نھج البلاغہ(مکمل اردو ترجمہ کے ساتھ)
گروہ بندی متن احادیث
مصنف علامہ شریف رضی علیہ رحمہ
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404



نھج البلاغہ

مکمل اردو ترجمہ

مترجم علامہ ذیشان حیدر جوادی

ای بک کمپوزنگ : الحسنین علیھما السلام نیٹ ورک


نهج البلاغة

باب المختار من خطب مولانا امیر المومنین

علی بن ابی طالب علیه التحیة والسلام الخطب

(١)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

یذکر فیها ابتداء خلق السلماء والارض، وخلق آدم

وفیها ذکر الحج

وتحتوی علی حمد الله،خلق العالم، وخلق الملائکة، واختیار الانبیائ، ومبعث النبی، والقران، والاحکام الشرعیة

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ اَلَّذِي لاَ يَبْلُغُ مِدْحَتَهُ اَلْقَائِلُونَ وَ لاَ يُحْصِي نَعْمَاءَهُ اَلْعَادُّونَ وَ لاَ يُؤَدِّي حَقَّهُ اَلْمُجْتَهِدُونَ [ اَلْجَاهِدُونَ ] اَلَّذِي لاَ يُدْرِكُهُ بُعْدُ اَلْهِمَمِ وَ لاَ يَنَالُهُ غَوْصُ اَلْفِطَنِ اَلَّذِي لَيْسَ لِصِفَتِهِ حَدٌّ مَحْدُودٌ وَ لاَ نَعْتٌ مَوْجُودٌ وَ لاَ وَقْتٌ مَعْدُودٌ وَ لاَ أَجْلٌ مَمْدُودٌ فَطَرَ اَلْخَلاَئِقَ بِقُدْرَتِهِ وَ نَشَرَ اَلرِّيَاحَ بِرَحْمَتِهِ وَ وَتَّدَ بِالصُّخُورِ مَيَدَانَ أَرْضِهِ

امیر المومنین کے منتخب خطبات

اور احکام کا سلسلہ کلام

(۱)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں آسمان کی خلقت کی ابتدا اور خلقت آدم ۔ کے تذکرہ کے ساتھ حج بیت اللہ کی عظمت کا بھی ذکر کیا گیاہے)

یہ خطبہ حمدو ثنائے پرودگار۔خلقت عالم۔ تخلیق ملائکہ انتخاب انبیا بعثت سرکا ر دوعالم، عظمت قرآن اور مختلف احکام شرعیہ پرمشتمل ہے۔

ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس کی مدحت تک بولنے والوں کے تکلم کی رسائی نہیں ہے اور اس کی نعمتوں کوگننے والے شمار نہیں کر سکتے ہیں۔ اس کے حق کو کو ش ش کرنے والے بھی ادا نہیں کر سکتے ہیں۔ نہ ہمتوں کی بلندیوں اس کا ادراک کرسکتی ہیں اور نہ ذہانتوں کی گہرائیوں اس کی تہ تک جا سکتی ہیں۔ اس کی صفت ذات کے لئے نہ کوئی معین حد ہے نہ توصیفی کلمات۔نہ مقررہ وقت ہے اور نہ آخری مدت۔اس نے تمام مخلوقات کو صرف اپنی قدرت کا ملہ سے پیدا کیا ہے اور پھر اپنی رحمت ہی سے ہوائیں چلائی ہیں اور زمین کی حرکت کو پہاڑوں کی میخوں سے سنبھال کر رکھا ہے۔

حواشی-مصادر خطبہ۱عیون الحکم والمواعظ الواسطی،بخار۷۷،۳۰۰و۴۲۳۔ربیع الا برارزمحشری باب السماءوالکواکب،شرح نہج البلاغہ قطب راوندی تحف العقول حرانی۔اصول کافی۱۔۱۴۰احتجاج طبرسی۱۔۱۵۰،مطالب السئول محمد بن طلحہ الشافعی دستور معالم الحکم القاضی القاضعی ۱۵۔تفسیر فخررازی۲۔۱۲۴۔ارشادمفید ۱۰۵و۱۰۶ توحید صدوق عیون الا خبار صدوق امالی طوسی ۱۔۲۲مصادر خطبہ ۳ الجمل شیخ مفید ۶۲، فہرست بنی ۔۶۲ فہرست ابن ۔


أَوَّلُ اَلدِّينِ مَعْرِفَتُهُ وَ كَمَالُ مَعْرِفَتِهِ اَلتَّصْدِيقُ بِهِ وَ كَمَالُ اَلتَّصْدِيقِ بِهِ تَوْحِيدُهُ وَ كَمَالُ تَوْحِيدِهِ اَلْإِخْلاَصُ لَهُ وَ كَمَالُ اَلْإِخْلاَصِ لَهُ نَفْيُ اَلصِّفَاتِ عَنْهُ لِشَهَادَةِ كُلِّ صِفَةٍ أَنَّهَا غَيْرُ اَلْمَوْصُوفِ وَ شَهَادَةِ كُلِّ مَوْصُوفٍ أَنَّهُ غَيْرُ اَلصِّفَةِ فَمَنْ وَصَفَ اَللَّهَ سُبْحَانَهُ فَقَدْ قَرَنَهُ وَ مَنْ قَرَنَهُ فَقَدْ ثَنَّاهُ وَ مَنْ ثَنَّاهُ فَقَدْ جَزَّأَهُ وَ مَنْ جَزَّأَهُ فَقَدْ جَهِلَهُ

وَ مَنْ جَهِلَهُ فَقَدْ أَشَارَ إِلَيْهِ وَ مَنْ أَشَارَ إِلَيْهِ فَقَدْ حَدَّهُ وَ مَنْ حَدَّهُ فَقَدْ عَدَّهُ وَ مَنْ قَالَ فِيمَ

دین کی ابتداء اس کی معرفت سے ہے اور معرفت کا کمال اس کی تصدیق ہے۔تصدیق کا کمال توحید کا اقرار ہے اور توحید کا کمال اخلاص عقیدہ ہے اور اخلاص کا کمال زائد بر ذات صفات کی نفی ہے' کہ صفت کا مفہوم خود ہی گواہ ہے کہ وہ موصوف سے الگ کوئی شے ہے اورموصوف کا مفہوم ہی یہ ہے کہ وہ صفت سے جدا گانہ کوئی ذات ہے۔اس کے لئے الگ سے صفات کا اثبات ایک شریک کا اثبات ہے اور اس کا لازمی نتیجہ ذات کا تعدد ہے اور تعدد کا مقصد اس کے لئے اجزاء کا عقیدہ ہے اوراجزاء کا عقیدہ صرف جہالت ہے معرفت نہیں ہے اور جو بے معرفت ہوگیا اس نے اشارہ کرنا شروع کردیا اور جس نے اس کیطرف اشارہ کیا اس نے اسے ایک سمت میں محدود کردیا اورجس نے محدود کردیا اس نے اسے گنتی کا ایک شمار کرلیا

( جو سراسر خلاف توحید ذات ہے)

جس نے یہ سوال اٹھایاکہ وہ کس چیز میں ہے

خطبہ کا پہلا حصہ ذات واجب کی عظمتوں سے متعلق ہے جس میں اس کی بلندیوں اور گہرائیوں کے تذکرہ کے ساتھ اس کے بے پایاں نعمتوں کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس کی ذات مقدس لا محدود ہے اور اس کی ابتداء وانتہا کا تصور بھی محال ہے۔البتہ اس کے احسانات کی فہرست میں سر فہرست تین چیزیں ہیں :

(۱) اسنے اپنی قدرت کاملہ سے مخلوقات کوپیدا کیا ہے۔(۲) اسنے اپنی رحمت شاملہ سے سانس لینے کے لئے ہوائیں چلائی ہیں۔(۳) انسان کے قرار و استقراء کے لئے زمین کی تھر تھراہٹ کو پہاڑوں کی میخوں کے ذریعہ روک دیا ہے ورنہ انسان کا ایک لمحہ بھی کھڑا رہنا محال ہوجاتا اور اس کے ہر لمحہ گر پڑنے اور الٹ جانے کا امکان بر قرا رہتا۔دوسرے حصہ میں دین و مذہب کا ذکر کیا گیا ہے کہ جس طرح کائنات کا آغاز ذات واجب سے ہے اسی طرح دین کا آغاز بھی اسی کی معرفت سے ہوتا ہے اور معرفت میں حسب ذیل امور کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔دل و جان سے اس کی تصدیق کی جائے۔فکرو نظر سے اس کی وحدانیت کا اقرار کیا جائے اور خالق و مخلوق کے امتیاز سے اس کے صنعاف کو عین ذات تصور کیا جائے۔


فَقَدْ ضَمَّنَهُ وَ مَنْ قَالَ عَلاَمَ فَقَدْ أَخْلَى مِنْهُ كَائِنٌ لاَ عَنْ حَدَثٍ مَوْجُودٌ لاَ عَنْ عَدَمٍ مَعَ كُلِّ شَيْ‏ءٍ لاَ بِمُقَارَنَةٍ وَ غَيْرُ كُلِّ شَيْ‏ءٍ لاَ بِمُزَايَلَةٍ فَاعِلٌ لاَ بِمَعْنَى اَلْحَرَكَاتِ وَ اَلآْلَةِ بَصِيرٌ إِذْ لاَ مَنْظُورَ إِلَيْهِ مِنْ خَلْقِهِ مُتَوَحِّدٌ إِذْ لاَ سَكَنَ يَسْتَأْنِسُ بِهِ وَ لاَ يَسْتَوْحِشُ لِفَقْدِهِ

خلق العالم

أَنْشَأَ الْخَلْقَ إِنْشَاءً وابْتَدَأَه ابْتِدَاءً، بِلَا رَوِيَّةٍ أَجَالَهَا ولَا تَجْرِبَةٍ اسْتَفَادَهَا، ولَا حَرَكَةٍ أَحْدَثَهَا ولَا هَمَامَةِ نَفْسٍ اضْطَرَبَ فِيهَا، أَحَالَ الأَشْيَاءَ لأَوْقَاتِهَا

اس نے اسے کسی کے ضمن میں قرار دے دیا اور جس نے یہ کہا کہ وہ کس کے اوپر قائم ہے اسنے نیچے کا علاقہ خالی کرالیا۔ اس کی ہستی حادث نہیں ہے اور اس کا وجودعدم کی تاریکیوں سے نہیں نکلا ہے ۔وہ ہر شے کے ساتھ ہے لیکن مل کرنہیں ' اور ہر شے سے الگ ہے لیکن جدائی کی بنیادپر نہیں۔ وہ فاعل ہے لیکن حرکات و آلات کے ذریعہ نہیں اور وہ اس وقت بھی بصیر تھا جب دیکھی جانے والی مخلوق کا پتہ نہیں تھا۔وہ اپنی ذات میں بالکل اکیلا ہے اور اس کا کوئی ایسا ساتھی نہیں ہے جس کو پاکر انس محسوس کرے اور کھو کر پریشان ہو جانے کا احسان کرے۔

اس ن ے مخلوقات کو از غیب ایجاد کیا اور ان کی تخلیق کی ابدا کی بغیر کسی فکر کی جو لانی کے اور بغیر کسی تجربہ سے فائدہ اٹھائے ہوئے یا حرکت کی ایجاد کئے ہوئے یا نفس کے افکار کی الجھن میں پڑے ہوئے ۔

تما م اشیاء کو ان کے اوقات کے حوالے کردیا

ورنہ ہر غلط عقیدہ انسان کو ایک جہالت سے دوچار کردے گا اور ہر مہمل سوال کے نتیجہ میں معرفت سے شروع ہونے والا سلسلہ جہالت پر تمام ہوگا اور یہ بد بختی کی آخری منزل ہے۔ اس کی عظمت کے ساتھ اس نکتہ کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ وہ جملہ اعمال کی نگرانی کر رہا ہے اور اپنی یکتائی میں کسی کے وہم و گمان کا محتاج نہیں ہے۔

تخلیق کائنات کے بارے میں اب تک جونظریات سامنے آئے ہیں' ان کا تعلق دو موضوعات سے ہے:

ایک موضوع یہ ہے کہ اس کائنات کا مادہ کیا ہے ؟ تمام عناصر اربعہ ہیں یا صرف آگ ہے یا صرف پانی سے یہ کائنات خلق ہوئی ہے یا کچھ دوسرے عناصر اربعہ بھی کارفرما تھے یا کسی گیس سے یہ کائنات پیدا ہوئی ہے یا کسی بھاپ اور کہرے نے اسے جنم دیا ہے؟ دوسرا موضوع یہ ہے کہ اس کی تخلیق دفعتاً ہوئی ہے یا یہ بتدریج عالم وجود میں آئی ہے اور اس کی عمردس ملین سال ہے یا ۶۰ ہزار ملین سال ہے؟

چنانچہ ہر شخص نے اپنے اندازہ کے مطابق ایک رائے قائم کی ہے اور اسی رائے کی بنا پراسے محقق کا درجہ دیا گیا ہے۔ حالانکہ حقیقت امر یہ ہے کہ اس قسم کے موضوعات میں تحقیق کا کوئیامکان نہیں ہے اور نہ کوئی حتمی رائے قائم کی جا سکتی ہے۔


ولأَمَ بَيْنَ مُخْتَلِفَاتِهَا، وغَرَّزَ غَرَائِزَهَا وأَلْزَمَهَا أَشْبَاحَهَا، عَالِماً بِهَا قَبْلَ ابْتِدَائِهَا، مُحِيطاً بِحُدُودِهَا وانْتِهَائِهَا عَارِفاً بِقَرَائِنِهَا وأَحْنَائِهَا: ثُمَّ أَنْشَأَ سُبْحَانَه فَتْقَ الأَجْوَاءِ، وشَقَّ الأَرْجَاءِ وسَكَائِكَ الْهَوَاءِ، فَأَجْرَى فِيهَا مَاءً مُتَلَاطِماً تَيَّارُه ، مُتَرَاكِماً زَخَّارُه حَمَلَه عَلَى مَتْنِ الرِّيحِ الْعَاصِفَةِ، والزَّعْزَعِ الْقَاصِفَةِ فَأَمَرَهَا بِرَدِّه، وسَلَّطَهَا عَلَى شَدِّه وقَرَنَهَا إِلَى حَدِّه، الْهَوَاءُ مِنْ تَحْتِهَا فَتِيقٌ والْمَاءُ مِنْ فَوْقِهَا دَفِيقٌ ، ثُمَّ أَنْشَأَ سُبْحَانَه رِيحاً

اور پھر ان کے اختلاف میں تناسب پیدا کردیا سب کی طبیعتیں مقرر کردیں اور پھر انہیں شکلیں عطا کردیں۔اسے یہ تمام باتیں ایجاد کے پہلے سے معلوم تھیں اور وہ ان کے حدود اور ان کی انتہا کو خوب جانتا تھا۔اسے ہرشے کے ذاتی اطراف کا بھی علم تھا اوراس کے ساتھ شامل ہو جانے والی اشیاء کا بھی علم تھا۔

اس کے بعد اس نے فضا کی وسعتیں۔اس کے اطراف واکناف اورہوائوں کے طبقات ایجاد کئے اور ان کے درمیان وہ پانی بہا دیا جس کی لہروں میں تلاطم تھا اور جس کی موجیں تہ بہ تہ تھیں اور اسے ایک تیز و تند ہوا کے کاندھے پر لا د دیا اور پھر ہوا کو الٹنے پلٹنے اور روک کر رکھنے کا حکم دے دیا اور اس کی حدوں کو پانی کی حدوں سے یوں ملا دیا کے نیچے ہوا کی وستعیں تھیں اور اوپر پانی کا طلاطم۔

اس کے بعد ایک اور ہوا ایجاد کی جس

صرف اندازے میں جن پر ساراکاروبار چل رہا ہے اور ایسے ماحول میں ہر شخص کوایک نئی رائے قائم کرنے کاحق ہے اور کسی کو یہ چیلنج کرنے کا حق نہیں ہے کہ یہ رائے آلات اور وسائل سے پہلے کی ہے لہٰذا اس کی کوئی قیمت نہیں ہے امیر المومنین نے اصل کائنات پانی کو قرار دیا ہے اور اسی کی طرف قرآن مجید نے بھی اشارہ کیاہے اور آپ کی رائے دیگر آراء کے مقابلہ میں اس لئے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ اس کی بنیاد تحقیق۔انکشاف 'تجربہ اور اندازہ پر نہیں ہے بلکہ یہ اس مالک کا دیا ہوا بے پناہ علم ہے جس نے اس کائنات کو بنایا ہے اورکھلی بات ہے کہ مالک سے زیادہ مخلوقات سے با خبر اور کون ہو سکتا ہے۔امیر المومنین نے اپنے بیان میں تین نکات کی طرف توجہ دلائی ہے:(۱) اصل کائنات پانی ہے اور پانی کو قابل استعمال ہوا نے بنایا ے۔(۲) اس فضائے بسیط کے تین رخ ہیں، بلندی جس کو اجواء کہا جاتا ہے اور اطراف جسے ارجاء سی تعبیر کیا جاتا ہے اور طبقات جنہیں سکائک کا نام دیا جاتا ہے۔عام طور سے علماء فلک کو اکب کے ہر مجموعہ کو سکہ کا نام دیتے ہیں جس می ایک ارب سے زیادہ ستارے پائے جاتے ہیں جس طرح کہ ہمارے اپنے نظام شمسی کا حال ہے کہ اس میں ایک ارب سے زیادہ ستاروں کا انکشاف کیا جا چکا ہے۔(۳) آسمانی مخلوقات میں ایک مزکزی شے ہے جسے اس کی حرکت کی بنا پرچراغ کہا جاتا ہے اورایک اس کے گرد حرکت کرنے والی زمین ہے اور ایک زمین کے گرد حرکت کرنے والا ستارہ ہے جسے قمر کہا جاتا ہے اورعلماء فلک اس تابع در تابع کو قمر کہتے ہیں کو کب نہیں کہتے ہیں


اعْتَقَمَ مَهَبَّهَا ، وأَدَامَ مُرَبَّهَا وأَعْصَفَ مَجْرَاهَا، وأَبْعَدَ مَنْشَأَهَا فَأَمَرَهَا بِتَصْفِيقِ الْمَاءِ الزَّخَّارِ، وإِثَارَةِ مَوْجِ الْبِحَارِ فَمَخَضَتْه مَخْض السِّقَاءِ، وعَصَفَتْ بِه عَصْفَهَا بِالْفَضَاءِ، تَرُدُّ أَوَّلَه إِلَى آخِرِه وسَاجِيَه إِلَى مَائِرِه حَتَّى عَبَّ عُبَابُه ورَمَى بِالزَّبَدِ رُكَامُه ، فَرَفَعَه فِي هَوَاءٍ مُنْفَتِقٍ وجَوٍّ مُنْفَهِقٍ، فَسَوَّى مِنْه سَبْعَ سَمَوَاتٍ، جَعَلَ سُفْلَاهُنَّ مَوْجاً مَكْفُوفاً ، وعُلْيَاهُنَّ سَقْفاً مَحْفُوظاً وسَمْكاً مَرْفُوعاً، بِغَيْرِ عَمَدٍ يَدْعَمُهَا ولَا دِسَارٍ يَنْظِمُهَا ثُمَّ زَيَّنَهَا بِزِينَةِ الْكَوَاكِبِ وضِيَاءِ الثَّوَاقِبِ ، وأَجْرَى فِيهَا سِرَاجاً مُسْتَطِيراً وقَمَراً مُنِيراً، فِي فَلَكٍ دَائِرٍ وسَقْفٍ سَائِرٍ ورَقِيمٍ مَائِرٍ.

خلق الملائكة

ثُمَّ فَتَقَ مَا بَيْنَ السَّمَوَاتِ الْعُلَا،

کی حرکت میں کوئی تولیدی صلاحیت نہیں تھی اور اسے مرکز پر روک کراس کے جھونکوں کو تیز کردیا اور اس کے میدان کو وسیع تر بنادیا اور پھراسے حکم دیدیا کہ اس بحر زخار کو متھ ڈالے اور موجوں کو الٹ پلٹ کردے۔چنانچہ اس نے سارے پانی کو ایک مشکیزہ کی طف متھ ڈالا اوراسے فضائے بسیط میں اس طرح لے کرچلی کہ اول کو آخر پر الٹ دیا اور ساکن کو متحرک پر پلٹ دیا اور اسکے نتیجہ میں پانی کی ایک سطح بلند ہوگئی اور اس کے اوپر ایک جھاگ کی تہہ بن گئی۔پھر اس جھاگ کو پھیلی ہوئی ہوا اور کھلی ہوئی فضا میں بلند کردیا اوراس سے سات آسمان پیدا کردئیے جس کی نچلی سطح ایک ٹھہری ہوئی موج کی طرح تھی اور اوپر کا حصہ ایک محفوظ سقف اوربلند عمارت کے مانند تھا۔نہ اس کا کوئی ستون تھا جو سہارا دے سکے اور نہ کوئی بندھن تھا جو منظم کر سکے ۔پھر ان آسمانوں کو ستاروں کی زینت سے مزین کیا اور ان میں تا بندہ نجوم کی روشنی پھیلادی اور ان کے درمیان ایک ضوفگن چراغ اور ایک روشن ماہتاب رواں کردیا جس کی حرکت ایک گھومنے والے فلک اور ایک متحرک چھت اور جنبش کرنے والی تختی میں تھی۔

پھر اس نے بلند ترین آسمانوں کے درمیان شگاف پیدا کئے


فَمَلأَهُنَّ أَطْوَاراً مِنْ مَلَائِكَتِه، مِنْهُمْ سُجُودٌ لَا يَرْكَعُونَ ورُكُوعٌ لَا يَنْتَصِبُونَ، وصَافُّونَ لَا يَتَزَايَلُونَ ومُسَبِّحُونَ لَا يَسْأَمُونَ، لَا يَغْشَاهُمْ نَوْمُ الْعُيُونِ ولَا سَهْوُ الْعُقُولِ، ولَا فَتْرَةُ الأَبْدَانِ ولَا غَفْلَةُ

النِّسْيَانِ، ومِنْهُمْ أُمَنَاءُ عَلَى وَحْيِه وأَلْسِنَةٌ إِلَى رُسُلِه، ومُخْتَلِفُونَ بِقَضَائِه وأَمْرِه، ومِنْهُمُ الْحَفَظَةُ لِعِبَادِه والسَّدَنَةُ لأَبْوَابِ جِنَانِه، ومِنْهُمُ الثَّابِتَةُ فِي الأَرَضِينَ السُّفْلَى أَقْدَامُهُمْ، والْمَارِقَةُ مِنَ السَّمَاءِ الْعُلْيَا أَعْنَاقُهُمْ، والْخَارِجَةُ مِنَ الأَقْطَارِ أَرْكَانُهُمْ، والْمُنَاسِبَةُ لِقَوَائِمِ الْعَرْشِ أَكْتَافُهُمْ،

اور انہیں طرح طرح کے فرشتوں سے بھر دیا

جن میں سے بعض سجدہ میں ہیں تو رکوع کی نوبت نہیں آتی ہے اور بعض رکوع میں ہیں تو سر نہیں اٹھاتے ہیں اور بعض صف باندھے ہوئے ہیں تو اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرتے

ہیں بعض مشغول تسبیح ہیں تو خستہ حال نہیں ہوتے ہیں سب کے سب وہ ہیں کہ ان کی آنکھوں پر نیند کا غلبہ ہوتا ہے اورنہ عقلوں پر سہوو نسیان کا۔ نہ بدن میں سستی پیدا ہوتی ہے اور نہ دماغ میں نسیان کی غفلت۔

ان میں سے بعض کو وحی کا امین اور رسولوں کی طرف قدرت کی زبان بنایا گیا ہے جو اس کے فصیلوں اور احکام کو برابر لاتے رہتے ہیں اور کچھ اس کے بندوں کے محافظ اور جنت کے دروازوں کے دربان ہیں اور بعض وہ بھی ہیں جن کے قدم زمین کے آخری طبقہ میں ثابت ہیں اور گردنیں بلند ترین آسمانوں سے بھی باہرنکلی ہوئی ہیں۔ان کے اطراف بدن اقطار عالم سے وسیع تر ہیں اور ان کے کاندھے پایہ ہائے عرش کے اٹھانے کے قابل ہیں۔


نَاكِسَةٌ دُونَه أَبْصَارُهُمْ مُتَلَفِّعُونَ تَحْتَه بِأَجْنِحَتِهِمْ، مَضْرُوبَةٌ بَيْنَهُمْ وبَيْنَ مَنْ دُونَهُمْ حُجُبُ الْعِزَّةِ، وأَسْتَارُ الْقُدْرَةِ، لَا يَتَوَهَّمُونَ رَبَّهُمْ بِالتَّصْوِيرِ،ولَا يُجْرُونَ عَلَيْه صِفَاتِ الْمَصْنُوعِينَ، ولَا يَحُدُّونَه بِالأَمَاكِنِ ولَا يُشِيرُونَ إِلَيْه بِالنَّظَائِرِ.

صفة خلق آدمعليه‌السلام

ثُمَّ جَمَعَ سُبْحَانَه مِنْ حَزْنِ الأَرْضِ وسَهْلِهَا، وعَذْبِهَا وسَبَخِهَا ، تُرْبَةً سَنَّهَا بِالْمَاءِ حَتَّى خَلَصَتْ، ولَاطَهَا بِالْبَلَّةِ حَتَّى لَزَبَتْ ، فَجَبَلَ مِنْهَا صُورَةً ذَاتَ أَحْنَاءٍ ووُصُولٍ وأَعْضَاءٍ، وفُصُولٍ أَجْمَدَهَا حَتَّى اسْتَمْسَكَتْ، وأَصْلَدَهَا حَتَّى صَلْصَلَتْ لِوَقْتٍ مَعْدُودٍ وأَمَدٍ مَعْلُومٍ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا مِنْ رُوحِه، فَمَثُلَتْ إِنْسَاناً

ان کی نگاہیں عرش الٰہی کے سامنے جھکی ہوئی ہیں اوروہ اس کے نیچے پروں کو سمیٹے ہوئے ہیں۔ان کے اور دیر مخلوقات کے درمیان عزت کے حجاب اور قدرت کے پردے حائل ہیں۔وہ اپنے پروردگار کے بارے میں شکل و صورت کا تص و ر بھی نہیں کرتے ہیں اور نہ اس کے حق میں مخلوقات کے صفات کو جاری کرتے ہیں۔وہ نہ اسے مکان میں محود کرتے ہیں اور نہ اس کی طرف اشباہ ونظائر سے اشارہ کرتے ہیں۔

تخلیق جناب آدم کی کیفیت

اس کے بعد پروردگار(۱) نے زمین کے سخت و نرم اور شورو شیریں حصوں سے خاک کو جمع کیا اور اسے پانی سے اس قدر بھگویا کہ بالکل خالص ہوگئی اور پھر تری میں اس قدر گوندھا کہ لسدار بن گئی اور اس سے ایک ایسی صورت بنائی جس میں موڑ بھی تھے اور جوڑ بھی۔اعضاء بھی تھے اور جوڑ بند بھی۔پھر اسے اس قدر سکھایا کہ مضبوط ہوگئیاور اس قدر سخت کیا کہ کنکھنانے لگی اور یہ صورت حال ایک وقت معین اور مدت خاص تک برقرار رہی جس کے بعد اس میں مالک نے اپنی روح کمال پھونک دی اور اسے ایسا انسان بنادیا

(۱) انسان کی کمزوری کے سلسلہ میں اتنا ہی کافی ہے کہ اسے اپنی اصل کے بارے میں اتنا بھی معلوم نہیں ہے جتنا دوسری مخلوقات کے بارے میں علم ہے۔وہ نہ اپنے مادہ کی اصل سے با خبر ہے اورنہ اپنی رو ح کی حقیقت سے۔مالک نے اسے متضاد عناصر سے ایسا جامع بنادیا ہے کہ جسم صغیرمیں عالم اکبر سما گیا ہے اور بقول شخصے اس میں جمادات جیسا کون و فساد، نباتات جیسا نمو حیوان جیسی حرکت اور ملائکہ جیسی اطاعت و حیات سے پائی جاتی ہے اوراوصاف کے اعتبار سے بھی اس میں کتے جیسی خوشامد' مکرڑی جیسے تانے بانے، قنفذ جیسے اسلحے، پرندوں جیسا تحفظ، حشر ات الارض جیسا تحفظ' ہرن جیسی اچھل کود، چوہے ،چوہے جیسی چوری، مور جیسا غرور'اونٹ جیسا کینہ، خچر جیسی شرارت'بلبل جیسا ترنم' بچھو جیسا ڈنگ سب کچھ پایا جاتا ہے


ذَا أَذْهَانٍ يُجِيلُهَا، وفِكَرٍ يَتَصَرَّفُ بِهَا وجَوَارِحَ يَخْتَدِمُهَا ، وأَدَوَاتٍ يُقَلِّبُهَا ومَعْرِفَةٍ يَفْرُقُ بِهَا بَيْنَ الْحَقِّ والْبَاطِلِ، والأَذْوَاقِ والْمَشَامِّ والأَلْوَانِ والأَجْنَاسِ، مَعْجُوناً بِطِينَةِ الأَلْوَانِ الْمُخْتَلِفَةِ، والأَشْبَاه الْمُؤْتَلِفَةِ والأَضْدَادِ الْمُتَعَادِيَةِ، والأَخْلَاطِ الْمُتَبَايِنَةِ مِنَ الْحَرِّ والْبَرْدِ، والْبَلَّةِ والْجُمُودِ، واسْتَأْدَى اللَّه سُبْحَانَه الْمَلَائِكَةَ وَدِيعَتَه لَدَيْهِمْ، وعَهْدَ وَصِيَّتِه إِلَيْهِمْ فِي الإِذْعَانِ بِالسُّجُودِ لَه، والْخُنُوعِ لِتَكْرِمَتِه، فَقَالَ سُبْحَانَه:( اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ ) ، اعْتَرَتْه الْحَمِيَّةُ، وغَلَبَتْ عَلَيْه الشِّقْوَةُ، وتَعَزَّزَ بِخِلْقَةِ النَّارِ واسْتَوْهَنَ خَلْقَ الصَّلْصَالِ، فَأَعْطَاه اللَّه النَّظِرَةَ اسْتِحْقَاقاً لِلسُّخْطَةِ، واسْتِتْمَاماً لِلْبَلِيَّةِ وإِنْجَازاً لِلْعِدَةِ، فَقَالَ:( فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ إِلى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ ) .

ثُمَّ أَسْكَنَ سُبْحَانَه آدَمَ دَاراً أَرْغَدَ فِيهَا، عَيْشَه وآمَنَ فِيهَا مَحَلَّتَه وحَذَّرَه إِبْلِيسَ وعَدَاوَتَه،

.

جس میں ذہن کی جولانیاں بھی تھیں اورفکر کے تصرفات بھی۔کام کرنے والے اعضاء و جوارح بھی تھے اور حرکت کرنے والے ادوات و آلات بھی حق و باطل میں فرق کرنے والی معرفت بھی تھی اورمختلف ذائقوں ' خوشبووں' رنگ و روغن میں تمیز کرنے کی صلاحیت بھی۔ اسے مختلف قسم کی مٹی سے بنایا گیا جس میں موافق اجزاء بھی پائے جاتے تھے اورمتضاد و عناصربھی اور گرمی ' سردی' تری خشکی جیسے کیفیات بھی۔ پھر پروردگار نے ملائکہ سے مطالبہ کیا کہ اس کی امانت کو واپس کریں اور اس کی معہودہ وصیت پرعمل کریں یعنی اس مخلوق کے سامنے سر جھکادیں اور اس کی کرامت کا اقرار کرلیں۔چنانچہ اس نے صاف صاف اعلان کردیا کہ آدم کو سجدہ کرو اور سب نے سجدہ بھی کرلیا سوائے ابلیس کے کہ اسے تعصب نے گھیر لیااور بد بختی غالب آگئی اور اس نے آگ کی خلقت کو وجہ عزت اور خاک کی خلقت کو وجہ ذلت قراردے دیا۔مگر پروردگار نے اسے غضب الٰہی کے مکمل استحقاق ،آزمائش کی تکمیل اور اپنے وعدہ کو پورا کرنے کے لئے یہ کہہ کر مہلت دے دی کہ'' تجھے روز وقت معلوم تک کے لئے مہلت دی جا رہی ہے''۔

اس کے بعد پروردگار نے آدم کو ایک ایسے گھرمیں ساکن کردیا جہاں کی زندگی خوش گوار اور مامون و محفوظ تھی اور پھر انہیں ابلیس اور اس کی عداوت سے بھی با خبر کردیا۔


فَاغْتَرَّه عَدُوُّه نَفَاسَةً عَلَيْه بِدَارِ الْمُقَامِ، ومُرَافَقَةِ الأَبْرَارِ، فَبَاعَ الْيَقِينَ بِشَكِّه والْعَزِيمَةَ بِوَهْنِه، واسْتَبْدَلَ بِالْجَذَلِ وَجَلًا وبِالِاغْتِرَارِ نَدَماً، ثُمَّ بَسَطَ اللَّه سُبْحَانَه لَه فِي تَوْبَتِه، ولَقَّاه كَلِمَةَ رَحْمَتِه ووَعَدَه الْمَرَدَّ إِلَى جَنَّتِه، وأَهْبَطَه إِلَى دَارِ الْبَلِيَّةِ وتَنَاسُلِ الذُّرِّيَّةِ.

اختيار الأنبياء

واصْطَفَى سُبْحَانَه مِنْ وَلَدِه أَنْبِيَاءَ، أَخَذَ عَلَى الْوَحْيِ مِيثَاقَهُمْ وعَلَى تَبْلِيغِ الرِّسَالَةِ أَمَانَتَهُمْ، لَمَّا بَدَّلَ أَكْثَرُ خَلْقِه عَهْدَ اللَّه إِلَيْهِمْ، فَجَهِلُوا حَقَّه واتَّخَذُوا الأَنْدَادَ مَعَه، واجْتَالَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ عَنْ مَعْرِفَتِه، واقْتَطَعَتْهُمْ عَنْ عِبَادَتِه فَبَعَثَ فِيهِمْ رُسُلَه، ووَاتَرَ إِلَيْهِمْ أَنْبِيَاءَه لِيَسْتَأْدُوهُمْ مِيثَاقَ فِطْرَتِه، ويُذَكِّرُوهُمْ مَنْسِيَّ نِعْمَتِه، ويَحْتَجُّوا عَلَيْهِمْ بِالتَّبْلِيغِ، ويُثِيرُوا لَهُمْ دَفَائِنَ الْعُقُولِ، ويُرُوهُمْ آيَاتِ الْمَقْدِرَةِ،

مِنْ سَقْفٍ فَوْقَهُمْ مَرْفُوعٍ

لیکن دشمن نے ان کے جنت کے قیام اورنیک بندوں کی رفاقت سے جل کر انہیں دھوکہ دے دیا اور انہو ں نے بھی اپنے یقین محکم کو شک اور عزم مستحکم کو کمزوری کے ہاتھوں فروخت کردیا اور اس طرح مسرت کے بدلے خوف کو لے لیا اورابلیس کے کہنے میں آکر ندامت کا سامان فراہم کرلیا۔پھر پروردگار نے ان کے لئے توبہ کا سامان فراہم کردیا اور اپنے کلمات رحمت کی تلقن کردی اور ان سے جنت میں واپسی کاوعدہ کرکے انہیں آزمائش کی دنیامیں اتار دیا جہاں نسلوں کا سلسلہ قائم ہونے والا تھا۔

انبیاء کرام کا انتخاب

اس کے بعد اس نے ان کی اولاد میں سے ان انبیاء کا انتخاب کیا جن سے وحی کی حفاظت اور پیغام کی تبلیغ کی امانت کا عہد لیا اس لئے کہ اکثر مخلوقات نے عہد الٰہی کو تبدیل کر دیا تھا۔اس کے حق سے نا واقف ہوگئے تھے۔اس کے ساتھ دوسرے خدا بنالئے تھے اور شیطان نے انہیں معرفت کی راہ سے ہٹا کر عبادت سے یکسر جدا کردیا تھا۔ پروردگار نے ان کے درمیان رسول بھیجے۔ انبیاء کا تسلسل قائم کیا تاکہ وہ ان سے فطرت کی امانت کو واپس لیں اور انہیں بھولی ہوئی نعمت پروردگار کویاد دلائیں تبلیغ کے ذریعہ ان پر اتمام حجت کریں اور ان کی عقل کے دفینوں کوباہرلائیں اور انہیں قدرت الٰہی کی نشانیاں دکھلائیں۔ یہ سروں پر بلند ترین چھت۔


ومِهَادٍ تَحْتَهُمْ مَوْضُوعٍ، ومَعَايِشَ تُحْيِيهِمْ وآجَالٍ تُفْنِيهِمْ وأَوْصَابٍ تُهْرِمُهُمْ، وأَحْدَاثٍ تَتَابَعُ عَلَيْهِمْ، ولَمْ يُخْلِ اللَّه سُبْحَانَه خَلْقَه مِنْ نَبِيٍّ مُرْسَلٍ، أَوْ كِتَابٍ مُنْزَلٍ أَوْ حُجَّةٍ لَازِمَةٍ أَوْ مَحَجَّةٍ قَائِمَةٍ، رُسُلٌ لَا تُقَصِّرُ بِهِمْ قِلَّةُ عَدَدِهِمْ، ولَا كَثْرَةُ الْمُكَذِّبِينَ لَهُمْ، مِنْ سَابِقٍ سُمِّيَ لَه مَنْ بَعْدَه،

أَوْ غَابِرٍ عَرَّفَه مَنْ قَبْلَه عَلَى ذَلِكَ نَسَلَتِ الْقُرُونُ ومَضَتِ الدُّهُورُ، وسَلَفَتِ الآبَاءُ وخَلَفَتِ الأَبْنَاءُ.

مبعث النبي

إِلَى أَنْ بَعَثَ اللَّه سُبْحَانَه مُحَمَّداً، رَسُولَ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله لإِنْجَازِ عِدَتِه وإِتْمَامِ نُبُوَّتِه، مَأْخُوذاً عَلَى النَّبِيِّينَ مِيثَاقُه، مَشْهُورَةً سِمَاتُه كَرِيماً مِيلَادُه، وأَهْلُ الأَرْضِ يَوْمَئِذٍ مِلَلٌ مُتَفَرِّقَةٌ، وأَهْوَاءٌ مُنْتَشِرَةٌ وطَرَائِقُ مُتَشَتِّتَةٌ، بَيْنَ مُشَبِّه لِلَّه بِخَلْقِه أَوْ مُلْحِدٍ فِي اسْمِه، أَوْ مُشِيرٍ إِلَى غَيْرِه، فَهَدَاهُمْ بِه مِنَ الضَّلَالَةِ وأَنْقَذَهُمْ بِمَكَانِه مِنَ الْجَهَالَةِ، ثُمَّ اخْتَارَ سُبْحَانَه لِمُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله لِقَاءَه، ورَضِيَ لَه مَا عِنْدَه وأَكْرَمَه عَنْ دَارِ الدُّنْيَا،

یہ زیر قدم گہوارہ۔یہ زندگی کے اسباب۔یہ فنا کرنے والی اجل۔یہ بوڑھا بنا دینے والے امراض اور یہ پے پر دپے پیشآنے والے حادثات

اس نے کبھی اپنی مخلوقات کو بنی مرسل یا کتاب منزل یا حجت لازم یا طریق واضح سے محروم نہیں رکھا ہے۔ ایسے رسول بھیجے ہیں جنہیں نہ عدد کی قلت کام سے روک سکتی تھی اورنہ جھٹلانے والوں کی کثرت۔ان میں جو پہلے تھا اس بعد والے کا حال معلوم تھا اور جو بعد میں آیا اسے پہلے والے نے پہنچوادیا تھا اور یوں ہی صدیاں گزرتی رہیں اور زمانے بیتتے رہے۔آباء و اجداد جاتے رہے اور اولاد و احفاد آتے رہے۔

بعثت رسول اکرم (ص)

یہاں تک کہ مالک نے اپنے وعدہ کو پورا کرنے اور اپنے نبوت کو مکمل کرنے کے لئے حضرت محمد(ص) کو بھیج دیا جن کے بارے میں انبیاء سے عہد لیا جا چکا تھا اور جن کی علامتیں مشہور اور ولادت مسعود و مبارک تھی۔اس وقت اہل زمین متفرق مذاہب'منتشر خواہشات اورمختلف راستوں پر گامزن تھے۔کوئی خدا کو مخلوقات کی شبیہ بتا رہا تھا۔کوئی اس کے ناموں کوبگاڑ رہا تھا۔اور کوئی دوسرے خدا کا اشارہ دے رہا تھا۔مالک نے آپ کے ذریعہ سب کو گمراہی سے ہدایت دی اورجہالت سے باہر نکال لیا۔

اس کے بعد اس نے آپ کی ملاقات کو پسند کیا اور انعامات سے نوازنے کے لئے اس دار دنیا سے بلند کرلیا۔


ورَغِبَ بِه عَنْ مَقَامِ الْبَلْوَى، فَقَبَضَه إِلَيْه كَرِيماً، وخَلَّفَ فِيكُمْ مَا خَلَّفَتِ الأَنْبِيَاءُ فِي أُمَمِهَا، إِذْ لَمْ يَتْرُكُوهُمْ هَمَلًا بِغَيْرِ طَرِيقٍ وَاضِحٍ ولَا عَلَمٍ قَائِمٍ

القرآن والأحكام الشرعية

كِتَابَ رَبِّكُمْ فِيكُمْ مُبَيِّناً حَلَالَه وحَرَامَه، وفَرَائِضَه وفَضَائِلَه ونَاسِخَه ومَنْسُوخَه ورُخَصَه وعَزَائِمَه وخَاصَّه وعَامَّه، وعِبَرَه وأَمْثَالَه ومُرْسَلَه ومَحْدُودَه ومُحْكَمَه ومُتَشَابِهَه مُفَسِّراً مُجْمَلَه ومُبَيِّناً غَوَامِضَه، بَيْنَ مَأْخُوذٍ مِيثَاقُ عِلْمِه ومُوَسَّعٍ

عَلَى الْعِبَادِ فِي جَهْلِه، وبَيْنَ مُثْبَتٍ فِي الْكِتَابِ فَرْضُه، ومَعْلُومٍ فِي السُّنَّةِ نَسْخُه، ووَاجِبٍ فِي السُّنَّةِ أَخْذُه، ومُرَخَّصٍ فِي الْكِتَابِ تَرْكُه، وبَيْنَ وَاجِبٍ بِوَقْتِه وزَائِلٍ فِي مُسْتَقْبَلِه، ومُبَايَنٌ بَيْنَ مَحَارِمِه مِنْ كَبِيرٍ أَوْعَدَ عَلَيْه نِيرَانَه، أَوْ صَغِيرٍ أَرْصَدَ لَه غُفْرَانَه، وبَيْنَ مَقْبُولٍ فِي أَدْنَاه مُوَسَّعٍ فِي أَقْصَاه.

آپ کو مصائب سے نجات دلادی اور نہایت احترام سے اپنی بارگاہ میں طلب کرلیا اور امت میں ویسا ہی انتظام کردیا جیسا کہ دیگر انبیاء نے کیا تھا کہ انہوں نے بھی قوم کو لاوارث نہیں چھوڑا تھا جس کے لئے کوئی واضح راستہ اورمستحکم نشان نہ ہو۔

قرآن اور احکام شرعیہ

انہوں نے تمہارے درمیان تمہارے پروردگار کی کتاب کو چھوڑا ہے جس کے حلال و حرام۔ فرائض و فضائل ناسخ و منسوخ۔رخصت و عزیمت۔خاص و عام۔عبرت و امثال ۔مطلق و مقید۔محکم و متشابہ سب کو واضح کردیا تھا۔مجمل کی تفسیرکردی تھی گتھیوں کو سلجھا دیاتھا۔اس میں بعض آیات ہیں جن کے علم کا عہد لیا گیا ہے اور بعض سے نا واقفیت کومعاف کردیا گیا ہے۔بعض احکام کے فرض کا کتاب میں ذکر کیا گیا ہے اور سنت سے ان کے منسوخ ہونے کا علم حاصل ہوا ہے یا سنت میں ان کے وجوب کا ذکرہوا ہے جب کہ کتاب میں ترک کرنے کی آزادی کا ذکرتھا۔بعض احکام ایک وقت میں واجب ہوئے ہیں اور مستقبل میں ختم کردئیے گئے ہیں۔اس کے محرمات میں بعض پر جہنم کی سزا سنائی گئی ہے اور بعض گناہ صغیرہ ہیں جن کی بخشش کی امید دلائی گئی ہے۔بعض احکام ہیں جن کا مختصر بھی قابل قبول ہے اور زیادہ کی بھی گنجائش پائی جاتی ہے۔


ومنها في ذكر الحج

وفَرَضَ عَلَيْكُمْ حَجَّ بَيْتِه الْحَرَامِ، الَّذِي جَعَلَه قِبْلَةً لِلأَنَامِ، يَرِدُونَه وُرُودَ الأَنْعَامِ ويَأْلَهُونَ إِلَيْه وُلُوه الْحَمَامِ، وجَعَلَه سُبْحَانَه عَلَامَةً لِتَوَاضُعِهِمْ لِعَظَمَتِه، وإِذْعَانِهِمْ لِعِزَّتِه، واخْتَارَ مِنْ خَلْقِه سُمَّاعاً أَجَابُوا إِلَيْه دَعْوَتَه، وصَدَّقُوا كَلِمَتَه ووَقَفُوا مَوَاقِفَ أَنْبِيَائِه، وتَشَبَّهُوا بِمَلَائِكَتِه الْمُطِيفِينَ بِعَرْشِه، يُحْرِزُونَ الأَرْبَاحَ فِي مَتْجَرِ عِبَادَتِه، ويَتَبَادَرُونَ عِنْدَه مَوْعِدَ مَغْفِرَتِه، جَعَلَه سُبْحَانَه وتَعَالَى لِلإِسْلَامِ عَلَماً، ولِلْعَائِذِينَ حَرَماً فَرَضَ حَقَّه وأَوْجَبَ حَجَّه، وكَتَبَ عَلَيْكُمْ وِفَادَتَه ، فَقَالَ سُبْحَانَه:( ولِلَّه عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطاعَ إِلَيْه سَبِيلًا، ومَنْ كَفَرَ فَإِنَّ الله غَنِيٌّ عَنِ الْعالَمِينَ )

ذکر حج بیت اللہ

پروردگار نے تم لوگوں پر حج بیت الحرام کو واجب قرار دیا ہے جسے لوگوں کے لئے قبلہ بنایا ہے اور جہاں لوگ پیاسے جانوروں کی طرح بے تابانہ وارد ہوتے ہیں اورویسا انس رکھتے ہیں جیسے کبوتر اپنے آشیانہ سے رکھتا ہے۔ ح ج بییت اللہ کو مالک نے اپنی عظمت کے سامنے جھکنے کی علامت اور اپنی عزت کے ایقان کی نشانی قراردیا ہے۔اس نے مخلوقات میں سے ان بندوں کا انتخاب کیا ہے جواس کی آواز سن کرلبیک کہتے ہیں اوراس کے کلمات کی تصدیق کرتے ہیں۔انہوں نے انبیاء کے مواقف ہیں وقوف کیا ہے اور طواف عرش کرنے والے فرشتوں کا انداز اختیار کیا ہے۔یہ لوگ اپنی عبادت کے معاملہ میں برابر فائدے حاصل کر رہے ہیں اورمغفرت کی وعدہ گاہ کی طرف تیزی سے سبقت کر رہے ہیں۔

پروردگار نے کعبہ کو اسلام کی نشانی اور بے پناہ افراد کی پناہ گاہ قرار دیا ہے۔اس کے حج کو فرض کیا ہے اور اس کے حق کو واجب قرار دیا ہے۔تمہارے اوپر اس گھر کی حاضری کو لکھ دیا ہے اور صاف اعلان کردیا ہے کہ'' اللہ کے لئے لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ اس کے گھر کا حج کریں جس کے پاس بھی اس راہ کو طے کرنے کی استطاعت پائی جاتی ہو۔ اور جس نے انکار کیا تو اللہ تعالی عالمین سے بے نیاز ہے


(۲)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

بعد انصرافه من صفين

وفيها حال الناس قبل البعثة وصفة آل النبي ثم صفة قوم آخرين

أَحْمَدُه اسْتِتْمَاماً لِنِعْمَتِه واسْتِسْلَاماً لِعِزَّتِه، واسْتِعْصَاماً مِنْ مَعْصِيَتِه، وأَسْتَعِينُه فَاقَةً إِلَى كِفَايَتِه، إِنَّه لَا يَضِلُّ مَنْ هَدَاه ولَا يَئِلُ مَنْ عَادَاه، ولَا يَفْتَقِرُ مَنْ كَفَاه، فَإِنَّه أَرْجَحُ مَا وُزِنَ وأَفْضَلُ مَا خُزِنَ، وأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَحْدَه لَا شَرِيكَ لَه، شَهَادَةً مُمْتَحَناً إِخْلَاصُهَا مُعْتَقَداً مُصَاصُهَا، نَتَمَسَّكُ بِهَا أَبَداً مَا أَبْقَانَا، ونَدَّخِرُهَا لأَهَاوِيلِ مَا يَلْقَانَا، فَإِنَّهَا عَزِيمَةُ الإِيمَانِ وفَاتِحَةُ الإِحْسَانِ، ومَرْضَاةُ الرَّحْمَنِ ومَدْحَرَةُ الشَّيْطَانِ

(۲)

صفیں سے واپسی پرآپ کے خطبہ کا ایک حصہ

جس میں بعثت پیغمبر(ص) کے وقت لوگوں کے حالات' آل رسول (ص) کے اوصاف اور دوسرے افراد کے کیفیات کاذکر کیا گیا ہے۔

میں پروردگار کی حمد کرتا ہوں اس کی نعمتوں کی تکمیل کے لئے اور اس کی عزت کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے۔ میں اس کی نا فرمانی سے تحفظ چاہتا ہوں اور اس سے مدد مانگتا ہوں کہ میں اسی کی کفایت و کفالت کا محتاج ہوں۔وہ جسے ہدایت دیدے وہ گمراہ نہیں ہو سکتا ہے اور جس کا وہ دشمن ہو جائے اسے کہیں پناہ نہیں مل سکتی ہے۔

جس کے لئے وہ کافی ہو جائے وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔اس حمد کا پلہ ہر باوزن شے سے گراں تر ہے اور یہ سرمایہ ہرخزانہ سے زیادہ قیمتی ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور یہ وہ گواہی ہے جس کے اخلاص کا امتحان ہو چکا ہے اور جس کا نچوڑ عقیدہ کا جزء بن چکا ہے۔میں اس گواہی سے تا حیات وابستہ رہوں گا اور اسی کو روز قیامت کے ہولناک مراحل کے لئے ذخیرہ بنائوں گا۔یہی ایمان کی مستحکم بنیاد ہے اوریہی نیکیوں کا آغاز ہے اور اسی میں رحمان کی مرضی اور شیطان کی تباہی کا راز مضمر ہے۔


وأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُه ورَسُولُه، أَرْسَلَه بِالدِّينِ الْمَشْهُورِ والْعَلَمِ الْمَأْثُورِ، والْكِتَابِ الْمَسْطُورِ والنُّورِ السَّاطِعِ، والضِّيَاءِ اللَّامِعِ والأَمْرِ الصَّادِعِ، إِزَاحَةً لِلشُّبُهَاتِ واحْتِجَاجاً بِالْبَيِّنَاتِ، وتَحْذِيراً بِالآيَاتِ وتَخْوِيفاً بِالْمَثُلَاتِ ، والنَّاسُ فِي فِتَنٍ انْجَذَمَ فِيهَا حَبْلُ الدِّينِ، وتَزَعْزَعَتْ سَوَارِي الْيَقِينِ ، واخْتَلَفَ النَّجْرُ وتَشَتَّتَ الأَمْرُ، وضَاقَ الْمَخْرَجُ وعَمِيَ الْمَصْدَرُ، فَالْهُدَى خَامِلٌ والْعَمَى شَامِلٌ، عُصِيَ الرَّحْمَنُ ونُصِرَ الشَّيْطَانُ وخُذِلَ الإِيمَانُ، فَانْهَارَتْ دَعَائِمُه وتَنَكَّرَتْ مَعَالِمُه، ودَرَسَتْ

سُبُلُه وعَفَتْ شُرُكُه ، أَطَاعُوا الشَّيْطَانَ فَسَلَكُوا مَسَالِكَه ووَرَدُوا مَنَاهِلَه ، بِهِمْ سَارَتْ أَعْلَامُه وقَامَ لِوَاؤُه فِي فِتَنٍ دَاسَتْهُمْ بِأَخْفَافِهَا ووَطِئَتْهُمْ بِأَظْلَافِهَا ، وقَامَتْ عَلَى سَنَابِكِهَا فَهُمْ فِيهَا تَائِهُونَ حَائِرُونَ جَاهِلُونَ مَفْتُونُونَ، فِي خَيْرِ دَارٍ وشَرِّ جِيرَانٍ، نَوْمُهُمْ سُهُودٌ وكُحْلُهُمْ دُمُوعٌ، بِأَرْضٍ عَالِمُهَا مُلْجَمٌ وجَاهِلُهَا مُكْرَمٌ.

اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ص) اللہ کے بندہ اور اس کے رسول ہیں۔انہیں پروردگار نے مشہور دین' ماثور نشانی' روشن کتاب' ضیاء پاش نور' چمکدار روشنی اور واضح امر کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ شبہات زائل ہو جائیں اور دلائل کے ذریعہ حجت تمام کی جاسکے' آیات کے ذریعہ ہو شیار بنایا جا سکے اورمثالوں کے ذریعہ ڈرایا جا سکے۔

یہ بعثت اس وقت ہوئی ہے جب لوگ ایسے فتنوں میں مبتلا تھے جن سے ریسمان دین ٹوٹ چکی تھی۔یقین کے ستون ہل گئے تھے۔اصول میں شدید اختلاف تھا اور امور میں سخت انتشار۔مشکلات سے نکلنے کے راستے تنگ و تاریک ہوگئے تھے۔ہدایت گمنام تھی اور گمراہی برسر عام۔،رحمان کی معصیت ہو رہی تھی اور شیطان کی نصرت' ایمان یکسر نظر انداز ہوگیا تھا' اس کے ستون گر گئے تھے اورآثار ناقابل شناخت ہوگئے تھے' راستے مٹ گئے تھے اور شاہراہیں بے نشان ہوگئی تھیں۔لوگ شیطان کی اطاعت میں اس کے راستہ پر چل رہے تھے۔ یہ لوگ ایسے فتنوں میں مبتلا تھے جنہوں نے انہیں پیروں تلے روند دیا تھا اور سموں سے کچل دیا تھا اور خود اپنے پنجوں کے بل کھڑے ہوگئے تھے۔یہ لوگ فتنوں میں حیران و سر گرداں اور جاہل و فریب خوردہ تھے۔ پروردگار نے انہیں اس گھر ( مکہ) میں بھیجا جو بہترین مکان تھا لیکن بدترین ہمسائے۔جن کی نیند بیداری تھی اور جن کا سرمہ آنسو۔ وہ سر زمین جہاں عالم کو لگام لگی ہوئی تھی اور جاہل محترم تھا


ومنها يعني آل النبي عليه الصلاة والسلام

هُمْ مَوْضِعُ سِرِّه ولَجَأُ أَمْرِه وعَيْبَةُ عِلْمِه ومَوْئِلُ حُكْمِه، وكُهُوفُ كُتُبِه وجِبَالُ دِينِه، بِهِمْ أَقَامَ انْحِنَاءَ ظَهْرِه وأَذْهَبَ ارْتِعَادَ فَرَائِصِه

ومِنْهَا يَعْنِي قَوْماً آخَرِينَ

زَرَعُوا الْفُجُورَ وسَقَوْه الْغُرُورَ وحَصَدُوا الثُّبُورَ، لَا يُقَاسُ بِآلِ مُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله مِنْ هَذِه الأُمَّةِ أَحَدٌ، ولَا يُسَوَّى بِهِمْ مَنْ جَرَتْ نِعْمَتُهُمْ عَلَيْه أَبَداً، هُمْ أَسَاسُ الدِّينِ وعِمَادُ الْيَقِينِ، إِلَيْهِمْ يَفِيءُ الْغَالِي وبِهِمْ يُلْحَقُ التَّالِي، ولَهُمْ خَصَائِصُ حَقِّ الْوِلَايَةِ، وفِيهِمُ الْوَصِيَّةُ والْوِرَاثَةُ، الآنَ إِذْ رَجَعَ الْحَقُّ إِلَى أَهْلِه ونُقِلَ إِلَى مُنْتَقَلِه!

آل رسول اکرم (ص)

یہ لوگ راز الٰہی کی منزل اورامر دین کا ملجاء و ماویٰ ہیں۔یہی علم خداکے مرکز اورحکم خداکی پناہ گاہ ہیں۔کتابوں نے یہیں پناہ لی ہے اور دین کے یہی کوہ گراں ہیں۔انہیں کے ذریعہ پرورگار نے دین کی پشت کی کجی سیدھی کی ہے اور انہیں کےذریعہ اس کے جوڑ بند کے رعشہ کا علاج کیا ہے ۔

ایک دوسری قوم

ان لوگوں نے فجور کا بیج بویا ہے اور اسے غرور کے پانی سے سینچا ہے اور نتیجہ میں ہلاکت کو کاٹاہے۔یادرکھو کہ آل محمد(ص) پر اس امت میں کس کا قیاس نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ان لوگوں کو ان کے بر قرار دیا جا سکتا ہے جن پر ہمیشہ ان کی نعمتوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔

آل محمد(ص) دین کی اساس اوریقین کا ستون ہیں۔ ان سے آگے بڑھ جانے والا پلٹ کرانہیں کی طرف آتا ہے اور پیچھے رہ جانے والا بھی انہیں سے آکر ملتا ہے۔ان کے پاس حق و لایت کے خصوصیات ہیں اور انہیں کے درمیان

پیغمبر(ص) کی وصیت اور ان کی وراثت ہے۔اب جب کہ حق اپنے اہل کے پاس واپس آگیا ہے اور اپنی منزل کی طرف منتقل ہوگیا ہے۔


(۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وهي المعروفة بالشقشقية

وتشتمل على الشكوى من أمر الخلافة ثم ترجيح صبره عنها ثم مبايعة الناس له

أَمَا واللَّه لَقَدْ تَقَمَّصَهَا فُلَانٌ وإِنَّه لَيَعْلَمُ أَنَّ مَحَلِّي مِنْهَا مَحَلُّ الْقُطْبِ مِنَ الرَّحَى، يَنْحَدِرُ عَنِّي السَّيْلُ ولَا يَرْقَى إِلَيَّ الطَّيْرُ، فَسَدَلْتُ دُونَهَا ثَوْباً وطَوَيْتُ عَنْهَا كَشْحاً وطَفِقْتُ أَرْتَئِي بَيْنَ أَنْ أَصُولَ بِيَدٍ جَذَّاءَ أَوْ أَصْبِرَ عَلَى طَخْيَةٍ عَمْيَاءَ ، يَهْرَمُ فِيهَا الْكَبِيرُ ويَشِيبُ فِيهَا الصَّغِيرُ، ويَكْدَحُ فِيهَا مُؤْمِنٌ حَتَّى يَلْقَى رَبَّه،

ترجيح الصبر

فَرَأَيْتُ أَنَّ الصَّبْرَ عَلَى هَاتَا أَحْجَى فَصَبَرْتُ وفِي الْعَيْنِ قَذًى وفِي الْحَلْقِ شَجًا أَرَى تُرَاثِي نَهْباً حَتَّى مَضَى الأَوَّلُ لِسَبِيلِه، فَأَدْلَى بِهَا إِلَى فُلَانٍ بَعْدَه، ثُمَّ تَمَثَّلَ بِقَوْلِ الأَعْشَى:

شَتَّانَ مَا يَوْمِي عَلَى كُورِهَا

ويَوْمُ حَيَّانَ أَخِي جَابِرِ

فَيَا عَجَباً بَيْنَا هُوَ يَسْتَقِيلُهَا فِي حَيَاتِه، إِذْ عَقَدَهَا لِآخَرَ بَعْدَ وَفَاتِه

(۳)

آپ کے ایک خطبہ کا حصہ

جسے شقشقیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے

آگاہ ہو جائو کہ خداکی قسم فلاں شخص ( ابن ابی قحافہ) نے قمیص خلافت کو کھینچ تان کر پہن لیا ہے حالانکہ اسے معلوم ہے کہ خلات کی چکی کے لئے میری حیثیت مرکزی کیل کی ہے۔علم کا سیلاب میری ذات سے گزر کرنیچے جاتا ہے اور میری بلندی تک کسی کا طائر فکر بھی پرواز نہیں کر سکتا ہے۔پھر بھی میں نے خلافت کے آگے پردہ ڈا ل دیا اور اس سے پہلے تہی کرلی اوریہ سوچنا شروع کردیا کہ کٹے ہوئے ہاتھوں سے حملہ کردوں یا اسی بھیانک اندھیرے پرصبر کرلوں جس میں سن رسیدہ بالکل ضعیف ہو جائے اوربچہ بوڑھا ہو جائے اور مومن محنت کرتے کرتے خدا کی بارگاہ تک پہنچ جائے۔

تو میں نے دیکھا کہ ان حالات میں صبر ہی قرین عقل ہے تو میں نے اس عالم میں صبر کرلیا کہ آنکھوں میں مصائب کی کھٹک تھی اورگلے میں رنج و غم کے پھندے تھے۔میں اپنی میراث کو لٹتے دیکھ رہا تھا ۔یہاں تک کہ پہلے خلیفہ نے اپنا راستہ لیا اور خلافت کو اپنے بعد فلاں کے حوالے کردیا بقول اعشی:''کہاں وہ دن جو گزرتا تھا میرا اونٹوں پر۔کہاں یہ دن کہ میں حیان کے جوار میں ہوں '' حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں استعفا دے رہا تھا اور مرنے کے بعد کے لئے دوسرے کے لئے طے کرگیا


لَشَدَّ مَا تَشَطَّرَا ضَرْعَيْهَا ، فَصَيَّرَهَا فِي حَوْزَةٍ خَشْنَاءَ يَغْلُظُ كَلْمُهَا ، ويَخْشُنُ مَسُّهَا ويَكْثُرُ الْعِثَارُ فِيهَا والِاعْتِذَارُ مِنْهَا، فَصَاحِبُهَا كَرَاكِبِ الصَّعْبَةِ ، إِنْ أَشْنَقَ لَهَا خَرَمَ وإِنْ أَسْلَسَ

لَهَا تَقَحَّمَ ، فَمُنِيَ النَّاسُ لَعَمْرُ اللَّه بِخَبْطٍ وشِمَاسٍ وتَلَوُّنٍ واعْتِرَاضٍ ، فَصَبَرْتُ عَلَى طُولِ الْمُدَّةِ وشِدَّةِ الْمِحْنَةِ حَتَّى إِذَا مَضَى لِسَبِيلِه، جَعَلَهَا فِي جَمَاعَةٍ زَعَمَ أَنِّي أَحَدُهُمْ فَيَا لَلَّه ولِلشُّورَى ، مَتَى اعْتَرَضَ الرَّيْبُ فِيَّ مَعَ الأَوَّلِ مِنْهُمْ، حَتَّى صِرْتُ أُقْرَنُ إِلَى هَذِه النَّظَائِرِ ، لَكِنِّي أَسْفَفْتُ إِذْ أَسَفُّوا وطِرْتُ إِذْ طَارُوا، فَصَغَا رَجُلٌ مِنْهُمْ لِضِغْنِه ، ومَالَ الآخَرُ لِصِهْرِه مَعَ هَنٍ وهَنٍ إِلَى أَنْ قَامَ ثَالِثُ الْقَوْمِ نَافِجاً حِضْنَيْه ، بَيْنَ نَثِيلِه ومُعْتَلَفِه ، وقَامَ مَعَه بَنُو أَبِيه يَخْضَمُونَ مَالَ اللَّه،

بیشک دونوں نے مل کر شدت سے اس کے تھنوں کو دوہا ہے۔اور اب ایک ایسی درشت اور سخت منزل میں رکھ دیا ہے جس کے زخم کاری ہیں اورجس کو چھونے سے بھی درشتی کا احساس ہوتا ہے۔لغزشوں کی کثرت ہے اورمعذرتوں کی بہتات! اس کو برداشت کرنے والا ایس ہی ہے جیسے سر کش اونٹنی کا سوار کہ مہار کھنیچ لے تو ناک زخمی ہو جائے اور ڈھیل دیدے تو ہلاکتوں میں کود پڑے۔تو خدا کی قسم لوگ ایک کجروی' سر کشی' تلون مزاجی اور بے راہ روی میں مبتلا ہوگئے ہیں اور میں نے بھی سخت حالات میں طویل مدت تک صبر کیا یہاں تک کہ وہ بھی اپنے راستہ چلا گیا لیکن خلافت کو ایک جماعت میں قرار دے گیا جن میں ایک مجھے بھی شمار کرگیا جب کہ میرا اس شوریٰ سے کیا تعلق تھا؟مجھ میں پہلے دن کون سا عیب و ریب تھا کہ آج مجھے ایسے لوگوں کے ساتھ ملایا جا رہا ہے۔لیکن اس کے باوجود میں نے انہیں کی فضا میں پرواز کی اور یہ نزدیک فضا میں اڑے تو وہاں بھی ساتھ رہا اور اونچے اڑے تو وہاں بھی ساتھ رہا مگرپھر بھی ایک شخص اپنے کینہ کی بنا پرمجھ سے منحرف ہوگیا اور دوسری دامادی کی طرف جھک گیا اور کچھ اوربھی ناقابل ذکراسباب واشخاص تھے جس کے نتجیہ میں تیسرا شخص سرگین اورچارہ کے درمیان پیٹ پھلائے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ اس کے اہل خاندان بھی کھڑے ہوئے جو مال خا کو اس طرح ہضم کر رہے تھے


خِضْمَةَ الإِبِلِ نِبْتَةَ الرَّبِيعِ ، إِلَى أَنِ انْتَكَثَ عَلَيْه فَتْلُه وأَجْهَزَ عَلَيْه عَمَلُه، وكَبَتْ بِه بِطْنَتُه

مبايعة علي

فَمَا رَاعَنِي إِلَّا والنَّاسُ كَعُرْفِ الضَّبُعِ ، إِلَيَّ يَنْثَالُونَ عَلَيَّ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ، حَتَّى لَقَدْ وُطِئَ الْحَسَنَانِ وشُقَّ عِطْفَايَ مُجْتَمِعِينَ حَوْلِي كَرَبِيضَةِ الْغَنَمِ ، فَلَمَّا نَهَضْتُ بِالأَمْرِ نَكَثَتْ طَائِفَةٌ ومَرَقَتْ أُخْرَى وقَسَطَ آخَرُونَ كَأَنَّهُمْ لَمْ يَسْمَعُوا اللَّه سُبْحَانَه يَقُولُ:( تِلْكَ الدَّارُ الآخِرَةُ نَجْعَلُها لِلَّذِينَ، لا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الأَرْضِ ولا فَساداً، والْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ ) ،

جس طرح اونٹ بہار کی گھاس کو چرلیتا ہے یہاں تک کہ اس کی بٹی ہوئی رسی کے بل کھل گئے اور اس کے اعمال نے اس کا خاتمہ کردیا اور شکم پری نے منہ کے بل گرادیا

اس وقت مجھے جس چیزنے دہشت زدہ کردیا یہ تھی کہ لوگ بجوں کی گردن(۱) کے بال کی طرح میرے گرد جمع ہوگئے اور چاروں طرف سے میرے اوپر ٹوٹ پڑے یہاں تک کہ حسن و حسین کچل گئے اور میری ردا کے کنارے پھٹ گئے ۔یہ سب میرے گرد بکریوں کے گلہ کی طرح گھیرا ڈالے ہوئے تھے۔لیکن جب میں نے ذمہ داری سنبھالی اوراٹھ کھڑے ہوا تو ایک گروہ نے بیعت توڑ دی اوردوسرا دین سے باہرنکل گیا اور تیسرے نے فسق اختیار کرلیا جیسے کہ ان لوگوں نے یہ ارشاد الٰہی سنا ہی نہیں ہے کہ'' یہ دارآخرت ہم صرف ان لوگوں کے لئے قراردیتے ہیں جو دنیا میں بلندی اور فساد نہیں چاہتے ہیں اور عاقبت صرف اہل تقوی کے لئے ہیں ''۔

(۱)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عثمان کے تصرفات نے تمام عالم اسلام کوناراض کردیا تھا۔حضرت عائشہ انہیں نعثل یہودی قراردے کر لوگوں کو قتل پرآمادہ کر رہی تھیں۔طلحہ انہیں واجب القتل قراردے رہا تھا۔زبیر در پردہ قاتلوں کی حمایت کر رہا تھا لیکن ان سب کا مقصد امت اسلامیہ کو نا اہل سے نجات دلانا نہیں تھا بلکہ آئندہ خلافت کی زمین کو ہموار کرنا تھا اورحضرت علی اس حقیقت سے مکمل طور پر باخبر تھے۔اس لئے جب انقلابی گروہ نے خلافت کی پیشکش تو آپنے انکار کردیا کہ قتل کا سارا الزام اپنی گردن پرآجائے گا اور اس وقت تک قبول نہیں کیا جب تک تمام انصار و مہاجرین نے اس امر کا اقرارنہیں کرلیا کہ آپ کے علاوہ امت کا مشکل کشاہ کوئی نہیں ہے اور اس کے بعد بھی منبر رسول (ص) پر بٹھ کر بیعت لی تاکہ جانشینی کاصحیح مفہوم واضح ہو جائے۔یہ اور بات ہے کہ اس وقت بھی سعد بن ابی وقاص اورعبداللہ بن عمر جیسے افراد نے بیعت نہیں کی اور حضرت عائشہ کو بھی جیسے ہی اس '' حادثہ'' کی اطلاع ملی انہوں نے عثمان کی مظلومیت کا اعلان شروع کردیا اور طلحہ و زبیر کی محرومی کا انتقام لینے کا ارادہ کرلیا۔آپ کے حضرت علی سے اختلاف کی ایک بنیاد یہ بھی تھی کہ حضور(ص) نے اولاد علی کواپنی اولاد قراردے دیا تھا اور قرآن مجید نے انہیں ابنائنا کالقب دے دیا تھا اورحضرت عائشہ مستقل طور پر محروم اولاد تھیں لہٰذا ان میں یہ جذبہ حسد پیدا ہونا ہی چاہتے تھا۔


بَلَى واللَّه لَقَدْ سَمِعُوهَا ووَعَوْهَا، ولَكِنَّهُمْ حَلِيَتِ الدُّنْيَا فِي أَعْيُنِهِمْ ورَاقَهُمْ زِبْرِجُهَا

أَمَا والَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وبَرَأَ النَّسَمَةَ ، لَوْ لَا حُضُورُ الْحَاضِرِ وقِيَامُ الْحُجَّةِ بِوُجُودِ النَّاصِرِ، ومَا أَخَذَ اللَّه عَلَى الْعُلَمَاءِ، أَلَّا يُقَارُّوا عَلَى كِظَّةِ ظَالِمٍ ولَا سَغَبِ مَظْلُومٍ، لأَلْقَيْتُ حَبْلَهَا عَلَى غَارِبِهَا - ولَسَقَيْتُ آخِرَهَا بِكَأْسِ أَوَّلِهَا - ولأَلْفَيْتُمْ دُنْيَاكُمْ هَذِه أَزْهَدَ عِنْدِي مِنْ عَفْطَةِ عَنْزٍ

قَالُوا وقَامَ إِلَيْه رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ السَّوَادِ - عِنْدَ بُلُوغِه إِلَى هَذَا الْمَوْضِعِ مِنْ خُطْبَتِه - فَنَاوَلَه كِتَاباً قِيلَ إِنَّ فِيه مَسَائِلَ كَانَ يُرِيدُ الإِجَابَةَ عَنْهَا فَأَقْبَلَ يَنْظُرُ فِيه [فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَتِه] قَالَ لَه ابْنُ عَبَّاسٍ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - لَوِ اطَّرَدَتْ خُطْبَتُكَ مِنْ حَيْثُ أَفْضَيْتَ!

فَقَالَ هَيْهَاتَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ - تِلْكَ شِقْشِقَةٌ هَدَرَتْ ثُمَّ قَرَّتْ

ہاں ہاں خداکی قسم ان لوگوں نے یہ ارشاد سنا بھی ہے اور سمجھے بھی ہیں لیکن دنیا ان کی نگاہوں میں آراستہ ہوگئی اور اس کی چمک دمک نے انہیں نبھا لیا۔

آگاہ ہو جائو وہ خدا گواہ ہے جس نے دانہ کو شگافتہ کیا ہے اورذی روح کو پیدا کیا ہے کہ اگر حاضرین کی موجودگی اور انصار کے وجود سے حجت تمام نہ ہوگئی ہوتی اوراللہ کا اہل علم سے یہ عہد نہ ہوتا کہ خبردار ظالم کی شکم پری اور مظلوم کی گرسنگی پرچین سے نہ بیٹھنا تو میں آج بھی اس خلافت کی رسی کو اسی کی گردن پر ڈال کر ہنکا دیتا اور اس کی آخر کواول ہی کے کاسہ سے سیراب کرتا اور تم دیکھ لیتے کہ تمہاری دنیا میری نظرمیں بکری کی چھینک سے بھی زیادہ بے قیمت ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اس موقع پرایک عراقی باشندہ اٹھ کھڑا ہوا اوراس نے آپ کو ایک خط دیا جس ک بارے میں خیال ہے کہ اس میں کچھ فوری جواب طلب مسائل تھے۔چنانچہ آپ نے اس خط کو پڑھنا شروع کردیا اور جب فارغ ہوئے تو ابن عباس نے عرض کی کہ حضوربیان جاری رہے؟فرمایا کہ افسوس ابن عباس یہ توایک شقشقہ تھا جوابھر کر دب گیا۔

(شقشقہ اونٹ کے منہ میں وہ گوشت کا لوتھڑا ہے جو غصہ اور ہیجان کے وقت باہر نکل آتا ہے )


قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَوَاللَّه مَا أَسَفْتُ عَلَى كَلَامٍ قَطُّ - كَأَسَفِي عَلَى هَذَا الْكَلَامِ - أَلَّا يَكُونَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَعليه‌السلام بَلَغَ مِنْه حَيْثُ أَرَادَ.

* *

قال الشريف رضيرضي‌الله‌عنه قولهعليه‌السلام كراكب الصعبة إن أشنق لها خرم - وإن أسلس لها تقحم - يريد أنه إذا شدد عليها في جذب الزمام - وهي تنازعه رأسها خرم أنفها - وإن أرخى لها شيئا مع صعوبتها - تقحمت به فلم يملكها - يقال أشنق الناقة إذا جذب رأسها بالزمام فرفعه - وشنقها أيضا ذكر ذلك ابن السكيت في إصلاح المنطق - وإنما قالعليه‌السلام أشنق لها ولم يقل أشنقها - لأنه جعله في مقابلة قوله أسلس لها - فكأنهعليه‌السلام قال إن رفع لها رأسها بمعنى أمسكه عليها بالزمام -

ابن عباس کہتے ہیں کہ بخدا قسم مجھے کسی کلام کے نا تمام رہ جانے کا اس قدر افسوس نہیں ہوا جتنا افسوس اس امر پرہوا کہ امیر المومنین اپنی بات پوری نہ فرما سکے اور آپ کا کلام نا تمام رہ گیا۔

سید شریف رضی فرماتے ہیں کہ امیر المومنین کے ارشاد''ان اشنقلها…… کا مفہوم یہ ہے کہ اگر ناقہ پر مہارکھینچنے میں سختی کی جائے گیاور وہ سر کشی پرآمادہ ہو جائے گا تو اس کی ناک زخمی ہو جائے گی اوراگر ڈھیلا چھوڑ دیا جائے تو اختیار سے باہر نکل جائے گا۔عرب''اشنق الناقة'' اس موقع پر استعمال کرتے ہیں جب اس کے سر کو مہار کے ذریعہ کھینچا جاتا ہے اور وہ سر اٹھالیتا ہے۔اس کیفیت کو''شنقها ''سے بھی تعبیر کرتے ہیں جیسا کہ ابن السکیت نے'' اصلاح المنطق'' میں بیان کیا ہے۔لیکن امیرالمومنین نے اس میں ایک لام کا اضافہ کردیا ہے ''اشنق لھا'' تاکہ بعد کے جملہ'' اسلس لها '' سے ہم آہنگ ہو جائے اور فصاحت کا نظام درہم برہم نہ ہونے پائے۔


(۴)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وهي من أفصح كلامهعليه‌السلام وفيها يعظ الناس ويهديهم من ضلالتهم

ويقال: إنه خطبها بعد قتل طلحة والزبير

بِنَا اهْتَدَيْتُمْ فِي الظَّلْمَاءِ وتَسَنَّمْتُمْ ذُرْوَةَ - الْعَلْيَاءِ وبِنَا أَفْجَرْتُمْ عَنِ السِّرَارِ - وُقِرَ سَمْعٌ لَمْ يَفْقَه الْوَاعِيَةَ - وكَيْفَ يُرَاعِي النَّبْأَةَ مَنْ أَصَمَّتْه الصَّيْحَةُ - رُبِطَ جَنَانٌ لَمْ يُفَارِقْه الْخَفَقَانُ - مَا زِلْتُ أَنْتَظِرُ بِكُمْ عَوَاقِبَ الْغَدْرِ - وأَتَوَسَّمُكُمْ بِحِلْيَةِ الْمُغْتَرِّينَ - حَتَّى سَتَرَنِي عَنْكُمْ جِلْبَابُ الدِّينِ - وبَصَّرَنِيكُمْ صِدْقُ النِّيَّةِ - أَقَمْتُ لَكُمْ عَلَى سَنَنِ الْحَقِّ فِي جَوَادِّ الْمَضَلَّةِ - حَيْثُ تَلْتَقُونَ ولَا دَلِيلَ وتَحْتَفِرُونَ ولَا تُمِيهُونَ.

الْيَوْمَ أُنْطِقُ لَكُمُ الْعَجْمَاءَ ذَاتَ الْبَيَانِ

(۴)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

جوفصیح ترین کلمات میں شمار ہوتا ہے اور جس میں لوگوں کو نصیحت کی گئی ہے اور انہیں گمراہی سے ہدایت کے راستہ پرلایا گیا ہے۔(طلحہ و زبیر کی بغاوت اورقتل عثمان کے پس منظر میں فرمایا)

تم لوگوں نے ہماری ہی وجہ سے تاریکیوں میں ہدایت کا راستہ پایاہے اوربلندی کے کوہان پر قدم جمائے ہیں اور ہماری ہی وجہ سے اندھری راتوں سے اجالے کی طرف باہرآئے ہو۔ وہ کان بہرے ہو جائیں جو پکارنے والے کی آواز نہ سن سکیں اور وہ لوگ بھلا دھیمی آواز کو کیا سن سکیں گے جن کے کان بلند ترین آوازوں کے سامنے بھی بہرے ہی رہے ہوں۔مطمئن دل وہی ہوتا ہے جویاد الٰہی اورخوف خدا میں مسلسل دھڑکتا رہتا ہے۔میں روزاول سے تمہاری غداری کے انجام کا انتظار کر رہا ہوں اور تمہیں فریب خوردہ لوگوں کے انداز سے پہچان رہا ہوں۔مجھے تم سے دینداری کی چادر نے پوشیدہ کردیا ہے لیکن صدق نیت نے میرے لئے تمہارے حالات کو آئینہ کردیا ہے۔میں نے تمہارے لئے گمراہی کی منزلوں میں حق کے راستوں پر قیام کیا ہے جہاں تم ایک دوسرے سے ملتے تھے لیکن کوئی راہنما نہ تھا اور کنواں کھودتے تھے لیکن پانی نصیب نہ ہوتا تھا۔

آج میں تمہارے لئے اپنی اس زبان خاموش کو گویا بنا رہا ہوں جس میں بڑی قوت بیان ہے


عَزَبَ رَأْيُ امْرِئٍ تَخَلَّفَ عَنِّي - مَا شَكَكْتُ فِي الْحَقِّ مُذْ أُرِيتُه - لَمْ يُوجِسْ مُوسَىعليه‌السلام خِيفَةً عَلَى نَفْسِه - بَلْ أَشْفَقَ مِنْ غَلَبَةِ الْجُهَّالِ ودُوَلِ الضَّلَالِ الْيَوْمَ تَوَاقَفْنَا عَلَى سَبِيلِ الْحَقِّ والْبَاطِلِ مَنْ وَثِقَ بِمَاءٍ لَمْ يَظْمَأْ!

(۵)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

لما قبض رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله

وخاطبه العباس وأبو سفيان بن حرب - في أن يبايعا له بالخلافة (وذلك بعد أن تمت البيعة لأبي بكرفي السقيفة، وفيها ينهى عن الفتنة ويبين عن خلقه وعلمه)

النهي عن الفتنة

أَيُّهَا النَّاسُ شُقُّوا أَمْوَاجَ الْفِتَنِ بِسُفُنِ النَّجَاةِ - وعَرِّجُوا عَنْ طَرِيقِ الْمُنَافَرَةِ - وضَعُوا تِيجَانَ الْمُفَاخَرَةِ - أَفْلَحَ مَنْ نَهَضَ بِجَنَاحٍ أَوِ اسْتَسْلَمَ فَأَرَاحَ - هَذَا مَاءٌ آجِنٌ

یاد رکھو کہ اس شخص کی رائے گم ہوگئی ہے جس نے مجھ سے رو گردانی کی ہے۔میں نے روز اول سے آج تک حق کے بارے میں کبھی شک نہیں کیا میرا سکوت مثل موسی ہے موسی کو اپنے نفس کے بارے میں خوف نہیں تھاانہیں دربار فرعون میں صرف یہ خوف تھا کہ کہیں جاہل جادوگر اورگمراہ حکام عوام کی عقلوں پر غالب نہ آجائیں۔آج ہم سے حق و باطل کے راستہ پرآمنے سامنے ہیں اوریاد رکھو جسے پانی پر اعتماد ہوتا ہے وہ پیاسا نہیں رہتا ہے۔

(۵)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

جو آپ کے وفات پیغمبراسلام(ص) کے موقع پر ارشاد فرمایا تھا جب عباس اورابو سفیان نے آپ سے بیعت لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایہا الناس! فتنوں کی موجوں کو نجات کی کشتیوں سے چیر کرنکل جائو اور منافرت کے راستوں سے الگ رہو۔باہمی فخر و مباہات کے تاج اتار دو کہ کامیابی اسی کا حصہ ہے جو اٹھے تو بال و پر کے ساتھ اٹھے ورنہ کرسی کو دوسروں کے حوالے کرکے اپنے کوآزاد کرلے۔یہ پانی بڑا گندہ(۱) ہے۔

(۱) امیر المومنین نے حالات کی وہ بہترین تصویر کشی کی ہے جس کی طرف ابو سفیان جیسے افراد متوجہ نہیں تھے یا سازشوں کا پردہ ڈالنا چاہتے تھے آپ نے واضح لفظوں میں فرمادیا کہ مجھے اس مطالبہ بیعت اوروعدہ نصرت کا انجام معلوم ہے اور میں اس وقت قیام کونا وقت قیام تصور کرتا ہوں جس کا کوئی مثبت نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے لہٰذا بہتر یہ ہے کہ انسان پہلے بال و پر تلاش کرلے اس کے بعد اڑنے کا ارادہ کرے ورنہ خاموش ہو کر بیٹھ جائے کہ اس میں عافیت ہے اور یہی تقاضائے عقل و منطق ہے۔میں اس طعن و طنز سے بھی با خبر ہوں جو میرے اقدامات کے بارے میں استعمال ہو رہے ہیں لیکن میں کوئی جذباتی انسان نہیں ہوں کہ ان جملوں سے گھبرا جائوں۔میں مشیت الٰہی کا پابند ہوں اور اس کے خلاف ایک قدم آگے نہیں بڑھا سکتا ہوں۔


ولُقْمَةٌ يَغَصُّ بِهَا آكِلُهَا. ومُجْتَنِي الثَّمَرَةِ لِغَيْرِ وَقْتِ إِينَاعِهَا كَالزَّارِعِ بِغَيْرِ أَرْضِه.

خلقه وعلمه

فَإِنْ أَقُلْ يَقُولُوا حَرَصَ عَلَى الْمُلْكِ - وإِنْ أَسْكُتْ يَقُولُوا جَزِعَ مِنَ الْمَوْتِ - هَيْهَاتَ بَعْدَ اللَّتَيَّا والَّتِي واللَّه لَابْنُ أَبِي طَالِبٍ آنَسُ بِالْمَوْتِ - مِنَ الطِّفْلِ بِثَدْيِ أُمِّه - بَلِ انْدَمَجْتُ عَلَى مَكْنُونِ عِلْمٍ لَوْ بُحْتُ بِه لَاضْطَرَبْتُمْ - اضْطِرَابَ الأَرْشِيَةِ فِي الطَّوِيِّ الْبَعِيدَةِ!

(۶)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لا أشير عليه بألا يتبع طلحة والزبير ولا يرصد لهما القتالوفيه يبين عن صفته بأنه عليه‌السلام لا يخدع

واللَّه لَا أَكُونُ كَالضَّبُعِ تَنَامُ عَلَى طُولِ اللَّدْمِ

اور اس لقمہ میں اچھو لگ جانے کاخطرہ ہے اور یاد رکھو کہ نا وقت پھل چننے والا ایسا ہی ہے جیسے نا مناسب زمین میں زراعت کرنے والا۔ (میری مشکل یہ ہے کہ) میں بولتا ہوں تو کہتے ہیں کہ اقتدار کی لالچ رکھتے ہیں اورخاموش ہو جاتا ہوں تو کہتے ہیں کہ موت سے ڈر گئے ہیں۔

افسوس اب یہ بات جب میں تمام مراحل دیکھ چکا ہوں۔خدا کی قسم ابو طالب کافرزند موت سے اس سے زیادہ مانوس ہے جتنا بچہ سر چشمہ حیات سے مانوس ہوتا ہے۔البتہ میرے سینہ کی تہوں میں ایک ایسا پوشیدہ علم ہے جو مجھے مجبور کئے ہوئے ہے ورنہ اسے ظاہر کردوں تو تم اسی طرح لرزنے لگو گے جس طرح گہرے کنویں میں رسی تھرتھراتی اور لرزتی ہے۔

(۶)

حضرت کا ارشاد گرامی

جب آپ کو مشورہ دیا گیا کہ طلحہ و زبیر کا پیچھا نہ کریں اور ان سے جنگ کا بندو بست نہ کریں

خدا کی قسم میں اس بجو(۱) کے مانند نہیں ہو سکتا جس کا شکاری مسلسل کھٹکھٹاتا رہتا ہے اور وہ آنکھ بند کئے پڑا رہتا ہے ،

(۱) بجو کو عربی میں ام عامر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔اس کے شکار کا طریقہ یہ ہے کہ شکاری اس کے گرد گھیرا ڈال کر زمین کو تھپتھپاتا ہے اور وہ اندر سوراخ میں گھس کر بیٹھ جاتا ہے۔پھر شکاری اعلان کرتا ہے کہ ام عامر نہیں ہے اور وہ اپنے کو سویا ہوا ظاہر کرنے کے لئے پیر پھیلا دیتا ہے اور شکاری پیر میں رسی باندھ کر کھینچ لیتا ہے ۔یہ انتہائی احمقانہ عمل ہوتا ہے جس کی بنا پر بجو کو حماقت کی مثال بنا کر پیش کیا جاتا ہے آپ(ص) کا ارشاد گرامی ہے کہ جہاد سے غافل ہو کر خانہ نشین ہو جانا اور شام کے لشکروں کو مدینہ کا راستہ بتا دینا ایک بجو کا عمل تو ہو سکتا ہے لیکن عقل کا اورباب مدینة العلم کا کردارنہیں ہوسکتا ہے۔


حَتَّى يَصِلَ إِلَيْهَا طَالِبُهَا ويَخْتِلَهَا رَاصِدُهَاولَكِنِّي أَضْرِبُ بِالْمُقْبِلِ إِلَى الْحَقِّ الْمُدْبِرَ عَنْه - وبِالسَّامِعِ الْمُطِيعِ الْعَاصِيَ الْمُرِيبَ أَبَداً - حَتَّى يَأْتِيَ عَلَيَّ يَوْمِي - فَوَاللَّه مَا زِلْتُ مَدْفُوعاً عَنْ حَقِّي - مُسْتَأْثَراً عَلَيَّ مُنْذُ قَبَضَ اللَّه نَبِيَّه صوسلم حَتَّى يَوْمِ النَّاسِ هَذَا.

(۷)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يذم فيها أتباع الشيطان

اتَّخَذُوا الشَّيْطَانَ لأَمْرِهِمْ مِلَاكاً واتَّخَذَهُمْ لَه أَشْرَاكاً فَبَاضَ وفَرَّخَ فِي صُدُورِهِمْ ودَبَّ ودَرَجَ فِي حُجُورِهِمْ - فَنَظَرَ بِأَعْيُنِهِمْ ونَطَقَ بِأَلْسِنَتِهِمْ - فَرَكِبَ بِهِمُ الزَّلَلَ وزَيَّنَ لَهُمُ الْخَطَلَ فِعْلَ مَنْ قَدْ شَرِكَه الشَّيْطَانُ فِي سُلْطَانِه ونَطَقَ بِالْبَاطِلِ عَلَى لِسَانِه!

یہاں تک کہ گھات لگانے والا اسے پکڑ لیتا ہے۔میں حق کی طرف آنے والوں کے ذریعہ انحراف کرنے والوں پر اوراطاعت کرنے والوں کے سہارے معصیت کا ر تشکیک کرنے والوں پر مسلسل ضرب لگاتا رہوں گا یہاں تک کہ میرا آخری دن آجائے۔خدا گواہ ہے کہ میں ہمیشہ اپنے حق سے محروم رکھا گیا ہوں اور دوسروں کو مجھ پرمقدم کیا گیا ہے جب سے سرکار دو عالم(ص) کا انتقال ہوا ہے اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔

(۷)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

جس میں شیطان کے پیروکاروں کی مذمت کی گئی ہے

ان لوگوں نے شیطان کو اپنے امور کا مالک و مختار بنالیا ہے اور اس نے انہیں اپناآلہ کا ر قرار دے لیا ہے اور انہیں کی سینوں میں(۱) انڈے بچے د ئی ے ہیں اور وہ انہیں کی آغوش میں پلے بڑھے ہیں۔اب شیطان انہیں کی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور انہیں کی زبان سے بولتا ہے۔انہیں لغزش کی راہ پر لگا دیا ہے اوران کے لئے غلط باتوں کو آراستہ کردیا ہے جیسے کہ اس نے انہیں اپنے کاروبارمیں شریک بنالیا ہو اور اپنے حرف باطل کو انہیں کی زبان سے ظاہر کرتا ہو۔

(۱)شیطانوں کی تخلیق میں انڈے بچے ہوتے ہیں یا نہیں۔یہ مسئلہ اپنی جگہ پرقابل تحقیق ہے لیکن حضرت کی مراد یہ ہے کہ شیاطین اپنے معنوی بچوں کو انسانی معاشرہ سے الگ کسی ماحول میں نہیں رکھتے ہیں بلکہ ان کی پرورش اسی ماحول میں کرتے ہیں اور پھر انہیں کے ذریعہ اپنے مقاصد کی تکمیل کرتے ہیں۔

زمانہ کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو انداز ہو گا کہ شیاطین زمانہ اپنی اولاد کو مسلمانوں کی آغوش میں پالتے ہیں اور مسلمانوں کی اولاد کو اپنی گود میں پالتے ہیں تاکہ مستقبل میں انہیں مکمل طور پر استعمال کیا جا سکے اور اسلام کو اسلام کے ذریعہ فنا کیا جا سکے جس کا سلسلہ کل کے شام سے شروع ہوا تھا اور آج کے عالم اسلام تک جاری و ساری ہے۔


(۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

يعني به الزبير في حال اقتضت ذلك ويدعوه للدخول في البيعة ثانية

يَزْعُمُ أَنَّه قَدْ بَايَعَ بِيَدِه ولَمْ يُبَايِعْ بِقَلْبِه - فَقَدْ أَقَرَّ بِالْبَيْعَةِ وادَّعَى الْوَلِيجَةَ - فَلْيَأْتِ عَلَيْهَا بِأَمْرٍ يُعْرَفُ - وإِلَّا فَلْيَدْخُلْ فِيمَا خَرَجَ مِنْه.

(۹)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في صفته وصفة خصومه ويقال إنها في أصحاب الجمل

وقَدْ أَرْعَدُوا وأَبْرَقُوا ومَعَ هَذَيْنِ الأَمْرَيْنِ الْفَشَلُ ولَسْنَا نُرْعِدُ حَتَّى نُوقِعَ ولَا نُسِيلُ حَتَّى نُمْطِرَ.

(۸)

آپ کا ارشاد گرامی

زبیر کے بارے میں

جب ایسے حالات پیدا ہوگئے اور اسے دوبارہ بیعت کے دائرہ میں داخل ہونا پڑے گا جس سے نکل گیا ہے

زبیر کا خیال یہ ہے کہ اس نے صرف ہاتھ سے میری بیعت کی ہے اور دل سے بیعت نہیں کی ہے۔تو بیعت کا تو بہر حال اقرار کرلیا ہے۔اب صرف دل کے کھوٹ کا ادعا کرتا ہے تو اسے اس کا واضح ثبوت فراہم کرناپڑے گاورنہ اسی بیعت میں دوبارہ داخل ہوناپڑے گا جس سے نکل گیا ہے۔

(۹)

آپ کے کلام کا ایک حصہ

جس میں اپنے اوربعض مخالفین کے اوصاف کا تذکرہ فرمایا ہے اور شاید اس سے مراد اہل جمل ہیں۔

یہ لوگ بہت گرجے اوربہت چمکے لیکن آخر میں ناکام ہی رہے جب کہ اس وقت تک گرجتے نہیں ہیں جب تک دشمن پر ٹوٹ نہ پڑیں اور اس وقت تک لفظوں کی روانی نہیں دکھلاتے جب تک کہ برس نہ پڑیں۔


(۱۰)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يريد الشيطان أو يكني به عن قوم

أَلَا وإِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ جَمَعَ حِزْبَه - واسْتَجْلَبَ خَيْلَه ورَجِلَه وإِنَّ مَعِي لَبَصِيرَتِي مَا لَبَّسْتُ عَلَى نَفْسِي ولَا لُبِّسَ عَلَيَّ - وايْمُ اللَّه لأُفْرِطَنَّ لَهُمْ حَوْضاً أَنَا مَاتِحُه لَا يَصْدُرُونَ عَنْه ولَا يَعُودُونَ إِلَيْه.

(۱۱)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لابنه محمد ابن الحنفية - لما أعطاه الراية يوم الجمل

تَزُولُ الْجِبَالُ ولَا تَزُلْ -.

(۱۰)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

جس کا مقصد شیطان ہے یا شیطان صفت کوئی گروہ

آگاہ ہو جائو کہ شیطان نے اپنے گروہ کوجمع کرلیا ہے اور اپنے پیادہ و سوار سمیٹ لئے ہیں۔لیکن پھربھی میرے ساتھ میری بصیرت ہے۔نہ میں نے کسی کو دھوکہ دیا ہے اور نہ واقعا دھوکہ کھایا ہے اور خدا کی قسم میں ان کے لئے ایسے حوض کو چھلکائوں گا جس کا پانی نکالنے والا بھی میں ہی ہوں گا کہ یہ نہ نکل سکیں گے اور نہ پلٹ کرآسکیں گے

(۱۱)

آپ کا ارشاد گرامی

اپنے فرزند محمد بن الخفیہ سے

( میدان جمل میں علم لشکر دیتے ہوئے)

خبردار(۱) پہاڑاپنی جگہ سے ہٹ جائے۔ تم نہ ہٹنا۔

(۱) حیرت کی بات ہے کہ جو انسان فنون جنگ کی تعلیم دیتا ہو اسے موت سے خوف زدہ ہونے کا الزام دیدیا جائے۔امیر المومنین کی مکمل تاریخ حیات گواہ ہے کہ آپ سے بڑا شجاع و بہادرکائنات میں نہیں پیدا ہوا ہے۔آپ موت کو سر چشمہ حیات تصور کرتے تھے جس کی طرف بچہ فطری طورپر ہمکتا ہے اور اسے اپنی زندگی کا راز تصور کرتا ہے۔آپ نے صفیں کے میدان میں وہ تیغ کے جوہر دکھلائے ہیں جس نے ایک مرتبہ پھر بدر واحد و خندق و خیبر کی یاد تازہ کردی تھی اور یہ ثابت کردیا تھا کہ یہ بازد ۲۵ سال کے سکوت کے بعد بھی شل نہیں ہوئے ہیں اور یہ فن حرب کسی مشق و مہارت کا نتیجہ نہیں ہے۔ محمد حنفیہ سے خطاب کرکے یہ فرمانا کہ'' پہاڑ ہٹ جائے تم نہ ہٹنا'' اس امر کی دلیل ہے کہ آپ کی استقامت اس سے کہیں زیادہ پائیدار اور استوار ہے دانتوں کو بھینچ لینے میں اشارہ ہے کہ اس طرح رگوں کے تنائو پرتلوار کا وار اثر نہیں کرتا ہے۔کاسہ سر کو عاریت دیدینے کا مطلب یہ ہے کہ مالک زندہ رکھنا چاہے گا تو دوبارہ یہ سر واپس لیا جا سکتا ہے ورنہ بندہ نے تو اس کی بارگاہ میں پیش کردیا ہے۔آنکھوں کو بند رکھنے اور آخر قوم پر نگاہ رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ سامنے کے لشکر کو مت دیکھنا۔بس یہ دیکھنا کہ کہاں تک جانا ہے اور کس طرح صفوں کو پامال کردینا ہے۔ آخری فقرہ جنگ اور جہاد کے فرق کو نمایاں کرتا ہے کہ جنگ جو اپنی طاقت پر بھروسہ کرتا ہے اور مجاہد نصرت الٰہی کے اعتماد پرمیدان میں قدم جماتا ہے اور جس کی خدا مدد کردے وہ کبھی مغلوب نہیں ہو سکتا ہے۔


عَضَّ عَلَى نَاجِذِكَ أَعِرِ اللَّه جُمْجُمَتَكَ - تِدْ فِي الأَرْضِ قَدَمَكَ ارْمِ بِبَصَرِكَ أَقْصَى الْقَوْمِ وغُضَّ بَصَرَكَ واعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مِنْ عِنْدِ اللَّه سُبْحَانَه

(۱۲)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لما أظفره الله بأصحاب الجمل وقَدْ قَالَ لَهعليه‌السلام بَعْضُ أَصْحَابِه - وَدِدْتُ أَنَّ أَخِي فُلَاناً كَانَ شَاهِدَنَا - لِيَرَى مَا نَصَرَكَ اللَّه بِه عَلَى أَعْدَائِكَ

فَقَالَ لَهعليه‌السلام أَهَوَى أَخِيكَ مَعَنَا فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَقَدْ شَهِدَنَا - ولَقَدْ شَهِدَنَا فِي عَسْكَرِنَا هَذَا أَقْوَامٌ فِي أَصْلَابِ الرِّجَالِ - وأَرْحَامِ النِّسَاءِ - سَيَرْعَفُ بِهِمُ الزَّمَانُ ويَقْوَى بِهِمُ الإِيمَانُ.

اپنے دانتوں کو بھینچ لینا۔ اپنا کاسہ سر اللہ کے حوالے کردینا۔زمین میں قدم گاڑ دینا ۔نگاہ آخر قوم پر رکھنا۔آنکھوں کو بند رکھنا اور یہ یاد رکھنا کہ مدد اللہ ہی کی طرف سے آنے والی ہے۔

(۱۲)

آپ کا ارشاد گرامی

جب پروردگار نے آپ کو اصحاب جمل پر کامیابی عطا فرمائی اور آپ کے بعض اصحاب نے کہا کہ کاش ہمارا فلاں بھائی بھی ہمارے ساتھ ہوتا تو وہ بھی دیکھتا کہ پروردگار نے کس طرح آپ کو دشمن پر فتح عنایت فرمائی ہے تو آپ نے فرمایا، کیا تیرے(۱) بھائی کی محبت بھی ہمارے ساتھ ہے ؟ اس نے عرض کی بیشک! فرمایا تو وہ ہمارے ساتھ تھا اور ہمارے اس لشکرمیں وہ تمام لوگ ہمارے ساتھ تھے جو ابھی مردوں کے صلب اور عورتوں کے رحم میں ہیں اور عنقریب زمانہ انہیں منظر عام پرلے آئے گا اور ان کے ذریعہ ایمان کو تقویت حاصل ہوگی۔

(۱) یہ دین اسلام کا ایک مخصوص امتیاز ہے کہ یہاں عذاب بد عملی کے بغیر نازل نہیں ہوتا ہے اور ثواب کا استحقاق عمل کے بغیر بھی حاصل ہو جاتا ہے اور عمل خیر کا دارومدار صرف نیت پر رکھا گیا ہے بلکہ بعض اوقات تو نیت مومن کو اس کے عمل سے بھی بہتر قرار دیا گیا ہے کہ عمل میں ریا کاری کے امکانات پائے جاتے ہیں اور نیت میں کسی طرح کی ریاکاری نہیں ہوتی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ پروردگارنے روزہ کو صرف اپنے لئے قرار دیا ہے اور اس کے اجرو ثواب کی مخصوص ذمہ داری اپنے اوپر رکھی ہے کہ روزہ میں نیت کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ہے اوراخلاص نیت کا فیصلہ کرنے والا پروردگار کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔


(۱۳)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في ذم أهل البصرة بعد وقعة الجمل

كُنْتُمْ جُنْدَ الْمَرْأَةِ وأَتْبَاعَ الْبَهِيمَةِ رَغَا فَأَجَبْتُمْ وعُقِرَ فَهَرَبْتُمْ أَخْلَاقُكُمْ دِقَاقٌ وعَهْدُكُمْ شِقَاقٌ ودِينُكُمْ نِفَاقٌ ومَاؤُكُمْ زُعَاقٌ والْمُقِيمُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ مُرْتَهَنٌ بِذَنْبِه والشَّاخِصُ عَنْكُمْ مُتَدَارَكٌ بِرَحْمَةٍ مِنْ رَبِّه - كَأَنِّي بِمَسْجِدِكُمْ كَجُؤْجُؤِ

سَفِينَةٍ قَدْ بَعَثَ اللَّه عَلَيْهَا الْعَذَابَ مِنْ فَوْقِهَا ومِنْ تَحْتِهَا - وغَرِقَ مَنْ فِي ضِمْنِهَا.

وفِي رِوَايَةٍ وايْمُ اللَّه لَتَغْرَقَنَّ بَلْدَتُكُمْ حَتَّى كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَسْجِدِهَا كَجُؤْجُؤِ سَفِينَةٍ - أَوْ نَعَامَةٍ جَاثِمَةٍ.

وفِي رِوَايَةٍ كَجُؤْجُؤِ طَيْرٍ فِي لُجَّةِ بَحْرٍ.

(۱۳)

آپ کا ارشاد گرامی

جس میں جنگ جمل کے بعد اہل بصرہ کی مذمت فرمائی ہے

افسوس تم لوگ ایک عورت کے سپاہی اور ایک جانورکے پیچھے چلنے والے تھے جس نے بلبلانا شروع کیا تو تم لبیک(۱) کہنے لگے اور وہ زخمی ہوگیا تو تم بھاگ کھڑے ہوئے۔تمہارے اخلاقیات پست۔تمہارا عہد نا قابل اعتبار۔تمہارا دین نفاق اور تمہارا پانی شور ہے۔تمہارے درمیان قیام کرنے والا گویا گناہوں کے ہاتھوں رہن ہے اور تم سے نکل جانے والا گویا رحمت پروردگار کو حاصل کر لینے والا ہے۔میں تمہاری اس مسجد کو اس عالم میں دیکھ رہا ہوں جیسے کشتی کا سینہ۔جب خدا تمہاری زمین پر اوپر اور نیچے ہر طرف سے عذاب بھیجے گا اور سارے اہل شہر غرق ہو جائیں گے۔

(دوسری روایت میں ہے)

خدا کی قسم تمہارا شہر غرق ہونے والا ہے۔یہاں تک کہ گویا میں اس کی مسجد کو ایک کشتی کے سینہ کی طرح یا ایک بیٹھے ہوئے شتر مرغ کی شکل میں دیکھ رہا ہوں

(تیسری روایت میں )

جیسے پرندہ کا سینہ سمندر کی گہرائیوں میں۔

(۱)اہل بصرہ کا برتائو امیر المومنین کے ساتھ تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے اور جنگ جمل اس کا بہترین ثبوت ہے لیکن امیر المومنین کے برتائو کے بارے میں ڈاکٹر طہ حسین کا بیان ہے کہ'' آپ نے ایک کریم انسان کا برتائو کیا اور بیت المال دوست اور دشمن دونوں کے مستحقین میں تقسیم کردیا ۔اور زخمیوں پرحملہ نہیں کیا'' اور حد یہ ہے کہ قیدیوں کو کنیز نہیں بنایا بلکہ نہایت احترام کے ساتھ مدینہ واپس کردیا۔


وفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى بِلَادُكُمْ أَنْتَنُ بِلَادِ اللَّه تُرْبَةً - أَقْرَبُهَا مِنَ الْمَاءِ وأَبْعَدُهَا مِنَ السَّمَاءِ - وبِهَا تِسْعَةُ أَعْشَارِ الشَّرِّ - الْمُحْتَبَسُ فِيهَا بِذَنْبِه والْخَارِجُ بِعَفْوِ اللَّه - كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى قَرْيَتِكُمْ هَذِه قَدْ طَبَّقَهَا الْمَاءُ حَتَّى مَا يُرَى مِنْهَا إِلَّا شُرَفُ الْمَسْجِدِ كَأَنَّه جُؤْجُؤُ طَيْرٍ فِي لُجَّةِ بَحْرٍ!

(۱۴)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في مثل ذلك

أَرْضُكُمْ قَرِيبَةٌ مِنَ الْمَاءِ بَعِيدَةٌ مِنَ السَّمَاءِ - خَفَّتْ عُقُولُكُمْ وسَفِهَتْ حُلُومُكُمْ فَأَنْتُمْ غَرَضٌ لِنَابِلٍ وأُكْلَةٌ لِآكِلٍ وفَرِيسَةٌ لِصَائِلٍ.

ایک روایت میں آپ کا یہ ارشاد وارد ہوا ہے۔ تمہاراشہر خاک کے اعتبارسے سب سے زیادہ بدبودار ہے کہ پانی سے سب سے زیادہ قریب ہے اور آسمان سے سب سے زیادہ دور ہے۔اس میں شر کے دس حصوں میں سے نو حصے پائے جاتے ہیں۔اس میں مقیم گناہوں کے ہاتھ گرفتار ہے۔اوراس سے نکل جانے والا عفو الٰہی میں داخل ہوگیا۔گویا میں تمہاری اس بستی کو دیکھ رہا ہوں کہ پانی نے اسے اس طرح ڈھانپ لیا ہے کہ مسجد کے کنگروں کے علاوہ کچھ نظرنہیں آرہا ہے اوروہ کنگرے بھی جس طرح پانی کی گہرائی میں پرندہ کاسینہ۔

(۱۴)

آپ کا ارشاد گرامی

(ایسے ہی ایک موقع پر)

تمہاری زمین پانی سے قریب تر اور آسمان سے دور ہے۔تمہاری عقلیں ہلکی اورتمہاری دانائی احمقانہ(۱) ہے تم ہر تیر انداز کا نشانہ' ہر بھوکے کا لقمہ اور ہر شکاری کا شکار ہو۔

(۱) اس سے زیادہ حماقت کیا ہو سکتی ہے کہ کل جس زبان سے قتل عثمان کا فتویٰ سنا تھاآج اسی سے انتقام خون عثمان کی فریاد سن رہے ہیں اور پھربھی اعتبار کر رہے ہیں۔اس کے بعد ایک اونٹ کی حفاظت پر ہزاروں جانیں قربان کر رہے ہیں اور سرکار دو عالم (ص) کے اس ارشاد گرامی کا احساس تک نہیں ہے کہ میری ازواج میں سے کسی ایک کی سواری کو دیکھ کرحواب کے کتے بھونکیں گے اور وہ عائشہ ہی ہو سکتی ہیں۔


(۱۵)

ومن كلام لهعليه‌السلام

فيما رده على المسلمين من قطائع عثمان

واللَّه لَوْ وَجَدْتُه قَدْ تُزُوِّجَ بِه النِّسَاءُ ومُلِكَ بِه الإِمَاءُ لَرَدَدْتُه - فَإِنَّ فِي الْعَدْلِ سَعَةً - ومَنْ ضَاقَ عَلَيْه الْعَدْلُ فَالْجَوْرُ عَلَيْه أَضْيَقُ!

(۱۶)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لما بويع في المدينة وفيها يخبر الناس بعلمه بما تئول إليه أحوالهم وفيها يقسمهم إلى أقسام

(۱۵)

آپ کے کلام کا ایک حصہ

اس موضوع سے متعلق کہ آپ نے عثمان کی جاگیروں کو مسلمانوں کو واپس دے دیا

خدا کی قسم اگر میں کسی(۱) مال کو اس حالت میں پاتا کہ اسے عورت کا مہر بنادیا گیا ہے یا کنیز کی قیمت کے طور پر دیدیا گیا ہے تو بھی اسے واپس کرادیتا اس لئے کہ انصاف میں بڑی وسعت پائی جاتی ہے اور جس کے لئے انصاف میں تنگی ہو اس کے لئے ظلم میں تو اوربھی تنگی ہوگی۔

(۱۶)

آپ کے کلام کا ایک حصہ

(اس وقت جب آپ کی مدینہ میں بیعت کی گئی اور آپ نے لوگوں کو بیعت کے مستقبل سے آگاہ کرتے ہوئے ان کی قسمیں بیان فرمائی)

(۱) تاریخ کا مسلمہ ہے کہ امیر المومنین جب بیت المال میں داخل ہوتے تھے تو سوئی دھاگہ اور روٹی کے ٹکڑے تک تقسیم کردیا کرتے تھے اور اس کے بعد جھاڑو دے کردورکعت نمازادا کرتے تھے تاکہ یہ زمین روز قیامت علی کے عدل و انصاف کی گواہی دے اور اس بنیاد پرآپ نے عثمان کی عطا کردہ جاگیروں کو واپسی کا حکم دیدیا اور صدقہ کے اونٹ عثمان کے گھر سے واپس منگوالئے کہ عثمان کسی قیمت پرزکوٰة کے مستحق نہیں تھے۔

اگرچہ بعض ہوا خواہان بنی امیہ نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ یہ انتہائی بے رحمانہ برتائو تھا جہاں یتیموں پررحم نہیں کیا گیا اور ان کے قبضہ سے مال لے لیا گیا۔لیکن اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ ظلم اور شقاوت کا مظاہرہ اس نے کیا ہے جس نے غرباء و مساکین کا حق اپنے گھر میں جمع کرلیا ہے اور مال مسلمین پر قبضہ کرلیا ہے۔پھر یہ کوئی نیا حادثہ بھی نہیں ہے۔کل پہلی خلافت میں یتیمہ رسول اکرم (ص) پر کب رحم کیا گیا تھا جو واقعاً فدک کی حقدار تھی اور اس کے بابا نے اسے یہ جاگیر حکم خدا سے عطا کردی تھی۔اولاد عثمان تو حقدار بھی نہیں ہے اور کیا اولاد عثمان کامرتبہ اولاد رسول (ص) سے بلند تر ہے یا ہر دور کے لئے ایک نئی شریعت مرتب کی جاتی ہے اور اس کا محور سرکاری مصالح اورجماعتی فوائد ہی ہوتے ہیں ؟


ذِمَّتِي بِمَا أَقُولُ رَهِينَةٌ( وأَنَا بِه زَعِيمٌ ) إِنَّ مَنْ صَرَّحَتْ لَه الْعِبَرُ عَمَّا بَيْنَ يَدَيْه مِنَ الْمَثُلَاتِ حَجَزَتْه التَّقْوَى عَنْ تَقَحُّمِ الشُّبُهَاتِ أَلَا وإِنَّ بَلِيَّتَكُمْ قَدْ عَادَتْ كَهَيْئَتِهَا يَوْمَ بَعَثَ اللَّه نَبِيَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله والَّذِي بَعَثَه بِالْحَقِّ لَتُبَلْبَلُنَّ بَلْبَلَةً ولَتُغَرْبَلُنَّ غَرْبَلَةً ولَتُسَاطُنَّ سَوْطَ الْقِدْرِ حَتَّى يَعُودَ أَسْفَلُكُمْ أَعْلَاكُمْ وأَعْلَاكُمْ أَسْفَلَكُمْ - ولَيَسْبِقَنَّ سَابِقُونَ كَانُوا قَصَّرُوا - ولَيُقَصِّرَنَّ سَبَّاقُونَ كَانُوا سَبَقُوا - واللَّه مَا كَتَمْتُ وَشْمَةً ولَا كَذَبْتُ كِذْبَةً - ولَقَدْ نُبِّئْتُ بِهَذَا الْمَقَامِ وهَذَا الْيَوْمِ - أَلَا وإِنَّ الْخَطَايَا خَيْلٌ شُمُسٌ حُمِلَ عَلَيْهَا أَهْلُهَا - وخُلِعَتْ لُجُمُهَا فَتَقَحَّمَتْ بِهِمْ فِي النَّارِ - أَلَا وإِنَّ التَّقْوَى مَطَايَا ذُلُلٌ حُمِلَ عَلَيْهَا أَهْلُهَا،

وأُعْطُوا أَزِمَّتَهَا فَأَوْرَدَتْهُمُ الْجَنَّةَ - حَقٌّ وبَاطِلٌ ولِكُلٍّ أَهْلٌ - فَلَئِنْ أَمِرَ الْبَاطِلُ لَقَدِيماً فَعَلَ - ولَئِنْ قَلَّ الْحَقُّ فَلَرُبَّمَا

میں اپنے قول کا خود ذمہ دار اور اس کی صحت کا ضامن ہوں اور جس شخص پر گذشتہ اقوام کی سزائوں نے عبرتوں کو واضح کردیا ہو اسے تقوی شبہات میں داخل ہونے سے یقینا روک دے گا۔ آگاہ ہو جائو آج تمہارے لئے وہ آزمائشی دور پلٹ آیا ہے جو اس وقت تھا جب پروردگار نے اپنے رسول (ص) کوبھیجا تھا۔قسم ہے اس پروردگار کی جس نے آپ(ص) کو حق کے ساتھ مبعوث کیا تھا کہ تم سختی کے ساتھ تہ و بالا کئے جائو گے تمہیں باقاعدہ چھانا جائے گا اور دیگ کی طرح چمچے الٹ پلٹ کیا جائے گا یہاں تک کہ اسفل اعلیٰ ہو جائے اوراعلیٰ اسفل بن جائے اور جو پیچھے رہ گئے ہیں وہ آگے بڑھ جائیں اور جوآگے بڑھ گئے ہیں وہ پیچھے آجائیں۔خدا گواہ ہے کہ میں نے نہ کسی کلمہ کو چھپایا ہے اورنہ کوئی غلط بیانی کی ہے اور مجھے اس منزل اور اس دن کی پہلے ہی خبردے دی گئی تھی۔

یاد رکھو کہ خطائیں وہ سر کش سواریاں ہیں جن پر اہل خطا کو سوار کردیا جائے اور ان کی لگام کو ڈھیلا چھوڑ دیا جائے اور وہ سوار کو لے کرجہنم میں پھاند پڑیں اورتقوی ان رام کی ہوئی سواریوں کے مانند ہے جن پر لوگ سوار کیے جائیں اور ان کی لگام ان کے ہاتھوں میں دے دی جائے تو وہ اپنے سواروں کو جنت تک پہنچادیں۔

دنیا میں حق و باطل دونوں ہیں اور دونوں کے اہل بھی ہیں۔اب اگر باطل زیادہ ہوگیا ہے تو یہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے اور اگر حق کم ہوگیا ہے تو یہ بھی ہوتا رہا ہے


ولَعَلَّ ولَقَلَّمَا أَدْبَرَ شَيْءٌ فَأَقْبَلَ!

قال السيد الشريف وأقول إن في هذا الكلام الأدنى من مواقع الإحسان ما لا تبلغه مواقع الاستحسان وإن حظ العجب منه أكثر من حظ العجب به وفيه مع الحال التي وصفنا زوائد من الفصاحة لا يقوم بها لسان ولا يطلع فجها إنسان ولا يعرف ما أقول إلا من ضرب في هذه الصناعة بحق وجرى فيها على عرق( وما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ ) .

ومن هذه الخطبة وفيها يقسم الناس إلى ثلاثة أصناف

شُغِلَ مَنِ الْجَنَّةُ والنَّارُ أَمَامَه - سَاعٍ سَرِيعٌ نَجَا وطَالِبٌ بَطِيءٌ رَجَا ومُقَصِّرٌ فِي النَّارِ هَوَى الْيَمِينُ والشِّمَالُ مَضَلَّةٌ والطَّرِيقُ الْوُسْطَى هِيَ الْجَادَّةُ عَلَيْهَا بَاقِي الْكِتَابِ وآثَارُ النُّبُوَّةِ - ومِنْهَا مَنْفَذُ السُّنَّةِ

اور اس کے خلاف بھی ہو سکتا ہے۔اگرچہ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی شے پیچھے ہٹ جانے کے بعد دوبارہ منظر عام پرآجائے ۔

سیدرضی : اس مختصر سے کلام میں اس قدر خوبیاں پائی جاتی ہیں جہاں تک کسی کی داد و تعریف نہیں پہنچ سکتی ہے اور اس میں حیرت و استعجاب کا حصہ پسندیدگی کی مقدار سے کہیں زیادہ ہے۔اس میں فصاحت کے وہ پہلو بھی ہیں جن کو کوئی زبان بیان نہیں کر سکتی ہے اور ان کی گہرائیوں کا کوئی انسان ادراک نہیں کر سکتا ہے۔اور اس حقیقت کو وہی انسان سمجھ سکتا ہے جس نے فن بلاغت کا حق ادا کیا ہو اور اس کے رگ و ریشہ سے با خبر ہو۔ اور ان حقائق کو اہل علم کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے۔

اسی خطبہ کا ایک حصہ جس میں لوگوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے

وہ شخص کسی طرف دیکھنے کی فرصت نہیں رکھتا جس کی نگاہ میں جنت و جہنم کا نقشہ ہو۔ تیز رفتاری سے کام کرنے والا نجات پا لیتا ہے اور سست رفتاری سے کام کرکے جنت کی طلب گاری کرنے والا بھی امید وار رہتا ہے لیکن کوتاہی کرنے والا جہنم میں گر پڑتا ہے۔دائیں بائیں گمراہیوں کی منزلیں ہیں اور سیدھا راستہ صرف درمیانی راستہ ہے۔ای راستہ پر رہ جانے والی کتاب خدا اور نبوت کے آثار ہیں اور اسی سے شریعت کا نفاذ ہوتا ہے


وإِلَيْهَا مَصِيرُ الْعَاقِبَةِ هَلَكَ مَنِ ادَّعَى و( خابَ مَنِ افْتَرى ) مَنْ أَبْدَى صَفْحَتَه لِلْحَقِّ هَلَكَ وكَفَى بِالْمَرْءِ جَهْلًا أَلَّا يَعْرِفَ قَدْرَه لَا يَهْلِكُ عَلَى التَّقْوَى سِنْخُ أَصْلٍ ولَا يَظْمَأُ عَلَيْهَا زَرْعُ قَوْمٍ - فَاسْتَتِرُوا فِي بُيُوتِكُمْ( وأَصْلِحُوا ذاتَ بَيْنِكُمْ ) - والتَّوْبَةُ مِنْ وَرَائِكُمْ ولَا يَحْمَدْ حَامِدٌ إِلَّا رَبَّه ولَا يَلُمْ لَائِمٌ إِلَّا نَفْسَه.

اور اسی کی طرف عاقبت کی بازگشت ہے۔غلط ادعا کرنے والا ہلاک ہوا اور افترا کرنے والا ناکام ونامرادہوا۔جس نے حق کے مقابلہ میں سر نکالا وہ ہلاک ہوگیا اور انسان کی جہالت(۱) کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اسے اپنی ذات کا بھی عرفان نہ ہو۔ جو بنیاد تقوی پرقائم ہوتی ہے اس میں ہلاکت نہیں ہوتی ہے اوراس کے ہوتے ہوئے کسی قوم کی کھیتی پیاس سے برباد نہیں ہوتی ہے۔اب تم اپنے گھروں میں چھپ کر بیٹھ جائو اور اپنے باہمی امور کی اصلاح کرو۔توبہ تمہارے سامنے ہے۔ تعریف کرنے والے کافرض ہے کہ اپنے رب کی تعریف کرے اور ملامت کرنے والے کو چاہیے کہ اپنے نفس کی ملامت کرے۔

(۱)مالک کائنات نے انسان کو بے پناہ صلاحیتوں کا مالک بنایا ہے اور اس کی فطرت میں خیروشر کا سارا عرفان ودیعت کردیا ہے لیکن انسان کی بد قسمتی یہ ہے کہ وہ ان صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھاتا ہے اور ہمیشہ اپنے کو بیچارہ ہی سمجھتا ہے جو جہالت کی بد ترین منزل ہے کہ انسان کو اپنی ہی قدرو قیمت کا اندازہ نہ ہوسکے۔ کسی شاعرنے کیا خوب کہا ہے:

اپنی ہی ذات کا انسان کو عرفان نہ ہوا

خاک پھر خاک تھی اوقات سے آگے نہ بڑھی


(۱۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في صفة من يتصدى للحكم بين الأمة وليس لذلك بأهل وفيها: أبغض الخلائق إلى اللَّه صنفان

الصنف الأول: إنَّ أَبْغَضَ الْخَلَائِقِ إِلَى اللَّه رَجُلَانِ - رَجُلٌ وَكَلَه اللَّه إِلَى نَفْسِه فَهُوَ جَائِرٌ عَنْ قَصْدِ السَّبِيلِ مَشْغُوفٌ بِكَلَامِ بِدْعَةٍ ودُعَاءِ ضَلَالَةٍ - فَهُوَ فِتْنَةٌ لِمَنِ افْتَتَنَ بِه ضَالٌّ عَنْ هَدْيِ مَنْ كَانَ قَبْلَه - مُضِلٌّ لِمَنِ اقْتَدَى بِه فِي حَيَاتِه وبَعْدَ وَفَاتِه - حَمَّالٌ خَطَايَا غَيْرِه رَهْنٌ بِخَطِيئَتِه.

(۱۷)

(ان نا اہلوں کے بارے میں جوصلاحیت کے بغیر فیصلہ کا کام شروع کر دیتے ہیں اور اسی ذیل میں دوبد ترین اقسام مخلوقات کا ذکربھی ہے)

قسم اول: یاد رکھو کہ پروردگار کی نگاہ میں بد ترین خلائق دو طرح کے افراد ہیں۔وہ شخص جسے پروردگار نے اسی کے رحم و کرم(۱) پرچھوڑدیا ہے اور وہ درمیانی راستہ سے ہٹ گیا ہے۔صرف بدعت کا دلدادہ ہے اور گمراہی کی دعوت پر فریفتہ ہے۔یہ دوسرے افراد کے لئے ایک مستقل فتنہ ہے اور سابق افراد کی ہدایت سے بہکا ہوا ہے۔اپنے پیروکاروں کوگمراہ کرنے والا ہے زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی یہ دوسروں کی غلطیوں کا بھی بوجھ اٹھانے والا ہے اور ان کی خطائوں میں بھی گرفتار ہے۔

(۱)جاہل انسانوں کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی ہے کہ پروردگار انہیں ان کے حال پر چھوڑ دے اوروہ جو چاہیں کریں کسی طرح کی کوئی پابندی نہ ہو حالانکہ در حقیقت یہ بد ترین عذاب الٰہی ہے۔انسان کی فلاح و بہبود اسی میں ہے کہ مالک اسے اپنے رحم و کرم کے سایہ میں رکھے ورنہ گر اس سے توفیقات کوسلب کرکے اس کے حال پر چھوڑ دیا تو وہ لمحوں میں فرعون' قارون' نمرود' یزید' حجاج اور متوکل بن سکتا ہے۔اگرچہ اسے احساس یہی رہے گا کہ اس نے کائنات کا اقتدار حاصل کرلیا ہے اور پروردگار اس کے حال پر بہت زیادہ مہربان ہے۔


الصنف الثاني: ورَجُلٌ قَمَشَ جَهْلًا مُوضِعٌ فِي جُهَّالِ الأُمَّةِ عَادٍ فِي أَغْبَاشِ الْفِتْنَةِ عَمٍ بِمَا فِي عَقْدِ الْهُدْنَةِ قَدْ سَمَّاه أَشْبَاه النَّاسِ عَالِماً ولَيْسَ بِه بَكَّرَ فَاسْتَكْثَرَ مِنْ جَمْعٍ مَا قَلَّ مِنْه خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ حَتَّى إِذَا ارْتَوَى مِنْ مَاءٍ آجِنٍ واكْتَثَرَ مِنْ غَيْرِ طَائِلٍجَلَسَ بَيْنَ النَّاسِ قَاضِياً ضَامِناً لِتَخْلِيصِ مَا الْتَبَسَ عَلَى غَيْرِه فَإِنْ نَزَلَتْ بِه إِحْدَى الْمُبْهَمَاتِ هَيَّأَ لَهَا حَشْواً رَثًّا مِنْ رَأْيِه ثُمَّ قَطَعَ بِه فَهُوَ مِنْ لَبْسِ الشُّبُهَاتِ فِي مِثْلِ نَسْجِ الْعَنْكَبُوتِ - لَا يَدْرِي أَصَابَ أَمْ أَخْطَأَ - فَإِنْ أَصَابَ خَافَ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَخْطَأَ وإِنْ أَخْطَأَ رَجَا أَنْ يَكُونَ قَدْ أَصَابَ جَاهِلٌ خَبَّاطُ جَهَالَاتٍ عَاشٍ رَكَّابُ عَشَوَاتٍ لَمْ يَعَضَّ عَلَى الْعِلْمِ بِضِرْسٍ قَاطِعٍ -

قسم دوم: وہ شخص جس نے جہالتوں(۱) کو سمیٹ لیا ہے اور انہیں کے سہارے جاہلوں کے درمیان دوڑ لگا رہا ہے۔فتنوں کی تاریکیوں میں دوڑ رہا ہے اور امن و صلح کے فوائدسے یکسر غافل ہے۔انسان نما لوگوں نے اسکا نام عالم رکھ دیا ہے حالانکہ اس کا علم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔صبح سویرے ان باتوں کی تلاش میں نکل پڑتا ہے جن کا قلیل ان کے کثیر سے بہتر ہے۔یہاں تک کہ جب گندہ پانی سے سیراب ہو جاتا ہے اور مہمل اوربے فائدہ باتوں کو جمع کرلیتا ہے تو لوگوں کے درمیان قاضی بن کر بیٹھ جاتا ہے اوراس امر کی ذمہ داری لے لیتا ہے کہ جو امور دوسرے لوگوں پر مشتبہ ہیں وہ انہیں صاف کردیگا۔اس کے بعد جب کو ئی مبہم مسئلہ آجاتا ہے تو اس کے لئے بے سود اورفرسودہ دلائل کو اکٹھا کرتا ہے اور انہیں سے فیصلہ کر دیتا ہے۔یہ شبہات میں اسی طرح گرفتار ہے جس طرح مکڑی اپنے جالے میں پھنس جاتی ہے۔اسے یہ بھی نہیں معلوم ہے کہ صحیح فیصلہ کیا ہے یا غلط۔اگر صحیح کیا ہے تو بھی ڈرتا ہے کہ شائد غلط ہو۔اور اگر غلط کیا ہے تو بھی یہ امید رکھتا ہے کہ شائد صحیح ہو ۔ ایسا جاہل ہے جو جہالتوں میں بھٹک رہا ہے اور ایسا اندھا ہے جو اندھیروں کی سواری پر سوار ہو۔نہ علم میں کوئی حتمی بات سمجھا ہے

(۱) قاضیوں کی یہ قسم ہر دورمیں رہی ہے اور ہر علاقہ میں پائی جاتی ہے۔بعض لوگ گائوں یا شہر میں اسی بات کواپنا امتیاز تصورکرتے ہیںکہ انہیں فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے اگرچہ ان می کسی قسم کی صلاحیت نہیں ہے۔ یہی وہ قسم ہے جس نے دین خدا کو تباہ اورخلق خدا کو گمراہ کیا ہے اور یہی قسم شریح سے شروع ہو کر ان افراد تک پہنچ گئی ہے جو دوسروں کے مسائل کو باآسانی طے کردیتے ہیں اور اپنے مسئلہ میں کسی طرح کے فیصلہ سے راضی نہیں ہوتے ہیں اور نہ کسی کی رائے کو سننے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔


يَذْرُو الرِّوَايَاتِ ذَرْوَ الرِّيحِ الْهَشِيمَ لَا مَلِيٌّ واللَّه بِإِصْدَارِ مَا وَرَدَ عَلَيْه - ولَا أَهْلٌ لِمَا قُرِّظَ بِه لَا يَحْسَبُ الْعِلْمَ فِي شَيْءٍ مِمَّا أَنْكَرَه - ولَا يَرَى أَنَّ مِنْ وَرَاءِ مَا بَلَغَ مَذْهَباً لِغَيْرِه - وإِنْ أَظْلَمَ عَلَيْه أَمْرٌ اكْتَتَمَ بِه لِمَا يَعْلَمُ مِنْ جَهْلِ نَفْسِه - تَصْرُخُ مِنْ جَوْرِ قَضَائِه الدِّمَاءُ - وتَعَجُّ مِنْه الْمَوَارِيثُ إِلَى اللَّه أَشْكُو - مِنْ مَعْشَرٍ يَعِيشُونَ جُهَّالًا ويَمُوتُونَ ضُلَّالًا - لَيْسَ فِيهِمْ سِلْعَةٌ أَبْوَرُ مِنَ الْكِتَابِ إِذَا تُلِيَ حَقَّ تِلَاوَتِه - ولَا سِلْعَةٌ أَنْفَقُ بَيْعاً - ولَا أَغْلَى ثَمَناً مِنَ الْكِتَابِ إِذَا حُرِّفَ عَنْ مَوَاضِعِه - ولَا عِنْدَهُمْ أَنْكَرُ مِنَ الْمَعْرُوفِ ولَا أَعْرَفُ مِنَ الْمُنْكَرِ!

(۱۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في ذم اختلاف العلماء في الفتيا

وفيه يذم أهل الرأي ويكل أمر الحكم في أمور الدين للقرآن

اورنہ کسی حققت کو پرکھا ہے۔روایات کو یوں اڑا دیتا ہے جس طرح تیز ہوا تنکوں کو اڑا دیتی ہے۔خدا گواہ ہے کہ یہ ان فیصلوں کے صادر کرنے کے قابل نہیں ہے جو اس پر وار د ہوتے ہیں اور اس کام کا اہل نہیں ہے جو اس کے حوالہ کیا گیا ہے۔جس چیز کوناقابل توجہ سمجھتا ہے اس میں علم کا احتمال بھی نہیں دیتاہے اوراپنی پہنچ کے ماوراء کسی اور رائے کا تر بھی نہیں کرتا ہے۔اگر کوئی مسئلہ واضح نہیں ہوتا ہے تواسے چھپا دیتا ہے کہ اسے اپنی جہالت کا علم ہے۔ناحق بہائے ہوئے خون اس کے فیصلوں کے ظلم سے فریادی اور غلط تقسیم کی ہوئی میراث چلا رہی ہے۔میں خدا کی بارگاہ میں فریاد کرتا ہوں ایسے گروہ کی جو زندہ رہتے ہیں تو جہالت کے ساتھ اور مر جاتے ہیں تو ضلالت کے ساتھ۔ان کے نزدیک کوئی متاع کتاب خدا سے زیادہ بے قیمت نہیں ہے اگر اس کی واقعی تلاوت کی جائے اور کوئی متاع اس کتاب سے زیادہ قیمتی اورفائدہ مند نہیں ہے اگر اس کے مفاہیم میں تحریف کردی جائے۔ ان کے لئے معروف سے زیادہ منکر کچھ نہیں ہے اور منکر سے زیادہ معروف کچھ نہیں ہے۔

(۱۸)

آپ کا ارشاد گرامی

(علماء کے درمیان اختلاف فتویٰ کے بارے میں اور اسی میں اہل رائے کی مذمت اور قرآن کی مرجعت کا ذکر کیا گیا ہے)


ذم أهل الرأي

تَرِدُ عَلَى أَحَدِهِمُ الْقَضِيَّةُ فِي حُكْمٍ مِنَ الأَحْكَامِ فَيَحْكُمُ فِيهَا بِرَأْيِه ثُمَّ تَرِدُ تِلْكَ الْقَضِيَّةُ بِعَيْنِهَا عَلَى غَيْرِه فَيَحْكُمُ فِيهَا بِخِلَافِ قَوْلِه ثُمَّ يَجْتَمِعُ الْقُضَاةُ بِذَلِكَ عِنْدَ الإِمَامِ الَّذِي اسْتَقْضَاهُمْ فَيُصَوِّبُ آرَاءَهُمْ جَمِيعاً وإِلَهُهُمْ وَاحِدٌ ونَبِيُّهُمْ وَاحِدٌ وكِتَابُهُمْ وَاحِدٌ!

أَفَأَمَرَهُمُ اللَّه سُبْحَانَه بِالِاخْتِلَافِ فَأَطَاعُوه - أَمْ نَهَاهُمْ عَنْه فَعَصَوْه!

الحكم للقرآن

أَمْ أَنْزَلَ اللَّه سُبْحَانَه دِيناً نَاقِصاً - فَاسْتَعَانَ بِهِمْ عَلَى إِتْمَامِه أَمْ كَانُوا شُرَكَاءَ لَه فَلَهُمْ أَنْ يَقُولُوا وعَلَيْه أَنْ يَرْضَى أَمْ أَنْزَلَ اللَّه سُبْحَانَه دِيناً تَامّاً فَقَصَّرَ الرَّسُولُصلى‌الله‌عليه‌وآله عَنْ تَبْلِيغِه وأَدَائِه - واللَّه سُبْحَانَه يَقُولُ:( ما فَرَّطْنا فِي الْكِتابِ مِنْ شَيْءٍ ) وفِيه تِبْيَانٌ لِكُلِّ شَيْءٍ وذَكَرَ أَنَّ الْكِتَابَ يُصَدِّقُ بَعْضُه بَعْضاً وأَنَّه لَا اخْتِلَافَ فِيه فَقَالَ سُبْحَانَه:( ولَوْ كانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ الله لَوَجَدُوا فِيه اخْتِلافاً كَثِيراً ) وإِنَّ الْقُرْآنَ

مذمت اہل رائے:

ان لوگوں کا عالم یہ ہے کہ ایک شخص کے پاس کسی مسئلہ کا فیصلہ آتا ہے تو وہ اپنی رائے سے فیصلہ کر دیتا ہے اور پھر یہی قضیہ بعینہ دوسرے کے پاس جاتا ہے تو وہ اس کے خلاف فیصلہ کر دیتا ہے۔اس کے بعد تمام قضاة اس حاکم کے پاس جمع ہوتے ہیں جس نے انہیں قاضی بنایا ہے تو وہ سب کی رائے کی تائید کر دیتا ہے جب کہ سب کا خدا ایک' نبی ایک اور کتاب ایک ہے۔تو کیا خدا(۱) ہی نے انہیں اختلاف کا حکم دیا ہے اور یہ اس کی اطاعت کر رہے ہیں یا اس نے انہیں اختلاف سے منع کیا ہے مگر پھربھی اس کی مخالفت کر رہے ہیں ؟ یا خدا نے دین ناقص نازل کیا ہے اوران سے اس کی تکمیل کے لئے مدد مانگی ہے یا یہ سبخود اس کی خدائی ہی میں شریک ہیں اور انہیں یہ حق حاصل ہے کہ یہ بات کہیں اور خدا کا فرض ہے کہ وہ قبول کرے یاخدانے دین کامل نازل کیا تھا اور رسول اکرم (ص)نے اس کی تبلیغ اور ادائیگی میں کوتاہی کردی ہے جب کہ اس کا اعلان ہے کہ ہم نے کتاب میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کی ہے اور اس میں ہر شے کا بیان موجود ہے۔اور یہ بھی بتا دیا ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کی تصدیق کرت ہے اور اس میں کسی طرح کا اختلاف نہیں ہے۔ یہ قرآن غیر خدا کی طرف سے ہوتا تو اس میں بے پناہ اختلاف ہوتا۔ یہ قرآن وہ ہے ۔

(۱)یاد رہے کہ امیر المومنین نے مسئلہ کے تمام احتمالات کا سدباب کردیا ہے اور اب کسی رائے پرست انسان کے لئے فرار کرنے کا کوئیراستہ نہیں ہے اور اسے مذہب میں رائے اور قیاس کو استعمال کرنے کے لئے ایک نہایک مہمل بنیاد کواختیارکرناپڑے گا۔اس کے بغیر رائے اورقیاس کا کوئی جواز نہیں ہے۔


ظَاهِرُه أَنِيقٌ وبَاطِنُه عَمِيقٌ

لَا تَفْنَى عَجَائِبُه ولَا تَنْقَضِي غَرَائِبُه ولَا تُكْشَفُ الظُّلُمَاتُ إِلَّا بِه.

(۱۹)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قاله للأشعث بن قيس وهو على منبر الكوفة يخطب، فمضى في بعض كلامه شيء اعترضه الأشعث فيه، فقال: يا أمير المؤمنين، هذه عليك لا لك، فخفضعليه‌السلام إليه بصره ثم قال:

مَا يُدْرِيكَ مَا عَلَيَّ مِمَّا لِي عَلَيْكَ لَعْنَةُ اللَّه ولَعْنَةُ اللَّاعِنِينَ حَائِكٌ ابْنُ حَائِكٍ مُنَافِقٌ ابْنُ كَافِرٍ واللَّه لَقَدْ أَسَرَكَ الْكُفْرُ مَرَّةً والإِسْلَامُ

أُخْرَى فَمَا فَدَاكَ مِنْ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا مَالُكَ ولَا حَسَبُكَ وإِنَّ امْرَأً دَلَّ عَلَى قَوْمِه السَّيْفَ وسَاقَ إِلَيْهِمُ الْحَتْفَ لَحَرِيٌّ أَنْ يَمْقُتَه الأَقْرَبُ ولَا يَأْمَنَه الأَبْعَدُ!

قال السيد الشريف يريدعليه‌السلام أنه أسر في الكفر مرة وفي الإسلام مرة. وأما قولهعليه‌السلام دل على قومه السيف فأراد به حديثا كان للأشعث مع خالد بن الوليد باليمامة غر فيه قومه ومكر بهم حتى أوقع بهم خالد وكان قومه بعد ذلك يسمونه عرف النار وهو اسم للغادر عندهم.

جس کا ظاہرخوبصورت اورب اطن عمیق اور گہرا ہے اس کے عجائب فنا ہونے والے نہیں ہیں اور تاریکیوں کاخاتمہ اس کےعلاوہ اور کسی کلام سے نہیں ہو سکتا ہے۔

(۱۹)

آپ کا ارشاد گرامی

جسے اس وقت فرمایا جب منبر کوفہ پر خطبہ دے رہے تھے اوراشعث بن قیس نے ٹوک دیا کہ یہ بیان آپ خود اپنے خلاف دے رہے ہیں۔ آپ نے پہلے نگاہوں کونیچا کرکے سکوت فرمایا اور پھرپر جلال انداز سے فرمایا:

تجھے کیاخبرکہ کون سی بات میرےموافق ہے اور کون سی میرے خلاف ہےتجھ پرخدا اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت۔تو سخن باف اور تانے بانے درست کرنے والے کافرزند ہےتو منافق ہے اورتیرا باپ کھلا ہوا کافر تھا۔خدا کی قسم توایک مرتبہ کفر کا قیدی بنا اوردوسری مرتبہ اسلام کا لیکن نہ تیرا مال کامآیا نہ حسب۔اورجوشخص بھی اپنی قوم کی طرف تلوار کو راستہ بتائے گا اور موت کو کھینچ کرلائے گا وہ اس بات کاحقدار ہےکہ قریب والےاس سے نفرت کریں اوردوروالےاس پربھروسہ نہ کریں۔

(سیدرضی:امام کامقصدیہ ہے کہ اشعث بن قیس ایک مرتبہ دور کفرمیں قیدی بنا تھااور دوسری مرتبہ اسلام لانےکے بعد!۔تلوارکی رہنمائی کا مقصدیہ ہےکہ جب یمامہ میں خالد بن ولیدنےچڑھائی کی تواس نےاپنی قوم سے غداری کی اورسب کوخالدکی تلوارکےحوالہ کردیا جس کے بعدسے اس کالقب''عرف النار''ہوگیاجواس دورمیں ہرغدارکالقب ہواکرتا تھا)۔


(۲۰)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وفيه ينفر من الغفلة وينبه إلى الفرار للَّه

فَإِنَّكُمْ لَوْ قَدْ عَايَنْتُمْ مَا قَدْ عَايَنَ مَنْ مَاتَ مِنْكُمْ - لَجَزِعْتُمْ ووَهِلْتُمْ وسَمِعْتُمْ وأَطَعْتُمْ - ولَكِنْ مَحْجُوبٌ عَنْكُمْ مَا قَدْ عَايَنُوا - وقَرِيبٌ مَا يُطْرَحُ الْحِجَابُ - ولَقَدْ بُصِّرْتُمْ إِنْ أَبْصَرْتُمْ وأُسْمِعْتُمْ إِنْ سَمِعْتُمْ - وهُدِيتُمْ إِنِ اهْتَدَيْتُمْ - وبِحَقٍّ أَقُولُ لَكُمْ لَقَدْ جَاهَرَتْكُمُ الْعِبَرُ وزُجِرْتُمْ بِمَا فِيه مُزْدَجَرٌ - ومَا يُبَلِّغُ عَنِ اللَّه بَعْدَ رُسُلِ السَّمَاءِ إِلَّا الْبَشَرُ.

(۲۱)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وهي كلمة جامعة للعظة والحكمة

فَإِنَّ الْغَايَةَ أَمَامَكُمْ وإِنَّ وَرَاءَكُمُ السَّاعَةَ تَحْدُوكُمْ

(۲۰)

آپ کا ارشاد گرامی

جس میں غفلت سے بیدار کیا گیا ہے اور خدا کی طرف دوڑ کرآنے کی دعوت دی گئی ہے

یقینا جن حالات کو تم سے پہلے مرنے والوں نے دیکھ لیا ہے اگر تم بھی دیکھ لیتے تو پریشان و مضطرب ہو جاتے اور بات سننے اور اطاعت کرنے کے لئے تیار ہو جاتے لیکن مشکل یہ ہے کہ ابھی وہ چیزیں تمہارے لئے پس حجاب ہیں اور عنقریب یہ پردہ اٹھنے والا ہے۔بیشک تمہیں سب کچھ دکھایا جا چکا ہے اگر تم نگاہ بینا رکھتے ہو اور سب کچھ سنایا جا چکا ہے اگرتم گوش شنوار رکھتے ہو اور تمہیں ہدایت دی جا چکی ہے اگرتم ہدایت حاصل کرنا چاہو اور میں بالکل برحق کہہ رہا ہوں کہ عبرتیں تمہارے سامنے کھل کر آچکی ہیں اورتمہیں اس قدر ڈرایا جا چکا ہے جو بقدر کافی ہے اور ظاہر ہے کہ آسمانی فرشتوں کے بعد الٰہی پیغام کو انسان ہی پہنچانے والا ہے۔

(۲۱)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

بیشک منزل مقصود تمہارے سامنے ہے اور ساعت موت تمہارے تعاقب میں ہے اور تمہیں اپنے ساتھ لے کر چل رہی ہے۔


تَخَفَّفُوا تَلْحَقُوا فَإِنَّمَا يُنْتَظَرُ بِأَوَّلِكُمْ آخِرُكُمْ.

قال السيد الشريف أقول إن هذا الكلام لو وزن بعد كلام الله سبحانه وبعد كلام رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله بكل كلام لمال به راجحا وبرز عليه سابقا. فأما قولهعليه‌السلام تخففوا تلحقوا فما سمع كلام أقل منه مسموعا ولا أكثر منه محصولا وما أبعد غورها من كلمة وأنقع نطفتها من حكمة وقد نبهنا في كتاب الخصائص على عظم قدرها وشرف جوهرها.

(۲۲)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

حين بلغه خبر الناكثين ببيعته وفيها يذم عملهم ويلزمهم دم عثمان ويتهددهم بالحرب

اپنا بوجھ(۱) ہلکا کر لو تاکہ پہلے والوں سے ملحق ہو جائو کہ ابھی تمہارے سابقین سے تمہارا انتظار کرایا جا رہا ہے۔

سید رضی: اس کلام کو کلام خدا و رسول (ص) کے بعد کسی کلام کے ساتھ رکھ دیا جائے تو اس کا پلہ بھاری ہی رہے گا اور یہ سب سے آگے نکل جائے گا۔'' تحففوا لحقوا'' سے زیادہ مختصر اوربلیغ کلام تو کبھی دیکھا اور سنا ہی نہیں گیا ہے۔اسی کلمہ میں کس قدر گہرائی پائی جاتی ہے اور اس حکمت کا چشمہ کس قدرشفاف ہے۔ہم نے کتاب خصائص میں اس کی قدرو قیمت اور عظمت و شرافت پر مکمل تبصر ہ کیا ہے۔

(۲۲)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

جب آپ کو خبر دی گئی کہ کچھ لوگوں نے آپ کی بیعت توڑدی ہے

(۱)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ گناہ انسانی زندگی کے لئے ایک بوجھ کی حیثیت رکھتا ہے اور یہی بوجھ ہے جو انسان کوآگے نہیں بڑھنے دیتا ہے اور وہ اسی دنیا داری میں مبتلا رہ جاتا ہے ورنہ انسان کا بوجھ ہلکا ہو جائے تو تیز قدم بڑھا کر ان سابقین سے ملحق ہو سکتا ہے جو نیکیوں کی طرف سبقت کرتے ہوئے بلند ترین منزلوں تک پہنچ گئے ہیں۔

امیر المومنین کی دی ہوئی یہ مثال وہ ہے جس کا تجربہ ہر انسان کی زندگی میں برابر سامنے آتا رہتا ہے کہ قافلہ میں جس کا بوجھ زیادہ ہوتا ہے وہ پیچھے رہ جاتا ہے اور جس کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے وہ آگے بڑھ جاتا ہے۔صری مشکل یہ ہے کہ انسان کو گناہوں کے پوجھ ہونے کا احساس نہیں ہے۔شاعرنے کیا خوب کہا ہے:

چلنے نہ دیا بار گنہ نے پیدل

تابوت میں کاندھوں پر سوارآیا ہوں


ذم الناكثين

أَلَا وإِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ ذَمَّرَ حِزْبَه واسْتَجْلَبَ جَلَبَه لِيَعُودَ الْجَوْرُ إِلَى أَوْطَانِه ويَرْجِعَ الْبَاطِلُ إِلَى نِصَابِه واللَّه مَا أَنْكَرُوا عَلَيَّ مُنْكَراً - ولَا جَعَلُوا بَيْنِي وبَيْنَهُمْ نَصِفاً.

دم عثمان

وإِنَّهُمْ لَيَطْلُبُونَ حَقّاً هُمْ تَرَكُوه ودَماً هُمْ سَفَكُوه - فَلَئِنْ كُنْتُ شَرِيكَهُمْ فِيه فَإِنَّ لَهُمْ لَنَصِيبَهُمْ مِنْه - ولَئِنْ كَانُوا وَلُوه دُونِي فَمَا التَّبِعَةُ إِلَّا عِنْدَهُمْ - وإِنَّ أَعْظَمَ حُجَّتِهِمْ لَعَلَى أَنْفُسِهِمْ - يَرْتَضِعُونَ أُمّاً قَدْ فَطَمَتْ ويُحْيُونَ بِدْعَةً قَدْ أُمِيتَتْ - يَا خَيْبَةَ الدَّاعِي مَنْ دَعَا وإِلَامَ أُجِيبَ - وإِنِّي لَرَاضٍ بِحُجَّةِ اللَّه عَلَيْهِمْ وعِلْمِه فِيهِمْ.

آگاہ ہو جائو کہ شیطان نے اپنے گروہ کو بھڑکانا شروع کردیا ہے اور فوج کوجمع کرلیا ہے تاکہ ظلم اپنی منزل پر پلٹ آئے اور باطل اپنے مرکز کی طرف واپس آجائے۔خدا کی قسم ان لوگوں نے نہ مجھ پر کوئی سچا الزام لگایا ہے اور نہ میرے اور اپنے درمیان کوئی انصاف کیا ہے۔

یہ مجھ سے اس حق کا مطالبہ کر رہے ہیں جو خود انہوں نے نظر انداز کیا ہے اور اس خون کا تقاضا کر رہے ہیں جوخود انہوں نے بہایا ہے۔پھر اگر میں ان کے ساتھ شریک تھا تو ان کا بھی تو ایک حصہ تھا اور وہ تنہا مجرم تھے تو ذمہ داری بھی انہیں پر ہے۔بیشک ان کی عظیم ترین دلیل بھی انہیں کے خلاف ہے۔یہ اس ماں سے دود ھ پینا چاہتے ہیں جس کا دودھ ختم ہو چکا ہے اور اس بدعت کو زندہ کرنا چاہتے ہیں جو مر چکی(۱) ہے۔ ہائے کس قدر نا مراد یہ جنگ کا داعی(۲) ہے۔کون پکا ر رہا ہے ؟ اور کس مقصد کے لئے اس کی بات سنی جا رہی ہے ؟ میں اس بات سے خوش ہوں کہ پروردگار کی حجت ان پر تمام ہو چکی ہے اور وہ ان کے حالات سے با خبر ہے۔

(۱)تاریخ کا مسلمہ ہے کہ عثمان نے اپنے دور حکومت میں اپنے پیشر و تمام حکام کے خلاف اقربا پرستی اوربیت المال کی بے بنیاد تقسیم کا بازار گرم کر دیا تھا اور یہی بات ان کے قتل کا بنیادی سبب بن گئی۔ظاہر ہے کہ ان کے قتل کے بعد یہ بدعت بھی مردہ ہوچکی تھی لیکن طلحہ نے امیر المومنین سے بصرہ کی گورنری اور زبیر نے کوفہ کی گورنری کا مطالبہ کرکے پھر اس بدعت کو زندہ کرنا چاہا جو ایک امام معصوم کسی قیمت پر برداشت نہیں کر سکتا ہے چاہے اس کی کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ ادا کرنا پڑے۔

(۲)ابن ابی الحدید کے نزدیک داعی سے مراد طلحہ'زبیر اور عائشہ ہیں جنہوں نے آپ کے خلاف جنگ کی آگ بھڑکائی تھی لیکن انجام کار سب کو ناکام اور نا مراد ہونا پڑا اور کوئی نتیجہ ہاتھ نہ آیا جس کی طرف آپ نے تحقیر آمیز لہجہ میں اشارہ کیاہے اور صاف واضح کردیا ہے کہ میں جنگ سے ڈرنے والا نہیں ہوں۔تلوار میرا تکیہ ہے اور یقین میرا سہارا۔اس کے بعد مجھے کس چیز سے خوفزدہ کیا جا سکتا ہے۔


التهديد بالحرب

فَإِنْ أَبَوْا أَعْطَيْتُهُمْ حَدَّ السَّيْفِ - وكَفَى بِه شَافِياً مِنَ الْبَاطِلِ ونَاصِراً لِلْحَقِّ - ومِنَ الْعَجَبِ بَعْثُهُمْ إِلَيَّ أَنْ أَبْرُزَ لِلطِّعَانِ وأَنْ أَصْبِرَ لِلْجِلَادِ - هَبِلَتْهُمُ الْهَبُولُ لَقَدْ كُنْتُ ومَا أُهَدَّدُ بِالْحَرْبِ ولَا أُرْهَبُ بِالضَّرْبِ وإِنِّي لَعَلَى يَقِينٍ مِنْ رَبِّي وغَيْرِ شُبْهَةٍ مِنْ دِينِي

(۲۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وتشتمل على تهذيب الفقراء بالزهد وتأديب الأغنياء بالشفقة

تهذيب الفقراء

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الأَمْرَ يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ كَقَطَرَاتِ الْمَطَرِ إِلَى كُلِّ نَفْسٍ بِمَا قُسِمَ لَهَا مِنْ زِيَادَةٍ أَوْ نُقْصَانٍ فَإِنْ رَأَى أَحَدُكُمْ لأَخِيه غَفِيرَةً فِي أَهْلٍ أَوْ مَالٍ أَوْ نَفْسٍ فَلَا تَكُونَنَّ لَه فِتْنَةً فَإِنَّ الْمَرْءَ الْمُسْلِمَ مَا لَمْ يَغْشَ دَنَاءَةً تَظْهَرُ فَيَخْشَعُ لَهَا إِذَا ذُكِرَتْ ويُغْرَى بِهَا لِئَامُ النَّاسِ كَانَ كَالْفَالِجِ الْيَاسِرِ الَّذِي يَنْتَظِرُ أَوَّلَ فَوْزَةٍ مِنْ قِدَاحِه تُوجِبُ لَه الْمَغْنَمَ ويُرْفَعُ بِهَا عَنْه الْمَغْرَمُ

اب اگر ان لوگوں نے حق کا انکار کیا ہے تو میں انہیں تلوار کی باڑھ عطا کروں گا کہ وہی باطل کی بیماری سے شفا دینے والی اور حق کی واقعی مددگار ہے۔حیرت انگیز بات ہے کہ یہ لوگ مجھے نیزہ بازی کے میدان میں نکلنے اور تلوار کی جنگ سہنے کی دعوت دے رہے ہیں۔رونے والیاں ان کے غم میں روئیں۔مجھے تو کبھی بھی جنگ سے خوفزدہ نہیں کیا جا سکا ہے اور نہ میں شمشیر زنی سے مرعوب ہوا ہوں میں تو اپنے پروردگار کی طرف سے منزل یقین پر ہوں اور مجھے دین کے بارے میں کسی طرح کا کوئی شک نہیں ہے۔

(۲۳)

آپ کے ایک خطبہ کا ایک حصہ

یہ خطبہ فقراء کی تہذیب اور ثروت مندوں کی شفقت پر مشتمل ہے

امام بعد! انسان کے مقسوم میں کم یا زیادہ جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کا امرآسمان سے زمین کی طرف بارش کے قطرات کی طرح نازل ہوتا ہے۔لہٰذا اگر کوئی شخص اپنے بھائی کے پاس اہل و مال یا نفس کی فراوانی دیکھے تو اس کے لئے فتنہ نہ بنے۔کہ مرد مسلم کے کردار میں اگر ایسی پستی نہیں ہے جس کے ظاہر ہو جانے کے بعد جب بھی اس کاذکر کیا جائے اس کی نگاہ شرم سے جھک جائے اور پست لوگو کے حوصلے اس سے بلند ہو جائیں تو اس کی مثال اس کامیاب جواری کی ہے جو جوئے کے تیروں کا پانسہ پھینک

کر پہلے ہی مرحلہ میں کامیابی کا انتظار کرتا ہے جس سے فائدہ حاصل ہو اور گذشتہ فساد کی تلافی ہو جائے۔


وكَذَلِكَ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ الْبَرِيءُ مِنَ الْخِيَانَةِ يَنْتَظِرُ مِنَ اللَّه إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ إِمَّا دَاعِيَ اللَّه فَمَا عِنْدَ اللَّه خَيْرٌ لَه وإِمَّا رِزْقَ اللَّه فَإِذَا هُوَ ذُو أَهْلٍ ومَالٍ ومَعَه دِينُه وحَسَبُه وإِنَّ الْمَالَ والْبَنِينَ حَرْثُ الدُّنْيَا والْعَمَلَ الصَّالِحَ حَرْثُ الآخِرَةِ - وقَدْ يَجْمَعُهُمَا اللَّه تَعَالَى لأَقْوَامٍ - فَاحْذَرُوا مِنَ اللَّه مَا حَذَّرَكُمْ

مِنْ نَفْسِه - واخْشَوْه خَشْيَةً لَيْسَتْ بِتَعْذِيرٍ واعْمَلُوا فِي غَيْرِ رِيَاءٍ ولَا سُمْعَةٍ - فَإِنَّه مَنْ يَعْمَلْ لِغَيْرِ اللَّه يَكِلْه اللَّه لِمَنْ عَمِلَ لَه نَسْأَلُ اللَّه مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ ومُعَايَشَةَ السُّعَدَاءِ - ومُرَافَقَةَ الأَنْبِيَاءِ.

تأديب الأغنياء

أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّه لَا يَسْتَغْنِي الرَّجُلُ - وإِنْ كَانَ ذَا مَالٍ عَنْ - عِتْرَتِه ودِفَاعِهِمْ عَنْه بِأَيْدِيهِمْ وأَلْسِنَتِهِمْ - وهُمْ أَعْظَمُ النَّاسِ حَيْطَةً مِنْ وَرَائِه وأَلَمُّهُمْ لِشَعَثِه وأَعْطَفُهُمْ عَلَيْه عِنْدَ نَازِلَةٍ إِذَا نَزَلَتْ بِه - ولِسَانُ الصِّدْقِ يَجْعَلُه اللَّه لِلْمَرْءِ فِي النَّاسِ - خَيْرٌ لَه مِنَ الْمَالِ يَرِثُه غَيْرُه.

.

یہی حال اس مرد مسلمان کا ہے جس کا دامن خیانت سے پاک ہو کہ وہ ہمیشہ پروردگار سے دو میں سے ایک نیکی کا امید وار رہتا ہے یا داعی اجل آجائے تو جو کچھ اس کی بارگاہ میں ہے وہ اس دنیا سے کہیں زیادہ بہتر ہے یا رزق خدا حاصل ہو جائے تو وہ صاحب اہل و مال بھی ہوگا اور اس کا دین اور وقار بھی بر قرار رہے گا۔یاد رکھو مال اور اولاد دنیا کی کھیتی ہے اور عمل صالح آخرت کی کھیتی ہے اور کبھی کبھی پروردگار بعض اقوام کے لئے دونوں کوجمع کردیتا ہے لہٰذا خدا سے اس طرح ڈرو جس طرح اس نے ڈرنے کا حکم دیا ہے اور اس کا خوف اس طرح پیدا کرو کہ پھر معذرت نہ کرنا پڑے۔عمل کرو۔ تو دکھانے سنانے سے الگ رکھو کہ جو شخص بھی غیر خدا کے واسطے عمل کرتاہے خدا اسے اسی شخص کے حوالے کردیتا ہے۔میںپروردگار سے شہیدوں کی منزل۔نیک بندوں کی صحبت اور انبیاء کرام کی رفاقت کی دعاکرتا ہوں۔

ایہا الناس! یاد رکھو کہ کوئی شخص کسی قدر بھی صاحب مال کیوں نہ ہو جائے اپنے قبیلہ اور ان لوگوں کے ہاتھ اور زبان کے ذریعہ دفاع کرنے سے بے نیاز نہی ہو سکتا ہے۔یہ لوگ انسان کے بہترین محافظ ہوتے ہیں اس کی پراگندگی کے دور کرنے والے اورمصیبت کے نزول کے وقت اس کے حال پر مہربان ہوتے ہیں۔پروردگار بندہ کے لئے جوذکرخیر لوگوں کے درمیان قرار دیتا ہے وہ اس مال سے کہیں زیادہ بہتر ہوتا ہے جس کے وارث دوسرے افراد ہو جاتے ہیں۔


ومنها أَلَا لَا يَعْدِلَنَّ أَحَدُكُمْ عَنِ الْقَرَابَةِ يَرَى بِهَا الْخَصَاصَةَ أَنْ يَسُدَّهَا بِالَّذِي لَا يَزِيدُه إِنْ أَمْسَكَه - ولَا يَنْقُصُه إِنْ أَهْلَكَه ومَنْ يَقْبِضْ يَدَه عَنْ عَشِيرَتِه - فَإِنَّمَا تُقْبَضُ مِنْه عَنْهُمْ يَدٌ وَاحِدَةٌ - وتُقْبَضُ مِنْهُمْ عَنْه أَيْدٍ كَثِيرَةٌ - ومَنْ تَلِنْ حَاشِيَتُه يَسْتَدِمْ مِنْ قَوْمِه الْمَوَدَّةَ.

قال السيد الشريف أقول الغفيرة هاهنا الزيادة والكثرة من قولهم للجمع الكثير الجم الغفير والجماء الغفير - ويروى عفوة من أهل أو مال - والعفوة الخيار من الشيء يقال أكلت عفوة الطعام أي خياره. وما أحسن المعنى الذي أرادهعليه‌السلام بقوله ومن يقبض يده عن عشيرته... إلى تمام الكلام - فإن الممسك خيره عن عشيرته إنما يمسك نفع يد واحدة - فإذا احتاج إلى نصرتهم واضطر إلى مرافدتهم قعدوا عن نصره وتثاقلوا عن صوته - فمنع ترافد الأيدي الكثيرة وتناهض الأقدام الجمة

آگاہ ہو جائو کہ تم سے کوئی شخص بھی اپنے اقربا(۱) کومحتاج دیکھ کر اس مال سے حاجت برآری کرنے سے گریز نہ کرے جو باقی رہ جائے تو بڑھ نہیں جائے گا اورخرچ کردیا جائے تو کم نہیں ہو جائے گا۔اس لئے کہ جو شخص بھی اپنے عشیرہ اورقبیلہ سے اپنا ہاتھ روک لیتا ہے تو اس قبیلہ سے ایک ہاتھ رک جاتا ہے اور خود اس کے لئے بیشمار ہاتھ رک جاتے ہیں۔اور جس کے مزاج میں نرمی ہوتی ہے وہ قوم کی محبت کو ہمیشہ کے لئے حاصل کر لیتا ہے۔

سید رضی: اس مقام پر غفیرہ کثرت کے معنی میں ہے جس طرح جمع کثیر کو جمع کثری کہا جاتا ہے۔بعض روایات میں غفیرہ کے بجائے عفوہ ہے جو منتخب اور پسندیدہ شے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے'' عفوہ الطعام'' پسندیدہ کھانے کوکہا جاتا ہے اور امام علیہ نے اس مقام پر بہترین نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اگر کسی نے اپنا ہاتھ عشیرہ سے کھینچ لیا تو گویا کہ ایک ہاتھ کم ہوگیا۔لیکن جب اسے ان کی نصرت اور امداد کی ضرورت ہوگی اوروہ ہاتھ کھینچ لیں گے اور اس کی آواز پر لبیک نہیں کہیں گے تو بہتے سے بڑھنے والے ہاتھوں اور اٹھنے والے قدموں سے محروم ہو جائے گا۔

(۱)اگرچہ اسلام نے بظاہر فقیر کو غنی کے مال میں یا رشتہ دار کو رشتہ دارکے مال میں شریک نہیں بنایا ہے لیکن اس کا یہ فلسفہ کہ تمام املاک دنیا کا مالک حقیقی پروردگار ہے اور اس کے اعتبارسے تمام بندے ایک جیسے ہیں۔سب اس کے بندے ہیں اور سب کے رزق کی ذمہ داری اسی کی ذات اقدس پر ہے۔اس امرکی علامت ہے کہ اس نے ہر غنی کے مال میں ایک حصہ فقیروں اورمحتاجوں کا ضرور قرار دیا ہے اوراسے جبراً واپس نہیں لیا ہے بلکہ خود غنی کو انفاق کا حکم دیا ہے تاکہ مال اس کے اختیار سے فقیر تک جائے۔اس طرح وہ آخرت میں اجرو ثواب کا حقدار ہو جائے گا اور دنای میں فقیر کے دل میں اس کی جگہ ن جائے گی جو صاحبان ایمان کاش رف ہے کہ پروردگار لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت قرار دے دیتا ہے۔ پھر اس انفاق میں کسی طرح کا نقصان بھی نہیں ہے۔مال یوں ہی باقی رہ گیا تو بھی دوسروں ہی کے کام آئے گا تو کیوں نہ ایسا ہو کہ اسی کے کام آجائے جس کے زور بازو نے جمع کیا ہے اور پھروہ جماعت بھی ہاتھ آجائے جو کسی وقت بھی کام آسکتی ہے۔جگر جگر ہوتا ہے اور دگردگر ہوتا ہے۔


(۲۴)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وهي كلمة جامعة له، فيها تسويغ قتال المخالف، والدعوة إلى طاعة اللَّه،

والترقي فيها لضمان الفوز

ولَعَمْرِي مَا عَلَيَّ مِنْ قِتَالِ مَنْ خَالَفَ الْحَقَّ وخَابَطَ الْغَيَّ مِنْ إِدْهَانٍ ولَا إِيهَانٍ فَاتَّقُوا اللَّه عِبَادَ اللَّه وفِرُّوا إِلَى اللَّه مِنَ اللَّه - وامْضُوا فِي الَّذِي نَهَجَه لَكُمْ وقُومُوا بِمَا عَصَبَه بِكُمْ فَعَلِيٌّ ضَامِنٌ لِفَلْجِكُمْ آجِلًا إِنْ لَمْ تُمْنَحُوه عَاجِلًا.

(۲۵)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وقد تواترت عليه الأخبارباستيلاء أصحاب معاوية على البلاد وقدم عليه عاملاه على اليمن وهما عبيد الله بن عباس وسعيد بن نمران لما غلب عليهما بسر بن أبي أرطاة

(۲۴)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

جس میں اطاعت خداکی دعوت دی گئی ہے

میری جان کی قسم! میں حق کی مخالفت کرنے والوں اور گمراہی میں بھٹکنے والوں سے جہاد کرنے میں نہ کوئی نرمی کر سکتا ہوں اور نہ سستی اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور اس کے غضب سے فرار کرکے اس کی رحمت میں پناہ لو۔اس راستہ پر چلو جو اس نے بنادیا ہے۔اوران احکام پرعمل کروجنہیں تم سے مربوط کردیا گیا ہے۔اس کے بعد علی تمہاری کامیابی کا آخرت میں بہر حال ذمہ دار ہے چاہے دنیا میں حاصل نہ ہوسکے

(۲۵)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

جب آپ کو مسلسل(۱) خبردی گئی کہ معاویہ کے ساتھیوں نے شہروں پر قبضہ کرلیا ہے اور آپ کے دو عامل یمن عبید اللہ بن عباس اورسعید بن نمران بسر بن ابی ارطاة کے مظالم سے پریشان ہو کرآپ کی خدمت میں آگئے۔

(۱)امیر المومنین کی خلافت کا جائزہ لیا جائے تو مصائب و مشکلات میں سرکار دوعالم (ص) کے دور رسالت سے کچھ کم نہیں ہے۔آپ نے تیرہ سال مکہ میں مصیبتیں برداشت کی اور دس سال مدینہ میں جنگوں کا مقابلہ کرتے رہے اور یہی حال مولائے کائنات کا رہا۔ذی الحجہ ۳۵ھ میں خلافت ملی اور ماہ مبارک ۴۰ھ میں شہید ہوگئے۔کل دور حکومت ۴ سال ۹ ماہ ۲ دن رہا اوراس میں بھی تین بڑ ے بڑے معرکے ہوئے اور چھوٹی چھوٹی جھڑپیں مسلسل ہوتی رہیں۔جہاں علاقوں پر قبضہ کیا جا رہا تھا اور چاہتے والوں کو اذیت دی جا رہی تھی۔معاویہ نے عمرو عاص کے مشورہ سے بسر بن ابی ارطاة کو تلاش کرلیا تھا اوراس جلاد کو مطلق العنان بنا کرچھوڑ دیا تھا۔ظاہر ہے کہ'' پاگل کتے '' کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو شہر والوں کا کیا حال ہوگا اور علاقہ کے امن و امان میں کیا باقی رہ جائے گا۔


فقامعليه‌السلام على المنبر ضجرا بتثاقل أصحابه عن الجهاد ومخالفتهم له في الرأي فقال:

مَا هِيَ إِلَّا الْكُوفَةُ أَقْبِضُهَا وأَبْسُطُهَا إِنْ لَمْ تَكُونِي إِلَّا أَنْتِ تَهُبُّ أَعَاصِيرُكِ فَقَبَّحَكِ اللَّه!

وتَمَثَّلَ بِقَوْلِ الشَّاعِرِ

لَعَمْرُ أَبِيكَ الْخَيْرِ يَا عَمْرُو إِنَّنِي

عَلَى وَضَرٍ مِنْ ذَا الإِنَاءِ قَلِيلِ

ثُمَّ قَالَعليه‌السلام

أُنْبِئْتُ بُسْراً قَدِ اطَّلَعَ الْيَمَنَ وإِنِّي واللَّه لأَظُنُّ أَنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ سَيُدَالُونَ مِنْكُمْ بِاجْتِمَاعِهِمْ عَلَى بَاطِلِهِمْ وتَفَرُّقِكُمْ عَنْ حَقِّكُمْ - وبِمَعْصِيَتِكُمْ إِمَامَكُمْ فِي الْحَقِّ وطَاعَتِهِمْ إِمَامَهُمْ فِي الْبَاطِلِ وبِأَدَائِهِمُ الأَمَانَةَ إِلَى صَاحِبِهِمْ وخِيَانَتِكُمْ وبِصَلَاحِهِمْ فِي بِلَادِهِمْ وفَسَادِكُمْ فَلَوِ ائْتَمَنْتُ أَحَدَكُمْ عَلَى قَعْبٍ لَخَشِيتُ أَنْ يَذْهَبَ بِعِلَاقَتِه

اللَّهُمَّ إِنِّي قَدْ مَلِلْتُهُمْ ومَلُّونِي وسَئِمْتُهُمْ وسَئِمُونِي

تو آپ نے اصحاب کی کوتاہی جہاد سے بد دل ہو کر منبر پر کھڑے ہو کریہ خطبہ ارشاد فرمایا: اب یہی کوفہ ہے جس کا بست و کشاد میرے ہاتھ میں ہے۔اے کوفہ اگر توایسا ہی رہا اور یونہی تیری آندھیاں چلتی رہیں تو خدا تیرا برا کرے گا۔

( اس کے بعد شاعرکے اس شعر کی تمثیل بیان فرمائی) اے عمرو! تیرے اچھے باپ کی قسم' مجھے تو اس برتن کی تہ میں لگی ہوئی چکنائی ہی ملی ہے۔

اس کے بعد فرمایا: مجھے خبر دی گئی ہے کہ بسر یمن تک آگیا ہے اور خدا کی قسم میرا خیال یہ ہے کہ عنقریب یہ لوگ تم سے اقتدار کو چھین لیں گے۔اس لئے کہ یہ اپنے باطل پر متحد ہیں اور تم اپنے حق پر متحد نہیں ہو۔یہ اپنے پیشوا کی باطل میں(۱) اطاعت کرتے ہیں اور تم اپنے امام کی حق میں بھی نا فرمانی کرتے ہو۔یہ اپنے مالک کی امانت اس کے حوالے کر دیتے ہیں اور تم خیانت کرتے ہو۔یہ اپنے شہروں میں امن وامان رکھتے ہیں اورتم اپنے شہر میں بھی فساد کرتے ہو۔میں تو تم میں سے کسی کو لکڑی کے پیالہ کا بھی امین بنائوں تو یہ خوف رہے گا کہ وہ کنڈا لے کر بھاگ جائے گا خدایامیں ان سے تنگ آگیا ہوں اور یہ مجھ سے تنگ آگئے ہیں۔میں ان سے اکتا گیا ہوں اور یہ مجھ سے اکتا گئے ہیں

(۱)ذرا جا حظ کی قابلیت ملاحظہ فرمائیے۔ فرماتے ہیں کہ کوفہ والے اس لئے نہیں اطاعت کرتے تھے کہ ان کی نگاہ تنقیدی اوربصیرت آمیز تھی اور شام والے احمق اورجاہل تھے اس لئے اطاعت کر لیتے تھے۔ان قابلیت مآب سے کون دریافت کرے کہ کوفہ والوں نے مولائے کائنات کے کس عیب کی بناپر اطاعت چھوڑ دی تھی اور کس تنقیدی نظر سے آپ کی زندگی کو دیکھ لیا تھا۔حقیقت امریہ ہے کہ کوفہ و شام دونوں ضمیر فروش تھے۔شام والوں کو خریدار مل گیا تھا اور کوفہ میں حضرت علی نے یہ طریقہ کار اختیار کرلیا تھا کہ منہ مانگی قیمت نہیں عطا کی تھی لہٰذا بغاوت کا ہونا ناگزیر تھا اوریہ کوئی حیرت انگیز امرنہیں ہے۔


فَأَبْدِلْنِي بِهِمْ خَيْراً مِنْهُمْ وأَبْدِلْهُمْ بِي شَرّاً مِنِّي - اللَّهُمَّ مِثْ قُلُوبَهُمْ كَمَا يُمَاثُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ - أَمَا واللَّه لَوَدِدْتُ أَنَّ لِي بِكُمْ أَلْفَ فَارِسٍ - مِنْ بَنِي فِرَاسِ بْنِ غَنْمٍ.

هُنَالِكَ لَوْ دَعَوْتَ أَتَاكَ مِنْهُمْ

فَوَارِسُ مِثْلُ أَرْمِيَةِ الْحَمِيمِ

ثُمَّ نَزَلَعليه‌السلام مِنَ الْمِنْبَرِ

قال السيد الشريف - أقول الأرمية جمع رميّ وهو السحاب - والحميم هاهنا وقت الصيف - وإنما خص الشاعر سحاب الصيف بالذكر - لأنه أشد جفولا وأسرع خفوفا لأنه لا ماء فيه - وإنما يكون السحاب ثقيل السير لامتلائه بالماء - وذلك لا يكون في الأكثر إلا زمان الشتاء - وإنما أراد الشاعر وصفهم بالسرعة إذا دعوا - والإغاثة إذا استغيثوا - والدليل على ذلك قوله:

هنالك لو دعوت أتاك منهم

لہٰذا مجھے ان سے بہتر قوم عنایت(۱) کردے اور انہیں مجھ سے ''بدتر'' حاکم دیدے اور ان کے دلوں کو یوں پگھلا دے جس طرح پانی میں نمک گھولا جاتا ہے۔خدا کی قسم میں یہ پسند کرتا ہوں کہ ان سب کے بدلے مجھے بنی فراس بن غنم کے صرف ایک ہزار سپاہی مل جائیں۔جن کے بارے میں ان کے شاعرنے کہا تھا:

''اس وقت میں اگر تو انہیں آواز دے گا تو ایسے شہسوار سامنے آئیں گے جن کی تیز رفتاری گرمیوں کے بالدوں سے زیادہ سریع تر ہوگی''

سید رضی : ارمیہ رمیی کی جمع ہے جس کے معنی بادل کے ہیں اورحمیم گرمی کے زمانہ کے معنی میں ہے۔شعرنے گرمی کے بادلوں کاذکر اس لئے کیا ہے کہ ان کی رفتارتیز تر اورسبک ترہوتی ہے اس لئے کہ ان میں پانی نہیں ہوتا ہے۔بادل کی رفتار اس وقت سست ہو جاتی ہے جب اس میں پانی بھرجاتا ہے اوریہ عام طور پر سردی کے زمانہ میں ہوتا ہے۔شاعرنے اپنی قوم کی آواز پر لبیک کہنے اور مظلوم کی فریاد رسی میں سبک رفتاری کا ذکر کیا ہے جس کی دلیل '' لودعوت '' ہے

(۲)کسی قوم کے لئے ڈوب مرنے کی بات ہے کہ اس کا معصوم رہنما اس سے اس قدرعاجزآجائے کہ اس کے حق میں درپردہ بد دعا کرنے کے لئے تیار ہوجائے اور اسے دشمن کے ہاتھ فروخت کردینے پرآمادہ ہوجائے۔ اہل کوفہ کی بد بختی کی آخری منزل تھی کہ وہ اپنے معصوم رہنما کو بھی تحفظ فراہم نہ کر سکے اور ان کے درمیان ان کا ارہنما عین حالت سجدہ میں شہید کردیا گیا۔کوفہ کا قیاس مدینہ کے حالات پر نہیں کیا جا سکتا ہے۔مدینہنے اپنے حاکم کا ساتھ نہیں دیا اس لئے کہ وہ خود اس کے حرکات سے عاجز تھے اور مسلسل احتجاج کر چکے تھے لیکن کوفہمیں ایسا کچھ نہیں تھا یا واضح لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے۔کہ مدینہ کے حکام کے قاتل اپنے عملپر مطمئن تھے اور انہیں کسی طرح کی شرمندگی کا احسان نہیں تھا لیکن کوفہ میں جب امیر المومنین نے اپنے قاتل سے دریافت کیا کہ کیا میں تیرا کوئی برا امام تھا؟تو اس نے برجستہ یہی جواب دیا کہ کہ آپ کسی جہنم میں جانے والے کو روک نہیں سکتے ہیں۔گویا مدینہ سے کوفہ تک کے حالات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مدینہ کے مقتول اپنے ظلم کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے اور کوفہ کا شہید اپنے عدل و انصاف کی بنیاد پر شہید ہوا ہے اورایسے ہی شہید کو یہ کہنے کا حق ہے کہ '' فزت و رب الکعبة '' ( پروردگار کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا)۔

(۲۶)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وفيها يصف العرب قبل البعثة ثم يصف حاله قبل البيعة له

العرب قبل البعثة

إِنَّ اللَّه بَعَثَ مُحَمَّداًصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نَذِيراً لِلْعَالَمِينَ - وأَمِيناً عَلَى التَّنْزِيلِ - وأَنْتُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ عَلَى شَرِّ دِينٍ وفِي شَرِّ دَارٍ - مُنِيخُونَ بَيْنَ حِجَارَةٍ خُشْنٍ وحَيَّاتٍ صُمٍّ تَشْرَبُونَ الْكَدِرَ وتَأْكُلُونَ الْجَشِبَ وتَسْفِكُونَ دِمَاءَكُمْ وتَقْطَعُونَ أَرْحَامَكُمْ - الأَصْنَامُ فِيكُمْ مَنْصُوبَةٌ والآثَامُ بِكُمْ مَعْصُوبَةٌ

ومنها صفته قبل البيعة له

فَنَظَرْتُ فَإِذَا لَيْسَ لِي مُعِينٌ إِلَّا أَهْلُ بَيْتِي - فَضَنِنْتُ بِهِمْ عَنِ الْمَوْتِ - وأَغْضَيْتُ عَلَى الْقَذَى وشَرِبْتُ عَلَى الشَّجَا وصَبَرْتُ عَلَى أَخْذِ الْكَظَمِوعَلَى أَمَرَّ مِنْ طَعْمِ الْعَلْقَمِ.

ومنها:

ولَمْ يُبَايِعْ حَتَّى شَرَطَ أَنْ يُؤْتِيَه عَلَى الْبَيْعَةِ ثَمَناً

(۲۶)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں بعثت سے پہلے عرب کی حالت کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر اپنی بیعت سے پہلے کیے حالات کا تذکرہ کیا گیا ہے)

یقینا اللہ نے حضرت محمد (ص) کو عالمین کے لئے عذاب الٰہی سے ڈرانے والا اورتنزیل کا امانت دار بنا کر اس وقت بھیجا ہے جب تم گروہ عرب بد ترین دین کے مالک اور بد ترین علاقہ کے رہنے والے تھے۔نا ہموار پتھروں او زہریلے سانپوں کے درمیان بود باش رکھتے تھے۔گندہ پانی پیتے تھے اور غلیظ غذا استعمال کرتے تھے۔آپس میں ایک دوسرے کا خون بہاتے تھے اور قرابتداروں سے بے تعلقی رکھتے تھے۔بت تمہارے درمیان نصب تھے اور گناہ تمہیں گھیرے ہوئے تھے

(بیعت کے ہنگام)

میں نے دیکھا کہ سوائے میرے گھر والوں کے کوئی میرا مدد گار نہی ہے تو میں نے انہیں موت کے منہ میں دینے سے گریز کیا اور اس حال میں چشم پوشی کی کہ آنکھوں میں خس و خاشاک تھا۔میں نے غم و غصہ کے گھونٹ پئے اور گلو گرفتگی اورخنطل سے زیادہ تلخ حالات پرصبر کیا۔

یاد رکھو ! عمرو عاص نے معاویہ کی بیعت اس وقت تک نہیں کی جب تک کہ بیعت کی قیمت نہیں طے کرلی۔


فَلَا ظَفِرَتْ يَدُ الْبَائِعِ وخَزِيَتْ أَمَانَةُ الْمُبْتَاعِ فَخُذُوا لِلْحَرْبِ أُهْبَتَهَا وأَعِدُّوا لَهَا عُدَّتَهَا - فَقَدْ شَبَّ لَظَاهَا وعَلَا سَنَاهَا واسْتَشْعِرُوا الصَّبْرَ فَإِنَّه أَدْعَى إِلَى النَّصْرِ.

(۲۷)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وقد قالها يستنهض بها الناس حين ورد خبر غزو الأنبار بجيش معاوية فلم ينهضوا. وفيها يذكر فضل الجهاد، ويستنهض الناس، ويذكر علمه بالحرب،ويلقي عليهم التبعة لعدم طاعته

خدا نے چاہا تو بیعت کرنے والے کا سودا کامیاب نہ ہوگا اور بیعت لینے والے کوبھی صرف رسوائی ہی نصیب ہوگی۔ لہٰذا اب جنگ کا سامان سنبھال لو اوراس کے اسباب مہیا کر لو کہ اس کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں اورلپیٹیں بلندڈ ہو چکی ہیں اور دیکھوصبر کو اپنا شعاربنالو کہ یہ نصرت و کامرانی کا بہترین ذریعہ ہے۔

(۲۷)

(جو اس وقت ارشد فرمایا جب آپ کو خبر ملی کہ

معاویہ(۱) کے لشکرنے انبار پر حملہ کردیا ہے ۔اس خطبہ میں جہاد کی فضیلت کا ذکر کرکے لوگوں کو جنگ پر آمادہ کیا گیا ہے اوراپنی جنگی مہارت کا تذکرہ کرکے نا فرمانی کی ذمہ داری لشکر والوں پر ڈالی گئی ہے)

(۱)معاویہ نے امیر المومنین کی خلافت کے خلاف بغاوت کا اعلان کرکے پہلے صفین کا میدان کا رزار گرم کیا۔اس کے بعد ہر علاقہ میں فتنہ وفساد کی آگ بھڑکائی تاکہ آپ کو ایک لمحہ کے لئے سکون نصیب نہ ہو سکے۔اور آپ اپنے نظام عدل و انصاف کو سکون کے ساتھ رائج نہ کرسکیں۔معاویہ کے انہیں حرکات میں سے ایک کام یہ بھی تھا کہ بنی غامد کے ایک شخص سفیان بن عوف کو چھ ہزار کا لشکردے کر روانہ کردیا کہ عراق کے مختلف علاقوں پر غارت کا کام شروع کرے۔چنانچہ اس نے انبار پر حملہ کردیا جہاں حضرت کا مختصر سا سرحدی حفاظتی دستہ تھا اور وہ اس لشکر سے مقابلہ نہ کرسکا صرف چند افراد ثابت قدم رہے۔باقی سب بھاگ کھڑے ہوئے اور اس کے بعد سفیان کا لشکر آبادی میں داخل ہوگیا اور بیحد لوٹ مچائی۔جس کی خبرنے حضرت کو بے چین کردیا اور آپ نے منبر پر آکر قوم کو غیرت دلائی لیکن کوئی لشکرتیارنہ ہو سکا جس کے بعد آپ خود روانہ ہوگئے اور اس صورت حال کو دیکھ کر چند افراد کو غیرت آگئی اور ایک لشکر سفیان کے مقابلہ کے لئے سعید بن قیس کی قیادت میں روانہ ہوگیا مگر اتفاق سے اس وقت سفیان کا لشکر واپس جا چکا تھا اوریہ لشکر جنگ کے بغیر واپس آگیا اور آپ نے ناسازی مزاج کے باوجود یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔بعض حضرت کا خیال ہے کہ یہ خطبہ کوفہ واپس آنے کے بعد ارشاد فرمایا ہے اور بعض کا کہنا ہے کہ مقابلہ نخیلہ ہی پر ارشاد فرمایا تھا بہر حال صورت واقعہ انتہائی افسوس ناک اور درد ناک تھی اور اسلام میں اس کی بیشمار مثالیں پائی جاتی ہیں۔


فضل الجهاد

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الْجِهَادَ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ - فَتَحَه اللَّه لِخَاصَّةِ أَوْلِيَائِه وهُوَ لِبَاسُ التَّقْوَى - ودِرْعُ اللَّه الْحَصِينَةُ وجُنَّتُه الْوَثِيقَةُ - فَمَنْ تَرَكَه رَغْبَةً عَنْه أَلْبَسَه اللَّه ثَوْبَ الذُّلِّ وشَمِلَه الْبَلَاءُ - ودُيِّثَ بِالصَّغَارِ والْقَمَاءَةِ وضُرِبَ عَلَى قَلْبِه بِالإِسْهَابِ وأُدِيلَ الْحَقُّ مِنْه بِتَضْيِيعِ الْجِهَادِ - وسِيمَ الْخَسْفَ ومُنِعَ النَّصَفَ

استنهاض الناس

أَلَا وإِنِّي قَدْ دَعَوْتُكُمْ إِلَى قِتَالِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ - لَيْلًا ونَهَاراً وسِرّاً وإِعْلَاناً - وقُلْتُ لَكُمُ اغْزُوهُمْ قَبْلَ أَنْ يَغْزُوكُمْ - فَوَاللَّه مَا غُزِيَ قَوْمٌ قَطُّ فِي عُقْرِ دَارِهِمْ إِلَّا ذَلُّوا - فَتَوَاكَلْتُمْ وتَخَاذَلْتُمْ - حَتَّى شُنَّتْ عَلَيْكُمُ الْغَارَاتُ ومُلِكَتْ عَلَيْكُمُ الأَوْطَانُ - وهَذَا أَخُو غَامِدٍ [و] قَدْ وَرَدَتْ خَيْلُه الأَنْبَارَ وقَدْ قَتَلَ حَسَّانَ بْنَ حَسَّانَ الْبَكْرِيَّ - وأَزَالَ خَيْلَكُمْ عَنْ مَسَالِحِهَا

اما بعد! جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جسے پروردگارنے اپنے مخصوص اولیاء کے لئے کھولا ہے۔یہ تقویٰ کا لباس اور اللہ کی محفوظ و مستحکم زرہ اور مضبوط سپرہے۔جس نے اعراض کرتے ہوئے نظر انداز کردیا اسے اللہ ذلت کا لباس پہنا دے گا اور اس پر مصیبت حاوی ہو جائے گی اور اسے ذلت و خواری کے ساتھ ٹھکرا دیا جائے گا اوراس کے دل پر غفلت کا پردہ ڈال دیا جائے گا اور جہاد کو ضائع کرنے کی بنا پر حق اس کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور اسے ذلت برداشت کرناپڑے گی اور وہ انصاف سے محروم ہو جائے گا

آگاہ ہو جائو کہ میں نے تم لوگوں کواس قوم سے جہاد کرنے کے لئے دن میں پکارا اور رات میں آواز دی۔خفیہ طریقہ سے دعوت دی اور علی الاعلان آمادہ کیا اور برابر سمجھایاکہ ان کے حملہ کرنے سے پہلے تم میدان میں نکل آئو کہ خدا کی قسم جس قوم سے اس کے گھر کے اندر جنگ کی جاتی ہے اس کا حصہ ذلت کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ہے لیکن تم نے ٹال مٹول کیا اورسستی کا مظاہرہ کیا۔یہاں تک کہ تم پر مسلسل حملے شروع ہوگئے اور تمہارے علاقوں پر قبضہ کرلیا گیا۔( دیکھو یہ بنی غامد کے آدمی ( سفیان بن عوف) کی فوج انبار میں داخل ہوگئی ہے اوراس نے حسان بن حسان بکری کو قتل کردیا ہے اور تمہارے سپاہیوں کوان کے مراکز سے نکال باہر کردیا ہے


ولَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ الرَّجُلَ مِنْهُمْ كَانَ يَدْخُلُ - عَلَى الْمَرْأَةِ الْمُسْلِمَةِ والأُخْرَى الْمُعَاهِدَةِ فَيَنْتَزِعُ حِجْلَهَا وقُلُبَهَا وقَلَائِدَهَا ورُعُثَهَا مَا تَمْتَنِعُ مِنْه إِلَّا بِالِاسْتِرْجَاعِ والِاسْتِرْحَامِ ثُمَّ انْصَرَفُوا وَافِرِينَ مَا نَالَ رَجُلًا مِنْهُمْ كَلْمٌ ولَا أُرِيقَ لَهُمْ دَمٌ - فَلَوْ أَنَّ امْرَأً مُسْلِماً مَاتَ مِنْ بَعْدِ هَذَا أَسَفاً - مَا كَانَ بِه مَلُوماً بَلْ كَانَ بِه عِنْدِي جَدِيراً - فَيَا عَجَباً عَجَباً واللَّه يُمِيتُ الْقَلْبَ ويَجْلِبُ الْهَمَّ - مِنَ اجْتِمَاعِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ عَلَى بَاطِلِهِمْ - وتَفَرُّقِكُمْ عَنْ حَقِّكُمْ - فَقُبْحاً لَكُمْ وتَرَحاً حِينَ صِرْتُمْ غَرَضاً يُرْمَى - يُغَارُ عَلَيْكُمْ ولَا تُغِيرُونَ - وتُغْزَوْنَ ولَا تَغْزُونَ ويُعْصَى اللَّه وتَرْضَوْنَ - فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِالسَّيْرِ إِلَيْهِمْ فِي أَيَّامِ الْحَرِّ - قُلْتُمْ هَذِه حَمَارَّةُ الْقَيْظِ أَمْهِلْنَا يُسَبَّخْ عَنَّا الْحَرُّ وإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِالسَّيْرِ إِلَيْهِمْ فِي الشِّتَاءِ - قُلْتُمْ هَذِه صَبَارَّةُ الْقُرِّ أَمْهِلْنَا يَنْسَلِخْ عَنَّا الْبَرْدُ - كُلُّ هَذَا فِرَاراً مِنَ الْحَرِّ والْقُرِّ - فَإِذَا كُنْتُمْ مِنَ الْحَرِّ والْقُرِّ تَفِرُّونَ - فَأَنْتُمْ واللَّه مِنَ السَّيْفِ أَفَرُّ!

اورمجھے تو یہاں تک خبر ملی ہے کہ دشمن کا ایک ایک سپاہی مسلمان یا مسلمانوں کے معاہدہ میں رہنے والی عورت کے پاس وارد ہوتا تھااوراس کے پیروں کےکڑے ' ہاتھ کے کنگن 'گلے کے گلو بند اور کان کے گوشوارے اتار لیتا تھا اور وہ سوائے انا للہ پڑھنے اور رحم و کرم کی درخواست کرنے کے کچھ نہیں کر سکتی تھی اور وہ سارا سازو سامان لے کر چلا جاتاتھا نہ کوئی زخز کھاتا تھا اور نہ کسی طرح کا خون بہتا تھا۔اس صورت حال کے بعداگر کوئی مرد مسلمان صدمہ سے مربھی جائے توقابل ملامت نہیں ہے بلکہ میرے نزدیک حق بجانب ہے کس قدر حیرت انگیز اور تعجب خیز صورت حال ہے۔خدا کی قسم یہ بات دل کوہ مردہ بنا دینے والی اور ہم و غم کو سیمٹنے والی ہے کہ یہ لوگ اپنے باطل پرمجتمع اورمتحد ہیں اور تم اپنے حق پر بھی متحد نہیں ہو۔تمہارا برا ہو کیا افسوسناک حال ہے تمہارا۔کہ تم تیر اندازوں کا مستقل نشانہ بن گئے ہو۔تم پر حملہ کیا جارہا ہے اور تم حملہ نہیں کرتے ہوتم سے جنگ کی جا رہی ہے اور تم باہرنہیں نکلتے ہو۔لوگ خدا کی نا فرمانی کر رہے ہیں اورتم اس صورت حال سے خوش ہو۔میں تمہیں گرمی میں جہاد کے لئے نکلنے کی دعوت دیتا ہ وں تو کہتے ہو کہ شدیدگرمی ہے۔تھوڑی مہلت دیجئے کہ گرمی گزرجائے۔اس کے بعد سردی میں بلاتا ہوں تو کہتے ہو سخت جاڑا پڑ رہا ہے ذراٹھہر جائیےکہ سردی ختم ہوجائے حالانکہ یہ سب جنگ سےفرارکرنے کے بہانے ہیں ورنہ جو قوم سردی اورگرمی سےفرارکرتی ہووہ تلواروں سےکس قدر فرار کرے گی۔


البرم بالناس

يَا أَشْبَاه الرِّجَالِ ولَا رِجَالَ - حُلُومُ الأَطْفَالِ وعُقُولُ رَبَّاتِ الْحِجَالِ لَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَرَكُمْ ولَمْ أَعْرِفْكُمْ مَعْرِفَةً - واللَّه جَرَّتْ نَدَماً وأَعْقَبَتْ سَدَماً

قَاتَلَكُمُ اللَّه لَقَدْ مَلأْتُمْ قَلْبِي قَيْحاً وشَحَنْتُمْ صَدْرِي غَيْظاً - وجَرَّعْتُمُونِي نُغَبَ التَّهْمَامِ أَنْفَاساً وأَفْسَدْتُمْ عَلَيَّ رَأْيِي بِالْعِصْيَانِ والْخِذْلَانِ - حَتَّى لَقَدْ قَالَتْ قُرَيْشٌ إِنَّ ابْنَ أَبِيطَالِبٍ رَجُلٌ شُجَاعٌ ولَكِنْ لَا عِلْمَ لَه بِالْحَرْبِ.

لِلَّه أَبُوهُمْ - وهَلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَشَدُّ لَهَا مِرَاساً وأَقْدَمُ فِيهَا مَقَاماً مِنِّي - لَقَدْ نَهَضْتُ فِيهَا ومَا بَلَغْتُ الْعِشْرِينَ - وهَا أَنَا ذَا قَدْ ذَرَّفْتُ عَلَى السِّتِّينَ ولَكِنْ لَا رَأْيَ لِمَنْ لَا يُطَاعُ!

اے مردوں کی شکل و صورت والواور واقعا نا مردو! تمہاری فکریں بچوں جیسی اور عقلیں حجلہ نشین عورتوں جیسی ہیں۔میری دلی خواہش تھی کہ کاش میں تمہیں نہ دیکھتا(۱) اورتم سے متعارف نہ ہوتا۔جس کا نتیجہ صرف ندامت اور رنج و افسوس ہے۔ اللہ تمہیں غارت کردے تم نے میرے دل کو پیپ سے بھر دیا ہے اور میرے سینہ کورنج و غم سے چھلکا دیا ہے۔تم نے ہرسانس میں ہم و غم کے گھونٹ پلائے ہیں اور اپنی نا فرمانی اور سرکشی سے میری رائے کوبھی بیکار وبے اثر بنادیا ہے یہاں تک کہ اب قریش والے یہ کہنے لگے ہیں کہ فرزند ابو طالب بہادرتو ہیں لیکن انہیں فنون جنگ کا علم نہیں ہے۔

اللہ ان کا بھلا کرے۔کیا ان میں کوئی بھی ایسا ہے جو مجھ سے زیادہ جنگ کا تجربہ رکھتا ہو اور مجھ سے پہلے سے کوئی مقام رکھتا ہو۔میں نے جہاد کے لئے اس وقت قیام کیا ہے جب میری عمر۲۰ سال بھی نہیں تھی اور اب تو۶۰ سے زیادہ ہو چکی ہے۔لیکن کیا کیا جائے۔جس کی اطاعت نہیں کی جاتی ہے اس کی رائے کوئی رائے نہیں ہوتی ہے۔

(۱) کسی قوم کی ذلت و رسوائی کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کا سز براہ حضرت علی بن ابی طالب جیسا انسان ہو اور وہ ان سے اس قدر بد دل ہو کہ ان کی شکلوں کو دیکھنابھی گوارہ نہ کرتا ہو۔ایسی قوم دنیا میں زندہ رہنے کے قابل نہیں ہے اورآخرت میں بھی اس کا انجام جہنم کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس مقام پر مولائے کائنات نے ایک اورنکتہ کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ تمہاری ناف رمانی اور سر کشی نے میری رائے کوبھی برباد کردیا ہے اور حقیقت امر یہ ہے کہ راہنما اور سر براہ کسی قدر بھی ذکی اور عبقری کیوں نہ ہو اگر قوم اس کی اطاعت سے انکار کردے تو نافہم انسان یہی خیال کرتا ہے کہ شاید یہ رائے اورحکم قابل اطاعت نہ تھا اسی لئے قوم نے اسے نظر انداز کردیا ہے۔خصوصیت کے ساتھ اگر کام ہی اجتماعی ہو تو اجتماع کا انحراف کام کوبھی معطل کر دیتا ہے اور اس کے نتائج بہر حال نا مناسب اورغلط ہوتے ہیں جس کاتجربہ مولائے کائنات کے سامنے آیا کہ قوم نے آپ کے حکم کے مطابق جہاد کرنے سے انکار کردیا اور گرمی و سردی کے بہانے بنانا شروع کردئیے اور اس کے نتیجہ میں دشمنوں ے یہ کہنا شروع کردیا کہ علی فنون جنگ سے با خبر نہیں ہیں حالانکہ علی سے زیادہ اسلام میں کوئی ماہر جنگ و جہاد نہیں تھا جس نے اپنی ساری زندگی اسلامی مجاہدات کے میدانوں میں گزاری تھی اور مسلسل تیغ آزمائی کا ثبوت دیا تھا اور جس کی طرف خود آپ نے بھی اشارہ فرمایا ہے اور اپنی تاریخ حیات کو اس کا گواہ قرار دیا ہے۔


(۲۸)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وهو فصل من الخطبة التي أولها «الحمد للَّه غير مقنوط من رحمته» وفيه أحد عشر تنبيها

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الدُّنْيَا أَدْبَرَتْ وآذَنَتْ بِوَدَاعٍ - وإِنَّ الآخِرَةَ قَدْ أَقْبَلَتْ وأَشْرَفَتْ بِاطِّلَاعٍ أَلَا وإِنَّ الْيَوْمَ الْمِضْمَارَ وغَداً السِّبَاقَ - والسَّبَقَةُ الْجَنَّةُ والْغَايَةُ النَّارُ - أَفَلَا تَائِبٌ مِنْ خَطِيئَتِه قَبْلَ مَنِيَّتِه أَلَا عَامِلٌ لِنَفْسِه قَبْلَ يَوْمِ بُؤْسِه أَلَا وإِنَّكُمْ فِي أَيَّامِ أَمَلٍ مِنْ وَرَائِه أَجَلٌ - فَمَنْ عَمِلَ فِي أَيَّامِ أَمَلِه قَبْلَ حُضُورِ أَجَلِه - فَقَدْ نَفَعَه عَمَلُه ولَمْ يَضْرُرْه أَجَلُه - ومَنْ قَصَّرَ فِي أَيَّامِ أَمَلِه قَبْلَ حُضُورِ أَجَلِه - فَقَدْ خَسِرَ عَمَلُه وضَرَّه أَجَلُه –

أَلَا فَاعْمَلُوا فِي الرَّغْبَةِ كَمَا تَعْمَلُونَ فِي الرَّهْبَةِ

(۲۸)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جو اس خطبہ کی ایک فصل کی حیثیت رکھتا ہے جس کاآغاز'' الحمد للہ غیر مقنوط من رحمة '' سے ہوا ہے اور اس میں گیارہ تنبیہات ہیں)

اما بعد!یہ دنیا پیٹھ پھیر چکی ہے اور اس نے اپنے وداع کا اعلان کردیا ہے اور آخرت سامنے آرہی ہے اور اس کے آثارنمایاں ہوگئے ہیں۔یاد رکھو کہ آج میدان عمل ہے اور کل مقابلہ ہوگا جہاں سبقت کرنے والے کا انعام جنت ہوگا اوربدعمل کا انجام جہنم ہوگا۔کیا اب بھی کوئی ایسا نہیں ہے جو موت سے پہلے خطائوں سے توبہ کرلے اور سختی کے دن سے پہلے اپنے نفس کے لئے عمل کرلے۔یاد رکھو کہ تم آج امیدوں کے دنوں میں ہو جس کے پیچھے موت لگی ہوئی ہے تو جس شخص نے امید کے دنوں میں موت آنے سے پہلے عمل کرلیا اسے اس کا عمل یقینا فائدہ پہنچائے گا اور موت کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی لیکن جس نے موت سے پہلے امید کے دنوں میں عمل نہیں کیا اس نے عمل کی منزل میں گھاٹا اٹھایا اور اس کی موت بھی نقصان دہ ہوگی۔

آگاہ ہو جائو۔تم لوگ راحت کے حالات میں اسی طرح عمل کرو جس طرح خوف کے عالم میں کرتے ہو


أَلَا وإِنِّي لَمْ أَرَ كَالْجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا ولَا كَالنَّارِ نَامَ هَارِبُهَا - أَلَا وإِنَّه مَنْ لَا يَنْفَعُه الْحَقُّ يَضُرُّه الْبَاطِلُ - ومَنْ لَا يَسْتَقِيمُ بِه الْهُدَى يَجُرُّ بِه الضَّلَالُ إِلَى الرَّدَى - أَلَا وإِنَّكُمْ قَدْ أُمِرْتُمْ بِالظَّعْنِ ودُلِلْتُمْ عَلَى الزَّادِ - وإِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ اثْنَتَانِ اتِّبَاعُ الْهَوَى وطُولُ الأَمَلِ - فَتَزَوَّدُوا فِي الدُّنْيَا مِنَ الدُّنْيَا - مَا تَحْرُزُونَ بِه أَنْفُسَكُمْ غَداً.

قال السيد الشريفرضي‌الله‌عنه وأقول إنه لو كان كلام يأخذ بالأعناق - إلى الزهد في الدنيا - ويضطر إلى عمل الآخرة - لكان هذا الكلام - وكفى به قاطعا لعلائق الآمال - وقادحا زناد الاتعاظ والازدجار -

کہ میں(۱) نے جنت جیسا کوئی مطلوب نہیں دیکھا ہے جس کے طلب گار سب سو رہے ہیں اور جہنم جیسا کوئی خطرہ نہیں دیکھا جس سے بھاگنے والے سب خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔یاد رکھو کہ جسے حق فائدہ پہنچا سکے گا اسے باطل ضرور نقصان پہنچائے گا اور جسے ہدایت سیدھے راستہ پر نہ لا سکے گی اسے گمراہی بہر حال کھینچ کر ہلاکت تک پہنچادے گی۔ آگاہ ہو جائو کہ تمہیں کوچ کا حکم مل چکا ہے اور تمہیں زاد سفر بھی بتایا جا چکا ہے اور تمہارے لئے سب سے بڑا خوفناک خطرہ دو چیزوں کا ہے۔خواہشات کا اتباع اور امیدوں کا طولانی ہونا۔لہٰذا جب تک دنیا میں ہواس دنیا سے وہ زاد راہ حاصل کرلو جس کے ذریعہ کل اپنے نفس کا تحفظ کرسکو۔

سید رضی : اگر کوئی ایسا کلام ہو سکتا ہے جو انسان کی گردن پکڑ کر اسے زہد کی منزل تک پہنچا دے اور اسے عمل آخرت پر مجبور کردے تو وہ یہی کلام ہے۔یہ کلام دنیا کی امیدوں کے قطع کرنے اوروعظ و نصیحت قبول کرنے کے جذبات کو مشتعل کرنے کے لئے کافی ہوتا ۔

(۱)زمانہ کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ شائد اس دنیا کی اس سے بڑی کوئی حقیقت اورصداقت نہیں ہے۔جس شخص سے پوچھئے وہ جنت کا مشتاق ہے اور جس شخص کو دیکھئے وہ جہنم کے نام سے پناہ مانگتا ہے۔لیکن منزل عمل میں دونوں اس طرح سو رہے ہیں جیسے کہ یہ معشوق از خودگھر آنے والا ہے اور یہ خطرہ از خودٹل جانے والاہے۔نہ جنت کے عاشق جنت کے لئے کوئی عمل کر رہے ہیں اور نہ جہنم سے خوفزدہ اس سے بچنے کا انتظام کر رہے ہیں بلکہ دونوں کاخیال یہ ہے کہ مذہب میں کچھ افراد ایسے ہیں جنہوں نے اس بات کا ٹھیکہ لے لیا ہے کہ وہ جنت کا انتظام بھی کریں گے اور جہنم سے بچانے کا بندوبست بھی کریں گے اور اس سلسلہ میں ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔حالانکہ دنیا کے چند روز معشوق کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہیں۔یہاں کوئی دوسرے پر بھروسہ نہیں کرتا ہے۔دولت کے لئے سب خود دوڑتے ہیں۔شہرت کے لئے سب خود مرتے ہیں۔عورت کے لئے سب خود دیوانے بنتے ہیں۔عہدہ کے لئے سب خود راتوں کی نیند حرام کرتے ہیں۔خدا جانے یہ ابدی معشوق جنت جیسا محبوب ہے جس کا معاملہ دوسروں کے رحم و کرم پرچھوڑ دیا جاتا ہے اور انسان غفلت کی نیند سو جاتا ہے۔کاش یہ انسان واقعاً مشتاق اور خوفزدہ ہوتا تو یقینا اس کا یہ کردار نہ ہوتا۔''فاعتبروا یا اولی الا بصار''


ومن أعجبه قولهعليه‌السلام - ألا وإن اليوم المضمار وغدا السباق - والسبقة الجنة والغاية النار - فإن فيه مع فخامة اللفظ وعظم قدر المعنى - وصادق التمثيل وواقع التشبيه - سرا عجيبا ومعنى لطيفا - وهو قولهعليه‌السلام والسبقة الجنة والغاية النار - فخالف بين اللفظين لاختلاف المعنيين - ولم يقل السبقة النار - كما قال السبقة الجنة - لأن الاستباق إنما يكون إلى أمر محبوب - وغرض مطلوب - وهذه صفة الجنة - وليس هذا المعنى موجودا في النار - نعوذ بالله منها فلم يجز أن يقول - والسبقة النار بل قال والغاية النار - لأن الغاية قد ينتهي إليها من لا يسره الانتهاء إليها - ومن يسره ذلك فصلح أن يعبر بها عن الأمرين معا - فهي في هذا الموضع كالمصير والمآل - قال الله تعالى:( قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ ) - ولا يجوز في هذا الموضع أن يقال - سبْقتكم بسكون الباء إلى النار - فتأمل ذلك فباطنه عجيب وغوره بعيد لطيف - وكذلك أكثر كلامهعليه‌السلام - وفي بعض النسخ - وقد جاء في رواية أخرى والسُّبْقة الجنة بضم السين - والسبقة عندهم اسم لما يجعل للسابق -

خصوصیت کے ساتھ حضرت کا یہ ارشاد کہ''آج میدان عمل ہے اور کل مقابلہ۔اس کے بعد منزل مقصود جنت ہے اور انجام جہنم۔اس میں الفاظ کی عظمت ' معانی کی قدر و منزلت تمثیل کی صداقت اور تشبیہ کی واقعیت کے ساتھ وہ عجیب و غریب رازنجات اورلطافت مفہوم ہے جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا ۔پھر حضرت نے جنت و جہنم کے بارے میں ''سبقہ'' اور ''غایتہ'' کا لفظ استعمال کیا ہے جس میں صرف لفظی اختلاف نہیں ہے بلکہ واقعاً معنوی افتراق وامتیاز پایا جاتا ہے کہ نہ جہنم کو سبقہ ( منزل) کہاجا سکتا ہے اور نہ جنت کو غایة (انجام) جہاں تک انسان خود بخودپہنچ جائے گا بلکہ جنت کے لئے دوڑ دھوپ کرنا ہوگی جس کے بعد انعام ملنے والا ہے اور جہنم بدعملی کے نتیجہ میں خودبخود سامنے آجائے گا۔اس کے لئے کسی اشتیاق اورمحنت کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر آپ نے جہنم کو غایتہ قرار دیا ہے جس طرح کہ قرآن مجید نے اسے ''مصیر '' سے تعبیر کیا ہے۔ ''فان مصیر کم الی النار ''حقیقتاً اس نکتہ پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کا باطن انتہائی عجیب و غریب اور اس کی گہرائی انتہائی لطیف ہے اوریہ تنہا اس کلام کی بات نہیں ہے۔حضرت کے کلمات میں عام طور سے یہی بلاغت پائی جاتی ہے اور اس کے معانی میں اسی طرح کی لطافت اور گہرائی نظر آتی ہے۔بعض روایات میں جنت کے لئے سبقتہ کے بجائے سبقتہ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی انعام کے ہیں


إذا سبق من مال أو عرض - والمعنيان متقاربان - لأن ذلك لا يكون جزاء على فعل الأمر المذموم - وإنما يكون جزاء على فعل الأمر المحمود.

(۲۹)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

بعد غارة الضحاك بن قيس صاحب معاوية على الحاجّ بعد قصة الحكمين

وفيها يستنهض أصحابه لما حدث في الأطراف

أَيُّهَا النَّاسُ الْمُجْتَمِعَةُ أَبْدَانُهُمْ - الْمُخْتَلِفَةُ أَهْوَاؤُهُمْ كَلَامُكُمْ يُوهِي الصُّمَّ الصِّلَابَ وفِعْلُكُمْ يُطْمِعُ فِيكُمُ الأَعْدَاءَ – تَقُولُونَ فِي الْمَجَالِسِ كَيْتَ وكَيْتَ فَإِذَا جَاءَ الْقِتَالُ قُلْتُمْ حِيدِي حَيَادِ مَا عَزَّتْ دَعْوَةُ مَنْ دَعَاكُمْ - ولَا اسْتَرَاحَ قَلْبُ مَنْ قَاسَاكُمْ - أَعَالِيلُ بِأَضَالِيلَ وسَأَلْتُمُونِي التَّطْوِيلَ دِفَاعَ ذِي الدَّيْنِ الْمَطُولِ لَا يَمْنَعُ الضَّيْمَ الذَّلِيلُ - ولَا يُدْرَكُ الْحَقُّ إِلَّا بِالْجِدِّ

اور کھلی ہوئی بات ہے کہ انعام بھی کسی مذموم عمل پر نہیں ملتا ہے بلکہ اس کا تعلق بھی قابل تعریف اعمال ہی سے ہوتا ہے لہٰذا عمل بہر حال ضروری ہے اور عمل کا قابل تعریف ہونا بھی لازمی ہے۔

(۲۹)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

جب تحکیم کے بعد معاویہ (۱) کے سپاہی ضحاک بن قیس نے حجاج کے قابلہ پر حملہ کردیا اور حضرت کواس کی خبر دی گئی تو آپ نے لوگوں کو جہاد پر آمادہ کرنے کے لئے یہ خطبہ ارشاد فرمایا:

اے وہ لوگو!جن کے جسم ایک جگہ پر ہیں اور خواہشات الگ الگ ہیں۔تمہارا کلام تو سخت ترین پتھر کوبھی نرم کر سکتا ہے لیکن تمہارے حرکات دشمنوں کوبھی تمہارے بارے میں پرامید بنا دیتے ہیں۔تم محفلوں میں بیٹھ کر ایسی ایسی باتیں کرتے ہو کہ خدا کی پناہ لیکن جب جنگ کا نقشہ کرے گا اس کے دل کوکبھی سکون نہ ملے گا۔تمہارے پاس صرف بہانے ہیں اور غلط سلط حوالے اورپھر مجھ سے تاخیر جنگ کی فرمائش جیسے کوئی نا دہندہ قرض کوٹالنا چاہتا ہے۔یاد رکھو ذلیل آدمی ذلت کو نہیں روک سکتا ہے اورحق محنت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتاہے۔

(۱)معاویہ کا ایک مستقل مقصد یہ بھی تھا کہ امیر المومنین کسی آن چین سے نہ بیٹھنے پائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ واقعی اسلام قوم کے سامنے پیش کردیں اور اموی افکار کا جنازہ نکل جائے۔اس لئے وہ مسلسل ریشہ دوانیوں میں لگا رہتا تھا۔آخر ایک مرتبہ ضحاک بن قیس کوچارہزار کالشکر دے کر روانہ کردیا اور اس نے سارے علاقہ میں کشت و خون شروع کردیا۔آپ نے منبرپرآکرقوم کو غیرت دلائی لیکن کوئی خاطر خواہ اثر نہیں ہوا۔اور لوگ جنگ سے کنارہ کشی کرتے رہے۔یہاں تک کہ حجربن عدی چار ہزار سپاہیوں کو لے کرنکل پڑے اور مقام تدمر پردونوں کا سامنا ہوگیا لیکن معاویہ کا لشکربھاگ کھڑا ہوا اورصرف ۱۹ افراد معاویہ کے کام آئے جب کہ حجر کے سپاہیوں میں دو افراد نے جام شہادت نوش فرمایا۔


أَيَّ دَارٍ بَعْدَ دَارِكُمْ تَمْنَعُونَ - ومَعَ أَيِّ إِمَامٍ بَعْدِي تُقَاتِلُونَ - الْمَغْرُورُ واللَّه مَنْ غَرَرْتُمُوه - ومَنْ فَازَ بِكُمْ فَقَدْ فَازَ واللَّه بِالسَّهْمِ الأَخْيَبِ ومَنْ رَمَى بِكُمْ فَقَدْ رَمَى بِأَفْوَقَ نَاصِلٍ أَصْبَحْتُ واللَّه لَا أُصَدِّقُ قَوْلَكُمْ - ولَا أَطْمَعُ فِي نَصْرِكُمْ - ولَا أُوعِدُ الْعَدُوَّ بِكُمْ - مَا بَالُكُمْ مَا دَوَاؤُكُمْ مَا طِبُّكُمْ - الْقَوْمُ رِجَالٌ أَمْثَالُكُمْ - أَقَوْلًا بِغَيْرِ عِلْمٍ - وغَفْلةً مِنْ غَيْرِ وَرَعٍ - وطَمَعاً فِي غَيْرِ حَقٍّ!؟

(۳۰)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في معنى قتل عثمان

وهو حكم له على عثمان وعليه وعلى الناس بما فعلوا وبراءة له من دمه

لَوْ أَمَرْتُ بِه لَكُنْتُ قَاتِلًا

تم جب اپنے گھر کا دفاع نہ کر سکوگے تو کس کے گھر کا دفاع کروگے اور جب میرے ساتھ جہاد نہ کروگے تو کس کے ساتھ جہاد کروگے۔خدا کی قسم وہ فریب خوردہ ہے جو تمہارے دھوکہ میں آجائے اور جو تمہارے سہارے کامیابی چاہے گا اسے صرف نا کامی کا تیر ہاتھ آئے گا۔اور جس نے تمہارے ذریعہ تیر پھینکا اس نے وہ تیر پھینکا جس کا پیکان ٹوٹ چکا ہے اور سو فار ختم ہو چکا ہے۔خدا کی قسم میں ان حالات میں نہ تمہارے قول کی تصدیق کر سکتا ہوں اور نہ تمہاری نصرت کی امیدرکھتا ہوں اور نہ تمہارے ذریعہ کسی دشمن کو تہدید کر سکتا ہوں۔آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ تمہاری دوا کیا ہے؟ تمہارا علاج کیا ہے؟ آخر وہ لوگ بھی تو تمہارے ہی جیسے انسان ہیں ۔یہ بغیر علم کی باتیں کب تک اوریہ بغیر تقویٰ کی غفلت تابکے اوربغیر حق کے بلندی کی خواہش کہاں تک؟

(۳۰)

آپ کا ارشاد گرامی

قتل عثمان کی حقیقت کے بارے میں

یاد رکھواگر میں نے اس قتل(۱) کاحکم دیا ہوتا تو یقینا میں قاتل ہوتا

(۱)یہ تاریخ کا مسلمہ ہے کہ عثمان نے سارے ملک پر بنی امیہ کا اقتدار قائم کردیا تھا اوربیت المال کو بے تحاشہ اپنے خاندان والوں کے حوالے کردیا تھا جس کی فریاد پورے عالم اسلام میں شروع ہوگئی تھی اور کوفہ اور مصر تک کے لوگ فریاد لے کر آگئے تھے۔امیر المومنین نے درمیان میں پڑ کر مصالحت کرائی اوریہ طے ہوگیا کہ مدینہ کے حالات کی ضروری اصلاح کی جائے اور مصر کا حاکم محمدبن ابی بکر کو بنادیا جائے ۔لیکن مخالفین کے جانے کے بعد عثمان نے ہر بات کا انکار کردیا اور والی مصر کے نام محمدبن ابی بکر کے قتل کا فرمان بھیج دیا۔خط راستہ میں پکڑ لیا گیا اور اب جو لوگوں نے واپس آکر مدینہ والوں کو حالات سے آگاہ کیا تو توبہ کا امکان بھی ختم ہوگیا اورچاروں طرف سے محاصرہ ہوگیا۔اب امیر المومنین کی مداخلت کے امکانات بھی ختم ہوگئے تھے۔اوربالآخر عثمان کو اپنے اعمال اور بنی امیہ کی اقرباء نوازی کی سزا برداشت کرنا پڑی اور پھر کوئی مروان یا معاویہ کام نہیں آیا۔


أَوْ نَهَيْتُ عَنْه لَكُنْتُ نَاصِراً - غَيْرَ أَنَّ مَنْ نَصَرَه لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُولَ خَذَلَه مَنْ أَنَا خَيْرٌ مِنْه - ومَنْ خَذَلَه لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُولَ نَصَرَه مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي وأَنَا جَامِعٌ لَكُمْ أَمْرَه اسْتَأْثَرَ فَأَسَاءَ الأَثَرَةَ وجَزِعْتُمْ فَأَسَأْتُمُ الْجَزَعَ ولِلَّه حُكْمٌ وَاقِعٌ فِي الْمُسْتَأْثِرِ والْجَازِعِ

(۳۱)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لما أنفذ عبد الله بن عباس - إلى الزبير يستفيئه إلى طاعته قبل حرب الجمل

لَا تَلْقَيَنَّ طَلْحَةَ - فَإِنَّكَ إِنْ تَلْقَه تَجِدْه كَالثَّوْرِ عَاقِصاً قَرْنَه يَرْكَبُ الصَّعْبَ ويَقُولُ هُوَ الذَّلُولُ - ولَكِنِ الْقَ الزُّبَيْرَ فَإِنَّه أَلْيَنُ عَرِيكَةً فَقُلْ لَه يَقُولُ لَكَ ابْنُ خَالِكَ - عَرَفْتَنِي بِالْحِجَازِ وأَنْكَرْتَنِي بِالْعِرَاقِ - فَمَا عَدَا مِمَّا بَدَا.

قال السيد الشريف وهوعليه‌السلام أول من سمعت منه هذه الكلمة - أعني فما عدا مما بدا.

اور اگر میں نے منع کیا ہوتا تو یقینا میں مدد گار قرار پاتا۔لیکن بہر حال یہ بات طے شدہ ہے کہ جن بنی امیہ نے مدد کی ہے وہ اپنے کو ان سے بہتر نہیں کہہ سکتے ہیں جنہوں نے نظر انداز کردیا ہے اور جن لوگوں نے نظرانداز کردیا ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ جس نے مدد کی ہے وہ ہم سے بہتر تھا۔اب میں اس قتل کا خلاصہ بتائے دیتا ہوں' ''عثمان نے خلافت کو اختیار کیا تو بد ترین طریقہ سے اختیار کیا اورتم گھبرا گئے تو بری طرح سے گھبرا گئے اوراب اللہ دونوں کے بارے میں فیصلہ کرنے والا ہے ''۔

(۳۱)

آپ کا ارشاد گرامی

جب آپ نے عبداللہ بن عباس کو زبیر کے پاس بھیجا کہ اسے جنگ سے پہلے اطاعت امام کی طرف واپس لے آئیں۔

خبردار طلحہ سے ملاقات نہ کرناکہ اس سے ملاقات کروگے تواسےاس بیل جیساپائوگےجس کے سینگ مڑے ہوئے ہوں۔وہ سرکش سواری پرسوار ہوتا ہے اوراسے رام کیا ہوا کہتا ہے۔تم صرف زبیر سے ملاقات کرنا کہ اس کی طبیعت قدرے نرم ہےاس سے کہناکہ تمہارے ماموں زاد بھائی نے فرمایا ہےکہ تم نے حجاز میں مجھے پہچانا تھا اور عراق میں آکربالکل بھول گئے ہوآخر یہ نیا سانحہ کیا ہوگیا ہے۔

سید رضی : ما عدا ما بدا '' یہ فقرہ پہلے پہل تاریخ عربیت میں امیر المومنین ہی سے سنا گیا ہے۔


(۳۲)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وفيها يصف زمانه بالجور، ويقسم الناس فيه خمسة أصناف، ثم يزهد في الدنيا

معنى جور الزمان

أَيُّهَا النَّاسُ - إِنَّا قَدْ أَصْبَحْنَا فِي دَهْرٍ عَنُودٍ وزَمَنٍ كَنُودٍ يُعَدُّ فِيه الْمُحْسِنُ مُسِيئاً - ويَزْدَادُ الظَّالِمُ فِيه عُتُوّاً لَا نَنْتَفِعُ بِمَا عَلِمْنَا ولَا نَسْأَلُ عَمَّا جَهِلْنَا - ولَا نَتَخَوَّفُ قَارِعَةً حَتَّى تَحُلَّ بِنَا.

أصناف المسيئين

والنَّاسُ عَلَى أَرْبَعَةِ أَصْنَافٍ

مِنْهُمْ مَنْ لَا يَمْنَعُه الْفَسَادَ فِي الأَرْضِ - إِلَّا مَهَانَةُ نَفْسِه وكَلَالَةُ حَدِّه ونَضِيضُ وَفْرِه ومِنْهُمْ الْمُصْلِتُ لِسَيْفِه والْمُعْلِنُ بِشَرِّه - والْمُجْلِبُ بِخَيْلِه ورَجِلِه قَدْ أَشْرَطَ نَفْسَه وأَوْبَقَ دِينَه لِحُطَامٍ يَنْتَهِزُه أَوْ مِقْنَبٍ يَقُودُه أَوْ مِنْبَرٍ يَفْرَعُه - ولَبِئْسَ الْمَتْجَرُ أَنْ تَرَى الدُّنْيَا لِنَفْسِكَ ثَمَناً - ومِمَّا لَكَ عِنْدَ اللَّه عِوَضاً –

ومِنْهُمْ مَنْ يَطْلُبُ الدُّنْيَا بِعَمَلِ الآخِرَةِ ولَا يَطْلُبُ الآخِرَةَ بِعَمَلِ الدُّنْيَا - قَدْ طَامَنَ مِنْ شَخْصِه - وقَارَبَ مِنْ خَطْوِه وشَمَّرَ مِنْ ثَوْبِه - وزَخْرَفَ مِنْ نَفْسِه لِلأَمَانَةِ - واتَّخَذَ سِتْرَ اللَّه ذَرِيعَةً إِلَى الْمَعْصِيَةِ -

(۳۲)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

جس میں زمانہ کے ظلم کاتذکرہ ہے اورلوگوں کی پانچ قسموں کو بیان کیا گیا ہے اور اس کے بعد زہد کی دعوت دی گئی ہے۔

ایہا الناس! ہم ایک ایسے زمانہ میں پیدا ہوئے ہیں جو سرکش اور نا شکرا ہے یہاں نیک کردار برا سمجھا جاتا ہے اورظالم اپنے ظلم میں بڑھتا ہی جا رہا ہے۔نہ ہم علم سے کوئی فائدہ اٹھاتے ہیں اور نہ جن چیزوں سے نا واقف ہیں ان کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور نہ کسی مصیبت کا اس وقت تک احساس کرتے ہیں جب تک وہ نازل نہ ہو جائے۔بعض وہ ہیں جو تلوارکھینچے ہوئے اپنے شرکا اعلان کر رہے ہیں اور اپنے سوار و پیادہ کو جمع کر رہے ہیں۔اپنے نفس کو مال دنیا کے حصول اور لشکرکی قیادت یا منبر کی بلندی پر عروج کے لئے وقف کردیا ہے اور اپنے دین کو برباد کر دیا ہے اوریہ بد ترین تجارت ہے کہ تم دنیا کواپنے نفس کی قیمت بنا دو یا اجرآخرت کا بدل قراردے دو۔بعض وہ ہیں جو دنیا کو آخرت کے اعمال کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اورآخرت کو دنیا کے ذریعہ نہیں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے نگاہوں کونیچا بنالیا ہے۔قدم ناپ ناپ کر رکھتے ہیں۔دامن کو سمیٹ لیا ہے اوراپنے نفس کوگویا امانتداری کے لئے آراستہ کرلیا ہے اور پروردگار کی پردہ داری کومعصیت کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں۔


ومِنْهُمْ مَنْ أَبْعَدَه عَنْ طَلَبِ الْمُلْكِ ضُئُولَةُ نَفْسِه وانْقِطَاعُ سَبَبِه فَقَصَرَتْه الْحَالُ عَلَى حَالِه - فَتَحَلَّى بِاسْمِ الْقَنَاعَةِ - وتَزَيَّنَ بِلِبَاسِ أَهْلِ الزَّهَادَةِ - ولَيْسَ مِنْ ذَلِكَ فِي مَرَاحٍ ولَا مَغْدًى

الراغبون في اللَّه

وبَقِيَ رِجَالٌ غَضَّ أَبْصَارَهُمْ ذِكْرُ الْمَرْجِعِ - وأَرَاقَ دُمُوعَهُمْ خَوْفُ الْمَحْشَرِ - فَهُمْ بَيْنَ شَرِيدٍ نَادٍّ وخَائِفٍ مَقْمُوعٍ وسَاكِتٍ مَكْعُومٍ ودَاعٍ مُخْلِصٍ وثَكْلَانَ مُوجَعٍ - قَدْ أَخْمَلَتْهُمُ التَّقِيَّةُ وشَمِلَتْهُمُ الذِّلَّةُ - فَهُمْ فِي بَحْرٍ أُجَاجٍ أَفْوَاهُهُمْ ضَامِزَةٌ وقُلُوبُهُمْ قَرِحَةٌ قَدْ وَعَظُوا حَتَّى مَلُّوا وقُهِرُوا حَتَّى ذَلُّوا وقُتِلُوا حَتَّى قَلُّوا.

التزهيد في الدنيا

فَلْتَكُنِ الدُّنْيَا فِي أَعْيُنِكُمْ - أَصْغَرَ مِنْ حُثَالَةِ الْقَرَظِ وقُرَاضَةِ الْجَلَمِ واتَّعِظُوا بِمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ - قَبْلَ أَنْ يَتَّعِظَ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ - وارْفُضُوهَا ذَمِيمَةً فَإِنَّهَا قَدْ رَفَضَتْ مَنْ كَانَ أَشْغَفَ بِهَا مِنْكُمْ.

بعض وہ ہیں جنہیں حصول اقتدارسے نفس کی کمزوری اوراسباب کی نابودی نے دور رکھا ہے اور جب حالات نے ساز گاری کا سہارا نہیں دیا تواس کا نام قناعت رکھ لیا ہے۔یہ لوگ اہل زہد کالباس زیب تن کئے ہوئے ہیں جب کہ نہ ان کی شام زاہدانہ ہے اورنہ صبح۔

(پانچویں قسم)

اس کے بعد کچھ لوگ باقی رہ گئے ہیں جن کی نگاہوں کو بازگشت کی یاد نے جھکا دیا ہے اوران کے آنسوئوں کو خوف محشر نے جاری کردیا ہے۔ان میں بعض آوارہ وطن اور دور افتادہ ہیں اور بعض خوفزدہ اورگوشہ نشین ہیں۔بعض کی زبانوں پر مہر لگی ہوئی ہے اور بعض اخلاص کے ساتھ محو دعا ہیں اور درد رسیدہ کی طرح رنجیدہ ہیں۔انہیں خوف حکام نے گمنامی کی منزل تک پہنچادیا ہے۔

اوربے چارگی نے انہیں گھیر لیا ہے۔گویا وہ ایک کھارے سمندر کے اندر زندگی گزار رہے ہیں جہاں منہ بند ہیں اور دل زخمی ہیں۔انہوں نے اس قدر موعظہ کیا ہے کہ تھک گئے ہیں اور وہ اسقدر دبائے گئے ہیں کہ بالآخر دب گئے ہیں اوراس قدر مارے گئے ہیں کہ ان کی تعداد بھی کم ہوگئی ہے

لہٰذا اب دنیا کو تمہاری نگاہوں میں کیکر کے چھلوں اور اون کے ریزوں سے بھی زیادہ پست ہونا چاہیے اور اپنے پہلے والوں سے عبرت حاصل کرنی چاہیے قبل اس کے کہ بعد والے تمہارے انجام سے عبرت حاصل کریں۔اس دنیا کو نظرانداز کردو۔یہ بہت ذلیل ہے یہ ان کے کام نہیں آئی ہے جو تم سے زیادہ اس سے دل لگانے والے تھے۔


قال الشريفرضي‌الله‌عنه أقول وهذه الخطبة ربما نسبها من لا علم له إلى معاوية - وهي من كلام أمير المؤمنينعليه‌السلام الذي لا يشك فيه - وأين الذهب من الرغام وأين العذب من الأجاج - وقد دل على ذلك الدليل الخريت ونقده الناقد البصير - عمرو بن بحر الجاحظ - فإنه ذكر هذه الخطبة في كتاب البيان والتبيين - وذكر من نسبها إلى معاوية - ثم تكلم من بعدها بكلام في معناها - جملته أنه قال وهذا الكلام بكلام عليعليه‌السلام أشبه - وبمذهبه في تصنيف الناس - وفي الإخبار عما هم عليه من القهر والإذلال - ومن التقية والخوف أليق - قال ومتى وجدنا معاوية في حال من الأحوال - يسلك في كلامه مسلك الزهاد ومذاهب العباد!

(۳۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

عند خروجه لقتال أهل البصرة، وفيها حكمة مبعث الرسل،

ثم يذكر فضله ويذم الخارجين

قَالَ عَبْدُ اللَّه بْنُ عَبَّاسِرضي‌الله‌عنه - دَخَلْتُ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَعليه‌السلام بِذِي قَارٍ وهُوَ يَخْصِفُ نَعْلَه فَقَالَ لِي مَا قِيمَةُ هَذَا النَّعْلِ

سید رضی : بعض جاہلوں نے اس خطبہ کو معاویہ کی طرف منسوب کردیا ہے جب کہ بلا شک یہ امیرالمومنین کا کلام ہے اوربھلا کیاربطہ ہے سونے اورمٹی میں اور شیریں اور شور میں؟ اس حقیقت کی نشاندہی فن بلاغت کے ماہر اوربا بصیرت تنقیدی نظر رکھنے والے عالم عمرو بن بحر الجاحظ نے بھی کی ہے جب اس خطبہ کو'' البیان والتبیین'' میں نقل کرنے کے بعد یہ تبصرہ کیا ہے کہ بعض لوگوں نے اسے معاویہ کی طرف منسوب کردیا ہے حالانکہ یہ حضرت علی علیہ السلام کے انداز بیان سے زیادہ ملتا جلتا ہے کہ آپ ہی اس طرح لوگوں کے اقسام ' مذاہب اورقہر و ذلت اورتقیہ و خوف کا تذکر ہ کیا کرتے تھے ورنہ معاویہ کو کب اپنی گفتگومیں زاہدوں کا اندازیا عابدوں کا طریقہ اختیار کرتے دیکھا گیا ہے۔

(۳۲)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(اہل بصرہ سے جہاد کے لئے نکلتے وقت جس میں آپ نے رسولوں کی بعثت کی حکمت اورپھر اپنی فضیلت اورخوارج کی رذیلت کاذکر کیا ہے)

عبداللہ بن عباس کا بیان ہے کہ میں مقام ذی قار میں امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوا جب آپ اپنی نعلین کی مرمت کر رہے تھے۔آپ نے فرمایا:ابن عباس !ان جوتیوں کی کیا قیمت ہے '؟


فَقُلْتُ لَا قِيمَةَ لَهَا - فَقَالَعليه‌السلام واللَّه لَهِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ إِمْرَتِكُمْ - إِلَّا أَنْ أُقِيمَ حَقّاً أَوْ أَدْفَعَ بَاطِلًا - ثُمَّ خَرَجَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ:

حكمة بعثة النبي

إِنَّ اللَّه بَعَثَ مُحَمَّداًصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - ولَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ يَقْرَأُ كِتَاباً ولَا يَدَّعِي نُبُوَّةً - فَسَاقَ النَّاسَ حَتَّى بَوَّأَهُمْ مَحَلَّتَهُمْ وبَلَّغَهُمْ مَنْجَاتَهُمْ فَاسْتَقَامَتْ قَنَاتُهُمْ واطْمَأَنَّتْ صَفَاتُهُمْ

فضل علي

أَمَا واللَّه إِنْ كُنْتُ لَفِي سَاقَتِهَاحَتَّى تَوَلَّتْ بِحَذَافِيرِهَا مَا عَجَزْتُ ولَا جَبُنْتُ وإِنَّ مَسِيرِي هَذَا لِمِثْلِهَا - فَلأَنْقُبَنَّ الْبَاطِلَ حَتَّى يَخْرُجَ الْحَقُّ مِنْ جَنْبِه.

میں نے عرض کی کچھ نہیں! فرمایاکہ خدا کی قسم یہ مجھے تمہاری حکومت سے زیادہ عزیز(۱) ہیں مگریہ کہ حکومت کے ذریعہ میں کسی حق کو قائم کر سکوں یا کسی باطل کو دفع کرسکوں۔اس کے بعد لوگوں کے درمیان آکر یہ خطبہ ارشاد فرمایا:۔

اللہ نے حضرت محمد (ص) کواس وقت مبعوث کیا جب عربوں میں کوئی نہ آسمانی کتاب پڑھنا جانتا تھا اور نہ نبوت کا دعویدار تھا۔آپ نے لوگوں کو کھینچ کران کے مقام تک پہنچایا اور انہیں منزل نجات سے آشنا بنادیا یہاں تک کہ ان کی کجی درست ہوگئی اوران کے حالات استوار ہوگئے۔

آگاہ ہو جائو کہ بخدا قسم میں اس صورت حال کے تبدیل کرنے والوں میں شامل تھا یہاں تک کہ حالات مکمل طور پرتبدیل ہوگئے اورمیں نہ کمزور ہوا اور نہ خوفزدہ ہوا اورآج بھی میرا یہ سفر ویسے ہی مقاصد کے لئے ہے۔میں باطل کے شکم کو چاک کرکے اس کے پہلو سے وہ حق نکال لوں گا جسے اس نے مظالم کی تہوں میں چھپادیا ہے۔

(۱)اس مقام پر یہ خیال نہ کیا جائے کہ ایسے انداز گفتگو سے عوام الناس میں مزید نخوت پیداہو جاتی ہے اور ان میں کام کرنے کا جذبہ بالکل مردہ ہو جاتا ہے۔اوراگر واقعاً امام علیہ السلام اسی قدر عاجزآگئے تھے تو پھر بارباردہرانے کی کیا ضرورت تھی۔انہیں ان کے حال پر چھوڑدیا ہوتا۔جو انجام ہونے والا تھا ہو جاتا اوربالآخر لوگ اپنے کیفر کردار کو پہنچ جاتے ؟

اس لئے کہ یہ ایک جذباتی مشورہ تو ہوسکتا ہے منطقی گفتگو نہیں ہو سکتی ہے۔اکتاہٹ اورناراضگی ایک فطری ردعمل ہے جوامربالمعروف کی منزل میں فریضہ بھی بن جاتا ہے۔لیکن اس کے بعد بھی اتمام حجت کا فریضہ بحرحال باقی رہ جاتاہے۔پھرامام کی نگاہیں اس مستقبل کوبھی دیکھ رہی تھیں جہاں مسلسل ہدایات کے پیش نظر چند افراد ضرورپیداہو جاتے ہیں اوراس وقت بھی پیدا ہو گئے تھے۔یہ اوربات ہے کہ قضا و قدر نے ساتھ نہیں دیا اور جہاد مکمل نہیں ہوسکا۔

اس کے علاوہ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اگر امیر المومنین نے سکوت اختیار کرلیا ہوتا تو دشمن اسے رضا مندی اور بیعت کی علامت بنا لیتے اور مخلصین اپنی کوتاہی عمل کا بہانہ قرار دے لیتے اوراسلام کی روح عمل اورتحریک دینداری مردہوکر رہ جاتی۔


توبيخ الخارجين عليه

مَا لِي ولِقُرَيْشٍ - واللَّه لَقَدْ قَاتَلْتُهُمْ كَافِرِينَ - ولأُقَاتِلَنَّهُمْ مَفْتُونِينَ - وإِنِّي لَصَاحِبُهُمْ بِالأَمْسِ كَمَا أَنَا صَاحِبُهُمُ الْيَوْمَ - واللَّه مَا تَنْقِمُ مِنَّا قُرَيْشٌ إِلَّا أَنَّ اللَّه اخْتَارَنَا عَلَيْهِمْ - فَأَدْخَلْنَاهُمْ فِي حَيِّزِنَا - فَكَانُوا كَمَا قَالَ الأَوَّلُ:

أَدَمْتَ لَعَمْرِي شُرْبَكَ الْمَحْضَ صَابِحاً

وأَكْلَكَ بِالزُّبْدِ الْمُقَشَّرَةَ الْبُجْرَا

ونَحْنُ وَهَبْنَاكَ الْعَلَاءَ ولَمْ تَكُنْ

عَلِيّاً وحُطْنَا حَوْلَكَ الْجُرْدَ والسُّمْرَا

( ۳۴)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في استنفار الناس إلى أهل الشام بعد فراغه من أمر الخوارج وفيها يتأفف بالناس، وينصح لهم بطريق السداد

أُفٍّ لَكُمْ لَقَدْ سَئِمْتُ عِتَابَكُمْ -

میرا قریش سے کیا تعلق ہے۔میں نے کل ان سے کفرکی بناپرجہاد کیا تھا اورآج فتنہ اور گمراہی کی بنا پر جہاد کروںگا۔میں ان کا پرانا مد مقابل ہوں اور آج بھی ان کے مقابلہ پرتیارہوں۔خدا کی قسم قریش کو ہم سے کوئی عداوت نہیں ہے مگر یہ کہ پروردگارنے ہمیں منتخب قراردیا ہے اور ہم نے ان کو اپنی جماعت میں داخل کرنا چاہا تو وہ ان اشعارکے مصداق ہوگئے:(ہماری جان کی قسم یہ شراب ناب صباح- یہ چرب چرب غذائیں ہمارا صدقہ ہیں)(ہمیں نے تم کو یہ ساری بلندیاں دی ہیں-وگرنہ تیغ و سناں بس ہمارا حصہ ہیں)

(۳۴)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں خوارج کےقصہ کےبعد لوگوں کو اہل شام سےجہادکےلئےآمادہ کیاگیا ہےاور انکے حالات پرافسوس کا اظہار کرتےہوئےانہیں نصیحت کی گئی ہے)

حیف ہےتمہارے حال پر۔میں تمہیں ملامت کرتے(۱) کرتے تھک گیا

(۱)اس مقام پر یہ خیال نہ کیا جائے کہ ایسے انداز گفتگو سے عوام الناس میں مزید نخوت پیدا ہو جاتی ہے اور ان میں کام کرنے کا جذبہ بالکل مردہ ہوجاتے ہے۔اوراگر واقعاً امام علیہ السلام اسی قدر عاجز آگئے تھے تو پھر بار بار دہرانے کی کیا ضرورت تھی۔انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا ہوتا۔جوانجام ہونے والا تھا ہو جاتا اور بالآخر لوگ اپنے کیفر کردار کو پہنچ جاتے ؟اس لئے کہ یہ ایک جذباتی مشورہ تو ہو سکتا ہے منطقی گفتگو نہیں ہو سکتی ہے۔اکتاہٹ اور ناراضگی ایک فطری رد عمل ہے جو امر بالمعروف کی منز ل میں فریضہ بھی بن جاتا ہے۔لیکن اس کے بعد بھی اتمام حجت کا فریضہ بہر حال باقی رہ جاتا ہے۔پھر امام کی نگاہیں اس مستقبل کو بھی دیکھ رہی تھیں جہاں مسلسل ہدایات کے پیش نظر چند افراد ضرور پیدا ہو جاتے ہیں اور اس وقت بھی پیداہوگئے تھے یہ اوربات ہے کہ قضا وق در نے ساتھ نہیں دیا اور جہاد مکمل نہیں ہو سکا۔ اس کے علاوہ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اگر امیرالمومنین نے سکتو اختیارکرلیا ہوتا تو دشمن اسے رضامندی اوربیعت کی علامت بنالیتے اور مخلصین اپنی کوتاہی عمل کا بہانہ قراردے لیتے اور اسلام کی روح عمل اور تحریک دینداری مردہ ہو کر رہ جاتی ہے۔


( أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الآخِرَةِ ) عِوَضاً - وبِالذُّلِّ مِنَ الْعِزِّ خَلَفاً - إِذَا دَعَوْتُكُمْ إِلَى جِهَادِ عَدُوِّكُمْ دَارَتْ أَعْيُنُكُمْ كَأَنَّكُمْ مِنَ الْمَوْتِ فِي غَمْرَةٍ ومِنَ الذُّهُولِ فِي سَكْرَةٍ - يُرْتَجُ عَلَيْكُمْ حَوَارِي فَتَعْمَهُونَ وكَأَنَّ قُلُوبَكُمْ مَأْلُوسَةٌ فَأَنْتُمْ لَا تَعْقِلُونَ - مَا أَنْتُمْ لِي بِثِقَةٍ سَجِيسَ اللَّيَالِي ومَا أَنْتُمْ بِرُكْنٍ يُمَالُ بِكُمْ - ولَا زَوَافِرُ عِزٍّ يُفْتَقَرُ إِلَيْكُمْ - مَا أَنْتُمْ إِلَّا كَإِبِلٍ ضَلَّ رُعَاتُهَا - فَكُلَّمَا جُمِعَتْ مِنْ جَانِبٍ انْتَشَرَتْ مِنْ آخَرَ –

لَبِئْسَ لَعَمْرُ اللَّه سُعْرُ نَارِ الْحَرْبِ أَنْتُمْ - تُكَادُونَ ولَا تَكِيدُونَ - وتُنْتَقَصُ أَطْرَافُكُمْ فَلَا تَمْتَعِضُونَ لَا يُنَامُ عَنْكُمْ وأَنْتُمْ فِي غَفْلَةٍ سَاهُونَ - غُلِبَ واللَّه الْمُتَخَاذِلُونَ - وايْمُ اللَّه - إِنِّي لأَظُنُّ بِكُمْ أَنْ لَوْ حَمِسَ الْوَغَى واسْتَحَرَّ الْمَوْتُ قَدِ انْفَرَجْتُمْ عَنِ ابْنِ أَبِي طَالِبٍ انْفِرَاجَ الرَّأْسِ

کیا تم لوگ واقعا آخرت کے عوض زندگانی دنیا پر راضی ہوگئے ہو اورتم نے ذلت کوعزت کا بدل سمجھ لیا ہے ؟ کہ جب میں تمہیں دشمن سے جہاد کی دعوت دیتا ہوں تو تم آنکھیں پھرانے لگتے ہو جیسے موت کی بے ہوشی طاری ہو اور غفلت کے نشہ میں مبتلا ہو۔تم پر جیسے میری گفتگو کے دروازے بند ہوگئے ہیں کہ تم گمراہ ہوتے جا رہے ہو اورتمہارے دلوں پردیوانگی کا اثر ہوگیا ہے کہ تمہاری سمجھ ہی میں کچھ نہیں آرہا ہے۔تم کبھی میرے لئے قابل اعتماد نہیں ہوسکتے ہو اور نہ ایسا ستون ہو جس پر بھروسہ کیا جا سکے اور نہ عزت کے وسائل ہو جس کی ضرورت محسوس کی جا سکے تو تو ان اونٹوں جیسے ہو جن کے چرواہے گم ہو جائیں کہ جب ایک طرف سے جمع کئے جاتے ہیں تو دوسری طرف سے بھڑک جاتے ہیں۔

خداکی قسم۔تم بد ترین افراد ہوجن کے ذریعہ آتش جنگ کو بھڑکا یا جا سکے۔تمہارے ساتھ مکر کیا جاتا ہے اور تم کوئی تدبیر بھی نہیں کرتے ہو۔تمہارے علاقے کم ہو تے جا رہے ہیں اورتمہیں غصہ بھی نہیں آتا ہے۔دشمن تمہاری طرف سے غافل نہیں ہے مگر تم غفلت کی نیند سو رہے ہو۔خدا کی قسم سستی برتنے والے ہمیشہ مغلوب ہو جاتے ہیں اور بخدا میں تمہارے بارے میں یہی خیال رکھتا ہوں کہ اگرجنگ نے زور پکڑ لیا اور موت کا بازار گرم ہوگیا تو تم فرزند ابو طالب سے یوں ہی الگ ہو جائو گے جس طرح جسم سے سر الگ ہو جاتا ہے


واللَّه إِنَّ امْرَأً يُمَكِّنُ عَدُوَّه مِنْ نَفْسِه - يَعْرُقُ لَحْمَه ويَهْشِمُ عَظْمَه - ويَفْرِي جِلْدَه لَعَظِيمٌ عَجْزُه - ضَعِيفٌ مَا ضُمَّتْ عَلَيْه جَوَانِحُ صَدْرِه أَنْتَ فَكُنْ ذَاكَ إِنْ شِئْتَ - فَأَمَّا أَنَا فَوَاللَّه دُونَ أَنْ أُعْطِيَ ذَلِكَ ضَرْبٌ بِالْمَشْرَفِيَّةِ تَطِيرُ مِنْه فَرَاشُ الْهَامِ وتَطِيحُ السَّوَاعِدُ والأَقْدَامُ -( ويَفْعَلُ الله ) بَعْدَ ذَلِكَ( مِمَّا يَشاءُ )

طريق السداد

أَيُّهَا النَّاسُ - إِنَّ لِي عَلَيْكُمْ حَقّاً ولَكُمْ عَلَيَّ حَقٌّ فَأَمَّا حَقُّكُمْ عَلَيَّ فَالنَّصِيحَةُ لَكُمْ - وتَوْفِيرُ فَيْئِكُمْ عَلَيْكُمْ - وتَعْلِيمُكُمْ كَيْلَا تَجْهَلُوا وتَأْدِيبُكُمْ كَيْمَا تَعْلَمُوا - وأَمَّا حَقِّي عَلَيْكُمْ فَالْوَفَاءُ بِالْبَيْعَةِ - والنَّصِيحَةُ فِي الْمَشْهَدِ والْمَغِيبِ - والإِجَابَةُ حِينَ أَدْعُوكُمْ والطَّاعَةُ حِينَ آمُرُكُمْ

خدا کی قسم اگر کوئی شخص اپنے دشمن کو قابو دے دیتا ہے کہ وہ اس کا گوشت اتارے اور ہڈی توڑ ڈالے اور کھال کے ٹکڑے ٹکڑے کردے تو ایسا شخص عاجزی کی آخری سرحد پر ہے اور اس کا وہ دل انتہائی کمزور ہے جو اس کے پہلوؤں کے درمیان ہے تم چاہو تو ایسے ہی ہوجاؤ لیکن خدا گواہ ہے کہ اس نوبت کے آنے سے پہلے تلوار چلاؤں گا کہ کھوپڑیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر اڑتی دکھائی دیں گے اور ہاتھ پیر کٹ کر گرتے نظرآئیں گے ۔ اس کے بعد خدا جو
چاہے گا وہ کرے گا ۔

ایہا الناس !یقینا ایک حق میرا تمہارے(۱) ذمہ ہے اورایک حق تمہارا میرے ذمہ ہے۔تمہارا حق میرے ذمہ یہ ہے کہ میں تمہیں نصیحت کروں اوربیت المال کا مال تمہارے حوالے کردوں اور تمہیں تعلیم دوں تاکہ تم جاہل نہ رہ جائو اورادب سکھائوں تاکہ با عمل ہو جائو۔اور میرا حق تمہارے اوپر یہ ہے کہ بیعت کا حق ادا کرو اور حاضر و غائب ہر حال میں خیر خواہ رہو۔جب پکاروں تو لبیک کہو اور جب حکم دوں تو اطاعت کرو۔

(۱)یہ دیانتداری اور ایمانداری کی عظیم ترین مثال ہے کہ کائنات کا امیر۔مسلمانوں کا حاکم۔اسلام کا ذمہ دار قوم کے سامنے کھڑے ہو کر اس حقیقت کا اعلان کر رہا ہے کہ جس طرح میرا حق تمہارے ذمہ ہے اسی طرح تمہارا حق میرے ذمہ بھی ہے۔اسلام میں حاکم حقوق العباد سے بلند ترنہیں ہوتا ہے اور نہ اسے قانون الٰہی کے مقابلہ میں مطلق العنان قرار دیا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد دوسری احتیاط یہ ہے کہ پہلے عوام کے حقوق کوادا کرنے کا ذکرکیا۔اس کے بعد اپنے حقوق کا مطالبہ کیا اورحقوق کے بیان میں بھی عوام کے حقوق کو اپنے حق کے مقابلہ میں زیادہ اہمیت دی۔اپناحق صری یہ ہے کہ قوم مخلص رہے اور بیعت کا حق ادا کرتی رہے اور احکام کی اطاعت کرتی رہے جب کہ یہ کسی حاکم کے امتیازی حقوق نہیں ہیں بلکہ مذہب کے بنیادی فرائض ہیں۔اخلاص و نصیحت ہرشخص کابنیادی فریضہ ہے۔بیعت کی پابندی معاہدہ کی پابندی اورتقاضائے انسانیت ہے۔احکام کی اطاعت احکام الہیہ کی اطاعت ہے اوریہی عین تقاضائے اسلام ہے۔

اس کے برخلاف اپنے اوپر جن حقوق کاذکر کیا گیا ہے وہ اسلام کے بنیادی فرائض میں شامل نہیں ہیں بلکہ ایک حاکم کی ذمہ داری کے شعبہ ہیں کہ وہ لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی جہالت کا علاج کریاور انہیں مہذب بنا کر عمل کیدعوت دے اورپھر برابرنصیحت کرتا رہے اور کسی آن بھی ان کے مصالح و منافع سے غافل نہ ہونے پائے۔


(۳۵)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

بعد التحكيم وما بلغه من أمر الحكمين

وفيها حمد اللَّه على بلائه، ثم بيان سبب البلوى

الحمد على البلاء

الْحَمْدُ لِلَّه وإِنْ أَتَى الدَّهْرُ بِالْخَطْبِ الْفَادِحِ والْحَدَثِ الْجَلِيلِوأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه لَا شَرِيكَ لَه لَيْسَ مَعَه إِلَه غَيْرُه - وأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُه ورَسُولُهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

سبب البلوى

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ مَعْصِيَةَ النَّاصِحِ الشَّفِيقِ الْعَالِمِ الْمُجَرِّبِ - تُورِثُ الْحَسْرَةَ وتُعْقِبُ النَّدَامَةَ - وقَدْ كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ فِي هَذِه الْحُكُومَةِ أَمْرِي،

ونَخَلْتُ لَكُمْ مَخْزُونَ رَأْيِي لَوْ كَانَ يُطَاعُ لِقَصِيرٍ أَمْرٌ - فَأَبَيْتُمْ عَلَيَّ إِبَاءَ الْمُخَالِفِينَ الْجُفَاةِ والْمُنَابِذِينَ الْعُصَاةِ - حَتَّى ارْتَابَ النَّاصِحُ بِنُصْحِه وضَنَّ الزَّنْدُ بِقَدْحِه فَكُنْتُ أَنَا وإِيَّاكُمْ كَمَا قَالَ أَخُو هَوَازِنَ

أَمَرْتُكُمْ أَمْرِي بِمُنْعَرَجِ اللِّوَى

فَلَمْ تَسْتَبِينُوا النُّصْحَ إِلَّا ضُحَى الْغَدِ

(۳۵)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جب تحکیم کے بعد اس کے نتیجہ کی اطلاع دی گئی تو آپ نے حمدو ثنائے الٰہی کے بعد اس بلا کا سبب بیان فرمایا)

ہر حال میں خدا کاشکر ہے چاہے زمانہ کوئی بڑی مصیبت کیوں نہ لے آئے اورحادثات کتنے ہی عظیم کیوں نہ ہو جائیں ۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ خدا ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اس کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہیں ہے اور حضرت محمد(ص) اس کے بندہ اور رسول ہیں ۔ (خدا کی رحمت ان پر اور ان کی آل پر)

اما بعد(یاد رکھو) کہ ناصح شفیق اور عالم تجربہ کار کی نا فرمانی ہمیشہ باعث حسرت اور موجب ندامت ہوا کرتی ہے۔میں نے تمہیں تحکیم کے بارے میں اپنی رائے سے با خبر کردیا تھا اور اپنی قیمتی رائے کا نچوڑ بیان کردیا تھا لیکن اے کاش ''قصیر''کے حاکم کی اطاعت کی جاتی۔تم نے تو میری اس طرح مخالفت کی جس طرح بد ترین مخالف اور عہد شکن نافرمان کیا کرتے ہیں یہاں تک کہ نصیحت کرنے والا خودبھی شبہ میں پڑ جائے کہ کس کو نصیحت کردی اور چقماق نے شعلہ بھڑکا نا بند کردئیے۔اب ہمارا اورتمہارا وہی حال ہوا ہے جو بنی ہوازن

کے شاعر نے کہا تھا:-" میں نے تم کو اپنی بات مقام منعرج اللوی میں بتادی تھی لیکن تم نے اس کی حقیقت کو دوسرے دن کی صبح ہی کو پہچانا"


(۳۶)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في تخويف أهل النهروان

فَأَنَا نَذِيرٌ لَكُمْ أَنْ تُصْبِحُوا صَرْعَى بِأَثْنَاءِ هَذَا النَّهَرِ - وبِأَهْضَامِ هَذَا الْغَائِطِ عَلَى غَيْرِ بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ - ولَا سُلْطَانٍ مُبِينٍ مَعَكُمْ - قَدْ طَوَّحَتْ بِكُمُ الدَّارُ واحْتَبَلَكُمُ الْمِقْدَارُ وقَدْ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ هَذِه الْحُكُومَةِ - فَأَبَيْتُمْ عَلَيَّ إِبَاءَ الْمُنَابِذِينَ - حَتَّى صَرَفْتُ رَأْيِي إِلَى هَوَاكُمْ - وأَنْتُمْ مَعَاشِرُ أَخِفَّاءُ الْهَامِ سُفَهَاءُ الأَحْلَامِ ولَمْ آتِ لَا أَبَا لَكُمْ بُجْراً ولَا أَرَدْتُ لَكُمْ ضُرّاً.

(۳۶)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(اہل نہروان کو انجام کارسے ڈرانےکے سلسلہ میں)

میں تمہیں با خبر(۱) دیتا ہوںکہ اس نہر کے موڑوں پر اور اس نشیب کی ہموار زمینوں پر پڑ ے دکھائی دوگے اور تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے کوئی واضح دلیل اور روشن حجت نہ ہوگی۔تمہارے گھروں نے تمہیں نکال باہر کردیا اورقضا وقدرنے تمہیں گرفتار کرلیا ۔ میں تمہیں اس تحکیم سے منع کر رہا تھا لیکن تم نے عہد شکن دشمنوں کی طرح میری مخالفت کی یہاں تک کہ میں نے اپنی رائے کو چھوڑ کر مجبوراً تمہاری بات کو تسلیم کرلیا مگر تم دماغ کے ہلکے اور عقل کے احمق نکلے۔خدا تمہارا برا کرے۔میں نے تمہیں کسی مصیبت میں نہیں ڈالا ہے اور تمہارے لئے کوئی نقصان نہیں چاہاہے۔

(۱)صورت حال یہ ہے کہ جنگ صفین کے اختتام کے قریب جب عمرو عاص کے مشورہ سے معاویہ نے نیزوں پر قرآن بلند کردئیے اورقوم نے جنگ روکنے کا ارادہ کرلیا تو حضرت نے متنبہ کیا کہ یہ صرف مکاری ہے۔اس قوم کاقرآن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔لیکن قوم نے اس حد تک اصرار کیا کہ اگر آپ قرآن کے فیصلہ کو نہ مانیں گے تو ہم آپ کو قتل کردیں گے یا گرفتار کرکے معاویہ کے حوالے کردیں گے۔ظاہر ہے کہ اس کے نتائج انتہائی بدتر اورسنگین تھے لہٰذا آپ نے اپنی رائے سے قطع نظر کرکے اس بات کو تسلیم کرلیا مگر شرط یہی رکھی کہ فیصلہ کتاب و سنت ہی کے ذریعہ ہوگا۔

معاملہ رفع دفع ہوگیا لیکن فیصلہ کے وقت معاویہ کے نمائندہ عمروعاص نے حضرت علی کی طرف کے نمائندہ ابو موسیٰ اشعری کودھوکہ دیدیا اور اسنے حضرت علی کے معزول کرنے کا اعلان کردیا جس کے بعد عمروعاص نے معاویہ کو نا مزد کردیا اور اس کی حکومت مسلم ہوگئی۔

حضرت علی کے نام نہاد اصحاب کو اب اپنی حماقت کا اندازہ ہوا اور شرمندگی کو مٹانے کے لئے الٹا الزام لگانا شروع کردیا کہ آپ نے اس تحکیم کو کیوں منظور کیا تھا اور خدا کے علاوہ کسی کوحکم کیوں تسلیم کیاتھا۔آپ کافر ہوگئے ہیں اور آپ سے جنگ واجب ہے اور یہ کہہ کر مقام حر وراء پر لشکر جمع کرنا شروع کردیا۔ادھر حضرت شام کے مقابلہ کی تیاری کر رہے تھے لیکن جب ان ظالموں کی شرارت حد سے آگے بڑھ گئی تو آپ نے ابو ایوب انصاری کو فہمائش کے لئے بھیجا۔ان کی تقریر کا یہ اثر ہوا کہ بارہ ہزار میں سے اکثریت کوفہ چلی گئی یاغیر جانب دار ہوگئی یا حضرت کے ساتھ آگئی اور صرف دو تین ہزار خوارج رہ گئے جن سے مقابلہ ہوا تو اس قیامت کا ہوا کہ صرف نو آدمی بچے۔باقی سب فی النار ہوگئے اور حضرت کے لشکر سے صرف آٹھ افراد شہید ہوئے۔یہ واقعہ ۹ صفر ۳۸ھ کو پیش آیا۔


(۳۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

يجري مجرى الخطبة وفيه يذكر فضائلهعليه‌السلام قاله بعد وقعة النهروان

فَقُمْتُ بِالأَمْرِ حِينَ فَشِلُوا وتَطَلَّعْتُ حِينَ تَقَبَّعُوا ونَطَقْتُ حِينَ تَعْتَعُوا ومَضَيْتُ بِنُورِ اللَّه حِينَ وَقَفُوا وكُنْتُ أَخْفَضَهُمْ صَوْتاً وأَعْلَاهُمْ فَوْتاً فَطِرْتُ بِعِنَانِهَا واسْتَبْدَدْتُ بِرِهَانِهَا كَالْجَبَلِ لَا تُحَرِّكُه الْقَوَاصِفُ - ولَا تُزِيلُه الْعَوَاصِفُ - لَمْ يَكُنْ لأَحَدٍ فِيَّ مَهْمَزٌ ولَا لِقَائِلٍ فِيَّ مَغْمَزٌ الذَّلِيلُ عِنْدِي عَزِيزٌ حَتَّى آخُذَ الْحَقَّ لَه - والْقَوِيُّ عِنْدِي ضَعِيفٌ حَتَّى آخُذَ الْحَقَّ مِنْه - رَضِينَا عَنِ اللَّه قَضَاءَه وسَلَّمْنَا لِلَّه أَمْرَه - أَتَرَانِي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم واللَّه لأَنَا أَوَّلُ مَنْ صَدَّقَه - فَلَا أَكُونُ أَوَّلَ مَنْ كَذَبَ عَلَيْه - فَنَظَرْتُ فِي أَمْرِي - فَإِذَا طَاعَتِي قَدْ سَبَقَتْ بَيْعَتِي - وإِذَا الْمِيثَاقُ فِي عُنُقِي لِغَيْرِي.

(۳۷)

آپ کا ارشاد گرامی(جو بمنزلہ' خطبہ ہے اور اس میں نہر وان کے واقعہ کےبعدآپ نےاپنے فضائل اورکارناموں کا تذکرہ کیا ہے)

میں نےاس وقت اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ قیام کیا جب سب ناکام ہوگئے تھےاور اس وقت سراٹھایاجب سب گوشوں میں چھپےہوئےتھے اوراس وقت بولاجب سب گونگے ہوگئے تھےاوراس وقت نورخداکےسہارےآگے بڑھاجب سب ٹھہرےہوئے تھےمیری آوازسب سے دھیمی تھی میں نے جب عنان حکومت سنبھالی تو اس میں قوت پرواز پیدا ہوگئی اور میں تنہااس میدان میں بازی لے گیامیرااثبات پہاڑوں جیسا تھا جنہیں نہ تیزہوائیں ہلا سکتی تھیں اورنہ آندھیاں ہٹا سکتی تھیں۔نہ کسی کے لئے میرےکردارمیں طعن و طنز کی گنجائش تھی اورنہ کوئی عیب لگا سکتاتھا۔یادرکھوکہ تمہارا ذلیل میری نگاہ میں عزیزہےیہاں تک کہ اس کا حق دلوادوں اور تمہارا عزیز میری نگاہ میں ذلیل ہےیہاں تک کہ اس سے حق لے لوں۔میں قضا الٰہی پر راضی ہوں اور اس کےحکم کےسامنے سراپا تسلیم ہوں۔کیا تمہارا خیال ہے کہ میں رسول اکرم (ص) کے بارے میں کوئی غلط بیانی کر سکتا ہوں جب کہ سب سےپہلے میں نےآپ کی تصدیق کی ہےتو اب سب سے پہلےجھوٹ بولنے والا نہیں ہوسکتا ہوں۔میں نے اپنےمعاملہ میں غورکیا تومیرے لئےاطاعت رسول (ص) کامرحلہ بیعت پرمقدم تھا اورمیری گردن میں حضرت کے عہد کا طوق پہلے سے پڑا ہوا تھا۔


(۳۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وفيها علة تسمية الشبهة شبهة ثم بيان حال الناس فيها

وإِنَّمَا سُمِّيَتِ الشُّبْهَةُ شُبْهَةً لأَنَّهَا تُشْبِه الْحَقَّ - فَأَمَّا أَوْلِيَاءُ اللَّه فَضِيَاؤُهُمْ فِيهَا الْيَقِينُ - ودَلِيلُهُمْ سَمْتُ الْهُدَى وأَمَّا أَعْدَاءُ اللَّه فَدُعَاؤُهُمْ فِيهَا الضَّلَالُ - ودَلِيلُهُمُ الْعَمَى - فَمَا يَنْجُو مِنَ الْمَوْتِ مَنْ خَافَه ولَا يُعْطَى الْبَقَاءَ مَنْ أَحَبَّه.

(۳۹)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

خطبها عند علمه بغزوة النعمان بن بشير صاحب معاوية لعين التمر،وفيها يبدي عذره، ويستنهض الناس لنصرته

(۳۸)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں شبہ کی وجہ تسمیہ بیان کی گئی ہے اور لوگوں کے حالات کا ذکر کیا گیا ہے)

یقینا شبہ کو شبہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ حق سے مشابہ ہوتا ہے۔اس موقع پر اولیاء اللہ کے لئے یقین کی روشنی ہوتی ہے اور سمت ہدایت کی رہنمائی لیکن دشمنان خدا کی دعوت گمراہی اور رہنما بے بصیرتی ہوتی ہے۔یاد رکھو کہ موت سے ڈرنے والا موت سے بچ نہیں سکتا ہے اوربقاء کا طلب گار بقائے دوام پا نہیں سکتا ہے۔

(۳۹)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جو معاویہ کے سردار لشکر نعمان بن(۱) بشیرکے عین التمر پرحملہ کے وقت ارشاد فرمایا اور لوگوں کو اپنی نصرت پرآمادہ کیا )

(۱)معاویہ کی مفسدانہ کاروائیوں میں سے ایک عمل یہ بھی تھا کہ اس نے نعمان بن بشیر کی سر کردگی میں دو ہزار کالشکر عین التمر پرحملہ کرنے کے لئے بھیج دیا تھا جب کہ اس وقت امیر المومنین کی طرف سے مالک بن کعب ایک ہزار افراد کے ساتھ علاقہ کی نگرانی کر رہے تھے لیکن وہ سب موجود نہ تھے۔مالک نے حضرت کے پاس پیغام بھیجا۔آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا لیکن خاطر خواہ اثرنہ ہوا۔صرف عدی بن حاتم اپنے قبیلہ کے ساتھ تیار ہوئے لیکن آپ نے دوسرے قبائل کوبھی شامل کرنا چاہا اور جیسے ہی مخنف بن سلیم نے عبدالرحمن بن مخنف کے ہمراہ پچاس آدمی روانہ کردئیے لشکر معاویہ آتی ہوئی کمک کودیکھ فرار کرگیا لیکن قوم کے دامن پر نا فرمانی کادھبہ رہ گیا کہ عام افراد نے حضرت کے کلام پر کوئی توجہ نہیں دی۔


مُنِيتُ بِمَنْ لَا يُطِيعُ إِذَا أَمَرْتُ ولَا يُجِيبُ إِذَا دَعَوْتُ لَا أَبَا لَكُمْ مَا تَنْتَظِرُونَ بِنَصْرِكُمْ رَبَّكُمْ - أَمَا دِينٌ يَجْمَعُكُمْ ولَا حَمِيَّةَ تُحْمِشُكُمْ أَقُومُ فِيكُمْ مُسْتَصْرِخاً وأُنَادِيكُمْ مُتَغَوِّثاً فَلَا تَسْمَعُونَ لِي قَوْلًا ولَا تُطِيعُونَ لِي أَمْراً - حَتَّى تَكَشَّفَ الأُمُورُ عَنْ عَوَاقِبِ الْمَسَاءَةِ - فَمَا يُدْرَكُ بِكُمْ ثَارٌ ولَا يُبْلَغُ بِكُمْ مَرَامٌ - دَعَوْتُكُمْ إِلَى نَصْرِ إِخْوَانِكُمْ - فَجَرْجَرْتُمْ جَرْجَرَةَ الْجَمَلِ الأَسَرِّ وتَثَاقَلْتُمْ تَثَاقُلَ النِّضْوِ الأَدْبَرِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ مِنْكُمْ جُنَيْدٌ مُتَذَائِبٌ ضَعِيفٌ –( كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وهُمْ يَنْظُرُونَ ) .

قال السيد الشريف - أقول قولهعليه‌السلام متذائب أي مضطرب - من قولهم تذاءبت الريح أي اضطرب هبوبها - ومنه سمي الذئب ذئبا لاضطراب مشيته.

میں ایسے افراد میں مبتلا ہوگیا ہوں جنہیں حکم دیتا ہوں تو اطاعت نہیں کرتے ہیں اور بلاتا ہوں تو لبیک نہیں کہتے ہیں۔خدا تمہارا برا کرے ' اپنے پروردگار کی مدد کرنے میں کس چیز کا انتظار کر رہے ہو۔کیا تمہیں جمع کرنے والا دین نہیں ہے اور کیا جوش دلانے والی غیرت نہیں ہے۔میں تم میں کھڑا ہو کر آواز دیتا ہوں اور تمہیں فریاد کے لئے بلاتا ہوں لیکن نہ میری بات سنتے ہو اور نہ میرے حکم کی اطاعت کرتے ہو۔یہاں تک کہ حالات کے بد ترین نتائج سامنے آجائیں ۔سچی بات یہ ہے کہ تمہارے ذریعہ نہ کسی خون نا حق کا بدلہ لیا جا سکتا ہے اور نہ کوئی مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔میں نے تم کو تمہارے ہی بھائیوں کی مدد کے لئے پکارا مگر تم اس اونٹ کی طرح بلبلا نے لگے جس کی ناف میں درد ہو اور اس کمزور شتر کی طرح سست پڑ گئے جس کی پشت زخمی ہو۔اس کے بعد تم سے ایک مختصر سی کمزور' پریشان حال سپاہ برآمد ہوئی اس طرح جیسے انہیں موت کی طرف ڈھکیلا جا رہا ہو اور یہ بے کسی سے موت دیکھ رہے ہوں۔

سیدرضی: حضرت کے کلام میں متذائب مضطرب کے معنی میں ہے کہ عرب اس لفظ کو اس ہوا کے بارے میں استعمال کرتے ہیں جس کا رخ معین نہیں ہوتا ہے اوربھیڑئیے کوبھی ذئب اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اس کی چال بے ہنگم ہو تی ہے۔


(۴۰)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في الخوارج لما سمع قولهم «لا حكم إلا لله»

قَالَعليه‌السلام : كَلِمَةُ حَقٍّ يُرَادُ بِهَا بَاطِلٌ - نَعَمْ إِنَّه لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّه - ولَكِنَّ هَؤُلَاءِ يَقُولُونَ لَا إِمْرَةَ إِلَّا لِلَّه وإِنَّه لَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ أَمِيرٍ بَرٍّ أَوْ فَاجِرٍ - يَعْمَلُ فِي إِمْرَتِه الْمُؤْمِنُ - ويَسْتَمْتِعُ فِيهَا الْكَافِرُ - ويُبَلِّغُ اللَّه فِيهَا الأَجَلَ ويُجْمَعُ بِه الْفَيْءُ - ويُقَاتَلُ بِه الْعَدُوُّ وتَأْمَنُ بِه السُّبُلُ - ويُؤْخَذُ بِه لِلضَّعِيفِ مِنَ الْقَوِيِّ - حَتَّى يَسْتَرِيحَ بَرٌّ ويُسْتَرَاحَ مِنْ فَاجِرٍ.

وفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى أَنَّهعليه‌السلام لَمَّا سَمِعَ تَحْكِيمَهُمْ قَالَ:

حُكْمَ اللَّه أَنْتَظِرُ فِيكُمْ.

.

(۴۰)

آپ کا ارشاد گرامی

(خوارج کے بارے میں ان کا یہ مقولہ سن کر کہ'' حکم اللہ کے علاوہ کسی کے لئے نہیں ہے)

یہ ایک کلمہ حق ہے جس سے باطل معنی مراد لئے گئے ہیں۔بیشک حکم صرف اللہ کے لئے ہے۔لیکن ان لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور امارت(۱) بھی صرف اللہ کے لئے ہے حالانکہ کھلی ہوئی بات ہے کہ نظام انسانیت کے لئے ایک حاکم کا ہونا بہر حال ضروری ہے چاہے نیک کردار ہو یا فاسق کہ حکومت کے زیرسایہ ہی مومن کو کام کرنے کا موقع مل سکتا ہے اور کافر بھی مزے اڑا سکتا ہے اور اللہ ہرچیز کو اس کی آخری حد تک پہنچا دیتا ہے اور مال غنیمت و خراج وغیرہ جمع کیا جاتا ہے اور دشمنوں سے جنگ کی جاتی ہے اور راستوں کا تحفظ کیا جاتا ہے اور طاقتور سے کمزور کا حق لیا جاتا ہے تاکہ نیک کردار انسان کو راحت ملے اوربد کردار انسان سے راحت ملے۔

(ایک روایت میں ہے کہ جب آپ کو تحکیم کی اطلاع ملی توفرمایا)'' میں تمہارے بارے میں حکم خدا کا انتظار کر رہا ہوں ''

(۱)سترہویں صدی میں ایک فلسفہ ایسا بھی پیداہوا تھا جس کا مقصد مزاج کی حمایت تھا اوراس کا دعوی یہ تھا کہ حکومت کا وجود سماج میں حاکم و محکوم کا امتیاز پیدا کرتا ہے۔حکومت سے ایک طبقہ کو اچھی اچھی تنخواہیں مل جاتی ہیں اور دوسرا محروم رہ جاتا ہے۔ایک طبقہ کو طاقت استعمال کرنے کا حق ہوتا ہے۔اوردوسرے کو یہ حق نہیں ہوتا ہے اور یہ ساری باتیں مزاج انسانیت کے خلاف ہیں لیکن حقیقت امر یہ ہے کہ یہ بیان لفظوں میں انتہائی حسین ہے اور حقیقت کے اعتبار سے انتہائی خطرناک ہے اوربیان کردہ مفاسد کا علاج یہ ہے کہ حاکم اعلیٰ کو معصوم اورعام حکام کو عدالت کا پابند تسلیم کرلیا جائے۔سارے فسادات کاخودبخود علاج ہو جائے گا۔

مذکورہ بالا فلسفہ کے خلاف فطرت کی روش بھی وہ تھی جس نے ۱۹۲۰ئ میں اس کا جنازہ نکال دیا اور پھر کوئی ایسا احمق فلسفی نہیں پیدا ہوا۔


وقَالَ أَمَّا الإِمْرَةُ الْبَرَّةُ فَيَعْمَلُ فِيهَا التَّقِيُّ - وأَمَّا الإِمْرَةُ الْفَاجِرَةُ فَيَتَمَتَّعُ فِيهَا الشَّقِيُّ - إِلَى أَنْ تَنْقَطِعَ مُدَّتُه وتُدْرِكَه مَنِيَّتُه

(۴۱)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وفيها ينهى عن الغدر ويحذر منه

أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الْوَفَاءَ تَوْأَمُ الصِّدْقِ ولَا أَعْلَمُ جُنَّةً أَوْقَى مِنْه - ومَا يَغْدِرُ مَنْ عَلِمَ كَيْفَ الْمَرْجِعُ - ولَقَدْ أَصْبَحْنَا فِي زَمَانٍ قَدِ اتَّخَذَ أَكْثَرُ أَهْلِه الْغَدْرَ كَيْساً ونَسَبَهُمْ أَهْلُ الْجَهْلِ فِيه إِلَى حُسْنِ الْحِيلَةِ - مَا لَهُمْ قَاتَلَهُمُ اللَّه - قَدْ يَرَى الْحُوَّلُ الْقُلَّبُ وَجْه الْحِيلَةِ ودُونَهَا مَانِعٌ - مِنْ أَمْرِ اللَّه ونَهْيِه - فَيَدَعُهَا رَأْيَ عَيْنٍ بَعْدَ الْقُدْرَةِ عَلَيْهَا - ويَنْتَهِزُ فُرْصَتَهَا مَنْ لَا حَرِيجَةَ لَه فِي الدِّينِ.

پھر فرمایا:حکومت نیک ہوتی ہے تو متقی کو کام کرنے کا موقع ملتا ہے اورحاکم فاسق و فاجر ہوتا ہے تو بد بختوں کو مزہ اڑانے کا موقع ملتا ہے یہاں تک کہ اس کی مدت تمام ہو جائے اور موت اسے اپنی گرفت میں لے لے

(۴۱)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں غداری سے روکا گیا ہے اور اس کے نتائج سے ڈرایا گیا ہے)

ایہا الناس!یاد رکھو وفا ہمیشہ صداقت کے ساتھ رہتی ہے اور میں اس سے بہتر محافظ کوئی سپرنہیں جانتا ہوں اور جسے باز گشت کی کیفیت کا اندازہ ہوتا ہے وہ غداری نہیں کرتا ہے۔ہم ایک ایسے دورمیں واقع ہوئے ہیں جس کی اکثریت نے غداری اور مکاری کا نام ہوشیاری رکھ لیا ہے۔اور اہل جہالت نے اس کا نام حسن تدبیر رکھ لیا ہے۔آخر انہیں کیا ہوگیا ہے۔خدا انہیں غارت کرے۔وہ انسان جو حالات کے الٹ پھیر کو دیکھ چکا ہے وہ بھی حیلہ کے رخ کو جانتا ہے لیکن امرو نہی الٰہی اس کا راستہ روک لیتے ہیں اور وہ امکان رکھنے کے باوجود اس راستہ کو ترک کر دیتا ہے اور وہ شخص اس موقع سے فائدہ اٹھالیتا ہے جس کے لئے دین سد راہ نہیں ہوتا ہے۔


(۴۲)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وفيه يحذر من اتباع الهوى وطول الأمل في الدنيا

أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ - اثْنَانِ اتِّبَاعُ الْهَوَى وطُولُ الأَمَلِ فَأَمَّا اتِّبَاعُ الْهَوَى فَيَصُدُّ عَنِ الْحَقِّ - وأَمَّا طُولُ الأَمَلِ

فَيُنْسِي الآخِرَةَ - أَلَا وإِنَّ الدُّنْيَا قَدْ وَلَّتْ حَذَّاءَ فَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا صُبَابَةٌ كَصُبَابَةِ الإِنَاءِ - اصْطَبَّهَا صَابُّهَا أَلَا وإِنَّ الآخِرَةَ قَدْ أَقْبَلَتْ ولِكُلٍّ مِنْهُمَا بَنُونَ - فَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الآخِرَةِ ولَا تَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الدُّنْيَا - فَإِنَّ كُلَّ وَلَدٍ سَيُلْحَقُ بِأَبِيه يَوْمَ الْقِيَامَةِ - وإِنَّ الْيَوْمَ عَمَلٌ ولَا حِسَابَ وغَداً حِسَابٌ ولَا عَمَلَ.

قال الشريف - أقول الحذاء السريعة - ومن الناس من يرويه جذاء.

(۴۲)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں اتباع خواہشات اور طول امل سے ڈرایا گیا ہے)

ایہاالناس! میں تمہارے بارے میں سب سے زیادہ دو چیزوں کا خوف رکھتا ہوں۔اتباع خواہشات اور درازی امید کہ اتباع خواہشات انسان کو راہ حق سے روک دیتا ہے اور طول امل آخرت کو بھلا دیتا ہے۔یاد رکھو دنیا منہ پھیر کر جا رہی ہے اور اس میں سے کچھ باقی نہیں رہ گیا ہے مگر اتنا جتنا برتن سے چیز کوانڈیل دینے کے بعد تہ میں باقی رہ جاتا ہے اور آخرت اب سامنے آرہی ہے۔

دنیا وآخرت دونوں کی اپنی اولاد ہیں۔لہٰذا تم آخرت کے فرزندوں میں شامل ہو جائو اور خبردار فرزندان دنیا میں شمار ہونا اس لئے کہ عنقریب ہر فرزند کو اس کے ماں کے(۱) ساتھ ملادیا جائے گا۔آج عمل کی منزل ہے اور کوئی حساب نہیں ہے اور کل حساب ہی حساب ہے اور کوئی عمل کی گنجائش نہیں ہے۔

سید رضی شریف نے فرمایا " میں کہتا ہوں کہ (الحذاء) یعنی جلدی اور بعض لوگوں نے جذاء بھی روایت کی ہے

(۱)انسان کی عاقبت کا دارومدارحقائق اورواقعات پر ہے اور وہاں ہرشخص کواس کی ماں کے نام سے پکارا جائے گا کہ ماں ہی ایک ثابت حقیقت ہے باپ کی تشخیص میں تو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ماں کی تشخیص میں کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا ہے۔امام علیہ السلام کا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں آخرت کی گود میں پرورش پائو تاکہ قیامت کے دن اسی سے ملادئیے جائو ورنہ ابناء دنیا اس دن وہیتیم ہوں گے جن کا کوئی باپ نہ ہوگا اور ماں کو بھی پیچھے چھوڑ کرآئے ہوں گے۔ایسا بے سہارا بننے سے بہتر یہ ہے کہ یہیں سے سہارے کا انتظام کرلو اور پورے انتظام کے ساتھ آخرت کا سفراختیار کرو۔


(۴۳)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وقد أشار عليه أصحابه بالاستعداد لحرب أهل الشام بعد إرساله جرير بن عبد الله

البجلي إلى معاوية ولم ينزل معاوية على بيعته

إِنَّ اسْتِعْدَادِي لِحَرْبِ أَهْلِ الشَّامِ وجَرِيرٌ عِنْدَهُمْ - إِغْلَاقٌ لِلشَّامِ وصَرْفٌ لأَهْلِه عَنْ خَيْرٍ إِنْ أَرَادُوه - ولَكِنْ قَدْ وَقَّتُّ لِجَرِيرٍ وَقْتاً لَا يُقِيمُ بَعْدَه - إِلَّا مَخْدُوعاً أَوْ عَاصِياً - والرَّأْيُ عِنْدِي مَعَ الأَنَاةِ فَأَرْوِدُوا ولَا أَكْرَه لَكُمُ الإِعْدَادَ

ولَقَدْ ضَرَبْتُ أَنْفَ هَذَا الأَمْرِ وعَيْنَه وقَلَّبْتُ ظَهْرَه وبَطْنَه - فَلَمْ أَرَ لِي فِيه إِلَّا الْقِتَالَ أَوِ الْكُفْرَ - بِمَا جَاءَ مُحَمَّدٌصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - إِنَّه قَدْ كَانَ عَلَى الأُمَّةِ وَالٍ أَحْدَثَ أَحْدَاثاً - وأَوْجَدَ النَّاسَ مَقَالًا فَقَالُوا ثُمَّ نَقَمُوا فَغَيَّرُوا.

(۴۳)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جب جریربن عبداللہ البجلی کو معاویہ کے پاس بھیجنے اور معاویہ کے انکار بیعت کے بعد اصحاب کو اہل شام سے جنگ پرآمادہ کرنا چاہا )

اس وقت میری اہل شام سے جنگ کی تیاری جب کہ جریر وہاں موجود ہیں شام پر تمام دروازے بند کردینا ہے اور انہیں خیرکے راستہ سے روک دینا ہے اگروہ خیر کا ارادہ بھی کرنا چاہیں۔میں نے جریر کے لئے ایک وقت مقرر کردیا ہے۔اس کے بعدوہ وہاں یا کسی دھوکہ کی بنا پر رک سکتے ہیں یا نا فرمانی کی بنا پر۔اور دونوں صورتوں میں میری رائے یہی ہے کہ انتظار کیا جائے لہٰذا ابھی پیشقدمی نہ کرو اور میں منع بھی نہیں کرتا ہوں اگر اندراندر تیاری(۱) کرتے رہو۔

میں نے اس مسئلہ پر مکمل غور و فکرکرلیا ہے اوراس کے ظاہر و باطن کو الٹ پلٹ کر دیکھ لیا ہے۔اب میر ے سامنے دو ہی راستے ہیں یا جنگ کروں یا بیانات پیغمبر السلام (ص) کا انکار کردوں۔مجھ سے پہلے اس قوم کا ایک حکمران تھا۔اس نے اسلام میں بدعتیں ایجاد کیں اور لوگوں کوبولنے کا موقع دیا تو لوگوں نے زبان کھولی۔پھراپنی ناراضگی کااظہار کیا اورآخر میں سماج کا ڈھانچہ بدل دیا۔

(۱) یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ عملی احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ دشمن کو کوئی بہانہ فراہم نہ کرو اور واقعی احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے مکرو فریب سے ہوشیار رہو اورہر وقت مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہو۔


(۴۴)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لما هرب مصقلة بن هبيرة الشيباني إلى معاوية، وكان قد ابتاع سبي بني ناجية من عامل أمير المؤمنينعليه‌السلام وأعتقهم، فلما طالبه بالمال خاس به وهرب إلى الشام

قَبَّحَ اللَّه مَصْقَلَةَ - فَعَلَ فِعْلَ السَّادَةِ وفَرَّ فِرَارَ الْعَبِيدِ - فَمَا أَنْطَقَ مَادِحَه حَتَّى أَسْكَتَه - ولَا صَدَّقَ وَاصِفَه حَتَّى بَكَّتَه ولَوْ أَقَامَ لأَخَذْنَا مَيْسُورَه وانْتَظَرْنَا بِمَالِه وُفُورَه

(۴۴)

حضرت کا ارشاد گرامی

(اس موقع پر جب مصقلہ(۱) بن ہیرہ شیبانی نے آپ کے عامل سبے بنی ناجیہ کے اسیرکو خرید کر آزاد کردیا اور جب حضرت نے اس سے قیمت کامطالبہ کیا تو بد دیانتی کرتے ہوئے شام کی طرف فرار کر گیا)

خدا برے کرے مصقلہ کاکہ اس نے کام شریفوں جیسا کیا لیکن فرار غلاموں کی طرح کیا۔ابھی اس کے مداح نے زبان کھولی بھی نہیں تھی کہ اسنے خود ہی خاموش کردیا اور اس کی تعریف میں کچھ کہنے والا کچھ کہنے بھی نہ پایا تھا کہ اس نے منہ بند کردیا۔اگر وہیں ٹھہرا رہتا تو میں جس قدر ممکن ہوتا اس سے لے لیتا اورباقی کے لئے اس کے مال کی زیادتی کا انتظار کرتا۔

(۱) اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ تحکیم کے بعد خوارج نے جن شورشوں کاآغاز کیا تھا ان میں ایک بنی ناجیہ کے ایک شخص خریت بن راشد کا اقدام تھا جس کودبانے کے لئے حضرت نے زیادہ بن حفصہ کو روانہ کیا تھا اور انہوں نے اس شورش کودبا دیا تھا لیکن خریت دوسرے علاقوں میں فتنے برپا کرنے لگا تو حضرت معقل بن قیس ریاحی کو دو ہزار کا لشکردے کر روانہ کردیا اور ادھر ابن عباس نے بصرہ کے لئے کمک بھیج دی اوربالآخر حضرت کے لشکر نے فتنہ کو دبا دیا اور بہت سے افراد کو قیدی بنالیا۔قیدیوں کو لے کر جا رہے تھے کہ راستہ میں مصقلہ کے شہر سے گزر ہوا۔اس نے قیدیوں کی فریاد پر انہیں خرید کرآزاد کردیا اور قیمت کی صرف ایک قسط ادا کردی۔اس کے بعد خاموش بیٹھ گیا۔حضرت نے بار ارمطالبہ کیا۔آخر میں کوفہ آکردو لاکھ درہم دےدئیے اور جان بچانے کے لئے شام بھاگ گیا۔حضرت نے فرمایا کہ کام شریفوں کا کیاتھا لیکن واقعاً ذلیل ہی ثابت ہوا۔

کاش اسے اسلام کے اس قانون کی اطلاع ہوتی کہ قرض کی ادائیگی میں جبر نہیں کیا جاتا ہے بلکہ حالات کا انتظار کیا جاتا ہے اورجب مقروض کے پاس امکانات فراہم ہو جاتے ہیں تب قرض کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔!


(۴۵)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وهو بعض خطبة طويلة خطبها يوم الفطر وفيها يحمد الله ويذم الدنيا

حمد الله

الْحَمْدُ لِلَّه غَيْرَ مَقْنُوطٍ مِنْ رَحْمَتِه - ولَا مَخْلُوٍّ مِنْ نِعْمَتِه - ولَا مَأْيُوسٍ مِنْ مَغْفِرَتِه - ولَا مُسْتَنْكَفٍ عَنْ عِبَادَتِه - الَّذِي لَا تَبْرَحُ مِنْه رَحْمَةٌ - ولَا تُفْقَدُ لَه نِعْمَةٌ.

ذم الدنيا

والدُّنْيَا دَارٌ مُنِيَ لَهَا الْفَنَاءُ - ولأَهْلِهَا مِنْهَا الْجَلَاءُ وهِيَ حُلْوَةٌ خَضْرَاءُ - وقَدْ عَجِلَتْ لِلطَّالِبِ - والْتَبَسَتْ بِقَلْبِ النَّاظِرِ - فَارْتَحِلُوا مِنْهَا بِأَحْسَنِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ مِنَ الزَّادِ - ولَا تَسْأَلُوا فِيهَا فَوْقَ الْكَفَافِ ولَا تَطْلُبُوا مِنْهَا أَكْثَرَ مِنَ الْبَلَاغِ

(۴۶)

ومن كلام لهعليه‌السلام

عند عزمه على المسير إلى الشام

وهو دعاء دعا به ربه عند وضع رجله في الركاب

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ

(۴۵)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(یہ عید الفطر کے موقع پرآپ کے طویل خطبہ کا ایک جز ہے جس میں حمد خدا اور مذمت دنیا کا ذکر کیا گیا ہے)

تمام تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس کی رحمت سے مایوس نہیں ہوا جاتا اور جس کی نعمت سے کسی کا دامن خالی نہیں ہے۔نہ کوئی شخص اس کی مغرفت سے مایوس ہو سکتا ہے اور نہ کسی میں اس کی عبادت سے اکڑنے کا امکان ہے۔نہ اس کی رحمت تمام ہوتی ہے اور نہ اس کی نعمت کا سلسلہ رکتا ہے۔

یہ دنیا ایک ایسا گھر ہے جس کے لئے فنا اور اس کے باشندوں کے لئے جلا وطنی مقدر ہے۔یہ دیکھنے میں شیریں اور سر سبز ہے جو اپنے طلب گار کی طرف تیزی سے بڑھتی ہے اور اس کے دل میں سما جاتی ہے۔لہٰذا خبردار اس سے کوچ کی تیاری کرو اور بہترین زاد راہ لے کر چلو۔اس دنیا میں ضرورت سے زیادہ کا سوال نہ کرنا اور جتنے سے کام چل جائے اس سے زیادہ کا مطالبہ نہ کرنا۔

(۴۶)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب شام کی طرف جانے کا ارادہ فرمایا اور اس دعا کو رکاب میں پائوں رکھتے ہوئے درد زبان فرمایا)

خدایا:میں سفر کی مشقت اور واپسی کے اندوہ و غم


وكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وسُوءِ الْمَنْظَرِ - فِي الأَهْلِ والْمَالِ والْوَلَدِ - اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ - وأَنْتَ الْخَلِيفَةُ فِي الأَهْلِ - ولَا يَجْمَعُهُمَا غَيْرُكَ - لأَنَّ الْمُسْتَخْلَفَ لَا يَكُونُ مُسْتَصْحَباً - والْمُسْتَصْحَبُ لَا يَكُونُ مُسْتَخْلَفاً.

قال السيد الشريفرضي‌الله‌عنه - وابتداء هذا الكلام مروي عن رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - وقد قفاه أمير المؤمنينعليه‌السلام بأبلغ كلام وتممه بأحسن تمام - من قوله ولا يجمعهما غيرك - إلى آخر الفصل.

(۴۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في ذكر الكوفة

كَأَنِّي بِكِ يَا كُوفَةُ تُمَدِّينَ مَدَّ الأَدِيمِ الْعُكَاظِيِّ تُعْرَكِينَ بِالنَّوَازِلِ وتُرْكَبِينَ بِالزَّلَازِلِ - وإِنِّي لأَعْلَمُ أَنَّه مَا أَرَادَ بِكِ جَبَّارٌ سُوءاً - إِلَّا ابْتَلَاه اللَّه بِشَاغِلٍ ورَمَاه بِقَاتِلٍ!

اور اہل و مال و اولاد کی بد حالی سے تیرے پناہ چاہتا ہوں۔تو ہی سفرکا ساتھی ہے اور گھر کا نگراں ہے کہ یہ دونوں کام تیرے علاوہ کوئی دوسرا نہیں کر سکتا کہ جسے گھر میں چھوڑ دیا جائے وہ سفرمیں کام نہیں آتا ہے اور جسے سفرمیں ساتھ لے لیاجائے گا وہ گھر کی نگرانی نہیں کر سکتا ہے۔

سید رضی : اس دعا کا ابتدائی حصہ سرکار دوعالم (ص) سے نقل کیا گیا ہے اور آخری حصہ مولائے کائنات کی تضمین کا ہے جو سرکار (ص) کے کلمات کی بہترین توضیح اور تکمیل ہے ۔'' لا یجمعهما غیرک ''

(۴۷)

آپ کا ارشاد گرامی

(کوفہ کے بارے میں )

اے کوفہ! جیسے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تجھے بازار عکاظ کے چمڑے کی طرح کھینچا جا رہا ہے۔تجھ پرحوادث کے حملے ہو رہے ہیں اور تجھے زلزلوں کا مرکب بنادیا گیا ہے اور مجھے یہ معلوم ہے کہ جو ظالم و جابر بھی تیرے ساتھ کوئی برائی کرنا چاہے گا پروردگار اسے کسی نہ کسی مصیبت میں مبتلا کردے گا اور اسے کسی قاتل کی زد پر لے آئے گا۔


(۴۸)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

عند المسير إلى الشام قيل إنه خطب بها وهو بالنخيلة خارجا من الكوفة إلى صفين

الْحَمْدُ لِلَّه كُلَّمَا وَقَبَ لَيْلٌ وغَسَقَ والْحَمْدُ لِلَّه كُلَّمَا لَاحَ نَجْمٌ وخَفَقَ والْحَمْدُ لِلَّه غَيْرَ مَفْقُودِ الإِنْعَامِ ولَا مُكَافَإِ الإِفْضَالِ.

أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ بَعَثْتُ مُقَدِّمَتِي وأَمَرْتُهُمْ بِلُزُومِ هَذَا الْمِلْطَاطِ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرِي - وقَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَقْطَعَ هَذِه النُّطْفَةَ إِلَى شِرْذِمَةٍ مِنْكُمْ - مُوَطِّنِينَ أَكْنَافَ دِجْلَةَ - فَأُنْهِضَهُمْ مَعَكُمْ إِلَى عَدُوِّكُمْ - وأَجْعَلَهُمْ مِنْ أَمْدَادِ الْقُوَّةِ لَكُمْ.

قال السيد الشريف أقول يعنيعليه‌السلام بالملطاط هاهنا السمت الذي أمرهم بلزومه وهو شاطئ الفرات ويقال ذلك أيضا لشاطئ البحر وأصله ما استوى من الأرض ويعني بالنطفة ماء الفرات وهو من غريب العبارات وعجيبها.

(۴۸)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جو صفین کے لئے کوفہ سے نکلتے ہوئے مقام نخیلہ پر ارشاد فرمایا تھا)

پروردگار کی حمد ہے جب بھی رات آئے اورتاریکی چھائے یا ستارہ چمکے اورڈوب جائے۔پروردگار کی حمدوثنا ہے کہ اس کی نعمتیں ختم نہیں ہوتی ہیں اور اس کے احسانات کا بدلہ نہیں دیا جا سکتا ہے۔

امابعد! میں نے اپنے لشکر کا ہر اول دستہ روانہ کردیا ہے اور انہیں حکم دے دیا ہے کہ اس نہر کے کنارے ٹھہر کر میرے حکم کا انتظار کریں۔میں چاہتا ہوں کہ اس دریائے دجلہ کو عبور کرکے تمہاری(۱) ایک مختصرجماعت تک پہنچ جائوں جو اطراف دجلہ میں مقیم ہیں تاکہ انہیں تمہارے ساتھ جہاد کے لئے آمادہ کر سکوں اور ان کے ذریعہ تمہاری قوت میں اضافہ کر سکوں۔

سید رضی : ملطاط سے مراد دریا کا کنار ہ ہے اور اصل میں یہ لفظ ہموار زمین کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ نطفہ سے مراد فرات کا پانی ہے اور یہ عجیب و غریب تعبیرات میں ہے۔

(۱)اس جماعت سے مراد اہل مدائن ہیں جنہیں حضرت اس جہاد میں شامل کرنا چاہتے تھے اور ان کے ذریعہ لشکر کی قوت میں اضافہ کرنا چاہتے تھے۔خطبہ کے آغاز میں رات اور ستاروں کاذکر اسامر کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ لشکراسلام کو رات کی تاریکی اورستارہ کے غروب و زوال سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔نور مطلق اور ضیاء مکمل ساتھ ہے تو تاریکی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے اور ستاروں کا کیا بھروسہ ہے۔ستارے تو ڈوب بھی جاتے ہیں لیکن جو پروردگار قابل حمدو ثناء ہے اس کے لئے زوال و غروب نہیں ہے اور وہ ہمیشہ بندۂ مومن کے ساتھ رہتا ہے۔!


(۴۹)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وفيه جملة من صفات الربوبية والعلم الإلهي

الْحَمْدُ لِلَّه الَّذِي بَطَنَ خَفِيَّاتِ الأَمُوُرِ - ودَلَّتْ عَلَيْه أَعْلَامُ الظُّهُورِ - وامْتَنَعَ عَلَى عَيْنِ الْبَصِيرِ - فَلَا عَيْنُ مَنْ لَمْ يَرَه تُنْكِرُه - ولَا قَلْبُ مَنْ أَثْبَتَه يُبْصِرُه - سَبَقَ فِي الْعُلُوِّ فَلَا شَيْءَ أَعْلَى مِنْه - وقَرُبَ فِي الدُّنُوِّ فَلَا شَيْءَ أَقْرَبُ مِنْه - فَلَا اسْتِعْلَاؤُه بَاعَدَه عَنْ شَيْءٍ مِنْ خَلْقِه - ولَا قُرْبُه سَاوَاهُمْ فِي الْمَكَانِ بِه - لَمْ يُطْلِعِ الْعُقُولَ عَلَى تَحْدِيدِ صِفَتِه - ولَمْ يَحْجُبْهَا عَنْ وَاجِبِ مَعْرِفَتِه - فَهُوَ الَّذِي تَشْهَدُ لَه أَعْلَامُ الْوُجُودِ - عَلَى إِقْرَارِ قَلْبِ ذِي الْجُحُودِ - تَعَالَى اللَّه عَمَّا يَقُولُه الْمُشَبِّهُونَ بِه - والْجَاحِدُونَ لَه عُلُوّاً كَبِيراً!

(۴۹)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں پروردگار کے مختلف صفات اور اس کے علم کا تذکرہ کیا گیا ہے)

ساری تعریف اس خداکے لئے ہے جو مخفی امور کی گہرائیوں سے با خبر ہے اوراس کے وجود کی رہنمائی ظہور کی تمام نشانیاں کر رہی ہیں۔وہ دیکھنے والوں کی نگاہ میں آنے والا نہیں ہے لیکن نہ کسی نہ دیکھنے والے کی آنکھ اس کا انکار کر سکتی ہے۔اورنہ کسی اثبات کرنے والے کا دل اس کی حقیقت کو دیکھ سکتا ہے۔وہ بلندیوں میں اتنا آگے ہے کہ کوئی شے اس سے بلند تر نہیں ہے اور قربت میں اتنا قریب ہے کہ کوئی شے اس سے قریب تر نہیں ہے۔نہ اس کی بلندی اسے مخلوقات سے دور بنا سکتی ہے اور نہ اس کی قربت برابر کی جگہ پر لا سکتی ہے۔اس نے عقلوں کو اپنی صفتوں کی حدوں سے باخبر نہیں کیاہے اوربقدر واجب معرفت سے محروم بھی نہیں رکھا ہے۔وہ ایسی ہستی ہے کہ اس کے انکار کرن والے کے دل پر اس کے وجود کی نشانیاں شہادت دے رہی ہیں۔وہ مخلوقات سے تشبیہ دینے والے اور انکار کرنے والے دونوں کی باتوں سے بلند وبالاتر ہے۔


(۵۰)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وفيه بيان لما يخرب العالم به من الفتن وبيان هذه الفتن

إِنَّمَا بَدْءُ وُقُوعِ الْفِتَنِ أَهْوَاءٌ تُتَّبَعُ وأَحْكَامٌ تُبْتَدَعُ - يُخَالَفُ فِيهَا كِتَابُ اللَّه - ويَتَوَلَّى عَلَيْهَا رِجَالٌ رِجَالًا عَلَى غَيْرِ دِينِ اللَّه - فَلَوْ أَنَّ الْبَاطِلَ خَلَصَ مِنْ مِزَاجِ الْحَقِّ - لَمْ يَخْفَ عَلَى الْمُرْتَادِينَ ولَوْ أَنَّ الْحَقَّ خَلَصَ مِنْ لَبْسِ الْبَاطِلِ - انْقَطَعَتْ عَنْه أَلْسُنُ الْمُعَانِدِينَ - ولَكِنْ يُؤْخَذُ مِنْ هَذَا ضِغْثٌ ومِنْ هَذَا ضِغْثٌ فَيُمْزَجَانِ - فَهُنَالِكَ يَسْتَوْلِي الشَّيْطَانُ عَلَى أَوْلِيَائِه - ويَنْجُو( الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ ) مِنَ اللَّه( الْحُسْنى ).

(۵۰)

آپ کا ارشاد گرامی

(اس میں ان فتنوں کا تذکرہ ہے جو لوگوں کو تباہ کر دیتے ہیں اور ان کے اثرات کا بھی تذکرہ ہے)

فتنوں) ۱) کی ابتدا ان خواہشات سے ہوتی ہے جن کا اتباع کیا جاتا ہے اور ان جدید ترین احکام سے ہوتی ہے جوگڑھ لئے جاتے ہیں اور سراسر کتاب خدا کے خلاف ہوتے ہیں۔اس میں کچھ لوگ دوسرے لوگوں کے ساتھ ہو جاتے ہیں اور دین خدا سے الگ ہو جاتے ہیں کہ اگر باطل حق کی آمیزش سے الگ رہتا تو حق کے طلب گاروں پرمخفی نہ ہو سکتا اور اگر حق باطل کی ملاوٹ سے الگ رہتا تو دشمنوں کی زبانیں نہ کھل سکتیں۔لیکن ایک حصہ اس میں سے لیا جاتا ہے اور ایک اس میں سے ' اور پھر دونوں کو ملا دیا جاتا ہے اورایسے ہی مواقع پر شیطان اپنے ساتھیوں پر مسلط ہو جاتا ہے اورصرف وہ لوگ نجات حاصل کر پاتے ہی جن کے لئے پروردگار کی طرف سے نیکی پہلے ہی پہنچ جاتی ہے۔

(۱)اس ارشاد گرامی کا آغاز لفظ انما سے ہوا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ دنیا کا ہرفتنہ خواہشات کی پیروی اور بدعتوں کی ایجاد سے شروع ہوتا ہے اور یہی تاریخی حقیقت ہے کہ اگر امت اسلامیہ نے روز اول کتاب خدا کے خلاف میراث کے احکام وضع نہ کئے ہوتے اور اگرمنصب و اقتدار کی خواہش میں ''من کنت مولاہ '' کا انکار نہ کیا ہوتااور کچھ لوگ کچھ لوگوں کے ہمدرد نہ ہوگئے ہوتے اور نص پیغمبر (ص) کے ساتھ سن و سال اورصحابیت و قرابت کے جھگڑے نہ شامل کردئیے ہوتے تو آج اسلام بالکل خالص اورصریح ہوتا اور امت میں کسی طرح کا فتنہ وفساد نہ ہوتا۔لیکن افسوس کہ یہ سب کچھ ہوگیا اور امت ایک دائمی فتنہ میں مبتلا ہوگئی جس کا سلسلہ چودہ صدیوں سے جاری ہے اور خدا جانے کب تک جاری رہے گا۔


(۵۱)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

لما غلب أصحاب معاوية أصحابهعليه‌السلام على شريعة الفرات بصفين ومنعوهم الماء

قَدِ اسْتَطْعَمُوكُمُ الْقِتَالَ فَأَقِرُّوا عَلَى مَذَلَّةٍ وتَأْخِيرِ مَحَلَّةٍ - أَوْ رَوُّوا السُّيُوفَ مِنَ الدِّمَاءِ تَرْوَوْا مِنَ الْمَاءِ فَالْمَوْتُ فِي حَيَاتِكُمْ مَقْهُورِينَ،والْحَيَاةُ فِي مَوْتِكُمْ قَاهِرِينَ - أَلَا وإِنَّ مُعَاوِيَةَ قَادَ لُمَةً مِنَ الْغُوَاةِ - وعَمَّسَ عَلَيْهِمُ الْخَبَرَ - حَتَّى جَعَلُوا نُحُورَهُمْ أَغْرَاضَ الْمَنِيَّةِ.

(۵۲)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وهي في التزهيد في الدنيا وثواب الله للزاهد ونعم الله على الخالق

التزهيد في الدنيا

أَلَا وإِنَّ الدُّنْيَا قَدْ تَصَرَّمَتْ وآذَنَتْ بِانْقِضَاءٍ - وتَنَكَّرَ مَعْرُوفُهَا وأَدْبَرَتْ حَذَّاءَ فَهِيَ تَحْفِزُ بِالْفَنَاءِ سُكَّانَهَا - وتَحْدُو بِالْمَوْتِ جِيرَانَهَا

(۵۱)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جب معاویہ کے ساتھیوں نے آپ کے ساتھیوں کو ہٹا کر صفین کے قریب فرات پرغلبہ حاصل کرلیا اور پانی بند کردیا)

دیکھو دشمنوں نے تم سے غذائے جنگ کا مطالبہ کردیا ہے اب یا تو تم ذلت اوراپنے مقام کی پستی پر قائم رہ جائو'یااپنی تلواروں کو خون سے سیراب کر دو اورخود پانی سے سیراب ہو جائو۔در حقیقت موت ذلت کی زندگی میں ہے اور زندگی عزت کی موت میں ہے۔آگاہ ہو جائو کہ معاویہ گمراہوں کی ایک جماعت کی قیادت کر رہا ہے جس پر تمام حقائق پوشیدہ ہیں اور انہوں نے جہالت کی بناپ ر اپنی گردنوں کو تیر اجل کا نشانہ بنادیا ہے۔

(۵۲)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں دنیا میں زہد کی ترغیب اور پیش پروردگاراس کے ثواب اور مخلوقات پر خالق کی نعمتوں کاتذکرہ کیا گیا ہے )

آگاہ ہو جائو دنیا جا رہی ہے اور اس نے اپنی رخصت کا اعلان کردیا ہے اور اس کی جانی پہچانی چیزیں بھی اجنبی ہوگئی ہیں۔وہ تیزی سے منہ پھیر رہی ہے اور اپنے باشندوں کو فنا کی طرف سے جا رہی ہے اور اپنے ہمسایوں کو موت کی طرف ڈھکیل رہی ہے۔


وقَدْ أَمَرَّ فِيهَا مَا كَانَ حُلْواً وكَدِرَ مِنْهَا مَا كَانَ صَفْواً - فَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا سَمَلَةٌ كَسَمَلَةِ الإِدَاوَةِ أَوْ جُرْعَةٌ كَجُرْعَةِ الْمَقْلَةِ لَوْ تَمَزَّزَهَا الصَّدْيَانُ لَمْ يَنْقَعْ فَأَزْمِعُوا عِبَادَ اللَّه - الرَّحِيلَ عَنْ هَذِه الدَّارِ الْمَقْدُورِ عَلَى أَهْلِهَا الزَّوَالُ - ولَا يَغْلِبَنَّكُمْ فِيهَا الأَمَلُ - ولَا يَطُولَنَّ عَلَيْكُمْ فِيهَا الأَمَدُ.

