ع) اور ان کی قدر و قیمت کو جانتے تھے لیکن پھر بھی ان کی بات کو تسلیم اور ان کے شوہر کی گواہی کو قبول نہیں کیا جبکہ ان کے شوہر کے بارے میں رسول(ص) یہ فرما چکے تھے کہ : علی(ع) حق کے ساتھ ہیں اور حق علی(ع) کے ساتھ اور جدھر یہ جاتے ہیں حق ادھر جاتا ہے.(1)

____________________

1.تاریخ بغداد جلد/14 ص321 تاریخ ابن عساکر جلد/3 ص119، کنز العمال جلد/5 ص30


فی الحال ہم بخاری و مسلم کی گواہی پر اکتفا کرتے ہیں کہ جناب رسالتمآب(ص) نے فضائل زہرا(ع) میں کیا فرمایا ہے:

فاطمہ(ع) نص قرآنی کے لحاظ سے معصوم ہیں

مسلم نے اپنی صحیح میں عائشہ سے روایت کی ہے کہ رسول(ص) صبح کے وقت برآمد ہوئے آپ ایک کالی اونی چادر(کملی) اوڑھے ہوئے تھے کہ حسن(ع) ابن علی(ع) آئے اور آپ(ص) نے انہیں اس چادر میں داخل کر لیا پھر حسین(ع) آئے وہ بھی چادر میں داخل ہوگئے پھر فاطمہ(ع) آئیں انہیں بھی آپ(ص) نے چادر میں داخل کر لیا پھر علی(ع) آئے انہیں بھی چادر میں داخل کر لیا اور اس کے بعد فرمایا:

( إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ‏ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً .)

اے( پیغمبر(ص) کے) اہلبیت خدا تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو( ہر طرح کی) برائی سے دور رکھے اور جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ویسا پاک و پاکیزہ رکھے.

پس جب اس امت کی عورتوں میں صرف فاطمہ(ع) وہ ہیں جن سے خدا نے رجس کو دور رکھا اور اس طرح پاک رکھا جو حق ہے. پس ابوبکر کو کیا ہوگیا تھا کہ جو انہیں جٹھلا دیا اور ان سے گواہ طلب کئے.(1)

____________________

1.صحیح مسلم جلد/6، باب فضائل اہلبیت(ع)


فاطمہ(ع) عالمین کی عورتوں کی سردار ہیں

بخاری و مسلم نے کتاب الفضائل میں ام المومنین عائشہ سے روایت کی ہے کہ سب ازواج نبی(ص) آپ کی خدمت میں تھیں کہ فاطمہ(ع) آگے بڑھِیں ان کے چلنے کا انداز ہو بہو رسول(ص) کے چلنے کا اندار تھا. جب رسول(ص) نے انہیں دیکھا تو فرمایا: مرحبا میری لخت جگر، پھر انہیں دائیں یا بائیں جانب بٹھایا پھر ان کے کان میں کچھ کہا تو فاطمہ(ع) پر شدید رقت طاری ہوگئی. پس جب رسول(ص) نے انہیں غمگین دیکھا تو پھر کچھ آہستہ سے فرمایا کہ فاطمہ(ع) مسکرانے لگیں. میں نے فاطمہ(ع) سے کہا میں ان کی زوجہ ہوں لیکن انہوں نے آپ کو اپنا ہم راز بنایا اور آپ رونے لگیں جب رسول اللہ(ص) چلے گئے تو میں نے پوچھا کہ آپ کے درمیان کیا راز کی باتیں ہوئی ہیں فاطمہ(ع) نے جواب دیا: میں رسول(ص) کے راز کو افشا نہیں کروں گی. عائشہ کہتی ہیں کہ جب رسول(ص) کا انتقال ہوگیا تو میں ان کے پاس پہونچی اور کہا کہ آپ پر میرا حق ہے اس وقت آپ نے راز نہیں بتایا تھا. فاطمہ(ع) نے فرمایا: کہ ہاں اب میں تمہیں بتاسکتی ہوں. فرمایا: پہلی مرتبہ رسول(ص) یہ فرمایا تھا کہ اس سال جبرئیل دو مرتبہ قرآن لے کر نازل ہوئے ہیں. جبکہ ہر سال ایک مرتبہ نازل ہوتے تھے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ میرا وقت قریب آگیا ہے پس تم خدا کا تقوی اختیار کرنا اور صبر سے کام لینا بیشک میں تمہارے لئے بہترین سلف ہوں. اس لئے میں نے گریہ کیا جیسا کہ تم نے دیکھا اور جب رسول(ص) نے مجھے محزون پایا تو دوبارہ سرگوشی کی اور فرمایا: فاطمہ(ع) کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم مومنین اور اس امت کی عورتوں کی سردار ہو.(1)

____________________

1.بخاری نے اپنی صحیح کی جلد/6کتاب الاستئذان باب من ناجی بین یدی الناس و لم یخبر سر صاحبه.فاذا مات اخبر به"


جب فاطمہ زہرا(ع) مومنین کی عورتوں کی سردار ہیں جیسا کہ رسول(ص) کے قول سے ثابت ہے. ابوبکر فدک کے بارے میں انہیں جھٹلاتے ہیں اور او کی کوئی گواہی قبول نہیں کرتے تو پھر کون سی شہادت قابل قبول ہوگی؟؟

فاطمہ(ع) زنان جنت کی سردار ہیں

بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کی ہے کہ رسول(ص) نے فرمایا:

فاطمہ(ع) جنت کی عورتوں کی سردار ہیں.(1) جب فاطمہ(ع) جنت کی عورتوں کی سردار ہیں اور اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ عالمین کی عورتوں کی سردار ہیں اس لئے کہ جنت کی تمام عورتیں صرف امت محمدی(ص) ہی نہیں ہیں پھر ابوبکر صدیق نے انہیں کیسے جھٹلا دیا؟ کیا اہلسنت یہ دعوی نہیں کرتے کہ ابوبکر کو صدیق اس لئے کہتے ہیں کہ وہ(ابوبکر) محمد(ص) کی ہر بات کی تصدیق کرتے تھے.(اگر حقیقت یہی ہے) تو پھر رسول(ص) کے اس قول کی تصدیق کیوں نہیں کی جو فاطمہ زہرا(ع) کے بارے میں فرمایا تھا. کہ فاطمہ(ع) میرا ہی ٹکڑا ہے؟؟ یا اس کا تعلق فدک، صدقہ اور عطیہ سے اتنا نہیں تھا جتنا اس کا تعلق خلافت سے تھا. جو فاطمہ(ع) کے شوہر علی(ع) کا حق تھا. پس عطیہ کے سلسلہ میں فاطمہ(ع) اور ان کے شوہر کی تکذیب ابوبکر کے لئے آسان تھی تاکہ اس کے ذریعہ وہ دونوں کے مطالبوں کا سد باب کر دیں. یہ اتنا بڑا مکر تھا کہ جس سے پہاڑ متزلزل ہوجائیں.

____________________

1. صحیح بخاری جلد/4 کتاب بدا الخلق کے باب" مناقب قرابة الرسول(ص)" میں


فاطمہ(ع) نبی(ص) کا ٹکڑا ہیں رسول(ص) ان کے غضب سے غضبناک ہوتے ہیں

بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کی ہے کہ ہم سے ابو الولید نے ابن عنبہ سے اور انہوں نے عمرو ابن دینار نے اور انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے اور انہوں نے مسور ابن مخرمہ سے روایت کی ہے کہ رسول(ص) نے فرمایا:

" فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي‏ فَمَنْ أَغْضَبَهَا فَقَدْ أَغْضَبَنِي."

فاطمہ(ع) میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا،، نیز فرمایا:

"فاطمة بضعة مني‏ يريبني ما ارابها و يؤذيني ما آذاها."

فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے پریشان کیا اور اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی.

جب رسول(ص) اپنی پارہ جگر کے غضبناک ہونے سے غضبناک ہوتے ہیں اور ان کو ایذا پہونچانا ایسا ہی ہے جیسا کہ رسول(ص) کو اذیت پہونچانا ہے. اس کے معنی یہ ہیں کہ فاطمہ(ع) معصوم عن الخطا ہیں ورنہ نبی(ص) کے لئے اس طرح یہ فرمانا جائز نہیں تھا کیونکہ جو معصیت کا مرتکب ہوتا ہے اسے اذیت دینا اور غضبناک کرنا جائز ہے خواہ اس کا مقام کتنا ہی بلند ہو اس لئے کہ شریعت اسلامی میں اپنے اور غیر کا کوئی امتیاز نہیں ہے اور نہ ہی غنی و فقیر کا فرق ہے اس کے باوجود ابوبکر، زہرا(ع) کو اذیت دیتے ہیں اور ان کے غضب کی کوئی پروا نہیں کرتے ہیں بلکہ انہیں مرتے دم تک غضبناک رکھا اور فاطمہ(ع) نے آخری وقت تک ان سے کلام نہ کیا اور ہر نماز


کے بعد ابوبکر کے لئے بدعا کرتی تھیں. ملاحظہ ہو تاریخ ابن قتیبہ وغیرہ.

ہاں ان تلخ اور ایسے ہی غم انگیز حقائق میں کہ جن سے ارکان منہدم ہوجائیں اور ایمان متزلزل ہو جائے. کیونکہ حق و حقیقت کے متلاشی، منصف مزاج انسان کے لئے اعتراف کے علاوہ چارہ کار نہیں ہے کہ ابوبکر نے فاطمہ زہرا(ع) پر ظلم کیا ہے. اور ان کے حق کو غصب کیا ہے وہ مسلمانوں کے خلیفہ تھے اور ان کے لئے ممکن تھا کہ وہ فاطمہ(ع) کو راضی اور خوشنود کر لیتے. اور ان کا حق دے دیتے. چونکہ فاطمہ(ع) کی صداقت مسلم ہے ان کی صداقت کی گواہی خدا و رسول(ص) دے رہے ہیں اور مع ابوبکر کے تمام مسلمانوں نے آپ کی صداقت کا لوہا مانا ہے لیکن سیاست ہر چیز کی حقیقت کو بدل دیتی ہے اور نتیجہ میں صادق کاذب اور کاذب صادق بن جاتا ہے.

جی ہاں! یہ اس سازش کی ایک کڑی ہے جو اہل بیت(ع) کو اس منصب سے دور رکھنے کے لئے کی گئی جو خدا نے ان کے لئے منتخب کیا تھا اور اس سازش کی ابتدا علی(ع) کو خلافت سے دور اور فاطمہ(ع) کی تکذیب اور اہانت اور میراث سے محرومی سے ہوئی اور انہیں بتادیا گیا کہ لوگوں کے دلوں میں ان کا کوئی احترام باقی نہ رہا. اس سازش کی انتہا شہادت علی(ع) اور قتل حسن(ع) و حسین(ع) اور مخدرات کی بے پردگی پر ہوئی. ان کے شیعہ، ان کے چاہنے والے اور اتباع کرنے والے قتل کئے جانے لگے شاید اس سازش کا سلسلہ آج تک چلا آرہا ہے. آج بھی ایسے کرتوت کا پتہ اور ان کے نتیجوں کا نشان ملتا ہے.

یقینا ایک آزاد اور منصف مزاج مسلمان ان حقائق سے اس وقت آگاہ ہو جائے گا جب تاریخی کتابوں کا مطالعہ کرے گا اور اس طرح حق کو باطل سے جدا کرے گا کہ اہلبیت(ع) پر سب سے زیادہ ابوبکر نے ظلم کیا ہے. اس سلسلہ میں


صحیح بخاری و مسلم کا مطالعہ کافی ہوگا. اگر وہ حق کا جویندہ ہے تو اس پر حق منکشف ہو جائے گا.

یہ لیجئے بخاری و مسلم دونوں اعتراف کرتے ہیں کہ ابوبکر عام صحابہ کے دعووں کی تصدیق کیا کرتے تھے. لیکن یہی ابوبکر فاطمہ(ع) زہرا سیدۃ نساء اہل الجنۃ اور ہر عیب سے طاہر رکھا. اسی طرح ابوبکر علی(ع) اور ام ایمن کی تکذیب کرتے ہیں اب آپ اس سلسلہ میں بخاری ومسلم کے اقوال ملاحظہ فرمائیے.

بخاری و مسلم دونوں نے جابر ابن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: جب رسول(ص) کا انتقال ہوچکا تو علا ابن حضرمی کی طرف سے ابوبکر کے پاس ماں آیا تو ابوبکر نے کہا: نبی(ص) پر جس کا قرض ہو یا انہوں نے کسی سے کوئی وعدہ کیا ہو تو وہ آکر بیان کرے. جابر کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ مجھ سے رسول(ص) نے ایسا ایسا وعدہ کیا تھا. پس انہوں نے تین مرتبہ ہاتھ بڑھایا. جابر کہتے ہیں میں نے جب ان کی شمارش کی تو میرے پاس پندرہ سو ( سکے) تھے.(1)

آیا کوئی ابوبکر سے یہ سوال کرسکتا ہے کہ آپ نے جابر ابن عبداللہ کی کیوں تصدیق کی کہ ان سے نبی(ص) نے کچھ عطا کرنے کا وعدہ کیا تھا ابوبکر نے تین مرتبہ مشت بھر کر پندرہ سو سکے دیئے جب کہ ان سے گواہ بھی نہیں کئے کیا جابر ابن عبداللہ انصاری فاطمہ(ع) سے زیادہ متقی اور سیدة نساء العالمین سے نیک تر تھے؟ اس سے زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ فاطمہ(ع) کے شوہر علی(ع) کی شہادت کو رد

____________________

1.صحیح بخاری جلد/3 کتاب الشہادات باب" من امر بانجاز الوعد" و صحیح مسلم کتاب الفضائل باب" ما سئل رسول الله شیئا قط فقال لا و کثرة عطائه"


کردیا کہ جن سے خدا نے رجس کو دور رکھا ایسے پاک کیا جو حق ہے اور ان پر اسی طرح دورد بھیجنا واجب کیا جس طرح رسول(ص) پر درود بھیجنا واجب ہے، جن کی محبت کو رسول(ص) نے ایمان اور دشمنی کو نفاق قرار دیا ہے.(1)

بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کی ہے کہ بنی صہیب موئی ابن جذعان نے دو گھروں اور ایک حجرہ کا دعوی کیا، رسول(ص) نے وہ گھر صہیب کو دے دیا. مروان نے کہا: اس سلسلہ میں کسی نے گواہی دی ہے. انہوں نے کہا: ابن عمیر نے!انہیں بلایا گیا تو انہوں نے گواہی دی کہ رسول(ص) نے صہیب کو دو گھر اور ایک حجرہ دے دیا ہے تو مروان نے بھی ایسے فیصلہ کر دیا.(2)

مسلمانو! ان تصرفات اور احکام میں غیر مساوی رویہ کو دیکھو کیا یہ ظلم نہیں ہے؟ کیا یہ افسوس کا مقام نہیں ہے؟ جب خلیفہ صرف ابن عمر کی گواہی پر مدیون کے حق میں فیصلہ کرتا ہے تو کیا کسی مسلمان کو یہ سوال کرنے کا حق ہے کہ علی ابن ابی طالب(ع) اور ام ایمن کو گواہی کو کیوں رد کیا گیا؟ جب کہ ایک مرد اور اس کے ساتھ ایک عورت کی گواہی صرف ایک مرد کی گواہی سے قوی ہوتی ہے. جب ہم شہادت( گواہی) کے نصاب کو دیکھتے ہیں کہ قرآن نے جس کا حکم دیا ہے... کیا صہیب کی اولاد بنت مصطفی(ص) سے زیادہ اپنے دعوے میں سچی ہیں؟ حکام کے نزدیک ابن عمر موثق و معتبر ہیں اور علی(ع) معتبر نہیں ہیں؟ لیکن یہ دعوی کہ نبی(ص) نے کسی کو وارث نہیں بنایا جیسا کہ ابوبکر نے حدیث بیان کی ہے. اور جس سے فاطمہ زہرا(ع) کو

____________________

1.صحیح مسلم جلد/1 ص61 باب" الدلیل علی ان حب الانصار و علی من الایمان و علاقة بغضهم من علامات النفاق" صحیح ترمذی جلد/5 ص306 سنن نسائی جلد/8 ص116

2.صحیح بخاری جلد/3 ص143


جھٹلایا ہے. جو کتاب خدا کی معارض ہے. اور وہ ایسی حجت ہے جو کبھی باطل نہیں ہوسکتی اس کو نبی(ص) نے اپنے اس قول سے صحیح قرار دیا ہے:

" اذا جاءکم حدیث عنی فاعرضوه علی کتاب الله فان وافق کتاب الله فاعلموا به و ان خالف کتاب الله فاضربوا به عرض الجدار".

جب تمہارے پاس میری کوئی حدیث پہونچے تو اسے کتاب خدا پر پرکھو، اگر کتاب خدا کے موافق ہو تو اس پر عمل کرو اور اگر کتاب خدا کے مخالف ہو تو اسے دیوار پر دے مارو.

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ حدیث قرآن مجید کی متعدد آیتوں کے معارض ہے آیا کوئی سوال کرنے والا ابوبکر اور تمام مسلمانوں سے یہ سوال کرسکتا ہے کہ اس حدیث کی روایت کے سلسلہ میں جو عقل ونقل کے خلاف اور قرآن کے معارض ہے تنہا ابوبکر کی گواہی کیوں قبول کی جاتی ہے اور فاطمہ زہرا(ع) اور علی(ع) کی گواہی جو عقل و نقل کے موافق اور قرآن کے مطابق ہے اسے کیوں قبول نہیں کیا جاتا.

یہاں میں ایک بات کا اضافہ کرتا چلوں اور وہ یہ کہ خواہ ابوبکر کا مرتبہ کتنا ہی بلند ہو جائے اور خواہ کتنے ہی افراد اس کا دفاع اور تائید کرنے والے وجود میں آجائیں تو بھی وہ سیدہ نساء عالمین حضرت فاطمہ زہرا(ع) اور علی ابن ابی طالب کی عظمت و فضیلت تک نہیں پہونچ سکیں گے کہ جن کو رسول(ص) نے تمام صحابہ پر ہی موقع پر فضیلت دی ہے. یہاں مثال کے طور پر پیش کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جب رسول(ص) نے یہ کہکر پرچم اسلام علی(ع) کے ہاتھوں میں دیا کہ:


یہ علم اس کو دوں گا جو خدا اور اس کے رسول(ص) کو دوست رکھتا ہے اور خدا اور رسول(ص) اس کو دوست رکھتے ہیں.یہ سن کر تمام صحابہ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ یہ علم ہم کو عطا کیا جائے لیکن پرچم اسلام آپ نے علی(ع) کو عطا کیا.(1) رسول(ص) نے علی(ع) کے بارے میں فرمایا کہ:علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے بعد تمام مومنین کے ولی ہیں.(2)

اگر متعصب افراد اس حدیث کے صحیح ہونے میں شک کریں گے تو وہ کم از کم ان احادیث میں کبھی شک نہیں کرسکیں گے کہ علی(ع) و فاطمہ(ع) پر درود بھیجنا نبی(ص) پر درود بھیجنے کا جز ہے پس ابوبکر و عمر و عثمان اور دیگر وہ صحابہ جن کو جنت کی بشارت دی گئی ہے. ان کی نمازیں اس وقت تک قبول نہیں کی جائیں گی جب تک وہ محمد(ص) و آل محمد(ص) پر درود نہ بھیجیں جیسا کہ اہلسنت کی صحاح میں وارد ہوا ہے.(3) یہاں تک کہ امام شافعی نے اہلبیت(ع) کے بارےمیں کہدیا

"من لم یصل علیکم لا صلاة له"

"جو آپ پر درود نہ بھیجے اس کی نماز نہیں ہے"پس جب ان سب کے لئے جھوٹ اور باطل دعوے جائز ہوں گے تو اسلام پر سلام اور دنیا پر خاک، لیکن جب آپ یہ پوچھیں گے کہ ابوبکر کی گواہی کیوں

____________________

1.صحیح بخاری جلد/4 ص5 و جلد/4 ص20

2.صحیح مسلم جلد/7 ص121 باب" فضائل علی ابن ابی طالب"

3.صحیح بخاری جلد/6 ص27 باب" ان الله و ملائکته یصلون علی النبی(ص)"


قبول کر لی گئی اور اہلبیت(ع) کی شہادت کیوں رد کی دی گئی؟ تو جواب ملے گا کہ وہ حاکم ہے اور حاکم کو یہ اختیار ہے کہ وہ جو چاہے فیصلہ کرے کیونکہ ہر حالت میں حق اس کے ساتھ ہوتا ہے اور طاقتور کا دعوی ایسا ہی جیسے درندہ کا دعوی کہ ہر حالت میں اسی کی دلیل کامیاب ہوتی ہے.

قارئین محترم آپ میرے ساتھ آئیں اور اس قول کی صداقت کے لئے میراث نبی(ص) کے سلسلہ میں بخاری کا تناقض ملاحظہ فرمائیں ابوبکر کی بیان کی ہوئی یہ حدیث:

" نحن‏ معشر الأنبياء لا نورث ما تركناه صدقة."

تمام اہلسنت والجماعت اس حدیث کو صحیح مانتے ہیں اور اسی کو دلیل بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ ابوبکر نے فاطمہ زہرا(ع) کا دعوی قبول نہیں کیا.جو چیز آپ کو اس حدیث کے باطل ہونے کو بتاتی ہے وہ اس کا غیر معروف ہونا ہے اس کے علاوہ فاطمہ(ع) نے اپنی میراث کا مطالبہ کیا تھا اور اسی طرح ازواج نبی(ص) امہات المومنین نے بھی میراث کے سلسلہ میں ابوبکر کے پاس کسی کو بھیجا تھا.(1) بخاری کی عبارت سے یہ ظاہر ہے کہ انبیاء کسی کو میراث نہیں بناتے لیکن دوسری جگہ بخاری خود اپنی اس عبارت کے خلاف تحریر کرتے ہیں. لکھتے ہیں کہ عمر ابن خطاب نے ازواج نبی(ص) کے درمیان میراث تقسیم کی. بخاری نے کتابالوکالة... باب المزارعة بالشطر وغیرہ میں نافع سے روایت کی ہے کہ عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی(ص) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی(ص) نے خیبر کی کھیتی اور پھلوں کی دیکھ بھال کے لئے عامل مقرر کیا. پس ازواج کو سو100 وسق(2) ، اسی 80 وسق کھجوریں بیس20 وسق جو دیتے تھے. جب عمر

____________________

1.صحیح بخاری جلد/5 ص24 باب" حدیث بنی النضیر" کتاب المغازی

2.یہ ایک پیمانہ ہے جو ایک سو اسی 180 کلو کا ہوتا ہے.


نے خیبر کو تقسیم کیا تو انہوں نے ازواج نبی(ص) کے درمیان زمین اور پانی کو تقسیم کیا اور کہا کہ اس میں سے جس کو چاہیں اختیار کریں. پس ان سے بعض نے زمین لے لی اور کسی نے وسق قبول کیا جب کہ عائشہ نے زمین لی تھی.(1)

اس روایت سے بخوبی واضح ہے کہ فاطمہ(ع) نے خیبر سے اپنے حصہ کا مطالبہ کیا تھا جس نے اپنے باپ کی میراث مانگی تھی. اور ابوبکر نے آپ کا مطالبہ یہ کہکر رد کیا کہ رسول(ص) نے کسی کو وارث نہیں بنایا. اور یہی روایت واضح طور پر یہ بھی بتا رہی ہے کہ عمر ابن خطاب نے اپنی خلافت کے زمانہ میں ازواج نبی(ص) کے درمیان خیبر تقسیم کیا. اور انہیں یہ اختیار دیا کہ چاہے زمین لے لیں یا وسق اور عائشہ نے زمین لے لی پس جب نبی(ص) نے کسی کو وارث نہیں بنایا تھا. تو عائشہ کو زوجہ کی حیثیت سے میراث دی گئی. اور فاطمہ(ع) کی بیٹی کی حیثیت سے کیوں نہ دی گئی؟،

اس سلسلہ میں صاحبان عقل و شعور ہمیں فتوی دیں اس کا آپ کو اجر و ثواب ملے گا. یہاں میں ایک چیز کا اور اضافہ کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ عائشہ بنت ابوبکر نے نبی(ص) کے پورے گھر پر قبضہ کر لیا تھا اور ازواج نبی(ص) میں سے کسی کو حصہ نہیں دیا تھا. انہوں نے اپنے باپ کو اسی گھر میں اور عمر کو ان کے برابر میں دفن کیا اور امام حسین(ع) کو امام حسن(ع) کا جنازہ ان کے جد کے پہلو میں دفن کرنے سے منع کر دیا. تو ابن عباس نے کہا: اونٹ پر تم بیٹھ چکیں، خچر پر سوار ہو چکیں، زندہ رہوگی تو ہاتھی پر سوار ہوگی. تمہارا آٹھویں حصہ میں سے نواں حصہ ہے اور پورے کی مالک بنی ہوئی ہو،، بہر حال میں اس موضوع کو طول نہیں دینا چاہتا اس لئے محقق تاریخ کا مطالعہ فرمائیں لیکن یہاں فاطمہ زہرا(ع) کا وہ خطبہ جو آپ نے ابوبکر اور بڑے بڑے

____________________

1.صحیح بخاری جلد/3 ص68


صحابہ کے سامنے دیا تھا اس کا کچھ حصہ ذکر کر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے. تاکہ ان میں سے جو ہلاک ہو وہ دلیل کے بعد اور جو نجات پائے وہ بھی دلیل کے بعد چنانچہ آپ(ع) نے فرمایا:

تم لوگوں نے جان بوجھ کر کتاب خدا کو چھوڑ رکھا ہے اور اسے پس پشت ڈال دیا ہے جبکہ قرآن کہتا ہے کہ سلیمان اپنے باپ دائود کے وارث ہوئے اور جناب یحیی کے قصہ میں حضرت ذکریا کی یہ دعا موجود ہے" خداوند! مجھے اپنی طرف سے ایسا وارث عطا فرما جو میری میراث پائے اور آل یعقوب کا وارث بھی قرار پائے. اور اسی کتاب میں ارشاد خداوند ہے کہ تمہارا رب تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ میراث کی تقسیم میں مرد کوعورت بکے دو برابر حصہ دو. ارشاد ہوتا ہے اگر کوئی مرتے وقت مال چھوڑے تو وہ والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لئے نیکی یعنی وصیت کر جائے. اور تم یہ گمان کر رکھا ہے کہ میرا کوئی حق ہی نہیں اور میں اپنے باپ کی میراث نہیں لے سکتی اور ہم لوگوں کے درمیان کوئی رحمی قرابت ہی نہیں ہے کیا خداوند عالم نے میراث کے بارے میں میں تم کو کسی آیت سےمخصوص کیا ہے کہ جس سے میرے پدر بزرگوار کو مستثنی کر دیا ہے. کیا قرآن کے عموم و خصوص کو تم میرے والد اور ان کے ابن عم سے بہتر سمجھتے ہو؟ یا تم کہتے ہو کہ دو ملت والے ایک دوسرے کی میراث نہیں پاتے تو کیا میں اور میرے پدر بزرگوار ایک ملت پر نہیں ہیں؟ ٹھیک ہے آج فدک کو اس طرح قبضہ میں


کر لو جس طرح مہار اور پالان شتر کو قبضہ میں کیا جاتا ہے. ابوبکر قیامت کے دن اس کا نتیجہ بھگتیں گے اور بہترین فیصلہ کرنے والا خدا ہوگا. اور محمد(ص) ہمارے ضامن ہوں گے( اے ابوبکر) ہماری اور تمہاری وعدہ گاہ قیامت ہے اور ( یاد رکھو) قیامت کے دن باطل پرست خسارہ میں رہیں گے.

ابوبکر مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں

بخاری نے اپنی صحیح میں کتاب استتابہ المرتدین کے باب" قتل من ابی قبول الفرائض" میں اور مسلم نے کتاب الایمان کے باب" الامر بقتال الناس" میں ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ جب نبی(ص) کا انتقال ہوگیا اور ابوبکر خلیفہ بن گئے اور عرب میں سے کچھ لوگ کافر ہوگئے. تو عمر نے کہا: اے ابوبکر لوگوں سے تم کیسے جنگ کروگے جب کہ نبی(ص) نے فرمایا ہے کہ اس وقت تک قتال و جدال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لوگ کلمہ نہ پڑھ لیں پس جس نے لا الہ الا اللہ کہدیا اس کی جان و مال محفوظ ہوگئی مگر یہ کہ وہ اس کا مستحق ہو اور اس کا حساب خدا سے مربوط ہے؟ ابوبکر نے کہا: قسم خدا کی میں ضرور بالضرور اس سے جنگ کروں گا جو نماز و زکوة میں تفریق کرے گا. کیونکہ زکوة بیت المال کا حق ہے قسم خدا کی اگر انہوں نے مجھے زکوة دینے سے منع کیا جبکہ وہ رسول(ص) کو زکوة دے چکے تھے تو میں ان سے جنگ کروں گا. عمر نے کہا خدا کی قسم میں نے دیکھا کہ جنگ کے لئے ابوبکر کا سینہ خدا نے کشادہ کر دیا ہے پس میں سمجھ گیا کہ یہی حق ہے.

ابوبکر و عمر کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے. ان ہی دونوں نے


فاطمہ(ع) کے گھر کو جلانے کی اس وقت دھمکی دی تھی جب بیعت نہ کرنے والے ان کے گھر میں پناہ گزیں تھے.(1) جب وہ علی(ع) و فاطمہ(ع)، حسن(ع) و حسین(ع) اور ان برگزیدہ صحابہ کو جلانے کے لئے تیار تھے جنہوں نے بیعت سے انکار کر دیا تھا تو مانعین زکوة کا قتل کرنا تو ان کے لئے بہت ہی آسان تھا اور دور افتادہ علاقوں میں بسنے والوں کی عترت طاہرہ اور صحابہ اخیار کے مقابلہ میں قدر و قیمت ہی کیا تھا؟ یہاں ایک بات اور عرض کردوں کہ بیعت کا انکار کرنے والے افراد نص رسول(ص) کے ذریعہ خلافت کو اپنا حق سمجھتے تھے اور اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ ان کے حق میں کوئی نص نہیں تھی تو بھی انہیں شوری پر اعتراض اور تنقید و تبصرہ کا حق تھا. اس کے باوجود انہیں جلانے کے دھمکی تواتر سے ثابت ہے. اور اگر علی(ع) اپنے رویہ میں نرمی اور دوسرے صحابہ سے یہ نہ کہتے کہ مسلمانوں کے خون کی حفاظت اور وحدت اسلامی کے لئے بیعت کر لو تو وہ ابوبکر و عمر سب کو جلا دیتے.

اب تمام چیزیں ان ک منشاء کے موافق تھیں، ان کی جگہ مستحکم ہوچکی تھی. زہرا(ع) کی موت اور علی(ع) کی مصالحت کے بعد کون تھا جو کچھ کہنے کی ہمت کرتا. اب وہ لوگ ان قبائل کو کیسے نظر انداز کر سکتے تھے جنہوں نے زکوة دینے سے یہ کہکر انکار کر دیا تھا کہ جب تک امر خلافت واضح نہیں ہوتا اس وقت تک ہم کسی کو زکوة نہیں دیں گے. نبی(ص) کے بعد خلافت سے جو کھلواڑ ہوا اس کا اعتراف خود عمر نے اس طرح کیا ہے کہ ابوبکر بیعت انفاقی امر تھا.(2)

____________________

1.الامامة والسیاست، ابن قتیبة، العقد الفرید جلد/2حدیث السقیفة اور طبری و مسعودی اپنی تاریخ میں اورابوالفداء شہرستانی نے تحریر کیا ہے.

2.صحیح بخاریکتاب المحاربین من اهل الکفر والردة باب رجم الحبلی من الزنا


پھر ابوبکر کا نیک مسلمانوں کو قتل کرنا، ان کی ہتک حرمت کرنا، ان کی عورتوں کو بے پردہ کرنا. مورخین لکھتے ہیں کہ ابوبکر نے خالد ابن ولید کو بھیج کر قبیلہ بنی سلم کو جلوادیا.(1) پھر خالد کو یمامہ اور بنی تمیم کی طرف بھیجا تو خالد نے انہیں دھوکا دے کر قتل کر دیا اور مالک ابن نویرہ جیسے جلیل القدر صحابی کو کہ جس کو رسول(ص) نے ان کی قوم سے صدقات وصولنے پر مقرر کیا تھا. اور ان(مالک) کی زوجہ سے اسی شب میں خالد نے زنا کیا

"و لا حول‏ و لا قوّة إلّا باللّه العليّ العظيم"

مالک اور ان کی قوم کی صرف یہ تقصیر تھی کہ انہوں نے نبی(ص) کی وفات کے بعد رونما ہونے والے حوادث. جیسے علی(ع) کو خلافت سے الگ کرنا اور فاطمہ زہرا(ع) پر اتنا ظلم کرنا کہ جس میں وہ خفگی کے عالم میں انتقال فرما گئیں، اور انصار کے سردار کا ان ( ابوبکر و عمر) کی مخالفت کر کے بیعت سے خارج ہونا وغیرہ کو وہ سن چکے تھے اسی لئے مالک اور ان کی قوم زکوة جمع کر رہے تھے. کہ خلیفہ اور ان کے مددگاروں نے ان کے قتل کرنے اور ان کی عورتوں کو بے پردہ کرنے اور ان کی بے عزتی کرنے کا حکم صادر کر دیا اور ان کو ایسا خاموش کیا گیا کہ جس سے خلافت کے بارے میں صرف میں سے کوئی کچھ کہنے کی ہمت نہ کرے.

افسوس تو اس شخص پر ہے جو ابوبکر اور ان کی حکومت کا دفاع کرتا ہے. بلکہ ان کی اس خطا کو صحیح قرار دیتا ہے جس کا انہیں خود اعتراف تھا.(2) اور عمر کی طرح کہتا ہے: قسم خدا ک میں نے دیکھا کہ خدا نے جنگ و جدال

____________________

1.ریاض النضرة مصنف محب الدین طبری جلد/1 ص100

2.جیسا کہ انہوں نے مالک کے بھائی سے معذرت کی اور اسے مسلمانوں کے بیت المال سے مالک کی دیت دی اور کہا خالد نے تاویل کی سو اس سے خطا ہوگئی.


کے لئے ابوبکر کا سینہ کشادہ کر دیا. بس میں سمجھ گیا کہ یہی حق ہے.

کیا ہم عمر سے یہ سوال کرسکتے ہیں کہ آپ ان مسلمانوں کے قتل کے بارے میں کیسے مطمئن ہوگئے جن کے متعلق آپ نے خود رسول(ص) کا یہ قول نقل کیا تھا کہ لا الہ الا اللہ،، پڑھنے والے کو قتل کرنا حرام ہے اور عمر نے حدیث کو بنیاد بنا کر ابوبکر سے بحث کی تھی لیکن یہ انقلاب کیسے آگیا عمر ان لوگوں کے قتل سے کیونکر مطمئن ہوگئے اور نہ جانے عمر کو ابوبکر کے شرح صدر سے یہ بات کیسے معلوم ہوگئی کہ یہ حق ہے اور ابوبکر کے سینہ کا آپریشن کس طرح ہوا کہ جسے عمر کے علاوہ کسی نے نہیں دیکھا؟ اگر شرح صدر کا آپریشن معنوی تھا نہ کہ حقیقی تو پھر خدا نے اس قوم کے سینے کیوں کشادہ کر دیئے تھے جو ان احکام کی مخالفت کر رہی تھی. جو رسول(ص) لائے تھے. اور خدا نے اپنے بندوں کے بارے میں یہ کیوں فرمایا تھا کہ جو " لا الہ الا اللہ" کہے تم پر اس کا قتل حرام ہے اس کا حساب میرے ذمہ ہے. اس کے بعد ان کے قتل کرنے کے لئے ابوبکر و عمر کا سینہ کشادہ کردیا. یا یہ وہ اجتہاد ہے جو سیاسی مصلحت کی بنا پر کیا گیا تھا اور احکام خدا کو دیوار پر مار دیا گیا تھا.

ابوبکر کا دفاع کرنے والوں کا یہ دعوی کہ وہ لوگ( مانعین زکوة) اسلام سے خارج ہوگئے تھے اس لئے ان کا قتل واجب تھا تو یہ سراسر غلط ہے اور حق کتابوں سے تھوڑی سی آشنائی رکھتا ہے. وہ بخوبی جانتا ہے کہ زکوة نہ دینے والے مرتد نہیں تھے. کیسے جب کہ انہوں نے خالد کے ساتھ اس وقت بھی نماز پڑھی تھی جب وہ انہیں تہ تیغ کرنے کے لئے


تیار تھا. پھر اس جھوٹے دعوے کی تردید خود ابوبکر نے مسلمانوں کے بیت المال سے دیت کی ادائگی سے کی تھی اور اس قتل کے بارے میں عذر خواہی کی تھی. مرتد کے قتل کرنے کے بعد نہ معذرت کی جاتی ہے اور نہ مسلمانوں کے بیت المال سے اس کی دیت دی جاتی ہے اور نہ ہی سلف صالح میں سے کسی نے مانعین زکوة کو مرتد کہا ہے. ہاں بعد والے زمانہ میں جب متعدد فرقے ہوگئے اہل سنت نے بے فائدہ کوشش کی کہ ابوبکر کے افعال کی توجیہ کی جائے لیکن انہیں کوئی ایسا راستہ نہ ملا تو انہوں نے مانعین زکوة کو مرتد کہنا شروع کر دیا. کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مسلمان کو برا بھلا کہنا فسق اور قتل کرنا کفر ہے. جیسا کہ اہلسنت کی صحاح میں(1) یہ مسئلہ موجود ہے. یہاں تک کہ بخاری نے جہاں یہ حدیث اور ابوبکر کے اس قول کو نقل کیا ہے" قسم خدا کی میں لازمی زکوة اور نماز میں تفریق کرنے سے قتال کروں گا وہاں جس نے فرائض کا انکار کیا اور لوگوں نے اسے مرتد کہا" کے عنوان سے ایک باب قائم کیا ہے یہ دلیل ہے اس بات پر کہ بخاری خود بھی ان کے ارتداد کے معتقد نہ تھخ.

کچھ دوسرے لوگوں نے حدیث کی تاویل کرنے کوشش کی ہے جیسا کہ ابوبکر نے تاویل کر کے کہدیا تھا کہ زکوة حق بیت المال ہے. حالانکہ یہ تاویل چند وجوہ سے صحیح نہیں ہے.

1.رسول(ص) نے کلمہ پڑھنے والے کے قتل کو حرام قرار دیا ہے. اس سلسلہ میں بہت سی احادیث موجود ہیں جو کہ اہلسنت نے بھی صحاح میں درج

____________________

1.صحیح بخاریکتاب الایمان باب"خوف المومن من ان یحیط عمله و هو لا یشعر و صحیح مسلمکتاب الایمان باب" قول النبی(ص)" سباب المسلم فسوق و قتاله کفر"


کی ہیں ہم عنقریب انہیں بھی پیش کریں گے.

2.اگر زکوة ( بیت المال کا ) حق ہوتی تو حدیث حاکم شرع کے لئے مانعین زکوة کا خون بہائے بغیر ان سے زبردستی زکوة وصول نے کو مباح قرار دیتی.

3.اگر یہ تاویل صحیح ہوتی تو رسول(ص) بھی ثعلبہ کو قتل کرتے کیونکہ اس نے بھی زکوة دینے سے انکار کر دیا تھا( یہ واقعہ مشہور ہے نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے)(1)

4.اختصار کو پیش نظر رکھتے ہوئے کلمہ پڑھنے والے کے احترام کے سلسلہ میں بخاری و مسلم کی حدیث نقل کرتا ہوں.

"ا،، بخاری نے مقدار ابن اسود سے نقل کیا ہے انہوں نے رسول(ص) سے عرض کی: یا رسول اللہ(ص) آپ کا اس سلسلہ میں کیا نظریہ ہے کہ میری کفار کے ایک شخص سے مڈبھیڑ ہوگئی اور پھر ہمارے درمیان جنگ ہونے لگی اس نے تلوار سے میرا ایک ہاتھ کاٹ دیا اس کے بعد وہ ایک درخت کے نیچے کھڑا ہو کر مجھ سے پناہ مانگنے لگا اور کہنے لگا: میں اسلام لے آیا ہوں، یا رسول اللہ(ص) آیا یہ کہنے کے بعد بھی میں اسے قتل کردوں؟ رسول(ص) نے فرمایا: نہیں، مقداد نے کہا یا رسول اللہ(ص) اس نے میرا ہاتھ قطع کر دیا اور اس کے بعد وہ کہنے لگا کہ مسلمان ہوگیا، پس رسول(ص) نے فرمایا: اسے قتل نہ کرو اور اگر تم نے اسے قتل کیا تو اس شخص کا مقام وہ قرار پائے گا جو قتل کرنے سے قبل تمہارا تھا. اور تمہاری منزل وہ ہوگی جو کلمہ نہ پڑھنے سے قبل اس کافر کی تھی.(2)

____________________

1.ثم اہتدیت ص183 طبع الفجر لندن

2.صحیح مسلمکتاب الایمان باب تحریم قتل الکافر بعد ان قال " لا اله الا الله..." صحیح بخاریکتاب المغازی باب حدیثی خلیفة عن المقداد ابن اسود


اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر کافر ظلم و تعدی کے بعد بھی کلمہ پڑھ لے تو اسے قتل کرنا حرام ہے جب کہ اس نے کلمہ میں نہ محمد کی رسالت کا اعتراف کیا ہے نہ نماز پڑھنے اور نہ زکوة دینے کا وعدہ کیا ہے، نہ روزہ رکھنے اور نہ ہی حج بجالانے کا اعتراف کیا ہے. تم کہاں چلے جارہے ہو اور کیسی تاویل کر رہے ہو؟

"ب" بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب المغازی کے باب" بعث النبی(ص) اسامة ابن زید الی حرقات من جبهته" اور مسلم نےکتاب الایمان کے باب" تحریم قتل الکافر بعد ان قال" لا اله الا الله" میں اسامہ ان زید سے روایت کی ہے کہ، ہمیں رسول(ص) نے حرقہ کی طرف بھیجا ہمارا اس قوم سے مقابلہ ہوا تو ہم نے اسے پسپا کر دیا میں اور انصار میں سے ایک شخص حرقہ کے ایک شخص کے قریب پہونچے جب ہم نے اسے گھیر لیا تو اس نے کلمہلا اله الا الله پڑھ لیا انصاری نے تو اسے کچھ نہ کہا لیکن میں نے اسے نیزہ مار کر ہلاک کر دیا جب ہم واپس آگئے اور رسول(ص) کو اس واقعہ کی خبر دی تو آپ(ص) نے فرمایا: اسے اسامہ تم نے اسے کلمہ پڑھنے کے بعد بھی قتل کر دیا؟ میں نے عرض کی وہ پناہ ڈھونڈ رہا تھا. آپ(ص) نے اس قدر اس کلمہ کی تکرار کی کہ میں یہ سوچنے لگا کہ کاش میں آج سے پہلے ایمان نہ لایا ہوتا.

اس حدیث سے قطعی طور پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جس نے کلمہ" لا اله الا الله" پڑھ لیا اس کا قتل حرام ہے جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ رسول(ص) نے اسامہ پر اتنی سختی کی کہ وہ تمنا کرنے لگے کہ کاش میں اس دن سے پہلے ایمان ہی نہ لایا ہوتا تاکہ یہ حدیث اس کو بھی شامل ہو جاتی کہ اسلام پہلے گناہوں کو بخش دیتا ہے" اور اس بڑے گناہ کی وجہ سے خدا سے مغفرت کا خواستگار ہوا.


بخاری اور مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں ابوذر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ایک روز میں نبی(ص) کے پاس آیا، دیکھا کہ آپ سفید چادر اوڑھے سو رہے ہیں تھوڑی دیر کے بعد میں پھر حاضر ہوا تو اس وقت آپ(ص) بیدار ہوچکے تھے پس آپ(ص) نے فرمایا کہ:

جو شخص بھیلا اله الا الله پڑھ لے گا اور مرتے دم تک اس پر بر قرار رہے گا وہ جنت میں داخل ہوگا.

میں نے عرض کی: خواہ اس نے زنا اور چوری ہی کی ہو؟ آپ(ص) نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری ہی کی ہو. میں نے کہا اگر چہ اس نے زنا اور چوری ہی کی ہو؟ آپ(ص) نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا اور چوری ہی کی ہو، میں نے(پھر) عرض کی؛ اگر چہ اس نے زنا اور چوری ہی کی ہو؟ آپ(ص) نے(پھر) فرمایا: خواہ اس نے زنا اور چوری ہی کی ہو، اور اس سے ابوذر ہی کو ذلیل ہونا پڑا ہو.(1)

جب ابوذر اس حدیث کو بیان کرتے تھے تو کہتے تھے کہ خواہ یہ ابوذر کو برا ہی لگے.

یہ دوسری حدیث ہے جو کلمہ پڑھ لینے والے کے داخل جنت ہونے کو بیان کرتی ہے اور اس کو قتل کرنا جائز نہیں ہے خواہ اس سے ابوبکر و عمر اور ان کے اصحاب و انصار کہ" جو ان کی عزت بچانے کے لئے تاویل کرتے ہیں حقائق کو بدل ڈالتے ہیں اور احکام خدا میں رد و بدل کرتے ہیں" کی اس سے ہتک ہی کیوں نہ ہوتی ہو.

____________________

1.صحیح بخاری کتاب اللباس میں باب" ثیاب البیض" صحیح مسلم کتاب الایمان باب" من مات لا یشرک بالله شیئا دخل الجنة"


بیشک ابوبکر و عمر دونوں ان احکام سے واقف تھے، کیونکہ رسالمتآب سے قریب تھے ہم سے بہتر طور پر احکام کی معرفت رکھتے تھے لیکن ان دونوں نے خلافت کی طمع میں بہت سے احکام خدا اور رسول(ص) کی تاویل کر لی جبکہ اس پر بینہ موجود تھا.

شاید جب ابوبکر نے مانعین زکوة کے قتل کا ارادہ کیا اور عمر نے ابوبکر کے سامنے رسول(ص) کی یہ حدیث پیش کی تھی کہ یہ قتل حرام ہے تو انہوں نے اپنے دوست کو اس طرح مطمئن کیا ہوگا کہ جب تم خانہ فاطمہ(ع) کو جلانے کے لئے لکڑیاں لے جا سکتے ہو جبکہ فاطمہ(ع) کلمہ شہادت بھی پڑھتی تھیں. پھر عمر نے ابوبکر کو قانع کیا کہ اب دار السلطنت میں علی(ع) و فاطمہ(ع) کی بھی کوئی شان نہیں ہے چہ جائیکہ دور افتادہ علاقوں میں بسنے والے ان قبیلوں کی کوئی حقیقت ہے جو مانعین زکوة ہیں. اور اگر ہم انہیں ایسے چھوڑ دیں گے تو اسلامی شہروں میں ان کا یہ واقعہ تیزی سے پھیل جائے گا اور عنقریب مرکز خلافت میں ان کا اثر و رسوخ بن جائے گا.

اب عمر نے دیکھا کہ خدا نے جنگ وقتال کے لئے ابوبکر کا سینہ کشادہ کردیا ہے کہدیا کہ ہاں یہی حق ہے.

ابوبکر ، عمر اور عثمان حدیث نبی(ص) لکھنے سے منع کرتے ہیں

جب محقق تاریخی کتابوں کا مطالعہ کرے گا اور اس بات کا احاطہ کرے گا کہ خلفائے ثلاثہ کی حکومت میں بہت سی خلافت ورزیاں ہوئی ہیں تو وہ بخوبی سمجھ لے گا کہ انہوں نے( خلفائے ثلاثہ) حدیث نبوی کو ضبط تحریر میں لانے اور اس کی تدوین ہی کو منع نہیں کیا بلکہ حدیث بیان کرنے پر بھی پابندی لگا دی تھی کیونکہ وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ احادیث ان کی مصلحت کے خلاف ہیں یا کم از کم ان کے


اکثر ان احکام و افعال کے مخالف و معارض ہیں جو ان کی تاویل و اجتہاد کا نتیجہ ہیں. باقی بچی حدیث نبی(ص) کہ جو شریعت اسلامی کا دوسرا مصدر ہخ بلکہ مصدر اول کی مفسر اور بیان کرنے والی ہے. واضح رہے کہ مصدر اول قرآن مجید ہے، حدیث بیان کرنا حرام تھی اسی لئے مورخین و محدثین نے پہلی فرصت میں عمر ابن عبدالعزیز یا ان کے زمانہ کے کچھ اور بعد میں حدیث کی تدوین و دستہ بندی کا کام شروع کیا بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب العلم کے باب" کیف یقبض العلم" میں تحریر کیا ہے کہ عمر ابن عبد العزیز نے ابوبکر ابن حزم کو لکھا کہ تمہیں جہاں بھی رسول(ص) کی حدیث ملے اسے لکھ لو میں ڈرتا ہوں کہ علماء کے فوت ہو جانے سے علم کے نشانات نہ مٹ جائیں.

لیجئے وفات نبی(ص) کے بعد ابوبکر لوگوں کے درمیان خطبہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں تم لوگ رسول(ص) سے حدیث نقل کرتے ہو اور ان میں اختلاف کرتے ہو. تمہارے بعد والے ان میں اور زیادہ اختلاف کریں گے لہذا تم رسول(ص) کی کسی حدیث کو بیان نہ کرنا جو تم سے حدیث رسول(ص) کے بارے میں پوچھے تو کہہ دینا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کتاب خدا ہے اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھو.(1)

قسم خدا کی ابوبکر کی یہ حرکت بہت ہی عجیب ہے اس بدترین روز کہ جسے" رزیة یوم الخمیس" کہا جاتا ہے، ابوبکر نے بھی اپنے دوست عمر کی اس بات ی موافقت کی کہ ہمارے لئے کتاب خدا کافی ہے. رسول اللہ(ص) تو ہذیان بک رہے ہیں.

آج ابوبکر کہتے ہیں کہ رسول(ص) کی کوئی حدیث بیان نہ کرنا اور جو شخص تم سے سوال کرے تو کہہ دینا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کتاب خدا ہے.

____________________

1.تذکرة الخواص، جلد/1 ص3


اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام سمجھو! الحمد للہ کہ انہوں نے صریح طور پر اس بات کا اعتراف کر لیا کہ انہوں نے حدیث رسول(ص) کو پس پشت ڈال دیا تھا اور اس (حدیث) کو بھلا بیٹھے تھے.

یہاں ابوبکر و عمر کا دفاع کرنے والے اور رسول(ص) کے بعد انہیں سب سے افضل سمجھنے والے اہل سنت سے ایک سوال کیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ جب تم اپنی صحاح میں اپنے اعتقاد کے مطابق یہ روایت نقل کرتے ہو کہ رسول(ص) نے فرمایا کہ:

میں تمہارے درمیان دو خلیفہ چھوڑے جا رہا ہوں میرے بعد جب تک تم ان سے متمسک رہوگے اس وقت تک گمراہ نہ ہوگے( وہ ہیں) کتاب خدا اور میری سنت،

اگر ہم اس حدیث کے صحیح ہونے کو تسلیم بھی کر لیں تو تمہارے نزدیک افضل الخلق (ابوبکر و عمر) کو کیا ہوگیا تھا کہ انہوں نے سنت کا انکار کر دیا اور اس کا کوئی وزن نہ سمجھا بلکہ لوگوں کو اس کے قلمبند کرنے اور بیان کرنے سے بھی منع کر دیا؟ کیا کوئی ابوبکر سے یہ سوال کرسکتا ہے کہ آپ نے مانعین زکوة کے قتل کا اور ان کی عورتوں کی بے حرمتی کا تذکرہ کسی آیت میں دیکھا ہے؟

پس ہمارے اور ابوبکر کے درمیان کتاب خدا ہے جو زکوة نہ دینے والوں کے متعلق یہ کہتی ہے کہ:

( وَ مِنْهُمْ‏ مَنْ‏ عاهَدَ اللَّهَ‏ لَئِنْ آتانا مِنْ فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ. فَلَمَّا آتاهُمْ مِنْ فَضْلِهِ بَخِلُوا بِهِ وَ تَوَلَّوْا وَ هُمْ مُعْرِضُونَ. فَأَعْقَبَهُمْ نِفاقاً فِي قُلُوبِهِمْ إِلى‏ يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ بِما أَخْلَفُوا اللَّهَ ما وَعَدُوهُ وَ بِما كانُوا يَكْذِبُونَ )

سورہ توبہ، آیت/75-77


ان میں وہ بھی ہیں جنہوں نے خدا سے عہد کیا کہ اگر وہ اپنے فضل و کرم سے عطا کر دے گا تو اس کی راہ میں صدقہ دیں گے اور نیک بندوں میں شامل ہو جائیں گے. اس کے بعد جب خدا نے اپنے فضل سے عطا کر دیا تو بخل سے کام لیا اور کنارہ کش ہو کر پلٹ گئے تو ان کے بخل نے ان کے دلوں میں نفاق راسخ کر دیا، اس دن تک کے لئے جب یہ خدا سے ملاقات کریں گے اس لئے انہوں نے خدا سے کئے ہوے وعدہ کی مخالفت کی ہے اور جھوٹ بولے ہیں.

تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیات خصوصا ثعلبہ کے متعلق نازل ہوئی ہیں. جس نے رسول(ص) کو زکوة دینے سے انکار کر دیا تھا. میں یہاں ایک بات کا اضافہ کرتا ہوں اور نہ یہ کہ ثعلبہ نے رسول(ص) کو زکوة دینے سے منع کیا تھا کیونکہ وہ رکوة کا جذیہ کہتا تھا جیسا کہ خدا نے گذشتہ آیات میں اس کے نفاق کو بیان کیا ہے اس کے باوجود نبی(ص) نے اس سے جنگ نہیں کی اور طاقت وقوت سے اس کا مال نہیں چھینا جب کہ آپ(ص) اس بات پر قادر تھے. لیکن مالک ابن نویرہ اور ان کے قبیلہ والوں نے تو زکوة کا انکار نہیں کیا تھا بلکہ وہ زکوة دیگر فرائض دین کی طرح فرض سمجھتے تھے. ہاں وہ اس خلیفہ کا انکار کرتے تھے کہ جو رسول(ص) کے بعد زبردستی منصب خلافت پر متمکن ہوا تھا.

تو ابوبکر کی یہ بات تو اور زیادہ عجیب و غریب ہے کہ انہوں نے کتاب خدا کو بھی پس پشت ڈال دیا تھا. جیسا کہ جناب فاطمہ(ع) نے قرآن سے استدلال کیا اور ان کے سامنے کتاب خدا کی ان محکم و آشکار آیات کی تلاوت کی جو وراثت انبیاء کو ثابت کرتی ہیں. لیکن ابوبکر نے کسی ایک آیت کو تسلیم نہ کیا.


اور تمام آیایتوں کو اپنی گڑھی ہوئی حدیث سے منسوخ کردیا اور آنحالیکہ خود لوگوں سے کہتے ہیں کہ تم لوگ رسول(ص) کی حدیث نقل کرتے ہو اور پھر اس میں اختلاف کرتے ہو. اور لوگ تمہارے بعد اس میں شدید اختلاف کریں گے پس تم رسول(ص) کی کوئی حدیث بیان نہ کرنا جو شخص تم سے کچھ پوچھے تو کہدینا کہ ہمارے، تمہارے درمیان کتاب خدا ہے اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھو! یہی بات ابوبکر نے اس وقت کیوں نہیں کہی تھی جب بضعة الرسول(ص) فاطمہ(ع) سے اس حدیث کے بارے میں اختلاف کیا تھا کہ ہم گروہ انبیاء نہ وارث بنتے ہیں اور نہ وارث بناتے ہیں،، ان کے بارے میں یہ فیصلہ کیوں نہیں کیا کہ ہمارے تمہارے درمیان کتاب خدا ہے اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھو؟ ایسی حالت میں جواب تو مشہور ہے عنقریب اس کا مخالف قرآن ہونا آپ پر آشکار ہو جائے گا. اور جب اپنے دعوے میں ابوبکر پر غالب ہوگئیں تو حضرت علی(ع) کی خلافت کی نصوص سے احتجاج فرمایا اور اب ابوبکر کے پاس ان کو جھٹلانے کا کوئی ذریعہ نہ تھا ایسے ہی موقع کے لئے خداوند عالم فرماتا ہے:

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ‏ تَقُولُونَ‏ ما لا تَفْعَلُونَ‏ كَبُرَ مَقْتاً عِنْدَ اللَّهِ‏ أَنْ تَقُولُوا ما لا تَفْعَلُونَ)

اے ایمان والو آخر وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر عمل نہیں کرتے ہو، اللہ کے نزدیک ہ سخت ناراضگی کا سبب ہے کہ تم وہ کہو جس پر عمل نہیں کرتے ہو.

جی ہاں ابوبکر کو اس وقت آرام نہیں مل سکا تھا جب احادیث نبی(ص) لوگوں کے درمیان اس طرح متداول رہتیں کہ لوگ انہیں(حدیثوں کو) حفظ کرتے لکھتے، ایک شہر سے دوسرے شہر تک پہونچاتے، ایک دیہات سے دوسرے


دیہات میں پہونچاتے اور ان میں وہ صریح نصوص تھیں جو اس سیاست کے خلاف تھیں جس پر ابوبکر کی حکومت کی اساس تھی. پس ابوبکر کے سامنے اس کا صرف یہی حل تھا کہ وہ احادیث کو چھپائے، ان پر پردہ ڈالے یا انہیں جلا کر خاکستر کر دے اور بالکل نابود کر دے.(1) یہ لیجئے ان کی بیٹی عائشہ گواہی دیتی ہیں، کہتی ہیں: میرے والد نے رسول(ص) کی پانچ سو احادیث جمع کیں پھر ان کی رائے بدل گئی ہیں نے کہا: کس چیز کی بنا پر ان کی رائے بدل گئی، پس صبح کے وقت انہوں نے کہا: بیٹی وہ حدیثیں لے آئو جو تمہارے پاس ہیں. میں نے پیش کر دیں تو انہوں نے ان میں آگ لگا دی.(2)

عمر ابن خطاب نقل حدیث پر پابندی لگاتے ہیں

حدیث پر پابندی کے سلسلہ میں ہم ابوبکر کی سیاست دیکھ چکے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے حدیث کا وہ مجموعہ بھی نذر آتش کر دیا تھا کہ جس میں پانچ سو حدیثیں مندرج تھیں اس مجموعہ کو نذر آتش کرنے کا سبب ان اصحاب اور مسلمانوں کو ان احادیث سے جاہل رکھنا تھا کہ جو سنت نبی(ص) کے پیاسے ہیں. اور جب عمر ابوبکر کے قائم مقام بنے تو بھائی چارگی اور دوستی کا اقتصاد یہ تھا کہ اسی

____________________

1.کنز العمال جلد/5 ص237 اور ابن کثیر نے مسند صدیق میں اور ذہبی نے تذکرة الحفاظ کی جلد/5 ص5 پر تحریر کیا ہے.

2. کنز العمال جلد/5 ص237 اور ابن کثیر نے مسند صدیق میں، ذہبی نے تذکرة الحفاظ کی جلد/5 ص5 پر تحریر کیا ہے.


سیاست کو اختیار کریں لیکن ان کا انداز بہت ہی شدت اور سختی کا تھا. انہوں نے نقل حدیث اور تدوین حدیث کی پابندی ہی پر اکتفا نہ کی بلکہ اس سلسلہ میں لوگوں کو ڈرایا دھمکایا اور مارا بھی اور لوگوں کو محصور کر دیا.

ابن ماجہ نے قرظہ ابن کعب سے روایت کی ہے کہ عمر نے ہمیں کوفہ بھیجا اور خود بھی صرار تک ہمارے ساتھ ساتھ چلتے رہے. راستہ میں کہنے لگے کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیوں ہوں؟ ہم نے کہا کہ رسول(ص) کی صحبت کے حق کی بنا پر اور انصار کے حق کی وجہ سے، انہوں نے کہا نہیں میں تمہارے ساتھ اس لئے آیا ہوں تاکہ ایک حدیث تم سے بیان کروں میں چاہتا تھا کہ تم اسے محفوظ رکھو. تم اس قوم کے پاس جارہے ہو جو قرآن سن کر بہت خوش ہوتی ہے. پس جب اس کی نظریں تم پر پڑیں گی تو وہ ضرور تمہارے پاس آئے گی اور کہے گی اے اصحاب محمد! تو تم رسول(ص) سے کم روایت نقل کرنا پھر میں تمہارے ساتھ ہوں.(1)

جب قرظہ ابن کعب آئے تو انہوں نے کہا ہم سے حدیث بیان کیجئے ابن کعب نے کہا کہ حدیث بیان کرنے سے ہمیں عمر نے منع کیا ہے.(2)

اس طرح مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب الادب کے باب الاستئذان میں روایت کی ہے کہ عمر نے ابوموسی اشعری سے کہا اگر تم رسول(ص) سے حدیث نقل کرو گے تو تمہاری خبر لی جائے گی.

ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ ہم ایک روز ابی ابن کعب کے

____________________

1.سنن ابن ماجہ جلد/باب التوفی فی الحدیث

2.ذہبی نے تذکرة الحفاظ جلد/1 ص4-5 پر تحریر کیا ہے


پاس بیٹھے تھے کہ غصہ کے عالم میں ابوموسی اشعری آئے اور کھڑے ہو کر کہنے لگے: میں تمہیں خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم سے کسی نے رسول(ص) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ تین مرتبہ اجازت طلب کرنا چاہئے اگر اجازت ملے فبہا ورنہ واپس لوٹ جانا چاہیئے.ابی ابن کعب نے کہا کیا ہوا؟ اشعری نے کہا کل میں نے عمر ابن خطاب کے پاس پہونچنے کے لئے تین مرتبہ اجازت طلب کی، انہوں نے اجازت نہ دی میں واپس آگیا آج پھر ان کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ میں کل بھی آیا تھا لیکن تین مرتبہ اجازت طلب کر کے چلا گیا عمر نے کہا: ہم نے تمہاری آواز سنی تھی لیکن ہم اس وقت ایک کام میں مشغول تھے اگر تم اسی طرح اجازت طلب کرتے رہتے تو تمہیں اجازت مل جاتی. میں نے کہا : میں نے رسول(ص) کے فرمان کے مطابق عمل کیا. عمر نے کہا کہ قسم خدا کی اگر تم نے اس حدیث کو گواہی نہ پیش کی تو میں تمہارے پیٹ اور پیٹھ کو ضرور دکھ پہونچائوں گا. ابی ابن کعب نے کہا کہ قسم خدا کی میں تمہارے ساتھ تمہارے ہی ہم سن کو بھیجتا ہوں. ابو سعید کہتے ہیں. ابی ابن کعب نے مجھ سے کہا ابو سعید اٹھو! بس میں اٹھا اور عمر کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے رسول(ص) سے یہ حدیث سنی ہے.

بخاری نے بھی اس واقعہ کو اپنی عادت کے مطابق کترو بیونت کے ساتھ نقل کیا ہے اور اس سے عمر کی عزت بچانے کے لئے اس دھمکی کا تذکرہ غائب کر دیا ہے جو عمر نے ابوموسی اشعری کو دی تھی کہ " اگر کوئی ثبوت پیش نہ کیا تو خبر لی جائے گی"(1) جب کہ مسلم نے اپنی صحیح میں عمر کے بارے میں ابو موسی اشعری کا یہ قول نقل کیا ہے کہ: اے فرزند خطاب اصحاب رسول(ص) کے لئے عذر نہ بنو.

____________________

1.صحیح بخاری،کتاب الاستئذان باب التسلیم والاستئذان ثلاثا،،


ذہبی نے ابو سلمہ سے روایت کی ہے کہ میں نے ابوہریرہ سے کہا کیا آپ عمر کے زمانہ میں یہ حدیث بیان کرتے تھے؟ کہا اگر میں عمرکے زمانہ میں ایسی حدیثیں بیان کرتا تو وہ کوڑے سے میری خبر لیتے.

جیسے عمر نقل حدیث کی ممانعت کے سلسلہ میں مارنے پیٹنے کی دءھمکی دے چکے تھے ایسے ہی یہ دوسرے ہیں جس نے صحابہ کی جمع کی ہوئی حدیثوں کو جلا ڈالا ایک روز لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے کہا:

لوگو! مجھے اطلاع ملی ہے کہ تمہارے پاس کچھ کتابیں ہیں میری خواہش ہے کہ سب کو ملا کر ایک مستحکم و استوار کتاب مرتب کردوں، پس جس جس کے پاس کتاب ہے وہ لاکر میرے پاس جمع کر دے میں اس میں غور و فکر کروں گا. لوگوں نے سوچا کہ عمر حدیثوں کو دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں ایک نہج سے جمع کریں کہ جس سے کوئی اختلاف پیدا نہ ہو، پس وہ اپنی اپنی کتاب لے کر عمر کے پاس آئے اور عمر نے سب کو جمع کر کے نذر آتش کر دیا.(1) اس طرح ابن عبدالبر نے اپنی جامع میں علم کی فضیلت کے سلسلہ میں تحریر کیا ہے کہ عمر سنت کو لکھنا چاہتے تھے پھر ان کے لئے بداء واقع ہوگیا اس لئے انہوں نے نہیں لکھا اور دوسرے شہروں میں لکھ بھیجا کہ جس کے پاس کوئی چیز ( یعنی حدیث ہو اسے مٹا دے.

حدیث کے رواج کے جتنے راستے تھے، ڈرانا، دھمکانا، منع کرنا، احادیث کی کتابوں کو جلانا، سب بند کر دئے اب چند صحابہ بچے جو مدینہ سے باہر سفر میں لوگوں سے ملاقات کے دوران رسول(ص) کی حدیث بیان کرتے تھے

____________________

1.طبقات الکبری لابن سعد جلد/5 ص188 اور خطیب بغدادی نے تقیید العلم میں تحریر کیا ہے


لیکن جب عمر کو اس کی اطلاع ملی تو ان کو مدینہ میں مقید کر دیا اور باہر نکلنے پر پابندی لگا دی. ابن اسحاق نے عبدالرحمن ابن عوف سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ قسم خدا کی عمر نے مرنے سے قبل گوشہ و کنار سے اصحاب رسول(ص) کے پاس پیغام بھیجا اور ان سب کو جمع کیا. عبداللہ ابن حذیفہ، ابو درداء ابو ذر غفاری اور عقبہ ابن عامر کے سامنے کہا یہ احادیث نہیں ہیں جو تم رسول(ص) سے نقل کر کے لوگوں میں پھیلا رہے ہو: انہوں نے کہا آپ نے ہمیں نقل کرنے سے منع کیا ہے؟ عمر نے کہا میرے پاس ٹھہرو! اور جب تک میں زندہ ہوں مجھ سے جدا نہ ہونا.(1)

عمر کے بعد خلیفہ ثالث عثمان آتے ہیں وہ بھی وہی راستہ اختیار کرتے ہیں اور اسی ڈگر پر گامزن ہوتے ہیں. جو ان کے گذشتہ دوستوں نے منتخب کی تھی منبر پر جاتے ہیں اور صریح طور پر کہتے ہیں.

کسی کے لئے رسول(ص) کی وہ حدیث نقل کرنا جائز نہیں ہے کہ جو اس نے ابوبکر و عمر کے زمانہ میں نقل نہ کی ہو.(2)

اس طرح حصار کا سلسلہ خلفائے ثلاثہ کی پچیس سالہ حکومت تک برقرار رہا. یہ حصار اگر انہیں کے زمانہ تک محدود رہتا تو بھی کافی تھا لیکن اس کے بعد بھی جاری رہا اور جب معاویہ حاکم بنا تو وہ بھی منبر پر گیا اور کہا: خبردار تم وہی حدیث بیان کرسکتے ہو جو عمر کے زمانہ میں بیان کرتے تھے کیونکہ عمر لوگوں کو خدا کے بارے میں ڈراتے تھے.(3)

____________________

1.کنز العمال جلد/5 ص239

2.مسند امام احمد ابن حنبل جلد/1 ص363

3.صحیح مسلم کتابکتاب الزکوة باب" النهی عن المسالة" من جزء الثالث"


اور بنی امیہ کے تمام خلفاء کا طریقہ بھی یہی رہا کہ انہوں نے لوگوں کو رسول(ص) کی صحیح حدیث نقل کرنے سے منع کیا. اور خود جھوٹی حدیثیں گڑھ کر رسول(ص) کی طرف منسوب کر دیں. نتیجہ میں ہر زمانہ کے مسلمان تناقضات، قصہ کہانیوں اور ایسی دلدل میں پھنس گئے کہ جن کا اسلام سے تعلق نہیں ہے. میں آپ کے سامنے مدائنی کا وہ قول نقل کرتا ہوں جو انہوں نے اپنی کتاب" الاحداث" میں نقل کیا ہے. کہتے ہیں کہ عام الجماعت کے بعد معاویہ نے اپنے کارندوں کو اس مضمون کا خط لکھا کہ: اس شخص کے جان و مال کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے جو ابو تراب علی ابن ابی طالب(ع) کی فضیلت کے سلسلہ کی کوئی حدیث بیان کرتا ہے. اس کا اثر یہ ہوا کہ ہر ضلع کے خطباء نے منبروں سے علی علیہ السلام پر لعنت اور ان سے بیزاری کا اظہار شروع کر دیا.

اس کے بعد ساری دنیا میں اپنے کارندوں کو لکھا کہ علی(ع) کے دوستوں اور اہلبیت(ع) کے محبوں کی گواہی قبول نہ کی جائے پھر لکھا کہ عثمان کے چاہنے والوں اور دوستداروں کا خیال رکھو اور جو ان کی فضیلت کے سلسلہ میں حدیث بیان کرتے ہیں ان کے پاس نشست و برخاست شروع کردو. انہیں قریب بلائو، ان کا احترام کرو. اور ان میں سے جو بھی عثمان کے بارے میں کوئی روایت نقل کرے اس کا نام اور اس کے خانوادہ کا نام مع ولدیت لکھ کر میرے پاس بھیج دو!

پس لوگوں نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ عثمان کے فضائل کی کثرت ہوگئی کیونکہ عثمان کے بارے میں حدیث گڑھنے والوں کے لئے معاویہ نے خلعت و عطیات بھیجے اور یہ بات عرب میں پھیل گئی لہذا ایسے لوگوں کی ہر شہر میں کثرت ہوگئی اور دنیا کے حصول میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل


کرنے کی غرض سے حدیثیں گڑھنے لگا. اگر لوگوں میں سے مردود ترین انسان نے معاویہ کے اعمال کے سامنے عثمان کی شان میں کوئی حدیث پیش کر دی تو اس کا نام نوٹ کر لیا گیا، مقرب بنایا گیا اور اس کی شفاعت کی گئی. پس ایک زمانہ تک لوگوں کا یہی رویہ رہا. پھر معاویہ نے اپنے کارندوں کو لکھا کہ عثمان کے بارے میں حدیثوں کی بہتات ہوگئی ہے اور ہر جگہ پھیل گئی ہیں. تم میرا خط پاتے ہی لوگوں کو دوسرے صحابہ اور پہلے دونوں خلفاء کی شان میں حدیثیں گڑھنے کا لالچ دو اور ابو تراب کی شان میں منقول کسی بھی حدیث کو ایسا نہ چھوڑو جس کا نقیض صحابہ سے منقول نہ ہو. کیونکہ یہ بات مجھے بہت پسند اور میرے سکون کا باعث ہے. ابوتراب اور ان کے شیعوں کی باتوں کو دلیل سے باطل کر دو. اور ان پر عثمان کے فضائل کو غلبہ دو.

معاویہ کا خط لوگوں کے سامنے پڑھا گیا نتیجہ میں صحابہ کے مناقب کے بارے میں ایسی بے شمار حدیثیں وجود میں آگئیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے. جب لوگوں کو ایسی حدیث مل جاتی تھی تو وہ اسے منبروں سے بیان کرتے اور مکتبوں کے معلموں کو تلقین کی جاتی کہ ہ بچوں کو ان احادیث کی تعلیم دیں کہ ہ بھی روایت بیان کرنے لگے. اور یہ چیز انہیں بالکل قرآن کی طرح سکھائی گئی. بلکہ لڑکیوں، عورتوں، خادموں، مخدوموں سبھی کو سکھا دی اور اس طرح ایک زمانہ گذر گیا.

پھر معاویہ نے تمام ممالک کے کارندوں کو ایک خط لکھا:

دیکھو کہ علی(ع) سے کون شخص محبت کرتا ہے جو ایسا کرتا ہے رجسٹر سے اس کا نام کاٹ دو اور اس کی بخشش و وظیفہ بند کر دو.


پھر ایک دوسرے خط کے ذریعہ اس کی توثیق کی:

جس کو تم اس قوم(اہل بیت(ع)) کی محبت میں متہم پائو اسے مصیبت میں مبتلا کر دو اور اس کے گھر کو منہدم کر دو.

عراق اور خصوصا کوفہ کے لئے اس سے بڑی اور کیا بلا ہوسکتی تھی. حد یہ تھی کہ شیعیان علی(ع) میں سے ایک شخص اپنے ایک معتمد دوست کے پاس آتا ہے اس کے گھر میں داخل ہوتا ہے اس سے اپنا راز بیان کرتا ہے اور اس کے خادموں اور غلاموں سے ڈرتا رہتا ہے. اور اس سے سخت قسم لئے بغیر کوئی بات نہیں کہتا تاکہ وہ اسے چھپائے رہے. پس بہت سی گڑھی ہوئی حدیثیں ظاہر ہوئیں اور اسی طریقہ پر فقہاھ قضاة اور حاکم چلے، اکثر لوگ اس مصیبت میں مبتلا تھے وہ کمزور افراد جو خشوع و عبادت کا اظہار کرتے تھے وہ حدیث تراشی میں اس لئے حصہ لیتے تھے تا کہ حکام سے کچھ ملے اور ان کی مجلسوں میں جگہ ملے، اموال ہاتھ آئے منزلت نصیب ہو یہاں تک کہ یہ روایات ان دیندان لوگوں نے بھی بیان کر ڈالیں جو جھوٹ اور بہتان کو قطعی حلال نہیں سمجھتے تھے لیکن وہ انہیں بھی حق سمجھتے تھے اگر وہ انہیں باطل سمجھتے تو کبھی نقل نہ کرتے اور نہ ان پر ایمان رکھتے.(1)

میں تو یہ کہتا ہوں کہ ساری ذمہ داری ابوبکر و عمر و عثمان کے سر جائے گی جنہوں نے رسول(ص) کی صحیح احادیث لکھنے سے صحابہ کو منع کیا تھا ان کے چاہنے والوں کا دعوی ہے کہ ابوبکر عمر و عثمان نے اس لئے احادیث نبی(ص) لکھنے سے منع کیا تھا تا کہ قرآن و حدیث میں اختلاط نہ ہو یہ تو ایسی بات ہے جسے سن کر دیوانے ہنس دیں. کیا قرآن و سنت ( حدیث) شکر و نم ہیں اگر دونوں

____________________

1.شرح نہج البلاغہ جلد/11 ص46


مخلوط ہوجائیں گے تو ایک کو دوسرے سے جدا کرنا مشکل ہو جائے گا اور پھر شکر و نمک بھی مخلوط نہیں ہوتے کیونکہ دونوں کو مخصوص بوروں میں رکھا جاتا ہے کیا خلفاء اس بات کو بھول گئے تھے قرآن کو خاص مصحف میں لکھا جائے اور حدیث کو مخصوص کتاب میں قلمبند کیا جائے جیسا کہ آج ہمارے زمانہ میں ہوتا ہے. اور عمر ابن عبدالعزیز کے زمانہ میں جب حدیث کی تدوین ہوئی تھی اس زمانہ سے ہوتا آرہا ہے پس سنت کیوں قرآن سے مخلوط نہیں ہوئی باوجودیکہ حدیثوں کی سیکڑوں کتابیں وجود میں آگئیں. یہاں تک کہ صحیح بخاری، صحیح مسلم سے اختلاط نہیں ہوتا ہے اور اسی طرح مسلم، مسند احمد اور موطاء مالک سے مختلط نہیں ہوتی ہے چہ جائیکہ قرآن مجید مخلوط ہو جاتا.

اس دلیل میں کوئی دم خم نہیں ہے بالکل بیت عنکبوت کی طرح ہے کہ جس کی بنیاد دلیل پر نہیں ہے بلکہ دلیل اس کے برعکس صحیح ہے زہری نے عروہ سے روایت کی نے کہ عمر ابن خطاب سنن کو لکھنا چاہتے تھے اس کے لئے انہوں نے اصحاب سے مشورہ کیا. انہوں نے مشورہ دیا کہ ضرور لکھا جائے پس عمر نے اس سلسلہ میں ایک مہینہ تک خدا کے استخارہ سے مدد چاہی پھر ایک روز کہنے لگے میں سنن( حدیثوں) کو لکھنا چاہتا تھا تم سے قبل میں نے کچھ لوگوں سے اس کا تذکرہ بھی کیا تھا لیکن وہ اسی میں منہمک ہوگئے اور کتاب خدا کو چھوڑ دیا اور قسم خدا کی میں قرآن کو کبھی کسی چیز سے مخلوط نہیں کروں گا.(1)

قارئین محترم اس روایت کو ملاحظہ فرمائیں اصحاب رسول(ص) نے عمر کو کیسے مشورہ دیا کہ سنن کو لکھا جائے لیکن انہوں نے کل صحابہ کی مخالفت کی اور ان کی

____________________

1.کنزالعمال جلد/5 ص239 اور ابن سعد نے زہری کے طریقہ سے نقل کیا ہے اور عبدالبر نے کتاب جامع میں بیان العلم و فضل میں لکھا ہے


رائے کو یہ کہکر ٹھکرا دیا کہ میں نے تم سے پہلے والے لوگوں سے بھی اس سلسلہ میں گفتگو کی تھی انہوں نے کتابیں بھی لکھیں اور اسی کے ہو کے رہ گئے اور کتاب خدا کو بھول گئے، اب شوری کا دعوی کہاں چلا گیا کہ جس کو اہل سنت بڑے شد و مد کے ساتھ پیش کرتے ہیں. وہ قوم کہاں ہے جو سر جوڑ کر حدیثوں کی جمع آوری میں لگ گئے اور کتاب خدا کو بھلا دیا. اس کے بارے میں ہم نے عمر ابن خطاب کے علاوہ کسی سے بھی نہیں سنا ہے. اور اگر اس قوم کا وجود فرض بھی کر لیا جائے تو بھی مقارنت کی یہاں کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ انہوں نے کتاب خدا میں تحریف کر کے اپنی طرف سے ایک کتاب لکھ دی تھی جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے.

( فَوَيْلٌ‏ لِلَّذِينَ‏ يَكْتُبُونَ‏ الْكِتابَ‏ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هذا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَناً قَلِيلًا فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَ وَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ) بقرہ، آیت/79

وائے ہو ان لوگوں پر جو اپنے ہاتھ سے کتاب لکھ کر یہ کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے تا کہ اسے تھوڑے دام میں بیچ لیں ان کے لئے اس تحریر پر بھی عذاب ہے اور اس کی کمائی پر بھی.

لیکن سنن کو لکھنے میں یہ شکل نہیں ہے کیونکہ وہ اس معصوم نبی(ص) کا کلام ہے جو اپنی خواہش سے کچھ کہتا ہی نہیں وہ تو وحی کے مطابق کلام کرتا ہے اور سنن قرآن کی مفسر اور اس کو بیان کرنے والی ہے چنانچہ قول خدا ہے:

( وَ أَنْزَلْنا إِلَيْكَ‏ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ )

اور آپ کی طرف بھی ذکر(قرآن) کو نازل کیا ہے تاکہ ان کے لئے ان احکام کو واضح کر دیں جو ان کی طرف نازل


کئے گئے ہیں. سورہ نحل، آیت/44

اور رسول(ص) کا ارشاد ہے کہ مجھے قرآن عطا کیا گیا اور اس کا مثل اس کے ہمراہ ہے اور یہ بات تو قرآن جاننے والے کے لئے واضح ہے کیونکہ پانچ وقت کی نماز، زکوة اور ان کی رکعات و مقدار قرآن میں نہیں ہے. اور نہ ہی روزے کے احکام اور مناسک حج قرآن میں بیان ہوئے ہیں بلکہ بیشتر احکام رسول(ص) نے بیان فرمائے ہیں. اور اسی لئے خداوند عالم نے ارشاد فرمایا ہے:

( ما آتاكُمُ‏ الرَّسُولُ‏ فَخُذُوهُ وَ ما نَهاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ) سورہ حشر، آیت/7

جو کچھ بھی رسول(ص) تم کو دے دے اسے لے لو اور جس چیز سے منع کر دے اس سے رک جائو.

نیز ارشاد ہوتا ہے:

( قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ‏ اللَّهَ‏ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ‏ )

(اے رسول) کہدیجئے اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میرا اتباع کرو خدا بھی تم سے محبت کرے گا.

اے کاش عمرکتاب خدا کو سمجھتے اور اسی میں منہمک ہو جاتے اور اس سے احکام رسول(ص) کی اطاعت کرنا سیکھتے اور اس سے مناقشہ نہ کرتے اور نہ ہی اس میں مین میخ نکالتے.(1) کاش عمر کتاب خدا کو سمجھتے اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے اور اس سے احکام کلالہ کی تعلیم حاصل کرتے کہ جس کو وہ مرتے دم تک نہ جان سکے

____________________

1.صحیح بخاری جلد/1 ص37 باب کتاب العلم و جلد/5 ص138


جبکہ اپنی خلافت کے زمانہ میں متعدد فیصلے کئے. اے کاش عمر کتاب خدا کو سمجھتے اور اس میں کوشش کرتے اور اس سے تیمم کا حکم سیکھتے کہ جس کو اپنی خلافت کے زمانے میں نہیں جانتے تھے. اور جس کو پانی نہیں ملتا تھا اسے نماز چھوڑ دینے کا فتوی دے دیتے تھے.(1) اے کاش عمر کتاب خدا کو سمجھتے اور اس کی تعلیم کے سلسلہ میں کدو کاوش کرتے اور اس سے طلاق کا حکم اخذ کرتے طلاق بس دو ہی ہیں اس کے بعد یا روک لینا چاہئے یا آزاد کر دینا چاہئے. عمر نے طلاق ایک کر دی.(2) اور اپنی رائے و اجتہاد کو احکام خدا پر مقدم کیا اور انہیں دیوار پر دے مارا.

نا قابل انکار حقیقت یہ ہے کہ خلفائے نے احادیث کی نشر و اشاعت کو ممنوع قرار دیا اور ان کے بیان کرنے والوں کو دھمکی دی احادیث پر اس لئے پردہ ڈالا کہ وہ ان کی خطائوں کو اجاگر اور سازشوں کو منکشف کرتی ہیں اور قرآن کی طرح وہ ان کی تاویل نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ قرآن صامت ہے اور متعدد وجوہ کا حامل ہے لیکن حدیث رسول(ص) تو اقوال افعال نبی(ص) کا نام ہے کوئی بھی اس بات کی تردید نہیں کرسکتا ہے اسی لئے حضرت علی(ع) نے ابن عباس کو خوارج سے مباحثہ کرنے کے لئے روانہ کرتے وقت فرمایا تھا:

تم ان پر قرآن سے حجت قائم نہ کرنا کیونکہ قرآن میں متعدد احتمالات ہیں اس کے وہ اور تم دونوں ہی قائل ہو. ان پر سنت کے ذریعہ حجت قائم کرنا اس سے وہ ہرگز فرار نہیں کرسکیں گے.(3)

____________________

1.صحیح بخاری جلد/1 ص90، مسلم جلد/1 ص193 باب التیمم

2.صحیح مسلم کتاب الطلاق جلد/1

3.نہج البلاغہ جلد/1 ص77 مکتوب بنام ابن عباس


ابوبکر ، عمر کو خلیفہ بنا کر نصوص کی مخالفت کرتے ہیں

اس موضوع کے سلسلہ میں علی علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:

قسم خدا کی فرزند ابوقحافہ نے خلافت کی قمیص کو زبردستی پہن لیا ہے جب کہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ خلافت میں میرا وہی مقام ہے جو چکی میں کیل( قطب) کا ہوتا ہے... حادثات کا سیلاب میرا کچھ نہیں بگاڑتا، میری بلندی تک پرندہ پر نہیں مارسکتا، میں نے اس پر پردہ ڈال دیا ہے. اور اس سے کنار کشی اختیار کر لی، اور سوچنے لگا کیا میں اپنے کٹے ہوئے ہاتھ سے حملہ کردوں یا اس گھٹا ٹوپ تاریکی پر صبر کر لوں کہ جس میں بڑے بوڑھے اور بچے جوان ہو جاتے ہیں اور مومن رنج اٹھاتا ہوا اپنے رب سے جاملتا ہے. پس میں نے صبر ہی کو ق رین عقل سمجھا میں نے صبر کیا حالانکہ میری آنکھ میں خار تھا اور حلق میں ہڈی پھنسی ہوئی تھی میں اپنی میراث کو لٹتے ہوئے دیکھ رہا تھا یہاں تک کہ پہلے نے راہ لی اور اپنے بعد خلافت کی زمام ابن خطاب کے ہاتھوں میں دے گیا ( کہاں یہ دن جو ناقہ کی پشت پر کٹا ہے اور کہاں وہ دن جو حیان برادر جابر کے ساتھ گذرتا تھا)

تعجب ہے یا تو وہ اپنی زندگی ہی میں خلافت سے دست بردار ہونا چاہتا تھا یا اب مرنے کے بعد بھی دوسرے


کے سپرد کر گیا ان دونوں ( ابوبکر و عمر) نے خلافت کے پستان کو بانٹ لیا ہے، خلافت سخت مزاج( انسان) کے ہاتھوں میں پہونچ گئی ہے. اب اس کا کلام غلیظ اس کے لمس میں کھر دراپن ہے. اس میں لغزشیں بے شمار اور عذر خواہی اس سے بھی زیادہ ہے.(1)

ہر محقق و جوئیندہ اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ رسول(ص) نے اپنی وفات سے قبل نص کے ذریعہ حضرت علی ابن ابی طالب(ع) کو خلیفہ معین کیا تھا اس طرح اکثر صحابہ پر بھی یہ بات مخفی نہیں تھی خصوصا ابوبکر و عمر اس سے اچھی طرح واقف تھے.(2) اسی لئے حضرت علی(ع) نے فرمایا ہے کہ وہ ( ابوبکر) بخوبی جانتا ہے کہ خلافت میں میرا وہی مقام ہے جو چکی میں کیل کا ہوتا ہے. شاید ابوبکر و عمر نے اسی بنا پر لوگوں کو نبی(ص) کی حدیث نقل کرنے سے منع کر دیا تھا جیسا کہ ہم گذشتہ فصل میں اس بات کی طرف اشارہ کرچکے ہیں اور قرآن سے تمسک کا اظہار کیا تھا کیونکہ قرآن میں صریح طور پر کہیں بھی علی(ع) کے نام کا تذکرہ نہیں ہوا ہے اگرچہ اس میں آیت ولایت موجود ہے لیکن نبی(ص) کی احادیث میں کھلے لفظوں میں علی(ع) کا نام آیا ہے جیسا کہ ارشاد ہے:

"من‏ كنت‏ مولاه‏ فهذا على مولاه "

" جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں"

"على‏ منّى‏ بمنزلة هرون من موسى"

____________________

1.شرح نہج البلاغہ محمد عبدہ جلد/1 ص84-87

2.سرالعالمین مصنف امام غزالی


"علی(ع) میرے لئے ایسے ہی ہیں جیسے موسی کے لئے ہارون تھے"

" عليّ‏ أخي‏ و وصيّي و خليفتي من بعدي "

"میرے بعد علی میرے بھائی، وصی اور خلیفہ ہیں"

"علي‏ مني‏ و أنا منه‏ و هو ولي كل مؤمن بعدي."

"علی(ع) مجھ سے ہیں اور میں علی(ع) سے ہوں وہ میرے بعد ہر ایک مومن کے ولی ہیں"(1)

اس سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ابوبکر و عمر اپنے اس منصوبہ میں یعنی احادیث نبی(ص) کے نقل کرنے اور انہیں جلانے میں اس حد تک کامیاب ہوئے کہ حدیثیں زبانوں سے باہر بھی نہ نکل پائیں صحابہ بیان نہ کرسکے جیسا کہ ہم قرظہ ابن کعب کی روایت میں بیان کر چکے ہیں اور حصار بندی کا سلسلہ ایک چوتھائی صدی تک جاری رہا یہاں تک کہ جب حضرت علی علیہ السلام مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو صحابہ کو رحبہ کے میدان میں جمع کیا اور ان سے حدیث غدیر کے متعلق دریافت کیا تو تیس30 صحابہ نے اٹھ کر اس کا اقرار کیا ان اقرار کرنے والوں میں سے سولہ16 بدری صحابی تھے.(2)

یہ چیزیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ تیس 30 صحابہ اگر حضرت علی(ع) نہ فرماتے تو اس حدیث کو بیان نہ کرتے پس اگر علی(ع) خلیفہ نہ ہوتے اور ان کے پاس

____________________

1.ان تمام حدیثوں کو بالترتیب طبری نے ریاض النضرہ میں نسائی نے خصائص میں احمد ابن حنبل نے نقل کیا ہے.

2.مسند احمد ابن حنبل جلد/1 ص119، ابن عساکر جلد/2 ص7


قوت نہ ہوتی تو وہ صحابہ خوف کے مارے خاموش بیٹھے رہتے جیسا کہ اس وقت بھی بعض صحابہ یا تو حسد یا خوف کی وجہ سے خاموش بیٹھے رہے مثلا انس ابن مالک برا ابن عازب اور زید ابن ارقم، جریر ابن عبداللہ بجلی.(1) کہ انہیں حضرت علی(ع) کی بد دعا لگی.

حضرت علی(ع) کو خلافت سے کوئی فائدہ نہیں پہونچا، آپ کی خلافت کا پورا زمانہ نشیب و فراز، فتنہ و فساد، سازش و جنگ میں گذرا آپ کے خلافت بدر و حنین اور خیبر کینہ توزی و دشمنی پھوٹ پڑی یہاں تک کہ آپ نے شہادت پائی. ناکثین، قاسطین اور مارقین میں ان حدیثوں کو سننے والا تلاش نہیں کرسکتے وہ لوگ تو عثمان کے زمانہ ہی سے فتنہ و فساد اور رشوت سے الفت اور دینا سے محبت رکھتے تھے ابن ابی طالب(ع) ایک چوتھائی صدی سے چلے آنے والے فساد و انحراف کی اصلاح نہیں کرسکتے تھے ہاں کرسکتے تھے لیکن فساد ہی کے ذریعہ اور علی(ع) ایسا کبھی نہیں کرسکتے تھے آپ خود فرماتے ہیں: قسم خدا کی میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تمہاری اصلاح کس چیز سے ہوسکتی ہے لیکن میں اپنے نفس کو برباد کر کے تمہاری اصلاح نہیں کروں گا.

ابھی تھوڑی ہی زمانہ گزرا تھا کہ تخت خلافت پر معاویہ متمکن ہوا اور احادیث کی نشر و اشاعت پر پابندی کا سلسلہ پہلی روش سے متصل ہوگیا. چنانچہ معاویہ نے نقل حدیث کے سلسلہ میں کہا کہ وہی حدیثیں نقل کی جائیں جو عمر کے زمانہ میں بیان ہوتی تھیں. اب تو حالت اور بدتر ہوگئی اور صحابہ و تابعین کو احادیث گڑھنے کے لئے بٹھا دیا گیا اور سنت رسول(ص) جھوٹ و

____________________

1.انساب الاشراف جلد/2 ص156، المعارف لابن قتیبہ ص194


واہیات میں گم ہوگئی.اسی حالت میں مسلمانوں پر ایک صدی گذر گئی اور عامہ میں سنت معاویہ کا اتباع ہونے لگا. واضح رہے کہ ہمارے" قول سنت معاویہ" کے معنی یہ ہیں کہ خلفائے ثلاثہ ابوبکر، عمر، عثمان، کے وہ اقوال و افعال جو معاویہ کے پسندیدہ تھے اور خود معاویہ اور اس کے کارندوں کا کردار بھی اس میں شامل ہے ان کی سنت کی ایک مثال علی(ع)، اہلبیت(ع) اور شیعوں پر ان کا سب و شتم کرنا ہے.

اس کے لئے میں پھر اپنے موضوع کی طرف پلٹتا ہوں اور اس کی تکرار کرتا ہوں کہ ابوبکر و عمر اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے اور قرآن سے رجوع کرنے کا ڈھونگ رچا کر سنت نبی(ص) کو مٹا ڈالا چنانچہ آپ آج چودہ صدیاں گذر جانے کے بعد بھی ملاحظہ کریں گے اور جب آپ ان پر نبی(ص) کی متواتر حدیثوں سے حجت قائم کریں گے، یعنی وہ حدیثیں جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ رسول(ص) نے علی(ع) کو خلیفہ معین کیا ہے تو وہ کہیں گے کہ حدیث نبی(ص) کو چھوڑئے اس میں تو اختلاف ہے ہمارے لئے کتاب خدا کافی ہے اور اس (کتاب خدا) میں یہ تذکرہ نہیں ہے کہ علی(ع) نبی(ص) کے خلیفہ ہیں بلکہ قرآن تو اس معاملہ کو شوری کے سپرد کرتا ہے.

یہ ہے ان کی دلیل جب بھی میں نے اہلسنت کے کسی عالم سے گفتگو کی ہے تو انہوں نے شوری ہی کے گیت گائے ہیں. اس بات سے قطع نظر کہ ابوبکر کی بیعت بغیر سوچے سمجھے ہوگئی تھی اور خدا ہی نے مسلمانوں کو اس کے شر سے محفوظ رکھا.(1) وہ بھی تو بغیر کسی مشورہ کے ہوئی تھی بلکہ غفلت و نادانی، زبردستی اور دھمکیوں کے نتیجہ میں ہوئی تھی.(2)

____________________

1.بخاری جلد/8 ص26 کتاب المحاربین

2.الامامت والسیاست ابن قتیبہ استخلاف ابی بکر


اور بہت سے نیکو کار صحابہ نے اس(بیعت) سے اعراض و تخلف کیا تھا خصوصا ان صحابہ کے سید و سردار علی ابن ابی طالب(ع) اور سعد ابن عبادہ عمار، سلمان، مقداد اور زبیر و عباس وغیرہ نے بیعت نہیں کی تھی جیسا کہ معتبر مورخین نے تحریر کیا ہے فی الحال ہم اس سے قطع نظر کرتے ہیں اور ابوبکر اپنے بعد عمر کو خلیفہ بناتے ہیں ان کو مورد بحث قرار دیتے ہیں اور شوری کے شیدائی اہلسنت سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ابوبکر نے یہ معاملہ شوری کے سپرد کیوں نہیں کیا اور عمر کو اپنے بعد خلیفہ کیوں بنایا اور مسلمانوں پر کیوں مسلط کیا؟

اس سلسلہ میں بھی ہم اپنی عادت کے مطابق اور مزید وضاحت کے لئے اہلسنت کی کتابوں ہی سے قارئین کے سامنے استدلال پیش کریں گے اور یہ بھی بیان کریں گے کہ ابوبکر نے اپنے دوست کو کیسے خلیفہ بنایا ہے.

ابن قتیبہ تاریخ الخلفا کے باب مرض ابی بکر و استخلافہ عمر رضی اللہ عنہما میں تحریر فرماتے ہیں کہ... پھر عثمان کو بلایا اور کہا کہ میرا وصیت نامہ لکھو : عثمان نے لکھا:

بسم الل ه الرحمن الرحیم

یہ ابوبکر ابن قحافہ کا وصیت نامہ ہے جو انہوں نے مرتے دم اور آخرت کی طرف بڑھتے وقت تحریر کیا ہے. میں نے عمر ابن خطاب کو تم لوگوں کا خلیفہ مقرر کر دیا ہے پس اگر تم اپنے درمیان اسے عدل کرتے ہوئے دیکھو تو یہی اس کے متعلق میرا گمان اور امید ہے اور اگر تغیر و تبدل کرتے ہوئے پائو تو میں نے اپنے لحاظ سے بہتر ہی سوچا تھا. غیب کا علم مجھے نہیں ہے.( و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون )


اس کے بعد وصیت نامہ ختم ہوگیا اور انہیں (عمر کو) دیا گیا مہاجرین کو جب یہ اطلاع ملی کہ ابوبکر نے عمر کو خلیفہ بنا دیا تو وہ ابوبکر کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہم نے سنا ہے کہ آپ نے عمر کو ہمارے اوپر حاکم بنا دیا ہے جب کہ آپ انہیں اچھی طرح جانتے ہیں اور آپ اس بات سے واقف ہیں کہ وہ آپ کی موجودگی میں ہمارے ساتھ کس طرح پیش آئے تھے تو جب دنیا سے چلے جائیں گے اس وقت کیا ہوگا؟ جب آپ بار گاہ خدا میں پہونچیں گے تو ضرور آپ سے سوال ہوگا اس وقت آپ کیا جواب دیں گے؟ ابوبکر نے کہا: اگر خدا نے مجھ سے سوال کیا تو میں جواب دوں گا کہ میں نے ان میں سے بہترین انسان کو خلیفہ بنایا ہے.(1)

طبری اور ابن اثیر وغیرہ نے لکھا ہے کہ جب ابوبکر نے عثمان کو وصیت نامہ لکھنے کے لئے بلایا اور انہوں نے لکھنا شروع کیا تو املا کے درمیان ابوبکر پر غشی طاری ہوگئی اور عثمان نے عمر ابن خطاب کا نام لکھ دیا. جب غشی سے افاقہ ہوا تو ابوبکر نے کہا کہ ذرا اپنی تحریر پڑھو! عثمان نے اسے پڑھا تو اس میں عمر کا نام تھا. ابوبکر نے کہا: یہ تم نے اپنی طرف سے اضافہ کیا ہے؟ عثمان نے کہا : کیا آپ کا یہ ارادہ نہیں تھا ابوبکر نے کہا تمہارا خیال صحیح ہے.

جب وصیت نامہ لکھا جاچکا تو کچھ لوگ ابوبکر کے پاس پہونچے ان میں طلحہ بھی شامل تھے انہوں نے کہا آپ اپنے پروردگار کو کیا جواب دیں گے جبکہ آپ نے سخت مزاج انسان کو ہمارا حاکم بنا دیا ہے کہ جس سے لوگ بھاگتے اور دل دہلتے ہیں.

____________________

1-تاریخ الخلفاء المعروف بالامامت والسیاست جلد/1 ص24


ابوبکر نے کہا: مجھے ذرا(سہارا دے کر) بٹھائو حالانکہ وہ لیٹے ہوئے تھے. لوگوں نے بٹھایا تو انہوں نے طلحہ سے کہا: کیا تم کل کےلئے مجھے ڈراتے ہو کہ جب خدا مجھ سے سوال کرے گا کہ تم نے کس کو خلیفہ بنایا تو میں کہوں گا تیرے بہترین بندہ کو.(1)

اور جب تمام مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ابوبکر نے عمر کو صحابہ کے مشورہ کے بغیر خلیفہ بنادیا تھا تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے صحابہ کوذیلل کرنے کے لئے عمر کو خلیفہ بنایا تھا. کیونکہ صحابہ عمر کو پسند نہیں کرتے تھے. خواہ ابن قتیبہ کے اس قول کو مدنظر رکھا جائے کہ: انصار و مہاجرین ابوبکر کے پاس آئے اور کہا ہمیں آپ اس سے بچاتے تھے، یا طبری کے نظریہ کو تسلیم کیا جائے کہ جو لکھتے ہیں کہ صحابہ میں سے کچھ لوگ کہ جن میں طلحہ بھی تھے ابوبکر کے پاس گئے اور کہا: آپ اپنے پرورگار کا کیا جواب دیں گے جبکہ آپ نے ہمارے اوپر سخت مزاج انسان کو حاکم بنا دیا ہے کہ جس سے سانس پھولتی اور دل دہلتے ہیں. دونوں عبارتوں کو نتیجہ ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ خلافت کا معاملہ شوری پر نہیں چھوڑا گیا اور صحابہ عمر کے خلیفہ بننے سے راضی نہ تھے. بلکہ ابوبکر نے بغیر مشورہ کے عمر کو ان پر مسلط کر دیا تھا یہ وہی نتیجہ ہے جس کو علی(ع) نے اس وقت بیان کیا تھا جب عمر و ابوبکر لوگوں پر بیعت کے لئے تشدد کر رہے تھے. علی(ع) نے عمر سے فرمایا تھا: اچھی طرح سے دودھ لو تمہارا بھی حصہ ہے آج تم ان کی خلافت مستحکم کر دو کل وہ تمہیں ہی لوٹا دے گا.

اور یہی وہ جملہ ہے جو کسی صحابی نے عمر سے اس وقت کہا تھا

____________________

1.شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید، خطبہ شقشقیہ


جب وہ و صیت نامہ لے کر آئے تھے. جس میں ان کی خلافت کی وصیت مرقوم تھی صحابی نے دریافت کیا اے ابو حفص اس رقعہ میں کیا لکھا ہے؟ عمر نے کہا یہ تو مجھے معلوم نہیں ہے لیکن سب سے پہلے میں نے اس کو سنا اور اطاعت کی. اس شخص نے کہا: قسم خدا کی مجھے معلوم ہے اس میں کیا مرقوم ہے. پہلے تم نے ان کی خلافت مستحکم کی تھی آج وہ تمہیں خلیفہ بنا گئے.(1)

اسی سے بخوبی ہم پر یہ بات آشکار ہو جاتی ہے کہ جس شوری کا اہل سنت ڈھنڈورا پیٹا کرتے ہیں ابوبکر وعمر کے نزدیک اس کی کوئی حقیقت نہ تھی یا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ سب سے پہلے ابوبکر نے شوری کو لغو قرار دیا اور بنی امیہ کے حکام کے لئے خلافت کو بادشاہت و قیصریت میں تبدیل کر کے باپ سے بیٹے کو میراث میں دلانے کا دروازہ کھول دیا اور بنی امیہ کے بعد بنی عباس نے یہی کہا: اور اہلسنت کا شوری والا نظریہ لا جواب ہی رہ گیا کہ جس پر نہ ماضی میں عمل ہوا ہے اور نہ کبھی ہوسکے گا.

یہاں مجھے وہ گفتگو یا آگئی جو نیروبی ( کینیا) کی مسجد میں سعودیہ کے وہابی عالم سے مسئلہ خلافت کے سلسلہ میں ہوئی تھی میں نص سے خلافت کو ثابت کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ خلافت کا کل نظام خدا کے ہاتھ ہے وہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اس میں بندوں کو کوئی اختیار نہیں ہے.

جب کہ وہ خلافت کو شوری کی مرہون منت قرار دے رہے تھے اور بے کار دفاع کر رہے تھے. چاروں طرف سے اس کے شاگرد اس کی تائید کر رہے تھے وہ بھی دعوے کے ساتھ کہ استاد قرآن سے استدلال کر رہے ہیں اس کی

____________________

1.الامامت والسیاست، مصنفہ ابن قتیبہ، جلد1، باب استخلاف ابی بکر لعمر


ہر ایک بات کی تائید کر رہےتھے اس نے یہ آیتیں( وَ شاوِرْهُمْ‏ فِي‏ الْأَمْرِ ) ( وَ أَمْرُهُمْ شُورى‏ بَيْنَهُمْ‏ ) بھی پیش کی تھیں.

جب میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ اس طرح تو میں مغلوب ہ جائوں گا کیونکہ وہ ( طلبہ) استاد سے وہابیت کے افکار و عقائد کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اسی طرح میں یہ بھی سمجھ گیا کہ وہ صحیح احادیث کو نہیں سن سکتے ہیں کیونکہ وہ ایسی احادیث کے گرویدہ ہوچکے تھے جن میں اکثر احادیث گڑھی ہوئی تھیں لہذا میں نے اس وقت کرہا شوری کو تسلیم کرتے ہوئے طلبا اور ان کے استاد سے کہا:

کیا تم اپنے ملک کے بادشاہ کو اس بات سے مطمئن کرسکتے ہو کہ وہ اپنی کرسی سے اتر آئے اور تمہارے سلف صالح کی اقتدا کرے اور جزیرہ عرب کو مسلمانوں کےلئے آزاد چھوڑ دے تا کہ وہ جس کو چاہیں اپنا صدر منتخب کرلیں میں نہیں سمجھتا ہوں کہ وہ ایسا کرےگا کیونکہ اس کے آباء و اجداد خلافت کے مالک نہیں تھے. لیکن جب وہ بادشاہ بن بیٹھے تو آج وہ جزیرہ عرب کے خطہ حجاز کے بھی مالک بن گئے. یہاں تک کہ پورے علاقہ کو المملکہ السعودیہ کہنے لگے.

اب اس کے سردارعالم کو مجبورا کہنا پڑا کہ ہمیں سیاست سے کوئی سروکار نہیں ہے. ہم خدا کے گھر میں ہیں کہ جس میں اس نے اپنے ذکر اور نماز قائم کرنے کا حکم دیا ہے.

میں نے کہا: اسی طرح طلب علم بھی ہے، اس نے کہا: جی ہاں: ایسا ہی ہے ہم یہاں جوانوں کو تعلیم دیتے ہیں، میں نے کہا: ہم بھی علمی بحث کررہے ہیں. اس نے کہا: آپ نے اسے سیاست سے فاسد کر دیا.

میں اپنے ساتھی کے ساتھ وہاں سے ان مسلمان نوجوانوں پر افسوس کرتا ہوا نکل آیا کہ جن کے دلوں پر ہر طرح سے وہابیت کے عقائد کی چھاپ


بٹھائی جارہی تھی. جب کہ وہ سب شافعی کے مقلد تھے میں سمجھتا ہوں کہ ان کا مذہب مذہب اہلبیت(ع) سے بہت قریب ہے.

وہاں کے بزرگوں کا ان ذہین و تہذیب یافتہ اور غیر تہذیب یافتہ جوانوں میں اس اعتبار سے بہت احترام تھا کہ ان کا تعلق سادات سے تھا. پس وہابیوں نے پہلے جوانوں پر ہاتھ ڈالا اور ان کے لئے مادی امکانات فراہم کئے غلہ دیا اور مالی تعاون کیا تو سادات کے بارے میں ان کے نظریات ہی بدل گئے اور وہ سادات کے احترام کو شرک سمجھنے لگے. افسوس ہے کہ افریقہ کے بیشتر ممالک ہیں ایسا ہی ہو رہا ہے.

اب ہم دوبارہ ابوبکر کی وفات کا تذکرہ شروع کرتے ہیں تاکہ ہمیں یہ معلوم ہو جائے کہ ابوبکر مرنے سے پہلے اپنے کئے پر پشیمان تھے. ابن قتیبہ نے اپنی کتاب تاریخ الخلفاء میں تحریر کیا ہے کہ ابوبکر کا قول ہے کہ قسم خدا کی مجھے اپنے انجام دئے ہوئے تین کاموں پر سب سے زیادہ افسوس ہے کاش میں نے انہیں نہ کیا ہوتا. کاش میں علی(ع) کے گھر کو چھوڑ دیتا، ایک روایت میں ہے کہ کاش میں نے خانہ فاطمہ(ع) کی کسی چیز کا انکشاف نہ کیا ہوتا خواہ وہ مجھ سے جنگ ہی کا اعلان کرتے، کاش میں سقیفہ بنی ساعدہ میں ابوعبیدہ یا عمر کے ہاتھوں پر بیعت کر لیتا. وہ امیر ہوتے اور میں ان کا وزیر قرار پاتا، کاش جب میرے پاس ذی الفجاة کے اسیر لائے گئے تھے کاش میں انہیں قتل کر دیتا یا آزاد کر دیتا. لیکن انہیں آگ میں نہ جلاتا.(1)

میں اضافہ کرتا ہوں کہ کاش اے ابوبکر آپ فاطمہ زہرا(ع) پر

____________________

1.تاریخ طبری جلد/4 ص52، العقد الفرید جلد/2 ص254 مروج الذہب جلد/1 ص414


ظلم نہ کرتے اور انہیں ایذا نہ دیتے، انہیں غضبناک نہ کرتے، کاش آپ ان( فاطمہ زہرا(ع)) کی موت سے پہلے پشیمان ہو جاتے. اور انہیں راضی کر لیتے، یہ تو خانہ علی(ع)سے مخصوص تھا کہ جس کو آپ نے جلانے کئے مباح کر دیا تھا.

لیکن خلافت، کاش آپ اپنے دوست اور داہنے ہاتھ، ابوعبیدہ و عمر کو چھوڑ کر خلافت اس کے شرعی حقدار کے سپرد کر دیتے کہ جس کو رسالتماب(ص) نے خلیفہ منتخب کیا تھا پس جب امارت ان کے ہاتھوں میں ہوتی تو آج دنیا کا رنگ ہی کچھ اور ہوتا اور دین خدا پورا کرہ ارض پر چھا گیا ہوتا جیسا کہ خداوند عالم نے وعدہ کیا ہے اور اس کا وعدہ حق ہے.

اور فجاة السلمی کہ جس کو آگ میں جلا دیا تھا، اے کاش آپ نے احادیث نبوی کو نہ جلایا ہوتا. اور ان سے شریعت کے صحیح احکام حاصل کئے ہوتے اور اجتہاد بالرائے پرعمل نہ کیا ہوتا.

اے کاش آخری وقت میں جب آپ بستر مرگ پر دراز تھے اس وقت خلیفہ بنانے کے بارے میں سوچا ہوتا کہ جس سے حق اپنے اصلی محور پر لوٹ آتا کہ خلافت میں جس کی وہی حیثیت ہے جو چکی میں کیل کی ہوتی ہے. آپ تو تمام لوگوں سے زیادہ ان کے فضائل و کمالات، زہد و علم، اور تقوی کو جانتے تھے وہ تو بالکل نبی(ص) کی طرح میں خصوصا انہوں نے اسلام کی حفاظت کے لئے آپ سے کبھی مقابلہ نہ کیا اور معاملہ آپ ہی پر چھوڑ دیا بہتر تھا آپ امت محمد(ص) کو نصیحت کرتے اور اس کے شایان شان خلیفہ معین کرتے اسے پرگندگی سے بچا لیتے، اور عظمت کی چوٹی پر پہونچا دیتے.

ہم خدا سے آپ کی مغفرت کے لئے دعا کریں گے کہ وہ آپ کے گناہ بخش دے اور فاطمہ(ع) اور ان کے والد، ان کے شوہر اور ان کے


بیٹے آپ سے راضی ہوجائیں، کیونکہ آپ نے محمد مصطفی(ص) کی لخت جگر کو غضبناک کیا کہ جس کے غضبناک ہونے سے خدا غضبناک ہوتا ہے، جس کے راضی ہونے سے خدا راضی ہوتا ہے. جیسا کہ حدیث کی نص موجود ہے کہ جس نے فاطمہ(ع) کو اذیت دی اس نے ان کے پدر بزرگوار کو اذیت دی اور خداوند عالم کا ارشاد ہے:

( وَ الَّذِينَ يُؤْذُونَ‏ رَسُولَ‏ اللَّهِ‏ لَهُمْ عَذابٌ أَلِيمٌ‏ )

جو لوگ رسول(ص) کو اذیت دیتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے.

خدا کے کسی پر غضبناک ہونے سے ہم خدا کی پناہ چاہتے ہیں اور اس بارگاہ میں دعا گو ہیں کہ ہم سے اور تمام مسلمانوں اور مومنین و مومنات سے راضی ہو جائے.

عمر اپنے اجتہاد سے قرآن کی مخالفت کرتے ہیں

خلیفہ ثانی عمر کے لئے تاریخ بھری پڑی ہے کہ وہ قرآن و سنت کی صریح نصوص کے مقابلہ میں اجتہاد کیا کرتے تھے.

اور اہلسنت ان کی اس حرکت کو ان کے مناقب میں شمار کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں مدح سرائی کرتے ہیں اور جب ان سے انصاف کا تقاضا کیا جاتا ہے تو عذر تراشی کرتے ہیں اور ایسی واہیات قسم کی تاویلات پیش کرنے لگتے ہیں کہ جنہیں عقل تسلیم کرتی ہے نہ منطق اور پھر کتاب خدا اور سنت نبی(ص) کی مخالفت کرنے والا کیونکر مجتہد ہوسکتا ہے.

جیسا کہ خداوند عالم کا ارشاد ہے:


( وَ ما كانَ‏ لِمُؤْمِنٍ‏ وَ لا مُؤْمِنَةٍ إِذا قَضَى اللَّهُ وَ رَسُولُهُ أَمْراً أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَ مَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالًا مُبِيناً ) سورہ احزاب، آیت/26

اورکسی مومن مرد یا عورت کو ا ختیار نہیں ہے کہ جب کہ خدا و رسول(ص) کسی امر کے بارے میں فیصلہ کردیں تو وہ بھی اپنے امر کے بارے میں صاحب اختیار بن جائے اور جو بھی خدا و رسول(ص) کی نافرمانی کرے گا وہ بڑی کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہوگا.نیز ارشاد ہوتا ہے:

( وَ مَنْ‏ لَمْ‏ يَحْكُمْ‏ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولئِكَ هُمُ الْكافِرُونَ‏، وَ مَنْ‏ لَمْ‏ يَحْكُمْ‏ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ‏، ...وَ مَنْ‏ لَمْ‏ يَحْكُمْ‏ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولئِكَ هُمُ الْفاسِقُونَ‏.. ) سورہ مائدہ، آیت/47

اور جو بھی خدا کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں... جو بھی خدا کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرے وہ ظالموں میں شمار ہوگا اور جو بھی خدا کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرے وہ فاسقون میں شمار ہوگا.

بخاری نے اپنی صحیح کیکتاب الاعتتصام بالکتاب والسنة کے باب" ما یذکر من ذم الرای و تکلیف القیاس ولا تقف و لا تقل مالیس لک به علم" میں تحریر کیا ہے کہ: نبی(ص) نے فرمایا کہ خدا علم عطا کرنے کے بعد واپس نہیں لیتا ہے بلکہ علماء کو ان کے علم کے ساتھ اٹھا لیتا ہے اور لوگ جہالت میں رہ جاتے


ہیں (پھر) ان جاہلوں سے لوگ استفادہ کرتے ہیں اور وہ اپنی رائے و قیاس سے فتوی دیتے ہیں پس وہ گمراہ ہوتے ہیں اور گمراہ کرتے ہیں.(1) نیز بخاری نے اسی کتاب کے ملحقہ باب میں تحریر کیا ہے کہ جب نبی(ص) سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا تھا کہ جس کے بارے میں وحی نازل نہیں ہوئی تھی تو آپ(ص) فرماتے : میں نہیں جانتا وحی نازل ہونے تک جواب نہیں دیتے تھے اور اپنی رائے و قیاس سے کچھ بھی نہیں فرماتے تھے خداوند عالم کا ارشاد ہے: بما اراک اللہ"(1) جیسا خدا چاہتا ہے فیصلہ کریں.

گذشتہ اور موجودہ زمانہ کے علماء کا ایک ہی قول ہے اور وہ یہ کہ جس نے کتاب خدا کے بارے میں اپنی رائے اور قیاس سے کچھ کہا اس نے کفر کیا اور یہ بات آیات محکمات اور رسول(ص) کے اقوال و افعال سے آشکار ہے.

لیکن یہ قاعدہ اس وقت کیسے بھلا دیا جاتا ہے جب اس کی زد میں عمر ابن خطاب یا صحابی یا ائمہ اربعہ میں سے کوئی آجاتا ہے اس وقت احکام خدا کے معارض قول کو اجتہاد بنا دیا جاتا ہے. کہ مجتہد نے اگر حقیقت تک رسائی حاصل کر لی اسے دو اجر اور اگر خطا سرزد ہوئی تو اسے ایک اجر لازمی ملے گا.کسی کو بھی یہ بات کہنے کا حق نہیں پہونچتا ہے کہ : اس پر پوری امت اسلام شیعہ، سنی کا اتفاق ہے اور یہ بات حدیث نبی(ص) سے ثابت ہے.

میں کہتا ہوں کہ یہ بات صحیح ہے لیکن اجتہاد کے موضوع میں اختلاف ہے. شیعہ اس اجتہاد کو قبول کرتے ہیں جس کے بارے میں خدا یا رسول(ص) کا کوئی حکم وارد نہ ہوا ہو. لیکن اہلسنت اس کی رعایت نہیں کرتے اور خلف، سلف

____________________

1.صحیح بخاری جلد/5 ص148


صالح کی اقتدا کرتے ہوئے نص کے مقابلہ میں اجتہاد کو غلط نہیں سمجھتے. علامہ سید شرف الدین موسوی نے اپنی کتاب" النص و الاجتهاد" میں سو100 سے زیادہ ایسے موارد شمار کرائے ہیں جہاں صحابہ اور ان کے راس و رئیس خلفائے ثلاثہ نے قرآن و سنت کی صریح نص کے مقابلہ میں اجتہاد کیا محققین اس کتاب کا مطالعہ ضرور فرمائیں.

اس موضوع کے سلسلہ میں ان چند نصوص کو پیش کر دینا مناسب سمجھتا ہوں جن کو عمر نے مخالفت کی ہے یا اس لئے کہ وہ نصوص سے بے خبر تھے حالانکہ یہ بات باعث تعجب ہے کیونکہ جاہل کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی چیز کے حلال یا حرام ہونے کا حکم دے خداوند عالم کا ارشاد ہے:

( وَ لا تَقُولُوا لِما تَصِفُ‏ أَلْسِنَتُكُمُ‏ الْكَذِبَ هذا حَلالٌ وَ هذا حَرامٌ لِتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لا يُفْلِحُونَ ) نحل، آیت/116

اور خبردار جو تمہاری زبانیں غلط بیانی سے کام لیتی ہیں اس کی بنا پر نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اس طرح خدا پر بہتان باندھنے والے ہوجائو گے اور جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں ان کے لئے فلاح اور کامیابی نہیں ہے اور نہ ہی جاہل کے لئے یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ امت میں انسان کامل کے ہوتے ہوئے امت کی قیادت کے لئے منصب خلافت پر متمکن ہو جائے چنانچہ ارشاد ہے:

( أَفَمَن‏ يَهْدِي‏ إِلَى‏ الْحَقّ‏ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّايَهِدّى إِلَّآ أَن يُهْدَى‏ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ )

اور جو حق کی ہدایت کرتا ہے وہ واقعا قابل اتباع ہے یا جو ہدایت کرنے کے قابل بھی نہیں ہے مگر یہ کہ خود اس کی ہدایت کی جائے تو آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے اور تم کیسے


فیصلہ کر رہے ہو. سورہ یونس، آیت/35

لیکن وہ (عمر) نصوص سے بے خبر نہیں تھے بلکہ جانتے تھے اور جان بوجھ کر اقتضائے وقت کے مطابق اجتہاد کرتے تھے اور اسے کفر اور اسلام سے خارج ہونا نہیں سمجھتے تھے. اور اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ وہ (عمر) اپنے زمانہ کے اس شخص کے وجود سے بھی بے خبر ہوتے تھے جو صحیح احکام کا عالم تھا جب کہ یہ باطل ہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ حضرت علی علیہ السلام کتاب و سنت کی معرفت رکھتے ہیں اگر نہ جانتے ہوتے تو بہت سے مشکلات میں ان کی طرف رجوع نہ کرتے اور یہ نہ کہتے کہ اگر علی(ع) نہ ہوتے تو میں ہلاک ہو جاتا" پس ان مسائل میں جن میں اپنی رائے سے اجتہاد کیا ہے علی(ع) سے کیوں رجوع نہیں کیا؟

میرا عقیدہ ہے کہ آزاد فکر مسلمان اس میں میری موافقت کریں گے کیونکہ اس قسم کا اجتہاد، عقیدہ و احکام کو برباد کر دیتا ہ ے اور علمائے امت کے درمیان افتراق اور متعدد مذاہب میں تقسیم کرنے کا سبب بنتا ہے اور یہیں سے عداوت و نزاع کی ابتدا ہوتی ہے اور رعب و دبدبہ جاتا رہتا ہے، ہوا اکھڑ جاتی ہے اور مادی و معنوی نقصان اٹھانا پڑتا ہے.ہمیں یہ سوچنے کا حق ہے کہ ابوبکر و عمر نے منصب خلافت پر زبردستی قبضہ جمالیا تھا اور اس کے شرعی حقدار کو محروم کردیا تھا، ہم یہ بھی سوچتے ہیں کہ اگر ابوبکر وعمر دونوں احادیث کو جمع کرتے اور انہیں خاص کتاب میں لکھتے تو خود اپنے اور امت کے لئے ایک ذخیرہ کر لیتے اور احادیث میں غیر احادیث مخلوط نہ ہوتی اور ا یک عقیدہ ہوتا اور آج ہماری بات ہی دوسری ہوتی.

لیکن احادیث کو جمع کیا گیا اور نذر آتش کر دیا گیا اور اس کی تدوین و نقل پر پابندی لگائی گئی یہاں تک کہ آپس میں بیان کرنے کو بھی منع کیا گیا یہ بہت بڑی مصیبت اور عظیم بلا ہے." و لا حول‏ و لا قوّة إلّا باللّه العليّ العظيم"

آپ کے سامنے قرآن کی وہ بعض صریح نصوص پیش کی جاتی


ہیں جن کے مقابلہ میں عمر ابن خطاب نے اجتہاد کیا ہے.

(1) قرآن کہتا ہے:

( وَ إِنْ كُنْتُمْ جُنُباً فَاطَّهَّرُوا وَ إِنْ كُنْتُمْ مَرْضى‏ أَوْ عَلى‏ سَفَرٍ أَوْ جاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغائِطِ- أَوْ لامَسْتُمُ النِّساءَ فَلَمْ تَجِدُوا ماءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيداً طَيِّباً... )

اور اگر جنابت کی حالت میں ہوتو غسل کرو اور اگر مریض ہو یا سفر کے عالم میں ہو یا پیخانہ وغیرہ نکل آیا ہو، عورتوں کو باہم لمس کیا ہے اور پانی نہ ملے تو مٹی سے تیمم کر لو.

حدیث میں یہ بات مشہور ہے کہ رسول(ص) نے صحابہ کو عمر کے سامنے تیمم کا طریقہ سکھایا تھا.

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب التیمم کے باب " السعید الطیب وضو المسلم یکفیہ عن الماء" میں روایت کی ہے کہ عمران نے کہا کہ ایک مرتبہ ہم سفر میں نبی(ص) کے ہمراہ تھے. اور رات میں سفر کر رہے تھے رات کے آخری حصہ میں قافلہ آرام کرنے کی غرض سے رک گیا یہ آرام مسافر کے لئے بہت شیرین ہوتا ہے. سورج کی حرارت سے ہماری آنکھیں کھلیں تو سب سے پہلے فلاں شخص اٹھلا اس کے بعد فلاں جس کو لوگ ابو رجا کہتے ہیں راوی عوف کام بھول گیا چوتھے عمر ابن خطاب بیدار ہوئے تھے رسول(ص) کو بیدار نہیں کیا جاتا تھا بلکہ وہ خود پیدار ہوتے تھے کیونکہ ہم نہیں جانتے تھے کہ نیند کی حالت میں ان پرکیا گزری جب عمر جاگے اور لوگوں کو سوتے دیکھا تو عمر چالاک تو تھے ہی فورا تکبیر کی صدا بلند کی ابھی تکبیر ختم نہیں ہوئی تھی کہ نبی(ص) بیدار ہوگئے تو لوگوں نے اپ بیتی آنحضرت(ص) کو سنائی. آپ(ص) نے فرمایا کوئی بات نہیں ہے آگے بڑھو! ابھی تھوڑی ہی دور


چلے تھے کہ رسول(ص) ٹھہرے اور لوگوں کو وضو کرنے کا حکم دیا. وضو کیا گیا آپ کی اقتدا کی میں نماز ادا کی گئی ایک شخص نے تمام لوگوں کے ساتھ نماز نہ پڑھی آپ(ص) نے اس سے فرمایا تم نے سب کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ اس نے کہا میں مجنب ہوگیا تھا اور پانی نہیں تھا. آپ(ص) نے فرمایا خاک تو ہے وہی تمہارے لئے کافی ہے...(1)

لیکن عمر کتاب خدا اور سنت رسول(ص) کے خلاف کہتے ہیں کہ جس شخص کو پانی نہ ملے وہ نماز نہ پڑھے. ان کے اس نظریہ کو اکثر محدثین نے لکھا ہے مسلم کہتے ہیں کہ ایک شخص عمر کے پاس آیا اور کہا میں مجنب ہوگیا ہوں اور پانی نہیں ملا عمر نے کہا کہ نماز نہ پڑھو! عمار نے کہا اے امیرالمومنین کیا آپ کو وہ واقعہ یاد نہیں ہے جب میں اور آپ ایک سریہ میں مجنب ہوگئے تھے اور ہمیں پانی نہیں ملا تھا آپ نے تو نماز ہی نہیں پڑھی تھی لیکن میں زمین پر لوٹا اور نماز پڑھ لی پس نبی(ص) نے فرمایا: تمہارے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارتے پھر انہیں پھونک دیتے اور پھر دونوں ہاتھوں سے چہرہ اور ہتھیلیوں (کی پشت) کا مسح کرتے( عمار کی یہ بات سن کر) عمر نے کہا اے عمار خدا سے ڈرو! عمار نے کہا اگر آپ چاہیں تو میں یہ بات بیان نہ کروں.(2)

سبحان اللہ عمر نے کتاب خدا اور سنت رسول(ص) کی مخالفت پر ہی اکتفا نہ کی بلکہ صحابہ کو اپنی رائے کے خلاف بولنے تک کو منع کر دیا اور عمار خلیفہ سے معذرت کرنے پر مجبور ہوگئے. اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں

____________________

1.صحیح بخاری جلد/1 ص88

2.صحیح بخاری جلد/1 ص87


یہ بات کسی سے بیان نہ کروں. عمر اس اجتہاد، اس معارضہ اور نصوص پر صحابہ کی گواہی کے باوجود اپنی رائے پر اٹل رہے اور مرتے دم تک نصوص سے مطمئن نہ ہوئے اور اپنے اجتہاد پر عمل کرتے رہے ان کے اس نظریہ نے بہت سے صحابہ کو متاثر کیا اس لئے وہ عمر کی رائے کو رسول(ص) کی رائے پر مقدم کرتے رہے مسلم نے شفیق سے روایت کی ہے میں عبداللہ اور ابوموسی کے پاس بیٹھا تھا. ابو موسی نے کہا: اے ابو عبدالرحمن اس مسئلہ میں آپ کا کیا نظریہ ہے کہ اگر ایک شخص مجنب ہو جائے اور اسے ایک مہینے تک پانی نہ ملے تو وہ کیا کرے؟ عبداللہ نے کہا اگر ایک مہینے تک بھی پانی نہ ملے تو بھی تیمم نہیں کرے گا! ابو موسی نے کہا کہ پھر سورہ مائدہ کی اس آیت کا کیا مطلب ہے...( فَلَمْ تَجِدُوا ماءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيداً طَيِّباً ) عبداللہ نے کہا کہ اگرچہ اس آیت میں تیمم کی اجازت دی گئی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس وقت کے لئے جب پانی ٹھنڈا ہو اس وقت تیمم کرو. ابو موسی نے عبداللہ سے کہا: کیا تم نے عمار کا قول نہیں سنا ہے کہ مجھے رسول(ص) نے ایک کام کے لئے بھیجا اور میں مجنب ہوگیا اور پانی نہ مل سکا تو میں چوپائے کی طرح خاک میں لوٹا پھر آنحضرت(ص) کی خدمت میں شرفیاب ہوکر یہ واقعہ بیان کیا. آپ(ص) نے فرمایا : تمہارے لئے اتنا کافی تھا کہ تم اس طرح ہاتھوں کو اٹھاتے پھر آپ(ص) نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک مرتبہ زمین پر مارا اور اپنے چہرہ اور دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کی پشت کا مسح کیا.