ثواب الزهاد

فَوَاللَّه لَوْ حَنَنْتُمْ حَنِينَ الْوُلَّه الْعِجَالِودَعَوْتُمْ بِهَدِيلِ الْحَمَامِ وجَأَرْتُمْ جُؤَارَ مُتَبَتِّلِي الرُّهْبَانِ - وخَرَجْتُمْ إِلَى اللَّه مِنَ الأَمْوَالِ والأَوْلَادِ - الْتِمَاسَ الْقُرْبَةِ إِلَيْه فِي ارْتِفَاعِ دَرَجَةٍ عِنْدَه - أَوْ غُفْرَانِ سَيِّئَةٍ أَحْصَتْهَا كُتُبُه - وحَفِظَتْهَا رُسُلُه لَكَانَ قَلِيلًا فِيمَا أَرْجُو لَكُمْ مِنْ ثَوَابِه - وأَخَافُ عَلَيْكُمْ مِنْ عِقَابِه.

اس کی شیرینی تلخ ہو چکی ہے اور اس کی صفائی مکدر ہو چکی ہے۔اب اس میں صرف اتنا ہی پانی باقی رہ گیا ہے جو تہہ میں بچا ہوا ہے اور وہ نپا تلا گھونٹ رہ گیا ہے جسے پیا سا پی بھی لے تو اس کی پیاس نہیں بجھ سکتی ہے۔لہٰذا بندگان خدا اب اس دنیا سے کوچ کرنے کا ارادہ کرلو جس کے رہنے والوں کا مقدر زوال ہے اور خبر دار! تم پر خواہشات غالب نہ آنے پائیں اور اس مختصر مدت کو طویل نہ سمجھ لینا۔

خدا کی قسم اگر تم ان اونٹنیوں کی طرح بھی فریاد کرو جن کا بچہ گم ہوگیا ہو اور ان کبوتروں کی طرح نالہ و فغاں کرو جو اپنے جھنڈ سے الگ ہوگئے ہوں اور ان راہبوں کی طرح بھی گریہ و فریاد کرو جو اپنے گھر بار کو چھوڑ چکے ہیں اور مال و اولاد کو چھوڑ کر قربت خدا کی تلاش میں نکل پڑو تاکہ اس کی بارگاہ میں درجات بلند ہو جائیں یا وہ گناہ معاف ہو جائیں جو اس کے دفتر میں ثبت ہوگئے ہیں اور فرشتوں نے انہیں محفوظ کرلیا ہے تو بھی یہ سب اس ثواب سے کم ہوگا(۱) جس کی میں تمہارے بارے میں امید رکھتا ہوں یا جس عذاب کا تمہارے بارے میں خوف رکھتا ہوں۔

(۱)کھلی ہوئی بات ہے کہ '' فکر ہر کس بقدر ہمت اوست'' دنیا کا انسان کتنا ہی بلند نظر اور عالی ہمت کیوں نہ ہو جائے مولائے کائنات کی بلندی فکر کو نہیں پا سکتا ہے اور اس درجہ علم پرفائز نہیں ہو سکتا ہے جس پر مالک کائنات نے باب مدینتہ العلم کوفائز کیا ہے۔آپ فرمانا چاہتے ہیں کہ تم لوگ میری اطاعت کرو اور میرے احکام پر عمل کرو۔اس کا اجروثواب تمہارے افکار کی رسائی کی حدوں سے بالاتر ہے۔میں تمہارے لئے بہترین ثواب کی امید رکھتا ہوں اور تمہیں بد ترین عذاب سے بچانا چاہتا ہوں لیکن اس راہ میں میرے احکام کی اطاعت کرنا ہوگی اور میرے راستہ پر چلنا ہوگا جو در حقیقت شہادت اورقربانی کا راستہ ہے اور انسان اسی راستہ پر قدم آگے بڑھانے سے گھبراتا ہے اورحیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک دنیا دار انسان جس کی ساری فکر مال دنیا اورثروت دنیا ہے وہ بھی کسی ہلاکت کے خطرہ میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اپنے کو ہلاکت سے بچانے کے لئے سارا مال و متاع قربان کردیتا ہے تو پھرآخر دیندار انسان میں یہ جذبہ کیوں نہیں پایا جاتا ہے؟ وہ جنت النعیم کو حاصل کرنے اور عذاب جہنم سے بچنے کے لئے اپنی دنیا کو قربان کیوں نہیں کرتا ہے؟ اس کا تو عقیدہ یہی ہے کہ دنیا چند روزہ اور فانی ہے اور آخرت ابدی اور دائمی ہے تو پھر فانی کوباقی کی راہ میں کیوں قربان نہیں کردیتا ؟''اف هذا الشی عجاب''


نعم الله

وتَاللَّه لَوِ انْمَاثَتْ قُلُوبُكُمُ انْمِيَاثاً وسَالَتْ عُيُونُكُمْ مِنْ رَغْبَةٍ إِلَيْه أَوْ رَهْبَةٍ مِنْه دَماً - ثُمَّ عُمِّرْتُمْ فِي الدُّنْيَا مَا الدُّنْيَا بَاقِيَةٌ مَا جَزَتْ أَعْمَالُكُمْ عَنْكُمْ - ولَوْ لَمْ تُبْقُوا شَيْئاً مِنْ جُهْدِكُمْ - أَنْعُمَه عَلَيْكُمُ الْعِظَامَ وهُدَاه إِيَّاكُمْ لِلإِيمَانِ.

(۵۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في ذكرى يوم النحر وصفة الأضحية

ومِنْ تَمَامِ الأُضْحِيَّةِ اسْتِشْرَافُ أُذُنِهَا وسَلَامَةُ عَيْنِهَا - فَإِذَا سَلِمَتِ الأُذُنُ والْعَيْنُ سَلِمَتِ الأُضْحِيَّةُ وتَمَّتْ - ولَوْ كَانَتْ عَضْبَاءَ الْقَرْنِ تَجُرُّ رِجْلَهَا إِلَى الْمَنْسَكِ

قال السيد الشريف والمنسك هاهنا المذبح.

(۵۴)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وفيها يصف أصحابه بصفين حين طال منعهم له من قتال أهل الشام

خدا کی قسم اگر تمہارے دل بالکل پگھل جائیں اور تمہاری آنکھوں سے آنسوئوں کے بجائے رغبت ثواب یا خوف عذاب میں خون جاری ہوجائے اور تمہیں دنیا میں آخر تک باقی رہنے کا موقع دے دیا جائے تو بھی تمہارے اعمال اس کی عظیم ترین نعمتوں اور ہدایت ایمان کا بدلہ نہیں ہو سکتے ہیں چاہے ان کی راہ میں تم کوئی کسر اٹھا کر نہ رکھو۔

(۵۳)

(جس میں روز عید الضحیٰ کا تذکرہ ہے اورقربانی کے صفات کاذکر کیا گیا ہے)

قربانی کے جانور کا کمال یہ ہے کہ اس کے کان بلند ہوں اور آنکھیں سلامت ہوں کہ اگر کان اور آنکھ سلامت ہیں توگویا قربانی سالم اورمکمل ہے چاہے اس کی سینگ ٹوٹی ہوئی ہو اور وہ پیروں کو گھسیٹ کر اپنے کوقربان گاہ تک لے جائے۔

سید رضی : اس مقام پر منسلک سے مراد مذبح اورقربان گاہ ہے۔

(۵۴)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں آپ نے اپنی بیعت کا تذکرہ کیا ہے)


فَتَدَاكُّوا عَلَيَّ تَدَاكَّ الإِبِلِ الْهِيمِ يَوْمَ وِرْدِهَا وقَدْ أَرْسَلَهَا

رَاعِيهَا وخُلِعَتْ مَثَانِيهَا حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُمْ قَاتِلِيَّ أَوْ بَعْضُهُمْ قَاتِلُ بَعْضٍ لَدَيَّ - وقَدْ قَلَّبْتُ هَذَا الأَمْرَ بَطْنَه وظَهْرَه حَتَّى مَنَعَنِي النَّوْمَ - فَمَا وَجَدْتُنِي يَسَعُنِي إِلَّا قِتَالُهُمْ - أَوِ الْجُحُودُ بِمَا جَاءَ بِه مُحَمَّدٌصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - فَكَانَتْ مُعَالَجَةُ الْقِتَالِ أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ مُعَالَجَةِ الْعِقَابِ - ومَوْتَاتُ الدُّنْيَا أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ مَوْتَاتِ الآخِرَةِ.

(۵۵)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وقد استبطأ أصحابه إذنه لهم في القتال بصفين

لوگ مجھ) ۱ ( پر یوں ٹوٹ پڑے جیسے وہ پیاسے اونٹ پانی پر ٹوٹ پڑتے ہیں جن کے نگرانوں نے انہیں آزاد چھوڑ دیا ہو اور ان کے پیروں کی رسیاں کھول دی ہوں یہاں تک کہ مجھے یہ احساس پیدا ہوگیا کہ یہ مجھے مار ہی ڈالیں گے یا ایک دوسرے کوقتل کردیں گے۔میں نے اس امرخلافت کو یوں الٹ پلٹ کردیکھاہے کہ میری نیند تک اڑ گئی ہے اور اب یہ محسوس کیا ہے کہ یا ان سے جہاد کرنا ہوگا یا پیغمبر (ص) کے احکام کا انکار کر دینا ہوگا۔ظاہر ہے کہ میرے لئے جنگ کی سختیوں کا برداشت کرنا عذاب کی سختی برداشت کرنے سے آسان تر ہے اور دنیا کی موت آخرت کی موت اورتباہی سے سبک تر ہے۔

(۵۵)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب آپ کے اصحاب نے یہ اظہار کیا کہ اہل صفین سے جہاد کی اجازت میں تاخیر سے کام لے رہے ہیں)

(۱)سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس اسلام میں روز اول سے بزور شمشیر بیعت لی جا رہی تھی اور انکار بیعت کرنے پر گھروں میں آگ لگائی جا رہی تھی یا لوگوں کو خنجر و شمشیر اورتازیانہ و درہ کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔اس میں یکبارگی یہ انقلاب کیسے آگیا کہ لوگ ایک انسان کی بیعت کرنے کے لئے ٹوٹ پڑے اوریہ محسوس ہونے لگا کہ جیسے ایک دوسرے کو قتل کردیں گے۔کیا اس کا راز یہ تھا کہ لوگ اس ایک شخص کے علم و فضل ' زہد و تقویٰ اور شجاعت و کرم سے متاثر ہوگئے تھے۔ایسا ہوت تو یہ صورت حال بہت پہلے پیدا ہو جاتی اور لوگ اس شخص پر قربان ہو جاتے۔حالانکہ ایسا نہیں ہو سکا جس کا مطلب یہ ہے کہ قوم نے شخصیت سے زیادہ حالات کو سمجھ لیا تھا۔اوریہ اندازہ کرلیا تھا کہ وہ شخص جو امت کے درمیان واقعی انصاف کر سکتا ہے اور جس کی زندگی ایک عام انسان کی زندگی کی طرح سادگی رکھتی ہے اور اس میں کسی طرح کی حرص و طمع کا گزر نہیں ہے وہ اس مرد مومن اور کل ایمان کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے۔ لہٰذا اس کی بیعت میں سبقت کرنا ایک انسانی اور ایمان فریضہ ہے اور در حقیقت مولائے کائنات نے اس پوری صورت حال کو ایک لفظ میں واضح کردیا ہے کہ یہ دن در حقیقت پیاسوں کے سیراب ہونے کادن تھا اور لوگ مدتوں سے تشنہ اورتشنہ کام تھے لہٰذا ان کاٹوٹ پڑنا حق بجانب تھا اس ایک تشبیہ سے ماضی اورحال دونوں کا مکمل اندازہ کیا جا سکتا ہے۔!


أَمَّا قَوْلُكُمْ أَكُلَّ ذَلِكَ كَرَاهِيَةَ الْمَوْتِ - فَوَاللَّه مَا أُبَالِي - دَخَلْتُ إِلَى الْمَوْتِ أَوْ خَرَجَ الْمَوْتُ إِلَيَّ - وأَمَّا قَوْلُكُمْ شَكَّاً فِي أَهْلِ الشَّامِ - فَوَاللَّه مَا دَفَعْتُ الْحَرْبَ يَوْماً - إِلَّا وأَنَا أَطْمَعُ أَنْ تَلْحَقَ بِي طَائِفَةٌ فَتَهْتَدِيَ بِي - وتَعْشُوَ إِلَى ضَوْئِي - وذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقْتُلَهَا عَلَى ضَلَالِهَا - وإِنْ كَانَتْ تَبُوءُ بِآثَامِهَا.

(۵۶)

ومن كلام لهعليه‌السلام

يصف أصحاب رسول الله وذلك يوم صفين حين أمر الناس بالصلح

ولَقَدْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - نَقْتُلُ آبَاءَنَا وأَبْنَاءَنَا وإِخْوَانَنَا وأَعْمَامَنَا - مَا يَزِيدُنَا ذَلِكَ إِلَّا إِيمَاناً وتَسْلِيماً -

تمہارا یہ سوال کہ کیا یہ تاخیر موت کی ناگواری سے ہے تو خدا کی قسم مجھے موت کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ میں اس کے پاس وارد ہو جائوں یا وہ میری طرف نکل کر آجائے۔اور تمہارا یہ خیال کہ مجھے اہل شام کے باطل کے بارے میں کوئی شک ہے۔تو خدا گواہ ہے کہ میں نے ایک دن بھی جنگ کو نہیں ٹالا ہے مگر اس خیال سے کہ شائد کوئی گروہ مجھ سے ملحق ہو جائے اور ہدایت پاجائے اورمیری روشنی میں اپنی کمزور آنکھوں کا علاج کرلے کہ یہ بات میرے نزدیک اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ میں اس کی گمراہی کی بنا پر اسے قتل کردوں اگرچہ اس قتل کا گناہ اسی کے ذمہ ہوگا۔

(۵۶)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں اصحاب رسول (ص) کویاد کیا گیا ہے اس وقت جب صفین کے موقع پر آپنے لوگوں کو صلح کا حکم دیا تھا)

ہم(۱) رسول اکرم (ص) کے ساتھ اپنے خاندان کے بزرگ' بچے 'بھائی اور چچائوں کو بھی قتل کردیا کرتے تھے اوراس سے ہمارے ایمان اور جذبہ تسلیم میں اضافہ ہی ہوتا

(۱)حضرت محمد بن ابی بکر شہادت کے بعد معاویہ نے عبداللہ بن عامر حضرمی کو بصرہ میں دوبارہ فساد پھیلانے کے لئے بھیج دیا۔وہاں حضرت کے والی ابن عباس تھے اور وہ محمد کی تعریف کے لئے کوفہ آگئے تھے۔زیاد بن عبید ان کے نائب تھے۔انہوں نے حضرت کو اطلاع دی۔آپ نے بصرہ کے بنی تمیم کا عثمانی رجحان دیکھ کر کوفہ کے بنی تمیم کو مقابلہ پر بھیجنا چاہا لیکن ان لوگوں نے برادری سے جنگ کرنے سے انکار کردیا تو حضرت نے اپنے دور قدیم کا حوالہ دیا کہ اگر رسول اکرم (ص) کے ساتھ ہم لوگ بھی قبائلی تعصب کا شکار ہوگئے ہوتے تو آج اسلام کا نام و نشان بھی نہ ہوتا۔اسلام حق و صداقت کا مذہب ہے اس میں قومی اورقبائلی رجحانات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔


ومُضِيّاً عَلَى

اللَّقَمِ وصَبْراً عَلَى مَضَضِ الأَلَمِ وجِدّاً فِي جِهَادِ الْعَدُوِّ - ولَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ مِنَّا والآخَرُ مِنْ عَدُوِّنَا - يَتَصَاوَلَانِ تَصَاوُلَ الْفَحْلَيْنِ يَتَخَالَسَانِ أَنْفُسَهُمَا أَيُّهُمَا يَسْقِي صَاحِبَه كَأْسَ الْمَنُونِ - فَمَرَّةً لَنَا مِنْ عَدُوِّنَا ومَرَّةً لِعَدُوِّنَا مِنَّا - فَلَمَّا رَأَى اللَّه صِدْقَنَا أَنْزَلَ بِعَدُوِّنَا الْكَبْتَ وأَنْزَلَ عَلَيْنَا النَّصْرَ - حَتَّى اسْتَقَرَّ الإِسْلَامُ مُلْقِياً جِرَانَه ومُتَبَوِّئاً أَوْطَانَه - ولَعَمْرِي لَوْ كُنَّا نَأْتِي مَا أَتَيْتُمْ - مَا قَامَ لِلدِّينِ عَمُودٌ ولَا اخْضَرَّ لِلإِيمَانِ عُودٌ - وايْمُ اللَّه لَتَحْتَلِبُنَّهَا دَماً ولَتُتْبِعُنَّهَا نَدَماً!

(۵۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في صفة رجل مذموم ثم في فضله هوعليه‌السلام

أَمَّا إِنَّه سَيَظْهَرُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي رَجُلٌ رَحْبُ الْبُلْعُومِ مُنْدَحِقُ الْبَطْنِ يَأْكُلُ مَا يَجِدُ

تھا اور ہم برابر سیدھے راستہ پر بڑھتے ہی جا رہے تھے اور مصیبتوں کی سختیوں پر صبر ہی کرتے جا رہے تھے اور دشمن سے جہاد میں کوششیں ہی کرتے جا رہے تھے۔ہمارا سپاہی دشمن کے سپاہی سے اس طرح مقابلہ کرتا تھا جس طرح مردوں کا مقابلہ ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کی جان کے درپے ہو جائیں۔اور ہر ایک کو یہی فکر ہو کہ دوسرے کو موت کا جام پلادیں۔پھر کبھی ہم دشمن کو مار لیتے تھے اور کبھی دشمن کو ہم پر غلبہ ہوجاتا تھا۔اس کے بعد جب خدا نے ہماری صداقت(۱) کوآزما لیا تو ہمارے دشمن پر ذلت نازل کردی اورہماری اوپر نصرت کا نزول فرمادیا یہاں تک کہ اسلام سینہ ٹیک کر اپنی جگہ جم گیا اور اپنی منزل پر قائم ہوگیا۔ میری جان کی قسم اگر ہمارا کرداربھی تمہیں جیسا ہوتا تو نہ دین کا کوئی ستون قائم ہوتا اور نہ ایمان کی کوئی شاخ ہری ہوتی۔خدا کی قسم تم اپنے کرتوت سے دودھ کے بدلے خون دوھوگے اور آخرمیں پچھتائو گے۔

(۵۷)

آپ کا ارشاد گرامی

(ایک قابل مذمت شخص کے بارے میں)

آگاہ ہو جائو کہ عنقریب تم پر ایک شخص مسلط ہو گا جس کا حلق کشادہ اور پیٹ بڑا ہوگا۔جو پاجائے گا کھا جائے گا

(۱)ایک عظیم حقیقت کا اعلان ہےکہ پروردگار اپنے بندوں کی بہر حال مدد کرتا ہے۔اس نے صاف کہہ دیا ہے کہ'' کان حقا علینا نصر المومنین '' (مومنین کی مدد ہماری ذمہ دری ہے )'' ان الله مع الصابرین '' ( اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے) لیکن اس سلسلہ میں اس حقیقت کو بہرحال سمجھ لینا چاہیے کہ یہ نصرت ایمان کے اظہار کے بعد اوریہ معیت صبر کیے بعد سامنے آتی ہے جب تک انسان اپنے ایمان و صبر کا ثبوت نہیں دیدیتا ہے خدائی امداد کا نزول نہیں ہوتا ہے۔'' ان تصنرو الله ینصر کم '' (اگرتم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا۔نصرت الٰہی تحفہ نہیں ہے مجاہدات کا انعام ہے۔پہلے مجاہدہ نفس اس کے بعد انعام۔!


ويَطْلُبُ مَا لَا يَجِدُ - فَاقْتُلُوه ولَنْ تَقْتُلُوه - أَلَا وإِنَّه سَيَأْمُرُكُمْ بِسَبِّي والْبَرَاءَةِ مِنِّي - فَأَمَّا السَّبُّ فَسُبُّونِي فَإِنَّه لِي زَكَاةٌ ولَكُمْ نَجَاةٌ - وأَمَّا الْبَرَاءَةُ فَلَا تَتَبَرَّءُوا مِنِّي - فَإِنِّي وُلِدْتُ عَلَى الْفِطْرَةِ وسَبَقْتُ إِلَى الإِيمَانِ والْهِجْرَةِ.

(۵۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

كلم به الخوارج حين اعتزلوا الحكومة وتنادوا أن لا حكم إلا لله أَصَابَكُمْ حَاصِبٌ ولَا بَقِيَ مِنْكُمْ آثِرٌ أَبَعْدَ إِيمَانِي بِاللَّه،

وجِهَادِي مَعَ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - أَشْهَدُ عَلَى نَفْسِي بِالْكُفْرِ - لَالْكُفْرِ( قَدْ ضَلَلْتُ إِذاً وما أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ ) - فَأُوبُوا شَرَّ مَآبٍ وارْجِعُوا عَلَى أَثَرِ الأَعْقَابِ أَمَا إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي ذُلاًّ شَامِلًا وسَيْفاً قَاطِعاً - وأَثَرَةً

اور جونہ پائے گا اس کی جستجو میں رہے گا۔تمہاری ذمہ داری ہوگی کہ اسے قتل کردو مگر تم ہر گز قتل نہ کرو گے۔ خیروہ عنقریب تمہیں' مجھے گالیاں دینے اور مجھ سے بیزاری کرنے کا بھی حکم دے گا۔تو اگر گالیوں کی بات ہو تو مجھے برا بھلا کہہ لینا کہ یہ میرے لئے پاکیزگی کا سامان ہے اورتمہارے لئے دشمن سے نجات کا۔لیکن خبردار مجھ سے برائت نہ کرنا کہ میں فطرت اسلام پر پیدا ہوا ہوں اور میں نے ایمان اور ہجرت دونوں میں سبقت کی ہے۔

(۵۸)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس کا مخاطب ان خوارج کو بنایا گیا ہے جو تحکیم سے کنارہ کش ہوگئے اور '' لاحکم الا اللہ '' کا نعرہ لگانے لگے)

خدا کرے۔تم پرسخت آندھیاں آئیں اور کوئی تمہارے حال کا اصلاح کرنے والا نہ رہ جائے۔کیا میں پروردگار پر ایمان لانے اور رسول اکرم (ص) کے ساتھ جہاد کرنے کے بعد اپنے بارے میں کفر کا اعلان کردوں۔ایسا کروں گا تو میں گمراہ ہو جائوں گا اور ہدایت یافتہ لوگوں میں نہ رہ جائوں گا۔جائو پلٹ جائو اپنی بدترین منزل کی طرف اور واپس چلے جائو اپنے نشانات قدم پر۔مگرآگاہ رہو کہ میرے بعد تمہیں ہمہ گیر ذلت اور کاٹنے والی تلوار کا سامنا کرنا ہوگا اور اس طریقۂ کار کا مقابلہ کرنا ہوگا


يَتَّخِذُهَا الظَّالِمُونَ فِيكُمْ سُنَّةً.

قال الشريف قولهعليه‌السلام ولا بقي منكم آبر يروى على ثلاثة أوجه:

أحدها أن يكون كما ذكرناه آبر بالراء - من قولهم للذي يأبر النخل أي يصلحه -. ويروى آثر وهو الذي يأثر الحديث ويرويه - أي يحكيه وهو أصح الوجوه عندي - كأنهعليه‌السلام قال لا بقي منكم مخبر -. ويروى آبز بالزاي المعجمة وهو الواثب - والهالك أيضا يقال له آبز

(۵۹)

وقالعليه‌السلام

لما عزم على حرب الخوارج - وقيل له:

إن القوم عبروا جسر النهروان!

مَصَارِعُهُمْ دُونَ النُّطْفَةِ - واللَّه لَا يُفْلِتُ مِنْهُمْ عَشَرَةٌ ولَا يَهْلِكُ مِنْكُمْ عَشَرَةٌ.

جسے ظالم تمہارے بارے میں اپنی سنت بنالیں گے یعنی ہر چیز کو اپنے لئے مخصوص کرلینا۔

سید رضی : حضرت کا ارشاد 'لا بقی منکم آبر'' تین طریقوں سے نقل کیا گیا ہے:

آبر: وہ شخص جو درخت خرمہ کو کانٹ چھانٹ کر اس کی اصلاح کرتا ہے۔

آثر: روایت کرنے والا۔یعنی تمہاری خبر دینے والا بھی کوئی نہ رہ جائے گا۔اوریہی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔

آبر: کودنے والا یا ہلاک ہونے والا کہ مزید ہلاکت کے لئے بھی کوئی نہ رہ جائے گا۔

(۵۹)

آپ نے اس وقت ارشاد فرمایا

جب آپ نے خوارج سے جنگ کا عزم کرلیا اور نہر وان کے پل کو پار کرلیا

یادرکھو(۱) !دشمنوں کی قتل گاہ دریا کے اس طرف ہے۔خدا کی قسم نہ ان میں کے دس باقی بچیں گے اور نہ تمہارے دس ہلاک ہو سکیں گے ۔

(۱)جب امیر المومنین کو یہ خبردی گئی کہ خوارج نے سارے ملک میں فساد پھیلانا شروع کردیا ہے ۔جناب عبداللہ بن خباب بن الارت کو ان کے گھر کی عورتوں سمیت قتل کردیا ہے اور لوگوں میں مسلسل دہشت پھیلا رہے ہیں تو آپ نے ایک شخص کو سمجھانے کے لئے بھیجا۔ان ظالموں نے اسے بھی قتل کردیا۔اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن خباب کے قاتلوں کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تو صاف کہہ دیا کہ ہم سب قاتل ہیں۔اس کے بعد حضرت نے بنفس نفیس توبہ کی دعوت دی لیکن ان لوگوں نے اسے بھی ٹھکرادیا۔آخر ایک دن وہ آگیا جب لوگ ایک لاش کو لے کرآئے اور سوال کیا کہ سرکار اب فرمائیں اب کیا حکم ہے؟ تو آپ نے نعرہ تکبیر بلندکرکے جہاد کا حکم دے دیا اور پروردگار کے دئیے ہوئے علم غیب کی بناپر انجام کار سے بھی با خبر کردیا جو بقول ابن الحدید صد فیصد صحیح ثابت ہوا اور خوارج کے صرف نو افراد بچے اور حضرت کے ساتھیوں میں صرف آٹھ افراد شہید ہوئے۔


قال الشريف يعني بالنطفة ماء النهر - وهي أفصح كناية عن الماء وإن كان كثيرا جما - وقد أشرنا إلى ذلك فيما تقدم عند مضي ما أشبهه.

(۶۰)

وقالعليه‌السلام

لما قتل الخوارج فقيل له يا أمير المؤمنين هلك القوم بأجمعهم

كَلَّا واللَّه إِنَّهُمْ نُطَفٌ فِي أَصْلَابِ الرِّجَالِ وقَرَارَاتِ النِّسَاءِ،كُلَّمَا نَجَمَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ - حَتَّى يَكُونَ آخِرُهُمْ لُصُوصاً سَلَّابِينَ.

(۶۱)

وقالعليه‌السلام

لَا تُقَاتِلُوا الْخَوَارِجَ بَعْدِي - فَلَيْسَ مَنْ طَلَبَ الْحَقَّ فَأَخْطَأَه - كَمَنْ طَلَبَ الْبَاطِلَ فَأَدْرَكَه.

قال الشريف - يعني معاوية وأصحابه.

(۶۲)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لما خوف من الغيلة

وإِنَّ عَلَيَّ مِنَ اللَّه جُنَّةً حَصِينَةً -.

سید رضی : نطفہ سے مراد نہر کا شفاف پانی ہے۔جو بہترین کنایہ ہے پانی کے بارے میں چاہے اس کی مقدار کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو

(۶۰)

آپ نے فرمایا

(اس وقت جب خوارج کے قتل کے بعد لوگوں نے کہا کہ اب تو قوم کاخاتمہ ہوچکا ہے)

ہرگز نہیں۔خدا گواہ ہے کہ یہ ابھی مردوں کے صلب اورعورتوں کے رحم میں موجود ہیں اور جب بھی ان میں کوئی سر نکالے گا اسے کاٹ دیا جائے گا۔یہاں تک کہ آخرمیں صرف لٹیرے اورچور ہو کر رہ جائیں گے۔

(۶۱)

آپ نے فرمایا

خبر دار میرے بعد خروج کرنے والوں سے جنگ نہ کرنا کہ حق کی طلب میں نکل کر بہک جانے والا اس کا جیسا نہیں ہوتا ہے جو باطل کی تلاش میں نکلے اورحاصل بھی کرلے۔

سید شریف رضی نے فرمایا : یعنی معاویہ اور اس کے پیروکار

(۶۲)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب آپ کو اچانک قتل سے ڈرایا گیا )

یاد رکھو میرے لئے خداکی طرف سے ایک مضبوط و مستحکم سپر ہے


فَإِذَا جَاءَ يَوْمِي انْفَرَجَتْ عَنِّي وأَسْلَمَتْنِي - فَحِينَئِذٍ لَا يَطِيشُ السَّهْمُ ولَا يَبْرَأُ الْكَلْمُ

(۶۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يحذر من فتنة الدنيا

أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا دَارٌ لَا يُسْلَمُ مِنْهَا إِلَّا فِيهَا - ولَا يُنْجَى بِشَيْءٍ كَانَ لَهَا - ابْتُلِيَ النَّاسُ بِهَا فِتْنَةً - فَمَا أَخَذُوه مِنْهَا لَهَا أُخْرِجُوا مِنْه وحُوسِبُوا عَلَيْه - ومَا أَخَذُوه مِنْهَا لِغَيْرِهَا قَدِمُوا عَلَيْه وأَقَامُوا فِيه - فَإِنَّهَا عِنْدَ ذَوِي الْعُقُولِ كَفَيْءِ الظِّلِّ - بَيْنَا تَرَاه سَابِغاً حَتَّى قَلَصَ وزَائِداً حَتَّى نَقَصَ.

(۶۴)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في المبادرة إلى صالح الأعمال

فَاتَّقُوا اللَّه عِبَادَ اللَّه وبَادِرُوا آجَالَكُمْ بِأَعْمَالِكُمْ وابْتَاعُوا

اس کے بعد جب میرا دن آجائے گا تو یہ سپر مجھ سے الگ ہوجائےگااور مجھے موت کے حوالے کردے گا۔اس وقت نہ تیر خطاکرےگا اورنہ زخم مندمل ہو سکے گا

(۶۳)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں دنیا کے فتنوں سے ڈرایا گیا ہے)

آگاہ ہوجائو کہ یہ دنیا ایساگھر ہےجس سےسلامتی کاسامان اسی کےاندرسےکیاجاسکتا ہےاورکوئی ایسی شےوسیلہ نجات نہیں ہوسکتی ہےجو دنیا ہی کےلئے ہولوگ اس دنیاکے ذریعہ آزمائےجاتے ہیں جولوگ دنیاکاسامان دنیا ہی کےلئے حاصل کرتے ہیں وہ اسےچھوڑکرچلےجاتےہیں اورپھرحساب بھی دینا ہوتا ہےاورجولوگ یہاں سےوہاں کےلئےحاصل کرتےہیں وہ وہاں جاکرپالیتےہیں اوراسی میں مقیم ہو جاتے ہیں۔یہ دنیا درحقیقت صاحبان عقل کی نظرمیں ایک سایہ جیسی ہے جودیکھتے دیکھتےسمٹ جاتا ہے اورپھیلتے پھیلتے کم ہو جاتا ہے۔

(۶۴)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(نیک اعمال کی طرف سبقت کے بارے میں )

بندگان خدا! اللہ سے ڈرو اور اعمال کے ساتھ اجل(۱) کی طرف سبقت کرو۔اس دنیا کے فانی مال کے

(۱)انسان کے قدم موت کی طرف بلا اختیاربڑھتے جا رہے ہیں اور اسے اس امر کا احساس ا بھی نہیں ہوتا ہے نتیجہ یہ ہتا ہے کہ ایک دن موت کے منہ میں چلا جاتا ہے اور دائمی خسارہ اورعذاب میں مبتلا ہو جاتا ہے لہٰذا تقاضائے عقل و دانش یہی ہے کہ اعمال کو ساتھ لے کر آگے بڑھے گاتا کہ جب موت کا سامانا ہوتواعمال کا سہارا رہے اورعذاب الیم سے نجات حاصل کرنے کا وسیلہ ہاتھ میں رہے۔


مَا يَبْقَى لَكُمْ بِمَا يَزُولُ عَنْكُمْ وتَرَحَّلُوا فَقَدْ جُدَّ بِكُمْ واسْتَعِدُّوا لِلْمَوْتِ فَقَدْ أَظَلَّكُمْ وكُونُوا قَوْماً صِيحَ بِهِمْ فَانْتَبَهُوا - وعَلِمُوا أَنَّ الدُّنْيَا لَيْسَتْ لَهُمْ بِدَارٍ فَاسْتَبْدَلُوا - فَإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه لَمْ يَخْلُقْكُمْ عَبَثاً ولَمْ يَتْرُكْكُمْ سُدًى ومَا بَيْنَ أَحَدِكُمْ وبَيْنَ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ - إِلَّا الْمَوْتُ أَنْ يَنْزِلَ بِه - وإِنَّ غَايَةً تَنْقُصُهَا اللَّحْظَةُ وتَهْدِمُهَا السَّاعَةُ - لَجَدِيرَةٌ بِقِصَرِ الْمُدَّةِ - وإِنَّ غَائِباً يَحْدُوه الْجَدِيدَانِ - اللَّيْلُ والنَّهَارُ لَحَرِيٌّ بِسُرْعَةِ الأَوْبَةِ وإِنَّ قَادِماً يَقْدُمُ بِالْفَوْزِ أَوِ الشِّقْوَةِ - لَمُسْتَحِقٌّ لأَفْضَلِ الْعُدَّةِ - فَتَزَوَّدُوا فِي الدُّنْيَا مِنَ الدُّنْيَا - مَا تَحْرُزُونَ بِه أَنْفُسَكُمْ غَداً فَاتَّقَى عَبْدٌ رَبَّه نَصَحَ نَفْسَه وقَدَّمَ تَوْبَتَه وغَلَبَ شَهْوَتَه - فَإِنَّ أَجَلَه مَسْتُورٌ عَنْه وأَمَلَه خَادِعٌ لَه - والشَّيْطَانُ مُوَكَّلٌ بِه يُزَيِّنُ لَه الْمَعْصِيَةَ لِيَرْكَبَهَا - ويُمَنِّيه التَّوْبَةَ لِيُسَوِّفَهَا

ذریعہ باقی رہنے والی آخرت کو خرید لو اور یہاں سے کوچ کر جائو کہ تمہیں تیزی سے لیجا یا جا رہا ہے اور موت کے لئے آمادہ ہوجائو کہ وہ تمہارے سروں پر منڈلا رہی ہے اس قوم جیسے ہو جائو جیسے پکارا گیا تو فورا ہوشیار ہوگئی۔اوراس نے جان لیا کہ دنیا اس کی منزل نہیں ہے تو اسے آخرت سے بدل لیا۔اس لئے کہ پروردگار نے تمہیں بیکارنہیں پیداکیا اور نہ مہمل چھوڑ دیا ہے اور یاد رکھو کہ تمہارے اور جنت و جہنم کے درمیان اتنا ہی وقفہ ہے کہ موت نازل ہو جائے اور انجام سامنے آجائے اور وہ مدت حیات جیسے ہر لحظہ کم کر رہا ہو اور ہر ساعت اس کی عمارت کو منہدم کر رہی ہو وہ قصیر المدة ہی سمجھنے کا لائق ہے اور وہ موت جسے دن و رات ڈھکیل کر آگے لا رہے ہوں اسے بہت جلد آنے والا ہی خیال کرنا چاہیے اور وہ شخص جس کے سامنے کامیابی یا ناکامی اوربد بختی آنے والی ہے اسے بہترین سامان مہیا ہی کرنا چاہیے۔لہٰذا تم دنیا میں رہ کر دنیا سے زاد راہ حاصل کر لو جس سے کل اپنے نفس کاتحفظ کرس کو۔اس کا راستہ یہ ہے کہ بندہ اپنے پروردگار سے ڈرے۔اپنے نفس سے اخلاص رکھتے ' توبہ کو مقدم کرے۔خواہشات پر غلبہ حاصل کرے اس لئے کہ اس کی اجل اس سے پوشیدہ ہے اور اس کی خواہش اسے مسلسل دھوکہ دینے والی ہے اور شیطان اس کے سر پر سوار ہے جو معصیتوں کو آراستہ کر رہا ہے تاکہ انسان مرتکب ہو جائے اور توبہ کی امیدیں دلاتا ہے تاکہ اس میں تاخیر کرے یہاں تک کہ غفلت اور بے خبری کے عالم میں موت اس پر


إِذَا هَجَمَتْ مَنِيَّتُه عَلَيْه أَغْفَلَ مَا يَكُونُ عَنْهَا - فَيَا لَهَا حَسْرَةً عَلَى كُلِّ ذِي غَفْلَةٍ أَنْ يَكُونَ عُمُرُه عَلَيْه حُجَّةً - وأَنْ تُؤَدِّيَه أَيَّامُه إِلَى الشِّقْوَةِ - نَسْأَلُ اللَّه سُبْحَانَه - أَنْ يَجْعَلَنَا وإِيَّاكُمْ مِمَّنْ لَا تُبْطِرُه نِعْمَةٌ ولَا تُقَصِّرُ بِه عَنْ طَاعَةِ رَبِّه غَايَةٌ - ولَا تَحُلُّ بِه بَعْدَ الْمَوْتِ نَدَامَةٌ ولَا كَآبَةٌ.

(۶۵)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وفيها مباحث لطيفة من العلم الإلهي

الْحَمْدُ لِلَّه الَّذِي لَمْ تَسْبِقْ لَه حَالٌ حَالًا - فَيَكُونَ أَوَّلًا قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِراً - ويَكُونَ ظَاهِراً قَبْلَ أَنْ يَكُونَ بَاطِناً - كُلُّ مُسَمًّى بِالْوَحْدَةِ غَيْرَه قَلِيلٌ - وكُلُّ عَزِيزٍ غَيْرَه ذَلِيلٌ وكُلُّ قَوِيٍّ غَيْرَه ضَعِيفٌ - وكُلُّ مَالِكٍ غَيْرَه مَمْلُوكٌ وكُلُّ عَالِمٍ غَيْرَه مُتَعَلِّمٌ - وكُلُّ قَادِرٍ غَيْرَه يَقْدِرُ ويَعْجَزُ - وكُلُّ سَمِيعٍ غَيْرَه يَصَمُّ

حملہ آور ہوجاتی ہے۔ ہائے کس قدر حسرت کا مقام ہے کہ انسان کی عمر ہی اس کے خلاف حجت بن جائے اور اس کا روز گار ہی اسے بدبختی تک پہنچادے۔پروردگار سے دعا ہے کہ ہمیں اور تمہیں ان لوگوں میں قرار دے جنہیں نعمتیں مغرور نہیں بناتی ہیں اور کوئی مقصد اطاعت خدا میں کوتاہی پرآمادہ نہیں کرتا ہے اور موت کے بعد ان پر ندامت اور رنج و غم کا نزول نہیں ہوتا ہے۔

(۶۵)

(جس میں علم الٰہی کے لطیف ترین مباحث کی طرف اشارہ کیا گیا ہے)

تمام تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جس کے صفات میں تقدم(۱) و تاخرنہیں ہوتا ہے کہ وہ آخر ہونے سے پہلے اول رہا ہو اور باطن بننے سے پہلے ظاہر رہا ہو۔اس کے علاوہ جسے بھی واحد کہا جاتا ہے اس کی وحدت قلت ہے اور جسے بھی عزیز سمجھا جاتا ہے ہے اس کی عزت ذلت ہے۔اس کے سامنے ہر قوی ضعیف ہے اور ہر مالک مملوک ہے' ہر عالم متعلم ہے اور ہر قادر عاجز ہے' ہر سننے والا لطیف آوازوں کے لئے بہرہ ہے اور اونچی آوازیں بھی اسے بہرہ بنا دیتی ہیں

(۱)یہ اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ پروردگار کے صفات کمال عین ذات ہیں اور ذات سے الگ کوئی شے نہیں ہیں۔وہ علم کی وجہ سے عالم نہیں ہے۔بلکہ عین حقیقت علم ہے اور قدرت کے ذریعہ قادر نہیں ہے بلکہ عین قدرت کاملہ ہے اور جب یہ سارے صفات عین ذات ہیں تو ان میں تقدم و تاخر کا کوئی سوال ہی نہیں ہے وہ جس لحظہ اول ہے اسی لحظہ آخر بھی ہے اور جس اندازسے ظاہر ہے اسی اندازسے باطن بھی ہے۔اس کی ذات اقدس میں کسی طرح کا تغیر قابل تصور نہیں ہے حدیہ ہے کہ اس کی سماعت و بصارت بھی مخلوقات کی سماعت و بصارت سے بالکل الگ ہے۔دنیا کا ہر سمیع و بصیر کسی شے کو دیکھتا اور سنتا ہے اور کسی شے کے دیکھنے اورسننے سے قاصر رہتا ہے لیکن پروردگار کی ذات اقدس ایسی نہیں ہے وہ مخفی ترین مناظر ک دیکھ رہا ہے اور لطیف ترین آوازوں کو سن رہا ہے ۔وہ ایسا ظاہر ہے جو باطن نہیں ہے اور ایسا باطن ہے جو کسی عقل و فہم پرظاہر نہیں ہو سکتا ہے۔!


عَنْ لَطِيفِ الأَصْوَاتِ - ويُصِمُّه كَبِيرُهَا ويَذْهَبُ عَنْه مَا بَعُدَ مِنْهَا - وكُلُّ بَصِيرٍ غَيْرَه يَعْمَى عَنْ خَفِيِّ الأَلْوَانِ ولَطِيفِ الأَجْسَامِ - وكُلُّ ظَاهِرٍ غَيْرَه بَاطِنٌ وكُلُّ بَاطِنٍ غَيْرَه غَيْرُ ظَاهِرٍ - لَمْ يَخْلُقْ مَا خَلَقَه لِتَشْدِيدِ سُلْطَانٍ - ولَا تَخَوُّفٍ مِنْ عَوَاقِبِ زَمَانٍ - ولَا اسْتِعَانَةٍ عَلَى نِدٍّ مُثَاوِرٍ ولَا شَرِيكٍ مُكَاثِرٍ ولَا ضِدٍّ مُنَافِرٍ ولَكِنْ خَلَائِقُ مَرْبُوبُونَ وعِبَادٌ دَاخِرُونَلَمْ يَحْلُلْ فِي الأَشْيَاءِ فَيُقَالَ هُوَ كَائِنٌ - ولَمْ يَنْأَ عَنْهَا فَيُقَالَ هُوَ مِنْهَا بَائِنٌ لَمْ يَؤُدْه خَلْقُ مَا ابْتَدَأَ - ولَا تَدْبِيرُ مَا ذَرَأَ ولَا وَقَفَ بِه عَجْزٌ عَمَّا خَلَقَ - ولَا وَلَجَتْ عَلَيْه شُبْهَةٌ فِيمَا قَضَى وقَدَّرَ - بَلْ قَضَاءٌ مُتْقَنٌ وعِلْمٌ مُحْكَمٌ - وأَمْرٌ مُبْرَمٌ الْمَأْمُولُ مَعَ النِّقَمِ - الْمَرْهُوبُ مَعَ النِّعَمِ!

اور دور کی آوازیں بھی اس کی حد سے باہر نکل جاتی ہیں اور اس طرح اس کے علاوہ ہر دیکھنے والا مخفی رنگ اور لطیف جسم کو نہیں دیکھ سکتا ہے۔اس کے علاوہ ہر ظاہر غیر باطن ہے اور ہر باطن غیر ظاہر ۔اس نے مخلوقات کو اپنی حکومت کے استحکام یا زمانہ کے نتائج کے خوف سے نہیں پیدا کیا ہے۔نہ اسے کسی برابر والے حملہ آور یا صاحب کثرت شریک یا ٹکرانیوالے مد مقابل کے مقابلہ میں مدد لینا تھی۔ یہ ساری مخلوق اسی کی پیدا کی ہوئی اورپالی ہوئی ہے اور یہ سارے بندے اسی کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں۔اس نے اشیاء میں حلول نہیں کیا ہے کہ اسے کسی کے اندر سمایا ہوا کہا جائے اور نہ اتنا دور ہوگیا ہے کہ الگ تھلگ خیال کیا جائے۔مخلوقات کی خلقت اورمصنوعات کی تدبیر اسے تھکا نہیں سکتی ہے اور نہ کوئی تخلیق اسے عاجز بنا سکتی ہے اور نہ کسی قضاو قدر میں اسے کوئی شبہ پیدا ہو سکتا ہے۔اس کا ہر فیصلہ محکم اوراس کا ہر علم متقن اور اس کا ہر حکم مستحکم ہے۔ناراضگی میں بھی اس سے امید وابستہ کی جاتی ہے اورنعمتوں میں بھی اس کا خوف لاحق رہتا ہے۔


(۶۶)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في تعليم الحرب والمقاتلة

والمشهور أنه قاله لأصحابه ليلة الهرير أو أول اللقاء بصفين

مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ اسْتَشْعِرُوا الْخَشْيَةَ وتَجَلْبَبُوا السَّكِينَةَ وعَضُّوا عَلَى النَّوَاجِذِ فَإِنَّه أَنْبَى لِلسُّيُوفِ عَنِ الْهَامِ وأَكْمِلُوا اللأْمَةَ وقَلْقِلُوا السُّيُوفَ فِي أَغْمَادِهَا قَبْلَ سَلِّهَا - والْحَظُوا الْخَزْرَ واطْعُنُوا الشَّزْرَ ونَافِحُوا بِالظُّبَى وصِلُوا السُّيُوفَ بِالْخُطَا واعْلَمُوا أَنَّكُمْ بِعَيْنِ اللَّه ومَعَ ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّه - فَعَاوِدُوا الْكَرَّ واسْتَحْيُوا مِنَ الْفَرِّ فَإِنَّه عَارٌ فِي الأَعْقَابِ ونَارٌ يَوْمَ الْحِسَابِ - وطِيبُوا عَنْ أَنْفُسِكُمْ نَفْساً - وامْشُوا إِلَى الْمَوْتِ مَشْياً سُجُحاً وعَلَيْكُمْ بِهَذَا السَّوَادِ الأَعْظَمِ والرِّوَاقِ الْمُطَنَّبِ فَاضْرِبُوا ثَبَجَه فَإِنَّ الشَّيْطَانَ كَامِنٌ فِي كِسْرِه

(۶۶)

آپ کا ارشاد گرامی

(تعلیم جنگ کے بارے میں )

مسلمانو!خوف(۱) خداکو اپنا شعار بنائو۔سکون و وقار کی چادر اوڑھ لو۔دانتوں کو بھینچ لو کہ اس سے تلواریں سروں سے اچٹ جاتی ہیں۔زرہ پوشی کو مکمل کرلو۔تلواروں کو نیام سے نکالنے سے پہلے نیام کے اندرحرکت دے لو۔دشمن کو ترچھی نظر سے دیکھتے رہو اور نیزوں سے دونوں طرف وار کرتے رہو۔اسے اپنی تلواروں کی باڑھ پر رکھو اور تلواروں کے حملے قدم آگے بڑھا کرکرو اوریہ یاد رکھو کہ تم پروردگار کی نگا ہ میں اور رسول اکرم (ص) کے ابن عم کے ساتھ ہو ۔دشمن پر مسلسل حملے کرتے رہو اور فرار سے شرم کرو کہ اس کا عار نسلوں میں رہ جاتا ہے اوراس کا انجام جہنم ہوتا ہے۔اپنے نفس کو ہنسی خوشی خدا کے حوالے کردو اور موت کی طرف نہایت درجہ سکون و اطمینان سے قدم آگے بڑھائو۔تمہارا نشانہ ایک دشمن کا عظیم لشکراورطناب دار خیمہ ہونا چاہیے کہ اسی کے وسط پرحملہ کرو کہ شیطان اسی کے ایک گوشہ میں بیٹھا ہوا

(۱)ان تعلیمات پرسنجیدگی سے غور کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ ایک مرد مسلم کے جہاد کا انداز کیا ہونا چاہیے اوراسے دشمن کے مقابلہ میں کس طرح جنگ آزما ہونا چاہیے۔ان تعلیمات کا مختصرخلاصہ یہ ہے:۔ ۱۔دل کے اندر خوف خدا ہو'۲۔باہر سکون و اطمینان کا مظاہر ہو' ۳۔دانتوں کو بھینچ لیا جائے'۴۔آلات جنگ کو مکمل طورپر ساتھ رکھا جائے' ۵۔تلوار کو نیام کے اندرحرکت دے لی جائے کہ بر وقت نکالنے میں زحمت نہ ہو'۶۔دشمن پر غیط آلود نگاہ کی جائے ' ۷۔نیزوں کے حملے ہر طرف ہوں'۸۔تلوار دشمن کے سامنے رہے '۹۔تلوار دشمن تک نہ پہنچے توقدم بڑھاکرحملہ کرے' ۱۰۔فرار کا ارادہ نہ کرے ' ۱۱۔موت کی طرف سکون کے ساتھ قدم بڑھائے'۱۲۔جان جان آفریں کے حوالے کردے' ۱۳۔ہدف اورنشانہ پرنگاہ رکھے '۱۴۔یہ اطمینان رکھے کہ خدا ہمارے اعمال کودیکھ رہا ہے اور پیغمبر (ص) کا بھائی ہماری نگاہ کے سامنے ہے۔

ظاہر ہے کہ ان آداب میں بعض آداب ' تقویٰ ' ایمان وغیرہ دائمی حیثیت رکھتے ہیں اور بعض کا تعلق نیزہ و شمشیر کے دور سے ہے لیکن اسے بھی ہردور کے آلات حرب و ضرب پرمنطبق کیاجاسکتا ہے اور اس سے فادئہ اٹھایا جا سکتا ہے۔


وقَدْ قَدَّمَ لِلْوَثْبَةِ يَداً وأَخَّرَ لِلنُّكُوصِ رِجْلًا - فَصَمْداً صَمْداً حَتَّى يَنْجَلِيَ لَكُمْ عَمُودُ الْحَقِّ –( وأَنْتُمُ الأَعْلَوْنَ والله مَعَكُمْ ولَنْ يَتِرَكُمْ أَعْمالَكُمْ )

(۶۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قالوا لما انتهت إلى أمير المؤمنينعليه‌السلام أنباء السقيفة بعد وفاة رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قالعليه‌السلام :ما قالت الأنصار قالوا قالت منا أمير ومنكم أمير قالعليه‌السلام :

فَهَلَّا احْتَجَجْتُمْ عَلَيْهِمْ - بِأَنَّ رَسُولَ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وَصَّى بِأَنْ يُحْسَنَ إِلَى مُحْسِنِهِمْ - ويُتَجَاوَزَ عَنْ مُسِيئِهِمْ؟

قَالُوا ومَا فِي هَذَا مِنَ الْحُجَّةِ عَلَيْهِمْ؟

ہے۔اس کا حال یہ ہے کہ اس نے ایک قدم حملہ کے لئے آگے بڑھا رکھا ہے۔اور ایک بھاگنے کے لئے پیچھے کر رکھا ہے لہٰذا تم مضبوطی سے اپنے ارادہ پرجمے رہو یہاں تک کہ حق صبح کے اجالے کی طرح واضح ہو جائے اور مطمئن ہو کر بلندی تمہارا حصہ ہے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ تمہارے اعمال کو ضائع نہیں کر سکتا ہے۔

(۶۷)

آپ کا ارشاد گرامی

جب رسول اکرم (ص)کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ(۱) کی خبریں پہنچیں اور آپ نے پوچھا کہ انصار نے کیا احتجاج کیا تو لوگوں نے بتایا کہ وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ایک امیر ہمارا ہوگا اور ایک تمہارا۔تو آپ نے فرمایا:۔

تم لوگوں نے ان کے خلاف یہ استدلال کیوں نہیں کیا کہ رسول اکرم (ص) نے تمہارے نیک کرداروں کے ساتھ حسن سلوک اور خطا کاروں سے در گزر کرنے کی وصیت فرمائی ہے ؟

لوگوں نے کہا کہ اس میں کیا استد لال ہے؟

(۱)استاد احمد حسن یعقوب نے کتاب نظریہ عدالت صحابہ میں ایک مفصل بحث کی ہے کہ سقیفہ میں کوئی قانونی اجتماع انتخاب خلیفہ کے لئے نہیں ہوا تھا اور نہ کوئی اس کا ایجنڈہ تھا اورنہ سوا لاکھ صحابہ کی بستی میں سے دس بیس ہزار افراد جمع ہوئے تھے بلکہ سعد بن عبادہ کی بیماری کی بناپر انصارعیادت کے لئے جمع ہوئے تھے اوربعض مہاجرین نے اس اجتماع کودیکھ کر یہ محسوس کیا کہ کہیں خلافت کا فیصلہ نہ ہوجائے' تو بر وقت پہنچ کر اس قدر ہنگامہ کیا کہ انصار میں پھوٹ پڑ گئی اور فی الفور حضرت ابو بکر کی خلافت کا اعلان کردیا اور ساری کاروائی لمحوں میں یوں مکمل ہوگئی کہ سعد بن عبادہ کو پامال کردیا گیا اور حضرت ابو بکر ''تاج خلافت ''سر پر رکھے ہوئے سقیفہ سے برآمد ہوگئے۔اس شان سے کہ اس عظیم مہم کی بنا پرجنازۂ رسول میں شرکت سے بھی محروم ہوگئے اورخلافت کا پہلا اثر سامنے آگیا۔


فَقَالَعليه‌السلام :

لَوْ كَانَ الإِمَامَةُ فِيهِمْ لَمْ تَكُنِ الْوَصِيَّةُ بِهِمْ.

ثُمَّ قَالَعليه‌السلام :

فَمَا ذَا قَالَتْ قُرَيْشٌ - قَالُوا احْتَجَّتْ بِأَنَّهَا شَجَرَةُ الرَّسُولِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - فَقَالَعليه‌السلام احْتَجُّوا بِالشَّجَرَةِ وأَضَاعُوا الثَّمَرَةَ.

(۶۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لما قلد محمد بن أبي بكر مصر فملكت عليه وقتل

وقَدْ أَرَدْتُ تَوْلِيَةَ مِصْرَ هَاشِمَ بْنَ عُتْبَةَ - ولَوْ وَلَّيْتُه إِيَّاهَا لَمَّا خَلَّى لَهُمُ الْعَرْصَةَولَا أَنْهَزَهُمُ الْفُرْصَةَ بِلَا ذَمٍّ لِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ - فَلَقَدْ كَانَ إِلَيَّ حَبِيباً وكَانَ لِي رَبِيباً.

فرمایاکہ اگر امارت ان کا حصہ ہوتی تو ان سے وصیت کی جاتی نہ کہ ان کے بارے میں وصیت کی جاتی ۔اس کے بعد آپ نے سوال کیا کہ قریش کی دلیل کیا تھی؟ لوگوں نے کہا کہ وہ اپنے کو رسول اکرم (ص) کے شجرہ میں ثابت کر رہے تھے۔فرمایا کہ افسوس شجرہ سے استدلال کیا اورثمرہ کو ضائع کردیا

(۶۸)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب آپ نے محمدبن ابی بکر کو مصر کی ذمہ داری حوالہ کی اور انہیں قتل کردیا گیا)

میرا ارادہ تھا کہ مصر کاحاکم ہاشم بن(۱) عتبہ کو بنائوں اور اگر انہیں بنا دیتا تو ہرگزمیدان کو مخالفین کے لئے خالی نہ چھوڑتے اور انہیں موقع سے فائدہ نہ اٹھانے دیتے ( لیکن حالات نے ایسا نہ کرنے دیا)

اس بیان کا مقصد محمد بن ابی بکر کی مذمت نہیں ہے اس لئے کہ وہ مجھے عزیز تھا اور میرا ہی پروردہ(۲) تھا۔

(۱)ہاشم بن عتبہ صفین میں عملدارلشکر امیر المومنین تھے۔مرقال ان کا لقب تھا کہ نہایت تیز رفتاری اورچابکدستی سے حملہ کرتے تھے۔

(۲)محمد بن ابی بکر اسما بنت عمیس کے بطن سے تھے۔جو پہلے جناب جعفر طیارکی زوجہ تھیں اور ان سے عبداللہ بن جعفر پیدا ہوئے تھے اس کے بعد ان کی شہادت کے بعد ابو بکر کی زوجیت میں آگئیں جن سے محمد پیدا ہوئے اور ان کی وفات کے بعد مولائے کائنات کی زوجیت میں آئیں اور محمد نے آپ کے زیر اثر تربیت پائی یہ اوربات ہے کہ جب عمرو عاص نے چار ہزار کے لشکرکے ساتھ مصر پرحملہ کیا تو اپنے آبائی اصول جنگ کی بنا پرمیدان سے فرار اختیار کیا اور بالآخر قتل ہوگئے اورلاش کو گدھے کی کھال میں رکھ کرجلا دیا گیا یا بروایتے زندہ ہی جلادئیے گئے اور معاویہ نے اس خبرکوسن کر انتہائی مسرت کا اظہار کیا۔ (مروج الذہب)

امیر المومنین نے اس موقع پر ہاشم کو اسی لئے یاد کیاتھا کہ وہ میدان سے فرار نہ کر سکتے تھے اور کسی گھر کے اندر پناہ لینے کا ارادہ بھی نہیں کر سکتے تھے ۔


(۶۹)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في توبيخ بعض أصحابه

كَمْ أُدَارِيكُمْ كَمَا تُدَارَى الْبِكَارُ الْعَمِدَةُ والثِّيَابُ الْمُتَدَاعِيَةُ !كُلَّمَا حِيصَتْ مِنْ جَانِبٍ تَهَتَّكَتْ مِنْ آخَرَ - كُلَّمَا أَطَلَّ عَلَيْكُمْ مَنْسِرٌ مِنْ مَنَاسِرِ أَهْلِ الشَّامِ - أَغْلَقَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ بَابَه - وانْجَحَرَ انْجِحَارَ الضَّبَّةِ فِي جُحْرِهَا والضَّبُعِ فِي وِجَارِهَا الذَّلِيلُ واللَّه مَنْ نَصَرْتُمُوه - ومَنْ رُمِيَ بِكُمْ فَقَدْ رُمِيَ بِأَفْوَقَ نَاصِلٍ إِنَّكُمْ واللَّه لَكَثِيرٌ فِي الْبَاحَاتِ قَلِيلٌ تَحْتَ الرَّايَاتِ - وإِنِّي لَعَالِمٌ بِمَا يُصْلِحُكُمْ ويُقِيمُ أَوَدَكُمْ ولَكِنِّي لَا أَرَى إِصْلَاحَكُمْ بِإِفْسَادِ نَفْسِي - أَضْرَعَ اللَّه خُدُودَكُمْ وأَتْعَسَ جُدُودَكُمْ لَا تَعْرِفُونَ الْحَقَّ كَمَعْرِفَتِكُمُ الْبَاطِلَ - ولَا تُبْطِلُونَ الْبَاطِلَ كَإِبْطَالِكُمُ الْحَقَّ!

(۶۹)

آپ کا ارشاد گرامی

(اپنے اصحاب کو سر زنش کرتے ہوئے)

کب تک میں تمہارے ساتھ وہ نرمی کا برتائو کروں جو بیمار اونٹ کے ساتھ کیا جاتا ہے جس کا کوہان اندر سے کھوکھلا ہوگیا ہو یا اس بوسیدہ کپڑے کے ساتھ کیا جاتا ہے جسے ایک طرف سے سیا جائے تو دوسری طرف سے پھٹ جاتا ہے۔ جب بھی شام کا کوئی دستہ تمہارے کسی دستہ کے سامنے آتا ہے تو تم میں س ے ہر شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کر لیتاہے اور اس طرح چھپ جاتا ہے جیسے سوراخ میں گوہ یا بھٹ میں بجو۔ خدا کی قسم ذلیل وہی ہوگا جس کے تم جیسے مدد گار ہوں گے اور جو تمہارے ذریعہ تیر اندازی کرے گا گویا وہ سو فار شکستہ اورپیکان نداشتہ تیرے نشانہ لگائے گا۔خدا کی قسم تم صحن خانہ میں بہت دکھائی دیتے ہواور پرچم لشکرکے زیر سایہ بہت کم نظرآتے ہو۔میں تمہاری اصلاح کا طریقہ جانتا ہوں اور تمہیں سیدھا کر سکتا ہوں لیکن کیا کروں اپنے دین کو برباد کرکے تمہاری اصلاح نہیں کرنا چاہتا ہوں۔خدا تمہارے چہروں کو ذلیل کرے اور تمہارے نصیب کو بد نصیب کرے۔تم حق کو اس طرح نہیں پہچانتے ہو جس طرح باطل کی معرفت رکھتے ہو اور باطل کو اس طرح باطل نہیں قراردیتے ہو جس طرح حق کو غلط ٹھہراتے ہو۔


(۷۰)

وقالعليه‌السلام

في سحرة اليوم الذي ضرب فيه

مَلَكَتْنِي عَيْنِي وأَنَا جَالِسٌ - فَسَنَحَ لِي رَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّه - مَا ذَا لَقِيتُ مِنْ أُمَّتِكَ مِنَ الأَوَدِ واللَّدَدِ فَقَالَ ادْعُ عَلَيْهِمْ فَقُلْتُ أَبْدَلَنِي اللَّه بِهِمْ خَيْراً مِنْهُمْ - وأَبْدَلَهُمْ بِي شَرّاً لَهُمْ مِنِّي.

قال الشريف - يعني بالأود الاعوجاج وباللدد الخصام - وهذا من أفصح الكلام.

(۷۱)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في ذم أهل العراق

وفيها يوبخهم على ترك القتال والنصر يكاد يتم ثم تكذيبهم له

أَمَّا بَعْدُ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ فَإِنَّمَا أَنْتُمْ كَالْمَرْأَةِ الْحَامِلِ - حَمَلَتْ فَلَمَّا أَتَمَّتْ أَمْلَصَتْ

(۷۰)

آپ کا ارشاد گرامی

(اس سحرکے ہنگام جب آپکےسر اقدس پر ضربت لگائی گئی)

ابھی میں بیٹھا(۱) ہواتھا کہ اچانک آنکھ لگ گئی اور ایسا محسوس ہوا کہ رسول اکرم (ص) سامنے تشریف فرما ہیں۔میں نے عرض کی کہ میں نے آپ کی امت سے بے پناہ کجروی اوردشمنی کامشاہدہ کیا ہے۔فرمایا کہ بد دعا کرو ؟ تو میں نے یہ دعا کی۔خدایا مجھے ان سے بہتر قوم دیدے اور انہیں مجھ سے سخت تر رہنما دیدے۔

سید رضی فرماتا ہے اود سے مراد کجروی اور لدد سے مراد دشمنی ہے اور یہ فصیح ترین کلام میں سے ہے

(۷۱)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(اہل عراق کی مذمت کے بارے میں)

اما بعد!اے اہل عراق ! بس تمہاری مثال اس حاملہ عورت کی ہے جو(۹) ماہ تک بچہ کو شکم میں رکھے اور جب ولادت کا وقت آئے تو ساقط کردے

(۱)یہ بھی رویا ئے صادقہ کی ایک قسم ہے جہاں انسان واقعاً یہ دیکھتا ہے اور محسوس کرتا ہے جیسے خواب کی باتوں کو بیداری کے عالم میں دیکھ رہا رسول اکرم (ص) کا خواب میں آاا کسی طرح کی تردید اور تشکیک کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے لیکن یہ مسئلہ بہر حال قابل غور ہے کہ جس وصی نے اتنے سارے مصائب برداشت کرلئے اوراف تک نہیں کی اس نے خواب میں رسول اکرم(ص)کو دیکھتے ہیں فریاد کیوں شروع کردی اورجس نبی نے ساری زندگی مظالم و مصائب کا سامنا کیا اور بد دعا نہیں کی' اس نے بد دعا کرنے کاحکم کس طرح دے دیا؟حقیقت امر یہ ہے کہ حالات اس منزل پرتھے جس کے بعد فریاد بھی برحق تھی اور بد دعا بھی لازم تھی۔اب یہ مولائے کائنات کا کمال کردار ہے کہ براہ راست قوم کی تباہی اور بربادی کی دعا نہیں کی بلکہ انہیں خود انہیں کے نظریات کے حوالہ کردیا کہ خدایا!یہ میری نظرمیں برے ہیں تو مجھے ان سے بہتر اصحاب دیدے اور میں ان کی نظرمیں برا ہوںتو انہیں مجھ سے بدترحاکم دیدے تاکہ انہیں اندازہ ہو کہ برا حاکم کیسا ہوتا ہے۔

مولائے کائنات کی یہ دعا فی الفور قبول ہوگی اورچند لمحوں کے بعد آپ کو معصوم بندگان خدا کا جوار حاصل ہوگیا اور شریر قوم سے نجات مل گئی۔


ومَاتَ قَيِّمُهَا وطَالَ تَأَيُّمُهَا ووَرِثَهَا أَبْعَدُهَا -. أَمَا واللَّه مَا أَتَيْتُكُمُ اخْتِيَاراً - ولَكِنْ جِئْتُ إِلَيْكُمْ سَوْقاً - ولَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تَقُولُونَ عَلِيٌّ يَكْذِبُ قَاتَلَكُمُ اللَّه تَعَالَى - فَعَلَى مَنْ أَكْذِبُ أَعَلَى اللَّه فَأَنَا أَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِه - أَمْ عَلَى نَبِيِّه فَأَنَا أَوَّلُ مَنْ صَدَّقَه - كَلَّا واللَّه لَكِنَّهَا لَهْجَةٌ غِبْتُمْ عَنْهَا - ولَمْ تَكُونُوا مِنْ أَهْلِهَا - وَيْلُ أُمِّه كَيْلًا بِغَيْرِ ثَمَنٍ لَوْ كَانَ لَه وِعَاءٌ - «ولَتَعْلَمُنَّ نَبَأَه بَعْدَ حِينٍ».

(۷۲)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

علم فيها الناس الصلاة على النبيصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

وفيها بيان صفات الله سبحانه وصفة النبي والدعاء له

اور پھر اس کا شوہربھی مرجائے اوربیوگی کی مدت بھی طویل ہو جائے کہ قریب کا کوئی وارث نہ رہ جائے اور دور والے وارث ہو جائیں

خدا گواہ ہے کہ میں تمہارے پاس اپنے اختیارسے نہیں آیا ہوں بلکہ حالات کے جبر سے آیا ہوں اور مجھے یہ خبر ملی ہے کہ تم لوگ مجھ پرجھوٹ کا الزام لگاتے ہو۔خدا تمہیں غارت کرے۔میں کس کے خلاف غلط بیانی کروں گا؟

خدا کے خلاف؟ جب کہ میں نے سب سے پہلے ان کی تصدیق کی ہے۔

ہر گز نہیں ! بلکہ یہ بات ایسی تھی جو تمہاری سمجھ سے بالا تر تھی اور تم اس کے اہل نہیں تھے ۔خدا تم سے سمجھے۔میں تمہیں جواہر پارے ناپ ناپ کردے رہا ہوں اور کوئی قیمت نہیں مانگ رہا ہوں۔مگر اے کاش تمہارے پاس اس کا ظرف ہوتا۔اورعنقریب تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہوجائے گی۔

(۷۲)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں لوگوں کو صلوات کی تعلیم دی گئی ہے اور صفات خدا و رسول (ص) کا ذکر کیا گیا ہے )


صفات الله

اللَّهُمَّ دَاحِيَ الْمَدْحُوَّاتِ ودَاعِمَ الْمَسْمُوكَاتِ وجَابِلَ الْقُلُوبِ عَلَى فِطْرَتِهَا شَقِيِّهَا وسَعِيدِهَا.

صفات النبي

اجْعَلْ شَرَائِفَ صَلَوَاتِكَ - ونَوَامِيَ بَرَكَاتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ ورَسُولِكَ - الْخَاتِمِ لِمَا سَبَقَ والْفَاتِحِ لِمَا انْغَلَقَ والْمُعْلِنِ الْحَقَّ بِالْحَقِّ والدَّافِعِ جَيْشَاتِ الأَبَاطِيلِ والدَّامِغِ صَوْلَاتِ الأَضَالِيلِ كَمَا حُمِّلَ فَاضْطَلَعَ قَائِماً بِأَمْرِكَ

اے خدا! اے فرش زمین کے بچھانے) ۱) والے اور بلند ترین آسمانوں کو روکنے والے اوردلوں کو ان کی نیک بخت یا بد بخت فطرتوں پر پیدا کرنے والے '

اپنی پاکیزہ ترین اور مسلسل بڑھنے والے برکات کو اپنے بندہ اور رسول حضرت محمد (ص) پر قراردے جو سابق نبوتوں کے ختم کرنے والے ' دل و دماغ کے بند دروازوں کو کھولنے والے ' حق کے ذریعہ(۲) حق کا اعلان کرنے والے' باطل کے جوش و خروش کودفع کرنے والے اور گمراہیوں کے حملوں کا سر کچلنے والے تھے۔جو بار جس طرح ان کے حوالہ کیا گیا انہوں نے اٹھالیا۔تیرے امر کے ساتھ قیام کیا۔

(۱)وحوالارض کے بارے میں دو طرح کے تصورات پائے جاتے ہیں۔بعض حضرت کاخیال ہے کہ زمین کوآفتاب سے الگ کرکے فضائے بسیط میں لڑھکا دیا گیا اوراسی کا نام دحوالارض ہے اوربعض حضرات کا کہنا ہے کہ دحو کے معنی فرش بچھانے کے ہیں۔گویا کہ زمین کو ہموار بنا کر قابل سکونت بنادیا گیا اور یہی دحوالارض ہے۔بہر حال روایات میں اس کی تاریخ ۲۵ ذی قعدہ بتائی گئی ہے جس تاریخ کو سرکار دو عالم (ص)حجة الوداع کے لئے مدینہ سے برآمد ہوئے تھے اورتخلیق ارض کی تاریخ مقصد تخلیق سے ہم آہنگ ہوگئی تھی۔اس تاریخ میں روزہ رکھنا بے پناہ ثواب کا حامل ہے اوریہ تاریخ سال کے ان چار دنوں میں شامل ہے جس کا روزہ اجربے حساب رکھتا ہے۔ ۲۵ ذی قعدہ۔۱۷ ربیع الاول۔۲۷ رجب۔۱۸ ذی الحجہ

غور کیجئے ' تو یہ نہایت درجہ حسین انتخاب قدرت ہے کہ پہلا دن وہ ہے جس میں زمین کا فرش بچھایا گیا ۔دوسرا دن وہ ہے جب مقصد تخلیق کائنات کو زمین پر بھیجا گیاتیسرا دن وہ ہے جب اس کے منصب کا اعلان کرکے اس کا کام شروع کرایا گیا اور آخری دن وہ ہے جب اس کا کام مکمل ہوگیا اورصاحب منصب کو''اکملت لکم دینکم'' کی سند مل گئی۔

(۲)یہ اسلام کا مخصوص فلسفہ ہے جو دنیا داری کے کسی نظام میں نہیں پایا جاتاہے۔دنیا داری کا مشہور و معروف نظام و اصول یہ ہے کہ مقصد ہرذریعہ کو جائز بنادیتا ہے۔انسانت کوفقط یہ دیکھنا چاہیے کہ مقصد صحیح اوربلند ہو۔اس کے بعد اس مقصد تک پہنچنے کے لئے کوئی بھی راستہ اختیار کرلے اس میں کوئی حرج اورمضائقہ نہیں ہے لیکن اسلام کا نظام اس سے بالکل مختلف ہے۔وہ دنیا میں مقصد اور مذہب دونوں کا پیغام لے کرآیا ہے۔اس نے'' ان الدین '' کہہ کر اعلان کیا ہے کہ اسلام طریقہ حیات ہے اورعند الله '' کہہ کر واضح کیا ہے کہ اس کا ہدف حقیقی ذات پروردگار سے۔لہٰذا وہ نہ غلط مقصد کو مقصد قرا دینے کی اجازت دے سکتا ہے اورنہ غلط راستہ کو راستہ قرار دینے کی۔اس کا منشاء یہ ہے کہ اس کے ماننے والے صحیح راستہ پرچلیں اور اسی راستہ کے ذریعہ منزل تک پہنچیں۔چنانچہ مولائے کائنات نے سرکاردو عالم (ص) کی اسی فضیلت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آپ نے جاہلیت کے نقار خانہ میں آواز حق بلند کی ہے لیکن اسآواز کو بلند کرنے کا طریقہ اور راستہ بھی صحیح اختیار کیا ہے ورنہ جاہلیت میں آواز بلند کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ اس قدرش ور مچائو کہ دوسرے کی آواز نہ سنائی دے۔اسلام ایسے احمقانہ انداز فکر کی حمایت نہیں کر سکتا ہے۔وہ اپنے فاتحین سے بھی یہی مطالبہ کرتا ہے کہ حق کا پیغام حق کے راستہ ے پہنچائوں' غارت گری اور لو ٹ مار کے ذریعہ نہیں۔یہ اسلام کی پیغام رسانی نہیں ہے۔خدا اور رسول (ص) کے لئے ایذا رسانی ہے جس کا جرم انتہائی سنگین ہے اور اس کی سزا دنیا و آخرت دونوں کی لعنت ہے۔


مُسْتَوْفِزاً فِي مَرْضَاتِكَ - غَيْرَ نَاكِلٍ عَنْ قُدُمٍ ولَا وَاه فِي عَزْمٍ - وَاعِياً لِوَحْيِكَ حَافِظاً لِعَهْدِكَ - مَاضِياً عَلَى نَفَاذِ أَمْرِكَ حَتَّى أَوْرَى قَبَسَ الْقَابِسِ وأَضَاءَ الطَّرِيقَ لِلْخَابِطِ وهُدِيَتْ بِه الْقُلُوبُ بَعْدَ خَوْضَاتِ الْفِتَنِ والآثَامِ - وأَقَامَ بِمُوضِحَاتِ الأَعْلَامِ ونَيِّرَاتِ الأَحْكَامِ - فَهُوَ أَمِينُكَ الْمَأْمُونُ وخَازِنُ عِلْمِكَ الْمَخْزُونِ وشَهِيدُكَ يَوْمَ الدِّينِ وبَعِيثُكَ بِالْحَقِّ - ورَسُولُكَ إِلَى الْخَلْقِ.

الدعاء للنبي

اللَّهُمَّ افْسَحْ لَه مَفْسَحاً فِي ظِلِّكَ واجْزِه مُضَاعَفَاتِ الْخَيْرِ مِنْ فَضْلِكَ - اللَّهُمَّ وأَعْلِ عَلَى بِنَاءِ الْبَانِينَ بِنَاءَه - وأَكْرِمْ لَدَيْكَ مَنْزِلَتَه وأَتْمِمْ لَه نُورَه - واجْزِه مِنِ ابْتِعَاثِكَ لَه مَقْبُولَ الشَّهَادَةِ - مَرْضِيَّ الْمَقَالَةِ ذَا مَنْطِقٍ عَدْلٍ وخُطْبَةٍ فَصْلٍ - اللَّهُمَّ اجْمَعْ بَيْنَنَا وبَيْنَه فِي بَرْدِ الْعَيْشِ وقَرَارِ النِّعْمَةِ ومُنَى الشَّهَوَاتِ وأَهْوَاءِ اللَّذَّاتِ، ورَخَاءِ الدَّعَةِ ومُنْتَهَى الطُّمَأْنِينَةِ وتُحَفِ الْكَرَامَةِ

تیری مرضی کی راہ میں تیز قدم بڑھاتے رہے۔نہ آگے بڑھنے سے انکارکیا اور نہ ان کے ارادوں میں کمزوری آئی۔تیری وحی کو محفوظ کیا۔تیرے عہد کی حفاظت کی تیرے حکم کے نفاذ کی راہمیں بڑھتے رہے۔یہاں تک کہ روشنی کی جستجو کرنے والوں کے لئے آگ روشن کردی اور گم کر دہ راہ کے لئے راستہ واضح کردیا۔ان کے ذریعہ دلوں نے فتنوں اور گناہوں میں غرق رہنے کے بعد بھی ہدایت پالی اور انہوں نے راستہ دکھانے والے نشانات اور واضح احکام قائم کردئیے۔وہ تیرے امانت داربندہ' تیرے پوشیدہ علوم کے خزانہ دار' روز قیامت کے لئے تیرے گواہ' حق کے ساتھ بھیجے ہوئے اورمخلوقات کی طرف تیرے نمائندہ تھے۔

خدایا ان کے لئے اپنے سایہ رحمت میں وسیع ترین منزل قراردیدے اور ان کے خیر کو اپنے فضل سے دگنا چوگنا کردے۔خدایا ان کی عمارت کو تمام عمارتوں سے بلند تر اور ان کی منزل کو اپنے پاس بزرگ تربنادے۔ان کے نورکی تکمیل فرما اور اپنی رسالت کے صلہ میں انہیں مقبول شہادت اور پسندیدہ اقوال کا انعام عنایت کرکہ ان کی گفتگو ہمیشہ عادلانہ اور ان کا فیصلہ ہمیشہ حق و باطل کے درمیان حد فاصل رہا ہے۔

خدایا ہمیں ان کے ساتھ خوشگوارزندگی' نعمات کی منزل ' خواہشات و لذات کی تکمیل کے مرکز۔آرائش و طمانیت کے مقام اور کرامت و شرافت کے تحفوں کی منزل پر جمع کردے ۔


(۷۳)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قاله لمروان بن الحكم بالبصرة

قَالُوا: أُخِذَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ أَسِيراً يَوْمَ الْجَمَلِ - فَاسْتَشْفَعَ الْحَسَنَ والْحُسَيْنَعليه‌السلام إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَعليه‌السلام - فَكَلَّمَاه فِيه فَخَلَّى سَبِيلَه فَقَالَا لَه - يُبَايِعُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ

قَالَعليه‌السلام :

أَولَمْ يُبَايِعْنِي بَعْدَ قَتْلِ عُثْمَانَ - لَا حَاجَةَ لِي فِي بَيْعَتِه إِنَّهَا كَفٌّ يَهُودِيَّةٌ لَوْ بَايَعَنِي بِكَفِّه لَغَدَرَ بِسَبَّتِه أَمَا إِنَّ لَه إِمْرَةً كَلَعْقَةِ الْكَلْبِ أَنْفَه - وهُوَ أَبُو الأَكْبُشِ الأَرْبَعَةِ وسَتَلْقَى الأُمَّةُ مِنْه ومِنْ وَلَدِه يَوْماً أَحْمَرَ.

(۷۴)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

لما عزموا على بيعة عثمان

(۷۳)

(جو مروان بن الحکم سے بصرہ میں فرمایا)

کہا جاتا ہے کہ جب مروان بن الحکم جنگ جمل میں گرفتار ہوگیا تو امام حسن و حسین) ۱ ( نے امیرالمومنین سے اس کی سفارش کی اور آپ نے اسے آزاد کردیا تو دونوں حضرت نے عرض کی کہ یا امیرالمومنین ! یہ اب آپ کی بیعت کرنا چاہتا ہے۔تو آپ نے فرمایا:

کیا اس نے قتل عثمان کے بعد میری بیعت نہیں کی تھی؟ مجھے اس کے بیعت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔یہ ایک یہودی قسم کا ہاتھ ہے۔اگر ہاتھ سے بیعت کر بھی لے گا تو رکیک طریقہ سے اسے توڑ ڈالے گا۔یاد رکھو اسے بھی حکومت ملے گی مگر صر ف اتنی دیر جتنی دیرمیں کتا اپنی ناک چاٹتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ چار بیٹیوں کا باپ بھی ہے اور امت اسلامیہ اس سے اور اس کی اولاد سے بد ترین دن دیکھنے والی ہے۔

(۷۴)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جب لوگوں نے عثمان کی بیعت کرنے کا ارادہ کیا)

(۱)آل محمد (ص) کے اس کردار کا تاریخ کائنات میں کوئی جواب نہیں ہے۔انہوں نے ہمیشہ فضل و کرم سے کام لیا ہے۔حد یہ ہے کہ اگر معاذ اللہ امام حسن و امام حسین کی سفارش کو مستقبل کے حالات سے نا واقفیت بھی تصور کرلیا جائے تو امام زین العابدین کے طرز عمل کو کیا کہا جا سکتا ہے جنہوں نے واقعہ کربلا کے بعد بھی مروان کے گھر والوں کو پناہ دی ہے اور اس بے حیا نے حضرت سے پناہ کی درخواست کی ہے۔درحقیقت یہ بھی یہودیت کی ایک شاخ ہے کہ وقت پڑنے پر ہر ایک کے سامنے ذلیل بن جائو اور کام نکلنے کے بعد پروردگار کی نصیحتوں کی بھی پرواہ نہ کرو۔اللہ دین اسلام کو ہر دور کی یہودیت سے محفوظ رکھے۔


لَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَحَقُّ النَّاسِ بِهَا مِنْ غَيْرِي - ووَ اللَّه لأُسْلِمَنَّ مَا سَلِمَتْ أُمُورُ الْمُسْلِمِينَ - ولَمْ يَكُنْ فِيهَا جَوْرٌ إِلَّا عَلَيَّ خَاصَّةً - الْتِمَاساً لأَجْرِ ذَلِكَ وفَضْلِه - وزُهْداً فِيمَا تَنَافَسْتُمُوه مِنْ زُخْرُفِه وزِبْرِجِه

(۷۵)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لما بلغه اتهام بني أمية له بالمشاركة في دم عثمان

أَولَمْ يَنْه بَنِي أُمَيَّةَ عِلْمُهَا بِي عَنْ قَرْفِي أَومَا وَزَعَ الْجُهَّالَ سَابِقَتِي عَنْ تُهَمَتِي - ولَمَا وَعَظَهُمُ اللَّه بِه أَبْلَغُ مِنْ لِسَانِي - أَنَا حَجِيجُ الْمَارِقِينَ وخَصِيمُ النَّاكِثِينَ الْمُرْتَابِينَ وعَلَى كِتَابِ اللَّه تُعْرَضُ الأَمْثَالُ وبِمَا فِي الصُّدُورِ تُجَازَى الْعِبَادُ!

تمہیں معلوم ہے کہ میں تمام لوگوں میں سب سے زیادہ خلافت کا حقدار ہوں اور خدا گواہ ہے کہ میں اس وقت تک حالات(۲) کاساتھ دیتا رہوں گا جب تک مسلمانوں کے مسائل ٹھیک رہیں اور ظلم صرف میری ذات تک محدود رہے تاکہ میں اس کا اجرو ثواب حاصل کر سکوں اور اس زیب و زینت دنیا سے اپنی بے نیازی کا اظہار کر سکوں جس کے لئے تم سب مرے جا رہے ہو۔

(۷۵)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب آپ کو خبر ملی کہ بنی امیہ آپ پر خون عثمان کا الزام لگا رہے ہیں)

کیا بنی امیہ کے واقعی معلومات انہیں مجھ پر الزام تراشی سے نہیں روک سکے اور کیا جاہلوں کو میرے کارنامے اس اتہام سے باز نہیں رکھ سکے؟ یقینا پروردگار نے تہمت و افترا کے خلاف جو نصیحت فرمائی ہے وہ میرے بیان سے کہیں زیادہ بلیغ ہے۔میں بہر حال ان بے دینوں پرحجت تمام کرنے والا'ان عہد شکن مبتلائے تشکیک افراد کا دشمن ہوں۔اور تمام مشتبہ معاملات کو کتاب خداپرپیش کرنا چاہیے۔اور روز قیامت بندوں کا حساب ان کے دلوں کے مضمرات (نیتوں) ہی پر ہوگا۔

(۲)امیر المومنین کا مقصد یہ ہے کہ خلافت میرے لئے کسی ہدف اور مقصد حیات کا مرتبہ نہیں رکھتی ہے۔یہ در حقیقت عام انسانیت کے لئے سکون و اطمینان فراہم کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔لہٰذا اگر یہ مقصد کسی بھی ذریعہ سے حاصل ہوگیا تو میرے لئے سکوت جائز ہو جائے گا اور میں اپنے اوپر ظلم کو برداشت کرلوں گا۔دوسرا فقرہ اس بات کی دلیل ہے کہ باطل خلافت سے مکمل عدل و اناصف اور سکون و اطمینان کی توقع محال ہے لیکن مولائے کائنات کا منشاء یہ ہے کہ اگر ظلم کا نشانہ میری ذات ہوگی تو برداشت کرلوں گا لیکن عوام الناس ہوں گے اور میرے پاس مادی طاقت ہوگی تو ہرگز برداشت نہ کروں گا کہ یہ عہد الٰہی کے خلاف ہے۔


(۷۶)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في الحث على العمل الصالح

رَحِمَ اللَّه امْرَأً سَمِعَ حُكْماً فَوَعَىودُعِيَ إِلَى رَشَادٍ فَدَنَا وأَخَذَ بِحُجْزَةِ هَادٍ فَنَجَا - رَاقَبَ رَبَّه وخَافَ ذَنْبَه قَدَّمَ خَالِصاً وعَمِلَ صَالِحاً - اكْتَسَبَ مَذْخُوراً واجْتَنَبَ مَحْذُوراً - ورَمَى غَرَضاً وأَحْرَزَ عِوَضاً كَابَرَ هَوَاه وكَذَّبَ مُنَاه - جَعَلَ الصَّبْرَ مَطِيَّةَ نَجَاتِه والتَّقْوَى عُدَّةَ وَفَاتِه - رَكِبَ الطَّرِيقَةَ الْغَرَّاءَ ولَزِمَ الْمَحَجَّةَ الْبَيْضَاءَ - اغْتَنَمَ الْمَهَلَ وبَادَرَ الأَجَلَ وتَزَوَّدَ مِنَ الْعَمَلِ.

(۷۶)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں عمل صالح پرآمادہ کیا گیا ہے)

خدا رحمت نازل(۱) کرے اس بندہ پر جو کسی حکمت کو سنے تو محفوظ کرلے اور اسے کسی ہدایت کی دعوت دی جائے تو اس سے قریب تر ہو جائے اور کسی راہنما سے وابستہ ہو جائے تو نجات حاصل کرلے۔اپنے پروردگار کو ہر وقت نظر میں رکھے اور گناہوں سے ڈرتا رہے۔خالص اعمال کوآگے بڑھائے اور نیک اعمال کرتا رہے۔قابل ذخیرہ ثواب حاصل کرے۔قابل پرہیز چیزوں سے اجتناب کرے۔مقصد کو نگاہوں میں رکھے۔اجرسمیٹ لے۔خواہشات پر غالب آجائے اورتمنائوں کو جھٹلادے ۔صبر کو نجات کا مرکب بنالے اورتقویٰ کو وفات کاذخیرہ قرار دے لے۔روشن راستہ پر چلے اور واضح شاہراہ کو اختیار کرلے۔مہلت حیات کو غنیمت قراردے اور موت کی طرف خود سبقت کرے اور عمل کا زاد راہ لے کرآگے بڑھے۔

(۱)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ رحمت الٰہی کا دائرہ بے حد وسیع ہے اور مسلم و کافر۔دین دارو بے دین سب کو شامل ہے۔یہ ہمیشہ غضب الٰہی سے آگے آگے چلتی ہے۔لیکن روز قیامت اس رحمت کا استحقاق آسان نہیں ہے۔وہ حساب کادن ہے اور خدائے واحد قہار کی حکومت کا دن ہے۔لہٰذا اس دن رحمت خداکے استحقاق کے لئے ان تمام چیزوں کواختیارکرنا ہوگا جن کی طرف مولائے کائنات نے اشارہ کیا ہے اور ان کے بغیر رحمة اللعالمین کا کلمہ اور ان کی محبت کا دعویٰ بھی کام نہیں آسکتا ہے۔دنیا کے احکام الگ ہیں اور آخرت کے احکام الگ ہیں۔یہاں کا نظام رحمت الگ ہے اور وہاں کا نظام مکافات و مجازات الگ۔


(۷۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وذلك حين منعه سعيد بن العاص حقه

إِنَّ بَنِي أُمَيَّةَ لَيُفَوِّقُونَنِي تُرَاثَ مُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تَفْوِيقاً - واللَّه لَئِنْ بَقِيتُ لَهُمْ - لأَنْفُضَنَّهُمْ نَفْضَ اللَّحَّامِ الْوِذَامَ التَّرِبَةَ!

قال الشريف - ويروى التراب الوذمة وهو على القلب

قال الشريف وقولهعليه‌السلام ليفوقونني - أي يعطونني من المال قليلا كفواق الناقة - وهو الحلبة الواحدة من لبنها -. والوذام جمع وذمة - وهي الحزة من الكرش أو الكبد تقع في التراب فتنفض.

(۷۸)

من كلمات كانعليه‌السلام

من كلمات كانعليه‌السلام يدعو بها

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِه مِنِّي - فَإِنْ عُدْتُ فَعُدْ عَلَيَّ بِالْمَغْفِرَةِ

(۷۷)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب سعید بن العاص نے آپ کو آپ کے حق سے محروم کردیا)

یہ بنی امیہ مجھے میراث پیغمبر(ص) کوبھی تھوڑا تھوڑا کرکے دے رہے ہیں حالانکہ اگر میں زندہ رہ گیا تو اس طرح جھاڑ کرپھینک(۱) دوں گاجس طرح قصاب گوشت کے ٹکڑے سے مٹی کوجھاڑ دیتا ہے۔

سید رضی :بعض روایات میں '' وذام تربہ''کے بجائے ''تراب الوذمہ''ہے جو معنی کے اعتبارسےمعکوس ترکیب ہے۔''لیفو قوفنی''کامفہوم ہے مال کا تھوڑا تھوڑا کرکے دنیا جس طرح کہ اونٹ کا دودھ نکالا جاتا ہے۔فواق اونٹ کا ایک مرتبہ کا دوھا ہوا دودھ ہے اوروذام وذمہ کی جمع ہے جس کے معنی ٹکڑےکےہیں یعنی جگہ یاآنتوں کاوہ ٹکڑا جوزمین پر گر جائے۔

(۷۸)

آپ کی دعا

(جسے برابر تکرار فرمایا کرتے تھے)

خدایا میری خاطر ان چیزوں کو معاف کردے جنہیں تو مجھ سے بہتر جانتا ہے اور اگر پھران امور کی تکرار ہوتو تو ' بھی مغفرت کی تکرار فرما:

(۱)کتنی حسین تشبیہ ہے کہ بنی امیہ کی حیثیت اسلام میں نہ جگر کی ہے نہ معدہ کی اورنہ جگر کے ٹکڑے کی ۔یہ وہ گروہیں جو الگ ہو جانے والے کپڑے سے چپک جاتی ہے لیکن گوشت کا استعمال کرنے والا اسے بھی برداشت نہیں کرتا ہے اوراسے جھاڑنے کے بعد ہی خریدار کے حوالے کر تا ہے تاکہ دکان بد نام نہ ہونے پائے اور تاجر نا تجربہ کار اور بذ ذوق نہ کہا جاسکے !


اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا وَأَيْتُ مِنْ نَفْسِي ولَمْ تَجِدْ لَه وَفَاءً عِنْدِي - اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا تَقَرَّبْتُ بِه إِلَيْكَ بِلِسَانِي ثُمَّ خَالَفَه قَلْبِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي رَمَزَاتِ الأَلْحَاظِ وسَقَطَاتِ الأَلْفَاظِ وشَهَوَاتِ الْجَنَانِ وهَفَوَاتِ اللِّسَانِ

(۷۹)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قاله لبعض أصحابه - لما عزم على المسير إلى الخوارج، وقد قال له: إن سرت يا أمير المؤمنين، في هذا الوقت، خشيت ألا تظفر بمرادك، من طريق علم النجوم

فقالعليه‌السلام : أَتَزْعُمُ أَنَّكَ تَهْدِي إِلَى السَّاعَةِ الَّتِي مَنْ سَارَ فِيهَا صُرِفَ عَنْه السُّوءُ - وتُخَوِّفُ مِنَ السَّاعَةِ الَّتِي مَنْ سَارَ فِيهَا حَاقَ بِه الضُّرُّ فَمَنْ صَدَّقَكَ بِهَذَا فَقَدْ كَذَّبَ الْقُرْآنَ - واسْتَغْنَى عَنِ الِاسْتِعَانَةِ بِاللَّه - فِي نَيْلِ الْمَحْبُوبِ ودَفْعِ الْمَكْرُوه وتَبْتَغِي فِي قَوْلِكَ لِلْعَامِلِ بِأَمْرِكَ - أَنْ يُولِيَكَ الْحَمْدَ دُونَ رَبِّه - لأَنَّكَ بِزَعْمِكَ أَنْتَ هَدَيْتَه إِلَى السَّاعَةِ - الَّتِي نَالَ فِيهَا النَّفْعَ وأَمِنَ الضُّرَّ.

خدایا ان وعدوں کے بارے میں بھی مغفرت فرما جن کا تجھ سے وعدہ کیا گیا لیکن انہیں وفا نہ کیا جاسکا۔خدایا ان اعمال کی بھی غفرت فرما جن میں زبان سے تیری قربت اختیار کی گئی لیکن دل نے اس کی مخالفت ہی کی۔

خدایا آنکھوں کے طنز یہ اشاروں ۔دہن کے ناشائستہ کلمات۔دل کی بے جا خواہشات اور زبان کی ہر زہ سرائیوں کو بھی معاف فرمادے۔

(۷۹)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب جنگ خوارج کے لئے نکلتے وقت بعض اصحاب نے کہا کہ امیر المومنین اس سفر کے لئے کوئی دوسرا وقت اختیار فرمائیں۔اس وقت کامیابی کے امکانات نہیں ہیں کہ علم نجوم کے حسابات سے یہی اندازہ ہوتا ہے)

کیا تمہارا خیال یہ ہے کہ تمہیں وہ ساعت معلوم ہے جس میں نکلنے والے سے بلائیں ٹل جائیں گی اورتم اس ساعت سے ڈرانا چاہتے ہو جس میں سفر کرنے والا نقصانات میں گھرجائے گا؟ یاد رکھو جو تمہارے اس بیان کی تصدیق کرے گا وہ قرآن کی تکذیب کرنے والا ہوگا اور محبوب اشیاء کے حصول اور نا پسندیدہ امور کے دفع کرنے میں مدد خدا سے بے نیاز ہو جائے گا۔کیا تمہاریخواہش یہ ہے کہ تمہارے افعال کے مطابق عمل کرنے والا پروردگار کے بجائے تمہاری ہی تعریف کرے اس لئے کہ تم نے اپنے خیال میں اسے اس ساعت کا پتہ بتا دیا ہے جس میں منفعت حاصل کی جاتی ہے اور نقصانات سے محفوظ رہا جاتا ہے۔


ثم أقبلعليه‌السلام على الناس فقال:

أَيُّهَا النَّاسُ - إِيَّاكُمْ وتَعَلُّمَ النُّجُومِ إِلَّا مَا يُهْتَدَى بِه فِي بَرٍّ أَوْ بَحْرٍ - فَإِنَّهَا تَدْعُو إِلَى الْكَهَانَةِ - والْمُنَجِّمُ كَالْكَاهِنِ والْكَاهِنُ كَالسَّاحِرِ والسَّاحِرُ كَالْكَافِرِ - والْكَافِرُ فِي النَّارِ سِيرُوا عَلَى اسْمِ اللَّه

(۸۰)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

بعد فراغه من حرب الجمل في ذم النساء ببيان نقصهن

مَعَاشِرَ النَّاسِ إِنَّ النِّسَاءَ نَوَاقِصُ الإِيمَانِ - نَوَاقِصُ الْحُظُوظِ، نَوَاقِصُ الْعُقُولِ

ایہا الناس! خبر دار نجوم کا(۱) مت حاصل کرو مگر اتنا ہی جس سے برو بحر میں راستے دریافت کئے جا سکیں۔ کہ یہ علم کہانت کی طرف لے جاتا ہے اور منجم بھی ایک طرح کا کاہن ( غیب کی خبر دینے والا ) ہو جاتا ہے جب کہ کاہن جادوگرجیسا ہوتا ہے اور جادو گر کافر جیسا ہوتا ہے اور کافر کا انجام جہنم ہے۔چلو نام خدا لے کرنکل پڑو۔

(۸۰)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جنگ جمل سے فراغت کے بعد عورتوں کی مذمت کے بارے میں)

لوگو! یاد رکھو کہ عورتیں ایمان کے اعتبارسے' میراث کے حصہ کے اعتبار سے اور عقل کے اعتبارسے ناقص ہوتی ہیں۔

(۱)واضح رہے کہ علم نجوم حاصل کرنے سے مراوان اثرات ونتائج کا معلوم کرنا ہے جو ستاروں کی حرکات کے بارے میں اس علم کے مدعی حضرات نے بیان کئے ہیں ورنہ اصل ستاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا کوئی عیب نہیں ہے۔اس سے انسان کے ایمان اورعقیدہ میں بھی استحکام پیدا ہوتا ہے اور بہت سے دوسرے مسائل بھی حل ہو جاتے ہیں۔اور ستاروں کاوہ علم جو ان کے حقیقی اثرات پرمبنی ہے ایک فضل و شرف ہے اورعلم پروردگارکا ایک شعبہ ہے وہ جسے چاہتا ہے عنایت کر دیتا ہے۔

امام علیہ السلام نے اولا علم نجوم کو کہانت کا ایک شعبہ قرار دیا کہ غیب کی خبر دینے والے اپنے اخبار کے مختلف مآخذ ومدارک بیان کرتے ہیں۔جن میں سے ایک علم نجوم بھی ہے۔اس کے بعد جب ہ غیب کی خبریں بیان کر دیتے ہیں تو انہیں خبروں کے ذریعہ انسان کے دل و دماغ پر مسلط ہو جانا چاہتے ہیں جو جادوگری کا ایک شعبہ ہے اور جادوگری انسان کو یہ محسوس کرانا چاہتی ہے کہ اس کائنات میں عمل دخل ہمارا ہی ہے اور اس جادو کا چڑھانا اوراتارنا ہمارے ہی بس کا کام ہے' دوسرا کوئی یہ کارنامہ انجام نہیں دے سکتا ہے اور اسی کا نام کفر ہے۔


فَأَمَّا نُقْصَانُ إِيمَانِهِنَّ - فَقُعُودُهُنَّ عَنِ الصَّلَاةِ والصِّيَامِ فِي أَيَّامِ حَيْضِهِنَّ - وأَمَّا نُقْصَانُ عُقُولِهِنَّ فَشَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ كَشَهَادَةِ الرَّجُلِ الْوَاحِدِ - وأَمَّا نُقْصَانُ حُظُوظِهِنَّ - فَمَوَارِيثُهُنَّ عَلَى الأَنْصَافِ مِنْ مَوَارِيثِ الرِّجَالِ - فَاتَّقُوا شِرَارَ النِّسَاءِ وكُونُوا مِنْ خِيَارِهِنَّ عَلَى حَذَرٍ - ولَا تُطِيعُوهُنَّ فِي الْمَعْرُوفِ حَتَّى لَا يَطْمَعْنَ فِي الْمُنْكَرِ.

(۸۱)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في الزهد

أَيُّهَا النَّاسُ الزَّهَادَةُ قِصَرُ الأَمَلِ - والشُّكْرُ عِنْدَ النِّعَمِ والتَّوَرُّعُ عِنْدَ الْمَحَارِمِ - فَإِنْ عَزَبَ ذَلِكَ عَنْكُمْ فَلَا يَغْلِبِ الْحَرَامُ صَبْرَكُمْ - ولَا تَنْسَوْا عِنْدَ النِّعَمِ شُكْرَكُمْ

ایمان کے اعتبار(۱) سے ناقص ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ امام حیض میں نماز روزہ سے بیٹھ جاتی ہیں اور عقلوں کے اعتبار سے ناقص ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان میں دو عورتوں کی گواہی ایک مردکے برابر ( ہوتی ہے۔حصہ کی کمی یہ ہے کہ انہیں میراث میں حصہ مردوں کے آدھے حصہ کے برابر ملتا ہے ۔ لہٰذا تم بدترین عورتوں سے بچتے رہو اور بہترین عورتوں سے بھی ہوشیار رہو اورخبردار نیک کام بھی ان کی اطاعت کی بنا پر انجام نہ دینا کہ انہیں برے کام کا حکم دینے کاخیال پیدا ہو جائے۔

(۸۱)

آپ کا ارشاد گرامی

(زہد کے بارے میں)

ایہاالناس! زاہد امیدوں کے کم کرنے' نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے اورمحرمات سے پرہیز کرنے کا نام ہے۔اب اگر یہ کام تمہارے لئے مشکل ہو جائے تو کم از کم اتنا کرناکہ حرام تمہاری قوت برداشت پر غالب نہ آنے پائے اور نعمتوں کے موقع پر شکریہ کو فراموش نہ کر دینا

(۱)اس خطبہ میں اس نکتہ پر نظر رکھنا ضروری ہے کہ یہ جنگ جمل کے بعد ارشاد فرمایا گیا ہے اور اس کے مفاہیم میں کلیات کی طرح صورت حال اور تجربات کابھی دخل ہو سکتا ہے یعنی یہ کوئی لازم نہیں ہے کہ اس کا اطلاق ہر عورت پر ہو جائے۔دنیا میں ایسی خاتون بھی ہو سکتی ہے جو نسوانی عوارض سے پاک ہو۔اس کی گواہی بنض قرآن تنہا قابل قبول ہو اور وہ اپنے باپ کی تنہا وارث ہو۔ظاہر ہے کہ اس خاتون میں کسی طرح کا نقص نہیں پایا جاتا ہے جیسے جناب فاطمہ اور ایسی عورت بھی ہو سکتی ہے جس میں سارے نقائص پائے جاتے ہوں اور ان فطری نقائص کے ساتھ کرداری اور ایمانی نقائص بھی ہوں کہ یہ عورت ہر اعتبار سے قابل لعنت و مذمت ہو۔قوانین کا دارومدار نہ قسم اول پر ہوسکتا ہے اورنہ قسم دوم پر۔قوانین کا اطلاق درمیانی قسم پر ہوتا ہے۔جس میں کسی طرح کا امتیاز نہ پایا جاتا ہو اور صرف فطرت نسوانی کی کارفرمائی ہواور امیر المومنین کی اطاعت کی تھی یا انہیں بھڑکایا تھا۔پھر امیر المومنین امام معصوم ہیں کوئی جذباتی انسان نہیں ہیں اور ان سے پہلے رسول اکرم (ص) بھی یہ بات فرماچکے ہیں۔ البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس اعلان کے لئے ایک مناسب موقع ہاتھ آگیا جہاں اپنی بات کو بخوبی واضح کیا جا سکتا ہے اور عورت کے اتباع کے نتائج سے باخبر کیا جا سکتا ہے۔


فَقَدْ أَعْذَرَ اللَّه إِلَيْكُمْ بِحُجَجٍ مُسْفِرَةٍ ظَاهِرَةٍ - وكُتُبٍ بَارِزَةِ الْعُذْرِ وَاضِحَةٍ.

(۸۲)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في ذم صفة الدنيا

مَا أَصِفُ مِنْ دَارٍ أَوَّلُهَا عَنَاءٌ وآخِرُهَا فَنَاءٌ - فِي حَلَالِهَا حِسَابٌ وفِي حَرَامِهَا عِقَابٌ - مَنِ اسْتَغْنَى فِيهَا فُتِنَ - ومَنِ افْتَقَرَ فِيهَا حَزِنَ ومَنْ سَاعَاهَا فَاتَتْه - ومَنْ قَعَدَ عَنْهَا وَاتَتْه ومَنْ أَبْصَرَ بِهَا بَصَّرَتْه ومَنْ أَبْصَرَ إِلَيْهَا أَعْمَتْه.

قال الشريف - أقول وإذا تأمل المتأمل قولهعليه‌السلام ومن أبصر بها بصرته - وجد تحته من المعنى العجيب والغرض البعيد - ما لا تبلغ غايته ولا يدرك غوره - لا سيما إذا قرن إليه قوله ومن أبصر إليها أعمته - فإنه يجد الفرق بين أبصر بها - وأبصر إليها واضحا نيرا وعجيبا باهرا

کہ پروردگار نے نہایت درجہ واضح اور روشن دلیلوں اورحجت تمام کرنے والی کتابوں کے ذریعہ تمہارے ہر عذر کا خاتمہ کردیا ہے۔

(۸۲)

آپ کا ارشاد گرامی

(دنیا کے صفات کے بارے میں )

میں اس دنیا کے بارے میں کیا کہوں جس کی ابتدا رنج و غم اورانتہا فنا ونیستی ہے۔اس کے حلال میں حساب میں ہے اور حرام میں عقاب ۔جو اس میں غنی ہو جائے وہ آزمائشوں میں مبتلا ہو جائے اور جو فقیر ہو جائے وہ رنجیدہ و افسردہ ہو جائے۔جو اس کی طرف دوڑ لگائے اس کے ہاتھ سے نکل جائے اور جو منہ پھیر کر بیٹھ رہے اس کے پاس حاضر ہو جائے۔جو اس کو ذریعہ بنا کر آگے دیکھے اسے بینا بنا دے اور جو اس کو منظور نظر بنالے اسے اندھا بنادے۔

سید رضی : اگر کوئی شخص حضرت کے اس ارشاد گرامی'' من ابصر بها بصرته'' میں غورکرے تو عجیب و غریب معانی اور دور رس حقائق کا ادراک کرلے گا جن کی بلندیوں اورگہرائیوں کا ادراک ممکن نہیں ہے۔خصوصیت کے ساتھ اگر دوسرے فقرہ'' من ابصر الیها اعتمه'' کوملایا جائے تو''ابصر بها '' اور ''ابصر الیها '' کا فرق اور نمایاں ہو جائے گا اور عقل مدہوش ہو جائے گی۔


(۸۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وهي الخطبة العجيبة تسمى «الغراء»

وفيها نعوت اللَّه جل شأنه، ثم الوصية بتقواهثم التنفير من الدنيا، ثم ما يلحق من دخولالقيامة، ثم تنبيه الخلق إلى ما هم فيه من الأعراض، ثم فضلهعليه‌السلام في التذكير

صفته جل شأنه

الْحَمْدُ لِلَّه الَّذِي عَلَا بِحَوْلِه ودَنَا بِطَوْلِه مَانِحِ كُلِّ غَنِيمَةٍ وفَضْلٍ وكَاشِفِ كُلِّ عَظِيمَةٍ وأَزْلٍ أَحْمَدُه عَلَى عَوَاطِفِ كَرَمِه وسَوَابِغِ نِعَمِه وأُومِنُ بِه أَوَّلًا بَادِياً وأَسْتَهْدِيه قَرِيباً هَادِياً - وأَسْتَعِينُه قَاهِراً قَادِراً وأَتَوَكَّلُ عَلَيْه كَافِياً نَاصِراً - وأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداًصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عَبْدُه ورَسُولُه

(۸۳)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

اس خطبہ میں پروردگارکے صفات 'تقویٰ کی نصیحت ' دنیا سے بیزاری کاسبق قیامت کےحالات لوگوں کی بے رخی پر تنبیہ اورپھر یادخدا دلانے میں اپنی فضیلت کا ذکر کیا گیا ہے۔

ساری تعریف(۱) اس اللہ کے لئے ہے جو اپنی طاقت کی بنا پر بلند اور اپنے احسانات کی بنا پر بندوں سے قریب تر ہے۔وہ ہر فائدہ اورفضل کا عطا کرنے والا اور ہر مصیبت اوررنج کا ٹالنے والا ہے۔میں اس کی کرم نوازیوں اورنعمتوں کی فراوانیوں کی بنا پر اس کی تعریف کرتا ہوں اور اس پر ایمان رکھتا ہوں کہ وہی اول اور ظاہر ہے اور اسی سے ہدایت طلب کرتا ہو کہ وہی قریب اور ہادی ہے۔اسی سے مددچاہتا ہوں کہ وہی قادر اور قاہر ہے۔اور اسی پر بھروسہ کرتا ہوں کہ وہی کافی اور ناصر ہے۔اور میں گواہی دیتا ہو کہ حضرت محمد (ص) اس کے بندہ اور رسول ہیں

(۱) یوں تو امیر المومنین کے کسی بھی خطبہ کی تعریف کرنا سورج کوچراغ دکھانے کے مترادف ہے لیکن حقیقت امر یہ ہے کہ یہ خطبہ غراء کہے جانے کے قابل ہے جس میں اس قدرحقائق و معارف اور معانی و مفاہیم کو جمع کردیا گیا ہے کہ ان کا شمار کرنا بھی طاقت بشر سے بالا تر ہے ۔ آغاز خطبہ میں مالک کائنات کے بظاہر دو متضاد صفات و کمالات کاذکر کیا یا ہے کہ وہ اپنی طاقت کے اعتبارسے انتہائی بلند تر ہے لیکن اس کے بعد بھی بندوں سے دورنہیں ہے اس لئے کہ ہرآن اپنے بندوں پر ایسا کرم کرتا رہتا ہے کہ یہ کرم اسے بندوں سے قریب تر بنائے ہوئے ہے اور اسے دورنہیں ہونے دیتا ہے۔لفظ'' بحولہ'' میں اس نکتہ کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اس کی بلندی کسی وسیلہ اورذریعہ کی بنا پر نہیں ہے بلکہ یہ اپنی ذاتی طاقت اور قدرت کا نتجیہ ہے ورنہ اس کے علاوہ ہر ایک کوبلندی اس کے فضل و کرم سے وابستہ ہے اور اس کے بغیر بلندی کا کوئی امکان نہیں ہے۔وہ اگر چاہے تو بندہ کو قاب قوسین کی منزلوں تک بلند کردے ''اسری بعبدہ'' اوراگر چاہے تو '' صاحب معراج '' کے کاندھوں پربلند کردے ''وعلی واضع اقدامہ ۔فی محل وضع اللہ یدہ ''۔اس کے بعد پیغمبر اسلام (ص) کی بعثت کے تین بنیادی مقاصد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اس بعثت کا اصل مقصد یہ تھا کہ الٰہی احکام نافذہو جائیں بندوں پرحجت تمام ہو جائے اورانہیں قیامت میں پیش آنے والے حالات سے قبل از وقت با خبر کردیا جائے کہ یہ کام نمائندہ پروردگار کے علاوہ کوئی دوسرا انجام نہیں دے سکتا ہے اوری ہخدائی نمائندگی کے فوائد میں سب سے عظیم تر فائدہ ہے جس کی بنا پرانسان رسالت الہیہ سے کسی وقت بھی بے نیاز نہیں ہو سکتا ہے۔


أَرْسَلَه لإِنْفَاذِ أَمْرِه وإِنْهَاءِ عُذْرِه وتَقْدِيمِ نُذُرِه

الوصية بالتقوى

أُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّه بِتَقْوَى اللَّه الَّذِي ضَرَبَ الأَمْثَالَ ووَقَّتَ لَكُمُ الآجَالَ وأَلْبَسَكُمُ الرِّيَاشَ وأَرْفَغَ لَكُمُ الْمَعَاشَ وأَحَاطَ بِكُمُ الإِحْصَاءَ وأَرْصَدَ لَكُمُ الْجَزَاءَ وآثَرَكُمْ بِالنِّعَمِ السَّوَابِغِ، والرِّفَدِ الرَّوَافِغِ وأَنْذَرَكُمْ بِالْحُجَجِ الْبَوَالِغِ فَأَحْصَاكُمْ عَدَداً - ووَظَّفَ لَكُمْ مُدَداً فِي قَرَارِ خِبْرَةٍ ودَارِ عِبْرَةٍ - أَنْتُمْ مُخْتَبَرُونَ فِيهَا ومُحَاسَبُونَ عَلَيْهَا.

التنفير من الدنيا

فَإِنَّ الدُّنْيَا رَنِقٌ مَشْرَبُهَا رَدِغٌ مَشْرَعُهَا - يُونِقُ مَنْظَرُهَا ويُوبِقُ مَخْبَرُهَا - غُرُورٌ حَائِلٌ

انہیں پروردگارنے اپنے حکم کو نافذ کرنے ' اپنی حجت کوت مام کرنے اورعذاب کی خبریں پیش کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ بند گان خدا!میں تمہیں اس خدا سے ڈرنے کی دعوت دیتا ہوں جس نے تمہاری ہدایت کے لئے مثالیں بیان کی ہیں تمہاری زندگی کے لئے مدت معین کی ہے تمہیں مختلف قسم کے لباس پہنائے ہیں۔ تمہارے لئے اسباب معیشت کو فراواں کردیا ہے۔تمہارے اعمال کا مکمل احاطہ کر رکھا ہے اور تمہارے لئے جزا کا انتظام کر دیا ہے۔تمہیں مکمل نعمتوں اوروسیع تر عطیوں سے نوازاہے اورموثردلیلوں کے ذریعہ عذاب آخرت سے ڈرایا ہے۔تمہار ے اعداد کو شمار کرلیا ہے اور تمہارے لئے اس امتحان گاہ اور مقام عبرت میں مدتیں معین کردی ہیں۔یہیں تمہارا امتحان لیا جائے گا اور اسی کے اقوال و اعمال پر تمہارا حساب کیا جائے گا۔ یاد رکھو اس دنیا کا سرچشمہ گندہ اور اس کا گھاٹ گل آلود ہے۔اس کا منظر خوبصورت دکھائی دیتا ہے۔لیکن اندر کے حالات انتہائی درجہ خطر ناک ہیں۔یہ دنیا ایک مٹ جانے والا دھوکہ(۱) ہے

(۱)ایک ایک لفظ پرغور کیا جائے اور دنیا کی حقیقت سے آشنائی پیدا کی جائے ۔صورت حال یہ ہے کہ یہ ایک دھوکہ ہے جو رہنے والا نہیں ہے ایک روشنی ہے جو بجھ جانے والی ہے۔ایک سایہ ہے جوڈھل جانے والا ہے اور ایک سہارا ہے جو گر جانے والا ہے۔انصاف سے بتائو کیا ایسی دنیا بھی دل گلانے کے قابل اور اعتبار کرنے کے لائق ہے۔حقیقت امر یہ ہے کہ دنیا سے عشق و محبت صرف جہالت اورناواقفیت کا نتیجہ ہے ورنہ انسان اس کی حقیقت و بیوفائی سے با خبر ہو جائے تو طلاق دئیے بغیر نہیں رہ سکتا ہے۔

قیامت یہ ہے کہ انسان دنیا کی بیوفائی ۔موت کی چیرہ دستی کا برابر مشاہدہ کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود کوئی عبرت حاصل کرنیوالا نہیں ہے اور ہرآنے والا دور گزشتہ دورکا انجام دیکھنے کے بعد بھی اسی راستہ پر چل رہاہے۔ یہ حقیقت عام انسانوں کی زندگی میں واضح نہ بھی ہو تو ظالموں اورستمگروں کی زندگی میں صبح و شام واضح ہوتی رہتی ہے کہ ہر ستمگر اپنے پہلے والے ستمگروں کا انجام دیکھنے کے بعد بھی اسی راستہ پر چل رہا ہے اور ہر مسئلہ حیات کا حل ظلم و ستم کے علاوہ کسی اور چیز کو نہیں قرار دیتا ہے۔خدا جانے ان ظالموں کی آنکھیں کب کھلیں گی اور یہ اندھا انسان کب بینا بنے گا۔مولائے کائنات ہی نے سچ فرمایا تھا کہ '' سارے انسان سو رہے ہیں جب موت آجائے گی تو بیدار ہو جائیں گے ''یعنی جب تک آنکھ کھلی رہے گی بند رہے گی اور جب بند ہو جائے گی تو کھل جائے گی۔استغفر اللہ ربی واتوب الیہ


وضَوْءٌ آفِلٌ وظِلٌّ زَائِلٌ وسِنَادٌ مَائِلٌ حَتَّى إِذَا أَنِسَ نَافِرُهَا واطْمَأَنَّ نَاكِرُهَاقَمَصَتْ بِأَرْجُلِهَا وقَنَصَتْ بِأَحْبُلِهَا وأَقْصَدَتْ بِأَسْهُمِهَا وأَعْلَقَتِ الْمَرْءَ أَوْهَاقَ الْمَنِيَّةِ قَائِدَةً لَه إِلَى ضَنْكِ الْمَضْجَعِ ووَحْشَةِ الْمَرْجِعِ - ومُعَايَنَةِ الْمَحَلِّ وثَوَابِ الْعَمَلِ وكَذَلِكَ الْخَلَفُ بِعَقْبِ السَّلَفِ لَا تُقْلِعُ الْمَنِيَّةُ اخْتِرَاماً ولَا يَرْعَوِي الْبَاقُونَ اجْتِرَاماً يَحْتَذُونَ مِثَالًا ويَمْضُونَ أَرْسَالًا إِلَى غَايَةِ الِانْتِهَاءِ وصَيُّورِ الْفَنَاءِ

بعد الموت البعث

حَتَّى إِذَا تَصَرَّمَتِ الأُمُورُ - وتَقَضَّتِ الدُّهُورُ وأَزِفَ النُّشُورُ أَخْرَجَهُمْ مِنْ ضَرَائِحِ الْقُبُورِ وأَوْكَارِ الطُّيُورِ وأَوْجِرَةِ السِّبَاعِ ومَطَارِحِ الْمَهَالِكِ سِرَاعاً إِلَى أَمْرِه مُهْطِعِينَ إِلَى مَعَادِه رَعِيلًا صُمُوتاً قِيَاماً صُفُوفاً - يَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ ويُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي - عَلَيْهِمْ لَبُوسُ الِاسْتِكَانَةِ وضَرَعُ الِاسْتِسْلَامِ والذِّلَّةِ - قَدْ ضَلَّتِ الْحِيَلُ وانْقَطَعَ الأَمَلُ وهَوَتِ الأَفْئِدَةُ كَاظِمَةً

ایک بجھ جانے والی روشنی۔ایک ڈھل جانے والا سایہ اور ایک گر جانے والا سہارا ہے۔جب اس سے نفرت کرنے والا مانوس ہوجاتا ے ہے اوراسے برا سمجھنے والا مطمئن ہوجاتا ہے تو یہ اچانک اپنے پیروں کو ٹپکنے لگتی ہے اور عاشق کواپنے جال میں گرفتار کر لیتی ہے اور پھراپنے تیروں کا نشانہ بنالیتی ہے۔انسان کی گردن می ں موت کا پھنڈا ڈال دیتی ہے اور اسے کھینچ کرتنگی مرقداور وحشت منزل کی طرف لے جاتی ہے جہاں وہ اپناٹھکانہ دیکھ لیتا ہے اور اپنے اعمال کا معاوضہ حاصل کر لیتا ہے اور یوں ہی یہ سلسلہ نسلوں میں چلتا رہتا ہے کہ اولاد بزرگوں کی جگہ پرآجاتی ہے۔نہ موت چیرہ دستیوں سے بازآتی ہے اورنہ آنے والے افرادگناہوں سے باز آتے ہیں۔پرانے لوگوں کے نقش قدم پر چلتے رہتے ہیں اور تیزی کے ساتھ اپنی آخری منزل انتہاء و فنا کی طرف بڑھتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب تمام معاملات ختم ہو جائیں گے اورتمام زمانے بیت جائیں گے اورقیامت کا وقت قریب آجائے گا تو انہیں قبروں کے گوشوں۔پرندوں کے گھونسلوں ۔درندوں کے بھٹوں اور ہلاکت کی منزلوں سے نکالا جائے گا۔اس کے امر کی طرف تیزی سے قدم بڑھاتے ہوئے اور اپنی وعدہ گاہ کی طرف بڑھتے ہوئے۔گروہ درگروہ۔خاموش صف بستہ اوراستادہ ۔نگاہ قدرت ان پر حاوی اور داعی الٰہی کی آواز ان کے کانوںمیں۔بدن پر بیچارگی کا لباس اورخود سپردگی و ذلت کی کمزوری غالب۔تدبیر یں گم۔امیدں منقطع دل مایوس کن خاموش کے ساتھ بیٹھے ہوئے۔


وخَشَعَتِ الأَصْوَاتُ مُهَيْنِمَةً وأَلْجَمَ الْعَرَقُ وعَظُمَ الشَّفَقُ وأُرْعِدَتِ الأَسْمَاعُ - لِزَبْرَةِ الدَّاعِي إِلَى فَصْلِ الْخِطَابِ ومُقَايَضَةِ الْجَزَاءِ - ونَكَالِ الْعِقَابِ ونَوَالِ الثَّوَابِ.

تنبيه الخلق

عِبَادٌ مَخْلُوقُونَ اقْتِدَاراً ومَرْبُوبُونَ اقْتِسَاراً ومَقْبُوضُونَ احْتِضَاراً ومُضَمَّنُونَ أَجْدَاثاً وكَائِنُونَ رُفَاتاً ومَبْعُوثُونَ أَفْرَاداً ومَدِينُونَ جَزَاءً ومُمَيَّزُونَ حِسَاباً قَدْ أُمْهِلُوا فِي طَلَبِ الْمَخْرَجِ وهُدُوا سَبِيلَ الْمَنْهَجِ وعُمِّرُوا مَهَلَ الْمُسْتَعْتِبِ وكُشِفَتْ عَنْهُمْ سُدَفُ الرِّيَبِ وخُلُّوا لِمِضْمَارِ

اور آوازیں دب کرخاموش ہو جائیں گی۔پسینہ منہ میں لگام لگا دے گا اور خوف عظیم ہوگا۔کان اس پکارنے والے کی آوازسے لرز اٹھیں گے جو آخری فیصلہ سنائے گا اور اعمال کا معاوضہ دینے اور آخرت کے عقاب یا ثواب کے حصول کے لئے آواز دے گا۔

تم وہ(۱) بندے ہو جو اس کے اقتدار کے اظہار کے لئے پیدا ہوئے ہو اور اس کے غلبہ و تسلط کے ساتھ ان کی تربیت ہوئی ہے۔نزع کے ہنگام ان کی روحیں قبض کرلی جائیں گی اور انہیں قبروں کے اندر چھپا دیا جائے گا۔یہ خاک کے اندر مل جائیں گے اور پھر الگ الگ اٹھائے جائیں گے۔انہیں اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا ور حساب کی منزل میں الگ الگ کردیا جائے گا۔انہیں دنیا میں عذاب سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کے لئے مہلت دی جا چکی ہے اور انہیں روشن راستہ کی ہدایت کی جا چکی ہے۔انہیں مرضی خدا کے حصول کا موقع بھی دیا جا چکا ہے اور ان کی نگاہوں سے شک کے پردے بھی اٹھائے جا چکے ہیں۔انہیں میدان عمل میں آزاد بھی چھوڑا جا چکا ہے تاکہ آخرت کی دوڑ کی تیاری کرلیں اور سوچ سمجھ کر

(۱)انسان کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ نہ اس کی تخلیق اتفاقات کا نتیجہ ہے اور نہ اس کی زندگی اختیارات کا مجموعہ۔ وہ ایک خالق قدیر کی قدرت کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے اور ایک حکیم خبیر کے اختیارات کے زیر اثر زندگی گذار رہا ہے۔ایک وقت آئے گا جب فرشتہ موت اس کی روح قبض کرلے گا اوراسے زمین کے اوپر سے زمین کے اندر پہنچا دیا جائے گا اور پھر ایک دن تن تنہا قبر سے نکال کر منز حساب میں لا کھڑا کردیا جائے گا اور اسے اس کے اعمال کا مکمل معاوضہ دے دیا جائے گا اور یہ کام غیرعادلانہ نہیں ہوگا اس لئے کہ اسے دنیا میں عذاب سے بچنے اور رضائے خدا حاصل کرنے کی مہلت دی جا چکی ہے۔اسے توبہ کا راستہ بھی بتایا جا چکا ہے اور عمل کے میدان کی بھی نشاندہی کی جا چکی ہے اور اس کی نگاہوں سے شک کے پردیبھی اٹھائے جا چکے ہیں اور اسے میدان عمل میں دوڑنے کا موقع بھی دیا جا چکا ہے۔اسے اس انسان جیسی مہلت بھی دی جا چکی ہے جو روشنی میں اپنے مدعا کو تلاش کرتا ہے کہ ایک طرف یہ بھی خطرہ رہتا ہے کہ تیز رفتاری میں مقصد سے آگے نہ نکل جائے اور ایک طرف یہ بھی احساس رہتا ہے کہ کہیں چراغ بجھ نہ جائے اور اس طرح اس کی روشنی انتہائی محتاط ہوتی ہے۔


الْجِيَادِ ورَوِيَّةِ الِارْتِيَادِوأَنَاةِ الْمُقْتَبِسِ الْمُرْتَادِ فِي مُدَّةِ الأَجَلِ ومُضْطَرَبِ الْمَهَلِ

فضل التذكير

فَيَا لَهَا أَمْثَالًا صَائِبَةً ومَوَاعِظَ شَافِيَةً - لَوْ صَادَفَتْ قُلُوباً زَاكِيَةً وأَسْمَاعاً وَاعِيَةً - وآرَاءً عَازِمَةً وأَلْبَاباً حَازِمَةً - فَاتَّقُوا اللَّه تَقِيَّةَ مَنْ سَمِعَ فَخَشَعَ واقْتَرَفَ فَاعْتَرَفَ - ووَجِلَ فَعَمِلَ وحَاذَرَ فَبَادَرَ وأَيْقَنَ فَأَحْسَنَ وعُبِّرَ فَاعْتَبَرَوحُذِّرَ فَحَذِرَ وزُجِرَ فَازْدَجَرَ وأَجَابَ فَأَنَابَ ورَاجَعَ فَتَابَ واقْتَدَى

فَاحْتَذَى

کر منزل کی تلاش کرلیں اور اتنی مہلت پالیں جتنی فوائد کے حاصل کرنے اور آئندہ منزل کا سامان مہیا کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہے

ہائے یہ کس قدر صحیح مثالیں(۱) اورشفا بخش نصیحتیں ہیں اگر انہیں پاکیزہ دل ' سننے والے کان ' مضبوط رائیں اور ہوشیار عقلیں نصیب ہو جائیں۔لہٰذا اللہ سے ڈرو اس شخص کی طرح جس نے نصیحتوں کو سنا تو دل میں خشوع پیدا ہوگیا اور گناہ کیا تو فوراً اعتراف کرلیا اورخوف خدا پیدا ہوا تو عمل شروع کردیا۔آخرت(۲) سے ڈرا تو عمل کی طرف سبقت کی۔قیامت کا یقین پیدا کیا تو بہترین اعمال انجام دئیے۔عبرت دلائی گئی تو عبرت حاصل کرلی ۔خوف دلایا گیا تو ڈرگی۔روکا گیا تو رک گیا۔صدائے حق پر لبیک کہی تو اس کی طرف متوجہ ہوگیااور مڑ کرآگیا تو توبہ کرلی۔بزرگوں کی اقتدا کی تو ان کے نقش قدم پر چلا

(۱)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مالک کائنات کی بیان کی ہوئی مثالیں صائب و صحیح اور اس کی نصیحتیں صحت مند اورشفا بخش ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ کوئی نسخہ شفا صرف نسخہ کی حد تک کارآمد نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کا استعمال کرنا اور استعمال کے ساتھ پرہیز کرنابھی ضروری ہوتا ہے ۔اور انسانوں میں اسی شرط کی کمی ہے۔نصیحتوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے چارعناصر کاہونالازمی ہے۔سننے والے کان ہوں۔طیب و طاہر دل ہوں۔رائے میں استحکام ہو اورفکر میں ہوشیاری ہو۔یہ چاروں عناصر نہیں ہیں تو نصیحتوں کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا ہے اور عالم بشریت کی کمزوری یہی ہے کہ اسمیں انہیں عناصر میں سے کوئی نہ کوئی عنصر کم ہو جاتا ہے اوروہ مواعظ و نصائح کے اثرات سے محروم رہ جاتا ہے۔

(۲)ایک مرد مومن کی زندگی کا حسین ترین اور پاکیزہ ترین نقشہ یہی ہے کہ لیکن یہ الفاظ فصاحت و بلاغت سے لطف اندوز ہونے کے لئے نہیں ہیں۔زندگی پر منطبق کرنے کے لئے اور زندگی کا امتحان کرنے کے لئے ہیں کہ کیا واقعاً ہماری زندگی میں یہ حالات اور کیفیات پائے جاتے ہیں۔اگر ایسا ہے توہماری عاقبت بخیر ہے اور ہمیں نجات کی امید رکھنا چاہیے اور اگر ایسا نہیں ہے تو ہمیں اس دار عبرت میں گذشتہ لوگوں کے حالات سے عبرت حاصل کرنی چاہیے اور اب سے اصلاح دنیا وآخرت کے عمل میں لگ جانا چاہیے۔ایسا نہ ہو کہ موت اچانک نازل ہو جائے اور وصیت کرنے کا موقع بھی فراہم نہ ہو سکے۔کتنا بلیغ فقرہ ہے مولائے کائنات کا کہ گذشتہ لوگ ہر قید و بند اور ہر پابندی حیات سے آزاد ہوگئے لیکن موت کے چنگل سے آزاد نہ ہو سکے اور اس نے بالآخر انہیں گرفتار کرلیا اوران کی وعدہ گاہ تک پہنچا دیا۔


وأُرِيَ فَرَأَى فَأَسْرَعَ طَالِباً ونَجَا هَارِباً - فَأَفَادَ ذَخِيرَةً وأَطَابَ سَرِيرَةً وعَمَّرَ مَعَاداً - واسْتَظْهَرَ زَاداً لِيَوْمِ رَحِيلِه ووَجْه سَبِيلِه وحَالِ حَاجَتِه - ومَوْطِنِ فَاقَتِه وقَدَّمَ أَمَامَه لِدَارِ مُقَامِه - فَاتَّقُوا اللَّه عِبَادَ اللَّه جِهَةَ مَا خَلَقَكُمْ لَه - واحْذَرُوا مِنْه كُنْه مَا حَذَّرَكُمْ مِنْ نَفْسِه - واسْتَحِقُّوا مِنْه مَا أَعَدَّ لَكُمْ بِالتَّنَجُّزِ لِصِدْقِ مِيعَادِه - والْحَذَرِ مِنْ هَوْلِ مَعَادِه.

التذكير بضروب النعم

ومنها: جَعَلَ لَكُمْ أَسْمَاعاً لِتَعِيَ مَا عَنَاهَا وأَبْصَاراً لِتَجْلُوَ عَنْ عَشَاهَا وأَشْلَاءً جَامِعَةً لأَعْضَائِهَا - مُلَائِمَةً لأَحْنَائِهَا فِي تَرْكِيبِ صُوَرِهَا ومُدَدِ عُمُرِهَا بِأَبْدَانٍ قَائِمَةٍ بِأَرْفَاقِهَا وقُلُوبٍ رَائِدَةٍ لأَرْزَاقِهَا - فِي مُجَلِّلَاتِ نِعَمِه ومُوجِبَاتِ مِنَنِه وحَوَاجِزِ عَافِيَتِه وقَدَّرَ لَكُمْ أَعْمَاراً

منظر حق دکھایا گیا تو دیکھ لیا۔طلب حق میں تیز رفتاری سے بڑھا اور باطل سے فرار کرکے نجات حاصل کرلی۔اپنے لئے ذخیرہ آخرت جمع کرلیا اور اپنے باطن کو پاک کرلیا۔آخرت کے گھر کو آباد کیا اور زاد راہ کو جمع کرلیا اس دن کے لئے جس دن یہاں سے کوچ کرنا ہے اور آخرت کا راستہ اختیار کرنا ہے اور اعمال کا محتاج ہونا ہے اورمحل فقر کی طرف جانا ہے اور ہمیشہ کے گھر کے لئے سامان آگے آگے بھیج دیا۔ اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اس جہت کی غرض سے جس کے لئے تم کو پیدا کیا گیا ہے اور اس کاخوف پیدا کرو اس طرح جس طرح اس نے تمہیں اپنے عظمت کا خوف دلایا ہے اور اس اجر کا استحقاق پیدا کرو جس کو اس نے تمہارے لئے مہیا کیا ہے اس کے سچے وعدہ کے پورا کرنے اور قیامت کے ہول سے بچنے کے مطالبہ کے ساتھ۔

اس نے تمہیں کان عنایت کئے ہیں تاکہ ضروری باتوں کو سنیں اور آنکھیں دی ہیں تاکہ بے بصری میں روشنی عطا کریں اور جسم کے وہ حصے دئیے جو مختلف اعضاء کو سمیٹنے والے ہیں اور ان کے پیچ و خم کے لئے مناسب ہیں۔صورتوں کی ترکیب اور عمروں کی مدت کے اعتبارسے ایسے بدنوں کے ساتھ جو اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے والے ہیں اور ایسے دلوں کے ساتھ جو اپنے رزق کی تلاش میں رہتے ہیں اس کی عظیم ترین نعمتوں ' احسان مند بنانے والی بخششوں اور سلامتی کے حصاروں کے درمیان۔اس نے تمہارے لئے وہ عمریں قرار دی ہیں جن


سَتَرَهَا عَنْكُمْ - وخَلَّفَ لَكُمْ عِبَراً مِنْ آثَارِ الْمَاضِينَ قَبْلَكُمْ - مِنْ مُسْتَمْتَعِ خَلَاقِهِمْ ومُسْتَفْسَحِ خَنَاقِهِمْ أَرْهَقَتْهُمُ الْمَنَايَا دُونَ الآمَالِ وشَذَّبَهُمْ عَنْهَا تَخَرُّمُ الآجَالِ - لَمْ يَمْهَدُوا فِي سَلَامَةِ الأَبْدَانِ - ولَمْ يَعْتَبِرُوا فِي أُنُفِ الأَوَانِ فَهَلْ يَنْتَظِرُ أَهْلُ بَضَاضَةِ الشَّبَابِ إِلَّا حَوَانِيَ الْهَرَمِ - وأَهْلُ غَضَارَةِ الصِّحَّةِ إِلَّا نَوَازِلَ السَّقَمِ - وأَهْلُ مُدَّةِ الْبَقَاءِ إِلَّا آوِنَةَ الْفَنَاءِ مَعَ قُرْبِ الزِّيَالِ وأُزُوفِ الِانْتِقَالِ وعَلَزِ الْقَلَقِ وأَلَمِ الْمَضَضِ وغُصَصِ الْجَرَضِ وتَلَفُّتِ الِاسْتِغَاثَةِ بِنُصْرَةِ الْحَفَدَةِ والأَقْرِبَاءِ - والأَعِزَّةِ والْقُرَنَاءِ فَهَلْ دَفَعَتِ الأَقَارِبُ

کو تم سے مخفی رکھا ہے اور تمہارے لئے ماضی میں گر جانے والوں کے آثار میں عبرتیں فراہم کردی ہیں۔وہ لوگ جو اپنے خط و نصیب سے لطف و اندوز ہو رہوے تھے اور ہر بندھن سے آزاد تھے لیکن موت نے انہیں امیدوں کی تکمیل سے پہلے ہی گرفتار کرلیا اور اجل کی ہلاکت سامانیوں نے انہیں حصول مقصد سے الگ کردیا۔انہوں نے بدن کی سلامتی کے وقت کوئی تیاری نہیں کی تھی اور ابتدائی اوقات میں کوئی عبرت حاصل نہیں کی تھی۔تو کیا جوانی کی ترو تازہ عمریں رکھنے والے بڑھاپے میں کمرجھک جانے کا انتظار کر رہے ہیں اور کیا صحت کی تازگی رکھنے والے مصیبتوں اور بیماریوں کے حوادث کا انتظار کر رہے ہیں اور کیا بقا کی مدت رکھنے والے فنا کے وقت کے منتظر ہیں جب کہ وقت زوال قریب ہوگا اورانتقال کی ساعت نزدیک تر ہوگی اور بستر مرگ پر قلق کی بے چینیاں(۱) اورسوزو تپش کا رنج و الم اور لعاب دہن کے پھندے ہوں گے اور وہ ہنگام ہوگا جب انسان اقربا اولاد اعزا احباب سے مدد طلب کرنے کے لئے ادھر ادھر دیکھ رہا ہوگا۔تو کیا آج تک کبھی اقربا نے موت کو دفع کردیا

(۱)ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان جب دنیا کے تمام مشاغل تمام کرکے بستر پرآئے تو اس خطبہ کی تلاوت کرے اور اس کے مضامین پر غور کرے۔پھر اگر ممکن ہوتو کمرہ کی روشنی گل کرکے دروازہ بند کرکے قبر کا تصور پیدا کرے اور یہ سوچے کہ اگر اس وقت کسی طرف سے سانپ، بچھوحملہ آور ہو جائیں اور کمرہ کی آواز باہرنہ جا سکے اور دروازہ کھول کر بھاگنے کا امکان بھی نہ ہو تو انسان کیا کرے گا اور اس مصیبت سے کس طرح نجات حاصل کرے گا۔شائد یہی تصوراسے قبر کے بارے میں سوچنے اور اس کے ہولناک مناظر سے بچنے کے راستے نکالنے پرآمادہ کر سکے ورنہ دنیا کی رنگینیاں ایک لمحے کے لئے بھی آخرت کے بارے میں سوچنے کا موقعنہیں دیتی ہیں اور کسی نہ کسی وہم میں مبتلا کرکے نجات کا یقین دلا دیتی ہیں اور پھر انسان اعمال سے یکسر غافل ہو جاتا ہے۔


أَوْ نَفَعَتِ النَّوَاحِبُ وقَدْ غُودِرَ فِي مَحَلَّةِ الأَمْوَاتِ رَهِيناً وفِي ضِيقِ الْمَضْجَعِ وَحِيداً قَدْ هَتَكَتِ الْهَوَامُّ جِلْدَتَه - وأَبْلَتِ النَّوَاهِكُ جِدَّتَه وعَفَتِ الْعَوَاصِفُ آثَارَه - ومَحَا الْحَدَثَانُ مَعَالِمَه وصَارَتِ الأَجْسَادُ شَحِبَةً بَعْدَ بَضَّتِهَا والْعِظَامُ نَخِرَةً بَعْدَ قُوَّتِهَا - والأَرْوَاحُ مُرْتَهَنَةً بِثِقَلِ أَعْبَائِهَا مُوقِنَةً بِغَيْبِ أَنْبَائِهَا لَا تُسْتَزَادُ مِنْ صَالِحِ عَمَلِهَا - ولَا تُسْتَعْتَبُ مِنْ سَيِّئِ زَلَلِهَا أَولَسْتُمْ أَبْنَاءَ الْقَوْمِ والآبَاءَ وإِخْوَانَهُمْ والأَقْرِبَاءَ - تَحْتَذُونَ أَمْثِلَتَهُمْ وتَرْكَبُونَ قِدَّتَهُمْ وتَطَئُونَ جَادَّتَهُمْ فَالْقُلُوبُ قَاسِيَةٌ عَنْ حَظِّهَا لَاهِيَةٌ عَنْ رُشْدِهَا - سَالِكَةٌ فِي غَيْرِ مِضْمَارِهَا كَأَنَّ الْمَعْنِيَّ سِوَاهَا وكَأَنَّ الرُّشْدَ فِي إِحْرَازِ دُنْيَاهَا.

التحذير من هول الصراط

واعْلَمُوا أَنَّ مَجَازَكُمْ عَلَى الصِّرَاطِ ومَزَالِقِ دَحْضِه وأَهَاوِيلِ زَلَلِه وتَارَاتِ أَهْوَالِه فَاتَّقُوا اللَّه عِبَادَ اللَّه -

ہے یا فریاد کسی کے کام آئی ہے ؟ ہرگز نہیں۔مرنے والے کو تو قبرستان میں گرفتار کردیا گیا ہے اور تنگی قبر میں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے اس عالم میں کہ کیڑے مکوڑے اس کی جلد کو پارہ پارہ کر رہے ہیں اور پامالیوں نے اس کے جسم کی تازگی کو بوسیدہ کردیا ہے۔آندھیوں نے اس کے آثار کو مٹا دیا ہے اور روز گار کے حادثات نے اس کے نشانات کو محو کردیا ہے۔جسم تازگی کے بعدہلاک ہوگئے ہیں اور ہڈیاں طاقت کے بعد بوسیدہ ہوگئی ہیں۔روحیں اپنے بوجھ کی گرانی میں گرفتار ہیں اور اب غیب کی خبروں کا یقین آگیا ہے۔اب نہ نیک اعمال میں کوئی اضافہ ہو سکتا ہے۔اور ہ بد ترین لغزشوں کی معافی طلب کی جا سکتی ہے۔تو کیا تم لوگ انہیں آباء اجداد کی اولاد نہیں ہو اور کیا انہیں کے بھائی بندے نہیں ہو کہ پھر انہیں کے نقش قدم پر چلے جا رہے ہو اور انہیں کے طریقہ کو پانئاے ہوئے ہو اور انہیں کے راستہ پر گامزن ہو؟ ۔حقیقت یہ ہے کہ دل اپنا حصہ حاصل کرنے میں سخت ہوگئے ہیں اور راہ ہدایت سے غافل ہوگئے ہیں' غلط میدانوں میں قدم جمائے ہوئے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کا مخاطب ان کے علاوہ کوئی اور ہے اور شائد ساری عقلمندی دنیا ہی کے جمع کر لینے میں ہے۔یاد رکھو تمہاری گزر گاہ صراط اور اس کی ہلاکت خیز لغزشیں ہیں۔تمہیں ان لغزشوں کے ہولناک مراحل اور طرح طرح کے خطر ناک منازل سے گزرنا ہے۔اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو۔اس طرح جس طرح وہ


تَقِيَّةَ ذِي لُبٍّ شَغَلَ التَّفَكُّرُ قَلْبَه - وأَنْصَبَ الْخَوْفُ بَدَنَه وأَسْهَرَ التَّهَجُّدُ غِرَارَ نَوْمِه - وأَظْمَأَ الرَّجَاءُ هَوَاجِرَ يَوْمِه وظَلَفَ الزُّهْدُ شَهَوَاتِه - وأَوْجَفَ الذِّكْرُ بِلِسَانِه وقَدَّمَ الْخَوْفَ لأَمَانِه - وتَنَكَّبَ الْمَخَالِجَ عَنْ وَضَحِ السَّبِيلِ - وسَلَكَ أَقْصَدَ الْمَسَالِكِ إِلَى النَّهْجِ الْمَطْلُوبِ - ولَمْ تَفْتِلْه فَاتِلَاتُ الْغُرُورِ - ولَمْ تَعْمَ عَلَيْه مُشْتَبِهَاتُ الأُمُورِ - ظَافِراً بِفَرْحَةِ الْبُشْرَى ورَاحَةِ النُّعْمَى فِي أَنْعَمِ نَوْمِه وآمَنِ يَوْمِه - وقَدْ عَبَرَ مَعْبَرَ الْعَاجِلَةِ حَمِيداً وقَدَّمَ زَادَ الآجِلَةِ سَعِيداً - وبَادَرَ مِنْ وَجَلٍ وأَكْمَشَ فِي مَهَلٍ ورَغِبَ فِي طَلَبٍ - وذَهَبَ عَنْ هَرَبٍ ورَاقَبَ فِي يَوْمِه غَدَه - ونَظَرَ قُدُماً أَمَامَه فَكَفَى بِالْجَنَّةِ ثَوَاباً ونَوَالًا وكَفَى بِالنَّارِ عِقَاباً ووَبَالًا - وكَفَى بِاللَّه مُنْتَقِماً ونَصِيراً - وكَفَى بِالْكِتَابِ حَجِيجاً وخَصِيماً !

صاحب عقل ڈرتا ہے جس کے دل کو فکرآخرت نے مشغول کرلیا ہو اور اس کے بدن کو خوف خدانے خستہ حال بنادیا ہو اور شب بیداری نے اس کی بچی کھچی نیند کو بھی بیداری میں بدل دیا ہو اور امیدوں نے اس کے دل کی تپش کو پیاس میں گزار دیا ہو اور زہد نے اس کے خواہشات کو پیروں تلے روند دیا ہو اور ذکر خدا اس کی زبان پر تیزی سے دوڑ رہا ہو اور اس نے قیامت کے امن و امان کے لئے یہیں خوف کا راستہ اختیار کیا ہو اور سیدھی راہ پر چلنے کے لئے ٹیڑھی راہوں سے کترا کر چلا ہو اور مطلوبہ راستہ تک پہنچنے کے لئے معتدل ترین راستہ اختیار کیا ہو'نہ خوش فریبیوں نے اس میں اضطراب پیدا کیا ہو اور نہ مشتبہ امورنے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈالا ہو۔بشارت کی مسرت اورنعمتوں کی راحت حاصل کرلی ہو۔دنیا کی گذر گاہ سے قابل تعریف انداز سے گزر جائے اورآخرت کا زاد راہ نیک بختی کے ساتھ آگے بھیج دے۔وہاں کے خطرات کے پیش نظر عمل میں سبقت کی اور مہلت کے اوقات میں تیز رفتاری سے قدم بڑھایا۔طلب آخرت میں رغبت کے ساتھ آگے بڑا اور برائیوں سے مسلسل فرار کرتا رہا۔آج کے دن کل پر نگاہ رکھی اور ہمیشہ اگلی منزلوں کودیکھتا رہا۔یقینا ثواب اور عطا کے لئے جنت اور عذاب و وبال کے لئے جہنم سے بالاتر کیا ہے اور اور پھر خدا سے بہتر مدد کرنے والا اور انتقام لینے والا کون ہے اور قرآن کے علاوہ حجت اور سند کیا ہے


الوصية بالتقوى

أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّه الَّذِي أَعْذَرَ بِمَا أَنْذَرَ واحْتَجَّ بِمَا نَهَجَ - وحَذَّرَكُمْ عَدُوّاً نَفَذَ فِي الصُّدُورِ خَفِيّاً - ونَفَثَ فِي الآذَانِ نَجِيّاً فَأَضَلَّ وأَرْدَى ووَعَدَ فَمَنَّى وزَيَّنَ سَيِّئَاتِ الْجَرَائِمِ وهَوَّنَ مُوبِقَاتِ الْعَظَائِمِ حَتَّى إِذَا اسْتَدْرَجَ قَرِينَتَه واسْتَغْلَقَ رَهِينَتَه أَنْكَرَ مَا زَيَّنَ واسْتَعْظَمَ مَا هَوَّنَ وحَذَّرَ مَا أَمَّنَ.

ومنها في صفة خلق الإنسان

أَمْ هَذَا الَّذِي أَنْشَأَه فِي ظُلُمَاتِ الأَرْحَامِ وشُغُفِ الأَسْتَارِ نُطْفَةً دِهَاقاً وعَلَقَةً مِحَاقاً وجَنِيناً ورَاضِعاً ووَلِيداً ويَافِعاً ثُمَّ مَنَحَه قَلْباً حَافِظاً

بندگان خدا! میں تمہیں اس خدا سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں جس نے ڈرانے والی اشیاء کے ذریعہ عذر کا خاتمہ کردیا ہے اور راستہ دکھا کر حجت تمام کردی ہے۔تمہیں اس دشمن(۱) سے ہوشیار کردیا ہے جو خاموی سے دلوں میں نفوذ کر جاتا ہے اورچپکے سے کان میں پھونک دیتا ہے اوراس طرح گمراہ اور ہلاک کر دیتا ے اور وعدہ کرکے امیدوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔بد ترین جرائم کو خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے اور مہلک گناہوں کو آسان بنا دیتا ہے ۔یہاں تک کہ جب اپنے ساتھی نفس کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور اپنے قیدی کو باقاعدہ گرفتار کر لیتا ہے تو جس کو خوبصورت بنایا تھا اسی کو منکر بنا دیتا ہے اور جسےآسان بنایا تھا اسی کو عظیم کہنے لگتا ہے اور جس کی طرف سے محفوظ بنادیا تھا اسی سے ڈرانے لگتا ہے۔ذرا اس مخلوق کو دیکھو جسے بنانے والے نے رحم کی تاریکیوں اورمتعدد پردوں کے اندر یوں بنایا کہ اچھلتا ہوا نطفہ تھا پھر منجمد خون بنا۔پھرجنین بنا۔پھر رضاعت کی منزل میں آیا پھر طفل نوخیز بنا پھر جوان ہوگیا اور اس کے بعد مالک نے اسے(۲) محفوظ کرنے والا دل

(۱)پروردگار کا کرم ہے کہ اس نے قرآن مجید میں بار بار قصہ آدم و ابلیس کو دہرا کر اولاد آدم کو متوجہ کردیا ہے کہ یہ تمہارے بابا آدم کا دشمن تھا اوراسی نے انہیں جنت کی خوشگوار فضائوں سے نکالا تھا اور پھر جب سے بارگاہ الٰہی سے نکالا گیا ہے مسلسل اولاد آدم سے انتقام لینے پر تلا ہوا ہے اورایک لمحہ فرصت کونظر انداز نہیں کرنا چاہتا ہے۔اس کا سب سے بڑا ہنر یہ ہے کہ گناہوں کے وقت گناہوں کو معمولی اور مزین بنادیتا ہے۔اس کے بعد جب انسان ان کا ارتکاب کرلیتا ہے تو اس کے ذہنی کرب کو بڑھانے کے لئے گناہ کی اہمیت و عظمت کا احساس دلاتا ہے اور ایک لمحہ کے لئے اسے چین سے نہیں بیٹھنے دیتا ہے۔

(۲)مالک کائنات کے کروڑوں احسانات میں سے یہ تین احسانات ایسے ہیں کہ اگر یہ نہ ہوتے تو انسان کا وجود جانوروں سے بد تر ہو کر رہ جاتا اور انسان کسی قیمت پر اشرف مخلوقات کہے جانے کے قابل نہ ہوتا۔ مالک نے پہلا کرم یہ کیا کہ دنیا کے حالات سے با خبر بنانے کے لئے آنکھیں دے دیں۔اس کے بعد اپنے جذبات و خیالات کے اظہار کے لئے زبان دے دی اور پھر معلومات سے کسی وقت بھی فائدہ اٹھانے کے لئے حافظہ دے دیاورنہ یہ حافظہ نہ ہوتا تو بار بار اشیاء کا سامنے آنا نا ممکن ہوتا اور انسان صاحب علم ہونے کے بعد بھی جاہل ہی رہ جاتا۔فاعتبروایا اولی الا بصار


ولِسَاناً لَافِظاً وبَصَراً لَاحِظاً لِيَفْهَمَ مُعْتَبِراً ويُقَصِّرَ مُزْدَجِراً - حَتَّى إِذَا قَامَ اعْتِدَالُه واسْتَوَى مِثَالُه نَفَرَ مُسْتَكْبِراً وخَبَطَ سَادِراً مَاتِحاً فِي غَرْبِ هَوَاه كَادِحاً سَعْياً لِدُنْيَاه فِي لَذَّاتِ طَرَبِه وبَدَوَاتِ أَرَبِه - ثُمَّ لَا يَحْتَسِبُ رَزِيَّةً ولَا يَخْشَعُ تَقِيَّةً فَمَاتَ فِي فِتْنَتِه غَرِيراً وعَاشَ فِي هَفْوَتِه يَسِيراً لَمْ يُفِدْ عِوَضاً ولَمْ يَقْضِ مُفْتَرَضاً - دَهِمَتْه فَجَعَاتُ الْمَنِيَّةِ فِي غُبَّرِ جِمَاحِه وسَنَنِ مِرَاحِه - فَظَلَّ سَادِراً وبَاتَ سَاهِراً فِي غَمَرَاتِ الآلَامِ - وطَوَارِقِ الأَوْجَاعِ والأَسْقَامِ بَيْنَ أَخٍ شَقِيقٍ ووَالِدٍ شَفِيقٍ - ودَاعِيَةٍ بِالْوَيْلِ جَزَعاً

بولنے والی زبان' دیکھنے والی آنکھ عنایت کردی تاکہ عبرت کے ساتھ سمجھ سکے اور نصیحت کا اثر لیتے ہوئے برائیوں سے باز رہے لیکن جب اس کے اعضاء میں اعتدال پیدا ہوگیا اور اس کا قدو قامت اپنی منزل تک پہنچ گیا تو غرور و تکبر سے اکڑ گیا اوراندھے پن کے ساتھ بھٹکنے لگا اور ہوا وہوس کے ڈول بھر بھر کر کھینچنے لگا۔طرب کی لذتوں اورخواہشات کی تمنائوں میں دنیا کے لئے انتھک کوشش کرنے لگا۔نہ کسی مصیبت کا خیال رہ گیا اورنہ کسی خوف و خطر کا اثر رہ گیا۔فتنوں کے درمیان فریب خوردہ مرگیا اورمختصر سی زندگی کو بے ہودگیوں میں گزار کیا۔نہ کسی اجر کا انتظام کیا اورنہ کسی فریضہ کو ادا کیا۔اسی باقیماندہ سر کشی کے(۱) عالم میں مگر بار مصیبتیں اس پر ٹوٹ پڑیں۔اور وہ حیرت زدہ رہ گیا۔اب راتیں جاگنے میں گزر رہی تھیں کہشاید قسم کے آلام تھے اور طرح طرح کے امراض واسقام جب کہ حقیقی بھائی اور مہربان باپ اورفریاد کرنے والی ماں

(۱)ہائے رے انسان کی بے کسی۔ابھی غفلت کا سلسلہ تمام نہ ہوا تھا اور لذت اندوزی حیات کا تسلسل قائم تھا کہ اچانک حضرت ملک الموت نازل ہوگئے اور ایک لمحہ کی مہلت دئیے بغیر لے جانے کے لئے تیار ہوگئے۔انسان صحرا بیابان اور ویرانہ دشت و جبل میں نہیں ہے گھر کے اندر ہے۔ادھر اولاد ادھر احباب ۔ادھر مہربان باپ ادھر سرو سینہ پیٹنے والی ماں۔ادھر حقیقی بھائیادھر قربان ہونے والی بہن۔لیکن کوئی کرب موت کے لمحہ میں تخفیف بھی نہیں کرا سکتا ہے اور نہ مرنے والے کے کسی کام آسکتا ہے بلکہ اس سے زیادہ کرب ناک یہ منظر ہے کہ اس کیبعد اپنے ہی ہاتھوں سے کفن میں لپیٹا جا رہا ہے اور سانس لینے کے لئے بھی کوئی راستہ نہیں چھوڑا جا رہا ہے اور پھر نہایت درجہ ادب واحترام سے قبر کے اندھیرے میں ڈال کر چاروں طرف سے بند کردیا جاتا ہے کہ کوئی سوراخ بھی نہ رہنے پائے اور ہوا یا روشنی کا گزربھی نہ ہونے پائے۔

کسی کے منہ سے نہ نکلا ہمارے دفن کے وقت

کہ خاک ان پہ نہ ڈالو یہ ہیں نہائے ہوئے

اور اتنا ہی نہیں بلکہ حضرت خود بھی خاک ڈالنے ہی کو محبت کی علامت اوردوستی کے حق کی ادائیگی تصور کر رہے ہیں:

مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت دفن

زندگی بھر کی محبت کا صلہ دینے لگے

انا لله وانا الیه راجعون


ولَادِمَةٍ لِلصَّدْرِ قَلَقاً - والْمَرْءُ فِي سَكْرَةٍ مُلْهِثَةٍ وغَمْرَةٍ كَارِثَةٍ وأَنَّةٍ مُوجِعَةٍ وجَذْبَةٍ مُكْرِبَةٍ وسَوْقَةٍ مُتْعِبَةٍ - ثُمَّ أُدْرِجَ فِي أَكْفَانِه مُبْلِساً وجُذِبَ مُنْقَاداً سَلِساً ثُمَّ أُلْقِيَ عَلَى الأَعْوَادِ رَجِيعَ وَصَبٍ ونِضْوَ سَقَمٍ - تَحْمِلُه حَفَدَةُ الْوِلْدَانِ وحَشَدَةُ الإِخْوَانِ إِلَى دَارِ غُرْبَتِه - ومُنْقَطَعِ زَوْرَتِه ومُفْرَدِ وَحْشَتِه - حَتَّى إِذَا انْصَرَفَ الْمُشَيِّعُ ورَجَعَ الْمُتَفَجِّعُ - أُقْعِدَ فِي حُفْرَتِه نَجِيّاً لِبَهْتَةِ السُّؤَالِ وعَثْرَةِ الِامْتِحَانِ - وأَعْظَمُ مَا هُنَالِكَ بَلِيَّةً نُزُولُ الْحَمِيمِ وتَصْلِيَةُ الْجَحِيمِ وفَوْرَاتُ السَّعِيرِ - وسَوْرَاتُ الزَّفِيرِ لَا فَتْرَةٌ مُرِيحَةٌ - ولَا دَعَةٌ مُزِيحَةٌ ولَا قُوَّةٌ حَاجِزَةٌ ولَا مَوْتَةٌ نَاجِزَةٌ ،ولَا سِنَةٌ مُسَلِّيَةٌ - بَيْنَ أَطْوَارِ الْمَوْتَاتِ وعَذَابِ السَّاعَاتِ - إِنَّا بِاللَّه عَائِذُونَ!

عِبَادَ اللَّه أَيْنَ الَّذِينَ عُمِّرُوا فَنَعِمُوا وعُلِّمُوا فَفَهِمُوا -

اور اضطراب سے سینہ کو بی کرنے والی بہن بھی موجود تھی لیکن انسان سکرا ت مومن کی مدہوشیوں ۔شدید قسم کی بدحواسیوں۔درد ناک قسم کی فریادوں اور کرب انگیز قسم کی نزع کی کیفیتوں اور تھکا دین والی شدتوں میں مبتلا تھا۔ اس کے بعد اسے مایوسی کے عالم میں کفن میں لپیٹ دیا گیا اور وہ نہایت درجہ آسانی اور خود سپردگی کے ساتھ کھینچا جانے لگا اس کے بعد اسے تختہ پر لٹا دیا گیا اس عالم میں کہ خستہ حال اور بیماریوں سے نڈھال ہو چکا تھا۔اولاد اوربرادری کے لوگ اسے اٹھا کر اس گھر کی طرف لے جا رہے تھے جو غربت کاگھر تھا اور جہاں ملاقاتوں کا سلسلہ بند تھا اور تنہائی کی وحشت کا دور دورہ تھا یہاں تک کہ جب مشایعت کرنے والے واپس آگئے اور گریہ و زاری کرنے والے پلٹ گئے تو اسے قبر میں دوبارہ اٹھا کربٹھا دیا گیا ۔سوال و جواب کی دہشت اور امتحان کی لغزشوں کا سامنا کرنے کے لئے۔اور وہاں کی سب سے بڑی مصیبت تو کھولتے ہوئے پانی کا نزول اور جہنم کا درود ہے جہاں آگ بھڑک رہی ہوگی اور شعلے بلند ہو رہے ہوں گے۔نہ کوئی راحت کا وقفہ ہوگا اور نہ سکون کا لمحہ۔نہ کوئی طاقت عذاب کو روکنے والی ہوگی اور نہ کوئی موت سکون بخش ہوگی۔حد یہ ہے کہ کوئی تسلی بخش نیند بھی نہ ہوگی۔طرح طرح کی موتیں ہوں گی اور دمبدم کا عذاب ۔بیشک ہم اس منزل پر پروردگار کی پناہ کے طلب گار ہیں۔بندگان خدا!کہاں ہیں وہ لوگ جنہیں عمر یں دی گئیں تو خوب مز ے اڑائے اور بتایا گیا تو سب سمجھ گئے


وأُنْظِرُوا فَلَهَوْا وسُلِّمُوا فَنَسُوا - أُمْهِلُوا طَوِيلًا ومُنِحُوا جَمِيلًا - وحُذِّرُوا أَلِيماً ووُعِدُوا جَسِيماً - احْذَرُوا الذُّنُوبَ الْمُوَرِّطَةَ والْعُيُوبَ الْمُسْخِطَةَ.

أُولِي الأَبْصَارِ والأَسْمَاعِ والْعَافِيَةِ والْمَتَاعِ - هَلْ مِنْ مَنَاصٍ أَوْ خَلَاصٍ - أَوْ مَعَاذٍ أَوْ مَلَاذٍ أَوْ فِرَارٍ أَوْ مَحَارٍ أَمْ لَا –( فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ ) أَمْ أَيْنَ تُصْرَفُونَ أَمْ بِمَا ذَا تَغْتَرُّونَ - وإِنَّمَا حَظُّ أَحَدِكُمْ مِنَ الأَرْضِ ذَاتِ الطُّوْلِ والْعَرْضِ - قِيدُ قَدِّه مُتَعَفِّراً عَلَى خَدِّه - الآنَ عِبَادَ اللَّه والْخِنَاقُ مُهْمَلٌ والرُّوحُ مُرْسَلٌ - فِي فَيْنَةِ الإِرْشَادِ ورَاحَةِ الأَجْسَادِ وبَاحَةِ الِاحْتِشَادِ ومَهَلِ الْبَقِيَّةِ وأُنُفِ الْمَشِيَّةِ وإِنْظَارِ التَّوْبَةِ - وانْفِسَاحِ الْحَوْبَةِ قَبْلَ الضَّنْكِ والْمَضِيقِ والرَّوْعِ والزُّهُوقِ وقَبْلَ قُدُومِ الْغَائِبِ الْمُنْتَظَرِ - وإِخْذَةِ الْعَزِيزِ الْمُقْتَدِرِ.

لیکن مہلت دی گئی تو غفلت میں پڑ گئے۔صحت و سلامتی دی گئی تو اس نعمت کوبھول گئے۔انہیں کافی طویل مہلت دی گئی اور کافی اچھی نعمتیں دی گئی اور انہیں دردناک عذاب سے ڈرایا بھی گیا اور بہترین نعمتوںکاوعدہ بھی کیا گیا۔لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔اب تم لوگمہلک گناہوں سے پرہیز کرو اور خدا کو ناراض کرنے والے عیوب سے دور رہو۔تم صاحبان سماعت و بصارت اور اہل عافیت و ثروت ہو بتائو کیا بچائو کی کوئی جگہ یاچھٹکارہ کی کوئی گنجائش ہے۔کوئی ٹھکانہ یا پناہ گاہ ہے۔کوئیجائے فرار یا دنیا میں واپسی کی کوئی صورت ہے؟ اور اگر نہیں ہے تو کدھر بہکے جا رہے ہواور کہاں تم کو لے جایا جا رہا ہے یا کس دھوکہ میں پڑے ہو؟

یاد رکھو اس طویل و عریض زمین میں تمہاری قسمت صرف بقدر قامت جگہ ہے جہاں رخساروں کو خاک پر رہنا ہے۔

بندگان خدا! ابھی موقع ہے۔رسی ڈھیلی ے۔روح آزاد ہے۔تم ہدایت کی منزل اور جسمانی راحت کی جگہ پرہو۔مجلسوںکے اجتماع میں ہو اور بقیہ زندگی کی مہلت سلامت ہے اور راستہ اختیار کرنے کی آزادی ہے اور توبہ کی مہلت ہے اور جگہ کی وسعت ہے قبل اس کے کہ تنگی لحد۔ضیق مکان ۔خوف اورجانکنی کا شکار ہو جائو اور قبل اس کے کہ وہ موت آجائے جس کا انتظار ہو رہا ہے اور وہ پروردگار اپنی گرفت میں لیلے جو صاحب عزت وغلبہ اور صاحب طاقت و قدرت ہے۔


قال الشريف - وفي الخبر أنهعليه‌السلام لما خطب بهذه الخطبة - اقشعرت لها الجلود وبكت العيون ورجفت القلوب - ومن الناس من يسمي هذه الخطبة الغراء

(۸۴)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في ذكر عمرو بن العاص

عَجَباً لِابْنِ النَّابِغَةِ يَزْعُمُ لأَهْلِ الشَّامِ أَنَّ فِيَّ دُعَابَةً وأَنِّي امْرُؤٌ تِلْعَابَةٌ أُعَافِسُ وأُمَارِسُ - لَقَدْ قَالَ بَاطِلًا ونَطَقَ آثِماً - أَمَا وشَرُّ الْقَوْلِ الْكَذِبُ إِنَّه لَيَقُولُ فَيَكْذِبُ ويَعِدُ فَيُخْلِفُ ويُسْأَلُ فَيَبْخَلُ ويَسْأَلُ فَيُلْحِفُ ويَخُونُ الْعَهْدَ ويَقْطَعُ الإِلَّ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْحَرْبِ فَأَيُّ زَاجِرٍ وآمِرٍ هُوَ - مَا لَمْ تَأْخُذِ السُّيُوفُ مَآخِذَهَا - فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ كَانَ أَكْبَرُ [أَكْبَرَ] مَكِيدَتِه أَنْ يَمْنَحَ الْقَرْمَ سَبَّتَه - أَمَا واللَّه إِنِّي لَيَمْنَعُنِي مِنَ اللَّعِبِ ذِكْرُ الْمَوْتِ - وإِنَّه لَيَمْنَعُه مِنْ قَوْلِ الْحَقِّ نِسْيَانُ الآخِرَةِ -

سید رضی : کہا جاتا ہے کہ جب حضرت نے اس خطبہ کو ارشاد فرمایا تو لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اورآنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اوردل لرزنے لگے۔بعض لوگ اس خطبہ کو ''خطبہ غراء '' کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

(۸۴)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں عمرو عاص کاذکر کیا گیا ہے)

تعجب ہے نابغہ کے بیٹے سے۔کہ یہ اہل شام سے بیان کرتا ہے کہ میرے مزاج میں مزاح پایا جاتاہے اور میں کوئی کھیل تماشہ والا انسان ہوں اور ہنسی مذاق میں لگا رہتا ہوں۔یقینا اس نے یہ بات غلط کہی ہے اور اس کی بنا پر گناہ گار بھی ہوا ہے۔

آگاہ ہوجائو کہ بد ترین کلام غلط بیانی ہے اور یہ جب بولتا ہے تو جھوٹ ہی بولتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی ہی کرتا ہے اور جب اس سے کچھ مانگا جاتا ہے تو بخل ہی کرتا ہے اورجب خود مانگتا ہے تو چمٹ جاتا ہے۔عہدو پیمان میں خیانت کرتا ہے۔قرابتوں میں قطع رحم کرتا ہے۔جنگ کے وقت دیکھو تو کیا کیا امرو نہیں کرتا ہے جب تک تلواریں اپنی منزل پر زور نہ پکڑ لیں۔ورنہ جب ایسا ہو جاتا ہے تواس کا سب سے بڑا حربہ یہ ہوتا ہے کہ دشمن کے سامنے اپنی پشت کو پیش کردے۔خداگواہ ہے کہ مجھے کھیل کود سے یا موت نے روک رکھا ہے اور اسے حرف حق سے نسیان آخرت نے روک رکھا ہے


إِنَّه لَمْ يُبَايِعْ مُعَاوِيَةَ حَتَّى شَرَطَ أَنْ يُؤْتِيَه أَتِيَّةً ويَرْضَخَ لَه عَلَى تَرْكِ الدِّينِ رَضِيخَةً

(۸۵)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وفيها صفات ثمان من صفات الجلال

وأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَحْدَه لَا شَرِيكَ لَه - الأَوَّلُ لَا شَيْءَ قَبْلَه والآخِرُ لَا غَايَةَ لَه - لَا تَقَعُ الأَوْهَامُ لَه عَلَى صِفَةٍ - ولَا تُعْقَدُ الْقُلُوبُ مِنْه عَلَى كَيْفِيَّةٍ - ولَا تَنَالُه التَّجْزِئَةُ والتَّبْعِيضُ - ولَا تُحِيطُ بِه الأَبْصَارُ والْقُلُوبُ.

ومنها: فَاتَّعِظُوا عِبَادَ اللَّه بِالْعِبَرِ النَّوَافِعِ - واعْتَبِرُوا بِالآيِ السَّوَاطِعِ وازْدَجِرُوا بِالنُّذُرِ الْبَوَالِغِ وانْتَفِعُوا بِالذِّكْرِ والْمَوَاعِظِ - فَكَأَنْ قَدْ عَلِقَتْكُمْ مَخَالِبُ الْمَنِيَّةِ - وانْقَطَعَتْ مِنْكُمْ عَلَائِقُ الأُمْنِيَّةِ - ودَهِمَتْكُمْ مُفْظِعَاتُ الأُمُورِ والسِّيَاقَةُ إِلَى( الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ ) - فَ( كُلُّ نَفْسٍ مَعَها سائِقٌ وشَهِيدٌ ) - سَائِقٌ يَسُوقُهَا إِلَى مَحْشَرِهَا وشَاهِدٌ يَشْهَدُ عَلَيْهَا بِعَمَلِهَا.

اس نے معاویہ کی بیعت بھی اس وقت تک نہیں کی جب تک اس سے یہ طے نہیں کرلیا کہ اسے کوئی ہدیہ دے گا اور اس کے سامنے ترک دین پر کوئی تحفہ پیش کرے گا۔

(۸۵)

(جس میں پروردگار کے آٹھ صفات کاتذکرہ کیا گیا ہے)

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔وہ ایسا اول ہے جس سے پہلے کچھ نہیں ہے اور ایسا آخر ہے جس کی کوئی حد معین نہیں ہے۔خیالات اس کی کسی صفت کا ادراک نہیں کر سکتے ہیں اور دل اس کی کوئی کیفیت طے نہیں کر سکتا ہے۔اس کی ذات کے نہ اجزا ہیں اور نہ ٹکڑے اورنہ وہ دل و نگاہ کے احاطہ کے اندر آسکتا ہے۔

بندگان خدا! مفید عبرتوں سے نصیحت حاصل کرواور واضح نشانیوں سے عبرت لو۔بلیغ ڈرانے والی چیزوں سے اثر قبول کرو اور ذکر و موعظت سے فائدہ حاصل کرو۔یہ سمجھو کہ گویا موت اپنے پنجے تمہارے اندر گاڑ چکی ہے اورامیدوں کے رشتے تم سے منقطع ہوچکے ہیں اوردہشت ناک حالات نے تم پرحملہ کردیا ہے اورآخری منزل کی طرف لیجانے کا عمل شروع ہوچکا ہے۔یاد رکھو کہ '' ہر نفس کے ساتھ ایک ہنکانے والا ہے اور ایک گواہ رہتا ہے''۔ہنکانے والا قیامت کی طرف کھینچ کرلے جا رہا ہے اور گواہی دینے والا اعمال کی نگرانی کر رہا ہے


ومنها في صفة الجنة

دَرَجَاتٌ مُتَفَاضِلَاتٌ ومَنَازِلُ مُتَفَاوِتَاتٌ - لَا يَنْقَطِعُ نَعِيمُهَا ولَا يَظْعَنُ مُقِيمُهَا - ولَا يَهْرَمُ خَالِدُهَا ولَا يَبْأَسُ سَاكِنُهَا

(۸۶)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وفيها بيان صفات الحق جل جلاله، ثم عظة الناس بالتقوى والمشورة

قَدْ عَلِمَ السَّرَائِرَ وخَبَرَ الضَّمَائِرَ - لَه الإِحَاطَةُ بِكُلِّ شَيْءٍ والْغَلَبَةُ لِكُلِّ شَيْءٍ - والْقُوَّةُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ.

عظة الناس

فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُ مِنْكُمْ فِي أَيَّامِ مَهَلِه قَبْلَ إِرْهَاقِ أَجَلِه وفِي فَرَاغِه قَبْلَ أَوَانِ شُغُلِه - وفِي مُتَنَفَّسِه

اس کے درجات مختلف(۱) اوراس کی منزلیں پست و بلند ہیں لیکن اس کی نعمتیں ختم ہونے والی نہیں ہیں اور اس کے باشندوں کو کہیں اور کوچ کرنے نہیں ہے۔اس میں ہمیشہ رہنے والا بھی بوڑھا نہیں ہوتا ہے اور اس کے رہنے والوں کو فقرو فاقہ سے سابقہ نہیں پڑتاہے۔

(۸۶)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں صفات خالق '' جل جلالہ'' کاذکر کیا گیا ہے اور پھر لوگوں کو تقویٰ کی نصیحت کی گئی ہے)

بیشک وہ پوشیدہ اسرار کا عالم اور دلوں کے رازوں سے با خبر ہے۔اسے ہرشے پر احاطہ حاصل ہے اوروہ ہر شے پرغالب ہے۔اور طاقت رکھنے والا ہے۔

موعظہ

تم میں سے ہرشخص کا فرض ہے کہ مہلت کے دنوں میں عمل کرے قبل اس کے کہ موت حائل ہو جائے اور فرصت کے دنوں میں کام کرے قبل اس کے کہ مشغول ہو جائے۔ابھی جب کہ سانس لینے کاموقع ہے

(۱)بعض اوقات یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ جب جنت میں ہرنعمت کا انتظام ہے اور وہاں کی کوئی خواہش مسترد نہیں ہوسکتی ہے تو ان درجات کا فائدہ ہی کیا ہے۔پست منزل والا جیسے ہی بلند منزل کی خواہش کرے گا وہاں پہنچ جائے گا اور یہ سب درجات بیکار ہو کر رہ جائیں گے۔لیکن اس کا واضح سا جوا ب یہ ہے کہ جنت ان لوگوں کا مقام نہیں ہے جو اپنی منزل نہ پہچانتے ہوں اوراپنی اوقات سے بلند تر جگہ کی ہوس رکھتے ہوں۔ہوس کا مقام جہنم ہے جنت نہیں ہے۔جنت والے اپنے مقامات کو پہچانتے ہیں۔یہ اوربات ہے کہ بلند مقامات والوں کے خادم اورنوکر ہیں تو خدمت کے سہارے دیگرنو کروں کی طرح بلند منازل تک پہنچ جائیں جس کی طرف امام نے اشارہ فرمایا ہے کہ'' ہمارے شیعہ ہمارے ساتھ جنت میں ہمارے درجہ میں ہوں گے''


قَبْلَ أَنْ يُؤْخَذَ بِكَظَمِه ولْيُمَهِّدْ لِنَفْسِه وقَدَمِه ولْيَتَزَوَّدْ مِنْ دَارِ ظَعْنِه لِدَارِ إِقَامَتِه - فَاللَّه اللَّه

أَيُّهَا النَّاسُ فِيمَا اسْتَحْفَظَكُمْ مِنْ كِتَابِه - واسْتَوْدَعَكُمْ مِنْ حُقُوقِه - فَإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه لَمْ يَخْلُقْكُمْ عَبَثاً ولَمْ يَتْرُكْكُمْ سُدًى - ولَمْ يَدَعْكُمْ فِي جَهَالَةٍ ولَا عَمًى قَدْ سَمَّى آثَارَكُمْ وعَلِمَ أَعْمَالَكُمْ وكَتَبَ آجَالَكُمْ - وأَنْزَلَ عَلَيْكُمُ الْكِتَابَ( تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ ) - وعَمَّرَ فِيكُمْ نَبِيَّه أَزْمَاناً حَتَّى أَكْمَلَ لَه ولَكُمْ - فِيمَا أَنْزَلَ مِنْ كِتَابِه دِينَه الَّذِي رَضِيَ لِنَفْسِه - وأَنْهَى إِلَيْكُمْ عَلَى لِسَانِه مَحَابَّه مِنَ الأَعْمَالِ ومَكَارِهَه - ونَوَاهِيَه وأَوَامِرَه وأَلْقَى إِلَيْكُمُ الْمَعْذِرَةَ - واتَّخَذَ عَلَيْكُمُ الْحُجَّةَ وقَدَّمَ( إِلَيْكُمْ بِالْوَعِيدِ ) - وأَنْذَرَكُمْ( بَيْنَ يَدَيْ عَذابٍ شَدِيدٍ ) فَاسْتَدْرِكُوا بَقِيَّةَ أَيَّامِكُمْ واصْبِرُوا لَهَا أَنْفُسَكُمْ فَإِنَّهَا قَلِيلٌ فِي كَثِيرِ الأَيَّامِ الَّتِي تَكُونُ مِنْكُمْ فِيهَا الْغَفْلَةُ - والتَّشَاغُلُ عَنِ الْمَوْعِظَةِ ولَا تُرَخِّصُوا لأَنْفُسِكُمْ - فَتَذْهَبَ بِكُمُ الرُّخَصُ مَذَاهِبَ الظَّلَمَةِ

قبل اس کے کہ گلا گھونٹ دیا جائے۔اپنے نفس اور اپنی منزل کے لئے سامان مہیا کرلے اور اس کوچ کے گھرسے اس قیام کے گھر کے لئے زاد راہ فراہم کرلے۔

لوگو! اللہ کو یاد رکھو اور اس سے ڈرتے رہو اور اس کتاب کے بارے میں جس کا تم کو محافظ بنایا گیا ہے اوران حقوق کے بارے میں جن کا تم کو امانت دار قرار دیا گیاہے۔اس لئے کہ اس نے تم کو بیکارنہیں پیدا کیا ہے اور نہ مہمل چھوڑ دیا ہے اور نہ کسی جہالت اورتاریکی میں رکھاہے۔تمہارے لئے آثار کو بیان کردیا ہے۔اعمال کو بتا دیا ہے اورمدت حیات کو لکھ دیا ہے۔وہ کتاب نازل کردی ہے جس میں ہر شے کا بیان پایا جاتاہے اور ایک مدت تک اپنے پیغمبر (ص) کو تمہارے درمیان رکھ چکا ہے۔یہاں تک کہ تمہارے لئے اپنے اس دن کو کامل کردیا ہے جسے اس نے پسندیدہ قراردیا ہے اور تمہارے لئے پیغمبر (ص) کی زبان سے ان تمام اعمال کو پہنچادیا ہے جن کو وہ دوست رکھتا ہے یا جن سے نفرت کرتا ہے۔اپنے اوامر و نواہی کر بتا دیا ہے اوردلائل تمہارے سامنے رکھ دئیے ہیں اور حجت تمام کرد ی ہے اورڈرانے دھمکانے کا انتظام کردیا ہے اورعذاب کے آنے سے پہلے ہی ہوشیار کردیا ہے۔لہٰذا اب جتنے دن باقی رہ گئے ہیں انہیں میں تدارک کرلو اور اپنے نفس کو صبر پرآمادہ کرلو کہ یہ دن ایام غفلت کے مقابلہ میں بہت تھوڑے ہیں جب تم نے موعظہ سننے کابھی موقع نہیں نکالا۔خبردار اپنے نفس کو آزاد مت چھوڑو ورنہ یہآزادی تم کو ظالموں کے راستہ پر لے جائے گی


ولَا تُدَاهِنُوا فَيَهْجُمَ بِكُمُ الإِدْهَانُ عَلَى الْمَعْصِيَةِ - عِبَادَ اللَّه إِنَّ أَنْصَحَ النَّاسِ لِنَفْسِه أَطْوَعُهُمْ لِرَبِّه - وإِنَّ أَغَشَّهُمْ لِنَفْسِه أَعْصَاهُمْ لِرَبِّه - والْمَغْبُونُ مَنْ غَبَنَ نَفْسَه والْمَغْبُوطُ مَنْ سَلِمَ لَه دِينُه - والسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِه - والشَّقِيُّ مَنِ انْخَدَعَ لِهَوَاه وغُرُورِه

واعْلَمُوا أَنَّ يَسِيرَ الرِّيَاءِ شِرْكٌ - ومُجَالَسَةَ أَهْلِ الْهَوَى مَنْسَاةٌ لِلإِيمَانِ ومَحْضَرَةٌ لِلشَّيْطَانِ جَانِبُوا الْكَذِبَ فَإِنَّه مُجَانِبٌ لِلإِيمَانِ - الصَّادِقُ عَلَى شَفَا مَنْجَاةٍ وكَرَامَةٍ - والْكَاذِبُ عَلَى شَرَفِ مَهْوَاةٍ ومَهَانَةٍ - ولَاتَحَاسَدُوا - فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الإِيمَانَ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ - ولَا تَبَاغَضُوا فَإِنَّهَا الْحَالِقَةُ واعْلَمُوا أَنَّ الأَمَلَ يُسْهِي الْعَقْلَ -

اوراس کے ساتھ نرمی نہ بر تو ورنہ یہ تمہیں مصیبتوں میں جھونک دے گا۔

بندگان خدا! اپنے نفس کا سب سے سچا مخلص وہی ہے جو پروردگار کا سب سے بڑا اطاعت گزار ہے اور اپنے نفس سے سب سے بڑا خیانت کرنے والا وہی ہے جو اپنے پروردگار کا معصیت کار ہے ۔خسارہ میں وہ ہے جو خود اپنے نفس کوگھاٹے میں رکھے اور قابل رشک وہ ہے جس کا دین سلامت رہ جائے۔نیک بخت وہ ہے جو دوسروں کے حالات سے نصیحت حاصل کرلے اورب د بخت وہ ہے جو خواہشات کے دھوکہ میں آجائے۔

یاد رکھو کہ مختصر سا شائبہ ریا کاری بھی ایک طرح کا شرک ہے اورخواہش(۱) پرستوں کی صحبت بھی ایمان سے غافل بنانے والی ہے اور شیطان کو ہمیشہ سامنے لانے والی ہے۔جھوٹ سے پرہیز کرو کہ وہ ایمان سے کنارہ کش رہتا ہے۔سچ بولنے والا ہمیشہ نجات اور کرامت کے کنارہ پر رہت ہے اور جھوٹ بولنے والا ہمیشہ تباہی اورذلت کے دہانہ پر رہتا ہے۔خبردار ایک دوسرے سے حسد نہ کرنا کہ''حسد ایمان کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ سوکھی لکڑی کو کھا جاتی ہے''۔ اورآپس میں ایک دوسرے سے بغض نہ رکھنا کہ بغض ایمان کا صفایا کرتا دیتا ہے اوریاد رکھو کہ خواہش عقل کو بھلا دیتی ہے

(۱)آپ جب چاہیں اہل دنیا کی محفلوں کا جائزہ لے لیں۔دنیا بھر کی مہمل باتیں کھیل کودکے تذکرے۔سیاست کے تبصرے ۔لوگوں کی غیبت ' پاکیزہ کردار لوگوں پر تہمت تاش کے پتے شطرنج کے مہرے وغیرہ نظر آجائیں گے تو کیا ایسی محفلوں میں ملائکہ مقربین بھی حاضر ہوں گے۔یقینا یہ مقامات شیاطین کے حضور اور ایمان سے غفلت کے مراحل ہیں جن سے اجتناب ہر مسلمان کا فریضہ ہے اوراس کے بغیرتباہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔


ويُنْسِي الذِّكْرَ فَأَكْذِبُوا الأَمَلَ - فَإِنَّه غُرُورٌ وصَاحِبُه مَغْرُورٌ.

(۸۷)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وهي في بيان صفات المتقين وصفات الفساق والتنبيه إلى مكان العترة الطيبة والظن الخاطئ لبعض الناس

عِبَادَ اللَّه إِنَّ مِنْ أَحَبِّ عِبَادِ اللَّه إِلَيْه عَبْداً - أَعَانَه اللَّه عَلَى نَفْسِه فَاسْتَشْعَرَ الْحُزْنَ - وتَجَلْبَبَ الْخَوْفَ فَزَهَرَ مِصْبَاحُ الْهُدَى فِي قَلْبِه - وأَعَدَّ الْقِرَى لِيَوْمِه النَّازِلِ بِه - فَقَرَّبَ عَلَى نَفْسِه الْبَعِيدَ وهَوَّنَ الشَّدِيدَ - نَظَرَ فَأَبْصَرَ وذَكَرَ فَاسْتَكْثَرَ - وارْتَوَى مِنْ عَذْبٍ فُرَاتٍ سُهِّلَتْ لَه مَوَارِدُه - فَشَرِبَ نَهَلًا وسَلَكَ سَبِيلًا جَدَداً قَدْ خَلَعَ سَرَابِيلَ الشَّهَوَاتِ وتَخَلَّى مِنَ الْهُمُومِ - إِلَّا هَمّاً وَاحِداً انْفَرَدَ بِه فَخَرَجَ مِنْ صِفَةِ الْعَمَى - ومُشَارَكَةِ أَهْلِ الْهَوَى وصَارَ مِنْ مَفَاتِيحِ أَبْوَابِ الْهُدَى - ومَغَالِيقِ أَبْوَابِ الرَّدَى

اور ذکر خداسے غافل بنا دیتی ہے ۔خواہشات کوجھٹلائو کہ یہ صرف دھوکہ ہیں اور ان کا ساتھ دینے والا ایک فریب خوردہ انسان ہے اورکچھ نہیں ہے۔

(۸۷)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں متقین اورفاسقین کے صفات کاتذکرہ کیا گیا ہے اور لوگوں کوتنبیہ کی گئی ہے )

بندگان خدا!اللہ کی نگاہ میں سب سے محبوب بندہ وہ ہے جس کی خدانے اس کے نفس کے خلاف مدد کی ہے اور اس نے اندر حزن اور باہرخوف کا لباس پہن لیا ہے ۔اس کے دل میں ہدات کا چراغ روشن ہے اور اس نے آنے والے دن کی مہمانی کا انتظام کرلیا ہے۔اپنے نفس کے لئے آنے والے بعید ( موت) کو قریب کرلیا ہے اور سخت مرحلہ کوآسان کرلیا ہے۔دیکھا ہے تو بصیرت پیدا کی ہے اور خدا کو یاد کیا ہے تو عمل میں کثرت پیدا کی ہے۔ ہدایت کے اس چشمہ شیریں و خوشگوار سے سیراب ہوگیا ہے جس پر وارد ہونے کو آسان بنادیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں خوب چھک کر پی لیا ہے اور سیدھے راستہ پرچل پڑا ہے۔خواہشات کے لباس کو جدا کردیا ہے اور تمام افکارسے آزاد ہوگیاہے صرف ایک فکر آخرت باقی رہ گئی ہے جس کے زیر اثر گمراہی کی منزل سے نکل آیا ہے اور اہل ہو اور ہوس کی شرکت سے دور ہوگیا ہے۔ہدایت کے دروازہ کی کلید بن گیا ہے اور گمراہی کے دروازوں کا قفل بن گیا ہے


قَدْ أَبْصَرَ طَرِيقَه وسَلَكَ سَبِيلَه وعَرَفَ مَنَارَه - وقَطَعَ غِمَارَه واسْتَمْسَكَ مِنَ الْعُرَى بِأَوْثَقِهَا - ومِنَ الْحِبَالِ بِأَمْتَنِهَا فَهُوَ مِنَ الْيَقِينِ عَلَى مِثْلِ ضَوْءِ الشَّمْسِ - قَدْ نَصَبَ نَفْسَه لِلَّه سُبْحَانَه فِي أَرْفَعِ الأُمُورِ - مِنْ إِصْدَارِ كُلِّ وَارِدٍ عَلَيْه وتَصْيِيرِ كُلِّ فَرْعٍ إِلَى أَصْلِه - مِصْبَاحُ ظُلُمَاتٍ كَشَّافُ

عَشَوَاتٍ مِفْتَاحُ مُبْهَمَاتٍ - دَفَّاعُ مُعْضِلَاتٍ دَلِيلُ فَلَوَاتٍ يَقُولُ فَيُفْهِمُ ويَسْكُتُ فَيَسْلَمُ - قَدْ أَخْلَصَ لِلَّه فَاسْتَخْلَصَه - فَهُوَ مِنْ مَعَادِنِ دِينِه وأَوْتَادِ أَرْضِه - قَدْ أَلْزَمَ نَفْسَه الْعَدْلَ فَكَانَ أَوَّلَ عَدْلِه نَفْيُ الْهَوَى عَنْ نَفْسِه - يَصِفُ الْحَقَّ ويَعْمَلُ بِه لَا يَدَعُ لِلْخَيْرِ غَايَةً إِلَّا أَمَّهَا ولَا مَظِنَّةً إِلَّا قَصَدَهَا قَدْ أَمْكَنَ الْكِتَابَ مِنْ زِمَامِه فَهُوَ قَائِدُه وإِمَامُه يَحُلُّ حَيْثُ حَلَّ ثَقَلُه ويَنْزِلُ حَيْثُ كَانَ مَنْزِلُه.

صفات الفساق

وآخَرُ قَدْ تَسَمَّى عَالِماً ولَيْسَ بِه - فَاقْتَبَسَ جَهَائِلَ مِنْ جُهَّالٍ وأَضَالِيلَ مِنْ ضُلَّالٍ

اپنے راستہ کو دیکھ لیا ہے اور اسی پر چل پڑا ہے۔اس لئے کہ وہ اپنے یقین میں بالکل نور آفتاب جیسی روشنی رکھتا ہے۔اپنے نفس کو بلند ترین امور کی خاطر راہ خدا میں آمادہ کرلیا ہے کہ ہرآنے والے مسئلہ کو حل کردے گا اور فروغ کو ان کی اصل کی طرف پلٹا دے گا۔وہ تاریکیوں کا چراغ ہے اوراندھیروں کا روشن کرنے والا۔مبہمات کی کلید ہے تو مشکلات کا دفع کرنے والا اور پھرصحرائوں میں رہنمائی کرنے والا۔وہ بولتا ہے تو بات کو سمجھا لیتا ہے اور چپ رہتا ہے تو سلامتی کا بندوبست کرلیتا ہے ۔اس نے اللہ سے اخلاص برتا ہے تو اللہ نے اسے اپنا بندہ مخلص بنا لیا ہے۔اب وہ دین خدا کا معدن ہے اور زمین خدا کا رکن اعظم۔اس نے اپنے نفس کے لئے عدل کو لازم قرار دے لیا ہے اور اس کے عدل کی پہلی منزل یہ ہے کہ خواہشات کو اپنے نفس سے دور کردیا ہے اور اب حق ہی کو بیان کرتا ہے اور اسی پر عمل کرتا ہے نیکی کی کوئی منزل ایسی نہیں ہے جس کا قصد نہ کرتا ہو اور کوئی ایسا احتمال نہیں ے جس کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔اپنے امور کی زمام کتاب خدا کے حوالہ کردی ہے اور اب وہی اس کی قائد اور پیشوا ہے جہاں اس کا سامان اترتا ہے وہیں وارد ہو جاتا ہے اور جہاں اس کی منزل ہوتی ہے وہیں پڑائو ڈال دیتا ہے۔

اس کے بر خلاف ایک شخص وہ بھی ہے جس نے اپنا نام عالم رکھ لیا ہے حالانکہ علم سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔جاہلوں سے جہالت کو حاصل کیا ہے اور گمراہوں سے گمراہی کو۔لوگوں کے واسطے دھوکہ کے پھندے


ونَصَبَ لِلنَّاسِ أَشْرَاكاً مِنْ حَبَائِلِ غُرُورٍ وقَوْلِ زُورٍ قَدْ حَمَلَ الْكِتَابَ عَلَى آرَائِه - وعَطَفَ الْحَقَّ عَلَى أَهْوَائِه - يُؤْمِنُ النَّاسَ مِنَ الْعَظَائِمِ ويُهَوِّنُ كَبِيرَ الْجَرَائِمِ - يَقُولُ أَقِفُ عِنْدَ الشُّبُهَاتِ وفِيهَا وَقَعَ - ويَقُولُ أَعْتَزِلُ الْبِدَعَ وبَيْنَهَا اضْطَجَعَ - فَالصُّورَةُ صُورَةُ إِنْسَانٍ والْقَلْبُ قَلْبُ حَيَوَانٍ - لَا يَعْرِفُ بَابَ الْهُدَى فَيَتَّبِعَه - ولَا بَابَ الْعَمَى فَيَصُدَّ عَنْه وذَلِكَ مَيِّتُ الأَحْيَاءِ!

عترة النبي

( فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ ) وأَنَّى تُؤْفَكُونَ والأَعْلَامُ قَائِمَةٌ والآيَاتُ وَاضِحَةٌ والْمَنَارُ مَنْصُوبَةٌ - فَأَيْنَ يُتَاه بِكُمْ وكَيْفَ تَعْمَهُونَ وبَيْنَكُمْ عِتْرَةُ نَبِيِّكُمْ - وهُمْ أَزِمَّةُ الْحَقِّ وأَعْلَامُ الدِّينِ وأَلْسِنَةُ الصِّدْقِ - فَأَنْزِلُوهُمْ بِأَحْسَنِ مَنَازِلِ الْقُرْآنِ - ورِدُوهُمْ وُرُودَ الْهِيمِ الْعِطَاشِ

أَيُّهَا النَّاسُ خُذُوهَا عَنْ خَاتَمِ النَّبِيِّينَصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم إِنَّه يَمُوتُ مَنْ مَاتَ مِنَّا ولَيْسَ بِمَيِّتٍ - ويَبْلَى مَنْ بَلِيَ مِنَّا ولَيْسَ بِبَالٍ - فَلَا تَقُولُوا بِمَا لَا تَعْرِفُونَ

اور مکرو فریب کے جال بچھادئیے ہیں۔کتاب کی تاویل اپنی رائے کے مطابق کی ہے اور حق کو اپنے خواہشات کی طرف موڑدیا ہے۔لوگوں کو بڑے بڑے جرائم کی طرف سے محفوظ بناتا ہے اور ان کے لئے گناہان کبیرہ کو بھی آسان بنا دیتا ہے۔کہتا یہی ہے کہ میں شبہات کے مواقع پر توقف کرتا ہوں لیکن واقعاً انہیں میں گر پڑتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ میں بدعتوں سے الگ رہتا ہوں حالانکہ انہیں کے درمیان اٹھتا بیٹھتا ہے اس کی صورت انسانوں جیسی ہے لیکن دل جانوروں جیسا ہے ۔نہ ہدایت کے دروازوں کو پہچانتا ہے کہ اس کا اتباع کرے اور نہ گمراہی کے راستہ کو جانتا ہے کہ اس سے الگ رہے۔یہ در حقیقت ایک چلتی پھرتی میت ہے اور کچھ نہیں ہے۔تو آخر تم لوگ کدھر جا رہے ہو اور تمہیں کس سمت موڑا جا رہا ہے ؟ جب کہ نشانات قائم ہیں ۔اورآیات واضح ہیں۔منارے نصب کئے جا چکے ہیں اور تمہیں بھٹکا یا جا رہا ہے اورتم بھٹکے جا رہے ہو۔دیکھو تمہارے درمیان تمہارے نبی کی عترت موجود ہے۔یہ سب حق کے زمام دار دین کے پرچم اور صداقت کے ترجمان ہیں۔انہیں قرآن کریم کی بہترین منزل پر جگہ دو اور ان کے پاس اس طرح وارد ہو جس طرح پیاسے اونٹ چشمہ پر وارد ہوتے ہیں۔

لوگو! حضرت خاتم النبیین کے اس ارشاد گرامی پر عمل کروکہ '' ہمارا مرنے والا میت نہیں ہوتا ہے اور ہم میںسے کوئی مردو زمانہ سے بوسیدہ نہیں ہوتا ہے'' خبر دار وہ نہ کہو جو تم نہیں جانتے ہو۔اس لئے کہ بسا


فَإِنَّ أَكْثَرَ الْحَقِّ فِيمَا تُنْكِرُونَ - واعْذِرُوا مَنْ لَا حُجَّةَ لَكُمْ عَلَيْه وهُوَ أَنَا - أَلَمْ أَعْمَلْ فِيكُمْ بِالثَّقَلِ الأَكْبَرِ وأَتْرُكْ فِيكُمُ الثَّقَلَ الأَصْغَرَ - قَدْ رَكَزْتُ فِيكُمْ رَايَةَ الإِيمَانِ - ووَقَفْتُكُمْ عَلَى حُدُودِ الْحَلَالِ والْحَرَامِ - وأَلْبَسْتُكُمُ الْعَافِيَةَ مِنْ عَدْلِي - وفَرَشْتُكُمُ الْمَعْرُوفَ مِنْ قَوْلِي وفِعْلِي - وأَرَيْتُكُمْ كَرَائِمَ الأَخْلَاقِ مِنْ نَفْسِي - فَلَا تَسْتَعْمِلُوا الرَّأْيَ فِيمَا لَا يُدْرِكُ قَعْرَه الْبَصَرُ - ولَا تَتَغَلْغَلُ إِلَيْه الْفِكَرُ.

ظن خاطئ

ومنها: حَتَّى يَظُنَّ الظَّانُّ أَنَّ الدُّنْيَا مَعْقُولَةٌ عَلَى بَنِي أُمَيَّةَ تَمْنَحُهُمْ دَرَّهَا وتُورِدُهُمْ صَفْوَهَا - ولَا يُرْفَعُ عَنْ هَذِه الأُمَّةِ سَوْطُهَا ولَا سَيْفُهَا وكَذَبَ الظَّانُّ لِذَلِكَ - بَلْ هِيَ مَجَّةٌ مِنْ لَذِيذِ الْعَيْشِ يَتَطَعَّمُونَهَا بُرْهَةً - ثُمَّ يَلْفِظُونَهَا جُمْلَةً!

اوقات حق اسی میں ہوتا ہے جسے تم نہیں پہچانتے ہو اور جس کے خلاف تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اس کے عذر کوقبول کرلو اور وہ میں ہوں۔کیا میں نے ثقل اکبر قرآن پر عمل نہیں کیا ہے اور کیا ثقل اصغر اہلبیت کو تمہارے درمیان نہیں رکھا ہے ۔میں نے تمہارے درمیان ایمان کے پرچم کو نصب کردیا ہے اور تمہیں حلال و حرام کے حدود سے آگاہ کردیا ہے۔اپنے عدل کی بنا پر تمہیں لباس عافیت پہنایا ہے۔اوراپنے قول و فعل کی نیکیوں کو تمہارے لئے فرش کردیا ہے اورتمہیں اپنے بلند ترین اخلاق کا منظر دکھلا دیا ہے۔لہٰذا خبردار جس بات کی گہرائی تک نگاہیں نہیں پہنچ سکتی ہیں اور جہاں تک فکر کی رسائی نہیں ہے اس میں اپنی رائے کو استعمال نہ کرنا۔

(ابنی امیہ کے مظالم نے اس قدر دہشت زدہ بنادیا ہے کہ )

بعض لوگ خیال کر رہے ہیں کہ دنیا بنی امیہ کے دامن سے باندھ دی گئی ہے۔انہیں کو اپنے فوائد سے فیض یاب کرے گی اور وہی اس کے چشمہ پر وارد ہوتے رہیں گے اور اب اس امت کے سرے ان کے تازیانے اورتلواریں اٹھ نہیں سکتی ہیں۔حالانکہ یہ خیال بالکل غلط ہے۔یہ حکومت فقط ایک لذیذ قسم کا آب دہن ہے جسے تھوڑی دیر چوسیں گے اور پھر خود ہی تھوک دیں گے۔


(۸۸)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وفيها بيان للأسباب التي تهلك الناس

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّه لَمْ يَقْصِمْ جَبَّارِي دَهْرٍ قَطُّ إِلَّا بَعْدَ تَمْهِيلٍ ورَخَاءٍ - ولَمْ يَجْبُرْ عَظْمَ أَحَدٍ مِنَ الأُمَمِ إِلَّا بَعْدَ أَزْلٍ وبَلَاءٍ - وفِي دُونِ مَا اسْتَقْبَلْتُمْ مِنْ عَتْبٍ ومَا اسْتَدْبَرْتُمْ مِنْ خَطْبٍ مُعْتَبَرٌ - ومَا كُلُّ ذِي قَلْبٍ بِلَبِيبٍ ولَا كُلُّ ذِي سَمْعٍ بِسَمِيعٍ - ولَا كُلُّ نَاظِرٍ بِبَصِيرٍ - فَيَا عَجَباً ومَا لِيَ لَا أَعْجَبُ مِنْ خَطَإِ هَذِه الْفِرَقِ - عَلَى اخْتِلَافِ حُجَجِهَا فِي دِينِهَا - لَا يَقْتَصُّونَ أَثَرَ نَبِيٍّ ولَا يَقْتَدُونَ بِعَمَلِ وَصِيٍّ - ولَا يُؤْمِنُونَ بِغَيْبٍ ولَا يَعِفُّونَ عَنْ عَيْبٍ - يَعْمَلُونَ فِي الشُّبُهَاتِ ويَسِيرُونَ فِي الشَّهَوَاتِ - الْمَعْرُوفُ فِيهِمْ مَا عَرَفُوا والْمُنْكَرُ عِنْدَهُمْ مَا أَنْكَرُوا - مَفْزَعُهُمْ فِي الْمُعْضِلَاتِ إِلَى أَنْفُسِهِمْ - وتَعْوِيلُهُمْ فِي الْمُهِمَّاتِ عَلَى آرَائِهِمْ - كَأَنَّ كُلَّ امْرِئٍ مِنْهُمْ إِمَامُ نَفْسِه - قَدْ أَخَذَ مِنْهَا فِيمَا يَرَى بِعُرًى ثِقَاتٍ وأَسْبَابٍ مُحْكَمَاتٍ.

(۸۸)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں لوگوں کی ہلاکت کے اسباب بیان کئے گئے ہیں)

امابعد!پروردگار نےکسی دورکےظالموں کی کمراسوقت تک نہیں توڑی ہےجب تک انہیں مہلت اورڈھیل نہیں دےدی ہے اورکسی قوم کی ٹوٹی ہوئی ہڈی کواس وقت تک جوڑا نہیں ہے جب تک اسےمصیبتوں اوربلائوں میں مبتلا نہیں کیا ہےاپنے لئےجن مصیبتوں کاتم نےسامناکیاہے اورجن حادثات سےتم گزرچکے ہوانہیں میں سامان عبرت موجود ہےمگر مشکل یہ ہےکہ ہردل والاعقل مند نہیں ہوت ا ہےاور ہرکان والاسمیع یا ہرآنکھ والابصیرنہیں ہوتا ہےکس قدر حیرت انگیز بات ہےاورمیں کس طرح تعجب نہ کروں کہ یہ تمام فرقے اپنےاپنے دین کے بارے میں مختلف دلائل رکھنےکے باوجود سب غلطی پر ہیں کہ نہ نبی (ص) کے نقش قدم پرچلتے ہیں اورنہ انکےاعمال کی پیروی کرتےہیں۔نہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ عیب سے پرہیز کرتے ہیں۔شبہات پرعمل کرتے ہیں اور خواہشات کے راستوں پر قدم آگے بڑھاتے ہیں۔ان کے نزدیک معروف وہی ہےجس کو یہ نیکی سمجھیں اورمنکروہی ہے جس کایہ انکار کردیں۔مشکلات میں ان کا مرجع خود ان کی ذات ہے اورمبہم مسائل میں ان کا اعتمادصرف اپنی رائے پرہےگویا کہ ان میں ہر شخص اپنے نفس کاامام ہے۔اور اپنی ہر رائے کو مستحکم وسائل اور مضبوط دلائل کا نتیجہ سمجھتا ہے۔


(۸۹)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في الرسول الأعظمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وبلاغ الإمام عنه

أَرْسَلَه عَلَى حِينِ فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ - وطُولِ هَجْعَةٍ مِنَ الأُمَمِ،

واعْتِزَامٍ مِنَ الْفِتَنِ - وانْتِشَارٍ مِنَ الأُمُورِ وتَلَظٌّ مِنَ الْحُرُوبِ والدُّنْيَا كَاسِفَةُ النُّورِ ظَاهِرَةُ الْغُرُورِ - عَلَى حِينِ اصْفِرَارٍ مِنْ وَرَقِهَا - وإِيَاسٍ مِنْ ثَمَرِهَا واغْوِرَارٍ مِنْ مَائِهَا - قَدْ دَرَسَتْ مَنَارُ الْهُدَى وظَهَرَتْ أَعْلَامُ الرَّدَى - فَهِيَ مُتَجَهِّمَةٌ لأَهْلِهَا عَابِسَةٌ فِي وَجْه طَالِبِهَا ثَمَرُهَا الْفِتْنَةُ وطَعَامُهَا الْجِيفَةُ وشِعَارُهَا الْخَوْفُ ودِثَارُهَا السَّيْفُ -. فَاعْتَبِرُوا عِبَادَ اللَّه - واذْكُرُوا تِيكَ الَّتِي آبَاؤُكُمْ وإِخْوَانُكُمْ بِهَا مُرْتَهَنُونَ وعَلَيْهَا مُحَاسَبُونَ - ولَعَمْرِي مَا تَقَادَمَتْ بِكُمْ ولَا بِهِمُ الْعُهُودُ - ولَا خَلَتْ فِيمَا بَيْنَكُمْ وبَيْنَهُمُ الأَحْقَابُ والْقُرُونُ - ومَا أَنْتُمُ الْيَوْمَ مِنْ يَوْمَ كُنْتُمْ فِي أَصْلَابِهِمْ بِبَعِيدٍ -. واللَّه مَا أَسْمَعَكُمُ الرَّسُولُ شَيْئاً - إِلَّا وهَا أَنَا ذَا مُسْمِعُكُمُوه -

(۸۹)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(رسول اکرم (ص) اور تبلیغ امام کے بارے میں)

اللہ نے انہیں اس دور میں بھیجا جب رسولوں کا سلسلہ موقوف تھا اور امتیں خواب غفلت میں پڑی ہوئی تھیں۔فتنے سر اٹھائے ہوئے تھے اور جملہ امور میں ایک انتشار کی کیفیت تھی اور جنگ کے شعلے بھڑک رہے تھے۔دنیا کی روشنی کجلائی ہوئی تھی اور اس کا فریب واضح تھا۔باغ زندگی کے پتے زرد ہوگئے تھے اور ثمرات حیات سے مایوسی پیدا ہوچلی تھی۔پانی بھی تہ نشین ہو چکا تھا اور ہدایت ک ے منارے بھی مٹ گئے تھے اور ہلاکت کے ناشنات بھی نمایاں تھے۔یہ دنیا اپنے اہل کو ترش روئی سے دیکھ رہی تھی اور اپنے طلب گاروں کے سامنے منہ بگاڑ کر پیش آرہی تھی۔اس کا ثمرہ فتنہ تھا اور اس کی غذا مردار۔اس کا اندرونی لباس خوف تھا اوربیرونی لباس تلوار۔لہٰذا بندگان خداتم عبرت حاصل کرو اور ان حالات کو یاد کرو جن میں تمہارے باپ دادا اوربھائی بندہ گرفتار ہیں اور ان کا حساب دے رہے ہیں۔

میری جان کی قسم! ابھی ان کے اور تمہارے درمیان زیادہ زمانہ نہیں گزرا ہے اور نہ صدیوں کا فاصلہ ہوا ہے اور نہ آج کا دن کل کے دن سے زیادہ دور ہے جب تم انہیں بزرگوں کے صلب میں تھے۔

خدا کی قسم رسول اکرم (ص) نے تمہیں کوئی ایسی بات نہیں سنائی ہے جسے آج میں نہیں سنا رہا ہوں


ومَا أَسْمَاعُكُمُ الْيَوْمَ بِدُونِ أَسْمَاعِكُمْ بِالأَمْسِ - ولَا شُقَّتْ لَهُمُ الأَبْصَارُ - ولَا جُعِلَتْ لَهُمُ الأَفْئِدَةُ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ - إِلَّا وقَدْ أُعْطِيتُمْ مِثْلَهَا فِي هَذَا الزَّمَانِ - ووَ اللَّه مَا بُصِّرْتُمْ بَعْدَهُمْ شَيْئاً جَهِلُوه - ولَا أُصْفِيتُمْ بِه وحُرِمُوه - ولَقَدْ نَزَلَتْ بِكُمُ الْبَلِيَّةُ جَائِلًا خِطَامُهَا رِخْواً بِطَانُهَا فَلَا يَغُرَّنَّكُمْ مَا أَصْبَحَ فِيه أَهْلُ الْغُرُورِ - فَإِنَّمَا هُوَ ظِلٌّ مَمْدُودٌ إِلَى أَجَلٍ مَعْدُودٍ.

(۹۰)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وتشتمل على قدم الخالق وعظم مخلوقاته، ويختمها بالوعظ

الْحَمْدُ لِلَّه الْمَعْرُوفِ مِنْ غَيْرِ رُؤْيَةٍ والْخَالِقِ مِنْ غَيْرِ رَوِيَّةٍ .الَّذِي لَمْ يَزَلْ قَائِماً دَائِماً إِذْ لَا سَمَاءٌ ذَاتُ أَبْرَاجٍ - ولَا حُجُبٌ ذَاتُ إِرْتَاجٍ ولَا لَيْلٌ دَاجٍ ولَا بَحْرٌ سَاجٍ ولَا جَبَلٌ ذُو فِجَاجٍ ولَا فَجٌّ ذُو اعْوِجَاجٍ - ولَا أَرْضٌ ذَاتُ مِهَادٍ ولَا خَلْقٌ ذُو اعْتِمَادٍ ذَلِكَ مُبْتَدِعُ

اور تمہارے کان بھی کل کے کان سے کم نہیں ہیں اور جس طرح کل انہوں نے لوگوں کی آنکھیں کھول دی تھیں اور دل بنادئیے تھے ویسے ہی آج میں بھی تمہیں وہ ساری چیزیں دے رہا ہوں اور خدا گواہ ہے کہ تمہیں کوئی ایسی چیز نہیں دکھلائی جا رہی ہے جس سے تمہارے بزرگ نا واقف تھے اور نہ کوئی ایسی خاص بات بتائی جا رہی ہے جس سے وہ محروم رہے ہوں۔اور دیکھو تم پر ایک مصیبت نازل ہوگئی ہے اس اونٹنی کے مانند جس کی نکیل جھول رہی ہو اور جس کا تنگ ڈھیلاہوگیا ہولہٰذا خبردار تمہیں پچھلے فریب خوردہ لوگوں کی زندگی دھوکہ میں نہ ڈال دے کہ یہ عیش دنیا ایک پھیلا ہوا سایہ ہے جس کی مدت معین ہے اور پھر سمٹ جائے گا۔

(۹۰)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں معبود کے قدم اور اس کی مخلوقات کی عظمت کا تذکرہ کرتے ہوئے موعظہ پر اختتام کیا گیا ہے)

ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جوبغیر دیکھے معروف ہے اور بغیر سوچے پیدا کرنے والا ہے۔وہ ہمیشہ سے قائم اوردائم ہے جب نہ یہ برجوں والےآسمان تھ ے اورنہ بلند دروازوں والے حجابات ۔نہ اندھیری رات تھی اور نہ ٹھہرے ہوئے سمندر۔نہ لمبے چوڑے راستوں والے پہاڑ تھے اورنہ ٹیڑھی ترچھی پہاڑی راہیں۔نہ بچھے ہوئے فرش والی زمین تھی اور نہ کس بل والی مخلوقات ۔وہی مخلوقات کا ایجاد کرنے والا ہے


الْخَلْقِ ووَارِثُه وإِلَه الْخَلْقِ ورَازِقُه - والشَّمْسُ والْقَمَرُ دَائِبَانِ فِي مَرْضَاتِه - يُبْلِيَانِ كُلَّ جَدِيدٍ ويُقَرِّبَانِ كُلَّ بَعِيدٍ.

قَسَمَ أَرْزَاقَهُمْ وأَحْصَى آثَارَهُمْ وأَعْمَالَهُمْ - وعَدَدَ أَنْفُسِهِمْ وخَائِنَةَ أَعْيُنِهِمْ ومَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ مِنَ الضَّمِيرِ - ومُسْتَقَرَّهُمْ ومُسْتَوْدَعَهُمْ مِنَ الأَرْحَامِ والظُّهُورِ - إِلَى أَنْ تَتَنَاهَى بِهِمُ الْغَايَاتُ.

هُوَ الَّذِي اشْتَدَّتْ نِقْمَتُه عَلَى أَعْدَائِه فِي سَعَةِ رَحْمَتِه - واتَّسَعَتْ رَحْمَتُه لأَوْلِيَائِه فِي شِدَّةِ نِقْمَتِه - قَاهِرُ مَنْ عَازَّه ومُدَمِّرُ مَنْ شَاقَّه ومُذِلُّ مَنْ نَاوَاه وغَالِبُ مَنْ عَادَاه مَنْ تَوَكَّلَ عَلَيْه كَفَاه

اور وہی آخرمیں سب کا وارث ہے۔وہی سب کا معبود ہے اور سب کا رازق ہے۔شمس وقمراسی کی مرضی سے مسلسل حرکت میں ہیں کہ ہر نئے کو پرانا کردیتے ہیں اور ہر بعید کو قریب تر بنا دیتے ہیں۔

اس نے سب کے رزق کو تقسیم کیا ہے اور سب کے آثار و اعمال کا احصاء کیا ہے۔اسی نے ہر ایک کی سانسوں کا شمار کیا ہے اور ہر ایک کی نگاہ کی خیانت اورسینہ کے چھپے ہوئے اسرار اور اصلاب وارحام میں ان کے مراکز کا حساب رکھا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی آخری منزل تک پہنچ جائیں۔دہی دہ ہے جس کا غضب دشمنوں پر اس کی وسعت رحمت کے باوجود شدید ہے اور اس کی رحمت اس کے دوستوں کے لئے اس کے شدت غضب کے باوجود وسیع ہے۔جو اس پر غلبہ پیدا کرنا چاہے اس کے حق میں قاہر ہے اور جو کوئی اس سے جھگڑا کرنا چاہیے اس کے حق میں تباہ کرنے والا ہے۔ہر مخالفت کرنے والے کا ذلیل کرنے والا اور ہر دشمنی کرنے والے پر غالب آنے والا ہے ۔جواس پر توکل کرتا ہے(۱) اس کے لئے کافی ہو جاتا ہے

(۱)یوں تو پروردگار کی کسی صفت اور اس کے کسی کمال میں اس کا کوئی مثل و نظیر یا شریک و وزیر نہیں ہے لیکن انسانی زندگی کے لئے خصوصیت کے ساتھ چار صفات انتہائی اہم ہیں:

۱۔وہ اپنے اوپر اعتماد کرنے والوں کے لئے کافی ہو جاتا ہے اور انہیں دوسروں کا دست نگرنہیں بننے دیتا ہے۔

۲۔وہ ہر سوال کرنے والے کو عطا کرتا ہے اور کسی طرح کی تفریق کا قائل نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ سوال نہ کرنے والوں کوبھی عطا کرتا ہے۔

۳۔وہ ہر قرضہ کوادا کر دیتا ہے حالانکہ ہر قرضہ دینے والا اسی کے دئیے ہوئے مال میں سے قرض دیتا ہے اور اسی کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔

۴۔وہ شکریہ ادا کرنے والوں کوبھی انعام دیتا ہے جب کہ وہ اپنے فریضہ کوادا کرتے ہیں اور کوئی نیا کار خیر انجام نہیں دیتے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ ان لوگوں کوبھی اس بات کاخیال رکھنا چاہیے کہ اس بات کاشکریہ ادا کریں کہ ہمیں دیا ہے اور ''دوسروں کو نہیں دیا ہے '' کہ یہ اس کے کرم کی توہین ہے۔شکریہ نہیں ہے شکریہ اس بات کا ہے کہ ہمیں یہ نعمت دی ہے۔اگرچہ دوسروں کوبھی مصلحت کے مطابق دوسری نعمتوں سے نوازا ہے۔


ومَنْ سَأَلَه أَعْطَاه - ومَنْ أَقْرَضَه قَضَاه ومَنْ شَكَرَه جَزَاه.

عِبَادَ اللَّه زِنُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُوزَنُوا - وحَاسِبُوهَا مِنْ قَبْلِ أَنْ تُحَاسَبُوا - وتَنَفَّسُوا قَبْلَ ضِيقِ الْخِنَاقِ وانْقَادُوا قَبْلَ عُنْفِ السِّيَاقِ واعْلَمُوا أَنَّه مَنْ لَمْ يُعَنْ عَلَى نَفْسِه - حَتَّى يَكُونَ لَه مِنْهَا وَاعِظٌ وزَاجِرٌ - لَمْ يَكُنْ لَه مِنْ غَيْرِهَا لَا زَاجِرٌ ولَا وَاعِظٌ.

(۹۱)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

تعرف بخطبة الأشباح وهي من جلائل خطبهعليه‌السلام

رَوَى مَسْعَدَةُ بْنُ صَدَقَةَ عَنِ الصَّادِقِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍعليه‌السلام أَنَّه قَالَ: خَطَبَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ بِهَذِه الْخُطْبَةِ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ - وذَلِكَ أَنَّ رَجُلًا أَتَاه فَقَالَ لَه يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - صِفْ لَنَا رَبَّنَا مِثْلَ مَا نَرَاه عِيَاناً - لِنَزْدَادَ لَه حُبّاً وبِه مَعْرِفَةً - فَغَضِبَ ونَادَى الصَّلَاةَ جَامِعَةً -

اور جو اس سے سوال کرتا ہے اسے عطا کر دیتا ہے۔جو اسے قرض دیتا ہے اسے ادا کر دیتا ہے اور جواس کا شکریہ ادا کرتا ہے اس کو جزا دیتا ہے۔

بندگان خدا!اپنے آپ کو تول لو قبل اس کے کہ تمہارا وزن کیا جائے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرلو قبل اس کے کہ تمہارا حساب کیا جائے ۔گلے کا پھندہ تنگ ہونے سے پہلے سانس لے لو اور زبر دستی لے جائے جانے سے پہلے از خود جانے کے لئے تیار ہو جائو اور یاد رکھو کہ جوشخص خود اپنے نفس کی مدد کرکے اسے نصیحت اورتنبیہ نہیں کرتا ہے اس کو کوئی دوسرا نہ نصیحت کرسکتا ہے اورنہ تنبیہ کر سکتا ہے۔

(۹۱)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(اس خطبہ کو خطبہ اشباح کہا جاتا ہے جسے آپ کے جلیل ترین خطبات میں شمار کیا گیا ہے )

مسعدہ بن صدقہ نے امام جعفر صادق سے روایت کی ہے کہ امیر المومنین نے یہ خطبہ منبر کوفہ سے اس وقت ارشاد فرمایا تھا جب ایک شخص نے آپ سے یہ تقضا کیا کہ پروردگار کے اوصاف اس طرح بیان کریں کہ گویا وہ ہماری نگاہ کے سامنے ہے تاکہ ہماری معرفت اور محبت الٰہی میں اضافہ ہو جائے۔

آپ کو اس بات پر غصہ آگیا اور آپ نے نماز جماعت کا اعلان فرمادیا


فَاجْتَمَعَ النَّاسُ حَتَّى غَصَّ الْمَسْجِدُ بِأَهْلِه - فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ وهُوَ مُغْضَبٌ مُتَغَيِّرُ اللَّوْنِ - فَحَمِدَ اللَّه وأَثْنَى عَلَيْه وصَلَّى عَلَى النَّبِيِّصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ثُمَّ قَالَ:

وصف اللَّه تعالى

الْحَمْدُ لِلَّه الَّذِي لَا يَفِرُه الْمَنْعُ والْجُمُودُ ولَا يُكْدِيه الإِعْطَاءُ والْجُودُ - إِذْ كُلُّ مُعْطٍ مُنْتَقِصٌ سِوَاه وكُلُّ مَانِعٍ مَذْمُومٌ مَا خَلَاه - وهُوَ الْمَنَّانُ بِفَوَائِدِ النِّعَمِ وعَوَائِدِ الْمَزِيدِ والْقِسَمِ - عِيَالُه الْخَلَائِقُ ضَمِنَ أَرْزَاقَهُمْ وقَدَّرَ أَقْوَاتَهُمْ - ونَهَجَ سَبِيلَ الرَّاغِبِينَ إِلَيْه والطَّالِبِينَ مَا لَدَيْه - ولَيْسَ بِمَا سُئِلَ بِأَجْوَدَ مِنْه بِمَا لَمْ يُسْأَلْ - الأَوَّلُ الَّذِي لَمْ يَكُنْ لَه قَبْلٌ فَيَكُونَ شَيْءٌ قَبْلَه - والآخِرُ الَّذِي لَيْسَ له بَعْدٌ فَيَكُونَ شَيْءٌ بَعْدَه - والرَّادِعُ أَنَاسِيَّ الأَبْصَارِ عَنْ أَنْ تَنَالَه أَوْ تُدْرِكَه مَا اخْتَلَفَ عَلَيْه دَهْرٌ فَيَخْتَلِفَ مِنْه الْحَالُ - ولَا كَانَ فِي مَكَانٍ فَيَجُوزَ عَلَيْه الِانْتِقَالُ ولَوْ وَهَبَ مَا تَنَفَّسَتْ عَنْه مَعَادِنُ الْجِبَالِ - وضَحِكَتْ عَنْه أَصْدَافُ الْبِحَارِ مِنْ فِلِزِّ اللُّجَيْنِ والْعِقْيَانِ ونُثَارَةِ الدُّرِّ وحَصِيدِ الْمَرْجَانِ مَا أَثَّرَ ذَلِكَ فِي جُودِه

۔مسجد مسلمانوں سے چھلک اٹھی تو آپ منبر پرتشریف لے گئے اور اس عالم میں خطبہ ارشاد فرمایا کہ آپ کے چہرہ کا رنگ بدلا ہواتھا اور غیظ و غضب کے آثارنمودار تھے۔حمدو ثنائے الٰہی اورصلوات و سلام کے بعد ارشاد فرمایا:۔

ساری تعریف اس پروردگار کے لئے ہے جس کے خزانہ میں فضل و کرم کے روک دینے اور عطائوں کے منجمد کر دینے سے اضافہ نہیں ہوتا ہے اور جودو کرم کے تسلسل سے کمی نہیں آتی ہے۔اس لئے کہ اس کے علاوہ ہر عطا کرنے والے کے یہاں کمی ہو جاتی ہے اور اس کے ماسواہر نہ دینے والا قابل مذمت ہوتا ہے۔وہ مفید ترین نعمتوں اور مسلسل روزیوں کے ذریعہ احسان کرنے والا ہے۔مخلوقات اس کی ذمہداری می ہیں اور اس نے سب کے رزق کی ضمانت دی ہے اور روزی معین کردی ہے۔اپنی طرف توجہ کرنے والوں اور اپنے عطا یا کے سائلوں کے لئے راستہ کھول دیا ہے اور مانگ نے والوں کو نہ مانگ نے والوں سے زیادہ عطا نہیں کرتا ہے۔وہ ایسا اول ہے جس کی کوئی ابتدا نہیں ہے کہ اس سے پہلے کوئی ہو جائے اور ایسا آخر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں ہے کہ اس کے بعد کوئی رہ جائے۔وہ آنکھوں کی بینائی کو اپنی ذات تک پہنچنے اور اس کا ادراک کرنے سے روکے ہوئے ہے۔اس پر زمانہ کے معدن اپنی سانسوں سے باہرنکالتے ہیں یا جنہیں سمندرکے صدف مسکرا کرباہر پھینک دیتے ہیں چاہے وہ چاندی ہو یا سونا۔موتی ہوں یا مرجان توبھی اس کے کرم پر کوئی اثرنہ پڑے گا۔


ولَا أَنْفَدَ سَعَةَ مَا عِنْدَه - ولَكَانَ عِنْدَه مِنْ ذَخَائِرِ الأَنْعَامِمَا لَا تُنْفِدُه مَطَالِبُ الأَنَامِ - لأَنَّه الْجَوَادُ الَّذِي لَا يَغِيضُه سُؤَالُ السَّائِلِينَ - ولَا يُبْخِلُه إِلْحَاحُ الْمُلِحِّينَ.

صفاته تعالى في القرآن

فَانْظُرْ أَيُّهَا السَّائِلُ - فَمَا دَلَّكَ الْقُرْآنُ عَلَيْه مِنْ صِفَتِه فَائْتَمَّ بِه واسْتَضِئْ بِنُورِ هِدَايَتِه ومَا كَلَّفَكَ الشَّيْطَانُ عِلْمَه - مِمَّا لَيْسَ فِي الْكِتَابِ عَلَيْكَ فَرْضُه - ولَا فِي سُنَّةِ النَّبِيِّصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وأَئِمَّةِ الْهُدَى أَثَرُه - فَكِلْ عِلْمَه إِلَى اللَّه سُبْحَانَه - فَإِنَّ ذَلِكَ مُنْتَهَى حَقِّ اللَّه عَلَيْكَ - واعْلَمْ أَنَّ الرَّاسِخِينَ فِي الْعِلْمِ هُمُ الَّذِينَ أَغْنَاهُمْ - عَنِ اقْتِحَامِ السُّدَدِ الْمَضْرُوبَةِ دُونَ الْغُيُوبِ - الإِقْرَارُ بِجُمْلَةِ مَا جَهِلُوا تَفْسِيرَه مِنَ الْغَيْبِ الْمَحْجُوبِ فَمَدَحَ اللَّه تَعَالَى اعْتِرَافَهُمْ بِالْعَجْزِ -

!

اور نہ اس کے خزانوں کی وسعت میں کوئی کمی آسکتی ہے ۔اوراس کے پاس نعمتوں کے وہ خزانے رہ جائی گے جنہیں مانگ نے والوں کے مطالبات ختم نہیں کر سکتے ہیں۔اس لئے کہ وہ ایسا جواد و کریم ہے کہ نہ سائلوں کا سوال اس کے یہاں کمی پیدا کر سکتا ہے اور نہ مفلسوں کا اصرار اسے بخیل بنا سکتا ہے۔

قرآن مجید میں صفات پروردگار

صفات خدا کے بارے میں سوال کرنے والو! قرآن مجید نے جن صفات) ۱ ( کی نشان دہی کی ہے انہیں کا اتباع کرو۔اوراسی کے نور ہدایت کے سے روشنی حاصل کرو اور جس علم کی طرف شیطان متوجہ کرے اور اس کا کوئی فریضہ نہ کتاب الٰہی میں موجود ہو اور نہ سنت پیغمبر (ص) اور ارشادات ائمہ ہدیٰ میں تو اس کا علم پروردگار کے حوالے کردو کہ۔یہی اس کے حق کی آخری حد ہے اور یہ یاد رکھو کہ راسخون فی العلم وہی افراد ہیں جنہیں غیب الٰہی کے سامنے پڑے ہوئے پردوں کے اندر درانہ داخل ہونے سے اس امر نے بے نیاز بنادیا ہے کہ وہ اس پوشیدہ غیب کا اجمالی اقرار رکھتے ہیں اور پروردگار نے ان کے اسی جذبہ کی تعریف کی ہے کہ جس چیز کو ان کا علم احاطہ نہیں کر سکتا اس کے بارے میں اپنی عاجزی کا اقرار کر لیتے ہیں اور اسی

(۱)اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن مجید نے جتنے صفات بیان کردئیے ہیں ان کے علاوہ دیگراسماء و صفات کا اطلاق نہیں ہوسکتا ہے جیسا کہ بعض علماء اعلام کا خیال ہے۔کہ اسماء الہیہ توقیفہ ہیں اور نصوص آیات و روایات کے بغیر کسی نام یا صفت کا اطلاق جائز نہیں ہے۔بلکہ اس ارشاد کا واضح سا مفہوم یہ ہے کہ جن صفات کی قرآن کریم نے نفی کردی ہے ان کا اطلاق جائز نہیں ہے چاہے کسی زبان اور کسی لہجہ ہی میں کیوں نہ ہو۔


عَنْ تَنَاوُلِ مَا لَمْ يُحِيطُوا بِه عِلْماً - وسَمَّى تَرْكَهُمُ التَّعَمُّقَ - فِيمَا لَمْ يُكَلِّفْهُمُ الْبَحْثَ عَنْ كُنْهِه رُسُوخاً

فَاقْتَصِرْ عَلَى ذَلِكَ - ولَا تُقَدِّرْ عَظَمَةَ اللَّه سُبْحَانَه عَلَى قَدْرِ عَقْلِكَ - فَتَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينَ هُوَ الْقَادِرُ الَّذِي إِذَا ارْتَمَتِ الأَوْهَامُ لِتُدْرِكَ مُنْقَطَعَ قُدْرَتِه - وحَاوَلَ الْفِكْرُ الْمُبَرَّأُ مِنْ خَطَرَاتِ الْوَسَاوِسِ - أَنْ يَقَعَ عَلَيْه فِي عَمِيقَاتِ غُيُوبِ مَلَكُوتِه - وتَوَلَّهَتِ الْقُلُوبُ إِلَيْه لِتَجْرِيَ فِي كَيْفِيَّةِ صِفَاتِه - وغَمَضَتْ مَدَاخِلُ الْعُقُولِ فِي حَيْثُ لَا تَبْلُغُه الصِّفَاتُ - لِتَنَاوُلِ عِلْمِ ذَاتِه رَدَعَهَا وهِيَ تَجُوبُ مَهَاوِيَ سُدَف ِ الْغُيُوبِ مُتَخَلِّصَةً إِلَيْه سُبْحَانَه فَرَجَعَتْ إِذْ جُبِهَتْ مُعْتَرِفَةً - بِأَنَّه لَا يُنَالُ بِجَوْرِ الِاعْتِسَافِ كُنْه مَعْرِفَتِه - ولَا تَخْطُرُ بِبَالِ أُولِي الرَّوِيَّاتِ خَاطِرَةٌ مِنْ تَقْدِيرِ جَلَالِ عِزَّتِه الَّذِي ابْتَدَعَ الْخَلْقَ عَلَى غَيْرِ مِثَالٍ امْتَثَلَه ولَا مِقْدَارٍ احْتَذَى عَلَيْه مِنْ خَالِقٍ مَعْبُودٍ كَانَ قَبْلَه - وأَرَانَا مِنْ مَلَكُوتِ قُدْرَتِه - وعَجَائِبِ مَا نَطَقَتْ بِه آثَارُ حِكْمَتِه - واعْتِرَافِ الْحَاجَةِ مِنَ الْخَلْقِ

صفت کو اس نے رسوخ سے تعبیر کیا ہے کہ جس بات کی تحقیق ان کے ذمہ نہیں ہے اس کی گہرائیوں میں جانے کاخیال نہیں رکھتے ہیں۔

تم بھی اسی بات پراکتفا کرو اور اپنی عقل کے مطابق عظمت الٰہی کا اندازہ نہ کرو کہ ہلاک ہونے والوں میں شمار ہو جائو۔ دیکھو و ایسا قادر ہے کہ جب فکریں اس کی قدرت کی انتہا معلوم کرنے کے لئے آگے بڑھتی ہیں اور ہر طرح کے وسوسہ سے پاکیزہ خیال اس کی سلطنت کے پوشیدہ اسرار کو اپنی زد میں لانا چاہتا ہے اور دل والہانہ طور پر اس کے صفات کی کیفیت معلوم کرنے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اورعقل کی راہیں اس کی ذات کاعلم حاصل کرنے کے لئے صفات کی رسائی سے آگے بڑھنا چاہتی ہیں تو وہ انہیں اس عالم میں مایوس واپس کردیتا ہے کہ وہ عالم غیب کی گہرائیوں کی راہیں طے کر رہی ہوتی ہیں اورمکمل طور پر اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں عقلیں اس اعتراف کے ساتھ پلٹ آتی ہیں کہ غلط فکروں سے اس کی معرفت کی حقیقت کا ادراک نہیں ہوسکتا ہے اور صاحبان فکر کے دلوں میں اس کے جلال و عزت کا ایک کرشمہ بھی خطور نہیں کر سکتا ہے۔اس نے مخلوقات کو بغیر کسی نمونہ کو نگاہ میں رکھے ہوئے ایجاد کیا ہے اور کسی ماسبق کے خالق و معبود کے نقشہ کے بغیر پیدا کیا ہے۔اس نے اپنی قدرت کے اختیارات ' اپنی حکمت کے منہ بولتے آثار اورمخلوقات کے


إِلَى أَنْ يُقِيمَهَا بِمِسَاكِ قُوَّتِه - مَا دَلَّنَا بِاضْطِرَارِ قِيَامِ الْحُجَّةِ لَه عَلَى مَعْرِفَتِه - فَظَهَرَتِ الْبَدَائِعُ - الَّتِي أَحْدَثَتْهَا آثَارُ صَنْعَتِه وأَعْلَامُ حِكْمَتِه - فَصَارَ كُلُّ مَا خَلَقَ حُجَّةً لَه ودَلِيلًا عَلَيْه - وإِنْ كَانَ خَلْقاً صَامِتاً فَحُجَّتُه بِالتَّدْبِيرِ نَاطِقَةٌ - ودَلَالَتُه عَلَى الْمُبْدِعِ قَائِمَةٌ

فَأَشْهَدُ أَنَّ مَنْ شَبَّهَكَ بِتَبَايُنِ أَعْضَاءِ خَلْقِكَ - وتَلَاحُمِ حِقَاقِ مَفَاصِلِهِمُ الْمُحْتَجِبَةِ لِتَدْبِيرِ حِكْمَتِكَ - لَمْ يَعْقِدْ غَيْبَ ضَمِيرِه عَلَى مَعْرِفَتِكَ - ولَمْ يُبَاشِرْ قَلْبَه الْيَقِينُ بِأَنَّه لَا نِدَّ لَكَ - وكَأَنَّه لَمْ يَسْمَعْ تَبَرُّؤَ التَّابِعِينَ مِنَ الْمَتْبُوعِينَ - إِذْ يَقُولُونَ «تَا لله إِنْ كُنَّا لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ - إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعالَمِينَ» - كَذَبَ الْعَادِلُونَ بِكَ إِذْ شَبَّهُوكَ بِأَصْنَامِهِمْ - ونَحَلُوكَ حِلْيَةَ الْمَخْلُوقِينَ بِأَوْهَامِهِمْ

لئے اس کے سہارے کی احتیاج کے اقرارکے ذریعہ اس حقیقت کو بے نقاب کردیا ہے کہ ہم اس کی معرفت پردلیل قائم ہونے کا اقرار کرلیں کہ جن جدید ترین اشیاء کو اس کے آثار صنعت نے ایجاد کیا ہے اور نشان ہائے حکمت نے پیدا کیا ہے وہ سب بالکل واضح ہیں اور ہر مخلوق اس کے وجود کے لئے ایک مستقل حجت اور دلیل ہے کہ اگر وہ خاموش(۱) بھی ہے تو اس کی تدبیر بول رہی ہے اور اس کی دلالت ایجاد کرنے والے پر قائم ہے۔

خدایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ جس نے بھی تیری مخلوقات کے اعضاء کے اختلاف اور ان کے جوڑوں کے سروں کے ملنے سے تیری حکمت کی تدبیر کے لئے تیری شبیہ قراردیا۔اس نے اپنے ضمیر کے غیب کو تیری معرفت سے وابستہ نہیں کیا اور اس کے دل میں یہ یقین پیوست نہیں ہوا کہ تیرا کوئی مثل نہیں ہے اورگویا اس نے یہ پیغام نہیں سنا کہ ایک دن مرید اپنے پیرو مرشد سے یہ کہہ کر بیزاری کریں گے کہ '' بخدا ہم کھلی ہوئی گمراہی میں تھے جب تم کو رب العالمین کے برابر قرار دے رہے تھے۔بے شک تیرے برابر قراردینے والے جھوٹے ہیں کہ انہوں نے تجھے اپنے اصنام سے تشبیہ دی ہے اور اپنے او ہام کی بنا پر تجھے مخلوقات کا حلیہ عطا کردیا ہے اور اپنے خیالات

(۱)انسان کی غفلت کی آخری حد یہ ہے کہ وہ وجود و حکمت الٰہی کی دلیل تلاش کر رہا ہے جب کہ اس نے ادنیٰ تامل سے کام لیا ہوتا تو اسے اندازہ ہو جاتا کہ جس نگاہ سے آثار قدرت کو تلاش کر رہا ہے۔اور جس دماغ سے دلائل حکمت کی جستجو کر رہا ہے یہ دونوں اپنی زبان بے زبانی سے آواز دے رہے ہیں کہ اگر کوئی خالق حکیم اور رصانع کریم نہ ہوتا تو ہمارا وجود بھی نہ ہوتا۔ہم اس کی عظمت و حکمت کے بہترین گواہ ہیں۔ہمارے ہوتے ہوئے دلائل حکمت و عظمت کا تلاش کرنا بغل میں کٹورہ رکھ کر شہرمیں ڈھنڈورہ پیٹنے کے مترادف ہے اوریہ کار عقلا ء نہیں ہے۔


وجَزَّءُوكَ تَجْزِئَةَ الْمُجَسَّمَاتِ بِخَوَاطِرِهِمْ - وقَدَّرُوكَ عَلَى الْخِلْقَةِ الْمُخْتَلِفَةِ الْقُوَى بِقَرَائِحِ عُقُولِهِمْ - وأَشْهَدُ أَنَّ مَنْ سَاوَاكَ بِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِكَ فَقَدْ عَدَلَ بِكَ - والْعَادِلُ بِكَ كَافِرٌ بِمَا تَنَزَّلَتْ بِه مُحْكَمَاتُ آيَاتِكَ - ونَطَقَتْ عَنْه شَوَاهِدُ حُجَجِ بَيِّنَاتِكَ - وإِنَّكَ أَنْتَ اللَّه الَّذِي لَمْ تَتَنَاه فِي الْعُقُولِ - فَتَكُونَ فِي مَهَبِّ فِكْرِهَا مُكَيَّفاً ولَا فِي رَوِيَّاتِ خَوَاطِرِهَا فَتَكُونَ مَحْدُوداً مُصَرَّفاً

ومنها

قَدَّرَ مَا خَلَقَ فَأَحْكَمَ تَقْدِيرَه ودَبَّرَه فَأَلْطَفَ تَدْبِيرَه ووَجَّهَه لِوِجْهَتِه فَلَمْ يَتَعَدَّ حُدُودَ مَنْزِلَتِه - ولَمْ يَقْصُرْ دُونَ الِانْتِهَاءِ إِلَى غَايَتِه - ولَمْ يَسْتَصْعِبْ إِذْ أُمِرَ بِالْمُضِيِّ عَلَى إِرَادَتِه - فَكَيْفَ وإِنَّمَا صَدَرَتِ الأُمُورُ عَنْ مَشِيئَتِه - الْمُنْشِئُ أَصْنَافَ الأَشْيَاءِ بِلَا رَوِيَّةِ فِكْرٍ آلَ إِلَيْهَا - ولَا قَرِيحَةِ غَرِيزَةٍ أَضْمَرَ عَلَيْهَا - ولَا تَجْرِبَةٍ أَفَادَهَا مِنْ حَوَادِثِ الدُّهُورِ - ولَا شَرِيكٍ أَعَانَه عَلَى ابْتِدَاعِ عَجَائِبِ الأُمُورِ

کی بنا پرمجسموں کی طرح تیرے ٹکڑے کردئیے ہیں اور اپنی عقلوں کی سوجھ بوجھ سے تجھے مختلف طاقتوں والی مخلوقات کے پیمانے پر ناپ تول دیا ہے۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ جس نے بھی تجھے کسی کے برابر قراردیا ہے اس نے تیرا ہمسر بنادیا اور جسنے تیرا ہمسر بنادیا اسنے آیات محکمات کی تنزیل کا انکار کردیا ہے اور واضح ترین دلائل کے بیانات کو جھٹلا دیا ہے۔بے شک تو وہ خدا ہے جو عقلوں کی حدوں میں نہیں آسکتا ہے کہ افکار کی روانی میں کیفیوں کی زد میں آجائے او نہ غورو فکر کی جولانیوں میں سما سکتا ہے کہ محدود اورتصرفات کا پابند ہوجائے۔

(ایک دوسرا حصہ )

مالک نے ہر مخلوق کی مقدار معین کی ہے اور محکم ترین معین کی ہے اور ہر ایک کی تدبیر کی ہے اور لطیف ترین تدبیر کی ہے ہرایک کو ایک رخ پر لگا دیا ہے تو اس نے اپنی منزلت کے حدود سے تجاوز بھی نہیں کیا ہے اور انتہا تک پہنچنے میں کوتاہی بھی نہیں کی ہے اور مالک کے ارادہ پر چلنے کا حکم دے دیا گیا تو اس سے سرتابی بھی نہیں کی ہے اور یہ ممکن بھی کیسے تھا جب کہ سب اس کی مشیت سے منظر عام پرآئے ہیں۔وہ تمام اشیاء کا ایجاد کرنے والا ہے بغیر اس کے کہ فکر کی جولانیوں کی طرف رجوع کرے یا طبیعت کی داخلی روانی کا سہارا لے یا حوادث زمانہ کے تجربات سے فائدہ اٹھائے عجیب و غریب مخلوقات کے بنانے میں کسی شریک کی مدد کا محتاج ہو۔

اس کی مخلوقات اس کے امر سے تمام ہوئی ہے


فَتَمَّ خَلْقُه بِأَمْرِه وأَذْعَنَ لِطَاعَتِه وأَجَابَ إِلَى دَعْوَتِه لَمْ يَعْتَرِضْ دُونَه رَيْثُ الْمُبْطِئِ ولَا أَنَاةُ الْمُتَلَكِّئِ فَأَقَامَ مِنَ الأَشْيَاءِ أَوَدَهَا ونَهَجَ حُدُودَهَا - ولَاءَمَ بِقُدْرَتِه بَيْنَ مُتَضَادِّهَا - ووَصَلَ أَسْبَابَ قَرَائِنِهَا وفَرَّقَهَا أَجْنَاساً - مُخْتَلِفَاتٍ فِي الْحُدُودِ والأَقْدَارِ والْغَرَائِزِ والْهَيْئَاتِ - بَدَايَا خَلَائِقَ أَحْكَمَ صُنْعَهَا وفَطَرَهَا عَلَى مَا أَرَادَ وابْتَدَعَهَا!

ومنها في صفة السماء

ونَظَمَ بِلَا تَعْلِيقٍ رَهَوَاتِ فُرَجِهَا ولَاحَمَ صُدُوعَ انْفِرَاجِهَا .ووَشَّجَ بَيْنَهَا وبَيْنَ أَزْوَاجِهَا وذَلَّلَ لِلْهَابِطِينَ بِأَمْرِه - والصَّاعِدِينَ بِأَعْمَالِ خَلْقِه حُزُونَةَ مِعْرَاجِهَا - ونَادَاهَا بَعْدَ إِذْ هِيَ دُخَانٌ فَالْتَحَمَتْ عُرَى أَشْرَاجِهَا وفَتَقَ بَعْدَ الِارْتِتَاقِ صَوَامِتَ أَبْوَابِهَا - وأَقَامَ رَصَداً مِنَ الشُّهُبِ الثَّوَاقِبِ عَلَى نِقَابِهَا وأَمْسَكَهَا مِنْ أَنْ تُمُورَ فِي خَرْقِ الْهَوَاءِ بِأَيْدِه وأَمَرَهَا أَنْ تَقِفَ مُسْتَسْلِمَةً لأَمْرِه وجَعَلَ شَمْسَهَا آيَةً مُبْصِرَةً لِنَهَارِهَا

اور اس کی اطاعت میں سربسجود ہے۔اس کی دعوت پر لبیک کہتی ہے اور اس راہ میں نہ دیر کرنے والے کی سستی کاشکار ہوتی ہے اور نہ حیلہ و حجت کرنے والے کی ڈھیل میںمبتلا ہوتی ہے ۔اس نے اشیاء کی کجی کو سیدھا رکھا ہے۔ان کے حدود کو مقررکردیا ہے۔اپنی قدرت سے ان کے متضاد عناصر میں تناسب پیدا کردیا ہے اور نفس و بدن کا رشتہ جوڑ دیا ہے ۔انہیں حدود و مقادیر' طبائع و ہیات کی مختلف جنسوں میں تقسیم کردیا ہے۔یہ نو ایجاد مخلوق ہے جس کی صنعت مستحکم رکھی ہے اور اس کی فطرت و خلقت کو اپنے ارادہ کے مطابق رکھا ہے۔

(کچھ آسمان کے بارے میں)

اس نے بغیر کسی چیز سے وابستہ کئے آسمانوں کے نشیب و فراز کو منظم کرادیا ہے اور اس کے شگافوں کوملا دیا ہے اور انہیں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جکڑ دیا ہے اور اس کا حکم لے کر اترنے والے اور بندوں کے اعمال کو لے کر جانے والے فرشتوں کے لئے بلندی کی نا ہمواریوں کو ہموار کردیا ہے۔ابھی یہ آسمان دھوئیں کی شکل میں تھے کہ مالک نے انہیں آواز دی اور ان کے تسموں کے رشتے آپس میں جڑ گئے اور ان کے دروازے بند رہنے کے بعد کھل گئے۔پھر اس نے ان کے سوراخوں پر ٹوٹتے ہوئے ستاروں کے نگہبان کھڑے کر دئیے اور اپنے دست قدرت سے اس امر سے روک دیا کہ ہوا کے پھیلائو میں ادھرادھرچلے جائیں۔ انہیں حکم دیاکہ اس کے حکم کے سامنے سرپا تسلیم کھڑے رہیں ۔ان کے آفتاب کودن کے لئے روشن نشانی


وقَمَرَهَا آيَةً مَمْحُوَّةً مِنْ لَيْلِهَا - وأَجْرَاهُمَا فِي مَنَاقِلِ مَجْرَاهُمَا - وقَدَّرَ سَيْرَهُمَا فِي مَدَارِجِ دَرَجِهِمَا - لِيُمَيِّزَ بَيْنَ اللَّيْلِ والنَّهَارِ بِهِمَا - ولِيُعْلَمَ عَدَدُ السِّنِينَ والْحِسَابُ بِمَقَادِيرِهِمَا - ثُمَّ عَلَّقَ فِي جَوِّهَا فَلَكَهَا ونَاطَ بِهَا زِينَتَهَا - مِنْ خَفِيَّاتِ دَرَارِيِّهَا ومَصَابِيحِ كَوَاكِبِهَا - ورَمَى مُسْتَرِقِي السَّمْعِ بِثَوَاقِبِ شُهُبِهَا - وأَجْرَاهَا عَلَى أَذْلَالِ تَسْخِيرِهَا مِنْ ثَبَاتِ ثَابِتِهَا - ومَسِيرِ سَائِرِهَا وهُبُوطِهَا وصُعُودِهَا ونُحُوسِهَا وسُعُودِهَا.

ومنها في صفة الملائكة

ثُمَّ خَلَقَ سُبْحَانَه لإِسْكَانِ سَمَاوَاتِه - وعِمَارَةِ الصَّفِيحِ الأَعْلَى مِنْ مَلَكُوتِه - خَلْقاً بَدِيعاً مِنْ مَلَائِكَتِه - ومَلأَ بِهِمْ فُرُوجَ فِجَاجِهَا وحَشَا بِهِمْ فُتُوقَ أَجْوَائِهَا وبَيْنَ فَجَوَاتِ تِلْكَ الْفُرُوجِ زَجَلُ الْمُسَبِّحِينَ - مِنْهُمْ فِي حَظَائِرِالْقُدُسِ وسُتُرَاتِ الْحُجُبِ،

اورماہتاب کو رات کی دھندلی نشانی قراردے دیا اور دونوں کو ان کے بہائو کی منزل پرڈال دیا ہے اور ان کی گزر گاہوں میں رفتارکی مقدار معین کردی ہے تاکہ ان کے ذریعہ دن اور رات کا امتیاز قائم ہو سکے اور ان کی مقدار سے سال وغیرہ کا حساب کیا جا سکے۔پھر فضائے بسیط میں سب کے مدار معلق کردئیے اور ان سے اس زینت کو وابستہ کردیا جو چھوٹے چھوٹے تاروں اوربڑے بڑے ستاروں کے چراغوں سے پیدا ہوئی تھی۔آوازوں کے چرانے والوں کے لئے ٹوٹتے تاروں سے سنگسار کا انتظام کردیا اور انہیں بھی اپنے جبر و قہر کی راہوں پر لگا دیا کہ جو ثابت ہیں وہ ثابت رہیں۔جو سیار ہیں وہ سیار رہیں۔بلند و پست نیک و بدسب اسی کی مرضی کے تابع رہیں ۔

(اوصاف ملائکہ کا حصہ)

اس کے بعد اس نے آسمانوں کوآباد کرنے اوراپنی سلطنت کے بلند ترین طبقہ کو بسانے(۱) کیلئے ملائکہ جیسی انوکھی مخلوق کو پیدا کیا اور ان سے آسمانی راستوں کے شگافتوں کو پر کردیا اورفضا کی پہنائیوں کو معمور کردیا۔انہیں شگافوں کے درمیان تسبیح کرنے والے فرشتوں کی آوازیں قدس کی چار دیواری ' عظمت کے

(۱)واضح رہے کہ ملائکہ اور جنات کا مسئلہ غیبیات سے تعلق رکھتاہے اوراس کاعلم دنیا کے عام وسائل کے ذریعہ ممکن نہیں ہے۔قرآن مجید نے ایمان کے لئے غیب کے قارار کو شرط اساسی قراردیا ہے لہٰذا اس مسئلہ کا تعلق صرف صاحبان ایمان سے ہے۔دیگر افراد کے لئے دیگر ارشادات امام سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔لیکن اتنی بات تو بہر حال واضح ہو چکی ہے کہ آسمانوں کے اندر آبادیاں پائی جاتی ہیں اور یہاں کے افراد کا وہاں زندہ نہ رہ سکنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہاں کے باشندے بھی زندہ نہ رہ سکیں۔مالک نے ہر جگہ کے باشندہ میں وہاں کے اعتبار سے صلاحیت حیات رکھی ہے اور اس سامان زندگی عنایت فرمایا ہے۔امام صادق کا ارشاد گرامی ہے کہ پروردگار عالم نے دس لاکھ عالم پیدا کئے ہیں اور دس لاکھ آدم ۔اور ہماری زمین کے باشندے آخری آدم کی اولاد میں ہیں (الہیتہ و الا سلام شہرستانی)


وسُرَادِقَاتِ الْمَجْدِ - ووَرَاءَ ذَلِكَ الرَّجِيجِ الَّذِي تَسْتَكُّ مِنْه الأَسْمَاعُ - سُبُحَاتُ نُورٍ تَرْدَعُ الأَبْصَارَ عَنْ بُلُوغِهَا - فَتَقِفُ خَاسِئَةً عَلَى حُدُودِهَا -. وأَنْشَأَهُمْ عَلَى صُوَرٍ مُخْتَلِفَاتٍ وأَقْدَارٍ مُتَفَاوِتَاتٍ -( أُولِي أَجْنِحَةٍ ) تُسَبِّحُ جَلَالَ عِزَّتِه - لَا يَنْتَحِلُونَ مَا ظَهَرَ فِي الْخَلْقِ مِنْ صُنْعِه - ولَا يَدَّعُونَ أَنَّهُمْ يَخْلُقُونَ شَيْئاً مَعَه مِمَّا انْفَرَدَ بِه -( بَلْ عِبادٌ مُكْرَمُونَ لا يَسْبِقُونَه بِالْقَوْلِ وهُمْ بِأَمْرِه يَعْمَلُونَ ) - جَعَلَهُمُ اللَّه فِيمَا هُنَالِكَ أَهْلَ الأَمَانَةِ عَلَى وَحْيِه - وحَمَّلَهُمْ إِلَى الْمُرْسَلِينَ وَدَائِعَ أَمْرِه ونَهْيِه - وعَصَمَهُمْ مِنْ رَيْبِ الشُّبُهَاتِ - فَمَا مِنْهُمْ زَائِغٌ عَنْ سَبِيلِ مَرْضَاتِه - وأَمَدَّهُمْ بِفَوَائِدِ الْمَعُونَةِ - وأَشْعَرَ قُلُوبَهُمْ تَوَاضُعَ إِخْبَاتِ السَّكِينَةِ - وفَتَحَ لَهُمْ أَبْوَاباً ذُلُلًا إِلَى تَمَاجِيدِه - ونَصَبَ لَهُمْ مَنَاراً وَاضِحَةً عَلَى أَعْلَامِ تَوْحِيدِه - لَمْ تُثْقِلْهُمْ مُؤْصِرَاتُ الآثَامِ - ولَمْ تَرْتَحِلْهُمْ عُقَبُ اللَّيَالِي والأَيَّامِ - ولَمْ تَرْمِ الشُّكُوكُ بِنَوَازِعِهَا عَزِيمَةَ إِيمَانِهِمْ - ولَمْ تَعْتَرِكِ الظُّنُونُ عَلَى مَعَاقِدِ يَقِينِهِمْ

حجابات ' بزرگی کے سرا پردوں کے پیچھے گونج رہی ہیں اوہر اس گونج کے پیچھے جس سے کان کے پردے پھٹ جاتے ہیں۔نور کی وہ تجلیاں ہیں جو نگاہوں کو وہاں تک پہنچنے سے روک دیتی ہیں اوروہ ناکام ہو کر اپنی حدود پر ٹھہر جاتی ہے۔ اس نے ان فرشتوں کو مختلف شکلوں اور الگ الگ پیمانوں کے مطابق پیدا کیا ہے۔انہیں بال و پر عنایت کئے ہیں اوروہ اس کے جلال و عزت کی تسبیح میں مصروف ہیں۔مخلوقات میں اس کی نمایاں صنعت کو اپنی طرف منسوب نہیں کرتے ہیں۔اور کسی چیز کی تخلیق کا ادعا نہیں کرتے ہیں۔یہ اللہ کے محترم بندے ہیں جو اس پر کسی بات میں سبقت نہیں کرتے ہیں اور اسی کے حکم کے مطابق عمل کر رہے ہیں ''۔اللہ نے انہیں اپنی وحی کا امین بنایا ہے اورمرسلین کی طرف اپنے امرو نہی کی امانتوں کا حامل قرار دیا ہے۔انہیں شکوک و شبہات سے محفوظ رکھا ہے کہ کوئی بھی اس کی مرضی کی راہ سے انحراف کرنے والا نہیں ہے۔سب کواپنی کارآمد امداد سے نوازا ہے اور سب کے دل میں عاجزی اور شکستگی کی تواضع پیدا کردی ہے ۔ ان کے لئے اپنی تمجید کی سہولت کے دروازے کھول دئیے ہیں اور توحید کی نشانیوں کے لئے واضح منارے قائم کردئیے ہیں۔ان پر گناہوں کا بوجھ بھی نہیں ہے اور انہیں شب و روز کی گردشیں اپنے ارادوں پرچلا بھی نہیں سکتی ہیں۔شکوک و شبہات ان کے مستحکم ایمان کو اپنے خیالات کے تیروں کا نشانہ بھی نہیں بنا سکتے ہیں اور وہم و گمان ان کے یقین کی پختگی پرحملہ آور بھی نہیں ہوسکتے


ولَا قَدَحَتْ قَادِحَةُ الإِحَنِ فِيمَا بَيْنَهُمْ - ولَا سَلَبَتْهُمُ الْحَيْرَةُ مَا لَاقَ مِنْ مَعْرِفَتِه بِضَمَائِرِهِمْ - ومَا سَكَنَ مِنْ عَظَمَتِه وهَيْبَةِ جَلَالَتِه فِي أَثْنَاءِ صُدُورِهِمْ - ولَمْ تَطْمَعْ فِيهِمُ الْوَسَاوِسُ فَتَقْتَرِعَ بِرَيْنِهَا عَلَى فِكْرِهِمْ ومِنْهُمْ مَنْ هُوَ فِي خَلْقِ الْغَمَامِ الدُّلَّحِ وفِي عِظَمِ الْجِبَالِ الشُّمَّخِ وفِي قَتْرَةِ الظَّلَامِ الأَيْهَمِ ومِنْهُمْ مَنْ قَدْ خَرَقَتْ أَقْدَامُهُمْ تُخُومَ الأَرْضِ السُّفْلَى - فَهِيَ كَرَايَاتٍ بِيضٍ قَدْ نَفَذَتْ فِي مَخَارِقِ الْهَوَاءِ - وتَحْتَهَا رِيحٌ هَفَّافَةٌ تَحْبِسُهَا عَلَى حَيْثُ انْتَهَتْ مِنَ الْحُدُودِ الْمُتَنَاهِيَةِ - قَدِ اسْتَفْرَغَتْهُمْ أَشْغَالُ عِبَادَتِه - ووَصَلَتْ حَقَائِقُ الإِيمَانِ بَيْنَهُمْ وبَيْنَ مَعْرِفَتِه وقَطَعَهُمُ الإِيقَانُ بِه إِلَى الْوَلَه إِلَيْه

ہیں۔ان کے درمیان حسد کی چنگاری بھی نہیں بھڑکتی ہے اورحیرت و استعجاب ان کے ضیمروں کی معرفت کو سلب بھی نہیں کر سکتے ہیں اور ان کے سینوں میں چھپے ہوئے عظمت دہیب و جلالت الٰہی کے ذخیروں کو چھین بھی نہیں سکتے ہیں اور وسوسوں نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں ہے کہ ان کی فکر کو زنگ آلود بنا دیں ان میں بعض وہ ہیں جنہیں بوجھل بادلوں ۔بلند ترین پہاڑوں اور تاریک ترین ظلمتوں کے پردوں میں رکھا ہے اور بعض وہ ہیں جن کے پیروں نے) ۱ ( زمین کے آخری طبقہ کو پارہ کردیا ہے اور وہ ان سفید پرچموں جیسے ہیں جو فضا کی وسعتوں کو چیر کرباہر نکل گئے ہوں۔جن کے نیچے ایک ہلکی ہوا ہو جوانہیں ان کی حدوں پر روکے رہے۔انہیں عبادت کی مشغولیت نے ہر) ۲ ( چیز سے بے فکربنادیا ہے اور ایمان کے حقائق نے ان کے اور معرفت کے درمیان گہرا رابطہ پیدا کردیا ہے۔اور یقین کامل نے ہر چیز سے رشتہ توڑ کر انہیں مالک کی طرف مشتاق بنادیا ہے۔

(۱)بعض علماء نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ ملائکہ کا علم زمین و آسمان کے تمام طبقات کو محیط ہے لیکن بظاہر اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔جب ان کا جسم نورانی ہے اور اس پر مادیات کادبائو نہیں ہے تو ان کا جسم لطیف مادیات کے تمام حدود کو توڑ سکتا ہے اور اس میں کوئی بات خلاف عقل نہیں ہے۔نورانیت میں مختلف اشکال اختیار کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہیں اور وہ مختلف صورتوں میں سامنے آسکتے ہیں۔

ملائکہ کے نورانی اجسام کی وسعت حیرت انگیز نہیں ہے وہ زمین کی آخری تہ سے آسمان کی آخری بلندی تک احاطہ کر سکتے ہیں۔حیرت انگیز اس کسا یمانی کی وسعت ہے جس میں اس گروہملائکہ کا سردار بھی سما جاتا ہے اورچادر کی وسعت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔

(۲)ظاہر ہے کہ جس کی زندگی میں دنیا کے مسائل تجارت و زراعت ' ملازمت و صنعت اور رشتہ وقرابت شامل نہ ہوں اس سے زیادہ عبادت کون کر سکتا ہے اور اس سے زیادہ عبادات کو کون وقت دے سکتا ہے۔یہ اوربات ہے کہ بعض اللہ کے بندے ایسے بھی ہیں جن کی زندگی میں زراعت بھی ہے اور تجارت بھی صنعت بھی ہے اور سیاست بھی ۔رشتہ بھی ہے اورقرابت بھی لیکن اس کے باوجود اتنی عبادت کرتے ہیں کہ مالک کو آرام کرنے کاحکم دینا پڑتا ہے اور ان کی ایک ضربت عبادت ثقلین پر بھاری ہو جاتی ہے یا وہ ایک نیند سے مرضی معبود کاسودا کر لیتے ہیں۔


ولَمْ تُجَاوِزْ رَغَبَاتُهُمْ مَا عِنْدَه إِلَى مَا عِنْدَ غَيْرِه - قَدْ ذَاقُوا حَلَاوَةَ مَعْرِفَتِه - وشَرِبُوا بِالْكَأْسِ الرَّوِيَّةِ مِنْ مَحَبَّتِه - وتَمَكَّنَتْ مِنْ سُوَيْدَاءِ قُلُوبِهِمْ وَشِيجَةُ خِيفَتِه - فَحَنَوْا بِطُولِ الطَّاعَةِ اعْتِدَالَ ظُهُورِهِمْ - ولَمْ يُنْفِدْ طُولُ الرَّغْبَةِ إِلَيْه مَادَّةَ تَضَرُّعِهِمْ - ولَا أَطْلَقَ عَنْهُمْ عَظِيمُ الزُّلْفَةِ رِبَقَ خُشُوعِهِمْ - ولَمْ يَتَوَلَّهُمُ الإِعْجَابُ فَيَسْتَكْثِرُوا مَا سَلَفَ مِنْهُمْ - ولَا تَرَكَتْ لَهُمُ اسْتِكَانَةُ الإِجْلَالِ - نَصِيباً فِي تَعْظِيمِ حَسَنَاتِهِمْ - ولَمْ تَجْرِ الْفَتَرَاتُ فِيهِمْ عَلَى طُولِ دُءُوبِهِمْ ولَمْ تَغِضْ رَغَبَاتُهُمْ فَيُخَالِفُوا عَنْ رَجَاءِ رَبِّهِمْ -

ان کی رغبتیں مالک کی نعمتوں سے ہٹ کر کسی اور کی طرف نہیں ہیں کہ انہوں نے معرفت کی حلاوت کامزہ چکھ لیا ہے اور محبت کے سیراب کرنے والے جام سے سر شار ہوگئے ہیں ۔اور ان کے دلوں کی تہ میں اس کا خوف جڑ پکڑ چکا ہے جس کی بنا پر انہوں نے مسلسل اطاعت سے اپنی سیدھی کمروں کو خمیدہ بنالیا ہے اور طول رغبت(۱) کے باوجود ان کے تضرع و زاری کاخزانہ ختم نہیں ہوا ہے اور نہ کمال تقرب کے باوجود ان کے خشوع کی رسیاں ڈھلی ہوئی ہیں اورنہ خود پسندی نے ان پر غلبہ حاصل کیا ہے کہ وہ اپنے گذشتہ اعمال کو زیادہ تصور کرنے لگیں اور نہ جلال(۲) الٰہی کے سامنے ان کے انکسار نے کوئی گنجائش چھوڑی ہے کہ وہ اپنی نیکیوں کو بڑا خیال کرنے لگیں۔ مسلسل تعب کے باوجود انہوں نے سستی کو راستہ نہیں دیا اور نہ ان کی رغبت میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے کہ وہ مالک سے امید کے راستہ کو ترک کردیں۔

(۱)کردار کا کمال یہی ہے کہ انسانی زندگی میں نہ امید خوف پر غالب آنے پائے اور نہ قربت کا احساس خشوع و خضوع کے جذبہ کو مجروح بنا دے۔مولائے کائنات نے اس حقیقت کا اظہار ملائکہ کے کمال کے ذیل میں فرمایا ہے لیکن مقصد یہی ہے کہ انسان اس صورت حال سے عبرت حاصل کرے اور اشرف المخلوقات ہونے کا دعویدار ہے تو کردار میں بھی دوسری مخلوقات کے مقابلہ میں اشرفیت کامظاہرہ کرے ورنہ دعوائے بے دلیل کسی منطق میں قابل قبول نہیں ہوتا ہے۔

(۲)انسان جب اپنے ذاتی اعمال کا موازنہ بہت سے دوسرے افراد سے کرتا ہے تو اس میں غرور پیدا ہونے لگتا ہے کہ اس کی نمازیں ' عبادتیں ی اس کے مالی کارہائے خیر دوسر ے افراد سے زیادہ ہیں لیکن جب ان کا موازنہ کرم پروردگار اور جلال الٰہی سے کرتا ہے تو یہ سارے اعمال ہیچ نظر آنے لگتے ہیں۔

مولائے کائنات نے اسی نکتہ کی طرف متوجہ کیا ہے کہ اپنے عمل کا موازنہ دوسرے افراد کے اعمال سے نہ کرو۔موازنہ کرنے کا شوق ہے تو کرم الٰہی اور جلال پروردگار سے کرو تاکہتمہیں اپنی اوقات کا صحیح اندازہ ہو جائے اور شیطان تمہارے اوپر غالب نہ آنے پائے۔


ولَمْ تَجِفَّ لِطُولِ الْمُنَاجَاةِ أَسَلَاتُ أَلْسِنَتِهِمْ - ولَا مَلَكَتْهُمُ الأَشْغَالُ فَتَنْقَطِعَ بِهَمْسِ الْجُؤَارِ إِلَيْه أَصْوَاتُهُمْ - ولَمْ تَخْتَلِفْ فِي مَقَاوِمِ الطَّاعَةِ مَنَاكِبُهُمْ - ولَمْ يَثْنُوا إِلَى رَاحَةِ التَّقْصِيرِ فِي أَمْرِه رِقَابَهُمْ -. ولَا تَعْدُو عَلَى عَزِيمَةِ جِدِّهِمْ بَلَادَةُ الْغَفَلَاتِ - ولَا تَنْتَضِلُ فِي هِمَمِهِمْ خَدَائِعُ الشَّهَوَاتِ قَدِ اتَّخَذُوا ذَا الْعَرْشِ ذَخِيرَةً لِيَوْمِ فَاقَتِهِمْ ويَمَّمُوه عِنْدَ انْقِطَاعِ الْخَلْقِ إِلَى الْمَخْلُوقِينَ بِرَغْبَتِهِمْ - لَا يَقْطَعُونَ أَمَدَ غَايَةِ عِبَادَتِه - ولَا يَرْجِعُ بِهِمُ الِاسْتِهْتَارُ بِلُزُومِ طَاعَتِه - إِلَّا إِلَى مَوَادَّ مِنْ قُلُوبِهِمْ غَيْرِ مُنْقَطِعَةٍ مِنْ رَجَائِه ومَخَافَتِه - لَمْ تَنْقَطِعْ أَسْبَابُ الشَّفَقَةِ مِنْهُمْ فَيَنُوا فِي جِدِّهِمْ - ولَمْ تَأْسِرْهُمُ الأَطْمَاعُ - فَيُؤْثِرُوا وَشِيكَ السَّعْيِ عَلَى اجْتِهَادِهِمْ - لَمْ يَسْتَعْظِمُوا مَا مَضَى مِنْ أَعْمَالِهِمْ - ولَوِ اسْتَعْظَمُوا ذَلِكَ لَنَسَخَ الرَّجَاءُ مِنْهُمْ شَفَقَاتِ وَجَلِهِمْ ولَمْ يَخْتَلِفُوا فِي رَبِّهِمْ بِاسْتِحْوَاذِ الشَّيْطَانِ عَلَيْهِمْ - ولَمْ يُفَرِّقْهُمْ سُوءُ التَّقَاطُعِ ولَا تَوَلَّاهُمْ غِلُّ التَّحَاسُدِ - ولَا تَشَعَّبَتْهُمْ مَصَارِفُ الرِّيَبِ

مسلسل مناجاتوں نے ان کی نوک زبان کوخشک نہیں بنایا اور نہ مصروفیات نے ان پرقابو پالیا ہے کہ ان کی مناجات کی خفیہ آوازیں منقطع ہوجائیں۔نہ مقامات اطاعت میں ان کے شانے آگے پیچھے ہوتے ہیں اور نہ تعمیل احکام الہیہ میں کوتاہی کی بنا پران کی گردن کسی طرف مڑ جاتی ہے۔ان کی کوششوں کے عزائم پر نہ غفلتوں کی نادانیوں کاحملہ ہوتا ہے اور نہ خواہشات کی فریب کاریاں ان کی ہمتوں کو اپنا نشانہ بناتی ہیں۔انہوں نے اپنے مالک صاحب عرش کو روز فقر و فاقہ کے لئے ذخیرہ بنا لیا ہے اور جب لوگ دوسری مخلوقات کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں تو وہ اسی کو اپنا ہدف نگاہ بنائے رکھتے ہیں۔یہ عبادت کی انتہا کو نہیں پہنچ سکتے ہیں لہٰذا ان کا اطاعت کا والہانہ جذبہ کسی اور طرف لے جانے کے بجائے صرف امید و بیم کے نا قابل اختتام ذخیروں ہی کی طرف لے جاتا ہے ان کے لئے خوف خدا کے اسباب منقطع نہیں ہوئے ہیں کہ ان کی کوششوں میں سستی پیدا کرادیں اورنہ انہیں خواہشات نے قیدی بنایا ہے کہ وقتی کوششوں کوابدی سعی پرمقدم کردیں۔یہ اپنے گزشتہ اعمال کو برا خیال نہیں کرتے ہیں کہ اگر ایسا ہوتا تو اب تک امیدیں خوف خدا کو فنا کردیتیں۔انہوں نے شیطانی غلبہ کی بنیاد پر پروردگار کے بارے میں آپس میں کوئی اختلاف بھی نہیں کیاہے اور نہ ایک دوسرے سے بگاڑنے ان کے درمیان افتراق پیدا کیا ہے۔نہ ان پرحسد کا کینہ غالب آیا ہے اور نہ وہ شکوک کی بناپرآپس میں ایک دوسرے سے الگ ہوئے ہیں۔


ولَا اقْتَسَمَتْهُمْ أَخْيَافُ الْهِمَمِ فَهُمْ أُسَرَاءُ إِيمَانٍ لَمْ يَفُكَّهُمْ مِنْ رِبْقَتِه زَيْغٌ ولَا عُدُولٌ - ولَا وَنًى ولَا فُتُورٌ - ولَيْسَ فِي أَطْبَاقِ السَّمَاءِ مَوْضِعُ إِهَابٍ إِلَّا وعَلَيْه مَلَكٌ سَاجِدٌ - أَوْ سَاعٍ حَافِدٌ يَزْدَادُونَ عَلَى طُولِ الطَّاعَةِ بِرَبِّهِمْ عِلْماً - وتَزْدَادُ عِزَّةُ رَبِّهِمْ فِي قُلُوبِهِمْ عِظَماً.

ومنها في صفة الأرض ودحوها على الماء

كَبَسَ الأَرْضَ عَلَى مَوْرِ أَمْوَاجٍ مُسْتَفْحِلَةٍ ولُجَجِ بِحَارٍ زَاخِرَةٍ تَلْتَطِمُ أَوَاذِيُّ أَمْوَاجِهَا - وتَصْطَفِقُ مُتَقَاذِفَاتُ أَثْبَاجِهَا وتَرْغُو زَبَداً كَالْفُحُولِ عِنْدَ هِيَاجِهَا - فَخَضَعَ جِمَاحُ الْمَاءِ الْمُتَلَاطِمِ لِثِقَلِ حَمْلِهَا - وسَكَنَ هَيْجُ ارْتِمَائِه إِذْ وَطِئَتْه بِكَلْكَلِهَا وذَلَّ مُسْتَخْذِياً إِذْ تَمَعَّكَتْ عَلَيْه بِكَوَاهِلِهَا - فَأَصْبَحَ بَعْدَ اصْطِخَابِ أَمْوَاجِه سَاجِياً مَقْهُوراً - وفِي حَكَمَةِ الذُّلِّ مُنْقَاداً أَسِيراً - وسَكَنَتِ الأَرْضُ مَدْحُوَّةً فِي لُجَّةِ تَيَّارِه

اور نہ پست ہمتوں نے انہیں ایک دوسرے سے جدا کیا ہے یہ ایمان کے وہ قیدی ہیں جن کی گردنوں کی کجی ' انحراف ، سستی ' فتور کوئی چیزآزاد نہیں کرا سکتی ہے۔فضائے آسمان میں ایک کھال کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں کوئی فرشتہ سجدہ گزار یا دوڑ دھوپ کرنے والا نہ ہو۔یہ طول اطاعت سے اپنے رب کی معرفت میں اضافہ ہی کرتے ہیں اور ان کے دلوں میں اس کی عظمت و جلالت بڑھتی ہی جاتی ہے۔

زمین اور اس کے پانی پر فرش ہونے کی تفصیلات

اس نے زمین کو تہ وبالا ہونے والی موجوں اور اتھاہ سمندر کی گہرائیوں کے اوپر(۱) قائم کیا ہے جہاں موجوں کا تلاطم تھا اور ایک دوسرے کوڈھکیلنے والی لہریں ٹکرا رہی تھیں۔ان کا پھین ایسا ہی تھا جیسے ہیجان زدہ اونٹ کا جھاگ۔مگر اس طوفان کو تلاطم خیز پانی کے بوجھ نے دبا دیا اور اس کے جوش و خروش کو اپنا سینہ ٹیک کر ساکن بنادیا اور اپنے شانے ٹکا کر اس طرح دبا دیا کہ وہ ذلت و خواری کے ساتھ حرام ہوگیا۔اب وہ پانی موجود کی گھڑ گھڑاہٹ کے بعد ساکت اور مغلوب ہوگیا اورذلت کی لگام میں اسیر ومطیع ہوگیا اور زمین بھی طوفان خیز پانی کی سطح پر

(۱) واضح رہے کہ اس مقام پر اصل خلقت زمین کا کوئی تذکرہ نہیں ہے کہ اس کی تخلیق مستقل حیثیت رکھتی ہے جیسا کہ دورحاضر میں علماء طبیعت کا خیال ہے یا اسے سورج سے الگ کرکے بنایا گیا ہے جیسا کہ سابق کے علماء ہئیت کہا کرتے تھے۔اس خطہ میں صرف زمین کے بعض کیفیات اور حالات کا ذکر کیا گیا ہے اور پروردگار کے اس احسان کو یاد دلایا گیا ہے کہ اس نے زمین کو انسانی زندگی کا مستقر قرار دینے وکے لئے کتنی دور سے اہتمام کیا ہے اور اس مخلوق کو بسانے کے لئے کتنے عظیم اہتمام سے کام لیا ہے ۔کاش انسان ان احسانات کا احساس کرتا اور اسے یہ اندازہ ہوتا کہ اس کے مالک نے اسے کس قدر عظیم قرار دیا تھا کہ اس کے قیام و استقرار کے لئے زمین و آسمان سب کو منقلب کردیا اور اس نے اپنے کو اس قدر ذلیل کردیا کہ ایک ایک ذرہ کائنات اور ایک ایک چپہ زمین کے لئے جان دینے کو تیار ہے اور اپنی قدرو قیمت کو یکسر نظرانداز کئے ہوئے ہے


ورَدَّتْ مِنْ نَخْوَةِ بَأْوِه واعْتِلَائِه وشُمُوخِ أَنْفِه وسُمُوِّ غُلَوَائِه وكَعَمَتْه عَلَى كِظَّةِ جَرْيَتِه فَهَمَدَ بَعْدَ نَزَقَاتِه ولَبَدَ بَعْدَ زَيَفَانِ وَثَبَاتِه - فَلَمَّا سَكَنَ هَيْجُ الْمَاءِ مِنْ تَحْتِ أَكْنَافِهَا وحَمْلِ شَوَاهِقِ الْجِبَالِ الشُّمَّخِ الْبُذَّخِ عَلَى أَكْتَافِهَا - فَجَّرَ يَنَابِيعَ الْعُيُونِ مِنْ عَرَانِينِ أُنُوفِهَا - وفَرَّقَهَا فِي سُهُوبِ بِيدِهَا وأَخَادِيدِهَا وعَدَّلَ حَرَكَاتِهَا بِالرَّاسِيَاتِ مِنْ جَلَامِيدِهَا وذَوَاتِ الشَّنَاخِيبِ الشُّمِّ مِنْ صَيَاخِيدِهَا فَسَكَنَتْ مِنَ الْمَيَدَانِ لِرُسُوبِ الْجِبَالِ فِي قِطَعِ أَدِيمِهَا وتَغَلْغُلِهَا مُتَسَرِّبَةً فِي جَوْبَاتِ خَيَاشِيمِهَا ورُكُوبِهَا أَعْنَاقَ سُهُولِ الأَرَضِينَ وجَرَاثِيمِهَا وفَسَحَ بَيْنَ الْجَوِّ وبَيْنَهَا وأَعَدَّ الْهَوَاءَ مُتَنَسَّماً لِسَاكِنِهَا - وأَخْرَجَ إِلَيْهَا أَهْلَهَا عَلَى تَمَامِ مَرَافِقِهَا

دامن(۱) پھیلاکر بیٹھ گئی تھی کہ اس نے اٹھلانے ' سر اٹھانے ' ناک چڑھانے ' جست و خیز کی سرمستیوں کے بعد ساکت ہوگیا تھا۔اب جب پانی کا جوش اطراف زمین کے نیچے ساکن ہوگیا اور سر بفلک پہاڑوں کے بوجھ نے اس کے کاندھوں کو دبا دیا تو مالک نے اس کی ناک کے بانسوں سے چشمے جاری کر دئیے اور انہیں دور دراز صحرائوں اور گڑھوں تک منتشر کر دیا اور پھر زمین کی حرکت کو پہاڑوں کی چٹانوں اور اونچی اونچی چوٹیوں والے پہاڑوں کے وزن سے معتدل بنادیا۔اورپہاڑوں کے اس کی سطح کے مختلف حصوں میں ڈوب جانے اور اس کی گہرائیوں کی تہہ میں گھس جانے اور اس کے ہموار حصوں کی بلندی اور پستی پر سوار ہوجانے کی بنا پر اس کی تھر تھراہٹ رک گئی اور مالک نے زمین سے فضا تک ایک وسعت پیدا کردی اور ہوا(۲) کواس کے باشندوں کے سانس لینے کے لئے مہیا کردیا اور اس کے بسنے والوں کو تمام سہولتوں کے ساتھ ٹھہرا دیا۔

(۱) مدحوہ کے معنی اگرچہ عام طور سے فرش شدہ کے بیان کئے جاتے ہیں۔لیکن لغت میں '' مدحی'' انڈے دینے کی جگہ کوبھی کہا جاتا ہے۔اس لئے ممکن ہے کہ مولائے کائنات نے اس لفظ سے زمین کی بیضاوی شکل کی طرف اشارہ کیا ہو کہ دوہر حاضر کی تحقیق کی بناپر زمین کی شکل کروی نہیں ہے۔ بلکہ بیضاوی ہے۔

(۲) اس حصہ کلام میں مولائے کائنات نے مالک کے دو عظیم احسانات کی طرف اشارہ کیا ہے جن پر انسانی زندگی کا دارومدار ہے اور وہ ہیں ہوا اورپانی ہوا انسان کے سانس لینے کا ذریعہ ہے اور پانی انسان کے قوام حیات ہے۔یہ دونوں نہ ہوتے تو انسان ایک لمحہ زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔

اس کے بعد ان دونوں کی تخلیق کو مزید کارآمد بنانے کے لئے ہوا کو ساری فضا میں منتشر کردیا اور پانی کے چشمے اگر پہاڑوں کی بلندیوں کو سیراب نہیں کر سکتے تھے تو بارش کا انتظام کردیا تاکہ بلندی کوہ پر رہنے والی مخلوق بھی اس سے استفادہ کر سکے اور انسانوں کی طرح جانوروں کی زندگی کا انتظام بھی ہو جائے۔

افسوس کہ انسان نے دنیا کی ہر معمولی سے معمولی نعمت کی قدرو قیمت کا احساس کیا ہے لیکن ان دونوں کی قدرو قیمت کا احساس نہیں کیا ہے۔ورنہ ہر سانس پر شکر خدا کرتا اور ہر قطرہ آب پر احسانات الہیہ کویاد رکھتا اور کسیآن اس کی یاد سے غافل نہ ہوتا اور اس کے احکام کی مخالفت نہ کرتا۔


ثُمَّ لَمْ يَدَعْ جُرُزَ الأَرْضِ - الَّتِي تَقْصُرُ مِيَاه الْعُيُونِ عَنْ رَوَابِيهَا ولَا تَجِدُ جَدَاوِلُ الأَنْهَارِ ذَرِيعَةً إِلَى بُلُوغِهَا - حَتَّى أَنْشَأَ لَهَا نَاشِئَةَ سَحَابٍ تُحْيِي مَوَاتَهَا وتَسْتَخْرِجُ نَبَاتَهَا - أَلَّفَ غَمَامَهَا بَعْدَ افْتِرَاقِ لُمَعِه وتَبَايُنِ قَزَعِه حَتَّى إِذَا تَمَخَّضَتْ لُجَّةُ الْمُزْنِ فِيه والْتَمَعَ بَرْقُه فِي كُفَفِه ولَمْ يَنَمْ وَمِيضُه فِي كَنَهْوَرِ رَبَابِه ومُتَرَاكِمِ سَحَابِه - أَرْسَلَه سَحّاً مُتَدَارِكاً قَدْ أَسَفَّ هَيْدَبُه تَمْرِيه الْجَنُوبُ دِرَرَ أَهَاضِيبِه ودُفَعَ شَآبِيبِه فَلَمَّا أَلْقَتِ السَّحَابُ بَرْكَ بِوَانَيْهَا وبَعَاعَ مَا اسْتَقَلَّتْ بِه مِنَ الْعِبْءِ الْمَحْمُولِ عَلَيْهَا - أَخْرَجَ بِه مِنْ هَوَامِدِ الأَرْضِ النَّبَاتَ - ومِنْ زُعْرِ الْجِبَالِ الأَعْشَابَ فَهِيَ تَبْهَجُ بِزِينَةِ رِيَاضِهَا - وتَزْدَهِي بِمَا أُلْبِسَتْه مِنْ رَيْطِ أَزَاهِيرِهَا وحِلْيَةِ مَا سُمِطَتْ بِه مِنْ نَاضِرِ أَنْوَارِهَا وجَعَلَ ذَلِكَ بَلَاغاً لِلأَنَامِ ورِزْقاً لِلأَنْعَامِ -

اس کے بعد زمین کے وہ چٹیل میدان جن کی بلندیوں تک چشموں اور نہروں کے بہائوں کا کوئی راستہ نہیں تھا انہیں بھی یونہی نہیں رہنے دیا یہاں تک کہ ان کے لئے وہ بادل پیدا کردئیے جوان کی مردہ زمینوں کو زندہ بنا سکیں اور نباتات کو اگا سکیں۔اس نے ابر کی چمک دا ر ٹکڑیوں کو اور پراگندہ بدلیوں کو جمع کیا یہاں تک کہ جب اس کے اندر پانی کا ذخیرہ جوش مارنے لگا اور اس کے کناروں پر بجلیاں تڑپتنے لگیں اور ان کی چمک سفید بادلوں کی تہوں اورتہہ بہ تہہ سحابوں کے اندر برابر جاری رہی تو اس نے انہیں موسلا دھار بارش کے لئے بھیج دیا اس طرح کہ اس کے بوجھل حصے زمین پرمنڈلا رہے تھے اورجنوبی ہوائیں انہیں مسل مسل کر برسنے والے بادل کی بوندیں اورتیز بارش کی شکل میں برسا رہی تھیں۔اس کے بعد جب بادلوں نے اپنا سینہ ہاتھ پائوں سمیٹ زمین پر ٹیک دیا اور پانی کا سارا لدا ہوا بوجھ اس پر پھینک دیا تو اس کے ذریعہ افتادہ زمینوں سے کھیتیاں اگا دیں اور خشک پہاڑوں پر ہراب ھرا سبزہ پھیلا دیا ۔اب زمین اپنے سبز ہ کی زینت سے جھومنے لگی اور شگوفوں کی اوڑھنیوں اور شگفتہ و شاداب کلیوں کے زیوروں سے اترانے لگی۔

پروردگار نے ان تمام چیزوں کو انسانوں کی زندگانی کا سامان اور جانوروں کا رزق قرار دیا ہے۔اس


وخَرَقَ الْفِجَاجَ فِي آفَاقِهَا - وأَقَامَ الْمَنَارَ لِلسَّالِكِينَ عَلَى جَوَادِّ طُرُقِهَا فَلَمَّا مَهَدَ أَرْضَه وأَنْفَذَ أَمْرَه - اخْتَارَ آدَمَعليه‌السلام خِيرَةً مِنْ خَلْقِه - وجَعَلَه أَوَّلَ جِبِلَّتِه وأَسْكَنَه جَنَّتَه - وأَرْغَدَ فِيهَا أُكُلَه - وأَوْعَزَ إِلَيْه فِيمَا نَهَاه عَنْه - وأَعْلَمَه أَنَّ فِي الإِقْدَامِ عَلَيْه التَّعَرُّضَ لِمَعْصِيَتِه - والْمُخَاطَرَةَ بِمَنْزِلَتِه - فَأَقْدَمَ عَلَى مَا نَهَاه عَنْه مُوَافَاةً لِسَابِقِ عِلْمِه - فَأَهْبَطَه بَعْدَ التَّوْبَةِ - لِيَعْمُرَ أَرْضَه بِنَسْلِه - ولِيُقِيمَ الْحُجَّةَ بِه عَلَى عِبَادِه - ولَمْ يُخْلِهِمْ بَعْدَ أَنْ قَبَضَه - مِمَّا يُؤَكِّدُ عَلَيْهِمْ حُجَّةَ رُبُوبِيَّتِه - ويَصِلُ بَيْنَهُمْ وبَيْنَ مَعْرِفَتِه -

نے زمین کی اطراف میں کشادہ راستے نکالے ہیں۔اور شاہراہوں پر چلنے والوں کے لئے روشنی کے منارے نصب کئے ہیں۔

پھر جب زمین کا فرش بچھا لیا اور اپنا کام مکمل کرلیا۔تو آدم کو اپنی مخلوقات میں منتخب قراردے دیا اور انہیں نوع انسانی کی فرد اول بنا کرجنت میں ساکن کردیا اور ان کے لئے ہر طرح کے کھانے پینے کو آزاد کردیا اور جس سے منع کرنا تھا اس کا اشارہ بھی دے دیا اور یہ بتا دیا کہ اس کے اقدام میں نا فرمانی کا اندیشہ اور اپنے مرتبہ کوخطرہ میں ڈالنے کا خطرہ ہے لیکن انہوں نے اسی چیز کی طرف رخ کرلیا جس سے روکا گیا تھا کہ یہ بات پہلے سے علم خدا میں موجودتھی ۔نتیجہ یہ ہوا کہ پروردگار نے توبہ کے بعد انہیں نیچے اتار دیا تاکہ اپنی نسل(۱) سے دنیاکو آباد کریں اور ان کے ذریعہ سے اللہ بندوں پر حجت قائم کرے پھر ان کو اٹھا لینے کے بعد بھی زمین کو ان چیزوں سے خالی نہیں رکھا جن کے ذریعہ ربوبیت کی دلیلوں کی تاکید کرے اور جنہیں بندوں کی معرفت کا وسیلہ بنائے

(۱) اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جناب آدم نے درخت کا پھل کھا کر اپنے کو زحمتوں میں مبتلا کرلیا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب انہیں روئے زمین کا خلیفہ بنایاگیا تھا تو کیا جنت ہی میں محو اسراحت رہ جاتے اور اپنے فرائض منصبی کی طرف متوجہ نہ ہوتے۔یہ تو احساس ذمہ داری کا ایک رخ ہے کہ انہوں نے جنت کے راحت و آرام کو نظر انداز کرنے کا عزم کر لیا اور روئے زمین پرآگئے تاکہ اپنی نسل سے دنیا کو آباد کرسکیں اور اپنے فریضہ منصب کوادا کر سکیں یہ اوربات ہے کہ تقاضائے احتیاط یہی تھا کہ مالک کائنات ہی سے گزارش کرتے کہ جہاں کے لئے ذمہ دار بنایا ہے وہاں تک جانے کا انتظام کردے یا کوئی راستہ بتا دے۔اس راستہ کو ابلیس کے شارہ کے بعد اختیار نہیں کرنا چاہیے تھا کہ اسے ابلیس اپنی فتح مبین قراردے لے اور خلیفہ اللہ کے مقابلہ میں اپنے غرور کا اظہار کر سکے۔غالباً احتیاط کے اسی تقاضہ پرعمل نہ کرنے کا نام '' ترک اولیٰ'' رکھا گیا ہے۔


بَلْ تَعَاهَدَهُمْ بِالْحُجَجِ - عَلَى أَلْسُنِ الْخِيَرَةِ مِنْ أَنْبِيَائِه - ومُتَحَمِّلِي وَدَائِعِ رِسَالَاتِه - قَرْناً فَقَرْناً - حَتَّى تَمَّتْ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

حُجَّتُه - وبَلَغَ الْمَقْطَعَ عُذْرُه ونُذُرُه وقَدَّرَ الأَرْزَاقَ فَكَثَّرَهَا وقَلَّلَهَا - وقَسَّمَهَا عَلَى الضِّيقِ والسَّعَةِ - فَعَدَلَ فِيهَا لِيَبْتَلِيَ - مَنْ أَرَادَ بِمَيْسُورِهَا ومَعْسُورِهَا - ولِيَخْتَبِرَ بِذَلِكَ الشُّكْرَ والصَّبْرَ مِنْ غَنِيِّهَا وفَقِيرِهَا - ثُمَّ قَرَنَ بِسَعَتِهَا عَقَابِيلَ فَاقَتِهَا وبِسَلَامَتِهَا طَوَارِقَ آفَاتِهَا - وبِفُرَجِ أَفْرَاحِهَا غُصَصَ أَتْرَاحِهَا وخَلَقَ الآجَالَ فَأَطَالَهَا وقَصَّرَهَا وقَدَّمَهَا وأَخَّرَهَا - ووَصَلَ بِالْمَوْتِ أَسْبَابَهَا وجَعَلَه خَالِجاً لأَشْطَانِهَا وقَاطِعاً لِمَرَائِرِ أَقْرَانِهَا عَالِمُ السِّرِّ مِنْ ضَمَائِرِ الْمُضْمِرِينَ - ونَجْوَى الْمُتَخَافِتِينَ وخَوَاطِرِ رَجْمِ الظُّنُونِ وعُقَدِ عَزِيمَاتِ الْيَقِينِ ومَسَارِقِ إِيمَاضِ الْجُفُونِ ومَا ضَمِنَتْه أَكْنَانُ الْقُلُوبِ

بلکہ ہمیشہ منتخب انبیاء کرام اور رسالت کے امانت داروں کی زبانوں سے حجت کے پہنچانے کی نگرانی کرتا رہا اور یوں ہی صدیاں گزرتی رہیں یہاں تک کہ ہمارے پیغمبر حضرت محمد (ص) کے ذریعہ اس کی حجت تمام ہوگئی اور اتمام حجت اور تخویف عذاب کا سلسلہ نقطہ آخرت تک پہنچ گیا۔

اللہ نے سب کی روزیاں معین کر رکھی ہیں چاہے قلیل ہوں یا کثیر اور پھر انہیں تنگی اور وسعت کے اعتبارسے بھی تقسیم کردیا اور اس میں بھی عدالت رکھی ہے تاکہ دونوں کا امتحان لیا جا سکے اور غنی و فقیر دونوں کو شکر یا صبر سے آزمایا جا سکے۔پھر وسعت رزق کے ساتھ فقر وفاقہ کے خطرات اور سلامتی کے ساتھ نازل ہونے والی آفات کے اندیشے اورخوشی و شادمانی کی وسعت کے ساتھ غم و الم کے گلو گیر پھندے شامل بھی کردئیے۔زندگیوں کی طویل و قصیرمدتیں معین کیں۔انہیں آگے پیچھے رکھا اور پھر سب کو موت سے ملا دیا اور موت کو ان کی رسیوں کاکھینچنے والا اور مضبوط رشتوں کو پارہ پارہ کر دینے والا بنادیا۔وہ دلوں میں باتوں کے چھپانے والوں کے اسرار۔خفیہ باتیں کرنے والوں کی گفتگو ۔خیالات میں اٹکل پچو لگانے والوں کے اندازے ۔دل میں جمے ہوئے یقینی عزائم ۔پلکوں میں دبے ہوئے کنکھیوں کے شارے اور دلوں کی تہوں کے راز اور غیب کی گہرائیوں کے رموز سب کو جانتا ہے۔


وغَيَابَاتُ الْغُيُوبِ ومَا أَصْغَتْ لِاسْتِرَاقِه مَصَائِخُ الأَسْمَاعِ - ومَصَايِفُ الذَّرِّ ومَشَاتِي الْهَوَامِّ - ورَجْعِ الْحَنِينِ مِنَ الْمُولَهَاتِ وهَمْسِ الأَقْدَامِ - ومُنْفَسَحِ الثَّمَرَةِ مِنْ وَلَائِجِ غُلُفِ الأَكْمَامِ ومُنْقَمَعِ الْوُحُوشِ مِنْ غِيرَانِ الْجِبَالِ وأَوْدِيَتِهَا - ومُخْتَبَإِ الْبَعُوضِ بَيْنَ سُوقِ الأَشْجَارِ وأَلْحِيَتِهَا ومَغْرِزِ الأَوْرَاقِ مِنَ الأَفْنَانِ ومَحَطِّ الأَمْشَاجِ مِنْ مَسَارِبِ الأَصْلَابِ ونَاشِئَةِ الْغُيُومِ ومُتَلَاحِمِهَا - ودُرُورِ قَطْرِ السَّحَابِ فِي مُتَرَاكِمِهَا - ومَا تَسْفِي الأَعَاصِيرُ بِذُيُولِهَا وتَعْفُو الأَمْطَارُ بِسُيُولِهَا، وعَوْمِ بَنَاتِ الأَرْضِ فِي كُثْبَانِ الرِّمَالِ - ومُسْتَقَرِّ ذَوَاتِ الأَجْنِحَةِ بِذُرَا شَنَاخِيبِ الْجِبَالِ - وتَغْرِيدِ ذَوَاتِ الْمَنْطِقِ فِي دَيَاجِيرِ الأَوْكَارِ -

وہ ان آوازوں کو بھی سن لیتاہے جن کے لئے کانوں کے سوراخوں کو جھکنا پڑتا ہے۔چیونٹیوں(۱) کے موسم گرما کے مقامات اور دیگرحشرات الارض کی سردیوں کی منزل سے بھی آگاہ ہے۔پسر مردہ عورتوں کی درد بھری فریاد اور پیروں کی چاپ بھی سن لیتا ہے۔وہ سبز پتیوں کے غلافوں کے اندرونی حصوں میں تیار ہونے والے پھلوں کی جگہ کو بھی جانتا ہے اور پہاڑوں کے غاروں اور وادیوں میں جانوروں کی پناہ گاہوں کو بھی پہنچانتا ہے۔وہ درختوں کے تنوں اور ان کے چھلکوں میں مچھروں کے چھپنے کی جگہ سے بھی با خبر ہے اور شاخوں میں پتے نکلنے کی منزل اور صلبوں کی گزر گاہوں میں نطفوں کے ٹھکانوں اور آپس میں جڑے ہوئے بادلوںاور تہہ بہ تہہ سحابوں سے ٹپکنے والے بارش کے قطروں سے بھی آشنا ہے بلکہ جن ذرات کو آندھیاں اپنے دامن سے اڑا دیتی ہیں اور جن نشانات کو بارشیں اپنے سیلاب سے مٹا دیتی ہیں ان سے بھی با خبر ہے۔وہ ریت کے ٹیلوں پر زمین کے کیڑوں کے چلنے پھرنے اور سربلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر بال و پر رکھنے والے پرندوں کے نشیمنوں کو بھی جانتا ہے اور گھونسلوں کے اندھیروں میں پرندوں کے نغموں کو بھی پہچانتا ہے

(۱) مالک کائنات کے علم کے بارے میں اس قدر دقیق بیان ایک طرف غیر حکیم فلاسفہ کے اس تصور کی تردید ہے کہ خالق حکیم کے علم کا تعلق صرف کلیات سے ہوتا ہے اور وہ جزئیات سے بہ حیثیت جزئیات با خبرنہیں ہوتا ہے ورنہ اس سے بدلتے ہوئے جزئیات کے ساتھ ذات میں تغیر لازم آئے گا اور یہبات غیر معقول ہے اور دوسری طرف انسان کو اس نکتہ کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ جو خالق و مالک مذکور تمام باریکیوں سے با خبر ہے وہ خلوت کدوں میں نا محرموں کے اجتماعات ' نیم تاریک رقص گاہوں کے رقص سڑکوں اوربازاروں کے وزدیدہ اشارات' اسکولوں اور دفتروں کے غیر شرعی تصرفات اور دل و دماغ میں چھپے ہوئے غیر شریفانہ تصورات و خیالات سے بھی با خبر ہے۔اس کے علم سے کائنات کا کوئی ذرہ مخفی نہیں ہو سکتا ہے۔وہآنکھوں کی خیانت اور دل کے پوشیدہ اسرار دونوں سے مساوی طورپر اطلاع رکھتا ہے۔واللہ اعلم بذات الصدور


ومَا أَوْعَبَتْه الأَصْدَافُ وحَضَنَتْ عَلَيْه أَمْوَاجُ الْبِحَارِ - ومَا غَشِيَتْه سُدْفَةُ لَيْلٍ أَوْ ذَرَّ عَلَيْه شَارِقُ نَهَارٍ - ومَا اعْتَقَبَتْ عَلَيْه أَطْبَاقُ الدَّيَاجِيرِ وسُبُحَاتُ النُّورِ وأَثَرِ كُلِّ خَطْوَةٍ - وحِسِّ كُلِّ حَرَكَةٍ ورَجْعِ كُلِّ كَلِمَةٍ - وتَحْرِيكِ كُلِّ شَفَةٍ ومُسْتَقَرِّ كُلِّ نَسَمَةٍ - ومِثْقَالِ كُلِّ ذَرَّةٍ وهَمَاهِمِ كُلِّ نَفْسٍ هَامَّةٍ - ومَا عَلَيْهَا مِنْ ثَمَرِ شَجَرَةٍ أَوْ سَاقِطِ وَرَقَةٍ - أَوْ قَرَارَةِ نُطْفَةٍ أَوْ نُقَاعَةِ دَمٍ ومُضْغَةٍ - أَوْ نَاشِئَةِ خَلْقٍ وسُلَالَةٍ - لَمْ يَلْحَقْه فِي ذَلِكَ كُلْفَةٌ - ولَا اعْتَرَضَتْه فِي حِفْظِ مَا ابْتَدَعَ مِنْ خَلْقِه عَارِضَةٌ ولَا اعْتَوَرَتْه فِي تَنْفِيذِ الأُمُورِ وتَدَابِيرِ الْمَخْلُوقِينَ مَلَالَةٌ ولَا فَتْرَةٌ - بَلْ نَفَذَهُمْ عِلْمُه وأَحْصَاهُمْ عَدَدُه - ووَسِعَهُمْ عَدْلُه وغَمَرَهُمْ فَضْلُه - مَعَ تَقْصِيرِهِمْ عَنْ كُنْه مَا هُوَ أَهْلُه.

۔جن چیزوں کو صدف نے سمیٹ رکھا ہے انہیں بھی جانتا ہے اورجنہیں دریا کی موجوں نے اپنی گود میں دبا رکھا ہے انہیں بھی پہچانتا ہے۔جسے رات کی تاریکی نے چھپا لیا ہے اسے بھی پہچانتا ہے اور جس پر دن کے سورج نے روشنی ڈالی ہے اس سے بھی با خبر ہے۔جن چیزوں پریکے بعد دیگرے اندھیری راتوں کے پردے اور روشن دنوں کے آفتاب کی شعاعیں نور بکھیرتی ہیں وہ ان سب سے با خبر ہے نشان قدم' حس و حرکت ' الفاظ کی گونج' ہونٹوں کی جنبش' سانسوں کی منزل ' ذرات کا وزن ' ذی روح کی سسکیوں کی آواز ' اس زمین پر درختوں کے پھل ۔گرنے والے پتے ' نطفوں کی قرار گاہ ' منجمد خون کے ٹھکانے ' لوتھڑے یا اس کے بعد بننے والی مخلوق یا پیدا ہوئے بچے سب کو جانتا ہے اور اسے اس علم کے حصول میں کوئی زحمت نہیں ہوتی اور نہ اپنی مخلوقات کی حفاظت میں کوئی رکاوٹ پیش آئی اور نہ اپنے امور کے نافذ کرنے اور مخلوقات کا انتظام کرنے میں کوئی سستی یا تھکن لاحق ہوئی بلکہ اس کا علم گہرائیوں میں اترا ہوا ہے اور اس نے سب کے اعداد کو شمار کرلیا ہے اور سب پر اس کا عدل شامل اور فضل محیط ہے حالانکہ یہ سب اس کے شایان شان حق کے ادا کرنے سے قاصر ہیں۔


دعاء

اللَّهُمَّ أَنْتَ أَهْلُ الْوَصْفِ الْجَمِيلِ - والتَّعْدَادِ الْكَثِيرِ إِنْ تُؤَمَّلْ فَخَيْرُ مَأْمُولٍ وإِنْ تُرْجَ فَخَيْرُ مَرْجُوٍّ - اللَّهُمَّ وقَدْ بَسَطْتَ لِي فِيمَا لَا أَمْدَحُ بِه غَيْرَكَ - ولَا أُثْنِي بِه عَلَى أَحَدٍ سِوَاكَ - ولَا أُوَجِّهُه إِلَى مَعَادِنِ الْخَيْبَةِ ومَوَاضِعِ الرِّيبَةِ - وعَدَلْتَ بِلِسَانِي عَنْ مَدَائِحِ الآدَمِيِّينَ؛والثَّنَاءِ عَلَى الْمَرْبُوبِينَ الْمَخْلُوقِينَ - اللَّهُمَّ ولِكُلِّ مُثْنٍ عَلَى مَنْ أَثْنَى عَلَيْه مَثُوبَةٌ مِنْ جَزَاءٍ - أَوْ عَارِفَةٌ مِنْ عَطَاءٍ - وقَدْ رَجَوْتُكَ دَلِيلًا عَلَى ذَخَائِرِ الرَّحْمَةِ - وكُنُوزِ الْمَغْفِرَةِ - اللَّهُمَّ وهَذَا مَقَامُ مَنْ أَفْرَدَكَ بِالتَّوْحِيدِ الَّذِي هُوَ لَكَ - ولَمْ يَرَ مُسْتَحِقّاً لِهَذِه الْمَحَامِدِ والْمَمَادِحِ غَيْرَكَ - وبِي فَاقَةٌ إِلَيْكَ لَا يَجْبُرُ مَسْكَنَتَهَا إِلَّا فَضْلُكَ - ولَا يَنْعَشُ مِنْ خَلَّتِهَا إِلَّا مَنُّكَ وجُودُكَ - فَهَبْ لَنَا فِي هَذَا الْمَقَامِ رِضَاكَ - وأَغْنِنَا عَنْ مَدِّ الأَيْدِي إِلَى سِوَاكَ –( إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ )

(۹۲)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لما أراده الناس على البيعة - بعد قتل عثمان

دعائ

خدایا! تو ہی بہترین توصیف اورآخر تک سراہے جانے کا اہل ہے تجھ سے آس لگائی جائے تو بہترین آسرا ہے اور امید رکھی جائے تو بہترین مرکز امید ہے۔تونے مجھے وہ طاقت دی ہے جس کے ذریعہ کسی غیرکی مدح و ثنا نہیں کرتا ہوں اور اس کا رخ ان افراد کی طرف نہیں موڑتا ہوں جو ناکامی کا مرکز اور شبہات کی منزل ہیں۔میں نے اپنی زبان کو لوگوں کی تعریف اورتیری پروردہ مخلوقات کی ثناو صفت سے موڑ دیا ہے۔ خدایا!ہر تعریف کرنے والے کا اپنے ممدوح پرایک حق ہوتا ہے چاہے وہ معاوضہ ہویا انعام و اکرام۔اور میں تجھ سے آس لگائے بیٹھا ہوں کہ تو رحمت کے ذخیروں اور مغفرت کے خزانوں کی رہنمائی کرنے والا ہے۔خدایا! یہ اس بندہ کی منزل ہے جس نے صرف تیری توحید اور یکتائی کا اعتراف کیا ہے اور تیرے علاوہ ان اوصاف و کمالات کا کسی کو اہل نہیں پایا ہے۔پھر میں ایک احتیاج رکھتا ہوں جس کا تیرے فضل کے علاوہ کوئی علاج نہیں کر سکتا ہے اور تیرے احسانات کے علاوہ کوئی اس کا سہارا نہیں بن سکتا ہے۔اب اس وقت مجھے اپنی رضا عنایت فرما دے اور دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بے نیاز بنادے کہ تو ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے۔

(۹۲)

آپ کا ارشاد گرامی(جب لوگوں نے قتل عثمان کے بعد آپ کی بیعت کا اراہ کیا)


دَعُونِي والْتَمِسُوا غَيْرِي - فَإِنَّا مُسْتَقْبِلُونَ أَمْراً - لَه وُجُوه وأَلْوَانٌ - لَا تَقُومُ لَه الْقُلُوبُ - ولَا تَثْبُتُ عَلَيْه الْعُقُولُ وإِنَّ الآفَاقَ قَدْ أَغَامَتْ والْمَحَجَّةَ قَدْ تَنَكَّرَتْ واعْلَمُوا أَنِّي إِنْ أَجَبْتُكُمْ - رَكِبْتُ بِكُمْ مَا أَعْلَمُ - ولَمْ أُصْغِ إِلَى قَوْلِ الْقَائِلِ وعَتْبِ الْعَاتِبِ وإِنْ تَرَكْتُمُونِي فَأَنَا كَأَحَدِكُمْ - ولَعَلِّي أَسْمَعُكُمْ وأَطْوَعُكُمْ - لِمَنْ وَلَّيْتُمُوه أَمْرَكُمْ - وأَنَا لَكُمْ وَزِيراً خَيْرٌ لَكُمْ مِنِّي أَمِيراً!

(۹۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وفيها ينبّه أمير المؤمنين على فضله وعلمه ويبيّن فتنة بني أمية!

أَمَّا بَعْدَ حَمْدِ اللَّه والثَّنَاءِ عَلَيْه - أَيُّهَا النَّاسُ - فَإِنِّي فَقَأْتُ عَيْنَ الْفِتْنَةِ - ولَمْ يَكُنْ لِيَجْتَرِئَ عَلَيْهَا أَحَدٌ غَيْرِي

مجھے چھوڑ دو اور جائو کسی اورکو تلاش کرلو۔ہمارے سامنے وہ معاملہ ہے جس کے بہت سے رنگ اور رخ ہیں جن کی نہ دلوں میں تاب ہے اور نہ عقلیں انہیں برداشت کرسکتی ہیں۔دیکھو افق کس قدر ابر آلود ہے اور راستے کس قدر انجانے ہوگئے ہیں۔یاد رکھو کہ اگر میں نے بیعت کی دعوت کو قبول کرلیا تو تمہیں اپنے علم ہی کے راستے پر چلائوں گا اور کسی کی کوئی بات یا سرزنش نہیں سنوں گا ۔لیکن اگر تم نے مجھے چھوڑ دیا تو تمہاری ہی ایک فرد کی طرح زندگی گزار دوں گا بلکہ شائد(۱) تم سب سے زیادہ تمہارے حاکم کے احکام کا خیال رکھو۔میں تمہارے لئے وزیر کی حیثیت سے امیر کی بہ نسبت زیادہ بہتر رہوں گا۔

(۹۳)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں آپ نے اپنے علم و فضل سے آگاہ کرتے ہوئے بنی امیہ کے فتنہ کی طرف متوجہ کیا ہے )

حمدوثنائے پروردگار کے بعد۔لوگو! یادرکھو میں(۱) نے فتنہ کی آنکھ کو پھوڑ دیاہے اور یہ کام میرے علاوہ کوئی دوسرا انجام نہیں دے سکتا ہے

(۱)پیغمبر اسلام (ص) کے انتقال کے بعد جنازۂ رسول (ص) کو چھوڑ کر مسلمانوں کی خلافت سازی ' خلافت کے بعد امیرالمومنین سے مطالبہ بیعت۔ابو سفیان کی طرف سے حمایت کی پیش کش۔فدک کا غاصبانہ قبضہ۔دروازہ کا جلایا جانا' پھر ابو بکر کی طرف سے عمر کی نامزدگی ۔پھر عمر کی طرف سے شوریٰ کے ذریعہ عثمان کی خلافت ۔پھر طلحہ و زبیر اورعائشہ کی بغاوت اور پھرخوارج کا دین سے خروج۔یہ وہ فتنے تھے جن میں سے کوئی ایک بھی اسلام کو تباہ کردینے کے لئے کافی تھا۔اگر امیر المومنین نے مکمل صبرو تحمل کامظاہرہ نہ کیا ہوتا اور سخت ترین حالات پر سکوت اختیار نہ فرمایاہوتا۔اسی سکوت اور تحمل کو فتنوں کی آنکھ پھوڑ دینے سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کے بعد علمی فتنوں سے بچنے کا ایک راستہ یہ بتا دیا گیا ہے کہ جو چاہو دریافت کرلو' میں قیامت تک کے حالات سے با خبر کر سکتا ہوں ۔( روحی لہ الفدائ)


بَعْدَ أَنْ مَاجَ غَيْهَبُهَا واشْتَدَّ كَلَبُهَا فَاسْأَلُونِي قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِي - فَوَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِه - لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ - فِيمَا بَيْنَكُمْ وبَيْنَ السَّاعَةِ - ولَا عَنْ فِئَةٍ تَهْدِي مِائَةً وتُضِلُّ مِائَةً - إِلَّا أَنْبَأْتُكُمْ بِنَاعِقِهَا وقَائِدِهَا وسَائِقِهَا ومُنَاخِ رِكَابِهَا - ومَحَطِّ رِحَالِهَا - ومَنْ يُقْتَلُ مِنْ أَهْلِهَا قَتْلًا - ومَنْ يَمُوتُ مِنْهُمْ مَوْتاً - ولَوْ قَدْ فَقَدْتُمُونِي - ونَزَلَتْ بِكُمْ كَرَائِه الأُمُورِ - وحَوَازِبُ الْخُطُوبِ - لأَطْرَقَ كَثِيرٌ مِنَ السَّائِلِينَ - وفَشِلَ كَثِيرٌ مِنَ الْمَسْئُولِينَ - وذَلِكَ إِذَا قَلَّصَتْ حَرْبُكُمْ وشَمَّرَتْ عَنْ سَاقٍ - وضَاقَتِ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ ضِيقاً - تَسْتَطِيلُونَ مَعَه أَيَّامَ الْبَلَاءِ عَلَيْكُمْ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّه لِبَقِيَّةِ الأَبْرَارِ مِنْكُمْ.

إِنَّ الْفِتَنَ إِذَا أَقْبَلَتْ شَبَّهَتْ وإِذَا أَدْبَرَتْ نَبَّهَتْ - يُنْكَرْنَ مُقْبِلَاتٍ - ويُعْرَفْنَ مُدْبِرَاتٍ - يَحُمْنَ حَوْمَ الرِّيَاحِ يُصِبْنَ بَلَداً - ويُخْطِئْنَ بَلَداً

جب کہ اس کی تاریکیاں تہ و بالا ہو رہی ہیں اور اس کی دیوانگی کامرض شدید ہوگیا ہے۔اب تم مجھ سے جو چاہو دریافت کرلو قبل اس کے کہ تمہارے درمیان نہ رہ جائوں۔اس پروردگار کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم اب سے قیامت تک کے درمیان جس چیز کے بارے میں سوال کرو گے اور جس گروہ کے بارے میں دریافت کرو گے جو سو افراد کو ہدایت دے اور سو کو گمراہ کردے تو میں اس کے للکارنے والے۔کھینچنے والے ' ہنکانے والے' سواریوں کے قیام کی منزل' سامان اتارنے کی جگہ' کون ان میں سے قتل کیا جائے گا ' کون اپنی موت سے مرے گا۔سب بتادوں گا۔حالانکہ اگریہ بدترین حالات اورسخت ترین مشکلات میرے بعد پیش آئے تو دریافت کرنے والا بھی پریشانی سے سرجھکا لے گا اور جس سے دریافت کیاجائے گا وہ بھی بتانے سے عاجز رہے گا اور یہ سب اس وقت ہوگا جب تم پرجنگیں پوری تیری کے ساتھ ٹوٹ پڑیں گی اور دنیا اس طرح تنگ ہوجائے گی کہ مصیبت کے دن طولانی محسوس ہونے لگیں گے۔یہاں تک کہ اللہ باقی ماندہ نیک بندوں کو کامیابی عطا کردے۔

یاد رکھو فتنے جب آتے ہیں تو لوگوں کو شبہات میں ڈال دیتے ہیں اور جب جاتے ہیں تو ہوشیار کرجاتے ہیں۔یہ آتے وقت نہیں پہچانے جاتے ہیں لیکن جب جانے لگتے ہیں۔تو پہچان لئے جاتے ہیں۔ہوائوں کی طرح چکر لگاتے رہتے ہیں۔کسی شہر کو اپنی زد میں لے لیتے ہیں اور کسی کو نظرانداز کر دیتے ہیں


أَلَا وإِنَّ أَخْوَفَ الْفِتَنِ عِنْدِي عَلَيْكُمْ فِتْنَةُ بَنِي أُمَيَّةَ فَإِنَّهَا فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ مُظْلِمَةٌ عَمَّتْ خُطَّتُهَا وخَصَّتْ بَلِيَّتُهَا،وأَصَابَ الْبَلَاءُ مَنْ أَبْصَرَ فِيهَا - وأَخْطَأَ الْبَلَاءُ مَنْ عَمِيَ عَنْهَا –

وايْمُ اللَّه لَتَجِدُنَّ بَنِي أُمَيَّةَ لَكُمْ - أَرْبَابَ سُوءٍ بَعْدِي كَالنَّابِ الضَّرُوسِ تَعْذِمُ بِفِيهَا وتَخْبِطُ بِيَدِهَا - وتَزْبِنُ بِرِجْلِهَا وتَمْنَعُ دَرَّهَا لَا يَزَالُونَ بِكُمْ حَتَّى لَا يَتْرُكُوا مِنْكُمْ إِلَّا نَافِعاً لَهُمْ - أَوْ غَيْرَ ضَائِرٍ بِهِمْ ولَا يَزَالُ بَلَاؤُهُمْ عَنْكُمْ - حَتَّى لَا يَكُونَ انْتِصَارُ أَحَدِكُمْ مِنْهُمْ - إِلَّا كَانْتِصَارِ الْعَبْدِ مِنْ رَبِّه - والصَّاحِبِ مِنْ مُسْتَصْحِبِه - تَرِدُ عَلَيْكُمْ فِتْنَتُهُمْ شَوْهَاءَ مَخْشِيَّةً وقِطَعاً جَاهِلِيَّةً - لَيْسَ فِيهَا مَنَارُ هُدًى ولَا عَلَمٌ يُرَى

نَحْنُ أَهْلَ الْبَيْتِ مِنْهَا بِمَنْجَاةٍ ولَسْنَا فِيهَا بِدُعَاةٍ - ثُمَّ يُفَرِّجُهَا اللَّه عَنْكُمْ كَتَفْرِيجِ الأَدِيمِ بِمَنْ يَسُومُهُمْ خَسْفاً ويَسُوقُهُمْ عُنْفاً - ويَسْقِيهِمْ بِكَأْسٍ مُصَبَّرَةٍ لَا يُعْطِيهِمْ إِلَّا السَّيْفَ -

یاد رکھو میری نگاہ میں سب سے خوفناک فتنہ بنی امیہ کا ہے جو خود بھی اندھا ہوگا اوردوسروں کو بھی اندھیرے میں رکھے گا۔اس کے خطوط عام ہوں گے لیکن اس کی بلاخاص لوگوں کے لئے ہوگی جو اس فتنہ میں آنکھ کھولے ہوں گے ورنہ اندھوں کے پاس سے بآسانی گذر جائے گا۔

خدا کی قسم!تم بنی امیہ کو میرے بعد بد ترین صاحبان اقتدار پائو گے جن کی مثال اس کاٹنے والی اونٹنی کی ہوگی جومنہ سے کاٹے گی اور ہاتھ مارے گی یا پائوں چلائے اور دودھ نہ دوہنے دے گی اور یہ سلسلہ یوں ہی بر قرار رہے گا جس سے صرف وہ افراد بچیں گے جوان کے حق میں مفید ہوں یا کم سے کم نقصان دہ نہ ہوں۔یہ مصیبت تمہیں اسی طرح گھیرے رہے گی یہاں تک کہ تمہاری داد خواہی ایسے ہی ہوگی جیسے غلام اپنے آقا سے یا مرید اپنے پیر سے انصاف کا تقاضا کرے۔تم پر ان کا فتنہ ایسی بھیانک شکل میں وارد ہوگا جس سے ڈر لگے گا اور اس میں جاہلیت کے اجزا بھی ہوں گے۔نہ کوئی منارہ ہدایت ہوگا اور نہ کوئی راستہ دکھانے والا پرچم۔

بس ہم اہل بیت ہیں جو اس فتنہ سے محفوظ رہیں گے اور اس کے داعیوں میں سے نہ ہوں گے۔اس کے بعد اللہ تم سے اس فتنہ کو اس طرح الگ کردے گا جس طرح جانور کی کھال اتاردی جاتی ہے۔اس شخص کے ذریعہ جو انہیں ذلیل کرے گا اور سختی سے ہنکائے گا اور موت کے تلخ گھونٹ پلائے گا اور تلوارکے علاوہ کچھ نہ دے گا اور


ولَا يُحْلِسُهُمْ إِلَّا الْخَوْفَ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَوَدُّ قُرَيْشٌ بِالدُّنْيَا - ومَا فِيهَا لَوْ يَرَوْنَنِي مَقَاماً وَاحِداً - ولَوْ قَدْرَ جَزْرِ جَزُورٍ لأَقْبَلَ مِنْهُمْ مَا أَطْلُبُ الْيَوْمَ بَعْضَه فَلَا يُعْطُونِيه!

(۹۴)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وفيها يصف اللَّه تعالى ثم يبين فضل الرسول الكريم وأهل بيته ثم يعظ الناس

اللَّه تعالى

فَتَبَارَكَ اللَّه الَّذِي لَا يَبْلُغُه بُعْدُ الْهِمَمِ - ولَا يَنَالُه حَدْسُ الْفِطَنِ،الأَوَّلُ الَّذِي لَا غَايَةَ لَه فَيَنْتَهِيَ - ولَا آخِرَ لَه فَيَنْقَضِيَ.

ومنها في وصف الأنبياء

فَاسْتَوْدَعَهُمْ فِي أَفْضَلِ مُسْتَوْدَعٍ - وأَقَرَّهُمْ فِي خَيْرِ مُسْتَقَرٍّ - تَنَاسَخَتْهُمْ كَرَائِمُ الأَصْلَابِ إِلَى مُطَهَّرَاتِ الأَرْحَامِ

خوف کے علاوہ کوئی لباس نہ پہنائے گا۔وہ وقت ہوگا جب قریش کو یہ آرزد ہوگی کہ کاش دنیا اور اس کی تمام دولت دے کر ایک منزل پر مجھے دیکھ لیتے چاہے صرف اتنی دیر کے لئے جتنی دیرمیں ایک اونٹ نحر کیا جاتا ہے تاکہ میں ان سے اس چیز کو قبول کرلوں جس کا ایک حصہ آج مانگتا ہوں تووہ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

(۹۴)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں پروردگار کے اوصاف ۔رسول اکرم (ص) اور اہل بیت اطہار کے فضائل اور موعظہ حسنہ کا ذکر کیا گیا ہے)

با برکت ہے وہ پروردگار جس کی ذات تک ہمتوں کی بلندیاں نہیں پہنچ سکتی ہیں اور عقل و فہم کی ذہانتیں اسے نہیں پا سکتی ہیں وہ ایسا اول ہے جس کی کوئی آخری حد نہیں ہے اور ایساآخر ہے جس کے لئے کوئی فنا نہیں ہے۔

(انبیاء کرام )

پروردگارنے انہیں بہترین مقامات پر ودیعت رکھااور بہترین منزل میں مستقر کیا۔وہ مسلسل شریف ترین(۱) اصلاب سے پاکیزہ ترین ارحام کی طرف منتقل ہوتے

(۱)امیر المومنین کا یہ ارشاد گرامی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ انبیاء کرام کے آباء و اجداد اورامہات میں کوئی ایک بھی ایمان یا کردار کے اعتبار سے ناقص اور عیب دارنہیں تھا اور اس کے بعد اس بحث کی ضرورت نہیں رہ جاتی ہے کہ یہ بات عقلی اعتبار سے ضروری ہے یا نہیں اور اس کے بغیر منصب کا جوازپیدا ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ اس لئے کہ اگر کافر اصلاب اوربے دین ارحام میں کوئی نقص نہیں تھا اور ناپاک ظرف منصب الٰہی کے حامل کے لئے نا مناسب نہیں تھا تو اس قدر اہتمام کی کیا ضرورت تھی کہ آدم سے لے کرخاتم تک کسی ایک مرحلہ پر بھی کوئی ناپاک صلب یا غیر طیب رحم داخل نہ ہونے پائے۔


كُلَّمَا مَضَى مِنْهُمْ سَلَفٌ - قَامَ مِنْهُمْ بِدِينِ اللَّه خَلَفٌ.

رسول اللَّه وآل بيته

حَتَّى أَفْضَتْ كَرَامَةُ اللَّه سُبْحَانَه وتَعَالَى إِلَى مُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - فَأَخْرَجَه مِنْ أَفْضَلِ الْمَعَادِنِ مَنْبِتاً وأَعَزِّ الأَرُومَاتِ مَغْرِساً مِنَ الشَّجَرَةِ الَّتِي صَدَعَ مِنْهَا أَنْبِيَاءَه - وانْتَجَبَ مِنْهَا أُمَنَاءَه عِتْرَتُه خَيْرُ الْعِتَرِ وأُسْرَتُه خَيْرُ الأُسَرِ وشَجَرَتُه خَيْرُ الشَّجَرِ - نَبَتَتْ فِي حَرَمٍ وبَسَقَتْ فِي كَرَمٍ - لَهَا فُرُوعٌ طِوَالٌ وثَمَرٌ لَا يُنَالُ - فَهُوَ إِمَامُ مَنِ اتَّقَى وبَصِيرَةُ مَنِ اهْتَدَى - سِرَاجٌ لَمَعَ ضَوْؤُه وشِهَابٌ سَطَعَ نُورُه - وزَنْدٌ بَرَقَ لَمْعُه سِيرَتُه الْقَصْدُ وسُنَّتُه الرُّشْدُ وكَلَامُه الْفَصْلُ وحُكْمُه الْعَدْلُ - أَرْسَلَه عَلَى حِينِ فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ - وهَفْوَةٍ عَنِ الْعَمَلِ وغَبَاوَةٍ مِنَ الأُمَمِ.

عظة الناس

اعْمَلُوا رَحِمَكُمُ اللَّه عَلَى أَعْلَامٍ بَيِّنَةٍ فَالطَّرِيقُ نَهْجٌ( يَدْعُوا إِلى دارِ السَّلامِ ) - وأَنْتُمْ فِي دَارِ مُسْتَعْتَبٍ عَلَى مَهَلٍ وفَرَاغٍ

رہے کہ جب کوئی بزرگ گزر گیا تو دین خدا کی ذمہ داری بعد والے نے سنبھال لی۔

رسول اکرم (ص)

یہاں تک کہ الٰہی شرف حضرت محمد مصطفی (ص)تک پہنچ گیا اور اس نے انہیں بہترین نشوونما کے معدن اورشریف ترین اصل کے مرکز کے ذریعہ دنیا میں بھیج دیا۔ اسی شجرۂ طیبہ سے جس سے انبیاء کو پیدا کیا اور اپنے امینوں کا انتخاب کیا۔پیغمبر (ص) کی عترت بہترین اور ان کاخاندان شریف ترین خاندان ہے۔ان کا شجرہ وہ بہترین شجرہ ے جو سرزمین حرم پر اگا ہے اور بزرگ کے سایہ میں پروان چڑھا ہے۔اس کی شاخیں بہت طویل ہیں اور اس کے پھل انسانی دسترس سے بالا تر ہیں۔وہ اہل تقویٰ کے امام اور طالبان ہدایت کے لئے سر چشمہ بصیرت ہیں۔وہ ایساچراغ ہیں جس کی روشنی لو دے رہی ہے اور ایسا ستارہ ہیں جس کا نور درخشاں ہے اور ایسا چقماق ہیں جس کی چمک برق آسا ہے۔ان کی سیرت میانہ روی' ان کی سنت رشد و ہدایت ' ان کا کلام حرف آخر اور ان کا فیصلہ عادلانہ ہے۔اللہ نے انہیں اس وقت بھیجا جب انبیاء کا سلسلہ موقوف تھا اور بدعملی کا دوردورہ تھا اور امت غفلت میں ڈوبی ہوئی تھی۔

(موعظہ)

دیکھو! خدا تم پر رحمت نازل کرے۔واضح نشانیوں پر عمل کرو کہ راستہ بالکل سیدھا ہے اوروہ جنت کی طرف دعوت دے رہا ہے اور تم ایسے گھرمیں ہو جہاں خوشنودی پروردگار حاصل کرنے کی مہلت اور فراغت


والصُّحُفُ مَنْشُورَةٌ - والأَقْلَامُ جَارِيَةٌ - والأَبْدَانُ صَحِيحَةٌ - والأَلْسُنُ مُطْلَقَةٌ - والتَّوْبَةُ مَسْمُوعَةٌ - والأَعْمَالُ مَقْبُولَةٌ.

(۹۵)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يقرر فضيلة الرسول الكريم

بَعَثَه والنَّاسُ ضُلَّالٌ فِي حَيْرَةٍ - وحَاطِبُونَ فِي فِتْنَةٍ قَدِ اسْتَهْوَتْهُمُ الأَهْوَاءُ - واسْتَزَلَّتْهُمُ الْكِبْرِيَاءُ واسْتَخَفَّتْهُمُ الْجَاهِلِيَّةُ الْجَهْلَاءُ حَيَارَى فِي زَلْزَالٍ مِنَ الأَمْرِ وبَلَاءٍ مِنَ الْجَهْلِ - فَبَالَغَصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فِي النَّصِيحَةِ - ومَضَى عَلَى الطَّرِيقَةِ - ودَعَا إِلَى الْحِكْمَةِ( والْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ) .

(۹۶)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في اللَّه وفي الرسول الأكرم

اللَّه تعالى

الْحَمْدُ لِلَّه الأَوَّلِ فَلَا شَيْءَ قَبْلَه - والآخِرِ فَلَا شَيْءَ بَعْدَه - والظَّاهِرِ فَلَا شَيْءَ فَوْقَه

حاصل ہے۔نامۂ اعمال کھلے ہوئے ہیں۔قلم قدرت چل رہا ہے۔بدن صحیح و سالم ہیں۔زبانیں آزاد ہیں ' تو بہ سنی جا رہی ہے اور اعمال قبول کئے جا رہے ہیں۔

(۹۵)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں رسول اکرم (ص) کے فضائل و مناقب کا تذکرہ کیا گیا ہے )

اللہ نے انہیں اس وقت بھیجا جب لوگ گمراہی میں متحیر تھے۔اور فتنوں میں ہاتھ پائوں مار رہے تھے۔ خواہشات نے انہیں بہکا دیا تھا اور غرورنے ان کے قدموں میں لغزش پیدا کردی تھی۔جاہلیت نے انہیں سبک سر بنا دیاتھا اور وہ غیر یقینی حالات اورجہالت کی بلائوں میں حیران و سرگرداں تھے۔آپ نے نصیحت کا حق ادا کردیا ' سیدھے راستہ پرچلے اور لوگوں کو حکمت اورموعظہ حسنہ کی طرف دعوت دی۔

(۹۶)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(حضرت رب العالمین اور رسول اکرم (ص) کے صفات کے بارے میں )

تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو ایسا اول ہے کہ اس سے پہلے کوئی شے نہیں ہے اور ایسا آخر ہے کہ اس کے بعد کوئی شے نہیں ہے۔وہ ظاہر ہے تو اس سے مافوق کچھ نہیں ہے


والْبَاطِنِ فَلَا شَيْءَ دُونَه.

ومنها في ذكر الرسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

مُسْتَقَرُّه خَيْرُ مُسْتَقَرٍّ - ومَنْبِتُه أَشْرَفُ مَنْبِتٍ - فِي مَعَادِنِ الْكَرَامَةِ - ومَمَاهِدِ السَّلَامَةِ - قَدْ صُرِفَتْ نَحْوَه أَفْئِدَةُ الأَبْرَارِ - وثُنِيَتْ إِلَيْه أَزِمَّةُ الأَبْصَارِ - دَفَنَ اللَّه بِه الضَّغَائِنَ وأَطْفَأَ بِه الثَّوَائِرَ أَلَّفَ بِه إِخْوَاناً - وفَرَّقَ بِه أَقْرَاناً - أَعَزَّ بِه الذِّلَّةَ - وأَذَلَّ بِه الْعِزَّةَ - كَلَامُه بَيَانٌ وصَمْتُه لِسَانٌ.

(۹۷)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في أصحابه وأصحاب رسول اللَّه

أصحاب علي

ولَئِنْ أَمْهَلَ الظَّالِمَ - فَلَنْ يَفُوتَ أَخْذُه - وهُوَ لَه بِالْمِرْصَادِ عَلَى مَجَازِ طَرِيقِه - وبِمَوْضِعِ الشَّجَا مِنْ مَسَاغِ رِيقِه

اور باطن ہے تو اس سے قریب تر کوئی شے نہیں ہے۔

(رسول اکرم (ص) ) آپ کامستقر بہترین مستقر اور آپ کی نشوونما کی جگہ بہترین منزل ہے یعنی کرامتوں کا معدن اور سلامتی کامرکز نیک کرداروں کے دل آپ کی طرف جھکا دئیے گئے ہیں اور نگاہوں کے رخ آپ کی طرف موڑ دئیے گئے ہیں۔اللہ نے آپ کے ذریعہ کینوں کو دفن کردیا ہے اور عداوتوں کے شعلے بجھا دئیے ہیں۔لوگوں کو بھائی بھائی بنا دیا ہے اور کفر کی برادری کو منتشر کردیا ہے اہل ذلت کو عزیز بنا دیا ہے اور کفر کی عزت پر اکڑنے والوں کو ذلیل کردیا ہے ۔آپ کا کلام شریعت کا بیان ہے اور آپ کی خاموشی احکام(۱) کی زبان۔

(۹۷)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں اپنے اصحاب اور اصحاب رسول اکرم (ص) کا موازنہ کیا گیا ہے)

اگر پروردگارنے ظالم کو مہلت دے رکھی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اس کی گرفت سے باہر نکل گیا ہے۔یقینا وہ اس کی گزر گاہ اور اس کی گردن میں اچھو لگنے کی جگہ پر اس کی تاک میں ہے۔

(۱)علماء اصول کی زبان میں معصوم کی خاموشی کو تقریر سے تعبیر کیا جاتا ہے اوروہ اسی طرح حجت اور مدرک احکام ہے جس طرح معصوم کا قول و عمل حجت اور سند کی حیثیت رکھتا ہے اور اس سے احکام شریعت کا استنباط و استخراج کیا جاتا ہے۔عام انسانوں کی خاموشی دلیل رضا مندی نہیں بن سکتی ہے لیکن معصوم کی خاموشی دلیل احکام بھی بن سکتی ہے۔


أَمَا والَّذِي نَفْسِي بِيَدِه - لَيَظْهَرَنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ عَلَيْكُمْ - لَيْسَ لأَنَّهُمْ أَوْلَى بِالْحَقِّ مِنْكُمْ - ولَكِنْ لإِسْرَاعِهِمْ إِلَى بَاطِلِ صَاحِبِهِمْ وإِبْطَائِكُمْ عَنْ حَقِّي - ولَقَدْ أَصْبَحَتِ الأُمَمُ تَخَافُ ظُلْمَ رُعَاتِهَا - وأَصْبَحْتُ أَخَافُ ظُلْمَ رَعِيَّتِي - اسْتَنْفَرْتُكُمْ لِلْجِهَادِ فَلَمْ تَنْفِرُوا - وأَسْمَعْتُكُمْ فَلَمْ تَسْمَعُوا - ودَعَوْتُكُمْ سِرّاً وجَهْراً فَلَمْ تَسْتَجِيبُوا - ونَصَحْتُ لَكُمْ فَلَمْ تَقْبَلُوا - أَشُهُودٌ كَغُيَّابٍ وعَبِيدٌ كَأَرْبَابٍ - أَتْلُو عَلَيْكُمْ الْحِكَمَ فَتَنْفِرُونَ

مِنْهَا - وأَعِظُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ الْبَالِغَةِ - فَتَتَفَرَّقُونَ عَنْهَا - وأَحُثُّكُمْ عَلَى جِهَادِ أَهْلِ الْبَغْيِ - فَمَا آتِي عَلَى آخِرِ قَوْلِي - حَتَّى أَرَاكُمْ مُتَفَرِّقِينَ أَيَادِيَ سَبَا تَرْجِعُونَ إِلَى مَجَالِسِكُمْ - وتَتَخَادَعُونَ عَنْ مَوَاعِظِكُمْ - أُقَوِّمُكُمْ غُدْوَةً وتَرْجِعُونَ إِلَيَّ عَشِيَّةً - كَظَهْرِ الْحَنِيَّةِ عَجَزَ الْمُقَوِّمُ وأَعْضَلَ الْمُقَوَّم.

قسم ہے اس مالک کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ یہ قوم یقینا تم پر غالب آجائے گی۔نہ اس لئے کہ وہ تم سے زیادہ حقدار ہیں(۲) بلکہ اس لئے کہ وہ اپنے امیر کے باطل کی فوراً اطاعت کر لیتے ہیں اورتم میرے حق میں ہمیشہ سستی سے کام لیتے ہو۔تمام دنیا کی قومیں اپنے حکام کے ظلم سے خوفزدہ ہیں اورمیں اپنی رعایا کے ظلم سے پریشان ہوں۔میں نے تمہیں جہاد کے لئے آمادہ کیا مگر تم نہ اٹھے۔موعظہ سنایا تو تم نے نہ سنا۔علی الاعلان اور خفیہ طریقہ سے دعوت دی لیکن تم نے لبیک نہ کہی اورنصیحت بھی کی تو اسے قبول نہ کیا۔تم ایسے حاضر ہو جیسے غائب اور ایسے اطاعت گذار ہوجیسے مالک میں تمہارے لئے حکمت آمیز باتیں کرتا ہوں اورتم بیزار ہو جاتے ہو۔بہترین نصیحت کرتا ہوں اورتم بھاگ کھڑے ہوتے ہو۔باغیوں کے جہاد پر آمادہ کرتا ہوں اور ابھی آخر کلام تک نہیں پہنچنے پاتا ہوں کہ تم سباکی اولاد کی طرح منتشر ہوجاتے ہو۔اپنی محفلوں کی طرف پلٹ جاتے ہو اور ایک دوسرے کے دھوکہ میں مبتلاہو جاتے ہو۔میں صبح کے وقت تمہیں سیدھا کرتا ہوں اور تم شام کے وقت یوں پلٹ کرآتے ہوجیسے کمان۔تمہیں سیدھا کرنے والا بھی عاجزآگیا اور تمہاری اصلاح بھی نا ممکن ہوگئی۔

(۲)خدا گواہ ہے کہ قائد کی تمام قائدانہ صلاحیتیں بیکار ہو کر رہ جاتی ہیں جب قوم اطاعت کے راستہ سے منحرف ہو جاتی ہے اور بغاوت پر آمادہ ہوجاتی ہے۔انحراف بھی اگر جہالت کی بناپر ہوتا ہے تو اس کی اصلاح کا امکان رہتا ہے۔لیکن مال غنیمت اور رشوت کا بزار گرم ہو جائے اوردولت دین کی قیمت بننے لگے تو وہاں ایک صحیح اورصالح قائد کا فرض قیامت انجام دینا تقریبا ً نا ممکن ہو کر رہ جاتا ہے اور اسے صبح و شام حالات کی فریاد ہی کرنا پڑتی ہے تاکہ قوم پرحجت تمام کردے اور مالک کی بارگاہ میں اپناعذر پیش کردے ۔


أَيُّهَا الْقَوْمُ الشَّاهِدَةُ أَبْدَانُهُمْ - الْغَائِبَةُ عَنْهُمْ عُقُولُهُمْ - الْمُخْتَلِفَةُ أَهْوَاؤُهُمْ - الْمُبْتَلَى بِهِمْ أُمَرَاؤُهُمْ - صَاحِبُكُمْ يُطِيعُ اللَّه وأَنْتُمْ تَعْصُونَه - وصَاحِبُ أَهْلِ الشَّامِ يَعْصِي اللَّه - وهُمْ يُطِيعُونَه - لَوَدِدْتُ واللَّه أَنَّ مُعَاوِيَةَ صَارَفَنِي بِكُمْ - صَرْفَ الدِّينَارِ بِالدِّرْهَمِ - فَأَخَذَ مِنِّي عَشَرَةَ مِنْكُمْ - وأَعْطَانِي رَجُلًا مِنْهُمْ.

يَا أَهْلَ الْكُوفَةِ - مُنِيتُ مِنْكُمْ بِثَلَاثٍ واثْنَتَيْنِ - صُمٌّ ذَوُو أَسْمَاعٍ - وبُكْمٌ ذَوُو كَلَامٍ - وعُمْيٌ ذَوُو أَبْصَارٍ - لَا أَحْرَارُ صِدْقٍ عِنْدَ اللِّقَاءِ - ولَا إِخْوَانُ ثِقَةٍ عِنْدَ الْبَلَاءِ - تَرِبَتْ أَيْدِيكُمْ - يَا أَشْبَاه الإِبِلِ غَابَ عَنْهَا رُعَاتُهَا - كُلَّمَا جُمِعَتْ مِنْ جَانِبٍ تَفَرَّقَتْ مِنْ آخَرَ - واللَّه لَكَأَنِّي بِكُمْ فِيمَا إِخَالُكُمْ - أَنْ لَوْ حَمِسَ الْوَغَى وحَمِيَ الضِّرَابُ - قَدِ انْفَرَجْتُمْ عَنِ ابْنِ أَبِي طَالِبٍ - انْفِرَاجَ الْمَرْأَةِ عَنْ قُبُلِهَا وإِنِّي لَعَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي ومِنْهَاجٍ مِنْ نَبِيِّي - وإِنِّي لَعَلَى الطَّرِيقِ الْوَاضِحِ - أَلْقُطُه لَقْطاً

اے وہ قوم جس کے بدن حاضر ہیں اور عقلیں غائب تمہارے خواہشات گونا گوں ہیں اورتمہارے حکام تمہاری بغاوت میں مبتلا ہیں۔تمہاری امیر اللہ کی اطاعت کرتا ہے اورتم اس کی نا فرمانی کرتے ہو اور شام کا حاکم اللہ کی معصیت کرتا ہے اور اس کی قوم اس کی اطاعت کرتی ہے۔خدا گواہ ہے کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ معاویہ مجھ سے درہم و دینار کا سودا کرلے کہتم میں کے دس لے کراپنا ایک دیدے۔ کوفہ والو! میں تمہاری وجہ سے تین طرح کی شخصیات اور دو طرح کی کیفیات سے دوچار ہوں ۔تم کان رکھنے والے بہرے ' زبان رکھنے والے گونگے اور آنکھ رکھنے والے اندھے ہو۔تمہاری حالت یہ ہے کہ نہ میدان جنگ کے سچے جواں مرد ہو اور نہ مصیبتوں میں قابل اعتماد ساتھی۔تمہارے ہاتھ خاک میں مل جائیں۔تم ان اونٹوں جیسے ہو جن کے چرانے والے گم ہو جائیں کہ جب ایک طرف سے جمع کئے جائیں تو دوسری طرف سے منتشر ہو جائیں۔خدا کی قسم: میں اپنے خیال کے مطابق تمہیں ایسا دیکھ رہا ہوں کہ اگر جنگ تیز ہوگئی اور میدان کا رزار گرم ہو گیا تو تم فرزندابو طالب سے اس بے شرمی کے ساتھ الگ ہو جائو گے جس طرح کوئی عورت برہنہ ہو جاتی ہے۔لیکن بہر حال میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل روشن رکھتا ہوں اور پیغمبر (ص) کے راستہ پرچل رہا ہوں ۔میرا راستہ بالکل روشن ہے جسے میں باطل کے اندھیروں میں بھی ڈھونڈھ لیتاہوں۔


أصحاب رسول اللَّه

انْظُرُوا أَهْلَ بَيْتِ نَبِيِّكُمْ - فَالْزَمُوا سَمْتَهُمْ واتَّبِعُوا أَثَرَهُمْ - فَلَنْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ هُدًى - ولَنْ يُعِيدُوكُمْ فِي رَدًى - فَإِنْ لَبَدُوا فَالْبُدُوا وإِنْ نَهَضُوا فَانْهَضُوا - ولَا تَسْبِقُوهُمْ فَتَضِلُّوا - ولَا تَتَأَخَّرُوا عَنْهُمْ فَتَهْلِكُوا - لَقَدْ رَأَيْتُ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - فَمَا أَرَى أَحَداً يُشْبِهُهُمْ مِنْكُمْ - لَقَدْ كَانُوا يُصْبِحُونَ شُعْثاً غُبْراً وقَدْ بَاتُوا سُجَّداً وقِيَاماً - يُرَاوِحُونَ بَيْنَ جِبَاهِهِمْ وخُدُودِهِمْ - ويَقِفُونَ عَلَى مِثْلِ الْجَمْرِ مِنْ ذِكْرِ مَعَادِهِمْ - كَأَنَّ بَيْنَ أَعْيُنِهِمْ رُكَبَ الْمِعْزَى مِنْ طُولِ سُجُودِهِمْ - إِذَا ذُكِرَ اللَّه هَمَلَتْ أَعْيُنُهُمْ - حَتَّى تَبُلَّ جُيُوبَهُمْ - ومَادُوا كَمَا يَمِيدُ الشَّجَرُ يَوْمَ الرِّيحِ الْعَاصِفِ - خَوْفاً مِنَ الْعِقَابِ ورَجَاءً لِلثَّوَابِ!

(اصحاب رسول اکرم (ص))

دیکھو! اہل بیت پیغمبر (ص) پر نگاہ رکھو اور انہیں کے راستہ کو اختیار کرو انہیں کے نقش قدم پر چلتے رہوکہوہ نہ تمہیں ہدایت سے باہر لے جائیں گے اور نہ ہلاکت میں پلٹ کرجانے دیں گے۔وہ ٹھہر جائیں تو ٹھہر جائو اور اٹھ کھڑے ہوں تو کھڑے ہوجائو۔خبر دار ان سے آگے نہ نکل جانا کہ گمراہ ہو جائو اور پیچھے بھی نہ رہ جانا کہ ہلاک ہو جائو میں نے اصحاب پیغمبر(ص)کادور بھی دیکھا ہے مگر افسوس تم میں کا ایک بھی ان کا جیسا نہیں ہے۔وہ صبح کے وقت اس طرح اٹھتے تھے کہ بال الجھے ہوئے' سر پر خاک پڑی ہوئی جب کہ رات سجدہ اور قیام میں گذار چکے ہوتے تھے ۔اور کبھی پیشانی خاک پر رکھتے تھے اور کبھی رخسار قیامت کی یاد میں گویا انگاروں پر کھڑے رہتے تھے اور ان کی پیشانیوں پرسجدوں کی وجہ سے بکری کے گھٹنے جیسے گھٹے ہوتے تھے۔ان کے سامنے خدا کا ذکر آتا تھا توآنسو اس طرح برس پڑتے تھے کہ گریبان تک تر ہو جاتا تھا اوران کا جسم عذاب کے خوف اور ثواب کی امید میں اس طرح لرزتا تھا جس طرح سخت ترین آندھی کے دن کوئی درخت۔


(۹۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

يشير فيه إلى ظلم بني أمية

واللَّه لَا يَزَالُونَ - حَتَّى لَا يَدَعُوا لِلَّه مُحَرَّماً إِلَّا اسْتَحَلُّوه ولَا عَقْداً إِلَّا حَلُّوه - وحَتَّى لَا يَبْقَى بَيْتُ مَدَرٍ ولَا وَبَرٍ إِلَّا دَخَلَه ظُلْمُهُمْ - ونَبَا بِه سُوءُ رَعْيِهِمْ وحَتَّى يَقُومَ الْبَاكِيَانِ يَبْكِيَانِ - بَاكٍ يَبْكِي لِدِينِه - وبَاكٍ يَبْكِي لِدُنْيَاه - وحَتَّى تَكُونَ نُصْرَةُ أَحَدِكُمْ مِنْ أَحَدِهِمْ - كَنُصْرَةِ الْعَبْدِ مِنْ سَيِّدِه - إِذَا شَهِدَ أَطَاعَه - وإِذَا غَابَ اغْتَابَه - وحَتَّى يَكُونَ أَعْظَمَكُمْ فِيهَا عَنَاءً أَحْسَنُكُمْ بِاللَّه ظَنّاً - فَإِنْ أَتَاكُمُ اللَّه بِعَافِيَةٍ فَاقْبَلُوا - وإِنِ ابْتُلِيتُمْ فَاصْبِرُوا - فَإِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ.

(۹۸)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں بنی امیہ کے مظالم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے )

خدا کی قسم یہ یوں ہی ظلم کرتے رہیں گے یہاں تک کہ کوئی حرام نہ بچے گا جسے حلال نہ بنالیں اور کوئی عہد و پیمان نہ بچے گا جسے توڑ نہ دیں اور کوئی مکان یا خیمہ باقی نہ رہے گا جس میں ان کا ظلم داخل نہ ہو جائے اور ان کا بد ترین برتائو انہیں ترک وطن پرآمادہ نہ کردے اور دونوں طرح کے لوگ رونے پرآمادہ نہ ہو جائیں۔دنیا دار اپنی دنیا کے لئے روئے اور دیندار اپنے دین کی تباہی پرآنسو بہائے۔ اورتم میں سب سے زیادہ مصیبت زدہ وہ ہو جو خدا پر سب سے زیادہ اعتماد رکھنے والا ہو لہٰذا اگر خدا تمہیں عافیت دے تو اسے قبول کرلو۔اور اگرتمہارا امتحان لیاجائے تو صبر کرو کہ انجام کار بہر حال صاحبان تقویٰ(۱) کے لئے ہے۔

(۱) دنیا کے ہر ظلم کے مقابلہ میں صاحبان ایمان و کردار کے لئے یہی بشارت کافی ہے کہ انجام کار صاحبان تقوی کے ہاتھ میں ہے اور اس دنیا کی انتہا فساد اور تباہ کاری پر ہونے والی نہیں ہے بلکہ اسے ایک نہ ایک دن بہر حال عدل و انصاف سے معمور ہونا ہے۔اس دن ہر ظالم کو اس کے ظلم کا اندازہ ہو جائے گا اور ہر مظلوم کواس کے صبر کا پھل مل جائے گا۔مالک کائنات کی یہ بشارت نہ ہوتی تو صاحبان ایمان کے حوصلے پست ہو جاتے اور انہیں حالات زمانہ مایوسی کا شکار بنا دیتے لیکن اس بشارت نے ہمیشہ ان کے حوصلوں کو بلند رکھا ہے اور اسی کی بنیاد پر وہ ہر دورمیں ہر ظلم سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھے رہے ہیں


(۹۹)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في التزهيد من الدنيا

نَحْمَدُه عَلَى مَا كَانَ - ونَسْتَعِينُه مِنْ أَمْرِنَا عَلَى مَا يَكُونُ - ونَسْأَلُه الْمُعَافَاةَ فِي الأَدْيَانِ - كَمَا نَسْأَلُه الْمُعَافَاةَ فِي الأَبْدَانِ.

عِبَادَ اللَّه أُوصِيكُمْ بِالرَّفْضِ - لِهَذِه الدُّنْيَا التَّارِكَةِ لَكُمْ - وإِنْ لَمْ تُحِبُّوا تَرْكَهَا - والْمُبْلِيَةِ لأَجْسَامِكُمْ وإِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ تَجْدِيدَهَا - فَإِنَّمَا مَثَلُكُمْ ومَثَلُهَا كَسَفْرٍ سَلَكُوا سَبِيلًا فَكَأَنَّهُمْ قَدْ قَطَعُوه - وأَمُّوا عَلَماً فَكَأَنَّهُمْ قَدْ بَلَغُوه - وكَمْ عَسَى الْمُجْرِي إِلَى الْغَايَةِ أَنْ يَجْرِيَ إِلَيْهَا حَتَّى يَبْلُغَهَا - ومَا عَسَى أَنْ يَكُونَ بَقَاءُ مَنْ لَه يَوْمٌ لَا يَعْدُوه - وطَالِبٌ حَثِيثٌ مِنَ الْمَوْتِ يَحْدُوه ومُزْعِجٌ فِي الدُّنْيَا حَتَّى يُفَارِقَهَا رَغْماً - فَلَا تَنَافَسُوا فِي عِزِّ الدُّنْيَا وفَخْرِهَا

(۹۹)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں دنیا سے کنارہ کشی کی دعوت دی گئی ہے)

خدا کی حمد ہے اس پر جو ہوچکا اور اس کی امداد کا تقاضاہے ان حالات پر جو سامنے آنے والے ہیں۔ہم اس سے دین کی سلامتی کا تقاضا اسی طرح کرتے ہیں جس طرح بدن کی صحت و عافیت کی دعا کرتے ہیں۔

بندگان خدا! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اس دنیا کو چھوڑ دو جوتمہیں بہر حال چھوڑنے والی ہ چاہے تم اس کی جدائی کو پسند نہ کرو۔وہ تمہارے جسم کو بہر حال بوسیدہ کردے گی تم لاکھ اس کی تازگی کی خواہش کرو۔تمہاری اور اس کی مثال ان مسافروں جیسی ہے جو کسی راستہ پرچلے اورگویا کہ منزل تک پہنچ گئے ۔ کسی نشان راہ کا ارادہ کیا اور گویا کہ اسے حاصل کرلیا اور کتنا تھوڑاوقفہ ہوتا ہے اس گھوڑا دوڑانے(۱) والے کے لئے جو دوڑاتے ہی مقصدتک پہنچ جائے۔اس شخص کی بقا ہی کیا ہے جس کا ایک دن مقرر ہو جس سے آگے نہ بڑھ سکے اور پھر موت تیز رفتاری سے اسے ہنکا کر لے جا رہی ہو یہاں تک کہ بدل ناخواستہ دنیا کو چھوڑ دے۔خبر دار دنیا کی عزت اور اس کی سربلندی میں مقابلہ نہ کرنا ۔

(۱)خدا جانتا ہے کہ زندگی کی اس سے حسین تر تعبیر نہیں ہو سکتی ہے کہ انسان زندگی کے پروگرام بناتا ہی رہ جاتا ہے اور موت سامنے آکر کھڑی ہو جاتی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گھوڑے نے دم بھرنے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ منزل قدموں میں آگئی اورسارے حوصلے دھرے رہ گئے۔ظاہر ہے کہ اس زندگی کی کیا حقیقت ہے کہ جس کی میعاد معین ہے اور وہ بھی زیادہ طویل نہیں ہے اور ہرحال میں پوری ہو جانے والی ہے چاہے انسان متوجہ ہویا غافل اور چاہے اسے پسند کرے یا ناپسند۔


ولَا تَعْجَبُوا بِزِينَتِهَا ونَعِيمِهَا - ولَا تَجْزَعُوا مِنْ ضَرَّائِهَا وبُؤْسِهَا - فَإِنَّ عِزَّهَا وفَخْرَهَا إِلَى انْقِطَاعٍ - وإِنَّ زِينَتَهَا ونَعِيمَهَا إِلَى زَوَالٍ - وضَرَّاءَهَا وبُؤْسَهَا إِلَى نَفَادٍ وكُلُّ مُدَّةٍ فِيهَا إِلَى انْتِهَاءٍ - وكُلُّ حَيٍّ فِيهَا إِلَى فَنَاءٍ - أَولَيْسَ لَكُمْ فِي آثَارِ الأَوَّلِينَ مُزْدَجَرٌ وفِي آبَائِكُمُ الْمَاضِينَ تَبْصِرَةٌ ومُعْتَبَرٌ - إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ - أَولَمْ تَرَوْا إِلَى الْمَاضِينَ مِنْكُمْ لَا يَرْجِعُونَ - وإِلَى الْخَلَفِ الْبَاقِينَ لَا يَبْقَوْنَ - أَولَسْتُمْ تَرَوْنَ أَهْلَ الدُّنْيَا - يُصْبِحُونَ ويُمْسُونَ عَلَى أَحْوَالٍ شَتَّى - فَمَيِّتٌ يُبْكَى وآخَرُ يُعَزَّى - وصَرِيعٌ مُبْتَلًى وعَائِدٌ يَعُودُ - وآخَرُ بِنَفْسِه يَجُودُ وطَالِبٌ لِلدُّنْيَا والْمَوْتُ يَطْلُبُه - وغَافِلٌ ولَيْسَ بِمَغْفُولٍ عَنْه - وعَلَى أَثَرِ الْمَاضِي مَا يَمْضِي الْبَاقِي!

أَلَا فَاذْكُرُوا هَاذِمَ اللَّذَّاتِ - ومُنَغِّصَ الشَّهَوَاتِ - وقَاطِعَ الأُمْنِيَاتِ - عِنْدَ الْمُسَاوَرَةِ لِلأَعْمَالِ الْقَبِيحَةِ - واسْتَعِينُوا اللَّه عَلَى أَدَاءِ وَاجِبِ حَقِّه - ومَا لَا يُحْصَى مِنْ أَعْدَادِ نِعَمِه وإِحْسَانِه.

اور اس کی زینت و نعمت کو پسند نہ کرنا اور اس کی دشواری اور پریشانی سے رنجیدہ نہ ہونا کہ اس کی عزت و سر بلندی ختم ہو جانے والی ہے اور اس کی زینت و نعمت کو زوال آجانے والا ہے اوراس کی تنگی اور سختی بہر حال ختم ہو جانے والی ہے۔یہاں ہر مدت کی ایک انتہا ہے اور ہر زندہ کے لئے فنا ہے۔کیا تمہارے لئے گزشتہ لوگوں کے آثار میں سامان تنبیہ نہیں ہے ؟اور کیا آباء و اجداد کی داستانوں میں بصریت و عبرت نہیں ہے ؟ اگر تمہارے پاس عقل ہے۔کیا تم نے یہ نہیں دیکھا ہے کہ جانے والے پلٹ کر نہیں آتے ہیں اورب عد میں آنے والے رہ نہیں جاتے ہیں ؟ کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ اہل دنیا مختلف حالات میں صبح و شام کرتے ہیں۔کوئی مردہ ہے جس پرگریہ ہو رہا ہے اور کوئی زندہ ہے تو اسے پرسہ دیا جا رہا ہے۔ایک بستر پر پڑا ہوا ہے تو ایک اس کی عیادت کر رہا ہے اور ایک اپنی جان سے جا رہا ہے۔کوئی دنیا تلاش کر رہا ہے تو موت اسے تلاش کر رہی ہے اور کوئی غفلت میں پڑا ہوا ہے تو زمانہ اس سے غافل نہیں ہے اور اس طرح جانے والوں کے نقش قدم پر رہ جانے والے چلے جا رہے ہیں۔آگاہ ہو جائو کہ ابھی موقع ہیاسے یاد کرو جو لذتوں کو فنا کر دینے والی۔خواہشات کو مکدرکردینے والی اور امیدوں کو قطع کر دینے والی ہے۔ایسے اوقات میں جب برے اعمال کا ارتکاب کر رہے ہو اور اللہ سے مدد مانگو کر اس کے واجب حق کوادا کردو اور ان نعمتوں کا شکریہ ادا کر سکو جن کا شمار کرنا نا ممکن ہے


(۱۰۰)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في رسول اللَّه وأهل بيته

الْحَمْدُ لِلَّه النَّاشِرِ فِي الْخَلْقِ فَضْلَه - والْبَاسِطِ فِيهِمْ بِالْجُودِ يَدَه - نَحْمَدُه فِي جَمِيعِ أُمُورِه - ونَسْتَعِينُه عَلَى رِعَايَةِ حُقُوقِه - ونَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَه غَيْرُه - وأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُه ورَسُولُه - أَرْسَلَه بِأَمْرِه صَادِعاً وبِذِكْرِه نَاطِقاً - فَأَدَّى أَمِيناً ومَضَى رَشِيداً - وخَلَّفَ فِينَا رَايَةَ الْحَقِّ - مَنْ تَقَدَّمَهَا مَرَقَ ومَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا زَهَقَ ومَنْ لَزِمَهَا لَحِقَ - دَلِيلُهَا مَكِيثُ الْكَلَامِ بَطِيءُ الْقِيَامِ سَرِيعٌ إِذَا قَامَ - فَإِذَا أَنْتُمْ

(۱۰۰)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(رسول اکرم (ص) اور آپ کے اہل بیت کے بارے میں)

شکر ہےاس خدا کا جو اپنے فضل و کرم کا دامن پھیلائے ہوئے ہے اور اپنےجود و عطا کا ہاتھ بڑھائے ہوئے ہے۔ہم اس کی حمد کرتے ہیں اس کے تمام معاملات میں اوراس کی مدد چاہتے ہیں خود اس کے حقوق کا خیال رکھنے کے لئے ہم شہادت دیتے ہیں کہ اسکے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور محمد (ص) اس کے بندہ اور رسول ہیں۔جنہیں اس نے اپنے امر کا اظہار اور اپنے ذکر کے بیان کے لئے بھیجا توانہوں نے نہایت امانتداری کے ساتھ اس کے پیغام کو پہنچادیا اور راہ راست پر اس دنیا سے گزرگئے اور ہمارے درمیان ایک ایسا پرچم(۱) حق چھوڑ گئے کہ جو اس سے آگے بڑھ جائے وہ دین سے نکل گیااور جو پیچھے رہ جائے وہ ہلاک ہوگیا اور جواس سےوابستہ رہے وہ حق کے ساتھ رہا۔اس کی طرف رہنمائی کرنے والا وہ ہے جو بات ٹھہر کر کرتا ہے اور قیام اطمینان سےکرتا ہے لیکن قیام کےبعدپھر تیزی سےکام کرتا ہے۔دیکھوجب تم اس کے لئے اپنی

(۱)اس سے مراد خود حضرت کی ذات گرامی ہے جسے حق کا محور و مرکز بنایا گیا ہے اور جس کے بارے میں رسول اکرم (ص) کی دعا ہے کہ مالک حق کو ادھر ادھر پھیر دے جدھر جدھر علی مڑ رہے ہو( صحیح ترمذی) اوربعد کے فقرات میں آل محمد (ص) کے دیگر افراد کی طرف اشارہ ہے جن میں مستقبل قریب میں امام محمد باقر اور امام جعفر صادق کا دور تھا جن کی طرف اہل دنیا نے رجوع کیا اور ان کی سیاسی عظمت کا بھی احساس کیا۔اور مستقبل قریب میں امام محمد باقر اور امام جعفر صادق کادور تھا جن کی طرف اہل دنیا نے رجوع کیا اور ان کی سیاسی عظمت کا بھی احساس کیا۔اور مستقبل بعید میں امام مہدی کا دور ہے جن کے ہاتھوں امت کا انتشار دور ہوگا اور اسلام پلٹ کر اپنے مرکز پر آجائے گا۔ظلم و جور کاخاتمہ ہوگا اور عدل وانصاف کا نظام قائم ہو جائے گا۔


أَلَنْتُمْ لَه رِقَابَكُمْ - وأَشَرْتُمْ إِلَيْه بِأَصَابِعِكُمْ - جَاءَه الْمَوْتُ فَذَهَبَ بِه - فَلَبِثْتُمْ بَعْدَه مَا شَاءَ اللَّه - حَتَّى يُطْلِعَ اللَّه لَكُمْ مَنْ يَجْمَعُكُمْ ويَضُمُّ نَشْرَكُمْ فَلَا تَطْمَعُوا فِي غَيْرِ مُقْبِلٍ ولَا تَيْأَسُوا مِنْ مُدْبِرٍ فَإِنَّ الْمُدْبِرَ عَسَى أَنْ تَزِلَّ بِه إِحْدَى قَائِمَتَيْه وتَثْبُتَ الأُخْرَى فَتَرْجِعَا حَتَّى تَثْبُتَا جَمِيعاً.

أَلَا إِنَّ مَثَلَ آلِ مُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كَمَثَلِ نُجُومِ السَّمَاءِ - إِذَا خَوَى نَجْمٌ طَلَعَ نَجْمٌ فَكَأَنَّكُمْ قَدْ تَكَامَلَتْ مِنَ اللَّه فِيكُمُ الصَّنَائِعُ - وأَرَاكُمْ مَا كُنْتُمْ تَأْمُلُونَ.

(۱۰۱)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وهي إحدى الخطب المشتملة على الملاحم

الْحَمْدُ لِلَّه الأَوَّلِ قَبْلَ كُلِّ أَوَّلٍ والآخِرِ بَعْدَ كُلِّ آخِرٍ - وبِأَوَّلِيَّتِه وَجَبَ أَنْ لَا أَوَّلَ لَه - وبِآخِرِيَّتِه وَجَبَ أَنْ لَا آخِرَ لَه وأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه

گردنوں کو جھکادوگے اور ہر مسئلہ میں اس کی طرف اشارہ کرنے لگو گے تو اسے موت آجائے گی اور اسے لے کرچلی جائے گی۔پھر جب تک خدا چاہے گاتمہیں اسی حال میں رہنا پڑے گا۔یہاں تک کہ وہ اس شخص کو منظر عام پر لے آئے جو تمہیں ایک مقام پرجمع کردے اور تمہارے انتشار کو دور کردے۔تو دیکھو جوآنے والا ہے اس کے علاوہ کسی کی طمع نہ کرو اور جو جا رہا ہے اس سے مایوس نہ ہو جائو۔ہو سکتا ہے کہ جانے والے کا ایک قدم اکھڑ جائے تو دوسرا جما رہے اور پھر ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ دونوں قدم جم جائیں۔ دیکھو آل محمد (ص) کی مثال آسمان کے ستاروں جیسی ہے کہ جب ایک ستارہ غائب ہو جاتا ہے تو دوسرا نکل آتا ہے۔توگویا یا اللہ کی نعمتیں تم پر تمام ہوگئی ہیں اور اس نے تمہیں وہ سب کچھ دکھلا دیا ہے جس کی تم آس لگائے بیٹھے تھے۔

(۱۰۱)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جو ان خطبوں میں ہے جن میں حوادث زمانہ کاذکر کیا گیا ہے )

ساری تعریف اس اول کے لئے ہے جو ہر ایک سے پہلے ہے اور اس آخر کے لئے ہے جو ہر ایک کے بعد ہے۔اس کی اولیت کا تقاضا ہے کہ اس کا اول نہ ہو اور اس کی آخریت کا تقاضا ہے کہ اس کا کوئی آخرنہ ہو۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے


شَهَادَةً - يُوَافِقُ فِيهَا السِّرُّ الإِعْلَانَ - والْقَلْبُ اللِّسَانَ - أَيُّهَا النَّاسُ( لا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقاقِي ) ولَا يَسْتَهْوِيَنَّكُمْ عِصْيَانِي - ولَا تَتَرَامَوْا بِالأَبْصَارِ عِنْدَ مَا تَسْمَعُونَه مِنِّي - فَوَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وبَرَأَ النَّسَمَةَ إِنَّ الَّذِي أُنَبِّئُكُمْ بِه عَنِ النَّبِيِّ الأُمِّيِّصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مَا كَذَبَ الْمُبَلِّغُ ولَا جَهِلَ السَّامِعُ - لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى ضِلِّيلٍ قَدْ نَعَقَ بِالشَّامِ - وفَحَصَ بِرَايَاتِه فِي ضَوَاحِي كُوفَانَ فَإِذَا فَغَرَتْ فَاغِرَتُه واشْتَدَّتْ شَكِيمَتُه وثَقُلَتْ فِي الأَرْضِ وَطْأَتُه - عَضَّتِ الْفِتْنَةُ أَبْنَاءَهَا بِأَنْيَابِهَا - ومَاجَتِ الْحَرْبُ بِأَمْوَاجِهَا - وبَدَا مِنَ الأَيَّامِ كُلُوحُهَا ومِنَ اللَّيَالِي كُدُوحُهَا فَإِذَا أَيْنَعَ زَرْعُه وقَامَ عَلَى يَنْعِه وهَدَرَتْ شَقَاشِقُه وبَرَقَتْ بَوَارِقُه عُقِدَتْ رَايَاتُ الْفِتَنِ الْمُعْضِلَةِ - وأَقْبَلْنَ

اور اس گواہی میں میرا باطن ظاہرکے مطابق ہے اور میری زبان دل سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔

ایہاالناس !خبردار میری مخالفت کی غلطی نہ کرو اور میری نا فرمانی کرکے حیران و سر گردان نہ ہو جائو اور میری بات سنتے وقت ایک دوسرے کو اشارے نہ کرو کہ اس پروردگارکی قسم جس نے دانہ کو شگافتہ کیا ہے اور نفوس کو ایجاد کیا ہے کہ میں جو کچھ(۱) خبردے رہا ہوں وہ رسول امی کی طرف سے ہے جہاں نہ پہنچانے والا غلط گو تھا اور نہ سننے والا جاہل تھا اورگویا کہ میں اس بد ترین گمراہ کو بھی دیکھ رہا ہوں جس نے شام میں للکارا اور کوفہ کے اطراف میں اپنے جھنڈے گاڑ دئیے اور اس کے بعد جب اس کادہانہ کھل گیا اور اس کی لگام کا دہانہ مضبوط ہوگیا اور زمین میں اس کی پامالیاں سخت تر ہوگئیں تو فتنے ابناء زمانہ کو اپنے دانتوں سے کاٹنے لگے اور جنگوں نے اپنے تھپڑوں کی لپیٹ میں لے لیا اور دونوں کی سختیاں اور راتوں کی جراحتیں منظرعام پر آگئیں اور پھر جب اس کی کھیتی تیار ہو کر اپنے پیروں پرکھڑی ہوگئی اوراس کی سر مستیاں اپناجوش دکھلانے لگیں اور تلواریں چمکنے لگیں تو سخت ترین فتنوں کے جھنڈے گاڑ دئیے گئے

(۱)رسول اکرم (ص) کے دورمیں عبداللہ بن ابی اور مولائے کائنات کے دورمیں اشعث بن قیس جیسے افرادہمیشہ رہے ہیں جو بظاہر صاحبان ایمان کی صفوں میں رہتے ہیں لیکن ان کا کام باتوں کامذاق اڑا کر انہیں مشتبہ بنا دینے اور قوم میں انتشار پیدا کردینے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ہے۔اس لئے آپ نے چاہا کہ اپنی خبروں کے مصدر و ماخذ کی طرف اشارہ کردیں تاکہ ظالموں کو شبہ پیدا کرنے کاموقع نہ ملے اور آپ اس حقیقت کو بھی واضح کرسکیں کہ میرے بیان میں شبہ درحقیقت رسول اکرم (ص) کی صداقت میں شبہ ہے جو کفار و مشرکین مکہ بھی نہکر سکے تو منافقین کے لئے اس کا جواز کس طرح پیدا ہو سکتا ہے ؟

اس کے بعد آپنے اس نکتہ کی طرف بھی اشارہ فرمادیا کہاگر باقی لوگ یہ کام نہیں کر سکتے ہیں تو اس کا تعلق ان کی جہالت سے ہے رسالت کے مبدء فیاض سے نہیں ہے۔اس نے تو ہر ایک کو تعلیم دینا چاہی لیکن بے صلاحیت افراد اورفیض سے محروم رہ گئے تو کریم کا کیا قصور ہے۔


كَاللَّيْلِ الْمُظْلِمِ والْبَحْرِ الْمُلْتَطِمِ - هَذَا وكَمْ يَخْرِقُ الْكُوفَةَ مِنْ قَاصِفٍ ويَمُرُّ عَلَيْهَا مِنْ عَاصِفٍ وعَنْ قَلِيلٍ تَلْتَفُّ الْقُرُونُ بِالْقُرُونِ ويُحْصَدُ الْقَائِمُ ويُحْطَمُ الْمَحْصُودُ !

(۱۰۲)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

تجري هذا المجرى

وفيها ذكر يوم القيامة وأحوال الناس المقبلة

يوم القيامة

وذَلِكَ يَوْمٌ يَجْمَعُ اللَّه فِيه الأَوَّلِينَ والآخِرِينَ - لِنِقَاشِ الْحِسَابِ وجَزَاءِ الأَعْمَالِ - خُضُوعاً قِيَاماً قَدْ أَلْجَمَهُمُ الْعَرَقُ ورَجَفَتْ بِهِمُ الأَرْضُ فَأَحْسَنُهُمْ حَالًا مَنْ وَجَدَ لِقَدَمَيْه مَوْضِعاً - ولِنَفْسِه مُتَّسَعاً

حال مقبلة على الناس

ومنها: فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ لَا تَقُومُ لَهَا قَائِمَةٌ ولَا تُرَدُّ لَهَا رَايَةٌ - تَأْتِيكُمْ مَزْمُومَةً مَرْحُولَةً يَحْفِزُهَا قَائِدُهَا ويَجْهَدُهَا رَاكِبُهَا - أَهْلُهَا قَوْمٌ شَدِيدٌ كَلَبُهُمْ

اور وہ تاریک رات اور تلاطم خیز سمندر کی طرح منظر عام پر آگئے۔اور کوفہ کو اس کے علاوہ بھی کتنی ہی آندھیاں پارہ پارہ کرنے والی ہیں اور اس پر سے کتنے ہی جھکڑ گزرنے والے ہیں اور عنقریب وہاں جماعتیں جماعتوں سے گتھنے والی ہیں اور کھڑی کھیتیاں کاٹی جانے والی ہیں اور کٹے ہوئے ماحصل کو بھی تباہ و برباد کردیا جائے گا۔

(۱۰۲)

(آپ کے خطبہ کا ایک حصہ)

(جس میں قیامت اور اس میں لوگوں کے حالات کا ذکر کیا گیا ہے )

وہ دن وہ ہوگا جب پروردگار اولین و آخرین کودقیق ترین حساب اور اعمال کی جزا کے لئے اس طرح جمع کرے گا کہ سب خضوع و خشوع کے عالم میں کھڑے ہوں گے۔پسینہ ان کے دہن تک پہنچا ہوگا اور زمین لرز رہی ہوگی۔بہترین حال اس کا ہوگا جو اپنے قدم جمانے کی جگہ حاصل کرلے گا اورجسے سانس لینے کا موقع مل جائے گا۔

(اس خطبہ کا ایک حصہ)

ایسے فتنے جیسے اندھیری رات کے ٹکڑے جس کے سامنے نہ گھوڑے کھڑے ہو سکیں گے اور نہ ان کے پرچموں کو پلٹایا جاسکے گا۔یہ فتنے لگام و سامان کی پوری تیاری کے ساتھ آئیں گے کہ ان کا قائد انہیں ہنکارہا ہوگا اور ان کا سوار انہیں تھکا رہا ہوگا۔اس کی اہل ایک قوم ہوگی جس کے حملے سخت ہوں گے


قَلِيلٌ سَلَبُهُمْ يُجَاهِدُهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّه قَوْمٌ أَذِلَّةٌ عِنْدَ الْمُتَكَبِّرِينَ - فِي الأَرْضِ مَجْهُولُونَ - وفِي السَّمَاءِ مَعْرُوفُونَ - فَوَيْلٌ لَكِ يَا بَصْرَةُ عِنْدَ ذَلِكِ - مِنْ جَيْشٍ مِنْ نِقَمِ اللَّه - لَا رَهَجَ لَه ولَا حَسَّ وسَيُبْتَلَى أَهْلُكِ بِالْمَوْتِ الأَحْمَرِ - والْجُوعِ الأَغْبَرِ !

(۱۰۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في التزهيد في الدنيا

أَيُّهَا النَّاسُ انْظُرُوا إِلَى الدُّنْيَا نَظَرَ الزَّاهِدِينَ فِيهَا - الصَّادِفِينَ عَنْهَا - فَإِنَّهَا واللَّه عَمَّا قَلِيلٍ تُزِيلُ الثَّاوِيَ السَّاكِنَ - وتَفْجَعُ الْمُتْرَفَ الآْمِنَ - لَا يَرْجِعُ مَا تَوَلَّى مِنْهَا فَأَدْبَرَ - ولَا يُدْرَى مَا هُوَ آتٍ مِنْهَا فَيُنْتَظَرَ سُرُورُهَا مَشُوبٌ بِالْحُزْنِ - وجَلَدُ الرِّجَالِ فِيهَا إِلَى الضَّعْفِ والْوَهْنِ فَلَا يَغُرَّنَّكُمْ كَثْرَةُ مَا يُعْجِبُكُمْ فِيهَا - لِقِلَّةِ مَا يَصْحَبُكُمْ مِنْهَا.

رَحِمَ اللَّه امْرَأً تَفَكَّرَ فَاعْتَبَرَ - واعْتَبَرَ فَأَبْصَرَ - فَكَأَنَّ مَا هُوَ كَائِنٌ مِنَ الدُّنْيَا عَنْ قَلِيلٍ لَمْ يَكُنْ - وكَأَنَّ مَا هُوَ كَائِنٌ مِنَ الآخِرَةِ -

لیکن لوٹ مار کم اور ان کا مقابلہ راہ خدا میں صرف وہ لوگ کریں گے جو متکبرین کی نگاہ میں کمزور اور پست ہوں گے۔وہ اہل دنیا میں مجہول اوراہل آسمان میں معروف ہوں گے۔ اے بصرہ! ایسے وقت میں تیری حالت قابل رحم ہوگی اس عذاب الٰہی کے لشکر کی بناپ رجس میں نہ غبار ہوگا نہ شورو غوغا اور عنقریب تیرے باشندوں کو سرخ موت اورسخت بھوک میں مبتلا کیا جائے گا۔

(۱۰۳)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(زہد کے بارے میں )

ایہا الناس !دنیا کی طرف اس طرح دیکھو جیسے وہ لوگ دیکھتے ہیں جو زہد رکھنے والے اور اس سے نظر بچانے والے ہوتے ہیں کہ عنقریب یہ اپنے ساکنوں کوہٹا دے گی اور انپے خوشحالوں کو رنجیدہ کردے گی۔اس میں جو چیزمنہ پھر کرجا چکی وہ پلٹ کر آنے وال نہیں ہے اور جو آنے والی ہے اس کاحال نہیں معلوم ہے کہ اس کا انتظار کیاجائے۔اس کی خوشی رنج سے مخلوط ہے اور اس میں مردوں کی مضبوطی ضعف و نا توانی کی طرف مائل ہے۔خبردار اس کی دل لبھانے والی چیزیں تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دیں کہ اس میں سے ساتھ جانے والی چیزیں بہت کم ہیں۔

خدا رحمت نازل کرے اس شخص پر جس نے غورو فکر کیا تو عبرت حاصل کی اور عبرت حاصل کی تو بصیرت پیداکرلی کہ دنیا کی ہر موجود شے عنقریب ایسی ہو جائے گی جیسے تھی ہی نہیں اورآخرت کی چیزیں اس طرح ہو جائیں گی


عَمَّا قَلِيلٍ لَمْ يَزَلْ - وكُلُّ مَعْدُودٍ مُنْقَضٍ - وكُلُّ مُتَوَقَّعٍ آتٍ - وكُلُّ آتٍ قَرِيبٌ دَانٍ.

صفة العالم

ومنها: الْعَالِمُ مَنْ عَرَفَ قَدْرَه - وكَفَى بِالْمَرْءِ جَهْلًا أَلَّا يَعْرِفَ قَدْرَه - وإِنَّ مِنْ أَبْغَضِ الرِّجَالِ إِلَى اللَّه تَعَالَى لَعَبْداً - وَكَلَه اللَّه إِلَى نَفْسِه - جَائِراً عَنْ قَصْدِ السَّبِيلِ - سَائِراً بِغَيْرِ دَلِيلٍ - إِنْ دُعِيَ إِلَى حَرْثِ الدُّنْيَا عَمِلَ - وإِنْ دُعِيَ إِلَى حَرْثِ الآخِرَةِ كَسِلَ - كَأَنَّ مَا عَمِلَ لَه وَاجِبٌ عَلَيْه - وكَأَنَّ مَا وَنَى فِيه سَاقِطٌ عَنْه.

آخر الزمان

ومنها: وذَلِكَ زَمَانٌ لَا يَنْجُو فِيه إِلَّا كُلُّ مُؤْمِنٍ نُوَمَةٍ إِنْ شَهِدَ لَمْ يُعْرَفْ وإِنْ غَابَ لَمْ يُفْتَقَدْ - أُولَئِكَ مَصَابِيحُ الْهُدَى وأَعْلَامُ السُّرَى لَيْسُوا بِالْمَسَايِيحِ ولَا الْمَذَايِيعِ الْبُذُرِ

جیسے ابھی موجود ہیں۔ہر گنتی میں آنے والا کم ہونے والا ہے اور ہر وہ شے جس کی امید ہو وہ عنقریبآنے والی ہے اورجوآنے والی ہے وہ گویا کہ قریب اور بالکل قریب ہے۔

(صفت عالم)

عالم(۱) وہ ہے جو اپنی قدر خود پہچانے اور انسان کی جہالت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنی قدر کو نہ پہچانے اللہ کی نگاہ میں بد ترین بندہ وہ ہے جسے اس نے اسی کے حوالہ کردیا ہو کہ وہ سیدھے راستے سے ہٹ گیا ہے اور بغیر رہنما کے چل رہا ہے۔اسے دنیاکے کاروبار کی دعوت دی جائے تو عمل پر آمادہ ہوجاتا ہے اورآخرت کے کام کی دعوت دی جائے تو سست ہو جاتا ہے گویا کہ جو کچھ کیا ہے وہی واجب تھا اور جس میں سستی برتی ہے وہ اس سے ساقط ہے۔

(آخر زمانہ)

وہ زمانہ ایسا ہوگا جس میں صرف وہی مومن نجات پا سکے گا جو گویاکہ سورہا ہوگا کہ مجمع میں آئے تو لوگ اسے پہچان نہ سکیں اور غائب ہو جائے تو کوئی تلاش نہ کرے۔یہی لوگ ہدایت کے چراغ اور راتوں کے مسافروں کے لئے نشان منزل ہوں گے۔نہ ادھر ادھر لگاتے پھریں گے اور نہ لوگوں کے عیوب کی اشاعت کریں گے۔

(۱)حقیقت امر یہ ہے کہ انسان اپنی قدرو اوقات کو پہچان لیتا ہے تواس کا کردار خو د بخود سدھر جاتا ہے اور اس حقیقت سے غافل ہو جاتا ہے تو کبھی قدر و منزلت سے غفلت دربار داری خوشامد ' مدح بیجا ' ضمیر فروشی پرآمادہ کر دیتی ہے کہ علم کو مال و جاہ کے عوض بیچنے لگتا ہے اور کبھی اوقات سے ناواقفیت مالک سے بغاوت پرآمادہ کر دیتی ہے کہ عوام الناس پرحکومت کرتے کرتے مالک کی اطاعت کا جذبہ بھی ختم ہو جاتا ہے اور احکام الہیہ کوبھی اپنی خواہشات کے راستہ پرچلانا چاہتا ہے جو جہالت کابدترین مظاہرہ ہے اوراس کا علم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


أُولَئِكَ يَفْتَحُ اللَّه لَهُمْ أَبْوَابَ رَحْمَتِه - ويَكْشِفُ عَنْهُمْ ضَرَّاءَ نِقْمَتِه.

أَيُّهَا النَّاسُ سَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ - يُكْفَأُ فِيه الإِسْلَامُ كَمَا يُكْفَأُ الإِنَاءُ بِمَا فِيه –

أَيُّهَا النَّاسُ - إِنَّ اللَّه قَدْ أَعَاذَكُمْ مِنْ أَنْ يَجُورَ عَلَيْكُمْ - ولَمْ يُعِذْكُمْ مِنْ أَنْ يَبْتَلِيَكُمْ وقَدْ قَالَ جَلَّ مِنْ قَائِلٍ –( إِنَّ فِي ذلِكَ لَآياتٍ وإِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِينَ ) .

قال السيد الشريف الرضي أما قولهعليه‌السلام كل مؤمن نومة - فإنما أراد به الخامل الذكر القليل الشر - والمساييح جمع مسياح - وهو الذي يسيح بين الناس بالفساد والنمائم - والمذاييع جمع مذياع - وهو الذي إذا سمع لغيره بفاحشة أذاعها - ونوه بها - والبذر جمع بذور - وهو الذي يكثر سفهه ويلغو منطقه.

(۱۰۴)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه بَعَثَ مُحَمَّداًصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ولَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ يَقْرَأُ كِتَاباً - ولَا يَدَّعِي نُبُوَّةً ولَا وَحْياً - فَقَاتَلَ بِمَنْ أَطَاعَه مَنْ عَصَاه - يَسُوقُهُمْ إِلَى مَنْجَاتِهِمْ - ويُبَادِرُ بِهِمُ السَّاعَةَ أَنْ تَنْزِلَ بِهِمْ -

ان کے لئے اللہ رحمت کے دروازے کھول دے گا اور ان سے عذاب کی سختیوں کو دور کردے گا۔

لوگو! عنقریب ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جس میں اسلام کو اسی طرح الٹ دیا جائے گا جس طرح برتن کواس کے سامان سمیت الٹ دیا جاتا ہے۔

لوگو! اللہ نے تمہیں اس بات سے پناہ دے رکھی ہے کہ وہ تم پر ظلم کرے لیکن تمہیں اس بات سے محفوظ نہیں رکھا ہے کہ تمہارا امتحان نہ کرے۔اس مالک جل جلالہ نے صاف اعلان کردیا ہے کہ '' اس میں ہماری کھلی ہوئی نشانیاں ہیں اور ہم بہر حال تمہارا امتحان لینے والے ہیں ''

سید شریف رضی : مومن کے نومہ ( خوابیدہ) ہونے کا مطلب اس کا گمنام اوربے شر ہونا ہے اور مسا بیح ، مسیاح کی جمع ہے اور وہ شخص ہے کہ جسے کسی کا عیب معلوم ہو جائے تو اس کی اشاعت کے بغیر چین نہ پڑ۔بذر۔ بذر کی جمع ہے یعنی وہ شخص جس کی حماقت زیادہ ہے اور اس کی گفتگو لغو یات پر مشتمل ہو۔

(۱۰۴)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

اما بعد!اللہ نے حضرت محمد (ص)کو اس دورمیں بھیجا ہے جب عرب میں نہ کوئی کتاب پڑھنا جانتا تھا اورنہ نبوت اور وحی کا ادعا کرنے والا تھا۔آپ نے اطاعت گزاروں کے سہارے نافرمانوں سے جہاد کیا کہ انہیں منزل نجات کی طرف لے جانا چاہتے تھے اور قیامت کے آنے سے پہلے ہدایت دے دینا چاہتے تھے۔


يَحْسِرُ الْحَسِيرُ ويَقِفُ الْكَسِيرُ فَيُقِيمُ عَلَيْه حَتَّى يُلْحِقَه غَايَتَه - إِلَّا هَالِكاً لَا خَيْرَ فِيه - حَتَّى أَرَاهُمْ مَنْجَاتَهُمْ - وبَوَّأَهُمْ مَحَلَّتَهُمْ - فَاسْتَدَارَتْ رَحَاهُمْ واسْتَقَامَتْ قَنَاتُهُمْ وايْمُ اللَّه لَقَدْ كُنْتُ مِنْ سَاقَتِهَا - حَتَّى تَوَلَّتْ بِحَذَافِيرِهَا - واسْتَوْسَقَتْ فِي قِيَادِهَا - مَا ضَعُفْتُ ولَا جَبُنْتُ - ولَا خُنْتُ ولَا وَهَنْتُ - وايْمُ اللَّه لأَبْقُرَنَّ الْبَاطِلَ - حَتَّى أُخْرِجَ الْحَقَّ مِنْ خَاصِرَتِه!

قال السيد الشريف الرضي - وقد تقدم مختار هذه الخطبة - إلا أنني وجدتها في هذه الرواية - على خلاف ما سبق من زيادة ونقصان - فأوجبت الحال إثباتها ثانية.

جب کوئی تھکا ماندہ رک جاتا تھا اور کوئی لوٹا ہوا ٹھہر جاتا تھا تو اس کے سر پر کھڑے ہو جاتے تھے کہ اس منزل تک پہنچا دیں مگریہ کہ کوئی ایسا لاخیرا ہو جس کے مقدرمیں ہلاکت ہو۔یہاں تک کہ آپ نے لوگوں کو مرکز نجات سے آشنا بنا دیا اور انہیں ان کی منزل تک پہنچادیا ان کی چکی چلنے لگی اوران کے ٹیڑھے سیدھے ہوگئے ۔

اور خدا کی قسم! میں بھی ان کے ہنکانے والوں میں سے تھا یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر پسپا ہوگئے اور اپنے بندھنوں میں جکڑ دئیے گئے۔اس درمیان میں میں نہ کمزور ہو ا) ۱ ( نہ بزدلی کاشکار ہوا۔نہ میں نے خیانت کی اور نہ سستی کا اظہارکیا۔خدا کی قسم ۔میں باطل) ۲ ( کاپیٹ چاک کرکے اس کے پہلو سے حق کو بہر حال نکال لوں گا۔

سید رضی : اس خطبہ کا ایک انتخاب پہلے نقل کیا جا چکا ہے۔لیکن چونکہ اس روایت میں قدر ے کمی اور زیادتی پائی جاتی تھی لہٰذا حالات کا تقاضا یہ تھاکہ اسے دوبارہ اس شکل میں بھی درج کردیا جائے ۔

(۱)یہ امام علیہ السلام کی زندگی کا بہترین نقشہ ہے اور اسی کی روشنی میں دوسرے کرداروں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے جنہیں میدان تاریخ نے تو پہچانا ہے لیکن میدان جہاد ان کی گرد قدم سے بھی محروم رہ گیا۔مگر افسوس کہ جانی پہچانی شخصیتیں اجنبی ہو گئیں اور اجنبی شہر کے مشاہیر بن گئے ۔

(۲)اس جملہ میں اس نکتہ کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ غاصب افراد نے جن اموال کو ہضم کرلیا ہے۔وہ ایک دن ان کا شکم چاک کرکے اس میں سے نکال لیا جائے گا اوراس امر کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ حق ابھی فنا نہیں ہوا ہے۔اسے باطل نے دبا دیا ہے اورگویا کہ اپنے شکم کے اندر چھپا لیا ہے اور مجھ میں اس قدر طاقت پائی جاتی ہے کہ میں اس شکم کو چاک کرکے اس حق کو منظر عام پر لے آئوں اور باطل کے ہر راز کو بے نقاب کردوں


(۱۰۵)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في بعض صفات الرسول الكريم وتهديد بني أمية وعظة الناس

الرسول الكريم

حَتَّى بَعَثَ اللَّه مُحَمَّداًصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - شَهِيداً وبَشِيراً ونَذِيراً - خَيْرَ الْبَرِيَّةِ طِفْلًا - وأَنْجَبَهَا كَهْلًا - وأَطْهَرَ الْمُطَهَّرِينَ شِيمَةً - وأَجْوَدَ الْمُسْتَمْطَرِينَ دِيمَةً

بنو أمية

فَمَا احْلَوْلَتْ لَكُمُ الدُّنْيَا فِي لَذَّتِهَا - ولَا تَمَكَّنْتُمْ مِنْ رَضَاعِ أَخْلَافِهَا - إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا صَادَفْتُمُوهَا جَائِلًا خِطَامُهَا - قَلِقاً وَضِينُهَا - قَدْ صَارَ حَرَامُهَا عِنْدَ أَقْوَامٍ - بِمَنْزِلَةِ السِّدْرِ الْمَخْضُودِ - وحَلَالُهَا بَعِيداً غَيْرَ مَوْجُودٍ - وصَادَفْتُمُوهَا واللَّه ظِلاًّ مَمْدُوداً - إِلَى أَجْلٍ مَعْدُودٍ - فَالأَرْضُ لَكُمْ شَاغِرَةٌ - وأَيْدِيكُمْ فِيهَا مَبْسُوطَةٌ - وأَيْدِي الْقَادَةِ عَنْكُمْ مَكْفُوفَةٌ - وسُيُوفُكُمْ عَلَيْهِمْ مُسَلَّطَةٌ - وسُيُوفُهُمْ عَنْكُمْ مَقْبُوضَةٌ

!

(۱۰۵)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں رسول اکرم (ص) کے اوصاف ۔بنی امیہ کی تہدیداور لوگوں کی نصیحت کاتذکرہ کیا گیا ہے )

(رسول اکرم (ص))

یہاں تک کہ پروردگار نے حضرت محمد (ص) کو امت کے اعمال کا گواہ۔ثواب کا بشارت دینے والا۔عذاب سے ڈرانے والا بنا کربھیج دیا۔آپ بچپنے میں بہترین مخلوقات اور سن رسیدہ ہونے پر اشرف کائنات تھے۔عادات کے اعتبار سے تمام پاکیزہ افراد کے زیادہ پاکیزہ اورباران رحمت کے اعتبار سے ہر سحاب رحمت سے زیادہ کریم و جوارتھے۔

(بنو امیہ )

یہ دنیا تمہارےلئےاسی وقت اپنی لذتوں سمیت خوشگوار بنی ہے اورتم اس کے فوائد حاصل کرنے کے قابل بنے ہو جب تم نےدیکھ لیاکہ اس کی مہارجھول رہی ہےاوراس کا تنگ ڈھیلاہوگیاہےاس کا حرام ایک قوم کے نزدیک بغیر کاٹنےوالی بیرکی طرح مزہ دار ہوگیا ہے اور اس کاحلال بہت دورتک نا پید ہوگیا ہے اور خدا کی قسم تم اس دنیا کو ایک مدت تک پھیلے ہوئے سایہ کی طرح دیکھو گے کہ زمین ہر ٹوکنے والے سے خالی ہوگئی ہے اور تمہارے ہاتھ کھل گئے ہیں اورقائدین کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں تمہاری تلواریں ان کے سروں پرلٹک رہی ہیں اور ان کی تلواریں نیام میں ہیں


أَلَا وإِنَّ لِكُلِّ دَمٍ ثَائِراً - ولِكُلِّ حَقٍّ طَالِباً - وإِنَّ الثَّائِرَ فِي دِمَائِنَا كَالْحَاكِمِ فِي حَقِّ نَفْسِه - وهُوَ اللَّه الَّذِي لَا يُعْجِزُه مَنْ طَلَبَ - ولَا

يَفُوتُه مَنْ هَرَبَ - فَأُقْسِمُ بِاللَّه يَا بَنِي أُمَيَّةَ عَمَّا قَلِيلٍ - لَتَعْرِفُنَّهَا فِي أَيْدِي غَيْرِكُمْ - وفِي دَارِ عَدُوِّكُمْ أَلَا إِنَّ أَبْصَرَ الأَبْصَارِ مَا نَفَذَ فِي الْخَيْرِ طَرْفُه أَلَا إِنَّ أَسْمَعَ الأَسْمَاعِ مَا وَعَى التَّذْكِيرَ وقَبِلَه.

وعظ الناس

أَيُّهَا النَّاسُ - اسْتَصْبِحُوا مِنْ شُعْلَةِ مِصْبَاحٍ وَاعِظٍ مُتَّعِظٍ وامْتَاحُوا مِنْ صَفْوِ عَيْنٍ قَدْ رُوِّقَتْ مِنَ الْكَدَرِ.

عِبَادَ اللَّه لَا تَرْكَنُوا إِلَى جَهَالَتِكُمْ - ولَا تَنْقَادُوا لأَهْوَائِكُمْ فَإِنَّ النَّازِلَ بِهَذَا الْمَنْزِلِ نَازِلٌ بِشَفَا جُرُفٍ هَارٍ - يَنْقُلُ الرَّدَى عَلَى ظَهْرِه مِنْ مَوْضِعٍ إِلَى مَوْضِعٍ - لِرَأْيٍ يُحْدِثُه بَعْدَ رَأْيٍ - يُرِيدُ أَنْ يُلْصِقَ مَا لَا يَلْتَصِقُ - ويُقَرِّبَ مَا لَا يَتَقَارَبُ - فَاللَّه اللَّه أَنْ تَشْكُوا إِلَى مَنْ لَا يُشْكِي شَجْوَكُمْ - ولَا يَنْقُضُ بِرَأْيِه مَا قَدْ أَبْرَمَ لَكُمْ

لیکن یاد رکھو کہ ہر خون کا ایک انتقام لینے والا اور ہرحق کا ایک طلب گار ہوتا ہے اور ہمارے خون کا منتقم گویا خود اپنے حق میں فیصلہ کرنے والا ہے اور وہ ' وہ پروردگار ہے جسے کوئی مطلوب عاجز نہیں کر سکتا ہے اور جس سے کوئی فرار کرنے والا بھاگ نہیں سکتا ہے۔میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں اے بنی امیہ کہ عنقریب تم اس دنیا کو اغیار کے ہاتھوں اوردشمنوں کے دیارمیں دیکھوگے۔آگاہ ہوجائو کہ بہترین نظر وہ ہے جو خیر میں ڈوب جائے اور بہترین کان وہ ہیں جو نصیحت کو سن لیں اور قبول کرلیں۔

(موعظہ)

لوگو! ایک با عمل نصیحت کرنے والے کے چراغ ہدایت سے روشنی حاصل کرلو اورایک ایسے صاف چشمہ سے سیراب ہو جائو جو ہر آلودگی سے پاک و پاکیزہ ہے۔

اللہ کے بندو! دیکھو اپنی جہالت کی طرف جھکائو مت پیدا کرو اور اپنی خواہشات کے غلام نہ بن جائو کہ اس منزل پرآجانے والا گویا سیلاب زدہ ادیوار کے کنارہ پر کھڑا ہے اور ہلاکتوں کو اپنی پشت پر لادے ہوئے ادھر سے ادھر منتقل ہو رہا ہے۔ان افکار کی بنا پر جو یکے بعد دیگرے ایجاد کرتا رہے گا اوران پر ایسے دلائل قائم کرے گا جو ہر گز چسپاں نہ ہوں گے اور اس سے قریب تربھی نہ ہوں گے ۔خدارا خدا کا خیال رکھو کہ اپنی فریاد اس شخص سے کرو جو اس کا ازالہ بنا کر سکے اور اپنی رائے سے حکم الٰہی کو توڑ نہ سکے۔


إِنَّه لَيْسَ عَلَى الإِمَامِ إِلَّا مَا حُمِّلَ مِنْ أَمْرِ رَبِّه - الإِبْلَاغُ فِي الْمَوْعِظَةِ - والِاجْتِهَادُ فِي النَّصِيحَةِ - والإِحْيَاءُ لِلسُّنَّةِ - وإِقَامَةُ الْحُدُودِ عَلَى مُسْتَحِقِّيهَا - وإِصْدَارُ السُّهْمَانِ عَلَى أَهْلِهَا - فَبَادِرُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِ تَصْوِيحِ نَبْتِه - ومِنْ قَبْلِ أَنْ تُشْغَلُوا بِأَنْفُسِكُمْ - عَنْ مُسْتَثَارِ الْعِلْمِ مِنْ عِنْدِ أَهْلِه - وانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وتَنَاهَوْا عَنْه - فَإِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالنَّهْيِ بَعْدَ التَّنَاهِي

یاد رکھو امام کی ذمہ داری صرف وہ ہے جوپروردگار نے اس کے ذمہ رکھی ہے کہ بلیغ ترین موعظہ کرے۔نصیحت کی کوشش کرے سنت کو زندہ کرے۔مستحقین پر حدود کا اجرا کرے اور حقدار تک میراث کے حصے پہنچا دے ۔

دیکھو علم کی طرف سبقت کرو قبل اس کے کہ اس کا سبزہ خشک ہو جائے اورتم اسے صاحبان علم سے حاصل کرنے میں اپنے کاروبارمیں مشغول ہوجائو۔ منکرات سے رو کو اورخود بھی بچو کہ تمہیں روکنے کا حکم رکنے کے بعد دیا گیا ہے۔


(۱۰۶)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وفيها يبين فضل الإسلام ويذكر الرسول الكريم ثم يلوم أصحابه

دين الإسلام

الْحَمْدُ لِلَّه الَّذِي شَرَعَ الإِسْلَامَ - فَسَهَّلَ شَرَائِعَه لِمَنْ وَرَدَه - وأَعَزَّ أَرْكَانَه عَلَى مَنْ غَالَبَه - فَجَعَلَه أَمْناً لِمَنْ عَلِقَه - وسِلْماً لِمَنْ دَخَلَه - وبُرْهَاناً لِمَنْ تَكَلَّمَ بِه - وشَاهِداً لِمَنْ خَاصَمَ عَنْه - ونُوراً لِمَنِ اسْتَضَاءَ بِه وفَهْماً لِمَنْ عَقَلَ - ولُبّاً لِمَنْ تَدَبَّرَ - وآيَةً لِمَنْ تَوَسَّمَ - وتَبْصِرَةً لِمَنْ عَزَمَ - وعِبْرَةً لِمَنِ اتَّعَظَ ونَجَاةً لِمَنْ صَدَّقَ وثِقَةً لِمَنْ تَوَكَّلَ - ورَاحَةً لِمَنْ فَوَّضَ وجُنَّةً لِمَنْ صَبَرَ - فَهُوَ أَبْلَجُ الْمَنَاهِجِ وأَوْضَحُ الْوَلَائِجِ - مُشْرَفُ الْمَنَارِ مُشْرِقُ الْجَوَادِّ - مُضِيءُ الْمَصَابِيحِ كَرِيمُ الْمِضْمَارِ - رَفِيعُ الْغَايَةِ

(۱۰۶)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

( جس میں اسلام کی فضیلت اور رسول اسلام (ص) کاتذکرہ کرتے ہوئے اصحاب کی ملامت کی گئی ہے)

ساری تعریف اس خدا کے لئے ہے جس نے اسلام کا قانون معین کیا تو اس کے ہر گھاٹ کو وارد ہونے والے کے لئے آسان بنادیا اور اس کے ارکان کو ہر مقابلہ کرنے والے کے مقابلہ میں مستحکم بنادیا۔اس نے اس دین کو وابستگی) ۱ ( اختیار کرنے والوں کے لئے جائے امن اور اس کے دائرہ میں داخل ہو جانے والوں کے لئے محل سلامتی بنا دیا ہے۔یہ دین اپنے ذریعہ کلام کرنے والوں کے لئے برہان اور اپنے وسیلہ سے مقابلہ کرنے والوں کے لئے شاہد قرار دیا گیا ہے۔یہ وشنی حاصل کرنے والوں کے لئے نور۔سمجھنے والوں کے لئے فہم ' فکر کرنے والوں کے لئے مغز کلام 'تلاش منزل کرنے والوںکے لئے نشان منزل ' صاحبان عزم کے لئے سامان بصیرت ' نصیحت حاصل کردینے والوں کے لئیراحت اور صبر کرنے والوں کے لئے سپر ہے۔یہ بہترین راستہ اور واضح ترین داخلہ کی منزل ہے۔اس کے مینار بلند ' راستے روشن ' چراغ ضوبار'میدان عمل با وقار اور مقصد بلند ہے

(۱) اس مقام پر مولائے کائنات نے اسلام کے چودہ صفات کا تذکرہ کیا ہے اور اس میں نوع بشر کے تمام اقسام کا احاطہ کرلیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ اس اسلام کے برکات سے دنیا کا کوئی انسان محروم نہیں رہ سکتا ہے اور کوئی شخص کسی طرح کے برکات کا طلبگار ہوا سے اسلام کے دامن میں اس برکت کا حصول ہو سکتا ہے اور وہ اپنے مطلوب زندگی کو حاصل کر سکتا ہے۔شرط صرف یہ ہے کہ اسلام خالص ہو اور اس کی تفسیر واقعی انداز سے کی جائے ورنہ گندے گھاٹ سے پیاسا سیرواب نہیں ہو سکتا ہے اور کمزور ارکان کے سہارے پر کوئی شخص غلبہ نہیں حاصل کر سکتا ہے۔


جَامِعُ الْحَلْبَةِ - مُتَنَافِسُ السُّبْقَةِ شَرِيفُ الْفُرْسَانِ - التَّصْدِيقُ مِنْهَاجُه - والصَّالِحَاتُ مَنَارُه - والْمَوْتُ غَايَتُه والدُّنْيَا مِضْمَارُه - والْقِيَامَةُ حَلْبَتُه والْجَنَّةُ سُبْقَتُه.

ومنها في ذكر النبي صلى الله عليه وآله

حَتَّى أَوْرَى قَبَساً لِقَابِسٍ - وأَنَارَ عَلَماً لِحَابِسٍ - فَهُوَ أَمِينُكَ الْمَأْمُونُ - وشَهِيدُكَ يَوْمَ الدِّينِ - وبَعِيثُكَ نِعْمَةً، ورَسُولُكَ بِالْحَقِّ رَحْمَةً - اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَه مَقْسَماً مِنْ عَدْلِكَ - واجْزِه مُضَعَّفَاتِ الْخَيْرِ مِنْ فَضْلِكَ - اللَّهُمَّ أَعْلِ عَلَى بِنَاءِ الْبَانِينَ بِنَاءَه - وأَكْرِمْ لَدَيْكَ نُزُلَه - وشَرِّفْ عِنْدَكَ مَنْزِلَه - وآتِه الْوَسِيلَةَ وأَعْطِه السَّنَاءَ والْفَضِيلَةَ - واحْشُرْنَا فِي زُمْرَتِه - غَيْرَ خَزَايَا ولَا نَادِمِينَ - ولَا نَاكِبِينَ ولَا نَاكِثِينَ - ولَا ضَالِّينَ ولَا مُضِلِّينَ ولَا مَفْتُونِينَ.

قال الشريف - وقد مضى هذا الكلام فيما تقدم إلا أننا كررناه هاهنا - لما في الروايتين من الاختلاف.

۔اس کے میدان میں تیز رفتار گھوڑوں کا اجتماع ہے اور اس کی طرف سبقت اور اسکا انعام ہر ایک کو مطلوب ہے۔اس کے شہسوار با عزت ہیں۔اس کا راستہ تصدیق خدا اور رسول (ص) ہے اور اس کا منارہ نیکیاں ہیں۔موت ایک مقصد ہے جس کے لئے دنیا گھوڑ دوڑ کا میدان ہے اور قیامت اس کے اجتماع کی منزل ہے اور پھر جنت اس مقابلہ کا انعام ہے۔

(رسول اکرم (ص))

یہاں تک کہ آپ نے ہر روشنی کے طلب گارکے لئے آگ روشن کردی اور ہر گم کردہ راہ ٹھہرے ہوئے مسافر کے لئے نشان منزل روشن کر دئیے۔ پروردگار! وہ تیرے معتبر امانت دار اور روز قیامت کے گواہ ہیں۔تو نے انہیں نعمت بنا کربھیجا اور رحمت بنا کر نازل کیا ہے۔

خدایا! تو اپنے انصاف سے ان کا حصہ عطا فرما اور پھر اپنے فضل و کرم سے ان کے خیر کو دگنا چوگنا کردے۔

خدایا! ان کی عمارت کو تمام عمارتوں سے بلند تر بنادیاور اپنی بارگاہ میں ان کی با عزت طورپر میزبانی فرما اور ان کی منزلت کو بلندی عطا فرما۔انہیں وسیلہ اور رفعت وفضیلت کرامت فرما اور ہمیں ان کے گروہ میں محشور فرما جہاں نہ رسوا ہوں اور نہ شرمندہ ہوں ' نہ حق سے منحرف ہوں نہ عہد شکن ہوں نہ گمراہ ہوں اور نہ گمراہ کن اور نہ کسی فتنہ میں مبتلا ہوں۔

سید رضی : یہ کلام اس سے پہلے بھی گزر چکا ہے لیکن ہم نے اختلاف روایات کی بنا پر دوبارہ نقل کردیا ہے۔


ومنها في خطاب أصحابه

وقَدْ بَلَغْتُمْ مِنْ كَرَامَةِ اللَّه تَعَالَى لَكُمْ - مَنْزِلَةً تُكْرَمُ بِهَا إِمَاؤُكُمْ - وتُوصَلُ بِهَا جِيرَانُكُمْ - ويُعَظِّمُكُمْ مَنْ لَا فَضْلَ لَكُمْ عَلَيْه - ولَا يَدَ لَكُمْ عِنْدَه - ويَهَابُكُمْ مَنْ لَا يَخَافُ لَكُمْ سَطْوَةً - ولَا لَكُمْ عَلَيْه إِمْرَةٌ - وقَدْ تَرَوْنَ عُهُودَ اللَّه مَنْقُوضَةً فَلَا تَغْضَبُونَ - وأَنْتُمْ لِنَقْضِ ذِمَمِ آبَائِكُمْ تَأْنَفُونَ - وكَانَتْ أُمُورُ اللَّه عَلَيْكُمْ تَرِدُ - وعَنْكُمْ تَصْدُرُ وإِلَيْكُمْ تَرْجِعُ - فَمَكَّنْتُمُ الظَّلَمَةَ مِنْ مَنْزِلَتِكُمْ - وأَلْقَيْتُمْ إِلَيْهِمْ أَزِمَّتَكُمْ - وأَسْلَمْتُمْ أُمُورَ اللَّه فِي أَيْدِيهِمْ - يَعْمَلُونَ بِالشُّبُهَاتِ - ويَسِيرُونَ فِي الشَّهَوَاتِ - وايْمُ اللَّه لَوْ فَرَّقُوكُمْ تَحْتَ كُلِّ كَوْكَبٍ - لَجَمَعَكُمُ اللَّه لِشَرِّ يَوْمٍ لَهُمْ!

اپنے اصحاب سے خطاب فرماتے ہوئے

تم اللہ کی دی ہوئی کرامت سے اس منزل پر پہنچ گئے جہاں تمہاری کنیزوں کا بھی احترام ہونے لگا اور تمہارے ہمسایہ سے بھی اچھابرتائو ہونے لگا۔تمہارا احترام وہ لوگ بھی کرنے لگے جن پر نہ تمہیں کوئی فضیلت حاصل تھی اور نہ ان پر تمہارا کوئی احسان تھا اور تم سے وہ لوگ بھی خوف کھانے لگے جن پر نہ تم نے کوئی حملہ کیا تھا اور نہ تمہیں کوئی اقتدار حاصل تھا۔مگر افسوس کہ تم عہد خدا کو ٹوٹتے ہوئے دیکھ رہے ہو اور تمہیں غصہ بھی نہیں آتا ہے جب کہ تمہارے باپ دادا کے عہد کو توڑا جاتا ہے تو تمہیں غیرت آجاتی ہے۔ایک زمانہ تھا کہ اللہ کے امور تم ہی پروارد ہوتے تھے۔اورتمہارے ہی پاس سے باہر نکلتے تھے اور پھر تمہاری ہی طرف پلٹ کرآتے تھے لیکن تم نے ظالموں کو اپنی منزلوں پر قبضہ دے دیا اور ان کی طرف اپنی زمام امربڑھا دی اور انہیں سارے امور سپرد کردئیے کہ وہ شبہات پر عمل کرتے ہوئے اور خواہشات میں چکر لگاتے رہتے ہیں اورخدا گواہ ہے کہ اگر یہ تمہیں ہر ستارہ کے نیچے منتشر کردیں گے تو بھی خدا تمہیں اس دن جمع کردے گا جو ظالموں کے لئے بد ترین دن ہوگا۔


(۱۰۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في بعض أيام صفين

وقَدْ رَأَيْتُ جَوْلَتَكُمْ - وانْحِيَازَكُمْ عَنْ صُفُوفِكُمْ - تَحُوزُكُمُ الْجُفَاةُ الطَّغَامُ - وأَعْرَابُ أَهْلِ الشَّامِ - وأَنْتُمْ لَهَامِيمُ الْعَرَبِ - ويَآفِيخُ الشَّرَفِ - والأَنْفُ الْمُقَدَّمُ - والسَّنَامُ الأَعْظَمُ - ولَقَدْ شَفَى وَحَاوِحَ صَدْرِي - أَنْ رَأَيْتُكُمْ بِأَخَرَةٍ - تَحُوزُونَهُمْ كَمَا حَازُوكُمْ - وتُزِيلُونَهُمْ عَنْ مَوَاقِفِهِمْ كَمَا أَزَالُوكُمْ - حَسّاً بِالنِّصَالِ وشَجْراً بِالرِّمَاحِ - تَرْكَبُ أُوْلَاهُمْ - أُخْرَاهُمْ كَالإِبِلِ الْهِيمِ الْمَطْرُودَةِ - تُرْمَى عَنْ حِيَاضِهَا - وتُذَادُ عَنْ مَوَارِدِهَا.

(۱۰۸)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وهي من خطب الملاحم

(۱۰۷)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(صفین کی جنگ کے دوران)

میں نے تمہیں بھاگتے ہوئے اور اپنی صفوں سے منتشر ہوتے ہوئے دیکھا جب کہ تمہیں شام کے جفا کار اوباش اور دیہاتی بدو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے تھے حالانکہ تم عرب کے جواں مرد بہادر اور شرف کے راس و رئیس تھے۔اوراس کی اونچی ناک اور چوٹی کی بلندی والے افراد تھے۔میرے سینہ کی کراہنے کی آوازیں اس وقت دب سکتی ہیں جب میں یہ دیکھ لوں کہ تم انہیں اسی طرح اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہو جس طرح وہ تمہیں لئے ہئے تھے اور ان کو ان کے مواقف سے اس طرح ڈھکیل رہے ہو جس طرح انہوں نے تمہیں ہٹا دیا تھا کہ انہیں تیروں کی بوچھار کا نشانہ بنائے ہوئے ہو اور نیزوں کی زد پر اس طرح لئے ہوئے ہو کہ پہلی صف کو آخری صف پر الٹ رہے ہو جس طرح کہ پیاسے اونٹ ہنکائے جاتے ہیں جب انہیں تالابوں سے دور پھینک دیا جاتا ہے اورگھاٹ سے الگ کردیا جاتا ہے۔

(۱۰۸)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں ملاحم اور حوادث و فتن کاذکر کیا گیا ہے)


اللَّه تعالى

الْحَمْدُ لِلَّه الْمُتَجَلِّي لِخَلْقِه بِخَلْقِه - والظَّاهِرِ لِقُلُوبِهِمْ بِحُجَّتِه - خَلَقَ الْخَلْقَ مِنْ غَيْرِ رَوِيَّةٍ - إِذْ كَانَتِ الرَّوِيَّاتُ لَا تَلِيقُ إِلَّا بِذَوِي الضَّمَائِرِ - ولَيْسَ بِذِي ضَمِيرٍ فِي نَفْسِه - خَرَقَ عِلْمُه بَاطِنَ غَيْبِ السُّتُرَاتِ - وأَحَاطَ بِغُمُوضِ عَقَائِدِ السَّرِيرَاتِ.

ومِنْهَا فِي ذِكْرِ

النَّبِيِّصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :

اخْتَارَه مِنْ شَجَرَةِ الأَنْبِيَاءِ - ومِشْكَاةِ الضِّيَاءِ وذُؤَابَةِ الْعَلْيَاءِ - وسُرَّةِ الْبَطْحَاءِ ومَصَابِيحِ الظُّلْمَةِ - ويَنَابِيعِ الْحِكْمَةِ.

فتنة بني أمية

ومنها: طَبِيبٌ دَوَّارٌ بِطِبِّه قَدْ أَحْكَمَ مَرَاهِمَه - وأَحْمَى مَوَاسِمَه يَضَعُ ذَلِكَ حَيْثُ الْحَاجَةُ إِلَيْه - مِنْ قُلُوبٍ عُمْيٍ وآذَانٍ صُمٍّ - وأَلْسِنَةٍ بُكْمٍ - مُتَتَبِّعٌ بِدَوَائِه مَوَاضِعَ الْغَفْلَةِ - ومَوَاطِنَ الْحَيْرَةِ لَمْ يَسْتَضِيئُوا بِأَضْوَاءِ الْحِكْمَةِ - ولَمْ يَقْدَحُوا بِزِنَادِ الْعُلُومِ الثَّاقِبَةِ - فَهُمْ فِي ذَلِكَ كَالأَنْعَامِ السَّائِمَةِ - والصُّخُورِ الْقَاسِيَةِ.

ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جو اپنی مخلوقات کے سامنے تخلیقات کے ذریعہ جلوہ گر ہوتا ہے اور ان کے دلوں پر دلیلوں کے ذریعہ روشن ہوتا ہے۔اس نے تمام مخلوقات کو بغیر سوچ بچار کی زحمت کے پیدا کیا ہے کہ سوچنا صاحبان دل و ضمیر کا کام ہے اور وہ ان باتوں سے بلند تر ہے۔اس کے علم نے پوشیدہ اسرار کے تمام پردوں کو چاک کردیاہے اور وہ تمام عقائد کی گہرائیوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

(رسول اکرم (ص))

اس نے آپ کا انتخاب انبیاء کرام کے شجرہ۔روشنی کے فانوس ' بلندی کی پیشانی ' ارض بطحا کی ناف زمین ' ظلمت کے چراغوں اور حکمت کے سر چشموں کے درمیان سے کیا ہے۔

آپ وہ طبیب تھے جو اپنی طبابت کے ساتھ چکر لگا رہا ہو کہ اپنے مرہم کو درست کرلیا ہو اورداغنے کے آلات کو تپا لیاہوکہ جس اندھے دل ' بہرے کان' گونگی زبان پر ضرورت پڑے فوراً استعمال کردے۔اپنی دوا کو لئے ہوئے غفلت کے مراکز اور حیرت کے مقامات کی تلاش میں لگا ہواہو۔

فتنہ بنی امیہ

ان ظالموں نے حکمت کی روشنی سے نور حاصل نہیں کیا اور علوم کے چقماق کو رگڑ کرچنگاری نہیں پیدا کی۔اس مسئلہ میں ان کی مثال چرنے والے جانوروں اور سخت ترین پتھروں کی ہے۔


قَدِ انْجَابَتِ السَّرَائِرُ لأَهْلِ الْبَصَائِرِ - ووَضَحَتْ مَحَجَّةُ الْحَقِّ لِخَابِطِهَا - وأَسْفَرَتِ السَّاعَةُ عَنْ وَجْهِهَا - وظَهَرَتِ الْعَلَامَةُ لِمُتَوَسِّمِهَا - مَا لِي أَرَاكُمْ أَشْبَاحاً بِلَا أَرْوَاحٍ - وأَرْوَاحاً بِلَا أَشْبَاحٍ - ونُسَّاكاً بِلَا صَلَاحٍ - وتُجَّاراً بِلَا أَرْبَاحٍ - وأَيْقَاظاً نُوَّماً - وشُهُوداً غُيَّباً - ونَاظِرَةً عَمْيَاءَ - وسَامِعَةً صَمَّاءَ - ونَاطِقَةً بَكْمَاءَ رَايَةُ ضَلَالٍ قَدْ قَامَتْ عَلَى قُطْبِهَا - وتَفَرَّقَتْ بِشُعَبِهَا - تَكِيلُكُمْ بِصَاعِهَا وتَخْبِطُكُمْ بِبَاعِهَا - قَائِدُهَا خَارِجٌ مِنَ الْمِلَّةِ - قَائِمٌ عَلَى الضِّلَّةِ؛فَلَا يَبْقَى يَوْمَئِذٍ مِنْكُمْ إِلَّا ثُفَالَةٌ كَثُفَالَةِ الْقِدْرِ - أَوْ نُفَاضَةٌ كَنُفَاضَةِ الْعِكْمِ - تَعْرُكُكُمْ عَرْكَ الأَدِيمِ - وتَدُوسُكُمْ دَوْسَ الْحَصِيدِ وتَسْتَخْلِصُ الْمُؤْمِنَ مِنْ بَيْنِكُمُ - اسْتِخْلَاصَ الطَّيْرِ الْحَبَّةَ الْبَطِينَةَ - مِنْ بَيْنِ هَزِيلِ الْحَبِّ.

أَيْنَ تَذْهَبُ بِكُمُ الْمَذَاهِبُ - وتَتِيه بِكُمُ الْغَيَاهِبُ وتَخْدَعُكُمُ الْكَوَاذِبُ - ومِنْ أَيْنَ تُؤْتَوْنَ - وأَنَّى تُؤْفَكُونَ - فَ( لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ )

بے شک اہل بصیرت کے لئے اسرار نمایاں ہیں اورحیران و سرگرداں لوگوں کے لئے حق کا راستہ روشن ہے۔آنے والی ساعت نے اپنے چہرہ سے نقاب کوالٹ دیا ہے اور تلاش کرنے والوں کے لئے علامتیں ظاہر ہوگئی ہیں آخر کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہیں بالکل بے جان پیکر اور بلا پیکر روح کی شکل میں دیکھ رہا ہوں۔تم وہ عبادت گذار ہوجو اندر سے صالح نہ ہو اور وہ تاجر ہو جس کو کوئی فائدہ نہ ہو۔وہ بیدار ہو جو خواب غفلت میں ہو اوروہ حاض ہوجو بالکل غیر حاضر ہو۔اندھی آنکھ ' بہرے کان اور گونگی زبان' گمراہی کا پرچم اپنے مرکز پرجم چکا ہے۔اور اس کی شاخیں ہر سو' پھیل چکی ہیں۔وہ تمہیں اپنے پیمانہ میں تول رہا ہے اور اپنے ہاتھوں ادھر ادھر بہکا رہا ہے۔اس کا قائد ملت سے خارج اور ضلالت پرقائم ہے۔اس دن تم سے کوئی باقی نہ رہ جائے گا مگر اس مقدار میں جتنا پتیلی کا تہ دیگ ہوتا ہے یا تھیلی کے جھاڑے ہوئے ریزے۔ یہ گمراہی تمہیں اسی طرح مسل ڈالے گی جس طرح چمڑہ مسلا جاتا ہے اور اسی طرح پامال کردے گی جس طرح کٹی ہوئی زراعت روندی جاتی ہے اورمومن خالص کو تمہارے درمیان سے اس طرح چن لے گی جس طرح پرندہ باریک دانوں سے موٹے دانوں کو نکا ل لیتا ہےآخر تم کو یہ غلط راستے کدھر لئے جا رہے ہیں اور تم اندھیروں میں کہا بہک رہے ہو اور تم کو جھوٹی امیدیں کس طرح دھوکہ دے رہی ہیں۔کدھر سے لائے جا رہے ہو اور کدھر بہکائے جا رہے ہو۔ ہر مدت کا ایک نوشتہ ہوتا ہے


ولِكُلِّ غَيْبَةٍ إِيَابٌ - فَاسْتَمِعُوا مِنْ رَبَّانِيِّكُمْ - وأَحْضِرُوه قُلُوبَكُمْ - واسْتَيْقِظُوا إِنْ هَتَفَ بِكُمْ - ولْيَصْدُقْ رَائِدٌ أَهْلَه - ولْيَجْمَعْ شَمْلَه - ولْيُحْضِرْ ذِهْنَه - فَلَقَدْ فَلَقَ لَكُمُ الأَمْرَ فَلْقَ الْخَرَزَةِ - وقَرَفَه قَرْفَ الصَّمْغَةِ فَعِنْدَ ذَلِكَ أَخَذَ الْبَاطِلُ مَآخِذَه - ورَكِبَ الْجَهْلُ مَرَاكِبَه - وعَظُمَتِ الطَّاغِيَةُ وقَلَّتِ الدَّاعِيَةُ وصَالَ الدَّهْرُ صِيَالَ السَّبُعِ الْعَقُورِ - وهَدَرَ فَنِيقُ الْبَاطِلِ بَعْدَ كُظُومٍ - وتَوَاخَى النَّاسُ عَلَى الْفُجُورِ وتَهَاجَرُوا عَلَى الدِّينِ - وتَحَابُّوا عَلَى الْكَذِبِ - وتَبَاغَضُوا عَلَى الصِّدْقِ - فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ كَانَ الْوَلَدُ غَيْظاً - والْمَطَرُ قَيْظاً وتَفِيضُ اللِّئَامُ فَيْضاً وتَغِيضُ الْكِرَامُ غَيْضاً - وكَانَ أَهْلُ ذَلِكَ الزَّمَانِ ذِئَاباً - وسَلَاطِينُه سِبَاعاً وأَوْسَاطُه أُكَّالًا - وفُقَرَاؤُه أَمْوَاتاً وغَارَ الصِّدْقُ - وفَاضَ الْكَذِبُ - واسْتُعْمِلَتِ الْمَوَدَّةُ بِاللِّسَانِ - وتَشَاجَرَ النَّاسُ بِالْقُلُوبِ - وصَارَ الْفُسُوقُ نَسَباً - والْعَفَافُ عَجَباً - ولُبِسَ

اورہرغیبت کے لئے ایک واپسی ہوتی ہے لہٰذا اپنے خدا رسیدہ عالم کی بات سنو۔اس کے لئے دلوں کو حاضر کرو' وہ آواز دے تو بیدار ہو جائو۔ہر نمائندہ کو اپنی قوم سے سچ بولنا چاہیے۔اس کی پراگندگی کو جمع کرنا چاہیے۔اس کے ذہن کو حاضر رکھنا چاہیے۔اب تمہارے رہنما نے تمہارے لئے مسئلہ کواس قدر واشگاف کردیا ہے جس طرح مہرہ کو چیرا جاتا ہے اور اس طرح چھیل ڈالا ہے جس طرح گوندکھر چا جاتا ہے۔مگر اس کے باوجود باطل نے اپنا مرکز سنبھال لیا ہے اور جہل اپنے مرکب پر سوار ہوگیا ہے اور سرکشی بڑھ گئی ہے اور حق کی آواز دبگئی ہے اور زمانہ نے پھاڑ کھانے والے درندہ کی طرح حملہ کردیا ہے اور باطل کا اونٹ چپ رہنے کے بعدپھر بلبلا نے لگا ہے اور لوگوں نے فسق و فجور کی برادری قائم کرلی ہے اور سب نے مل کر دین کو نظر انداز کردیا ہے۔جھوٹ پر دوستی کی بنیادیں قائم ہوگئی ہیں اور سچائی پر ایک دوسرے کے دشمن ہوگئے ہیں۔ایسے حالات میں بیٹا باپ کے لئے غیظ و غضب کا سبب ہوگا اوربارش گرمی کا باعث ہوگی۔کمینے لوگ پھیل جائیں گے اور شریف لوگ سمٹ جائیں گے۔اس دور کے عوام بھیڑئیے ہوں گے اور سلاطین درندے ۔درمیانی طبقہ والے کھانے والے اورفقراء و مساکین مردے ہوں گے۔سچائی کم ہو جائے گی اور جھوٹ پھیل جائے گا۔محبت کا استعمال صرف زبان سے ہوگا اور عداوت دلوں کے اندر پیوست ہو جائے گی۔زنا کاری نسب کی بنیاد ہوگی اور عفت ایک عجیب و غریب شے ہو جائے گی۔


الإِسْلَامُ لُبْسَ الْفَرْوِ مَقْلُوباً.

(۱۰۹)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في بيان قدرة اللَّه وانفراده بالعظمة وأمر البعث

قدرة اللَّه

كُلُّ شَيْءٍ خَاشِعٌ لَه - وكُلُّ شَيْءٍ قَائِمٌ بِه - غِنَى كُلِّ فَقِيرٍ - وعِزُّ كُلِّ ذَلِيلٍ - وقُوَّةُ كُلِّ ضَعِيفٍ - ومَفْزَعُ كُلِّ مَلْهُوفٍ - مَنْ تَكَلَّمَ سَمِعَ نُطْقَه - ومَنْ سَكَتَ عَلِمَ سِرَّه - ومَنْ عَاشَ فَعَلَيْه رِزْقُه - ومَنْ مَاتَ فَإِلَيْه مُنْقَلَبُه - لَمْ تَرَكَ الْعُيُونُ فَتُخْبِرَ عَنْكَ - بَلْ كُنْتَ قَبْلَ الْوَاصِفِينَ مِنْ خَلْقِكَ - لَمْ تَخْلُقِ الْخَلْقَ لِوَحْشَةٍ - ولَا اسْتَعْمَلْتَهُمْ لِمَنْفَعَةٍ - ولَا يَسْبِقُكَ مَنْ طَلَبْتَ - ولَا يُفْلِتُكَ مَنْ أَخَذْتَ - ولَا يَنْقُصُ سُلْطَانَكَ مَنْ عَصَاكَ - ولَا يَزِيدُ فِي مُلْكِكَ مَنْ أَطَاعَكَ - ولَا يَرُدُّ أَمْرَكَ مَنْ سَخِطَ قَضَاءَكَ - ولَا يَسْتَغْنِي عَنْكَ مَنْ تَوَلَّى عَنْ أَمْرِكَ - كُلُّ سِرٍّ عِنْدَكَ عَلَانِيَةٌ

اسلام یوں الٹ دیا جائے گا جیسے کوئی پوستین کو الٹا پہن لے ۔

(۱۰۹)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(قدرت خدا عظمت الٰہی اور روز محشر کے بارے میں)

ہرشے اس کی بارگاہ میں سر جھکائے ہوئے ہے اور ہر چیز اسی کے دم سے قائم ہے۔وہ ہر فقیر کی دولت کا سہارا اور ہر ذلیل کی عزت کا آسرا ہے۔ہر کمزور کی طاقت وہی ہے اور ہرفریادی کی پناہ گاہ وہی ہے۔وہ ہر بولنے والے کے نطق کو سن لیتا ہے۔اور ہر خاموش رہنے والے کے راز کو جانتا ہے۔جو زندہ ہے اس کارزق اس کے ذمہ ہے اور جو مرگی اس کی باز گشت اسی کی طرف ہے۔

خدایا! آنکھوں نے تجھے دیکھا نہیں ہے کہ تیرے بارے میں خبردے سکیں۔تو تمام توصیف کرنے والی مخلوقات کے پہلے سے ہے۔تونے مخلوقات کو تنہائی کی وحشت کی بنا پر نہیں خلق کیا ہے اور نہ انہیں کسی فائدہ کے لئے استعمال کیا ہے۔تو جسے حاصل کرنا چاہے وہ آگے نہیں جا سکتا ہے اور جسے پکڑنا چاہے وہ بچ کر نہیں جا سکتا ہے۔ناف رمانوں سے تیری سلطنت میں کمی نہیں آتی ہے اور اطاعت گزار وں سے تیرے ملک میں اضافہ نہیں ہوتا ہے جو تیرے فیصلہ سے ناراض ہو وہ تیرے حکم کو ٹال نہیں سکتا ہے اورجو تیرے امر سے روگردانی کرے وہ تجھ سے بے نیاز نہیں ہو سکتا ہے۔ہر راز تیرے سامنے روشن ہے


وكُلُّ غَيْبٍ عِنْدَكَ شَهَادَةٌ - أَنْتَ الأَبَدُ فَلَا أَمَدَ لَكَ - وأَنْتَ الْمُنْتَهَى فَلَا مَحِيصَ عَنْكَ - وأَنْتَ الْمَوْعِدُ فَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ - بِيَدِكَ نَاصِيَةُ كُلِّ دَابَّةٍ - وإِلَيْكَ مَصِيرُ كُلِّ نَسَمَةٍ - سُبْحَانَكَ مَا أَعْظَمَ شَأْنَكَ - سُبْحَانَكَ مَا أَعْظَمَ مَا نَرَى مِنْ خَلْقِكَ - ومَا أَصْغَرَ كُلَّ عَظِيمَةٍ فِي جَنْبِ قُدْرَتِكَ - ومَا أَهْوَلَ مَا نَرَى مِنْ مَلَكُوتِكَ - ومَا أَحْقَرَ ذَلِكَ فِيمَا غَابَ عَنَّا مِنْ سُلْطَانِكَ - ومَا أَسْبَغَ نِعَمَكَ فِي الدُّنْيَا - ومَا أَصْغَرَهَا فِي نِعَمِ الآخِرَةِ.

الملائكة الكرام

ومنها: مِنْ مَلَائِكَةٍ أَسْكَنْتَهُمْ سَمَاوَاتِكَ - ورَفَعْتَهُمْ عَنْ أَرْضِكَ - هُمْ أَعْلَمُ خَلْقِكَ بِكَ - وأَخْوَفُهُمْ لَكَ وأَقْرَبُهُمْ مِنْكَ - لَمْ يَسْكُنُوا الأَصْلَابَ - ولَمْ يُضَمَّنُوا الأَرْحَامَ - ولَمْ يُخْلَقُوا مِنْ مَاءٍ مَهِينٍ - ولَمْ يَتَشَعَّبْهُمْ رَيْبُ الْمَنُونِ - وإِنَّهُمْ عَلَى مَكَانِهِمْ مِنْكَ - ومَنْزِلَتِهِمْ عِنْدَكَ واسْتِجْمَاعِ أَهْوَائِهِمْ فِيكَ - وكَثْرَةِ طَاعَتِهِمْ لَكَ وقِلَّةِ غَفْلَتِهِمْ عَنْ أَمْرِكَ - لَوْ عَايَنُوا كُنْه مَا خَفِيَ عَلَيْهِمْ مِنْكَ

اور ہر عیب تیرے لئے حضور ہے۔تو ابدی ہے تو تیری کوئی انتہا نہیں ہے اور توانتہا ہے تو تجھ سے کوئی چھٹکارہ نہیں ہے۔تو سب کی وعدہ گاہ ہے تو تجھ سے نجات حاصل کرنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ہر زمین پر چلنے والے کا اختیار تیرے ہاتھ میں ہے اور ہر جاندار کی باز گشت تیری ہی طرف ہے۔پاک و بے نیاز ہے تو تیری شان کیا با عظمت ہے اور تیری مخلوقات بھی کیا عظیم الشان ہے اور تیری قدرت کے سامنے ہر عظیم شے کس قدر حقیر ہے اور تیری سلطنت کس قدر پر شکوہ ہے اور یہ سب تیری اس مملکت کے مقابلہ میں جونگاہوں سے اوجھل ہے کس قدرمعمولی ہے۔تیری نعمتیں اس دنیا میں کس قدر مکمل ہیں اور پھرنعمات آخرت کے مقابلہ میں کس قدر مختصر ہیں۔

ملائکہ مقربین

یہ تیرے ملائکہ ہیں جنہیں تونے آسمانوں میں آباد کیا ہے اورزمین سے بلند تر بنایا ہے۔یہ تمام مخلوقات سے زیادہ تیری معرفت رکھتے ہیں اور تجھ سے خوف زدہ رہتے ہیں اور تیرے قریب تر بھی ہیں۔یہ نہ اصلاب پدر میں رہے ہیں اور نہ ارحام مادر میں اورنہ حقیر نطفہ سے پیدا کئے گئے ہیں اور نہ ان پر زمانہ کے انقلابات کا کوئی اثر ہے۔یہ تیری بارگاہ میں ایک خاص مقام اور منزلت رکھتے ہیں۔ان کی تمام ترخواہشات صرف تیرے بارے میں ہیں اور یہ بکثرت تیری ہی اطاعت کرتے ہیں اور تیرے حکم سے ہرگز غافل نہیں ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود اگر تیری عظمت کی تہ تک پہنچ جائیں


لَحَقَّرُوا أَعْمَالَهُمْ ولَزَرَوْا عَلَى أَنْفُسِهِمْ - ولَعَرَفُوا أَنَّهُمْ لَمْ يَعْبُدُوكَ حَقَّ عِبَادَتِكَ - ولَمْ يُطِيعُوكَ حَقَّ طَاعَتِكَ.

عصيان الخلق

سُبْحَانَكَ خَالِقاً ومَعْبُوداً - بِحُسْنِ بَلَائِكَ عِنْدَ خَلْقِكَ خَلَقْتَ دَاراً - وجَعَلْتَ فِيهَا مَأْدُبَةً - مَشْرَباً ومَطْعَماً وأَزْوَاجاً - وخَدَماً وقُصُوراً - وأَنْهَاراً وزُرُوعاً وثِمَاراً - ثُمَّ أَرْسَلْتَ دَاعِياً يَدْعُو إِلَيْهَا - فَلَا الدَّاعِيَ أَجَابُوا - ولَا فِيمَا رَغَّبْتَ رَغِبُوا - ولَا إِلَى مَا شَوَّقْتَ إِلَيْه اشْتَاقُوا - أَقْبَلُوا عَلَى جِيفَةٍ قَدِ افْتَضَحُوا بِأَكْلِهَا - واصْطَلَحُوا عَلَى حُبِّهَا - ومَنْ عَشِقَ شَيْئاً أَعْشَى بَصَرَه - وأَمْرَضَ قَلْبَه - فَهُوَ يَنْظُرُ بِعَيْنٍ غَيْرِ صَحِيحَةٍ - ويَسْمَعُ بِأُذُنٍ غَيْرِ سَمِيعَةٍ - قَدْ خَرَقَتِ الشَّهَوَاتُ عَقْلَه - وأَمَاتَتِ الدُّنْيَا قَلْبَه - ووَلِهَتْ عَلَيْهَا نَفْسُه - فَهُوَ عَبْدٌ لَهَا - ولِمَنْ فِي يَدَيْه شَيْءٌ مِنْهَا - حَيْثُمَا زَالَتْ زَالَ إِلَيْهَا -

تو اپنے اعمال کو حقیر ترین تصور کریں گے۔اور اپنے نفس کی مذمت کریں گے اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ انہوں نے عبادت کاحق ادا نہیں کیا ہے اور حق اطاعت کے برابر اطاعت نہیں کی ہے۔

تو پاک و بے نیاز ہے خالقیت کے اعتبارسے بھی اور عبادت کے اعتبار سے بھی۔میری تسبیح اس بہترین برتائو کی بنا پر ہے جو تونے مخلوقات کے ساتھ کیا ہے۔تونے ایک گھر بنایا ہے۔اس میں ایک دستر خوان بچھایا ہے جس میں کھانے پینے ' زوجیت ' خدمت ' قصر' نہر ' زراعت ' ثمر سب کا انتظام کردیا ہے اور پھر ایک داعی کو اس کی طرف دعوت دینے کے لئے بھیج دیا ہے لیکن لوگوں نے نہ داعی کی آواز پرلبیک کہی اور نہ جن چیزوں کی طرف تونے رغبت دلائی تھی راغب ہوئے اور نہ تیری تشویق کا شوق پیدا کیا۔سب اس مردار پر ٹوٹ پڑے جس کو کھا کر رسوا ہوئے اور سب نے اس کی محبت پر اتفاق کرلیا اور ظاہر ہے کہ جو کسی کا بھی عاشق ہو جاتا ہے وہ شے اسے اندھا بنا دیتی ہے اور اس کے دل کو بیمار کر دیتی ہے۔وہ دیکھتا بھی ہے تو غیر سلیم آنکھوں سے اور سنتا بھی ہے تو غیر سمیع کانوں سے۔خواہشات نے ان کی عقلوں کو پارہ پارہ کردیا ہے اور دنیا نے ان کے دلوں کو مردہ بنادیا ہے۔انہیں اس سے والہانہ لگائو پیداہوگیا ہے ۔اور وہ اس کے بندے ہوگئے ہیں اور ان کے غلام بن گئے ہیں۔جن کے ہاتھ میں تھوڑی سی بھی دنیا ہے کہ جس طرف وہ جھکتی ہے یہ بھی جھک جاتے ہیں


وحَيْثُمَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَ عَلَيْهَا لَا يَنْزَجِرُ مِنَ اللَّه بِزَاجِرٍ ولَا يَتَّعِظُ مِنْه بِوَاعِظٍ - وهُوَ يَرَى الْمَأْخُوذِينَ عَلَى الْغِرَّةِ - حَيْثُ لَا إِقَالَةَ ولَا رَجْعَةَ - كَيْفَ نَزَلَ بِهِمْ مَا كَانُوا يَجْهَلُونَ - وجَاءَهُمْ مِنْ فِرَاقِ الدُّنْيَا مَا كَانُوا يَأْمَنُونَ - وقَدِمُوا مِنَ الآخِرَةِ عَلَى مَا كَانُوا يُوعَدُونَ - فَغَيْرُ مَوْصُوفٍ مَا نَزَلَ بِهِمْ - اجْتَمَعَتْ عَلَيْهِمْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ - وحَسْرَةُ الْفَوْتِ فَفَتَرَتْ لَهَا أَطْرَافُهُمْ - وتَغَيَّرَتْ لَهَا أَلْوَانُهُمْ - ثُمَّ ازْدَادَ الْمَوْتُ فِيهِمْ وُلُوجاً - فَحِيلَ بَيْنَ أَحَدِهِمْ وبَيْنَ مَنْطِقِه - وإِنَّه لَبَيْنَ أَهْلِه يَنْظُرُ بِبَصَرِه - ويَسْمَعُ بِأُذُنِه عَلَى صِحَّةٍ مِنْ عَقْلِه - وبَقَاءٍ مِنْ لُبِّه - يُفَكِّرُ فِيمَ أَفْنَى عُمُرَه - وفِيمَ أَذْهَبَ دَهْرَه - ويَتَذَكَّرُ أَمْوَالًا جَمَعَهَا أَغْمَضَ فِي مَطَالِبِهَا - وأَخَذَهَا مِنْ مُصَرَّحَاتِهَا ومُشْتَبِهَاتِهَا - قَدْ لَزِمَتْه تَبِعَاتُ جَمْعِهَا - وأَشْرَفَ عَلَى فِرَاقِهَا - تَبْقَى لِمَنْ وَرَاءَه يَنْعَمُونَ فِيهَا - ويَتَمَتَّعُونَ بِهَا - فَيَكُونُ الْمَهْنَأُ لِغَيْرِه والْعِبْءُ عَلَى ظَهْرِه

اور جدھر وہ مڑتی ہے یہ بھی مڑ جاتے ہیں۔نہ کوئی خدائی روکنے والا انہیں روک سکتا ہے اور نہ کسی واعظ کی نصیحت ان پر اثر انداز ہوتی ہے۔جب کہ انہیں دیکھ رہے ہیں جو اس دھوکہ میں پکڑ لئے گئے ہیں کہ اب نہ معافی کا امکان ہے اور نہ واپسی کا۔کس طرح ان پر وہ مصیبت نازل ہوگئی ہے جس سے نا واقف تھے اور فراق دنیا کی وہ آفت آگئی ہے جس کی طرف سے بالکل مطمئن تھے اورآخرت میں اس صورت حاصل کا سامنا کر رہے ہیں جس کاوعدہ کیا گیا تھا۔اب تو اس مصیبت کا بیان بھی نا ممکن ہے جہاں ایک طرف موت کے سکرات ہیں اور دوسری طرف فراق دنیا کی حسرت ۔حالت یہ ہے کہ ہاتھ پائوں ڈھیلے پڑ گئے ہیں اور رنگ اڑ گیا ہے۔اس کے بعد موت کی دخل اندازی اور بڑھی تو وہ گفتگو کی راہ میں بھی حائل ہوگئی کہ انسان گھر والوں کے درمیان انہیں آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔کان سے ان کی آوازیں سن رہا ہے۔عقل بھی سلامت ہے اور ہوش بھی بر قرار ہے۔یہ سوچ رہا ہے کہ عمر کو کہاں برباد کیا ہے اور زندگی کو کہاں گزارا ہے ۔ان اموال کو یادکر رہا ہے جنہیں جمع کیا تھا اور ان کی جمع آوری میں آنکھیں بند کرلی تھیں کہ کبھی واضح راستوں سے حاصل کیا اور کبھی مشتبہ طریقوں سے کہ صرف ان کے جمع کرنے کے اثرات باقی رہ گئے ہیں اور ان سے جدائی کا وقت آگیا ہے۔اب یہ مال بعد والوں کے لئے رہ جائے گا جو آرام کریں گے اورمزے اڑائیں گے۔یعنی مزہ دوسروں کے لئے ہوگا اورہر بوجھ اس کی پیٹھ پرہوگا


والْمَرْءُ قَدْ غَلِقَتْ رُهُونُه بِهَا - فَهُوَ يَعَضُّ يَدَه نَدَامَةً - عَلَى مَا أَصْحَرَ لَه عِنْدَ الْمَوْتِ مِنْ أَمْرِه - ويَزْهَدُ فِيمَا كَانَ يَرْغَبُ فِيه أَيَّامَ عُمُرِه - ويَتَمَنَّى أَنَّ الَّذِي كَانَ يَغْبِطُه بِهَا - ويَحْسُدُه عَلَيْهَا قَدْ حَازَهَا دُونَه - فَلَمْ يَزَلِ الْمَوْتُ يُبَالِغُ فِي جَسَدِه - حَتَّى خَالَطَ لِسَانُه سَمْعَه - فَصَارَ بَيْنَ أَهْلِه لَا يَنْطِقُ بِلِسَانِه - ولَا يَسْمَعُ بِسَمْعِه - يُرَدِّدُ طَرْفَه بِالنَّظَرِ فِي وُجُوهِهِمْ - يَرَى حَرَكَاتِ أَلْسِنَتِهِمْ - ولَا يَسْمَعُ رَجْعَ كَلَامِهِمْ - ثُمَّ ازْدَادَ الْمَوْتُ الْتِيَاطاً بِه - فَقُبِضَ بَصَرُه كَمَا قُبِضَ سَمْعُه وخَرَجَتِ الرُّوحُ مِنْ جَسَدِه - فَصَارَ جِيفَةً بَيْنَ أَهْلِه - قَدْ أَوْحَشُوا مِنْ جَانِبِه - وتَبَاعَدُوا مِنْ قُرْبِه - لَا يُسْعِدُ بَاكِياً ولَا يُجِيبُ دَاعِياً - ثُمَّ حَمَلُوه إِلَى مَخَطٌّ فِي الأَرْضِ - فَأَسْلَمُوه فِيه إِلَى عَمَلِه - وانْقَطَعُوا عَنْ زَوْرَتِه.

القيامة

حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْكِتَابُ أَجَلَه - والأَمْرُ مَقَادِيرَه - وأُلْحِقَ آخِرُ الْخَلْقِ بِأَوَّلِه - وجَاءَ مِنْ أَمْرِ اللَّه مَا يُرِيدُه - مِنْ تَجْدِيدِ خَلْقِه -

لیکن انسان اس مال کیزنجیروں میں جکڑا ہوا ہے اور موتنے سارے حالات کو بے نقاب کردیا ہے کہ ندامت سے اپنے ہاتھ کاٹ رہا ہے اور اس چیز سے کنارہ کش ہو نا چاہتا ہے جس کی طرف زندگی بھر راغب تھا۔اب یہ چاہتا ہے کہ کاش جو شخص اس سے اس مال کی بناپر حسد کر رہا تھا یہ مال اس کے پاس ہوتا اور اس کے پاس نہ ہوتا۔ اس کے بعد موت اس کے جسم میں مزید دراندازی کرتی ہے اور زبان کے ساتھ کانوں کوب ھی شامل کر لیتی ہے کہ انسان اپنے گھر والوں کے درمیان نہ بول سکتا ہے اور نہ سن سکتا ہے۔ہر ایک کے چہرہ کو حسرت سے دیکھ رہا ہے۔ان کے زبان کی جنبش کو بھی دیکھ رہا ہے لیکن الفاظ کو نہیں سن سکتا ہے۔ اس کے بعد موت اورچپک جاتی ہے تو کانوں کی طرح آنکھوں پر بھی قبضہ ہو جاتا ہے اور روح جسم سے پرواز کرجاتی ہے اب وہ گھر والوں کے درمیان ایک مردار ہوتا ہے ۔جس کے پہلو میں بیٹھنے سے بھی وحشت ہونے لگتی ہے اور لوگ دوربھاگنے لگتے ہیں ۔یہ اب نہ کسی رونے والے کو سہارا دے سکتا ہے اور نہ کسی پکارنے والے کی آواز پر آوازدے سکتا ہے۔لوگ اسے زمین کے ایک گڑھے تک پہنچادیتے ہیں اور اسے اس کے اعمال کے حوالہ کر دیتے ہیں کہ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔

یہاں تک کہ جب قسمت کالکھا اپنی آخری حد تک اور امر الٰہی اپنی مقررہ منزل تک پہنچ جائے گا اور آخرین کواولین سے ملا دیا جائے گا اور ایک نیا حکم الٰہی جائے گا کہ خلقت کی تجدید کی جائے تو


أَمَادَ السَّمَاءَ وفَطَرَهَا وأَرَجَّ الأَرْضَ وأَرْجَفَهَا - وقَلَعَ جِبَالَهَا ونَسَفَهَا - ودَكَّ بَعْضُهَا بَعْضاً مِنْ هَيْبَةِ جَلَالَتِه - ومَخُوفِ سَطْوَتِه - وأَخْرَجَ مَنْ فِيهَا فَجَدَّدَهُمْ بَعْدَ إِخْلَاقِهِمْ - وجَمَعَهُمْ بَعْدَ تَفَرُّقِهِمْ - ثُمَّ مَيَّزَهُمْ لِمَا يُرِيدُه مِنْ مَسْأَلَتِهِمْ - عَنْ خَفَايَا الأَعْمَالِ وخَبَايَا الأَفْعَالِ - وجَعَلَهُمْ فَرِيقَيْنِ - أَنْعَمَ عَلَى هَؤُلَاءِ وانْتَقَمَ مِنْ هَؤُلَاءِ - فَأَمَّا أَهْلُ الطَّاعَةِ فَأَثَابَهُمْ بِجِوَارِه - وخَلَّدَهُمْ فِي دَارِه - حَيْثُ لَا يَظْعَنُ النُّزَّالُ - ولَا تَتَغَيَّرُ بِهِمُ الْحَالُ - ولَا تَنُوبُهُمُ الأَفْزَاعُ - ولَا تَنَالُهُمُ الأَسْقَامُ ولَا تَعْرِضُ لَهُمُ الأَخْطَارُ - ولَا تُشْخِصُهُمُ الأَسْفَارُ - وأَمَّا أَهْلُ الْمَعْصِيَةِ - فَأَنْزَلَهُمْ شَرَّ دَارٍ وغَلَّ الأَيْدِيَ إِلَى الأَعْنَاقِ - وقَرَنَ النَّوَاصِيَ بِالأَقْدَامِ - وأَلْبَسَهُمْ سَرَابِيلَ الْقَطِرَانِ - ومُقَطَّعَاتِ النِّيرَانِ - فِي عَذَابٍ قَدِ اشْتَدَّ حَرُّه

یہ امر آسمانوں کو حرکت دے کر شگافتہ کردے گا اور زمین کو ہلا کر کھوکھلا کردے گا اورپہاڑوں کو جڑ سے اکھاڑ کر اڑا دے گا اور ہیبت جلال الٰہی اورخوف سطوت پروردگار سے ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں گے اور زمین سب کو باہرنکال دے گی اور انہیں دوبارہ بوسیدگی کے بعد تازہ حیات دے دی جائے گی اور انتشار کے بعد جمع کردیا جائے گا اورمخفی اعمال ' پوشیدہ افعال کے سوال کے لئے سب کو الگ الگ کردیاجائے گا اورمخلوقات دو گروہوں میں تقسیم ہو جائے گی ۔ایک گروہ مرکز نعمات ہوگا اوردوسرا محل انتقام۔

اہل اطاعت کو اس جوار رحمت میں ثواب اور دار جنت میں ہمیشگی کا انعام دیا جائے گا جہاں کے رہنے والے کوچ نہیں کرتے ہیں اور نہ ان کے حالات میں کوئی تغیر پیدا ہوتا ہے اور نہ ان پر رنج و الم طاری ہوتا ہے اور نہ انہیں کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے اور نہ کسی طرح کا خطرہ سامنے آتا ہے اور نہ سفر کی زحمت سے دو چارہونا پڑتا ہے۔لیکن اہل معصیت کے لئے بد ترین منزل ہوگی۔جہاں ہاتھ گردن(۱) سے بندھے ہوں گے اور پیشانیوں کو پیروں سے جوڑ دیا جائے گا۔تارکول اور آگ کے تراشیدہ لباس پہنائے جائیں گے۔اس عذاب میں جس کی گرمی شدید ہوگی

(۱) تعجب نہ کریں کہ خدائے رحمان و رحیم اپنے بندوں کے ساتھ اس طرح کا برتائو کس طرح کرے گا کہ یہ انجام انہیں لوگوں کا ہے جو دار دنیا میں اللہ کے کمزور اورنیک بندوں کے ساتھ اس سے بد تربرتائو کر چکے ہیں تو کیا مالک کائنات دنیا میں اختیارات دینے کے بعد آخرت میں بھی انہیں بہترین نعمتوں سے نوازدے گا اور مظلومین کا دنیا و آخرت میں کوئی پرسان حال نہ ہوگا ؟


وبَابٍ قَدْ أُطْبِقَ عَلَى أَهْلِه - فِي نَارٍ لَهَا كَلَبٌ ولَجَبٌ - ولَهَبٌ سَاطِعٌ وقَصِيفٌ هَائِلٌ - لَا يَظْعَنُ مُقِيمُهَا - ولَا يُفَادَى أَسِيرُهَا - ولَا تُفْصَمُ كُبُولُهَا - لَا مُدَّةَ لِلدَّارِ فَتَفْنَى - ولَا أَجَلَ لِلْقَوْمِ فَيُقْضَى.

زهد النبي

ومنها في ذكر النبيصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - قَدْ حَقَّرَ الدُّنْيَا وصَغَّرَهَا - وأَهْوَنَ بِهَا وهَوَّنَهَا - وعَلِمَ أَنَّ اللَّه زَوَاهَا عَنْه اخْتِيَاراً - وبَسَطَهَا لِغَيْرِه احْتِقَاراً - فَأَعْرَضَ عَنِ الدُّنْيَا بِقَلْبِه - وأَمَاتَ ذِكْرَهَا عَنْ نَفْسِه - وأَحَبَّ أَنْ تَغِيبَ زِينَتُهَا عَنْ عَيْنِه - لِكَيْلَا يَتَّخِذَ مِنْهَا رِيَاشاً - أَوْ يَرْجُوَ فِيهَا مَقَاماً - بَلَّغَ عَنْ رَبِّه مُعْذِراً - ونَصَحَ لأُمَّتِه مُنْذِراً ودَعَا إِلَى الْجَنَّةِ مُبَشِّراً - وخَوَّفَ مِنَ النَّارِ مُحَذِّراً.

اور جس کے دروازے بند ہوں گے اور اس جہنم میں جس میں شرارے بھی ہوں گے اور شورو غوغا بھی ۔ بھڑکتے ہوئے شعلے بھی ہوں گے اور ہولناک چیخیں بھی۔نہ یہاں کے رہنے والے کچ کریں گے اور نہ یہاں کے قیدیوں کو ئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ یہاں کی بیڑیاں جدا ہوسکتی ہیں ۔نہ اس گھر کی کوئی مدت ہے جو تمام ہو جائے اور نہ اسقوم کی کوئی اجل ہے جوختم کردی جائے۔

ذکر رسول اکرم (ص)

آپ نے اس دنیا کو ہمیشہ صغیر و حقیر اور ذلیل و پست تصور کیاہے اوریہ سمجھا ہے کہ پروردگار نے اس دنیا کو آپ سے الگ رکھا ہے اور دوسروں کے لئے فرش کردیا ہے تو یہ آپ کی عزت اور دنیا کی حقارت ہی کی بنیاد پر ہے لہٰذا آپ نے اس سے دل سے کنارہ کشی اختیار کی اور اس کی یاد کو دل سے بالکل نکال دیا اور یہ چاہا کہ اس کی زینتیں نگاہوں سے اوجھل رہیں تاکہ نہ عمدہ لباس زیب تن فرمائیں اور نہ کسی خاص مقام کی امید کریں۔آپ نے پروردگار کے پیغام کو پہنچانے میں سارے عذر تمام کردئیے اور امت کو عذاب الٰہی سے ڈراتے ہوئے نصیحت فرمائی جنت کی بشارت سنا کر اس کی طرف دعوت دی اورجہنم سے بچنے کی تلقین کرکے یاس کا خوف پیدا کرایا۔


أهل البيت

نَحْنُ شَجَرَةُ النُّبُوَّةِ - ومَحَطُّ الرِّسَالَةِ - ومُخْتَلَفُ الْمَلَائِكَةِ ،ومَعَادِنُ الْعِلْمِ ويَنَابِيعُ الْحُكْمِ - نَاصِرُنَا ومُحِبُّنَا يَنْتَظِرُ الرَّحْمَةَ - وعَدُوُّنَا ومُبْغِضُنَا يَنْتَظِرُ السَّطْوَةَ

(۱۱۰)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في أركان الدين

الإسلام

إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَوَسَّلَ بِه الْمُتَوَسِّلُونَ - إِلَى اللَّه سُبْحَانَه وتَعَالَى - الإِيمَانُ بِه وبِرَسُولِه والْجِهَادُ فِي سَبِيلِه - فَإِنَّه ذِرْوَةُ الإِسْلَامِ - وكَلِمَةُ الإِخْلَاصِ فَإِنَّهَا الْفِطْرَةُ - وإِقَامُ الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا الْمِلَّةُ - وإِيتَاءُ الزَّكَاةِ فَإِنَّهَا فَرِيضَةٌ وَاجِبَةٌ - وصَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ فَإِنَّه جُنَّةٌ مِنَ الْعِقَابِ - وحَجُّ الْبَيْتِ واعْتِمَارُه - فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ ويَرْحَضَانِ الذَّنْبَ - وصِلَةُ الرَّحِمِ - فَإِنَّهَا مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ ومَنْسَأَةٌ فِي الأَجَلِ - وصَدَقَةُ السِّرِّ فَإِنَّهَا تُكَفِّرُ الْخَطِيئَةَ - وصَدَقَةُ الْعَلَانِيَةِ فَإِنَّهَا تَدْفَعُ مِيتَةَ السُّوءِ - وصَنَائِعُ الْمَعْرُوفِ فَإِنَّهَا تَقِي مَصَارِعَ الْهَوَانِ.

أَفِيضُوا فِي ذِكْرِ اللَّه فَإِنَّه أَحْسَنُ الذِّكْرِ - وارْغَبُوا فِيمَا وَعَدَ الْمُتَّقِينَ فَإِنَّ وَعْدَه أَصْدَقُ الْوَعْدِ -

اہل بیت

ہم نبوت کا شجرہ' رسالت کی منزل ' ملائکہ کی رفت و آمد کی جگہ' علم کے معدن اورحکمت کے چشمے ہیں۔ ہمارا مدد گار اور محب ہمیشہ منتظر رحمت رہتا ہے اور ہمارا دشمن اور کینہ پرورہمیشہ منتظر لعنت و انتقام الٰہی رہتا ہے۔

(۱۱۰)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(ارکان اسلام کے بارے میں)

اللہ والوں کے لئے اس کی بارگاہ تک پہنچنے کا بہترین وسیلہ اللہ اور اس کے رسول (ص) پر ایمان اور راہ خدا میں جہاد ہے کہ جہاد اسلام کی سر بلندی ہے۔اور کلمہ اخلاص ہے کہ یہ فطرت الہیہ ہے اور نماز کا قیام ہے کہ یہ عین دین ہے اور زکوٰة کی ادائیگی ہے کہ یہ فریضہ واجب ہے اور ماہ رمضان کا روزہ ہے کہ یہ عذاب سے بچنے کی سپر ہے اورحج بیت اللہ ہے اور عمرہ ہے کہ یہ فقر کو دور کر دیتا ہے اورگناہوں کو دھو دیتا ہےاورصلہ رحم ہے کہ یہ مال میں اضافہ اور اجل کے ٹالنے کا ذریعہ ہے اور پوشیدہ طریقہ سے خیرات ہے کہ یہ گناہوں کا کفارہ ہے اور علی الاعلان صدقہ ہے کہ یہ بد ترین موت کے دفع کرنے کاذریعہ ہے اور اقربا کے ساتھ نیک سلوک ہے کہ یہ ذلت کے مقامات سے بچانے کا وسیلہ ہے ذکر خدا کی راہ میں آگے بڑھتے رہو کہ یہ بہترین ذکر ہے اور خدانےمتقین سے جو وعدہ کیا ہے اس کی طرف رغبت پیدا کرو کہ اس کا وعدہ سچا ہے۔


واقْتَدُوا بِهَدْيِ نَبِيِّكُمْ فَإِنَّه أَفْضَلُ الْهَدْيِ - واسْتَنُّوا بِسُنَّتِه فَإِنَّهَا أَهْدَى السُّنَنِ.

فضل القرآن

وتَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّه أَحْسَنُ الْحَدِيثِ - وتَفَقَّهُوا فِيه فَإِنَّه رَبِيعُ الْقُلُوبِ - واسْتَشْفُوا بِنُورِه فَإِنَّه شِفَاءُ الصُّدُورِ - وأَحْسِنُوا تِلَاوَتَه فَإِنَّه أَنْفَعُ الْقَصَصِ - وإِنَّ الْعَالِمَ الْعَامِلَ بِغَيْرِ عِلْمِه - كَالْجَاهِلِ الْحَائِرِ الَّذِي لَا يَسْتَفِيقُ مِنْ جَهْلِه - بَلِ الْحُجَّةُ عَلَيْه أَعْظَمُ والْحَسْرَةُ لَه أَلْزَمُ - وهُوَ عِنْدَ اللَّه أَلْوَمُ

(۱۱۱)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في ذم الدنيا

أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أُحَذِّرُكُمُ الدُّنْيَا - فَإِنَّهَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ حُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ وتَحَبَّبَتْ بِالْعَاجِلَةِ - ورَاقَتْ بِالْقَلِيلِ وتَحَلَّتْ بِالآمَالِ - وتَزَيَّنَتْ بِالْغُرُورِ لَا تَدُومُ حَبْرَتُهَا ولَا تُؤْمَنُ فَجْعَتُهَا

اپنے پیغمبر (ص) کی ہدایت کے راستہ پرچلو کہ یہ بہترین ہدایت ہے اور ان کی سنت کو اختیار کرو کہ یہ سب سے بہتر ہدایت کرنے والی ہے۔

قرآن کریم

قرآن مجید کا علم حاصل کرو کہ یہ بہترین کلام ہے اور اس میں غوروفکر کرو کہ یہ دلوں کی بہار ہے۔اس کے نور سے شفا حاصل کرو کہ یہ دلوں کے لئے شفا ہے اور اس کی باقاعدہ تلاوت کرو کہ یہ مفید ترین قصوں کا مرکز ہے۔اوریاد رکھو کہ اپنے علم کے خلاف عمل کرنے والا عالم بھی حیران و سرگردان جاہل جیسا ہے جسے جہالت سے کبھی افاقہ نہیں ہوتا ہے بلکہ اس پر حجت خدا زیادہ عظیم تر ہوتی ہے اور اس کے لئے حسرت و اندوہ بھی زیادہ لازم ہوتا ہے اور وہ بارگاہ الٰہی میں زیادہ قابل ملامت ہوتا ہے۔

(۱۱۱)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(مذمت دنیا کے بارے میں )

اما بعد ! میں تم لوگوں کو دنیا سے ہوشیار کر رہا ہوں کہ یہ شیریں اور شاداب ہے لیکن خواہشات میں گھری ہوئی ہے۔اپنی جلد مل جانے والی نعمتوں کی بنا پر محبوب بن جاتی ہے اور تھوڑی سی زینت سے خوبصورت بن جاتی ہے۔یہ امیدوں سے آراستہ ہے اور دھوکہ سے مزین ہے۔نہ اس کی خوشی دائمی ہے اور نہ اس کی مصیبت سے کوئی محفوظ رہنے والا ہے۔


غَرَّارَةٌ ضَرَّارَةٌ حَائِلَةٌ زَائِلَةٌ - نَافِدَةٌ بَائِدَةٌ أَكَّالَةٌ غَوَّالَةٌ - لَا تَعْدُو - إِذَا تَنَاهَتْ إِلَى أُمْنِيَّةِ أَهْلِ الرَّغْبَةِ فِيهَا والرِّضَاءِ بِهَا - أَنْ تَكُونَ كَمَا قَالَ اللَّه تَعَالَى سُبْحَانَه –( كَماءٍ أَنْزَلْناه مِنَ السَّماءِ - فَاخْتَلَطَ بِه نَباتُ الأَرْضِ - فَأَصْبَحَ هَشِيماً تَذْرُوه الرِّياحُ - وكانَ الله عَلى كُلِّ شَيْءٍ مُقْتَدِراً ) - لَمْ يَكُنِ امْرُؤٌ مِنْهَا فِي حَبْرَةٍ - إِلَّا أَعْقَبَتْه بَعْدَهَا عَبْرَةً - ولَمْ يَلْقَ فِي سَرَّائِهَا بَطْناً - إِلَّا مَنَحَتْه مِنْ ضَرَّائِهَا ظَهْراً ولَمْ تَطُلَّه فِيهَا دِيمَةُ رَخَاءٍ - إِلَّا هَتَنَتْ عَلَيْه مُزْنَةُ بَلَاءٍ -

یہ دھوکہ باز ' نقصان رساں ' بدل جانے والی ' فنا ہو جانے والی ' زوال پذیر اورہلاک(۱) ہو جانے والی ہے۔یہ لوگوں کو کھا بھی جاتی ہے اورمٹا بھی دیتی ہے۔جب اپنی طرف رغبت رکھنے والوں اور اپنے سے خوش ہو جانے والوں کی خواہشات کی انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو بالکل پروردگار کے اس ارشاد کے مطابق ہو جاتی ہے ''جیسے آسمان سے پانی نازل ہو کر زمین کے نباتات میں شامل ہو جائے اور پھر اس کے بعد وہ سبزہ سوکھ کر ایسا تنکا ہو جائے جسے ہوائیں اڑا لے جائیں اورخدا ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے '' اس دنیا میں کوئی شخص خوش نہیں ہوتا ہے مگر یہ کہ اسے بعد میں آنسو بہانا پڑے اور کوئی اس کی خوشی کو آتے نہیں دیکھتا ہے مگر یہ کہ وہ مصیبت میں ڈال کر پیٹھ دکھلا دیتی ہے اور کہیں راحت و آرام کی ہلکی بارش نہیں ہوتی ہے مگر یہ کہ بلائوں کا دوگڑا گرنے لگتا ہے۔اس کی شان ہی یہ ہے کہ اگر صبح کو کسی طرف سے بدلہ لینے کے لئے آتی ہے تو شام ہوتے ہوتے انجان بن جاتی ہے اور اگر ایک طرف سے شیریں اور خوش گوار نظر آتی ہے تو دوسرے رخ سے تلخ اور بلا خیز ہوتی ہے۔کوئی انسان اس کی تازگی سے اپنی خواہش پوری نہیں کرتا ہے مگر یہ کہ اس کے پے درپے مصائب کی بناپر رنج و تعب کا شکار ہو جاتا ہے

(۱)بعض نادانوں کا خیال ہے کہ جب دنیا باقی رہنے والی نہیں ہے اور اس کی شب و روز کا اعتبار نہیں ہے توبہترین بات یہ ہے کہ جس قدر حاصل ہو جائے انسان حاصل کرلے اوراس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو جائے کہ کہیں دوسرے دن ہاتھ سے نکل نہ جائے۔لیکن یہ خیال انہیں لوگوں کا ہے جو آخرت کی طرف سے یکسر غافل ہیں اور انہیں اس لطف اندوزی کے انجام کی خبر نہیں ہے ورنہ اس نکتہ کی طرف متوجہ ہو جاتے تو مار گزیدہ کی طرح تڑپنے کو بستر حریر پر آرام کرنے سے زیادہ پسند کرتے اور مفلس ترین زندگی گزارنے ہی کو عافیت و آرام تصور کرتے۔


وحَرِيٌّ إِذَا أَصْبَحَتْ لَه مُنْتَصِرَةً - أَنْ تُمْسِيَ لَه مُتَنَكِّرَةً - وإِنْ جَانِبٌ مِنْهَا اعْذَوْذَبَ واحْلَوْلَى - أَمَرَّ مِنْهَا جَانِبٌ فَأَوْبَى - لَا يَنَالُ امْرُؤٌ مِنْ غَضَارَتِهَا رَغَباً - إِلَّا أَرْهَقَتْه مِنْ نَوَائِبِهَا تَعَباً - ولَا يُمْسِي مِنْهَا فِي جَنَاحِ أَمْنٍ - إِلَّا أَصْبَحَ عَلَى قَوَادِمِ خَوْفٍ - غَرَّارَةٌ غُرُورٌ مَا فِيهَا فَانِيَةٌ - فَانٍ مَنْ عَلَيْهَا - لَا خَيْرَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَزْوَادِهَا إِلَّا التَّقْوَى - مَنْ أَقَلَّ مِنْهَا اسْتَكْثَرَ مِمَّا يُؤْمِنُه - ومَنِ اسْتَكْثَرَ مِنْهَا اسْتَكْثَرَ مِمَّا يُوبِقُه - وزَالَ عَمَّا قَلِيلٍ عَنْه - كَمْ مِنْ وَاثِقٍ بِهَا قَدْ فَجَعَتْه - وذِي طُمَأْنِينَةٍ إِلَيْهَا قَدْ صَرَعَتْه - وذِي أُبَّهَةٍ قَدْ جَعَلَتْه حَقِيراً - وذِي نَخْوَةٍ قَدْ رَدَّتْه ذَلِيلًا - سُلْطَانُهَا دُوَّلٌ وعَيْشُهَا رَنِقٌ - وعَذْبُهَا أُجَاجٌ وحُلْوُهَا صَبِرٌ - وغِذَاؤُهَا سِمَامٌ وأَسْبَابُهَا رِمَامٌ - حَيُّهَا بِعَرَضِ مَوْتٍ - وصَحِيحُهَا بِعَرَضِ سُقْمٍ - مُلْكُهَا مَسْلُوبٌ - وعَزِيزُهَا مَغْلُوبٌ - ومَوْفُورُهَا مَنْكُوبٌ - وجَارُهَا مَحْرُوبٌ - أَلَسْتُمْ فِي مَسَاكِنِ -

اور کوئی شخص شام کو امن و امان کے پروں پر نہیں رہتا ہے مگر یہ کہ صبح ہوتے ہوتے خوف کے بال و پر پر لاد دیا جاتا ہے۔یہ دنیا دھوکہ باز ہے اور اس کے اندر جوکچھ ہے سب دھوکہ ہے۔یہ فانی ہے اور اس میں جو کچھ ہے سب فنا ہونے والا ہے۔اس کے کسی زاد راہ میں کوئی خیر نہیں ہے سوائے تقویٰ کے۔اس میں سے جو کم حاصل کرتا ہے اسی کوراحت زیادہ نصیب ہوتی ہے اور جو زیادہ کے چکر میں پڑ جاتا ہے اس کے مہلکات بھی زیادہ ہو جاتے ہیں اور یہ بہت جلد اس سے الگ ہو جاتی ہے۔کتنے اس پراعتبار کرنے والے ہیں جنہیں اچانک مصیبتوں میں ڈال دیا گیا اورکتنے اس پر اطمینان کرنے والے ہیں جنہیں ہلاک کردیا گیا اور کتنے صاحبان حیثیت تھے جنہیں ذلیل بنا دیا گیا اور کتنے اکڑنے وہالے تھے جنہیں حقارت کے ساتھ پلٹا دیا گیا۔اس کی بادشاہی پلٹا کھانے والی۔اس کا عیش مکدر۔اس کا شیریں شور۔اس کا میٹھا کڑوا ۔اس کی غذاز ہر آلود اور اس کے اسباب سب بوسیدہ ہیں۔اس کا زندہ معرض ہلاکت میں ہے اور اس کا صحت مند بیماریوں کی زد پر ہے ۔اس کا ملک چھننے والا ہے اور اس کا صاحب عزت مغلوب ہونے والا ہے۔اس کا مالدار بد بختیوں کا شکار ہونے والا ہے اور اس کا ہمسایہ لٹنے والا ہے۔کیا تم انہیں کے گھروں(۱) میں نہیں ہو

(۱) دنیا سے عبرت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ خود اس کی تاریخ ہے کہ اس نے آج تک کسی سے وفا نہیں کی ہے۔اس کا ایک پیسہ بھی اس وقت تک کام نہیں آتا ہے جب تک مالک سے جدا نہیں ہو جاتا ہے اور اس کی سلطنت بھی اپنے سلطان کو فشار قبر سے نجات دینیوالی نہیں ہے۔ایسے حالات میں تاریخی حوادث سے آنکھ بند کر لینا جہالت کے ماسواکچھ نہیں ہے اور صاحب علم و عقل وہی ہے جو ماضی کے تجربات سے فائدہ اٹھائے۔


مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَطْوَلَ أَعْمَاراً - وأَبْقَى آثَاراً وأَبْعَدَ آمَالًا - وأَعَدَّ عَدِيداً وأَكْثَفَ جُنُوداً - تَعَبَّدُوا لِلدُّنْيَا أَيَّ تَعَبُّدٍ - وآثَرُوهَا أَيَّ إِيْثَارٍ - ثُمَّ ظَعَنُوا عَنْهَا بِغَيْرِ زَادٍ مُبَلِّغٍ - ولَا ظَهْرٍ قَاطِعٍ - فَهَلْ بَلَغَكُمْ أَنَّ الدُّنْيَا سَخَتْ لَهُمْ نَفْساً بِفِدْيَةٍ - أَوْ أَعَانَتْهُمْ بِمَعُونَةٍ - أَوْ أَحْسَنَتْ لَهُمْ صُحْبَةً - بَلْ أَرْهَقَتْهُمْ بِالْقَوَادِحِ - وأَوْهَقَتْهُمْ بِالْقَوَارِعِ - وضَعْضَعَتْهُمْ بِالنَّوَائِبِ - وعَفَّرَتْهُمْ لِلْمَنَاخِرِ ووَطِئَتْهُمْ بِالْمَنَاسِمِ - وأَعَانَتْ عَلَيْهِمْ رَيْبَ الْمَنُونِ - فَقَدْ رَأَيْتُمْ تَنَكُّرَهَا لِمَنْ دَانَ لَهَا - وآثَرَهَا وأَخْلَدَ إِلَيْهَا - حِينَ ظَعَنُوا عَنْهَا لِفِرَاقِ الأَبَدِ - وهَلْ زَوَّدَتْهُمْ إِلَّا السَّغَبَ - أَوْ أَحَلَّتْهُمْ إِلَّا الضَّنْكَ - أَوْ نَوَّرَتْ لَهُمْ إِلَّا الظُّلْمَةَ - أَوْ أَعْقَبَتْهُمْ إِلَّا النَّدَامَةَ - أَفَهَذِه تُؤْثِرُونَ أَمْ إِلَيْهَا تَطْمَئِنُّونَ - أَمْ عَلَيْهَا تَحْرِصُونَ - فَبِئْسَتِ الدَّارُ لِمَنْ لَمْ يَتَّهِمْهَا - ولَمْ يَكُنْ فِيهَا عَلَى وَجَلٍ مِنْهَا - فَاعْلَمُوا وأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ - بِأَنَّكُمْ تَارِكُوهَا وظَاعِنُونَ عَنْهَا - واتَّعِظُوا فِيهَا بِالَّذِينَ قَالُوا –( مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ) -

جو تم سے پہلے طویل عمر ' پائیدارآثار اور دور رس امیدوں والے تھے۔بے پناہ سامان مہیا کیا' بڑے بڑے لشکرتیار کئے اور جی بھر کردنیا کی پرستش کی اور اسے ہر چیز پرمقدم رکھا لیکن اس کے بعد یوں روانہ ہوگئے کہ نہ منزل تک پہنچانے والا زاد راہ ساتھ تھا اور نہ راستہ طے کرانے والی سواری۔کیا تم تک کوئی خبر پہنچی ہے کہ اس دنیا نے ان ک بچانے کے لئے کوئی فدیہ پیش کیا ہو یا ان کی کوئی مدد کی ہو یا ان کے ساتھ اچھا وقت گزارا ہو؟ہرگز نہیں بلکہ انہیں مصیبتوں میں گرفتار کردیا اورآفتوں سے عاجز و بے بسبنادیا۔پے درپے زحمتوں نے انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور ان کی ناک رگڑدی اور انہیں اپنے سموں سے روند ڈالا اور پھرحوادث روز گار کوبھی سہارا دے دیا اور تم نے دیکھ لیا کہ یہ اپنے اطاعت گزاروں ' چاہنے والوں اور چپکنے والوں کے لئے بھی ایسی انجان بن گئی کہ جب انہوں نے یہاں سے ہمیشہ کے لئے کوچ کیا تو انہیں سوائے بھوک کے کوئی زاد راہ اور سوائے تنگی لحد کے کوئی مکان نہیں دیا۔ظلمت ہی ان کی روشنی قرار پائی اورندامت ہی ان کا انجام ٹھہرا۔تو کیا تم اسی دنیا کو اختیار کر رہے ہو اور اسی پربھروسہ کر رہے ہو اور اسی کی لالچ میں مبتلا ہو۔یہ اپنے سے بد ظنی نہ رکھنے والوں اور احتیاط نہکرنے والوں کے لئے بد ترین مکان ہے۔لہٰذا یاد رکھو اور تمہیں معلوم بھی ہے کہ تم اسے چھوڑنے والے ہواور اس سے کوچ کرنے والے ہو۔ان لوگوں سے نصیحت حاصل کرو جنہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ '' ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے ''


حُمِلُوا إِلَى قُبُورِهِمْ - فَلَا يُدْعَوْنَ رُكْبَاناً - وأُنْزِلُوا الأَجْدَاثَ فَلَا يُدْعَوْنَ ضِيفَاناً - وجُعِلَ لَهُمْ مِنَ الصَّفِيحِ أَجْنَانٌ - ومِنَ التُّرَابِ أَكْفَانٌ ومِنَ الرُّفَاتِ جِيرَانٌ - فَهُمْ جِيرَةٌ لَا يُجِيبُونَ دَاعِياً - ولَا يَمْنَعُونَ ضَيْماً ولَا يُبَالُونَ مَنْدَبَةً - إِنْ جِيدُوا لَمْ يَفْرَحُوا - وإِنْ قُحِطُوا لَمْ يَقْنَطُوا - جَمِيعٌ وهُمْ آحَادٌ وجِيرَةٌ وهُمْ أَبْعَادٌ - مُتَدَانُونَ لَا يَتَزَاوَرُونَ - وقَرِيبُونَ لَا يَتَقَارَبُونَ - حُلَمَاءُ قَدْ ذَهَبَتْ أَضْغَانُهُمْ - وجُهَلَاءُ قَدْ مَاتَتْ أَحْقَادُهُمْ - لَا يُخْشَى فَجْعُهُمْ - ولَا يُرْجَى دَفْعُهُمْ - اسْتَبْدَلُوا بِظَهْرِ الأَرْضِ بَطْناً - وبِالسَّعَةِ ضِيقاً وبِالأَهْلِ غُرْبَةً - وبِالنُّورِ ظُلْمَةً فَجَاءُوهَا كَمَا فَارَقُوهَا - حُفَاةً عُرَاةً،

قَدْ ظَعَنُوا عَنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ - إِلَى الْحَيَاةِ الدَّائِمَةِ والدَّارِ الْبَاقِيَةِ كَمَا قَالَ سُبْحَانَه وتَعَالَى –( كَما بَدَأْنا أَوَّلَ خَلْقٍ - نُعِيدُه وَعْداً عَلَيْنا إِنَّا كُنَّا فاعِلِينَ )

اور پھر وہ بھی اپنی قبروں کی طرف اس طرح پہنچائے گئے کہ انہیں سواری بھی نصیب نہیں ہوئی اور قبروں میں اس طرح اتار دیا گیا کہ انہیں مہمان بھی نہیں کہا گیا پتھروں سے ان کی قبریں چن دی گئیں اور مٹی سے انہیں کفن دے دیا گیا۔سڑی گلی ہڈیاں ان کی ہمسایہ بن گئیں اور اب یہ سب ایسے ہمسایہ ہیں کہ کسی پکارنے والے کی آواز پرلبیک نہیں کہتے ہیں اور نہ کسی زیادتی کو روک سکتے ہیں اور نہ کسی رونے والے کی پرواہ کرتے ہیں۔اگر ان پر موسلا دھار بارش ہو تو انہیں خوشی نہیں ہوتی ہے اور اگر قحط پڑ جائے تو مایوسی کا شکار نہیں ہوتے ہیں۔یہ سب ایک مقام پرجمع ہیں مگر اکیلے ہیں اور ہمسایہ ہیں مگر دور دور ہیں۔ایسے ایک دوسرے سے قریب کہ ملاقات تک نہیں کرتے ہیں اور ایسے نزدیک کہ ملتے بھی نہیں ہیں۔اب ایسے برباد ہوگئے ہیں کہ سارا کینہ ختم ہوگیا ہے اورایسے بے خبر ہیں کہ سارا بغض وعنادمٹ گیا ہے۔نہ ان سے کسی ضرر کا اندیشہ ہے اورنہ کسی دفاع کی امیدہے زمین کے ظاہرکے بجائے باطن کو اوروسعت کے بجائے تنگی کو اورساتھیوں کے بدلے غربت کو اورنور کے بدلے ظلمت کو اختیار کرلیا ہے۔اس کی گود میں ویسے ہی آگئے ہیں جیسے پہلے الگ ہوئے تھے پا برہنہ اورننگے۔اپنے اعمال سمیت دائمی زندگی اور ابدی مکان کی طرف کوچ کرگئے ہیں جیساکہ مالک کائنات نے فرمایا ہے '' جس طرح ہم نے پہلے بنایا تھا ویسے ہی واپس لے آئیں گے یہ ہمارا وعدہ ہے اور ہم اسے بہرحال انجام دینے والے ہیں ''۔


(۱۱۲)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

ذكر فيها ملك الموت وتوفية النفس وعجز الخلق عن وصف اللَّه

هَلْ تُحِسُّ بِه إِذَا دَخَلَ مَنْزِلًا - أَمْ هَلْ تَرَاه إِذَا تَوَفَّى أَحَداً - بَلْ كَيْفَ يَتَوَفَّى الْجَنِينَ فِي بَطْنِ أُمِّه - أَيَلِجُ عَلَيْه مِنْ بَعْضِ جَوَارِحِهَا - أَمْ الرُّوحُ أَجَابَتْه بِإِذْنِ رَبِّهَا - أَمْ هُوَ سَاكِنٌ مَعَه فِي أَحْشَائِهَا - كَيْفَ يَصِفُ إِلَهَه - مَنْ يَعْجَزُ عَنْ صِفَةِ مَخْلُوقٍ مِثْلِه!

(۱۱۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في ذم الدنيا

وأُحَذِّرُكُمُ الدُّنْيَا فَإِنَّهَا مَنْزِلُ قُلْعَةٍ - ولَيْسَتْ بِدَارِ نُجْعَةٍ - قَدْ تَزَيَّنَتْ بِغُرُورِهَا - وغَرَّتْ بِزِينَتِهَا - دَارُهَا هَانَتْ عَلَى رَبِّهَا فَخَلَطَ حَلَالَهَا بِحَرَامِهَا - وخَيْرَهَا بِشَرِّهَا وحَيَاتَهَا بِمَوْتِهَا وحُلْوَهَا بِمُرِّهَا

(۱۱۲)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں ملک الموت ' ان کے قبض روح اورمخلوقات کے توصیف الٰہی سے عاجزی کا ذکرکیا گیا ہے)

کیا جس وقت ملک الموت گھر میں داخل ہوتے ہیں تمہیں کوئی احساسا ہوتا ہے اور کیا انہیں روح قبض کرتے ہوئے تم نے کبھی دیکھا ہے؟ بھلا وہ شکم مادرمیں بچہ کو کس طرح مارتے ہیں۔کیا کسی طرف سے اندرداخل ہو جاتے ہیں یا روح ہی ان کی آواز پر لبیک کہتی ہوئی شکل آتی ہے یا پہلے سے بچہ کے پہلو میں رہتے ہیں۔سوچو! کہ جو شخص ایک خلوق کے کمالات کو نہ سمجھ سکتا ہو وہ خالق کے اوصاف کو کیا بیان کرسکے گا ۔

(۱۱۳)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(مذمت دنیا میں )

میں تمہیں اس دنیا سے ہوشیار کر رہاہوں کہ یہ کوچ کی جگہ ہے۔آب و دانہ کی منزل نہیں ہے۔ یہ اپنے دھوکہ ہی سے آراستہ ہوگئی ہے اور اپنی آرائش ہی سے دھوکہ دیتی ہے۔اس کا گھر پروردگار کی نگاہ میں بالکل بے ارزش ہے اسی لئے اس نے اس کے حلال کے ساتھ حرام خیر کے ساتھ شر ' زندگی کے ساتھ موت اور شیریں کے ساتھ تلخ کو رکھ دیا ہے


لَمْ يُصْفِهَا اللَّه تَعَالَى لأَوْلِيَائِه - ولَمْ يَضِنَّ بِهَا عَلَى أَعْدَائِه – خَيْرُهَا زَهِيدٌ وشَرُّهَا عَتِيدٌ - وجَمْعُهَا يَنْفَدُ ومُلْكُهَا يُسْلَبُ وعَامِرُهَا يَخْرَبُ - فَمَا خَيْرُ دَارٍ تُنْقَضُ نَقْضَ الْبِنَاءِ - وعُمُرٍ يَفْنَى فِيهَا فَنَاءَ الزَّادِ - ومُدَّةٍ تَنْقَطِعُ انْقِطَاعَ السَّيْرِ - اجْعَلُوا مَا افْتَرَضَ اللَّه عَلَيْكُمْ مِنْ طَلَبِكُمْ واسْأَلُوه مِنْ أَدَاءِ حَقِّه مَا سَأَلَكُمْ.وأَسْمِعُوا دَعْوَةَ الْمَوْتِ - آذَانَكُمْ قَبْلَ أَنْ يُدْعَى بِكُمْ - إِنَّ الزَّاهِدِينَ فِي الدُّنْيَا تَبْكِي قُلُوبُهُمْ وإِنْ ضَحِكُوا - ويَشْتَدُّ حُزْنُهُمْ وإِنْ فَرِحُوا - ويَكْثُرُ مَقْتُهُمْ أَنْفُسَهُمْ وإِنِ اغْتَبَطُوا بِمَا رُزِقُوا - قَدْ غَابَ عَنْ قُلُوبِكُمْ ذِكْرُ الآجَالِ - وحَضَرَتْكُمْ كَوَاذِبُ الآمَالِ - فَصَارَتِ الدُّنْيَا أَمْلَكَ بِكُمْ مِنَ الآخِرَةِ - والْعَاجِلَةُ أَذْهَبَ بِكُمْ مِنَ الآجِلَةِ - وإِنَّمَا أَنْتُمْ إِخْوَانٌ عَلَى دِينِ اللَّه - مَا فَرَّقَ بَيْنَكُمْ إِلَّا خُبْثُ السَّرَائِرِ - وسُوءُ الضَّمَائِرِ - فَلَا تَوَازَرُونَ ولَا تَنَاصَحُونَ - ولَا تَبَاذَلُونَ ولَا تَوَادُّونَ - مَا بَالُكُمْ تَفْرَحُونَ بِالْيَسِيرِ مِنَ الدُّنْيَا تُدْرِكُونَه

اور نہ اس نے اپنے اولیاء کے لئے مخصوص کیا ہے اور نہ اپنے دشمنوں کواس سے محروم رکھا ہے۔اس کا خیر بہت کم ہے اور اس کا شر ہر وقت حاضر ہے۔اس کاجمع کیا ہوا ختم ہو جانے والا ہے اور اس کاملک چھن جانے والا ہے اور اس کے آباد کوایک دن خراب ہو جانا ہے۔بھلا اس گھرمیں کیا خوبی ہے جو کمزور عمارت کی طرح گر جائے اور اس عمر میں کیا بھلائی ہے جو زاد راہ کی طرح ختم ہو جائے اوراس زندگی میں کیا حسن ہے جو چلتے پھرتے تمام ہو جائے۔

دیکھواپنے مطلوبہ امورمیں فرائض الہیہ کو بھی شامل کرلو اور اسی کے حق کے ادا کرنے کی توفیق کا مطالبہ کرو۔اپنے کانوں کو موت کی آواز سنا دو قبل اس کے کہ تمہیں بلا لیا جائے۔دنیا میں زاہدوں کی شان یہی ہوتی ہے کہ وہ خوش بھی ہوتے ہیںتوان کا دل روتا رہتا ہے۔اوروہ ہنستے بھی ہیں توان کا رنج و اندوہ شدید ہوتا ہے۔وہ خود اپنے نفس سے بیزار رہتے ہیں چاہے لوگ ان کے رزق سے غبطہ ہی کیوں نہ کریں۔افسوس تمہارے دلوں سے موت کی یاد نکل گئی ہے اورجھوٹی امیدوں نے ان پرقبضہ کرلیا ہے۔اب دنیا کا اختیار تمہارے اوپرآخرت سے زیادہ ہے اوروہ عاقبت سے زیادہ تمہیں کھینچ رہی ہے۔تم دین خدا کے اعتبارسے بھائی بھائی تھے۔لیکن تمہیں باطن کی خباثت اور ضمیر کی خرابی نے الگ الگ کردیا ہے کہ اب نہ کسی کا بوجھ بٹاتے ہو۔نہ نصیحت کرتے ہو۔نہ ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہو اورنہ ایک دوسرے سے واقعاً محبت کرتے ہو۔آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ معمولی سی دنیا کو پاکرخوش ہو جاتے ہو


ولَا يَحْزُنُكُمُ الْكَثِيرُ مِنَ الآخِرَةِ تُحْرَمُونَه - ويُقْلِقُكُمُ الْيَسِيرُ مِنَ الدُّنْيَا يَفُوتُكُمْ - حَتَّى يَتَبَيَّنَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِكُمْ - وقِلَّةِ صَبْرِكُمْ عَمَّا زُوِيَ مِنْهَا عَنْكُمْ - كَأَنَّهَا دَارُ مُقَامِكُمْ وكَأَنَّ مَتَاعَهَا بَاقٍ عَلَيْكُمْ - ومَا يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ أَنْ يَسْتَقْبِلَ أَخَاه بِمَا يَخَافُ مِنْ عَيْبِه - إِلَّا مَخَافَةُ أَنْ يَسْتَقْبِلَه بِمِثْلِه - قَدْ تَصَافَيْتُمْ عَلَى رَفْضِ الآجِلِ وحُبِّ الْعَاجِلِ - وصَارَ دِينُ أَحَدِكُمْ لُعْقَةً عَلَى لِسَانِه - صَنِيعَ مَنْ قَدْ فَرَغَ مِنْ عَمَلِه وأَحْرَزَ رِضَى سَيِّدِه.

(۱۱۴)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وفيها مواعظ للناس

الْحَمْدُ لِلَّه الْوَاصِلِ الْحَمْدَ بِالنِّعَمِ - والنِّعَمَ بِالشُّكْرِ نَحْمَدُه عَلَى آلَائِه - كَمَا نَحْمَدُه عَلَى بَلَائِه - ونَسْتَعِينُه عَلَى هَذِه النُّفُوسِ الْبِطَاءِ - عَمَّا أُمِرَتْ بِه - السِّرَاعِ إِلَى مَا نُهِيَتْ عَنْه - ونَسْتَغْفِرُه مِمَّا أَحَاطَ بِه عِلْمُه

اور مکمل آخرت سے محروم ہو کر رنجیدہ نہیں ہوتے ہو۔تھوڑی سی دنیا ہاتھ سے نکل جائے تو پریشان ہوجاتے ہو اور اس کا اثر تمہارے چہروں سے ظاہر ہو جاتا ہے اوراس کی علیحدگی پر صبر نہیں کرپاتے ہو جیسے وہی تمہاری منزل ہے اور جیسے اس کا سرمایہ واقعی باقی رہنے والا ہے۔تمہاری حالت یہ ہے کہ کوئی شخص بھی دوسرے کے عیب کے اظہار سے باز نہیں آتا ہے مگر صرف اس خوف سے کہ وہ بھی اسی طرح پیشآئے گا۔تم سبنے آخرت کونظر انداز کرنے اوردنیا کی محبت پر اتحاد کرلیا ہے اور ہر ایک کا دین زبان کی چٹنی بن کر رہ گیاہے۔ایسا لگتا ہے کہ جیسے سب نے اپناعمل مکمل کرلیا ہے اور اپنے مالک کو واقعاً خوش کرلیا ہے۔

(۱۱۴)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں لوگوں کی نصیحت کا سامان فراہم کیا گیا ہے)

ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے حمد کو نعمتوں سے اورنعمتوں کو شکریہ سے ملا دیا ہے۔ہم نعمتوں میں اس کی حمد اسی طرح کرتے ہیں 'جس طرح مصیبتوں میں کرتے ہیں اوراس سے اس نفس کےمقابلہ کے لئے مدد کے طلب گار ہیں جو اوامر کی تعمیل میں سستی کرتا ہے اور نواہی کی طرف تیزی سے بڑھ جاتا ہے۔ان تمام غلطیوں کے لئے استغفار کرتے ہیں جنہیں اس کے علم نے احاطہ کررکھا ہے


وأَحْصَاه كِتَابُه عِلْمٌ غَيْرُ قَاصِرٍ - وكِتَابٌ غَيْرُ مُغَادِرٍ - ونُؤْمِنُ بِه إِيمَانَ مَنْ عَايَنَ الْغُيُوبَ - ووَقَفَ عَلَى الْمَوْعُودِ - إِيمَاناً نَفَى إِخْلَاصُه الشِّرْكَ ويَقِينُه الشَّكَّ - ونَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وَحْدَه لَا شَرِيكَ لَه - وأَنَّ مُحَمَّداًصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عَبْدُه ورَسُولُه - شَهَادَتَيْنِ تُصْعِدَانِ الْقَوْلَ وتَرْفَعَانِ الْعَمَلَ - لَا يَخِفُّ مِيزَانٌ تُوضَعَانِ فِيه - ولَا يَثْقُلُ مِيزَانٌ تُرْفَعَانِ عَنْه.

أُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّه بِتَقْوَى اللَّه - الَّتِي هِيَ الزَّادُ وبِهَا الْمَعَاذُ - زَادٌ مُبْلِغٌ ومَعَاذٌ مُنْجِحٌ - دَعَا إِلَيْهَا أَسْمَعُ دَاعٍ - ووَعَاهَا خَيْرُ وَاعٍ - فَأَسْمَعَ دَاعِيهَا وفَازَ وَاعِيهَا.

عِبَادَ اللَّه إِنَّ تَقْوَى اللَّه حَمَتْ أَوْلِيَاءَ اللَّه مَحَارِمَه - وأَلْزَمَتْ قُلُوبَهُمْ مَخَافَتَه - حَتَّى أَسْهَرَتْ لَيَالِيَهُمْ وأَظْمَأَتْ هَوَاجِرَهُمْ - فَأَخَذُوا الرَّاحَةَ بِالنَّصَبِ والرِّيَّ بِالظَّمَإِ

اور اس کی کتاب نے جمع کر رکھا ہے۔اس کا علم قاصر نہیں ہے اور اس کی کتاب کوئی چیز چھوڑنے والی نہیں ہے۔ہم اس پر اسی طرح ایمان لائے ہیں جیسے غیب کا مشاہدہ کرلیا ہو اوروعدہ سے آگاہی حاصل کرلی ہو۔ہمارے اس ایمان کے اخلاص نے شرک کی نفی کی ہے اور اس کے یقین نے شک کا ازالہ کیا ہے۔ہم گواہی دیتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور حضرت محمد (ص) اس کے بندہ اور رسول ہیں۔یہ دونوں شہادتیں وہ ہیں جو اقوال کو بلندی دیتی ہیں اور اعمال کو رفعت عطا کرتی ہیں۔جہاں یہ رکھ دی جائیں وہ پلہ ہلکا نہیں ہوتا ہے اور جہاں سے انہیں اٹھا لیا جائے اس پلہ میں کوئی وزن نہیں رہ جاتا ہے۔

اللہ کے بندو! میں تمہیں تقویٰ الٰہی کی وصیت کرتا ہوں جو تمہارے لئے زاد راہ ہے اور اسی پر آخرت کا دارومدار ہے۔یہی زاد راہ منزل تک پہنچانے والا ہے اوریہی پناہ گاہ کام آنے والی ہے۔اسی کی طرف سب سے بہتر داعی نے دعوت دے دی ہے اوراسے سب سے بہتر سننے والے نے محفوظ کرلیا ہے۔چنانچہ اس کے سنانے والے نے سنادیا اوراس کے محفوظ کرنے والے نے کامیابی حاصل کرلی۔ اللہ کے بندو!اسی تقویٰ الٰہی نے اولیاء خداکو محرمات سے بچا کر رکھا ہے اوران کے دلوں میں خوف خدا کو لازم کردیا ہے یہاں تک کہ ان کی راتیں بیدار کی نذر ہوگئیں اوران کے یہ تپتے ہوئے دن پیاس میں گزر گئے۔ انہوں نے راحت کو تکلیف کے عوض اورسیرابی کو پیاس کے ذریعہ حاصل کیا


واسْتَقْرَبُوا الأَجَلَ فَبَادَرُوا الْعَمَلَ - وكَذَّبُوا الأَمَلَ فَلَاحَظُوا الأَجَلَ - ثُمَّ إِنَّ الدُّنْيَا دَارُ فَنَاءٍ وعَنَاءٍ وغِيَرٍ وعِبَرٍ - فَمِنَ الْفَنَاءِ أَنَّ الدَّهْرَ مُوتِرٌ قَوْسَه - لَا تُخْطِئُ سِهَامُه - ولَا تُؤْسَى جِرَاحُه يَرْمِي الْحَيَّ بِالْمَوْتِ - والصَّحِيحَ بِالسَّقَمِ - والنَّاجِيَ بِالْعَطَبِ - آكِلٌ لَا يَشْبَعُ وشَارِبٌ لَا يَنْقَعُ - ومِنَ الْعَنَاءِ أَنَّ الْمَرْءَ يَجْمَعُ مَا لَا يَأْكُلُ - ويَبْنِي مَا لَا يَسْكُنُ - ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى اللَّه تَعَالَى - لَا مَالًا حَمَلَ ولَا بِنَاءً نَقَلَ - ومِنْ غِيَرِهَا أَنَّكَ تَرَى الْمَرْحُومَ مَغْبُوطاً - والْمَغْبُوطَ مَرْحُوماً - لَيْسَ ذَلِكَ إِلَّا نَعِيماً زَلَّ وبُؤْساً نَزَلَ - ومِنْ عِبَرِهَا أَنَّ الْمَرْءَ يُشْرِفُ عَلَى أَمَلِه - فَيَقْتَطِعُه حُضُورُ أَجَلِه - فَلَا أَمَلٌ يُدْرَكُ - ولَا مُؤَمَّلٌ يُتْرَكُ - فَسُبْحَانَ اللَّه مَا أَعَزَّ سُرُورَهَا - وأَظْمَأَ رِيَّهَا وأَضْحَى فَيْئَهَا - لَا جَاءٍ يُرَدُّ

ہے۔وہ موت کو قریب تر سمجھتے ہیں تو تیز عمل کرتے ہیں اور انہوں نے امیدوں کو جھٹلا دیا ہے تو موت کونگاہ میں رکھا ہے۔پھریہ دنیا تو بہرحال فنا اور تکلیف ' تغیر اورعبرت کامقام ہے۔فنا ہی کانتیجہ ہے کہ زمانہ ہر وقت اپنی کمان چڑھائے رہتا ہے کہ اس کے تیر خطانہیں کرتے ہیں اور اس کے زخموں کا علاج نہیں ہو پاتا ہے۔وہ زندہ کو موت سے ' صحت مند کو بیماری سے اورنجات پانے والے کو ہلاکت سے مار دیتا ہے۔اس کاکھانے والا سیر نہیں ہوتا ہے اور پینے والا سیراب نہیں ہوتا ہے۔اور اس کے رنج و تعب کا اثر یہ ہے کہ انسان اپنے کھانے کا سامان فراہم کرتا ہے ' رہنے کے لئے مکان بناتا ہے اور اس کے بعداچانک خدا کی بارگاہ کی طرف چل دیتا ہے۔نہ مال ساتھ لے جاتا ہے اور نہ مکان منتقل ہو پاتا ہے۔

اس کے تغیرات کا حال یہ ہے کہ جسے قابل رحم دیکھا تھا وہ قابل رشک ہو جاتا ہے اور جسے قابل رشک دیکھا تھا وہ قابل رحم ہو جاتا ہے۔گویا ایک نعمت ہے جو زائل ہوگئی اور ایک بلاء ہے جو نازل ہوگئی۔اس کی عبرتوں کی مثال یہ ہے کہ انسان اپنی امیدوں تک پہنچنے والا ہی ہوتا ہے کہ موت اس کے سلسلہ کو قطع کردیتی ہے اور نہ کوئی امید حاصل ہوتی ہے اور نہ امید کرنے والا ہی چھوڑاجاتا ہے۔اے سبحان اللہ! اس دنیا کی خوشی بھی کیا دھوکہ ہے اور اس کی سیرابی بھی کیسی تشنہ کامی ہے اور اس کے سایہ میں بھی کس قدردھوپ ہے۔نہ یہاں آنے والی موت کو واپس کیا جا سکتا ہے


ولَا مَاضٍ يَرْتَدُّ - فَسُبْحَانَ اللَّه - مَا أَقْرَبَ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ لِلَحَاقِه بِه - وأَبْعَدَ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ لِانْقِطَاعِه عَنْه!

إِنَّه لَيْسَ شَيْءٌ بِشَرٍّ مِنَ الشَّرِّ إِلَّا عِقَابُه - ولَيْسَ شَيْءٌ بِخَيْرٍ مِنَ الْخَيْرِ إِلَّا ثَوَابُه - وكُلُّ شَيْءٍ مِنَ الدُّنْيَا سَمَاعُه أَعْظَمُ مِنْ عِيَانِه - وكُلُّ شَيْءٍ مِنَ الآخِرَةِ عِيَانُه أَعْظَمُ مِنْ سَمَاعِه - فَلْيَكْفِكُمْ مِنَ الْعِيَانِ السَّمَاعُ - ومِنَ الْغَيْبِ الْخَبَرُ - واعْلَمُوا أَنَّ مَا نَقَصَ مِنَ الدُّنْيَا - وزَادَ فِي الآخِرَةِ - خَيْرٌ مِمَّا نَقَصَ مِنَ الآخِرَةِ - وزَادَ فِي الدُّنْيَا - فَكَمْ مِنْ مَنْقُوصٍ رَابِحٍ ومَزِيدٍ خَاسِرٍ - إِنَّ الَّذِي أُمِرْتُمْ بِه أَوْسَعُ مِنَ الَّذِي نُهِيتُمْ عَنْه - ومَا أُحِلَّ لَكُمْ أَكْثَرُ مِمَّا حُرِّمَ عَلَيْكُمْ - فَذَرُوا مَا قَلَّ لِمَا كَثُرَ ومَا ضَاقَ لِمَا اتَّسَعَ - قَدْ تَكَفَّلَ لَكُمْ بِالرِّزْقِ - وأُمِرْتُمْ بِالْعَمَلِ - فَلَا يَكُونَنَّ الْمَضْمُونُ لَكُمْ طَلَبُه - أَوْلَى بِكُمْ مِنَ الْمَفْرُوضِ عَلَيْكُمْ عَمَلُه - مَعَ أَنَّه واللَّه لَقَدِ اعْتَرَضَ الشَّكُّ - ودَخِلَ الْيَقِينُ - حَتَّى كَأَنَّ الَّذِي ضُمِنَ لَكُمْ قَدْ فُرِضَ عَلَيْكُمْ

اور نہ کسی جانے والے کو پلٹایا جاسکتا ہے۔سبحان اللہ زندہ مردہ سے کس قدر جلدی ملحق ہو کر قریب تر ہو جاتا ہے اورمردہ زندہ سے رشتہ توڑ کر کس قدر دور ہو جاتا ہے۔(یاد رکھو) شر سے بدتر کوئی شے اس کے عذا کے علاوہ نہیں ہے اورخیر سے بہتر کوئی شے اس کے ثواب کے سوا نہیں ہے۔دنیا میں ہرش ے کا سننا اس کے دیکھنے سے عظیم تر ہوتا ہے اورآخرت میں ہر شے کا دیکھنا اس کے سننے سے بڑھ چڑھ کر ہوتا ہے لہٰذا تمہارے لئے دیکھنے کے بجائے سننا اور غیب کے مشاہدہ کے بجائے خبر ہی کو کافی ہو جانا چاہیے۔یاد رکھو کہ دنیا میں کسی شے کا کم ہونا اور آخرت میں زیادہ ہونا اس سے بہتر ہے کہ دنیا میں زیادہ ہو اورآخرتمیں کم ہو جائے کہ کتنے ہی کمی والے فائدہ میں رہتے ہیں اور کتنے ہی زیادتی والے گھاٹے میں رہ جاتے ہیں۔بیشک جن چیزوں کا تمہیں حکم دیا گیاہے ان میں زیادہ وسعت ہے یہ نسبت ان چیزوں کے جن سے روکا گیا ہے اور جنہیں حلالا کیا گیا ہے وہ ان سے کہیں زیادہ ہیں جنہیں حرام قراردیا گیا ہے لہٰذا قلیل کو کثیر کے لئے اور تنگی کو وسعت کی خاطرچھوڑ دو۔پروردگار نے تمہارے رزق کی ذمہ داری لی ہے ۔اور عمل کرنے کاحکم دیا ہے لہٰذا ایسا نہ ہو کہ جس کی ضمانت لی گئی ہے اس کی طلب اس سے زیادہ ہو جائے جس کو فرض کیا گیا ہے۔خدا گواہ ہے کہ تمہارے حالات کو دیکھ کر یہ شبہ ہونے لگتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ شائد جس کی ضمانت لی گئی ہے وہی تم پرواجب کیا گیا ہے


وكَأَنَّ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْكُمْ قَدْ وُضِعَ عَنْكُمْ - فَبَادِرُوا الْعَمَلَ وخَافُوا بَغْتَةَ الأَجَلِ - فَإِنَّه لَا يُرْجَى مِنْ رَجْعَةِ الْعُمُرِ - مَا يُرْجَى مِنْ رَجْعَةِ الرِّزْقِ - مَا فَاتَ الْيَوْمَ مِنَ الرِّزْقِ رُجِيَ غَداً زِيَادَتُه - ومَا فَاتَ أَمْسِ مِنَ الْعُمُرِ - لَمْ يُرْجَ الْيَوْمَ رَجْعَتُه - الرَّجَاءُ مَعَ الْجَائِي والْيَأْسُ مَعَ الْمَاضِي - فَـ( اتَّقُوا الله حَقَّ تُقاتِه - ولا تَمُوتُنَّ إِلَّا وأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ) .

(۱۱۵)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في الاستسقاء

اللَّهُمَّ قَدِ انْصَاحَتْ جِبَالُنَا - واغْبَرَّتْ أَرْضُنَا وهَامَتْ دَوَابُّنَا - وتَحَيَّرَتْ فِي مَرَابِضِهَا - وعَجَّتْ عَجِيجَ الثَّكَالَى عَلَى أَوْلَادِهَا - ومَلَّتِ التَّرَدُّدَ فِي مَرَاتِعِهَا - والْحَنِينَ إِلَى مَوَارِدِهَا - اللَّهُمَّ فَارْحَمْ أَنِينَ الآنَّةِ - وحَنِينَ الْحَانَّةِ - اللَّهُمَّ فَارْحَمْ حَيْرَتَهَا فِي مَذَاهِبِهَا - وأَنِينَهَا فِي مَوَالِجِهَا - اللَّهُمَّ خَرَجْنَا إِلَيْكَ - حِينَ اعْتَكَرَتْ عَلَيْنَا حَدَابِيرُ السِّنِينَ -

اور جس کاحکم دیا گیا ہے اسی کو ساقط کردیا گیا ہے۔خدا را عمل کی طرف سبقت کرو اور موت کے اچانک وارد ہو جانے سے ڈرواس لئے کہ موت کے واپس ہونے کی وہ امید نہیں ہے جس قدر رزق کے پلٹ کرآجانے کی ہے۔جو رزق آج ہاتھ سے نکل گیا ہے اس کے کل اضافہ کا امکان ہے لیکن جو عمرآج نکل گئی ہے اس کے کل واپس آنے کا بھی امکان نہیں ہے۔امید آنے والے کی ہو سکتی ہے جانے والے کی نہیں اس سے تو مایوسی ہی ہو سکتی ہے ''اللہ سے اس طرح ڈرو جو ڈرنے کاحق ہے اور خبردار اس وقت تک دنیا سے نہ جانا جب تک واقعی مسلمان نہ ہوجائو''۔

(۱۱۵)

(آپ کے خطبہ کا ایک حصہ)

(طلب بارش کے سلسلہ میں )

خدایا! ہمارے پہاڑوں کاسبزہ خشک ہوگیا ہے اور ہماری زمین پر خاک اڑ رہی ہے۔ہمارے جانور پیاسے ہیں اور اپنی منزل کی تلاش میں سر گرداں ہیں اور اپنے بچوں کے حق میں اس طرح فریادی ہیں جیسے زن پسر مردہ ۔ سب چراگاہوں کی طرف پھیرے لگانے اورتالابوں کی طرف والہانہ طور پردوڑنے سے عاجزآگئے ہیں۔خدایا! اب ان کی فریادی بکریوں اور اشتیاق آمیز پکارنے والی اونٹنیوں پر رحم فرما۔خدایا!ان کی راہوں میں پریشانی اور منزلوں پر چیخ و پکار پر رحم فرما۔خدایا! ہم اس وقت گھرسے نکل کرآئے ہیں جب قحط سالی کے مارے ہوئے لاغراونٹ ہماری طرف پلٹ پڑے ہیں


وأَخْلَفَتْنَا مَخَايِلُ الْجُودِ - فَكُنْتَ الرَّجَاءَ لِلْمُبْتَئِسِ - والْبَلَاغَ لِلْمُلْتَمِسِ نَدْعُوكَ حِينَ قَنَطَ الأَنَامُ - ومُنِعَ الْغَمَامُ وهَلَكَ السَّوَامُ - أَلَّا تُؤَاخِذَنَا بِأَعْمَالِنَا - ولَا تَأْخُذَنَا بِذُنُوبِنَا - وانْشُرْ عَلَيْنَا رَحْمَتَكَ بِالسَّحَابِ الْمُنْبَعِقِ - والرَّبِيعِ الْمُغْدِقِ - والنَّبَاتِ الْمُونِقِ سَحّاً وَابِلًا - تُحْيِي بِه مَا قَدْ مَاتَ - وتَرُدُّ بِه مَا قَدْ فَاتَ - اللَّهُمَّ سُقْيَا مِنْكَ مُحْيِيَةً مُرْوِيَةً - تَامَّةً عَامَّةً طَيِّبَةً مُبَارَكَةً - هَنِيئَةً مَرِيعَةً - زَاكِياً نَبْتُهَا ثَامِراً فَرْعُهَا نَاضِراً وَرَقُهَا - تُنْعِشُ بِهَا الضَّعِيفَ مِنْ عِبَادِكَ - وتُحْيِي بِهَا الْمَيِّتَ مِنْ بِلَادِكَ - اللَّهُمَّ سُقْيَا مِنْكَ تُعْشِبُ بِهَا نِجَادُنَا - وتَجْرِي بِهَا وِهَادُنَا - ويُخْصِبُ بِهَا جَنَابُنَا - وتُقْبِلُ بِهَا ثِمَارُنَا - وتَعِيشُ بِهَا مَوَاشِينَا - وتَنْدَى بِهَا أَقَاصِينَا - وتَسْتَعِينُ بِهَا ضَوَاحِينَا - مِنْ بَرَكَاتِكَ الْوَاسِعَةِ - وعَطَايَاكَ الْجَزِيلَةِ - عَلَى بَرِيَّتِكَ الْمُرْمِلَةِ ووَحْشِكَ الْمُهْمَلَةِ - وأَنْزِلْ عَلَيْنَا سَمَاءً مُخْضِلَةً مِدْرَاراً هَاطِلَةً - يُدَافِعُ الْوَدْقُ مِنْهَا الْوَدْقَ - ويَحْفِزُ الْقَطْرُ مِنْهَا الْقَطْرَ - غَيْرَ خُلَّبٍ بَرْقُهَا -

اور جن سے کرم کی امید تھی وہ بادل آآکر چلے گئے ہیں۔اب درد کے ماروں کا تو ہی آسراہے اور التجا کرنے والوں کا تو ہی سہاراہے۔ہم اس وقت دعا کر رہے ہیں جب لوگ مایوس ہو چکے ہیں۔بدلوں کے خیر کو روک دیا گیا ہے اور جانور ہلاک ہو رہے ہیں تو خدایا ہمارے اعمال کی بنا پر ہمارا مواخذہ نہ کرنا۔اورہمیں ہمارے گناہوں کی گرفت میں مت لے لینا۔اپنے دامن رحمت کو ہمارے اوپر پھیلا دے برسنے والے بادل ' موسلا دھار برسات اور حسین سبزہ کے ذریعہ۔ایسی برستا جس سے مردہ زمینیں زندہ ہوجائیں اورگئی ہوئی بہار واپس آجائے۔خدایا! ایسی سیرابی عطا فرما جو زندہ کرنے والی' سیراب بنانے والی۔کامل و شامل۔ پاکیزہ و مبارک ' خوش گوار و شاداب ہو جس کی برکت سے نباتات پھلنے پھولنے لگیں۔شاخیں بار آورہو جائیںپتے ہر ے ہو جائیں ۔کمزور بندوں کو اٹھنے کاسہارا مل جائے ۔مردہ زمینوں کو زندگی عطا ہو جائے۔خدایا! ایسی سیرابی عطا فرما جس سے ٹیلے سبزہ پوش ہو جائیں۔نہریں جاری ہو جائیں۔آس پاس کے علاقے شاداب ہو جائیں۔پھل نکلنے لگیں۔جانور جی اٹھیں۔دور دراز کے علاقہ بھی تر ہو جائیں اور کھلے میدان بھی تیری اس وسیع برکت اورعظیم عطا سے مستفیض ہو جائیں جو تیری تباہ حال مخلوق اورآوارہ گرد جانوروں پر ہے۔ہم پر ایسی بارش نازل فرما جو پانی سے شرابور کر دینے والی۔ موسلادھارمسلسل برسنے والی ہو جس میں قطرات ' قطرات کوڈھکیل رہے ہوں اور بوندیں ' بوندوں کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہوں۔ نہ اس کی بجلی دھوکہ دینے والی ہو


ولَا جَهَامٍ عَارِضُهَا - ولَا قَزَعٍ رَبَابُهَا ولَا شَفَّانٍ ذِهَابُهَا - حَتَّى يُخْصِبَ لإِمْرَاعِهَا الْمُجْدِبُونَ - ويَحْيَا بِبَرَكَتِهَا الْمُسْنِتُونَ - فَإِنَّكَ تُنْزِلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا - وتَنْشُرُ رَحْمَتَكَ وأَنْتَ( الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ ) .

تفسير ما في هذه الخطبة من الغريب

قال السيد الشريفرضي‌الله‌عنه قولهعليه‌السلام - انصاحت جبالنا - أي تشققت من المحول - يقال انصاح الثوب إذا انشق - ويقال أيضا انصاح النبت - وصاح وصوح إذا جف ويبس كله بمعنى -. وقوله وهامت دوابُّنا أي عطشت - والهُيام العطش -. وقوله حدابير السنين جمع حِدْبار - وهي الناقة التي أنضاها السير - فشبه بها السنة التي فشا فيها الجدب - قال ذو الرمة:

حدابير ما تنفك إلا مناخة

على الخسف أو نرمي بها بلدا قفرا

- وقوله ولا قزع ربابها - القزع القطع الصغار المتفرقة من السحاب -. وقوله ولا شَفَّان ذهابها - فإن تقديره ولا ذات شَفَّان ذهابها - والشَفَّان الريح الباردة - والذهاب الأمطار اللينة - فحذف ذات لعلم السامع به

اور نہ اس کے بادل پانی سے خالی ہوں۔نہ اس کے ابر کے سفید ٹکڑے بکھرے ہوں اور نہ صرف ٹھنڈے جھونکوں کی بوندا باندی ہو۔ایسی بارش ہو کہ قحط کے مارے ہوئے اس کی سر سبز یوں سے خوشحال ہوجائیں اور خشک سالی کے شکار اس کی برکت سے جی اٹھیں۔اس لئے کہ تو ہی مایوسی کے بعد پانی برسانے والا اور دامان رحمت کا پھیلانے والا ہے اور تو ہی قابل حمدو ستائش ' سر پرست و مدد گار ہے۔

سید رضی : انصاحت جبالنا:یعنی پہاڑوں میں خشک سالی سے شگاف پڑ گئے ہیں کہ انصاح الثوب کپڑے کے پھٹ جانے کو کہا جاتا ہے۔یا اس کے معنی گھاس کے خشک ہو جانے کے ہیں کہ صاح ۔انصاح ایسے مواقع پر بھی استعمال ہوتا ہے ۔

ھامت دوابنا: یعنی پیاسے ہیں اور ہیام یہاں عطش کے معنی میں ہے۔

حدابیرالسنین:حدبار کی جمع ہے۔وہ اونٹ جسے سفر لاغر بنادے۔گویا کہ قحط زدہ سال کو اس اونٹ سے تشبیہ دی گئی ہے جیسا کہ ذوا لرمہ شاعرنے کہا تھا:

(یہ لاغر اور کمزوراونٹنیاں ہیں جو سختی جھیل کربیٹھ گئی ہیں یا پھربےآب و گیا ہ صحرا میں لے جانے پرچلی جاتی ہیں)

لاتزع ربابھا۔قزع۔بادل کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے۔

لا شفان ذھابھا ۔اصل میں '' ذات شفان'' ہے۔شفان ٹھنڈی ہوا کو کہا جاتا ہے اور ذہاب ہلکی پھوار کا نام ہے یہاں لفظ '' ذات '' حذف ہوگیا ہے۔


(۱۱۶)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وفيها ينصح أصحابه

أَرْسَلَه دَاعِياً إِلَى الْحَقِّ - وشَاهِداً عَلَى الْخَلْقِ - فَبَلَّغَ رِسَالَاتِ رَبِّه - غَيْرَ وَانٍ ولَا مُقَصِّرٍ - وجَاهَدَ فِي اللَّه أَعْدَاءَه - غَيْرَ وَاهِنٍ ولَا مُعَذِّرٍ - إِمَامُ مَنِ اتَّقَى وبَصَرُ مَنِ اهْتَدَى.مِنْهَا ولَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ مِمَّا طُوِيَ عَنْكُمْ غَيْبُه - إِذاً لَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ - تَبْكُونَ عَلَى أَعْمَالِكُمْ - وتَلْتَدِمُونَ عَلَى أَنْفُسِكُمْ - ولَتَرَكْتُمْ أَمْوَالَكُمْ لَا حَارِسَ لَهَا - ولَا خَالِفَ عَلَيْهَا - ولَهَمَّتْ كُلَّ امْرِئٍ مِنْكُمْ نَفْسُه - لَا يَلْتَفِتُ إِلَى غَيْرِهَا - ولَكِنَّكُمْ نَسِيتُمْ مَا

ذُكِّرْتُمْ - وأَمِنْتُمْ مَا حُذِّرْتُمْ - فَتَاه عَنْكُمْ رَأْيُكُمْ - وتَشَتَّتَ عَلَيْكُمْ أَمْرُكُمْ - ولَوَدِدْتُ أَنَّ اللَّه فَرَّقَ بَيْنِي وبَيْنَكُمْ - وأَلْحَقَنِي بِمَنْ

(۱۱۶)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں اپنے اصحاب کو نصیحت فرمائی ہے)

اللہ نے پیغمبر (ص) کو اسلام کی طرف دعوت دینے والا اور مخلوقات کے اعمال کا گواہ بنا کربھیجا تو آپ نے پیغام الٰہی کومکمل طور سے پہچا دیا۔نہ کوئی سستی کی اور نہ کوئی کوتاہی۔دشمنان خدا سے جہاد کیا اور اس راہمیں نہ کوئی کمزوری دکھلائی اور نہ کسی حیلہ اور بہانہ کا سہارا لیا۔ آپ متقین کے امام اور طلب گار ان ہدایت کے لئے آنکھوں کی بصارت تھے۔اگرتم ان تمام باتوں کو جان لیتے جو تم سے مخفی رکھی گئی ہیں اور جن کو میں جانتا ہوں تو صحرائوں میں نکل جاتے۔اپنے اعمال پر گریہ کرتے اور اپنے کئے پر سروسینہ پیٹتے اور سارے اموال کو اس طرح چھوڑ کر چل دیتے کہ نہ ان کا کوئی نگہبان ہوتا اور نہ وارث اور ہر شخص کو صرف اپنی ذات کی فکر ہوتی۔کوئی دوسرے کی طرف رخ بھی نہ کرتا۔لیکن افسوس کہ تم نے اس سبق کو بالکل بھلا دیا جو تمہیں یاد کرایا گیا تھا اور ان ہولناک مناظر کی طرف سے یکسر مطمئن ہوگئے جن سے ڈرایا گیا تھا۔تو تمہاری رائے بھٹک گئی اورتمہارے امور میں انتشار پیدا ہوگیا اور میں یہ چاہنے لگا کہ کاش اللہ میرے اور تمہارے درمیان جدائی ڈال دیتا اور مجھے ان لوگوں(۱) سے ملا دیتا جو

(۱) امیر المومنین کی زندگی کا عظیم ترین المیہ ہے کہ آنکھ کھولنے کے بعد سے ۳۰ سال تک رسول اکرم (ص) کے ساتھ گزارے۔اس کے بعد چند مخلص اصحاب کرام کا ساتھ رہا اس کے بعد جب زمانہ نے پلٹا کھایا اوراقتدارقدموں میں آیا تو ایک طرف ناکثین' قاسطین اورخوارج کا سامنا کرنا پڑا اور دوسری طرف اپنے گرد کوفہ کے بیوفائوں کا مجمع لگ گیا ظاہر ہے کہ ایسا شخص اس حال کو دیکھ کراس ماضی کی تمنا نہ کرے تو اور کیا کرے اور اس کے ذہن سے اپنا ماضی کس طرح نکل جائے۔


هُوَ أَحَقُّ بِي مِنْكُمْ - قَوْمٌ واللَّه مَيَامِينُ الرَّأْيِ - مَرَاجِيحُ الْحِلْمِ - مَقَاوِيلُ بِالْحَقِّ - مَتَارِيكُ لِلْبَغْيِ - مَضَوْا قُدُماً عَلَى الطَّرِيقَةِ - وأَوْجَفُوا عَلَى الْمَحَجَّةِ - فَظَفِرُوا بِالْعُقْبَى الدَّائِمَةِ - والْكَرَامَةِ الْبَارِدَةِ - أَمَا واللَّه لَيُسَلَّطَنَّ عَلَيْكُمْ - غُلَامُ ثَقِيفٍ الذَّيَّالُ الْمَيَّالُ - يَأْكُلُ خَضِرَتَكُمْ - ويُذِيبُ شَحْمَتَكُمْ - إِيه أَبَا وَذَحَةَ!

قال الشريف - الوذحة الخنفساء - وهذا القول يومئ به إلى الحجاج - وله مع الوذحة حديث - ليس هذا موضع ذكره.

(۱۱۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

يوبخ البخلاء بالمال والنفس

فَلَا أَمْوَالَ بَذَلْتُمُوهَا لِلَّذِي رَزَقَهَا - ولَا أَنْفُسَ خَاطَرْتُمْ بِهَا لِلَّذِي خَلَقَهَا

میرے لئے زیادہ سزا تھے۔وہ لوگ جن کی رائے مبارک اور جن کا حلم ٹھوس ہے۔حق کی باتیں کرتے ہیں اور بغاوت و سر کشی سے کنارہ کرنے والے ہیں۔انہوں نے راستہ پر قدم آگے بڑھائے اور راہ راست پرتیزی سے بڑھتے چلے گئے۔جس کے نتیجہ میں دائمی آخرت اور پر سکون کرامت حاصل کرلی۔آگاہ ہو جائو کہ خدا کی قسم تم پروہ نوجوان بنی ثقیف کامسلط کیا جائے گا جس کا قد طویل ہو گا اور وہ لہرا کر چلنے والا ہوگا ۔تمہارے سبزہ کو ہضم کرجائے گا اور تمہاری چربی کوپگھلا دے ۔ہاں ہاں اے ابو وذحہ کچھ اور۔ سید رضی : وذحہ گندہ کیڑے کا نام ۔ابو وذحہ کا اشارہ حجاج کی طرف ہے اور اس کا ایک قصہ ہے جس کے ذکر کا یہ مقام نہیں ہے ''۔اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حجاج نماز پڑھ رہا تھا اس کیڑے نے اسے موقع پا کر کاٹ لیا اوراس کے اثر سے اس کی موت واقع ہوگئی۔

(۱۱۷)

آپ کا ارشاد گرامی

( جس میں جان و مال سے بخل کرنے والوں کی سرزنش کی گئی ہے )

نہ تم نے مال کواس کی راہ میں خرچ کیا جس نے تمہیں عطا کیا تھا اورنہ جان کو اس کی خاطر خطرہ میں ڈالا جس نے اسے پیدا کیا تھا


تَكْرُمُونَ بِاللَّه عَلَى عِبَادِه - ولَا تُكْرِمُونَ اللَّه فِي عِبَادِه - فَاعْتَبِرُوا بِنُزُولِكُمْ مَنَازِلَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ - وانْقِطَاعِكُمْ عَنْ أَوْصَلِ إِخْوَانِكُمْ!

(۱۱۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في الصالحين من أصحابه

أَنْتُمُ الأَنْصَارُ عَلَى الْحَقِّ - والإِخْوَانُ فِي الدِّينِ - والْجُنَنُ يَوْمَ الْبَأْسِ - والْبِطَانَةُ دُونَ النَّاسِ - بِكُمْ أَضْرِبُ الْمُدْبِرَ وأَرْجُو طَاعَةَ الْمُقْبِلِ - فَأَعِينُونِي بِمُنَاصَحَةٍ خَلِيَّةٍ مِنَ الْغِشِّ - سَلِيمَةٍ مِنَ الرَّيْبِ - فَوَاللَّه إِنِّي لأَوْلَى النَّاسِ بِالنَّاسِ!

(۱۱۹)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وقد جمع الناس - وحضهم على الجهاد - فسكتوا مليا

تم اللہ کے نام پر بندوں(۱) میں عزت حاصل کرتے ہو اور بندوں کے بارے میں اللہ کا احترام نہیں کرتے ہو۔خدارا اس بات سے عبرت حاصل کرو کہ عنقریب انہیں منازل میں نازل ہونے والے ہو جہاں پہلے لوگ نازل ہو چکے ہیں اور قریب ترین بھائیوں سے کٹ کر رہ جانے والے ہو۔

(۱۱۸)

آپ کا ارشاد گرامی

(اپنے اصحاب میں نیک کردار افراد کے بارے میں )

تم حق کے سلسلہ میں مدد گار اور دین کے معاملہ میں بھائی ہو۔جنگ کے روز میری سپر اور تمام لوگوں میں میرے راز دار ہو۔میں تمہارے ہی ذریعہ رو گردانی کرنے والوں پرتلوار چلاتا ہوں اور راستہ پرآنے والوں کی اطاعت کی امید رکھتا ہوں لہٰذا خدارا میری مدد کرو اس نصیحت کے ذریعہ جس میں ملاوٹ نہ ہو اور کسی طرح کے شک و شبہ کی گنجائش نہ ہو کہ خدا کی قسم میں لوگوں کی قیادت کے لئے تمام لوگوں سے اولیٰ اور احق ہوں۔

(۱۱۹)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب آپ نے لوگوں کو جمع کرکے جہاد کی تلقین کی اور لوگوں نے سکوت اختیار کرلیا تو فرمایا)

(۱)ایسے لوگ ہر دورمیں دینداروں میں بھی رہے ہیں اور دنیا داروں میں بھی۔جو قوم سے ہر طرح کے احترام کے طلبگار ہوتے ہیں اور قوم کا کسی طرح کا احترام نہیں کرتے ہیں۔لوگوں سے دین خدا کی ٹھیکہ داری کے نام پر ہر طرح کی قربانی کا تقاضا کرتے ہیں ۔اور خود کسی طرح کی قربانی کا ارادہ نہیں کرتے ہیں ان کی نظر میں دین خدا دنیا کمانے کا بہترین ذریعہ ہے اور یہ در حقیقت بد ترین تجارت ہے کہ انسان دین کی عظیم و شریف دولت کو دے کردنیا جیسی حقیرو ذلیل شے کو حاصل کر نے کامنصوبہ بنائے۔ظاہر ہے کہ جب دینداروں میں ایسے کردار پیدا ہو جاتے ہیں تو دنیا داروں کا کیا ذکر ہے انہیں تو بہرحال اس سے بد تر ہونا چاہیے۔

فَقَالَعليه‌السلام مَا بَالُكُمْ أَمُخْرَسُونَ أَنْتُمْ - فَقَالَ قَوْمٌ مِنْهُمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - إِنْ سِرْتَ سِرْنَا مَعَكَ.

فَقَالَعليه‌السلام - مَا بَالُكُمْ لَا سُدِّدْتُمْ لِرُشْدٍ ولَا هُدِيتُمْ لِقَصْدٍ - أَفِي مِثْلِ هَذَا يَنْبَغِي لِي أَنْ أَخْرُجَ - وإِنَّمَا يَخْرُجُ فِي مِثْلِ هَذَا رَجُلٌ - مِمَّنْ أَرْضَاه مِنْ شُجْعَانِكُمْ - وذَوِي بَأْسِكُمْ - ولَا يَنْبَغِي لِي أَنْ أَدَعَ الْجُنْدَ والْمِصْرَ - وبَيْتَ الْمَالِ وجِبَايَةَ الأَرْضِ - والْقَضَاءَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ - والنَّظَرَ فِي حُقُوقِ الْمُطَالِبِينَ - ثُمَّ أَخْرُجَ فِي كَتِيبَةٍ أَتْبَعُ أُخْرَى - أَتَقَلْقَلُ تَقَلْقُلَ الْقِدْحِ فِي الْجَفِيرِ الْفَارِغِ - وإِنَّمَا أَنَا قُطْبُ الرَّحَى،تَدُورُ عَلَيَّ وأَنَا بِمَكَانِي - فَإِذَا فَارَقْتُه اسْتَحَارَ مَدَارُهَا - واضْطَرَبَ ثِفَالُهَا - هَذَا لَعَمْرُ اللَّه الرَّأْيُ السُّوءُ - واللَّه لَوْ لَا رَجَائِي الشَّهَادَةَ عِنْدَ لِقَائِي الْعَدُوَّ - ولَوْ قَدْ حُمَّ لِي لِقَاؤُه - لَقَرَّبْتُ رِكَابِي - ثُمَّ شَخَصْتُ عَنْكُمْ فَلَا أَطْلُبُكُمْ - مَا اخْتَلَفَ جَنُوبٌ وشَمَالٌ - طَعَّانِينَ عَيَّابِينَ حَيَّادِينَ رَوَّاغِينَ - إِنَّه لَا غَنَاءَ فِي كَثْرَةِ عَدَدِكُمْ

تمہیں کیا ہوگیا ہے۔کیا تم گونگے ہوگئے ہو؟ اس پر ایک جماعت نے کہا کہ یا امیر المومنین ! آپ چلیں۔ہم چلنے کے لئے تیار ہیں۔

فرمایا: تمہیں کیا ہوگیا ہے۔اللہ تمہیں ہدایت کی توفیق نہ دے اورتمہیں سیدھا راستہ نصیب نہ ہو۔کیا ایسے حالات میں میرے لئے مناسب ہے کہ میں ہی نکلوں ؟ ایسے موقع پر اس شخص کونکلنا چاہیے جو تمہارے بہادروں اورجوانمردں میں میرا پسندیدہ ہو اور ہرگز مناسب نہیں ہے کہ میں لشکر ' شہر ' بیت المال ' خراج کی فراہمی ' قضاوت' مطالبات کرنے والوں کے حقوق کی نگرانی کا سارا کام چھوڑ کرنکل جائوں اور لشکر لے کر دوسرے لشکرکا پیچھا کروں اور اس طرح جنبش کرتا رہوں جس طرح خالی ترکش میں تیر ۔میں خلافت کی چکی کا مرکز ہوں جسے میرے گرد چکر لگانا چاہیے کہ اگر میں نے مرکز چھو ڑ دیا تو اس کی گردش کا دائرہ متزلزل ہو جائے گا اور اس کے نیچے کی بساط بھی جا بجا ہو جائے گی۔خدا کی قسم یہ بد ترین رائے ہے اور وہی گواہ ہے کہ اگر دشمن کا مقابلہ کرنے میں مجھے شہادت کی آرزو نہ ہوتی۔جب کہ وہ مقابلہ میرے لئے مقدر ہو چکا ہو۔تو میں اپنی سواریوں کو قریب کرکے ان پر سوار ہو کر تم سے بہت دورنکل جاتا اور پھر تمہیں اس وقت تک یاد بھی نہ کرتا جب تک شمالی اور جنوبی ہوائیں چلتی رہیں۔تم طنزکرنے والے۔عیب لگانے والے۔کنارہ کشی کرنے والے اور صرف شور مچانے والے ہو۔تمہارے اعداد کی کثرت کا کیا فائدہ ہے۔


مَعَ قِلَّةِ اجْتِمَاعِ قُلُوبِكُمْ - لَقَدْ حَمَلْتُكُمْ عَلَى الطَّرِيقِ الْوَاضِحِ - الَّتِي لَا يَهْلِكُ عَلَيْهَا إِلَّا هَالِكٌ - مَنِ اسْتَقَامَ فَإِلَى الْجَنَّةِ ومَنْ زَلَّ فَإِلَى النَّارِ!

(۱۲۰)

ومن كلام لهعليه‌السلام

يذكر فضله ويعظ الناس

تَاللَّه لَقَدْ عُلِّمْتُ تَبْلِيغَ الرِّسَالَاتِ - وإِتْمَامَ الْعِدَاتِ وتَمَامَ الْكَلِمَاتِ - وعِنْدَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ أَبْوَابُ الْحُكْمِ وضِيَاءُ الأَمْرِ - أَلَا وإِنَّ شَرَائِعَ الدِّينِ وَاحِدَةٌ وسُبُلَه قَاصِدَةٌ - مَنْ أَخَذَ بِهَا لَحِقَ وغَنِمَ - ومَنْ وَقَفَ عَنْهَا ضَلَّ ونَدِمَ - اعْمَلُوا لِيَوْمٍ تُذْخَرُ لَه الذَّخَائِرُ - وتُبْلَى فِيه السَّرَائِرُ - ومَنْ لَا يَنْفَعُه حَاضِرُ لُبِّه - فَعَازِبُه عَنْه أَعْجَزُ وغَائِبُه أَعْوَزُ - واتَّقُوا نَاراً حَرُّهَا شَدِيدٌ - وقَعْرُهَا بَعِيدٌ وحِلْيَتُهَا حَدِيدٌ - وشَرَابُهَا صَدِيدٌ -. أَلَا وإِنَّ اللِّسَانَ الصَّالِحَ - يَجْعَلُه اللَّه تَعَالَى لِلْمَرْءِ فِي النَّاسِ -

جب تمہارے دل یکجا نہیں ہیں۔میں نے تم کو اس واضح راستہ پر چلانا چاہا جس پر چل کر کوئی ہلاک نہیں ہو سکتا ہے مگر یہ کہ ہلاکت اس کا مقدر ہو۔اس راہ پر چلنے والے کی واقعی منزل جنت ہے اور یہاں پھسل جانے والے کا راستہ جہنم ہے۔

(۱۲۰)

آپ کا ارشادگرامی

(جس میں اپنی فضیلت کاذکرکرتے ہوئے لوگوں کو نصیحت فرمائی ہے )

خدا کی قسم! مجھے پیغام الٰہی کے پہنچانے ، وعدہ الٰہی کے پورا کرنے اور کلمات الہیہ کی مکمل وضاحت کرنے کا علم دیا گیا ہے ہم اہل بیت کے پاس حکمتوں کے ابواب اورمسائل کی روشنی موجود ہے۔یاد رکھو۔دین کی تمام شریعتوں کا مقصد ایک ہے اور اس کے سارے راستے درست ہیں۔جوان راستوں کواختیارکرلے گا وہ منزل تک پہنچ بھی جائے گا اورفائدہ بھی حاصل کرلے گا اور جو راستہ ہی میں ٹھہر جائے گاوہ بہک بھی جائے گا اور شرمندہ بھی ہو گا۔عمل کرو اس دن کے لئے جس کے لئے ذخیرے فراہم کئے جاتے ہیں اور جس دن نیتوں کا امتحان ہوگا اور جس کو اپنی موجود عقل فائدہ نہ پہنچائے اسے دوسروں کی غائب اور دور ترین عقل کیا فائدہ پہنچا سکتی ہے۔اس آگ سے ڈرو جس کی تپش شدید۔گہرائی بعید۔آرائش حدید اور پینے کی شے صدید ( پیپ) ہے یاد رکھو۔وہ ذکر خیر جو پروردگار کسی انسان کے لئے باقی رکھتا ہے


خَيْرٌ لَه مِنَ الْمَالِ يُورِثُه مَنْ لَا يَحْمَدُه

(۱۲۱)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

بعد ليلة الهرير

وقد قام إليه رجل من أصحابه - فقال نهيتنا عن الحكومة ثم أمرتنا بها - فلم ندر أي الأمرين أرشد فصفق عليه‌السلام إحدى يديه على الأخرى –

ثم قال: هَذَا جَزَاءُ مَنْ تَرَكَ الْعُقْدَةَ - أَمَا واللَّه لَوْ أَنِّي حِينَ أَمَرْتُكُمْ - بِه حَمَلْتُكُمْ عَلَى الْمَكْرُوه - الَّذِي يَجْعَلُ اللَّه فِيه خَيْراً - فَإِنِ اسْتَقَمْتُمْ هَدَيْتُكُمْ - وإِنِ اعْوَجَجْتُمْ قَوَّمْتُكُمْ - وإِنْ أَبَيْتُمْ تَدَارَكْتُكُمْ لَكَانَتِ الْوُثْقَى - ولَكِنْ بِمَنْ وإِلَى مَنْ - أُرِيدُ أَنْ أُدَاوِيَ بِكُمْ وأَنْتُمْ دَائِي - كَنَاقِشِ الشَّوْكَةِ بِالشَّوْكَةِ - وهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ ضَلْعَهَا مَعَهَا - اللَّهُمَّ قَدْ مَلَّتْ أَطِبَّاءُ هَذَا الدَّاءِ الدَّوِيِّ - وكَلَّتِ النَّزْعَةُ بِأَشْطَانِ الرَّكِيِّ - أَيْنَ الْقَوْمُ الَّذِينَ دُعُوا إِلَى الإِسْلَامِ فَقَبِلُوه -

وہ اس مال سے کہیں زیادہ بہتر ہوتا ہے جسے انسان ان لوگوں کے لئے چھوڑ جاتا ہے جو تعریف تک نہیں کرتے ہیں۔

(۱۲۱)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

جب لیلتہ الہریرکےبعد آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے اٹھ کر کہا کہ آپ نے پہلے ہی حکم بنانے سے روکا اور پھراس کا حکم دے دیا توآخر ان دونوں میں سے کون سی بات صحیح تھی؟ تو آپ نے ہاتھ پر ہاتھ مار کر فرمایا!

افسوس یہی اس کی جزا ہوتی ہے جو عہد پیمان(۱) کو نظرانداز کر دیتا ہے۔یاد رکھو اگر میں تم کو اس ناگوار امر( جنگ) پرمامور کر دیتا جس میں یقینا اللہ نے تمہیں لئے خیر رکھا تھا۔اس طرح کہ تم سیدھے رہتے تو تمہیں ہدایت دیتا اور ٹیڑھے ہو جاتے تو سیدھا کردیتا اورانکار کرتے تو اس کا علاج کرتا تو یہ انتہائی مستحکم طریقہ کار ہوتا۔لیکن یہ کام کس کے ذریعہ کرتا اور کس کے بھروسہ پر کرتا۔میں تمہارے ذریعہ قوم کا علاج کرنا چاہتا تھا لیکن تمہیں تو میری بیماری ہو۔یہ تو ایسا ہی ہوتا جیسے کانٹے سے کانٹا نکالا جائے جب کہ اس کا جھکائو اسی کی طرف ہو۔خدایا! گواہ رہنا کہ اس موذی مرض کے اطباء عاجزآچکے ہیں اور اس کنویں سے رسی نکالنے والے تھک چکے ہیں۔ کہاں ہیں وہ لوگ جنہیں اسلام کی دعوت دی گئی تو فوراً قبول کرلی

(۱) مقصد یہ ہے کہ تم لوگوں نے مجھ سے اطاعت کاعہدو پیمان کیا تھا لیکن جب میں نے صفین میں جنگ جاری رکھنے پر اصرار کیا تو تم نے نیزوں پر قرآن دیکھ کرجنگ بندی کامطالبہ کردیا اور اپنے عہدوپیمان کو نظر انداز کردیا ظاہر ہے کہ ایسے اقدام کا ایسا ہی نتیجہ ہوتا ہے جو سامنے آگیا تو اب فریاد کرنے کاکیا جواز ہے ؟


وقَرَءُوا الْقُرْآنَ فَأَحْكَمُوه وهِيجُوا إِلَى الْجِهَادِ فَوَلِهُوا وَلَه اللِّقَاحِ إِلَى أَوْلَادِهَا - وسَلَبُوا السُّيُوفَ أَغْمَادَهَا وأَخَذُوا بِأَطْرَافِ الأَرْضِ زَحْفاً زَحْفاً - وصَفّاً صَفّاً بَعْضٌ هَلَكَ وبَعْضٌ نَجَا لَا يُبَشَّرُونَ بِالأَحْيَاءِ - ولَا يُعَزَّوْنَ عَنِ الْمَوْتَى مُرْه الْعُيُونِ مِنَ الْبُكَاءِ - خُمْصُ الْبُطُونِ مِنَ الصِّيَامِ ذُبُلُ الشِّفَاه مِنَ الدُّعَاءِ - صُفْرُ الأَلْوَانِ مِنَ السَّهَرِ عَلَى وُجُوهِهِمْ غَبَرَةُ الْخَاشِعِينَ - أُولَئِكَ إِخْوَانِي الذَّاهِبُونَ - فَحَقَّ لَنَا أَنْ نَظْمَأَ إِلَيْهِمْ - ونَعَضَّ الأَيْدِي عَلَى فِرَاقِهِمْ - إِنَّ الشَّيْطَانَ يُسَنِّي لَكُمْ طُرُقَه ويُرِيدُ أَنْ يَحُلَّ دِينَكُمْ عُقْدَةً عُقْدَةً - ويُعْطِيَكُمْ بِالْجَمَاعَةِ الْفُرْقَةَ وبِالْفُرْقَةِ الْفِتْنَةَ - فَاصْدِفُوا عَنْ نَزَغَاتِه ونَفَثَاتِهواقْبَلُوا النَّصِيحَةَ مِمَّنْ أَهْدَاهَا إِلَيْكُمْ واعْقِلُوهَا عَلَى أَنْفُسِكُمْ

اور انہوں نے قرآن کو پڑھا تو باقاعدہ عمل بھی کیااور جہاد کے لئے آمادہکئے گئے تو اس طرح شوق سے آگے بڑھے جس طرح اونٹنی اپنے بچوں کی طرف بڑھتی ہے۔انہوں نے تلواروں کو نیا موں سے نکال لیا اور دستہ دستہ ۔صف بہ صف آگے بڑھ کر تمام اطراف زمین پر قبضہ کرلیا۔ان میں بعض چلے گئے اور بعض باقی رہ گئے ۔ انہیں نہ زندگی کی بشارت سے دلچسپی تھی اور نہ مردوں کی تعزیت سے۔ان کی آنکھیں خوف خدا میں گریہ سےسفید ہوگئی تھیں ۔پیٹ روزوں سے دھنس گئے تھے ' ہونٹ دعا کرتے کرتے خشک ہوگئے تھے۔چہرے شب بیداری سے زرد ہوگئے تھے اور چہروں پر خاکساری کی گرد پڑی ہوئی تھی یہی میرے پہلے والے بھائی تھے جن کے بارے میں ہمارا حق ہے کہ ہم ان کی طرف پیاسوں کی طرح نگاہ کریں اور ان کے فراق میں اپنے ہی ہات کاٹیں۔

یقیناشیطان تمہارے لئے اپنی راہوں کو آسان بنا دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ ایک ایک کرکے تمہاری ساری گرہیں کھول دے۔وہ تمہیں اجتماع کے بجائے افتراق دے کر فتنوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے لہٰذا اس کے خیالات اوراس کی جھاڑ پھونک سے منہ موڑے رہو اور اس شخص کی نصیحت قبول کرو جو تمہیں نصیحت کا تحفہ دے رہا ہے اور اپنے دل میں اس کی گرہ باندھ لو۔


(۱۲۲)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قاله للخوارج وقد خرج إلى معسكرهم - وهم مقيمون على إنكار الحكومة فقالعليه‌السلام

أَكُلُّكُمْ شَهِدَ مَعَنَا صِفِّينَ - فَقَالُوا مِنَّا مَنْ شَهِدَ - ومِنَّا مَنْ لَمْ يَشْهَدْ - قَالَ فَامْتَازُوا فِرْقَتَيْنِ - فَلْيَكُنْ مَنْ شَهِدَ صِفِّينَ فِرْقَةً - ومَنْ لَمْ يَشْهَدْهَا فِرْقَةً - حَتَّى أُكَلِّمَ كُلاًّ مِنْكُمْ بِكَلَامِه - ونَادَى النَّاسَ فَقَالَ أَمْسِكُوا عَنِ الْكَلَامِ - وأَنْصِتُوا لِقَوْلِي - وأَقْبِلُوا بِأَفْئِدَتِكُمْ إِلَيَّ - فَمَنْ نَشَدْنَاه شَهَادَةً فَلْيَقُلْ بِعِلْمِه فِيهَا - ثُمَّ كَلَّمَهُمْعليه‌السلام بِكَلَامٍ طَوِيلٍ - مِنْ جُمْلَتِه أَنْ قَالَعليه‌السلام : أَلَمْ تَقُولُوا عِنْدَ رَفْعِهِمُ الْمَصَاحِفَ حِيلَةً وغِيلَةً - ومَكْراً وخَدِيعَةً إِخْوَانُنَا وأَهْلُ دَعْوَتِنَا - اسْتَقَالُونَا واسْتَرَاحُوا إِلَى كِتَابِ اللَّه سُبْحَانَه - فَالرَّأْيُ الْقَبُولُ مِنْهُمْ - والتَّنْفِيسُ عَنْهُمْ - فَقُلْتُ لَكُمْ هَذَا أَمْرٌ ظَاهِرُه إِيمَانٌ - وبَاطِنُه عُدْوَانٌ - وأَوَّلُه رَحْمَةٌ وآخِرُه نَدَامَةٌ فَأَقِيمُوا عَلَى شَأْنِكُمْ - والْزَمُوا طَرِيقَتَكُمْ -

(۱۲۲)

آپ کا ارشاد گرامی

( جب آپ خوارج کے اس پڑائو کی طرف تشریف لے گئے جو تحکیم کے انکار پراڑا ہوا تھا۔اورفرمایا)

کیا تم سب ہمارے ساتھ صفین میں تھے؟ لوگوں نے کہا بعض افراد تھے اوربعض نہیں تھے اوربعض نہیں تھے! فرمایا تو تم دو حصوں میں تقسیم ہو جائو۔صفین والے الگ اور غیر صفین والے الگ ۔تاکہمیں ہر ایک سے اس کے حال کے مطابق گفتگو کرو۔اس کے بعد قوم سے پکار کر فرمایا کہ تم سب خاموش ہو جائو اور میری بات سنو اور اپنے دلوں کو بھی میری طرف متوجہ رکھو کہ اگر میں کسی بات کی گواہی طلب کروں تو ہر شخص اپنے علم کے مطابق جواب دے سکے۔( یہ کہہ کر آپنے ایک طویل گفتگو فرمائی جس کا ایک حصہ یہ تھا) ذرا بتلائو کہ جب صفین والوں نے حیلہ و مکر اورجعل و فریب سے نیزوں پر قرآن بلندکردئیے تھے تو کیا تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ یہ سب ہمارے بھائی اور ہمارے ساتھ کے مسلمان ہیں۔اب ہم سے معافی کے طلب گار ہیں اور کتاب خداسے فیصلہ چاہتے ہیں لہٰذا مناسب یہ ہے کہ ان کی بات مان لی جائے اورانہیں سانس لینے کا موقع دے دیا جائے۔میں نے تمہیں سمجھایا تھا کہ اس کا ظاہر ایمان ہے لیکن باطن صرف ظلم اور تعدی ہے۔اس کی ابتدا رحمت و راحت ہے لیکن اس کا انجام شرمندگی اور ندامت ہے لہٰذا اپنی حالت پر قائم رہو اور اپنے راستہ کو مت چھوڑو


وعَضُّوا عَلَى الْجِهَادِ بَنَوَاجِذِكُمْ - ولَا تَلْتَفِتُوا إِلَى نَاعِقٍ نَعَقَ - إِنْ أُجِيبَ أَضَلَّ وإِنْ تُرِكَ ذَلَّ - وقَدْ كَانَتْ هَذِه الْفَعْلَةُ وقَدْ رَأَيْتُكُمْ أَعْطَيْتُمُوهَا - واللَّه لَئِنْ أَبَيْتُهَا مَا وَجَبَتْ عَلَيَّ فَرِيضَتُهَا - ولَا حَمَّلَنِي اللَّه ذَنْبَهَا ووَ اللَّه إِنْ جِئْتُهَا إِنِّي لَلْمُحِقُّ الَّذِي يُتَّبَعُ - وإِنَّ الْكِتَابَ لَمَعِي مَا فَارَقْتُه مُذْ صَحِبْتُه فَلَقَدْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - وإِنَّ الْقَتْلَ لَيَدُورُ عَلَى الآباءِ والأَبْنَاءِ - والإِخْوَانِ والْقَرَابَاتِ - فَمَا نَزْدَادُ عَلَى كُلِّ مُصِيبَةٍ وشِدَّةٍ - إِلَّا إِيمَاناً ومُضِيّاً عَلَى الْحَقِّ - وتَسْلِيماً لِلأَمْرِ - وصَبْراً عَلَى مَضَضِ الْجِرَاحِ - ولَكِنَّا إِنَّمَا أَصْبَحْنَا نُقَاتِلُ إِخْوَانَنَا فِي الإِسْلَامِ - عَلَى مَا دَخَلَ فِيه مِنَ الزَّيْغِ والِاعْوِجَاجِ - والشُّبْهَةِ والتَّأْوِيلِ - فَإِذَا طَمِعْنَا فِي خَصْلَةٍ يَلُمُّ اللَّه بِهَا شَعَثَنَا - ونَتَدَانَى بِهَا إِلَى الْبَقِيَّةِ فِيمَا بَيْنَنَا - رَغِبْنَا فِيهَا وأَمْسَكْنَا عَمَّا سِوَاهَا.

اور جہاد پر دانتوں کو بھینچے رہو اور کسیبکواس کرنے والے کی بکواس کو مت سنو کہ اس کے قبول کرلینے میں گمراہی ہے اور نظر انداز کردینے میں ذلت ہے۔لیکن جب تحکیم کی بات طے ہوگئی تو میں نے دیکھا کہ تمہیں لوگوں نے اس کی رضا مندی دی تھی حالانکہ خدا گواہ ہے کہ اگرمیں نے اس سے انکار کردیا ہوتا تو اس سے مجھ پر کوئی فریضہ عائد نہ ہوتا۔اورنہ پروردگار مجھے گناہ گار قراردیتا اور اگر میں نے اسے اختیار کیا ہوتا تو میں ہی وہ صاحب حق تھا جس کا اتباع ہونا چاہیے تھا کہ کتاب خدا میرے ساتھ ہے اور جب سے میرا اس کا ساتھ ہوا ہے کبھی جدائی نہیں ہوئی۔ہم رسول اکرم (ص) کے زمانے میں اس وقت جنگ کرتے تھے جب مقابلہ پر خاندانوں کے بزرگ بچے۔بھائی بند اور رشتہ دار ہوتے تھے لیکن ہر مصیبت و شدت پر ہمارے ایمان میں اضافہ ہوتا تھا اور ہم امر الٰہی کے سامنے سر تسلیم خم کئے رہتے تھے۔راہ حق میں بڑھتے ہی جاتے تھے اور زخموں کی ٹیس پر صبر ہی کرتے تھے مگر افسوس کہ اب ہمیں مسلمان بھائیوں سے جنگ کرنا پڑ رہی ہے کہ ان میں کجی۔انحراف ۔شبہ اور غلط تاویلات کادخل ہوگیا ہے لیکن اس کے باوجود اگرکوئی راستہ نکل آئے جس سے خدا ہمارے انتشار کو دور کردے اورہم ایک دوسرے سے قریب ہو کر رہے سہے تعلقات کو باقی رکھ سکیں تو ہم اسی راستہ کو پسند کریں گے اور دوسرے راستہ سے ہاتھ روک لیں گے۔


(۱۲۳)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قاله لأصحابه في ساحة الحرب - بصفين

وأَيُّ امْرِئٍ مِنْكُمْ أَحَسَّ مِنْ نَفْسِه - رَبَاطَةَ جَأْشٍ عِنْدَ اللِّقَاءِ، ورَأَى مِنْ أَحَدٍ مِنْ إِخْوَانِه فَشَلًا - فَلْيَذُبَّ عَنْ أَخِيه بِفَضْلِ نَجْدَتِه - الَّتِي فُضِّلَ بِهَا عَلَيْه - كَمَا يَذُبُّ عَنْ نَفْسِه - فَلَوْ شَاءَ اللَّه لَجَعَلَه مِثْلَه - إِنَّ الْمَوْتَ طَالِبٌ حَثِيثٌ لَا يَفُوتُه الْمُقِيمُ - ولَا يُعْجِزُه الْهَارِبُ - إِنَّ أَكْرَمَ الْمَوْتِ الْقَتْلُ - والَّذِي نَفْسُ ابْنِ أَبِي طَالِبٍ بِيَدِه - لأَلْفُ ضَرْبَةٍ بِالسَّيْفِ أَهْوَنُ عَلَيَّ - مِنْ مِيتَةٍ عَلَى الْفِرَاشِ فِي غَيْرِ طَاعَةِ اللَّه وكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْكُمْ - تَكِشُّونَ كَشِيشَ الضِّبَابِ - لَا تَأْخُذُونَ حَقّاً ولَا تَمْنَعُونَ ضَيْماً - قَدْ خُلِّيتُمْ والطَّرِيقَ - فَالنَّجَاةُ لِلْمُقْتَحِمِ والْهَلَكَةُ لِلْمُتَلَوِّمِ

(۱۲۳)

آپ کا ارشاد گرامی

(جو صفین کے میدان میں اپنے اصحاب سے فرمایا تھا)

دیکھو ! اگر تم سے کوئی شخص بھی جنگ کے وقت اپنے اندر قوت قلب اور اپنے کسی بھائی میں کمزوری کا احساس کرے تو اس کا فرض ہے کہ اپنے بھائی سے اسی طرح دفاع کرے جس طرح اپنے نفس سے کرتا ہے کہ خدا چاہتا تو اسے بھی ویسا ہی بنا دیتا لیکن اس نے تمہیں ایک خاص فضیلت عطا فرمائی ہے۔

دیکھو!موت ایک تیز رفتار طلب گار ہے جس سے نہ کوئی ٹھہرا ہوا بچ سکتا ہے اور نہ بھاگنے والا بچ نکل سکتا ہے اور بہترین موت شہادت ہے۔قسم ہے اس پروردگار کی جس کے قبضہ قدرت میں فرزند ابو طالب کی جان ہے کہ میرے لئے تلوار کی ہزار ضربیں اطاعت خداسے الگ ہو کر بستر پرمرنے سے بہتر ہیں۔

گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ ویسی ہی آوازیں نکال رہے ہو جیسی سو سماروں کے جسموں کی رگڑ سے پیدا ہوتی ہیں کہ نہ اپناحق حاصل کر رہے ہو اورنہ ذلت کا دفاع کر رہے ہو جب کہ تمہیں راستہ پر کھلاچھوڑ دیا گیا ہے اور نجات اسی کے لئے ہے جو جنگ میں کود پڑے اورہلاکت اسی کے لئے ہے جودیکھتا ہی رہ جائے ۔


(۱۲۴)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في حث أصحابه على القتال

فَقَدِّمُوا الدَّارِعَ وأَخِّرُوا الْحَاسِرَ - وعَضُّوا عَلَى الأَضْرَاسِ - فَإِنَّه أَنْبَى لِلسُّيُوفِ عَنِ الْهَامِ - والْتَوُوا فِي أَطْرَافِ الرِّمَاحِ فَإِنَّه أَمْوَرُ لِلأَسِنَّةِ - وغُضُّوا الأَبْصَارَ فَإِنَّه أَرْبَطُ لِلْجَأْشِ وأَسْكَنُ لِلْقُلُوبِ - وأَمِيتُوا الأَصْوَاتَ فَإِنَّه أَطْرَدُ لِلْفَشَلِ - ورَايَتَكُمْ فَلَا تُمِيلُوهَا ولَا تُخِلُّوهَا - ولَا تَجْعَلُوهَا إِلَّا بِأَيْدِي شُجْعَانِكُمْ - والْمَانِعِينَ الذِّمَارَ مِنْكُمْ - فَإِنَّ الصَّابِرِينَ عَلَى نُزُولِ الْحَقَائِقِ - هُمُ الَّذِينَ يَحُفُّونَ بِرَايَاتِهِمْ - ويَكْتَنِفُونَهَا حِفَافَيْهَا ووَرَاءَهَا، وأَمَامَهَا - لَا يَتَأَخَّرُونَ عَنْهَا فَيُسْلِمُوهَا - ولَا يَتَقَدَّمُونَ عَلَيْهَا فَيُفْرِدُوهَا أَجْزَأَ امْرُؤٌ قِرْنَه وآسَى أَخَاه بِنَفْسِه - ولَمْ يَكِلْ قِرْنَه إِلَى أَخِيه - فَيَجْتَمِعَ عَلَيْه قِرْنُه وقِرْنُ أَخِيه - وايْمُ اللَّه لَئِنْ فَرَرْتُمْ مِنْ سَيْفِ الْعَاجِلَةِ - لَا تَسْلَمُوا مِنْ سَيْفِ الآخِرَةِ - وأَنْتُمْ لَهَامِيمُ الْعَرَبِ والسَّنَامُ الأَعْظَمُ - إِنَّ فِي الْفِرَارِ مَوْجِدَةَ اللَّه

(۱۲۴)

آپ کا ارشاد گرامی

(اپنے اصحاب کو جنگ پرآمادہ کرتے ہوئے)

زرہ پوش افراد کو آگے بڑھائو اوربے زرہ لوگوں کو پیچھے رکھو۔دانتوں کو بھینچ لو کہ اس سے تلواریں سر سے اچٹ جاتی ہیں اورنیزوں کے اطراف سے پہلوئوں کو بچائے رکھو کہ اس سے نیزوں کے رخ پلٹ جاتے ہیں۔نگاہوں کو نیچا رکھو کہ اس سے قوت قلب میں اضافہ ہوتا ہے اورحوصلے بلند رہتے ہیں۔آوازیں دھیمی رکھو کہ اس سے کمزوری دور ہوتی ہے۔دیکھو اپنے پرچم کا خیال رکھنا۔وہ نہ جھکنے پائے اور نہ اکیلا رہنے پائے اسے صرف بہادر افراد اور عزت کے پاسبانوں کے ہاتھ میں رکھنا کہ مصائب پر صبر کرنے والے ہی پرچموں کے گرد جمع ہوتے ہیں اور داہنے بائیں آگے ' پیچھے ہرطرف سے گھیرا ڈال کر اس کا تحفظ کرتے ہیں۔نہ اس سے پیچھے رہ جاتے ہیں کہ اسے دشمنوں کے حوالے کردیں اورنہ آگے بڑھ جاتے ہیں کہ وہ تنہا رہ جائے۔

دیکھو۔ہرشخص اپنے مقابل کا خود مقابلہ کرے اور اپنے بھائی کابھی ساتھ دے اورخبردار اپنے مقابلہ کو اپنے ساتھی کے حوالہ نہ کردینا کہ اس پر یہ اور اس کا ساتھی دونوں مل کرحملہ کردیں۔

خداکی قسم اگر تم دنیا کی تلوار سے بچ کر بھاگ بھی نکلے تو آخرت کی تلوار سے بچ کر نہیں جاسکتے ہو۔پھر تم تو عرب کے جوانمردوں اور سربلند افراد ہو۔تمہیں معلوم ہے کہ فرار میں خدا کا غضب بھی ہے کو


والذُّلَّ اللَّازِمَ والْعَارَ الْبَاقِيَ - وإِنَّ الْفَارَّ لَغَيْرُ مَزِيدٍ فِي عُمُرِه - ولَا مَحْجُوزٍ بَيْنَه وبَيْنَ يَوْمِه - مَنِ الرَّائِحُ إِلَى اللَّه كَالظَّمْآنِ يَرِدُ الْمَاءَ - الْجَنَّةُ تَحْتَ أَطْرَافِ الْعَوَالِي - الْيَوْمَ تُبْلَى الأَخْبَارُ - واللَّه لأَنَا أَشْوَقُ إِلَى لِقَائِهِمْ مِنْهُمْ إِلَى دِيَارِهِمْ - اللَّهُمَّ فَإِنْ رَدُّوا الْحَقَّ فَافْضُضْ جَمَاعَتَهُمْ - وشَتِّتْ كَلِمَتَهُمْ وأَبْسِلْهُمْ بِخَطَايَاهُمْ إِنَّهُمْ لَنْ يَزُولُوا عَنْ مَوَاقِفِهِمْ - دُونَ طَعْنٍ دِرَاكٍ يَخْرُجُ مِنْهُمُ النَّسِيمُ - وضَرْبٍ يَفْلِقُ الْهَامَ ويُطِيحُ الْعِظَامَ - ويُنْدِرُ السَّوَاعِدَ والأَقْدَامَ - وحَتَّى يُرْمَوْا بِالْمَنَاسِرِ تَتْبَعُهَا الْمَنَاسِرُ - ويُرْجَمُوا بِالْكَتَائِبِ تَقْفُوهَا الْحَلَائِبُ - وحَتَّى يُجَرَّ بِبِلَادِهِمُ الْخَمِيسُ يَتْلُوه الْخَمِيسُ - وحَتَّى تَدْعَقَ الْخُيُولُ فِي نَوَاحِرِ أَرْضِهِمْ - وبِأَعْنَانِ مَسَارِبِهِمْ ومَسَارِحِهِمْ.

قال السيد الشريف أقول - الدعق الدق أي تدق الخيول بحوافرها أرضهم - ونواحر أرضهم متقابلاتها - ويقال منازل بني فلان تتناحر أي تتقابل.

اور ہمیشہ کی ذلت بھی ہے۔فرار کرنے والا نہ اپنی عمر میں اضافہ کر سکتا ہے اور نہ اپنے وقت کے درمیان حائل ہو سکتا ہے۔کون ہے جو للہ کی طرف یوں جائے جس طرح پیاسا(۱) پانی کی طرف جاتا ہے۔جنت نیزوں کے اطراف کے سایہ میں ہے آج ہر ایک کے حالات کا امتحان ہو جائے گا۔خدا کی قسم مجھے دشمنوں سے جنگ کا اشتیاق اس سے زیادہ ہے جتنا انہیں اپنے گھروں کا اشتیاق ہے۔خدایا: یہ ظالم اگرحق کو رد کردیں توان کی جماعت کو پراگندہ کردے۔ان کے کلمہ کو متحد نہ ہونے دے۔ان کو ان کے کئے کی سزا دیدے کہ یہ اس وقت تک اپنے موقف سے نہ ہٹیں گے جب تک نیزے ان کے جسموں میں نسیم سحر کے راستے نہ بنا دیں اور تلواریں ان کے سروں کو شگافتہ ' ہڈیوں کو چور چور اور ہاتھ پیر کو شکستہ نہ بنادیں اور جب تک ان پر لشکر کے بعد لشکر اورسپاہ کے بعد سپاہ حملہ آور نہ ہو جائیں اور ان کے شہروں پر مسلسل فوجوں کی یلغار نہ ہو اور گھوڑے ان کی زمینوں کو آخرتک روند نہ ڈالیں اور ان کی چراگاہوں اورسبزہ زاروں کو پامال نہ کردیں۔

(۱)حقیقت امر یہ ہے کہ انسان کی زندگی کی ہر تشنگی کا علاج جنت کے علاوہ کہیں نہیں ہے۔یہ دنیا صرف ضروریات کی تکمیل کے لئے بنائی گئی ہے اور بڑے سے بڑے انسان کاحصہ بھی اس کے خواہشات سے کمتر ہے ورنہ سارے روئے زمین پر حکومت کرنے والا بھی اس سے بیشتر کاخواہش مندرہتا ہے اور دامان زمین میں اس سے زیادہ کی وسعت نہیں ہے۔یہ صرف جنت ہے جس کے بارے میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ وہاں ہرخواہش نفس اور لذت نگاہ کی تسکین کا سامان موجود ہے۔اب سوال صف یہ رہ جاتا ہے کہ وہاںتک جانے کاراستہ کیا ہے۔مولائے کائنات نے اپنے ساتھیوں کو اسینکتہ کی طرف متوجہ کیا ہے کہ جنت تلواروں کے سایہ کے نیچے ہے اور اس کا راستہ صرف میدان جہاد ہے لہٰذا میدان جہاد کی طرف اس طرح بڑھو جس طرح پیاسا پانی کی طرف بڑھتا ہے کہ اسی راہ میں ہر جذبہ دل کی تسکین کا سامان پایا جاتا ہے اور پھر دین خدا کی سر بلندی سے بالاتر کوئی شرف بھی نہیں ہے۔


(۱۲۵)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في التحكيموذلك بعد سماعه لأمر الحكمين

إِنَّا لَمْ نُحَكِّمِ الرِّجَالَ - وإِنَّمَا حَكَّمْنَا الْقُرْآنَ هَذَا الْقُرْآنُ - إِنَّمَا هُوَ خَطٍّ مَسْطُورٌ بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ - لَا يَنْطِقُ بِلِسَانٍ ولَا بُدَّ لَه مِنْ تَرْجُمَانٍ - وإِنَّمَا يَنْطِقُ عَنْه الرِّجَالُ - ولَمَّا دَعَانَا الْقَوْمُ - إلَى أَنْ نُحَكِّمَ بَيْنَنَا الْقُرْآنَ - لَمْ نَكُنِ الْفَرِيقَ الْمُتَوَلِّيَ - عَنْ كِتَابِ اللَّه سُبْحَانَه وتَعَالَى - وقَدْ قَالَ اللَّه سُبْحَانَه -( فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوه إِلَى الله والرَّسُولِ ) - فَرَدُّه إِلَى اللَّه أَنْ نَحْكُمَ بِكِتَابِه - ورَدُّه إِلَى الرَّسُولِ أَنْ نَأْخُذَ بِسُنَّتِه - فَإِذَا حُكِمَ بِالصِّدْقِ فِي كِتَابِ اللَّه - فَنَحْنُ أَحَقُّ النَّاسِ بِه - وإِنْ حُكِمَ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - فَنَحْنُ أَحَقُّ النَّاسِ وأَوْلَاهُمْ بِهَا - وأَمَّا قَوْلُكُمْ - لِمَ جَعَلْتَ بَيْنَكَ وبَيْنَهُمْ أَجَلًا فِي التَّحْكِيمِ - فَإِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ لِيَتَبَيَّنَ الْجَاهِلُ -

(۱۲۵)

(آپ کا ارشاد گرامی)

(تحکیم کے بارے میں ۔حکمین کی داستان سننے کے بعد)

یاد رکھو! ہم نے افراد کوحکم نہیں بنایا تھا بلکہ قرآن کو حکم قراردیا تھا اور قرآن وہی کتاب ہے جو دو دفینوں کے درمیان موجود ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ یہ خود نہیں بولتاہے اور اسے ترجمان کی ضرورت ہوتی ہے اور ترجمان افراد ہی ہوتے ہیں ۔اس قوم نے ہمیں دعوت دی کہ ہم قرآن سے فیصلہ کرائیں تو ہم تو قرآن سے رو گردانی کرنے والے نہیں تھے جب کہ پروردگار نے فرمادیا ہے کہ اپنے اختلافات کوخدا اور رسول کی طرف موڑو دواورخدا کی طرف موڑنے کا مطلب اس کی کتاب سے فیصلہ کرانا ہے اور رسول (ص) کی طرف موڑنے کا مقصد بھی سنت کا اتباع کرنا ہے اور یہ طے ہے کہ اگر کتاب خدا سے سچائی کے ساتھ فیصلہ کیا جائے تو اس کے سب سے زیادہ ح قدار ہم ہی ہیں اور اسی طرح سنت پیغمبر کے لئے سب سے اولیٰ و اقرب ہم ہی ہیں۔اب تمہارا یہ کہنا کہ آپ نے تحکیم کی مہلت کیوں(۱) دی؟ تو اس کا راز یہ ہے کہ میں چاہتا تھا کہ بے خبر با خبر ہو جائے

(۱) حضرت نے تحکیم کا فیصلہ کرتے ہوئے دونوں افراد کو ایک سال کی مہلت دی تھی تاکہ اس دوران نا واقف افراد حق و باطل کی اطلاع حاصل کرلیں اور جو کسی مقدار میں حق سے آگاہ ہیں وہ مزید تحقیق کرلیں۔ایسا نہ ہو کربے خبر افراد پہلے ہی مرحلہ میں گمراہ ہو جائیں اور عمر و عاص کی مکاری کا شکار ہو جائیں۔مگر افسوس یہ ہے کہ ہر دور میں ایسے افراد ضرور رہتے ہیں جو اپنے عقل وفکر کو ہر ایک سے بالاتر تصور کرتے ہیں اور اپنے قاد کے فیصلوں کوبھی ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے ہیں اور کھلی ہوئی بات ہے کہ جب امام کے ساتھ ایسا برتائو کیا گیا ہے تونائب امام یا عالم دین کی کیا حیثیت ہے ؟


ويَتَثَبَّتَ الْعَالِمُ - ولَعَلَّ اللَّه أَنْ يُصْلِحَ فِي هَذِه الْهُدْنَةِ - أَمْرَ هَذِه الأُمَّةِ - ولَا تُؤْخَذَ بِأَكْظَامِهَا - فَتَعْجَلَ عَنْ تَبَيُّنِ الْحَقِّ - وتَنْقَادَ لأَوَّلِ الْغَيِّ - إِنَّ أَفْضَلَ النَّاسِ عِنْدَ اللَّه - مَنْ كَانَ الْعَمَلُ بِالْحَقِّ أَحَبَّ إِلَيْه - وإِنْ نَقَصَه وكَرَثَه مِنَ الْبَاطِلِ - وإِنْ جَرَّ إِلَيْه فَائِدَةً وزَادَه - فَأَيْنَ يُتَاه بِكُمْ - ومِنْ أَيْنَ أُتِيتُمْ - اسْتَعِدُّوا لِلْمَسِيرِ إِلَى قَوْمٍ حَيَارَى - عَنِ الْحَقِّ لَا يُبْصِرُونَه - ومُوزَعِينَ بِالْجَوْرِ لَايَعْدِلُونَ بِه - جُفَاةٍ عَنِ الْكِتَابِ - نُكُبٍ عَنِ الطَّرِيقِ - مَا أَنْتُمْ بِوَثِيقَةٍ يُعْلَقُ بِهَا - ولَا زَوَافِرِ عِزٍّ يُعْتَصَمُ إِلَيْهَا - لَبِئْسَ حُشَّاشُ نَارِ الْحَرْبِ أَنْتُمْ - أُفٍّ لَكُمْ - لَقَدْ لَقِيتُ مِنْكُمْ بَرْحاً يَوْماً أُنَادِيكُمْ - ويَوْماً أُنَاجِيكُمْ - فَلَا أَحْرَارُ صِدْقٍ عِنْدَ النِّدَاءِ - ولَا إِخْوَانُ ثِقَةٍ عِنْدَ النَّجَاءِ

(۱۲۶)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لما عوتب على التسوية في العطاء

أَتَأْمُرُونِّي أَنْ أَطْلُبَ النَّصْرَ بِالْجَوْرِ - فِيمَنْ وُلِّيتُ عَلَيْه -

اورباخبرتحقیق کرلے کہ شائد پروردگار اس وقفہ میں امت کے امور کی اصلاح کردے اور اس کا گلا نہ گھونٹا جائے کہ تحقیق حق سے پہلے گمراہی کے پہلے ہی مرحلہ میں بھٹک جائے۔اوریاد رکھو کہ پروردگار کے نزدیک بہترین انسان وہ ہے جسے حق پر عملدار آمد کرنا (چاہے اس میں نقصان ہی کیوں نہ ہو)باطل پر عمل کرنے سے زیادہ محبوب ہو( چاہے اس میں فائدہ ہی کیوں نہ ہو) تو آخر تمہیں کدھر لے جایا جا رہا ہے اور تمہارے پاس شیطان کدھر سے آگیا ہے۔دیکھو اس قوم سے جہاد کے لئے تیار ہو جائو جو حق کے معاملہ میں اس طرح سرگرداں ہے کہ اسے کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا ہے اورباطل پر اس طرح اتارو کردی گئی ہے کہ سیدھے راستہ پر آنا ہی نہیں چاہتی ہے۔یہ کتاب خداسے الگ اور راہ حق سے منحرف ہیں مگر تم بھی قابل اعتماد افراد اور لائق تمسک شرف کے پاسبان نہیں ہو۔تم آتش جنگ کے بھڑکانے کا بد ترین ذریعہ ہو۔تم پر حیف ہے میں نے تم سے بہت تکلیف اٹھائی ہے۔تمہیں علی الاعلان بھی پکارا ہے اورآہستہ بھی سمجھایا ہے لیکن تم نہ آواز جنگ پر سچے شریف ثابت ہوئے اور نہ راز داری پر قابل اعتماد ساتھی نکلے۔

(۱۲۶)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب عطا یا کی برابری پر اعتراض کیا گیا)

کیاتم مجھے اس بات پرآمادہ کرنا چاہتے ہو کہ میں جن رعایا کا ذمہ دار بنایا گیا ہوں


واللَّه لَا أَطُورُ بِه مَا سَمَرَ سَمِيرٌ - ومَا أَمَّ نَجْمٌ فِي السَّمَاءِ نَجْماً - لَوْ كَانَ الْمَالُ لِي لَسَوَّيْتُ بَيْنَهُمْ - فَكَيْفَ وإِنَّمَا الْمَالُ مَالُ اللَّه - أَلَا وإِنَّ إِعْطَاءَ الْمَالِ فِي غَيْرِ حَقِّه تَبْذِيرٌ وإِسْرَافٌ - وهُوَ يَرْفَعُ صَاحِبَه فِي الدُّنْيَا - ويَضَعُه فِي الآخِرَةِ - ويُكْرِمُه فِي النَّاسِ ويُهِينُه عِنْدَ اللَّه - ولَمْ يَضَعِ امْرُؤٌ مَالَه فِي غَيْرِ حَقِّه ولَا عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِه - إِلَّا حَرَمَه اللَّه شُكْرَهُمْ - وكَانَ لِغَيْرِه وُدُّهُمْ - فَإِنْ زَلَّتْ بِه النَّعْلُ يَوْماً - فَاحْتَاجَ إِلَى مَعُونَتِهِمْ فَشَرُّ خَلِيلٍ - وأَلأَمُ خَدِينٍ !

(۱۲۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وفيه يبين بعض أحكام الدين ويكشف للخوارج الشبهة وينقض حكم الحكمين

فَإِنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا أَنْ تَزْعُمُوا أَنِّي أَخْطَأْتُ وضَلَلْتُ - فَلِمَ تُضَلِّلُونَ عَامَّةَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بِضَلَالِي - وتَأْخُذُونَهُمْ بِخَطَئِي -

ان پر ظلم کرکے چند افراد کی کمک حاصل کرلوں ۔خدا کی قسم جب تک اس دنیا کا قصہ چلتا رہے گا اور ایک ستارہ دوسرے ستارہ کی طرف جھکتا رہے گا ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ہے۔یہ مال اگر میرا ذاتی ہوتا جب بھی میں برابر سے تقسیم کرتا چہ جائیکہ یہ مال مال خداہے اور یادرکھو کہ مال کا نا حق عطا کردینا بھی اسراف اور فضول خرچی میں شمار ہوتا ہے اوریہ کام انسان کو دنیا میں بلند بھی کر دیتا ہے تو آخرت میں ذلیل کر دیتا ہے۔لوگوں میں محترم بھی بنادیتا ہے تو خدا کی نگاہ میں پست تر بنا دیتا ہے اور جب بھی کوئی شخص مال کو نا حق یا نا اہل پر صرف کرتا ہے تو پروردگار اس کے شکریہ سے بھی محروم کر دیتا ہے اور اس کی محبت کا رخ بھی دوسروں کی طرف مڑ جاتا ہے ۔پھر اگرکسی دن پیر پھسل گئے اور ان کی امداد کا بھی محتا ج ہوگیا تو وہ بد ترین دوست اور ذلیل ترین ساتھی ہی ثابت ہوتے ہیں۔

(۱۲۷)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں بعض احکام دین کے بیان کے ساتھ خوارج کے شبہات کا ازالہ اورحکمین کے توڑ کا فیصلہ بیان کیا گیا ہے)

اگر تمہارااصرار اسی بات پرہےکہ مجھےخطاکاراور گمراہ قرار دو تو ساری امت پیغمبر (ص) کو کیوں خطا کار قراردےرہےہواور میری'' غلطی '' کا مواخذہ ان سے کیوں کر


وتُكَفِّرُونَهُمْ بِذُنُوبِي - سُيُوفُكُمْ عَلَى عَوَاتِقِكُمْ - تَضَعُونَهَا مَوَاضِعَ الْبُرْءِ والسُّقْمِ - وتَخْلِطُونَ مَنْ أَذْنَبَ بِمَنْ لَمْ يُذْنِبْ - وقَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رَجَمَ الزَّانِيَ الْمُحْصَنَ - ثُمَّ صَلَّى عَلَيْه ثُمَّ وَرَّثَه أَهْلَه - وقَتَلَ الْقَاتِلَ ووَرَّثَ مِيرَاثَه أَهْلَه - وقَطَعَ السَّارِقَ وجَلَدَ الزَّانِيَ غَيْرَ الْمُحْصَنِ - ثُمَّ قَسَمَ عَلَيْهِمَا مِنَ الْفَيْءِ ونَكَحَا الْمُسْلِمَاتِ - فَأَخَذَهُمْ رَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بِذُنُوبِهِمْ - وأَقَامَ حَقَّ اللَّه فِيهِمْ - ولَمْ يَمْنَعْهُمْ سَهْمَهُمْ مِنَ الإِسْلَامِ - ولَمْ يُخْرِجْ أَسْمَاءَهُمْ مِنْ بَيْنِ أَهْلِه - ثُمَّ أَنْتُمْ شِرَارُ النَّاسِ - ومَنْ رَمَى بِه الشَّيْطَانُ مَرَامِيَه وضَرَبَ بِه تِيهَه - وسَيَهْلِكُ فِيَّ صِنْفَانِ - مُحِبٌّ مُفْرِطٌ يَذْهَبُ بِه الْحُبُّ إِلَى غَيْرِ الْحَقِّ - ومُبْغِضٌ مُفْرِطٌ يَذْهَبُ بِه الْبُغْضُ إِلَى غَيْرِ الْحَقِّ - وخَيْرُ النَّاسِ فِيَّ حَالًا النَّمَطُ الأَوْسَطُ فَالْزَمُوه - والْزَمُوا السَّوَادَ الأَعْظَمَ - فَإِنَّ يَدَ اللَّه مَعَ الْجَمَاعَةِ - وإِيَّاكُمْ والْفُرْقَةَ!

رہے ہو اور میرے ''گناہ '' کی بناپر انہیں کیوں کافر قرار دے رہے ہو۔تمہاری تلواریں تمہارے کاندھوں پر رکھی ہیں جہاں چاہتے ہو خطا ' بے خطا چلادیتے ہو اور گناہ گار اوربے گناہ میں کوئی فرق نہیں کرتے ہو حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ رسول اکرم (ص) نے زنائے محضہ کے مجرم کو سنگسار کیا تواس کی نمازجنازہ بھی پڑھی تھی اور اس کے اہل کو وارث بھی قرار دیا تھا۔اور اسی طرح قاتل کو قتل کیا تو اس کی میراث بھی تقسیم کی اور چور کے ہاتھ کاٹے یا غیر شادی شدہ زنا کار کو کوڑے لگوائے تو انہیں مال غنیمت میں حصہ بھی دیا اور ان کا مسلمان عورتوں سے نکاح بھی کرایا گویا کہ آپ نے ان کے گناہوں کا مواخذہ کیا اور ان کے بارے میں حق خداکو قائم کیا لیکن اسلام میں ان کے حصہ کو نہیں روکا اور نہ ان کے نام کواہل اسلام کی فہرست سے خارج کیا۔مگر تم بد ترین افراد ہو کہ شیطان تمہارے ذریعہ اپنے مقاصد کو حاصل کرلیتا ہے اورتمہیں صحرائے ضلالت میں ڈال دیتا ہے اور عنقریب میرے بارے میں دو طرح کے افراد گمراہ ہوں گے۔محبت میں غلو کرنے والے جنہیں محبت غیرحق کی طرف لے جائے گی اور عداوت میں زیادتی کرنے والے جنہیں عداوت باطل کی طرف کھینچ لے جائے گی۔اوربہترین افراد وہ ہوں گے جو درمیانی منزل پر ہوں لہٰذا تم بھی اسی راستہ کو اختیار کرو اور اسی نظر یہ کی جماعت کے ساتھ ہو جائو کہ اللہ کاہاتھ اسی جماعت کے ساتھ ہے اورخبردارتفرقہ کی کوشش نہ کرنا کہ جو ایمانی جماعت سے کٹ جاتا ہے


فَإِنَّ الشَّاذَّ مِنَ النَّاسِ لِلشَّيْطَانِ - كَمَا أَنَّ الشَّاذَّ مِنَ الْغَنَمِ لِلذِّئْبِ. أَلَا مَنْ دَعَا إِلَى هَذَا الشِّعَارِ فَاقْتُلُوه - ولَوْ كَانَ تَحْتَ عِمَامَتِي هَذِه - فَإِنَّمَا حُكِّمَ الْحَكَمَانِ لِيُحْيِيَا مَا أَحْيَا الْقُرْآنُ - ويُمِيتَا مَا أَمَاتَ الْقُرْآنُ - وإِحْيَاؤُه الِاجْتِمَاعُ عَلَيْه - وإِمَاتَتُه الِافْتِرَاقُ عَنْه - فَإِنْ جَرَّنَا الْقُرْآنُ إِلَيْهِمُ اتَّبَعْنَاهُمْ - وإِنْ جَرَّهُمْ إِلَيْنَا اتَّبَعُونَا - فَلَمْ آتِ لَا أَبَا لَكُمْ بُجْراً - ولَا خَتَلْتُكُمْ عَنْ أَمْرِكُمْ - ولَا لَبَّسْتُه عَلَيْكُمْ - إِنَّمَا اجْتَمَعَ رَأْيُ مَلَئِكُمْ عَلَى اخْتِيَارِ رَجُلَيْنِ - أَخَذْنَا عَلَيْهِمَا أَلَّا يَتَعَدَّيَا الْقُرْآنَ فَتَاهَا عَنْه - وتَرَكَا الْحَقَّ وهُمَا يُبْصِرَانِه - وكَانَ الْجَوْرُ هَوَاهُمَا فَمَضَيَا عَلَيْه - وقَدْ سَبَقَ اسْتِثْنَاؤُنَا عَلَيْهِمَا فِي الْحُكُومَةِ بِالْعَدْلِ - والصَّمْدِ لِلْحَقِّ سُوءَ رَأْيِهِمَا وجَوْرَ حُكْمِهِمَا.

(۱۲۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

فيما يخبر به عن الملاحم بالبصرة

وہ اسی طرح شیطان کا شکار ہو جاتا ہے جس طرح گلہ سے الگ ہوجانے والی بھیڑ بھیڑئیے کی نذر ہوجاتی ہے۔آگاہ ہو جائو کہ جو بھی اس انحراف کا نعرہ لگائے اسے قتل کردو چاہے وہ میرے ہی عمامہ کے نیچے کیوں نہ ہو۔ ان دونوں افراد کو حکم بنایا گیا تھا تاکہ ان امور کو زندہ کریں جنہیں قرآن نے زندہ کیا ہے اور ان امور کو مردہ بنادیں جنہیں قرآن نے مردہ بنا دیا ہے اور زندہکرنے کے معنی اس پر اتفاق کرنے اورمردہ بنانے کے معنی اس سے الگ ہو جانے کے ہیں۔ہم اس بات پر تیار تھے کہ اگر قرآن ہمیں دشمن کی طرف کھینچ لے جائے گا تو ہم ان کا اتباع کرلیں گے اور اگر انہیں ہماری طرف لے آئے گا تو انہیں آنا پڑے گا لیکن خدا تمہارا برا کرے۔اس بات میںمیں نے کوئی غلط کام تو نہیں کیا اور نہ تمہیں کوئی دھوکہ دیا ہے۔اور نہ کسی بات کو شبہ میں رکھا ہے۔لیکن تمہاری جماعت نے دوآدمیوں کے انتخاب پر اتفاق کرلیا اورمیں نے ان پر شرط لگا دی کہ قرآن کے حدود سے تجاوز نہیں کریں گے مگر وہ دونوں قرآن سے منحرف ہوگئے اورحق کو دیکھ بھال کر نظر انداز کردیا اور اصل بات یہ ہے کہ ان کا مقصد ہی ظلم تھا اوروہ اسی راستہ پرچلے گئے جب کہ میں نے ان کی غلط رائے اورظالمانہ فیصلہ سے پہلے ہی فیصلہ میں عدالت اور ارادہ حق کی شرط لگادی تھی۔

(۱۲۸)

آپ کا ارشادگرامی

(بصرہ کے حوادث کی خبر دیتے ہوئے )


يَا أَحْنَفُ كَأَنِّي بِه وقَدْ سَارَ بِالْجَيْشِ - الَّذِي لَا يَكُونُ لَه غُبَارٌ ولَا لَجَبٌ - ولَا قَعْقَعَةُ لُجُمٍ ولَا حَمْحَمَةُ خَيْلٍ - يُثِيرُونَ الأَرْضَ بِأَقْدَامِهِمْ - كَأَنَّهَا أَقْدَامُ النَّعَامِ.

قال الشريف يومئ بذلك إلى صاحب الزنج.

ثُمَّ قَالَعليه‌السلام - وَيْلٌ لِسِكَكِكُمُ الْعَامِرَةِ والدُّورِ الْمُزَخْرَفَةِ - الَّتِي لَهَا أَجْنِحَةٌ كَأَجْنِحَةِ النُّسُورِ - وخَرَاطِيمُ كَخَرَاطِيمِ

الْفِيَلَةِ - مِنْ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَا يُنْدَبُ قَتِيلُهُمْ - ولَا يُفْقَدُ غَائِبُهُمْ - أَنَا كَابُّ الدُّنْيَا لِوَجْهِهَا - وقَادِرُهَا بِقَدْرِهَا ونَاظِرُهَا بِعَيْنِهَا.

منه في وصف الأتراك

كَأَنِّي أَرَاهُمْ قَوْماً –( كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطَرَّقَةُ ) - يَلْبَسُونَ السَّرَقَ والدِّيبَاجَ - ويَعْتَقِبُونَ الْخَيْلَ الْعِتَاقَ - ويَكُونُ هُنَاكَ اسْتِحْرَارُ قَتْلٍ - حَتَّى يَمْشِيَ الْمَجْرُوحُ عَلَى الْمَقْتُولِ -

اے(۱) احنف ! گویا کہ میں اس شخص کو دیکھ رہا ہوں جو ایک ایسا لشکر لے کر آیا ہے جس میں نہ گردو غبار ہے اور نہ شورو غوغا ۔نہ لجاموں کی کھڑکھڑاہٹ ہے اور نہ گھوڑوں کی ہنہناہٹ ۔یہ زمین کو اسی طرح روند رہے ہیں جس طرح شتر مرغ کے پیر۔

سید رضی : حضرت نے اس خبر میں صاحب زنج کی طرف اشارہ کیا ہے( جس کا نام علی بن محمد تھااور اس نے۲۲۵ ھ میں بصرہ میں غلاموں کو مالکوں کے خلاف متحد کیا اور ہر غلام سے اس کے مالک کو۵۰۰ کوڑے لگوائے ۔

افسوس ہے تمہاری آباد گلیوں اور ان سجے سجائے مکانات کے حال پر جن کے چھجے گدوں کے پر اور ہاتھیوں کے سونڈ کے مانند ہے ان لوگوں کی طرف سے جن کے مقتول پر گریہ نہیں کیاجاتا ہے اور ان کے غائب کو تلاش نہیں کیا جاتا ہے۔میں دنیا کو منہ کے بھل اوندھا کر دینے والا اور اس کی صحیح اوقات کا جاننے والا اور اس کی حالت کو اس کے شایان شان نگاہ سے دیکھنے والا ہوں۔

(ترکوں کے بارے میں )

میں ایک ایسی قوم کو دیکھ رہا ہوں جن کے چہرہ چمڑے سے منڈھی ڈھال کے مانند ہیں۔ریشم و دیبا کے لباس پہنتے ہیں اور بہترین اصیل گھوڑوں سے محبت رکھتے ہیں۔ان کے درمیان عنقریب قتل کی گرم بازاری ہوگی جہاں زخمی مقتول کے اوپر سے گزریں گے

(۱)بنی تمیم کے سردار احنف بن قیس سے خطاب ہے جنہوں نے رسول اکرم (ص) کی زیارت نہیں کی مگر اسلام قبول کیا اورجنگ جمل کے موقع پر اپنے علاقہ میں ام المومنین کے فتنوں کا دفاع کرتے رہے اور پھر جنگ صفین میں مولائے کائنات کے ساتھ شریک ہوگئے اور جہاد راہ خداکا حق ادا کردیا


ويَكُونَ الْمُفْلِتُ أَقَلَّ مِنَ الْمَأْسُورِ.

فَقَالَ لَه بَعْضُ أَصْحَابِه - لَقَدْ أُعْطِيتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عِلْمَ الْغَيْبِ - فَضَحِكَعليه‌السلام وقَالَ لِلرَّجُلِ وكَانَ كَلْبِيّاً.

يَا أَخَا كَلْبٍ لَيْسَ هُوَ بِعِلْمِ غَيْبٍ - وإِنَّمَا هُوَ تَعَلُّمٌ مِنْ ذِي عِلْمٍ - وإِنَّمَا عِلْمُ الْغَيْبِ عِلْمُ السَّاعَةِ - ومَا عَدَّدَه اللَّه سُبْحَانَه بِقَوْلِه –( إِنَّ الله عِنْدَه عِلْمُ السَّاعَةِ - ويُنَزِّلُ الْغَيْثَ ويَعْلَمُ ما فِي الأَرْحامِ - وما تَدْرِي نَفْسٌ ما ذا تَكْسِبُ غَداً - وما تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ) الآيَةَ - فَيَعْلَمُ اللَّه سُبْحَانَه مَا فِي الأَرْحَامِ - مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وقَبِيحٍ أَوْ جَمِيلٍ - وسَخِيٍّ أَوْ بَخِيلٍ - وشَقِيٍّ أَوْ سَعِيدٍ - ومَنْ يَكُونُ فِي النَّارِ حَطَباً - أَوْ فِي الْجِنَانِ لِلنَّبِيِّينَ مُرَافِقاً - فَهَذَا عِلْمُ الْغَيْبِ الَّذِي لَا يَعْلَمُه أَحَدٌ إِلَّا اللَّه - ومَا سِوَى ذَلِكَ فَعِلْمٌ - عَلَّمَه اللَّه نَبِيَّه فَعَلَّمَنِيه - ودَعَا لِي بِأَنْ يَعِيَه صَدْرِي - وتَضْطَمَّ عَلَيْه جَوَانِحِي

اوراب بھاگنے والے قیدیوں سے کم ہوں گے ( یہ تاتاریوں کے فتنہ کی طرف اشارہ ہے جہاں چنگیز خاں اور اس کی قوم نے تمام اسلامی ملکوں کو تباہ و برباد کردیا اور کتے' سور کو اپنی غذا بنا کر ایسے حملے کئے کہ شہروں کو خاک میں ملا دیا) یہ سن کر ایک شخص نے کہا کہ آپ تو علم غیب کی باتیں کر رہے ہیں تو آپ نے مسکرا کر اس کلبی شخص سے فرمایا اے برادر کلبی! یہ علم غیب نہیں ہے بلکہ صاحب علم سے تعلم ہے۔علم غیب قیامت کا اور ان چیزوں کا علم ہے جن کو خدانے قرآن مجید میں شمار کردیا ہے کہ اللہ کے پاس قیامت کا علم ہے اور بارش کابرسانے والا وہی ہے اور پیٹ میں پلنے والے بچہ کا مقدر وہی جانتا ہے۔اس کے علاوہ کسی کو نہیں معلوم ہے کہ کل کیا کمائے گا اور کس سر زمین پرموت آئے گی۔ پروردگار جانتا ہے کہ رحم کا بچہ لڑکا ہے یا لڑکی حسین ہے یا قبیح' سخی ہے یا بخیل' شقی ہے یا سعید' کون جہنم کا کندہ بن جائے گا اور کون جنت میں ابنیاء کرام کا ہمنشین ہوگا۔یہ وہ علم غیب ہے جسے خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے۔اس کے علاوہ جو بھی علم ہے وہ ایسا علم ہے جسے اللہ نے پیغمبر (ص) کو تعلیم دیا ہے اور انہوں نے مجھے اس کی تعلیم دی ہے اورمیرے حق میں دعا کی ہے کہ میرا سینہ اسے محفوظ کرلے اور اس دل میں اسے محفوظ کردے جومیرے پہلو میں ہے۔


(۱۲۹)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في ذكر المكاييل والموازين

عِبَادَ اللَّه إِنَّكُمْ ومَا تَأْمُلُونَ - مِنْ هَذِه الدُّنْيَا أَثْوِيَاءُ مُؤَجَّلُونَ - ومَدِينُونَ مُقْتَضَوْنَ أَجَلٌ مَنْقُوصٌ - وعَمَلٌ مَحْفُوظٌ - فَرُبَّ دَائِبٍ مُضَيَّعٌ ورُبَّ كَادِحٍ خَاسِرٌ - وقَدْ أَصْبَحْتُمْ فِي زَمَنٍ لَا يَزْدَادُ الْخَيْرُ فِيه إِلَّا إِدْبَاراً - ولَا الشَّرُّ فِيه إِلَّا إِقْبَالًا - ولَا الشَّيْطَانُ فِي هَلَاكِ النَّاسِ إِلَّا طَمَعاً - فَهَذَا أَوَانٌ قَوِيَتْ عُدَّتُه - وعَمَّتْ مَكِيدَتُه وأَمْكَنَتْ فَرِيسَتُه - اضْرِبْ بِطَرْفِكَ حَيْثُ شِئْتَ مِنَ النَّاسِ - فَهَلْ تُبْصِرُ إِلَّا فَقِيراً يُكَابِدُ فَقْراً - أَوْ غَنِيّاً بَدَّلَ نِعْمَةَ اللَّه كُفْراً - أَوْ بَخِيلًا اتَّخَذَ الْبُخْلَ بِحَقِّ اللَّه وَفْراً - أَوْ مُتَمَرِّداً كَأَنَّ بِأُذُنِه عَنْ سَمْعِ الْمَوَاعِظِ وَقْراً - أَيْنَ أَخْيَارُكُمْ وصُلَحَاؤُكُمْ - وأَيْنَ أَحْرَارُكُمْ وسُمَحَاؤُكُمْ - وأَيْنَ الْمُتَوَرِّعُونَ فِي مَكَاسِبِهِمْ - والْمُتَنَزِّهُونَ فِي مَذَاهِبِهِمْ - أَلَيْسَ قَدْ ظَعَنُوا جَمِيعاً - عَنْ هَذِه الدُّنْيَا الدَّنِيَّةِ -

(۱۲۹)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(ناپ تول کے بارے میں )

اللہ کے بندو! تم اور جو کچھ اس دنیا سے توقع رکھتے ہو سب ایک مقررہ مدت کے مہمان ہیں اور ایسے قرضدار ہیں جن سے قرضہ کامطالبہ ہو رہا ہو۔عمریں گھٹ رہی ہیں اور اعمال محفوظ کئے جا رہے ہیں۔کتنے دوڑ دھوپ کرنے والے ہیں جن کی محنت برباد ہو رہی ہے اور کتنے کوشش کرنے والے ہیں جو مسلسل گھاٹے کاشکار ہیں تم ایسے زمانے میں زندگی گزار رہے ہو جس میں نیکی مسلسل منہ پھیر کر جا رہی ہے اور برائی برابر سامنے آرہی ہے۔شیطان لوگوں کو تباہ کرنے کی ہوس میں لگا ہوا ہے۔اس کا سازو سامان مستحکم ہو چکا ہے۔اس کی سازشیں عام ہو چکی ہیں اور اس کے شکار اس کے قابو میں ہیں۔تم جدھر چاہو نگاہ اٹھا کر دیکھ لو سوائے اس فقیر کے جو فقر کی مصیبتیں جھیل رہا ہے اور اس امیر کے جس نے نعمت خدا کی نا شکری کی ہے اور اس بخیل کے جس نے حق خدا میں بخل ہی کو مال کے اضافہ کا ذریعہ بنا لیا ہے اور اس سرکش کے جس کے کان نصیحتوں کے لئے بہترے ہوگئے ہیں اور کچھ نظرنہیں آئے گا۔کہاں چلے گئے وہ نیک اور صالح بندے اور کدھر ہیں وہ شریف اور کریم النفس لوگ ۔کہاں ہیں وہ افراد جو کسب معاش میں احتیاط برتنے والے تھے اور راستوں میں پاکیزہ راستہ اختیار کرنے والے تھے کیا سب کے سب اس پست اور زندگی کو مکدربنا دینے والی دنیا سے نہیں چلے گئے


والْعَاجِلَةِ الْمُنَغِّصَةِ - وهَلْ خُلِقْتُمْ إِلَّا فِي حُثَالَةٍ - لَا تَلْتَقِي إِلَّا بِذَمِّهِمُ الشَّفَتَانِ - اسْتِصْغَاراً لِقَدْرِهِمْ وذَهَاباً عَنْ ذِكْرِهِمْ - فَ «إِنَّا لِلَّه وإِنَّا إِلَيْه راجِعُونَ» - ظَهَرَ الْفَسَادُ فَلَا مُنْكِرٌ مُغَيِّرٌ - ولَا زَاجِرٌ مُزْدَجِرٌ - أَفَبِهَذَا تُرِيدُونَ أَنْ تُجَاوِرُوا اللَّه فِي دَارِ قُدْسِه - وتَكُونُوا أَعَزَّ أَوْلِيَائِه عِنْدَه - هَيْهَاتَ لَا يُخْدَعُ اللَّه عَنْ جَنَّتِه - ولَا تُنَالُ مَرْضَاتُه إِلَّا بِطَاعَتِه - لَعَنَ اللَّه الآمِرِينَ بِالْمَعْرُوفِ التَّارِكِينَ لَه - والنَّاهِينَ عَنِ الْمُنْكَرِ الْعَامِلِينَ بِه.

(۱۳۰)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لأبي ذر رحمهالله - لما أخرج إلى الربذة

يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّكَ غَضِبْتَ لِلَّه فَارْجُ مَنْ غَضِبْتَ لَه - إِنَّ الْقَوْمَ خَافُوكَ عَلَى دُنْيَاهُمْ وخِفْتَهُمْ عَلَى دِينِكَ - فَاتْرُكْ فِي أَيْدِيهِمْ مَا خَافُوكَ عَلَيْه - واهْرُبْ مِنْهُمْ بِمَا خِفْتَهُمْ عَلَيْه - فَمَا أَحْوَجَهُمْ إِلَى مَا مَنَعْتَهُمْ -

اور کیا تمہیں ایسے افراد میں نہیں چھوڑ گئے جن کی حقارت اور جن کے ذکر سے اعراض کی بنا پر ہونٹ سوائے ان کی مذمت کے کسی بات کے لئے آپس میں نہیں ملتے ہیں۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔فساد اس قدر پھیل چکا ہے کہ نہ کوئی حالات کا بدلنے والاہے اور نہ کوئی منع کرنے والا اور نہخود پر پرہیز کرنے والا ہے۔تو کیا تم انہیں حالات کے ذریعہ خدا کے مقدس جوارمیں رہنا چاہیے ہو اوراس کے عزیز ترین دوست بننا چاہتے ہو۔افسوس ! اللہ کو جنت کے بارے میں دھوکہ نہیں دیا جا سکتا ہے اور نہ اس کی مرضی کو اطاعت کے بغیر حاصل کیا جا سکتا ہے۔اللہ لعنت کرے ان لوگوں پر جو دوسروں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور خود عمل نہیں کرتے ہیں ۔سماج کو برائیوں سے روکتے ہیں اور خود انہیں میں مبتلا ہیں۔

(۱۳۰)

آپ کا ارشاد گرامی

(جو آپ نے ابو ذر غفاری سے فرمایا جب انہیں ربذہ کی طرف شہر بدر کردیا گیا )

ابو ذر تمہارا غیظ و غضب اللہ کے لئے ہے لہٰذا اس سے امید وابستہ رکھو جس کے لئے یہ غیظ و غضب اختیار کیا ہے۔قوم کو تم سے اپنی دنیاکے بارے میں خطرہ تھا اور تمہیں ان سے اپنے دین کے بارے میں خوف تھا لہٰذا جس کا انہیں خطرہ تھا وہ ان کے لئے چھوڑ دو اور جس کے لئے تمہیں خوف تھا اسے بچاکرنکل جائو۔یہ لوگ بہر حال اس کے محتاج ہیں جس کو تم نے ان سے روکا ہے


ومَا أَغْنَاكَ عَمَّا مَنَعُوكَ - وسَتَعْلَمُ مَنِ الرَّابِحُ غَداً والأَكْثَرُ حُسَّداً - ولَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ والأَرَضِينَ كَانَتَا عَلَى عَبْدٍ رَتْقاً - ثُمَّ اتَّقَى اللَّه لَجَعَلَ اللَّه لَه مِنْهُمَا مَخْرَجاً - لَا يُؤْنِسَنَّكَ إِلَّا الْحَقُّ - ولَا يُوحِشَنَّكَ إِلَّا الْبَاطِلُ - فَلَوْ قَبِلْتَ دُنْيَاهُمْ لأَحَبُّوكَ - ولَوْ قَرَضْتَ مِنْهَا لأَمَّنُوكَ.

(۱۳۱)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وفيه يبين سبب طلبه الحكم ويصف الإمام الحق

أَيَّتُهَا النُّفُوسُ الْمُخْتَلِفَةُ والْقُلُوبُ الْمُتَشَتِّتَةُ - الشَّاهِدَةُ أَبْدَانُهُمْ والْغَائِبَةُ عَنْهُمْ عُقُولُهُمْ - أَظْأَرُكُمْ عَلَى الْحَقِّ - وأَنْتُمْ تَنْفِرُونَ عَنْه نُفُورَ الْمِعْزَى مِنْ وَعْوَعَةِ الأَسَدِ - هَيْهَاتَ أَنْ أَطْلَعَ بِكُمْ سَرَارَ الْعَدْلِ - أَوْ أُقِيمَ اعْوِجَاجَ الْحَقِّ - اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ - أَنَّه لَمْ يَكُنِ الَّذِي كَانَ مِنَّا مُنَافَسَةً فِي سُلْطَانٍ - ولَا الْتِمَاسَ شَيْءٍ مِنْ فُضُولِ الْحُطَامِ - ولَكِنْ لِنَرِدَ الْمَعَالِمَ مِنْ دِينِكَ -

اورتم اس سے بہرحال بے نیاز ہو جس سے ان لوگوں نے تمہیں محروم کیا ہے عنقریب یہ معلوم ہو جائے گا کہ فائدہ میں کون رہا اور کس سے حسد کرنے والے زیادہ ہیں۔یاد رکھو کہ کسی بندہ خدا پر اگر زمین وآسمان دونوں کے راستے بند ہوجائیں اور وہ تقوائے الٰہی اختیار کرلے تو اللہ اس کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال دے گا۔دیکھو تمہیں صرف حق سے انس اور باطل سے وحشت ہونی چاہیے تم اگر ان کی دنیا کو قبول کر لیتے تو یہ تم سے محبت کرتے اور اگردنیا میں سے اپنا حصہ لے لیتے تو تمہاری طرف سے مطمئن ہو جاتے ۔

(۱۳۱)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں اپنی حکومت طلبی کا سبب بیان فرمایا ہے اور امام بر حق کے اوصاف کا تذکرہ کیا ہے )

اے وہ لوگو جن کے نفس مختلف ہیں اوردل متفرق۔بدن حاضر ہیں اور عقلیں غائب ۔میں تمہیں مہرانی کے ساتھ حق کی دعوت دیتا ہوں اور تم اس طرح فرار کر تے ہو جیسے شیر کی ڈرکار سے بکریاں۔افسوس تمہارے ذریعہ عدل کی تاریکیوں کو کیسے روشن کیا جا سکتا ہے اور حق میں پیداہو جانے والی کجی کو کس طرح سیدھا کیا جا سکتا ہے۔خدایا تو جانتا ہے کہ میں نے حکومت کے بارے میں جو اقدام کیا ہے اس میں نہ سلطنت کی لالچ تھی اور نہمالی دنیا کی تلاش۔میرا مقصد صرف یہ تھا کہ دین کے آثارکو ان کی منزل تک پہنچائوں


ونُظْهِرَ الإِصْلَاحَ فِي بِلَادِكَ - فَيَأْمَنَ الْمَظْلُومُونَ مِنْ عِبَادِكَ - وتُقَامَ الْمُعَطَّلَةُ مِنْ حُدُودِكَ - اللَّهُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَنَابَ - وسَمِعَ وأَجَابَ - لَمْ يَسْبِقْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّه بِالصَّلَاةِ.

وقَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّه لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ الْوَالِي عَلَى الْفُرُوجِ - والدِّمَاءِ والْمَغَانِمِ والأَحْكَامِ - وإِمَامَةِ الْمُسْلِمِينَ الْبَخِيلُ - فَتَكُونَ فِي أَمْوَالِهِمْ نَهْمَتُه - ولَا الْجَاهِلُ فَيُضِلَّهُمْ بِجَهْلِه - ولَا الْجَافِي فَيَقْطَعَهُمْ بِجَفَائِه - ولَا الْحَائِفُ لِلدُّوَلِ فَيَتَّخِذَ قَوْماً دُونَ قَوْمٍ - ولَا الْمُرْتَشِي فِي الْحُكْمِ - فَيَذْهَبَ بِالْحُقُوقِ - ويَقِفَ بِهَا دُونَ الْمَقَاطِعِ - ولَا الْمُعَطِّلُ لِلسُّنَّةِ فَيُهْلِكَ الأُمَّةَ.

(۱۳۲)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يعظ فيها ويزهد في الدنيا

حمد اللَّه

نَحْمَدُه عَلَى مَا أَخَذَ وأَعْطَى -

اور شہروں میں اصلاح پیدا کردوں تاکہ مظلوم بندے محفوظ ہو جائیں اور معطل حدود قائم ہو جائیں۔خدایا تجھے معلوم ہے کہ میں نے سب سے پہلے تیریر طرف رخ کیا ہے۔تیری آواز سنی ہے اوراسے قبول کیا ہے اور تیری بندگی میں رسول اکرم (ص) کے علاوہ کسی نے بھی مجھ پرسبقت نہیں کی ہے۔

تم لوگوں کو معلوم ہے کہ لوگوں کی آبرو۔ ان کی جان۔ان کے منافع۔الٰہی احکام اور امامت مسلمین کاذمہ دار نہ کوئی بخیل ہو سکتا ہے کہ وہ اموال مسلمین پر ہمیشہ دانت لگائے رہے گا۔اور نہ کوئی جاہل ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی جہالت سے لوگوں کو گمراہ کردے گا اور نہ کوئی بد اخلاق ہو سکتا ہے کہ وہ بد اخلاقی کے چر کے لگاتا رہے گا اور نہ کوئی مالیات کابددیانت ہوسکتا ہے کہوہ ایک کو مال دے گا اور ایک کومحروم کردے گا اورنہ کوئی فیصلہ میں رشوت لینے والا ہو سکتا ہے کہ وہ حقوق کو برباد کردے گا اور انہیں ان کی منزل تک نہ پہنچنے دے گا اور نہ کوئی سنت کو معطل کرنے والا ہوسکتا ہے کہ وہ امت کو ہلاک و برباد کردے گا۔

(۱۳۲)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں لوگوں کو نصیحت فرمائی ہے اور زہد کی ترغیب دی ہے )

شکر ہے خدا کا اس پر بھی جو دیا ہے اور اس پر بھی جولے لیا ہے ۔اس کے انعام پر بھی


وعَلَى مَا أَبْلَى وابْتَلَى – الْبَاطِنُ لِكُلِّ خَفِيَّةٍ - والْحَاضِرُ لِكُلِّ سَرِيرَةٍ - الْعَالِمُ بِمَا تُكِنُّ الصُّدُورُ - ومَا تَخُونُ الْعُيُونُ - ونَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَه غَيْرُه - وأَنَّ مُحَمَّداً نَجِيبُه وبَعِيثُه - شَهَادَةً يُوَافِقُ فِيهَا السِّرُّ الإِعْلَانَ والْقَلْبُ اللِّسَانَ.

عظة الناس

ومنها: فَإِنَّه واللَّه الْجِدُّ لَا اللَّعِبُ - والْحَقُّ لَا الْكَذِبُ - ومَا هُوَ إِلَّا الْمَوْتُ أَسْمَعَ دَاعِيه - وأَعْجَلَ حَادِيه - فَلَا يَغُرَّنَّكَ سَوَادُ النَّاسِ مِنْ نَفْسِكَ - وقَدْ رَأَيْتَ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ - مِمَّنْ جَمَعَ الْمَالَ وحَذِرَ الإِقْلَالَ - وأَمِنَ الْعَوَاقِبَ طُولَ أَمَلٍ واسْتِبْعَادَ أَجَلٍ - كَيْفَ نَزَلَ بِه الْمَوْتُ فَأَزْعَجَه عَنْ وَطَنِه - وأَخَذَه مِنْ مَأْمَنِه - مَحْمُولًا عَلَى أَعْوَادِ الْمَنَايَا - يَتَعَاطَى بِه الرِّجَالُ الرِّجَالَ - حَمْلًا عَلَى الْمَنَاكِبِ - وإِمْسَاكاً بِالأَنَامِلِ - أَمَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَأْمُلُونَ بَعِيداً - ويَبْنُونَ مَشِيداً ويَجْمَعُونَ كَثِيراً - كَيْفَ أَصْبَحَتْ بُيُوتُهُمْ قُبُوراً - ومَا جَمَعُوا بُوراً - وصَارَتْ أَمْوَالُهُمْ لِلْوَارِثِينَ - وأَزْوَاجُهُمْ لِقَوْمٍ آخَرِينَ - لَا فِي حَسَنَةٍ يَزِيدُونَ

اور اس کے امتحان پربھی۔وہ ہر مخفی چیز کے اندر کابھی علم رکھتا ہے اور ہر پوشیدہ امر کے لئے حاضر بھی ہے۔دلوں کے اندر چھپے ہوئے اسرار اورآنکھوں کی خیانت سب کو بخوبی جانتا ہے اورمیں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور حضرت محمد (ص)اس کے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور اس گواہی میں باطن ظاہر سے اور دل زبان سے ہم آہنگ ہے۔

خدا کی قسم وہ شے جو حقیقت ہے اورکھیل تماشہ نہیں ہے۔حق ہے اور جھوٹ نہیں ہے وہ صرف موت ہے جس کے داعی نے اپنی آواز سب کو سنا دی ہے اورجس کا ہنکانے والا جلدی مچائے ہوئے ہے لہٰذا خبردار لوگوں کی کثرت تمہارے نفس کو دھوکہ میں نہ ڈال دے۔تم دیکھ چکے ہو کہ تم سے پہلے والوں نے مالک جمع کیا۔افلاس سے خوفزدہ رہے۔انجام سے بے خبر رہے۔صرف لمبی لمبی امیدوں اور موت کی تاخیر کے خیال میں رہے اورایک مرتبہ موت نازل ہوگئی اور اس نے انہیں وطن سے بے وطن کردیا ۔محفوظ مقامات سے گرفتار کرلیا اور تابوت پر اٹھوادیا جہاں لوگ کاندھوں پر اٹھائے ہوئے۔انگلیوں کاسہارا دئیے ہوئے ایک دوسرے کے حوالے کر رہے تھے۔کیاتم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دور دراز امیدیں رکھتے تھے اورمستحکم مکانات بناتے تھے اوربے تحاشہ مال جمع کرتے تھے کہ کس طرح ان کے گھر قبروں میں تبدیل ہوگئے اورسب کیا دھرا تباہ ہوگیا۔اب اموال ورثہ کے لئے ہیں اور ازواج دوسرے لوگوں کے لئے نہ نیکیوں میں اضافہ کر سکتے ہیں


ولَا مِنْ سَيِّئَةٍ يَسْتَعْتِبُونَ - فَمَنْ أَشْعَرَ التَّقْوَى قَلْبَه بَرَّزَ مَهَلُه - وفَازَ عَمَلُه فَاهْتَبِلُوا هَبَلَهَا - واعْمَلُوا لِلْجَنَّةِ عَمَلَهَا - فَإِنَّ الدُّنْيَا لَمْ تُخْلَقْ لَكُمْ دَارَ مُقَامٍ - بَلْ خُلِقَتْ لَكُمْ مَجَازاً - لِتَزَوَّدُوا مِنْهَا الأَعْمَالَ إِلَى دَارِ الْقَرَارِ - فَكُونُوا مِنْهَا عَلَى أَوْفَازٍ - وقَرِّبُوا الظُّهُورَ لِلزِّيَالِ

(۱۳۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يعظم اللَّه سبحانه ويذكر القرآن والنبي ويعظ الناس

عظمة اللَّه تعالى

وانْقَادَتْ لَه الدُّنْيَا والآخِرَةُ بِأَزِمَّتِهَا - وقَذَفَتْ إِلَيْه السَّمَاوَاتُ والأَرَضُونَ مَقَالِيدَهَا - وسَجَدَتْ لَه بِالْغُدُوِّ والآصَالِ الأَشْجَارُ النَّاضِرَةُ - وقَدَحَتْ لَه مِنْ قُضْبَانِهَا النِّيرَانَ الْمُضِيئَةَ - وآتَتْ أُكُلَهَا بِكَلِمَاتِه الثِّمَارُ الْيَانِعَةُ.