عبداللہ نے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ عمر عمار کے قول سے مطمئن نہیں ہوئے تھے.(1) جب ہم بخاری و مسلم کی اس روایت میں غور کرتے ہیں تو اس سے یہ بات آشکار ہو جاتی ہے کہ عمر کے نظریہ نے کس مقدار میں بہت سے صحابہ کو متاثر کیا ہے اور اسی سے احکام کا تناقض بھی واضح ہو


جاتا ہے اور روایت کا ضعف و تضاد بھی آشکار ہو جائے گا. شاید یہی چیز امویوں اور عباسیوں کے حکام کا اسلامی احکام کو خفیف جاننے کی تفسیر کرتی ہے. اور اس کا کوئی بھرم نہیں رہ جاتا اسی لئے وہ ایک حکم متعدد متعارض مذاہب ہم آواز ہوگئے ہیں اگرچہ وہ بظاہر حنفی، مالکی، حنبلی اور شافعی ہیں: اب جو تم چاہو اپنی رائے سے کہو کیونکہ تمہارے سید و سردار عمر بھی اپنی رائے سے قرآن و سنت کے مقابلہ میں جو چاہتے تھے کہدیتے تھے. تمہیں کوئی برا نہیں کہہ سکتا ہے کیونکہ تم اتباع کرنے والے ہو ایجاد کرنے والے نہیں.(1)

ان سب سے تعجب خیز تو عبداللہ ابن مسعود کا یہ قول ہے کہ اگر ایک مہینے تک بھی پانی دستیاب نہ ہو تب بھی ( مسلمان) تیمم نہیں کرے گا. جب عبداللہ ابن مسعود ایسا بزرگ صحابی یہ کہتا ہے کہ جب مجنب کو پانی نہ ملے تو ایک مہینے تک نماز چھوڑ دے لیکن تیمم نہ کرے اور وہ ( عبداللہ) ابو موسی کو یہ بات باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ سورہ مائدہ کی آیت خاص موضوع کے لئے نازل ہوئی ہے چنانچہ جواب دیتے ہیں کہ اگر اس آیت میں تیمم کی اجازت دی بھی گئی ہے تو اس وقت کے لئے جب پانی ٹھنڈا ہو.

اور یہیں سے ہماری سمجھ میں یہ بات بھی آجاتی ہے کہ وہ حسب منشاء قرآن کی نصوص کے مقابلہ میں کس طرح اجتہاد کرتے تھے افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ امت کے تنگی اور حرج کو نہیں دیکھتے تھے جب کہ خداوتد عالم کا ارشاد ہے:

( يُرِيدُ اللَّهُ‏ بِكُمُ‏ الْيُسْرَ وَ لا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ )

____________________

1.صحیح بخاری جلد/1 ص91" کتاب التیمم صریہ"


خداوند تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے زحمت نہیں چاہتا. سورہ بقرہ، آیت/185

یہ شخص ( عبداللہ) کہتا ہے کہ اگرچہ اس آیت میں انہیں تیمم کی اجازت دی گئی ہے لیکن اس وقت کے لئے جب پانی ٹھنڈا ہوگیا ہو کیا انہوں نے خدا و رسول(ص) سے جدا ہو کر خود کو مبلغ سمجھ لیا ہے؟ کیا وہ لوگوں پر ان کے خالق و پروردگار سے بھی زیادہ رحیم و رئوف ہے؟

اس کے بعد ابوموسی اس سنت نبی(ص) سے عبداللہ کو قانع کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کو عمار نے بیان کیا تھا. اور جس میں رسول(ص) نے تیمم کرنے کا طریقہ سکھایا تھا. مگر عبداللہ اس مشہور حدیث کو یہ کہکر رد کر دیتے ہیں کہ عمار کے قول سے عمر ابن خطاب مطمئن نہیں ہوتے تھے!

اور یہاں یہ چیز بھی واضح ہو جاتی ہے کہ بعض صحابہ کے نزدیک عمر کا قول ہی قانع کنندہ حجت تھی عمر خواہ حدیث سے مطمئن ہوتے ہوں یا آیت و حدیث کے صحیح ہونے اور آیت کے مفہوم کو پرکھنے کا معیار عمر ہی تھے خواہ آیت رسول(ص) کے اقوال و افعال کے معارض ہی ہوں. یہی وجہ ہے کہ آج ہم بہت سے لوگوں کے ا فعال کو قرآن وسنت رسول(ص) کے خلاف دیکھتے ہیں کیونکہ نصوص کے مقابلہ میں عمر کا اجتہاد آج مذہب بن گیا ہے اسی کا اتباع کیا جا رہا ہے اور جب بعض با اقتدار اور صاحبان نظر کو یہ بات معلوم ہے کہ عہد خلفاء میں احادیث بیان کرنا ممنوع تھا، حدیث کی تدوین بعد میں ہوئی ہے. حفاظ اور راویوں نے جو بیان کیا وہی لکھ لیا گیا. نتیجہ میں وہ مذہب عمر کے مخالف ثابت ہوئیں. کچھ راویوں نے اپنی طرف سے گڑھ کر رسول(ص) کی طرف منسوب کردی تا کہ ان کے ذریعہ ابو حفص( عمر) کی تائید کر سکیں جسے کہ مسئلہ متعہ اور نماز تراویح وغیرہ کے بارے میں متناقض روایتیں


نقل ہوئی ہیں اسی لئے یہ مسئلہ آج تک مسلمانوں کے درمیان اختلافی ہے. اور اس زمانہ سے اسی حالت پر باقی ہے.جب تک عمر کا دفاع کرنے والے موجود رہیں گے بات صرف عمر کی ہے حق کے لئے بحث نہیں کرتے ہیں. عمر سے کوئی کہے کے اے عمر آپ نے غلطی کی ہے کیونکہ پانی کے فقدان سے نماز ساقط نہیں ہوتی ہے اس کے لئے آیت تیمم کتاب خدا میں موجود ہے اور کتب احادیث میں حدیث تیمم مذکور ہے پس جب آپ کو دونوں کی خبر نہیں ہے تو آپ کو منصب خلافت پر متمکن ہونا اور امت کی قیادت کرنا زیب نہیں دیتا. اور اگر آپ کو علم تھا تو وہ علم آپ کو کافر قرار دیتا ہے. اس لئے کہ آپ نے قرآن و حدیث کے احکام کی مخالفت کی ہے اگر آپ مومن ہوتے تو ایسا نہ کرتے. کیونکہ جب خدا اور اس کا رسول(ص) کوئی فیصلہ کر دیں تو آپ کو کسی فیصلہ کو قبول کرنے اور کسی کو رد کرنے کا حق نہیں ہے یہ بات آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ:

( مَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالًا مُبِيناً )

جو بھی خدا و رسول(ص) کی نافرمانی کرے گا وہ بڑی کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہوگا.

( إِنَّمَا الصَّدَقاتُ‏ لِلْفُقَراءِ وَ الْمَساكِينِ- وَ الْعامِلِينَ عَلَيْها وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ- وَ فِي الرِّقابِ وَ الْغارِمِينَ وَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ- وَ ابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ- وَ اللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ‏ )

صدقات و خیرات بس فقراء و مساکین اور ان کے کام کرنے والے اور جن کی تالیف قلب کی جاتی ہے اور غلاموں کی آزادی میں اور قرضداروں کے لئے اور راہ خدا میں اور


غربت زدہ مسافروں کے لئے ہیں یہ اللہ کی طرف سے فریضہ ہے اور اللہ خوب جاننے والا اور حکمت والا ہے.

اور رسول(ص) کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ(ص) مولفة القلوب کا وہ حق دیا کرتے تھے جو خدا نے فرض کیا ہے لیکن عمر ابن خطاب نے اس فرض شدہ حق کو اپنی خلافت کے زمانہ میں باطل قرار دیا اور نص کے مقابلہ میں اجتہاد کیا. اور مولفة القلوب سے کہا ہمیں تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے. اسلام کو خدا نے عزت دی ہے اور تم سے بے نیاز کر دیا بلکہ عمر نے یہ حکم تو ابوبکر کی خلافت کے زمانہ ہی میں لگا دیا تھا. ہوا یہ تھا کہ مولفة القلوب ابوبکر کے پاس اپنا حق لینے آئے تو انہوں نے عمر کو رقعہ لکھا کہ ان کا حق دے دو، رقعہ لے کر وہ لوگ عمر کے پاس پہونچے تو عمر نے وہ رقعہ لے کر پھاڑ دیا اور ان لوگوں سے کہا ہمیں تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے. اسلام کو خدا نے عزت دی ہے اور تم سے بے نیاز کیا ہے پس اگر تم اسلام قبول کرتے ہو فبہا، ورنہ ہمارے اور تمہارے درمیان تلوار ہے. وہ بے چارے ابوبکر کے پاس آئے اور کہنے لگے خلیفہ آپ ہیں یا وہ؟ ابوبکر نے کہا انشاء اللہ وہی ہیں اور عمر کی رائے کے موافق ابوبکر نے بھی عمل کیا.(1)

تعجب انگیز بات تو یہ ہے کہ عمر کا دفاع کرنے والوں کو آپ آج بھی دیکھیں گے کہ وہ اس واقعہ کو عمر کے مناقب اور شجاعت میں شمار کرتے ہیں انہیں میں سے ایک شیخ محمد المعروف بہ دوالیبی بھی ہیں. وہ اپنی کتاب اصول الفقہ کے ص239 میں رقمطراز ہیں کہ:

شاید مولفة القلوب اس حق کو قطع کرنے میں جس کو

____________________

1.الجوہر النیرہ فی الفقہ الحنفی، جلد/1 ص164


خدا نے قرآن میں فرض کیا ہے. عمر کا اجتہاد ان احکام کے لئے مقدمہ تھا جن کو وہ قرآنی نص کے باوجود وہ مصلحت وقت کے لحاظ سے بدل لیا کرتے تھے.

اس کے بعد موصوف عمر کے لئے عذر تراشتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عمر نے نص کی علت پر نظر کی نہ کہ اس کے ظاہر پر... آخر تک ان کا ایسا کلام ہے جس کو سلیم عقلیں نہیں سمجھ سکتی ہیں ہم ان کی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ عمر مصلحت وقت کے لحاظ سے احکام قرآنی میں رد و بدل کر کے اپنی رائے پر عمل کرتے تھے لیکن ان کی اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ عمر نے نص کی علت کو دیکھا اور ظاہر پر نظر نہیں کی شیخ محمد اور ان کے ہمنوائوں سے ہماری گزارش ہے کہ نص قرآن اور نص نبوی زمانوں کے بدلنے سے متغیر نہیں ہوتی ہے. قرآن صراحت کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ خود رسول(ص) کو بھی کسی رد و بدل کا حق نہیں ہے چنانچہ ارشاد ہے:

( وَ إِذا تُتْلى‏ عَلَيْهِمْ‏ آياتُنا بَيِّناتٍ قالَ الَّذِينَ لا يَرْجُونَ لِقاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هذا أَوْ بَدِّلْهُ قُلْ ما يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِنْ تِلْقاءِ نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا ما يُوحى‏ إِلَيَّ إِنِّي أَخافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ)

اور جب ان کے سامنے ہماری آیات کی تلاوت کی جاتی ہے توجن لوگوں کو ہماری ملاقات کی امید نہیں ہے وہ کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا قرآن لائیے. یا اسی کو بدل دیجیئے. تو آپ کہہ دیجئے کہ مجھے اپنی طرف سے بدلنے کا کوئی اختیار نہیں ہے. میں تو صرف اس امر کا اتباع کرتا ہوں جس کی میری طرف وحی کی جاتی ہے میں اپنے پروردگار


کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے عظیم دن کے عذاب کا خوف ہے. سورہ یونس، آیت/15

اور سنت نبوی(ص) کہتی ہے: حلال محمد(ص) قیامت تک حلال ہے اور حرام محمد(ص) قیامت تک حرام ہے.

لیکن دوالیبی اور اجتہاد کے قائل افراد کے زعم کے مطابق زمانہ کے تغیر سے احکام متغیر ہوتے ہیں تو ا سی صورت میں ان حکام پر ملامت نہیں کی جا سکتی ہے جو احکام خدا کو اپنی مصلحت کے اقتضا کے مطابق قبائلی احکام سے بدل لیتے ہیں ظاہر ہے وہ حکم خدا کے مخالف ہوتے ہیں. پس ان میں سے کوئی کہتا ہے کہ روزہ توڑ دو!تا کہ اپنے دشمن پر فتحیاب ہوسکو. اور موجودہ زمانہ میں جب کہ ہم فقر و جہل سے جنگ کر رہے ہیں روزے کی کوئی ضرورت نہیں ہے. اور روزہ تو ہمیں نتیجہ گری اور تعدد ازدواج سے روکتا ہے کیونکہ روزہ ( جماع کو) عورت کے حقوق کی پامالی قرار دیتا ہے(کوئی) کہتا ہے کہ محمد(ص) کے زمانہ میں عورت پیشاب کے برتن سے تعبیر کی جاتی تھی. آج ہم نے اسے آزادی دلائی ہے اور اس کے پورے حقوق دئے ہیں.

اس رئیس نے بھی نص کی علت کو مدنظر رکھا اور اس کے ظاہر کو نظر انداز کر دیا بالکل اسی طرح جس طرح عمر نے کہا تھا... کہ آج مرد و عورت دونوں کو برابر میراث دی جائے گی. کیونکہ خدا نے مرد کو دہرا حصہ دینے کا حکم اس وقت دیا تھا جب وہ خانوادے کی کفالت کرتا تھا اور عورت معطل رہتی تھی. لیکن آج ایسا نہیں ہے آج عورت مشغول ہے، اپنے خانوادے کی کفالت کرتی ہے، وہ مثال میں اپنی زوجہ کو پیش کرتا ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی کے اخراجات پورے کئے ہیں اور وہ ان کی عنایتوں سے وزیر بن


گیا ہے. اسی طرح اس نے زنا کو مباح قرار دے دیا. اور زنا کو اس شخص کا حق قرار دیا ہے جو سن بلوغ کو پہونچ جائے، اور اس نے زنا سے پیدا ہونے والے بچوں کے لئے پرورش گاہ قائم کی ہے. لوگ اس کی یہ علت بیان کرتے ہیں کہ وہ زنا کی اولاد پر رحم کرتا ہے کیونکہ لوگ ذلت و رسوائی کے خوف سے انہیں زندہ دفن کر دیتے تھے. اس کے علاوہ اور بہت سے اجتہادات ہیں، تعجب خیز بات تو یہ ہے یہ شخص عمر کی شخصیت سے اتنا متاثر ہے کہ متعدد بار اس نے عمر کا بڑے شد و مد کے ساتھ تذکرہ کیا ہے اور ایک مرتبہ کہا کہ عمر کو زندگی میں اور موت کے بعد بھی خلافت کی فکر تھی چونکہ جناب بھی صدر ہیں اس لئے زندگی اور موت کے بعد بھی مسئولیت کا بار برداشت کریں گے. ایک مرتبہ جب اسے یہ اطلاع ملی کہ مسلمان میرے اجتہاد پرتنقید کرتے ہیں تو اس نے کہا عمر اپنے زمانہ کے سب سے بڑے مجتہد تھے پس میں اپنے نئے زمانہ میں کیوں نہ اجتہاد کروں، عمر حکومت کے صدر تھے میں بھی حکومت کا صدر ہوں.

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ جب یہ رئیس محمد(ص) کا تذکرہ کرتا ہے تو مزاحیہ اور مسخرانہ انداز میں کرتا ہے. اپنی ایک تقریر میں کہتا ہے کہ: محمد(ص) کچھ بھی نہیں جانتے تھے انہیں جغرافیہ کا بھی علم نہیں تھا اسی لئے تو کہہ دیا علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے. وہ(محمد(ص)) یہ سمجھتے تھے چین دنیا کا آخری حصہ ہے. محمد(ص) یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ علم اتنی ترقی کرے گا کہ ہوائوں میں لوہا اڑایگا انہیں پوٹاشیم یا یا ایٹمی علوم اور کیمیاوی اسلحہ کے بارے میں کوئی علم نہ تھا.

میں اس بے خرد شخص پر ملامت نہیں کرتا ہوں کہ جو کتاب خدا اور سنت رسول(ص) سے کچھ بھی نہیں جانتا ہے. اور ایک روز اپنی حکومت


کو اسلامی حکومت کا نام دیتا ہے. جبکہ اسلام کا مذاق بھی اڑاتا ہے. اصل میں پس پردہ مغربی تہذیب کار فرما ہے. وہ چاہتا ہے کہ اس حکومت کو یورپی ممالک کا جز بنا دے. بہت سے بادشاہوں اور رئوسا نے اسے مبارکبادی کے ساتھ تحائف بھی بھیجے جب اسے مغربی ممالک کی تائید اور اپنے متعلق ان کی رطب اللسانی معلوم ہوئی، یہاں تک کہ انہوں نے اسے مجاہد اکبر تک کا لقب دے دیا، میں پھر بھی اس پر ملامت نہیں کروں گا کیونکہ جو چیزیں اس سے دیکھنے میں آتی میں وہ بعید نہیں تھیں اس لئے کہ جس برتن میں جو ہوتا ہے وہی ٹپکتا ہے. اور جب میں انصاف کروں گا تو پہلے ابوبکرو عمر اور عثمان کو ملامت کا نشانہ بنائوں گا کیونکہ انہوں نے ہی وفات نبی(ص) کے دن ہی سے اس کا دروازہ کھول دیا تھا اور اموی وعباسی حکام کے کل اجتہادات کا یہی لوگ سبب بنے، ان سے زیادہ کسی نے کچھ نہیں کیا، سات صدیوں کی طویل مدت تک اسلام کے حقائق اور اس کے نصوص و احکام کو چھپایا گیا، نتیجہ میں نوبت آج یہاں تک پہونچ گئی کہ ایک ملک کا صدر مسلمان معاشرہ و جمعیت کے سامنے اپنی تقریر میں رسول(ص) کا مذاق اڑاتا ہے اور کوئی اس پر اعتراض نہیں کرتا. نہ خود اس ملک کے باشندے کو شکوہ نہ دوسرے ممالک والوں کو اشکال.

اور یہ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے اور جو میں اسلامی تحریک کے بعض اراکین سے کہتا ہوں کہ اگر آج تم اپنے ملک کے صدر سے اس بات پر لڑتے ہو کہ وہ نصوص قرآن وسنت کا اتباع نہیں کرتا ہے تو تم پر یہ بھی واجب ہے کہ اس شخص سے بیزاری اختیار کرو جس نے اس بدعت "نص کے مقابلہ میں اجتہاد" کی بنیاد رکھی ہے. اگر تم میں انصاف کا مادہ ہے


اور اب حق کا اتباع کرنا چاہتے ہو. جو لوگ میری اس بات کو قبول نہیں کرتے اور مجھے اس لئے برا بھلا کہتے ہیں کہ میں آج کے رئوسا کو خلفائے راشدین سے ملاتا ہوں. ان کے لئے میرا جواب یہ ہے کہ آج کے بادشاہ اور رئوسا تاریخی واقعات کا حتمی نتیجہ ہیں. اور مسلمان رسول(ص) کی وفات سے لے کر آج تک کس دن آزاد تھے؟ کہتے ہیں کہ آپ شیعہ حضرات صحابہ پر بہتان باندھتے اور ان پر سب وشتم کرتے ہیں. اگر ہماری حکومت ہوگی تو تمہیں آگ میں جلائیں گے. میں کہتا ہوں کہ خدا تمہیں وہ دن ہی نہیں دکھائے گا.

ارشاد خداوند ہے:

( الطَّلاقُ‏ مَرَّتانِ‏ فَإِمْساكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ وَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً إِلَّا أَنْ يَخافا أَلَّا يُقِيما حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيما حُدُودَ اللَّهِ فَلا جُناحَ عَلَيْهِما فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلا تَعْتَدُوها وَ مَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ‏ فَإِنْ طَلَّقَها فَلا تَحِلُ‏ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَها فَلا جُناحَ عَلَيْهِما أَنْ يَتَراجَعا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيما حُدُودَ اللَّهِ وَ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُها لِقَوْمٍ يَعْلَمُون) سورہ بقرہ، آیت/230

طلاق دو مرتبہ دی جائے گی اس کے بعد یا نیکی کے ساتھ روک لیا جائے گا یا حسن سلوک کے ساتھ آزاد کر دیا جائیگا اور تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ انہیں دے دیا ہے. اس میں سے کچھ واپس لو مگر یہ کہ یہ اندیشہ ہو کہ دونوں حدود الہی کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو جب تمہیں یہ خوف پیدا ہو جائے


کہ وہ دونوں حدود الہی کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو دونوں کے لئے آزادی ہے اس فدیہ کے بارے میں جو عورت مرد کو دے لیکن یہ حدود الہیہ ہیں ان سے تجاوز نہ کرنا اور جو حدود الہیہ سے تجاوز کرے گا وہ ظالمین میں شمار ہوگا. پھر اگر تیسری مرتبہ طلاق دے دی تو عورت مرد کے لئے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ دوسرا شوہر کرے پھر اگر وہ طلاق دے دے تو دونوں کے لئے کوئی حرج نہیں ہے کہ آپس میں میل کر لیں اگر یہ خیال ہے کہ حدود الہیہ کو قائم رکھ سکیں گے. یہ حدود الہیہ ہیں جنہیں خدا صاحبان علم و اطلاع کے لئے واضح طور سے بیان کر رہا ہے.

بے دھڑک سنت نبی(ص) کی یہ تفسیر ہوتی رہی کہ بیوی شوہر پر تین طلاقوں کے بعد حرام ہوتی ہے اور پھر شوہر اسی وقت رجوع کرسکتا ہے جب کہ اس ( مطلقہ) سے کوئی دوسرا مرد نکاح کر کے طلاق دے دے پس وہ جب طلاق دے دے گا تو ہر پرانے شوہر کو نئے پر تقدم حاصل ہوگا اور عورت کو یہ اختیار ہوگا کہ خواہ اسے ( پرانے شوہر کو) قبول کرے یا انکار کر دے.

لیکن عمر ابن خطاب اپنی عادت کے مطابق ان حدود خدا میں غلطی کرتے ہیں جو جاننے والوں کے لئے بیان کئے گئے ہیں اس حکم کو بھی بدل دیا اور کہا کہ طلاق ایک ہی ہے لیکن تین لفظوں سے متحقق ہوگی اور شوہر پر اس کی زوجہ حرام ہو جائے گی اس طرح عمر نے قرآن مجید اور سنت نبی(ص) کی مخالفت کی

صحیح مسلم کی کتاب الطلاق کے باب" طلاق الثلاث" میں ابن عباس سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ: عہد رسول(ص) اور زمانہ ابوبکر میں نیز


دو سال خلافت عمر میں طلاق ایک ہی تھی. پس عمر ابن خطاب نے کہا : لوگ اس سلسلہ میں جلدی سے کام لیتے ہیں اس میں ان کے لئے آسانی ہے. اگر ہم ان کی تصدیق کر دیتے تو وہ ان کے لئے حجت ہو جاتی.

قسم خدا کی تعجب ہے کہ خلیفہ صحابہ کے سامنے کس جرائت کے ساتھ احکام خدا کو بدل دیتے ہیں اور صحابہ ان کی ہر ایک بات کی موافقت کرتے ہیں نہ کوئی انکار کرتا ہے نہ معاوضہ اور ہم غریبوں کو اس طرح فریب دیتے ہیں کہ ایک صحابی نے عمر سے کہا: قسم خدا کی اگر ہم کہیں آپ سے کجی دیکھیں گے تو تلوار کی باڑ پر لے لیں گے" یہ قول روز بہتان اس لئے ہے تاکہ خلافت کو بلا جھجک آزادی اور ڈیموکریسی کا نمونہ بنا کے پیش کیا جاسکے جب کہ تاریخ اس کی تکذیب کرتی ہے اور اقوال کا اس وقت کوئی اعتبار نہیں ہوتا جب عمل ان کے خلاف ہوتا ہے یا شاید وہ کتاب و سنت میں کجی دیکھ رہے تھے اور عمر ابن خطاب اسے استوار کر رہے تھے" اس ہذیان سے ہم خدا کی پناہ چاہتے ہیں " میں جب شہر قفصہ میں تھا تو میں ان لوگوں کو فتوی دیتا تھا کہ جو اپنی بیویوں کو" انت حرام بالثلاث" کے ذریعہ حرام کر لیتے تھے اور اس وقت بہت خوش ہوتے تھے جب میں انہیں وہ صحیح احکام بتاتا تھا کہ جن میں خلفاء اپنے اجتہاد کے ذریعہ تصرف نہیں کرسکے ہیں لیکن جو انہیں علم کی طرف بلاتا ہے وہ اسے یہ کہکر ڈراتے ہیں کہ شیعوں کے یہاں تو ہر چیز حلال ہے ایک بار ان میں سے ایک شخص نے مجھ سے اچھے انداز میں جدال کیا اور پوچھا؟ کہ جب سیدنا عمر ابن خطاب نے اس قضیہ اور دوسرے احکام خدا کو بدل دیا اور صحابہ نے ان کی موافقت کی تو سیدنا علی کرم اللہ وجہہ و رضی اللہ عنہ نے ان سے جدال و جنگ کیوں نہیں کی؟ میں نے اسے وہی جواب دیا جو علی علیہ السلام نے قریش کو اس وقت


دیا تھا جب انہوں نے یہ کہا تھا کہ وہ دلیر تو ہیں لیکن فنون جنگ سے بے خبر ہیں. آپ(ع) نے فرمایا کہ:

اللہ ان کا بھلا کرے کیا ان میں سے کوئی ہے جو مجھ سے زیادہ جنگ کی مزاولت رکھنے والا اور میدان دغا میں مجھ سے پہلے سے کار نمایاں کئے ہوئے ہو، میں تو ابھی بیس برس کا بھی نہ تھا کہ حرب و ضرب کے لئے اٹھ کھڑا ہوا اور اب تو ساٹھ سے اوپر ہوگیا ہوں لیکن اس کی رائے ہی کیا جس کی بات نہ مانی جائے.

جی ہاں! شیعوں کے علاوہ (کہ جو ان کی امامت پر ایمان رکھتے ہیں) مسلمانوں نے علی(ع) کی بات پر کان دھرا. انہوں نے متعہ کی حرمت کے خلاف آواز بلند کی، تراویح کی بدعت کے خلاف معارضہ کیا بلکہ تمام ان احکام کے بارے میں صدائے احتجاج بلند کی جنہیں ابوبکر و عمر اور عثمان نے بدل ڈالا تھا لیکن ان کی رائے ان کے شیعوں میں محصور رہی اور دوسرے مسلمان ان سے جنگ کرتے رہے، لعنت بھیجتے رہے. آپ کے نام اور تذکرہ کو مٹانے میں منہمک رہے ان کے دلیرانہ موقف کو اس وقت کسی نے نہیں پہچانا کہ جب آپ کو عبدالرحمن ابن عوف) کہ عمر کے بعد جس کے ہاتھ میں خلافت کی باگ ڈور تھی، نے بلایا اور کہا میں آپ کو اس شرط پر خلیفہ بناتا ہوں کہ آپ مسلمانوں میں سنت شیخین، ابوبکر و عمر کے مطابق فیصلے کریں گے، علی علیہ السلام نے اس سے انکار کر دیا اور فرمایا: میں کتاب خدا اور سنت رسول(ص) کے مطابق عمل کروں گا اسی بنا پر انہوں نے علی(ع) کو نظر انداز کر دیا اور عثمان ابن عفان نے یہ شرط قبول کر لی لہذا خلافت انہیں کو سونپ دی گئی پس جب علی(ع) ابوبکر و عمر


کے مرنے کے بعد بھی ان سے معارضہ نہیں کرسکتے تھے تو ان کی موجودگی میں کیونکر ممکن تھا؟؟

اس لئے آپ باب مدینة العلم کہ جو رسول(ص) کے بعد اعلم الناس کو دیکھتے ہیں کہ وہ اہلسنت کے یہاں متروک ہیں ، وہ( اہلسنت) مالک، ابوحنیفہ شافعی اور ابن حنبل کی اقتدا کرتے ہیں اور تمام امور دین میں انہیں کی تقلید کرتے ہیں کسی بھی چیز کے بارے میں علی(ع) سے رجوع نہیں کرتے ہیں اسی طرح آپ ان کے ائمہ حدیث جیسے بخاری و مسلم کو دیکھیں گے وہ ابو ہریرہ، ابن عمر اور ہر ایک لنگڑے گنجے اور قریب و بعید سے سیکڑوں حدیثیں نقل کرتے ہیں لیکن علی علیہ السلام سے معدود چند ہی حدیثیں نقل کرتے ہیں وہ بھی جھوٹی اور اہلبیت(ع) کی عظمت کو گھٹانے والی پھر وہ اسی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ جو علی(ع) کی تقلید کرتے ہیں انہیں کافر کہتے ان کو رافض کے القاب سے یاد کرتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ شیعوں کی صرف اتنی خطا ہے کہ وہ علی(ع) کی اقتدا کرتے ہیں کہ جنہیں خلفائے ثلاثہ کے زمانہ میں گذشہ نشین بنا دیا گیا تھا پھر امویوں اور عباسیوں کے زمانہ حکومت میں ان پر لعنت کی گئی جس کو تاریخ سے کچھ لگائو ہے وہ بہت جلد اسی واضح حقیقت کو درک کر لے گا اور علی(ع) و اہلبیت(ع) و شیعیان علی(ع) کے خلاف ہونے والی سازش کو سمجھ لے گا.


مخالفت نصوص کے سلسلہ میں عثمان اپنے دوستوں کا اتباع کرتے ہیں

شاید عثمان ابن عفان نے عبدالرحمن ابن عوف سے اس شرط پر خلافت لیتے وقت کہ وہ سیرت شیخین ابوبکر و عمر پر عمل کریں گے یہ طے کر لیا تھا کہ میں بھی ان دونوں ( ابوبکر و عمر) کی طرح نصوص قرآن اور نصوص نبوی(ص) کے مقابلہ میں اجتہاد کروں گا جو شخص عثمان کے دوران خلافت کا مطالعہ کرے گا اسے معلوم ہوجائے گا کہ اجتہاد کے میدان میں عثمان ابوبکر و عمر سے کہیں آگے نکل گئے تھے اور لوگ ان دونوں کے اجتہادات کو بھول گئے تھے میں اس موضوع کو طول نہیں دینا چاہتا. اس سے جدید و قدیم تاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں اور ان میں عثمان کی وہ عجیب و غریب باتیں بھی مرقوم ہیں جو ان کے قتل کا باعث بنیں. لیکن میں اپنی عادت کے مطابق قارئین اور محققین کے لئے اختصار کے ساتھ دین محمدی میں اجتہاد کے حامی افراد کا تذکرہ کر رہا ہوں.

مسلم نے اپنی صحیح کتاب " صلوة المسافرین" میں عائشہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: خدا نے دو رکعت نماز فرض کی تھی پر وطن میں پوری ( یعنی چار رکعت) فرض کی اور سفرمیں وہی دو رکعت واجب رہی.

مسلم نے اپنی صحیح کی اسی کتاب میں یعلی ابن امیہ سے رویت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر ابن خطاب سے کہا کہ اگر تمہیں کافرون


کا خوف ہو تو نماز قصر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اس طرح لوگ محفوظ رہیں گے! انہوں نے فرمایا: مجھے بھی اسی چیز سے تعجب ہے جس سے تمہیں تعجب ہے پس میں نے رسول(ص) سے دریافت کیا تو آپ(ص) نے فرمایا: یہ صدقہ ہے جو اللہ نے تم پر تصدیق کیا ہے پس اس کے صدقہ کو قبول کرو.

مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب صلاة المسافرین و قصرہا میں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: خدا نے اپنے نبی(ص) کی زبان سے حضر(وطن ) میں چار رکعت اور سفر میں دو رکعت اور حالت خوف میں ایک رکعت واجب کی ہے.

اسی طرح مسلم نے اپنی صحیح میں انس ابن مالک سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ جب رسول(ص) تین میل یا تین فرسخ کا سفر کرتے تھے تو دو رکعت نماز پڑھتے تھے.

نیز انہیں سے مروی ہے کہ ہم مدینہ سے رسول(ص) کے ہمراہ مکہ گئے تو واپسی تک دو دو رکعت نماز پڑھتے رہے، میں نے دریافت کیا کہ مکہ میں کتنے دن قیام کیا؟ کہا دس روز.

مسلم کی بیان کردہ ان احادیث سے ہم پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جو آیت قصر کے معلق رسول(ص) پر نازل ہوئی تھی رسول(ص) نے اپنے قول و عمل سے اس کی تفسیر بیان کی تھی اور بتایا تھا کہ یہ خدا کی طرف سے چھوٹ ہے اس کے ذریعہ خدا مسلمانوں پر تصدیق کرتا ہے. پس مسلمانوں پر اس کا قبول کرنا واجب ہے. اس سے دوالیبی اور اس جیسے عمر کی خطا کو صحیح بنا کر پیش کرنے والے اور ان کے لئے عذر تراشنے والے افراد کا یہ دعوی باطل ہو جاتا ہے کہ عمر نے اس کی علت کو مد نظر رکھا اور اس کے ظاہر کو


نظر انداز کر دیا. کیونکہ رسول(ص) نے عمر کو آیت قصر نماز کے نزول کے وقت یہ سمجھا دیا تھا کہ نصوص ثابتہ اپنی علت پر موقوف نہیں ہوتی ہیں اس طرح سفر کی حالت میں نماز قصر رہے گی اگر چہ لوگوں کو خوف بھی لاحق نہ ہو لیکن عمر کا دوسرا ہی نظریہ ہے جس کو دوالیبی اور اہلسنت کے ددسرے علماء نے اپنے حسن ظن کی بنا پر نقل کیا ہے.

ہمیں عثمان ابن عفان کی طرف دیکھنا چاہیئے وہ بھی نصوص قرآن وسنت کے مقابلہ میں اجتہاد کرتے ہیں وہ بھی خلفائے راشدین میں شامل ہیں اور وہ سفر میں بھی پوری نماز پڑھتے ہیں. بجائے دو رکعت کے چار رکعت ادا کرتے ہیں.

کیا میں یہ سوال کرسکتا ہوں کہ اس فریضہ میں کمی زیادتی کا سبب کیا ہے میری نگاہ میں اس کا منشاء یہ تھا کہ عوام کو خصوصا بنی امیہ کو یہ باور کرادے کہ وہ محمد(ص) اور ابوبکر و عمر سے زیادہ متقی ہے.

مسلم نے اپنی صحیح کے باب صلوة المسافرین و قصر الصلاة میں سالم سے اور انہوں نے اپنے والد سے انہوں نےرسول(ص) سے روایت کی ہے کہ رسول(ص) منی میں نماز قصر پڑھتے تھے اور ابوبکر وعمر اور عثمان اپنی خلافت کے ابتدائی زمانہ میں ایسے ہی پڑھتے تھے لیکن بعد میں وہ پوری نماز پڑھنے لگے.

نیز مسلم میں بیان ہوا ہے کہ زہری کہتے ہیں کہ میں نے عروہ سے کہا: عائشہ کو کیا ہوگیا ہے وہ سفر میں پوری نماز پڑھتی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ عائشہ نے عثمان کی طرح تاویل کرتی ہے.

اس طرح دین خدا اپنے احکام و نصوص کے ساتھ مفسرین کی تفسیر اور تاویل کرنے والوں کی تاویل و تفسیر کا تابع دار ہو کے رہ گیا.


"ب" اسی طرح عثمان نے عمر کی تائید میں متعہ الحج کی حرمت کے بارے میں اجتہاد کیا اور متعہ النسا کو حرام قرار دیا. بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الحج کے باب" التمتع والاقران" میں مروان ابن حکم سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا میں نے عثمان و علی رضی اللہ عنہما دونوں کو دیکھا ہے عثمان متعہ کرنے سے روکتے تھے اور دونوں کو جمع کرنے سے روکتے تھے.پس علی(ع) نے ان دونوں عمرہ و حج میں عمل کیا اور فرمایا: میں کسی کے کہنے سے سنت نبی(ص) کو ترک نہیں کروں گا.

مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب الحج کے باب " جواز التمتع" میں سعید ابن مسیب سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: علی(ع) و عثمان عسفان میں جمع ہوگئے عثمان متعہ یا عمرہ سے منع کر رہے تھے علی(ع) نے فرمایا: کیا آپ اس فعل سے منع کر رہے ہیں جس پر رسول(ص) نے عمل کیا ہے؟ عثمان نے کہا: چھوڑئے، آپ(ص) نے فرمایا کہ میں تمہارے کہنے سے اس کو نہیں چھوڑ سکتا ہوں پس علی(ع) نے ان دونوں پر عمل کیا.

جی ہاں! یہ علی ابن ابی طالب(ع) ہیں کہ جو کسی کے کہنے پر سنت رسول(ص) کو نہیں چھوڑتے ہیں دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ عثمان اور علی(ع) کے درمیان اس قول کےسلسلہ میں اختلاف رہا ہے، عثمان علی(ع) سے کہتے " دعنا منک" اس میں ہر چیز کی مخالفت ہے، اور اس چیز کا اتباع نہیں ہے جس کی حضرت علی(ع) اپنے ابن عم رسول(ص) سے روایت کرتے ہیں جیسا کہ مقطوعہ روایت کے بارے میں آپ یہ کہیں کہ علی(ع) نے یہ فرمایا بس جب علی(ع) کی یہ رائے ہے تو میں اسے کیسے چھوڑ سکتا ہوں؟

لا ریب ، خلیفہ (عثمان) اپنی ہی رائے پر مصر رہے


باوجودیکہ علی(ع) نے انہیں سنت نبوی(ع) یاد دلائی لیکن عثمان نے علی(ع) کی مخالفت میں لوگوں کو تمتع سے منع کر دیا اور حج و عمرہ کی اجازت دیدی.

"ت" اسی طرح عثمان نماز کے اجزاء میں اجتہاد کر لیتے تھے اور سجدہ میں جاتے اور بلند ہوتے وقت تکبیر نہیں کہتے تھے.

امام احمد ابن حنبل نے عمران ابن حصین سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے علی(ع) کی امامت میں نماز ادا کی میں نے کہا آپ(علی(ع)) نے مجھے رسول(ص) اور دونوں خلفاء کی نماز یاد دلا دی میں بھی گیا اور ان کے پیچھے نماز ادا کی تو انہوں نے رکوع میں جاتے اور بلند ہوتے وقت تکبیریں کہیں، میں نے کہا: اسے ابو نجیدہ سب سے پہلے یہ تکبیرین کس نے ترک کیں؟ کہا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس وقت چھوڑ دی تھیں جب وہ بوڑھے ہوگئے تھے اور ان کی آواز نحیف ہوگئی تھی.(1)

ہاں اسی طرح سنت نبی(ص) برباد ہوئی اور اس کی جگہ سنت خلفاء، سنت بادشاہان اور سنت صحابہ نیز سنت اموی و عباسی نے لے لی اور یہ سب اسلام میں بدعت ہیں اور ہر بدعت ضلالت ہے اور ضلالت کا نتیجہ جہنم ہے جیسا کہ رسالتماب علیہ التحیة والسلام نے فرمایا ہے.

اسی لئے آپ آج مسلمانوں کی نمازوں کی مختلف شکلیں ملاحظہ کر رہے ہیں، آپ انہیں ایک تصور کرتے ہیں جب کہ ان کے قلوب جدا ہیں وہ ایک صف میں کھڑے ہوں تو دیکھئے کہ کسی کے ہاتھ کھلے ہیں کسی کے بندھے ہیں اور ان ہاتھ باندھنے والوں کے طریقے بھی جدا ہیں. کوئی

____________________

1.مسند احمد ابن حنبل جلد/4 ص440


نیفے سے اوپر ہاتھ باندھتا ہے اور کوئی سینے کے پاس باندھتا ہے، کوئی دونوں پیر ملاکر کھڑا ہوتا ہے اور کوئی دونوں پیر کے درمیان فاصلہ قائم کرتا ہے.اور ان میں سے ہر ایک اپنے اس فعل کو حق سمجھتا ہے. اور جب آپ اس سلسلہ میں ان سے گفتگو کریں گے تو وہ جواب دیں گے برادر یہ نماز کی صورتیں ہیں انہیں اہمیت نہ دو جس طرح چاہو پڑھو مہم نماز پڑھنا ہے.

ہاں! یہ ایک حد تک صحیح ہے مہم صرف نماز ہے لیکن نماز کے لئے واجب یہ ہے کہ وہ رسول(ص) کی نماز کے مطابق ہو، رسول(ص) کا ارشاد ہے : اس طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے دیکھو. پس ہمیں ان کی نماز کے بارے میں چھان بین کرنا چاہیئے، کیونکہ نماز دین کا ستون ہے.

"ث" عثمان سے فرشتے بھی شرم کھاتے ہیں:

بلاذری کا کہنا ہے کہ جب عثمان کو ابوذر(رض) کے ربذہ میں مرجانے کی اطلاع ملی تو انہوں نے کہا: خدا ان (ابوذر) پر رحم کرے. عمار یاسر نے کہا کہ ہاں خدا ہم سب پر رحم کرے عثمان نے عمار سے ایک گالی دینے کے بعد کہا تم مجھے ابوذر(رض) کے ساتھ کئے جانے والے سلوک پر شرمندہ کرنا چاہتے ہو. جائو تم بھی ربذہ چلے جائو.(1)

جب عمار تیار ہوئے تو قبیلہ مخزوم علی(ع) کے پاس آیا اور کہا کہ آپ ہی عثمان سے گفتگو کیجئے، علی علیہ السلام نے عثمان سے کہا: اے عثمان خدا سے ڈرو! تم نے ایک صالح انسان کو جلا وطن کیا وہ جلا وطن کے عالم

____________________

1.انساب الاشراف جلد/5 ص54


میں جاں بحق ہوگیا اور اب اس کے مثل انسان کو جلا وطن کرنا چاہتے ہو؟

دونوں کے درمیان کافی دیر تک گفتگو کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ عثمان نے علی علیہ السلام سے کہا جلا وطن کے تم اس سے بھی زیادہ مستحق ہو علی(ع) نے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو کر گذرو!

پھر مہاجرین جمع ہو کر عثمان کے پاس آئے اور کہا کہ جو کچھ تم نے اس جلا وطن شخص کے لئے کہا ہے کہ جسے تم نے شہر بدر کیا ہے تو یہ تمہارے حق میں بہتر نہیں ہے اس لئے عثمان نے عمار کو شہر بدر کرنے سے پرہیز کیا.

یعقوبی لکھتے ہیں کہ عمار یاسر نے مقداد کے جنازہ پر نماز پڑھی اور دفن کر دیا اور مقداد کی وصیت کے مطابق عثمان کو ان کے انتقال کی خبر نہ دی تو عثمان عمار پر بہت غضبناک ہوئے اور کہا: دیل ہو ابن سوداء پر کاش مجھے اس کی اطلاع ہوتی.(1)

کیا اس شرمیلے انسان سے گالیوں کا صدور ممکن ہے جس سے ملائکہ حیا کھاتے ہیں؟ اور وہ بھی نیک و شریف مومنین کے بارے میں؟

عثمان نے صرف عمار پر سب و شتم اور انہیں گالی دینے ہی پر اکتفا نہ کی جیسا کہ کہا تھا: یا عاض ایرابیہ" بلکہ اپنے غلاموں سے کہا عمار پر ٹوٹ پڑو! پس انہوں نے لات اور مکوں سے عمار کو مارا اور پھر عثمان نے لاتوں سے مارا جب کہ عثمان کے جوتوں میں نعل لگی ہوئی تھی جس سے وہ(عمار) مرض فتق میں مبتلا ہوگئے. عمار ضعیف تھے لہذا مار کی تاب نہ لا کر بے ہوش ہوگئے یہ قصہ مورخین کے درمیان مشہور ہے.(2)

____________________

1.تاریخ یعقوبی جلد/2 ص147

2.انساب الاشراف جلد/5 ص49الاستیعاب جلد/3 ص422 ، الامامت والسیاسة جلد/1 ص29 شرح ابن ابی الحدید جلد/1 ص239 العقد الفرید بن عبد ربہ جلد/2 ص273.


عبداللہ ابن مسعود کے ساتھ بھی عثمان نے ایسا ہی سلوک کیا تھا... عبداللہ ابن مسعود کو عثمان کا ایک سپاہی کاندھے پر اٹھا کر مسجد کے دروازہ تک لایا اور زمین پر دے مارا جس سے ان کی پسلی ٹوٹ گئی.(1) جب کہ عبداللہ ابن مسعود کی صرف اتنی خطا تھی کہ انہوں نے عثمان سے یہ کہدیا تھا کہ بنی امیہ کے فاسق افراد کو بے حساب مسلمانوں کا مال نہ دیں.

پھر عثمان کے خلاف شورش برپا ہوگئی نوبت ان کے قتل تک پہونچی اور تین روز تک انہیں دفن نہ کیا گیا. اس کے بعد بنی امیہ کے چار افراد آئے تاکہ نماز جنازہ پڑھیں تو صحابہ میں سے کسی نے کہا کہ نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے. ان پر ملائکہ نے نماز پڑھی ہے. پس لوگوں نے کہا: قسم خدا کی ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں ہرگز دفن نہیں کرنے دیا جائے گا. لہذا بے غسل و کفن" حش کوکب" یہودیوں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا. جب بنی امیہ کا تسلط ہوا تب انہوں نے حش کوکب کو بقیع میں شامل کر لیا.

یہ خلفائے ثلاثہ کی مختصر تاریخ ہے اگرچہ ہم نے اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی مختصر تاریخ بیان کی ہے. اور چند مثالیں پیش کرنے پر اکتفا کی ہے. لیکن ان خیالی فضائل کا پردہ چاک کرنے کے لئے کہ جنہیں خلفائے ثلاثہ جانتے بھی نہیں تھے اور اپنی زندگی کے کسی لمحہ میں

____________________

1.انساب الاشرف واقدی، تاریخ یعقوبی جلد/2 ص147، شرح ابن ابی الحدید جلد/1 ص237


ان فضائل کے حامل نہیں تھے. اتنا ہی کافی ہے.

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اہلسنت ان حقائق کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

اہل ذکر کے پاس اس کا جواب یہ ہے کہ : اگر تم ان حقائق سے واقف ہو، انہیں تسلیم کرتے ہو، ان کا انکار نہیں کرتے کیونکہ تم نے اپنی صحاح میں جس طرح پیش کیا ہے اگرچہ کترو بیونت کےساتھ نقل کیا ہے لیکن اتنے ہی سے تم نے خلافت راشدہ کی عمارت منہدم کر دی ہے.

اور اگر تم ان حقائق کا انکار کرتے ہو اور ان کو صحیح تسلیم نہیں کرتے تو تم نے اپنی صحاح کا اعتبار کھو دیا اور تمہاری جن معتبر کتابوں میں ان کا تذکرہ ہے ان کی تردید سے تمہارے سارے معتقدات کی عمارت تہس نہس ہو جائے گی.


چھٹی فضل

خلافت سے متعلق

خلافت، آپ جانتے ہیں خلافت کیا ہے؟ اس کو خدا نے امت کے لئے آزمائش بنایا ہے کہ جس کو طمع پرور لوگوں نے تقسیم کر لیا اور اس کے سلسلہ میں بہت سے نیکو کار لوگوں کا خون بہا، یہ وہ ہے جس کی وجہ سے مسلمان کافر ہوئے، اس نے صراط مستقیم سے منحرف کیا اور جہنم میں جھونک دیا ہم اس کی مختصر تاریخ کو پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ جو خلافت کی ان مخفی اور لگی لپٹی باتوں کو آشکار کر دے جو رسول(ص) کی موجودگی اور وفات کے بعد خلافت کے سلسلہ میں ہوتی رہیں.

پہلی چیز جو ذہنوں میں خطور کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ریاست ( حاکمیت) اہل عرب کے نزدیک ہر زمانہ میں بدیہی امور سے مربوط رہی ہے آپ دیکھیں گے کہ عرب قبیلہ کے رئیس و سردار کو ہر معاملہ میں اپنے نفسوں پر مقدم کرتے ہیں وہ اس کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے جو کچھ طے کرتے ہیں اس کے مشورہ سے کرتے ہیں اور اس کی بات پر سبقت نہیں کرتے.


ان کا یہ رئیس عادتا عمر رسیدہ اور امور کو دیگر افراد سے بخوبی جاننے والا اور ان (عرب) کے درمیان حسب و نسب کے لحاظ سے اشرف و افضل ہوتا ہے.

اس رئیس قبیلہ پر جو بھی اس کے خاندان کا ذہانت، عقلمندی شجاعت اور دوسرے امور کے علم میں، مہمانوں کی ضیافت میں اس سے بہتر ثابت ہوتا ہے. وہی قبیلہ کا رئیس بن جاتا ہے، لیکن زیادہ تر ریاست میراث کے طور پر ملتی ہے.

اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں قبائل و خاندان اپنی تاستقلالیت کے باوجود اس ایک قبیلہ کی ریاست کے سائے میں رہتے ہیں، جو اموال و افراد کے لحاظ سے مضبوط ہوتا ہے. اس کے کچھ جیالے اور بہادر افراد ہوتے ہیں جو دوسرے قبیلوں کا دفاع اور حمایت کرتے ہیں. اس کی ایک مثال قریش ہے کہ جو عرب کے دوسرے قبیلوں کو اپنا مطیع سمجھتا ہے اور خانہ خدا کی کلید برداری کو اپنا حق تصور کرتا ہے.

اور جب اسلام آیا اس وقت رسول(ص) نے اس چیز کو اتنی اہمیت دی کہ جب بھی کوئی قبیلہ آپ کے پاس آتا اور اسلام کا اقرار کرنا تھا تو اسی وقد میں سے اس کے سردار اور شریف آدمی کو اس قبیلہ کا ریئس بنا دیتے تھے تاکہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے ان سے زکوة وصول کرے اور رسول(ص) و قبیلہ کے درمیان واسطہ قرار دیا.

پھر محمد(ص) نے حکم خدا سے اسلامی حکومت تشکیل دی کہ جو اپنے احکام و استحکام میں وحی خدا کے سامنے سراپا تسلیم ہے، پس اجتماعی اور انفرادی نظام جیسے عقود نکاح، طلاق، خرید و فروخت، لین دین اور


میراث و زکوة اور اسی طرح ہر وہ چیز جو جنگ و معاملات و عبادات میں سے فرد یا اجتماع سے مخصوص ہو اس میں سب احکام خدا کے سامنے عاجز ہیں اور رسول(ص) کاکام احکام کو نافذ کرنا اور ان پر عمل کر کے بتانا ہے.

لامحالہ رسول(ص) اس بات پر غور کرتے ہوں گے کہ اس مہم کے سر کرنے کے لئے کس کو اپنا خلیفہ بنائیں.

اور یہ بات بھی بدیہی ہے کہ ہر حکومت کا صدر یا بادشاہ ( اگر وہ اپنی قوم کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے تو وہ) ان تمام مہمات میں کسی کو اپنا نائب بناتا ہے جو قوم و قبیلہ میں بادشاہ کی عدم موجودگی میں رونما ہوں گی لہذا یہ نائب اس کا وصی و وزیر اول ہے اور یہ وہ مقرب ہے کہ جب کوئی بھی بادشاہ کے پاس نہ ہوگا تو یہ حاضر رہے گا اور یہ بھی ضروری ہے کہ تمام وزراء اور قبائل اسے جانتے ہوں.

پس عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ رسول(ص) نے ان تمام باتوں سے چشم پوشی کرلی تھی. اور انہیں کوئی اہمیت نہیں دی تھی جبکہ ان کا یہی کام تھا اور اس میں کوئی شک نہیں ہے، اسی موضوع سے متعلق بہت سی احادیث تھیں جن پر ان لوگوں نے پردہ ڈال دیا جو شوری کا نظریہ رکھتے تھے اور وہ افراد نے خلیفہ کے تعین و تشخص کے سلسلہ میں رسول(ص) کی عظمت و قداست کو مجروح کرنا چاہتے تھے، چنانچہ آپ پر ہذیان کا اتہام لگایا. اسامہ کے امیر بنانے کے بارے میں چہ می گوئیاں کیں اور کہا کہ وہ بچہ ہے اس میں قیادت کی صلاحیت نہیں ہے. پھر رسول(ص) کی وفات کے سلسلہ میں لوگوں کو شک میں مبتلا رکھا. تمام امور کو معطل کر دیا تاکہ مسلمان رسول(ص) کے منتحب کردہ خلیفہ کی بیعت نہ کر لیں، نصوص کی پامالی ہی سے متعلق ان کی یہ کوشش بھی تھی کہ انہوں نے


علی(ع) اور یاران و انصار کو رسول(ص) کی تجہیز میں مشغول پاکر موقع غنیمت سمجھا ا ور سقیفہ میں جاکر میٹنگ منعقد کر لی اور اپنی مرضی سے خلیفہ چن لیا اور اس سے امیدیں وابستہ کر لیں پھر عام لوگوں سے بالجبر و اکراہ بیعت لینا شروع کر دی اور میدان سیاست سے لوگوں کو الگ رکھنے میں پوری کوشش صرف کر دی اور پوری طاقت و تواں کے ذریعہ کسی بھی لب کشائی کرنے والے کی سرکوبی میں یہ کہکر منہمک ہوگئے کہ وہ اتحاد کو پاش پاش کرنا چاہتا ہے، یا کہتے تھے کہ نئی شرعی خلافت ک بارے میں شک میں مبتلا ہے خواہ اب اقدام کرنے والی فاطمہ(ع) ہی ہوں.

اس کے بعد نبی(ص) کی احادیث پر پابندی لگا دی تاکہ خلافت سے متعلق نصوص لوگوں تک نہ پہونچ سکیں خواہ اس فردی معاملہ میں اجتماعی قتل و خونریزی کی نوبت ہی کیوں نہ آئی ہو اور یہ سب فتنہ کوبی کے نام پر ہوتا تھا. اور کبھی لوگوں پر کافر ہونے کا الزام لگا کر قتل کرتے تھے.

یہ تمام باتیں ہمیں مورخین کی تحریر سے معلوم ہوتی ہیں اگر چہ ان میں سے بعض نے حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے جیسا کہ بعض متناقض روایات گڑھیں یا تاویلات و اعتذار کہ جن کی حقیقت کو مرور ایام و حادثات نے آشکار کر دیا.

ان "مورخین" میں سے بعض افراد معذور ہیں کیونکہ انہوں نے اولین مصادر سے معلومات فراہم کی ہیں کہ جو ان سیاسی اور اجتماعی حالات کے تحت لکھی گئی ہیں کہ جن سے عظیم فتنہ اٹھ کھڑا ہو اور یہ سب کچھ بنی امیہ کی خلافت کے دوران ہوا ہے کہ جنہوں نے بعض صحابہ اور تابعین کے درمیان اموال و مناصب تقسیم کر دیتے تھے.

لہذا بعض مورخین نے صحابہ سے حسن ظن کی بنا پر ایسی


باتیں نقل کردی ہیں وہ ( بیچارہ) آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے راز سے واقف نہیں ہے لہذا صحیح اور جھوٹی روایات خلط ملط ہوگئیں اور محقق کے لئے حقیقت تک رسائی حاصل کرنا مشکل ہوگیا.

محققین کے ذہن سے اس حقیقت کو قریب کرنے کے لئے چند سوالات پیش کرنا ضروری ہے تاکہ ان سوالات یا جوابات سے بعض حقائق سے پردہ ہٹ جائے یا بعض اشارات کا انکشاف ہو جائے کہ جو حقیقت تک پہونچانے والے ہیں.

سوالات و جوابات

بہت سی جگہوں سے میرے پاس بعض مہم سوالات پر مشتمل کچھ خطوط آئے ہیں ان خطوط سے قارئین محترم کے شوق اور ان کے ذوق تجسس کا پتہ ملتا ہے، ان میں سے بعض کے میں نے جواب روانہ کئے اور بعض کا جواب دینے سے اعراض کیا حالانکہ مجھے اس میں کوئی مہابہ نہ تھا. صرف اس وجہ سے جوابات نہیں لکھے کہ وہ سب میری کتاب " ثم اھتدیت" اور " لاکون مع الصادقین" میں موجود ہیں، افادیت کے پیش نظر میں ان سوالات کو مع جوابات کے اس فصل میں بیان کر رہا ہوں. یہی وجہ ہے کہ قارئین بعض احادیث و حادثات کو ایک ہی کتاب میں مکرر یا تینوں کتابوں میں ملاحظہ فرمائیں گے. یہ کام میں نے کتاب خدا کی اقتدا کرتے ہوئے کیا ہے. قرآن نے ایک ہی بات کو مومنین کے ذہن میں بٹھانے کے لئے متعدد سوروں میں بیان کیا ہے.


س-1-جب رسول(ص) یہ جانتے تھے کہ امت میں امر خلافت کے سبب جھگڑا ہوگا تو انہوں نے کیوں خلیفہ معین نہیں کیا؟

ج-1-رسول(ص) نے حجة الوداع کے بعد علی ابن ابی طالب(ع) کو خلیفہ معین کیا تھا، آپ(ص) کے ہمراہ حج کرنے والے صحابہ نے اس کی گواہی دی ہے رسول(ص) یہ بھی جانتے تھے کہ امت عہد شکنی کرے گی اور اپنی پہلی حالت پر پلٹ جائے گی.

س-2-کسی صحابی نے رسول(ص) سے امر خلافت کے بارے میں سوال کیوں نہ کیا جبکہ وہ ہر چیز کے بارے میں پوچھتے تھے؟

ج-2-یقینا صحابہ نے اس سلسلہ میں سوالات کئے اور رسول(ص) جوابات دئے ہیں:

( يَقُولُونَ‏ هَلْ‏ لَنا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَيْ‏ءٍ قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ ) سورہ آل عمراہ، آیت/154

( إِنَّما وَلِيُّكُمُ‏ اللَّهُ‏ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكاةَ وَ هُمْ راكِعُونَ‏ ) مائدہ/56

وہ کہتے ہیں کیا کسی چیز میں ہمارا اختیار ہے. کہدیجئے کہ کل اختیار اللہ کا ہے.

تمہارا ولی خدا اس کا رسول اور وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوة دیتے ہیں.

جب صحابہ نے سوال کیا تو آپ(ص) نے فرمایا:میرے بعد یہ میرے بھائی، وصی اور خلیفہ ہیں.

____________________

1.تاریخ طبری و تاریخ کامل باب" وانذر عشیرتک الاقربین" ملاحظہ فرمائیں.


س-3-جب رسول(ص) امت کو گمراہی و ضلالت سے بچانے کے سلسلہ میں نوشتہ لکھنا چاہتے تھے اس وقت بعض صحابہ کیوں سد راہ بنے اور ہذیان کا بہتان لگایا؟

ج-3-یقینا صحابہ نے رسول(ص) کو نوشتہ نہ لکھنے دیا اور آپ(ص) پر ہذیان کا بہتان لگایا وہ (صحابہ) جانتے تھے کہ رسول(ص) تحریری شکل میں علی(ع) کو خلیفہ معین کریں گے کیونکہ چند روز قبل ہی رسول(ص) نے کتاب خدا اور عترت سے تمسک اختیار کرنے کے لئے فرمایا تھا. تاکہ امت کے بعد گمراہ نہ ہو. صحابہ سمجھ گئے تھے کہ اس نوشتہ میں بالکل وہی الفاظ لکھے جائیں گے. کیونکہ علی(ع) عترت کے راس و رئیس ہیں. اسی لئے صحابہ نے رسول(ص) پر ہذیان کی تہمت لگائی تاکہ وہ قطعی فیصلہ تحریر کی صورت میں نہ دے سکیں، یہی وجہ تھی کہ نوشتہ لکھنے سے قبل ہی شور و غوغا مچ گیا اور اختلاف و نزاع شروع ہوگیا. اور جب نبی(ص) ( صحابہ کے عقیدہ کے مطابق) ہذیان بکے گا تو ان کا نوشتہ بھی ہذیان ہوگا تو اب عقل کا تقاضا یہ ہے کہ نہ لکھا جائے.

س-4- رسول(ص) نے نوشتہ لکھنے پر اصرار کیوں نہ کیا خصوصا جبکہ آپ(ص) امت کو ضلالت سے بچانا چاہتے تھے؟

ج-4- نوشتہ لکھنے پر اصرار کرنا رسول(ص) کی طاقت سے باہر تھا کیونکہ گمراہی سے محفوظ رکھنا" بیشتر صحابہ کے" ہذیان والے قول سے منتفی ہوگیا تھا. اب وہ نوشتہ گمراہی سے بچنے کے بجائے گمراہی کا مصدر بن جاتا ہے. اور ا گر رسول(ص) نوشتہ لکھنے پر اصرار کرتے تو آپ(ص) کے بعد بہت سے بے بنیاد جھگڑے اٹھ کھڑے ہوتے. یہاں تک کہ کتاب اور نصوص قرآن میں شک کیا جانے لگتا.


س-5- رسول(ص) نے وفات سے قبل زبانی تین وصیتیں کی تھیں تو ہم تک فقط دو وصیتیں کیوں پہونچی ہیں اور ایک کیوں ضائع ہوگئی؟

ج-5- بات واضح ہے. پہلی وصیت کو اس لئے ضائع کر دیا گیا کہ وہ علی(ع) کی خلافت سے متعلق تھی اور خلفا نے خلافت سے متعلق کچھ کہنے سننے پر پابندی لگا دی تھی ورنہ ایک عاقل اس بات کو کیسے تسلیم کرسکتا ہے کہ رسول(ص) کوئی وصیت کریں اور ان کی وصیت کو بھلا دیا جائے جیسا کہ بخاری کہتے ہیں.

س-6- کیا رسول(ص) اپنی موت کا وقت جانتے تھے؟

ج-6- بیشک رسول(ص) پہلے سے اپنی موت کا وقت جانتے تھے اور حجة الوداع کی روانگی سے قبل بھی آپ(ص) کو اس علم تھا اور اسی لئے اس حج کو حجة الوداع کہتے ہیں اور صحابہ بھی آپ(ص) کی اس بات سے یہ جان گئے تھے کہ آپ(ص) کی وفات نزدیک ہے.

س-7- نبی(ص) نے ایسا لشکر کیوں تشکیل دیا تھا کہ جس میں سر برآوردہ مہاجرین و انصار اور اصحاب کبار کو شامل ہونے کا حکم دیا تھا اور اپنی موت سے دو روز قبل فلسطین کی طرف روانہ ہونے کے لئے کیوں کہا؟

ج-7- رسول(ص) نے یہ اقدام اس سازش سے آگاہ ہونے کے بعد کیا تھا جو قریش میں اندر، اندر کی گئی تھی اور انہوں (قریش) نے آپس میں یہ عہد کیا تھا کہ رسول(ص) کے بعد پیمان شکنی کریں گے اور علی(ع) سے خلافت چھین لیں گے، اس لئے آپ(ص) نے انہیں لشکر میں شامل کر کے اپنی موت سے قبل مدینہ سے باہر بھیجنا چاہا تھا تاکہ وہ اس وقت مدینہ واپس آئیں جب علی(ع) کی خلافت محکم ہو جائے. اس طرح وہ اپنے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہو


سکیں گے. اس کے علاوہ سریہ اسامہ کی کوئی علت بیان نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ کوئی عقلمندی کی بات نہیں ہے کہ اپنی موت سے دو روز قبل دار الخلافہ کو فوج اور طاقت سے خالی کر دیں.

س-8- رسول(ص) نے علی(ع) کو لشکر اسامہ میں کیوں نہیں شریک کیا؟

ج-8- کیونکہ رسول(ص) کے لئے یہ ضروری تھا کہ وہ اپنا خلیفہ بنا کر دنیا سے جائیں تاکہ وہ آپ(ص) کے بعد تمام کاموں کو سنبھالے. اسی لئے علی(ع) کو اس لشکر میں شریک نہیں کیا تھا جس میں مہاجرین و انصار کخ نمایاں چہرے شامل تھے، اور ان میں ابوبکر و عمر و عثمان اور عبدالرحمن ابن عوف بھی تھے. رسول(ص) کا یہ عمل صاف بتاتا ہے کہ آپ کے بعد علی(ع) بلا فصل خلیفہ ہیں، اور جن لوگوں کو رسول(ص) نے جیش اسامہ میں شریک ہونے کا حکم نہیں دیا تھا ان میں خلافت کی طمع نہیں تھی. اور نہ ہی وہ علی(ع) سے بغض رکھتے تھے. نہ ہی عہد شکنی کا ارادہ رکھتے تھے.

س-9- رسول(ص) نے ایک بے ریش کمسن جوان کو ان ( صحابہ) کا امیر کیوں بنایا؟

ج-9- اس لئے کہ وہ علی(ع) سے حسد کرتے تھے اور ان کے سلسلہ میں بد عہد تھے اور علی(ع) کو کمسن سمجھتے تھے، قریش کے ساٹھ سالہ بوڑھے تیس سالہ جوان علی(ع) کی اطاعت نہیں کرنا چاہتے تھے. پس نبی(ص) نے سترہ17 سالہ جوان اسامہ کو ان کا امیر بنایا تا کہ جس کی میں بھی نہیں بھیگی تھیں. صحابہ کی ناک گھسنا تھی تاکہ اولا ان پر اور ثانیا سارے مسلمانوں پر یہ واضح ہو جائے کہ اپنے ایمان میں سچا مومن وہ ہے جو اپنے نفس میں تنگی محسوس کرنے کے باوجود رسول(ص) کے حکم کو سنے اور اطاعت کرے، اسامہ ابن زید ابن حارث


کو امیر المومنین سید الوصیین، باب علم النبی(ص) اسداللہ الغالب علی ابن ابی طالب(ع) سے کیا نسبت؟ اسی لئے صحابہ و قریش اسامہ کو امیر بنانے سے رسول(ص) کی تدبیر کو سمجھ گئے تھے اور اسامہ کی سرداری کے سلسلہ میں چہ میگوئیاں کرنے لگے اور ان کی معیت میں جانے سے انکار کر دیا ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ ان لوگوں میں وہ چالباز افراد بھی شامل تھے. جن کے بارے میں قرآن مجید کہتا ہے:

( وَ قَدْ مَكَرُوا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللَّهِ مَكْرُهُمْ‏ وَ إِنْ كانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبالُ) سورہ ابراہیم، آیت/46

اور انہوں نے مکر کیا اور ان کا مکر خدا کے پاس ہے اگرچہ ان کا مکر ایسا تھا جس سے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں.

س-10- نبی(ص) کا غیظ متخلفین کے سلسلہ میں اتنا شدید کیوں ہوگیا تھا کہ ان پر لعنت تک کی؟

ج-10- یقینا رسول(ص) کے غیظ میں اس وقت شدت آگئی تھی جب آپ کو یہ معلوم ہوا کہ اسامہ کے امیر بنانے پر وہ طعن کر رہے ہیں ، طعن کا رخ رسول(ص) کی طرف تھا نہ کہ اسامہ کی طرف، اور اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے ان لوگوں کا خدا و رسول(ص) پر ایمان نہیں تھا ، وہ اپنے افکار کو عملی جامہ پہنانا چاہتے تھے. رسول(ص) کے حکم کو نہیں. اسی لئے رسول(ص) نے ان پر لعنت کی کہ انہیں، ان کے پیروکاروں اور سارے مسلمانوں کو یہ بات بتادیں کہ پانی سر سے اونچا ہوگیا. اس دلیل کی بنا پر یہ لوگ ہلاک ہوئے.

س-11- کیا کسی مسلمان پر لعنت کرنا جائز ہے خصوصا نبی(ص) کے لئے؟


ج- جو صرف زبان سے اسلام کا اقرار کرے یعنی اشہد ان لا الہ الا اللہ و اشہد ان محمد رسول اللہ کہے اور اس کے بعد خدا و رسول(ص) کے احکام کی اطاعت نہ کرے تو اس پر لعنت کرنا جائز ہے اس سلسلہ قرآن مجید میں بہت سی آیتیں موجود ہیں ہم ان میں سے ایک کو نقل کرتے ہیں:

( إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ‏ ما أَنْزَلْنا مِنَ الْبَيِّناتِ وَ الْهُدى‏ مِنْ بَعْدِ ما بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتابِ أُولئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَ يَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ ) سورہ بقرہ، آیت/159

جو لوگ ہمارے نازل کئے ہوئے واضح بیانات اور ہدایات کو ہمارے بیان کر دینے کے بعد بھی چھپاتے ہیں ان پر اللہ بھی لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے بھی.

جب خدا حق چھپانے والوں پر لعنت کرتا ہے تو حق کا انکار کرنے والوں اور باطل پر عمل کرنے والوں پر لعنت کرنے میں کیا حرج ہے.

س-12- کیا رسول(ص) نے ابوبکر کو نماز پڑھانے کے لئے معین کیا تھا؟

ج- متضاد روایات سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ رسول(ص) نے ابوبکر کو اس کام کے لئے معین نہیں کیا تھا ، ہاں اگر ہم عمر کے ہم عقیدہ ہو جائیں تو ممکن ہے رسول(ص) نے( معاذ اللہ) ہذیان کی حالت میں کچھ کہدیا ہو. اور جس کا یہ عقیدہ ہے وہ کافر ہے ورنہ ایک عقلمند اس بات کی تصدیق کیونکر کرسکتاہے کہ رسول(ص) نے ابوبکر کو یہ حکم دیا تھا کہ تم لوگوں کو نماز پڑھائو جبکہ انہیں جیش اسامہ میں شریک ہونے کا حکم دے چکے تھے اور خود اسامہ کو ان (ابوبکر) کا امیر و امام بنایا تھا. پھر مدینہ تھا. پھر مدینہ میں ابوبکر کو کیسے امام جماعت بنا دیا جب کہ وہ مدینہ میں نہیں تھے. تاریخ اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ نبی(ص) کی


وفات کے روز ابوبکر مدینہ نہیں تھے. بعض مورخین من جملہ ابن ابی الحدید نے لکھا ہے کہ حضرت علی(ع) نے عائشہ کو متہم کیا کہ انہوں نے اپنے باپ سے کہلوا دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں اور جب نبی(ص) کو صورتحال معلوم ہوئی تو بہت غضبناک ہوئے اور عائشہ سے فرمایا : تمہیں جیسی عورتیں یوسف کےساتھ بھی تھیں. یہ فرما کر مسجد کی طرف روانہ ہوئے اور ابوبکر کو ہٹا کر نماز پڑھائی تا کہ لوگوں کے پاس بعد کے لئے کوئی حجت نہ رہ جائے.

س-13- عمر ابن خطاب نے یہ قسم کیوں کھائی تھی کہ رسول(ص) نے وفات نہیں پائی اور ان لوگوں کو قتل کی دھمکی کیوں دی تھی جو کہہ رہے تھے کہ رسول(ص) نے رحلت فرمائی اور یہ دھمکی انہوں نے ابوبکر کے پہونچنے کے بعد کیوں دی؟

ج- یقینا عمر ان لوگوں کو قتل کی دھمکی دے رہے تھے جو یہ کہہ رہے تھے کہ رسول(ص) نے دار فانی کو خیر باد کہدیا. عمر یہ اس لئے کہہ رہے تھے تاکہ لوگ شش و پنج میں مبتلا ہو جائیں اور علی(ع) کی بیعت نہ کرسکیں یہاں تک کہ وہ جھگڑالو لوگ مدینہ پہونچ گئے جن کو منصب دینے پر معاہدہ ہوچکا تھا اور جو لوگ نہیں پہونچے تو انہوں نے دیکھا کہ انہوں نے بازی جیت لی ہے اور اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ہیں. عمر ننگی تلوار لے کر لوگوں کو رعب میں لینے لگے، بیشک عمر لوگوں کو نبی(ص) کے حجرہ میں داخل ہونے سے منع کر رہے تھے تاکہ حالات کو کنڑول میں لے لیں. ورنہ کسی ایک شخص کو بھی حجرہ رسول(ص) میں کیوں نہیں داخل ہونے دیتے تھے. صرف ابوبکر وہاں آتے جاتے تھے جب ابوبکر کو یہ خبر ملی کہ ہم نے حالات پر قابو پالیا ہے تب وہ حجرہ نبی(ص) سے باہر نکلے اور لوگوں سے کہنے لگے کہ جو شخص محمد(ص)کی پوجا کرتا تھا وہ سن لے کہ محمد(ص) مرگئے اور جو خدا کی عبادت کرتا ہے تو بیشک خدا زندہ ہے. وہ


کبھی نہیں مرے گا.

ہم یہاں اس قول پر ایک مختصر تعلیق لگانا ضروری سمجھتے ہیں کہ کیا ابوبکر کا یہ عقیدہ تھا کہ مسلمانوں میں سے کوئی محمد(ص) کو پوجا کرتا ہے؟ہرگز نہیں یہ تو انہوں نے مجازی طور پر بنی ہاشم اور خصوصا علی(ع) ابن ابی طالب(ع) کی تنقیض اور ہتک کے لئے کہا تھا کہ وہ سارے عرب پر یہ فخر کرتے تھے کہ محمد(ص) رسول اللہ ہم میں سے ہیں اور ہم ان کے اہل و خاندان والے ہیں ہم تمام لوگوں سے زیادہ ان کی میراث کے حقدار ہیں.

یہ تعبیر عمر ابن خطاب کی اس تعبیر سے کہیں زیادہ فضیح ہے جو انہوں نے یوم رزیہ الخمیس میں اس طرح بیان کی تھی کہ " ہمارے لئے کتاب خدا کافی ہے" گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں محمد(ص) کی کوئی ضرورت نہیں ہے ان کا قصہ تمام ہوا اور ان کا عہد گزر گیا، پھر ابوبکر نے اپنے اس قول سے اور تاکید کر دی کہ " جو شخص محمد(ص)کو پوجتا تھا وہ سن لے کہ محمد(ص) مرگئے"اس جملہ سے ابوبکر کی مراد یہ تھی کہ جو لوگ محمد(ص) کی وجہ سے ہم پر فخر کرتے تھے وہ آج سے پیچھے ہٹ جائیں. کیونکہ ان (محمد(ص)) کا قصہ تمام ہوگیا. ہمارے لئے کتاب خدا کافی ہے. وہ زندہ ہے کبھی نہیں مرے گی. اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ نبی(ص) کو حقیقت میں بنی ہاشم اور علی(ع) دوسروں سے بہتر سمجھتے تھے. وہ ان کے احترام اور تقدس و نفاذ امر میں مبالغہ کرتے تھے اور ان کی اتباع میں غلام، صحابہ اور قریش میں پردیسی افراد بھی ایسا ہی کرتے تھے. جب رسول(ص) تھوکتے تھے تو وہ ایک دوسرے پر سبقت کر کے اسے اٹھاتے تاکہ اپنے چہرہ پر ملیں اور ان کے وضو کے پانی اور بال کے لئے لڑتے تھے. یہ تمام غریب و نادار زمانہ رسول(ص) ہی سے علی(ع) کے شیعہ تھے اور انہیں اس نام سے


خود رسول(ص) نے پکارا ہے.(1)

لیکن عمر ابن خطاب اور قریش میں سے بعض بلند پایہ صحابہ اکثر احکام نبی(ص) کے معارض ہوتے تھے اور آپ کی نافرمانی کرتے تھے بلکہ ان کے افعال سے اپنے کو دور رکھتے تھے. عمر ابن خطاب نے وہ درخت کٹوا دیا تھا جس کے نیچے بیعت رضوان ہوئی تھی کیوں کہ بعض صحابہ اسے با برکت سمجھتے تھے جیسا کہ اس زمانہ میں وہابیوں نے یہی کام کیا کہ انہوں نے آثار نبی(ص)کو مٹا دیا. یہاں تک کہ اس گھر کو بھی منہدم کر دیا جس میں آپ(ص) کی ولادت ہوئی تھی اور ان کی یہ کوشش ہے کہ مسلمانوں کو میلاد شریف کے سلسلہ میں جمع نہ ہونے دیا جائے ان کے تبرکات میں سے ایک صلوة ہے. اس کے لئے بھی بعض غافلین کو یہ سمجھا دیا کہ صلوة کامل شرک ہے.

س- 14- انصار مخفیانہ طور پر سقیفہ نبی ساعدہ میں کیوں جمع ہوئے تھے؟

ج- جب انصار کو قریش کی اس سازش کا علم ہوا جو انہوں نے علی(ع) کو خلافت سے دور رکھنے کے لئے کی تھی تو وہ وفات نبی(ص) کے وقت جمع ہوئے اور یہ کوشش کی کہ کسی طرح خلیفہ ہم میں سے بن جائے. پس مہاجر قریش کے ان سرداروں نے جو رسول(ص) سے خاندانی قرابت رکھتے تھے علی(ع) کی بیعت توڑنے کا ارادہ کر لیا تو انصار غیروں کے مقابلہ میں خلافت کے زیادہ حقدار ہیں کیوں کہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اسلام نے ہماری تلواروں سے استحکام پایا ہے. اور مہاجرین تو ہمارے ٹکڑوں پر پلے ہیں اگر ہم مہاجرین کو

____________________

1.تفسیر درمنثور، جلال الدین سیوطی، سورہ بینہ


اپنے شہروں اور گھروں میں جگہ نہ دیتے اور ان کی مدد نہ کرتے تو ان کی کوئی عزت نہ ہوتی اور اگر اوس و جزرج کے درمیان خلافت کے سلسلہ میں اختلاف نہ ہوتا تو ابوبکر و عمرکو خلافت حاصل کرنے کا موقع ہی نہ ملتا بلکہ یہ بھی انہیں کی بیعت کرنے پر مجبور ہوتے.

س- 15- ابوبکر و عمر اور ابو عبیدہ نے سقیفہ کی تشکیل میں کیوں جلدی کی اور اچانک انصار کے پاس کیوں پہونچے؟

ج- جب مہاجرین کے سرداروں نے انصار کی نقل و حرکت دیکھی اور ان کی تدبیر کو تاڑ گئے تو ان میں سے سالم حذیفہ کے غلام نے ابوبکر و عمر اور ابوعبیدہ کو اس مخفی اجتماع کی خبر دی تو وہ سقیفہ کی طرف دوڑے تاکہ انصار کی منصوبہ بندی کو ختم کردیں اور وہاں اچانک پہونچ کر انصار پر یہ ثابت کر دیں کہ ہم تمہاری سازش سے بے خبر نہیں ہیں.

س- 16- عمر ابن خطاب نے راستہ ہی میں انصار کو مطمئن کرنے کے لئے نوشتہ کیوں تیار کیا تھا؟

ج- اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عمر ابن خطاب انصار کے عمل سے ڈر رہے تھے اسی طرح وہ اس بات سے بھی ڈر رہے تھے کہ انصار نے اگر علی(ع) کو خلافت سے دور رکھنے کے سلسلے میں ہماری موافقت نہ کی تو کیا ہوگا، ساری محنت اکارت ہو جائے گی اور تمام کوششیں برباد ہو جائیں گی. یہاں تک کہ خلافت کے لئے نبی(ص) کے سامنے بھی جرائت کی اور یہ سب کچھ اکارت ہو جائے گا. اس لئے عمر ابن خطاب سقیفہ کے راستہ میں یہی سوچتے رہے کہ ان ( انصار) کے ساتھ کون سی چال چلی جائے کہ جس سے اپنے مقصد کے بارے میں ان کی رائے حاصل کر لیں.


س- 17- مہاجرین نے انصار پر کس طرح کامیاب ہو کر ابوبکر کو خلیفہ بنا دیا؟

ج- مہاجرین کی فتح اور انصار کی ناکامی کے متعدد اسباب ہیں انصار کے قبیلے تھے جو زمانہ جاہلیت ہی سے ریاست و زمامت کے لئے لڑ رہے تھے. آنحضرت(ص) کی وجہ سے یہ چپقلش ختم ہوگئی تھی لیکن جب رسول(ص) کا انتقال ہوگیا اور آپ(ص) کی قوم والوں نے خلافت کو اس کے شرعی وارث سے چھیننے کا قصد کر لیا تو اوس نے بھی اپنے سردار سعد ابن عبادہ کو خلافت کے لئے اکسایا. لیکن خزرج کے رئیس بشیر ابن سعد نے اپنے ابن عم پر حسد کیا اور اسے یہ تو یقین تھا کہ سعد ابن عبادہ کے ہوتے ہوئے خلافت اس تک نہیں پہونچ سکتی. پس انصار کی طاقت بٹ گئی اور ان میں سے کچھ لوگ مہاجروں میں شامل ہوگئے اور مہاجرین نے سچے نصیحت کرنے والوں کا کردار ادا کیا.

جیسا کہ ابوبکر نے ان کے اندر جاہلیت کی دشمنی کو اور بھڑکا دیا اس طرح ان کی دکھتی ہوئی رگ کو چھیڑا کہ اگر ہم خلافت اوس کے سپرد کردیں تو اس پر خزرج کبھی راضی نہیں ہوں گے. اور اگر خلافت کی باگ ڈور خزرج کے ہاتھوں میں دے دیں تو اسے اوس کبھی برداشت نہیں کریں گے پھر ابوبکر نے انہیں اس بات کی طمع دی کہ حکومت میں تمہارا بھی حصہ ہوگا. اور کہا کہ ہم امیر میں اورتم وزیر. ہم تمہارے اوپر رائے کے ذریعہ کبھی استبداد نہیں کریں گے.

اس کے بعد ابوبکر نے اپنی ذہانت سے ایک کھیل پوری امت کے ساتھ کھیلا اور سچے نصیحت کرنے والے کا کردار کیا. اور اپنے زہد کا اظہار کرتے ہوئے کہا: مجھے خلافت کی کوئی ضرورت نہیں ہے تم ان


دونوں" عمر ابن خطاب اور ابوعبیدہ" میں سے جس کو چاہو منتخب کر لو.

یہ بہترین اور مضبوط منصوبہ تھا، عمر ابن خطاب اور ابوعبیدہ نے کہا ہم آپ پر کس طرح سبقت کرسکتے ہیں. آپ ہم سے پہلے اسلام لائے ہیں اور رسول(ص) کے یار غار ہیں. ہاتھ پھیلائیے ہم آپ کی بیعت کریں پس ابوبکر نے ہاتھ پھیلایا اور خزرج کے سردار بشیر ابن سعد نے دوڑ کر بیعت کر لی. اور اس کا اتباع کرتے ہوئے دوسرے لوگوں نے بھی بیعت کر لی لیکن سعد ابن عبادہ نے بیعت نہ کی.

س- 18- سعد ابن عبادہ نے بیعت سے کیوں انکار کیا اور عمر نے انہیں قتل کی دھمکی کیوں دی؟

ج- جب انصار نے ابوبکر کی بیعت کر لی اور خلیفہ کی قربت و جاہ حاصل کرنے کی غرض سے ایک دوسرے پر سبقت کرنے لگے تو سعد ابن عبادہ نے بیعت سے انکار کر دیا اور اپنی قوم کو بھی بیعت کرنے سے روکنے لگا. لیکن شدت مرض کی بنا پر کامیاب نہ ہوسکا. کیونکہ صاحب فراش تھا ان کی کوئی نہ سنتا تھا. اس وقت عمر نے کہا: اسے قتل کر دو. یہ فتنہ کو ہوا دے رہا ہے. تاکہ اس کے ذریعہ اختلاف کی بیخکنی کی جائے اور کوئی بیعت سے انکار نہ کرے، کیونکہ اس سے مسلمانوں میں تفرقہ پھیل جائے گا اور یہ فتنہ پیدا ہونے کا سبب بنے گا.

س -19- انہوں ( ابوبکر و عمر) نے خانہ فاطمہ(ع) کو جلانے کی وھمکی کیوں دی؟

ج- صحابہ کی ایک بڑی تعداد نے ابوبکر کی بیعت سے انکار کر کے خانہ علی(ع) ابن ابی طالب میں پناہ لے رکھی تھی. اگر عمر ابن خطاب جلدی


نہ کرتے اور گھر کے چاروں طرف لکڑیاں جمع کر کے انہیں جلانے کی دھمکی نہ دیتے تو بات بہت بڑھ جاتی، امت کے علوی اور بکری دو گروہ ہو جاتے. لیکن عمر ابن خطاب کو بہت دور کی سوجھی اور کہا: یا تو تم بیعت کے لئے نکل آئو ورنہ میں گھر کو اس کے مکینوں کے ساتھ جلا دوں گا. عمر کی مکین سے مراد علی(ع) و فاطمہ(ع) بنت رسول(ص) ہیں.

اس کے بعد لوگوں میں کس کی ہمت تھی کہ وہ اطاعت سے روگردانی کرے اور بیعت سے انکار کرے کیونکہ عمر کے سامنے سیدہ نساء العالمین(ع) اور ان کے شوہر سید الوصیین سے بڑھ کر اور کون محترم ہوسکتا ہے؟

س-20- ابوسفیان ان کو ڈرانے اور دھمکانے کے بعد کیوں خاموش ہوگیا؟

ج- اس لئے کہ جب ابوسفیان وفات نبی(ص) کے بعد مدینہ لوٹ کے آیا تو اس کے پاس جمع شدہ صدقات بھی تھے. تو اب ابوبکر کی خلافت تھی اس لئے وہ تیزی سے علی(ع) ابن ابی طالب کے گھر کی طرف پڑھا اور انہیں بغاوت پر اکسانے لگا اور موجود خلافت سے جنگ کے لئے مال و افراد کا لالچ دیا. لیکن علی(ع) ابن ابی طالب اس کی سازش کو تاڑ گئے اور اس کی پیش کش کو رد کر دیا. جب ابوبکر و عمر کو اس واقعہ کی خبر ملی تو وہ دوڑتے ہوئے ابوسفیان کے پاس گئے اور اس کو مال و دولت کا لالچ دیا اور کہا کہ جو کچھ صدقات تم نے جمع کئے ہیں وہ ہم تمہیں کو لوٹا دیں گے اور تم کو خلافت میں بھی شریک بنا لیں گے پس اس کے بیٹے کو شام کا حاکم مقرر کر دیا. لہذا ابوسفیان ان سے راضی ہوگیا اور خاموشی اختیار کر لی. اور جب ابوسفیان کا بیٹا یزید اپنے کیفر کردار کو پہونچا تو ابوسفیان کے دوسرے بیٹے معاویہ کو اس کا قائم مقام بنا دیا اور اس مسند ولایت


پر بٹھا دیا.

س- 21- کیا علی(ع) خلافت سے راضی ہوگئے اور بیعت کر لی تھی؟

ج- کبھی نہیں.... علی(ع) کبھی راضی نہیں ہوئے اور نہ ہی خاموش بیٹھے بلکہ ہرطریقہ سے ابوبکر کی خلافت کے خلاف احتجاج کیا. اور دھمکی اور دہشت گردی کے باوجود بیعت کرنے پر تیار نہ ہوئے، ابن قتیبہ نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ علی(ع) نے ان(ابوبکر و عمر) سے کہا قسم خدا کی میں تمہاری کبھی بیعت نہیں کروں گا، بلکہ بیعت کے سلسلہ میں میں تم دونوں سے زیادہ اولی ہوں. آپ(ع) نے اپنی زوجہ فاطمہ زہرا(ع) کو ساتھ لیا اور انصار کی مجلسوں میں گئے. لیکن انصار نے یہ عذر پیش کیا کہ ہمارے پاس ابوبکر پہلے آگئے تھے. بخاری کہتے ہیں کہ علی(ع) نے فاطمہ(ع) کی حیات تک بیعت نہیں کی لیکن جب فاطمہ(ع) کا انتقال ہوگیا اور لوگوں کی بے رخی بڑھنے لگی تو آپ(ع) ابوبکر سے مصالحت کرنے پر مجبور ہوگئے، جناب فاطمہ(ع) اپنے پدر بزرگوار کی وفات کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں، پس کیا فاطمہ(ع) بغیر بیعت کئے ہوئے مرگئیں جب کہ ان کے والد رسول(ص) نے فرمایا ہے کہ جو شخص مرجائے اور اس کی گردن میں بیعت کا طوق نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا. اور کیا علی(ع) کو یہ علم تھا کہ ابوبکر کے بعد تک زندہ رہیں گے. کیونکہ انہوں نے بیعت کرنے میں چھ ماہ کی تاخیر کی تھی؟ لیکن علی(ع) کبھی خاموش نہیں رہے اور اپنی طول حیات میں جب بھی موقعہ پایا اپنے حق کا مطالبہ کیا اور دلیل کے طور پر آپ(ع) کا مشہور خطبہ شقشقیہ موجود ہے.

س- 22- انہوں نے فاطمہ زہرا(ع) کو کیوں غضبناک کیا، کیا مصالحت کی کوئی گنجائش نہ تھی؟


ج- یقینا انہوں نے فاطمہ زہرا(ع) کی اراضی اور دوسرے املاک غصب کر کے اور ان کے والد کی میراث نہ دے کر اور ہر دعوے میں جھٹلا کر فاطمہ(ع) کو غضبناک کیا، یہاں تک کہ لوگوں میں فاطمہ(ع) کی عظمت و ہیبت نہ رہی اور وہ آپ(ع) کی تصدیق تک نہیں کرتے تھے. اور جب آپ(ع) خلافت کی نصوص لے کر اٹھیں تو انصار نے عذر کیا کہ ہم پہلے ہی ابوبکر کی بیعت کر چکے ہیں اگر آپ کے شوہر پہلے ہمارے پاس آتے تو ہم ان کی بیعت کر لیتے.

اسی لئے فاطمہ(ع) ابوبکر و عمر پر اور زیادہ غضبناک ہوئیں. یہاں تک کہ آپ(ع) ہر نماز کے بعد ان ( ابوبکر و عمر) کے لئے بد دعا کرتی تھیں، اور اپنے شوہر کو وصیت کی کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی میرے جنازہ پر نہ آئے اور جن لوگوں سے کراہت کرتی تھیں ان کا بھی سایہ مجھ پر نہ پڑے.

جب انہوں نے جان بوجھ کر جناب سیدہ فاطمہ(ع) کو اذیت پہونچائی تا کہ علی(ع) کو یہ بتا دیں کہ ہم تم کو فاطمہ بنت رسول(ص) سیدہ نساء العالمین" کہ جن کے غضبناک ہونے سے خدا غضبناک ہوتا ہے اور ان کی خوشنودی خدا کی خوشنودی ہے" سے حقیر سمجھتے ہیں پس علی(ع) کے پاس سکوت و رضا کے علاوہ چارہ کار نہ تھا.

س- 23- صحابہ کی عظیم شخصیتوں نے جیش اسامہ میں شریک ہونےسے کیوں پہلو تہی کی؟

ج- کیونکہ ( اندرونی طور پر) معاملہ ابوبکر کے لئے طے ہوچکا تھا اور وہ عمر کی کوششوں سے مسلمانوں کے خلیفہ بن چکے تھے اسی لئے ابوبکر نے اسامہ سے یہ خواہش کی کہ عمر کو چھوڑ دیا جائے تا کہ وہ خلافت کے معاملہ میں ان سے


مدد حاصل کرسکے. کیونکہ وہ تنہا اپنے منصوبے کو تکمیل تک نہیں پہونچا سکتے تھے بلکہ ان کو ایسے فعال لوگوں کی ضرورت تھی جن کی جرائت و قوت کا یہ عالم تھا کہ وہ رسول(ص) سے بھی معارضہ کرچکے تھے. اور غضب خدا اور رسول(ص) کی لعنت کی پرواہ نہیں کی تھی.

.... اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس منوبہ کو بنانے والوں نے جیش اسامہ میں شریک ہونے سے اس لئے تخلف کیا تھا تاکہ اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرسکیں اور اپنے دستورات کو مستحکم بنانے میں ایک دوسرے کا تعاون کرسکیں.

س- 24- علی (ع) کو ہر عہدہ سےکیوں الگ رکھا، اور انہیں کسی چیز میں شریک کیوں نہ بنایا؟

ج- با وجودیکہ انہوں نے (خلفاء) نے طلقا کی بہت بڑی تعداد کو اپنے قریب بلا لیا تھا. اور اپنی حکومت کے عہدوں پر فائز کر دیا تھا اور انہیں شریک بنا لیا تھا اور جزیرة العرب کے شہر اور اسلامی ممالک میں انہیں امیر و ولی مقرر کر دیا تھا. جیسے ولید ابن عقبہ، مروان ابن حکم اور ابوسفیان کے بیٹے یزید و معاویہ، عمرو ابن عاص، مغیرہ ابن شیبہ اور ابو ہریرہ اور ایسے ہی بہت سے لوگوں کو جمع کر لیا تھا جن سے رسول(ص) ناراض رہتے تھے. لیکن علی(ع) ابن ابی طالب کو نظر انداز کر دیا اور خانہ نشین کر دیا اور پچیس سال تک کسی کام میں بھی شریک نہیں کیا اس کی وجہ صرف آپ(ع) کو لوگوں کی نظروں میں حقیر و ذلیل اور ان سے دور رکھنا تھا. اس لئے کہ لوگ دنیا کے غلام ہیں جس کے پاس مال و دولت دیکھتے ہیں اسی کی طرف جھکتے ہیں جب کہ علی(ع) کے پاس ہمیشہ اپنے بازو کی کمائی رہی. یہی وجہ ہے کہ لوگ آپ(ع) کے پاس نہیں آتے تھے.


اب علی(ع) ابوبکر و عمر اور عثمان کی خلافت کے دوران گھر کی چہار دیواری میں مقید تھے اور سب کے سب ان کے خلاف سازش میں مصروف تھے. ان کا چراغ گل کر دینا چاہتے تھے اور ان کے فضائل و مناقب کو چھپاتے تھے. علی(ع) کے پاس مال دنیا میں سے کچھ نہ تھا کہ جس کی وجہ سے لوگ آپ کی طرف راغب ہوتے.

س- 25- انہوں ( ابوبکر و عمر) نے زکوة نہ دینے والوں کے ساتھ جنگ کیوں کی جب کہ نبی(ص) نے اسے حرام قرار دیا تھا؟

ج- اس لئے کہ بعض صحابہ نے غدیر خم میں حجة الوداع سے لوٹتے وقت نبی(ص) کے ساتھ حضرت علی(ع) کی بیعت کی تھی انہوں نے ابوبکر کو زکوة دینے سے انکار کر دیا. کیونکہ وہ آنحضرت(ص) کی وفات کے وقت موجود نہیں تھے اور نہ ہی ان کو یہ معلوم تھا کہ خلافت علی(ع) کے بجائے ابوبکر کے ہاتھوں میں پہونچ گئی ہے. اس لئے کہ وہ مدینہ کے باشندہ نہیں تھے اور اس میں بھی شک نہیں ہے کہ ان تک یہ خبر بھی پہونچی تھی کہ خلیفہ سے فاطمہ(ع) ناراض ہیں اور علی(ع) نے بیعت سے انکار کر دیا ہے. انہیں وجوہات کی بنا پر انہوں نے اس وقت تک کے لئے ابوبکر کو زکوة دینے سے منع کر دیا تھا جب تک کہ معاملہ صاف نہ ہو جائے.

اب ابوبکر و عمر نے ان کی طرف خالد ابن ولید " جوان کی شمشیر برہنہ تھا" کی قیادت میں لشکر بھیجنے کا فیصلہ کیا، پس اس نے ان کا جوش ٹھنڈا کر دیا. ان کے احساسات کی مردہ بنا دیا ان کے افراد کو قتل کر دیا. ان کی عورتوں اور بچوں کو اسیر کر لیا. تاکہ اس شخص کے لئے باعث عبرت بن جائے جو خلیفہ کی اطاعت نہ کرنے کا قصد رکھتا ہو یا حکومت کی دھاگ بیٹھ جائے.


س- 26- انہوں(خلفائے ثلاثہ) نے حدیث نبوی کی تدوین اور نقل پر پابندی کیوں لگائی؟

ج- وہ ابتدا ہی سے احادیث نبوی پر پابندی لگا رہے تھے یہ پابندی صرف اس لئے نہ تھی کہ ان احادیث کے ضمن میں حضرت علی(ع) کی خلافت کے بارے میں نصوص تھیں بلکہ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اکثر احادیث خلفاء کے ان اقوال و افعال کے خلاف تھیں جن سے وہ زندگی کا نظم و نسق بر قرار رکھے ہوئے تھے اور اسی کی بناد پر اس نئی حکومت کے ستون استوار کئے ہوئے تھے جو انہوں نے اپنے اجتہاد کے مطابق اختراع کر لئے تھے.

س-27- کیا ابوبکر خلافت کی باگ ڈور سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے تھے؟

ج- ابوبکر خلافت کی باگ ڈور نہیں سنبھال سکتے تھے اگر عمر اور نبی امیہ کے دوسرے سربرآوردہ افراد نہ ہوتے. تاریخ گواہ ہے کہ احکام کے سلسلہ میں ابوبکر و عمر کے محتاج تھے. اصل حاکم عمر ہی تھے. ہماری اس بات پر مولفہ القلوب کا وہ قصہ دلالت کر رہا ہے کہ جب وہ لوگ ابوبکر کی خلافت کے ابتدائی زمانہ میں ان کے پاس آئے اور ابوبکر نے انہیں ایک رقعہ لکھ کر دیا اور عمر کے پاس بھیج دیا. اس لئے کہ بیت المال کی چابی عمر کے ہاتھ میں تھی پس انہوں نے رقعہ لے کر پھاڑ ڈالا. اور انہیں واپس کر دیا، وہ ابوبکر کے پاس آئے اور ان سے پوچھا: آپ خلیفہ ہیں یا وہ؟ ابوبکر نے جواب دیا: انشاء اللہ وہی ہیں.

ایسا ہی اس وقت ہوا جب ابوبکر نے زمین کا ایک قطعہ عبیدہ ابن حصین اور اقرع ابن حابس کے نام لکھ دیا تھا. عمر نے ابوبکر کا خط پڑھ کر


انکار کردیا اور اس پر تھوک کر مٹا دیا. تو دونوں عمر کے اس فعل سے برہم ہو کر ابوبکر کے پاس آئے اور کہا: قسم خدا کی ہم نہیں جانتے کہ خلیفہ آپ ہیں یا عمر؟ ابوبکر نے کہا: خلیفہ تو عمر ہی ہیں، تھوڑی دیر کے بعد غیظ و غضب کے عالم میں عمر آئے اور ابوبکر سے زمین لکھ دینے کے سلسلہ میں سخت کلامی سے پیش آئے تو ابوبکر نے کہا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم اس کام کے لئے مجھ سے زیادہ موزوں ہو لیکن تم نے مجھے زبردستی پھنسا دیا.(1)

بخاری نے اپنی صحیح میں لکھا ہے کہ عمر لوگوں کو ابوبکر کی بیعت پر اکساتے تھے اور کہتے تھے ابوبکر رسول(ص) کے ساتھ تھے وہ تمہاری حاکمیت کے لئے سارے مسلمانوں سے اولی ہیں. اٹھو! اور ان کی بیعت کرو. انس ابن مالک کہتے ہیں کہ میں نے عمر کو ابوبکر سے کہتے ہوئے سنا کہ: منبر پر جائو اور مسلسل اصرار کے بعد انہیں منبر پر چڑھا دیا. اور سب لوگوں نے ان کی بیعت کر لی.

س- 28- ابوبکر نے اپنی موت سے پہلے عمر کو کیوں خلیفہ بنایا؟

ج- اس لئے کہ عمر نے علی(ع) کو خلافت سے الگ کرنے میں بہت بڑا رول ادا کیا تھا. اور اس سلسلہ میں رسول(ص) سے بھی لڑ گئے تھے اور ابوبکر کی بیعت پر انصار کو بھی عمر ہی نے راضی کیا تھا. اور تمام لوگوں پر شدت و سختی کے ساتھ بیعت واجب قرار دے دی تھی یہاں تک کہ خانہ فاطمہ(ع) کو جلانے کی دھمکی دی تھی.

____________________

1.عسقلانی نے اپنی کتاب الاصابہ فی معرفة الصحابہ میں عیینہ کے حالات میں تحریر کیا ہے اور ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ کی جلد/12 کے ص108 پر تحریر کیا ہے.


اور پھر عمر اصلی خلیفہ تھے جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں. کیونکہ پہلی اور آخری بات کا انہیں کو اختیار تھا.اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عرب ہوشیار ترین افراد میں سے تھے وہ جانتے تھے کہ مسلمان خصوصا انصار تندخو اور مغلوب الغضب انسان کی بیعت پر اتفاق نہیں کریں گے اس لئے انہوں نے ابوبکر کو پیش کیا کیونکہ ابوبکر نرم مزاج تھے اور ان میں سابق الاسلام بھی تھے پھر ان کی بیٹی عائشہ جرائت مند عورت تھی. وہ مشکلات کا سامنا کر کے امور میں تبدیلی کرسکتی تھی. اور عمر اس بات کو بخوبی جانتے تھے کہ ابوبکر میرے تابع دار اور ہر کام میں میرے اشاروں پر چلنے والے ہیں.

عمر کی خلافت کے سلسلہ میں ابوبکر کی وصیت اکثر صحابہ پر وصیت لکھنے سے قبل بھی مخفی نہ تھی. علی(ع) نے اول روز ہی عمر سے کہا تھا کہ جتنی کوشش ہوسکے کر لو اس میں تمہارا بھی فائدہ ہے آج کام کر کے ابوبکر کی خلافت کو مستحکم کر دو کل وہ تمہیں ہی لوٹا دیں گے، جیسا کہ دوسرے شخص نے عمر سے اس وقت کہا تھا وہ ابوبکر کا وصیت نامہ لے کر نکلے تو اس شخص نے کہا مجھے معلوم ہے اس میں کیا ہے پہلے تم نے انہیں خلیفہ بنایا آج انہوں نے تم کو خلیفہ بنا دیا.

اس سے ایک بار پھر ہم اہلسنت کے اس قول کی حقیقت آشکار ہوجاتی ہے کہ خلافت کا تعلق شوری سے ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے. اور نہ ہی ابوبکر و عمر کے نزدیک اس کا کوئی اعتبار ہے اور جیسا کہ اہلسنت کا گمان ہے کہ رسول(ص) دنیا سے چلے گئے اور خلافت کا معاملہ شوری پر چھوڑ گئے تو سب سے پہلے اس اصل کو ابوبکر نے منہدم کر دیا اور اپنے بعد عمر کو خلیفہ بنا کر سنت نبی(ص) کی مخالفت کی.


آپ ہمیشہ اہل سنت کو اس پر فخر کرتے دیکھیں گے کہ ہم تو شوری پر ایمان رکھتے ہیں. خلیفہ شوری ہی کے ذریعہ صحیح طور پر منتخب ہوسکتا ہے وہ شیعوں کے اس قول کا مذاق اڑاتے ہیں کہ امامت کا تعلق خدا و رسول(ص) کی نص سے ہے ان میں سے اکثر لوگوں کو اس اعتقاد پر تنقید کرتا ہوا پائیں گے. کہ عقیدہ امامت اسلام میں بھی فارس سے درآیا ہے( کیونکہ) فارس والے ہی حکومت الہی کے سلسلہ میں توارث کے قائل ہیں.

اکثر اہلسنت اس آیت ( وَ أَمْرُهُمْ‏ شُورى‏ بَيْنَهُمْ‏ ) سے استدلال کرتے ہیں. اور کہتے ہیں کہ یہ آیت خلافت کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ابوبکر و عمر نے کتاب خدا اور سنت رسول(ص) دونوں کی مخالفت کی اور خلافت حاصل کرنے کے چکر میں ان کی کوئی اہمیت نہ سمجھی.

س- 29- عبدالرحمن ابن عوف نے علی(ع) ابن ابی طالب سے سیرت شیخین پر عمل کرنے کی شرط کیوں عائد کی؟

ج- دنیا کی پستی دیکھئے کہ عمر کے بعد عبدالرحمن ابن عوف امت کی تقدیر کا فیصلہ کر رہا ہے. پس جس کو چاہے وہ منتخب کرے اور جیسا چاہے فیصلہ کرے. یہ سب عمر کی تدبیریں ہیں کہ جس نے اس گروہ کو دوسرے صحابہ پر ترجیح دی تھی. جس میں عبدالرحمن ابن عوف شامل ہو جبکہ عبدالرحمن ابن عوف دنیائے عرب کا چالباز ترین انسان تھا. اور اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ عبدالرحمن ابن عوف خلافت کو اس کے اصلی و شرعی محور سے ہٹانے والے اور اپنے منشاء سے خلیفہ بنانے والے گروپ میں سے تھے اور جب خود بخاری کو یہ اعتراف ہے کہ عبدالرحمن


حضرت علی(ع) سے کسی چیز سے ڈر رہے تھے.(1) پس لامحالہ عبدالرحمن ابن عوف نے علی کو خلافت سے دور رکھنے کے سلسلہ میں پوری کوشش صرف کی ہوگی اور عبدالرحمن ابن عوف دوسرے صحابہ کی طرح یہ بھی جانتے تھے کہ علی(ع) ابوبکر و عمر کے اجتہادات اور جو کچھ انہوں نے کتاب خدا اور سنت رسول(ص) میں رد و بدل کیا ہے کے خلاف ہیں اور حضرت علی(ع) ہمیشہ ان کے خلاف رہے اور ان سے لڑتے رہے ہیں.

اس لئے عبدالرحمن ابن عوف نے علی(ع) کے سامنے یہ شرط پیش کی کہ آپ کو سیرت شیخین کے مطابق فیصلہ کرنا ہوگا بلکہ عبدالرحمن اس بات کو ددسروں سے زیادہ اچھے طریقہ سے جانتا تھا کہ علی(ع) نہ فریب کار ہیں نہ دروغگو، لہذا وہ کبھی اس شرط کو قبول نہیں کریں گے. جیسا کہ عبدالرحمن یہ بھی جانتا تھا کہ ان کے بہنوئی عثمان کی طرف قریش اور خلیفہ ساز کمیٹی کا رجحان ہے.

س- 30- کیا اہلسنت کی کتابوں میں حدیث ائمہ اثنا عشر کا کہیں وجود ہے؟

ج- بخاری و مسلم نے اور اہلسنت کے دوسرے تمام محدثین نے نبی(ص) سے روایت کی ہے کہ:

"لا يزال‏ الدين‏ قائما حتى تقوم الساعة، أو يكون عليكم إثنا عشر خليفة كلهم من قريش"(2)

یہ دین قیامت تک باقی رہے گا یا بارہ خلفاء کے

____________________

1.صحیح بخاری جلد/8 ص123 باب " کیف یبایع الناس الامام" کتاب الاحکام

2. صحیح بخاری جلد/8 ص127 صحیح مسلم جلد/6 ص3


زمانہ تک باقی رہے گا اور وہ ( خلفاء) سب قریش سے ہوں گے.

یہ حدیث ایسی پیچیدہ پہیلی بن کے رہ گئی کہ جس کا جواب اہلسنت کے پاس نہیں ہے اور نہ ہی ان کے علماء میں سے کسی میں یہ جرائت ہے کہ وہ چار خلفائے راشدین اور پانچویں عمر ابن عبدالعزیز کے علاوہ سات اور خلفائ کے نام شمار کراسکے. ان کا کہیں وجود ہی نہیں ہے.

یا وہ اہلسنت" شیعوں کی طرح علی(ع) اور اولاد علی(ع) کی امامت کے قائل ہو جائیں، یا پھر اس حدیث کو جھٹلا دیں اور ان کی صحاح حق سے خالی ہوجائے اور اس میں جھوٹ کے علاوہ کچھ نہ رہ جائے.

یہاں میں ایک بات کا اور اضافہ کر رہا ہوں اور وہ یہ کہ صرف یہ حدیث خلافت کو قریش میں منحصر کرتی ہے جبکہ شوری کا نظریہ اس کی تردید کرتا ہے. جس کے اہلسنت معتقد ہیں کیونکہ انتخاب اور ڈیمو کریسی میں ساری امت کے افراد شامل ہیں، تمام قبائل کو چھوڑ کر اسے ایک خاندان میں محدود نہیں کیا جاسکتا ہے. بلکہ اس انتخاب میں عرب قبائل کے علاوہ غیر عرب اسلامی قبائل بھی شامل ہیں.

یہ ان بعض مسائل کے مختصر اور سرسری جوابات تھے کہ جو قارئین کے ذہنوں کو پریشان کئے ہوئے تھے. واضح رہے کہ ان مسائل کے مفصل جوابات تاریخی کتابوں میں مل جاتے ہیں. اور میری کتاب " ثم اہتدیت" اور " لاکون مع الصادقین" میں بھی مل سکتے ہیں.

تحقیق کرنے والے کو موثق مصادر کی طرف رجوع کرنا چاہئے، اور حقیقت تک پہونچنے کے لئے نیوٹرل ہو کر روایات


اور تاریخی واقعات کی چھان بین کرنا چاہئیے، تاکہ ان کے درمیان سے باطل کا پردہ چاک کرکے حقائق کا انکشاف کرسکے اور اس کو اس کی اصلی شکل میں دیکھ سکیں.


ساتویں فصل

حدیث سے متعلق

عنقریب میں قارئین کے سامنے یہ بات پیش کروں گا کہ حدیث کا مسئلہ ان مسائل سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے جن میں آج مسلمان مبتلا ہیں خصوصا دور حاضر میں کیونکہ وہابیوں کی یورنیورسٹیوں سے لوگ فنون احادیث میں ڈاکٹریٹ کی سند لے کر نکل رہے ہیں. آپ انہیں دیکھتے ہیں کہ وہ ان ہی احادیث کو حفظ کرتے ہیں کہ جو ان کے مذہب اور عقیدہ کے مطابق ہوتی ہیں اور ان احادیث میں اکثر وہ حدیثیں ہیں جو ان کے اسلاف بنی امیہ نے گڑھی ہیں. ان حدیثوں سے وہ نور نبی(ص) کو بجھانا اور تصور رسالت کو داغدار بنانا چاہتے تھے. رسول(ص) ( معاذ اللہ) یہ نہیں جانتے تھے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور نہ ہی اپنے ان متناقض افعال و اقوال سے با خبر تھے جنہیں دیکھ کر دیوانوں کو ہنسی آجائے.

باوجودیکہ اہل سنت کے علماء و محققین نے احادیث کے سلسلہ میں کام کیا ہے اور جانفشانی کی ہے لیکن افسوس کہ اس کے بعد بھی ان کی


معتبر اور صحیح کتابوں میں ایسی بہت سی بے بنیاد چیزیں موجود ہیں ایسے ہی شیعوں کی کتابیں بھی تال میل سے محفوظ نہیں ہیں لیکن شیعوں کو اس بات کا اعتراف ہے کہ ہمارے پاس صرف کتاب خدا صحیح ہے اور کوئی کتاب صحیح نہیں ہے جب کہ اہلسنت کا اس بات پر اتفاق کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کتاب خدا کے بعد صحیح ترین کتابیں ہیں. بلکہ وہ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کچھ ان دونوں میں بیان ہوا ہے وہ سب صحیح ہے. اسی لئے میں قارئین کے سامنے نمونہ کے طور پر صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی بعض ایسی حدیثیں پیش کرنے کی کوشش کروں گا جو رسول(ص) یا اہلبیت رسول(ع) کی عظمت کو گھٹاتی اور ان کی قداست کو داغدار بناتی ہیں نیز یہاں بعض ان احادیث کو پیش کروں گا کہ جو بنی امیہ اور بنی عباس کے حکام کے کرتوتوں کو جائز بنانے کے لئے گڑھی گئی ہیں، در حقیقت وہ اپنے جرائم اور نیکوکار لوگوں کے خون سے رنگین ہاتھوں کو چھپانے کے لئے عصمت نبی(ص) کو مخدوش کرنا چاہتے تھے.

نبی(ص) کا دیتے ہیں" معاذ اللہ"

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الاستئذان اور کتاب الدیات کے باب" من اطلع فی بیت قوم فقفوا عینه فلا دیة له" میں.

اور اسی طرح مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب الآداب کے باب " النظر فی بیت غیرہ" میں انس ابن مالک سے روایت کی ہے کہ نبی(ص) کے حجرہ آدمی اچانک آگیا پس نبی(ص) ایک ہتھیار لے کر کھڑے ہوگئے گویا میں نبی(ص) اس شخص کو دھوکے سے زخمی کرنا چاہتے ہیں.

ایسے کام کے لئے خلق عظیم مانع ہے پھر نبی(ص) مومنین پر رئووف


و رحیم ہیں جب کہ فرض یہ کیا گیا ہے کہ نبی(ص) اس شخص کو حجرہ میں اچانک داخل ہوگیا تھا اسے اسلام سکھاتے. اور اسے یہ بتاتے کہ جو کچھ تم نے کیا ہے وہ حرام ہے نہ وہ کہ اسے وھوکہ سے زخمی کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اس کی آنکھیں پھوڑ ڈالتے اور ہوسکتا ہے کہ اس شخص کی نیت صحیح ہو. کیونکہ یہ ازواج نبی(ص) کا حجرہ نہیں تھا اور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ انس ابن مالک اس حجرہ میں موجود تھے پس اس شخص کے رسول(ص) کے پاس پہونچ جانے میں کون سی قیامت ٹوٹ پڑی تھی اور پھر آپ(ص) کا تصور اتنا غلط تھا کہ اسے غافل بناکر اس کی آنکھ پھوڑ دینا چاہتے ہیں.

شارح بخاری نے تو اس کی قباحت کو اور بڑھا دیا ہے. وہ کہتے ہیں کہ رسول(ص) اس شخص کو غافل بنا کر" یعنی اس طرح کہ وہ دیکھ نہ سکے" اس کی طرف بڑھ رہے تھے. کسی کو غافل بنانا رسول(ص) سے بعید ہے.

نبی(ص) سخت عذاب دیتے ہیں اور مسلمانوں کے ہاتھ پیر قطع کرتے ہیں

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الطب کے باب" الدوا بالبان الابل" اور باب الدواء بابوال الابل" میں نقل کیا ہے کہ ثابت انس سے روایت کی ہے کہ لوگوں کو مرض لاحق ہوگیا تھا. انہوں کی ------ کی یا رسول(ص) اللہ ہمیں بچائیے اور کچھ کھانے پینے کو دیجئیے نبی(ص) نے------- کہ اونٹ کا دودھ اور پیشاب پیو، پس انہوں------- ہوگئے تو انہوں نے اونٹوں کے چرواہے کو مس------


کیا اس واقعہ کی رسول(ص) کو اطلاع ہوئی تو آپ(ص) نے انہیں بلوایا. جب لوگ انہیں لے کر آئے تو آپ(ص) نے ان کے ہاتھ اور پائوں قطع کر دئے اور آنکھیں پھوڑ دیں ان میں سے میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ زبان سے خاک چاٹ کر مرگیا.

کیا کوئی مسلمان اس بات کی تصدیق کرے گا کہ جو رسول(ص) خود ہاتھ پر قطع کرنے سے منع فرماتے ہیں وہ ایک گروہ کے ہاتھ کاٹ دیں گے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں گے اس لئے کہ انہوں نے ایک چرواہے کو قتل کر دیا تھا. اگر راوی نے یہ کہا ہو تا کہ ان لوگوں نے چرواہے کے ہاتھ پیر کاٹ دئے تھے تو بھی نبی(ص) کے پاس ان لوگوں کے ہاتھ پیر کاٹنے کے لئے عذر تھا. لیکن ( روایت میں) یہ وارد نہیں ہوا ہے اور پھر رسول(ص) انہیں بغیر تحقیق کے کیسے قتل کرتے ہیں اور کیونکر ان کے ہاتھ پائوں کاٹتے ہیں قاتل کی تحقیق کیوں نہیں کرتے خود ان ہی سے معلوم کرےشاید ان میں سے بعض کہیں کہ ہم سب اس کے قتل میں شریک تھے. کیا رسول(ص) انہیں معاف نہیں کرسکتے تھے جب اس دلیل سے کہ انہوں نے یا رسول اللہ(ص) کہا مسلمان بھی تھے. کیا رسول(ص) نے خدا کا یہ قول نہیں سنا تھا کہ :

( وَ إِنْ‏ عاقَبْتُمْ‏ فَعاقِبُوا بِمِثْلِ ما عُوقِبْتُمْ بِهِ وَ لَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ )

اور اگر تم ان کے ساتھ سختی بھی کرو. اتنی ہی جتنی انہوں نے تمہارے ساتھ کی ہے اور اگر صبر کرو تو بہر حال یہی صبر کرنے والوں کے لئے بہتر ہے.

اور یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی کہ جب قلب رسول(ص) اپنے چچا سید الشہدا حمزہ ابن عبدالمطلب کے غم میں کباب ہو رہا تھا کہ جن کا بطن چاک کر کے جگر چبا لیا گیا تھا اور نگلیاں کاٹ لی گئی تھیں جب رسول(ص) نے اپنے


چچا کو اس حالت میں دیکھا بہت رنجیدہ ہوئے اور فرمایا اگر خدا نے مجھے طاقت عطا کی تو میں ستر مرتبہ ان کے ہاتھ پیر قطع کروں گا. پس آپ(ص) پر یہ آیت نازل ہوئی تو آپ(ص) نے فرمایا : "صبرت یا رب" پروردگارا میں نے صبر کیا اور اپنے چچا کے وحشی قاتل کو معاف کر دیا جنہوں نے جناب حمزہ کے بدن کے ٹکڑے کئے تھے اور آپ کا جگر چبایا تھا. یہ ہے نبی(ص) کا اخلاق.

جو چیز روایت کی قباحت کو آپ ( قارئین) پر روشن کرتی ہے وہ راوی کا بیان ہے جس نے اسے قبیح بنا دیا ہے. اسے میں ترتیب وار بیان کرونگا.

کہتے ہیں کہ قتادہ نے کہا کہ: مجھ سے محمد ابن سیرین نے بیان کیا کہ یہ واقعہ آیت کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے تاکہ اس طرح فعل نبی(ص) کی توجیہ کرسکیں، رسول(ص) پروردگار کے حکم سے قبل ہرگز ایسا حکم نہیں لگا سکتے تھے اور جب آپ(ص) معمولی مسائل میں وحی کے بغیر کوئی حکم نہیں لگا سکتے تھے تو نبی(ص) کو خون بہانے اور حدود جاری کرنے میں کیا ہوگیا تھا؟

غور و فکر کرنے والے کے لئے یہ بات سمجھنا بہت ہی آسان ہے کہ یہ روایت امویوں اور ان کے پیروکاروں کی گڑھی ہوئی ہیں. وہ (متبعین) ان احکام کی خوشنودی کے حاصل کرنے کے لئے گڑھتے تھے کہ جن کے لئے صرف گمان یا تہمت پر نیکوکار افراد کو قتل کرنا اہم نہیں تھا. اور یہی راوی حکام کے سامنے ماضی کی فرضی مثالیں پیش کرتے تھے. اس بات کی دلیل خود یہ روایت ہے کہ جس کو بخاری نے نقل کیا ہے کہتے ہیں کہ مجھے خبر ملی ہے کہ حجاج نے انس سے کہا کہ میرے سامنے ایسی حدیث بیان کرو جس سے نبی(ص) کا سخت سزا دینا ثابت ہوتا ہو تو انہوں نے یہ حدیث بیان کی جب حسن کو اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے کہا کہ میرا گمان ہے کہ انہوں نے یہ حدیث بیان


نہیں کی.(1)

اس حدیث سے تو حجاج ثقفی کی خوشنودی کے لئے اس حدیث کے گڑھنے کی بو آتی ہے. کہ جس نے زمین کو فتنہ و فساد سے بھر دیا تھا اور شیعیان اہلبیت(ع) کو ہزاروں کی تعداد میں قتل کیا تھا. ان کے ہاتھ پائوں قطع کر دیتا تھا ان کی آنکھیں پھوڑ دیتا تھا اور گدیوں سے زبان نکلوا لیتا تھا، زندہ افراد کو اس طرح سولی پر لٹکا دیتا تھا کہ وہ سورج کی دھوپ میں جلکر جاں بحق ہو جاتے تھے. اس قسم کی روایتیں حجاج کے کرتوتوں کو جائز بنانے کے لئے گڑھی گئی ہیں کیونکہ ( ان روایتوں کے ہوتے ہوئے) اس طرح وہ رسول(ص) کی اقتدا کرتا ہے. " لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة" اور پھر رسول(ص) میں تمہارے لئے اسوۃ حسنہ ہے." لا حول ولا قوة الا بالله"

اسی لئے معاویہ نے شیعیان علی(ع) کو طرح طرح کی تکلیفیں دیکر قتل کیا، کبھی ہاتھ پیر کاٹے اور کبھی عبرت ناک سزادی بہت سوں کو آگ میں جلا دیا کتنے ہی افراد کو زندہ دفن کر دیا بہتروں کو سولی پرچڑھایا اور اسی طرح معاویہ کے وزیر عمرو ابن عاص نے بھی انسانیت سوز سزائیں ایجاد کر لی تھیں. محمد ابن ابی بکر کے ہاتھ پائوں قلم کر کے گدھے کی کھال میں سلا اور پھر آگ میں پھینک دیا.

ان افراد نے ایسی بے حیائی کی ، اور لڑکیوں اور عورتوں سے کھیلنے کے جواز کے سلسلہ میں جو احادیث گڑھی ہیں وہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں.

____________________

1. صحیح بخاری جلد/7 ص13


نبی(ص) جماع کے شوقین تھے " معاذ اللہ"

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الغسل کے باب" اذا جامع ثم عاد و من دار علی نسائه فی غسل واحد" میں روایت کی ہے کہ: ہم سے معاذ ابن ہشام نے بتایا کہ مجھ سے میرے والد نے قتادة کے حوالہ سے بیان کیا کہ قتادہ نے کہا کہ ہم سے انس ابن مالک نے بیان کیا کہ نبی(ص) دن رات میں اپنی گیارہ بیویوں کے پاس ایک گھنٹے میں گھوم آتے تھے قتادہ نے انس سے کہا کیا ان کے اندر اتنی طاقت تھی تو انس نے کہا انہیں تیس کی طاقت عطا کی گئی ہے.

یہ روایت عظمت رسول(ص) کو گھٹانے کے لئے گڑھی گئی ہے تاکہ معاویہ اور یزید بے حیا کے افعال کی توجیہ کی جاسکے، اور انس ابن مالک کو یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ نبی(ص) ایک گھنٹے میں اپنی گیارہ بیویوں سے جماع کرتے ہیں. کیا یہ بات انہیں خود رسول(ص) نے بتائی ہے یا وہ دیکھ رہے تھے؟ اس جھوٹے قول سے میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں؛ اور انس کو یہ کہاں سے سراغ ملا تھا کہ نبی(ص)کو تیس عورتوں کی طاقت عطا کی گئی تھی؟

یہ رسول(ص) کے حق میں ظلم ہے انہوں نے اپنی پوری زندگی جہاد اور عبادت اور امت کی تعلیم و تربیت میں صرف کی ہے.

یہ جاہل افراد اس طرح کی روایات کو بیان کرتے وقت کیا سمجھتے تھے وہ اپنی نجس عقلوں اور شہوت کے لحاظ سے کثرت جماع لائق فخر سمجھتے تھے اسی لئے وہ اپنے ہم عمروں پر فخر کرتے تھے؛ حقیقت یہ ہے کہ یہ روایات نبی(ص) کی قداست کو داغدار بنانے کے لئے گڑھی گئی ہیں. دوسرے وہ ان روایات


کے ذریعہ حکام و خلفا کی اس بے حیائی کی پردہ پوشی کرنا چاہتے ہیں کہ عورتوں اور کنیزوں پر جن کی چیرہ دستیوں کے بارے میں تاریخ بھری پڑی ہے اور اس حدیث کے راوی انس ابن مالک زوجہ نبی(ص) عائشہ کے سامنے کیا کہیں گے وہ تو کہتی تھیں کہ جماع کے سلسلہ میں نبی(ص) بھی ایسے ہی تھے جیسے دوسرے افراد.