اور نہ برائیوں کے سلسلہ میں رضائے الٰہی کا سامان فراہم کر سکتے ہیں۔یاد رکھو جس نے تقویٰ کو شعار بنالیا وہی آگے نکل گیا اور اسی کا عمل کامیاب ہوگیا۔لہٰذا تقوی کے موقع کو غنیمت سمجھ اور جنت کے لئے اس کے اعمال انجام دے لو۔یہ دنیا تمہارے قیام(۱) کی جگہ نہیں ہے۔یہ فقط ایک گزر گاہ ہے کہ یہاں سے ہمیشگی کے مکان کے لئے سامان فراہم کرلو لہٰذا جلدی تیاری کرو اور سواریوں کو کوچ کے لئے اپنے سے قریب تر کرلو۔

(۱۳۳)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں اللہ کی عظمت اور قرآن کی جلالت کا ذکر ہے اور پھر لوگوں کو نصیحت بھی کی گئی ہے )

(پروردگار ) دنیا و آخرت دونوں نے اپنی باگ ڈور اسی کے حوالہ کر رکھی ہے اور زمین و آسمان نے اپنی کنجیاں اسی کی خدمت میں پیش کردی ہیں۔اس کی بارگاہ میں صبح و شام سر سبز شاداب درخت سجدہ ریز رہتے ہیں اور اپنی لکڑی سے چمکدار آگ نکالتے رہتے ہیں اور اسی کے حکم کے مطابق پکے ہوئے پھل پیش کر تے رہتے ہیں۔

(۱)انسانی زندگی میں کامیابی کا راز یہی ایک نکتہ ہے کہ یہ دنیا انسان کی منزل نہیں ہے بلکہ ایک گذر گاہ ہے جس سے گزر کر ایک عظیم منزل کی طرف جانا ہے اور یہ مالک کا کرم ہے کہ اس نے یہاں سے سامان فراہم کرنے کی اجازت دیدی ہے اور یہاں کے سامان کو وہاں کے لئے کارآمد بنادیا ہے۔یہ اوربات ہے کہ دونوں جگہ کا فرق یہ ہے کہ یہاں کے لئے سامان رکھاجاتا ہے تو کام آتا ہے اور وہاں کے لئے راہ خدا میں دے دیا جاتا ہے تو کام آتا ہے۔غنی اورمالداردنیا سجا سکتے ہیں لیکن آخرت نہیں بنا سکتے ہیں ۔وہ صرف کریم اور صاحب خیر افراد کے لئے ہے جن کاشعار تقویٰ ہے اور جن کا اعتماد وعدہ ٔ الٰہی پر ہے۔


القرآن

منها: وكِتَابُ اللَّه بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ - نَاطِقٌ لَا يَعْيَا لِسَانُه - وبَيْتٌ لَا تُهْدَمُ أَرْكَانُه - وعِزٌّ لَا تُهْزَمُ أَعْوَانُه.

رسول اللَّه

منها: أَرْسَلَه عَلَى حِينِ فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ - وتَنَازُعٍ مِنَ الأَلْسُنِ - فَقَفَّى بِه الرُّسُلَ وخَتَمَ بِه الْوَحْيَ - فَجَاهَدَ فِي اللَّه الْمُدْبِرِينَ عَنْه والْعَادِلِينَ بِه.

الدنيا

منها: وإِنَّمَا الدُّنْيَا مُنْتَهَى بَصَرِ الأَعْمَى - لَا يُبْصِرُ مِمَّا وَرَاءَهَا شَيْئاً - والْبَصِيرُ يَنْفُذُهَا بَصَرُه - ويَعْلَمُ أَنَّ الدَّارَ وَرَاءَهَا - فَالْبَصِيرُ مِنْهَا

شَاخِصٌ - والأَعْمَى إِلَيْهَا شَاخِصٌ - والْبَصِيرُ مِنْهَا مُتَزَوِّدٌ - والأَعْمَى لَهَا مُتَزَوِّدٌ.

عظة الناس

منها: واعْلَمُوا أَنَّه لَيْسَ مِنْ شَيْءٍ - إِلَّا ويَكَادُ صَاحِبُه يَشْبَعُ مِنْه - ويَمَلُّه إِلَّا الْحَيَاةَ فَإِنَّه لَا يَجِدُ فِي الْمَوْتِ رَاحَةً -

(قرآن حکیم)

کتاب خدا نگاہ کے سامنے ہے۔یہ وہ ناطق ہے جس کی زبان عاجز نہیں ہوتی ہے اور یہ وہ گھر ہے جس کے ارکان منہدم نہیں ہوتے ہیں۔یہی وہ عزت ہے جس کے اعوان و انصار شکست خوردہ نہیں ہوتے ہیں۔

(رسول اکرم (ص))

اللہ نے آپ کو اس وقت بھیجا جب رسولوں کا سلسلہ رکا ہوا تھا اور زبانیں آپس میں ٹکرا رہی تھیں۔آپ کے ذریعہ رسولوں کے سلسلہ کو تمام کیا اور وحی کے سلسلہ کو موقوف کیا تو آپ نے بھی اس سے انحراف کرنے والوں اور اس کاہمسرٹھہرانے والوں سے جم کر جہاد کیا۔

(دنیا)

یہ دنیا اندھے کی بصارت کی آخری منزل ہے جو اس کے ماوراء کچھ نہیں دیکھتا ہے جب کہ صاحب بصیرت کی نگاہ اس پار نکل جاتی ہے اور وہ جانتا ہے کہ منزل اس کے ماورا ہے۔صاحب بصیرت اس سے کوچ کرنے والا ہے اور اندھا اس کی طرف کوچ کرنے والا ہے۔بصیرا اس سے زاد راہ فراہم کرنے والا ہے اور اندھا اس کے لئے زاد راہ اکٹھا کرنے والا ہے ۔

(موعظہ)

یاد رکھو کہ دنیا میں جو شے بھی ہے اس کامالک سیر ہوجاتا ہے اور اکتا جاتا ہے علاوہ زندگی کے کہ کوئی شخص موت میں راحت نہیں محسوس کرتا ہے


وإِنَّمَا ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الْحِكْمَةِ - الَّتِي هِيَ حَيَاةٌ لِلْقَلْبِ الْمَيِّتِ - وبَصَرٌ لِلْعَيْنِ الْعَمْيَاءِ - وسَمْعٌ لِلأُذُنِ الصَّمَّاءِ - ورِيٌّ لِلظَّمْآنِ وفِيهَا الْغِنَى كُلُّه والسَّلَامَةُ - كِتَابُ اللَّه تُبْصِرُونَ بِه - وتَنْطِقُونَ بِه وتَسْمَعُونَ بِه - ويَنْطِقُ بَعْضُه بِبَعْضٍ - ويَشْهَدُ بَعْضُه عَلَى بَعْضٍ - ولَا يَخْتَلِفُ فِي اللَّه - ولَا يُخَالِفُ بِصَاحِبِه عَنِ اللَّه - قَدِ اصْطَلَحْتُمْ عَلَى الْغِلِّ فِيمَا بَيْنَكُمْ - ونَبَتَ الْمَرْعَى عَلَى دِمَنِكُمْ - وتَصَافَيْتُمْ عَلَى حُبِّ الآمَالِ - وتَعَادَيْتُمْ فِي كَسْبِ الأَمْوَالِ - لَقَدِ اسْتَهَامَ بِكُمُ الْخَبِيثُ وتَاه بِكُمُ الْغُرُورُ - واللَّه الْمُسْتَعَانُ عَلَى نَفْسِي وأَنْفُسِكُمْ.

(۱۳۴)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وقد شاوره عمر بن الخطاب في الخروج إلى غزو الروم

وقَدْ تَوَكَّلَ اللَّه - لأَهْلِ هَذَا الدِّينِ بِإِعْزَازِ الْحَوْزَةِ

اور یہ بات اس حکمت(۱) کی طرح ہے جس میں مردہ دلوں کیزندگی ، اندھی آنکھوں کی بصارت ' بہرے کانوں کی سماعت اور پیاسے کی سیرابی کا سامان ہے اور اسی میں ساری مالداری ہے اور مکمل سلامتی ہے۔ یہ کتاب خدا ہے جس میں تمہاری بصارت اور سماعت کا سارا سامان موجود ہے۔اس میں ایک حصہ دوسرے کی وضاحت کرتا ہے اور ایک دوسرے کی گواہی دیتا ہے۔یہ خدا کے بارے میں اختلاف نہیں رکھتا ہے اور اپنے ساتھی کو خدا سے الگ نہیں کرتا ہے۔مگر تم نے آپس میں کینہ و حسد پر اتفاق کرلیا ہے اور اسی گھورےپر پر سبزہ اگ آیا ہے۔امیدوں کی محبت میں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوا اور مال جمع کرنے میں یک دوسرے کے دشمن ہو۔شیطان نے تمہیں سر گرداں کردیا ہے اورفریب نے تم کو بہکا دیا ہے۔اب اللہ ہی میرے اور تمہارے نفسوں کے مقابلہ میں ایک سہارا ہے۔

(۱۳۴)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب عمر نے روم کی جنگ کے بارے میں آپ سے مشورہ کیا)

اللہ نے صاحبا ن دین کے لئے یہ ذمہ داری لے لی ہے کہ وہ ان کے حدود کو تقویت دے گا

(۱)اگرچہ دنیامیں زندہ رہنے کی خواہش عام طور سے آخرت کے خوف سے پیدا ہوتی ہے کہ انسان اپنے اعمال اور انجام کی طرف سے مطمئن نہیں ہوتا ہے اور اسی لئے موت کے تصور سے لرز جاتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ خواہش عیب نہیں ہے بلکہ یہی جذبہ ہے جو انسان کو عمل کرنے پر آمادہ کرتا ہے اور اسی کے لئے انسان دن اور رات کوایک کردیتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس خواہش حیات کو حکمت کے ساتھ استعمال کرے اور اس سے ویسا ہی کام لے جو حکمت صحیح اورف کر سلیم سے لیا جاتا ہے ورنہ یہی خواہش و بال جان بھی بن سکتی ہے۔


وسَتْرِ الْعَوْرَةِ. والَّذِي نَصَرَهُمْ - وهُمْ قَلِيلٌ لَا يَنْتَصِرُونَ - ومَنَعَهُمْ وهُمْ قَلِيلٌ لَا يَمْتَنِعُونَ - حَيٌّ لَا يَمُوتُ.

إِنَّكَ مَتَى تَسِرْ إِلَى هَذَا الْعَدُوِّ بِنَفْسِكَ - فَتَلْقَهُمْ فَتُنْكَبْ - لَا تَكُنْ لِلْمُسْلِمِينَ كَانِفَةٌ دُونَ أَقْصَى بِلَادِهِمْ - لَيْسَ بَعْدَكَ مَرْجِعٌ يَرْجِعُونَ إِلَيْه - فَابْعَثْ إِلَيْهِمْ رَجُلًا مِحْرَباً - واحْفِزْ مَعَه أَهْلَ الْبَلَاءِ والنَّصِيحَةِ - فَإِنْ أَظْهَرَ اللَّه فَذَاكَ مَا تُحِبُّ - وإِنْ تَكُنِ الأُخْرَى - كُنْتَ رِدْءاً لِلنَّاسِ ومَثَابَةً لِلْمُسْلِمِينَ.

(۱۳۵)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وقد وقعت مشاجرة بينه وبين عثمان فقال المغيرة بن الأخنس لعثمان: أنا أكفيكه، فقال عليعليه‌السلام للمغيرة:

اور ان کے محفوظ مقامات کی حفاظت کرے گا۔اور جس نے ان کی اس وقت مدد کی ہے جب وہ قلت کی بنا پر انتقام کے قابل بھی نہ تے اور اپنی حفاظت کا انتظام بھی نہ کر سکتے تھے وہ ابھی بھی زندہ ہے اور اس کے لئے موت نہیں ہے۔تم اگر خود دشمن کی طرف جائو گے اور ان کا سامنا کروگے اور نکبت(۱) میں مبتلا ہوگئے تو مسلمانوں کے لئے آخری شہرکے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہ رہ جائے گی اور تمہارے بعد میدان میں کوئی مرکز بھی نہ رہ جائے گا جس کی طرف رجوع کرسکیں لہٰذا مناسب یہی ہے کہ کسی تجربہ کارآدمی کو بھیج دو اور اس کے ساتھ صاحبان خیرو مہارت کی ایک جماعت کو کردو۔اس کے بعداگر خدا نے غلبہ دے دیا تویہی تمہارامقصد ہے اور اگر اس کے خلاف ہوگیا تو تم لوگوں کا سہارااورمسلمانوں کےلئے ایک پلٹنےکا مرکز رہو گے۔

(۱۳۵)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب آپ کااورعثمان کے درمیان اختلافات پیداہوا اورمغیرہ بن اخنس نے عثمان سے کہا کہ میں ان کا کام تمام کرسکتا ہوں توآپ نےفرمایا )

(۱)میدان جنگ میں نکبت و رسوائی کے احتمال کے ساتھ کسی مرد میدان کے بھیجنے کا مشورہ اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ میدان جہاد میں ثبات قدم تمہاری تاریخ نہیں ہے اور نہ یہ تمہارے بس کاکام ہے لہٰذا مناسب یہی ہے کہکسی تجربہ کارشخص کو ماہرین کی ایک جماعت کے ساتھ روانہ کردو تاکہ اسلام کی رسوائی نہ ہوسکے اورمذہب کا وقار بر قرار رہے۔اس کے بعد تمہیں ''فاتح اعظم '' کا لقب تو بہر حال مل ہی جائے گا جس کے دورمیں علاقہ فتح ہوتا ہے تاریخ اسی کو فاتح کا لقب دیتی ہے اورمجاہدین کویکسر نظر انداز کر دیتی ہے۔

یہ بھی امیر المومنین کا ایک حوصلہ تھا کہ شدید اختلافات اور بے پناہ مصائب کے باوجود مشورہ سے دریغ نہیں کیا اور وہی مشورہ دیا جو اسلام اور مسلمانوں کے حق میں تھا۔اس لئے کہ آپ اس حقیقت سے بہر حال با خبرتھے کہافراد سے اختلاف مقصد اور مذہب کی حفاظت کو ذمہ داری سے بے نیاز نہیں بنا سکتا ہے اور اسلام کے تحفظ کی ذمہ داری ہر مسلمان پر عائد ہوتی ہے چاہے وہ بر سراقتدار ہو یا نہ ہو۔


يَا ابْنَ اللَّعِينِ الأَبْتَرِ - والشَّجَرَةِ الَّتِي لَا أَصْلَ لَهَا ولَا فَرْعَ - أَنْتَ تَكْفِينِي - فَوَ اللَّه مَا أَعَزَّ اللَّه مَنْ أَنْتَ نَاصِرُه - ولَا قَامَ مَنْ أَنْتَ مُنْهِضُه - اخْرُجْ عَنَّا أَبْعَدَ اللَّه نَوَاكَ ثُمَّ ابْلُغْ جَهْدَكَ - فَلَا أَبْقَى اللَّه عَلَيْكَ إِنْ أَبْقَيْتَ!

(۱۳۶)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في أمر البيعة

لَمْ تَكُنْ بَيْعَتُكُمْ إِيَّايَ فَلْتَةً - ولَيْسَ أَمْرِي وأَمْرُكُمْ وَاحِداً - إِنِّي أُرِيدُكُمْ لِلَّه وأَنْتُمْ تُرِيدُونَنِي لأَنْفُسِكُمْ.

أَيُّهَا النَّاسُ أَعِينُونِي عَلَى أَنْفُسِكُمْ وايْمُ اللَّه لأُنْصِفَنَّ الْمَظْلُومَ مِنْ ظَالِمِه ولأَقُودَنَّ الظَّالِمَ بِخِزَامَتِه - حَتَّى أُورِدَه مَنْهَلَ الْحَقِّ وإِنْ كَانَ كَارِهاً.

(۱۳۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في شأن طلحة والزبير وفي البيعة له

طلحة والزبير

واللَّه مَا أَنْكَرُوا عَلَيَّ مُنْكَراً - ولَا جَعَلُوا بَيْنِي وبَيْنَهُمْ

اے بد نسل ملعون کے بچے ! اور اس درخت کے پھل جس کی نہ کوئی اصل ہے اور نہ فرع۔تو میرے لئے کافی ہو جائے گا؟ خدا کی قسم جس کا تومدد گار ہوگا اسکے لئے عزت نہیں ہے اور جسے تو اٹھائے گا وہ کھڑے ہونے کے قابل نہ ہوگا۔نکل جا۔اللہ تیری منزل کو دور کردے۔جا اپنی کوششیں تمام کرلے۔خدا تجھ پر رحم نہ کرے گا اگر تو مجھ پرترس بھی کھائے۔

(۱۳۶)

آپ کا ارشاد گرامی

(بیعت کے بارے میں )

میرے ہاتھوں پر تمہاری بیعت کوئی نا گہانی حادثہ نہیں ہے۔اور میرا اور تمہارا معاملہ ایک جیسا بھی نہیں ہے۔میں تمہیں اللہ کے لئے چاہتا ہوں اور تم مجھے اپنے فائدہ کے لئے چاہتے ہو۔

لوگو! اپنی نفسانی خواہشات کے مقابلہ میں میری مدد کرو۔خدا کی قسم میں مظلوم کوظالم سے اس کاحق دلوائوں گا اور ظالم کو اس کی ناک میں نکیل ڈال کرکھینچوں گا تاکہ اسے چشمہ حق پر وارد کردوں چاہے وہ کسی قدرناراض کیوں نہ ہو۔

(۱۳۷)

آپ کا ارشاد گرامی

(طلحہ و زبیر اور ان کی بیعت کے بارے میں )

خدا کی قسم ان لوگوں نے نہ میری کسی واقعی برائی کی گرفت کی ہے اورنہ میرے اور اپنے


نِصْفاً - وإِنَّهُمْ لَيَطْلُبُونَ حَقّاً هُمْ تَرَكُوه ودَماً هُمْ سَفَكُوه - فَإِنْ كُنْتُ شَرِيكَهُمْ فِيه فَإِنَّ لَهُمْ نَصِيبَهُمْ مِنْه - وإِنْ كَانُوا وَلُوه دُونِي فَمَا الطَّلِبَةُ إِلَّا قِبَلَهُمْ - وإِنَّ أَوَّلَ عَدْلِهِمْ لَلْحُكْمُ عَلَى أَنْفُسِهِمْ –

وإِنَّ مَعِي لَبَصِيرَتِي مَا لَبَسْتُ ولَا لُبِسَ عَلَيَّ - وإِنَّهَا لَلْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ فِيهَا الْحَمَأُ والْحُمَّةُ - والشُّبْهَةُ الْمُغْدِفَةُ وإِنَّ الأَمْرَ لَوَاضِحٌ - وقَدْ زَاحَ الْبَاطِلُ عَنْ نِصَابِه - وانْقَطَعَ لِسَانُه عَنْ شَغْبِه -

وايْمُ اللَّه لأُفْرِطَنَّ لَهُمْ حَوْضاً أَنَا مَاتِحُه - لَا يَصْدُرُونَ عَنْه بِرِيٍّ - ولَا يَعُبُّونَ بَعْدَه فِي حَسْيٍ !

درمیان انصاف سے کام لیا ہے۔یہ ایک ایسے حق کا مطالبہ(۱) کر رہے ہیں جس کو خود انہوں نے نظر انداز کیا ہے اورایسے خون کابدلہ چاہتے ہیں جس کو خود انہوں نے بہایا ہے۔اگرمیں اس معاملہ میں شریک تھا تو ایک حصہ ان کا بھی ہوگا اور اگر یہ تنہا ذمہدار تھے تو مطالبہ خود انہیں سے ہونا چاہیے اور سب سے پہلے انہیں اپنے خلاف فیصلہ کرنا چاہیے۔

(الحمد للہ )میرے ساتھ میری بصیرت ہے نہ میں نے اپنے کو دھوکہ میں رکھا ہے اور نہ مجھے دھوکہ دیا جا سکا ہے۔یہ لوگ ایک باغی گروہ ہیں جن میں میرے قرابتدار بھی ہیں اور بچھو کا ڈنک بھی ہے اور پھرحقائق کی پردہ پوشی کرنے والے شبہ بھی ہے۔حالانکہ مسئلہ بالکل واضح ہے اور باطل اپنے مرکز سے ہٹ چکا ہے اور اس کی زبان شور و شغب کے سلسلہ میں کٹ چکی ہے۔

خدا کی قسم میں ان کے لئے ایسا حوض چھلکائوں گا جس سے پانی نکالنے والا بھی میں ہی ہوں گا۔یہ نہ اس سے سیراب ہو کر جا سکیں گے اور نہ اس کے بعد کسی تالاب سے پانی پینے کے لائق رہ سکیں گے ۔

(۱)یہ کاروبار زلیخا کے دور سے نسوانی فطرت میں داخل ہوگیا ہے کہ جب دنیا کی نگاہیں اپنی غلطی کی طرف اٹھنے لگیں تو فوراً دوسرے کی غلطی کا نعرہ لگادیا جائے تاکہمسئلہ مشتبہ ہو جائے اورلوگ حقائق کا صحیح ادراک نہ کر سکیں ۔قتل عثمان کے بعد یہی کام حضرت عائشہ نے کیا کہ پہلے لوگوں کو قتل عثمان پرآمادہ کیا۔اس کے بعد خود ہی خون عثمان کی دعویدار بن گئیں اور پھر ان کے ساتھ مل کر یہی زنانہ اقدام طلحہ و زبیر نے بھی کیا۔اسی لئے امیر المومنین نے آخر کلام میں اپنے مرد میدان ہونے کا اشارہ دیا ہے کہ مردان جنگ اس طرح کینسوانی حرکات نہیں کیا کرتے ہیں۔بلکہ شریف عورتیں بھی اپنے کو ایسے کردار سے ہمیشہ الگ رکھتی ہیں اور حق کا ساتھ دیتی ہیں یا حق پر قائم رہ جاتی ہے۔ان کے کردار میں دورنگی نہیں ہوتی ہے۔


أمر البيعة

منه: - فَأَقْبَلْتُمْ إِلَيَّ إِقْبَالَ الْعُوذِ الْمَطَافِيلِ عَلَى أَوْلَادِهَا - تَقُولُونَ الْبَيْعَةَ الْبَيْعَةَ - قَبَضْتُ كَفِّي فَبَسَطْتُمُوهَا - ونَازَعَتْكُمْ يَدِي فَجَاذَبْتُمُوهَا - اللَّهُمَّ إِنَّهُمَا قَطَعَانِي وظَلَمَانِي - ونَكَثَا بَيْعَتِي وأَلَّبَا النَّاسَ عَلَيَّ - فَاحْلُلْ مَا عَقَدَا ولَا تُحْكِمْ لَهُمَا مَا أَبْرَمَا - وأَرِهِمَا الْمَسَاءَةَ فِيمَا أَمَّلَا وعَمِلَا - ولَقَدِ اسْتَثَبْتُهُمَا قَبْلَ الْقِتَالِ - واسْتَأْنَيْتُ بِهِمَا أَمَامَ الْوِقَاعِ - فَغَمَطَا النِّعْمَةَ ورَدَّا الْعَافِيَةَ.

(۱۳۸)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يومئ فيها إلى ذكر الملاحم

يَعْطِفُ الْهَوَى عَلَى الْهُدَى - إِذَا عَطَفُوا الْهُدَى عَلَى الْهَوَى - ويَعْطِفُ الرَّأْيَ عَلَى الْقُرْآنِ - إِذَا عَطَفُوا الْقُرْآنَ عَلَى الرَّأْيِ.

ومنها - حَتَّى تَقُومَ الْحَرْبُ بِكُمْ عَلَى سَاقٍ بَادِياً نَوَاجِذُهَا - مَمْلُوءَةً أَخْلَافُهَا

مسئلہ بیعت

تم لوگ'' کل '' بیعت بیعت کا شور مچاتے ہوئے میری طرف اس طرح آئے تھے جس طرح نبی جننے والی اونٹنی اپنے بچوں کی طرف دوڑتی ہے۔میں نے اپنی مٹھی بند کرلی مگر تم نے کھول دی۔میں نے اپنا ہاتھ روک لیا مگر تم نے کھینچ لیا۔خدایا تو گواہ رہنا کہ ان دونوں نے مجھ سے قطع تعلق کرکے مجھ پر ظلم کیا ہے اور میری بیعت توڑ کرل وگوں کو میرے خلاف اکسایا ہے ۔ اب تو ان کی گرہوں کو کھول دے اور جورسی انہوں نے بٹی ہے اس میں استحکام نہ پیدا ہونے دے اور انہیں ان کی امیدوں اور ان کے اعمال کے بد ترین نتائج کو دکھلادے۔میں نے جنگ سے پہلے انہیں بہت روکنا چاہا اور میدان جہاد میں اترنے سے پہلے بہت کچھ مہلت دی۔ لیکن ان دونوں نے نعمت کا انکار کردیا اور عافیت کو رد کردیا۔

(۱۳۸)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں مستقبل کے حوادث کا اشارہ ہے)

وہ بندہ ٔ خدا خواہشات کو ہدایت کی طرف موڑدے گا جب لوگ ہدایت کو خواہشات کی طرف موڑ رہے ہوں گے اوروہ رائے کو قرآن کی طرف جھکا دے گا جب لوگ قرآن کو رائے کی طرف جھکا رہے ہوں گے۔

(دوسرا حصہ) یہاں تک کہ جنگ اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے گی دانت نکالے ہوئے اورتھنوں کوپر کئے ہوئے۔لیکن


حُلْواً رَضَاعُهَا عَلْقَماً عَاقِبَتُهَا - أَلَا وفِي غَدٍ وسَيَأْتِي غَدٌ بِمَا لَا تَعْرِفُونَ - يَأْخُذُ الْوَالِي مِنْ غَيْرِهَا عُمَّالَهَا عَلَى مَسَاوِئِ أَعْمَالِهَا - وتُخْرِجُ لَه الأَرْضُ أَفَالِيذَ كَبِدِهَا - وتُلْقِي إِلَيْه سِلْماً مَقَالِيدَهَا - فَيُرِيكُمْ كَيْفَ عَدْلُ السِّيرَةِ - ويُحْيِي مَيِّتَ الْكِتَابِ والسُّنَّةِ.

منها - كَأَنِّي بِه قَدْ نَعَقَ بِالشَّامِ - وفَحَصَ بِرَايَاتِه فِي ضَوَاحِي كُوفَانَ - فَعَطَفَ عَلَيْهَا عَطْفَ الضَّرُوسِ - وفَرَشَ الأَرْضَ بِالرُّءُوسِ - قَدْ فَغَرَتْ فَاغِرَتُه وثَقُلَتْ فِي الأَرْضِ وَطْأَتُه بَعِيدَ الْجَوْلَةِ عَظِيمَ الصَّوْلَةِ - واللَّه لَيُشَرِّدَنَّكُمْ فِي أَطْرَافِ الأَرْضِ - حَتَّى لَا يَبْقَى مِنْكُمْ إِلَّا قَلِيلٌ كَالْكُحْلِ فِي الْعَيْنِ - فَلَا تَزَالُونَ كَذَلِكَ - حَتَّى تَئُوبَ إِلَى الْعَرَبِ عَوَازِبُ أَحْلَامِهَا - فَالْزَمُوا السُّنَنَ الْقَائِمَةَ والآثَارَ الْبَيِّنَةَ - والْعَهْدَ الْقَرِيبَ الَّذِي عَلَيْه بَاقِي النُّبُوَّةِ - واعْلَمُوا أَنَّ الشَّيْطَانَ - إِنَّمَا يُسَنِّي لَكُمْ طُرُقَه لِتَتَّبِعُوا عَقِبَه.

اس طرح کہ اس کا دودھ پینے میں شیریں معلوم ہوگا اور اسکا انجام بہت برا ہوگا۔یاد رکھو کہ کل اور کل بہت(۱) جلد وہ حالات لے کر آنے والا ہے جس کاتمہیں اندازہ نہیں ہےاس جماعت سے باہر کا والی تمام عمال کی بد اعمالیوں کا محاسبہ کرے گا اورزمین تمام جگرکے ٹکڑوں کو نکال دےگی اور نہایت آسانی کےساتھ اپنی کنجیاں اسکے حوالہ کردے گی اور پھروہ تمہیں دکھلائے گا کہ عادلانہ سیرت کیا ہوتی ہےاورمردہ کتاب و سنت کوکس طرح زندہ کیا جاتا ہے۔

(تیسرا حصہ)میں یہ منظر دیکھ رہا ہوں کہ ایک شخص شام میں للکار رہاہے اورکوفہ کے گرد اس کے جھنڈے لہرا رہے ہیں وہ اس کی طرف کاٹنے والی اونٹنی کی طرح متوجہ ہے اور زمین پر سروں کا فرش بچھا رہا ہے۔اس کا منہ کھلا ہوا ہے اور زمین پراس کی دھمک محسوس ہو رہی ہے۔وہ دور دورتک جولانیاں دکھلانے والا ہے اورشدید ترین حملے کرنے والا ہےخداکی قسم وہ تمہیں اطراف زمین میں اس طرح منتشر کردےگا کہ صرف اتنے ہی آدمی باقی رہ جائیںگے جیسے آنکھ میں سرمہ۔اورپھرتمہارا یہی حشررہےگا۔یہاں تک کہ عربوں کی گم شدہ عقل پلٹ کرآجائے لہٰذا ابھی غنیمت ہےمضبوط طریقہ' واضح آثار اوراس قریبی عہدسے وابستہ رہوجس میں نبوت کےپائیدار آثار ہیں اوری ہ یاد رکھوکہ شیطان اپنےراستوں کو ہموار رکھتا ہے تاکہ تم اسکےنقش قدم پربرابرچلتے رہو۔

(۱)انسانیت اس عہد زریں کے لئے سراپا انتظار ہے جب خدائی نمائندہ دنیا کے تمام حکام کا محاسبہ کرکے عدل وانصاف کا نظام قائم کردے اور زمین اپنے تمام خزانے اگل دے۔دنیا میں راحت و اطمینان کا دور دورہ ہو اور دین خدا اقتدار کلی کا مالک ہو جائے


(۱۳۹)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في وقت الشورى

لَنْ يُسْرِعَ أَحَدٌ قَبْلِي إِلَى دَعْوَةِ حَقٍّ - وصِلَةِ رَحِمٍ وعَائِدَةِ كَرَمٍ - فَاسْمَعُوا قَوْلِي وعُوا مَنْطِقِي - عَسَى أَنْ تَرَوْا هَذَا الأَمْرَ مِنْ بَعْدِ هَذَا الْيَوْمِ - تُنْتَضَى فِيه السُّيُوفُ وتُخَانُ فِيه الْعُهُودُ - حَتَّى يَكُونَ بَعْضُكُمْ أَئِمَّةً لأَهْلِ الضَّلَالَةِ - وشِيعَةً لأَهْلِ الْجَهَالَةِ.

(۱۴۰)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في النهي عن غيبة الناس

وإِنَّمَا يَنْبَغِي لأَهْلِ الْعِصْمَةِ والْمَصْنُوعِ إِلَيْهِمْ فِي السَّلَامَةِ - أَنْ يَرْحَمُوا أَهْلَ الذُّنُوبِ والْمَعْصِيَةِ - ويَكُونَ الشُّكْرُ هُوَ الْغَالِبَ عَلَيْهِمْ - والْحَاجِزَ لَهُمْ عَنْهُمْ - فَكَيْفَ بِالْعَائِبِ الَّذِي عَابَ أَخَاه وعَيَّرَه بِبَلْوَاه - أَمَا ذَكَرَ مَوْضِعَ سَتْرِ اللَّه عَلَيْه مِنْ ذُنُوبِه - مِمَّا هُوَ أَعْظَمُ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِي عَابَه بِه - وكَيْفَ يَذُمُّه بِذَنْبٍ قَدْ رَكِبَ مِثْلَه

(۱۳۹)

آپ کا ارشاد گرامی

(شوریٰ کے موقع پر)

(یاد رکھو )کہ مجھ سے پہلے حق کی دعوتدت نے والا صلہ رحم کرنے والا اور جود و کرم کا مظاہرہ کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔لہٰذا میرے قول پر کان دھرو اورمیری گفتگو کو سمجھو کہ عنقریب تم دیکھوگے کہ اس مسئلہ پر تلواریں نکل رہی ہیں ۔عہد و پیمان توڑے جا رہے ہیں اورتم میں سے بعض گمراہوں کے پیشوا ہوئے جا رہے ہیں اوربعض جاہلوں کے پیرو کار۔

(۱۴۰)

آپ کا ارشادگرامی

(لوگوں کو برائی سے روکتے ہوئے )

دیکھو جو لوگ گناہوں سے محفوظ ہیں اور خدانے ان پر اس سلامتی کا احسان کیا ہے ان کے شایان شان یہی ہے کہ گناہ گاروں اورخطا کاروں پر رحم کریں اور اپنی سلامتی کاشکریہ ہی ان پرغالب رہے اور انہیں ان حرکات سے روکتا رہے۔چہ مائیکہ انسان خودعیب دار ہواور اپنے بھائی کا عیب بیان کرے اور اس کے عیب کی بنا پراس کی سرزنش بھی کرے۔یہ شخص یہ کیوں نہیں یاد کرتاہے کہ پروردگارنے اس کے جن عیوب کوچھپا کر رکھا ہے وہ اس سے بڑے ہیں جن پر یہسرزنش کر رہا ہے اوراس عیب پر کس طرح مذمت کر رہاہے جس کاخود مرتکب ہوتاہے


فَإِنْ لَمْ يَكُنْ رَكِبَ ذَلِكَ الذَّنْبَ بِعَيْنِه - فَقَدْ عَصَى اللَّه فِيمَا سِوَاه مِمَّا هُوَ أَعْظَمُ مِنْه - وايْمُ اللَّه لَئِنْ لَمْ يَكُنْ عَصَاه فِي الْكَبِيرِ - وعَصَاه فِي الصَّغِيرِ لَجَرَاءَتُه عَلَى عَيْبِ النَّاسِ أَكْبَرُ.

يَا عَبْدَ اللَّه لَا تَعْجَلْ فِي عَيْبِ أَحَدٍ بِذَنْبِه - فَلَعَلَّه مَغْفُورٌ لَه ولَا تَأْمَنْ عَلَى نَفْسِكَ صَغِيرَ مَعْصِيَةٍ - فَلَعَلَّكَ مُعَذَّبٌ عَلَيْه - فَلْيَكْفُفْ مَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ عَيْبَ غَيْرِه لِمَا يَعْلَمُ مِنْ عَيْبِ نَفْسِه - ولْيَكُنِ الشُّكْرُ شَاغِلًا لَه عَلَى مُعَافَاتِه مِمَّا ابْتُلِيَ بِه غَيْرُه.

(۱۴۱)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في النهي عن سماع الغيبة وفي الفرق بين الحق والباطل

أَيُّهَا النَّاسُ - مَنْ عَرَفَ مِنْ أَخِيه وَثِيقَةَ دِينٍ وسَدَادَ طَرِيقٍ - فَلَايَسْمَعَنَّ فِيه أَقَاوِيلَ الرِّجَالِ - أَمَا إِنَّه قَدْ يَرْمِي الرَّامِي - وتُخْطِئُ السِّهَامُ ويُحِيلُ الْكَلَامُ - وبَاطِلُ ذَلِكَ يَبُورُ واللَّه سَمِيعٌ وشَهِيدٌ - أَمَا إِنَّه لَيْسَ بَيْنَ الْحَقِّ والْبَاطِلِ إِلَّا أَرْبَعُ أَصَابِعَ.

فسئلعليه‌السلام عن معنى قوله هذا -

اور اگر بعینہ اس کامرتکب نہیں ہوتا ہے تو اس کے علاوہ دوسرے گناہ کرتا ہے جو اس سے بھی عظیم تر ہیں اورخدا کی قسم اگر اس سے عظیم تر نہیں بھی ہیں تو کمتر تو ضرور ہی ہیں اور ایسی صورت میں برائی کرنے اور سرزنش کرنے کی جرأت بہر حال اس سے بھی عظیم تر ہے۔ بندہ خدا:دوسرے کے عیب بیان کرنے میں جلدی نہ کر شائد خدانے اسے معاف کردیا ہو اوراپنے نفس معمولی گناہکے بارے میں محفوظ تصور نہ کر۔شائد کہ خدا اسی پر عذاب کردے۔ہر شخص کو چاہیے کہ دوسرے کے عیب بیان کرنے سے پرہیز کرے کہ اسے اپنا عیب بھی معلومہے اور اگر عیب سے محفوظ ہے تو اس سلامتی کے شکریہ ہی میں مشغول رہے ۔

(۱۴۱)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں غیبت کے سننے سے روکا گیاہے اورحق و باطل کے فرق کو واضح کیا گیا ہے )

لوگو! جو شخص بھی اپنے بھائی کے دین کی پختگی اور طریقہ کار کی درستگی کا علم رکھتا ہے اسے اس کے بارے میں دوسروں کے اقوال پر کان نہیں دھرنا چاہیے کہ کبھی کبھی انسان تیر اندازی کرتا ہے اوراس کا تیرخطاکرجاتا ہے اورباتیں بناتا ہے اور حرف باطل بہر حال فنا ہو جاتا ہے اوراللہ سب کا سننے والا بھی ہے اور گواہ بھی ہے۔یاد رکھو کہ حق و باطل میں صرف چار انگلیوں کا فاصلہ ہوتاہے۔

لوگوں نے عرض کی حضور اس کا کیا مطلب ہے ؟


فجمع أصابعه ووضعها بين أذنه وعينه ثم قال الْبَاطِلُ أَنْ تَقُولَ سَمِعْتُ - والْحَقُّ أَنْ تَقُولَ رَأَيْتُ!

(۱۴۲)

ومن كلام لهعليه‌السلام

المعروف في غير أهله

ولَيْسَ لِوَاضِعِ الْمَعْرُوفِ فِي غَيْرِ حَقِّه - وعِنْدَ غَيْرِ أَهْلِه مِنَ الْحَظِّ فِيمَا أَتَى إِلَّا مَحْمَدَةُ اللِّئَامِ - وثَنَاءُ الأَشْرَارِ ومَقَالَةُ الْجُهَّالَ - مَا دَامَ مُنْعِماً عَلَيْهِمْ مَا أَجْوَدَ يَدَه - وهُوَ عَنْ ذَاتِ اللَّه بِخَيْلٌ!

مواضع المعروف

فَمَنْ آتَاه اللَّه مَالًا فَلْيَصِلْ بِه الْقَرَابَةَ - ولْيُحْسِنْ مِنْه الضِّيَافَةَ ولْيَفُكَّ بِه الأَسِيرَ والْعَانِيَ - ولْيُعْطِ مِنْه الْفَقِيرَ والْغَارِمَ - ولْيَصْبِرْ نَفْسَه عَلَى الْحُقُوقِ والنَّوَائِبِ ابْتِغَاءَ الثَّوَابِ - فَإِنَّ فَوْزاً بِهَذِه الْخِصَالِ شَرَفُ مَكَارِمِ الدُّنْيَا - ودَرْكُ فَضَائِلِ الآخِرَةِ إِنْ شَاءَ اللَّه.

تو آپ نے آنکھ اور کان کے درمیان چار انگلیاں رکھ کر فرمایا کہ باطل وہ ہے جو صرف سنا سنایاہوتا ہے اورحق وہ ہے جو اپنی آنکھ کا دیکھا ہوا ہوتا ہے۔

(۱۴۲)

آپ کا ارشاد گرامی

(نا اہل کے ساتھ احسان کرنے کے بارے میں )

یاد رکھو غیر مستحق کے ساتھ احسان کرنے والے اورنا اہل کے ساتھ نیکی کرنے والے کے حصہ میں کمینے لوگوں کی تعریف اوربدترین افراد کی مدح و ثنا ہی آتی ہے اوروہ جب تک کرم کرتا رہتا ہے جہال کہتے رہتے ہیں کہ کس قدر کریم اورسخی ہے یہ شخص۔حالانکہ اللہ کے معاملہ میں یہی شخص بخیل بھی ہوتا ہے۔

(دیکھو اگر خدا کسی شخص کو مال دے تو اس کا فرض ہے کہ قرابتداروں(۱) کاخیال رکھے۔مہمانوں کی مہمان نوازی کرے۔قیدیوں اورخستہ حالوں کو آزاد کرائے۔فقیروں اور قرض داروں کی امداد کرے۔اپنے نفس کو حقوق کی ادائیگی اور مصائب پر آمادہ کرے کہ اس میں ثواب کی امید پائی جاتی ہے اور ان تمام خصلتوں کے حاصل کرنے ہی میں دنیا کی شرافتیں اور کرامتیں ہیں اور انہیں سے آخرت کے فضائل بھی حاصل ہوتے ہیں۔انشاء اللہ۔

(۱)اگر یہ بات صحیح ہے اور یقینا صحیح ہے کہ مال وہی بہتر ہوتا ہے جس کا مال اور انجام بہتر ہوتا ہے تو ہر شخص کا فرض ہے کہ اپنے مال کو انہیں موارد میں صرف کرے جن کی طرف اس خطبہ میں اشارہ کیا گیا ہے ورنہ بے محل صرف سے جاہلوں اور بد کرداروں کی تعریف کے علاوہ کچھ ہاتھ آنے والا نہیں ہے اور اس میں نہ خیر دنیا ہے اور نہ خیر آخرت۔بلکہ یہ دنیا اور آخرت دونوں کی تباہی اور بربادی کا سبب ہے۔پروردگار ہر شخص کو اس جہالت اور ریا کاری سے محفوظ رکھے ۔


(۱۴۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في الاستسقاء

وفيه تنبيه العباد وجوب استغاثة رحمة اللَّه إذا حبس عنهم رحمة المطر

أَلَا وإِنَّ الأَرْضَ الَّتِي تُقِلُّكُمْ - والسَّمَاءَ الَّتِي تُظِلُّكُمْ مُطِيعَتَانِ لِرَبِّكُمْ - ومَا أَصْبَحَتَا تَجُودَانِ لَكُمْ بِبَرَكَتِهِمَا تَوَجُّعاً لَكُمْ - ولَا زُلْفَةً إِلَيْكُمْ ولَا لِخَيْرٍ تَرْجُوَانِه مِنْكُمْ - ولَكِنْ أُمِرَتَا بِمَنَافِعِكُمْ فَأَطَاعَتَا - وأُقِيمَتَا عَلَى حُدُودِ مَصَالِحِكُمْ فَقَامَتَا.

إِنَّ اللَّه يَبْتَلِي عِبَادَه عِنْدَ الأَعْمَالِ السَّيِّئَةِ - بِنَقْصِ الثَّمَرَاتِ وحَبْسِ الْبَرَكَاتِ - وإِغْلَاقِ خَزَائِنِ الْخَيْرَاتِ لِيَتُوبَ تَائِبٌ - ويُقْلِعَ مُقْلِعٌ ويَتَذَكَّرَ مُتَذَكِّرٌ ويَزْدَجِرَ مُزْدَجِرٌ - وقَدْ جَعَلَ اللَّه سُبْحَانَه الِاسْتِغْفَارَ سَبَباً - لِدُرُورِ الرِّزْقِ ورَحْمَةِ الْخَلْقِ فَقَالَ سُبْحَانَه -( اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّه كانَ غَفَّاراً - يُرْسِلِ السَّماءَ عَلَيْكُمْ مِدْراراً - ويُمْدِدْكُمْ بِأَمْوالٍ وبَنِينَ - ويَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ ويَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهاراً ) - فَرَحِمَ اللَّه امْرَأً

(۱۴۳)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(طلب بارش کے سلسلہ میں )

یاد رکھو کہ جو زمین تمہارا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے اور جو آسمان تمہارے سر پر سایہ فگن ہے دونوں تمہارے رب کے اطاعت گذار ہیں اور یہ جو اپنی برکتیں تمہیں عطا کر رہے ہیں تو ان کا دل تمہارے حال پر نہیں کڑھ رہا ہے۔اور نہ یہ تم سے تقرب چاہتے ہیں اورنہکسی خیر کے امیدوار ہیں۔بات صرف یہ ہے کہ انہیں تمہارے فائدوں کے بارے میں حکم دے دیا گیا ہے تو یہ اطاعت پروردگار کر رہے ہیں اور انہیں تمہارے مصالح کے حدود پرکھڑا کردیا گیا ہے تو کھڑے ہوئے ہیں۔

یاد رکھو کہ اللہ بد اعمالیوں کے موقع پر اپنے بندوں کو ان مصائب میں مبتلا کردیتا ہے کہ پھل گم ہو جاتے ہیں ۔برکتیں رک جاتی ہیں۔خیرات کے خزانوں کے منہ بند ہو جاتے ہیں تاکہ توبہ کرنے والا توبہ کرلے اور بازآجانے والا بازآجائے۔نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حاصل کرلے اور گناہوں سے رکنے والا رک جائے ۔ پروردگارنے استغفار کو رزق کے نزول اور مخلوقات پررحمت کے ورود کاذریعہ قرار دے دیا ہے۔اس کا ارشاد گرامی ہے کہ '' اپنے رب سے استغفار کرو کہ وہ بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔وہ استغفار کے نتیجہ میں تم پرموسلا دھار پانی برسائے گا۔تمہاری اموال اور اولاد کے ذریعہ مدد کرے گا۔تمہارے لئے باغات اورنہریں قراردے گا'' اللہ اس بندہ پر رحم کرے


اسْتَقْبَلَ تَوْبَتَه - واسْتَقَالَ خَطِيئَتَه وبَادَرَ مَنِيَّتَه.

اللَّهُمَّ إِنَّا خَرَجْنَا إِلَيْكَ مِنْ تَحْتِ الأَسْتَارِ والأَكْنَانِ - وبَعْدَ عَجِيجِ الْبَهَائِمِ والْوِلْدَانِ - رَاغِبِينَ فِي رَحْمَتِكَ ورَاجِينَ فَضْلَ نِعْمَتِكَ - وخَائِفِينَ مِنْ عَذَابِكَ ونِقْمَتِكَ - اللَّهُمَّ فَاسْقِنَا غَيْثَكَ ولَا تَجْعَلْنَا مِنَ الْقَانِطِينَ - ولَا تُهْلِكْنَا بِالسِّنِينَ - ولَا تُؤَاخِذْنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاءُ مِنَّا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ - اللَّهُمَّ إِنَّا خَرَجْنَا إِلَيْكَ - نَشْكُو إِلَيْكَ مَا لَا يَخْفَى عَلَيْكَ - حِينَ أَلْجَأَتْنَا الْمَضَايِقُ الْوَعْرَةُ وأَجَاءَتْنَا الْمَقَاحِطُ الْمُجْدِبَةُ - وأَعْيَتْنَا الْمَطَالِبُ الْمُتَعَسِّرَةُ - وتَلَاحَمَتْ عَلَيْنَا الْفِتَنُ الْمُسْتَصْعِبَةُ - اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ أَلَّا تَرُدَّنَا خَائِبِينَ - ولَا تَقْلِبَنَا وَاجِمِينَ ولَا تُخَاطِبَنَا بِذُنُوبِنَا - ولَا تُقَايِسَنَا بِأَعْمَالِنَا - اللَّهُمَّ انْشُرْ عَلَيْنَا غَيْثَكَ وبَرَكَتَكَ - ورِزْقَكَ ورَحْمَتَكَ واسْقِنَا سُقْيَا نَاقِعَةً مُرْوِيَةً مُعْشِبَةً

جو توبہ کی طرف متوجہ ہوجائے خطائوں سے معافی مانگے اور موت سے پہلے نیک اعمال کرلے۔

خدایا ہم پردوں کے پیچھے اور مکانات کے گوشوں سے تیری طرف نکل پڑے ہیں۔ہمارے بچے اور جانور سب فریادی ہیں۔ہم تیریر رحمت کی خواہش رکھتے ہیں۔تیری نعمت کے امیدوار ہیں اور تیرے عذاب اور غضب سے خوفزدہ ہیں۔خدایا ہمیں باران رحمت سے سیراب کردے اور ہمیں مایوس بندوں میں قرارنہدینا اور نہ قحط سے ہلاک کر دینا اور نہ ہم سے ان اعمال کا محاسبہ کرنا جوہمارے جاہلوں نے انجام دئیے ہیں۔اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

خدایا: ہم تیری طرف ان حالات کی فریاد لے کر آئے ہیں جو تجھ سے مخفی نہیں ہیں اور اس وقت نکلے ہیں جب ہمیں سخت تنگیوں نے مجبور کردیا ہے اور قحط سالیوں نے بے بس بنا دیا ہے اورشدید حاجت مندیوں نے لا چار کردیا ہے اور دشوار ترین فتنوں نے تابڑ توڑ حملے کر رکھے ہیں۔خدایا ہماری التماس یہ ہے کہ ہمیں محروم واپس نہ کرنا اور ہمیں نا مراد نہ پلٹانا ۔ہم سے ہمارے گناہوں کی بات نہکرنا اور ہمارے اعمال کا محاسبہ نہ کرنا بلکہ ہم پر اپنی بارش رحمت ' اپنی برکت ' اپنے رزق اور کرم کا دامن پھیلا دے اور ہمیں ایسی سیرابی عطا فرما جوتشنگی کو مٹانے والی۔سیرو سیراب کرنے والی اورسبزہ اگانے والی ہو۔تاکہ جو کھیتیاں گئی گذری ہوگئی ہیں دوبارہ اگ آئیں اور جو زمینیں مردہ ہوگئی ہیں وہ زندہ ہو جائیں۔یہ سیرابی فائدہ مند اور بے پناہ پھلوں والی ہو جس سے ہموار زمینیں سیراب ہو جائیں


تُنْبِتُ بِهَا مَا قَدْ فَاتَ وتُحْيِي بِهَا مَا قَدْ مَاتَ - نَافِعَةَ الْحَيَا كَثِيرَةَ الْمُجْتَنَى تُرْوِي بِهَا الْقِيعَانَ - وتُسِيلُ الْبُطْنَانَ وتَسْتَوْرِقُ الأَشْجَارَ وتُرْخِصُ الأَسْعَارَ إِنَّكَ عَلَى مَا تَشَاءُ قَدِيرٌ.

(۱۴۴)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

مبعث الرسل

بَعَثَ اللَّه رُسُلَه بِمَا خَصَّهُمْ بِه مِنْ وَحْيِه - وجَعَلَهُمْ حُجَّةً لَه عَلَى خَلْقِه - لِئَلَّا تَجِبَ الْحُجَّةُ لَهُمْ بِتَرْكِ الإِعْذَارِ إِلَيْهِمْ - فَدَعَاهُمْ بِلِسَانِ الصِّدْقِ إِلَى سَبِيلِ الْحَقِّ - أَلَا إِنَّ اللَّه تَعَالَى قَدْ كَشَفَ الْخَلْقَ كَشْفَةً - لَا أَنَّه جَهِلَ مَا أَخْفَوْه مِنْ مَصُونِ أَسْرَارِهِمْ - ومَكْنُونِ ضَمَائِرِهِمْ – ولَكِنْ لِيَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا - فَيَكُونَ الثَّوَابُ جَزَاءً والْعِقَابُ بَوَاءً

فضل أهل البيت

أَيْنَ الَّذِينَ زَعَمُوا أَنَّهُمُ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ دُونَنَا - كَذِباً وبَغْياً عَلَيْنَا أَنْ رَفَعَنَا اللَّه ووَضَعَهُمْ - وأَعْطَانَا وحَرَمَهُمْ وأَدْخَلَنَا وأَخْرَجَهُمْ - بِنَا يُسْتَعْطَى الْهُدَى

اور وادیاں بہہ نکلیں۔درختوں میں پتے نکل آئیں اور بازار کی قیمتیں نیچے آجائیں کہ تو ہرشے پر قادر ہے۔

(۱۴۴)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں بعثت انبیاء کاتذکرہ کیا گیا ہے)

پروردگار نے مرسلین کرام کو مخصوص وحی سے نواز کر بھیجاہے اور انہیں اپنے بندوں پر اپنی حجت بنادیا ہے تاکہ بندوں کی یہ حجت تمام نہ ہونے پائے کہ ان کے عذر کاخاتمہ نہیں کیا گیا ہے۔پروردگار نے ان لوگوں کو اسی لسان صدق کے ذریعہ راہ حق کی طرف دعوت دی ہے۔اسے مخلوقات کاحال مکمل طور سے معلوم ہے وہ نہ ان کے چھپے ہوئے اسرارسے بے خبر ہے اورنہ ان پوشیدہ باتوں سے نا واقف ہے جو ان کے دلوں کے اندر مخفی ہے۔ وہ اپنے احکام کے ذریعہ ان کا امتحان لینا چاہتا ہے کہ حسن عمل کے اعتبارسے کون سب سے بہتر ہے تاکہ جزاء میں ثواب عطا کرے اور پاداش میں مبتلائے عذاب کردے۔

(اہل بیت علیہم السلام)

کہاں ہیں وہ لوگ جن کاخیال یہ ہے کہ ہمارے بجائے وہی راسخون فی العلم ہیں اوریہ خیال صرف جھوٹ اور ہمارے خلاف بغاوت سے پیدا ہوا ہےکہ خدانے ہمیں بلند بنادیا ے اورانہیں پست رکھا ہےہمیں کمالات عنایت فرما دئیے ہیں اور انہیں محروم رکھاہےہمیں اپنی رحمت میں داخل کرلیاہےاورانہیں باہررکھا ہے ہمارے ہی ذریعہ سے ہدایت


ويُسْتَجْلَى الْعَمَى - إِنَّ الأَئِمَّةَ مِنْ قُرَيْشٍ - غُرِسُوا فِي هَذَا الْبَطْنِ مِنْ هَاشِمٍ لَا تَصْلُحُ عَلَى سِوَاهُمْ - ولَا تَصْلُحُ الْوُلَاةُ مِنْ غَيْرِهِمْ.

أهل الضلال

منها: - آثَرُوا عَاجِلًا وأَخَّرُوا آجِلًا - وتَرَكُوا صَافِياً وشَرِبُوا آجِناً - كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى فَاسِقِهِمْ وقَدْ صَحِبَ الْمُنْكَرَ فَأَلِفَه - وبَسِئَ بِه ووَافَقَه حَتَّى شَابَتْ عَلَيْه مَفَارِقُه - وصُبِغَتْ بِه خَلَائِقُه - ثُمَّ أَقْبَلَ مُزْبِداً كَالتَّيَّارِ لَا يُبَالِي مَا غَرَّقَ - أَوْ كَوَقْعِ النَّارِ فِي الْهَشِيمِ لَا يَحْفِلُ مَا حَرَّقَ!

أَيْنَ الْعُقُولُ الْمُسْتَصْبِحَةُ بِمَصَابِيحِ الْهُدَى - والأَبْصَارُ اللَّامِحَةُ إِلَى مَنَارِ التَّقْوَى - أَيْنَ الْقُلُوبُ الَّتِي وُهِبَتْ لِلَّه وعُوقِدَتْ عَلَى طَاعَةِ اللَّه - ازْدَحَمُوا عَلَى الْحُطَامِ وتَشَاحُّوا عَلَى الْحَرَامِ - ورُفِعَ لَهُمْ عَلَمُ الْجَنَّةِ والنَّارِ - فَصَرَفُوا عَنِ الْجَنَّةِ وُجُوهَهُمْ - وأَقْبَلُوا إِلَى النَّارِ بِأَعْمَالِهِمْ - ودَعَاهُمْ رَبُّهُمْ فَنَفَرُوا ووَلَّوْا - ودَعَاهُمُ الشَّيْطَانُ فَاسْتَجَابُوا وأَقْبَلُوا!

طلب کی جاتی ہےاوراندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے۔یاد رکھو قریش کےسارے امام جناب ہاشم کی اسی کشت زار میں قرار دئیے گئے ہیں اوریہ امامت نہ انکے علاوہ کسی کوزیب دیتی ہےاورنہ ان سے باہرکوئی اسکااہل ہوسکتا ہے۔

(گمراہ لوگ)

ان لوگوں نے حاضر دنیا کو اختیار کرلیا ہے اور دیرمیں آنے والی آخرت کو پیچھے ہٹا دیا ہے ۔صاف پانی کو نظر انداز کردیا ہے اور گندہ پانی کو پی لیا ہے۔گویا کہ میں ان کے فاسق کو دیکھ رہا ہوں جو منکرات سے مانوس ہے اور برئیوں سے ہم رنگ وہم آہنگ ہوگیا ہے۔یہاں تک کہ اسی ماحول میں اس کے سر کے بال سفید ہوگئے ہیں۔اور اسی رنگ میں اس کے اخلاقیات رنگ گئے ہیں۔اس کے بعد ایک سیلاب کی طرح اٹھا ہے جسے اس کی فکر نہیں ہے کہ کس کو ڈیو دیا ہے اور بھوسہ کی ایک آگ ہے جسے اس کی پرواہ نہیں ہے کہ کیا کیا جلا دیا ہے۔ کہاں ہیں وہ عقلیں جو ہدایت کے چراغوں سے روشنی حاصل کرنے والی ہیں اور کہاں ہیں وہ نگاہیں جو منارۂ تقویٰ کی طرف نظر کرنے وال یہیں۔کہاں ہیں وہ دل جو اللہ کے لئے دئیے گئے ہیں اور اطاعت خدا پر جم گئے ہیں۔لوگ تو مال دنیا پر ٹوٹ پڑے ہیں اور حرام پر باقاعدہ جھگڑا کر رہے ہیں اور جب جنت و جہنم کا پرچم بلند کیا گیا تو جنت کی طرف سے منہ کو موڑ لیا اور اپنے اعمال کے ساتھ جہنم کی طرف متوجہ ہوگئے۔ان کے پروردگار نے انہیں بلایا تو منہ پھیر کر بھاگ نکلے اور شیطان نے دعوت دی تو لبیک کہتے ہوئے آگئے۔


(۱۴۵)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

فناء الدنيا

أَيُّهَا النَّاسُ - إِنَّمَا أَنْتُمْ فِي هَذِه الدُّنْيَا غَرَضٌ تَنْتَضِلُ فِيه الْمَنَايَا - مَعَ كُلِّ جَرْعَةٍ شَرَقٌ وفِي كُلِّ أَكْلَةٍ غَصَصٌ - لَا تَنَالُونَ مِنْهَا نِعْمَةً إِلَّا بِفِرَاقِ أُخْرَى - ولَا يُعَمَّرُ مُعَمَّرٌ مِنْكُمْ يَوْماً مِنْ عُمُرِه - إِلَّا بِهَدْمِ آخَرَ مِنْ أَجَلِه - ولَا تُجَدَّدُ لَه زِيَادَةٌ فِي أَكْلِه إِلَّا بِنَفَادِ مَا قَبْلَهَا مِنْ رِزْقِه - ولَا يَحْيَا لَه أَثَرٌ إِلَّا مَاتَ لَه أَثَرٌ - ولَا يَتَجَدَّدُ لَه جَدِيدٌ إِلَّا بَعْدَ أَنْ يَخْلَقَ لَه جَدِيدٌ - ولَا تَقُومُ لَه نَابِتَةٌ إِلَّا وتَسْقُطُ مِنْه مَحْصُودَةٌ - وقَدْ مَضَتْ أُصُولٌ نَحْنُ فُرُوعُهَا - فَمَا بَقَاءُ فَرْعٍ بَعْدَ ذَهَابِ أَصْلِه!

ذم البدعة

منها - ومَا أُحْدِثَتْ بِدْعَةٌ إِلَّا تُرِكَ بِهَا سُنَّةٌ - فَاتَّقُوا الْبِدَعَ والْزَمُوا الْمَهْيَعَ - إِنَّ عَوَازِمَ الأُمُورِ أَفْضَلُهَا - وإِنَّ مُحْدِثَاتِهَا شِرَارُهَا.

(۱۴۵)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(دنیا کی فنا کے بارے میں )

لوگو! تم اس دنیا میں زندگی گذار رہے ہو جہاں موت کے تیروں کے مستقل ہدف ہو۔یہاں ہر گھونٹ کے ساتھ اچھو ہے اور ہر لقمہ کے ساتھ گلے کا پھندہ۔یہاں کوئی نعمت اس وقت تک نہیں ملتی ہے جب تک دوسری ہاتھ سے نکل نہ جائے اور یہاں کی زندگی میں ایک دن کابھی اضافہ نہیں ہوتا ہے جب تک ایک دن کم نہ ہو جائے یہاں کے کھانے میں زیادتی بھی پہلے رزق کے خاتمہ کے بعد ہاتھ آتی ہے اور کوئی اثر بھی پہلے نشان کے مٹ جانے کے بعد ہی زندہ ہوتا ہے۔ہر جدید کے لئے ایک جدید کو قدیم بننا پڑتا ہے اور ہر گھاس کے اگنے کے لئے ایک کھیت کو کاٹنا پڑتا ہے۔پرانے بزرگ جو ہماری اصل تھے گزر گئے اب ہم ان کی شاخیں ہیں اور کھلی ہوئی بات ہے کہ اصل کے چلے جانے کے بعد فرع کی بقا ہی کیا ہوتی ہے۔

(مذمت بدعت)

کوئی بدعت اس وقت تک ایجاد نہیں ہوتی ہے جب تک کوئی سنت مرنہ جائے۔لہٰذا بدعتوں سے ڈرو اور سیدھے راستہ پر قائم رہو کہ مستحکم ترین معاملات ہی بہتر ہوتے ہیں اور دین میں جدید ایجادات ہی بد ترین شے ہوتی ہے۔


(۱۴۶)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وقد استشاره عمر بن الخطاب في الشخوص لقتال الفرس بنفسه

إِنَّ هَذَا الأَمْرَ لَمْ يَكُنْ نَصْرُه - ولَا خِذْلَانُه بِكَثْرَةٍ ولَا بِقِلَّةٍ - وهُوَ دِينُ اللَّه الَّذِي أَظْهَرَه - وجُنْدُه الَّذِي أَعَدَّه وأَمَدَّه - حَتَّى بَلَغَ مَا بَلَغَ وطَلَعَ حَيْثُ طَلَعَ - ونَحْنُ عَلَى مَوْعُودٍ مِنَ اللَّه - واللَّه مُنْجِزٌ وَعْدَه ونَاصِرٌ جُنْدَه - ومَكَانُ الْقَيِّمِ بِالأَمْرِ مَكَانُ النِّظَامِ مِنَ الْخَرَزِ - يَجْمَعُه ويَضُمُّه - فَإِنِ انْقَطَعَ النِّظَامُ تَفَرَّقَ الْخَرَزُ وذَهَبَ - ثُمَّ لَمْ يَجْتَمِعْ بِحَذَافِيرِه أَبَداً - والْعَرَبُ الْيَوْمَ وإِنْ كَانُوا قَلِيلًا - فَهُمْ كَثِيرُونَ بِالإِسْلَامِ - عَزِيزُونَ بِالِاجْتِمَاعِ - فَكُنْ قُطْباً واسْتَدِرِ الرَّحَى بِالْعَرَبِ - وأَصْلِهِمْ دُونَكَ نَارَ الْحَرْبِ - فَإِنَّكَ إِنْ شَخَصْتَ مِنْ هَذِه الأَرْضِ - انْتَقَضَتْ عَلَيْكَ الْعَرَبُ مِنْ أَطْرَافِهَا وأَقْطَارِهَا - حَتَّى يَكُونَ مَا تَدَعُ وَرَاءَكَ مِنَ الْعَوْرَاتِ - أَهَمَّ إِلَيْكَ مِمَّا بَيْنَ يَدَيْكَ

(۱۴۶)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب عمر بن الخطاب نے فارس کی جنگ میں جانے کے بارے میں مشورہ طلب کیا)

یاد رکھو کہ اسلام کی کامیابی اورناکامیابی کادارو مدار قلت و کثرت پر نہیں ہے بلکہ یہ دین ' دین خدا ہے جسے اسی نے غالب بنایا ہے اور یہ اسی کا لشکر ہے جسے اسی نے تیار کیا ہے اوراسی نے اس کی امداد کی ہے یہاں تک کہ اس منزل تک پہنچ گیا ہے اور اس قدر پھیلائو حاصل کرلیا ہے۔ہم پروردگار کی طرف سے ایک وعدہ پر ہیں اوروہ اپنے وعدہ کو بہر حال پورا کرنے والا ہے اور اپنے لشکر کی بہر حال مدد کرے گا۔

ملک میں نگراں کی منزل مہروں کے اجتماع میں دھاگے کی ہوتی ہے کہ وہی سب کو جمع کئے رہتا ہے اور وہ اگر ٹوٹ جائے تو سارا سلسلہ بکھر جاتا ہے اور پھر کبھی جمع نہیں ہو سکتا ہے۔آج عرب اگرچہ قلیل ہیں لیکن اسلام کی بنا پر کثیر ہیں اور اپنے اتحادو اتفاق کی بنا پر غالبآنے والے ہیں۔لہٰذا آپ مرکز میں رہیں اوراس چکی کو انہیں کے ذریعہ گردش دیں اور جنگ کی آگ کامقابلہ انہیں کو کرنے دیں آپ زحمت نہ کریں کہ اگر آپ نے اس سر زمین کو چھوڑ دیا تو عرب چاروں طرف سے ٹوٹ پڑیں گے اور سب اس طرح شریک جنگ ہوجائیں گے کہ جن محفوظ مقامات کو آپ چھوڑ کرگئے ہیں ان کا مسئلہ جنگ سے زیادہ اہم ہو جائے گا۔


إِنَّ الأَعَاجِمَ إِنْ يَنْظُرُوا إِلَيْكَ غَداً يَقُولُوا - هَذَا أَصْلُ الْعَرَبِ فَإِذَا اقْتَطَعْتُمُوه اسْتَرَحْتُمْ - فَيَكُونُ ذَلِكَ أَشَدَّ لِكَلَبِهِمْ عَلَيْكَ وطَمَعِهِمْ فِيكَ - فَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ مَسِيرِ الْقَوْمِ إِلَى قِتَالِ الْمُسْلِمِينَ - فَإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه هُوَ أَكْرَه لِمَسِيرِهِمْ مِنْكَ - وهُوَ أَقْدَرُ عَلَى تَغْيِيرِ مَا يَكْرَه.وأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ عَدَدِهِمْ - فَإِنَّا لَمْ نَكُنْ نُقَاتِلُ فِيمَا مَضَى بِالْكَثْرَةِ - وإِنَّمَا كُنَّا نُقَاتِلُ بِالنَّصْرِ والْمَعُونَةِ!

(۱۴۷)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

الغاية من البعثة

فَبَعَثَ اللَّه مُحَمَّداًصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بِالْحَقِّ - لِيُخْرِجَ عِبَادَه مِنْ عِبَادَةِ الأَوْثَانِ إِلَى عِبَادَتِه - ومِنْ طَاعَةِ الشَّيْطَانِ إِلَى طَاعَتِه - بِقُرْآنٍ قَدْ بَيَّنَه وأَحْكَمَه - لِيَعْلَمَ الْعِبَادُ رَبَّهُمْ إِذْ جَهِلُوه - ولِيُقِرُّوا بِه بَعْدَ إِذْ جَحَدُوه - ولِيُثْبِتُوه بَعْدَ إِذْ أَنْكَرُوه - فَتَجَلَّى لَهُمْ سُبْحَانَه فِي كِتَابِه - مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونُوا رَأَوْه بِمَا أَرَاهُمْ مِنْ قُدْرَتِه - وخَوَّفَهُمْ مِنْ سَطْوَتِه -

ان عجموں نے اگر آپ کو میدان جنگ میں دیکھ لیا تو کہیں گے کہ عربیت کی جان یہی ہے اس جڑ کو کاٹ دیا تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے راحت مل جائے گی۔اور اس طرح ان کے حملے شدید تر ہو جائیں گے اور وہ آپ میں زیادہ ہی طمع کریں گے۔اور یہ جو آپ نے ذکر کیا ہے کہ لوگ مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے آرہے ہیں تو یہ بات خدا کو آپ سے زیادہ نا گوار ہے اور وہ جس چیز کوناگوار سمجھتا ہے اس کے بد ل دینے پر قادر بھی ہے۔اور یہ جو آپ نے دشمن کے عدد کا ذکر کیا ہے تو یاد رکھئے کہ ہم لوگ ماضی میں بھی کثرت کی بنا پرجنگ نہیں کرتے تھے بلکہ پروردگار کی نصرت اور اعانت کی بنیاد پر جنگ کرتے تھے۔

(۱۴۷)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

پروردگار عالم نے حضرت محمد (ص) کو حق کے ساتھ مبعوث کیا تاکہ آپ لوگوں کو بت پرستی سے نکال کر عبادت الٰہی کی منزل کی طرف لے آئیں اور شیطان کی اطاعت سے نکال کر رحمان کی اطاعت کرائیں اس قرآن کے ذریعہ جسے اس نے واضح اور محکم قرار دیاہے تاکہ بندے خدا کو نہیں پہچانتے ہیں تو پہچان لیں اور اس کے منکر ہیں تو اقرار کرلیں اور ہٹ دھرمی کے بعد اسے مان لیں۔پروردگار اپنی قدرت کاملہ کی نشانیوں کے ذریعہ بغیر دیکھے جلوہ نما ہے اور اپنی سطوت کے ذریعہ انہیں خوف ذدہ بنائے ہوئے ہے کہ کس طرح اس نے عقو بتوں کے ذریعہ


وكَيْفَ مَحَقَ مَنْ مَحَقَ بِالْمَثُلَاتِ - واحْتَصَدَ مَنِ احْتَصَدَ بِالنَّقِمَاتِ!

الزمان المقبل

وإِنَّه سَيَأْتِي عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِي زَمَانٌ - لَيْسَ فِيه شَيْءٌ أَخْفَى مِنَ الْحَقِّ - ولَا أَظْهَرَ مِنَ الْبَاطِلِ - ولَا أَكْثَرَ مِنَ الْكَذِبِ عَلَى اللَّه ورَسُولِه - ولَيْسَ عِنْدَ أَهْلِ ذَلِكَ الزَّمَانِ سِلْعَةٌ أَبْوَرَ مِنَ الْكِتَابِ - إِذَا تُلِيَ حَقَّ تِلَاوَتِه - ولَا أَنْفَقَ مِنْه إِذَا حُرِّفَ عَنْ مَوَاضِعِه - ولَا فِي الْبِلَادِ شَيْءٌ أَنْكَرَ مِنَ الْمَعْرُوفِ - ولَا أَعْرَفَ مِنَ الْمُنْكَرِ - فَقَدْ نَبَذَ الْكِتَابَ حَمَلَتُه وتَنَاسَاه حَفَظَتُه - فَالْكِتَابُ يَوْمَئِذٍ وأَهْلُه طَرِيدَانِ مَنْفِيَّانِ - وصَاحِبَانِ مُصْطَحِبَانِ فِي طَرِيقٍ وَاحِدٍ لَا يُؤْوِيهِمَا مُؤْوٍ - فَالْكِتَابُ وأَهْلُه فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ فِي النَّاسِ ولَيْسَا فِيهِمْ - ومَعَهُمْ ولَيْسَا مَعَهُمْ - لأَنَّ الضَّلَالَةَ لَا تُوَافِقُ الْهُدَى وإِنِ اجْتَمَعَا - فَاجْتَمَعَ الْقَوْمُ عَلَى الْفُرْقَةِ - وافْتَرَقُوا عَلَى الْجَمَاعَةِ كَأَنَّهُمْ أَئِمَّةُ الْكِتَابِ - ولَيْسَ الْكِتَابُ إِمَامَهُمْ - فَلَمْ يَبْقَ عِنْدَهُمْ مِنْه إِلَّا اسْمُه - ولَا يَعْرِفُونَ إِلَّا خَطَّه وزَبْرَه - ومِنْ قَبْلُ مَا مَثَّلُوا بِالصَّالِحِينَ كُلَّ مُثْلَةٍ

اس کے مستحقین کو تباہ و برباد کردیا ہے اور عذاب کے ذریعہ انہیں تہس نہس کردیا ہے۔

یادرکھو میرے بعد تمہارے سامنے وہ زمانہ آنے والا ہے جس میں کوئی شے حق سے زیادہ پوشیدہ اور باطل سے زیادہ نمایاں نہ ہوگی۔سب سے زیادہ رواج خدا اوررسول (ص) پر افتاکا ہوگا اور اس زمانہ والوں کے نزدیک کتاب خدا سے زیادہ بے قیمت کوئی متاع نہ ہوگی اگر اس کی واقعی تلاوت کی جائے اور اس سے زیادہ کوئی فائدہ مند بضاعت نہ ہوگی اگر اس کے مفاہیم کو ان کی جگہ سے ہٹا دیا جائے ۔شہروں میں ''منکر '' سے زیادہ معروف اور ''معروف ''سے زیادہ منکر کچھ نہ ہوگا۔حاملان کتاب کتاب کوچھوڑ دیں گے اور حافظان قرآن قرآن کو بھلا دیں گے۔کتاب اور اس کے واقعی اہل شہر بدر کر دئیے جائیں گے اور دونوں ایک ہی راستہ پر اس طرح چلیں گے کہ کوئی پناہ دینے والا نہ ہوگا۔کتاب اور اہل کتاب اس دور میں لوگوں کے درمیان رہیں گے لیکن واقعاً نہ رہیں گے۔انہیں کے ساتھ رہیں گے لیکن حقیقتاً الگ رہیں گے۔ اس لئے کہ گمراہی ہدایت کے ساتھ نہیں چل سکتی ہے چاہے ایک ہی مقامپر رہے۔لوگوں نے افتراق پر اتحاد اور اتحاد پر افتراق کر لیا ہے جیسے یہی قرآن کے پیشوا ہیں اور قرآن ان کا پیشوا نہیں ہے۔اب ان کے پاس صرف قرآن کا نم باقی رہ گیا ہے اور وہ صرف اس کی کتاب و عبارت کو پہچانتے ہیں اور بس ! اس کے پہلے بھی یہ نیک کرداروں کو بے حد اذیت کر چکے ہیں


وسَمَّوْا صِدْقَهُمْ عَلَى اللَّه فِرْيَةً وجَعَلُوا فِي الْحَسَنَةِ عُقُوبَةَ السَّيِّئَةِ.وإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِطُولِ آمَالِهِمْ وتَغَيُّبِ آجَالِهِمْ - حَتَّى نَزَلَ بِهِمُ الْمَوْعُودُ الَّذِي تُرَدُّ عَنْه الْمَعْذِرَةُ - وتُرْفَعُ عَنْه التَّوْبَةُ وتَحُلُّ مَعَه الْقَارِعَةُ والنِّقْمَةُ.

عظة الناس

أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّه مَنِ اسْتَنْصَحَ اللَّه وُفِّقَ - ومَنِ اتَّخَذَ قَوْلَه دَلِيلًا هُدِيَ لِلَّتِي هِيَ أَقُومُ - فَإِنَّ جَارَ اللَّه آمِنٌ وعَدُوَّه خَائِفٌ - وإِنَّه لَا يَنْبَغِي لِمَنْ عَرَفَ عَظَمَةَ اللَّه أَنْ يَتَعَظَّمَ - فَإِنَّ رِفْعَةَ الَّذِينَ يَعْلَمُونَ مَا عَظَمَتُه أَنْ يَتَوَاضَعُوا لَه - وسَلَامَةَ الَّذِينَ يَعْلَمُونَ مَا قُدْرَتُه أَنْ يَسْتَسْلِمُوا لَه - فَلَا تَنْفِرُوا مِنَ الْحَقِّ نِفَارَ الصَّحِيحِ مِنَ الأَجْرَبِ - والْبَارِئِ مِنْ ذِي السَّقَمِ - واعْلَمُوا أَنَّكُمْ لَنْ تَعْرِفُوا الرُّشْدَ - حَتَّى تَعْرِفُوا الَّذِي تَرَكَه - ولَنْ تَأْخُذُوا بِمِيثَاقِ الْكِتَابِ حَتَّى تَعْرِفُوا الَّذِي نَقَضَه - ولَنْ تَمَسَّكُوا بِه حَتَّى تَعْرِفُوا الَّذِي نَبَذَه

اور ان کی صداقت کو افترا کا نام دے چکے ہیں اور انہیں نیکیوں پربرائیوں کی سزا دے چکے ہیں۔

تمہارے پہلے والے صرف اس لئے ہلاک ہوگئے کہ ان کی امیدیں دراز تھیں اور موت ان کی نگاہوں سے اوجھل تھی۔یہاں تک کہ وہ موت نازل ہوگئی جس کے بعد معذرت واپس کردی جاتی ہے اور توبہ کی مہلت اٹھالی جاتی ہے اورمصیبت و عذاب کا ورود ہو جاتا ہے۔

ایہاالناس !جو پروردگار سے واقعاً نصیحت حاصل کرنا چاہتا ہے اس توفیق نصیب ہو جاتی ہے اورجو اس کے قول کو واقعاً راہنما بنانا چاہتا ہے اسے سیدھے راستہ کی ہدایت مل جاتی ہے۔اس لئے کہ پروردگار کا ہمسایہ ہمیشہ امن و امان میں رہتا ہے اور اس کا دشمن ہمیشہ خوف زدہ رہتا ہے۔یاد رکھو جس نے عظمت خدا کو پہچان لیا ہے اسے بڑائی زیب نہیں دیتی ہے کہ ایسے لوگوں کی رفعت و بلندی تواضع اورخاکساری ہی میں ہے اور اس کی قدرت کے پہچاننے والوں کی سلامتی اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے ہی میں ہے۔خبردار حق سے اس طرح نہ بھاگو جس طرح صحیح و سالم خارش زدہ سے' یا صحت یافتہ بیمار سے فرار کرتا ہے۔یاد کھو تم ہدایت کو اس وقت تک نہیں پہ چان سکتے ہو جب تک اسے چھوڑ نے والوں کو ہ پہچان لو اور کتاب خدا کے عہدوپیمان کو اس وقت تک اختیار نہیں کر سکتے ہو جب تک اس کے توڑنے والوں کی معرفت حاصل نہ کرلو اور اس سے تمسک اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک اسے نظر انداز کرنے والوں کا عرفان نہ ہو جائے گا


- فَالْتَمِسُوا ذَلِكَ مِنْ عِنْدِ أَهْلِه - فَإِنَّهُمْ عَيْشُ الْعِلْمِ ومَوْتُ الْجَهْلِ - هُمُ الَّذِينَ يُخْبِرُكُمْ حُكْمُهُمْ عَنْ عِلْمِهِمْ - وصَمْتُهُمْ عَنْ مَنْطِقِهِمْ وظَاهِرُهُمْ عَنْ بَاطِنِهِمْ - لَا يُخَالِفُونَ الدِّينَ ولَا يَخْتَلِفُونَ فِيه - فَهُوَ بَيْنَهُمْ شَاهِدٌ صَادِقٌ وصَامِتٌ نَاطِقٌ.

(۱۴۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في ذكر أهل البصرة

كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَرْجُو الأَمْرَ لَه - ويَعْطِفُه عَلَيْه دُونَ صَاحِبِه - لَا يَمُتَّانِ إِلَى اللَّه بِحَبْلٍ - ولَا يَمُدَّانِ إِلَيْه بِسَبَبٍ - كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَامِلُ ضَبٍّ لِصَاحِبِه - وعَمَّا قَلِيلٍ يُكْشَفُ قِنَاعُه بِه - واللَّه لَئِنْ أَصَابُوا الَّذِي يُرِيدُونَ - لَيَنْتَزِعَنَّ هَذَا نَفْسَ هَذَا - ولَيَأْتِيَنَّ هَذَا عَلَى هَذَا - قَدْ قَامَتِ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ فَأَيْنَ الْمُحْتَسِبُونَ - فَقَدْ سُنَّتْ لَهُمُ السُّنَنُ وقُدِّمَ لَهُمُ الْخَبَرُ

حق کو اس کے اہل کے پاس تلاش کرو کہ یہی لوگ علم کی زندگی اور جہالت کی موت ہیں۔یہی لوگ وہ ہیں جن کا حکم ان کے علم کا اور ان کی خاموشی ان کے تکلم کا اور ان کا ظاہران کے باطن کا پتہ دیتا ہے۔یہ لوگ دین کی مخالفت نہیں کرتے ہیں اور نہ اس کے بارے میں آپس میں اختلاف کرتے ہیں۔دین ان کے درمیان بہترین سچا گواہ اورخاموش بولنے والا ہے۔

(۱۴۸)

آپ کا ارشاد گرامی

(اہل بصرہ( طلحہ و زبیر ) کے بارے میں)

یہ دونوں امر خلافت(۱) کے اپنیہی ذات کے لئے امید وار ہیں اور اسے اپنی ہی طرف موڑنا چاہتے ہیں۔ان کا اللہ کے کسی وسیلہ سے رابطہ اور کسی ذریعہ سے تعلق نہیں ہے۔ہر ایک دوسرے کے حق میں کینہ رکھتا ہے اورعنقریب اس کا پردہ اٹھ جائے گا۔خدا کی قسم اگر انہوں نے اپنے مدعا کو حاصل کرلیا تو ایک دوسرے کی جان لے کرچھوڑیں گے اور اس کی زندگی کا خاتمہ کردیں گے۔دیکھو باغی گروہ اٹھ کھڑا ہوا ہے تو راہخدا میں کام کرنے والے کہاں چلے گئے جب کہ ان کے لئے راستے مقرر کردئیے گئے ہیں اور انہیں اس کی اطلاع دی جا چکی ہے؟

(۱)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسلمانوں نے خلافت کا جھگڑا دفن پیغمبر (ص) سے پہلے ہی شروع کردیا تھا اور پھر اسے مسلسل جاری رکھا اورمختلف انداز سے جوڑ توڑ کے ذریعہ خلافتوں کا فیصلہ ہوتا رہا لیکن کسی دورمیں بھی خلافت کے فیصلہ کے لئے تلوار اور جنگ کاسہارا نہیں لیا گیا۔یہ بدعت صرف حضرت ام المومنین کی ایجاد ہے کہ انہوں نے طلحہ و زبیر کی خلافت کے لئے تلوار کابھی سہارا لے لیا اور پھر معاویہ کے لئے زمین ہموار کردی اور اس کے نتیجہ میں خلافت کا فیصلہ جنگ و جدال سے شروع ہوگیا اور اس راہ میں بے شمار جانیں ضائع ہوتی رہیں۔


ولِكُلِّ ضَلَّةٍ عِلَّةٌ ولِكُلِّ نَاكِثٍ شُبْهَةٌ - واللَّه لَا أَكُونُ كَمُسْتَمِعِ اللَّدْمِ - يَسْمَعُ النَّاعِيَ ويَحْضُرُ الْبَاكِيَ ثُمَّ لَا يَعْتَبِرُ!

(۱۴۹)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قبل موته

أَيُّهَا النَّاسُ - كُلُّ امْرِئٍ لَاقٍ مَا يَفِرُّ مِنْه فِي فِرَارِه - الأَجَلُ مَسَاقُ النَّفْسِ والْهَرَبُ مِنْه مُوَافَاتُه - كَمْ أَطْرَدْتُ الأَيَّامَ أَبْحَثُهَا عَنْ مَكْنُونِ هَذَا الأَمْرِ - فَأَبَى اللَّه إِلَّا إِخْفَاءَه هَيْهَاتَ عِلْمٌ مَخْزُونٌ - أَمَّا وَصِيَّتِي فَاللَّه لَا تُشْرِكُوا بِه شَيْئاً - ومُحَمَّداًصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فَلَا تُضَيِّعُوا سُنَّتَه - أَقِيمُوا هَذَيْنِ الْعَمُودَيْنِ - وأَوْقِدُوا هَذَيْنِ الْمِصْبَاحَيْنِ - وخَلَاكُمْ ذَمٌّ مَا لَمْ تَشْرُدُوا - حُمِّلَ كُلُّ امْرِئٍ مِنْكُمْ مَجْهُودَه - وخُفِّفَ عَنِ الْجَهَلَةِ - رَبٌّ رَحِيمٌ ودِينٌ قَوِيمٌ وإِمَامٌ عَلِيمٌ -

میں جانتا ہوں کہ ہر گمراہی کا ایک سبب ہوتا ہے اور ہر عہد شکن ایک شبہ(۲) ڈھونڈ لیتا ہے لیکن میں اس شخص کے مانند نہیں ہو سکتا ہوں جو ماتک کی آواز سنتا ہے۔موت کی سنانی کانوں تک آتی ہے۔لوگوں کا گریہ دیکھتا ہے اور پھر عبرت حاصل نہیں کرتا ہے۔

(۱۴۹)

آپ کا ارشاد گرامی

(اپنی شہادت سے قبل)

لوگو ! دیکھو ہر شخص جس وقت سے فرار کر رہا ہے اس سے بہرحال ملاقات کرنے والا ہے اور موت ہی ہر نفس کی آخری منزل ہے اور اس سے بھاگنا ہی اسے پالینا ہے۔زمانہ گزر گیا جب سے میں اس راز کی جستجو میں ہوں لیکن پروردگار موت کے اسرار کو پردۂ راز ہی میں رکھنا چاہتا ہے۔یہ ایک علم ہے جو خزانہ قدرت میں محفوظ ہے۔ البتہ میری وصیت یہ ہے کہ کسی کو الہ کا شریک نہ قرا دینا اور پیغمبر اکرم (ص) کی سنت کو ضائع نہ کر دینا کہ یہی دونوں دین کے ستون ہیں انہیں کو قائم کرو اور انہیں دونوں چراغوں کو روشن رکھو۔اس کے بعداگر تم منتشر نہیں ہوگے تو تم پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ہر شخصاپنی طاقت بھربوجھ کاذمہ دار بنایا گیا ہے اورجاہلوں کابوجھ ہلکا رکھا گیا ہے کہ پروردگار رحیم و کریم ہے اوردین مستحکم ہے اور راہنما بھی علیم و دانا ہے۔

(۲)افسوس کہ جنگ جمل اور صفین میں تو شبہ کی بھی کوئی گنجائش نہیں تھی۔حضرت عائشہ ' طلحہ ' زبیر ' معاویہ ' عمرو عاص کوئی ایسا نہیں تھا جو حضرت علی کی شخصیت اور ان کے بارے میں ارشادات پیغمبر (ص) سے باخبر نہ ہو۔اس کے بعد شبہ یا خطائے اجتہادی کا نام دے کر عوام الناس کو تو دھوکہ دیا جا سکتا ہے' داور محشر کودھوکہ نہیں دیا جا سکتا ہے۔


أَنَا بِالأَمْسِ صَاحِبُكُمْ - وأَنَا الْيَوْمَ عِبْرَةٌ لَكُمْ وغَداً مُفَارِقُكُمْ - غَفَرَ اللَّه لِي ولَكُمْ!

إِنْ تَثْبُتِ الْوَطْأَةُ فِي هَذِه الْمَزَلَّةِ فَذَاكَ - وإِنْ تَدْحَضِ الْقَدَمُ فَإِنَّا كُنَّا فِي أَفْيَاءِ أَغْصَانٍ - ومَهَابِّ رِيَاحٍ وتَحْتَ ظِلِّ غَمَامٍ - اضْمَحَلَّ فِي الْجَوِّ مُتَلَفَّقُهَا وعَفَا فِي الأَرْضِ مَخَطُّهَا - وإِنَّمَا كُنْتُ جَاراً جَاوَرَكُمْ بَدَنِي أَيَّاماً - وسَتُعْقَبُونَ مِنِّي جُثَّةً خَلَاءً - سَاكِنَةً بَعْدَ حَرَاكٍ وصَامِتَةً بَعْدَ نُطْقٍ - لِيَعِظْكُمْ هُدُوِّي وخُفُوتُ إِطْرَاقِي وسُكُونُ أَطْرَافِي - فَإِنَّه أَوْعَظُ لِلْمُعْتَبِرِينَ مِنَ الْمَنْطِقِ الْبَلِيغِ - والْقَوْلِ الْمَسْمُوعِ - وَدَاعِي لَكُمْ وَدَاعُ امْرِئٍ مُرْصِدٍ لِلتَّلَاقِي - غَداً تَرَوْنَ أَيَّامِي ويُكْشَفُ لَكُمْ عَنْ سَرَائِرِي - وتَعْرِفُونَنِي بَعْدَ خُلُوِّ مَكَانِي وقِيَامِ غَيْرِي مَقَامِي.

(۱۵۰)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يومي فيها إلى الملاحم ويصف فئة من أهل الضلال

میں کل تمہارے ساتھ تھا اورآج تمہارے لئے منزل عبرت میں ہوں اور کل تم سے جداہو جائوں گا اور تمہیں اور مجھے دونوں کو معاف کردے۔

دیکھو! اس منزل لغزش میں اگر ثابت رہ گئے تو کیا کہنا۔ورنہ اگر قدم پھسل گئے تو یاد رکھنا کہ ہم بھی انہیں شاخوںکی چھائوں ۔انہیں ہوائوں کی گزر گاہ اور انہیںبادلوں کے سایہ میں تھے لیکن ان بالدوں کے ٹکڑے فضا میں منتشر ہوگئے اور ان ہوائوں کے نشانات زمین سے محو ہوگئے۔میں کل تمہارے ہمسایہ میں رہا۔میرا بدن ایک عرصہ تک تمہارے درمیان رہا اورعنقریب تم اسے جثہ بلا روح کی شکل میں دیکھوگے جو حرکت کے بعد ساکن ہو جائے گا اورتکلم کے بعد ساکت ہو جائے گا۔اب تو تمہیں اس خاموشی اس سکوت اور اس سکون سے نصیحت حاصل کرنی چاہیے کہ یہ صاحبان عبرت کے لئے بہترین مقرر اور قابل سماعت بیانات سے زیادہ بہتر نصیحت کرنے والے ہیں۔میری تم سے جدائی اس شخص کی جدائی ہے جو ملاقات کے انتظار میں ہے۔کل تم میرے زمانہ کو پہچانوگے اور تم پر میرے اسرار منکشف ہوں گے اورتم میری صحیح معرفت حاصل کروگے جب میری جگہ خالی ہو جائے گی اور دوسرے لوگاس منزل پرقابض ہو جائیں گے ۔

(۱۵۰)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں زمانہ کے حوادث کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اورگمراہوں کے ایک گروہ کا تذکرہ کیا گیا ہے )


وأَخَذُوا يَمِيناً وشِمَالًا ظَعْناً فِي مَسَالِكِ الْغَيِّ - وتَرْكاً لِمَذَاهِبِ الرُّشْدِ - فَلَا تَسْتَعْجِلُوا مَا هُوَ كَائِنٌ مُرْصَدٌ - ولَا تَسْتَبْطِئُوا مَا يَجِيءُ بِه الْغَدُ - فَكَمْ مِنْ مُسْتَعْجِلٍ بِمَا إِنْ أَدْرَكَه وَدَّ أَنَّه لَمْ يُدْرِكْه - ومَا أَقْرَبَ الْيَوْمَ مِنْ تَبَاشِيرِ غَدٍ - يَا قَوْمِ هَذَا إِبَّانُ وُرُودِ كُلِّ مَوْعُودٍ - ودُنُوٍّ مِنْ طَلْعَةِ مَا لَا تَعْرِفُونَ - أَلَا وإِنَّ مَنْ أَدْرَكَهَا مِنَّا يَسْرِي فِيهَا بِسِرَاجٍ مُنِيرٍ - ويَحْذُو فِيهَا عَلَى مِثَالِ الصَّالِحِينَ - لِيَحُلَّ فِيهَا رِبْقاً - ويُعْتِقَ فِيهَا رِقّاً ويَصْدَعَ شَعْباً - ويَشْعَبَ صَدْعاً فِي سُتْرَةٍ عَنِ النَّاسِ - لَا يُبْصِرُ الْقَائِفُ أَثَرَه ولَوْ تَابَعَ نَظَرَه - ثُمَّ لَيُشْحَذَنَّ فِيهَا قَوْمٌ شَحْذَ الْقَيْنِ النَّصْلَ - تُجْلَى بِالتَّنْزِيلِ أَبْصَارُهُمْ - ويُرْمَى بِالتَّفْسِيرِ فِي مَسَامِعِهِمْ - ويُغْبَقُونَ كَأْسَ الْحِكْمَةِ بَعْدَ الصَّبُوحِ !

في الضلال

منها - وطَالَ الأَمَدُ بِهِمْ لِيَسْتَكْمِلُوا الْخِزْيَ ويَسْتَوْجِبُوا

ان لوگوں نے گمراہی کے راستوں پر چلنے اور ہدایت کے راستوں کوچھوڑنے کے لئے داہنے بائیں راستے اختیار کرلئے ہیں مگر تم اس امر میں جلدی نہ کرو جو بہر حال ہونے والا ہے اور جس کا انتظار کیاجا رہا ہے اور اسے دورنہ سمجھو جو کل سامنے والا ہے کہ کتنے ہی جلدی کے طلب گار جب مقصد کو پالیتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ کاش اسے حاصل نہ کرتے۔آج کادن کل کے سویرے سے کس قدر قریب ہے۔لوگو! یہ ہر وعدہ کے ورود اور ہراس چیز کے ظہور کی قربت کا وقت ہے جسے تم نہیں پہچانتے ہو لہٰذا جو شخص بھی ان حالات تک باقی رہ جائے اس کا فرض ہے کہ روشن(۱) چراغ کے سہارے قدم آگے بڑھائے اورصالحین کے نقش قدم پرچلے تاکہ ہر گرہ کو کھول سکے اور ہر غلامی سے آزادی پیدا کر سکے ' ہر مجتمع کو بوقت ضرورت منتشر کر سکے اور ہر انتشار کومجتمع کر سکے اور لوگوں سے یوں مخفی رہے کہ قیافہ شناس بھی اس کے نقش قدم کو تاحد نظرنہ پاسکیں۔اس کے بعد ایک قوم پر اس طرح صیقل کی جائے گی جس طرح لوہا تلوار کی دھار پرصیقل کرتا ہے۔ان لوگوں کی آنکھوں کو قرآن کے ذریعہ روشن کیا جائے گا اور ان کے کانوں میں تفسیر کو مسلسل پہنچایا جائے گا اور انہیں صبح و شام حکمت کے جاموں سے سیرا ب کیا جائے گا۔

ان گمراہوں کو مہلت دی گئی تاکہ اپنی رسوائی کو مکمل کرلیں اور ہر تغیر کے حقدار ہو جائیں۔

(۱)امیرالمومنین نے اپنے بعد پیداہونے والے فتنوں کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اوراس نکتہ کی طرف بھی متوجہ کیا ہے کہ زمانہ بہرحال حجت خدا سے خالی نہ رہے گا اور اس اندھیرے میں بھی کوئی نہ کوئی سراج منیر ضرور رہے گا لہٰذا تمہارے فرض ہے کہ اس کا سہارا لے کر آگے بڑھو اور بہترین نتائج حاصل کرلو۔


الْغِيَرَ حَتَّى إِذَا اخْلَوْلَقَ الأَجَلُ - واسْتَرَاحَ قَوْمٌ إِلَى الْفِتَنِ - وأَشَالُوا عَنْ لَقَاحِ حَرْبِهِمْ - لَمْ يَمُنُّوا عَلَى اللَّه بِالصَّبْرِ - ولَمْ يَسْتَعْظِمُوا بَذْلَ أَنْفُسِهِمْ فِي الْحَقِّ - حَتَّى إِذَا وَافَقَ وَارِدُ الْقَضَاءِ انْقِطَاعَ مُدَّةِ الْبَلَاءِ - حَمَلُوا بَصَائِرَهُمْ عَلَى أَسْيَافِهِمْ - ودَانُوا لِرَبِّهِمْ بِأَمْرِ وَاعِظِهِمْ حَتَّى إِذَا قَبَضَ اللَّه رَسُولَهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رَجَعَ قَوْمٌ عَلَى الأَعْقَابِ - وغَالَتْهُمُ السُّبُلُ واتَّكَلُوا عَلَى الْوَلَائِجِ - ووَصَلُوا غَيْرَ الرَّحِمِ - وهَجَرُوا السَّبَبَ الَّذِي أُمِرُوا بِمَوَدَّتِه - ونَقَلُوا الْبِنَاءَ عَنْ رَصِّ أَسَاسِه فَبَنَوْه فِي غَيْرِ مَوْضِعِه - مَعَادِنُ كُلِّ خَطِيئَةٍ وأَبْوَابُ كُلِّ ضَارِبٍ فِي غَمْرَةٍ - قَدْ مَارُوا فِي الْحَيْرَةِ وذَهَلُوا فِي السَّكْرَةِ - عَلَى سُنَّةٍ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ - مِنْ مُنْقَطِعٍ إِلَى الدُّنْيَا رَاكِنٍ - أَوْ مُفَارِقٍ لِلدِّينِ مُبَايِنٍ.

(۱۵۱)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يحذر من الفتن

اللَّه ورسوله

وأَحْمَدُ اللَّه وأَسْتَعِينُه

یہاں تک کہ جب زمانہ کافی گزرچکا اورایک قوم فتنوں سے مانوس ہوچکی اورجنگ کی تخم پاشیوں کے لئے کھڑی ہوگئی۔تو وہ لوگ بھی سامنے آگئے جواللہ پراپنے صبرکا احسان نہیں جتاتے اور راہ خدامیں جان دینے کو کوئی کارنامہ نہیں تصورکرتے۔یہاں تک کہ جب آنے والے حکم قضا نے آزمائش کی مدت کو تمام کردیا۔تو انہوں نے اپنی بصیرت کو اپنی تلواروں پر مسلط کردیا اور اپنے نصیحت کرنے والے کے حکم سے پروردگار کی بارگاہ میں جھک گئے۔مگراس کے بعد جب پروردگار نے پیغمبر اکرم (ص) کو اپنے پاس بلا لیا تو ایک قو م الٹے(۱) پائوںپلٹ گئی اوراسے مختلف راستوں نے تباہ کردیا ۔انہوں نے مہمل عقائد کا سہارا لیا اور غیر قرابت دار سے تعلقات پیدا کئے اور اس سبب کو نظر انداز کردیا جس سے مودت کا حکم دیا گیاتھا۔عمارت کو جڑ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ پر قائم کردیا جو ہر غلطی کا معدن و مخزن اور ہرگمراہی کا دروازہ تھے۔حیرت میں سرگرداں اور آل فرعو ن کی طرح نشہ میں غافل تھے ان میں کوئی دنیا کی طرف مکمل کٹ کرآگیاتھا اور کوئی دین سے مستقل طریقہ پرالگ ہوگیا تھا۔

(۱۵۱)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں فتنوں سے ڈرایا گیاہے )

میں خدا کی حمدو ثنا کرتا ہوںاور اس کی مدد چاہتا ہوں

(۱)صحیح بخاری کے کتاب الفتن میں اسی صورت حال کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب رسول اکرم (ص) حوض کوثر پربعض اصحاب کا حشر دیکھ کر کہ انہیں ہنکا یا جا رہا ہے ۔فریاد کریں گے کہ خدایا یہ میرے اصحاب ہیں توارشاد ہوگا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا بدعتیںایجاد کی ہیں اور کس طرح دین خداسے منحرف ہوئے ہیں۔


عَلَى مَدَاحِرِ الشَّيْطَانِ ومَزَاجِرِه - والِاعْتِصَامِ مِنْ حَبَائِلِه ومَخَاتِلِه وأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه وأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداًعَبْدُه ورَسُولُه ونَجِيبُه وصَفْوَتُه - لَا يُؤَازَى فَضْلُه ولَا يُجْبَرُ فَقْدُه - أَضَاءَتْ بِه الْبِلَادُ بَعْدَ الضَّلَالَةِ الْمُظْلِمَةِ - والْجَهَالَةِ الْغَالِبَةِ والْجَفْوَةِ الْجَافِيَةِ - والنَّاسُ يَسْتَحِلُّونَ الْحَرِيمَ - ويَسْتَذِلُّونَ الْحَكِيمَ - يَحْيَوْنَ عَلَى فَتْرَةٍ ويَمُوتُونَ عَلَى كَفْرَةٍ.!

التحذير من الفتن

ثُمَّ إِنَّكُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ أَغْرَاضُ بَلَايَا قَدِ اقْتَرَبَتْ - فَاتَّقُوا سَكَرَاتِ النِّعْمَةِ واحْذَرُوا بَوَائِقَ النِّقْمَةِ - وتَثَبَّتُوا فِي قَتَامِ الْعِشْوَةِ واعْوِجَاجِ الْفِتْنَةِ - عِنْدَ طُلُوعِ جَنِينِهَا وظُهُورِ كَمِينِهَا - وانْتِصَابِ قُطْبِهَا ومَدَارِ رَحَاهَا - تَبْدَأُ فِي مَدَارِجَ خَفِيَّةٍ

ان چیزوں کے لئے جو شیاطین کو ہنکا سکیں۔بھگا سکیں اوراس کے پھندوں اور ہتھکنڈوں سے محفوظ رکھ سکیں اور میں اس امرک ی گواہی د یتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔اور حضرت محمد (ص) اس کے بندہ اور رسول اس کے منتخب اور مصطفی ہیں ان کے فضل کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ہے اور ان کے فقدان کی کوئی تلافی نہیں ہے۔ان کی وجہ سے تمام شہر ضلالت کی تاریکی ۔جہالت کے غلبہ اورب د سرشتی اوربداخلاقی کی شدت کے بعد جب لوگ حرام کو حلال بنائے ہوئے تھے اورصاحبان حکمت کو ذلیل سمجھ رہے تھے۔رسولوں سے خالی دورمیں زندگی گزار رہے تھے اور کفر کی حالت میں مر رہے تھے۔منور اور روشن ہوگئے۔

(فتنوں سے آگاہی)

اس کے بعدتم اے گروہ عرب ان بلائوں کا نشانہ پر ہو جو قریب آچکی ہیں لہٰذا نعمتوں کی مدہوشیوں سیب چو اور ہلاک کرنے والے عذاب سے ہوشیار رہو۔ اندھیروں کے دھندلکوں میں قدم جمائے رہواور(۱) فتنوں کی کجروی سے ہوشیار رہو جس وقت ان کا پوشیدہ خدشہ سامنے آرہا ہو اور مخفی اندیشہ ظاہر ہو رہا ہواور کھونٹا مضبوط ہو رہا ہو۔یہ فتنے ابتدا میں مخفی راستوں سے شروع ہوتے ہیں

(۱)انسانی بصیرت کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انسان فتنہ کو پہلے مرحلہ پر پہچان لے اور وہیں اس کا سدباب کردے ورنہجب اس کا رواج ہو جاتا ہے تو اس کا روکنا نا ممکن ہو جاتا ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ اس کا آغاز اتنے مخفی اور حسین انداز سے ہوتا ہے کہ اس کا پہچاننا ہر ایک کے بس کا کام نہیں ہے اور اس طرح عوام الناس اپنے مخصوص عقائد و نظریات یا عواطف و جذبات کی بنا پران فتنوں کاشکار ہوجاتے ہیں اورآخر میں ان کی مصیبت کا علاج نا ممکن ہو جاتا ہے ۔علماء اعلام اور مفکرین اسلام کی ضرورت اسی لئے ہوتی ہے کہ وہ فتنوں کو آغاز کار ہی سے پہچان سکتے ہیں اور ان کا سدباب کر سکتے ہیں بشرطیکہ عوام الناس ان کے اوپر اعتماد کریں اور ان کی بصیرت سے فائدہ اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔


وتَئُولُ إِلَى فَظَاعَةٍ جَلِيَّةٍ - شِبَابُهَا كَشِبَابِ الْغُلَامِ وآثَارُهَا كَآثَارِ السِّلَامِ - يَتَوَارَثُهَا الظَّلَمَةُ بِالْعُهُودِ أَوَّلُهُمْ قَائِدٌ لِآخِرِهِمْ - وآخِرُهُمْ مُقْتَدٍ بِأَوَّلِهِمْ يَتَنَافَسُونَ فِي دُنْيَا دَنِيَّةٍ ويَتَكَالَبُونَ عَلَى جِيفَةٍ مُرِيحَةٍ - وعَنْ قَلِيلٍ يَتَبَرَّأُ التَّابِعُ مِنَ الْمَتْبُوعِ - والْقَائِدُ مِنَ الْمَقُودِ فَيَتَزَايَلُونَ بِالْبَغْضَاءِ - ويَتَلَاعَنُونَ عِنْدَ اللِّقَاءِ - ثُمَّ يَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ طَالِعُ الْفِتْنَةِ الرَّجُوفِ - والْقَاصِمَةِ الزَّحُوفِ فَتَزِيغُ قُلُوبٌ بَعْدَ اسْتِقَامَةٍ - وتَضِلُّ رِجَالٌ بَعْدَ سَلَامَةٍ - وتَخْتَلِفُ الأَهْوَاءُ عِنْدَ هُجُومِهَا - وتَلْتَبِسُ الآرَاءُ عِنْدَ نُجُومِهَا - مَنْ أَشْرَفَ لَهَا قَصَمَتْه ومَنْ سَعَى فِيهَا حَطَمَتْه - يَتَكَادَمُونَ فِيهَا تَكَادُمَ الْحُمُرِ فِي الْعَانَةِ - قَدِ اضْطَرَبَ مَعْقُودُ الْحَبْلِ وعَمِيَ وَجْه الأَمْرِ - تَغِيضُ فِيهَا الْحِكْمَةُ وتَنْطِقُ فِيهَا الظَّلَمَةُ - وتَدُقُّ أَهْلَ الْبَدْوِ بِمِسْحَلِهَا - وتَرُضُّهُمْ بِكَلْكَلِهَا يَضِيعُ فِي غُبَارِهَا الْوُحْدَانُ

اور ظالم باہمی عہدو پیمان کے ذریعہ ان کے وارث بنتے ہیں۔اول آخرکا قائد ہوتا ہے اورآخر اول کامقتدی ۔حقیر دنیا کے لئے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں اور بدبو دار مردہ پر آپس میں جنگ کرتے ہیں۔جب کہ عنقریب مرید اپنے پیر اور پیراپنے مرید سے برائت کرے گا اور بغض و عداوت کےساتھ ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گے اور وقت ملاقات ایک دوسرے پر لعنت کریں گے۔اس کے بعد وہ وقت آئے گا جب زلزلہ افگن فتنہ(۱) سر اٹھائے گا جو کمر توڑ ہوگا اور شدید طور پر حملہ آور ہوگا جس کے نتیجہ میں بہت سے دل استقامت کے بعد کجی کا شکار ہو جائیں گے اور بہت سے لوگ سلامتی کے بعد بہک جائیںگے۔اس کے ہجوم کے وقت خواہشات میں ٹکرائو ہوگا اوراس کے ظہورکے ہنگام اور افکار مشتبہ ہو جائیں گے۔جوادھر سر اٹھا کردیکھے گا اسکی کمر توڑدیں گے اورجواس میں دوڑ دھوپ کرے گا اسے تباہ کردیں گے۔لوگ یوں ایک دوسرے کو کاٹنے دوڑیں گے جس طرح بھیڑکے اندر گدھے ۔خدائی رسی کے بل کھل جائیں گے اور حقائق کے راستے مشتبہ ہوجائیں گے۔حکمت کا چشمہ خشک ہو جائے گا اور ظالم بولنے لگیں گے۔دیہاتوں کو ہتھوڑوں سے کوٹ دیاجائے گا اور اپنے سینہ سے دبا کر کچل دیا جائے گا۔اکیلے اکیلے افراد اس کے غبارمیں گم ہو جائیں گے

(۱)امیر المومنین جس قسم کے فتنوں کی طرف اشارہ کیا ہے ان کا سلسلہ اگرچہ آپ کے بعد ہی سے شروع ہوگیا تھا لیکن ابھی تک موقوف نہیں ہو ا اورنہ فی الحال موقوف ہونے کے امکانات ہیں۔جس طرف دیکھو وہی صورت حال نظرآرہی ہے جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے اور انہیں مظالم کی گرم بازاری ہے جن سے آپ نے ہوشیار کیاہے۔

ضرورت ہے کہ صاحبان ایمان ان ہدایات سے فائدہ اٹھائیں فتنوں سے محفوظ رہیں۔صاحبان بصیرت سے وابستہ رہیں اور کم سے کم اتنا خیال رکھیں کہ خدا کی بارگاہ میں مظلوم بن کرحاضرہونے میں کوئی ذلت نہیں ہے بلکہ اسی میں دائمی عزت اور ابدی شرافت ہے۔ذلت ظلم میں ہوتی ہے مظلومیت میں نہیں۔


ويَهْلِكُ فِي طَرِيقِهَا الرُّكْبَانُ تَرِدُ بِمُرِّ الْقَضَاءِ - وتَحْلُبُ عَبِيطَ الدِّمَاءِ وتَثْلِمُ مَنَارَ الدِّينِ - وتَنْقُضُ عَقْدَ الْيَقِينِ - يَهْرُبُ مِنْهَا الأَكْيَاسُ ويُدَبِّرُهَا الأَرْجَاسُ - مِرْعَادٌ مِبْرَاقٌ كَاشِفَةٌ عَنْ سَاقٍ تُقْطَعُ فِيهَا الأَرْحَامُ - ويُفَارَقُ عَلَيْهَا الإِسْلَامُ بَرِيئُهَا سَقِيمٌ وظَاعِنُهَا مُقِيمٌ!

منها - بَيْنَ قَتِيلٍ مَطْلُولٍ وخَائِفٍ مُسْتَجِيرٍ - يَخْتِلُونَ بِعَقْدِ الأَيْمَانِ وبِغُرُورِ الإِيمَانِ - فَلَا تَكُونُوا أَنْصَابَ الْفِتَنِ وأَعْلَامَ الْبِدَعِ - والْزَمُوا مَا عُقِدَ عَلَيْه حَبْلُ الْجَمَاعَةِ - وبُنِيَتْ عَلَيْه أَرْكَانُ الطَّاعَةِ - واقْدَمُوا عَلَى اللَّه مَظْلُومِينَ ولَا تَقْدَمُوا عَلَيْه ظَالِمِينَ - واتَّقُوا مَدَارِجَ الشَّيْطَانِ ومَهَابِطَ الْعُدْوَانِ - ولَا تُدْخِلُوا بُطُونَكُمْ لُعَقَ الْحَرَامِ - فَإِنَّكُمْ بِعَيْنِ مَنْ حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَعْصِيَةَ - وسَهَّلَ لَكُمْ سُبُلَ الطَّاعَةِ.

اور اس کے راستہ میں سوار ہلاک ہو جائیں گے۔یہ فتنے قضاء الٰہی کی تلخی کے ساتھ وارد ہوںگے اور دودھ کے بدلے تازہ خون نکالیں گے۔دین کے منارے (علمائ) ہلاک ہو جائیں گے اور یقین کی گرہیں ٹوٹ جائیں گی۔صاحبان ہوش ان سے بھاگنے لگیں گے اور خبیث النفس افراد اس کے مدار الہام ہو جائیں گے۔یہ فتنے گرجنے والے ' چمکنے والے اور سراپا تیار ہوں گے۔ان میں رشتہ داروں سے تعلقات توڑ لئے جائیں گے اور اسلام سے جدائی اختیار کرلی جائے گی۔اس سے الگ رہنے والے بھی مریض ہوں گے ۔ان میں رشتہ داروں سے تعلقات توڑ لئے جائیں گے اور اسلام سے جدائی اختیار کرلی جائے گی۔اس سے الگ رہنے والے بھی مریض ہوں گے اور کوچ کر جانے والے بھی گویا مقیم ہی ہوں گے۔ اہل ایمان میں بغض ایسے مقتول ہوں گے جن کا خون بہا تک نہ لیا جا سکے گا اور بعض ایسے خوفزدہ ہوں گے کہ پناہ کی تلاش میںہوں گے۔انہیں پختہ قسموں اور ایمان کی فریب کاریوں میں مبتلا کیا جائے گا لہٰذا خبردار تم فتنوں کا نشانہ اوربدعتوں کا نشان مت بننا اور اسی راستہ کو پکڑے رہنا جس پر ایمانی جماعت قائم ہے اور جس پر اطاعت کے ارکان قائم کئے گئے ہیں۔خدا کی بارگاہ میں مظلوم بن کرجائو خبردار ظالم بن کر مت جانا۔شیطان کے راستوں پر ظلم کے مرکز سے محفوظ رہو اور اپنے شکم میں لقمہ حرام کو داخل مت کرو کہ تم اس کی نگاہ کے سامنے ہو جس نے تم پر معصیت کو حرام کیا ہے اور تمہارے لئے اطاعت کے راستوں کو آسان کردیا ہے۔


(۱۵۲)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في صفات اللَّه جل جلاله، وصفات أئمة الدين

الْحَمْدُ لِلَّه الدَّالِّ عَلَى وُجُودِه بِخَلْقِه - وبِمُحْدَثِ خَلْقِه عَلَى أَزَلِيَّتِه؛وبِاشْتِبَاهِهِمْ عَلَى أَنْ لَا شَبَه لَه - لَا تَسْتَلِمُه الْمَشَاعِرُ ولَا تَحْجُبُه السَّوَاتِرُ - لِافْتِرَاقِ الصَّانِعِ والْمَصْنُوعِ والْحَادِّ والْمَحْدُودِ والرَّبِّ والْمَرْبُوبِ - الأَحَدِ بِلَا تَأْوِيلِ عَدَدٍ - والْخَالِقِ لَا بِمَعْنَى حَرَكَةٍ ونَصَبٍ - والسَّمِيعِ لَا بِأَدَاةٍ والْبَصِيرِ لَا بِتَفْرِيقِ آلَةٍ - والشَّاهِدِ لَا بِمُمَاسَّةٍ والْبَائِنِ لَا بِتَرَاخِي مَسَافَةٍ –

والظَّاهِرِ لَا بِرُؤْيَةٍ والْبَاطِنِ لَا بِلَطَافَةٍ - بَانَ مِنَ الأَشْيَاءِ بِالْقَهْرِ لَهَا والْقُدْرَةِ عَلَيْهَا - وبَانَتِ الأَشْيَاءُ مِنْه بِالْخُضُوعِ لَه والرُّجُوعِ إِلَيْه - مَنْ وَصَفَه فَقَدْ حَدَّه ومَنْ حَدَّه فَقَدْ عَدَّه - ومَنْ عَدَّه فَقَدْ أَبْطَلَ أَزَلَه

(۱۵۲)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں پروردگار کے صفات اور ائمہ طاہرین کے اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے )

ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے اپنی تخلیق سے اپنے وجود کا ' اپنی مخلوقات کے جادث ہونے سے اپنی ازلیت کا اور ان کی باہمی مشاہبت سے اپنے بے نظیر ہونے کا پتہ دیا ہے۔اس کی ذات تک حواس کی رسائی تک نہیں ہے اور پھر بھی پردے اسے پوشیدہ نہیں کر سکتے ہیں۔اس لئے کہ مصنوع صانع سے اور حد بندی کرنے والا محدود سے اور پرورش کرنے والا پرورش پانے والے سے بہر حال الگ ہوتا ہے۔وہ ایک ہے مگر عدد کے اعتبارسے نہیں۔وہ خالق ہے مگرحرکت و تعب کے ذریعہ نہیں۔وہ سمیع ہے لیکن کانوں کے ذریعہ نہیں اوروہ بصیر ہے لیکن آنکھیں کھولنے کاذریعہ نہیں۔

وہ حاضر ہے مگر چھوا نہیں جا سکتا اور وہ دور ہے لیکن مسافتوں کے اعتبار سے نہیں۔وہ ظاہر ہے لیکن دیکھا نہیں جا سکتا اور وہ باطن ہے لیکن جسم کی لطافت کی بناپ ر نہیں۔وہ اشیاء سے الگ ہے اپنے قہر غلبہ اور قدرت و اختیار کی بنا پر اور مخلوقات اس سے جدا گانہ ہے اپنے خضوع و خشوع اوراس کی بارگاہ میں باز گشت کی بنا پر۔جس نے اس کے لئے الگ سے اوصاف کا تصور کیا اس نے اسے اعداد کی صف میں لا کھڑا کردیا اور جس نے ایسا کیا اس نے اسے حادثات بنا کر اس کی ازلیت کاخاتمہ کردیا


ومَنْ قَالَ كَيْفَ فَقَدِ اسْتَوْصَفَه - ومَنْ قَالَ أَيْنَ فَقَدْ حَيَّزَه - عَالِمٌ إِذْ لَا مَعْلُومٌ ورَبٌّ إِذْ لَا مَرْبُوبٌ - وقَادِرٌ إِذْ لَا مَقْدُورٌ.

أئمة الدين

منها: - قَدْ طَلَعَ طَالِعٌ ولَمَعَ لَامِعٌ ولَاحَ لَائِحٌ - واعْتَدَلَ مَائِلٌ واسْتَبْدَلَ اللَّه بِقَوْمٍ قَوْماً وبِيَوْمٍ يَوْماً - وانْتَظَرْنَا الْغِيَرَ انْتِظَارَ الْمُجْدِبِ الْمَطَرَ - وإِنَّمَا الأَئِمَّةُ قُوَّامُ اللَّه عَلَى خَلْقِه - وعُرَفَاؤُه عَلَى عِبَادِه - ولَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ عَرَفَهُمْ وعَرَفُوه - ولَا يَدْخُلُ النَّارَ إِلَّا مَنْ أَنْكَرَهُمْ وأَنْكَرُوه - إِنَّ اللَّه تَعَالَى خَصَّكُمْ بِالإِسْلَامِ واسْتَخْلَصَكُمْ لَه - وذَلِكَ لأَنَّه اسْمُ سَلَامَةٍ وجِمَاعُ كَرَامَةٍ - اصْطَفَى اللَّه تَعَالَى مَنْهَجَه وبَيَّنَ حُجَجَه

اور جس نے یہ سوال کیا کہ وہ کیسا ہے؟ اس نے الگ سے اوصاف کی جستجو کی اورجس نے یہ درایفت کیا کہ وہ کہاں ہے؟ اس نے اسے مکان میں محدود کردیا۔وہ اس وقت سے عالم ہے جب معلومات کا پتہ بھی نہیں تھا اور اس وقت سے مالک ہے جب مملوکات کا نشان بھی نہیں تھا اور اس وقت سے قادر ہے جب مقدورات پردہ ٔ عدم میں پڑے تھے۔

(ائمہ دین)

دیکھو طلوع کرنے والا طالع ہو چکا ہے اورچمکنے والا روشن ہو چکا ہے۔ظاہر ہونے والے کا ظہور سامنے آچکاہے ۔کجی سیدھی ہو چکی ہے۔اور اللہ ایک قوم کے بدلے دوسری قوم اور ایک دورکے بدلے دوسرا دور لے آیا ہے۔ہم نے حالات کی تبدیلی کا اسی طرح انتظار کیا ہے جس طرح قحط زدہ بارش کا انتظار کرتا ہے۔ائمہ درحقیقت اللہ کی طرف سے مخلوقات کے نگراں اور اس کے بندوں کو اس کی معرفت کا سبق دینے والے ہیں۔کوئی شخص جنت میںقدم نہیں رکھ سکتا ہے جب تک وہ انہیں نہ پہچان لے اور وہ حضرات اسے اپنا نہ کہہ دیں اورکوئی شخص جہنم میں جا نہیں سکتا ہے مگر یہ کہ وہ انحضرات کا انکار کردے اوروہ بھی اس نے پہچاننے سے انکار کردیں۔پروردگار نے تم لوگوں کو اسلام سے نوازا ہے اور تمہیں اس کے لئے منتخب کیا ہے۔اس لئے کہ اسلام سلامتی کا نشان اور کرامت کا سرمایہ ہے۔اللہ نے اس کے راستہ کا انتخاب کیا ہے۔اس کے دلائل کو واضح کیاہے۔


مِنْ ظَاهِرِ عِلْمٍ وبَاطِنِ حُكْمٍ - لَا تَفْنَى غَرَائِبُه،ولَا تَنْقَضِي عَجَائِبُه - فِيه مَرَابِيعُ النِّعَمِ ومَصَابِيحُ الظُّلَمِ - لَا تُفْتَحُ الْخَيْرَاتُ إِلَّا بِمَفَاتِيحِه - ولَا تُكْشَفُ الظُّلُمَاتُ إِلَّا بِمَصَابِيحِه - قَدْ أَحْمَى حِمَاه وأَرْعَى مَرْعَاه - فِيه شِفَاءُ الْمُسْتَشْفِي وكِفَايَةُ الْمُكْتَفِي.

(۱۵۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

صفة الضال

وهُوَ فِي مُهْلَةٍ مِنَ اللَّه يَهْوِي مَعَ الْغَافِلِينَ - ويَغْدُو مَعَ الْمُذْنِبِينَ بِلَا سَبِيلٍ قَاصِدٍ ولَا إِمَامٍ قَائِدٍ.

صفات الغافلين

منها - حَتَّى إِذَا كَشَفَ لَهُمْ عَنْ جَزَاءِ مَعْصِيَتِهِمْ - واسْتَخْرَجَهُمْ مِنْ جَلَابِيبِ غَفْلَتِهِمُ - اسْتَقْبَلُوا مُدْبِراً واسْتَدْبَرُوا مُقْبِلًا - فَلَمْ يَنْتَفِعُوا بِمَا أَدْرَكُوا مِنْ طَلِبَتِهِمْ -

ظاہری علم اور باطنی حکمتوں کے ذریعہ اس کے غرائب فنا ہونے والے اور اس کے عجائب ختم ہونے والے نہیں ہے۔اس میں نعمتوں کی بہار اور ظلمتوں کے چرا غ ہیں نیکیوں کے دروازے اسی کی کنجیوں سے کھلتے ہیں اور تاریکیوں کا ازالہ اسی کے چراغوں سے ہوتا ہے ۔اس نے اپنے حدود کو محفوظ کرلیا ہے اور اپنی چراگاہ کو عام کردیا ہے۔اس میں طالب شفا کے لئے شفا اورامیدوار کفایت کے لئے بے نیازی کا سامان موجود ہے۔

(۱۵۳)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(گمراہوں اور غافلوں کے بارے میں)

(گمراہ)

یہ انسان اللہ کی طرف سے مہلت کی منزل میں ہے۔غافلوں کے ساتھ تباہیوں کے گڑھے میں گڑ پڑتا ہے اور گناہ گاروں کے ساتھ صبح کرتا ہے۔نہ اس کے سامنے سیدھا راستہ ہے اورنہ قیادت کرنے والا پیشوا۔

(غافلین)

یہاں تک کہ جب پروردگار نے ان کے گناہوں کی سزا کو واضح کردیا اورانہیں غفلت کے پردوں سے باہر نکال لیا تو جس سے منہ پھراتے تھے اسی کی طرف دوڑنے لگے اور جس کی طرف متوجہ تھے اس سے منہ پھرانے لگے۔جن مقاصد کو حاصل کرلیا تھا ان سے بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور جن حاجتوں کو پوراکرلیا تھا


ولَا بِمَا قَضَوْا مِنْ وَطَرِهِمْ. إِنِّي أُحَذِّرُكُمْ ونَفْسِي هَذِه الْمَنْزِلَةَ - فَلْيَنْتَفِعِ امْرُؤٌ بِنَفْسِه - فَإِنَّمَا الْبَصِيرُ مَنْ سَمِعَ فَتَفَكَّرَ ونَظَرَ فَأَبْصَرَ وانْتَفَعَ بِالْعِبَرِ - ثُمَّ سَلَكَ جَدَداً وَاضِحاً يَتَجَنَّبُ فِيه الصَّرْعَةَ فِي الْمَهَاوِي - والضَّلَالَ فِي الْمَغَاوِي - ولَا يُعِينُ عَلَى نَفْسِه الْغُوَاةَ بِتَعَسُّفٍ فِي حَقٍّ - أَوْ تَحْرِيفٍ فِي نُطْقٍ أَوْ تَخَوُّفٍ مِنْ صِدْقٍ.

عظة الناس

فَأَفِقْ أَيُّهَا السَّامِعُ مِنْ سَكْرَتِكَ - واسْتَيْقِظْ مِنْ غَفْلَتِكَ واخْتَصِرْ مِنْ عَجَلَتِكَ - وأَنْعِمِ الْفِكْرَ فِيمَا جَاءَكَ - عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ الأُمِّيِّصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مِمَّا لَا بُدَّ مِنْه - ولَا مَحِيصَ عَنْه - وخَالِفْ مَنْ خَالَفَ ذَلِكَ إِلَى غَيْرِه - ودَعْه ومَا رَضِيَ لِنَفْسِه وضَعْ فَخْرَكَ - واحْطُطْ كِبْرَكَ واذْكُرْ قَبْرَكَ فَإِنَّ عَلَيْه مَمَرَّكَ - وكَمَا تَدِينُ تُدَانُ وكَمَا تَزْرَعُ تَحْصُدُ - ومَا قَدَّمْتَ الْيَوْمَ تَقْدَمُ عَلَيْه غَداً - فَامْهَدْ لِقَدَمِكَ وقَدِّمْ لِيَوْمِكَ - فَالْحَذَرَ الْحَذَرَ أَيُّهَا الْمُسْتَمِعُ

ان سے بھی کوئی نتیجہ نہیں حاصل ہوا۔ دیکھو میں تمہیں اور خود اپنے نفس کوبھی اس صورت حال سے ہوشیار کر رہاہوں۔ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے نفس سے فائدہ اٹھائے۔اس لئے کہ صاحب بصیرت وہی ہے جو سنے تو غور بھی کرے اور دیکھے تو نگاہ بھی کرے اور پھر عبرتوں سے فائدہ حاصل کرکے اس سیدھے اور روشن راستہ پر چل پڑے جس میںگمراہی کے گڑھے میں گرنے سے پرہیز کرے اور شبہات میں پڑ کر گمراہ نہ ہو جائے ایسے نفس کے خلاف گمراہوں کی اس طرح مدد کرے کہ حق کی راہ سے انحراف کرلے یا گفتگو میں تحریف سے کام لے یا سچ بولنے میں خوف کا شکار ہو جائے۔

(موعظہ)

میری بات سننے والو! اپنی مدہوشی سے ہوش میں آجائو اوراپنی غفلت سے بیدار ہوجائو۔سامان دنیا مختصر کرلو اور ان باتوں میںغورو فکر کرو جو تمہارے پاس پیغمبر امی (ص) کی زبان مبارکسے آئی ہیں اور جن کا اختیارکرنا ضروری ہے اور ان سے کوئی چھٹکارا بھی نہیں ہے۔جو اس بات کی مخالفت کرے اس سے اختلاف کرکے دوسرے راستہ پرچل پڑو اوراسے اس کی مرضی پرچھوڑ دو۔فخر و مباہات کو چھوڑ دو۔تکبر کو ختم کردو اورقبر کو یاد کرو کہ اسی راستہ سے گزرنا ہے اور جیسا کرو گے ویسا ہی نتیجہ بھی ملے گا اورجیسا بوئو گے ویسا ہی کاٹنا ہے اور جوآج بھیج دیا ہے کل اسی کا سامانا کرنا ہے۔اپنے قدموں کے لئے زمین ہموار کرلو اور اسدن کے لئے سامان پہلے سے بھیج دو۔ہوشیار' ہوشیار اے سننے والو


والْجِدَّ الْجِدَّ أَيُّهَا الْغَافِلُ –( ولا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ ) .

إِنَّ مِنْ عَزَائِمِ اللَّه فِي الذِّكْرِ الْحَكِيمِ - الَّتِي عَلَيْهَا يُثِيبُ ويُعَاقِبُ ولَهَا يَرْضَى ويَسْخَطُ - أَنَّه لَا يَنْفَعُ عَبْداً - وإِنْ أَجْهَدَ نَفْسَه وأَخْلَصَ فِعْلَه - أَنْ يَخْرُجَ مِنَ الدُّنْيَا لَاقِياً رَبَّه - بِخَصْلَةٍ مِنْ هَذِه الْخِصَالِ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا - أَنْ يُشْرِكَ بِاللَّه فِيمَا افْتَرَضَ عَلَيْه مِنْ عِبَادَتِه - أَوْ يَشْفِيَ غَيْظَه بِهَلَاكِ نَفْسٍ - أَوْ يَعُرَّ بِأَمْرٍ فَعَلَه غَيْرُه - أَوْ يَسْتَنْجِحَ حَاجَةً إِلَى النَّاسِ بِإِظْهَارِ بِدْعَةٍ فِي دِينِه - أَوْ يَلْقَى النَّاسَ بِوَجْهَيْنِ أَوْ يَمْشِيَ فِيهِمْ بِلِسَانَيْنِ - اعْقِلْ ذَلِكَ فَإِنَّ الْمِثْلَ دَلِيلٌ عَلَى شِبْهِه.

إِنَّ الْبَهَائِمَ هَمُّهَا بُطُونُهَا - وإِنَّ السِّبَاعَ هَمُّهَا الْعُدْوَانُ عَلَى غَيْرِهَا - وإِنَّ النِّسَاءَ هَمُّهُنَّ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا والْفَسَادُ فِيهَا - إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ مُسْتَكِينُونَ - إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ مُشْفِقُونَ إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ خَائِفُونَ.

(۱۵۴)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يذكر فيها فضائل أهل البيت

اور محنت ' محنت اے غفلت والو! ''یہ باتیں مجھ جیسے با خبر کی طرح کوئی نہ بتائے گا۔ دیکھو! قرآن مجید میں پروردگار کے مستحکم اصولوں میں جس پر ثواب وعذاب اور رضا و ناراضگی کا دارومدا ہے۔یہ بات بھی ہے کہ انسان اس دنیا میں کسی قدرمحنت کیوں نہ کرے اور کتنا ہی مخلص کیوں نہ ہو جائے اگردنیا سے نکل کر اللہ کی بارگاہمیں جانا چاہے اوردرج ذیل خصلتوں سے توبہ نہ کرے تو اسے یہ جدو جہد اوراخلاص عمل کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا ہے۔

عبادت الٰہی میں کسی کو شریک قرار دیدے۔اپنے نفس کی تسکین کے لئے کسی کو ہلاک کردے۔ایک کے کام پردوسروں کو عیب لگادے۔دین میں کوئی بدعت ایجاد کرکے اس کے ذریعہ لوگوں سے فائدہ حاصل کرے۔لوگوں کے سامنے دوزخی پالیسی اختیار کرے۔یا دو زبانوں کے ساتھ زندگی گزارے۔اس حقیقت کو سمجھ لو کہ ہر شخص اپنی نظیر کی دلیل ہوا کرتا ہے۔

یقینا چوپایوں کا ساراہدفان کا پٹ ہوتا ہے اور درندوں کا سارا نشانہ دوسروں پر ظلم ہوتا ہے اور رعورتوں کا سارا زور رندگانی دنیا کی زینت اور فساد پر ہوتا ہے۔لیکن صاحبان ایمان خضوع و خشوع رکھنے والے ' خوف خدا رکھنے والے اور اس کی بارگاہ میں ترساں اور لرزاں رہتے ہیں۔

(۱۵۴)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں فضائل اہل بیت کاذکر کیا گیا ہے)


ونَاظِرُ قَلْبِ اللَّبِيبِ بِه يُبْصِرُ أَمَدَه - ويَعْرِفُ غَوْرَه ونَجْدَه - دَاعٍ دَعَا ورَاعٍ رَعَى - فَاسْتَجِيبُوا لِلدَّاعِي واتَّبِعُوا الرَّاعِيَ.

قَدْ خَاضُوا بِحَارَ الْفِتَنِ - وأَخَذُوا بِالْبِدَعِ دُونَ السُّنَنِ - وأَرَزَ الْمُؤْمِنُونَ ونَطَقَ الضَّالُّونَ الْمُكَذِّبُونَ - نَحْنُ الشِّعَارُ والأَصْحَابُ والْخَزَنَةُ والأَبْوَابُ - ولَا تُؤْتَى الْبُيُوتُ إِلَّا مِنْ أَبْوَابِهَا - فَمَنْ أَتَاهَا مِنْ غَيْرِ أَبْوَابِهَا سُمِّيَ سَارِقاً.

منها: فِيهِمْ كَرَائِمُ الْقُرْآنِ وهُمْ كُنُوزُ الرَّحْمَنِ - إِنْ نَطَقُوا صَدَقُوا وإِنْ صَمَتُوا لَمْ يُسْبَقُوا - فَلْيَصْدُقْ رَائِدٌ أَهْلَه ولْيُحْضِرْ عَقْلَه - ولْيَكُنْ مِنْ أَبْنَاءِ الآخِرَةِ - فَإِنَّه مِنْهَا قَدِمَ وإِلَيْهَا يَنْقَلِبُ.فَالنَّاظِرُ بِالْقَلْبِ الْعَامِلُ بِالْبَصَرِ - يَكُونُ مُبْتَدَأُ عَمَلِه أَنْ يَعْلَمَ أَعَمَلُه عَلَيْه أَمْ لَه - فَإِنْ كَانَ لَه مَضَى فِيه وإِنْ كَانَ عَلَيْه وَقَفَ عَنْه - فَإِنَّ الْعَامِلَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَالسَّائِرِ عَلَى غَيْرِ طَرِيقٍ

عقل مند وہ ہے جو دل کی آنکھوں سے اپنے انجام کار کودیکھ لیتا ہے اور اس کے نشیب و فراز کو پہچان لیتاہے دعوت دینے والا دعوت دے چکا ہے اور نگرانی کا فرض ادا کرچکاہے۔اب تمہارا فریضہ ہے کہ دعوت دینے والے کی آوازپرلبیک کہو اور نگران کے نقش قدم پر چل پڑو۔

یہ لوگ فتنوں کے دریائوں میں ڈوب گئے ہیں اورسنت کو چھوڑ کر بدعتوں کو اختیار کرلیا ہے۔مومنین گوشہ و کنار میں دبے ہوئے ہیں اور گمراہ اور افتراء پر داز مصروف کلام ہیں۔

درحقیقت ہم اہل بیت ہی دین کے نشان اور اس کے ساتھی ' اس کے احکام کے خزانہ دار اور اس کے دروازے ہیں اور ظاہر ہے کہ گھروں میں داخلہ دروازوں کے بغیر نہیں ہو سکتا ہے ورنہ انسان چور کہاجائے گا۔ انہیں اہل بیت کے بارے میں قرآن کریم کی عظیم آیات ہیں اور یہی رحمان کے خزانہ دار ہیں۔یہ جب بولتے ہیں تو سچ کہتے ہیں اور جب قدم آگے بڑھاتے ہیں تو کوئی ان پر سبقت نہیں لے جاسکتا ہے۔ہرذمہ دار قوم کا فرض ہے کہ اپنے قوم سے سچ بولے اور اپنی عقل کو گم نہ ہونے دے اور فرزندان آخرت میں شاملہو جائے کہ ادھر ہی سے آیا ہے اور ادھر ہی پلٹ کرجانا ہے۔یقینا دل کی آنکھوں سے دیکھنے والے اور دیکھ کر عمل کرنے والے کے عمل کی ابتدا اس علم سے ہوتی ہے کہ اس کاعمل اس کے لئے مفید ہے یا اس کے خلاف ہے۔اگر مفید ہے تو اسی راستہ پر چلتا رہے اور اگر مضر ہے تو ٹھہر جائے کہ علم کے بغیر عمل کرنے والاغلط پر راستہ پر چلنے والی کے مانند ہے


فَلَا يَزِيدُه بُعْدُه عَنِ الطَّرِيقِ الْوَاضِحِ إِلَّا بُعْداً مِنْ حَاجَتِه - والْعَامِلُ بِالْعِلْمِ كَالسَّائِرِ عَلَى الطَّرِيقِ الْوَاضِحِ - فَلْيَنْظُرْ نَاظِرٌ أَسَائِرٌ هُوَ أَمْ رَاجِعٌ.

واعْلَمْ أَنَّ لِكُلِّ ظَاهِرٍ بَاطِناً عَلَى مِثَالِه - فَمَا طَابَ ظَاهِرُه طَابَ بَاطِنُه - ومَا خَبُثَ ظَاهِرُه خَبُثَ بَاطِنُه وقَدْ قَالَ الرَّسُولُ الصَّادِقُصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - إِنَّ اللَّه يُحِبُّ الْعَبْدَ ويُبْغِضُ عَمَلَه - ويُحِبُّ الْعَمَلَ ويُبْغِضُ بَدَنَه.

واعْلَمْ أَنَّ لِكُلِّ عَمَلٍ نَبَاتاً - وكُلُّ نَبَاتٍ لَا غِنَى بِه عَنِ الْمَاءِ - والْمِيَاه مُخْتَلِفَةٌ فَمَا طَابَ سَقْيُه طَابَ غَرْسُه وحَلَتْ ثَمَرَتُه - ومَا خَبُثَ سَقْيُه خَبُثَ غَرْسُه وأَمَرَّتْ ثَمَرَتُه.

(۱۵۵)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يذكر فيها بديع خلقة الخفاش

حمد اللَّه وتنزيهه

الْحَمْدُ لِلَّه الَّذِي انْحَسَرَتِ الأَوْصَافُ عَنْ كُنْه مَعْرِفَتِه – ورَدَعَتْ عَظَمَتُه الْعُقُولَ - فَلَمْ تَجِدْ مَسَاغاً إِلَى بُلُوغِ غَايَةِ مَلَكُوتِه!

کہ جس قدر راستہ طے کرتا جائے گا منزل سے دور تر ہوتا جائے گا اور علم کے ساتھ عمل کرنے والا واضح راستہ پر چلنے کے مانندہے۔لہٰذا ہرآنکھ والے کو یہ دیکھ لینا چاہیے کہ وہ آگے بڑھ رہا ہے یا پیچھے ہٹ رہا ہے اوریادرکھو کہ ہر ظاہرکے لئے اسیکا جیسا باطن بھی ہوتا ہے۔لہٰذا اگر ظاہر پاکیزہ ہوگاتو باطن بھی پاکیزہ ہوگا اوراگر ظاہر خبیث ہوگیا تو باطن بھی خبیث ہو جائے گا۔رسول صادق نے سچ فرمایا ہے کہ'' اللہ کبھی کبھی کسی بندہ کو دوست رکھتا ہے لیکن اس کے عمل سے بیزار ہوتا ہے اور کبھی عل کو دوست رکھتا ہے اورخود اسی سے بیزار رہتا ہے۔

یاد رکھو کہ ہر عمل سبزہ کی طرح گرنے والا ہوتا ہے اورسبزہ پانی سے بے نیا ز نہیں ہو سکتا ہے اور پاین بھی طرح طرح کے ہوتے ہیں لہٰذا اگر سینچائی پاکیزہ پانی سے ہوگی تو پیداوار بھی پاکیزہ ہوگی اور پھل بھی شیریں ہوگا اور اگر سینچائی ہی غلط ہوگئی تو پیداوار بھی خبیث ہوگی اور پھل بھی کڑوے ہوں گے۔

(۱۵۵)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں چمگادر کی عجیب وغریب خلقت کا ذکر کیا گیا ہے )

ساری تعریفاس اللہ کے لئے ہے جس کی معرفت کی گہرائیوں سے اوصاف عاجز ہیں اورجس کی عظمتوں نے عقلوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا ہے تو اب اسکی سلطنتوں کی حدود تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں رہ گیا ہے۔


هُوَ اللَّه( الْحَقُّ الْمُبِينُ ) - أَحَقُّ وأَبْيَنُ مِمَّا تَرَى الْعُيُونُ - لَمْ تَبْلُغْه الْعُقُولُ بِتَحْدِيدٍ فَيَكُونَ مُشَبَّهاً - ولَمْ تَقَعْ عَلَيْه الأَوْهَامُ بِتَقْدِيرٍ فَيَكُونَ مُمَثَّلًا - خَلَقَ الْخَلْقَ عَلَى غَيْرِ تَمْثِيلٍ ولَا مَشُورَةِ مُشِيرٍ - ولَا مَعُونَةِ مُعِينٍ فَتَمَّ خَلْقُه بِأَمْرِه وأَذْعَنَ لِطَاعَتِه - فَأَجَابَ ولَمْ يُدَافِعْ وانْقَادَ ولَمْ يُنَازِعْ.

خلقة الخفاش

ومِنْ لَطَائِفِ صَنْعَتِه وعَجَائِبِ خِلْقَتِه - مَا أَرَانَا مِنْ غَوَامِضِ الْحِكْمَةِ فِي هَذِه الْخَفَافِيشِ - الَّتِي يَقْبِضُهَا الضِّيَاءُ الْبَاسِطُ لِكُلِّ شَيْءٍ - ويَبْسُطُهَا الظَّلَامُ الْقَابِضُ لِكُلِّ حَيٍّ - وكَيْفَ عَشِيَتْ أَعْيُنُهَا عَنْ أَنْ تَسْتَمِدَّ - مِنَ الشَّمْسِ الْمُضِيئَةِ نُوراً تَهْتَدِي بِه فِي مَذَاهِبِهَا - وتَتَّصِلُ بِعَلَانِيَةِ بُرْهَانِ الشَّمْسِ إِلَى مَعَارِفِهَا - ورَدَعَهَا بِتَلأْلُؤِ ضِيَائِهَا عَنِ الْمُضِيِّ فِي سُبُحَاتِ إِشْرَاقِهَا - وأَكَنَّهَا فِي مَكَامِنِهَا عَنِ الذَّهَابِ فِي بُلَجِ ائْتِلَاقِهَا - فَهِيَ مُسْدَلَةُ الْجُفُونِ بِالنَّهَارِ عَلَى حِدَاقِهَا - وجَاعِلَةُ اللَّيْلِ سِرَاجاً تَسْتَدِلُّ بِه فِي الْتِمَاسِ أَرْزَاقِهَا - فَلَا يَرُدُّ أَبْصَارَهَا إِسْدَافُ ظُلْمَتِه

وہ خدائے برحق و آشکار ہے۔اس سے زیادہ ثابت اور واضح ہے جو آنکھوں کے مشاہدہ میں آجاتا ہے۔ عقلیں اس کی حد بندی نہیں کر سکتی ہیں کہوہ کسی کی شبیہ قراردے دیا جائے اورخیالات اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے ہیں کہ وہ کسی کی مثال بنا دیاجائے۔اس نے مخلوقات کوبغیر کسی نمونہ اور کسی مشیرکے مشورہ یا مددگار کی مدد کے بنایا ہے۔اس کی تخلیق اس کے امر سے تکمیل ہوئی ہے اور پھر اسی کی اطاعت کے لئے سربسجود ہے۔بلا توقف اس کی آواز پرلبیک کہتی ہے اوربغیر کسی اختلاف کے اس کے سامنے سرنگوں ہوتی ہے۔ اس کی لطیف ترین صنعت اور عجیب ترین خلقت کا ایک نمونہ وہ ہے جو اس نے اپنی دقیق ترین حکمت سے چمگادڑ کی تخلیق میں پیش کیا ہے کہ جسے ہرشے کو وسعت دینے والی روشنی سکیڑ دیتی ہے اور ہر زندہ کو سکیڑ دینے والی تاریکی وسعت عطا کر دیتی ہے۔کس طرح اس کی آنکھیں چکا چود ہو جاتی ہیں کہ روشنی آفتاب کی شعاعوں سے مدد حاصل کرکے اپنے راستے طے کر سکے اور کھلی ہوئی آفتاب کی روشنی کے ذریعہ اپنی جانی منزلوں تک پہنچ سکے۔نور آفتاب نے اپنی چمک دمک کے ذریعہ اسے روشنی کے طبقات میں آگے بڑھنے سے روک دیا ہے اور روشنی کے اجالے میں آنے سے روک کرمخفی مقامات پر چھپا دیا ہے۔دن میں اس کی پلکیں آنکھوں پر لٹک آتی ہیں اور رات کو چراغ بنا کروہ تلاش رزق میں نکل پرتی ہے۔اس کی نگاہوں کو رات کو رات کی تاریکی نہیں پلٹا سکتی ہے


ولَا تَمْتَنِعُ مِنَ الْمُضِيِّ فِيه لِغَسَقِ دُجُنَّتِه - فَإِذَا أَلْقَتِ الشَّمْسُ قِنَاعَهَا وبَدَتْ أَوْضَاحُ نَهَارِهَا - ودَخَلَ مِنْ إِشْرَاقِ نُورِهَا عَلَى الضِّبَابِ فِي وِجَارِهَا - أَطْبَقَتِ الأَجْفَانَ عَلَى مَآقِيهَا ،وتَبَلَّغَتْ بِمَا اكْتَسَبَتْه مِنَ الْمَعَاشِ فِي ظُلَمِ لَيَالِيهَا - فَسُبْحَانَ مَنْ جَعَلَ اللَّيْلَ لَهَا نَهَاراً ومَعَاشاً - والنَّهَارَ سَكَناً وقَرَاراً - وجَعَلَ لَهَا أَجْنِحَةً مِنْ لَحْمِهَا - تَعْرُجُ بِهَا عِنْدَ الْحَاجَةِ إِلَى الطَّيَرَانِ - كَأَنَّهَا شَظَايَا الآذَانِ غَيْرَ ذَوَاتِ رِيشٍ ولَا قَصَبٍ - إِلَّا أَنَّكَ تَرَى مَوَاضِعَ الْعُرُوقِ بَيِّنَةً أَعْلَاماً - لَهَا جَنَاحَانِ لَمَّا يَرِقَّا فَيَنْشَقَّا ولَمْ يَغْلُظَا فَيَثْقُلَا - تَطِيرُ ووَلَدُهَا لَاصِقٌ بِهَا لَاجِئٌ إِلَيْهَا - يَقَعُ إِذَا وَقَعَتْ ويَرْتَفِعُ إِذَا ارْتَفَعَتْ - لَا يُفَارِقُهَا حَتَّى تَشْتَدَّ أَرْكَانُه - ويَحْمِلَه لِلنُّهُوضِ جَنَاحُه - ويَعْرِفَ مَذَاهِبَ عَيْشِه ومَصَالِحَ نَفْسِه - فَسُبْحَانَ الْبَارِئِ لِكُلِّ شَيْءٍ عَلَى غَيْرِ مِثَالٍ خَلَا مِنْ غَيْرِه !

اوراس کو راستہ میں آگے بڑھنے سے شدید ظلمت بھی نہیں روک سکتی ہے۔اس کے بعد جب آفتاب اپنے نقاب کو الٹ دیتا ہے اور دن کا روشن چہرہ سامنے آجاتا ہے اور آفتاب کی کرنیں بجو کے سوراخ تک پہنچ جاتی ہیں تو اس کی پلکیں آنکھں پرلٹک آتی ہیں اور جوکچھ رات کی تاریکیوں میں حاصل کرلیا ہے اسی پر گزارا شروع کردیتی ہے۔کیاکہنا اس معبود کا جس نے اس کے لئے رات کو دن اور وسیلہ معاش بنادیا ہے اوردن کو وجہ سکون و قرار مقرر کردیا ہے اور پھر اس کے لئے ایسے گوشت کے پر بنادئیے ہیں جس کے ذریعہ وقت ضرورت پرواز بھی کر سکتی ہے۔ویا کہ یہ کان کی لویں ہیں جن میں نہ پر ہیں اور نہ کریاں مگر اس کے بوجود تم دیکھو گے کہ رگوں کی جگہوں کے نشانات بالکل واضح ہیں اور اس کے ایسے دو پ بن گئے ہیں جو نہ اتنے باریک ہیں کہ پھٹ جائیں اور نہ اتنے غلیظ ہیں کہ پروازمیں زحمت ہو۔اس کی پرواز کی شان یہ ہے کہ اپنے بچہ کو ساتھ لے کر سینہ سے لگا کر پرواز کرتی ہے جب اس کے اعضاء مضبوط نہ ہو جائیں اور اس کے پر اس کا بوجھ اٹھانے کیقابل نہ ہو جائیں اور وہ اپنے رزق کے راستوں اور مصلحتوں کوخود پہچان نہلے۔پاک و بے نیازہے وہ ہر شے کا پیداکرنے والا جس نے کسی ایسی مثال کاسہارا نہیں لیا جو کسی دوسرے سے حاصل کی گئی ہو۔


(۱۵۶)

ومن كلام لهعليه‌السلام

خاطب به أهل البصرة على جهة اقتصاص الملاحم

فَمَنِ اسْتَطَاعَ عِنْدَ ذَلِكَ - أَنْ يَعْتَقِلَ نَفْسَه عَلَى اللَّه عَزَّ وجَلَّ فَلْيَفْعَلْ - فَإِنْ أَطَعْتُمُونِي - فَإِنِّي حَامِلُكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّه عَلَى سَبِيلِ الْجَنَّةِ - وإِنْ كَانَ ذَا مَشَقَّةٍ شَدِيدَةٍ ومَذَاقَةٍ مَرِيرَةٍ.

وأَمَّا فُلَانَةُ فَأَدْرَكَهَا رَأْيُ النِّسَاءِ - وضِغْنٌ غَلَا فِي صَدْرِهَا كَمِرْجَلِ الْقَيْنِ - ولَوْ دُعِيَتْ لِتَنَالَ مِنْ غَيْرِي مَا أَتَتْ إِلَيَّ لَمْ تَفْعَلْ - ولَهَا بَعْدُ حُرْمَتُهَا الأُولَى والْحِسَابُ عَلَى اللَّه تَعَالَى.

وصف الإيمان

منه - سَبِيلٌ أَبْلَجُ الْمِنْهَاجِ أَنْوَرُ السِّرَاجِ - فَبِالإِيمَانِ يُسْتَدَلُّ عَلَى الصَّالِحَاتِ - وبِالصَّالِحَاتِ يُسْتَدَلُّ عَلَى الإِيمَانِ وبِالإِيمَانِ يُعْمَرُ الْعِلْمُ - وبِالْعِلْمِ يُرْهَبُ الْمَوْتُ وبِالْمَوْتِ تُخْتَمُ الدُّنْيَا - وبِالدُّنْيَا تُحْرَزُ الآخِرَةُ - وبِالْقِيَامَةِ تُزْلَفُ الْجَنَّةُ وتُبَرَّزُ الْجَحِيمُ

(۱۵۶)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں اہل بصرہ سے خطاب کرکے انہیں حوادث سے با خبر کیا گیا ہے)

ایسے وقت میں اگر کوئی شخص اپنے نفس کو صرف خدا تک محدود رکھنے کی طاقت رکھتا ہے تو اسے ایسا ہی کرنا چاہیے پھر اگر تم میری اطاعت کرو گے تو میں تمہیں انشاء اللہ جنت کے راستہ پرچلائوں گا چاہے اس میں کتنی ہی زحمت اور تلخی کیوں نہ ہو۔ رہ گئی فلاں خاتون(۱) کی بات تو ان پر عورتوں کی جذباتی رائے کا اثر ہوگیا ہے اور اس کینہ نے اثر کردیا ہے جو ان کے سینہ میں لوہار کے کڑھائو کی طرح کھول رہا ہے۔ انہیں اگر میرے علاوہ کسی اور کے سات اس برتائو کی دعوتدی جاتی تو کبھی نہ آتیں لیکن اس کے بعد بھی مجھے ان کی سابقہ حرمت کا خیال ہے اور ان کا حساب بہر حال پروردگار کے ذمہ ہے ۔

ایمان کا راستہ بالکل واضح اوراس کا چراغ مکمل طورپر نورافشاں ہے۔ایمان(۱) ہی کے ذریعہ نیکیوں کا راستہ حاصل کیا جاتا ہے اورنیکیوں ہی کے وسیلہ سے ایمان کی پہچان ہوتی ہے۔ایمان(۲) سے علم کی دنیا آباد ہوتی ہے اورعلم سے موت کاخوف حاصل ہوتا ہے اور موت ہی پر دنیا کا خاتمہ ہوتا ہے اور دنیا ہی کے ذریعہ آخرت حاصل کی جاتی ہے اورآخرت ہی میں جنت کو قریب کردیا جائے گا اورجہنم

(۱)اس فقرہ کودیکھنے کے بعد کوئی شخص ایمان و عمل کے رابطہ کونظانداز نہیں کرسکتا ہے اور نہ ایمان کو عمل سے بے نیاز بنا سکتا ہے۔

(۲)ایمان سے لے کر آخرت تک اتنا حسین تسلسل کسی دوسرے انسان کے کلام میں نظر نہیں آسکتا ہے اوریہمولائے کائنات کی اعجاز بیانی کا ایک بہترین نمونہ ہے۔


لِلْغَاوِينَ - وإِنَّ الْخَلْقَ لَا مَقْصَرَ لَهُمْ عَنِ الْقِيَامَةِ - مُرْقِلِينَ فِي مِضْمَارِهَا إِلَى الْغَايَةِ الْقُصْوَى.

حال أهل القبور في القيامة

منه: قَدْ شَخَصُوا مِنْ مُسْتَقَرِّ الأَجْدَاثِ - وصَارُوا إِلَى مَصَايِرِ الْغَايَاتِ لِكُلِّ دَارٍ أَهْلُهَا - لَا يَسْتَبْدِلُونَ بِهَا ولَا يُنْقَلُونَ عَنْهَا.

وإِنَّ الأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ والنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ - لَخُلُقَانِ مِنْ خُلُقِ اللَّه سُبْحَانَه - وإِنَّهُمَا لَا يُقَرِّبَانِ مِنْ أَجَلٍ - ولَا يَنْقُصَانِ مِنْ رِزْقٍ - وعَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّه - فَإِنَّه الْحَبْلُ الْمَتِينُ والنُّورُ الْمُبِينُ - والشِّفَاءُ النَّافِعُ والرِّيُّ النَّاقِعُ - والْعِصْمَةُ لِلْمُتَمَسِّكِ والنَّجَاةُ لِلْمُتَعَلِّقِ - لَا يَعْوَجُّ فَيُقَامَ ولَا يَزِيغُ فَيُسْتَعْتَبَ - ولَا تُخْلِقُه كَثْرَةُ الرَّدِّ ووُلُوجُ السَّمْعِ - مَنْ قَالَ بِه صَدَقَ ومَنْ عَمِلَ بِه سَبَقَ». وقام إليه رجل فقال: يا أمير المؤمنين، أخبرنا عن الفتنة،

کوگمراہوں کے لئے بالکل نمایاں کردیا جائے گا۔مخلوقات کے لئے قیامت سے پہلے کوئی منزل نہیں ہے۔انہیں اس میدان میں آخری منزل کی طرف بہر حال دوڑ لگانا ہے۔

(ایک دوسرا حصہ)

وہ اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنی آخری منزل کی طرف چل پڑے۔ ہر گھر کے اپنے ابل ہوتے ہیں جو نہ گھر بدل سکتے ہیں اور نہ اس سے منتقل ہو سکتے ہیں۔ یقینا امر بالمعروف اورنہی عن المنکر یہ دوخدائی اخلاق ہیں اور یہ نہ کسی کی موت(۱) کو قریب بناتے ہیں اور نہ کسی کی روزی کو کم کرتے ہیں تمہارا فریضہ ہے کہ کتاب خدا سے وابستہ رہو کہ وہی مضبوط ریسمان ہدایت اور روشن نور الٰہی ہے۔اس میں منفعت بخش شفا ہے اوراسی میں پیاس بجھا دینے والی سیرابی ہے۔وہی تمسک کرنے والوں کے لئے وسیلہ عصمت کردار ہے اوروہی رابطہ رکھنے والوں کے لئے ذریعہ نجات ہے۔اسی میں کوئی کجی نہیں ہے جسے سیدھا کیا جائے اور اسی میں کوئی انحراف نہیں ہے جسے درست کیا جائے ۔مسلسل تکرار اسے پرانا نہیں کر سکتی ہے اور برابر سننے سے اس کی تازگی میں فرق نہیں آتا ہے۔جو اس کے ذریعہ کلام کرے گا وہ سچا ہوگا اور جواس کے مطابق عمل کریگا وہ سبقت لے جائے گا ۔اس درمیان ایک شخص کھڑا ہوگیا اور اس نے کہا یا امیر المومنین ذرا فتنہ کے بارے میں بتلائیے ؟ کیا آپ نے اس سلسلہ میں

(۱) امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے بارے میں پیدا ہونے والے ہر شیطانی وسوسہ کا جواب ان کلمات میں موجود ہے اور ان دونوں کی عظمت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کاموں میں مالک بھی بندوں کے ساتھ شریک ہے بلکہ اسنے پہلے امرونہی کیا ہے۔اس کے بعد بندوں کو امرونہی کا حکم دیا ہے۔


وهل سألت

رسول اللَّه -صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - عنها فقالعليه‌السلام : إِنَّه لَمَّا أَنْزَلَ اللَّه سُبْحَانَه قَوْلَه –( ألم أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا - أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وهُمْ لا يُفْتَنُونَ ) - عَلِمْتُ أَنَّ الْفِتْنَةَ لَا تَنْزِلُ بِنَا - ورَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بَيْنَ أَظْهُرِنَا - فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّه مَا هَذِه الْفِتْنَةُ الَّتِي أَخْبَرَكَ اللَّه تَعَالَى بِهَا - فَقَالَ يَا عَلِيُّ إِنَّ أُمَّتِي سَيُفْتَنُونَ بَعْدِي - فَقُلْتُ يَا رَسُولُ اللَّه - أَولَيْسَ قَدْ قُلْتَ لِي يَوْمَ أُحُدٍ - حَيْثُ اسْتُشْهِدَ مَنِ اسْتُشْهِدَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ - وحِيزَتْ عَنِّي الشَّهَادَةُ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيَّ - فَقُلْتَ لِي أَبْشِرْ فَإِنَّ الشَّهَادَةَ مِنْ وَرَائِكَ - فَقَالَ لِي إِنَّ ذَلِكَ لَكَذَلِكَ فَكَيْفَ صَبْرُكَ إِذاً - فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّه لَيْسَ هَذَا مِنْ مَوَاطِنِ الصَّبْرِ - ولَكِنْ مِنْ مَوَاطِنِ الْبُشْرَى والشُّكْرِ - وقَالَ يَا عَلِيُّ إِنَّ الْقَوْمَ سَيُفْتَنُونَ بِأَمْوَالِهِمْ - ويَمُنُّونَ بِدِينِهِمْ عَلَى رَبِّهِمْ - ويَتَمَنَّوْنَ رَحْمَتَه ويَأْمَنُونَ سَطْوَتَه - ويَسْتَحِلُّونَ حَرَامَه بِالشُّبُهَاتِ الْكَاذِبَةِ - والأَهْوَاءِ السَّاهِيَةِ فَيَسْتَحِلُّونَ الْخَمْرَ بِالنَّبِيذِ - والسُّحْتَ بِالْهَدِيَّةِ والرِّبَا بِالْبَيْعِ - قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّه - فَبِأَيِّ الْمَنَازِلِ أُنْزِلُهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ - أَبِمَنْزِلَةِ رِدَّةٍ أَمْ بِمَنْزِلَةِ فِتْنَةٍ فَقَالَ بِمَنْزِلَةِ فِتْنَةٍ

رسول اکرم (ص) سے کچھ دریافت کیاہے ؟فرمایا: جس وقت آیت شریفہ نازل ہوئی '' کیا لوگوں کا خیال یہ ہے کہ انہیں ایمان کے دعویٰ ہی پر چھوڑ دیا جائے گا اور انہیں فتنہ میں مبتلا نہیں کیا جائے گا'' تو ہمیں اندازہ ہوگیا کہ جب تک رسول اکرم (ص) موجود ہیں فتنہ کا کوئی اندیشہ نہیں ہے لہٰذا میں نے سوال کیا کہ یارسول اللہ یہ فتنہ کیا ہے جس کی پروردگارنے آپ کو اطلاع دی ہے؟ فرمایا یاعلی ! یہ امت میرے بعدفتنہ میں مبتلا ہوگی میں نے عرض کی کیا آپنے احد کے دن جب کچھ مسلمان راہ خدا میں شہید ہوگئے اور مجھے شہادت کا موقع نصیب نہیں ہوا اور مجھے یہ بات سخت تکلیف دہ محسوس ہوئی۔تو کیا یہ نہیں فرمایا تھا کہ یا علی ! بشارت ہو۔شہادت تمہار ے پیچھے آرہی ہے ؟ فرمایا بے شک ! لیکن اس وقت تمہارا صبر کیسا ہوگا؟ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ یہ تو صبر کا موقع نہیں ہے بلکہ مسرت اور(۱) شکر کا موقع ہے۔پھر فرمایا : یا علی !لوگ عنقریب اپنے اموال کے فتنہ میں مبتلا کئے جائیں گے اور اپنے دین کا احسان اپنے پروردگار پر رکھیں گے اور پھر اس کی رحمت کے امید وار بھی ہوں گے اور اپنے کو اس کے غضب سے محفوظ بھی تصور کریں گے جھوٹے شبہات اورغافل کرنے والی خواہشات سے حرام کو حلالا کرلیں گے شراب کو نبید بنا کر حرام کو ہدیہ قرار دے کراور سود کوتجارت کا نام دے کر اس سے استفادہ کریں گے۔

(۱)یہ ہے اس کل ایمان کا کردار جو زندگی کو ہدف اورمقصد نہیں بلکہ وسیلہ خیرات تصور کرتا ہے اور جب یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ زندگی کی قربان یہی تمام خیرات و برکات کا مصد ر ہے تو اس قربانی کے نام پرسجدۂ شکر کرتا ہے اور لفظ صبرو تحمل کو برداشت نہیں کرتا ہے۔


(۱۵۷)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يحث الناس على التقوى

الْحَمْدُ لِلَّه الَّذِي جَعَلَ الْحَمْدَ مِفْتَاحاً لِذِكْرِه - وسَبَباً لِلْمَزِيدِ مِنْ فَضْلِه - ودَلِيلًا عَلَى آلَائِه وعَظَمَتِه.

عِبَادَ اللَّه - إِنَّ الدَّهْرَ يَجْرِي بِالْبَاقِينَ كَجَرْيِه بِالْمَاضِينَ - لَا يَعُودُ مَا قَدْ وَلَّى مِنْه - ولَا يَبْقَى سَرْمَداً مَا فِيه - آخِرُ فَعَالِه كَأَوَّلِه مُتَشَابِهَةٌ أُمُورُه - مُتَظَاهِرَةٌ أَعْلَامُه - فَكَأَنَّكُمْ بِالسَّاعَةِ تَحْدُوكُمْ حَدْوَ الزَّاجِرِ بِشَوْلِه - فَمَنْ شَغَلَ نَفْسَه بِغَيْرِ نَفْسِه تَحَيَّرَ فِي الظُّلُمَاتِ - وارْتَبَكَ فِي الْهَلَكَاتِ - ومَدَّتْ بِه شَيَاطِينُه فِي طُغْيَانِه - وزَيَّنَتْ لَه سَيِّئَ أَعْمَالِه - فَالْجَنَّةُ غَايَةُ السَّابِقِينَ والنَّارُ غَايَةُ الْمُفَرِّطِينَ.

اعْلَمُوا عِبَادَ اللَّه - أَنَّ التَّقْوَى دَارُ حِصْنٍ عَزِيزٍ - والْفُجُورَ دَارُ حِصْنٍ ذَلِيلٍ - لَا يَمْنَعُ أَهْلَه ولَا يُحْرِزُ مَنْ لَجَأَ إِلَيْه

(۱۵۷)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں لوگوں کو تقویٰ پرآمادہ کیا گیا ہے)

شکر ہے اس خداکا جس نے اپنی حمد کو اپنی یاد کی کلید' اپنے فضل و کرم میں اضافہ کاذریعہ اور اپنی نعمت و عظمت کی دلیل قرار دیا ہے۔

بندگان خدا ! زمانہ رہ جانے والوں کے ساتھ وہی برتائو کرتا ہے جو جانے والوں کے ساتھ کر چکا ہے کہ نو چلے جانے والا واپس آتا ہے اور نہ رہ جانے والا دوام حاصل کر سکتا ہے۔اس کاآخری طریقہ بھی پہلے ہی جیس ہوتاہے۔اس کے تمام معاملات ایک جیسے اورتمام پرچم ایک دوسرے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔گویا تم قیامت کی زد پر ہو اور وہ تم کو اسی طرح ہنکا کرلے جاریہ ہے جسطرح للکارنے والا اونٹنیوں کو لے جاتا ہے۔جو اپنے نفس کو اپنی اصلاح کے بجائے دیگر امور میں مشغول کردیتاہے وہ تاریکیوں میں سر گرداں رہ جاتا ہے اور ہلاکتوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔شیاطین اسے سر کشی میں کھینچ لے جاتے ہیں اور اس کے برے اعمال کو آراستہ بنا کر پیش کردیتے ہیں۔ یاد رکھو جنت سبقت کرنے والوں کی آخری منزل ہے اورجہنم کوتاہی کرنے والوں کا آخری ٹھکانا۔

بندگان خدا! یاد رکھوکہ تقویٰ عزت کا ایک محفوظ ترین قلعہ ہے اورفسق وفجور ذلت کا بد ترین ٹھکانا ہے جونہ اپنے اہل کوبچا سکتا ے اورنہ پناہ مانگنے والوں کو پناہ دے سکتا ہے۔


أَلَا وبِالتَّقْوَى تُقْطَعُ حُمَةُ الْخَطَايَا - وبِالْيَقِينِ تُدْرَكُ الْغَايَةُ الْقُصْوَى.

عِبَادَ اللَّه اللَّه اللَّه فِي أَعَزِّ الأَنْفُسِ عَلَيْكُمْ وأَحَبِّهَا إِلَيْكُمْ - فَإِنَّ اللَّه قَدْ أَوْضَحَ لَكُمْ سَبِيلَ الْحَقِّ وأَنَارَ طُرُقَه - فَشِقْوَةٌ لَازِمَةٌ أَوْ سَعَادَةٌ دَائِمَةٌ - فَتَزَوَّدُوا فِي أَيَّامِ الْفَنَاءِ لأَيَّامِ الْبَقَاءِ - قَدْ دُلِلْتُمْ عَلَى الزَّادِ وأُمِرْتُمْ بِالظَّعْنِ - وحُثِثْتُمْ عَلَى الْمَسِيرِ - فَإِنَّمَا أَنْتُمْ كَرَكْبٍ وُقُوفٍ لَا يَدْرُونَ - مَتَى يُؤْمَرُونَ بِالسَّيْرِ - أَلَا فَمَا يَصْنَعُ بِالدُّنْيَا مَنْ خُلِقَ لِلآخِرَةِ - ومَا يَصْنَعُ بِالْمَالِ مَنْ عَمَّا قَلِيلٍ يُسْلَبُه - وتَبْقَى عَلَيْه تَبِعَتُه وحِسَابُه.

عِبَادَ اللَّه - إِنَّه لَيْسَ لِمَا وَعَدَ اللَّه مِنَ الْخَيْرِ مَتْرَكٌ - ولَا فِيمَا نَهَى عَنْه مِنَ الشَّرِّ مَرْغَبٌ.

عِبَادَ اللَّه - احْذَرُوا يَوْماً تُفْحَصُ فِيه الأَعْمَالُ - ويَكْثُرُ فِيه الزِّلْزَالُ وتَشِيبُ فِيه الأَطْفَالُ.

یاد رکھو تقویٰ ہی سے گناہوں کے ڈنک کاٹے جاتے(۱) ہیں۔اور یقین ہی سے بلند ترین منزل حاصل کی جاتی ہے۔

بندگان خدا! اپنے عزیز ترین نفس کے بارے میں اللہ کو ید رکھو کہ اس نے تمہارے لئے راہحق کو واضح کردیا ہے اوراس کے راستوں کو منور بنادیا ہے۔پھر یا دائمی شقاوت ہے یا ابدی سعادت۔مناسب یہ ہے کہ فناکے گھرسے بقا کے گھر کاسامان فراہم کرلو۔زاد راہ تمہیں بتا دیا گیا ہے اور کوچ کاحکم دیا جا چکا ہے اور سفر پرآمادہ کیا جا چکا ہے۔تم سر راہ ٹھہرے ہوئے قافلہ کے مانند ہو جسے یہ نہیں معلوم ہے کہ کب حکم سفردے دیا جائے گا۔

ہوشیار ہو جائو! جو آخرت کے لئے بنایا گیا ہے وہدنیا کو لے کر کیا کرے گا اور جس سے مال عنقریب چھن جانے والا ہے وہ مال سے دل لگا کرکیا کرے گا جب کہ اس کے اثرات اورحسابات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

بندگان خدا ! یاد رکھو خدانے جس بھلائی کاوعدہ کیا ہے اسے چھوڑا نہیں جا سکتا ہے اور جس برائی سے روکا ہے اس کی خواہش نہیں کی جا سکتی ہے۔

بندگان خدا! اس دن سے ڈرو جب اعمال کی جانچ پڑتا کی جائے گی اورزلزلوں کی بہتات ہوگی کہ بچے تک بوڑھے ہو جائیں گے۔

(۱) حقیقت امر یہ ہیکہ گناہوں میں ڈنک پائے جاتے ہیں جو انسان کے کردار کو مسلسل زخمی کرتے رہتے ہیں لیکن انسان اس قدر بے حس ہوگیا ہے کہاسے اس زخم کا احساس نہیں ہوتا ہے اوروہ اس ڈنک میں بھی لذت محسوس کرتا ہے۔امیر المومنین نے اس ڈنک کو کاٹ دینے کا بہترین ذریعہ تقویٰ کو قراردیاہے جس کے بعد گناہوں میں زخمی بنانے کی ہمت نہیں رہ جاتی ہے اور انسان کردار کی ہر طرح کی مجروجیت سے محفوظ ہوجاتا ہے۔


اعْلَمُوا عِبَادَ اللَّه - أَنَّ عَلَيْكُمْ رَصَداً مِنْ أَنْفُسِكُمْ - وعُيُوناً مِنْ جَوَارِحِكُمْ - وحُفَّاظَ صِدْقٍ يَحْفَظُونَ أَعْمَالَكُمْ وعَدَدَ أَنْفَاسِكُمْ - لَا تَسْتُرُكُمْ مِنْهُمْ ظُلْمَةُ لَيْلٍ دَاجٍ - ولَا يُكِنُّكُمْ مِنْهُمْ بَابٌ ذُو رِتَاجٍ - وإِنَّ غَداً مِنَ الْيَوْمِ قَرِيبٌ.

يَذْهَبُ الْيَوْمُ بِمَا فِيه - ويَجِيءُ الْغَدُ لَاحِقاً بِه - فَكَأَنَّ كُلَّ امْرِئٍ مِنْكُمْ - قَدْ بَلَغَ مِنَ الأَرْضِ مَنْزِلَ وَحْدَتِه ومَخَطَّ حُفْرَتِه - فَيَا لَه مِنْ بَيْتِ وَحْدَةٍ - ومَنْزِلِ وَحْشَةٍ ومُفْرَدِ غُرْبَةٍ - وكَأَنَّ الصَّيْحَةَ قَدْ أَتَتْكُمْ - والسَّاعَةَ قَدْ غَشِيَتْكُمْ - وبَرَزْتُمْ لِفَصْلِ الْقَضَاءِ - قَدْ زَاحَتْ عَنْكُمُ الأَبَاطِيلُ - واضْمَحَلَّتْ عَنْكُمُ الْعِلَلُ – واسْتَحَقَّتْ بِكُمُ الْحَقَائِقُ - وصَدَرَتْ بِكُمُ الأُمُورُ مَصَادِرَهَا - فَاتَّعِظُوا بِالْعِبَرِ - واعْتَبِرُوا بِالْغِيَرِ وانْتَفِعُوا بِالنُّذُرِ.

یاد رکھو اے بند گان خدا!کہ تم پرتمہارے ہی نفس(۱) کونگراں بنایا گیا ہے اور تمہارے اعضاء و جوارح تمہارے لئے جاسوسوں کا کام کر رہے ہیں اور کچھ بہترین محافظ ہیں جو تمہارے اعمال اور تمہاری سانسوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ان سے نہ کسیتاریک رات کی تاریکی چھپا سکتی ہے اور نہب ند دروازے ان سے اوجھل بنا سکتے ہیں۔اور کل آنے والا دن آج سے بہت قریب ہے۔

آج کا دن اپنا سازو سامان لے کرچلا جائے گا اور کل کادن اس کے پیچھے آرہا ہے ۔گویاہر شخص زمین میں اپنی تنہائی کی منزل اورگڑھے کے نشان تک پہنچ چکاہے۔ہائے وہ تنہائی کا گھر۔وحشت کی منزل اور غربت کامکان۔گویا کہ آوازتم تک پہنچ چکی ہے اور قیامت تمہیں اپنے گھیرے میں لے چکی ہے اور تمہیں آخری فیصلہ کے لئے قبروں سے نکالا جا چکا ہے۔جہاں تمام باطل باتیں ختم ہو چکی ہیں اور تمام حیلے بہانے کمزور پڑ چکے ہیں' حقائق ثابت ہو چکے ہیں اور امور پلٹ کر اپنی منزل پر آگئے ہیں۔ لہٰذا عبرتوں سے نصیحت حاصل کرو۔تغیرات زمانہ سے عبرت کا سامان فراہم کرو اور پھر ڈرانے والے کی نصیحت سے فائدہ اٹھائو۔

(۱) مالک کائنات نے انسان کی فطرت کے اندر ایک صلاحیت رکھی ہے جس کا کام ہے نیکیوں پر سکون و اطمینان کا سامان فراہم کرنا اور برائیوں پرتنبیہ اورسرزنش کرنا۔عرف عام میں اسے ضمیر سے تعبیر کیا جاتا ہے جو اس وقت بھی بیدار رہتا ہے جب آدمی غفلت کی نیند سو جاتا ہے اور اس وقت بھی مصروف تنبیہ رہتا ہے جب انسان مکمل طور پر گناہ میں ڈوب جاتا ہے۔یہ صلاحیت اپنے مقام پر ہر انسان میں ودیعت کی گئی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ اچھائی اور برائی کا ادراک بھی کبھی فطری ہوتا ہے جیسے احسان کی اچھائی اورظلم کی برائی۔اورکبھی اس کا تعلق سماج' معاشرہ یا دین و مذہب سے ہوتا ہے تو جس چیز کومذہب یا سماج اچھا کہہدیتا ہے ضمیر اس سے مطمئن ہو جاتا ہے اور جس چیزکو برا قرار دے دیتا ہے اس پر مذمت کرنے لگتاہے اور اس مدح یاذم کا تعلق فطرت کے احکام سے نہیں ہوتا ہے بلکہ سماج یا قانون کے احکام سے ہوتا ہے۔


(۱۵۸)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

ينبه فيها على فضل الرسول الأعظم، وفضل القرآن، ثم حال دولة بني أمية

النبي والقرآن

أَرْسَلَه عَلَى حِينِ فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ - وطُولِ هَجْعَةٍ مِنَ الأُمَمِ وانْتِقَاضٍ مِنَ الْمُبْرَمِ - فَجَاءَهُمْ بِتَصْدِيقِ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْه - والنُّورِ الْمُقْتَدَى بِه ذَلِكَ الْقُرْآنُ فَاسْتَنْطِقُوه - ولَنْ يَنْطِقَ ولَكِنْ أُخْبِرُكُمْ عَنْه - أَلَا إِنَّ فِيه عِلْمَ مَا يَأْتِي - والْحَدِيثَ عَنِ الْمَاضِي - ودَوَاءَ دَائِكُمْ ونَظْمَ مَا بَيْنَكُمْ.

دولة بني أمية

ومنها - فَعِنْدَ ذَلِكَ لَا يَبْقَى بَيْتُ مَدَرٍ ولَا وَبَرٍ - إِلَّا وأَدْخَلَه الظَّلَمَةُ تَرْحَةً وأَوْلَجُوا فِيه نِقْمَةً - فَيَوْمَئِذٍ لَا يَبْقَى لَهُمْ فِي السَّمَاءِ عَاذِرٌ - ولَا فِي الأَرْضِ نَاصِرٌ - أَصْفَيْتُمْ بِالأَمْرِ غَيْرَ أَهْلِه وأَوْرَدْتُمُوه غَيْرَ مَوْرِدِه - وسَيَنْتَقِمُ اللَّه مِمَّنْ ظَلَمَ - مَأْكَلًا بِمَأْكَلٍ ومَشْرَباً بِمَشْرَبٍ - مِنْ مَطَاعِمِ الْعَلْقَمِ ومَشَارِبِ الصَّبِرِ والْمَقِرِ - ولِبَاسِ شِعَارِ الْخَوْفِ ودِثَارِ السَّيْفِ - وإِنَّمَا هُمْ مَطَايَا الْخَطِيئَاتِ

(۱۵۸)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں رسول اکرم (ص) کی بعثت اورقرآن کی فضیلت کے ساتھ بنی امیہ کی حکومت کاذکر کیاگیا ہے)

اللہ نے پیغمبر کو اس وقت بھیجا جب رسولوں کا سلسلہ رکاہوا تھا اور قومیں گہری نیند میں مبتلا تھیں۔اوردین کی مستحکم رسی کے بل کھل چکے تھے۔آپ نے آکر پہلے والوں کی تصدیق کی اوروہ نور پش کیا جس کی اقتداکی جائے ۔اور یہی قرآن ہے۔اسے بلوا کر دیکھو اور یہ خود نہیں بولے گا۔میں اس کی طرف سے ترجمانی کروں گا۔یاد رکھو کہ اس میں مستقبل کا علم ہے اورماضی کی داستان ہے تمہارے درد کی دوا ے اور تمہارے امورکی تنظیم کا سامان ہے

(اس کا دوسراحصہ) اس وقت کوئی شہری یا دیہاتی مکان ایسا نہ بچے گا جس میں ظالم غم و الم کوداخل نہ کردیں اور اس میں سختیوں کا گزر نہ ہو جائے ۔اس وقت ان کے لئے نہ آسمان میں کوئی عذرخواہی کرنے والا ہوگا اور نہ ز مین میں مدد گار۔تم نے اس امر کے لئے نا اہلوں کا انتخاب کیا ہے اور انہیں دوسرے کے گھاٹ پر اتار دیا ہے اور عنقریب خدا ظالموں سے انتقام لے لے گا۔کھانے کے بدلے میں کھانے سے اور پینے کے بدلے میں پینے سے ۔خنظل کاکھانا اور ایلوا کا اور زہرہلا ہل کا پینا۔خوف کا اندرونی لباس اور تلوارکا باہر کا لباس ہوگا۔یہ ظالم خطائوں


وزَوَامِلُ الآثَامِ - فَأُقْسِمُ ثُمَّ أُقْسِمُ - لَتَنْخَمَنَّهَا أُمَيَّةُ مِنْ بَعْدِي كَمَا تُلْفَظُ النُّخَامَةُ - ثُمَّ لَا تَذُوقُهَا ولَا تَطْعَمُ بِطَعْمِهَا أَبَداً - مَا كَرَّ الْجَدِيدَانِ !

(۱۵۹)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يبين فيها حسن معاملته لرعيته

ولَقَدْ أَحْسَنْتُ جِوَارَكُمْ - وأَحَطْتُ بِجُهْدِي مِنْ وَرَائِكُمْ - وأَعْتَقْتُكُمْ مِنْ رِبَقِ الذُّلِّ وحَلَقِ الضَّيْمِ - شُكْراً مِنِّي لِلْبِرِّ الْقَلِيلِ - وإِطْرَاقاً عَمَّا أَدْرَكَه الْبَصَرُ - وشَهِدَه الْبَدَنُ مِنَ الْمُنْكَرِ الْكَثِيرِ.

(۱۶۰)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

عظمة اللَّه

أَمْرُه قَضَاءٌ وحِكْمَةٌ ورِضَاه أَمَانٌ ورَحْمَةُ - يَقْضِي بِعِلْمٍ ويَعْفُو بِحِلْمٍ.

حمد اللَّه

اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى مَا تَأْخُذُ

کی سواریاں اور گناہوں کے باربردار اونٹ ہیں۔لہٰذا میں باربار قسم کھاکر کہتا ہوں کہ بنی امیہ میرے بعد اس خلافت کو اس طرح تھوک دیں گے جس طرح بلغم کو تھوک دیا جاتا ہے اور پھر جب تک شب و روزباقی ہیں اس کامزہ چکھنا اور اس سے لذت حاصل کرنا نصیب نہ ہوگا

(۱۵۹)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں رعایا کے ساتھ اپنے حسن سلوک کا ذکر فرمایا ہے )

میں تمہارے ہمسایہ میں نہایت درجہ خوبصورتی کے ساتھ رہا اور جہاں تک ممکن ہواتمہاری حفاظت اورنگہداشت کرتا رہا اور تمہیں لذت کی رسی اور ظلم کے پھندوں سے آزاد کرایا کہ میں تمہاری مختصر نیکی کا شکریہ ادا کر رہا تھا اور تمہاری ان تمام برائیوں کو جنہیں آنکھوں نے دیکھ لیا تھا اس سے چشم پوشی کر رہا تھا۔

(۱۶۰)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(عظمت پروردگار)

(اس کا امر فیصلہ کن اور سراپا حکمت ہے اور اس کی رضا مکمل امان اور رحمت ہے وہ اپنے علم سے فیصلہ کرتا ہے اور اپنے حلم کی بنا پرمعاف کردیتا ہے )

(حمد خدا)

پروردگار تیرے لئے ان تمام چیزوں پرحمد ہے جنہیں تولے


وتُعْطِي - وعَلَى مَا تُعَافِي وتَبْتَلِي – حَمْدا يَكُونُ أَرْضَى الْحَمْدِ لَكَ - وأَحَبَّ الْحَمْدِ إِلَيْكَ وأَفْضَلَ الْحَمْدِ عِنْدَكَ.حَمْداً يَمْلأُ مَا خَلَقْتَ ويَبْلُغُ مَا أَرَدْتَ - حَمْداً لَا يُحْجَبُ عَنْكَ ولَا يُقْصَرُ دُونَكَ.

حَمْداً لَا يَنْقَطِعُ عَدَدُه ولَا يَفْنَى مَدَدُه - فَلَسْنَا نَعْلَمُ كُنْه عَظَمَتِكَ - إِلَّا أَنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ حَيٌّ قَيُّومُ - لَا تَأْخُذُكَ سِنَةٌ ولَا نَوْمٌ - لَمْ يَنْتَه إِلَيْكَ نَظَرٌ ولَمْ يُدْرِكْكَ بَصَرٌ - أَدْرَكْتَ الأَبْصَارَ وأَحْصَيْتَ الأَعْمَالَ - وأَخَذْتَ بِالنَّوَاصِي والأَقْدَامِ –

ومَا الَّذِي نَرَى مِنْ خَلْقِكَ - ونَعْجَبُ لَه مِنْ قُدْرَتِكَ - ونَصِفُه مِنْ عَظِيمِ سُلْطَانِكَ - ومَا تَغَيَّبَ عَنَّا مِنْه وقَصُرَتْ أَبْصَارُنَا عَنْه - وانْتَهَتْ عُقُولُنَا دُونَه - وحَالَتْ سُتُورُ الْغُيُوبِ بَيْنَنَا وبَيْنَه أَعْظَمُ - فَمَنْ فَرَّغَ قَلْبَه وأَعْمَلَ فِكْرَه

لیتا ہے یاعطا کردیتا ہے اور جن بلائوں سے نجات دے دیتا ہے یا جن میں مبتلا کردیتا ہے۔ایسی حمد جو تیرے لئے انتہائی پسندیدہ ہو اور محبوب ترین ہواور بہترین ہو۔ ایسی حمد جو ساری کائنات کو مملو کردے اور جہاںتک چاہے پہنچ جائے۔اورایسی حمد جس کے سامنے نہ کوئی حاجب ہو اور نہ تیری بارگاہ تک پہنچنے سے قاصر ہو۔

وہ حمد جس کا سلسلہ رک نہ سکے اورجس کی مدت تمام نہ ہوسکے ۔ہم تیری عظمت کی حقیقت سے با خبر نہیں ہیں لیکن یہ جانتے ہیں کہ تو ہمیشہ زندہ ہے اور ہر شے تیرے ارادہ سے قام ہے۔تیرے لئے نہ نیند ہے اورنہ اونگھ نہ کوئی نظر تجھ تک پہنچ سکتی ہے اور نہ کوئی نگاہ تیرا ادراک کر سکتی ہے۔تونے تمام نگاہوں کا ادراک کرلیا ہے اورتمام اعمال کو شمارکرلای ہے۔ہرایک کی پیشانی اورقدم سب تیرے ہی قبضہ میں ہیں۔

ہم تیری جس خلقت(۱) کامشاہدہ کر رہے ہیں اور جس قدرت سے تعجب کر رہے ہیں اور جس عظیم سلطنت کی توصیف کر رہے ہیں اس کی حقیقت کیاہے۔ وہ مخلوقات جو ہماری نگاہوں سے غائب ہے اورجہاں تک ہماری نگاہ نہیں پہنچ سکتی ہے اور جس کے قریب جا کر ہماری عقل ٹھہر گئی ہے اور جہاں غیب کے پردے حائل ہوگئے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ عظیم تر ہے۔لہٰذا جو اپنے دل کو فارغ کرلے اور اپنی فکر کواستعمال کرے تاکہ یہ

(۱) جب انسان انہیں مخلوقات کی حقیقت کے ادراک سے عاجز ہے جو نگاہوں کے سامنے آرہی ہیں اور جواحساس کے حدود کے اندر ہیں تو ان مخلوقات کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے جو انسانی حواس کی زد سے باہر ہیں اور جن تک عق بشر کی رسائی ہیں ہے اور جب مخلوقات کی حقیقت تک انسانی فکرکی رسائی نہیں ہے تو خالق کی حقیقت کا عرفان کس طرح ممکن ہے اور انسان اس کی حمد کا حق کس طرح ادا کر سکتا ہے۔


لِيَعْلَمَ كَيْفَ أَقَمْتَ عَرْشَكَ وكَيْفَ ذَرَأْتَ خَلْقَكَ - وكَيْفَ عَلَّقْتَ فِي الْهَوَاءِ سَمَاوَاتِكَ - وكَيْفَ مَدَدْتَ عَلَى مَوْرِ الْمَاءِ أَرْضَكَ رَجَعَ طَرْفُه حَسِيراً - وعَقْلُه مَبْهُوراً وسَمْعُه وَالِهاً وفِكْرُه حَائِراً.

كيف يكون الرجاء

منها - يَدَّعِي بِزَعْمِه أَنَّه يَرْجُو اللَّه كَذَبَ والْعَظِيمِ - مَا بَالُه لَا يَتَبَيَّنُ رَجَاؤُه فِي عَمَلِه - فَكُلُّ مَنْ رَجَا عُرِفَ رَجَاؤُه فِي عَمَلِه – وكُلُّ رَجَاءٍ إِلَّا رَجَاءَ اللَّه تَعَالَى فَإِنَّه مَدْخُولٌ - وكُلُّ خَوْفٍ مُحَقَّقٌ إِلَّا خَوْفَ اللَّه فَإِنَّه مَعْلُولٌ - يَرْجُو اللَّه فِي الْكَبِيرِ ويَرْجُو الْعِبَادَ فِي الصَّغِيرِ - فَيُعْطِي الْعَبْدَ مَا لَا يُعْطِي الرَّبَّ -

دریافت کرس کے کہ تو نے اپنے عرش کو کس طرح قائم کیا ہے۔اپنی مخلوقات کو کس طرح ایجاد کیا ہے اور فضائے بسیط میں کس طرح آسمانوں کو معلق کیا ہے۔اور پانی کی موجوں پرکس طرح زمین کا فرش بچھایاہے تواس کی نگاہ تھک کر پلٹ آئے گی اور عقل مدہوش ہو جائے گی اور کان حیران و سراسیمہ ہو جائیں گے اور فکر راستہ گم کردے گی۔

اسی خطبہ کا ایک حصہ

بعض افراد کا اپنے زعم ناقص میں دعویٰ ہے کہ وہ رحمت خدا کے امید وار ہیں حالانکہ خدائے عظیم گواہ ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں آخرکیا وجہ ہے کہ ان کی امید کی جھلک ان کے اعمال میں نظر نہیں آتی ہے جب کہ ہر امیدوار کی امید اس کے اعمال سے واضح ہو جاتی ہے سوائے پروردگار سے لو لگانے کے کہ یہی امید مشکوک ہے اور اسی طرح ہرخوف ثابت ہو جاتاہے سوائے خوف خداکے کہ یہی غیر یقینی ہے۔انسان اللہ سے بڑی بڑی امیدیں رکھتا ہے اوربندوں سے چھوٹی امیدیں رکھتا ہے لیکن بندوں کو وہ سارے آداب(۱) و حقوق دے دیتا ہے جو پروردگار

(۱) انسان کی نجات وآخرت کے دو بنیادی رکن ہیں۔ایک خوف اورایک امید۔اسلام نے قدم قدم پر انہیں دو چیزوں کی طرف توجہ دلائی ہے اور انہیں ایمان اور عمل کاخلاصہ قراردیا ہے۔سورہ مبارکہ حمد جس میں سارا قرآن سمٹا ہوا ہے۔اس میں بھی رحمان و رحیم امید کا اشارہ ہے اور مالک یوم الدین خوف کا لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ انسان نہ واقعاًخداسے امید رکھتا ہے اورنہ اس سے خوف زدہ ہوتا ہے۔امیدوار ہوتا تو دعائوں اورعبادتوں میں دل لگتا کہ ان میں طلب ہی طلب پائی جاتی ہے اورخوف زدہ ہوتا توگناہوں سے پرہیز کرتا کہ گناہ ہی انسان کو عذاب الیم سے دوچار کردیتے ہیں۔

دنیا کی ہر امید اور اس کے ہرخوف کا کردار سے نمایاں ہوجانا اور آخرت کی امید وہم کا واضح نہہونا اس بات کی علامت ہے کہ دنیا اس کے کردارمیں ایک حقیقت ہے اورآخرت صرف الفاظ کامجموعہ اورتلفظ کی بازی گری ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔


فَمَا بَالُ اللَّه جَلَّ ثَنَاؤُه يُقَصَّرُ بِه عَمَّا يُصْنَعُ بِه لِعِبَادِه - أَتَخَافُ أَنْ تَكُونَ فِي رَجَائِكَ لَه كَاذِباً - أَوْ تَكُونَ لَا تَرَاه لِلرَّجَاءِ مَوْضِعاً - وكَذَلِكَ إِنْ هُوَ خَافَ عَبْداً مِنْ عَبِيدِه - أَعْطَاه مِنْ خَوْفِه مَا لَا يُعْطِي رَبَّه

فَجَعَلَ خَوْفَه مِنَ الْعِبَادِ نَقْداً - وخَوْفَه مِنْ خَالِقِه ضِمَاراً ووَعْداً - وكَذَلِكَ مَنْ عَظُمَتِ الدُّنْيَا فِي عَيْنِه - وكَبُرَ مَوْقِعُهَا مِنْ قَلْبِه آثَرَهَا عَلَى اللَّه تَعَالَى - فَانْقَطَعَ إِلَيْهَا وصَارَ عَبْداً لَهَا.

رسول اللَّه

ولَقَدْ كَانَ فِي رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كَافٍ لَكَ فِي الأُسْوَةِ - ودَلِيلٌ لَكَ عَلَى ذَمِّ الدُّنْيَا وعَيْبِهَا - وكَثْرَةِ مَخَازِيهَا ومَسَاوِيهَا - إِذْ قُبِضَتْ عَنْه أَطْرَافُهَا ووُطِّئَتْ لِغَيْرِه أَكْنَافُهَا - وفُطِمَ عَنْ رَضَاعِهَا وزُوِيَ عَنْ زَخَارِفِهَا.

موسى

وإِنْ شِئْتَ ثَنَّيْتُ بِمُوسَى كَلِيمِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حَيْثُ يَقُولُ –( رَبِّ إِنِّي لِما أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ ) -

کونہیں دیتا ہے۔تو آخر یہ کیا ہے کہ خدا کے بارے میں اس سلوک سے بھی کوتاہی کی جاتی ہے جو بندوں کے لئے کردیا جاتا ہے۔کیا تمہیں کبھی اس بات کا خوف پیدا ہوا ہے کہ کہیں تم اپنی امیدوں میں جھوٹے تو نہیں ہویا تم اسے محل امید ہی نہیں تصور کرتے ہو ۔

اسی طرح انسان جب کسی بندہ سے خوف زدہ ہوتا ہے تو اسے وہ سارے حقوق دے دیتا ہے جو پروردگار کو بھی نہیں دیتا ہے۔گویا بندوں کے خوف کو نقد تصور کرتا ہے اور خوف خدا کو صرف وعدہ اور ٹالنے کی چیز بنا رکھا ہے۔

یہی حال اس شخص کا بھی ہے جس کی نظر میں دنیا عظیم ہوتی ہے اور اس کے دل میں اس کی جگہ بڑی ہوتی ہے تو وہ دنیا کو آخرت پرمقدم کردیتا ہے۔اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اوراپنے کواس کا بندہ بنا دیتا ہے۔

رسول اکرم (ص)

یقینا رسول اکرم (ص) کی زندگی تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے اوردنیا کی ذلتاور اس کے عیوب کے لئے بہترین رہنما ہے کہ اس میں ذلت و رسوائی کے مقامات بکثرت پائے جاتے ہیں۔دیکھو اس دنیا کے اطراف حضور سے سمیٹ لئے گئے اور غیروں کے لئے ہموار کردئیے گئے۔آپ کو اس کے منافع سے الگ رکھا گیا اور اس کی آرائشوں سے کنارہ کش کردیا گیا۔اور اگر آپکے علاوہ دوسری مثال چاہتے ہو تو وہ حضرت موسیٰ کلیم اللہ کی مثال ہے جنہوں نے خدا کی بارگاہ میں گزارش کی کہ'' پروردگار میں تیری طرف نازل ہونے والے خیر کا محتاج ہوں ''


واللَّه مَا سَأَلَه إِلَّا خُبْزاً يَأْكُلُه - لأَنَّه كَانَ يَأْكُلُ بَقْلَةَ الأَرْضِ - ولَقَدْ كَانَتْ خُضْرَةُ الْبَقْلِ تُرَى مِنْ شَفِيفِ صِفَاقِ بَطْنِه - لِهُزَالِه وتَشَذُّبِ لَحْمِه

داود

وإِنْ شِئْتَ ثَلَّثْتُ بِدَاوُدَصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صَاحِبِ الْمَزَامِيرِ وقَارِئِ أَهْلِ الْجَنَّةِ - فَلَقَدْ كَانَ يَعْمَلُ سَفَائِفَ الْخُوصِ بِيَدِه - ويَقُولُ لِجُلَسَائِه أَيُّكُمْ يَكْفِينِي بَيْعَهَا - ويَأْكُلُ قُرْصَ الشَّعِيرِ مِنْ ثَمَنِهَا.

عيسى

وإِنْ شِئْتَ قُلْتُ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَعليه‌السلام - فَلَقَدْ كَانَ يَتَوَسَّدُ الْحَجَرَ - ويَلْبَسُ الْخَشِنَ ويَأْكُلُ الْجَشِبَ - وكَانَ إِدَامُه الْجُوعَ وسِرَاجُه بِاللَّيْلِ الْقَمَرَ - وظِلَالُه فِي الشِّتَاءِ مَشَارِقَ الأَرْضِ ومَغَارِبَهَا - وفَاكِهَتُه ورَيْحَانُه مَا تُنْبِتُ الأَرْضُ لِلْبَهَائِمِ - ولَمْ تَكُنْ لَه زَوْجَةٌ تَفْتِنُه ولَا وَلَدٌ يَحْزُنُه - ولَا مَالٌ يَلْفِتُه ولَا طَمَعٌ يُذِلُّه - دَابَّتُه رِجْلَاه وخَادِمُه يَدَاه.

الرسول الأعظم

فَتَأَسَّ بِنَبِيِّكَ الأَطْيَبِ الأَطْهَرِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فَإِنَّ فِيه أُسْوَةً لِمَنْ تَأَسَّى

لیکن خدا گواہ ہے کہ انہوں نے ایک لقمہ نان کے علاوہ کوئی سوال نہیں کیا۔وہ زمین کی سبزی کھا لیا کرتے تھے اور اسی لئے ان کے شکم کی نرم و نازک کھال سے سبزی کا رنگ نظر آیا کرتا تھا کہ وہ انتہائی لاغر ہوگئے تھے اور ان کا گوشت گل گیا تھا۔

تیسری جناب دائود کی ہے جو صاحب زبور اورقاری اہل جنت تھے۔مگر وہ اپنے ہاتھ سے کھجور کے پتوں سے توکریاں بنایاکرتے تھے اور اپنے ساتھیوں سے کہا کرتے تھے کہ کون ایسا ہے جو مجھے ان کے فروختکرنے میں مدد دے اور پھر انہیں بیچ کر جو کی روٹیاں کھالیا کرتے تھے۔ اس کے بعد چاہو تو میں عیسی بن مریم کی زندگی کا حال بیان کروں۔جو پتھروں پرتکیہ کرتے تھے ۔ کھردار لباس پہنتے تھے اور معمولی غذا پر گزارا کیا کرتے تھے۔ان کے کھانے میں سالن کی جگہ بھوک تھی اور رات میں چراغ کے بدلے چاند کی روشنی تھی۔سردی میں سایہ کے بدلے مشرق و مغرب کا آسمانی سائبان تھا۔ان کے میوے اور پھول وہ نباتات تھے جو جانوروں کے کام آتے ہیں۔ان کے پاس کوئی زوجہ نہ تھی جو انہیں مشغول کر لیتی اورنہ کوئی اولاد تھی جس کا رنج و غم ہوتا اور نہ کوئی مال تھا جو اپنی طرف متوجہ کر لیتا اور نہ کوئی طمع تھی جو ذلت کا شکار بنا دیتی ۔ان کے پیر ان کی سواری تھے اور ان کے ہاتھ ان کے خادم ۔

رسول اکرم (ص)

تم لوگاپنے طیب و طاہر پیغمبر کا اتباع کرو کہ ان کی زندگی میں پیروی کرنے والے کے لئے بہترین نمونہ اور


وعَزَاءً لِمَنْ تَعَزَّى - وأَحَبُّ الْعِبَادِ إِلَى اللَّه الْمُتَأَسِّي بِنَبِيِّه - والْمُقْتَصُّ لأَثَرِه - قَضَمَ الدُّنْيَا قَضْماً ولَمْ يُعِرْهَا طَرْفاً - أَهْضَمُ أَهْلِ الدُّنْيَا كَشْحاً - وأَخْمَصُهُمْ مِنَ الدُّنْيَا بَطْناً - عُرِضَتْ عَلَيْه الدُّنْيَا فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا - وعَلِمَ أَنَّ اللَّه سُبْحَانَه أَبْغَضَ شَيْئاً فَأَبْغَضَه - وحَقَّرَ شَيْئاً فَحَقَّرَه وصَغَّرَ شَيْئاً فَصَغَّرَه - ولَوْ لَمْ يَكُنْ فِينَا إِلَّا حُبُّنَا مَا أَبْغَضَ اللَّه ورَسُولُه - وتَعْظِيمُنَا مَا صَغَّرَ اللَّه ورَسُولُه - لَكَفَى بِه شِقَاقاً لِلَّه ومُحَادَّةً عَنْ أَمْرِ اللَّه - ولَقَدْ كَانَصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم يَأْكُلُ عَلَى الأَرْضِ - ويَجْلِسُ جِلْسَةَ الْعَبْدِ ويَخْصِفُ بِيَدِه نَعْلَه - ويَرْقَعُ بِيَدِه ثَوْبَه ويَرْكَبُ الْحِمَارَ الْعَارِيَ - ويُرْدِفُ خَلْفَه - ويَكُونُ السِّتْرُ عَلَى بَابِ بَيْتِه فَتَكُونُ فِيه التَّصَاوِيرُ فَيَقُولُ - يَا فُلَانَةُ لإِحْدَى أَزْوَاجِه غَيِّبِيه عَنِّي - فَإِنِّي إِذَا نَظَرْتُ إِلَيْه ذَكَرْتُ الدُّنْيَا وزَخَارِفَهَا - فَأَعْرَضَ عَنِ الدُّنْيَا بِقَلْبِه وأَمَاتَ ذِكْرَهَا مِنْ نَفْسِه - وأَحَبَّ أَنْ تَغِيبَ زِينَتُهَا عَنْ عَيْنِه

صبرو سکون کے طلب گاروں کے لئے بہترین سامان صبرو سکون ہے۔اللہ کی نظر میں محبوب ترین بندہ وہ ہے جو اس کے پیغمبر کا اتباع کرے اور ان کے نقش قدم پر آگے بڑھائے۔انہوںنے دنیا سے صرف مختصر غذا حاصل کی اور اسے نظر بھرکردیکھا بھی نہیں ۔ساری دنیا میں سب سے زیادہ خالی شکم اور شکم تہی میں بسر کرنے والے وہی تھے ان کے سامنے دنیا پیش کی گئی تو اسے قبول کرنے سے انکار کردیا اور یہ دیکھ لیا کہ پروردگار اسے پسند نہیں کرتا ہے تو خود بھی نا پسند کیا اور خداحقیر سمجھتا ہے توخود بھی حقیر سمجھا اور اس نے چھوٹا بنا دیا ہے تو خودب ھی چھوٹا ہی قراردیا۔اور اگر ہم میں اس کے علاوہ کوئی عیب نہ ہوتا کہ ہم خدا و رسول (ص) کے مبغوض کو محبوب سمجھنے لگے ہیں اور خدا و رسول (ص) کی نگاہ میں صغیر و حقیر کو عظیم سمجھنے لگے ہیں تو یہی عیب خدا کی مخالفت اور اسکے حکم سے انحراف کے لئے کافی تھا۔دیکھو پیغمبر اکرم (ص) ہمیشہ زمین پر بیٹھ کر کھاتے تھے۔غلاموں کے انداز سے بیٹھتے تھے اور کسی نہ کسی کو ساتھ بٹھا بھی لیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ اپنے مکان کے دروازہ پر ایسا پردہ دیکھ لیا جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں تو ایک زوجہ(۱) سے فرمایا کہ خبر دار اسے ہٹائو۔میں اس کی طرف دیکھوں گا تو دنیا اور اس کی آرائش یاد آئے گی۔

(۱) واضح رہے کہ اس واقعہ کا تعلق ازواج کی زندگی اور ان کے گھروں سے ہے۔اس کی اہل بیت کے گھر سے کوئی تعلق نہیں ہے جسے بعض راویوں نے اہل بیت کی طرف موڑ دیا ہے تاکہ ان کی زندگی میں بھی عیش و عشرت کا اثبات کر سکیں۔جب کہ اہل بیت کی زندگی تاریخ اسلام میں مکمل طور پر آئینہ ہے اور ہر شخص جانتا ہے کہ ان حضرات نے تمام تر اختیارات کے باوجود اپنی زندگی انتہائی سادگی سے گزار دی ہے اور سارا مال دنیا راہ خدامیں صرف کردیا ہے۔


لِكَيْلَا يَتَّخِذَ مِنْهَا رِيَاشاً ولَا يَعْتَقِدَهَا قَرَاراً - ولَا يَرْجُوَ فِيهَا مُقَاماً فَأَخْرَجَهَا مِنَ النَّفْسِ - وأَشْخَصَهَا عَنِ الْقَلْبِ وغَيَّبَهَا عَنِ الْبَصَرِ - وكَذَلِكَ مَنْ أَبْغَضَ شَيْئاً أَبْغَضَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْه - وأَنْ يُذْكَرَ عِنْدَه.

ولَقَدْ كَانَ فِي رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - مَا يَدُلُّكُ عَلَى مَسَاوِئِ الدُّنْيَا وعُيُوبِهَا - إِذْ جَاعَ فِيهَا مَعَ خَاصَّتِه - وزُوِيَتْ عَنْه زَخَارِفُهَا مَعَ عَظِيمِ زُلْفَتِه -

فَلْيَنْظُرْ نَاظِرٌ بِعَقْلِه – أَكْرَمَ اللَّه مُحَمَّداً بِذَلِكَ أَمْ أَهَانَه - فَإِنْ قَالَ أَهَانَه فَقَدْ كَذَبَ واللَّه الْعَظِيمِ بِالإِفْكِ الْعَظِيمِ - وإِنْ قَالَ أَكْرَمَه - فَلْيَعْلَمْ أَنَّ اللَّه قَدْ أَهَانَ غَيْرَه حَيْثُ بَسَطَ الدُّنْيَا لَه - وزَوَاهَا عَنْ أَقْرَبِ النَّاسِ مِنْه - فَتَأَسَّى مُتَأَسٍّ بِنَبِيِّه - واقْتَصَّ أَثَرَه ووَلَجَ مَوْلِجَه

آپ نے دنیا سے دل سے کنارہ کشی فرمائی اور اس کی یاد کو اپنے دل سے محو کردیا اور یہ چاہاکہ اس کی زینت نگاہوں سے دور رہے تاکہ نہ بہترین لباس بنائیں اور نہ اسے پانے دل میں جگہ دیں اور نہ اس دنیا میں کسی مقام کی آرزو کریں۔آپ نے دنیا کو نفس سے نکال دیا اور دل سے دور کردیا اور نگاہوں سے بھی غائب کردیا اور یہی ہر انسان کا اصول ہے کہ جس چیز کو نا پسند کرتا ہے اس کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہتا ہے اور اس کے ذکر کوبھی نا پسند کر تا ہے۔یقینا رسول (ص) اللہ کی زندگی میں وہ ساری باتیں پائی جاتی ہیں جو دنیا کے عیوب اور اس کی خرابیوں کی نشاندہی کر سکتی ہیں کہ آپ نے اپنے گھر والوں سمیت بھوکا رہنا گوارا کیا ے اورخدا کی بارگاہ میں انتہائی تقرب کے باوجود دنیا کی زینتوں کو آپ سے الگ رکھا گیا ہے۔

اب ہر انسان کو نگاہ عقل سے دیکھنا چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ اس صورت حال اور اس طرح کی زندگی سے پروردگار نے اپنے پیغمبر (ص) کو عزت دی ہے یا انہیں ذلیل بنایا ہے۔اگر کسی کا خیال یہ ہے کہ ذلیل بنایا ہے تو وہ جھوٹا اور افترا پرداز ہے اور اگر احساس یہ ہے کہ عزت دی ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اگر اللہ نے اس کے لئے دنیا کو فرش کردیا ہے تو اس کامطلب یہ ہے کہ اسے ذلیل بنا دیا ہے کہ اپنے قریب ترین بندہ سے اسے دور رکھا تھا ۔اب ہر شخص کو رسول اکرم (ص) کا اتباع کرنا چاہیے۔ان کا نقش قدم پرچلنا چاہیے اور ان کی منزل پر قدم رکھنا چاہیے


وإِلَّا فَلَا يَأْمَنِ الْهَلَكَةَ - فَإِنَّ اللَّه جَعَلَ مُحَمَّداًصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عَلَماً لِلسَّاعَةِ - ومُبَشِّراً بِالْجَنَّةِ ومُنْذِراً بِالْعُقُوبَةِ - خَرَجَ مِنَ الدُّنْيَا خَمِيصاً ووَرَدَ الآخِرَةَ سَلِيماً - لَمْ يَضَعْ حَجَراً عَلَى حَجَرٍ - حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِه وأَجَابَ دَاعِيَ رَبِّه - فَمَا أَعْظَمَ مِنَّةَ اللَّه عِنْدَنَا - حِينَ أَنْعَمَ عَلَيْنَا بِه سَلَفاً نَتَّبِعُه وقَائِداً نَطَأُ عَقِبَه - واللَّه لَقَدْ رَقَّعْتُ مِدْرَعَتِي هَذِه حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَاقِعِهَا - ولَقَدْ قَالَ لِي قَائِلٌ أَلَا تَنْبِذُهَا عَنْكَ - فَقُلْتُ اغْرُبْ عَنِّي فَعِنْدَ الصَّبَاحِ يَحْمَدُ الْقَوْمُ السُّرَى !

(۱۶۱)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في صفة النبي وأهل بيته وأتباع دينه، وفيها يعظ بالتقوى

ورنہ ہلاکت سے محفوظ نہ رہ سکے گا۔پروردگار نے پیغمبر اسلام کو قرب قیامت کی علامت جنت کی بشارت دینے والا اور عذاب سے ڈرانے والا بنایا ہے۔وہ دنیا سے بھوکے چلے گئے لیکن آخرت میں سلامتی کے ساتھ وارد ہوئے ۔انہوںنے تعمیر کے لئے پتھر(۱) پر پتھر نہیں رکھا اور دنیا سے رخصت ہوگئے اور اپنے پروردگار کیدعوت پر لبیک کہہ دی۔پروردگار کا کتنا عظیم احسان ہے کہ اس نے ہمیں ان کا جیسا رہنما عطا فرمایا ہے جس کا اتباع کیا جائے اور قائد دیا ہے جس کے نقش قدم پر قدم جمائے جائیں۔خداکی قسم میں نے اس قمیض میں اتنے پیوند لگوائے ہیں کہ اب رفو گر کو دیتے ہوئے شرم آنے لگی ہے۔مجھ سے ایک شخص نے یہ بھی کہا تھا کہ اسے پھینک کیوں نہیں دیتے تومیں نے اس سے کہہ دیا کہ مجھ سے دور ہو جا۔'' صبح ہونے کے بعد قوم کو رات میں سفر کرنے کی قدر ہوتی ہے ''

(۱۶۱)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں رسول اکرم (ص) کے صفات ' اہل بیت کی فضیلت اور تقویٰ و اتباع رسول (ص) کی دعوت کا تذکرہ کیا گیا ہے)

(۱) اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر مسلمان کوآوارہ وطن اورخانہ بدوش ہوناچاہیے اور خیموں اور چھولداریوں میں زندگی گزار دینا چاہیے۔اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ مسلمان کو دنیا کی اہمیت و عظمت کا قائل نہیں ہونا چاہیے اور اسے صرف بطور ضرورت اور بقدر ضرورت استعمال کرنا چاہیے وہ مکمل طور سے قبضہ میں آجائے تو انسان کو باعزت نہیں بنا سکتی ہے اور سوفیصد ہی اتھوں سے نکل جائے توذلیل نہیں کر سکتی ہے۔عزت و ذلت کا معیار مال و دولت اورجاہ و منصب نہیں ہے۔اس کامعیار صرف عبادت الٰہی اور اطاعت پروردگار ہے جس کے بعد ملک دنیا کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی ہے۔


الرسول وأهله وأتباع دينه

ابْتَعَثَه بِالنُّورِ الْمُضِيءِ والْبُرْهَانِ الْجَلِيِّ - والْمِنْهَاجِ الْبَادِي والْكِتَابِ الْهَادِي - أُسْرَتُه خَيْرُ أُسْرَةٍ وشَجَرَتُه خَيْرُ شَجَرَةٍ - أَغْصَانُهَا مُعْتَدِلَةٌ وثِمَارُهَا مُتَهَدِّلَةٌ - مَوْلِدُه بِمَكَّةَ وهِجْرَتُه بِطَيْبَةَ .عَلَا بِهَا ذِكْرُه وامْتَدَّ مِنْهَا صَوْتُه - أَرْسَلَه بِحُجَّةٍ كَافِيَةٍ ومَوْعِظَةٍ شَافِيَةٍ ودَعْوَةٍ مُتَلَافِيَةٍ - أَظْهَرَ بِه الشَّرَائِعَ الْمَجْهُولَةَ - وقَمَعَ بِه الْبِدَعَ الْمَدْخُولَةَ - وبَيَّنَ بِه الأَحْكَامَ الْمَفْصُولَةَ - فَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلَامِ دَيْناً تَتَحَقَّقْ شِقْوَتُه - وتَنْفَصِمْ عُرْوَتُه وتَعْظُمْ كَبْوَتُه - ويَكُنْ مَآبُه إِلَى الْحُزْنِ الطَّوِيلِ والْعَذَابِ الْوَبِيلِ.

وأَتَوَكَّلُ عَلَى اللَّه تَوَكُّلَ الإِنَابَةِ إِلَيْه - وأَسْتَرْشِدُه السَّبِيلَ الْمُؤَدِّيَةَ إِلَى جَنَّتِه - الْقَاصِدَةَ إِلَى مَحَلِّ رَغْبَتِه.

النصح بالتقوى

أُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّه بِتَقْوَى اللَّه وطَاعَتِه - فَإِنَّهَا النَّجَاةُ غَداً والْمَنْجَاةُ أَبَداً - رَهَّبَ فَأَبْلَغَ ورَغَّبَ فَأَسْبَغَ -

پروردگار نے آپ کو روشن نور۔واضح دلیل۔نمایاں راستہ اور ہدایت کرنے والی کتاب کے ساتھ بھیجا ہے ۔آپ کا خاندان بہترین خاندان اورآپ کا شجرہ بہترین شجرہ ہے۔جس کی شاخیں معتدل ہیں اورثمرات دسترس کے اندر ہیں۔آپ کی جائے ولادت مکہ مکرمہ ہے اور مقام ہجرت ارض طیبہ۔یہیں سے آپ کاذکر بلند ہوا ہے اور یہیں سے آپ کی آواز پھیلی ہے۔پروردگار نے آپ کو کفایت کرنے والی حجت ' شفا دینے والی نصیحت' گذشتہ تمام امور کی تلافی کرنے والی دعوت کے ساتھ بھیجا ہے۔آپ کے ذریعہ غیر معروف شریعتوں کو ظاہر کیاہے اور مہمل بدعتوں کا قلع قمع کردیا ہے اور واضح احکام کو بیان کردیا ہے لہٰذا اب جوبھی اسلام کے علاوہ کسی راستہ کواختیار کرے گا اس کی شقاوت ثابت ہو جائے گی اور ریسمان حیات بکھر جائے گی اور منہ کے بھل گرنا سخت ہو جائے گا اور انجام کار دائمی حزن والم اورشدید ترین عذاب ہوگا۔

میں خدا پراسی طرح بھروسہ کرتا ہوں جس طرح اس کی طرف توجہ کرنے والے کرتے ہیں اور اس سے اس راستہ کی ہدایت طلب کرتا ہوں جو اس کی جنت تک پہنچانے والا اور اس کی منزل مطلوب کی طرف لے جانا والا ہے۔

بند گان خدا !میں تمہیں تقویٰ الٰہی اور اس کی اطاعت کی وصیت کرتاہوں کہ اس میں کل نجات ہے اور یہی ہمیشہ کے لئے مرکزنجات ہے۔اس نے تمہیں


ووَصَفَ لَكُمُ الدُّنْيَا وانْقِطَاعَهَا - وزَوَالَهَا وانْتِقَالَهَا - فَأَعْرِضُوا عَمَّا يُعْجِبُكُمْ فِيهَا لِقِلَّةِ مَا يَصْحَبُكُمْ مِنْهَا - أَقْرَبُ دَارٍ مِنْ سَخَطِ اللَّه وأَبْعَدُهَا مِنْ رِضْوَانِ اللَّه - فَغُضُّوا عَنْكُمْ عِبَادَ اللَّه غُمُومَهَا وأَشْغَالَهَا - لِمَا قَدْ أَيْقَنْتُمْ بِه مِنْ فِرَاقِهَا وتَصَرُّفِ حَالَاتِهَا - فَاحْذَرُوهَا حَذَرَ الشَّفِيقِ النَّاصِحِ والْمُجِدِّ الْكَادِحِ - واعْتَبِرُوا بِمَا قَدْ رَأَيْتُمْ مِنْ مَصَارِعِ الْقُرُونِ قَبْلَكُمْ - قَدْ تَزَايَلَتْ أَوْصَالُهُمْ - وزَالَتْ أَبْصَارُهُمْ وأَسْمَاعُهُمْ - وذَهَبَ شَرَفُهُمْ وعِزُّهُمْ - وانْقَطَعَ سُرُورُهُمْ ونَعِيمُهُمْ - فَبُدِّلُوا بِقُرْبِ الأَوْلَادِ فَقْدَهَا - وبِصُحْبَةِ الأَزْوَاجِ مُفَارَقَتَهَا - لَا يَتَفَاخَرُونَ ولَا يَتَنَاسَلُونَ - ولَا يَتَزَاوَرُونَ ولَا يَتَحَاوَرُونَ - فَاحْذَرُوا عِبَادَ اللَّه حَذَرَ الْغَالِبِ لِنَفْسِه - الْمَانِعِ لِشَهْوَتِه النَّاظِرِ بِعَقْلِه - فَإِنَّ الأَمْرَ وَاضِحٌ والْعَلَمَ قَائِمٌ - والطَّرِيقَ جَدَدٌ والسَّبِيلَ قَصْدٌ

ڈرایا تو مکمل طور سے ڈرایا اور رغبت دلائی تو مکمل رغبت کا انتظام کیا۔تمہارے لئے دنیا اور اس کی جدائی اس کے زوال اور اس سے انتقال سب کی توصیف کردی ہے لہٰذا اس میں جو چیز اچھی لگے اس سے اعراض کرو کہ ساتھ جانے والی شے بہت کم ہے دیکھو یہ گھر غضب الٰہی سے قری تر اور رضائے الٰہی سے دور تر ہے۔

بند گان خدا! ہم و غم اور اس کے اشغال سے چشم پوشی کرلو کہ تمہیں معلوم ہے کہ اس سے بہر حال جدا ہونا ہے اور اس کے حالات برابر بدلتے رہتے ہیں۔اس سے اس طرح احتیاط کرو جس طرح ایک خوف زدہ اور اپنے نفس کامخلص اور جانفشانی کے ساتھ کوشش کرنے والا احتیاط کرتا ے اور اس سے عبرت حاصل کرو ان مناظرکے ذریعہ جو تم نے خود دیکھ لئے ہیں کہ گذشتہ نسلیں ہلاک ہوگئیں۔ان کے جوڑ بند الگ الگ ہوگئے۔انکیآنکھیں اور ان کے کان ختم ہوگئے۔ان کی شرافت اورعزت چلی گئی۔ان کی مسرت اورنعمت کاخاتمہ ہوگیا۔اولاد کاقرب فقدان میں تبدیل ہوگیا اور ازواج کی صحبت فراق میں بدل گئی۔اب نہ باہمی مفاخرت رہ گئی ہے اور نہ نسلوں کا سلسلہ ' نہ ملاقاتیں رہ گئی ہیں اورنہ بات چیت۔

لہٰذا بندگان خدا! ڈرو اس شخص کی طرح جو اپنے نفس پرقابو رکھتا ہو۔اپنی خواہشات کو روک سکتا ہو اوراپنی عقل کی آنکھوں سے دیکھتا ہو۔مسئلہ بالکل واضح ہے۔نشانیاں قائم ہیں راستہ سیدھا ہے اور صراط بالکل مستقیم ہے۔


(۱۶۲)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لبعض أصحابه وقد سأله: كيف دفعكم قومكم عن هذا المقام وأنتم أحق به فقال:

يَا أَخَا بَنِي أَسَدٍ إِنَّكَ لَقَلِقُ الْوَضِينِ - تُرْسِلُ فِي غَيْرِ سَدَدٍ - ولَكَ بَعْدُ ذِمَامَةُ الصِّهْرِ وحَقُّ الْمَسْأَلَةِ - وقَدِ اسْتَعْلَمْتَ فَاعْلَمْ - أَمَّا الِاسْتِبْدَادُ عَلَيْنَا بِهَذَا الْمَقَامِ - ونَحْنُ الأَعْلَوْنَ نَسَباً والأَشَدُّونَ بِالرَّسُولِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نَوْطاً فَإِنَّهَا كَانَتْ أَثَرَةً شَحَّتْ عَلَيْهَا نُفُوسُ قَوْمٍ - وسَخَتْ عَنْهَا نُفُوسُ آخَرِينَ - والْحَكَمُ اللَّه والْمَعْوَدُ إِلَيْه الْقِيَامَةُ.

ودَعْ عَنْكَ نَهْباً صِيحَ فِي حَجَرَاتِه

ولَكِنْ حَدِيثاً مَا حَدِيثُ الرَّوَاحِلِ

وهَلُمَّ الْخَطْبَ فِي ابْنِ أَبِي سُفْيَانَ - فَلَقَدْ أَضْحَكَنِي الدَّهْرُ بَعْدَ إِبْكَائِه - ولَا غَرْوَ واللَّه - فَيَا لَه خَطْباً يَسْتَفْرِغُ الْعَجَبَ

(۱۶۲)

آپ کا ارشاد گرامی

(اس شخص سے جس نے یہ سوال کرلیا کہ لوگوں نے آپ کو آپ کی منزل سے کس طرح ہٹا دیا)

اے برادر بنی اسد! تم بہت تنگ حوصلہ ہو اورغلط راستہ پر چل پڑے ہو۔لیکن بہرحال تمہیں قرابت(۱) کاحق بھی حاصل ہے اور سوال کا حق بھی ہے اورتم نے در یا فت بھی کرلی ہے تو اب سنو! ہمارے بلند نسب اور رسول اکرم (ص) سے قریب ترین تعلق کے باوجود قوم نے ہم سے اس حق کو اس لئے چھین لیاکہ اس میں ایک خود غرضی تھی جس پرایک جماعت کے نفس مرمٹے تھے اور دوسری جماعت(۲) نے چشم پوشی سے کام لیا تھا لیکن بہرحال حاکم اللہ ہے اور روز قیامت اسی کی بارگاہ میں پلٹ کرجانا ہے۔(اس لوٹ مار کا ذکر چھوڑو جس کا شور(۳) چاروں طرف مچا ہواتھا اب اونٹنیوں کی بات کرو جو اپنے قبضہ میں رہ کرنکل گئی ہیں ) اب آئو اس مصیبت کودیکھو جو ابو سفیان کے بیٹے کی طرف سے آئی ہے کہ زمانہ نے رلانے کے بعد ہنسا دیا ہے اور بخدااس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے تعجب تو اس حادثہ پر ہے

(۱) شاید اس امرکی طرف اشارہ ہو کہ سرکار دو عالم (ص) کی ایک زوجہ زینت جحش اسدی تھیں اور ان کی والدہ امیمہ بنت عبدالمطلب آپ کی پھوپھی تھیں۔

(۲) اس میں دونوں احتمالات پائے جاتے ہیں۔یا اس قوم کی طرف اشارہ ہے جس نے حق اہل بیت کا تحفظ نہیں کیا اور تغافل سے کام لیا۔یا خود اپنے کردار کی بلندی کی طرف اشارہ ہے کہ ہم نے بھی چشم پوشی سے کام لیا اور مقابلہ کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اس طرح ظالموں نے منصب پر مکمل طور سے قبضہ کرلیا۔

(۳) یہ امرء القیس کامصرع ہے جب اس کے باپ کو قتل کردیا گیا تو وہ انتقام کے لئے قبائل کی کمک تلاش کر رہا تھا۔ایک مقام پر مقیم تھاکہ لوگ اس کے اونٹ پکڑ لے گئے۔اس نے میزبان سے فریاد کی میزبان نے کہا کہ میں ابھی واپس لاتا ہوں۔ثبوت میں تمہاری اونٹنیاں لے جاتا ہوں اور اس طرح اونٹ کے ساتھ اونٹنی پر بھی قبضہ کرلیا۔


ويُكْثِرُ الأَوَدَ - حَاوَلَ الْقَوْمُ إِطْفَاءَ نُورِ اللَّه مِنْ مِصْبَاحِه - وسَدَّ فَوَّارِه مِنْ يَنْبُوعِه - وجَدَحُوا بَيْنِي وبَيْنَهُمْ شِرْباً وَبِيئاً - فَإِنْ تَرْتَفِعْ عَنَّا وعَنْهُمْ مِحَنُ الْبَلْوَى - أَحْمِلْهُمْ مِنَ الْحَقِّ عَلَى مَحْضِه وإِنْ تَكُنِ الأُخْرَى –( فَلا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَراتٍ - إِنَّ الله عَلِيمٌ بِما يَصْنَعُونَ ) .

(۱۶۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

الخالق جل وعلا

الْحَمْدُ لِلَّه خَالِقِ الْعِبَادِ وسَاطِحِ الْمِهَادِ - ومُسِيلِ الْوِهَادِ ومُخْصِبِ النِّجَادِ - لَيْسَ لأَوَّلِيَّتِه ابْتِدَاءٌ ولَا لأَزَلِيَّتِه انْقِضَاءٌ - هُوَ الأَوَّلُ ولَمْ يَزَلْ والْبَاقِي بِلَا أَجَلٍ - خَرَّتْ لَه الْجِبَاه ووَحَّدَتْه الشِّفَاه - حَدَّ الأَشْيَاءَ عِنْدَ خَلْقِه لَهَا إِبَانَةً لَه مِنْ شَبَهِهَا

جس نے تعجب کابھی خاتمہ کردیا ہے اور کجی کو بڑھا وا دیا ہے۔قوم نے چاہا تھاکہ نور الٰہی کواس کے چراغ ہی سے خاموش کردیا جائے اور فوارہ کو چشمہ ہی سے بند کردیا جائے ۔میرے اور اپنے درمیان زہریلے گھونٹوں کی آمیزش کردی کہ اگر مجھ سے اور ان سے ابتلاء کی زحمتیں ختم ہو گئیں تومیں انہیں خالص حق(۱) کےراستہ پرچلائوں گا اور اگر کئی دوسری صورت ہوگئی توتمہیں حسرت و افسوس سے اپنی جان نہیں دینی چاہیے ۔اللہ ان کے اعمال سے خوب باخبر ہے۔

(۱۶۳)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جوبندوں کا خلق کرنے والا۔زمین کا فرش بچھانے والا۔وادیوں میں پانی کا بہانے والا اور ٹیلوں کا سر سبز و شاداب بنانے والا ہے۔اس کی اولیت کی کوئی ابتدا نہیں ہے اور اس کی ازلیت کی کوئی انتہا نہیں ہے۔وہ ابتدا ء سے ہے اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔وہ باقی ہے اور اس کی بقا کی کوئی مدت نہیں ہے۔پیشانیاں اس کے سامنے سجدہ ریز اور لب اس کی وحدانیت کا اقرار کرنے والے ہیں۔اس نے تخلیق کے ساتھ ہی ہرشے کے حدود معین کردئیے ہیں تاکہ وہ کسی سے مشابہ نہ ہونے پائیں

(۱) یہ مکتب اہل بیت کاخاصہ ہے کہ ہمیشہ حق کے راستے پرچلنا چاہیے اور دوسروں کو بھی اسی راستہ پر چلانا چاہیے اور اس راہ میں کسی طرح کی زحمت و مصیبت کی پرواہ نہیں کرنا چاہیے۔چنانچہ بعض مورخین کے بیان کے مطابق جب دورعمر بن خطاب میں سلمانفارسی کو مدئان کاگورنر بنایا گیا اور انہوں نے کاروبارکی نگرانی کا قانون نافذ کیا تو ارباب ثروت و تجارت نے خلیفہ سے شکایت کردی اور انہوں نے فی الفور جناب سلمان کو معزول کردیا کہ کہیں نگرانی اور محاسبہ کاتصور سارے ملک میں نہ پھیل جائے کہ ارباب مصالح و منافع بغاوت پرآمادہ ہو جائیں اور حکومت کو حق کی راہ پر چلنے کے لئے خاطر خواہ قیمت ادا کرنا پڑے ۔


لَا تُقَدِّرُه الأَوْهَامُ بِالْحُدُودِ والْحَرَكَاتِ - ولَا بِالْجَوَارِحِ والأَدَوَاتِ لَا يُقَالُ لَه مَتَى - ولَا يُضْرَبُ لَه أَمَدٌ بِحَتَّى - الظَّاهِرُ لَا يُقَالُ مِمَّ والْبَاطِنُ لَا يُقَالُ فِيمَ - لَا شَبَحٌ فَيُتَقَصَّى ولَا مَحْجُوبٌ فَيُحْوَى - لَمْ يَقْرُبْ مِنَ الأَشْيَاءِ بِالْتِصَاقٍ - ولَمْ يَبْعُدْ عَنْهَا بِافْتِرَاقٍ - ولَا يَخْفَى عَلَيْه مِنْ عِبَادِه شُخُوصُ لَحْظَةٍ - ولَا كُرُورُ لَفْظَةٍ ولَا ازْدِلَافُ رَبْوَةٍ - ولَا انْبِسَاطُ خُطْوَةٍ فِي لَيْلٍ دَاجٍ - ولَا غَسَقٍ سَاجٍ يَتَفَيَّأُ عَلَيْه الْقَمَرُ الْمُنِيرُ - وتَعْقُبُه الشَّمْسُ ذَاتُ النُّورِ فِي الأُفُولِ والْكُرُورِ - وتَقَلُّبِ الأَزْمِنَةِ والدُّهُورِ - مِنْ إِقْبَالِ لَيْلٍ مُقْبِلٍ وإِدْبَارِ نَهَارٍ مُدْبِرٍ - قَبْلَ كُلِّ غَايَةٍ ومُدَّةِ وكُلِّ إِحْصَاءٍ وعِدَّةٍ - تَعَالَى عَمَّا يَنْحَلُه الْمُحَدِّدُونَ مِنْ صِفَاتِ الأَقْدَارِ - ونِهَايَاتِ الأَقْطَارِ وتَأَثُّلِ الْمَسَاكِنِ - وتَمَكُّنِ الأَمَاكِنِ - فَالْحَدُّ لِخَلْقِه مَضْرُوبٌ وإِلَى غَيْرِه مَنْسُوبٌ.

ابتداع المخلوقين

لَمْ يَخْلُقِ الأَشْيَاءَ مِنْ أُصُولٍ أَزَلِيَّةٍ - ولَا مِنْ أَوَائِلَ أَبَدِيَّةٍ - بَلْ خَلَقَ مَا خَلَقَ

انسانی ادہام اس کے لئے حدود و حرکات اور اعضاء و جوارح کاتعین نہیں کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ وہ کب سے ہے اور نہ یہ حد بندی کی جا سکتی ہے کہ کب تک رہے گا۔وہ ظاہر ہے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتاہے کہ کس چیز سے اور باطن ہے لیکن یہ نہیں سوچا جا سکتا ہے کہ کس چیز میں ؟ وہ نہ کوئی ڈھانچہ ہے کہ ختم ہو جائے اور نہ کسی حجاب میں ہے کہ محدود ہو جائے۔ظاہری اتصال کی بنیاد پر اشیاء سے قریب نہیں ہے اور جسمانی جدائی کی بنا پر دورنہیں ہے۔اس کے اوپر بندوں کے حالات میں سے نہ ایک کاجھیکنا مخفی ہے اور نہ الفاظ کا دہرانا۔نہ بلندی کا دور سے جھلکنا پوشیدہ ہے اور نہ قدم کا آگے بڑھنا۔نہ اندھیری رات میں اور نہ چھائی ہوئی اندھیاریوں میں جن پر روشن چاند اپنی کرنوں کا سایہ ڈالتا ہے اور روشن آفتاب طلوع وغروب میں اور زمانہ کی ان گردشوں میں جو آنے والی رات کی آمد اور جانے والے دن کے گزرنے سے پیدا ہوتی ہے۔وہ ہر انتہا و مدت سے پہلے ہے اور ہر احصاء و شمارسے ماوراء ہے۔وہ ان صفات سے بلند تر ہے جنہیں محدود سمجھ لینے والے اس کی طرف منسوب کر دیتے ہیں چاہے وہ صفتوں کے انداز ے ہوں یا اطراف و جوانب کی حدیں۔مکانات میں قیام ہو یا مساکن میں قرار۔حد بندی اس کی مخلوقات کے لئے ہے اور اس کی نسبت اس کے غیر کی طرف ہوتی ہے۔ اس نے اشیاء کی تخلیق نہ ازلی مواد سے کی ہے اور نہ ابدی مثالوں سے ۔جوکچھ بھی خلق کیا ہے خود خلق کیا ہے


فَأَقَامَ حَدَّه - وصَوَّرَ فَأَحْسَنَ صُورَتَه - لَيْسَ لِشَيْءٍ مِنْه امْتِنَاعٌ ولَا لَه بِطَاعَةِ شَيْءٍ انْتِفَاعٌ - عِلْمُه بِالأَمْوَاتِ الْمَاضِينَ كَعِلْمِه بِالأَحْيَاءِ الْبَاقِينَ - وعِلْمُه بِمَا فِي السَّمَاوَاتِ الْعُلَى - كَعِلْمِه بِمَا فِي الأَرَضِينَ السُّفْلَى.

منها - أَيُّهَا الْمَخْلُوقُ السَّوِيُّ والْمُنْشَأُ الْمَرْعِيُّ - فِي ظُلُمَاتِ الأَرْحَامِ ومُضَاعَفَاتِ الأَسْتَارِ -. بُدِئْتَ( مِنْ سُلالَةٍ مِنْ طِينٍ ) ووُضِعْتَ( فِي قَرارٍ مَكِينٍ إِلى قَدَرٍ مَعْلُومٍ ) وأَجَلٍ مَقْسُومٍ - تَمُورُ فِي بَطْنِ أُمِّكَ جَنِيناً لَا تُحِيرُ دُعَاءً ولَا تَسْمَعُ نِدَاءً - ثُمَّ أُخْرِجْتَ مِنْ مَقَرِّكَ إِلَى دَارٍ لَمْ تَشْهَدْهَا - ولَمْ تَعْرِفْ سُبُلَ مَنَافِعِهَا.فَمَنْ هَدَاكَ لِاجْتِرَارِ الْغِذَاءِ مِنْ ثَدْيِ أُمِّكَ - وعَرَّفَكَ عِنْدَ الْحَاجَةِ مَوَاضِعَ طَلَبِكَ وإِرَادَتِكَ - هَيْهَاتَ إِنَّ مَنْ يَعْجِزُ عَنْ صِفَاتِ ذِي الْهَيْئَةِ والأَدَوَاتِ - فَهُوَ عَنْ صِفَاتِ خَالِقِه أَعْجَزُ - ومِنْ تَنَاوُلِه بِحُدُودِ الْمَخْلُوقِينَ أَبْعَدُ!

اوراس کی حدیں معین کردی ہیں اور ہر صورت کو حسین بنا دیاہے۔کوئی شے بھی اس کے حکم سے سرتابی نہیں کر سکتی ہے اورنہ کسی کی اطاعت میں اس کا کوئی فائدہ ہے۔اس کا علم ماضی کے مرنے والے افراد کے بارے میں ویسا ہی ہے جیسا کہ رہ جانے والے زندوں کے بارے میں ہے اور وہ بلند ترین آسمانوں کے بارے میں ویسا ہی علم رکھتا ہے جس طرح کہ پست ترین زمینوں کے بارے میں رکھتا ہے۔

(دوسرا حصہ) اے وہ انسان جسے ہر اعتبار سے درست بنایا گیاہے اور رحم کے اندھیروں اور پردہ درپردہ ظلمتوں میں مکمل نگرانی کے ساتھ خلق کیا گیا ہے۔تیری ابتدا خالص مٹی سے ہوئی ہے اورتجھے ایک خاص مرکز میں ایک خاص مدت تک رکھا گیا ہے۔تو شکم مادر میں اس طرح حرکت کر رہا تھا کہ نہ آواز کا جواب دے سکتاتھا اورنہ کسی آواز کو سن سکتا تھا۔اس کے بعد تجھے وہاں سے نکال کر اس گھرمیں لایا گیاجسے تونے دیکھا بھی نہیں تھا اور جہاں کے منافع کے راستوں سے با خبر بھی نہیں تھا۔بتا تجھے پستان مادرسے دودھ حاصل کرنے کی ہدایت کس نے دی ہے اور ضرورت کے وقت موارد طلب وارادہ کا پتہ کس نے بتایا ہے ؟ ہوشیار ۔جوش خص ایک صاحب ہئیت و اعضاء مخلوق کے صفات کے پہچاننے سے عاجز ہوگا وہ خالق کے صفات کو پہچاننے سے یقینا زیادہ عاجز ہوگا اور مخلوقات کے حدود کے ذریعہ اسے حاصل کرنے سے یقینا دورتر ہوگا۔


(۱۶۴)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لما اجتمع الناس شكوا ما نقموه على عثمان

وسألوه مخاطبته لهم واستعتابه لهم فدخل عليه فقال

إِنَّ النَّاسَ وَرَائِي - وقَدِ اسْتَسْفَرُونِي بَيْنَكَ وبَيْنَهُمْ - ووَ اللَّه مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لَكَ - مَا أَعْرِفُ شَيْئاً تَجْهَلُه - ولَا أَدُلُّكَ عَلَى أَمْرٍ لَا تَعْرِفُه - إِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نَعْلَمُ - مَا سَبَقْنَاكَ إِلَى شَيْءٍ فَنُخْبِرَكَ عَنْه - ولَا خَلَوْنَا بِشَيْءٍ فَنُبَلِّغَكَه - وقَدْ رَأَيْتَ كَمَا رَأَيْنَا وسَمِعْتَ كَمَا سَمِعْنَا - وصَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كَمَا صَحِبْنَا -

(۱۶۴)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب لوگوں نے آپ کے پاس آکر عثمان کے مظالم کا ذکرکیا اور ان کی فہمائش اورتنبیہ کا تقاضا کیا توآپ نے عثمان کے پاس جا کر فرمایا )

لوگ میرے پیچھے منتظر ہیں اور انہوںنے مجھے اپنے اور تمہارے درمیان(۱) واسطہ قرار دیا ہے اورخداکی قسم میں نہیں جانتا ہوں کہ میں تم سے کیا کہوں؟میں کوئی ایسی بات نہیں جانتا ہوں جس کا تمہیں علم نہ ہو اور کسی ایی بات کی نشاندہی نہیں کر سکتا ہوں جو تمہیں معلوم نہ ہو تمہیں تمام وہ باتیں معلوم ہیں جو مجھے معلوم ہیں اور میں ن کسی امر کی طرف سبقت نہیں کی ہے کہ اس کی اطلاع تمہیں کروں اور نہ کوئی بات چپکے سے سن لی ہے کہ تمہیں با خبرکروں۔تم نے وہ سب خود دیکھا ہے جو میں نے دیکھا ہے اوروہ سب کچھ خود بھی سنا ہے جومیں نے سنا ہے اور رسول اکرم (ص) کے پاس ویسے ہی رہے ہو جیسے میں رہا ہوں

(۱) امیر المومنین کے علاوہ دنیا کا کوئی دوسرا انسان ہوتا تواس موقع کو غنیمت تصور کرکے احتجاج کرنے والوں کے حوصلے مزید بلند کردیتا اور لمحوں میں عثمان کاخاتمہ کر ا دیتا لیکن آپ نے اپنی شرعی ذمہ داری اور اسلامی مسئولیت کاخیال کرکے انقلابی جماعت کو روکا اورچاہاکہ پہلے تمام حجت کردیا جائے تاکہ عثمان کو اصلاح امر کا موقع مل جائے اور بنی امیہ مجھے قتل عثمان کا ملزم نہ ٹھہرانے پائیں۔ورنہ عثمان کے دور کے مظالم عالم آشکارتھے۔ان کے بارے میں کسی تحقیق اور تفتیش کی ضرورت نہیں تھی جناب ابوذر کاشہر بدر کرادیا جانا جناب عبداللہ بن مسعود کی پسلیوںکا توڑ دیا جانا۔جناب عمار یاسر کے شکم کو جوتیوں سے پامال کردینا۔وہ مظالم ہیں جنہیں سارا عالم اسلام اور بالخصوص مدینتہ الرسول خوب جانتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ آپ نے درمیان میں پڑ کر اصلاح حال کے بارے میں یہ فارمولا پیش کیا مدینہ کے معاملات کی فی الفور اصلاح کی جائے اورباہر کے لئے بقدر ضرورت مہلت لے لی جائے لیکن خلیفہ کو اصلاح نہیں کرنا تھی نہیں کی اور آخر ش وہی انجام ہوا جس کے پیش نظرامیر المومنین نے اس قدر زحمت برداشت کی تھی اور جس کے بعد بنی امیہ کو نئے فتنوں کاموقع مل گیا اور ان سے امیر المومنین کو بھی دوچار ہونا پڑا۔


ومَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ - ولَا ابْنُ الْخَطَّابِ بِأَوْلَى بِعَمَلِ الْحَقِّ مِنْكَ - وأَنْتَ أَقْرَبُ إِلَى أَبِي رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وَشِيجَةَ رَحِمٍ مِنْهُمَا - وقَدْ نِلْتَ مِنْ صِهْرِه مَا لَمْ يَنَالَا فَاللَّه اللَّه فِي نَفْسِكَ - فَإِنَّكَ واللَّه مَا تُبَصَّرُ مِنْ عَمًى - ولَا تُعَلَّمُ مِنْ جَهْلٍ - وإِنَّ الطُّرُقَ لَوَاضِحَةٌ وإِنَّ أَعْلَامَ الدِّينِ لَقَائِمَةٌ - فَاعْلَمْ أَنَّ أَفْضَلَ عِبَادِ اللَّه عِنْدَ اللَّه إِمَامٌ عَادِلٌ،هُدِيَ وهَدَى فَأَقَامَ سُنَّةً مَعْلُومَةً - وأَمَاتَ بِدْعَةً مَجْهُولَةً - وإِنَّ السُّنَنَ لَنَيِّرَةٌ لَهَا أَعْلَامٌ - وإِنَّ الْبِدَعَ لَظَاهِرَةٌ لَهَا أَعْلَامٌ - وإِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّه إِمَامٌ جَائِرٌ ضَلَّ وضُلَّ بِه - فَأَمَاتَ سُنَّةً مَأْخُوذَةً وأَحْيَا بِدْعَةً مَتْرُوكَةً - وإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم يَقُولُ - يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالإِمَامِ الْجَائِرِ - ولَيْسَ مَعَه نَصِيرٌ ولَا عَاذِرٌ - فَيُلْقَى فِي نَارِ جَهَنَّمَ

ابن ابی قحافہ اور ابن الخطاب حق پر عمل کرنے کے لئے تم سے زیادہ اولیٰ نہیں تھے تم ان کی نسبت رسول اللہ سے زیادہ قریبی رشتہ رکھتے ہو۔اورتمہیں وہدامادی کا شرف بھی حاصل ہے ہے جوانہیں حاصل نہیں تھا لہٰذا خدارا اپنے نفس کو بچائو کہ تمہیں اندھے پن سے بصارت یاجہالت سے علم نہیں دیا جا رہا ہے۔راستے بالکل واضح ہیں اور نشانات دین قائم ہیں۔یاد رکھوخدا کے نزدیک بہترین بندہ وہ امام عادل ہے۔جو خود ہدایت یافتہ ہو اوردوسروں کوہدایت دے۔جانی پہچانی سنت کو قائم کرے اور مجہول بدعت کو مردہ بنادے۔دیکھو ضیا بخش سنتوں کے نشانات بھی روشن ہیں اوربدعتوں کے نشانات بھی واضح ہیں اوربد ترین انسان خداکی نگاہ میں وہ ظالم پیشوا ہے جو خود بھی گمراہ ہو اور لوگوں کو بھی گمراہ کرے۔پیغمبر سے ملی ہوئی سنتوں کو مردہ بنادے اور قابل ترک بدعتوں کو زندہ کردے میں نے رسول اکرم (ص) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ روز قیامت ظالم(۱) رہنماکو اس عالم میں لایا جائے گا کہ نہ کوئی اس کا مدد گار ہوگا اورنہ عذر خواہی کرنے والا اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا

(۱)در حقیقت رہنما اور ظالم وہ دو متضاد الفاظ ہیں جنہیں کسی عالم شرافت و کرامت میں جمع نہیں ہونا چاہیے۔انسان کو رہنمائی کا شوق ہے تو پہلے اپنے کردار میں عدالت و شرافت پیدا کرے۔اس کے بعد آگے چلنے کا ارادہ کرے۔اس کے بغیر رہنمائی کا شوق انسان کو جہنم تک تو پہنچا سکتا ہے رہنما نہیں بنا سکتا ے جیسا کہ سرکار دو عالم (ص) نے فرمایا ہے اور اس عذاب کی شدت کا راز یہی ہے کہ رہنما کی وجہ سے بے شمار لوگ مزید گمراہ ہوتے ہیں اور اس کے ظلم سے بے حساب لوگوں کو ظلم کاجواز فراہم ہو جاتا ہے اورسارا معاشرہ تباہ و برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔

عثمان کا دور پہلا دور تھا جب سابق کی ظاہرداری بھی ختم ہوگئی تھی اور کھلم کھلا ظلم کا بازار گرم ہوگیا تھا۔اس لئے اتنا شدید رد عمل دیکھنے میں آیا ورنہ اس کے بعد سے تو آج تک سارا عالم اسلام انہیں خاندان پروریوں کا شکار ہے اور عوام کی ساری دولت ایک ایک خاندان کے عیاش شہزادوں پر صرف ہو رہی ہے اورمدینہ کے مسلمانوں میں بھی غیرت کی حرکت نہیں پیدا ہو رہی ہے تو باقی عالم اسلام اور دوسرے علاقوں کا کیا تذکرہ ہے۔


فَيَدُورُ فِيهَا كَمَا تَدُورُ الرَّحَى - ثُمَّ يَرْتَبِطُ فِي قَعْرِهَا - وإِنِّي أَنْشُدُكَ اللَّه أَلَّا تَكُونَ إِمَامَ هَذِه الأُمَّةِ الْمَقْتُولَ - فَإِنَّه كَانَ يُقَالُ - يُقْتَلُ فِي هَذِه الأُمَّةِ إِمَامٌ يَفْتَحُ عَلَيْهَا الْقَتْلَ - والْقِتَالَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ - ويَلْبِسُ أُمُورَهَا عَلَيْهَا ويَبُثُّ الْفِتَنَ فِيهَا - فَلَا يُبْصِرُونَ الْحَقَّ مِنَ الْبَاطِلِ - يَمُوجُونَ فِيهَا مَوْجاً ويَمْرُجُونَ فِيهَا مَرْجاً - فَلَا تَكُونَنَّ لِمَرْوَانَ سَيِّقَةً يَسُوقُكَ حَيْثُ شَاءَ بَعْدَ جَلَالِ السِّنِّ - وتَقَضِّي الْعُمُرِ فَقَالَ لَه عُثْمَانُرضي‌الله‌عنه س - كَلِّمِ النَّاسَ فِي أَنْ يُؤَجِّلُونِي - حَتَّى أَخْرُجَ إِلَيْهِمْ مِنْ مَظَالِمِهِمْ - فَقَالَعليه‌السلام - مَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَلَا أَجَلَ فِيه - ومَا غَابَ فَأَجَلُه وُصُولُ أَمْرِكَ إِلَيْه.

(۱۶۵)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يذكر فيها عجيب خلقة الطاوس

خلقة الطيور

ابْتَدَعَهُمْ خَلْقاً عَجِيباً مِنْ حَيَوَانٍ ومَوَاتٍ - وسَاكِنٍ وذِي حَرَكَاتٍ؛وأَقَامَ

اور وہ اس طرح چکر کھائے گا جس طرح چکی۔اس کے بعد اسے قعر جہنم میں جکڑ دیا جائے گا۔میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ خدارا تم اس امت کے مقتول پیشوا نہ بنو اس لئے کہ دور قدیم سے کہاجا رہا ہے کہ اس امت میں ایک پیشوا قتل کیا جائے گا جس کے بعد قیامت تک قتل و قتال کا دروازہ کھل جائے گا اور سارے امور مشتبہ ہو جائیں گے اور فتنے پھیل جائیں گے اور لوگ حق و باطل میں امتیاز نہ کر سکیں گے اور اسی میں چکر کھاتے رہیں گے اور تہ و بالا ہوتے رہیں گے ۔خدارا امروان کی سواری نہ بن جائو کہ وہ جدھر چاہے کھینچ کرلے جائے کہ تمہارا سن زیادہ ہوچکا ہے اور تمہاری عمر خاتمہ کے قریب آچکی ہے۔

عثمان نے اس ساری گفتگو کو سن کر کہا کہ آپ ان لوگوں سے کہہ دیں کہ ذرا مہلت دیں تاکہ میں ان کی حق تلفیوں کا علا ج کرس کوں؟ آپ نے فرمایا کہ جہاں تک مدینہ کے معاملات کا تعلق ہے ان میں کسی مہلت کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور جہاں تک باہر کے معاملات کاتعلق ہے ان میں صرف اتنی مہلت دی جا سکتی ہے کہ تمہاراحکم وہاں تک پہنچ جائے۔

(۱۶۵)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں مورکی عجیب وغریب خلقت کاتذکرہ کیا گیا ہے )

اللہ نے اپنی تمام مخلوقات کو عجیب وغریب بنایا ہےچاہے وہ ذی حیات ہوں یا بےجان۔ساکن ہوں یامتحرک اوران سب


مِنْ شَوَاهِدِ الْبَيِّنَاتِ عَلَى لَطِيفِ صَنْعَتِه - وعَظِيمِ قُدْرَتِه - مَا انْقَادَتْ لَه الْعُقُولُ مُعْتَرِفَةً بِه ومَسَلِّمَةً لَه - ونَعَقَتْ فِي أَسْمَاعِنَا دَلَائِلُه عَلَى وَحْدَانِيَّتِه - ومَا ذَرَأَ مِنْ مُخْتَلِفِ صُوَرِ الأَطْيَارِ - الَّتِي أَسْكَنَهَا أَخَادِيدَ الأَرْضِ - وخُرُوقَ فِجَاجِهَا ورَوَاسِيَ أَعْلَامِهَا - مِنْ ذَاتِ أَجْنِحَةٍ مُخْتَلِفَةٍ وهَيْئَاتٍ مُتَبَايِنَةٍ - مُصَرَّفَةٍ فِي زِمَامِ التَّسْخِيرِ - ومُرَفْرِفَةٍ بِأَجْنِحَتِهَا فِي مَخَارِقِ الْجَوِّ الْمُنْفَسِحِ - والْفَضَاءِ الْمُنْفَرِجِ - كَوَّنَهَا بَعْدَ إِذْ لَمْ تَكُنْ فِي عَجَائِبِ صُوَرٍ ظَاهِرَةٍ - ورَكَّبَهَا فِي حِقَاقِ مَفَاصِلَ مُحْتَجِبَةٍ - ومَنَعَ بَعْضَهَا بِعَبَالَةِ خَلْقِه أَنْ يَسْمُوَ فِي الْهَوَاءِ خُفُوفاً - وجَعَلَه يَدِفُّ دَفِيفاً - ونَسَقَهَا عَلَى اخْتِلَافِهَا فِي الأَصَابِيغِ بِلَطِيفِ قُدْرَتِه - ودَقِيقِ صَنْعَتِه.

کے ذریعہ اپنی لطیف صنعت اور عظیم قدرت کے وہ شواہد قائم کردئیے ہیں جن کے سامنے عقلیں بکمال اعتراف و تسلیم سرخم کئے ہوئے ہیں اور پھر ہمارے کانوں میں اس کی وحدانیت کے دلائل ان مختلف صورتوں(۱) کے پرندوںکی تخلیق کی شکل میں گونج رہے ہیں جنہیں زمین کے گڑھو ۔دروں کے شگافوں ' پہاڑوں کی بلندیوں پرآباد کیا ہے جن کے پر مختلف قسم کے اورجن کی ہئیت جدا گانہ انداز کی ہے اور انہیں تسخیر کی زمام کے ذریعہ حرکت دی جا رہی ہے اور وہ اپنے پروں کو وسیع فضا کے راستوں اور کشادہ ہوا کی وسعتوں میں پھڑ پھڑا رہے ہیں۔انہیں عالم عدم سے نکال کرعجیب و غریب ظاہری صورتوں میں پیدا کیا ہے اور گوشت و پوست میں ڈھکے ہوئے جوڑوں کے سروں سے ان کے جسموں کی ساخت قائم کی ہے۔بعض کو ان کے جسم کی سنگینی نے ہوا میں بلند ہو کر تیز پرواز سے روک دیا ہے اوروہ صرف ذرا اونچے ہوکر پرواز کر رہے ہیں اور پھر اپنی لطیف قدرت اور دقیق صنعت کے ذریعہ انہیں مختلف رنگوں کے ساتھ منظم و مرتب کیا ہے

(۱)علم الحیوان کے ماہر روبرٹ سن کابیان ہے کہ دنیا میں ایک ارب قسم کے پرندے پائے جاتے ہیں اور سب اپنے اپنے مقام پرعجیب و غریب خلقت کے مالک ہیں سب سے بڑا پرندہ شتر مرغ ہے اور سب سے چھوٹا طنان جس کا طول پانچ سینٹی میٹر ہوتا ہے لیکن ایک گھنٹہ میں ۸۰۔۹۰ کلو میٹر پرواز کر لیتا ہے اور ایک سکنڈ میں ۵۰ سے لے کر ۲۰۰ مرتبہ اپنے پروں کو حرکت دیتا ہے۔بعض پرندوں کا ایک قدم چھ میٹر کے برابر ہوتا ہے اور وہ زمین پر ۸۰ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتے ہیں اوربعض چھ ہزار میٹرکی بلندی پر پرواز کر سکتے ہیں ۔بعض پانی کے اندر ۱۸ میٹر کی گہرائی تک چلے جاتے ہیں اور بعض صرف سمندروں کے اس پار سے اس پار تک چکر لگاتے رہتے ہیں۔ لیکن ان سب سے زیادہ حیرت انگیز امیر المومنین کی نگاہ میں مور کی خلقت ہے جس کو مختلف رنگوں میں رنگ دیا گیا ہے اور مختلف خصوصیات سے نوازدیا گیا ہے اور بات ہے کہ بہترین پروں کے ساتھ نازک ترین پیر بھی دیدئیے گئے ہیں تاکہ اس میں بھی غرورنہ پیدا ہو اور انسان کوب ھی ہوش آجائے کہ جس کے وجود کا ایک رخ رنگین ہوتا ہے اور اس کا دوسرا رخ کمزور بھی ہوتا ہے لہٰذا غرور و استکبار کا کوئی امکان نہیں ہے۔بلکہ تقاضائے شرافت یہ ہے کہ حسین رخ کا شکیرہ ادا کرے کہ یہ بھی مالک کا کرم ہے اس کا اپنا کوئی حق نہیں ہے جسے مالک نے اداکردیا ہو۔


- فَمِنْهَا مَغْمُوسٌ فِي قَالَبِ لَوْنٍ لَا يَشُوبُه غَيْرُ لَوْنِ مَا غُمِسَ فِيه - ومِنْهَا مَغْمُوسٌ فِي لَوْنِ صِبْغٍ قَدْ طُوِّقَ بِخِلَافِ مَا صُبِغَ بِه

الطاوس

ومِنْ أَعْجَبِهَا خَلْقاً الطَّاوُسُ - الَّذِي أَقَامَه فِي أَحْكَمِ تَعْدِيلٍ - ونَضَّدَ أَلْوَانَه فِي أَحْسَنِ تَنْضِيدٍ - بِجَنَاحٍ أَشْرَجَ قَصَبَه وذَنَبٍ أَطَالَ مَسْحَبَه - إِذَا دَرَجَ إِلَى الأُنْثَى نَشَرَه مِنْ طَيِّه - وسَمَا بِه مُطِلاًّ عَلَى رَأْسِه - كَأَنَّه قِلْعُ دَارِيٍّ عَنَجَه نُوتِيُّه - يَخْتَالُ بِأَلْوَانِه ويَمِيسُ بِزَيَفَانِه - يُفْضِي كَإِفْضَاءِ الدِّيَكَةِ - ويَؤُرُّ بِمَلَاقِحِه أَرَّ الْفُحُولِ الْمُغْتَلِمَةِ لِلضِّرَابِ - أُحِيلُكَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى مُعَايَنَةٍ - لَا كَمَنْ يُحِيلُ عَلَى ضَعِيفٍ إِسْنَادُه - ولَوْ كَانَ كَزَعْمِ مَنْ يَزْعُمُ - أَنَّه يُلْقِحُ بِدَمْعَةٍ تَسْفَحُهَا مَدَامِعُه - فَتَقِفُ فِي ضَفَّتَيْ جُفُونِه - وأَنَّ أُنْثَاه تَطْعَمُ ذَلِكَ - ثُمَّ تَبِيضُ لَا مِنْ لِقَاحِ

کہ بعض ایک ہی رنگ میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ دوسرے رنگ کا شائبہ بھی نہیں ہے اور بعض ایک رنگ میں رنگے ہوئے ہیں لیکن ان کے گلے کا طوق دوسرے رنگ کا ہے۔

(طائوس)

ان سب میں عجیب ترین خلقت مور کی ہے جسے محکم ترین توازن کے سانحہ میں ڈھال دیا ہے اور اس کے رنگوں میں حسین ترین تنظیم قائم کی ہے اسے وہ رنگین پردے ہیں جن کی جڑوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے اور وہ دم دی ہے جو دور تک کھینچتی چلی جاتی ہے ۔جب وہ اپنی مادہ کا رخ کرتا ہے تو اسے پھیلا لیتا ہے(۱) اور اپنے سر کے اوپر اس طرح سایہ فگن کر لیتا ہے جیسے مقام دارین کی کشتی کا بادبان جسے ملاح ادھرادھر موڑ رہا ہو۔وہ اپنے رنگوںپراترتا ہے اوراس کی جنبشوں کے ساتھ جھومنے لگتا ہے۔اپنی مادہ سے اس طرح جفتی کھاتا ہے جس طرح مرغ اوراسے اس طرح حاملہ بناتا ہے جس طرح جوش و ہیجان میں ھبرے ہوئے جانور۔میں اس مسئلہ میں تمہیں مشاہدہ کے حوالہ کر رہا ہوں۔نہ اس شخص کی طرح جو کسی کمزور سند کے حوالہ کردے اور اگر گمان کرنے والوں کا یہ گمان صحیح ہوتا کہ وہ ان آنسوئوں کے ذریعہ حمل ٹھہراتا ہے جواس کیآنکھوں سے باہرنکل کرپلکوں پر ٹھہر جاتے ہیں اور مادہ اسے پی لیتی ہے اس کے بعد انڈے دیتی ہے اور اس میں نرو مادہ کا کوئی اتصال نہیں ہوتا ہے سوائے ان پھوٹ پڑنے

(۱)ایک حسین ترین فطرت ہے کہ نر اپنی مادہ کے پاس جائے تو حسن و جمال کے ساتھ جائے تاکہاسے بھی انس حاصل ہو اوروہ بھی اپنے نرکے جمال پر فخر کر سکے ایسا نہ ہوکہ عمل فقط ایک جنسی عمل رہ جائے اور سکون نفس کا کوئی راستہ نہ نکل سکے۔


فَحْلٍ سِوَى الدَّمْعِ الْمُنْبَجِسِ - لَمَا كَانَ ذَلِكَ بِأَعْجَبَ مِنْ مُطَاعَمَةِ الْغُرَابِ تَخَالُ قَصَبَه مَدَارِيَ مِنْ فِضَّةٍ - ومَا أُنْبِتَ عَلَيْهَا مِنْ عَجِيبِ دَارَاتِه - وشُمُوسِه خَالِصَ الْعِقْيَانِ وفِلَذَ الزَّبَرْجَدِ - فَإِنْ شَبَّهْتَه بِمَا أَنْبَتَتِ الأَرْضُ - قُلْتَ جَنًى جُنِيَ مِنْ زَهْرَةِ كُلِّ رَبِيعٍ - وإِنْ ضَاهَيْتَه بِالْمَلَابِسِ فَهُوَ كَمَوْشِيِّ الْحُلَلِ - أَوْ كَمُونِقِ عَصْبِ الْيَمَنِ - وإِنْ شَاكَلْتَه بِالْحُلِيِّ فَهُوَ كَفُصُوصٍ ذَاتِ أَلْوَانٍ - قَدْ نُطِّقَتْ بِاللُّجَيْنِ الْمُكَلَّلِ - يَمْشِي مَشْيَ الْمَرِحِ الْمُخْتَالِ ويَتَصَفَّحُ ذَنَبَه وجَنَاحَيْه - فَيُقَهْقِه ضَاحِكاً لِجَمَالِ سِرْبَالِه وأَصَابِيغِ وِشَاحِه - فَإِذَا رَمَى بِبَصَرِه إِلَى قَوَائِمِه - زَقَا مُعْوِلًا بِصَوْتٍ يَكَادُ يُبِينُ عَنِ اسْتِغَاثَتِه - ويَشْهَدُ بِصَادِقِ تَوَجُّعِه - لأَنَّ قَوَائِمَه حُمْشٌ كَقَوَائِمِ الدِّيَكَةِ الْخِلَاسِيَّةِ وقَدْ نَجَمَتْ مِنْ ظُنْبُوبِ سَاقِه صِيصِيَةٌ خَفِيَّةٌ - ولَه فِي مَوْضِعِ الْعُرْفِ قُنْزُعَةٌ خَضْرَاءُ مُوَشَّاةٌ -

والے آنسوئوں کے تویہ بات کوے کے باہمی کھانے پینے کے ذریعہ حمل ٹھہرانے سے زیادہ تعجب خیز نہ ہوتی۔ تم اس کی رنگینی پر غور کرو تو ایسا محسوس کروگے جیسے پروں کی درمیانی تیلیاں چاندی کی سلائیاں ہیں اور ان پر جو عجیب و غریب ہالے اورسورج کی شعاعوں جیسے جو پرو بال اگ آئے ہیں وہ خالص سونے اور زمرد کے ٹکڑے ہیں اور اگر انہیں زمین کے نباتات سے تشبیہ دینا چاہو گے تو یہ کہو گے کہ یہ ہر موسم بہارکے پھولوں(۱) کا ایک شگوفہ ہے اور اگر لباس سے تشبیہ دینا چاہوگے تو کہو گے کہ یہ نقش دار حلوں یا خوشنما یمنی چادروں جیسے ہیں اور اگر زیورات ہی سے تشبیہ دینا چاہو گے تو اس طرح کہو گے کہی ہ رنگ برنگ کے نگینے ہیں جوچاندی کے دائروں میں جڑ دئیے گئے ہیں۔یہ جانور اپنی رفتار میں ایک مغرور اور متکبر شخص کی طرح خرام ناز سے چلتا ہے اور اپنے بال و پر اور اپنی دم کو دیکھتا رہتا ہے۔اپنے فطری لباس کی خوبصورتی اوراپنی چادر حیات کی رنگینی کودیکھ کر قہقہہ لگاتا ہے اور اس کے بعد جب پیروں پر نظر پڑ جاتی ہے تو اس طرح بلند آوازسے روتا ہے جیسے فطرت کی ستم ظریفی کی فریاد کررہا ہو اوراپنے واقعی درد دل کی شہادت دے رہا ہو اس لئے کہ اس کے پیر دوغلے مرغوں کے پیروں کی طرح دبلے پتلے اور باریک ہوتے ہیں اور اس کی پنڈلی کے کنارہ پر ایک ہلکا سا کانٹا ہوتا ہے اور اس کی گردن پربالوں کے بدلے سبز رنگ کے منقش پروں کا ایک گچھا ہوتا ہے

(۱)کہا جاتا ہے کہ صرف فلپین میں دس ہزار قسم کے پھول پائے جاتے ہیں تو باقی کائنات کا کیا ذکر ہے۔


ومَخْرَجُ عَنُقِه كَالإِبْرِيقِ - ومَغْرِزُهَا إِلَى حَيْثُ بَطْنُه كَصِبْغِ الْوَسِمَةِ الْيَمَانِيَّةِ – أَوْ كَحَرِيرَةٍ مُلْبَسَةٍ مِرْآةً ذَاتَ صِقَالٍ - وكَأَنَّه مُتَلَفِّعٌ بِمِعْجَرٍ أَسْحَمَ - إِلَّا أَنَّه يُخَيَّلُ لِكَثْرَةِ مَائِه وشِدَّةِ بَرِيقِه - أَنَّ الْخُضْرَةَ النَّاضِرَةَ مُمْتَزِجَةٌ بِه - ومَعَ فَتْقِ سَمْعِه خَطٍّ كَمُسْتَدَقِّ الْقَلَمِ فِي لَوْنِ الأُقْحُوَانِ - أَبْيَضُ يَقَقٌ فَهُوَ بِبَيَاضِه فِي سَوَادِ مَا هُنَالِكَ يَأْتَلِقُ - وقَلَّ صِبْغٌ إِلَّا وقَدْ أَخَذَ مِنْه بِقِسْطٍ - وعَلَاه بِكَثْرَةِ صِقَالِه وبَرِيقِه - وبَصِيصِ دِيبَاجِه ورَوْنَقِه - فَهُوَ كَالأَزَاهِيرِ الْمَبْثُوثَةِ لَمْ تُرَبِّهَا أَمْطَارُ رَبِيعٍ - ولَا شُمُوسُ قَيْظٍ وقَدْ يَنْحَسِرُ مِنْ رِيشِه ويَعْرَى مِنْ لِبَاسِه - فَيَسْقُطُ تَتْرَى ويَنْبُتُ تِبَاعاً

۔اس کی گردن کا پھیلائو صراحی کی گردن کی طرح ہوتا ہے اور اس کے گرد نے کی جگہ سے لے کر پیٹ تک کا حصہ یمنی وسمہ جیسا سبز رنگ یا اس ریشم جیسا ہوتا ہے جسے صیقل کئے ہوئے آئینہ پر پہنادیا گیا ہو۔ایسا معلوم ہوتا ہے وہ سیاہ رنگ کی اوڑھنی میں لپٹا ہوا ہے لیکن وہ اپنی آب و تاب کی کثرت اور چمک دمک کی شدت سے اس طرح محسوس ہوتی ہے جیسے اس میں ترو تازہ سبزی الگ سے شامل کردی گئی ہو۔اس کے کانوں کے شگاف سے متصل بابونہ کے پھولوں جیسی نوک قلم کے مانند ایک باریک لکیر ہوتی ہے اور وہ اپنی سفیدی کے ساتھ اس جگہ کی سیاہی کے درمیان چمکتی رہتی ہے۔شائد ہی کوئی رنگ ایسا ہو جس کا کوئی حصہ اس جانور کو نہ ملا ہو مگراس لکیر کی صیقل اوراس کے ریشمی پیکر کی چمک دمک سب پرغالب رہتی ہے۔اس کی مثال ان بکھری ہوئی کلیوں کے مانند ہوتی ہے جنہیں نہ بہار کی بارشوں نے پالا ہو اور نہ گرمی کے سورج کی شعاعوں نے ۔وہ کبھی کبھی اپنے بال و پر سے جدابھی ہو جاتا ہے اوراس رنگین لباس کو اتارکربرہنہ ہو جاتا ہے۔اس کے بال و پر جھڑ جاتے ہیں اور دوبارہ(۱) پھر اگ آتے ہیں۔

(۱)بعض افراد کا خیال ہے کہ مور کے بدن میں تقریباً تین ہزار سے چار ہزار تک پر ہوتے ہیں اور وہ انہیں پروں کو دیکھ کراکڑتا رہتا ہے اورصحرا میں رقص کرتا رہتا ہے ۔یہ اور بات ہے کہ اپنے کمال کا مظاہرہ وہاں کرتا ہے جہاں کوئی قدر داں نہیں ہوتا ہے اورنہ اس سے استفادہ کرنے والا ہوتا ہے۔صرف اپنی ذات کی تسکین اور اپنی انا کی تسلی کا سامان فراہم کرتا ہے اوریہی فرق ہے انسان اور حیوان میں کہ انسانی کمالات انا کی تسکین اور تسلی کے لئے نہیں ہیں ان کا مصرف خلق خدا کو فائدہ پہنچانا اور سماج کو فضیاب کرنا ہے۔لہٰذا انسان اپنے کمالات سے معاشرہ کو مستفیض کرتا ہے تو انسان ہے ورنہایک مور ہے جو صحرا میں ناچتا رہتا ہے اوراپنے نفس کو خوش کرتا رہتا ہے۔یہ اور بات ہے کہ یہ خوشی بھی دائمی نہیں ہوتی اوراسے بھی چند لمحوں میں پیروں کی حقارت ختم کر دیتی ہے اورایک نیا سبق سکھا دیتی ہے کہ عمومی افادیت تو کام بھی آسکتی ہے اور اسے دوام بھی مل سکتا ہے۔لیکن ذاتی تسکین کی نہ کوئی حقیقت ہے اور نہاسے دوام نصیب ہو سکتا ہے۔


فَيَنْحَتُّ مِنْ قَصَبِه انْحِتَاتَ أَوْرَاقِ الأَغْصَانِ - ثُمَّ يَتَلَاحَقُ نَامِياً حَتَّى يَعُودَ كَهَيْئَتِه قَبْلَ سُقُوطِه - لَا يُخَالِفُ سَالِفَ أَلْوَانِه - ولَا يَقَعُ لَوْنٌ فِي غَيْرِ مَكَانِه - وإِذَا تَصَفَّحْتَ شَعْرَةً مِنْ شَعَرَاتِ قَصَبِه - أَرَتْكَ حُمْرَةً وَرْدِيَّةً وتَارَةً خُضْرَةً زَبَرْجَدِيَّةً - وأَحْيَاناً صُفْرَةً عَسْجَدِيَّةً - فَكَيْفَ تَصِلُ إِلَى صِفَةِ هَذَا عَمَائِقُ الْفِطَنِ - أَوْ تَبْلُغُه قَرَائِحُ الْعُقُولِ - أَوْ تَسْتَنْظِمُ وَصْفَه أَقْوَالُ الْوَاصِفِينَ!وأَقَلُّ أَجْزَائِه قَدْ أَعْجَزَ الأَوْهَامَ أَنْ تُدْرِكَه - والأَلْسِنَةَ أَنْ تَصِفَه - فَسُبْحَانَ الَّذِي بَهَرَ الْعُقُولَ عَنْ وَصْفِ خَلْقٍ جَلَّاه لِلْعُيُونِ - فَأَدْرَكَتْه مَحْدُوداً مُكَوَّناً ومُؤَلَّفاً مُلَوَّناً - وأَعْجَزَ الأَلْسُنَ عَنْ تَلْخِيصِ صِفَتِه - وقَعَدَ بِهَا عَنْ تَأْدِيَةِ نَعْتِه!

صغار المخلوقات

وسُبْحَانَ مَنْ أَدْمَجَ قَوَائِمَ الذَّرَّةِ - والْهَمَجَةِ إِلَى مَا فَوْقَهُمَا مِنْ خَلْقِ الْحِيتَانِ والْفِيَلَةِ - ووَأَى عَلَى نَفْسِه أَلَّا يَضْطَرِبَ شَبَحٌ مِمَّا أَوْلَجَ فِيه الرُّوحَ -

یہ بال و پر اس طرح گرتے ہیں جیسے درخت کی شاخوں سے پتے گرتے ہیں اور پھر دوبارہ یوں اگ آتے ہیںکہ بالکل پہلے جیسے ہو جاتے ہیں ۔نہ پرانے رنگوں سے کوئی مختلف رنگ ہوتا ہے اور نہ کسی رنگ کی جگہ تبدیل ہوتی ہے۔بلکہ اگر تم اس کے ریشوں میں کسی ایک ریشہ پر بھی غور کرو گے تو تمہیں کبھی گلاب کی سرخی نظر آئے گی اور کبھی زمرد کی سبزی اور پھر کبھی سونے کی زردی۔بھلا اس تخلیق کی توصیف تک فکروں کی گہرائیاں کس طرح پہنچ سکتی ہیں اور ان دقائق کو عقل کی جودت کس طرح پا سکتی ہے یا تو صیف کرنے والے اس کے اوصاف کو کس طرح مرتب کر سکتے ہیں۔

جب کہ اس کے چھوٹے سے ایک جزء نے اوہام کو وہاں تک رسائی سے عاجز کردیا ہے اور زبانوں کی اس کی توصیف سے درماندہ کردیا ہے۔

پاک و بے نیاز ہے وہ مالک جس نے عقلوں کو متحیر کردیا ہے اس ایک مخلوق کی توصیف سے جسے نگاہوں کے سامنے واضح کردیا ہے اور نگاہوں نے اسے محدود اور مرتب و مرکب و ملون شکل میں دیکھ لیا ہے اور پھر زبان کو بھی اس کی صفت کا خلاصہ بیان کرنے اوراس کی تعریف کا حق ادا کرنے سے عاجز کردیا۔

اور پاک و پاکیزہ ہے وہ ذات جس نے چیونٹی اور مچھر سے لے کر ان سے بڑی مچھلیوں اور ہاتھیوں تک کے پیروں کو مضبوط و مستحکم بنایا ہے اور اپنے لئے لازم قرار دے لیا ہے کہ کوئی ذی روح ڈھانچہ حرکت نہیں کر ے گا


إِلَّا وجَعَلَ الْحِمَامَ مَوْعِدَه والْفَنَاءَ غَايَتَه.

منها في صفة الجنة

فَلَوْ رَمَيْتَ بِبَصَرِ قَلْبِكَ نَحْوَ مَا يُوصَفُ لَكَ مِنْهَا - لَعَزَفَتْ نَفْسُكَ عَنْ بَدَائِعِ مَا أُخْرِجَ إِلَى الدُّنْيَا - مِنْ شَهَوَاتِهَا ولَذَّاتِهَا وزَخَارِفِ مَنَاظِرِهَا - ولَذَهِلَتْ بِالْفِكْرِ فِي اصْطِفَاقِ أَشْجَارٍ - غُيِّبَتْ عُرُوقُهَا فِي كُثْبَانِ الْمِسْكِ عَلَى سَوَاحِلِ أَنْهَارِهَا - وفِي تَعْلِيقِ كَبَائِسِ اللُّؤْلُؤِ الرَّطْبِ فِي عَسَالِيجِهَا وأَفْنَانِهَا - وطُلُوعِ تِلْكَ الثِّمَارِ مُخْتَلِفَةً فِي غُلُفِ أَكْمَامِهَا - تُجْنَى مِنْ غَيْرِ تَكَلُّفٍ فَتَأْتِي عَلَى مُنْيَةِ مُجْتَنِيهَا - ويُطَافُ عَلَى نُزَّالِهَا فِي أَفْنِيَةِ قُصُورِهَا - بِالأَعْسَالِ الْمُصَفَّقَةِ والْخُمُورِ الْمُرَوَّقَةِ - قَوْمٌ لَمْ تَزَلِ الْكَرَامَةُ تَتَمَادَى بِهِمْ - حَتَّى حَلُّوا دَارَ الْقَرَارِ وأَمِنُوا نُقْلَةَ الأَسْفَارِ - فَلَوْ شَغَلْتَ قَلْبَكَ أَيُّهَا الْمُسْتَمِعُ - بِالْوُصُولِ إِلَى مَا يَهْجُمُ عَلَيْكَ مِنْ تِلْكَ الْمَنَاظِرِ الْمُونِقَةِ - لَزَهِقَتْ نَفْسُكَ شَوْقاً إِلَيْهَا -

مگر یہ کہ اس کی اصلی وعدہ گاہ موت(۱) ہوگی اور اس کا انجام کا رفنا ہوگا۔

اب اگر تم ان بیانات پر دل کی نگاہوں سے نظر ڈالو گے تو تمہارا نفس دنیا کی تمام شہوتوں ۔لذتوں اور زینتوں سے بیزار ہو جائے گا اور تمہاری فکر ان درختوں کے پتوں کی کھڑ کھڑاہٹ میں گم ہو جائے گی جن کی جڑیں ساحل دریا پر مشک کے ٹیلوں میں ڈوبی ہوئی ہیں اور ان ترو تازہ موتیوں کے گچھوں کے لٹکنے اور سبز پتیوں کے غلافوں میں مختلف قسم کے پھلوں کے نکلنے کے نظاروں میں گم ہو جائے گی جنہیں بغیر کسی زحمت کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اور وہاں وارد ہونے والوں کے گرد محلوں کے آنگنوں میں صاف و شفاف شہد اورپاک و پاکیزہ شراب کے دور چل رہے ہوں گے۔وہاں وہ قوم ہوگی جس کی کرامتوں نے اسے کھینچ کر ہمیشگی کی منزل تک پہنچا دیا ہے اور انہیں سفر کی مزید زحمت سے محفوظ کردیا ہے۔اسے میری گفتگو سننے والو! اگر تم لوگ اپنے دلوں کو مشغول کرلو اس منزل تک پہنچنے کے لئے جہاں یہ دلکش نظارے پائے جاتے ہیں تو تمہاری جان اشتیاق کے مارے از خود نکل جائے گی

(۱) کیا عبرت ناک ہے یہ زندگی ایک طرف راحتیں ،لذتیں ، آرائشیں، زیبائشیںہیں اور دوسری طرف موت کا بھیانک چہرہ! انسان ایک نظر اسآرائش وزیبائش کی طرف کتا ہے اور دوسری نظر اس کے انجام کارکی طرف۔بالکل ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک طرف مور کے پر ہیں اور دوسری طرف پیر۔پروں کو دیکھ کر غرور پیدا ہوتا ہے اور پیروں کو دیکھ کر اوقات کا اندازہ ہو جاتا ہے۔

انسان اپنی زندگی کے حقائق پرنظر کرے تو اسے اندازہ ہوگا کہ اس کی پوری حیات ایک مور کی زندگی ہے جہاں ایک طرف راحت و آرام ، آرائش و زیبائش کا ہنگامہ ہے اور دوسری طرف موت کا بھیانک چہرہ۔

ظاہر ہے کہ جو انسان اس چہرہ کو دیکھ لے اسے کوئی چیز حسین اور دلکش محسوس نہ ہوگی اور وہ اس پر فریب دنیا سے جلد از جلد نجات حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔


ولَتَحَمَّلْتَ مِنْ مَجْلِسِي هَذَا - إِلَى مُجَاوَرَةِ أَهْلِ الْقُبُورِ اسْتِعْجَالًا بِهَا - جَعَلَنَا اللَّه وإِيَّاكُمْ مِمَّنْ يَسْعَى بِقَلْبِه - إِلَى مَنَازِلِ الأَبْرَارِ بِرَحْمَتِه.

تفسير بعض ما في هذه الخطبة من الغريب

قال السيد الشريفرضي‌الله‌عنه - قولهعليه‌السلام يؤر بملاقحه الأر كناية عن النكاح - يقال أر الرجل المرأة يؤرها إذا نكحها -. وقولهعليه‌السلام كأنه قلع داري عنجه نوتيه - القلع شراع السفينة - وداري منسوب إلى دارين - وهي بلدة على البحر يجلب منها الطيب - وعنجه أي عطفه - يقال عنجت الناقة كنصرت أعنجها عنجا إذا عطفتها - والنوتي الملاح -. وقولهعليه‌السلام ضفتي جفونه أراد جانبي جفونه - والضفتان الجانبان -. وقولهعليه‌السلام وفلذ الزبرجد - الفلذ جمع فلذة وهي القطعة -. وقولهعليه‌السلام كبائس اللؤلؤ الرطب - الكباسة العذق - والعساليج الغصون واحدها عسلوج

اور تم میری اس مجلس سے اٹھ کر قبروں میں رہنے والوں کی ہمسائیگی کے لئے آمادہ ہو جائو گے تاکہ جلد یہ نعمتیں حاصل ہوجائیں۔

اللہ ہمیں اور تمہیں دونوں کو اپنی رحمت کے طفیل ان لوگوں میں قراردے جو اپنے دل کی گہرائیوں سے نیک کردار بندوں کی منزلوں کے لئے سعی کر رہے ہیں۔

(بعض الفاظ کی وضاحت)

یور بملاقحہ۔ار نکاح کا کنایہ ہے کہ جب کوئی شخص نکاح کرتا ہے تو کہا جاتا ہے ار الرجل۔

حضرت کا ارشاد''کانہ قلع داری عنجہ نوتیہ '' قلع کشتی کے بادبان کو کہا جاتا ہے اور داری مقام دارین کی طرف منسوب ہے جو ساحل بحر پرآباد ہے اور وہاں سے خوشبو وغیرہ وارد کی جاتی ہے۔

عنجہ یعنی موڑ دیا جس کا استعمال اس طرح ہوتا ہے کہ عنجت الناقة یعنی میں نے اونٹنی کے رخ کو موڑ دیا۔

نوتی ملاح کو کہاجاتا ہے۔ضفتی جفرنہ یعنی پلکوں کے کنارے ۔صفتان یعنی دونوں کنارے ۔

فلذ الزبرجد۔فلذ فلذة کی جمع ہے یعنی ٹکڑا۔

کبائس اللئو لوء الرطب ۔کباسہ کھجور کا خوشہ

عیالج جمع علوج ۔شاخیں


(۱۶۶)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

الحث على التآلف

لِيَتَأَسَّ صَغِيرُكُمْ بِكَبِيرِكُمْ - ولْيَرْأَفْ كَبِيرُكُمْ بِصَغِيرِكُمْ - ولَا تَكُونُوا كَجُفَاةِ الْجَاهِلِيَّةِ - لَا فِي الدِّينِ يَتَفَقَّهُونَ ولَا عَنِ اللَّه يَعْقِلُونَ - كَقَيْضِ بَيْضٍ فِي أَدَاحٍ - يَكُونُ كَسْرُهَا وِزْراً ويُخْرِجُ حِضَانُهَا شَرّاً.

بنو أمية

ومنها - افْتَرَقُوا بَعْدَ أُلْفَتِهِمْ وتَشَتَّتُوا عَنْ أَصْلِهِمْ - فَمِنْهُمْ آخِذٌ بِغُصْنٍ أَيْنَمَا مَالَ مَالَ مَعَه - عَلَى أَنَّ اللَّه تَعَالَى سَيَجْمَعُهُمْ لِشَرِّ يَوْمٍ لِبَنِي أُمَيَّةَ - كَمَا تَجْتَمِعُ قَزَعُ الْخَرِيفِ - يُؤَلِّفُ اللَّه بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَجْمَعُهُمْ رُكَاماً كَرُكَامِ السَّحَابِ - ثُمَّ يَفْتَحُ لَهُمْ أَبْوَاباً - يَسِيلُونَ مِنْ مُسْتَثَارِهِمْ كَسَيْلِ الْجَنَّتَيْنِ - حَيْثُ لَمْ تَسْلَمْ عَلَيْه قَارَةٌ - ولَمْ تَثْبُتْ عَلَيْه أَكَمَةٌ - ولَمْ يَرُدَّ سَنَنَه رَصُّ طَوْدٍ ولَا حِدَابُ أَرْضٍ - يُذَعْذِعُهُمُ اللَّه فِي بُطُونِ أَوْدِيَتِه -

(۱۶۶)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

دعوت اتحاد و اتفاق

تمہارے چھوٹوں کوچاہیےکہ اپنے بڑوں کی پیروی کریں اوربڑوں کافرض ہےکہ اپنے چھوٹوں پر مہربانی کریں اورخبردار تم لوگ جاہلیت کے ان ظالموں جیسے نہ ہو جانا جو نہ دین کا علم حاصل کرتے تھے اور نہ اللہ کے بارے میں عقل و فہم سے کام لیتے تھےان کی مثال ان انڈوں کے چھلوں جیسی ہے جو شتر مرغ کے انڈے دینے کی جگہ پر رکھے ہوںکہ ان کاتوڑنا تو جرم ہے لیکن پرورش کرنا بھی سوائے شر کے کوئی نتیجہ نہیں دے سکتا ہے۔

(ایک اور حصہ) یہ لوگ باہمی محبت کے بعد الگ الگ ہوگئے اور اپنی اصل سے جدا ہوگئے بعض لوگوں نے ایک شاخکو پکڑ لیا ہے اور اب اسی کے ساتھ جھکتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ انہیں بنی امیہ کے بد ترین دن کیلئے جمع کردے گا جس طرح کہ خریف میں بادل کے ٹکڑے جمع ہو جاتے ہیں ۔پھر ان کے درمیان محبت پیدا کرے گا پھر انہیں تہ بہ تہ ابرکے ٹکڑوں کی طرح ایک مضبوط گروہ بنادے گا۔پھر ان کے لئے ایسے دروازوں کو کھول دے گا کہ یہ اپنے ابھرنے کی جگہ سے شہر صبا کے دو باغوں کے اس سیلاب کی طرح بہ نکلیں گے جن سے نہ کوئی چٹان محفوظ رہی تھی اورنہ کوئی ٹیلہ ٹھہر سکا تھا۔ نہ پہاڑ کی چوٹی اس کے دھارے کو موڑ سکی تھی اورنہ زمین کی اونچائی۔اللہ انہیں گھاٹیوں کے نشیبوں میں متفرق


ثُمَّ يَسْلُكُهُمْ يَنَابِيعَ فِي الأَرْضِ - يَأْخُذُ بِهِمْ مِنْ قَوْمٍ حُقُوقَ قَوْمٍ - ويُمَكِّنُ لِقَوْمٍ فِي دِيَارِ قَوْمٍ - وايْمُ اللَّه لَيَذُوبَنَّ مَا فِي أَيْدِيهِمْ بَعْدَ الْعُلُوِّ والتَّمْكِينِ - كَمَا تَذُوبُ الأَلْيَةُ عَلَى النَّارِ.

الناس آخر الزمان

أَيُّهَا النَّاسُ لَوْ لَمْ تَتَخَاذَلُوا عَنْ نَصْرِ الْحَقِّ - ولَمْ تَهِنُوا عَنْ تَوْهِينِ الْبَاطِلِ - لَمْ يَطْمَعْ فِيكُمْ مَنْ لَيْسَ مِثْلَكُمْ - ولَمْ يَقْوَ مَنْ قَوِيَ عَلَيْكُمْ - لَكِنَّكُمْ تِهْتُمْ مَتَاه بَنِي إِسْرَائِيلَ - ولَعَمْرِي لَيُضَعَّفَنَّ لَكُمُ التِّيه مِنْ بَعْدِي أَضْعَافاً - بِمَا خَلَّفْتُمُ الْحَقَّ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ - وقَطَعْتُمُ الأَدْنَى ووَصَلْتُمُ الأَبْعَدَ - واعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِنِ اتَّبَعْتُمُ الدَّاعِيَ لَكُمْ - سَلَكَ بِكُمْ مِنْهَاجَ الرَّسُولِ وكُفِيتُمْ مَئُونَةَ الِاعْتِسَافِ - ونَبَذْتُمُ الثِّقْلَ الْفَادِحَ عَنِ الأَعْنَاقِ.

(۱۶۷)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في أوائل خلافته

إِنَّ اللَّه سُبْحَانَه أَنْزَلَ كِتَاباً هَادِياً

کردے گا اور پھر انہیں چشموں کے بہائو کی طرح زمین میں پھیلا دے گا۔ان کے ذریعہ ایک قوم کے حقوق دوسری قوم سےحاصل کرےگا اورایک جماعت کودوسری جماعت کے دیر میں اقتدار عطا کرےگا۔خدا کی قسم ان کے اتدار و اختیار کے بعد جو کچھ بھی ان کے ہاتھوں میں ہوگا وہ اس طرح پگھل جائے گا جس طرح کہ آگ پر چربی پگھل جاتی ہے۔

(آخر زمانہ کے لوگ)

ایہا الناس! اگر تم حق کی مدد کرنے میں کوت ا ہی نہ کرتے اورباطل کو کمزور بنانے میں سستی کا مظاہرہ نہ کرتے تو تمہارے بارے میں وہ قوم طمع نہ کرتی جو تم جیسی نہیں ہے اور تم پر یہ لوگ قوی نہ ہو جاتے۔ لیکن افسوس کہ تم بنی اسرائیل کی طرح گمراہ ہوگئے اور میری جان کی قسم میرے بعد تمہاری یہ حیرانی اور سر گردانی دوچند ہو جائے گی کہ تم نے حق کو پس پشت ڈال دیا ہے۔قریب ترین سے قطع تعلق کرلیاہے اور دور والوں سے رشتہ جوڑ لیا ہے۔یادرکھو کہ اگر تم داعی حق کا اتباع کر لیتے تو وہ تمہیں رسول اکرم (ص) کے راستہ پر چلاتا اور تمہیں کجروی کی زحمتوں سے بچالیتا اور تم اس سنگین بوجھ کو اپنی گردنوں سے اتار پھینک دیتے۔

(۱۶۷)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(ابتدائے خلافت کے دورمیں)

پروردگار نے اس کتاب ہدایت کو نازل کیا


بَيَّنَ فِيه الْخَيْرَ والشَّرَّ - فَخُذُوا نَهْجَ الْخَيْرِ تَهْتَدُوا - واصْدِفُوا عَنْ سَمْتِ الشَّرِّ تَقْصِدُوا.

الْفَرَائِضَ الْفَرَائِضَ أَدُّوهَا إِلَى اللَّه تُؤَدِّكُمْ إِلَى الْجَنَّةِ - إِنَّ اللَّه حَرَّمَ حَرَاماً غَيْرَ مَجْهُولٍ - وأَحَلَّ حَلَالًا غَيْرَ مَدْخُولٍ - وفَضَّلَ حُرْمَةَ الْمُسْلِمِ عَلَى الْحُرَمِ كُلِّهَا - وشَدَّ بِالإِخْلَاصِ والتَّوْحِيدِ حُقُوقَ الْمُسْلِمِينَ فِي مَعَاقِدِهَا - فَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِه ويَدِه إِلَّا بِالْحَقِّ - ولَا يَحِلُّ أَذَى الْمُسْلِمِ إِلَّا بِمَا يَجِبُ.

بَادِرُوا أَمْرَ الْعَامَّةِ وخَاصَّةَ أَحَدِكُمْ وهُوَ الْمَوْتُ - فَإِنَّ النَّاسَ أَمَامَكُمْ وإِنَّ السَّاعَةَ تَحْدُوكُمْ مِنْ خَلْفِكُمْ - تَخَفَّفُوا تَلْحَقُوا فَإِنَّمَا يُنْتَظَرُ بِأَوَّلِكُمْ آخِرُكُمْ.

اتَّقُوا اللَّه فِي عِبَادِه وبِلَادِه - فَإِنَّكُمْ

ہے جس میں خیرو شر کی وضاحت کردی ہے لہٰذا تم خیر کے راستہ کو اختیارکرو تاکہ ہدایت پاجائو اور شرکے رخ سے منہ موڑ لو تاکہ سیدھے راستہ پرآجائو۔

فرائض کا خیال رکھو اور انہیں ادا کرو تاکہ وہ تمہیں جنت تک پہنچا دیں۔اللہ نے جس حرام کوحرام قرار دیا ہے وہ مجہول نہیں ہے اور جس حلال کو حلال بنایا ہے وہ مشتبہ نہیں ہے۔اس نے مسلمانوں کی حرمت کو تمام محترم چیزوں سے افضل قرار دیا ہے اور مسلمانوں کے حقوق کو ان کی منزلوں میں اخلاص اور ریگانگت سے باندھ دیا ہے۔اب مسلمان وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے تمام مسلمان(۱) محفوظرہیں مگر یہ کہ کسی حق کی بنا پر ان پر ہاتھ ڈالا جائے اور کسی مسلمان کے لئے مسلمان کو تکلیف دینا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ اس کا واقعی سبب پیدا ہو جائے۔

اس امرکی طرف سبقت کرو جو ہر ایک کے لئے ہے اور تمہارے لئے بھی ہے اور وہ ہے موت۔لوگ تمہارے آگے جا چکے ہیں اور تمہارا وقت تمہیں ہنکا کرلے جا رہا ہے۔سامان ہلکا رکھو تاکہ اگلے لوگوں سے ملحق ہو جائو اس لئے کہ ان پہلے والوں کے ذریعہ تمہارا انتظار کیا جا رہا ہے۔

اللہ سے ڈرو اس کے بندوں کے بارے میں بھی اور شہروں کے بارے میں بھی ۔اس لئے کہ تم سے زمینوں

(۱) اس قانون میں مسلمانوں کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔مسلمان وہی ہوتا ہے جس کے ہاتھ یا اس کی زبان سے کسی فروبشر کو اذیت نہ ہو اور سب اس کے شر سے محفوظ رہیں۔لیکن یہ اسی وقت تک ہے جب کسی کے بارے میں زبان کھولنا یا ہاتھ اٹھانا شر شمار ہو ورنہ اگر انسان اس امر کا مستحق ہوگیا ہے کہ اس کے کردار پر تنقید نہ کرنا اسے قرار واقعی سزا نہ دینا دین خدا کی توہین ہے تو کوئی شخص بھی دین خدا سے زیادہمحترم نہیں ہے۔انسان کا احترام دین خداکے طفیل میں ہے اگر دین خدا ہی کا احترام نہ رہ گیا تو کسی شخص کے احترام کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔


مَسْئُولُونَ حَتَّى عَنِ الْبِقَاعِ والْبَهَائِمِ - أَطِيعُوا اللَّه ولَا تَعْصُوه - وإِذَا رَأَيْتُمُ الْخَيْرَ فَخُذُوا بِه - وإِذَا رَأَيْتُمُ الشَّرَّ فَأَعْرِضُوا عَنْه.

(۱۶۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

بعد ما بويع له بالخلافة، وقد قال له قوم من الصحابة: لو عاقبتقوما ممن أجلب على عثمان فقالعليه‌السلام :

يَا إِخْوَتَاه إِنِّي لَسْتُ أَجْهَلُ مَا تَعْلَمُونَ - ولَكِنْ كَيْفَ لِي بِقُوَّةٍ والْقَوْمُ الْمُجْلِبُونَ - عَلَى حَدِّ شَوْكَتِهِمْ يَمْلِكُونَنَا ولَا نَمْلِكُهُمْ - وهَا هُمْ هَؤُلَاءِ قَدْ ثَارَتْ مَعَهُمْ عِبْدَانُكُمْ - والْتَفَّتْ إِلَيْهِمْ أَعْرَابُكُمْ - وهُمْ خِلَالَكُمْ يَسُومُونَكُمْ مَا شَاءُوا - وهَلْ تَرَوْنَ مَوْضِعاً لِقُدْرَةٍ عَلَى شَيْءٍ تُرِيدُونَه - إِنَّ هَذَا الأَمْرَ أَمْرُ جَاهِلِيَّةٍ - وإِنَّ لِهَؤُلَاءِ الْقَوْمِ مَادَّةً - إِنَّ النَّاسَ مِنْ هَذَا الأَمْرِ إِذَا حُرِّكَ عَلَى أُمُورٍ - فِرْقَةٌ تَرَى مَا تَرَوْنَ وفِرْقَةٌ تَرَى مَا لَا تَرَوْنَ - وفِرْقَةٌ لَا تَرَى هَذَا ولَا ذَاكَ - فَاصْبِرُوا حَتَّى يَهْدَأَ النَّاسُ

اور جانوروں کے بارے میں بھی سوال کیا جائے گا۔اللہ کی اطاعت کرو اورناف رمانی نہ کرو۔خیر کو دیکھو تو فوراً لے لو اور شریرنظر پڑ جائے تو کنارہ کش ہو جائو۔

(۱۶۸)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب بیعت خلافت کے بعد بعض لوگوں نے مطالبہ کیا کہ کاش آپ عثمان پر زیادتی کرنے والوں کو سبزا دیتے )

بھائیو! جو تم جانتے ہو میں اس سے نا واقف نہیں ہوں لیکن میرے پاس اس کی طاقت کہاں ہے ؟ ابھی وہ قوم اپنی طاقت و قوت(۱) پر قائم ہے۔وہ ہمارا اختیار رکھتی ہے اور ہمارے پاس اس کا اختیارنہیں ہے اور پھر تمہارے غلام بھی ان کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور تمہارے دیہاتی بھی ان کے گرد جمع ہوگئے ہیں اور وہ تمہارے درمیان اس حالت میں ہیں کہ تمہیں جس طرح چاہیں اذیت پہنچا سکتے ہیں کیا تمہاری نظر میں جو کچھ تم چاہتے ہو اس کی کوئی گنجائش ہے۔بیشک یہ صرف جہالت اور نادانی کا مطالبہ ہے اور اس قوم کے پاس طاقت کا سرچشمہ موجود ہے۔اس معاملہ میں اگر لوگوں کو حرکت بھی دی جائے تو وہ چند فرقوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔ایک فرقہ وہی سوچے گا جو تم سوچ رہے ہو اور دوسرا گروہ اس کے خلاف رائے کاحامل ہوگا۔تیسرا گروہ دونوں سے غیر جانبدار بن جائے گا لہٰذا مناسب یہی ہے کہ صبر کرو یہاں تک کہ لوگ ذرا


وتَقَعَ الْقُلُوبُ مَوَاقِعَهَا - وتُؤْخَذَ الْحُقُوقُ مُسْمَحَةً - فَاهْدَءُوا عَنِّي وانْظُرُوا مَا ذَا يَأْتِيكُمْ بِه أَمْرِي - ولَا تَفْعَلُوا فَعْلَةً تُضَعْضِعُ قُوَّةً وتُسْقِطُ مُنَّةً - وتُورِثُ وَهْناً وذِلَّةً وسَأُمْسِكُ الأَمْرَ مَا اسْتَمْسَكَ - وإِذَا لَمْ أَجِدْ بُدّاً فَآخِرُ الدَّوَاءِ الْكَيُّ

(۱۶۹)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

عند مسير أصحاب الجمل إلى البصرة

الأمور الجامعة للمسلمين

إِنَّ اللَّه بَعَثَ رَسُولًا هَادِياً بِكِتَابٍ نَاطِقٍ وأَمْرٍ قَائِمٍ - لَا يَهْلِكُ عَنْه إِلَّا هَالِكٌ - وإِنَّ الْمُبْتَدَعَاتِ الْمُشَبَّهَاتِ هُنَّ الْمُهْلِكَاتُ - إِلَّا مَا حَفِظَ اللَّه مِنْهَا - وإِنَّ فِي سُلْطَانِ اللَّه عِصْمَةً لأَمْرِكُمْ - فَأَعْطُوه طَاعَتَكُمْ غَيْرَ مُلَوَّمَةٍ ولَا مُسْتَكْرَه بِهَا - واللَّه لَتَفْعَلُنَّ أَوْ

مطمئن ہو جائیں اور دل ٹھہر جائیں اور اس کے بعد دیکھو کہ میں کیاکرتا ہوں ۔خبر دار کوئی ایسی حرکت نہ کرنا جو طاقت کو کمزور بنادے اور قوت کو پامال کردے اور کمزوری و ذلت کاب اعث ہو جائے۔میں جہاں تک ممکن ہو گا اس جنگ کو روکے رہوں گا۔اس کے بعد جب کوئی چارہ کارنہ رہ جائے گا توآخری علاج داغنا ہی ہوتا ہے۔

(۱۶۹)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جب اصحاب جمل بصرہ کی طرف جا رہے تھے)

اللہ نے اپنے رسول ہادی کو بولتی کتاب اور مستحکم امر کے ساتھ بھیجا ہے اس کے ہوتے ہوئے وہی ہلاک ہو سکتا ہے جس کا مقدر ہی ہلاکت ہو اور نئی نئی بدعتیں اورنئے نئے شبہات ہی ہلاک کرنے والے ہوتے ہیں مگر یہ کہ اللہ ہی کسی کو بچالے اور پروردگار کی طرف سے معین ہونے والا حاکم ہی تمہارے امور کی حفاظت کرسکتا ہے لہٰذا اسے ایسی مکمل اطاعت دے دو جونہ قابل ملامت ہو اورنہ بددلی کا نتیجہ ہو۔خدا کی قسم یا تو

(۱)عثمان کے خلاف قیام کرنے والے صرف مدینہ کے افراد ہوتے جب بھی مقابلہ آسان نہیں تھا۔چہ جائیکہ بقول طبری اس جماعت میں چھ سو مصری بھی شامل تھے اورایک ہزار کوفہ کے سپاہی بھی آگئے تھے اوردیگر علاقے کے مظلومین نے بھی مہم میں شرکت کرلی تھی۔ایسے حالات میں ایک شخص جمل و صفین کے معرکے بھی برداشت کرے اور ان تمام انقلابیوں کامحاسبہ بھی شروع کردے یہ ایک نا ممکن امر ہے اور پھرمحاسبہ کے عمل میں ام المومنین اور معاویہ کو بھی شامل کرنا پڑے گا کہ قتل عثمان کی مہم میں یہ افراد بھی برابر کے شریک تھے بلکہ ام المومنین نے توباقاعدہ لوگوں کو قتل پر آمادہ کیاتھا۔

ایسے حالات میں مسئلہ اس قدرآسان نہیں تھا جس قدر بعض سادہ لوح افراد تصور کر رہے تھے یا بعض فتنہ پرداز اسے ہوا دے رہے تھے۔


لَيَنْقُلَنَّ اللَّه عَنْكُمْ سُلْطَانَ الإِسْلَامِ - ثُمَّ لَا يَنْقُلُه إِلَيْكُمْ أَبَداً - حَتَّى يَأْرِزَ الأَمْرُ إِلَى غَيْرِكُمْ.

التنفير من خصومه

إِنَّ هَؤُلَاءِ قَدْ تَمَالَئُوا عَلَى سَخْطَةِ إِمَارَتِي - وسَأَصْبِرُ مَا لَمْ أَخَفْ عَلَى جَمَاعَتِكُمْ - فَإِنَّهُمْ إِنْ تَمَّمُوا عَلَى فَيَالَةِ هَذَا الرَّأْيِ - انْقَطَعَ نِظَامُ الْمُسْلِمِينَ - وإِنَّمَا طَلَبُوا هَذِه الدُّنْيَا حَسَداً لِمَنْ أَفَاءَهَا اللَّه عَلَيْه - فَأَرَادُوا رَدَّ الأُمُورِ عَلَى أَدْبَارِهَا - ولَكُمْ عَلَيْنَا الْعَمَلُ بِكِتَابِ اللَّه تَعَالَى - وسِيرَةِ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - والْقِيَامُ بِحَقِّه والنَّعْشُ لِسُنَّتِه.

(۱۷۰)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في وجوب اتباع الحق عند قيام الحجة كلَّم به بعض العرب

وقَدْ أَرْسَلَه قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ لَمَّا قَرُبَعليه‌السلام مِنْهَا - لِيَعْلَمَ لَهُمْ مِنْه حَقِيقَةَ حَالِه مَعَ أَصْحَابِ الْجَمَلِ - لِتَزُولَ الشُّبْهَةُ مِنْ نُفُوسِهِمْ - فَبَيَّنَ لَهعليه‌السلام مِنْ أَمْرِه مَعَهُمْ - مَا عَلِمَ بِه أَنَّه عَلَى الْحَقِّ - ثُمَّ قَالَ لَه بَايِعْ - فَقَالَ

تم ایسی اطاعت کروگے یا پھر تم سے اسلامی اقتدار چھن جائے گا اور پھر کبھی تمہاری طرف پلٹ کرنہ آئے گا یہاں تک کہ کسی غیرکے سایہ میں پناہ لے لے۔

دیکھو یہ لوگ میری حکومت سے ناراضگی پر متحد ہو چکے ہیں اوراب میں اس وقت تک صبر کروں گا جب تک تمہاری جماعت کے بارے میں کوئی اندیشہ نہ پیدا ہو جائے ۔اس لئے کہاگر وہ اپنی رائے کی کموری کے باوجود اس امر میں کامیاب ہوگئے تو مسلمانوں کا رشتہ نظم و نسق بالکل ٹوٹ کر رہ جائے گا۔ان لوگوں نے اس دنیا کو صرف ان لوگوں سے حسد کی بنا پر طلب کیا ہے جنہیں اللہ نے خلیفہ و حاکم بنایا ہے۔اب یہ چاہتے ہیں کہ معاملات کو الٹے پائوں جاہلیت کی طرف پلٹا دیں ۔تمہارے لئے میرے ذمہ یہی کام ہے کہ کتاب خدا اور سنت رسول (ص) پر عمل کروں ۔ان کے حق کو قائم کروں اور ان کی سنت کو بلند و بالا قرار دوں ۔

(۱۷۰)

آپ کا ارشاد گرامی

(دلیل قائم ہو جانے کےبعدحق کے اتباع کےسلسلہ میں )

جب اہل بصرہ نے بعض افراد کواس غرض سے بھیجا کہ اہل جمل کے بارے میں حضرت کے موقف کو دریافت کریں تاکہ کسی طرح کا شبہ باقی نہ رہ جائے توآپ نے جملہ امور کی مکمل وضاحت فرمائی تاکہ واضح ہو جائے کہ آپ حق پر ہیں ۔اس کے بعد فرمایا کہ جب حق واضح ہوگیا تو میرے ہاتھ پر بیعت کرلو۔اس نے کہا کہ


إِنِّي رَسُولُ قَوْمٍ - ولَا أُحْدِثُ حَدَثاً حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْهِمْ فَقَالَعليه‌السلام

أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ الَّذِينَ وَرَاءَكَ بَعَثُوكَ رَائِداً - تَبْتَغِي لَهُمْ مَسَاقِطَ الْغَيْثِ،فَرَجَعْتَ إِلَيْهِمْ وأَخْبَرْتَهُمْ عَنِ الْكَلإِ والْمَاءِ - فَخَالَفُوا إِلَى الْمَعَاطِشِ والْمَجَادِبِ مَا كُنْتَ صَانِعاً - قَالَ كُنْتُ تَارِكَهُمْ ومُخَالِفَهُمْ إِلَى الْكَلإِ والْمَاءِ - فَقَالَعليه‌السلام فَامْدُدْ إِذاً يَدَكَ - فَقَالَ الرَّجُلُ - فَوَاللَّه مَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أَمْتَنِعَ عِنْدَ قِيَامِ الْحُجَّةِ عَلَيَّ - فَبَايَعْتُهعليه‌السلام

والرَّجُلُ يُعْرَفُ بِكُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ.

(۱۷۱)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لما عزم على لقاء القوم بصفين

الدعاء

اللَّهُمَّ رَبَّ السَّقْفِ الْمَرْفُوعِ والْجَوِّ الْمَكْفُوفِ - الَّذِي جَعَلْتَه مَغِيضاً لِلَّيْلِ والنَّهَارِ

میں ایک قوم کا نمائندہ ہوں اور ان کی طرف رجوع کئے بغیر کوئی اقدام نہیں کر سکتا ہوں۔فرمایا کہ

تمہارا کیاخیال(۱) ہے اگر اس قوم نے تمہیں نمائندہ بنا کر بھیجا ہوتا کہ جائو تلاش کرو جہاں بارش ہوئی ہو اور پانی کی کوئی سبیل ہو اورتم واپس جا کر پانی اور سبزہ کی خبردیتے اوروہ لوگ تمہاری مخالفت کرکے ایسی جگہ کا انتخاب کرتے جہاں پانی کا قحط اورخشک سالی کا دوردورہ ہو تو اس وقت تمہارا اقدام کیا ہوتا ؟ اس نے کہاکہ میں انہیں چھوڑ کر آب و دانہ کی طرف چلا جاتا ۔فرمایا پھراب ہاتھ بڑھائو اور بیعت کر لو کہ چشمہ ہدایت تو مل گیا ہے۔اس نے کہاکہ اب حجت تمام ہوچکی ہے اورمیرے پاس انکار کا کوئی جواز نہیں رہ گیا ہے اور یہ کہہ کر حضرت کے دست حق پرست پر بیعت کرلی۔

(تاریخ میں اس شخص کو کلیب جرمی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے )

(۱۷۱)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب اصحاب معاویہ سےصفین میں مقابلہ کےلئے ارادہ فرمالیا)

اے پروردگار جو بلند ترین چھت اور ٹھہری ہوئی فضا کا مالک ہے۔جسنےاس فضاکوشب وروز کےسر چھپانے کی منزل

(۱) یہ استدلال اپنے حسن و جمال کے علاوہ اس معنویت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اسلام میں میری حیثیت ایک سر سبز و شاداب گلستان کی ہے جہاں اسلامی احکام و تعلیمات کی بہاریں خیمہ زن رہتی ہیں اور میرے علاوہ تمام افراد ایک ریگستان سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے ہیں۔کس قدر حیرت کی بات ہے کہ انسان سبزہ زار اور چشمہ آب حیات کو چھوڑ کر پھر ریگستانوں کی طرف پلٹ جائے اور تشنہ کامی کی زندگی گزارتا رہے۔جو تمام اہل شام کا مقدر بن چکا ہے۔


ومَجْرًى لِلشَّمْسِ والْقَمَرِ ومُخْتَلَفاً لِلنُّجُومِ السَّيَّارَةِ - وجَعَلْتَ سُكَّانَه سِبْطاً مِنْ مَلَائِكَتِكَ - لَا يَسْأَمُونَ مِنْ عِبَادَتِكَ - ورَبَّ هَذِه الأَرْضِ الَّتِي جَعَلْتَهَا قَرَاراً لِلأَنَامِ - ومَدْرَجاً لِلْهَوَامِّ والأَنْعَامِ - ومَا لَا يُحْصَى مِمَّا يُرَى ومَا لَا يُرَى - ورَبَّ الْجِبَالِ الرَّوَاسِي الَّتِي جَعَلْتَهَا لِلأَرْضِ أَوْتَاداً - ولِلْخَلْقِ اعْتِمَاداً إِنْ أَظْهَرْتَنَا عَلَى عَدُوِّنَا - فَجَنِّبْنَا الْبَغْيَ وسَدِّدْنَا لِلْحَقِّ - وإِنْ أَظْهَرْتَهُمْ عَلَيْنَا فَارْزُقْنَا الشَّهَادَةَ - واعْصِمْنَا مِنَ الْفِتْنَةِ.