مسلم نے اپنی صحیح کے کتاب الطہارت کے باب " نسخ الما من الماء و وجوب الغسل بالتقاء الختانین" میں ابو زبیر سے اور انہوں نے جابر ابن عبداللہ اور انہوں نے ام کلثوم سے اور انہوں نے زوجہ نبی(ص) عائشہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ: ایک شخص نے رسول(ص) سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے اور پھر میاں بیوی دونوں سست پڑ جاتے ہیں کیا ان دونوں پر غسل واجب ہے؟ اور عائشہ رسول(ص) کے پاس بیٹھی ہیں. رسول(ص) نے فرمایا: میں اور یہ(عائشہ) ایسا ہی کرتے ہیں اور پھر غسل کرتے ہیں.

پھر حدیث کا شارح صحیح مسلم کے حاشیہ پر اضافہ کرتا ہے کہ مصباح میں کسل( سست پڑ جانے) کے معنی یہ ہیں کہ جب مجامعت کرے اور ضعف کی بنا پر انزال نہ ہو.... پس یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ انہیں ( نبی(ص) کو) تیس عورتوں کی طاقت عطا کی گئی تھی؟

گڑھنے والوں نے یہ دوسری حدیث گڑھ لی ہے خدا انہیں غارت کرے اور ان کے عذاب میں اضافہ کرے ورنہ رسول(ص) کے بارے میں ایسی حدیثوں کو ایک عاقل کیسے قبول کرسکتا ہے کہ جن سے رسول(ص) کی حیاء پر حرف آتا ہے کہ وہ اپنی زوجہ کے سامنے مردوں سے ایسی بات بیان کرتے ہیں کہ جن کے بیان کرنے سے ایک عام مومن بھی شرم کرتا ہے.


امویوں کے زمانہ میں رقص و غنا کے جواز پر چند مثالیں

رسول(ص) رقص سے مسرور ہوتے اور موسیقی سنتے تھے.

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب النکاح کے باب " ضرب الدف فی النکاح و الولیمة" میں تحریر کیا ہے کہ ہم سے بشر ابن مفضل نے اور خالد ابن زکوان نے بیان کیا ہے کہ ربیع بنت معوذ ابن عفراء نے کہا: جب نبی(ص) نے مجھ سے شادی کی تو میرے پاس آئے اور میرے بستر پر اتنی دور بیٹھ گئے جتنی دور تم بیٹھے ہو پس لونڈیاں ہمارے پاس آکر دف بجانے لگیں اور بدر میں قتل ہونے والے میرے آباء کا مرثیہ بیان کرنے لگیں اس وقت میں سے ایک نے کہا: حالانکہ ہمارے نبی(ص) جانتے ہیں کل کیا ہوگا. پس آپ(ص) نے فرمایا کہ اسے چھوڑو! وہی گائو جو تم گا رہی تھیں.

اسی طرح بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الجہاد کے باب الدرق میں اور مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب صلوة العیدیں کے باب" الرخصة فی اللعب الذی لا معصیة فیه" میں عائشہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:

رسول(ص) میرے پاس اس وقت آئے جب دو لونڈیاں گا رہی تھیں اور بستر پر بیٹھ گئے اور منہ پھیرا لیا تھوڑی دیر بعد ابوبکر داخل ہوئے اور مجھے ڈانٹا اور کہا: شیطانی کام رسول(ص) کے پاس؛ پس رسول(ص) نے ابوبکر سے کہا:... جانے دو اور جب وہ دونوں ( رسول(ص) اور ابوبکر) دوسرے طرف متوجہ ہوئے تو لونڈیاں نکل گئیں.

عائشہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: عید کے روز حبشی


( کالے) تماشہ کر رہے تھے پس یا تو میں نے رسول(ص) سے دریافت کیا یا آپ(ص) نے فرمایا کہ کیا تم دیکھنا چاہتی ہو؟ میں نے عرض کی ہاں، تو مجھے اپنی پشت پر اس طرح اٹھایا کہ میرا رخسار ان کے رخسار پر تھا. آنحضرت(ص) نے کہا: بنی ارفدہ (حبشیو) تم اپنے رقص کو جاری رکھو یہاں تک کہ عائشہ نے کہہ دیا میں تھک گئی تو آپ(ص) نے فرمایا بس اتنا کافی ہے میں نے کہا ہاں، آپ(ص) نے فرمایا کہ جائو.

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب النکاح کے باب" نظر المراة الی الحبش و نحوهم من غیر ریبة" میں عائشہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی(ص) کو دیکھا کہ وہ مجھے اپنی ردا میں چھپا رہے ہیں اور میں ان حبشیوں کا تماشہ دیکھ رہی تھی کہ جو مسجد میں ہلڑ مچائے ہوئے تھے یہاں تک کہ مجھے بھی دیکھنے کا اشتیاق ہوا. یہاں تک کہ میرا بھی جی چاہنے لگا کہ میں ناچنے لگوں.

اسی طرح مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب صلوة العیدین کے باب" الرخصة فی اللعب" میں عائشہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ عید کے روز حبشی ناچتے ہوئے مسجد میں آئے تو نبی(ص) نے مجھے بلایا پس میں نے اپنا سر ان کے کاندھے پر رکھ کر ان کا تماشہ دیکھنے میں اس طرح کھو گئی کہ ان کی طرف سے آنکھیں ہی نہ ہٹیں.

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب النکاح کے باب " ذھاب النساء و الصبیان الی العرس" میں انس ابن مالک سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: نبی(ص) نے دیکھا کہ عورتیں اور بچے شادی میں کھیل کود رہے ہیں پس آپ(ص) دیکھنے کے اشتیاق میں کھڑے ہوگئے اور کہا کہ: تم مجھے سب سے زیادہ عزیز ہو.

بخاری کے شارح کہتے ہیں کہ اشتیاق میں کھڑے ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آپ(ص) بھی ان کے کھیل سے مسرور ہو رہے تھے.


"منشیات اور شراب خوری کی تہمت سے بچنے کے لئے دوا کا نام دے کر پینے کے سلسلہ میں چند نمونے"

نبی(ص) نبیذ پیتے تھے" معاذ اللہ"

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب النکاح کے باب" قیام المراة علی الرجال فی العرس و خدمتہم بالنفس " میں اور اسی طرح باب" النقیع والشراب الذی لا یسکر فی العرس" میں ابو حازم سے اور انہوں نے سہل سے روایت کی ہے کہ جب ابو اسید ساعدی نے شادی کی تو نبی(ص) اور ان کے اصحاب کو دعوت دی لیکن ان کے لئے کھانا تیار نہ کیا اور خود بھی ان کے پاس نہ آیا(ہاں) اسید کی ماں نے شب میں کچھ کھجوریں پتھر کے چھوٹے برتن میں بھگو دی تھیں وہ نبی(ص) اور ان کے سامنے پیش کیا جب نبی(ص) فارغ ہوچکے تو تحفہ کے طور پر ان کھجوروں کے پانی سے سیراب کیا گیا.

اس روایت سے وہ یہ بات ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ.... ( معاذ اللہ) نبی(ص) شراب پینے تھے. شاید نبیذ سے غیر مشہور نبیذ مراد ہو. کیونکہ عرب کی یہ عادت تھی کہ وہ پانی کی بو زائل کرنے کے لئے اس میں کھجوریں ڈال دیتے تھے پس وہ حقیقتا نبیذ نہیں ہے. بعض لوگوں کا نظریہ ہے کہ اس کا استعمال صحیح ہے. مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب الاشربہ کے باب" اباحة النبیذ الذی لم یشدد و لم یصر مسکرا" میں اس روایت کو نقل کیا ہے. یہیں سے شراب خوری کی ابتداء ہوئی اور یہیں سے حکام نے یہ حکم لگایا کہ جب تک وہ نشہ آور نہ ہو حلال ہے.


" کچھ اور چیزیں جن میں بنی امیہ اور بنی عباس ملوث تھے..."

نبی(ص) اور ابتذال!

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الحج کے باب" الزیارت یوم النحر" میں عائشہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: ہم نے نبی(ص) کے ہمراہ حج کیا اور قربانی کے روز صفیہ کو حیض آگیا اور نبی(ص) نے ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہا جو مرد اپنی بیوی سے کرتے ہیں تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ(ص) حائض ہے.

تعجب ہے اس نبی(ص) پر کہ جو ایسے محترم مقام پر اپنی زوجہ سے مجامعت کرنا چاہتے ہیں اور آپ کی دوسری زوجہ کو اس کی اطلاع ہو جاتی ہے اور وہ آنحضرت(ص) کو یہ بتاتی ہے کہ وہ حائض ہے اور خود نبی(ص) نہیں جانتے ہیں.

نبی(ص) اور حیا

مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب الفضائل کے باب " فضائل عثمان ابن عفان" میں زوجہ نبی(ص) عائشہ اور عثمان سے روایت کی ہے کہ ان دونوں سے بیان کیا ہے کہ ابوبکر نے رسول(ص) کے پاس پہونچنے کی اجازت طلب کی در آنحالیکہ آپ(ص) عائشہ کی چادر اوڑھے ہوئے لیٹے تھے پس آپ(ص) نے ابوبکر کو داخل ہونے کی اجازت مرحمت فرمائی اور ایسے ہی لیٹے رہے ابوبکر کی حاجت پوری ہوگئی تو واپس چلے گئے عثمان کہتے ہیں کہ کچھ دیر کے بعد عمر نے اجازت چاہی آپ(ص) نے انہیں بھی اجازت دے دی وہ داخل ہوئے لیکن آپ(ص) لیٹے ہی رہے ان کی


ضرورت پوری ہوگئی تو وہ لوٹ گئے پھر عثمان کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے اذن چاہا تو آپ(ص) بیٹھ گئے اور عائشہ سے کہا تم بھی اپنا لباس صحیح کر لو. پس جب میرا مقصد بھی پورا ہوگیا تو میں بھی لوٹ آیا تو عائشہ نے کہا: یا رسول اللہ(ص) مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں نے آپ کو ابوبکر و عمر کی آمد پر اتنا اہتمام کرتے ہوئے نہیں دیکھا جیسا کہ عثمان کی آمد پر دیکھا ہے. رسول(ص) نے فرمایا: عثمان بہت شرمیلے انسان ہیں میں اس بات سے ڈرتا تھا کہ اگر میں انہیں اجازت دے دوں اور خود اسی حالت میں لیٹا رہوں تو وہ واپس نہ چلے جائیں.

یہ کون سا نبی ہے کہ اس کے اصحاب ملنے آتے ہیں اور وہ اپنی زوجہ کی چادر لپیٹے لیٹا ہے. اور دوسری طرف ان کی زوجہ معمولی لباس پہنے بیٹھی ہیں یہاں تک کہ عثمان کے آتے ہی ہی آپ اٹھ بیٹھتے ہیں اور اپنی زوجہ سے کہتے ہیں کہ لباس صحیح کر کے بیٹھو!

نبی(ص) اور برہنگی!

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الصلوة کے باب"کراهة التعری فی الصلوة" میں اور اسی طرح مسلم نے کتاب الحیض کے باب" الاعتناء بحفظ العورة" میں جابر ابن عبداللہ سے روایت کی ہے کہ:

رسول(ص) ہم لوگوں کے ساتھ کعبہ کے لئے پتھر لارہے ہیں تھے کہ آپ(ص) لنگی باندھے ہوئے تھے آپ(ص) کے چچا عباس نے آپ(ص) سے کہا بھیجے لنگی اتار لو اور اسے کندھے پر رکھ کر اس پر پتھر رکھو! پس آپ(ص) نے لنگی اتار کر کندھے پر رکھ لی تھوڑی دیر کے بعد غش کھا کے گر پڑے تو آپ(ص) کو عریان دیکھا گیا.


قارئین اس رسول(ص) پر ان بیہودہ تہمتوں کو ملاحظہ فرمائیں کہ جس نے کو ایمان کا ستون قرار دیا ہے جو کنواری لڑکیوں سے زیادہ حیادار تھے، اہلسنت نے اس رکیک روایت پر ہی اکتفا نہ کی بلکہ اس گڑھی ہوئی روایت کے ذریعہ آپ(ص) پر شرمگاہ کے کھولنے کی بھی تہمت لگا دی. کیا ان کے نزدیک. رسول(ص) اللہ( معاذ اللہ) اتنے نا فہم ہیں کہ وہ اپنے چچا کی باتوں میں آگئے اور اپنے جسم کو لوگوں کے سامنے کھول دیا.

ان شیطانوں اور ابلیسوں کے ان اقوال سے خدا بچائے کہ جو خدا اور رسول(ص) پر بہتان باندھتے ہیں. یہ وہ رسول(ص) ہے کہ جس کی شرمگاہ کو آپ(ص) کی ازواج نے بھی کبھی نہ دیکھا جبکہ ان کے لئے شرع نے اس کی اجازت دی ہے اس کے باوجود عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے کبھی بھی رسول(ص) کی شرمگاہ نہیں دیکھا.(1) پس جب ازواج کے ساتھ آپ(ص) کا یہ برتائو تھا کہ جو آپ(ص) کے ساتھ حمام یا برتن میں غسل کرتی تھیں ان سے آپ(ص) اپنی شرمگاہ کو چھپائے رکھتے تھے اور ان میں سے کسی نے کبھی آپ(ص) کی شرمگاہ نہ دیکھی تو اصحاب اور عام لوگوں کے لئے ایسا کیونکر ممکن ہے.

ہاں یہ سب حدیثیں بنی امیہ کی گڑھی ہوئی ہیں وہ لوگ کسی چیز کی پروا نہیں کرتے تھے اور جب ان کا خلیفہ و امیر کسی شاعر کے غزلیہ کلام سے وجد میں آجاتا تھا وہ کھڑے ہو جاتا تھا. اور شاعر کی شرمگاہ کو کھول کر اس کا عضو تناسل چوم لیتا تھا. تو اس کے لئے نبی(ص) کی برہنگی کوئی عجیب بات نہیں ہے اور یہ نفسیاتی مرض ان سے دنیا میں پھیل گیا اور آج یہ بے حیائی معمولی چیز سمجھی جانے

____________________

1.سنن ابن ماجہ جلد/1 ص619


جانے لگی ہے ان کے لئے اخلاق وحیا کی کوئی حیثیت نہیں ہے ہر جگہ عریانیت کے اڈے اور سینٹر بنے ہوئے ہیں جہاں مرد و عورت اس نعرہ کے تحت جمع ہوتے ہیں" پروردگار جیسے تو نے ہمیں پیدا کیا ہے ہم اب بھی اسی حالت میں ہیں.

"احکام شرعیہ اور دین سے کھلواڑ کے چند نمونے...."

نبی(ص) سے نماز میں سہو ہوتا ہے

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الادب کے باب "مایجوز من ذکر الناس" میں اور مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب المساجد و مواضع الصلوة کے باب" السهو فی الصلوة والسجود له" میں ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: نبی(ص) نے ہمارے ساتھ نماز ظہر کی دو رکعت ادا کی پھر مسجد کے سامنے والی لکڑی پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہوگئے لوگوں میں ابوبکر و عمر بھی اس وقت موجود تھے وہ دونوں آپ(ص) سے پوچھنے کے لئے دوڑے اور وہ لوگوں کے بیچ سے تیزی سے نکل گئے. لوگوں نے کہا نماز قصر ہوگئی لوگوں میں ایک اور شخص موجود تھا جیسے نبی ذوالیدین کہہ کر پکارتے تھے، اس نے کہا یا نبی اللہ(ص) کیا آپ نماز بھول گئے تھے. یا قصر پڑھی ہے؟ آپ(ص) نے فرمایا: نہ میں بھولا ہوں اور نہ قصر پڑھی ہے. لوگوں نے کہا: یا رسول(ص) اللہ آپ بھول گئے تھے. تب آپ نے فرمایا: ذو الیدین صحیح کہہ رہا تھا.

اس کے بعد آپ(ص) نے دو رکعت نماز پڑھ کر سلام پھیرا اور تکبیر کہہ کے سجدہ ہی کے برابر یا اس سے طویل سجدہ کیا اس کے بعد پھر تکبیر کہہ کے سجدہ میں گئے اور ایسے ہی سجدہ بجالائے اس کے بعد سر اٹھایا اور تکبیر کہی.(1)

____________________

1.صحیح بخاری و صحیح مسلم، کتاب لولو و مرجان میں جلد/1 ص115


افسوس ! کہ رسول(ص) سے نماز میں سہو ہو اور انہیں معلوم نہ ہو کہ میں نے کتنی رکعت نماز پڑھی ہے اور جب ان سے کہا جائے کہ آپ نے قصر پڑھی ہے تو آپ فرمائیں نہ میں بھولا ہوں اور نہ قصر پڑھی ہے. یہ اہلسنت نے رسول(ص) پر خلفائ کو تہمت سے بچانے کے لئے بہتان لگایا ہے. کیونکہ وہ اکثر نشہ کی حالت میں نماز پڑھانے آتے تھے انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ ہم نے کتنی رکعت نماز پڑھی ہے اور ان کے امیر کا واقعہ تاریخی کتابوں میں مشہور ہے کہ اس نے نماز صبح چار رکعت پڑھانے کے بعد نمازیوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا اور پڑھائوں یا اتنی کافی ہے.

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الاذان کے باب" اقام الرجل عن یسار الامام" میں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ:

میں میمونہ کے پاس تھا اور اس شب میں نبی(ص) بھی میمونہ ہی کے یہاں تھے آپ(ص) نے وضو کیا اور نماز پڑھنے لگے میں بھی ان کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا. آپ(ص) نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے داہنی طرف کر دیا پھر تیرہ 13 رکعت نماز پڑھی پھر سوگئے یہاں تک کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی اور جب بھی آپ(ص) سوتے تھے. خراٹوں سے سوتے تھے پھر موذن نے اذان دی تو بغیر وضو کئے نماز پڑھی.

عمرو نے کہا میں نے یہ بات بکیر کو بتائی تو انہوں نے کہا کریب نے بھی مجھ سے ایسے

رسول(ص) کی طرف ایسی جھوٹی احادیث کی نسبت دے کر بنی امیہ اور بنی عباس کے امرا و سلاطین وضو اور نماز کی اہمیت کو کم کر رہے تھے یہاں تک کہ ہمارے درمیان یہ مثل مشہور ہوگئی کہ" صلواة القیاد فی الجمعة والاعیاد" امیر و


حاکم جمعہ اور عیدین کی نماز پڑھتے ہیں.

نبی(ص) اور حلف شکنی!

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب المغازی کے باب"قدوم الاشعریین و اهل الیمن" میں قصہ عمان و بحرین میں ابو قلابہ سے انہوں نے زہدم سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ جب ابو موسی آئے تو شہر والوں نے انکا احترام کیا اور ہم لوگ ان کے پاس بیٹھے وہ مرغ مسلم کھا رہے تھے وہیں پر ایک شخص بیٹھا ہوا تھا ابو موسی نے اسے کھانے کے لئے کہا تو اس نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم غلاظت کھا رہے ہو، پس ابو موسی نے کہا آئو ہم نے رسول(ص) کو اسے کھاتے ہوئے دیکھا ہے. اس نے کہا کہ میں نے قسم کھائی ہے کہ اسے نہیں کھائوں گا ابوموسی نے کہا تمہیں قسم کے بارے میں بتائی، نبی(ص) کے پاس ایک اشعری آیا پس ہم نے نبی(ص) سے مطالبہ کیا کہ ہمیں لے چلیں تو نبی(ص) نے اس کو لے جانے سے انکار کر دیا پھر ہم نے مطالبہ کیا تو نبی(ص) نے قسم کھا لی کہ ہم نہیں لے جائیں گے. پس ہمیں پانچ فربہ اونٹنیاں دینے کا حکم دیا جب ہم نے اسے لے لیا تو ہم نے کہا کہ نبی(ص) نے قسم کے سلسلہ میں بے اعتنائی کی ہے ہم اس کے بعد کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے. پس میں آیا اور کہا اے نبی(ص) اللہ آپ نے قسم کھائی تھی کہ ہمیں نہیں لے جائیں گے اور لے جارہے ہیں. آپ نے فرمایا ہاں میں وہی قسم کھاتا ہوں کہ جس میں خیر ہو اور میں نے وہی کیا جس میں خیر تھا.

اس نبی(ص) کو ملاحظہ فر مائیے جس کو خدا نے اس لئے بھیجا تا کہ وہ لوگوں کو یہ بتائیں کہ اپنے عہدوں کی حفاظت کریں، برادری کا پاس رکھیں اور قسم


نہ توڑیں، ہاں کفارہ دے کر توڑ سکتے ہیں لیکن نبی(ص) لوگوں کو جس چیز کا حکم دیتے خود اسے انجام نہیں دیتے ہیں جب کہ خداوند عالم فرماتا ہے:

( لا يُؤاخِذُكُمُ‏ اللَّهُ‏ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمانِكُمْ وَ لكِنْ يُؤاخِذُكُمْ بِما عَقَّدْتُمُ الْأَيْمانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعامُ عَشَرَةِ مَساكِينَ مِنْ أَوْسَطِ ما تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمانِكُمْ إِذا حَلَفْتُمْ وَ احْفَظُوا أَيْمانَكُمْ كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آياتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ) سورہ مائدہ، آیت/89

خدا تم سے بے قصد قسمیں کھانے پر مواخذہ نہیں کرتا ہے لیکن جن قسموں کی گرہ دل نے باندھ لی ہے ان کی مخالفت کا کفارہ دس مسکینوں کے لئے اوسط درجہ کا کھانا ہے. جو اپنے گھر والوں کھ کھلاتے ہو یا ان کا کپڑا یا ایک غلام کی آزادی ہے پھر اگر یہ سب نا ممکن ہو تو تین روزے رکھو کہ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب بھی تم قسم کھا کر مخالفت کرو. لہذا اپنی قسموں کا تحفظ کرو کہ خدا اس طرح اپنی آیات کو واضح کر کے بیان کرتا ہے کہ شاید تم اس کے شکر گزار بندے بن جائو.

دوسری جگہ ارشاد ہے:

( وَ لا تَنْقُضُوا الْأَيْمانَ بَعْدَ تَوْكِيدِها )

اور اپنی قسموں کو ان کے استحکام کے بعد برگز مت توڑو.

لیکن انہوں نے رسول(ص) کی کسی فضیلت و شرافت کو نہ چھوڑا!


قسم کے کفارہ میں عائشہ نے چالیس غلام آزاد کئے

رسول(ص) کہاں ہیں؟ (دیکھیں) کہ ان کی زوجہ عائشہ ایک قسم کے کفارہ میں چالیس غلام آزاد کرتی ہیں! کیا عائشہ رسول(ص) کی بہ نسبت خدا سے زیادہ ڈرتی ہے.(1)

بخاری نے اپنی صحیح کتاب الادب کے باب المہجرہ اور رسول(ص) کے اس قول کے سلسلہ میں کہ کسی مومن کے لئے تین روز تک اپنے برادر مومن سے بول چال بند رکھنا جائز نہیں ہے" روایت کی ہے کہ عائشہ نے بیان کیا ہے کہ عبداللہ ابن زبیر نے اس بیع یا عطا کے بارے میں جو انہیں عائشہ نے عطا کیا تھا کہا: کہ ہم اس میں عائشہ کو تصرف کرنے سے روک دیں گے، تو عائشہ نے کہا کیا اس نے یہ کہا ہے؟ لوگوں نے کہا ہاں: عائشہ نے کہا کہ میں خدا سے اس بات کی نذر کرتی ہوں کہ ابن زبیر سے کبھی نہیں بولوں گی. پس جب قطع کلامی کو طویل عرصہ گزر گیا تو ابن زبیر نے ان سے معذرت چاہی عائشہ نے کہا: ہرگز نہیں، قسم خدا کی میں کبھی بھی معاف نہ کروں گی اور نہ اپنی قسم، توڑوں گی، پس جب اور زیادہ زمانہ گزر گیا تو ابن ربیر نے مسور ابن مخرمہ اور عبدالرحمن ابن الاسود ابن عبد یغوث سے اس سلسلہ میں گفتگو کی، واضح رہے کہ یہ دونوں قبیلہ زہرہ سے تعلق رکھتے تھے. اور کہا میں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ مجھے عائشہ کے پاس پہونچا دو کیونکہ ان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ مجھ سے قطع کلامی

____________________

1.صحیح بخاری جلد/7ص90


کی نذر کریں. وہ دونوں اس کو چھپا کر اپنے ساتھ لے گئے اور عائشہ سے اندر آنے کی اجازت چاہی اور ان دونوں نے سلام کیا. اور کہا ہم اندر آسکتے ہیں؟ عائشہ نے کہا چلے آئو. انہوں نے کہا ہم سب چلے آئیں؟ کہا:ہاں سب چلے آئو، عائشہ یہ نہیں جانتی تھیں کہ ان کے ساتھ ابن زبیر بھی ہے.

پس جب وہ داخل ہوئے تو ابن زبیر بھی پیچھے پیچھے داخل ہوگئے تو عائشہ نے منہ پھیر لیا. تو یہ رو رو کر التماس کرنے لگے، مسور اور عبدالرحمن اس وقت تک گڑ گڑاتے رہے جب تک کہ انہوں نے ( عائشہ) نے بات نہیں کی. ان دونوں نے کہا آپ جانتی ہیں کہ نبی(ص) نے تین روز سے زیادہ قطع کلامی سے منع فرمایا ہے. جب عائشہ کو انہوں نے بہت زیادہ سمجھایا اور دبائو ڈالا تو عائشہ نے ان کی بات مان لی اور روتے ہوئے کہا کہ میں نے ان سے کلام نہ کرنے کی نذر کی تھی اور نذر بہت سخت چیز ہے. لیکن وہ لوگ اس وقت تک وہاں سے نہ ٹلے جب تک کہ عائشہ نے ابن زبیرسے بول چال شروع نہ کی.پھر عائشہ نے اپنی نذر توڑنے کے کفارہ میں چالیس غلام آزاد کئے وہ اپنی نذر کو یاد کرتی تھیں اس کے بعد روتیں کہ آنسو سے دوپٹہ تر ہوجاتا تھا.

باجودیکہ عائشہ کی قسم صحیح نہیں تھی کیونکہ نبی(ص) نے مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین روز سے زیادہ بول چال بند کرنے کو حرام قرار دیا ہے لیکن عائشہ نے اس پر عمل نہیں کیا اور بعض قسم کے کفارہ میں چالیس غلام آزاد کئے. یہ چیز اس بات کی طرف بھی ہماری راہنمائی کرتی ہے کہ یہ عائشہ ہی کی ذاتی دولت تھی ورنہ عائشہ چالیس غلام یا ان کی قیمت کی مالک کیسے بن سکتی تھیں یہ کوئی آسان بات نہیں تھی اور تاریخ نے کوئی ایسا واقعہ نقل نہیں کیا کہ رسول(ص) نے اپنی پوری حیات میں غلاموں کی اتنی بڑی تعداد آزاد کی ہو.


انہوں نے کوئی برائی اور خامی ایسی نہیں چھوڑی جس کی نسبت رسول(ص) کی طرف نہ دی ہو اور اس کی وجہ صرف اپنے امراء کے کرتوتوں کو تنقید سے بچانا تھی. خدا انہیں غارت کرے انہوں نے بہت برا کام کیا ہے.

" احکام شرعیہ کی بے احترامی کے سلسلہ میں انہیں بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کی ہے.

نبی(ص) احکام خدا میں جیسے چاہتے ہیں تبدیلی کرتے ہیں

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الصوم کے باب " اغتسال الصائم" میں اور مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب الصیام کے باب" تغلیظ تحریم الجماع فی نهار رمضان علی الصائم و وجوب الکفارة الکبری فیه و انها تجب علی الموسر و المعسر" میں ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ:

ہم لوگ رسول(ص) کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں آیا اور کہا: یا رسول اللہ(ص) میں ہلاک ہوا! فرمایا تمہیں کیا ہوگیا؟ اس نے کہا: میں نے اپنی زوجہ سے ہمبستری کر لی حالانکہ میں روزہ سے تھا. رسول(ص) نے فرمایا کیا تم غلام آزاد کرسکتے ہو؟ اس نے کہا نہیں، آپ(ص) نے فرمایا تم پے در پے دو ماہ روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، آپ(ص) نے فرمایا: کیا ساٹھ مسکینو ں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، راوی کہتا ہے کہ وہ شخص تھوڑی دیر نبی(ص) کے پاس ٹھہرا تھا ہم بھی بیٹھے تھے کہ نبی(ص) نے اسے کھجور کا رس دیا کہ اس میں کھجوریں بھی پڑی تھیں. فرمایا: سائل کہاں ہے؟ اس نے کہا میں ہوں، فرمایا: تو اسے تصدق کر دے. اس نے کہا یا رسول اللہ(ص) مجھ سے بڑا بھی کوئی فقیر ہے؟


قسم خدا کی کوئی گھرانہ میرے گھر سے زیادہ فقیر نہیں ہے. پس نبی(ص) کو ہنسی آگئی یہاں تک کہ دندان (مبارک) ظاہر ہوگئے. پھر فرمایا: جائو اپنے گھر والوں کو کھلا دو.

احکام و حدود خدا کی گت ملاحظہ فرمائیے، خدا نے اپنے خوش حال بندوں پر غلام آزاد کرنا اور اگر غلام آزاد نہیں کرسکتے تو ان پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا اور جو فقیری کی وجہ سے کھانا بھی نہیں کھلا سکتے تو ان پر دو مہینوں کے روزے واجب کئے ہیں یہ ان فقیروں کا کفارہ ہے کہ جن کو غلام آزاد کرنے اور مسکینوں کو کھانا کھلانے بھر کا پیسہ نصیب نہیں ہوتا ہے لیکن یہ روایت تو خدا کے ان حدود کو پامال کرتی ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے مقررکئے ہیں.

ہمارے لئے مجرم کا یہی کہنا کافی ہے کہ رسول(ص) اس طرح مسکرائے کہ دانت نظر آنے لگے گویا حکم خدا کو اس کے لئے آسان کر دیا اور صدقہ لینا مباح کر دیا.

کیا خدا و رسول(ص) پر اس سے بڑا بہتان بھی باندھا جاسکتا ہے کہ گناہ کرنے والے کی سزا کے بجائے معاف کر دیا اس سے بھی زیادہ گناہگاروں فاسقوں، اور منحرف لوگوں کو جری بنایا جاسکتا ہے.

ایسی ہی روایات کی بنا پر تو دین خدا اور اس کے احکام کھلونہ بن کے رہ گئے اور زنا کار اپنے اس فعل شنیع پر فخر اور محافل و شادیوں میں زانی کے نام کے گانے گائے جانے لگے اسی طرح ماہ رمضان میں روزہ توڑنے والا روزہ داروں کا منہ چڑھاتا ہے.

جیسا کہ بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الایمان والنذر کے باب"اذا حنث ناسیا" میں عطا سے اور انہوں نے ابن عباس سے روایت


کی ہے کہ ایک شخص نے نبی(ص) سے کہا کہ میں نے رمی جمرات سے قبل طواف زیارہ کر لیا. نبی(ص) نے فرمایا کوئی حرج نہیں ہے. ایک دوسرے شخص نے کہا: میں نے قربانی سے پہلے سرمنڈا لیا. آپ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے. تیسرے نے کہا: میں نے رمی جمرات سے قبل قربانی کرلی، فرمایا: کوئی اشکال نہیں ہے.

اور عبداللہ ابن عمرو ابن عاص سے روایت ہے کہ ہمارے درمیان نبی(ص) خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ(ص) فلاں سے قبل میرا ایسا ایسا خیال تھا، پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور کہا: میں ان تینوں( سرمنڈانے، قربانی اور رمی جمر) کے بارے میں ایسا خیال رکھتا تھا. نبی(ص) نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے. تینوں کو ایک ہی روز میں انجام دیا جاتا ہے پس جب ان میں سے کسی نے کسی کے بارے میں سوال کیا تو کہا: بجا لائو، بجا لائو اس میں کوئی حرج نہیں ہے.

عجیب بات تو یہ ہے کہ جب آپ ان روایات کو پیش کریں گے تو بعض معاندین آپ کے سامنے ڈٹ کے کہیں گے دین خدا آسان ہے اس میں تنگی نہیں ہے. اور رسول اللہ(ص) نے فرمایا ہے: آسانی کو اختیار کرو اور تنگی سے بچو!

اگر چہ یہ بات حق ہے لیکن مراد باطل ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خدا نے ہمارے لئے سہولتیں رکھی ہیں اور حرج میں مبتلا نہیں کیا ہے لیکن اس قرآن مجید اور سنت نبوی کے ذریعہ ہم تک احکام و حدود پہونچائے ہیں اور اقتضائے وقت کے لحاظ سے ہمیں چھوٹ بھی دی ہے جیسے پانی کے فقدان اور بیماری کے خوف کے وقت تیمم کی اجازت مرحمت کی اسی طرح مقتضائے وقت کے لحاظ سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اجازت دی، چنانچہ سفر میں روزہ نہ رکھنے اور نماز


قصر پڑھنے کی رخصت دی یہ سب چیزیں صحیح ہیں لیکن ہم احکام خدا کی مخالفت کرتے ہیں اور وہ اس طرح کہ ہم وضو و تیمم کی ترتیب کو بدل دیں ہاتھوں کو چہرہ سے قبل دھوئیں یا پیروں کا مسح سر سے پہلے کریں یہ جائز نہیں ہے.

لیکن گڑھنے والوں کا ارادہ تو یہ ہے کہ رسول(ص) کو اتنا گرادو کہ ہمارے لئے راستہ کھل جائے. آج بھی بہت سے لوگ ( جب ان سے فقہی مسائل میں آپ بحث کریں گے تو وہ) کہتے ہیں کہ برادرم کوئی جبر نہیں ہے ہم کو صرف نماز پڑھنا ہے جیسے بھی ہوسکے نماز پڑھو.

عجیب بات تو یہ ہے کہ بخاری نے اسی صفحہ پر جس رسول(ص) کا یہ قول" افعل افعل و لا حرج" انجام دوکوئی حرج نہیں ہے. درج کیا ہے ایک واقعہ تحریر کیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول(ص) حدود سے تجاوز کر کے بہت دور نکل گئے تھے، ابوہریرہ کے حوالے سے لکھتے ہیں، ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھی رسول(ص) بھی مسجد کے گوشہ میں تشریف فرما تھے... وہ شخص نماز کے بعد رسول(ص) کے پاس آیا اور سلام کیا تو آپ(ص) نے فرمایا: "دوبارہ" نماز پڑھو! تم نےنماز نہیں پڑھی ہے وہ واپس گیا، نماز ادا کی، اور آکر سلام کیا آپ(ص) نے پھر فرمایا: نماز پڑھو! تم نے صحیح نماز نہیں پڑھی، یہاں تک کہ اس شخص نے تین مرتبہ نماز ادا کی اور رسول(ص) ہر بار اس سے یہی کہتے رہے، پھر سے نماز پڑھو! تم نے نماز نہیں پڑھی ہے. پس اس شخص نے کہا یا رسول اللہ(ص) آپ(ص) مجھے سکھا دیجئے. تو آپ(ص) نے اسے بتایا کہ رکوع و سجود کو اطمینان سے بجا لائو پھر رکوع کے بعد سیدھے کھڑے ہو جائو اور پھر اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو اور سجدہ کے بعد اطمینان سے بیٹھو! دوبارہ پھر اطمینان سے سجدہ بجالائو اور اس کے بعد سیدھے کھڑے ہو جائو اسی طرح پوری نماز پڑھو.


بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب التوحید کے باب قول اللہ، عزو جل( فاقرئووا ما تیسر من القرآن ) میں عمر ابن خطاب سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں میں نے حیات رسول(ص) میں ہشام این حکم کو سورہ فرقان کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ان کی قرائت پر میں نے جو غور کیا تو بہت سے حروف تھے جن کی تعلیم رسول(ص) نے ہمیں نہیں دی تھی میں نے چاہا کہ نماز ہی سے اسے گریبان پکڑ کر گھسیٹ لوں مگر سلام پھیرنے تک صبر کیا اور پھر اپنی ردا سے جکڑ کر پوچھا یہ سورہ تمہیں کس نے پڑھایا ہے. اس نے کہا: رسول(ص) نے، میں نے کہا تم جھوٹ بولتے ہو ہمیں تو اس کی تعلیم نہیں دی جو تم پڑھ رہے تھے.

میں اسے لے کر رسول(ص) کی خدمت میں پہونچا اور عرض کی میں نے اسے اس سورہ فرقان کی تلاوت کرتے ہوئے سنا کہ جو آپ(ص) نے ہمیں نہیں سکھایا ہے آپ(ص) نے فرمایا: اسے چھوڑ دو! اسے ہشام پڑھو، پس اس نے وہی تلاوت کی جو میں نے سنی تھی پس رسول(ص) نے فرمایا: یہ سورہ اسی طرح نازل ہوا تھا. اس کے بعد رسول(ص) نے فرمایا: اے عمر تم پڑھو! پس میں نے وہی قرائت کی جو مجھے سکھائی تھی. آپ(ص) نے فرمایا: یہ سورہ ایسے ہی نازل ہوا ہے. بے شک یہ قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے جس طرح ممکن ہو پڑھو!

کیا اس روایت کے بعد اس میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ گڑھنے والوں نے رسول(ص) کی قداست پر دھبہ لگانے کی کوشش کی ہے یہاں تک کہ قرآن کے بارے میں بھی آپ(ص) کی شخصیت کو اس طرح مخدوش کرنا چاہا ہے کہ آپ(ص) نے صحابہ کو مختلف قرائتیں سکھائیں اور ہر ایک سے کہدیا یہ سورہ ایسے ہی نازل ہوا ہے. اگر قرائت میں اتنا بڑا اختلاف نہ ہوتا تو عمر ہشام کو نماز کے درمیان ہی سے گھسیٹنے اور انہیں دھمکانے کی کوشش نہ کرتے. اس سے ان علمائے اہلسنت


کی روش یاد آگئی کہ جو دوسروں کے لئے اسی قرائت کو جائز سمجھتے ہیں جس کا انہیں علم ہے اس کے علاوہ دوسری قرائت جس کا انہیں علم نہ ہو وہ کسی کے لئے بھی جائز نہیں سمجھتے. ایک روز میں آیہ( اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم ) کی تلاوت کر رہا تھا. ان میں ایک صاحب مجھ پر بکڑ پڑے اور چیختے ہوئے کہا: اگر تم قرائت سے جاہل ہو تو قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے نہ کرو.

میں نے کہا : میں نے قرآن کے ٹکڑے کیسے کر دیتے؟

اس نے کہا:( اُذکُر نِعمَتی ) ہے نہ( نَعمَتِی )

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الاستقراض و اداء الدین کے باب " الخصومات" میں عبدالملک ابن میسرہ سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے کہ میں نے ایک شخص کو نبی(ص) کی قرائت کے خلاف ایک آیت کی قرائت کرتے ہوئے سنا تو اسے پکڑ کر نبی(ص) کے پاس لایا گیا. تو آپ نے فرمایا: تم دونوں صحیح ہو.(1)

شعبہ کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ آپ نے فرمایا کہ: اختلاف پیدا نہ کرنا کیونکہ تم سے پہلے والوں نے اختلاف کیا تو ہلاک ہوگئے.

سبحان اللہ! رسول(ص) ان کے درمیان کیسے اختلاف کو ہوا دیتے ہیں، کہتے ہیں کہ تم دونوں صحیح ہو؟ اور انہیں ایک قرائت پر جمع نہیں کرتے کہ جس سے اختلاف کی جڑ کٹ جائے.اور اس کے بعد فرماتے ہیں : اختلاف پیدا نہ کرو کیونکہ تم سے پہلے والوں نے اختلاف کیا تو وہ ہلاک ہوگئے. خدا کے بندو! خدا تم پر رحم

____________________

1.بخاری جلد/3 ص88


کرے ہمیں یہ بتائیے کیا بہ تناقض نہیں ہے؟ کیا لوگوں میں ( اس لحاظ سے) رسول(ص) کی بات سے اختلاف نہیں ہوا؟ یہ تو اختلاف پر جری بناتا ہے. حاشا. رسول اللہ(ص) اس اختلاف سے بری ہیں. جس سے عقلیں نفرت کرتی ہیں.

کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے جو کہتا ہے:

( وَ لَوْ كانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ‏ اخْتِلافاً كَثِيراً ) سورہ نساء، آیت/82

اگر یہ قرآن خدا کے علاوہ کسی دوسرے کا کلام ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے.

کیا امت مسلمہ میں متعدد قرائتوں سے بڑا اور پر خطر کوئی اختلاف ہے کہ جس نے قرآن کے معنی کو مختلف تفاسیر و آراء میں تقسیم کر دیا ہے پس واضح آیتِ وضو مختلف فیہ ہوگئی ہے.

- معاذ اللہ- نبی(ص) بچوں کی سی حرکت کرتے ہیں اور جو سزا کا مستحق نہیں ہوتا ہے اسے سزا دیتے ہیں.

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب المغازی کے باب" مرض النبی(ص) و وفاته " اور مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب السلام کے باب" کراهة النداوی للدود" میں عائشہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ:

ہم نے مرض میں نبی(ص) کو زبردستی دوا پلا دی تو آپ نے اشارہ سے منع کیا کہ مجھے دوا نہ پلائو ہم نے کہا مریض تو دوا سے کراہت کرتا ہی ہے. لیکن جب آپ(ص) کو افاقہ ہوا تو فرمایا: کیا میں نے منع نہیں کیا تھا کہ مجھے دوا نہ پلائو؟ ہم نے کہا مریض دوا سے کراہت


کرتا ہے. آپ(ص) نے فرمایا: پورا گھر مجھے دوا پلانے میں لگا تھا اور میں مجبور دیکھ رہا تھا. صرف عباس اس میں تمہارے شریک نہیں تھے.

تعجب ہے نبی(ص) کو افترا کرنے والے لوگوں نے ایسا بچہ بنا دیا کہ جو کڑوی دوا پینے سے بھاگتا اور پریشان ہوتا ہے. اور اشارہ سے دوا پلانے سے منع کرتا ہے. لیکن وہ زبردستی انہیں دوا پلا دیتے ہیں. اور جب افاقہ ہوتا ہے تو آپ(ص) ان سے فرماتے ہیں: کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا کہ تم مجھے دوا نہ پلائو؟ پس سب نے معذرت کی اور کہا : ہم یہ سمجھے کہ مریض تو دوا سے کراہت کرتا ہی ہے اور سب نے جمع ہو کر دوا پلا دی اور نبی(ص) دیکھتے رہے کہ کوئی مجھے ان لوگوں سے چھڑا دے اور اس کام میں سب شامل تھے صرف آپ کے چچا عباس مستثنی تھے. کیونکہ وہ اس وقت موجود نہ تھے.

جناب عائشہ نے قصہ کو کامل طور پر نقل نہیں کیا ہے، نبی(ص) نے ان لوگوں کے بارے میں کچھ فرمایا نہیں. ( معلوم نہیں) یہ دوا پلانے کا کام مردوں کے درمیان انجام پایا تھا یا عورتوں کے درمیان انجام پذیر ہوا تھا.

نبی(ص) قرآن کی بعض آیتوں کو ختم کرتے ہیں

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الفضائل القرآن کے باب" نسیان القرآن " میں اور مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب الصلوة المسافرین و قصرہا کے باب" الامر بتعهد القرآن و کراهة قول نسیت آیه کذا" میں اسامہ سے اور انہوں نے ہشام ابن عروہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے


عائشہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ(ص) نے ایک شخص کو ایک سورہ کی رات میں تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: خدا اس پر رحم کرے اس نے مجھے فلاں آیت یاد دلائی جسے میں بھول گیا تھا.

جیسا کہ بخاری نے دوسری روایت میں علی ابن مسہر سے اور انہوں نے ہشام سے اور انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے انہوں نے کہا کہ نبی(ص) نے رات کے وقت مسجد میں کسی شخص کو قرائت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا : خدا اس پر رحم کرے اس نے مجھے فلاں فلاں آیت یاد دلائی جس کو میں فلاں فلاں سورہ سے حذف کرچکا تھا.

یہی وہ نبی(ص) ہیں جن کو خدا نے قرآن دے کر بھیجا اور یہی ( قرآن) ان کا دائمی معجزہ بھی ہے. اور یہی وہ نبی(ص) ہیں جو اسے تدریجی نزول سے پہلے پورا قرآن ایک ساتھ نازل ہوا تھا اسی وقت سے اس کی حفاظت کر رہے تھے. خداوند عالم ان کے بارے میں فرماتا ہے:

( لا تُحَرِّكْ‏ بِهِ‏ لِسانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ ‏)

آپ قرآن کی تلاوت میں عجلت کے ساتھ زبان کو حرکت نہ دیں.

نیز فرماتا ہے:

( وَ إِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعالَمِينَ‏ نَزَلَ‏ بِهِ‏ الرُّوحُ‏ الْأَمِينُ عَلى‏ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ بِلِسانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ وَ إِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ) سورہ شعراء، آیت/196

ترجمہ: اور یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے نازل ہونے والا ہے اسے جبرئیل امین لیکر نازل ہوئے ہیں یہ آپ کے قلب پر نازل ہوا ہے تا کہ آپ لوگوں کو عذاب الہی سے ڈرائیں یہ واضح عربی زبان میں ہے اور اس کا ذکر سابقین کی کتابوں میں موجود ہے.


لیکن جھوٹوں، دجالوں اور گڑھنے والوں نے ان سب چیزوں کو ٹھکرا دیا اور آپ(ص) کی طرف ایسی باطل و نازیبا باتوں کی نسبت وی جنہیں نہ عقل قبول کرتی ہے نہ ذوق سلیم، مسلمان محققین کا یہ حق ہے کہ رسول(ص) کے بارے میں موجود اس قسم کی روایات " کہ جن سے احادیث کی کتابیں بھری پڑی ہیں خصوصا وہ کتابیں جنہیں صحاح ستہ کہا جاتا ہے ایسی باتوں سے مملو ہیں " کی تردید کریں ہم دور نہ جائیں صرف بخاری و مسلم کو دیکھیں کہ جو اہلسنت کے درمیان کتاب خدا کے بعد صحیح ترین کتاب شمار ہوتی ہیں ان کی یہ حالت ہے کہ وہ قداستِ رسول(ص) کو داغدار بتاتی ہیں تو دوسری کتابوں کا تو ذکر ہی کیا ہے یہ سب ان دشمنان خدا و رسول(ص) کی گڑھی ہوئی حدیثیں ہیں جو معاویہ اور اس کے بعد بنی امیہ کے حکام کے قریبی تھے ان لوگوں نے اتنی جھوٹی احادیث گڑھیں کہ کتابیں بھر گئیں ان حدیثوں کے گڑھنے کا مقصد عظمت رسول(ص) کو گھٹانا تھا. کیونکہ وہ ایک طرف تو خدا کی جانب سے رسول(ص) پر نازل ہونے والی ہر چیز پر ایمان نہیں رکھتے تھے. دوسری طرف وہ اپنے سرداروں کے ان افعال شنیعہ کو بھی تنقید سے بچانا چاہتے تھے جنہیں مسلمانوں کی تاریخ نے محفوظ کیا ہے. رسول(ص) نے ابتدائے بعثت ہی میں ان لوگوں کے چہرے سے نقاب ہٹادی تھی اور ان سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی تھی. انہیں مدینہ سے بھکا دیا تھا چنانچہ طبری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ نبی(ص) نے ابو سفیان کو گدھے پر سوار دیکھا کہ جس کی لجام معاویہ پکڑ کر چل رہا تھا اور یزید ( ابوسفیان) کا بیٹا ہنکا رہا تھا. آپ(ص) نے فرمایا خدا اس کے سوار ہنکانے والے اور آگے آگے چلنے والے پر لعنت کرے.(1)

____________________

1.تاریخ طبری جلد/11 ص397


امام احمد نے اپنی مسند میں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ ہم لوگ ایک مرتبہ سفر میں رسول(ص) کے ہمراہ تھے کہ دو افراد کو گاتے ہوئے سنا گیا جو ایک دوسرے کا جواب دے رہے تھے، نبی(ص) نے فرمایا دیکھو یہ کون ہیں، لوگوں نے بتایا کہ معاویہ اور عمرو ابن عاص ہیں تو رسول(ص) نے ہاتھوں کو بلند کیا اور فرمایا: پروردگارا انہیں برباد فرما، اور انہیں جہنم میں جھونک دے.(1) ابوذر غفاری سے مروی ہے کہ انہوں نے معاویہ سے کہا کہ جب تم رسول(ص) کے قریب سے گذرے تھے تو میں نے رسول(ص) کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ : پروردگار: اس پر لعنت فرما اور خاک کے علاوہ اسے کبھی ( شکم) سیر نہ کرنا.(2) اور حضرت علی علیہ السلام نے اپنے اس خط میں جو آپ(ع) نے اہل عراق کے نام لکھا ہے تحریر کیا ہے:

بخدا اگر میں تن تنہا ان سے مقابلہ کے لئے نکلوں اور زمین کی ساری وسعتیں ان سے چھلک رہی ہوں جب بھی میں پرواہ نہ کروں نہ پریشان ہوں اور جس گمراہی میں وہ مبتلا ہیں اور جس ہدایت پر میں ہوں اس کے متعلق پوری بصیرت اور اپنے پروردگار کے فضل و کرم سے یقین رکھتا ہوں اور میں اللہ کے حضور میں پہونچنے کا مشاق اور اس کے حسن ثواب کے لئے دامن امید پھیلائے ہوئے منتظر ہوں. مگر مجھے اس کی فکر ہے کہ اس قوم پر بد مغز اور بد کردار لوگ حکومت کریں اور وہ اللہ کے مال کو اپنی

____________________

1. مسند امام احمد جلد/4 ص421 طبرانی نے بھی کبیر میں تحریر کیا ہے.

2.مسند امام احمد جلد/4 ص421، لسان العرب جلد/7 ص404


املاک اور اس کے بندوں کو غلام بنالیں، نیکوکاروں سے برسرپیکار رہیں بدکرداروں کو اپنے قبضہ میں رکھا.

باوجودیکہ رسول(ص) نے ان پر لعنت کی ہے اور ان احادیث میں انہیں(اہلسنت کو) کوئی خدشہ نہیں ملا ہے، کیونکہ وہ صحابہ ان احادیث کو بخوبی جانتا ہے لہذا انہوں نے ان احادیث کے مقابلہ میں اور حدیثیں گڑھِیں کہ جنہوں نے حق کو باطل میں تبدیل کر دیا اور رسول(ص) کو ایک عام انسان بنا دیا کہ جس پر جاہلیت کی حمیت طاری ہو جاتی ہے اور کبھی اتنے مغلوب الغضب ہو جاتے ہیں کہ ناحق کسی شخص پر سب و شتم کرنے لگتے ہیں. انہوں نے اپنے ملعون سرداروں کے دفاع میں یہ حدیث گڑھی کہ جسے بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الدعوات کے باب قول النبی(ص) میں" من آذیته فاجعله له زکاة و رحمة" میں اور مسلم نے اپنی صحیح کی کتابالبر و الصله والادب کے باب"من لعنه النبی الخ..." میں عائشہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:

رسول(ص) کے پاس دو اشخاص آئے اور کسی ایسی چیز کے بارے میں بحث کرنے لگے جسے میں نہیں جانتی پس رسول(ص) ان پر غضبناک ہوئے اور لعنت و سب و شتم کیا. جب وہ چلے گئے تو میں نے پوچھا: یا رسول اللہ(ص) ان دونوں سے کیا غلطی ہوگئی تھی؟ آپ(ص) نے فرمایا: تم کیا کہہ رہی ہو؟

میں نے کہا آپ(ص) نے ان پر لعنت کی ہے، فرمایا کیا تم نہیں جانتی ہو کہ میں نے اپنے رب سے شرط کر رکھی ہے کہ پروردگارا میں بشر ہوں پس اگر میں کسی مسلمان پر لعنت کروں یا اسے برا بھلا کہوں تو تو اسے معاف فرما،


اور اسے اجر عطا فرما"

ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی(ص) نے فرمایا:

بار الہا: میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ میں کوتاہی نہ کروں گا اس لئے کہ میں بشر ہوں بس اگر میں کسی مومن کو برا بھلا کہوں یا اس پر لعنت کروں یا کوڑے ماروں تو، تو اسے اس شخص کے لئے رحمت و رافت قرار اور روز قیامت اسے اپنے تقرب کا ذریعہ بنا دے.

ایسی ہی گڑھی ہوئی احادیث کی رو سے نبی(ص) غیر خدا پر غضبناک ہوتے ہیں سب و شتم کرتے ہیں بلکہ لعنت کرتے ہیں اس کو کوڑے لگاتے ہیں جب کہ وہ ان کا مستحق نہیں ہوتا ہے ( معاذ اللہ) یہ کون سا نبی ہے کہ جب شیطان سوار ہوتا ہے تو معقولات کے دائرہ سے باہر ہو جاتا ہے، کیا کوئی عام آدمی ایسا فعل انجام دے سکتا ہے؟ کیا یہ فعل قبیح نہیں ہے؟

ایسی احادیث کے ذریعہ بنی امیہ کے وہ حکام جن پر رسول اللہ(ص) نے لعنت کی، جن کے حق میں بد دعا فرمائی اور جن کو بعض فاحشات کے ارتکاب کی بنا پر کوڑے لگوائے اور لوگوں کے سامنے ذلیل کیا، مظلوم بن گئے اور پاک و پاکیزہ لائق رحم خدا کے مقرب بن گئے.

یہ گڑھی ہوئی احادیث خود ہی اپنی مخالفت کرتی ہیں اور گڑھنے والوں کو ذلیل کرتی ہیں، رسول اللہ(ص) کسی پر لعنت نہیں کرتے تھے اور نہ ہی فحش بکتے تھے، حاشا حاشا...انہوں نے چھوٹے منہ سے بڑی بات کہی، خدا ان پر اپنا قہر نازل کرے اور ان کے لئے دردناک


عذاب تیار ہے.

ان باطل خیالات کی بیخکنی کرنے کے لئے ہمارے لئے بخاری و مسلم کی عائشہ سے نقل کی ہوئی ایک ہی رواتی کافی ہے.

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الادب کے باب" لم یکن النبی فاحشا و متفحشا" میں عائشہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:

یہودی نبی(ص) کے پاس آئے اور السام علیکم کہا عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا: تمہیں پر تباہی اور خدا کی لعنت و قہر ہو نبی(ص) نے فرمایا: چھوڑو! عائشہ ٹھنڈ ے دل سے کام لو. فحش سے پرہیز کرو، میں نےعرض کی کیا آپ نے نہیں سنا انہوں نے کیا کہا ہے؟ آپ(ص) نے جواب دیا کیا تم نے نہیں سنا کہ میں نے کیا کہا ہے؟ میں نے ان کی بد دعا کو انہیں پر لوٹا دیا، ان کے بارے میں میری بد دعا سنی جائے گی اور میرے سلسلہ میں ان کی نہیں سنی جائے گی.

جیسا کہ مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب البر والصلاة والادب میں تحریر کیا ہے کہ رسول(ص) نے مسلمان کو لعنت کرنے سے منع کیا ہے یہاں تک کہ انہیں چوپایوں اور حیوانات پر بھی لعنت کرنے سے منع کیا ہے. آپ(ص) سے کہا گیا یا رسول(ص) اللہ آپ(ص مشرکین کے حق میں بد دعا کر دیجئے، آپ(ص) نے فرمایا میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا ہوں، میں تو صرف رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں.

یہ ہے وہ چیز جس سے قلب رحیم اور خلق عظیم کا پتہ چلتا ہے اور یہی چیز رسول(ص) سے مخصوص تھی وہ کسی پر ناحق سب و شتم اور لعنت نہیں کرتے تھے اور کسی غیر مستحق کو کوڑے نہیں لگواتے تھے وہ جب کسی پر غضبناک ہوتے تھے


تو صرف خدا کے لئے اور اسی پر لعنت کرتے تھے جو لعنت کا مستحق ہوتا ہے اور حدود خدا کو قائم کرنے کے لئے کوڑے لگواتے تھے ان نیک افراد کو کوڑے نہیں لگواتے جن کے خلاف ثبوت یا گواہی یا خود ان کا اعتراف نہ ہو.

لیکن ان کا دل ان روایات کو دیکھ کر بہت جلتا تھا کہ جن میں معاویہ اور بنی امیہ پر لعنت کی گئی ہے لہذا انہوں نے لوگوں کو دھوکا دینے اور معاویہ کو بڑھانے کے لئے ایسی احادیث گڑھ لی ہیں اسی لئے مسلم نے اپنی صحیح میں ان روات کو نقل کرنے کے بعد کہ جن میں نبی(ص) نے معاویہ پر لعنت کی ہے اور جو خدا کی رحمت و قربت بن گئی ہیں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ رسول(ص) آگئے تو میں دروازہ کی اوٹ میں چھپ گیا ابن عباس کہتے ہیں رسول(ص) نے مجھے پکڑ کر فرمایا: جائو معاویہ کو بلا لائو ابن عباس کہتے ہیں کہ میں معاویہ کے پاس سے رسول(ص) کے پاس آیا عرض یک وہ کھانا کھا رہا ہے، آپ(ص) نے فرمایا پھرجائو اور بلا کے لائو، ابن عباس کہتے ہیں میں پھر گیا، اور واپس آکر عرض کیا وہ کھانا کھا رہا ہے، پس آپ(ص) نے فرمایا: خدا اس کا پیٹ نہ بھرے.(1)

تاریخی کتابوں ہمیں یہ چیز ملتی ہے کہ امام نسائی نے الخصائص کہ امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام سےمختص کی تھی،، لکھنے کے بعد شام گئے تو شام والوں نے ان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا: تم نے معاویہ کے فضائل کا تذکرہ کیوں نہیں کیا؟ امام نسائی نے کہا:مجھے اس کی کسی فضیلت کا علم نہیں ہے مگر یہ کہ خدا اس کا پیٹ نہ بھرے، پس یہ جملہ سن کر شام والوں نے


انہیں اتنا مارا کہ وہ شہید ہوگئے، مؤرخین لکھتے ہیں کہ معاویہ کو رسول(ص) کی بد دعا لگ گئی یہی وجہ ہے کہ معاویہ کھاتے کھاتے تھک جاتا تھا لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرتا تھا.

حقیقت تو یہ ہے کہ میں بھی ان روایات سے واقف نہیں تھا جو لعنت کو رحمت اور قرب خدا قرار دیتی ہیں. یہاں تک کہ تیونس میں ایک بزرگوار نے مجھے ان سے آشنا کیا، بزرگوار علم و آگہی کے لحاظ سے شہرت یافتہ تھے اور ہم ایک مجمع احادیث کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے یہاں تک کہ معاویہ ابن ابی سفیان کا تذکرہ بھی نکل آیا، وہ بزرگوار معاویہ کے بارے میں بڑے ہی فخر و غرور کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے. وہ بہت زیرک اور ذکاوت و حسن تدبیر میں مشہور تھے. وہ پورے طور سے معاویہ کی سیاست اور جنگ میں علی کرم اللہ وجہہ پر اس کے غالب ہونے کو بیان کر رہے تھے. میں نے کسی طرح اس پر تو صبر کر لیا لیکن جب وہ معاویہ کی مدح سرائی اور قصیدہ خوانی میں زیادہ آگے نکل گئے تو میرے صبر کا پیمانہ ٹوٹ گیا لہذا میں نے ان سے کہا: رسول(ص) کو معاویہ سے قطعی محبت نہ تھی بلکہ آپ(ص) نے معاویہ پر لعنت اور اس کے لئے بد دعا کی ہے، یہ بات سن کر حاضرین تعجب میں پڑ گئے اور کچھ میری بات سے غضبناک بھی ہوئے. لیکن ان بزرگوار نے پورے اعتماد کے ساتھ میری تائید کی اس سے حاضرین اور حیرت میں پڑ گئے اور موصوف سے کہنے لگے: ہم کچھ نہیں سمجھ پا رہے ہیں! ایک طرف آپ معاویہ کی مدح سرائی کرتے ہیں اور دوسری طرف اس بات سے بھی اتفاق رکھتے ہیں کہ نبی(ص) نے ان ( معاویہ) پر لعنت کی ہے. یہ دونوں کیسے ممکن ہیں؟ ان لوگوں کے ساتھ ساتھ میں نے بھی یہی سوال کیا، انہوں نے ہمیں عجیب و


غریب جواب دیا کہ جس کا قبول کرنا مشکل ہوگیا. انہوں نے کہا: رسول(ص) نے جو ان پر سب و شتم اور لعنت کی بیشک وہ خدا کے نزدیک رحمت و رافت ہے. مجمع نے حیرت سے پوچھا وہ کیسے؟ کہا: اس لئے کہ رسول(ص) نے فرمایا ہے کہ میں بھی سارے انسانوں کی طرح ایک انسان ہوں اور میں نے خدا سے یہ دعا کی ہے کہ میری لعنت کو رحمت و رافت بنا دے. پھر انہوں نے اپنی بات کہتے ہوئے اضافہ کیا: یہاں تک کہ جس کو رسول(ص) نے قتل بھی کیا ہے وہ دنیا ہی سے جنت میں چلا جاتا ہے. اس کے بعد میں نے ان سے تنہائی میں اس حدیث کا حوالہ معلوم کیا تو انہوں نے مجھے صحیح بخاری اور مسلم کا حوالہ دیا اور مجھے ان احادیث کا علم ہوا. لیکن اس سے میرے اس یقین میں اور استحکام پیدا ہوگیا جو امویوں کی اس سازش کے سلسلہ میں قائم ہوا تھا کہ جو انہوں نے حقائق اور اپنے عیوب کی پردہ پوشی کے لئے اور عصمت رسول(ص) کو داغدار بنانے کے لئے تھی.

اور اس کے بعد مجھے ایسی بہت سی روایتیں ملیں جو ایسی باتوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں. یہاں تک کہ وہ سازش کرنے والے بھی مطمئن ہوگئے انہوں نے اکثر باتوں کو خدا کی طرف منسوب کر دیا. بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب التوحید کے باب" قول الله تعالی یریدون ان یبدلوا کلام الله" میں ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول(ص) نے فرمایا کہ:

جس شخص نے کوئی نیک کام انجام نہ دیا ہو، اسے مرنے کے بعد جلا دو یا اس کے بدن کا نصف حصہ خشکی میں اور نصف حصہ دریا میں قرار دو، قسم خدا کی اگر خدا اس بات پر قادر ہوگا تو اسے ایسا ہی عذاب دے گا کہ عالمین میں


کوئی نہیں دےسکتا. پس خدا دریا کو حکم دے گا اور جو کچھ اس میں ہوگا جمع ہو جائے گا. پھر خشکی کو حکم دے گا تو اس کی تمام چیزیں جمع ہو جائیں گی پھر کہے گا تو نے ایسا کیوں کیا وہ کہے گا: تیری خشیت کی بنا پر، اور تو جانتا ہے. پس خدا اسے بخش دے گا.

اور اسی صفحہ پر ابوہریرہ کی بیان کردہ یہ روایت موجود ہے کہ میں نے رسول(ص) کو فرماتے ہوئے سنا کہ:

جب کسی بندہ سے کوئی گناہ سرزد ہوتا ہے تو وہ بسا اوقات کہتا ہے مجھ سے گناہ ہوگیا اور کہتا ہے پروردگار میں نے گناہ کیا یا بسا اوقات کہتا ہے کہ مجھ سے گناہ ہوگیا پس تو مجھے بخش دے.

اس کا پروردگار کہتا ہے کہ : کیا میرا بندہ یہ جانتا تھا کہ اس کا پروردگار ہے جو اس کے گناہ کو بخش دے گا تو میں نے اپنے بندہ کے گناہ بخش دے پھر بندہ ایک مدت تک گناہ نہ کرے اور پھر گناہ کا مرتکب ہو جائے اور کہے پروردگارا مجھ سے دوسرا گناہ سرزد ہوگیا ہے. پس تو بخش دے تو خدا کہے گا کیا میرا بندہ یہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی ( رب) ہے جو گناہوں کو بخشتا ہے پس میں نے اپنے بندہ کو معاف کیا. پھر جب تک خدا چاہے وہ گناہوں سے باز رہے اور گناہ کر بیٹھے اور کہے پالنے والے میں نے


دوسرے گناہ کا ارتکاب کیا پس تو اسے بھی معاف کردے پھر خدا کہتا ہے کیا میرا بندہ یہ جانتا ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہوں کو بخشتا ہے میں نے اپنے بندہ کو تین مرتبہ معاف کیا پس اب جو چاہے انجام دے.

خدا کے بندو! یہ کون سا رب ہے؟ باوجودیکہ بندہ کو پہلی دفعہ میں یہ معلوم ہوگیا تھا کہ اس کا رب ہے جو گناہ معاف کر دیتا ہے. لیکن اس کے رب کو اس کی مطلق خبر نہ ہوئی ہر دفعہ یہ کہتا رہا کیا میرا بندہ یہ جانتا ہے کہ اس کا رب گناہوں کو بخش دیتا ہے؟؟

یہ کون سا پروردگار ہے جو بے شمار مکرر گناہوں کو معاف فرماتا ہے... اور اپنے بندہ سے کہتا ہے جو چاہو کرو.

ان کے منہ سے نکلی ہوئی بات بہت بڑی ہوگئی اگر چہ وہ جھوٹ ہی ہے پس اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ لائے تو کیا آپ ان کے پیچھے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دیں گے.

جی ہاں! ان کا یہی گمان ہے کہ رسول(ص) نے عثمان کے لئے فرمایا: تم جو چاہو کرو آج کے بعد تمہارے افعال تمہیں ضرر نہیں پہونچائیں گے بقول اہلسنت کے یا اس دقت کی بات ہے جب عثمان عسرہ تیار کر رہے تھے. بیشک یہ وہ پروانہ بخشش ہے کہ جو جنت میں داخل ہونے کے لئے کنیہ والے دیا کرتے ہیں.

لہذا یہ بات تعجب خیز نہیں ہے کہ اگر عثمان ایسے افعال بجالائے ہیں جو ان کے خلاف بغاوت اور قتل اور بغیر غسل و کفن کے یہودیوں کے مقبرہ میں دفن کا باعث بنے.


."یہ تو ان کی امیدیں ہیں آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو."

نبی(ص) کے اقوال میں تناقض!

بخاری نے اپنی صحیح میں عبداللہ ابن عبدالوھاب سے روایت کی ہے ہم سے حماد نے ایک ایسے شخص کے بارے میں بتایا کہ جس کو نیکیوں کے ساتھ نہیں یاد کیا جاتا. اس نے کہا میں فتنوں کی شبوں میں ایک شب اپنا اسلحہ لے کر نکلا تو ابو بکرہ میرے سامنے آگئے اور کہا: کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا: رسول(ص) کے ابن عم (علی(ع)) کی مدد کا ارادہ ہے. ابوبکرہ نے کہا کہ رسول(ص) نے فرمایا ہے کہ:

جب دو مسلمان تلوار لے کر ایک دوسرے سے لڑیں گے تو وہ دونوں جہنم میں جائیں گے، کہا گیا کہ قاتل تو جرم کی وجہ سے جہنم میں جائے گا لیکن مقتول کی کیا خطا ہے؟ آپ(ص) نے فرمایا : کہ وہ اپنے مد مقابل کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا.

حماد ابن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایوب و یونس ابن عبید کے سامنے یہ روایت اس لئے نقل کی تاکہ وہ بھی میری تائید کریں تو انہوں نے کہا کہ اس حدیث کو حسن نے احنف ابن قیس سے اور انہوں نے ابوبکرہ سے نقل کیا ہے.(1)

____________________

1.صحیح بخاری جلد/8 ص92، کتاب الفتن باب " اذا التقی المسلمان بسیفہما"


مسلم نے بھی اپنی صحیح کی کتاب الفتن کے اسی باب میں حدیث ابوبکرہ کو احنف ابن قیس سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں اس شخص کی مدد کی غرض سے نکلا پس ابوبکرہ سے میری ملاقات ہوگئی اس نے کہا: کہاں جارہے ہو؟ میں نے کہا : اس شخص کی مدد کو جا رہا ہوں اس نے کہا کہ لوٹ جائو کیونکہ میں نے رسول(ص) سے سنا ہے کہ:

جب دو مسلمان ایک دوسرے کے مقابلہ میں تلوار لے کر نکل آئیں تو قاتل و مقتول دونوں جہنم میں داخل ہوں گے پس میں نے کہا یا رسول(ص)! یہ تو قاتل ہے مقتول کا قصور کیا ہے؟ فرمایا: وہ بھی اپنے بھائی کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا.(1)

ان گڑھی ہوئی احادیث سے قاری ان کے اسباب کو بخوبی سمجھ لے گا کہ ان احادیث کو کیوں گڑھا گیا ہے... اور رسول(ص) کے ابن عم سے ابوبکرہ کی عداوت بھی آشکار ہو جاتی ہے اور یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام کو رسوا کرنے کے لئے اس نے کیا کیا اور اسی پر اکتفا نہ کی بلکہ باطل کے مقابلہ میں حق کی نصرت کرنے والے صحابہ کے حوصلوں کو اس طرح پشت کیا، ان کے لئے اس حدیث کی سی حدیثیں گڑھ دیں کہ جنہیں نہ عقلیں قبول کرتی ہیں نہ قرآن صحیح قرار دیتا ہے اور نہ ہی سنت کی روسے درست ہیں خداوند عالم کا ارشاد ہے:

( فَقَتِلُوا الَّتِى تَبْغِى‏ حَتَّى‏ تَفِى‏ ءَ إِلَى‏ أَمْرِ اللَّهِ )

____________________

1.اس حدیث کو بخاری نے کتاب الایمان کے باب " للعاصی" میں نقل کیا ہے.


اس گروہ سے مل کر جنگ کریں جو زیادتی کرنے والا ہے. یہاں تک کہ وہ بھی حکم خدا کی طرف واپس آجائے. الحجرات، آیت/9

ظالموں اور بغاوت کرنے والوں سے جنگ کرنے کا حکم واضح ہے اسی لئے بخاری کے شارح کو اس حدیث کی اس طرح حاشیہ آرائی کرتے ہوئے دیکھیں گے.

ملاحظہ فرمائیے کیا یہ حدیث بغاوت سے مقابلہ کرنے کے سلسلہ میں حجت ہے؟ جب کہ خدا کا یہ قول موجود ہے کہ باغی گروہ سے جنگ کرتے رہو. یہاں تک کہ وہ حکم خدا کی طرف واپس آجائے.

اور جو حدیث کتاب خدا کے خلاف ہوتی ہے وہ جھوٹی ہوتی ہے اسے دیوار پر مار دینا چاہئیے. بنی(ص) کی صحیح حدیث حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں یہ ہے.

جس کا میں مولا ہوں اس کے علی(ع) مولا ہیں. بار الہا اس کے دوست کو دوست اور دشمن کو دشمن رکھ اس کی مدد کرنے والے کی مدد فرما، اسے رسوا کرنے والے کو ذلیل کر اور حق کو اس کے ساتھ ساتھ موڑ دے.

پس علی(ع) سے محبت رسول(ص) سے محبت کے مترادف ہے. اور تمام مسلمانوں پر حضرت علی(ع) کی مدد کرنا واجب ہے اور انہیں رسوا کرنا باطل کی مدد اور حق کو ذلیل کرنا ہے.

اگر آپ بخاری کی حدیث میں غور فرمائیں گے تو دیکھیں گے


کہ مجہول راویوں کا ایک سلسلہ ہے جن کے اسماء درج نہیں گئے. حماد نے ہم سے ایک نا معلوم شخص کے وسیلہ سے یہ حدیث بیان کی ہے اور اس کی واضح دلالت اس بات پر ہے کہ مجہول اشخاص منافقین میں سے ہیں جو علی علیہ السلام سے بغض رکھتے ہیں اور ان کے فضائل کو چھپانے کوشش میں لگے رہتے ہیں اور ان کے خلاف پروپیگنڈہ میں مشغول رہتے ہیں. اور سعد ابن ابی وقاص کہ جس نے حق کی نصرت کرنے سے منع کیا کہتا ہے: مجھے تلوار دو ( اس کے بعد کہا) یہ علی(ع) حق ہے اور یہ علی(ع) باطل ہے میں اس سےضرور جنگ کروں گا ایسے ہی اور بہت سے تال میل ہیں جنہوں نے حق کو باطل سے ملا دیا اور روشن راہوں کو تاریکی میں تبدیل کر دیا ہے.

واضح رہے ہمیں احادیث کی متعدد کتابوں میں یہ چیز ملتی ہے کہ رسول(ص) نے بہت سے صحابہ کو جنت کی بشارت دی ہے خصوصا ان دس افراد کو جو مسلمانوں کے درمیان عشرہ مبشرہ کے نام سے مشہور ہیں.

احمد اور ترمذی و ابودائود نے روایت کی ہے بیشک نبی(ص) نے فرمایا:

ابوبکر، عمر، عثمان، علی(ع)، طلحہ، زبیر، عبدالرحمن ابن عوف، سعد ابن ابی وقاص، سعد ابن زید اور ابو عبیدہ ابن جراح جنتی ہیں.(1)

اور نبی(ص) کا یہ قول بھی صحیح ہے کہ:

خاندان یاسر کو بشارت دے دو کہ تمہاری

____________________

1.مسند احمد جلد/1 ص193، صحیح ترمذی جلد/3 ص183، سنن ابودائود جلد/2 ص264


وعدہ گاہ جنت ہے.

آپ(ص) نے یہ بھی فرمایا کہ:

جنت چار افراد، علی(ع)،عمار، سلمان و مقداد کی مشتاق ہے.

اور مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کی ہے کہ رسول(ص) نےعبدالہ ابن سلام کو جنت کی بشارت دی ہے اور آپ(ص) کا یہ فرمان بھی درست ہے کہ حسن(ع) وحسین(ع) جوانان جنت کے سردار ہیں نیز جعفر ابن ابی طالب جنت میں ملائکہ کے ساتھ پرواز کرنے والا قول صحیح ہے. اور فاطمہ(ع) جنت کی عورتوں کی سردار ہیں، یہ بھی صحیح ہے کہ ان کی مادر گرامی خدیجہ کو جبریل نے جنت میں قصر کی بشارت دی، اسی طرح صہیب روی کو جنت کی بشارت دی، بلال حبشی اور سلمان فارسی کو جنت کی بشارت دی.

جب اتنے افراد کو جنت کی بشارت دی ہے تو پھر جنت کی بشارت کے سلسلہ میں احادیث کو انہیں دس10 افراد ( عشرہ مبشرہ) سے کیوں مختص کیا جاتا ہے. آپ ہر اس مجمع اور مجلس میں کہ جس میں جنت کی بات بیان ہو رہی ہو عشرہ مبشرہ کا ذکر لازمی سماعت فرمائیں گے.

ہمیں ان کی اس بات پر حسد نہیں ہے اور نہ ہی ہم خدا کی اس وسیع رحمت کو محدود کرسکتے ہیں جو ہر شئی پر محیط ہے لیکن اتنی بات ضرور کہتے ہیں کہ یہ تمام حدیثیں اس حدیث کے معارض ہیں جس میں رسول(ص) نے دو مسلمانوں کو آپس میں تلوار سے لڑنے پر قاتل و مقتول دونوں کو جہنمی کہا ہے. اس لئے اگر ہم اس حدیث کو تسلیم کر لیتے ہیں تو حدیث بشارت دھواں بن کر اڑ جائے گی کیونکہ ان میں سے معظم افراد نے ایک دوسرے سے


جنگ و جدال کیا اور بعض نے بعض کو قتل کیا ہے. حضرت علی علیہ السلام کی مخالفت میں عائشہ کی قیادت میں ہونے والی جنگ جمل میں طلحہ و زبیر قتل ہوئے اور ہزاروں مسلمانوں کے قتل کا سبب بنے.

اسی طرح عمار یاسر، معاویہ ابن ابی سفیان کی بھڑکائی ہوئی جنگ صفین میں شہید ہوئے اور جب عمار اپنی تلوار سے علی(ع) ابن ابی طالب کی نصرت کر رہے تھے اس انہیں باغی گروہ نے قتل کیا جیسا کہ اس سلسلہ میں رسول(ص) کی حدیث بھی موجود ہے. اسی طرح سید الشہدا جوانانِ جنت کے سردار اور آپ کے ساتھیوں نے اپنی تلوار سے یزیدلع ابن معاویہ کے لشکر کا مقابلہ کیا اور یزید نے سب کو قتل کر دیا علی(ع) ابن الحسین(ع) کے علاوہ کوئی نہ بچا.

پس ان کذابوں کی رائے کے لحاظ سے یہ قاتل و مقتول، دونوں جہنمی ہیں. کیونکہ انہوں نے تلوار سے ایک دسورے کا مقابلہ کیا ہے.

یاد رہے کہ اس حدیث کی نسبت اس کی طرف نہیں دی جاسکتی جو اپنی خواہش نفس سے کچھ کہتا ہی نہیں تھا بلکہ وہ وہی کہتا تھا جو اس پر وحی کی جاتی تھی جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ یہ حدیث عقل و منطق کے خلاف ہے، اور کتاب خدا و سنت رسول(ص) کے متناقض ہے. یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے جھوٹ کے پلندوں سے بخاری و مسلم کیسے غافل رہے اور ادران سے کیونکہ خبردار نہیں ہوئے، یا ایسی احادیث ہی ان کا مذہب و عقیدہ ہے.


فضائل میں تناقض

دیگر انبیاء و مرسلین پر فضیلت کے سلسلہ میں صحاح میں کچھ متناقض حدیثیں بھی پائی جاتی ہیں اور کچھ ایسی حدیثیں بھی صحاح میں موجود ہیں جو رسول(ص) سے موسی کے درجہ کو بڑھاتی ہیں. میرا عقیدہ یہ ہے کہ یہ احادیث عمر اور عثمان کے زمانہ خلافت میں مسلمان ہونے والے یہودیوں جیسے، کعب الاحبار، تمیم الدارمی اور وہب ابن منبہ وغیرہ نے بعض صحابہ جیسے ابوہریرہ، انس ابن مالک کے نام سے گڑھ کر رائج کر دی ہیں.

بخاری نے ا پنی صحیح کی کتاب التوحید کے باب قولہ تعالی،( كَلَّمَ‏ اللَّهُ‏ مُوسى‏ تَكْلِيماً ) انس ابن مالک سے شب معراج کے سفر، پھر ساتویں آسمان پر پہونچنے وہاں سے سدرة المنتہی پہونچنے اور محمد(ص) اور امت محمد(ص) پر پچاس نمازوں کے واجب ہونے کے سلسلہ میں ایک طویل حکایت، نقل کی ہے یہ پچاس نمازیں تو موسی کے طفیل میں معاف ہوگئیں اور صرف پانچ، نمازیں فرض کی گئیں اس حکایت میں صریح کذب اور کفر موجود ہے جیسے خداوند عالم قریب ہوا، اور آگے بڑھا یہاں تک دو کمان یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا. ایسے خرافات موجود ہیں لیکن اس روایت میں ہمارے لحاظ سے جو چیز اہمیت کی حامل ہے وہ یہ ہے کہ جب محمد(ص) نے ساتویں آسمان کے دروازہ کو کھلا تو دیکھا کہ جناب موسی تشریف فرما ہیں کہ جنہیں خدا نے خود سے ہمکلامی کی سرفرازی میں ساتویں آسمان کی رفعت پر ساکن کیا. جب موسی نے یہ دیکھا تو عرض کیا، پروردگار میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مجھ پر کسی


کو فوقیت دی جائے گی.

مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب الایمان کے باب بدئ الوحی الی رسول اللہ(ص) میں اور بخاری نے ا پنی صحیح کی کتاب بدئ الخلق کے باب" ذکر الملائکة صلواة الله علیهم" میں پہلے قصہ سے مشابہ ایک اور حکایت نقل کی ہے جو رات کے سفر اور معراج کو بیان کرتی ہے لیکن اس میں جناب موسی کو چھٹے آسمان پر اور جناب ابراہیم کو ساتویں آسمان پر دکھایا گیا ہے اس میں یہ ٹکڑا مہم ہے: رسول(ص) فرماتے ہیں:

پس ہم چھٹے آسمان پر آئے آواز آئی یہ کون ہے؟

جواب دیا گیا جبرئیل، اور کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا: محمد(ص)، آواز آئی کیا ان تک پیغام پہونچا دیا گیا؟ کہا: جی ہاں! پھر مرحبا کہا گیا. اس کے بعد موسی کی خدمت میں پہونچے اور سلام کہا: انہوں نے مجھے میرے بھائی اور نبی کہکے خوش آمدید کہا جب میں وہاں سے آگے بڑھ گیا تو جناب موسی رونے لگے، ندا آئی تمہارے رونے کا سبب کیا ہے؟ کہا: اس لڑکے کو میرے بعد مبعوث کیا گیا اور یہ میری امت سے زیادہ اپنی امت کے ساتھ جنت میں داخل ہوگا.

مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب الایمان کے باب" ادنی اهل الجنة منزله فیها" میں ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول(ص) نے فرمایا:

روز قیامت میں لوگوں کا سردار بنوں گا کیا تم جانتے ہو یہ کیسے ہوگا؟ تمام اولین و آخرین کو ایک ایسی جگہ


جمع کیا جائے گا کہ جہاں سے پکارنے والے کو سب دیکھیں گے اور اس کی آواز بھی سنیں گے....

سورج ان سے قریب تر ہو جائے گا لوگوں کی اضطرابی ناقابل برداشت ہوجائے گی، لوگ کہیں گے کیا تھی اپنی حالت کی خبر نہیں ہے؟ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ تمہارے رب کی بارگاہ میں کون تمہاری شفاعت کرسکتا ہے؟ پس بعض، بعض سے کہیں گے تم آدم کے پاس جائو، لوگ آدم کے پاس آئیں گے اور کہیں گے آپ ابوالبشر ہیں آپ کو خدا نے اپنے ہاتھ سے بنایا ہے اور آپ کے اندر اپنی روح پھونکی ہے، اور ملائکہ کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا، آپ اپنے رب سے ہماری شفاعت کیجئے، کیا آپ ہماری حالت نہیں دیکھ رہے ہیں کیا آپ کو ہماری بگڑتی ہوئی کیفیت کا اندازہ نہیں ہے پس آدم فرمائیں گے، آج میرا رب شدید غضبناک ہے. نہ اس سے قبل اتنا غضبناک ہوا تھا اور نہ اس کے بعد اتنا عضبناک ہوگا. اور یہ وہی خدا ہے کہ اس نے مجھے درخت کے پاس جانے سے منع کیا تھا لیکن میں نے اس پر عمل نہ کیا... نفسی، نفسی، میرے علاوہ کسی دوسرے کو ڈھونڈ لو،نوح کے پاس چلے جائو. یہ روایت بہت طویل ہے ( اور ہم نے ہمیشہ اختصار کو مد نظر رکھا ہے) یہاں تک کہ لوگ نوح کے پاس پہونچیں گے، پھر ابراہیم کے پاس


اس کے بعد موسی و عیسی کے پاس جائیں گے اور سب نفسی، نفسی کہیں گے اور عیسی کے علاوہ سب اپنی خطائوں کا تذکرہ کریں گے لیکن عیسی بھی نفسی، نفسی پکاریں گے اور کہیں گے میرے علاوہ کسی اور کو تلاش کرو، محمد(ص) کے پاس جائو، رسول(ص) فرماتے ہیں کہ: لوگ میرے پاس آئیں گے. پس میں عرش کے نیچے جاکر اپنے پروردگار کے سامنے سجدہ میں سر رکھ دونگا، اس کے بعد خداوند عالم میرے لئے محامد و حسن الثنا کے دروازے کھول دے گا کہ اس سے قبل کسی کے لئے نہ کھولے ہونگے پھر ندا آئے گی، اے محمد! سر اٹھائو. تم سوال کرو. عطا کیا جائے گا. شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، پس سر اٹھائوں گا. اور کہوں گا : امتی یا رب ، امتی، ندا آئے گی اے محمد اپنی امت کے ہمراہ باب ایمن سے جنت میں داخل ہو جائو، اب ان پر کوئی حساب نہیں ہے. اس کے علاوہ وہ دوسرے دروازوں سے بھی داخل ہوں گے پھر رسول(ص) فرماتے ہیں قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جنت کے دروازوں کے پٹوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور حمیر کے درمیان کا فاصلہ یا مکہ اور بصرہ کے درمیان کا فاصلہ ہے.

ان احادیث میں رسول(ص) فرماتے ہیں کہ قیامت کے روز وہ لوگ کے سردار ہوں گے! اور موسی فرماتے ہیں پروردگار مجھے گمان بھی نہیں


تھا کہ میری منزلت کو کوئی پہونچے گا. اور کہتے ہیں: موسی گریہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں خدایا یہ لڑکا میرے بعد مبعوث کیا گیا اور اپنی امت کے ساتھ جنت میں میری امت سے زیادہ افراد کے ساتھ داخل ہوگا.

ان احادیث سے ہماری سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ آدم سے لے کر عیسی تک نوح و ابراہیم و موسی کی شمولیت کے ساتھ تمام انبیاء و مرسلین علیہم الصلوة والسلام قیامت کے روز خدا سے شفاعت نہیں کریں گے. اس کے لئے خدا نے محمد(ص) کو مخصوص کیا ہے، ہم سب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں اور اس طرح محمد(ص) کو سارے انسانوں پر فضیلت دیتے ہیں. لیکن اسرائیلیوں اور ان کے اعوان و انصار بنی امیہ محمد(ص) کی اس فضیلت کو برداشت نہیں کیا یہاں تک کہ انہوں نے موسی کی برتری کے لئے روایات گڑھیں جیسا کہ ہم سابقہ بحثوں میں شب معراج محمد(ص) سے موسی کا قول ملاحظہ کرچکے ہیں اور جب خدا نے رسول(ص) پر پچاس نمازیں واجب کی تھیں تو موسی نے آپ(ص) سے کہا تھا. میں لوگوں کو آپ سے زیادہ جانتا ہوں. اسی پر اکتفا نہ کی بلکہ رسول(ص) پر موسی کی فضیلت کے لئے خود نبی(ص) کی زبان سے احادیث گڑھ لیں ان میں سے بعض آپ کے سامنے پیش کی جاتی ہیں.

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب التوحید کے باب" فی المشیئة و الارادة و ما تشائوون الا ان یشاء الله" میں ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا:

ایک مسلمان اور ایک یہودی میں تو، تو ، میں ، میں ہوگئی مسلمان نے کہا قسم اس کی جس نے محمد(ص) کو عالمین پر منتخب کیا اور یہودی نے کہا: قسم اس کی جس نے موسی کو عالمین پر منتخب کیا. یہ سنتے ہی مسلمان نے یہودی کو


ایک طمانچہ رسید کیا. یہودی رسول(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنا اور مسلمان کا قصہ بیان کیا. تو نبی(ص) نے فرمایا: تم مجھے موسی پر فضیلت نہ دیا کرو کیونکہ روز قیامت تمام لوگ غش میں پڑے ہوں گے اور سب سے پہلے مجھے افاقہ ہوگا جب کہ موسی عرش پر بیٹھے ہوں گے. پس میں نہیں جانتا کہ وہ بھی غش کھانے والوں میں شامل تھے اور مجھ سے قبل افاقہ ہوگیا. یا خدا نے انہیں اس سے مستثنی کیا ہے.

بخاری کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک یہودی طمانچہ کھا کے نبی(ص) کی خدمت میں آیا اور کہا: یا محمد(ص) انصار میں سے آپ کے ایک صحابی نے میرے منہ پر طمانچہ مارا ہے. آپ(ص) نے فرمایا: اسے بلائو. جب وہ آیا تو آپ(ص) نے فرمایا: تم نے اس کے منہ پر طمانچہ کیوں مارا؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ(ص) میں یہودی کے پاس سے گذرا تو میں نے اسے یہ کہتے ہوئے سنا کہ قسم اس کی جس نے موسی کو تمام لوگوں پر منتخب کیا ہے. میں نے کہا محمد(ص) پر بھی پس مجھے غصہ آگیا اور میں نے طمانچہ مار دیا.

آپ(ص) نے فرمایا: تم مجھے انبیاء پر فضیلت نہ دیا کرو کیونکہ قیامت کے دن تمام لوگوں پر غشی طاری ہوگی. اور سب سے پہلے مجھے افاقہ ہوگا تو میں موس کو عرش کا پایا پکڑے ہوئے دیکھوں گا میں نہیں جانتا کہ انہیں مجھ سے پہلے افاقہ ہوگیا ہوگا یا انہیں صاعقہ طور کی جزا دی جائے گی.

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب تفسیر القرآن میں سورہ یوسف کی آیہ فلما جاء الرسول(ص) کے سلسلہ میں ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول(ص) نے فرمایا:

خدا لوط پر رحم کرے کہ انہوں نے رکن شدید کے


پاس پناہ لے لی تھی. اگر مجھے یوسف کی طرح قید میں ڈال دیا جاتا تو بھی میں قبول کرتا جب کہ میرا رتبہ ابراہیم سے زیادہ بلند ہے کیونکہ خدا نے ان سے " اولم تومن" کہا: کیا تم ایمان نہیں لائے.

ان حدیث گڑھنے والوں نے اتنے ہی پر اکتفا نہیں کی بلکہ رسول(ص) کو اپنے پروردگار کے بارے میں مشکوک بنا کر پیش کیا. پس نہ انہیں شفاعت کا حق ہے نہ ان کے لئے مقام محمود ہے، اور نہ ہی دیگر انبیاء پر کوئی فضیلت ہے اور نہ ہی وہ اپنے اصحاب کو جنت کی بشارت دے سکتے ہیں. کیونکہ وہ خود اپنے متعلق بھی نہیں جانتے کہ روز قیامت ان کا کیا ہوگا. آئیے میرے ساتھ بخاری کی روایت پڑھئے اور تعجب کیجئے یا نہ کیجئے اختیار ہے.

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الکسوف کے باب "الجنائز" میں خارجہ ابن زید ابن ثابت سے روایت کی ہے کہ انصار کی ایک عورت ام العلا کہ جس نے رسول(ص) کی بیعت کی تھی وہ کہتی ہے کہ نبی(ص) نے مہاجرین کو تقسیم کیا تو ہمارے حصہ میں عثمان ابن مظعون آئے ہم نے انہیں اپنے گھر میں جگہ دی، انہیں ایسا درد لاحق ہوا کہ وہ اسی میں چل بسے، انتقال کے بعد غسل دیا گیا اور انہیں کے کپڑوں میں کفن دیا گیا ( جب ) رسول(ص) داخل ہوئے تو میں نے کہا: اے ابو سائب خدا تم پر رحم کرے میں گواہی دیتی ہوں کہ خدا نے آپ کو معظم کیا. نبی(ص) نے فرمایا: تمہیں کیسے معلوم کہ خدا نے اسے معظم کیا؟ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان پس خدا کس کو معظم کرے گا. آپ(ص) نے فرمایا:

قسم خدا کی میں رسول(ص) ہوتے ہوئے بھی یہ نہیں


جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا.

وہ عورت کہتی ہے قسم خدا کی اس کے بعد کوئی کبھی پاک نہ کیا جائے گا.

قسم خدا کی یہ تو تعجب خیز بات ہے، پس جب رسول(ص) بھی خدا کی قسم کھا کے یہ کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ میرا کیا ہوگا تو اس کے بعد کیا باقی بچتا ہے.حالانکہ قول خدا ہے کہ:

( بَلِ الْإِنْسانُ عَلى‏ نَفْسِهِ‏ بَصِيرَةٌ )

بلکہ انسان خود بھی اپنی حالت کو بخوبی جانتا ہے.

اور خدا اپنے نبی(ص) کے لئے ارشاد فرماتا ہے:

( إِنَّا فَتَحْنا لَكَ‏ فَتْحاً مُبِيناً لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ ما تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَ ما تَأَخَّرَ وَ يُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَ يَهْدِيَكَ صِراطاً مُسْتَقِيماً وَ يَنْصُرَكَ اللَّهُ نَصْراً عَزِيزاً )

بیشک ہم نے آپ کو کھلی فتح عطا کی ہے تاکہ خدا آپ کے اگلے پچھلے تمام الزامات کو ختم کر دے اور اپنی رحمت کو تمام کر دے اور آپ کو سیدھے راستہ کی ہدایت دیدیے اور مہمترین طریقہ سے آپ کی مدد کرے.

اور جب مسلمان کا جنت میں داخل ہونا رسول(ص) کی اطاعت و اتباع اور ان کی تصیدیق پر موقوف ہے تو پھر ہم اس حدیث کی کیسے تصدیق کر دیں کہ جو نعوذ باللہ بنی امیہ کے عقیدہ سے بھی بدتر ہے کہ جو ایک دن بھی اس بات پر ایمان لائے کہ محمد(ص) اللہ کے بر حق رسول ہیں. وہ رسول(ص) کو ایسا بادشاہ سمجھـے تھے جو اپنی ذہانت کی بنا پر لوگوں پر کامیاب


ہوگیا. اس بات کی صراحت معاویہ و یزید اور ان کے خلفاء و حکام نے کہا ہے.

نبی(ص) علم اور طب میں تناقض کرتے ہیں!

بیشک علم اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ بعض امراض متعدی ہیں اسے بیشتر لوگ جانتے ہیں یہاں تک کہ غیر مہذب افراد بھی اس سے واقف ہیں. لیکن جب یونیورسٹی میں تعلیم پانے والے طلباء کے سامنے یہ بات کہی جائے گی کہ رسول(ص) اس کا انکار کرتے تھے تو وہ آپ(ص) کا مذاق اڑائیں گے. اور انہیں رسول اسلام(ص) پر طعن کرنے موقع مل جائے گا خصوصا ان میں سے ایسے اساتذہ کہ جو ایسی چیزوں کی تلاش میں رہتے ہیں. لیکن بہت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ جو احادیث بخاری اور مسلم نے نقل کی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھوت اور متعدی امراض کا وجود نہیں ہے. اور ایسی احادیث بھی ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ متعدی امراض کا وجود ہے. اس لئے ہم نے یہ سرخی قائم کی ہے. کہ نبی(ص) تناقض (گوئی ) کرتے ہیں. ہمارا اس بات پر ایمان نہیں ہے کہ رسول(ص) نے اپنے افعال یا اقوال میں ایک مرتبہ بھی تناقض کیا ہے. لیکن قاری کی توجہ مبذول کرنے اور عادت کے مطابق یہ عنوان قائم کیا ہے. تاکہ قاری معصوم رسالتمآب(ص) کی طرف منسوب جھوٹی اور گڑھی ہوئی احادیث سے خبردار ہوجائے اور اس قسم کی احادیث نقل کرنے کے ہمارے مقصد کو بھی سمجھ جائے کہ نبی(ص) کی تنزیہ اور آپ(ص) کی اس علمی منزلت کی نشاندہی کرنا ہے جو تمام جدید علوم پر سبقت رکھتی ہے. کوئی ایسا صحیح نظریہ نہیں ہے جو نبی(ص) کی صحیح حدیث کے معارض ہو. اور اگر معارض ہو تو ہمیں سمجھ لینا چاہئیے کہ یہ حدیث


رسول(ص) پر بہتان ہے. ایک طرف اور دوسری طرف یہی حدیث کبھی اس دوسری حدیث کے معارض ہوتی ہے کہ جو علمی نظریہ کے مطابق ہوتی ہے. پس اس صورت میں دوسری کو قبول کرنا اور پہلی کو چھوڑنا واجب ہے اور یہ بات محتاج بیان نہیں ہے.

اس کی مثال میں حدیث عدوی کو پیش کرتا ہوں کہ جو بحث کا مہم عنصر ہے یہی ہمارے لئے صحابہ روات اور حدیث گڑھنے والوں کی صحیح عکاسی کرتی ہے کہ رسالت مآب(ص) کی تناقض گوئی. کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں ہے پس میں بخاری کی نقل کردہ دو حدیثوں پر اکتفا کرتا ہوں کیونکہ اہلسنت کے نزدیک یہی صحیح ترین کتاب ہے تاکہ تاویل کرنے والے متعدد گروہوں میں تقسیم نہ ہوسکیں اور کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ یہ حدیث بخاری کے نزدیک ثابت نہیں ہے اور اس کے برخلاف دوسرے محدثین کے نزدیک ثابت ہے. قاری کو معلوم ہے کہ اس باب میں میں نے بخاری سے احادیث میں تناقض کی مثال پیش کرنے پر اکتفا کی ہے.

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الطب کے باب الھامہ میں ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول(ص) نے فرمایا کہ:

نہ کوئی متعدی مرض ہے نہ صفر و ہامہ کوئی شئی ہے. ایک دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ(ص) ان اونٹوں کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو ریت میں ہرنوں کی طرح پھرتے ہیں اور ان میں جب کوئی خارش والا اونٹ شامل ہوجاتا ہے تو سب کو یہ مرض لاحق ہو جاتا ہے؟ رسول(ص) نے فرمایا کہ پہلے اونٹ کو یہ مرض کہاں سے لگا تھا؟


ملاحظہ فرمائیے کہ اس دیہاتی نے اپنی فطرت کے ذریعہ کس طرح متعدی مرض کا پتہ لگایا ہے کہ جب ایک کھجلی والا اونٹ دوسرے اونٹوں میں مل جاتا ہے تو انہیں بھی وہ مرض لگ جاتا ہے. اب رسول(ص) کے پاس کوئی ایسا جواب نہیں ہے جس سے اس دیہاتی کو مطمئن کرسکیں لہذا الٹا اس سے سوال کرتے ہیں کہ پہلے اوںٹ کو یہ مرض کہاں سے لگا تھا؟

یہاں مجھے اس طبیب کا واقعہ یاد آگیا کہ جس کے پاس ایک عورت اپنے چیچک کے مریض بچہ کو لے کر آئی تھی ( بچہ کو دیکھ کر) طبیب نے پوچھا: تمہارے گھر یا پڑوس میں کوئی ایسا شخص ہے جو خسرہ کا مریض ہو؟ عورت نے کہا: ہرگز نہیں ، طبیب نے کہا شاید اسے مدرسہ سے یہ مرض لگ گیا ہے عورت نے فورا جواب دیا ہرگز نہیں کیونکہ یہ مدرسہ میں داخل نہیں ہوا ہے اس لئے کہ یہ ابھی پانچ سال کا ہے، طبیب نے کہا: شاید تم اسے اپنے عزیز و اقارب میں لے کر گئی تھیں، یا تمہارے رشتہ دار تمہارے یہاں آئے تھے ان میں یہ جراثیم تھے. عورت نے پھر نفی میں جواب دیا. اس وقت طبیب نے کہا: یہ جراثیم ہوا سے اس تک پہونچے ہیں.

جی ہاں! ہوا جراثیم اور متعدی امراض کو منتقل کرتی ہے کبھی ہوا کیے سبب پورا گائوں یا شہر مرض کی لپیٹ میں آجاتا ہے. اس کے لئے آپریشن و انجکشن وغیرہ بنائے گئے ہیں پس یہ تمام چیزیں اس (رسول(ص)) سے کیسے پوشیدہ رہیں جو وحی کے علاوہ کچھ کہتا ہی نہیں ہے؟ یہ تو رب العالمین کے رسول(ص) ہیں کہ جس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں ہے. زمین و آسمان کی کوئی چیز بھی خدا سے مخفی نہیں ہے. وہ تو سننے اور جاننے والا ہے. اسی لئے ہم اس حدیث کی تردید کرتے ہیں. اسے کبھی قبول نہیں کرسکتے، ہاں: بخاری کی اس


حدیث کو تسلیم کرتے ہیں. جو انہوں نے اسی باب اور اسی صفحہ پر ابی سلمہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ سے سنا کہ رسول(ص) نے فرمایا کہ:

کوئی تیمار داری کرنے والا مریض کے پاس سے اٹھ کر صحت مند کے پاس نہ جائے.

ابوہریرہ نے اس حدیث سے پہلی حدیث کا انکار کیا تو ہم نے کہا: کیا تم نے یہ نہیں کہا ہے کہ کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا تو وہ حبشی زبان میں بڑا بڑا نے لگے ام سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے اس طرح ابوہریرہ کو حدیث بھولتے نہیں دیکھا تھا.

ان دونوں حدیثوں... کہ کوئی مرض متعدی نہیں اور تیمار داری کرنے والے کو صحت مند کے پاس نہیں جانا چاہئے. کے ساتھ بخاری و مسلم نے اپنی اپنی صحیح کی کتاب السلام کے باب" لا عدوی، طیره ولا هامه و لا صفرو ولا نوء، و لا غول و لا یورون، عرض علی مصح" میں بھی نقل کیا ہے.

ان احادیث میں سے ہم اس حدیث " کہ تیمار داری کرنے والے کو صحن مند کے پاس اٹھ کر نہیں جانا چاہئے" کو صحیح سمجھتے ہیں. یہ قول رسول(ص) ہے کیونکہ رسول(ص) تناقض نہیں کرسکتے تھے. اور یہ حدیث کہ " کوئی مرض متعدی نہیں ہے" رسول(ص) پر بہتان ہے کیونکہ اس حدیث سے ان کا طبیعی حقائق سے جاہل ہونا سمجھ میں آتا ہے. اسی لئے بعض صحابہ نے دونوں حدیثوں میں تناقض سمجھ کر ابوہریرہ سے بحث کی اور پہلی حدیث کے بارے میں سوال کیا تو ابوہریرہ کو اس بھنور سے نکلنے کا کوئی راستہ ہاتھ نہ آیا. تو وہ حبشی زبان میں بڑا بڑانے لگے. شارح بخاری کہتے ہیں کہ انہوں نے غصہ کی حالت میں ایسی گفتگو کی جو لایفہم تھی!


اور جو چیز ہمیں تاکید کے ساتھ اس بات کو باور کراتی ہے کہ رسول(ص) جدید علوم کو پہلے سے جانتے تھے خصوصا متعدی امراض کو. وہ یہ کہ آپ(ص) نے مسلمانوں کو طاعون، جذام اور وبا وغیرہ سے بچنے کی تلقین فرمائی.

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الانبیاء کے باب" حدثنا ابو الیمان" میں اور اسی طرح مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب السلام کے باب" الطاعون والطیرة والکهانة وغیرها" میں اسامہ ابن زید سے روایت کی ہے کہ رسول(ص) نے فرمایا کہ:

طاعون ایک رجس ہے جو بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر یا تم سے پہلے والے لوگوں پر بھیجا گیا تھا پس جب تم کسی جگہ کے بارے میں یہ سنو کہ وہاں طاعون ہے تو وہاں نہ جائو اور اگر اس جگہ طاعون پھیل جائے جہاں تم موجود ہو تو اس سے فرار کی غرض سے وہاں سے نہ نکلو:

دوسری حدیث میں ہے وہاں سے جلدی سے نکل جائو.

اسی معنی میں رسول(ص) کا یہ قول صحیح ہے کہ :

مجذوم سے ایسے بھاگو، جیسے شیر سے!

نیز آپ(ص) کا یہ قول:

پانی پیتے وقت برتن میں سانس نہ لو.

ایسے ہی آپ(ص) کا یہ فرمان:

جب کسی برتن کو کتا چاٹ لے تو اس برتن کو


چھ مرتبہ پانی سے اور ایک مرتبہ خاک سے پاک کرو.

یہ سب کچھ امت کو نظافت و طہارت اور حفظان صحت کے اسباب کی تعلیم کی بنا پر ہے. رسول(ص) نے یہ نہیں فرمایا کہ:

جب کسی چیز میں مکھی گر جائے تو اسے غوطہ دے دو.

اس میں تو ہم کھلم کھلا تناقض پاتے ہیں یہاں تک کہ ہامہ کے سلسلہ میں بھی کہ جس سے عرب بدشگونی لیتے تھے. ہامہ ایک پرندہ ہے جو رات میں اڑتا ہے. کہا گیا ہے کہ یہ الو ہے. مالک ابن انس نے یہی معنی بیان کئے ہیں. پس جب نبی(ص) یہ کہتے ہیں کہ ھامہ سے کچھ نہیں ہوتا تو پھر تعویذ کس لئے بناتے ہیں.

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب بدء لخلق کے باب" یزفون النسلان فی المشی" (1) میں سعید ابن جبیر سے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ: رسول(ص) حسن(ع) و حسین(ع) کے لئے تعویذ بناتے تھے ہمارے جد ابراہیم بھی اسماعیل و اسحاق کے لئے اس طرح بناتے تھے:

"اعوذ بکلمات الله التامة من کل شیطان و هامة و من کل عین لامة"

جی ہاں ہم نے اس فصل میں بعض ان متناقض احادیث کی مثال پیش کرنے کا ارادہ کیا تھا کہ جو رسول(ص) کی طرف منسوب ہیں جب کہ رسول(ص) ان سے بری ہیں

____________________

1.بخاری جلد/4 ص119


ایسی اور سیکڑوں متناقض احادیث ہیں جہیں بخاری و مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں نقل کیا ہے. - فی الحال- ہم ان سے قطع نظر کرتے ہیں. کیونکہ ہم نے ہمیشہ قارئین کو اختصار و اشارہ کا عادی بنایا ہے. محققین کو اس سلسلہ میں تحقیق کرنا چاہئیے. عنقریب خدا ان کے ذریعہ احادیث رسول(ص) کو پاک کردے گا اور انہیں اجر عظیم عطا کرے گا اور وہ لوگ حق کو باطل سے الگ کرنے کا سبب قرار پائیں گے اور نئی نسل کے سامنے قیمتی بحثین پیش کریں گے کہ جو پیغام اسلام کا آئینہ دار ہونگی.

( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسى‏ فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قالُوا وَ كانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهاً يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَ قُولُوا قَوْلًا سَدِيداً يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمالَكُمْ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ‏ وَ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ فَقَدْ فازَ فَوْزاً عَظِيماً ) سورہ احزاب، آیت/71

ایمان لانے والو خبردار ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائو جنہوں نے مومنین کو اذیت دی تو خدا نے انہیں ان کے قول سے بری ثابت کر دیا اور وہ اللہ کے نزدیک وجیہ انسان تھے، ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور پنی تلی بات کہو تاکہ وہ تمہارے اعمال کی اصلاح کر دے اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے اور جو خدا و رسول(ص) کی اطاعت کرے گا وہ عظیم کامیابی پر فائز ہوگا.


آٹھویں فصل

بخاری و مسلم سے متعلق

اہل سنت والجماعت کے نزدیک ان دونوں کتابوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے. دینی مباحث میں عامہ کے یہی اساسی اور اولین مصادر ہیں حالانکہ بعض محققین کے لئے یہ مشکل پیدا ہوگئی کہ وہ اس متناقض اور رکیک چیز کی کیسے صراحت کر دیں جو انہیں ان مصادر میں ملتی ہیں، وہ انہیں تلخ گھونٹ کی طرح پی جاتے ہیں اورخوف کے مارے قوم کو اس سے آگاہ نہیں کرتے ہیں کیونکہ ان کے دلوں میں ان دونوں کتابوں کا بہت احترام ہے. حقیقت یہ ہے کہ بخاری و مسلم کو بھی کبھی یہ بات گوارا نہ تھی کہ علماء میں سے کوئی ان کے مرتبہ تک پہونچے.

ہم نے ان کے اوپر تنقید کرنے اور ان کے مطاعن سے پردہ اٹھانے کا ارادہ صرف اس لئے کیا ہے تاکہ اپنے نبی(ص) کی طہارت و عصمت کو ثابت کیا جاسکے. اور جب اس مقصد کی خاطر اس طرح کی تنقید سے صحابہ بھی نہ


بچ سکے تو مسلم اور بخاری رسول(ص) کے پاس بیٹھنے والوں سے تو افضل نہیں ہیں.

ہمارا مقصد رسول(ص) عربی کی تنزیہ ہے اور ہم آپ(ص) کی عصمت کو ثابت کرنے کی کوشش کریں گے جب کہ آپ(ص) علی الاطلاق تمام لوگوں سے اعلم و اتقی ہیں اور ہمارا اعتقاد ہے کہ خداوند عالم نے آپ(ص) کو منتخب کیا تاکہ آپ(ص) عالمین کے لئے رحمت بن جائیں اور تمام جن و انس پر آپ(ص) کو مبعوث کیا ہے. اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خداوندعالم نے ہم سے ان کی تقدیس وتنزیہ کا مطالبہ کیا ہے. اور اس کے سلسلہ میں مطاعن سے منع کیا ہے اور اسی لئے ہم اور تمام مسلمانوں سے مطالبہ کیا گیا ہے. کہ ان چیزوں کو چھوڑ دیں جو ان کے خلق عظیم کے متنافی ہیں. اور ہر وہ چیز جو ان کی عصمت کے خلاف اور ان کی با عظمت شخصیت کے، شایان شان نہ ہو. پس صحابہ، تابعین، تمام محدثین منت ہیں. پس تنقید کرنے والے اور تعصب رکھنے والے کا عنقریب جیسا کہ ان کی عادت ہے ہر نئی چیز سے خون کھولے گا. لیکن ہمارا مقصد تو خدا اور رسول(ص) کی رضا حاصل کرنا ہے اور وہ ذخیرہ، خزانہ اور اس دن کا توشہ ہے جس دن مال و اولاد کچھ کام نہ آئے گا مگر یہ کہ کوئی قلب سلیم کے ساتھ آئے.

ان تمام چیزوں کے ساتھ ساتھ ان سچے مومنوں کی عزت افزائی کرنا بھی ہے جو خدا اور رسول(ص) کے اقدار سے واقف ہوئے ہیں اور حکام و خلفاء سلاطین کو نظروں میں نہیں لائے.

مجھے یاد ہے کہ میں اس وقت شدید مخالفتوں میں گھر گیا تھا جب میں بخاری کی اس حدیث کہ" جناب موسی نے ملک الموت کو طمانچہ مارا


اور اس کی آنکھیں پھوڑ دیں" پر تنقید کی تھی یہاں تک کہ مجھے دین سے خارج اور کافر کہا گیا. اور کہا گیا تم کون ہوتے ہو جو بخاری پر تنقید کر رہے ہو؟ اورشور و غل مچاتے ہوئے میرے چاروں طرح جمع ہوئے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے میں نے کتاب خدا کی کسی آیت پر تنقید کر دی ہے.

حقیقت تو یہ ہے جب تحقیق کرنے والا اندھی تقلید کی قید سے آزاد اور بے ہودہ تعصب سے بے پرواہ ہو کر بخاری و مسلم کا مطالعہ کرے گا تو یقینا اسے ان میں عجیب و غریب چیزیں نظر آئیں گی جو عرب کے بدئوں کی عقل کی عکاسی کرتی ہیں ان کے افکار جمود کا شکار ہیں وہ خرافات اور قصہ کہانیوں پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی فکر ہر عجیب و غریب شئی کی طرف مائل ہوتی ہے. اور یہ کوئی عجیب نہیں اور نہ ہی ہم اس کو ذہنی کجی کہہ سکتے ہیں. کیونکہ ان کا زمانہ جدید ٹیکنالوجی کا زمانہ نہیں تھا اور نہ ہی ٹیلیویزن اور ٹیلیفون کا دور تھا اور نہ ہی مزائیل وغیرہ کا عہد تھا.

اور ہمارا ارادہ یہ بھی نہیں ہے کہ ان تمام چیزوں کو رسالتمآب(ص) سے ملادیں کیونکہ اس میں بہت بڑا فرق ہے یہ(رسول(ص)) وہ ہیں جنہیں خدا نے غیر تعلیم یافتہ لوگوں میں بھیجا یہ ان پر خدا کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور ان کا تذکیہ کرتے ہیں اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور چونکہ یہ خاتم الانبیاء و المرسلین ہیں اس لئے خدا نے ان کو اولین و آخرین کے علم سے نوازا ہے.

جیسا کہ ہم محترم قارئین کی توجہ اس طرف مبذول کراچکے ہیں کہ بخاری کی وہ تمام روایات جو رسول(ص) کی طرف منسوب ہیں وہ نبی(ص) کی حدیث نہیں ہیں، بخاری نے نبی(ص) کی کوئی حدیث نقل کی اور پھر اس کے بعد بعض صحابہ کی رای قلمبند کر دی جس سے قارئین کو یہ توہم ہوتا ہے کہ رائے بھی رسول(ص) کی حدیث ہے جب کہ


وہ رسول(ص) کی حدیث نہیں ہے.

مثال کے طور پر میں ایک حدیث پیش کرتا ہوں.

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الحیل کے باب " النکاح جلد/8 ص62" میں ابوہریرہ سے اور انہوں نے رسول(ص) سے روایت کی ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا کہ:

کنواری لڑکی کو بغیر اذن کے نکاح نہیں کرنا چاہیئے اور شادی شدہ کو مشورہ سے پہلے نکاح نہیں کرنا چائیے. کہا گیا: یا رسول(ص) اللہ اس اذن کی کیا کیفیت ہے؟ فرمایا : اس کی خاموشی، بعض افراد نے کہا ہے کہ اگر کنواری اجازت نہ دے جبکہ اس نے شادی نہ کی ہو اور کوئی شخص حیلہ بازی سے دو جھوٹے گواہی سے گواہی دلوائے کہ میں نے اس عورت سے شادی کی ہے تو قاضی اس نکاح کو صحیح قرار دے گا جب کہ اس کا شوہر یہ جانتا ہے کہ یہ گواہی باطل ہے پس اس سے ہمبستری کرنے میں اشکال نہیں ہے اور یہ نکاح صحیح ہے.

ذرا بخاری کی یہ حرکت ملاحظہ فرمائیے کہ حدیث رسول(ص) کے بعد لکھتے ہیں کہ بعض افراد نے کہا ہے. پس بعض مجہول افراد کی گواہی سے نکاح صحیح ہوگیا، قارئین کو یہ وہم ہوتا ہے کہ یہ رسول(ص) کا نظریہ ہے جب کہ یہ غلط ہے.

دوسری مثال: بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب بدء الخلق کے باب " مناقب المہاجرین و فضلہم" میں عبداللہ ابن عمر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: ہم رسول(ص) کے زمانہ میں ابوبکر کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے تھے اور ان کے بعد عمر کو ان کے عبد عثمان کو ان کے بعد تمام اصحاب نبی(ص)


برابر تھے کسی کو کسی کے اوپر فضیلت نہیں تھی.

یہ عبداللہ ابن عمر کی رائے ہے وہی اس کے ذمہ دار ہیں ورنہ یہ کیسے ممکن ہے جبکہ رسول(ص) کے بعد سب سے افضل علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں. اور ان کا کہیں ذکر نہیں ہے اور عبداللہ ابن عمر ان کو عام لوگوں میں شمار کرتے ہیں؟

اسی لئے آپ عبداللہ ابن عمر کو امیرالمومنین(ع) کی بیعت سے انکار کرتے پائیں گے جب کہ علی (ع) ان کے مولا ہیں کیونکہ علی(ع) جس کے مولا نہیں ہیں وہ مومن نہیں ہے.(1)

اور نبی(ص) نے آپ(ع) کے بارے میں فرمایا ہے: علی(ع) حق کے ساتھ ہیں اور حق علی(ع) کے ساتھ.(2) جب کہ عبداللہ ابن عمر دشمن خدا و رسول(ص) اور عدو مومنین حجاج ابن یوسف جیسے فاسق و فاجر کی بیعت کرتے ہیں، ہم اس قسم کی بحث نہیں چھیڑنا چاہتے لیکن قارئین کے سامنے بخاری اور ان جیسوں کے خیالات و نفسیات کو پیش کرنے کے لئے مجبور ہیں اسی بخاری نے باب مناقب المہاجرین میں یہ واقعہ نقل کیا ہے. گویا وہ سادے انداز میں قارئین کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں یہ رسول(ص) کی رائے ہے جب کہ وہ عبداللہ ابن عمر کی رائے ہے کہ جو علی علیہ السلام کے دشمن ہیں.

عنقریب ہم ذہین قارئین کے سامنے حضرت علی(ع) سے متعلق تمام چیزوں میں بخاری کا موقف پیش کریں گے اور یہ بھی بتائیں گے کہ وہ علی(ع) کے فضائل چھپانے میں کتنے کوشاں تھے اورعیب لگانے کے درپے تھے.

____________________

1.صواعق محرقہ ص107

2.صحیح ترمذی جلد/5 ص297، مستدرک الحاکم جلد/3 ص124


جیسا کہ بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب بدء الخلق کے باب " حدثنا الحمیدی" میں محمد ابن حنفیہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا میں نے اپنے والد سے کہا رسول(ص) کے بعد سب سے زیادہ افضل کون ہے؟ انہوں نے فرمایا: ابوبکر. میں نے عرض کی: ان کے بعد؟ فرمایا: عمر، ( محمد حنفیہ کہتے ہیں) میں ڈرا کہ کہیں عمر کے بعد عثمان کا نام پیش کریں اس لئے میں نے پہلے ہی کہدیا کہ ان کے بعد آپ(ع) نے فرمایا: میں تو مسلمانوں میں سے عام شخص ہوں.

جی ہاں! انہوں نے یہ حدیث گڑھ کر فرزند علی ابن ابی طالب(ع) محمد ابن حنفیہ کی طرف منسوب کر دی ہے یہ بالکل وہی حدیث ہے جو پہلے ابن عمر کی زبانی نقل ہوچکی ہے نتیجہ دونوں کا ایک ہی ہے اگر چہ محمد ابن حنفیہ کو ڈر تھا کہ کہیں ان کے پدر بزرگوار تیسرے نمبر پر عثمان کا نام نہ پیش کر دیں. لیکن ان کے والد نے ان کی بات کی یہ کہکر تردید کی کہ میں تو عام انسان ہوں. اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عثمان حضرت علی(ع) سے افضل ہیں. کیونکہ اہلسنت میں کوئی شخص بھی یہ نہیں کہتا ہے کہ عثمان مسلمانوں میں سے ایک شخص تھا بلکہ وہ کہتے ہیں کہ سب سے افضل ابوبکر پھر عمر اور ان کے بعد عثمان تھے پھر ہم اصحاب نبی(ص) کو مساوی سمجھتے ہیں. کسی کو ایک دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے. کیونکہ دوسرے لوگ مساوی ہیں.

کیا آپ کو بخاری کی روایت کردہ ان احادیث پر تعجب نہیں ہوتا، ان کی تمام احادیث کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے حضرت علی(ع) کو ہر فضیلت سے عاری ثابت کرنا کیا اس سے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ بخاری ہر اس چیز کو لکھتے ہیں جس سے بنی امیہ، بنی عباس اور ان حکام کے منشاء کے موافق ہوتی ہے جن کی پوری کوشش اہل بیت(ع) کی ہتک میں صرف ہوئی ہے جو شخص حقیقت


سے آشنا ہونا چاہتا ہے اس کے لئے یہ ٹھوس دلیلیں ہیں.

بخاری و مسلم ابوبکر و عمر کی فضیلت بیان کرتے ہیں

بخاری نے اپنی صحیح کتاب بدئ الخلق کے باب "حدثنا الیمان"(1) میں اور مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب فضائل الصحابہ کے باب " فضائل ابی بکر الصدیق" میں ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: رسول(ص) نے نماز صبح ادا کی پھر لوگوں کے پاس آئے اور فرمایا:

جب کوئی گائے پر سوار ہو کر اسے ہنکاتا ہے تو وہ گائے کہتی ہے کہ ہم اس لئے پیدا نہیں کئے گئے ہیں بلکہ ہم تو کھیتی کے لئے خلق کئے گئے ہیں. لوگوں نے کہا: سبحان اللہ! گائے بھی بولتی ہے؟ آپ نے فرمایا: بیشک میں اور ابوبکر و عمر اس پر امین بنائے گئے ہیں جبکہ ابوبکر و عمر وہاں موجود نہ تھے.

اور جب کوئی شخص اپنی بھیڑ بکریوں کو چھوڑ دیتا ہے اور بھیڑیا کسی کی بکری اٹھا لے جاتا ہے اور پھر وہ شخص تلاش کر کے اسے بھیڑئے سے چھڑا لیتا ہے تو بھیڑیا اس سے کہتا ہے آج تو تم نے اسے مجھ سے بچالیا لیکن قیامت کے روز اسے کون بچائے گا اس دن میرے علاوہ کوئی اس کا نگہبان نہ ہوگا لوگوں نے کہا: سبحان اللہ! کہیں بھیڑیا بھی بات کرتا ہے؟

____________________

1.بخاری جلد/4 ص49


آپ(ص) نے فرمایا: بیشک مجھے اور ابوبکر و عمر کو اس پر امین بنایا گیا ہے. اور ابوبکر و عمر وہاں نہیں تھے.

یہ حدیث بھی دونوں خلفاء کے فضائل کے لئے گڑھی گئی ہے ورنہ رسول(ص) کے صحابہ آپ کے قول کی کیوں تکذیب کر رہے تھے. یہاں تک کہ آپ کو یہ کہنا پڑا کہ مجھے اور ابوبکر و عمر کو اس پر امین بنایا گیا ہے پھر راوی کے اس تاکید کلام کو ملاحظہ فرمائیے کہ وہاں ابوبکر و عمر موجود نہ تھے. یہ ایسے مضحکہ خیز فضائل ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے لیکن لوگ ڈوبنے والے کی طرح تنکے کا سہارا ڈھونڈتے ہیں اور جب حدیث گڑھنے والوں کو ان ( خلفاء) کے لئے کوئی خاص بات نہیں ملتی تو وہ اپنی طرف سے اس قسم کے فضائل گڑھ دیتے ہیں کہ جو خیالی اور ذہنی ایجاد ہوتے ہیں. ان کی بنیاد کسی علمی، منطقی اور تاریخی دلیل پر قائم نہیں ہوتی ہے. جیسا کہ بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب فضائل اصحاب النبی(ص) کے باب" قول النبی، لو کنت متخذا خلیلا " میں اور مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب فضائل صحابہ کے باب " من فضائل ابی بکر الصدیق" میں عمر ابن عاص سے روایت کی ہے کہ نبی(ص) نے اسے ذات سلاسل کے لشکر میں بھیجا پس میں آپ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ سب سے زیادہ محبوب آپ کو کون ہے؟ فرمایا: عائشہ ، میں نے کہا مردوں میں؟ فرمایا: ان کے باپ ، میں نے کہا ان کے بعد فرمایا: عمر ابن خطاب اس کے بعد تمام لوگ، مساوی ہیں.

گڑھنے والوں نے یہ حدیث اس وقت گڑھی جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ سنہ8ھ میں ( یعنی وفات نبی(ص) سے دوسال قبل) نبی(ص) نے غزوہ ذات سلاسل کے لئے عمرو ابن عاص کی قیادت میں ایک لشکر روانہ کیا کہ جس میں ابوبکر و عمر بھی شامل تھے. اس حدیث سے اس شخص کا منہ بند


کرنے کی کوشش کی ہے کہ جو یہ کہہ سکتا تھا کہ عمرو ابن عاص اس سے افضل تھا لہذا حدیث ڈھالنے والوں نے خود عمرو ابن عاص ہی کی زبان سے روایت گڑھی اور عائشہ کو اس طرح خاموش کیا کہ ایک طرف سے شک کو دور کیا اور دوسری طرف عائشہ کو مطلق افضلیت ملی.

یہی وجہ ہے کہ آپ امام نووی کو مسلم کی شرح میں یہ تحریر کرتے ہوئے ملاحظہ فرمائیں گے. یہ ابوبکر و عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہم کے عظیم فضائل کی تصریح ہے اور اس میں اہلسنت کے لئے واضح دلیل موجود ہے کہ صحابہ میں سب سے افضل ابوبکر ہیں ان کے بعد عمر ہیں.

اس روایت پر بھی دوسری ضعیف روایات کی طرح دجالوں نے اکتفا نہ کی بلکہ علی(ع) ابن ابی طالب کی زبان سے بھی ایک روایت گڑھ دی اور اپنے زعم ( ناقص) میں انہوں نے اس کو ایک طرف شیعوں پر حجت قرار دیا ہے کہ جو علی(ع) ک تمام صحابہ میں افضل سمجھتے ہیں اور دوسری طرف مسلمانوں کو یہ فریب دیا کہ علی(ع) کو ابوبکر و عمر سے کوئی شکایت نہیں تھی. بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب فضائل اصحاب النبی(ص) کے باب " مناقب عمر ابن خطاب " میں اور مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب الفضائل الصحابہ کے باب " فضائل عمر" میں علی(ع) اور ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ: عمر کوتخت پر لٹایا گیا اور لوگ ان کے تخت کے اردگرد جمع ہوگئے اور ان کے لئے دعا کی میں بھی ان میں موجود تھا لیکن میری طرف کوئی متوجہ نہیں تھا ایک شخص میرا کندھا پکڑے ہوئے تھا، وہ علی(ع) تھے انہوں نے کہا خدا عمر پر رحم کرے پھر فرمایا: تمہارے بعد مجھے کوئی شخص عزیز نہیں ہے کہ جو تمہاری طرح اپنے عمل کے ساتھ خدا سے ملاقات کرے، اور قسم خدا کی مجھے یقین ہے کہ خدا آپ کو آپ کے دوست(محمد(ص))


کے جوار میں جگہ عطا کرے گا، مجھے یاد ہے کہ میں نے نبی(ص) کو بارہا ارشاد فرماتے سنا کہ: میں اور ابوبکر و عمر ( فلاں جگہ) گئے میں اور ابوبکر و عمر ( فلاں جگہ) داخل ہوئے میں اور ابوبکر و عمر فلاں جگہ کے لئے نکلے.

جی ہاں! اس کا جعلی ہونا تو واضح ہے اس سے اس سیاست کی بھی بو آرہی ہے جس نے فاطمہ زہرا(ع) کو ( ہر معاملہ سے ) الگ کیا، انہیں باپ کے پہلو میں دفن نہ ہونے دیا اگرچہ وہی سب سے پہلے آپ(ص) سے ملحق ہونے والی تھیں. شاید راوی ، میں(محمد(ص)) اور ابوبکر و عمر گئے، میں اورابوبکر و عمر داخل ہوئے میں اور ابوبکر و عمر نکلے کے بعد اس جملہ کا اضافہ کرنا بھول گیا کہ میں اور ابوبکر و عمر ایک ساتھ فن ہوں گے.