الدعوة للقتال

أَيْنَ الْمَانِعُ لِلذِّمَارِ - والْغَائِرُ عِنْدَ نُزُولِ الْحَقَائِقِ مِنْ أَهْلِ الْحِفَاظِ - الْعَارُ وَرَاءَكُمْ والْجَنَّةُ أَمَامَكُمْ!

(۱۷۲)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

حمد الله

الْحَمْدُ لِلَّه الَّذِي لَا تُوَارِي عَنْه سَمَاءٌ سَمَاءً - ولَا أَرْضٌ أَرْضاً.

اورشمس و قمرکے سیر کا میدان اور ستاروں کی آمدورفت کی جولاں گاہ قرار دیا ہے۔اس کا ساکن ملائکہ کے اس گروہ کو قراردیا ہے جو تیری عبادت سے خستہ حال نہیں ہوتے ہیں۔توہی اس زمین کا بھی مالک ہے جسے لوگوں کا مستقر بنایا ہے اور جانوروں ' کپڑوں مکوڑوں اوربے شمار مرئی اور غیرمرئی مخلوقات کے چلنے پھرنے کی جگہ قرار دیا ہے۔تو ہی ان سربفلک پہاڑوں کامالک ہے جنہیں زمین کے ٹھہرائو کے لئے میخ کا درجہ دیا گیا ہے اورمخلوقات کاسہارا قرار دیا گیا ہے۔اگر تونے دشمن کے مقابلہ میں غلبہ عنایت فرمایا تو' ہمیں ظلم سے محفوظ رکھنا اورحق کے سیدھے راستہ پر قائم رکھنا اور اگر دشمن کو ہم پر غلبہ حاصل ہو جائے تو ہمیں شہادت کا شرف عطا فرمانا اور فتنہ سے محفوظ رکھنا۔

دعوت جہاد

کہاں ہیں وہ عزت وآبروکے پاسبان اورمصیبتوں کے نزول کے بعد ننگ ونام کی حفاظت کرنے والے صاحبان عزت و غیرت۔یاد رکھو ذلت و عار تمہارے پیچھے ہے اور جنت تمہارےآگے ۔

(۱۷۲)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(حمد خدا)

ساری تعریف اس اللہ کےلئے ہےجس کے سامنے ایک آسمان دوسرےآسمان کو اور ایک زمین دوسری زمین کوچھپا نہیں سکتی ہے۔


يوم الشورى

منها - وقَدْ قَالَ قَائِلٌ إِنَّكَ عَلَى هَذَا الأَمْرِ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ لَحَرِيصٌ - فَقُلْتُ بَلْ أَنْتُمْ واللَّه لأَحْرَصُ وأَبْعَدُ وأَنَا أَخَصُّ وأَقْرَبُ - وإِنَّمَا طَلَبْتُ حَقّاً لِي وأَنْتُمْ تَحُولُونَ بَيْنِي وبَيْنَه - وتَضْرِبُونَ وَجْهِي دُونَه - فَلَمَّا قَرَّعْتُه بِالْحُجَّةِ فِي الْمَلإِ الْحَاضِرِينَ - هَبَّ كَأَنَّه بُهِتَ لَا يَدْرِي مَا يُجِيبُنِي بِه!

الاستنصار على قريش

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَعْدِيكَ عَلَى قُرَيْشٍ ومَنْ أَعَانَهُمْ - فَإِنَّهُمْ قَطَعُوا رَحِمِي وصَغَّرُوا عَظِيمَ مَنْزِلَتِيَ - وأَجْمَعُوا عَلَى مُنَازَعَتِي أَمْراً هُوَ لِي - ثُمَّ قَالُوا أَلَا إِنَّ فِي الْحَقِّ أَنْ تَأْخُذَه وفِي الْحَقِّ أَنْ تَتْرُكَه.

منها في ذكر أصحاب الجمل

فَخَرَجُوا يَجُرُّونَ حُرْمَةَ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - كَمَا تُجَرُّ الأَمَةُ عِنْدَ شِرَائِهَا

(روز شوریٰ)

ایک شخص(۱) نے مجھ سے یہاں تک کہہ دیا کہ فرزند ابو طالب! آپ میں اس خلافت کی طمع پائی جاتی ہے؟ تو میں نے کہا کہ خدا کی قسم تم لوگ زیادہ حریص ہو حالانکہ تم دور والے ہو۔میں تو اس ا اہل بھی ہوں اور پیغمبر (ص) سے قریب تر بھی ہوں۔میں نے اس حق کا مطالبہ کیا ہے جس کا میں حقدار ہوں لیکن تم لوگ میرے اور اس کے درمیان حائل ہوگئے ہو اور میرے ہی رخ کو اس کی طرف سے موڑنا چاہتے ہو پھر جب میں نے بھری محفل میں دلائل کے ذریعہ سے کانوں کے پردوں کو کھٹکھٹایا تو ہوشیار ہوگیا اور ایسا مبہوت ہوگیا کہ کوئی جواب سمجھ نہیں آرہا تھا۔

(قریش کے خلاف فریاد)

خدایا! میں قریش اور ان کے انصار کے مقابلہ میں تجھ سے مدد چاہتا ہوں کہ ان لوگوں نے میری قرابت کا رشتہ توڑ دیا اورمیری عظیم منزلت کو حقیر بنادیا۔مجھ سے اس امرکے لئے جھگڑا کرنے پر تیار ہوگئے جس کامیں واقعاً حقدار تھا اور پھر یہ کہنے لگے کہ آپ اسے لے لیں توبھی صحیح ہے اور اس سے دستبردار ہو جائیں توبھی برحق ہے۔

(اصحاب جمل کے باے میں)

یہ ظالم اس شان سے برآمد ہوئے کہ حرم رسول (ص) کویوں کھینچ کر میدان میں لا رہے تھے جیسے کنیزیں خرید و

(۱)بعض حضرات کاخیال ہے کہ یہ بات شوریٰ کے موقع پر سعد بن ابی وقاص نے کہی تھی اور بعض کاخیال ہے کہ سقیفہ کے موقع پر ابو عبیدہ بن الجراح نے کہی تھی اوردونوں ہی امکانات پائے جاتے ہیں کہ دونوں کی فطرت ایک جیسی تھی اوردونوں امیر المومنین کی مخالفت پر متحد تھے۔


مُتَوَجِّهِينَ بِهَا إِلَى الْبَصْرَةِ - فَحَبَسَا نِسَاءَهُمَا فِي بُيُوتِهِمَا - وأَبْرَزَا حَبِيسَ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لَهُمَا ولِغَيْرِهِمَا - فِي جَيْشٍ مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا وقَدْ أَعْطَانِي الطَّاعَةَ - وسَمَحَ لِي بِالْبَيْعَةِ طَائِعاً غَيْرَ مُكْرَه - فَقَدِمُوا عَلَى عَامِلِي بِهَا - وخُزَّانِ بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ وغَيْرِهِمْ مِنْ أَهْلِهَا - فَقَتَلُوا طَائِفَةً صَبْراً وطَائِفَةً غَدْراً - فَوَاللَّه لَوْ لَمْ يُصِيبُوا مِنَ الْمُسْلِمِينَ - إِلَّا رَجُلًا وَاحِداً مُعْتَمِدِينَ لِقَتْلِه - بِلَا جُرْمٍ جَرَّه لَحَلَّ لِي قَتْلُ ذَلِكَ الْجَيْشِ كُلِّه - إِذْ حَضَرُوه فَلَمْ يُنْكِرُوا - ولَمْ يَدْفَعُوا عَنْه بِلِسَانٍ ولَا بِيَدٍ - دَعْ مَا أَنَّهُمْ قَدْ قَتَلُوا مِنَ الْمُسْلِمِينَ - مِثْلَ الْعِدَّةِ الَّتِي دَخَلُوا بِهَا عَلَيْهِمْ!

(۱۷۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في رسول اللَّه،صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، ومن هو جدير بأن يكون للخلافة وفي هوان الدنيا

فروخت کے وقت لے جائی جاتی ہے۔ان کا رخ بصرہ کی طرف تھا۔ان دونوں(۱) نے اپنی عورتوں کو گھر میں بند کر رکھا تھا اور زوجہ رسول (ص) کو میدان میں لا رہے تھے۔جب کہ ان کے لشکر میں کوئی ایسا نہ تھا جو پہلے میری بیعت نہ کر چکا ہو اوربغیرکسی جبر و اکراہ کے میری اطاعت میں نہ رہ چکا ہو۔یہ لوگ پہلے میرے عامل(۲) بصرہ اورخازن بیت المال جیسے افراد پرحملہ آور ہوئے توایک جماعت کو گرفتار کرکے قتل کردیا اورایک کودھوکہ میں تلوار کے گھاٹ اتاردیا۔خدا کی قسم اگر یہ تمام مسلمانوں میں صرف ایک شخص کوبھی قصداً قتل کردیتے تو بھی میرے واسطے پورے لشکرسے جنگ کرنے جواز موجود تھا کہ دیگرافراد حاضر رہے اور انہوں نے نا پسندیدگی کا اظہار نہیں کیا اور اپنی زبان(۳) یااپنے ہاتھ سے دفاع نہیں کیا اور پھرجب کہ مسلمانوں میں سے اتنے افراد کو قتل کردیا ہے جتنی ان کے پورے لشکر کی تعداد تھی۔

(۱۷۳)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(رسول اکرم (ص) کے بارے میں اوراس امر کی وضاحت کے سلسلہ میں کہ خلافت کاواقعی حقدار کون ہے ؟)

(۱)اس سے مراد طلحہ و زبری ہیں جنہوں نے زوجہ رسول (ص) کا اتنا بھی احترام نہیں کیا جتنا اپنے گھرکی عورتوں کا کیاکرتے تھے۔

(۲)جناب عثمان بن حنیف کا مثلہ کردیا اوران کے ساتھیوں کی ایک بڑی جماعت کو تہ تیغ کردیا۔

(۳)فقہی اعتبارسے دفاع نہ کرنے والوں کا قتل جائز نہیں ہوتا ہے لیکن یہاں وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے امام برحق کے خلاف خروج کرکے فساد فی الارض کا ارتکاب کیاتھا اور یہجرم جواز قتل کے لئے کافی ہوتا ہے۔


رسول الله أَمِينُ وَحْيِه وخَاتَمُ رُسُلِه - وبَشِيرُ رَحْمَتِه ونَذِيرُ نِقْمَتِه.

الجدير بالخلافة

أَيُّهَا النَّاسُ - إِنَّ أَحَقَّ النَّاسِ بِهَذَا الأَمْرِ أَقْوَاهُمْ عَلَيْه – وأَعْلَمُهُمْ بِأَمْرِ اللَّه فِيه - فَإِنْ شَغَبَ شَاغِبٌ اسْتُعْتِبَ فَإِنْ أَبَى قُوتِلَ - ولَعَمْرِي لَئِنْ كَانَتِ الإِمَامَةُ لَا تَنْعَقِدُ - حَتَّى يَحْضُرَهَا عَامَّةُ النَّاسِ فَمَا إِلَى ذَلِكَ سَبِيلٌ - ولَكِنْ أَهْلُهَا يَحْكُمُونَ عَلَى مَنْ غَابَ عَنْهَا - ثُمَّ لَيْسَ لِلشَّاهِدِ أَنْ يَرْجِعَ ولَا لِلْغَائِبِ أَنْ يَخْتَارَ - أَلَا وإِنِّي أُقَاتِلُ رَجُلَيْنِ - رَجُلًا ادَّعَى مَا لَيْسَ لَه وآخَرَ مَنَعَ الَّذِي عَلَيْه.

أُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّه بِتَقْوَى اللَّه - فَإِنَّهَا خَيْرُ مَا تَوَاصَى الْعِبَادُ بِه - وخَيْرُ عَوَاقِبِ الأُمُورِ عِنْدَ اللَّه - وقَدْ فُتِحَ بَابُ الْحَرْبِ بَيْنَكُمْ وبَيْنَ أَهْلِ الْقِبْلَةِ - ولَا يَحْمِلُ هَذَا الْعَلَمَ إِلَّا أَهْلُ الْبَصَرِ والصَّبْرِ - والْعِلْمِ بِمَوَاضِعِ الْحَقِّ - فَامْضُوا

پیغمبراسلام (ص) وحی الٰہی کے امانتدار اور خاتم المرسلین تھے۔رحمت الٰہی کی بشارت دینے والے اور عذاب الٰہی سے ڈرانے والے تھے ۔لوگو!یاد رکھو اس امرکا سب سے زیادہ حقدار وہی ہےجو سب سے زیادہ طاقتور اوردین الٰہی کاواقف کارہو اس کےبعداگر کوئی فتنہ پرداز فتنہ کھڑا کرے گاتو پہلے اسے توبہ کی دعوت دی جائے گی۔اس کے بعد اگرانکارکرے گا تو قتل کردیا جائے گا۔میری جان کی قسم اگر امامت کامسئلہ تمام افرادبشر کےاجتماع کے بغیر طے نہیں ہو سکتا ہے تواس اجتماع کاتو کوئی راستہ ہی نہیں ہے ہوتایہی ہے کہ حاضرین کا فیصلہ غائب افراد پرنافذ ہو جاتا ہے اور نہ حاضر کواپنی بیعت سے رجوع کرنے کا حق ہوتا ہے اورنہ غائب کو دوسرا راستہ اختیار کرنے کا جواز ہوتا ہے۔ یاد رکھو میں دونوں طرح کے افراد سے جہاد کروں گا۔ان سے بھی جو غیر حق کے دعویدار ہوں گے اور ان سے بھی جوحقدار کو اس کا حق نہ دیں گے بندگان خدا! میں تمہیں تقویٰ الٰہی کی وصیت کرتاہوں کہ یہ بندوں کے درمیان بہترین وصیت ہے اور پیش پروردگار انجام کے اعتبارسے بہترین عمل ہے۔دیکھو !تمہارے اوراہل قبلہ مسلمانوں کے درمیان جنگ کا دروازہ کھولا جا چکا ہے۔اب اس علم(۱) کووہی اٹھائے گا جو صاحب بصیرت و صبرہوگا اورحق کےمراکزکا پہچاننے والا ہوگا۔تمہارا فرض ہے کہ میرے

(۱)علم لشکر قوم کی سر بلندی کی نشانی اور لشکرکے وقار و عزت کی علامت ہوتا ہے لہٰذا اس کواٹھانے والے کوبھی صاحب بصیرت و برداشت ہونا ضروری ہے ورنہ اگر پرچم سرنگوں ہوگیا تو نہ لشکر کاکوئی وقار رہ جائے گا اورنہمذہب کا کوئی اعتبار رہ جائے گا۔سرکار دو عالم (ص) نے انہیں خصوصیات کے پیش نظر خیبر کے موقع پر اعلان فرمایا تھاکہ کل میں اس کو علم دوں گا جو کرار' غیر فرار' محب خداو رسول (ص) محبوب خدا اور رسول (ص) اورمرد میدان ہوگا کہ اس کے علاوہ کوئی شخص علم برداری کا اہل نہیں ہو سکتا ہے۔


لِمَا تُؤْمَرُونَ بِه وقِفُوا عِنْدَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْه - ولَا تَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ حَتَّى تَتَبَيَّنُوا - فَإِنَّ لَنَا مَعَ كُلِّ أَمْرٍ تُنْكِرُونَه غِيَراً

هوان الدنيا

أَلَا وإِنَّ هَذِه الدُّنْيَا الَّتِي أَصْبَحْتُمْ تَتَمَنَّوْنَهَا - وتَرْغَبُونَ فِيهَا وأَصْبَحَتْ تُغْضِبُكُمْ وتُرْضِيكُمْ - لَيْسَتْ بِدَارِكُمْ ولَا مَنْزِلِكُمُ الَّذِي خُلِقْتُمْ لَه - ولَا الَّذِي دُعِيتُمْ إِلَيْه - أَلَا وإِنَّهَا لَيْسَتْ بِبَاقِيَةٍ لَكُمْ ولَا تَبْقَوْنَ عَلَيْهَا - وهِيَ وإِنْ غَرَّتْكُمْ مِنْهَا فَقَدْ حَذَّرَتْكُمْ شَرَّهَا - فَدَعُوا غُرُورَهَا لِتَحْذِيرِهَا وأَطْمَاعَهَا لِتَخْوِيفِهَا - وسَابِقُوا فِيهَا إِلَى الدَّارِ الَّتِي دُعِيتُمْ إِلَيْهَا - وانْصَرِفُوا بِقُلُوبِكُمْ عَنْهَا - ولَا يَخِنَّنَّ أَحَدُكُمْ خَنِينَ الأَمَةِ عَلَى مَا زُوِيَ عَنْه مِنْهَا - واسْتَتِمُّوا نِعْمَةَ اللَّه عَلَيْكُمْ بِالصَّبْرِ عَلَى طَاعَةِ اللَّه

والْمُحَافَظَةِ عَلَى مَا اسْتَحْفَظَكُمْ مِنْ كِتَابِه - أَلَا وإِنَّه لَا يَضُرُّكُمْ تَضْيِيعُ شَيْءٍ مِنْ دُنْيَاكُمْ - بَعْدَ حِفْظِكُمْ قَائِمَةَ دِينِكُمْ - أَلَا وإِنَّه لَا يَنْفَعُكُمْ بَعْدَ تَضْيِيعِ دِينِكُمْ شَيْءٌ -

احکام کے مطابق قدم آگے بڑھائو اور میں جہاں روک دوں وہاںرک جائو۔اور خبردار کسی مسئلہ میں بھی تحقیق کے بغیر جلد بازی سے کام نہ لینا کہ مجھے جن باتوں کاتم انکار کرتے ہوان میں غیر معمولی انقلاب کا اندیشہ رہتا ہے ۔

یاد رکھو! یہ دنیا جس کی تم آرزو کر رہے ہو اور اورجس میں تم رغبت کا اظہار کر رہے ہو اور جو کبھی کبھی تم سے عداوت کرتی ہے اور کبھی تمہیں خوش کر دیتی ہے۔ یہ تمہاراواقعی گھر اور تمہاری واقعی منزل نہیں ہے جس کے لئے تمہیں خلق کیا گیا ہے اور جس کی طرف تمہیں دعوت دی گئی ہے اور پھر یہ باقی رہنے والی بھی نہیں ہے اور تم بھی اس میں باقی رہنے والے نہیں ہو۔یہ اگر کبھی دھوکہ دیتی ہے تو دوسرے وقت اپنے شر سے ہوشیار بھی کردیتی ہے۔لہٰذا اس کے دھوکہ سے بچواوراس کی تنبیہ پرعمل کرو۔اس کی لالچ کو نظر اندازکرو اور اس کی تخویف کاخیال رکھو۔اس میں رہ کر اس گھر کی طرف سبقت کرو' جس کی تمہیں دعوت دی گئی ہے۔اوراپنے دلوں کا رخ اس کی طرف سے موڑ لو اورخبر دار تم میںسے کوئی بھی شخص اس کی کسی نعمت سے محرومی کی بنا پرکنیزوں کی طرح رونے نہ بیٹھ جائے۔اللہ سے اس کی نعمتوں کی تکمیل کامطالبہ کرو اس کی اطاعت پر صبر کرنے اور اس کی کتاب کے احکام کی مخافظت کرنے کے ذریعہ۔

یاد رکھو اگر تم نے دین کی بنیادکو محفوظ کردیا تو دنیا کی کسی شے کی بربادی بھی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے اور اگر تم نے دین کو برباد کردیا تو دنیا میں کسی شے


حَافَظْتُمْ عَلَيْه مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ - أَخَذَ اللَّه بِقُلُوبِنَا وقُلُوبِكُمْ إِلَى الْحَقِّ - وأَلْهَمَنَا وإِيَّاكُمُ الصَّبْرَ!

(۱۷۴)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في معنى طلحة بن عبيد الله

وقد قاله حين بلغه خروج طلحة والزبير إلى البصرة لقتاله

قَدْ كُنْتُ ومَا أُهَدَّدُ بِالْحَرْبِ - ولَا أُرَهَّبُ بِالضَّرْبِ - وأَنَا عَلَى مَا قَدْ وَعَدَنِي رَبِّي مِنَ النَّصْرِ - واللَّه مَا اسْتَعْجَلَ مُتَجَرِّداً لِلطَّلَبِ بِدَمِ عُثْمَانَ - إِلَّا خَوْفاً مِنْ أَنْ يُطَالَبَ بِدَمِه لأَنَّه مَظِنَّتُه - ولَمْ يَكُنْ فِي الْقَوْمِ أَحْرَصُ عَلَيْه مِنْه - فَأَرَادَ أَنْ يُغَالِطَ بِمَا أَجْلَبَ فِيه - لِيَلْتَبِسَ الأَمْرُ ويَقَعَ الشَّكُّ -. ووَ اللَّه مَا صَنَعَ فِي أَمْرِ عُثْمَانَ وَاحِدَةً مِنْ ثَلَاثٍ - لَئِنْ كَانَ ابْنُ عَفَّانَ ظَالِماً كَمَا كَانَ يَزْعُمُ - لَقَدْ كَانَ يَنْبَغِي لَه

کی حفاظت بھی فائدہ نہیں دے سکتی ہے ۔اللہ ہم سب کے دل کو حق کے راستہ پر لگا دے اور سب کو صبر کی توفیق عطا فرمائے۔

(۱۷۴)

آپ کا ارشاد گرامی

(طلحہ بن عبید اللہ کے بارے میں جب آپ کو خبر دی گئی کہ طلحہ و زبیر جنگ کے لئے بصرہ کی طرف روانہ ہوگئے ہیں )

مجھے کسی زمانہ میں بھی نہ جنگ سے مرعوب کیا جا سکا ہے اور نہ حرب و ضرب سے ڈرایا جا سکا ہے۔میں اپنے پروردگار کے وعدہ نصرت پرمطمئن ہوں اور خدا کی قسم اس شخص(۱) نے خون عثمان کے مطالبہ کے ساتھ تلوار کھینچنے میں صرف اس لئے جلد بازی سے کام لیا ہے کہ کہیں اسی سے اس خون کا مطالبہ نہ کردیا جائے کہ اس امر کا گمان غالب ہے اور قوم میں اس سے زیادہ عثمان کے خون کا پیاسا کوئی نہ تھا۔اب یہ اس فوج کشی کے ذریعہ لوگوں کو مغالطہ میں رکھنا چاہتا ہے اور مسئلہ کو مشتبہ اورمشکوک بنا دینا چاہتا ہے حالانکہ خدا گواہ ہے کہ عثمان کے معاملہ میں اس کا معاملہ تین حال سے خالی نہیں تھا۔اگرعثمان ظالم تھا جیسا کہ اس کا اپنا خیال تھا تواس کا

(۱)مورخین کا اس امر پر اتفاق ہے کہ عثمان کے آخر دورحیات میں ان کے قاتلوں کا اجتماع طلحہ کے گھرمیں ہوا کرتا تھا اور امیرالمومنین ہی نے اس راز کا انکشاف کیا تھا اس کے بعد طلحہ ہی نے جنازہ پر تیر برسائے تھے اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے سے روک دیا تھا لیکن چار دن کے بعد یہی ظالم خون عثمان کا وارث بن گیا اور عثمان کے واقعی محسن کو ان کے خون کا ذمہ دار ٹھہرا دیا۔کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں کو سوچنے کا موقع مل جائے اور بنی امیہ طلحہ سے انتقام لینے کے لئے تیار ہو جائیں اور یہ طریقہ ہرشاطر سیاست کارکا ہوتا ہے کہ وہ مسائل کو اس طرح مشتبہ بنا دیناچاہتا ہے کہ اس کی طرف توجہ نہ ہونے پائے ۔چاہے اس راہ میں اپنے سفارت کاروں ہی کو کیوں نہ قربان کرنا پڑے؟


أَنْ يُوَازِرَ قَاتِلِيه - وأَنْ يُنَابِذَ نَاصِرِيه -. ولَئِنْ كَانَ مَظْلُوماً - لَقَدْ كَانَ يَنْبَغِي لَه أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُنَهْنِهِينَ عَنْه - والْمُعَذِّرِينَ فِيه - ولَئِنْ كَانَ فِي شَكٍّ مِنَ الْخَصْلَتَيْنِ - لَقَدْ كَانَ يَنْبَغِي لَه أَنْ يَعْتَزِلَه - ويَرْكُدَ جَانِباً ويَدَعَ النَّاسَ مَعَه - فَمَا فَعَلَ وَاحِدَةً مِنَ الثَّلَاثِ - وجَاءَ بِأَمْرٍ لَمْ يُعْرَفْ بَابُه ولَمْ تَسْلَمْ مَعَاذِيرُه

(۱۷۵)

من خطبة لهعليه‌السلام

في الموعظة وبيان قرباه من رسول اللَّه

أَيُّهَا النَّاسُ غَيْرُ الْمَغْفُولِ عَنْهُمْ - والتَّارِكُونَ الْمَأْخُوذُ مِنْهُمْ - مَا لِي أَرَاكُمْ عَنِ اللَّه ذَاهِبِينَ وإِلَى غَيْرِه رَاغِبِينَ - كَأَنَّكُمْ نَعَمٌ أَرَاحَ بِهَا سَائِمٌ إِلَى مَرْعًى وَبِيٍّ ومَشْرَبٍ دَوِيٍّ - وإِنَّمَا هِيَ كَالْمَعْلُوفَةِ لِلْمُدَى لَا تَعْرِفُ مَا ذَا يُرَادُ بِهَا - إِذَا أُحْسِنَ إِلَيْهَا تَحْسَبُ يَوْمَهَا دَهْرَهَا وشِبَعَهَا أَمْرَهَا

فرض تھا کہ قاتلوں کی مدد کرتا اور عثمان کے مدد گاروں کو ٹھکرا دیتا اور اگروہ مظلوم تھا تو اس کا فرض تھا کہ اس کے قتل سے روکنے والوں اور اس کی طرف سے معذرت کرنے والوں میں شامل ہو جاتا اور اگر یہ دونوں باتیں مشکوک تھیں تو اس کے لئے مناسب تھاکہ اس معاملہ سے الگ ہوکرایک گوشہ میں بیٹھ جاتا اور انہیں قوم کے حوالہ کر دیتا لیکن اس نے ان تین میں سے کوئی بھی طریقہ اختیارنہیں کیا اور ایسا طریقہ اختیار کیا جس کی صحت کا کوئی جواز نہیں تھا اوراس کی معذرت کاکوئی راستہ نہیں تھا۔

(۱۷۵)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

( جس میں موعظت کے ساتھ رسول اکرم (ص) سے قرابت کا ذکر کیا گیا ہے)

ا ے وہ غافلو جن کی طرف سے غفلت نہیں برتی جا سکتی ہے اوراے چھوڑ دینے والو جن کو چھوڑا نہیں جاسکتا ہے۔مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہیں اللہ سے دور بھاگتے ہوئے اور غیر خدا کی رغبت کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔گویا تم وہ اونٹ ہو جن کا چرواہا ایک ہلاک کردینے والی چراگاہ اور تباہ کردینے والے گھاٹ پر لے آیا ہو یا وہ چوپایہ ہو جسے چھریوں کے لئے پالا گیا ہے کہ اسے نہیں معلوم ہے کہ اس کے ساتھ برتائو کا واقعی مقصد کیا ہے اورجب اچھا برتاو کیا جاتا ہے تو وہ خیال کرتا ہے کہ ایک دن ہی سارا زمانہ ہے اور یہ شکم سیری ہی کل کام ہے۔


واللَّه لَوْ شِئْتُ أَنْ أُخْبِرَ كُلَّ رَجُلٍ مِنْكُمْ - بِمَخْرَجِه ومَوْلِجِه وجَمِيعِ شَأْنِه لَفَعَلْتُ - ولَكِنْ أَخَافُ أَنْ تَكْفُرُوا فِيَّ بِرَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم .

أَلَا وإِنِّي مُفْضِيه إِلَى الْخَاصَّةِ مِمَّنْ يُؤْمَنُ ذَلِكَ مِنْه - والَّذِي بَعَثَه بِالْحَقِّ واصْطَفَاه عَلَى الْخَلْقِ - مَا أَنْطِقُ إِلَّا صَادِقاً - وقَدْ عَهِدَ إِلَيَّ بِذَلِكَ كُلِّه وبِمَهْلِكِ مَنْ يَهْلِكُ - ومَنْجَى مَنْ يَنْجُو ومَآلِ هَذَا الأَمْرِ - ومَا أَبْقَى شَيْئاً يَمُرُّ عَلَى رَأْسِي إِلَّا أَفْرَغَه فِي أُذُنَيَّ - وأَفْضَى بِه إِلَيَّ.

أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي واللَّه مَا أَحُثُّكُمْ عَلَى طَاعَةٍ - إِلَّا وأَسْبِقُكُمْ إِلَيْهَا - ولَا أَنْهَاكُمْ عَنْ مَعْصِيَةٍ إِلَّا وأَتَنَاهَى قَبْلَكُمْ عَنْهَا..

خدا کی قسم میں چاہوں تو ہر شخص کواس کے داخل اور خارج ہونے کی منزل سے آگاہ کر سکتا ہوں اور جملہ حالات کو بتا سکتا ہوں۔لیکن میں ڈرتا ہوں کہ کہیں تم مجھ میں گم ہو کر رسول اکرم (ص) کا انکار نہ کردو اور یاد رکھو کہ میں ان باتوں سے ان لوگوں کو بہر حال آگاہ کردوں گا جن سے گمراہی کاخطرہ نہیں ہے۔ قسم ہے اس ذات اقدس کی جس نے انہیں حق کے ساتھ بھیجا ہے اورمخلوقات میں منتخب قرار دیا ہے کہ میں سوائے سچ کے کوئی کلام نہیں کرتا ہو۔انہوں نے یہ ساری باتیں مجھے بتا دی ہیں اور ہر ہلاک ہونے والے کی ہلاکت اور نجات پانے والے کی نجات کا راستہ بھی بتا دیا ہے اور اس امر خلافت کے انجام سے بھی با خبر کردیا ہے اور کوئی ایسی شے نہیں ہے جو میرے سر سے گزرنے والی ہو اور اسے میرے کانوں میں نہ ڈال دیا ہو اور مجھ تک پہنچا نہ دیا ہو۔

لوگو!خا گواہ ہے کہ میں تمہیں کسی اطاعت پرآمادہ نہیں کرتا ہوں مگر پہلے خود سبقت کرتا ہوں اور کسی معصیت سے نہیں روکتا ہوں مگر یہ کہ پہلے خود اس سے باز رہتا ہوں۔


(۱۷۶)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وفيها يعظ ويبين فضل القرآن وينهى عن البدعة

عظة الناس

انْتَفِعُوا بِبَيَانِ اللَّه واتَّعِظُوا بِمَوَاعِظِ اللَّه - واقْبَلُوا نَصِيحَةَ اللَّه - فَإِنَّ اللَّه قَدْ أَعْذَرَ إِلَيْكُمْ بِالْجَلِيَّةِ واتَّخَذَ عَلَيْكُمُ الْحُجَّةَ - وبَيَّنَ لَكُمْ مَحَابَّه مِنَ الأَعْمَالِ ومَكَارِهَه مِنْهَا - لِتَتَّبِعُوا هَذِه وتَجْتَنِبُوا هَذِه - فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كَانَ يَقُولُ - إِنَّ الْجَنَّةَ حُفَّتْ بِالْمَكَارِه - وإِنَّ النَّارَ حُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ.

واعْلَمُوا أَنَّه مَا مِنْ طَاعَةِ اللَّه شَيْءٌ إِلَّا يَأْتِي فِي كُرْه - ومَا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّه شَيْءٌ إِلَّا يَأْتِي فِي شَهْوَةٍ - فَرَحِمَ اللَّه امْرَأً نَزَعَ عَنْ شَهْوَتِه وقَمَعَ هَوَى نَفْسِه - فَإِنَّ هَذِه النَّفْسَ أَبْعَدُ شَيْءٍ مَنْزِعاً - وإِنَّهَا لَا تَزَالُ

(۱۷۶)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں موعظہ کے ساتھ قرآن کے فضائل اوربدعتوں سے مانعت کاتذکرہ کیا گیا ہے )

(قرآن حکیم)

دیکھو پروردگار کے بیان سے فائدہ اٹھائو اور اس کے مواعظ سے نصیحت حاصل کرو اور اس کی نصیحت کوقبول کرو کہ اس نے واضح بیانات کی ذریعہ تمہارے ہر عذرکوختم کردیاہے اورتم پرحجت تمام کردی ہے تمہارے لئے اپنے محبوب اورنا پسندیدہ تمام اعمال کی وضاحت کردی ہے تاکہ تم ایک قسم کا اتباع کرواوردوسری سے اجتناب کرو کہ رسول اکرم (ص) برابر یہ فرمایا کرتے تھے کہ جنت ناگواریوں(۱) میں گھیردی گئی ہے اورجہنم کو خواہشات کے گھیرے میں ڈال دیا گیا ہے۔

یاد رکھو کہ خدا کی کوئی اطاعت ایسی نہیں ہے جس میں ناگواری کی شکل نہ ہو اور اس کی کوئی معصیت ایسی نہیں ہے جس میں خواہش کا کوئی پہلو نہ ہو۔اللہ اس بندہ پر رحمت نازل کرے جوخواہشات سے الگ ہوجائے اورنفس کے ہوا و ہوس کو اکھاڑ کر پھینک دے کہ یہ نفس خواہشات میں بہت دور تک کھینچ جانے والا ہے اور یہ ہمیشہ

(۱)ان نا گواریوں اور دشواریوں سے مراد صرف عبادات نہیں ہیں کہ وہ صرف کاہل اوربے دین افراد کے لئے دشوار ہیں ورنہ سنجیدہ اوردیندار افراد ان میں لذت اور راحت ہی کا احساس کرتے ہیں۔درحقیقت ان دشواریوں سے مراد وہ جہاد ہے جس میں ہر راہ حیات میں ساری توانائیوں کو خرچ کرنا پڑتا ہے اور ہر طرح کی زحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیساکہ سورہ ٔ مبارکہ توبہ میں اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ نے صاحبان ایمان کے جان و مال کو خرید لیا ہے اورانہیں جنت دیدی ہے۔یہ لوگ راہ خدا میں جہاد کرتے ہیں اور دشمن کو تہ تیغ کرنے کے ساتھ خودبھی شہیدہوجاتے ہیں۔


تَنْزِعُ إِلَى مَعْصِيَةٍ فِي هَوًى.

واعْلَمُوا عِبَادَ اللَّه أَنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يُصْبِحُ ولَا يُمْسِي - إِلَّا ونَفْسُه ظَنُونٌ عِنْدَه - فَلَا يَزَالُ زَارِياً عَلَيْهَا ومُسْتَزِيداً لَهَا - فَكُونُوا كَالسَّابِقِينَ قَبْلَكُمْ والْمَاضِينَ أَمَامَكُمْ - قَوَّضُوا مِنَ الدُّنْيَا تَقْوِيضَ الرَّاحِلِ وطَوَوْهَا طَيَّ الْمَنَازِلِ.

فضل القرآن

واعْلَمُوا أَنَّ هَذَا الْقُرْآنَ هُوَ النَّاصِحُ الَّذِي لَا يَغُشُّ - والْهَادِي الَّذِي لَا يُضِلُّ والْمُحَدِّثُ الَّذِي لَا يَكْذِبُ - ومَا جَالَسَ هَذَا الْقُرْآنَ أَحَدٌ إِلَّا قَامَ عَنْه بِزِيَادَةٍ أَوْ نُقْصَانٍ - زِيَادَةٍ فِي هُدًى أَوْ نُقْصَانٍ مِنْ عَمًى –

واعْلَمُوا أَنَّه لَيْسَ عَلَى أَحَدٍ بَعْدَ الْقُرْآنِ مِنْ فَاقَةٍ - ولَا لأَحَدٍ قَبْلَ الْقُرْآنِ مِنْ غِنًى - فَاسْتَشْفُوه مِنْ أَدْوَائِكُمْ - واسْتَعِينُوا بِه عَلَى لأْوَائِكُمْ - فَإِنَّ فِيه شِفَاءً مِنْ أَكْبَرِ الدَّاءِ - وهُوَ الْكُفْرُ والنِّفَاقُ والْغَيُّ والضَّلَالُ - فَاسْأَلُوا اللَّه بِه وتَوَجَّهُوا إِلَيْه بِحُبِّه - ولَا تَسْأَلُوا بِه

گناہوں کی خواہش ہی کی طرف کھینچتا رہتا ہے ۔

بندگان خدا ! یاد رکھو کہ مردمومن ہمیشہ صبح و شام اپنے نفس سے بدگمان ہی رہتا ہے اوراس سے ناراض ہی رہتا ہے اور ناراضگی میں اضافہ ہی کرتا رہتا ہے لہٰذا تم بھی اپنے پہلے والوں کے مانند ہو جائو جو تمہارے آگے آگے جا رہے ہیں کہ انہوں نے دنیا سے اپنے خیمہ ڈیرہ کو اٹھا لیا ہے اورایک مسافر کی طرح دنیاکی منزلوں کو طے کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے ہیں۔

یاد رکھو کہ یہ قرآن وہ ناصح ہے جودھوکہ نہیں دیتاہے اور وہ ہادی ہے جوگمراہ نہیں کرتا ہے۔وہ بیان کرنے والا ہے جو غلط بیانی سے کام لینے والا نہیں ہے۔کوئی شخص اس کے پاس(۱) نہیں بیٹھتاہے مگر یہ کہ جب اٹھتا ہے توہدایت میں اضافہ کر لیتا ہے یا کم سے کم گمراہی میں کمی کر لیتا ہے۔

یاد رکھو! قرآن کے بعد کوئی کسی کا محتاج نہیں ہو سکتاہے اور قرآن سے پہلے کوئی بے نیاز نہیں ہو سکتا ہے ۔اپنی بیماریوں میں اس سے شفا حاصل کرواور اپنی مصیبتوں میں اس سے مدد مانگو کہ اس میں بد ترین بیماری کفرو نفاق اورگمراہی و بے راہ روی کا علاج بھی موجود ہے۔اس کے ذریعہ اللہ سے سوال کرو اوراس کی محبت کے وسیلہ سے اس کی طرف رخ کرو اوراس کے ذریعہ

(۱)کتنی حسین ترین تعبیر ہے تلاوت قرآن اور فہم قرآن کی کہ انسان قرآن کے ساتھ اس طرح رہے جس طرح کوئی شخص اپنے ہم نشین کے ساتھ بیٹھتا ہے اور اس سے مانوس رہتا ہے اورجس کے نتیجہ میں جمال ہم نشین سے متاثر ہوتا ہے۔مسلمانوں کاتعلق صرف قرآن مجید کے الفاظ سے نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کے معانی سے ہوتا ہے تاکہ اس کے مفاہیم سے آشنا ہو سکے اور اس کے تعلیمات سے فائدہ اٹھا سکے۔


خَلْقَه - إِنَّه مَا تَوَجَّه الْعِبَادُ إِلَى اللَّه تَعَالَى بِمِثْلِه - واعْلَمُوا أَنَّه شَافِعٌ مُشَفَّعٌ وقَائِلٌ مُصَدَّقٌ - وأَنَّه مَنْ شَفَعَ لَه الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُفِّعَ فِيه - ومَنْ مَحَلَ بِه الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صُدِّقَ عَلَيْه - فَإِنَّه يُنَادِي مُنَادٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ - أَلَا إِنَّ كُلَّ حَارِثٍ مُبْتَلًى فِي حَرْثِه وعَاقِبَةِ عَمَلِه - غَيْرَ حَرَثَةِ الْقُرْآنِ - فَكُونُوا مِنْ حَرَثَتِه وأَتْبَاعِه - واسْتَدِلُّوه عَلَى رَبِّكُمْ واسْتَنْصِحُوه عَلَى أَنْفُسِكُمْ - واتَّهِمُوا عَلَيْه آرَاءَكُمْ واسْتَغِشُّوا فِيه أَهْوَاءَكُمْ.

الحث على العمل

الْعَمَلَ الْعَمَلَ ثُمَّ النِّهَايَةَ النِّهَايَةَ - والِاسْتِقَامَةَ الِاسْتِقَامَةَ ثُمَّ الصَّبْرَ الصَّبْرَ والْوَرَعَ الْوَرَعَ - إِنَّ لَكُمْ نِهَايَةً فَانْتَهُوا إِلَى نِهَايَتِكُمْ - وإِنَّ لَكُمْ عَلَماً فَاهْتَدُوا بِعَلَمِكُمْ - وإِنَّ لِلإِسْلَامِ غَايَةً فَانْتَهُوا إِلَى غَايَتِه - واخْرُجُوا إِلَى اللَّه بِمَا افْتَرَضَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَقِّه - وبَيَّنَ لَكُمْ مِنْ وَظَائِفِه - أَنَا شَاهِدٌ لَكُمْ وحَجِيجٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْكُمْ.

مخلوقات سے سوال نہ کرو۔اس لئے کہ مالک کی طرف متوجہ ہونے کا اس کا جیسا کوئی وسیلہ نہیں ہے اور یاد رکھو کہ وہ ایسا شفیع ہے جس کی شفاعت مقبول ہے اور ایسا بولنے والا ے جس کی بات مصدقہ ہے۔جس کے لئے قرآن روز قیامت سفارش کردے اس کے حق میں شفاعت مقبول ہے اور ایسا بولنے والا ہے جس کی بات مصدقہ ہے۔جس کے لئے قرآن روز قیامت سفارش کردے اس کے حق میں شفاعت قبول ہے اور جس کے عیب کو وہ بیان کردے اس کا عیب تصدیق شدہ ہے۔روز قیامت ایک منادی آوازدے گا کہ ہر کھیتی کرنے والا اپنی کھیتی اور اپنے عمل کے انجام میں مبتلا ہے لیکن جو اپنے دل میں قرآن کا بیج بونے والے تھے وہ کامیاب ہیں لہٰذا تم لوگ انہیں لوگوں اور قرآن کی پیروی کرنے والوں میں شامل ہو جائو۔ اسے مالک کی بارگاہ میں رہنما بنائو اور اس سے اپنے نفس کے بارے میں نصیحت کرواور اپنے خیالات کو متہم قراردو اور اپنے خواہشات کو فریب خوردہ تصور کرو۔

عمل کرو عمل

انجام پر نگاہ رکھو انجام۔استقامت سے کام لو استقامت اور احتیاط کرو احتیاط تمہارے لئے ایک انتہا معین ہے اس کی طرف قدم آگے بڑھائو اور اللہ کی بارگاہ میں اس کے حقوق کی ادائیگی اور اس کے احکام کی پابندی کے ساتھ حاضری دو۔میں تمہارے اعمال کا گواہ بنوںگا اور روز قیامت تمہاری طرف سے وکالت کروں گا۔


نصائح للناس

أَلَا وإِنَّ الْقَدَرَ السَّابِقَ قَدْ وَقَعَ - والْقَضَاءَ الْمَاضِيَ قَدْ تَوَرَّدَ - وإِنِّي مُتَكَلِّمٌ بِعِدَةِ اللَّه وحُجَّتِه - قَالَ اللَّه تَعَالَى -( إِنَّ الَّذِينَ قالُوا رَبُّنَا الله ثُمَّ اسْتَقامُوا - تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلائِكَةُ أَلَّا تَخافُوا ولا تَحْزَنُوا - وأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ ) - وقَدْ قُلْتُمْ رَبُّنَا اللَّه فَاسْتَقِيمُوا عَلَى كِتَابِه - وعَلَى مِنْهَاجِ أَمْرِه وعَلَى الطَّرِيقَةِ الصَّالِحَةِ مِنْ عِبَادَتِه - ثُمَّ لَا تَمْرُقُوا مِنْهَا ولَا تَبْتَدِعُوا فِيهَا - ولَا تُخَالِفُوا عَنْهَا - فَإِنَّ أَهْلَ الْمُرُوقِ مُنْقَطَعٌ بِهِمْ عِنْدَ اللَّه يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ إِيَّاكُمْ وتَهْزِيعَ الأَخْلَاقِ وتَصْرِيفَهَا - واجْعَلُوا اللِّسَانَ وَاحِداً ولْيَخْزُنِ الرَّجُلُ لِسَانَه - فَإِنَّ هَذَا اللِّسَانَ جَمُوحٌ بِصَاحِبِه - واللَّه مَا أَرَى عَبْداً يَتَّقِي تَقْوَى تَنْفَعُه حَتَّى يَخْزُنَ لِسَانَه - وإِنَّ لِسَانَ الْمُؤْمِنِ مِنْ وَرَاءِ قَلْبِه - وإِنَّ قَلْبَ الْمُنَافِقِ مِنْ وَرَاءِ لِسَانِه - لأَنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ تَدَبَّرَه فِي نَفْسِه - فَإِنْ كَانَ خَيْراً

(نصائح)

یاد رکھو کہ جو کچھ ہونا تھا وہ ہو چکا اور جو فیصلہ خداوندی تھا وہ سامنے آچکا ۔میں خدائی وعدہ اور اس کی حجت کے سہارے کلام کر رہا ہوں '' بیشک جن لوگوں نے خدا کو خدا مانا اور اسی بات پر قائم رہ گئے۔ان پر ملائکہ اس بشارت کے ساتھ نازل ہوتے ہیں کہ خبر دار ڈرو نہیں اور پریشان مت ہو۔تمہارے لئے اس جنت کی بشارت ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے '' اور تم لوگ تو خداکوخدا کہہ چکے ہو تو اب اس کی کتاب پر قائم رہو اور اس کے امر کے راستہ پر ثابت قدم رہو۔اس کی عبادت کے نیک راستہ پرجمے رہو اور اس سے خروج نہ کرو اور نہ کوئی بدعت ایجاد کرو اور نہ سنت سے اختلاف کرو۔اس لئے کہاطاعت الٰہی سے نکل جانے والے کا رشتہ پروردگار سے روز قیامت ٹوٹ جاتا ہے۔اس کے بعد ہوشیار ہوکر تمہارے اخلاق میں الٹ پھیرا دل بدل نہ ہونے پائے۔اپنی زبان کو ایک رکھو اور اسے محفوظ رکھو اس لئے کہ یہ زبان اپنے مالک سے بہت منہ زوری کرتی ہے۔خدا کی قسم میں نے کسی بندۂ مومن کو نہیں دیکھا جس نے اپنے تقویٰ سے فائدہ اٹھایا ہو مگر یہ کہ اپنی زبان کو روک کر رکھا ہے۔مومن کی زبان ہمیشہ اس کے دل کے پیچھے ہوتی ہے اور منافق کا دل ہمیشہ اس کی زبان کے پیچھے ہوتا ہے۔اس لئے کہ مومن جب بات کرنا چاہتا ہے تو پہلے دل میں غوروفکر کرتا ہے۔اس کے بعد حرف خیر ہوتا ہے تو اس کا


أَبْدَاه وإِنْ كَانَ شَرّاً وَارَاه - وإِنَّ الْمُنَافِقَ يَتَكَلَّمُ بِمَا أَتَى عَلَى لِسَانِه - لَا يَدْرِي مَا ذَا لَه ومَا ذَا عَلَيْه - ولَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - لَا يَسْتَقِيمُ إِيمَانُ عَبْدٍ حَتَّى يَسْتَقِيمَ قَلْبُه - ولَا يَسْتَقِيمُ قَلْبُه حَتَّى يَسْتَقِيمَ لِسَانُه - فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَلْقَى اللَّه تَعَالَى - وهُوَ نَقِيُّ الرَّاحَةِ مِنْ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وأَمْوَالِهِمْ - سَلِيمُ اللِّسَانِ مِنْ أَعْرَاضِهِمْ فَلْيَفْعَلْ.

تحريم البدع

واعْلَمُوا عِبَادَ اللَّه أَنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْتَحِلُّ الْعَامَ - مَا اسْتَحَلَّ عَاماً أَوَّلَ ويُحَرِّمُ الْعَامَ مَا حَرَّمَ عَاماً أَوَّلَ - وأَنَّ مَا أَحْدَثَ النَّاسُ لَا يُحِلُّ لَكُمْ شَيْئاً - مِمَّا حُرِّمَ عَلَيْكُمْ - ولَكِنَّ الْحَلَالَ مَا أَحَلَّ اللَّه والْحَرَامَ مَا حَرَّمَ اللَّه - فَقَدْ جَرَّبْتُمُ الأُمُورَ

اظہار کرتا ہے ورنہ اسے دل ہی میں چھپا رہنے دیتا ہے لیکن منافق جواس کے منہ میں آتاہے بک دیتاہے ۔اسے اس بات کی فکرنہیں ہوتی ہے کہ میرے موافق ہے یا مخالف اور پیغمبر (ص) اسلام نے فرمایا ہے کہ '' کسی شخص کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا ہے جب تک اس کا دل درست نہ ہو اور کسی شخص کا دل درست نہیں ہو سکتا ہے جب تک اس کی زبان درست نہ ہو۔اب جو شخص بھی اپنے پروردگار سے اس عالم میں ملاقات کر سکتا ہے کہ اس کا ہاتھ مسلمانوں کے خون اور ان کے مال سے پاک ہو اور اس کی زبان ان کی آبرو ریزی سے محفوظ ہو تو اسے بہر حال ایسا ضرور کرنا چاہیے۔

(بدعتوں کی ممانعت)

یاد رکھو کہ مرد مومن اس سال(۱) اسی چیز کو حلال کہتا ہے کہ جسے اگلے سال حلال کہہ چکا ہے اور اس سال اسی شے کو حرام قرار دیتا ہے جسے پچھلے سال حرام قرار دے چکا ہے۔اور لوگوں کی بدعتیں اور ان کی ایجادات حرام الٰہی کو حلال نہیں بنا سکتی ہیں۔ حلال و حرام وہی ہے جسے پروردگار نے حلال و حرام کہہ دیا ہے۔تم نے تمام امور کو

(۱)اسلام کے حلال و حرام دو قسم کے ہیں بعض امور وہ ہیں جنہیں مطلق طور پر حلال یا حرام قراردیا گیا ہے۔ان میں تغیر کا کوی امکان نہیں ہے اور انہیں بدلنے والا دین خدا میں دخل اندازی کرنے والا ہے جو خود ایک طرح کا کفر ہے۔اگرچہ بظاہر اس کا نام کفر یا شرک نہیں ہے۔

اور بعض امور وہ ہیں جن کی علیت یا حرمت حالات کے اعتبارسے رکھی گئی ہے۔ظاہر ہے کہ ان کا حکم حالات کے بدلنے کے ساتھ خود ہی بدل جائے گا۔اس میں کسی کے بدلنے کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا ہے۔ایک مسلمان اور غیر مسلم یا ایک مومن اور غیر مومن کا فرق یہی ہے کہ مسلمان اور امر الہیہ کا مکمل اتباع کرتاہے اور کافر یا منافق ان احکام کو اپنے مصالح اور منافع کے مطابق بدل لیتا ہے اور اس کا نام مصلحت اسلام یا مصلحت مسلمین رکھ دیتا ہے ۔


وضَرَّسْتُمُوهَا - ووُعِظْتُمْ بِمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ وضُرِبَتِ الأَمْثَالُ لَكُمْ - ودُعِيتُمْ إِلَى الأَمْرِ الْوَاضِحِ فَلَا يَصَمُّ عَنْ ذَلِكَ إِلَّا أَصَمُّ - ولَا يَعْمَى عَنْ ذَلِكَ إِلَّا أَعْمَى - ومَنْ لَمْ يَنْفَعْه اللَّه بِالْبَلَاءِ والتَّجَارِبِ - لَمْ يَنْتَفِعْ بِشَيْءٍ مِنَ الْعِظَةِ وأَتَاه التَّقْصِيرُ مِنْ أَمَامِه - حَتَّى يَعْرِفَ مَا أَنْكَرَ ويُنْكِرَ مَا عَرَفَ - وإِنَّمَا النَّاسُ رَجُلَانِ مُتَّبِعٌ شِرْعَةً ومُبْتَدِعٌ بِدْعَةً - لَيْسَ مَعَه مِنَ اللَّه سُبْحَانَه بُرْهَانُ سُنَّةٍ ولَا ضِيَاءُ حُجَّةٍ.

القرآن

وإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه لَمْ يَعِظْ أَحَداً بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ - فَإِنَّه حَبْلُ اللَّه الْمَتِينُ وسَبَبُه الأَمِينُ - وفِيه رَبِيعُ الْقَلْبِ ويَنَابِيعُ الْعِلْمِ - ومَا لِلْقَلْبِ جِلَاءٌ غَيْرُه مَعَ أَنَّه قَدْ ذَهَبَ الْمُتَذَكِّرُونَ - وبَقِيَ النَّاسُونَ أَوِ الْمُتَنَاسُونَ - فَإِذَا رَأَيْتُمْ خَيْراً فَأَعِينُوا عَلَيْه - وإِذَا رَأَيْتُمْ شَرّاً فَاذْهَبُوا عَنْه - فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كَانَ يَقُولُ - يَا ابْنَ آدَمَ اعْمَلِ الْخَيْرَ ودَعِ الشَّرَّ - فَإِذَا أَنْتَ جَوَادٌ قَاصِدٌ ».

آزمالیا ہے اور سب کا باقاعدہ تجربہ کرلیا ہے اور تمہیں پہلے والوں کے حالات سے نصیحت بھی کی جا چکی ہے اور ان کی مثالیں بھی بیان کی جا چکی ہے اور ایک واضح امر کی دعوت بھی دی جا چکی ہے کہ اب اس معاملہ میں بہرہ پن اختیار نہیں کرے گا مگر وہی جو واقعاً بہرہ ہو اور انددھا نہیں بنے گا مگر وہی جو واقعاً اندھا ہو اور پھر جسے بلائیں اور تجربات فائدہ نہ دے سکیں اسے نصیحتیں کیا فائدہ دیں گی۔اس کے سامنے صرف کوتاہیاں ہی رہیں گی جن کے نتیجہ میں برائیوں کو اچھا اور اچھائیوں کو برا سمجھنے لگے گا۔لوگ دو ہی قسم کے ہوتے ہیں۔یا وہ جو شریعت کا اتباع کرتے ہیں یا وہ جو بدعتوں کی ایجاد کرتے ہیں اور ان کے پاس نہ سنت کی کوئی دلیل ہوتی ہے اور نہ حجت پروردگار کی کوئی روشنی ۔

(قرآن)

پروردگار نے کسی شخص کو قرآن سے بہتر کوئی نصیحت نہیں فرمائی ہے۔کہ یہی خدا کی مضبوط رسی اور اس کا امانت دار وسیلہ ہے اس میں دلوں کی بہار کا سامان اور علم کے سر چشمے ہیں اور دل کی جلاء اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اب اگرچہ نصیحت حاصل کرنے والے جا چکے ہیں اور صرف بھول جانے والے یا بھلا دینے والے باقی رہ گئے ہیں لیکن پھر بھی تم کوئی خیر دیکھو تو اس پر لوگوں کی مدد کرو اور کوئی شر دیکھو تو اس سے دور ہو جائو کہ رسول اکرم (ص) برابر فرمایا کرتے تھے '' فرزند آدم خیر پرعمل کر اور شر کونظراندازکردے تاکہ بہترین نیک کردار اورمیانہ رو ہو جائے ۔


أنواع الظلم

أَلَا وإِنَّ الظُّلْمَ ثَلَاثَةٌ - فَظُلْمٌ لَا يُغْفَرُ وظُلْمٌ لَا يُتْرَكُ - وظُلْمٌ مَغْفُورٌ لَا يُطْلَبُ - فَأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي لَا يُغْفَرُ فَالشِّرْكُ بِاللَّه - قَالَ اللَّه تَعَالَى( إِنَّ الله لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِه ) - وأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي يُغْفَرُ - فَظُلْمُ الْعَبْدِ نَفْسَه عِنْدَ بَعْضِ الْهَنَاتِ - وأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي لَا يُتْرَكُ - فَظُلْمُ الْعِبَادِ بَعْضِهِمْ بَعْضاً - الْقِصَاصُ هُنَاكَ شَدِيدٌ لَيْسَ هُوَ جَرْحاً بِاْلمُدَى - ولَا ضَرْباً بِالسِّيَاطِ ولَكِنَّه مَا يُسْتَصْغَرُ ذَلِكَ مَعَه - فَإِيَّاكُمْ والتَّلَوُّنَ فِي دِينِ اللَّه - فَإِنَّ جَمَاعَةً فِيمَا تَكْرَهُونَ مِنَ الْحَقِّ - خَيْرٌ مِنْ فُرْقَةٍ فِيمَا تُحِبُّونَ مِنَ الْبَاطِلِ - وإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه لَمْ يُعْطِ أَحَداً بِفُرْقَةٍ خَيْراً مِمَّنْ مَضَى - ولَا مِمَّنْ بَقِيَ.

لزوم الطاعة

يَا أَيُّهَا النَّاسُ - طُوبَى لِمَنْ شَغَلَه عَيْبُه عَنْ عُيُوبِ النَّاسِ - وطُوبَى لِمَنْ لَزِمَ بَيْتَه وأَكَلَ قُوتَه - واشْتَغَلَ بِطَاعَةِ رَبِّه وبَكَى عَلَى خَطِيئَتِه - فَكَانَ مِنْ نَفْسِه فِي شُغُلٍ والنَّاسُ مِنْه فِي رَاحَةٍ!

اقسام ظلم

یاد رکھو کہ ظلم کی تین قسمیں ہیں۔وہ ظلم جس کی بخشش نہیں ہے اور وہ ظلم جسے چھوڑا نہیں جا سکتا ہے۔اور وہ ظلم جس کی بخش ہوجاتی ہے اور اس کا مطالبہ نہیں ہوتا ہے۔ وہ ظلم جس کی بخشش نہیں ہے وہ اللہ کا شریک قرار دینا ہے کہ پروردگار نے خود اعلان کردیا ہے کہ اس کا شریک قراردینے والے کی مغفرت نہیں ہو سکتی ہے اوروہ ظلم جو معاف کردیا جاتا ہے وہ انسان کا اپنے نفس پر ظلم ہے معمولی گناہوں کے ذریعہ۔اور وہ ظلم جسے چھوڑا نہیں جا سکتا ہے۔وہ بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم ہے کہ یہاں قصاص بہت سخت ہے اور یہ صرف چھری کا زخم اور تازیانہ کی مار نہیں بلکہ ایسی سزا ہے جس کے سامنے یہ سب بہت معمولی ہیں لہٰذا خبردار دی خدا میں رنگ بدلنے کی روشن اختیار مت کرو کہ جس حق کو تم نا پسند کرتے ہو اس پرمتحد رہنا اس باطل پر چل کرمنتشر ہو جانے سے بہر حال بہتر ہے جسے تم پسند کرتے ہو۔پروردگار نے افتراق و انتشار میں کسی کو کوئی خیرنہیں دیا ہے نہ ان لوگوں میں جو چلے گئے اور نہ ان میں جوباقی رہ گئے ہیں۔

لوگو!خوش نصیب ہے وہ جسے اپنا عیب دوسروں کے عیب پر نظر کرنے سے مشغول کرلے اور قابل مبارکباد ہے وہ شخص جو اپنے گھرمیں بیٹھ رہے ۔اپنا رزق کھائے اور اپنے پروردگار کی اطاعت کرتا رہے اوراپنے گناہوں پر گریہ کرتا رہے۔وہ اپنے نفس میں مشغول رہے اور لوگ اس کی طرف سے مطمئن رہیں۔


(۱۷۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في معنى الحكمين

فَأَجْمَعَ رَأْيُ مَلَئِكُمْ عَلَى أَنِ اخْتَارُوا رَجُلَيْنِ - فَأَخَذْنَا عَلَيْهِمَا أَنْ يُجَعْجِعَا عِنْدَ الْقُرْآنِ ولَا يُجَاوِزَاه - وتَكُونُ أَلْسِنَتُهُمَا مَعَه وقُلُوبُهُمَا تَبَعَه فَتَاهَا عَنْه - وتَرَكَا الْحَقَّ وهُمَا يُبْصِرَانِه - وكَانَ الْجَوْرُ هَوَاهُمَا والِاعْوِجَاجُ رَأْيَهُمَا - وقَدْ سَبَقَ اسْتِثْنَاؤُنَا عَلَيْهِمَا فِي الْحُكْمِ بِالْعَدْلِ - والْعَمَلِ بِالْحَقِّ سُوءَ رَأْيِهِمَا وجَوْرَ حُكْمِهِمَا - والثِّقَةُ فِي أَيْدِينَا لأَنْفُسِنَا حِينَ خَالَفَا سَبِيلَ الْحَقِّ - وأَتَيَا بِمَا لَا يُعْرَفُ مِنْ مَعْكُوسِ الْحُكْمِ

(۱۷۷)

آپ کا ارشاد گرامی

(صفین کے بعد حکمین کے بارے میں )

تمہاری جماعت(۱) ہی نے دوآدمیوں کے انتخاب پر اتفاق کرلیا تھا۔میں نے تو ان دونوں سے شرط کرلی تھی کہ قرآن کی حدوں پر واقف کریں گے اور اس سے تجاوز نہیں کریں گے۔ان کی زبان اس کے ساتھ رہے گی اوروہ اسی کا اتباع کریں گے لیکن وہ دونوں بھٹک گئے اور حق کو دیکھ بھال کر نظر انداز کردیا۔ظلم ان کی آرزو تھا اور کج فہمی ان کی رائے جب کہ اس بد ترین رائے اوراس ظالمانہ فیصلہ سے پہلے ہی میں نے یہ شرط کردی تھی کہ عدالت کے ساتھ فیصلہ کریں گے اور حق کے مطابق عمل کریں گے لہٰذا اب میرے پاس اپنے حق میں حجت و دلیل موجود ہے کہ ان لوگوں نے راہ حق سے اختلاف کیا ہے اور طے شدہ قرار داد کے خلاف الٹا حکم کیا ہے۔

(۱) جب معاویہ نے صفین میں اپنے لشکر کو ہارتے ہوئے دیکھا تو نیزوں پر قرآن بلند کردیا کہ ہم قرآن سے فیصلہ چاہتے ہیں۔امیر المومنین نے فرمایا کہ یہ صرف مکاری اور غداری ہے ورنہ میں تو خود ہی قرآن ناطق ہو ں ۔مجھ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہو سکتا ہے لیکن شام کے نمک خوار اور ضمیر فروش سپاہیوں نے ہنگامہ کردیا اور حضرت کومجبور کردیا کہ دو افراد کو حکم بنا کر ان سے فیصلہ کرائیں ۔آپ نے اپنی طرف سے ابن عباس کو پیش کیا لیکن ظالموں نے اسے بھی نہ مانا۔بالآخر آپ نے فرمایا کہ کوئی بھی فیصلہ کرے لیکن قرآن کے حدود سے آگے نہ بڑھے کہ میں نے قرآن ہی کے نام پرجنگ کو موقوف کیا ہے مگر افسوس کہ یہ کچھ نہ ہو سکا اور عمرو عاص کی عیارینے آپ کے خلاف فیصلہ کرادیا اوراس طرح اسلام ایک عظیم فتنہ سے دوچار ہوگیا لیکن آپ کا عذر واضح رہا کہ میں نے فیصلہ میں قرآن کی شرط کی تھی اور یہ فیصلہ قرآن سے نہیں ہوا ہے لہٰذا مجھ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔


(۱۷۸)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في الشهادة والتقوى. وقيل: إنه خطبها بعد مقتل عثمان في أول خلافته

اللَّه ورسوله

لَا يَشْغَلُه شَأْنٌ ولَا يُغَيِّرُه زَمَانٌ - ولَا يَحْوِيه مَكَانٌ ولَا يَصِفُه لِسَانٌ - لَا يَعْزُبُ عَنْه عَدَدُ قَطْرِ الْمَاءِ ولَا نُجُومِ السَّمَاءِ - ولَا سَوَافِي الرِّيحِ فِي الْهَوَاءِ - ولَا دَبِيبُ النَّمْلِ عَلَى الصَّفَا - ولَا مَقِيلُ الذَّرِّ فِي اللَّيْلَةِ الظَّلْمَاءِ - يَعْلَمُ مَسَاقِطَ الأَوْرَاقِ وخَفِيَّ طَرْفِ الأَحْدَاقِ - وأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه غَيْرَ مَعْدُولٍ بِه - ولَا مَشْكُوكٍ فِيه ولَا مَكْفُورٍ دِينُه - ولَا مَجْحُودٍ تَكْوِينُه شَهَادَةَ مَنْ صَدَقَتْ نِيَّتُه - وصَفَتْ دِخْلَتُه وخَلَصَ يَقِينُه وثَقُلَتْ مَوَازِينُه - وأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُه ورَسُولُه الَمْجُتْبَىَ مِنْ خَلَائِقِه - والْمُعْتَامُ لِشَرْحِ حَقَائِقِه والْمُخْتَصُّ بِعَقَائِلِ كَرَامَاتِه - والْمُصْطَفَى لِكَرَائِمِ رِسَالَاتِه - والْمُوَضَّحَةُ بِه أَشْرَاطُ الْهُدَى والْمَجْلُوُّ بِه غِرْبِيبُ الْعَمَى.

(۱۷۸)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(شہادت ایمان اور تقویٰ کے بارے میں )

نہ اس پر کوئی حالت طاری ہو سکتی ہے اور نہ اسے کوئی زمانہ بدل سکتا ہے اور نہ اس پر کوئی مکان حاوی ہو سکتا ہے اور نہ اس کی توصیف ہو سکتی ہے۔اس کے علم سے نہ بارش کے قطرے مخفی ہیں اور نہآسمان کے ستارے۔نہ فضائوں میں ہواکے جھکڑ مخفی ہیں اور نہ پتھروں پرچیونٹی کے چلنے کی آواز اور نہ اندھیری رات میں اس کی پناہ گاہ۔وہ پتوں کے گرنے کی جگہ بھی جانتا ہے اورآنکھ کے دز دیدہ اشارے بھی۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔نہ اس کا کوئی ہمسرو عدیل ہے اور نہ اس میں کسی طرح کا شک ے نہ اس کے دین کا انکار ہو سکتا ہے اور نہ اس کی تخلیق سے انکار کیا جا سکتا ہے۔یہ شہادت اس شخص کی ہے جس کی نیت سچی ہے اور باطن صاف ہے اس کا یقین خالص ہے اور میزان عمل گرانبار۔

اور پھر میں شہادت دیتا ہوں کہ حضرت محمد (ص) اس کے بندہ اور تمام مخلوقات میں منتخب رسول ہیں۔انہیں حقائق کی تشریح کے لئے چنا گیا ہے اور بہترین شرافتوں سے مخصوص کیا گیا ہے۔عظیم ترین پیغامات کے لئے ان کا انتخاب ہوا ہے اور ان کے ذریعہ ہدایت کی علامات کی وضاحت کی گئی ہے اور گمراہی کی تاریکیوں کو دور کیا گیا ہے۔


أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الدُّنْيَا تَغُرُّ الْمُؤَمِّلَ لَهَا والْمُخْلِدَ إِلَيْهَا - ولَا تَنْفَسُ بِمَنْ نَافَسَ فِيهَا وتَغْلِبُ مَنْ غَلَبَ عَلَيْهَا - وايْمُ اللَّه مَا كَانَ قَوْمٌ قَطُّ فِي غَضِّ نِعْمَةٍ مِنْ عَيْشٍ - فَزَالَ عَنْهُمْ إِلَّا بِذُنُوبٍ اجْتَرَحُوهَا لـ( أَنَّ الله لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ ) - ولَوْ أَنَّ النَّاسَ حِينَ تَنْزِلُ بِهِمُ النِّقَمُ وتَزُولُ عَنْهُمُ النِّعَمُ فَزِعُوا إِلَى رَبِّهِمْ بِصِدْقٍ مِنْ نِيَّاتِهِمْ ووَلَه مِنْ قُلُوبِهِمْ - لَرَدَّ عَلَيْهِمْ كُلَّ شَارِدٍ وأَصْلَحَ لَهُمْ كُلَّ فَاسِدٍ - وإِنِّي لأَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تَكُونُوا فِي فَتْرَةٍ - وقَدْ كَانَتْ أُمُورٌ مَضَتْ مِلْتُمْ فِيهَا مَيْلَةً - كُنْتُمْ فِيهَا عِنْدِي غَيْرَ مَحْمُودِينَ - ولَئِنْ رُدَّ عَلَيْكُمْ أَمْرُكُمْ إِنَّكُمْ لَسُعَدَاءُ - ومَا عَلَيَّ إِلَّا الْجُهْدُ - ولَوْ أَشَاءُ أَنْ أَقُولَ لَقُلْتُ( عَفَا الله عَمَّا سَلَفَ ) !

لوگو! یاد رکھو یہ دنیا اپنے سے لو گانے والے اور اپنی طرف کھینچ جانے والے کو ہمیشہ دھوکہ دیا کرتی ہے۔جو اس کا خواہش مند ہوتا ہے اس سے بخل نہیں کرتی ہے اورجواس پر غالب آجاتا ہے اس پرقابو پالیتی ہے ۔خدا کی قسم کوئی بھی قوم جو نعمتوں کی ترو تازہ اورشاداب زندگی میں تھی اور پھر اس کی وہ زندگی زائل ہوگئی ہے تو اس کا کوئی سبب سوائے ان گناہوں کے نہیں ہے جن کا ارتکاب(۱) اس قوم نے کیا ہے۔اس لئے کہ پروردگار اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ہے۔پھر بھی جن لوگوں پر عتاب نازل ہوتاہے اورنعمتیں زائل ہو جاتی ہیں اگرصدق نیت اورت وجہ قلب کے ساتھ پروردگار کی بارگاہ میں فریاد کریں تو وہ گئی ہوئی نعمتوں کو واپس کردے گا اور بگڑے کاموں کو بنادے گا۔میں تمہارے بارے میں اس بات سے خوفزدہ ہوں کہ کہیں تم جہالت اورنادانی میں نہ پڑ جائو ۔کتنے ہی معاملات ایسے گزر چکے ہیں جن میں تمہارا جھکائو اس رخ کی طرف تھا جس میں تم قطعاً قابل تعریف نہیں تھے۔اب اگر تمہیں پہلے کی روشن کی طرف پلٹا دیا جائے تو پھرنیک بخت ہو سکتے ہو لیکن میری ذمہ داری صرف محنت کرنا ہے اور اگر میں کہنا چاہوں تو یہی کہہ سکتا ہوں کہ پرردگار گزشتہ معاملات سے درگزر فرمائے۔

(۱)بعض حضرات نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر ارفاد کا زوال صرف گناہوں کی بنیاد پرہوتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ دنیا میں بے شمار بد ترین قسم کے گناہ گار پائے جاتے ہیں لیکن ان کی زندگی میں راحت و آرام' تقدم اورترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔کیا اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ گناہوں کا راحت و آرام یا رنج و الم میں کوئی دخل نہیں ہے اور ان مسائل کے اسباب کسی اورشے میں پائے جاتے ہیں۔لیکن اس کا واضح سا جواب یہ ہے کہ امیر المومنین نے افراد کاذکر نہیں کیا ہے ۔قوم کاذکر کیا ہے اور قوموں کی تاریخ گواہ ہے کہ ان کا زوال ہمیشہ انفرادی یا اجتماعی گناہوں کی بنا پر ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جس قوم نے شکر خدا نہیں ادا کیا وہ صفحہ ہستی سے نابود ہوگئی اور جس قوم نے نعمت کی فراوانی کے باوجود شکر خدا سے انحراف نہیں کیا اس کا ذکرآج تک زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا۔


(۱۷۹)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وقد سأله ذعلب اليماني فقال - هل رأيت ربك يا أمير المؤمنين

فقالعليه‌السلام - أفأعبد ما لا أرى فقال وكيف تراه فقال

لَا تُدْرِكُه الْعُيُونُ بِمُشَاهَدَةِ الْعِيَانِ - ولَكِنْ تُدْرِكُه الْقُلُوبُ بِحَقَائِقِ الإِيمَانِ - قَرِيبٌ مِنَ الأَشْيَاءِ غَيْرَ مُلَابِسٍ بَعِيدٌ مِنْهَا غَيْرَ مُبَايِنٍ - مُتَكَلِّمٌ لَا بِرَوِيَّةٍ مُرِيدٌ لَا بِهِمَّةٍ صَانِعٌ لَا بِجَارِحَةٍ - لَطِيفٌ لَا يُوصَفُ بِالْخَفَاءِ كَبِيرٌ لَا يُوصَفُ بِالْجَفَاءِ - بَصِيرٌ لَا يُوصَفُ بِالْحَاسَّةِ رَحِيمٌ لَا يُوصَفُ بِالرِّقَّةِ - تَعْنُو الْوُجُوه لِعَظَمَتِه وتَجِبُ الْقُلُوبُ مِنْ مَخَافَتِه

(۱۸۰)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في ذم العاصين من أصحابه

أَحْمَدُ اللَّه عَلَى مَا قَضَى مِنْ أَمْرٍ وقَدَّرَ مِنْ فِعْلٍ - وعَلَى ابْتِلَائِي بِكُمْ

(۱۷۹)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب دغلب یمانی نے دریافت کیا کہ یا امیر المومنین کیا آپ نے اپنے خدا کو دیکھا ہے تو فرمایا کیا میں ایسے خدا کی عبادت کر سکتا ہوں جسے دیکھا بھی نہ ہو۔عرض کی مولا ! اسے کس طرح دیکھا جا سکتا ہے ؟فرمایا)

ا س ے نگاہیں آنکھوں کے مشاہدہ سے نہیں دیکھ سکتی ہیں۔اس کا ادراک دلوں کو حقائق ایمان کے سہارے حاصل ہوتا ہے ۔وہ اشیاء سے قریب ہے لیکن جسمانی اتصال کی بناپ ر نہیں اور دوربھی ہے لیکن علیحدگی کی بنیاد پر نہیں۔وہ کلام کرتا ہے لیکن فکر کا متحاج نہیں اور وہ اراد ہ کرتا ہے لیکن سوچنے کی ضرورت نہیں رکھتا ۔ وہ بلا اعضاء و جوارح کے صانع ہے اور بلا پوشیدہ ہوئے لطیف ہے۔ایسا بڑا ہے جو چھوٹوں پرظلم نہیں کرتا ہے اور ایسا بصیر ہے جس کے پاس حواس نہیں ہیں اور اس کی رحمت میں دل کی نرمی شامل نہیں ہے۔تمام چہرے اس کی عظمت کے سامنے ذلیل و خوار ہیں اور تمام قلوب اس کے خوف سے لرز رہے ہیں۔

(۱۸۰)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

میں خدا کا شکرکرتا ہوں ان امور پر جو گزر گئے اوران افعال پر جو اس نے مقدر کردئیے اوراپنے تمہارے ساتھ مبتلا


أَيَّتُهَا الْفِرْقَةُ الَّتِي إِذَا أَمَرْتُ لَمْ تُطِعْ - وإِذَا دَعَوْتُ لَمْ تُجِبْ - إِنْ أُمْهِلْتُمْ خُضْتُمْ وإِنْ حُورِبْتُمْ خُرْتُمْ - وإِنِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَى إِمَامٍ طَعَنْتُمْ - وإِنْ أُجِئْتُمْ إِلَى مُشَاقَّةٍ نَكَصْتُمْ -. لَا أَبَا لِغَيْرِكُمْ مَا تَنْتَظِرُونَ بِنَصْرِكُمْ - والْجِهَادِ عَلَى حَقِّكُمْ - الْمَوْتَ أَوِ الذُّلَّ لَكُمْ - فَوَاللَّه لَئِنْ جَاءَ يَومِي ولَيَأْتِيَنِّي لَيُفَرِّقَنَّ بَيْنِي وبَيْنِكُمْ - وأَنَا لِصُحْبَتِكُمْ قَالٍ وبِكُمْ غَيْرُ كَثِيرٍ - لِلَّه أَنْتُمْ أَمَا دِينٌ يَجْمَعُكُمْ ولَا حَمِيَّةٌ تَشْحَذُكُمْ - أَولَيْسَ عَجَباً أَنَّ مُعَاوِيَةَ يَدْعُو الْجُفَاةَ الطَّغَامَ - فَيَتَّبِعُونَه عَلَى غَيْرِ مَعُونَةٍ ولَا عَطَاءٍ

ہونے پر بھی اے وہ گروہ جسے میں حکم دیتا ہوں تو اطاعت نہیں کرتا ہے اورآواز دیتا ہوں تو لبیک نہیں کہتا ہے۔تمہیں مہلت دے دی جاتی ہے تو خوب باتیں بناتے ہو اور جنگ میں شامل کردیا جاتا ہے تو بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہو۔لوگ کسی امام پر اجتماع کرتے ہیں تو اعتراضات کرتے ہو اور گھیر کر مقابلہ کی طرف لائے جاتے ہو تو فرار اختیار کرلیتے ہو۔

تمہارے دشمنوں کا برا ہو آخر تم میری نصرت اور اپنے حق کے لئے جہاد میں کس چیزکا انتظار کر رہے ہو؟ موت کا یا ذلت کا ؟ خدا کی قسم اگر میرادن آگیا جو بہر حا ل آنے والا ہے تو میرے تمہارے درمیان اس حال میں جدائی ہوگی کہ میں تمہاری صحبت سے دل برداشتہ ہوں گا اور تمہاری موجودگی سے کسی کثرت کا احساس نہ کروں گا۔

خدا تمہارا بھلا کرے ! کیا تمہارے پاس کوئی دین نہیں(۱) ہے۔جو تمہیں متحد کرسکے اورنہ کوئی غیرت جو تمہیں آمادہ کر سکے ؟ کیا یہ بات حیرت انگیز نہیں ہے کہ معاویہ اپنے ظالم اور بدکار ساتھیوں کو آواز دیتاہے تو کسی امداد اور عطا کے بغیر بھی اس کی اطاعت کر لیتے ہیں

(۱) انسان کے پاس دو ہی سرمایہ ہیں جو اسے شرافت کی دعوت دیتے ہیں۔دیندار کے پاس دین اورآزاد منش کے پاس غیرت مگر افسوس کہ امیرالمومنین کے اطراف جمع ہو جانے والے افراد کے پاس نہ دین تھا اور نہ قومی شرافت کا احساس۔اور ظاہر ہے کہ ایسی قوم سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے اور نہ وہ کسی وفاداری کا اظہار کر سکتی ہے۔کس قدرافسوس ناک یہ بات ہے کہ عام اسلام میں معاویہ اور عمرو عاص کی بات سنی جائے اورنفس رسول (ص) کی بات کو ٹھکرا دیا جائے بلکہ اس سے جنگ کی جائے ۔کیا اس کے بعد بھی کسی غیرت دار انسان کو زندگی کی آرزو ہو سکتی ہے اور وہ اس زندگی سے دل لگا سکتا ہے۔امیرالمومنین کے اس فقرہ میں کہ '' قزت و رب الکعبة '' بے پناہ درد پایا جاتا ہے۔جس میں ایک طرف اپنی شہادت اور قربانی کے ذریعہ کا میابی کا اعلان ہے اوردوسری طرف اس بے غیرت قوم سے جدائی کی مسرت کااظہار بھی پایا جاتا ہے کہ انسان ایسی قوم سے نجات حاصل کرلے اور اس انداز سے حاصل کرلے کہ اس پر کوئی الزام نہ ہو بلکہ وہ معرکہ حیات میں کامیاب رہے۔


وأَنَا أَدْعُوكُمْ وأَنْتُمْ تَرِيكَةُ الإِسْلَامِ - وبَقِيَّةُ النَّاسِ إِلَى الْمَعُونَةِ أَوْ طَائِفَةٍ مِنَ الْعَطَاءِ - فَتَفَرَّقُونَ عَنِّي وتَخْتَلِفُونَ عَلَيَّ - إِنَّه لَا يَخْرُجُ إِلَيْكُمْ مِنْ أَمْرِي رِضًى فَتَرْضَوْنَه - ولَا سُخْطٌ فَتَجْتَمِعُونَ عَلَيْه - وإِنَّ أَحَبَّ مَا أَنَا لَاقٍ إِلَيَّ الْمَوْتُ - قَدْ دَارَسْتُكُمُ الْكِتَابَ وفَاتَحْتُكُمُ الْحِجَاجَ - وعَرَّفْتُكُمْ مَا أَنْكَرْتُمْ وسَوَّغْتُكُمْ مَا مَجَجْتُمْ - لَوْ كَانَ الأَعْمَى يَلْحَظُ أَوِ النَّائِمُ يَسْتَيْقِظُ - وأَقْرِبْ بِقَوْمٍ مِنَ الْجَهْلِ بِاللَّه قَائِدُهُمْ مُعَاوِيَةُ - ومُؤَدِّبُهُمُ ابْنُ النَّابِغَةِ !

(۱۸۱)

ومِنْ كَلَامٍ لَهعليه‌السلام

وقَدْ أَرْسَلَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِه - يَعْلَمُ لَه عِلْمَ أَحْوَالِ قَوْمٍ مِنْ جُنْدِ الْكُوفَةِ - قَدْ هَمُّوا بِاللِّحَاقِ بِالْخَوَارِجِ - وكَانُوا عَلَى خَوْفٍ مِنْهعليه‌السلام فَلَمَّا عَادَ إِلَيْه الرَّجُلُ - قَالَ لَه أَأَمِنُوا فَقَطَنُوا أَمْ جَبَنُوا فَظَعَنُوا - فَقَالَ الرَّجُلُ بَلْ ظَعَنُوا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - فَقَالَعليه‌السلام

اورمیں تم کو دعوت دیتا ہوں اورتم سے عطیہ کاوعدہ بھی کرتا ہوں تو تم مجھ سے الگ ہو جاتے ہو اورمیری مخالفت کرتے ہو۔حالانکہ اب تمہیں اسلام کا ترکہ اور اس کے باقی ماندہ افراد ہو۔افسوس کہ تمہاری طرف نہ میری رضا مندی کی کوئی بات ایسی آتی ہے جس سے تم راضی ہو جائو اور نہ میری ناراضگی کا کوئی مسئلہ ایسا آتا ہے جس سے تم بھی ناراض ہو جائو۔اب تو میرے لئے محبوب ترین شے جس سے میں ملنا چاہتا ہوں صرف موت ہی ہے میں نے تمہیں کتاب خدا کی تعلیم دی ۔تمہارے سامنے کھلے ہوئے دلائل پیش کئے ۔جسے تم نہیں پہچانتے تھے اسے پہچنوایا اورجسے تم تھوک دیاکرتے تھے اسے خوشگوار بنایا۔مگر یہ سب اس وقت کارآمد ہے جب اندھے کو کچھ دکھائی دے اورسوتا ہوا بیدار ہو جائے۔وہ قوم جہالت سے کس قدر قریب ہے۔جس کا قائد معاویہ ہو اور اس کا ادب سکھانے والا نابغہ کا بیٹا ہو۔

(۱۸۱)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب آپ نے ایک شخص کو اس کی تحقیق کے لئے بھیجا۔جوخوارج سے ملنا چاہتی تھی اور حضرت سے خوف زدہ تھی اور وہ شخص پلٹ کر آیاتو آپ نے سوال کیا کہ کیا وہ لوگ مطمئن ہو کر ٹھہر گئے ہیں یا بزدلی کا مظاہرہ کرکے نکل پڑے ہیں۔اس نے کہا کہ وہ کوچ کر چکے ہیں۔تو آپ نے فرمایا)


بُعْداً لَهُمْ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ - أَمَا لَوْ أُشْرِعَتِ الأَسِنَّةُ إِلَيْهِمْ - وصُبَّتِ السُّيُوفُ عَلَى هَامَاتِهِمْ - لَقَدْ نَدِمُوا عَلَى مَا كَانَ مِنْهُمْ - إِنَّ الشَّيْطَانَ الْيَوْمَ قَدِ اسْتَفَلَّهُمْ - وهُوَ غَداً مُتَبَرِّئٌ مِنْهُمْ ومُتَخَلٍّ عَنْهُمْ - فَحَسْبُهُمْ بِخُرُوجِهِمْ مِنَ الْهُدَى وارْتِكَاسِهِمْ فِي الضَّلَالِ والْعَمَى - وصَدِّهِمْ عَنِ الْحَقِّ وجِمَاحِهِمْ فِي التِّيه

(۱۸۲)

ومِنْ خُطْبَةٍ لَهعليه‌السلام :

رُوِيَ عَنْ نَوْفٍ الْبَكَالِيِّ - قَالَ خَطَبَنَا بِهَذِه الْخُطْبَةِ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٌّعليه‌السلام بِالْكُوفَةِ - وهُوَ قَائِمٌ عَلَى حِجَارَةٍ - نَصَبَهَا لَه جَعْدَةُ بْنُ هُبَيْرَةَ الْمَخْزُومِيُّ - وعَلَيْه مِدْرَعَةٌ مِنْ صُوفٍ وحَمَائِلُ سَيْفِه لِيفٌ - وفِي رِجْلَيْه نَعْلَانِ مِنْ لِيفٍ - وكَأَنَّ جَبِينَه ثَفِنَةُ بَعِيرٍ فَقَالَعليه‌السلام

خدا انہیں(۱) قوم ثمودکی طرح غارت کردے۔یاد رکھو نیزوں کی انیاں ان کی طرف سیدھی کردی جائیں گی اورتلواریں ان کے سروں پر برسنے لگیں گی تو انہیں اپنے کئے پر شرمندگی کا احساس ہوگا۔آج شیطان نے انہیں منتشر کردیا ہے اور کل وہی ان سے الگ ہو کر پرائت و بیزاری کا اعلان کرے گا۔اب ان کے لئے ہدایت سے نکل جانا۔ضلالت اور گمراہی میں گر پڑنا۔ راہ حق سے روک دینا اور گمراہی میں منہ زوری کرنا ہی ان کے تباہ ہونے کے لئے کافی ہے۔

(۱۸۲)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

نوف بکالی سے روایت کی گئی ہے کہ امیر المومنین نے ایک دن کوفہ میں ایک پتھر پرکھڑے ہو کرخطبہ ارشاد فرمایا جسے جعدہ بن ہبیرہ مخزومی نے نصب کیا تھا اور اس وقت آپ اون کا ایک جبہ پہنے ہوئے تھے اور آپ کی تلوار کا پرتلہ بھی لیف خرما کا تھا اور پیروں میں لیف خرما ہی کی جوتیاں تھیں آپ کی پیشانی اقدس پر سجدوں کے گھٹے نمایاں تھے ۔فرمایا !

(۱) بنی ناجیہ کا ایک شخص جس کا نام خریت بن راشد تھا۔امیر المومنین کے ساتھ صفین میں شریک رہا اور اس کے بعد گمراہ ہوگیا۔حضرت سے کہنے لگا کہ میں نہ آپ کی اطاعت کروں گا اور نہ میں آپ کے پیچھے نماز پڑھوں گا۔ آپ نے سبب دریافت کیا ؟ اس نے کہا کل بتائوں گا۔اور پھرآنے کے بجائے تیس افراد کو لے کر صحرائوں میں نکل گیا اورل وٹ مار کاکام شروع کردیا۔ایک امیرالمومنین کے چاہنے والے مسافر کو صرف حب علی کی بنیاد پر کافر قراردے کر قتل کردیا اور ایک یہودی کو آزاد چھوڑ دیا۔حضرت نے اس کی روک تھام کے لئے زیاد بن ابی حفصہ کو ۱۳۰ افراد کے ساتھ بھیجا۔زیاد نے چند افراد کو تہ تیغ کردیا اور خریت فرار کرگیا اور کردوں کو بغاوت پرآمادہ کرنے لگا آپ نے معقل بن قیس ریاحی کو دو ہزار سپاہیوں کے ساتھ روانہ کیا۔انہوں نے زمین فارس تک اس کا پیچھا کیا یہاں تک کہ طرفین میں شدید جنگ ہوئی اورخریت نعمان بن صہیان کو اسیکے ہاتھوں فنا کے گھاٹ اتار دیا گیا اور اس فتنہ کاخاتمہ ہوگیا۔


حمد اللَّه واستعانته

الْحَمْدُ لِلَّه الَّذِي إِلَيْه مَصَائِرُ الْخَلْقِ - وعَوَاقِبُ الأَمْرِ نَحْمَدُه عَلَى عَظِيمِ إِحْسَانِه - ونَيِّرِ بُرْهَانِه ونَوَامِي فَضْلِه وامْتِنَانِه - حَمْداً يَكُونُ لِحَقِّه قَضَاءً ولِشُكْرِه أَدَاءً - وإِلَى ثَوَابِه مُقَرِّباً ولِحُسْنِ مَزِيدِه مُوجِباً - ونَسْتَعِينُ بِه اسْتِعَانَةَ رَاجٍ لِفَضْلِه مُؤَمِّلٍ لِنَفْعِه وَاثِقٍ بِدَفْعِه - مُعْتَرِفٍ لَه بِالطَّوْلِ مُذْعِنٍ لَه بِالْعَمَلِ والْقَوْلِ - ونُؤْمِنُ بِه إِيمَانَ مَنْ رَجَاه مُوقِناً - وأَنَابَ إِلَيْه مُؤْمِناً وخَنَعَ لَه مُذْعِناً - وأَخْلَصَ لَه مُوَحِّداً وعَظَّمَه مُمَجِّداً ولَاذَ بِه رَاغِباً مُجْتَهِداً.

اللَّه الواحد

( لَمْ يُولَد ْ) سُبْحَانَه فَيَكُونَ فِي الْعِزِّ مُشَارَكاً - و( لَمْ يَلِدْ ) فَيَكُونَ مَوْرُوثاً هَالِكاً - ولَمْ يَتَقَدَّمْه وَقْتٌ ولَا زَمَانٌ - ولَمْ يَتَعَاوَرْه زِيَادَةٌ ولَا نُقْصَانٌ - بَلْ ظَهَرَ لِلْعُقُولِ بِمَا أَرَانَا مِنْ عَلَامَاتِ التَّدْبِيرِ الْمُتْقَنِ - والْقَضَاءِ الْمُبْرَمِ  

ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس کی طرف تمام مخلوقات کی بازگشت اورجملہ امور کی انتہاء ہے۔میں اس کی حمد کرتا ہوں اس کے عظیم احسان' واضح دلائل اور بڑھتے ہوئے فض و کرم پر۔وہ حمد جو اس کے حق کو پورا کر سکے اور اس کے شکر کوادا کرسکے۔اس کے عظیم احسان ' واضح دلائل اور بڑھتے ہوئے فضل و کرم پر۔وہ حمد جواس کے حق کو پورا کرا سکے اوراس کے شکر کوادا کرسکے۔اس کے ثواب سے قریب بنا سکے اورنعمتوں میں اضافہ کا سبب بن سکے۔میں اس سے مدد چاہتا ہوں اور اس بندہ کی طرح جو اس کے فضل کا امید وار ہو۔اس کے منافع کا طلب گار ہو۔اس کے دفع بلاء کا یقین رکھنے والا ہو اس کے کرم کا اعتراف کرنے والا ہو اور قول وعمل میں اس پر مکمل اعتماد کرنے والا ہو۔

میں اس پر ایمان رکھتا ہوں اس بندہ کی طرح جو یقین کے ساتھ اس کا امید وار ہو اور ایمان کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہو۔اذعان کے ساتھ اس کی بارگاہ میں سر بسجود ہو اور توحید کے ساتھ اس سے اخلاص رکھتا ہو۔تمجید کے ساتھ اس کی عظمت کا اقرار کرتا ہو اور رغبت و کوشش کے ساتھ اس کی پناہ میں آیا ہو۔

وہ پیدا نہیں کیا گیا ہے کہ کوئی اس کی عزت میں شریک بن جائے اور اس نے کسی بیٹے کوپیدا نہیں کیا ہے کہ خود ہلاک ہو جائے اور بیٹا وارث ہو جائے۔نہ اس سے پہلے کوئی زمان و مکان تھا اور نہ اس پر کوئی کمی یا زیادتی طاری ہوتی ہے۔اس نے اپنی محکم تدبیر اور اپنے حتمی فیصلہ


فَمِنْ شَوَاهِدِ خَلْقِه خَلْقُ السَّمَاوَاتِ مُوَطَّدَاتٍ بِلَا عَمَدٍ - قَائِمَاتٍ بِلَا سَنَدٍ دَعَاهُنَّ فَأَجَبْنَ طَائِعَاتٍ مُذْعِنَاتٍ - غَيْرَ مُتَلَكِّئَاتٍ ولَا مُبْطِئَاتٍ - ولَوْ لَا إِقْرَارُهُنَّ لَه بِالرُّبُوبِيَّةِ - وإِذْعَانُهُنَّ بِالطَّوَاعِيَةِ - لَمَا جَعَلَهُنَّ مَوْضِعاً لِعَرْشِه ولَا مَسْكَناً لِمَلَائِكَتِه - ولَا مَصْعَداً لِلْكَلِمِ الطَّيِّبِ والْعَمَلِ الصَّالِحِ مِنْ خَلْقِه جَعَلَ نُجُومَهَا أَعْلَاماً يَسْتَدِلُّ بِهَا الْحَيْرَانُ - فِي مُخْتَلِفِ فِجَاجِ الأَقْطَارِ - لَمْ يَمْنَعْ ضَوْءَ نُورِهَا ادْلِهْمَامُ سُجُفِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ - ولَا اسْتَطَاعَتْ جَلَابِيبُ سَوَادِ الْحَنَادِسِ - أَنْ تَرُدَّ مَا شَاعَ فِي السَّمَاوَاتِ مِنْ تَلأْلُؤِ نُورِ الْقَمَرِ - فَسُبْحَانَ مَنْ لَا يَخْفَى عَلَيْه سَوَادُ غَسَقٍ دَاجٍ - ولَا لَيْلٍ سَاجٍ فِي بِقَاعِ الأَرَضِينَ الْمُتَطَأْطِئَاتِ - ولَا فِي يَفَاعِ السُّفْعِ الْمُتَجَاوِرَاتِ - ومَا يَتَجَلْجَلُ بِه الرَّعْدُ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ -

کی بنا پر اپنے کو عقلوں کے سامنے بالکل واضح اورنمایاں کردیا ہے۔اس کی خلقت کے شواہد میں ان آسمانوں کی تخلیق بھی ہے جنہیں بغیر ستون کے روک رکھا ہے اور بغیر کسی سہارے کے قائم کردیا ہے۔اس نے انہیں پکارا تو سب لبیک کہتے ہوئے حاضر ہوگئے۔اطاعت و ادغان کے ساتھ۔نہ کسی طرح کی تساہلی اور نہ کاہلی۔اور ظاہر ہے کہ اگر ان آسمانوں نے اس طرح اس کی ربوبیت کا اقرارنہ کیا ہوتا اور اس کے سامنے سرتسلیم خم نہ کردیا ہوتا تو وہ کبھی انہیں اپنے عرش کی منزل(۱) ملائکہ کا مسکن۔کلمہ طیب اور عمل صاحل کی بلندیوں کا مرکز نہ قرار دیتا۔اس نے ان کے ستاروں کومختلف راستوں میں حیران و سرگرداں مسافروں کے لئے نشان منزل بنادیاہے۔ان کے انوار کی تابش کو زمین تک پہنچنے سے نہ تاریک رات کی سیاہی روک سکی ہے اور نہ سواد شب کی چادر میں اتنا دم ہے کہ آسمانوں میں پھیلے ہوئے نور قمر کی روشنی کو روک سکے ۔

پاک و بے نیاز ہے وہ خدا جس پر نہ تاریک رات کی سیاہی مخفی ہے اور نہ ٹھہری ہوئی شب کی تاریکی۔نہ پست زمینوں کے قطعات میں اورنہ باہمی ملے ہوئے پہاڑوں کی چوٹیوں میں۔اس کے لئے نہ آسمان کی بلندی پر گرجتی ہوئی رعد پوشیدہ ہے اور نہ بادلوں کی چمکتی ہوئی

(۱) اس مقام پر حضرت نے غافل انسانوں کو بیدار کرنا چاہا ہے کہ مالک کائنات کی بارگاہ میں کوئی مرتبہ اطاعت کے بغیر نہیں مل سکتا ہے۔اس نے آسمانوں کوب ھی اگر یہ بلندی عطا کی ہے کہ انہیں ملائکہ کی منزل اور عرش کا مستقر بنادیاہے تو یہ بھی ان کی اطاعت کا نتیجہ ہے۔لہٰذا انسان بھی اگرملکوتی صفات کاحامل بننا چاہتا ہے اور اپنے قلب کو عرش الٰہی کا مرتبہ دینا چاہتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ مالک کے سامنے سراپا اطاعت بن جائے اور زندگی کا ہر لمحہ اس کی بندگی میں صرف کردے جس طرح ان اولیاء کرام نے کیا ہے جنہیں مالک نے اپنے کمالات کا نمونہ اور صفات کا آئینہ بنا دیا ہے۔


ومَا تَلَاشَتْ عَنْه بُرُوقُ الْغَمَامِ - ومَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ تُزِيلُهَا عَنْ مَسْقَطِهَا عَوَاصِفُ الأَنْوَاءِ - وانْهِطَالُ السَّمَاءِ - ويَعْلَمُ مَسْقَطَ الْقَطْرَةِ ومَقَرَّهَا ومَسْحَبَ الذَّرَّةِ ومَجَرَّهَا - ومَا يَكْفِي الْبَعُوضَةَ مِنْ قُوتِهَا ومَا تَحْمِلُ الأُنْثَى فِي بَطْنِهَا.

عود إلى الحمد

والْحَمْدُ لِلَّه الْكَائِنِ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ كُرْسِيٌّ أَوْ عَرْشٌ - أَوْ سَمَاءٌ أَوْ أَرْضٌ أَوْ جَانٌّ أَوْ إِنْسٌ - لَا يُدْرَكُ بِوَهْمٍ ولَا يُقَدَّرُ بِفَهْمٍ - ولَا يَشْغَلُه سَائِلٌ ولَا يَنْقُصُه نَائِلٌ - ولَا يَنْظُرُ بِعَيْنٍ ولَا يُحَدُّ بِأَيْنٍ ولَا يُوصَفُ بِالأَزْوَاجِ - ولَا يُخْلَقُ بِعِلَاجٍ ولَا يُدْرَكُ بِالْحَوَاسِّ ولَا يُقَاسُ بِالنَّاسِ - الَّذِي كَلَّمَ مُوسَى تَكْلِيماً وأَرَاه مِنْ آيَاتِه عَظِيماً - بِلَا جَوَارِحَ ولَا أَدَوَاتٍ ولَا نُطْقٍ ولَا لَهَوَاتٍ - بَلْ إِنْ كُنْتَ صَادِقاً أَيُّهَا الْمُتَكَلِّفُ لِوَصْفِ رَبِّكَ - فَصِفْ جِبْرِيلَ ومِيكَائِيلَ وجُنُودَ الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ فِي حُجُرَاتِ الْقُدُسِ مُرْجَحِنِّينَ

بجلیاں اور نہ درختوں سے گرتے ہوئے پتے جنہیں بالدوں کے ساتھ چلتی ہوئی تیز ہوائیں یاموسلا دھار بارش کا زور گرادیتا ے۔وہ ہر قطرہ کے گرنے کی جگہ بھی جانتا ہے اور ٹھہرنے کی جگہ بھی۔ہر چیونٹی کے چلنے کی جگہ سے بھی با خبر ہے اور کھینچ کر پہنچنے کی منزل سے بھی۔وہ یہ بھی جانتا ہے کہ ایک مچھرکے لئے کتنی غذا کافی ہوتی ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ ایک مادہ اپنے شکم میں کیا لئے ہوئے ہے۔ساری تعریف اس خدا کے لئے ہے جو اس وقت بھی تھا جب نہ کرسی تھی اور نہ عرش ۔نہ آسمان تھا اور نہ زمین ۔نہ جنات تھے ننہ انسان نہ وہم سے اس کا ادراک ہوتا ہے اور نہ فہم سے اس کا اندازہ ۔نہ کوئی سائل اسے مشغول کر سکتا ے اور نہ کسی عطا سے اس کے خزانہ میں کوئی کمی آسکتی ہے ۔وہ نہ آنکھو سے دیکھتا ہے اور نہ کسی مکان میں محدود ہوتا ہے۔نہ ساتھیوں کے ساتھ اس کی توصیف ہو سکتی ہے اور نہ اعضاء و جوارح کی حرکت سے کسی چیز کوخلق کرتا ہے جو اس اس کا ادراک نہیں کر سکتے ہیں اور انسانوں پر اس کا قیاس نہیں کیا جا سکتاے۔اس نے موسیٰ کو کلیم بنایا تو انہیں عظیم نشانیاں بھی دکھلادیں حالانکہ نہ جوارح کو استعال کیا اورنہ آلات کو۔نہ کوئی نطق درمیان میں تھا اور نہ گلے کے کوے کی حرکت

اے توصیف پروردگار میں بلا سبب زحمت کرنے والو! اگرتمہارے خیال میں صداقت پائی جاتی ہے تو پہلے جبرائیل و میکائیل اوراس کے دوسرے مقرب ملائکہ کی توصیف بیان کرو جو پاکیزگی کے حجرات میں سر جھکا


مُتَوَلِّهَةً عُقُولُهُمْ أَنْ يَحُدُّوا أَحْسَنَ الْخَالِقِينَ - فَإِنَّمَا يُدْرَكُ بِالصِّفَاتِ ذَوُو الْهَيْئَاتِ والأَدَوَاتِ - ومَنْ يَنْقَضِي إِذَا بَلَغَ أَمَدَ حَدِّه بِالْفَنَاءِ - فَلَا إِلَه إِلَّا هُوَ أَضَاءَ بِنُورِه كُلَّ ظَلَامٍ - وأَظْلَمَ بِظُلْمَتِه كُلَّ نُورٍ.

الوصية بالتقوى

أُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّه بِتَقْوَى اللَّه - الَّذِي أَلْبَسَكُمُ الرِّيَاشَ وأَسْبَغَ عَلَيْكُمُ الْمَعَاشَ - فَلَوْ أَنَّ أَحَداً يَجِدُ إِلَى الْبَقَاءِ سُلَّماً أَوْ لِدَفْعِ الْمَوْتِ سَبِيلًا - لَكَانَ ذَلِكَ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَعليه‌السلام الَّذِي سُخِّرَ لَه مُلْكُ الْجِنِّ والإِنْسِ - مَعَ النُّبُوَّةِ وعَظِيمِ الزُّلْفَةِ - فَلَمَّا اسْتَوْفَى طُعْمَتَه واسْتَكْمَلَ مُدَّتَه - رَمَتْه قِسِيُّ الْفَنَاءِ بِنِبَالِ الْمَوْتِ - وأَصْبَحَتِ الدِّيَارُ مِنْه خَالِيَةً - والْمَسَاكِنُ مُعَطَّلَةً ووَرِثَهَا قَوْمٌ آخَرُونَ - وإِنَّ لَكُمْ فِي الْقُرُونِ السَّالِفَةِ لَعِبْرَةً!

أَيْنَ الْعَمَالِقَةُ وأَبْنَاءُ الْعَمَالِقَةِ - أَيْنَ الْفَرَاعِنَةُ وأَبْنَاءُ الْفَرَاعِنَةِ -

ئے ہوئے پڑے ہیں اور ان کی عقلیں حیران ہیں کہ احسن الخالقین کی توصیف کس طرح بیان کریں ۔

یاد رکھو صفات کے ذریعہ اس کا ادراک ہوتا ہے جس کی شکل و صورت ہوتی ہے اور جس کے اعضاء و جوارح ہوتے ہیں اور جو اپنی آخری حد پر پہنچ کر فنا ہو جاتا ہے۔پس اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے جس نے اپنے نور وجود سے ہر تاریکی کو منور بنادیا ہے اور پھر عدم کی ظلمت سے ہر نورانی شے کو تاریک بنادیا ہے۔

بندگان خدا! میں تمہیں اس خدا سے ڈرنے کی دعوت دیتا ہوں جس نے تمہیں بہترین لباس پہنائے ہیں اور تمہاری مکمل معیشت کا انتظام کیا ہے۔یاد رکھو اگر کوئی شخص ایسا ہوتا جسے بقا کی زینہ مل جاتا اور وہ موت کو ٹالنے کا راستہ تلاش کر لیتا تو وہ سلیمان بن دائود ہوتے جن کے لئے جن و انس دونوں کو مسخر کردیا گیا تھا اور پھر نبوت اور تقرب الٰہی کا شرف بھی حاصل تھا لیکن جب انہوں نے اپنے حصہ کی غذا استعمال کرلی اور اپنی مدت بقا کو پورا کرلیا تو فنا کی کمانوں نے موت کے تیر چلا دئیے اور سارے دیار ان سے خالی ہو گئے اور سارے قصر معطل ہو کر رہ گئے اور دوسری قومیں ان کی وارث ہوگئیں '' اور تمہارے لئے انہیں گذشتہ قوموں میں عبرت کا سامان فراہم کیا گیا ہے ''۔

کہاں ہیں ( شام و حجاز کے ) عمالقہ اور ان کی اولاد؟ کہاں ہیں ( مصر کے ) فراعنہ اور ان کی اولاد ؟ کہاں


أَيْنَ أَصْحَابُ مَدَائِنِ الرَّسِّ الَّذِينَ قَتَلُوا النَّبِيِّينَ - وأَطْفَئُوا سُنَنَ الْمُرْسَلِينَ وأَحْيَوْا سُنَنَ الْجَبَّارِينَ - أَيْنَ الَّذِينَ سَارُوا بِالْجُيُوشِ وهَزَمُوا بِالأُلُوفِ - وعَسْكَرُوا الْعَسَاكِرَ ومَدَّنُوا الْمَدَائِنَ!

ومِنْهَا - قَدْ لَبِسَ لِلْحِكْمَةِ جُنَّتَهَا - وأَخَذَهَا بِجَمِيعِ أَدَبِهَا مِنَ الإِقْبَالِ عَلَيْهَا - والْمَعْرِفَةِ بِهَا والتَّفَرُّغِ لَهَا - فَهِيَ عِنْدَ نَفْسِه ضَالَّتُه الَّتِي يَطْلُبُهَا - وحَاجَتُه الَّتِي يَسْأَلُ عَنْهَا - فَهُوَ مُغْتَرِبٌ إِذَا اغْتَرَبَ الإِسْلَامُ - وضَرَبَ بِعَسِيبِ ذَنَبِه - وأَلْصَقَ الأَرْضَ بِجِرَانِه بَقِيَّةٌ مِنْ بَقَايَا حُجَّتِه - خَلِيفَةٌ مِنْ خَلَائِفِ أَنْبِيَائِه.

ثم قالعليه‌السلام :

أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ بَثَثْتُ لَكُمُ الْمَوَاعِظَ - الَّتِي وَعَظَ الأَنْبِيَاءُ بِهَا أُمَمَهُمْ - وأَدَّيْتُ إِلَيْكُمْ مَا أَدَّتِ الأَوْصِيَاءُ إِلَى

ہیں (آذربائیجان کے ) اصحاب الرس؟ جنہوں نے انبیاء کو قتل کیا مرسلین کی سنتوں کوخاموش کیا اور جباروں کی سنتوں کو زندہ کردیا تھا۔کہاں ہیں وہ لوگ جو لشکر لے کر بڑھے اور ہزار ہا ہزار کو شکست دے دی۔لشکرکے لشکر تیار کئے اور شہروں کے شہر آباد کردئیے۔

(اسی خطبہ کا ایک حصہ)

وہ حکمت کی سپر زیب تن کئے ہوگا۔اور اسے پورے آداب کے ساتھ اختیار کئے ہوگا کہاس کی طرف متوجہ ہوگا۔اس کی معرفت رکھتا ہوگا اوراس کے لئے مکمل طور پر فارغ ہوگا۔یہ حکمت اس کی نگاہ میں اس کی گم شدہ دولت ہوگی جس کو تلاش کر رہا ہوگا اور ایسی ضرورت ہوگی جس کے بارے میں دریافت کر رہا ہوگا۔وہاسلام کی غربت کے ساتھ غریب الوطن ہوگا اور اس اونٹ کی طرح ہوگا جو تھکن سے زمین پر دم پٹک رہا ہو اورسینہ زمین پر ٹیک ہوئے ہو۔اللہ کی حجتوں میں سے آخری حجت اوراس کے انبیاء کے خلفاء میں سے ایک خلیفہ۔

لوگو! میں نے تمہارے لئے وہ تمام نصیحتیں پیش کردی ہیں جو انبیاء(۱) نے اپنی امتوں کے سامنے پیش کی تھیں اورتم تک ان تمام ہدایتوں کو پہنچا دیاہے جو اولیاء نے

(۱)بیشک امیر المومنین وارث انبیاء تھے اورانہوں نے ان تمام نصیحتوں کو استعمال کیا جنہیں انبیاء کرام استعمال کرچکے تھے لیکن ان کے نصائح کا انجام بھی وہی ہوا جو انبیاء کرام کی نصیحتوں کا ہوا تھا کہ جناب نوح کو پتھروں میں دبا دیا گیا۔جناب ابراہیم کوآگمیں ڈال دیا گیا۔جناب موسیٰ کو ملک سے نکال باہرکیا گیا جناب عیسیٰ کو سولی پرچڑھانے کامنصوبہ بنایا گیا ۔سرکار دوعالم (ص) کے قتل کامکمل انتظام کیا گیا اور کوئی دو ر ایسا نہ آیا جب قوم کی اکثریت نصیحتوں کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو جاتی اور اللہ والوں کے مقدس وجود اور ان کے پاکیزہ تعلیمات سے فائدہ اٹھاتی۔امیرالمومنین نے توان نصیحتوں پر تازیانہ اور تنبیہ کابھی اضافہ کردیا لیکن اس کے باوجود کوئی فائدہ نہ ہوا اور قوم مادیت کی دنیا سے نکل کر روحانیت کی فضا میں قدم رکھنے کے لئے تیار نہ ہوئی اور اس کے اثرات آجت ک باقی ہیں کہ کلام خدا اور رسول (ص) اور ارشادات معصومین کی صبح و شام تلاوت ہو رہی ہے لیکن کردار کا وہی عالم ہے جو اس سے پہلے دیکھا جا چکا ہے ۔


مَنْ بَعْدَهُمْ وأَدَّبْتُكُمْ بِسَوْطِي فَلَمْ تَسْتَقِيمُوا - وحَدَوْتُكُمْ بِالزَّوَاجِرِ فَلَمْ تَسْتَوْسِقُوا - لِلَّه أَنْتُمْ - أَتَتَوَقَّعُونَ إِمَاماً غَيْرِي يَطَأُ بِكُمُ الطَّرِيقَ - ويُرْشِدُكُمُ السَّبِيلَ؟ أَلَا إِنَّه قَدْ أَدْبَرَ مِنَ الدُّنْيَا مَا كَانَ مُقْبِلًا - وأَقْبَلَ مِنْهَا مَا كَانَ مُدْبِراً، وأَزْمَعَ التَّرْحَالَ عِبَادُ اللَّه الأَخْيَارُ - وبَاعُوا قَلِيلًا مِنَ الدُّنْيَا لَا يَبْقَى - بِكَثِيرٍ مِنَ الآخِرَةِ لَا يَفْنَى - مَا ضَرَّ إِخْوَانَنَا الَّذِينَ سُفِكَتْ دِمَاؤُهُمْ وهُمْ بِصِفِّينَ - أَلَّا يَكُونُوا الْيَوْمَ أَحْيَاءً يُسِيغُونَ الْغُصَصَ - ويَشْرَبُونَ الرَّنْقَ قَدْ واللَّه لَقُوا اللَّه فَوَفَّاهُمْ أُجُورَهُمْ - وأَحَلَّهُمْ دَارَ الأَمْنِ بَعْدَ خَوْفِهِمْ.

أَيْنَ إِخْوَانِيَ الَّذِينَ رَكِبُوا الطَّرِيقَ - ومَضَوْا عَلَى الْحَقِّ أَيْنَ عَمَّارٌ وأَيْنَ ابْنُ التَّيِّهَانِ - وأَيْنَ ذُو الشَّهَادَتَيْنِ - وأَيْنَ نُظَرَاؤُهُمْ مِنْ إِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ تَعَاقَدُوا عَلَى الْمَنِيَّةِ - وأُبْرِدَ بِرُءُوسِهِمْ إِلَى الْفَجَرَةِ.

قَالَ ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِه عَلَى لِحْيَتِه الشَّرِيفَةِ الْكَرِيمَةِ - فَأَطَالَ الْبُكَاءَ ثُمَّ قَالَعليه‌السلام

أَوِّه عَلَى إِخْوَانِيَ الَّذِينَ تَلَوُا الْقُرْآنَ

بعدوالوں کےحوالہ کی تھیں۔میں نے اپنے تازیانہ سے تمہاری تنبیہ کی لیکن تم سیدھے نہ ہوئے اور تم کو زجرو تو بیخ سے ہنکانا چاہا لیکن تم متحد نہ ہوئے۔اللہ ہی تمہیں سمجھے کیا میرے بعد کسی اور امام کاانتظار کر رہے ہو جو تمہیں سیدھے راستہ پر چلائے گا اور راہ حق کی ہدایت دے گا۔

یاد رکھو جو چیزیں دنیا کی طرف رخ کئے ہوئے تھیں انہوں نے منہ پھیرا لیا ہے اور جومنہ پھیرائے ہوئے تھیں انہوں نے رخ کرلیا ہے اللہ کے نیک بندوں نے یہاں سے کوچ کرنے کا عزم کرلیا ہے اور دنیا کا وہ قلیل سرمایہ جو باقی رہنے والا نہیں ہے اسے بیچ ڈالا ہے ۔اس آخرت کے اجر کثیر کے مقابلہ میں جو فنا ہونے والا نہیں ہے۔ہمارے وہ ایمانی بھائی جن کا خون صفین کے میدان میں بہادیا گیا ان کا کیا نقصان ہوا ہے اگر وہ آج زندہ نہیں ہیں کہ دنیا کے مصائب کے گھونٹ پئیں اور گندے پانی پر گزارا کریں۔وہ خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے اور انہیں ان کامکمل اجر مل گیا۔مالک نے انہیں خوف کے بعد امن کی منزل میں وارد کردیا ہے۔کہا ہیں میرے وہ بھائی جو سیدھے راستہ پر چلے اور حق کی راہ پر لگے رہے۔کہاں ہیں عمار ؟ کہاں ہیں ابن التیہان ؟۔کہاں ہیں ذوالشہادتین؟ کہاں ہیں ان کے جیسے ایمانی بھائی جنہوں نے موت کا عہدو پیمان باندھ لیا تھا اور جن کے سر فاجروں کے پاس بھیج دئیے گئے۔

(یہ کہہ کر آپ نے محاسن شریف پر ہاتھ رکھا اورتادیر گریہ فرماتے رہے اس کے بعد فرمایا :)

آہ ! میرے ان بھائیوں پر جنہوں نے قرآن کی


فَأَحْكَمُوه - وتَدَبَّرُوا الْفَرْضَ فَأَقَامُوه - أَحْيَوُا السُّنَّةَ وأَمَاتُوا الْبِدْعَةَ - دُعُوا لِلْجِهَادِ فَأَجَابُوا ووَثِقُوا بِالْقَائِدِ فَاتَّبَعُوه.

ثُمَّ نَادَى بِأَعْلَى صَوْتِه

الْجِهَادَ الْجِهَادَ عِبَادَ اللَّه - أَلَا وإِنِّي مُعَسْكِرٌ فِي يَومِي هَذَا - فَمَنْ أَرَادَ الرَّوَاحَ إِلَى اللَّه فَلْيَخْرُجْ

قَالَ نَوْفٌ وعَقَدَ لِلْحُسَيْنِعليه‌السلام فِي عَشَرَةِ آلَافٍ - ولِقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ رحمهالله فِي عَشَرَةِ آلَافٍ - ولأَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ - ولِغَيْرِهِمْ عَلَى أَعْدَادٍ أُخَرَ - وهُوَ يُرِيدُ الرَّجْعَةَ إِلَى صِفِّينَ - فَمَا دَارَتِ الْجُمُعَةُ حَتَّى ضَرَبَه الْمَلْعُونُ ابْنُ مُلْجَمٍ لَعَنَه اللَّه - فَتَرَاجَعَتِ الْعَسَاكِرُ فَكُنَّا كَأَغْنَامٍ فَقَدَتْ رَاعِيهَا - تَخْتَطِفُهَا الذِّئَابُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ!

(۱۸۳)

من خطبة لهعليه‌السلام

في قدرة اللَّه وفي فضل القرآن وفي الوصية بالتقوى الله تعالى

الْحَمْدُ لِلَّه الْمَعْرُوفِ مِنْ غَيْرِ رُؤْيَةٍ - والْخَالِقِ مِنْ غَيْرِ مَنْصَبَةٍ

تلاوت کی تو اسے مستحکم کیا اور فرائض پر غورو فکر کیا تو انہیں قائم کیا ۔سنتوں کو زندہ کیا اور بدعتوں کو مردہ بنایا۔ انہیں جہاد کے لئے بلایا گیا تو لبیک کہی اور اپنے قائد پر اعتماد کیا تواس کا اتباع بھی کیا۔

(اس کے بعد بلند آوازسے پکار کر فرمایا)

جہاد ،جہاد ، اے بندگان خدا! آگاہ ہو جائو کہ میں آج اپنی فوج تیار کر رہا ہوں اگر کوئی خدا کی بارگاہ کی طرف جانا چاہتا ہے تو نکلنے کے لئے تیار ہو جائے ۔

نوف کا بیان ہے کہ اس کے بعد حضرت نے دس ہزار کا لشکر امام حسین کے ساتھ ۔دس ہزار قیس بن سعد کے ساتھ۔دس ہزار ابو ایوب انصاری کے ساتھ اوراسی طرح مختلف تعداد میں مختلف افراد کے ساتھ تیار کیا اور آپ کا مقصد دوبارہ صفین کی طرف کوچ کرنے کا تھا کہ آئندہ جمعہ آنے سے پہلے ہی آپ کو ابن ملجم نے زخمی کردیا اور اس طرح سارا لشکر پلٹ گیا اور ہم سب ان چوپایوں کے مانند ہوگئے جن کا رکھوالا گم ہو جائے اور انہیں چاروں طرف سے بھیڑئیے اچک لینے کی فکرمیں ہو۔

(۱۸۳)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(قدرت خدا فضیلت قرآن اور وصیت تقویٰ کے بارے میں )

ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جو بغیر دیکھے بھی پہچانا ہوا ہے اور بغیر کسی تکان کے بھی خلق کرنے والا


خَلَقَ الْخَلَائِقَ بِقُدْرَتِه - واسْتَعْبَدَ الأَرْبَابَ بِعِزَّتِه وسَادَ الْعُظَمَاءَ بِجُودِه - وهُوَ الَّذِي أَسْكَنَ الدُّنْيَا خَلْقَه - وبَعَثَ إِلَى الْجِنِّ والإِنْسِ رُسُلَه - لِيَكْشِفُوا لَهُمْ عَنْ غِطَائِهَا ولِيُحَذِّرُوهُمْ مِنْ ضَرَّائِهَا - ولِيَضْرِبُوا لَهُمْ أَمْثَالَهَا ولِيُبَصِّرُوهُمْ عُيُوبَهَا - ولِيَهْجُمُوا عَلَيْهِمْ بِمُعْتَبَرٍ مِنْ تَصَرُّفِ مَصَاحِّهَا وأَسْقَامِهَا - وحَلَالِهَا وحَرَامِهَا - ومَا أَعَدَّ اللَّه لِلْمُطِيعِينَ مِنْهُمْ والْعُصَاةِ - مِنْ جَنَّةٍ ونَارٍ وكَرَامَةٍ وهَوَانٍ - أَحْمَدُه إِلَى نَفْسِه كَمَا اسْتَحْمَدَ إِلَى خَلْقِه - وجَعَلَ( لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْراً ) - ولِكُلِّ قَدْرٍ أَجَلًا ولِكُلِّ أَجَلٍ كِتَاباً.

فضل القرآن

منها: فَالْقُرْآنُ آمِرٌ زَاجِرٌ وصَامِتٌ نَاطِقٌ - حُجَّةُ اللَّه عَلَى خَلْقِه أَخَذَ عَلَيْه مِيثَاقَهُمْ - وارْتَهَنَ عَلَيْهِمْ أَنْفُسَهُمْ أَتَمَّ نُورَه - وأَكْمَلَ بِه دِينَه وقَبَضَ نَبِيَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - وقَدْ فَرَغَ إِلَى الْخَلْقِ مِنْ أَحْكَامِ الْهُدَى بِه - فَعَظِّمُوا مِنْه سُبْحَانَه مَا عَظَّمَ مِنْ نَفْسِه – فَإِنَّه لَمْ يُخْفِ عَنْكُمْ شَيْئاً مِنْ دِينِه - ولَمْ يَتْرُكْ شَيْئاً رَضِيَه أَوْ كَرِهَه إِلَّا وجَعَلَ لَه عَلَماً بَادِياً -

ہے۔اس نے مخلوقات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا اور اپن یعزت کی بناپ ر ان سے مطالبہ عبدیت کیا۔وہ اپنے جودو کرم میں تمام عظماء عالم سے بالا تر ہے۔اسی نے اس دنیا میں اپنی مخلوقات کو آباد کیا ہے اور جن و انس کی طرف اپنے رسول بھیجے ہیں تاکہ وہ نگاہوں سے عبرت دلانے کا سامان کریں اور حلال و حرام اور اطاعت کرنے والوں کے لئے مہیا شدہ اجر اور نا فرمانوں کے لئے عذاب سے آگاہ کردیں۔میں اس کی ذات اقدس کی اسی طرح حمد کرتا ہوں جس طرح اس نے بندوں سے مطالبہ کیا ہے اور ہر شے کی ایک مقدار معین ہے اور ہر قدر کی ایک مہلت رکھی ہے اور ہرتحریری کی ایک معیاد معین کی ہے۔

دیکھو قرآن امر کرنے والا بھی ہے اور روکنے والا بھی۔وہ خاموش بھی ہے اور گویا بھی۔وہ مخلوقات پر پروردگار کی حجت ہے۔جس کا لوگوں سے عہد لیا گیا ہے اور ان کے نفسوں کو اس کا پابند بنا دیا گیا ہے۔مالک نے اس کے نور کو تمام بنایا ہے اور اس کے ذریعہ دین کو کامل قرار دیا ہے۔اپنے پیغمبر کو اس وقت اپنے پاس بلایا ہے جب وہ اس کے احکام کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے چکے تھے لہٰذا پروردگار کی عظمت کا اعتراف اس طرح کرو جس طرح اس نے اپنی عظمت کا اعلان کیا ہے کہ اس نے دین کی کسی بات کو مخفی نہیں رکھا ہے اور کوئی ایسی پسندیدہ یا نا پسندیدہ بات نہیں چھوڑی ہے جس کے لئے واضح نشان ہدایت نہ بنا دیا


وآيَةً مُحْكَمَةً تَزْجُرُ عَنْه أَوْ تَدْعُو إِلَيْه - فَرِضَاه فِيمَا بَقِيَ وَاحِدٌ وسَخَطُه فِيمَا بَقِيَ وَاحِدٌ - واعْلَمُوا أَنَّه لَنْ يَرْضَى عَنْكُمْ بِشَيْءٍ سَخِطَه - عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ - ولَنْ يَسْخَطَ عَلَيْكُمْ بِشَيْءٍ رَضِيَه مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ - وإِنَّمَا تَسِيرُونَ فِي أَثَرٍ بَيِّنٍ - وتَتَكَلَّمُونَ بِرَجْعِ قَوْلٍ قَدْ قَالَه الرِّجَالُ مِنْ قَبْلِكُمْ - قَدْ كَفَاكُمْ مَئُونَةَ دُنْيَاكُمْ وحَثَّكُمْ عَلَى الشُّكْرِ - وافْتَرَضَ مِنْ أَلْسِنَتِكُمُ الذِّكْرَ.

الوصية بالتقوى

وأَوْصَاكُمْ بِالتَّقْوَى - وجَعَلَهَا مُنْتَهَى رِضَاه وحَاجَتَه مِنْ خَلْقِه - فَاتَّقُوا اللَّه الَّذِي أَنْتُمْ بِعَيْنِه ونَوَاصِيكُمْ بِيَدِه - وتَقَلُّبُكُمْ فِي قَبْضَتِه - إِنْ أَسْرَرْتُمْ عَلِمَه وإِنْ أَعْلَنْتُمْ كَتَبَه - قَدْ وَكَّلَ بِذَلِكَ حَفَظَةً كِرَاماً لَا يُسْقِطُونَ حَقّاً ولَا يُثْبِتُونَ بَاطِلًا - واعْلَمُوا أَنَّه( مَنْ يَتَّقِ الله يَجْعَلْ لَه مَخْرَجاً ) مِنَ الْفِتَنِ - ونُوراً مِنَ الظُّلَمِ ويُخَلِّدْه فِيمَا اشْتَهَتْ نَفْسُه - ويُنْزِلْه مَنْزِلَ الْكَرَامَةِ

ہو یا کوئی محکم آیت نہ نازل کردی ہو جس کے ذریعہ روکا جائے یا دعوت دی جائے۔اس کی رضا اورناراضگی مستقبل میں بھی ویسی ہی رہے گی جس طرح وقت نزول تھی ۔اور یہ یاد رکھو کہ وہ تم سے کسی ایسی بات پر راضی نہ ہوگا جس پر پہلے والوں سے ناراض ہو چکا ہے اور نہ کسی ایسی بات سے ناراض ہو گا جس پر پہلے والوں سے راضی رہ چکا ہے تم بالکل واضح نشان قدم پر چل رہے ہو اور انہیں باتوں کو دہرا رہے ہو جو پہلے والے کہہ چکے ہیں۔اس نے تمہیں دنیا کی زحمتوں سے بچا لیا ہے اور تمہیں شکر پرآمادہ کیا ہے اور تمہاری زبانوں سے ذکر کامطالبہ کیا ہے۔

تمہیں تقویٰ کی نصیحت کی ہے اور اسے اپنی مرضی کی حد آخر قراردیا ہے اور یہی مخلوقات سے اس کا مطالبہ ہے لہٰذا اس سے ڈرو جس کی نگاہ کے سامنے ہو اور جس کے ہاتھوں میں تمہاری پیشانی ہے اور جس کے قبضہ قدرت میں کروٹیں بدل رہے ہو کہ اگر کسی بات پر پردہ ڈالنا چاہو تو وہ جانتا ہے اور اگر اعلان کرنا چاہو تو وہ لکھ لیتا ہے اورتمہارے اوپر محترم کاتب اعمال مقرر کردئیے ہیں جو کسی حق کو ساقط نہیں کر سکتے ہیں اور کسی باطل کوثبت نہیں کر سکتے ہیں اوری ادرکھو کہ جو شخص بھی تقویٰ الٰہی اخیار کرتا ہے پروردگار اس کے لئے فتنوں سے باہر نکل جانے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے تاریکیوں میں نور عطا کر دیتا ہے اسے نفس کے تمام مطالبات کے درمیان دائمی زندگی عطا کر تا ہے اور کرامت کی منزل میں نازل کرتا


عِنْدَه فِي دَارٍ اصْطَنَعَهَا لِنَفْسِه - ظِلُّهَا عَرْشُه ونُورُهَا بَهْجَتُه - وزُوَّارُهَا مَلَائِكَتُه ورُفَقَاؤُهَا رُسُلُه - فَبَادِرُوا الْمَعَادَ وسَابِقُوا الآجَالَ - فَإِنَّ النَّاسَ يُوشِكُ أَنْ يَنْقَطِعَ بِهِمُ الأَمَلُ ويَرْهَقَهُمُ الأَجَلُ - ويُسَدَّ عَنْهُمْ بَابُ التَّوْبَةِ - فَقَدْ أَصْبَحْتُمْ فِي مِثْلِ مَا سَأَلَ إِلَيْه الرَّجْعَةَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ - وأَنْتُمْ بَنُو سَبِيلٍ عَلَى سَفَرٍ مِنْ دَارٍ لَيْسَتْ بِدَارِكُمْ - وقَدْ أُوذِنْتُمْ مِنْهَا بِالِارْتِحَالِ وأُمِرْتُمْ فِيهَا بِالزَّادِ واعْلَمُوا أَنَّه لَيْسَ لِهَذَا الْجِلْدِ الرَّقِيقِ صَبْرٌ عَلَى النَّارِ - فَارْحَمُوا نُفُوسَكُمْ - فَإِنَّكُمْ قَدْ جَرَّبْتُمُوهَا فِي مَصَائِبِ الدُّنْيَا.

أَفَرَأَيْتُمْ جَزَعَ أَحَدِكُمْ مِنَ الشَّوْكَةِ تُصِيبُه - والْعَثْرَةِ تُدْمِيه والرَّمْضَاءِ تُحْرِقُه - فَكَيْفَ إِذَا كَانَ بَيْنَ طَابَقَيْنِ مِنْ نَارٍ - ضَجِيعَ حَجَرٍ وقَرِينَ شَيْطَانٍ - أَعَلِمْتُمْ أَنَّ مَالِكاً إِذَا غَضِبَ عَلَى النَّارِ - حَطَمَ بَعْضُهَا بَعْضاً لِغَضَبِه - وإِذَا زَجَرَهَا تَوَثَّبَتْ بَيْنَ أَبْوَابِهَا جَزَعاً مِنْ زَجْرَتِه!

أَيُّهَا الْيَفَنُ الْكَبِيرُ الَّذِي قَدْ لَهَزَه الْقَتِيرُ - كَيْفَ أَنْتَ إِذَا الْتَحَمَتْ أَطْوَاقُ النَّارِ بِعِظَامِ الأَعْنَاقِ

ہے۔اس گھرمیں جس کو اپنے لئے پسند فرماتا ہے جس کا سایہ اس کاعرش ہے اورجس کا نور اس کی ضیا ہے۔ اس کے زائرین ملائکہ ہیں اور اس کے رفقاء مرسلین۔اب اپنی باز گشت کی طرف سبقت کرو اور موت سے پہلے سامان مہیا کرلو کہ عنقریب لوگوں کی امیدیں منقطع ہو جانے والی ہیں اور موت کا پھندہ گلے میں پڑ جانے والا ہے جب توبہ کا دروازہ بھی بند ہو جائے گا۔ابھی تم اس منزل میں ہو جس کی طرف پہلے والے لوٹ کرآنے کی آرزو کر رہے ہیں اور تم مسافر ہو اور اس گھر سے سفر کرنے والے ہو جو تمہارا واقعی گھر نہیں ہے۔تمہیں کوچ کی اطلاع دی جا چکی ہے اور زاد راہ اکٹھا کرنے کا حکم دیا جا چکا ہے اور یہ یاد رکھو کہ یہ نرم و نازک جلد آتش جہنم کو برداشت نہیں کر سکتی ہے۔لہٰذا خدارا اپنے نفسوں پر رحم کرو کہ تم اسے دنیا کے مصائب میں آزما چکے ہو۔کیا تم نے نہیں دیکھا ہے کہ تمہارا کیا عالم ہوتا ہے جب ایک کانٹا چبھ جاتا ہے یا ایک ٹھوکر لگنے سے خون نکل آتا ہے یا کوئی ریت تپنے لگتی ہے۔تو پھراس وقت کیا ہوگا جب تم جہنم کے دو طبقوں کے درمیان ہوگے۔دہکتے ہوئے پتھروں کے پہلو میں اور شیاطین کے ہمسایہ میں۔کیا تمہیں یہ معلوم ہے کہ مالک (داروغہ جہنم ) جبآگ پرغضب ناک ہوتا ہے تو اس کے اجزاء ایک دوسرے سے ٹکرانے لگتے ہیں اور جب اسے جھڑکتا ہے تو وہ گھبرا کر دروازوں کے درمیان اچھلنے لگتی ہے۔

اے پیر کہن سال جس پر بڑھا پا چھا چکا ہے۔اس وقت تیرا کیا عالم ہوگا جب جہنم کے طوق گردن کی ہڈیوں


ونَشِبَتِ الْجَوَامِعُ حَتَّى أَكَلَتْ لُحُومَ السَّوَاعِدِ –

فَاللَّه اللَّه مَعْشَرَ الْعِبَادِ - وأَنْتُمْ سَالِمُونَ فِي الصِّحَّةِ قَبْلَ السُّقْمِ - وفِي الْفُسْحَةِ قَبْلَ الضِّيقِ - فَاسْعَوْا فِي فَكَاكِ رِقَابِكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُغْلَقَ رَهَائِنُهَا - أَسْهِرُوا عُيُونَكُمْ وأَضْمِرُوا بُطُونَكُمْ - واسْتَعْمِلُوا أَقْدَامَكُمْ وأَنْفِقُوا أَمْوَالَكُمْ - وخُذُوا مِنْ أَجْسَادِكُمْ فَجُودُوا بِهَا عَلَى أَنْفُسِكُمْ - ولَا تَبْخَلُوا بِهَا عَنْهَا فَقَدْ قَالَ اللَّه سُبْحَانَه -( إِنْ تَنْصُرُوا الله يَنْصُرْكُمْ ويُثَبِّتْ أَقْدامَكُمْ ) - وقَالَ تَعَالَى( مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ الله قَرْضاً حَسَناً - فَيُضاعِفَه لَه ولَه أَجْرٌ كَرِيمٌ ) - فَلَمْ يَسْتَنْصِرْكُمْ مِنْ ذُلٍّ - ولَمْ يَسْتَقْرِضْكُمْ مِنْ قُلٍّ - اسْتَنْصَرَكُمْ ولَه جُنُودُ السَّمَاوَاتِ والأَرْضِ وهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ - واسْتَقْرَضَكُمْ ولَه خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ والأَرْضِ - وهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ - وإِنَّمَا أَرَادَ أَنْ يَبْلُوَكُمْ( أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ) - فَبَادِرُوا بِأَعْمَالِكُمْ تَكُونُوا مَعَ جِيرَانِ اللَّه فِي دَارِه -

میں پیوست ہو جائیں گے اور ہتھکڑیاں ہاتھوں میں گڑ کر کلائیوں کا گوشت تک کھا جائیں گی۔

اللہ کے بندو! اللہ کو یاد کرو اس وقت جب کہ تم صحت کے عالم میں ہو قبل اسکے کہ بیمار ہو جائو اور وسعت کے عالم میں قبل اس کے کہ تنگی کا شکار ہو جائو اپنی گردنوں کوآتش جہنم سے آزاد کرانے کی فکر کرو قبل اس کے کہ وہ اس طرح گردی ہوجائیں کہ پھر چڑھائی نہ جا سکیں ۔اپنی آنکھوں کو بیدار رکھو اپنے شکم کو لاغر بنائو اور اپنے پیروں کو راہ عمل میں استعمال کرو۔اپنے مال کو خرچ کرو اور اپنے جسم کو اپنی روح پر قربان کردو۔ خبردار اس راہ میں بخل نہ کرنا کہ پروردگار نے صاف صاف فرمادیا ہے کہ '' اگر تم اللہ کی نصرت کرو گے تو اللہ بھی تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدموں کو ثبات عنایت فرمائے گا '' اس نے یہ بھی فرمادیا ہے کہ '' کون ہے جو پروردگار کو بہترین قرض دے تاکہ وہ اسے دنیا میں چوگنا بنادے اور اس کے لئے بہترین جزا ہے '' تواس نے تم سے کمزوری کی بنا پرنصرت کا مطالبہ نہیں کیا ہے اورنہ غربت کی بنا پر قرض مانگا ہے۔اس نے مطالبۂ نصرت کیا ہے جب کہ زمین و آسمان کے سارے لشکر اسی کے ہیں اور وہ عزیز و حکیم ہے اور اس نے قرض مانگا ہے جب کہ زمین و آسمان کے سارے خزانے اسی کی ملکیت ہیں اور وہ غنی حمید ہے '' وہ چاہتا ہے کہ تمہارا امتحان لے کہ تم میں حسن عمل کے اعتبارسے سب سے بہتر کون ہے۔اب اپنے اعمال کے ساتھ سبقت کرو تاکہ اللہ کے گھر میں اس کے ہمسایہ کے


رَافَقَ بِهِمْ رُسُلَه وأَزَارَهُمْ مَلَائِكَتَه - وأَكْرَمَ أَسْمَاعَهُمْ أَنْ تَسْمَعَ حَسِيسَ نَارٍ أَبَداً - وصَانَ أَجْسَادَهُمْ أَنْ تَلْقَى لُغُوباً ونَصَباً -( ذلِكَ فَضْلُ الله يُؤْتِيه مَنْ يَشاءُ والله ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ) .

أَقُولُ مَا تَسْمَعُونَ( والله الْمُسْتَعانُ ) عَلَى نَفْسِي وأَنْفُسِكُمْ - وهُوَ( حَسْبُنَا ) ( ونِعْمَ الْوَكِيلُ ) !

(۱۸۴)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قاله للبرج بن مسهر الطائي وقد قال له بحيث يسمعه «لا حكم إلا للَّه»، وكان من الخوارج

اسْكُتْ قَبَحَكَ اللَّه يَا أَثْرَمُ - فَوَاللَّه لَقَدْ ظَهَرَ الْحَقُّ فَكُنْتَ فِيه ضَئِيلًا شَخْصُكَ - خَفِيّاً صَوْتُكَ حَتَّى إِذَا نَعَرَ الْبَاطِلُ نَجَمْتَ نُجُومَ قَرْنِ الْمَاعِزِ.

ساتھ زندگی گزارو۔جہاں مرسلین کی رفاقت ہوگی اورملائکہ زیارت کریں گے اورکان جہنم کیآواز سننے سے بھی محفوظ رہیں گے ا ور بدن کسی طرح کی تکان اورتعب سے بھی دو چار نہ ہوں گے '' یہی وہ فضل خدا ہے کہ جس کو چاہتا ہے عنایت کردیتا ہے اور اللہ بہترین فضل کرنے والا ہے ۔''میں وہ کہہ رہا ہوں جو تم سن رہے ہو۔اس کے بعد اللہ یہ مدد گار ہے میرا بھی اور تمہارابھی اور ویہ ہمارے لئے کافی ہے اوروہی بہترین کار ساز ہے۔

(۱۸۴)

آپ کاارشاد گرامی

(جو آپ نے برج بن مسہر(۱) طائی خارجی سے فرمایا جب یہ سنا کہ وہ کہہ رہا ہے کہ خدا کے علاوہ کسی کو فیصلہ کا حق نہیں ہے )

خاموش ہو جا۔خدا تیرا برا کرے اے ٹوٹے ہوئے دانتوں والے۔خدا شاہد ہے کہ جب حق کا ظہور ہوا تھا تواس وقت تیری شخصیت کمزوراور تیری آواز بیجان تھی۔لیکن جب باطل کی آواز بلند ہوئی تو تو بکری کی سینگ کی طرح ابھر کرمنظر عام پر آگیا۔

(۱)یہ ایک خارجی شاعر تھا جس نے مولائے کائنات کے خلاف یہ آواز بلند کی کہ آپ نے تحکیم کو قبول کرکے غیر خدا کو حکم بنادیا ہے اور اسلام میں اللہ کے علاوہ کسی کی حاکمیت کا کوئی تصورنہیں ہے۔

حضرت امام عالی مقام نے اس فتنہ کے دورمیں اثرات کا لحاظ کرکے سخت ترین لہجہ میں جواب دیا اور قائل کی اوقات کا اعلان کردیا کہ شخص باطل پرست اورحق بیزار ہے۔ورنہ اسے اس امر کا اندازہ ہوتا کہ کتاب خدا سے فیصلہ کرانا خدا کی حاکمیت کا اقرار ہے انکارنہیں ہے۔حاکمیت خداکے منکرعمرو عاص جیسے افراد ہیں جنہوں نے کتاب خدا کو نظر انداز کرکے سیاہی چالوں سے فیصلہ کردیا اور دین خدا کو یکسر نا قابل توجہ قراردے دیا۔


(۱۸۵)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يحمد اللَّه فيها ويثني على رسوله ويصف خلقا من الحيوان

حمد اللَّه تعالى

الْحَمْدُ لِلَّه الَّذِي لَا تُدْرِكُه الشَّوَاهِدُ - ولَا تَحْوِيه الْمَشَاهِدُ - ولَا تَرَاه النَّوَاظِرُ - ولَا تَحْجُبُه السَّوَاتِرُ - الدَّالِّ عَلَى قِدَمِه بِحُدُوثِ خَلْقِه - وبِحُدُوثِ خَلْقِه عَلَى وُجُودِه - وبِاشْتِبَاهِهِمْ عَلَى أَنْ لَا شَبَه لَه - الَّذِي صَدَقَ فِي مِيعَادِه - وارْتَفَعَ عَنْ ظُلْمِ عِبَادِه - وقَامَ بِالْقِسْطِ فِي خَلْقِه - وعَدَلَ عَلَيْهِمْ فِي حُكْمِه - مُسْتَشْهِدٌ بِحُدُوثِ الأَشْيَاءِ عَلَى أَزَلِيَّتِه - وبِمَا وَسَمَهَا بِه مِنَ الْعَجْزِ عَلَى قُدْرَتِه - وبِمَا اضْطَرَّهَا إِلَيْه مِنَ الْفَنَاءِ عَلَى دَوَامِه - وَاحِدٌ لَا بِعَدَدٍ ودَائِمٌ لَا بِأَمَدٍ وقَائِمٌ لَا بِعَمَدٍ - تَتَلَقَّاه الأَذْهَانُ لَا بِمُشَاعَرَةٍ - وتَشْهَدُ لَه الْمَرَائِي لَا بِمُحَاضَرَةٍ - لَمْ تُحِطْ بِه الأَوْهَامُ بَلْ تَجَلَّى لَهَا بِهَا - وبِهَا امْتَنَعَ مِنْهَا وإِلَيْهَا حَاكَمَهَا

(۱۸۵)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں حمد خدا ' ثنائے رسول (ص) اوربعض مخلوقات کاتذکرہ ہے )

ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جسے نہ حواس پا سکتے ہیں اورنہ مکان گھیر سکتے ہیں ۔نہ آنکھیں اسے دیکھ سکتی ہیں اور نہ پردے اسے چھپا سکتے ہیں۔اس نے اپنے قدیم ہونے کی طرف مخلوقات کے حادثات ہونے سے رہنمائی کی ہے اور ان کی وجود بعد از عدم کو اپنے وجود ازلی کا ثبوت بنادیا ہے اور ان کی باہمی مشابہت سیاپنے بے مثال ہونے کا اظہار کیا ہے۔وہ اپنے وعدہ میں سچا ہے اور اپنے بندوں پر ظلم کرنے سے اجل و ارفع ہے۔اس نے لوگوں میں عدل کا قیام کیا ہے اور فیصلوں پر مکمل انصاف سے کام لیا ہے۔اشیاء کے حدوث سے اپنی ازلیت پراستدلال کیا ہے اور ان پر عاجزی کا نشان لگا کر اپنی قدرت کاملہ کا اثبات کیا ہے۔اشیاء کے جبری فناو عدم سے اپنے دوام کا پتہ دیا ہے۔وہ ایک ہے لیکنعدد کے اعتبار سے نہیں۔دائمی ہے لیکن مدت کے اعتبارسے نہیں اور قائم ہے لیکن کسی کے سہارے نہیں۔ذہن اسے قبول کرتے ہیں لیکن حواس کی بنا پر نہیں اور مشاہدات اس کی گواہی دیتے ہیں لیکن اس کی بارگاہ میں پہنچنے کے بعد نہیں۔اوہام اس کا احاطہ نہیں کر سکتے ہیں بلکہ وہ ان کے لئے انہیں کے ذریعہ روشن ہوا ہے اور انہیں کی ذریعہ ان کے قبضہ میں آنے سے


لَيْسَ بِذِي كِبَرٍ امْتَدَّتْ بِه النِّهَايَاتُ فَكَبَّرَتْه تَجْسِيماً - ولَا بِذِي عِظَمٍ تَنَاهَتْ بِه الْغَايَاتُ فَعَظَّمَتْه تَجْسِيداً - بَلْ كَبُرَ شَأْناً وعَظُمَ سُلْطَاناً.

الرسول الأعظم

وأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُه ورَسُولُه الصَّفِيُّ - وأَمِينُه الرَّضِيُّ – صلى الله عليه وآله - أَرْسَلَه بِوُجُوبِ الْحُجَجِ وظُهُورِ الْفَلَجِ وإِيضَاحِ الْمَنْهَجِ - فَبَلَّغَ الرِّسَالَةَ صَادِعاً بِهَا - وحَمَلَ عَلَى الْمَحَجَّةِ دَالاًّ عَلَيْهَا - وأَقَامَ أَعْلَامَ الِاهْتِدَاءِ ومَنَارَ الضِّيَاءِ - وجَعَلَ أَمْرَاسَ الإِسْلَامِ مَتِينَةً - وعُرَى الإِيمَانِ وَثِيقَةً.

منها في صفة خلق أصناف من الحيوان

ولَوْ فَكَّرُوا فِي عَظِيمِ الْقُدْرَةِ وجَسِيمِ النِّعْمَةِ - لَرَجَعُوا إِلَى الطَّرِيقِ وخَافُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ - ولَكِنِ الْقُلُوبُ عَلِيلَةٌ والْبَصَائِرُ مَدْخُولَةٌ - أَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى صَغِيرِ مَا خَلَقَ كَيْفَ أَحْكَمَ خَلْقَه - وأَتْقَنَ تَرْكِيبَه وفَلَقَ لَه السَّمْعَ والْبَصَرَ - وسَوَّى لَه الْعَظْمَ والْبَشَرَ

انکار کردیا ہے اور ان کا حکم بھی انہیں کو ٹھہرایا ہے ۔وہ اس اعتبار سے بڑا نہیں ہے کہ اس کے اطراف نے پھیل کر اس کے جسم کو بڑا بنادیا ہے اور نہ ایسا عظیم ہے کہ اس کی جسامت زیادہ ہو اور اس نے اس کے جسد کو عظیم بنادیا ہو ۔وہ اپنی شان میں کبیر اور اپنی سلطنت میں عظیم ہے۔

اورمیں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد اس کے بندہ اورمخلص رسول اور پسندیدہ امین ہیں۔اللہ ان پر رحمت نازل کرے۔اس نے انہیں نا قابل انکاردلائل۔واضح کامیابی اورنمایاں راستہ کے ساتھ بھیجا ہے۔اور انہوں نے اس کے پیغام کو واشگاف انداز میں پیش کردیا ہے اور لوگوں کو سیدھے راستہ کی رہنمائی کردی ہے ۔ہدایت کے نشان قائم کردئیے ہیں اور روشنی کے منارہ استوار کردئیے ہیں۔اسلام کی رسیوں کومضبوط بنادیا ہے اور ایمان کے بندھنوں کو مستحکم کردیاہے۔

اگر یہ لوگ اس کی عظیم قدرت اور وسیع نعمت میں غورو فکر کرتے تو راستہ کی طرف واپس آجاتے اورجہنم کے عذاب سے خوف زدہ ہو جاتے لیکن مشکل یہ ہے کہ ان کے دل مریض ہیں اور ان کی آنکھیں کمزور ہیں۔کیا یہ ایک چھوٹی سی مخلوق کو بھی نہیں دیکھ رہے ہیں کہ اس نے کس طرح اس کی تخلیق کو مستحکم اور اس کی ترکیب کو مضبوط بنایا ہے۔اس چھوٹے سے جسم میں کان اورآنکھیں سب بنادی ہیں اور اسی میں ہڈیاں اور کھال بھی درست کردی ہے۔


انْظُرُوا إِلَى النَّمْلَةِ فِي صِغَرِ جُثَّتِهَا ولَطَافَةِ هَيْئَتِهَا - لَا تَكَادُ تُنَالُ بِلَحْظِ الْبَصَرِ ولَا بِمُسْتَدْرَكِ الْفِكَرِ - كَيْفَ دَبَّتْ عَلَى أَرْضِهَا وصُبَّتْ عَلَى رِزْقِهَا - تَنْقُلُ الْحَبَّةَ إِلَى جُحْرِهَا وتُعِدُّهَا فِي مُسْتَقَرِّهَا - تَجْمَعُ فِي حَرِّهَا لِبَرْدِهَا وفِي وِرْدِهَا لِصَدَرِهَا - مَكْفُولٌ بِرِزْقِهَا مَرْزُوقَةٌ بِوِفْقِهَا - لَا يُغْفِلُهَا الْمَنَّانُ ولَا يَحْرِمُهَا الدَّيَّانُ - ولَوْ فِي الصَّفَا الْيَابِسِ والْحَجَرِ الْجَامِسِ - ولَوْ فَكَّرْتَ فِي مَجَارِي أَكْلِهَا - فِي عُلْوِهَا وسُفْلِهَا - ومَا فِي الْجَوْفِ مِنْ شَرَاسِيفِ بَطْنِهَا - ومَا فِي الرَّأْسِ مِنْ عَيْنِهَا وأُذُنِهَا - لَقَضَيْتَ مِنْ خَلْقِهَا عَجَباً ولَقِيتَ مِنْ وَصْفِهَا تَعَباً - فَتَعَالَى الَّذِي أَقَامَهَا عَلَى قَوَائِمِهَا - وبَنَاهَا عَلَى دَعَائِمِهَا - لَمْ يَشْرَكْه فِي فِطْرَتِهَا فَاطِرٌ،

ذرا اس چیونٹی کے چھوٹے سے جسم اور اس کی لطیف ہئیت کی طرف نظرکرو جس کا گوشہ چشم سے دیکھنابھی مشکل ہے اور فکروں کی گرفت میں آنابھی دشوار ہے۔کس طرح زمین پر رینگتی ہے اور کس طرح اپنے رزق کی طرف لپکتی ہے۔دانہ کو اپنے سوراخ کی طرف لے جاتی ہے اور پھر وہاں مرکز پرمحفوظ کر دیتی ہے گرمی(۱) میں سردی کا انتظام کرت یہے اور توانائی کے دورمیں کمزوری کے زمانہ کا بندوبست کرتی ہے اس کے رزق کی کفالت کی جا چکی ہے اوراسی کے مطابق اسے برابر رزق مل رہا ہے۔نہ احسان کرنے والا خدا اسے نظر اندازکرتا ہے اور نہ صاحب جزا و عطا اسے محروم رکھتا ہے چاہے وہ خشک پتھر کے اندر ہو یا جمے ہوئے سنگ خارا کے اندر۔اگر تم اس کی غذا کو پست و بلند نالیوں اور اس کے جسم کے اندر شکم کی طرف جھکے ہوئے پسلیوں کے کناروں اور سر میں جگہ پانے والے آنکھ اور کان کو دیکھو گے تو تمہیں واقعاً اس کی تخلیق پرتعجب ہوگا اور اس کی توصیف سے عاجز ہو جائوگے۔بلند و برتر ہے وہ خدا جس نے اس جسم کو اس کے پیروں پر قائم کیا ہے اور اس کی تعمیر انہیں ستونوں پرکھڑی کی ہے۔ نہ اس کی فطرت میں کسی خالق نے حصہ لیا ہے

(۱) ایک چھوٹی سی مخلوق چیونٹی میں یہ دور اندیشی اور اس قدر تنظیم و ترتیب اور ایک اشرف المخلوقات میں اس قدرغفلت اورتغافل کس قدرحیرت انگیز امر ہے اور اس سے زیادہ حیرت انگیز قصہ جناب سلیمان ہے جہاں چیونٹی نے لشکر سلیمان کو دیکھ کرآوازدی کہ فوراً اپنے اپنے سوراخوں میں داخل ہوجائو کہیں لشکر سلیمان تمہیں پامال نہ کردے اور اسے احساس بھی نہ ہو۔گویا کہ ایک چیونٹی کے دل میں قوم کا اس قدر درد ہے اوراسے سردار قوم ہونے کے اعتبارسے اس قدر ذمہ داری کا احساسا ہے کہ قوم تباہ نہ ہونے پائے اور آج عالم اسلام و انسانیت اس قدر تغافل کا شکار ہوگیا ہے کہ کسی کے دل میں قوم کا درد نہیں ہے بلکہ حکام قوم کے کاندھوں پر اپنے جنازے اٹھا رہے ہیں اور ان کی قبروں پر اپنے تاج محل تعمیر کر رہے ہیں۔


ولَمْ يُعِنْه عَلَى خَلْقِهَا قَادِرٌ - ولَوْ ضَرَبْتَ فِي مَذَاهِبِ فِكْرِكَ لِتَبْلُغَ غَايَاتِه - مَا دَلَّتْكَ الدَّلَالَةُ إِلَّا عَلَى أَنَّ فَاطِرَ النَّمْلَةِ - هُوَ فَاطِرُ النَّخْلَةِ - لِدَقِيقِ تَفْصِيلِ كُلِّ شَيْءٍ - وغَامِضِ اخْتِلَافِ كُلِّ حَيٍّ - ومَا الْجَلِيلُ واللَّطِيفُ والثَّقِيلُ والْخَفِيفُ - والْقَوِيُّ والضَّعِيفُ فِي خَلْقِه إِلَّا سَوَاءٌ.

خلقة السماء والكون

وكَذَلِكَ السَّمَاءُ والْهَوَاءُ والرِّيَاحُ والْمَاءُ - فَانْظُرْ إِلَى الشَّمْسِ والْقَمَرِ والنَّبَاتِ والشَّجَرِ - والْمَاءِ والْحَجَرِ واخْتِلَافِ هَذَا اللَّيْلِ والنَّهَارِ - وتَفَجُّرِ هَذِه الْبِحَارِ وكَثْرَةِ هَذِه الْجِبَالِ - وطُولِ هَذِه الْقِلَالِ وتَفَرُّقِ هَذِه اللُّغَاتِ - والأَلْسُنِ الْمُخْتَلِفَاتِ - فَالْوَيْلُ لِمَنْ أَنْكَرَ الْمُقَدِّرَ وجَحَدَ الْمُدَبِّرَ - زَعَمُوا أَنَّهُمْ كَالنَّبَاتِ مَا لَهُمْ زَارِعٌ - ولَا لِاخْتِلَافِ صُوَرِهِمْ صَانِعٌ -

اور نہ اس کی تخلیق میں کسی قادرنے کئی مدد کی ہے۔اور ار تم فکرکے تمام راستوں کو طے کرکے اس کی انتہا تک پہنچنا چاہو گے تو ایک ہی نتیجہ حاصل ہوگا کہ جو چیونٹی کا خالق ہے وہی درخت خرما کابھی پروردگار ہے۔اس لئے کہ ہر ایک تخلیق میں یہی باریکی ہے اور ہر جاندار کا دوسرے سے نہایت درجہ باریک ہی اختلاف ہے۔اس کی بارگاہ میں عظیم و لطیف ' ثقیل و خفیف ' قوی و ضعیف سب ایک ہی جیسے ہیں ۔

یہی حال آسمان اور فضا۔اور ہوا اور پانی کا ہے ۔ کہ چاہو شمس و قمر کو دیکھو یا نباتات وشجر کو۔پانی اور پتھر پر نگاہ کرو یا شب و روز کی آمد رفت پر' دریائوں کے بہائو کو دیکھو یا پہاڑوں کی کثرت اور چوٹیوں کے طول و ارتفاع کو۔لغات کے اختلاف کو دیکھو یا زبانوںکے افتراق کو۔سب اس کی قدرت کاملہ کے بہترین دلائل ہیں۔ حیف ہے ان لوگوں پر جنہوں نے تقدیر ساز کا انکار کیا ہے اور تدبیر کرنے والے سے مکرگئے ۔ان کا خیال ہے کہ سب گھاس پھوس(۱) کی طرح ہیں کہ بغیر کھیتی کرنے والے کے اگ آئے ہیں اور بغیر صانع کے مختلف شکلیں اختیار کرلی ہیں

(۱) درحقیقت گھاس پھوس کے بارے میں بھی یہ تصور خلاف عقل ہے کہ اس کی تخلیق بغیر کسی خالق کے ہوگئی ہے لیکن یہ تصور صرف اس لئے پیدا کر لیتا ہے کہ اس کی حکمت اور مصلحت سے با خبر نہیں ہے اوریہ خیال کرتا ہے کہ اسے برسات نے پانی کے بغیر کسی ترتیب و تنظیم کے اگادیا ہے اور اس کے بعد اسی تخلیق پر ساری کائنات کا قیاس کرنے لگتا ہے۔حالانکہ اسے کائنات کی حکمت و مصلحت کودیکھ کر یہ فیصلہ کرنا چاہیے تھا کہ تخلیق کائنات کے بعض اسرار تو واضح بھی ہوئے ہیں لیکن تخلق نباتات کا تو کوئیراز واضح نہیں ہو سکا ہے اوریہ انسان کی انتہائی جہالت ہے کہ وہ اس قدرحقیر اور معمولی مخلوقات کی حکمت و مصلحت سے بھی با خبرنہیں ہے اور حوصلہ اس قدر بلند ہے کہ مالک کائنات سے ٹکر لینا چاہتا ہے اور ایک لفظ میں اس کے وجود کا خاتمہ کر دیناچاہتا ہے۔


ولَمْ يَلْجَئُوا إِلَى حُجَّةٍ فِيمَا ادَّعَوْا - ولَا تَحْقِيقٍ لِمَا - أَوْعَوْا وهَلْ يَكُونُ بِنَاءٌ مِنْ غَيْرِ بَانٍ أَوْ جِنَايَةٌ مِنْ غَيْرِ جَانٍ!

خلقة الجرادة

وإِنْ شِئْتَ قُلْتَ فِي الْجَرَادَةِ - إِذْ خَلَقَ لَهَا عَيْنَيْنِ حَمْرَاوَيْنِ - وأَسْرَجَ لَهَا حَدَقَتَيْنِ قَمْرَاوَيْنِ - وجَعَلَ لَهَا السَّمْعَ الْخَفِيَّ وفَتَحَ لَهَا الْفَمَ السَّوِيَّ - وجَعَلَ لَهَا الْحِسَّ الْقَوِيَّ ونَابَيْنِ بِهِمَا تَقْرِضُ - ومِنْجَلَيْنِ بِهِمَا تَقْبِضُ - يَرْهَبُهَا الزُّرَّاعُ فِي زَرْعِهِمْ - ولَا يَسْتَطِيعُونَ ذَبَّهَا ،ولَوْ أَجْلَبُوا بِجَمْعِهِمْ - حَتَّى تَرِدَ الْحَرْثَ فِي نَزَوَاتِهَا وتَقْضِيَ مِنْه شَهَوَاتِهَا - وخَلْقُهَا كُلُّه لَا يُكَوِّنُ إِصْبَعاً مُسْتَدِقَّةً.

فَتَبَارَكَ اللَّه الَّذِي يَسْجُدُ لَه( مَنْ فِي السَّماواتِ والأَرْضِ - طَوْعاً وكَرْهاً ) ويُعَفِّرُ لَه خَدّاً ووَجْهاً - ويُلْقِي إِلَيْه بِالطَّاعَةِ سِلْماً وضَعْفاً - ويُعْطِي لَه الْقِيَادَ رَهْبَةً وخَوْفاً - فَالطَّيْرُ مُسَخَّرَةٌ لأَمْرِه - أَحْصَى عَدَدَ الرِّيشِ مِنْهَا

۔حالانکہ انہوں نے اس دعویٰ میں نہ کسی دلیل کاسہارا لیا ہے اور نہ اپنے عقائد کی کوئی تحقیق کی ہے۔ورنہ یہ سمجھ لیتے کہ نہ بغیر بانی کے عمارت ہو سکتی ہے اور نہ بغیر مجرم کے جرم ہو سکتا ہے۔

اور اگر تم چاہو تو یہی باتیں ٹڈی کے بارے میں کہی جا سکتی ہیں کہ اس کے اندر دوسرخ سرخ آنکھیں پیدا کی ہیں اور چاند جیسے دو حلقوں میں آنکھوں کے چراغ روشن کردئیے ہیں۔چھوٹے چھوٹے کان بنا دئیے ہیں اور مناسب سادہانہ کھول دیا ہے۔لیکن احساس کو قوی بنادیا ہے۔اس کے دو تیز دانت ہیں جن سے تپیوں کو کاٹتی ہے اور دو پیر دندانہ دار ہیں جن سے گھاس وغیرہ کو پکڑتی ہے۔کاشتکار اپنی کاشت کے لئے ان سے خوفزدہ رہتے ہیں لیکن انہیں ہنکا نہیں سکتے ہیں چاہے کسی قدر طاقت کیوں نہ جمع کرلیں۔یہاں تک کہ وہ کھیتوں پرجست وخیز کرتے ہوئے حملہ آور ہو جاتی ہیں اور اپنی خواہش پوری کر لیتی ہیں ۔جب کہ اس کا کال و جود ایک باریک انگلی سے زیادہ نہیں ہے۔

پس با برکت ہے وہ ذات اقدس جس کے سامنے زمین و آسمان کی تمام مخلوقات بر غبت یا بجزز و اکراہ سر بسجود رہتی ہے۔اور اس کے لئے چہرہ اور رخسار کو خاک پر رکھے ہوئے ہیں اورعجزو انکسار کے ساتھ اس کی بارگاہ میں سراپا اطاعت ہیں اورخوف و دہشت سے اپنی زمام اختیار اس کے حوالہ کئے ہوئے ہیں۔پرندہ اس کے امر کے تابع ہیں کہوہ ان کے پروں


والنَّفَسِ - وأَرْسَى قَوَائِمَهَا عَلَى النَّدَى والْيَبَسِ - وقَدَّرَ أَقْوَاتَهَا وأَحْصَى أَجْنَاسَهَا - فَهَذَا غُرَابٌ وهَذَا عُقَابٌ - وهَذَا حَمَامٌ وهَذَا نَعَامٌ - دَعَا كُلَّ طَائِرٍ بِاسْمِه وكَفَلَ لَه بِرِزْقِه - وأَنْشَأَ السَّحَابَ الثِّقَالَ فَأَهْطَلَ دِيَمَهَا - وعَدَّدَ قِسَمَهَا فَبَلَّ الأَرْضَ بَعْدَ جُفُوفِهَا - وأَخْرَجَ نَبْتَهَا بَعْدَ جُدُوبِهَا

(۱۸۶)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في التوحيد وتجمع هذه الخطبة من أصول العلم ما لا تجمعه خطبة

مَا وَحَّدَه مَنْ كَيَّفَه ولَا حَقِيقَتَه أَصَابَ مَنْ مَثَّلَه - ولَا إِيَّاه عَنَى مَنْ شَبَّهَه - ولَا صَمَدَه مَنْ أَشَارَ إِلَيْه وتَوَهَّمَه - كُلُّ مَعْرُوفٍ بِنَفْسِه مَصْنُوعٌ وكُلُّ قَائِمٍ فِي سِوَاه مَعْلُولٌ - فَاعِلٌ لَا بِاضْطِرَابِ آلَةٍ مُقَدِّرٌ لَا بِجَوْلِ فِكْرَةٍ

اور سانسوں کاشمار رکھتا ہے اور ان کے پروں کو تری یا خشکی میں جمادیا ہے۔انکاقوت مقدر کردیا ہے اوران کی جنس کا احصارکرلیا ہے کہ یہ کو ا ہے۔وہ عقاب ہے ۔یہ کبوتر ہے۔وہ شترمرغ ہے۔ہر پرندہ کواس کے نام سے عالم وجود میں دعوت دی ہے اور ہر ایک کی روزی کی کفالت کی ہے ۔سنگین قسم کے بادل پیداکئے توان سے موسلا دھار پانی برسا دیا اور اس کے تقسیمات کاحساب بھی رکھا۔زمین کو خشکی کے بعد تر کردیا اور اس کے نباتات کو بنجر ہوجانے کے بعد دوبارہ اگا دیا۔

(۱۸۶)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(توحید کے بارے میں اور اس میں وہ تمام علمی مطالب پائے جاتے ہیں جو کسی دوسرے خطبہ میں نہیں ہیں)

وہ اس کی توحید کا قائل نہیں ہے جسنے اس کے لئے کیفیات کا تصور پیدا کرلیا اوروہ اس کی حقیقت سے نا آشنا ہے جس نے اس کی تمثیل قراردے دی۔اس نے اس کا قصد ہی نہیں کیا جس نے اس کی شبیہ بنادی اور وہاس کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوا جس نے اس کی طرف اشارہ کردیا یا اسے تصور کا پابند بنادینا چاہا۔جو اپنی ذات سے پہچانا جائے وہ مخلوق ہے اور جودسورے کے سہارے قائم ہو وہ اس علت کا متحا ج ہے۔پروردگار غافل ہے لیکن اعضاء کیحرکات سے نہیں اور انداز ے مقرر کرنے والا ہے لیکن فکر کی جولانیوں


غَنِيٌّ لَا بِاسْتِفَادَةٍ - لَا تَصْحَبُه الأَوْقَاتُ ولَاتَرْفِدُه الأَدَوَاتُ - سَبَقَ الأَوْقَاتَ كَوْنُه - والْعَدَمَ وُجُودُه والِابْتِدَاءَ أَزَلُه بِتَشْعِيرِه الْمَشَاعِرَ عُرِفَ أَنْ لَا مَشْعَرَ لَه - وبِمُضَادَّتِه بَيْنَ الأُمُورِ عُرِفَ أَنْ لَا ضِدَّ لَه - وبِمُقَارَنَتِه بَيْنَ الأَشْيَاءِ عُرِفَ أَنْ لَا قَرِينَ لَه - ضَادَّ النُّورَ بِالظُّلْمَةِ والْوُضُوحَ بِالْبُهْمَةِ - والْجُمُودَ بِالْبَلَلِ والْحَرُورَ بِالصَّرَدِ - مُؤَلِّفٌ بَيْنَ مُتَعَادِيَاتِهَا مُقَارِنٌ بَيْنَ مُتَبَايِنَاتِهَا - مُقَرِّبٌ بَيْنَ مُتَبَاعِدَاتِهَا مُفَرِّقٌ بَيْنَ مُتَدَانِيَاتِهَا - لَا يُشْمَلُ بِحَدٍّ ولَا يُحْسَبُ بِعَدٍّ - وإِنَّمَا تَحُدُّ الأَدَوَاتُ أَنْفُسَهَا - وتُشِيرُ الآلَاتُ إِلَى نَظَائِرِهَا مَنَعَتْهَا مُنْذُ الْقِدْمَةَ وحَمَتْهَا قَدُ الأَزَلِيَّةَ - وجَنَّبَتْهَا لَوْلَا التَّكْمِلَةَ

سے نہیں وہ غنی ہے لیکن کسی سے کچھ لے کرنہیں۔زمانہ اس کے ساتھ نہیں رہ سکتا اورآلات اسے سہارا نہیں دے سکتے۔اس کا وجودزمانہ سے پہلے ہے اور اس کا وجودعدم سے بھی سابق اور اس کی ازلیت ابتدا سے بھی مقدم ہے۔اس کے حواس(۱) کوایجاد کرنے سے اندازہ ہوا کہ وہ حواس سے بے نیاز ہے اور اس کے اشیاء کے درمیان ضدیت قراردینے سے معلوم ہوا کہ اس کی کوئی ضد نہیں ہے اوراس کے اشیاء میں مقارنت قرار دینے سے ثابت ہواکہ اس کا کوئی قرین اور ساتھی نہیں ہے۔اس نے نور کی ظلمت کی۔وضاحت کو ابہام کی خشکی کو تری کی اور گرمی کو سردی کی ضد قرار دیاہے۔وہ ایک دوسرے کی دشمن اشیاء کو جمع کرنے والا۔ایک دوسرے سے جدا گانہاشیاء کا ساتھ کردینے والا۔باہمی دوری رکھنے والوں کو قریب بنادینے والا اورباہمی قربت کے حامل امور کا جدا کردینے والا ہے۔وہ نہ کسی حد کے اندر آتا ہے اور نہ کسی حساب و شمارمیں آسکتا ہے کہ جسمانی قوتیں اپنی جیسی اشیاء ہی کو محدود کر سکتی ہیں اور آلات اپنے امثال ہی کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں۔ان اشیاء کو لفظ منذ ( کب ) نے قدیم ہونے سے روک دیا ہے اورحرف قد (ہوگیا) نے ازلیت سے الگ کردیا ہے اور لولا نے انہیں تکمیل سے جداکردیا ہے۔انہیں اشیاء

(۱)مالک کائنات نے تخلیق کائنات میں ایسے خصوصیات کو ودیعت کردیاہے جن کے ذریعہ اس کی عظمت کاب خوب اندازہ کیا جا سکتا ہے۔صرف اس نکتہ کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ جوش ے بھی کسی کی ایجاد کردہہوتی ہے اس کا اطلاق موجد کی ذات پرنہیں ہو سکتا ہے لہٰذا اگر اس نے حواس کو پیداکیا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی ذات حواس سے بالا تر ہے اوراگر اس نے بعض اشیاء میں ہمرنگی اوربعض میں اخلاف پیدا کیا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کی ذات اقدس نہ کسی ہمرنگ ہے اورنہ کسی سے ضدیت کی حامل ہے ۔یہ ساری باتیں مخلوقات کے مقدرمیں لکھی گئی ہیں اور خالق کی ذات ان تمام باتوں سے کہیں زیادہ بلند و بالا ہے۔


بِهَا تَجَلَّى صَانِعُهَا لِلْعُقُولِ - وبِهَا امْتَنَعَ عَنْ نَظَرِ الْعُيُونِ - ولَا يَجْرِي عَلَيْه السُّكُونُ والْحَرَكَةُ - وكَيْفَ يَجْرِي عَلَيْه مَا هُوَ أَجْرَاه - ويَعُودُ فِيه مَا هُوَ أَبْدَاه ويَحْدُثُ فِيه مَا هُوَ أَحْدَثَه - إِذاً لَتَفَاوَتَتْ ذَاتُه ولَتَجَزَّأَ كُنْهُه - ولَامْتَنَعَ مِنَ الأَزَلِ مَعْنَاه - ولَكَانَ لَه وَرَاءٌ إِذْ وُجِدَ لَه أَمَامٌ - ولَالْتَمَسَ التَّمَامَ إِذْ لَزِمَه النُّقْصَانُ - وإِذاً لَقَامَتْ آيَةُ الْمَصْنُوعِ فِيه - ولَتَحَوَّلَ دَلِيلًا بَعْدَ أَنْ كَانَ مَدْلُولًا عَلَيْه - وخَرَجَ بِسُلْطَانِ الِامْتِنَاعِ - مِنْ أَنْ يُؤَثِّرَ فِيه مَا يُؤَثِّرُ فِي غَيْرِه الَّذِي لَا يَحُولُ ولَا يَزُولُ ولَا يَجُوزُ عَلَيْه الأُفُولُ - لَمْ يَلِدْ فَيَكُونَ مَوْلُوداً ولَمْ يُولَدْ فَيَصِيرَ مَحْدُوداً - جَلَّ عَنِ اتِّخَاذِ الأَبْنَاءِ، وطَهُرَ عَنْ مُلَامَسَةِ النِّسَاءِ - لَا تَنَالُه الأَوْهَامُ فَتُقَدِّرَه ولَا تَتَوَهَّمُه الْفِطَنُ فَتُصَوِّرَه - ولَا تُدْرِكُه الْحَوَاسُّ فَتُحِسَّه

کے ذریعہ بنانے والا عقلوں کے سامنے جلوہ گر ہوا ہے اور انہیں کے ذریعہ آنکھوں کی دید سے بری ہوگیا ہے۔اس پرحرکت و سکون کا قانون جاری نہیں ہوتا ہے کہ اس نے خود حرکت و سکون کے نظام کو جاری کیا ہے اورجس چیزکی ابتدا اس نے کی ہے وہ اس کی طرف کس طرح عائد ہو سکتی ہے یا جس کو اس نے ایجاد کیا ہے وہ اس کی ذات میں کس طرح شامل ہو سکتی ہے۔ایسا ہو جاتا تواس کی ذات بھی تغیر پذیر ہو جاتی اور اس کی حقیقت بھی قابل تجزیہ ہو جاتی اوراس کی معنویت بھی ازلیت سے الگ ہو جاتی اور اس کے یہاں بھی اگر سامنے کی جہت ہوتی تو پیچھے کی سمت بھی ہوتی اوروہ بھی کمال کا طلب گار ہوتا اگر اس میں نقص پیداہوجاتا۔اس میں مصنوعات کی علامت پیدا ہو جاتی اور وہ مدلول ہونے کے بعد خود بھی دوسرے کی طرف رہنمائی کرنے والا ہو جاتا۔وہ اپنے امتناع و تحفظ کی طاقت کی بناپ ر اس حد سے باہر نکل گیا ہے کہ کوئی ایسی شے اس پر اثر کرے جو دوسروں پر اثر انداز ہوتی ہے۔اس کے یہاں نہ تغیر ہے اور نہ زوال اورنہ اس کے آفتاب وجود کےلئے کوئی غروب ہے۔وہ نہ کسی کا باپ ہے کہ اس کا کوئی فرزند ہو اورنہ کسی کاف رزند ہے کہ محدود ہو کر رہ جائے ۔وہ اولاد بنانے سے بھی بے نیاز اور عورتوں کو ہاتھ لگانے سے بھی بلند و بالا ہے۔ادہام اسے پانہیں سکتے ہیں کہ اس کا اندازہ مقرر کریں اورہوش مندیاں اس کا تصور نہیں کر سکتی ہیں کہ اس کی تصویر بناسکیں ۔جو اس کا ادراک نہیں کر سکتے ہیں کہ اسے محسوس کر سکیں


ولَا تَلْمِسُه الأَيْدِي فَتَمَسَّه - ولَا يَتَغَيَّرُ بِحَالٍ ولَا يَتَبَدَّلُ فِي الأَحْوَالِ - ولَا تُبْلِيه اللَّيَالِي والأَيَّامُ ولَا يُغَيِّرُه الضِّيَاءُ والظَّلَامُ ولَا يُوصَفُ بِشَيْءٍ مِنَ الأَجْزَاءِ - ولَا بِالْجَوَارِحِ والأَعْضَاءِ ولَا بِعَرَضٍ مِنَ الأَعْرَاضِ - ولَا بِالْغَيْرِيَّةِ والأَبْعَاضِ - ولَا يُقَالُ لَه حَدٌّ ولَا نِهَايَةٌ ولَا انْقِطَاعٌ ولَا غَايَةٌ - ولَا أَنَّ الأَشْيَاءَ تَحْوِيه فَتُقِلَّه أَوْ تُهْوِيَه - أَوْ أَنَّ شَيْئاً يَحْمِلُه فَيُمِيلَه أَوْ يُعَدِّلَه - لَيْسَ فِي الأَشْيَاءِ بِوَالِجٍ ولَا عَنْهَا بِخَارِجٍ - يُخْبِرُ لَا بِلِسَانٍ ولَهَوَاتٍ - ويَسْمَعُ لَا بِخُرُوقٍ وأَدَوَاتٍ يَقُولُ ولَا يَلْفِظُ - ويَحْفَظُ ولَا يَتَحَفَّظُ ويُرِيدُ ولَا يُضْمِرُ - يُحِبُّ ويَرْضَى مِنْ غَيْرِ رِقَّةٍ - ويُبْغِضُ ويَغْضَبُ مِنْ غَيْرِ مَشَقَّةٍ - يَقُولُ لِمَنْ أَرَادَ كَوْنَه كُنْ فَيَكُونُ - لَا بِصَوْتٍ يَقْرَعُ ولَا بِنِدَاءٍ يُسْمَعُ - وإِنَّمَا كَلَامُه سُبْحَانَه فِعْلٌ مِنْه أَنْشَأَه ومَثَّلَه - لَمْ يَكُنْ مِنْ قَبْلِ ذَلِكَ كَائِناً - ولَوْ كَانَ قَدِيماً لَكَانَ إِلَهاً ثَانِياً.

اور ہاتھ اسے چھو نہیں سکتے ہیں کہ مس کرلیں۔ وہ کسی حال میں متغیر نہیں ہوتا ہے اور مختلف حالات میں بدلتا بھی نہیں ہے۔شب و روز اسے پرانا نہیں کر سکتے ہیں اورتاریکی و روشنی اس میں تغیر نہیں پیدا کر سکتی ہے۔وہ نہ اجزاء سے موصوف ہوتا ہے اورنہ جوارح و اعضاء سے ۔نہ کسی عرض سے متصف ہوتا ے اور نہ غیریت اور جزئیت سے۔اس کے لئے نہحداور انتہا کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور نہ اختتام اور زوال کا۔نہ اشیاء اس پر حاوی ہیں کہ جب چاہیں پست کردیں یا بلند کردیں اور نہ کوئی چیز اسے اٹھائے ہوئے ہے کہ جب چاہے سیدھا کردے یا موڑ دے۔وہ نہ اشیا کے اندرداخل ہے اور نہان سے خارج ہے۔وہ کلام کرتا ہے مگر زبان اورتالو کے سہارے نہیں اور سنتاہے لیکن کان کے سوراخ اور آلات کے ذریعہ نہیں۔بولتا ہے لیکن تلفظ سے نہیں اور ہر چیز کو یاد رکھتا ہے لیکن حافظہ کے سہارے نہیں۔ارادہ کرتا ہے لیکن دل سے نہیں۔اور محبت و رضا رکھتا ہے لیکن نرمی قلب کے وسیلہ سے نہیں۔اور بغض و غضب بھی رکھتا ہے لیکن غم و غصہ کی تکلیف سے نہیں ۔ جس چیز کوایجاد کرنا چاہتا ہے اس سے کن کہہ دیتا ہے اور وہ ہو جاتی ہے۔نہ کوئی آواز کانوں سے ٹکراتی ہے اور نہ کوئی ندا سنائی دیتی ہے۔اس کا کلام درحقیقت اس کا فعل ہے جس کو اس نے ایجاد کیا ہے اور اس کے پہلیسے ہونے کا کوئی سوال نہیں ہے ورنہ وہ بھی قدیم اوردوسرا خدا ہو جاتا ۔


لَا يُقَالُ كَانَ بَعْدَ أَنْ لَمْ يَكُنْ - فَتَجْرِيَ عَلَيْه الصِّفَاتُ الْمُحْدَثَاتُ - ولَا يَكُونُ بَيْنَهَا وبَيْنَه فَصْلٌ - ولَا لَه عَلَيْهَا فَضْلٌ فَيَسْتَوِيَ الصَّانِعُ والْمَصْنُوعُ - ويَتَكَافَأَ الْمُبْتَدَعُ والْبَدِيعُ - خَلَقَ الْخَلَائِقَ عَلَى غَيْرِ مِثَالٍ خَلَا مِنْ غَيْرِه - ولَمْ يَسْتَعِنْ عَلَى خَلْقِهَا بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِه - وأَنْشَأَ الأَرْضَ فَأَمْسَكَهَا مِنْ غَيْرِ اشْتِغَالٍ - وأَرْسَاهَا عَلَى غَيْرِ قَرَارٍ وأَقَامَهَا بِغَيْرِ قَوَائِمَ، ورَفَعَهَا بِغَيْرِ دَعَائِمَ - وحَصَّنَهَا مِنَ الأَوَدِ والِاعْوِجَاجِ - ومَنَعَهَا مِنَ التَّهَافُتِ والِانْفِرَاجِ - أَرْسَى أَوْتَادَهَا وضَرَبَ أَسْدَادَهَا - واسْتَفَاضَ عُيُونَهَا وخَدَّ أَوْدِيَتَهَا - فَلَمْ يَهِنْ مَا بَنَاه ولَا ضَعُفَ مَا قَوَّاه هُوَ الظَّاهِرُ عَلَيْهَا بِسُلْطَانِه وعَظَمَتِه - وهُوَ الْبَاطِنُ لَهَا بِعِلْمِه ومَعْرِفَتِه - والْعَالِي عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مِنْهَا بِجَلَالِه وعِزَّتِه - لَا يُعْجِزُه شَيْءٌ مِنْهَا طَلَبَه - ولَا يَمْتَنِعُ عَلَيْه فَيَغْلِبَه

اس کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ وہ عدم سے وجود میں آیا ہے کہ اس پر حادث(۱) صفات کا اطلاق ہو جائے اور دونوں میں نہ کوئی فاصلہ رہ جائے اور نہ اس کا حوادث پر کوئی فضل رہ جائے اور پھر صانع و مصنوع دونوں برابر ہو جائیں اورمصنوع صنعت کے مثل ہو جائے۔اس نے مخلوقات کو بغیر کسی دوسرے کے چھوڑ دے ہوئے نمونہ کے بنایا ہے اور اس تخلیق میں کسی سے مدد بھی نہیں لی ہے۔زمین کو ایجاد کیا اور اس میں الجھے بغیر اسے روک کر رکھا اورپھربغیرکسی سہارے کے گاڑ دیا اور بغیر کسی ستون کے قائم کردیا اوربغیرکھمبوں کے بلند بھی کردیا۔اسے ہر طرح کی کجی اور ٹیڑھے پن سے محفوظ رکھا اورہر قسم کے شگاف اورانتشار سے بچائے رکھا۔اس میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں اورچٹانوں کو مضبوطی سے نصب کردیا۔چشمے جاری کردئیے اور پانی کی گزر گاہوں کو شگافتہ کردیا۔اس کی کوئی صنعت کمزور نہیں ہے اور اس نے جس کو قوت دے دی ہے وہ ضعیف نہیں ہے۔وہ ہر شے پراپنی عظمت و سلطنت کی بناپرغالب ہے۔اور اپنے علم و عرفان کی بنا پر اندر تک کی خبر رکھتا ہے ۔جلال و عزت کی بنا پر ہر شے سے بلند و بالا ہے اور اگر کسی شے کو طلب کرنا چاہے تو کوئی شے اسے عاجز نہیں کر سکتی ہے اور اس سے انکارنہیں کر سکتی ہے اوراس سے انکار نہیں کرسکتی ہے کہ اس پر غالب آجائے ۔

(۱)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پروردگار کا عرفان اس کے صفات و کمالات ہی سے ہوتا ہے اور اسکی ذات اقدس بھی مختلف صفات سے متصف ہے لیکن بات صرف یہ ہے کہ اس کے صفات حادث نہیں ہیں۔بلکہ عین ذات ہیں اور ایک ذات اقدس ہے جس سے اس کے تمام صفات کا اندازہ ہوتا ہے اور اس میں کسی طرح کے تعدد کا کوئی امکان نہیں ہے۔


ولَا يَفُوتُه السَّرِيعُ مِنْهَا فَيَسْبِقَه - ولَا يَحْتَاجُ إِلَى ذِي مَالٍ فَيَرْزُقَه - خَضَعَتِ الأَشْيَاءُ لَه وذَلَّتْ مُسْتَكِينَةً لِعَظَمَتِه - لَا تَسْتَطِيعُ الْهَرَبَ مِنْ سُلْطَانِه إِلَى غَيْرِه - فَتَمْتَنِعَ مِنْ نَفْعِه وضَرِّه - ولَا كُفْءَ لَه فَيُكَافِئَه - ولَا نَظِيرَ لَه فَيُسَاوِيَه - هُوَ الْمُفْنِي لَهَا بَعْدَ وُجُودِهَا - حَتَّى يَصِيرَ مَوْجُودُهَا كَمَفْقُودِهَا.

ولَيْسَ فَنَاءُ الدُّنْيَا بَعْدَ ابْتِدَاعِهَا - بِأَعْجَبَ مِنْ إِنْشَائِهَا واخْتِرَاعِهَا - وكَيْفَ ولَوِ اجْتَمَعَ جَمِيعُ حَيَوَانِهَا مِنْ طَيْرِهَا وبَهَائِمِهَا - ومَا كَانَ مِنْ مُرَاحِهَا وسَائِمِهَا - وأَصْنَافِ أَسْنَاخِهَا وأَجْنَاسِهَا - ومُتَبَلِّدَةِ أُمَمِهَا وأَكْيَاسِهَا - عَلَى إِحْدَاثِ بَعُوضَةٍ مَا قَدَرَتْ عَلَى إِحْدَاثِهَا - ولَا عَرَفَتْ كَيْفَ السَّبِيلُ إِلَى إِيجَادِهَا - ولَتَحَيَّرَتْ عُقُولُهَا فِي عِلْمِ ذَلِكَ وتَاهَتْ - وعَجَزَتْ قُوَاهَا وتَنَاهَتْ - ورَجَعَتْ خَاسِئَةً حَسِيرَةً - عَارِفَةً بِأَنَّهَا مَقْهُورَةٌ مُقِرَّةً بِالْعَجْزِ عَنْ إِنْشَائِهَا - مُذْعِنَةً بِالضَّعْفِ عَنْ إِفْنَائِهَا!

وإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه يَعُودُ بَعْدَ فَنَاءِ الدُّنْيَا وَحْدَه لَا شَيْءَ مَعَه -

تیزی دکھلانے والے اس سے بچ کر آگے نہیں جا سکتے ہیں اوروہ کسی صاحب ثروت کی روزی کا محتاج نہیں ہے۔تمام اشیاء اس کی بارگاہ میں خضوع کرنے والی اور اس کی عظمت کے سامنے ذلیل ہیں۔کوئی چیز اس کی سلطنت سے فرار کرکے دوسرے کی طرف ہیں جا سکتی ہے کہ اس کے نفع و نقصان سے محفوظ ہو جائے نہ اس کا کوئی کفو ہے کہ ہمسری کرے اور نہ کوئی مثل ہے کہ برابر ہوجائے۔وہ ہر شے کو وجود کے بعد فناکرنے والا ہے کہ ایک دن پھرمفقود ہو جائے اور اس کے لئے دنیا کا فنا کردینا اس سے زیادہ حیرت انگیز نہیں ہے کہ جب اس نے اس کی اختراع و ایجادکی تھی اور بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے جب کہ صورت حال یہ ہے کہ اگر تم حیوانات پرندہ اورچرندہ۔رات کو منزل پر واپس آنے والے اور چراگاہوں میں رہ جانے والے۔طرح طرح کے انواع و اقسام والے اور تمام انسان غبی اورہوشمند سب ملکرایک مچھر کو ایجاد کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے ہیں اور نہ انہیں یہ اندازہ ہو گا کہ اس کی ایجاد کا طریقہ اور راستہ کیا ہے بلکہ ان کی عقلیں اسی راہ میں گم ہو جائیں گی اور ان کی طاقتیں جواب دے جائیں گی اور عاجز و درماندہ ہو کر میدان عمل سے واپس آجائیں گی اور انہیں محسوس ہو جائے گا کہ ان پر کسی غلبہ ہے اور انہیں اپنی عاجزی کا قرار بھی ہوگا اور انہیں فنا کردینے کے بارے میں بھی کمزوری کا اعتراف ہوگا۔

وہ خدائے پاک و پاکیزہ ہی ہے جو دنیا کے فنا ہو جانے کے بعد بھی رہنے والا ہے اور اس کے ساتھ رہنے والا کوئی


كَمَا كَانَ قَبْلَ ابْتِدَائِهَا كَذَلِكَ يَكُونُ بَعْدَ فَنَائِهَا - بِلَا وَقْتٍ ولَا مَكَانٍ ولَا حِينٍ ولَا زَمَانٍ - عُدِمَتْ عِنْدَ ذَلِكَ الآجَالُ والأَوْقَاتُ - وزَالَتِ السِّنُونَ والسَّاعَاتُ - فَلَا شَيْءَ( إِلَّا الله الْواحِدُ الْقَهَّارُ ) - الَّذِي إِلَيْه مَصِيرُ جَمِيعِ الأُمُورِ - بِلَا قُدْرَةٍ مِنْهَا كَانَ ابْتِدَاءُ خَلْقِهَا - وبِغَيْرِ امْتِنَاعٍ مِنْهَا كَانَ فَنَاؤُهَا - ولَوْ قَدَرَتْ عَلَى الِامْتِنَاعِ لَدَامَ بَقَاؤُهَا - لَمْ يَتَكَاءَدْه صُنْعُ شَيْءٍ مِنْهَا إِذْ صَنَعَه - ولَمْ يَؤُدْه مِنْهَا خَلْقُ مَا خَلَقَه وبَرَأَه - ولَمْ يُكَوِّنْهَا لِتَشْدِيدِ سُلْطَانٍ - ولَا لِخَوْفٍ مِنْ زَوَالٍ ونُقْصَانٍ - ولَا لِلِاسْتِعَانَةِ بِهَا عَلَى نِدٍّ مُكَاثِرٍ - ولَا لِلِاحْتِرَازِ بِهَا مِنْ ضِدٍّ مُثَاوِرٍ - ولَا لِلِازْدِيَادِ بِهَا فِي مُلْكِه - ولَا لِمُكَاثَرَةِ شَرِيكٍ فِي شِرْكِه - ولَا لِوَحْشَةٍ كَانَتْ مِنْه - فَأَرَادَ أَنْ يَسْتَأْنِسَ إِلَيْهَا.

ثُمَّ هُوَ يُفْنِيهَا بَعْدَ تَكْوِينِهَا - لَا لِسَأَمٍ دَخَلَ عَلَيْه فِي تَصْرِيفِهَا وتَدْبِيرِهَا - ولَا لِرَاحَةٍ وَاصِلَةٍ إِلَيْه - ولَا لِثِقَلِ شَيْءٍ مِنْهَا عَلَيْه

نہیں ہے جیسا کہ ابتدا میں بھی ایسا ہی تھا اور انتہاء میں بھی ایسا ہی ہونے والا ہے۔اس کے لئے نہ وقت ہے نہ مکان۔نہ ساعت ہے نہ زمان، اس وقت مدت اور وقت سب فناہو جائیں گے اور ساعت و سال سب کاخاتمہ ہو جائے گا۔اس خداء واحد و قہار کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے۔اسی کی طرف تمام امور کی باز گشت ہے اور کسی شے کو بھی اپنی ایجاد سے پہلے اپنی تخلیق کا یارانہ تھا اور نہفنا ہوتے وقت انکار کرنے کا دم ہوگا۔اگراتنی ہی طاقت ہوتی تو ہمیشہ نہ رہ جاتے۔اس مالک کو کسی شے کے بنانے میں کسی زحمتکا سامنا نہیں کرنا پڑا اور اسے کسی شے کی تخلیق و ایجاد تھکا بھی نہیں سکی۔اس نے اس کائات کو نہاپنی حکومت کے استحکام(۱) کے لئے بنایا ہے اور نہ کسی زوال اور نقصان کے خوف سے بچنے کے لئے۔نہ اسے کسی مد مقابل کے مقابلہ میں مدد کی ضرورت تھی اور نہ وہ کسی حملہ آور دشمن سے بچنا چاہتا تھا۔اس کا مقصد اپنے ملک میں کوئی اضافہ تھا اور نہ کسی شریک کے سامنے اپنی کثرت کا اظہارتھا اور نہ تنہائی کی وحشت سے انس حاصل کرنا تھا۔

اس کے بعد وہ اس کائنات کو فنا کردے گا۔نہ اس لئے کہ اس کی تدبیر اور اس کے تصرفات سے عاجز آگیا ہے اور نہ اس لئے کہ اب آرام کرناچاہتا ہے یا اس پر کسی خاص چیز کا بوجھ پڑ رہا ہے۔

(۱)چونکہ دنیا میں ایجادات اورحکومات کا فلسفہ یہی ہوتا ہے کہ کوئی ایجادات کے ذریعہ حکومت کا استحکام چاہتا ہے اور کوئی حکومت کے ریعہ خطرات کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔اس لئے بہت ممکن تھاکہ بعض جاہل افراد مالک کائنات کی تخلیق اور اس کی حکومت کے بارے میں بھی اسی طرح کا خیال قائم کر لیتے ۔

حضرت نے یہ چاہا کہ اس غلط فہمی کا ازالہ کردیا جائے اور اس حقیقت کو بے نقاب کردیا جائے کہ خالق و مخلوق میں بے پناہ فرق ہے اور کسی بھی مخلوق کا قایس خالق پر نہیں کیا جا سکتا ہے۔مخلوق کا مزاج احتیاج ہے اورخالق کا کمال بے نیازی ہے لہٰذا دنوں کے بارے میں ایک طرح کے تصورات نہیں قائم کئے جا سکتے ہیں۔


لَا يُمِلُّه طُولُ بَقَائِهَا فَيَدْعُوَه إِلَى سُرْعَةِ إِفْنَائِهَا - ولَكِنَّه سُبْحَانَه دَبَّرَهَا بِلُطْفِه - وأَمْسَكَهَا بِأَمْرِه وأَتْقَنَهَا بِقُدْرَتِه - ثُمَّ يُعِيدُهَا بَعْدَ الْفَنَاءِ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ مِنْه إِلَيْهَا - ولَا اسْتِعَانَةٍ بِشَيْءٍ مِنْهَا عَلَيْهَا - ولَا لِانْصِرَافٍ مِنْ حَالِ وَحْشَةٍ إِلَى حَالِ اسْتِئْنَاسٍ - ولَا مِنْ حَالِ جَهْلٍ وعَمًى إِلَى حَالِ عِلْمٍ والْتِمَاسٍ - ولَا مِنْ فَقْرٍ وحَاجَةٍ إِلَى غِنًى وكَثْرَةٍ - ولَا مِنْ ذُلٍّ وضَعَةٍ إِلَى عِزٍّ وقُدْرَةٍ.

(۱۸۷)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

وهي في ذكر الملاحم

أَلَا بِأَبِي وأُمِّي هُمْ مِنْ عِدَّةٍ - أَسْمَاؤُهُمْ فِي السَّمَاءِ مَعْرُوفَةٌ وفِي الأَرْضِ مَجْهُولَةٌ - أَلَا فَتَوَقَّعُوا مَا يَكُونُ مِنْ إِدْبَارِ أُمُورِكُمْ - وانْقِطَاعِ وُصَلِكُمْ واسْتِعْمَالِ صِغَارِكُمْ - ذَاكَ حَيْثُ تَكُونُ ضَرْبَةُ السَّيْفِ عَلَى الْمُؤْمِنِ - أَهْوَنَ مِنَ الدِّرْهَمِ مِنْ حِلِّه - ذَاكَ حَيْثُ يَكُونُ الْمُعْطَى أَعْظَمَ أَجْراً مِنَ الْمُعْطِي - ذَاكَ حَيْثُ تَسْكَرُونَ مِنْ غَيْرِ شَرَابٍ - بَلْ مِنَ النِّعْمَةِ والنَّعِيمِ - وتَحْلِفُونَ مِنْ غَيْرِ اضْطِرَارٍ - وتَكْذِبُونَ مِنْ غَيْرِ إِحْرَاجٍ - ذَاكَ إِذَا عَضَّكُمُ الْبَلَاءُ كَمَا يَعَضُّ الْقَتَبُ غَارِبَ الْبَعِيرِ

یا طول بقائے کائنات نے اسے تھکا دیا ہے تو اب اسے مٹا دینا چاہتا ہے۔ایسا کچھ نہیں ہے۔اس نے اپنے لطف سے اس کی تدبیر کی ہے اور اپنے امر سے اسے روک رکھا ہے۔اپنی قدرت سے اسے مستحکم بنایا ہے اور پھر فنا کرنے کے بعد دوبارہ ایجاد کردے گا حالانکہ اس وقت بھی نہ اسے کسی شے کی ضرورت ہے اور نہ کسی سے مدد لینا ہوگی۔نہ وحشت سے انس کی طرف منتقل ہونا ہوگا اور نہ جہالت اورتاریکی سے علم اورتجریہ کی طرف آنا ہوگا نہ فقرو احتیاج سے مالداری اور کثرت کی تلاش ہوگی اور نہ ذلت و کمزوری سے عزت اور قدرت کی جستجو ہوگی۔

(۱۸۷)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں حوادث روز گار کا ذکر کیا گیا ہے )

میرے ماں باپ ان چند افراد پر قربان ہو جائیں جن کے نام آسمان میں معروف ہیں اور زمین میں مجہول ۔آگاہ ہو جائو اور اس وقت کا انتظار کرو جب تمہارے امور الٹ جائیں گے اور تعلقات ٹوٹ جائیں گے اوربچوں کے ہاتھ میں اقتدار آجائے گا یہ وہ وقت ہوگا جب ایک درہم کے حلالا کے ذریعہ حاصل کرنے سے آسان تر تلوار کا زخم ہوگا اور لینے والے فقیر کا اجر دینے والے مالدار سے زیادہ ہوگا۔

تم بغیر کسی شراب کے نعمتوں کے نشہ میں سر مست ہو گے اور بغیر کسی مجبوری کے قسم کھائو گے اور بغیر کسی ضرورت کے جھوٹ بولو گے اوریہی وہ وقت ہوگا جب بلائیں تمہیں اس طرح کاٹ کھائیں گی جس طرح اونٹ کی


مَا أَطْوَلَ هَذَا الْعَنَاءَ وأَبْعَدَ هَذَا الرَّجَاءَ.

أَيُّهَا النَّاسُ أَلْقُوا هَذِه الأَزِمَّةَ - الَّتِي تَحْمِلُ ظُهُورُهَا الأَثْقَالَ مِنْ أَيْدِيكُمْ - ولَا تَصَدَّعُوا عَلَى سُلْطَانِكُمْ فَتَذُمُّوا غِبَّ فِعَالِكُمْ - ولَا تَقْتَحِمُوا مَا اسْتَقْبَلْتُمْ مِنْ فَوْرِ نَارِ الْفِتْنَةِ - وأَمِيطُوا عَنْ سَنَنِهَا وخَلُّوا قَصْدَ السَّبِيلِ لَهَا - فَقَدْ لَعَمْرِي يَهْلِكُ فِي لَهَبِهَا الْمُؤْمِنُ - ويَسْلَمُ فِيهَا غَيْرُ الْمُسْلِمِ.إِنَّمَا مَثَلِي بَيْنَكُمْ كَمَثَلِ السِّرَاجِ فِي الظُّلْمَةِ - يَسْتَضِيءُ بِه مَنْ وَلَجَهَا - فَاسْمَعُوا أَيُّهَا النَّاسُ - وعُوا وأَحْضِرُوا آذَانَ قُلُوبِكُمْ تَفْهَمُوا.

(۱۸۸)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في الوصية بأمور

التقوى

أُوصِيكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ بِتَقْوَى اللَّه - وكَثْرَةِ حَمْدِه عَلَى آلَائِه إِلَيْكُمْ - ونَعْمَائِه عَلَيْكُمْ وبَلَائِه لَدَيْكُمْ - فَكَمْ خَصَّكُمْ بِنِعْمَةٍ وتَدَارَكَكُمْ بِرَحْمَةٍ

پیٹھ کو پالان۔ہائے یہ رنج والم کس قدر طویل ہوگا اور اس سے نجات کی امید کس قدردور تر ہوگی۔ لوگو! ان سواریوں کی باگ ڈور اتار کر پھینک دو جن کی پشت پر تمہارے ہی ہاتھوں گناہوں کا بوجھ ہے اور اپنے حاکم سے اختلاف نہ کرو کہ بعد میں اپنے کئے پر پچھتانا پڑے۔وہ آگ کے شعلے جو تمہارے سامنے ہیں ان میں کود نہ پڑو۔انکی راہسے الگ ہو کرچلو اور راستہ کو ان کے لئے خالی کردو کہ میری جان کی قسم اس فتنہ کی آگ میں مومن ہلاک ہو جائے گا اورغیر مسلم محفوظ رہے گا۔

میری مثال تمہارے درمیان اندھیرے میں چراغ(۱) جیسی ہے کہ جواس میں داخل ہو جائے گا وہ روشنی حاصل کرلے گا۔لہٰذا خدارا میری بات سنو اور سمجھو۔اپنے دلوں کے کانوں کو میری طرف مصروف کرو تاکہ بات سمجھ سکو۔

(۱۸۸)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(مختلف امور کی وصیت کرتے ہوئے )

ایہا الناس ! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں تقویٰ الٰہی اورنعمتوں ' احسانات اور فضل و کرم پر شکر خدا ادا کرنے کی دیکھو کتنی نعمتیں ہیں جو اس نے تمہیں عنایت کی ہیں اور کتنی برائیوں کی مکافات سے اپنی رحمت کے

(۱) جس طرح مالک نے رسول اکرم (ص) کو جاہلیت کے اندھیرے میں سراج منیر بناکربھیجا تھا اسی طرح فتنوں کے اندھیروں میں مولائے کائنات کی ذات ایکروشن چراغ کی ہے کہ اگر انسان اس چراغ کی روشنی میں زندگی گزارے تو کوئی فتنہ اس پر اثر اناز نہیں ہوسکتا ہے اور کسی اندھیر ے میں اس کے بھٹکنے کا امکان نہیں ہے۔لیکن شرط یہی ہے کہ اس چراغ کی روشنی میں قدم آگے بڑھائے ورنہ اگر اس نے آنکھیں بند کرلیں اوراندھے پن کے ساتھ قدم آگے بڑھاتا رہا تو چراغ روشن رہے گا اور انسان گمراہ ہو جائے گا جس کی طرف ان کلمات کے ذریعہ اشارہ کیا گیا ہے کہ خدارا میری بات سنو اور سمجھو کہ اس کے بغیر ہدایت کا کوئی امکان نہیں ہے اور گمراہی کا خطرہ ہرگز نہیں ٹل سکتا ہے۔


أَعْوَرْتُمْ لَه فَسَتَرَكُمْ وتَعَرَّضْتُمْ لأَخْذِه فَأَمْهَلَكُمْ!

الموت

وأُوصِيكُمْ بِذِكْرِ الْمَوْتِ وإِقْلَالِ الْغَفْلَةِ عَنْه - وكَيْفَ غَفْلَتُكُمْ عَمَّا لَيْسَ يُغْفِلُكُمْ - وطَمَعُكُمْ فِيمَنْ لَيْسَ يُمْهِلُكُمْ - فَكَفَى وَاعِظاً بِمَوْتَى عَايَنْتُمُوهُمْ - حُمِلُوا إِلَى قُبُورِهِمْ غَيْرَ رَاكِبينَ - وأُنْزِلُوا فِيهَا غَيْرَ نَازِلِينَ - فَكَأَنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا لِلدُّنْيَا عُمَّاراً - وكَأَنَّ الآخِرَةَ لَمْ تَزَلْ لَهُمْ دَاراً - أَوْحَشُوا مَا كَانُوا يُوطِنُونَ - وأَوْطَنُوا مَا كَانُوا يُوحِشُونَ - واشْتَغَلُوا بِمَا فَارَقُوا - وأَضَاعُوا مَا إِلَيْه انْتَقَلُوا – لَا عَنْ قَبِيحٍ يَسْتَطِيعُونَ انْتِقَالًا - ولَا فِي حَسَنٍ يَسْتَطِيعُونَ ازْدِيَاداً - أَنِسُوا بِالدُّنْيَا فَغَرَّتْهُمْ - ووَثِقُوا بِهَا فَصَرَعَتْهُمْ.

سرعة النفاد

فَسَابِقُوا رَحِمَكُمُ اللَّه إِلَى مَنَازِلِكُمُ - الَّتِي أُمِرْتُمْ أَنْ تَعْمُرُوهَا - والَّتِي رَغِبْتُمْ فِيهَا ودُعِيتُمْ إِلَيْهَا - واسْتَتِمُّوا نِعَمَ اللَّه عَلَيْكُمْ

ذریعہ بچالیا ہے۔تم نے کھل کر گناہ کے اور اس نے پردہ پوشی کی تم نے قابل مواخذہ اعمال انجام دئیے اور اس نے تمہیں مہلت دے دی۔

میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ موت کو یاد رکھو اور اس سے غفلت نہ برتو۔آخر اس سے کیسے غفلت کر رہے ہو جو تم سے غفلت کرنے والی نہیں ہے اور اس فرشتہ موت سے کیسے امید لگائے ہو جو ہرگز مہلت دینے والا نہیں ہے۔تمہاری نصیحت کے لئے وہمردے ہی کافی ہیں جنہیں تم دیکھ چکے ہو کہ کس طرح اپنی قبروں کی طرف بغیر سواری کے لے جائے گئے اور کس طرح قبر میں اتار دئیے گئے کہ خود سے اترنے کے بھی قابل نہیں تھے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کبھی اس دنیا کو بسایا ہی نہیں تھا اورگویا کہ آخرت ہی ان کا ہمیشگی کا مکان ہے۔وہ جہاں آباد تھے اسے وحشت کدہ بنا گئے اور جس سے وحشت کھاتے تھے وہاں جا کر آباد ہوگئے۔یہ اس میں مشغول رہے تھے کو چھوڑنا پڑا اور اسے برباد کرتے رہے تھے جدھر جانا پڑ۔اب نہ کسی برائی سے بچ کر کہیں جا سکتے ہیں اورنہ کسی نیکی میں کوئی اضافہ کرسکتے ہیں۔دنیا سے انس پیدا کیا تو اس نے دھوکہ دے دیا اور اس پر اعتبارکرلیا تو اس نے تباہ و برباد کردیا۔

خداتم پر رحمت نازل کرے۔اب سے سبقت کرو ان منازل کی طرف جن کو آباد کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور جن کی طرف سفرکرنے کی رغبت دلائی گئی ہے اور دعوت دی گئی ہے۔اللہ کی نعمتوں کی تکمیل کا انتظام کرو


بِالصَّبْرِ عَلَى طَاعَتِه - والْمُجَانَبَةِ لِمَعْصِيَتِه - فَإِنَّ غَداً مِنَ الْيَوْمِ قَرِيبٌ - مَا أَسْرَعَ السَّاعَاتِ فِي الْيَوْمِ - وأَسْرَعَ الأَيَّامَ فِي الشَّهْرِ - وأَسْرَعَ الشُّهُورَ فِي السَّنَةِ - وأَسْرَعَ السِّنِينَ فِي الْعُمُرِ!

(۱۸۹)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في الإيمان ووجوب الهجرة

أقسام الإيمان

فَمِنَ الإِيمَانِ مَا يَكُونُ ثَابِتاً مُسْتَقِرّاً فِي الْقُلُوبِ - ومِنْه مَا يَكُونُ عَوَارِيَّ بَيْنَ الْقُلُوبِ والصُّدُورِ - إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ - فَإِذَا كَانَتْ لَكُمْ بَرَاءَةٌ مِنْ أَحَدٍ فَقِفُوه - حَتَّى يَحْضُرَه الْمَوْتُ - فَعِنْدَ ذَلِكَ يَقَعُ حَدُّ الْبَرَاءَةِ.

وجوب الهجرة

والْهِجْرَةُ قَائِمَةٌ عَلَى حَدِّهَا الأَوَّلِ - مَا كَانَ لِلَّه فِي أَهْلِ الأَرْضِ حَاجَةٌ مِنْ مُسْتَسِرِّ

اس کی اطاعت کے انجام دینے اور معصیتوں سے پرہیز کرنے پر صبر کے ذریعہ۔اس لئے کہ کل کا دن آج کے دن سے دور نہیں ہے۔دیکھو دن کی ساعتیں 'مہینہ کے دن ' سال کے مہینے اور زندگی کے سال کس تیزی سے گزر جاتے ہیں۔

(۱۸۹)

آپ کا ارشاد گرامی

(ایمان اور وجوب ہجرت کے بارے میں )

ایمان(۱) کا ایک وہ حصہ ہے جودلوں میں ثابت اورمستحکم ہوتا ہے اور ایک وہ حصہ ہے جو دل اور سینے کے درمیان عارضی طور پر رہتا ہے لہٰذا اگر کسی سے برائت اور بیزاری بھی کرنا ہو تو اتنی دیر انتظار کرو کہ اسے موت آجائے کہ اس وقت بیزاری برمحل ہوگی۔

ہجرت(۲) کا قانون آج بھی وہی ہے جو پہلے تھا۔اللہ کسی قوم کی متحاج نہیں ہے چاہے جو خفیہ طور پر

(۱)ایمان وہ عقیدہ ہے جو انسان کے دل کی گہرائیوں میں پایا جاتا ہے اورجس کا واقعی اظہار انسان کے عملاور کردار سے ہوتا ہے کہ عمل اور کردارکے بغیر ایمان صرف ایک دعویٰ رہتا ہے جسکی کوئی تصدیق نہیں ہوتی۔

لیکن یہ ایمان بھی دو طرح کا ہوتا ہے۔کبھی انسانکے دل کی گہرائیوں میں یوں پیوست ہو جاتا ہے کہ زمانہ کے جھکڑ بھی اسے ہلاک نہیں سکتے ہیں اور کبھی حالات کی بنا پر تزتزل کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔حضرت نے اس دوسری قسم کے پیش نظر ارشاد فرمایا ہے کہ کسی انسان کی بد کرداری کی بنا پر برائت کرنا ہے تو اتنا انتظر کرلو کہ اسے موت آجائے تاکہ یہ یقین ہو جائے کہ ایمان اس کے دل کی گہرائیوں میں ثابت نہیں تھا ورنہ تو بہ و استغفار کرکے راہ راست پرآجاتا ۔

(۲)ہجرت کا واقعی مقصد جان کا بچانا نہیں بلکہ ایمان کا بچانا ہوتا ہے لہٰذا جب تک ایمان کے تحفظ کا انتظام نہ ہو جائے اس وقت تک ہجرت کاکوئی مفہوم نہیں ہے اور جب معرفت حجت کے ذریعہ ایمان کے تحفظ کا انتظام ہو جائے تو سمجھو کہ انسان مہاجر ہوگیا ' چاہے اس کا قیام کسی منزل پر کیوں نہ رہے۔


الإِمَّةِ ومُعْلِنِهَا - لَا يَقَعُ اسْمُ الْهِجْرَةِ عَلَى أَحَدٍ - إِلَّا بِمَعْرِفَةِ الْحُجَّةِ فِي الأَرْضِ - فَمَنْ عَرَفَهَا وأَقَرَّ بِهَا فَهُوَ مُهَاجِرٌ - ولَا يَقَعُ اسْمُ الِاسْتِضْعَافِ عَلَى مَنْ بَلَغَتْه الْحُجَّةُ - فَسَمِعَتْهَا أُذُنُه ووَعَاهَا قَلْبُه.

صوبة الإيمان

إِنَّ أَمْرَنَا صَعْبٌ مُسْتَصْعَبٌ لَا يَحْمِلُه إِلَّا عَبْدٌ مُؤْمِنٌ - امْتَحَنَ اللَّه قَلْبَه لِلإِيمَانِ - ولَا يَعِي حَدِيثَنَا إِلَّا صُدُورٌ أَمِينَةٌ وأَحْلَامٌ رَزِينَةٌ.

علم الوصي

أَيُّهَا النَّاسُ سَلُونِي قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِي - فَلأَنَا بِطُرُقِ السَّمَاءِ أَعْلَمُ مِنِّي بِطُرُقِ الأَرْضِ - قَبْلَ أَنْ تَشْغَرَ بِرِجْلِهَا فِتْنَةٌ تَطَأُ فِي خِطَامِهَا - وتَذْهَبُ بِأَحْلَامِ قَوْمِهَا.

(۱۹۰)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يحمد اللَّه ويثني على نبيه ويعظ بالتقوى

حمد اللَّه

پر مومن رہے یا علی اعلان ایمان کا اظہار کرے ہجرت کا اطلاق ہجرت خدا کی معرفت کے بغیر نہیں ہو سکتا ہے لہٰذا جو شخص اس کی معرفت حاصل کرکے اس کا اقرار کرلے وہی مہاجرہے۔اسی طرح متضعف اسے نہیں کہا جاتا ہے جس تک خدائی دلیل پہنچ جائے اور وہ اسے سن بھی لے اور دل میں جگہ بھی دیدے۔

ہمارا معاملہ(۱) نہایت درجہ سخت اور دشوار گذار ہے۔اس کا تحمل صرف وہ بندہ ٔ مومن کر سکتا ہے جس کے دل کا امتحان ایمان کے لئے لیا جا چکا ہو۔ہماری باتیں صرف انہیں سینوں میں رہ سکتی ہیں جو امانت دار ہوں اور انہیں عقلوں میں سما سکتی ہیں جو ٹھوس اور مستحکم ہوں۔

لوگو!جوچاہو مجھ سے دریافت کرلو قبل اس کے کہ مجھے نہ پائو ۔میں آسمان کے راستوں کو زمین کی راہوں سے بہتر جانتا ہوں۔مجھ سے دریافت کرلو قبل اس کے کہ وہ فتنہ اپنے پیر اٹھالے جو اپنی مہار کو بھی پیروں تلے روند نے والا ہے اورجس سے قوم کی عقلوں کے زوال کا اندیشہ ہے ۔

(۱۹۰)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں حمد خدا ۔ثنائے رسول (ص) اورنصیحت تقویٰ کا ذکر کیا گیا ہے )

(۱)بعض حضرا ت کا خیال ہے کہ اہل بیت کے معاملہ سے مراد دین و ایمان اور عقیدہ و کردار ہے کہ اس کا ہر حال میں برقرار رکھنا اور اس سے کسی بھی حال میں دست بردار نہ ہونا ہرش خص کے بس کی بات نہیں ہے ورنہ لوگ ادنیٰ مصیبت میں بھی دین سے دست بردار ہو جاتے ہیں اور جان بچانے کی پناہ گا ہیں ڈھونڈنے لگتے ہیں۔اور بعض حضرات کاخیال ہے کہاس سے مراد اہل بیت کی روحانی عظمت اور ان کی نورانی منزل ہے جس کا ادراک ہر انسان کے بس کا کام نہیں ہے بلکہ اس کے لئے عظیم ظرف درکار ہے لیکن بہر حال اس تصور میں بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کو بھی شامل کرنا پڑھے گا۔ورنہ صرف عقیدہ قائم کرنے کے لئے امتحان شدہ اور آزمائے ہوئے دل کی ضرورت نہیں ہے۔


أَحْمَدُه شُكْراً لإِنْعَامِه - وأَسْتَعِينُه عَلَى وَظَائِفِ حُقُوقِه - عَزِيزَ الْجُنْدِ عَظِيمَ الْمَجْدِ.

الثناء على النبي

وأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُه ورَسُولُه - دَعَا إِلَى طَاعَتِه وقَاهَرَ أَعْدَاءَه جِهَاداً عَنْ دِينِه - لَا يَثْنِيه عَنْ ذَلِكَ اجْتِمَاعٌ عَلَى تَكْذِيبِه - والْتِمَاسٌ لإِطْفَاءِ نُورِه.

العظة بالتقوى

فَاعْتَصِمُوا بِتَقْوَى اللَّه فَإِنَّ لَهَا حَبْلًا وَثِيقاً عُرْوَتُه - ومَعْقِلًا مَنِيعاً ذِرْوَتُه - وبَادِرُوا الْمَوْتَ وغَمَرَاتِه وامْهَدُوا لَه قَبْلَ حُلُولِه - وأَعِدُّوا لَه قَبْلَ نُزُولِه فَإِنَّ الْغَايَةَ الْقِيَامَةُ - وكَفَى بِذَلِكَ وَاعِظاً لِمَنْ عَقَلَ ومُعْتَبَراً لِمَنْ جَهِلَ - وقَبْلَ بُلُوغِ الْغَايَةِ مَا تَعْلَمُونَ مِنْ ضِيقِ الأَرْمَاسِ - وشِدَّةِ الإِبْلَاسِ وهَوْلِ الْمُطَّلَعِ - ورَوْعَاتِ الْفَزَعِ واخْتِلَافِ الأَضْلَاعِ - واسْتِكَاكِ الأَسْمَاعِ وظُلْمَةِ اللَّحْدِ - وخِيفَةِ الْوَعْدِ وغَمِّ الضَّرِيحِ ورَدْمِ الصَّفِيحِ

میں اس کی حمد کرتا ہوں اس کے انعام کا شکریہ ادا کرنے کے لئے اور اس سے مدد چاہتا ہوں اس کے حقوق سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ۔اس کا لشکر غالب ے اور بزرگی عظیم ہے۔

میں اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ محمد (ص) اللہ کے بندہ اور اس کے رسول ہیں۔انہوں نے اس کی اطاعت کیدعوتدی ہے اور اس کے دشمنوں پرغلبہ حاصل کیا ہے اس کے دین میں جہاد کے ذریعہ۔انہیں اس بات سے نہ ظالموں کا ان کے جھٹلانے پراجتماع روک سکا ہے اور نہ ان کی نور ہدایت کو خاموش کرنے کی خواہش منع کرسکی ہے۔

تم لوگ تقویٰ الٰہی سے وابستہ ہو جائو کہ اس کی ریسمان کے بندھن مضبوط اور اس کی پناہ کی چوٹی ہرجہت سے محفوظ ہے۔موت اور اس کی سختیوں کے سامنے آنے سے پہلے اس کی طرف سبقت کرو اور اس کے آنے سے پہلے زمین کو ہموار کرلو۔اس کے نزول سے پہلے تیاری مکمل کرلو کہ انجام کار بہر حال قیامت ہے۔اور یہ بات ہر اس شخص کی نصیحت کے لئے کافی ہے جو صاحب عقل ہو اور اس میں جاہل کے لئے بھی عبرت کا سامان ہے اورتمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ اس انجام تک پہنچنے سے پہلے تنگی لحد اور شدت برزخ کا بھی سامنا ہے جہاں برزخ کی ہولناکی۔خوف کی دہشت ۔پسلیوں کا ادھر سے ادھر ہو جانا۔کانوں کا بہر ہو جانا۔قبر کی تاریکیاں ۔عذاب کی دھمکیاں۔قبر کے شگاف کا بند کیا جانا اور پتھر کی سلوں سے پاٹ دیا جانابھی ہے۔


فَاللَّه اللَّه عِبَادَ اللَّه - فَإِنَّ الدُّنْيَا مَاضِيَةٌ بِكُمْ عَلَى سَنَنٍ - وأَنْتُمْ والسَّاعَةُ فِي قَرَنٍ - وكَأَنَّهَا قَدْ جَاءَتْ بِأَشْرَاطِهَا وأَزِفَتْ بِأَفْرَاطِهَا - ووَقَفَتْ بِكُمْ عَلَى صِرَاطِهَا وكَأَنَّهَا قَدْ أَشْرَفَتْ بِزَلَازِلِهَا - وأَنَاخَتْ بِكَلَاكِلِهَا وانْصَرَمَتِ الدُّنْيَا بِأَهْلِهَا - وأَخْرَجَتْهُمْ مِنْ حِضْنِهَا - فَكَانَتْ كَيَوْمٍ مَضَى أَوْ شَهْرٍ انْقَضَى – وصَارَ جَدِيدُهَا رَثّاً وسَمِينُهَا غَثّاً - فِي مَوْقِفٍ ضَنْكِ الْمَقَامِ وأُمُورٍ مُشْتَبِهَةٍ عِظَامٍ - ونَارٍ شَدِيدٍ كَلَبُهَا عَالٍ لَجَبُهَا - سَاطِعٍ لَهَبُهَا مُتَغَيِّظٍ زَفِيرُهَا - مُتَأَجِّجٍ سَعِيرُهَا بَعِيدٍ خُمُودُهَا - ذَاكٍ وُقُودُهَا مَخُوفٍ وَعِيدُهَا - عَمٍ قَرَارُهَا مُظْلِمَةٍ أَقْطَارُهَا - حَامِيَةٍ قُدُورُهَا فَظِيعَةٍ أُمُورُهَا -( وسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً ) - قَدْ أُمِنَ الْعَذَابُ وانْقَطَعَ الْعِتَابُ - وزُحْزِحُوا عَنِ النَّارِ واطْمَأَنَّتْ بِهِمُ الدَّارُ - ورَضُوا الْمَثْوَى والْقَرَارَ

بندگان خدا! اللہ کو یادرکھو کہ دنیا تمہارے لئے ایک ہی راستہ پر چل رہی ہے اور تم قیامت کے ساتھ ایک ہی رسی میں بندھے ہوئے ہو اورگویا کہ اس نے اپنے علامات کو نمایاں کردیا ہے اور اس کے جھنڈے قریب آچکے ہیں۔اورتمہیں اپنے راستہ پرکھڑا کردیا ہے اورگویا کہ وہ اپنے زلزلوں سمیت نمودار ہوگئی ہے اور اپنے سینے ٹیک دئیے ہیں اور دنیا نے اپنے اہل سے منہ موڑ لیا ہے ۔اور انہیں اپنی گود سے الگ کردیا ہے۔گویا کہ یہ ایک دن تھا جو گزر گیا یا ایک مہینہ تھاجو بیت گیا۔اور اس کا جدید کہنہ ہوگیا اور اس کا تندرست لاغر ہوگیا۔اس موقف میں جس کی جگہ تنگ ہے اور جس کے امور مشتبہ اور عظیم ہیں۔وہ آگ ہے جس کا زخم کاری ہے اور جس کے شعلے بلند ہیں۔اس کی بھڑک نمایاں ہے اور بھڑکنے کی آوازیں غضب ناک ہیں۔اس کی لپیٹیں تیز ہیں اور بجھنے کے امکانات بعید ہیں۔اس کا بھڑکنا تیز ہے اور اس کے خطرات دہشت ناک ہیں۔اس کا گڑھا تاریک ہے اور اس کے اطراف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔اس کی دیگیں کھولتی ہوئی ہیں اور اس کی امور دہشت ناک ہیں۔اس وقت صرف خدا رکھنے والوں کو گروہ گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا جہاں عذاب سے محفوظ ہوں گے اور عتاب کا سلسلہ ختم ہو چکا ہوگا جہنم سے الگ کر دئیے جائیں گے اور اپنے گھرمیں اطمینان سے رہیں گے۔جہاں اپنی منزل اور اپنے مستقر سے خوش ہوں گے


الَّذِينَ كَانَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا زَاكِيَةً - وأَعْيُنُهُمْ بَاكِيَةً - وكَانَ لَيْلُهُمْ فِي دُنْيَاهُمْ نَهَاراً تَخَشُّعاً واسْتِغْفَارًا - وكَانَ نَهَارُهُمْ لَيْلًا تَوَحُّشاً وانْقِطَاعاً - فَجَعَلَ اللَّه لَهُمُ الْجَنَّةَ مَآباً والْجَزَاءَ ثَوَاباً -( وكانُوا أَحَقَّ بِها وأَهْلَها ) - فِي مُلْكٍ دَائِمٍ ونَعِيمٍ قَائِمٍ.

فَارْعَوْا عِبَادَ اللَّه مَا بِرِعَايَتِه يَفُوزُ فَائِزُكُمْ - وبِإِضَاعَتِه يَخْسَرُ مُبْطِلُكُمْ - وبَادِرُوا آجَالَكُمْ بِأَعْمَالِكُمْ - فَإِنَّكُمْ مُرْتَهَنُونَ بِمَا أَسْلَفْتُمْ - ومَدِينُونَ بِمَا قَدَّمْتُمْ - وكَأَنْ قَدْ نَزَلَ بِكُمُ الْمَخُوفُ - فَلَا رَجْعَةً تَنَالُونَ ولَا عَثْرَةً تُقَالُونَ - اسْتَعْمَلَنَا اللَّه وإِيَّاكُمْ بِطَاعَتِه وطَاعَةِ رَسُولِه - وعَفَا عَنَّا وعَنْكُمْ بِفَضْلِ رَحْمَتِه.

الْزَمُوا الأَرْضَ واصْبِرُوا عَلَى الْبَلَاءِ - ولَا تُحَرِّكُوا بِأَيْدِيكُمْ وسُيُوفِكُمْ فِي هَوَى أَلْسِنَتِكُمْ

۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا میں پاکیزہ تھے اور جن کی آنکھیں خوف خدا سے گریاں تھیں ۔ان کی راتیں خشوع اور استغفار کی بناپ ردن جیسی تھیں اور ان کے دن وحشت اورگوشہ نشینی کی بنا پر رات جیسے تھے۔اللہ نے جنت کو ان کی بازگشت کی منزل بنا دیا ہے اور جزاء آخرت کو ان کا ثواب ''یہ حقیقتاً اسی انعام کے حقدار اور اہل تھے '' جو ملک دائم اور نعیم ابدی میں رہنے والے ہیں۔ بندگان خدا! ان باتوں کا خیال رکھو جن کے ذریعہ سے کامیابی حاصل کرنے والا کامیاب ہوتا ہے اور جن کو ضائع کردینے سے باطل والوں کا گھاٹا ہوتا ہے ۔ اپنی موت کی طرف اعمال کے ساتھ سبقت کرو کہ تم گذشتہ اعمال کے گروی ہو اور پہلے والے اعمال کے مقروض ہو اور اب گویا کہ خوفناک امر نازل ہو چکا ہے جس سے نہ واپسی کا امکان ہے اور نہ گناہوں کی معافی مانگنے کی گنجائش ہے۔اللہ ہمیں اور تمہیں اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کی توفیق دے اوراپنے فضل و رحمت سے ہم دونوں سے در گزر فرمائے ۔ زمین سے چمٹے رہو اور بلائوں(۱) پر صبر کرتے رہو۔اپنے ہاتھ اور اپنی تلواروں کو زبان کی خواہشات کا تابع نہ بنانا

(۱)حالات اس قدر سنگین تھے کہ امام کے مخلص اصحاب منافقین اورمعاندین کی روشن کو برداشت نہ کرسکتے تھے اور ہر ایک کی فطری خواہش تھی کہ تلوار اٹھانے کی اجازت مل جائے اور دشمن کا خاتمہ کردیا جائے جو ہر دور کے جذباتی انسان کی تمنا اورآرزو ہوتی ہے۔لیکن حضرت یہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی کام مرضی الٰہی اور مصلحت اسلام کے خلاف ہو اورمیرے مخلصین بھی جذبات و خواہشات کے تابع ہو جائیں لہٰذا پہلے آپ نے صبرو سکون کی تلقین کی اور اس امر کی طرف متوجہ کیا کہ اسلام خواہشات کا تابع نہیں ہوتا ہے۔اسلام کی شان یہ ہے کہ خواہشات اس کا اتباع کریں اور اس کے شارہ پر چلیں ۔اس کے بعد مخلصین کے اس نیک جذبہ کی طرف توجہ فرمائی کہ یہ شوق شہادت و قربانی رکھتے ہیں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے حوصلے پست ہو جائیں۔اور یہ مایوسی کا شکار ہو جائیں ۔لہٰذا اس نکتہ کی طرف توجہ دلائی کہ شہادت کا دارو مدار تلوارچلانے پر نہیں ہے۔شہادت کا دارو مدار اخلاص نیت کے ساتھ جذبہ قربانی پر ہے لہٰذا اس نکتہ کی طرف توجہ دلائی کہ شہادت کا دارو مدار تلوار چلانے پرنہیں ہے۔شہادت کا دارو مدار اخلاص نیت کے ساتھ جذبہ قربانی پر ہے لہٰذا تم اس جذبہ کے ساتھ بستر پر بھی مرگئے تو تمہارا شمار شہدا اورصالحین میں ہو جائے گا تمہیں اس سلسلہ میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔


ولَا تَسْتَعْجِلُوا بِمَا لَمْ يُعَجِّلْه اللَّه لَكُمْ. فَإِنَّه مَنْ مَاتَ مِنْكُمْ عَلَى فِرَاشِه - وهُوَ عَلَى مَعْرِفَةِ حَقِّ رَبِّه - وحَقِّ رَسُولِه وأَهْلِ بَيْتِه مَاتَ شَهِيداً - و( وَقَعَ أَجْرُه عَلَى الله ) - واسْتَوْجَبَ ثَوَابَ مَا نَوَى مِنْ صَالِحِ عَمَلِه - وقَامَتِ النِّيَّةُ مَقَامَ إِصْلَاتِه لِسَيْفِه - فَإِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ مُدَّةً وأَجَلًا.

(۱۹۱)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يحمد اللَّه ويثني على نبيه ويوصي بالزهد والتقوى

الْحَمْدُ لِلَّه الْفَاشِي فِي الْخَلْقِ حَمْدُه - والْغَالِبِ جُنْدُه والْمُتَعَالِي جَدُّه - أَحْمَدُه عَلَى نِعَمِه التُّؤَامِ وآلَائِه الْعِظَامِ - الَّذِي عَظُمَ حِلْمُه فَعَفَا وعَدَلَ فِي كُلِّ مَا قَضَى - وعَلِمَ مَا يَمْضِي ومَا مَضَى - مُبْتَدِعِ الْخَلَائِقِ بِعِلْمِه ومُنْشِئِهِمْ بِحُكْمِه - بِلَا اقْتِدَاءٍ ولَا تَعْلِيمٍ - ولَا احْتِذَاءٍ لِمِثَالِ صَانِعٍ حَكِيمٍ - ولَا إِصَابَةِ خَطَإٍ ولَا حَضْرَةِ مَلإٍ.

اور جس چیز میں خدا نے عجلت نہیں رکھی اس کی جلدی نہ کرنا کہ اگر کوئی شخص خدا و رسول (ص) و اہل بیت کے حق کی معرفت رکھتے ہوئے بستر پر مرجائے تو وہ بھی شہید ہی مرتا ہے اور اس کا اجر بھی خدا ہی کے ذمہ ہوتا ہے اور وہ اپنی نیت کے مطابق نیک اعمال کا ثواب بھی حاصل کر لیتا ہے کہ خود نیت بھی تلوار کھینچنے کے قائم مقام ہو جاتی ہے اور ہر شے کی ایک مدت ہوتی ہے اور اس کا ایک وقت معین ہوتا ہے۔

(۱۹۱)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں حمد خدا۔ثنائے رسول (ص) اور وصیت زہد و تقویٰ کا تذکرہ کیا گیا ہے )

ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس کی حمد ہمہ گیراورجس کا لشکرغالب ہے اور جس کی عظمت بلند و بالا ہے۔میں اس کی مسلسل نعمتوں اور عظیم ترین مہربانیوں پراس کی حمد کرتا ہوں کہ اس کا حلم اس قدر عظیم ہے کہ وہ ہر ایک کو معاف کرتا ہے اورپھر ہر فیصلہ میں انصاف سے بھی کام لیتا ہے اور جو کچھ گزر گیا اور گزر رہا ہے سب کا جاننے والا بھی ہے۔وہ مخلوقات کو صرف اپنے علم سے پیدا کرنے والا ہے اور اپنے حکم سے ایجاد کرنے والا ہے۔نہ کسی کی اقتدا کی ہے اور نہ کسی سے تعلیم لی ہے۔نہ کسی صانع حکیم کی مثال کی پیروی کی ہے اور نہ کسی غلطی کا شکار ہوا ہے اورنہ مشیروں کی موجودگی میں کام انجام دیا ہے۔


الرسول الأعظم

وأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُه ورَسُولُه - ابْتَعَثَه والنَّاسُ يَضْرِبُونَ فِي غَمْرَةٍ - ويَمُوجُونَ فِي حَيْرَةٍ قَدْ قَادَتْهُمْ أَزِمَّةُ الْحَيْنِ - واسْتَغْلَقَتْ عَلَى أَفْئِدَتِهِمْ أَقْفَالُ الرَّيْنِ !

الوصية بالزهد والتقوى

عِبَادَ اللَّه أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّه - فَإِنَّهَا حَقُّ اللَّه عَلَيْكُمْ - والْمُوجِبَةُ عَلَى اللَّه حَقَّكُمْ وأَنْ تَسْتَعِينُوا عَلَيْهَا بِاللَّه - وتَسْتَعِينُوا بِهَا عَلَى اللَّه - فَإِنَّ التَّقْوَى فِي الْيَوْمِ الْحِرْزُ والْجُنَّةُ - وفِي غَدٍ الطَّرِيقُ إِلَى الْجَنَّةِ - مَسْلَكُهَا وَاضِحٌ وسَالِكُهَا رَابِحٌ ومُسْتَوْدَعُهَا حَافِظٌ - لَمْ تَبْرَحْ عَارِضَةً نَفْسَهَا عَلَى الأُمَمِ الْمَاضِينَ مِنْكُمْ - والْغَابِرِينَ

اورمیں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ص)اس کے بندہ اور رسول ہیں۔انہیں اس وقت بھیجاہے جب لوگ گمراہیوں میں چکر کاٹ رہے تھے اورحیرانیوں میں غلطاں و پیچاں تھے۔ہلاکت کی مہاریں انہیں کھینچ رہی تھیں اور کدورت و زنگ کے تالے ان کے دلوں پر پڑے ہوئے تھے۔

بندگان خدا! میں تمہیں تقویٰ الٰہی کی نصیحت کرتا ہوں کہ یہ تمہارے اوپر اللہ کا حق ہے اور اس سے تمہارا(۱) حق پروردگار پیدا ہوتا ہے۔اس کے لئے الہ سے مدد مانگو اور اس کے ذریعہ اسی سے مدد طلب کرو کہ یہ تقویٰ آج دنیا میں سپر اورحفاظت کاذریعہ اور کل جنت تک پہنچنے کا راستہ ہے۔اس کا مسلک واضح اور اس کا راہر و فائدہ حاصل کرنے والا ہے۔اور اس کا امانت دار حفاظت کرنے والا ہے۔یہ تقویٰ اپنے کو ان پر بھی پیش کرتا رہا ے جو گزرگئے اور ان پر بھی پیش کر رہا ہے جو باقی رہ گئے

(۱) کھلی ہوئی بات ہے کہ بندہ کسی قیمت پر پروردگار پرحق پیدا کرنے کے قابل نہیں ہو سکتا ہے۔اس کا ہر عمل کرم پروردگار اورفضل الٰہی کانتیجہ ہے۔لہٰذا اس کا کوئی امکان نہیں ہے کہ وہ اطاعت الٰہی انجام دے کر اس کے مقابلہ میں صاحب حق ہو جائے اوراس پر اسی طرح حق پیدا کرلے جس طرح اس کا حق عبادت و اطاعت ہر بندہ پرہے۔

اس حق سے مراد بھی پروردگار کا یہ فضل و کرم ہے کہ اس نے بندوں سے انعام اورجزا کا وعدہ کرلیا ہے اور اپنے بارے میں یہ اعلان کردیا ہے کہ میں اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ہوں جس کے بعد ہر بندہ کو یہ حق پیدا ہوگیا ہے کہ وہ مالک سے اپنے اعمال کی جزا اور اس کے انعام کا مطالبہ کرے نہ اس لئے کہ اس نے اپنے پاس سے اور اپنی طاقت سے کوئی عمل انجام دیا ہے کہ یہ بات غیر ممکن ہے۔بلکہ اس لئے کہ مالک نے اس سے ثواب کاوعدہ کیا ہے اور وہ اپنے وعدہ کو وفا کرنے کا ذمہ دار ہے اور اس سے ذرہ برابر انحراف نہیں کر سکتا ہے۔روایات میں حق محمد (ص) و آل محمد (ص) کامفہوم یہی ہے کہ انہوں نے اپنی عبادات کے ذریعہ وعدہ الٰہی کی وفا کا اتنا حق پیدا کرلیا ہے کہ ان کے وسیلہ سے دیگر افراد بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔بشرطیکہ وہ بھی انہیں کے نقش قدم پر چلیں اور انہیں کی طرح اطاعت و عبادت انجام دینے کی کوشش کریں ۔


لِحَاجَتِهِمْ إِلَيْهَا غَداً - إِذَا أَعَادَ اللَّه مَا أَبْدَى - وأَخَذَ مَا أَعْطَى وسَأَلَ عَمَّا أَسْدَى - فَمَا أَقَلَّ مَنْ قَبِلَهَا وحَمَلَهَا حَقَّ حَمْلِهَا - أُولَئِكَ الأَقَلُّونَ عَدَداً - وهُمْ أَهْلُ صِفَةِ اللَّه سُبْحَانَه إِذْ يَقُولُ -( وقَلِيلٌ مِنْ عِبادِيَ الشَّكُورُ ) - فَأَهْطِعُوا بِأَسْمَاعِكُمْ إِلَيْهَا وأَلِظُّوا بِجِدِّكُمْ عَلَيْهَا - واعْتَاضُوهَا مِنْ كُلِّ سَلَفٍ خَلَفاً - ومِنْ كُلِّ مُخَالِفٍ مُوَافِقاً - أَيْقِظُوا بِهَا نَوْمَكُمْ واقْطَعُوا بِهَا يَوْمَكُمْ - وأَشْعِرُوهَا قُلُوبَكُمْ وارْحَضُوا بِهَا ذُنُوبَكُمْ - ودَاوُوا بِهَا الأَسْقَامَ وبَادِرُوا بِهَا الْحِمَامَ - واعْتَبِرُوا بِمَنْ أَضَاعَهَا ولَا يَعْتَبِرَنَّ بِكُمْ مَنْ أَطَاعَهَا - أَلَا فَصُونُوهَا وتَصَوَّنُوا بِهَا - وكُونُوا عَنِ الدُّنْيَا نُزَّاهاً - وإِلَى الآخِرَةِ وُلَّاهاً - ولَا تَضَعُوا مَنْ رَفَعَتْه التَّقْوَى - ولَا تَرْفَعُوا مَنْ رَفَعَتْه الدُّنْيَا -

ہیں کہ سب کو کل اس کی ضرورت پڑنے والی ہے۔ جب پروردگار اپنی مخلوقات کو دوبارہ پلٹائے گا اور جو کچھ عطا کیا ہے اسے واپس لیلے گا اور جن نعمتوں سے نوازا ہے ان کا سوال کرے گا۔کس قدر کم ہیں وہ افراد جنہوں نے اس کو قبول کیا ہے اور اس کا واقعی حق اداکیا ہے۔یہ لوگ عدد میں بہت کم ہیں لیکن پروردگار کی اس توصیف کے حقدار ہیں کہ'' میرے شکر گزر بندے بہت کم ہیں ''۔ اب اپنے کانوںکو اس کی طرف مصروف کرو اورسعی و کوشش سے اس کی پابندی کرو اوراسے گزرتی ہوئی کوتاہیوں کا بدل قرار دو۔اور ہر مخالف کے مقابلہ میں موافق بنائو۔اس کے ذریعہ اپنی نیند کو بیداری میں تبدیل کرواور اپنے دن گزار دو۔اسے اپنے دلوں کا شعار بنائو اور اسی کے ذریعہ اپنے گناہوں کودھوڈالو۔اپنے امراض کا علاج کرو اپنی موت کی طرف سبقت کرو۔ان سے عبرت حاصل کرو جنہوں نے اس کو ضائع کردیا ہے اور خبردار وہ تم سے عبرت نہ حاصل کرنے پائیں جنہوں نے اس کا راستہ اختیار کیا ہے۔اس کی حفاظت کرو اور اس کے ذریعہ سے اپنی حفاظت کرودنیا سے پاکیزگی اختیار کرو اور آخرت کے عاشق بن جائو۔جسے تقویٰ بلند کردے اسے پست مت بنائو اور جسے دنیا اونچا بنادے اسے بلند مت سمجھو۔اس دنیا کے


ولَا تَشِيمُوا بَارِقَهَا ولَا تَسْمَعُوا نَاطِقَهَا - ولَا تُجِيبُوا نَاعِقَهَا ولَا تَسْتَضِيئُوا بِإِشْرَاقِهَا - ولَا تُفْتَنُوا بِأَعْلَاقِهَا - فَإِنَّ بَرْقَهَا خَالِبٌ ونُطْقَهَا كَاذِبٌ - وأَمْوَالَهَا مَحْرُوبَةٌ وأَعْلَاقَهَا مَسْلُوبَةٌ - أَلَا وهِيَ الْمُتَصَدِّيَةُ الْعَنُونُ والْجَامِحَةُ الْحَرُونُ - والْمَائِنَةُ الْخَئُونُ والْجَحُودُ الْكَنُودُ - والْعَنُودُ الصَّدُودُ والْحَيُودُ الْمَيُودُ - حَالُهَا انْتِقَالٌ ووَطْأَتُهَا زِلْزَالٌ - وعِزُّهَا ذُلٌّ وجِدُّهَا هَزْلٌ وعُلْوُهَا سُفْلٌ - دَارُ حَرَبٍ وسَلَبٍ ونَهْبٍ وعَطَبٍ - أَهْلُهَا عَلَى سَاقٍ وسِيَاقٍ ولَحَاقٍ وفِرَاقٍ - قَدْ تَحَيَّرَتْ مَذَاهِبُهَا وأَعْجَزَتْ مَهَارِبُهَا -

چمکنے والے بادل(۱) پرنظر نہ کرو اور اس کے ترجمان کی بات مت سنو اس کے آوازدینے والے کی آواز پرلبیک مت کہو اور اس کی چمک دمک سے روشنی مت حاصل کرو اور اس کی قیمتی چیزوں پر جان مت دو۔اس لئے کہ اس کی بجلی فقط چمک دمک ہے اور اس کی باتیں سراسر غلط ہیں۔اس کے اموال لٹنے والے ہیں اور اس کا سامان چھننے والا ہے۔ آگاہ ہو جائو کہ یہ دنیا جھلک دکھا کر منہ موڑ لینے والی چنڈال ' منہ زور اڑیل' جھوٹی' خائن' ہٹ دھرم' نا شکری کرنے والی ' سیدھی راہ سے منحرف اورمنہ پھیرنے والی اور کجرو پیچ و تاب کھانے والی ہے۔اس کا طریقہ انتاقل ہے اوراس کا ہر قدم زلزلہ انگیز ہے۔اس کی عزت بھی ذلت ہے اوراس کی واقعیت بھی مذاق ہے۔اس کی بلندی پستی ہے اور یہ جنگ و جدل ۔حرب و ضرب ' لوٹ مار' ہلاکت و تباہی کا گھر ہے۔اس کے رہنے والے پابہ رکاب ہیں اور چل چلائو کے لئے تیار ہیں۔ان کی کیفیت و صل و فراق کی کشمکش کی ہے۔جہاں راستے گم ہوگئے ہیں اور گریز کی راہیں مشکل ہوگئی ہیں اور منصوبے ناکام ہو چکے ہیں۔محفوظ گھاٹیوں نے انہیں مشکلات کے حوالہ

(۱)خدا جانتا ہے کہ اس دنیا کا کوئی حال قابلاعتبار نہیں ہے اور اس کی کسی کیفیت میں سکون و قرار نہیں ہے۔اس کا پہلا عیب تو یہ ہے کہ اس کے حالات میں قرار نہیں ہے۔صبح کا سویرا تھوڑی دیر میں دوپہربن جاتا ہے اور آفتاب کا شباب تھوڑی دیرمیں غروب ہوجاتا ہے۔انسان بچپنے کی آزادیوں سے مستفید نہیں ہونے پاتا ہے کہ جوانی کی دھوپ آجاتی ہے اور جوانی کی رعنائیوں سے لذت اندوز نہیں ہونے پاتا ہے کہ صنعتی کی کمزوریاں حملہ آور ہو جاتی ہیں غرض کوئی حالت ایسی نہیں ہے جس پر اعتبار کیا جا سکے اور جسے کسی حد تک پر سکون کہا جاسکے۔ اوردوسرا عیب یہ ہے کہ الگ الگ کوئی دور بھی قابل اطمینان نہیں ہے دولت مند دولت کو رو رہے ہیں اور غریب غربت کو۔بیمار بیماریوں کا مثیہ پڑھ رہے ہیں اورصحت مند صحت کے تقاضوں سے عاجز ہیں۔بے اولاد اولاد کے طلب گارہیں اور اولاد والے اولاد کی خاطر پریشان ۔

ایسی صورت حال میںتقاضائے عقل یہی ہے کہ دنیا کو ہدف اور مقصد تصور نہ کیا جائے اور اسے صرف آخرت کے وسیلہ کے طور پر استعمال کیاجائے اس کی نعمتوں میں سے اتنا ہی لے لیا جائے جتنا آخرت میں کام آنے والا ہے اور باقی کو اس کے اہل کے لئے چھوڑ دیا جائے ۔


وخَابَتْ مَطَالِبُهَا فَأَسْلَمَتْهُمُ الْمَعَاقِلُ - ولَفَظَتْهُمُ الْمَنَازِلُ وأَعْيَتْهُمُ الْمَحَاوِلُ - فَمِنْ نَاجٍ مَعْقُورٍ ولَحْمٍ مَجْزُورٍ - وشِلْوٍ مَذْبُوحٍ ودَمٍ مَسْفُوحٍ - وعَاضٍّ عَلَى يَدَيْه وصَافِقٍ بِكَفَّيْه - ومُرْتَفِقٍ بِخَدَّيْه وزَارٍ عَلَى رَأْيِه - ورَاجِعٍ عَنْ عَزْمِه - وقَدْ أَدْبَرَتِ الْحِيلَةُ وأَقْبَلَتِ الْغِيلَةُ - ولَاتَ حِينَ مَنَاصٍ هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ - قَدْ فَاتَ مَا فَاتَ وذَهَبَ مَا ذَهَبَ - ومَضَتِ الدُّنْيَا لِحَالِ بَالِهَا -( فَما بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّماءُ والأَرْضُ وما كانُوا مُنْظَرِينَ ) .

کردیا ہے اور منزلوں نے انہیں دور پھینک دیا ہے۔دانشمندیوں نے بھی انہیں درماندہ کردیا ہے۔اب جو بنچ گئے ہیں ان میں کچھ کی کونچیں کٹی ہوئی ہیں۔کچھ گوشت کے لوتھڑے ہیں جن کی کھال اتار لی گئی ہے۔کچھ کٹے ہوئے جسم اور بہتے ہوئے خون جیسے ہیں۔کچھ اپنے ہاتھ کاٹنے والے ہیں اور کچھ کف افسوس ملنے والے۔کچھ فکرو تردد میں کہنیاں رخساروں پر رکھے ہوئے اور کچھ اپنی فکر سے بیزار اور اپنے ارادہ سے رجوع کرنے والے ہیں۔حیلوں نے منہ پھیر لیا ہے اور ہلاکت سامنے آگئی ہے مگر چھٹکارے کا وقت نکل چکا ہے۔یہ ایک نہ ہونے والی بات ہے جو چیز گزر گئی وہ گزر گئی اورجو وقت چلا گیاوہ چلا گیا اور دنیا اپنے حال میں من مانی کرتی ہوئی گزر گئی۔نہ ان پر آسمان رویا اور نہزمین اور نہ انہیں مہلت ہی دی گئی۔


(۱۹۲)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

تسمى القاصعة

وهي تتضمن ذم إبليس لعنه اللَّه، على استكباره وتركه السجود لآدمعليه‌السلام ، وأنه أول من أظهر العصبية وتبع الحمية، وتحذير الناس من سلوك طريقته.

الْحَمْدُ لِلَّه الَّذِي لَبِسَ الْعِزَّ والْكِبْرِيَاءَ - واخْتَارَهُمَا لِنَفْسِه دُونَ خَلْقِه - وجَعَلَهُمَا حِمًى وحَرَماً عَلَى غَيْرِه - واصْطَفَاهُمَا لِجَلَالِه.

رأس العصيان

وجَعَلَ اللَّعْنَةَ عَلَى مَنْ نَازَعَه فِيهِمَا مِنْ عِبَادِه - ثُمَّ اخْتَبَرَ بِذَلِكَ مَلَائِكَتَه الْمُقَرَّبِينَ - لِيَمِيزَ الْمُتَوَاضِعِينَ مِنْهُمْ مِنَ الْمُسْتَكْبِرِينَ

(۱۹۲)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(خطبہ قاصعہ)

(اس خطبہ میں ابلیس کے تکبر کی مذمت کی گئی ہے اور اس امر کا اظہار کیا گیا ہے کہ سب سے پہلے تعصب اور غرور کا راستہ اسی نے اختیار کیاہے لہٰذا اس سے اجتناب ضروری ہے )

ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس کا لباس عزت اور کبریائی ہے اور اس نے اس کمال میں کسی کو شریک نہیں بنایا ہے۔اس نے ان دونوں صفتوں کو ہر ایک کے لئے حرام اور ممنوع قرار دے کر صر ف اپنی عزت و جلال کے لئے منتخب کرلیا ہے

اورجس نے بھی ان دونوں صفتوں میں اس سے مقابلہ کرنا چاہا ہے سے ملعون قرار دے دیا ہے۔اس کے بعد اسی رخ سے ملائکہ مقربین(۱) کا امتحان لیا ہے تاکہ تواضع کرنے والوں اور غرور رکھنے والوں میں امتیاز قائم ہو جائے اور اسی بنیاد پر

(۱)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ملائکہ کی عصمت بشرجیسی اختیاری نہیں ہے جہاں انسان سارے جذبات و خواہشات سے ٹکرا کرعصمت کردار کا مظاہرہ کرتا ہے۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ ملائکہ بالکل جمادات و نباتات جیسے نہیں ہیں کہ انہیں کسی طرح کا اختیار حاصل نہ ہو۔ ورنہاگر ایسا ہوتاتو نہ تکلیف کے کوئی معنی ہوت اور نہ امتحان کا کوئی مقصد ہوتا۔ان میں جذبات و احساسات ہیں لیکن بشر جیسے نہیں ہیں۔انہیں فعل و ترک کا اختیار حاصل ہے لیکن بالکل انسانوں جیسا نہیں ہے۔اسی بنا پر ان کا امتحان لیا گیا اور امتحان صرف جذبہ حب ذات اور انانیت سے متعلق تھا کہ یہ جذبہ ملک کے اندر بھی بظاہر پایا جاتا ہے۔اور اسی جذبہ کی آزمائش کے لئے آدم کو بظاہر '' پست ترین عنصر '' سے پیداکیا گیا جسے عام طور سے پیروں سے روند دیا جاتا ہے لیکناسی پیکر خاکی میں روح کمال کو پھونک کر اتنا بلند بنا دیا کہ ملائکہ کے مسجود بننے کے لائق ہوگئے اور قدرت نے انسانوں کو بھی متوجہ کردیا کہ تمہارا کمال تمہاری اصل سے نہیں ہے۔تمہارا کمال ہمارے رابطہ اور تعلق سے ہے۔لہٰذا جب تک یہ رابطہ بر قرار رہے گا تم صاحب کمال رہوگے اور جس دن یہ رابطہ ٹوٹ جائے گا تم خاک کاڈھیر ہو جائوگے اور بس۔!


فَقَالَ سُبْحَانَه وهُوَ الْعَالِمُ بِمُضْمَرَاتِ الْقُلُوبِ - ومَحْجُوبَاتِ الْغُيُوبِ( إِنِّي خالِقٌ بَشَراً مِنْ طِينٍ - فَإِذا سَوَّيْتُه ونَفَخْتُ فِيه مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَه ساجِدِينَ - فَسَجَدَ الْمَلائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ إِلَّا إِبْلِيسَ ) - اعْتَرَضَتْه الْحَمِيَّةُ فَافْتَخَرَ عَلَى آدَمَ بِخَلْقِه - وتَعَصَّبَ عَلَيْه لأَصْلِه - فَعَدُوُّ اللَّه إِمَامُ الْمُتَعَصِّبِينَ وسَلَفُ الْمُسْتَكْبِرِينَ - الَّذِي وَضَعَ أَسَاسَ الْعَصَبِيَّةِ ونَازَعَ اللَّه رِدَاءَ الْجَبْرِيَّةِ - وادَّرَعَ لِبَاسَ التَّعَزُّزِ وخَلَعَ قِنَاعَ التَّذَلُّلِ.

أَلَا تَرَوْنَ كَيْفَ صَغَّرَه اللَّه بِتَكَبُّرِه - ووَضَعَه بِتَرَفُّعِه فَجَعَلَه فِي الدُّنْيَا مَدْحُوراً - وأَعَدَّ لَه فِي الآخِرَةِ سَعِيراً؟!

ابتلاء اللَّه لخلقه

ولَوْ أَرَادَ اللَّه أَنْ يَخْلُقَ آدَمَ مِنْ نُورٍ - يَخْطَفُ الأَبْصَارَ ضِيَاؤُه ويَبْهَرُ الْعُقُولَ رُوَاؤُه - وطِيبٍ يَأْخُذُ الأَنْفَاسَ عَرْفُه لَفَعَلَ - ولَوْ فَعَلَ لَظَلَّتْ لَه الأَعْنَاقُ خَاضِعَةً - ولَخَفَّتِ الْبَلْوَى فِيه عَلَى الْمَلَائِكَةِ. ولَكِنَّ اللَّه سُبْحَانَه يَبْتَلِي خَلْقَه بِبَعْضِ مَا يَجْهَلُونَ أَصْلَه

اس دلوں کے راز اور غیب کے اسرار سے با خبر پروردگار نے یہ اعلان کردیا کہ '' میں مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں اور جب اس کا پیکر تیار ہو جائے اورمیں اس میںروح کمال پھونک دوں تو تم سب سجدہ میں گر پڑتا '' جس کے بعد تمام ملائکہ نے سجدہ کرلیا۔صرف ابلیس نے انکار کردیا '' کہ اسے تعصب لاحق ہوگیا اور اس نے اپنی تخلیق کے مادہ سے آدم پر فخر کیا اور اپنی اصل کی بنا پراستکبار کا شکار ہوگیا جس کے بعد یہ دشمن خدا تمام متعصب افراد کا پیشوا اور تمام متکبر لوگوں کا مورث اعلیٰ بن گیا۔اسی نے عصبیت کی بنیاد قائم کی اور اسی نے پروردگارسے جبروت کی رداء میں مقابلہ کیا اور اپنے خیال میں عزت و جلال کا لباس زیب تن کر لیا اور تواضع کا نقاب اتار کر پھینک دیا۔

اب کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ پروردگار نے کس طرح اسے تکبر کی بنا پرچھوٹا بنادیا ہے اور بلندی کے اظہار کے بنیاد پر پست کردیا ہے۔دنیا میں اسے ملعون قرار دے دیا ہے اور آخرت میں اس کے لئے آتش جہنم کا انتظام کردیا ہے۔

اگر پروردگار یہ چاہتا کہ آدم کو ایک ایسے نورس ے خلق کرے جس کی ضیاء آنکھوں کو چکا چوند کردے اورجس کی رونق عقلوں کو مبہوت کردے یا ایسی خوشبو سے بنائے جس مہک سانسوں کو جکڑلے تو یقینا کر سکتا تھا اور اگر ایسا کر دیتا تو یقینا گردنیں ان کے سمنے جھک جاتیں اور ملائکہ کا امتحان آسان ہو جاتا لیکن وہ ان چیزوں سے امتحان لینا چاہتا تھا جن کی اصل معلوم نہ ہوتاکہ اسی


تَمْيِيزاً بِالِاخْتِبَارِ لَهُمْ ونَفْياً لِلِاسْتِكْبَارِ عَنْهُمْ - وإِبْعَاداً لِلْخُيَلَاءِ مِنْهُمْ.

طلب العبرة

فَاعْتَبِرُوا بِمَا كَانَ مِنْ فِعْلِ اللَّه بِإِبْلِيسَ - إِذْ أَحْبَطَ عَمَلَه الطَّوِيلَ وجَهْدَه الْجَهِيدَ - وكَانَ قَدْ عَبَدَ اللَّه سِتَّةَ آلَافِ سَنَةٍ - لَا يُدْرَى أَمِنْ سِنِي الدُّنْيَا أَمْ مِنْ سِنِي الآخِرَةِ - عَنْ كِبْرِ سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ - فَمَنْ ذَا بَعْدَ إِبْلِيسَ يَسْلَمُ عَلَى اللَّه بِمِثْلِ مَعْصِيَتِه - كَلَّا مَا كَانَ اللَّه سُبْحَانَه لِيُدْخِلَ الْجَنَّةَ بَشَراً - بِأَمْرٍ أَخْرَجَ بِه مِنْهَا مَلَكاً - إِنَّ حُكْمَه فِي أَهْلِ السَّمَاءِ وأَهْلِ الأَرْضِ لَوَاحِدٌ - ومَا بَيْنَ اللَّه وبَيْنَ أَحَدٍ مِنْ خَلْقِه هَوَادَةٌ - فِي إِبَاحَةِ حِمًى حَرَّمَه عَلَى الْعَالَمِينَ.

امتحان سے ان کا امتیاز قائم ہو سکے ۔اور ان کے استکبار کا علاج کیا جا سکے اور انہیں غرور سے ور رکھا جا سکے۔

تو اب تم سب پروردگار کے ابلیس کے ساتھ برتائو سے عبرت حاصل کرو کہ اس نے اس کے طویل عمل اور بے پناہ جدو جہد کو تباہ کردیا جب کہ وہ چھ ہزار سال عبادت کر چکا تھا۔ جس کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں ہے کہ وہ دنیا کے سال تھے یاآخرت کے مگر ایک ساعت کے تکبر نے سب کو ملیا میٹ کردیا تو اب اس کے بعد کون ایسی معصیت کرکے عذاب الٰہی سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

یہ ہرگز ممکن نہیں ہے کہ جس جرم کی بنا پر ملک(۱) کو نکال باہر کیا اس کے ساتھ بشر کو داخل جنت کردے جب کہ خدا کا قانون زمین و آسمان کے لئے ایک ہی جیسا ہے اور اللہ اور کسی خاص بندہ کے درمیان کوئی ایسا خاص تعلق نہیں ہے کہ وہ اس کے لئے اس چیز کو حلال کردے جو سارے عالمین کے لئے حرام قرار دی ہے۔

(۱)اس مقام پر یہ سوال ضرور پیداہوتا ہے کہ سورۂ کہف کی آیت ۵۰ میں ابلیس کو جنات میں قراردیا گیا ہے تو اس مقام پر اسے ملک کے لفظ سے کس طرح تعبیر کیا گیا ہے ۔لیکن اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ مقام تکلیف میں ہمیشہ ظاہر کو دیکھا جاتا ہے اور مقام جزا میں حقیقت پر نگاہ کی جاتی ہے۔ایمان کے احکام ان تمام افراد کے لئے ہیں جن کا ظاہر ایمان ہے لیکن ایمان کی جزا اور اس کا انعام صرف ان افراد کے لئے ہے جو واقعی صاحبان ایمان ہیں۔

یہی حال ملائکہ اور جنات کا ہے کہ ملائکہ کے احکام میں وہ تمام افراد شامل ہیں جو اپنے ملک ہونے کے دعویدار ہیں چاہے واقعاً قوم جن سے تعلق رکھتے ہو اور ملائکہ کی عظمت و شرافت صرف ان فراد کے لئے ہے جو واقعاً ملک ہیں اور اس کا قوم جن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


التحذير من الشيطان

فَاحْذَرُوا عِبَادَ اللَّه عَدُوَّ اللَّه أَنْ يُعْدِيَكُمْ بِدَائِه - وأَنْ يَسْتَفِزَّكُمْ بِنِدَائِه وأَنْ يُجْلِبَ عَلَيْكُمْ بِخَيْلِه ورَجِلِه - فَلَعَمْرِي لَقَدْ فَوَّقَ لَكُمْ سَهْمَ الْوَعِيدِ - وأَغْرَقَ إِلَيْكُمْ بِالنَّزْعِ الشَّدِيدِ - ورَمَاكُمْ مِنْ مَكَانٍ قَرِيبٍ - فَقَالَ( رَبِّ بِما أَغْوَيْتَنِي لأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الأَرْضِ - ولأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ) - قَذْفاً بِغَيْبٍ بَعِيدٍ ورَجْماً بِظَنٍّ غَيْرِ مُصِيبٍ - صَدَّقَه بِه أَبْنَاءُ الْحَمِيَّةِ وإِخْوَانُ الْعَصَبِيَّةِ - وفُرْسَانُ الْكِبْرِ

والْجَاهِلِيَّةِ - حَتَّى إِذَا انْقَادَتْ لَه الْجَامِحَةُ مِنْكُمْ - واسْتَحْكَمَتِ الطَّمَاعِيَّةُ مِنْه فِيكُمْ - فَنَجَمَتِ الْحَالُ مِنَ السِّرِّ الْخَفِيِّ إِلَى الأَمْرِ الْجَلِيِّ - اسْتَفْحَلَ سُلْطَانُه عَلَيْكُمْ - ودَلَفَ بِجُنُودِه نَحْوَكُمْ - فَأَقْحَمُوكُمْ وَلَجَاتِ الذُّلِّ - وأَحَلُّوكُمْ وَرَطَاتِ الْقَتْلِ - وأَوْطَئُوكُمْ إِثْخَانَ الْجِرَاحَةِ طَعْناً فِي عُيُونِكُمْ - وحَزّاً فِي حُلُوقِكُمْ

بندگان خدا ! اس دشمن خدا سے ہوشیار رہو۔کہیں تمہیں بھی اپنے مرض میں مبتلا نہ کردے اور کہیں اپنی آواز پرکھینچ نہ لے اور تم پر اپنے سوار اور پیادہ لشکر سے حملہ نہ کردے۔اس لئے کہ میری جان کی قسم اس نے تمہارے لئے شر انگیزی کے تیر کو چلئہ کمان میں جوڑ لیا ہے اور کمان کو زور سے کھینچ لیا ہے اورتمہیں بہت نزدیک سے نشانہ بنانا چاہتا ہے۔اس نے صاف کہہ دیا ہے کہ '' پروردگار جس طرح تونے مجھے بہکا دیا ہے اب میںبھی ان کے لئے گناہوں کو آراستہ کردوں گا اور ان سب کو گمراہ کردوں گا '' حالانکہ یہ بات بالکل اٹکل پچو سے کہی تھی اور بالکل غلط اندازہ کی بنا پر زبان سے نکالی تھی لیکن غرور کی اولاد ' تعصب کی برادری اورتکبر و جاہلیت کے شہسواروں نے اس کی بات کی تصدیق کردی۔یہاں تک کہ جب تم میں سے منہ زوری کرنے والے اس کے مطیع ہوگئے اور اس کی طمع تم میں مستحکم ہوگئی تو بات پردۂ رازسے نکل کرمنظر عام آگئی۔اس نے اپنے اقتدار کو تم پر قائم کرلیا اور اپنے لشکروں کا رخ تمہاری طرف موڑ دیا۔انہوں نے تمہیں ذلت کے غاروں میں ڈھکیل دیا اور تمہیں قتل و خون کے بھنور میں پھنسا دیا اور مسلسل زخمی کرکے پامال کر دیا۔تمہاری آنکھوں نے تمہیں ذلت کے غاروں میں ڈھکیل دیا اور تمہیں قتل و خون کے بھنور میں پھنسا دیا اور مسلسل زخمی کرکے پامال کر دیا تمہاری آنکھوں میں نیزے چبھودئیے تمہارے حلق میں خنجر چلا


ودَقّاً لِمَنَاخِرِكُمْ - وقَصْداً لِمَقَاتِلِكُمْ وسَوْقاً بِخَزَائِمِ الْقَهْرِ - إِلَى النَّارِ الْمُعَدَّةِ لَكُمْ - فَأَصْبَحَ أَعْظَمَ فِي دِينِكُمْ حَرْجاً - وأَوْرَى فِي دُنْيَاكُمْ قَدْحاً - مِنَ الَّذِينَ أَصْبَحْتُمْ لَهُمْ مُنَاصِبِينَ وعَلَيْهِمْ مُتَأَلِّبِينَ - فَاجْعَلُوا عَلَيْه حَدَّكُمْ ولَه جِدَّكُمْ - فَلَعَمْرُ اللَّه لَقَدْ فَخَرَ عَلَى أَصْلِكُمْ - ووَقَعَ فِي حَسَبِكُمْ ودَفَعَ فِي نَسَبِكُمْ - وأَجْلَبَ بِخَيْلِه عَلَيْكُمْ وقَصَدَ بِرَجِلِه سَبِيلَكُمْ - يَقْتَنِصُونَكُمْ بِكُلِّ مَكَانٍ ويَضْرِبُونَ مِنْكُمْ كُلَّ بَنَانٍ - لَا تَمْتَنِعُونَ بِحِيلَةٍ ولَا تَدْفَعُونَ بِعَزِيمَةٍ - فِي حَوْمَةِ ذُلٍّ وحَلْقَةِ ضِيقٍ - وعَرْصَةِ مَوْتٍ وجَوْلَةِ بَلَاءٍ - فَأَطْفِئُوا مَا كَمَنَ فِي قُلُوبِكُمْ - مِنْ نِيرَانِ الْعَصَبِيَّةِ وأَحْقَادِ الْجَاهِلِيَّةِ - فَإِنَّمَا تِلْكَ الْحَمِيَّةُ تَكُونُ فِي الْمُسْلِمِ - مِنْ خَطَرَاتِ الشَّيْطَانِ ونَخَوَاتِه ونَزَغَاتِه ونَفَثَاتِه - واعْتَمِدُوا وَضْعَ التَّذَلُّلِ عَلَى رُءُوسِكُمْ - وإِلْقَاءَ التَّعَزُّزِ تَحْتَ أَقْدَامِكُمْ - وخَلْعَ التَّكَبُّرِ مِنْ أَعْنَاقِكُمْ

دئیے اورتمہاری ناک کورگڑ دیا ۔تمہارے جوڑ بند کو توڑ دیا اورتمہاری ناک میں قہرو غلبہ کی نکیل ڈال کر تمہیں اس آگ کی طرف کھینچ لیا جو تمہارے ہی واسطے مہیا کی گئی ہے۔وہ تمہارے دین کو ا ن سب سے زیادہ مجروح کرنے والا اور تمہاری دنیا میں ان سب سے زیادہ فتنہ وفساد کی آگ بھڑکانے والا ہے جن س مقابلہ کی تم ن تیاری کر رکھی ہے اور جن کے خلاف تم نے لشکر جمع کئے ہیں۔لہٰذا اب اپنے غیظ و غضب کا مرکز اسی کو قرار دو اور ساری کوشش اسی ک خلاف صرف کرو۔خدا کی قسم اس نے تمہاری اصل پر اپنی برتری کا اظہر کیا ہے اور تمہارے حسب میں عیب نکالا ہے اور تمہارے نسب پر طعنہ دیا ہے اورتمہارے خلاف لشکر جمع کیا ہے اور تمہارے راستہ کو اپنے پیادوں سے روند نے کا ارادہ کیا ہے۔جو ہر جگہ تمہارا شکار کرناچاہتے ہیں اور ہر مقام پر تمہارے ایک ایک انگلی کے پور پر ضرب لگانا چاہتے ہیں اورتم نہ کسی حیلہ سے اپنا بچائو کرتے ہو اور نہ کسی عزم و ارادہ سے اپنا دفاع کرتے ہو درانحالیکہ تم ذلت کے بھنور' تنگی کے دائرہ' موت کے میدان اور بلائوں کی جولانگاہ میں ہو۔اب تمہارا فرض ہے کہ تمہارے دلوںمیں جو عصبیت اور جاہلیت کے کینوں کی آگ بھڑک رہی ہے اسے بجھا دو کہ یہ غرور ایک مسلمان کے اندر شیطانی وسوسوں ' نخوتوں ' فتنہ انگیزیوں اور فسوں کا ریوں کا نتیجہ ہے۔ اپنے سرپر تواضع کا تاج رکھنے کا عزم کرو اور تکبر کو اپنے پیروں تلے رکھ کر کچل دو۔غرور کے طوق کو اپنی گردنوں سے اتار کرپھینک دواور


واتَّخِذُوا التَّوَاضُعَ - مَسْلَحَةً بَيْنَكُمْ وبَيْنَ عَدُوِّكُمْ إِبْلِيسَ وجُنُودِه - فَإِنَّ لَه مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ جُنُوداً وأَعْوَاناً - ورَجِلًا وفُرْسَاناً - ولَا تَكُونُوا كَالْمُتَكَبِّرِ عَلَى ابْنِ أُمِّه - مِنْ غَيْرِ مَا فَضْلٍ جَعَلَه اللَّه فِيه - سِوَى مَا أَلْحَقَتِ الْعَظَمَةُ بِنَفْسِه مِنْ عَدَاوَةِ الْحَسَدِ - وقَدَحَتِ الْحَمِيَّةُ فِي قَلْبِه مِنْ نَارِ الْغَضَبِ - ونَفَخَ الشَّيْطَانُ فِي أَنْفِه مِنْ رِيحِ الْكِبْرِ - الَّذِي أَعْقَبَه اللَّه بِه النَّدَامَةَ - وأَلْزَمَه آثَامَ الْقَاتِلِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

التحذير من الكبر

أَلَا وقَدْ أَمْعَنْتُمْ فِي الْبَغْيِ وأَفْسَدْتُمْ فِي الأَرْضِ - مُصَارَحَةً لِلَّه بِالْمُنَاصَبَةِ - ومُبَارَزَةً لِلْمُؤْمِنِينَ بِالْمُحَارَبَةِ - فَاللَّه اللَّه فِي كِبْرِ الْحَمِيَّةِ وفَخْرِ الْجَاهِلِيَّةِ - فَإِنَّه مَلَاقِحُ الشَّنَئَانِ ومَنَافِخُ الشَّيْطَانِ - الَّتِي خَدَعَ بِهَا الأُمَمَ الْمَاضِيَةَ والْقُرُونَ الْخَالِيَةَ - حَتَّى أَعْنَقُوا فِي حَنَادِسِ جَهَالَتِه ومَهَاوِي ضَلَالَتِه - ذُلُلًا عَنْ سِيَاقِه سُلُساً فِي قِيَادِه - أَمْراً تَشَابَهَتِ الْقُلُوبُ فِيه

اپنے اور اپنے دشمن ابلیس اور اس کے لشکروں کے درمیان تواضع و انکسار کا مورچہ قائم کرلو کہ اس نے ہر قوم میں سے اپنے لشکر ' مدد گار' پیادہ ' سوار سب کاانتظام کرلیا ہے اور خبردار اس شخص کے جیسے نہ ہو جائو جس نے اپنے مانجائے(۱) کے مقابلہ میں غرور کیا بغیر اس کے کہ اللہ نے اسے کوئی فضیلت عطا کی ہو علاوہ اس کے حسد کی عداوت نے اس کے نفس میں عظمت کا احساسا پیدا کردا دیا اور بیجا غیرت نے اس کے دل میں غضب کی آگ بھڑکا دی شیطان نے اس کی ناک میں تکبر کی ہوا پھونک دی اور انجام کارندامت ہی ہاتھ آئی اور قیامت تک کے تمام قاتلوں کا گناہ اس کے ذمہ آگیا کہ اس نے قتل کی بنیاد قائم کی ہے۔

یاد رکھو تم نے اللہ سے کھلم کھلا دشمنی اور صاحبان ایمان سے جنگ کا اعلان کرکے ظلم کی انتہا کردی ہے اور زمین میں فساد برپا کردیا ہے۔خدارا خدا سے ڈرو۔تکبر کے غرور اور جاہلیت کے تفاخرکے سلسلہ میں کہ یہ عداوتوں کے پیدا ہونے کی جگہ اور شیطان کی فسوں کاری کی منزل ہے۔اسی کے ذریعہ اس نے گذشتہ قوموں اور اگلی نسلوں کودھوکہ دیا ہے ۔یہاں تک کہ وہ لوگ جہالت کے اندھیروں اور ضلالت کے گڑھوں میں گر پڑے ۔وہ اپنے ہنکانے والے کے مکمل تابع اور کھینچنے والے کے سراپا اطاعت تھے۔یہی وہ امر ہے جس میں قلوب سب

(۱) ہابیل اور قابیل کی طرف اشارہ ہے جہاں قابیل نے صرف حسد اور تعصب کی بنیاد پر اپنے حقیقی بھائی کا خون کردیا اور اللہ کی پاکیزہ زمین کو خون نا حق سے رنگین کردیا اور اس طرح دنیا میں قتل و خون کا سلسلہ شروع ہوگیا جس کے ہر جرم میں قابیل کا ایک حصہ بہر حال رہے گا۔


وتَتَابَعَتِ الْقُرُونُ عَلَيْه - وكِبْراً تَضَايَقَتِ الصُّدُورُ بِه.

التحذير من طاعة الكبراء

أَلَا فَالْحَذَرَ الْحَذَرَ مِنْ طَاعَةِ سَادَاتِكُمْ وكُبَرَائِكُمْ - الَّذِينَ تَكَبَّرُوا عَنْ حَسَبِهِمْ وتَرَفَّعُوا فَوْقَ نَسَبِهِمْ - وأَلْقَوُا الْهَجِينَةَ عَلَى رَبِّهِمْ، وجَاحَدُوا اللَّه عَلَى مَا صَنَعَ بِهِمْ - مُكَابَرَةً لِقَضَائِه ومُغَالَبَةً لِآلَائِه - فَإِنَّهُمْ قَوَاعِدُ أَسَاسِ الْعَصَبِيَّةِ - ودَعَائِمُ أَرْكَانِ الْفِتْنَةِ وسُيُوفُ اعْتِزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ - فَاتَّقُوا اللَّه ولَا تَكُونُوا لِنِعَمِه عَلَيْكُمْ أَضْدَاداً - ولَا لِفَضْلِه عِنْدَكُمْ حُسَّاداً - ولَا تُطِيعُوا الأَدْعِيَاءَ الَّذِينَ شَرِبْتُمْ بِصَفْوِكُمْ كَدَرَهُمْ - وخَلَطْتُمْ بِصِحَّتِكُمْ مَرَضَهُمْ وأَدْخَلْتُمْ فِي حَقِّكُمْ بَاطِلَهُمْ - وهُمْ أَسَاسُ الْفُسُوقِ وأَحْلَاسُ الْعُقُوقِ -

اتَّخَذَهُمْ إِبْلِيسُ مَطَايَا ضَلَالٍ - وجُنْداً بِهِمْ يَصُولُ عَلَى النَّاسِ - وتَرَاجِمَةً يَنْطِقُ عَلَى أَلْسِنَتِهِمْ -

ایک جیسے ہیں اور نسلیں اسی راہ پر چلتی رہی ہیں اور یہی وہ تکبر ہے جس کی پردہ پوشی سے سینے تنگ ہیں۔

آگاہ ہو جائو ۔اپنے ان بزرگوں(۱) اور سرداروں کی اطاعت سے محتاط رہو جنہوں نے اپنے حسب پر غرور کیا اور اپنے نسب کی بنیاد پر اونچے بن گئے۔بد نما چیزوں کو اللہ کے سر ڈال دیا اوراس کے احسانات کا صریحی انکار کردیا۔انہوںنے اس کے فیصلہ سے مقابلہ کیا ہے اور اس کی نعمتوں پرغلبہ حاصل کرنا چاہا ہے۔یہی وہ لوگ ہیں جو عصبیت کی بنیاد۔فتنہ کے ستون۔اور جاہلیت کے غرورکی تلواریں ہیں۔

اللہ سے ڈرو اور خبر دار اس کی نعمتوں کے دشمن اور اس کے دئیے ہوئے فضاء کے حاسد نہ بنو۔ان جھوٹے مدعیان اسلام کا اتباع نہ کروجن کے گندہ پانی کو اپنے صاف پانی میں ملا کر پی رہے ہو اور جن کی بیماریوں کو تم نے اپنی صحت کے ساتھ مخلوط کردیا ہے اور جن کے باطل کو اپنے حق میں شامل کرلیا ہے۔یہ لوگ فسق وفجور کی بنیاد ہیں اور نا فرمانیوں کے ساتھ چپکے ہوئے ہیں

ابلیس نے انہیں گمراہی کی سواری بنالیا ہے اور ایسا لشکر قرار دے لیا ہے جس کے ذریعہ لوگوں پر حملہ کرتا ہے اور یہی اس کے ترجمان ہیں جن کی زبان سے وہ بولتا ہے

(۱)قوم کی تباہی اور بربادی میں سب سے بڑا ہاتھ ان رئیسوں اور سرداروں کا ہوتا ہے جن کی حیثیت کچھ نہیں ہوتی ہے لیکن اپنے کو اس قدر عظیم بنا کر پیش کرتے ہیںجس کا ندازہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ان کے پاس تعصب عناد غرور اور تکبر کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ہے اور غریب بندگان خدا کو یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ اللہ نے ہم کو بلند بنایا ہے اور اسی نے تمہیںپست قرار دیا ہے لہٰذا اب تمہارا فرض ہے کہ اس کے فیصلہ پر راضی رہو اور ہماری اطاعت کی راہ پر چلتے رہو بغاوت کا ارادہ مت کرو کہ یہ قضا و قدر الٰہی سے بغاوت ہے اور یہ شان اسلام کے خلاف ہے۔


اسْتِرَاقاً لِعُقُولِكُمْ ودُخُولًا فِي عُيُونِكُمْ - ونَفْثاً فِي أَسْمَاعِكُمْ - فَجَعَلَكُمْ مَرْمَى نَبْلِه ومَوْطِئَ قَدَمِه ومَأْخَذَ يَدِه.

العبرة بالماضين

فَاعْتَبِرُوا بِمَا أَصَابَ الأُمَمَ الْمُسْتَكْبِرِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ - مِنْ بَأْسِ اللَّه وصَوْلَاتِه ووَقَائِعِه ومَثُلَاتِه - واتَّعِظُوا بِمَثَاوِي خُدُودِهِمْ ومَصَارِعِ جُنُوبِهِمْ - واسْتَعِيذُوا بِاللَّه مِنْ لَوَاقِحِ الْكِبْرِ - كَمَا تَسْتَعِيذُونَه مِنْ طَوَارِقِ الدَّهْرِ فَلَوْ رَخَّصَ اللَّه فِي الْكِبْرِ لأَحَدٍ مِنْ عِبَادِه - لَرَخَّصَ فِيه لِخَاصَّةِ أَنْبِيَائِه - وأَوْلِيَائِه ولَكِنَّه سُبْحَانَه كَرَّه إِلَيْهِمُ التَّكَابُرَ - ورَضِيَ لَهُمُ التَّوَاضُعَ - فَأَلْصَقُوا بِالأَرْضِ خُدُودَهُمْ - وعَفَّرُوا فِي التُّرَابِ وُجُوهَهُمْ - وخَفَضُوا أَجْنِحَتَهُمْ لِلْمُؤْمِنِينَ - وكَانُوا قَوْماً مُسْتَضْعَفِينَ - قَدِ اخْتَبَرَهُمُ اللَّه بِالْمَخْمَصَةِ وابْتَلَاهُمْ بِالْمَجْهَدَةِ - وامْتَحَنَهُمْ بِالْمَخَاوِفِ ومَخَضَهُمْ بِالْمَكَارِه - فَلَا تَعْتَبِرُوا الرِّضَى والسُّخْطَ بِالْمَالِ والْوَلَدِ - جَهْلًا بِمَوَاقِعِ الْفِتْنَةِ - والِاخْتِبَارِ فِي مَوْضِعِ الْغِنَى والِاقْتِدَارِ - فَقَدْ قَالَ سُبْحَانَه وتَعَالَى -

تمہاری عقلوں کو چھیننے کے لئے اور تمہاری آنکھوں میں سما جانے کے لئے اور تمہارے کانوں میں اپنی باتوں کو پھونکنے کے لئے اس نے تمہیںاپنے تیروں کا نشانہ اور اپنے قدموں کی جولانگاہ اور اپنے ہاتھ کا کھولنا بنالیا ہے۔

دیکھو تم سے پہلے استکبار کرنے والی قوموں پر جوخداکا عذاب ۔حملہ۔قہر اور عتاب نازل ہوا ہے اس سے عبرت حاصل کرو۔ان کے رخساروں کے بھل لیٹنے اور پہلوئوں کے بھل گرنے سے نصیحت حاصل کرو۔اللہ کی بارگاہ میں تکبر کی پیداوار کی منزلوں سے اس طرح پناہ مانگو جس طرح زمانہ کے حوادث سے پناہ مانگتے ہو۔اگر پروردگار تکبر کی اجازت کسی بندہ کو دے سکتا تو سب سے پہلے اپنے مخصوص انبیاء اور اولیاء کو اجازت دیتا لیکن اس بے نیاز نے ان کے لئے بھی تکبر کو نا پسند قراردیا ہے اور ان کی بھی تواضع ہی سے خوش ہوا ہے۔انہوں نے اپنے رخساروں کو زمین سے چپکادیا تھا اور اپنے چہروں کوخاک پر رکھ دیا تھا اور اپنے شانوں کو مومنین کے لئے جھکا دیا تھا۔

یہ سب سماج کے وہ کمزور بنادئیے جانے والے افراد تھے جن کا خدا نے بھوک سے امتحان لیا۔مصائب سے آزمایا۔خوفناک مراحل سے اختیارکیا اور ناخوشگوار حالات میں انہیں تہ و بالا کرکے دیکھ لیا۔خبردار خدا کی خوشنودی اور ناراضگی کا معیار مال اور اولاد کو قرارنہ دینا کہ تم فتنہ کی منزلوں کو نہیں پہچانتے ہو اور تمہیں نہیں معلوم ہے کہ خدا مالداری اور اقتدار سے کس طرح امتحان لیتا ہے۔اس نے صاف اعلان کردیا ہے'' کیا ان لوگوں


( أَيَحْسَبُونَ أَنَّما نُمِدُّهُمْ بِه مِنْ مالٍ وبَنِينَ - نُسارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْراتِ بَلْ لا يَشْعُرُونَ ) فَإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه يَخْتَبِرُ عِبَادَه الْمُسْتَكْبِرِينَ فِي أَنْفُسِهِمْ - بِأَوْلِيَائِه الْمُسْتَضْعَفِينَ فِي أَعْيُنِهِمْ –

تواضع الأنبياء

ولَقَدْ دَخَلَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ ومَعَه أَخُوه هَارُونُعليه‌السلام - عَلَى فِرْعَوْنَ وعَلَيْهِمَا مَدَارِعُ الصُّوفِ - وبِأَيْدِيهِمَا الْعِصِيُّ فَشَرَطَا لَه إِنْ أَسْلَمَ - بَقَاءَ مُلْكِه ودَوَامَ عِزِّه - فَقَالَ أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ هَذَيْنِ يَشْرِطَانِ لِي دَوَامَ الْعِزِّ - وبَقَاءَ الْمُلْكِ - وهُمَا بِمَا تَرَوْنَ مِنْ حَالِ الْفَقْرِ والذُّلِّ - فَهَلَّا أُلْقِيَ عَلَيْهِمَا أَسَاوِرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ - إِعْظَاماً لِلذَّهَبِ وجَمْعِه - واحْتِقَاراً لِلصُّوفِ ولُبْسِه - ولَوْ أَرَادَ اللَّه سُبْحَانَه لأَنْبِيَائِه - حَيْثُ بَعَثَهُمْ

کا خیال یہ ہے کہ ہم انہیں مال و اولاد کی فراوانی عطا کرکے ان کی نیکیوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ انہیں کوئی شعورنہیں ہے۔

اللہ اپنے کو اونچا سمجھنے والوں کا امتحان اپنے کمزور قرار دئیے جانے والے اولیاء کے ذریعہ لیا کرتا ہے۔

دیکھو موسیٰ بن عمران(۱) اپنے بھائی ہارون کے ساتھ فرعون کے دربار میں اس شان سے داخل ہوئے کہ ان کے بدن پرائون کا پیراہن تھا اور ان کے ہاتھ میں ایک عصا تھا۔ان حضرات نے اس سے وعدہ کیا کہ اگر اسلام قبول کرلے گا تو اس کے ملک اور اس کی عزت کودوام و بقا عطا کردیں گے۔تو اس نے لوگوں سے کہا '' کیا تم لوگ ان دونوں کے حال پر تعجب نہیں کر رہے ہو جو اس فقرو فاقہ کی حالت میں میرے پاس آئے ہیں اور میرے ملک کو دوام کی ضمانت دے رہے ہیں۔اگر یہ ایسے ہی اونچے ہیں تو ان پر سونے کے کنگن کیوں نہیں نازل ہوئے ؟'' اس کی نظر میںسونا اور اس کی جمع آوری ایک عظیم کارنامہ تھا اور اون کا لباس پہننا ذلت کی علامت تھا۔حالانکہ اگر پروردگار چاہتا تو انبیاء کرام کی بعثت کے ساتھ ہی ان کے لئے سونے

(۱)واقعاً کیاعجیب و غریب منظر رہا ہوگا جب اللہ کے دو مخلص بندے معمولی لباس پہنے ہوئے فرعون کے دربار میں کھڑے ہوں گے اوراسے دین حق کی دعوت دے رہے ہوں گے اور اس سے جزا و انعام کا وعدہ کر رہے ہوں گے اوروہ مسکرا کر درباریوں کی طرف دیکھ رہا ہوگا۔ذرا ان دونوں کی جرأت تودیکھو خدائے وقت کیدعوت بندگی دے رہے ہیں۔ اور پھر حوصلے تو دیکھو۔بوسیدہ لباس کے باوجود انعامات کا وعدہ کر رہے ہیں اور معمولی حیثیت کے ساتھ عذاب الیم سے ڈرا رہے ہیں۔

لیکن جناب موسیٰ نے ان حالات کی کوئی پرواہ نہیں کی اورنہایت سکون و وقار کے ساتھ اپنا پیغام سناتے رہے کہ اللہ والے سلطنت و جبروت سے مرعوب نہیں ہوتے ہیں اور بہترین جہاد یہی ہے کہ سلطان جابر کے سامنے کلمہ حق بلند کردیا جائے اور حق کی آواز کو دبنے نہ دیا جائے ۔


أَنْ يَفْتَحَ لَهُمْ كُنُوزَ الذِّهْبَانِ - ومَعَادِنَ الْعِقْيَانِ ومَغَارِسَ الْجِنَانِ - وأَنْ يَحْشُرَ مَعَهُمْ طُيُورَ السَّمَاءِ ووُحُوشَ الأَرَضِينَ - لَفَعَلَ - ولَوْ فَعَلَ لَسَقَطَ الْبَلَاءُ وبَطَلَ الْجَزَاءُ،واضْمَحَلَّتِ الأَنْبَاءُ ولَمَا وَجَبَ لِلْقَابِلِينَ أُجُورُ الْمُبْتَلَيْنَ - ولَا اسْتَحَقَّ الْمُؤْمِنُونَ ثَوَابَ الْمُحْسِنِينَ - ولَا لَزِمَتِ الأَسْمَاءُ مَعَانِيَهَا - ولَكِنَّ اللَّه سُبْحَانَه جَعَلَ رُسُلَه أُولِي قُوَّةٍ فِي عَزَائِمِهِمْ - وضَعَفَةً فِيمَا تَرَى الأَعْيُنُ مِنْ حَالَاتِهِمْ - مَعَ قَنَاعَةٍ تَمْلأُ الْقُلُوبَ والْعُيُونَ غِنًى - وخَصَاصَةٍ تَمْلأُ الأَبْصَارَ والأَسْمَاعَ أَذًى

ولَوْ كَانَتِ الأَنْبِيَاءُ أَهْلَ قُوَّةٍ لَا تُرَامُ وعِزَّةٍ لَا تُضَامُ - ومُلْكٍ تُمَدُّ نَحْوَه أَعْنَاقُ الرِّجَالِ وتُشَدُّ إِلَيْه عُقَدُ الرِّحَالِ - لَكَانَ ذَلِكَ أَهْوَنَ عَلَى الْخَلْقِ فِي الِاعْتِبَارِ - وأَبْعَدَ لَهُمْ فِي الِاسْتِكْبَارِ - ولَآمَنُوا عَنْ رَهْبَةٍ قَاهِرَةٍ لَهُمْ أَوْ رَغْبَةٍ مَائِلَةٍ بِهِمْ - فَكَانَتِ النِّيَّاتُ مُشْتَرَكَةً والْحَسَنَاتُ مُقْتَسَمَةً - ولَكِنَّ اللَّه سُبْحَانَه أَرَادَ أَنْ يَكُونَ الِاتِّبَاعُ لِرُسُلِه - والتَّصْدِيقُ بِكُتُبِه

کے خزانے ' طلائے خالص کے معادن ' باغات کے کشت زاروں کے ذروازے کھول دیتا اور ان کے ساتھ فضا میں پرواز کرنے والے پرندے اور زمین کے چوپایوں کو ان کا تابع فرمان بنادیتا۔لیکن ایسا کردیتا تو آزمائش ختم ہو جاتی اور انعامات کا سلسلہ بھی بند ہو جاتا۔اورآسمانی خبریں بھی بیکار و برباد ہو جاتیں۔نہ مصائب کو قبول کرنے والوں کو امتحان دینے والے کا اجر ملتا اورنہ صاحبان ایمان کو نیک کرداروں جیسا انعام ملتا اور نہ الفاظ معانی کا ساتھ دیتے۔

البتہ پروردگار نے اپنے مرسلین کو ارادوں کے اعتبارسے انتہائی صاحب قوت قرار دیا ہے اگرچہ دیکھنے میں حالات کے اعتبار سے بہت کمزور ہیں ان کے پاس وہ قناعت ہے جس نے لوگوں کے دل و نگاہ کو ان کے بے نیازی سے معمور کردیا ہے اور وہ غربت ہے جس کی بنا پر لوگوں کی آنکھوں اور کانوں کو اذیت ہوتی ہے۔

اگر انبیاء کرام ایسی قوت کے مالک ہوتے جس کا ارادہ بھی نہ کیا جا سکے اورایسی عزت کے دارا ہوتے جس کو ذلیل نہ کیا جا سکے اور ایسی سلطنت کے حامل ہوتے جس کی طرف گردنیں اٹھتی ہوں اور سواریوں کے پالان کسے جاتے ہوں تو یہ بات لوگوں کی عبرت حاصل کرنے کے لئے آسان ہوتی اور انہیں استکبار سے بآسانی دور کر سکتی اور سب کے سب قہرآمیز خوف اور لذت آمیز رغبت کی بنا پر ایمان لے آتے۔سب کی نیتیں ایک جیسی ہوتیں اور سب کے درمیان نیکیاں تقسیم ہو جاتیں لیکن اس نے یہ چاہا ہے کہ اس کے رسولوں کا اتباع اور اس کی کتابوں کی


والْخُشُوعُ لِوَجْهِه - والِاسْتِكَانَةُ لأَمْرِه والِاسْتِسْلَامُ لِطَاعَتِه - أُمُوراً لَه خَاصَّةً لَا تَشُوبُهَا مِنْ غَيْرِهَا شَائِبَةٌ وكُلَّمَا كَانَتِ الْبَلْوَى والِاخْتِبَارُ أَعْظَمَ - كَانَتِ الْمَثُوبَةُ والْجَزَاءُ أَجْزَلَ –

الكعبة المقدسة

أَلَا تَرَوْنَ أَنَّ اللَّه سُبْحَانَه اخْتَبَرَ - الأَوَّلِينَ مِنْ لَدُنْ آدَمَصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم إِلَى الآخِرِينَ مِنْ هَذَا الْعَالَمِ - بِأَحْجَارٍ لَا تَضُرُّ ولَا تَنْفَعُ ولَا تُبْصِرُ ولَا تَسْمَعُ - فَجَعَلَهَا بَيْتَه الْحَرَامَ الَّذِي جَعَلَه لِلنَّاسِ قِيَاماً – ثُمَّ وَضَعَه بِأَوْعَرِ بِقَاعِ الأَرْضِ حَجَراً - وأَقَلِّ نَتَائِقِ الدُّنْيَا مَدَراً - وأَضْيَقِ بُطُونِ الأَوْدِيَةِ قُطْراً - بَيْنَ جِبَالٍ خَشِنَةٍ ورِمَالٍ دَمِثَةٍ - وعُيُونٍ وَشِلَةٍ وقُرًى مُنْقَطِعَةٍ - لَا يَزْكُو بِهَا خُفٌّ ولَا حَافِرٌ ولَا ظِلْفٌ - ثُمَّ أَمَرَ آدَمَعليه‌السلام ووَلَدَه أَنْ يَثْنُوا أَعْطَافَهُمْ نَحْوَه -

تصدیق اور اس کی بارگاہ میں خضوع اوراس کے اوامرکے سامنے فروتنی ۔سب اس کی ذات اقدس سے مخصوص رہیں اور اس میں کسی طرح کی ملاوٹ نہ ہونے پائے اور ظاہر ہے کہ جس قدرآزمائش اور امتحان میں شدت ہوگی اس قدراجر و ثواب بھی زیاد ہوگا۔

کیا تم یہ نہیں دیکھتے ہو کہ پروردگار عالم نے آدم کے دور سےآج تک اولین و آخرین سب کا امتحان لیا ہے۔ان پتھروں(۱) کے ذریعہ جن کا بظاہر نہ کوئی نفع ہے اور نہ نقصان ۔نہ ان کے پاس بصارت ہے اور نہ سماعت۔لیکن انہیں سے اپناوہ محترم مکان بنوادیا ہے جسے لوگوں کے قیام کا ذریعہ قراردے دیاہے اور پھر اسے ایسی جگہ قراردیا ہے جو روئے زمین پر انتہائی پتھریلی و بلند زمینوں میں انتہائی مٹی والی۔وادیوں میں اطراف کے اعتبارسے انتہائی تنگ ہے۔اس کے اطراف سخت قسم کے پہاڑ ' نرم قسم کے ریتلے میدان ' کہ پانی والے چشمے اور منتشر قسم کی بستیاں ہیں جہاں نہ اونٹ پرورش پا سکتے ہیں اور نہ گائے اور نہ بکریاں۔

اس کے بعد اس نے آدم اوران کی اولاد کو حکم دے دیا کہ اپنے کاندھوں کو اس کی طرف موڑ دیں اور

(۱)یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ تعمیر خانہ کعبہ کا تعلق جناب ابراہیم سے نہیں ہے بلکہ جناب آدم سے ہے۔سب سے پہلے انہوں نے حکم خدا سے اس کا گھر بنایا اور اس کا طواف کیا اور پھر اپنی اولاد کو طواف کا حکم دیا اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا یہاں تک کہ طوفان نوح کے موقع پر اس تعمیر کو بلند کرلیا گیا اور اس کے بعد جناب ابراہیم نے اپنے دور میں اس کی دیواروں کو بلند کرکے ایک مکان کی حیثیت دے دی جس کا سلسلہ آج تک قائم ہے ۔اور ساری دنیا سے مسلمان اس گھر کا طواف کرنے کے لئے آرہے ہیں جب کہ اس کی تعمیری حیثیت لاکھوں مکانوں سے کمتر ہے ۔لیکن مسئلہ اس کی مادی حیثیت کا نہیں ہے مسئلہ اس کی نسبت کا ے جو پروردگار نے اپنی طرف دے دی ہے اور اسے مرجع خلائق بنادیا ہے جس طرح کہ سرکار دوعالم (ص) نے خودمولائے کائنات کو ''انت بمنزلة الکعبة '' کہہ کر مرجع عوام وخواص بنادیا ہے کہ اس سے انحراف کی کوئی گنجائش نہیں رہ گئی ہے۔


فَصَارَ مَثَابَةً لِمُنْتَجَعِ أَسْفَارِهِمْ وغَايَةً لِمُلْقَى رِحَالِهِمْ - تَهْوِي إِلَيْه ثِمَارُ الأَفْئِدَةِ مِنْ مَفَاوِزِ قِفَارٍ سَحِيقَةٍ - ومَهَاوِي فِجَاجٍ عَمِيقَةٍ وجَزَائِرِ بِحَارٍ مُنْقَطِعَةٍ - حَتَّى يَهُزُّوا مَنَاكِبَهُمْ ذُلُلًا - يُهَلِّلُونَ لِلَّه حَوْلَه ويَرْمُلُونَ عَلَى أَقْدَامِهِمْ - شُعْثاً غُبْراً لَه قَدْ نَبَذُوا السَّرَابِيلَ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ - وشَوَّهُوا بِإِعْفَاءِ الشُّعُورِ مَحَاسِنَ خَلْقِهِمُ - ابْتِلَاءً عَظِيماً وامْتِحَاناً شَدِيداً - واخْتِبَاراً مُبِيناً وتَمْحِيصاً بَلِيغاً - جَعَلَه اللَّه سَبَباً لِرَحْمَتِه ووُصْلَةً إِلَى جَنَّتِه - ولَوْ أَرَادَ سُبْحَانَه - أَنْ يَضَعَ بَيْتَه الْحَرَامَ ومَشَاعِرَه الْعِظَامَ - بَيْنَ جَنَّاتٍ وأَنْهَارٍ وسَهْلٍ وقَرَارٍ - جَمَّ الأَشْجَارِ دَانِيَ الثِّمَارِ - مُلْتَفَّ الْبُنَى مُتَّصِلَ الْقُرَى - بَيْنَ بُرَّةٍ سَمْرَاءَ ورَوْضَةٍ خَضْرَاءَ - وأَرْيَافٍ مُحْدِقَةٍ وعِرَاصٍ مُغْدِقَةٍ - ورِيَاضٍ نَاضِرَةٍ وطُرُقٍ عَامِرَةٍ - لَكَانَ قَدْ صَغُرَ قَدْرُ الْجَزَاءِ عَلَى حَسَبِ ضَعْفِ الْبَلَاءِ - ولَوْ كَانَ الإِسَاسُ الْمَحْمُولُ عَلَيْهَا - والأَحْجَارُ الْمَرْفُوعُ بِهَا - بَيْنَ زُمُرُّدَةٍ خَضْرَاءَ ويَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ ونُورٍ وضِيَاءٍ،

اس طرح اسے سفروں سے فائدہ اٹھانے کی منزل اور پالانوں کے اتارنے کی جگہ بنادیا جس کی طرف لوگ دور افتادہ بے آب وگیاہ بیابانو ۔دور دراز گھاٹیوں کے نشیبی راستوں ۔زمین سے کٹے ہوئے دریائوں کے جزیروں سے دل و جان سے متوجہ ہوتے ہیں تاکہ ذلت کے ساتھ اپنے کاندھوں کو حرکت دیں اوراس کے گرداپنے پروردگار کی الوہیت کا اعلان کریں اور پیدل اس عالم میں دوڑتے رہیں کہ ان کے بال بکھرے ہوئے ہوں اور سر پر خاک پڑی ہوئی ہو۔اپنے پیراہنوں کو اتر کرپھینک دیں۔اور بال بڑھا کراپنے حسن و جمال کو بد نما بنالیں۔یہ ایک عظیم ابتلاء ۔شدید امتحان اور واضح اختیار ہے جس کے ذریعہ عدبیت کی مکمل آزمائش ہو رہی ہے ۔ پروردگارنے اس مکان کو رحمت کا ذریعہ اور جنت کا وسیلہ بنادیا ہے۔وہ اگر چاہتا تو اس گھر کو اور اس کے تمام مشاعر کو باغات اور نہرون کے درمیان نرم و ہموار زمین پر بنا دیتا جہاں گھنے درخت ہوتے اور قریب قریب پھل ۔عمارتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوتیں اورآبادیاں ایک دوسرے سے متصل ۔کہیں سرخی مائل گندم کے پودے ہوتے اور کہیں س سر سبز باغات ۔کہیںچمن زار ہوتا اور کہیں پانی میں ڈوبے ہوئے میدان کہیں سر سبز و شاداب کشت زار ہوتے اور کہیں آباد گزر گاہیں لیکن اس طرح آزمائش کی سہولت کے ساتھ جزاکی مقدار بھی گھٹ جاتی ہے۔

اور اگر جس بنیاد پر اس مکان کو کھڑا کیا گیا ہے وہ سبز زمرد اور سرخ یاقوت جیسے پتھروں اورنور و ضیا کی


لَخَفَّفَ ذَلِكَ مُصَارَعَةَ الشَّكِّ فِي الصُّدُورِ - ولَوَضَعَ مُجَاهَدَةَ إِبْلِيسَ عَنِ الْقُلُوبِ - ولَنَفَى مُعْتَلَجَ الرَّيْبِ مِنَ النَّاسِ - ولَكِنَّ اللَّه يَخْتَبِرُ عِبَادَه بِأَنْوَاعِ الشَّدَائِدِ - ويَتَعَبَّدُهُمْ بِأَنْوَاعِ الْمَجَاهِدِ - ويَبْتَلِيهِمْ بِضُرُوبِ الْمَكَارِه - إِخْرَاجاً لِلتَّكَبُّرِ مِنْ قُلُوبِهِمْ - وإِسْكَاناً لِلتَّذَلُّلِ فِي نُفُوسِهِمْ - ولِيَجْعَلَ ذَلِكَ أَبْوَاباً فُتُحاً إِلَى فَضْلِه - وأَسْبَاباً ذُلُلًا لِعَفْوِه.

عود إلى التحذير

فَاللَّه اللَّه فِي عَاجِلِ الْبَغْيِ - وآجِلِ وَخَامَةِ الظُّلْمِ وسُوءِ عَاقِبَةِ الْكِبْرِ - فَإِنَّهَا مَصْيَدَةُ إِبْلِيسَ الْعُظْمَى ومَكِيدَتُه الْكُبْرَى - الَّتِي تُسَاوِرُ قُلُوبَ الرِّجَالِ مُسَاوَرَةَ السُّمُومِ الْقَاتِلَةِ - فَمَا تُكْدِي أَبَداً ولَا تُشْوِي أَحَداً - لَا عَالِماً لِعِلْمِه ولَا مُقِلاًّ فِي طِمْرِه - وعَنْ ذَلِكَ مَا حَرَسَ اللَّه عِبَادَه الْمُؤْمِنِينَ - بِالصَّلَوَاتِ والزَّكَوَاتِ - ومُجَاهَدَةِ الصِّيَامِ فِي الأَيَّامِ الْمَفْرُوضَاتِ

تابانیوں سے عبارت ہوتی تو سینوں پر شکوک کے حملے کم ہو جاتے اور دلوں سے ابلیس کی محنتوں کا اثر ختم ہو جاتا اور لوگوں کے خلجان قلب کا سلسلہ تمام ہو جاتا۔لیکن پروردگار اپنے بندوں کو سخت ترین حالات سے آزمانا چاہتا ہے۔اور ان سے سنگین ترین مشقتوں کے ذریعہ بندگی کرانا چاہتا ہے اور انہیں طرح طرح کے ناخوشگوار حالات سے آزمانا چاہتا ہے تاکہ ان کے دلوں سے تکبر نکل جائے اور ان کے نفوس میں تواضع اور فروتنی کو جگہ مل جائے اور اسی بات کو فضل و کرم کے کھلے ہوئے دروازوں اور عفو و مغفرت کے آسان ترین و سائل میں قراردیدے۔

دیکھو دنیا میں سر کشی کے انجام' آخرت میں ظلم کے عذاب اور تکبر کے بد ترین نتیجہ کے بارے میں خدا سے ڈرو کہ یہ کتبر شیطان کا عظیم ترین جال اوربزرگ ترین مکر ہے جو دلوں میں اس طرح اتر جاتا ہے جیسے زہر قاتل کہ نہ اس کا اثرزائل ہوتا ہے اور نہ اس کا وار خطا کرتا ہے۔نہ کسی عالم کے علم کی بنا پر اور نہ کسی نادار پر اس کے پھٹے کپڑوں کی بنا پر۔

اور اسی مصیبت(۱) سے پروردگارنے اپنے صاحبان ایمان بندوں کونماز اور زکوٰة اور مخصوص دونوں میں روزہ کی مشقت کے ذریعہ بچایا ہے کہ ان کے اعضاء

(۱) انسان کی سب سے بڑی مصیبت شیطان کا اتباع ہے اور شیطان کا سب سے بڑا حربہ فساد اور استکبار ہے۔اس لئے پروردگارنے انسان کواس حملہ سے بچانے کے لئے نماز' روزہ اور زکوٰة کو واجب کردیا کہ نماز کے ذریعہ خضوع و خشوع کا اظہار ہوگا۔روہ کے ذریعہ مشقت برداشت کرنے کا جذبہ پیدا ہوگا اور زکوٰة کے ذریعہ اپنی محنت کے نتائج میں فقر اور مساکین کو مقدم کرنے کاخیال پیدا ہوگا اور اس طرح وہ غرور نکل جائے گا جو استکبار کی بنیاد بنتا ہے اور جس کی بنا پر انسان شیطنت سے قریب تر ہو جاتا ہے۔


تَسْكِيناً لأَطْرَافِهِمْ وتَخْشِيعاً لأَبْصَارِهِمْ - وتَذْلِيلًا لِنُفُوسِهِمْ وتَخْفِيضاً لِقُلُوبِهِمْ - وإِذْهَاباً لِلْخُيَلَاءِ عَنْهُمْ - ولِمَا فِي ذَلِكَ مِنْ تَعْفِيرِ عِتَاقِ الْوُجُوه بِالتُّرَابِ تَوَاضُعاً - والْتِصَاقِ كَرَائِمِ الْجَوَارِحِ بِالأَرْضِ تَصَاغُراً - ولُحُوقِ الْبُطُونِ بِالْمُتُونِ مِنَ الصِّيَامِ تَذَلُّلًا - مَعَ مَا فِي الزَّكَاةِ مِنْ صَرْفِ ثَمَرَاتِ الأَرْضِ - وغَيْرِ ذَلِكَ إِلَى أَهْلِ الْمَسْكَنَةِ والْفَقْرِ.

فضائل الفرائض

انْظُرُوا إِلَى مَا فِي هَذِه الأَفْعَالِ - مِنْ قَمْعِ نَوَاجِمِ الْفَخْرِ وقَدْعِ طَوَالِعِ الْكِبْرِ ولَقَدْ نَظَرْتُ فَمَا وَجَدْتُ أَحَداً مِنَ الْعَالَمِينَ - يَتَعَصَّبُ لِشَيْءٍ مِنَ الأَشْيَاءِ إِلَّا عَنْ عِلَّةٍ - تَحْتَمِلُ تَمْوِيه الْجُهَلَاءِ - أَوْ حُجَّةٍ تَلِيطُ بِعُقُولِ السُّفَهَاءِ غَيْرَكُمْ - فَإِنَّكُمْ تَتَعَصَّبُونَ لأَمْرٍ مَا يُعْرَفُ لَه سَبَبٌ ولَا عِلَّةٌ - أَمَّا إِبْلِيسُ فَتَعَصَّبَ عَلَى آدَمَ لأَصْلِه - وطَعَنَ عَلَيْه فِي خِلْقَتِه - فَقَالَ أَنَا نَارِيٌّ وأَنْتَ طِينِيٌّ.