اس قسم کی گڑھی ہوئی روایات سے کہ جن کو تاریخ اور واقعات جھٹلا رہے ہیں احتجاج کرنے والے نے پر ہیز کیا جب کہ اس سلسلہ میں مسلمانوں کی کتابیں بھری پڑی ہیں کہ علی(ع) و فاطمہ(ع) کی طول حیات میں ابوبکر و عمر نے ان پر ظلم کیا ہے.

پھر اگر آپ روایت میں غور فرمائیں گے تو معلوم ہوگا کہ راوی علی(ع) کو ایک اجنبی شخص کی صورت میں پیش کرتا ہے جو کہ ایک اجنبی کی میت پر غم دور کرنے کے لئے آیا ہے تو دیکھتا ہے کہ لوگ اسے چاروں طرف سے گھیر ے ہوئے ہیں اور دعائیں مانگ رہے ہیں پس وہ ابن عباس کا کندھا پکڑے ہوئے ہیں گویا آہستہ سے کچھ ان کے کان میں کہنے کے لئے پیچھے کھینچتے ہیں جبکہ مفروض یہ ہے کہ علی(ع) سب سے آگے تھے اور انہوں نے سب کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور دفن تک ساتھ ساتھ تھے.

ہرتاریخ دان جانتا ہے کہ بنی امیہ کے زمانہ میں معاویہ کے حکم سے لوگوں


کے درمیان حدیث گڑھنے کے سلسلہ میں مقابلہ ہوتا تھا، واضح رہے کہ معاویہ علی ابن ابی طالب(ع) کے فضائل کے مقابلہ میں ابوبکر و عمر کے فضائل کو بڑھانا چاہتا تھا،سو راوی کے ذہن کے لحاظ سے ضعیف، .مضحکہ خیز، متناقض حدیثیں وجود میں آگئیں، کیونکہ حدیث گڑھنے والوں میں تمیمی بھی تھے جو ابوبکر پر کسی کو فوقیت نہیں دیتے تھے، ان میں عدوی بھی تھے جو عمر پر کسی کو ترجیح نہیں دیتے تھے اور بنی امیہ تو عمر کی شخصیت کو رسول(ص) کی شخصیت سے زیادہ عظمت دیتے تھے اس سلسلہ میں وہ کسی کی پرواہ نہیں کرتے تھے، اکثر انہوں نے عمر کی مدح میں ایسی احادیث گڑھیں جن میں انہیں ابوبکر پر فضیلت دی ہے.

قارئین آپ کے سامنے کچھ مثالیں پیش کرتا ہوں.

مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب فضائل الصحابہ کے باب " فضائل عمر" میں اور بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الایمان کے باب،" تفاضل اهل الایمان فی الاعمال " میں ابوسعید خدری سے روایت کی ہے انہوں نے کہا کہ رسول(ص) نے فرمایا:

میں نے خوار میں دیکھا کہ لوگوں کو میرے سامنے پیش کیا جارہا ہے اور ایسے قمیص پہنے ہوئے ہیں کہ جو سینوں تک یا اس سے بھی کم ہیں، عمر بن خطاب کو میرے سامنے لایا گیا تو دیکھا کہ وہ ایسی قمیص پہنے ہوئے ہیں جسے وہ کھینچ رہے ہیں. لوگوں نے کہا یا رسول اللہ(ص) آپ نے اس کی کیا تاویل کی؟ آپ(ص) نے فرمایا: اس سے مراد دین ہے.


پس نبی(ص) نے جو خواب کی تاویل کی ہے " دین " تو اس لحاظ سے عمر ابن خطاب تمام لوگوں سے افضل ہیں، کیونکہ ان بیچاروں کے پستانوں تک بھی دین نہیں پہونچا ہے، یعنی ان کے قلوب سے دین آگے نہیں بڑھا ہے. جبکہ عمر سر سے لے کر پیر کے انگوٹھے تک دین سے مملو ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ کیونکہ وہ دین کو کھینچتے ہوئے چلتے ہیں. ابوبکر صدیق کی ان کے سامنے کیا حیثیت ہے جن کے ایمان کا پلہ پوری امت کے ایمان سے بھاری ہے.

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب العلم کے باب فضل العلم میں اور مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب فضائل الصحابہ کے باب فضائل عمر میں ابن عمر سے روایت کی ہے. انہوں نے کہا کہ میں نے رسول(ص) سے سنا ہے آپ(ص) نے فرمایا کہ :

میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے سامنے دودھ کا کاسہ لایا گیا ہے، پس میں نے اتنا پیا کہ میرے ناخن سے ایک چشمہ پھوٹ نکلا، باقی میں نے عمرابن خطاب کو دے دیا. لوگوں نے دریافت کیا: آپ(ص) نے اس کی کیا تاویل کی؟ فرمایا: علم،

میں کہتا ہوں کیا صاحبان علم اور جاہل برابر ہیں؟ اور جب ابن خطاب دین کے معاملہ میں ابوبکر اور پوری امت پر فوقیت لےگئے ہیں تو اس روایت کی روسے وہ علمی اعتبار سے سب سے آگے نکل گئے اور رسول(ص) کے بعد وہ اعلم الناس ہیں.

اب ایک فضیلت اور باقی رہ گئی جس کی طرف لوگ رغبت


کرتے ہیں اور اس سے آراستہ ہونا چاہتے ہیں اور یہ ان صفات حمیدہ میں سے ہے جس کو خداوند رسول(ص) اور تمام لوگ دوست رکھتے ہیں اور سب ہی اس تک پہونچنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ہے شجاعت ، روایت گڑھنے والوں کے لئے اس سلسلہ میں بھی کوئی حدیث گڑھنا ضروری تھی. لہذا انہوں نے ابوحفص کے بارے میں حدیث تراشی.

بخاری اپنی صحیح کی کتاب فضائل اصحاب النبی(ص) کے باب" قول النبی(ص) کو کنت متخذا خلیلا" میں اور مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب فضائل الصحابہ کے باب فضائل عمر میں ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی(ص) سےسنا ہے کہ آپ فرمارہے تھے:

میں نے خواب میں ایک کنواں دیکھا کہ جس پر ڈول پڑا تھا میں نے جتنا مجھ سے ہوسکا پانی کھینچا پھر ڈول ابن ابی قحافہ( ابوبکر) نے لیا، اس نے ایک یا دو ڈول کھینچا اس کے کھینچنے میں ضعف تھا خدا اس کی کمزوری کو معاف کرے پھر ڈول ابن خطاب لے لیا، میں نے اس سلسلہ میں کسی کو ان سے بہتر نہ پایا یہاں تک کہ لوگوں کو ایک جگہ جمع کر دیا.

جب دین مرکز ایمان و اسلام اور تقوی و تقرب خدا کو ابن خطاب نے سمیٹ لیا اور اسے اپنے پیچھے کھینچتے ہوئے چلتے ہیں جب کہ دوسرے لوگوں کے سینے تک ہی محدود رہا، ان کے اجسام کے دوسرے حصے ایمان سے خالی ہیں اور علم بھی عمر ابن خطاب ہی سے مخصوص ہے، جو بچ گیا اس میں سے انہوں نے دوسرے لوگوں کے لئے کچھ نہ چھوڑا اور رسول(ص) کا عطا کیا


ہوا سارا ہی پی گئے یہاں تک نہ اپنے دوست ابوبکر کی بھی پرواہ نہ کی ( اس میں کوئی شک نہیں ہے جو علم عمر کو عطا کیا ہوا تھا اسی کے ذریعہ وفات نبی(ص) کے بعد انہوں نے احکام خدا میں رد و بدل کی، لاریب ان کا اجتہاد اسی علم کا مرہون منت ہے) اور جب کہ قوت و شجاعت کو بھی عمر ابن خطاب سے مختص کیا گیا ہے اور ا بوبکر نے بھی ان سے یہ کہا تھا کہ تم مجھ سے زیادہ قوی ہو لیکن تم نے مجھ پر زبردستی کی، خدا بخشے ابوبکر کو کہ انہوں نے ضعف کے باوجود خلافت پر عمر سے پہلے ہاتھ مارا، بنی امیہ اور بنی عدی میں سےعمر کے یار و مددگاروں ے خوش حالی مال غنیمت ، فتوحات ایسے ابوبکر کے زمانہ میں نہ دیکھے جیسے ان کے زمانہ میں دیکھے.

جی ہاں! دینا کی زندگی میں یہ سب عمر کا رہین منت ہے لیکن آخرت میں لوگوں کو ان کے لئے جنت کی ضمانت لینی چاہئیے تھی وہ بھی ابوبکر سے بلند و بالا درجہ والی جنت کی لہذا لوگوں نے ایسا ہی کیا.

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب بدئ الخلق کے باب" ما جاء فی صفة الجنة انها مخلوقة" میں اور مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب فضائل الصحابہ کے باب فضائل عمر میں ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا ایک مرتبہ ہم رسول(ص) کی خدمت میں تھے کہ آپ(ص) نے فرمایا:

مجھے نیند کے عالم میں جنت دکھائی گئی وہاں ایک قصر میں عورت وضو کر رہی تھی، میں نے پوچھا یہ قصر کس کا ہے؟ جواب ملا، عمر ابن خطاب کا ، میں نے اس کی غیرت کو دیکھا تو منہ پھیر کر چلدیا( یہ بات سن کر) عمر رونے لگے، اور کہا: یا رسول اللہ(ص)! آپ پر رشک کیا ہے.


محترم قارئین ان ترتیب وار جھوٹی روایات کو آپ سمجھ گئے ہونگے ویسے میں ے عمر ابن خطاب کے فضائل کے سلسلہ کی ہر ایک روایت میں سے ایک مشترک عبارت نقل کر دی ہے اور وہ ہے رسول(ص) کا یہ قول کہ جب میں عالم خواب میں تھا ہر ایک روایت میں یہ خواب لفظ موجود ہے. ایک مرتبہ فرماتے ہیں جب مں سورہا تھا تو دیکھا کہ لوگوں کو میرے سامنے پیش کیا گیا ہے جب میں سو رہا تھا تو میرے پاس دودھ لایا گیا جب میں محو خواب تھا تو ایک کنواں دیکھا جب میں نیند کے عالم میں تھا تو جنت دکھائی گئی، شاید حدیث کے راوی کو بہت زیادہ خواب دکھائی دیتے تھے لہذا اس نے نبی(ص) کی زبانی (اپنی طرف سے) حدیثیں گڑھ لیں، اور کتنی جھوٹی حدیثیں جب آپ(ص) کی زندگی میں ہی آپ(ص) کی طرف منسوب کی جاتی تھیں تو آپ(ص) کی وفات کے بعد کیا عالم ہوا ہوگا. یقینا بدل گئی تھی، لوگ ایک دوسرے سے قتال کرتے تھے ٹکڑوں اور گروہوں میں تقسیم ہوگئے تھے ہر ایک گروہ جو اس کے پاس تھا اس سے خوش تھا. لیکن ایک چیز جو باقی رہی اور جسے مورخین اور عمر کے یار و انصار نے نقل کیا ہے وہ ہے ان کے اخلاق میں سختی و شدت اور تند مزاجی کہ جس کی وجہ سے عمر تمام لوگوں پر سختی کرتے تھے اور جس کا ایسا مزاج ہوتا ہے لوگ اس سے محبت نہیں کرتے چنانچہ ارشاد خداوند عالم ہے:

( وَ لَوْ كُنْتَ‏ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ) سورہ آل عمران، آیت/159

اگر آپ سخت مزاج ہوتے تو لوگ آپ کے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے.

لیکن عمر کے چاہنے والوں نے معیاروں کو بدل ڈالا، وہ نقص کو منقبت اور


رذیلت کو فضیلت قرار دینے لگے انہوں نے کم عقلی، بے وقوفی میں نبی(ص) کی عظمت گھٹانے والی روایات گڑھ دیں، اس نبی(ص) کے سلسلہ میں جس کے بارے میں خدا گواہی دے رہا ہے کہ رسول(ص) بد خلق اور سخت مزاج نہیں ہیں بلکہ وہ نرم مزاج ہیں اور ان کی نرمی لوگوں کے لئے رحمت خدا ہے، بیشک آپ خلق عظیم پر فائز ہیں، مومنوں پر مہربان و رحیم و رحمة للعالمین ہیں اس سلسلہ میں ہمیں انہی احمقوں سے سننا چاہئیے وہ کیا کہتے ہیں.

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب بدئ الخلق کے باب" صفة ابلیس و جنوده" میں اور مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب فضائل الصحابہ کے باب فضائل عمر میں سعد ابن وقاص سے روایت کی ہے انہوں نے کہا کہ عمر نے رسول(ص) کی خدمت میں باریابی کے لئے اجازت چاہی آپ(ص) کے پاس قریش کی کچھ عورتیں بلند آواز میں باتیں کر رہی تھیں لیکن جب انہوں نے عمر کی آواز سنی تو جلدی سے اپنا حجاب صحیح کر کے اٹھ کھڑی ہوئیں، رسول(ص) نے عمر کو اجازت مرحمت کی، عورتوں کی اس گھبراہٹ سے رسول(ص) مسکرانے لگے، عمر نے کہا: یا رسول اللہ(ص) خدا آپ کو ہمیشہ خوش رکھے کیا بات ہے؟ آپ(ص)نے فرمایا: مجھے ان عورتوں پر ہنسی آرہی ہے جو ابھی کچھ دیر قبل میرے پاس تھیں انہوں نے جیسے جیسے تمہاری آواز سنی ویسے ہی اپنا حجاب صحیح کیا، عمر نے کہا یا رسول اللہ(ص) انہیں مجھ سے زیادہ آپ سے ڈرنا چاہیئے اس کے بعد کہا: اے عورتو تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول(ص) نے نہیں ڈرتیں؟ انہوں نے کہا تم رسول(ص) سے زیادہ بد خلق اور سخت مزاج ہو. رسول(ص) نے فرمایا: قسم اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تمہارے پاس ہرگز شیطان نہیں آئے گا.

ان کے منہ سے نکلی ہوئی بات بہت بڑی ہوگئی ہے اگرچہ


وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ جھوٹ ہوتا ہے، روایت کی قباحت ملاحظہ فرمائیے عورتیں عمر سے خوف کھاتی ہیں لیکن رسول(ص) سے نہیں ڈرتیں اور آپ(ص) کی آواز پر آواز بلند کرتی ہیں، آپ(ص) کا احترام نہیں کرتی ہیں، آپ(ص) کے سامنے پردہ نہیں کرتیں. لیکن عمر کی آواز سنتے ہی خاموش ہو جاتی ہیں پردہ صحیح کرتی ہیں، قسم خدا کی ان احمقوں کی باتوں پر مجھے تعجب ہے، انہوں نے صراحت کے ساتھ رسول(ص) کو بد خلق اور سخت مزاج بنا دیا ہے کیونکہ عمر رسول(ص) سے افظ ( زیادہ بد خلق) اغلظ ( زیادہ سخت مزاج) ہیں یہ دونوں ( افظ و اغلظ) اس تفضیل کے صیغے ہیں پس اگرچہ دونوں رسول(ص) کے لئے فضیلت ہیں تو عمر رسول(ص) سے افضل ہیں اور یہ رذیلت ہیں تو مسلمان اور ان کے راس و رئیس بخاری و مسلم نے ایسی حدیثوں کو کیونکر قبول کیا ہے؟

پھر انہوں نے اسی پر اکتفا نہ کہ بلکہ یہاں تک کہدیا کہ رسول(ص) کے سامنے شیطان کھیلتا ہے اور ان سے ذرا خوف نہیں کھاتا ہے بیشک شیطان ہی عورتیں کو ابھارتا ہے، یہاں تک کہ وہ نبی کی آواز پر آواز بلند کرتی ہیں اپنا حجاب اتار پھینکتی ہیں لیکن رسول(ص) کے گھر میں عمر کے داخل ہوتے ہی شیطان بھاگ کھڑا ہوتا ہے.

اے غیور مسلمان! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ان کے نزدیک رسول(ص) کی کیا قدر وقیمت ہے، اور شعوری یا لا شعوری طور پر رسول(ص) سے عمر کو افضل قرار دیتے ہیں. اس بات کو آج بھی اس وقت ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ جب وہ رسول(ص) کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے آپ(ص) کی خطائوں کو شمار کرا رہے ہوں اور بشر کہہ کے انہیں بری کر رہے ہوں کہ جن خطائوں کی اکثر عمر اصلاح کیا کرتے تھے اور متعدد بار عمر کی رائے


کے مطابق قرآن بھی نازل ہوا ہے. اہلسنت اس پر بدر کے قیدیوں اور تابیر نخل وغیرہ سے استدلال کرتے ہیں.

لیکن جب آپ ان کے سامنے یہ کہیں گے کہ مولفہ القلوف کا حق معطل کر کے یا متعہ نساء و متعہ حج کو حرام کر کے اور عطایا میں ایک دوسرے پر فضیلت دے کر عمر نے خطا کی ہے تو آپ دیکھیں گے کہ ان کی ناک چڑھ گئی اور آنکھیں سرخ ہوگئی ہیں اور پھر آپ کے دین سے خارج ہونے کا فورا حکم لگائیں گے اور کہیں گے کہ تم کون ہو کہ جو سیدنا عمر فاروق، جو حق و باطل میں فرق کرتے ہیں" پر تنقید کر رہے ہو، آپ کے لئے ان کی بات کو تسلیم کرنے کے علاوہ چارہ نہیں رہے گا اور آپ دوبارہ ان سے گفتگو کرنے کی کوشش نہیں کریں گے ورنہ اذیت سے دوچار ہونا پڑے گا.

عمر کی عزت بچانے کے لئے بخاری حدیث میں تدلیس کرتے ہیں

جی ہاں! جب محقق بخاری کی حدیثوں کی تحقیق کرے گا تو ان میں سے اکثر کو معمہ پائے گا، وہ تصور کرے گا کہ شاید یہ حدیث ناقص ہے کبھی بخاری متعدد ابواب میں انہیں اسانید کے ساتھ ایک حدیث کو مختلف الفاظ میں نقل کرتے ہیں. اور یہ تمام باتیں عمر کی شدید محبت کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں اور شاید بخاری کی طرف اہلسنت کی رغبت کا باعث بھی یہی ہے. اسی لئے وہ بخاری کو تمام کتابوں پر فوقیت دیتے ہیں کتاب خدا کے بعد


ان کے نزدیک بخاری صحیح ترین کتاب ہے اور دوسری وجہ بخاری کی محبوبیت کی یہ ہے کہ بخاری نے حضرت علی(ع) کے فضائل کو بہت کم بیان کیا ہے ایک طرف بخاری کا دل چسپ مشغلہ حدیث کی کاٹ چھانٹ ہے مگر جب اس حدیث سےعمر کی شخصیت پر حرف آتا ہو جیسا کہ فضائل علی(ع) سے متعلق احادیث میں کیا ہے ہم عنقریب آپ کے سامنے ان کی کچھ مثالیں پیش کریں گے.

عمر کی حقیقت کا انکشاف کرنے والی حدیثوں میں تدلیس

1- مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب الحیض کے باب تیمم میں تحریر کیا ہے کہ:

ایک شخص عمر کے پاس آیا اور کہا: میں مجنب ہوگیا تھا. اور پانی نہ مل سکا، عمر نے کہا: نماز نہ پڑھو، عمار نے کہا: اے امیرالمومنین کیا آپ کو وہ وقت یاد نہیں ہے جب میں اور آپ ایک سریہ میں مجنب ہوگئے تھے اور پانی نہیں مل سکا تھا آپ نے تو نماز چھوڑ دی تھی، لیکن میں نے خاک میں لیٹ کر نماز ادا کی تھی اور نبی(ص) نے( میرے بارے میں) فرمایا تھا کہ تمہارے لئے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارنا اور پھر پھونک کر ان سے چہرہ اور ہاتھوں کا مسح کرنا کافی ہے، عمر نے کہا: اے عمار خدا سے ڈرو! عمار نے کہا اگر آپ کی یہی مرضی ہے تو میں اسے بیان نہیں کروں گا. اس روایت کو ابو دائود نے اپنی سنن میں اور احمد ابن حنبل نے مسند میں اور نسائی نے اپنی سنن میں اور بیہقی و ابن ماجہ وغیرہ نے کلی طور پر نقل کیا ہے.


واضح رہے کہ بخاری نے نقل حدیث کی امانت میں خیانت کی ہے جیسا کہ عمر کی عزت بچانے کے سلسلہ میں حدیث میں تدلیس کرنا ان کی عادت ہے کیونکہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ لوگوں کو فقہ اسلامی سے خلیفہ کی جہالت کا علم ہو، آپ کے سامنے وہ روایت پیش کی جاتی ہے جس میں بخاری نے تصرف کیا ہے.

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب التیمم کے باب" التیمم هل نیفخ فیها" میں روایت کی ہے کہ: ایک شخص عمر ابن خطاب کے پاس آیا اور کہا: میں مجنب ہوگیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا ہے، عمار یاسر نے عمر ابن خطاب سے کہا: کیا آپ کو وہ واقعہ یاد نہیں ہے، ہمارے اور آپ کے ساتھ بھی ایک سفر میں ایسا ہی ہوا تھا.

ملاحظہ فرمایا آپ نے کہ بخاری نے عمر کے قول " تم نماز نہ پڑھو" کو اڑا دیا کیونکہ اس میں ان کی گرفت تھی اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بخاری نے اس کی تخلیص اس لئے کی ہے تاکہ لوگ عمر کے مسلک سے آگاہ نہ ہونے پائیں جو کہ نبی(ص) کی حیات میں بھی شک میں مبتلا رہتے تھے اور قرآن و سنت کی نصوص کے مقابلہ میں اجتہاد کیا کرتے تھے، سو وہ اپنے اسی مسلک پر باقی رہے، یہاں تک کہ مسلمانوں کے امیر بن گئے( پھر کیا تھا) اپنے مسلک کو مسلمانوں کے درمیان پھیلانا شروع کر دیا. ابن حجر کہتے ہیں" یہ عمر کا مشہور مذہب ہے" اس پر دلیل یہ ہے کہ وہ اس مسلک پر مصر تھے اسی بنا پر عمار نے ان سے یہ کہا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو یہ واقعہ کسی سے بیان نہ کروں.

2- حاکم نے مستدرک جلد/2 ص514 پر انس سے ایک


روایت نقل کی ہے جسے ذہبی نے اپنی تلخیص میں صحیح قرار دیا ہے. انس ابن مالک کہتے ہیں کہ عمر نے منبر سے یہ آیت پڑھی:

( فَأَنْبَتْنا فِيها حَبًّا وَ عِنَباً وَ قَضْباً وَ زَيْتُوناً وَ نَخْلًا وَ حَدائِقَ غُلْباً وَ فاكِهَةً وَ أَبًّا )

ہم ان سب کو سمجھ گئے لیکن معلوم نہیں اب کیا ہے پھر کہا:

تم اس کا اتباع کرو جس کی ہدایت کتاب (خدا) نے کی ہے اور جس کو تم نہیں جانتے اسے اس کے پروردگار پر چھوڑ دو!

اس روایت کو سورہ عبس کی تفسیر کے سلسلہ میں اکثر مفسرین نے نقل کیا ہے. مثلا سیوطی نے در منثور میں اور زمخشری نے کشاف میں، ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اور رازی نے اپنی تفسیر خازن میں نقل کیا ہے.

لیکن بخاری نے اپنی عادت کے مطابق لوگوں کو اس بات سے جاہل رکھنے کے لئے کہ خلیفہ اب کے معنی نہیں جانتے تھے حدیث کو اس طرح کتربیونت کے ساتھ نقل کیا ہے:

انس ابن مالک کہتے ہیں کہ ہم عمر کے پاس( موجودو) تھے، انہوں نے کہا: ہمیں تکلیف سے ڈرایا گیا ہے.(1) جی ہاں بخاری ہر اس حدیث میں کاٹ چھانٹ کرتے ہیں جس سے عمر کی تنقیص کو بو آتی ہے. ظاہر ہے کہ قاری بریدہ حدیث سے اشیا کی حقیقت نہیں سمجھ سکتے. بخاری تو

____________________

1.صحیح بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة باب " ما یکره من کثرة السؤال و التکلف ما لا یغنیه و قول الله تعالی ( لا تَسْئَلُوا عَنْ أَشْياءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ‏ تَسُؤْكُمْ )


اس بات کی پردہ پوشی کرتے ہیں کہ عمر اَب کے معنی نہیں جانتے تھے لہذا کہتے ہیں کہ ہمیں تکلف سے ڈرایا گیا ہے.

3- ابن ماجہ نے سنن کی جلد/2 ص227 اور حاکم نے مستدرک کی جلد/2 ص59 اور ابو دائود نے اپنی سنن کی جلد/2 ص402 اور بیہقی نے اپنی سنن کی جلد/6 ص264 اور ابن حجر نے فتح الباری میں ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا:

ایک پاگل عورت جو زنا کی مرتکب ہوئی تو عمر کے پاس لائی گئی عمر نے اس سلسلہ میں لوگوں سے مشورہ کیا اور اس کو سنگسار کرنے کا حکم دے دیا، جب حضرت علی علیہ السلام نے اس عورت کو ( اس حالت میں) دیکھآ تو پوچھا اس کا کیا قصور ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ فلاں خاندان کی پاگل عورت زنا کی مرتکب ہوئی ہے اور عمر نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا ہے، آپ نے فرمایا: اسے واپس لے جائو جب لوگ واپس لے گئے تو حضرت علی(ع) نے عمر سے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ مجنون سے عقل آنے تک اور سونے والے سے بیدار ہونے تک اور بچے سے بالغ ہونے تک قلم تکلیف اٹھا لیا گیا ہے.

یہ بات سن کر عمر نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور کہا اگر علی(ع) نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا.(1)

____________________

1.تذکرة الخواص، ابن جوزی ص75


لیکن بخاری نے اس روایت میں بھی عمر کی گرفت محسوس کی اور تراش خراش سے کام لیا، تو لوگوں کو یہ بات کیسے معلوم ہو کہ عمر ان حدود سے ناواقف تھے جو کتاب خدا میں مرقوم ہیں اورجنہیں رسول(ص) نے بیان فرمایا ہے، اور بخاری بھی اس روایت کو کیسے ذکر سکتے ہیں جب کہ اس میں علی(ع) ابن ابی طالب کی فضیلت ہے، علی(ع) انہیں ہر اس چیز کی تعلیم دینے کی کوشش کرتے تھے جو وہ نہیں جانتے تھے اور عمر نے خود اس بات کا اس طرح اعتراف کیا ہے کہ اگر علی(ع) نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا، اب ہمیں بخاری کو دیکھنا چاہیئے کہ اس نے اس روایت میں کس طرح تحریف و تدلیس کی ہے.

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب" المحاربین من اهل الکفر و الرده... کے باب" لا یرجم المجنون" میں ( بخاری کی سند کا تذکرہ کئے بغیر) کہتے ہیں کہ:

علی(ع) نے عمر سے فرمایا : کیا تم نہیں جانتے کہ مجنونہ سے افاقہ ہونے تک اور بچہ سے با تمیز ہونے تک اور سونے والے سے بیدار ہونے تک کے لئے قلم تکلیف اٹھا لیا گیا ہے.

جی ہاں! احادیث و روایات میں بخاری کی کاٹ چھانٹ کی یہ زندہ مثال ہے. وہ ہر اس حدیث میں کتربیونت سے کام لیتے ہیں جس سے عمر کی رسوائی ہوتی ہے.

اسی طرح اس حدیث میں قطع و برید سے کام لیتے ہیں جس میں حضرت علی(ع) کی فضیلت یا منقبت ہوتی ہے ان کے اندر ایسی


حدیث کامل طور پر نقل کرنے کی طاقت ہی نہیں ہے.

4- مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب الحدود کے باب" حد شارب الخمر" میں انس ابن مالک سے روایت یک ہے کہ : نبی(ص) کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے شراب پی لی تھی، پس آپ(ص) نے دو مرتبہ چالیس کوڑے لگوائے، انس کہتے ہیں کہ انہوں نے لوگوں سے مشورہ کیا تو عبدالرحمن ابن عوف نے کہا کہ: اسی80 کوڑوں والی حدود میں کچھ کمی کی جائے اس کو عمر نے منظور کر لیا.

بخاری اپنی عادت کے مطابق اس بات کا اظہار نہیں کرنا چاہتے ہیں کہ عمر حدود خدا سے ناواقف تھے اور انہیں اس حد کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کرنے کا کیا حق پہونچتا ہے جس پر رسول(ص) عمل کرچکے ہوں اور ان کے بعد ابوبکر نے عمل کیا ہو.

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الحدود کے باب" ما جائ فی ضرب شارب الخمر" میں انس ابن مالک سے نقل کیا ہے کہ نبی(ص) شراب پینے والے کو بھال چڑھی ہوئی چھڑی سے پٹواتے اور ابوبکر نے چالیس کوڑا لگواتے تھے.

5- جن محدثین و مورخین نے مرض و وفات نبی(ص) کو قلم بند کیا ہے اور جنہوں نے یہ تحریر کیا ہے کہ نبی(ص) نے ان سے کس طرح قلم و دوات طلب کیا تاکہ وہ ان کے بعد کبھی گمراہ نہ ہوں، اور اس دن نام " رزیہ الخمیس" پڑ گیا اور عمر ابن خطاب نے اس میں کس طرح روڑا اٹکایا اور کہا کہ رسول(ص) (معاذ اللہ) ہذیان بک رہے ہیں.


بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الجہاد کے باب" هل یستشفع الی اهل المذمة و معاملتهم " میں اور مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب الوصیت کے باب" ترک الوصیة لمن لیس له شئی یوصی به" میں ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: ہائے روز جمعرات، وہ روز جمعرات کیا ہے پھر اتنا روئے کہ آنسوئوں سے زمین تر ہوگئی، اس کے بعد فرمایا: جمعرات کے دن رسول(ص) کے درد میں شدت ہوئی تو آپ(ص) نے فرمایا: مجھے کاغذ دو تاکہ میں تمہارے لئے ایک نوشتہ لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہوگے، پس لوگ ( اس سلسلہ میں) جھگڑنے لگے، جبکہ نبی(ص) کے سامنے جھگڑنا مناسب نہیں تھا. اور کہا ہذیان بک رہے ہیں. آپ(ص) نے فرمایا: مجھے چھوڑ دو میں اپنی جگہ صحیح ہوں، وہ چیز صحیح نہیں ہے جس کی طرف تم مجھے دعوت دے رہے ہو آپ(ص)نے وفات کے وقت تین وصیت فرمائیں. جزیرة العرب سے مشرکین کو نکالنا جس طرح میں وقود کے ساتھ برتائو کرتا ہوں اسی طرح نیک برتائو کرنا، تیسری وصیت کو میں بھول گیا ہوں.

جی ہاں یہ جمعرات کے دن کی وہ مصیبت ہے جس میں عمر نے سیاسی کھیل کھیلا اور رسول(ص) کے آڑے آکر نوشتہ نہ لکھنے دیا، نبی(ص) کی شان میں ایسا فحش جملہ استعمال کیا جو سراسر قرآن کے مخالف ہے، وہ جملہ یہ تھا کہ نبی(ص) ہذیان بک رہے ہیں، یہاں بخاری ومسلم نے وہ صحیح عبارت نقل کی ہے جو عمر کے اقوال ہیں اور ان کے کلمات ہیں اس لئے کوئی رد و بدل نہیں ہے کیونکہ اس میں عمر کا نام نہیں تھا اور اس قول شنیع کی نسبت نا معلوم شخص کی طرف دی ہے.

لیکن جہاں بھی روایت میں اس حیثیت سے عمر کا نام آتا ہے


کہ انہوں نے یہ جملے استعمال کئے ہیں تو بخاری و مسلم کے لئے اس روایت کو ایسے ہی چھوڑ دینا بہت شاق گذرتا ہے کیونکہ اس میں خلیفہ کی فضیحت ہے جو ان کی حقیقت کو آشکار کرتی ہے. اور یہ چیز اس بات سے پردہ ہٹاتی ہے کہ انہوں نے رسول(ص) کے سامنے کتنی جسارتیں کی ہیں جو شخص آپ کی طول حیات میں بیشتر مواقع پر آپ کے سامنے آیا ہے اس کے بارے میں بخاری و مسلم وغیرہ اس بات کو جانتے تھے کہ مسلمانوں کے جذبات کو برانگیختہ کرنے کے لئے یہی ایک جملہ کافی ہے، اس سے خلیفہ کے متعدد اہلسنت ان کے مخالف ہو جائیں گے، اس لئے بخاری و مسلم وغیرہ نےتدلیس پر تکیہ کیا، اس قسم کے واقعات میں ان کی یہ کوشش معروف ہے، انہوں نے کلمہ ہذیان کو درد کی شدت سے بدل دیا ہے. اور اس نا زیبا عبارت کو چاٹ گئے ہیں. اب ہم آپ کے سامنے خود اس مصیبت کے بارے میں بخاری و مسلم کی روایات پیش کرتے ہیں:

ابن عباس کہتے ہیں کہ : جس وقت رسول(ص) پر احتضار کی کیفیت طاری ہوئی تھی اس وقت گھر میں بہت سے لوگ جمع تھے ان میں عمر ابن خطاب بھی تھے، نبی(ص) نے فرمایا: لائو تمہارے واسطے ایک نوشتہ لکھ دوں کہ جس سے تم کبھی گمراہ نہ ہوگے، عمر نے کہا: نبی(ص) پر درد کی شدت ہے اور تمہارے پاس کتاب خدا ہے، ہمارے لئے کتاب خدا کافی ہے، اس سے لوگوں میں اختلاف پھیل گیا. بعض کہتے تھے، نبی(ص) کو قلم و دوات دے دو تاکہ تمہارے لئے نوشتہ لکھ دیں کہ جس سے تم گمراہ نہ ہو اور بعض عمر کے


قول کو دہراتے تھے. جب نبی(ص) کے پاس شور و ہنگامہ زیادہ ہوگیا تو آپ(ص) نے فرمایا: میرے پاس سے اٹھ جائو ( عبداللہ ابن مسعود کہتے ہیں کہ) ابن عباس کہہ رہے تھے کہ بیشک رسول(ص) کو نوشتہ لکھنے سے روک دینا اور شور و غل مچانا، سب سے بڑی مصیبت ہے.(1)

چونکہ مسلم نے اپنے استاد بخاری سے روایات لی ہیں اس لئے ہم بخاری کو اپنا مخاطب قرار دیتے ہیں، اگر چہ آپ(بخاری) نے عبارت میں کاٹ چھانٹ کر ڈالی ہے اور حقائق کی پردہ پوشی کی حتی المقدور کوشش کی ہے لیکن آپ کے سید و سردار عمر کے سلسلہ میں آپ پر حجت قائم کرنے کے وہی کافی ہے جو آپ نے نقل کیا ہے. کیونکہ لفظ ہجر کے معنی ہذیان کے ہیں اور " قد قلب علیہ الوجع" بھی کبھی یہی معنی دیتا ہے. کیونکہ صاحب نظر اس بات کو جانتا ہے، یہاں تک کہ آج بھی لوگ کہتے ہیں کہ وہ معذور ہے کیونکہ اس پر حمیت طاری ہوگئی ہے اور اول قول بکنے لگا ہے.

خصوصا ہم اس پر عمر کے کلام " تمہارے پاس کتاب خدا ہے وہی کافی ہے" کا اضافہ کرتے ہیں ، عمر کے اس جملہ کے معنی یہ ہیں کہ رسول(ص) کا کام تمام ہوگیا اور ان کا وجود کالعدم ہے.

میں ہر با ضمیر عالم سے ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں کہ اگر وہ فقط اس واقعہ پر غور کرے اور اس کے عواقب و تہہ میں نہ جائے تو بھی وہ

____________________

1.صحیح بخاری کتاب بالمرض قول " المریض قوموا عنی جلد/7 ص9 مسلم کتاب الوصیة باب تردد الوصیہ جلد/5 ص76


خلیفہ سے بد ظن ہو جائے گی کیونکہ اسی خلیفہ نے امت کو ہدایت سے محروم کیا اور ضلالت میں ڈھکیل دیا.

ہم حق بات کہنے سے اس وقت تک نہیں ڈریں گے جب تک اس سے رسول(ص) اور ان کے بعد قرآن و اسلامی مفاہیم کا دفاع ہوتا رہے گا. خداوتد عالم کاارشاد ہے:

( فَلا تَخْشَوُا النَّاسَ‏ وَ اخْشَوْنِ وَ لا تَشْتَرُوا بِآياتِي ثَمَناً قَلِيلًا وَ مَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولئِكَ هُمُ الْكافِرُونَ) سورہ مائدہ،آیت/44

لوگوں سے نہ ڈرو! مجھ ( خدا) سے ڈرو! معمولی پونجی کے عوض میری نشانیوں کو نہ بیچو اور خدا کے نازل کردہ دستور کے مطابق حکم نہیں کرتے ہیں وہی لوگ کافر ہیں.

نہیں معلوم بعض علماء اس علم و ارتقاء کے زمانہ میں بھی حقائق پر پردہ ڈالنے کی کیوں کوشش کرتے ہیں اور اس کے لئے خواہ مخواہ کی تاویلیں کیوں تراشتے ہیں، نہ ان ( تاویلوں) میں کوئی دم ہوتا ہے اور نہ ہی وہ مطمئن کرتی ہیں.

آپ کے سامنے ایک عالم محمد فواد عبدالباقی کی اختراع پیش کرتا ہوں انہوں نے" الؤلؤ والمرجان فیما اتفق علیه الشیخان" کی شرح میں جہاں رزیہ یوم الخمیس کا تذکرہ کیا ہے وہاں رسول(ص) کے دوات و قلم طلب کرنے والے واقعہ کی(1) کی شرح کے ذیل میں تحریر کیا ہے کہ:

____________________

1.اللؤلؤ والمرجان فیما اتفق علیہ الشیخان جلد/2 ص166


رسول(ص) نے قلم و دوات طلب کیا تھا رسول(ص) نے جو کتاب طلب کی تھی اس سے آپ(ص) کی مراد وہ چیز تھی جس پر لکھا جاتا ہے مثلا کاغذ اور چھال تھی اور کتاب سے آپ کی مراد ظاہرا ابوبکر کی خلافت پر نص کرنا تھا. لیکن جب لوگ جھگڑنے لگے اور آپ کے مرض میں بھی شدت ہوگئی تو آپ(ص) نے اس بات پر اعتماد کرتے ہوئے کہ ابوبکر کو تو میں نماز میں قائم مقام بنا چکا ہوں اب اس کی تجدید کی کوئی ضرورت نہیں ہے ( پھر لفظ ہجر یعنی ہذیان کی شرح کرتے ہیں) کہتے ہیں : ہجر (ہذیان) کے بارے میں ابن بطال کا خیال ہے کہ ہجر ( ہذیان) کے معنی اختلاط کے ہیں اور ابن التین کا نظریہ ہے کہ اس کے معنی ہذی کے ہیں لیکن یہ آپ کی شان کے خلاف ہے، ایک احتمال یہ بھی ہے کہ رسول(ص) تمہیں چھوڑے جارہے ہیں یہاں ہجر وصل کی ضد ہے کیونکہ ان پر الہی واردات وارد ہوچکی تھیں. اسی لئے آپ(ص) نے رفیق اعلی سے فرمایا ہے.ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہ جملہ استفہامیہ تھا ہمزہ حذف ہوگیا، یعنی کیا مرض کی وجہ سے ان کا کلام بدل گیا اور مخلوط ہوگیا ہے، اس سلسلہ میں یہ بہترین قول ہے، اس کو خبر نہیں قرار دیا جاسکتا ہے ورنہ اس کے معنی فحش یا ہذیان ہوں گے جب کہ اس جملہ کے قائل عمر ہیں اور ان کے بارے میں یہ خیال بھی نہیں کیا جاسکتا ہے.

جناب عالم جلیل ہم آپ کی اس بات کو رد کرتے ہیں ظن ( گمان)


حق کے سلسلہ میں ذرہ برابر فائدہ نہیں پہونچاتا ہے. ہمارے لئے آپ کا یہی اعتراف کافی ہے کہ فحش کے قائل ہیں، اور آپ کی قیاس آرائی کہ رسول(ص) ابوبکر کی خلافت کے بارے میں لکھنا چاہتے تھے اور اس سلسلہ میں عمر کو اعتراض تھا؟ جب کہ عمر ہی نے ابوبکر کی خلافت مستحکم کی ہے. انہوں نے ہی لوگوں سے قہر و غضب کے ساتھ بیعت کرائی، یہاں تک کہ فاطمہ(ع) کے گھر کو جلانے کی دھمکی دی، اے عالم جلیل کیا آپ کے علاوہ بھی کوئی اس کا دعویدار ہے؟

قدیم و جدید علماء کے نزدیک یہ بات مشہور ہے کہ حضرت علی(ع) رسول(ص) کی خلافت کے لائق تھے اگرچہ انہوں نے اس بارے میں نص کا اعتراف نہیں ہے. آپ کے لئے بخاری کا یہی قول کافی ہے کہ: لوگوں نے عائشہ کے سامنے کہا کہ علی(ع) ( رسول(ص) کے ) وصی ہیں، عائشہ نے کہا ا ن سے کب وصیت کی تھی جبکہ رسول(ص) میرے سینہ پر سر رکھے ہوئے تھے، انہوں نے ہاتھ دھونے کا برتن مانگا لیکن میری گود میں ان کا سر تھا. تھوڑی دیر بعد مجھے محسوس ہوا کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے تو کس وقت علی(ع) سے وصیت کی؟

بخاری نےاس حدیث کو نقل کیا ہے کیونکہ اس میں عائشہ نے وصیت کا انکار کیا ہے اور یہ چیز ہی بخاری کے لئے باعث سکون ہے لیکن ہمارا نظریہ تو یہ ہے کہ جن لوگوں نے عائشہ کے سامنے یہ کہا تھا کہ رسول(ص) نے علی(ع) کو وصیت کی ہے، وہ سچے تھے کیونکہ عائشہ نے بھی ان کی تکذیب و تردید نہیں کی اور نہ ہی وصیت کی نفی کی ہاں انہوں نے انکار کی صورت میں یہ پوچھا کہ انہوں نے علی(ع) کو کب وصیت کی؟ اس سلسلہ میں عائشہ کے لئے ہمارا جواب یہ ہے کہ رسول(ص) نے انہیں بزرگ صحابہ کے سامنے اور تمہاری عدم موجودگی میں وصیت کی تھی. اور اس میں بھی شک نہیں ہے کہ ان صحابہ نے عائشہ کو


یہ بتایا تھا کہ آپ(ص) نے علی(ع) کو کب وصیت کی تھی. لیکن مسلط حکام نے انہیں ایسے واقعات نقل کرنے سے منع کر رکھا تھا جیسا کہ تیسری وصیت کے لئے ممانعت تھی جس کو انہوں نے بھلا دیا، سیاست حقیقت کو چھپانے میں تھی خود عمر نے بھی اس کی تصریح کی ہے، انہوں نے رسول(ص) کو نوشتہ لکھنے سے منع کیا کیونکہ عمر جانتے تھے کہ نوشتہ علی(ع) کی خلافت سے مختص ہے... ابن ابی الحدید نے عمر ابن خطاب اور عبداللہ ابن عباس کے درمیان میں ہونے والی اس گفتگو کو درج کیا ہے. عمر ابن عباس سے سوال کرتے ہیں کہ کیا اب بھی علی(ع) کے دل میں خلافت کی تمنا ہے؟ ابن عباس نے کہا ہاں! عمر نے کہا: رسول(ص) نے مرض الموت میں ان (علی(ع)) کے نام کی تصریح کرنا چاہی تھی لیکن میں نے اسلام پر ترس کھا کر انہیں اس سے منع کر دیا.(1)

مولانا صاحب اب حقیقت سے کیوں فرار کر رہے ہیں اظہار حق سے پہلو تہی کیسی، تاریکی کا زمانہ بنی امیہ اور بنی عباس کے ساتھ گیا... آپ اس تاریکی کو پردہ ڈال کر اور بڑھا رہے ہیں، آپ دوسروں کو حقیقت کے ادراک اور اس تک رسائی سے منع کر رہے ہیں، جو کچھ آپ نے فرمایا ہے اگر اس کی بنیاد حسن نیت پر ہے تو آپ کے لئے خدا سے میری دعا ہے کہ وہ تمہاری ہدایت کرے اور آپ کی بصیرت کو کھول دے.

6- بخاری نے اکثر نبی(ص) کی ان احادیث میں تبدیلی و تدلیس کی ہے جن میں ابوبکر و عمر کی توہین و تنقیص محسوس کی ہے، لیجئے بخاری کو تاریخ کا ایک

____________________

1.شرح نہج البلاغہ لابن ابی الحدید جلد/12 ص21 پر ابن ابی الحدید نے تحریر کیا ہے کہ اس واقعہ کو صاحب تاریخ بغداد نے لکھا ہے.


مشہور واقعہ جس میں رسول(ص) نے ایک حدیث بیان کی تھی پسند نہیں آیا اور اسے پوری طرح نقل نہیں کیا کیونکہ اس سے علی(ع) کی ابوبکر پر فضیلت ثابت ہو رہی تھی.

اہلسنت کے علماء نے اپنی صحاح و مسانید میں مثلا ترمذی نے اپنی صحیح میں حاکم نے مستدرک میں، احمد ابن حنبل نے مسند میں، امام نسائی نے خصائص میں، طبری نے تفسیر میں، جلال الدین سیوطی نے اپنی در المنثور میں، ابن اثیر نے اپنی تاریخ میں اور زمخشری نے کشاف میں روایت کی ہے کہ:

رسول(ص) نے ابوبکر کو ( مکہ) بھیجا اور وہاں ان کلمات ( خدا و رسول(ص) مشرکین سے بری ہیں) ک پڑھنے کا حکم دیا، ان کے پیچھے پھر علی(ع) کو روانہ کیا، اور انہیں ان کلمات کو پڑھنے کا حکم دیا، پس علی(ع) نے ایام تشریق میں کھڑے ہو کر ان کلمات کو پڑھا کہ: مسلمانو! جن مشرکین سے تم نے عہد و پیمان کیا ہے اب ان سے خدا و رسول(ص) کی طرف سے مکمل بیزاری کا اعلان ہے، پس چار مہینے تک کہیں کبھی سیر کرو، یاد رکھو! کہ خدا سے بچ کر نہیں جاسکتے ہو اور خدا کافروں کو ذلیل کرنے والا ہے، اس سال کے بعد مشرکین کو حج نہیں کرنے دیا جائے گا اور نہ ہی عریانی کی حالت میں کسی کو طواف کی اجازت دی جائے گی.

ابوبکر لوٹ آئے اور عرض کی یا رسول اللہ(ص) کیا میرے بارے میں کوئی چیز نازل ہوئی ہے؟ فرمایا: نہیں لیکن میرے پاس جبرئیل آئے تھے اور انہوں نے یہ فرمایا تھا کہ اس پیغام کو تم یا وہی شخص پہونچا سکتا ہے جو تم سے ہے.


بخاری نے اپنی عادت کے مطابق اس واقعہ کو بھی اسی انداز سے نقل کیا ہے چنانچہ اپنی صحیح کی کتاب تفسیر القرآن کے باب " قولہ فسیحو فی الارض اربعة اشہر" میں فرماتے ہیں کہ: مجھے حمید بن عبدالرحمن نے خبر دی ہے کہ ابوہریرہ نے کہا کہ اسی حج میں دیگر اعلان کرنے والوں کے ساتھ ابوبکر نے مجھے بھی بھیجا اور ہمیں نہ عریانی کی حالت میں کسی کو طواف کرنے دیا جائیگا حمید ابن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ پھر رسول(ص) نے علی ابن ابی طالب(ع) کو وہ کلمات دے کر روانہ کیا. اور برائت کا اعلان کرنے کا حکم دیا، ابو ہریرہ کا کہنا ہے کہ روز نحر علی(ع) نے منی میں برائت کا اعلان کیا اور یہ کہا کہ: اس سال کے بعد مشرکوں کو حج نہیں کرنے دیا جائے گا اور نہ ہی عریانی کی حالت میں خانہ کعبہ کا طواف کرنے دیا جائے گا.(1)

قارئین ملاحظہ فرمائیں کہ اغراض اورمذہبی دشمنی کے تحت بخاری نے احادیث و واقعات میں کس طرح قطع و برید کی ہے، کیا اس میں جس طرح بخاری نے بیان کیا ہے اور جس انداز میں اہلسنت کے دوسرے علماء و محدثین نے قلمبند کیا ہے دونوں میں کوئی مشابہت و مماثلت ہے؟

اور یہ ہی نہیں بلکہ بخاری ابوبکر کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ انہوں( ابوبکر) نے ابوہریرہ کو اعلان کرنے والوں کے ساتھ بھیجا کہ وہ منی میں یہ اعلان کریں کہ اس سال کے بعد کسی مشرک کو حج نہیں کرنے دیا جائیگا اور نہ ہی عریانی کی حالت میں طواف کی اجازت دی جائے گی اس کے بعد

____________________

1.صحیح بخاری جلد/5 ص202 کتاب تفسیر القرآن سورہ برائت


حمید ابن عبدالرحمن کے اس قول کی نوبت آتی ہے کہ رسول(ع) نے علی(ع) کو سورہ برائت دے کر روانہ کیا اور اعلان برائت کاحکم دیا.

پھر ابوہریرہ کا قول آتا ہے کہ روز نحر یہ اعلان کرنے والوں میں کہ "اس سال کے بعد مشرکین کو حج نہیں کرنے دیا جائے گا اور نہ ہی کسی کو عریان حالت میں طواف کی اجازت دی جائے گی" علی(ع) بھی شامل ہوگئے.

اس اسلوب سے بخاری علی ابن ابی طالب(ع) کی فصیلت کو گھٹاتے ہیں کہ انہیں رسول(ص) نے بعد میں سورہ برائت کی تبلیغ کے لئے روانہ کیا جب کہ رسول(ص) نے علی(ع) کو اس وقت روانہ کیا تھا جب جبرئیل خدا کا یہ حکم لیکر نازل ہوئے کہ اس مہم امر سے ابوبکر کو معزول کرو. اس پیغام کو تو تم یاد ہی شخص پہونچا سکتا ہے جو تم سے ہے. لیکن بخاری کے لئے یہ بات بہت ہی ناگوار تھی. ابوبکر وحی خدا کے ذریعہ معزول اور علی(ع) ابن ابی طالب کو ان پر مقدم کیا جائے ظاہر ہے اس بات پر بخاری کبھی خوش نہیں ہوسکتے تھے لہذا روایت میں تدلیس سے کام لیا.

اور محقق اس تال میل، علمی امانت میں خیانت سے کیسے خبردار نہ ہوگا خصوصا جب وہ یہ پڑھے گا کہ ابوہریرہ کہتے ہیں اسی حج میں ابوبکر نے مجھے ان اعلان کرنے والوں کے پاس بھیجا جنہیں روز قربانی بھیجا تھا. کیا ابوبکر عہد رسول(ص) ہی میں امور تقسیم کرنے لگے تھے؟ اور یہ خود محکوم بن کر نہیں گئے تھے؟ حاکم کیسے بن گئے کہ جو صحابہ کے درمیان سے لوگوں کو اس کام کے لئے منتخب کرتے ہیں؟

ذرا بخاری کی حرکت کو ملاحظہ فرمائیے کہ کیسے ہر چیزکی اصل کو بدلتے ہیں کہ حضرت علی(ع) جن کے سوا کوئی اسے انجام نہیں دے


سکتا تھا وہ تو نبی(ص) کی طرف سے اس مہم امر کی انجام دہی کے لئے مبعوث ( محکوم) ہیں وہ تو ابوہریرہ ایسے دوسرے اعلان کرنے والوں میں شامل ہوگئے لیکن ابوبکر کی معزولیت اور روتے ہوئے ان کی واپسی کو بیان ہی نہیں کیا اور نہ رسول(ص) کے اس قول کو نقل کیا ہے کہ " میرے پاس جبرئیل آئے تھے انہوں نے کہا ہے کہ اس پیغام کو آپ یا وہ شخص پہونچا سکتا ہے جو آپ سے ہے.

کیونکہ رسول(ص) نے اس حدیث میں اپنے ابن عم اور وصی علی ابن ابی طالب(ع) کو امت کا قائد بنایا ہے. اور پھر یہ بات تو واضح ہے کہ نبی(ص) کی حدیث جبرئیل کے پیغام کے مطابق ہوتی ہے کہ جس کے بعد تاویل کرنے والوں(بخاری جیسوں) کے لئے اس تاویل کی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے کہ محمد(ص) کی رائے بھی دوسرے لوگوں کی طرح ہے کیونکہ وہ بھی بشر ہیں ان سے بھی خطا سر زد ہوتی ہے ظاہر ہے کہ اس صورت میں بخاری کے لئے بہتر یہ تھا کہ اس حدیث کو نظر انداز کریں اور اسے دوسری حدیثوں کی طرح چاٹ جائیں.

پس آپ بخاری کو اپنی صحیح کی کتاب الصلح کے باب" کیف یکتب هذا ما صالح فلان بن فلان " میں علی(ع) ابن ابی طالب کے بارے میں رسول(ص) کے قول " علی(ع) مجھ سے ہیں اور میں علی(ع) سے ہوں" کو علی(ع) و جعفر اور زید کے قضیہ میں درج کرتے ہوئے ملاحظہ فرمائیں گے....

جبکہ ابن ماجہ ، ترمذی، نسائی اور امام احمد صاحب کنز العمال ( وغیرہ) سب نے رسول(ص) کے اس قول، "علی(ع) مجھ سے ہیں اور میں علی(ع) سے ہوں" کو حجة الوداع کے حوالہ سے نقل کیا ہے. لیکن بخاری نے مذکورہ باب میں درج کیا ہے.


7- اس پر ایک بات کا میں اور اضافہ کرتا ہوں اور وہ یہ کہ مسلم نے اپنی صحیح کی کتاب الایمان کے باب الدلیل میں تحریر کیا ہے کہ علی(ع) اور انصار کی محبت ایمان اور علامت دین ہے اور ان کا بغض نفاق کی نشانی ہے.

علی(ع) سے نقل کیا ہے کہ: آپ نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس نے دانہ کو شگافتہ کیا اور ہوا کو چلایا. مجھ سے نبی(ص) امی نے بتایا کہ مجھ سے وہی محبت رکھے گا جو مؤمن ہوگا اور وہی بغض رکھے گا جو منافق ہوگا.

ترمذی نے اپنی صحیح میں اور نسائی نے اپنی سنن میں احمد ابن حنبل نے مسند میں اور بیہقی نے اپنی سنن میں اور طبری نے، ذخائر العقبی میں، ابن حجر نے لسان المیزان میں اس حدیث کو نقل کیا ہے لیکن بخاری نے اس حدیث کو نقل نہیں کیا اگرچہ ان کے نزدیک یہ حدیث ثابت ہے جب کہ مسلم نے اسے نقل کیا ہے اور ان کے رواة سب ثقہ ہیں. بخاری نے اس حدیث کے بارے میں پہلے یہ سوچا کہ اس حدیث سے تو اکثر صحابہ منافق ثابت ہوں گے اگرچہ وہ رسول(ص) کے پاس بیٹھتے تھے لہذا اس کو نظر انداز کر دیا.

یہ اس کا قول ہے جو اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتا بلکہ وحی کے مطابق کلام کرتا ہے. خود یہ خود حدیث حضرت علی(ع) کے لئے بہت بڑی فضیلت ہے کیونکہ انہیں کے ذریعہ حق کو باطل سے اور ایمان سے جدا کیا جاتا ہے حضرت علی(ع) اس امت کے آیت اللہ العظمی اور حجت الکبری ہیں اور اس امت کے لئے وہ امتحان و آزمائش ہیں جس کے ذریعہ خدا امت محمد(ص) کو آزماتا اور پرکھتا ہے، باوجودیکہ نفاق کا تعلق باطنی اسرار سے ہے اسے وہی جانتا ہے


جو آنکھوں کی خیانت اور دلوں میں چھپے ہوئے رازوں سے واقف ہوتا ہے ظاہر ہے اسے علام الغیوب کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا ہے. پس خدا نے اس امت پر رحم و فضل کیا اور (آپ(ع) کو) اس امت کے لئے (مومن و منافق کی) علامت قرار دیا. تاکہ جو ہلاک ہو وہ حجت کے بعد اور جو نجات پائے وہ بھی حجت کے بعد.

میں اس سلسلہ میں بخاری کی ذہانت کی ایک مثال پیش کرتا ہوں، میرا ذاتی اعتقاد یہ ہے کہ شاید اسلاف ہی سے اہلسنت اسی خاصیت کے تحت بخاری کو دوسرے محدثین پر فضیلت دیتے ہیں بخاری کی ساری کوشش اس بات میں صرف ہوئی ہے کہ کوئی ایسی حدیث نقل نہ ہونے پائے جو ان کے مذہب کے مخالف ہو.

چنانچہ وہ اپنی صحیح کیکتاب الهبه و فضلها والتحریص علیها کے باب" هبة الرجل لامراته والمراة لزوجها" میں تحریر فرماتے ہیں کہ: عبداللہ ابن عبداللہ نے مجھے خبر دی کی عائشہ نے کہا:

جب نبی(ص) کی طبیعت ناساز ہوتی اور درد میں شدت ہوئی تو آپ(ص) نے ازواج سے اجازت طلب کی اور کہا کہ میری تیمار داری میرے ( عائشہ کے) گھر پر ہو انہوں نے اجازت دے دی تو آپ(ص) دو اشخاص کے سہارے وہاں سے نکلے، آپ(ص) کے قدم زمین پر خط دیتے جاتے تھے. ان دو اشخاص میں سے ایک عباس تھے ایک کوئی اورشخص تھا، پس عبداللہ نے کہا کہ میں نے ابن عباس سے عائشہ کی اس بات کا تذکرہ کیا انہوں نے بتایا : کیا


تم جانتے ہو یہ دوسرا شخص کون تھا جس کا نام عائشہ نے نہیں لیا؟ میں نے کہا: آپ ہی بتائے انہوں نے کہا وہ علی(ع) ابن ابی طالب تھے.

اس واقعہ کو ابن سعد نے صحیح سند سے اپنی طبقات میں تفصیل سے لکھا ہے.(1) اسی طرح سیرة حلبیہ اور اصحاب سنن نے بھی اس کو تحریر کیا ہے اس صاف معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ ایک منٹ بھی علی(ع) کی خیریت نہیں چاہتی تھیں.

لیکن بخاری نے اس واقعہ سےاس جملہ کو اڑا دیا جس سے عائشہ کاعلی(ع) سے بغض ظاہر ہوتا ہے اور یہ کہ وہ (عائشہ) علی(ع) کا نام لینا بھی گوارا نہیں کرتی تھیں پھر بھی جو کچھ انہوں نے لکھا ہے وہ بھی صاحبان عقل و خرد کے لئے کافی ہے، کسی بھی تاریخ کا مطالعہ کرنے والے محقق پر یہ بات مخفی نہیں رہے گی کہ ام المومنین عائشہ اپنے مولا علی(ع) ابن ابی طالب سے بغض رکھتی تھیں.(2) بغض کی انتہا یہ تھی کہ جب ان کو حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کی خبر ملی تو اس وقت سجدہ شکر کیا. بہر حال خدا ام المومنین پر رحم کرے اور ان کے شوہر کی عظمت کے تحت

____________________

1.طبقات، جلد/2 ص29

2.ابن حجر نے صواعق محرقہ کے ص107 پر تحریر کیا ہے کہ دو دیہاتی عمر کے پاس اپنا جھگڑا لے کر آئے عمر نے حضرت علی(ع) سے فیصلہ کرنے کی گذارش کی ، ان میں سے ایک نے کہا: یہ ہمارے درمیان فیصلہ کریں گے؟ پس عمر نے جھپٹ کر اس کا گریبان پکڑا اور کہا خدا تجھے غارت کرخ تجھے معلوم ہے یہ کون ہیں؟ یہ تمہارے اور تمام مومنوں کے مولا ہیں اور جس کے یہ مولا


انہیں بخش دے، ہم خدا کی اس رحمت کو محدود نہیں کرتے ہیں جو ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے. ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ اگر وہ جنگ و فتنے نہ ہوتے جو ہماری پراگندگی اور ہماری جمعیت کی تفریق اور ہماری ہوا اکھڑ جانے کا سبب بنی یہاں تک کہ آج ہم مستکبرین کا لقمہ اور ظالم استعمار کا نشانہ بن گئے ہیں.

"لا حول ولا قوة الا بالله العلی العظیم"

جن روایات سے اہلبیت(ع) کی تنقیص ہوتی ہے وہ بخاری کو بہت محبوب ہیں

بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ بخاری نے وہ راستہ اختیار کیا جس کا تعلق خلفاء کے مسلک سے تھا اور جسے حکومتوں نے مضبوط و مستحکم کیا تھا، یا اس مکتب نے بخاری اور ان جیسے افراد کو چنا اور انہیں اپنے بادشاہ کی بادشاہت کی پائداری اور ان کے مذاہب کی ترویج کے لئے خزانہ و ستون بنایا اور ان کے اجتہادات کو جیسے چاہا گھایا. کیونکہ یہ مشغلہ اموی و عباسی حکومت میں بہترین تجارت اور نفع بخش مال تھا. ان علماء کے لئے جو خلیفہ کی تائید کے حصول میں مقابلہ بازی کیا کرتے تھے جس طریقے سے بھی ہوسکے خواہ حدیث گڑھ کے یا تدلیس کر کے. یہی زمانہ کی سیاست تھی، ہر ایک ان کی نظروں میں معظم اور اس سے دولت حاصل کرنے کی کوشش میں رہتا تھا. انہوں نے اپنی آخرت

____________________

-نہیں ہیں وہ مومن نہیں ہے


کو دنیا کے عوض میں فروخت تو کر دیا لیکن ان کی ( اس) تجارت نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا اور وہ قیامت کے دن پشیمان اور نقصان اٹھانے والوں میں ہونگے.

عوام، عوام ہے، زمانہ، زمانہ ہے آج بھی آپ اسی انداز اور اسی سیاست کو ملاحظہ کرتے ہیں کتنے بڑے بڑے عالم اپنے گھروں میں مقید ہیں جنہیں لوگ جانتے نہیں ہیں اور کتنے جاہل خطیب، امام جماعت اور مسلمانوں کے شہروں کے حاکم بنے ہوئے ہیں، اس کا سبب حکومت کی قریب اور تائید ہے ورنہ آپ مجھے اپنے رب کی قسم کھا کے بتائیے کہ اہلبیت نبی(ص) کہ جن سے خدا نے رجس کو دور رکھا اور ایسا پاک رکھا جو حق ہے، سے بخاری کی عداوت و علیحدگی کی کیا تفسیر کی جاسکتی ہے؟ ائمہ ہدی سے بخاری کی دشمنی کی کیوں کر تاویل ہوسکتی ہے جب کہ بعض ائمہ خود بخاری کے زمانہ میں موجود تھے لیکن ان سے بخاری نے حدیث نہیں لی ہاں اگر کوئی حدیث لی تو وہ جو ان کی عظمت کو گھٹانے کے لئے گڑھ کر ان کی طرف منسوب کر دی گئی ہے اور ان کی عصمت کے منافی ہے جو قرآن و سنت سے ثابت ہے. اس کی بعض مثالیں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں.