عصبية المال

وأَمَّا الأَغْنِيَاءُ مِنْ مُتْرَفَةِ الأُمَمِ - فَتَعَصَّبُوا لِآثَارِ مَوَاقِعِ النِّعَمِ -

و جوارح کو سکون مل جائے ۔نگاہوں میں خشوع پیدا ہو جائے۔نفس میں احساس ذلت پیدا ہو' دل بارگاہ الٰہی میں جھک جائیں اور ان سے غرور نکل جائے اور اس بنیاد پر کہ نماز میں نازک چہرے تواضع کے ساتھ خاک آلود کیے جاتے ہیں اور محترم اعضاء و جوارح کو ذلت کے ساتھ زمین سے ملا دیا جاتا ہے۔اور روزہ میں احساس عاجزی کے ساتھ پیٹ پیٹھ سے مل جاتے ہیں اور زکوٰة میںزمین کے بہترین نتائج کو فقر اور مساکین کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ذرا دیکھو ان اعمال میں کس طرح تفاخر کے آثار کو جڑ سے اکھاڑ کرپھینک دیا جاتا ہے اور تکبر کے نمایاں ہونے والے آثارکودبادیا جاتا ہے۔

میں نے تمام عالمین کو پرکھ کر دیکھ لیا ہے ۔ کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس میں کسی شے کا تعصب پایا جاتا ہو اور اس کے پیچھے کوئی ایسی علت نہ ہو جس سے جاہل دھوکہ کھا جائیں یا ایسی دلیل نہ ہو جو احمقوںکی عقل سے چپک جائے۔علاوہ تم لوگو کے کہ تم ایسی چیز کا تعصب رکھتے ہو جس کی کوئی علت اور جس کا کوئی سبب نہیں ہے۔دیکھو ابلیس نے آدم کے مقابلہ میں عصبیت کا اظہار کیا تو اپنی اصل کی بنیاد پر اور ان کی تخلیق پر طنز کیا اور یہ کہہ دیا کہ میں آگسے بنا ہوں اورت مخاک سے بنے ہو۔

اسی طرح کا امتوں کے دولت مندوں نے اپنی نعمتوں کے آثار کی بنا پر غرورکا مظاہرہ کیا اوریہ اعلان کردیا


فَ( قالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوالًا وأَوْلاداً - وما نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ ) - فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ مِنَ الْعَصَبِيَّةِ - فَلْيَكُنْ تَعَصُّبُكُمْ لِمَكَارِمِ الْخِصَالِ - ومَحَامِدِ الأَفْعَالِ ومَحَاسِنِ الأُمُورِ - الَّتِي تَفَاضَلَتْ فِيهَا الْمُجَدَاءُ والنُّجَدَاءُ - مِنْ بُيُوتَاتِ الْعَرَبِ ويَعَاسِيبِ القَبَائِلِ - بِالأَخْلَاقِ الرَّغِيبَةِ والأَحْلَامِ الْعَظِيمَةِ - والأَخْطَارِ الْجَلِيلَةِ والآثَارِ الْمَحْمُودَةِ - فَتَعَصَّبُوا لِخِلَالِ الْحَمْدِ مِنَ الْحِفْظِ لِلْجِوَارِ - والْوَفَاءِ بِالذِّمَامِ والطَّاعَةِ لِلْبِرِّ - والْمَعْصِيَةِ لِلْكِبْرِ والأَخْذِ بِالْفَضْلِ - والْكَفِّ عَنِ الْبَغْيِ والإِعْظَامِ لِلْقَتْلِ - والإِنْصَافِ لِلْخَلْقِ والْكَظْمِ لِلْغَيْظِ.

واجْتِنَابِ الْفَسَادِ فِي الأَرْضِ واحْذَرُوا مَا نَزَلَ بِالأُمَمِ قَبْلَكُمْ - مِنَ الْمَثُلَاتِ بِسُوءِ الأَفْعَالِ وذَمِيمِ الأَعْمَالِ - فَتَذَكَّرُوا فِي الْخَيْرِ والشَّرِّ أَحْوَالَهُمْ - واحْذَرُوا أَنْ تَكُونُوا أَمْثَالَهُمْ.

فَإِذَا تَفَكَّرْتُمْ فِي تَفَاوُتِ حَالَيْهِمْ - فَالْزَمُوا كُلَّ أَمْرٍ لَزِمَتِ الْعِزَّةُ بِه شَأْنَهُمْ - وزَاحَتِ الأَعْدَاءُ لَه عَنْهُمْ -

کہ '' ہم زیادہ مال و اولاد والے ہیں لہٰذا ہم پر عذاب نہیں ہو سکتا ہے '' لیکن تمہارے پاس تو ایسی کوئی بنیاد بھی نہیں ہے۔لہٰذا اگر فخر ہی کرنا ہے تو بہترین عادات ' قابل تحسین اعمال اورحسین ترین خصائل کی بنا پر کرو جس کے بارے میں عرب کے خاندانوں۔قبائل کیس رداروں کے بزرگ اور شریف لوگ کیا کرتے تھے۔یعنی پسندیدہ اخلاق ' عظیم دانائی ' اعلیٰ مراتب اورقابل تعریف کارنامے۔

تم بھی انہیں قابل ستائش اعمال پر فخر کرو۔ہمسایوں کا تحفظ کرو۔عہدو پیمان کو پورا کرو۔نیک لوگوں کی اطاعت کرو سر کشوں کی مخالفت کرو۔فضل و کرم کواختیار کرو۔ظلم و سرکشی سے پرہیز کرو۔خون ریزی سے پناہمانگو۔خلق خدا کی ساتھ انصاف کرو۔غصہ کو پی جائو ۔فسد فی الارض سے اجتناب کرو کہ یہی صفات و کمالات قابل فخر و مباہات ہیں۔

بد ترین اعمال کی بنا پر گذشتہ امتوں پرنازل ہونے والے عذاب سے اپنے کومحفوظ رکھو۔خیرو شر ہر حال میں ان لوگوں کو یاد رکھو اور خبر دار ان کے جیسے بد کردار نہ ہوجانا۔

اگر تم نے ان کے اچھے برے حالات(۱) پر غورکرلیا ہے تو اب ایسے امورکو اختیار کرو جن کی بنا پر عزت ہمیشہ ان کے ساتھ رہی۔دشمن ان سے دور دور

(۱) تاریخ کردار سازی کا بہترین ذریعہ ہے اور اس سے استفادہ کرنے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ انسان دونوں طرح کی قوموں کے حالات کا جائزہ لے۔ان قوموں کوبھی دیکھے جنہوںنے سر فرازی اور بلندی حاصل کی ہے۔اور ان قوموں کے حالات کا بھی مطالعہ کرے جنہوں نے ذلت اور رسوائی کاس امنا کیا ہے۔تاکہ ان اقوام کے کردار کواپنائے جنہوں نے اپنے وجود کو سرمایہ تاریخ بنا دیا ہے اور ان لوگوں کے کردار سے پرہیز کرے جنہوں نے اپنے کو ذلت کے غارمیں دھکیل دیا ہے


ومُدَّتِ الْعَافِيَةُ بِه عَلَيْهِمْ - وانْقَادَتِ النِّعْمَةُ لَه مَعَهُمْ ووَصَلَتِ الْكَرَامَةُ عَلَيْه حَبْلَهُمْ - مِنَ الِاجْتِنَابِ لِلْفُرْقَةِ واللُّزُومِ لِلأُلْفَةِ - والتَّحَاضِّ عَلَيْهَا والتَّوَاصِي بِهَا - واجْتَنِبُوا كُلَّ أَمْرٍ كَسَرَ فِقْرَتَهُمْ وأَوْهَنَ مُنَّتَهُمْ - مِنْ تَضَاغُنِ الْقُلُوبِ وتَشَاحُنِ الصُّدُورِ - وتَدَابُرِ النُّفُوسِ وتَخَاذُلِ الأَيْدِي وتَدَبَّرُوا أَحْوَالَ الْمَاضِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ قَبْلَكُمْ - كَيْفَ كَانُوا فِي حَالِ التَّمْحِيصِ والْبَلَاءِ - أَلَمْ يَكُونُوا أَثْقَلَ الْخَلَائِقِ أَعْبَاءً - وأَجْهَدَ الْعِبَادِ بَلَاءً وأَضْيَقَ أَهْلِ الدُّنْيَا حَالًا - اتَّخَذَتْهُمُ الْفَرَاعِنَةُ عَبِيداً فَسَامُوهُمْ سُوءَ الْعَذَابِ - و - جَرَّعُوهُمُ الْمُرَارَ فَلَمْ تَبْرَحِ الْحَالُ بِهِمْ فِي ذُلِّ الْهَلَكَةِ وقَهْرِ الْغَلَبَةِ - لَا يَجِدُونَ حِيلَةً فِي امْتِنَاعٍ ولَا سَبِيلًا إِلَى دِفَاعٍ –

حَتَّى إِذَا رَأَى اللَّه سُبْحَانَه - جِدَّ الصَّبْرِ مِنْهُمْ عَلَى الأَذَى فِي مَحَبَّتِه - والِاحْتِمَالَ لِلْمَكْرُوه مِنْ خَوْفِه - جَعَلَ لَهُمْ مِنْ مَضَايِقِ الْبَلَاءِ فَرَجاً - فَأَبْدَلَهُمُ الْعِزَّ مَكَانَ الذُّلِّ والأَمْنَ

رہے۔عافیت کا دامن ان کی طرف پھیلا دیا گیا نعمتیں ان کے سامنے سر نگوں ہوگئیں اور کرامت و شرافت نے ان سے اپنا رشتہ جوڑ لیا کہ وہ افتراق سے بچے ۔محبت کے ساتھ اس پر دوسروں کو آمادہ کرتے رہے اور اس کی آپس میں وصیت اور نصیحت کرتے رہے۔

اور دیکھو ہر اس چیز سے پرہیز کرو جس نے ان کی کمر کو توڑ دیا۔ان کی طاقت کو کمزور کردیا۔یعنی آپس کا کینہ۔دلوں کی عداوت ' نفسوس کا ایک دوسرے سے منہ پھیر لینا اور ہاتھوں کا ایک دوسرے کی امداد سے رک جانا۔

ذرا اپنے پہلے والے صاحبان ایمان کے حالات پر بھی غور کرو کہ وہ کس طرح بلاء اورآزمائش کی منزلوں میں تھے۔کیا وہ تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ بوجھ کے متحمل اور تمام بندوں میں سب سے زیادہ مصائب میں مبتلا نہیں تھے۔اور تمام اہل دنیامیں سب سے زیادہ تنگی میں بسر نہیں کررہے تھے۔فراعنہ نے انہیں غلام بنا لیا تھا اور طرح طرح کے بد ترین عذاب میں مبتلا کر رہے تھے۔انہیں تلخ گھونٹ پلا رہے تھے اوروہ انہیں حالات میں زندگی گزار رہے تھے کہ ہلاکت کی ذلت بھی تھی اور تغلب کی قہر سامانی بھی نہ بچائو کا کوئی راستہ تھا اورنہ دفاع کی کوئی سبیل۔

یہاں تک کہ جب پروردگار نے یہ دیکھ لیا کہ انہوں نے اس کی محبت میں طرح طرح کی اذیتیں برداشت کرلی ہیں اور اس کے خوف سے ہر ناگوار حالت کا سامنا کرلیا ہے تو ان کے لئے ان تنگیوں میں وسعت کا سامان فراہم کردیا اور ان کی ذلت کو عزت میں تبدیل کردیا


مَكَانَ الْخَوْفِ - فَصَارُوا مُلُوكاً حُكَّاماً وأَئِمَّةً أَعْلَاماً - وقَدْ بَلَغَتِ الْكَرَامَةُ مِنَ اللَّه لَهُمْ

مَا لَمْ تَذْهَبِ الآمَالُ إِلَيْه بِهِمْ.

فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانُوا حَيْثُ كَانَتِ الأَمْلَاءُ مُجْتَمِعَةً - والأَهْوَاءُ مُؤْتَلِفَةً والْقُلُوبُ مُعْتَدِلَةً - والأَيْدِي مُتَرَادِفَةً والسُّيُوفُ مُتَنَاصِرَةً - والْبَصَائِرُ نَافِذَةً والْعَزَائِمُ وَاحِدَةً - أَلَمْ يَكُونُوا أَرْبَاباً فِي أَقْطَارِ الأَرَضِينَ - ومُلُوكاً عَلَى رِقَابِ الْعَالَمِينَ - فَانْظُرُوا إِلَى مَا صَارُوا إِلَيْه فِي آخِرِ أُمُورِهِمْ - حِينَ وَقَعَتِ الْفُرْقَةُ وتَشَتَّتَتِ الأُلْفَةُ - واخْتَلَفَتِ الْكَلِمَةُ والأَفْئِدَةُ - وتَشَعَّبُوا مُخْتَلِفِينَ وتَفَرَّقُوا مُتَحَارِبِينَ - وقَدْ خَلَعَ اللَّه عَنْهُمْ لِبَاسَ كَرَامَتِه - وسَلَبَهُمْ غَضَارَةَ نِعْمَتِه - وبَقِيَ قَصَصُ أَخْبَارِهِمْ فِيكُمْ - عِبَراً لِلْمُعْتَبِرِينَ.

الاعتبار بالأمم

فَاعْتَبِرُوا بِحَالِ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ - وبَنِي إِسْحَاقَ

خوف کے بدلے امن و امان عطا فرمادیا اور وہ زمین کے حاکم اور بادشاہ ۔قائد اور نمایاں افراد بن گئے ۔الٰہی کرامت نے انہیں ان منزلوں تک پہنچا دیا جہاں تک جانے کا انہوں نے تصوربھی نہیں کیا تھا۔

دیکھو جب تک ان کے اجتماعات یکجا رہے۔ان کے خواہشات میں اتفاق رہا۔ان کے دل معتدل رہے۔ان کے ہاتھ ایک دوسرے کی امداد کرتے رہے۔ان کی تلواریں ایک دوسرے کے کام آتی رہیں۔ان کی بصیرتیں نافذ رہیں اور ان کے عزائم میں اتحاد رہا۔وہ کس طرح با عزت رہے۔کیاوہ تمام اطراف زمین کے ارباب اور تمام لوگوں کی گردنوں کے حکام نہیں تھے۔

لیکن پھرآخر کاران کا انجام کیا ہوا جب ان کے درمیان افتراق پیدا ہوگیا اور محبتوں میں انتشار پیدا ہوگیا۔ باتوں اوردلوں میں اختلاف پیدا ہوگیا اور سب مختلف جماعتوں اور متحارب گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔تو پروردگار نے ان کے بدن سے کرامت کا لباس اتارلیا اور ان سے نعمتوں کی شادابی کو سلب کرلیا اور اب ان کے قصے صرف عبرت حاصل کرنے والوں کے لئے سامان عبرت بن کر رہ گئے ہیں۔

لہٰذا اب تم اولاد اسمٰعیل(۱) اوراولاد اسحاق و

(۱) عالم اسلام کو بنی اسرائیل کے حالات سے عبرت حاصل کرناچاہیے کہ انہیں قیصر و کسریٰ اور دیگرسلاطین زمانے نے کس قدر ذلیل کیا اور کیسے کیسے بد ترین حالات سے دو چار کیا۔صرف اس لئے کہ ان کے درمیان اتحاد نہیں تھا۔اور وہ خود بھی برائیوں میں مبتلا تھے اوردوسروں کو بھی برائیوں سے روکنے کاخیال نہیں رکھتے تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ پروردگارنے انہیں اس عذاب میں مبتلا کردیا اور ان کا یہ تصور مہمل ہو کر رہ گیا کہ ہم اللہ کے منتخب بندے اور اس کے اولاد کا مرتبہ رکھتے ہیں۔دورحاضر میں مسلمانوں کا یہی عالم ہے کہ صرف امت وسط کے نام پر جھوم رہے ہیں۔اس کے علاوہ ان کیکردار میں کسی طرف سے اعتدال کی کوئی جھلک نہیں ہے۔ہر طرف انحراف ہی انحراف اور کجی ہی کجی نظرآتی ہے۔نہ کہیں وحدت کلمہ ہے اور نہ کہیں اتحاد کلام اختلافات کا زور رہے اور دشمن کی حکمرانی۔آپس کا جھگڑا ہے اور غیروں کی غلامی۔انا للہ وانا الیہ راجعون


بَنِي إِسْرَائِيلَعليه‌السلام - فَمَا أَشَدَّ اعْتِدَالَ الأَحْوَالِ وأَقْرَبَ اشْتِبَاه الأَمْثَالِ

تَأَمَّلُوا أَمْرَهُمْ فِي حَالِ تَشَتُّتِهِمْ وتَفَرُّقِهِمْ - لَيَالِيَ كَانَتِ الأَكَاسِرَةُ والْقَيَاصِرَةُ أَرْبَاباً لَهُمْ - يَحْتَازُونَهُمْ عَنْ رِيفِ الآفَاقِ وبَحْرِ الْعِرَاقِ - وخُضْرَةِ الدُّنْيَا إِلَى مَنَابِتِ الشِّيحِ - ومَهَافِي الرِّيحِ ونَكَدِ الْمَعَاشِ - فَتَرَكُوهُمْ عَالَةً مَسَاكِينَ إِخْوَانَ دَبَرٍ ووَبَرٍ - أَذَلَّ الأُمَمِ دَاراً وأَجْدَبَهُمْ قَرَاراً - لَا يَأْوُونَ إِلَى جَنَاحِ دَعْوَةٍ يَعْتَصِمُونَ بِهَا - ولَا إِلَى ظِلِّ أُلْفَةٍ يَعْتَمِدُونَ عَلَى عِزِّهَا - فَالأَحْوَالُ مُضْطَرِبَةٌ والأَيْدِي مُخْتَلِفَةٌ - والْكَثْرَةُ مُتَفَرِّقَةٌ - فِي بَلَاءِ أَزْلٍ وأَطْبَاقِ جَهْلٍ - مِنْ بَنَاتٍ مَوْءُودَةٍ وأَصْنَامٍ مَعْبُودَةٍ - وأَرْحَامٍ مَقْطُوعَةٍ وغَارَاتٍ مَشْنُونَةٍ

النعمة برسول اللَّه

فَانْظُرُوا إِلَى مَوَاقِعِ نِعَمِ اللَّه عَلَيْهِمْ - حِينَ بَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولًا - فَعَقَدَ بِمِلَّتِه طَاعَتَهُمْ وجَمَعَ عَلَى دَعْوَتِه أُلْفَتَهُمْ - كَيْفَ نَشَرَتِ النِّعْمَةُ عَلَيْهِمْ جَنَاحَ كَرَامَتِهَا - وأَسَالَتْ لَهُمْ جَدَاوِلَ نَعِيمِهَا - والْتَفَّتِ الْمِلَّةُ بِهِمْ فِي عَوَائِدِ بَرَكَتِهَا

اسرائیل (یعقوب) سے عبرت حاصل کرو کہ سب کے حالات کس قدر ملتے ہوئے اور کیفیات کس قدر یکساں ہیں۔دیکھو ان کے انتشار و افتراق کے دور میں ان کا کیا عالم تھا کہ قیصر و کسریٰ ان کے ارباب بن گئے تھے۔اور انہیں اطراف عالم کے سبزہ زاروں ۔عراق کے دریائوں اور دنیا کی شادابیوں سے نکال کرخار دار جھاڑیوں اورآندھیوں کے بے روک گزر گاہوں اور معیشت کی دشوار گزار منزلوں تک پہنچا کراس عالم میں چھوڑ دیا تھا۔ کہ وہ فقیر و نادار۔اونٹوں کی پشت پر چلنے والے اوربالوں کے خیموں میں قیام کرنے والے ہوگئے تھے۔گھر بار کے اعتبارسے تمام قوموں سے زیادہ ذلیل اور جگہ کے اعتبار سے سب سے زیادہ خشک سالیوں کا شکار تھے نہ ان کی آواز تھی جن کی پناہ لے کر اپنا تحفظ کرسکیں اور نہ کوئی الفت کا سایہ تھا جس کی طاقت پر بھروسہ کر سکیں۔حالات مضطرب ' طاقتیں منتشر' کثرت میں انتشار ۔بلائیں ستخ ۔ جہالت تہ بہ تہ۔زندہ در گور بیٹیاں پتھر پرستش کے قابل' رشتہ داریاں ٹوٹ ہوئی اورچاروں طرف سے حملوں کی یلغار۔

اس کے بعد دیکھو کہ پروردگار نے ان پرکس قدراحسانات کئے جب ان کی طرف ایک رسول بھیج دیا۔جس نے اپنے نظام سے ان کی اطاعت کو پابند بنایا اور اپنی دعوت پر ان کی الفتوں کو متحد کیا اور اس کے نتیجہ میں نعمتوں نے ان پر کرامت کے بال و پر پھیلا دئیے اور راحتوں کے دریا بہا دئیے شریعت نے انہیں اپنی برکتوں کے بیش


فَأَصْبَحُوا فِي نِعْمَتِهَا غَرِقِينَ - وفِي خُضْرَةِ عَيْشِهَا فَكِهِينَ - قَدْ تَرَبَّعَتِ الأُمُورُ بِهِمْ فِي ظِلِّ سُلْطَانٍ قَاهِرٍ - وآوَتْهُمُ الْحَالُ إِلَى كَنَفِ عِزٍّ غَالِبٍ - وتَعَطَّفَتِ الأُمُورُ عَلَيْهِمْ فِي ذُرَى مُلْكٍ ثَابِتٍ - فَهُمْ حُكَّامٌ عَلَى الْعَالَمِينَ - ومُلُوكٌ فِي أَطْرَافِ الأَرَضِينَ - يَمْلِكُونَ الأُمُورَ عَلَى مَنْ كَانَ يَمْلِكُهَا عَلَيْهِمْ - ويُمْضُونَ الأَحْكَامَ فِيمَنْ كَانَ يُمْضِيهَا فِيهِمْ - لَا تُغْمَزُ لَهُمْ قَنَاةٌ ولَا تُقْرَعُ لَهُمْ صَفَاةٌ !

لوم العصاة

أَلَا وإِنَّكُمْ قَدْ نَفَضْتُمْ أَيْدِيَكُمْ مِنْ حَبْلِ الطَّاعَةِ - وثَلَمْتُمْ حِصْنَ اللَّه الْمَضْرُوبَ عَلَيْكُمْ بِأَحْكَامِ الْجَاهِلِيَّةِ - فَإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه قَدِ امْتَنَّ عَلَى جَمَاعَةِ هَذِه الأُمَّةِ - فِيمَا عَقَدَ بَيْنَهُمْ مِنْ حَبْلِ هَذِه الأُلْفَةِ - الَّتِي يَنْتَقِلُونَ فِي ظِلِّهَا ويَأْوُونَ إِلَى كَنَفِهَا - بِنِعْمَةٍ لَا يَعْرِفُ أَحَدٌ مِنَ الْمَخْلُوقِينَ لَهَا قِيمَةً - لأَنَّهَا أَرْجَحُ مِنْ كُلِّ ثَمَنٍ وأَجَلُّ مِنْ كُلِّ خَطَرٍ.

واعْلَمُوا أَنَّكُمْ صِرْتُمْ بَعْدَ الْهِجْرَةِ أَعْرَاباً - وبَعْدَ الْمُوَالَاةِ أَحْزَاباً -

قیمت فوائد میں لپیٹ لیا۔وہ نعمتوں میں غرق ہوگئے اور زندگی کی شادابیوں میں مزے اڑانے لگے۔ایک مضبوط حاکم نے زیر سایہ حالات ساز گار ہوگئے اورحالات نے غلبہ وبزرگی کے پہلومیں جگہ دلوادی اور ایک مستحکم ملک کی بلندیوں پردنیا ودین کی سعادتیں ان کی طرف جھک پڑیں۔وہ عالمین کے حکام ہوگئے اور اطراف زمین کے بادشاہ شمار ہونے لگے جو کل ان کے امور کے مالک تھے آج وہ ان کے امور کے مالک ہوگئے اور اپنے احکام ان پر نافذ کرنے لگے جو کل اپنے احکام ان پرنافذ کر رہے تھے کہ اب نہ ان کا دم خم نکالا جا سکتا تھا اور نہان کا زور ہی توڑ اجا سکتا تھا۔

دیکھو تم نے اپنے ہاتھوں کو اطاعت بندھنوں سے جھاڑ لیا ہے اور اللہ کی طرف سے اپنے گرد کھینچے ہوئے حصار میں جاہلیت کے احکام کی بنا پر رخنہ پیدا کردیا ہے۔اللہ نے اس امت کے اجتماع پر یہ احسان کیا ہے کہ انہیں الفت کی ایسی بندشوں میں گرفتار کردیا ہے کہ اسی کے زیر سایہ سفر کرتے ہیں اور اسی کے پہلو میں پناہ لیتے ہیں اور یہ وہ نعمت ہے جس کی قدروقیمت کو کوئی شخص نہیں سمجھ سکتا ہے اس لئے کہ یہ ہر قیمت سے بڑی قیمت اور ہرشرف و کرامت سے بالا تر کرامت ہے۔

اور یاد رکھو کہ تم ہجرت کے بعد پھر(۱) صحرائی بدو ہوگئے ہو اور باہمی دوستی کے بعد پھر گروہو میں تقسیم

(۱) افسوس جس قوم نے چار دن پہلے عزت کے دن دیکھے ہوں۔اپنے اتحاد و اتفاق اور اپنی اطاعت شعاری کے اثرات کامشاہدہ کیا ہو۔وہ یکبارگی اس طرح منقلب ہو جائے اور راحت پسندی اسے دوبارہ ڈھکیل کر ماضی کے گڑھے میں ڈال دے اور ذلتو رسوائی اس کا مقدر بن جائے ۔


مَا تَتَعَلَّقُونَ مِنَ الإِسْلَامِ إِلَّا بِاسْمِه - ولَا تَعْرِفُونَ مِنَ الإِيمَانِ إِلَّا رَسْمَه.

تَقُولُونَ النَّارَ ولَا الْعَارَ - كَأَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تُكْفِئُوا الإِسْلَامَ عَلَى وَجْهِه - انْتِهَاكاً لِحَرِيمِه ونَقْضاً لِمِيثَاقِه الَّذِي وَضَعَه اللَّه لَكُمْ - حَرَماً فِي أَرْضِه وأَمْناً بَيْنَ خَلْقِه - وإِنَّكُمْ إِنْ لَجَأْتُمْ إِلَى غَيْرِه حَارَبَكُمْ أَهْلُ الْكُفْرِ - ثُمَّ لَا جَبْرَائِيلُ ولَا مِيكَائِيلُ - ولَا مُهَاجِرُونَ ولَا أَنْصَارٌ يَنْصُرُونَكُمْ - إِلَّا الْمُقَارَعَةَ بِالسَّيْفِ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّه بَيْنَكُمْ.

وإِنَّ عِنْدَكُمُ الأَمْثَالَ مِنْ بَأْسِ اللَّه وقَوَارِعِه - وأَيَّامِه ووَقَائِعِه - فَلَا تَسْتَبْطِئُوا وَعِيدَه جَهْلًا بِأَخْذِه - وتَهَاوُناً بِبَطْشِه ويَأْساً مِنْ بَأْسِه - فَإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه لَمْ يَلْعَنِ الْقَرْنَ الْمَاضِيَ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ -

ہوگئے ہو۔تمہارا اسلام سے رابطہ صرف نام کارہ گیا ہے اورتم ایمان میں سے صرف علامتوں کو پہچانتے ہو اور روح مذہب سے بالکل بے خبر ہو۔

تمہارا کہنا ہے کہ آگ برداشت کرلیں گے مگر ذلت نہیں برداشت کریں گے ۔گویا کہ اسلام کے حدود کو توڑ کر اور اس کے اس عہدو پیمان کو پارہ پارہ کرکے جسے اللہ نے زمین میں پناہ اور مخلوقات میں امن قرار دیا ہے۔اسلام کو الٹ دینا چاہتے ہو۔حالانکہ اگرتم نے اسلام کے علاوہ کسی اور طرف رخ بھی کیا تو اہل کفر تم سے باقاعدہ جنگ کریں گے اور اس وقت نہ جبرئیل آئیں گے نہ میکائیل ۔نہ مہاجر تمہاری امداد کریں گے اورنہانصار۔صرف تلواریں کھڑ کھڑاتی رہیں گی یہاں تک کہ پروردگار اپنا آخری فیصلہ نافذ کردے۔

تمہارے پاس توخدائی عتاب وعذاب اور حوادث و ہلاکت کے نمونے موجود ہیں لہٰذا خبردار اس کی گرفت سے غافل ہوکر اسے دور نہ سمجھو اور اس کے حملہ کوآسان سمجھ کر اور اس کی سختی سے غافل ہوکر اپنے کو مطمئن نہ بنالو۔

دیکھو پروردگارنے تم سے پہلے گزر جانے والی قوموں(۱) پرصرف اسی لئے لعنت کی ہے کہ انہوں نے امر

(۱) یہ نکتہ ہر دور کے ئے قابل توجہ ہے کہ دین خدا میںلعنت کا استحقاق صرف جہالت اورب د عملی ہی سے نہیں پیداہوتا ہے بلکہ اکثر اوقات اس کے حقدار اہل علم اور دیندار حضرات بھی بن جاتے ہیں۔جب ان کے کردار میں انانیت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ دوسروں کی طرف سے یکسر غافل ہوجاتے ہیں۔نہ نیکیوں کاحکم دیتے ہیں اور نہ برائیوں سے روکتے ہیں۔دین خداکی بربادی کی طرف سے اس طرح آنکھیں بند کر لیتے ہیں جیسے کسی غریب کا سرمایہ لٹ رہا ہے اور ہم سے اس کا کوئی تعلق نہیں جب کہ دین اسلام ہر مسلمان کا سرمایہ حیات ہے اور اس کے تحفظ کی ذمہ داری ہر صاحب ایمان پر عائد ہوتی ہے۔


إِلَّا لِتَرْكِهِمُ الأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ والنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ - فَلَعَنَ اللَّه السُّفَهَاءَ لِرُكُوبِ الْمَعَاصِي والْحُلَمَاءَ لِتَرْكِ التَّنَاهِي!

أَلَا وقَدْ قَطَعْتُمْ قَيْدَ الإِسْلَامِ - وعَطَّلْتُمْ حُدُودَه وأَمَتُّمْ أَحْكَامَه - أَلَا وقَدْ أَمَرَنِيَ اللَّه - بِقِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ والنَّكْثِ والْفَسَادِ فِي الأَرْضِ، فَأَمَّا النَّاكِثُونَ فَقَدْ قَاتَلْتُ - وأَمَّا الْقَاسِطُونَ فَقَدْ جَاهَدْتُ - وأَمَّا الْمَارِقَةُ فَقَدْ دَوَّخْتُ - وأَمَّا شَيْطَانُ الرَّدْهَةِ فَقَدْ كُفِيتُه - بِصَعْقَةٍ سُمِعَتْ لَهَا وَجْبَةُ قَلْبِه ورَجَّةُ صَدْرِه - وبَقِيَتْ بَقِيَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْبَغْيِ - ولَئِنْ أَذِنَ اللَّه فِي الْكَرَّةِ عَلَيْهِمْ - لأُدِيلَنَّ مِنْهُمْ إِلَّا مَا يَتَشَذَّرُ فِي أَطْرَافِ الْبِلَادِ تَشَذُّراً!

فضل الوحي

أَنَا وَضَعْتُ فِي الصِّغَرِ بِكَلَاكِلِ الْعَرَبِ - وكَسَرْتُ نَوَاجِمَ قُرُونِ رَبِيعَةَ ومُضَرَ - وقَدْ عَلِمْتُمْ مَوْضِعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بِالْقَرَابَةِ الْقَرِيبَةِ والْمَنْزِلَةِ الْخَصِيصَةِ - وَضَعَنِي فِي حِجْرِه وأَنَا وَلَدٌ يَضُمُّنِي إِلَى صَدْرِه -

بالمعروف اورنہی عن المنکر کو ترک کردیا تھا جس کے نتیجہ میں جہلاء پرمعاصی کے ارتکاب کی بناپ ر لعنت ہوئی اوردانش مندوں پرانہیں نہ منع کرنے کی بنا پر ۔

آگاہ ہو جائو کہ تم نے اسلام کی پابندیوں کو توڑ دیا ہے ۔اس کے حدود کو معطل کردیا ہے اوراس کے احکام کو مردہ بنادیا ہے۔اور پروردگارنے مجھے حکم دیا ہے کہ میں بغاوت کرنے والے ' عہد شکن اورمفسدین سے جہاد کروں۔عہدو پیمان توڑنے والوں سے جہاد کر چکانافرمانوں سے مقابلہ کر چکا اور بے دین خوارج کو مکمل طریقہ سے ذلیل کرچکا۔رہ گیا گڑھے میں گرنے والا شیطان تو اس کا مسئلہ اس چنگھاڑ سے حل ہوگیا جس کے دل کی دھڑکن اور سینہ کی تھڑ تھڑاہٹ کی آواز میرے کانوں تک پہنچ رہی تھی۔اب صرف باغیوں میں تھوڑے سے افراد باقی رہ گئے ہیں کہ اگر پروردگار ان پرحملہ کرنے کی اجازت دید ے تو انہیں بھی تباہ کرکے حکومت کا رخ دوسری طرف موڑ دوں گا اور پھروہی لوگ باقی رہ جائیں گے جو مختلف شہروں میں بکھرے پڑے ہیں۔

(مجھے پہچانو) میں نے کمسنی ہی میں عرب کے سینوں کو زمین سے ملا دیا تھا اور ربیعہ و مضر کی سینگوں کو توڑ دیا تھا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اکرم (ص) سے مجھے کس قدر قریبی قرابت اور مخصوص منزلت حاصل ہے۔انہوں نے بچپنے سے مجھے اپنی گود میں اس طرح جگہ دی ہے کہ مجھے اپنے سینے سے لگائے رکھتے تھے۔اپنے بستر پر جگہ دیتے تھے ۔اپنے کلیجہ سے لگا کر رکھتے تھے اور مجھے مسلسل اپنی


ويَكْنُفُنِي فِي فِرَاشِه ويُمِسُّنِي جَسَدَه - ويُشِمُّنِي عَرْفَه - وكَانَ يَمْضَغُ الشَّيْءَ ثُمَّ يُلْقِمُنِيه - ومَا وَجَدَ لِي كَذْبَةً فِي قَوْلٍ ولَا خَطْلَةً فِي فِعْلٍ - ولَقَدْ قَرَنَ اللَّه بِهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - مِنْ لَدُنْ أَنْ كَانَ فَطِيماً أَعْظَمَ مَلَكٍ مِنْ مَلَائِكَتِه - يَسْلُكُ بِه طَرِيقَ الْمَكَارِمِ - ومَحَاسِنَ أَخْلَاقِ الْعَالَمِ لَيْلَه ونَهَارَه - ولَقَدْ كُنْتُ أَتَّبِعُه اتِّبَاعَ الْفَصِيلِ أَثَرَ أُمِّه - يَرْفَعُ لِي فِي كُلِّ يَوْمٍ مِنْ أَخْلَاقِه عَلَماً - ويَأْمُرُنِي بِالِاقْتِدَاءِ بِه - ولَقَدْ كَانَ يُجَاوِرُ فِي كُلِّ سَنَةٍ بِحِرَاءَ - فَأَرَاه ولَا يَرَاه غَيْرِي - ولَمْ يَجْمَعْ بَيْتٌ وَاحِدٌ يَوْمَئِذٍ فِي الإِسْلَامِ - غَيْرَ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وخَدِيجَةَ وأَنَا ثَالِثُهُمَا - أَرَى نُورَ الْوَحْيِ والرِّسَالَةِ وأَشُمُّ رِيحَ النُّبُوَّةِ.

ولَقَدْ سَمِعْتُ رَنَّةَ الشَّيْطَانِ حِينَ نَزَلَ الْوَحْيُ عَلَيْهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّه مَا هَذِه الرَّنَّةُ - فَقَالَ هَذَا الشَّيْطَانُ قَدْ أَيِسَ مِنْ عِبَادَتِه - إِنَّكَ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ وتَرَى مَا أَرَى - إِلَّا أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ ولَكِنَّكَ لَوَزِيرٌ -

خوشبو سے سر فراز فرمایا کرتے تھے اورغذاکو اپنے دانتوں سے چبا کرمجھے کھلاتے تھے۔نہ انہوںنے میرے کسی بیان میں جھوٹ پایا اورنہ میرے کسی عمل میں غلطی دیکھی۔

اور اللہ نے دودھ بڑھائی کے دور ہی سے ان کے ساتھ ایک عظیم ترین ملک کو کردیا تھا جو ان کے ساتھ بزرگیوں کے راست اور بہترین اخلاق کے طور طریقہ پر چلتا رہتا تھا اورشب و روز یہی سلسلہ رہا کرتا تھا۔اور میں بھی ان کے ساتھ اسی طرح چلتا تھا جس طرح بچہ ناقہ اپنی ماں کے ہمراہ چلتا ہے۔وہ روزانہ میرے سامنے اپنے اخلاق کا ایک نشانہ پیش کرتے تھے اور پھر مجھے اس کی اقتداء کرنے کا حکم دیا کرتے تھے ۔

وہ سال میں ایک زمانہ غار حرا میں گزارا کرتے تھے جہاں صرف میں انہیں دیکھتا تھا اور کوئی دوسرا نہ ہوتا تھا۔اس وقت رسول اکرم (ص) اورخدیجہ کے علاوہ کسی گھر میں اسلام کا گزرنہ ہوا تھا اور ان میں کا تیسرا میں تھا۔میں نور وحی رسالت کامشاہدہ کیا کرتا تھا اورخوشبوئے رسالت سے دماغ کومعطر رکھتا تھا۔

میں نے نزول وحی کے وقت شیطان کی چیخ کی آوازسنی تھی اورعرض کی تھی یارسول اللہ ! یہ چیخ کیسی ہے ؟ تو فرمایا کہ یہ شیطان ہے جو آج اپنی عبادت سے مایوس ہوگیا ہے۔تم وہ سب دیکھ رہے ہو جومیں دیکھ رہا ہوں اور وہ سب سن رہے ہو جو میں سن رہا ہوں۔صرف فرق یہ ہے کہ تم نبی نہیں ہو۔لیکن تم میرے وزیر بھی ہواورمنزل خیر پر بھی ہو۔


وإِنَّكَ لَعَلَى خَيْرٍ ولَقَدْ كُنْتُ مَعَهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لَمَّا أَتَاه الْمَلأُ مِنْ قُرَيْشٍ - فَقَالُوا لَه يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ قَدِ ادَّعَيْتَ عَظِيماً - لَمْ يَدَّعِه آبَاؤُكَ ولَا أَحَدٌ مِنْ بَيْتِكَ - ونَحْنُ نَسْأَلُكَ أَمْراً إِنْ أَنْتَ أَجَبْتَنَا إِلَيْه وأَرَيْتَنَاه - عَلِمْنَا أَنَّكَ نَبِيٌّ ورَسُولٌ - وإِنْ لَمْ تَفْعَلْ عَلِمْنَا أَنَّكَ سَاحِرٌ كَذَّابٌ - فَقَالَصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ومَا تَسْأَلُونَ قَالُوا - تَدْعُو لَنَا هَذِه الشَّجَرَةَ حَتَّى تَنْقَلِعَ بِعُرُوقِهَا - وتَقِفَ بَيْنَ يَدَيْكَ فَقَالَصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم -( إِنَّ الله عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ) - فَإِنْ فَعَلَ اللَّه لَكُمْ ذَلِكَ أَتُؤْمِنُونَ وتَشْهَدُونَ بِالْحَقِّ - قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي سَأُرِيكُمْ مَا تَطْلُبُونَ - وإِنِّي لأَعْلَمُ أَنَّكُمْ لَا تَفِيئُونَ إِلَى خَيْرٍ - وإِنَّ فِيكُمْ مَنْ يُطْرَحُ فِي الْقَلِيبِ ومَنْ يُحَزِّبُ الأَحْزَابَ - ثُمَّ قَالَصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم يَا أَيَّتُهَا الشَّجَرَةُ - إِنْ كُنْتِ تُؤْمِنِينَ بِاللَّه والْيَوْمِ الآخِرِ - وتَعْلَمِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّه فَانْقَلِعِي بِعُرُوقِكِ - حَتَّى تَقِفِي بَيْنَ يَدَيَّ بِإِذْنِ اللَّه - فَوَالَّذِي بَعَثَه بِالْحَقِّ لَانْقَلَعَتْ بِعُرُوقِهَا - وجَاءَتْ ولَهَا دَوِيٌّ شَدِيدٌ - وقَصْفٌ

میں اس وقت بھی حضرت کے ساتھ تھا جب قریش کے سرداروں نے آکر کہا تھا کہ محمد (ص) ! تم نے بہت بڑی بات کا دعویٰ کیا ہے جو تمہارے گھر والوں میں کسی نے نہیں کیا تھا۔اب ہم تم سے ایک بات کا سوال کر رہے ہیں۔اگر تم نے صحیح جواب دے دیا اورہمیں ہمارے مدعا کو دکھلا دیا توہم سمجھ لیں گے کہ تم نبی خدا اور رسول خدا ہو ورنہ اگر ایسا نہ کر سکے تو ہمیں یقین ہو جائے گا کہ تم جادو گر اور جھوٹے ہو۔تو آپ نے فرمایا تھا۔کہ تمہارا سوال کیا ہے ؟ ان لوگوں نے کہا کہ آپ اس درخت کو دعوت دیں کہ وہ جڑ سے اکھڑ کرآجائے اور آپ کے سامنے کھڑا ہو جائے ؟ آ پ نے فرمایا کہ پروردگار ہر شے پر قادر ہے۔اگر اس نے ایسا کردیا تو کیا تم لوگ ایمان لے آئوگے ؟ اورحق کی گواہی دے دوگے ! ان لوگوں نے کہا ۔ بیشک آپ نے فرمایا کہ میں عنقریب یہ منظر دکھلا دوں گا لیکن مجھے معلوم ہے کہ تم کبھی خیر کی طرف پلٹ کرآنے والے نہیں ہو۔تم میں وہ شخص بھی موجود ہے جو کنویں میں پھینکا جائے گا اور وہ بھی ہے جو احزاب قائم کرے گا۔یہ کہہ کر آپ نے درخت کوآوازدی کہ اگر تیرا ایمان الہ اور روز آخرت پر ہے اور تجھے یقین ہے کہمیں اللہ کا رسول ہوں تو جڑ سے اکھڑ کر میرے سامنے آجا اور اذن خدا سے کھڑا ہو جا۔قسم ہے اس ذات کی جس نے انہیں حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے کہ درخت جڑ سے اکھڑ گیا اور اس عالم میں حضورکے سامنے آگیا کہ اس میں سخت کھڑ کھڑاہٹ تھی اور پرندوں کے پروں کی آوازوں جیسی


كَقَصْفِ أَجْنِحَةِ الطَّيْرِ - حَتَّى وَقَفَتْ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مُرَفْرِفَةً - وأَلْقَتْ بِغُصْنِهَا الأَعْلَى عَلَى رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - وبِبَعْضِ أَغْصَانِهَا عَلَى مَنْكِبِي وكُنْتُ عَنْ يَمِينِهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - فَلَمَّا نَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى ذَلِكَ قَالُوا عُلُوّاً واسْتِكْبَاراً - فَمُرْهَا فَلْيَأْتِكَ نِصْفُهَا ويَبْقَى نِصْفُهَا - فَأَمَرَهَا بِذَلِكَ فَأَقْبَلَ إِلَيْه نِصْفُهَا - كَأَعْجَبِ إِقْبَالٍ وأَشَدِّه دَوِيّاً - فَكَادَتْ تَلْتَفُّ بِرَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - فَقَالُوا كُفْراً وعُتُوّاً فَمُرْ هَذَا النِّصْفَ - فَلْيَرْجِعْ إِلَى نِصْفِه كَمَا كَانَ - فَأَمَرَهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فَرَجَعَ - فَقُلْتُ أَنَا لَا إِلَه إِلَّا اللَّه إِنِّي أَوَّلُ مُؤْمِنٍ بِكَ يَا رَسُولَ اللَّه - وأَوَّلُ مَنْ أَقَرَّ بِأَنَّ الشَّجَرَةَ فَعَلَتْ مَا فَعَلَتْ بِأَمْرِ اللَّه تَعَالَى - تَصْدِيقاً بِنُبُوَّتِكَ وإِجْلَالًا لِكَلِمَتِكَ - فَقَالَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ بَلْ( ساحِرٌ كَذَّابٌ ) - عَجِيبُ السِّحْرِ خَفِيفٌ فِيه - وهَلْ يُصَدِّقُكَ فِي أَمْرِكَ إِلَّا -

پھڑپھڑاہٹ بھی تھی۔اس نے ایک شاخ سرکار کے سر پر سایہ فگن کردی اور ایک میرے کاندھے پر۔جب کہ میں آپ کے داہنے پہلو میں تھا۔

ان لوگوں نے جیسے ہی یہ منظردیکھا نہایت درجہ سر کشی اور غرور کے ساتھ کہنے لگے کہ اچھا اب حکم دیجئے کہ آدھا حصہ آپ کے پاس آجائے اورآدھا رک جائے۔آپ نے یہ بھی کردیا اورآدھا حصہ نہایت درجہ حیرت کے ساتھ اور سخت ترین کھڑکھڑاہٹ کے ساتھ آگیا اور آپ کا حصار کرلیا۔ان لوگوں نے پھر بر بنائے کفو سر کشی یہ مطالبہ کیا کہ اچھا اب اس سے کئے کہ واپس جا کر دوسرے نصف حصہ سے مل جائے۔آپ نے یہ بھی کرکے دکھلا دیا تو میں نے آوازدی کہ میں توحید الٰہی کا پہلا اقرار کرنے والا اور اس حقیقت کا پہلا اعتراف کرنے والا ہوں کہ درخت نے امر الٰہی سے آپ کی نبوت کی تصدیق اور آپ کے کلام کی بلندی کے لے آپ کے حکم کی مکمل اطاعت کردی۔

لیکن ساری قوم نے آپ کو جھوٹا اور جادوگر قراردے دیاکہ ان کا جادو عجیب بھی ہے اورباریک بھی ے اورایسی باتوں کی تصدیق ایسے ہی افراد(۱) کرسکتے ہیں ہم

(۱) اگرچہ کفار مشرکین نے یہ بات بطور تمسخر و استہزاء کہی تھی لیکن حقیقت امر یہ ہے کہ ایسے حقائق کا اقرار ایسے ہی افراد کر سکتے ہیں اور ایمان کی دولت سے سر فراز ہونا ہر ایک کے بسکی بات نہیں ہے۔اس دولت سے محروم آج کے وہ دانشور بھی ہیں جن کی سمجھ میں معجزہ ہی نہیں آتا ہے اور وہ ہر معجزہ کو خلاف قانون طبعت قراردے کر ٹھکرا دیتے ہیں اور ان کا خیال یہ ہے کہ قانون صاحب قانون پر بھی حکومت کر رہا ہے اور صاحب قانون کوبھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی بندہ کے منصب کی تصدیق کے لئے اپنے قانون میں تبدیلی کردئیے جب کہ اس کی ہزاروں مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔اور وہ جہلا ء اور متعصب افراد بھی ہیں جن کی سمجھ میں شق القمر اور رد شمس جیسا روشن معجزہ نہیں آتا ہے تو قرآن مجید کی باریکیوں اوردیگر کرامات کی نزاکتوں کو کیا سمجھیں گے اور کس طرح ایمان لا سکیں گے۔


مِثْلُ هَذَا يَعْنُونَنِي

وإِنِّي لَمِنْ قَوْمٍ لَا تَأْخُذُهُمْ فِي اللَّه لَوْمَةُ لَائِمٍ - سِيمَاهُمْ سِيمَا الصِّدِّيقِينَ وكَلَامُهُمْ كَلَامُ الأَبْرَارِ - عُمَّارُ اللَّيْلِ ومَنَارُ النَّهَارِ - مُتَمَسِّكُونَ بِحَبْلِ الْقُرْآنِ يُحْيُونَ سُنَنَ اللَّه وسُنَنَ رَسُولِه - لَا يَسْتَكْبِرُونَ ولَا يَعْلُونَ ولَا يَغُلُّونَ ولَا يُفْسِدُونَ - قُلُوبُهُمْ فِي الْجِنَانِ وأَجْسَادُهُمْ فِي الْعَمَلِ!

(۱۹۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يصف فيها المتقين

رُوِيَ أَنَّ صَاحِباً لأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَعليه‌السلام يُقَالُ لَه هَمَّامٌ - كَانَ رَجُلًا عَابِداً فَقَالَ لَه يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - صِفْ لِيَ الْمُتَّقِينَ حَتَّى كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ - فَتَثَاقَلَعليه‌السلام عَنْ جَوَابِه - ثُمَّ قَالَ يَا هَمَّامُ اتَّقِ اللَّه وأَحْسِنْ - فَ( إِنَّ الله مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا والَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ ) - فَلَمْ يَقْنَعْ هَمَّامٌ بِهَذَا الْقَوْلِ حَتَّى عَزَمَ عَلَيْه - فَحَمِدَ اللَّه وأَثْنَى عَلَيْه وصَلَّى عَلَى النَّبِيِّصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم -

ثُمَّ قَالَعليه‌السلام :

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه وتَعَالَى خَلَقَ الْخَلْقَ حِينَ خَلَقَهُمْ - غَنِيّاً عَنْ طَاعَتِهِمْ آمِناً مِنْ مَعْصِيَتِهِمْ - لأَنَّه لَا تَضُرُّه مَعْصِيَةُ مَنْ عَصَاه

لوگ نہیں کر سکتے ہیں۔لیکن میں بہر حال اس قوم میں شمار ہوتا ہوں جنہیں خدا کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں ہوتی ہے۔جن کی نشانیاں صدیقین جیسی ہیں اور جنکا کلام نیک کردار افراد جیسا۔یہ راتوں کو آباد رکھنے والے اور دونوں کے منارے ہیں۔قرآن کی رسی سے متمسک ہیں اور خدا اور رسول کی سنت کو زندہ رکھنے والے ہیں۔ان کے یہاں نہ غرور ہے اور نہ سر کشی ' نہ خیانت ہے اور نہ فساد۔ان کے دل جنت میں لگے ہوئے ہیں اور ان کے جسم عمل میں مصروف ہیں۔

(۱۹۳)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

( جس میں صاحبان تقویٰ کی تعریف کی گئی ہے)

کہا جاتا ہے کہ امیر المومنین کے کے ایک عابد و زاہد صحابی جن کا نام ہمام تھا ایک دن حضرت سے عرض کرنے لگے کہ حضور مجھ سے متقین کے صفات کچھ اس طرح بیان فرمائیں کہ گویا میں ان کو دیکھ رہا ہوں۔آپ نے جواب سے گریز کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمام اللہ سے ڈرو اورنیک عمل کرو کہ اللہ تقویٰ اور جس عمل والوں کودوست رکھتا ہے۔ ہمام اس مختصر بیان سے مطمئن نہ ہئے تو حضرت نے حمدوثنائے پروردگار اور صلوات و سلام کے بعد ارشاد فرمایا:امابعد! پروردگار نے تمام مخلوقات کواس عالم میں پیدا کیا ہے کہ وہ ان کی اطاعت سے مستغنی اور ان کی نا فرمانی سے محفوظ تھا ۔نہ اسے کسی نا فرمان کی معصیت


ولَا تَنْفَعُه طَاعَةُ مَنْ أَطَاعَه فَقَسَمَ بَيْنَهُمْ مَعَايِشَهُمْ - ووَضَعَهُمْ مِنَ الدُّنْيَا مَوَاضِعَهُمْ - فَالْمُتَّقُونَ فِيهَا هُمْ أَهْلُ الْفَضَائِلِ - مَنْطِقُهُمُ الصَّوَابُ ومَلْبَسُهُمُ الِاقْتِصَادُ ومَشْيُهُمُ التَّوَاضُعُ - غَضُّوا أَبْصَارَهُمْ عَمَّا حَرَّمَ اللَّه عَلَيْهِمْ - ووَقَفُوا أَسْمَاعَهُمْ عَلَى الْعِلْمِ النَّافِعِ لَهُمْ - نُزِّلَتْ أَنْفُسُهُمْ مِنْهُمْ فِي الْبَلَاءِ - كَالَّتِي نُزِّلَتْ فِي الرَّخَاءِ - ولَوْ لَا الأَجَلُ الَّذِي كَتَبَ اللَّه عَلَيْهِمْ - لَمْ تَسْتَقِرَّ أَرْوَاحُهُمْ فِي أَجْسَادِهِمْ طَرْفَةَ عَيْنٍ - شَوْقاً إِلَى الثَّوَابِ وخَوْفاً مِنَ الْعِقَابِ - عَظُمَ الْخَالِقُ فِي أَنْفُسِهِمْ فَصَغُرَ مَا دُونَه فِي أَعْيُنِهِمْ - فَهُمْ والْجَنَّةُ كَمَنْ قَدْ رَآهَا فَهُمْ فِيهَا مُنَعَّمُونَ - وهُمْ والنَّارُ كَمَنْ قَدْ رَآهَا فَهُمْ فِيهَا مُعَذَّبُونَ - قُلُوبُهُمْ مَحْزُونَةٌ وشُرُورُهُمْ مَأْمُونَةٌ - وأَجْسَادُهُمْ نَحِيفَةٌ وحَاجَاتُهُمْ خَفِيفَةٌ وأَنْفُسُهُمْ عَفِيفَةٌ - صَبَرُوا أَيَّاماً قَصِيرَةً أَعْقَبَتْهُمْ رَاحَةً طَوِيلَةً - تِجَارَةٌ مُرْبِحَةٌ يَسَّرَهَا لَهُمْ رَبُّهُمْ

نقصان پہنچاسکتی تھی اور نہ کسی اطاعت گزار کی اطاعت فائدہ دے سکتی تھی۔

اس نے سب کی معیشت کو تقسیم کردیا۔اور سب کی دنیا میں ایک منزل قرار دے دی۔اس دنیا میں متقی افراد وہ ہیں جو صاحبان فضائل و کمالات ہوتے ہیں کہ ان کی گفتگو حق و صواب ' ان کا لباس معتدل ' ان کی رفتار متواضع ہوتی ہے۔جن چیزوں کو پروردگارنے حرام قرار دے دیا ہے ان سے نظروں کو نیچا رکھتے ہیں اور اپنے کانوں کو ان علوم کے لئے وقف رکھتے ہیں جوف ائدہ پہنچانے والے ہیں ان کے نفسو بلاء و آزمائش میں ایسے ہی رہتے ہیں جیسے راحت وآرام میں۔اگر پروردگار نے ہر شخص کی حیات کی مدت مقرر نہ کردی ہوتی تو ان کی روحید ان کے جسم میں پلک جھپکنے کے برابر بھی ٹھہر نہیں سکتی تھی کہانہیں ثواب کا شوق ہے اور عذاب کاخوف ۔خالق ان کی نگاہ میں اس قدر عظیم ہے کہ ساری دنیا نگاہوں سے گر گئی ہے۔جنت ان کی نگاہ کے سامنے اس طرح ہے جیسے اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں اورجہنم کو اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے اس کے عذاب کو محسوس کر رہے ہوں۔ان کے دل نیکیوں کیخزانے ہیں اور ان سے شرکا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ان کے جسم نحیف اور لاغر ہیں اور ان کے ضروریات نہایت درجہ مختصر اور ان کے نفوس بھی طیب و طاہر ہیں۔انہوں نے دنیامیں چند دن تکلیف اٹھا کر ابدی راحت کا انتظام کرلیا ہے اور ایسی فائدہ بخش تجارت کی ہے جس کا انتظام ان کے پروردگار نے کردیا تھا


أَرَادَتْهُمُ الدُّنْيَا فَلَمْ يُرِيدُوهَا - وأَسَرَتْهُمْ فَفَدَوْا أَنْفُسَهُمْ مِنْهَا - أَمَّا اللَّيْلَ فَصَافُّونَ أَقْدَامَهُمْ - تَالِينَ لأَجْزَاءِ الْقُرْآنِ يُرَتِّلُونَهَا تَرْتِيلًا - يُحَزِّنُونَ بِه أَنْفُسَهُمْ ويَسْتَثِيرُونَ بِه دَوَاءَ دَائِهِمْ - فَإِذَا مَرُّوا بِآيَةٍ فِيهَا تَشْوِيقٌ رَكَنُوا إِلَيْهَا طَمَعاً - وتَطَلَّعَتْ نُفُوسُهُمْ إِلَيْهَا شَوْقاً وظَنُّوا أَنَّهَا نُصْبَ أَعْيُنِهِمْ - وإِذَا مَرُّوا بِآيَةٍ فِيهَا تَخْوِيفٌ - أَصْغَوْا إِلَيْهَا مَسَامِعَ قُلُوبِهِمْ - وظَنُّوا أَنَّ زَفِيرَ جَهَنَّمَ وشَهِيقَهَا فِي أُصُولِ آذَانِهِمْ - فَهُمْ حَانُونَ عَلَى أَوْسَاطِهِمْ - مُفْتَرِشُونَ لِجِبَاهِهِمْ وأَكُفِّهِمْ ورُكَبِهِمْ وأَطْرَافِ أَقْدَامِهِمْ - يَطْلُبُونَ إِلَى اللَّه تَعَالَى فِي فَكَاكِ رِقَابِهِمْ -

وأَمَّا النَّهَارَ فَحُلَمَاءُ عُلَمَاءُ أَبْرَارٌ أَتْقِيَاءُ - قَدْ بَرَاهُمُ الْخَوْفُ بَرْيَ الْقِدَاحِ - يَنْظُرُ إِلَيْهِمُ النَّاظِرُ فَيَحْسَبُهُمْ مَرْضَى - ومَا بِالْقَوْمِ مِنْ مَرَضٍ ويَقُولُ لَقَدْ خُولِطُوا! ولَقَدْ خَالَطَهُمْ أَمْرٌ عَظِيمٌ -

دنیا نے انہیں بہت چاہا لیکن انہوں نے اسے نہیں چاہا اور اس نے انہیں بہت گرفتارکرنا چاہا لیکن انہوں نے فدیہ دے کر اپنے کوچھڑا لیا۔

راتوں کے وقت مصلیٰ پرکھڑے رہتے ہیں خوش الحانی کے ساتھ تلاوت(۱) قرآن کرتے رہتے ہیں۔اپنے نفس کومحزون رکھتے ہیں اور اسی طرح سے گزرتے ہیں تو دل کے کانوں کو اس کی طرف یوں مصروف کردیتے ہیں جیسے جہنم کے شعلوں کی آواز اور وہاں کی چیخ پکار مسلسل ان کے کانوں تک پہنچ رہی ہو۔یہ رکوع میں کمرخمیدہ اور سجدہ میں پیشانی ،ہتھیلی ، انگوٹھوں اور گھٹنوں کو فرش خاک کئے رہتے ہیں۔

پروردگار سے ایک ہی سوال کرتے ہیں کہ ان کی گردنوں کو آتش جہنم سے آزاد کردے۔

اس کے بعد دن کے وقت یہ علماء اور دانش مند نیک کردار اور پرہیز گار ہوتے ہیں جیسے انہیں تیر انداز کے تیر کی طرح خوف خدا نے تراشا ہو۔دیکھنے والا انہیں دیکھ کر بیمار تصور کرتا ہے حالانکہ یہ بیمارنہیں ہیں اور ان کی باتوں کو سن کر کہتا ہے کہ ان کی عقلوں میں فتور ہے حالانکہ ایسا بھی نہیں ہے۔بات صرف یہ ہے کہ انہیں ایک بہت بڑی بات نے مد ہوش بنا رکھا ہے

(۱)یوں تو تلاوت قرآن کا سلسلہ گھروں سے لے کرمسجدوں تک اورگلدستہ اذان سے لے کر ٹووی اسٹیشن تک ہر جگہ حاوی ہے اور حسن قرأت کے مقابلوں میں '' اللہ اللہ '' کی آوازبھی سنائی دیتی ہے لیکن کہاں ہیں وہ تلاوت کرنے والے جن کی شان مولائے کائنات نے بیان کی ہے کہ ہر آیت ان کے کردار کا ایک حصہ بن جائے اور ہر فقرہ درد زندگی کے ایک علاج کی حیثیت پیدا کرلے۔آیت نعمت پڑھیں تو جنت کا نقشہ نگاہوں میں کھینچ جائے اور تمنائے موت میں بے قرار ہو جائیں اور آیت غضب کی تلاوت کریں تو جہنم کے شعلوں کی آواز کانوں میں گونجنے لگے اورسارا وجود تھرتھرا جائے۔ در حقیقت یہ امیرالمومنین ہی کی زندگی کا نقشہ ہے جسے حضرت نے متقین کے نام سے بیان کیا ہے ورنہ دیدہتاریخ ایسے متقین کی زیارت کے لئے سراپا اشتیاق ہے۔


لَا يَرْضَوْنَ مِنْ أَعْمَالِهِمُ الْقَلِيلَ - ولَا يَسْتَكْثِرُونَ الْكَثِيرَ - فَهُمْ لأَنْفُسِهِمْ مُتَّهِمُونَ ومِنْ أَعْمَالِهِمْ مُشْفِقُونَ - إِذَا زُكِّيَ أَحَدٌ مِنْهُمْ خَافَ مِمَّا يُقَالُ لَه فَيَقُولُ - أَنَا أَعْلَمُ بِنَفْسِي مِنْ غَيْرِي ورَبِّي أَعْلَمُ بِي مِنِّي بِنَفْسِي

اللَّهُمَّ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا يَقُولُونَ - واجْعَلْنِي أَفْضَلَ مِمَّا يَظُنُّونَ واغْفِرْ لِي مَا لَا يَعْلَمُونَ.

فَمِنْ عَلَامَةِ أَحَدِهِمْ أَنَّكَ تَرَى لَه قُوَّةً فِي دِينٍ - وحَزْماً فِي لِينٍ وإِيمَاناً فِي يَقِينٍ وحِرْصاً فِي عِلْمٍ - وعِلْماً فِي حِلْمٍ وقَصْداً فِي غِنًى وخُشُوعاً فِي عِبَادَةٍ - وتَجَمُّلًا فِي فَاقَةٍ وصَبْراً فِي شِدَّةٍ وطَلَباً فِي حَلَالٍ - ونَشَاطاً فِي هُدًى وتَحَرُّجاً عَنْ طَمَعٍ - يَعْمَلُ الأَعْمَالَ الصَّالِحَةَ وهُوَ عَلَى وَجَلٍ - يُمْسِي وهَمُّه الشُّكْرُ ويُصْبِحُ وهَمُّه الذِّكْرُ - يَبِيتُ حَذِراً ويُصْبِحُ فَرِحاً - حَذِراً لِمَا حُذِّرَ مِنَ الْغَفْلَةِ - وفَرِحاً بِمَا أَصَابَ مِنَ الْفَضْلِ والرَّحْمَةِ - إِنِ اسْتَصْعَبَتْ عَلَيْه نَفْسُه فِيمَا تَكْرَه - لَمْ يُعْطِهَا سُؤْلَهَا فِيمَا تُحِبُّ - قُرَّةُ عَيْنِه فِيمَا لَا يَزُولُ

کہ یہ نہ قلیل عمل سے راضی ہوتے ہیں اور نہ کثیر عمل کو کثیر سمجھتے ہیں ۔ ہمیشہ اپنے نفس ہی کو متہم کرتے رہتے ہیں اور اپنے اعمال ہی سے خوف زدہ رہتے ہیں جب ان کی تعریف کی جاتی ہے تواس سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں خود اپنے نفس کو دوسروں سے بہتر پہنچانتا ہوں اور میرا پروردگار تو مجھ سے بھی بہتر جانتا ہے ۔ خدایا! مجھ سے ان کے اقوال کا محاسبہ نہ کرنا اور مجھے ان کے حسن ظن سے بھی بہتر قرار دے دینا اور پھر ان گناہوں کو معاف بھی کردینا جنہیں یہ سب نہیں جانتے ہیں۔ ان کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ ان کے پاس دین میں قوت ' نرمی میں شدت احتیاط، یقین میں ایمان ' علم کے بارے میں طمع ' حلم کی منزل میں علم ' مالداری میں میانہ روی ' عبادت میں خشوع قلب ' فاقہ میں خود داری ' سختیوں میں صبر ' حلال کی طلب ' ہدایت میں نشاط' لالچ سے پرہیز جیسی تمام باتیں پائی جاتی ہیں۔وہ نیک اعمال بھی انجام دیتے ہیں تو لرزتے ہوئے انجام دیتے ہیں۔شام کے وقت ان کی فکر شکر پروردگار ہوتی ہے اور صبح کے وقت ذکر الٰہی ۔ خوف زدہ عالم میں رات کرتے ہیں اور فرح و سرور میں صبح۔جس غفلت سے ڈرایا گیا ہے اس سے محتاط رہتے ہیں اور جس فضل و رحمت کا وعدہ کیا گیا ہے اس سے خوش رہتے ہیں۔اگر نفس ناگوار ام کے لئے سختی بھی کرے تواس کے مطالبہ کو پورا نہیں کرتے ہیں۔ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک لازوال نعمتوں میں ہے اور ان کا پرہیز فانی اشیاء کے بارے میں


وزَهَادَتُه فِيمَا لَا يَبْقَى - يَمْزُجُ الْحِلْمَ بِالْعِلْمِ والْقَوْلَ بِالْعَمَلِ - تَرَاه قَرِيباً أَمَلُه قَلِيلًا زَلَلُه خَاشِعاً قَلْبُه - قَانِعَةً نَفْسُه مَنْزُوراً أَكْلُه سَهْلًا أَمْرُه - حَرِيزاً دِينُه مَيِّتَةً شَهْوَتُه مَكْظُوماً غَيْظُه - الْخَيْرُ مِنْه مَأْمُولٌ والشَّرُّ مِنْه مَأْمُونٌ - إِنْ كَانَ فِي الْغَافِلِينَ كُتِبَ فِي الذَّاكِرِينَ - وإِنْ كَانَ فِي الذَّاكِرِينَ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ - يَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَه ويُعْطِي مَنْ حَرَمَه - ويَصِلُ مَنْ قَطَعَه بَعِيداً فُحْشُه - لَيِّناً قَوْلُه غَائِباً مُنْكَرُه حَاضِراً مَعْرُوفُه، مُقْبِلًا خَيْرُه مُدْبِراً شَرُّه - فِي الزَّلَازِلِ وَقُورٌ وفِي الْمَكَارِه صَبُورٌ - وفِي الرَّخَاءِ شَكُورٌ لَا يَحِيفُ عَلَى مَنْ يُبْغِضُ - ولَا يَأْثَمُ فِيمَنْ يُحِبُّ - يَعْتَرِفُ بِالْحَقِّ قَبْلَ أَنْ يُشْهَدَ عَلَيْه - لَا يُضِيعُ مَا اسْتُحْفِظَ ولَا يَنْسَى مَا ذُكِّرَ - ولَا يُنَابِزُ بِالأَلْقَابِ ولَا يُضَارُّ بِالْجَارِ -

ہے یہ حلم کو علم سے اورقول کو عمل سے ملائے ہوئے ہیں۔تم ہمیشہ ان کی امیدوں کومختصر ' دل کو خاشع ' نفس کو قانع ' کھانے کو معمولی ' معاملات کوآسان ' دین کو محفوظ ' خواہشات کو مردہ اور غصہ کو پیا ہوا دیکھو گے۔

ان سے ہمیشہ نیکیوں کی امید(۱) رہتی ہے اورانسان ان کے شر کی طرف سے محفوظ رہتا ہے۔یہ غافلوں میں نظر آئیں تو بھی یاد خدا کرنے والوں میں کہے جاتے ہیں اور یاد کرنے والوں میں نظر آئیں تو بھی غافلوں میں شمار نہیں ہوتے ہیں۔ظلم کرنے والے کو معاف کر دیتے ہیں۔مجروم رکھنے والے کو عطا کردیتے ہیں۔قطع رحم کرنے والوں سے تعلقات رکھتے ہیں۔لغویات سے دور۔نرم کلام منکرات غائب نیکیاں حاضر۔خیر آتا ہوا شیر جاتا ہوا۔زلزلوں میں باوقار۔دشواریوں میں صابر۔آسانیوں میں شکر گزار ۔دشمن پر ظلم نہیں کرتے ہیں چاہنے والوں کی خاطر گناہ نہیں کرتے ہیں۔گواہی طلب کئے جانے سے پہلے حق کا اتعراف کرتے ہیں۔امانتوں کو ضائع نہیں کرتے ہیں۔جو بات یاددلادی جائے اسے بھولتے نہیں ہیں اور القاب کے ذریعہ ایک دوسرے کو چڑھاتے نہیں ہیں اور ہمسایہ کونقصان نہیں

(۱)خدا گواہ ہے کہ ایک ایک لفظ آب زد سے لکھنے کے قابل ہے اور انسانی زنندگی میں انقلاب پیداکرنے کے لئے کافی ہے۔صاحبان تقویٰ کی واقعی شان یہی ہے کہ ان سے ہر خیر کی امید کی جائے اور ان کے بارے میں کسی شر کا تصور نہ کیا جائے۔وہ غافلوں کے درمیان بھی رہیں توذکرخدا میں مغشول رہیں اوربے ایمانوں کی بستی میں بھیآباد ہوں تو ایمان و کردار میں فرق نہآئے ۔نفس اتنا پاکیزہ ہو کہ ہر برائی کا جواب نیکی سے دیں اورہر غلطی کو معاف کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔گفتگو اعمال رفتار کردار ہر اعتبارسے طیب و طاہر ہوں اور کوئی ایک لمحہ بھی خوف خدا سے خالی نہ ہو۔

تلاش کیجئے آج کے دور کے صاحبان تقویٰ اور مدیعان پرہیز گاری کی بستی میں ۔کوئی ایک شخص بھی ایساجامع الصفات نظرآتا ہے اور کسی انسان کے کردارمیں بھی مولائے کائنات کے ارشاد کی جھلک نظر آتی ہے۔اور اگر ایسا نہیں ہے تو سمجھئے کہ ہم خیالات کی دنیا میں آباد ہیں اور ہمارا واقعیات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


ولَا يَشْمَتُ بِالْمَصَائِبِ ولَا يَدْخُلُ فِي الْبَاطِلِ - ولَا يَخْرُجُ مِنَ الْحَقِّ - إِنْ صَمَتَ لَمْ يَغُمَّه صَمْتُه وإِنْ ضَحِكَ لَمْ يَعْلُ صَوْتُه - وإِنْ بُغِيَ عَلَيْه صَبَرَ حَتَّى يَكُونَ اللَّه هُوَ الَّذِي يَنْتَقِمُ لَه - نَفْسُه مِنْه فِي عَنَاءٍ والنَّاسُ مِنْه فِي رَاحَةٍ - أَتْعَبَ نَفْسَه لِآخِرَتِه وأَرَاحَ النَّاسَ مِنْ نَفْسِه - بُعْدُه عَمَّنْ تَبَاعَدَ عَنْه زُهْدٌ ونَزَاهَةٌ - ودُنُوُّه مِمَّنْ دَنَا مِنْه لِينٌ ورَحْمَةٌ - لَيْسَ تَبَاعُدُه بِكِبْرٍ وعَظَمَةٍ ولَا دُنُوُّه بِمَكْرٍ وخَدِيعَةٍ.

قَالَ فَصَعِقَ هَمَّامٌ صَعْقَةً كَانَتْ نَفْسُه فِيهَا.

فَقَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَعليه‌السلام أَمَا واللَّه لَقَدْ كُنْتُ أَخَافُهَا عَلَيْه - ثُمَّ قَالَ أَهَكَذَا تَصْنَعُ الْمَوَاعِظُ الْبَالِغَةُ بِأَهْلِهَا؟

فَقَالَ لَه قَائِلٌ فَمَا بَالُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟

فَقَالَعليه‌السلام وَيْحَكَ إِنَّ لِكُلِّ أَجَلٍ وَقْتاً لَا يَعْدُوه - وسَبَباً لَا يَتَجَاوَزُه فَمَهْلًا لَا تَعُدْ لِمِثْلِهَا - فَإِنَّمَا نَفَثَ الشَّيْطَانُ عَلَى لِسَانِكَ!

پہنچاتے ہیں۔مصائب میں کسی کو طعنے نہیں دیتے ہیں۔ حرف باطل میں داخل نہیں ہوتے ہیں اور کلمہ حق سے باہر نہیں آتے ہیں۔یہ چپ رہیں تو ان کی خموشی ہم و غم کی بنا پر نہیں ہے اور یہ ہنستے ہیں توآواز بلند نہیں کرتے ہیں۔ان پر ظلم کیاجائے تو صبر کر لیتے ہیں تاکہخدا اس کا انتقام لے۔ان کا اپنا نفس ہمیشہ رنج میں رہتا ہے اور لوگ ان کی طرف سے ہمیشہ مطمئن رہتے ہیں۔انہوں نے اپنے نفس کوآخرت کے لئے تھکاڈالا ہے اورلوگ ان کے نفس کی طرف سے آزاد ہوگئے ہیں۔دور رہنے والوں سے ان کی دوری زہد اورپاکیزگی کی بنا پر ہے اور قریب رہنے والوں سے ان کی قربت نرمی اومرحمت کی بناپ ر ہے۔نہ دوری تکبر و برتری کا نتیجہ ہے اور نہ قربت مکرو فریب کا نتیجہ ۔

راوی کہتا ہے کہ یہ سن کر ہمام نے ایک چیخ ماری اوردنیاسے رخصت ہوگئے ۔

تو امیرالمومنین نے فرمایا کہ میں اسی وقت سے ڈر رہا تھا کہمیں جانتا تھا کہ صاحبان تقویٰ کے دلوں پر نصیحت کا اثر اسی طرح ہوا کرتا ہے۔یہ سننا تھا کہ ایک شخص بول پڑا کہ پھر آپ پر ایسا اثر کیوں ہیں ہوا۔

تو آپ نے فرمایا کہ خدا تیراب را کرے۔ہر اجل کے لئے ایک وقت عین ہے جس سے آگے بڑھنا نا ممکن ہے اور ہرشے کے لئے ایک سبب ہے جس سے تجاوز کرنا نا ممکن ہے۔خبردار اب ایسی گفتگو نہ کرنا۔یہ شیطان نے تیری زبان پر اپنا جادو پھونک دیا ہے۔


( ۱۹۴ )

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يصف فيها المنافقين

نَحْمَدُه عَلَى مَا وَفَّقَ لَه مِنَ الطَّاعَةِ - وذَادَ عَنْه مِنَ الْمَعْصِيَةِ ونَسْأَلُه لِمِنَّتِه تَمَاماً - وبِحَبْلِه اعْتِصَاماً - ونَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُه ورَسُولُه - خَاضَ إِلَى رِضْوَانِ اللَّه كُلَّ غَمْرَةٍ وتَجَرَّعَ فِيه كُلَّ غُصَّةٍ - وقَدْ تَلَوَّنَ لَه الأَدْنَوْنَ وتَأَلَّبَ عَلَيْه الأَقْصَوْنَ - وخَلَعَتْ إِلَيْه الْعَرَبُ أَعِنَّتَهَا - وضَرَبَتْ إِلَى مُحَارَبَتِه بُطُونَ رَوَاحِلِهَا - حَتَّى أَنْزَلَتْ بِسَاحَتِه عَدَاوَتَهَا مِنْ أَبْعَدِ الدَّارِ وأَسْحَقِ الْمَزَارِ.

أُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّه بِتَقْوَى اللَّه وأُحَذِّرُكُمْ أَهْلَ النِّفَاقِ - فَإِنَّهُمُ الضَّالُّونَ الْمُضِلُّونَ

(۱۹۴)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں منافقین کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں)

ہم اس پروردگار کا شکرادا کرتے ہیں کہ اس نے اطاعت کی توفیق عطا فرمائی اورمعصیت سے دور رکھا اور پھراس سے احسانات کے مکمل کرنے اوراس کی ریسمان ہدایت سے وابستہ رہنے کی ددعا بھی کرتے ہیں۔ اور اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ محمد (ص) اس کے بندہ ور رسول ہیں۔انہوںنے اسکی رضا کی خاطر ہر مصیبت میں اپنے کو ڈال دیا اور ہغصہ کے گھونٹ کو پی لیا۔قریب والوں نے ان کے سامنے رنگبدل دیا اور دور والوں نے ان پر لشکرکشی کردی۔عربوں نے اپنی زمام کا رخ ان کی طرف موڑ دیا اور اپنی سواریوں کو ان سے جنگ کرنے کے لئے مہمیز کردیا یہاں تک کہ اپنی عورتوں کو دور دراز علاقوں اور دور افتادہ سرحدوں سے لا کر ان کے صحن میں اتاردیا۔

بندگان خدا! میں تمہیں تقویٰ الٰہی کی وصیت کرتا ہوں اورتمہیں منافقین سے ہوشیار کر رہاہوں کہ یہ گمراہ(۱) بھی ہیں۔اور گمراہ کن بھی منحرف بھی ہیں

(۱) اگر ساری دنیا کے جرائم کی فہرست یار کی جائے تو اس میں سر فہرست نفاق ہی کا نام ہوگا جس میں ہر طرح کی برائی اور ہر طرح کا عیب پایا جاتا ہے ۔نفاق اندر سے کفروشرک کی خباثت رکھتا ہے اور باہرسے جھوٹ اور غلط بیانی کی کثابت رکھتا ہے اور ان دونوں سے بد تر دنیا کا کوئی جرم اور کوئی عیب نہیں ہے۔

دور حاضر کا دقیق ترین جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہو گا کہ اس دورمیں عالمی سطح پر نفاق کے علاوہ کچھ نہیں رہ گیا ۔ہر شخص جو کچھ کر رہا ہے اس کا باطن اس کے خلاف ہے اور ہر حکومت جس بات کا دعوی ٰ کر رہی ہے اس کی کوئی واقعیت نہیں ہے۔تہذیب کے نام پر فساد ۔مواصلات کے نام پر تباہ کاری ۔امن کے عالم کے نام پر اسلحوں کی دوڑ ۔تعلیم کے نام پر بد اخلاقی اور مذہب کے نام پر لامذہبیت ہی اس دورکا طرہ ٔ امتیاز ہے اور اسی کو زبان شریعت میں نفاق کہا جاتا ہے۔


والزَّالُّونَ الْمُزِلُّونَ - يَتَلَوَّنُونَ أَلْوَاناً ويَفْتَنُّونَ افْتِنَاناً - ويَعْمِدُونَكُمْ بِكُلِّ عِمَادٍ ويَرْصُدُونَكُمْ بِكُلِّ مِرْصَادٍ - قُلُوبُهُمْ دَوِيَّةٌ وصِفَاحُهُمْ نَقِيَّةٌ - يَمْشُونَ الْخَفَاءَ ويَدِبُّونَ الضَّرَاءَ - وَصْفُهُمْ دَوَاءٌ وقَوْلُهُمْ شِفَاءٌ وفِعْلُهُمُ الدَّاءُ الْعَيَاءُ - حَسَدَةُ الرَّخَاءِ ومُؤَكِّدُو الْبَلَاءِ ومُقْنِطُو الرَّجَاءِ - لَهُمْ بِكُلِّ طَرِيقٍ صَرِيعٌ - وإِلَى كُلِّ قَلْبٍ شَفِيعٌ ولِكُلِّ شَجْوٍ دُمُوعٌ - يَتَقَارَضُونَ الثَّنَاءَ ويَتَرَاقَبُونَ الْجَزَاءَ - إِنْ سَأَلُوا أَلْحَفُوا وإِنْ عَذَلُوا كَشَفُوا، وإِنْ حَكَمُوا أَسْرَفُوا - قَدْ أَعَدُّوا لِكُلِّ حَقٍّ بَاطِلًا ولِكُلِّ قَائِمٍ مَائِلًا - ولِكُلِّ حَيٍّ قَاتِلًا ولِكُلِّ بَابٍ مِفْتَاحاً -

اورمنرف سازبھی یہ مسلسل رنگ بدلتے رہتے ہیں اور طرح طرح کے فتنے اٹھاتے رہتے ہیں۔ہرمکرو فریب کے ذریعہ تمہارا ہی قصدکرتے ہیں اور ہر گھات میں تمہاری ہی تاک میں بیٹھتے ہیں۔انکے دل بیمار ہیں اور ان کے چہرے پاک و صاف ۔اندر ہیاندر چال چلتے ہیں اور نقصانات کی خاطر رینگتے ہوئے قدم بڑھاتے ہیں۔ان کا طریقہ دوا جیسا اور ان کا کلام شفا جیسا ہے لیکن ان کا کردار نا قابل علاج مرض ہے ۔یہ راحتوں میں حسد کرنے والے مصیبتوں میں مبتلا کردینے والے اور امیدوں کو نا امید بنا دینے والے ہیں۔جس راہ پر دیکھو ان کامارا ہوا پڑا ہے۔اور جس دل کو دیکھو وہاں تک پہنچنے کا ایک سفارشی ڈھونڈ رکھا ہے۔ اور ہر رنج و غم کے لئے آنسو(۱) تیاررکھے ہوئے ہیں۔ایک دوسرے کی تعریف میں حصہ لیتے ہیں اور اس کے بدلہ کے منتظر رہتے ہیں سوال کرتے ہیں تو چپک جاتے ہیں اور برائی کرتے ہیں تو رسوا کرکے ہی چھوڑتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں تو حد سے بڑھ جاتے ہیں۔ہر حق کے لئے ایک باطل تیار کر رکھا ہے اور ہر سیدھے کے لئے ایک کجی کا انتظام کر رکھا ہے۔ہر زندہ کے لئے ایک قاتل موجود ہے اور ہر دروازہ کیلئے ایک کنجی بنا رکھی ہے

(۱)حقیقت امر یہ ہے کہ منافقین کا کوئی عمل قابل اعتبار نہیں ہوتا ہے اور ان کی زندگی سراپا غلط بیانی ہوتی ہے۔تعریف کرنے پر آجاتے ہیں تو زمین وآسمان کو قلابے ملادیتے ہیں اوربرائی کرنے پر تل جاتے ہیں توآدمی کو عالمی سطح پرذلیل کرکے چھوڑتے ہیں۔اس لئے کہان کا نہ کوئی ضمیر ہوتاہے اور نہ کوئی معیار۔انہیں صرف موقع پرستی سے کام لینا ہے اور اسی کے اعتبار سیزبان کھولنا ہے۔خطبہ کے عنوان سے یہ اندازہ ہوتا تھا کہی ہ سماج کے چند افراد کا ایک گروہ ہے جس کے کردار کو واضح کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ اس کردار سے ہوشیار ہیں اور اپنی زندگی کو نفاق سے بچا کر ایمان اور تقویٰ کے راستہ پر لگا دیں۔لیکن تفصیلات ک دیکھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ یہ پورے سماج کا نقشہ ہے اور ساراعالم انسانیت اسی رنگ پر رنگا ہوا ہے۔زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں نفاق کی حکمرانی نہ ہو اور انسان کے کردار کا کوئی رخ ایسا نہیں ہے جسے میں واقعیت اورحقیقت پائی جاتی ہو اورجس نفاق سے پاک و پاکیزہ قرار دیاجاسکے۔


ولِكُلِّ لَيْلٍ مِصْبَاحاً - يَتَوَصَّلُونَ إِلَى الطَّمَعِ بِالْيَأْسِ لِيُقِيمُوا بِه أَسْوَاقَهُمْ - ويُنْفِقُوا بِه أَعْلَاقَهُمْ يَقُولُونَ فَيُشَبِّهُونَ - ويَصِفُونَ فَيُمَوِّهُونَ قَدْ هَوَّنُوا الطَّرِيقَ - وأَضْلَعُوا الْمَضِيقَ فَهُمْ لُمَةُ الشَّيْطَانِ وحُمَةُ النِّيرَانِ -( أُولئِكَ حِزْبُ الشَّيْطانِ - أَلا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطانِ هُمُ الْخاسِرُونَ ) .

(۱۹۵)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يحمد اللَّه ويثني على نبيه ويعظ

حمد اللَّه

الْحَمْدُ لِلَّه الَّذِي أَظْهَرَ مِنْ آثَارِ سُلْطَانِه وجَلَالِ كِبْرِيَائِه - مَا حَيَّرَ مُقَلَ الْعُقُولِ مِنْ عَجَائِبِ قُدْرَتِه - ورَدَعَ خَطَرَاتِ هَمَاهِمِ النُّفُوسِ عَنْ عِرْفَانِ كُنْه صِفَتِه -

الشهادتان

وأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَه إِلَّا اللَّه - شَهَادَةَ إِيمَانٍ وإِيقَانٍ وإِخْلَاصٍ وإِذْعَانٍ - وأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُه ورَسُولُه - أَرْسَلَه وأَعْلَامُ الْهُدَى دَارِسَةٌ - ومَنَاهِجُ الدِّينِ طَامِسَةٌ فَصَدَعَ بِالْحَقِّ - ونَصَحَ لِلْخَلْقِ، وهَدَى إِلَى الرُّشْدِ

اور ہر رات کے لئے ایک چراغ مہیا کر رکھا ہے۔طع کے لئے ناموس کو ذریعہ بناتے ہیں تاکہ اپنے بازار کو رواج دے سکیں اور اپنے مال کو رائج کر سکیں۔جب بات کرتے ہیں تو مشتبہ قسم کی اور جب تعریف کرتے ہیں تو باطل کو حق کا رنگ دے کر۔انہوں نے اپنے لئے راستہ کو آسان بنالیا ہے اور دوسروں کے لئے تنگی پیدا کردی ہے۔یہ شیطان کے گروہ ہیں اور جہنم کے شعلے ' یہی حزب الشیطان کے مصداق ہیں اور حزب الشیطان کا مقدر سوائے خسارہ کے کچھ نہیں ہے ۔

(۱۹۵)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے اپنی سلطنت کے آثار اور کبریائی کے جلال کو اس طرح نمایاں کیا ہے کہ عقلوں کی نگاہیں عجائب قدرت سے حیران ہوگئی ہیں اورنفوس کے تصورات و افکار اس کے صفات کی حقیقت کے عرفان سے رک گئے ہیں۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور یہ گواہی صرف ایمان و یقین ۔اخلاص و اعتقاد کی بناپر ہے اور پھر میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ص) اس کے بندہ اور رسول ہیں۔اس نے انہیں اس وقت بھیجا ہے جب ہدایت کے نشانات مٹ چکے تھے۔اور دین کے راستے بے نشان ہوچکے تھے۔انہوں نے حق کاواشگاف انداز سے اظہار کیا۔


وأَمَرَ بِالْقَصْدِ -صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم -

العظة

واعْلَمُوا عِبَادَ اللَّه - أَنَّه لَمْ يَخْلُقْكُمْ عَبَثاً ولَمْ يُرْسِلْكُمْ هَمَلًا - عَلِمَ مَبْلَغَ نِعَمِه عَلَيْكُمْ وأَحْصَى إِحْسَانَه إِلَيْكُمْ - فَاسْتَفْتِحُوه واسْتَنْجِحُوه واطْلُبُوا إِلَيْه واسْتَمْنِحُوه - فَمَا قَطَعَكُمْ عَنْه حِجَابٌ ولَا أُغْلِقَ عَنْكُمْ دُونَه بَابٌ - وإِنَّه لَبِكُلِّ مَكَانٍ وفِي كُلِّ حِينٍ وأَوَانٍ - ومَعَ كُلِّ إِنْسٍ وجَانٍّ - لَا يَثْلِمُه الْعَطَاءُ ولَا يَنْقُصُه الْحِبَاءُ - ولَا يَسْتَنْفِدُه سَائِلٌ ولَا يَسْتَقْصِيه نَائِلٌ - ولَا يَلْوِيه شَخْصٌ عَنْ شَخْصٍ ولَا يُلْهِيه صَوْتٌ عَنْ صَوْتٍ - ولَا تَحْجُزُه هِبَةٌ عَنْ سَلْبٍ ولَا يَشْغَلُه غَضَبٌ عَنْ رَحْمَةٍ - ولَا تُولِهُه رَحْمَةٌ عَنْ عِقَابٍ

لوگوں کو ہدایت دی اورسیدھے راستہ پر لگا کرمیانہ روی کا قانون بتادیا۔ بند گان خدا ! یاد رکھو پروردگار نے تم کو بیکارنہیں پیداکیا ہے اور نہ تم کو بے لگا چھوڑ دیا ہے۔وہ تم کو دی جانے والی نعمتوںکے حدود کو جانتا ہے اورتم پر کئے جانے والے احسانات کا شمار رکھتا ہے لہٰذا اس سے کامرانی اور کامیابی کا تقاضا کرو۔اس کی طرف دست طلب بڑھائو اور اس سے عطایا کا مطالبہ کرو۔کوئی حجاب تمہیں اس سے جدا نہیں کر سکتا ہے اور کوئی دروازہ اس کا تم پر بند نہیں ہو سکتا ہے۔وہ ہرجگہ اور ہر آن موجود ہے۔ہر انسان اور ہرجن کے ساتھ ہے۔نہ عطاء اس کے کرم میں رخنہ ڈال سکتی ہے اور نہ ہدایا اس کے خزانہ میں کمی پیدا کر سکتے ہیں۔ کوئی سائل اس کے خزانہ کو خالی نہیں کر سکتا ہے اور کوئی عطیہ اس کے کرم کی انتہا ء کو نہیں پہنچ سکتا ہے۔ایک شخص کی طرف توجہ دوسرے کی طرف سے رخ موڑ نہیں سکتی ہے اورایک آوازدوسری آوازسے غافل نہیں بنا سکتی ہے۔اس کاعطیہ(۱) چھین لینے سے مانع نہیں ہوتا ہے اور اس کا غضب رحمت سے مغشول نہیں کرتا ہے۔رحمت عتاب سے غفلت میں نہیں ڈال دیتی ہے

(۱) جن لوگوں کے صفات و کمالات پر مزاج یا عادات کی حکمرانی ہوتی ہے۔ان کے کمالات میں اس طرح کی یکسانیت پائی جاتی ہے کہ مہربان ہو تے ہیں تو مہربان ہی ہوتے ہیں اور غصہ ور ہوتے ہیں تو غصہ ور ہی ہوتے ہیں۔لیکن مالک کائنات کے اوصاف و کمالات اس سے بالکل مختلف ہیں اس کے اوصاف و کمالات کا سرچشمہ اس کا مزاج یا اس کی طبیعت نہیں ہے۔بلکہ ان کا واقعی سر چشمہ اس کی حکمت اور مصلحت ہے۔لہٰذا اس کے بارے میں عین ممکن ہے کہ ایک ہی وقت میں مہربان بھی ہو اورغضب ناک بھی نعمتیں عطا بھی کر رہا ہواور سلب بھی کر رہا ہو۔اس کے کمال کا ظہور بھی ہو اور پردہ بھی۔وہ دور بھی نظرآئے اور قریب بھی۔اس لئے کہ مصالح کا تقاضا ہمیشہ افراد کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے۔ایک شخص کاکردار رحمت چاہتا ہے اور دوسرے کا غضب ایک کے حق میں مصلحت عطا کر دینا ہے اوردوسرے کے حق میں چھین لیا۔ایک جزا و انعام کا سزاوار ہے اوردوسرا سزا واعتاب کا حقدار ۔تو حکیم علی الاطلاق کا فرض ہے کہ ایک ہی وقت میں ہرشخص کے ساتھ ویسا ہی برتائو کرے جس کا وہ اہل ہے اورایک برتائو اسے دورسے برتائو سے غافل نہ بناسکے۔


ولَا يُجِنُّه الْبُطُونُ عَنِ الظُّهُورِ - ولَا يَقْطَعُه الظُّهُورُ عَنِ الْبُطُونِ - قَرُبَ فَنَأَى وعَلَا فَدَنَا وظَهَرَ فَبَطَنَ - وبَطَنَ فَعَلَنَ ودَانَ ولَمْ يُدَنْ - لَمْ يَذْرَأِ الْخَلْقَ بِاحْتِيَالٍ ولَا اسْتَعَانَ بِهِمْ لِكَلَالٍ.

أُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّه بِتَقْوَى اللَّه - فَإِنَّهَا الزِّمَامُ والْقِوَامُ فَتَمَسَّكُوا بِوَثَائِقِهَا - واعْتَصِمُوا بِحَقَائِقِهَا تَؤُلْ بِكُمْ إِلَى أَكْنَانِ الدَّعَةِ - وأَوْطَانِ السَّعَةِ ومَعَاقِلِ الْحِرْزِ ومَنَازِلِ الْعِزِّ فِي يَوْمٍ تَشْخَصُ فِيه الأَبْصَارُ وتُظْلِمُ لَه الأَقْطَارُ - وتُعَطَّلُ فِيه صُرُومُ الْعِشَارِ ويُنْفَخُ فِي الصُّورِ - فَتَزْهَقُ كُلُّ مُهْجَةٍ وتَبْكَمُ كُلُّ لَهْجَةٍ - وتَذِلُّ الشُّمُّ الشَّوَامِخُ والصُّمُّ الرَّوَاسِخُ - فَيَصِيرُ صَلْدُهَا سَرَاباً رَقْرَقاً ومَعْهَدُهَا قَاعاً سَمْلَقاً - فَلَا شَفِيعٌ يَشْفَعُ ولَا حَمِيمٌ يَنْفَعُ ولَا مَعْذِرَةٌ تَدْفَعُ

اور ہستی کا پوشیدہ ہونا ظہور سے مانع نہیں ہوتا ہے اورآثار کا ظہور ہستی کی پردہ داری کو نہیں روک سکتا ہے۔وہ قریب ہوکر بھی دور ہے اور بلندہوکربھی نزدیک ہے۔وہ ظاہر ہوکر بھی پوشیدہ ہے اور پوشیدہ ہو کربھی ظاہر ہے وہ جزا دیتا ہے لیکن اسے جزا نہیں دی جاتی ہے۔اس نے مخلوقات کو سوچ بچار کرکے نہیں بنایا ہے اور نہ خستگی کی بنا پر ان سے مدد لی ہے۔

بندگان خدا! میں تمہیں تقویٰ الٰہی کی وصیت کرتا ہوں کہ یہی ہر خیر کی زمام اور ہر نیکی کی بنیاد ہے۔اس کے بندنوں سے وابستہ رہو اور اس کے حقائق سے متمسک رہو۔یہ تم کو راحت کی محفوظ منزلوں اور وسعت کے بہترین علاقوں تک پہنچا دے گا۔تمہارے لئے محفوظ مقامات ہوں گے اور باعزت منازل۔اس دن جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اوراطراف اندھیرا چھا جائے گا اونٹنیاں معطل کردی جائیں گی اور صور پھونک دیا جائے گا۔اس وقت سب کادم نکل جائے گا اور ہر زبان گونگی ہو جائے گی بلند ترین پہاڑ اورمضبوط ترین چٹانیں ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔پتھروں کی چٹانیں چمکدار سراب کی شکل میں تبدیل ہو جائیں گی اوہر ان کی منزل ایک صاف چٹیل میدان ہو جائے گی۔نہ کوئی شفیع شفاعت کرنے والا ہوگا اور نہ کوئی دوست کام آنے والا ہوگا۔اور نہ کوئی معذرت دفاع کرنے والی ہوگی۔


(۱۹۶)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

بعثة النبي

بَعَثَه حِينَ لَا عَلَمٌ قَائِمٌ - ولَا مَنَارٌ سَاطِعٌ ولَا مَنْهَجٌ وَاضِحٌ –

العظة بالزهد

أُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّه بِتَقْوَى اللَّه - وأُحَذِّرُكُمُ الدُّنْيَا فَإِنَّهَا دَارُ شُخُوصٍ - ومَحَلَّةُ تَنْغِيصٍ سَاكِنُهَا ظَاعِنٌ وقَاطِنُهَا بَائِنٌ - تَمِيدُ بِأَهْلِهَا مَيَدَانَ السَّفِينَةِ - تَقْصِفُهَا الْعَوَاصِفُ فِي لُجَجِ الْبِحَارِ - فَمِنْهُمُ الْغَرِقُ الْوَبِقُ ومِنْهُمُ النَّاجِي عَلَى بُطُونِ الأَمْوَاجِ - تَحْفِزُه الرِّيَاحُ بِأَذْيَالِهَا وتَحْمِلُه عَلَى أَهْوَالِهَا - فَمَا غَرِقَ مِنْهَا فَلَيْسَ بِمُسْتَدْرَكٍ ومَا نَجَا مِنْهَا فَإِلَى مَهْلَكٍ!

عِبَادَ اللَّه الآنَ فَاعْلَمُوا والأَلْسُنُ مُطْلَقَةٌ - والأَبْدَانُ صَحِيحَةٌ والأَعْضَاءُ لَدْنَةٌ - والْمُنْقَلَبُ فَسِيحٌ والْمَجَالُ عَرِيضٌ - قَبْلَ إِرْهَاقِ الْفَوْتِ وحُلُولِ الْمَوْتِ - فَحَقِّقُوا عَلَيْكُمْ نُزُولَه ولَا تَنْتَظِرُوا قُدُومَه

(۱۹۶)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جسمیں سرکار دو عالم (ص) کی مدح کی گئی ہے )

(پروردگارنے آپ کو اس وقت مبعوث کیا جب نہ کوئی نشان ہدایت قائم رہ گیا تھا نہ کوئی منارۂ دین روشن تھا اور نہ کوئی راستہ واضح تھا)

بندگان خدا! میں تمہیں تقویٰ الٰہی کی وصیت کرتا ہوں اور دنیا سے ہوشیار کر رہا ہوں کہ یہ کوچ کا گھر اوربد مزگی کا علاقہ ہے۔اس کا باشندہ بہر حال سفر کرنے والا ہے اور اس کا مقیم بہرحال جدا ہونے والا ہے۔یہ اپنے اہل کو لے کر اس طرح لرزتی ہے جس طرح گہرے سمندر میں تندو تیز ہوائوں کی زد پر کشتیاں ۔کچھ لوگ غرق اور ہلاک ہو جاتے ہیں اور کچھ موجوں کے سہارے پر باقی رہ جاتے ہیں کہ ہوائیں انہیں اپنے دامن میں لئے پھرتی رہتی ہیں اور اپنی ہولناک منزلوں کی طرف لے جاتی رہتی ہیں۔جو غرق ہو گیا وہ دوبارہ نکالا نہیں جا سکتا اور جو بچ گیا ہے اس کا راستہ ہلاکت ہی کی طرف جا رہا ہے۔

بندگان خدا!ابھی بات کو سمجھ لو جب کہ زبانیں آزاد ہیں اور بدن صحیح و سالم ہیں۔اعضاء میں لچک باقی ہے اورآنے جانے کی جگہ وسیع اور کام کا میدان طویل و عریض ہے ۔قبل اس کے کہ موت نازل ہو جائے اور اجل کاپھندہ گلے میں پڑ جائے ۔اپنے لئے موت کی آمد کو یقینی سمجھ لو اور اس کے آنے کا انتظار نہ کرو ۔


(۱۹۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

ينبه فيه على فضيلته لقبول قوله وأمره ونهيه

ولَقَدْ عَلِمَ الْمُسْتَحْفَظُونَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم أَنِّي لَمْ أَرُدَّ عَلَى اللَّه ولَا عَلَى رَسُولِه سَاعَةً قَطُّ ولَقَدْ وَاسَيْتُه بِنَفْسِي فِي الْمَوَاطِنِ - الَّتِي تَنْكُصُ فِيهَا الأَبْطَالُ - وتَتَأَخَّرُ فِيهَا الأَقْدَامُ نَجْدَةً أَكْرَمَنِي اللَّه بِهَا.

ولَقَدْ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وإِنَّ رَأْسَه لَعَلَى صَدْرِي - ولَقَدْ سَالَتْ نَفْسُه فِي كَفِّي فَأَمْرَرْتُهَا عَلَى وَجْهِي - ولَقَدْ وُلِّيتُ غُسْلَهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم والْمَلَائِكَةُ أَعْوَانِي - فَضَجَّتِ الدَّارُ والأَفْنِيَةُ - مَلأٌ يَهْبِطُ ومَلأٌ يَعْرُجُ - ومَا فَارَقَتْ سَمْعِي هَيْنَمَةٌ مِنْهُمْ - يُصَلُّونَ عَلَيْه حَتَّى وَارَيْنَاه فِي ضَرِيحِه -

(۱۹۷)

آپ کا ارشادگرامی

(جس میں پیغمبر اسلام (ص) کے امرونہی اورتعلیمات کوقبول کرنے کے ذیل میں فضیلت کاذکر کیا گیا ہے)

اصحاب پیغمبر (ص) میں شریعت کے امانتدار افراد اس حقیقت سے با خبر ہیں کہ میں نے ایک لمحہ کے لئے بھی خدا اور رسول (ص) کی بات کو رد نہیں کیا اورمیں نے پیغمبر اکرم(ص) پر اپنی(۱) جان ان مقامات پر قربان کی ہے جہاں بڑے بڑے بہادر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں اور ان کے قدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔صرف اس بہادری کی بنیاد پرجس سے پروردگارنے مجھے سرفراز فرمایا تھا۔

رسول اکرم(ص) اس وقت دنیا سے رخصت ہوئے ہیں جب ان کا سر میرے سینہ پرتھا اور ان کی روح اقدس میرے ہاتھوں پر جدا ہوئی ہے تو میں نے اپنے ہاتھوں کو چہرہ پرمل لیا۔میں نے ہی آپ کو غسل دیاہے جب ملائکہ میری امداد کر رہے تھے اور گھر کے اندر اورباہر ایک کہرام برپا تھا۔ایک گروہ نازل ہو رہا تھا اورایک واپس جا رہا تھا۔سب نماز جنازہ پڑھ رہے تھے اور میں مسلسل ان کی آوازیں سن رہا تھا۔

(۱)مولائے کائنات کی پوری حیات اس ارشاد گرامی کا بہترین مرقع ہے جہاں ہجرت کی رات سے لے کر فتح مکہ تک اور اس کے بعد تبلیغ برائت تک کوئی موقع ایسا نہیں تھا جہاں آپ نے سرکار دوعالم (ص) اور ان کے مقصد کی خاطر اپنی جان کو خطرہ میں نہ ڈال دیا ہو اور اس وحدت ذات و صفات کا ثبوت نہ دیا ہوجس کی طرف خود حضرت نے میدان احد میں اشارہ کیا تھا جب جبرائیل امین نے عر ض کی حضور علی کی مواساة کودیکھ رہے ہیں ؟ تو آپنے فرمایا کہ اس میں حیرت کی بات کیا ہے '' علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں ''۔اس کے بعد انتقال سے لے کردفن کے آخری مرحلہ تک ہر قدم پر حضور کے امورکے ذمہ دار رہے جب کہ مورخین کے بیان کی بنا پر بڑے بڑے صحابہ کرام دفن میں شرکت کی سعادت حاصل نہ کر سکے اورخلافت سازی کی مہم میں مصروف رہ گئے۔


فَمَنْ ذَا أَحَقُّ بِه مِنِّي حَيّاً ومَيِّتاً - فَانْفُذُوا عَلَى بَصَائِرِكُمْ - ولْتَصْدُقْ نِيَّاتُكُمْ فِي جِهَادِ عَدُوِّكُمْ - فَوَالَّذِي لَا إِلَه إِلَّا هُوَ إِنِّي لَعَلَى جَادَّةِ الْحَقِّ - وإِنَّهُمْ لَعَلَى مَزَلَّةِ الْبَاطِلِ - أَقُولُ مَا تَسْمَعُونَ وأَسْتَغْفِرُ اللَّه لِي ولَكُمْ!

(۱۹۸)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

ينبه على إحاطة علم اللَّه بالجزئيات، ثم يحث على التقوى،

ويبين فضل الإسلام والقرآن

يَعْلَمُ عَجِيجَ الْوُحُوشِ فِي الْفَلَوَاتِ ومَعَاصِيَ الْعِبَادِ فِي الْخَلَوَاتِ - واخْتِلَافَ النِّينَانِ فِي الْبِحَارِ الْغَامِرَاتِ - وتَلَاطُمَ الْمَاءِ بِالرِّيَاحِ الْعَاصِفَاتِ - وأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً نَجِيبُ اللَّه - وسَفِيرُ وَحْيِه ورَسُولُ رَحْمَتِه –

الوصية بالتقوى

أَمَّا بَعْدُ - فَإِنِّي أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّه الَّذِي ابْتَدَأَ خَلْقَكُمْ - وإِلَيْه يَكُونُ مَعَادُكُمْ وبِه نَجَاحُ طَلِبَتِكُمْ - وإِلَيْه مُنْتَهَى رَغْبَتِكُمْ ونَحْوَه قَصْدُ سَبِيلِكُمْ -

یہاں تک کہ میں نے ہی حضرت کو سپرد لحد کیا ہے۔تو اب بتائو کہ زندگی اورموت میں مجھ سے زیادہ ان سے قریب تر کون ہے ؟ اپنی بصیر توں کے ساتھ اور صدق نیت کے اعتماد پر آگے بڑھو۔اور اپنے دشمن سے جہاد کرو قسم ہے اس پروردگار کی جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے کہ میں حق کے راستہ پر ہوں اور وہ لوگ باطل کی لغزشوں کی منزل میں ہیں۔میں جو کہہ رہا ہوں وہ تم سن رہے ہو اورمیں اپنے اور تمہارے دونوں کے لئے خدا کی بارگاہ میں استغفار کر رہا ہوں۔

(۱۹۸)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں خداکی عالم جزئیات ہونے پر تاکید کی گئی ہے اور پھر تقویٰ پرآمادہ کیا گیا ہے )

وہ پروردگار صحرائوں میں جانوروں کی فریاد کو بھی جانتا ہے اور تنہائیوں میں بندوں کے گناہوں کو بھی۔وہ گہرے سمندروں میں مچھلیوں کی رفت و آمد سے بھی با خبر ہے اور تیز و تند ہوائوں سے پیدا ہونے والے تلاطم سے بھی۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ص) خدا کے منتخب بندہ۔اس کی وحی کے سفیر اور اس کی رحمت کے رسول ہیں۔

اما بعد! میں تم سب کو اسی خدا سے ڈرنے کی نصیحت کر رہا ہوں جس نے تمہاری خلقت کی ابتداء کی ہے اور اسی کی بارگاہ میں تمہیں پلٹ کر جانا ہے۔اسیکے ذریع تمہارے مقاصد کو کامیابی ہے اوراسی کی طرف تمہارے رغبتوں کی انتہاء ہے۔اسی کی سمت تمہارا سیدھا راستہ ہے


وإِلَيْه مَرَامِي مَفْزَعِكُمْ -

فَإِنَّ تَقْوَى اللَّه دَوَاءُ دَاءِ قُلُوبِكُمْ - وبَصَرُ عَمَى أَفْئِدَتِكُمْ وشِفَاءُ مَرَضِ أَجْسَادِكُمْ - وصَلَاحُ فَسَادِ صُدُورِكُمْ - وطُهُورُ دَنَسِ أَنْفُسِكُمْ وجِلَاءُ عَشَا أَبْصَارِكُمْ،وأَمْنُ فَزَعِ جَأْشِكُمْ وضِيَاءُ سَوَادِ ظُلْمَتِكُمْ فَاجْعَلُوا طَاعَةَ اللَّه شِعَاراً دُونَ دِثَارِكُمْ - ودَخِيلًا دُونَ شِعَارِكُمْ ولَطِيفاً بَيْنَ أَضْلَاعِكُمْ - وأَمِيراً فَوْقَ أُمُورِكُمْ ومَنْهَلًا لِحِينِ وُرُودِكُمْ - وشَفِيعاً لِدَرَكِ طَلِبَتِكُمْ وجُنَّةً لِيَوْمِ فَزَعِكُمْ - ومَصَابِيحَ لِبُطُونِ قُبُورِكُمْ - وسَكَناً لِطُولِ وَحْشَتِكُمْ ونَفَساً لِكَرْبِ مَوَاطِنِكُمْ - فَإِنَّ طَاعَةَ اللَّه حِرْزٌ مِنْ مَتَالِفَ مُكْتَنِفَةٍ - ومَخَاوِفَ مُتَوَقَّعَةٍ وأُوَارِ نِيرَانٍ مُوقَدَةٍ - فَمَنْ أَخَذَ بِالتَّقْوَى

اور اسی کی طرف تمہاری فریادوں کا نشانہ ہے ۔

یہ تقویٰ الٰہی تمہارے دلوں کی بیماری کی دوا ہے اور تمہارے قلوب کے اندھے پن کی بصارت۔یہ تمہارے جسموں کی بیماری کی شفا کا سامان ہے اور تمہارے سینوں کے فساد کی اصلاح۔یہی تمہارے نفوس کی گندگی کی طہارت ہے اور یہی تمہاری آنکھوں کے چندھیانے کی جلاء اسی میں تمہارے دل کے اضطراب کا سکون ہے اور یہی زندگی کی تاریکیوں کی ضیاء ہے۔اطاعت خدا کو اندر کا شعاربنائو صرف باہر کا نہیں اور اسے باطن میں داخل کرو صرف ظاہر میں نہیں۔اپنی پسلیوں کے درمیان سمولو اور اپنے جملہ امور کا حاکم قرار دے دو۔تشنگی میں ورود کے لئے چشمہ تصور کرو اور منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے وسیلہ قرار دو۔اپنے روز قزع کے لئے سپر بنائو اور اپنی تاریک قبروں کے لئے چراغ۔اپنی طولانی وحشت قبر کے لئے مونس بنائو اور اپنے رنج و غم کے مراحل کے لئے سہارا۔اطاعت الٰہی تمام گھیرنے والے بربادی کے اسباب آنے والے خوفناک مراحل اور بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں کے لئے حرزجان ہے۔جس نے تقویٰ(۱) کواختیار کرلیا

(۱)اس مقام پر مولائے کائنا ت نے اس نکتہ کی طرف متوجہ کرنا چاہا ہے کہ تقویٰ کاف ائدہ صرف آخرت تک محود نہیں ہے کہ تم یہاں گناہوں سے پرہیز کرو۔مالک وہاں تمہیں آتش جہنم سے محفوظ کردے گا بلکہ یہ تقویٰ آخرت کے ساتھ دنیا کے مرحلہ پرکامآنے والا ہے اور کسی مرحلہ پر انسان کو نظرانداز کرنے والا نہیں ہے ۔مشکلات سے نجات اسی تقویٰ کا کارنامہ ہے اور طوفانوں کا مقابلہ اسی تقویٰ کی طاقت سے ہوتا ہے۔رحمت کے چشمے اسی سے جاری ہوتے ہیں اورفضل و کرم کے بادل اسی کی برکت سے برستے ہیں اور شاید یہ اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ انسانی زندگی کی ساری پریشانیاں اس کے اعمال کی کمزوریوں سے پیدا ہوتی ہیں' جب انسان تقویٰ کے ذریعہ کردار کومضبوط کرلے گا تو ہر پریشانی سے مقابلہ آسان ہو جائے گا۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ متقین کی زندگی میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی ہے اور وہ چین اور سکون کی زندگی گزارتے ہیں۔ایسا ہوتا تو صبر کا کوئی مفہوم نہ ہوتا اورمتقین کا سلسلہ صابرین سے الگ ہو جاتا۔بلکہ اس کامطلب صرف یہ ہے کہ تقویٰ صبرکاحوصلہ پیداکرتا ہے اور تقویٰ کے ذریعہ مصائب سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا ہوجاتا ہے اور اس کی برکت سے رحمتوں کا نزول شروع ہو جاتا ہے۔


عَزَبَتْ عَنْه الشَّدَائِدُ بَعْدَ دُنُوِّهَا - واحْلَوْلَتْ لَه الأُمُورُ بَعْدَ مَرَارَتِهَا - وانْفَرَجَتْ عَنْه الأَمْوَاجُ بَعْدَ تَرَاكُمِهَا - وأَسْهَلَتْ لَه الصِّعَابُ بَعْدَ إِنْصَابِهَا - وهَطَلَتْ عَلَيْه الْكَرَامَةُ بَعْدَ قُحُوطِهَا -. وتَحَدَّبَتْ عَلَيْه الرَّحْمَةُ بَعْدَ نُفُورِهَا - وتَفَجَّرَتْ عَلَيْه النِّعَمُ بَعْدَ نُضُوبِهَا - ووَبَلَتْ عَلَيْه الْبَرَكَةُ بَعْدَ إِرْذَاذِهَا

فَاتَّقُوا اللَّه الَّذِي نَفَعَكُمْ بِمَوْعِظَتِه - ووَعَظَكُمْ بِرِسَالَتِه وامْتَنَّ عَلَيْكُمْ بِنِعْمَتِه - فَعَبِّدُوا أَنْفُسَكُمْ لِعِبَادَتِه - واخْرُجُوا إِلَيْه مِنْ حَقِّ طَاعَتِه.

فضل الإسلام

ثُمَّ إِنَّ هَذَا الإِسْلَامَ دِينُ اللَّه الَّذِي اصْطَفَاه لِنَفْسِه - واصْطَنَعَه عَلَى عَيْنِه وأَصْفَاه خِيَرَةَ خَلْقِه - وأَقَامَ دَعَائِمَه عَلَى مَحَبَّتِه - أَذَلَّ الأَدْيَانَ بِعِزَّتِه

اس کے لئے سختیاں قریب آکر دور چلی جاتی ہیں اور امور زندگی تلخیوں کے بعد شیریں ہو جاتے ہیں۔موجیں تہ بہ تہ ہو جانے کے بعد بھی ہٹ جاتی ہیں اوردشواریاں مشقتوں میں مبتلا کر دینے کے بعد بھی آسان ہوجاتی ہیں ۔ قحط کے بعد کرامتوں کی بارش شروع ہو جاتی ہے اور سحاب رحمت ہٹ جانے کے بعد پھر برسنے لگتا ہے اور نعمتوں کے چشمے جاری ہو جاتے ہیں۔اور پھوار کی کمی کے بعد برکت کی برسات شروع ہو جاتی ہے۔

اللہ سے ڈرو جس نے تمہیں نصیحت سے فائدہ پہنچایا ہے اور اپنے پیغام کے ذریعہ نصیحت کی ہے اور اپنی نعمت سے تم پر احسان کیا ہے ۔اپنے نفس کو اس کی عبادت کے لئے ہموار کرواور اس کے حق کی اطاعت سے عہدہ برآہونے کی کوشش کرو۔

اس کے بعد یاد رکھو کہ یہ اسلام وہ دین(۱) ہے جسے مالک نے اپنے لئے پسند فرمایا ہے اور اپنی نگاہوں میں اس کی دیکھ بھال کی ہے اور اسے بہترین خلاق کے حوالہ کیا ہے اوراپنی محبت پراس کے ستونوں کو قائم کیا ہے۔اس کی عزت کے ذریعہ ادیان کو سرنگوں کیا ہے اور

(۱) دین اسلام کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ اس کے قوانین خالق کائنات نے بنائے ہیں اور ہر قانون کی فطرت بشر سے ہم آہنگ بنایا ہے۔اس نے مسئلہ تشریع میں اپنے محبوب ترین بندہ کو بھی دخیل نہیں کیا ہے اورنہ کسی کو اس کے قوانین میں ترمیم کرنے کا حق دیا ہے۔ظاہر ہے کہ جو قانون خالق و مالک کے علم و کمال کے نتیجہ میں منظر عام پرآئے گا اس کی بقا کی ضمانت اس کے دفعات کے اندر ہی ہوگی اور جب تک یہ کائنات باقی رہے گی اس کے دفعات میں تغیر و تبدیل کی ضرورت نہ ہوگی۔

اسلام کے دین پسندیدہ ہونے ہی کا اثر ہے کہ اس کے سامنے تمام ادیان عالم حقیر اور اس کے مقابلہ میں تمام دشمنان مذہب ذلیل ہیں۔مالک نے اس کی بنیاد محبت پر رکھی ہے اور اس کی اساس رحمت اور ربوبیت کو قراردیا ہے۔اس کا تسلسل نا قابل اختتام ہے اوراس کے حلقے نا قابل انصفام ۔

اسی میں انسانیت کی پیاس بجھا نے کاسامان ہے اور اسی میں طالبان ہدایت کے لئے بہترین وسیلہ رہنمائی ہے۔رضائے الٰہی کا سامان یہی ہے اور بندگی پروردگار کا بہترین مرقع یہی دین و مذہب ہے۔اس کے بغیر ہدایت کا تصور مہمل ہے اور اس کے علاوہ ہر دین نا قابل قبول ہے۔


ووَضَعَ الْمِلَلَ بِرَفْعِه- وأَهَانَ أَعْدَاءَه بِكَرَامَتِه وخَذَلَ مُحَادِّيه بِنَصْرِه - وهَدَمَ أَرْكَانَ الضَّلَالَةِ بِرُكْنِه - وسَقَى مَنْ عَطِشَ مِنْ حِيَاضِه - وأَتْأَقَ الْحِيَاضَ بِمَوَاتِحِه - ثُمَّ جَعَلَه لَا انْفِصَامَ لِعُرْوَتِه ولَا فَكَّ لِحَلْقَتِه - ولَا انْهِدَامَ لأَسَاسِه ولَا زَوَالَ لِدَعَائِمِه - ولَا انْقِلَاعَ لِشَجَرَتِه ولَا انْقِطَاعَ لِمُدَّتِه - ولَا عَفَاءَ لِشَرَائِعِه ولَا جَذَّ لِفُرُوعِه ولَا ضَنْكَ لِطُرُقِه - ولَا وُعُوثَةَ لِسُهُولَتِه ولَا سَوَادَ لِوَضَحِه - ولَا عِوَجَ لِانْتِصَابِه ولَا عَصَلَ فِي عُودِه - ولَا وَعَثَ لِفَجِّه ولَا انْطِفَاءَ لِمَصَابِيحِه - ولَا مَرَارَةَ لِحَلَاوَتِه - فَهُوَ دَعَائِمُ أَسَاخَ فِي الْحَقِّ أَسْنَاخَهَا - وثَبَّتَ لَهَا آسَاسَهَا ويَنَابِيعُ غَزُرَتْ عُيُونُهَا - ومَصَابِيحُ شَبَّتْ نِيرَانُهَا - ومَنَارٌ اقْتَدَى بِهَا سُفَّارُهَا وأَعْلَامٌ قُصِدَ بِهَا فِجَاجُهَا - ومَنَاهِلُ رَوِيَ بِهَا وُرَّادُهَا جَعَلَ اللَّه فِيه مُنْتَهَى رِضْوَانِه - وذِرْوَةَ دَعَائِمِه وسَنَامَ طَاعَتِه.

اس کی بلندی کے ذریعہ ملتوں کی پستی کا اظہار کیا ہے اس کے دشمنوں کو اس کی کرامت کے ذریعہ ذلیل کیا ہے اوراس سے مقابلہ کرنے والوں کو اس کی نصرت کے ذریعہ رسوا کیا ہے۔اس کے رکن کے ذریعہ ضلالت کے ارکان کو منہدم کیا ہے اور اس کے حوض سے پیاسوں کو سیراب کیا ہے اور پھر پانی الچنے والوں کے ذریعہ ان حوضوں کو بھردیا ہے۔ اس کے بعد اس دین کو ایسا بنادیا ہے کہ اس کے بندھن ٹوٹ نہیں سکتے ہیں۔اس کی کڑیاں کھل نہیں سکتی ہیں ۔اس کی بنیاد منہدم نہیں ہو سکتی ہے۔اس کے ستون گر نہیں سکتے ہیں۔اس کا درخت اکھڑ نہیں سکتا ہے۔اس کی مدت تمام نہیں ہو سکتی ہے۔اس کے آثار مٹ نہیں سکتے ہیں۔اس کی شاخیں کٹ نہیں سکتی ہیں۔اس کے راستے تنگ نہیں ہو سکتے ہیں۔اس کی آسانیاں دشوار نہیں ہوسکتی ہیں۔اس کی سفیدی میں سیاہی نہیں ہے اور اس کی استقامت میں کجی نہیں ہے۔اس کی لکڑی ٹیڑھی نہیں ہے اور اس کی وسعت میں دشواری نہیں ہے۔اس کا چراغ بجھ نہیں سکتا ہے اور اس کی حلاوت میں تلخی نہیں آسکتی ہے۔اس کے ستون ایسے ہیں جن کے پائے حق کی زمین میں نصب کئے گئے ہیں اور پھر اس کی اساس کو پائیدار بنایا گیا ہے۔اس کے چشموں کا پانی کم نہیں ہوسکتا ہے اور اس کے چراغوں کی لو مدھم نہیں ہوسکتی ے۔اس کے مناروں سے راہ گیر ہدایت پاتے ہیں اور اس کے نشانات کو راہوں میں منزل اپنے بلندترین ارکان اور اپنی اطاعت کاعروج قرار دیا


- فَهُوَ عِنْدَ اللَّه وَثِيقُ الأَرْكَانِ رَفِيعُ الْبُنْيَانِ - مُنِيرُ الْبُرْهَانِ مُضِيءُ النِّيرَانِ - عَزِيزُ السُّلْطَانِ مُشْرِفُ الْمَنَارِ مُعْوِذُ الْمَثَارِ - فَشَرِّفُوه واتَّبِعُوه وأَدُّوا إِلَيْه حَقَّه وضَعُوه مَوَاضِعَه.

الرسول الأعظم

ثُمَّ إِنَّ اللَّه سُبْحَانَه بَعَثَ مُحَمَّداًصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بِالْحَقِّ حِينَ دَنَا مِنَ الدُّنْيَا الِانْقِطَاعُ وأَقْبَلَ مِنَ الآخِرَةِ الِاطِّلَاعُ - وأَظْلَمَتْ بَهْجَتُهَا بَعْدَ إِشْرَاقٍ وقَامَتْ بِأَهْلِهَا عَلَى سَاقٍ - وخَشُنَ مِنْهَا مِهَادٌ وأَزِفَ مِنْهَا قِيَادٌ - فِي انْقِطَاعٍ مِنْ مُدَّتِهَا واقْتِرَابٍ مِنْ أَشْرَاطِهَا وتَصَرُّمٍ مِنْ أَهْلِهَا

ہے۔یہ دین اس کے نزدیک مستحکم ارکان والا ' بلند ترین بنیادوں والا واضح دلائل والا۔روشن ضیائوں والا۔غالب سلطنت والا۔بلند مینار والا اورنا ممکن تباہی والا ہے۔اس کے شرف کا تحفظ کرو۔اس کے احکام کا اتباع کرو۔اس کے حق کو ادا کرو اوراسے اس کی واقعی منزل پر قرار دو۔

اس کے بعد مالک نے حضرت محمد (ص) کو حق کے ساتھ مبعوث کیا جب دنیا فنا کی منزل سے قریب تر ہوگئی اورآخرت سر پر منڈلانے لگی دنیا کا اجالا اندھیروںمیں تبدیل ہونے لگا اوروہ اپنے چاہنے والوں کے لئے ایک مصیبت بن کر کھڑی ہوگئی۔اس کا فرش کھردرا ہوگیا اور وہ فنا کے ہاتھوں میں اپنی مہار دینے کے لئے تیار ہوگئی ۔ اس طرح کہ اس کی مدت خاتمہ کے قریب پہنچ گئی۔ اس کی فنا کے آثار قریب آگئے ۔اس کے اہل ختم ہونے

(۱) کتنا حسین دور تھا جب انبیاء کرام کا سلسلہ قائم تھا ۔کتابیں اور صحیفے نازل ہو رہے تھے۔مبلغین دین و مذہب اپنے کردار سے انسانیت کی رہنمائی کر رہے تھے اور زمین و آسمان کے رشتے جڑے ہوئے تھے پھر یکبارگی قرت کا زمانہ آگیا اوری ہ سارے سلسلے ٹوٹ گئے ۔دنیا پر جاہلیت کا اندھیرا چھا گیا اور انسانیت نے اپنی زمام قیادت جہل و جہالیت کے حوالہ کردی۔

ایسے حالات میں اگر سرکار دوعالم (ص) کا ورود نہ ہوتا تو یہ دنیا گھٹا ٹوپ اندھیروں کی نذر ہو جاتی اور انسانیت کو کوئی راستہ نظرنہ آتا لیکن یہ مالک کا کرم تھا کہ اس نے رحمةالعالمین کوبھیج دیا اور اندھیری دنیا کو پھر دوبارہ نور رسالت سے منور کردیا ہے۔اور آپ کے ساتھ ایک نور اور نازل کردیا جس کا نام قرآن مبین تھا اور جس کی روشنی ناقابل اختتام تھی۔یہ بیک وقت دستور بھی تھا اوراعجاز بھی ۔سمندر بھی تھا اورچراغ بھی۔حق و باطل کاف رقان بھی تھا اوردین و ایمان کا برہان بھی۔اس میں ہر مرض کا علاج بھی تھا اور ہر بیماری کا مداوا بھی۔

اسے مالک نے سیرابی کا ذریعہ بھی بنایا تھا اور دلوں کی بہار بھی ۔نشان راہبھی قرار دیات ھا اورمنزل مقصود بھی۔جوشخص جس نقطہ نگاہ سے دیکھے اس کی تسکین کا سامان قرآن حکیم میں موجود ہے اور ایک کتاب ساری کائنات جن و انس کی ہدایت کے لئے کافی ہے بشر طیکہ اس کے مطالب ان لوگوں سے اخذ کئے جائیں جنہیں راسخون فی العلم بنایا گیا ہے اور جن کے علم قرآن کی ذمہ داری مالک کائنات نے لی ہے۔


وانْفِصَامٍ مِنْ حَلْقَتِهَا - وانْتِشَارٍ مِنْ سَبَبِهَا وعَفَاءٍ مِنْ أَعْلَامِهَا - وتَكَشُّفٍ مِنْ عَوْرَاتِهَا وقِصَرٍ مِنْ طُولِهَا.

جَعَلَه اللَّه بَلَاغاً لِرِسَالَتِه وكَرَامَةً لأُمَّتِه - ورَبِيعاً لأَهْلِ زَمَانِه ورِفْعَةً لأَعْوَانِه وشَرَفاً لأَنْصَارِه.

القرآن الكريم

ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْه الْكِتَابَ نُوراً لَا تُطْفَأُ مَصَابِيحُه - وسِرَاجاً لَا يَخْبُو تَوَقُّدُه وبَحْراً لَا يُدْرَكُ قَعْرُه - ومِنْهَاجاً لَا يُضِلُّ نَهْجُه وشُعَاعاً لَا يُظْلِمُ ضَوْءُه - وفُرْقَاناً لَا يُخْمَدُ بُرْهَانُه وتِبْيَاناً لَا تُهْدَمُ أَرْكَانُه - وشِفَاءً لَا تُخْشَى أَسْقَامُه - وعِزّاً لَا تُهْزَمُ أَنْصَارُه وحَقّاً لَا تُخْذَلُ أَعْوَانُه –

فَهُوَ مَعْدِنُ الإِيمَانِ وبُحْبُوحَتُه ويَنَابِيعُ الْعِلْمِ وبُحُورُه - ورِيَاضُ الْعَدْلِ وغُدْرَانُه وأَثَافِيُّ الإِسْلَامِ وبُنْيَانُه - وأَوْدِيَةُ الْحَقِّ وغِيطَانُه وبَحْرٌ لَا يَنْزِفُه الْمُسْتَنْزِفُونَ - وعُيُونٌ لَا يُنْضِبُهَا الْمَاتِحُونَ - ومَنَاهِلُ لَا يَغِيضُهَا الْوَارِدُونَ - ومَنَازِلُ لَا يَضِلُّ نَهْجَهَا الْمُسَافِرُونَ -

لگے۔اس کے حلقے ٹوٹنے لگے۔اس کے اسباب منتشر ہونے لگے۔اس کے نشانات مٹنے لگے' اس کے عیب کھلنے لگے اوراس کے دامن سمٹنے لگے۔

اللہ نے انہیں پیغام رسانی کا وسیلہ۔امت کی کرامت۔اہل زمانہ کی بہار' اعوان و انصارکی بلندی کا ذریعہ اور یارومددگار افراد کی شرافت کا واسطہ قرار دیا ہے۔

اس کے بعد ان پر اس کتاب کو ناز ل کیا جس کی قندیل بجھ نہیں سکتی ہے اور جس کے چراغ کی لو مدھم نہیں پڑ سکتی ہے وہ ایسا سمندر ہے جسے کی تھا ہ مل نہیں سکتی ہے اور ایسا راستہ ہے جس پر چلنے والا بھٹک نہیں سکتا ہے۔ایسی شعاع جس کی ضوتاریک نہیں ہو سکتی ہے اور ایسا حق و باطل کا امتیاز جس کا برہان کمزورنہیں ہوسکتا ہے۔ایسی وضاحت جس کے ارکان منہدم نہیں ہو سکتے ہیں اور ایسی شفا جس میں بیماری کا کوئی خوف نہیں ہے۔ایسی عزت جس کے انصار پسپا نہیں ہوسکتے ہیں اور ایسا حق جس کے اعوان بے یارو مدد گارنہیں چھوڑے جا سکتے ہیں۔

یہ ایمان کا معدن ومرکز۔علم کا چشمہ اور سمندر' عدالت کا باغ اور حوض ' اسلام کا سنگ بنیاد اور اساس ' حق کی وادی اور اس کاہموار میدان ہے۔یہ وہ سمندر ہے جسے پانی نکالنے والے ختم نہیں کر سکتے ہیں اور وہ چشمہ ہے جسے الچنے والے خشک نہیں کرس کتے ہیں۔وہ گھاٹ ہے جس پر وارد ہونے والے اس کا پانی کم نہیں کر سکتے ہیں اور وہ منزل ہے جس کی راہ پر چلنے والے مسافر


وأَعْلَامٌ لَا يَعْمَى عَنْهَا السَّائِرُونَ - وآكَامٌ لَا يَجُوزُ عَنْهَا الْقَاصِدُونَ جَعَلَه اللَّه رِيّاً لِعَطَشِ الْعُلَمَاءِ ورَبِيعاً لِقُلُوبِ الْفُقَهَاءِ - ومَحَاجَّ لِطُرُقِ الصُّلَحَاءِ ودَوَاءً لَيْسَ بَعْدَه دَاءٌ - ونُوراً لَيْسَ مَعَه ظُلْمَةٌ وحَبْلًا وَثِيقاً عُرْوَتُه - ومَعْقِلًا مَنِيعاً ذِرْوَتُه وعِزّاً لِمَنْ تَوَلَّاه - وسِلْماً لِمَنْ دَخَلَه وهُدًى لِمَنِ ائْتَمَّ بِه - وعُذْراً لِمَنِ انْتَحَلَه وبُرْهَاناً لِمَنْ تَكَلَّمَ بِه - وشَاهِداً لِمَنْ خَاصَمَ بِه وفَلْجاً لِمَنْ حَاجَّ بِه - وحَامِلًا لِمَنْ حَمَلَه ومَطِيَّةً لِمَنْ أَعْمَلَه - وآيَةً لِمَنْ تَوَسَّمَ وجُنَّةً لِمَنِ اسْتَلأَمَ - وعِلْماً لِمَنْ وَعَى وحَدِيثاً لِمَنْ رَوَى وحُكْماً لِمَنْ قَضَى

(۱۹۹)

ومن كلام لهعليه‌السلام

كان يوصي به أصحابه

تَعَاهَدُوا أَمْرَ الصَّلَاةِ وحَافِظُوا عَلَيْهَا - واسْتَكْثِرُوا مِنْهَا وتَقَرَّبُوا بِهَا

بھٹک نہیں سکتے ہیں۔وہ نشان منزل ہے جو راہ گیروں کی نظروں سے اوجھل نہیں ہو سکتا ہے اوروہ ٹیلہ ہے جس کا تصور کرنے والے آگے نہیں جا سکتے ہیں۔

پروردگارنے اسے علماء کی سیرابی کا ذریعہ۔ فقہاء کے دلوں کی بہارصلحاء کے راستوں کے لئے شاہراہ قرار دیا ہے۔یہ وہ دواہے جس کے بعد کوئی مرض نہیں رہ سکتا اوروہنور ہے جس کے بعد کسی ظلمت کا امکان نہیں ہے۔وہ ریسمان ہے جس کے حلقے مستحکم ہیں۔اور پناہ گاہ ہے جس کی بلندی محفوظ ہے۔چاہنے والوں کے لئے عزت ' داخل ہونے والوں کے لئے سلامتی ۔اقتداء کرنے والوں کے لئیہدایت ' نسبت حاصل کرنے والوں کے لئے حجت ' بولنے والوں کے لئے برہان اور مناظرہ کرنے والوں کے لئے شاہد ہے۔بحث کرنے والوں کی کامیابی کاذریعہ اٹھانے والوں کے لئے بوجھ بٹانے والا عمل کرنے والوں کے لئے بہترین سواری ' حقیقت شاناسوں کے لئے بہترین نشانی اوراسلحہ سجنے والوں کے لئے بہترین سپر ہے۔فکرکرنے والوں کے لئے علم اور روایت کرنے والوں کے لئے حدیث اور قضاوت کرنے والوں کے لئے قطعی حکم اور فیصلہ ہے۔

(۱۹۹)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس کی اصحاب کو وصیت فرمایا کرتے تھے )

دیکھو نمازکی پابندی اوراس کی نگہداشت کرو۔زیادہ سے زیادہ نمازیں پڑھو اور اسے تقرب الٰہی کاذریعہ قراردوکہ


فَإِنَّهَا( كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً ) - أَلَا تَسْمَعُونَ إِلَى جَوَابِ أَهْلِ النَّارِ حِينَ سُئِلُوا -( ما سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ - قالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ ) - وإِنَّهَا لَتَحُتُّ الذُّنُوبَ حَتَّ الْوَرَقِ - وتُطْلِقُهَا إِطْلَاقَ الرِّبَقِ - وشَبَّهَهَا رَسُولُ اللَّه - صلى الله عليه وآله وسلم -بِالْحَمَّةِ تَكُونُ عَلَى بَابِ الرَّجُلِ - فَهُوَ يَغْتَسِلُ مِنْهَا فِي الْيَوْمِ واللَّيْلَةِ خَمْسَ مَرَّاتٍ - فَمَا عَسَى أَنْ يَبْقَى عَلَيْه مِنَ الدَّرَنِ وقَدْ عَرَفَ حَقَّهَا رِجَالٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ –

الَّذِينَ لَا تَشْغَلُهُمْ عَنْهَا زِينَةُ مَتَاعٍ ولَا قُرَّةُ عَيْنٍ - مِنْ وَلَدٍ ولَا مَالٍ - يَقُولُ اللَّه سُبْحَانَه -( رِجالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجارَةٌ ولا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ الله - وإِقامِ الصَّلاةِ وإِيتاءِ الزَّكاةِ ) - وكَانَ رَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نَصِباً بِالصَّلَاةِ - بَعْدَ التَّبْشِيرِ لَه بِالْجَنَّةِ - لِقَوْلِ اللَّه سُبْحَانَه( وأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلاةِ واصْطَبِرْ عَلَيْها ) - فَكَانَ يَأْمُرُ بِهَا أَهْلَه ويَصْبِرُ عَلَيْهَا نَفْسَه.

یہ صاحبان ایمان کے لئے وقت کی پابندی کے ساتھ واجب کی گئی ہے۔کیا تم نے اہل جہنم کا جواب نہیں سنا کہ جب ان سے سوال کیا جائے گا کہ تمہیں کس چیزنے جہنم تک پہنچادیا ہے تو کہیں گے کہ ہم نمازی تھے ۔یہ نماز گناہوں کو اسی طرح جھاڑ دیتی ہے جس طرح درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں اوراسی طرح گناہوں سے آزادی دلا دیتی ہے جس طرح جانورآزاد کئے جاتے ہیں۔رسول اکرم (ص) نے اسے اس گرم چشمہ سے تشبیہ دی ہے جوانسان کے دروازہ پر ہو اوروہاس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے۔ظاہر ہے کہ اس پر کسی کثافت کے باقی رہ جانے کا امکان نہیں رہ جاتا ہے۔

اس کے حق کو واقعاً ان صاحبان ایمان نے پہچانا ہے جنہیں زینت متاع دنیا یا تجارت اورکاروبار کوئی شے بھی یاد خدا اور نماز و زکوٰة سے غافل نہیں بناسکی ہے۔رسول اکرم (ص) اس نمازکے لئے اپنے کو زحمت میں ڈالتے تھے حالانکہ انہیں جنت کی بشارت دی جاچکی تھی اس لئے کہ پروردگار نے فرمادیا تھا کہ اپنے اہل کونماز کا حکم دو اورخودبھی اس کی پابندی کرو تو آپ اپنے اہل کوحکم بھی دیتے تھے اورخود زحمت(۱) بھی برداشت کرتے تھے۔

(۱) اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سرکار دو عالم (ص) نے نمازقائم کرنے کی راہمیں بے پناہ زحمتوں کاسامنا کیاہے۔ رات رات بھر مصلیٰ پرقایم کیا ہے اور طرح طرح کی دشمنوں کی اذیتیوں کو برداشت کیا ہے لیکن مالک کائنات نے اس کا اجر بھی بے حساب عنایت کیا ہے کہ نماز سرکار کی یاد کاب ہترین ذریعہ بنگئی ہے اوراس کے ذریعہ سرکار کی شخصیت اور رسالتکو ابدی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔نمازی اذان و اقامت ہی سے سرکار کا کلمہ پڑھنا شروع کردیتا ہے اور پھر تشہد و سلام تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اور اس طرح تمام امتوں کا رشتہ ان کے پیغبمروں سے ٹوٹ چکا ہے لیکن امت اسلامیہ کا رشتہ سرکار دوعالم (ص) سے نہیں ٹوٹ سکتا ہے اور یہ نماز برابر آپ کی یاد کو زندہ رکھے گی اور مسلمانوں کو حسن کردار کی دعوت دیتی رہے گی۔


الزكاة

ثُمَّ إِنَّ الزَّكَاةَ جُعِلَتْ مَعَ الصَّلَاةِ قُرْبَاناً لأَهْلِ الإِسْلَامِ - فَمَنْ أَعْطَاهَا طَيِّبَ النَّفْسِ بِهَا - فَإِنَّهَا تُجْعَلُ لَه كَفَّارَةً ومِنَ النَّارِ حِجَازاً ووِقَايَةً - فَلَا يُتْبِعَنَّهَا أَحَدٌ نَفْسَه ولَا يُكْثِرَنَّ عَلَيْهَا لَهَفَه - فَإِنَّ مَنْ أَعْطَاهَا غَيْرَ طَيِّبِ النَّفْسِ بِهَا - يَرْجُو بِهَا مَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْهَا فَهُوَ جَاهِلٌ بِالسُّنَّةِ - مَغْبُونُ الأَجْرِ ضَالُّ الْعَمَلِ - طَوِيلُ النَّدَمِ.

الأمانة

ثُمَّ أَدَاءَ الأَمَانَةِ - فَقَدْ خَابَ مَنْ لَيْسَ مِنْ أَهْلِهَا - إِنَّهَا عُرِضَتْ عَلَى السَّمَاوَاتِ الْمَبْنِيَّةِ - والأَرَضِينَ الْمَدْحُوَّةِ والْجِبَالِ ذَاتِ الطُّولِ الْمَنْصُوبَةِ - فَلَا أَطْوَلَ ولَا أَعْرَضَ ولَا أَعْلَى ولَا أَعْظَمَ مِنْهَا - ولَوِ امْتَنَعَ شَيْءٌ بِطُولٍ أَوْ عَرْضٍ - أَوْ قُوَّةٍ أَوْ عِزٍّ لَامْتَنَعْنَ - ولَكِنْ أَشْفَقْنَ مِنَ الْعُقُوبَةِ - وعَقَلْنَ مَا جَهِلَ مَنْ هُوَ أَضْعَفُ مِنْهُنَّ وهُوَ الإِنْسَانُ -( إِنَّه كانَ ظَلُوماً جَهُولًا )

علم اللَّه تعالى

إِنَّ اللَّه سُبْحَانَه وتَعَالَى لَا يَخْفَى عَلَيْه - مَا الْعِبَادُ مُقْتَرِفُونَ فِي لَيْلِهِمْ ونَهَارِهِمْ - لَطُفَ بِه خُبْراً

اس کے بعد زکوٰة کو نماز کے(۱) ساتھ مسلمانوں کے لئے وسیلہ تقرب قرار دیاگیا ہے۔جو اسے طیب خاطر سے ادا کردے گا اس کے گناہوں کے لئے یہ کفارہ بن جائے گی اور اسے جہنم سے بچالے گی۔خبردار کوئی شخص اسے ادا کرنے کے بعد اس کے بارے میں فکرنہ کرے اور نہ اس کا افسوس کرے کہ طیب نفس کے بغیر ادا کرنے والا اور پھر اس سے بہتر اجرو ثواب کی امید کرنے والا سنت سے بے خبر اور اجرو ثواب کے اعتبار سے خسارہ میں ہے' اس کاعمل برباد اور اس کی ندامت دائمی ہے۔

اس کے بعد امانتوں کی ادائیگی کا خیال رکھو کہ امانت داری نہ کرنیوالا ناکام ہوتا ہے۔امانت کو بلند ترین آسمانوں ' فرش شدہ زینتوں اور بلند و بالا پہاڑوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے جن سے بظاہر طویل و عریض اور اعلیٰ و ارفع کوئی شے نہیں ہے اور اگر کوئی شے اپنے طول و عرض یا قوت و طاقت کی بناپ راپنے کو بچا سکتی ہے تو یہی چیزیں ہیں۔لیکن یہ سب خیانت کے عذاب سے خوف زدہ ہوگئے اوراس نکتہ کو سمجھ لیا جس کو ان سے ضعیف تر انسان نے نہیں پہچانا کہ وہ اپنے نفس پر ظلم کرنے والا اور نا واقف تھا۔

پروردگار پر بندوں کے دن و رات کے اعمال میں سے کوئی شے مخفی نہیں ہے۔وہ لطافت کی بنا پرخبر رکھتا

(۱) زکوٰة کو نماز کے ساتھ بیان کرنے کا ظاہری فلسفہ یہ ہے کہ نماز عبدو معبود کے درمیان کا رشتہ ہے اور زکوٰة بندوں اور بندوں کے درمیان کا تعلق ہے اوراس طرح اسلام کا نصاب مکمل ہو جاتا ہے کہ مسلمان اپنے مالک کیاطاعت بھی کرتا ہے اوراپنے بنی نوع کے کمزور افراد کا خیال بھی رکھتا ہے اور ان کی شرکت کے بغیر زندہ نہیں رہنا چاہتا ہے۔


وأَحَاطَ بِه عِلْماً أَعْضَاؤُكُمْ شُهُودُه - وجَوَارِحُكُمْ جُنُودُه وضَمَائِرُكُمْ عُيُونُه وخَلَوَاتُكُمْ عِيَانُه

(۲۰۰)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في معاوية

واللَّه مَا مُعَاوِيَةُ بِأَدْهَى مِنِّي ولَكِنَّه يَغْدِرُ ويَفْجُرُ - ولَوْ لَا كَرَاهِيَةُ الْغَدْرِ لَكُنْتُ مِنْ أَدْهَى النَّاسِ - ولَكِنْ كُلُّ غُدَرَةٍ فُجَرَةٌ وكُلُّ فُجَرَةٍ كُفَرَةٌ - ولِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يُعْرَفُ بِه يَوْمَ الْقِيَامَةِ».

واللَّه مَا أُسْتَغْفَلُ بِالْمَكِيدَةِ ولَا أُسْتَغْمَزُ بِالشَّدِيدَةِ

ہے اور علم کے اعتبار سے احاطہ رکھتا ے۔تمہارے اعضاء ہی اس کے گواہ ہیں اور تمہارے ہاتھ پائوں ہی اس کے لشکر ہیں۔تمہارے ضمیر اس کے جاسوس ہیں اور تمہار ی تنہائیاں بھی اس کی نگاہ کے سامنے ہیں۔

(۲۰۰)

آپ کا ارشاد گرامی

(معاویہ کے بارے میں )

خداکی قسم معاویہ مجھ سے زیادہ ہوشیار(۱) نہیں ہے لیکن کیاکروں کہ وہ مکرو فریب اور فسق و فجوربھی کر لیتا ہے اور اگر یہ چیز مجھے نا پسند نہ ہوتی تو مجھ سے زیادہ ہوشیار کوئی نہ ہوتا لیکن میرا نظریہ یہ ہے کہ ہر مکرو فریب گناہ ہے اور ہر گناہ پروردگار کے احکام کی نا فرمانی ہے ہر غدارکے ہاتھ میں قیامت کے دن ایک جھنڈا دے دیا جائے گا جس سے اسے عرصہ محشر میں پہچان لیا جائے گا۔

خدا کی قسم مجھے نہ ان مکاریوں سے غفلت میں ڈالا جا سکتا ہے اور نہ ان سختیوں سے دبایا جا سکتا ہے۔

(۱)کھلی ہوئی بات ہے کہ جسے پروردگار نے نفس رسول (ص) قراردیا ہو اورخود سرکار دو عالم (ص) نے باب مدینہ علم قرار دیاہو اس سے زیادہ ہوشیار ہوشمند اور صاحب علم و ہنر کون ہوسکتا ہے۔لیکن اس کے باوجود بعض نادان افراد کا خیال ہے کہ معایہ زیادہ ہوشیار اور زیرک تھا اور اسی لئے اس کی سیاست زیادہ کامیاب تھی۔حالانکہ اس کا راز ہوشیاری اورہوش مندی نہیں ہے۔بلکہ اس کا راز مکاری اور غداری ہے کہ معاویہ مقصد کے حصول کے لئے ہر وسیلہ کو جائز قرار دیتا تھا اور اس کا مقصد بھی صرف حصول اقتدار اورتحت حکومت تھا اور مولائے کائنات کی نگاہ میں نہمقصد وسیلہ کے جوازکا ذریعہ تھا اور نہ آپ کامقصد اقتدار دنی کا حصول تھا۔ آپ کا مقصد دین خدا کا قیام تھا اور اس راہمیں انسان کو ہر قدم پھونک پھونک کراٹھا ناپڑتا ہے اورہرسانس میں مرضی پر وردگار کاخیال رکھنا پڑتا ہے۔


(۲۰۱)

ومن كلام لهعليه‌السلام

يعظ بسلوك الطريق الواضح

أَيُّهَا النَّاسُ - لَا تَسْتَوْحِشُوا فِي طَرِيقِ الْهُدَى لِقِلَّةِ أَهْلِه - فَإِنَّ النَّاسَ قَدِ اجْتَمَعُوا عَلَى مَائِدَةٍ شِبَعُهَا قَصِيرٌ - وجُوعُهَا طَوِيلٌ.

أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا يَجْمَعُ النَّاسَ الرِّضَا والسُّخْطُ - وإِنَّمَا عَقَرَ نَاقَةَ ثَمُودَ رَجُلٌ وَاحِدٌ - فَعَمَّهُمُ اللَّه بِالْعَذَابِ لَمَّا عَمُّوه بِالرِّضَا - فَقَالَ سُبْحَانَه( فَعَقَرُوها فَأَصْبَحُوا نادِمِينَ ) - فَمَا كَانَ إِلَّا أَنْ خَارَتْ أَرْضُهُمْ بِالْخَسْفَةِ - خُوَارَ السِّكَّةِ الْمُحْمَاةِ فِي الأَرْضِ الْخَوَّارَةِ

أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوَاضِحَ وَرَدَ الْمَاءَ - ومَنْ خَالَفَ وَقَعَ فِي التِّيه!

(۲۰۲)

ومِنْ كَلَامٍ لَهعليه‌السلام

روِيَ عَنْه أَنَّه قَالَه عِنْدَ دَفْنِ سَيِّدَةِ النِّسَاءِ فَاطِمَةَعليه‌السلام كَالْمُنَاجِي بِه رَسُولَ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عِنْدَ قَبْرِه.

(۲۰۱)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں واضح راستوں پرچلنے کی نصیحت فرمائی گئی ہے )

ایہا الناس ! دیکھو ہدایت کے راستہ پرچلنے والوں کی قلت کی بنا پرچلنے سے مت گھبرائو کہ لوگوں نے ایک ایسے دستر خوان پر اجتماع کرلیا ہے جس میں سیر ہونے کی مدت بہت کم ہے اوربھوک کی مدت بہت طویل ہے۔

لوگو! یاد رکھو کہ رضا مندی اورناراضگی ہی سارے انسانوں کو ایک نقطہ پر جمع کر دیتی ہے۔ناقہ صالح کے پیرایک ہی انسان نے کاٹے تھے لیکن اللہ نے عذاب سب پر نازل کردیا کہ باقی لوگ اس کے عمل سے راضی تھے ۔اورفرمادیا کہ ان لوگوں نے ناقہ کے پیر کاٹ ڈالے اور آخر میں ندامت کا شکار ہوگئے۔ان کا عذاب یہ تھا کہ زمین جھٹکے سے گھڑگھڑانے لگی جس طرح کہ نرم زمین میں لوہے کی تپتی ہوئی پھالی چلائی جاتی ہے۔

لوگو!دیکھو جو روشن راستہ پرچلتا ہے وہ سر چشمہ تک پہنچ جاتا ہےاورجو اس کے خلاف کرتا ہےوہگمراہی میں پڑ جاتا ہے۔

(۲۰۲)

آپ کا ارشاد گرامی

(کہا جاتا ہے کہ یہ کلمات سیدة النساء فاطمہ زہراء کے دفن کے موقع پر پیغمبراسلام (ص) سے راز دارانہ گفتگو کے اندازسے کہے گئے ہیں ۔


السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّه عَنِّي - وعَنِ ابْنَتِكَ النَّازِلَةِ فِي جِوَارِكَ - والسَّرِيعَةِ اللَّحَاقِ بِكَ - قَلَّ يَا رَسُولَ اللَّه عَنْ صَفِيَّتِكَ صَبْرِي ورَقَّ عَنْهَا تَجَلُّدِي - إِلَّا أَنَّ فِي التَّأَسِّي لِي بِعَظِيمِ فُرْقَتِكَ - وفَادِحِ مُصِيبَتِكَ مَوْضِعَ تَعَزٍّ - فَلَقَدْ وَسَّدْتُكَ فِي مَلْحُودَةِ قَبْرِكَ - وفَاضَتْ بَيْنَ نَحْرِي وصَدْرِي نَفْسُكَ - فَ( إِنَّا لِلَّه وإِنَّا إِلَيْه راجِعُونَ ) - فَلَقَدِ اسْتُرْجِعَتِ الْوَدِيعَةُ وأُخِذَتِ الرَّهِينَةُ - أَمَّا حُزْنِي فَسَرْمَدٌ وأَمَّا لَيْلِي فَمُسَهَّدٌ - إِلَى أَنْ يَخْتَارَ اللَّه لِي دَارَكَ الَّتِي أَنْتَ بِهَا مُقِيمٌ - وسَتُنَبِّئُكَ ابْنَتُكَ بِتَضَافُرِ أُمَّتِكَ عَلَى هَضْمِهَا - فَأَحْفِهَا السُّؤَالَ واسْتَخْبِرْهَا الْحَالَ - هَذَا ولَمْ يَطُلِ الْعَهْدُ ولَمْ يَخْلُ مِنْكَ الذِّكْرُ - والسَّلَامُ عَلَيْكُمَا سَلَامَ مُوَدِّعٍ لَا قَالٍ ولَا سَئِمٍ - فَإِنْ أَنْصَرِفْ فَلَا عَنْ مَلَالَةٍ - وإِنْ أُقِمْ فَلَا عَنْ سُوءِ ظَنٍّ

سلام ہو آپ پر اے خدا کے رسول (ص) ! میری طرف سے اور آپ کی اس دختر کی طرف سے جوآپ کے جوار میں نازل ہو رہی ہے اوربہت جلدی آپ سے ملحق ہو رہی ہے۔ یا رسول اللہ (ص) ! میری قوت صبر آپ کی منتخب روز گار دختر کے بارے میں ختم ہوئی جا رہی ہے اور میری ہمت ساتھ چھوڑے دے رہی ہے صرف سہارا یہ ہے کہ میں نے آپ کے فراق کے عظیم صدمہ اورجانکاہ حادثہ پر صبر کرلیا ہے تواب بھی صبر کروں گا کہ میں نے ہی آپ کو قبر میں اتارا تھا اور میرے ہی سینہ پر سر رکھ کر آپ نے انتقال فرمایا تھا بہر حال میں اللہ ہی کے لئے ہوں اور مجھے بھی اس کی بارگاہ میں واپس جانا ہے۔آج امانت واپس چلی گئی اور جوچیز میری تحویل میں تھی وہ مجھ سے چھڑالی گئی۔اب میرا رنج و غم دائمی ہے اورمیرے راتیں نذر بیداری ہیں جب تک مجھے بھی پروردگار اس گھرتک نہ پہنچا دے جہاں آپ کا قیام ہے۔عنقریب آپ کی دختر نیک اختران حالات کی اطالع دے گی کہ کس طرح آپ کی امت نے اس پر ظلم ڈھانے کے لئے اتفاق کرلیا تھا آپ اس سے مفصل سوال فرمائیں اورجملہ حالات دریافت کریں۔

افسوس کہ یہ سب اس وقت ہوا ہے جب آپ کا زمانہ گزرے دیر نہیں ہوئی ہے اور ابھی آپ کاتذکرہ باقی ہے۔

میرا سلام ہو آپ دونوں پر۔اس شخص کا سلام جو رخصت کرنے والا ہے اور دل تنگ و ملول نہیں ہے ۔ میں اگراس قبر سے واپس چلا جائوں تو یہ کسی دل تنگی کا نتیجہ نہیں ہے اور اگر یہیں ٹھہر جائوں تو یہ اس وعدہ کی ہے اعتبار ہ ی


بِمَا وَعَدَ اللَّه الصَّابِرِينَ.

(۲۰۳)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في التزهيد من الدنيا والترغيب في الآخرة

أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الدُّنْيَا دَارُ مَجَازٍ والآخِرَةُ دَارُ قَرَارٍ - فَخُذُوا مِنْ مَمَرِّكُمْ لِمَقَرِّكُمْ - ولَا تَهْتِكُوا أَسْتَارَكُمْ عِنْدَ مَنْ يَعْلَمُ أَسْرَارَكُمْ - وأَخْرِجُوا مِنَ الدُّنْيَا قُلُوبَكُمْ - مِنْ قَبْلِ أَنْ تَخْرُجَ مِنْهَا أَبْدَانُكُمْ - فَفِيهَا اخْتُبِرْتُمْ ولِغَيْرِهَا خُلِقْتُمْ - إِنَّ الْمَرْءَ إِذَا هَلَكَ قَالَ النَّاسُ مَا تَرَكَ؟ وقَالَتِ الْمَلَائِكَةُ مَا قَدَّمَ - لِلَّه آبَاؤُكُمْ فَقَدِّمُوا بَعْضاً يَكُنْ لَكُمْ قَرْضاً - ولَا تُخْلِفُوا كُلاًّ فَيَكُونَ فَرْضاً عَلَيْكُمْ.

(۲۰۴)

ومن كلام لهعليه‌السلام

كان كثيرا ما ينادي به أصحابه

تَجَهَّزُوا رَحِمَكُمُ اللَّه فَقَدْ نُودِيَ فِيكُمْ بِالرَّحِيلِ وأَقِلُّوا الْعُرْجَةَ عَلَى الدُّنْيَا

نہیں ہے جو پروردگار نے صبرکرنے والوں سے کیا ہے۔

(۲۰۳)

آپ کا ارشاد گرامی

(دنیا سے پرہیزاورآخرت کی ترغیب کے بارےمیں)

لوگو! یہ دنیا ایک گذر گاہ ہے ۔قرار کی منزل آخرت ہی ہے لہٰذا اس گزر گاہ سے وہاں کا سامان لے کرآگے بڑھو اور اس کے سامنے اپنے پردہ ٔ راز کو چاک مت کرو جو تمہارے اسرار سے با خبر ہے۔دنیا سے اپنے دلوں(۱) کو باہر نکال لو قبل اس کے کہ تمہارے بدنکو یہاں سے نکالا جائے۔یہاں صرف تمہارا امتحان لیا جا رہا ہے ورنہ تمہاری خلقت کسی اور جگہ کے لئے ہے۔کوئی بھی شخص جب مرتا ہے تو ادھر والے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا چھوڑ کر گیا ہے اورادھرکے فرشتے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا لے کرآیا ہے ؟ اللہ تمہارا بھلاکرے کچھ وہاں بھیج دو جو مالک کے پاس تمہارے قرضہ کے طورپ ر رہے گا۔اور سب یہیں چھوڑ کرمت جائو کہ تمہارے ذمہ ایک بوجھ بن جائے ۔

(۲۰۴)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس کے ذریعہ اپنے اصحاب کوآوازدیاکرتے تھے )

خدا تم پر رحم کرے تیار ہوجائو کہ تمہیں کوچ کرنےکے لئے پکارا جا چکا ہے اور خبر دار دنیا کی طرف زیادہ

(۱)اسلام کا مدعا ترک دنیا تمہیں ہے اور نہ وہ یہ چاہتا ہے کہ انسان رہبانیت کی زندگی گزارے۔اسلام کا مقصد صرف یہ ہے کہ دنیا انسان کی زندگی کا وسیلہ رہے اور اس کے دل کا مکین نہ بننے پائے۔ورنہ حب دنیا انسان کو زندگی کے ہر خطرہ سے دوچار کرسکتی ہے اور اسے کسی بھی گڑھے میں گرا سکتی ہے۔


- - وانْقَلِبُوا بِصَالِحِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ مِنَ الزَّادِ - فَإِنَّ أَمَامَكُمْ عَقَبَةً كَئُوداً ومَنَازِلَ مَخُوفَةً مَهُولَةً - لَا بُدَّ مِنَ الْوُرُودِ عَلَيْهَا والْوُقُوفِ عِنْدَهَا -. واعْلَمُوا أَنَّ مَلَاحِظَ الْمَنِيَّةِ نَحْوَكُمْ دَانِيَةٌ - وكَأَنَّكُمْ بِمَخَالِبِهَا وقَدْ نَشِبَتْ فِيكُمْ - وقَدْ دَهَمَتْكُمْ فِيهَا مُفْظِعَاتُ الأُمُورِ ومُعْضِلَاتُ الْمَحْذُورِ -. فَقَطِّعُوا عَلَائِقَ الدُّنْيَا واسْتَظْهِرُوا بِزَادِ التَّقْوَى.

وقد مضى شيء من هذا الكلام فيما تقدم - بخلاف هذه الرواية

(۲۰۵)

ومن كلام لهعليه‌السلام

كلم به طلحة والزبير - بعد بيعته بالخلافة وقد عتبا عليه من ترك مشورتهما،

والاستعانة في الأمور بهما

لَقَدْ نَقَمْتُمَا يَسِيراً وأَرْجَأْتُمَا كَثِيراً - أَلَا تُخْبِرَانِي أَيُّ شَيْءٍ كَانَ لَكُمَا فِيه حَقٌّ دَفَعْتُكُمَا عَنْه

توجہ مت کرو ۔جو بہترین زاد راہ تمہارے سامنے ہے اسے لے کر مالک کی بارگاہ کی طف پلٹ جائو کہ تمہارے سامنے ایک بڑی دشوار گزار گھاٹی ہے۔اورچند خطرنک اورخوفناک منزلیں ہیں جن پر بہر حال وارد ہونا ہے اور وہیں ٹھہرنا بھی ہے۔اوریہ یاد رکھو کہموت کی نگاہیں تم سے قریب تر ہوچکی ہیں اورتم اس کے پنجوں میں آچکے ہو جو تمہارے اندر گڑا ئے جا چکے ہیں۔موت کے شدید ترین مسائلاوردشوار ترین مشکلات تم پر چھا چکے ہیں ۔اب دنیا کے تعلقات کوختم کرو اورآخرت کے زاد راہ تقویکے ذریعہ اپنی طاقت کا انتظام کرو۔(واضح رہےکہ اس سے پہلے بھی اسی قسم کاایک کلام دوسری روایت کے مطابق گزر چکا ہے)

(۲۰۵)

آپ کا ارشاد گرامی

( جس میں طلحہ و زبیر کو مخاطب بنایا گیا ہے جب ان دونوں نے بیعت کے باوجود مشورہ کرنے اورمدد نہ مانگنے پر آپ سے ناراضگی کا ظہار کیا )

تم نے معمولی سی بات پرتو غصہ کا اظہار کردیا لیکن بڑی باتوں کو پس پشت ڈال دیا۔کیا تم یہ بتا سکتے ہو کہ تمہارا کون ساحق(۱) ایسا ہے جس سے میں نے تم کو محروم

(۱)امیر المومنین نے ان تمام پہلوئوں کاتذکرہ اس لئے کیا ہے تاکہ طلحہ اور زبیر کی نیتوں کا محاسبہ کیا جاسکے اور ان کے عزائم کی حقیقتوں کوب ے نقاب کیا جاسکے کہ مجھ سے پہلے زمانوںمیں یہ تمام نقائص موجود تھے کبھی حقوق کی پامالی ہو رہی تھی ۔کبھی اسلامی سرمایہ کو اپنے گھرانے پر تقسیم کیا جا رہا تھا کبھی مقدمات میں فیصلہ سے عاجزی کا اعتراف تھا اور کبھی صریحی طور پر غلط فیصلہ کیا جارہا تھا۔لیکن اس کے باوجود تم لوگوں کی رگ حمیت و غیرت کو کوئی جنبش نہیں ہو ئی۔اورآج جب کہ ایسا کچھ نہیں ہے تو تم بغاوت پر آمادہ ہوگئے ہو۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا تعلق دین اور مذہب سے نہیں ہے۔تمہیں صرف اپنے مفادات سے تعلق ہے۔جب تک یہ مفادات محفوظ تھے 'تم نے ہر غلطی پر سکوتاختیار کیا اور آج جب مفادات خطرہ میں پڑ گئے ہیں تو شورش اورہنگامہ پرآمادہ ہوگئے ہو۔


أَمْ أَيُّ قَسْمٍ اسْتَأْثَرْتُ عَلَيْكُمَا بِه - أَمْ أَيُّ حَقٍّ رَفَعَه إِلَيَّ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ - ضَعُفْتُ عَنْه أَمْ جَهِلْتُه أَمْ أَخْطَأْتُ بَابَه!

واللَّه مَا كَانَتْ لِي فِي الْخِلَافَةِ رَغْبَةٌ - ولَا فِي الْوِلَايَةِ إِرْبَةٌ - ولَكِنَّكُمْ دَعَوْتُمُونِي إِلَيْهَا وحَمَلْتُمُونِي عَلَيْهَا - فَلَمَّا أَفْضَتْ إِلَيَّ نَظَرْتُ إِلَى كِتَابِ اللَّه ومَا وَضَعَ لَنَا - وأَمَرَنَا بِالْحُكْمِ بِه فَاتَّبَعْتُه - ومَا اسْتَنَّ النَّبِيُّصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فَاقْتَدَيْتُه - فَلَمْ أَحْتَجْ فِي ذَلِكَ إِلَى رَأْيِكُمَا ولَا رَأْيِ غَيْرِكُمَا - ولَا وَقَعَ حُكْمٌ جَهِلْتُه فَأَسْتَشِيرَكُمَا وإِخْوَانِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ - ولَوْ كَانَ ذَلِكَ لَمْ أَرْغَبْ عَنْكُمَا ولَا عَنْ غَيْرِكُمَا -. وأَمَّا مَا ذَكَرْتُمَا مِنْ أَمْرِ الأُسْوَةِ - فَإِنَّ ذَلِكَ أَمْرٌ لَمْ أَحْكُمْ أَنَا فِيه بِرَأْيِي - ولَا وَلِيتُه هَوًى مِنِّي - بَلْ وَجَدْتُ أَنَا وأَنْتُمَا مَا جَاءَ بِه رَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قَدْ فُرِغَ مِنْه - فَلَمْ أَحْتَجْ إِلَيْكُمَا فِيمَا قَدْ فَرَغَ اللَّه مِنْ قَسْمِه - وأَمْضَى فِيه حُكْمَه - فَلَيْسَ لَكُمَا واللَّه عِنْدِي ولَا لِغَيْرِكُمَا فِي هَذَا عُتْبَى -. أَخَذَ اللَّه بِقُلُوبِنَا وقُلُوبِكُمْ إِلَى الْحَقِّ - وأَلْهَمَنَا وإِيَّاكُمُ الصَّبْرَ.

کردیا ہے ؟ یا کونسا حصہ ایسا ہے جس پر میں نے قبضہ کرلیا ہے ؟ یا کسی مسلمان نے کوئی مقدمہ پیش کیا ہو اور میں اس کا فیصلہ نہ کر سکا ہوں یا اس سے ناواقف رہا ہوں یا اس میں کسی غلطی کا شکار ہوگیا ہوں۔ خدا گواہ ہے کہ مجھے نہ خلافت کی خواہش تھی اور نہ حکومت کی احتیاج۔تمہیں لوگوں نے مجھے اس امر کی دعوت دی اور اس پر آمادہ کیا۔اس کے بعد جب یہ میرے ہاتھ میں آگئی تو میں نے اس سلسلہ میں کتاب خدا اور اس کے دستور پر نگاہ کی اور جو اس نے حکم دیا تھا اس کا اتباع کیا اور اس طرح رسول اکرم (ص) کی سنت کی اقتدا کی۔جس کے بعد نہ مجھے تمہاری رائے کی کوئی ضرورت تھی اور نہ تمہارے علاوہ کسی کی رائے کی اور نہمیں کسی حکم سے جاہل تھا کہ تم سے مشورہ کرتا یا تمہارے علاوہ دیگر برادران اسلام سے۔اور اگر ایی کوئی ضرورت ہوتی تو میں نہ تمہیں نظر انداز کرتا اورنہ دیگر مسلمانوں کو۔رہ گیا یہ مسئلہ کہ میں نے بیت المال کی تقسیم میں برابری سے کاملیا ہے تو یہ نہمیری ذاتی رائے ہے اور نہاس پر میری خواہش کی حکمرانی ہے بلکہ میں نے دیکھا کہ اس سلسلہ میں رسول اکرم (ص) کی طرف سے ہم سے پہلے فیصلہ ہوچکا ہے تو خدا کے معین کئے ہوئے حق اور اس کے جاری کئے ہوئے حکم کے بعد کسی کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہ گئی ہے۔ خدا شاہد ہے کہ اس سلسلہ میں نہ تمہیں شکایت کا کوئی حق ہے اور نہ تمہارے علاوہ کسی اور کو۔اللہ ہم سب کے دلوں کو حق کی راہ پر لگا دے اور سب کو صبر و شکیبائی کی توفیق عطا فرمائے ۔


ثم قالعليه‌السلام - رَحِمَ اللَّه رَجُلًا رَأَى حَقّاً فَأَعَانَ عَلَيْه - أَوْ رَأَى جَوْراً فَرَدَّه - وكَانَ عَوْناً بِالْحَقِّ عَلَى صَاحِبِه.

(۲۰۶)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وقد سمع قوما من أصحابه يسبون أهل الشام أيام حربهم بصفين

إِنِّي أَكْرَه لَكُمْ أَنْ تَكُونُوا سَبَّابِينَ - ولَكِنَّكُمْ لَوْ وَصَفْتُمْ أَعْمَالَهُمْ وذَكَرْتُمْ حَالَهُمْ - كَانَ أَصْوَبَ فِي الْقَوْلِ وأَبْلَغَ فِي الْعُذْرِ - وقُلْتُمْ مَكَانَ سَبِّكُمْ إِيَّاهُمْ - اللَّهُمَّ احْقِنْ دِمَاءَنَا ودِمَاءَهُمْ - وأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا وبَيْنِهِمْ واهْدِهِمْ مِنْ ضَلَالَتِهِمْ - حَتَّى يَعْرِفَ الْحَقَّ مَنْ جَهِلَه - ويَرْعَوِيَ عَنِ الْغَيِّ والْعُدْوَانِ مَنْ لَهِجَ بِه

(۲۰۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في بعض أيام صفين - وقد رأى الحسن ابنهعليه‌السلام يتسرع إلى الحرب

امْلِكُوا عَنِّي هَذَا الْغُلَامَ لَا يَهُدَّنِي - فَإِنَّنِي أَنْفَسُ بِهَذَيْنِ يَعْنِي الْحَسَنَ والْحُسَيْنَعليه‌السلام - عَلَى الْمَوْتِ

خدا اس شخص پر رحمت نازل کرے جو حق کو دیکھ لے تو اس پرعمل کرے یا ظلم کو دیکھ لے تو اسے ٹھکرا دے اورصاحب حق میں اس کا ساتھ دے ۔

(۲۰۶)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب آپ نے جنگ صفین کے زمانہ میں اپنے بعض اصحاب کے بارے میں سنا کہ وہ اہل شام کو برا بھلا کہہ رہے ہیں )

میں تمہارے لئے اس بات کو نا پسند کرتا ہوں کہ تم گالیاں دینے والے ہو جائو۔بہترین بات یہ ہے کہ تم ان کے اعمال اورحالات کاتذکرہ کرو تاکہ بات بھی صحیح رہے اورحجت بھی تمام ہو جائے اور پھر گالیاں دینے کے بجائے یہ دعا کرو کہ خدایا! ہم سب کے خونوں کومفحوظ کردے اور ہمارے معاملات کی اصلاح کردے اور انہیں گمراہی سے ہدایت کیراستہ پر لگادے تاکہ ناواقف لوگحق سے با خبر ہو جائیں اور حرف باطل کہنے والے اپنی گمراہی اور سرکشی سے بازآجائیں۔

(۲۰۷)

آپ کا ارشاد گرامی

(جنگ صفین کے دورا ن جب امام حسن کو میدان جنگ کی طرف سبقت کرتے ہوئے دیکھ لیا)

دیکھو! اس فرزند کو روک لو کہیں اس کاصدمہ مجھے بے حال نہکردے ۔میں ان دونوں ( حسن و حسین ) کو موت کے مقابلہ میں زیادہ عزیز رکھتا ہوں


لِئَلَّا يَنْقَطِعَ بِهِمَا نَسْلُ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم .

قال السيد الشريف - قولهعليه‌السلام املكوا عني هذا الغلام - من أعلى الكلام وأفصحه.

(۲۰۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قاله لما اضطرب عليه أصحابه في أمر الحكومة

أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّه لَمْ يَزَلْ أَمْرِي مَعَكُمْ عَلَى مَا أُحِبُّ - حَتَّى نَهِكَتْكُمُ الْحَرْبُ - وقَدْ واللَّه أَخَذَتْ مِنْكُمْ وتَرَكَتْ - وهِيَ لِعَدُوِّكُمْ أَنْهَكُ.

لَقَدْ كُنْتُ أَمْسِ أَمِيراً فَأَصْبَحْتُ الْيَوْمَ مَأْمُوراً - وكُنْتُ أَمْسِ نَاهِياً فَأَصْبَحْتُ الْيَوْمَ مَنْهِيّاً - وقَدْ أَحْبَبْتُمُ الْبَقَاءَ ولَيْسَ لِي أَنْ أَحْمِلَكُمْ عَلَى مَا تَكْرَهُونَ!

(۲۰۹)

ومن كلام لهعليه‌السلام

بالبصرة - وقد دخل على العلاء بن زياد الحارثي وهو من أصحابه

يعوده، فلما رأى سعة داره قال:

کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے مرجانے سے نسل رسول (ص) منقطع ہو جائے۔

سید رضی : املکوا عنی ھذا الغلام:عرب کا بلند ترین کلام اور فصیح ترین محاورہ ہے۔

(۲۰۸)

آپ کا ارشاد گرامی

(جو اس وقت ارشاد فرمایا جب آپ کے اصحاب میں تحکیم کے بارے میں اختلاف ہوگیا تھا)

لوگو! یاد رکھو کہ میرے معاملات تمہارے ساتھ بالکل صحیح چل رہے تھے جب تک جنگ نے تمہیں خستہ حال نہیں کردیا تھا۔اس کے بعد معاملات بگڑ گئے حالانکہ خداگواہ ہے کہاگر جنگ نے تم سے کچھ کولے لیا اورکچھ کوچھوڑ دیا تو اس کی زد تمہارے دشمن پر زیادہ ہی پڑی ہے۔ افسو س کہ میں کل تمہارا حاکم تھا اور آج محکوم بنایا جا رہا ہوں۔کل تمہیں میں روکا کرتا تھااور آج تم مجھے روک رہے ہو۔بات صرف یہ ہے کہ تمہیں زندگی زیادہ پیاری ہے اورمیں تمہیں کسی ایسی چیز پرآمادہ نہیں کرسکتا ہوں جوتمہیں ناگوار اور ناپسند ہو۔

(۲۰۹)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب بصرہ میں اپنے صحابی علاء بن زیاد حارثی کے گھر عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور ان کے گھر کی وسعت کا مشاہدہ فرمایا )


مَا كُنْتَ تَصْنَعُ بِسِعَةِ هَذِه الدَّارِ فِي الدُّنْيَا - وأَنْتَ إِلَيْهَا فِي الآخِرَةِ كُنْتَ أَحْوَجَ - وبَلَى إِنْ شِئْتَ بَلَغْتَ بِهَا الآخِرَةَ - تَقْرِي فِيهَا الضَّيْفَ وتَصِلُ فِيهَا الرَّحِمَ - وتُطْلِعُ مِنْهَا الْحُقُوقَ مَطَالِعَهَا - فَإِذاً أَنْتَ قَدْ بَلَغْتَ بِهَا الآخِرَةَ.

فَقَالَ لَه الْعَلَاءُ - يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَشْكُو إِلَيْكَ أَخِي عَاصِمَ بْنَ زِيَادٍ - قَالَ ومَا لَه - قَالَ لَبِسَ الْعَبَاءَةَ وتَخَلَّى عَنِ الدُّنْيَا - قَالَ عَلَيَّ بِه فَلَمَّا جَاءَ قَالَ: يَا عُدَيَّ نَفْسِه لَقَدِ اسْتَهَامَ بِكَ الْخَبِيثُ - أَمَا رَحِمْتَ أَهْلَكَ ووَلَدَكَ - أَتَرَى اللَّه أَحَلَّ لَكَ الطَّيِّبَاتِ وهُوَ يَكْرَه أَنْ تَأْخُذَهَا - أَنْتَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّه مِنْ ذَلِكَ

قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - هَذَا أَنْتَ فِي خُشُونَةِ مَلْبَسِكَ وجُشُوبَةِ مَأْكَلِكَ!

قَالَ وَيْحَكَ إِنِّي لَسْتُ كَأَنْتَ - إِنَّ اللَّه تَعَالَى فَرَضَ عَلَى أَئِمَّةِ - الْعَدْلِ أَنْ يُقَدِّرُوا أَنْفُسَهُمْ بِضَعَفَةِ النَّاسِ - كَيْلَا يَتَبَيَّغَ بِالْفَقِيرِ فَقْرُه!

تم اس دنیا میں اس قدر وسیع مکان(۱) کو لے کر کیا کروگے جب کہ آخرت میں اس کی احتیاج زیادہ ہے۔تم اگرچاہو تو اس کے ذریعہ آخرت کا سامان کرسکتے ہو کہ اس میں مہمانوں کی ضیافت کرو۔قرابتداروں سے صلہ رحم کرو اورموقع و محل کے مطابق حقوق کوادا کرو کہ اس طرح آخرت کوحاصل کرسکتے ہو۔

یہ سن کرعلاء بن زیاد نے عرض کی کہ یا امیرالمومنین میں اپنے بھائی عاصم بن زیاد کی شکایت کرناچاہتا ہوں۔فرمایا کہ انہیں کیا ہوگیا ہے ؟ عرض کی کہ انہوں نے ایک عبا اوڑھ لی ہے اور دنیا کو یکسر ترک کردیا ہے۔فرمایا انہیں بلائو ۔عاصم حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ:

اے دشمن جان! تجھے شیطان خبیث نے گرویدہ بنا لیا ہے۔تجھے اپنے اہل و عیال پر کیوں رحم نہیں آتا ہے۔کیا تیراخیال یہ ہے کہ خدانے پاکیزہ چیزوں کو حلال تو کیا ہے لیکن وہ ان کے استعمال کو نا پسند کرتا ہے۔تو خدا کی بارگاہ میں اس سے زیادہ پست ہے۔

عاصم نے عرض کی کہ یا امیرالمومنین ! آپ بھی تو کھردرا لباس اور معمولی کھانے پر گذارا کر رہے ہیں۔

فرمایا : تم پر حیف ہے کہ تم نے میراقیاس اپنے اوپر کرلیا ہے جب کہ پروردگارنے ائمہ حق پرفرض کردیا ہے کہ اپنی زندگی کا پیمانہ کمزور ترین انسانوں کو قراردیںتاکہ فقیر اپنے فقر کی بنا پر کسی پیچ و تاب کا شکار ہو۔

(۱)یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ مکان کی وسعت ذاتی اغراض کے لئے ہو تو اس کا نام دنیا داری ہے۔لیکن اگر اس کامقصد مہمان نوازی صلہ ارحام ادائیگی حقوق حفظ آبرو۔اظہار عظمت علم و مذہب ہوتو اس کاکوئی تعلق دنیداری سے نہیں ہے اور یہ دین و مذہب ہی کا ایک شعبہ ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ یہ فیصلہ نیتوں سے ہوگا اورنتیوں کا جاننے والا صرف پروردگار ہے کوئی دوسرا نہیں ہے۔


(۲۱۰)

ومن كلام لهعليه‌السلام

وقد سأله سائل عن أحاديث البدع - وعما في أيدي الناس من اختلاف الخبر فقالعليه‌السلام :

إِنَّ فِي أَيْدِي النَّاسِ حَقّاً وبَاطِلًا - وصِدْقاً وكَذِباً ونَاسِخاً ومَنْسُوخاً - وعَامّاً وخَاصّاً - ومُحْكَماً ومُتَشَابِهاً وحِفْظاً ووَهْماً - ولَقَدْ كُذِبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عَلَى عَهْدِه - حَتَّى قَامَ خَطِيباً فَقَالَ - مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّداً فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَه مِنَ النَّارِ».

وإِنَّمَا أَتَاكَ بِالْحَدِيثِ أَرْبَعَةُ رِجَالٍ لَيْسَ لَهُمْ خَامِسٌ:

المنافقون

رَجُلٌ مُنَافِقٌ مُظْهِرٌ لِلإِيمَانِ مُتَصَنِّعٌ بِالإِسْلَامِ - لَا يَتَأَثَّمُ ولَا يَتَحَرَّجُ - يَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مُتَعَمِّداً - فَلَوْ عَلِمَ النَّاسُ أَنَّه مُنَافِقٌ كَاذِبٌ لَمْ يَقْبَلُوا مِنْه - ولَمْ يُصَدِّقُوا قَوْلَه - ولَكِنَّهُمْ

(۲۱۰)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب کسی شخص نے آپ سے بدعتی احادیث اورمتضاد روایات کے بارے میں سوال کیا )

لوگوں کے ہاتھوں میں حق و باطل(۱) صدق و کذب ' ناسخ ومنسوخ، عام وخاص ' محکم و متشابہ اور حقیقت و وہم سب کچھ ہے اور کذب و افترا کا سلسلہ رسول اکرم (ص) کی زندگی ہی سے شروع ہوگیا تھا جس کے بعد آپ نے منبر سے اعلان کیا تھا کہ '' جس شخص نے بھی میری طرف سے غلط بات بیان کی اسے اپنی جگہ جہنم میں بنا لینا چاہیے ۔''

یاد رکھو کہ حدیث کے بیان والے چار طرح کے افراد ہوتے ہیں جن کی پانچویں کوئی قسم نہیں ہے:

ایک وہ منافق ہے جو ایمان کا اظہار کرتا ہے۔اسلام کی وضع قطع اختیار کرتا ہے لیکن گناہ کرنے اور افتراء میں پڑنے سے پرہیز نہیں کرتا ہے اور رسول اکرم (ص) کے خلاف قصداً جھوٹی روایتیں تیار کرتا ہے۔ کہ اگر لوگوں کومعلوم ہو جائے کہ یہ منافق اورجھوٹا تو یقینا اس کے بیان کی تصدیق نہ کریں گے لیکن مشکل یہ ہے کہ

(۱)واضح رہے کہ اسلامی علوم میں علم رجال اور علم ورایت کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ سارا عالم اسلام اس نقطہ پر متفق ہے کہ روایات قابل قبول بھی ہیں اورنا قابل قبول بھی۔اور راوی حضرات ثقہ اورمعتبر بھی ہیں اور غیر ثقہ اورغیر معتبر بھی۔اس کے بعد عدالت صحابہ اور اعتبار تمام علماء کا عقیدہ۔ایک مضحکہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔


قَالُوا صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - رَآه وسَمِعَ مِنْه ولَقِفَ عَنْه فَيَأْخُذُونَ بِقَوْلِه - وقَدْ أَخْبَرَكَ اللَّه عَنِ الْمُنَافِقِينَ بِمَا أَخْبَرَكَ - ووَصَفَهُمْ بِمَا وَصَفَهُمْ بِه لَكَ ثُمَّ بَقُوا بَعْدَه - فَتَقَرَّبُوا إِلَى أَئِمَّةِ الضَّلَالَةِ - والدُّعَاةِ إِلَى النَّارِ بِالزُّورِ والْبُهْتَانِ - فَوَلَّوْهُمُ الأَعْمَالَ وجَعَلُوهُمْ حُكَّاماً عَلَى رِقَابِ النَّاسِ - فَأَكَلُوا بِهِمُ الدُّنْيَا وإِنَّمَا النَّاسُ مَعَ الْمُلُوكِ والدُّنْيَا - إِلَّا مَنْ عَصَمَ اللَّه فَهَذَا أَحَدُ الأَرْبَعَةِ.

الخاطئون

ورَجُلٌ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّه شَيْئاً لَمْ يَحْفَظْه عَلَى وَجْهِه - فَوَهِمَ فِيه ولَمْ يَتَعَمَّدْ كَذِباً فَهُوَ فِي يَدَيْه - ويَرْوِيه ويَعْمَلُ بِه - ويَقُولُ أَنَا سَمِعْتُه مِنْ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - فَلَوْ عَلِمَ الْمُسْلِمُونَ أَنَّه وَهِمَ فِيه لَمْ يَقْبَلُوه مِنْه - ولَوْ عَلِمَ هُوَ أَنَّه كَذَلِكَ لَرَفَضَه!

وہ سمجھتے ہیں کہ یہ صحابی ہے۔اس نے حضور کودیکھا ہے ۔ان کے ارشاد کو سنا ہے اور ان سے حاصل کیا ہے اور اس طرح اس کے بیان کو قبول کرلیتے ہیں جب کہخود پروردگار بھی منافقین کے بارے میں خبر دے چکا ہے اور ان کے اوصاف کاتذکرہ کرچکا ہے اور یہ رسول اکرم (ص) کے بعد بھی باقی رہ گئے تھے اور گمراہی کے پیشوائوں(۱) اور جہنم کے داعیوں کی طرف اسی غلط بیانی اور افترا پردازی سے تقرب حاصل کرتے تھے ۔وہ انہیں عہدے دیتے رہے اور لوگوں کی گردنوں پر حکمراں بناتے رہے اور انہیں کے ذریعہ دنیا کو کھاتے رہے اور لوگ تو بہر حال بادشاہوں اوردنیا داروں ہی کے ساتھ رہتے ہیں۔علاوہ ان کے جنہیں اللہ اس شر سے محفوظ کرلے۔یہ چار میں سے ایک قسم ہے۔

دوسرا شخص وہ ہے جس نے رسول اکرم (ص) سے کوئی بات سنی ہے لیکن اسے صحیح طریقہ سے محفوظ نہیں کرس کا ہے اوراس میں غلطی کا شکار ہوگیا ہے۔جان بوجھ کرجھوٹ نہیں بولتا ہے۔جوکچھ اس کے ہاتھ میں ہے اسی کی روایت کرتا ہے اوراسی پرعمل کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ یہ میں نے رسول اکرم (ص) سے سنا ہے حالانکہ اگر مسلمانوں کو معلوم ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے تو ہرگز اس کی بات قبول نہ کریں گے بلکہ اگر اسے خودبھی معلوم ہوجائے کہ یہ بات اس طرح نہیں ہے تو ترک کردے گا اور نقل نہیں کرے گا۔

(۱)حضرت نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ منافقین کا کاروبار ہمیشہ حکام کی نالائقی سے چلتا ہے ورنہ حکام دیانتدار ہوں اورایسی روایات کے خریدار نہ بنیں تو منافقین کا کاروبار ایک دن میں ختم ہو سکتا ہے۔


أهل الشبهة

ورَجُلٌ ثَالِثٌ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شَيْئاً - يَأْمُرُ بِه ثُمَّ إِنَّه نَهَى عَنْه وهُوَ لَا يَعْلَمُ - أَوْ سَمِعَه يَنْهَى عَنْ شَيْءٍ ثُمَّ أَمَرَ بِه وهُوَ لَا يَعْلَمُ - فَحَفِظَ الْمَنْسُوخَ ولَمْ يَحْفَظِ النَّاسِخَ - فَلَوْ عَلِمَ أَنَّه مَنْسُوخٌ لَرَفَضَه - ولَوْ عَلِمَ الْمُسْلِمُونَ إِذْ سَمِعُوه مِنْه أَنَّه مَنْسُوخٌ لَرَفَضُوه –

الصادقون الحافظون

وآخَرُ رَابِعٌ - لَمْ يَكْذِبْ عَلَى اللَّه ولَا عَلَى رَسُولِه - مُبْغِضٌ لِلْكَذِبِ خَوْفاً مِنَ اللَّه وتَعْظِيماً لِرَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - ولَمْ يَهِمْ بَلْ حَفِظَ مَا سَمِعَ عَلَى وَجْهِه - فَجَاءَ بِه عَلَى مَا سَمِعَه - لَمْ يَزِدْ فِيه ولَمْ يَنْقُصْ مِنْه - فَهُوَ حَفِظَ النَّاسِخَ فَعَمِلَ بِه - وحَفِظَ الْمَنْسُوخَ فَجَنَّبَ عَنْه - وعَرَفَ الْخَاصَّ والْعَامَّ والْمُحْكَمَ والْمُتَشَابِه - فَوَضَعَ كُلَّ شَيْءٍ مَوْضِعَه.

وقَدْ كَانَ يَكُونُ مِنْ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الْكَلَامُ - لَه وَجْهَانِ فَكَلَامٌ  

يَسْمَعُوا - وكَانَ لَا يَمُرُّ بِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ إِلَّا سَأَلْتُه عَنْه وحَفِظْتُه - فَهَذِه وُجُوه مَا عَلَيْه النَّاسُ فِي اخْتِلَافِهِمْ وعِلَلِهِمْ فِي رِوَايَاتِهِمْ.

تیسری قسم اس شخص کی ہے جس نے رسول اکرم (ص) کو حکم دیتے سنا ہے لیکن حضرت نے جب منع کیا تو اسے اطلاع نہیں ہو سکی یا حضرت کو منع کرتے دیکھا ہے پھر جب آپ نے دوبارہ حکم دیا تو اطلاع نہ ہو سکی' اس شخص نے منسوخ کو محفوظ کرلیا ہے اور ناسخ کو محفوظ نہیں کر سکا ہے کہاگر اسے معلوم ہو جائے کہ یہ حکم منسوخ ہوگیا ہے تو اسے ترک کردے گا اور اگرمسلمانوں کو معلوم ہوجائے کہ اس نے منسوخ کی روایت کی ہے تو وہ بھی اسے نظر اندازکردیں گے۔

چوتھی قسم اس شخص کی ہے جس نے خدا اور رسول (ص) کے خلاف غلط بیانی سے کام نہیں لیا ہے اور وہ خوف خدا اورتعظیم رسول خدا کی بنیاد پر جھوٹ کا دشمن بھی ہے اور اس سے بھول چوک بھی نہیں ہوئی ہے بلکہ جیسے رسول اکرم (ص) نے فرمایا ہے ویسے ہی محفوظ کر رکھا ہے نہ اس میں کسی طرح کااضافہ کیا ہے اور نہ کمی کی ہے۔ناسخ ہی کو محفوظ کیا ہے اور اس پر عمل کیا ہے اور منسوخ کو یاد رکھا ہے۔لیکن اس سے اجتناب کیا ہے ۔خاص و عام اورمحکم و متشابہ کوبھی پہچانتا ہے اور اس کے مطابق عمل بھی کرتا ہےلیکن مشکل یہ ہےکہ کبھی کبھی رسول اکرم (ص) کے ارشادات کے دورخ(۱) ہوتے تھے ۔بعض کا تعلق

(۱)جس طرح ایک انسان کی زندگی کے مختلف رخ ہوتے ہیں اور بعض اوقات ایک رخ دوسرے سے بالکل اجنبی ہوتا ہے کہ بے خبر انسان اسے دو زندگیوں پر محمول کردیتا ہے۔اسی طرح معاشرہ اور روایات کے بھی مختلف رخ ہوتے ہیں اور بعض اوقات ایک رخ دوسرے سے بالکل اجنبی اور بیگانہ ہوتا ہے اور ہر رخ کے لئے الگ مفہوم ہوتا ہے اورہر رخ کے الگ احکام ہوتے ہیں۔اب اگر کوئی شخص اس حقیقت سے باخبر نہیں ہوتا ہے تو وہ ایک ہی رخ یا ایک ہی روایت کو لے اڑتا ہے اور وثوق و اعتبارکے ساتھ یہ بین کرتا ہے کہ میں نے خود رسول اکرم (ص) سے سنا ہے اوراسے یہ خبر نہیں ہوتی ہے کہ زندگی کا کوئی دوسرا رخ بھی ہے۔یا اس بیان کا کوئی اور بھی پہلو ہے جو قبل یا بعد دوسرے مناسب موقع پر بیان ہوچکا ہے یا بیان ہونے والا ہے اور اس طرح اشتباہات کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اورحقیقت روایات میں گم ہو جاتی ہے حالانکہ دیدہ و دانستہ کوئی گناہ یا اشتباہ نہیں ہوتا ہے ۔


خَاصٌّ وكَلَامٌ عَامٌّ - فَيَسْمَعُه مَنْ لَا يَعْرِفُ مَا عَنَى اللَّه سُبْحَانَه بِه - ولَا مَا عَنَى رَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - فَيَحْمِلُه السَّامِعُ ويُوَجِّهُه عَلَى غَيْرِ مَعْرِفَةٍ بِمَعْنَاه - ومَا قُصِدَ بِه ومَا خَرَجَ مِنْ أَجْلِه - ولَيْسَ كُلُّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مَنْ كَانَ يَسْأَلُه ويَسْتَفْهِمُه - حَتَّى إِنْ كَانُوا لَيُحِبُّونَ أَنْ يَجِيءَ الأَعْرَابِيُّ والطَّارِئُ - فَيَسْأَلَهعليه‌السلام حَتَّى

فَيَسْأَلَه عليه السلام حَتَّى يَسْمَعُوا - وكَانَ لَا يَمُرُّ بِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ إِلَّا سَأَلْتُه عَنْه وحَفِظْتُه - فَهَذِه وُجُوه مَا عَلَيْه النَّاسُ فِي اخْتِلَافِهِمْ وعِلَلِهِمْ فِي رِوَايَاتِهِمْ

(۲۱۱)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في عجيب صنعة الكون

وكَانَ مِنِ اقْتِدَارِ جَبَرُوتِه - وبَدِيعِ لَطَائِفِ صَنْعَتِه - أَنْ جَعَلَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ الزَّاخِرِ - الْمُتَرَاكِمِ الْمُتَقَاصِفِ يَبَساً جَامِداً

خاص افراد سے ہوتاتھا اور بعض کلمات عام ہوتے تھے اور ان کلمات کو وہشخص بھی سن لیتا تھا جسے یہ نہیں معلوم تھا کہ خدا و رسول کا مقصد کیا ہے اور اسے سن کر اس کی ایک توجیہ کرلیتا تھا بغیر اس نکتہ کا ادراک کئے ہوئے۔کہ اس کلام کا مفہوم اور مقصد کیا ہے اوریہ کس بنیاد پر صادر ہوا ہے۔اور تمام اصحاب رسول اکرم (ص) میں یہ ہمت بھی نہیں تھی کہ آپ سے سوال کرسکیں اورباقاعدہ تحقیق کرسکیں بلکہ اس بات کا انتظار کیا کرتے تھے کہ کوئی صحرائی یا پردیسی آکر آپ سے سوال کرے تو وہ بھی سن لیں ۔یہ صرف میں تھا کہ میرے سامنے سے کوئی ایسی بات نہیں گزرتی تھی مگر یہ کہ میں دریافت بھی کرلیتا تھا اور محفوظ بھی کرلیتا تھا۔

یہ ہیں لوگوں کے درمیان اختلافات کے اسباب اور روایات میں تضاد کے عوامل و محرکات۔

(۲۱۱)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(حیرت انگیز تخلیق کائنات کے بارے میں )

یہ پروردگار کے اقتدار کی طاقت اور اس کی صناعی کی حیرت انگیز لطافت ہے کہ اس نے گہرے اور متلاطم سمندر(۱) میں ایک خشک اور ٹھوس زمین کو پیدا

(۱) کتنا حسین نظام کائنات ہے کہ متلاطم پانی پر زمین قائم ہے اور زمین کے اپور ہوا کا دبائو قائم ہے اور انسان اس تین منزلہ عمارت میں درمیانی طبقہ پر اس طرح سکونت پذیر ہے کہ اس کے زیر قدم زمین اور پانی ہے اوراس کے بالائے سر فضا اور ہوا ہے۔ہوا اس کی زندگی کے لئے سانسیں فراہم کر رہی ہے اور زمین اس کے سکون و قرار کا انتظام کرکے اسے باقی رکھے ہوئے ہیں۔پانی اس کی زندگی کا قوام ہے اور سمندراس کی تازگی کا ذریعہ کوئی ذرۂ کائنات اس کی خدمت سے غافل نہیں ہے اورکوئی عنصراپنے سے اشرف مخلوق کی اطاعت سے منحرف نہیں ہے۔تاکہ وہ بھی اپنی اشرفیت کی آبرو کاتحفظ کرے اور ساری کائنات سے بالاتر خالق ومالک کی اطاعت و عبادت میں ہمہ تن مصروف رہے۔


ثُمَّ فَطَرَ مِنْه أَطْبَاقاً - فَفَتَقَهَا سَبْعَ سَمَاوَاتٍ بَعْدَ ارْتِتَاقِهَا فَاسْتَمْسَكَتْ بِأَمْرِه - وقَامَتْ عَلَى حَدِّه وأَرْسَى أَرْضاً يَحْمِلُهَا الأَخْضَرُ الْمُثْعَنْجِرُ - والْقَمْقَامُ الْمُسَخَّرُ - قَدْ ذَلَّ لأَمْرِه وأَذْعَنَ لِهَيْبَتِه - ووَقَفَ الْجَارِي مِنْه لِخَشْيَتِه - وجَبَلَ جَلَامِيدَهَا ونُشُوزَ مُتُونِهَا وأَطْوَادِهَا - فَأَرْسَاهَا فِي مَرَاسِيهَا - وأَلْزَمَهَا قَرَارَاتِهَا - فَمَضَتْ رُءُوسُهَا فِي الْهَوَاءِ - ورَسَتْ أُصُولُهَا فِي الْمَاءِ - فَأَنْهَدَ جِبَالَهَا عَنْ سُهُولِهَا - وأَسَاخَ قَوَاعِدَهَا فِي مُتُونِ أَقْطَارِهَا ومَوَاضِعِ أَنْصَابِهَا - فَأَشْهَقَ قِلَالَهَا وأَطَالَ أَنْشَازَهَا - وجَعَلَهَا لِلأَرْضِ عِمَاداً وأَرَّزَهَا فِيهَا أَوْتَاداً - فَسَكَنَتْ عَلَى حَرَكَتِهَا مِنْ أَنْ تَمِيدَ بِأَهْلِهَا أَوْ تَسِيخَ بِحِمْلِهَا أَوْ تَزُولَ عَنْ مَوَاضِعِهَا - فَسُبْحَانَ مَنْ أَمْسَكَهَا بَعْدَ مَوَجَانِ مِيَاهِهَا - وأَجْمَدَهَا بَعْدَ رُطُوبَةِ أَكْنَافِهَا - فَجَعَلَهَا لِخَلْقِه مِهَاداً - وبَسَطَهَا لَهُمْ فِرَاشاً - فَوْقَ بَحْرٍ لُجِّيٍّ رَاكِدٍ

کردیا۔ اور پھربخارات کے طبقات بنا کر انہیں شگافتہ کرکے سات آسمانوں کی شکل دے دی جواس کے امر سے ٹھہرے ہوئے ہیں اوراپنی حدوں پرقائم ہیں ۔پھر زمین کو یوں گاڑ دیا کہ اسے سبز رنگ کا گہرا سمندر اٹھائے ہوئے ہے جو قانون الٰہی کے آگے مسخر ہے۔اس کے امر کا تابع ہے اور اس کی ہیبت کے سامنے سر نگوں ہے اور اس کے خوف سے اس کا بہائو تھما ہوا ہے۔

پھر پتھروں۔ٹیلوں اورپہاڑوں کو خلق کرکے انہیں ان کی جگہوں پر گاڑ دیا اور ان کی منزلوں پر مستقر کردیا کہ اب ان کی بلندیاں فضائوں سے گزرگئی ہیں اور ان کی جڑیں پانی کے اندر راسخ ہیں۔ان کے پہاڑوں کو ہموار زمینوں سے اونچا کیا اور ان کے ستونوں کواطراف کے پھیلائو اورمراکز کے ٹھہرائو میں نصب کردیا۔اب ان کی چوٹیاں بلند ہیں اور ان کی بلندیاں طویل ترین ہیں۔انہیں پہاڑوں کو زمین کا ستون قرار دیا ہے اور انہیں کو کیل بنا کر گاڑ دیا ہے جن کی وجہس ے زمین حرکت کے بعد ساکن ہوگئی اور نہ اہل زمین کو لے کر کسی رف جھک سکی اور نہ ان کے بوجھ سے دھنس سکی اورنہ اپنی جگہ سے ہٹ سکی۔

پاک و بے نیاز ہے وہ مالک جس نے پانی کے تموج کے باوجود اسے روک رکھا ہے اور اطراف کی تری کے باوجود اسے خشک بنا رکھا ہے اور پھر اسے اپنی مخلوقات کے لئے گہوارہ اور فرش کی حیثیت دے دی ہے۔اس گہرے سمندر کے اوپر جوٹھہرا ہوا ہے اور بہتا نہیں ہے اور


لَا يَجْرِي وقَائِمٍ لَا يَسْرِي - تُكَرْكِرُه الرِّيَاحُ الْعَوَاصِفُ - وتَمْخُضُه الْغَمَامُ الذَّوَارِفُ -( إِنَّ فِي ذلِكَ لَعِبْرَةً لِمَنْ يَخْشى ) .

(۲۱۲)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

كان يستنهض بها أصحابه إلى جهاد أهل الشام في زمانه

اللَّهُمَّ أَيُّمَا عَبْدٍ مِنْ عِبَادِكَ - سَمِعَ مَقَالَتَنَا الْعَادِلَةَ غَيْرَ الْجَائِرَةِ - والْمُصْلِحَةَ غَيْرَ الْمُفْسِدَةِ فِي الدِّينِ والدُّنْيَا - فَأَبَى بَعْدَ سَمْعِه لَهَا إِلَّا النُّكُوصَ عَنْ نُصْرَتِكَ - والإِبْطَاءَ عَنْ إِعْزَازِ دِينِكَ - فَإِنَّا نَسْتَشْهِدُكَ عَلَيْه يَا أَكْبَرَ الشَّاهِدِينَ شَهَادَةً - ونَسْتَشْهِدُ عَلَيْه جَمِيعَ مَا أَسْكَنْتَه أَرْضَكَ وسمَاوَاتِكَ - ثُمَّ أَنْتَ بَعْدُ الْمُغْنِي عَنْ نَصْرِه - والآخِذُ لَه بِذَنْبِه.

(۲۱۳)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في تمجيد اللَّه وتعظيمه

الْحَمْدُ لِلَّه الْعَلِيِّ عَنْ شَبَه الْمَخْلُوقِينَ - الْغَالِبِ لِمَقَالِ الْوَاصِفِينَ -

ایک مقام پر قائم ہے کسی طرف جاتا نہیں ہے حالانکہ اسے تیز و تند ہوائیں حرکت دے رہی ہیں اور برسنے والے بادل اسے متھ کراس سے پانی کھینچتے رہتے ہیں۔ ''ان تمام باتوں میں عبرت کا سامان ہے ان لوگوں کے لے جن کا اندر خوف خدا پایا جاتا ہے ۔''

(۲۱۲)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں اپنے اصحاب کو اہل شام سے جہاد کرنے پر آمادہ کیا ہے )

خدایا تیرے جس بندہ نے بھی میری عادلانہ گفتگو (جس میں کسی طرح کا ظلم نہیں ہے ) اورمصلحانہ نصیحت (جس میں کسی طرح کافساد نہیں ہے ) کو سننے کے بعد بھی تیرے دین کی نصرت سے انحراف کیا اور تیرے دین کے اعزاز میں کوتاہی کی ہے۔میں اس کے خلاف تجھے گواہ قرار دے رہا ہوں کہ تجھ سے بالاترکوئی گواہ نہیں ہے اور پھرتیرے تمام سکان ارض و سما کو گواہ قراردے رہا ہوں۔اس کے بعد تو ہر ایک کی مدد سے بے نیاز بھی ہے اور ہر ایک کے گناہ کا مواخذہ کرنے والا بھی ہے۔

(۲۱۳)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(پروردگار کی تمجید اوراس کی تعظیم کے بارے میں)

ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جو مخلوقات کی مشابہت سے بلند تر اور توصیف کرنے والوں کی


الظَّاهِرِ بِعَجَائِبِ تَدْبِيرِه لِلنَّاظِرِينَ - والْبَاطِنِ بِجَلَالِ عِزَّتِه عَنْ فِكْرِ الْمُتَوَهِّمِينَ - الْعَالِمِ بِلَا اكْتِسَابٍ ولَا ازْدِيَادٍ - ولَا عِلْمٍ مُسْتَفَادٍ - الْمُقَدِّرِ لِجَمِيعِ الأُمُورِ بِلَا رَوِيَّةٍ ولَا ضَمِيرٍ - الَّذِي لَا تَغْشَاه الظُّلَمُ ولَا يَسْتَضِيءُ بِالأَنْوَارِ - ولَا يَرْهَقُه لَيْلٌ ولَا يَجْرِي عَلَيْه نَهَارٌ - لَيْسَ إِدْرَاكُه بِالإِبْصَارِ ولَا عِلْمُه بِالإِخْبَارِ.

ومنها في ذكر النبيصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

أَرْسَلَه بِالضِّيَاءِ وقَدَّمَه فِي الِاصْطِفَاءِ - فَرَتَقَ بِه الْمَفَاتِقَ وسَاوَرَ بِه الْمُغَالِبَ - وذَلَّلَ بِه الصُّعُوبَةَ وسَهَّلَ بِه الْحُزُونَةَ - حَتَّى سَرَّحَ الضَّلَالَ عَنْ يَمِينٍ وشِمَالٍ.

(۲۱۴)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يصف جوهر الرسول، ويصف العلماء، ويعظ بالتقوى

وأَشْهَدُ أَنَّه عَدْلٌ عَدَلَ وحَكَمٌ فَصَلَ - وأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً

گفتگو سے بالاتر ہے وہ اپنی تدبیر کے عجائب کے ذریعہ دیکھنے والوں کے سامنے بھی ہے اور اپنے جلال و عزت کی بناپر مفکرین کی فکر سے پوشیدہ بھی ہے بغیر کسی تحصیل اور اضافہ کے عالم ہے اور اس کاعلم کسی استفادہ کا نتیجہ بھی نہیں ہے۔تمام امور کاتقدیر ساز ہے اور اس سلسلہ میں کسی فکر اورسوچ بچار کامحتاج بھی نہیں ہے۔تاریکیاں اسے ڈھانپ نہیں سکتی ہیں اور روشنیوں سے وہ کسی طرح کا کسب نور نہیں کرتا ہے۔نہ رات اس پر غالب آسکتی ہے اور نہ دن اس کے اوپر سے گزر سکتا ہے ۔اس کا ادراک آنکھوں کا محتاج نہیں ہے اور اس کاعلم اطلاعات کا نتیجہ نہیں ہے۔

اس نے پیغمبر (ص) کوایک نوردے کربھیجا ہے اورانہیں سب سے پہلے منتخب قرار دیا ہے۔ان کے ذریعہ پراگندیوں کو جمع کیا ہے اور غلبہ حاصل کرنے والوں کو قابو میں رکھا ہے۔دشواریوں کوآسان کیا ہے اورنا ہمواریوں کو ہموار بنایا ہے۔یہاں تک کہ گمراہیوں کو داہنے بائیں ہر طرف سے دور کردیا ہے۔

(۲۱۴)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

( جس میں رسول اکرم (ص) کی تعریف علماء کی توصیف اور تقویٰ کی نصیحت کا ذکر کیا گیا ہے )

میں گواہی دیتا ہوںکہ وہ پروردگار ایسا عادل ہے جو عدل ہی سے کام لیتا ہے۔اور ایساحاکم ہے جو حق و باطل کو جدا کر دیتا ہے اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد (ص)


عَبْدُه ورَسُولُه وسَيِّدُ عِبَادِه - كُلَّمَا نَسَخَ اللَّه الْخَلْقَ فِرْقَتَيْنِ جَعَلَه فِي خَيْرِهِمَا - لَمْ يُسْهِمْ فِيه عَاهِرٌ ولَا ضَرَبَ فِيه فَاجِرٌ.

أَلَا وإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه قَدْ جَعَلَ لِلْخَيْرِ أَهْلًا - ولِلْحَقِّ دَعَائِمَ ولِلطَّاعَةِ - عِصَماً - وإِنَّ لَكُمْ عِنْدَ كُلِّ طَاعَةٍ عَوْناً مِنَ اللَّه سُبْحَانَه – يَقُولُ عَلَى الأَلْسِنَةِ ويُثَبِّتُ الأَفْئِدَةَ - فِيه كِفَاءٌ لِمُكْتَفٍ وشِفَاءٌ لِمُشْتَفٍ –

صفة العلماء

واعْلَمُوا أَنَّ عِبَادَ اللَّه الْمُسْتَحْفَظِينَ عِلْمَه - يَصُونُونَ مَصُونَه ويُفَجِّرُونَ عُيُونَه - يَتَوَاصَلُونَ بِالْوِلَايَةِ - ويَتَلَاقَوْنَ بِالْمَحَبَّةِ ويَتَسَاقَوْنَ بِكَأْسٍ رَوِيَّةٍ - ويَصْدُرُونَ بِرِيَّةٍ

اس کے بندہ اور رسول ہیں اور پھر تمام بندوں کے سرداربھی ہیں۔جب بھی پروردگار نے مخلوقات کا دو حصوں میں تقسیم کیا ہے انہیں(۱) بہترین حصہ ہی میں رکھا ہے۔ان کی تخلیق میں نہ کسی بد کار کا کوئی حصہ ہے اور نہ کسی فاسق و فاجر کا کوئی دخل ہے ۔

یاد رکھو کہ پروردگار نے ہ خیر کے لئے اہل قرار دئیے ہیں اور ہر حق کے لئے ستون اور ہر اطاعت کے لئے وسیلہ حفاظت قرار دیا ہے اور تمہاے لئے ہر اطاعت کے موقع پر خدا کی طرف سے ایک مدد گار کا انتظام رہتا ہے جو زبانوں پر بولتا ہے اوردلوں کو ثبا ت عنایت کرتا ہے۔اس کے وجود میں ہر اکتفا کرنے والے کے لئے کفایت ہے اور ہر طلب گار صحت کے لئے شفا و عافیت ہے۔

یاد رکھو اللہ کے وہ بندہ(۲) جنہیں اس نے اپنے عل کا محافظ بنایا ہے وہ اس کا تحفظ بھی کرتے ہیں اور اس کے چشموں کو جاری بھی کرتے رہتے ہیں۔آپس میں محبت سے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور چاہت کے ساتھ ملاقات کرتے ہیں۔سیراب کرنے والے جاموں سے مل کر سیراب ہوتے ہیں اور پھر سیرو سیراب ہو کر ہی نکلتے

(۱)صحیح مسلم کتاب الفضائل میں سرکار دو عالم (ص) کا یہ ارشاد درج ہے کہ اللہ نے اولاد اسماعیل میں کنانہ کا انتخاب کی ہے اور پھر کنانہ میں قریش کو منتخب قراردیا ہے۔قریش میں بنی ہاشم منتخب ہیں اوربنی ہاشم میں میں ۔لہٰذا دنیاکی کسی شخصیت کا سرکار دوعالم (ص) اوراہل بیت پر قیاس نہیں کیاجاسکتا ہے۔

(۲)دنیا میں صاحبان علم و فضل بے شمار ہیں لیکن وہ اہل علم جنہیں مالک نے اپنے علم اور اپنے دین کامحافظ بنایا ہے وہ محدود ہی ہیں جن کی صفت یہ ہے کہ علم کاتحفظ بھی کرتے ہیں اوردوسروں کو سیراب بھی کرتے رہتے ہیں ۔خودبھی سیراب رہتے ہیں اور دوسروں کی تشنگی کابھی علاج کرتے رہتے ہیں ۔ان کے علم میں جہالت اور ''لاادری '' کا گزر نہیں ہے اور وہ کسی سائل کومحروم نہیں کرتے ہیں۔


لَا تَشُوبُهُمُ الرِّيبَةُ - ولَا تُسْرِعُ فِيهِمُ الْغِيبَةُ - عَلَى ذَلِكَ عَقَدَ خَلْقَهُمْ وأَخْلَاقَهُمْ - فَعَلَيْه يَتَحَابُّونَ وبِه يَتَوَاصَلُونَ - فَكَانُوا كَتَفَاضُلِ الْبَذْرِ يُنْتَقَى فَيُؤْخَذُ مِنْه ويُلْقَى - قَدْ مَيَّزَه التَّخْلِيصُ وهَذَّبَه التَّمْحِيصُ -

العظة بالتقوى

فَلْيَقْبَلِ امْرُؤٌ كَرَامَةً بِقَبُولِهَا - ولْيَحْذَرْ قَارِعَةً قَبْلَ حُلُولِهَا - ولْيَنْظُرِ امْرُؤٌ فِي قَصِيرِ أَيَّامِه وقَلِيلِ مُقَامِه فِي مَنْزِلٍ - حَتَّى يَسْتَبْدِلَ بِه مَنْزِلًا - فَلْيَصْنَعْ لِمُتَحَوَّلِه ومَعَارِفِ مُنْتَقَلِه - فَطُوبَى لِذِي قَلْبٍ سَلِيمٍ - أَطَاعَ مَنْ يَهْدِيه وتَجَنَّبَ مَنْ يُرْدِيه - وأَصَابَ سَبِيلَ السَّلَامَةِ بِبَصَرِ مَنْ بَصَّرَه - وطَاعَةِ هَادٍ أَمَرَه وبَادَرَ الْهُدَى قَبْلَ أَنْ تُغْلَقَ أَبْوَابُه - وتُقْطَعَ أَسْبَابُه واسْتَفْتَحَ التَّوْبَةَ وأَمَاطَ الْحَوْبَةَ - فَقَدْ أُقِيمَ عَلَى الطَّرِيقِ وهُدِيَ نَهْجَ السَّبِيلِ.

ہیں۔ان کے اعمال میں ریب کی آمیزش نہیں ہے اور ان کے معاشرہ میں غیبت کا گزر نہیں ہے۔اسی انداز سے مالک نے ان کی تخلیق کی ہے اور ان کے اخلاق اقرار دئیے ہیں اور اسی بنیاد پر دہآپس میں محبت بھی کرتے ہیں اورملتے بھی رہتے ہیں۔ان کی مثال ان دانوں کی ہے جن کو اس طرح چنا جاتا ہے کہ اچھے دانوں کو لے لیا جاتا ہے اورخراب کو پھینک دیا جاتا ہے۔انہیں اسی صفائی نے ممتاز بنادیا ہے اور انہیں اسی پر کھ نے صاف ستھراقرار دے دیا ہے۔

اب ہر شخص کو چاہیے کہ انہیں صفات کوقبول کرکے کرامت کو قبول کرے اور قیامت کے آنے سے پہلے ہوشیار ہوجائے۔اپنے مختصر سے دنوں اورتھوڑے سے قیام کے بارے میں غور کرے کہ اس منزل کو دوسری منزل میں بہرحال بدل جانا ہے۔اب اس کا فرض ہے کہ منزل اور جانی پہچانی جائے باز گشت کے بارے میں عمل کرے۔

خوشا بحال ان قلب سلیم والوں کے لئے جو رہنمائی کی اطاعت کریں اور ہلاک ہونے والوں سے پرہیز کریں۔کوئی راستہ دکھادے تو دیکھ لیں اور واقعی راہنما امر کرے تو اس کی اطاعت کریں۔ہدایت کی طرف سبقت کریں قبل اس کے کہ اس کے دروازے بند ہو جائیں۔اور اس کے اسباب منقطع ہو جائیں۔توبہ کا دروازہ کھول لیں اور گناہوں کے داغوں کودھو ڈالیں یہی و ہ لوگ ہیں جنہیں سیدھے راستہ پر کھڑا کردیا گیا ہے اور انہیں واضح راستہ کی ہدایت مل گئی۔


(۲۱۵)

ومن دعاء لهعليه‌السلام

كان يدعو به كثيرا

الْحَمْدُ لِلَّه الَّذِي لَمْ يُصْبِحْ بِي مَيِّتاً ولَا سَقِيماً - ولَا مَضْرُوباً عَلَى عُرُوقِي بِسُوءٍ - ولَا مَأْخُوذاً بِأَسْوَإِ عَمَلِي ولَا مَقْطُوعاً دَابِرِي - ولَا مُرْتَدّاً عَنْ دِينِي ولَا مُنْكِراً لِرَبِّي - ولَا مُسْتَوْحِشاً مِنْ إِيمَانِي ولَا مُلْتَبِساً عَقْلِي - ولَا مُعَذَّباً بِعَذَابِ الأُمَمِ مِنْ قَبْلِي - أَصْبَحْتُ عَبْداً مَمْلُوكاً ظَالِماً لِنَفْسِي - لَكَ الْحُجَّةُ عَلَيَّ ولَا حُجَّةَ لِي - ولَا أَسْتَطِيعُ أَنْ آخُذَ إِلَّا مَا أَعْطَيْتَنِي - ولَا أَتَّقِيَ إِلَّا مَا وَقَيْتَنِي!

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَفْتَقِرَ فِي غِنَاكَ - أَوْ أَضِلَّ فِي هُدَاكَ أَوْ أُضَامَ فِي سُلْطَانِكَ - أَوْ أُضْطَهَدَ والأَمْرُ لَكَ!

اللَّهُمَّ اجْعَلْ نَفْسِي أَوَّلَ كَرِيمَةٍ تَنْتَزِعُهَا مِنْ كَرَائِمِي - وأَوَّلَ وَدِيعَةٍ تَرْتَجِعُهَا مِنْ وَدَائِعِ نِعَمِكَ عِنْدِي!

اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَذْهَبَ عَنْ قَوْلِكَ -

(۲۱۵)

آپ کی دعا کا ایک حصہ

( جس کی برابر تکرار فرمایا کرتے تھے )

خدا شکر ہے کہ اسنے صبح کے ہنگام نہ مردہ بنایا ہے اورنہ بیمار ۔نہ کسی رگ پرمرض کاحملہ ہوا ہے اورنہ کسی بد عملی کا مواخذہ کیا گیا ہے۔نہ میری نسل کو منقطع کیا گیا ہے اور نہ اپنے دین میں ارتداد کاشکار ہوا ہوں۔نہ اپنے دین سے مرتد ہوں اور نہ اپنے رب کامنکر۔نہ اپنے ایمان سے متوحش اور نہ اپنی عقل کا مخبوط اور نہ مجھ پر گذشتہ امتوں جیسا کوء عذاب ہوا ہے۔میں نے اس عالم میں صبح کی ہے کہ میں ایک بندۂ مملوک ہوں جس نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے۔خدایا! تیری حجت مجھ پر تمام ہے اور میری کوئی حجت نہیں ہے۔تو جو دیدے اس سے زیادہ لے نہیں سکتا اور جس چیز سے تونہ بچائے اس سے بچ نہیں سکتا ۔

خدا یا! میں اس امر سے پناہ چاہتا ہوں کہ تیریر دولت میں رہ کر فقیر ہوجائوں یا تیری ہدایت کے باوجود گمراہ ہو جائوں یا تیریر سلطنت کے باوجود ستایا جائوں یا تیرے ہاتھ میں سارے اختیارات ہونے کے باوجود مجھ پر دبائو ڈالا جائے ۔

خدایا! میری جن نفیس چیزوں کو مجھ سے واپس لینا اور اپنی جن امانتوں کو مجھ سے پلٹانا۔ان میں سب سے پہلی چیز میری روح کو قرار دینا۔

خدایا! میں اس امرسے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں تیرے ارشادات سے بہک جائوں یا تیرے دین میں


أَوْ أَنْ نُفْتَتَنَ عَنْ دِينِكَ - أَوْ تَتَابَعَ بِنَا أَهْوَاؤُنَا دُونَ الْهُدَى الَّذِي جَاءَ مِنْ عِنْدِكَ!

(۲۱۶)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

خطبها بصفين

أَمَّا بَعْدُ - فَقَدْ جَعَلَ اللَّه سُبْحَانَه لِي عَلَيْكُمْ حَقّاً بِوِلَايَةِ أَمْرِكُمْ - ولَكُمْ عَلَيَّ مِنَ الْحَقِّ مِثْلُ الَّذِي لِي عَلَيْكُمْ - فَالْحَقُّ أَوْسَعُ الأَشْيَاءِ فِي التَّوَاصُفِ - وأَضْيَقُهَا فِي التَّنَاصُفِ - لَا يَجْرِي لأَحَدٍ إِلَّا جَرَى عَلَيْه - ولَا يَجْرِي عَلَيْه إِلَّا جَرَى لَه - ولَوْ كَانَ لأَحَدٍ أَنْ يَجْرِيَ لَه ولَا يَجْرِيَ عَلَيْه - لَكَانَ ذَلِكَ خَالِصاً لِلَّه سُبْحَانَه دُونَ خَلْقِه - لِقُدْرَتِه عَلَى عِبَادِه - ولِعَدْلِه فِي كُلِّ مَا جَرَتْ عَلَيْه صُرُوفُ قَضَائِه - ولَكِنَّه سُبْحَانَه جَعَلَ حَقَّه عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يُطِيعُوه - وجَعَلَ جَزَاءَهُمْ عَلَيْه مُضَاعَفَةَ الثَّوَابِ - تَفَضُّلًا مِنْه وتَوَسُّعاً بِمَا هُوَ مِنَ الْمَزِيدِ أَهْلُه.

حق الوالي وحق الرعية

ثُمَّ جَعَلَ سُبْحَانَه مِنْ حُقُوقِه حُقُوقاً - افْتَرَضَهَا لِبَعْضِ النَّاسِ عَلَى بَعْضٍ - فَجَعَلَهَا تَتَكَافَأُ فِي وُجُوهِهَا - ويُوجِبُ بَعْضُهَا بَعْضاً - ولَا يُسْتَوْجَبُ بَعْضُهَا إِلَّا بِبَعْضٍ -.

کسی فتنہ میں مبتلا ہو جائوں یا تیریر آئی ہوئی ہدایتوں کے مقابلہ میں مجھ پرخواہشات کا غلبہ ہو جائے ۔

(۲۱۶)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جسے مقام صفین میں ارشاد فرمایا)

اما بعد ! پروردگار نے ولی امر ہونے کی بنا پر تم پر میرا ایک حق قرار دیا ہے اور تمہارا بھی میرے اوپر ایک طرح کا حق ہے اور حق مدح سرائی کے اعتبار سے تو بہت وسعت رکھتا ہے لیکن انصاف کے اعتبار سے بہت تنگ ہے۔یہ کسی کا اس وقت تک ساتھ نہیں دیتا ہے جب تک اس کے ذمہ کوئی حق ثابت نہ کردے اورکسی کے خلاف فیصلہ نہیں کرتا ہے جب تک اسے کوئی حق نہ دلوادے۔اگر کوئی ہستی ایسی ممکن ہے جس کا دوسروں پر حق ہو اوراس پر کسی کا حق نہ ہو تو وہ صرف پروردگار کی ہستی ہے کہ وہ ہر شے پر قادر ہے اوراس کے تمام فیصلے عدل و انصاف پرمبنی ہیں لیکن اس نے بھی جب بندوں پر اپنا حق اطاعت قراردیا ہے تو اپنے فضل و کرم اوراپنے اس احسان کی وسعت کی بنا پر جس کا وہ اہل ہے ان کا یہ حق قرار دے دیا ہے کہ انہیں زیادہ سے زیادہ ثواب دے دیا جا ئے۔

پروردگار کے مقرر کئے ہوئے حقوق میں سے وہ تمام حقوق ہیں جو اس نے ایک دوسرے پر قرار دئیے ہیں اور ان میں مساوات بھی قراردیہے کہ ایک حق سے دوسرا حق پیدا ہوتا ہے اور ایک حق نہیں پیدا ہوتا ہے جب تک دوسرا حق نہ پیدا ہو جائے ۔


وأَعْظَمُ مَا افْتَرَضَ سُبْحَانَه مِنْ تِلْكَ الْحُقُوقِ - حَقُّ الْوَالِي عَلَى الرَّعِيَّةِ وحَقُّ الرَّعِيَّةِ عَلَى الْوَالِي - فَرِيضَةٌ فَرَضَهَا اللَّه سُبْحَانَه لِكُلٍّ عَلَى كُلٍّ - فَجَعَلَهَا نِظَاماً لأُلْفَتِهِمْ وعِزّاً لِدِينِهِمْ - فَلَيْسَتْ تَصْلُحُ الرَّعِيَّةُ إِلَّا بِصَلَاحِ الْوُلَاةِ - ولَا تَصْلُحُ الْوُلَاةُ إِلَّا بِاسْتِقَامَةِ الرَّعِيَّةِ - فَإِذَا أَدَّتْ الرَّعِيَّةُ إِلَى الْوَالِي حَقَّه - وأَدَّى الْوَالِي إِلَيْهَا حَقَّهَا - عَزَّ الْحَقُّ بَيْنَهُمْ وقَامَتْ مَنَاهِجُ الدِّينِ - واعْتَدَلَتْ مَعَالِمُ الْعَدْلِ وجَرَتْ عَلَى أَذْلَالِهَا السُّنَنُ - فَصَلَحَ بِذَلِكَ الزَّمَانُ - وطُمِعَ فِي بَقَاءِ الدَّوْلَةِ ويَئِسَتْ مَطَامِعُ الأَعْدَاءِ -. وإِذَا غَلَبَتِ الرَّعِيَّةُ وَالِيَهَا - أَوْ أَجْحَفَ الْوَالِي بِرَعِيَّتِه - اخْتَلَفَتْ هُنَالِكَ الْكَلِمَةُ - وظَهَرَتْ مَعَالِمُ الْجَوْرِ وكَثُرَ الإِدْغَالُ فِي الدِّينِ - وتُرِكَتْ مَحَاجُّ السُّنَنِ فَعُمِلَ بِالْهَوَى - وعُطِّلَتِ الأَحْكَامُ وكَثُرَتْ عِلَلُ النُّفُوسِ - فَلَا يُسْتَوْحَشُ لِعَظِيمِ حَقٍّ عُطِّلَ - ولَا لِعَظِيمِ بَاطِلٍ فُعِلَ - فَهُنَالِكَ تَذِلُّ الأَبْرَارُ وتَعِزُّ الأَشْرَارُ - وتَعْظُمُ تَبِعَاتُ اللَّه سُبْحَانَه عِنْدَ الْعِبَادِ -. فَعَلَيْكُمْ بِالتَّنَاصُحِ فِي ذَلِكَ وحُسْنِ التَّعَاوُنِ عَلَيْه - فَلَيْسَ أَحَدٌ وإِنِ اشْتَدَّ عَلَى رِضَا اللَّه حِرْصُه - وطَالَ فِي الْعَمَلِ اجْتِهَادُه  

اوران تمام حقوق میں سب سے عظیم ترین حق رعایا پروالی کا حق اور والی پر رعایا کا حق ہے جسے پروردگار نے ایک کو دوسرے کے لئے قراردیا ہے اور اسی سے ان کی باہمی الفتوں کو منظم کیاہے اور ان کے دین کو عزت دی ہے ۔رعایا کی اصلاح ممکن نہیں ہے جب تک والی صالح نہ ہو اور والی صالح نہیںرہ سکتے ہیں جب تک رعایا صالح نہ ہو۔اب اگر رعایا نے والی کو اس کا حق انصاف کے نشانات بر قرار رہیں گے اور پیغمبر اسلام (ص) کی سنتیں اپنے ڈھرے پرچل پڑیں گی اور زمانہ ایسا صالح ہو جائے گا کہ بقاء حکومت کی امید بھی کی جائے گی اور دشمنوں کی تمنائیںبھی ناکام ہو جائیں گی۔لیکن اگر رعایا حاکم پر غالب آگئی یا حاکم نے رعایا پر زیادتی کی تو کلمات میں اختلاف ہو جائے گا، ظلم کے نشانات ظاہر ہو جائیں گے۔دین میں مکاری بڑھ جائے گی۔سنتوں کے راستے نظر انداز ہو جائیں گے۔خواہشات پر عمل ہوگا۔احکام معطل ہو جائیں گے اور نفوس کی بیماریاں بڑھ جائیں گی۔نہ بڑے سے بڑے حق کے معطل ہوجانے سے کوئی وحشت ہوگی اور نہ بڑے سے بڑے باطل پر عملدرآمدسے کوئی پریشانی ہوگی۔

ایسے موقع پر نیک لوگ ذلیل کردئیے جائیں گے اورشریر لوگوں کی عزت ہوگی اورب ندوں پر خدا کی عقوبتیں عظیم تر ہو جائیں گی لہٰذا خدارا آپس میں ایک دوسرے سے مخلص رہو اور ایک دوسرے کی مدد کرتے رہو اس لئے کہ تم میں کوئی شخص بھی کتنا ہی رضائے خدا کی طمع رکھتا ہواور کسی قدر بھی زحمت عمل برداشت کرے


- بِبَالِغٍ حَقِيقَةَ مَا اللَّه سُبْحَانَه أَهْلُه مِنَ الطَّاعَةِ لَه - ولَكِنْ مِنْ وَاجِبِ حُقُوقِ اللَّه عَلَى عِبَادِه - النَّصِيحَةُ بِمَبْلَغِ جُهْدِهِمْ - والتَّعَاوُنُ عَلَى إِقَامَةِ الْحَقِّ بَيْنَهُمْ - ولَيْسَ امْرُؤٌ وإِنْ عَظُمَتْ فِي الْحَقِّ مَنْزِلَتُه - وتَقَدَّمَتْ فِي الدِّينِ فَضِيلَتُه - بِفَوْقِ أَنْ يُعَانَ عَلَى مَا حَمَّلَه اللَّه مِنْ حَقِّه - ولَا امْرُؤٌ وإِنْ صَغَّرَتْه النُّفُوسُ - واقْتَحَمَتْه الْعُيُونُ - بِدُونِ أَنْ يُعِينَ عَلَى ذَلِكَ أَوْ يُعَانَ عَلَيْه.

فَأَجَابَهعليه‌السلام رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِه - بِكَلَامٍ طَوِيلٍ يُكْثِرُ فِيه الثَّنَاءَ عَلَيْه - ويَذْكُرُ سَمْعَه وطَاعَتَه لَه فَقَالَعليه‌السلام

إِنَّ مِنْ حَقِّ مَنْ عَظُمَ جَلَالُ اللَّه سُبْحَانَه فِي نَفْسِه - وجَلَّ مَوْضِعُه مِنْ قَلْبِه - أَنْ يَصْغُرَ عِنْدَه لِعِظَمِ ذَلِكَ كُلُّ مَا سِوَاه - وإِنَّ أَحَقَّ مَنْ كَانَ كَذَلِكَ لَمَنْ عَظُمَتْ نِعْمَةُ اللَّه عَلَيْه - ولَطُفَ إِحْسَانُه إِلَيْه فَإِنَّه لَمْ تَعْظُمْ نِعْمَةُ اللَّه عَلَى أَحَدٍ - إِلَّا ازْدَادَ حَقُّ اللَّه عَلَيْه عِظَماً - وإِنَّ مِنْ أَسْخَفِ حَالَاتِ الْوُلَاةِ عِنْدَ صَالِحِ النَّاسِ - أَنْ يُظَنَّ

اطاعت خدا کی اس منزل تک نہیں پہنچ سکتا ہے جس کا وہ اہل ہے لیکن پھربھی مالک کا یہحق واجب اس کے بندوں کے ذمہ ہے کہ انپے امکان بھر نصیحت کرتے رہیں اور حق کے قیام میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں اس لئے کہ کوئی شخص بھی حق کی ذمہ داری ادا کرنے میں دوسرے کی امداد سے بے نیاز نہیں ہو سکتا ہے چاہے حق میں اس کی منزلت کسی قدر عظیم کیوں نہ ہو اور دین میں اس کی فضیلت کو کسی قدر تقدم کیوں نہ حاصل ہو اور نہ کوئی شخص مدد کرنے یا مدد لینے کی ذمہ داری سے کمتر ہو سکتا ہے چاہے لوگوں کی نظر میں کسی قدر چھوٹا کیوں نہ ہو اور چاہے ان کی نگاہوں سے کسی قدر کیوں نہ گر جائے ۔ (اس گفتگو کے بعد آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے ایک طویل تقریرکی جس میں آپ کی مدح و ثنا کے ساتھ اطاعت کا وعدہ بھی کیا تو آپ نے فرمایا کہ )

یاد رکھو کہ جس کے دل میں جلال الٰہی کی عظمت اور جس کے نفس میں اس کے مقام الوہیت کی بلندی ہے اس کا حق یہ ہے کہ تمام کائنات اس کی نظرمیں چھوٹی ہوجائے اور ایسے لوگوں میں اس حقیقت کا سب سے بڑا اہل وہ ہے جس پر اس کی نعمتیں عظیم اور اس کے احسانات لطیف ہوں ۔اس لئے کہ کسی شخص پر اللہ کی نعمتیں عظیم نہیں ہوتیں مگر یہ کہ اس کا حق بھی عظیم تر ہو جاتا ہے اور احکام کے حالات میں اور مجھے یہ بات سخت نا گوار ہے کہ تم میں سے کسی کو یہ گمان پیدا ہو


بِهِمْ حُبُّ الْفَخْرِ - ويُوضَعَ أَمْرُهُمْ عَلَى الْكِبْرِ - وقَدْ كَرِهْتُ أَنْ يَكُونَ جَالَ فِي ظَنِّكُمْ أَنِّي أُحِبُّ الإِطْرَاءَ - واسْتِمَاعَ الثَّنَاءِ ولَسْتُ بِحَمْدِ اللَّه كَذَلِكَ - ولَوْ كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ يُقَالَ ذَلِكَ - لَتَرَكْتُه انْحِطَاطاً لِلَّه سُبْحَانَه - عَنْ تَنَاوُلِ مَا هُوَ أَحَقُّ بِه مِنَ الْعَظَمَةِ والْكِبْرِيَاءِ - ورُبَّمَا اسْتَحْلَى النَّاسُ الثَّنَاءَ بَعْدَ الْبَلَاءِ - فَلَا تُثْنُوا عَلَيَّ بِجَمِيلِ ثَنَاءٍ - لإِخْرَاجِي نَفْسِي إِلَى اللَّه سُبْحَانَه وإِلَيْكُمْ مِنَ التَّقِيَّةِ - فِي حُقُوقٍ لَمْ أَفْرُغْ مِنْ أَدَائِهَا وفَرَائِضَ لَا بُدَّ مِنْ إِمْضَائِهَا - فَلَا تُكَلِّمُونِي بِمَا تُكَلَّمُ بِه الْجَبَابِرَةُ - ولَا تَتَحَفَّظُوا مِنِّي بِمَا يُتَحَفَّظُ بِه عِنْدَ أَهْلِ الْبَادِرَةِ - ولَا تُخَالِطُونِي بِالْمُصَانَعَةِ ولَا تَظُنُّوا بِي اسْتِثْقَالًا فِي حَقٍّ قِيلَ لِي - ولَا الْتِمَاسَ إِعْظَامٍ لِنَفْسِي - فَإِنَّه مَنِ اسْتَثْقَلَ الْحَقَّ أَنْ يُقَالَ لَه - أَوِ الْعَدْلَ أَنْ يُعْرَضَ عَلَيْه كَانَ الْعَمَلُ بِهِمَا أَثْقَلَ عَلَيْه - فَلَا تَكُفُّوا عَنْ مَقَالَةٍ بِحَقٍّ أَوْ مَشُورَةٍ بِعَدْلٍ - فَإِنِّي لَسْتُ فِي نَفْسِي بِفَوْقِ أَنْ أُخْطِئَ - ولَا آمَنُ ذَلِكَ مِنْ فِعْلِي - إِلَّا أَنْ يَكْفِيَ اللَّه مِنْ نَفْسِي مَا هُوَ أَمْلَكُ بِه مِنِّي -

جائے کہ میں روساء کو دوست رکھتا ہوں یا اپنی تعریف سننا چاہتا ہوں اور بحمد اللہ میں ایسا نہیں ہوں اور اگر میں ایی باتیں پسند بھی کرتا ہوتا تو بھی اسے نظرانداز کر دیتا کہ میں اپنے کواس سے کمتر سمجھتا ہوں کہ اس عظمت و کبریائی کا اہل بن جائوں جس کا پرودگار حقدار ہے۔یقینا بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اچھی کار کردگی پرتعریف کو دوست رکھتے ہیں لیکن خبردار تم لوگ میری اس بات پرتعریف نہ کرنا کہ میں نے تمہارے حقوق ادا کردئیے ہیں کہ ابھی بہت سے ایسے حقوق کاخوف باقی ہے جو ادا نہیں ہو سکے ہیں اوربہت سے فرائض ہیں جنہیں بہر حال نافذ کرنا ہے دیکھو مجھ سے اس لہجہ میں بات نہ کرنا جس لہجہ میں جابر بادشاہوں سے بات کی جاتی ہے اور نہ مجھ سے اس طرح بچنے کی کوشش کرنا جس طرح طیش میں آنے والوں سے بچا جاتا ہے۔نہ مجھ سے خوشامد کے ساتھ تعلقات رکھنا اور نہ میرے بارے میں یہ تصور کرنا کہ مجھے حرف حق گراں گزرے گا اور نہ میں اپنی تعظیم کا طلب گار ہوں۔اس لئے کہ جوشخص بھی حرف حق کہنے کو گراں سمجھتا ہے یا عدل کی پیشکش کو ناپسند کرتا ہے وہ حق و عدل پرعمل کو یقینا مشکل تر ہی تصور کرے گا۔لہٰذا خبردار حرف حق کہنے میں تکلف نہ کرنا اور منصفانہ مشورہ دینے سے گریز نہ کرنا۔ اس لء کہ میں ذاتی طور پر اپنے کو غلطی سے بالاتر نہیں تصور کرتا ہوں اورنہ اپنے افعال کو اس خطرہ سے محفوظ سمجھتا ہوں مگر یہ کہ میرا پروردگار میرے نفس کوب چالے کہ وہ اس کا مجھ سے زیادہ


فَإِنَّمَا أَنَا وأَنْتُمْ عَبِيدٌ مَمْلُوكُونَ لِرَبٍّ لَا رَبَّ غَيْرُه - يَمْلِكُ مِنَّا مَا لَا نَمْلِكُ مِنْ أَنْفُسِنَا - وأَخْرَجَنَا مِمَّا كُنَّا فِيه إِلَى مَا صَلَحْنَا عَلَيْه - فَأَبْدَلَنَا بَعْدَ الضَّلَالَةِ بِالْهُدَى وأَعْطَانَا الْبَصِيرَةَ بَعْدَ الْعَمَى.

(۲۱۷)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في التظلم والتشكي من قريش

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَعْدِيكَ عَلَى قُرَيْشٍ ومَنْ أَعَانَهُمْ - فَإِنَّهُمْ قَدْ قَطَعُوا رَحِمِي وأَكْفَئُوا إِنَائِي - وأَجْمَعُوا عَلَى مُنَازَعَتِي حَقّاً كُنْتُ أَوْلَى بِه مِنْ غَيْرِي - وقَالُوا أَلَا إِنَّ فِي الْحَقِّ أَنْ تَأْخُذَه - وفِي الْحَقِّ أَنْ تُمْنَعَه فَاصْبِرْ مَغْمُوماً أَوْ مُتْ مُتَأَسِّفاً - فَنَظَرْتُ فَإِذَا لَيْسَ لِي رَافِدٌ ولَا ذَابٌّ ولَا مُسَاعِدٌ - إِلَّا أَهْلَ بَيْتِي فَضَنَنْتُ بِهِمْ عَنِ الْمَنِيَّةِ - فَأَغْضَيْتُ عَلَى الْقَذَى

صاحب اختیار ہے۔دیکھو ہم سب ایک خدا کے بندے اوراس کے مملوک ہیں اور اس کے علاوہ کوئی دوسرا خدا نہیں ہے۔وہ ہمارے نفوس کااتنا اختیار رکھتا ہے جتنا خود ہمیں بھی حاصل نہیں ہے اور اسی نے ہمیں سابقہ حالات سے نکال کراس اصلاح کے راستہ پر لگایا ہے کہ اب گمراہی ہدایت میں تبدیل ہوگئی ہے اور اندھے پن کے بعد بصیرت حاصل ہوگئی ہے۔

(۲۱۷)

آپ کا ارشاد گرامی

(قریش سے شکایت اورف ریاد کرتے ہوئے )

خدایا! میں قریش سے اور ان کے مدد گاروں سے تیری مدد چاہتا ہوں کہ ان لوگوں نے میری قرابت داری کاخیال نہیں کیا اور میرے ظرف عظمت کو الٹ دیا ہے اور مجھ سے اس حق کے بارے میں جھگڑا کرنے پر اتحاد کرلیا ہے جس کا میں سب سے زیادہ حقدار تھا اور پھر یہ کہنے لگے ہیں کہ آپ اس حق کو لے لیں تو یہ بھی صحیح ہے اور آپ کو اس سے روک دیا جائے تو یہ بھی صحیح ہے۔اب چاہیں ہم وغم کے ساتھ صبر کریں یا رنج والم کے ساتھ مرجائیں۔ ایسے حالات میں میں نے دیکھا کہ میرے پاس نہ کوئی مدد گار ہے اور نہ دفاع کرنے والا سوائے میرے گھر والوں کے تو میں نے انہیں موت کے منہ میں دینے سے گریز کیا اوربالآخر آنکھوں میں خس و خاشاک کے ہوتے ہوئے چشم پوشی کی اور گلے میں پھندہ کے ہوتے ہوئے


وجَرِعْتُ رِيقِي عَلَى الشَّجَا - وصَبَرْتُ مِنْ كَظْمِ الْغَيْظِ عَلَى أَمَرَّ مِنَ الْعَلْقَمِ - وآلَمَ لِلْقَلْبِ مِنْ وَخْزِ الشِّفَارِ

قال الشريفرضي‌الله‌عنه - وقد مضى هذا الكلام في أثناء خطبة متقدمة - إلا أني ذكرته هاهنا لاختلاف الروايتين.

(۲۱۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في ذكر السائرين إلى البصرة لحربهعليه‌السلام

فَقَدِمُوا عَلَى عُمَّالِي وخُزَّانِ بَيْتِ الْمُسْلِمِينَ الَّذِي فِي يَدَيَّ - وعَلَى أَهْلِ مِصْرٍ كُلُّهُمْ فِي طَاعَتِي وعَلَى بَيْعَتِي - فَشَتَّتُوا كَلِمَتَهُمْ وأَفْسَدُوا عَلَيَّ جَمَاعَتَهُمْ - ووَثَبُوا عَلَى شِيعَتِي فَقَتَلُوا طَاِئفَةً منْهُمْ غَدْراً - وطَاِئفَةٌ عَضُّوا عَلَى أَسْيَافِهِمْ - فَضَارَبُوا بِهَا حَتَّى لَقُوا اللَّه صَادِقِينَ.

لعاب دہن نگل لیا اور غصہ کو پینے میں خنظل سے زیادہ تلخ ذائقہ پر صبر کیااورچھریوں کے زخموں سے زیادہ تکلیف دہ حالات پر خاموشی اختیار کرلی۔

(سید رضی : گذشتہ خطبہ میں یہ مضمون گذر چکا ہے لیکن روایتیں مختلف تھیں لہٰذا میں نے دوبارہ اسے نقل کردیا )

(۲۱۸)

آپ کا ارشادگرامی

(بصرہ کی طرف آپ سے جنگ کرنے کے لئے جانے والوں کے بارے میں

یہ لوگ میرے عاملوں ۔میرے زیر دست بیت المال کے خزانہ داروں اورتمام اہل شہر جو میری اطاعت و بیعت میں تھے سب کی طرف وارد ہوئے۔ان کے کلمات میں(۱) افتراق پیدا کیا۔ان کے اجتماع کو برباد کیا اورمیرے چاہنے والوں پرحملہ کردیا اور ان میں سے ایک جماعت کودھوکہ سے قتل بھی کردیا لیکن دوسری جماعت نے تلواریں اٹھا کر دانت بھنچ لئے اور باقاعدہ مقابلہ کیا یہاں تک کہ حق و صداقت کے ساتھ خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے۔

(۱) حیرت انگیز بات ہے کہ مسلمان ابھی تک ان دو گروہوں کے بارے میں حق و باطل کا فیصلہ نہیں کرسکا ہے جن میں ایک طرف نفس رسول (ص) علی بن ابی طالب جیسا انسان تھا جو اپنی تعریف کوبھی گوارا نہیں کرتا تھا اور ہر لمحہعظمت خالق کے پیش نظرانے اعمال کو حقیر و معمولی ہی تصور کرتا تھا اور ایک طرف طلحہ و زبیر جیسے وہدنیا پرست تھے جن کاکام فتنہ پردازی ۔ شرانگیزی ۔تفرقہ اندازی اورقتل وغارت کے علاوہ کچھ نہتھا اورجو دولت و اقتدار کی خاطر دنیا کی ہر برائی کر سکتے تھے اور ہر جرم کا ارتکاب کرسکتے تھے ۔


(۲۱۹)

ومن كلام لهعليه‌السلام

لما مر بطلحة بن عبد الله وعبد الرحمن بن عتاب بن أسيد - وهما قتيلان يوم الجمل:

لَقَدْ أَصْبَحَ أَبُو مُحَمَّدٍ بِهَذَا الْمَكَانِ غَرِيباً - أَمَا واللَّه لَقَدْ كُنْتُ أَكْرَه أَنْ تَكُونَ قُرَيْشٌ قَتْلَى - تَحْتَ بُطُونِ الْكَوَاكِبِ - أَدْرَكْتُ وَتْرِي مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ - وأَفْلَتَتْنِي أَعْيَانُ بَنِي جُمَحَ - لَقَدْ أَتْلَعُوا أَعْنَاقَهُمْ إِلَى أَمْرٍ - لَمْ يَكُونُوا أَهْلَه فَوُقِصُوا دُونَه.

(۲۲۰)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في وصف السالك الطريق إلى اللَّه سبحانه

قَدْ أَحْيَا عَقْلَه وأَمَاتَ نَفْسَه حَتَّى دَقَّ جَلِيلُه - ولَطُفَ غَلِيظُه وبَرَقَ لَه لَامِعٌ كَثِيرُ الْبَرْقِ - فَأَبَانَ لَه الطَّرِيقَ وسَلَكَ بِه السَّبِيلَ - وتَدَافَعَتْه الأَبْوَابُ إِلَى بَابِ السَّلَامَةِ ودَارِ الإِقَامَةِ - وثَبَتَتْ رِجْلَاه بِطُمَأْنِينَةِ بَدَنِه فِي قَرَارِ الأَمْنِ والرَّاحَةِ - بِمَا اسْتَعْمَلَ قَلْبَه وأَرْضَى رَبَّه.

(۲۱۹)

آپ کا ارشاد گرامی

(جب روزجمل طلحہ بن عبداللہ اورعبدالرحمن بن عتاب بن اسید کی لاشوں کے قریب سے گزر ہوا )

ابومحمد (طلحہ) نے اس میدان میں عالم غربت میں صبح کی ہے۔خدا گواہ ہے کہ مجھے یہ بات ہر گز پسند نہیں تھی کہ قریش کے لاشے ستاروں کے نیچے زیرآسمان پڑے رہیں لیکن کیا کروں۔بہر حال میں نے عبد مناف کی اولاد سے ان کے کئے کا بدلہ لیلیا مگرافسوس کہ بنی جمج بچ کر نکل گئے ان سب نے اپنی گردنیں اس امر کی طرف اٹھائی تھیں جس کے یہ ہرگز اہل نہیں تھے۔اس لئے اس تک پہنچنے سے پہلے ہی ان کی گردنیں توڑ دی گئیں۔

(۲۲۰)

آپ کا ارشاد گرامی

( خدا کی راہ میں چلنے والے انسانوں کےبارے میں)

ایسےشخص نےاپنی عقل کوزندہ رکھا ہے اوراپنے نفس کو مردہ بنا دیا ہےاس کاجسم باریک ہوگیا ہےاوراس کا بھاری بھرکم جسد ہلکا ہوگیا ہے اس کےلئے بہترین ضوپاش نور ہدایت چمک اٹھا ہےاوراس نےراستہ کوواضح کرکے اسی پرچلا دیا ہے۔تمام دروازوں نے اسے سلامتی کے دروازرہ اورہمیشگی کے گھرتک پہنچا دیا ہے اوراس کےقدم طمانیت بدن کے ساتھ امن وراحت کی منزل میں ثابت ہوگئے ہیں کہ اس نےاپنےدل کواستعمال کیا ہے اوراپنے رب کو راضی کرلیا ہے


(۲۲۱)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قاله بعد تلاوته( أَلْهاكُمُ التَّكاثُرُ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقابِرَ )

يَا لَه مَرَاماً مَا أَبْعَدَه وزَوْراً مَا أَغْفَلَه - وخَطَراً مَا أَفْظَعَه - لَقَدِ اسْتَخْلَوْا مِنْهُمْ أَيَّ مُدَّكِرٍ وتَنَاوَشُوهُمْ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ - أَفَبِمَصَارِعِ آبَائِهِمْ يَفْخَرُونَ - أَمْ بِعَدِيدِ الْهَلْكَى يَتَكَاثَرُونَ يَرْتَجِعُونَ مِنْهُمْ أَجْسَاداً خَوَتْ وحَرَكَاتٍ سَكَنَتْ - ولأَنْ يَكُونُوا عِبَراً أَحَقُّ مِنْ أَنْ يَكُونُوا مُفْتَخَراً - ولأَنْ يَهْبِطُوا بِهِمْ جَنَابَ ذِلَّةٍ - أَحْجَى مِنْ أَنْ يَقُومُوا بِهِمْ مَقَامَ عِزَّةٍ - لَقَدْ نَظَرُوا إِلَيْهِمْ بِأَبْصَارِ الْعَشْوَةِ - وضَرَبُوا مِنْهُمْ فِي غَمْرَةِ جَهَالَةٍ - ولَوِ اسْتَنْطَقُوا عَنْهُمْ عَرَصَاتِ تِلْكَ الدِّيَارِ الْخَاوِيَةِ - والرُّبُوعِ الْخَالِيَةِ لَقَالَتْ - ذَهَبُوا فِي الأَرْضِ ضُلَّالًا

(۲۲۱)

آپ کا ارشاد گرامی

(جسے الھکم التکاثرکی تلاوت کے موقع پر ارشاد فرمایا)

ذرا دیکھو تو ان آباء و اجداد پر فخر کرنے والوں کا مقصد کس قدربعیداز عقل ہے اور یہ زیارت کرنے والے کس قدر غافل ہیں اورخطرہ بھی کس قدر عظیم ہے۔یہ لوگ تمام عبرتوں سے خالی ہوگئے ہیں اور انہوںنے مردوں کو بہت دورسے لے لیا ہے۔آخر یہ کیا اپنے آباء واجداد کے لاشوں(۱) پر فخر کر رہے ہیں؟یا مردوں کی تعداد سے اپنی کثرت میں اضافہ کر رہے ہیں؟ یا ان جسموں کو واپس لانا چاہتے ہیںجو روحوں سے خالی ہو چکے ہیں بجائے ذلت کی منزل میں اترنا چاہیے تھا مگر افسوس کہ ان لوگوں نے ان مردوں کو چندھیائی ہوئی آنکھوں سے دیکھا اور ان کی طرف سے جہالت کے گڑھے میں گر گئے ہیں۔ اور گمان کے بارے میں گرے پڑے مکانوں اور خالی گھروں سے دریافت کیا جائے تو یہی جواب ملے گا کہ لوگ گمراہی کے عالم میں زیر زمین چلے گئے اورتم جہالت

(۱)یہ سلسلہ تفاخر ہر دور میں رہا ہے اور آج بھی برقرار ہے کہ انسان سامان عبرت کو وجہ فضیلت قرار دے رہا ہے اور اس طرح مسلسلوادی غفلت میں منزل دور تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔کاش اسے اس قدر شعور ہوتا کہ آباء واجاد کی بوسیدہ لاشیں یا قبریں باعث افتخار نہیں ہیں۔بعث افتخار انسان کا اپنا کردار ہے اور درحقیقت کردار بھی اس قابل نہیں ہے کہ اسے سرمایہ افتخار قرار دیا جا سکے۔انسان کے لئے وجہ افتخار صرف ایک چیز ہے کہ اس کامالک پروردگار ہے جو ساری کائنات سے بالا تر ہے جیسا کہ خود مولائے کائنات نے اپنی مناجات میں اشارہ کیا ہے کہ ''خدایا! میری عزت کے لئے یہ کافی ہے کہ میں تیرا بندہ ہوں اورمیرے فخر کے لئے یہ کافی ہے کہ تو میرا رب ہے۔اب اس کے بعد میرے لئے کسی شے کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔صرف التجا یہہے کہ جس طرح تو میری مرضی کا خدا ہے۔اسی طرح مجھے اپنی مرضی کاب ندہ بنالے۔


وذَهَبْتُمْ فِي أَعْقَابِهِمْ جُهَّالًا - تَطَئُونَ فِي هَامِهِمْ وتَسْتَنْبِتُونَ فِي أَجْسَادِهِمْ - وتَرْتَعُونَ فِيمَا لَفَظُوا وتَسْكُنُونَ فِيمَا خَرَّبُوا - وإِنَّمَا الأَيَّامُ بَيْنَكُمْ وبَيْنَهُمْ بَوَاكٍ ونَوَائِحُ عَلَيْكُمْ.

أُولَئِكُمْ سَلَفُ غَايَتِكُمْ وفُرَّاطُ مَنَاهِلِكُمْ - الَّذِينَ كَانَتْ لَهُمْ مَقَاوِمُ الْعِزِّ - وحَلَبَاتُ الْفَخْرِ مُلُوكاً وسُوَقاً سَلَكُوا فِي بُطُونِ الْبَرْزَخِ سَبِيلًا سُلِّطَتِ الأَرْضُ عَلَيْهِمْ فِيه - فَأَكَلَتْ مِنْ لُحُومِهِمْ وشَرِبَتْ مِنْ دِمَائِهِمْ - فَأَصْبَحُوا فِي فَجَوَاتِ قُبُورِهِمْ جَمَاداً لَا يَنْمُونَ - وضِمَاراً لَا يُوجَدُونَ - لَا يُفْزِعُهُمْ وُرُودُ الأَهْوَالِ - ولَا يَحْزُنُهُمْ تَنَكُّرُ الأَحْوَالِ - ولَا يَحْفِلُونَ بِالرَّوَاجِفِ ولَا يَأْذَنُونَ لِلْقَوَاصِفِ - غُيَّباً

کے عالم میں ان کے پیچھے جا رہے ہو۔ان کی کھوپڑیوں کو روند رہے ہو۔اور ان کے جسموں پرعمارتیں کھڑی کر رہے ہو ۔جووہ چھوڑ گئے ہیں اسی کو چر رہے ہو اور جو وہ برباد کرگئے ہیں اسی میں سکونت پذیر ہو۔تہارے ور ان کے درمیان کے دن تمہارے حال پر رو رہے ہیں اور تمہاری بربادی کا نوحہ پڑھ رہے ہیں۔

یہ ہیں تمہاری منزل پر پہلے پہنچ جانے والے اور تمہارے چشموں پر پہلے وارد ہو جانے والے۔جن کے لئے عزت کی منزلیں تھیں اور فخرو مباہات کی فراوانیاں تھیں۔کچھ سلاطین وقت تھے اورکچھ دوسرے درجہ کے منصب دار۔لیکن سب برزخ کی گہرائیوں میں راہ پیمانی کر رہے ہیں ۔زمین ان کے اوپر مسلط کردی گئی ہے۔اس نے ان کا گوشت کھالیا ہے اورخون پی لیا ہے۔اب وہقبر کی گہرائیوں میں ایسے جماد ہوگئے ہیں جنمیں نمو نہیں ہے اور ایسے گم ہوگئے ہیں کہ ڈھونڈے نہیں مل رہے ہیں۔نہ ہولناک مصائب(۱) کا ورود انہیں خوف زدہ بنا سکتا ہے اور نہ بدلتے حالات انہیں رنجیدہ کر سکتے ہیں نہ انہیں زلزلوں کی پرواہ ہے اورنہ گرج اور کڑک کی اطلاع۔ایسے

(۱)یہ صورت حال کسی سکون اور اطمینان کا اشارہ نہیں ہے بلکہ دراصل انسان کی مد ہوشی اور بد حواسی کا اظہار ہے کہ صاحب عقل و شعور بھ جمادات کی شکل اختیار کر گیا ہے اور صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ ادھر کے جملہ حالات سے بے خبر ہوگیا ہے لیکن ادھر کے حالات سے بے خیر نہیں ہے۔صبح و شام ارواح کے سامنے جہنم پیش نظر کیا جاتا ہے اور بے عمل اور بد کردار انسان ایک نئی مصیبت سے دوچار ہو جاتا ہے۔

درحقیقت مولائے کائنات نے ان فقرات میں مرنے والوں کے حالات کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ زندہ افراد کو اس صورت حال سے بچانے کا انتظام کیا ہے کہ انسان اس انجام سے با خبر رہے اور چند روزہ دنیا کے بجائے ابدی عاقبت اورآخرت کا انتظام کرے جس سے بہرحال دو چار ہونا ہے اور اس سے فرار کا کوئی امکان نہیں ہے۔


لَا يُنْتَظَرُونَ وشُهُوداً لَا يَحْضُرُونَ - وإِنَّمَا كَانُوا جَمِيعاً فَتَشَتَّتُوا وآلَافاً فَافْتَرَقُوا - ومَا عَنْ طُولِ عَهْدِهِمْ ولَا بُعْدِ مَحَلِّهِمْ - عَمِيَتْ أَخْبَارُهُمْ وصَمَّتْ دِيَارُهُمْ - ولَكِنَّهُمْ سُقُوا كَأْساً بَدَّلَتْهُمْ بِالنُّطْقِ خَرَساً - وبِالسَّمْعِ صَمَماً وبِالْحَرَكَاتِ سُكُوناً - فَكَأَنَّهُمْ فِي ارْتِجَالِ الصِّفَةِ صَرْعَى سُبَاتٍ - جِيرَانٌ لَا يَتَأَنَّسُونَ وأَحِبَّاءُ لَا يَتَزَاوَرُونَ - بَلِيَتْ بَيْنَهُمْ عُرَا التَّعَارُفِ - وانْقَطَعَتْ مِنْهُمْ أَسْبَابُ الإِخَاءِ - فَكُلُّهُمْ وَحِيدٌ وهُمْ جَمِيعٌ - وبِجَانِبِ الْهَجْرِ وهُمْ أَخِلَّاءُ - لَا يَتَعَارَفُونَ لِلَيْلٍ صَبَاحاً ولَا لِنَهَارٍ مَسَاءً. أَيُّ الْجَدِيدَيْنِ ظَعَنُوا فِيه كَانَ عَلَيْهِمْ سَرْمَداً - شَاهَدُوا مِنْ أَخْطَارِ دَارِهِمْ أَفْظَعَ مِمَّا خَافُوا - ورَأَوْا مِنْ آيَاتِهَا أَعْظَمَ مِمَّا قَدَّرُوا - فَكِلْتَا الْغَايَتَيْنِ مُدَّتْ لَهُمْ - إِلَى مَبَاءَةٍ فَاتَتْ مَبَالِغَ الْخَوْفِ والرَّجَاءِ - فَلَوْ كَانُوا يَنْطِقُونَ بِهَا - لَعَيُّوا بِصِفَةِ

غائب ہوئے ہیں کہ ان کا انتظار نہیں کیا جا رہا ہے اور ایسے حاضر ہیں کہ سامنے نہیں آتے ہیں۔کل سب یکجا تھے اب منتشر ہوگئے ہیں اور سب ایک دوسرے کے قریب تھے اور اب جدا ہوگئے ہیں۔ان کے حالات کے بے خبری اور ان کے دیار کی خاموشی طول زمان اور بعد مکان کی بنا پر نہیں ہے بلکہ انہیں موت کا وہ جام پلادیا گیا ہے جس نے ان کی گویائی کو گونگے پن میں اور ان کی سماعت کو بہرے پن میں اور ان کی حرکات کو سکون میں تبدیل کردیا ہے۔ان کی سرسری تعریف یہ ہوسکتی ہے کہ جیسے نیند میں بے خبر پڑے ہوں کہ ہمسائے ہیں لیکن ایک دوسرے سے مانوس نہیں ہیں اور احباب ہیں لیکن ملاقات نہیں کرتے ہیں۔ان کے درمیان باہمی تعارف کے رشتے بوسیدہ ہوگئے ہیں اوربرادری کے اسباب منقطع ہوگئے ہیں۔اب سب مجتمع ہونے کے باوجود اکیلے ہیں اور دوست ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو چھوڑے ہوئے ہیں۔نہ کسی رات کو صبح سے آشنا ہیں اورنہ کسی صبح کی شام پہچانتے ہیں۔

دن و رات میں جس ساعت میں بھی دنیا سے گئے ہیں وہی ان کی ابدی ساعت ہے اوردار آخرت کے خطرات کو اس سے زیادہ دیکھ لیا ہے۔جس کا اس دنیا میں اندیشہ تھا اوراس کی نشانیوں کو اس سے زیادہ مشاہدہ کرلیا ہے جس کا انداہ کیا تھا۔اب اچھے برے دونوں طرح کے انجام کو کھینچ کرآخری منزل تک پہنچا دیا گیا ہے جہاں آخر درجہ کاخف بھی ہے اورویسی ہی امید بھی ہے۔یہ لوگ اگر بولنے کے لائق بھی ہوتے تو ان حالات کی توصیف


مَا شَاهَدُوا ومَا عَايَنُوا.ولَئِنْ عَمِيَتْ آثَارُهُمْ وانْقَطَعَتْ أَخْبَارُهُمْ - لَقَدْ رَجَعَتْ فِيهِمْ أَبْصَارُ الْعِبَرِ - وسَمِعَتْ عَنْهُمْ آذَانُ الْعُقُولِ - وتَكَلَّمُوا مِنْ غَيْرِ جِهَاتِ النُّطْقِ - فَقَالُوا كَلَحَتِ الْوُجُوه النَّوَاضِرُ وخَوَتِ الأَجْسَامُ النَّوَاعِمُ - ولَبِسْنَا أَهْدَامَ الْبِلَى وتَكَاءَدَنَا ضِيقُ الْمَضْجَعِ - وتَوَارَثْنَا الْوَحْشَةَ وتَهَكَّمَتْ عَلَيْنَا الرُّبُوعُ الصُّمُوتُ - فَانْمَحَتْ مَحَاسِنُ أَجْسَادِنَا وتَنَكَّرَتْ مَعَارِفُ صُوَرِنَا - وطَالَتْ فِي مَسَاكِنِ الْوَحْشَةِ إِقَامَتُنَا - ولَمْ نَجِدْ مِنْ كَرْبٍ فَرَجاً ولَا مِنْ ضِيقٍ مُتَّسَعاً - فَلَوْ مَثَّلْتَهُمْ بِعَقْلِكَ - أَوْ كُشِفَ عَنْهُمْ مَحْجُوبُ الْغِطَاءِ لَكَ - وقَدِ ارْتَسَخَتْ أَسْمَاعُهُمْ بِالْهَوَامِّ فَاسْتَكَّتْ - واكْتَحَلَتْ أَبْصَارُهُمْ بِالتُّرَاب فَخَسَفَتْ - وتَقَطَّعَتِ الأَلْسِنَةُ فِي أَفْوَاهِهِمْ بَعْدَ ذَلَاقَتِهَا - وهَمَدَتِ الْقُلُوبُ فِي صُدُورِهِمْ بَعْدَ يَقَظَتِهَا - وعَاثَ فِي كُلِّ جَارِحَةٍ مِنْهُمْ جَدِيدُ بِلًى سَمَّجَهَا - وسَهَّلَ طُرُقَ الآفَةِ إِلَيْهَا -

نہیں کر سکتے تھے جن کا مشاہدہ کرلیا ہے اوراپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔ اب اگران کے آثار گم بھی ہو گئے ہیں اور ان کی خبریں منقطع بھی ہوگئی ہیں تو عبرت کی نگاہیں بہر حال انہیں دیکھ رہی ہیں اور عقل کے کان بہرحال ان کی داستان غم سن رہے ہیں اور وہ زبان کے بغیر بھی بول رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ شاداب چہرے سیاہ ہو چکے ہیں اور نرم و نازک اجسام مٹی میں مل گئے ہیں۔بوسیدگی کا لباس زیب تن ہے اورتنگی مرقد نے تھکاڈالا ہے ۔وحشت ایک دوسرے کی وراثت ہے اور خاموش منزلیں ویران ہوچکی ہیں۔جسم کے محاسن محو ہو چکے ہیں ۔اور جانی پہچانی صورت بھی انجان ہوگئی ہے۔منزل وحشت میں قیام طویل ہوگیا ہے اور کسی کرب سے راحت کی امید نہیں ہے اور نہ کسی تنگی میں وسعت کا کوئی امکان ہے۔

اب اگر تم اپنی عقلوں سے ان کی تصویر کشی کرو یا تم سے غیب کے پردے اٹھا دئیے جائیں اور تم انہیں اس عالم میں دیکھ لو کہ کیڑوں(۱) کی وجہ سے ان کی قوت سماعت ختم ہ چکی ہے اور وہ بہرے ہو چکے ہیں اور ان کی آنکھوں میں مٹی کا سرمہ لگا دیا گیا ہے اور وہ ہنس چکی ہیں اور زبانیں دہن کے اندر روانی کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہو چکی ہیں اور دل سینوں کے اندر بیداری کے بعد سوچکے ہیں اور ہر عضو کوایک نئی بوسیدگی نے تباہ کرکے بدہئیت بنادیا ہے اورآفتوں کے راستوں

(۱)امیر المومنین کی تصویر کشی پر ایک لفظ کے بھی اضافہ کی گنجائش نہیں ہے اورابو تراب سے بہتر زیر زمین کا نقشہ کون کھینچ سکتا ہے۔بات صرف یہ ہے کہ انسان اس سنگین صورت حال کا اندازہ کرے اور اس تصویر کو اپنی نگاہ عقل و بصیرت میں مجسم بنائے تاکہ اسے اندازہ ہو کہ اس دنیا کی حیثیت اوراوقات کیا ہے اور اس کا انجام کیا ہونے والا ہے۔


مُسْتَسْلِمَاتٍ فَلَا أَيْدٍ تَدْفَعُ ولَا قُلُوبٌ تَجْزَعُ - لَرَأَيْتَ أَشْجَانَ قُلُوبٍ وأَقْذَاءَ عُيُونٍ - لَهُمْ فِي كُلِّ فَظَاعَةٍ صِفَةُ حَالٍ لَا تَنْتَقِلُ - وغَمْرَةٌ لَا تَنْجَلِي - فَكَمْ أَكَلَتِ الأَرْضُ مِنْ عَزِيزِ جَسَدٍ وأَنِيقِ لَوْنٍ - كَانَ فِي الدُّنْيَا غَذِيَّ تَرَفٍ ورَبِيبَ شَرَفٍ - يَتَعَلَّلُ بِالسُّرُورِ فِي سَاعَةِ حُزْنِه - ويَفْزَعُ إِلَى السَّلْوَةِ إِنْ مُصِيبَةٌ نَزَلَتْ بِه - ضَنّاً بِغَضَارَةِ عَيْشِه، وشَحَاحَةً بِلَهْوِه ولَعِبِه فَبَيْنَا هُوَ يَضْحَكُ إِلَى الدُّنْيَا وتَضْحَكُ إِلَيْه - فِي ظِلِّ عَيْشٍ غَفُولٍ إِذْ وَطِئَ الدَّهْرُ بِه حَسَكَه - ونَقَضَتِ الأَيَّامُ قُوَاه - ونَظَرَتْ إِلَيْه الْحُتُوفُ مِنْ كَثَبٍ - فَخَالَطَه بَثٌّ لَا يَعْرِفُه ونَجِيُّ هَمٍّ مَا كَانَ يَجِدُه - وتَوَلَّدَتْ فِيه فَتَرَاتُ عِلَلٍ آنَسَ مَا كَانَ بِصِحَّتِه - فَفَزِعَ إِلَى.

کو ہموار کردیا ہے کہ اب سب مصائب کے لئے سراپا تسلیم ہیں نہ کوئی ہاتھ دفاع کرنے واا ہے اور نہ کوئی دل بے چین ہونے والا ہے۔تو یقینا وہمناظر دیکھوگے جو دل کو رنجیدہ بنادیں گے اورآنکھوں میں خس و خاشاک ڈال دیں گے۔ان غریبوں کے لئے مصیبت میں وہ کیفیت ہے جو بدلتی نہیں ہے اور وہ سختی ہے جو ختم نہیں ہوتی ہے۔

اف یہ زمین کتنے عزیز ترین(۱) بدن اور حسین ترین رنگ کھا گئی جن کو دولت و راحت کی غذا مل رہی تھی اور جنہیں شرف کی آغوش میں پالا گیا تھا۔جو حزن کے اوقات میں بھی مسرت کا سامان کرلیا کرتے تھے اور اگر کوئی مصیبت آن پڑتی تھی تو اپنے عیش کی تازگیوںپر للچائے رہنے اور اپنے لہو و لعب پر فریفتہ ہونے کی بنا پر تسلی کا سامان فراہم کرلیا کرتے تھے ۔یہ ابھی غفلت میں ڈال دینے والے عیش کے زیر سایہ دنیا کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے اور دنیا انہیں دیکھ کر ہنس رہی تھی کہ اچانک زمانے نے انہیں کانٹوں کی طرح روند دیا اور روز گار نے ان کا سارا زور توڑ دیا۔موت کی نظریں قریب سے ان پر پڑنے لگیں اورانہیں ایسے رنج میں مبتلا کردیا جس کا اندازہ بھی نہ تھا اور ایسے قلق کا شکار ہوگئے جس کا کوئی سابقہ بھی نہ تھا ابھی وہ صحت سے مانوس تھے کہ ان میں مرض کی کمزوریاں پیدا ہوگئی اور انہوں نے ان اسباب کی پناہ ڈھونڈنا شروع کردی

(۱)حقیقت امر یہ ہے کہ زیر زمین خاک کاڈھیر بن جانے والے کیسی کیسی زندگیاں گذار گئے ہیں اور کس کس طر کی راحت پسندیوں سے گزر چک ہیں لیکن آج موت ان کی حیثیت کا اقرار کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔اور قبر ان کے کسی احترام کی قائل نہیں ہے۔یہ توصرف ایمان و کردار یا صاحب قبر و بارگاہ کے جوار کا اثر ہے کہ انسان فشار قبر اور بوسیدگی جسم سے محفوظ رہ جائے۔ورنہ زمین اپنے ٹکڑوں کو اصل سے ملادینے میں کسی طرح کے تکلف سے کام نہیں لیتی ہے۔


مَا كَانَ عَوَّدَه الأَطِبَّاءُ - مِنْ تَسْكِينِ الْحَارِّ بِالْقَارِّ وتَحْرِيكِ الْبَارِدِ بِالْحَارِّ - فَلَمْ يُطْفِئْ بِبَارِدٍ إِلَّا ثَوَّرَ حَرَارَةً - ولَا حَرَّكَ بِحَارٍّ إِلَّا هَيَّجَ بُرُودَةً - ولَا اعْتَدَلَ بِمُمَازِجٍ لِتِلْكَ الطَّبَائِعِ - إِلَّا أَمَدَّ مِنْهَا كُلَّ ذَاتِ دَاءٍ - حَتَّى فَتَرَ مُعَلِّلُه وذَهَلَ مُمَرِّضُه - وتَعَايَا أَهْلُه بِصِفَةِ دَائِه - وخَرِسُوا عَنْ جَوَابِ السَّاِئِلينَ عَنْه - وتَنَازَعُوا دُونَه شَجِيَّ خَبَرٍ يَكْتُمُونَه - فَقَائِلٌ يَقُولُ هُوَ لِمَا بِه ومُمَنٍّ لَهُمْ إِيَابَ عَافِيَتِه - ومُصَبِّرٌ لَهُمْ عَلَى فَقْدِه - يُذَكِّرُهُمْ أُسَى الْمَاضِينَ مِنْ قَبْلِه - فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ عَلَى جَنَاحٍ مِنْ فِرَاقِ الدُّنْيَا - وتَرْكِ الأَحِبَّةِ - إِذْ عَرَضَ لَه عَارِضٌ مِنْ غُصَصِه - فَتَحَيَّرَتْ نَوَافِذُ فِطْنَتِه ويَبِسَتْ رُطُوبَةُ لِسَانِه - فَكَمْ مِنْ مُهِمٍّ مِنْ جَوَابِه عَرَفَه فَعَيَّ عَنْ رَدِّه - ودُعَاءٍ مُؤْلِمٍ بِقَلْبِه سَمِعَه فَتَصَامَّ عَنْه - مِنْ كَبِيرٍ

جن کا اطباء نے عادی بنادیا تھا کہ گرم کا سرد سے علاج کریں اورسردی میں گرم دوا کی تحریک پیداکریں لیکن سرد دوائوں نے حرارت کو اوربھڑکا دیا اور گرم دوانے حرکت کے بجائے برودت میں اور ہیجان پیدا کردیا اور کسی مناسب طبیعت دواسے اعتدال نہیں پیدا ہو ا بلکہ اس نے مرض کو اور طاقت بخش دی۔یہاں تک کہ تیمار دار سست ہوگئے اور علاج کرنے والے غفلت برتنے لگے۔گھروالے مرض کی حالت بیان کرنے سے عاجزآگئے اور مزاج پرسی کرنے والوں کے جواب سے خاموشی اختیارکرلی اور درد ناک خبرکو چھپانے کے لئے آپس میں اختلاف کرنے لگے۔ایک کہنے لگا کر جو ہے وہ ہے۔دوسرے نے امید دلائی کہ صحت پلٹ آئے گی۔تیسرے نے موت پر صبر کی تلقین شروع کردی اورگذشتہ لوگوں کے مصائب یاد دلانے لگا۔

ابھی وہ اسی عالم میں دنیا کے فراق اوراحباب کی جدائی کے لئے پر تول رہا تھا کہ اس کے گلے میں ایک پھندہ پڑ گیا(۱) جس سے اس کی ذہانت و ہوشیاری پریشانی کاش کار ہوگئی اور زبان کی رطوبت خشکی میں تبدیل ہوگئی ۔کتنے ہی مبہم سوالات تھے جن کے جوابات اسے معلوم تھے لیکن بیان سے عاجز تھا اور کتنی ہی درد ناک آوازیں ان کے کان سے ٹکرا رہی تھی جن کے سننے سے بہرہ ہوگیا تھا وہ آوازیں کسی بزرگ کی تھیں

(۱)ہائے وہ بے کسی کاعالم کہ نہ مرنے والا درد دل کی ترجمانی کر سکتا ہے اور نہ رہ جانے والے اس کے کسی درد کا علاج کرسکتے ہیں۔جب کہ دونوں آمنے سامنے زندہ موجود ہیں تو اسی کے بعد کسی سے کیا توقع رکھی جائے جب ایک موت کی آغوش میں سو جائے گا اوردوسرا کنج لحد کے حالات سے بھی بے خبر ہو جائے گا اوراسے مرنے والے کے حالات کی بھی اطلاع نہ ہوگی۔ کیا یہ صورت حال اس امرکی دعوت نہیں دیتی ہے کہ انسان اس دنیا سے عبرت حاصل کرے اوراہل دنیا پر اعتماد کرنے کے بجائے اپنے ایمان کردار اور اولیاء الٰہی کی نصرت وحمایت حاصل کرنے پر توجہ دے کہ اس کے علاوہ کوئی سہارا نہیں ہے۔


كَانَ يُعَظِّمُه أَوْ صَغِيرٍ كَانَ يَرْحَمُه - وإِنَّ لِلْمَوْتِ لَغَمَرَاتٍ هِيَ أَفْظَعُ مِنْ أَنْ تُسْتَغْرَقَ بِصِفَةٍ - أَوْ تَعْتَدِلَ عَلَى عُقُولِ أَهْلِ الدُّنْيَا

(۲۲۲)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قاله عند تلاوته:( يُسَبِّحُ لَه فِيها بِالْغُدُوِّ والآصالِ رِجالٌ - لا تُلْهِيهِمْ تِجارَةٌ ولا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ الله).

إِنَّ اللَّه سُبْحَانَه وتَعَالَى جَعَلَ الذِّكْرَ جِلاءً لِلْقُلُوبِ - تَسْمَعُ بِه بَعْدَ الْوَقْرَةِ وتُبْصِرُ بِه بَعْدَ الْعَشْوَةِ - وتَنْقَادُ بِه بَعْدَ الْمُعَانَدَةِ - ومَا بَرِحَ لِلَّه عَزَّتْ آلَاؤُه فِي الْبُرْهَةِ بَعْدَ الْبُرْهَةِ - وفِي أَزْمَانِ الْفَتَرَاتِ عِبَادٌ نَاجَاهُمْ فِي فِكْرِهِمْ - وكَلَّمَهُمْ فِي ذَاتِ عُقُولِهِمْ - فَاسْتَصْبَحُوا بِنُورِ يَقَظَةٍ فِي الأَبْصَارِ والأَسْمَاعِ والأَفْئِدَةِ - يُذَكِّرُونَ بِأَيَّامِ اللَّه ويُخَوِّفُونَ مَقَامَه - بِمَنْزِلَةِ الأَدِلَّةِ فِي الْفَلَوَاتِ

جنکا احترام کیا کرتا تھا یا ان بچوں کی تھیں جن پر رحم کیا کرتا تھا۔لیکن موت کی سختیاں ایسی ہی ہیں جو اپنی شدت میں بیان کی حدوں میں نہیں آسکتی ہیں اور اہل دنیا کی عقلوں کے اندازوں پرپوری نہیں اتر سکتی ہیں۔

(۲۲۲)

آپ کا اشاد گرامی

(جسے آیت کریمہ '' یسبح لہ فیھا بالغدوو الاصال رجال'' ان گھروں میں صبح و شام تسبیح پروردگار کرنے والے وہ افراد ہیں جنہیں تجارت اورکاروبار یاد خداس ے غافل نہیں بنا سکتا ہے۔کی تلاوت کے موقع پر ارشاد فرمایا :)

پروردگار نے اپنے ذکر کو دلوں کے لئے صیقل قراردیا ہے جس کی بنا پر وہ بہرے پن کے بعد سننے لگتے ہیں اور اندھے پن کے بعد دیکھنے لگتے ہیں اور رعنا و اور ضد کے بعد مطیع و فرمانبردار ہو جاتے ہیں اور خدائے عزوجل ( جس کی نعمتیں عظیم و جلیل ہیں ) کے لئے ہردور میں اور ہر عہد فترت میں ایسے بندے رہے ہیں جن سے اس نے ان کا افکار کے ذریعہ راز دارانہ گفتگو کی ہے اور ان کی عقلوں کے وسیلہ سے ان سے کلام کیا ے اور انہوں نے اپنی بصارت ' سماعت اورفکر کی بیداری کے نور سے روشنی حاصل کی ہے۔انہیں اللہ کے مخصوص دنوں کی یاد عطا کی گئی ہے اور وہ اس کی عظمت سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ان کی مثال بیابانوں کے راہنمائوں جیسی ہے


مَنْ أَخَذَ الْقَصْدَ حَمِدُوا إِلَيْه طَرِيقَه وبَشَّرُوه بِالنَّجَاةِ ومَنْ أَخَذَ يَمِيناً وشِمَالًا ذَمُّوا إِلَيْه الطَّرِيقَ - وحَذَّرُوه مِنَ الْهَلَكَةِ - وكَانُوا كَذَلِكَ مَصَابِيحَ تِلْكَ الظُّلُمَاتِ - وأَدِلَّةَ تِلْكَ الشُّبُهَاتِ - وإِنَّ لِلذِّكْرِ لأَهْلًا أَخَذُوه مِنَ الدُّنْيَا بَدَلًا - فَلَمْ تَشْغَلْهُمْ تِجَارَةٌ ولَا بَيْعٌ عَنْه - يَقْطَعُونَ بِه أَيَّامَ الْحَيَاةِ - ويَهْتِفُونَ بِالزَّوَاجِرِ عَنْ مَحَارِمِ اللَّه فِي أَسْمَاعِ الْغَافِلِينَ - ويَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ ويَأْتَمِرُونَ بِه - ويَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ويَتَنَاهَوْنَ عَنْه - فَكَأَنَّمَا قَطَعُوا الدُّنْيَا إِلَى الآخِرَةِ وهُمْ فِيهَا - فَشَاهَدُوا مَا وَرَاءَ ذَلِكَ - فَكَأَنَّمَا اطَّلَعُوا غُيُوبَ أَهْلِ الْبَرْزَخِ فِي طُولِ الإِقَامَةِ فِيه - وحَقَّقَتِ الْقِيَامَةُ عَلَيْهِمْ عِدَاتِهَا - فَكَشَفُوا غِطَاءَ ذَلِكَ لأَهْلِ الدُّنْيَا - حَتَّى كَأَنَّهُمْ يَرَوْنَ مَا لَا يَرَى النَّاسُ ويَسْمَعُونَ مَا لَا يَسْمَعُونَ - فَلَوْ مَثَّلْتَهُمْ لِعَقْلِكَ  

کہ جو صحیح راستہ پر چلتا ہے اس کی روش کی تعریف کرتے ہیں اوراسے نجات کی بشارت دیتے ہیں اور جوداہنے بائیں چلا جاتا ہے اس کے راستہ کی مذمت کرتے ہیں اور اسے ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور اسی اندازس ے یہ ظلمتوں کے چراغ اور شبہات کے رہنما ہیں۔

بیشک ذکرخدا کے بھی کچھ اہل ہیں جنہوں نے اسے ساری دنیا کا بدل قراردیا ہے اور اب انہیں تجارت یا خریدو فروخت اس ذکر سے غافل نہیں کرسکتی ہے ۔ یہ اس کے سہارے زندگی کے دن کاٹتے ہیں اور غافلوں کے کانوں میں محرمات کے روکنے والی آوازیں داخل کر دیتے ہیں۔لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور خود بھی اسی پر عمل کرتے ہیں۔برائیوں سے روکتے ہیں اور خودبھی باز رہتے ہیں۔گویا انہوں نے دنیا میں رہ کرآخرت تک کا فاصلہ طے کرلیا ہے اور پس پردۂ دنیا جو کچھ ہے سب دیکھ لیا ہے اور گویاکہ انہوں نے برزخ کے طویل و عریض زمانہ کے مخفی حالات پر اطلاع حاصل کرلی ہے اورگویا کہ قیامت نے ان کے لئے اپنے وعدوں کو پورا کردیا ہے اور انہوں نے اہل دنیا کے لئے اس پردہ(۱) کواٹھا دیا ہے۔کہ اب وہ ان چیزوں کو دیکھ رہے ہیں جنہیں عام لوگن ہیں دیکھ سکتے ہیں اور ان آوازوں کو سن رہے ہیں جنہیں دوسرے لوگ نہیں سن سکتے ہیں اگر تم اپنی عقل سے ان کی اس تصویر کو تیار کرو

(۱)ان حقائق کا صحیح اظہر وہی انسان کر سکتا ہے جو یقین کی اس آخری منزل پر فائز ہو جس کے بعد خود یہ اعلان کرتا ہو کہ اب اگر پردے ہٹا بھی دئیے جائیں تو یقین میں کسی طرح کا اضافہ نہیں ہو سکتا ہے۔اور حقیقت امر یہ ہے کہ اسلام میں اہل ذکر صرف صاحبان علم و فضل کا نام نہیں ہے بلکہ ذکر الٰہی کا اہل ان افراد کو قرا دیا گیا ہے جو تقویٰ اور پرہیز گاری کی آخری منزل پر ہوں اورآخرت کو اپنی نگاہوں سے دیکھ کر ساری دنیا کو راہ و وچاہ سے آگاہ کر رہے ہوں ملائکہ مقربین ان کے گرد گھیرے ڈالے ہوں لیکن اس کیب عد بھی عظمت جلال الٰہی کے تصورس ے اپنے اعمال کو بے قیمت سمجھ کر لرز رہے ہوں اور مسلسل اپنی کوتاہیوں کا اقرار کر رہے ہوں۔


فِي مَقَاوِمِهِمُ الْمَحْمُودَةِ - ومَجَالِسِهِمُ الْمَشْهُودَةِ - وقَدْ نَشَرُوا دَوَاوِينَ أَعْمَالِهِمْ - وفَرَغُوا لِمُحَاسَبَةِ أَنْفُسِهِمْ عَلَى كُلِّ صَغِيرَةٍ وكَبِيرَةٍ - أُمِرُوا بِهَا فَقَصَّرُوا عَنْهَا أَوْ نُهُوا عَنْهَا فَفَرَّطُوا فيهَا - وحَمَّلُوا ثِقَلَ أَوْزَاِرِهمْ ظُهُورَهُمْ - فَضَعُفُوا عَنِ الِاسْتِقْلَالِ بِهَا - فَنَشَجُوا نَشِيجاً وتَجَاوَبُوا نَحِيباً - يَعِجُّونَ إِلَى رَبِّهِمْ مِنْ مَقَامِ نَدَمٍ واعْتِرَافٍ - لَرَأَيْتَ أَعْلَامَ هُدًى ومَصَابِيحَ دُجًى - قَدْ حَفَّتْ بِهِمُ الْمَلَائِكَةُ - وتَنَزَّلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ - وفُتِحَتْ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وأُعِدَّتْ لَهُمْ مَقَاعِدُ الْكَرَامَاتِ - فِي مَقْعَدٍ اطَّلَعَ اللَّه عَلَيْهِمْ فِيه - فَرَضِيَ سَعْيَهُمْ وحَمِدَ مَقَامَهُمْ - يَتَنَسَّمُونَ بِدُعَائِه رَوْحَ التَّجَاوُزِ - رَهَائِنُ فَاقَةٍ إِلَى فَضْلِه وأُسَارَى ذِلَّةٍ لِعَظَمَتِه - جَرَحَ طُولُ الأَسَى قُلُوبَهُمْ وطُولُ الْبُكَاءِ عُيُونَهُمْ - لِكُلِّ بَابِ رَغْبَةٍ إِلَى اللَّه مِنْهُمْ يَدٌ قَارِعَةٌ - يَسْأَلُونَ مَنْ لَا تَضِيقُ لَدَيْه الْمَنَادِحُ -

جو ان کے قابل تعریف مقامات اور قابل حضور مجالس کی ہے۔جہاں انہوں نے اپنے اعمال کے دفتر پھیلائے ہوئے ہیں اور اپنے ہرچھوٹے بڑے عمل کاحساب دینے کے لئے تیار ہیں جن کا حکمدیا گیا تھا اور ان میں کوتاہی ہوگئی ہے یا جن سے روکا گیاتھا اور تفصیر ہوگئی ہے اور اپنی پشت پر تمام اعمال کابوجھ اٹھائے ہوئے ہیں لیکن اٹھانے کے قابل نہیں ہیں اور اب روتے روتے ہچکیاں بندھ گئی ہیں اور ایک دوسرے کو رو رو کر اس کے سوال کا جوابدے رہے ہیں اور ندامت اوراعتراف گناہ کے ساتھ پروردگار کی بارگاہ میں فریاد کر رہے ہیں۔تو وہ تمہیں ہدایت کے نشان اور تاریکی کے چراغ نظر آئیں گے جن کے گرد ملائکہ کا گھیرا ہوگا اور ان پر پروردگار کی طرف سے سکون و اطمینان کا مسلسل نزول ہوگا اور ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے ہوں گے اورکرامتوں کی منزلیں مہیا کردی گئی ہوں گی۔ایسے مقام پرجہاں مالک کی نگاہ کرم ان کی طرف ہو اور وہ ان کی سعی سے راضی ہو اور ان کی منزل کی تعریف کر رہا ہو۔ وہ مالک کو پکارنے کی فرحت سے بخشش کی ہوائوں میں سانس لیتے ہوں۔اس کے فضل و کرم کی احتیاج کے ہاتھوں رہن ہوں اوراس کی عظمت کے سامنے ذلت کے اسیر ہوں۔غم و اندوہ کے طول زمان نے ان کے دلوں کومجروح کردیا ہو اور مسلسل گریہ نے ان کی آنکھوں کو زخمی کردیا ہو۔مالک کی طرف رغبت کے ہر دروازہ کو کھٹکھٹارہے ہوں اور اس سے سوال کر رہے ہوں جس کے جودو کرم کی وسعتوں میں تنگی نہیں آتی ہے اور جس کی


ولَا يَخِيبُ عَلَيْه الرَّاغِبُونَ. فَحَاسِبْ نَفْسَكَ لِنَفْسِكَ فَإِنَّ غَيْرَهَا مِنَ الأَنْفُسِ لَهَا حَسِيبٌ غَيْرُكَ.

(۲۲۳)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قاله عند تلاوته:( يا أَيُّهَا الإِنْسانُ ما غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ ) .

أَدْحَضُ مَسْئُولٍ حُجَّةً وأَقْطَعُ مُغْتَرٍّ مَعْذِرَةً - لَقَدْ أَبْرَحَ جَهَالَةً بِنَفْسِه.

يَا أَيُّهَا الإِنْسَانُ مَا جَرَّأَكَ عَلَى ذَنْبِكَ - ومَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ ومَا أَنَّسَكَ بِهَلَكَةِ نَفْسِكَ - أَمَا مِنْ دَائِكَ بُلُولٌ أَمْ لَيْسَ مِنْ نَوْمَتِكَ يَقَظَةٌ - أَمَا تَرْحَمُ مِنْ نَفْسِكَ مَا تَرْحَمُ مِنْ غَيْرِكَ - فَلَرُبَّمَا تَرَى الضَّاحِيَ مِنْ حَرِّ الشَّمْسِ فَتُظِلُّه

طرف رغبت کرنے والے کبھی مایوس نہیں ہوتے ہیں دیکھو اپنی بھلائی کے لئے خود اپنے نفس کا حساب کرو کہ دوسروں کے نفس کاحساب کرنے والا کوئی اور ہے۔

(۲۲۳)

آپ کا ارشاد گرامی

(جسے آیت شریفہ'' ما غرک بربک الکریم' ' (اے انسان تجھے خدائے کریم کے بارے میں کس شے نے دھوکہ میں ڈال دیا ہے ؟)کے ذیل میں ارشاد فرمایا ہے :)

دیکھو یہ انسان جس سے یہ سوال کیا گیا ہے وہ اپنی دلیل کے اعتبار سے کس قدر کمزور ہے اور اپنے فریب خوردہ ہونے کے اعتبار سے کس قدرناقص معذرت کا حامل ہے ۔یقینا اس نے اپنے نفس کو جہالت کی سختیوں میں مبتلا کردیا ہے۔ اے انسان! سچ بتا۔تجھے کس شے نے گناہوں کی جرأت دلائی ہے اور کس چیزنے پروردگار کے بارے میں دھوکہ میں رکھا ہے اور کس امرنے نفس کی ہلاکت پر بھی مطمئن بنادیا ہے۔کیا تیرے اس مرض کا کوی علاج اور تیرے اس خواب کی کوئی بیداری نہیں ہے اور کیا انپے نفس(۱) پر اتنا بھی رحم نہیں کرتا ہے جتنا دوسروں پرکرتا ہے کہ جب کبھی آفتاب کی حرارت میں کسی کو تپتا دیکھتا ہے تو سایہ کردیتا ہے

(۱)حقیقت امری ہ ہے کہ انسان آخرت کی طرف سے بالکل غفلت کا مجسمہ بن گیا ہے کہ دنیا میں کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ پاتا ہے اوراس کی داد رسی کے لئے تیار ہو جاتا ہے اورآخرت میں پیش آنے والے خود اپنے مصائب کی طرف سے بھی یکسر غافل ے اورایک لمحہ کے لئے بھی آفتاب محشر کے سایہ اور گرمی قیامت کی خشکی کا انتظام نہیں کرتا ہے۔بلکہ بعض اوقات اس کا مذاق بھی اڑاتا ہے۔انا للہ وانا الیہ راجعون


أَوْ تَرَى الْمُبْتَلَى بِأَلَمٍ يُمِضُّ جَسَدَه فَتَبْكِي رَحْمَةً لَه - فَمَا صَبَّرَكَ عَلَى دَائِكَ وجَلَّدَكَ عَلَى مُصَابِكَ - وعَزَّاكَ عَنِ الْبُكَاءِ عَلَى نَفْسِكَ - وهِيَ أَعَزُّ الأَنْفُسِ عَلَيْكَ - وكَيْفَ لَا يُوقِظُكَ خَوْفُ بَيَاتِ نِقْمَةٍ - وقَدْ تَوَرَّطْتَ بِمَعَاصِيه مَدَارِجَ سَطَوَاتِه - فَتَدَاوَ مِنْ دَاءِ الْفَتْرَةِ فِي قَلْبِكَ بِعَزِيمَةٍ - ومِنْ كَرَى الْغَفْلَةِ فِي نَاظِرِكَ بِيَقَظَةٍ - وكُنْ لِلَّه مُطِيعاً وبِذِكْرِه آنِساً - وتَمَثَّلْ فِي حَالِ تَوَلِّيكَ عَنْه - إِقْبَالَه عَلَيْكَ يَدْعُوكَ إِلَى عَفْوِه - ويَتَغَمَّدُكَ بِفَضْلِه وأَنْتَ مُتَوَلٍّ عَنْه إِلَى غَيْرِه فَتَعَالَى مِنْ قَوِيٍّ مَا أَكْرَمَه - وتَوَاضَعْتَ مِنْ ضَعِيفٍ مَا أَجْرَأَكَ عَلَى مَعْصِيَتِه - وأَنْتَ فِي كَنَفِ سِتْرِه مُقِيمٌ - وفِي سَعَةِ فَضْلِه مُتَقَلِّبٌ - فَلَمْ يَمْنَعْكَ فَضْلَه ولَمْ يَهْتِكْ عَنْكَ سِتْرَه - بَلْ لَمْ تَخْلُ مِنْ لُطْفِه مَطْرَفَ عَيْنٍ - فِي نِعْمَةٍ يُحْدِثُهَا لَكَ أَوْ سَيِّئَةٍ يَسْتُرُهَا عَلَيْكَ - أَوْ بَلِيَّةٍ يَصْرِفُهَا عَنْكَ فَمَا

یا کسی کو درد و رنج میں مبتلا دیکھتا ہے تو اس کے حال پررونے لگتا ہے توخرکس شے نے تجھے خود اپنے مرض پر صبر دلادیا ہے اور اپنی مصیبت پرسامان سکون فراہم کردیا ہے اوراپنے نفس پر رونے سے روک دیا ہے جب کہ وہ تجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔اور کیوں راتوں رات عذاب الٰہی کے نازل ہو جانے کا تصور تجھے بیدار نہیں رکھتا ہے جب کہ تو اس کی نا فرمانیوں کی بنا پر اس کے قہرو غلبہ کی راہ میں پڑا ہوا ہے۔ ابھی غنیمت ہے کہ اپنے دل کی سستی کاعزمراسخ سے علاج کرلے اور اپنی آنکھوں میں غفلت کی نیند کابیدردی سے مداوا کرلے اللہ کی اطاعت گذار بن جا۔اس کی یاد سے انس حاصل کراور اس امر کاتصور کرکہ کس طرح وہ تیرے دوسروں کی طرف منہ موڑ لینے کے باوجود وہ تیری طرف متوجہ رہتا ہے۔تجھے معافی کی دعوت دیتاہے۔اپنے فضل و کرم میں ڈھانپ لیتا ہے حالانکہ تو دوسروں کی طرف رخ کئے ہوئے ہے۔بلند وبالا ہے وہ صاحب قوت جو اس قدر کرم کرتا ہے اور ضعیف و ناتواں ہے تو انسان جو اس کی معصیت کی اس قدر جرأت رکھتا ہے جب کہ اسی کے عیب پوشی کے ہمسایہ میں مقیم ہے اور اسی کے فضل و کرم کی وسعتوں میں کروٹیں بدل رہا ہے وہ نہ اپنے فضل وکرم کوتجھ سے روکتا ہے اورنہ تیرے پردہ ٔ راز کوفاش کرتا ہے۔بلکہ تو پلک جھپکنے کے برابر بھی اس کی مہربانیوں سے خالی نہیں ہے۔کبھی نئی نئی نعمتیںعطا کرتا ہے۔کبھی برائیوں کی پردہ پوشی کرتا ہے اور کبھی بلائوں کو رد کردیتا ہے جب کہ تو اس کی


ظَنُّكَ بِه لَوْ أَطَعْتَه - وايْمُ اللَّه لَوْ أَنَّ هَذِه الصِّفَةَ كَانَتْ فِي مُتَّفِقَيْنِ فِي الْقُوَّةِ - مُتَوَازِيَيْنِ فِي الْقُدْرَةِ - لَكُنْتَ أَوَّلَ حَاكِمٍ عَلَى نَفْسِكَ بِذَمِيمِ الأَخْلَاقِ - ومَسَاوِئِ الأَعْمَالِ - وحَقّاً أَقُولُ مَا الدُّنْيَا غَرَّتْكَ ولَكِنْ بِهَا اغْتَرَرْتَ - ولَقَدْ كَاشَفَتْكَ الْعِظَاتِ وآذَنَتْكَ عَلَى سَوَاءٍ - ولَهِيَ بِمَا تَعِدُكَ مِنْ نُزُولِ الْبَلَاءِ بِجِسْمِكَ - والنَّقْصِ فِي قُوَّتِكَ أَصْدَقُ وأَوْفَى مِنْ أَنْ تَكْذِبَكَ أَوْ تَغُرَّكَ - ولَرُبَّ نَاصِحٍ لَهَا عِنْدَكَ مُتَّهَمٌ - وصَادِقٍ مِنْ خَبَرِهَا مُكَذَّبٌ - ولَئِنْ تَعَرَّفْتَهَا فِي الدِّيَارِ الْخَاوِيَةِ والرُّبُوعِ الْخَالِيَةِ - لَتَجِدَنَّهَا مِنْ حُسْنِ تَذْكِيرِكَ - وبَلَاغِ مَوْعِظَتِكَ - بِمَحَلَّةِ الشَّفِيقِ عَلَيْكَ والشَّحِيحِ بِكَ - ولَنِعْمَ دَارُ مَنْ لَمْ يَرْضَ بِهَا دَاراً - ومَحَلُّ مَنْ لَمْ يُوَطِّنْهَا مَحَلاًّ - وإِنَّ السُّعَدَاءَ بِالدُّنْيَا غَداً هُمُ الْهَارِبُونَ مِنْهَا الْيَوْمَ. إِذَا رَجَفَتِ الرَّاجِفَةُ

معصیت کر رہا ہے تو سوچ اگر تو اطاعت کرتا تو کیا ہوتا ؟

خدا گواہ ہے کہ اگریہ برتائو دو برابر کی قوتو قدرت والوں کے درمیان ہوتا اور تو دوسرے کے ساتھ ایسا ہی برتائو کرتا تو تو خود ہی سب سے پہلے اپنے نفس کے بد اخلاق اور بد عمل ہونے کا فیصلہ کردیتا ہے لیکن افسوس۔

میں سچ کہتا ہوں کہ دنیا نے تجھے دھوکہ نہیں دیا ہے تونے دنیا سے دھوکہ کھایا ہے۔اس نے تو نصیحتوں کوکھول کر سامنے رکھ دیا ہے اور تجھے ہر چیز سے برابر سے آگاہ کیا ہے۔اس نے جسم پر جن نازل ہونے والی بلائوں کا وعدہ کیا ہے اور قوت میں جس کمزوری کی خبردی ہے۔اس میں وہ بالکل سچی اور وفائے عہد کرنے والی ہے۔نہ جھوٹ بولنے والی ہے اور نہ دھکہ دینے والی۔بلکہ بہت سے اس کے بارے میں نصیحت کرنے والے ہیں جو تیرے نزدیک ناقابل اعتبار ہیں اورسچ سچ بولنے والے ہیں جو تیریر نگاہ میں جھوٹے ہیں۔

اگر تونے اسے گرے پڑے مکانات اور غیر آباد منزلوں میں پہچان لیا ہوتا تو دیکھتا کہ وہ اپنی یاد دہانی اوربلیغ ترین نصیحت میں تجھ پر کس قدر مہربان ہے اور تیری تباہی کے بارے میں کس قدر بخل سے کام لیتی ہے۔

یہ دنیا اس کے لئے بہترین گھر ہے جو اسکو گھر بنانے سے راضی نہ ہو۔اور اس کے لئے بہترین وطن ہے جو اسے وطن بنانے پرآمادہ نہ ہو۔اس دنیا کے رہنے والوں میں کل کے دن نیک بخت وہی ہوں گے جوآج اس سے گریز کرنے پرآمادہ ہوں۔ دیکھو جب زمین کو زلزلہ آجائے گا


وحَقَّتْ بِجَلَائِلِهَا الْقِيَامَةُ - ولَحِقَ بِكُلِّ مَنْسَكٍ أَهْلُه وبِكُلِّ مَعْبُودٍ عَبَدَتُه - وبِكُلِّ مُطَاعٍ أَهْلُ طَاعَتِه - فَلَمْ يُجْزَ فِي عَدْلِه وقِسْطِه يَوْمَئِذٍ خَرْقُ بَصَرٍ فِي الْهَوَاءِ - ولَا هَمْسُ قَدَمٍ فِي الأَرْضِ إِلَّا بِحَقِّه - فَكَمْ حُجَّةٍ يَوْمَ ذَاكَ دَاحِضَةٌ - وعَلَائِقِ عُذْرٍ مُنْقَطِعَةٌ! فَتَحَرَّ مِنْ أَمْرِكَ مَا يَقُومُ بِه عُذْرُكَ وتَثْبُتُ بِه حُجَّتُكَ - وخُذْ مَا يَبْقَى لَكَ مِمَّا لَا تَبْقَى لَه - وتَيَسَّرْ لِسَفَرِكَ وشِمْ بَرْقَ النَّجَاةِ وارْحَلْ مَطَايَا التَّشْمِيرِ

(۲۲۴)

ومن كلام لهعليه‌السلام

يتبرأ من الظلم

واللَّه لأَنْ أَبِيتَ عَلَى حَسَكِ السَّعْدَانِ مُسَهَّداً - أَوْ أُجَرَّ فِي الأَغْلَالِ مُصَفَّداً - أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْقَى اللَّه ورَسُولَه يَوْمَ الْقِيَامَةِ ظَالِماً - لِبَعْضِ الْعِبَادِ وغَاصِباً لِشَيْءٍ مِنَ الْحُطَامِ - وكَيْفَ أَظْلِمُ أَحَداً

اور قیامت اپنی عظیم مصیبتوں کے ساتھ کھڑی ہو جائے گی اور ہر عبادت گاہ کے ساتھ اس کے عبادت گزار ۔ہر معبود کے ساتھ اس کے بندے اور ہر قابل اطاعت کے ساتھ اس کے مطیع و فرمانبردار ملحق کردئیے جائیں گے تو کوئی ہوا میں شگاف کرنے والی نگاہ اور زمین پر پڑنے والے قدم کی آہٹ ایسی نہ ہوگی جس کا عدل و انصاف کے ساتھ پورا بدلہ نہ دے دیا جائے۔اس دن کتنی ہی دلیلیں ہوں گی جو بیکار ہو جائیں گی اور کتنے ہی معذرت کے رشتے ہوں گے جو کٹ کے رہ جائیں گے۔ لہٰذا مناسب ہے کہ ابھی سے ان چیزوں کو تلاش کرلو جن سے عذر قائم ہو سکے اور دلیل ثابت ہو سکے جن دنیا میں تم کونہیں رہنا ہے اس میں سے وہ لے لو جس کو تمہارے ساتھ رہنا ہے۔سفر کے لئے آمادہ ہو جائو۔نجات کی روشنی کی چمک دیکھ لو اور آمادگی کی سواریوں پر سامان بار کرلو۔

(۲۲۴)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں ظلم سے برائت و بیزاری کا اظہار فرمایا گیا ہے)

خدا گواہ ہے کہ میرے لئے سعد ان کی خار دار جھاڑی پر جگ کر رات گزارلینایا زنجیروں میں قید ہو کر کھینچا جانا اس امر سے زیادہ عزیز ہے۔کہ میں روز قیامت پروردگار سے اس عالم میں ملاقات کروں کہ کسی بندہ پر ظلم کرچکا ہوں یا دنیاکے کسی معمولی مال کو غصب کیا ہو بھلا میں کسی شخص پر بھی اس نفس کے لئے کس طرح ظلم


لِنَفْسٍ يُسْرِعُ إِلَى الْبِلَى قُفُولُهَا ويَطُولُ فِي الثَّرَى حُلُولُهَا؟!

واللَّه لَقَدْ رَأَيْتُ عَقِيلًا وقَدْ أَمْلَقَ - حَتَّى اسْتَمَاحَنِي مِنْ بُرِّكُمْ صَاعاً - ورَأَيْتُ صِبْيَانَه شُعْثَ الشُّعُورِ غُبْرَ الأَلْوَانِ مِنْ فَقْرِهِمْ - كَأَنَّمَا سُوِّدَتْ وُجُوهُهُمْ بِالْعِظْلِمِ - وعَاوَدَنِي مُؤَكِّداً وكَرَّرَ عَلَيَّ الْقَوْلَ مُرَدِّداً - فَأَصْغَيْتُ إِلَيْه سَمْعِي فَظَنَّ أَنِّي أَبِيعُه دِينِي - وأَتَّبِعُ قِيَادَه مُفَارِقاً طَرِيقَتِي – فَأَحْمَيْتُ لَه حَدِيدَةً ثُمَّ أَدْنَيْتُهَا مِنْ جِسْمِه لِيَعْتَبِرَ بِهَا - فَضَجَّ ضَجِيجَ ذِي دَنَفٍ مِنْ أَلَمِهَا - وكَادَ أَنْ يَحْتَرِقَ مِنْ مِيسَمِهَا - فَقُلْتُ لَه ثَكِلَتْكَ الثَّوَاكِلُ يَا عَقِيلُ - أَتَئِنُّ مِنْ حَدِيدَةٍ أَحْمَاهَا إِنْسَانُهَا لِلَعِبِه - وتَجُرُّنِي إِلَى نَارٍ سَجَرَهَا جَبَّارُهَا لِغَضَبِه - أَتَئِنُّ مِنَ الأَذَى ولَا أَئِنُّ مِنْ لَظَى

کروں گا جو فنا کی طرف بہت جلد پلٹنے والا ہے اورزمین کے اندر بہت دنوں رہنے والا ہے۔

خداکی قسم میں نے عقیل(۱) کوخود دیکھا ہے کہ انہوں نے فقر وفاقہ کی بنا پر تمہارے حصہ گندم میں سے تین کیلو کامطالبہ کیا تھا جب کہ ان کے بچغوں کے بال غربت کی بناپر پراگندہ ہو چکے تھے اور ان کے چہروں کے رنگ یوں بدل چکے تھے جیسے انہیں تیل چھڑ ک کر سیاہ بنایا گیا ہوا اورانہوںنے مجھ سے باربارتقاضا کیا اور مکرر اپنے مطالبہ کودہرایا تو میں نے ان کی طرف کان دھردئیے اور وہ یہ سمجھے کہ شاید میں دین بیچنے اور اپنے راستہ کو چھوڑ کران کے مطالبہ پرچلنے کے لئے تیار ہوگیا ہوں۔لیکن میں نے ان کے لئے لوہا گرم کرایا اور پھر ان کے جسم کے قریب لے گیا تاکہ اس سے عبرت حاصل کریں۔انہوںنے لوہا دیکھ کری وں فریاد شروع کردی جیسے کوئی بیمار اپنے درد و الم سے فریاد کرتا ہو اور قریب تھا کہ ان کا جسم اس کے داغ دینے سے جل جائے۔تو میں نے کہا رونے والیاں آپ کے غم میں روئیں اپنے عقیل ! آپ اس لوہے سے فریاد کر رہے ہیں جس ایک انسان نے فقط ہنسی مذاق میں تپایا ہے اور مجھے اسآگ کی طرف کھینچ رہے ہیں جسے خدائے جبارنے اپنے غضب کی بنیاد پربھڑکایا ہے۔آپ اذیت سے فریاد کریں اور میں جہنم سے فریاد نہ کروں۔

(۱) جناب عقیل آپ کے بڑے بھائی او حقیقی بھائی تھے لیکن اس کے باوجود آپ نے یہ عادلانہ برتائو کرکے واضح کردیا کہ دین الٰہی میں رشت و قرابت کا گذر نہیں ہے۔دین کا ذمہ دار وہی شخص ہو سکتا ہے جو مال خدا کو مال خدا تصور کرے اور اس مسئلہمیں کسی طرح کی رشتہ داری اور تعلق کو شامل نہ کرے۔یہ امیر المومنین کے کردار کا وہ نمایاں امتیاز ہے جس کا اندازہ دوست اوردشمن دونوں کو تھا اور کوئی بھی اس معرفت سے بیگانہ نہ تھا۔


وأَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ طَارِقٌ طَرَقَنَا بِمَلْفُوفَةٍ فِي وِعَائِهَا - ومَعْجُونَةٍ شَنِئْتُهَا - كَأَنَّمَا عُجِنَتْ بِرِيقِ حَيَّةٍ أَوْ قَيْئِهَا - فَقُلْتُ أَصِلَةٌ أَمْ زَكَاةٌ أَمْ صَدَقَةٌ - فَذَلِكَ مُحَرَّمٌ عَلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ - فَقَالَ لَا ذَا ولَا ذَاكَ ولَكِنَّهَا هَدِيَّةٌ - فَقُلْتُ هَبِلَتْكَ الْهَبُولُ أَعَنْ دِينِ اللَّه أَتَيْتَنِي لِتَخْدَعَنِي - أَمُخْتَبِطٌ أَنْتَ أَمْ ذُو جِنَّةٍ أَمْ تَهْجُرُ -

واللَّه لَوْ أُعْطِيتُ الأَقَالِيمَ السَّبْعَةَ بِمَا تَحْتَ أَفْلَاكِهَا - عَلَى أَنْ أَعْصِيَ اللَّه فِي نَمْلَةٍ أَسْلُبُهَا جُلْبَ شَعِيرَةٍ مَا فَعَلْتُه - وإِنَّ دُنْيَاكُمْ عِنْدِي لأَهْوَنُ مِنْ وَرَقَةٍ فِي فَمِ جَرَادَةٍ تَقْضَمُهَا - مَا لِعَلِيٍّ ولِنَعِيمٍ يَفْنَى ولَذَّةٍ لَا تَبْقَى - نَعُوذُ بِاللَّه مِنْ سُبَاتِ الْعَقْلِ وقُبْحِ الزَّلَلِ وبِه نَسْتَعِينُ.