پھر بخاری نے ان نواصب و خوارج سے حدیثیں لی ہیں جنہوں نے اہلبیت(ع) سے جنگ کی، انہیں قتل کیا، ( جیسا کہ) آپ دیکھتے ہیں کہ وہ معاویہ، عمرو ابن عاص، ابوہریرہ، مروان ابن حکم اور مقاتل ابن سلیمان کہ جسے دجال کہا جاتا ہے اور عمران ابن خطان ایسے دشمن علی(ع) و عدو اہلبیت(ع) سے روایت کی ہے. جو کہ خوارج کا شاعر اور خطیب ہے. جس نے علی(ع) کو قتل کرنے پر ابن ملجم کی مدح سرائی کی تھی.

جیسا کہ بخاری نے خوارج ومرجئہ و مجسمہ اور بعض ایسے نا معلوم


لوگوں سے روایت کی ہے کہ جن کا زمانہ میں وجود ہی نہیں ہے.

اس طرح انہوں نے اپنی صحیح میں بعض مشہور راویوں کی طرف بعض نا ہنجار قسم کے راویوں کے ذریعہ جھوٹ اور تدلیس کی نسبت دی ہے اس کی مثال وہ روایت ہے جس کو بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب النکاح کے باب" ما یحل من النساء و ما یحرم و قوله تعالی ( حرمت علیکم امهاتکم ) الخ میں تحریر کیا ہے.

دوسرے باب میں خداوند عالم کے اس قول( و احل لکم ما وراء ذالکم ) کے بارے میں ( تحریر) فرماتے ہیں کہ عکرمہ نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ:

اگر کوئی شخص اپنی زوجہ کی بہن سے زنا کرے تو اس پر اس کی بیوی حرام نہیں ہوگی.

اور یحیی کندی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے شعبی و ابو جعفر سے نقل کیا ہے کہ:

اگر کوئی شخص کسی لڑکے سے بد فعلی کرتے تو اس کی ماں سے نکاح حرام ہے.

بخاری کے شارح نے اس عبارت پر اس طرح حاشیہ لگایا ہے" بہتر یہ ہے کہ علماء ایسی باتوں کو کتابوں سے صاف کر کے اپنی عظمت بڑھائیں.

اسی طرح بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب تفسیر القرآن کے باب " نسائکم حرث لکم" میں نافع سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: ابن عمر قرآن کی تلاوت کرتے وقت کسی سے کلام نہیں کرتے تھے، ایک روز تلاوت کے وقت میں ان کے پاس پہونچ گیا وہ سورہ بقرة کی تلاوت کر رہے تھے جب


تلاوت کرچکے تو کہا: جانتے ہو یہ ( آیت) کس چیز کے بارے میں نازل ہوئی ہے میں نے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: یہ فلان فلان چیز کے بارے میں نازل ہوئی ہے، پھر وہ چلے گئے.

اور نافع نے ابن عمرسے روایت کی ہے" قالوا حرثکم انی شئتم" انہوں نے کہا:یا ایها فی.... ( یعنی فلان جانب سے ....) شارح نے اس پر حاشیہ لگاتے ہوئے کہا کہ:قوله فی بحذف المجرور وهو الظرف ای فی الیدین" ( ان کا یہ قول کہ فلان جانب سے تو یہاں مجرور کو حذف کیا ہے اور نہ ہے (بر) ایک قول یہ ہے کہ مولف نے کراہت کی بنا پر اسے حذف کیا ہے اور اسی طرح شارح نے بھی.(1)

ایک روز میں پیرس کی یونیورسٹی سربون میں اخلاقِ نبی(ص) کے سلسلہ میں گفتگو کر رہا تھا کہ جن کے اخلاق کی شہادت قرآن نے دی ہے اور رسالت پر مبعوث ہونے سے قبل بھی رسول(ص) کا اخلاق مشہور تھا اسی لئے آپ(ص) کو صادق و امین کہا جاتا تھا. جلسہ کو تقریبا ایک گھنٹہ گذر گیا تھا جس میں میں نے یہ وضاحت کی تھی کہ نبی(ص) جنگجو نہیں تھے اور نہ ہی اپنے مذہب کے استوار کرنے میں حقوق انسانی کو پامال کرتے تھے اور طاقت کے زور پر اپنا مذہب بھی نہیں منواتے تھے جیسا کہ بعض مستشرقین کا دعوی ہے.

اس مناقشہ کے درمیان کہ جس میں چنے ہوئے اساتذہ اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کے اسپیشلسٹ خصوصا مستشرقین شریک تھے گویا میں ایک طرح سے ان لوگوں پرچوٹ کر رہا تھا جو شہادت پیدا کرتے ہیں لیکن ان کے درمیان ایک سن رسیدہ عربی عیسائی بھی تھا ( میرے خیال میں وہ لبنانی تھا. اس نے زیرکی اور خیانت

____________________

1.صحیح بخاری جلد/6 ص127


دونوں کی آمیزش سے اوپر اعتراض کیا قریب تھا کہ میری ساری محنت اکارت ہو جائے.

اس ڈاکٹر نے فصیح عربی میں کہا تم نے جو بھی جلسہ میں کہا اس میں بہت زیادہ مبالغہ سے کام لیا ہے خصوصا عصمت نبی(ص) کے بارے میں کیونکہ اس سلسلہ میں خود مسلمان تمہارے موافق نہیں ہیں. خود محمد(ص) تمہاری موافقت نہیں کرتے ہیں انہوں نے متعدد بار کہا ہے کہ میں بشر ہوں جس سے خطا سرزد ہوسکتی ہے، نیز مسلمانوں نے ان کی متعدد خطائوں کو قلمبند کیا ہے. ہم ان کے نام شمار نہیں کراسکتے ہیں. مسلمانوں کی صحیح اور معتبر کتابیں اس کی گواہی دے رہی ہیں، اس کے بعد عیسائی نے کہا: جہاں تک جنگوں کا تعلق ہے اس سلسلہ میں حاضرین تاریخ کا مطالعہ فرمائیں بلکہ اس سلسلہ میں صرف کتابوں میں محمد(ص) کی جنگوں کا مطالعہ کافی ہے پھر ان کے بعد انہیں جنگوں کا سلسلہ خلفائے راشدین نے بھی جاری رکھا. یہاں تک کہ وہ فرانس کے مغرب میں واقع شہر PoiTiER تک پہونچ گئے. اور ہر جنگ میں وہ اپنے نئے مذہب کو تلوار کے زور سے منواتے تھے.

حاضرین اس کی باتوں کو قبول کر رہے تھے اور تالیاں بجا بجا کر اس کی تائید کر رہے تھے. ان کو مطمئن کرنے کی میں نے اپنے تئیں کافی کوشش کی یہ ڈاکٹر صاحب جو کچھ کہہ رہے ہیں غلط ہے اگرچہ مسلمانوں نے یہ اپنی کتابوں میں لکھا ہے اس سے ایک استہزائیہ قہقہہ لگا جس سے ہال گونج اٹھا.

ڈاکٹر نے پھر مداخلت کی اور کہا کہ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے وہ غیر معتبر کتابوں سے بیان کیا ہے یہ باتیں صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہیں.

میں نے کہا یہ کتابیں سنیوں کے نزدیک صحیح ہیں لیکن شیعوں کے نزدیک ان کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور میں شیعہ ہوں.


اس نے کہا شیعوں کی رائے ہمارے لئے مہم نہیں ہے. ان کو اکثر مسلمان کافر کہتے ہیں. سنی مسلمان ہیں اور ان کی تعداد شیعوں کے دس برابر ہے ان کے نزدیک شیعوں کی باتوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے. مزید کہا: جب تم مسلمانوں میں آپس میں تفاہم ہو جائے اور اپنے نبی(ص) کی عصمت کے سلسلہ میں تم اپنے نفسوں کو مطمئن کر لوگے اس وقت ممکن ہے کہ تم ہمیں مطمئن کرسکو ( یہ بات اس نے مسکرا کر اہانت کے انداز میں کہی)

پھر از سر نو میری طرف متوجہ ہوا اور کہا: لیکن جہاں تک ( ان کے) اخلاق حمیدہ کی بات ہے تو میں آپ سے گذارش کرتا ہوں کہ آپ حاضرین کو یہ سمجھا دیں کہ محمد(ص) نے چون54 سال کی عمر میں شش سالہ عائشہ سے کیسے شادی کی؟

ایک بار پھر قہقہوں سے ہال گونجنے لگا اور لوگ گردن اٹھا کر میرے جواب کا انتظار کرنے لگے انہیں یہ بات باور کرانے کے لئے میں نے اپنی سی کوشش کی کہ عرب میں شادی دو مرحلوں میں ہوتی ہے، پہلا مرحلہ چھ سال کی عمر میں نکاح کیا تھا. لیکن اس وقت دخول نہیں کیا تھا بلکہ نو سال کی عمر میں دخول کیا تھا. میں نے کہا یہی بخاری نے لکھا ہے اگر چہ یہ بات میرے خلاف تھی. مجھے ذاتی طور پر اس روایت کے صحیح ہونے میں شک ہے کیونکہ لوگ اس زمانہ میں مہذب زندگی نہیں گذارتے تھے اور نہ ہی ولادت، وفات کی تاریخ لکھی جاتی تھی اور اگر روایت کو صحیح بھی مان لیا جائے تو بھی نو سال کی عمر میں عائشہ بالغ ہوچکی تھیں. آج ہم روس اور رومانیہ کی کتنی ہی لڑکیوں کوٹیلیویژن پر جسمانی لحاظ سے کامل دیکھتے ہیں لیکن جب ان کی عمر بتائی جاتی ہے تو حیرت میں پڑ جاتے ہیں کسی بھی عمر گیارہ11 سال سے زیادہ نہیں ہوتی ہے.


اس میں شک نہیں ہے کہ نبی(ص) نے عائشہ سے بالغ ہونے اور مہینہ دیکھنے کے بعد دخول کیا ہے. کیونکہ اسلام اٹھارہ 18 سال کو بلوغ کی حد قرار نہیں دیتا جیسا کہ تمہارے فرانس میں مشہور ہے. بلکہ عورت کے بلوغ کی علامت اس کا حائص ہونا ہے اور مرد کے بلوغ کی علامت منی کا خارج ہونا ہے. اور یہ بات آج ہمارے سامنے کہ دس سال کی عمر میں بھی بہت سے لڑکوں کی منی خارج ہوتی ہے. اسی طرح لڑکیاں بھی دس سال سے پہلے ہی حائض ہو جاتی ہیں.

اس وقت ایک عورت کھڑی ہوئی اور اس نے میرے اوپر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ: اگر آپ کی بات کو تسلیم بھی کر لیا جائے اور کبھی ایسا ہوتا بھی ہے اور علمی لحاظ سے صحیح ہے لیکن کمسن لڑکی سے اس بوڑھے کی شادی کو کیسے تسلیم کر لیں جس کی عمر اپنی انتہا کو پہونچ چکی ہو؟

میں نے کہا: محمد (ص) اللہ کے نبی(ص) ہیں وہ جو کچھ کرتے ہیں وحی کے مطابق کرتے ہیں اور اس میں شک نہیں ہے کہ اللہ کے ہر فعل میں حکمت ہوتی ہے اگرچہ میں ذاتی طور پر اس حکمت سے ناواقف ہوں.

عیسائی ڈاکٹر نے کہا: لیکن مسلمانوں نے اسے سنت نبی(ص) بنا لیا ہے. کتنی ہی کمسن لڑکیوں کی شادی ان کے باپ نے اپنے ہم عمر سے کر دی ہے. اور افسوس کی بات ہے کہ آج تک یہ ریت چلی آرہی ہے میں نے اس موقعہ کو غنیمت جانا اور کہا: اسی لئے تو میں نے سنی مذہب کوچھوڑ دیا اور مذہب شیعہ کو اختیار کر لیا ہے کیونکہ مسلک شیعہ عورت کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی پسند سے شادی کرے، ولی و سرپرست اس پر تحمیل نہیں کرسکتا ہے.

اس نے کہا سنی، شیعہ کی بحث چھوڑئے ہمیں عائشہ


سے محمد(ص) کی شادی کو دیکھنا ہے. وہ حاضرین کی طرف متوجہ ہوا اور ظنزیہ انداز میں کہا محمد(ص) میں جن کی عمر چون54 سال ہوچکی ہے وہ اس کمسن لڑکی سے شادی کرتے ہیں جو ازدواجی زندگی کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی ہے. ہمیں بخاری بتاتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں گڑیا سے کھیلتی تھیں اس سے عائشہ کی طفولیت سمجھ میں آتی ہے یہی وہ اخلاق عالیہ ہے جس سے نبی(ص) ممتاز ہوتا ہے؟

میں نے از سرنو حاضرین کو پھر اس طرح مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ بخاری کی بات کو نبی(ص) پر حجت نہیں قرار دیا جاسکتا. لیکن اب کچھ کہنا سے سود تھا یہ لبنانی عیسائی ڈاکٹر جیسے چاہتا تھا ان (اہلسنت) کے افکار سے کھیلتا تھا. اور میرے لئے اس کے علاوہ چارہ کار نہ تھا کہ گفتگو کو ختم کر دیتا. کیونکہ وہ مجھ پر بخاری سے حجت قائم کر رہا تھا جبکہ میں بخاری کی کسی بات کو تسلیم نہیں کرتا ہوں.

میں وہاں سے ان مسلمانوں کی حالت پر افسوس کرتا ہوا نکلا کہ جنہوں نے دشمن اسلام و پیغمبر(ص) کو وہ ہتھیار فراہم کئے جنہیں وہ اب ہمارے خلاف استعمال کر رہےہیں ان ہتھیار دینے والوں میں سرفہرست بخاری ہے اس روز میں بہت ہی رنجیدہ گھر واپس آیا اور صحیح بخاری کے صفحات پلٹنا شروع کئے تو مجھے عائشہ کے فضائل میں سب کچھ مل گیا. اس وقت میں نے شکر خدا ادا کیا ورنہ میں رسول(ص) کی شخصیت کے بارے میں میں شک میں پڑا رہتا اگرچہ ان چیزوں نے پہلے مجھے شک میں مبتلا کیا تھا. العیاذ باللہ.

یہاں ان بعض روایات کا تذکرہ کر دینا ضروری ہے جو مباحثہ ومناقشہ کے درمیان ہوئی تھیں. تاکہ قارئین پر واضح ہو جائے کہ تنقید کرنے والے ہم پر بہتان نہیں باندھتے ہیں انہوں نے ہماری صحاح میں خامیاں پائیں اور انہیں ہمارے خلاف استعمال کیا ہے.


بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الخلق کے باب "تزویج النبی(ص) صلی الله علیه و آله وسلم عائشة و قدومه المدینة و بنائه بها " میں عائشہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:

جب نبی(ص) نے مجھ سے شادی کی تو اس وقت میری عمر چھ سال تھی، پھر ہم مدینہ آئے اور حرث ابن خزرج کے گھر اترے پس وہاں میرے بالوں میں گرد بھر گئی ایک روز میرے پاس میری ماں ام رومان آئیں تو اس وقت میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی وہ غضبناک ہوئیں میں ان کے پاس آئی لیکن میں نہیں جانتی تھی کہ وہ مجھ سے کیوں ناراض ہیں مجھ سے کیا چاہتی ہیں، پس انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور دروازہ پر لاکھڑا کیا، میری سانس پھول گئی تھی. جب تھوڑا سکون ملا تو انہوں نے میرا چہرہ اور سر دھویا اور پھر مجھے گھر میں داخل کیا، میں نے دیکھا کہ وہاں انصار کی عورتیں جمع ہیں انہوں نے مجھے دعائیں دیں میری ماں نے مجھے ان کے سپرد کر دیا. انہوں نے میری زلفین سنواریں پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ ( وآلہ) و سلم کے سپرد کر دیا. اس وقت میرا سن تو برس کا تھا.

اس قسم کی روایات کی حاشیہ آرائی کا کام میں قارئین کے سپرد کرتا ہوں.

جیسا کہ بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الادب کے باب." الانبساط الی الناس" میں عائشہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:


میں نبی(ص) کے گھر گڑیوں سے کھیلتی تھی اور میری سہیلیاں بھی میرے ساتھ کھیلتی تھیں جب رسول اللہ(ص) آتے تھے تو وہ سہیلیاں ہٹ جاتی تھیں تو آپ انہیں میرے پاس بھیجتے تھے وہ میرے ساتھ کھیلنے لگتی تھیں.

اگر آپ اس قسم کی روایات کا مطالعہ کریں گے تو کیا اس کے بعد بعض مستشرقین کی تنقید پر اعتراض کرسکیں گے؟

اپنے پروردگار کی قسم کھا کے مجھے بتائیے! جب آپ رسول(ص) کے بارے میں عائشہ کا یہ قول پڑھیں گے کہ میں نے تو آپ(ص) کے رب کو آپ کی خواہش کے متعلق جلد باز پایا.(1)

( سچ بتائیے) اس عورت کے متعلق آپ کے دل میں کتنا احترام باقی رہے گا. جو نبی(ص) کی پاکیزگی میں شک کرتی ہے. کیا اس سے آپ کے دل میں یہ بات نہیں آئے گی کہ ان کی بے وقوفی کی دلیل ہے ان کی عقل کامل نہیں تھی.

کیا اس کے بعد ان دشمنان اسلام پر ملامت کی جاسکے گی جو اکثر اس بات کو ہوا دیتے ہیں کہ محمد(ص) عورتوں کو بہت دوست رکھتے تھے اور شہوت پرست تھے پس جب وہ بخاری میں یہ دیکھتے ہیں کہ ان کا پروردگار ان کی خواہش (نفس) کے بارے میں سرعت سے کام لیتا ہے نیز بخاری میں یہ دیکھتے ہیں کہ محمد(ص) ایک گھنٹے میں گیارہ عورتوں سے جماع کرتے تھے اور انہیں تیس کی طاقت دی گئی تھی.

تو ان مسلمانوں پر ملامت کرنی چائیے کہ جنہوں نے اس

____________________

1.صحیح بخاری جلد/6 ص24 کتاب تفسیر القرآن قولہ تعالی.( تُرْجِي مَنْ تَشاءُ مِنْهُنَّ- وَ تُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشاءُ وَ مَنِ‏ ابْتَغَيْتَ‏ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلا جُناحَ عَلَيْكَ )


قسم کی خرافات کو لکھا ہے اور ان کے صحیح ہونے کا اعتراف کیا ہے بلکہ انہیں قرآن کے مثل جانا ہے کہ جس میں شک کی گنجائش نہیں ہے لیکن وہ ( اہلسنت) تمام چیزوں میں مجبور ہیں یہاں تک کہ وہ اپنے عقیدہ میں بھی آزاد نہیں ہے. کسی چیز میں ان کا اختیار نہیں ہے. یقینا یہ کتابیں ان پر اولین حکام نے تحمیل ( پھوپی) کی تھیں اب ہم ان روایات کو سپرد قلم کر رہے ہیں جنہیں بخاری نے اہلبیت کی منقصت کے لئے نقل کیا ہے.

چنانچہ اپنی صحیح کی کتاب المغازی کے باب" شهود الملائکة بدرا" (1) میں علی(ع) ابن حسین(ع) سے روایت کی ہے کہ حسین(ع) ابن علی(ع) نے خبر دی ہے کہ علی(ع) نے فرمایا:

بدر کے مال غنیمت میں سے مجھے ایک اونٹنی ملی تھی اور نبی(ص) نے بھی مجھے خمس میں سے کچھ دیا تھا پس جس روز فاطمہ(ع) بنت نبی(ص) سے میری نسبت ہوئی تو میں نے بنی قینقاع کے ایک اونٹوں کو سنوارنے والے کو تیار کیا کہ وہ میرے ساتھ آئے ذخیرہ میں چلے، میرا خیال تھا کہ اسے فروخت کر کے عروسی کا ولیمہ کر دوں گا. جب میں نے اپنی اونٹنی کا کجاوہ خبر حیاں رسیاں جمع کر لیں جب کہ میری اونٹنی انصار میں سے ایک شخص کے حجرہ کے سایہ میں بیٹھی تھی. میں نے دیکھا کہ اس کا کوہان کٹا ہوا ہے. اور پہلو چاک ہیں. جگر نکال لئے

____________________

1.بخاری، جلد/5 ص16


گئے ہیں یہ منظر دیکھ کر میں ہکا بکا رہ گیا، میں نے کہا یہ کام کس نے کیا ہے؟ لوگوج نے کہا: حمزہ ابن عبدالمطلب نے اور وہ اس گھر میں ہیں انصار میں سے کچھ ان کے ساتھی بھی موجود ہیں ان کے پاس شراب کی بوتل ہے. پس حمزہ نے تلوار اٹھا کر ان کے کوہان کاٹ ڈالے، اور پہلو چاک کر کے ان کے جگر نکال لئے، حضرت علی(ع) فرماتے ہیں:

میں نبی(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ(ص) کے پاس زید بن حارث بھی بیٹھے تھے. میری حالت سے نبی(ص) نے اس کا اندازہ لگایا. اور فرمایا: تمہارے ساتھ کیا سلوک ہوا؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ(ص) حمزہ نے میری اونٹیوں کے کوہان کاٹ لئے ہیں. ان کے پہلو چاک کر کے جگر نکال لئے ہیں اور وہ فلان گھر میں شرابیوں کے درمیان بیٹھے ہیں، نبی(ص) نے اپنی ردا طلب کی، دوش پر ڈالی اور روانہ ہوئے. میں نے اور زید نے بھی آپ(ص) کا اتباع کیا اس گھر پر پہونچے جس میں حمزہ تھے، داخل ہونے کی اجازت طلب کی، اجازت ملی تو نبی(ص) نے حمزہ کی حرکت پر انہیں لعنت ملامت کی، شراب کے نشہ سے حمزہ کی آنکھیں سرخ تھیں. حمزہ نے نبی(ص) کو دیکھا پھر نظر اٹھا کر آپ(ص) کے چہرہ کی طرف دیکھا اور کہا تم میرے والد کے غلام ہو. پس نبی(ص) سمجھ گئے کہ یہ چڑھائے ہوئے ہے لہذا خاموش ہوگئے اور واپس پلٹ گئے ہم بھی ان کے ساتھ نکل آئے.


قارئین اس جھوٹ سے لبریز روایت میں غور کریں جس میں سید الشہداء پر سب وشتم ہے. کیونکہ وہ ( سید الشہداء) اہلبیت(ع) کے لئے باعث افتخار ہیں. کتنی ہی مرتبہ اپنے اشعار میں حضرت علی(ع) نے جناب حمزہ پر فخر کیا ہے چنانچہ فرماتے ہیں : حمزہ شہیدوں کے سردار میرے چچا ہیں. اور بار ہا رسول(ص) نے ان پر فخر کیا ہے اور جب وہ قتل ہوئے تو رسول(ص) نے ان پر گریہ کیا. اور سید الشہداء کے لقب سے نوازا.

نبی(ص) کے عم حمزہ وہ ہیں جن کے ذریعہ خدا نے اسلام کو اس وقت عزت بخشی تھی جب کمزور مسلمان مخفی طور پر خدا کی عبادت کرتے تھے. ان کا اپنے بھتیجے کی نصرت میں قریش کے مقابلہ میں ڈٹ جانے اور قریش سور مائوں کے سامنے اسلام کا اعلان کرنے والا واقعہ مشہور ہے.

حمزہ وہ ہیں جنہوں نے ہجرت میں سبقت کی اور اپنے بھتیجے کے لئے ہجرت کے اسباب فراہم کئے.

حمزہ اپنے بھتیجے علی(ع)کے ساتھ بدر و احد کے سور مائوں میں تھے. خود بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب تفسیر القرآن کے باب قولہ"هذانِ‏ خَصْمانِ‏ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ "(1) میں حضرت علی(ع) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: قیامت کے دن رحمن کے سامنے خصومت کے لئے میں بحث کرونگا قیس کا قول ہے یہ آیت انہیں کے بارے میں نازل ہوئی ہے. بدر میں مبارزہ کرنے والے علی(ع)، حمزہ، عبیدہ اور شیبہ ابن ربیعہ. عتبہ ابن ربیعہ اور ولید ابن عتبہ تھے.

____________________

1.صحیح بخاری جلد/5 ص242


بخاری کو ایسی ہی روایات نقل کرنے میں سکون ملتا ہے جو اہلبیت(ع) کی باعث افتخار چیزوں میں رخنہ پیدا کرتی ہیں اور اس قسم کی حدیث گڑھنے والوں کا سلسلہ طویل ہے.

بخاری کہتے ہیں کہ ہم سے عبدان نے بیان کیا، ہمیں عبداللہ نے خبر دی، ہمیں یونس نے خبر دی اور ہم سے احمد ابن صالح نے بیان کیا ہم سے عنبہ نے بیان کیا،ہم سے یونس نے زہری کے حوالہ سے بتایا کہ ہمیں علی(ع) ابن حسین(ع) نے خبر دی ہے.(1) ان سات اشخاص سے بخاری نے روایت نقل کی ہے قبل اس کے کہ سند کا سلسلہ سید الساجدین(ع) تک پہونچے. کیا زین العابدین(ع) کے شایان شان یہ بات تھی کہ وہ اس قسم کی جھوٹی باتوں کو بیان کریں. کہ سید الشہداء شراب پیتے تھے. جب وہ اسلام لاچکے تھے اور ہجرت کرچکے تھے. یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب مسلمان تنگدستی میں مبتلا تھے. جیسا کہ روایت سے واضح ہے. کہ وہ اونٹینیاں علی(ع) کی شادی کے ولیمہ کے لئے تھیں جو کہ دو ہجری میں انجام پذیر ہوئی تھی. اور نبی(ص) نے علی(ع)کو بدر کے مال غنیمت میں سے ان کا حصہ عطا کیا تھا. اور کیا سید الشہداء حمزہ کے لئے یہ زیب دیتاہے کہ وہ زنا کار عورت سے گانا سنیں اور اس کے کہنے سے بے دھڑک اونٹینوں کو کاٹ ڈالیں.

کیا یہ بات سید الشہداء ( حمزہ) کے شایان شان ہے کہ بلا ذبیحہ کا گوشت کھائیں اور اس کے پہلو کو شگافتہ کر کے کلیجہ نکال لیں.

کیا یہ بات رسول(ص) کو زیب دیتی ہے کہ وہ بیہودہ اور شراب

____________________

1.صحیح بخاری جلد/1 ص16


پینے والوں کے مجمع میں پہونچیں اور حمزہ پر ناراض ہوں؟

کیا سید الشہداء کے لئے یہ مناسب تھا کہ وہ شراب سے اتنے مست ہو جائیں کہ آنکھوں کا رنگ سرخ ہو جائے. اور وہ رسول(ص) پر اس طرح سب و شتم کریں کہ تم میرے والد کے غلام ہو؟

کیا رسول(ص) کے لئے یہ سزاوار تھا کہ وہ پچھلے پائوں میں لوٹ جائیں اور بغیر سرزنش کے چلے جائیں جب کہ مشہور یہ ہے کہ آپ(ص) کا غضب خدا کے لئے ہوتا تھا.

مجھے یقین ہے کہ اگر یہ روایت حمزہ کے بجائے ابوبکر یا عمر یا عثمان یا معاویہ کے بارے میں نقل ہوئی ہوتی تو بخاری اسے قباحت کے پیش نظر نقل نہ کرتے اور اگر نقل کرتے تو کاٹ چھانٹ کر نقل کرتے اس کا کیا کیا جائے کہ بخاری ان افراد سے خوش نہیں ہیں جنہوں نے خلفاء کے مسلک کا انکار کر دیا تھا. یہاں تک کہ وہ کربلا میں سب شہید کردئیے گئے،سوائے علی ابن الحسین(ع) کے، کوئی ن بچا لیکن دشمنوں نے ان کی زبان سے جھوٹی بات گڑھ کے نقل کر دیا.

بخاری فقہ اہلبیت(ع) سے متعلق اور نہ ہی ان کے علوم سے مربوط نہ ہی ان کے زہد و خصلت کے بارے میں کوئی حدیث نقل کرتے کہ جن سے اہلبیت(ع) کی کتابیں بھری پڑی ہیں.

آئے بخاری سے دوسری روایت سنیں جس میں وہ اہلبیت(ع) پر طعن کرتے ہیں. جب بخاری سمیت روات نے علی(ع)ابن ابی طالب میں کوئی خامی نہیں دیکھی اور نہ ان کی طول حیات میں کبھی جھوٹ کا شائبہ پایا ہے اور نہ کسی گناہ و خطا کا سراغ ملا ہے اور اگر ایسی کوئی بات انہیں مل جاتی تو اس کے


پروپیگنڈے میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے اس لئے ان پر اتہام لگانے کے لئے یہ روایت گڑھی کہ وہ نماز کو حقیر سمجھتے تھے( معاذ اللہ)

بخاری اپنی صحیح کی کتاب الکسوف کے باب "تحریض النبی علی صلاة اللیل و طرق النبی فاطمة و علیا علیهما السلام لیلة الصلاة "(1)

حدثنا ابو الیمان قال: اخبرنا شعیب عن الزهری قال: اخبرنی علی بن حسین ان حسین بن علی اخبره ان علی بن ابی طالب اخبره ان رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

علی ابن ابیطالب(ع) نے فرمایا کہ رسول(ص) نے مجھے اور فاطمہ(ع) بنت نبی(ص) کو رات میں جگایا اور اور فرمایا: تم نماز نہیں پڑھوگے؟

میں نے کہا: یا رسول اللہ(ص) ہمارے نفس اللہ کے ہاتھ میں ہیں جب وہ چاہے گا کہ ہمیں برانگیختہ کرے تو ہم اٹھ کھڑے ہوں گے. جب ہم نے یہ بات کہی تو نبی(ص) واپس چلے گئے اور مجھے کچھ نہیں کہا : پھر میں نے انہیں فرماتے ہوئے سنا " حالانکہ آپ(ص) زانو پر ہاتھ مار کر فرمارہے تھے" کہ انسان بہت سی چیزوں میں جدال کرتا ہے.

بخاری خدا سے ڈرو! یہ علی(ع) وہ ہیں جن کے بارے میں مورخین ہمیں بتاتے ہیں کہ آپ نے جنگ صفین میں لیلة الحریر میں نماز شب ادا کی اور اس وقت فوجوں کے دونوں دستوں کے درمیان نیزے چمک رہے تھے

____________________

بخاری جلد/2 ص43


اور چاروں طرف سے تیروں کی بارش ہو رہی تھی. آپ نے مصلا بچھایا اور کوئی پروا نہ کی اور نہ ہی نماز توڑی.

علی(ع) ابن ابی طالب وہ ہیں جنہوں نے لوگوں کے لئے قضا و قدر کا مفہوم واضح کیا اور انسان کو اس کے افعال کا ذمہ دار قرار دیا ہے. لیکن بخاری تم اس روایت میں ان کو جبری ( جبر کا قائل) قرار دے رہے ہو کہ جس کے ذریعہ وہ رسول(ص) سے خواہ مخواہ بحث کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں اگر وہ چاہے گا تو ہم اٹھ جائیں گے. یعنی اگر خدا چاہے گا کہ ہم نماز پڑھیں تو ضرور پڑھیں گے.

علی ابن ابی طالب(ع وہ ہیں کہ جن کی محبت ایمان اور جن کا بغض نفاق ہے تم ان کو جھگڑا لو قرار دے رہے ہو یہ تو سفید جھوٹ ہے اس سلسلہ میں کوئی بھی تمہاری موافقت نہیں کرے گا یہاں تک کہ امام کا قاتل ابن ملجم اور آپ کاسخت ترین دشمن جس نے منبروں سے آپ پر لعنت کا سلسلہ جاری کیا وہ معاویہ بھی اس بات کی تائید کرے گا یہ تو بہت ہی گری ہوئی بات ہے لیکن تم نے اس کے ذریعہ بہت کچھ کمایا ہے. تم نے اپنخ زمانہ کے حکام کو " جو اہلبیت(ع) کے دشمن تھے" راضی کیا اور انہوں نے اس پست دنیا میں تمہاری عظمت کو بڑھایا لیکن امیرالمومنین(ع) کے سلسلہ میں جو تمہارا موقف ہے اس سے تم نے اپنے خدا کو ناراض کیا، امیر المومنین علیہ السلام وہ ہیں جو سفید پیشانی والوں کے سردار اور قسیم جنت و نار ہیں. یہی قیامت کے روز اعراف پر کھڑے ہوں گے اور ہر ایک کو اس کی پیشانی سے پہچان لیں گے.(1)

____________________

1.حسکانی حنفی نے شواہد التنزیل کی جلد/1 ص198 پر خداوند عالم کے اس قول( وَ عَلَى‏ الْأَعْرافِ‏ رِجالٌ‏ يَعْرِفُونَ كُلًّا بِسِيماهُمْ‏ ) کی تفسیر میں، اور حاکم نے علی علیہ السلام سے روایتکی ہے کہ قیامت کے دن ہم جنت و جہنم کے درمیان کھڑے ہوں گے پس جس نے ہماری مدد کی ہوگی ہم اسے پیشانی سے پہچان لیں گے.


اور جہنم سے کہیں گے یہ تمہارا ہے اور یہ ہمارا.(1)

اے بخاری مجھے معلوم کہ قیامت کے دن تمہاری کتاب اسی شکل میں ہوگی کہ جس شکل میں اب ہے کہ جس کے جلد خوبصورت انداز میں بندھی ہوئی ہے....

ہاں بخاری کے لئے یہ بہت بڑی بات تھی کہ وہ اپنے سید و سردار عمر ابن خطاب کو پانی نہ ملنے کے سبب تاک الصلاة لکھ دیں اور عمر اپنے ہی مسلک پر اپنی خلافت تک بر قرار رہے. چنانچہ قرآن و سنت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ میں تو نماز نہیں پڑھوں گا.

پس اس نے حدیث گڑھنے والوں کوتلاش کیا اور انہوں نے اس کی فرمائش پر یہ حدیث گڑھ دی کہ علی(ع) پر نماز شب پڑھنا دشوار تھا. اگر ہم اس حدیث کی صحت کو قبول بھی کرلیں تو بھی کوئی حرج نہیں ہے اور نہ ہی علی(ع) کے لئے کوئی گناہ ہے کیونکہ یہ نماز نافلہ ہے جس کے پڑھنخ میں ثواب ہے اور نہ پڑھنے میں عذاب نہیں ہے. اس کو عمر کی واجب نماز

____________________

1.ابن حجر شافعی نے صواعق محرقہ کے ص101 پر نبی(ص) سے روایت کی ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا: اے علی(ع) تم قسیم جنت و نار ہو اور تم قیامت کے دن جہنم سے کہو گے کہ یہ میرا ہے اور وہ تمارا ہے ابن حجر اضافہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ابوبکر نے علی(ع) سے کہا کہ میں نے رسول(ص) سے سنا ہے کہ وہ فرما رہے تھے کہ صراط سے گذرنا کسی کے لئے اس وقت تک ممکن نہیں جب تک علی(ع) نہ لکھ دیں.


چھوڑ دینے پر قیاس نہیں کیا جاسکتاہے یہ روایت صحیح نہیں ہے. اگرچہ بخاری ہی نے نقل کیوں نہ کی ہو.

بخاری اہلسنت کے نزدیک صحیح ہے اور ا ہلسنت مسلک خلفائ کے تائید کرنے والے ہیں اور اس مسلک پر بنی امیہ اور بنی عباس کی سیاست کی بنیاد استوار ہے محقق اس حقیقت کو جانتا ہے. آج تو یہ کسی پر مخفی نہیں ہے اور اہلسنت ان حکام کی سیاست کا اتباع کرتے ہوئے جنہوں نے انہیں اہلبیت(ع) اور ان کے شیعوں کو دشمنی پر ابھارا اور لاشعوری طور پر اہلبیت(ع) اور ان کے شیعوں کے دشمن بن گئے ہیں کیونکہ وہ ان کے دشمنوں سے دوستی اور ان کے دوستوں کو دشمن رکھتے ہیں. اسی لئے انہوں نے بخاری کی عظمت کو بڑھایا. ان کے پاس اہلبیت(ع) کےآثار میں سے کچھ نہیں ملے گا اور نہ ہی بارہ12 اماموں کے اقوال ملیں گے. یہاں تک کہ باب مدینة العلم کہ جن کو نبی(ص) سے وہی نسبت تھی جو ہارون کو موسی سے تھی. اور نبی(ص) ان کے مربی تھے. جیسی کوئی چیز نہیں ملے گی.

یہاں اہلسنت سے ایک سوال ہوتا ہے وہ یہ کہ وہ کون سی چیز ہے جس کو بخاری نے تمام محدثین کے علاوہ ثابت کیا ہے تاکہ تمہارے نزدیک فضیلت پائیں؟؟

میرے خیال میں اس کا واحد جواب یہ ہے کہ بخاری وہ ہے کہ:

1-جس نے صحابہ ابوبکر، عمر، عثمان معاویہ کی مخالفت میں منقول احادیث میں تدلیس کی اور یہ وہ راستہ ہے جس کی معاویہ اور دیگر حکام نے دعوت دی تھی.

2-اور ان احادیث کو صحیح ثابت کیا ہےجن سے رسول(ص) کی


عصمت مخدوش ہوتی ہے اور جو رسول(ص) کو ایک عام انسان بنا کر پیش کرتی ہیں کہ جس سے خطا سرزد ہوتی ہے اور یہ چیز وہ ہے جو طول تاریخ میں حکام کی پسندیدہ رہی ہے.

3-خلفائے ثلاثہ کی فضیلت میں گڑھی ہوئی جھوٹی حدیثوں کو نقل کیا اور علی(ع) ابن ابی طالب پر انہیں فضیلت دی یہ معاویہ کی دلی خواہش تھی وہ چاہتا تھا کہ علی(ع) کا ذکر مٹ جائے.

4-ایسی احادیث کی روایت کی جن سے اہلبیت(ع) کی عظمت و شرافت پر حرف آتا ہے.

5-ایسی احادیث کو قلمبند کیا جو خلافت کے سلسلہ میں مذہب جبر و تجسیم اور قضا و قدر کی تائید کرتی ہیں اور اس کو اپنی حکومت بر قرار رکھنے کے لئے بنی امیہ و بنی عباس نے رواج دیا.

6-ایسی جھوٹی احادیث کو لکھا جو خرافات اور قصے کہانیوں سے مشابہت رکھتی ہیں تاکہ امت کو ان میں مبتلا رکھا جائے یہ ایک جماعت کا پروپیگنڈہ ہے جو بخاری کے ہمعصر حکام کی خواہش تھی.

قارئین محترم مثال کے طور پر آپ کے سامنے یہ روایت ہے:

بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب بدء الخلق کے باب " ایام الجاہلیہ" جلد/4 ص238 پر روایت کی ہے کہ ہم سے نعیم بن حماد نے اور ہشیم نے حصین سے اس نے عمرو ابن میمون سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا:

میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بندریہ کو دیکھا کہ جس کے چاروں طرف بندر جمع تھے اس بندریہ نے زنا کر لیا تھا.


پس بندروں نے اسے سنگسار کیا تو میں نے بھی ان کے ساتھ اس پر پتھر برسائے.

میں بخاری سے کہتا ہوں شاید خدا نے بندروں پر رحم کیا اور ان کےلئے اس سنگساری کے حکم کو منسوخ کر دیا جو ان پر جنت سے نکالنے کے بعد عائد کیا تھا. اور زمانہ اسلام میں ان کے لئے زنا کو مباح قرار دیا جب کہ زمانہ جاہلیت میں حرام تھا. اسی لئے محمد(ص) کی بعثت سے لیکر کسی مسلمان نے اب تک یہ دعوی نہ کیا کہ میں بندروں کے سنگسار کرتے وقت وہاں حاضر تھا. یا ان کا شریک تھا.


خاتمہ بحث

کیا محقق اور آزاد علماء ان خرفات پر کہ جن کی مثال بخاری میں بکثرت موجود ہے خاموش رہیں گے. اور کچھ نہیں بولیں گے.

ممکن ہے کچھ لوگ یہ کہیں کہ بخاری کو کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟ جبکہ دوسری کتابوں میں بھی تو ضعیف حدیثیں موجود ہیں، یہ بات واضح ہے لیکن ان میں سے بخاری کو منتخب کیا ہے کیونکہ اس کتاب نے وہ شہرت پائی ہے کہ جس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا، حد ہوگئی علمائے اہلسنت کے درمیان اسے قرآن کے برابر سمجھا جانے لگا جس میں کسی بھی طرف سے باطل کی گنجائش نہیں ہے. کیونکہ جو کچھ اس ( قرآن) میں مرقوم ہے وہ صحیح ہے اس میں شک نہیں کیا جاسکتا، بخاری کی تقدیس کا چشمہ سلاطین و ملوک سے پھوٹتا ہے. خصوصا عباسی عہد سے کہ جس میں بیشتر کرسیوں پر فارس (ایران) والے قبضہ جما چکے تھے. اور حکومت کے اتنظامی امور میں دخیل تھے ان میں سے بعض وزیر اور مشیر تھے اور بعض طبیب و علم ہیئت کے ماہر تھے ابو فراس کہتا ہے:


ابلغ لدیک بنی العباس مالکة لا یدعوا ملکها ملاکها العجم

ای المخاخر امست فی منازلکم وغیرکم آمر فیها و محتکم

بنی عباس تمہیں حکومت و خلافت مل گئی ہے لیکن تم یہ دعوی نہ کرو کہ وہ تمہارے قبضہ و اختیار میں ہے اس کے مالک تو عجم والے ہیں یہ کون سے فخر کی بات ہے کہ خلافت و حکومت تمہارے گھر میں ہے جب کہ اس کے حاکم تمہارے غیر ہیں.

فارس والے اپنی پوری طاقت کو کام میں لائے اور انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کیا، یہاں تک کہ قرآن کے بعد بخاری کو مرتبہ اول مل گیا اور ابوحنیفہ تینوں اماموں کے اوپر امام اعظم بن گئے.

اور اگر فارس والوں کو حکومت بنی عباس کے زمانہ قوم عرب کے بھڑک اٹھنے کا خوف نہ ہوتا تو وہ بخاری کو قرآن پر بھی ترجیح دیتے اور ابو حنیفہ کو نبی(ع) پر مقدم کرتے اور کون جانتا؟

میں نے ان کے اس قسم کے بعض خیالات پڑھے ہیں. ان میں سے بعض تو صاف کہتے تھے کہ حدیث قرآن پر حکم لگانے والی ہے. حدیث سے ان کی مراد بخاری ہی ہوتی تھی. جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر حدیثِ نبی(ص) اور ابوحنیفہ کے اجتہاد و رائے میں تعارض و ٹکرائو ہو جائے تو ابو حنیفہ کی رائے کو مقدم کرنا واجب ہے. اور اس کی علت یہ بیان کرتے ہیں کہ چونکہ حدیث میں متعدد احتمال ہوتے ہیں اگر یہ صحیح ہو تو فبہا اور اگر اس کی صحت میں شک ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے.

امت اسلامیہ رفتہ رفتہ تکبر کا شکار ہوتی چلی گئی. وہ


ہمیشہ محکوم رہی اس کی راہوں کا انتخاب فارس و مغل، ترک و فرانس، و انگلینڈ اور اٹلی کے بادشاہ و سلاطین کرتے رہے. بیان کرنے میں کیا حرج ہے.

اکثر علماء حکام کے پسِ پشت رہنے کے عادی تھے. فتوی دیتے تھے مال لیتے تھے. مال کی طمع میں چاپلوسی کرتے تھے وہ ہمیشہ ( اس زمانہ کی) سیاست کے مطابق عمل کرتے تھے( تفرقہ ڈالو محفوظ رہو) انہوں نے کسی ایک کو اجتہاد کی اجازت نہ دی اور نہ اجتہاد کے اس دروازہ کو کھولنے کی اجازت دی جس کو حکام نے دوسری صدی کے آغاز ہی میں اہلسنت کے درمیان فتنہ و جنگ کے خوف سے بند کر دیا تھا. اہلسنت کی اکثریت تھی وہ ہی حکومت پر قابض تھے اور شیعہ اقلیت میں تھے اور یہی ان کی نظر میں سب سے بڑا خطرہ تھے اس کے لئے بھی کچھ سوچنا تھا. لہذا علمائے اہلسنت اس سیاسی کھیل میں مشغول رہے. اور انہیں ( شیعوں کو) کافر ثابت کرنے اور ان پرتنقید کرنے میں لگے رہے. اور ہر طرح سے ان کی دلیلوں کی تردید کرتے رہے یہاں تک کہ اس سلسلہ میں ہزاروں کتابیں لکھی گئیں اور ہزاروں نیکو کار افراد کا خون بہایا گیا. جبکہ ان کا صرف یہ قصور تھا کہ وہ عترت نبی(ص) سے محبت رکھتے تھے اور ان حکام سے بیزار تھے جو زبردستی امت پر مسلط ہوگئے تھے.

اور آج جب کہ ہم آزادی کے زمانہ میں ، روشنی کے دور میں، زندگی گذار رہے ہیں جیسا کہ اسے علم کا عہد کہا جاتا ہے اور دنیا کے ممالک فضائی جنگ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کو کوشش میں لگے ہوئے ہیں. اور پوری دنیا پر قابض ہو جانا چاہتے ہیں اس زمانہ میں بھی اگر کوئی عالم تعصب و تقلید سے آزاد ہو جاتا ہے اور کوئی ایسی چیزلکھتا ہے جس سے


اہلبیت(ع) سے محبت کی بو آتی ہے. تو ان کا خون کھول جاتا ہے اور اپنی پوری طاقت کو اس پر لعنت کرنے والے اور اسے کافر ثابت کرنے میں صرف کر دیتے ہیں اور یہ سب کچھ اس لئے کرتے ہیں کہ اس نے ان کے مزاج کے خلاف، اقدام کیا ہے. اگر وہ بخاری کی مدح اور تقدیس میں کتاب لکھتا تو علامہ بن جاتا. اس پر سونے کی بارش ہوتی اور ہر سمت سے اس کی مدح سرائی ہوتی اسے ایسے افراد مل جاتے جنہیں چاپلوسی اور بری بات سے ان کی نماز و روزہ بھی نہیں روک سکتے ہیں.

آپ ان تمام مقتضیات میں غور کرتے ہیں کہ جو اکثر لوگوں کی گمراہی کے لئے کافی ہیں ان اسباب کے بارے میں سوچا جو بیشتر لوگوں ک ضلالت کی طرف کھینچتے ہیں، قرآن کریم اس مخفی راز سے آگاہ کرتا ہے. اس گفتگو کے ذریعہ جو خدائے ذو الجلال اور ابلیس لعین کے درمیان ہوتی تھی.

خدا : میرے حکم کے بعد تجھے کس چیز نے سجدہ سے باز رکھا؟

ابلیس : میں ان( آدم) سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور انہیں مٹی سے پیدا کیا ہے.

خدا : جنت سے نکل جائو یہاں رہتے ہوئے تم کو تکبر کرنے کا حق نہیں ہے. نکل جا تو پست افراد میں سے ہے.

ابلیس : مجھے قیامت تک کہ مہلت دی جائے.

خدا : تم انتظار کرنے والوں میں سے ہو.

ابلیس : جس طرح تونے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ضرور تیرے سیدھے راستہ میں بیٹھوں گا( تیرے بندوں کو گمراہ کروں گا) پھر انہیں چاروں طرف سے گھیر لوں گا تو، تو ان میں سے


اکثر کو شکر گذار نہ پائے گا.

خدا : تو یہاں سے نکل جا تو ذلیل و مردود ہے ان میں سے جو بھی تیرے ساتھ چلے گا تو میں ان سب سے جہنم بھر دوں گا.

اولاد آدم خبردار شیطان تمہیں فریب نہ دے جیسا کہ اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکلوا دیا تھا اور ان سے ان کا لباس اتر کر گر گیا اور دونوں برہنہ ہوگئے. وہ اور اس کی اولاد تم کو دیکھتی ہے لیکن تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہو ہم نے شیاطین کو ان لوگوں کا دوست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں قبول کرتے ہیں. اور یہ لوگ جب بھی کوئی برا کام انجام دیتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے آباء و اجداد کوایسے ہی پایا ہے. اور خدا ہی نے اس کا حکم دیا ہے. آپ کہدیجئے کہ خدا بری باتوں کا حکم نہیں دیتا ہے. کیا تم خدا کی طرف ان باتوں کی نسبت دیتے ہو. جنہیں تم نہیں جانتے ہو کہدیجئے میرا رب عدل کا حکم دیتا ہے اور ہر نماز کے وقت تم سب اپنا رخ سیدھا رکھا کرو اور خدا کو خالص دین کے ساتھ پکارو! اس نے جس طرح تمہاری انتہا کی اسی طرح تم اس کی طرف پلٹ کر بھی جائو گے. اس نے ایک گروہ کو ہدایت دی ہے اور ایک پر گمراہی سلط ہوگئی ہے. انہوں نے شیاطین کو اپنا ولی بنالیا ہے. اور خدا سے نظریں موڑ لی ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں.


اسی لئے تمام مسلمانوں بھائیوں سے کہتا ہوں کہ شیطان پر لعنت کرو اپنے اوپر اسے قابو نہ دو، اس علمی بحث کی طرف آئو جسے قرآن و حدیث ثابت کرتی ہے. اس کلمہ کی طرف آئو جو ہمارے اور تمہارے درمیان مساوی ہے اسی چیز سے حجت قائم کرو جو ہمارے اور تمہارے نزدیک صحیح ہے. اور جو اختلاف کا باعث ہے اسے ایک طرف پھینک دیں. کیا رسول(ص) کا فرمان نہیں ہے کہ میری امت خطا پر جمع نہیں ہوگی. پس حق وہ ہے جس پر ہم شیعہ و سنی متفق ہیں اور جس میں اختلاف کرتے ہیں وہ باطل ہے. اگر ہم دگر پر چلیں گے تو صلح و صفا اور اتفاق عام ہوگا اور ضرور اتحاد کی چادر کے نیچے جمع ہو جائیں گے اور ضرور خدا کی طرف سے مدد آئے گی اور زمین و آسمان کی برکتیں عام ہو جائیں گی، وقت نکلا جا رہا ہے جو لوٹ کر نہیں آئے گا اس دن کے آنے سے پہلے انتظار کا وقت ہے جس میں بیع و خلال نہیں ہوگا. اور ہم سب شیعہ سنی اپنے امام مہدی(عج) کے انتظار میں ہیں ان کی بشارت کے سلسلہ میں ہماری کتابیں بھری پڑی ہیں کہ ہمارے ایک راستہ پر گامزن ہونے کے لئے یہ دلیل کافی نہیں ہے؟ شیعہ تمہارے بھائی ہیں اہلبیت(ع) انہیں کا ذخیرہ نہیں ہیں بلکہ محمد(ص) اور ان کے اہلبیت(ع) تمام مسلمانوں کے امام و رہبر ہیں یقینا ہم سنی اور شیعوں کا حدیث ثقلین پر اتفاق ہے. رسول(ص) نے فرمایا ہے کہ میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑ رہا ہوں کہ اگر تم اس سے متمسک رہے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے. وہ ہے کتابِ خدا اور میری عترت(1) اور مہدی(عج)

____________________

1.گذشتہ بحث میں ہم اس بات کی وضاحت کرچکے ہیں کہ حدیث اس حدیث کے معارض نہیں ہے جس میں کتاب و سنتی کی لفظ آئی ہے کتاب خدا اور سنت رسول(ص) دونوں صامت--کلام ہیں ان کے لئے ترجمان نا گزیر ہے. پس رسول(ص) نے اس بات کی طرف ہماری راہنمائی کی ہے کہ قرآن و سنت کے بیان کرنے والے ائمہ اہلبیت(ع) ہیں جن کے بارے میں تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ وہ علم وعمل میں سب پر مقدم ہیں.


ان کی عترت میں سے ہیں. کیا یہ دوسری دلیل نہیں ہے؟

اور اب جب کہ تاریکی و ظلم کا وہ زمانہ ختم ہوگیا کہ جس میں اہلبیت(ع) عترت رسول(ص) سے زیادہ کسی پر ظلم نہیں ہوا یہاں تک کہ لوگوں نے منبروں سے ان پر لعنت کی انہیں قتل کیا ان کی مخدرات کو مسلمانوں کے مجمع عام میں بے پردہ کیا.

اب وہ وقت آن پہونچا ہے جس میں اہلبیت(ع) نبی(ص) سے مظالم کو دور کیا جائے اور امت ان کے سایہ رحمت و عاطفت کی طرف رجوع کرے جو علم و عمل سے لبریز ہے اور ان کے شجر کے گھنے سایہ کی طرف بڑھے کہ جہاں فضل و شرف کی بہتات ہے. نبی(ص) اور ملائکہ ان پر درود بھیجتے ہیں اور مسلمانوں کو ہرنماز میں ان پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے. جیسا کہ ان سے محبت و مودت کا حکم دیا ہے.

اہلبیت(ع) کی فضیلت سے کوئی مسلمان انکار نہیں کرسکتا ہے اس سلسلہ میں ہر زمانہ کے شعراء نے اشعار کہے ہیں. ان سے متعلق فرزدق کہتا ہے:

إِنْ‏ عُدَّ أَهْلُ‏ الْتُّقَى‏ كَانُوا أَئِمَّتَهُمْ‏ أَوْ قِيلَ مَنْ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ قِيلَ هُمْ‏

مِنْ مَعْشَرٍ حُبُّهُمْ دِينٌ وَ بُغْضُهُمْ‏ كُفْرٌ وَ قُرْبُهُمْ مَنْجًى وَ مُعْتَصَمٌ‏

مُقَدَّمٌ بَعْدَ ذِكْرِ اللَّهِ ذِكْرُهُمُ‏ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَ مَخْتُومٌ بِهِ الْكَلِمُ‏


اگر اہل تقوی کو دیکھا جائے تو یہ ان کے امام ہیں اور یہ کہا جائے کہ روئے زمین پر سب سے بہتر کون ہے تو کہا جائے گا وہی ہیں. ان کی محبت دین اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے، ان کی قربت پناہ گاہ اور محفوظ ٹھکانا ہے. خدا کے ذکر کے بعد ان کا ذکر مقدم ہے.

کلام کی ابتداء اور انتہا وہی ہیں.

اور مشہور شاعر ابوفراس اپنے مشہور قصیدہ شافیہ میں ان کی مدح کرتا ہے اور عباسیوں سے نفرت کا اظہار کرتا ہے. ہم نے اس کے یہ اشعار منتخب کئے ہیں.

يا باعة الخمر كفّوا عن مفاخركم‏ لمشعر بيعهم يوم الهياج دم‏

خلوا الفخار لعلامین ان سئلوا یوم السؤال وعمالین ان عملوا

لا یغضبون لغیر الله ان غضبوا ولا یضیعون حکم الله ان حکموا

تنشی التلاوة فی ابیاتهم سحرا و فی بیوتک الاوتار والنغم

الرکن والبت والاستار منزلهم و زمزم والصفی والحجر و الحرم

و لیس من قسم فی الذکر نعرفه الا و هم غیر شک ذالک القم

اے شراب فروشو! ان پر فخر نہ کرو جو جنگ کے روز خون بیچتے ہیں، افتخار،علمائ و عمل کرنے والوں کا حق ہے. اگر وہ غضبناک ہوتے ہیں تو غیر خدا کے لئے نہیں اور اگر کوئی حکم لگاتے ہیں تو حکم خدا کو ضائع نہیں کرتے صبح کے وقت ان کے گھروں سے تلاوت کی آوازیں آتی ہیں. جبکہ تمہارے گھروں سے نغموں اور دھو تاروں کی آواز آتی ہے. زمزم صفا اور حجر و حرم رکن و خانہ( کعبہ)


اور پردے ان کی منزل ہے. قرآن میں جتنی قسمیں آئی ہیں لاریب ؟؟؟ کے لئے ہیں.

زمخشری ، بیہقی اور قسطانی نے ابو عبداللہ محمد ابن علی انصاری شاطی کے یہ اشعار نقل کئے ہیں:

عدي‏ و تيم‏ لا أحاول ذكرها بسوء و لكني محب لهاشم‏

و هل تعتريني في علي و رهطه‏ إذا ذکروا في الله لومة لائم‏

يقولون: ما بال النصارى و حبهم‏ و أهل التقى من اعرب و أعاجم‏

فقلت لهم إني لأحسب حبهم‏ سری في قلوب الخلق حتی البهائم‏

میں عدی اور تمیم کا ذکر برائی سے نہیں کرتا ہوں لیکن میں( بنی) ہاشم کا محب ہوں میں علی(ع) اور ان کے شیعوں کے محبت کے سلسلہ میں کسی بات کی پرواہ نہیں کرتا، کیونکہ خدا کے بارے میں لومت لائم کی پرواہ نہیں کرنی چاہئیے.

لوگ کہتے ہیں کہ انصار کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ علی(ع) اور ان کی جماعت سے محبت کرتے ہیں میں کیون نہ اس سے محبت کروں جب عرب و عجم کے صاحبان عقل سے محبت کرتے ہیں.

میں ان سے یہ بات کہتا ہوں کہ ان کی محبت کو میں پوری مخلوق کے قلب میں جاگزین محسوس کرتا ہوں یہاں تک کہ چوپائے بھی ان سے محبت کرتے ہیں.


بعض نصاری نے خصوصا علی ابن ابی طالب(ع) کے فضائل و مناقب میں اور عموما اہلبیت(ع) کے فضائل و مناقب کے سلسلہ میں متعدد کتابیں تحریر کی ہیں جیسا کہ امام شاطبی نے اس بات کی طرف اس طرح اشارہ کیا ہے کہ" نصاری کو کیا ہوگیا ہے وہ ان(علی(ع)) سے محبت کرتے ہیں یہ ایسی تعجب خیز بات ہے جو پہیلی بنی رہے گی ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ نصرانی اہلبیت(ع) کی عظمت کا اعتراف کرے اور اسلام نہ لائے؟ مگر یہ کہ خدا ہمیں قدرت و طاقت عطا کرے گا اس وقت اسلام لائیں گے اور پھر شوق سے یا خوف کے سبب اس سے چشم پوشی نہیں کرسکیں گے"

صاحب کشف الغمہ نے ص20 پر امیرالمومنین(ع ) کی مدح میں کسی نصرانی کا قول نقل کیا ہے:

علي‏ أمير المؤمنين‏ صريمه‏ و ما لسواه في الخلافة مطمع‏

له النسب العالي و إسلامه الذي‏ تقدم فيه و الفضائل أجمع‏

بان علیا افضل الناس کلهم و اورعهم بعد النبی و اشجع

و لو كنت أهوى ملة غير ملتي‏ لما كنت إلا مسلما أتشيع‏

علی(ع)، امیرالمومنین صاحب عزیمت اور بہادر ہیں ان کے سوا کسی کو خلافت کی طمع نہیں کرنا چاہئیے وہ حسب و نسب میں اعلی ہیں وہ سابق الاسلام ہیں اور ان کے فضائل پر اجماع ہے اگر میں اپنا مذہب چھوڑ کر کوئی دوسرا مذہب اختیار کروں تو میں شیعہ مسلمان ہو جائوں گا.

پس مسلمانوں کو نبی(ص) کے اہلبیت(ع) سے بدرجہ اولی محبت کرنا چاہئیے کیونکہ رسالت کا پورا اجر ان کی محبت پر موقوف ہے.


عنقریب میری ندا سننے والے کانوں ، کشادہ قلوب اور با بصیرت آنکھوں تک پہونچے گی جس کے ذریعہ میں دنیا و آخرت میج خوش بخت ہو جائوں گا. خدا سے میری دعا ہے کہ میرےعمل کو اپنے لئے خالص قرار دے اور اسے قبول کر لے، میری خطائوں کو بخش دے اور مجھے دنیا و آخرت میں محمد(ص) و آل محمد(ص) کا خدمت گذار بنا دے کیونکہ ان کی خدمت میں عظیم کامیابی ہے. بیشک میرے رب کا راستہ سیدھا ہے.

و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین والصلاة

والسلام علی محمد و آله الطیبن الطاهرین.

محمد تیجانی السماوی


فہرست

پانچواں فصل 4

خلفائے ثلاثہ سے متعلق 4

ابوبکر حیات نبی(ص) میں 10

نبی(ص) کے بعد فاطمہ(ع) کے ساتھ ابوبکر کا برتائو 18

فاطمہ(ع) نص قرآنی کے لحاظ سے معصوم ہیں 23

فاطمہ(ع) عالمین کی عورتوں کی سردار ہیں 24

فاطمہ(ع) زنان جنت کی سردار ہیں 25

فاطمہ(ع) نبی(ص) کا ٹکڑا ہیں رسول(ص) ان کے غضب سے غضبناک ہوتے ہیں 26

ابوبکر مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں 35

ابوبکر ، عمر اور عثمان حدیث نبی(ص) لکھنے سے منع کرتے ہیں 43

عمر ابن خطاب نقل حدیث پر پابندی لگاتے ہیں 48

ابوبکر ، عمر کو خلیفہ بنا کر نصوص کی مخالفت کرتے ہیں 60

عمر اپنے اجتہاد سے قرآن کی مخالفت کرتے ہیں 72

مخالفت نصوص کے سلسلہ میں عثمان اپنے دوستوں کا اتباع کرتے ہیں 93

چھٹی فضل 102

خلافت سے متعلق 102

سوالات و جوابات 106

ساتویں فصل 131

حدیث سے متعلق 131

نبی(ص) کا دیتے ہیں" معاذ اللہ" 132

نبی(ص) سخت عذاب دیتے ہیں اور مسلمانوں کے ہاتھ پیر قطع کرتے ہیں 133

نبی(ص) جماع کے شوقین تھے " معاذ اللہ" 137

امویوں کے زمانہ میں رقص و غنا کے جواز پر چند مثالیں 139

نبی(ص) نبیذ پیتے تھے" معاذ اللہ" 141

نبی(ص) اور ابتذال! 142

نبی(ص) اور حیا 142

نبی(ص) اور برہنگی! 143

نبی(ص) سے نماز میں سہو ہوتا ہے 145

نبی(ص) اور حلف شکنی! 147

قسم کے کفارہ میں عائشہ نے چالیس غلام آزاد کئے 149

نبی(ص) احکام خدا میں جیسے چاہتے ہیں تبدیلی کرتے ہیں 151

نبی(ص) قرآن کی بعض آیتوں کو ختم کرتے ہیں 158

نبی(ص) کے اقوال میں تناقض! 170

فضائل میں تناقض 176

نبی(ص) علم اور طب میں تناقض کرتے ہیں! 184

آٹھویں فصل 191

بخاری و مسلم سے متعلق 191

بخاری و مسلم ابوبکر و عمر کی فضیلت بیان کرتے ہیں 197

عمر کی عزت بچانے کے لئے بخاری حدیث میں تدلیس کرتے ہیں 208

عمر کی حقیقت کا انکشاف کرنے والی حدیثوں میں تدلیس 209

جن روایات سے اہلبیت(ع) کی تنقیص ہوتی ہے وہ بخاری کو بہت محبوب ہیں 229

خاتمہ بحث 250

فہرست 261