اس سے زیادہ تعجب خیز باتیہ ہے کہ ایک رات ایک شخص (اشعث بن قیس) میرے پاس شہد میں گندھا ہوا حلوہ برتن میں رکھ کر لایا جو مجھے اس قدر ناگوارتھا جیسے سانپ کے تھوک یا قے سے گوندھا ہو۔میں نے پوچھا کہ یہ کوئی انعام ہے یا زکوٰة یا صدقہ جو ہم اہل بیت پر حرام ہے ؟ اس نے کہاکہ یہ کچھ نہیں ہے۔یہ فقط ایک ہدیہ ہے ! میں نے کہاکہ پسر مردہ عورتیں تجھ کو روئیں ۔تو دین خداکے راستہ سے آکر مجھے دھوکہ دینا چاہتا ہے تیرا دماغ خراب ہوگیا ہے یا تو پاگل ہوگیا ہے یا ہذیان بک رہا ہے۔ آخر ہے کیا ؟

خدا گواہ ہے کہ اگر مجھے ہفت اقلیم کی حکومت تمام زیر آسمان دولتوں کے ساتھ دے دی جائے اور مجھ سے یہ مطالبہ کیاجائے کہ میں کسی چیونٹی پر صرف اس قدر ظلم کروں کہ اس کے منہ سے اس چھلکے کو چھین لوں جو وہ چبا رہی ہے تو ہرگز ایسا نہیں کرسکتا ہوں۔یہ تمہاری دنیا میری نظر میں اس پتی سے زیادہ بے قیمت ہے جو کسی ٹڈی کے منہ میں ہواور وہ اسے چبا رہی ہو۔

بھلا علی کو ان نعمتوں سے کیاواسطہ جو فنا ہو جانے والی ہیں اور اس لذت سے کیا تعلق جوب اقی رہنے والی ہیں ہے۔میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں عقل کے خواب غفلت میں پڑ جانے اورلغزشوں کی برائیوں سے اوراسی سے مدد کا طلب گار ہوں۔


( ۲۲۵ )

ومن دعاء لهعليه‌السلام

يلتجئ إلى اللَّه أن يغنيه

اللَّهُمَّ صُنْ وَجْهِي بِالْيَسَارِ ولَا تَبْذُلْ جَاهِيَ

بِالإِقْتَارِ - فَأَسْتَرْزِقَ طَالِبِي رِزْقِكَ وأَسْتَعْطِفَ شِرَارَ خَلْقِكَ - وأُبْتَلَى بِحَمْدِ مَنْ أَعْطَانِي وأُفْتَتَنَ بِذَمِّ مَنْ مَنَعَنِي - وأَنْتَ مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ كُلِّه وَلِيُّ الإِعْطَاءِ والْمَنْعِ -( إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ) .

(۲۲۶)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في التنفير من الدنيا

دَارٌ بِالْبَلَاءِ مَحْفُوفَةٌ وبِالْغَدْرِ مَعْرُوفَةٌ - لَا تَدُومُ أَحْوَالُهَا ولَا يَسْلَمُ نُزَّالُهَا

أَحْوَالٌ مُخْتَلِفَةٌ وتَارَاتٌ مُتَصَرِّفَةٌ

(۲۲۵)

آپ کی دعا کا ایک حصہ

(جس میں پروردگار سے ے نیازی کا مطالبہ کیا گیا ہے )

خدایا! میری آبرو(۱) کومالداری کے ذریعہ محفوظ فرما اورمیری منزلت کو غربت کی بنا پر نگاہوں سے نہ گرنے دینا کہ مجھے تجھ سے روزی مانگنے والوں سے مانگنا پڑے یا تیری بد ترین مخلوقات سے رحم کی درخواست کرنا پڑے اوراس کے بعد میں ہر عطا کرنے والے کی تعریف کروں اور ہرانکار کرنے والے کی مذمت میں مبتلا ہو جائوںجب کہان سب کے پس پردہ عطاء و انکار دونوں کا اختیار تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور تو ہی ہر شے پرقدرت رکھنے والا ہے۔

(۲۲۶)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں دنیا سے نفرت دلائی گئی ہے )

یہ ایک ایسا گھرہے جو بلائوں میں گھرا ہوا ہے اور اپنی غداری میں مشہور ہے۔نہ اس کے حالات کو دوام ہے اور نہ اس میں نازل ہونے والوں کے لئے سلامتی ہے۔

اس کے حالات مختلف اوراس کے اطوار بدلنے

(۱) یہ فقرات بعینہ اسی طرح امام زین العابدین کی مکارم اخلاق میں بھی پائے جاتے ہیں جواس بات کی علامت ہے کہ اہل بیت کاکردار اور ان کا بیان ہمیشہ ایک انداز کا ہوتا ہے اوراسمیں کسی طرح کا اختلاف و انتشار نہیں ہوتا ہے۔

۲۔ اس خطبہ میں دنیا کے حسب ذیل خصوصیات کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔۱۔یہ مکان بلائوں میں گھرا ہواہے۔۲۔اس کی غداری معروف ہے ۔۳۔اس کے حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں ۔۴۔اس کی زندگی کا انجام موت ہے۔۵۔اس کی زندگی قابل مذمت ہے ۔۶۔اس میں امن و امان نہیں ہے۔۷۔اس کے باشندے بلائوں اورمصیبتوں کا ہدف ہیں۔


الْعَيْشُ فِيهَا مَذْمُومٌ والأَمَانُ مِنْهَا مَعْدُومٌ - وإِنَّمَا أَهْلُهَا فِيهَا أَغْرَاضٌ مُسْتَهْدَفَةٌ - تَرْمِيهِمْ بِسِهَامِهَا وتُفْنِيهِمْ بِحِمَامِهَا

واعْلَمُوا عِبَادَ اللَّه أَنَّكُمْ ومَا أَنْتُمْ فِيه مِنْ هَذِه الدُّنْيَا - عَلَى سَبِيلِ مَنْ قَدْ مَضَى قَبْلَكُمْ - مِمَّنْ كَانَ أَطْوَلَ مِنْكُمْ أَعْمَاراً وأَعْمَرَ دِيَاراً وأَبْعَدَ آثَاراً - أَصْبَحَتْ أَصْوَاتُهُمْ هَامِدَةً ورِيَاحُهُمْ رَاكِدَةً - وأَجْسَادُهُمْ بَالِيَةً ودِيَارُهُمْ خَالِيَةً وآثَارُهُمْ عَافِيَةً - فَاسْتَبْدَلُوا بِالْقُصُورِ الْمَشَيَّدَةِ والنَّمَارِقِ الْمُمَهَّدَةِ - الصُّخُورَ والأَحْجَارَ الْمُسَنَّدَةَ والْقُبُورَ اللَّاطِئَةَ الْمُلْحَدَةَ - الَّتِي قَدْ بُنِيَ عَلَى الْخَرَابِ فِنَاؤُهَا - وشُيِّدَ بِالتُّرَابِ بِنَاؤُهَا فَمَحَلُّهَا مُقْتَرِبٌ وسَاكِنُهَا مُغْتَرِبٌ - بَيْنَ أَهْلِ مَحَلَّةٍ مُوحِشِينَ وأَهْلِ فَرَاغٍ مُتَشَاغِلِينَ - لَا يَسْتَأْنِسُونَ بِالأَوْطَانِ ولَا يَتَوَاصَلُونَ تَوَاصُلَ الْجِيرَانِ - عَلَى مَا بَيْنَهُمْ مِنْ قُرْبِ الْجِوَارِ ودُنُوِّ الدَّارِ - وكَيْفَ يَكُونُ بَيْنَهُمْ تَزَاوُرٌ وقَدْ طَحَنَهُمْ بِكَلْكَلِه الْبِلَى

والے ہیں۔اس میں پرکیف زندگی قابل مذمت ہے اور اس میں امن و امان کا دور دورہ پتہ نہیں ہے۔اس کے باشندے وہ نشانے ہیں جن پر دنیا اپنے تیر چلاتی رہتی ہے اور اپنی مدت کے سہارے انہیں فنا کے گھاٹ اتارتی رہتی ہے۔

بندگان خدا! یادرکھو اس دنیا میں تم اورجو کچھ تمہارے پاس ہے سب کا وہی راستہ ہے جس پرپہلے والے چل چکے ہیں جن کی عمریں تم سے زیادہ طویل اور جن کے علاقے تم سے زیادہ آباد تھے ۔ان کے آثار بھی دور دورتک پھیلے ہوئے تھے ۔لیکن اب ان کی آوازیں دب گئی ہیں ان کی ہوائیں اکھڑ گئی ہیں۔ان کے جسم بوسیدہ ہوگئے ہیں۔ان کے مکانات خالی ہوگئے ہیں اور ان کے آثارمٹ چکے ہیں ۔وہ مستحکم قلعوں اور بچھی ہوئی مسندوں کو پتھروں اورچنی ہوئی سلوں اور زمین کے اندرلحد والی قبروں میں تبدیل کر چکے ہیں جن کے صحتوں کی بنیاد تباہی پر قائم ہے اورجن کی عمارت مٹی سے مضبوط کی گئی ہے۔ان قبروں کی جگہیں تو قریب قریب ہیں لیکن ان کے رہنے والے سب ایک دوسرے سے غریب اور اجنبی ہیں۔ایسے لوگوں کے درمیان ہیں جو بوکھلائے ہوئے ہیں اور یہاں کے کاموں سے فارغ ہو کر وہاں کی فکر میں مشغول ہوگئے ہیں۔نہ اپنے وطن سے کوئی انس رکھتے ہیں اور نہ اپنے ہمسایوں سے کوئی ربط رکھتے ہیں۔حالانکہ بالکل قرب وجوار اورنزدیک ترین دیار میں ہیں۔اور ظاہر ہے کہ اب ملاقات کا کیا امکان ہے جب کہ بوسیدگی نے انہیں اپنے سینہ سے دباکر پیش ڈالا ہے اور پتھروں اورمٹی نے انہیں


وأَكَلَتْهُمُ الْجَنَادِلُ والثَّرَى !وكَأَنْ قَدْ صِرْتُمْ إِلَى مَا صَارُوا إِلَيْه - وارْتَهَنَكُمْ ذَلِكَ الْمَضْجَعُ وضَمَّكُمْ ذَلِكَ الْمُسْتَوْدَعُ - فَكَيْفَ بِكُمْ لَوْ تَنَاهَتْ بِكُمُ الأُمُورُ - وبُعْثِرَتِ الْقُبُورُ :( هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ - ورُدُّوا إِلَى الله مَوْلاهُمُ الْحَقِّ - وضَلَّ عَنْهُمْ ما كانُوا يَفْتَرُونَ ) .

(۲۲۷)

ومن دعاء لهعليه‌السلام

يلجأ فيه إلى اللَّه ليهديه إلى الرشاد

اللَّهُمَّ إِنَّكَ آنَسُ الآنِسِينَ لأَوْلِيَائِكَ - وأَحْضَرُهُمْ بِالْكِفَايَةِ لِلْمُتَوَكِّلِينَ عَلَيْكَ - تُشَاهِدُهُمْ فِي سَرَائِرِهِمْ وتَطَّلِعُ عَلَيْهِمْ فِي ضَمَائِرِهِمْ - وتَعْلَمُ مَبْلَغَ بَصَائِرِهِمْ - فَأَسْرَارُهُمْ لَكَ مَكْشُوفَةٌ وقُلُوبُهُمْ إِلَيْكَ مَلْهُوفَةٌ - إِنْ أَوْحَشَتْهُمُ الْغُرْبَةُ آنَسَهُمْ ذِكْرُكَ - وإِنْ صُبَّتْ عَلَيْهِمُ الْمَصَائِبُ لَجَئُوا إِلَى الِاسْتِجَارَةِ بِكَ - عِلْماً بِأَنَّ أَزِمَّةَ الأُمُورِ بِيَدِكَ - ومَصَادِرَهَا عَنْ قَضَائِكَ.

اللَّهُمَّ إِنْ فَهِهْتُ عَنْ مَسْأَلَتِي

کھا کر برابر کر دیا ہے اورگویا کہ اب تم بھی وہیں پہنچ گئے ہوجہاں وہ پہنچ چکے ہیں اور تمہیں بھی اسی قبر نے گرو رکھ لیا ہے اور اسی امانت گاہ نے جکڑ لیا ہے۔

سوچو اس وقت کیا ہوگا جب تمہارے تمام معاملات آخری حد کو پہنچ جائیں گے اور دوبارہ قبروں سے نکال لیا جائے گا اس وقت ہرنفس اپنے اعمال کا خود محاسبہ کرے گا اور سب کو مالک برحق کی طرف پلٹا دیاجائے گا اور کسی کی کوئی افتر پردازی کام آنے والی نہ ہوگی

(۲۲۷)

آپ کی دعا کا ایک حصہ

(جس میں نیک راستہ کی ہدایت کا مطالبہ کیاگیا ہے)

پروردگار تو اپنے دوستوں کے لئے تمام انس فراہم کرنے والوں سے زیادہ سبب انس اور تمام اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں کے لئے سب سے زیادہ حاجت روائی کے لئے حاضر ہے۔توان کے پوشیدہ امور پر نگاہ رکھتا ہے۔ان کے اسرار پر اطلاع رکھتا ہے اور ان کی بصیرتوں کی آخری حدوں کوبھی جانتا ہے۔ان کے اسرار تیرے لئے روشن اور ان کے قلوب تیری بارگاہ میں فریادی ہیں۔جب غربت انہیں متوحش کرتی ہے تو تیری یاد انس کا سامان فراہم کر دیتی ہے اور جب مصائب ان پر انڈیل دئیے جاتے ہیں تو وہ تیریر پناہ تلاش کرلیتے ہیں اس لئے کہ انہیں اس بات کا علم ہے کہ تمام معاملات کی زمام تیرے ہاتھ میں ہے اور تمام امور کا فیصلہ تیری ذات سے صادر ہوتا ہے۔

خدایا ! اگرمیں اپنے سوالات کو پیش کرنے


أَوْ عَمِيتُ عَنْ طِلْبَتِي - فَدُلَّنِي عَلَى مَصَالِحِي - وخُذْ بِقَلْبِي إِلَى مَرَاشِدِي - فَلَيْسَ ذَلِكَ بِنُكْرٍ مِنْ هِدَايَاتِكَ - ولَا بِبِدْعٍ مِنْ كِفَايَاتِكَ

اللَّهُمَّ احْمِلْنِي عَلَى عَفْوِكَ ولَا تَحْمِلْنِي عَلَى عَدْلِكَ.

(۲۲۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

يريد به بعض أصحابه

لِلَّه بَلَاءُ فُلَانٍ فَلَقَدْ قَوَّمَ الأَوَدَ ودَاوَى الْعَمَدَ - وأَقَامَ السُّنَّةَ وخَلَّفَ الْفِتْنَةَ - ذَهَبَ نَقِيَّ الثَّوْبِ قَلِيلَ الْعَيْبِ - أَصَابَ خَيْرَهَا وسَبَقَ شَرَّهَا - أَدَّى إِلَى اللَّه طَاعَتَه واتَّقَاه بِحَقِّه - رَحَلَ وتَرَكَهُمْ فِي طُرُقٍ مُتَشَعِّبَةٍ - لَا يَهْتَدِي بِهَا الضَّالُّ ولَا يَسْتَيْقِنُ الْمُهْتَدِي.

سے عاجز ہوں اور مجھے اپنے مطالبات کی راہ نظرنہیں آتی ہے تو تو میرے مصالح کی رہنمائی فرما اورمیرے دل کو ہدایت کی منزلوں تک پہنچا دے کہ یہ بات تیری ہدایتوں کے لئے کوئی انوکھی نہیں ہے اور تیریر حاجت روائیوں کے سلسلہ میں کوئی نرالی نہیں ہے۔

خدایا میرے معاملات کواپنے عفوو کرم پر محمول کرنا اورعدل و انصاف پر محمول نہ کرنا۔

(۲۲۸)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں اپنے بعض اصحاب کا تذکرہ فرمایاہے )

اللہ فلاں شخص(۱) کا بھلا کرے کہ اس نے کجی کو سیدھا کیا اور مرض کا علاج کیا۔سنت کوقائم کیا اور فتنوں کو چھوڑ کر چلا گیا۔دنیا سے اس عالم میںگیا کہ اس کا لباس حیات پاکیزہ تھا اور اس کے عیب بہت کم تھے ۔ اس نے دنیا کے خیر کو حاصل کرلیا اور اس کے شر سے آگے بڑھ گیا۔اللہ کی اطاعت کاحق ادا کردیا اوراس سے مکمل طور پر خوفزدہ رہا۔وہ دنیا سے اس عالم میں رخصت ہوا کہ لوگ متفرق راستوں پرتھے جہاں نہ گمراہ ہدایت پا سکتا تھا اورنہ ہدایت یافتہ منزل یقین تک جا سکتا تھا۔

(۱)ابن ابی الحدید نے ساتویں صدی ہجری میں یہ انکشاف کیا کہ ان فقرات میں فلاں سے مراد حضرت عمر ہیں اور پھر اس کی وضاحت میں ۸۷ صفحے سیاہ کر ڈالے حالانکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ سید رضی کے دور کے نسخوں میں اس کاکوئی تذکرہ ہے اور پھر اسلامی دنیا کے سر براہ کی تعریف کے لئے لفظ فلاں کے کوئی معنی نہیں ہیں خطبہ شقشقیہ میں لفظ فلاں کا امکان ہے لیکن مدح میں لفظ فلاں عجیب و غریب معلوم ہوتا ہے۔اس لفظ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کسی ایسے صحابی کا تذکرہ ہے جسے عام لوگ بردات نہیں کرس کتے ہیں اور امیرالمومنین اس کی تعریف ضروری تصور فرماتے ہیں۔


(۲۲۹)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في وصف بيعته بالخلافة

قال الشريف: وقد تقدم مثله بألفاظ مختلفة.

وبَسَطْتُمْ يَدِي فَكَفَفْتُهَا ومَدَدْتُمُوهَا فَقَبَضْتُهَا - ثُمَّ تَدَاكَكْتُمْ عَلَيَّ تَدَاكَّ الإِبِلِ الْهِيمِ - عَلَى حِيَاضِهَا يَوْمَ وِرْدِهَا - حَتَّى انْقَطَعَتِ النَّعْلُ - وسَقَطَ الرِّدَاءُ ووُطِئَ الضَّعِيفُ - وبَلَغَ مِنْ سُرُورِ النَّاسِ بِبَيْعَتِهِمْ إِيَّايَ - أَنِ ابْتَهَجَ بِهَا الصَّغِيرُ وهَدَجَ إِلَيْهَا الْكَبِيرُ - وتَحَامَلَ نَحْوَهَا الْعَلِيلُ وحَسَرَتْ إِلَيْهَا الْكِعَابُ

(۲۳۰)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في مقاصد أخرى

فَإِنَّ تَقْوَى اللَّه مِفْتَاحُ سَدَادٍ

(۲۲۹)

آپ کا ارشاد گرامی

(اپنی بعیت خلافت کے بارے میں )

تم نے بیعت کے لئے میری طرف ہاتھ پھیلانا چاہا تو میں نے روک لیا اور اسے کھینچنا چاہا تو میں نے سمیٹ لیا ۔لیکن اس کے بعد تم اس طرح مجھ پر ٹوٹ پڑے جس طرح پانی پینے کے دن پیا سے اونٹ تالاب پر گر پڑتے ہیں۔یہاں تک کہ میری جوتی کا تسمہ کٹ گیا اور عبا کاندھے سے گر گئی اور کمزور افراد کچل گئے۔تمہاری خوشی کا یہ عالم تھا کہ بچوں نے خوشیاں منائیں ۔بوڑھے لڑ کھڑاتے ہوئے قدموں سے آگے بڑھے ۔بیمار اٹھتے بیٹھتے۔پہنچ گئے اور میری بیعت کے لئے نوجوان لڑکیاں بھی پردہ(۱) سے باہر نکل آئیں۔

(۲۳۰)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

یقینا تقویٰ الٰہی ہدایت کی کلید اور آخرت کا

(۱) کس قدر فرق ہے اس بیعت میں جس کے لئے بوڑھے بچے عورتیں سب گھرسے نکل آئے اور کمال اشتیاق میں صاحب منصب کی بارگاہ کی طرف دوڑ پڑے اوراس بیعت میں جس کے لئے بنت رسول (ص) کے دروازہ میں آگ لگائی گئی ۔نفس رسول (ص) کو گلے میں رسی کا پھندہ ڈال کر گھرسے نکالا گیا اور صحابہ کرام کو زد و کوب کیا گیا۔

کیا ایسی بیعت کوبھی اسلامی بیعت کہاجا سکتا ہے اورایسے انداز کوبھی جواز خلافت کی دلیل بنایا جا سکتا ہے ؟ امیرالمومنین نے اپنی بیعت کاتذکرہ اسی لئے فرمایا ہے کہ صاحبان عقل و شعوراور ارباب عدل وانصاف بیعت کے معنی کا ادراک کرس کیں اور ظلم وجور۔جبر و استبدار کو بیعت کا نام نہدے سکیں اور نہ اسے جوازحکومت کی دلیل بناسکیں۔


وذَخِيرَةُ مَعَادٍ وعِتْقٌ مِنْ كُلِّ مَلَكَةٍ - ونَجَاةٌ مِنْ كُلِّ هَلَكَةٍ بِهَا يَنْجَحُ الطَّالِبُ - ويَنْجُو الْهَارِبُ وتُنَالُ الرَّغَائِبُ.

فضل العمل

فَاعْمَلُوا والْعَمَلُ يُرْفَعُ - والتَّوْبَةُ تَنْفَعُ والدُّعَاءُ يُسْمَعُ - والْحَالُ هَادِئَةٌ والأَقْلَامُ جَارِيَةٌ - وبَادِرُوا بِالأَعْمَالِ عُمُراً نَاكِساً - أَوْ مَرَضاً حَابِساً أَوْ مَوْتاً خَالِساً - فَإِنَّ الْمَوْتَ هَادِمُ لَذَّاتِكُمْ - ومُكَدِّرُ شَهَوَاتِكُمْ ومُبَاعِدُ طِيَّاتِكُمْ - زَائِرٌ غَيْرُ مَحْبُوبٍ وقِرْنٌ غَيْرُ مَغْلُوبٍ - ووَاتِرٌ غَيْرُ مَطْلُوبٍ - قَدْ أَعْلَقَتْكُمْ حَبَائِلُه - وتَكَنَّفَتْكُمْ غَوَائِلُه وأَقْصَدَتْكُمْ مَعَابِلُه - وعَظُمَتْ فِيكُمْ سَطْوَتُه وتَتَابَعَتْ عَلَيْكُمْ عَدْوَتُه ،وقَلَّتْ عَنْكُمْ نَبْوَتُه - فَيُوشِكُ أَنْ تَغْشَاكُمْ دَوَاجِي ظُلَلِه - واحْتِدَامُ عِلَلِه وحَنَادِسُ غَمَرَاتِه - وغَوَاشِي سَكَرَاتِه وأَلِيمُ إِرْهَاقِه - ودُجُوُّ أَطْبَاقِه وجُشُوبَةُ مَذَاقِه - فَكَأَنْ قَدْ أَتَاكُمْ بَغْتَةً

ذخیرہ ہے۔ہر گرفتاری سے آزادی اور ہر تباہی سے نجات کا ذریعہ ہے۔اس کے وسیلہ سے طلب گار کامیاب ہوتے ہیں۔عذاب سے فرار کرنے والے نجات پاتے ہیں اوربہترین مطالب حاصل ہوتے ہیں۔

لہٰذا عمل کرو کہابھی اعمال بلند ہو رہے ہیں اور توبہ فائدہ مند ہے اور دعا سنی جا رہی ہے۔حالات پر سکون ہیں قلم اعمال چل رہا ہے۔اپنے اعمال کے ذریعہ آگے بڑھ جائو جو الٹے پائوں چل رہی ہے اور اس مرض سے جواعمال سے روکدیتا ہے اوراس موت سے جواچانک جھپٹ لیتی ہے۔اس لئے کہ موت تمہاری لذتوں کو فناکردینے والی تمہاری خواہشات کو بدمزہ کردینے والی اور تمہاری منلوں کودورکردینے والی ہے۔وہ ایسی زائر ہے جسے کوئی پسند نہیں کرتاہے اور ایی مقابل ہے جومغلوب نہیں ہوتی ہے اور ایسی قاتل ہے جس سے خوں بہا کا مطالبہ نہیں ہوتا ہے۔اس نے اپنے پھندے تمہاے گلوں میں ڈال رکھے ہیں اوراس کی ہلاکتوں نے تمہیں گھیرے میں لے لیا ہے اور اس کے تیروں نے تمہیں نشانہ بنا لیا ہے۔اس کی سطوت تمہارے بارے میں عظیم ہے اور اس کی تعدیاں مسلسل ہیں اور اس کا وار اچٹتا بھی نہیں ہے۔قریب ہے کہاس کے بادلوں کی تیرگیاں ۔اس کے مرض کی سختیاں۔اس کی جاں کنی کی اذیتیں۔اس کی دم اکھڑنے کی بے ہوشیاں ۔اس کے ہر طرف سے چھا جانے کی تاریکیا ں اور بد مزگیاں۔اس کی سختیوں کے اندھیرے تمہیں اپنے گھیرے میں لے لیں۔گویا وہ اچانک اس


فَأَسْكَتَ نَجِيَّكُمْ - وفَرَّقَ نَدِيَّكُمْ وعَفَّى آثَارَكُمْ - وعَطَّلَ دِيَارَكُمْ وبَعَثَ وُرَّاثَكُمْ - يَقْتَسِمُونَ تُرَاثَكُمْ بَيْنَ حَمِيمٍ خَاصٍّ لَمْ يَنْفَعْ - وقَرِيبٍ مَحْزُونٍ لَمْ يَمْنَعْ - وآخَرَ شَامِتٍ لَمْ يَجْزَعْ.

فضل الجد

فَعَلَيْكُمْ بِالْجَدِّ والِاجْتِهَادِ والتَّأَهُّبِ والِاسْتِعْدَادِ - والتَّزَوُّدِ فِي مَنْزِلِ الزَّادِ - ولَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا - كَمَا غَرَّتْ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنَ الأُمَمِ الْمَاضِيَةِ - والْقُرُونِ الْخَالِيَةِ الَّذِينَ احْتَلَبُوا دِرَّتَهَا - وأَصَابُوا غِرَّتَهَا وأَفْنَوْا عِدَّتَهَا - وأَخْلَقُوا جِدَّتَهَا وأَصْبَحَتْ مَسَاكِنُهُمْ أَجْدَاثاً - وأَمْوَالُهُمْ مِيرَاثاً لَا يَعْرِفُونَ مَنْ أَتَاهُمْ - ولَا يَحْفِلُونَ مَنْ بَكَاهُمْ ولَا يُجِيبُونَ مَنْ دَعَاهُمْ - فَاحْذَرُوا الدُّنْيَا فَإِنَّهَا غَدَّارَةٌ غَرَّارَةٌ خَدُوعٌ - مُعْطِيَةٌ مَنُوعٌ مُلْبِسَةٌ نَزُوعٌ

طرح وارد ہوگئی کہ تمہارے راز داروں کو خاموش کردیا، ساتھیوں کو منتشر کردیا، آثار کومحو کردیا، دیار کو معطل کردیا اور وارثوں کو آمادہ کردیا۔اب وہ تمہاری میراث کو تقسیم کر رہے ہیں ان خاص عزیزوں کے درمیان جو کام(۱) نہیں آئے اور ان رنجیدہ رشتہ داروں کے درمیان جنہوں نے موت کو روکا نہیں اوران خوش ہونے والوں کے درمیان جو ہرگز رنجیدہ نہیں ہے۔

اب تمہارا فرض ہے کہ سعی کرو۔کوشش کرو ۔تیاری کرو۔آمادہ ہو جائو، اس زاد راہکی جگہ سے زاد سفر لے لو اور خبردار یہ دنیا تمہیں اس طرح دھوکہ نہ دے سکے جیسے پہلے والوں کو دیا ہے جوامتیں گزر گئیں اورجونسلیں تباہ ہوگئیں ۔جنہوں نے اس دنیا کا دودھ دوہا تھا۔اس کی غفلت سے فائدہ اٹھایا تھا۔اس کے باقی پسماندہ دنوں کو گزارا تھا اوراس کی تازگیوں کو پڑمردہ بنادیا تھا اب ان کے مکانات قبر بن گئے ہیں اور ان کے اموال میراث قرارپا گئے ہیں۔نہ انہیں اپنے پاس آنے والوں کی خبر ہے اور نہ رونے والوں کی پرواہ ہے اور نہ پکارنے والوں کی آواز پر لبیک کہتے ہیں۔

اس دنیا سے بچو کہ یہ بڑی دھوکہ باز۔فریب کار۔غدار۔دینے والی اورچھیننے والی اورلباس پہنا کراتار لینے والی(۱) ہے

(۱) یہ موت کا عجیب و غریب کاروبار ہے کہ مالک کودنیا سے اٹھالے جاتی ہے اور اس کامال ایسے افراد کے حوالے کر دیتی ہے جو نہ زندگی میں کام آئے اور نہ موت کے مرحلہ ہی میں ساتھ دے سکے۔کیا اس سے زیادہ عبرت کا کوئی مقام ہو سکتا ہے کہ انسان ایسی موت سے غافل رہے اور چند روز ہ زندگی کی لذتوں میں مبتلا ہو کرموت کے جملہ خطرات سے بے خبر ہو جائے ۔


لَا يَدُومُ رَخَاؤُهَا - ولَا يَنْقَضِي عَنَاؤُهَا ولَا يَرْكُدُ بَلَاؤُهَا.

ومنها في صفة الزهاد - كَانُوا قَوْماً مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ولَيْسُوا مِنْ أَهْلِهَا – فَكَانُوا فِيهَا كَمَنْ لَيْسَ مِنْهَا - عَمِلُوا فِيهَا بِمَا يُبْصِرُونَ - وبَادَرُوا فِيهَا مَا يَحْذَرُونَ - تَقَلَّبُ أَبْدَانِهِمْ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَهْلِ الآخِرَةِ - ويَرَوْنَ أَهْلَ الدُّنْيَا يُعَظِّمُونَ مَوْتَ أَجْسَادِهِمْ - وهُمْ أَشَدُّ إِعْظَاماً لِمَوْتِ قُلُوبِ أَحْيَائِهِمْ.

(۲۳۱)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

خطبها بذي قار - وهو متوجه إلى البصرة ذكرها الواقدي في كتاب «الجمل»:

فَصَدَعَ بِمَا أُمِرَ بِه وبَلَّغَ رِسَالَاتِ رَبِّه - فَلَمَّ اللَّه بِه الصَّدْعَ ورَتَقَ بِه الْفَتْقَ - وأَلَّفَ بِه الشَّمْلَ بَيْنَ ذَوِي الأَرْحَامِ - بَعْدَ الْعَدَاوَةِ الْوَاغِرَةِ فِي الصُّدُورِ - والضَّغَائِنِ الْقَادِحَةِ فِي الْقُلُوبِ.

نہ اس کی آسائشیں رہنے والی ہیں اورنہ اس کی تکلیفیں ختم ہونے والی ہیں اور نہ اس کی بلائیں تھمنے والی ہیں۔

(کچھ زاہدوں کے برے میں )یہ انہیں دنیا والوں میں تھے لیکن اہل دنیا نہیں تھے ۔ایسے تھے جیسے اس دنیا کے نہ ہوں۔دیکھ بھال کرعمل کیا اور خطرات سے آگے نکل گئے۔گویا ان کے بدن اہل آخرت کے درمیان کروٹیں بدل رہے ہیں اور وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ اہل دنیا ان کی موت کوبڑی اہمیت دے رہے ہیں حالانکہ وہخود ان زندوں کے دلوں کی موت کو زیادہ بڑا حادثہ قرار دے رہے ہیں۔

(۲۳۱)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جسے بصرہ جاتے ہوئے مقام ذی قار میں ارشاد فرمایا اوراسے واقدی نے کتاب الجمل میں نقل کیا ہے )

رسول اکرم (ص) نے اوامر الہیہ کو واضح انداز سے پیش کردیا اوراس کے پیغامات کو پہنچادیا۔اللہ نے آپ کے ذریعہ انتشار کو مجتمع کیا ۔شگاف کو بھر دیا اور قرابتداروں کے افتراق کو انس میں تبدیل کردیا حالانکہ ان کے درمیان سخت قسم کی عداوت اوردلوں میں بھڑک اٹھنے والے کینے موجود تھے ۔

(۱) دنیاکی اس سے بہتر کوئی تعریف نہیں ہو سکتی ہے کہ یہ ایک دن بہترین لباس سے انسان کو آراستہ کرتی ہے اور دوسرے دن اسے اتار کر سر راہ برہنہ کردیتی ہے۔یہی حال ظاہری لباس کابھی ہوتا ہے اور یہی حال معنوی لباس کابھی ہوتا ہے۔حسن دے کربد شکل بنا دیتی ہے جوانی دے کر بوڑھا کردیتی ہے۔زندگی دے کرمردہبنا دیتی ہے۔تخت و تاج دے کرکنج قبر کے حوالہ کردیتی ہے اور صاحب دربارو بارگاہ بنا کر قبرستان کے وحشت کدہ میں چھوڑ آتی ہے ۔


(۲۳۲)

ومن كلام لهعليه‌السلام

كلم به عبد الله بن زمعة وهو من شيعته، وذلك أنه قدم عليه في خلافته يطلب منه مالا فقالعليه‌السلام :

إِنَّ هَذَا الْمَالَ لَيْسَ لِي ولَا لَكَ - وإِنَّمَا هُوَ فَيْءٌ لِلْمُسْلِمِينَ وجَلْبُ أَسْيَافِهِمْ - فَإِنْ شَرِكْتَهُمْ فِي حَرْبِهِمْ كَانَ لَكَ مِثْلُ حَظِّهِمْ - وإِلَّا فَجَنَاةُ أَيْدِيهِمْ لَا تَكُونُ لِغَيْرِ أَفْوَاهِهِمْ.

(۲۳۳)

ومن كلام لهعليه‌السلام

بعد أن أقدم أحدهم عل الكلام فحصر، وهو في فضل أهل البيت، ووصف فساد الزمان

أَلَا وإِنَّ اللِّسَانَ بَضْعَةٌ مِنَ الإِنْسَانِ - فَلَا يُسْعِدُه الْقَوْلُ إِذَا امْتَنَعَ - ولَا يُمْهِلُه النُّطْقُ إِذَا اتَّسَعَ - وإِنَّا لأُمَرَاءُ الْكَلَامِ

(۲۳۲)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس کا مخاطب عبداللہ بن زکعہ کو قرادیا تھا جو کہ آپ کے اصحاب میں شمار ہوتا تھا اور اس نے آپ سے مال کا مطالبہ کرلیا تھا)

یہ مال نہ میرا ہے اور نہ تیرا۔یہ مسلمانوں کا مشترکہ حق ہے اوران کی تلواروں کا نتیجہ ہے لہٰذا اگرت ونے ان کے ساتھ جہاد میں حصہ لیا ہے تو انہیں کی طرح تیرا بھی حصہ ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو ایک شخص کے ہاتھ کی کمائی دوسرے کے منہ کا نوالہ(۱) نہیںبن سکتی ہے۔

(۲۳۳)

آپ کا ارشاد گرامی

فضائل اہلبیت ع اورزمانے کے فسادات کے بارے میں

یاد رکھو کہ زبان انسانی وجود کا ایک ٹکڑا ہے لہٰذا جب انسان رکجاتا ہے تو زبان ساتھ نہیں دے سکتی ہے اور جب انسان کے ذہن میں کشادگی ہوتی ہے تو زبان کو رکنے کی مہلت نہیں ہوتی ہے۔ہم اہل بیت(۲) جو اقلیم سخن

(۱)اس سے بہتر موعظہ و نصیحت عالم عمل و اکتساب میں ممکن نہیں ہے کہ انسان ہمیشہ اس امر کا احساس رکھے کہ اگر کی مال سے استفادہ کرنے کا شوق ہے تو اس کی راہمیں عمل اورمحنت بھی ضروری ہے۔ورنہ ایک انسان کے نتیجہ عمل کو دوسرے کے حوالہ نہیں کیا جا سکتاہے اورنہدین خدا اس طرح کی مفت خوری اورحرام خوری کو برداشت کرسکتا ہے۔

(۲)کہا جاتا ہے کہ حضرت نے اپنے بھانجے جعدہ بن ہبیرہ مخزومی کو خطبہ پڑھنے کاحکم دیا تو ان کی زبان میں لکنت پیدا ہوگئی اور آپ نے زبان و بیان کے فضائل کے ساتھ اس حقیقت کا اعلان کیاکہ اہل بیت اقلیم سخن کے حکام ہیں لہٰذا جعدہ کو عاجز اور گونگا تصورنہیں کرنا چاہیے۔یہ ماحول کا اثرتھا کہ وہخطبہ نہ پیش کرس کے ۔اور زبان میں لکنت پیدا ہوگئی۔بلکہ ایسی صورت حال اکثر اوقات انسان کے کمال معرفت کی دلیل بن جاتی ہے کہ وہ بزرگوں کی بزرگی کا ادراک رکھتا ہے اور ان کے سامنے روانی کے ساتھ تقریر نہیں کرسکتا ہے۔


وفِينَا تَنَشَّبَتْ عُرُوقُه - وعَلَيْنَا تَهَدَّلَتْ غُصُونُه.

فساد الزمان

واعْلَمُوا رَحِمَكُمُ اللَّه أَنَّكُمْ فِي زَمَانٍ - الْقَائِلُ فِيه بِالْحَقِّ قَلِيلٌ - واللِّسَانُ عَنِ الصِّدْقِ كَلِيلٌ - واللَّازِمُ لِلْحَقِّ ذَلِيلٌ - أَهْلُه مُعْتَكِفُونَ عَلَى الْعِصْيَانِ - مُصْطَلِحُونَ عَلَى الإِدْهَانِ فَتَاهُمْ عَارِمٌ - وشَائِبُهُمْ آثِمٌ وعَالِمُهُمْ مُنَافِقٌ - وقَارِنُهُمْ مُمَاذِقٌ لَا يُعَظِّمُ صَغِيرُهُمْ كَبِيرَهُمْ - ولَا يَعُولُ غَنِيُّهُمْ فَقِيرَهُمْ.

(۲۳۴ )

ومن كلام لهعليه‌السلام

رَوَى ذِعْلَبٌ الْيَمَامِيُّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ قُتَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّه بْنِ يَزِيدَ عَنْ مَالِكِ بْنِ دِحْيَةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَمِيرِ الْمُؤْمنِيِنَعليه‌السلام - وقَدْ ذُكِرَ عِنْدَه اخْتِلَافُ النَّاسِ فَقَالَ:

إِنَّمَا فَرَّقَ بَيْنَهُمْ مَبَادِئُ طِينِهِمْ

کے حکام ہیں۔ہمارے ہی اندر بیان کی جڑیں پیوست ہیں اور ہمارے ہی سر پر خطابت کی شاخیں سایہ فگن ہیں۔

(خدا تم پر رحم کرے ) یہ یاد رکھو کہتم اس زمانہ میں زندگی گذاررہے ہو جس میں حق کہنے والوں کی قلت ہے اور زبانیں صدق بیانی سے کند ہوگئی ہیں۔حق سے وابستہ رہنے والا ذلیل شمار ہوتا ہے اور اہل زمانہ گناہ و ناف رمانی پر جمے ہوئے ہیں اور ظاہر داری پرمتحد ہوگئے ہیں۔جو ان بد خوہیں اور بوڑھے گناہ گار۔عالم منافق ہیں اور قاری چاپلوس۔نہ چھوٹے بڑوں کی تعظیمکرتے ہیں اور نہ دولت مند فقیروں کی دستگیری کرتے ہیں۔

(۲۳۴)

آپ کا ارشاد گرامی

( غلب یمانی احمد بن قتیبہ سے۔انہوں نے عبداللہ بن یزید سے اور انہوں نے مالک بن وحیہ کلبی سے نقل کیا ہے کہ امیر المومنین کے سامنے لوگوں کے اختلاف ا مزاج کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا)

لوگوں کے درمیان یہ تفرقہ ان کی(۱) طینت

(۱)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسان کی شکل و صورت اور اس کی طبیعت و فطرت میں ایک طرح کا رابطہ ضرورپایا جاتا ہے جیسا کہ دورحاضر کے بعض محققین نے ثابت جکیا ہے لیکن اس کا یہمطلب ہرگز نہیں ہے کہ ساری زندگی کے اعمال و کردار کا فیصلہ ابھی اسی طینت اورخاک سے ہو جاتا ہے۔انسانی زندگی پر تعلیم وتربیت کا بہر حال اثر ہوتا ہے اور اسی کے اعتبار سے کرداروں میں اختلاف بھی پیدا ہوجاتا ہے۔لیکن بنیادی سبب طینت کا اختلاف ہی ہے اور یہ ایک فطری شے ہے کہ جو چیز جس سے بنائی جائے گی اس مادہ کا اثر اس کے مزاج پر ضرور ہوگا۔

تجربات کی بنا پر بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ ریگ زاروں کی مٹی کے بنے ہوئے انسانوں کی طبیعت میں کسی طرح کی چیک نہیں ہوتی ہے اور کھارے پانی سے گندھی ہوئی مٹی کی مخلوقات میں حلاوت اور شیرینی نہیں ہوتی ہے۔یہ اوربات ہے کہ یہ طے کرنا سخت دشوار ہے کہ کون کس مٹی سے بنا ہے اور کس کی مٹی کس پانی سے گوندھی گئی ہے۔حالات کسی مقدار میں نشاندہی کر سکتے ہیں لیکن اسے دلیل مستقل نہیں بنایا جا سکتا ہے ۔


وذَلِكَ أَنَّهُمْ كَانُوا فِلْقَةً مِنْ سَبَخِ أَرْضٍ وعَذْبِهَا - وحَزْنِ تُرْبَةٍ وسَهْلِهَا - فَهُمْ عَلَى حَسَبِ قُرْبِ أَرْضِهِمْ يَتَقَارَبُونَ - وعَلَى قَدْرِ اخْتِلَافِهَا يَتَفَاوَتُونَ - فَتَامُّ الرُّوَاءِ نَاقِصُ الْعَقْلِ - ومَادُّ الْقَامَةِ قَصِيرُ الْهِمَّةِ - وزَاكِي الْعَمَلِ قَبِيحُ الْمَنْظَرِ - وقَرِيبُ الْقَعْرِ بَعِيدُ السَّبْرِ - ومَعْرُوفُ الضَّرِيبَةِ مُنْكَرُ الْجَلِيبَةِ - وتَائِه الْقَلْبِ مُتَفَرِّقُ اللُّبِّ - وطَلِيقُ اللِّسَانِ حَدِيدُ الْجَنَانِ.

(۲۳۵)

ومِنْ كَلَامٍ لَهعليه‌السلام

قَالَه وهُوَ يَلِي غُسْلَ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وتَجْهِيزَه

بِأَبِي أَنْتَ وأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّه - لَقَدِ انْقَطَعَ بِمَوْتِكَ مَا لَمْ يَنْقَطِعْ بِمَوْتِ غَيْرِكَ - مِنَ النُّبُوَّةِ والإِنْبَاءِ وأَخْبَارِ السَّمَاءِ - خَصَّصْتَ حَتَّى صِرْتَ مُسَلِّياً عَمَّنْ سِوَاكَ - وعَمَّمْتَ حَتَّى صَارَ النَّاسُ فِيكَ سَوَاءً - ولَوْ لَا أَنَّكَ أَمَرْتَ بِالصَّبْرِ ونَهَيْتَ عَنِ الْجَزَعِ - لأَنْفَدْنَا عَلَيْكَ مَاءَ الشُّئُونِ - ولَكَانَ الدَّاءُ مُمَاطِلًا والْكَمَدُ مُحَالِفاً - وقَلَّا لَكَ

کی بنیادوںسے پیدا ہوا ہے کہ وہ شورو شیریں اور ہموارو نا ہموار زمین کاایک حصہ ہیں۔لہٰذا جس قدر ان کیزمین میں قربت ہوگی ان میں اتفاق ہوگا اور جس قدر طینت میں اختلاف پیدا ہوگا۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ صورت کا حسین و جمیل عقل کا ناقص اور قدو قامت کا طویل ہمت کا قصیر ہوتا ہے۔عمل کا پاکیزہ ' منظر کا قبیح ہوتا ہے اور قد کا کوتاہ فکر کا دور اندیش ہوتا ہے۔فطری اعتبار سے نیک اعمال کے اعتبارسے بد اوردل کے اعتبارسے پریشان' دماغ کے اعتبارس ے پراگندہ اور اس طرح زبان کے اعتبارسے بہترین بولنے والا' ہوش مند دل رکھنے والا ہوتا ہے۔

(۲۳۵)

آپ کا ارشاد گرامی

(جسے رسول اکرم (ص) کے جنازہ کو غسل و کفن دیتے وقت ارشاد فرمایا تھا )

یارسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ۔ آپ کے انتقال سے وہ نبوت الٰہی احکام اورآسمانی اخبارکا سلسلہ منقطع ہوگیا جو آپ کے علاوہ کسی کے مرنے سے منقطع نہیں ہوا تھا۔آپ کا غم اہل بیت کے ساتھیوں خاص ہوا کہ ان کے لئے ہر غم میں باعث تسلی بن گیا اور ساری امت کے لئے عام ہوا کہ سب برابر کے شریک ہوگئے۔ اگر آپ نے صبر کاحکم نہ دیا ہوتا اورنالہ وفریاد سے منع نہکیا ہوتا تو ہم آپ کے غم میں آنسوئوں کا ذخیرہ ختم کردیتے اور یہ درد کسی درمان کو قبول نہ کرتا اور یہ رنج و الم ہمیشہ


ولَكِنَّه مَا لَا يُمْلَكُ رَدُّه - ولَا يُسْتَطَاعُ دَفْعُه - بِأَبِي أَنْتَ وأُمِّي اذْكُرْنَا عِنْدَ رَبِّكَ واجْعَلْنَا مِنْ بَالِكَ!

(۲۳۶)

ومن كلام لهعليه‌السلام

اقتص فيه ذكر ما كان منه - بعد هجرة النبيصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ثم لحاقه به:

فَجَعَلْتُ أَتْبَعُ مَأْخَذَ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - فَأَطَأُ ذِكْرَه حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى الْعَرَجِ

قال السيد الشريفرضي‌الله‌عنه - في كلام طويل: قولهعليه‌السلام فأطأ ذكره - من الكلام الذي رمى به إلى غايتي الإيجاز والفصاحة - أراد أني كنت أعطى خبرهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - من بدء خروجي إلى أن انتهيت إلى هذا الموضع - فكنى عن ذلك بهذه الكناية العجيبة.

(۲۳۷)

ومن خطبة لهعليه‌السلام

في المسارعة إلى العمل

فَاعْمَلُوا وأَنْتُمْ فِي نَفَسِ الْبَقَاءِ - والصُّحُفُ مَنْشُورَةٌ والتَّوْبَةُ مَبْسُوطَةٌ - والْمُدْبِرُ يُدْعَى

ساتھ رہ جاتا۔لیکن موت ایک ایسی چیز ہے جس کا پلٹا دینا کسی کے اختیار میں نہیں ہے اور جس کا ٹال دینا کسی کے بس میں نہیں ہے۔

(۲۳۶)

آپ کا ارشاد گرامی

( جس میں رسول اکرم (ص)کی ہجرت کے بعدآپ سے ملحق ہنے تک کے حالات کا ذکر کیا گیا ہے )

میں مسلسل رسول اکرم (ص) کے نقش قدم پر چلتا رہا اوران کیذکر کے خطوط پر قدم جماتا رہا۔یہاں تک کہ مقام عرج تک پہنچ گیا۔

سید رضی : آپ کا ارشاد گرامی ''فاطاذکرہ'' وہ کلام ہے جس میں ایجاز و فصاحت کی آخری حدوں کو پیش کردیا گیا ہے اورجن کا مقصد یہ ہے کہ میرے پاس مسلسل سرکاری کی خبریں پہنچ رہی تھیں اور میں انہیں خطوط پر آگئے بڑھ رہاتھا۔یہاں تک کہ مقام عرج پر پہنچ گیا۔

(۲۳۷)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(عمل میں تیز رفتاری کی دعوت دیتے ہوئے )

تم لوگ ابھی عمل کرو جبکہ بقا کی وسعت حاصل ہے اور نامۂ اعمال کھلے ہوئے ہیں۔توبہ کا دامن پھیلا ہوا ہے اور انحراف کرنے والوں کو برابر دعوت دی


والْمُسِيءُ يُرْجَى - قَبْلَ أَنْ يَخْمُدَ الْعَمَلُ ويَنْقَطِعَ الْمَهَلُ - ويَنْقَضِيَ الأَجَلُ ويُسَدَّ بَابُ التَّوْبَةِ - وتَصْعَدَ الْمَلَائِكَةُ

فَأَخَذَ امْرُؤٌ مِنْ نَفْسِه لِنَفْسِه وأَخَذَ مِنْ حَيٍّ لِمَيِّتٍ - ومِنْ فَانٍ لِبَاقٍ ومِنْ ذَاهِبٍ لِدَائِمٍ - امْرُؤٌ خَافَ اللَّه - وهُوَ مُعَمَّرٌ إِلَى أَجَلِه ومَنْظُورٌ إِلَى عَمَلِه - امْرُؤٌ أَلْجَمَ نَفْسَه بِلِجَامِهَا وزَمَّهَا بِزِمَامِهَا - فَأَمْسَكَهَا بِلِجَامِهَا عَنْ مَعَاصِي اللَّه - وقَادَهَا بِزِمَامِهَا إِلَى طَاعَةِ اللَّه.

(۲۳۸)

ومن كلام لهعليه‌السلام

في شأن الحكمين وذم أهل الشام

جُفَاةٌ طَغَامٌ وعَبِيدٌ أَقْزَامٌ - جُمِعُوا مِنْ كُلِّ أَوْبٍ وتُلُقِّطُوا مِنْ كُلِّ شَوْبٍ - مِمَّنْ يَنْبَغِي أَنْ يُفَقَّه ويُؤَدَّبَ - ويُعَلَّمَ ويُدَرَّبَ ويُوَلَّى عَلَيْه - ويُؤْخَذَ عَلَى يَدَيْه

جا رہی ہے اوربدعمل افراد کو مہلت دی جا رہی ہے۔قبل اس کے کہ شعلہ عمل بجھ جائے اور مہلت کی مدت ختم ہو جائے اور مدتعمل تمام ہو جائے ۔توبہ کا دروازہ بند ہوجائے اورملائکہ آسمان کی طرف صعود کرجائیں ۔

ہرش خص کو چاہیے کہ اپنے نفس سے اپنے نفس کا انتظام کرے۔زندہ سے مردہ کے لئے اور فانی سے باقی کے لئے اور جانے والے سے رہ جانے والے کے لئے لے لے۔

جب تک موت تک کی زندگی مل رہی ہے اورعمل کی مہلت ملی ہوئی ہے خدا کاخوف پیدا کرے۔

اپنے نفس کو لگام لگائے اوراسے زمام دے کہ معاصی خدا سے روک دے اور کھینچ کر اطاعت الٰہی تک لے آئے ۔

(۲۳۸)

آپ کا ارشاد گرامی

(حکمین کے حالات اوراہل شام کی مذمت کے بارے میں )

یہ چند تند خو اوربد سر شت افراد ہیں اور غلامانہ ذہنیت کے بد قماش ہیں جنہیں ہرطرف سے جمع کرلیا گیا ہے اور ہرمخلوط نسب سے چن لیا گیا ہے۔یہ لوگ اس قابل تھے کہانہیں مذہب سکھایا جائے ' مودب بنایا جائے ۔ تعلیم دی جائے اورتربیت یافتہ بنایاجائے ان پر لوگوں کو حاکم بنایا جائے اوران کا ہاتھ پکڑ کرچلایا جائے۔یہ نہ


- لَيْسُوا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ والأَنْصَارِ - ولَا مِنَ( الَّذِينَ تَبَوَّؤُا الدَّارَ والإِيمانَ ) .

أَلَا وإِنَّ الْقَوْمَ اخْتَارُوا لأَنْفُسِهِمْ - أَقْرَبَ الْقَوْمِ مِمَّا تُحِبُّونَ - وإِنَّكُمُ اخْتَرْتُمْ لأَنْفُسِكُمْ - أَقْرَبَ الْقَوْمِ مِمَّا تَكْرَهُونَ - وإِنَّمَا عَهْدُكُمْ بِعَبْدِ اللَّه بْنِ قَيْسٍ بِالأَمْسِ يَقُولُ - إِنَّهَا فِتْنَةٌ فَقَطِّعُوا أَوْتَارَكُمْ وشِيمُوا سُيُوفَكُمْ - فَإِنْ كَانَ صَادِقاً فَقَدْ أَخْطَأَ بِمَسِيرِه غَيْرَ مُسْتَكْرَه - وإِنْ كَانَ كَاذِباً فَقَدْ لَزِمَتْه التُّهَمَةُ - فَادْفَعُوا فِي صَدْرِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - بِعَبْدِ اللَّه بْنِ الْعَبَّاسِ - وخُذُوا مَهَلَ الأَيَّامِ وحُوطُوا قَوَاصِيَ الإِسْلَامِ -

مہاجرین(۱) میںتھے نہ انصار میں اور نہ ان لوگوں میں جنہوں نے مدینہ میں یا ایمان میں اپنی جگہ بنائی تھی۔

یاد رکھو کہ قوم نے اپنے لئے ان لوگوں کو منتخب کیا ہے جو ان کی پسند سے قریب تھے اورتم نے اپنے لئے ان افراد کا انتخاب کیا ہے جو تمہاری نا پسندیدگی سے قریب تھے ۔ابھی تمہارا اور عبداللہ بن قیس کا زمانہ کل ہی کا ہے جب وہ یہ کہہ رہا تھاکہ ''یہ جنگ ایک فتنہ(۲) ہے لہٰذا اپنی کمانوں کو توڑ ڈالو اور تلواروں کو نیام میں رکھ لو۔اب اگریہ اپنی بات میں سچا تھا تو میرے ساتھ بلا جبر و اکراہ چلنے میں غلط کار تھا اور غلط کہتا تھا تو اس پر الزام ثابت ہوگیا تھا۔اب تمہارے پاس عمروبن العاص کا توڑ عبداللہ بن عباس ہیں۔دیکھو ان دنوں کی مہلت کو غنیمت جانو اور اسلامی سرحدوں کی حفاظت کرو۔کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو

(۱)معاویہ کے لشکر اور امیرالمومنین کے سپاہیوں کا ایک نمایاں بنیادی فرق یہ تھا کہ معاویہ کے لشکر میں تمام کے تمام افراد بد سرشت ۔بد نسل ۔بد کردار اوربے ایمان تھے ۔نہ ایک مہاجر نہ ایک ناصر۔اورنہ ایک معروف ایمان و کردار والا۔ اوراس کے برخلاف امیرالمومنین کے سپاہیوں میں ۲۸۰۰ مہاجرین اور انصارتھے ۔اور ان میں سے ۸۰ تو وہافراد تھے جو جنگ بدر میں شرکت کرچکے تھے اور جن کے ایمان کی شہادت دی جا چکی تھی اوران سب سے بالا ترعمار یا سر جیسا صحابی موجود تھا جس کے قاتل کوسرکار(ص) نے باغی قراردیات ھا اور اویس قرنی جیسا جاں نثار موجود تھا جس کے علاقہ سے ایمان کی خوشبو آتی تھی۔

ایسے واضح حالات کے بعد بھی انسان نفس رسول (ص) کو چھوڑ کربنی امیہ کے بد سرشت انسان کا اتباع کرے تو اس کا انجام جہنم کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے اور اسے کس رخ سے مسلمان یا مومن کہاجاسکتا ہے۔

(۲)ابن ابی الحدید نے اس مقام پر خود ابوموسیٰ اشعری کی زبان سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ سرکار دو عالم (ص) نے فرمایا کہ جس طرح بنی اسرائیل میں دوگمراہ حکم تھے اسی طرح اس امت میں بھی ہوں گے۔تو لوگوں نے ابو موسیٰ سے کہاکہ کہیں آپایسے نہ ہو جائیں۔اس نے کہا یہ نا ممکن ہے اور اس کے بعد جب وقت آیا تو طمع دنیا نے ایسا ہی بنا دیا جس کی خبر سرکار دوعالم (ص) نے دی تھی۔

حیرت کی بات ہے کہ حکمین کے بارے میں روایت خود ابو موسیٰ نے بیان کی ہے اور حواب کے سلسلہ کی روایت خود ام المومنین عائشہ نے نقل کی ہے لیکن اس کے باوجود نہ اس روایت کا کوئی اثر ابو موسیٰ پر ہوا اور نہ اس روایت کا کوئی اثر حضرت عائشہ پر۔

اس صورت حال کو کیا کہا جائے اور اسے کیا نام دیا جائے ۔انسان کا ذہن صحیح تعبری سے عاجز ہے۔اور ''ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہے ''


أَلَا تَرَوْنَ إِلَى بِلَادِكُمْ تُغْزَى وإِلَى صَفَاتِكُمْ تُرْمَى؟

(۲۳۹ )

ومن خطبة لهعليه‌السلام

يذكر فيها آل محمد صلى الله عليه وآله

هُمْ عَيْشُ الْعِلْمِ ومَوْتُ الْجَهْلِ - يُخْبِرُكُمْ حِلْمُهُمْ عَنْ عِلْمِهِمْ،وظَاهِرُهُمْ عَنْ بَاطِنِهِمْ - وصَمْتُهُمْ عَنْ حِكَمِ مَنْطِقِهِمْ - لَا يُخَالِفُونَ الْحَقَّ ولَا يَخْتَلِفُونَ فِيه - وهُمْ دَعَائِمُ الإِسْلَامِ ووَلَائِجُ الِاعْتِصَامِ - بِهِمْ عَادَ الْحَقُّ إِلَى نِصَابِه وانْزَاحَ الْبَاطِلُ عَنْ مُقَامِه - وانْقَطَعَ لِسَانُه عَنْ مَنْبِتِه - عَقَلُوا الدِّينَ عَقْلَ وِعَايَةٍ ورِعَايَةٍ - لَا عَقْلَ سَمَاعٍ ورِوَايَةٍ - فَإِنَّ رُوَاةَ الْعِلْمِ كَثِيرٌ ورُعَاتَه قَلِيلٌ.

(۲۴۰)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قاله لعبد الله بن العباس - وقد جاءه برسالة من عثمان

کہ تمہارے شہروں پرحملے ہو رہے ہیں اور تمہاری طاقت و قوت کونشانہ بنایا جا رہا ہے ۔

(۲۳۹)

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ

(جس میں آل محمد علیہ السلام کا ذکر کیا گیا ہے)

یہ لوگ علم کی زندگی اور جہالت کی موت ہیں۔ان کا حلم ان کے علم سے اور ان کا ظاہر ان کے باطن سے اور ان کی خموشی ان کے کلام سے با خبر کرتی ہے۔یہ نہ حق کی مخالفت کرتے ہیں اورنہ حق کے بارے میں کوئی اختلاف کرتے ہیں یہ اسلام کے ستون(۱) اور حفاظت کے مراکز ہیں۔انہیں کے ذریعہ حق اپنے مرکز کی طرف واپس آیا ہے اور باطل اپنی جگہ سے اکھڑ گیا ہے اور اس کی زبان جڑ سے کٹ گئی ہے۔انہوں نے دین کو اس طرح پہچانا ہے جو سمجھ اور نگرانی کا نتیجہ ہے۔صرف تننے اور روایت کا نتیجہ نہیں ہے۔اس لئے کہ علم کی روایت کرنے والے بہت ہیں اوراس کا خیال رکھنے والے بہت کم ہیں۔

(۲۴۰)

آپ کا ارشاد گرامی

(جواس وقت فرمایا جب محاصرہ کے زمانے میں عبداللہ بن عباس عثمان کاخط لے کر آئے جس

(۱)سرکار دو عالم (ص) نے ایک طرف نماز کو اسلام کا ستون قراردیا ہے اوردوسری طرف اہل بیت کے بارے میں فرمایا ہے کہ جو مجھ پر اور ان پر صلوات نہ پڑھے اس کی نماز باطل اور بیکار ہے ( سنن دار قطنی ص ۱۳۶) جس کا کھلا ہوا مطلب یہ ہے کہ نماز اسلام کا ستون ہے اور محبت اہل بیت نماز کا ستون اکبر ہے نماز نہیں ہے تواسلام نہیں ہے اور اہل بیت نہیں ہیں تو نماز نہیں ہے۔


وهو محصور يسأله فيها الخروج إلى ماله بينبع، ليقل هتف الناس باسمه للخلافة، بعد أن كان سأله مثل ذلك من قبل، فقالعليه‌السلام

يَا ابْنَ عَبَّاسٍ مَا يُرِيدُ عُثْمَانُ - إِلَّا أَنْ يَجْعَلَنِي جَمَلًا نَاضِحاً بِالْغَرْبِ أَقْبِلْ وأَدْبِرْ - بَعَثَ إِلَيَّ أَنْ أَخْرُجَ ثُمَّ بَعَثَ إِلَيَّ أَنْ أَقْدُمَ - ثُمَّ هُوَ الآنَ يَبْعَثُ إِلَيَّ أَنْ أَخْرُجَ - واللَّه لَقَدْ دَفَعْتُ عَنْه حَتَّى خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ آثِماً.

(۲۴۱)

ومن كلام لهعليه‌السلام

يحث به أصحابه على الجهاد

واللَّه مُسْتَأْدِيكُمْ شُكْرَه ومُوَرِّثُكُمْ أَمْرَه - ومُمْهِلُكُمْ فِي مِضْمَارٍ مَحْدُودٍ لِتَتَنَازَعُوا سَبَقَه - فَشُدُّوا عُقَدَ الْمَآزِرِ

میں یہ مطالبہ کیا گیا تھاکہ آپ اپنے املاک کی طرف مقام منبع(۱) میں چلے جائیں تاکہ لوگوں میں خلافت کے لئے آپ کے نام کی آواز کم ہو جائے اور ایسا ہی مطالبہ پہلے بھی ہوچکا ہے )

ابن عباس ! عثمان کا مقصد صرف یہ ہے کہ مجھے ایک پانی کھینچنے والے اونٹ کی مثال بنادے کہ میں ہی ڈول کے ساتھ آگے بڑھتا رہوں اور پیچھے ہٹتا رہوں۔اس نے پہلے بھی یہ مطالبہ کیا تھا کہ میں باہر نکل جائوں۔پھر تقاضا کیا کہ واپس آجائوں اورآج پھر یہ مطالبہ ہو رہا ہے کہ باہو چلا جائوں۔خداکی قسم میں نے عثمان سے یہاں تک دفاع کیا کہ یہ خوف پیدا ہوگیا کہ کہیں گناہ گار نہ ہو جائوں۔

(۲۴۱)

آپ کا ارشاد گرامی

(جس میں اپنے اصحاب کو جہاد پر آمادہ کیا ہے )

پروردگار تم سے اپنے لشکر کے ادا کرنے کا تقاضا کر رہا ہے اور اس نے تمہیں اپنے امرکاصاحب اختیار بنادیاہے اورتمہیں ایک محدود میدان میں مہلت دے دی ہے تاکہ اس کے انعامات کی طرف سبقت میں مقابلہ کرو لہٰذا اپنی کمر یں مضبوطی کے ساتھ کس لو اور

(۱)منبع مدینہ کے قریب ایک مقام ہے جس کا شمارا راضی خراج میں ہوتا تھا۔رسول اکرم (ص) نے اسے امیر المومنین کودے دیا تھا اور آپ نے وہاں ایک چشمہ جاری کیا تھا جس کی بنا پر اس کا نام ینبع ہوگیا تھا۔عثمان نے مظاہرین کے حالات کو دیکھ کر کہا وہ خلافت کے لئے امیر المومنین کا نام لے رہے ہیں آپ کو ینیع جانے کا حکم دے دیا۔آپ وہاں تشریف لے گئے تو دوبارہ امداد کے لئے پھر طلب کرلیا۔اور اس کے بعد پھر منبع جانے کا تقاضا کردیا تو آپ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا اور یہ واضح کردیا کہ اس سے زیادہ عثمان کی حمایت انسان کو گناہ گار بنا سکتی ہے لہٰذا اب مزید حمایت کا کوئی امکان نہیں ہے ہر انسان کواپنے اعمال کے نتائج کو بہر حال برداشت کرنا چاہیے۔


واطْوُوا فُضُولَ الْخَوَاصِرِ - لَا تَجْتَمِعُ عَزِيمَةٌ ووَلِيمَةٌ - مَا أَنْقَضَ النَّوْمَ لِعَزَائِمِ الْيَوْمِ - وأَمْحَى الظُّلَمَ لِتَذَاكِيرِ الْهِمَمِ.

وصلى اللَّه على سيدنا محمد النبي الأمي، وعلى آله مصابيح الدجى والعروة الوثقى، وسلم تسليما كثيرا

اپنے دامن کو سمیٹ لو اور یہ یاد رکھو کہ عزم محکم و لیموں کے ساتھ جمع نہیں ہوتا ہے۔رات کی نیند دن کے عزائم کو کس قدرشکستہ کر دیتی ہے اور اس کی تاریکیاں ہمت و جرأت کی یادوں کوکس قدر فنا کردینے والی ہوتی ہیں۔

والحمد للہ رب العالمین


باب المختار من كتب مولانا أمير المؤمنين عليعليه‌السلام

ورسائله إلى أعدائه وأمراء بلاده، ويدخل في ذلك ما اختير من عهوده إلى عماله

ووصاياه لأهله وأصحابه.

(۱)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى أهل الكوفة - عند مسيره من المدينة إلى البصرة

مِنْ عَبْدِ اللَّه عَلِيٍّ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ - جَبْهَةِ الأَنْصَارِ وسَنَامِ الْعَرَبِ

أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أُخْبِرُكُمْ عَنْ أَمْرِ عُثْمَانَ - حَتَّى يَكُونَ

مکاتیب و رسائل

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی تحریروں کا ایک انتخاب

جس میں آپ کے دشمنوں اور حکام بلاد کے نام سرکاری خطوط کے علاوہ اپنے اعمال کے نام عہد ناموں اور اولاد کے نام وصیتوں کا مضمون بھی شامل کرلیا گیا ہے۔

(۱)

مکتوب

(اہل کوفہ کے نام ۔مدینہ سے بصرہ روانگی کے وقت

بندہ خدا ' امیرالمومنین علی کی طرف سے اہل کوفہ کے نام جو مدد گاروں میں سربرآوردہ ہیں اور عرب میں بلند وبالا شخصیت کے مالک ہیں۔

اما بعد! میں تمہیں قتل(۱) عثمان کے بارے میں حقیقت حال سے یوں آگاہ کردیناچاہتا ہوں جیسے تم نے خود

(۱)صورت حال کا خلاصہ یہ ہے کہ عثمان کے والیوں کے کردار سے عاجزآکر مسلمانوں نے احتجاج کیا تو عثمان نے حضرت کو درمیان میں ڈالا۔آپ نے لوگوں کو سمجھا بجھا کر خاموش کردیا لیکن مروان نے م عاملہ کو پھرخراب کردیا۔اور لوگوں کے احتجاج کی آگ دوبارہ بھڑک اٹھی۔ادھر ام المومنین نے نعلین و قمیص رسول (ص) کا حوالہ دے کرعثمان پر الزامات عائد کرنا شروع کردئیے کہابھی یہ پیراہن بھی میلا نہیں ہوا ہے اور عثمان نے سارا دین تباہ کردیا ہے جس کے نتیجہ میں لوگ قتل عثمان پر آمادہ ہوگئے اور طلحہ وزبیر نے اپنے مفادات کی خاطرآگ کو مزید بھڑکادیا اور آخری نتیجہ قتل عثمان کی شکل میں برآمد ہوا جیسا کہ تمام مورخین نے نقل کیا ہے۔

اس کے بعد اچانک امیرالمومنین کی خلافت کی خبر پاکر عائشہ نے اپنی رائے بدل دی اور عثمان کو مظلوم قرار دے کرحضرت سے انتقام خون عثمان لینے پرآمادہ ہوگئیں۔حضرت نے بے حد سمجھایا لیکن عورت کی ضد چیز ہی کچھ اور ہوتی ہے اور پھر طلحہ و زبیر کے مفادات جلتی پر پٹرول کا کام کر رہے تھے ۔نتیجہ یہ ہوا کہ جمل کا معرکہ پیش آگیا اور بے شمار کلمہ گو تلوار کے گھاٹ اتر گئے ۔

ابن ابی الحدید نے اس حقیقت کا صراحت کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ جمل میں امیرالمومنین سے مقابلہ کرنے والے سب ہلک ہونے والے ہیں جب تک توبہ نہ کرلیں اور اپنے گناہ سے استغفار نہ کریں۔اور اس کے بعد یہ اضافہ کیا ہے کہ حضرت عائشہ نے امیر المومنین سے معافی مانگ لی تھی زبیر جنگ سے پلٹ گیا تھا۔اور طلحہ نے وقت آخر اپنے کو اصحاب امیر المومنین میں شامل کرلیا تھا۔( خدا کرے ایسا ہی ہو؟ روایت کی ذمہ داری راوی کے سر ہوا کرتی ہے )


سَمْعُه كَعِيَانِه - إِنَّ النَّاسَ طَعَنُوا عَلَيْه - فَكُنْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ أُكْثِرُ اسْتِعْتَابَه - وأُقِلُّ عِتَابَه - وكَانَ طَلْحَةُ والزُّبَيْرُ أَهْوَنُ سَيْرِهِمَا فِيه الْوَجِيفُ - وأَرْفَقُ حِدَائِهِمَا الْعَنِيفُ - وكَانَ مِنْ عَائِشَةَ فِيه فَلْتَةُ غَضَبٍ - فَأُتِيحَ لَه قَوْمٌ فَقَتَلُوه - وبَايَعَنِي النَّاسُ غَيْرَ مُسْتَكْرَهِينَ - ولَا مُجْبَرِينَ بَلْ طَائِعِينَ مُخَيَّرِينَ.

واعْلَمُوا أَنَّ دَارَ الْهِجْرَةِ قَدْ قَلَعَتْ بِأَهْلِهَا وقَلَعُوا بِهَا - وجَاشَتْ جَيْشَ الْمِرْجَلِ - وقَامَتِ الْفِتْنَةُ عَلَى الْقُطْبِ - فَأَسْرِعُوا إِلَى أَمِيرِكُمْ - وبَادِرُوا جِهَادَ عَدُوِّكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّه عَزَّ وجَلَّ.

(۲)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إليهم بعد فتح البصرة

وجَزَاكُمُ اللَّه مِنْ أَهْلِ مِصْرٍ عَنْ أَهْلِ بَيْتِ نَبِيِّكُمْ - أَحْسَنَ مَا يَجْزِي الْعَامِلِينَ بِطَاعَتِه - والشَّاكِرِينَ لِنِعْمَتِه - فَقَدْ سَمِعْتُمْ وأَطَعْتُمْ ودُعِيتُمْ فَأَجَبْتُمْ.

مشاہدہ کیا ہو۔لوگوں نے جب عثمان پر اعتراضات کئے تو میں مہاجرین میں سب سے زیادہ اصلاح حال کا چاہنے والا اور سب سے کم ان پر عتاب کرنے والا تھا۔اورطلحہ و زبیر کی ہلکی رفتار بھی ان کے بارے میں تیز رفتاری کے برابرتھی اورنرم سے نرم آوازبھی سخت ترین تھی اورعائشہ تو ان کے بارے میں بے حد غضبناک تھیں۔چنانچہ ایک قوم کو موقع فراہم ہوگیا اور اس نے ان کو قتل کردیا۔جس کے بعد لوگوں نے میری بیعت کی جس میں نہ کوئی جبر تھا اور نہ اکراہ ۔بلکہ سب کے سب اطاعت گذار تھے اور خود مختار۔

اوریہ بھی یاد رکھو کہ اب مدینہ رسول اپنے باشندوں سے خالی ہو چکا ہے اور اس کے رہنے والے وہاں سے اکھڑ چکے ہیں۔وہاں کا ماحلو دیگ کی طرح ابل رہا ہے اوروہاں فتنہ کی چکی چلنے لگی ہے لہٰذا تم لوگ فوراً اپنے امیرکے پاس حاضر ہو جائو اور اپنے دشمن سے جہاد کرنے میں سبقت سے کامل و ۔انشاء اللہ ۔

(۲)

مکتوب

(جسےاہل کوفہ کےنام بصرہ کی فتح کےبعدلکھا گیاہے)

شہر کوفہ والو! خدا تمہیں تمہارے پیغمبر (ص) کے اہل بیت کی طرف سے جزائے خیردے ۔ایسی بہترین جزا جواس کی اطاعت پرعمل کرنے والوں اور اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے والوں کو دی جاتی ہے۔کہ تم نے میری بات سنی اور اطاعت کی اورتمہیں پکارا گیا تو تم نے میری آواز پرلبیک کہی ۔


(۳)

ومن كتاب له عليالسلام

لشريح بن الحارث قاضيه

ورُوِيَ أَنَّ شُرَيْحَ بْنَ الْحَارِثِ قَاضِيَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَعليه‌السلام - اشْتَرَى عَلَى عَهْدِه دَاراً بِثَمَانِينَ دِينَاراً - فَبَلَغَه ذَلِكَ فَاسْتَدْعَى شُرَيْحاً - وقَالَ لَه:

بَلَغَنِي أَنَّكَ ابْتَعْتَ دَاراً بِثَمَانِينَ دِينَاراً - وكَتَبْتَ لَهَا كِتَاباً وأَشْهَدْتَ فِيه شُهُوداً.

فَقَالَ لَه شُرَيْحٌ قَدْ كَانَ ذَلِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْه نَظَرَ الْمُغْضَبِ ثُمَّ قَالَ لَه

يَا شُرَيْحُ أَمَا إِنَّه سَيَأْتِيكَ مَنْ لَا يَنْظُرُ فِي كِتَابِكَ - ولَا يَسْأَلُكَ عَنْ بَيِّنَتِكَ - حَتَّى يُخْرِجَكَ مِنْهَا شَاخِصاً ويُسْلِمَكَ إِلَى قَبْرِكَ خَالِصاً

(۳)

مکتوب

(اپنے قاضی شریح کے نام(۱)

کہا جاتا ہے کہ امیر المومنین کے ایک قاضی شریح بن الحارث نے آپ کیدورمیں اسی دینار کا ایک مکان خرید لیا تو حضرت نے خبرپاتے ہی اسے طلب کرلیا اور فرمایا کہ میں نے سنا ہے کہ تم نے اسی دینار کا مکان خریدا ہے اور اس کے لئے بیعنامہ بھی لکھا ہے اور اس پرگواہی بھی لے لی ہے ؟

شریح! عنقریب تیرے پاس وہ شخص آنے والا ہے جو نہ اس تحریر کودیکھے گا اور نہ تجھ سے گواہوں کے بارے میں سوال کرے گا بلکہ تجھے اس گھرسے نکال کر تن تنہا قبر کے حوالہ کردے گا۔

(۱) صاحب اغانی نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے کہ امیر المومنین کا اختلاف ایک یہودی سے ہوگیا جس کے پاس آپ کی زرہ تھی۔اسنے قاضی سے فیصلہ کرانے پر اصرار کیا آپ یہودی کے ساتھ شریح کے پاس آئے ۔اس نے آپ سے گواہ طلب کئے آپ نے قنبر اورامام حسن کو پیش کیا۔شریح نے قنبر کی گواہی قبول کرلی۔اور امام حسن کی گواہی فرزند ہونے کی بنا پر رد کردی۔آٰپ نے فرمایا کہ رسول اکرم (ص) نے انہیں سر دار جوانان جنت قراردیا ہے اور تم ان کی گواہی کو رد کر رہے ہو؟ لیکن اس کے باوجود آپ نے فیصلہ کا خیال کرتے ہوئے زرہ یہودی کو دے دی۔اس نے واقعہ کو نہایت درجہ حیرت کی نگاہ سے دیکھا اور پھر کلمہ شہادتین پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔آپ نے زرہ کے ساتھ اسے گھوڑا بھی دے دیا اور ۹۰۰درہم وظیفہ مقرر کردیا۔وہ مستقل آپ کی خدمت میں حاضر رہا یہاں تک کہ صفین میں درجہ شہادت پر فائز ہو گیا۔

اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام کردار کیا تھا اور شریح کی بد نفسی کا کیا عالم تھا اور یہودی کے ظرف میں کس قدر صلاحیت پائی جاتی تھی۔


- فَانْظُرْ يَا شُرَيْحُ لَا تَكُونُ ابْتَعْتَ هَذِه الدَّارَ مِنْ غَيْرِ مَالِكَ - أَوْ نَقَدْتَ الثَّمَنَ مِنْ غَيْرِ حَلَالِكَ - فَإِذَا أَنْتَ قَدْ خَسِرْتَ دَارَ الدُّنْيَا

ودَارَ الآخِرَةِ -. أَمَا إِنَّكَ لَوْ كُنْتَ أَتَيْتَنِي عِنْدَ شِرَائِكَ مَا اشْتَرَيْتَ - لَكَتَبْتُ لَكَ كِتَاباً عَلَى هَذِه النُّسْخَةِ - فَلَمْ تَرْغَبْ فِي شِرَاءِ هَذِه الدَّارِ بِدِرْهَمٍ فَمَا فَوْقُ.

والنُّسْخَةُ هَذِه - هَذَا مَا اشْتَرَى عَبْدٌ ذَلِيلٌ مِنْ مَيِّتٍ قَدْ أُزْعِجَ لِلرَّحِيلِ - اشْتَرَى مِنْه دَاراً مِنْ دَارِ الْغُرُورِ - مِنْ جَانِبِ الْفَانِينَ وخِطَّةِ الْهَالِكِينَ - وتَجْمَعُ هَذِه الدَّارَ حُدُودٌ أَرْبَعَةٌ - الْحَدُّ الأَوَّلُ يَنْتَهِي إِلَى دَوَاعِي الآفَاتِ - والْحَدُّ الثَّانِي يَنْتَهِي إِلَى دَوَاعِي الْمُصِيبَاتِ - والْحَدُّ الثَّالِثُ يَنْتَهِي إِلَى الْهَوَى الْمُرْدِي - والْحَدُّ الرَّابِعُ يَنْتَهِي إِلَى الشَّيْطَانِ الْمُغْوِي - وفِيه يُشْرَعُ بَابُ هَذِه الدَّارِ - اشْتَرَى هَذَا الْمُغْتَرُّ بِالأَمَلِ مِنْ هَذَا الْمُزْعَجِ بِالأَجَلِ - هَذِه الدَّارَ بِالْخُرُوجِ مِنْ عِزِّ الْقَنَاعَةِ - والدُّخُولِ فِي ذُلِّ الطَّلَبِ والضَّرَاعَةِ - فَمَا أَدْرَكَ هَذَا الْمُشْتَرِي فِيمَا اشْتَرَى مِنْه مِنْ دَرَكٍ - فَعَلَى مُبَلْبِلِ أَجْسَامِ الْمُلُوكِ وسَالِبِ نُفُوسِ الْجَبَابِرَةِ - ومُزِيلِ مُلْكِ الْفَرَاعِنَةِ - مِثْلِ كِسْرَى وقَيْصَرَ وتُبَّعٍ وحِمْيَرَ

اگر تم نے مکان دوسرے کے مال سے خریدا ہے اورغیرحلال سے قیمت ادا کی ہے تو تمہیں دنیا اور آخرت دونوں میں خسارہ ہوا ہے۔

یادرکھو اگر تم اس مکان کو خرید تے وقت میرے پاس آتے اور مجھ سے دستاویز لکھواتے تو ایک درہم میں بھی خریدنے کے لئے تیار نہ ہوتے اسی درہم توبہت بڑی بات ہے ۔میں اس کی دستاویز اس طرح لکھتا۔

'' یہ مکان ہے جسے ایک بندۂ ذلیل نے اس مرنے والے سے خریدا ہے جسے کوچ کے لئے آمادہ کردیا گیا ہے۔یہ مکان دنیائے پر فریب میں واقع ہے جہاں فنا ہونے والوں کی بستی ہے اور ہلاک ہونے والوں کا علاقہ ہے۔اس مکان کے حدود اربعہ یہ ہیں۔

ایک حد اسباب آفات کی طرف ہے اوردوسری اسباب مصائب سے ملتی ہے ۔تیسری حد ہلاک کردینے والی خواہشات کی طرف ہے اورچوتھی گمراہ کرنے والے شیطان کی طرف اور اسی طرف اس گھر کا دروازہ کھلتا ہے۔

اس مکان کو امیدوں کے فریب خوردہ نے اجل کے راہ گیر سے خریدا ہے جس کے ذریعہ قناعت کی عزت سے نکل کر طلب و خواہش کی ذلت میں داخل ہوگیا ہے۔اب اگر اس خریدار کواس سودے میں کوئی خسارہ ہو تو یہ اس ذات کی ذمہ داری ہے جو بادشاہوں کے جسموں کا تہ و بالا کرنے والا۔جابروں کی جان نکال لینے والا۔فرعونوں کی سلطنت کو تباہ کردینے والا ۔کسریٰ و قیصر۔تیغ و حمیر


ومَنْ جَمَعَ الْمَالَ عَلَى الْمَالِ فَأَكْثَرَ - ومَنْ بَنَى وشَيَّدَ وزَخْرَفَ ونَجَّدَ - وادَّخَرَ واعْتَقَدَ ونَظَرَ بِزَعْمِه لِلْوَلَدِ - إِشْخَاصُهُمْ جَمِيعاً إِلَى مَوْقِفِ الْعَرْضِ والْحِسَابِ - ومَوْضِعِ الثَّوَابِ والْعِقَابِ - إِذَا وَقَعَ الأَمْرُ بِفَصْلِ الْقَضَاءِ( وخَسِرَ هُنالِكَ الْمُبْطِلُونَ ) - شَهِدَ عَلَى ذَلِكَ الْعَقْلُ إِذَا خَرَجَ مِنْ أَسْرِ الْهَوَى - وسَلِمَ مِنْ عَلَائِقِ الدُّنْيَا.»

(۴)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى بعض أمراء جيشه

فَإِنْ عَادُوا إِلَى ظِلِّ الطَّاعَةِ فَذَاكَ الَّذِي نُحِبُّ - وإِنْ تَوَافَتِ الأُمُورُ بِالْقَوْمِ إِلَى الشِّقَاقِ والْعِصْيَانِ - فَانْهَدْ بِمَنْ أَطَاعَكَ إِلَى مَنْ عَصَاكَ واسْتَغْنِ بِمَنِ انْقَادَ مَعَكَ عَمَّنْ تَقَاعَسَ عَنْكَ

اور زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے والوں ۔مستحکم عمارتیں بنا کر انہیں سجانے والوں۔ان میں بہترین فرش بچھانے والوں اور اولاد کے خیال سے ذخیرہ کرنے والوں اور جاگیریں بنانے والوں کو فنا کے گھاٹ اتاردینے والا ہے کہ ان سب کو قیامت کے موقف حساب اور منزل ثواب و عذاب میں حاضر کردے جب حق و باطل کا حتمی فیصلہ ہو گا اور اہل باطل یقیناخسارہ میں ہوں گے۔

''اس سو دے پر اس عقل نے گواہی دی ہے جو خواہشات کی قید سے آزاد اور دنیا کی وابستگیوں سے محفوظ ہے ''

(۴)

مکتوب

(بعض امر اء لشکر کے نام(۱)

اگر دشمن اطاعت کے زیر سایہ آجائیں تو یہی ہمارا مدعا ہے اور اگر معاملات افتراف اورنا فرمانی کی منزل ہی کی طرف بڑھیں تو تم اپنے اطاعت گزاروں کو لے کر نافرمانوں کے مقابلہ میں اٹھ کھڑے ہو۔اور اپنے فرمانبرداروں کے وسیلہ سے انحراف کرن والوں سے بے نیاز ہوجائو

(۱) جب اصحاب جمل بصرہ میں وارد ہوئے تو وہاں کے حضرت ک عامل عثمان بن حنیف نے آپ کے نام ایک خط لکھا جس میں بصرہ کی صورت حال کا ذکر کیا گیا تھا۔آپ نے اس کے جواب میںتحریر فرمایا کہ جنگ میں پہل کرنا ہمارا کام نہیں ہے لہٰذا تمہارا پہلا کام یہ ہے کہ ان پر اتمام حجت کرو پھراگر اطاعت امام پرآمادہ ہو جائیں تو بہترین بات ہے ورنہ تمہارے پاس فرمانبردار قسم کے افراد موجود ہیں۔انہیں ساتھ لے کرظالموں کا مقابلہ کرنا اور خبر دار جنگ کے معاملہ میں کسی پر کسی قسم کا جبر نہ کرنا کہ جنگ کا میدان قربانی کا میدان ہے اور اس میں وہی افراد ثابت قدم رہ سکتے ہیں جو جان و دل سے قربانی کے لئے تیار ہوں۔ورنہ اگر بادل نا خواستہ فوج اکٹھا بھی کرلی گئی تو یہ خطرہ بہر حال رہے گا کہ یہ عین وقت پر چھوڑ کر فرار کر سکتے ہیں جس کا تجربہ تاریخ اسلام میں بارہا ہو چکا ہیاورجس کا ثبوت خود قرآن حکیم میں موجود ہے ۔


فَإِنَّ الْمُتَكَارِه مَغِيبُه خَيْرٌ مِنْ مَشْهَدِه - وقُعُودُه أَغْنَى مِنْ نُهُوضِه.

(۵)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى أشعث بن قيس - عامل أذربيجان

وإِنَّ عَمَلَكَ لَيْسَ لَكَ بِطُعْمَةٍ ولَكِنَّه فِي عُنُقِكَ أَمَانَةٌ - وأَنْتَ مُسْتَرْعًى لِمَنْ فَوْقَكَ - لَيْسَ لَكَ أَنْ تَفْتَاتَ فِي رَعِيَّةٍ - ولَا تُخَاطِرَ إِلَّا بِوَثِيقَةٍ - وفِي يَدَيْكَ مَالٌ مِنْ مَالِ اللَّه - عَزَّ وجَلَّ وأَنْتَ مِنْ خُزَّانِه حَتَّى تُسَلِّمَه إِلَيَّ - ولَعَلِّي أَلَّا أَكُونَ شَرَّ وُلَاتِكَ لَكَ والسَّلَامُ.

(۶)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى معاوية

إِنَّه بَايَعَنِي الْقَوْمُ الَّذِينَ بَايَعُوا أَبَا بَكْرٍ وعُمَرَ وعُثْمَانَ - عَلَى مَا بَايَعُوهُمْ عَلَيْه - فَلَمْ يَكُنْ لِلشَّاهِدِ أَنْ يَخْتَارَ - ولَا لِلْغَائِبِ أَنْ يَرُدَّ - وإِنَّمَا الشُّورَى لِلْمُهَاجِرِينَ والأَنْصَارِ - فَإِنِ اجْتَمَعُوا عَلَى رَجُلٍ وسَمَّوْه إِمَاماً

کہ بادل ناخواستہ حاضری دینے والوں کی حاضری سے غیبت بہتر ہے اور ان کا بیٹھ جانا ہی اٹھ جانے سے زیادہ مفید ہے۔

(۵)

مکتوب

(آذر بائیجان کے عامل اشعث بن قیس کے نام)

یہ تمہارا منصب کوئی لقمہ تر نہیں ہے بلکہ تمہاری گردن پر امانت الٰہی ہے اور تم ایک بلند ہستی کے زیر نگرانی حفاظت پر مامور ہو۔تمہیں رعایا کے معاملہ میں اس طرح کے اقدام کا حق نہیں ہے اور خبردار کسی مستحکم دلیل کے بغیر کسی بڑے کام میں ہاتھ مت ڈالنا۔تمہارے ہاتھوں میں جو مال ہے۔یہ بھی پروردگار کے اموال کا ایک حصہ ہے اورتم اس کے ذمہ دار ہو جب تک میرے حوالہ نہ کردو اور شائد اس نصیحت کی بنا پرمیں تمہارا برا ولی نہ ہوگا۔والسلام

(۶)

مکتوب

(معاویہ کے نام)

دیکھ میری بیعت اسی قوم نے کی ہے جس نے ابوبکر و عمر و عثمان کی بیعت کی تھی اور اسی طرح کی ہے جس طرح ان کی بیعت کی تھی کہ نہ کسی حاضر کو نظر ثانی کا حق تھا اورنہ کسی غائب کو رد کردینے کا اختیار تھا۔

شوریٰ کا اختیار بھی صرف مہاجرین و انصار کو ہوتا ہے لہٰذاوہ کسی شخص پر اتفاق کرلیں اور اسے امام نامزد کردیں


كَانَ ذَلِكَ لِلَّه رِضًا - فَإِنْ خَرَجَ عَنْ أَمْرِهِمْ خَارِجٌ - بِطَعْنٍ أَوْ بِدْعَةٍ رَدُّوه إِلَى مَا خَرَجَ مِنْه - فَإِنْ أَبَى قَاتَلُوه عَلَى اتِّبَاعِه غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ - ووَلَّاه اللَّه مَا تَوَلَّى.

ولَعَمْرِي يَا مُعَاوِيَةُ لَئِنْ نَظَرْتَ بِعَقْلِكَ دُونَ هَوَاكَ - لَتَجِدَنِّي أَبْرَأَ النَّاسِ مِنْ دَمِ عُثْمَانَ - ولَتَعْلَمَنَّ أَنِّي كُنْتُ فِي عُزْلَةٍ عَنْه - إِلَّا أَنْ تَتَجَنَّى فَتَجَنَّ مَا بَدَا لَكَ والسَّلَامُ.

(۷)

ومن كتاب منهعليه‌السلام

إليه أيضا

أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ أَتَتْنِي مِنْكَ مَوْعِظَةٌ مُوَصَّلَةٌ ورِسَالَةٌ مُحَبَّرَةٌ -

تو گویا کہ اسی میں رضائے الٰہی ہے اوراگر کوئی شخص تنقید کرکے یا بدعت کی بنیاد پر اس امر سے بالکل باہرنکل جائے تو لوگوں کا فرض ہے کہ اسے واپس لائیں اوراگر انکار کردے تواس سے جنگ کریں کہ اسنے مومنین کے راستہ سے ہٹ کر راہ نکالی ہے اوراللہ بھی اسے ادھر ہی پھیر دے گا جدھر وہ پھر گیا ہے ۔

معاویہ! میری جان کی قسم! اگر توخواہشات کو چھوڑ کرعقل کی نگاہوں سے دیکھے گا تو مجھے سب سے زیادہ خون عثمان(۱) سے پاکدامن پائے گا اورتجھے معلوم ہو جائے گاکہ میں اس مسئلہ سے بالکل الگ تھلک تھا۔مگر یہ کہ تو حقائق کی پردہ پوشی کرکے الزام ہی لگاناچاہے تو تجھے مکمل اختیار ہے ( یہ گذشتہ بیعتوں کی صورت حال کی طرف اشارہ ہے ورنہ اسلام میں خلافت شوریٰ سے طے نہیں ہوتی ہے ۔جوادی )

(۷)

مکتوب

(معاویہ ہی کے نام )

امابعد! میرے پاس تیری بے جوڑنصیحتوں کامجموعہ اور تیراخوبصورت سجایا بنایا ہوا خط وارد ہوا ہے جسے

(۱)عباس محمود عقاد نے عبقر پتہ الامام میں اس حقیقت کا اعلان کیا ہے کہ خون عثمان کی تمامتر ذمہ داری خود معاویہ پر ہے کہ وہ ان کا تحفظ کرنا چاہتا تو اس کے پاس تمامتر امکانات موجود تھے۔وہ شام کا حاکم تھا اوراس کے پاس ایک عظیم ترین فوج موجود تھی جس سے کسی طرح کا کام لیا جا سکتا تھا۔

امام علی کی یہ حیثیت نہیں تھی آپ پردونوں طرف سے دبائو پڑ رہا تھا۔انقلابیوں کا خیال تھا کہ اگر آپ بیعت قبول کرلیں تو عثمان کو با آسانی معزول کیاجا سکتا ہے اورعثمان کا خیال تھا کہ آپ چاہیں تو انقلابیوں کو ہٹا کر میرے منصب کا تحفظ کر سکتے ہیں اور میری جان بچا سکتے ہیں۔ایسے حالات میں حضرت نے جس ایمانی فراست اورعرفانی حکمت کا مظاہرہ کیا ہے اس سے زیادہ کسی فرو بشر کے امکان میں نہیں تھا۔


نَمَّقْتَهَا بِضَلَالِكَ وأَمْضَيْتَهَا بِسُوءِ رَأْيِكَ - وكِتَابُ امْرِئٍ لَيْسَ لَه بَصَرٌ يَهْدِيه - ولَا قَائِدٌ يُرْشِدُه قَدْ دَعَاه الْهَوَى فَأَجَابَه - وقَادَه الضَّلَالُ فَاتَّبَعَه - فَهَجَرَ لَاغِطاً وضَلَّ خَابِطاً.

ومِنْه لأَنَّهَا بَيْعَةٌ وَاحِدَةٌ لَا يُثَنَّى فِيهَا النَّظَرُ - ولَا يُسْتَأْنَفُ فِيهَا الْخِيَارُ - الْخَارِجُ مِنْهَا طَاعِنٌ والْمُرَوِّي فِيهَا مُدَاهِنٌ

(۸)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى جرير بن عبد الله البجلي - لما أرسله إلى معاوية

أَمَّا بَعْدُ فَإِذَا أَتَاكَ كِتَابِي فَاحْمِلْ مُعَاوِيَةَ عَلَى الْفَصْلِ وخُذْه بِالأَمْرِ الْجَزْمِ - ثُمَّ خَيِّرْه بَيْنَ حَرْبٍ مُجْلِيَةٍ أَوْ سِلْمٍ مُخْزِيَةٍ - فَإِنِ اخْتَارَ الْحَرْبَ فَانْبِذْ إِلَيْه - وإِنِ اخْتَارَ السِّلْمَ فَخُذْ بَيْعَتَه والسَّلَامُ.

تیرے گمراہی کے قلم نے لکھا ہے اور اس پر تیری بے عقلی نے امضاء کیا ہے ۔یہ ایک ایس شخص کا خط ہے جس کے پاس نہ ہدایت دینے والی بصارت ہے اور نہراستہ بتانے والی قیادت ۔اسے خواہشات نے پکارا تو اس نے لبیک کہہ دی اور گمراہینے کھینچا تو اس کے پیچھے چل پڑا اور اس کے نتیجہ میں اول فول بکنے لگا اور راستہ بھول کر گمراہ ہوگیا۔

دیکھو یہ بیعت ایک مرتبہ ہوتی ہے جس کے بعد نہ کسی کو نظر ثانی کا حق ہوتا ہے اورنہ دوبارہ اختیار کرنے کا۔اس سے باہرنکل جانے والا اسلامی نظام پرمعترض شمار کیا جاتا ہے اوراس میں سوچ بچار کرنے والامنافق کہا جاتا ہے۔

(۸)

مکتوب

(جریر بن عبداللہ بجلی کے نام جب انہیں معاویہ کی فہمائش کے لئے روانہ فرمایا)

اما بعد(۶) ۔جب تمہیں یہ میراخط مل جائے تو معاویہ سے حتمی فیصلہ کا مطالبہ کردینا اورایک آخری بات طے کر لینا اوراسے خبردار کردینا کہاب دو ہی راستے ہیں۔یا فنا کردینے والی جنگ یا رسواکن صلح۔اب اگر وہ جنگ کو اختیار کرے توبات چیت ختم کردینا اور جنگ کی تیاری کرنا اور اگر صلح کی بات کرے تو فوراً اس سے بیعت لے لینا۔والسلام۔


(۹)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى معاوية

فَأَرَادَ قَوْمُنَا قَتْلَ نَبِيِّنَا واجْتِيَاحَ أَصْلِنَا - وهَمُّوا بِنَا الْهُمُومَ وفَعَلُوا بِنَا الأَفَاعِيلَ - ومَنَعُونَا الْعَذْبَ وأَحْلَسُونَا الْخَوْفَ - واضْطَرُّونَا إِلَى جَبَلٍ وَعْرٍ - وأَوْقَدُوا لَنَا نَارَ الْحَرْبِ - فَعَزَمَ اللَّه لَنَا عَلَى الذَّبِّ عَنْ حَوْزَتِه - والرَّمْيِ مِنْ وَرَاءِ حُرْمَتِه - مُؤْمِنُنَا يَبْغِي بِذَلِكَ الأَجْرَ وكَافِرُنَا يُحَامِي عَنِ الأَصْلِ - ومَنْ أَسْلَمَ مِنْ قُرَيْشٍ خِلْوٌ مِمَّا نَحْنُ فِيه بِحِلْفٍ يَمْنَعُه - أَوْ عَشِيرَةٍ تَقُومُ دُونَه فَهُوَ مِنَ الْقَتْلِ بِمَكَانِ أَمْنٍ

وكَانَ رَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ ،

(۹)

مکتوب

(معاویہ کے نام )

ہماری قوم قریش(۱) کا ارادہ تھاکہ ہمارے پیغمبر (ص) کو قتل کردے اور ہمیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دے۔انہوںنے ہمارے بارے میں رنج و غم کے اسباب فراہم کئے اور ہم سے طرح طرح کے برتائو کئے۔ہمیں راحت و آرام سے روک دیا اور ہمارے لئے مختلف قسم کے خوف کا انتظام کیا۔کبھی ہمیں نا ہموار پہاڑوں میں پناہ لینے پر مجبور کیا اور کبھی ہمارے لئے جنگ کی آگ بھڑکا دی۔لیکن پروردگار نے ہمیں طاقت دی کہ ہم ان کے دین کی حفاظت کریں اوران کی حرمت سے ہر طرح سے دفاع کریں۔ہم میں صاحبان ایمان اجرآخرت کے طلب گارتھے اور کفار اپنی اصل کی حمایت کر رہے تھے ۔قریش میں جو لوگ مسلمان ہوگئے تھے وہ ان مشکلات سے آزاد تھے۔یا اس لئے کہ انہوں نے کوئی حفاظتی معادہ کرلیا تھا یا ان کے پاس قبیلہ تھا جوان کے سامنے کھڑا ہو جاتاتھا اور وہ قتل سے محفوظ رہتے تھے۔اور رسول اکرم (ص) کا یہ عالم تھا کہ جب جنگ کے شعلے بھڑک اٹھتے تھے

(۱) قریش کی زندگی کا سارا نظام قبائلی بنیادوں پرچل رہا تھا اور ہر قبیلہ کو کوئی نہ کوئی حیثیت حاصل تھی لیکن اسلام کے آنے کے بعد ان تمام حیثیتوں کا خاتمہ ہوگیا اور اس کے نتیجہ میں سب نے اسلام کے خلاف اتحاد کرلیا اورمختلف معرکے بھی سامنے آگئے لیکن پروردگار عالم نے رسول اکرم (ص)کے گھرانے کے ذریعہ اپنے دین کو بچا لیا اوراس میں کوئی قبیلہ بھی ان کا شریک نہیں ہے اورنہ کسی کو یہ شرف حاصل ہے ۔نہ کسی قبیلہ پمیں کوئی ابو طالب جیسا محافظ پیدا ہوا۔ اورنہ عبیدہ جیسا ہ مجاہد ۔ نہ کسی قبیلہ نے حمزہ جیسا سیدالشہداء پیدا کیا ہے اورنہ جعفر جیسا طیار۔

یہ صرف بنی ہاشم کا شرف ہے اور اسلام کی گردن پران کے علاوہ کسی کا کوئی احسان نہیں ہے۔


وأَحْجَمَ النَّاسُ - قَدَّمَ أَهْلَ بَيْتِه - فَوَقَى بِهِمْ أَصْحَابَه حَرَّ السُّيُوفِ والأَسِنَّةِ - فَقُتِلَ عُبَيْدَةُ بْنُ الْحَارِثِ يَوْمَ بَدْرٍ - وقُتِلَ حَمْزَةُ يَوْمَ أُحُدٍ - وقُتِلَ جَعْفَرٌ يَوْمَ مُؤْتَةَ - وأَرَادَ مَنْ لَوْ شِئْتُ ذَكَرْتُ اسْمَه - مِثْلَ الَّذِي أَرَادُوا مِنَ الشَّهَادَةِ - ولَكِنَّ آجَالَهُمْ عُجِّلَتْ ومَنِيَّتَه أُجِّلَتْ - فَيَا عَجَباً لِلدَّهْرِ - إِذْ صِرْتُ يُقْرَنُ بِي مَنْ لَمْ يَسْعَ بِقَدَمِي - ولَمْ تَكُنْ لَه كَسَابِقَتِي - الَّتِي لَا يُدْلِي أَحَدٌ بِمِثْلِهَا - إِلَّا أَنْ يَدَّعِيَ مُدَّعٍ مَا لَا أَعْرِفُه ولَا أَظُنُّ اللَّه يَعْرِفُه - والْحَمْدُ لِلَّه عَلَى كُلِّ حَالٍ.

وأَمَّا مَا سَأَلْتَ مِنْ دَفْعِ قَتَلَةِ عُثْمَانَ إِلَيْكَ - فَإِنِّي نَظَرْتُ فِي هَذَا الأَمْرِ - فَلَمْ أَرَه يَسَعُنِي دَفْعُهُمْ إِلَيْكَ ولَا إِلَى غَيْرِكَ - ولَعَمْرِي لَئِنْ لَمْ تَنْزِعْ عَنْ غَيِّكَ وشِقَاقِكَ - لَتَعْرِفَنَّهُمْ عَنْ قَلِيلٍ يَطْلُبُونَكَ - لَا يُكَلِّفُونَكَ طَلَبَهُمْ فِي بَرٍّ ولَا بَحْرٍ - ولَا جَبَلٍ ولَا سَهْلٍ - إِلَّا أَنَّه طَلَبٌ يَسُوءُكَ وِجْدَانُه - وزَوْرٌ لَا يَسُرُّكَ لُقْيَانُه والسَّلَامُ لأَهْلِه.

اور لوگ پیچھے ہٹنے لگے تھے تو آپ اپنے اہل بیت کو آگے بڑھا دیتے تھے اوروہ اپنے کو سپر بناکر اصحاب کو تلوار اورنیزوں کی گرمی سے محفوظ رکھتے تھے چنانچہ بدرکے دن جناب عبیدہ بن الحارث مارے گئے۔احد کے دن حمزہ شہید ہوئے اورموتہ میں جعفر کام آگئے ۔

ایک شخص نے جس کا نام بتا سکتا ہوںانہیں لوگوں جیسی شہادت کا قصد کیاتھا لیکن ان سب کی موت جلدی آگئی اور اس کی موت پیچھے ٹال دی گئی۔

کس قدر تعجب خیز ہے زمانہ کا یہ حال کہ میرا مقابلہ ایسے افراد سے ہوتا ہے جو کبھی میرے ساتھ قدم ملا کر نہیں چلے اورنہاس دین میں ان کا کوئی کارنامہ ہے جو مجھ سے موازنہ کیا جا سکے مگر یہ کہ کوئی مدعی کسی ایسے شرف کادعویٰ کرے جس کونہ میں جانتا ہوں۔اورنہ ''شائد ''خدا ہی جانتا ہے۔مگر بہر حال ہر حال میں خداکا شکرہے۔

رہ گیا تمہارا یہ مطالبہ کہ میں قاتلان عثمان کو تمہارے حوالے کردوں تو میں نے اس مسئلہ میں کافی غور کیا ے۔میرے امکان میں انہیں نہ تمہارے حوالہ کرنا ہے اورنہ کسی اور کے ۔میری جان کی قسم اگر تم اپنی گمراہی اورعداوت سے بازنہ آئے تو عنقریب انہیں دیکھو گے کہ یہ تمہیں بھی ڈھونڈھ لیں گے اوراس بات کی زحمت نہ دیں گے کہ تم انہیں خشکی یا تری ۔پہاڑ یا صحرا میں تلاش کرو۔البتہ یہ وہ طلب ہوگی جس کا پالینا باعث مسرت نہ ہوگا اور وہ ملاقات ہوگی جس سے کسی طرح کی خوشی نہ ہوگی۔اور سلام اس کے اہل پر۔


(۱۰)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إليه أيضا

وكَيْفَ أَنْتَ صَانِعٌ - إِذَا تَكَشَّفَتْ عَنْكَ جَلَابِيبُ مَا أَنْتَ فِيه - مِنْ دُنْيَا قَدْ تَبَهَّجَتْ بِزِينَتِهَا وخَدَعَتْ بِلَذَّتِهَا - دَعَتْكَ فَأَجَبْتَهَا،

وقَادَتْكَ فَاتَّبَعْتَهَا - وأَمَرَتْكَ فَأَطَعْتَهَا - وإِنَّه يُوشِكُ أَنْ يَقِفَكَ وَاقِفٌ عَلَى مَا لَا يُنْجِيكَ مِنْه مِجَنٌّ - فَاقْعَسْ عَنْ هَذَا الأَمْرِ - وخُذْ أُهْبَةَ الْحِسَابِ وشَمِّرْ لِمَا قَدْ نَزَلَ بِكَ - ولَا تُمَكِّنِ الْغُوَاةَ مِنْ سَمْعِكَ - وإِلَّا تَفْعَلْ أُعْلِمْكَ مَا أَغْفَلْتَ مِنْ نَفْسِكَ - فَإِنَّكَ مُتْرَفٌ قَدْ أَخَذَ الشَّيْطَانُ مِنْكَ مَأْخَذَه - وبَلَغَ فِيكَ أَمَلَه وجَرَى مِنْكَ مَجْرَى الرُّوحِ والدَّمِ.

ومَتَى كُنْتُمْ يَا مُعَاوِيَةُ سَاسَةَ الرَّعِيَّةِ - ووُلَاةَ أَمْرِ الأُمَّةِ -

(۱۰)

مکتوب

(معاویہ ہی کے نام )

اس وقت کیا کروگے جب اس دنیاکے یہ سارے لباس تم سے اترجائیں جس کی زینت سے تم نے اپنے کوآراستہ کر رکھا ہے اورجس کی لذت نے تم کودھوکہ میں ڈال دیا ہے۔اس دنیانے تم کوآوازدی تو تم نے لبیک کہہ دی اورتمہیں کھینچنا چاہا تو تم کھینچتے چلے گئے اوراس کے احکام کی اطاعت کرتے رہے۔قریب ہے کہ کوئی بتانے والا تمہیں ان چیزوں سے آگاہ کرے جن سے کوئی سپر بچانے والی نہیں ہے لہٰذا مناسب ہے کہ اس دعویٰ سے باز آجائواور حساب و کتاب کا سامان تیار کرلو۔آنے والی مصیبتوں کے لئے کمر بستہ ہو جائو اور گمراہوں کو اپنی سماعت پر حاوینہ بنائو ورنہ ایسا نہ کیا تو میں تہیں ان تمام چیزوں سے با خبر کردوں گا جن سے تم غافل ہو۔تم عیش و عشرت کے دلدادہ ہو۔شیطان نے تمہیں اپنی گرفت میں لے لیا ہے اور اپنی امیدوں کو حاصل کرلیا ہے اورتمہارے رگ و پے میں روح اورخون کی طرح سرایت کرگیا ہے۔

معاویہ! آخر تم لوگ کب رعایا(۱) کی نگرانی کے قابل اور امت کے مسائل کے والی تھے جب کہ تمہارے

(۱) اس مقام پر سیاست سے مراد سیاست عادلہ اوررعایت کاملہ ہے کہ اس کام کا انجام دیناہر کس و ناکس کے بسکا نہیں ہے ورنہ سیاست سے مکاری ' عیاری اورغداری مرادلی جائے تو بنی امیہ ہمیشہ سے سیاست مدار تھے اورابو سفیان نے ہرمحاذ پر اسلام کے خلاف لشکرکشی کی ہے اور اس راہمیں کسی بھی حربہ کونظراندازنہیں کیا ہے ۔بکیھ میدانوں میں مقابلہ کیا ہے اورکبھی بیعت کرکے اسلام کا صفایا کیا ہے۔


بِغَيْرِ قَدَمٍ سَابِقٍ ولَا شَرَفٍ بَاسِقٍ - ونَعُوذُ بِاللَّه مِنْ لُزُومِ سَوَابِقِ الشَّقَاءِ - وأُحَذِّرُكَ أَنْ تَكُونَ مُتَمَادِياً فِي غِرَّةِ الأُمْنِيِّةِ - مُخْتَلِفَ الْعَلَانِيَةِ والسَّرِيرَةِ.

وقَدْ دَعَوْتَ إِلَى الْحَرْبِ فَدَعِ النَّاسَ جَانِباً - واخْرُجْ إِلَيَّ وأَعْفِ الْفَرِيقَيْنِ مِنَ الْقِتَالِ - لِتَعْلَمَ أَيُّنَا الْمَرِينُ عَلَى قَلْبِه والْمُغَطَّى عَلَى بَصَرِه - فَأَنَا أَبُو حَسَنٍ - قَاتِلُ جَدِّكَ وأَخِيكَ وخَالِكَ شَدْخاً يَوْمَ بَدْرٍ - وذَلِكَ السَّيْفُ مَعِي - وبِذَلِكَ الْقَلْبِ أَلْقَى عَدُوِّي - مَا اسْتَبْدَلْتُ دِيناً ولَا اسْتَحْدَثْتُ نَبِيّاً - وإِنِّي لَعَلَى الْمِنْهَاجِ الَّذِي تَرَكْتُمُوه طَائِعِينَ - ودَخَلْتُمْ فِيه مُكْرَهِينَ.

وزَعَمْتَ أَنَّكَ جِئْتَ ثَائِراً بِدَمِ عُثْمَانَ - ولَقَدْ عَلِمْتَ حَيْثُ

وَقَعَ دَمُ عُثْمَانَ - فَاطْلُبْه مِنْ هُنَاكَ إِنْ كُنْتَ طَالِباً - فَكَأَنِّي قَدْ رَأَيْتُكَ تَضِجُّ مِنَ الْحَرْبِ - إِذَا عَضَّتْكَ ضَجِيجَ الْجِمَالِ بِالأَثْقَالِ - وكَأَنِّي بِجَمَاعَتِكَ

پاس نہ کوئی سابقہ شرف ہے اور نہ کوئی بلند و بالا عزت۔ہم اللہ سے تمام دیرینہ بد بختیوں سے پناہ مانگتے ہیں اورتمہیں باخبر کرتے ہیں کہ خبر دار امیدوں کے دھوکہ میں اور ظاہر و باطن کے اختلاف میں مبتلا ہوکر گمراہی میں دورتک مت چلے جائو۔تم نے مجھے جنگ کی دعوت دی ہے تو بہتر یہ ہے کہ لوگوں کوالگ کردو اور بذات خود میدان میں آجائو۔ فریقین کو جنگ سے معاف کردواور ہم(۱) تم براہ راست مقابلہ کرلیں تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ کس کے دل پر زنگ لگ گیا ہے اور کس کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔میں وہی ابو الحسن ہوں جس نے روز بدر تمہارے نانا (عتبہ بن ربیعہ ) ماموں ( ولید بن عتبہ ) اور بھائی حنظلہ کا سر توڑ کرخاتمہ کردیا ہے۔ اورابھی وہ تلوار میرے پاس ہے اورمیں اسی ہمت قلب کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کروں گا۔میں نےنہ دین تبدیل کیا ہے اور نہ نیا نبی اختیار کیا ہے میں اسی راستہ پرچل رہا ہوں جسے تم نے اختیاری حدود تک چھوڑ رکھا تھا اورپھرمجبوراً داخل ہوگئے تھے ۔تمہارا خیال ہے کہ تم خون عثمان کا بدلہ لینے آئے ہو۔تو تمہیں تو معلوم ہےکہ اس خون کی جگہ کہاں ہے۔اگرواقعی مطالبہ کرنا ہے تو وہیں جا کرکرو۔مجھےتو یہ منظرنظر آرہا ہے(۸) کہ جنگ تمہیں دانتوں سےکاٹ رہی ہےاورتم اس طرح فریاد کر رہےہو جس طرح اونٹ سامان کی گرانی سےبلبلانے لگتے ہیں اورتمہاری جماعت

(۱)حضرت کا یہ وہ مطالبہ تھاجس کی عمرو عاص نے بھی تائید کردی تھی لیکن معاویہ فوراً تاڑ گیا اوراس نے کہا کہ تو خلافت کاامید وار دکھائی دے رہا ہے اور پھر میدان کا رخ کرنے کا ارادہ بھی نہیں کیا کہ علی کی تلوارسے بچ کرنکل جانا محالات میں سے ہے۔


تَدْعُونِي جَزَعاً مِنَ الضَّرْبِ الْمُتَتَابِعِ - والْقَضَاءِ الْوَاقِعِ ومَصَارِعَ بَعْدَ مَصَارِعَ إِلَى كِتَابِ اللَّه - وهِيَ كَافِرَةٌ جَاحِدَةٌ أَوْ مُبَايِعَةٌ حَائِدَةٌ

(۱۱)

ومن وصية لهعليه‌السلام

وصى بها جيشا بعثه إلى العدو

فَإِذَا نَزَلْتُمْ بِعَدُوٍّ أَوْ نَزَلَ بِكُمْ - فَلْيَكُنْ مُعَسْكَرُكُمْ فِي قُبُلِ الأَشْرَافِ - أَوْ سِفَاحِ الْجِبَالِ أَوْ أَثْنَاءِ الأَنْهَارِ - كَيْمَا يَكُونَ لَكُمْ رِدْءاً ودُونَكُمْ مَرَدّاً - ولْتَكُنْ مُقَاتَلَتُكُمْ مِنْ وَجْه وَاحِدٍ أَوِ اثْنَيْنِ - واجْعَلُوا لَكُمْ رُقَبَاءَ فِي صَيَاصِي الْجِبَالِ - ومَنَاكِبِ الْهِضَابِ - لِئَلَّا يَأْتِيَكُمُ الْعَدُوُّ مِنْ مَكَانِ مَخَافَةٍ أَوْ أَمْنٍ - واعْلَمُوا أَنَّ مُقَدِّمَةَ الْقَوْمِ عُيُونُهُمْ - وعُيُونَ الْمُقَدِّمَةِ طَلَائِعُهُمْ وإِيَّاكُمْ والتَّفَرُّقَ - فَإِذَا نَزَلْتُمْ فَانْزِلُوا جَمِيعاً - وإِذَا ارْتَحَلْتُمْ فَارْتَحِلُوا جَمِيعاً - وإِذَا غَشِيَكُمُ اللَّيْلُ فَاجْعَلُوا الرِّمَاحَ كِفَّةً - ولَا تَذُوقُوا النَّوْمَ إِلَّا غِرَاراً أَوْ مَضْمَضَةً

مسلسل تلوار کی ضرب اورموت کی گرم بازاری اور کشتوں کے پشتے لگ جانے کی بنا پر مجھے کتاب خداکی دعوت دے رہی ہے جب کہ خود اس کتاب کی دیدہ و دانستہ منکر ہے یا بیعت کرنے کے بعد بیعت شکنی کرنے والی ہے۔

(۱۱)

آپ کی نصیحت

(جو اپنےلشکرکودشمن کی طرف روانہ کرتےہوئےفرمائی ہے )

جب تم کسی دشمن پر واردہونا یا اگر وہ تم پر وارد ہو تو دیکھو(۱) تمہارے پڑائو ٹیلوں کے سامنے یا پہاڑوں کے دامن میں یا نہروں کے موڑ پر ہوں تاکہ یہ تمہارے لئے وسیلہ حفاظت بھی رہیں اوردشمن کو روک بھی سکیں۔اورجنگ ہمیشہ ایک یا دو محاذوں پر کرنا اور اپنے نگرانوں کو پہاڑوں کی چوٹیوں اور ٹیلوں کی بلند سطحوںپرمعین کر دیناتاکہ دشمن نہ کسی خطرناک جگہ سے حملہ کر سکے اورنہ محفوظ جگہ سے اور یہ یاد رکھنا کہ فوج کاہر اول دستہ فوج کا نگراں ہوتا ہے اوراس کی اطلاعات کاذریعہ مخبر افراد ہوتے ہیں۔خبردار آپس میں منتشر نہ ہو جانا۔جہاں اترنا سب ایک ساتھ اترنا اور جب کوچ کرنا تو سب ساتھ کوچ کرنا۔اور جب رات ہو جائے تو نیزوں کو اپنے گرد گاڑ دینا اور خبردار نیند کا مزہ چکھنے کا ارادہ نہ کرنا مگر یہ کہ ایک آدھ جھپکی لگ جائے ۔

(۱)یہ وہ ہدایات ہیںجو ہردورمیں کام آنے والی ہیں اورقائد اسلام کا فرض ہے کہ جس دورمیں جس طرح کا میدان اورجس طرح کے اسلحہ ہوں ان سبکی تنظیم انہیں اصولوں کی نیاد پر کرے جن کی طر ف امیر المومنین نیدو رنیزہ و شمشیر میں اشارہ فرمایا ہے۔حالات اوراسلحوں کے بدل جانے سے اصول حرب و ضرب اور قوانین جہاد و قتال میں فرق نہیں ہوسکتا ہے۔


(۱۲)

ومن وصية لهعليه‌السلام

وصى بها معقل بن قيس الرياحي - حين أنفذه إلى الشام في ثلاثة آلاف مقدمة له

اتَّقِ اللَّه الَّذِي لَا بُدَّ لَكَ مِنْ لِقَائِه - ولَا مُنْتَهَى لَكَ دُونَه - ولَا تُقَاتِلَنَّ إِلَّا مَنْ قَاتَلَكَ - وسِرِ الْبَرْدَيْنِ وغَوِّرْ بِالنَّاسِ - ورَفِّه فِي السَّيْرِ ولَا تَسِرْ أَوَّلَ اللَّيْلِ - فَإِنَّ اللَّه جَعَلَه سَكَناً وقَدَّرَه مُقَاماً لَا ظَعْناً - فَأَرِحْ فِيه بَدَنَكَ ورَوِّحْ ظَهْرَكَ - فَإِذَا وَقَفْتَ حِينَ يَنْبَطِحُ السَّحَرُ - أَوْ حِينَ يَنْفَجِرُ الْفَجْرُ فَسِرْ عَلَى بَرَكَةِ اللَّه - فَإِذَا لَقِيتَ الْعَدُوَّ فَقِفْ مِنْ أَصْحَابِكَ وَسَطاً - ولَا تَدْنُ مِنَ الْقَوْمِ دُنُوَّ مَنْ يُرِيدُ أَنْ يُنْشِبَ الْحَرْبَ - ولَا تَبَاعَدْ عَنْهُمْ تَبَاعُدَ مَنْ يَهَابُ الْبَأْسَ - حَتَّى يَأْتِيَكَ أَمْرِي - ولَا يَحْمِلَنَّكُمُ شَنَآنُهُمْ عَلَى قِتَالِهِمْ - قَبْلَ دُعَائِهِمْ والإِعْذَارِ إِلَيْهِمْ.

(۱۲)

آپ کی نصیحت

(جو معقل بن قیس ریاحی کواس وقت فرمائی ہے جب انہیں تین ہزار کا لشکر دے کرشام کی طرف روانہ فرمایا ہے )

اس اللہ سے ڈرتے رہنا جس کی بارگاہ میںبہر حال حاضر ہونا ہے اورجس کے علاوہ کوئی آخری منزل نہیں ہے۔جنگ اسی سے کرنا جو تم سے جنگ کرے۔ٹھنڈے اوقات میں صبح و شام سفر کرنا اور گرمی کے وقت میں قافلہ کو روک کر لوگوں کو آرام کرنے دینا۔آہستہ سفر کرنا اوراول شب میں سفرمت کرناکہ پروردگارنے رات کو سکون کے کے لئے بنایا ہے اور اسے قیام کے لئے قرار دیا ہے۔سفر کے لئے نہیں۔لہٰذا رات میں اپنے بدن کوآرام دینا اوراپنی سواری کے لئے سکون فراہم کرنا۔اس کیبعد جب دیکھ لینا کہ سحر طلوع ہو رہی ہے اور صبح روشن ہو رہی ہے تو برکت خدا کے سہارے اٹھ کھڑے ہونا۔ اورجب دشمن کا سامناہو جائے تو اپنے اصحاب کے درمیان ٹھہرنا اورنہ دشمن سے اس قدر قریب ہو جانا کہ جیسے جنگ چھیڑنا چاہیے ہو۔اور نہ اس قدر دور ہو جانا کہ جیسے جنگ سے خوفزدہ ہو۔یہاں تک کہ میرا حکم آجائے اوردیکھوخبردار دشمن کی دشمنی تمہیں اس بات پرآمادہ نہ کردے کہ اسے حق کی دعوت دینے اورحجت تمام کرنے سے پہلے جنگ کا آغاز کردو(۱)

(۱)یہ ساری ہدایات معقل بن قیس کے بارے میں ہیں جنہیں آپ نے تین ہزار افراد کا سردار لشکر بنا کر بھیجا تھا اورایسے ہدایات سے مسلح فرمادیا تھا جو صبح قیامت تک کام آنے والی ہوں اور ہر دور کا انسان ان سے استفادہ کرسکے۔


(۱۳)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى أميرين من أمراء جيشه

وقَدْ أَمَّرْتُ عَلَيْكُمَا - وعَلَى مَنْ فِي حَيِّزِكُمَا مَالِكَ بْنَ الْحَارِثِ الأَشْتَرَ - فَاسْمَعَا لَه وأَطِيعَا واجْعَلَاه دِرْعاً ومِجَنّاً - فَإِنَّه مِمَّنْ لَا يُخَافُ وَهْنُه ولَا سَقْطَتُه - ولَا بُطْؤُه عَمَّا الإِسْرَاعُ إِلَيْه أَحْزَمُ - ولَا إِسْرَاعُه إِلَى مَا الْبُطْءُ عَنْه أَمْثَلُ

(۱۴)

ومن وصية لهعليه‌السلام

لعسكره قبل لقاء العدو بصفين

لَا تُقَاتِلُوهُمْ حَتَّى يَبْدَءُوكُمْ - فَإِنَّكُمْ بِحَمْدِ اللَّه عَلَى حُجَّةٍ - وتَرْكُكُمْ إِيَّاهُمْ حَتَّى يَبْدَءُوكُمْ حُجَّةٌ أُخْرَى لَكُمْ عَلَيْهِمْ - فَإِذَا كَانَتِ الْهَزِيمَةُ بِإِذْنِ اللَّه - فَلَا تَقْتُلُوا مُدْبِراً ولَا تُصِيبُوا مُعْوِراً - ولَا تُجْهِزُوا عَلَى جَرِيحٍ

(۱۳)

آپ کامکتوب شریف

(اپنے سرداران لشکر میں ایک سردار کے نام)

میں نے تم پر اورتمہارے ماتحت لشکر پر مالک بن الحارث(۱) الاشترکو سردار قراردے دیا ہے لہٰذا ان کی باتوں پر توجہ دینا اور ان کی اطاعت کرنا اورانہیں کو اپنی زرہ اور سپر قراردینا کہ مالک ان لوگوں میں ہیں جن کی کمزوری اور لغزش کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور نہ وہ اس موقع پر سستی کرسکتے ہیںجہاںتیز زیادہ مناسب ہو۔اورنہ وہاں تیزی کرس کتے ہیں جہاں سستی زیادہ قرین عقل ہو۔

(۱۴)

آپ کی نصیحت

(اپنے لشکر کے نام صفین کی جنگ کے آغاز سے پہلے )

خبردار! اس وقت تک جنگ شروع نہ کرنا جب تک وہ لوگ پہل نہ کردیں کہ تم بحمد اللہ اپنی دلیل(۲) رکھتے ہو اور انہیں اس وقت تک موقع دینا جب تک پہل نہ کردیں ایک دوسری حجت ہو جائے گی۔اس کے بعد جب حکم خدا سے دشمن کو شکست ہو جائے تو کسی بھاگنے والے کو قتل نہ کرنا اور کسی عاجز کو ہلاک نہ کرنا اور کسی زخمی

(۱)مالک اشتران لوگوں میں ہیں جنہوں نے ابو ذر کے غسل و کفن کا انتظام کیا تھا۔جن کے بارے میں رسول اکرم (ص) نے فرمایا تھا کہ میرا ایک صحابی عالم غربت میں انتقال کرے گا اورصاحبان ایمان کی ایک جماعت اس کی تجہیز و تکفین کا انتظام کرے گی۔ (استیعاب ترجمہ جندب)

(۲)یہ دلیل سورہ ٔ حجرات کی آیت ۹ ہے جس میں باغی سے قتال کا حکم دیا گیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ معاویہ اوراس کی جماعت باغی تھی جس کی تصدیق جناب عمار یاسر کی شہادت سے ہوگئی جن کے قاتل کو سرکار دوعالم (ص) نے باغی قرر دیا تھا۔


- ولَا تَهِيجُوا النِّسَاءَ بِأَذًى - وإِنْ شَتَمْنَ أَعْرَاضَكُمْ وسَبَبْنَ أُمَرَاءَكُمْ - فَإِنَّهُنَّ ضَعِيفَاتُ الْقُوَى والأَنْفُسِ والْعُقُولِ - إِنْ كُنَّا لَنُؤْمَرُ بِالْكَفِّ عَنْهُنَّ وإِنَّهُنَّ لَمُشْرِكَاتٌ - وإِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَتَنَاوَلُ الْمَرْأَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ - بِالْفَهْرِ أَوِ الْهِرَاوَةِ - فَيُعَيَّرُ بِهَا وعَقِبُه مِنْ بَعْدِه.

(۱۵)

ومن دعاء لهعليه‌السلام

كانعليه‌السلام يقول إذا لقي العدو محاربا

اللَّهُمَّ إِلَيْكَ أَفْضَتِ الْقُلُوبُ ومُدَّتِ الأَعْنَاقُ - وشَخَصَتِ الأَبْصَارُ ونُقِلَتِ الأَقْدَامُ وأُنْضِيَتِ الأَبْدَانُ - اللَّهُمَّ قَدْ صَرَّحَ مَكْنُونُ الشَّنَآنِ - وجَاشَتْ مَرَاجِلُ الأَضْغَانِ - اللَّهُمَّ إِنَّا نَشْكُو إِلَيْكَ غَيْبَةَ نَبِيِّنَا - وكَثْرَةَ عَدُوِّنَا وتَشَتُّتَ أَهْوَائِنَا -( رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنا وبَيْنَ قَوْمِنا بِالْحَقِّ - وأَنْتَ خَيْرُ الْفاتِحِينَ ) .

(۱۶)

وكان يقولعليه‌السلام

لأصحابه عند الحربك

پر قاتلانہ حملہ نہ کرنا۔اورعورتوں کو اذیت مت دینا چاہے وہ تمہیں گالیاں ہی کیوں نہ دیں اور تمہارے حکام کوبرا بھلا ہی کیوں نہ کہیں۔کہ یہ قوت نفس اور عقل کے اعتبارسے کمزور ہیں اور ہم پیغمبر (ص) کے زمانے میں بھی ان کے بارے میں ہاتھ روک لینے پر مامور تھے ۔ جب کہ وہ مشرک تھیں اوراس وقت بھی اگر کوئی شخص عورتوں سے پتھر یالکڑی کے ذریعہ تعرض کرتا تھا تو اسے اور اس کی نسلوں کو مطعون کیا جاتا تھا۔

(۱۵)

آپ کی دعا

(جسے دشمن کے مقابلہ کے وقت دہرایا کرتے تھے)

خدایا تیری ہی طرف دل کھنچ رہے ہیں اور گردنیں اٹھی ہوئی ہیں اورآنکھیں لگی ہوئی ہیں اورقدم آگے بڑھ رہے ہیں اوربدن لاغر ہو چکے ہیں۔ خدایا چھپے ہوئے کینے سامنے آگئے ہیں اور عداوتوں کی دیگیں جوش کھانے لگی ہیں۔

خدایا ہم تیریر بارگاہ میں اپنے رسول کی غیبت اوردشمنوں کی کثرت کی اورخواہشات کے تفرقہ کی فریاد کر رہے ہیں ۔

خدایا ہمارے اوردشمنوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردے کہ تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

(۱۶)

آپ کا ارشاد گرامی

(جو جنگ کے وقت اپنے اصحاب سے فرمایا کرتے تھے )


لَا تَشْتَدَّنَّ عَلَيْكُمْ فَرَّةٌ بَعْدَهَا كَرَّةٌ - ولَا جَوْلَةٌ بَعْدَهَا حَمْلَةٌ - وأَعْطُوا السُّيُوفَ حُقُوقَهَا - ووَطِّئُوا لِلْجُنُوبِ مَصَارِعَهَا - واذْمُرُوا أَنْفُسَكُمْ عَلَى الطَّعْنِ الدَّعْسِيِّ والضَّرْبِ الطِّلَحْفِيِّ - وأَمِيتُوا الأَصْوَاتَ فَإِنَّه أَطْرَدُ لِلْفَشَلِ –

فَوَ الَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وبَرَأَ النَّسَمَةَ - مَا أَسْلَمُوا ولَكِنِ اسْتَسْلَمُوا وأَسَرُّوا الْكُفْرَ - فَلَمَّا وَجَدُوا أَعْوَاناً عَلَيْه أَظْهَرُوه.

(۱۷)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى معاوية - جوابا عن كتاب منه إليه

وأَمَّا طَلَبُكَ إِلَيَّ الشَّامَ - فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ لأُعْطِيَكَ الْيَوْمَ مَا مَنَعْتُكَ أَمْسِ

خبردا رتم پروہ فرار(۱) گراں نہ گزرے جس کے بعد حملہ کرنے کا امکان ہو اور وہ پسپائی پریشان کن نہ ہوجس کے بعد دوبارہ واپسی کا امکان ہو۔تلواروں کوان کا حق دے دواور پہلو کے بھل گرنے والے دشمنوں کے لئے مقتل تیار رکھو۔اپنے نفس کو شدید نیزہ بازی اورسخت ترین شمشیر زنی کے لئے آمادہ رکھو اور آوازوں کومردہ بنا دو کہ اس سے کمزوری دور ہوجاتی ہے ۔

قسم ہے اس ذات کی جس نے دانہ کو شگافتہ کیا ہے اورجاندار چیزوں کوپیدا کیا ہے کہ یہ لوگ اسلام نہیں لائے ہیں بلکہ حالات کے سامنے سپر انداختہ ہوگئے ہیں اور اپنے کفر کو چھپائے ہوئے ہیں اورجیسے ہی مددگار مل گئے ویسے ہی اظہار کردیا۔

(۱۷)

آپ کامکتوب گرامی

(معاویہ کے نام۔اس کے ایک خط کے جواب میں )

تمہارا یہ مطالبہ(۲) کہ میں شام کا علاقہ تمہارے حوالے کردوں۔تو جس چیز سے کل انکار کرچکا ہوں وہ

(۱)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ میدان جنگ میں ایسے حالات آجاتے ہیں جب سپاہی کو اپنی جگہ چھوڑنا پڑتی ہے۔ اور ایک طرح سے فرارکا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔لیکن اس میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔بشرطیکہ حوصلہ جہاد برقرار رہے اورجذبہ قربانی میں فرق نہ آنے پائے ۔ میدان احد کا سب سے بڑا عیب یہی تھا کہ '' صحابہ کرام '' جذبہ قربانی سے عاری ہوگئے تھے اور رسول اکرم (ص) کے پکارنے کے باوجود پلٹ کر آنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ایسی صورت حال یقینا اس قابل ہے کہ اس کی مذمت کی جائے اور یہ ننگ و عارنسلوں میں باقی رہ جائے ۔ورنہ افراد کے بعد حملہ یا پسپائی کے بعد واپسی کوئی ایسی بات نہیں ہے جس پرمذمت یا ملامت کی جائے ۔

(۲)معاویہ نے اپنے خط میں چار نکتے اٹھائے تھے اورحضرت نے سب کے الگ الگ جوابات دئیے ہیں اورحق و باطل کا ابدی فیصلہ کردیا ہے اورآخرمیں یہ بھی واضح کردیاہے کہ تمام معاملات میں مساوات فرض کرلینے کے بعد بھی شرفت نبوت کاکوئی مقام نہیں ہو سکتا ہے جوپروردگارنے بنی ہاشم کو عطا کیا ہے اوراسی کابنی امیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اورذاتی کردار کے اعتبار سے بھی بنی ہاشم اسلام کی منزل پر فائز تھے اور بنی امیہ نے فتح مکہ کے موقع پر مجبوراً کلمہ پڑھ لیا تھا اور ظاہر ہے کہ استسلام اسلام کے مانند نہیں ہو سکتا ہے ۔


وأَمَّا قَوْلُكَ - إِنَّ الْحَرْبَ قَدْ أَكَلَتِ الْعَرَبَ إِلَّا حُشَاشَاتِ أَنْفُسٍ بَقِيَتْ - أَلَا ومَنْ أَكَلَه الْحَقُّ فَإِلَى الْجَنَّةِ - ومَنْ أَكَلَه الْبَاطِلُ فَإِلَى النَّارِ – وأَمَّا اسْتِوَاؤُنَا فِي الْحَرْبِ والرِّجَالِ - فَلَسْتَ بِأَمْضَى عَلَى الشَّكِّ مِنِّي عَلَى الْيَقِينِ - ولَيْسَ أَهْلُ الشَّامِ بِأَحْرَصَ عَلَى الدُّنْيَا - مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ عَلَى الآخِرَةِ - وأَمَّا قَوْلُكَ إِنَّا بَنُو عَبْدِ مَنَافٍ - فَكَذَلِكَ نَحْنُ ولَكِنْ لَيْسَ أُمَيَّةُ كَهَاشِمٍ - ولَا حَرْبٌ كَعَبْدِ الْمُطَّلِبِ ولَا أَبُو سُفْيَانَ كَأَبِي طَالِبٍ - ولَا الْمُهَاجِرُ كَالطَّلِيقِ ولَا الصَّرِيحُ كَاللَّصِيقِ - ولَا الْمُحِقُّ كَالْمُبْطِلِ ولَا الْمُؤْمِنُ كَالْمُدْغِلِ - ولَبِئْسَ الْخَلْفُ خَلْفٌ يَتْبَعُ سَلَفاً هَوَى فِي نَارِ جَهَنَّمَ.

وفِي أَيْدِينَا بَعْدُ فَضْلُ النُّبُوَّةِ الَّتِي أَذْلَلْنَا بِهَا الْعَزِيزَ - ونَعَشْنَا بِهَا الذَّلِيلَ - ولَمَّا أَدْخَلَ اللَّه الْعَرَبَ فِي دِينِه أَفْوَاجاً - وأَسْلَمَتْ لَه هَذِه الأُمَّةُ طَوْعاً وكَرْهاً - كُنْتُمْ مِمَّنْ دَخَلَ فِي الدِّينِ إِمَّا رَغْبَةً وإِمَّا رَهْبَةً - عَلَى حِينَ

آج عطا نہیں کرسکتا ہوں اور تمہارا یہ کہنا کہ جنگ نے عرب کاخاتمہ کردیا ہے اورچند ایک افراد کے علاوہ کچھ نہیں باقی رہ گیا ہے تو یاد رکھوکہ جس کا خاتمہ حق پر ہوا ہے اس کا انجام جنت ہے اورجسے باطل کھا گیا ہے اس کا انجام جہنم ہے۔ رہ گیا ہم دونوں کا جنگ اور شخصیات کے بارے میں برابر ہونا۔تو تم شک میں اس طرح تیز رفتاری سے کام نہیں کرسکتے ہو جتنامیں یقین میں کر سکتا ہوں اور اہل شام دنیاکے بارے میں اتنے حریص نہیں ہیں جس قدراہل عراق آخرت کے بارے میں فکر مند ہیں۔

اورتمہارا یہ کہنا کہ ہم سب عبد مناف کی اولاد ہیں تو یہ بات صحیح ہے لیکن نہ امیہ ہاشم جیسا ہو سکتا ہے اور نہ حرب عبدالمطلب جیسا۔نہ ابو سفیان ابو طالب کاہمسر ہو سکتا ہے اور نہ راہ خدا میں ہجرت کرنے والا آزاد کردہ افراد جیسا۔نہ واضح نسب والے کا قیاس شجرہ سے چپکائے جانے والے پر ہوسکتا ہے اور نہ حقدار کو باطل نواز جیسا قراردیا جاسکتا ہے ۔مومن کبھی منافق کے برابر نہیں رکھا جا سکتا ہے۔بد ترین اولاد تو وہ ہے جو اس سلف کے نقش قدم پر چلے جو جہنم میں گر چکا ہے۔

اس کے بعد ہمارے ہاتھوں میں نبوت کا شرف ہے جس کے ذریعہ ہم نے باطل کے عزت داروں کو ذلیل بنایا ہے اور حق کے کمزوروں کو اوپر اٹھایا ہے۔اورجب پروردگارنے عرب کو اپنے دین میں فوج در فوج داخل کیا ہے اوری ہ قوم بخوشی یا بکراہت مسلمان ہوئی ہے تو تم انہیں دین کے دائرہ میں داخل ہونے والوں میں تھے یا بہ


فَازَ أَهْلُ السَّبْقِ بِسَبْقِهِمْ - وذَهَبَ الْمُهَاجِرُونَ الأَوَّلُونَ بِفَضْلِهِمْ - فَلَا تَجْعَلَنَّ لِلشَّيْطَانِ فِيكَ نَصِيباً - ولَا عَلَى نَفْسِكَ سَبِيلًا والسَّلَامُ.

(۱۸)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى عبد الله بن عباس - وهو عامله على البصرة

واعْلَمْ أَنَّ الْبَصْرَةَ مَهْبِطُ إِبْلِيسَ ومَغْرِسُ الْفِتَنِ - فَحَادِثْ أَهْلَهَا بِالإِحْسَانِ إِلَيْهِمْ - واحْلُلْ عُقْدَةَ الْخَوْفِ عَنْ قُلُوبِهِمْ. وقَدْ بَلَغَنِي تَنَمُّرُكَ لِبَنِي تَمِيمٍ وغِلْظَتُك عَلَيْهِمْ - وإِنَّ بَنِي تَمِيمٍ لَمْ يَغِبْ لَهُمْ نَجْمٌ - إِلَّا طَلَعَ لَهُمْ آخَرُ - وإِنَّهُمْ لَمْ يُسْبَقُوا بِوَغْمٍ فِي جَاهِلِيَّةٍ ولَا إِسْلَامٍ - وإِنَّ لَهُمْ بِنَا رَحِماً مَاسَّةً وقَرَابَةً خَاصَّةً - نَحْنُ مَأْجُورُونَ عَلَى صِلَتِهَا - ومَأْزُورُونَ عَلَى قَطِيعَتِهَا - فَارْبَعْ أَبَا الْعَبَّاسِ رَحِمَكَ اللَّه - فِيمَا جَرَى عَلَى لِسَانِكَ ويَدِكَ مِنْ خَيْرٍ وشَرٍّ - فَإِنَّا شَرِيكَانِ فِي ذَلِكَ - وكُنْ عِنْدَ صَالِحِ ظَنِّي بِكَ - ولَا يَفِيلَنَّ رَأْيِي فِيكَ والسَّلَامُ.

رغبت یا بہ خوف جب کہ سبقت حاصل کرنے والے سبقت حاصل کرچکے تھے اور مہاجرین اولین اپنی فضلیت پاچکے تھے ۔دیکھوخبردار شیطان کواپنی زندگی کا حصہ دار مت بنائو اور اسے اپنے نفس پر راہمت دو۔والسلام ۔

(۱۸)

حضرت کا مکتوب گرامی

(بصرہ کے عامل عبداللہ بن عباس کے نام)

یاد رکھو کہ یہ بصرہ ابلیس کے اترنے اور فتنوں کے ابھرنے کی جگہ کا نام ہے لہٰذا یہاں کے لوگ کے ساتھ اچھابرتائو کرنا اور ان کے دلوں سے خوف کی گرہ کھول دینا۔

مجھے یہ خبر ملی ہے کہ تم بنی تمیم کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہو اور ان سے سخت قسم کابرتائو کرتے ہو تو یاد رکھو کہ بنی تمیم وہ لوگ ہیں کہ جب ان کا کوئی ستارہ ڈوبتا ہے تو دوسرا ابھرآتا ہے۔یہ جنگ کے معاملہ میں جاہلیت یا اسلام کبھی بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے ہیں اور پھر ہمارا ان سے رشتہ داری اورقرابت کا تعلق بھی ہے کہ اگرہم اس کاخیال رکھیں گے تواجرپائیں گے اور قطع تعلق کرلیں گے تو گناہ گار ہوں گے لہٰذا ابن عباس خدا تم پر رحمت نازل کرے۔ان کے ساتھ اپنی زبان یا ہاتھ پر جاری ہونے والی اچھائی یا برائی میں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا کہ ہم دونوں ان ذمہ داریوں میں شریک ہیں۔اور دیکھو تمہارے بارے میں میرا حسن ظن برقرار رہے اور میری رائے غلط ثابت ہونے پائے ۔


(۱۹)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى بعض عماله

أَمَّا بَعْدُ - فَإِنَّ دَهَاقِينَ أَهْلِ بَلَدِكَ شَكَوْا مِنْكَ غِلْظَةً وقَسْوَةً - واحْتِقَاراً وجَفْوَةً - ونَظَرْتُ فَلَمْ أَرَهُمْ أَهْلًا لأَنْ يُدْنَوْا لِشِرْكِهِمْ - ولَا أَنْ يُقْصَوْا ويُجْفَوْا لِعَهْدِهِمْ - فَالْبَسْ لَهُمْ جِلْبَاباً مِنَ اللِّينِ تَشُوبُه بِطَرَفٍ مِنَ الشِّدَّةِ - ودَاوِلْ لَهُمْ بَيْنَ الْقَسْوَةِ والرَّأْفَةِ - وامْزُجْ لَهُمْ بَيْنَ التَّقْرِيبِ والإِدْنَاءِ - والإِبْعَادِ والإِقْصَاءِ إِنْ شَاءَ اللَّه.

(۲۰)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى زياد ابن أبيه - وهو خليفة عامله عبد الله بن عباس على البصرة وعبد الله عامل أمير المؤمنينعليه‌السلام يومئذ عليها - وعلى كور الأهواز وفارس وكرمان وغيرها:

(۱۹)

آپ کامکتوب گرامی

(اپنے بعض عمال کے نام )

اما بعد! تمہارے شہر کے زمینداروں نے تمہارے بارے میں سختی ۔سنگدلی ۔تحقیر و تذلیل اورتشدد کی شکایت کی ہے اورمیں نے ان کے بارے میں غورکرلیا ہے۔وہ اپنے شرک کی بنا پر قریب(۱) کرنے کے قابل تو نہیں ہیں لیکن عہدو پیمان کی بنا پرانہیں دوربھی نہیں کیا جاسکتا ہے اوران پر زیادتی بھی نہیں کی جا سکتی ہے لہٰذا تم ان کے بارے میں ایسی نرمی کاشعار اختیار کرو جس میں قدرے سختی بھی شامل ہو اور ان کے ساتھ سختی اور نرمی کے درمیان کا برتائو کرو کہ کبھی قریب کرلو۔کبھی دور کردو کبھی نزدیک بلا لو اور کبھی الگ رکھو۔انشاء اللہ ۔

(۲۰)

آپ کا مکتوب گرامی

(زیاد بن ابیہ کے نام جوبصرہ کے عامل عبداللہ بن عباس کا نائب(۲) ہوگیا تھا اور ابن عباس بصرہ اور اہواز کے تمام اطراف کے عامل تھے )

(۱)واضح رہے کہ کسی کا قریب کر لینااورہے اور اس کے ساتھ عادلانہ اورمنصفانہ برتائو کرنا اور ہے۔اسلام عادلانہ برتائو کاحکم ہر ایک کے بارے میں دیتا ہے لیکن قربت کا جواز صرف صاحبان ایمان و کردار کے لئے ہے۔کفار و مشرکین کو تو اس نے حرم خدا سے بھی دور کردیا ہے اور ان کاداخلہ حدود حرم میں بند کردیا ہے۔یہ اور بات ہے کہ آج عالم اسلام میں کفارو مشرکین ہی قریب بنائے جانے کے قابل ہیں اور کلمہ گو مسلمان اس لائق نہیں رہ گئے ہیں اور ان سے صبح و شام سرد جنگ صرف کفار و مشرکین سے قربت پیدا کرنے یا بر قرار رکھنے کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔اللہ اس اسلام پر رحم کرے اور اس امتکو عقل سلیم عنایت فرمائے ۔

(۲)واضح رہے کہ حضرت اختیاری طور پر کسی ایسے شخص کو عہدہ نہیں دے سکتے ہیں جس کا نسب مشکوک ہو۔یہکام ابن عباس نے ذاتی طورپر کیا تھا۔اسی لئے حضرت نے نہایت ہی سخت لہجہ میں خطاب فرمایا ہے۔


وإِنِّي أُقْسِمُ بِاللَّه قَسَماً صَادِقاً - لَئِنْ بَلَغَنِي أَنَّكَ خُنْتَ مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئاً صَغِيراً أَوْ كَبِيراً - لأَشُدَّنَّ عَلَيْكَ شَدَّةً تَدَعُكَ قَلِيلَ الْوَفْرِ - ثَقِيلَ الظَّهْرِ ضَئِيلَ الأَمْرِ والسَّلَامُ

(۲۱)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى زياد أيضا فَدَعِ الإِسْرَافَ مُقْتَصِداً - واذْكُرْ فِي الْيَوْمِ غَداً - وأَمْسِكْ مِنَ الْمَالِ بِقَدْرِ ضَرُورَتِكَ - وقَدِّمِ الْفَضْلَ لِيَوْمِ حَاجَتِكَ.

أَتَرْجُو أَنْ يُعْطِيَكَ اللَّه أَجْرَ الْمُتَوَاضِعِينَ - وأَنْتَ عِنْدَه مِنَ الْمُتَكَبِّرِينَ - وتَطْمَعُ وأَنْتَ مُتَمَرِّغٌ فِي النَّعِيمِ تَمْنَعُه الضَّعِيفَ والأَرْمَلَةَ - أَنْ يُوجِبَ لَكَ ثَوَابَ الْمُتَصَدِّقِينَ - وإِنَّمَا الْمَرْءُ مَجْزِيٌّ بِمَا أَسْلَفَ وقَادِمٌ عَلَى مَا قَدَّمَ والسَّلَامُ.

(۲۲)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى عبد الله بن العباس رحمه الله تعالى وكان عبد اللَّه يقول: «ما انتفعت بكلام بعد كلام رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،

میں اللہ کی سچی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر مجھے خبر مل گئی کہ تم نے مسلمانوں کے مال غنیمت میں چھوٹی یا بڑی قسم کی خیانت کی ہے تو میں تم پر ایسی سختی کروں گا کہ تم نادار ۔بوجھل پیٹھ والے اور بے ننگ ونام ہو کر رہ جائو گے ۔والسلام )

(۲۱)

آپ کامکتوب گرامی

(زیاد ہی کے نام)

(اسراف کوچھوڑ کرمیانہ روی اختیار کرو اورآج کے دن کل کویاد رکھو۔بقدر ضرورت مال روک کر باقی روز حاجت کے لئے آگے بڑھا دو۔)

کیا تمہارا خیال یہ ہے کہ تم متکبروں میں رہو گے اورخدا تمہیں متواضع افراد جیسا اجردے دے گا یا تمہارے واسطے صدقہ وخیرات کرنے والوں کا ثواب لازم قراردے دیگا اورتم نعمتوں میں کروٹیں بدلتے رہوگے نہ کسی کمزور کاخیال کرو گے اور نہ کسی بیوہ کا جب کہ انسان کو اسی کا اجرملتا ہے جو اس نے انجام دیا ہے اور وہ اسی پر وارد ہوتا ہے جو اس نے پہلے بھیج دیا ہے۔والسلام

(۲۲)

آپ کا مکتوب گرامی

(عبداللہ بن عباس کے نام۔جس کے بارے میں خود ابن عباس کا مقولہ تھا کہمیں نے رسول اکرم


كانتفاعي بهذا الكلام!»

أَمَّا بَعْدُ - فَإِنَّ الْمَرْءَ قَدْ يَسُرُّه دَرْكُ مَا لَمْ يَكُنْ لِيَفُوتَه - ويَسُوؤُه فَوْتُ مَا لَمْ يَكُنْ لِيُدْرِكَه - فَلْيَكُنْ سُرُورُكَ بِمَا نِلْتَ مِنْ آخِرَتِكَ - ولْيَكُنْ أَسَفُكَ عَلَى مَا فَاتَكَ مِنْهَا - ومَا نِلْتَ مِنْ دُنْيَاكَ فَلَا تُكْثِرْ بِه فَرَحاً - ومَا فَاتَكَ مِنْهَا فَلَا تَأْسَ عَلَيْه جَزَعاً - ولْيَكُنْ هَمُّكَ فِيمَا بَعْدَ الْمَوْتِ.

(۲۳)

ومن كلام لهعليه‌السلام

قاله قبل موته على سبيل الوصية - لما ضربه ابن ملجم لعنه الله:

وَصِيَّتِي لَكُمْ أَلَّا تُشْرِكُوا بِاللَّه شَيْئاً - ومُحَمَّدٌصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فَلَا تُضَيِّعُوا سُنَّتَه - أَقِيمُوا هَذَيْنِ الْعَمُودَيْنِ - وأَوْقِدُوا هَذَيْنِ الْمِصْبَاحَيْنِ وخَلَاكُمْ ذَمٌّ !

أَنَا بِالأَمْسِ صَاحِبُكُمْ - والْيَوْمَ عِبْرَةٌ لَكُمْ وغَداً مُفَارِقُكُمْ - إِنْ أَبْقَ فَأَنَا وَلِيُّ دَمِي - وإِنْ أَفْنَ فَالْفَنَاءُ مِيعَادِي -

کے بعد کسی کلام سے اس قدر استفادہ نہیں کیا ہے جس قدراس کلام سے کیا ہے )

امابعد! کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان اسچیز کو پا کر بھی خوش ہو جاتا ہے جواس کے ہاتھ سے جانے والی نہیں تھی اور اس چیز کے چلے جانے سے بھی رنجیدہ ہو جاتا ہے جواسے ملنے والی نہیں تھی لہٰذا تمہارا فرض ہے کہ اس آخرت پر خوشی منائو جو حاصل ہو جائے اوراس پر افسوس کروجو اس میںسے حاصل نہ ہو سکے ۔دنیا حاصل ہوجائے تواس پر زیادہ خوشی کا اظہار نہ کرو اور ہاتھ سے نکل جائے تو بے قرار ہوکرافسوس نہ کرو۔تمہاری تمامتر فکر موت کے بعد کے بارے میں ہونی چاہیے ۔

(۲۳)

آپ کا ارشاد گرامی

(جسے اپنی شہادت سے پہلے بطور وصیت فرمایا ہے)

تم سب کے لئے میری وصیت یہ ہے کہ خبردار خداکے بارے میں کسی طرح کا شرک نہ کرنا اور حضرت محمد (ص) کی سنت کو ضائع اور برباد نہ کرنا۔ان دونوں ستونوں کوقائم رکھو اور ان دونوں چراغوں کو روشن رکھو۔اس کے بعد کسی مذمت کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔

میں کل تمہارے ساتھ تھا اور آج تمہارے لئے عبرت بن گیا ہوں اور کل تم سے جدا ہو جائوں گا۔اس کے بعد میں باقی رہ گیا تو اپنے خون کاصاحب اختیار میں خود ہوں ورنہ اگرمیری مدت حیات پوری ہوگئی ہے تو میں دنیا


وإِنْ أَعْفُ فَالْعَفْوُ لِي قُرْبَةٌ وهُوَ لَكُمْ حَسَنَةٌ - فَاعْفُوا:( أَلا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ الله لَكُمْ ) .

واللَّه مَا فَجَأَنِي مِنَ الْمَوْتِ وَارِدٌ كَرِهْتُه - ولَا طَالِعٌ أَنْكَرْتُه – ومَاكُنْتُ إِلَّا كَقَارِبٍ وَرَدَ وطَالِبٍ وَجَدَ -( وما عِنْدَ الله خَيْرٌ لِلأَبْرارِ ) .

قال السيد الشريفرضي‌الله‌عنه - أقول وقد مضى بعض هذا الكلام - فيما تقدم من الخطب - إلا أن فيه هاهنا زيادة أوجبت تكريره»

(۲۴)

ومن وصية لهعليه‌السلام

بما يعمل في أمواله - كتبها بعد منصرفه من صفين:

هَذَا مَا أَمَرَ بِه عَبْدُ اللَّه عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ

سے چلا جائوںگا۔میں اگر معاف(۱) کردوں تو یہ میرے لئے قربت الٰہی کا ذریعہ ہوگا اور تمہارے حق میں بھی ایک نیکی ہوگی لہٰذا تم بھی معاف کردینا۔'' کیا تم نہیں چاہتے ہوکہ اللہ تمہیں بخش دے ''

خدا کی قسم یہ اچانک موت ایسی نہیں ہے جسے میں نا پسند کرتا ہوں اور نہ ایسا سانحہ ہے جسے میں برا سمجھتا ہوں ۔میں تو اس شخص کے مانند ہوں جو رات بھر پانی کی جستجو میں رہے اور صبح کو چشمہ پروار ہو جائے اورتلاش کے بعد اپنے مقصد کو پالے اور پھرخداکی بارگاہ میں جو کچھ بھی ہے وہ نیک کرداروں کے لئے بہتر ہی ہے۔

سید رضی : اس کلام کا ایک حصہ پہلے گزر چکا ہے لیکن یہاں کچھ اصنافات تھے لہٰذا مناسب معلوم ہواکہ اسے دوبارہ نقل کردیا جائے ۔

(۲۴)

آپ کی وصیت

(اپنے اموال کے بارےمیں جسے جنگ صفین کی واپسی پر تحریر فرمایا ہے)

یہ بندۂ خدا ! علی بن ابی طالب امیر المومنین کاحکم

(۱)واضح رہے کہ اس معافی سے مراد دنیا میں انتقام نہ لینا ہے کہ قاتل کے جرم کی دوحیثیتیں ہوتی ہیں ۔وہ انسانی دنیا میں ایک خون کا ذمہ دار ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں قصاص کا قانون سامنے آتا ہے اور مذہبی دنیا میں حکم الٰہی کی مخالفت کامجرم ہوتا ہے جس کا انجام آتش جہنم ہے۔دنیا کے قصاص و انتقام میں فسادات کے اندیشے ہوتے ہیں اورعداوتوں کے شعلے مزید بھڑک اٹھتے ہیں لیکن آخرت کے عذاب میں کوئی خطرہ نہیں ہوتا ہے۔اس لئے صاحبان عقل و دانش یہاں کے انتقام کو نظراندازکردیتے ہیں تاکہ مزید فساد نہ پیدا ہو سکے اور اس بات سے مطمئن رہتے ہیں کہ مجرم کے لئیعذاب جہنم ہی کافی ہے اور خدا سے بہتر انتقام لینے والا کون ہے ۔


- فِي مَالِه ابْتِغَاءَ وَجْه اللَّه - لِيُولِجَه بِه الْجَنَّةَ ويُعْطِيَه بِه الأَمَنَةَ

مِنْهَا فَإِنَّه يَقُومُ بِذَلِكَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ - يَأْكُلُ مِنْه بِالْمَعْرُوفِ - ويُنْفِقُ مِنْه بِالْمَعْرُوفِ - فَإِنْ حَدَثَ بِحَسَنٍ حَدَثٌ وحُسَيْنٌ حَيٌّ - قَامَ بِالأَمْرِ بَعْدَه وأَصْدَرَه مَصْدَرَه.

وإِنَّ لِابْنَيْ فَاطِمَةَ مِنْ صَدَقَةِ عَلِيٍّ مِثْلَ الَّذِي لِبَنِي عَلِيٍّ - وإِنِّي إِنَّمَا جَعَلْتُ الْقِيَامَ بِذَلِكَ - إِلَى ابْنَيْ فَاطِمَةَ ابْتِغَاءَ وَجْه اللَّه - وقُرْبَةً إِلَى رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - وتَكْرِيماً لِحُرْمَتِه وتَشْرِيفاً لِوُصْلَتِه

ويَشْتَرِطُ عَلَى الَّذِي يَجْعَلُه إِلَيْه - أَنْ يَتْرُكَ الْمَالَ عَلَى أُصُولِه - ويُنْفِقَ مِنْ ثَمَرِه حَيْثُ أُمِرَ بِه وهُدِيَ لَه - وأَلَّا

ہے اپنے اموال(۱) کے بارے میں جس کا مقصد رضائے پروردگار ہے تاکہ اس کے ذریعہ جنت میں داخل ہو سکے اور روز محشر کے ہول سے امان پا سکے ۔

ان اموال کی نگرانی حسن بن علی کریں گے بقدر ضرورت استعمال کریں گے اور بقدر مناسب انفاق کریں گے۔اس کے بعد اگر انہیں کوئی حادثہ پیش آگیا اور جبیں باقی رہ گئے تو ذمہ دار وہ ہوں گے اور اسی انداز پر کام کریں گے ۔

اولاد فاطمہ کا حق علی کے صدقات میں وہی ہے جودیگر اولاد علی کا ہے۔میں نے نگرانی کاکام اولاد فاطمہ کو صرف رضائے الٰہی اورقربت پیغمبر (ص) کے خیال سے سونپ دیاہے کہ اس طرح حضرت کی حرمت کا احترام بھی ہو جائے گا اور آپ کی قرابت کا اعزاز بھی بر قرار رہے گا۔

لیکن اس کے بعد بھی والی کے لئے یہ شرط ہے کہ مال کی اصل کوباقی رکھے اور صرف اس کے ثمرات کوخرچ کرے ۔وہ بھی ان راہوں میں جن کا حکم دیا گیا ہے اورجن کی ہدایت دی گئی ہے اور خبردار اس قریہ کے

(۱)مورخین کے بیان کے مطابق امیر المومنین نے اپنی زندگی میں صرف ارواح و نفوس کی سر زمینوں کو زندہ کرنے کا کام انام نہیں دیا ہے ۔بلکہ مادی زمینوں میں بھی مسلسل کام کرتے رہے ہیں۔زمینوں کو قابل کاشت بنایا ہے۔چشموں کو جاری کیا ہے۔درختوں کی سینچائی کی ہے اور ایک مزدورجیسی زندگی گذاری ہے اور پھر اپنی ساری زحمتوں اور محنتوں کے نتیجہ کو راہ خدا میں وقف کردیا ہے تاکہ بندگان خدا استفادہ کر سکیں اور اولاد علی بھی صرف بقدر ضرورت فائدہ اٹھا سکے۔ ایساکردار اب صرف کا غذات پر رہ گیا ہے۔ورنہ اس کا وجود دنیا سے عنقا ہو چکا ہے نہ علی والوں میں دیکھنے میں آتا ہے اور نہ اغیار میں سر براہان مملکت فوٹو کھنچوانے کے لئے ہاتھ میں پھاوڑا اورکدال لے لیتے ہیں ورنہ انہیں زراعت سے کیا تعلق ہے ۔زمینوں کازندہ رکھنا ابو تراب کاکام تھا اور انہوں نے اس کاحق ادا کردیا۔باقی سب داستانیں ہیں جو صفحہ قرطاس پرمحفوظ کردی گئی ہیں اور ان میں روشنائی کی چمک ہے۔کردار اورحقیقت کی روشنی نہیں ہے۔


يَبِيعَ مِنْ أَوْلَادِ نَخِيلِ هَذِه الْقُرَى وَدِيَّةً - حَتَّى تُشْكِلَ أَرْضُهَا غِرَاساً.

ومَنْ كَانَ مِنْ إِمَائِي اللَّاتِي أَطُوفُ عَلَيْهِنَّ - لَهَا وَلَدٌ أَوْ هِيَ حَامِلٌ - فَتُمْسَكُ عَلَى وَلَدِهَا وهِيَ مِنْ حَظِّه - فَإِنْ مَاتَ وَلَدُهَا وهِيَ حَيَّةٌ فَهِيَ عَتِيقَةٌ - قَدْ أَفْرَجَ عَنْهَا الرِّقُّ وحَرَّرَهَا الْعِتْقُ.

قال الشريف - قولهعليه‌السلام في هذه الوصية - وألا يبيع من نخلها ودية الودية الفسيلة وجمعها ودي. وقولهعليه‌السلام حتى تشكل أرضها غراسا - هو من أفصح الكلام - والمراد به أن الأرض يكثر فيها غراس النخل - حتى يراها الناظر على غير تلك الصفة التي عرفها بها - فيشكل عليه أمرها ويحسبها غيرها.

(۲۵)

ومن وصية لهعليه‌السلام

كان يكتبها لمن يستعمله على الصدقات

قال الشريف: وإنما ذكرنا هنا جملا ليعلم بها أنهعليه‌السلام كان يقيم عماد الحق، ويشرع أمثلة العدل، في صغير الأمور وكبيرها

نخلستان میں سے ایک پودا بھی فروخت نہ کرے یہاں تک کہ زمین دوبارہ بونے کے لائق نہ رہ جائے ۔

میری وہ کنیزیں جن سے میرا تعلق رہ چکا ہے اور ان کی اولاد بھی موجود ہے یا وہ حاملہ ہیں۔ان کو ان کی اولاد کے حساب میں روک لیا جائے اور انہیں کا حصہ قرار دے دیا جائے ۔اس کے بعد اگربچہ مرجائے اور کنیز زندہ رہ جائے تو اسے آزاد کردیا جائے کہ گویا اس کی غلامی ختم ہوچکی ہے اور آزادی حاصل ہو چکی ہے ۔

سید رضی : اس وصیت میں حضرت کا ارشاد '' ودیہ بھی فروخت نہ کیا جائے '' اس میں ودیہ سے مراد خرمہ کے چھوٹے درخت ہیں جس کی جمع ودی ہوتی ہے اور '' حتی تشکل ارضھا غراسا ''ایک فصیح ترین کلام ہے جس کامقصد یہ ہے کہ زمین میں کھجور کی درخت کاری اتنی زیادہ ہو جائے کہ دیکھنے والا اس کی اصل ہئیت کا اندازہ نہ کر سکے اور اس کے لئے مسئلہ مشتبہ ہوجائے کہ شاید یہ کوئی دوسری زمین ہے۔

(۲۵)

آپ کی وصیت

(جسے ہر اس شخص کو لکھ کردیتے تھے جسے صدقات کاعامل قراردیتے تھے )

سید رضی :میں نے یہ چند جملے اس لئے نقل کردئیے ہیں تاکہ ہر شخص کو اندازہ ہو جائے کہ حضرت کس طرح ستون حق کو قائم رکھتے تھے اور چھوٹے بڑے


ودقيقها وجليلها.

انْطَلِقْ عَلَى تَقْوَى اللَّه وَحْدَه لَا شَرِيكَ لَه - ولَا تُرَوِّعَنَّ مُسْلِماً ولَا تَجْتَازَنَّ عَلَيْه كَارِهاً - ولَا تَأْخُذَنَّ مِنْه أَكْثَرَ مِنْ حَقِّ اللَّه فِي مَالِه - فَإِذَا قَدِمْتَ عَلَى الْحَيِّ فَانْزِلْ بِمَائِهِمْ - مِنْ غَيْرِ أَنْ تُخَالِطَ أَبْيَاتَهُمْ - ثُمَّ امْضِ إِلَيْهِمْ بِالسَّكِينَةِ والْوَقَارِ - حَتَّى تَقُومَ بَيْنَهُمْ فَتُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ - ولَا تُخْدِجْ بِالتَّحِيَّةِ لَهُمْ ثُمَّ تَقُولَ عِبَادَ اللَّه - أَرْسَلَنِي إِلَيْكُمْ وَلِيُّ اللَّه وخَلِيفَتُه - لِآخُذَ مِنْكُمْ حَقَّ اللَّه فِي أَمْوَالِكُمْ - فَهَلْ لِلَّه فِي أَمْوَالِكُمْ مِنْ حَقٍّ فَتُؤَدُّوه إِلَى وَلِيِّه - فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ لَا فَلَا تُرَاجِعْه - وإِنْ أَنْعَمَ لَكَ مُنْعِمٌ فَانْطَلِقْ مَعَه - مِنْ غَيْرِ أَنْ تُخِيفَه أَوْ تُوعِدَه - أَوْتَعْسِفَه أَوْ تُرْهِقَه فَخُذْ مَا أَعْطَاكَ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ - فَإِنْ كَانَ لَه مَاشِيَةٌ

' اہم اور معمولی معاملات میں عدل و انصاف کی مثالیں قائم کرنا چاہتے تھے ۔

خدائے وحدہ لا شریک کا خوف لے کر آگے بڑھو اور خبردار(۱) نہ کسی مسلمان کوخوفزدہ کرنا اورنہ کسی کی زمین پر جبراً اپنا گزر کرنا۔مال میں سے حق خدا سے ذرہ برابر زیادہ مت لینا اور جب کسی قبیلہ پر وارد ہونا تو ان کے گھروں میں گھسنے کے بجائے چشمہ اورکنویں پر وارد ہونا۔اس کے بعد سکون و وقار کے ساتھ ان کی طرف جانا اوران کے درمیان کھڑے ہو کر سلام کرنا اور سلام کرنے میں بخل سے کام نہ لینا۔

اس کے بعد ان سے کہنا کہ بندگان خدا مجھے تمہاری طرف پروردگار کے ولی اورجانشین نے بھیجا ہے تاکہ میں تمہارے اموال میں سے پروردگار کا حق لے لوں تو کیا تمہارے اموال میں کوئی حق اللہ ہے جسے میرے حوالے کر سکو ؟ اگر کوئی شخص انکار کردے تو اس سے دوبارہ تکرارنہ کرنا اور اگر کوئی شخص اقرار کرے تو اس کے ساتھ اس انداز سے جاناکہ نہ کی کو خوفزدہ کرنا نہ دھمکی دینا۔نہ سختی کا برتائو کرنااور نہ بیجا دبائو ڈالنا جو سونایا چاندی دے دیں وہ لے لینا اور اگر چوپایایہ کے مرکز تک

(۱) دنیا میں کون ایسا سر براہ مملکتہے جو اپنے احکام کو اتنی شدید پابندیوں میں جکڑ دے اور اپنی رعایا کو اس قدر سہولت دیدے ۔دنیا کے حکام میں تو اس کردار کا تصوربھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اسلام کے خلفاء میں بھی دور دورتک اس کردار کا پتہ نہیں ملتا ہے اور حکومت کا آغاز ہی جبرو تشدد اور اسیری و خانہ سوزی سے ہوتا ہے۔

ضرورت ہے کہ اس وصیت نامہ کوبغور پڑھا جائے اور اس کی ایک دفعہ پر غور کیاجائے تاکہ یہ اندازہ ہو کہ اسلامی سلطنت میں رعایا کا کیا مرتبہ ہوتا ہے حقوق کی ادائیگی میں کس قدر سہولت فراہم کی جاتی ہے اورانسانوں کی طرح جانوروں کے ساتھ کس طرح کابرتائو کیا جاتا ہے۔


أَوْ إِبِلٌ فَلَا تَدْخُلْهَا إِلَّا بِإِذْنِه - فَإِنَّ أَكْثَرَهَا لَه - فَإِذَا أَتَيْتَهَا فَلَا تَدْخُلْ عَلَيْهَا دُخُولَ مُتَسَلِّطٍ عَلَيْه - ولَا عَنِيفٍ بِه - ولَا تُنَفِّرَنَّ بَهِيمَةً ولَا تُفْزِعَنَّهَا - ولَا تَسُوأَنَّ صَاحِبَهَا فِيهَا - واصْدَعِ الْمَالَ صَدْعَيْنِ ثُمَّ خَيِّرْه - فَإِذَا اخْتَارَ فَلَا تَعْرِضَنَّ لِمَا اخْتَارَه - ثُمَّ اصْدَعِ الْبَاقِيَ صَدْعَيْنِ ثُمَّ خَيِّرْه - فَإِذَا اخْتَارَ فَلَا تَعْرِضَنَّ لِمَا اخْتَارَه - فَلَا تَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يَبْقَى مَا فِيه - وَفَاءٌ لِحَقِّ اللَّه فِي مَالِه - فَاقْبِضْ حَقَّ اللَّه مِنْه - فَإِنِ اسْتَقَالَكَ فَأَقِلْه - ثُمَّ اخْلِطْهُمَا ثُمَّ اصْنَعْ مِثْلَ الَّذِي صَنَعْتَ أَوَّلًا - حَتَّى تَأْخُذَ حَقَّ اللَّه فِي مَالِه - ولَا تَأْخُذَنَّ عَوْداً ولَا هَرِمَةً ولَا مَكْسُورَةً ولَا مَهْلُوسَةً ولَا ذَاتَ عَوَارٍ - ولَا تَأْمَنَنَّ عَلَيْهَا إِلَّا مَنْ تَثِقُ بِدِينِه - رَافِقاً بِمَالِ الْمُسْلِمِينَ - حَتَّى يُوَصِّلَه إِلَى وَلِيِّهِمْ فَيَقْسِمَه بَيْنَهُمْ - ولَا تُوَكِّلْ بِهَا إِلَّا نَاصِحاً شَفِيقاً وأَمِيناً حَفِيظاً - غَيْرَ مُعْنِفٍ ولَا مُجْحِفٍ ولَا مُلْغِبٍ ولَا مُتْعِبٍ - ثُمَّ احْدُرْ إِلَيْنَا مَا اجْتَمَعَ عِنْدَكَ - نُصَيِّرْه حَيْثُ أَمَرَ اللَّه - بِه فَإِذَا أَخَذَهَا أَمِينُكَ - فَأَوْعِزْ إِلَيْه أَلَّا يَحُولَ بَيْنَ نَاقَةٍ وبَيْنَ فَصِيلِهَا - ولَا يَمْصُرَ لَبَنَهَا فَيَضُرَّ [فَيُضِرَّ] ذَلِكَ بِوَلَدِهَا - ولَا يَجْهَدَنَّهَا رُكُوباً -

پہنچ جانا تو کسی ظالم و جابر کی طرح داخل نہ ہونا نہ کسی جانور کو بھڑکادینا اور نہ کسی کوخوفزدہ کردینا اور مالک کے ساتھ بھی غلط برتائو نہ کرنا بلکہ مال کو دوحصہ میں تقسیم کرکے مالک کو اختیار دینا اوروہ جس حصہ کو اختیار کرلے اس پر کوئی اعتراض نہ کرنا۔پھر باقی کودوحصوں میں تقسیم کرنا اور اسے اختیار دینا اورپھراس کے اختیار پراعتراض نہ کرنا۔یہاں تک کہ اتنا ہی مال باقی رہ جائے جس سے حقخدا ادا ہوسکتا ہے تو اسی کو لے لینا۔بلکہ اگر کوئی شخص تقسیم پر نظرثانی کی درخواست کرے تو اسے بھی منظور کر لینا اور سارے مال کو ملا کر پھر پہلے کی طرح تقسیم کرنا اور آخرمیں اسے بچے مال میں سیحق اللہ لے لینا۔بس اس کا خیال رکھنا کہ بوڑھا ۔ضعیف ۔کمرشکستہ۔ کمزور اور عیب دار اونٹ نہ لینا اور ان اونٹوں کا امین بھی اسی کو بنانا جس کے دین کااعتبار ہو اور جو مسلمانوں کے مال میں نرمی کا برتائو کرتا ہو۔تاکہ وہ ولی تک مال پہنچادے اوروہ ان کے درمیان تقسیم کردے ۔اس موضوع پر صرف اسے وکیل بنایا جو مخلص ۔خدا ترس ۔ امانت دار اورنگراں ہو ' نہ سختی کرنے والا ہو نہ ظلم کرنے والا۔نہ تھکا دینے والا ہو نہ شدت سے دوڑانے والا۔اس کے بعد جس قدر مال جمع ہو جائے ۔وہ میرے پاس بھیج دینا تاکہ میں امر الٰہی کے مطابق اس کے مرکز تک پہنچا دوں۔

امانت دار کو مال دیتے وقت اس بات کی ہدایت دے دینا کہ خبردار اونٹنی اور اس کے بچہ کو جدا نہ کرے اورسارادودھ نہ نکال لے جو بچہ کے حق میں مضر ہو۔ سواری


ولْيَعْدِلْ بَيْنَ صَوَاحِبَاتِهَا فِي ذَلِكَ وبَيْنَهَا - ولْيُرَفِّه عَلَى اللَّاغِبِ - ولْيَسْتَأْنِ بِالنَّقِبِ والظَّالِعِ - ولْيُورِدْهَا مَا تَمُرُّ بِه مِنَ الْغُدُرِ - ولَا يَعْدِلْ بِهَا عَنْ نَبْتِ الأَرْضِ إِلَى جَوَادِّ الطُّرُقِ - ولْيُرَوِّحْهَا فِي السَّاعَاتِ - ولْيُمْهِلْهَا عِنْدَ النِّطَافِ والأَعْشَابِ - حَتَّى تَأْتِيَنَا بِإِذْنِ اللَّه بُدَّناً مُنْقِيَاتٍ - غَيْرَ مُتْعَبَاتٍ ولَا مَجْهُودَاتٍ - لِنَقْسِمَهَا عَلَى كِتَابِ اللَّه وسُنَّةِ نَبِيِّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - فَإِنَّ ذَلِكَ أَعْظَمُ لأَجْرِكَ - وأَقْرَبُ لِرُشْدِكَ إِنْ شَاءَ اللَّه

(۲۶)

ومن عهد لهعليه‌السلام

إلى بعض عماله - وقد بعثه على الصدقة

أَمَرَه بِتَقْوَى اللَّه فِي سَرَائِرِ أَمْرِه وخَفِيَّاتِ عَمَلِه - حَيْثُ لَا شَهِيدَ غَيْرُه ولَا وَكِيلَ دُونَه - وأَمَرَه أَلَّا يَعْمَلَ بِشَيْءٍ مِنْ طَاعَةِ اللَّه فِيمَا ظَهَرَ - فَيُخَالِفَ إِلَى غَيْرِه فِيمَا أَسَرَّ - ومَنْ لَمْ يَخْتَلِفْ سِرُّه وعَلَانِيَتُه وفِعْلُه ومَقَالَتُه - فَقَدْ أَدَّى الأَمَانَةَ وأَخْلَصَ الْعِبَادَةَ.

میں بھی شدت سے کام نہ لے اور اس کے اوردوسری اونٹنیوں کے درمیان عدل و مساوات سے کام لے۔تھکے ماندے اونٹ کو دم لینے کاموقع دے اورجس کے کھر گھس گئے ہوں یا پائوں شکستہ ہوں ان کے ساتھ نرمی کا برتائو کرے۔راستے میں تالاب پڑیں تو انہیں پانی پینے کے لئے لے جائے اور سر سبز راستوں کو چھوڑ کربے آب و گیاہ راستوں پر نہ لے جائے وقتا ً فوقتاً آرام دیتا رہے اور پانی اورسبزہ کے مقامات پر ٹھہرنے کی مہلت دے یہاں تک کہ ہمارے پاس اس عالم میں پہنچیں توحکم خدا سے تندرست و تگڑے ہوں۔تھکے ماندے اوردرماندہ نہ ہوں تاکہ ہم کتاب خدا اورسنت رسول (ص) کے مطابق انہیں تقسیم کرسکیں کہ یہ بات تمہارے لئے بھی اجر عظیم کا باعث اور ہدایت سے قریب تر ہے ۔انشاء اللہ

(۲۶)

آپ کا عہد نامہ

(بعض عمال کے لئے جنہیں صدقات کی جمع آوری کے لئے روانہ فرمایا تھا )

میں انہیں حکم دیتا ہوں کہ اپنے پوشیدہ اموراورمخفی اعمال میں بھی اللہ سے ڈرتے رہیں جہاں اس کے علاوہ کوئی دوسرا گواہ اورنگراں نہیں وتا ہے اورخبردار ایسا نہ ہو کہ ظاہری معاملات میں خدا کی اطاعت کریں اورمخفی مسائل میں اس کی مخالفت کریں۔اس لئے کہ جس کے ظاہر وباطن اور فعل و قول میں اختلاف نہیں ہوتا ہے وہی امانت الٰہی کا ادا کرنے والا اورعبادت الٰہی میں مخلص ہوتا ہے۔


وأَمَرَه أَلَّا يَجْبَهَهُمْ ولَا يَعْضَهَهُمْ - ولَا يَرْغَبَ عَنْهُمْ تَفَضُّلًا بِالإِمَارَةِ عَلَيْهِمْ - فَإِنَّهُمُ الإِخْوَانُ فِي الدِّينِ - والأَعْوَانُ عَلَى اسْتِخْرَاجِ الْحُقُوقِ.

وإِنَّ لَكَ فِي هَذِه الصَّدَقَةِ نَصِيباً مَفْرُوضاً وحَقّاً مَعْلُوماً - وشُرَكَاءَ أَهْلَ مَسْكَنَةٍ وضُعَفَاءَ ذَوِي فَاقَةٍ - وإِنَّا مُوَفُّوكَ حَقَّكَ فَوَفِّهِمْ حُقُوقَهُمْ - وإِلَّا تَفْعَلْ فَإِنَّكَ مِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ خُصُوماً يَوْمَ الْقِيَامَةِ،وبُؤْسَى لِمَنْ خَصْمُه عِنْدَ اللَّه الْفُقَرَاءُ والْمَسَاكِينُ - والسَّائِلُونَ والْمَدْفُوعُونَ والْغَارِمُونَ وابْنُ السَّبِيلِ - ومَنِ اسْتَهَانَ بِالأَمَانَةِ ورَتَعَ فِي الْخِيَانَةِ - ولَمْ يُنَزِّه نَفْسَه ودِينَه عَنْهَا - فَقَدْ أَحَلَّ بِنَفْسِه الذُّلَّ والْخِزْيَ فِي الدُّنْيَا - وهُوَ فِي الآخِرَةِ أَذَلُّ وأَخْزَى - وإِنَّ أَعْظَمَ الْخِيَانَةِ خِيَانَةُ الأُمَّةِ - وأَفْظَعَ الْغِشِّ غِشُّ الأَئِمَّةِ والسَّلَامُ.

اور پھر حکم دیتا ہوں کہ خبر دار لوگوں سے برے طریقہ سے پیش نہ آئیں۔اور انہیں پریشان نہ کریں اور نہ ان سے اظہار اقتدار کے لئے کنارہ کشی کریں کہ بہرحال یہ سب بھی دینی بھائی ہیں اورحقوق کی ادائیگی میں مدد کرنے والے ہیں۔

دیکھو ان صدقات میں تمہارا حصہ معین ہے اور تمہارا حق معلوم ہے ۔لیکن فقراء و مساکین اورفاقہ کش افراد بھی اس حق میںتمہارے شریک ہیں۔ہم تمہیں تمہارا پورا حق دینے والے ہیں ۔لہٰذا تمہیں بھی ان کا پورا حق دینا ہوگا کہ اگر ایسا نہیں کروگے تو قیامت کے دن سب سے زیادہ دشمن تمہارے ہوں گے اور سب سے زیادہ بد بختی اسی کے لئے ہے جس کے دشمن بارگاہ الٰہی میں فقرار مساکین(۱) ، سائلین،محرو مین، مقروض اور غربت زدہ مسافر ہوں اور جس شخص نے بھی امانت کو معمولی تصور کیا اورخیانت کی چراگاہ میں داخل ہوگیا اوراپنے نفس اور دین کی خیانت کاری سے نہیں بچایا۔اس نے دنیا میں بھی اپنے کوذلت اور رسوائی کی منزل میں اتار دیا اورآخرت میں تو ذلت و رسوائی اس سے بھی زیادہ ہے اور یاد رکھو کہ بد ترین خیانت امت کےساتھ خیانت ہے اوربد ترین فریب کاری سربراہ دین کے ساتھ فریب کاری کا برتائو ہے۔

(۱)کاش دنیا کے تمام حکام کو یہ احساس پیدا ہو جائے کہ فقراء و مساکین اس دنیا میں بے آسرا اوربے سہارا ہیں لیکن آخرت میں ان کا بھی والی و وارث موجود ہے اور وہاں کسی صاحب اقتدار کا اقتدار کامآنے والا نہیں ہے۔عدالت الہیہ میں شخصیات کا کوئی اثر نہیں ہے ہر شخص کو اپنے اعمال کاحساب دینا ہوگا اوراس کے مواخذہ اور محاسب کا سامنا کرنا ہوگا۔وہاں نہ کسی کی کرسی کام آسکتی ہے اور نہ کسی کا تخت وتاج۔ افراد کے ساتھ خیانت تو برداشت بھی کی جاسکتی ہے کہ وہ انفرادی معاملہ ہوتا ہے اور اسے افراد معاف کر سکتے ہیں لیکن قوم و ملت کے ساتھ خیانت ناقابل برداشت ہے کہ اس کی مدعی تمام امت ہوگی اوراتنے بڑے مقدمہ کاسامنا کرنا کسی انسان کے بس کا کام نہیں ہے ۔


(۲۷)

ومن عهد لهعليه‌السلام

إلى محمد بن أبي بكررضي‌الله‌عنه - حين قلده مصر

فَاخْفِضْ لَهُمْ جَنَاحَكَ وأَلِنْ لَهُمْ جَانِبَكَ - وابْسُطْ لَهُمْ وَجْهَكَ وآسِ بَيْنَهُمْ فِي اللَّحْظَةِ والنَّظْرَةِ - حَتَّى لَا يَطْمَعَ الْعُظَمَاءُ فِي حَيْفِكَ لَهُمْ - ولَا يَيْأَسَ الضُّعَفَاءُ مِنْ عَدْلِكَ عَلَيْهِمْ - فَإِنَّ اللَّه تَعَالَى يُسَائِلُكُمْ مَعْشَرَ عِبَادِه - عَنِ الصَّغِيرَةِ مِنْ أَعْمَالِكُمْ والْكَبِيرَةِ والظَّاهِرَةِ والْمَسْتُورَةِ - فَإِنْ يُعَذِّبْ فَأَنْتُمْ أَظْلَمُ وإِنْ يَعْفُ فَهُوَ أَكْرَمُ.

واعْلَمُوا عِبَادَ اللَّه - أَنَّ الْمُتَّقِينَ ذَهَبُوا بِعَاجِلِ الدُّنْيَا وآجِلِ الآخِرَةِ - فَشَارَكُوا أَهْلَ الدُّنْيَا فِي دُنْيَاهُمْ - ولَمْ يُشَارِكُوا أَهْلَ الدُّنْيَا فِي آخِرَتِهِمْ - سَكَنُوا الدُّنْيَا بِأَفْضَلِ مَا سُكِنَتْ وأَكَلُوهَا بِأَفْضَلِ مَا أُكِلَتْ - فَحَظُوا مِنَ الدُّنْيَا بِمَا حَظِيَ بِه الْمُتْرَفُونَ - وأَخَذُوا مِنْهَا مَا أَخَذَه الْجَبَابِرَةُ

(۲۷)

آپ کا عہد نامہ

(محمد بن ابی بکرکے نام ۔جب انہیں مصر کا حاکم بنایا گیا )

لوگوں کے سامنے اپنیشانوں کو جھکا دینا اور اپنے برتائوکونرم رکھنا۔کشادہ روئی سے پیش آنا اور نگاہ وہ نظر میں بھی سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنا تاکہ بڑے آدمیوں کو یہ خیال نہ پیدا ہو جائے کہ تم ان کے مفاد میں ظلم کر سکتے ہو اور کمزوروں کو تمہارے انصاف کی طرف سے مایوسی نہ ہو جائے ۔پروردگار روز قیامت تمام بندوں سے ان کے تمام چھوٹے اور بڑے ظاہر اورمخفی اعمال کے بارے میں محاسبہ کرے گا۔اس کے بعد اگروہ عذاب کرے گا تو تمہارے ظلم کانتیجہ ہوگا اور اگر معاف کردے گا تو اس کے کرم کا نتیجہ ہوگا۔

بندگان خدا! یادرکھو کہ پرہیز گار افراد دنیا اورآخرت کے فوائد لے کرآگے بڑھ گئے ۔وہ اہل دنیا کے ساتھ ان کی دنیا میں شریک رہے لیکن اہل دنیا ان کی آخرت میں شریک نہ ہو سکے ۔وہ دنیا میں بہترین انداز(۱) سے زندگی گزارتے رہے۔جو سب نے کھایا اس سے اچھا پاکیزہ کھاناکھایا اور وہتمام لذتیں حاصل کرلیں جو عیش پرست حاصل کرتے ہیں اوروہ سب کچھ پالیا جو جابر

(۱)بہترین زندگی سے مراد قصر شاہی میں قیام اورلذیذ ترین غذائیں نہیں ہیں ۔بہترین زندگی سے مراد وہ تمام اسباب ہیں جن سے زندگی گزر جائے اور انسان کسی حرام اورناجائز کام میں مبتلا نہ ہو۔


الْمُتَكَبِّرُونَ - ثُمَّ انْقَلَبُوا عَنْهَا بِالزَّادِ الْمُبَلِّغِ والْمَتْجَرِ الرَّابِحِ - أَصَابُوا لَذَّةَ زُهْدِ الدُّنْيَا فِي دُنْيَاهُمْ - وتَيَقَّنُوا أَنَّهُمْ جِيرَانُ اللَّه غَداً فِي آخِرَتِهِمْ - لَا تُرَدُّ لَهُمْ دَعْوَةٌ ولَا يَنْقُصُ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنْ لَذَّةٍ - فَاحْذَرُوا عِبَادَ اللَّه الْمَوْتَ وقُرْبَه - وأَعِدُّوا لَه عُدَّتَه - فَإِنَّه يَأْتِي بِأَمْرٍ عَظِيمٍ وخَطْبٍ جَلِيلٍ - بِخَيْرٍ لَا يَكُونُ مَعَه شَرٌّ أَبَداً - أَوْ شَرٍّ لَا يَكُونُ مَعَه خَيْرٌ أَبَداً - فَمَنْ أَقْرَبُ إِلَى الْجَنَّةِ مِنْ عَامِلِهَا - ومَنْ أَقْرَبُ إِلَى النَّارِ مِنْ عَامِلِهَا - وأَنْتُمْ طُرَدَاءُ الْمَوْتِ - إِنْ أَقَمْتُمْ لَه أَخَذَكُمْ وإِنْ فَرَرْتُمْ مِنْه أَدْرَكَكُمْ - وهُوَ أَلْزَمُ لَكُمْ مِنْ ظِلِّكُمْ - الْمَوْتُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيكُمْ والدُّنْيَا تُطْوَى مِنْ خَلْفِكُمْ - فَاحْذَرُوا نَاراً قَعْرُهَا بَعِيدٌ وحَرُّهَا شَدِيدٌ وعَذَابُهَا جَدِيدٌ -

اورمتکبر افراد کے حصہ میں آتا ہے اس کے بعد وہ زاد راہ لے کر گئے جو منزل تک پہنچا دے اور وہ تجارتکرکے گئے جس میں فائدہ ہی فائدہ ہو۔دنیا میں رہ کر دنیا کی لذت حاصل کی اوریہ یقین رکھے رہے کہ آخرت میں پروردگار کے جوار رحمت میں ہوںگے ۔جہاں نہ ان کی آواز ٹھکرائی جائے گی اور نہ کسی لذت میں ان کے حصہ میں کوئی کمی ہوگی۔ بندگان خدا! موت اوراس کے قریب سے ڈرو اور اس کے لئے سرو سامان مہیا کرلو۔کہ وہ ایک عظیم امر اوربڑے حادثہ کے ساتھ آنے والی ہے ۔ایسے خیر کے ساتھ جس میں کوئی شر(۱) نہ ہویا ایسے شر کے ساتھ جس میں کوئی خیر نہ ہو۔جنت یا جہنم کی طرف ان کے لئے عمل کرنے والوں سے زیادہ قریب تر کون ہو سکتا ہے۔تم وہ ہو جس کا موت مسلسل پیچھا کئے ہوئے ہیں۔تم ٹھہرجائو گے تب بھی تمہیں پکڑ لے گی اور فرار کرو گے تب بھی اپنی گرفت میں لے لے گی ۔وہ تمہارے ساتھ تمہارے سایہ سے زیادہ چپکی ہوئی ہے۔اسے تمہاری پیشانیوں کے ساتھ باندھ دیا گیا ہے اور دنیا تمہارے پیچھے سے برابر لپیٹی جارہی ہے۔اس جہنم سے ڈرو جس کی گہرائی بہت دور تک ہے اوراس کی گرمی بے حد شدید ہے اور اس کا عذاب بھی برابر تازہ بہ تازہ ہوتا رہے گا۔

(۱)اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ آخرتمیں یا صرف خیر ہے یا صرف شراور مخلوط اعمال والوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔مقصد صرف یہ ہے کہ آخرت کے ثواب و عذاب کا فلسفہ یہی ہے کہ اس میں کسی طرح کا اختلاط و امتزاج نہیں ہے۔دنیا کے ہر آرام میں تکلیف شامل ہے اور ہر تکلیف میں آرام کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور ہے لیکن آخرت میں عذاب کا ایک لمحہ بھی وہ ہے جس میں کسی راحت کا تصور نہیں ہے اور ثواب کا ایک لمحہ بھی وہ ہے جس میں کسی تکلیف کا کوئی امکان نہیں ہے۔لہٰذا انسان کا فرض ہے کہ اس عذاب سے ڈرے اوراس ثواب کا انتظام کرے ۔


دَارٌ لَيْسَ فِيهَا رَحْمَةٌ - ولَا تُسْمَعُ فِيهَا دَعْوَةٌ ولَا تُفَرَّجُ فِيهَا كُرْبَةٌ - وإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ يَشْتَدَّ خَوْفُكُمْ مِنَ اللَّه - وأَنْ يَحْسُنَ ظَنُّكُمْ بِه فَاجْمَعُوا بَيْنَهُمَا - فَإِنَّ الْعَبْدَ إِنَّمَا يَكُونُ حُسْنُ ظَنِّه بِرَبِّه - عَلَى قَدْرِ خَوْفِه مِنْ رَبِّه - وإِنَّ أَحْسَنَ النَّاسِ ظَنّاً بِاللَّه أَشَدُّهُمْ خَوْفاً لِلَّه.

واعْلَمْ يَا مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ - أَنِّي قَدْ وَلَّيْتُكَ أَعْظَمَ أَجْنَادِي فِي نَفْسِي أَهْلَ مِصْرَ - فَأَنْتَ مَحْقُوقٌ أَنْ تُخَالِفَ عَلَى نَفْسِكَ - وأَنْ تُنَافِحَ عَنْ دِينِكَ - ولَوْ لَمْ يَكُنْ لَكَ إِلَّا سَاعَةٌ مِنَ الدَّهْرِ - ولَا تُسْخِطِ اللَّه بِرِضَا أَحَدٍ مِنْ خَلْقِه - فَإِنَّ فِي اللَّه خَلَفاً مِنْ غَيْرِه - ولَيْسَ مِنَ اللَّه خَلَفٌ فِي غَيْرِه.

صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا الْمُؤَقَّتِ لَهَا - ولَا تُعَجِّلْ وَقْتَهَا لِفَرَاغٍ - ولَاتُؤَخِّرْهَا عَنْ وَقْتِهَا لِاشْتِغَالٍ - واعْلَمْ أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ عَمَلِكَ تَبَعٌ لِصَلَاتِكَ.

ومِنْه - فَإِنَّه لَا سَوَاءَ إِمَامُ الْهُدَى وإِمَامُ الرَّدَى - ووَلِيُّ النَّبِيِّ وعَدُوُّ النَّبِيِّ - ولَقَدْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم إِنِّي لَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي مُؤْمِناً

وہ گھر ایسا ہے جہاں نہ رحمت کا گذر ہے اور نہ وہاں کوئی فریاد سنی جاتی ہے اور نہ کسی رنج و غم کی کشائش کا کوئی امکان ہے اگر تم لوگ یہ کرس کتے ہو کہ تمہارے دل میں خوف خدا شدید ہو جائے اورتمہیں اس سے حسن ظن حاصل ہو جائے تو ان دونوں کوجمع کرلو کہ بندہ کا حسن ظن اتنا ہی ہوتا ہے جتناخوف خدا ہوتاہے اوربہترین حسن ظن رکھنے والا وہی ہے جس کے دل میں شدید ترین خوف خدا پایا جاتا ہو ۔

محمد بن ابی بکر ! یاد رکھو کہ میں نے تم کو اپنے بہترین لشکر۔اہل مصر پر حاکم قراردیاہے ۔اب تم سے مطالبہ یہ ہے کہ اپنے نفس کی مخالفت کرنااور اپنے دین کی حفاظت کرنا چاہے تمہارے لئے دنیا میں صرف ایک ہی ساعت باقی رہ جائے اور کسی مخلوق کو خوش کرکے خالق کوناراض نہ کرنا کہ خدا ہر ایک کے بدلے کام آسکتا ہے لیکن اس کے بدلے کوئی کام نہیں آسکتا ہے۔

نماز اس کے مقررہ اوقات میں ادا کرنا۔نہ ایسا ہو کہ فرصت حاصل کرنے کے لئے پہلے ادا کرلو اور نہ ایسا ہو کہ مشغولیت کی بنا پر تاخیر کردو۔یاد رکھو کہ تمہارے ہر عمل کو نماز کا پابند ہونا چاہیے ۔

یاد رکھو کہ امام ہدایت اور پیشوا ئے ہلاکت ایک جیسے نہیں ہو سکتے ہیں۔نبی کا دوست اور دشمن یکساں نہیں ہوتا ہے۔رسول اکرم (ص) نے خود مجھ سے فرمایا ہے کہ ''میں اپنی امت کے بارے میں نہ کسی مومن سے خوفزدہ


ولَا مُشْرِكاً - أَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَمْنَعُه اللَّه بِإِيمَانِه - وأَمَّا الْمُشْرِكُ فَيَقْمَعُه اللَّه بِشِرْكِه - ولَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ كُلَّ مُنَافِقِ الْجَنَانِ - عَالِمِ اللِّسَانِ - يَقُولُ مَا تَعْرِفُونَ ويَفْعَلُ مَا تُنْكِرُونَ.

(۲۸)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى معاوية جوابا قال الشريف: وهو من محاسن الكتب

أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ أَتَانِي كِتَابُكَ - تَذْكُرُ فِيه اصْطِفَاءَ اللَّه مُحَمَّداً صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لِدِينِه - وتَأْيِيدَه إِيَّاه لِمَنْ أَيَّدَه مِنْ أَصْحَابِه - فَلَقَدْ خَبَّأَ لَنَا الدَّهْرُ مِنْكَ عَجَباً - إِذْ طَفِقْتَ تُخْبِرُنَا بِبَلَاءِ اللَّه تَعَالَى عِنْدَنَا - ونِعْمَتِه عَلَيْنَا فِي نَبِيِّنَا - فَكُنْتَ فِي ذَلِكَ كَنَاقِلِ التَّمْرِ إِلَى هَجَرَ - أَوْ دَاعِي مُسَدِّدِه إِلَى النِّضَالِ - وزَعَمْتَ أَنَّ أَفْضَلَ النَّاسِ فِي الإِسْلَامِ فُلَانٌ وفُلَانٌ -

ہوں اورنہ مشرک سے۔مومن کو اللہ اس کے ایمان کی بنا پر برائی سے روک دے گا اورمشرک کو اس کے شرک کی بنا پرمغلوب کردے گا سارا خطرہ ان لوگوں سے ہے جو زبان کے عالم ہوں اوردل کے منافق کہتے وہی ہیں جو تم سب پہچانتے ہو اور کرتے وہ ہیں جسے تم برا سمجھتے ہو۔

(۲۸)

آپ کا مکتوب گرامی

(معاویہ کے خط کے جواب میں جو بقول سید رضی آپ کا بہترین خط)

امابعد!میرے پاس تمہارا خطآیا ہےجدجسےتم نےرسولاکرم کے دین خداکےلئےمنتخب ہونےاورآپکے پروردگارکی طرفسے اصحاب کےذریعہ مویدہونےکاذکرکیاہےلیکن یہ توایک بڑی عجیب و غریب بات ہےجو زمانےنےتمہارےطرف چھپا کررکھی تھی کہ تم ہم کو ان احسانات کی اطلاع دے رہے ہو جو پروردگارنےہمارےہی ساتھ کئے ہیں اوراس نعمت کی خبردےرہےہوجو ہمارےہی پیغمبر(ص) کوملی ہےگویاکہ تم مقام ہجرکی طرف خرمےبھیج رہےہویا استادکو تیراندازی کی دعوت دےرہےہواسکےبعدتمہاراخیال ہےکہ فلاں(۱)

(۱)معاویہ نے یہ خط ابو امامہ باہلی کے ذریعہ بھیجا تھا اور اس میں متعدد مسائل کی طرف اشارہ کیا تھا۔سب سے بڑا مسئلہ حضرات شیخین کے فضائل کا تھا کہ حضرت علی کے ساتھ اکثریت انہیں افراد کی تھی جو آپ کو سلسلہ سے چوتھا خلیفہ تسلیم کرتے تھے۔اب اگر آپ ان کے باے میں اپنی صحیح رائے کا اظہار کردیں تو قوم بد ظن ہو جائے گی اور معاشرہ میں ایک نیا فتنہ کھڑا ہو جائے گا اوراگر ان کے فضائل کا اقرار کرلیں تو گویا ان تمام کلمات کی تکذیب کردی جو کل تک اپنی فضیلت یا مظلومیت کے بارے میں بیان کرتے تھے حضرت نے اس حساس صورت حالکا بخوبی اندازہ کرلیا اورواضح جواب دینے کے بجائے معاویہ کو اس مسئلہ سے الگ رہنے کی تلقین فرمائی اور سے اس کی اوقات سے بھی با خبر کردیا کہ یہ مسئلہ صدر اسلام کا ہے اور اس وقت تو تمہارا باپ بھی مسلمان نہیں تھا تمہارا کیا ذکر ہے؟ لہٰذا ایسے مسائل میں تمہیں رائے دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔البتہ یہ بہر حال ثابت ہو جاتا ہے کہ ان فضائل میں تمہارے خاندان کا کوئی ذکر نہیں ہے۔


فَذَكَرْتَ أَمْراً إِنْ تَمَّ اعْتَزَلَكَ كُلُّه - وإِنْ نَقَصَ لَمْ يَلْحَقْكَ ثَلْمُه - ومَا أَنْتَ والْفَاضِلَ والْمَفْضُولَ والسَّائِسَ والْمَسُوسَ - ومَا لِلطُّلَقَاءِ وأَبْنَاءِ الطُّلَقَاءِ - والتَّمْيِيزَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ الأَوَّلِينَ - وتَرْتِيبَ دَرَجَاتِهِمْ وتَعْرِيفَ طَبَقَاتِهِمْ - هَيْهَاتَ لَقَدْ حَنَّ قِدْحٌ لَيْسَ مِنْهَا - وطَفِقَ يَحْكُمُ فِيهَا مَنْ عَلَيْه الْحُكْمُ لَهَا - أَلَا تَرْبَعُ أَيُّهَا الإِنْسَانُ عَلَى ظَلْعِكَ - وتَعْرِفُ قُصُورَ ذَرْعِكَ - وتَتَأَخَّرُ حَيْثُ أَخَّرَكَ الْقَدَرُ - فَمَا عَلَيْكَ غَلَبَةُ الْمَغْلُوبِ ولَا ظَفَرُ الظَّافِرِ.

وإِنَّكَ لَذَهَّابٌ فِي التِّيه رَوَّاغٌ عَنِ الْقَصْدِ - أَلَا تَرَى غَيْرَ مُخْبِرٍ لَكَ - ولَكِنْ بِنِعْمَةِ اللَّه أُحَدِّثُ - أَنَّ قَوْماً اسْتُشْهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّه تَعَالَى مِنَ الْمُهَاجِرِينَ والأَنْصَارِ - ولِكُلٍّ فَضْلٌ - حَتَّى إِذَا اسْتُشْهِدَ شَهِيدُنَا قِيلَ سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ - وخَصَّه رَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بِسَبْعِينَ تَكْبِيرَةً عِنْدَ صَلَاتِه عَلَيْه - أَولَا تَرَى أَنَّ قَوْماً قُطِّعَتْ أَيْدِيهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّه - ولِكُلٍّ

اورفلاں افراد سے بہتر تھے تو یہ تو ایسی بات ہے کہ اگر ایسی بات ہے کہ اگر صیح بھی ہو تو اس کا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر غلط بھی ہو تو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے۔تمہارا اس فاضل و مفضول، حاکم و رعایا کے مسئلہ سے کیاتعلق ہے۔بھلا آزاد کردہ اور ان کی اولاد کومہاجرین اولین کے درمیان امتیاز قائم کرنے۔ان کے درجات کا تعین کرنے اور ان کے طبقات کے پہنچوانے کا حق کیا ہے(یہ تو اس وقت مسلمان بھی نہیں تھے ) افسوس کہ جوئے کے تیروں کے ساتھ باہر کے تیر بھی آواز نکالنے لگے اور مسائل میں و لوگ بھی کرنے لگے جن کے خلاف خود ہی فیصلہ ہونے والا ہے۔اے شخص تو اپنے لنگڑے پن کو دیکھ کر اپنی حد پرٹھہرتاکیوں نہیں ہے اور اپنی کوتاہ دستی کو سمجھتا کیوں نہیں ہے اور جہاں قضا و قدر نے تجھے رکھ دیا ہے وہیں پیچھے ہٹ کرجاتا کیوں نہیں ہے۔تجھے کسی مغلوب کی شکست یا غالب کی فتح سے کیا تعلق ہے۔

تو تو ہمیشہ گمراہیوں میں ہاتھ پائوں مارنے والا اوردرمیانی راہسے انحراف کرنے والا ہے۔میں تجھے با خبر نہیں کررہا ہوں بلکہ نعمتخدا کا تذکرہ کر رہا ہوں ورنہ کیا تجھے نہیں معلوم ہے کہ مہاجرین وانصار کی ایک بڑی جماعت نے راہ خدا میں جانیں دی ہیں اور سب صاحبان فضل ہیں لیکن جب ہمارا کوئی شہید ہوا ہے تو اسے سید الشہدا کہا گیا ہے اور رسول اکرم (ص) نے اس کے جنازہ کی نمازمیں ستر تکبیریں کہی ہیں۔اسی طرح تجھے معلوم ہے کہ راہ خدا میں بہت سوں کے ہاتھ کٹے ہیں اورصاحبان


فَضْلٌ - حَتَّى إِذَا فُعِلَ بِوَاحِدِنَا مَا فُعِلَ بِوَاحِدِهِمْ - قِيلَ الطَّيَّارُ فِي الْجَنَّةِ وذُو الْجَنَاحَيْنِ - ولَوْ لَا مَا نَهَى اللَّه عَنْه مِنْ تَزْكِيَةِ الْمَرْءِ نَفْسَه - لَذَكَرَ ذَاكِرٌ فَضَائِلَ جَمَّةً تَعْرِفُهَا قُلُوبُ الْمُؤْمِنِينَ - ولَا تَمُجُّهَا آذَانُ السَّامِعِينَ - فَدَعْ عَنْكَ مَنْ مَالَتْ بِه الرَّمِيَّةُ - فَإِنَّا صَنَائِعُ رَبِّنَا والنَّاسُ بَعْدُ صَنَائِعُ لَنَا - لَمْ يَمْنَعْنَا قَدِيمُ عِزِّنَا - ولَا عَادِيُّ طَوْلِنَا عَلَى قَوْمِكَ أَنْ خَلَطْنَاكُمْ بِأَنْفُسِنَا - فَنَكَحْنَا وأَنْكَحْنَا - فِعْلَ الأَكْفَاءِ ولَسْتُمْ هُنَاكَ - وأَنَّى يَكُونُ ذَلِكَ ومِنَّا النَّبِيُّ ومِنْكُمُ الْمُكَذِّبُ - ومِنَّا أَسَدُ اللَّه ومِنْكُمْ أَسَدُ الأَحْلَافِ - ومِنَّا سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ومِنْكُمْ صِبْيَةُ النَّارِ - ومِنَّا خَيْرُ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ ومِنْكُمْ حَمَّالَةُ الْحَطَبِ - فِي كَثِيرٍ مِمَّا لَنَا وعَلَيْكُمْ.

فَإِسْلَامُنَا قَدْ سُمِعَ وجَاهِلِيَّتُنَا لَا تُدْفَعُ - وكِتَابُ اللَّه يَجْمَعُ لَنَا مَا شَذَّ عَنَّا -

شرف ہیں لیکن جب ہمارے آدمی کے ہاتھ کاٹے گئے تواسے جنت میں طیار اورذوالجناحین بنادیا گیا اور اگر پروردگار نے اپنے منہ سے اپنی تعریف سے منع نہ کیا ہو تو بیان کرنے والا بے شمار فضائل بیان کرتا جنہیں صاحبان ایمان کے دل پہچانتے ہیں اور سننے والوں کے کان بھی الگ نہیں کرنا چاہتے چھوڑو ان کاذکر جن کا تیرنشانہسے خطا کرنے والا ہے۔ہمیں دیکھو جو پروردگار کے براہ راست ساختہ پر داختہ ہیں اورباقی لوگ ہمارے احسانات کا نتیجہ ہیں ہماری قدیمی عزت اور تمہاری قوم پر برتری ہمارے لئے اس امر سے مانع نہیں ہوئی کہ ہم نے تم کو اپنے ساتھ شامل کرلیا تو تم سے رشتے(۱) لئے اور تمہیں رشتے دئیے جو عام سے برابر کے لوگوں میں کیا جاتا ہے اور تم ہمارے برابر کے نہیں ہو اور ہو بھی کس طرح سکتے ہو جب کہ ہم میں سے رسول اکرم (ص) ہیں اور تم میں سے ان کی تکذیب کرنے والا۔ہم میں اسد اللہ ہیں اور تم میں اسد الاحلاف۔ہم میں سرداران جوانان جنت ہیں اورتم میں جہنمی لڑکے۔ہم میں سیدة نساء العالمین ہیں اور تم میں حمالتہ الحطب اور ایسی بے شمار چیزیں ہی جوہمارے حق میں ہیں اور تمہارے خلاف۔ ہمارا اسلام بھی مشہور ہے اور ہمارا قبل اسلام کاشرف بھی نا قابل انکار ہے اور کتاب خدا نے ہمارے منتشر اوصاف کو جمع کردیا ہے۔یہ کہہ کر کہ

(۱)یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ رسول اکرم (ص) نے اپنے ہاتھ کی پروردہ لڑکیوں کا عقد بنی امیہ میں کردیا اور ابو سفیان کی بیٹی ام حبیبہ سے خود عقد کرلیا حالانکہ عام طور سے لوگ رشتوں کے لئے برابری تلاش کرتے ہیں۔مگر چونکہ اسلام نے ظاہری کلمہ کو کافی قراردیا ہے لہٰذا ہم نے بھی رشتہ داری قائم کرلی او ر تمہاری اوقات کا خیال نہیں کیا تاکہ مذہب سماج پر حاکم رہے اور سماج مذہب پرحکومت نہ کرنے پائے ۔


وهُوَ قَوْلُه سُبْحَانَه وتَعَالَى -( وأُولُوا الأَرْحامِ بَعْضُهُمْ أَوْلى بِبَعْضٍ فِي كِتابِ الله ) - وقَوْلُه تَعَالَى:( إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْراهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوه - وهذَا النَّبِيُّ والَّذِينَ آمَنُوا - والله وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ) - فَنَحْنُ مَرَّةً أَوْلَى بِالْقَرَابَةِ وتَارَةً أَوْلَى بِالطَّاعَةِ - ولَمَّا احْتَجَّ الْمُهَاجِرُونَ عَلَى الأَنْصَارِ - يَوْمَ السَّقِيفَةِ بِرَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فَلَجُوا عَلَيْهِمْ - فَإِنْ يَكُنِ الْفَلَجُ بِه فَالْحَقُّ لَنَا دُونَكُمْ - وإِنْ يَكُنْ بِغَيْرِه فَالأَنْصَارُ عَلَى دَعْوَاهُمْ. وزَعَمْتَ أَنِّي لِكُلِّ الْخُلَفَاءِ حَسَدْتُ وعَلَى كُلِّهِمْ بَغَيْتُ - فَإِنْ يَكُنْ ذَلِكَ كَذَلِكَ فَلَيْسَتِ الْجِنَايَةُ عَلَيْكَ - فَيَكُونَ الْعُذْرُ إِلَيْكَ. وتِلْكَ شَكَاةٌ ظَاهِرٌ عَنْكَ عَارُهَا

وقُلْتَ إِنِّي كُنْتُ أُقَادُ - كَمَا يُقَادُ الْجَمَلُ الْمَخْشُوشُ حَتَّى أُبَايِعَ؛ ولَعَمْرُ اللَّه لَقَدْ أَرَدْتَ أَنْ تَذُمَّ فَمَدَحْتَ - وأَنْ تَفْضَحَ فَافْتَضَحْتَ - ومَا عَلَى الْمُسْلِمِ مِنْ غَضَاضَةٍ فِي أَنْ يَكُونَ مَظْلُوماً - مَا لَمْ يَكُنْ شَاكَّاً فِي دِينِه

''قرابت دار بعض بعض کے لئے اولیٰ ہیں '' اور یہ کہہ کر کہ '' ابراہیم کے لئے زیادہ قریب تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کا اتباع کیا ہے اور پیغمبر (ص) اور صاحبان ایمان اور اللہ صاحبان ایمان کاولی ہے '' یعنی ہم قرابت کے اعتبارسے بھی اولیٰ ہیں اوراطاعت و اتباع کے اعتبار سے بھی اس کے بعد جب مہاجرین نے انصار کے خلاف روز سقیفہ قرابت پیغمبر(ص) سے استدلال کیا اور کامیاب بھی ہوگئے ۔تواگر کامیابی کا راز یہی ہے تو حق ہمارے ساتھ ہے نہ کہ تمہارے ساتھ اوراگر کوئی اور دلیل ہے تو انصار کا دعویٰ باقی ہے۔

تمہارا خیال ہے کہ میں تمام خلفاء سے حسد رکھتا ہوں اورمیں نے سب کے خلاف بغاوت کی ہے تو اگر یہ صحیح بھی ہے تو اس کاظلم تم پر نہیں ہے کہ تم سے معذرت کی جائے ( یہ وہ غلطی ہے جس سے تم پر کوئی حرف نہیں آتا) بقول شاعر

اورتمہارا یہ کہنا کہ میں اس طرح کھینچا جا رہا تھا جس طرح نکیل ڈال کر اونٹ کو کھینچا جاتا ہے تاکہ مجھ سے بیعت لی جائے تو خدا کی قس تم نے میری مذمت کرنا چاہی اور نا دانستہ طور پر تعریف کر بیٹھے اور مجھے رسوا کرنا چاہا تھا مگرخودرسوا ہوگئے ۔

مسلمان کے لئے اس بات میں کوئی عیب نہیں ہے کہ وہ مظلوم ہو جائے جب تک کہ وہ دین کے معاملہ میں شک میں مبتلا نہ ہو اور اس کا یقین شبہ میں نہ پڑ


ولَا مُرْتَاباً بِيَقِينِه - وهَذِه حُجَّتِي إِلَى غَيْرِكَ قَصْدُهَا - ولَكِنِّي أَطْلَقْتُ لَكَ مِنْهَا بِقَدْرِ مَا سَنَحَ مِنْ ذِكْرِهَا.

ثُمَّ ذَكَرْتَ مَا كَانَ مِنْ أَمْرِي وأَمْرِ عُثْمَانَ - فَلَكَ أَنْ تُجَابَ عَنْ هَذِه لِرَحِمِكَ مِنْه - فَأَيُّنَا كَانَ أَعْدَى لَه وأَهْدَى إِلَى مَقَاتِلِه أَمَنْ بَذَلَ لَه نُصْرَتَه فَاسْتَقْعَدَه واسْتَكَفَّه - أَمْ مَنِ اسْتَنْصَرَه فَتَرَاخَى عَنْه وبَثَّ الْمَنُونَ إِلَيْه - حَتَّى أَتَى قَدَرُه عَلَيْه - كَلَّا واللَّه لَاَّه( قَدْ يَعْلَمُ الله الْمُعَوِّقِينَ مِنْكُمْ - والْقائِلِينَ لإِخْوانِهِمْ هَلُمَّ إِلَيْنا - ولا يَأْتُونَ الْبَأْسَ إِلَّا قَلِيلًا ) -.

ومَا كُنْتُ لأَعْتَذِرَ مِنْ أَنِّي كُنْتُ أَنْقِمُ عَلَيْه أَحْدَاثاً - فَإِنْ كَانَ الذَّنْبُ إِلَيْه إِرْشَادِي وهِدَايَتِي لَه - فَرُبَّ مَلُومٍ لَا ذَنْبَ لَه -

وقَدْ يَسْتَفِيدُ الظِّنَّةَ الْمُتَنَصِّحُ

ومَا أَرَدْتُ( إِلَّا الإِصْلاحَ مَا اسْتَطَعْتُ - وما تَوْفِيقِي إِلَّا بِالله عَلَيْه تَوَكَّلْتُ وإِلَيْه أُنِيبُ )

وذَكَرْتَ أَنَّه لَيْسَ لِي ولأَصْحَابِي عِنْدَكَ

جائے۔میری دلیل اصل میں دوسروں کے مقابلہ میں ہے لیکن جس قدر مناسب تھا میں نے تم سے بھی بیان کردیا۔

اس کے بعد تم نے میرے اور عثمان کے معاملہ کا ذکرکیا ہے تو اس میں تمہارا حق ہے کہ تمہیں جواب دیا جائے اس لئے کہ تم ان کے قرابت دار ہو لیکن یہ سچ سچ بتائو کہ ہم دونوں میں ان کا زیادہ دشمن کون تھا اورکس نے ان کے قتل کا سامان فراہم کیا تھا۔اسنے جس نے نصرت کی پیشکش کی اوراسے بٹھا دیا گیا اور روکدیا گیا یا اسنے جس سے نصرت کا مطالبہ کیاگیا اور اس نے سستی برتی اورموت کا رخ ان کی طرف موڑ دیا۔یہاں تک کہ قضا و قدرنے اپنا کام پورا کردیا۔خدا کی قسم میں ہرگز اس کا مجرم نہیں ہوں اور اللہ ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو روکنے والے تھے اور اپنے بھائیوں سے کہہ رہے تھے کہ ہماری طرف چلے آئو اور جنگ میں بہت کم حصہ لینے والے تھے۔

میں اس بات کی معذرت نہیں کر سکتا کہ میں ان کی بدعتوں پر برابر اعتراض کر رہا تھا کہ اگر یہ ارشاد اور ہدایت بھی کوئی گناہ تھا تو بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی بے گناہ بھی ملامت کی جاتی ہے اور ''کبھی کبھی واقعی نصیحت کرنے والے بھی بد نام ہو جاتے ہیں ' ' میں نے اپنے امکان بھر اصلاح کی کوشش کی اور میری توفیق صرف اللہ کے سہارے ہے۔اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف میری توجہ ہے ''

تم نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ تمہارے پاس


إِلَّا السَّيْفُ - فَلَقَدْ أَضْحَكْتَ بَعْدَ اسْتِعْبَارٍ مَتَى أَلْفَيْتَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَنِ الأَعْدَاءِ نَاكِلِينَ - وبِالسَّيْفِ مُخَوَّفِينَ؟! فَلَبِّثْ قَلِيلًا يَلْحَقِ الْهَيْجَا حَمَلْ

فَسَيَطْلُبُكَ مَنْ تَطْلُبُ - ويَقْرُبُ مِنْكَ مَا تَسْتَبْعِدُ - وأَنَا مُرْقِلٌ نَحْوَكَ فِي جَحْفَلٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ والأَنْصَارِ - والتَّابِعِينَ لَهُمْ بِإِحْسَانٍ - شَدِيدٍ زِحَامُهُمْ سَاطِعٍ قَتَامُهُمْ - مُتَسَرْبِلِينَ سَرَابِيلَ الْمَوْتِ - أَحَبُّ اللِّقَاءِ إِلَيْهِمْ لِقَاءُ رَبِّهِمْ - وقَدْ صَحِبَتْهُمْ ذُرِّيَّةٌ بَدْرِيَّةٌ وسُيُوفٌ هَاشِمِيَّةٌ - قَدْ عَرَفْتَ مَوَاقِعَ نِصَالِهَا - فِي أَخِيكَ وخَالِكَ وجَدِّكَ وأَهْلِكَ -( وما هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ )

(۲۹)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى أهل البصرة

میرے اور میرے اصحاب کے لئے(۱) تلوار کے علاوہ کچھ نہیں ہے تو یہ کہہ کر تم نے روتے کو ہنسا دیا ہے بھلا تم نے اولاد عبدالمطلب کو کب دشمنوں سے پیچھے ہٹتے یا تلوار سے خوفزدہ ہوتے دیکھا ہے ؟

''ذرا ٹھہر جائو کہ حمل میدان جنگ تک پہنچ جائے ''

عنقریب جسے تم ڈھونڈ رہے ہو وہ تمہیں خود ہی تلاش کرلے گا اور جس چیز کو بعید خیال کر رہے ہو اسے قریب کردے گا۔اب میں تمہاری طرف مہاجرین و انصار کے لشکر کے ساتھ بہت جلد آرہا ہوں اور میرے ساتھ وہ بھی ہیں جو ان کے نقش قدم پر ٹھیک طریقہ سے چلنے والے ہیں۔ان کا حملہ شدید ہوگااور غبار جنگ ساری فضا میں منتشر ہوگا۔یہ موت کا لباس پہنے ہوں گے اور ان کی نظر میں بہترین ملاقات پروردگار کی ملاقات ہوگی۔ان کے ساتھ اصحاب بدر کی ذریت اوربنی ہاشم کی تلواریں ہوں گی۔تم نے ان کی تلواروں کی کاٹ اپنے بھائی ماموں ،نانا اور خاندان والوں میں دیکھ لی ہے اور وہ ظالموں سے اب بھی دور نہیں ہے ''

(۲۹)

آپ کا مکتوب گرامی

(اہل بصرہ کے نام)

(۱)قیامت کی بات ہے کہ معاویہ تلوار کی دھمکی صاحب ذوالفقار کو دے رہا ہے جب کہ اسے معلوم ہے کہ علی اس بہادر کا نام ہے جس نے دس برس کی عمرمیں تمام کفارو مشرکین سے رسول اکرم (ص) کو بچانے کاوعدہ کیاتھا اور ہجرت کی رات تلوار کی چھائوں میں نہایت سکون و اطمینان سے سویا ہے اور بدرکے میدان میں تمام روسا ء کفار و مشرکین اور زعماء بنی امیہ کا تن تنہاخاتمہ کردیا ہے۔ایں چہ بوالعجی است


وقَدْ كَانَ مِنِ انْتِشَارِ حَبْلِكُمْ وشِقَاقِكُمْ - مَا لَمْ تَغْبَوْا عَنْه - فَعَفَوْتُ عَنْ مُجْرِمِكُمْ ورَفَعْتُ السَّيْفَ عَنْ مُدْبِرِكُمْ - وقَبِلْتُ مِنْ مُقْبِلِكُمْ - فَإِنْ خَطَتْ بِكُمُ الأُمُورُ الْمُرْدِيَةُ - وسَفَه الآرَاءِ الْجَائِرَةِ إِلَى مُنَابَذَتِي وخِلَافِي - فَهَا أَنَا ذَا قَدْ قَرَّبْتُ جِيَادِي ورَحَلْتُ رِكَابِي - ولَئِنْ أَلْجَأْتُمُونِي إِلَى الْمَسِيرِ إِلَيْكُمْ - لأُوقِعَنَّ بِكُمْ وَقْعَةً - لَا يَكُونُ يَوْمُ الْجَمَلِ إِلَيْهَا إِلَّا كَلَعْقَةِ لَاعِقٍ - مَعَ أَنِّي عَارِفٌ لِذِي الطَّاعَةِ مِنْكُمْ فَضْلَه - ولِذِي النَّصِيحَةِ حَقَّه - غَيْرُ مُتَجَاوِزٍ مُتَّهَماً إِلَى بَرِيٍّ ولَا نَاكِثاً إِلَى وَفِيٍّ.

(۳۰)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى معاوية

فَاتَّقِ اللَّه فِيمَا لَدَيْكَ - وانْظُرْ فِي حَقِّه عَلَيْكَ - وارْجِعْ إِلَى مَعْرِفَةِ مَا

تمہاری تفرقہ(۲) پردازی اورمخالفت کا جو عالم تھا وہ تم سے مخفی نہیں ہے لیکن میں نے تمہارے مجرموں کو معاف کردیا۔بھاگنے والوں سے تلوار اٹھالی۔آنے والوں کو بڑھ کرگلے لگالیا۔اب اس کے بعد بھی اگر تمہاری تباہ کن راء اور تمہارے ظالمانہ افکار کی حماقت تمہیں میری مخالفت اورعہد شکنی پر آمادہ کر رہی ہے تو یاد رکھو کہمیں نے گھوڑوں کو قریب کرلیا ہے۔اونٹوں پر سامان بار کرلیا ہے اوراگر تم نے گھرسے نکلنے پر مجبور کردیا تو ایسی معرکہ آرائی کروں گا کہ جنگ جمل فقط زبان کی چاٹ رہ جائے گی۔

میں تمہارے اطاعت گذاروں کے شرف کو پہچانتا ہوں اورمخلصین کے حق کو جانتا ہوں ۔میرے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ مجرم سے آگے بڑھ کربے خطا پر حملہ کردوں یا عہد شکن سے تجاوز کرکے وفادار سے بھی تعرض کروں۔

(۳۰)

آپ کا مکتوب گرامی

(معاویہ کے نام )

جو کچھ سازو سامان تمہارے پاس ہے اس میں اللہ سے ڈرو اور جواس کاحق تمہارے اوپر ہے اس پر نگاہ رکھو۔ اس حق کی معرفت کی طرف پلٹ آئو جس سے نا

(۱) پہلے اہل بصرہنے وفاداری کا اعلان کیا تو حضرت نے عثمان بن حنیف کو عامل بنا کربھیج دیا ۔اس کے بعد عائشہ وارد ہوئیں تواکثریت منحرف ہوگئی اور جنگ جمل کی نوبت آگئی لیکن آپ نے عام طور سے سب کو معاف کردیا اور عائشہ بھی مدینہ واپس چلی گئیں۔لیکن معاویہ نے پھر دوبارہ ورغلانا شروع کردیا تو آپ نے یہ تنبیہی خط روانہ فرمایا کہ جنگ جمل تو صرف مزہ چکھانے کے لئے تھی جنگ تو اب ہونے والی ہے۔لہٰذا ہوش میںآجائو اورمعاویہ کے بہکانے پر راہ حق سے انحراف نہ کرو۔


لَا تُعْذَرُ بِجَهَالَتِه - فَإِنَّ لِلطَّاعَةِ أَعْلَاماً وَاضِحَةً - وسُبُلًا نَيِّرَةً ومَحَجَّةً نَهْجَةً وغَايَةً مُطَّلَبَةً - يَرِدُهَا الأَكْيَاسُ ويُخَالِفُهَا الأَنْكَاسُ - مَنْ نَكَبَ عَنْهَا جَارَ عَنِ الْحَقِّ وخَبَطَ فِي التِّيه - وغَيَّرَ اللَّه نِعْمَتَه وأَحَلَّ بِه نِقْمَتَه - فَنَفْسَكَ نَفْسَكَ فَقَدْ بَيَّنَ اللَّه لَكَ سَبِيلَكَ - وحَيْثُ تَنَاهَتْ بِكَ أُمُورُكَ - فَقَدْ أَجْرَيْتَ إِلَى غَايَةِ خُسْرٍ ومَحَلَّةِ كُفْرٍ - فَإِنَّ نَفْسَكَ قَدْ أَوْلَجَتْكَ شَرّاً وأَقْحَمَتْكَ غَيّاً - وأَوْرَدَتْكَ الْمَهَالِكَ وأَوْعَرَتْ عَلَيْكَ الْمَسَالِكَ.

(۳۱)

ومن وصية لهعليه‌السلام

للحسن بن عليعليه‌السلام - كتبها إليه بحاضرين عند انصرافه من صفين:

مِنَ الْوَالِدِ الْفَانِ الْمُقِرِّ لِلزَّمَانِ الْمُدْبِرِ الْعُمُرِ - الْمُسْتَسْلِمِ لِلدُّنْيَا

واقفیت قابل معافی نہیں ہے۔دیکھو اطاعت کے نشانات واضح، راستے روشن ، شاہراہیں سیدھی ہیں اور منزل مقصود سامنے ہے جس پر تمام عقل والے وارد ہوتے ہیں۔اور پست فطرت اس کی مخالفت کرتے ہیں۔جو اس ہدف سے منحرف ہوگیا وہ راہ حق سے ہٹ گیا اور گمراہی میںٹھوکر کھانے لگا۔اللہ نے اس کی نعمتوں کو سلب کرلیا اور اپناعذاب اس پروارد کردیا۔لہٰذا اپنے نفس کاخیال رکھو اوراسے ہلاکت سے بچائو کہ پروردگار نے تمہارے لئے راستہ کو واضح کردیا ہے اور وہ منزل بتادی ہے جہاں تک امور کو جانا ہے۔تم نہایت تیزی سے بدترین خسارہ اور کفر کی منزل کی طرف بھاگے جا رہے ہو۔تمہارے نفس نے تمہیں بدبختی میں ڈال دیا ہے اور گمراہی میں جھونک دیا ہے۔ہلاکت کی منزلوں میں وارد کردیا ہے اور صحیح راستوں کودشوار گزار بنادیاہے۔

(۳۱)

آپ کا وصیت نامہ

( جسے امام حسن کے نام صفین سے واپسی پر مقام حاضرین میں تحریر فرمایا ہے )

یہ وصیت ایک ایسے باپ(۱) کی ہے۔جو فنا ہونے والا اور زمانہ کے تصرفات کا اقرار کرنے والا ہے۔جس کی عمرخاتمہ کے قریب ہے اور وہ دنیا کے مصائب کے سامنے

(۱)بعض شارحین کا خیال ہے کہ یہ وصیت نامہ جناب محمد حنیفہ کے نام ہے اور سید رضی علیہ الرحمہ نے اسے امام حسن کے نام بتایا ہے۔بہرحال یہ ایک عام وصیت نامہ ہے جس سے ہر باپ کو استفادہ کرنا چاہیے اور اپنی اولاد کو انہیں خطوط پر وصیت و نصیحت کرنا چاہیے ورنہ اس کا مکمل مضمون مولائے کائنات پرمنطبق ہوتا ہے اور نہ امام حسن پر۔ اورنہ ایسے وصیت نامے کسی ایک فرد سے مخصوص ہواکرتے ہیں۔یہ انسانیت کا عظیم ترین منشور ہے جس میں عظیم ترین باپ نے عظیم ترین بیٹے کو مخاطب قرار دیا ہے تاکہ دیگر افراد ملت اس سے استفادہ کریں بلکہ عبرت حاصل کریں ۔


السَّاكِنِ مَسَاكِنَ الْمَوْتَى والظَّاعِنِ عَنْهَا غَداً - إِلَى الْمَوْلُودِ الْمُؤَمِّلِ مَا لَا يُدْرِكُ - السَّالِكِ سَبِيلَ مَنْ قَدْ هَلَكَ - غَرَضِ الأَسْقَامِ ورَهِينَةِ الأَيَّامِ - ورَمِيَّةِ الْمَصَائِبِ وعَبْدِ الدُّنْيَا وتَاجِرِ الْغُرُورِ - وغَرِيمِ الْمَنَايَا وأَسِيرِ الْمَوْتِ - وحَلِيفِ الْهُمُومِ وقَرِينِ الأَحْزَانِ - ونُصُبِ الآفَاتِ وصَرِيعِ الشَّهَوَاتِ وخَلِيفَةِ الأَمْوَاتِ.

أَمَّا بَعْدُ - فَإِنَّ فِيمَا تَبَيَّنْتُ مِنْ إِدْبَارِ الدُّنْيَا عَنِّي - وجُمُوحِ الدَّهْرِ عَلَيَّ وإِقْبَالِ الآخِرَةِ إِلَيَّ - مَا يَزَعُنِي عَنْ ذِكْرِ مَنْ سِوَايَ - والِاهْتِمَامِ بِمَا وَرَائِي - غَيْرَ أَنِّي حَيْثُ تَفَرَّدَ بِي دُونَ هُمُومِ النَّاسِ هَمُّ نَفْسِي - فَصَدَفَنِي رَأْيِي وصَرَفَنِي عَنْ هَوَايَ - وصَرَّحَ لِي مَحْضُ أَمْرِي - فَأَفْضَى بِي إِلَى جِدٍّ لَا يَكُونُ فِيه لَعِبٌ - وصِدْقٍ لَا يَشُوبُه كَذِبٌ ووَجَدْتُكَ بَعْضِي - بَلْ وَجَدْتُكَ كُلِّي - حَتَّى كَأَنَّ شَيْئاً لَوْ أَصَابَكَ أَصَابَنِي - وكَأَنَّ الْمَوْتَ لَوْ أَتَاكَ أَتَانِي – فَعَنَانِي مِنْ أَمْرِكَ مَا يَعْنِينِي مِنْ أَمْرِ نَفْسِي - فَكَتَبْتُ إِلَيْكَ كِتَابِي - مُسْتَظْهِراً بِه

سپرانداختہ ہے۔مرنے والوں کی بستی میں مقیم ہے اور کل یہاں سے کوچ کرنے والا ہے ۔ اس فرزند کے نام جو دنیا میں وہ امیدیں رکھے ہوئے ہے جو حاصل ہونے والی نہیں ہیں اورہلاک ہوجانے والوں کے راستے پر گامزن ہے ' بیماریوں کا نشانہ اور روز گار کے ہاتھوں گوی ہے۔مصائب زمانہ کا ہدف اور دنیا کا پابند ہے۔اس کا فریب کاریوں کا تاجر اوروت کا قرضدار ہے۔اجل کا قیدی اور رنج و غم کا ساتھی مصیبتوں کاہمنشیں ہے اورآفتوں کا نشانہ ' خواہشات کامارا ہوا ہے اورمرنے والوں کا جانشین۔

اما بعد! میرے لئے دنیا کے منہ پھیر لینے ۔زمانہ کے ظلم و زیادتی کرنے اورآخرت کے میری طرف آنے کی وجہ سے جن باتوں کا انکشاف ہوگیا ہے انہوں نے مجھے دوسروں کے ذکر اوراغیار کے اندیشہ سے روک دیا ہے۔مگر جب میں تمام لوگوں کی فکرسے الگ ہو کر اپنی فکر میں پڑا تو میریرائے نے مجھے خواہشات سے روک دیا اور مجھ پرواقعی حقیقت منکشف ہوگئی جس نے مجھے اس محنت و مشقت تک پہنچا دیا جس میں کسی طرح کا کیل نہیں ہے اور اس صداقت تک پہنچا دیا جس میں کسی طرح کی غلط بیانی نہیں ہے۔میں نے تم کو اپنا ہی ایک حصہ پایا بلکہ تم کو اپنا سراپا وجود سمجھا کہ تمہاری تکلیف میری تکلیف ہے اور تمہاری موت میری موت ہے اس لئے مجھے تمہارے معاملات کی اتنی ہی فکر ہے جتنی اپنے معاملات کی ہوتی ہے اور اسی لئے میں نے یہ تحریر لکھی دی ہے جس کے ذریعہ تمہاری امداد کرنا چاہتا ہوں


إِنْ أَنَا بَقِيتُ لَكَ أَوْ فَنِيتُ.

فَإِنِّي أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّه أَيْ بُنَيَّ ولُزُومِ أَمْرِه - وعِمَارَةِ قَلْبِكَ بِذِكْرِه والِاعْتِصَامِ بِحَبْلِه - وأَيُّ سَبَبٍ أَوْثَقُ مِنْ سَبَبٍ بَيْنَكَ وبَيْنَ اللَّه - إِنْ أَنْتَ أَخَذْتَ بِه.

أَحْيِ قَلْبَكَ بِالْمَوْعِظَةِ وأَمِتْه بِالزَّهَادَةِ - وقَوِّه بِالْيَقِينِ ونَوِّرْه بِالْحِكْمَةِ - وذَلِّلْه بِذِكْرِ الْمَوْتِ وقَرِّرْه بِالْفَنَاءِ - وبَصِّرْه فَجَائِعَ الدُّنْيَا - وحَذِّرْه صَوْلَةَ الدَّهْرِ وفُحْشَ تَقَلُّبِ اللَّيَالِي والأَيَّامِ - واعْرِضْ عَلَيْه أَخْبَارَ الْمَاضِينَ - وذَكِّرْه بِمَا أَصَابَ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ مِنَ الأَوَّلِينَ - وسِرْ فِي دِيَارِهِمْ وآثَارِهِمْ - فَانْظُرْ فِيمَا فَعَلُوا وعَمَّا انْتَقَلُوا وأَيْنَ حَلُّوا ونَزَلُوا - فَإِنَّكَ تَجِدُهُمْ قَدِ انْتَقَلُوا عَنِ الأَحِبَّةِ - وحَلُّوا دِيَارَ الْغُرْبَةِ - وكَأَنَّكَ عَنْ قَلِيلٍ قَدْ صِرْتَ كَأَحَدِهِمْ - فَأَصْلِحْ مَثْوَاكَ ولَا تَبِعْ آخِرَتَكَ بِدُنْيَاكَ - ودَعِ الْقَوْلَ فِيمَا لَا تَعْرِفُ والْخِطَابَ فِيمَا لَمْ تُكَلَّفْ - وأَمْسِكْ عَنْ طَرِيقٍ إِذَا خِفْتَ ضَلَالَتَه - فَإِنَّ الْكَفَّ عِنْدَ حَيْرَةِ الضَّلَالِ خَيْرٌ مِنْ رُكُوبِ الأَهْوَالِ وأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ تَكُنْ

چاہیے میں زندہ رہوں یا مرجائوں۔

فرزند! میں تم کو خوف خدا اور اس کے احکام کی پابندی کی وصیت کرتا ہوں۔اپنے دل کواس کی یاد سے آباد رکھنا اوراس کی ریسمان ہدایت سے وابستہ رہنا کہ اس سے زیادہ مستحکم کوئی رشتہ تمہارے اور خداا کے درمیان نہیں ہے۔

اپنے دل کو موعظہ سے زندہ رکھنا اور اس کے خواہشات کو زہد سے مردہ بنادینا۔اسے یقین کے ذریعہ قوی رکھنا اورحکمت کے ذریعہ نورانی رکھنا۔ذکر موت کے ذریعہ رام کرنااورفناکے ذریعہ قابو میں رکھنا۔دنیا کے حوادث سے آگاہ رکھنا اور زمانہ کے حملہ اور لیل ونہار کے تصرفات سے ہوشیار رکھنا۔اس پر گذشتہ لوگوں کے اخبار کو پیش کرتے رہنا اور پہلے والوں پر پڑنے والے مصائبکویاد دلاتے رہنا۔ان کے دیار و آثار میں سر گرم سفر رہنا اور دیکھتے رہنا کہ انہوں نے کیا کیا ہے اور کہاں سے کہاں چل گئے ہیں۔کہاں واردہوئے ہیں اورکہاں ڈیرہ ڈالا ہے۔پھر تم دیکھو گے کہ وہ احباب کی دنیا سے منتقل ہوگئے ہیں اور دیار غربت میں وارد ہوگئے ہیں اور گویا کہ عنقریت تم بھی انہیں میں شامل ہو جائو گے لہٰذا اپنی منزل کو ٹھیک کرلو اورخبردارآخرت کو دنیا کے عوض فروخت نہ کرنا ۔جن باتوں کو نہیں جانتے ہو ان کے بارے میں بات نہ کرنا اور جن کے مکلف نہیں ہوان کے بارے میں گفتگو نہکرنا جس راستہ میں گمراہی کا خوف ہو ادھر قدم آگینہ بڑھانا کہ گمراہی کے تحیر سے پہلے ٹھہر جانا ہولناک مرحلوں میں وارد ہو جانے سے بہترہے۔نیکیوں کا حکم دیتے رہنا تاکہ اس کے


مِنْ أَهْلِه - وأَنْكِرِ الْمُنْكَرَ بِيَدِكَ ولِسَانِكَ - وبَايِنْ مَنْ فَعَلَه بِجُهْدِكَ - وجَاهِدْ فِي اللَّه حَقَّ جِهَادِه - ولَا تَأْخُذْكَ فِي اللَّه لَوْمَةُ لَائِمٍ - وخُضِ الْغَمَرَاتِ لِلْحَقِّ حَيْثُ كَانَ وتَفَقَّه فِي الدِّينِ - وعَوِّدْ نَفْسَكَ التَّصَبُّرَ عَلَى الْمَكْرُوه - ونِعْمَ الْخُلُقُ التَّصَبُرُ فِي الْحَقِّ - وأَلْجِئْ نَفْسَكَ فِي أُمُورِكَ كُلِّهَا إِلَى إِلَهِكَ - فَإِنَّكَ تُلْجِئُهَا إِلَى كَهْفٍ حَرِيزٍ ومَانِعٍ عَزِيزٍ - وأَخْلِصْ فِي الْمَسْأَلَةِ لِرَبِّكَ - فَإِنَّ بِيَدِه الْعَطَاءَ والْحِرْمَانَ - وأَكْثِرِ الِاسْتِخَارَةَ وتَفَهَّمْ وَصِيَّتِي - ولَا تَذْهَبَنَّ عَنْكَ صَفْحاً - فَإِنَّ خَيْرَ الْقَوْلِ مَا نَفَعَ - واعْلَمْ أَنَّه لَا خَيْرَ فِي عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ - ولَا يُنْتَفَعُ بِعِلْمٍ لَا يَحِقُّ تَعَلُّمُه.

أَيْ بُنَيَّ إِنِّي لَمَّا رَأَيْتُنِي قَدْ بَلَغْتُ سِنّاً - ورَأَيْتُنِي أَزْدَادُ وَهْناً - بَادَرْتُ بِوَصِيَّتِي إِلَيْكَ - وأَوْرَدْتُ خِصَالًا مِنْهَا قَبْلَ أَنْ يَعْجَلَ بِي أَجَلِي - دُونَ أَنْ أُفْضِيَ إِلَيْكَ بِمَا فِي نَفْسِي - أَوْ أَنْ أُنْقَصَ فِي رَأْيِي كَمَا نُقِصْتُ فِي جِسْمِي - أَوْ يَسْبِقَنِي إِلَيْكَ بَعْضُ غَلَبَاتِ الْهَوَى وفِتَنِ الدُّنْيَا - فَتَكُونَ

اہل میں شمار ہو اور برائیوں سے اپنے ہاتھ اور زبان کی طاقت سے منع کرتے رہنا اور برائی کرنے والوں سے اپنے امکان بھر دور رہنا۔راہ خدا میں جہاد کا حق ادا کردینا اور خبردار اس راہ میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہ کرنا۔حق کی خاطر جہاد بھی ہو سختیوں میں کود پڑنا۔اور دین کا علم حاصل کرنا اپنے نفس کو نا خوشگوار حالات میں صبر کا عادی بادینا اوریاد رکھنا کہ بہترین اخلاق حق کی راہ میں صبر کرنا ہے۔اپنے تمام امورمیں پروردگار کی طرف رجوع کرنا کہ اس طرح ایک محفوظ ترین پناہ گاہ کاسہارا لو گے اور بہترین محافظ کی پناہ میں رہوگے۔پروردگار سے سوال کرنے میں مخلص رہنا کہ عطا کرنا اور محروم کردینا اسی کے ہاتھ میں ہے مالک سے مسلسل طلب خیرکرتے رہنا اور میری وصیت پر غور کرتے رہنا۔اس سے پہلو بچا کر گذر نہ جانا کہ بہترین کلام وہی ہے جو فائدہ مند ہواور یاد رکھو کہ جس علم میں فائدہ نہ ہو اس میں کوئی خیر نہیں ہے اور جو علم سیکھنے کے لائق نہ ہو اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔

فرزند! میں نے دیکھا کہ اب میرا سن بہت زیادہ ہو چکا ہے اور مسلسل کمزور ہوتا جا رہا ہوں لہٰذا میں نے فوراً یہ وصیت لکھ دی اور ان مضامین کو درج کردیا کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے دل کی بات تمہارے حوالہ کرنے سے پہلے مجھے موت آجائے یا جسم کے نقص کی طرح رائے کو کمزور تصور کیا جانے لگے یا وصیت سے پہلے ہی خواہشات کے غلبے اوردنیا کے فتنے تم تک نہ پہنچ جائیں۔ اور تمہارا حال


كَالصَّعْبِ النَّفُورِ - وإِنَّمَا قَلْبُ الْحَدَثِ كَالأَرْضِ الْخَالِيَةِ - مَا أُلْقِيَ فِيهَا مِنْ شَيْءٍ قَبِلَتْه - فَبَادَرْتُكَ بِالأَدَبِ قَبْلَ أَنْ يَقْسُوَ قَلْبُكَ - ويَشْتَغِلَ لُبُّكَ لِتَسْتَقْبِلَ بِجِدِّ رَأْيِكَ مِنَ الأَمْرِ - مَا قَدْ كَفَاكَ أَهْلُ التَّجَارِبِ بُغْيَتَه وتَجْرِبَتَه - فَتَكُونَ قَدْ كُفِيتَ مَئُونَةَ الطَّلَبِ - وعُوفِيتَ مِنْ عِلَاجِ التَّجْرِبَةِ - فَأَتَاكَ مِنْ ذَلِكَ مَا قَدْ كُنَّا نَأْتِيه - واسْتَبَانَ لَكَ مَا رُبَّمَا أَظْلَمَ عَلَيْنَا مِنْه أَيْ بُنَيَّ إِنِّي وإِنْ لَمْ أَكُنْ عُمِّرْتُ عُمُرَ مَنْ كَانَ قَبْلِي - فَقَدْ نَظَرْتُ فِي أَعْمَالِهِمْ وفَكَّرْتُ فِي أَخْبَارِهِمْ - وسِرْتُ فِي آثَارِهِمْ حَتَّى عُدْتُ كَأَحَدِهِمْ - بَلْ كَأَنِّي بِمَا انْتَهَى إِلَيَّ مِنْ أُمُورِهِمْ - قَدْ عُمِّرْتُ مَعَ أَوَّلِهِمْ إِلَى آخِرِهِمْ - فَعَرَفْتُ صَفْوَ ذَلِكَ مِنْ كَدَرِه ونَفْعَه مِنْ ضَرَرِه - فَاسْتَخْلَصْتُ لَكَ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ نَخِيلَه - وتَوَخَّيْتُ لَكَ جَمِيلَه وصَرَفْتُ عَنْكَ مَجْهُولَه - ورَأَيْتُ حَيْثُ عَنَانِي مِنْ أَمْرِكَ مَا يَعْنِي الْوَالِدَ الشَّفِيقَ -

بھڑک اٹھنے والے اونٹ جیسا ہو جائے۔ یقینا نوجوان کادل ایک خالی زمین کی طرح ہوتا ہے کہ جو چیز اس میں ڈال دی جائے اسے قبول کرلیتا ہے لہٰذا میں نے چاہا کہ تمہیں دل کے سخت ہونے اور عقل کے مشغول ہو جانے سے پہلے وصیت کردوں تاکہ تم سنجیدہ فکر کے ساتھ اس امر کو قبول کرلو جس کی تلاش اور جس کے تجربہ کی زحمت سے تمہیں تجربہ کار لوگوں نے بچا لیا ہے۔اب تمہاری طلب کی زحمت ختم ہوچکی ہے اورتمہیں تجربہ کی مشکل سے نجات مل چکی ہے۔تمہارے پاس وہ حقائق ازخود آگئے ہیں جن کو ہم تلاش کیا کرتے تھے اور تمہارے لئے وہ تمام باتیں واضح ہوچکی ہیں جو ہمارے لئے مبہم تھیں۔

فرزند! اگرچہ میں نے اتنی عمرنہیں پائی جتنی اگلے لوگوں کی ہواکرتی تھی لیکن میں نے ان کے اعمال میں غور کیا ہے اور ان کے اخبارمیں فکر کی ہے اور ان کے آثار میںسیرو سیاحت کی ہے اور میں صاف اور گندہ کی خوب پہچانتا ہوں۔نفع و ضرر میں امتیاز رکھتا ہوں۔میں نے ہر امر کی چھان پھٹک کر اس کا خالص نکال لیا ہے۔اور بہترین تلاش کرلیا ہے اور بے معنی چیزوں کو تم سے دور کردیا ہے اوری ہ چاہا ہے کہ تمہیں اسی وقت ادب کی تعلیم دے دوں جب کہ تم عمر کے ابتدائی حصہ میں ہو اور زمانہ کے حالات کا سامنا کر رہے ہو۔تمہاری نیت سالم ہے اورنفس صاف و پاکیزہ ہے اس لئے کہ مجھے تمہارے بارے میں اتنی ہی فکر ہے جتنی ایک مہربان باپ کو اپنی اولاد کی ہوتی ہے۔


وأَجْمَعْتُ عَلَيْه مِنْ أَدَبِكَ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ - وأَنْتَ مُقْبِلُ الْعُمُرِ ومُقْتَبَلُ الدَّهْرِ - ذُو نِيَّةٍ سَلِيمَةٍ ونَفْسٍ صَافِيَةٍ - وأَنْ أَبْتَدِئَكَ بِتَعْلِيمِ كِتَابِ اللَّه عَزَّ وجَلَّ - وتَأْوِيلِه وشَرَائِعِ الإِسْلَامِ وأَحْكَامِه وحَلَالِه وحَرَامِه - لَا أُجَاوِزُ ذَلِكَ بِكَ إِلَى غَيْرِه - ثُمَّ أَشْفَقْتُ أَنْ يَلْتَبِسَ عَلَيْكَ - مَا اخْتَلَفَ النَّاسُ فِيه مِنْ أَهْوَائِهِمْ وآرَائِهِمْ - مِثْلَ الَّذِي الْتَبَسَ عَلَيْهِمْ - فَكَانَ إِحْكَامُ ذَلِكَ عَلَى مَا كَرِهْتُ مِنْ تَنْبِيهِكَ لَه أَحَبَّ إِلَيَّ - مِنْ إِسْلَامِكَ إِلَى أَمْرٍ لَا آمَنُ عَلَيْكَ بِه الْهَلَكَةَ - ورَجَوْتُ أَنْ يُوَفِّقَكَ اللَّه فِيه لِرُشْدِكَ - وأَنْ يَهْدِيَكَ لِقَصْدِكَ فَعَهِدْتُ إِلَيْكَ وَصِيَّتِي هَذِه.

واعْلَمْ يَا بُنَيَّ - أَنَّ أَحَبَّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِه إِلَيَّ مِنْ وَصِيَّتِي تَقْوَى اللَّه - والِاقْتِصَارُ عَلَى مَا فَرَضَه اللَّه عَلَيْكَ - والأَخْذُ بِمَا مَضَى عَلَيْه الأَوَّلُونَ مِنْ آبَائِكَ - والصَّالِحُونَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِكَ - فَإِنَّهُمْ لَمْ يَدَعُوا أَنْ نَظَرُوا لأَنْفُسِهِمْ كَمَا أَنْتَ نَاظِرٌ - وفَكَّرُوا كَمَا أَنْتَ مُفَكِّرٌ - ثُمَّ رَدَّهُمْ آخِرُ ذَلِكَ إِلَى الأَخْذِ بِمَا عَرَفُوا - والإِمْسَاكِ عَمَّا لَمْ يُكَلَّفُوا - فَإِنْ أَبَتْ نَفْسُكَ أَنْ تَقْبَلَ ذَلِكَ دُونَ أَنْ تَعْلَمَ كَمَا عَلِمُوا - فَلْيَكُنْ طَلَبُكَ ذَلِكَ بِتَفَهُّمٍ وتَعَلُّمٍ - لَا بِتَوَرُّطِ الشُّبُهَاتِ

اب میں اپنی تربیت کا آغاز کتاب خدا اور اس کی تاویل ۔قوانین اسلام اور اس کے احکام حلال و حرام سے کر رہا ہوں اور تمہیں چھوڑ کردوسرے کی طرف نہیں جانا۔پھر مجھے یہخوف بھی ہے کہ کہیں لوگوں کے عقائد و افکار و خواہشات کااختلاف تمہارے لئے اسی طرح مشتبہ نہ ہو جائے جس طرح ان لوگوں کے لئے ہوگیا ہے لہٰذا ان کا مستحکم کردینا میری نظرمیں ا سے زیادہ محبوب ہے کہ تمہیں ایسے حالات کے حوالے کردوں جن میں ہلاکت سے محفوظ رہنے کا اطمینان نہیں ہے۔اگرچہ مجھے یہ تعلیم دیتے ہوئے اچھا نہیں لگ رہا ہے۔لیکن مجھے امید ہے کہ پروردگار تمہیں نیکی کی توفیق دے گا اور سیدھے راستہ کی ہدایت عطا کرے گا۔اسی بنیاد پر یہ وصیت نامہ لکھ دیا ہے۔

فرزند! یاد رکھو کہ میری بہترین وصیت جسے تمہیں اخذ کرنا ہے وہ یہ ہے کہ تقویٰ الٰہی اختیار کرو اور اس کے فرائض پر اکتفا کرو اوروہ تمام طریقے جن پر تمہارے باپ دادا اور تمہارے گھرانے کے نیکج کردار افراد چلتے رہے ہیں انہیں پر چلتے رہو کہ انہوں نے اپنے بارے میں کسی ایسی فکر کونظرانداز نہیںکیا جو تمہاری نظر میں ہے اور کسی خیال کو فرو گذاشت نہیں کیا ہے اور اسی فکرونظر نے ہی انہیں اس نتیجہ تک پہنچا یا ہے کہ معروف چیزوں کوحاصل کرلیں اور لا یعنی چیزوں سے پرہیز کریں۔اب اگر تمہارا نفس ان چیزوں کو بغیر جانے پہچانے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے تو پھر اس کی تحقیق باقاعدہ علم و فہم کے ساتھ ہونی چاہیے اور شبہات میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے


وعُلَقِ الْخُصُومَاتِ - وابْدَأْ قَبْلَ نَظَرِكَ فِي ذَلِكَ بِالِاسْتِعَانَةِ بِإِلَهِكَ - والرَّغْبَةِ إِلَيْه فِي تَوْفِيقِكَ - وتَرْكِ كُلِّ شَائِبَةٍ أَوْلَجَتْكَ فِي شُبْهَةٍ أَوْ أَسْلَمَتْكَ إِلَى ضَلَالَةٍ - فَإِنْ أَيْقَنْتَ أَنْ قَدْ صَفَا قَلْبُكَ فَخَشَعَ - وتَمَّ رَأْيُكَ فَاجْتَمَعَ - وكَانَ هَمُّكَ فِي ذَلِكَ هَمّاً وَاحِداً - فَانْظُرْ فِيمَا فَسَّرْتُ لَكَ - وإِنْ لَمْ يَجْتَمِعْ لَكَ مَا تُحِبُّ مِنْ نَفْسِكَ - وفَرَاغِ نَظَرِكَ وفِكْرِكَ - فَاعْلَمْ أَنَّكَ إِنَّمَا تَخْبِطُ الْعَشْوَاءَ وتَتَوَرَّطُ الظَّلْمَاءَ - ولَيْسَ طَالِبُ الدِّينِ مَنْ خَبَطَ أَوْ خَلَطَ - والإِمْسَاكُ عَنْ ذَلِكَ أَمْثَلُ

فَتَفَهَّمْ يَا بُنَيَّ وَصِيَّتِي - واعْلَمْ أَنَّ مَالِكَ الْمَوْتِ هُوَ مَالِكُ الْحَيَاةِ - وأَنَّ الْخَالِقَ هُوَ الْمُمِيتُ - وأَنَّ الْمُفْنِيَ هُوَ الْمُعِيدُ وأَنَّ الْمُبْتَلِيَ هُوَ الْمُعَافِي - وأَنَّ الدُّنْيَا لَمْ تَكُنْ لِتَسْتَقِرَّ - إِلَّا عَلَى مَا جَعَلَهَا اللَّه عَلَيْه مِنَ النَّعْمَاءِ والِابْتِلَاءِ - والْجَزَاءِ فِي الْمَعَادِ - أَوْ مَا شَاءَ مِمَّا لَا تَعْلَمُ - فَإِنْ أَشْكَلَ عَلَيْكَ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ فَاحْمِلْه عَلَى جَهَالَتِكَ - فَإِنَّكَ أَوَّلُ مَا خُلِقْتَ بِه جَاهِلًا ثُمَّ عُلِّمْتَ - ومَا أَكْثَرَ مَا تَجْهَلُ

اورنہ جھگڑوں کا شکار ہونا چاہیے اور ان مسائل میں نظر کرنے سے پہلے اپنے پروردگار سے مدد طلب کرو اور توفیق کے ئے اس کی طرف توجہ کرو اور ہر اس شائبہ کو چھوڑ دو جو کسی شبہ میں ڈال دے یا کسی گمراہی کے حوالے کردے ۔پھر اگر تمہیں اطمینان ہو جائے کہ تمہارا دل صاف اور خاشع ہوگیا ہے اور تمہاری رائے تام دکامل ہوگئی ہے اور تمہارے پاس صرف یہی ایک فکر رہ گئی ہے تو جن باتوں کو میں نے واضح کیا ہے ان میں غورو فکر کرنا ورنہ اگر حسب منشاء فکرونظر کا فراغ حاصل نہیں ہوا ہے تو یاد رکھو کہ اس طرف صرف شبکور اونٹنی کی طرح ہاتھ پیر مارتے رہو گے اور اندھیرے میں بھٹکتے رہوگے اور دین کا طلب گار وہ نہیں ہے جواندھیروں میں ہاتھ پائوں مارے اورباتوں کومخلوط کردے۔اس سے تو ٹھہرجانا ہی بہتر ہے۔

فرزند! میری وصیت کو سمجھو اور یہ جان لو کہ جو موت کا مالک ہے وہی زندگی کا مالک ہے اور جو خالق ہے وہی موت دینے والا ہے اور جوفناکرنے والا ے وہی دوبارہ واپس لانے والا ہے اور جو مبتلا کرنے والا ہے وہی عافیت دینے والا ہے اور یہ دنیا اسی حالت میں مستقررہ سکتی ہے جس میں مالک نے قراردیا ہے یعنی نعمت، آزمائش ، آخرت کی جزا یا وہ بات جو تم نہیں جانتے ہو۔اب اگر اس میں سے کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو اس اپنی جہالت پر محمول کرنا کہ تم ابتدا میں جب پیدا ہو ئے ہو تو جاہل ہی پیداہوئے ہو بعد میں علم حاصل کیا ہے اور اسی بنا پر مجہولات


مِنَ الأَمْرِ ويَتَحَيَّرُ فِيه رَأْيُكَ - ويَضِلُّ فِيه بَصَرُكَ ثُمَّ تُبْصِرُه بَعْدَ ذَلِكَ فَاعْتَصِمْ بِالَّذِي خَلَقَكَ ورَزَقَكَ وسَوَّاكَ - ولْيَكُنْ لَه تَعَبُّدُكَ - وإِلَيْه رَغْبَتُكَ ومِنْه شَفَقَتُكَ

واعْلَمْ يَا بُنَيَّ أَنَّ أَحَداً لَمْ يُنْبِئْ عَنِ اللَّه سُبْحَانَه - كَمَا أَنْبَأَ عَنْه الرَّسُولُصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - فَارْضَ بِه رَائِداً وإِلَى النَّجَاةِ قَائِداً - فَإِنِّي لَمْ آلُكَ نَصِيحَةً - وإِنَّكَ لَنْ تَبْلُغَ فِي النَّظَرِ لِنَفْسِكَ - وإِنِ اجْتَهَدْتَ مَبْلَغَ نَظَرِي لَكَ.

واعْلَمْ يَا بُنَيَّ - أَنَّه لَوْ كَانَ لِرَبِّكَ شَرِيكٌ لأَتَتْكَ رُسُلُه - ولَرَأَيْتَ آثَارَ مُلْكِه وسُلْطَانِه - ولَعَرَفْتَ أَفْعَالَه وصِفَاتِه - ولَكِنَّه إِلَه وَاحِدٌ كَمَا وَصَفَ نَفْسَه - لَا يُضَادُّه فِي مُلْكِه أَحَدٌ ولَا يَزُولُ أَبَداً ولَمْ يَزَلْ - أَوَّلٌ قَبْلَ الأَشْيَاءِ بِلَا أَوَّلِيَّةٍ - وآخِرٌ بَعْدَ الأَشْيَاءِ بِلَا نِهَايَةٍ - عَظُمَ عَنْ أَنْ تَثْبُتَ رُبُوبِيَّتُه بِإِحَاطَةِ قَلْبٍ أَوْ بَصَرٍ - فَإِذَا عَرَفْتَ ذَلِكَ فَافْعَلْ - كَمَا يَنْبَغِي لِمِثْلِكَ أَنْ يَفْعَلَه فِي صِغَرِ خَطَرِه - وقِلَّةِ مَقْدِرَتِه وكَثْرَةِ عَجْزِه - وعَظِيمِ حَاجَتِه إِلَى رَبِّه فِي طَلَبِ طَاعَتِه - والْخَشْيَةِ مِنْ عُقُوبَتِه -

کی تعداد کثیر ہے جس میں انسانی رائے متحیر رہ جاتی ہے اورنگاہ بہک جاتی ہے اوربعد میں صحیح حقیقت نظر آتی ہے۔لہٰذا اس مالک سے وابستہ رہو جس نے پیدا کیا ہے۔روزی دی ہے اورمعتدل بنایا ہے۔اسی کی عبادت کرو' اسی کی طرف توجہ کرو اور اسی سے ڈرتے رہو۔

بیٹا! یہ یاد رکھو کہ تمہیں خدا ے بارے میں اس طرح کی خبریں کوئی نہیں دے سکتا ہے جس طرح رسول اکرم (ص) نے دی ہیں لہٰذا ان کو بخوشی اپنا پیشوا اور راہ نجات کا قائد تسلیم کرو۔میں نے تمہاری نصیحت میں کوئی کمی نہیں کی ہے اور نہ تم کوشش کے باوجود اپنے بارے میں اتنا سوچ سکتے ہو جتنا میں نے دیکھ لیا ہے۔

فرزند ! یاد رکھو اگر خدا کے لئے کوئی شریک بھی ہوتا تو اس کے بھی رسول آتے اور اس کی سلطنت اورحکومت کے بھی آثار دکھائی دیتے اور اس کے افعال وصفات کاب ھی کچھ پتہ ہوتا۔لیکن ایسا کچھ نہں ہے لہٰذا خدا ایک ہے جیسا کہاس نے خود بیان کیا ہے۔اس کے ملک میں اس سے کوئی ٹکرانے والا نہیں ہے اور نہاس کے لئے کسی طرح کا زوال ہے۔وہ اولیت کی حدوں کے بغیر سب سے اول ہے اور کسی انتہا کے بغیر سب سے آخرتک رہنے والا ہے وہ اس بات سے عظیم تر ہے کہ اس کی ربوبیت کا اثبات فکرو نظر کے احاطہ سے کیاجائے اگرتم نے اس حقیقت کو پہچان لیا ہے تو اس طرح عمل کرو جس طرحتم جیسے معمولی حیثیت ' قلیل طاقت ' کثیر عاجزی اور پروردگار کی طرف اطاعت کی طلب' عتاب


والشَّفَقَةِ مِنْ سُخْطِه فَإِنَّه لَمْ يَأْمُرْكَ إِلَّا بِحَسَنٍ - ولَمْ يَنْهَكَ إِلَّا عَنْ قَبِيحٍ.

يَا بُنَيَّ إِنِّي قَدْ أَنْبَأْتُكَ عَنِ الدُّنْيَا وحَالِهَا - وزَوَالِهَا وانْتِقَالِهَا - وأَنْبَأْتُكَ عَنِ الآخِرَةِ ومَا أُعِدَّ لأَهْلِهَا فِيهَا - وضَرَبْتُ لَكَ فِيهِمَاالأَمْثَالَ - لِتَعْتَبِرَ بِهَا وتَحْذُوَ عَلَيْهَا - إِنَّمَا مَثَلُ مَنْ خَبَرَ الدُّنْيَا كَمَثَلِ قَوْمٍ سَفْرٍ - نَبَا بِهِمْ مَنْزِلٌ جَدِيبٌ - فَأَمُّوا مَنْزِلًا خَصِيباً وجَنَاباً مَرِيعاً - فَاحْتَمَلُوا وَعْثَاءَ الطَّرِيقِ وفِرَاقَ الصَّدِيقِ - وخُشُونَةَ السَّفَرِ وجُشُوبَةَ المَطْعَمِ - لِيَأْتُوا سَعَةَ دَارِهِمْ ومَنْزِلَ قَرَارِهِمْ - فَلَيْسَ يَجِدُونَ لِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ أَلَماً - ولَا يَرَوْنَ نَفَقَةً فِيه مَغْرَماً - ولَا شَيْءَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِمَّا قَرَّبَهُمْ مِنْ مَنْزِلِهِمْ - وأَدْنَاهُمْ مِنْ مَحَلَّتِهِمْ.

ومَثَلُ مَنِ اغْتَرَّ بِهَا كَمَثَلِ قَوْمٍ كَانُوا بِمَنْزِلٍ خَصِيبٍ - فَنَبَا بِهِمْ إِلَى مَنْزِلٍ جَدِيبٍ

کے خوف اورناراضگی کے اندیشہ میں حاجت رکھنے والے کیا کرتے ہیں۔اس نے جس چیز کاحکم اطاعت کی طلب ' عتاب کے خوفاور ناراضگی کے اندیشہ میں حاجت رکھنے والے کیا کرتے ہیں۔اس نے جس چیزکا حکم دیا ہیوہ بہترین ہے اورجس سے منع کیا ہے وہ بد ترین ہے۔

فرزند! میں تمہیں دنیا۔اس کے حالات ۔ تصرفات ، زوال اور انتقال سب کے بارے میں با خبر کردیا ہے اورآخرت اور ا س میں صاحبان ایمان کے لئے مہیا نعمتوں کا بھی پتہ بتادیاہے اور دونوں کے لئے مثالیں بیان کردی ہیںتاکہ تم عبرت حاصل کرس کو اور اس سے ہوشیار رہو۔

یاد رکھو کہ جس نے دنیا کو بخوبی پہچان لیا ہے اس کی مثال اس مسافر قوم جیسی ہے۔جس کاحقط زدہ منزل سے دل اچاٹ ہوجائے اوروہ کسی سرسبز و شاداب علاقہ کا ارادہ کرے اورزحمت راہ۔فراق احباب ' دشواری سفر ' بدمزگی اطعام وغیرہ جیسی تمام مصیبتیں برداشت کرلے تاکہ وسیع گھر اور قرار کی منزل تک پہنچ جائے کہ ایسے لوگ ان تمام باتوں میں کسی تکلیف کا احساس نہیں کرتے اور نہ اس راہ میں خرچ کو نقصان تصور کرتے ہیں اور ان کی نظر میں اس سے زیادہ محبوب کوئی شے نہیں ہ جو انہیں منزل سے قریب تر کردے اور اپنے مرکز تک پہنچادے ۔

اوراس دنیا سے دھوکہ کھاجانے والوں کی مثال اس قوم کی ہے جو سرسبز و شاداب مقام پر رہے اور وہاں سے دلاچٹ جائے تو قحط زدہ علاقہ کی طرف چلی جائے


- فَلَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَه إِلَيْهِمْ ولَا أَفْظَعَ عِنْدَهُمْ - مِنْ مُفَارَقَةِ مَا كَانُوا فِيه - إِلَى مَا يَهْجُمُونَ عَلَيْه ويَصِيرُونَ إِلَيْه.

يَا بُنَيَّ اجْعَلْ نَفْسَكَ مِيزَاناً فِيمَا بَيْنَكَ وبَيْنَ غَيْرِكَ - فَأَحْبِبْ لِغَيْرِكَ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ - واكْرَه لَه مَا تَكْرَه لَهَا - ولَا تَظْلِمْ كَمَا لَا تُحِبُّ أَنْ تُظْلَمَ - وأَحْسِنْ كَمَا تُحِبُّ أَنْ يُحْسَنَ إِلَيْكَ - واسْتَقْبِحْ مِنْ نَفْسِكَ مَا تَسْتَقْبِحُه مِنْ غَيْرِكَ - وارْضَ مِنَ النَّاسِ بِمَا تَرْضَاه لَهُمْ مِنْ نَفْسِكَ - ولَا تَقُلْ مَا لَا تَعْلَمُ وإِنْ قَلَّ مَا تَعْلَمُ - ولَا تَقُلْ مَا لَا تُحِبُّ أَنْ يُقَالَ لَكَ.

واعْلَمْ أَنَّ الإِعْجَابَ ضِدُّ الصَّوَابِ وآفَةُ الأَلْبَابِ - فَاسْعَ فِي كَدْحِكَ ولَا تَكُنْ خَازِناً لِغَيْرِكَ - وإِذَا أَنْتَ هُدِيتَ لِقَصْدِكَ فَكُنْ أَخْشَعَ مَا تَكُونُ لِرَبِّكَ.

واعْلَمْ أَنَّ أَمَامَكَ طَرِيقاً ذَا مَسَافَةٍ بَعِيدَةٍ - ومَشَقَّةٍ شَدِيدَةٍ - وأَنَّه لَا غِنَى بِكَ فِيه عَنْ حُسْنِ الِارْتِيَادِ - وقَدْرِ بَلَاغِكَ مِنَ الزَّادِ

کہ اس کی نظرمیں قدیم حالات کے چھٹ جانے سے زیادہ نا گوار اوردشوار گذار کوئی شے نہیں ہے کہ اب جس منزل پروارد ہوئے ہیں اور جہاں تک پہنچے ہیں وہ کسی قیمت پر اختیار کرنے کے قابل نہیں ہے۔

بیٹا! دیکھو اپنے اورغیرکے درمیان میزان اپنے نفس کو قرار دو اور دوسرے کے لئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرسکتے ہو اور اس کے لئے بھی وہ بات نا پسند کرو جو اپنے لئے پسند نہیں کرتے ہو۔کسی پر ظلم نہ کرناکہ اپنے اوپر ظلم پسند نہیں کرتے ہو اور ہرایک کے ساتھ نیکی کرنا جس طرح چاہتے ہو کہ سب تمہارے ساتھ نیک برتائو کریں اور جس چیز کو دوسرے سے برا سمجھتے ہواسے اپنے لئے بھی برا ہی تصور کرنا۔لوگوں کی اس بات سے راضی ہو جانا جس سے اپنی بات سے لوگوں کو راضی کرنا چاہتے ہو۔بلا علم کوئی بات زبان سے نہ نکالنا اگرچہ تمہارا علم بہت کم ہے اور کسی کے بارے میں وہ بات نہ کہنا جو اپنے بارے میں پسند نہ کرتے ہو۔

یاد رکھو کہ خود پسندی راہ صواب کے خلاف اورعقلوں کی بیماری ہے لہٰذا اپنی کوشش تیز تر کرواور اپنے مال کودوسروں کے لئے ذخیرہ نہ بنائو اور اگر درمیانی راستہ کی ہدایت مل جائے تو اپنے رب کے سامنے سب سے زیادہ خضو ع و خشوع سے پیش آنا۔

اور یاد رکھو کہ تمہارے سامنے وہ راستہ ہے جس کی مسافت بعید اورمشقت شدید ہے اس میں تم بہترین زاد راہ کی تلاش اوربقدر ضرورت زاد راہ کی فراہمی سے


مَعَ خِفَّةِ الظَّهْرِ - فَلَا تَحْمِلَنَّ عَلَى ظَهْرِكَ فَوْقَ طَاقَتِكَ - فَيَكُونَ ثِقْلُ ذَلِكَ وَبَالًا عَلَيْكَ - وإِذَا وَجَدْتَ مِنْ أَهْلِ الْفَاقَةِ مَنْ يَحْمِلُ لَكَ زَادَكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ - فَيُوَافِيكَ بِه غَداً حَيْثُ تَحْتَاجُ إِلَيْه - فَاغْتَنِمْه وحَمِّلْه إِيَّاه - وأَكْثِرْ مِنْ تَزْوِيدِه وأَنْتَ قَادِرٌ عَلَيْه - فَلَعَلَّكَ تَطْلُبُه فَلَا تَجِدُه - واغْتَنِمْ مَنِ اسْتَقْرَضَكَ فِي حَالِ غِنَاكَ - لِيَجْعَلَ قَضَاءَه لَكَ فِي يَوْمِ عُسْرَتِكَ.

واعْلَمْ أَنَّ أَمَامَكَ عَقَبَةً كَئُوداً - الْمُخِفُّ فِيهَا أَحْسَنُ حَالًا مِنَ - والْمُبْطِئُ عَلَيْهَا أَقْبَحُ حَالًا مِنَ الْمُسْرِعِ - وأَنَّ مَهْبِطَكَ بِهَا لَا مَحَالَةَ - إِمَّا عَلَى جَنَّةٍ أَوْ عَلَى نَارٍ - فَارْتَدْ لِنَفْسِكَ قَبْلَ نُزُولِكَ ووَطِّئِ الْمَنْزِلَ قَبْلَ حُلُولِكَ - فَلَيْسَ بَعْدَ الْمَوْتِ مُسْتَعْتَبٌ ولَا إِلَى الدُّنْيَا مُنْصَرَفٌ

واعْلَمْ أَنَّ الَّذِي بِيَدِه خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ والأَرْضِ - قَدْ أَذِنَ لَكَ فِي الدُّعَاءِ - وتَكَفَّلَ لَكَ بِالإِجَابَةِ وأَمَرَكَ أَنْ تَسْأَلَه لِيُعْطِيَكَ - وتَسْتَرْحِمَه لِيَرْحَمَكَ،ولَمْ يَجْعَلْ بَيْنَكَ وبَيْنَه مَنْ يَحْجُبُكَ عَنْه - ولَمْ يُلْجِئْكَ إِلَى مَنْ يَشْفَعُ لَكَ إِلَيْه

بے نیاز ہو سکتے ہو۔البتہ بوجھ ہلکا رکھو اور اپنی طاقت سے زیادہ اپنی پشت پر بوجھ مت لادو کہ یہ گراں باری ایک و بال بن جائے ۔اور پھر جب کوئی فقیر مل جائے اور تمہارے زاد راہ کو قیامت تک پہنچا سکتا ہو اور کل وقت ضرورت مکمل طریقہ سے تمہارے حوالے کر سکتا ہو تو اسے غنیمت سمجھو اورمال اسی کے حوالے کردو اور زیادہ سے زیادہ اس کو دے دو کہ شائد بعد میں تلاش کرو اور وہ نہ مل سکے اور اسے بھی غنیمت سمجھو جو تمہاری دولت مندی کے دورمیں تم سے قرض مانگے تاکہ اس دن ادا کردے جب تمہاری غربت کا دن ہو۔

اور یاد رکھو کہ تمہارے سامنے بڑی دشوار گزار منزل ہے جس میں ہلکے بوجھ والا سنگین بار والے سے کہیں زیادہ بہتر ہوگا اوردھیرے چلنے والا تیزرفتار سے کہیں زیادہ بدحال ہوگا اور تمہاری منزل بہرحال جنت یا جہنم ہے لہٰذا اپنے نفس کے لئے منزل سے پہلے جگہ تلاش کرلو اور ورود سے پہلے اسے ہموار کرلو کہ موت کے بعد نہ خوشنودی حاصل کرنے کا کوئی امکان ہوگا اور نہ دنیا میں واپس آنے کا۔

یاد رکھو کہ جس کے ہاتھوں میں زمین و آسمان کے تمام خزانے ہیں اسنے تم کو دعا کرنے کا حکم دیا ہے اورقبولیت کی ضمانت دی ہے اور تمہیں مامور کیا ہے کہ تم سوال کرو تاکہ وہ عطا کرے اور تم طلب رحمت کرو تاکہوہ تم پر رحم کرے اس نے تمہارے اور اپنے درمیان کوئی حاجب نہیں رکھا ہے اور نہ تمہیں کسی سفارش


ولَمْ يَمْنَعْكَ إِنْ أَسَأْتَ مِنَ التَّوْبَةِ - ولَمْ يُعَاجِلْكَ بِالنِّقْمَةِ - ولَمْ يُعَيِّرْكَ بِالإِنَابَةِ ولَمْ يَفْضَحْكَ حَيْثُ الْفَضِيحَةُ بِكَ أَوْلَى - ولَمْ يُشَدِّدْ عَلَيْكَ فِي قَبُولِ الإِنَابَةِ - ولَمْ يُنَاقِشْكَ بِالْجَرِيمَةِ - ولَمْ يُؤْيِسْكَ مِنَ الرَّحْمَةِ - بَلْ جَعَلَ نُزُوعَكَ عَنِ الذَّنْبِ حَسَنَةً - وحَسَبَ سَيِّئَتَكَ وَاحِدَةً - وحَسَبَ حَسَنَتَكَ عَشْراً - وفَتَحَ لَكَ بَابَ الْمَتَابِ وبَابَ الِاسْتِعْتَابِ - فَإِذَا نَادَيْتَه سَمِعَ نِدَاكَ - وإِذَا نَاجَيْتَه عَلِمَ نَجْوَاكَ - فَأَفْضَيْتَ إِلَيْه بِحَاجَتِكَ - وأَبْثَثْتَه ذَاتَ نَفْسِكَ وشَكَوْتَ إِلَيْه هُمُومَكَ - واسْتَكْشَفْتَه كُرُوبَكَ واسْتَعَنْتَه عَلَى أُمُورِكَ - وسَأَلْتَه مِنْ خَزَائِنِ رَحْمَتِه مَا لَا يَقْدِرُ عَلَى إِعْطَائِه غَيْرُه - مِنْ زِيَادَةِ الأَعْمَارِ وصِحَّةِ الأَبْدَانِ - وسَعَةِ الأَرْزَاقِ - ثُمَّ جَعَلَ فِي يَدَيْكَ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِه - بِمَا أَذِنَ لَكَ فِيه مِنْ مَسْأَلَتِه - فَمَتَى شِئْتَ اسْتَفْتَحْتَ بِالدُّعَاءِ أَبْوَابَ نِعْمَتِه - واسْتَمْطَرْتَ شَآبِيبَ رَحْمَتِه - فَلَا يُقَنِّطَنَّكَ إِبْطَاءُ إِجَابَتِه - فَإِنَّ الْعَطِيَّةَ عَلَى قَدْرِ النِّيَّةِ - ورُبَّمَا أُخِّرَتْ عَنْكَ الإِجَابَةُ لِيَكُونَ ذَلِكَ أَعْظَمَ لأَجْرِ السَّائِلِ -

کرنے والے کا محتاج بنایا ہے ۔گناہ کرنے کی صورت میں توبہ سے بھی نہیں روکا ہے اور عذاب میں جلدی بھی نہیں کی ہے اور توبہ کرنے پر طعنے بھی نہیں دیتا ہے اور تمہیں رسوابھی نہیں کرتا ہے اگر تم اس کے حقدار ہو۔اس نے توبہ قبول کرنے میں بھی کسی سختی سے کام نہیں لیا ہے اور جرائم پر سخت محاسبہ کرکے رحمت سے مایوس بھی نہیں کیا ہے بلکہ گناہوں سے علیحدگی کو بھی ایک حسنہ بنادیا ہے اور پھرب رائی میں ایککو ایک شمار کیا ہے اورنیکیوں میں ایک کو دس بنادا ہے۔توبہ اور طلب رضا کا دروازہ کھول دیا ہے کہ جب بھی آواز دو فوراً سن لیتا ہے اور جب مناجات کرو تو اس سے بھی با خبر رہتا ہے تم اپنی حاجتیں اس کے حوالے کر سکتے ہو۔اسے اپنے حالات بتا سکتے ہو ۔اپنے رنج و غم کی شکایت کر سکتے ہو۔ اپنے حزن و الم کے زوال کا مطالبہ کرس کتے ہو۔انپے امور میں مدد مانگ سکتے ہو اور اس کے خزانہ رحمت سے اتنا سوال کر سکتے ہو جتنا کوئی دوسرا بہرحال نہیں دے سکتا ہے چاہے وہ عمر میں اضافہ ہو یا بدن کی صحت یا رزق کی وسعت۔اس کے بعد اس نے دعا کی اجازت دے کر گویا خزائن رحمت کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں دے دی ہیں کہ جب چاہو ان کنجیوں سے نعمت کے دروازے کھول سکتے ہواور رحمت کی بارشوں کو برسا سکتے ہو۔لہٰذا خبردار قبولیت کی تاخیرتمہیں مایوس نہ کردے کہ عطیہ ہمیشہ بقدر نیت ہوا کرتا ہے اور کبھی کبھی قبولیت میں اس لئے تاخیر کردی جاتی ہے کہ اس میں سائل کے اجرمیں اضافہ


وأَجْزَلَ لِعَطَاءِ الآمِلِ - ورُبَّمَا سَأَلْتَ الشَّيْءَ فَلَا تُؤْتَاه - وأُوتِيتَ خَيْراً مِنْه عَاجِلًا أَوْ آجِلًا - أَوْ صُرِفَ عَنْكَ لِمَا هُوَ خَيْرٌ لَكَ - فَلَرُبَّ أَمْرٍ قَدْ طَلَبْتَه فِيه هَلَاكُ دِينِكَ لَوْ أُوتِيتَه - فَلْتَكُنْ مَسْأَلَتُكَ فِيمَا يَبْقَ لَكَ جَمَالُه - ويُنْفَى عَنْكَ وَبَالُه - فَالْمَالُ لَا يَبْقَى لَكَ ولَا تَبْقَى لَه.

واعْلَمْ يَا بُنَيَّ أَنَّكَ إِنَّمَا خُلِقْتَ لِلآخِرَةِ لَا لِلدُّنْيَا - ولِلْفَنَاءِ لَا لِلْبَقَاءِ ولِلْمَوْتِ لَا لِلْحَيَاةِ - وأَنَّكَ فِي قُلْعَةٍ ودَارِ بُلْغَةٍ - وطَرِيقٍ إِلَى الآخِرَةِ - وأَنَّكَ طَرِيدُ الْمَوْتِ الَّذِي لَا يَنْجُو مِنْه هَارِبُه - ولَا يَفُوتُه طَالِبُه ولَا بُدَّ أَنَّه مُدْرِكُه فَكُنْ مِنْه عَلَى حَذَرِ أَنْ يُدْرِكَكَ وأَنْتَ عَلَى حَالٍ سَيِّئَةٍ - قَدْ كُنْتَ تُحَدِّثُ نَفْسَكَ مِنْهَا بِالتَّوْبَةِ - فَيَحُولَ بَيْنَكَ وبَيْنَ ذَلِكَ - فَإِذَا أَنْتَ قَدْ أَهْلَكْتَ نَفْسَكَ.

ذكر الموت

يَا بُنَيَّ أَكْثِرْ مِنْ ذِكْرِ الْمَوْتِ وذِكْرِ مَا تَهْجُمُ عَلَيْه - وتُفْضِي بَعْدَ الْمَوْتِ إِلَيْه - حَتَّى يَأْتِيَكَ

اور امیدوا ر کے عطیہ میں زیادتی کا امکان پایا جاتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ تم کسی شے کا سوال کرو اور وہ نہ ملے لیکن اس کے بعد جلد یا بدیر اس سے بہتر مل جائے یا اسے تمہاری بھلائی کے لئے روک دیا گیا ہو۔اس لئے کہ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس چیز کو تم نے طلب کیا ہے وہاگر مل جائے تو دین کی بربادی کاخطرہ ہے۔لہٰذا اسی چیز کا سوال کرو جس میں تمہارا حسن باقی رہے اور تم وبال سے محفوظ رہو۔مال نہ باقی رہنے والا ہے اور نہ تم اس کے لئے باقی رہنے والے ہو۔

فرزند ! یاد رکھو کہ تمہیں آخرت کے لئے پیدا کیا گیا ہے دنیا کے لئے نہیں اور فنا کے لئے بنایا گیا ہے دنیا میں باقی رہنے کے لئے نہیں ۔تمہاری تخلیق موت کے لئے ہوئی ہے زندگی کے لئے نہیں اورتم اس گھر میں ہو جہاں سے بہر حال اکھڑنا ہے اور صرف بقدر ضرورت سامان فراہم کرنا ہے۔اور تم آخرت کے راستہ پر ہو۔موت مہارا پیچھا کئے ہوئے ہے جس سے کوئی بھاگنے والا بچ نہیں سکتا ہے اور اس کے ہاتھ سے نکل نہیں سکتا ہے۔وہ بہر حال اسے پالے گی۔لہٰذا اس کی طرف سے ہوشیار رہو کہ وہ تمہیں کسی برے حال میں پکڑ لے اورتم خالی توبہ کے لئے سوچتے ہی رہ جائو اور وہ تمہارے اور توبہ کے درمیان حائل ہو جائے کہ اس طرح گویا تم نے اپنے نفس کو ہلاک کردیا۔

فرزند! موت کو برابر یاد کرتے رہو اور ان حالات کو یاد کرتے رہو جن پراچانک وارد ہونا ہے اور جہاں تک موت کے بعد جانا ہے تاکہ وہ تمہارے پاس آئے


وقَدْ أَخَذْتَ مِنْه حِذْرَكَ - وشَدَدْتَ لَه أَزْرَكَ - ولَا يَأْتِيَكَ بَغْتَةً فَيَبْهَرَكَ - وإِيَّاكَ أَنْ تَغْتَرَّ بِمَا تَرَى مِنْ إِخْلَادِ أَهْلِ الدُّنْيَا إِلَيْهَا - وتَكَالُبِهِمْ عَلَيْهَا فَقَدْ نَبَّأَكَ اللَّه عَنْهَا - ونَعَتْ هِيَ لَكَ عَنْ نَفْسِهَا وتَكَشَّفَتْ لَكَ عَنْ مَسَاوِيهَا - فَإِنَّمَا أَهْلُهَا كِلَابٌ عَاوِيَةٌ وسِبَاعٌ ضَارِيَةٌ - يَهِرُّ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ ويَأْكُلُ عَزِيزُهَا ذَلِيلَهَا - ويَقْهَرُ كَبِيرُهَا صَغِيرَهَا - نَعَمٌ مُعَقَّلَةٌ وأُخْرَى مُهْمَلَةٌ - قَدْ أَضَلَّتْ عُقُولَهَا ورَكِبَتْ مَجْهُولَهَا - سُرُوحُ عَاهَةٍ بِوَادٍ وَعْثٍ ،لَيْسَ لَهَا رَاعٍ يُقِيمُهَا ولَا مُسِيمٌ يُسِيمُهَا - سَلَكَتْ بِهِمُ الدُّنْيَا طَرِيقَ الْعَمَى - وأَخَذَتْ بِأَبْصَارِهِمْ عَنْ مَنَارِ الْهُدَى - فَتَاهُوا فِي حَيْرَتِهَا وغَرِقُوا فِي نِعْمَتِهَا - واتَّخَذُوهَا رَبّاً فَلَعِبَتْ بِهِمْ ولَعِبُوا بِهَا - ونَسُوا مَا وَرَاءَهَا.

الترفق في الطلب

رُوَيْداً يُسْفِرُ الظَّلَامُ - كَأَنْ قَدْ وَرَدَتِ الأَظْعَانُ - يُوشِكُ مَنْ أَسْرَعَ أَنْ يَلْحَقَ

واعْلَمْ يَا بُنَيَّ - أَنَّ مَنْ كَانَتْ مَطِيَّتُه اللَّيْلَ والنَّهَارَ - فَإِنَّه يُسَارُ بِه وإِنْ كَانَ وَاقِفاً

تو تم احتیاطی سامان کرچکے ہو اور اپنی طاقت کو مضبوط بنا چکے ہو اور وہ اچانک آکر تم پرقبضہ نہ کرلے اور خبردار اہل دنیا کو دنیا کی طرف جھکتے اور اس پرمرتے دیکھ کرتم دھوکہ میں نہ آجانا کہ پروردگار تمہیں اس کے بارے میں بتا چکا ہے اور وہ خود بھی اپنے مصائب سنا چکی ہے اور اپنی برائیوں کو واضح کر چکی ہے۔دنیا دار افراد صرف بھونکنے والے کتے اورپھاڑ کھانے والے درندے ہیں جہاں ایک دوسرے پر بھونکتا ہے اور طاقت والا کمزور کو کھا جاتا ہے اور بڑا چھوٹے کو کچل ڈالتا ہے۔یہ سب جانور ہیں جن میں بعض بندھے ہوئے ہیں اور بعض وارہ جنہوں نے اپنی عقلیں گم کردی ہیں اور نا معلوم راستہ پر چل پڑے ہیں۔گویا دشوار گذار وادیوں میں مصیبتوں میں چرنے والے ہیں جہاں نہ کوئی چرواہا ہے جو سیدھے راستہ پر لگا سکے اور نہکوئی چرانے والا ہے جو انہیں چرا سکے۔دنیا نے انہیں گمراہی کے راستہ پر ڈال دیا ہے اور ان کی بصارت کو منارہ ٔ ہدایت کے مقابلہ میں سلب کرلیا ہے اوروہ حیرت کے عالم میں سر گرداں ہیں اورنعمتوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔دنیا کو اپنا معبود بنالیا ہے اوروہ ان سے کھیل رہی ہے اوروہ اس سے کھیل روہے ہیں اور سب نے آخرت کو یکسر بھلا دیا ہے۔

ٹھہرو! اندھرے کو چھٹنے دو۔ایسا محسوس ہوگا جیسے قافلے آخرت کی منزل میں اتر چکے ہیں اور قریب ہے کہ تیز رفتار افراد اگلے لوگوں سے ملحق ہو جائیں۔

فرزند ! یاد رکھو کہ جو شب و روز کی سواری پر سوار ہے وہ گویا سر گرم سفر ہے چاہے ٹھہرا ہی کیوں ن ہ


ويَقْطَعُ الْمَسَافَةَ وإِنْ كَانَ مُقِيماً وَادِعاً

واعْلَمْ يَقِيناً أَنَّكَ لَنْ تَبْلُغَ أَمَلَكَ ولَنْ تَعْدُوَ أَجَلَكَ - وأَنَّكَ فِي سَبِيلِ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ - فَخَفِّضْ فِي الطَّلَبِ وأَجْمِلْ فِي الْمُكْتَسَبِ - فَإِنَّه رُبَّ طَلَبٍ قَدْ جَرَّ إِلَى حَرَبٍ - ولَيْسَ كُلُّ طَالِبٍ بِمَرْزُوقٍ - ولَا كُلُّ مُجْمِلٍ بِمَحْرُومٍ - وأَكْرِمْ نَفْسَكَ عَنْ كُلِّ دَنِيَّةٍ - وإِنْ سَاقَتْكَ إِلَى الرَّغَائِبِ - فَإِنَّكَ لَنْ تَعْتَاضَ بِمَا تَبْذُلُ مِنْ نَفْسِكَ عِوَضاً - ولَا تَكُنْ عَبْدَ غَيْرِكَ وقَدْ جَعَلَكَ اللَّه حُرّاً - ومَا خَيْرُ خَيْرٍ لَا يُنَالُ إِلَّا بِشَرٍّ - ويُسْرٍ لَا يُنَالُ إِلَّا بِعُسْرٍ

وإِيَّاكَ أَنْ تُوجِفَ بِكَ مَطَايَا الطَّمَعِ - فَتُورِدَكَ مَنَاهِلَ الْهَلَكَةِ - وإِنِ اسْتَطَعْتَ أَلَّا يَكُونَ بَيْنَكَ وبَيْنَ اللَّه ذُو نِعْمَةٍ فَافْعَلْ - فَإِنَّكَ مُدْرِكٌ قَسْمَكَ وآخِذٌ سَهْمَكَ - وإِنَّ الْيَسِيرَ مِنَ اللَّه سُبْحَانَه أَعْظَمُ وأَكْرَمُ مِنَ الْكَثِيرِ مِنْ خَلْقِه - وإِنْ كَانَ كُلٌّ مِنْه.

وصايا شتى

وتَلَافِيكَ مَا فَرَطَ مِنْ صَمْتِكَ

رہے اور مسافت قطع کررہا ہے چاہے اطمینان سے مقیم ہی کیوں نہ رہے۔یہ بات یقین کے ساتھ سمجھ لو کہ تم نہ ہر امید کو پا سکتے ہو اور نہ اجل سے آگے جاسکتے ہو تم اگلے لوگوں کے راستہ ہی پر چل رہے ہو لہٰذا طلب میں نرم رفتاری سے کام لو اور کسب معاش میں میانہ روی اختیار کرو۔ورنہ بہت سی طلب انسان کو مال کی محرومی تک پہنچا دیتی ہے اور ہر طلب کرنے والا کامیاب بھی نہیں ہوتا ہے اور نہ ہر اعتدال سے کام لینے والا محروم ہی ہوت ہے۔اپنے نفس کو ہر طرح کی پستی سے بلند تر رکھو چاہے وہ پستی پسندیدہ اشیاء تک پہنچا ہی کیوں نہ دے ۔اس لئے کہ جو عزت نفس دے دو گے اس کا کوئی بدل نہیں مل سکتا اورخبردار کسی کے غلام نہبن جانا جب کہ پروردگار نے تمہیں آزاد قرار دیا ہے۔دیکھو اس خیر میں کوئی خیر نہیں ہے جو شرکے ذریعہ حاصل ہو اوروہآسانی آسانی نہیں ہے جو دشواری کے راستہ سے ملے ۔

خبردار طمع کی سواریاں تیز رفتاری دکھلا کر تمہیں ہلاکت کے چشموں پرنہ وارد کردیں اور اگر ممکن ہو کہ تمہارے اور خدا کے درمیان کوئی صاحب نعمت نہ آنے پائے تو ایسا ہی کرو کہ تمہیں تمہارا حصہ بہر حال ملنے والا ہے۔اور اپنا نصیب بہر حال لینے والے ہو اوراللہ کی طرف سے تھوڑا بھی مخلوقات کے بہت سے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔اگرچہ سب اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔

خاموشی سے پیدا ہونے والی کوتاہی کی تلافی


أَيْسَرُ مِنْ إِدْرَاكِكَ مَا فَاتَ مِنْ مَنْطِقِكَ - وحِفْظُ مَا فِي الْوِعَاءِ بِشَدِّ الْوِكَاءِ - وحِفْظُ مَا فِي يَدَيْكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ طَلَبِ مَا فِي يَدَيْ غَيْرِكَ - ومَرَارَةُ الْيَأْسِ خَيْرٌ مِنَ الطَّلَبِ إِلَى النَّاسِ - والْحِرْفَةُ مَعَ الْعِفَّةِ خَيْرٌ مِنَ الْغِنَى مَعَ الْفُجُورِ - والْمَرْءُ أَحْفَظُ لِسِرِّه ورُبَّ سَاعٍ فِيمَا يَضُرُّه - مَنْ أَكْثَرَ أَهْجَرَ ومَنْ تَفَكَّرَ أَبْصَرَ - قَارِنْ أَهْلَ الْخَيْرِ تَكُنْ مِنْهُمْ - وبَايِنْ أَهْلَ الشَّرِّ تَبِنْ عَنْهُمْ - بِئْسَ الطَّعَامُ الْحَرَامُ - وظُلْمُ الضَّعِيفِ أَفْحَشُ الظُّلْمِ - إِذَا كَانَ الرِّفْقُ خُرْقاً كَانَ الْخُرْقُ رِفْقاً - رُبَّمَا كَانَ الدَّوَاءُ دَاءً والدَّاءُ دَوَاءً - ورُبَّمَا نَصَحَ غَيْرُ النَّاصِحِ وغَشَّ الْمُسْتَنْصَحُ - وإِيَّاكَ والِاتِّكَالَ عَلَى الْمُنَى فَإِنَّهَا بَضَائِعُ النَّوْكَى - والْعَقْلُ حِفْظُ التَّجَارِبِ - وخَيْرُ مَا جَرَّبْتَ مَا وَعَظَكَ - بَادِرِ الْفُرْصَةَ قَبْلَ أَنْ تَكُونَ غُصَّةً - لَيْسَ كُلُّ طَالِبٍ يُصِيبُ ولَا كُلُّ غَائِبٍ يَئُوبُ –

ومِنَ الْفَسَادِ إِضَاعَةُ الزَّادِ ومَفْسَدَةُ الْمَعَادِ -

کرلینا گفتگو سے ہونے والے نقصان کے تدارک سے آسان ترہے برتن کے اندر کا سامان منہ بند کرکے محفوظ کیا جاتا ہے اور اپنے ہاتھ کی دولت کا محفوظ کرلینا دوسرے کے ہاتھ کی نعمت کے طلب کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔مایوسی کی تلخی کوبرداشت کرنا لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے س بہتر ہے اور پاکدامانی کے ساتھ محنت مشقت کرنا فسق و فجور کے ساتھ مالداری سے بہتر ہے۔

ہر انسان اپنے راز کو دوسروں سے زیادہ محفوظ رکھ سکتا ہے اور بہت سے لوگ ہیں جو اس امر کے لئے دوڑ رہے ہیں جوان کے لئے نقصان دہ ہے ۔زیادہ بات کرنے والا بکواس کرنے لگتا ہے اور غوروفکر کرنے والا بصیر ہو جاتا ہے۔اہل خیرکے ساتھ رہو تاکہ انہیں میں شمار ہواوراہل شر سے الگ رہو تاکہ ان سے الگ حساب کئے جائو۔بدترین طعام مال حرام ہے اوربد ترین ظلم کمزورآدمی پر ظلم ہے۔نرمی نا مناسب ہو تو سختی ہی مناسب ہے۔کبھی کبھی دوا مرض بن جاتی ہے اورمرض دوا اور کبھی کبھی غیر مخلص بھی نصیحت کی بات کردیتا ہے اورکبھی کبھی مخلص بھی خیانت سے کام لے لیتا ہے۔دیکھو خبر دار خواہشات پر اعتماد نہکرنا کہ یہ احمقوں کا سرمایہ ہیں۔عقلمندی تجربات کے محفوظ رکھنے میں ہے اور بہترین تجربہ وہی ہے جس سے نصیحت حاصل ہو۔فرصت سے فائدہ اٹھائو قبل اس کے کہ رنج و اندوہ کا سامنا کرنا پڑے۔ہر طلب گار مطلوب کو حاصل بھی نہیں کرتا ہے اور ہر غائب پلٹ کربھی نہیں آتا ہے۔

فساد کی ایک قسم زاد راہ کاضائع کردینا اورعاقبت


ولِكُلِّ أَمْرٍ عَاقِبَةٌ سَوْفَ يَأْتِيكَ مَا قُدِّرَ لَكَ - التَّاجِرُ مُخَاطِرٌ ورُبَّ يَسِيرٍ أَنْمَى مِنْ كَثِيرٍ لَا خَيْرَ فِي مُعِينٍ مَهِينٍ ولَا فِي صَدِيقٍ ظَنِينٍ - سَاهِلِ الدَّهْرَ مَا ذَلَّ لَكَ قَعُودُه - ولَا تُخَاطِرْ بِشَيْءٍ رَجَاءَ أَكْثَرَ مِنْه - وإِيَّاكَ أَنْ تَجْمَحَ بِكَ مَطِيَّةُ اللَّجَاجِ

احْمِلْ نَفْسَكَ مِنْ أَخِيكَ عِنْدَ صَرْمِه عَلَى الصِّلَةِ - وعِنْدَ صُدُودِه عَلَى اللَّطَفِ والْمُقَارَبَةِ - وعِنْدَ جُمُودِه عَلَى الْبَذْلِ - وعِنْدَ تَبَاعُدِه عَلَى الدُّنُوِّ - وعِنْدَ شِدَّتِه عَلَى اللِّينِ - وعِنْدَ جُرْمِه عَلَى الْعُذْرِ - حَتَّى كَأَنَّكَ لَه عَبْدٌ وكَأَنَّه ذُو نِعْمَةٍ عَلَيْكَ - وإِيَّاكَ أَنْ تَضَعَ ذَلِكَ فِي غَيْرِ مَوْضِعِه - أَوْ أَنْ تَفْعَلَه بِغَيْرِ أَهْلِه - لَا تَتَّخِذَنَّ عَدُوَّ صَدِيقِكَ صَدِيقاً فَتُعَادِيَ صَدِيقَكَ - وامْحَضْ أَخَاكَ النَّصِيحَةَ - حَسَنَةً كَانَتْ أَوْ قَبِيحَةً - وتَجَرَّعِ الْغَيْظَ فَإِنِّي لَمْ أَرَ جُرْعَةً أَحْلَى مِنْهَا عَاقِبَةً - ولَا أَلَذَّ مَغَبَّةً - ولِنْ لِمَنْ غَالَظَكَ فَإِنَّه يُوشِكُ أَنْ يَلِينَ لَكَ - وخُذْ عَلَى عَدُوِّكَ بِالْفَضْلِ فَإِنَّه أَحْلَى الظَّفَرَيْنِ -

کو برباد کر دینا بھی ہے۔ہر امر کی ایک عاقبت ہے اور عنقریب وہ تمہیں مل جائے گا جو تمہارے لئے مقدر ہوا ہے۔تجارتکرنے والا وہی ہوتا ہے جو مال کو خطرہ میں ڈال سکے ۔بسا اوقات تھوڑا مال زیادہ سے زیادہ با برکت ہوتا ہے۔اس مدد گار میں کوئی خیر نہیں ہے جو ذلیل ہو اور وہ دوست بیکار ہے جوبدنام ہو۔زمانہ ک ساتھ سہولت کا برتائو کرو جب تک اس کا اونٹ قابو میں رہے اور کسی چیز کو اس سے زیادہ کی امید میں خطرہ میں مت ڈالو۔خبر دار کہیں دشمنی اور عناد کی سواری تم سے منہ زوری نہ کرنے لگے۔

اپنے نفس کو اپنے بھائی کے بارے میں قطع تعلق کے مقابلہ میں تعلقات ' اعراض کے مقابلہ میں مہربانی بخل کے مقابلہ میں عطا ' دوری کے مقابلہ میں قربت ' شدت کے مقابل میں نرمی اورجرم کے موقع پر معذرت کے لئے آمادہ کرو گویا کہ تم اس کے بندے ہو اوراس نے تم پر کوئی احسان کیا ہے اور خبردار احسان کوبھی بے محل نہ قرار دینا اورنہ کسی نا اہل کے ساتھ احسان کرنا۔اپنے دشمن کے دوست کو اپنا دوست نہ بنانا کہ تم اپنے دوست کے دشمن ہو جائو اور اپنے بھائی کو مخلصانہ نصیحت کرتے رہنا چاہے اسے اچھی لگیں یا بری۔غصہ کو پی جائو کہ میں نے انجام کارکے اعتبارسے اس سے زیادہ یریں کوئی گھونٹ نہیں دیکھا ہے اورنہ عاقبت کے لحاظ سے لذیذ تر۔اور جو تمہارے ساتھ سختی کرے اس کے لئے نرم ہو جائو شاید کبھی وہ بھی نرم ہو جائے ۔اپنے دشمن کے ساتھ احسان کرو کہ اس میں دو میں سے ایک کامیابی اور شیریں


وإِنْ أَرَدْتَ قَطِيعَةَ أَخِيكَ فَاسْتَبْقِ لَه مِنْ نَفْسِكَ - بَقِيَّةً يَرْجِعُ إِلَيْهَا إِنْ بَدَا لَه ذَلِكَ يَوْماً مَا - ومَنْ ظَنَّ بِكَ خَيْراً فَصَدِّقْ ظَنَّه - ولَا تُضِيعَنَّ حَقَّ أَخِيكَ اتِّكَالًا عَلَى مَا بَيْنَكَ وبَيْنَه - فَإِنَّه لَيْسَ لَكَ بِأَخٍ مَنْ أَضَعْتَ حَقَّه - ولَا يَكُنْ أَهْلُكَ أَشْقَى الْخَلْقِ بِكَ - ولَا تَرْغَبَنَّ فِيمَنْ زَهِدَ عَنْكَ - ولَا يَكُونَنَّ أَخُوكَ أَقْوَى عَلَى قَطِيعَتِكَ مِنْكَ عَلَى صِلَتِه - ولَا تَكُونَنَّ عَلَى الإِسَاءَةِ أَقْوَى مِنْكَ عَلَى الإِحْسَانِ - ولَا يَكْبُرَنَّ عَلَيْكَ ظُلْمُ مَنْ ظَلَمَكَ - فَإِنَّه يَسْعَى فِي مَضَرَّتِه ونَفْعِكَ - ولَيْسَ جَزَاءُ مَنْ سَرَّكَ أَنْ تَسُوءَه.

واعْلَمْ يَا بُنَيَّ أَنَّ الرِّزْقَ رِزْقَانِ - رِزْقٌ تَطْلُبُه ورِزْقٌ يَطْلُبُكَ - فَإِنْ أَنْتَ لَمْ تَأْتِه أَتَاكَ - مَا أَقْبَحَ الْخُضُوعَ عِنْدَ الْحَاجَةِ -

ترین کامیابی ہے اور اگراپنے بھائی سے قطع تعلق کرنا چاہو تو اپنے نفس میں اتنی گنجائش رکھو کہاگراسے کسی دن واپسی کاخیال پیدا ہو تو واپس آسکے ۔جو تمہارے بارے میں اچھا خیال رکھے اس کے خیال کو غلط نہ ہونے دینا۔باہمی روابط کی بناپر کسی بھائی کے حق کو ضائع نہ کرنا کہ جس کے حق کو ضائع کردیا پھروہ واقعاً بھائی نہیں ہے اور دیکھو تمہارے گھر والے تمہاری وجہ سے بد بخت نہ ہونے پائیں اورجو تم سے کنارہ کش ہونا چاہے اس کے پیچھے نہ لگے رہو۔تمہارا کوئی بھائی تم سےقطع تعلقات میں تم پربازی نہ لے جائے اورتم تعلقات مضبوط کرلو اورخبردار برائی کرنے میں نیکی کرنے سے زیادہ طاقت کا مظاہرہ نہ کرنا اور کسی ظالم کے ظلم کو بہت بڑا تصور نہ کرنا کہوہ اپنے کو نقصان پہنچا رہا ہے اور تمہیں فائدہ پہنچا رہا ہے اور جو تمہیں فائدہ پہنچائے(۱) اس کی جزا یہ نہیں ہے کہ تم اس کے ساتھ برائی کرو۔

اور فرزند ! یاد رکھو کہ رزق کی دو قسمیں ہیں۔ایک رزق وہ ہے جسے تم تلاش کررہے ہو اورایک رزق وہ ہے(۲) جوتم کو تلاش کر رہا ہے کہ اگر تم اس تک نہ جائو گے تو وہ خود تم تک آجائے گا۔ضرورت کے وقت خضوع وخشوع کا اظہار کس قدر ذلیل ترین بات ہے

(۱) اس مسئلہ کاتعلق دنیامیں اخلاقی برتائو سے ہے ۔جہاں ظالموں کو اسلامی اخلاقیات سے آگاہ کیا جاتا ہے اور کبھی لشکر معاویہ پر بندش آب کو روکدیا جاتا ہے اور کبھی ابن ملجم کو سیراب کردیا جاتا ہے۔ورنہ اگر دین و مذہب خطرہ میں پڑ جائے تو مذہب سے زیادہ عزیز تر کوئی شے نہیں ہے اور ظالموں سے جہاد بھی واجب ہو جاتا ہے۔

(۲) اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسان کی زندگی میں بے شمار ایسے مواقع آتے ہیں جہاں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ جیسے انسان رزق کی تلاش میں نہیں ہے بلکہ رزق انسان کو تلاش کر رہاہے اور انسان جہاں جہاں جا رہا ہے اس کا رزق اس کے ساتھ جارہا ہے۔اور پروردگار نے ایسے واقعات کا انتظام اسی لئے کیا ہے کہ انسان کو اس کی رزاقیت اورایفائے وعدہ کا یقین ہو جائے اوروہ رزق کی راہ میں عزت نفس یادار آرت کو بیچے کے لئے تیار نہ ہو جائے ۔


والْجَفَاءَ عِنْدَ الْغِنَى - إِنَّمَا لَكَ مِنْ دُنْيَاكَ مَا أَصْلَحْتَ بِه مَثْوَاكَ - وإِنْ كُنْتَ جَازِعاً عَلَى مَا تَفَلَّتَ مِنْ يَدَيْكَ - فَاجْزَعْ عَلَى كُلِّ مَا لَمْ يَصِلْ إِلَيْكَ - اسْتَدِلَّ عَلَى مَا لَمْ يَكُنْ بِمَا قَدْ كَانَ - فَإِنَّ الأُمُورَ أَشْبَاه - ولَا تَكُونَنَّ مِمَّنْ لَا تَنْفَعُه الْعِظَةُ إِلَّا إِذَا بَالَغْتَ فِي إِيلَامِه - فَإِنَّ الْعَاقِلَ يَتَّعِظُ بِالآدَابِ - والْبَهَائِمَ لَا تَتَّعِظُ إِلَّا بِالضَّرْبِ -. اطْرَحْ عَنْكَ وَارِدَاتِ الْهُمُومِ بِعَزَائِمِ الصَّبْرِ - وحُسْنِ الْيَقِينِ - مَنْ تَرَكَ الْقَصْدَ جَارَ - والصَّاحِبُ مُنَاسِبٌ - والصَّدِيقُ مَنْ صَدَقَ غَيْبُه - والْهَوَى شَرِيكُ الْعَمَى - ورُبَّ بَعِيدٍ أَقْرَبُ مِنْ قَرِيبٍ - وقَرِيبٍ أَبْعَدُ مِنْ بَعِيدٍ - والْغَرِيبُ مَنْ لَمْ يَكُنْ لَه حَبِيبٌ - مَنْ تَعَدَّى الْحَقَّ ضَاقَ مَذْهَبُه - ومَنِ اقْتَصَرَ عَلَى قَدْرِه كَانَ أَبْقَى لَه - وأَوْثَقُ سَبَبٍ أَخَذْتَ بِه - سَبَبٌ بَيْنَكَ وبَيْنَ اللَّه سُبْحَانَه - ومَنْ لَمْ يُبَالِكَ فَهُوَ عَدُوُّكَ

اور بے نیازی کے عالم میں بد سلوکی کس قدر قبیح حرکت ہے۔اس دنیامیں تمہارا حصہ اتنا ہی ہے جس سے اپنی عاقبت کا انتظام کرس کو۔اور کسی چیزکے ہاتھ سے نکل جانے پر پریشنی کا اظہار کرنا ہے تو ہر اس چیز پر بھی فریاد کرو جو تم تک نہیں پہنچی ہے۔جو کچھ ہو چکا ہے اس کے ذریعہ اس کاپتہ لگائو جو ہونے والا ہے کہ معاملات تمام کے تمام ایک ہی جیسے ہیں اور خبردار ان لوگوں میں نہ ہو جائو جن پر اس وقت تک نصیحت اثر انداز نہیں ہوتی ہے جب تک پوری طرح تکلیف نہ پہنچائی جائے اس لئے کہ انسان عاقل ادب سے نصیحت حاصل کرتا ہے اور جانور مار پیٹ سے سیدھا ہوتا ہے ۔دنیا میں وارد ہونے والے ہموم و آلام کو صبر کے عزائم اور یقین کے حسن کے ذریعہ کردو۔یاد رکھو کہ جس نے بھی اعتدال کو چھوڑاوہ منحرف ہوگیا۔ساتھی ایک طرح کا شریک نسب ہوتا ہے اور دوست وہ ہے جو غیبت میں بھی سچا دوست رہے۔خواہش اندھے پن کی شریک کار ہوتی ہے۔بہت سے دور والے ایسے ہوتے ہیں جو قریب والوں سے قریب تر ہوتے ہیں اور بہت سے قریب والے دور والوں سے زیادہ دور تر ہوتے ہیں ۔غریب وہ ہے جس کا کوئی دوست نہ ہو۔جو حق سے آگے بڑھ جائے اس کے راستے تنگ ہو جاتے ہیں اورجو اپنی حیثیت پر قائم رہتا ہے اس کی عزت باقی رہ جاتی ہے۔تمہارے ہاتھوں میں مضبوط ترین وسیلہ تمہارا اورخدا کا رشتہ ہے۔اورجو تمہاری پروانہ کرے وہی تمہارادشمن ہے


- قَدْ يَكُونُ الْيَأْسُ إِدْرَاكاً إِذَا كَانَ الطَّمَعُ هَلَاكاً - لَيْسَ كُلُّ عَوْرَةٍ تَظْهَرُ ولَا كُلُّ فُرْصَةٍ تُصَابُ - ورُبَّمَا أَخْطَأَ الْبَصِيرُ قَصْدَه وأَصَابَ الأَعْمَى رُشْدَه - أَخِّرِ الشَّرَّ فَإِنَّكَ إِذَا شِئْتَ تَعَجَّلْتَه وقَطِيعَةُ الْجَاهِلِ تَعْدِلُ صِلَةَ الْعَاقِلِ - مَنْ أَمِنَ الزَّمَانَ خَانَه ومَنْ أَعْظَمَه أَهَانَه - لَيْسَ كُلُّ مَنْ رَمَى أَصَابَ - إِذَا تَغَيَّرَ السُّلْطَانُ تَغَيَّرَ الزَّمَانُ - سَلْ عَنِ الرَّفِيقِ قَبْلَ الطَّرِيقِ - وعَنِ الْجَارِ قَبْلَ الدَّارِ إِيَّاكَ أَنْ تَذْكُرَ مِنَ الْكَلَامِ مَا يَكُونُ مُضْحِكاً - وإِنْ حَكَيْتَ ذَلِكَ عَنْ غَيْرِكَ.

الرأي في المرأة

وإِيَّاكَ ومُشَاوَرَةَ النِّسَاءِ - فَإِنَّ رَأْيَهُنَّ إِلَى أَفْنٍ وعَزْمَهُنَّ إِلَى وَهْنٍ - واكْفُفْ عَلَيْهِنَّ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ بِحِجَابِكَ إِيَّاهُنَّ - فَإِنَّ شِدَّةَ الْحِجَابِ أَبْقَى عَلَيْهِنَّ

کبھی کبھی مایوسی بھی کامیابی بن جاتی ہے جب حرص و طمع موجب ہلاکت ہو۔ہر عیب ظاہرنہیں ہوا کرتا ہے اورنہ ہرفرصت کو موقع بار بار ملاکرتا ہے۔کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آنکھوں والا راستہ سے بھٹک جاتا ہے اور اندھا سیدھے راستہ کو پالیتاہے۔برائی کو پس پشت ڈالتے رہو کہ جب بھی چاہو اس کی طرف بڑھ سکتے ہو۔جاہل سے قطع تعلق عاقل سے تعلقات کے برابر ہے۔جو زمانہ کی طرف سے مطمئن ہوجات ہے زمانہ اس سے خیانت کرتا ہےاورجو اسے بڑا سمجھتا ہے اسے ذلیل کر دیتا ہے ہر تیر انداز کا تیر نشانہ پر نہیں بیٹھتا ہے جب حاکم بدل جاتا ہےتوزمانہ بد لجاتا ہےرفیق سفر کے بارے میں راستہ پر چلنے سے پہلے دریافت کرو اورہمسایہ کیبارے میں اپنے گھر سے پہلے خبر گیری کرو۔خبردار ایسی کوئی بات نہ کرنا جومضحکہ خیزہو چاہے دوسروں ہی کی طرفسے نقل کی جائے ۔

خبردار۔عورتوں(۱) سے مشورہ نہ کرنا کہ ان کی رائے کمزور اور ان کا ارادہ سست ہوتا ہے ۔انہیں پردہ میں رکھ کر ان کی نگاہوں کو تاک جھانک سے محفوظ رکھو کہ پردہ کی سختی ان کی عزت و آبرو کو باقی رکھنے والی ہے

(۱)اس کلام میں مختلف احتمالات پائے جاتے ہیں :۔

ایک احتمال یہ ہے کہ یہ اس دورکے حالات کی طرف اشارہ ہے جب عورتیں ۹۹ فیصد ی جاہل ہوا کرتی تھیں اور ظاہر ہے کہ پڑھے لکھے انسان کا کسی جاہل سے مشورہ کرنا نادانی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس میں عورت کی جذباتی فطرت کی طرف اشارہ ہے کہ اس کے مشورہ میں جذبات کی کارفرمائی کاخطرہ زیادہ ہے لہٰذا اگر کوئی عورت اس نقص سے بلند تر ہو جائے تو اس سے مشورہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

تیسرا احتمال یہ ہے کہ اس میں ان مخصوص عورتوں کی طرف اشارہ ہو جن کی رائے پرعمل کرنے سے عالم اسلام کا ایک بڑا حصہ تباہی کے گھاٹ اتر گیا ہے اورآج تک اس تباہی کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔


- ولَيْسَ خُرُوجُهُنَّ بِأَشَدَّ - مِنْ إِدْخَالِكَ مَنْ لَا يُوثَقُ بِه عَلَيْهِنَّ - وإِنِ اسْتَطَعْتَ أَلَّا يَعْرِفْنَ غَيْرَكَ فَافْعَلْ - ولَا تُمَلِّكِ الْمَرْأَةَ مِنْ أَمْرِهَا مَا جَاوَزَ نَفْسَهَا - فَإِنَّ الْمَرْأَةَ رَيْحَانَةٌ ولَيْسَتْ بِقَهْرَمَانَةٍ - ولَا تَعْدُ بِكَرَامَتِهَا نَفْسَهَا ولَا تُطْمِعْهَا فِي أَنْ تَشْفَعَ لِغَيْرِهَا - وإِيَّاكَ والتَّغَايُرَ فِي غَيْرِ مَوْضِعِ غَيْرَةٍ - فَإِنَّ ذَلِكَ يَدْعُو الصَّحِيحَةَ إِلَى السَّقَمِ - والْبَرِيئَةَ إِلَى الرِّيَبِ - واجْعَلْ لِكُلِّ إِنْسَانٍ مِنْ خَدَمِكَ عَمَلًا تَأْخُذُه بِه - فَإِنَّه أَحْرَى أَلَّا يَتَوَاكَلُوا فِي خِدْمَتِكَ - وأَكْرِمْ عَشِيرَتَكَ - فَإِنَّهُمْ جَنَاحُكَ الَّذِي بِه تَطِيرُ - وأَصْلُكَ الَّذِي إِلَيْه تَصِيرُ ويَدُكَ الَّتِي بِهَا تَصُولُ.

دعاء

اسْتَوْدِعِ اللَّه دِينَكَ ودُنْيَاكَ - واسْأَلْه خَيْرَ الْقَضَاءِ لَكَ فِي الْعَاجِلَةِ والآجِلَةِ - والدُّنْيَا والآخِرَةِ والسَّلَامُ.

(۳۲)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى معاوية

وأَرْدَيْتَ جِيلًا مِنَ النَّاسِ كَثِيراً

اور ان کا گھر سے نکل جانا غیر معتبر افراد کے اپنے گھرمیں داخل کرنے سے زیادہ خطرناک نہیں ہے۔اگر ممکن ہوکہ وہ تمہارے علاوہ کسی کو نہ پچانیں توایسا ہی کرو اورخبردار انہیں ان کے ذاتی مسائل سے زیادہ اختیارات نہ دواس لئے کہ عورت ایک پھول ہے اور حاکم و متصرف نہیں ہے۔اس کے پاس ولحاظ کو اس کی ذات سے آگے نہ بڑھائو اور اس میں دوسروں کی سفارش کا حوصلہ نہ پیدا ہونے دو۔دیکھو خبردار غیرت کے مواقع کے علاوہ غیرت کا اظہارمت کرنا کہ اس طرح اچھی عورت بھی برائی کے راستہ پرچلی جائے گی اور بے عیب بھی مشکوک ہوجاتی ہے۔

اپنے ہر خادم کے لئے ایک عمل مقرر کردو جس کا محاسبہ کرسکو کہ یہ بات ایک دوسرے کے حوالہ کرنے کہیں زیادہ بہتر ہے۔اپنے قبیلہ کا احترام کرو کہ یہی تمہارے لئے پرپرواز کر مرتبہ رکھتے ہیں اور یہی تمہاری اصل ہیں جن کی طرف تمہاری باز گشت ہے اور تمہارے ہاتھ ہیں جن کے ذریعہ حملہ کرسکتے ہو۔

اپنے دین و دنیا کو پروردگار کے حوالہ کردو اور اس سے دعا کرو کہ تمہارے حق میں دنیا و آخرت میں بہترین فیصلہ کرے ۔والسلام

(۳۲)

آپ کا مکتوب گرامی

(معاویہ کے نام )

تم نے لوگوں کی ایک بڑی جماعت کو ہلاک کردیا ہے کہ انہیں اپنی


- خَدَعْتَهُمْ بِغَيِّكَ وأَلْقَيْتَهُمْ فِي مَوْجِ بَحْرِكَ - تَغْشَاهُمُ الظُّلُمَاتُ وتَتَلَاطَمُ بِهِمُ الشُّبُهَاتُ - فَجَازُوا عَنْ وِجْهَتِهِمْ ونَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ - وتَوَلَّوْا عَلَى أَدْبَارِهِمْ وعَوَّلُوا عَلَى أَحْسَابِهِمْ - إِلَّا مَنْ فَاءَ مِنْ أَهْلِ الْبَصَائِرِ - فَإِنَّهُمْ فَارَقُوكَ بَعْدَ مَعْرِفَتِكَ - وهَرَبُوا إِلَى اللَّه مِنْ مُوَازَرَتِكَ - إِذْ حَمَلْتَهُمْ عَلَى الصَّعْبِ وعَدَلْتَ بِهِمْ عَنِ الْقَصْدِ - فَاتَّقِ اللَّه يَا مُعَاوِيَةُ فِي نَفْسِكَ - وجَاذِبِ الشَّيْطَانَ قِيَادَكَ - فَإِنَّ الدُّنْيَا مُنْقَطِعَةٌ عَنْكَ والآخِرَةَ قَرِيبَةٌ مِنْكَ - والسَّلَامُ.

(۳۳)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى قثم بن العباس - وهو عامله على مكة

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ عَيْنِي بِالْمَغْرِبِ كَتَبَ إِلَيَّ يُعْلِمُنِي – أَنَّه وُجِّه إِلَى الْمَوْسِمِ أُنَاسٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ - الْعُمْيِ الْقُلُوبِ الصُّمِّ الأَسْمَاعِ الْكُمْه الأَبْصَارِ - الَّذِينَ يَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ - ويُطِيعُونَ الْمَخْلُوقَ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ

گمراہی(۱) سے دھوکے میں رکھا ہے اور اپنے سمندر کی موجوں کے حوالہ کردیا ہے جہاں تاریکیاں انہیں ڈھانپے ہوئے ہیں اورشبہات کے تھپیڑے انہیں تہ و بالا کر رہے ہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ راہ حق سے ہٹ گئے اور الٹے پائوں پلٹ گئے اور پیٹھ پھیر کرچلتے بنے اوراپنے حسب و نسب پربھروسہ کر بیٹھے علاوہ ان چند اہل بصیرت کے جو واپس آگئے اور انہوں نے تمہیں پہچاننے کے بعد چھوڑ دیا اورتمہاری حمایت سے بھاگ کر اللہ کی طرف آگئے جب کہ تم نے انہیں دشواریوں میں مبتلا کردیا تھا اور راہ اعتدال سے ہٹا دیا تھا۔لہٰذا اسے معاویہ اپنے بارے میں خدا سے ڈرو اور شیطان سے جان چھڑائو کہ یہ دنیا بہر حال تم سے الگ ہونے والی ہے اور آخرت بہت قریب ہے ۔والسلام

(۳۳)

آپ کامکتوب گرامی

(مکہ کے عامل قثم(۲) بن عباس کے نام)

اما بعد! میرے مغربی علاقہ کے جاسوس نے مجھے لکھ کر اطلاع دی ہے کہ موسم حج کے لئے شام کی طرف سے کچھ ایسے لوگوں کو بھیجا گیا ہے جو دلوں کے اندھے ' کانوں کے بہرے اورآنکھوں کے محروم ضیاء ہیں۔یہ حق کو باطل سے مشتبہ کرنے والے ہیں اور خالق کی نافرمانی کرکے مخلوق کوخوش کرنے والے ہیں۔

(۱)طبری کا بیان ہے کہ حتات مجاشعی ایک جماعت کے ساتھ معاویہ کے دربار میں واردہوا معاویہ نے سب کو ایک ایک لاکھ انعام دیا اورحتات کو ستر ہزار۔تو اس نے اتعراض کیا معاویہ نے کہا کہ میں نے ان سے ان کا دین خریدا ہے۔حتات نے کہا تو مجھ سے بھی خرید لیجئے ؟ یہ سنناتھاکہ معاویہ نے ایک لاکھ پورا کردیا۔

(۲)قثم عبداللہ بن عباس کےبھائی تھےاورمکہ پر حضرت کےعامل تھےجوحضرت کی شہادت تک اپنے عہدہ پر فائز رہے اور اس کے بعد معاویہ کے دورمیں سمرقند میں قتل کر دئیے گئے


ويَحْتَلِبُونَ الدُّنْيَا دَرَّهَا بِالدِّينِ - ويَشْتَرُونَ عَاجِلَهَا بِآجِلِ الأَبْرَارِ الْمُتَّقِينَ - ولَنْ يَفُوزَ بِالْخَيْرِ إِلَّا عَامِلُه - ولَا يُجْزَى جَزَاءَ الشَّرِّ إِلَّا فَاعِلُه - فَأَقِمْ عَلَى مَا فِي يَدَيْكَ قِيَامَ الْحَازِمِ الصَّلِيبِ - والنَّاصِحِ اللَّبِيبِ - التَّابِعِ لِسُلْطَانِه الْمُطِيعِ لإِمَامِه - وإِيَّاكَ ومَا يُعْتَذَرُ مِنْه - ولَا تَكُنْ عِنْدَ النَّعْمَاءِ بَطِراً - ولَا عِنْدَ الْبَأْسَاءِ فَشِلًا - والسَّلَامُ.

(۳۴)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى محمد بن أبي بكر لما بلغه توجده من عزله بالأشتر عن مصر،ثم توفي الأشتر في توجهه إلى هناك قبل وصوله إليها

أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ بَلَغَنِي مَوْجِدَتُكَ مِنْ تَسْرِيحِ الأَشْتَرِ إِلَى عَمَلِكَ - وإِنِّي لَمْ أَفْعَلْ ذَلِكَ اسْتِبْطَاءً لَكَ فِي الْجَهْدَ - ولَا ازْدِيَاداً لَكَ فِي الْجِدِّ - ولَوْ نَزَعْتُ مَا تَحْتَ يَدِكَ مِنْ سُلْطَانِكَ - لَوَلَّيْتُكَ مَا هُوَ أَيْسَرُ عَلَيْكَ مَئُونَةً - وأَعْجَبُ إِلَيْكَ وِلَايَةً.

إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي كُنْتُ وَلَّيْتُه أَمْرَ مِصْرَ -

ان کا کام دین کے ذریعہ دنیا کو دو ہنا ہے اوریہ نیک کردار' پرہیز گار افراد کی آخرت کو دنیا کے ذریعہ خریدنے والے ہیں جب کہ خیر اس کا حصہ ہے جوخیر کا کام کرے اورشر اس کے حصہ میں آتا ہے جو شرکاعمل کرتا ہے۔دیکھو اپنے منصبی فرائض کے سلسلہ میں ایک تجربہ کار' پختہ کار' مخلص ' ہوشیار انسان کی طرح قیام کرنا جو اپنے حاکم کا تابع اوراپنے امام کا اطاعت گذار ہواور خبردار کوئی ایسا کام نہ کرنا جس کی معذرت کرنا پڑے اورراحت وآرام میں مغرور نہ ہو جانا اورنہ شدت کے مواقع پرکمزوری کا مظاہرہ کرنا۔والسلام

(۳۴)

آپ کامکتوب گرامی

(محمدبن ابی بکرکے نام جب یہ اطلاع ملی کہ وہ اپنی معزولی اورمالک اشترکےتقریر سے رنجیدہ ہیں اور پھرمالک اشتر مصر پہنچنے سےپہلےانتقال بھی کرگئے )

اما بعد!مجھے مالک اشتر کےمصر کی طرف بھیجنے کے بارے میں تمہاری بد دلی کی اطلاع ملی ہے۔حالانکہ میں نے یہ کام اس لئے نہیں کیا کہ تمہیں کام میں کمزور پایا تھا یا تم سے زیادہ محنت کامطالبہ کرناچاہا تھا بلکہ اگرمیں نے تم سے تمہارے زیر اثر اقتدار کولیا بھی تھا تو تمہیں ایسا کام دینا چاہتا تھا جو تمہارےلئےمشقت کے اعتبار سے آسان ہو اورتمہیں پسند بھی ہوجس شخص کو میں نے مصرکاعامل قراردیا تھا وہ


كَانَ رَجُلًا لَنَا نَاصِحاً وعَلَى عَدُوِّنَا شَدِيداً نَاقِماً - فَرَحِمَه اللَّه فَلَقَدِ اسْتَكْمَلَ أَيَّامَه – ولَاقَى حِمَامَه ونَحْنُ عَنْه رَاضُونَ - أَوْلَاه اللَّه رِضْوَانَه وضَاعَفَ الثَّوَابَ لَه - فَأَصْحِرْ لِعَدُوِّكَ وامْضِ عَلَى بَصِيرَتِكَ - وشَمِّرْ لِحَرْبِ مَنْ حَارَبَكَ و( ادْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ ) - وأَكْثِرِ الِاسْتِعَانَةَ بِاللَّه يَكْفِكَ مَا أَهَمَّكَ - ويُعِنْكَ عَلَى مَا يُنْزِلُ بِكَ إِنْ شَاءَ اللَّه.

(۳۵)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى عبد الله بن العباس بعد مقتل محمد بن أبي بكر

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ مِصْرَ قَدِ افْتُتِحَتْ - ومُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ رحمهالله قَدِ اسْتُشْهِدَ - فَعِنْدَ اللَّه نَحْتَسِبُه وَلَداً نَاصِحاً وعَامِلًا كَادِحاً

میرا مردمخلص اورمیرےدشمن کے لئے سخت قسم کا دشمن تھا۔خدااس پر رحمت نازل کرےاس نے اپنے دن پورے کرلئے اوراپنی موت سے ملاقات کرلی۔ہم اس سے بہر حال راضی ہیں۔اللہ اسے اپنی رضا عنایت فرمائے اور اس کے ثواب کو مضاعف کردے اب تم دشمن کے مقابلہ میں نکل پڑو اوراپن بصیرت پرچل پڑو۔ جوتم سے جنگ کرے اس سے جنگ کرنے کے لئے کمر کو کس لو اوردشمن کو راہ خدا کی دعوت دے دو۔اس کے بعد اللہ سے مسلسل مدد مانگتے رہوکہ وہی تمہارےلئے ہر مہم میں کافی ہے اوروہی ہرنازل ہونے والی مصیبت میں مدد کرنے والا ہے۔انشاء اللہ

(۳۵)

آپ کامکتوب گرامی

(عبداللہ بن عباس کے نام۔محمد بن ابی بکر کی شہادت کے بعد )

امابعد! دیکھو مصر پر دشمن کا قبضہ ہوگیا ہے اور محمد(۱) بن ابی بکر شہید ہوگئے ہیں( خدا ان پر رحمت نازل کرے ) میں ان کی مصیبت کا اجر خدا سے چاہتا ہوں کہ وہ میرے مخلص فرزند اور محنت کش عامل تھے

(۱)مسعودی نے مروج الذیب میں ۳۵ھ کے حوادث میں اس واقعہ کو نقل کیا ہے کہ '' معاویہ نے عمرو ابن العاص کی سر کردگی میں ۴ ہزار کا لشکر مصر کی طرف روانہ کیا اور اس میں معاویہ بن خدیج اور ابو الا عور السلمی جیسے افراد کوبھی شامل کردیا۔مقام مسناة پرمحمد بن ابی بکرن اس لشکرکا مقابلہ کیا لیکن اصحاب کی بیوفائی کی بنا پرمیدان چھوڑنا پڑا۔اس کے بعد دوبارہ مصر کے علاقہ میں رن پڑا اور آخر کارمحمد بن ابی بکر کو گرفتار کرلیا گیا اور انہیں جیتے جی ایک گدھے کی کھال میں رکھ کرنذر آتش کردیا گیا '' جس کا حضرت کو بے حد صدمہ ہوا اور آپ نے اس واقعہ کی اطلاع بصرہ کے عامل عبداللہ بن عباس کو کی اور اپنے مکمل جذبات کا اظہار فرمادیا یہاں تک کہ اہل عراق کی بیوفائی کی بنیاد پر آرزئوئے موت تک کا تذکرہ فرمادیا کہ گویا ایسے افراد کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے ہیں جو راہ خدا میں جہاد کرنا نہ جانتے ہوں۔اور یہ مولائے کائنات کا درس عمل ہردور کے لئے ہے کہ جس قوم میں جذبہ قربانی نہیں ہے۔علی نہ انہیں دیکھنا پسند کرتے ہیں اور نہ انہیں اپنے شیعوں میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔


وسَيْفاً قَاطِعاً ورُكْناً دَافِعاً - وقَدْ كُنْتُ حَثَثْتُ النَّاسَ عَلَى لَحَاقِه - وأَمَرْتُهُمْ بِغِيَاثِه قَبْلَ الْوَقْعَةِ - ودَعَوْتُهُمْ سِرّاً وجَهْراً وعَوْداً وبَدْءاً - فَمِنْهُمُ الآتِي كَارِهاً ومِنْهُمُ الْمُعْتَلُّ كَاذِباً - ومِنْهُمُ الْقَاعِدُ خَاذِلًا - أَسْأَلُ اللَّه تَعَالَى أَنْ يَجْعَلَ لِي مِنْهُمْ فَرَجاً عَاجِلًا - فَوَاللَّه لَوْ لَا طَمَعِي عِنْدَ لِقَائِي عَدُوِّي فِي الشَّهَادَةِ - وتَوْطِينِي نَفْسِي عَلَى الْمَنِيَّةِ - لأَحْبَبْتُ أَلَّا أَلْقَى مَعَ هَؤُلَاءِ يَوْماً وَاحِداً - ولَا أَلْتَقِيَ بِهِمْ أَبَداً.

(۳۶)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى أخيه عقيل بن أبي طالب - في ذكر جيش أنفذه إلى بعض الأعداء

وهو جواب كتاب كتبه إليه عقيل

فَسَرَّحْتُ إِلَيْه جَيْشاً كَثِيفاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ - فَلَمَّا بَلَغَه ذَلِكَ شَمَّرَ هَارِباً ونَكَصَ نَادِماً - فَلَحِقُوه بِبَعْضِ الطَّرِيقِ - وقَدْ طَفَّلَتِ الشَّمْسُ لِلإِيَابِ

میری تیغ بران اورمیرے دفاعی ستون میں نے لوگوں کو ان سے ملحق ہو جانے پرآمادہ کیا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ جنگ سے پہلے ان کی مدد کو پہنچ جائیں اور انہیں خفیہ اورعلانیہ ہر طرح دعوتعمل دی تھی اور بار بار آوازدی تھی لیکن بعض افراد بادل نا خواستہ آئے اور بعض نے جھوٹے بہانے کردئیے ۔کچھ تو میرے حکم کو نظرانداز کر کے گھر ہی میں بیٹھے رہ گئے ۔اب میں پروردگار سے دعاکرتا ہوں کہ مجھے ان کی طرف سے جلد کشائش امر عنایت فرمادے کہ خدا کی قسم اگر مجھے دشمن سے ملاقات کرکے وقت شہادت کی آرزو نہ ہوتی اور میں نے اپنے نفس کو موت کے لئے آمادہ نہ کرلیا ہوتا تو میں ہرگز یہ پسند نہ کرتا کہ ان لوگوں کے ساتھ ایک دن بھی دشمن سے مقابلہ کروں یا خود ان لوگوں سے ملاقات کروں۔

(۳۶)

آپ کامکتوب گرامی

(اپنے بھائی عقیل کے نام جس میں اپنے بعض لشکروں کا ذکر فرمایا ہے اور یہ درحقیقت عقیل کے مکتوب کا جواب دے )

پس میں نے اس کی طرف مسلمانوں کا ایک لشکر عظیم روانہ کردیا اورجب اسے اس امرکی اطلاع ملی تو اس نے دامن سمیٹ کر فرار اختیار کیا۔اور پشیمان ہو کر پیچھے ہٹ گیا تو ہمارے لشکرنے اسے راستہ میں جالیا جب کہ سورج ڈوبنے


فَاقْتَتَلُوا شَيْئاً كَلَا ولَا - فَمَا كَانَ إِلَّا كَمَوْقِفِ سَاعَةٍ حَتَّى نَجَا جَرِيضاً - بَعْدَ مَا أُخِذَ مِنْه بِالْمُخَنَّقِ - ولَمْ يَبْقَ مِنْه غَيْرُ الرَّمَقِ - فَلأْياً بِلأْيٍ مَا نَجَا - فَدَعْ عَنْكَ قُرَيْشاً وتَرْكَاضَهُمْ فِي الضَّلَالِ - وتَجْوَالَهُمْ فِي الشِّقَاقِ وجِمَاحَهُمْ فِي التِّيه - فَإِنَّهُمْ قَدْ أَجْمَعُوا عَلَى حَرْبِي - كَإِجْمَاعِهِمْ عَلَى حَرْبِ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قَبْلِي - فَجَزَتْ قُرَيْشاً عَنِّي الْجَوَازِي - فَقَدْ قَطَعُوا رَحِمِي وسَلَبُونِي سُلْطَانَ ابْنِ أُمِّي

وأَمَّا مَا سَأَلْتَ عَنْه مِنْ رَأْيِي فِي الْقِتَالِ - فَإِنَّ رَأْيِي قِتَالُ الْمُحِلِّينَ حَتَّى أَلْقَى اللَّه - لَا يَزِيدُنِي كَثْرَةُ النَّاسِ حَوْلِي عِزَّةً - ولَا تَفَرُّقُهُمْ عَنِّي وَحْشَةً - ولَا تَحْسَبَنَّ ابْنَ أَبِيكَ - ولَوْ أَسْلَمَه النَّاسُ مُتَضَرِّعاً مُتَخَشِّعاً - ولَا مُقِرّاً لِلضَّيْمِ وَاهِناً - ولَا سَلِسَ الزِّمَامِ لِلْقَائِدِ - ولَا وَطِيءَ الظَّهْرِ لِلرَّاكِبِ

کے قریب تھا نتیجہ یہ ہوا کہدونوں میں ایک مختصر جھڑپ ہوئی اورایک ساعت نہ گزرنے پائی تھی کہ اس نے بھاگ کر نجات حاصل کرلی جب کہ اسے گلے سے پکڑا جا چکا تھا اورچند سانسوں کے علاوہ کچھ باقی نہ رہ گیا تھا۔اس طرح بڑی مشکل سے اس نے جان بچائی لہٰذا اب قریش اور گمراہی میں ان کی تیز رفتاری اور تفرقہ میں ان کی گردش اور ضلالت میں ان کی منہ زوری کا ذکر چھوڑ دو کہ ان لوگوں نے مجھ سے جنگ پر ویسے ہی اتفاق کرلای ہے جس طرح رسول اکرم (ص) سے جنگ پر اتفاق کیا تھا ۔اب اللہ ہی قریش کو ان کے کئے کا بدلہدے کہ انہوں نے میر ی قرابت کا رشتہ توڑ دیا اور مجھ سے میرے ماں جائے(۱) کی حکومت سلب کرلی۔

اور یہ جو تم نے جنگ کے بارے میں میری رائے دریافت کی ہے تو میری رائے یہی ہے کہ جن لوگوں نے جنگ کو حلال بنا رکھا ہے ان سے جنگ کرتا رہوں یہاں تک کہ مالک کی بارگاہ میں حاضر ہو جائوں۔میرے گرد لوگوں کا اجتماع میری عزت میں اضافہ نہیں کر سکتا ہے اور نہ ان کا متفرق ہوجانا میری وحشت میں اضافہ کرسکتا ہے اور میرے برادر اگر تمام لوگ بھی میرا ساتھ چھوڑ دیں تو آپ مجھے کمزوراورخوفزدہ نہ پائیں گے اورظلم کا اقرارکرنے والا۔کمزور اور کسی قائد کے ہاتھ میں آسانی سے زمام پکڑا دینے والا اور کسی سوارکے لئے سواری کی

(۱) مولائے کائنات نے سرکار دوعالم (ص) کو '' ابن امی '' کے لفظ سے یاد فرمایا ہے اس لئے کہ سرکاردوعالم (ص) مسلسل آپ کی والدہ ماجدہ جناب فاطمہ بنت اسد کو اپنی ماں کے لفظ سے یاد فرمایا کرتے تھے '' ھی امی بعد امی ''


الْمُتَقَعِّدِ - ولَكِنَّه كَمَا قَالَ أَخُو بَنِي سَلِيمٍ:

فَإِنْ تَسْأَلِينِي كَيْفَ أَنْتَ فَإِنَّنِي

صَبُورٌ عَلَى رَيْبِ الزَّمَانِ صَلِيبُ

يَعِزُّ عَلَيَّ أَنْ تُرَى بِي كَآبَةٌ

فَيَشْمَتَ عَادٍ أَوْ يُسَاءَ حَبِيبُ

(۳۷)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى معاوية

فَسُبْحَانَ اللَّه - مَا أَشَدَّ لُزُومَكَ لِلأَهْوَاءَ الْمُبْتَدَعَةِ والْحَيْرَةِ الْمُتَّبَعَةِ - مَعَ تَضْيِيعِ الْحَقَائِقِ واطِّرَاحِ الْوَثَائِقِ - الَّتِي هِيَ لِلَّه طِلْبَةٌ وعَلَى عِبَادِه حُجَّةٌ - فَأَمَّا إِكْثَارُكَ الْحِجَاجَ عَلَى عُثْمَانَ وقَتَلَتِه - فَإِنَّكَ إِنَّمَا نَصَرْتَ عُثْمَانَ حَيْثُ كَانَ النَّصْرُ لَكَ - وخَذَلْتَه حَيْثُ كَانَ النَّصْرُ لَه والسَّلَامُ.

سہولت دینے والا پائیں گے ۔بلکہ میری وہی صورت حال ہوگی جس کے بارے میں قبیلہ بنی سلیم والے نے کہا ہے۔:

'' اگر تو میری حالت کے بارے میں دریافت کر رہی ہے تو سمجھ لے کرمیں زمانہ کے مشکلات میں صبر کرنے والا اورمستحکم ارادہ والا ہوں میرے لئے نا قابل برداشت ہے کہ مجھے پریشان حال دیکھا جائے اوردشمن طعنے دے یا دوست اس صورت حال سے رنجیدہ ہو جائے ''

(۳۷)

آپ کا مکتوب گرامی

(معاویہ کے نام)

اے سبحان اللہ۔تو نئی نئی خواہشات اورزحمت میں ڈالنے والی حیرت و سر گردانی سے کس قدر چپکا ہوا ہے جب کہ تونے حقائق کو برباد کردیا ہے اوردلائل کو ٹھکرادیا ہے جو الہ کو مطلوب اوربندوں پر اس کی حجت ہیں۔ رہ گیا تمہارا عثمان اور ان کے قالوں کے بارے میں جھگڑا بڑھانا تواس کامختصر جواب یہ ہے کہ تم نے عثمان کی مدد اس وقت کی ہے جب مدد میں تمہارا فائدہ تھا اور اس وقت لاوارث چھوڑ دیا تھا جب(۱) مددمیں ان کا فائدہ تھا۔ والسلام

(۱) ابن ابی الحدید نے بلا ذری کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ عثمان کے محاصرہ کے دورمیں معاویہ نے شام سے ایک فوج یزید بن اسد قسری کی سرکردگی میں روانہ کی اور اسے ہدایت دیدی کہ مدینہ کے باہر مقام ذی خشب میں مقیم رہیں اورکسی بھی صورت میں میرے حکم کے بغیر مدینہ میں داخل نہ ہوں۔چنانچہ فوج اسی مقام پر حالات کا جائزہ لیتی رہی اورقتل عثمان کے بعد واپس شام بلا لی گئی۔جس کا کھلا ہوا مفہوم یہ تھا کہ اگرانقلابی جماعت کامیاب نہ ہو سکے تواس فوج کی مدد سے عثمان کاخاتمہ کرادیا جائے اور اس کے بعد خون عثمان کاہنگامہ کھڑا کرکے علی سے خلافت سلب کرلی جائے ۔


(۳۸)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى أهل مصر لما ولى عليهم الأشتر

مِنْ عَبْدِ اللَّه عَلِيٍّ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ - إِلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ غَضِبُوا لِلَّه – حِينَ عُصِيَ فِي أَرْضِه وذُهِبَ بِحَقِّه - فَضَرَبَ الْجَوْرُ سُرَادِقَه عَلَى الْبَرِّ والْفَاجِرِ - والْمُقِيمِ والظَّاعِنِ - فَلَا مَعْرُوفٌ يُسْتَرَاحُ إِلَيْه - ولَا مُنْكَرٌ يُتَنَاهَى عَنْه.

أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ بَعَثْتُ إِلَيْكُمْ عَبْداً مِنْ عِبَادِ اللَّه - لَا يَنَامُ أَيَّامَ الْخَوْفِ - ولَا يَنْكُلُ عَنِ الأَعْدَاءِ سَاعَاتِ الرَّوْعِ - أَشَدَّ عَلَى الْفُجَّارِ مِنْ حَرِيقِ النَّارِ - وهُوَ مَالِكُ بْنُ الْحَارِثِ أَخُو مَذْحِجٍ - فَاسْمَعُوا لَه وأَطِيعُوا أَمْرَه فِيمَا طَابَقَ الْحَقَّ - فَإِنَّه سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّه - لَا كَلِيلُ الظُّبَةِ ولَا نَابِي الضَّرِيبَةِ - فَإِنْ أَمَرَكُمْ أَنْ تَنْفِرُوا فَانْفِرُوا - وإِنْ أَمَرَكُمْ أَنْ تُقِيمُوا فَأَقِيمُوا -

(۳۸)

آپ کامکتوب گرامی

(مالک اشتر کی ولایت کےموقع پر اہل مصرکے نام )

بندۂ خدا ! امیر المومنین علی کی طرف سے۔ اس قوم کے نام جس نے خداکے لئے اپنے غضب کا اظہار کیا جب اس کی زمین میں اس کی معصیت کی گئی اور اس کے حق کو برباد کردیا گیا۔ظلم نے ہر نیک و بدکاراور مقیم و مسافر پراپنے شامیانے تان دئیے اور نہ کوئی نیکی رہ گئی جس کے زیر سایہ آرام لیا جا سکے اور نہ کوئی ایسی برائی رہگئی جس سے لوگ پرہیز کرتے ۔

امابعد! میں نے تمہاری طرف بندگان خدا میں سے ایک ایسے بندہ کو بھیجا ہے جو خوف کے دنوں میں سوتا نہیں ہے اوردہشت کے اوقات میں دشمنوں سے خوفزدہ نہیں ہوت ہے اور فاجروں کے لئے آگ کی گرمی سے زیادہ شدید تر ہے اور اس کا نام مالک بن اشتر مذحجی ہے لہٰذا تم لوگاس کی بات سنواوراس کے ان اوامرکی اطاعت کرو جو مطابق حق ہیں کہوہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے(۱) جس کی تلوار کند نہیں ہوتی ہے اور جس کا وار اچٹ نہیں سکتا ہے۔وہ اگرکوچ کرنے کاحکم دے تونکل کھڑے ہو اور اگر ٹھہرنے کے لئے کہے تو فوراً ٹھہر جائو اس لئے کہ

(۱) افسوس کہ عالم اسلام نے یہ لقب خالد بن الولید کو دے دیا ہے جس نے جناب مالک بن نویرہ کوبے گناہ قتل کرکے اسی رات کی زوجہ سے تعلقات قائم کرلئے اوراس پر حضرت عمر تک نے اپنی برہمی کا اظہار کیا لیکن حضرت ابو بکر نے سیاسی مصالح کے تحت انہیں ''سیف اللہ '' قرار دے کر اتنے سنگین جرم سے بری کردیا۔انا للہ


فَإِنَّه لَا يُقْدِمُ ولَا يُحْجِمُ - ولَا يُؤَخِّرُ ولَا يُقَدِّمُ إِلَّا عَنْ أَمْرِي - وقَدْ آثَرْتُكُمْ بِه عَلَى نَفْسِي لِنَصِيحَتِه لَكُمْ - وشِدَّةِ شَكِيمَتِه عَلَى عَدُوِّكُمْ.

(۳۹)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى عمرو بن العاص

فَإِنَّكَ قَدْ جَعَلْتَ دِينَكَ تَبَعاً لِدُنْيَا امْرِئٍ - ظَاهِرٍ غَيُّه مَهْتُوكٍ سِتْرُه - يَشِينُ الْكَرِيمَ بِمَجْلِسِه ويُسَفِّه الْحَلِيمَ بِخِلْطَتِه - فَاتَّبَعْتَ أَثَرَه وطَلَبْتَ فَضْلَه - اتِّبَاعَ الْكَلْبِ لِلضِّرْغَامِ يَلُوذُ بِمَخَالِبِه - ويَنْتَظِرُ مَا يُلْقَى إِلَيْه مِنْ فَضْلِ فَرِيسَتِه - فَأَذْهَبْتَ دُنْيَاكَ وآخِرَتَكَ – ولَوْ بِالْحَقِّ أَخَذْتَ أَدْرَكْتَ مَا طَلَبْتَ - فَإِنْ يُمَكِّنِّي اللَّه مِنْكَ ومِنِ ابْنِ أَبِي سُفْيَانَ - أَجْزِكُمَا بِمَا قَدَّمْتُمَا - وإِنْ تُعْجِزَا وتَبْقَيَا فَمَا أَمَامَكُمَا شَرٌّ لَكُمَا - والسَّلَامُ.

وہ میرے امر کے بغیرنہ آگے بڑھا سکتا ہے اورنہ پیچھے ہٹا سکتا ہے۔نہ حملہ کر سکتا ہےاور نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے میں نے اس کے معاملہ میں تمہیں اپنے اوپر مقدم کردیا ہے اور اپنے پاس سے جدا کردیا ہے کہ وہ تمہارا مخلص ثابت ہوگا اور تمہارے دشمن کے مقابلہ میں انتہائی سخت گیر ہوگا۔

(۳۹)

آپ کامکتوب گرامی

(عمروبن العاص کے نام)

تونے اپنے دین کوایک ایسے شخص کی دنیا کا تابع بنادیا ہے جس کی گمراہی واضح ہے اورا س کا پردہ ٔ عیوب چاک ہوچکا ہے۔وہ شریف انسان کو اپنی بزم میں بٹھا کرعیب دار اورعقل مند کو اپنی مصاحبت سے احمق بنادیتا ہے ۔تونے اس کے نقش پر قدم جمائے ہیں۔اوراس کے بچے کھچے کی جستجو کی ہے جس طرح کہ کتاشیرکے پیچھے لگ جاتا ہے کہ اس کے پنجوں کی پناہ میں رہتا ہے اوراس وقت کا منتظر رہتا ہے جب شیر اپنے شکار کا بچا کھچا پھینک دے اور وہ اسے کھالے۔تم نے تو اپنی دنیا اورآخرت دونوں کوگنوادیا ہے۔حالانکہ اگر حق کی راہ پر رہے ہوتے جب بھی یہ مدعا حاصل ہو سکتا تھا۔بہر حال اب خدانے مجھے تم پر اور ابو سفیان کے بیٹے پر قابو دے دیا تو میں تمہارے حرکات کا صحیح بدلہ دے دوں گا اور اگرتم بچ کرنکل گئے اور میرے بعد تک باقی رہ گئے تو تمہارا آئندہ دور تمہارے لئے سخت ترین ہوگا۔والسلام


(۴۰)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى بعض عماله

أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ بَلَغَنِي عَنْكَ أَمْرٌ - إِنْ كُنْتَ فَعَلْتَه فَقَدْ أَسْخَطْتَ رَبَّكَ - وعَصَيْتَ إِمَامَكَ وأَخْزَيْتَ أَمَانَتَكَ .بَلَغَنِي أَنَّكَ جَرَّدْتَ الأَرْضَ فَأَخَذْتَ مَا تَحْتَ قَدَمَيْكَ - وأَكَلْتَ مَا تَحْتَ يَدَيْكَ فَارْفَعْ إِلَيَّ حِسَابَكَ - واعْلَمْ أَنَّ حِسَابَ اللَّه أَعْظَمُ مِنْ حِسَابِ النَّاسِ والسَّلَامُ.

(۴۱)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى بعض عماله

أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي كُنْتُ أَشْرَكْتُكَ فِي أَمَانَتِي - وجَعَلْتُكَ شِعَارِي وبِطَانَتِي - ولَمْ يَكُنْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِي أَوْثَقَ مِنْكَ فِي نَفْسِي - لِمُوَاسَاتِي ومُوَازَرَتِي وأَدَاءِ الأَمَانَةِ إِلَيَّ - فَلَمَّا رَأَيْتَ الزَّمَانَ عَلَى ابْنِ عَمِّكَ

(۴۰)

آپ کامکتوب گرامی

(بعض عمال کے نام)

امابعد!مجھے تمہارے بارے میں ایک بات کی اطلاع ملی ہے۔اگر تم نے ایسا کیا ہے تو اپنے پروردگار کوناراض کیا ہے۔اپنے امام کی نا فرمانی کی ہے اور اپنی امانتداری کوبھی رسوا کیا ہے۔مجھے یہ خبر ملی ہے کہ تم نے بیت المال کی زمین کو صاف کردیا ہے اور جو کچھ زیر قدم تھا اس پر قبضہ کرلیا ہے اور جو کچھ ہاتھوں میں تھااسے کھاگئے ہو لہٰذا فوراً اپناحساب بھیج دواوریہ یاد رکھوکہ اللہ کا حساب لوگوں کے حساب سے زیادہ سخت تر ہے ۔والسلام

(۴۱)

آپ کامکتوب گرامی

(بعض عمال کے نام)

اما بعد!میں نےتم کواپنی امانت میں شریک کا ر بنایاتھا اورظاہرو باطن میں اپنا قرار دیا تھا اورہمدردی اورمدد گاری اور امانتداری کےاعتبارسے میرےگھروالوں میں تم سے زیادہ معتبر کوئی نہیں تھالیکن جب تم نے دیکھا کہ زمانہ تمہارے ابن(۱) عم

(۱)یہ بات تو واضح ہے کہ حضرت نے یہ خط اپنی کسی چچا زاد بھائی کے نام لکھاہے۔لیکن اس سے کون مراد ہے ؟ اس میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے بعض حضرات کاخیال ہے کہ عبداللہ بن عباس مراد ہیں جو بصرہکے عامل تھے لیکن جب مصرمیں محمد بن ابی بکرکا حشر دیکھ لیا تو بیت المال کا سارامال لے کر مکہ چلے گئے اور وہیں زندگی گزارنے لگے جس پرحضرتنے اپنی شدید ناراضگی کا اظہار فرمایا اور ابن عباس کے تمام کارناموں پر خط نسخ کھینچ دیا اوربعض حضرات کاکہنا ہے کہ ابن عباس جیسے جبر الامتہ اورمفسر قرآن کے بارے میں اس طرح کے کردارکا امکان نہیں ہے لہٰذا اس سے مراد ان کے بھائی عبید اللہ بن عباس ہیں جو یمن میں حضرت کے عامل تھے لیکن بعض حضرات نے اس پربھی اعتراض کیا ہے کہ یمن کے حالات میں ان کی خیانت کاری کاکوئی تذکرہ نہیں ہے توایک بھائی کو بچانے کے لئے دوسرے کو نشانہ ستم کیوں بنایا جا رہا ہے ۔ عبداللہ بن عباس لاکھ عالم و فاضل اور مفسر قرآن کیوں نہ ہوں۔امام معصوم نہیں ہیں اوربعض معاملات میں امام یا مکمل پیرو امام کے علاوہ کوئی ثابت قدم نہیں رہ سکتا ہے چاہے مرد عامی ہو یا مفسر قرآن ۔!


قَدْ كَلِبَ - والْعَدُوَّ قَدْ حَرِبَ وأَمَانَةَ النَّاسِ قَدْ خَزِيَتْ - وهَذِه الأُمَّةَ قَدْ فَنَكَتْ وشَغَرَتْ - قَلَبْتَ لِابْنِ عَمِّكَ ظَهْرَ الْمِجَنِّ - فَفَارَقْتَه مَعَ الْمُفَارِقِينَ وخَذَلْتَه مَعَ الْخَاذِلِينَ - وخُنْتَه مَعَ الْخَائِنِينَ - فَلَا ابْنَ عَمِّكَ آسَيْتَ ولَا الأَمَانَةَ أَدَّيْتَ - وكَأَنَّكَ لَمْ تَكُنِ اللَّه تُرِيدُ بِجِهَادِكَ - وكَأَنَّكَ لَمْ تَكُنْ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّكَ - وكَأَنَّكَ إِنَّمَا كُنْتَ تَكِيدُ هَذِه الأُمَّةَ عَنْ دُنْيَاهُمْ - وتَنْوِي غِرَّتَهُمْ عَنْ فَيْئِهِمْ - فَلَمَّا أَمْكَنَتْكَ الشِّدَّةُ فِي خِيَانَةِ الأُمَّةِ أَسْرَعْتَ الْكَرَّةَ - وعَاجَلْتَ الْوَثْبَةَ واخْتَطَفْتَ مَا قَدَرْتَ عَلَيْه مِنْ أَمْوَالِهِمُ - الْمَصُونَةِ لأَرَامِلِهِمْ وأَيْتَامِهِمُ - اخْتِطَافَ الذِّئْبِ الأَزَلِّ دَامِيَةَ الْمِعْزَى الْكَسِيرَةَ - فَحَمَلْتَه إِلَى الْحِجَازِ رَحِيبَ الصَّدْرِ بِحَمْلِه - غَيْرَ مُتَأَثِّمٍ مِنْ أَخْذِه - كَأَنَّكَ لَا أَبَا لِغَيْرِكَ - حَدَرْتَ إِلَى أَهْلِكَ تُرَاثَكَ مِنْ أَبِيكَ وأُمِّكَ –

فَسُبْحَانَ اللَّه أَمَا تُؤْمِنُ بِالْمَعَادِ - أَومَا تَخَافُ نِقَاشَ الْحِسَابِ - أَيُّهَا الْمَعْدُودُ كَانَ عِنْدَنَا مِنْ أُولِي الأَلْبَابِ - كَيْفَ تُسِيغُ شَرَاباً وطَعَاماً -

پر حملہ آور ہے اوردشمن آمادۂ جنگ ہے اور لوگوں کی امانت رسواہو رہی ہے اور امت بے راہ اور لاوارث ہوگئی ہے تو تم نے بھی اپنے ابن عم سے منہ موڑ لیا اورجدا ہونے والوں کے ساتھ مجھ سے جدا ہوگئے اور ساتھ چھوڑنے والوں کے ساتھ الگ ہوگئے اورخیانت کاروں کے ساتھ خائن ہوگئے۔نہ اپنے ابن عم کا ساتھ دیا اورنہ امانتداری کاخیال کیا۔گویا کہ تم نے اپنے جہاد سے خدا کا ارادہ بھی نہیں کیا تھا۔اور گویا تمہارے پاس پروردگارکی طرف سے کوئی حجت نہیں تھی اورگویا کہ تم اس امت کودھوکہ دے کراس کی دنیا پر قبضہ کرنا چاہتے تھے اور تمہاری نیت تھی کہ ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا کران کے اموال پر قبضہ کرلیں۔چنانچہ جیسے ہی امت سے خیانت کرنے کی طاقت پیدا ہوگئی تم نے تیزی سے حملہ کردیا اور فوراً کود پڑے اور ان تمام اموال کو اچ لیا جو یتیموں اوربیوائوں کے لئے محفوظ کئے گئے تھے جیسے کوئی تیز رفتار بھیڑیا شکستہ یا زخمی بکریوں پرحملہ کردیتا ہے ۔پھر تم ان اموال کو حجاز کی طرف اٹھالے گئے اور اس حرکت سے بے حد مطمئن اورخوش تھے اوراس کے لینے میں کسی گناہ کا احساس بھی نہ تھا جیسے ( خدا تمہارے دشمنوں کا براکرے ) اپنے گھر کی طرف اپنے ماں باپ کی میراث کامال لا رہے ہو۔

اے سبحان اللہ ! کیا تمہارا آخرت پر ایمان ہی نہیں ہے اور کیا روز قیامت کے شدید حساب کا خوف بھی ختم ہوگیا ہے اے وہ شخص جو کل ہمارے نزدیک صاحبان عقل میں شمار ہوتا تھا۔تمہارے یہ کھانا پینا کس طرح گوارا ہوتا ہے


وأَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّكَ تَأْكُلُ حَرَاماً وتَشْرَبُ حَرَاماً - وتَبْتَاعُ الإِمَاءَ وتَنْكِحُ النِّسَاءَ - مِنْ أَمْوَالِ الْيَتَامَى والْمَسَاكِينِ والْمُؤْمِنِينَ والْمُجَاهِدِينَ - الَّذِينَ أَفَاءَ اللَّه عَلَيْهِمْ هَذِه الأَمْوَالَ - وأَحْرَزَ بِهِمْ هَذِه الْبِلَادَ - فَاتَّقِ اللَّه وارْدُدْ إِلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ أَمْوَالَهُمْ - فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ ثُمَّ أَمْكَنَنِي اللَّه مِنْكَ - لأُعْذِرَنَّ إِلَى اللَّه فِيكَ - ولأَضْرِبَنَّكَ بِسَيْفِي الَّذِي مَا ضَرَبْتُ بِه أَحَداً - إِلَّا دَخَلَ النَّارَ - ووَ اللَّه لَوْ أَنَّ الْحَسَنَ والْحُسَيْنَ فَعَلَا مِثْلَ الَّذِي فَعَلْتَ - مَا كَانَتْ لَهُمَا عِنْدِي هَوَادَةٌ ولَا ظَفِرَا مِنِّي بِإِرَادَةٍ - حَتَّى آخُذَ الْحَقَّ مِنْهُمَا وأُزِيحَ الْبَاطِلَ عَنْ مَظْلَمَتِهِمَا - وأُقْسِمُ بِاللَّه رَبِّ الْعَالَمِينَ - مَا يَسُرُّنِي أَنَّ مَا أَخَذْتَه مِنْ أَمْوَالِهِمْ حَلَالٌ لِي.

جب کہ تمہیں معلوم ہے کہ تم مال حرام کھا رہے ہو اورحرام ہی پی رہے ہو اور پھر ایتام، مساکین، مومنین اورمجاہدین جنہیں اللہ نے یہ مال دیا ہے اور جن کے ذریعہ ان شہروں کا تحفظ کیا ہے۔ان کے اموال سے کنیزیں خرید رہے ہو اورشادیاں رچا رہے ہو۔

خدارا۔خدا سے ڈرو اوران لوگوں کے اموال واپس کردو کہ اگرایسا نہ کروگے اورخدانے کبھی تم پر اختیار دے دیا تو تمہارے بارے میں وہ فیصلہ کروں گا جو مجھے معذور بنا سکے اورتمہاراخاتمہ اسی تلوار سے کروں گا جس کے مارے(۱) ہوئے کا کوئی ٹھکانہ جہنم کے علاوہ نہیں ہے۔

خدا کی قسم! اگر یہی کام(۲) حسن و حسین نے کیا ہوتا تو ان کے لئے بھی میرے پاس کسی نرمی کا امکان نہیںتھا اور نہ وہ میرے ارادہ پرقابو پا سکتے تھے جب تک کہ ان سے حق حاصل نہ کرلوں اور ان کے ظلم کے آثار کو مٹا نہ دوں ۔

خدائے رب العالمین کی قسم میرے لئے یہ بات ہرگز خوش کن نہیں تھی اگر یہ سارے اموال میرے لئے حلال ہوتے

(۱)حضرت علی کے مجاہدات کے امتیازات میں سے ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ جس کی تلوارآپ پرچل جائے وہ بھی جہنمی ہے اور جس پر آپ کی تلوارچل جائے وہ بھی جہنمی ہے اس لئے کہ آپ امام معصوم اورید اللہ ہیں اور امام معصوم سے کسی غلطی کا امکان نہیں ہے اور اللہ کاہاتھ کسی بے گناہ اوربے خطا پرنہیں اٹھ سکتا ہے۔

کاش مولائے کائنات کے مقابلہ میں آنے والے جمل و صفین کے فوجی یا سر براہ اس حقیقت سے با خبر ہوتے اور انہیں اس نکتہ کاہوش رہ جاتا تو کبھی نفس پیغمبر (ص) سے مقابلہ کرنے کی ہمت نہ کرتے۔

(۲)یہ کسی ذاتی امتیاز کا اعلان نہیں ہے۔یہی بات پروردگارنے پیغمبر(ص) سے کہی ہے کہ تم شرک اختیار کرلو گے تو تمہارے اعمال بھی برباد کردئیے جائیں گے اوریہی بات پیغمبر اسلام (ص) نے اپنی دختر نیک اختر کے بارے میں فرمائی تھی اور یہی بات مولائے کائنات نے امام حسن اور امام حسین کے بارے میں فرمائی ہے۔گویا کہ یہ ایک صحیح اسلامی کردار ہے جو صرف انہیں بندگان خدا میں پایا جاتا ہے جو مشیت الٰہی کے ترجمان اور احکام الہیہ کی تمثیل ہیں ورنہ اس طرح کے کردارکا پیشکرنا ہرانسان کے بس کاکام نہیں ہے۔


أَتْرُكُه مِيرَاثاً لِمَنْ بَعْدِي فَضَحِّ رُوَيْداً - فَكَأَنَّكَ قَدْ بَلَغْتَ الْمَدَى ودُفِنْتَ تَحْتَ الثَّرَى - وعُرِضَتْ عَلَيْكَ أَعْمَالُكَ بِالْمَحَلِّ - الَّذِي يُنَادِي الظَّالِمُ فِيه بِالْحَسْرَةِ - ويَتَمَنَّى الْمُضَيِّعُ فِيه الرَّجْعَةَ( ولاتَ حِينَ مَناصٍ )

(۴۲)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى عمر بن أبي سلمة المخزومي وكان عامله على البحرين،فعزله، واستعمل نعمان بن عجلان الزّرقي مكانه

أَمَّا بَعْدُ - فَإِنِّي قَدْ وَلَّيْتُ النُّعْمَانَ بْنِ عَجْلَانَ الزُّرَقِيَّ عَلَى الْبَحْرَيْنِ - ونَزَعْتُ يَدَكَ بِلَا ذَمٍّ لَكَ ولَا تَثْرِيبٍ عَلَيْكَ - فَلَقَدْ أَحْسَنْتَ الْوِلَايَةَ وأَدَّيْتَ الأَمَانَةَ - فَأَقْبِلْ غَيْرَ ظَنِينٍ ولَا مَلُومٍ - ولَا مُتَّهَمٍ ولَا مَأْثُومٍ - فَلَقَدْ أَرَدْتُ الْمَسِيرَ إِلَى ظَلَمَةِ أَهْلِ الشَّامِ - وأَحْبَبْتُ أَنْ تَشْهَدَ مَعِي - فَإِنَّكَ مِمَّنْ أَسْتَظْهِرُ بِه عَلَى جِهَادِ الْعَدُوِّ - وإِقَامَةِ عَمُودِ الدِّينِ إِنْ شَاءَ اللَّه.

اور میں بعد والوں کے لئے میراث بنا کر چھوڑ جاتا ۔ذرا ہوش میں آئو کہ اب تم زندگی کی آخری حدوں تک پہنچ چکے ہو اورگویا کہ زیرخاک دفن ہوچکے ہو اور تم پرتمہارے اعمال پیش کردئیے گئے ہیں۔اس منزل پر جہاں ظالم حسرت سے آوازدیں گے۔اور زندگی برباد کرنے والے واپسی کی آرزو کر رہے ہوں گے اورچھٹکارے کا کوئی امکان نہ ہوگا۔

(۴۲)

آپ کا مکتوب گرامی

(بحرین کے عامل عمر بن ابی سلمہ مخزومی کے نام جنہیں معزول کرکے نعمان بن عجلان الرزقی کومعین کیا تھا)

اما بعد! میں نے نعمان بن عجلان الزرقی کو بحرین کاعامل بنادیا ہے اورتمہیں اس سے بے دخل کردیا ہے لیکن نہ اس میں تمہاری کوئی برائی ہے اور نہ ملامت۔تم نے حکومت کا کام بہت ٹھیک طریقہ سے چلایا ہے اور امانت کوادا کردیا ہے لیکن اب واپس چلے آئو نہ تمہارے بارے میں کوئی بد گمانی ہے نہ ملامت۔نہ الزام ہے نہ گناہ۔ اصل میں میرا ارادہ شام کے ظالموں سے مقابلہ کرنے کا ہے لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ تم میرے ساتھ رہو کہ میں تم جیسے افرادسے دشمن سے جنگ کرنے اور ستون دین قائم کرنے میں مدد لینا چاہتا ہوں۔انشاء اللہ


(۴۳)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى مصقلة بن هبيرة الشيباني - وهو عامله على أردشيرخرة

بَلَغَنِي عَنْكَ أَمْرٌ إِنْ كُنْتَ فَعَلْتَه فَقَدْ أَسْخَطْتَ إِلَهَكَ - وعَصَيْتَ إِمَامَكَ - أَنَّكَ تَقْسِمُ فَيْءَ الْمُسْلِمِينَ - الَّذِي حَازَتْه رِمَاحُهُمْ وخُيُولُهُمْ وأُرِيقَتْ عَلَيْه دِمَاؤُهُمْ - فِيمَنِ اعْتَامَكَ مِنْ أَعْرَابِ قَوْمِكَ - فَوَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وبَرَأَ النَّسَمَةَ - لَئِنْ كَانَ ذَلِكَ حَقّاً - لَتَجِدَنَّ لَكَ عَلَيَّ هَوَاناً ولَتَخِفَّنَّ عِنْدِي مِيزَاناً - فَلَا تَسْتَهِنْ بِحَقِّ رَبِّكَ - ولَا تُصْلِحْ دُنْيَاكَ بِمَحْقِ دِينِكَ - فَتَكُونَ مِنَ الأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا.

أَلَا وإِنَّ حَقَّ مَنْ قِبَلَكَ وقِبَلَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ - فِي قِسْمَةِ هَذَا الْفَيْءِ سَوَاءٌ - يَرِدُونَ عِنْدِي عَلَيْه ويَصْدُرُونَ عَنْه.

(۴۳)

آپ کامکتوب گرامی

(مصقلہ(۱) ہبیرہ الشیبانی کے نام جوارد شیر خرہ میں آپ کے عامل تھے )

مجھے تمہارے بارے میں ایک خبر ملی جو اگر واقعاً صحیح ہے تو تم نے اپنے پروردگار کوناراض کیا ہے اور اپنے امام کی نا فرمانی کی ہے۔خیر یہ ہے کہ تم مسلمانوں کے مال غنیمت کو جسے ان کے نیزوں اور گھوڑوں نے جمع کیا ہے اورجس کی راہ میں ان کاخون بہایا گیا ہے۔اپنی قوم کے ان بدوں میں تقسیم کر رہے ہو جوتمہارے ہوا خواہ ہیں۔قسم اس ذات کی جسنے دانہ کوشگافتہ کیا ہے اورجانداروں کو پیداکیا ہے۔اگر یہ بات صحیح ہے تو تم میری نظروں میں انتہائی ذلیل ہو گے اور تمہارے اعمال کا پلہ ہلکا ہوجائے گا لہٰذا خبردار اپنے رب کے حقوق کو معمولی مت سمجھنا اور اپنے دین کوبرباد کرکے دنیا آراستہ کرنے کی فکر نہ کرنا کہ تمہارا شماران لوگوں میں ہو جائے جن کے اعمال میں خسارہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ یاد رکھو! جو مسلمان تمہارے پاس یا میرے پاس ہیں ان سب کا حصہ اس مال غنیمت ایک ہی جیسا ہے اور اسی اعتبارسے وہ میرے پاس وارد ہوتے ہیں اور اپناحق لے کر چلے جاتے ہیں۔

(۱)امیرالمومنین کا اصول حکومت تھا کہ اپنے عمال پر ہمیشہ کڑی نگاہ رکھتے تھے اور ان کے تصرفات کی نگرانی کیا کرتے تھے اور جہاں کسی نے حدود اسلامیہ سے تجاوز کیا فوراً تنبیہی خط تحریر فرما دیا کرتے تھے اور یہی وہ طرز عمل تھا جس کی بنا پر بہت سے افراد ٹوٹ کر معاویہ کے ساتھ چلے گئے اور دین و دنیا دونوں کو برباد کرلیا۔ہبیرہ انہیں افراد میں تھا اور جب حضرت نے اس کے تصرفات پر تنقید فرمائی تومنحرف ہو کر شام چلا گیا اور معاویہ سے ملحق ہو گیا لیکن آپ کا کردار شام کے اندھیرے میں چمکتا رہا اورآج تک دنیا کو اسلام کی روشنی دکھلا رہا ہے ۔


(۴۴)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى زياد ابن أبيه وقد بلغه أن معاوية كتب إليه يريد خديعته باستلحاقه

وقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَيْكَ - يَسْتَزِلُّ لُبَّكَ ويَسْتَفِلُّ غَرْبَكَ - فَاحْذَرْه فَإِنَّمَا هُوَ الشَّيْطَانُ - يَأْتِي الْمَرْءَ مِنْ بَيْنِ يَدَيْه ومِنْ خَلْفِه - وعَنْ يَمِينِه وعَنْ شِمَالِه - لِيَقْتَحِمَ غَفْلَتَه ويَسْتَلِبَ غِرَّتَه

وقَدْ كَانَ مِنْ أَبِي سُفْيَانَ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَلْتَةٌ - مِنْ حَدِيثِ النَّفْسِ - ونَزْغَةٌ مِنْ نَزَغَاتِ الشَّيْطَانِ - لَا يَثْبُتُ بِهَا نَسَبٌ ولَا يُسْتَحَقُّ بِهَا إِرْثٌ - والْمُتَعَلِّقُ بِهَا كَالْوَاغِلِ الْمُدَفَّعِ والنَّوْطِ الْمُذَبْذَبِ.

فَلَمَّا قَرَأَ زِيَادٌ الْكِتَابَ قَالَ - شَهِدَ بِهَا ورَبِّ الْكَعْبَةِ - ولَمْ تَزَلْ فِي نَفْسِه حَتَّى ادَّعَاه مُعَاوِيَةُ.

قال الرضي - قولهعليه‌السلام الواغل - هو الذي يهجم على الشرب - ليشرب معهم وليس منهم - فلا يزال مدفعا محاجزا - والنوط المذبذب هو ما يناط برحل الراكب - من قعب أو قدح أو ما أشبه ذلك -.

(۴۴)

آپ کامکتوب گرامی

(زیاد بن ابیہ کے نام جب آپ کو خبر ملی کہ معاویہ اسے اپنے نسب میں شامل کرکے دھوکہ دینا چاہتا ہے )

مجھے معلوم ہوا ہے کہ معاویہ نے تمہیں خط لکھ کر تمہاری عقل کو پھسلانا چاہا ہے اور تمہاری دھار کو کند بنانے کا ارادہ کرلیا ہے۔لہٰذا خبردار ہوشیار رہنا۔یہ شیطان ہے جو انسان کے پاس آگے پیچھے ۔دہنے ' بائیں ہر طرف سے آتا ہے تاکہ اسے غافل پاکراس پر ٹوٹ پڑے اورغفلت کی حالت میں اس کی عقل کو سلب کرلے ۔

واقعہ یہ ہے کہ ابو سفیان نے عمربن الخطاب کے زمانہ میں ایک بے سمجھی بوجھی بات کہہ دی تھی جو شیطانی وسوسوں میں سے ایک وسوسہ کی حیثیت رکھتی تھی جس سے نہ کوئی نسب ثابت ہوتا ہے اور نہ کسی میراث کا استحقاق پیدا ہوتا ہے اوراس سے تمسک کرنے والا ایک بن بلایا شرابی ہے جسے دھکے دے کر نکال دیا جائے یا پیالہ ہے جو زین فرس میں لٹکا دیا جائے اور ادھر ادھرڈھلکتا رہے۔

سید رضی :اس خط کو پڑھنے کے بعد زیاد نے کہا کہ رب کعبہ کی قسم علی نے اس امر کی گواہی دے دی اور یہ بات اس کے دل سے لگی رہی یہاں تک کہمعاویہ نے اس کے بھائی ہونے کا اعادہ کردیا۔ واغل اس شخص کو کہاجاتا ہے جو بزم شراب میں بن بلائے داخل ہو جائے اوردھکے


فهو أبدا يتقلقل إذا حث ظهره واستعجل سيره

(۴۵)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى عثمان بن حنيف الأنصاري - وكان عامله على البصرة وقد بلغه أنه دعي إلى وليمة قوم من أهلها، فمضى إليها - قوله:

أَمَّا بَعْدُ يَا ابْنَ حُنَيْفٍ - فَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ رَجُلًا مِنْ فِتْيَةِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ - دَعَاكَ إِلَى مَأْدُبَةٍ فَأَسْرَعْتَ إِلَيْهَا - تُسْتَطَابُ لَكَ الأَلْوَانُ وتُنْقَلُ إِلَيْكَ الْجِفَانُ - ومَا ظَنَنْتُ أَنَّكَ تُجِيبُ إِلَى طَعَامِ قَوْمٍ - عَائِلُهُمْ مَجْفُوٌّ وغَنِيُّهُمْ مَدْعُوٌّ - فَانْظُرْ إِلَى مَا تَقْضَمُه مِنْ هَذَا الْمَقْضَمِ

دے کرنکال دیا جائے ۔اورنوط مذبذب وہ پیالہ وغیرہ ہے جو مسافر کے سامان سے باندھ کر لٹکا دیاجاتا ہے اورمسلسل ادھر ادھر ڈھلکتا رہتا ہے۔

(۴۵)

آپ کا مکتوب گرامی

(اپنے بصرہ کے عامل عثمان ۱بن حنیف کے نام جب آپ کو اطلاع ملی کہ وہ ایک بڑیدعوت میں شریک ہوئے ہیں )

اما بعد! ابن حنیف ! مجھے یہ خبر ملی ہے کہ بصرہ کے بعض جوانوں نے تم کوایک دعوت میں مدعو کیا تھا جس میں طرح طرح کے خوشگوار کھانے تھے اور تمہاری طرف بڑے بڑے پیالے بڑھا ئے جا رہے تھے اورتم تیزی سے وہاں پہنچ گئے تھے ۔مجھے تو یہ گمان بھی نہیں تھا کہ تم ایسی قوم کی دعوت میں شرکت کرو گے جس کے غریبوں پر ظلم ہو رہا ہو اور جس کے دولت مند مدعو کئے جاتے ہوں۔دیکھو جو لقمے چباتے ہو اسے دیکھ لیا کرو اوراگر

(۱)عثمان بن حنیف انصار کے قبیلہ اوس کی ایک نمایاں شخصیت تھے اوریہ وجہ ہے کہ جب خلافت دوم میں عراق کے والی کی تلاش ہوئی تو سب نے بالاتفاق عثمان بن حنیف کا نام لیا اورانہیں ارض عراق کی پیمائش اور اس کے خراج کی تعین کاذمہ دار بنادیا گیا۔امیر المومنین نے اپنے دورحکومت میں انہیں بصرہ کا والی بنا دیاتھا اوروہ طلحہ و زبیر کے وارد ہونے تک برابرمصروف عمل رہے اوراس کے بعد ان لوگوں نے سارے حالات خراب کردئیے اوربالآخر حضرت کی شہادت کے بعد کوفہ منتقل ہوگئے اوروہیں انتقال فرمایا۔

عثمان کے کردارمیں کسی طرح کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے لیکن امیرالمومنین کا اسلامی نظام عمل یہ تھا کہ حکام کو عوام کے حالات کو نگاہ میں رکھ کر زندگی گزارنی چاہیے اورکسی حاکم کی زندگی کو عوام کے حالات سے بالاتر نہیں ہونی چاہیے جس طرح کہ حضرت نے خود اپنی زندگی گزاری ہے اور معمولی لباس و غذا پرپورا دور حکومت گزاردیا ہے ۔


فَمَا اشْتَبَه عَلَيْكَ عِلْمُه فَالْفِظْه - ومَا أَيْقَنْتَ بِطِيبِ وُجُوهِه فَنَلْ مِنْه.

أَلَا وإِنَّ لِكُلِّ مَأْمُومٍ إِمَاماً يَقْتَدِي بِه - ويَسْتَضِيءُ بِنُورِ عِلْمِه - أَلَا وإِنَّ إِمَامَكُمْ قَدِ اكْتَفَى مِنْ دُنْيَاه بِطِمْرَيْه - ومِنْ طُعْمِه بِقُرْصَيْه - أَلَا وإِنَّكُمْ لَا تَقْدِرُونَ عَلَى ذَلِكَ - ولَكِنْ أَعِينُونِي بِوَرَعٍ واجْتِهَادٍ وعِفَّةٍ وسَدَادٍ - فَوَاللَّه مَا كَنَزْتُ مِنْ دُنْيَاكُمْ تِبْراً - ولَا ادَّخَرْتُ مِنْ غَنَائِمِهَا وَفْراً - ولَا أَعْدَدْتُ لِبَالِي ثَوْبِي طِمْراً - ولَا حُزْتُ مِنْ أَرْضِهَا شِبْراً - ولَا أَخَذْتُ مِنْه إِلَّا كَقُوتِ أَتَانٍ دَبِرَةٍ - ولَهِيَ فِي عَيْنِي أَوْهَى وأَوْهَنُ مِنْ عَفْصَةٍ مَقِرَةٍ بَلَى كَانَتْ فِي أَيْدِينَا فَدَكٌ مِنْ كُلِّ مَا أَظَلَّتْه السَّمَاءُ - فَشَحَّتْ عَلَيْهَا نُفُوسُ قَوْمٍ - وسَخَتْ عَنْهَا نُفُوسُ قَوْمٍ آخَرِينَ - ونِعْمَ الْحَكَمُ اللَّه - ومَا أَصْنَعُ بِفَدَكٍ وغَيْرِ فَدَكٍ - والنَّفْسُ مَظَانُّهَا فِي غَدٍ جَدَثٌ تَنْقَطِعُ فِي ظُلْمَتِه آثَارُهَا وتَغِيبُ أَخْبَارُهَا وحُفْرَةٌ لَوْ زِيدَ فِي فُسْحَتِهَا وأَوْسَعَتْ يَدَا حَافِرِهَا - لأَضْغَطَهَا الْحَجَرُ والْمَدَرُ وسَدَّ فُرَجَهَا التُّرَابُ الْمُتَرَاكِمُ -

اس کی حقیقت مشتبہ ہو تواسے پھینک دیا کرو اور جس کے بارے میں یقین ہو کہ پاکیزہ ہے اسی کو استعمال کیا کرو۔

یاد رکھو کہ ہر ماموم کا ایک امام ہوتا ہے جس کی وہ اقتدا کرتا ہے اور اسی کے نورعلم سے کسب ضیاء کرتا ہے اور تمہارے امام نے تو اس دنیا میں صرف دو بوسیدہ کپڑوں اوردو روٹیوں میں گزارا کیا ہے۔مجھے معلوم ہے کہ تم لوگایسا نہیں کرس کتے ہو لیکن کم سے کم اپنی احتیاط کوشش ' عفت اور سلامت روی سے میری مدد کرو۔خدا کی قسم میں نے تمہاری دنیا میں سے نہ کوئی سونا جمع کیا ہے اور نہ اس مال و متاع میں سے کوء یذخیرہ اکٹھا کیاہے اور نہ ان دو بوسیدہ کپڑوںکے بدلے کوئی اور معمولی کپڑا مہیا کیا ہے۔اورنہ ایک بالشت پرقبضہ کیا ہے اور نہ ایک بیمار جانور سے زیادہ کوئی قوت ( غذا) حاصل کیا ہے۔ یہ دنیا میری نگاہ میں کڑوی چھال سے بھی زیادہ حقیر اورب ے قیمت ہے۔ہاں ہمارے ہاتھوں میں اس آسمان کے نیچے صرفایک فدک تھا مگر اس پر بھی ایک قوم نے اپنی لالچ کا مظاہرہ کیا اوردوسری قوم نے اس کے جانے کی پرواہنہ کی اور بہر حال بہترین فیصلہ کرنے والا پروردگار ہے اور ویسے بھی مجھے فدک یا غیر فدک سے کیا لینا دینا ہے جب کہ نفس کی منزل اصلی کل کے دن قبر ہے جہاں کی تاریکی میں تمام آثار منقطع ہو جائیں گے اور کوئی خبر نہ آئے گی۔یہ ایک ایسا گڑھا ہے جس کی وسعت زیادہ بھی کردی جائے اور کھودنے والا اسے وسیع بھی بنادے تو بالآخر پتھر اور ڈھیلے اسے تنگ بنادیں گے اور تہ بہ تہ مٹی اس


وإِنَّمَا هِيَ نَفْسِي أَرُوضُهَا بِالتَّقْوَى - لِتَأْتِيَ آمِنَةً يَوْمَ الْخَوْفِ الأَكْبَرِ - وتَثْبُتَ عَلَى جَوَانِبِ الْمَزْلَقِ ولَوْ شِئْتُ لَاهْتَدَيْتُ الطَّرِيقَ إِلَى مُصَفَّى هَذَا الْعَسَلِ ولُبَابِ هَذَا الْقَمْحِ ونَسَائِجِ هَذَا الْقَزِّ - ولَكِنْ هَيْهَاتَ أَنْ يَغْلِبَنِي هَوَايَ - ويَقُودَنِي جَشَعِي إِلَى تَخَيُّرِ الأَطْعِمَةِ - ولَعَلَّ بِالْحِجَازِ أَوْ الْيَمَامَةِ مَنْ لَا طَمَعَ لَه فِي الْقُرْصِ - ولَا عَهْدَ لَه بِالشِّبَعِ - أَوْ أَبِيتَ مِبْطَاناً وحَوْلِي بُطُونٌ غَرْثَى - وأَكْبَادٌ حَرَّى أَوْ أَكُونَ كَمَا قَالَ الْقَائِلُ:

وحَسْبُكَ دَاءً أَنْ تَبِيتَ بِبِطْنَةٍ

وحَوْلَكَ أَكْبَادٌ تَحِنُّ إِلَى الْقِدِّ

أَأَقْنَعُ مِنْ نَفْسِي

کے شگاف کو بند کردے گی۔میں تو اپنے نفس کو تقویٰ کی تربیت دے رہا ہوں تاکہ عظیم ترین خوف کے دن مطمئن ہوکرمیدان میں آئے اور پھسلنے کے مقامات پر ثابت قدم رہے۔

میں(۱) اگر چاہتا تو اس خالص شہد ' بہترین صافشدہ گندم اور ریشمی کپڑوں کے راستے بھی پیدا کر سکتا تھا لیکن خدانہ کرے کہ مجھ پر خواہشات کا غلبہ ہو جائے اور مجھے حرص و طمع اچھے کھانوں کے اختیار کرنے کی طف کھینچ کرلے جائیں جب کہ بہت ممکن ہے کہ چچا زیایمامہ میں اسے افراد بھی ہوں جن کے لئے ایک روٹی کا سہارا نہ ہو اور شکم مسیری کا کوئی سامان نہ ہو۔بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں شکم سیر ہو کر سو جائوں اور میرے اطراف بھوکے پیٹ اور پیاسے جگرتڑپ رہے ہوں۔کیا میں شاعرکے اس شعر کا مصداق ہو سکتا ہوں۔

'' تیری بیماری کے لئے یہی کافی ہے کہ تو پیٹ بھر کر سو جائے اور تیرے اطراف وہ جگر بھی ہوں جو سوکھے چمڑے کو بھی ترس رہے ہوں ''

کیا میرا نفس اس بات سے مطمئن ہو سکتا ہے کہ

(۱) آج دنیا کے زہد و تقویٰ کا بشتر حصہ مجبوریوں کی پیداوار ہے اور انسان کو جب دنیا حاصل نہیں ہو تی ہے تو وہ دین کے زیر سایہ پناہ لے لیتا ہے اور ذکر آخرت سے اپنے نفس کو بہلاتا ہے لیکن امیر المومنین کا کردار اس سے بالکل مختلف ہے۔آپ کے ہاتھوں میں دنیا و آخرت کا اختیار تھا۔آپ کے بازوئوں میں زور خیبر شکنی اورآپ کی انگلیوں میں قوت ردڈ شمس تھی لیکن اس کے باوجود فاقے کر رہے تھے تاکہ اسلام میں ریاست اورحکومت عیش پرستی کاذریعہ نہ بن جائے اورحکام اپنی مسئولیت کا احساس کریں اور اپنی زندگی کو غرباء کے معیار پرگزار یں تاکہ ان کادل نہ ٹوٹنے پائے ۔اوران کینفس میں غرور نہ پیدا ہونے پائے ۔ مگر افسوس کہ دنیا سے یہ تصور یکسر غائب ہوگیا اور ریاستو حکومت صرف راحت و آرام اور عیاشی و عیش پرستی کاوسیلہ بن کر رہ گئی۔

ان حالات کی جزئی اصلاح غلامان علی کے اسلامی نظام سے ہو سکتی ہے اورکلی اصلاح فرزند علی کے ظہور سے ہو سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ بنی امیہ اور بنی عباس پر ناز کرنے والے سلاطین ان حالات کی اصلاح نہیں کرسکتے ہیں ۔


بِأَنْ يُقَالَ - هَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ - ولَا أُشَارِكُهُمْ فِي مَكَارِه الدَّهْرِ - أَوْ أَكُونَ أُسْوَةً لَهُمْ فِي جُشُوبَةِ الْعَيْشِ - فَمَا خُلِقْتُ لِيَشْغَلَنِي أَكْلُ الطَّيِّبَاتِ - كَالْبَهِيمَةِ الْمَرْبُوطَةِ هَمُّهَا عَلَفُهَا - أَوِ الْمُرْسَلَةِ شُغُلُهَا تَقَمُّمُهَا - تَكْتَرِشُ مِنْ أَعْلَافِهَا وتَلْهُو عَمَّا يُرَادُ بِهَا - أَوْ أُتْرَكَ سُدًى أَوْ أُهْمَلَ عَابِثاً - أَوْ أَجُرَّ حَبْلَ الضَّلَالَةِ أَوْ أَعْتَسِفَ طَرِيقَ الْمَتَاهَةِ وكَأَنِّي بِقَائِلِكُمْ يَقُولُ - إِذَا كَانَ هَذَا قُوتُ ابْنِ أَبِي طَالِبٍ - فَقَدْ قَعَدَ بِه الضَّعْفُ عَنْ قِتَالِ الأَقْرَانِ - ومُنَازَلَةِ الشُّجْعَانِ - أَلَا وإِنَّ الشَّجَرَةَ الْبَرِّيَّةَ أَصْلَبُ عُوداً - والرَّوَاتِعَ الْخَضِرَةَ أَرَقُّ جُلُوداً

مجھے ''امیر المومنین '' کہا جائے اور میں زمانے کے نا خوشگوار حالات میں مومنین کا ریک حال نہ بنوں اور معمولی غذا کے استعمال میں ان کے واسطے نمونہ نہ پیش کرسکوں ۔ میں اس لئے تو نہیں پیدا کیا گیا ہوں کہ مجھے بہترین غذائوں کا کھانا مشغول کرلے اورمیں جانوروں(۱) کے مانندہو جائوں کہ وہ بندھے ہوتے ہیں تو ان کا کل مقصد چارہ ہوتا ہے اور آزاد ہوتے ہیں تو کل مشغلہ ادھرادھر چرنا ہے جہاں گھاس پھوس سے اپنا پیٹ بھر لیتے ہیں اور انہیں اس بات کی فکر بھی نہیں ہوتی ہے کہ ان کا مقصد کیا ہے۔کیا میں آزاد چھوڑ دیا گیا ہوں۔یامجھے بیکار آزاد کردیا گیا ہے یا مقصد یہ ہے کہ میں گمراہی کی رسی میں باندھ کرکھینچا جائوں ۔یا پھٹکنے کی جگہ پر منہ اٹھائے پھر تا رہوں۔گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ تم میں سے بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ جب ابو طالب کے فرزند کی غذ ا(۲) ایسی معمولی ہے تو انہیں ضعف نے دشمنوں سے جنگ کرنے اوربہادروں کے ساتھ میدان میں اترنے سے بٹھا دیا ہوگا۔تو یہ یاد رکھنا کہ جنگل کے درختوں کی لکڑیاں زیادہ مضبوطً ہوتی ہے اور ترو تازہ درختوں کی چھال کمزورہوتی

(۱) انسان اور جانور کا نقطہ امتیاز یہی ہے کہ جانور کے یہاں کھانا اورچارہ مقصد حیات ہے اور انسان کے یہاں یہ اشیاء وسیلہ حیات ہیں۔لہٰذا انسان جب تک مقصد حیات اور بندگی پروردگار کا تحفظ کرتا رہے گا انسان رہے گا اورجس دن اس نکتہ سے غافل ہو جائے گا اس کا شمار حیوانات میں ہو جائے گا۔

(۲) بعض افراد کاخیال ہے کہ انسانی زندگی میں طاقت کا سر چشمہ اس کی غذا ہوتی ہے اور انسان کی غذا جس قدر لذیذ اور خوشذائقہ ہوگی انسان اسی قدر ہمت اور طاقت والا ہوگا الانکہ یہ بات بالکل غلط اور مہمل ہے۔طاقت کا تعلق لذت و ذائقہ سے نہیں ہے۔قوت نفس اور ہمت قلب سے اور اس سے بالاتر تائید پروردگار سے کہ دست قدرت سے سیراب ہونے والا صحرائی درخت زیادہ مضبوط ہوتا ہے اور امکانات کے اندر تربیت پانے والے اشجار انتہائی کمزور ہوتے ہں کہ دست بشر وہ طاقت نہیں پیدا کرسکتا ہے جو دست قدرت سے پیدا ہوتی ہے۔


والنَّابِتَاتِ الْعِذْيَةَ أَقْوَى وَقُوداً وأَبْطَأُ خُمُوداً -. وأَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّه كَالضَّوْءِ مِنَ الضَّوْءِ - والذِّرَاعِ مِنَ الْعَضُدِ - واللَّه لَوْ تَظَاهَرَتِ الْعَرَبُ عَلَى قِتَالِي لَمَا وَلَّيْتُ عَنْهَا - ولَوْ أَمْكَنَتِ الْفُرَصُ مِنْ رِقَابِهَا لَسَارَعْتُ إِلَيْهَا - وسَأَجْهَدُ فِي أَنْ أُطَهِّرَ الأَرْضَ مِنْ هَذَا الشَّخْصِ الْمَعْكُوسِ - والْجِسْمِ الْمَرْكُوسِ - حَتَّى تَخْرُجَ الْمَدَرَةُ مِنْ بَيْنِ حَبِّ الْحَصِيدِ

ومِنْ هَذَا الْكِتَابِ وهُوَ آخِرُه:

إِلَيْكِ عَنِّي يَا دُنْيَا فَحَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ - قَدِ انْسَلَلْتُ مِنْ مَخَالِبِكِ - وأَفْلَتُّ مِنْ حَبَائِلِكِ - واجْتَنَبْتُ الذَّهَابَ فِي مَدَاحِضِكِ - أَيْنَ الْقُرُونُ الَّذِينَ غَرَرْتِهِمْ بِمَدَاعِبِكِ - أَيْنَ الأُمَمُ الَّذِينَ فَتَنْتِهِمْ بِزَخَارِفِكِ - فَهَا هُمْ رَهَائِنُ الْقُبُورِ ومَضَامِينُ اللُّحُودِ - واللَّه لَوْ كُنْتِ شَخْصاً مَرْئِيّاً وقَالَباً حِسِّيّاً - لأَقَمْتُ عَلَيْكِ حُدُودَ اللَّه

ہے ۔صحرائی جھاڑ کا ایندھن زیادہ بھڑکتا بھی ہے اور اسکے شعلے دیر میں بجھتے بھی ہیں۔میرا رشتہ رسول اکرم (ص) سے وہی ہے ۔جو نور کا رشتہ نورسے ہوتا ہے یا ہاتھ کا رشتہ بازئوں سے ہوتا ہے ۔

خداکی قسم اگر تمام عرب مجھ سے جنگ کرنے پر اتفاق کرلیں تو بھی میں میدان سے منہ نہیں پھرا سکتا اور اگرمجھے ذرا بھی موقع مل جائے تو میں ان کی گردنیں اڑا دوں گا اوراس بات کی کوشش کروں گا کہ زمین کو اس الٹی کھوپڑی اور بے ہنگم ڈیل ڈول والے سے پاک کردوں تاکہ کھلیان کے دانوں میں سے کنکر پتھر نکل جائیں۔

(اس خطبہ کا آخری حصہ )

اے دنیا مجھ سے دور(۱) ہو جا۔میں نے تیری باگ دوڑ تیرے ہی کاندھے پر ڈال دی ہے اور تیرے چنگل سے باہر آچکا ہوں اور تیرے جال سے نکل چکا ہوں اور تیری ے پھسلنے کے مقامات کی طرف جانے سے بھی پرہیز کرتا ہوں۔کہاں ہیں وہ لوگ جن کو تونے اپنی ہنسی مذاق کی باتوں سے لبھا لیا تھا اور کہاں ہیں وہ قومیں جن کی اپنی زینت و آرائش سے مبتلائے فتنہ کردیا تھا۔دیکھو اب وہ سب قبروں میں رہن ہوچکے ہیں اور لحد میں دبکے پڑے ہوئے ہیں ۔خدا کی قسم اگر تو کوئی دیکھنے والی شے اور محسوس ہونے والا ڈھانچہ ہوتی تو میں تیرے اوپر ضرور حد جاری

(۱) لفظوں میں یہ بات بہت آسان ہے لیکن سجی سجائی دنیا کو تین مرتبہ طلاق دے کر اپنے سے جدا کردینا صرف نفس پیغمبر (ص) کا کارنامہ ہے اور امت کے بس کا کام نہیں ہے۔یہ کام وہی انجام دے سکتا ہے جو نفس کے چنگل سے آزاد ہو۔خواہشات کے پھندوں میں گرفتار نہ ہو اور ہر طرح کی زینت و آرائش کو اپنی نگاہوں سے گراچکا ہو۔


فِي عِبَادٍ غَرَرْتِهِمْ بِالأَمَانِيِّ - وأُمَمٍ أَلْقَيْتِهِمْ فِي الْمَهَاوِي - ومُلُوكٍ أَسْلَمْتِهِمْ إِلَى التَّلَفِ - وأَوْرَدْتِهِمْ مَوَارِدَ الْبَلَاءِ إِذْ لَا وِرْدَ ولَا صَدَرَ -

هَيْهَاتَ مَنْ وَطِئَ دَحْضَكِ زَلِقَ - ومَنْ رَكِبَ لُجَجَكِ غَرِقَ - ومَنِ ازْوَرَّ عَنْ حَبَائِلِكِ وُفِّقَ - والسَّالِمُ مِنْكِ لَا يُبَالِي إِنْ ضَاقَ بِه مُنَاخُه - والدُّنْيَا عِنْدَه كَيَوْمٍ حَانَ انْسِلَاخُه

اعْزُبِي عَنِّي فَوَاللَّه لَا أَذِلُّ لَكِ فَتَسْتَذِلِّينِي - ولَا أَسْلَسُ لَكِ فَتَقُودِينِي - وايْمُ اللَّه يَمِيناً أَسْتَثْنِي فِيهَا بِمَشِيئَةِ اللَّه - لأَرُوضَنَّ نَفْسِي رِيَاضَةً تَهِشُّ مَعَهَا إِلَى الْقُرْصِ - إِذَا قَدَرْتُ عَلَيْه مَطْعُوماً - وتَقْنَعُ بِالْمِلْحِ مَأْدُوماً - ولأَدَعَنَّ مُقْلَتِي كَعَيْنِ مَاءٍ، نَضَبَ مَعِينُهَا - مُسْتَفْرِغَةً دُمُوعَهَا - أَتَمْتَلِئُ السَّائِمَةُ مِنْ رِعْيِهَا فَتَبْرُكَ - وتَشْبَعُ الرَّبِيضَةُ مِنْ عُشْبِهَا فَتَرْبِضَ - ويَأْكُلُ عَلِيٌّ مِنْ زَادِه فَيَهْجَعَ -

کرتا کہ تونے اللہ کے بندوں کو آرزئوں کے سہارے دھوکہ دیا ہے اور قوموں کو گمراہی کے گڑھے میں ڈال دیا ہے ۔ بادشاہوں کو بربادی کے حوالے کردیا ہے اور انہیں بلائوں کی منزل پر اتاردیا ہے جہاں نہ کوئی وارد ہونے والا ہے اور نہ صادر ہونے والا۔

افسوس !جس نے بھی تیری لغزش گاہوں پرقدم رکھا وہ پھسل گیا اورجو تیریر موجوں پر سوار ہواوہ غرق ہوگیا۔بس جس نے تیرے پھندوں سے کنارہ کشی اختیار کی اس کو توفیق حاصل ہوگئی۔تجھ سے بچنے والا اس بات کی پرواہ نہیں کرتا ہے کہ اس کی منزل کس قدرتنگ ہوگئی ہے۔اس لئے کہ دنیا اس کی نگاہ میں صرف ایک دن کے برابر ہے جس کے اختتام کاوقت ہو چکا ہے۔

تو مجھ سے دور ہو جا۔میں تیرے قبضہ میں آنے والا نہیں ہوں کہ تو مجھے ذلیل کر سکے اورنہ اپنی زمام تیرے ہاتھ میں دینے والا ہوں کہ جدھر چاہے کھینچ سکے ۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔اور اس قسم میں مشیت خداکے علاوہ کسی صورت کو مشتنیٰ نہیںکرتا ۔ کہ اس نفس کو ایسی تربیت دوں گا کہ ایک روٹی پربھی خوش رہے اگروہ بطور طعام اورنمک بطور ادام مل جائے اورمیں اپنی آنکھوں کے سوتے کو ایسا بنادوں گا جیسے وہ چشمہ جس کا پانی تقریباً خشک ہو چکا ہو اورسارے آنسو بہہ گئے ہوں۔کیا یہ ممکن ہے کہ جس طرح جانورچارہ کھا کر بیٹھ جاتے ہیں اوربکریاں گھاس سے سیر ہوکر اپنے باڑہ میں لیٹ جاتی ہیں۔اسی طرح علی بھی اپنے پاس کا کھانا کھا سو جائے۔ اس


قَرَّتْ إِذاً عَيْنُه إِذَا اقْتَدَى بَعْدَ السِّنِينَ الْمُتَطَاوِلَةِ - بِالْبَهِيمَةِ الْهَامِلَةِ والسَّائِمَةِ الْمَرْعِيَّةِ

طُوبَى لِنَفْسٍ أَدَّتْ إِلَى رَبِّهَا فَرْضَهَا - وعَرَكَتْ بِجَنْبِهَا بُؤْسَهَا وهَجَرَتْ فِي اللَّيْلِ غُمْضَهَا - حَتَّى إِذَا غَلَبَ الْكَرَى عَلَيْهَا افْتَرَشَتْ أَرْضَهَا - وتَوَسَّدَتْ كَفَّهَا - فِي مَعْشَرٍ أَسْهَرَ عُيُونَهُمْ خَوْفُ مَعَادِهِمْ - وتَجَافَتْ عَنْ مَضَاجِعِهِمْ جُنُوبُهُمْ - وهَمْهَمَتْ بِذِكْرِ رَبِّهِمْ شِفَاهُهُمْ - وتَقَشَّعَتْ بِطُولِ اسْتِغْفَارِهِمْ ذُنُوبُهُمْ -( أُولئِكَ حِزْبُ الله أَلا إِنَّ حِزْبَ الله هُمُ الْمُفْلِحُونَ ) .

فَاتَّقِ اللَّه يَا ابْنَ حُنَيْفٍ ولْتَكْفُفْ أَقْرَاصُكَ - لِيَكُونَ مِنَ النَّارِ خَلَاصُكَ.

کی آنکھیں پھوٹ جائیں جوایک طویل زمانہگزارنے کے بعد آوارہ جانور اور چرواہے ہوئے حیوانات کی پیروی کرنے لگے۔

خوش نصیب اس نفس کے لئے جو اپنے رب کے فرض کو ادا کردے اور سختیوں کے عالم میں صبر سے کام لے ۔راتوں کو اپنی آنکھوں کو کھلا رکھے ۔یہاں تک کہ نیند کا غلبہ ہونے لگے توزمین کو بستر(۱) بنالے اور ہاتھوں کوتکیہ۔ان لوگوں کے درمیان جن کی آنکھوں کو خوف محشر نے بیدار رکھا ہے اور جن کے پہلو بستروں سے الگ رہے ہیں ۔ان کے ہونٹوں پر ذکر خدا کے زمزمے رہے ہیں اور ان کے طول استغفار سے گناہوں کے بادل چھٹ گئے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں و اللہ کے گروہ میں ہیں اوریاد رکھو کہ اللہ کا گروہ ہی کامیاب ہونے والا ہے۔

ابن حنیف اللہ سے ڈرو۔اور تمہاری یہ روٹیاں تمہیں حرص و طمع سے روکے رہیں تاکہ آتش جہنم سے آزادی حاصل کر سکو۔

(۱) کہاں دنیا میں ایسا کوئی انسان ہے جو صاحب جاہو جلال ۔اقتدار و بیت المال ہو۔دنیا میں اس کا سکہ چل رہا ہو اور عالم اسلام اس کی زیر نگیں ہو اور اسکے بعد یا تو راتوں کو بیداری اورعبادت الٰہی میں گزاردے یا سونے کا ارادہ کرے تو خاک کا بستراور ہاتھ کا تکیہ بنالے سیلاطین زمانہ اورحکام مسلمین تواس صورتحال کا تصوربھی نہیں کرس کتے ہیں۔اس کردار کے پیدا کرنے کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ مولائے کائنات کی شخصی زندگی کا نقشہ نہیں ہے۔یہ حاکم اسلامی اورخلیفہ اللہ کامنصبی کردار ہے کہ جسے عوامی مفادات اور اسلامی مقدرات کاذمہ دار بنایا جاتا ہے۔اس کے کردار کو ایسا ہونا چاہیے اور اس کی زندگی میں اسی قسم کی سادگی درگار ہے انسان ایسے نفس قدسی کے پیدا کرنے کا عزم محکم کرے ورنہ اسلمی تخت اقتدار کو چھوڑ کر ظلم و ستم کی بساط پر زندگی گزاردے اور اپنے کو عالم اسلام کا حاکم کہنے کا ارادہ نہ کرے۔وما توفیقی الا باللہ


(۴۶)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى بعض عماله

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّكَ مِمَّنْ أَسْتَظْهِرُ بِه عَلَى إِقَامَةِ الدِّينِ - وأَقْمَعُ بِه نَخْوَةَ الأَثِيمِ - وأَسُدُّ بِه لَهَاةَ الثَّغْرِ الْمَخُوفِ - فَاسْتَعِنْ بِاللَّه عَلَى مَا أَهَمَّكَ - واخْلِطِ الشِّدَّةَ بِضِغْثٍ مِنَ اللِّينِ، وارْفُقْ مَا كَانَ الرِّفْقُ أَرْفَقَ - واعْتَزِمْ بِالشِّدَّةِ حِينَ لَا تُغْنِي عَنْكَ إِلَّا الشِّدَّةُ - واخْفِضْ لِلرَّعِيَّةِ جَنَاحَكَ وابْسُطْ لَهُمْ وَجْهَكَ - وأَلِنْ لَهُمْ جَانِبَكَ - وآسِ بَيْنَهُمْ فِي اللَّحْظَةِ والنَّظْرَةِ والإِشَارَةِ والتَّحِيَّةِ - حَتَّى لَا يَطْمَعَ الْعُظَمَاءُ فِي حَيْفِكَ - ولَا يَيْأَسَ الضُّعَفَاءُ مِنْ عَدْلِكَ والسَّلَامُ

(۴۷)

ومن وصية لهعليه‌السلام

للحسن والحسينعليه‌السلام - لما ضربه ابن ملجم لعنه الله

أُوصِيكُمَا بِتَقْوَى اللَّه وأَلَّا تَبْغِيَا الدُّنْيَا وإِنْ بَغَتْكُمَا - ولَا تَأْسَفَا عَلَى شَيْءٍ مِنْهَا زُوِيَ عَنْكُمَا - وقُولَا بِالْحَقِّ واعْمَلَا لِلأَجْرِ

(۴۶)

آپ کا مکتوب گرامی

(بعض عمال کے نام )

اما بعد۔تم ان لوگوں میں ہو جن سے میں دین کے قیام کے لئے مدد لیتا ہوں اور گناہ گاروں کی نخوت کو توڑ دیتاہوں اور سرحدوں کے خطرات کی حفاظت کرتا ہوں لہٰذا اپنے اہم امور میں اللہ سے مدد طلب کرنا اور اپنی شدت میں تھوڑی نرمی بھی شامل کرلینا۔جہاں تک نرمی مناسب ہو نرمی ہی سے کام لینا اور جہاں سختی کے علاوہ کوئی چارہ کارنہ ہو۔وہاں سختی ہی کرنا۔رعایا کے ساتھ تواضع سے پیش آنا اورکشادہ روئی کابرتائو کرنا۔اپنا رویہ نرم رکھنا اور نظربھرکے دیکھنے یا کنکھیوں سے دیکھنے میں بھی برابر کا سلوک کرنا اوراشارہ و سلام میں بھی مساوات سے کام لینا تاکہ بڑے لوگ تمہاری نا انصافی سے امید نہلگا بیٹھیں اور کمزور افراد تمہارے انصاف سے مایوس نہ ہو جائیں ۔ والسلام

(۴۷)

آپ کی وصیت

(امام حسن اور امام حسین سے۔ابن ملجم کی تلوار سے زخمی ہونے کے بعد )

میں تم دونوں کویہ وصیت کرتا ہوں کہ تقویٰ الٰہی اختیار کئے رہنااورخبردار دنیا لاکھ تمہیں چاہے اس سے دل نہ لگانا اور نہ اس کی کسی شے سے محروم ہو جانے پرافسوس کرنا۔ہمیشہ حرف حق کہنا اور ہمیشہ آخرت کے لئے عمل کرنا


وكُونَا لِلظَّالِمِ خَصْماً ولِلْمَظْلُومِ عَوْناً.

أُوصِيكُمَا وجَمِيعَ وَلَدِي وأَهْلِي ومَنْ بَلَغَه كِتَابِي - بِتَقْوَى اللَّه ونَظْمِ أَمْرِكُمْ وصَلَاحِ ذَاتِ بَيْنِكُمْ - فَإِنِّي سَمِعْتُ جَدَّكُمَاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم يَقُولُ - صَلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ أَفْضَلُ مِنْ عَامَّةِ الصَّلَاةِ والصِّيَامِ.

اللَّه اللَّه فِي الأَيْتَامِ فَلَا تُغِبُّوا أَفْوَاهَهُمْ - ولَا يَضِيعُوا بِحَضْرَتِكُمْ.

واللَّه اللَّه فِي جِيرَانِكُمْ فَإِنَّهُمْ وَصِيَّةُ نَبِيِّكُمْ - مَا زَالَ يُوصِي بِهِمْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّه سَيُوَرِّثُهُمْ

واللَّه اللَّه فِي الْقُرْآنِ - لَا يَسْبِقُكُمْ بِالْعَمَلِ بِه غَيْرُكُمْ.

واللَّه اللَّه فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا عَمُودُ دِينِكُمْ.

اور دیکھو ظالم کے دشمن رہنااور مظلوم کیساتھ رہنا۔

میں تم دونوں کو اوراپنے تمام اہل و عیال کو اور جہاں تک میرا یہ پیغام پہنچے ۔سب کو وصیت کرتا ہوںکہ تقوائے الٰہی اختیار کریں۔اپنے امور کو منظم رکھیں ۔ اپنے درمیان تعلقات کو سدھارے رکھیں کہ میں نے اپنے جد بزرگوار سے سنا ہے کہ آپس کے معاملات کو سلجھا کر رکھنا عام نماز(۱) اور روزہ سے بھی بہتر ہے۔

دیکھو یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا اور ان کے فاقوں کی نوبت نہ آجائے اوروہ تمہاری نگاہوں کے سامنے برباد نہ ہو جائیں اور دیکھو ہمسایہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا کہ ان کے بارے میں تمہارے پیغمبر (ص) کی وصیت ہے اور آپ (ص) برابر ان کے بارے میں نصیحت فرماتے رہتے تھے ۔یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ شائد آپ وارث بھی بنانے والے ہیں۔

دیکھو اللہ سے ڈرو قرآن کے بارے میں کہ اس پر عمل کرنے میں دوسرے لوگ تم سے آگے نہ نکل جائیں۔

اوراللہ سے ڈرو نماز کے بارے میں کہ وہ تمہارے دین کا ستون ہے۔

(۱)یہ اس بات کی علامت ہے کہ اسلام کا بنیادی مقصد معاشرہ کی اصلاح۔سماج کی تنظیم اورامت کے معاملات کی ترتیب ہے اورنماز روزہ کوبھی در حقیقت اس کا ایک ذریعہ بنایا گیا ہے ورنہ پروردگار کسی کی عبادت اوربندگی کا محتاج نہیں ہے اور اس کا تمامتر مقصد یہ ہے کہ انسان پیش پروردگار اپنے کو حقیر وفقیر سمجھے اور اس میں یہ احساس پیداہو کہ میں بھی تمام بندگان خدا میں سے ایک بندہ ہوں اور جب سب ایک ہی خدا کے بندے ہیں اوراس کے بارگاہ میں جانے والے ہیں تو آپس کے تفرقہ کاجواز کیا ہے اوریہ تفرقہ کب تک بر قرار رہے گا۔بالآخر سب کو ایکدن اسکی بارگاہ میں ایک دوسرے کا سامنا کرنا ہے۔

اس کے بعد اگر کوئی شخص اس جذبہ سے محروم ہو جائے اور شیطان اس کے دل و دماغ پر مسلط ہو جائے تو دوسرے افراد کا فرض ہے کہ اصلاحی قدم اٹھائیں اور معاشرہ میں اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کریں کہ یہ مقصد الٰہی کی تکمیل اورارتقائے بشریت کی بہترین علامت ہے ۔نماز روزہ انسان کی ذاتی اعمال ہے۔اور سماج کے فساد سے آنکھیں بند کرکے ذاتی اعمال کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی ہے۔ورنہ اللہ کے معصوم بندے کبھی گھرسے باہر ہی نہ نکلتے اور ہمیشہ سجدہ ٔ پروردگار ہی میں پڑے رہتے ۔


واللَّه اللَّه فِي بَيْتِ رَبِّكُمْ لَا تُخَلُّوه مَا بَقِيتُمْ - فَإِنَّه إِنْ تُرِكَ لَمْ تُنَاظَرُوا

واللَّه اللَّه فِي الْجِهَادِ بِأَمْوَالِكُمْ وأَنْفُسِكُمْ - وأَلْسِنَتِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّه.

وعَلَيْكُمْ بِالتَّوَاصُلِ والتَّبَاذُلِ - وإِيَّاكُمْ والتَّدَابُرَ والتَّقَاطُعَ - لَا تَتْرُكُوا الأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ والنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ - فَيُوَلَّى عَلَيْكُمْ شِرَارُكُمْ ثُمَّ تَدْعُونَ فَلَا يُسْتَجَابُ لَكُمْ.

ثُمَّ قَالَ:

يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - لَا أُلْفِيَنَّكُمْ تَخُوضُونَ دِمَاءَ الْمُسْلِمِينَ خَوْضاً - تَقُولُونَ قُتِلَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ - أَلَا لَا تَقْتُلُنَّ بِي إِلَّا قَاتِلِي.

انْظُرُوا إِذَا أَنَا مِتُّ مِنْ ضَرْبَتِه هَذِه - فَاضْرِبُوه ضَرْبَةً بِضَرْبَةٍ - ولَا تُمَثِّلُوا بِالرَّجُلِ - فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم يَقُولُ - إِيَّاكُمْ والْمُثْلَةَ ولَوْ بِالْكَلْبِ الْعَقُورِ».

اور اللہ سے ڈرو اپنے پروردگار کے گھر کے بارے میں کہ جب تک زندہ رہو اسے خالی نہ ہونے دوکہ اگر اسے چھوڑ دیاگیا تو تم دیکھنے کے لائق بھی نہ رہ جائو گے ۔

اوراللہ سے ڈرواپنے جان اور مال اور زبان سے جہاد کے بارے میں اور آپس میں ایک دوسرے سے تعلقات رکھو۔ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اور خبردار ایک دوسرے سے منہ نہ پھرا لینا۔اور تعلقات توڑ نہ لینا اورامربالمعروف اور نہی عن المنکر کو نظر انداز نہ کردینا کہ تم پر اشرار کی حکومت قائم ہوجائے اور تم فریاد بھی کرو تو اس کی سماعت نہ ہو۔

اے ااولاد عبدالمطلب ! خبردار میںیہ نہ دیکھوں کہ تم مسلمانوں کاخون بہانا شروع کردو صرف اس نعرہ پر کہ '' امیر المومنین مارے گئے ہیں '' میر بدلہ میں میرے قاتل کے علاوہ کسی کو قتل نہیں کیا جا سکتا ہے۔

دیکھو اگرمیں اس ضربت سے جانبر نہ ہو سکا توایک ضربت کا جواب ایک ہی ضربت(۱) ہے اور دیکھو میرے قاتل کے جسم کے ٹکڑے نہ کرنا کہمیں نے خود سرکار دو عالم (ص) سے سنا ہے کہ خبردار کاٹنے والے کتے کے بھی ہاتھ پیر نہ کاٹنا۔

(۱)کون دنیا میں ایسا شریف الفنس اوربلند کردار ہے جو قانون کی سر بلندی کے لئے اپنے نفس کاموازنہ اپنے دشمن سے کرے اوریہ اعلان کردے کہ اگرچہ مجھے مالک نے نفس اللہ اورنفس پیغمبر (ص) قرار دیا ہے اور میرے نفس کے مقابلہ میں کائنات کے جملہ نفوس کی کوئی حیثیت نہیں ہے لیکن جہاں تک اس دنیامیں قصاص کا تعلق ہے۔میرا نفس بھی ایک ہی نفس شمار کیا جائے گا اور میرے دشمن کوبھی ایک ہی ضرب لگائی جائے گی تاکہ دنیا کو یہ احساس پیدا ہو جائے کہ مذہب کی ترجمانی کے لئے کس بلند کردار کی ضرورت ہوتی ہے اور سماج میں خون ریزی اور فساد کے روکنے کا واقعی راستہ کیاہوتا ہے۔یہی وہ افراد ہیں جو خلافت الہیہ کے حقدار ہیں اور انہیں کے کردار سے اس حقیقت کی وضاحت ہوتی ہے کہ انسانیت کا کام فساد اورخون یزی نہیں ہے بلکہ انسان اس سر زمین پر فساد اور خونریزی کی روک تھام کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور اس کامنصب واقعی خلافت الہیہ ہے۔


(۴۸)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى معاوية

فَإِنَّ الْبَغْيَ والزُّورَ يُوتِغَانِ الْمَرْءَ فِي دِينِه ودُنْيَاه - ويُبْدِيَانِ خَلَلَه عِنْدَ مَنْ يَعِيبُه - وقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ غَيْرُ مُدْرِكٍ مَا قُضِيَ فَوَاتُه - وقَدْ رَامَ أَقْوَامٌ أَمْراً بِغَيْرِ الْحَقِّ - فَتَأَلَّوْا عَلَى اللَّه فَأَكْذَبَهُمْ - فَاحْذَرْ يَوْماً يَغْتَبِطُ فِيه مَنْ أَحْمَدَ عَاقِبَةَ عَمَلِه - ويَنْدَمُ مَنْ أَمْكَنَ الشَّيْطَانَ مِنْ قِيَادِه فَلَمْ يُجَاذِبْه.

وقَدْ دَعَوْتَنَا إِلَى حُكْمِ الْقُرْآنِ ولَسْتَ مِنْ أَهْلِه - ولَسْنَا إِيَّاكَ أَجَبْنَا ولَكِنَّا أَجَبْنَا الْقُرْآنَ فِي حُكْمِه - والسَّلَامُ.

(۴۹)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى معاوية أيضا

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الدُّنْيَا مَشْغَلَةٌ عَنْ غَيْرِهَا - ولَمْ يُصِبْ صَاحِبُهَا مِنْهَا شَيْئاً - إِلَّا فَتَحَتْ لَه حِرْصاً عَلَيْهَا ولَهَجاً بِهَا - ولَنْ يَسْتَغْنِيَ صَاحِبُهَا

(۴۸)

آپ کامکتوب گرامی

(معاویہ کے نام )

بیشک بغاوت اور دورغ گوئی انسان کو دین اوردنیا دونوں میں ذلیل کردیتی ہے اوراس کے عیب کو نکتہ چینی کرنے والے کے سامنے واضح کردیتی ہے۔مجھے معلوم ہے کہ تواس چیز کو حاصل نہیں کرسکتا ہے جس کے نہ ملنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے کہ بہت سی قوموں(۲) نے حق کے بغیر مقصد کو حاصل کرنا چاہا اور اللہ کوگواہ بنایا تو اللہ نے ان کے جھوٹ کو واضح کردیا۔اسدن سے ڈرو جس دن خوشی صرف اسی کا حصہ ہوگی جس نے اپنے عمل کے انجام کو بہتر بنالیا ہے اورندامت اس کے لئے ہوگی جس نے اپنی مہار شیطان کے اختیار میں دے دی اور اسے کھینچ کر نہیں رکھا۔تم نے مجھے قرآنی فیصلہ کیدعوت دی ہے حالانکہ تم اس کے اہل نہیں تھے اورمیں نے بھی تمہاری آواز پر لبیک نہیں کہی ہے بلکہ قرآن کے حکم پر لبیک کہی ہے۔

(۴۹)

آپ کا مکتوب گرامی

(معاویہ ہی کے نام)

امابعد!دنیاآخرت سےرو گردانی کردینے والی ہےاوراس کا ساتھی جب بھی کوئی چیزپا لیتا ہےتواس کےلئے حرص کے دوسرےدروازےکھول دیتی ہےاوروہ کبھی کوئی چیز حاصل کرکےاس سےبے نیاز نہیں ہوسکتا ہےجس کوحاصل نہیں


بِمَا نَالَ فِيهَا عَمَّا لَمْ يَبْلُغْه مِنْهَا - ومِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ فِرَاقُ مَا جَمَعَ ونَقْضُ مَا أَبْرَمَ - ولَوِ اعْتَبَرْتَ بِمَا مَضَى حَفِظْتَ مَا بَقِيَ والسَّلَامُ.

(۵۰)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى أمرائه على الجيش

مِنْ عَبْدِ اللَّه عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى أَصْحَابِ الْمَسَالِحِ

أَمَّا بَعْدُ - فَإِنَّ حَقّاً عَلَى الْوَالِي أَلَّا يُغَيِّرَه عَلَى رَعِيَّتِه فَضْلٌ نَالَه - ولَا طَوْلٌ خُصَّ بِه - وأَنْ يَزِيدَه مَا قَسَمَ اللَّه لَه مِنْ نِعَمِه دُنُوّاً مِنْ عِبَادِه - وعَطْفاً عَلَى إِخْوَانِه.

أَلَا وإِنَّ لَكُمْ عِنْدِي أَلَّا أَحْتَجِزَ دُونَكُمْ سِرّاً إِلَّا فِي حَرْبٍ - ولَا أَطْوِيَ دُونَكُمْ أَمْراً إِلَّا فِي حُكْمٍ - ولَا أُؤَخِّرَ لَكُمْ حَقّاً عَنْ مَحَلِّه - ولَا أَقِفَ بِه دُونَ مَقْطَعِه - وأَنْ تَكُونُوا عِنْدِي فِي الْحَقِّ سَوَاءً - فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ وَجَبَتْ لِلَّه عَلَيْكُمُ النِّعْمَةُ - ولِي عَلَيْكُمُ الطَّاعَةُ

کر سکا ہے حالانکہ ان سب کے بعد جو کچھ جمع کیاہے اس سے الگ ہونا ہے اور جو کچھ بندوبست کیاہے اسے توڑ دیناہے اور تواگر گذشتہ لوگوں سے ذرا بھی عبرت حاصل کرتا تو باقی زندگی کو محفوظ کر سکتا تھا۔والسلام

(۵۰)

آپ کامکتوب گرامی

(روساء لشکر کے نام)

بندۂ خدا! امیرالمومنین علی بن ابی طالب کی طرف سے سرحدوں کےمحافظوں کے نام۔یادرکھنا کہ والی پر قوم کاحق یہ ہےکہ اس نےجس برتری کو پالیاہےیاجس فارغ البالی کی منزل تک پہنچ گیا ہےاس کی بنا پر قوم کےساتھ اپنے رویہ میں تبدیلی نہ پدا کرے اوراللہ نےجو نعمت اسے عطا کی ہے اس کی بنا پربندگان خدا سےزیادہ قریب تر ہو جائے اور اپنے بھائیوںپر زیادہ ہی مہربانی کرے۔یاد رکھو مجھ پر تمہارا ایک حق یہ بھی ہےکہ جنگ کےعلاوہ کسی موقع پرکسی رازکوچھپا کر نہ رکھوں اورحکم شریعت کے علاوہ کسی مسئلہ میں تم سے مشورہ کرنےسے پہلو تہی نہ کروں۔نہ تمہارے کسی حق کو اس کی جگہ سے پیچھے ہٹائوں اور نہ کسی معاملہ کو آخری حد تک پہنچائے بغیردم لوں اورتم سب میرے نزدیک حق کےمعاملہ میں برابررہواس کےبعد جب میںان حقوق(۱) کوادا

(۱)یہ اسلامی قانون کا سب سے بڑا امتیاز ہے کہ اسلام حق لینے سے پہلے حق ادا کرنے کی بات کرتاہے اورکسی شخص کو اس وقت تک صاحب حق نہیں قراردیتا ہے جب تک وہ دوسروں کے حقوق ادا نہ کردےاوریہ ثابت نہ کردےکہ وہ خود بھی بندۂ خدا ہے اوراحکام الہیہ کا احترام کرناجانتا ہے۔اسکے بغیر حقوق کا مطالبہ کرنا بشرکو مالک سے آگے بڑھا دینے کے مترادف ہے کہانپےواسطےمالک کائنات بھی قابلاطاعت نہیں ہے اوردوسروںکے واسطے اپنی ذات بھی قابل اطاعت ہے یہ فرعونیت اورنمرودیت کی وہ قسم ہےجودور قدیم کےفراعنہ میں بھی نہیں دیکھی گئیاورآجکےہرفرعون میں پائی جا رہی ہےکل کا فرعون اپنے کوفرائض سےبالاترسمجھتا تھااورآج والےفرائض کوفرائض سمجھتے ہیں اوراس کے بعد بھی ادا کرنے کی فکر نہیں کرتے ہیں۔


وأَلَّا تَنْكُصُوا عَنْ دَعْوَةٍ ولَا تُفَرِّطُوا فِي صَلَاحٍ - وأَنْ تَخُوضُوا الْغَمَرَاتِ إِلَى الْحَقِّ - فَإِنْ أَنْتُمْ لَمْ تَسْتَقِيمُوا لِي عَلَى ذَلِكَ - لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَهْوَنَ عَلَيَّ مِمَّنِ اعْوَجَّ مِنْكُمْ - ثُمَّ أُعْظِمُ لَه الْعُقُوبَةَ ولَا يَجِدُ عِنْدِي فِيهَا رُخْصَةً - فَخُذُوا هَذَا مِنْ أُمَرَائِكُمْ - وأَعْطُوهُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ مَا يُصْلِحُ اللَّه بِه أَمْرَكُمْ والسَّلَامُ

(۵۱)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى عماله على الخراج

مِنْ عَبْدِ اللَّه عَلِيٍّ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى أَصْحَابِ الْخَرَاجِ:

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ مَنْ لَمْ يَحْذَرْ مَا هُوَ صَائِرٌ إِلَيْه - لَمْ يُقَدِّمْ لِنَفْسِه مَا يُحْرِزُهَا - واعْلَمُوا أَنَّ مَا كُلِّفْتُمْ بِه يَسِيرٌ وأَنَّ ثَوَابَه كَثِيرٌ - ولَوْ لَمْ يَكُنْ فِيمَا نَهَى اللَّه عَنْه - مِنَ الْبَغْيِ والْعُدْوَانِ عِقَابٌ يُخَافُ - لَكَانَ فِي ثَوَابِ اجْتِنَابِه مَا لَا عُذْرَ فِي تَرْكِ طَلَبِه - فَأَنْصِفُوا النَّاسَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ واصْبِرُوا لِحَوَائِجِهِمْ - فَإِنَّكُمْ خُزَّانُ الرَّعِيَّةِ - ووُكَلَاءُ الأُمَّةِ وسُفَرَاءُ الأَئِمَّةِ - ولَا تُحْشِمُوا

کردوں گا تو تم پر اللہ کے لئے شکر اور میرے لئے اطاعت واجب ہوجائے گی اور یہ لازم ہوگا کہ میری دعوت سے پیچھے نہ ہٹو اور کسی اصلاح میں کوتاہی نہ کرو حق تک پہنچنے کے لئے سختیوں میں کود پڑو کہ تم ان معاملات میں سیدھے نہ رہے تو میری نظر میں تم میں سے ٹیڑھے ہو جانے والے سے زیادہ کوئی حقیر و ذلیل نہ ہوگا اس کے بعد میں اسے سخت سزا دوں گا اور میرے پاس کوئی رعایت نہ پائے گا۔تو اپنے زیر نگرانی امراء سے یہی عہدو پیمان لو اور اپنی طرف سے انہیں وہ حقوق عطا کرو جن سے پروردگار تمہارے امور کی اصلاح کر سکے ۔والسلام ۔

(۵۱)

آپ کامکتوب گرامی

(خراج وصول کرنے والوں کے نام )

بندہ خدا ! امیر المومنین علی کی طرف سے خراج وصول کرنے والوں کی طرف۔ اما بعد! جو شخص اپنےانجام کارسے نہیں ڈرتا ہےوہ اپنے نفس کی حفاظت کا سامان بھی فراہم نہیں کرتا ہے۔یاد رکھو تمہارے فرائض بہت مختصر ہیں اور ان کاث واب بہت زیادہ ہے اوراگر پروردگار نےبغاوت اور ظلم سے روکنے کے بعد اس پر عذاب بھی نہ رکھا ہوتا تو اس سے پرہیز کرنے کا ثواب ہی اتنا زیادہ تھاکہ اس کے ترک کرنے میں کوئی شخص معذور نہیں ہو سکتا تھا۔لہٰذا لوگوں کے ساتھ انصاف کرو۔ان کےضرورت کےلئے صبرو تحملسے کام لو کہ تم رعایا کےخزانہ دار۔امت کے نمائندے اور ائمہ کے سفیر ہو۔خبردار کسی شخص کو اس


أَحَداً عَنْ حَاجَتِه ولَا تَحْبِسُوه عَنْ طَلِبَتِه - ولَا تَبِيعُنَّ لِلنَّاسِ فِي الْخَرَاجِ كِسْوَةَ شِتَاءٍ ولَا صَيْفٍ - ولَا دَابَّةً يَعْتَمِلُونَ عَلَيْهَا ولَا عَبْداً - ولَا تَضْرِبُنَّ أَحَداً سَوْطاً لِمَكَانِ دِرْهَمٍ - ولَا تَمَسُّنَّ مَالَ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ مُصَلٍّ ولَا مُعَاهَدٍ - إِلَّا أَنْ تَجِدُوا فَرَساً أَوْ سِلَاحاً - يُعْدَى بِه عَلَى أَهْلِ الإِسْلَامِ - فَإِنَّه لَا يَنْبَغِي لِلْمُسْلِمِ أَنْ يَدَعَ ذَلِكَ فِي أَيْدِي أَعْدَاءِ الإِسْلَامِ - فَيَكُونَ شَوْكَةً عَلَيْه - ولَا تَدَّخِرُوا أَنْفُسَكُمْ نَصِيحَةً ولَا الْجُنْدَ حُسْنَ سِيرَةٍ - ولَا الرَّعِيَّةَ مَعُونَةً ولَا دِينَ اللَّه قُوَّةً - وأَبْلُوا فِي سَبِيلِ اللَّه مَا اسْتَوْجَبَ عَلَيْكُمْ - فَإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه قَدِ اصْطَنَعَ عِنْدَنَا وعِنْدَكُمْ - أَنْ نَشْكُرَه بِجُهْدِنَا - وأَنْ نَنْصُرَه بِمَا بَلَغَتْ قُوَّتُنَا - ولَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّه الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ.

(۵۲)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى أمراء البلاد في معنى الصلاة

أَمَّا بَعْدُ فَصَلُّوا بِالنَّاسِ الظُّهْرَ - حَتَّى تَفِيءَ الشَّمْسُ مِنْ مَرْبِضِ الْعَنْزِ - وصَلُّوا بِهِمُ الْعَصْرَ والشَّمْسُ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ فِي عُضْوٍ مِنَ النَّهَارِ - حِينَ يُسَارُ فِيهَا فَرْسَخَانِ - وصَلُّوا بِهِمُ الْمَغْرِبَ حِينَ

کی ضرورت سے روک نہ دینا اوراس کے مطلوب کی راہمیں رکاوٹ نہ پیدا کرنا اور خراج وصول کرنے کے لئے اس کے سردی یا گرمی کے کپڑے نہ بیچ ڈالنا اور نہاس جانور یا غلام پر قبضہ کرلینا جواس کے کام آتا ہے اور کسی کو پیسہ کی خاطر مارنے نہ لگنا اورکسی مسلمان یا کافر ذمی کے مال کو ہاتھ نہ لگانا مگریہ کہ اس کے پاس کوئی ایسا گھوڑا یا اسلحہ ہوجسے دشمنان اسلام کو دینا چاہتا ہے تو کسی مسلمان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یہاشیاء دشمنان اسلام کے ہاتھوں میں چھوڑدے اور وہ اسلام پر غالب آجائیں۔دیکھو کسی نصیحت کو بچا کر نہ رکھنا۔نہ لشکر کے ساتھ اچھے برتائو میں کمی کرنا اورنہ رعایا کی امداد میں اورنہ دین خداکو قوت پہنچانے میں۔اللہ کی راہ میں اس کے تمام فرائض کوادا کردینا کہ اس نے ہمارے اورتمہارے ساتھ جو احسان کیا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہمم اس کے لشکر کی کوشش کریں اور جہاں تک ممکن ہو اس کے دین کی مدد کریں کہ قوت بھی تو بالآخر خدائے عظیم کا عطیہ ہے۔

(۵۲)

آپ کامکتوب گرامی

(امراء بلاد کے نام۔نماز کے بارے میں )

امابعد!ظہر کی نماز اس وقت تک اداکردینا(۱) جب آفتاب کا سایہ بکریوں کے باڑہ کیدیوار کے برابر ہو جائے اور عصر کی نماز اس وقت پڑھا دیناجب آفتاب روشن اور سفید رہے اوردن میں اتناوقت باقی رہجائے جب مسافر دو فرسخ جا سکتا ہو۔مغرب اس وقت ادا کرنا جب روزاہ دار


يُفْطِرُ الصَّائِمُ - ويَدْفَعُ الْحَاجُّ إِلَى مِنًى - وصَلُّوا بِهِمُ الْعِشَاءَ حِينَ يَتَوَارَى الشَّفَقُ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ - وصَلُّوا بِهِمُ الْغَدَاةَ والرَّجُلُ يَعْرِفُ وَجْه صَاحِبِه - وصَلُّوا بِهِمْ صَلَاةَ أَضْعَفِهِمْ ولَا تَكُونُوا فَتَّانِينَ

(۵۳)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

كتبه للأشتر النخعي - لما ولاه على مصر وأعمالها حين اضطرب أمر أميرها محمد بن أبي بكر، وهو أطول عهد كتبه وأجمعه للمحاسن.

بِسْمِ اللَّه الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

هَذَا مَا أَمَرَ بِه عَبْدُ اللَّه عَلِيٌّ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ - مَالِكَ بْنَ الْحَارِثِ الأَشْتَرَ فِي عَهْدِه إِلَيْه - حِينَ وَلَّاه مِصْرَ جِبَايَةَ خَرَاجِهَا وجِهَادَ عَدُوِّهَا - واسْتِصْلَاحَ أَهْلِهَا وعِمَارَةَ بِلَادِهَا.

أَمَرَه بِتَقْوَى اللَّه وإِيْثَارِ طَاعَتِه - واتِّبَاعِ مَا أَمَرَ بِه فِي كِتَابِه مِنْ فَرَائِضِه وسُنَنِه - الَّتِي لَا يَسْعَدُ أَحَدٌ إِلَّا بِاتِّبَاعِهَا -

افطارکرتا ہے اورحاجی عرفات سے کوچ کرتا ہے اور عشاء اس وقت پڑانا جب شفیق چھپ جائے اورایک تہائی رات نہ گزرنے پائے صبح کی نماز اس وقت ادا کرنا جب آدمی اپنے ساتھی کے چہرہ کو پہچان سکے ۔ ان کے ساتھ نماز پڑھو کمزور ترین آدمی کا لحاظ رکھ کر۔اور خبردار ان کے لئے صبر آزما نہ بن جائو۔

(۵۳)

آپ کامکتوب گرامی

(جسے مالک بن اشتر نخعی کے نام تحریر فرمایا ہے۔اس وقت جب انہیں محمد بن ابی بکرکے حالات کے خراب ہو جانے کے بعد مصر اور اس کے اطراف کاعامل مقرر فرمایا ۔اور یہ عہد نامہ حضرت ک تمام سرکاری خطوط سب سے زیادہ مفصل اورمحاسن کلام کا جامع ہے )

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ وہ قرآن ہے جو بندہ ٔ خدا امیرالمومنین علی نے مالک بن اشتر نخعی کے نام لکھا ہے جب انہیں خراج جمع کرنے ' دشمن سے جہاد کرنے ' حالات کی اصلاح کرنے اور شہروں کی آباد کاری کے لئے مصرکاعامل قرار دے کر روانہ کیا سب سے پہلا امر یہ ہے کہ اللہ سے ڈرو ' اس کی اطاعت کواختیار کرو اورجن فرائض و سنن کا اپنی کتاب میں حکم دیا ہے ان کا اتباع کرو کہ کوئی شخص ان کے اتباع کے بغیر نیک بخت نہیں ہوسکتا ہے اورکوئی شخص


ولَا يَشْقَى إِلَّا مَعَ جُحُودِهَا وإِضَاعَتِهَا - وأَنْ يَنْصُرَ اللَّه سُبْحَانَه بِقَلْبِه ويَدِه ولِسَانِه - فَإِنَّه جَلَّ اسْمُه قَدْ تَكَفَّلَ بِنَصْرِ مَنْ نَصَرَه وإِعْزَازِ مَنْ أَعَزَّه.

وأَمَرَه أَنْ يَكْسِرَ نَفْسَه مِنَ الشَّهَوَاتِ - ويَزَعَهَا عِنْدَ الْجَمَحَاتِ - فَإِنَّ النَّفْسَ أَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ اللَّه.

ثُمَّ اعْلَمْ يَا مَالِكُ - أَنِّي قَدْ وَجَّهْتُكَ إِلَى بِلَادٍ قَدْ جَرَتْ عَلَيْهَا دُوَلٌ قَبْلَكَ - مِنْ عَدْلٍ وجَوْرٍ - وأَنَّ النَّاسَ يَنْظُرُونَ مِنْ أُمُورِكَ - فِي مِثْلِ مَا كُنْتَ تَنْظُرُ فِيه مِنْ أُمُورِ الْوُلَاةِ قَبْلَكَ - ويَقُولُونَ فِيكَ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِيهِمْ - وإِنَّمَا يُسْتَدَلُّ عَلَى الصَّالِحِينَ - بِمَا يُجْرِي اللَّه لَهُمْ عَلَى أَلْسُنِ عِبَادِه - فَلْيَكُنْ أَحَبَّ الذَّخَائِرِ إِلَيْكَ ذَخِيرَةُ الْعَمَلِ الصَّالِحِ - فَامْلِكْ هَوَاكَ وشُحَّ بِنَفْسِكَ عَمَّا لَا يَحِلُّ لَكَ - فَإِنَّ الشُّحَّ بِالنَّفْسِ الإِنْصَافُ مِنْهَا فِيمَا أَحَبَّتْ أَوْ كَرِهَتْ وأَشْعِرْ قَلْبَكَ الرَّحْمَةَ لِلرَّعِيَّةِ - والْمَحَبَّةَ لَهُمْ واللُّطْفَ بِهِمْ - ولَا تَكُونَنَّ عَلَيْهِمْ سَبُعاً ضَارِياً تَغْتَنِمُ أَكْلَهُمْ -

ان کے انکاراور بربادی کے بغیر بد بخت نہیں قرار دیا جا سکتا ہے اپنے دل ہاتھ اور زبان سے دین خدا کی مدد کرتے رہنا کہ خدائے ''عزاسمہ '' نے یہ ذمہ داری لی ہے کہ اپنے مدد گاروں کی مدد کرے گا اور اپنے دین کی حمایت کرنے والوں کو عزت و شرف عنایت کرے گا۔

دوسراحکم یہ ہے کہ اپنے نفس کے خواہشات کو کچل دواور اس یمنہ زوریوں سے رو کے رہو کہ نفس برائیوں کاحکم دینے والا ہے جب تک پروردگار کا رحم شامل نہ ہوجائے ۔اس کے بعد مالک یہ یاد رکھناکہ میں نے تم کو ایسے علاقہ کی طرف بھیجا ہے جہاں عدل و ظلم کی مختلف حکومتیں گذر چکی ہیں اور لوگ تمہارے معاملات کو اس نظر سے دیکھ رہے ہیں جس نظر سے تم ان کے اعمال کو دیکھ رہے تھے اورتمہارے بارے میں وہی کہیں گے جو تم دوسروں کے بارے میں کہہ رہے تھے ۔نیک کردار بندوں کی شناخت اس ذکرخیر سے ہوتی ہے جو ان کے لئے لوگوں کی زبانوں پر جاری ہوتا ہے لہٰذا تمہارامحبوب ترین ذخیرہ عمل صالح کو ہونا چاہیے۔خواہشات کو روک کررکھو اور جو چیز حلالنہ ہو اس کے بارے میں نفس کو صرف کرنے سے بخل کرو کہ یہی بخل اس کے حق میں انصاف ہے چاہے اسے اچھا لگے یا برا۔رعایا کے ساتھ مہربانی اور محبت و رحمت کو اپنے دل کا شعاربنالو اورخبردار ان کے حق میں پھاڑ کھانے والے درندہ کے مثل نہ ہو جانا کہ انہیں کھاجانے ہی کو غنیمت سمجھنے لگو۔کہ مخلوقات


فَإِنَّهُمْ صِنْفَانِ إِمَّا أَخٌ لَكَ فِي الدِّينِ - وإِمَّا نَظِيرٌ لَكَ فِي الْخَلْقِ - يَفْرُطُ مِنْهُمُ الزَّلَلُ وتَعْرِضُ لَهُمُ الْعِلَلُ - ويُؤْتَى عَلَى أَيْدِيهِمْ فِي الْعَمْدِ والْخَطَإِ - فَأَعْطِهِمْ مِنْ عَفْوِكَ وصَفْحِكَ - مِثْلِ الَّذِي تُحِبُّ وتَرْضَى أَنْ يُعْطِيَكَ اللَّه مِنْ عَفْوِه وصَفْحِه - فَإِنَّكَ فَوْقَهُمْ ووَالِي الأَمْرِ عَلَيْكَ فَوْقَكَ - واللَّه فَوْقَ مَنْ وَلَّاكَ - وقَدِ اسْتَكْفَاكَ أَمْرَهُمْ وابْتَلَاكَ بِهِمْ - ولَا تَنْصِبَنَّ نَفْسَكَ لِحَرْبِ اللَّه فَإِنَّه لَا يَدَ لَكَ بِنِقْمَتِه - ولَا غِنَى بِكَ عَنْ عَفْوِه ورَحْمَتِه - ولَا تَنْدَمَنَّ عَلَى عَفْوٍ ولَا تَبْجَحَنَّ بِعُقُوبَةٍ - ولَا تُسْرِعَنَّ إِلَى بَادِرَةٍ وَجَدْتَ مِنْهَا مَنْدُوحَةً ولَا تَقُولَنَّ إِنِّي مُؤَمَّرٌ آمُرُ فَأُطَاعُ

خدا کی دو قسمیں ہیں بعض تمہارے دینی بھائی ہیں اور(۱) بعض خلقت میں تمہارے جیسے بشر ہیں جن سے لغزشیں بھی ہو جاتی ہیں اور انہیں خطائوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور جان بوجھ کر یاد ھوکے سے ان سے بھی ہوجاتی ہیں۔لہٰذا انہیں ویسے ہی معاف کریدنا جس طرح تم چاہتے ہو کہ پروردگار تمہاری غلطیوں سے درگزر کرے کہ تم ان سے بالاتر ہو اور تمہاراولی امرتم سے بالا تر ہے اور پروردگار تمہارے والی سے بھی بالاتر ہے اور اسنے تم سے ان کے معاملات کی انجام دہی کا مطالبہ کیا ہے اوراسے تمہارے لئے ذریعہ آزمائش بنادیا ہے اورخبردار اپنے نفس کو اللہ کے مقابلہ پرنہ اتاردینا۔کہ تمہارے پاس اس کے عذاب سے بچنے کی طاقت نہیں ہے اورتم اس کے عفو اور رحم سے بے نیازبھی نہیں ہو۔اور خبردار کسی کو معاف کردینے پر نادم نہ ہونا اور کسی کو سزا دے کراکڑ نہ جانا۔غیظ و غضب کے اظہار یں جلدی نہ کرنا اگر اس کے ٹال دینے کی گنجائش پائی جاتی ہو اورخبردار یہ نہ کہنا کہ مجھے حاکم بنایا گیا ہے لہٰذا میری شان یہ ہے کہ میں حکم دوں اور میری اطاعت کی

(۱) یہ اسلامی نظام کا امتیازی نکتہ ہے کہ اس نظام میں مذہبی تعصب سے کام نہیں لیا جاتا ہے بلکہ ہر شخص کو برابر کے حقوق دئیے جاتے ہیں۔مسلمان کا احترام اس کے اسلم کی بنا پر ہوتا ہے اور غیرمسلم کے بارے میں انسانی حقوق کا تحفظ کیاجاتا ہے اور ان حقوق میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ حاکم ہر غلطی کامواخذہ نہ کرے بلکہ انہیں انسان سمجھ کر ان کی غلطیوں کو برداشت کرے اور ان کی خطائوں سے در گزر کرے اوریہخیال رکھے کہ مذہب کا ایک مستقل نظام ہے '' رحم کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ''اگر انسان اپنے سے کمزور افراد پر رحم نہیں کرتا ہے تو اسے جبار سماوات و ارض سے توقع نہیں کرنی چاہیے ۔قدرت کا اٹلقانون ہے کہ تم اپنے سے کمزور پر رحم کرو تاکہ پروردگارتم پر رحم کرے اور تمہاری خطائوں کو معاف کردے جس پر تمہاری عاقبت اور رنجش کادارومدار ہے۔


فَإِنَّ ذَلِكَ إِدْغَالٌ فِي الْقَلْبِ - ومَنْهَكَةٌ لِلدِّينِ وتَقَرُّبٌ مِنَ الْغِيَرِ - وإِذَا أَحْدَثَ لَكَ مَا أَنْتَ فِيه مِنْ سُلْطَانِكَ أُبَّهَةً أَوْ مَخِيلَةً - فَانْظُرْ إِلَى عِظَمِ مُلْكِ اللَّه فَوْقَكَ - وقُدْرَتِه مِنْكَ عَلَى مَا لَا تَقْدِرُ عَلَيْه مِنْ نَفْسِكَ - فَإِنَّ ذَلِكَ يُطَامِنُ إِلَيْكَ مِنْ طِمَاحِكَ - ويَكُفُّ عَنْكَ مِنْ غَرْبِكَ - ويَفِيءُ إِلَيْكَ بِمَا عَزَبَ عَنْكَ مِنْ عَقْلِكَ!

إِيَّاكَ ومُسَامَاةَ اللَّه فِي عَظَمَتِه والتَّشَبُّه بِه فِي جَبَرُوتِه - فَإِنَّ اللَّه يُذِلُّ كُلَّ جَبَّارٍ ويُهِينُ كُلَّ مُخْتَالٍ.

أَنْصِفِ اللَّه وأَنْصِفِ النَّاسَ مِنْ نَفْسِكَ - ومِنْ خَاصَّةِ أَهْلِكَ - ومَنْ لَكَ فِيه هَوًى مِنْ رَعِيَّتِكَ - فَإِنَّكَ إِلَّا تَفْعَلْ تَظْلِمْ - ومَنْ ظَلَمَ عِبَادَ اللَّه كَانَ اللَّه خَصْمَه دُونَ عِبَادِه - ومَنْ خَاصَمَه اللَّه أَدْحَضَ حُجَّتَه،وكَانَ لِلَّه حَرْباً حَتَّى يَنْزِعَ أَوْ يَتُوبَ - ولَيْسَ شَيْءٌ أَدْعَى إِلَى تَغْيِيرِ نِعْمَةِ اللَّه وتَعْجِيلِ نِقْمَتِه - مِنْ إِقَامَةٍ عَلَى ظُلْمٍ - فَإِنَّ اللَّه سَمِيعٌ دَعْوَةَ الْمُضْطَهَدِينَ - وهُوَ لِلظَّالِمِينَ بِالْمِرْصَادِ.

ولْيَكُنْ أَحَبَّ الأُمُورِ إِلَيْكَ

جائے کہ اس طرح دل میں فساد داخل ہو جائے گا اور دین کمزور پڑ جائے گا اور انسان تغیرات زمانہ سے قریب تر ہو جائے گا۔اوراگر کبھی سلطنت و حکومت کو دیکھ کر تمہارے دل میں عظمت و کبریائی اور غرور پیدا ہونے لگے تو پروردگار کے عظیم ترین ملک پرغور کرنا اور یہ دیکھنا کہ وہ تمہارے اوپر تم سے زیادہ قدرت رکھتا ہے کہ اس طرح تمہاری سر کشی دب جائے گی۔تمہاری طغیانی رک جائے گی اور تمہاری گئی ہوئی عقل واپس آجائے گی۔

دیکھوخبر دار اللہ سے اس کی عظمت میں مقابلہ اوراس کے جبروت سے تشابہ کی کوشش نہ کرنا کہوہ ہر جبار کو ذلیل کردیتا ہے اور ہر مغرور کو پست بنا دیتا ہے۔ اپنی ذات ' اپنے اہل و عیال اوررعایا میں جن سے تمہیں تعلق خاطر ہے سب کے سلسلہ میں اپنے نفس اوراپنے پروردگار سے انصاف کرنا کہ ایسا نہ کرو گے تو ظالم ہو جائو گے اورجواللہ کے بندوں پر ظلم کرے گا اس کے دشمن بندے نہیں خود پروردگار ہوگا اورجس کا دشمن پروردگار ہو جائے گا اس کی ہردلیل باطل ہوجائے گی اور وہ پروردگار کامد مقابل شمارکیا جائے گا جب تک اپنے ظلم سے بازنہ آجائے یا تو بہ نہ کرلے۔اللہ کی نعمتوں کی بربادی اور اس کے عذاب میں عجلت کا کوئی سبب ظلم پر قائم رہنے سے بڑا نہیں ہے۔اس لئے کہ وہ مظلومنین کی فریاد کا سننے والا ہے اور ظالموں کے لئے موقع کا انتظار کر رہا ہے۔

تمہارے لئے پسندیدہ کام وہ ہونا چاہیے جو حق


أَوْسَطُهَا فِي الْحَقِّ - وأَعَمُّهَا فِي الْعَدْلِ وأَجْمَعُهَا لِرِضَى الرَّعِيَّةِ - فَإِنَّ سُخْطَ الْعَامَّةِ يُجْحِفُ بِرِضَى الْخَاصَّةِ - وإِنَّ سُخْطَ الْخَاصَّةِ يُغْتَفَرُ مَعَ رِضَى الْعَامَّةِ - ولَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الرَّعِيَّةِ أَثْقَلَ عَلَى الْوَالِي مَئُونَةً فِي الرَّخَاءِ - وأَقَلَّ مَعُونَةً لَه فِي الْبَلَاءِ - وأَكْرَه لِلإِنْصَافِ وأَسْأَلَ بِالإِلْحَافِ - وأَقَلَّ شُكْراً عِنْدَ الإِعْطَاءِ وأَبْطَأَ عُذْراً عِنْدَ الْمَنْعِ - وأَضْعَفَ صَبْراً عِنْدَ مُلِمَّاتِ الدَّهْرِ - مِنْ أَهْلِ الْخَاصَّةِ - وإِنَّمَا عِمَادُ الدِّينِ وجِمَاعُ الْمُسْلِمِينَ - والْعُدَّةُ لِلأَعْدَاءِ الْعَامَّةُ مِنَ الأُمَّةِ - فَلْيَكُنْ صِغْوُكَ لَهُمْ ومَيْلُكَ مَعَهُمْ.

ولْيَكُنْ أَبْعَدَ رَعِيَّتِكَ مِنْكَ وأَشْنَأَهُمْ عِنْدَكَ - أَطْلَبُهُمْ لِمَعَايِبِ النَّاسِ

کے اعتبار سے بہترین ، انصاف کے اعتبارسے سب کو شامل اور رعایا کی مرضی سے اکثریت(۱) کے لئے پسندیدہ ہوکہ عام افراد کی ناراضگی خواص کی رضا مندی کو بھی بے اثر بنا دیتی ہے اور خاص لوگوں کی ناراضگی عام افراد کی رضا مندی کے ساتھ قابل معافی ہو جاتی ہے ۔رعایا میں خواص سے زیادہ والی پرخوشحالی میں بوجھ بننے والا اوربلائوں میں کم سے کم مدد کرنے والا۔انصاف کرنا پسند کرنے والا اور اصرار کے ساتھ مطالبہ کرنے والا' عطا کے موقع پرکم سے کم شکریہ اداکرنے والا اور نہ دینے کے موقع پربمشکل عذر قبول کرنے والا۔زمانہ کے مصائب میں کم سے کم صبر کرنے والا۔کوئی نہیں ہوتا ہے

دین کا ستون ۔مسلمان کی اجتماعی طاقت ' دشمنو ں کے مقابلہ میں سامان دفاع عوام الناس ہی ہوتے ہیں لہٰذا تمہارا جھکائو انہیں کی طرف ہونا چاہیے اور تمہارا رجحان انہیں کی طرف ضروری ہے۔رعایا میں سب سے زیادہ دور اور تمہارے نزدیک مبغوض اس شخص کو ہونا چاہیے جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے عیوب کا تلاش کرنے والا ہے

(۱)دنیاکے ہر سماج میں دو طرح کے افراد پائے جاتے ہیں : خواص اور عوام۔خواص وہ ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی بنیاد پر اپنے لئے امتیازات کے قائل ہوتے ہیں اور ان کا منشاء یہ ہوتا ہے کہ انہیں قانون میں زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل ہواور ہر موقع پران کی حیثیت کو پیش نظر رکھاجائے۔اگرچہ مصائب اورآفات ک موقع پر ان کا کوئی مصرف نہیں ہوتا ہے اور نہ یہ کسی میدان حیات میں نظر آتے ہیں۔اس کے بر خلاف عوام الناس ہر مصیبت میں سینہ سپر رہتے ہیں۔ہر خدمت کے لئے آمادہ رہتے ہیں اورکم سے کم حقوق کامطالبہ کرتے ہیں۔

مولائے کائنات نے اسی نکتہ کی طرف متوجہ کیا ہے کہ حاکم کا فرض ہے کہ عوام الناس کے مفادات کا تحفظ کرے اور انہیں خوش رکھنے کی کوشش کرے کہ یہی دین کا ستون اور اس کی قوت ہیں اور انہیں سے اسلام کی طاقت کا مظاہر ہ ہوتا ہے اس کے بعد خواص ناراض بھی ہوگئے تو ان کی ناراضگی کاکوئی اثر نہیں ہوگا اور امت کے کام چلتے رہیں گے لیکن اس کے بر خلاف اگر عوام الناس ہاتھ سے نکل گئے اور وہ بغاوت پرآمادہ ہوگئے تو پھر اس طوفان کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا ہے اوریہ سیلاب بڑے بڑے تخت و تاج کو اپنے ساتھ بہالے جاتا ہے۔


فَإِنَّ فِي النَّاسِ عُيُوباً الْوَالِي أَحَقُّ مَنْ سَتَرَهَا - فَلَا تَكْشِفَنَّ عَمَّا غَابَ عَنْكَ مِنْهَا - فَإِنَّمَا عَلَيْكَ تَطْهِيرُ مَا ظَهَرَ لَكَ - واللَّه يَحْكُمُ عَلَى مَا غَابَ عَنْكَ - فَاسْتُرِ الْعَوْرَةَ مَا اسْتَطَعْتَ - يَسْتُرِ اللَّه مِنْكَ مَا تُحِبُّ سَتْرَه مِنْ رَعِيَّتِكَ - أَطْلِقْ عَنِ النَّاسِ عُقْدَةَ كُلِّ حِقْدٍ - واقْطَعْ عَنْكَ سَبَبَ كُلِّ وِتْرٍ - وتَغَابَ عَنْ كُلِّ مَا لَا يَضِحُ لَكَ – ولَا تَعْجَلَنَّ إِلَى تَصْدِيقِ سَاعٍ - فَإِنَّ السَّاعِيَ غَاشٌّ وإِنْ تَشَبَّه بِالنَّاصِحِينَ.

ولَا تُدْخِلَنَّ فِي مَشُورَتِكَ بَخِيلًا يَعْدِلُ بِكَ عَنِ الْفَضْلِ - ويَعِدُكَ الْفَقْرَ - ولَا جَبَاناً يُضْعِفُكَ عَنِ الأُمُورِ - ولَا حَرِيصاً يُزَيِّنُ لَكَ الشَّرَه بِالْجَوْرِ - فَإِنَّ الْبُخْلَ والْجُبْنَ والْحِرْصَ غَرَائِزُ شَتَّى - يَجْمَعُهَا سُوءُ الظَّنِّ بِاللَّه.

۔اس لئے کہ لوگوں میں بہر حال کمزوریاں پائی جاتی ہیں اور ان کی پردہ پوشی کی سب سے بڑی ذمہ داری والی پر ہے لہٰذا خبر دار جو عیب تمہارے سامنے نہیں ہے اس کا انکشاف نہ کرنا۔ تمہاری ذمہ داری صرف عیوب کی اصلاح کردینا ہے اورغائبات کا فیصلہ کرنے والا پروردگار ہے۔جہاں تک ممکن ہو لوگوں کے ان تمام عیوب کی پردہ پوشی کرتے رہو جن اپنے عیوب کی پردہ پوشی کی پروردگارسے تمنا کرتے ہو۔ لوگوں کی طرف سے کینہ کی ہر گروہ کو کھول دواوردشمنی کی ہر رسی کو کاٹ دو اور جوبات تمہارے لئے واضح نہ ہو اس سے انجان بن جائو اور ہرچغل خور کی تصدیق میں عجلت سے کام نہ لو کہ چغل خور ہمیشہ خیانت کا ر ہوتا ہے چاہے وہ مخلصین ہی کے بھیس میں کیوں نہ آئے

(مشاورت)

دیکھو اپنے مشورہ(۱) میں کسی بخیل کو شامل نہ کرنا کہ وہ تم کو فضل و کرم کے راستہ سے ہٹادے گا اورفقرو فاقہ کاخوف دلاتا رہے گا اور اسی طرح بزل سے مشورہ کرنا کہ وہ ہر معاملہ میں کمزور بنادے گا۔ اور حریص سے بھی مشورہ نہ کرنا کہ وہ ظالمانہ طریقہ سے مال جمع کرنے کوبھی تمہارے نگاہوں میں آراستہ کردے گا۔یہ بخل بزدلی اور طمع اگرچہ الگ الگ جذبات و خصائل ہیں لیکن ان سب کا قدر مشترک پروردگار سے سوء ظن ہے جس کے بعد ان خصلتوں کاظہور ہوتا ہے۔

(۱)ان فقرات میں زندگی کے مختلف شعبوں کے بارے میں ہدایات کاذکر کیا گیا ہے اور اس نکتہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ حاکم کو کسی شعبہ حیات سے غافل نہیں ہونا چاہیے اور کسی محاذ پر بھی کوئی ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے جو حکومت کو تباہ و برباد کردے اورعوامی مفادات کو نذرتغافل کرکے انہیں ظلم وستم کانشانہ بنادے ۔


إِنَّ شَرَّ وُزَرَائِكَ مَنْ كَانَ لِلأَشْرَارِ قَبْلَكَ وَزِيراً - ومَنْ شَرِكَهُمْ فِي الآثَامِ فَلَا يَكُونَنَّ لَكَ بِطَانَةً - فَإِنَّهُمْ أَعْوَانُ الأَثَمَةِ وإِخْوَانُ الظَّلَمَةِ - وأَنْتَ وَاجِدٌ مِنْهُمْ خَيْرَ الْخَلَفِ - مِمَّنْ لَه مِثْلُ آرَائِهِمْ ونَفَاذِهِمْ - ولَيْسَ عَلَيْه مِثْلُ آصَارِهِمْ وأَوْزَارِهِمْ وآثَامِهِمْ - مِمَّنْ لَمْ يُعَاوِنْ ظَالِماً عَلَى ظُلْمِه ولَا آثِماً عَلَى إِثْمِه - أُولَئِكَ أَخَفُّ عَلَيْكَ مَئُونَةً وأَحْسَنُ لَكَ مَعُونَةً - وأَحْنَى عَلَيْكَ عَطْفاً وأَقَلُّ لِغَيْرِكَ إِلْفاً - فَاتَّخِذْ أُولَئِكَ خَاصَّةً لِخَلَوَاتِكَ وحَفَلَاتِكَ - ثُمَّ لْيَكُنْ آثَرُهُمْ عِنْدَكَ أَقْوَلَهُمْ بِمُرِّ الْحَقِّ لَكَ - وأَقَلَّهُمْ مُسَاعَدَةً فِيمَا يَكُونُ مِنْكَ مِمَّا كَرِه اللَّه لأَوْلِيَائِه - وَاقِعاً ذَلِكَ مِنْ هَوَاكَ حَيْثُ وَقَعَ

والْصَقْ بِأَهْلِ الْوَرَعِ والصِّدْقِ - ثُمَّ رُضْهُمْ عَلَى أَلَّا يُطْرُوكَ - ولَا

(وزارت)

اوردیکھو تمہارے وزراء میں سب سے زیادہ بدتر وہ ہے جو تم سے پہلے اشرار کا وزیر رہ چکا ہواور ان کے گناہوں میں شریک رہ چکا ہو۔لہٰذا خبردار! ایسے افراد کو اپنے خواص میں شامل نہ کرنا کہ یہ ظالموں کے مدد گار اورخیانت کاروں کے بھائی بند ہیں اور تمہیں ان کے بدلے بہترین افراد مل سکتے ہیں جن کے پاس انہیں کی جیسی عقل اور کار کردگی ہو اور ان کے جیسے گناہوکے بوجھ اورخطائوں کے انبار نہ ہوں۔نہ انہوں نے کسی ظالم کی اس کے ظلم میں مدد کی ہو اور نہ کسی گناہ گار کا اس کے گناہمیں ساتھ دیا ہو۔یہ وہ لوگ ہیں جن کا بوجھ تمہارے لئے ہلکا ہوگا اوریہ تمہارے بہترین مدد گار ہوں گے اورتمہاری طرف محبت کا جھکائو بھی رکھتے ہوں گے اور اغیار سے انس و الفت بھی نہ رکھتے ہوں گے۔انہیں کو اپنے مخصوص اجتماعات میں اپنامصاحب قرار دینا اور پھر ان میں بھی سب سے زیادہ حیثیت اسے دینا جو حق کے حرف تلخ کو کہنے کی زیادہ ہمت رکھتا ہو اور تمہارے کسی ایسے عمل میں تمہارا ساتھ نہ دے جسے پروردگار اپنے اولیاء کے لئے نا پسند کرتا ہو چاہے وہ تمہاری خواہشات سے کتنی زیادہ میل کیوں نہ کھاتی ہوں۔

(مصاحبت)

اپنا قریبی رابطہ اہل تقویٰ اور اہل صداقت سے رکھنا اور انہیں بھی اس امر کی تربت دینا کہ بلا سبب تمہاری تعریف نہ کریں اور کسی ایسے بے بنیاد


يَبْجَحُوكَ بِبَاطِلٍ لَمْ تَفْعَلْه - فَإِنَّ كَثْرَةَ الإِطْرَاءِ تُحْدِثُ الزَّهْوَ وتُدْنِي مِنَ الْعِزَّةِ.

ولَا يَكُونَنَّ الْمُحْسِنُ والْمُسِيءُ عِنْدَكَ بِمَنْزِلَةٍ سَوَاءٍ - فَإِنَّ فِي ذَلِكَ تَزْهِيداً لأَهْلِ الإِحْسَانِ فِي الإِحْسَانِ - وتَدْرِيباً لأَهْلِ الإِسَاءَةِ عَلَى الإِسَاءَةِ - وأَلْزِمْ كُلاًّ مِنْهُمْ مَا أَلْزَمَ نَفْسَه واعْلَمْ أَنَّه لَيْسَ شَيْءٌ بِأَدْعَى - إِلَى حُسْنِ ظَنِّ رَاعٍ بِرَعِيَّتِه - مِنْ إِحْسَانِه إِلَيْهِمْ وتَخْفِيفِه الْمَئُونَاتِ عَلَيْهِمْ - وتَرْكِ اسْتِكْرَاهِه إِيَّاهُمْ عَلَى مَا لَيْسَ لَه قِبَلَهُمْ - فَلْيَكُنْ مِنْكَ فِي ذَلِكَ أَمْرٌ - يَجْتَمِعُ لَكَ بِه حُسْنُ الظَّنِّ بِرَعِيَّتِكَ - فَإِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ يَقْطَعُ عَنْكَ نَصَباً طَوِيلًا - وإِنَّ أَحَقَّ مَنْ حَسُنَ ظَنُّكَ بِه لَمَنْ حَسُنَ بَلَاؤُكَ عِنْدَه

وإِنَّ أَحَقَّ مَنْ سَاءَ ظَنُّكَ بِه لَمَنْ سَاءَ بَلَاؤُكَ عِنْدَه - ولَا تَنْقُضْ سُنَّةً صَالِحَةً عَمِلَ بِهَا صُدُورُ هَذِه الأُمَّةِ - واجْتَمَعَتْ بِهَا الأُلْفَةُ وصَلَحَتْ عَلَيْهَا الرَّعِيَّةُ - ولَا تُحْدِثَنَّ سُنَّةً تَضُرُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاضِي تِلْكَ السُّنَنِ - فَيَكُونَ الأَجْرُ لِمَنْ سَنَّهَا - والْوِزْرُ

عمل کا غرورنہ پیدا کرائیں جو تم نے انجام نہ دیا ہو کہ زیادہ تعریف سے غرور پیدا ہوتا ہے اورغرور انسان کو سر کشی سے قریب تر بنا دیتا ہے ۔

دیکھوخبر دار! نیک کردار اور بد کردار تمہارے نزدیک یکساں نہ ہونے پائیں کہ اس طرح نیک کرداروں میں نیکی سے بد دلی پیدا ہوگی اور بد کردار وں میں بد کرداری کا حوصلہ پیدا ہوگا۔ہر شخص کے ساتھ ویسا ہی برتائو کرنا جس کے قابل اس نے اپنے کو بنایا ہے اور یاد رکھنا کہ حاکم میں رعایا سے حسن ظن کی اسی قدر توقع کرنی چاہیے جس قدر ان کے ساتھ احسان کیا ہے اور ان کے بوجھ کو ہلکا بنایا ہے اور ان کو کسی ایسے کام پر مجبور نہیں کیا ہے جو ان کے امکان میں نہ ہو۔لہٰذا تمہارا برتائو اس سلسلہ میں ایسا ہی ہونا چاہیے جس سے تم رعایا سے زیادہ سے زیادہ حسن ظن پیدا کر سکو کہ یہ حسن ظن بہت سی اندرونی زحمتوں کو قطع کردیتا ہے اور تمہارے حسن ظن کا بھی سب سے زیادہ حقدار وہ ہے جس کے ساتھ تم نے بہترین سلوک کیا ہے۔ اور سب سے زیادہ بد ظنی کا حقدار وہ ہے جس کا برتائو تمہارے ساتھ خراب رہا ہے۔

دیکھو کسی ایسی نیک سنتکو مت توڑ دینا جس پر اس امت کے بزرگوں نے عمل کیا ہے اور اسی کے ذریعہ سماج میں الفت قائم ہوتی ہے اور رعایا کے حالات کی اصلاح ہوئی ہے اور کسی ایسی سنت کو رائج نہ کردینا جو گذشتہ سنتوں کے حق میں نقصان دہ ہو کہ اس طرح اجر اس کے لئے ہوگا جس نے سنت کو ایجاد کیا ہے اور گناہ


عَلَيْكَ بِمَا نَقَضْتَ مِنْهَا.

وأَكْثِرْ مُدَارَسَةَ الْعُلَمَاءِ ومُنَاقَشَةَ الْحُكَمَاءِ - فِي تَثْبِيتِ مَا صَلَحَ عَلَيْه أَمْرُ بِلَادِكَ - وإِقَامَةِ مَا اسْتَقَامَ بِه النَّاسُ قَبْلَكَ.

واعْلَمْ أَنَّ الرَّعِيَّةَ طَبَقَاتٌ - لَا يَصْلُحُ بَعْضُهَا إِلَّا بِبَعْضٍ - ولَا غِنَى بِبَعْضِهَا عَنْ بَعْضٍ - فَمِنْهَا جُنُودُ اللَّه ومِنْهَا كُتَّابُ الْعَامَّةِ والْخَاصَّةِ - ومِنْهَا قُضَاةُ الْعَدْلِ ومِنْهَا عُمَّالُ الإِنْصَافِ والرِّفْقِ - ومِنْهَا أَهْلُ الْجِزْيَةِ والْخَرَاجِ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ ومُسْلِمَةِ النَّاسِ - ومِنْهَا التُّجَّارُ وأَهْلُ الصِّنَاعَاتِ ومِنْهَا الطَّبَقَةُ السُّفْلَى مِنْ ذَوِي الْحَاجَةِ والْمَسْكَنَةِ - وكُلٌّ قَدْ سَمَّى اللَّه لَه سَهْمَه - ووَضَعَ عَلَى حَدِّه فَرِيضَةً فِي كِتَابِه أَوْ سُنَّةِ نَبِيِّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عَهْداً - مِنْه عِنْدَنَا مَحْفُوظاً.

فَالْجُنُودُ بِإِذْنِ اللَّه حُصُونُ الرَّعِيَّةِ وزَيْنُ الْوُلَاةِ - وعِزُّ الدِّينِ وسُبُلُ الأَمْنِ - ولَيْسَ تَقُومُ الرَّعِيَّةُ إِلَّا بِهِمْ - ثُمَّ لَا قِوَامَ لِلْجُنُودِ

تمہاری گردن پر ہوگا کہ تم نے اسے توڑ دیا ہے۔

علماء کے ساتھ علمی مباحثہ اورحکما کے ساتھ سنجیدہ بحث جاری رکھنا ان مسائل کے بارے میں جن سے علاقہ کے امور کی اصلاح ہوتی ہے اور وہ امور قائم رہتے ہیں جن سے گذشتہ افراد کے حالات کی اصلاح ہوئی ہے۔

اوریاد رکھو کہ رعایا کے بہت سے طبقات(۱) ہو تے ہیں جن میں کسی کی اصلاح دوسرے کے بغیر نہیں ہو سکتی ہے اور کوئی دوسرے سے مستغنی نہیں ہو سکتا ہے۔انہیں میں اللہ کے لشکرکے سپاہی ہیں اور انہیں میں عام اورخاص امور کے کاتب ہیں۔انہیں میں عدالت سے فیصلہ کرنے والے ہیں اور انہیں میں انصاف اور نرمی قائم کرنے والے عمال ہیں۔انہیں میں مسلمان اہل خراج اور کافر اہلذمہ ہیں اور انہیں میں تجارت اورصنعت وحرفت والے افراد ہیں اور پھر انہیں میں فقراء و مساکین کا پست ترین طبقہ بھی شامل ہے اور سب کے لئے پروردگار نے ایک حصہ معین کردیا ہے اور اپنی کتاب کے فرائض یا اپنے پیغمبرکی سنت میں اس کی حدیں قائم کردی ہیں اور یہ وہ عہد ہے جو ہمارے پاس محفوظ ہے ۔

فوجی دستے یہ حکم خدا سے رعایا کے محافظ اور والیوں کی زینت ہیں۔انہیں سے دین کی عزت ہے اور یہی امن وامان کے وسائل ہیں رعایا کے امور کا قیام ان کے بغیر نہیں ہوسکتا ہے اور یہ دستے بھی قائم نہیں رہ سکتے

(۱)اس مقام پر امیر المومنین نے سماج کو ۹ حصوں پرتقسیم کیا ہے اور سب کے خصوصیات ' فرائض ، اہمیت اورذمہ ذاریوں کا تذکرہ فرمایا ہے اور یہ واضح کردیا ہے کہ کسی کاکام دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا ہے لہٰذا ہرایک کا فرض ہے کہ دوسرے کی مد کرے تاکہ سماج کی مکمل اصلاح ہو سکے اور معاشرہ چین اور سکون کی زندگی گزار سکے ورنہ اس کے بغیر سماج تباہ برباد ہو جائے گا اور اس کی ذمہ داری تمام طبقات پر یکساں طورپر عائد ہوگی۔


إِلَّا بِمَا يُخْرِجُ اللَّه لَهُمْ مِنَ الْخَرَاجِ - الَّذِي يَقْوَوْنَ بِه عَلَى جِهَادِ عَدُوِّهِمْ - ويَعْتَمِدُونَ عَلَيْه فِيمَا يُصْلِحُهُمْ - ويَكُونُ مِنْ وَرَاءِ حَاجَتِهِمْ -

ثُمَّ لَا قِوَامَ لِهَذَيْنِ الصِّنْفَيْنِ إِلَّا بِالصِّنْفِ الثَّالِثِ - مِنَ الْقُضَاةِ والْعُمَّالِ والْكُتَّابِ - لِمَا يُحْكِمُونَ مِنَ الْمَعَاقِدِ ويَجْمَعُونَ مِنَ الْمَنَافِعِ - ويُؤْتَمَنُونَ عَلَيْه مِنْ خَوَاصِّ الأُمُورِ وعَوَامِّهَا - ولَا قِوَامَ لَهُمْ جَمِيعاً إِلَّا بِالتُّجَّارِ وذَوِي الصِّنَاعَاتِ - فِيمَا يَجْتَمِعُونَ عَلَيْه مِنْ مَرَافِقِهِمْ - ويُقِيمُونَه مِنْ أَسْوَاقِهِمْ - ويَكْفُونَهُمْ مِنَ التَّرَفُّقِ بِأَيْدِيهِمْ - مَا لَا يَبْلُغُه رِفْقُ غَيْرِهِمْ –

ثُمَّ الطَّبَقَةُ السُّفْلَى مِنْ أَهْلِ الْحَاجَةِ والْمَسْكَنَةِ - الَّذِينَ يَحِقُّ رِفْدُهُمْ ومَعُونَتُهُمْ - وفِي اللَّه لِكُلٍّ سَعَةٌ ولِكُلٍّ عَلَى الْوَالِي حَقٌّ بِقَدْرِ مَا يُصْلِحُه - ولَيْسَ يَخْرُجُ الْوَالِي - مِنْ حَقِيقَةِ مَا أَلْزَمَه اللَّه مِنْ ذَلِكَ - إِلَّا بِالِاهْتِمَامِ والِاسْتِعَانَةِ بِاللَّه - وتَوْطِينِ نَفْسِه عَلَى لُزُومِ الْحَقِّ والصَّبْرِ عَلَيْه فِيمَا خَفَّ عَلَيْه أَوْ ثَقُلَ: فَوَلِّ مِنْ جُنُودِكَ أَنْصَحَهُمْ فِي نَفْسِكَ لِلَّه ولِرَسُولِه ولإِمَامِكَ وأَنْقَاهُمْ جَيْباً وأَفْضَلَهُمْ حِلْماً مِمَّنْ يُبْطِئُ عَنِ الْغَضَبِ ويَسْتَرِيحُ إِلَى الْعُذْرِ - ويَرْأَفُ بِالضُّعَفَاءِ

ہیں جب تک وہ خراج نہ نکال دیاجائے جس کے ذریعہ دشمن سے جہاد کی طاقت فراہم ہوتی ہے اورجس پر حالات کی اصلاح میں اعتماد کیا جاتا ہے اوروہی ان کے حالات کے درست کرنے کاذریعہ ہے ۔

اس کے بعد ان دونوں صنفوں کا قیام قاضیوں ۔ عاملوں اور کاتبوں کے طبقہ کے بغیر نہیں ہوسکتا ہے کہ یہ سب عہدو پیمان کو مستحکم بناتے ہیں۔منافع کو جمع کرتے ہیں اورمعمولی اورغیرمعمولی معاملات میں ان پر اعتاد کیا جاتا ہے۔اس کے بعد ان سب کا قیام تجاراور صنعت کا روں کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ وہ وسائل حیات کو فراہم کرتے ہیں۔بازاروں کوقائم رکھتے ہیں اور لوگوں کی ضرورت کا سامان ان کی زحمت کے بغیر فراہم کردیتے ہیں۔

اس کے بعد فقراء و مساکین کا پست طبقہ ہے جو اعانت و امداد کا حقدار ہے اور اللہ کے یہاں ہرایک کے لئے سامان حیات مقرر ہے اور ہر ایک کا والی پر اتنی مقدار میں حق ہے جس سے اس کے امر کی اصلاح ہو سکے اوروالی اس فریضہ سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا ہے جب تک ان مسائل کا اہتمام نہ کرے اور اللہ سے مدد طلب نہ کرے اوراپنے نفس کو حقوق کی ادائیگی اور اس راہ کے خفیف وثقیل پر صبر کرنے کے لئے آمادہ نہ کرے لہٰذا لشکر کا سردار اسے قرار دینا جو اللہ، رسول اور امام کا سب سے زیادہ مخلص ' سب سے زیادہ پاکدامن اور سب سے زیادہ برداشت کرنے والا ہو ۔ غصہ کے موقع پرجلد بازی نہ کرتا ہو۔ عذر کوقبول کرلیتا ہو۔کمزروروں پر مہربانی کرت


ويَنْبُو عَلَى الأَقْوِيَاءِ - ومِمَّنْ لَا يُثِيرُه الْعُنْفُ ولَا يَقْعُدُ بِه الضَّعْفُ.

ثُمَّ الْصَقْ بِذَوِي الْمُرُوءَاتِ والأَحْسَابِ - وأَهْلِ الْبُيُوتَاتِ الصَّالِحَةِ والسَّوَابِقِ الْحَسَنَةِ - ثُمَّ أَهْلِ النَّجْدَةِ والشَّجَاعَةِ والسَّخَاءِ والسَّمَاحَةِ - فَإِنَّهُمْ جِمَاعٌ مِنَ الْكَرَمِ وشُعَبٌ مِنَ الْعُرْفِ - ثُمَّ تَفَقَّدْ مِنْ أُمُورِهِمْ مَا يَتَفَقَّدُ الْوَالِدَانِ مِنْ وَلَدِهِمَا - ولَا يَتَفَاقَمَنَّ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ قَوَّيْتَهُمْ بِه - ولَا تَحْقِرَنَّ لُطْفاً تَعَاهَدْتَهُمْ بِه وإِنْ قَلَّ - فَإِنَّه دَاعِيَةٌ لَهُمْ إِلَى بَذْلِ النَّصِيحَةِ لَكَ وحُسْنِ الظَّنِّ بِكَ - ولَا تَدَعْ تَفَقُّدَ لَطِيفِ أُمُورِهِمُ اتِّكَالًا عَلَى جَسِيمِهَا - فَإِنَّ لِلْيَسِيرِ مِنْ لُطْفِكَ مَوْضِعاً يَنْتَفِعُونَ بِه - ولِلْجَسِيمِ مَوْقِعاً لَا يَسْتَغْنُونَ عَنْه.

ولْيَكُنْ آثَرُ رُءُوسِ جُنْدِكَ عِنْدَكَ مَنْ وَاسَاهُمْ فِي مَعُونَتِه - وأَفْضَلَ عَلَيْهِمْ مِنْ جِدَتِه - بِمَا يَسَعُهُمْ ويَسَعُ مَنْ وَرَاءَهُمْ مِنْ خُلُوفِ أَهْلِيهِمْ - حَتَّى يَكُونَ هَمُّهُمْ

ہو۔طاقتور افراد کے سامنے اکڑ جاتا ہو۔بد خوئی اسے جوش میں نہ لے آئے اور کمزوریاسے بٹھانہ دے ۔

علاقات عامہ :

پھراس کے بعد اپنا رابطہ بلندخاندان ، نیک گھرنے ۔عمدہ روایات والے اور صاحبان ہمت و شجاعت و سخاوت و کرم سے مضبوط رکھو کہ یہ لوگ کرم کا سرمایہ اورنیکیوں کا سرچشمہ ہیں۔ان کے حالات کی اسی طرح دیکھ بھال رکھنا جس طرح ماں باپ اپنی اولاد کے حالات پرنظر رکھتے ہیں اور اگر ان کے ساتھ کوئی ایسا سلوک کرنا جو انہیں قوت بخشتا ہوتواسے عظیم نہ خیال کرلینا اوراگر کوئی معمولی برتائو بھی کیا ہے تو اسے حقیر سمجھ کر روک نہ دینا۔اس لئے کہ اچھا سلوک انہیں اخلاص کی دعوت دے گا اوران میں سن ظن پیدا کرائے گا اورخبردار بڑے بڑے کاموں پر اعتبار کرکے چھوٹی چھوٹی ضروریات کی نگرانی کونظرانداز نہ کردینا کہ معمولی مہربانی کابھی ایک اثر ہے جس سے لوگوں کوفائدہ ہوتا ہے اوربڑے کرم کا بھی ایک مقام ہے جس سے لوگ مستغنی نہیں ہو سکتے ہیں۔

دفاع:

اوردیکھو تمام سرداران لشکرمیں تمہارے نزدیک سب سے زیادہ افضل اسے ہونا چاہیے جو فوجیوں کی امداد میں ہاتھ بٹاتا ہو اور اپنے اضافی مال سے ان پر اس قدر کرم کرتا ہو کہ ان کے پسماندگان اور متعلقین کے لئے بھی کافی ہو جائے تاکہ سب کا ایک ہی مقصد رہ جائے اور


هَمّاً وَاحِداً فِي جِهَادِ الْعَدُوِّ - فَإِنَّ عَطْفَكَ عَلَيْهِمْ يَعْطِفُ قُلُوبَهُمْ عَلَيْكَ - وإِنَّ أَفْضَلَ قُرَّةِ عَيْنِ الْوُلَاةِ اسْتِقَامَةُ الْعَدْلِ فِي الْبِلَادِ وظُهُورُ مَوَدَّةِ الرَّعِيَّةِ وإِنَّه لَا تَظْهَرُ مَوَدَّتُهُمْ إِلَّا بِسَلَامَةِ صُدُورِهِمْ ولَا تَصِحُّ نَصِيحَتُهُمْ إِلَّا بِحِيطَتِهِمْ عَلَى وُلَاةِ الأُمُورِ - وقِلَّةِ اسْتِثْقَالِ دُوَلِهِمْ – وتَرْكِ اسْتِبْطَاءِ انْقِطَاعِ مُدَّتِهِمْ - فَافْسَحْ فِي آمَالِهِمْ ووَاصِلْ فِي حُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِمْ - وتَعْدِيدِ مَا أَبْلَى ذَوُو الْبَلَاءِ مِنْهُمْ - فَإِنَّ كَثْرَةَ الذِّكْرِ لِحُسْنِ أَفْعَالِهِمْ تَهُزُّ الشُّجَاعَ - وتُحَرِّضُ النَّاكِلَ إِنْ شَاءَ اللَّه.

ثُمَّ اعْرِفْ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ مَا أَبْلَى - ولَا تَضُمَّنَّ بَلَاءَ امْرِئٍ إِلَى غَيْرِه - ولَا تُقَصِّرَنَّ بِه دُونَ غَايَةِ بَلَائِه - ولَا يَدْعُوَنَّكَ شَرَفُ امْرِئٍ - إِلَى أَنْ تُعْظِمَ مِنْ بَلَائِه مَا كَانَ صَغِيراً - ولَا ضَعَةُ امْرِئٍ إِلَى أَنْ تَسْتَصْغِرَ مِنْ بَلَائِه مَا كَانَ عَظِيماً.

وارْدُدْ إِلَى اللَّه ورَسُولِه مَا يُضْلِعُكَ مِنَ الْخُطُوبِ - ويَشْتَبِه عَلَيْكَ مِنَ الأُمُورِ - فَقَدْ قَالَ اللَّه تَعَالَى لِقَوْمٍ أَحَبَّ إِرْشَادَهُمْ -( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا الله وأَطِيعُوا الرَّسُولَ - وأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ

وہ ہے دشمن سے جہاد۔اس لئے کہ ان سے تمہاری مہربانی ان کے دلوں کو تمہاری طرف موڑ دے گی۔اور والیوں کے حق میں بہترین خنکی چشم کا سامان یہ ہے کہ ملک بھر میں عدل و انصاف قائم ہو جائے اور رعایا میں محبت و الفت ظاہر ہو جائے اور یہکام اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک سینے سلامت نہ ہوں اور ان کی خیر خواہی مکمل نہیں ہو سکتی ہے جب تک اپنے حاکموں کے گرد گھیرا ڈال کر ان کی حفاظت نہ کریں اور پھر ان کے اقتدار کو سرکا بوجھ نہ سمجھیں اور ان کی حکومت کے خاتمہ کا انتظار نہ کریں لہٰذا ان کی امیدوں میں وسعت دینا اوربرابر کارناموں کی تعریف کرتے رہنا بلکہ عظیم لوگوں کے کارناموں کو شمار کرتے رہنا کہ ایسے تذکروں کی کثرت بہادروں کو جوش دلاتی ہے اور پیچھے ہٹ جانے والوں کو ابھار دیا کرتی ہے۔انشاء اللہ ۔

اس کے بعد ہر شخص کے کارنامہ کو پہچانتے رہنا اور کسی کے کارنامہ کو دوسرے کے نامہ اعمال میں نہ درج کردینا اوران کا مکمل بدلہ دینے میں کوتاہی نہ کرنا اور کسی شخص کی سماجی حیثیت تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ تم اس کے معمولی کام کو بڑا قراردے دویا کسی چھوٹے آدمی کے بڑے کارنامہ کو معمولی بنادو۔

جو امور مشکل دکھائی دیں اورتمہارے لئے مشتبہ ہو جائیں۔انہیں اللہ اور رسول کی طرف پلٹا دو۔کہ پروردگار نے جس قوم کو ہدایت دینا چاہی ہے اس سے فرمایا ہے کہ ''ایمان والو! اللہ ' رسول اورصاحبان امر کی


فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوه إِلَى الله والرَّسُولِ ) - فَالرَّدُّ إِلَى اللَّه الأَخْذُ بِمُحْكَمِ كِتَابِه - والرَّدُّ إِلَى الرَّسُولِ الأَخْذُ بِسُنَّتِه الْجَامِعَةِ غَيْرِ الْمُفَرِّقَةِ.

ثُمَّ اخْتَرْ لِلْحُكْمِ بَيْنَ النَّاسِ أَفْضَلَ رَعِيَّتِكَ فِي نَفْسِكَ - مِمَّنْ لَا تَضِيقُ بِه الأُمُورُ ولَا تُمَحِّكُه الْخُصُومُ - ولَا يَتَمَادَى فِي الزَّلَّةِ - ولَا يَحْصَرُ مِنَ الْفَيْءِ إِلَى الْحَقِّ إِذَا عَرَفَه - ولَا تُشْرِفُ نَفْسُه عَلَى طَمَعٍ - ولَا يَكْتَفِي بِأَدْنَى فَهْمٍ دُونَ أَقْصَاه وأَوْقَفَهُمْ فِي الشُّبُهَاتِ وآخَذَهُمْ بِالْحُجَجِ - وأَقَلَّهُمْ تَبَرُّماً بِمُرَاجَعَةِ الْخَصْمِ - وأَصْبَرَهُمْ عَلَى تَكَشُّفِ الأُمُورِ - وأَصْرَمَهُمْ عِنْدَ اتِّضَاحِ الْحُكْمِ -

اطاعت کرو۔اس کے بعد کسی شے میں تمہارا اختلاف ہو جا ئے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پلٹا دو ''تو اللہ کی طرف پلٹانے کا مطلب اس کی کتاب محکم کی طرف پلٹا نا ہے۔

قضاوت:

اس کے بعد لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے ان افراد کا انتخاب(۱) کرنا جو رعایا میںتمہارے نزدیک سب سے زیادہ بہتر ہوں۔اس اعتبار سے کہ نہ معاملات میںتنگی کا شکار ہوتے ہوں اور نہ جھگڑا کرنے والوں پر غصہ کرتے ہوں۔نہ غلطی پر اڑ جاتے ہوں اور حق کے واضح ہو جانے کے بعد اس کی طرف پلٹ کرآنے میں تکلف کرتے ہوں اورنہ ان کا نفس لالچ کی طرف جھکتا ہو اورنہ معاملات کی تحقیق میں ادنیٰ فہم پر اکتفا کرکے مکمل تحقیق نہ کرتے ہوں۔شبہات میں توقف کرنے والے ہوں اور دلیلوں کو سب سے زیادہ اختیار کرنے والے ہوں۔فریقین کی بحثوں سیاکتا نہ جاتے ہوں اور معاملات کی چھان بین میں پوری قوت برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوں اور حکم کے واضح ہو جانے کے بعد نہایت وضاحت سے

(۱)اس مقام پر قاضیوں کے حسب ذیل صفات کاتذکرہ کیا گیا ہے :

۱۔خود حاکم کی نگاہ میں قضاوت کرنے کے قابل ہو ۔۲۔تمام رعایا سے افضلیت کی بنیاد پر منتخب کیا گیا ہو ۔۳۔ مسائل میں الجھ نہ جاتا ہو بلکہ بلکہ صاحب نظر و استباط ہو ۔۴۔فریقین کے جھگڑوں پر غصہ نہ کرتا ہو ۔۵۔غلطی ہو جائے تو اس پر اکڑتا نہ ہو۔۶۔لالچی نہ ہو۔۷۔معاملات کی مکمل تحقیق کرتا ہو اورکاہلی کا شکار نہ ہو ۔۸۔ شبہات کے موقع پر جلد بازی سے کام نہ لیتا ہو بلکہ دیگر مقررہ قوانین کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہو ۔۹۔دلائل کوقبول کرنے والا ہو ۔۱۰۔فریقین کی طرف مراجعہ کرنے سے اکتاتا نہ ہو بلکہ پوری بحث سننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔۱۱۔تحقیقات میںبے پناہ قوت صبروتحمل کا مالک ہو۔۱۲۔بات واضح ہو جائے تو قطعی فیصلہ کرنے میں تکلف نہ کرتا ہو ۔۱۳۔تعریف سے مغرور نہ ہوتا ہو۔۱۴۔ لوگوں کے ابھارنے سے کسی کی طرف جھکائو نہ پیدا کرتا ہو۔


مِمَّنْ لَا يَزْدَهِيه إِطْرَاءٌ ولَا يَسْتَمِيلُه إِغْرَاءٌ - وأُولَئِكَ قَلِيلٌ - ثُمَّ أَكْثِرْ تَعَاهُدَ قَضَائِه - وافْسَحْ لَه فِي الْبَذْلِ مَا يُزِيلُ عِلَّتَه - وتَقِلُّ مَعَه حَاجَتُه إِلَى النَّاسِ - وأَعْطِه مِنَ الْمَنْزِلَةِ لَدَيْكَ مَا لَا يَطْمَعُ فِيه غَيْرُه مِنْ خَاصَّتِكَ - لِيَأْمَنَ بِذَلِكَ اغْتِيَالَ الرِّجَالِ لَه عِنْدَكَ - فَانْظُرْ فِي ذَلِكَ نَظَراً بَلِيغاً - فَإِنَّ هَذَا الدِّينَ قَدْ كَانَ أَسِيراً فِي أَيْدِي الأَشْرَارِ - يُعْمَلُ فِيه بِالْهَوَى وتُطْلَبُ بِه الدُّنْيَا.

ثُمَّ انْظُرْ فِي أُمُورِ عُمَّالِكَ فَاسْتَعْمِلْهُمُ اخْتِبَاراً - ولَا تُوَلِّهِمْ مُحَابَاةً وأَثَرَةً - فَإِنَّهُمَا جِمَاعٌ مِنْ شُعَبِ الْجَوْرِ والْخِيَانَةِ - وتَوَخَّ مِنْهُمْ أَهْلَ التَّجْرِبَةِ والْحَيَاءِ - مِنْ أَهْلِ الْبُيُوتَاتِ الصَّالِحَةِ والْقَدَمِ فِي الإِسْلَامِ الْمُتَقَدِّمَةِ - فَإِنَّهُمْ أَكْرَمُ أَخْلَاقاً وأَصَحُّ أَعْرَاضاً - وأَقَلُّ فِي الْمَطَامِعِ إِشْرَاقاً - وأَبْلَغُ فِي عَوَاقِبِ الأُمُورِ نَظَراً - ثُمَّ أَسْبِغْ عَلَيْهِمُ الأَرْزَاقَ - فَإِنَّ ذَلِكَ قُوَّةٌ لَهُمْ عَلَى اسْتِصْلَاحِ أَنْفُسِهِمْ -

فیصلہ کر دیتے ہوں۔نہ کسی کی تعریف سے مغرور ہوتے ہوں اور نہ کسی کے ابھارنے پر اونچے ہو جاتے ہوں۔ایسے افراد یقینا کم ہیں۔لیکن ہیں ۔

پھر اس کے بعد تم خودبھی ان کے فیصلوں کی نگرانی کرتے رہنا اور ان کے عطا یا میں اتنی وسعت پیدا کر دینا کہ ان کی ضرورت ختم ہو جائے اور پھر لوگوں کے محتاج نہ رہ جائیںانہیں اپنے پاس ایسا مرتبہ اورمقام عطا کرنا جس کی تمہارے خواص بھی طمع نہ کرتے ہوں کہ اس طرح وہ لوگوں کے ضرر پہنچانے سے محفوظ ہو جائیںگے۔مگراس معاملہ پر بھی گہری نگاہ رکھنا کہ یہ دین بہت دنوں اشرار کے ہاتھوں می قیدی رہ چکا ہے جہاں خواہشات کی بنیاد پر کام ہوتا تھا اور مقصد صرف دنیا طلبی تھا۔

عمال:

اس کے بعد اپنے عاملوں کے معاملات پربھی نگاہ رکھنا اور انہیں امتحان کے بعد کام سپرد کرنا اور خبر دار تعلقات یا جانبداری کی بنا پر عہدہ نہ دے دینا کہ یہ باتیں ظلم اور خیانت کے اثرات میں شامل ہیں۔اور دیکھوان میں بھی جو مخلص اورغیرت مند ہوں ان کو تلاش کرنا جواچھے گھرانے کے افراد ہوں اور ان کے اسلام میں سابق خدمات رہ چکے ہوں کہ ایسے لوگ خوش اخلاق اور بے داغ عزت والے ہوتے ہیں۔ان ے اندر فضول خرچی کی لالچ کم ہوتی ہے اور یہ انجام کار پر زیادہ نر رکھتے ہیں۔اس کے بعدان کے بھی تمام اخراجات کا انتظام کردینا کہ اس سے انہیں اپنے نفس کی اصلاح کا بھی موقع ملتا ے اوردوسروں


وغِنًى لَهُمْ عَنْ تَنَاوُلِ مَا تَحْتَ أَيْدِيهِمْ - وحُجَّةٌ عَلَيْهِمْ إِنْ خَالَفُوا أَمْرَكَ أَوْ ثَلَمُوا أَمَانَتَكَ - ثُمَّ تَفَقَّدْ أَعْمَالَهُمْ - وابْعَثِ الْعُيُونَ مِنْ أَهْلِ الصِّدْقِ والْوَفَاءِ عَلَيْهِمْ - فَإِنَّ تَعَاهُدَكَ فِي السِّرِّ لأُمُورِهِمْ - حَدْوَةٌ لَهُمْ عَلَى اسْتِعْمَالِ الأَمَانَةِ والرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ - وتَحَفَّظْ مِنَ الأَعْوَانِ - فَإِنْ أَحَدٌ مِنْهُمْ بَسَطَ يَدَه إِلَى خِيَانَةٍ - اجْتَمَعَتْ بِهَا عَلَيْه عِنْدَكَ أَخْبَارُ عُيُونِكَ - اكْتَفَيْتَ بِذَلِكَ شَاهِداً - فَبَسَطْتَ عَلَيْه الْعُقُوبَةَ فِي بَدَنِه - وأَخَذْتَه بِمَا أَصَابَ مِنْ عَمَلِه - ثُمَّ نَصَبْتَه بِمَقَامِ الْمَذَلَّةِ ووَسَمْتَه بِالْخِيَانَةِ - وقَلَّدْتَه عَارَ التُّهَمَةِ.

وتَفَقَّدْ أَمْرَ الْخَرَاجِ بِمَا يُصْلِحُ أَهْلَه - فَإِنَّ فِي صَلَاحِه وصَلَاحِهِمْ صَلَاحاً لِمَنْ سِوَاهُمْ - ولَا صَلَاحَ لِمَنْ سِوَاهُمْ إِلَّا بِهِمْ - لأَنَّ النَّاسَ كُلَّهُمْ عِيَالٌ عَلَى الْخَرَاجِ وأَهْلِه - ولْيَكُنْ نَظَرُكَ

کے اموال پر قبضہ کرنے سے بھی بے نیاز ہو جاتے ہیں اور پھر تمہارے امر کی مخالفت کریں یا امانت میں رخنہ پیدا کریں تو ان پر حجت بھی تمام ہوجاتی ہے۔

اس کے بعد ان عمال کے اعمال کی بھی تفتیش کرتے رہنا اور نہایت معتبر قسم کے اہل صدق و صفا کو ان پر جاسوسی کے لئے مقرر کر دینا کہ یہ طرز عمل انہیں امانت داری کے استعمال پر اور رعایا کے ساتھ نرمی کے برتائو پرآمادہ کرے گا۔اوردیکھو اپنے مدد گاروں سے بھی اپنے کوبچا کر رکھنا کہ اگر ان میں کوئی ایک بھی خیانت کی طرف ہاتھ بڑھائے اور تمہارے جاسوس متفقہ طورپر یہ خبر دیں تو اس شبہات کو کافی سمجھ لینا اور اسے جسمانی اعتبار سے بھی سزا دینا اور جو مال حاصل کیا ہے اسے چھین بھی لینا اور سماج میں ذلت کے مقام پر رکھ کر خیانت کاری کے مجرم کی حیثیت سے روشناس کرانا اور ننگ و رسوائی کا طوق اس کے گلے میں ڈال دینا۔

خراج:

خراج اور مال گذاری کے بارے میں وہ طریقہ اختیار کرنا جو مال گذاروں کے حق میں زیادہ مناسب ہو کہ خراج اور اہل خراج کے صلاح ہی میں سارے معاشرہ کی صلاح ہے اور کسی کے حالات کی اصلاح خراج کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی ہے ' لوگ سب کے سب اسی خراج کے بھروسے زندگی گذارتے ہیں۔خراج میں تمہاری نظر


فِي عِمَارَةِ الأَرْضِ - أَبْلَغَ مِنْ نَظَرِكَ فِي اسْتِجْلَابِ الْخَرَاجِ - لأَنَّ ذَلِكَ لَا يُدْرَكُ إِلَّا بِالْعِمَارَةِ - ومَنْ طَلَبَ الْخَرَاجَ بِغَيْرِ عِمَارَةٍ أَخْرَبَ الْبِلَادَ - وأَهْلَكَ الْعِبَادَ ولَمْ يَسْتَقِمْ أَمْرُه إِلَّا قَلِيلًا - فَإِنْ شَكَوْا ثِقَلًا أَوْ عِلَّةً أَوِ انْقِطَاعَ شِرْبٍ أَوْ بَالَّةٍ - أَوْ إِحَالَةَ أَرْضٍ اغْتَمَرَهَا غَرَقٌ - أَوْ أَجْحَفَ بِهَا عَطَشٌ - خَفَّفْتَ عَنْهُمْ بِمَا تَرْجُو أَنْ يَصْلُحَ بِه أَمْرُهُمْ - ولَا يَثْقُلَنَّ عَلَيْكَ شَيْءٌ خَفَّفْتَ بِه الْمَئُونَةَ عَنْهُمْ - فَإِنَّه ذُخْرٌ يَعُودُونَ بِه عَلَيْكَ فِي عِمَارَةِ بِلَادِكَ - وتَزْيِينِ وِلَايَتِكَ مَعَ اسْتِجْلَابِكَ حُسْنَ ثَنَائِهِمْ - وتَبَجُّحِكَ بِاسْتِفَاضَةِ الْعَدْلِ فِيهِمْ - مُعْتَمِداً فَضْلَ قُوَّتِهِمْ - بِمَا ذَخَرْتَ عِنْدَهُمْ مِنْ إِجْمَامِكَ لَهُمْ - والثِّقَةَ مِنْهُمْ بِمَا عَوَّدْتَهُمْ مِنْ عَدْلِكَ عَلَيْهِمْ ورِفْقِكَ بِهِمْ -

مال جمع کرنے سے زیادہ زمین کی آباد کاری(۱) پر ہونی چاہیے کہ مال کی جمع آوری زمین کی آبادکاری کے بغیر ممکن نہیں ہے اور جس نے آباد کاری کے بغیر مال گدازی کا مطالبہ کیا اسنے شہروں کو برباد کردیا اور بندوں کو تباہ کردیا اور اس کی حکومت چند دنوں سے زیادہ قائم نہیں رہ سکتی ہے ۔ اس کے بعد اگر لوگ گرانباری۔آفت ناگہانی۔نہروں کی خشکی ' بارش کی کمی۔زمین کی غرقابی کی بناپ ر تباہی اورخشکی کی بنا پر بربادی کی کوئی فریاد کریں تو ان کے خراج میں اس قدرتخفیف کردینا کہ ان کے امور کی اصلاح ہو سکے اور خبر دار تخفیف تمہارے نفس پر گراں نہ گذ رے اس لئے کہ یہ تخفیف اور سہولت ایک ذخیرہ ہے جس کا اثر شہروں کی آبادی اور حکام کی زیب و زینت کی شکل میں تمہاری ہی طرف واپس آئے گا اور اس کے علاوہ تمہیں بہترین تعریف بھی حاصل ہوگی اورعدل و انصاف کے پھیل جانے سے مسرت بھی حاصل ہوگی' پھر ان کی راحت و رفاہیت اور عدل و انصاف ' نرمی و سہولت کی بنا پر جواعتماد حاصل کیا ہے اس سے ایک اضافی طاقت بھی حاصل ہوگی جو بوقت ضرورت کام آسکتی ہے۔اس لئے کہ بسا اوقات

(۱) یہ اسلامی نظام کا نقطہ امتیاز ہے کہ اس نے زمینوں پر ٹیکس ضرور رکھا ہے کہ پیداوار میں اگر ایک حصہ مالک زمین کی محنت اورآباد کاری کا ہے تو ایک حصہ مالک کائنات کے کرم کا بھی ہے جسنے زمین میں پیداوار کی صلاحیت ودیعت کی ہے اور وہ پوری کائنات کا مالک ہے وہ اپنے حصہ کو پورے سماج پرتقسیم کرنا چاہتا ہے اوراسے نظام کی تکمیل کا بنیادی عنصر قرار دینا چاہتا ہے۔لیکن اس ٹیکس کو حاکم کی صوابدید اور اس کی خواہش پر نہیں رکھا ہے جو دنیا کے تمام ظالم اورعیاش حکام کا طریقہ کار ہے۔بلکہ اسے زمین کے حالات سے وابستہ کردیا ہے تاکہ ٹیکس اور پیداوار میں رابطہ رہے اور مالکان زمین کے دلوں میں حاکم سے ہمدردی پیدا ہو۔پرسکون حالات میں جی لگا کر کاشت کریں اور حادثاتی مواقع پر مملکت کے کام آسکیں۔ورنہ اگر عوام میں بددلی اوربد ظنی پیداہوگئی تو نظام اور سماج کو بربادی سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔


فَرُبَّمَا حَدَثَ مِنَ الأُمُورِ - مَا إِذَا عَوَّلْتَ فِيه عَلَيْهِمْ مِنْ بَعْدُ احْتَمَلُوه - طَيِّبَةً أَنْفُسُهُمْ بِه - فَإِنَّ الْعُمْرَانَ مُحْتَمِلٌ مَا حَمَّلْتَه - وإِنَّمَا يُؤْتَى خَرَابُ الأَرْضِ مِنْ إِعْوَازِ أَهْلِهَا وإِنَّمَا يُعْوِزُ أَهْلُهَا لإِشْرَافِ أَنْفُسِ الْوُلَاةِ عَلَى الْجَمْعِ وسُوءِ ظَنِّهِمْ بِالْبَقَاءِ وقِلَّةِ انْتِفَاعِهِمْ بِالْعِبَرِ.

ثُمَّ انْظُرْ فِي حَالِ كُتَّابِكَ - فَوَلِّ عَلَى أُمُورِكَ خَيْرَهُمْ - واخْصُصْ رَسَائِلَكَ الَّتِي تُدْخِلُ فِيهَا مَكَايِدَكَ وأَسْرَارَكَ - بِأَجْمَعِهِمْ لِوُجُوه صَالِحِ الأَخْلَاقِ مِمَّنْ لَا تُبْطِرُه الْكَرَامَةُ - فَيَجْتَرِئَ بِهَا عَلَيْكَ فِي خِلَافٍ لَكَ بِحَضْرَةِ مَلإٍ - ولَا تَقْصُرُ بِه الْغَفْلَةُ عَنْ إِيرَادِ مُكَاتَبَاتِ عُمِّالِكَ عَلَيْكَ - وإِصْدَارِ جَوَابَاتِهَا عَلَى الصَّوَابِ عَنْكَ - فِيمَا يَأْخُذُ لَكَ ويُعْطِي مِنْكَ - ولَا يُضْعِفُ عَقْداً اعْتَقَدَه لَكَ ولَا يَعْجِزُ عَنْ إِطْلَاقِ مَا عُقِدَ عَلَيْكَ - ولَا يَجْهَلُ مَبْلَغَ قَدْرِ نَفْسِه فِي الأُمُورِ - فَإِنَّ الْجَاهِلَ بِقَدْرِ نَفْسِه يَكُونُ بِقَدْرِ غَيْرِه أَجْهَلَ - ثُمَّ لَا يَكُنِ اخْتِيَارُكَ

ایسے حالات پیش آجاتے ہیں کہ جن میں اعتماد و حسن ظن کے بعد ان پر اعتماد کرو تو نہایت خوشی سے مصیبت کوبرداشت کر لیتے ہیں اور اس کا سبب زمینوں کی آباد کاری ہی ہوتا ہے۔زمینوں کی بربادی اہل زمین کی تنگدستی سے پیدا ہوتی ہے اورتنگدستی کا سبب حکام کے نفس کا جمعآوری کی طرف رجحان ہوتا ہے اور ان کی یہ بد ظنی ہوتی ہے کہ حکومت باقی رہنے والی نہیں ہے اور وہدوسرے لوگوں کے حالات سے عبرت حاصل نہیں کرتے ہیں۔

کاتب:

اس کے بعد اپنے منشیوں کے حالات پر نظر رکھنا اور اپنے امور کو بہترین افراد کے حوالے کرنا اور پھروہ خطوط جن میں رموز سلطنت اوراسرارمملکت ہوںان افراد کے حوالے کرنا جو بہترین اخلاق و کردارکے مالک ہوں اور عزت پاکر اکڑ نہ جاتے ہوں کہ ایک دن لوگوں کے سامنے تمہاری مخالفت کی جرأت پیداکرلیں اور غفلت کی بناپ ر لین دین کے معاملات میں تمہارے عمال کے خطوط کے پیش کرنے اور ان کے جوابات دینے میں کوتاہی سے کام لینے لگیں اور تمہارے لئے جو عہدوپیمان باندھیں اسے کمزور کردیں اورتمہارے خلاف ساز باز کے توڑنے میں عاجزی کا مظاہرہ کرنے لگیں۔دیکھو یہ لوگ معاملات میں اپنے صحیح مقام سے نا واقف نہ ہوں کہ اپنی قدرو منزلت کا نہ پہچاننے والا دوسرے کے مقام و مرتبہ سے یقینا زیادہ ناواقف ہوگا۔

اس کے بعدان کاتقرر بھی صرف ذاتی


إِيَّاهُمْ عَلَى فِرَاسَتِكَ - واسْتِنَامَتِكَ وحُسْنِ الظَّنِّ مِنْكَ - فَإِنَّ الرِّجَالَ يَتَعَرَّضُونَ لِفِرَاسَاتِ الْوُلَاةِ - بِتَصَنُّعِهِمْ وحُسْنِ خِدْمَتِهِمْ - ولَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ النَّصِيحَةِ والأَمَانَةِ شَيْءٌ - ولَكِنِ اخْتَبِرْهُمْ بِمَا وُلُّوا لِلصَّالِحِينَ قَبْلَكَ - فَاعْمِدْ لأَحْسَنِهِمْ كَانَ فِي الْعَامَّةِ أَثَراً - وأَعْرَفِهِمْ بِالأَمَانَةِ وَجْهاً - فَإِنَّ ذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى نَصِيحَتِكَ لِلَّه ولِمَنْ وُلِّيتَ أَمْرَه - واجْعَلْ لِرَأْسِ كُلِّ أَمْرٍ مِنْ أُمُورِكَ رَأْساً مِنْهُمْ - لَا يَقْهَرُه كَبِيرُهَا ولَا يَتَشَتَّتُ عَلَيْه كَثِيرُهَا - ومَهْمَا كَانَ فِي كُتَّابِكَ مِنْ عَيْبٍ فَتَغَابَيْتَ عَنْه أُلْزِمْتَه.

ثُمَّ اسْتَوْصِ بِالتُّجَّارِ وذَوِي الصِّنَاعَاتِ وأَوْصِ بِهِمْ خَيْراً - الْمُقِيمِ مِنْهُمْ والْمُضْطَرِبِ بِمَالِه والْمُتَرَفِّقِ بِبَدَنِه - فَإِنَّهُمْ مَوَادُّ الْمَنَافِعِ وأَسْبَابُ الْمَرَافِقِ

ہوشیاری ' خوش اعتمادی اور حسن ظن کی بنا پرنہ کرنا کہ اکثر لوگ حکام کے سامنے بناوٹی کردار اور بہترین خدمات کے ذریعہ اپنے کو بہترین بنا کر پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جب کہ اس کے پس پشت نہ کوئی اخلاص ہوتا ہے اور نہ امانتداری پہلے ان کا امتحان لینا کہ تم سے پہلے والے نیک کردار حکام کے ساتھ ان کا برتائو کیا رہا ہے پھر جو عوام میں اچھے اثرات رکھتے ہوں اور امانتداری کی بنیاد پر پہچانے جاتے ہوں انہیں کا تقرر کردینا کہ یہ اسامر کی دلیل ہوگا کہ تم اپنے پروردگار کے بندۂ مخلصاوراپنے امام کے وفادار ہو۔اپنے جملہ شعبوں کے(۱) لئے ایک ایک افسر مقرر کردینا جو بڑے سے بڑے کام سے مقہور نہ ہوتا ہو اور کاموں کی زیادتی پر پراگندہ حواس نہ ہو جاتا ہو۔اور یہ یاد رکھنا کہ ان منشیوں میں جو بھی عیب ہوگا اور تم اس سے چشم پوشی کرو گے اس کا مواخذہ تمہیں سے کیا جائے گا۔

اس کے بعد تاجروں اور صنعت کاروں کے بارے میں نصیحت حاصل کرو اور دوسروں کو ان کے ساتھ نیک برتائو کی نصیحت کرو چاہے وہ ایک مقام پر کام کرنے والے ہوں یا جا بجا گردش کرنے والے ہوں اورجسمانی محنت سے روزی کمانے والے ہوں۔اس لئے کہ یہی افراد منافع کا مرکز اور ضرورت زندگی کے مہیا

(۱)بعض شارحین کی نظرمیں اس حصہ کا تعلق صرف کتابت اور انشاء سے نہیں ہے بلکہ ہر شعبہ حیات سے ہے جس کی نگرانی کے لئے ایکذمہ دار کا ہونا ضروری ہے اور جس کا ادراک اہل سیاست کو سیکڑوں سال کے بعد ہوا ہے اورحکیم امت نے چودہ صدی قبل اس نکتہ جہانبانی کی طرف اشارہ کردیا تھا۔


وجُلَّابُهَا مِنَ الْمَبَاعِدِ والْمَطَارِحِ - فِي بَرِّكَ وبَحْرِكَ وسَهْلِكَ وجَبَلِكَ - وحَيْثُ لَا يَلْتَئِمُ النَّاسُ لِمَوَاضِعِهَا ولَا يَجْتَرِءُونَ عَلَيْهَا فَإِنَّهُمْ سِلْمٌ لَا تُخَافُ بَائِقَتُه - وصُلْحٌ لَا تُخْشَى غَائِلَتُه - وتَفَقَّدْ أُمُورَهُمْ بِحَضْرَتِكَ وفِي حَوَاشِي بِلَادِكَ - واعْلَمْ مَعَ ذَلِكَ أَنَّ فِي كَثِيرٍ مِنْهُمْ ضِيقاً فَاحِشاً - وشُحّاً قَبِيحاً - واحْتِكَاراً لِلْمَنَافِعِ وتَحَكُّماً فِي الْبِيَاعَاتِ وذَلِكَ بَابُ مَضَرَّةٍ لِلْعَامَّةِ عَيْبٌ عَلَى الْوُلَاةِ فَامْنَعْ مِنَ الِاحْتِكَارِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مَنَعَ مِنْه - ولْيَكُنِ الْبَيْعُ بَيْعاً سَمْحاً بِمَوَازِينِ عَدْلٍ- وأَسْعَارٍ لَا تُجْحِفُ بِالْفَرِيقَيْنِ مِنَ الْبَائِعِ

کرنے کا وسیلہ ہوتے ہیں۔یہی دور دراز(۱) مقامات بروبحر' کوہ میدان ہر جگہ سے ان ضروریات کے فراہم کرنے والے ہوتے ہیں جہاں لوگوں کی رسائی نہیں ہوتی ہے اور جہاں تک جانے کی لوگ ہمت نہیں کرتے ہیں۔یہ وہ ان ضروریات کے فراہم کرنے والے ہوتے ہیں جہاں لوگوں کی رسائی نہیں ہوتی ہے اورجہاں تک جانے کی لوگ ہمت نہیں کرتے ہیں۔یہ وہ امن پسند لوگ ہیں جن سے فساد کا خطرہ نہیں ہوتا ہے اوروہ صلح و آشتی والے ہوتے ہیں جن سے کسی شورش کا اندیشہ نہیں ہوتا ہے۔

اپنے سامنے اور دوسرے شہروں میں پھیلے ہوئے ان کے معاملات کی نگرانی کرتے رہنا اور یہ خیال رکھنا کہ ان میں بہت سے لوگوں میں انتہائی تنگ نظری اور بد ترین قسم کی کنجوسی پائی جاتی ہے ۔یہ منافع کی ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں اور اونچے اونچے دام خود ہی معین کر دیتے ہیں' جس سے عوام کو نقصان ہوتا ہے اور حکام کی بد نامی ہوتی ہے۔لوگوں کوذخیرہ اندوزی سے منع کرو کہ رسول اکرم (ص) نے اس سے منع فرمایا ہے ۔خریدو فروخت میں سہولت ضروری ہے جہاں عادلانہ میزان ہو اور وہ قیامت معین ہو جس سے خریدار یا بیچنے والے کسی فریق پر

(۱) اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تجار اور صنعت کار معاشرہ کی زندگی میں ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتے ہیں اور انہیں کے ذریعہ معاشرہ کی ندگی میں استقرار پیدا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مولائے کائنات نے ان کے بارے میں خصوصی نصیحت فرمائی ہے اوران کے مفسدین کی اصلاح پر خصوصی زوردیا ہے ۔تاجر میں بعض امتیازی خصوصیات ہوتے ہیں جو دوسری قوموں میں نہیں پائے جاتے ہیں ۔(۱) یہ لوگ فطرتاً صلح پسند ہوتے ہیں کہ فساد اور ہنگامہ میں دکان کے بند ہو جانے کا خطرہ ہوتا ہے ۔ (۲) ان کی نگاہ کسی مالک اور اراب پر نہیں ہوتی ہے بلکہ پروردگار سے رزق کے طلب گار ہوتے ہیں (۳) دور درازکے خطر ناک موارد تک سفر کرنے کی بنا پر ان سے تبلیغ مذہب کا کام بھی لیا جا سکتا ہے ' جس کے شواہد آج ساری دنیا میں پائے جا رہے ہیں۔


والْمُبْتَاعِ فَمَنْ قَارَفَ حُكْرَةً بَعْدَ نَهْيِكَ إِيَّاه فَنَكِّلْ بِه وعَاقِبْه فِي غَيْرِ إِسْرَافٍ

ثُمَّ اللَّه اللَّه فِي الطَّبَقَةِ السُّفْلَى مِنَ الَّذِينَ لَا حِيلَةَ لَهُمْ - مِنَ الْمَسَاكِينِ والْمُحْتَاجِينَ وأَهْلِ الْبُؤْسَى والزَّمْنَى - فَإِنَّ فِي هَذِه الطَّبَقَةِ قَانِعاً ومُعْتَرّاً - واحْفَظِ لِلَّه مَا اسْتَحْفَظَكَ مِنْ حَقِّه فِيهِمْ - واجْعَلْ لَهُمْ قِسْماً مِنْ بَيْتِ مَالِكِ - وقِسْماً مِنْ غَلَّاتِ صَوَافِي الإِسْلَامِ فِي كُلِّ بَلَدٍ - فَإِنَّ لِلأَقْصَى مِنْهُمْ مِثْلَ الَّذِي لِلأَدْنَى – وكُلٌّ قَدِ اسْتُرْعِيتَ حَقَّه - ولَا يَشْغَلَنَّكَ عَنْهُمْ بَطَرٌ - فَإِنَّكَ لَا تُعْذَرُ بِتَضْيِيعِكَ التَّافِه لإِحْكَامِكَ الْكَثِيرَ الْمُهِمَّ - فَلَا تُشْخِصْ هَمَّكَ عَنْهُمْ ولَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لَهُمْ - وتَفَقَّدْ أُمُورَ مَنْ لَا يَصِلُ إِلَيْكَ مِنْهُمْ - مِمَّنْ تَقْتَحِمُه الْعُيُونُ وتَحْقِرُه الرِّجَالُ - فَفَرِّغْ لأُولَئِكَ ثِقَتَكَ مِنْ أَهْلِ الْخَشْيَةِ والتَّوَاضُعِ - فَلْيَرْفَعْ إِلَيْكَ أُمُورَهُمْ - ثُمَّ اعْمَلْ فِيهِمْ بِالإِعْذَارِ إِلَى اللَّه يَوْمَ تَلْقَاه - فَإِنَّ هَؤُلَاءِ مِنْ بَيْنِ الرَّعِيَّةِ أَحْوَجُ إِلَى الإِنْصَافِ مِنْ غَيْرِهِمْ - وكُلٌّ فَأَعْذِرْ إِلَى اللَّه فِي تَأْدِيَةِ حَقِّه إِلَيْه

ظلم نہ ہو۔اس کے بعد تمہارے منع کرنے کے باوجود اگر کوئی شخص ذخیرہ اندوزی کرے تو اسے سزا دو لیکن اس میں بھی حد سے تجاوز نہ ہونے پائے ۔

اس کے بعد اللہ سے ڈرو اس پسماندہ طبقہ کے بارے میں جو مساکین 'محتاج ' فقراء اورمعذور افراد کا طبقہ ہے جن کا کوئی سہارا نہیں ہے۔اس طبقہ میں مانگنے والے بھی ہیں اور غیرت داربھی ہیں جن کی صورت سوال ہے۔ انکے جس حق کا اللہ نے تمہیں محافظ بنایا ہے اس کی حفاظت کرو اور ان کے لئے بیت المال اورارض غنیمت کے غلات میں سے ایک حصہ مخصوص کردو کہ ان کے دور افتادہ کا بھی وہی حق ہے جو قریب والوں کا ہے اورتمہیں سبکا نگراں بنایا گیا ہے لہٰذا خبردارکہیں غرور و تکبر تمہیں ان کی طرف سے غافل نہ بنادے کہ تمہیں بڑے کاموں کے مستحکم کر دینے سے چھوٹے کاموں کی بربادی سے معاف نہ کیا جائے گا۔لہٰذا نہ اپنی توجہ کو ان کی طرف سے ہٹانا اور نہ غرور کی بناپر اپنا منہ موڑ لینا۔جن لوگوں کی رسائی تم تک نہیں ہے اور انہیں نگاہوں نے گرادیا ہے اور شخصیتوں نے حقیر بنادیا ہے ان کے حالات کی دیکھ بھال بھی تمہارا ہی فریضہ ہے لہٰذا ان کے لئے متواضع اور خوف خدا رکھنے والے معتبر افراد کو مخصوص کردو جو تم تک ان کے معاملات کو پہنچاتے رہیں اورتم ایسے اعمال انجام دیتے رہو جن کی بناپر روز قیامت پیش پروردگار معذور کہے جا سکو کہ یہی لوگ سب سے زیادہ انصاف کے محتاج ہیں اور پھر ہرایک کے حقوق کو ادا کرنے میں پیش پروردگار اپنے


وتَعَهَّدْ أَهْلَ الْيُتْمِ وذَوِي الرِّقَّةِ فِي السِّنِّ مِمَّنْ لَا حِيلَةَ لَه ولَا يَنْصِبُ لِلْمَسْأَلَةِ نَفْسَه - وذَلِكَ عَلَى الْوُلَاةِ ثَقِيلٌ - والْحَقُّ كُلُّه ثَقِيلٌ وقَدْ يُخَفِّفُه اللَّه عَلَى أَقْوَامٍ - طَلَبُوا الْعَاقِبَةَ فَصَبَّرُوا أَنْفُسَهُمْ - ووَثِقُوا بِصِدْقِ مَوْعُودِ اللَّه لَهُمْ.

واجْعَلْ لِذَوِي الْحَاجَاتِ مِنْكَ قِسْماً تُفَرِّغُ لَهُمْ فِيه شَخْصَكَ - وتَجْلِسُ لَهُمْ مَجْلِساً عَامّاً - فَتَتَوَاضَعُ فِيه لِلَّه الَّذِي خَلَقَكَ - وتُقْعِدُ عَنْهُمْ جُنْدَكَ وأَعْوَانَكَ مِنْ أَحْرَاسِكَ وشُرَطِكَ - حَتَّى يُكَلِّمَكَ مُتَكَلِّمُهُمْ غَيْرَ مُتَتَعْتِعٍ - فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم يَقُولُ فِي غَيْرِ مَوْطِنٍ - لَنْ تُقَدَّسَ

کو معذور ثابت کرو۔

اوریتیموں اور کبیر السن بوڑھوں کے حالات کی بھی نگرانی کرتے رہنا کہ ان کا کوئی وسیلہ نہیں ہے اور یہ سوال کرنے کے لئے کھڑے بھی نہیں ہوتے ہیں ظاہر ہے کہ ان کا خیال رکھنا حکام کے لئے بڑا سنگین مسئلہ ہوتا ہے لیکن کیا کیا جائے حق تو سب کا سب ثقیل ہی ہے۔البتہ کبھی کبھی پروردگار اسے ہلکا قرار دے دیتا ہے ان اقوام کے لئے جو عاقبت کی طلب گار ہوتی ہیں اور اس راہمیں اپنے نفس کو صبر کاخوگر بناتی ہیں اورخدا کے وعدہ پر اعتماد کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

اور دیکھو صاحبان ضرورت کے لئے ایک وقت معین کردو جس میں اپنے کوان کے لئے خالی کرلو اور ایک عمومی مجلس میں بیٹھوں ۔اس خداکے سامنے متواضع رہو جس نے پیدا کیا ہے اور اپنے تمام نگہبان(۱) پولیس' فوج ' اعوان و انصار سب کو دوربٹھا دو تاکہ بولنے والا آزادی سے بول سکے اور کسی طرح کی لکنت کا شکارنہ ہو کہ میں نے رسول اکرم (ص) سے خود سنا ہے کہ آپ نے بار بار فرمایا ہے کہ ' 'وہ امت پاکیزہ کردار نہیں ہوسکتی ہے جس میں

(۱) مقصد یہ نہیں ہے کہ حاکم جلسہ عام میں لاوارث ہو کر بیٹھ جائے اور کوئی بھی مفسد ' ظالم فقیر کے بھیس میں آکر اس کا خاتمہ کردے ۔مقصد صرف یہ ہے کہ پولیس ' فوج ' محافظ ' دربان ' لوگوں کے ضروریات کی راہ میں حائل نہ ہونے پائیں کہ نہ انہیں تمہارے پاس آنے دیں اور نہ کھ لکر بات کرنے کاموقع دیں ۔چاہے اس سے پہلے بچاس مقامات پر تلاشی لی جائے کہ غرباء کی حاجت روائی کے نام پر حکام کی زندگیوں کو قربان نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ مفسدین کوبے لگام چھوڑا جاسکتا ہے۔حاکم کے لئے بنیادی مسئلہ اس کی شرافت ' دیانت ' امانت داری کا ہے اس کے بعد اس کا مرتبہ عام معاشرہ سے بہرحال بلند تر ہے اور اس کی زندگی عوام الناس سے یقینا زیادہ قیمتی ہے اور اس کا تحفظ عوام الناس پر اسی طرح واجب ہے جس طرح وہ خودان کے مفادات کاتحفظ کر رہا ہے۔


أُمَّةٌ لَا يُؤْخَذُ لِلضَّعِيفِ فِيهَا حَقُّه مِنَ الْقَوِيِّ - غَيْرَ مُتَتَعْتِعٍ –

ثُمَّ احْتَمِلِ الْخُرْقَ مِنْهُمْ والْعِيَّ - ونَحِّ عَنْهُمُ الضِّيقَ والأَنَفَ - يَبْسُطِ اللَّه عَلَيْكَ بِذَلِكَ أَكْنَافَ رَحْمَتِه - ويُوجِبْ لَكَ ثَوَابَ طَاعَتِه - وأَعْطِ مَا أَعْطَيْتَ هَنِيئاً وامْنَعْ فِي إِجْمَالٍ وإِعْذَارٍ !

ثُمَّ أُمُورٌ مِنْ أُمُورِكَ لَا بُدَّ لَكَ مِنْ مُبَاشَرَتِهَا - مِنْهَا إِجَابَةُ عُمَّالِكَ بِمَا يَعْيَا عَنْه كُتَّابُكَ - ومِنْهَا إِصْدَارُ حَاجَاتِ النَّاسِ يَوْمَ وُرُودِهَا عَلَيْكَ - بِمَا تَحْرَجُ بِه صُدُورُ أَعْوَانِكَ - وأَمْضِ لِكُلِّ يَوْمٍ عَمَلَه فَإِنَّ لِكُلِّ يَوْمٍ مَا فِيه: واجْعَلْ لِنَفْسِكَ فِيمَا بَيْنَكَ وبَيْنَ اللَّه - أَفْضَلَ تِلْكَ الْمَوَاقِيتِ وأَجْزَلَ تِلْكَ الأَقْسَامِ - وإِنْ كَانَتْ كُلُّهَا لِلَّه إِذَا صَلَحَتْ فِيهَا النِّيَّةُ - وسَلِمَتْ مِنْهَا الرَّعِيَّةُ.

ولْيَكُنْ فِي خَاصَّةِ مَا تُخْلِصُ بِه لِلَّه دِينَكَ إِقَامَةُ فَرَائِضِه - الَّتِي هِيَ لَه خَاصَّةً - فَأَعْطِ اللَّه مِنْ بَدَنِكَ فِي لَيْلِكَ ونَهَارِكَ - ووَفِّ مَا تَقَرَّبْتَ بِه إِلَى اللَّه -

کمزور کو آزادی کے ساتھ طاقتور سے اپنا حق لینے کا موقع نہ دیا جائے ''

اس کے بعد ان سے بد کلامی یا عاجزی کلام کا مظاہرہ ہو تواسے برداشت کرو اور دل تنگی اور غرور کو دور رکھو کہ تاکہ خدا تمہارے لئے رحمت کے اطراف کشارہ کردے اور اطاعت کے ثواب کو لازم قرار دیدے جسے جو کچھ دو خوشگواری کے ساتھ دو اور جسے منع کرو اسے خوبصورتی کے ساتھ ٹال دو۔

اس کے بعد تمہارے معاملات میں بعض ایسے معاملات بھی ہیں جنہیںتمہیں خود براہ راست انجام دینا ہے۔جیسے حکام کے ان مسائل کے جوابات جن کے جوابات محرر افراد نہ دے سکیں یا لوگوں کے ان ضروریات کو پورا کرنا جن کے پورا کرنے سے تمہارے مدد گار افراد جی چراتے ہوں اوردیکھو ہر کام کو اسی کے دن مکمل کردینا کہ ہردن کا اپنا ایک کام ہوتا ہے۔اس کے بعد اپنے اور پروردگار کے روابط کے لئے بہترین وقت کا انتخاب کرنا جو تمام اوقات سے افضل اور بہتر ہو۔اگرچہ تمام ہی اوقات اللہ کے لئے شمار ہو سکتے ہیں اگر انسان کی نیت سالم رہے اور رعایا اس کے طفیل خوشحال ہو جائے ۔

اور تمہارے وہ اعمال جنہیں صرف اللہ کے لئے انجام دیتے ہو ان میں سے سب سے اہم کام ان فرائض کا قیام ہو جو صرف پروردگار کے لئے ہوتے ہیں۔اپنی جسمانی طاقت میں سے رات اور دن دونوں وقت ایک حصہ اللہ کے لئے قرار دینا اور جس کام کے ذریعہ اس کی قربت


مِنْ ذَلِكَ كَامِلًا غَيْرَ مَثْلُومٍ ولَا مَنْقُوصٍ - بَالِغاً مِنْ بَدَنِكَ مَا بَلَغَ - وإِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ لِلنَّاسِ - فَلَا تَكُونَنَّ مُنَفِّراً ولَا مُضَيِّعاً - فَإِنَّ فِي النَّاسِ مَنْ بِه الْعِلَّةُ ولَه الْحَاجَةُ - وقَدْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حِينَ وَجَّهَنِي إِلَى الْيَمَنِ - كَيْفَ أُصَلِّي بِهِمْ - فَقَالَ صَلِّ بِهِمْ كَصَلَاةِ أَضْعَفِهِمْ - وكُنْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيماً».

وأَمَّا بَعْدُ فَلَا تُطَوِّلَنَّ احْتِجَابَكَ عَنْ رَعِيَّتِكَ - فَإِنَّ احْتِجَابَ الْوُلَاةِ عَنِ الرَّعِيَّةِ شُعْبَةٌ مِنَ الضِّيقِ - وقِلَّةُ عِلْمٍ بِالأُمُورِ - والِاحْتِجَابُ مِنْهُمْ يَقْطَعُ عَنْهُمْ عِلْمَ مَا احْتَجَبُوا دُونَه - فَيَصْغُرُ عِنْدَهُمُ الْكَبِيرُ ويَعْظُمُ الصَّغِيرُ - ويَقْبُحُ الْحَسَنُ ويَحْسُنُ الْقَبِيحُ -

چاہتے ہو اسے مکمل طور سے انجام دینا نہ کوئی رخنہ پڑنے پائے اورنہ کوئی نقص پیدا ہو جائے بدن کو کسی قدرزحمت کیوں نہ ہو جائے۔اور جب لوگوں کے ساتھ جماعت کی نمازادا کرو تو نہ اس طرح پڑھو کہ لوگ بیزار ہو جائیں اور نہ اس طرح کہ نماز برباد ہو جائے اس لئے کہ لوگوں میں بیمار اور ضرورت مند افراد بھی ہوتے ہیں اور میں نے یمن کی مہم پر جاتے ہوئے حضور اکرم (ص) سے دریافت کیا تھا کہ نماز جماعت کا اندازہ کیا ہونا چاہیے تو آپ نے فرمایا تھا کہ کمزور ترین آدمی کے اعتبارسے نماز ادا کرنا اور مومنین کے حال پر مہربان رہنا۔

اس کے بعد یہ بھی خیال رہے کہ اپنی رعایا سے دیر تک(۱) الگ نہ رہنا کہ حکام کا رعایا سے پس پردہ رہنا ایک طرح کی تنگ دلی پیداکرتا ہے اور ان کے معاملات کی اطلاع نہیں ہو پاتی ہے اور یہ پردہ داری انہیں بھی ان چیزوں کے جاننے سے روک دیتی ہے جن کے سامنے یہ حجابات قائم ہوگئے ہیں اور اس طرح بڑی چیز چھوٹی ہو جاتی ہے اورچھوٹی چیز بڑی ہو جاتی ہے۔اچھا برا بن جاتا ہے اوربرا اچھاہوجاتا ہے

(۱)یہ شاید اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ سماج اور عوام سے الگ رہنا والی اورحاکم کے ضروریات زندگی میں شامل ہے ورنہ اس کی زندگی ۲۴گھنٹہ عوام الناس کی نذر ہوگئی تو نہ تنہائیوں می اپنے مالک سے مناجات کر سکتا ہے اور نہ خلوتوں میں اپنے اہل و عیال کے حقوق ادا کر سکتا ہے۔پردہ داری ایک انسانی ضرورت ہے جس سے کوئی انسان بے نیاز نہیں ہو سکتا ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس پردہ داری کو طول نہ ہونے پائے کہ عوام الناس حاکم کی زیارت سے محروم ہو جائیں اور اس کا دیدار صرف ٹیلیویژن کے پردہ پر نصیب ہو جس سے نہ کوئی فریاد کی جا سکتی ہے اور نہ کسی درد دل کا اظہار کیا جاسکتا ہے۔ایسے شخص کو حاکم بننے کا یکا حق ہے جو عوام کے دکھ درد میں شریک نہ ہو سکے اور ان کی زندگی کی تلخیوں کو محسوس نہ کرسکے۔ایسے شخص کو دربار حکومت میں بیٹھ کر'' انا ربکم الا علی '' کا نعرہ لگانا چاہیے اور آخر میں کسی دریا میں ڈوب مرنا چاہیے۔اسلامی حکومت اس طرح کی لا پرواہی کو برداشت نہیں کر سکتی ہے۔اس کے لئے کوفہ میں بیٹھ کرحجاز اور یمامہکے فقراء کو دیکھنا پڑتا ہے اور ان کی حالت کے پیشنظر سو کھی روٹی کھانا پڑتی ہے۔


ويُشَابُ الْحَقُّ بِالْبَاطِلِ - وإِنَّمَا الْوَالِي بَشَرٌ - لَا يَعْرِفُ مَا تَوَارَى عَنْه النَّاسُ بِه مِنَ الأُمُورِ - ولَيْسَتْ عَلَى الْحَقِّ سِمَاتٌ - تُعْرَفُ بِهَا ضُرُوبُ الصِّدْقِ مِنَ الْكَذِبِ - وإِنَّمَا أَنْتَ أَحَدُ رَجُلَيْنِ - إِمَّا امْرُؤٌ سَخَتْ نَفْسُكَ بِالْبَذْلِ فِي الْحَقِّ - فَفِيمَ احْتِجَابُكَ مِنْ وَاجِبِ حَقٍّ تُعْطِيه - أَوْ فِعْلٍ كَرِيمٍ تُسْدِيه أَوْ مُبْتَلًى بِالْمَنْعِ - فَمَا أَسْرَعَ كَفَّ النَّاسِ عَنْ مَسْأَلَتِكَ - إِذَا أَيِسُوا مِنْ بَذْلِكَ - مَعَ أَنَّ أَكْثَرَ حَاجَاتِ النَّاسِ إِلَيْكَ - مِمَّا لَا مَئُونَةَ فِيه عَلَيْكَ - مِنْ شَكَاةِ مَظْلِمَةٍ أَوْ طَلَبِ إِنْصَافٍ فِي مُعَامَلَةٍ.

ثُمَّ إِنَّ لِلْوَالِي خَاصَّةً وبِطَانَةً - فِيهِمُ اسْتِئْثَارٌ وتَطَاوُلٌ وقِلَّةُ إِنْصَافٍ فِي مُعَامَلَةٍ فَاحْسِمْ مَادَّةَ أُولَئِكَ بِقَطْعِ أَسْبَابِ تِلْكَ الأَحْوَالِ - ولَا تُقْطِعَنَّ لأَحَدٍ مِنْ حَاشِيَتِكَ وحَامَّتِكَ قَطِيعَةً - ولَا يَطْمَعَنَّ مِنْكَ فِي اعْتِقَادِ عُقْدَةٍ - تَضُرُّ بِمَنْ يَلِيهَا مِنَ النَّاسِ - فِي شِرْبٍ أَوْ عَمَلٍ مُشْتَرَكٍ - يَحْمِلُونَ مَئُونَتَه عَلَى غَيْرِهِمْ

اورحق باطل سے مخلوط ہو جاتا ہے۔اور حاکم بھی بالآخر ایک بشر ہے وہ پس پردہ امور کی اطلاع نہیں رکھتا ہے اور نہ حق کی پیشانی پر ایسے نشانات ہوتے ہیں جن کے ذریعہ صداقت کے اقسام کو غلط بیانی سے الگ کرکے پہچانا جاسکے۔

اور پھر تم دو میں سے ایک قسم کے ضرور ہوگے۔یا وہ شخص ہوگے جس کا نفس حق کی راہمیں بذل و عطا پر مائل ہے تو پھرتمہیں واجب حق عطا کرنے کی راہ میں پر وہ حائل کرنے کی کیا ضرورت ہے۔اور کریموں جیسا عمل کیوں نہیں انجام دیتے ہو۔یا تم بخل کی بیماری میں مبتلا ہوگے تو بہت جلدی لوگ تم سے مایوس ہوکرخود ہی اپنے ہاتھ کھینچ لیں گے اور تمہیں پردہ ڈالنے کی ضرورت ہی نہ پڑے گی۔حالانکہ لوگوں کے اکثر ضروریات وہ ہیں جن میں تمہیں کسی طرح کی زحمت نہیں ہے جیسے ظلم کی فریاد یا کسی معاملہ میں انصاف کا مطالبہ ۔

اس کے بعد یہ بھی خیال رہے کہ ہر والی کے کچھ مخصوص اور راز دار قسم کے افراد ہوتے ہیں جن میں خودغرضی ، دست درازی اورمعاملات میں بے انصافی پاء جاتی ہے لہٰذا خبردار ایسے افراد کے فساد کا علاج ان اسباب کے خاتمہ سے کرنا جن سے یہ حالات پیدا ہوتے ہیں۔اپنے کسی بھی حاشیہ نشین اورقرابت دار کو کوئی جاگیر مت بخش دینا اوراسے تم سے کوئی ایسی توقع نہ ہونی چاہیے کہ تم کسی ایسی زمین پر قبضہ دیدو گے جس کے سبب آبپاشی یا کی مشترک معاملہ میں شرکت رکھنے والے افراد کو نقصان پہنچ جائیکہ اپنے مصارف بھی دوسرے کے سرڈال دے اور


فَيَكُونَ مَهْنَأُ ذَلِكَ لَهُمْ دُونَكَ - وعَيْبُه عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا والآخِرَةِ.

وأَلْزِمِ الْحَقَّ مَنْ لَزِمَه مِنَ الْقَرِيبِ والْبَعِيدِ - وكُنْ فِي ذَلِكَ صَابِراً مُحْتَسِباً - وَاقِعاً ذَلِكَ مِنْ قَرَابَتِكَ وخَاصَّتِكَ حَيْثُ وَقَعَ - وابْتَغِ عَاقِبَتَه بِمَا يَثْقُلُ عَلَيْكَ مِنْه - فَإِنَّ مَغَبَّةَ ذَلِكَ مَحْمُودَةٌ.

وإِنْ ظَنَّتِ الرَّعِيَّةُ بِكَ حَيْفاً فَأَصْحِرْ لَهُمْ بِعُذْرِكَ - واعْدِلْ عَنْكَ ظُنُونَهُمْ بِإِصْحَارِكَ - فَإِنَّ فِي ذَلِكَ رِيَاضَةً مِنْكَ لِنَفْسِكَ ورِفْقاً بِرَعِيَّتِكَ وإِعْذَاراً - تَبْلُغُ بِه حَاجَتَكَ مِنْ تَقْوِيمِهِمْ عَلَى الْحَقِّ.

ولَا تَدْفَعَنَّ صُلْحاً دَعَاكَ إِلَيْه عَدُوُّكَ ولِلَّه فِيه رِضًا فَإِنَّ فِي الصُّلْحِ دَعَةً لِجُنُودِكَ -

اس طرح اس معاملہ کا مزہ اس کے حصہ میں آئے اور اس کی ذمہ داری دنیا اور آخرت میں تمہارے ذمہ رہے۔

اور جس پر کوئی حق عائد ہو اس پر اس کے نافذ کرنے کی ذمہ داری ڈالو چاہے وہ تم سے نزدیک ہویا دور اوراس مسئلہ میں اللہ کی راہ میں صبرو تحمل سے کام لینا چاہے اس کی زد تمہاریقرابتداروں اورخاص افراد ہی پرکیوں نہ پڑتی ہواور اس سلسلہ میں تمہارے مزاج پر جو بار ہو اسے آخرت کی امید میں برداشت کرلینا کہ اس کا انجام بہتر ہوگا۔

اور اگر کبھی رعایا کو یہ خیال ہو جائے کہ تم نے ان پر ظلم کیا ہے توان کے لئے اپنے عذر کا اظہار کرواور اسی ذریعہ سے ان کی بد گمانی کاعلاج کرو کہ اس میں تمہارے نفس کی تربیت بھی ہے اور رعایا پر نرمی کا اظہار بھی ہے اوروہ عذر خواہی بھی وہے جس کے ذریعہ تمرعایا کو راہ حق پر چلانے کا مقصد بھی حاصل کرسکتے ہو۔

اور خبردار کسی ایسی دعوت صلح کا انکارنہ کرنا جس کی تحریک دشن کی طرف سے ہو اور جس میں مالک کی رضا مندی(۱) پائی جاتی ہو کہ صلح کے ذریعہ فوجوں کو

(۱)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ صلح ایک بہترین طریقہ کار ہے اور قرآن نے اسے ''خیر '' سے تعبیر کیاہے لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ جو شخص جن حالات میں جس طرح کی صلح کیدعوت دے تم قبول کرلو اور اس کے بعد مطمئن ہو کر بیٹھ جائو کہ ایسے نظام میں ہر ظالم اپنی ظالمانہ حرکتوں ہی پر صلح کرنا چاہیے گا اور تمہیں اسے تلیم کرنا ہوگا۔صلح کی بنیادی شرط یہ ہے کہاسے رضائے الٰہی کے مطابق ہونا چاہیے اور اس کی کسی دفعہ کو بھی مرضی پروردگار کے خلاف نہیں ہونا چاہیے جس طرح کہ سرکار دو عالم (ص) کی صلح میں دیکھا گیا ہے کہ آپ نے جس جس لفظ اور جس جس دفعہ پر صلح کی ہے سب کی سب مطابق حقیقت اور عین مرضی پروردگار تھیں اور کوئی حرف غلط درمیان میں نہیں تھا ''بسمک اللھم '' بھی ایک کلمہ صحیح تھا۔محمد بن عبداللہ بھی ایک حرف حق تھا اوردشمن کے افراد کاواپس کردینا بھی کوئیغلط اقدام نہیں تھا۔امام حسن مجتبیٰ کی صلح میں بھی یہی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں جن کا مشاہدہ سرکار دو عالم (ص) کی صلح میں کیا جا چکا ہے۔اوریہ مولائے کائنات کی بنیادی تعلیم اور اسلام کاواقعی ہدف اور مقصد ہے۔


ورَاحَةً مِنْ هُمُومِكَ وأَمْناً لِبِلَادِكَ - ولَكِنِ الْحَذَرَ كُلَّ الْحَذَرِ مِنْ عَدُوِّكَ بَعْدَ صُلْحِه - فَإِنَّ الْعَدُوَّ رُبَّمَا قَارَبَ لِيَتَغَفَّلَ - فَخُذْ بِالْحَزْمِ واتَّهِمْ فِي ذَلِكَ حُسْنَ الظَّنِّ - وإِنْ عَقَدْتَ بَيْنَكَ وبَيْنَ عَدُوِّكَ عُقْدَةً - أَوْ أَلْبَسْتَه مِنْكَ ذِمَّةً - فَحُطْ عَهْدَكَ بِالْوَفَاءِ وارْعَ ذِمَّتَكَ بِالأَمَانَةِ - واجْعَلْ نَفْسَكَ جُنَّةً دُونَ مَا أَعْطَيْتَ - فَإِنَّه لَيْسَ مِنْ فَرَائِضِ اللَّه شَيْءٌ - النَّاسُ أَشَدُّ عَلَيْه اجْتِمَاعاً مَعَ تَفَرُّقِ أَهْوَائِهِمْ - وتَشَتُّتِ آرَائِهِمْ - مِنْ تَعْظِيمِ الْوَفَاءِ بِالْعُهُودِ - وقَدْ لَزِمَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ فِيمَا بَيْنَهُمْ دُونَ الْمُسْلِمِينَ - لِمَا اسْتَوْبَلُوا مِنْ عَوَاقِبِ الْغَدْرِ - فَلَا تَغْدِرَنَّ بِذِمَّتِكَ ولَا تَخِيسَنَّ بِعَهْدِكَ ولَا تَخْتِلَنَّ عَدُوَّكَ - فَإِنَّه لَا يَجْتَرِئُ عَلَى اللَّه إِلَّا جَاهِلٌ شَقِيٌّ - وقَدْ جَعَلَ اللَّه عَهْدَه وذِمَّتَه أَمْناً أَفْضَاه بَيْنَ الْعِبَادِ بِرَحْمَتِه وحَرِيماً يَسْكُنُونَ إِلَى مَنَعَتِه ويَسْتَفِيضُونَ إِلَى جِوَارِه فَلَا إِدْغَالَ ولَا مُدَالَسَةَ ولَا خِدَاعَ فِيه -

قدرے سکون مل جاتا ہے اور تمہارے نفس کو بھی افکار سے نجات مل جائے گی اور شہروں میں بھی امن وامان ک فضا قائم ہو جائے گی۔البتہ صلح کے بعد دشمن کی طرف سے مکمل طور پر ہوشیار رہنا کہ کبھی کبھی وہ تمہیں غافل بنانے کے لئے تم سے قربت اختیار کرنا چاہتا ہے لہٰذا اس مسئلہ میں مکمل ہو شیاری سے کام لینا اور کسی حسن ظن سے کام نہ لینا اوراگر اپنے اور اس کیدرمیان کوئی معاہدہ کرنایا اسے کسی طرح کی پناہ دینا تو اپنے عہد کی پاسداری و وفاداری کے ذریعہ کرنا اور اپنے ذمہ کو امانت داری کے ذریعہ محفوظ بنانا اور اپنے قول و قرارکی راہ میں اپنے نفس کو سپر بنادینا کہ اللہ کے فرائض میں ایفائے عہد جیسا کوئی فریضہ نہیں ہے جس پر تمام لوگ خواہشات کے اختلاف اورافکار کے تضاد کے باوجودمتحد ہیں اور اس کا مشرکین نے بھی اپنے معاملات میں لحاظ رکھا ہے کہ عہد شکنی کے نتیجہ میں تباہیوں کا انداہ کرلیا ہے۔تو خبردار تم اپنے عہدو پیمان سے غداری نہ کرنا اور اپنے قول و قرار میں خیانت سے کام نہ لینا اور اپنے دشمن پر اچانک حملہ نہ کردینا۔اس لئے کہ اللہ کے مقابلہ میں جاہل و بد بخت کے علاوہ کوئی جرأت نہیں کرتا ہے اور اللہ نے عہدو پیمان کو امن وامان کا وسیلہ قراردیا ہے جسے اپنی رحمت سے تمام بندو ں کے درمیان عام کردیا ہے اور ایسی پناہ گاہ بنادیا ہے جس کے دامن حفاظت میں پناہ لینے والے پناہ لیتے ہیں اور اسکے جوار میں منزل کرنے کے لئے تیز سے قدم آگے بڑھاتے ہیں لہٰذا اس میں کوئی جعل سازی ' فریب کاری اور مکاری نہ


ولَا تَعْقِدْ عَقْداً تُجَوِّزُ فِيه الْعِلَلَ ولَا تُعَوِّلَنَّ عَلَى لَحْنِ قَوْلٍ بَعْدَ التَّأْكِيدِ والتَّوْثِقَةِ ولَا يَدْعُوَنَّكَ ضِيقُ أَمْرٍ لَزِمَكَ فِيه عَهْدُ اللَّه إِلَى طَلَبِ انْفِسَاخِه بِغَيْرِ الْحَقِّ - فَإِنَّ صَبْرَكَ عَلَى ضِيقِ أَمْرٍ تَرْجُو انْفِرَاجَه وفَضْلَ عَاقِبَتِه خَيْرٌ مِنْ غَدْرٍ تَخَافُ تَبِعَتَه - وأَنْ تُحِيطَ بِكَ مِنَ اللَّه فِيه طِلْبَةٌ - لَا تَسْتَقْبِلُ فِيهَا دُنْيَاكَ ولَا آخِرَتَكَ.

إِيَّاكَ والدِّمَاءَ وسَفْكَهَا بِغَيْرِ حِلِّهَا - فَإِنَّه لَيْسَ شَيْءٌ أَدْعَى لِنِقْمَةٍ ولَا أَعْظَمَ لِتَبِعَةٍ - ولَا أَحْرَى بِزَوَالِ نِعْمَةٍ وانْقِطَاعِ مُدَّةٍ - مِنْ سَفْكِ الدِّمَاءِ بِغَيْرِ حَقِّهَا - واللَّه سُبْحَانَه مُبْتَدِئٌ بِالْحُكْمِ بَيْنَ الْعِبَادِ - فِيمَا تَسَافَكُوا مِنَ الدِّمَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ - فَلَا تُقَوِّيَنَّ سُلْطَانَكَ بِسَفْكِ دَمٍ حَرَامٍ -

ہونی چاہیے اورکوئی ایسا معاہدہ نہ کرنا جس میں تاویل کی ضرورت پڑے اور معاہدہ کے پختہ ہو جانے کے بعد اس کے کسی مبہم لفظ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرنا اور عہد الٰہی میںتنگی کا احساس غیر حق کے ساتھ وسعت کی جستجو پرآمادہ نہ کردے کہ کسی امر کی تنگی پر صبر کرلینا اور کشائش حال اور بہترین عاقبت کا انتظار کرنا اس غداری سے بہتر ہے جس کے اثرات خطرناک ہوں اور تمہیں اللہ کی طرف سے جواب دہی کی مصیبت گھیر لے اور دنیا و آخرت دونوں تباہ ہو جائیں ۔

دیکھو خبردار۔ناحق خون بہانے سے پرہیز کرنا کہ اس سے زیادہ عذاب الٰہی سے قریب تر اور پاداش کے اعتبارسے شدید تر اورنعمتوں کے زوال۔زندگی کے خاتمہ کے لئے مناسب تر کوئی سبب نہیں ہے اور پروردگار روز قیامت اپنے فیصلہ کاآغاز خونریزیوں کے معاملہ سے کرے گا۔لہٰذا خبردار اپنی حکومت کا استحکام(۱) ناحق خون ریزی کے ذریعہ نہ پیدا کرنا کہ یہ بات حکومت کو کمزوراور بے جان بنا دیتی ہے بلکہ تباہ کرکے دوسروں کی طرف منتقل کر دیتی ہے اور تمہارے پاس نہ خدا کے سامنے اور نہ میرے سامنے عمداً قتل کرنے کا کوئی عذرنہیں ہے اور اس میں

(۱) واضح رہے کہ دنیا میں حکومتوں کا قیام تو وراثت ' جمہوریت ' عسکری انقلاب اور ذہانت وفراست تمام اسباب سے ہو سکتا ہے لیکن حکومتوں میں استحکام عوام کی خوشی اور ملک کی خوشحالی کے بغیر ممکن نہیں ہے اور جن افراد نے یہ خیال کیا کہ وہ اپنی حکومتوں کو خونریزی کے ذریعہ مستحکم بنا سکتے ہیں انہوں نے جیتے جی اپنی غلط فہمی کا انجام دیکھ لیا اوہ ہٹلر جیسے شخص کو بھی خود کشی پر آمادہ ہونا پڑا۔اسی لئے کہا گیا ہے کہملک کفر کے ساتھ تو باقی رہ سکتا ہے لیکن ظلم کے ساتھب اقی نہیں رہ سکتا ہے اور انسانیت کاخون بہانے سے بڑا کوئی جرم قابل تصور نہیں ہے لہٰذا اس سے پرہیز ہر صاحب اقتداراور صاحب عقل و ہوش کا فریضہ ہے اور زمانہ کی گردش کے پلٹتے دیر نہیں لگتی ہے ۔


فَإِنَّ ذَلِكَ مِمَّا يُضْعِفُه ويُوهِنُه بَلْ يُزِيلُه ويَنْقُلُه - ولَا عُذْرَ لَكَ عِنْدَ اللَّه ولَا عِنْدِي فِي قَتْلِ الْعَمْدِ - لأَنَّ فِيه قَوَدَ الْبَدَنِ - وإِنِ ابْتُلِيتَ بِخَطَإٍ - وأَفْرَطَ عَلَيْكَ سَوْطُكَ أَوْ سَيْفُكَ أَوْ يَدُكَ بِالْعُقُوبَةِ - فَإِنَّ فِي الْوَكْزَةِ فَمَا فَوْقَهَا مَقْتَلَةً - فَلَا تَطْمَحَنَّ بِكَ نَخْوَةُ سُلْطَانِكَ - عَنْ أَنْ تُؤَدِّيَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْمَقْتُولِ حَقَّهُمْ.

وإِيَّاكَ والإِعْجَابَ بِنَفْسِكَ - والثِّقَةَ بِمَا يُعْجِبُكَ مِنْهَا وحُبَّ الإِطْرَاءِ - فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ أَوْثَقِ فُرَصِ الشَّيْطَانِ فِي نَفْسِه - لِيَمْحَقَ مَا يَكُونُ مِنْ إِحْسَانِ الْمُحْسِنِينَ.

وإِيَّاكَ والْمَنَّ عَلَى رَعِيَّتِكَ بِإِحْسَانِكَ - أَوِ التَّزَيُّدَ فِيمَا كَانَ مِنْ فِعْلِكَ - أَوْ أَنْ تَعِدَهُمْ فَتُتْبِعَ مَوْعِدَكَ بِخُلْفِكَ - فَإِنَّ الْمَنَّ يُبْطِلُ الإِحْسَانَ والتَّزَيُّدَ يَذْهَبُ بِنُورِ الْحَقِّ - والْخُلْفَ يُوجِبُ الْمَقْتَ عِنْدَ اللَّه والنَّاسِ - قَالَ اللَّه تَعَالَى -( كَبُرَ مَقْتاً عِنْدَ الله أَنْ تَقُولُوا ما لا تَفْعَلُونَ ) .

وإِيَّاكَ والْعَجَلَةَ بِالأُمُورِ قَبْلَ أَوَانِهَا - أَوِ التَّسَقُّطَ فِيهَا عِنْدَ إِمْكَانِهَا - أَوِ اللَّجَاجَةَ فِيهَا إِذَا تَنَكَّرَتْ - أَوِ الْوَهْنَ عَنْهَا إِذَا اسْتَوْضَحَتْ - فَضَعْ كُلَّ أَمْرٍ مَوْضِعَه

زندگی کا قصاص بھی ثابت ہے۔البتہ اگر دھوکہ سے اس غلطی میں مبتلا ہو جائو اور تمہارا تازیانہ ' تلوار یا ہاتھ سزا دینے میں اپنی حد سے آگے بڑھ جائے کہ کبھی کبھی گھونسہ وغیرہ بھی قتل کا سبب بن جاتا ہے۔تو خبر دار تمہیں سلطنت کاغرور اتنا اونچا نہ بنادے کہ تم خون کے وارثوں کو ان کا حق خون بہا بھی ادا نہ کرو۔

اور دیکھو اپنے نفس کو خود پسندی سے بھی محفوظ رکھنا اور اپنی پسند پر بھروسہ بھی نہ کرنا اور زیادہ تعریف کا شوق بھی نہ پیداہوجائے کہ یہ سب باتیں شیطان کی فرصت کے بہترین وسائل ہیں جن کے ذریعہ وہ نیک کرداروں کے عمل کو ضائع اور برباد کردیا کرتا ہے۔

اور خبردار رعایا پراحسان بھی نہ جتانا اور جو سلوک کیا ہے اسے زیادہ سمجھنے کی کوشش بھی نہ کرنا یا ان سے کوئی وعدہ کرکے اس کے بعد وعدہ خلافی بھی نہ کرنا کہ یہ طرز عمل احسان کو برباد کر دیتا ہے اور زیادتی عمل کاغرور حق کی نورانیت کو فنا کردیتا ہے اور وعدہ خلافی خدا اوربندگان خدا دونوں کینزدیک ناراضگی کاباعث ہوت یہ جیسا کہ اس نے ارشادفرمایا ہے کہ '' اللہ کے نزدیک یہ بڑی ناراضگی کی بات ہے کہ تم کوئی بات کہو اور پھراس کے مطابق عمل نہ کرو ''

اورخبردار وقت سے پہلے کاموں میں جلدی نہ کرنا اور وقت آجانے کے بعد سستی کا مظاہرہ نہ کرنا اور بات سمجھ میں نہ آئے تو جھگڑا نہ کرنا اورواضح ہو جائے تو کمزوری کا اظہار نہ کرنا۔ہربات کو اس کی جگہ رکھواور


وأَوْقِعْ كُلَّ أَمْرٍ مَوْقِعَه.

وإِيَّاكَ والِاسْتِئْثَارَ بِمَا النَّاسُ فِيه أُسْوَةٌ - والتَّغَابِيَ عَمَّا تُعْنَى بِه مِمَّا قَدْ وَضَحَ لِلْعُيُونِ - فَإِنَّه مَأْخُوذٌ مِنْكَ لِغَيْرِكَ - وعَمَّا قَلِيلٍ تَنْكَشِفُ عَنْكَ أَغْطِيَةُ الأُمُورِ - ويُنْتَصَفُ مِنْكَ لِلْمَظْلُومِ - امْلِكْ حَمِيَّةَ أَنْفِكَ وسَوْرَةَ حَدِّكَ - وسَطْوَةَ يَدِكَ وغَرْبَ لِسَانِكَ - واحْتَرِسْ مِنْ كُلِّ ذَلِكَ بِكَفِّ الْبَادِرَةِ وتَأْخِيرِ السَّطْوَةِ - حَتَّى يَسْكُنَ غَضَبُكَ فَتَمْلِكَ الِاخْتِيَارَ - ولَنْ تَحْكُمَ ذَلِكَ مِنْ نَفْسِكَ - حَتَّى تُكْثِرَ هُمُومَكَ بِذِكْرِ الْمَعَادِ إِلَى رَبِّكَ والْوَاجِبُ عَلَيْكَ أَنْ تَتَذَكَّرَ مَا مَضَى لِمَنْ تَقَدَّمَكَ - مِنْ حُكُومَةٍ عَادِلَةٍ أَوْ سُنَّةٍ فَاضِلَةٍ - أَوْ أَثَرٍ عَنْ نَبِيِّنَاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم أَوْ فَرِيضَةٍ فِي كِتَابِ اللَّه - فَتَقْتَدِيَ بِمَا شَاهَدْتَ مِمَّا عَمِلْنَا بِه فِيهَا - وتَجْتَهِدَ لِنَفْسِكَ فِي اتِّبَاعِ مَا عَهِدْتُ إِلَيْكَ فِي عَهْدِي هَذَا - واسْتَوْثَقْتُ بِه مِنَ الْحُجَّةِ لِنَفْسِي عَلَيْكَ - لِكَيْلَا تَكُونَ لَكَ عِلَّةٌ عِنْدَ تَسَرُّعِ نَفْسِكَ إِلَى هَوَاهَا: وأَنَا أَسْأَلُ

ہر امر کواس کے محل پر قرار دو۔

دیکھو جس چیز میںتمام لوگ برابر کے شریک ہیں اسے اپنے ساتھ مخصوص نہ کرلینا اورجوحق نگاہوں کے سامنے واضح ہوجائے اس سے غفلت نہ برتنا کہ دوسروں کے لئے یہی تمہاری ذمہ داری ہے اورعنقریب تمام امورسے پردے اٹھ جائیں گے اورتم سے مظلوم کاب دلہ لے لیا جائے گا۔اپے غضب کی تیزی 'اپنی سر کشی کے جوش ' اپنے ہاتھ کی جنبش اور اپنی زبان کی کاٹ پر قابو رکھنا اور ان تمام چیزوں سے اپنے کو اس طرح محفوظ رکھنا کہ جلدبازی سے کام نہ لینا اور سزا دینے میں جلدی نہ کرنا یہاں تک کہ غصہ ٹھہر جائے اور اپنے اوپر قابو حاصل ہو جائے۔اوراس امرپ ربھی اختیار اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا ہے جب تک پروردگار کی بارگاہ میں واپسی کا خیال زیادہ سے زیادہ نہ ہوجائے ۔

تمہارا فریضہ ہے کہ ماضی میں گزر جانے والی عادلانہ حکومت اور فاضلانہ سیرت کو یاد رکھو' رسول اکرم(ص) کے آثار اور کتاب خدا کے احکام کو نگاہ میں رکھواور جس طرح ہمیں عمل کرتے دیکھا ہے اسی طرح ہمارے نقش قدم پر چلو اور جو کچھ اس عہد نامہ میں ہم نے بتایا ہے اس پرعمل کرنے کی کوشش کرو کہ میں تمہارے اوپر اپنی حجت کو مستحکم کردیا ہے تاکہ جب تمہارا نفس خواہشات کی طرف تیزی سے بڑھے تو تمہارے پاس کوء یعذرنہ رہے۔ور میں پروردگار کی وسیع رحمت اور ہر مقصد کے عطا کرنے کی عظیم قدرت کے وسیلہ سے یہ سوال


اللَّه بِسَعَةِ رَحْمَتِه - وعَظِيمِ قُدْرَتِه عَلَى إِعْطَاءِ كُلِّ رَغْبَةٍ - أَنْ يُوَفِّقَنِي وإِيَّاكَ لِمَا فِيه رِضَاه - مِنَ الإِقَامَةِ عَلَى الْعُذْرِ الْوَاضِحِ إِلَيْه وإِلَى خَلْقِه - مَعَ حُسْنِ الثَّنَاءِ فِي الْعِبَادِ وجَمِيلِ الأَثَرِ فِي الْبِلَادِ - وتَمَامِ النِّعْمَةِ وتَضْعِيفِ الْكَرَامَةِ - وأَنْ يَخْتِمَ لِي ولَكَ بِالسَّعَادَةِ والشَّهَادَةِ -( إِنَّا إِلَيْه راجِعُونَ ) - والسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّه -صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ وسَلَّمَ تَسْلِيماً كَثِيراً والسَّلَامُ

(۵۴)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى طلحة والزبير (مع عمران بن الحصين الخزاعي) ذكره أبو جعفر الإسكافي في كتاب المقامات في مناقب أمير المؤمنينعليه‌السلام

أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ عَلِمْتُمَا وإِنْ كَتَمْتُمَا - أَنِّي لَمْ أُرِدِ النَّاسَ حَتَّى أَرَادُونِي - ولَمْ أُبَايِعْهُمْ حَتَّى بَايَعُونِي - وإِنَّكُمَا مِمَّنْ أَرَادَنِي وبَايَعَنِي -

کرتا ہوں کہ مجھے اور تمہیںان کاموں کی توفیق دے جن می اس کی مرضی ہو اور ہم دونوں اس کی بارگاہ میں اوربندوں کے سامنے عذر پیش کرنے کے قابل ہو جائیں۔بندوں کی بہترین تعریف کے حقدار ہوں اور علاقوں میں بہترین آثار چھو ڑ کرجائیں۔نعمت کی فراوانی اور عزت کے روز افزوں اضافہ کوبرقرار رکھ سکیں اور ہم دونوں کا خاتمہ سعادت اور شہادت پر ہو کہ ہم سب اللہ کے لئے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں پلٹ کرجانے والے ہیں۔سلام ہو رسول خدا (ص) پر اور ان کی طیب وطاہر آل پر اور سب پر سلام بے حساب۔والسلام

(۵۴)

آپ کا مکتوب گرامی

(طلحہ و زبیر کے نام جسے عمران بن الحصین الخزاعی کے ذریعہ بھیجا تھا اور جس کا ذکر ابو جعفر اسکافی ۱نے کتاب المقامات میں کیا ہے )

امابعد! اگرچہ تم دونوں چھپا رہے ہو لیکن تمہیں بہر حال معلوم ہے کہ میں نے خلافت کی خواہش نہیں کی۔لوگوں نے مجھ سے خواہش کی ہے اور میں نے بیعت کے لئے اقدام نہیں کیا ہے جب تک انہوں نے بیعت کرنے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا ہے۔تم دونوں بھی انہیں افراد میں شامل ہو جنہوں نے مجھے چاہا تھا اورمیری بیعت کی تھی

(۱)ابو جعفر اس کافی معتزلہ کے شیوخ میں شمار ہوتے تھے اور ان کے ستر ۷۰ تصنیفات تھیں جن میں ایک '' کتاب المقامات'' بھی تھی ۔اسی کتاب میں امیر المومنین کے اس مکتوب گرامی کا تذکرہ کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ حضرت نے اسے عمران کے ذریعہ بھیجا تھا جوفقہا صحابہ میں شمار ہوتیت ھے اورجنگ خیبر کے سال اسلام لائے تھے اور عہد معاویہ میں انتقال کیا تھا۔اسکافی جاحظ کے معاصروں میں تھے اور انہیں اسکاف کی نسبت سے اسکافی کہاجاتا ہے جونہروان اوربصرہ کے درمیان ایک شہر ہے۔


وإِنَّ الْعَامَّةَ لَمْ تُبَايِعْنِي لِسُلْطَانٍ غَالِبٍ ولَا لِعَرَضٍ حَاضِرٍ – فَإِنْ كُنْتُمَا بَايَعْتُمَانِي طَائِعَيْنِ - فَارْجِعَا وتُوبَا إِلَى اللَّه مِنْ قَرِيبٍ - وإِنْ كُنْتُمَا بَايَعْتُمَانِي كَارِهَيْنِ - فَقَدْ جَعَلْتُمَا لِي عَلَيْكُمَا السَّبِيلَ بِإِظْهَارِكُمَا الطَّاعَةَ - وإِسْرَارِكُمَا الْمَعْصِيَةَ - ولَعَمْرِي مَا كُنْتُمَا بِأَحَقِّ الْمُهَاجِرِينَ - بِالتَّقِيَّةِ والْكِتْمَانِ - وإِنَّ دَفْعَكُمَا هَذَا الأَمْرَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَدْخُلَا فِيه - كَانَ أَوْسَعَ عَلَيْكُمَا مِنْ خُرُوجِكُمَا مِنْه - بَعْدَ إِقْرَارِكُمَا بِه.

وقَدْ زَعَمْتُمَا أَنِّي قَتَلْتُ عُثْمَانَ - فَبَيْنِي وبَيْنَكُمَا مَنْ تَخَلَّفَ عَنِّي وعَنْكُمَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ - ثُمَّ يُلْزَمُ كُلُّ امْرِئٍ بِقَدْرِ مَا احْتَمَلَ - فَارْجِعَا أَيُّهَا الشَّيْخَانِ عَنْ رَأْيِكُمَا - فَإِنَّ الآنَ أَعْظَمَ أَمْرِكُمَا الْعَارُ - مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَجَمَّعَ الْعَارُ والنَّارُ - والسَّلَامُ.

اورعام لوگوں نے بھی میری بیعت نہ کسی سلطنت کے رعب داب سے کی ہے اور نہ کی مال دنیا کی لالچ میں کی ہے۔پس اگر تم دونوں نے میر ی بیعت اپنی خوشی سے کی تھی تو اب خدا کی طرف رجوع کرو اور فوراً توبہ کرلو۔اور اگرمجبوراً کی تھی تو تم نے اپنے اوپر میرا حق ثابت کردیا کہ تم نے اطاعت کا اظہار کیا تھا اورناف رمانی کودل میں چھپا کر رکھا تھا۔اورمیری جان کی قسم تم دونوں اس راز داری اوردل کی باتوں کے چھپانے میں مہاجرین سیزیادہ سزا وار نہیں تھے اور تمہارے لئے بعت سے نکلنے اور اس کے اقرار کے بعد انکار کردینے سے زیادہ آسان روز اول ہی اس کا انکار کردیناتھا۔تم لوگوں کا ایک خیال یہ بھی ہے کہ میں نے عثمان کوقتل کیا ہے تو میرے اور تمہارے درمیان وہ اہل مدینہ موجود ہیں جنہوں نے ہم دونوں سے علیحدگی اختیار کرلی ہے۔اس کے بعد ہرشخص اسی کاذمہدار ہے جو اس نے ذمہداری قبول کی ہے۔ بزرگوارو! موقع غنیمت ہے اپنی رائے سے بازآجائو کہ آج تو صرف ننگ وعارکاخطرہ ہے لیکن اس کے بعد عارونار دونوں جمع ہو جائیں گے۔والسلام۔


(۵۵)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى معاوية

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه قَدْ جَعَلَ الدُّنْيَا لِمَا بَعْدَهَا - وابْتَلَى فِيهَا أَهْلَهَا لِيَعْلَمَ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا - ولَسْنَا لِلدُّنْيَا خُلِقْنَا ولَا بِالسَّعْيِ فِيهَا أُمِرْنَا - وإِنَّمَا وُضِعْنَا فِيهَا لِنُبْتَلَي بِهَا - وقَدِ ابْتَلَانِي اللَّه بِكَ وابْتَلَاكَ بِي - فَجَعَلَ أَحَدَنَا حُجَّةً عَلَى الآخَرِ - فَعَدَوْتَ عَلَى الدُّنْيَا بِتَأْوِيلِ الْقُرْآنِ - فَطَلَبْتَنِي بِمَا لَمْ تَجْنِ يَدِي ولَا لِسَانِي - وعَصَيْتَه أَنْتَ وأَهْلُ الشَّامِ بِي - وأَلَّبَ عَالِمُكُمْ جَاهِلَكُمْ وقَائِمُكُمْ قَاعِدَكُمْ؛ فَاتَّقِ اللَّه فِي نَفْسِكَ ونَازِعِ الشَّيْطَانَ قِيَادَكَ - واصْرِفْ إِلَى الآخِرَةِ وَجْهَكَ - فَهِيَ طَرِيقُنَا وطَرِيقُكَ - واحْذَرْ أَنْ يُصِيبَكَ اللَّه مِنْه بِعَاجِلِ قَارِعَةٍ - تَمَسُّ الأَصْلَ وتَقْطَعُ الدَّابِرَ - فَإِنِّي أُولِي لَكَ بِاللَّه أَلِيَّةً غَيْرَ فَاجِرَةٍ - لَئِنْ جَمَعَتْنِي وإِيَّاكَ جَوَامِعُ الأَقْدَارِ لَا أَزَالُ بِبَاحَتِكَ -

(۵۵)

آپ کامکتوب گرامی

(معاویہ کے نام)

اما بعد!خدائے بزرگ وبرتر نے دنیا کو آخرت کا مقدمہ قراردیا ہے اوراسے آزمائش کاذریعہ بنایا ہے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ بہترین عمل کرنے والا کون ہے۔ہم نہ اس دنیاکے لئے پیداکئے گئے ہیں اور نہ ہمیں اس کے لئے دوڑ دھوپ کا حکم دیا گیا ہے۔ہم یہاں فقط اس لئے رکھے گئے ہیں کہ ہمارا امتحان لیاجائے اوراللہ نے تمہارے ذریعہ ہمارا ' اور ہماریذریعہ تمہارا امتحان لے لیا ہے اورایک کو دوسرے پرحجت قرا دے دیا ہے لیکن تم نے تاویل قرآن کاسہارا لے کردنیا پردھاوا بول دیا اور مجھ سے ایسے جرم کا محاسبہ کردیا جس کا نہ میرے ہاتھ سے کوئی تعلق تھا اورنہ زبان سے۔صرف اہل شام نے میرے سرڈال دیا تھا اور تمہارے جاننے والوں نے جاہلوں کو اور قیام کرنے والوں نے خانہ نشینوںکو اکسا دیا تھا لہٰذا اب بھی غنیمت ہے کہ اپنے نفس کے بارے میں اللہ سے ڈرو اور شیطان سے اپنی زمام چھڑالو اورآخرت کی طرف رخ کرلو کہ وہی ہماری اورتمہاریآخری منزل ہے۔اس وقت سے ڈرو کہ اس دنیا میں پروردگار کوئی ایسی مصیبت نازل کردے کہ اصل بھی ختم ہو جائے اورنسل کابھی خاتمہ ہو جائے۔میں پروردگار کی ایسی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے غلط ہونے کا امکان نہیں ہے کہ اگرمقدر نے مجھے اور تمہیں ایک میدان میں جمع کردیا تو میں اس وقت تک میدان نہ


( حَتَّى يَحْكُمَ الله بَيْنَنا وهُوَ خَيْرُ الْحاكِمِينَ ) .

(۵۶)

ومن وصية لهعليه‌السلام

وصى بها شريح بن هانئ - لما جعله على مقدمته إلى الشام

اتَّقِ اللَّه فِي كُلِّ صَبَاحٍ ومَسَاءٍ - وخَفْ عَلَى نَفْسِكَ الدُّنْيَا الْغَرُورَ - ولَا تَأْمَنْهَا عَلَى حَالٍ - واعْلَمْ أَنَّكَ إِنْ لَمْ تَرْدَعْ نَفْسَكَ عَنْ كَثِيرٍ مِمَّا تُحِبُّ - مَخَافَةَ مَكْرُوه - سَمَتْ بِكَ الأَهْوَاءُ إِلَى كَثِيرٍ مِنَ الضَّرَرِ - فَكُنْ لِنَفْسِكَ مَانِعاً رَادِعاً - ولِنَزْوَتِكَ عِنْدَ الْحَفِيظَةِ وَاقِماً قَامِعاً

(۵۷)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى أهل الكوفة - عند مسيره من المدينة إلى البصرة

أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي خَرَجْتُ مِنْ حَيِّي هَذَا - إِمَّا ظَالِماً وإِمَّا مَظْلُوماً وإِمَّا بَاغِياً وإِمَّا مَبْغِيّاً عَلَيْه - وإِنِّي أُذَكِّرُ اللَّه مَنْ بَلَغَه كِتَابِي هَذَا لَمَّا نَفَرَ إِلَيَّ - فَإِنْ كُنْتُ مُحْسِناً أَعَانَنِي -.

چھوڑوں گا جب تک میرے اور تمہارے دمیان فیصلہ نہ ہوجائے ۔

(۵۶)

آپ کی وصیت

(جو شریح ۱بن ہانی کو اس وقت فرمائی جب انہیں شام جانے والے ہر اول دستہ کا سردار مقرر فرمایا)

صبح و شاماللہ سے ڈرتے رہو اوراپنے نفس کو اس دھوکہ باز دنیا سے بچائے رہو اور اس پر کسی حال میں اعتبارنہ کرنااور یہ یاد رکھنا کہ اگر تم نے کسی ناگواری کے خوف سے اپنے نفس کوب ہت سی پسندیدہ چیزوں سے نہ روکا۔تو خواہشات تم کوب ہت سے نقصان وہ امور تک پہنچادیں گی لہٰذا ہمیشہ اپنے نفس کو روکتے ٹوکتے رہو اورغصہ میں اپنے غیظ و غضب کو دباتے اورکچلتے رہو۔

(۵۷)

آپ کا مکتوب گرامی

(اہل کوفہ کےنام۔مدینہ سے بصرہ روانہ ہوتے وقت)

امابعد! میں اپنے قبیلہ سے نکل رہا ہوں یا ظلم کی حیثیت سے یا مظلوم کی حیثیت سے۔یامیں نے بغاوت کی ہے یا میرے خلاف بغاوت ہوئی ہے۔میں تمہیں خدا کاواسطہ دے کر کہتا ہوں کہ جہاں تک میرا یہ خط پہنچ جائے تم سب نکل کرآجائو۔اس کے بعد مجھے نیکی پرپائو تومیری امداد کرو

(۱)یہ امیرالمومنین کے جلیل الدقر صحابی تھے ۔ابو مقداد کنیت تھی اور آپ کے ساتھ تمام معرکوں میں شریک رہے۔یہاں تک کہ حجاج کے زمانہ میں سجستان میں شہید ہوئے۔حضرت نے انہیں شام جانے والے ہر اول دستہ کا امیر مقرر کیا تو مذکورہ ہدایات سے سرفراز فرمایا تاکہ کوئی شخص اسلامی پابندی سے آزادی کا تصورنہ کرسکے ۔


وإِنْ كُنْتُ مُسِيئاً اسْتَعْتَبَنِي

(۵۸)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

كتبه إلى أهل الأمصار - يقص فيه ما جرى بينه وبين أهل صفين

وكَانَ بَدْءُ أَمْرِنَا أَنَّا الْتَقَيْنَا والْقَوْمُ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ - والظَّاهِرُ أَنَّ رَبَّنَا وَاحِدٌ ونَبِيَّنَا وَاحِدٌ - ودَعْوَتَنَا فِي الإِسْلَامِ وَاحِدَةٌ - ولَا نَسْتَزِيدُهُمْ فِي الإِيمَانِ بِاللَّه والتَّصْدِيقِ بِرَسُولِه - ولَا يَسْتَزِيدُونَنَا - الأَمْرُ وَاحِدٌ إِلَّا مَا اخْتَلَفْنَا فِيه مِنْ دَمِ عُثْمَانَ - ونَحْنُ مِنْه بَرَاءٌ - فَقُلْنَا تَعَالَوْا نُدَاوِ مَا لَا يُدْرَكُ الْيَوْمَ - بِإِطْفَاءِ النَّائِرَةِ وتَسْكِينِ الْعَامَّةِ - حَتَّى يَشْتَدَّ الأَمْرُ ويَسْتَجْمِعَ - فَنَقْوَى عَلَى وَضْعِ الْحَقِّ مَوَاضِعَه - فَقَالُوا بَلْ نُدَاوِيه بِالْمُكَابَرَةِ - فَأَبَوْا حَتَّى جَنَحَتِ الْحَرْبُ ورَكَدَتْ - ووَقَدَتْ نِيرَانُهَا وحَمِشَتْ -

اورغلطی پر دیکھو تو مجھے رضا کے راستہ پر لگا دو(۶۳) ۔

(۵۸)

آپ کامکتوب گرامی

(تمام شہروں کے نام۔جس میں صفین کی حقیقت کااظہار کیا گیا ہے )

ہمارے معاملہ کی ابتدا یہ ہے کہ ہم شام کے لشکر کے ساتھ ایک میدان میں جمع ہوئے جب بظاہر(۱) دونو ں کاخدا ایک تھا۔رسول ایک تھا۔پیغام ایک تھا۔نہ ہم اپنے ایمان و تصدیق میں اضافہ کے طلب گار تھے ۔نہ وہ اپنے ایمان کوبڑھانا چاہتے تھے۔معاملہ بالکل ایک تھا صرف اختلاف خون عثمان کے بارے میں تھا جس سے ہم بالکل بری تھے اورہم نے یہ حل پیش کیا کہ جو مقصد آج نہیں حاصل ہوسکتا ہے ' اس کاوقتی علاج یہ کیا جائے ہ آتش جنگ کو خاموش کردیاجائے اور لوگوں کے جذبات کوپرسکون بنادیا جائے۔اس کے بعد جب حکومت کو استحکام ہوجائے گا اورحالات ساز گار ہوجائیںگے تو ہم حق کو اس کی منزل تک لانے کی طاقت پیدا کرلیں گے۔لیکن قوم کا اصرار(۲) تھا۔کہ اس کا علاج صرف جنگ و جدال ہے۔جس کانتیجہ یہ ہواکہ جنگ نے اپنے پائوںپھیلادئیے اورجم کر کھڑی ہوگئی۔شعلے بھڑک اٹھے اورٹھہرگئے اور قوم نے دیکھاکہ

(۱)یہ اس امرکی طرف اشارہ ہے کہ حضرت نے معاویہ اور اس کے ساتھیوں کے اسلام و ایمان کا اقرارنہیں کیا ہے بلکہ صورت حال کا تذکرہ کیا ہے۔

(۲)حقیقت امری ہ ہے کہ معاویہ کوخون عثمان سے کوئی دلچسپی نہیںتھی۔وہ شام کی حکومت اور عالم اسلام کی خلافت کا طماع تھا لہٰذا کوئی سنجیدہ گفتگو قبول نہیں کر سکتا تھا۔حضرت نے بھی اتمام حجت کا حقادا کردیا اور اس کے بعد میدان جہاد میں قدم جمادئیے تاکہ دنیا پرواضح ہو جائے کہ جہاد راہ خدا فرزند ابو طالب کا کام ہے۔ابو سفیان کے بیٹے کانہیں ہے۔


فَلَمَّا ضَرَّسَتْنَا وإِيَّاهُمْ - ووَضَعَتْ مَخَالِبَهَا فِينَا وفِيهِمْ - أَجَابُوا عِنْدَ ذَلِكَ إِلَى الَّذِي دَعَوْنَاهُمْ إِلَيْه - فَأَجَبْنَاهُمْ إِلَى مَا دَعَوْا وسَارَعْنَاهُمْ إِلَى مَا طَلَبُوا - حَتَّى اسْتَبَانَتْ عَلَيْهِمُ الْحُجَّةُ - وانْقَطَعَتْ مِنْهُمُ الْمَعْذِرَةُ - فَمَنْ تَمَّ عَلَى ذَلِكَ مِنْهُمْ - فَهُوَ الَّذِي أَنْقَذَه اللَّه مِنَ الْهَلَكَةِ - ومَنْ لَجَّ وتَمَادَى فَهُوَ الرَّاكِسُ - الَّذِي رَانَ اللَّه عَلَى قَلْبِه - وصَارَتْ دَائِرَةُ السَّوْءِ عَلَى رَأْسِه

جنگ نے دونوں کودانت کاٹنا شروع کردیا اور فریقین میں اپنے پنجے گاڑ دئیے ہیں تو وہ میری بات ماننے پرآمادہ ہوگئے اورمیں نے بھی ان کیبات کو مان لیا اورتیزی سے بڑھ کران کے مطالبہ صلح کو قبول کرلیا یہاں تک کہ ان پرحجت واضح ہوگئی اور ہر طرح کا عذر ختم ہوگیا۔اب اس کے بعد کوئی اس حق پر قائم رہ گیا توگویا اپنے نفس کو ہلاکت سے نکال لیا ورنہ اس گمراہی میں پڑا رہ گیا تو ایسا عہد شکن ہوگا جس کے دل پر اللہ نے مہر لگادی ہے اور زمانہ کے حوادث اس کے سر پر منڈلا رہے ہیں۔


(۵۹)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى الأسود بن قطبة صاحب جند حلوان

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الْوَالِيَ إِذَا اخْتَلَفَ هَوَاه - مَنَعَه ذَلِكَ كَثِيراً مِنَ الْعَدْلِ - فَلْيَكُنْ أَمْرُ النَّاسِ عِنْدَكَ فِي الْحَقِّ سَوَاءً - فَإِنَّه لَيْسَ فِي الْجَوْرِ عِوَضٌ مِنَ الْعَدْلِ - فَاجْتَنِبْ مَا تُنْكِرُ أَمْثَالَه - وابْتَذِلْ نَفْسَكَ فِيمَا افْتَرَضَ اللَّه عَلَيْكَ - رَاجِياً ثَوَابَه ومُتَخَوِّفاً عِقَابَه.

واعْلَمْ أَنَّ الدُّنْيَا دَارُ بَلِيَّةٍ - لَمْ يَفْرُغْ صَاحِبُهَا فِيهَا قَطُّ سَاعَةً - إِلَّا كَانَتْ فَرْغَتُه عَلَيْه حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ - وأَنَّه لَنْ يُغْنِيَكَ عَنِ الْحَقِّ شَيْءٌ أَبَداً - ومِنَ الْحَقِّ عَلَيْكَ حِفْظُ نَفْسِكَ - والِاحْتِسَابُ عَلَى الرَّعِيَّةِ بِجُهْدِكَ - فَإِنَّ الَّذِي يَصِلُ إِلَيْكَ مِنْ ذَلِكَ - أَفْضَلُ مِنَ الَّذِي يَصِلُ بِكَ والسَّلَامُ.

(۶۰)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى العمال الذين يطأ الجيش عملهم

مِنْ عَبْدِ اللَّه عَلِيٍّ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ

(۵۹)

آپ کامکتوب گرامی

(اسود بن قطبہ والی حلوان کے نام)

اما بعد! دیکھواگر والی کے خواہشات مختلف قسم کے ہوں گے تویہ بات اسے اکثر اوقات انصاف سے روک دے گی لیکن تمہاری نگاہ میں تمام افراد کے معاملات کو ایک جیسا ہونا چاہیے کہ ظلم کبھی عدل کابدل نہیں ہوسکتا ہے۔ جس چیز کودوسروں کے لئے برا سمجھتے ہو اس سے خودبھی اجتناب کرو اور اپنے نفس کو ان کاموں میں لگادو جنہیں خدانے تم پرواجب کیا ہے اوراس کے ثواب کیامید رکھواورعذاب سے ڈرتے رہو۔ اوریاد رکھو کہ دنیا دار آزمائش ہے یہاں انسان کی ایک گھڑی بھی خالی نہیں جاتی ہے مگر یہ کہ یہ بیکاری روز قیامت حسرت کا سبب بن جاتی ہے اورتم کو کوئی شے حق سے بے نیاز نہیں بنا سکتی ہے اور تمہارے اوپر سب سے بڑا حق یہ ہے کہ اپنے نفس کومحفوظ رکھو اوراپنے ا مکان بھر رعایاکا احتساب کرتے رہوکہ اس طرح جوفائدہ تمہیں پہنچے گا وہ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہوگا جوفائدہ لوگوں کوتم سے پہنچے گا۔والسلام۔

(۶۰)

آپ کا مکتوب گرامی

(ان اعمال کے نام جن کا علقہ فوج کے راستہ میں پڑتا تھا)

بندۂ خدا امیر المومنین علی کی طرف سے ان


إِلَى مَنْ مَرَّ بِه الْجَيْشُ - مِنْ جُبَاةِ الْخَرَاجِ وعُمَّالِ الْبِلَادِ.

أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي قَدْ سَيَّرْتُ جُنُوداً - هِيَ مَارَّةٌ بِكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّه - وقَدْ أَوْصَيْتُهُمْ بِمَا يَجِبُ لِلَّه عَلَيْهِمْ - مِنْ كَفِّ الأَذَى وصَرْفِ الشَّذَا - وأَنَا أَبْرَأُ إِلَيْكُمْ وإِلَى ذِمَّتِكُمْ مِنْ مَعَرَّةِ الْجَيْشِ - إِلَّا مِنْ جَوْعَةِ الْمُضْطَرِّ لَا يَجِدُ عَنْهَا مَذْهَباً إِلَى شِبَعِه - فَنَكِّلُوا مَنْ تَنَاوَلَ مِنْهُمْ شَيْئاً ظُلْماً عَنْ ظُلْمِهِمْ - وكُفُّوا أَيْدِيَ سُفَهَائِكُمْ عَنْ مُضَارَّتِهِمْ - والتَّعَرُّضِ لَهُمْ فِيمَا اسْتَثْنَيْنَاه مِنْهُمْ - وأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِ الْجَيْشِ - فَارْفَعُوا إِلَيَّ مَظَالِمَكُمْ - ومَا عَرَاكُمْ مِمَّا يَغْلِبُكُمْ مِنْ أَمْرِهِمْ - ومَا لَا تُطِيقُونَ دَفْعَه إِلَّا بِاللَّه وبِي فَأَنَا أُغَيِّرُه بِمَعُونَةِ اللَّه إِنْ شَاءَ اللَّه.

خراج جمع کرنے والوں اور علاقوں کے والیوں کے نام جن کے علاوہ سے لشکروں کا گزر ہوتا ہے۔

امابعد میں نے کچھ فوجیں روانہ کی ہیںجو عنقریب تمہارے علاقہ سے گزرنے والی ہیں اورمیں نے انہیں ان تمام باتوں کی نصیحت کردی ہے جوان پرواجب ہیں کہ کی کواذیت نہ دیں اور تکلیف کودور رکھیں اورمیںتمہیں اورتمہارے اہل ذمہ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ فوج والے کوئی دست درازی کریں گے تو میں ان سے بیزار رہوں گا مگر یہ کوی شخص(۱) بھوک سے مضطر ہو اور اس کے پاس پیٹ بھرنے کا کوئی راستہ نہ ہو۔اس کے علاوہ کوئی ظالمانہ انداز سے ہاتھ لگائے تواس کو سزا دینا تمہارا فرض ہے۔لیکن اپنے سرپھروں کو سمجھا دینا کہ جن حالات کو میں نے مشتنیٰ قراردیا ہے ان میں کوئی شخص کسی چیز کو ہاتھ لگانا چاہے تو اس سے مقابلہ نہ کریں اورٹوکیں نہیں۔پھراس کے بعد میں لشکرکے اندر موجود ہوں اپنے اوپر ہونے والی زیادتیوں اور سختیوں کی فریاد مجھ سے کرو اگرتم دفع کرنے کے قابل نہیں ہو جب تک اللہ کی مدد اورمیری امداد شامل نہ ہو۔میں انشاء اللہ اللہ کی مدد سے حالات کوبدل دوںگا۔

(۱)اس خط میں حضرت نے دو طرح کے مسائل کاتذکرہ فرمایا ہے۔ایک کا تعلق لشکر سے ہے اوردوسرے کا اس علاقہ سے جہاں سے لشکر گزرنے والا ہے لشکروالوں کو توجہ دلائی ہے کہ خبردار رعایا پر کسی طرح کا ظلم نہ ہونے پائے کہ تمہارا کام ظلم و جور کا مقابلہ کرنا ہے۔ظلم کرنا نہیں ہے اورراستہ کے عوام کو متوجہ کیاہے کہ اگر لشکر میںکوئی شخص بربنائے اضطرار کسی چیز کو استعمال کرلے تو خبرداراسے منع نہ کرنا کہ یہ اس کا شرعی حق ہے اور اسلام میں کسی شخص کو اس کے حق سے محروم نہیںکیا جا سکتا ہے۔اس کے بعد لشکرکی ذمہداری ہے کہ اگر کوئی مسئلہ پیش آجائے تو میری طرف رجوع کرے اور عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے مسائل کی فریاد میرے پاس پیش کریں اورس ارے معاملات کو خود طے کرنے کی کوشش نہ کریں ۔


(۶۱)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى كميل بن زياد النخعي وهو عامله على هيت، ينكر عليه تركه دفع من يجتاز به من جيش العدو طالبا الغارة.

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ تَضْيِيعَ الْمَرْءِ مَا وُلِّيَ وتَكَلُّفَه مَا كُفِيَ - لَعَجْزٌ حَاضِرٌ ورَأْيٌ مُتَبَّرٌ - وإِنَّ تَعَاطِيَكَ الْغَارَةَ عَلَى أَهْلِ قِرْقِيسِيَا - وتَعْطِيلَكَ مَسَالِحَكَ الَّتِي وَلَّيْنَاكَ - لَيْسَ بِهَا مَنْ يَمْنَعُهَا ولَا يَرُدُّ الْجَيْشَ عَنْهَا - لَرَأْيٌ شَعَاعٌ - فَقَدْ صِرْتَ جِسْراً لِمَنْ أَرَادَ الْغَارَةَ - مِنْ أَعْدَائِكَ عَلَى أَوْلِيَائِكَ - غَيْرَ شَدِيدِ الْمَنْكِبِ ولَا مَهِيبِ الْجَانِبِ،ولَا سَادٍّ ثُغْرَةً ولَا كَاسِرٍ لِعَدُوٍّ شَوْكَةً -

(۶۱)

آپ کامکتوب گرامی

(کمیل بن زیاد۱النخعی کے نام جو بیت المال کے عامل تھے اورانہوں نے فوج دشمن کو لوٹ مارسے منع نہیں کیا )

امابعد! انسان کا اس کام کو نظرانداز کردینا جس کاذمہ داربنایا گیا ہے اور اس کام میں لگ جانا جواس کے فرائض میں شامل نہیں ہے ایک واضح کمزوری اور تباہ کن فکر ہے۔

اوردیکھو تمہارا اہل قبر قیسا پرحملہ کردینا اورخود اپنی سرحدوں کومعطل چھوڑدینا جن کا تم کوذمہ دار بنایا گا تھا۔اس عالم میں کہ انکا کوئی دفاع کرنے والا اور ان سے لشکروں کو ہٹانے والا نہیںتھا ایک انتہائی پراگندہ رائے ہے اور اس طرح تم دوستوں پرحملہ کرنے والے دشمنوں کے لئے ایک وسیلہ بن گئے جہاں نہ تمہارے کاندھے مضبوط تھے اور نہ تمہاری کوئی ہیبت تھی۔نہ تم نے دشمن

(۱)جناب کمیل مولائے کائنات کے مخصوص اصحاب میں تھے اوربڑے پایہ کے عالم و فاضل تھے لیکن بہر حال بشر تھے اور انہوںنے معاویہ کے مظالم کے جواب میں یہی مناسب سمجھا کہ جس طرح وہ ہمارے علاقہ میں فساد پھیلا رہا ہے ' ہم بھی اس کے علاقہ پر حملہ کردیں تاکہفوجوں کا رخ ادھرمڑ جائے مگری ہبات امامت کے مزاج کے خلاف تھی لہٰذا حضرت نے فوراً تنبیہ کردی اورمکیل نے بھی اپنے اقدام کے نا مناسب ہونے کا احساس کرلیا اور یہی انسان کا کمال کردار ہے کہ غلطی پراصرار نہ کرے ورنہ غلطی نہ کرنا شان عصمت ہے۔شان اسلام و ایمان نہیں ہے۔

جناب کمیل کی غیرت داری کایہ عالم تھا کہ جب حجاج نے انہیں تلاش کرنا شروع کیا اور گرفتارنہ کر سکا تو ان کی قوم پر دانہ پانی بند کردیا۔کمیل کو اس امر کی اطلاع ملی تو فوراً حجاج کے دربار میں پہنچ گئے اور فرمایا کہ میں اپنی ذات کی حفاظت کی خاطر ساری قوم کو خطرہ میں نہیں ڈال سکتا ہوں اورود محبت اہل بیت سے دستبردار بھی نہیں ہو سکتا ہوں لہٰذا مناسب یہ ہے کہ اپنی سزا خود برداشت کروں جس کے نتیجہ میں حجاج نے ان کی زندگی کاخاتمہ کرادیا۔


ولَا مُغْنٍ عَنْ أَهْلِ مِصْرِه ولَا مُجْزٍ عَنْ أَمِيرِه.

(۶۲)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى أهل مصر مع مالك الأشتر - لما ولاه إمارتها

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه بَعَثَ مُحَمَّداًصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - نَذِيراً لِلْعَالَمِينَ ومُهَيْمِناً عَلَى الْمُرْسَلِينَ - فَلَمَّا مَضَىعليه‌السلام تَنَازَعَ الْمُسْلِمُونَ الأَمْرَ مِنْ بَعْدِه - فَوَاللَّه مَا كَانَ يُلْقَى فِي رُوعِي - ولَا يَخْطُرُ بِبَالِي أَنَّ الْعَرَبَ تُزْعِجُ هَذَا الأَمْرَ - مِنْ بَعْدِهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عَنْ أَهْلِ بَيْتِه - ولَا أَنَّهُمْ مُنَحُّوه عَنِّي مِنْ بَعْدِه - فَمَا رَاعَنِي إِلَّا انْثِيَالُ النَّاسِ عَلَى فُلَانٍ يُبَايِعُونَه - فَأَمْسَكْتُ يَدِي حَتَّى رَأَيْتُ رَاجِعَةَ النَّاسِ - قَدْ رَجَعَتْ عَنِ الإِسْلَامِ - يَدْعُونَ إِلَى مَحْقِ دَيْنِ مُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - فَخَشِيتُ إِنْ لَمْ أَنْصُرِ الإِسْلَامَ وأَهْلَه - أَنْ أَرَى فِيه ثَلْماً أَوْ هَدْماً - تَكُونُ الْمُصِيبَةُ بِه عَلَيَّ أَعْظَمَ مِنْ فَوْتِ وِلَايَتِكُمُ - الَّتِي إِنَّمَا هِيَ مَتَاعُ أَيَّامٍ قَلَائِلَ - يَزُولُ مِنْهَا مَا كَانَ كَمَا يَزُولُ السَّرَابُ -

کا راستہ روکا اورنہ اس کی شوکت کو تواڑ۔نہ اہل شہر کے کام آئے اور نہ اپنے امیر کے فرض کو انجام دیا۔

(۶۲)

آپ کامکتوب گرامی

(اہل مصرکے نام۔مالک اشترکے ذریعہ جب ان کو والی مصر بناکر روانہ کیا)

اما بعد!پروردگار نے حضرت محمد (ص) کو عالمین کے لئے عذاب الٰہی سے ڈرانے والا اورمرسلین کے لئے گواہ اورنگراں بناکربھیجا تھا لیکن ان کے جانے کے بعد ہی مسلمانوں نے ان کے خلاف میں جھگڑا شروع کردیا۔خدا گواہ ہے کہ یہ بات میرے خیال میںبھی نہ تھی اور نہ میرے دل سے گزری تھی کہ عرب اس منصب کو ان کے اہل بیت سے اس طرح موڑ دیں گے اور مجھ سے اس طرح دور کردیں گے کہمیں نے اچانک یہ دیکھا کہ لوگ فلاں شخص کی بیعت کے لئے ٹوٹے پڑ رہے ہیں تو میں نے اپنے ہاتھ کو روک لیا یہاں تک کہ یہ دیکھا کہ لوگ دین اسلام سے واپس جا رہے ہیں اور پیغمبر کے قانون کو برباد کردینا چاہتے ہیں تومجھے یہ خوف پیدا ہوگیا کہ اگر اس رخنہ اوربربادی کو دیکھنے کے بعد بھی میں نے اسلام اور مسلمانوں کی مدد نہ کی تو اس کی مصیبت روز قیامت اس سے زیادہ عظیم ہوگی جوآج اس حکومت کے چلے جانے سے سامنے آرہی ہے جو صرف چند دن رہنے والی ہے اورایک دن اسی طرح ختم ہوجائے گی جس طرح سراب کی چمک


أَوْ كَمَا يَتَقَشَّعُ السَّحَابُ - فَنَهَضْتُ فِي تِلْكَ الأَحْدَاثِ حَتَّى زَاحَ الْبَاطِلُ وزَهَقَ - واطْمَأَنَّ الدِّينُ وتَنَهْنَه ومِنْه: إِنِّي واللَّه لَوْ لَقِيتُهُمْ وَاحِداً وهُمْ طِلَاعُ الأَرْضِ كُلِّهَا - مَا بَالَيْتُ ولَا اسْتَوْحَشْتُ - وإِنِّي مِنْ ضَلَالِهِمُ الَّذِي هُمْ فِيه - والْهُدَى الَّذِي أَنَا عَلَيْه - لَعَلَى بَصِيرَةٍ مِنْ نَفْسِي ويَقِينٍ مِنْ رَبِّي - وإِنِّي إِلَى لِقَاءِ اللَّه لَمُشْتَاقٌ - وحُسْنِ ثَوَابِه لَمُنْتَظِرٌ رَاجٍ - ولَكِنَّنِي آسَى أَنْ يَلِيَ أَمْرَ هَذِه الأُمَّةِ سُفَهَاؤُهَا وفُجَّارُهَا - فَيَتَّخِذُوا مَالَ اللَّه دُوَلًا وعِبَادَه خَوَلًا - والصَّالِحِينَ حَرْباً والْفَاسِقِينَ حِزْباً - فَإِنَّ مِنْهُمُ الَّذِي قَدْ شَرِبَ فِيكُمُ الْحَرَامَ - وجُلِدَ حَدّاً فِي الإِسْلَامِ - وإِنَّ مِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُسْلِمْ حَتَّى رُضِخَتْ لَه عَلَى الإِسْلَامِ الرَّضَائِخُ - فَلَوْ لَا ذَلِكَ مَا أَكْثَرْتُ تَأْلِيبَكُمْ وتَأْنِيبَكُمْ - وجَمْعَكُمْ وتَحْرِيضَكُمْ -

دمک ختم ہوجاتی ہے با آسمان کے بادل چھٹ جاتے ہیں تو میں نے ان حالات میں قیام کیا یہاں تک کہ باطل زائل ہوگیا۔اوردین مطمئن(۱) ہو کراپنی جگہ پر ثابت ہوگیا۔

خداکی قسم اگرمیں تن تنہا ان کے مقابلہ پر نکل پڑوں اور ان سے زمین چھلک رہی ہو تو بھی مجھے فکر اوروحشت نہ ہوگی کہ میں ان کی گمراہی کے بارے میں بھی اور اپنے ہدایت یافتہ ہونے کے بارے میں بھی بصیرت رکھتا ہوں اورپروردگار کی طرف سے منزل یقین پر بھی ہوں اور میں لقائے الٰہی کا اشتیاق بھی رکھتا ہوں اور اس کے بہترین اجرو ثواب کا منتظر اورامید وار بھی ہوں۔لیکن مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ امت کی زمام احمقوں اورفاجروں کے ہاتھ میں چلی جائے اور وہ مال خدا کو اپنی املاک اورب ندگان خدا کو اپنا غلام بنالیں نیک کرداروں سے جنگ کریں اورفاسقوں کواپنی جماعت میں شامل کرلیں ۔جن میں وہ بھی شامل ہیں جنہوںنے تمہارے سامنے شراب پی ہے اور ان پر اسلام میں حد جاری ہو چکی ہے اوربعض وہ بھی ہیں کہ جو اس وقت تک اسلام نہیں لائے جب تک انہیں فوائد نہیں پیش کردئیے گئے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں تمہیں اس طرح جہاد کی دعوت نہ دیتا اورسرزنش نہ کرتا اور قیام پرآمادہ نہ کرتا بلکہ

(۱)صورت حال یہ تھی کہ امت نے پیغمبر (ص) کے بتائے ہوئے راستہ کونظرانداز کردیا اور ابو بکر کے ہاتھ پر بیعت کرلی لیکن امیر المومنین کی مشکل یہ تھی کہاگر مسلمانوں میں جنگ وجدال کاسلسلہ شروع کردیتے ہیں تو مسیلمہ کذاب اور طلحہ جیسے مدعیان نبوت کو موقع مل جائے گا اوروہ لوگوں کو گمراہ کرکے اسلام سے منحرف کردیں گے اس لئے آپ نے سکوت اختیار فرمایا اور خلافت کے بارے میں کوئی بحث نہیں کی لیکن جب مرتدوں کے ہاتھوں اسلام کی تباہی کامنظر دیکھ لیا تومجبوراً باہرنکل آئے کہ بالآخر اپنے حق کی بربادی پر سکوت اختیار کیا جاسکتا ہے۔اسلام کی بربادی پر صبر نہیں کیا جاسکتاہے ۔


ولَتَرَكْتُكُمْ إِذْ أَبَيْتُمْ ووَنَيْتُمْ

أَلَا تَرَوْنَ إِلَى أَطْرَافِكُمْ قَدِ انْتَقَصَتْ - وإِلَى أَمْصَارِكُمْ قَدِ افْتُتِحَتْ - وإِلَى مَمَالِكِكُمْ تُزْوَى وإِلَى بِلَادِكُمْ تُغْزَى - انْفِرُوا رَحِمَكُمُ اللَّه إِلَى قِتَالِ عَدُوِّكُمْ - ولَا تَثَّاقَلُوا إِلَى الأَرْضِ فَتُقِرُّوا بِالْخَسْفِ - وتَبُوءُوا بِالذُّلِّ ويَكُونَ نَصِيبُكُمُ الأَخَسَّ - وإِنَّ أَخَا الْحَرْبِ الأَرِقُ ومَنْ نَامَ لَمْ يُنَمْ عَنْه والسَّلَامُ.

(۶۳)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى أبي موسى الأشعري وهو عامله على الكوفة، وقد بلغه عنه تثبيطه الناس عن الخروج إليه لما ندبهم لحرب أصحاب الجمل.

مِنْ عَبْدِ اللَّه عَلِيٍّ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى عَبْدِ اللَّه بْنِ قَيْسٍ.

أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ بَلَغَنِي عَنْكَ قَوْلٌ هُوَ لَكَ وعَلَيْكَ - فَإِذَا قَدِمَ رَسُولِي عَلَيْكَ فَارْفَعْ ذَيْلَكَ - واشْدُدْ مِئْزَرَكَ واخْرُجْ مِنْ جُحْرِكَ وانْدُبْ مَنْ مَعَكَ - فَإِنْ حَقَّقْتَ فَانْفُذْ وإِنْ تَفَشَّلْتَ فَابْعُدْ - وايْمُ اللَّه لَتُؤْتَيَنَّ مِنْ حَيْثُ أَنْتَ

تمہیں تمہارے حال پرچھوڑ دیتا کہ تم سرتابی بھی کرتے ہواورسست بھی ہو۔ کیا تم خود نہیں دیکھتے ہو کہ تمہارے اطراف کم ہوتے جا رہے ہیں۔اور تمہارے شہروں پر قبضہ ہوا جا رہا ہے۔تمہارے ممالک کو چھینا جا رہا ہے اور تمہارے علاقوں پر دھاوابولا جا رہا ہے۔خدا تم پررحم کرے اب دشمن سے جنگ کے لئے نکل پڑو اورزمین سے چپک کر نہ رہ جائو ورنہ یوںہی ذلت کاشکار ہوگے ظلم سہتے رہوگے اور تمہارا حصہ انتہائی پست ہوگا۔اوریاد رکھو کہ جنگ آزما انسان ہمیشہ بیدار رہتا ہے اور اگر کوئی شخص سو جاتا ہے تواس کا دشمن ہرگز غافل نہیں ہوتا ہے ۔والسلام!

(۶۳)

آپ کا مکتوب گرامی

(کوفہ کے عامل ابو موسیٰ اشعری کے نام۔جب یہ خبر ملی کہ آپ لوگوں کوجنگ جمل کی دعوت دے رہے ہیں اور وہ روک رہا ہے )

بندہ خدا !امیر المومنین علی کاخط عبداللہ بن قیس کے نام

امابعد! مجھے ایک ایسے کلام کی خبرملی ہے جو تمہارے حق میں بھی ہو سکتا ہے اور تمہارے خلاف بھی۔ لہٰذا اب مناسب یہی ہے کہ میرے قاصد کے پہنچتے ہی دامن سمیٹ لو اور کمر کس لو اور فوراً بل سے باہرنکل آئو۔ ار اپنے ساتھیوں کو بھی بلالو۔اس کے بعد حق ثابت ہو جائے تو کھڑے ہو جائو اورکمزوری دکھلانا ہے تو میری نظروں سے دور ہوجائو خداکی قسم تم جہاں رہو گے گھیر کرلائے جائو گے


ولَا تُتْرَكُ حَتَّى يُخْلَطَ زُبْدُكَ بِخَاثِرِكَ - وذَائِبُكَ بِجَامِدِكَ - وحَتَّى تُعْجَلُ عَنْ قِعْدَتِكَ - وتَحْذَرَ مِنْ أَمَامِكَ كَحَذَرِكَ مِنْ خَلْفِكَ - ومَا هِيَ بِالْهُوَيْنَى الَّتِي تَرْجُو - ولَكِنَّهَا الدَّاهِيَةُ الْكُبْرَى - يُرْكَبُ جَمَلُهَا ويُذَلَّلُّ صَعْبُهَا ويُسَهَّلُ جَبَلُهَا - فَاعْقِلْ عَقْلَكَ وامْلِكْ أَمْرَكَ وخُذْ نَصِيبَكَ وحَظَّكَ - فَإِنْ كَرِهْتَ فَتَنَحَّ إِلَى غَيْرِ رَحْبٍ ولَا فِي نَجَاةٍ - فَبِالْحَرِيِّ لَتُكْفَيَنَّ وأَنْتَ نَائِمٌ حَتَّى لَا يُقَالَ أَيْنَ فُلَانٌ - واللَّه إِنَّه لَحَقٌّ مَعَ مُحِقٍّ ومَا أُبَالِي مَا صَنَعَ الْمُلْحِدُونَ - والسَّلَامُ.

(۶۴)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى معاوية جوابا

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّا كُنَّا نَحْنُ وأَنْتُمْ عَلَى مَا ذَكَرْتَ

اورچھوڑے نہیں جائو گے یہاں تک کہ دودھ مکھن ساتھ اورپگھلا ہوامنجد کے ساتھ مخلوط ہو جائے اور تمہیں اطمینان سے بیٹھنا نصیب نہ ہوگا اور سامنے سے اس طرح ڈرو گے جس طرح اپنے پیچھے سے ڈرتے ہو۔اور یہ کام اس قدر آسان نہیں ہے جیسا تم سمجھ رہے ہو۔یہ ایک مصیبت کبریٰ ہے جس کے اونٹ پر بہرحال سوار ہونا پڑے گا اور اس کی دشواریوں کو ہموار کرنا پڑے گا اور اس کے پہاڑ کو سرکرنا۔پڑے گا لہٰذا ہوش کے ناخن لو اورحالات پر قابو رکھو اور اپنا حصہ حاصل کرلو اور اگر یہ بات پسند نہیں ہے توادھر چلے جائو جدھر نہ کوئی آئو بھگت ہے اورنہ چھٹکارے کی صورت۔اوراب مناسب یہی ہے کہ تمہیں بیکار سمجھ کرچھوڑ دیا جائے کہ سوتے رہو اور کوئی یہ بھی نہ دریافت کرے کہ فلاں شخص کدھر چلا گیا خدا کی قسم یہ حق پرست کاواقعی اقدام ہے اور مجھ بے دینوں کے اعمال کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔والسلام!

(۶۴)

آپ کا مکتوب گرامی

(معاویہ کے جواب میں )

امابعد! یقینا ہم(۱) اور تم اسلام سے پہلے ایک ساتھ

(۱)معاویہ نے حسب عادت اپنے اس خط میں چند مسائل اٹھائے تھے ۔ایک مسئلہ یہ تھا کہ ہم دونوں ایک خاندان کے ہیں تو اختلاف کی کیا وجہ ہے ؟ حضرت نے اس کا جواب یہ دیا کہ یہ اختلاف اسی دن شروع ہوگیا تھا جب ہم دائرہ اسلام میں تھے اورتم کفرکی زندگی گزار رہے تھے ۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ جنگ جمل کی ساری ذمہ داری امیر المومنین پر ہے ۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا مسئلہکا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے لہٰذااس کے اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تیسرا مسئلہ اپنے لشکر کے مہاجرین و انصار میں ہونے کا تھا؟ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ ہجرت فتح مکہ کے بعد ختم ہوگئی اور فتح مکہ میںتیرا بھائی گرفتار ہوچکا ہے ۔جس کے بعد تیرے ساتھی اولاد طلقاء تو ہو سکتے ہیں۔مہاجرین کہے جانے کے قابل نہیں ہیں۔


مِنَ الأُلْفَةِ والْجَمَاعَةِ - فَفَرَّقَ بَيْنَنَا وبَيْنَكُمْ أَمْسِ أَنَّا آمَنَّا وكَفَرْتُمْ - والْيَوْمَ أَنَّا اسْتَقَمْنَا وفُتِنْتُمْ - ومَا أَسْلَمَ مُسْلِمُكُمْ إِلَّا كَرْهاً - وبَعْدَ أَنْ كَانَ أَنْفُ الإِسْلَامِ كُلُّه لِرَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حِزْباً.

وذَكَرْتَ أَنِّي قَتَلْتُ طَلْحَةَ والزُّبَيْرَ - وشَرَّدْتُ بِعَائِشَةَ ونَزَلْتُ بَيْنَ الْمِصْرَيْنِ - وذَلِكَ أَمْرٌ غِبْتَ عَنْه فَلَا عَلَيْكَ ولَا الْعُذْرُ فِيه إِلَيْكَ.

وذَكَرْتَ أَنَّكَ زَائِرِي فِي الْمُهَاجِرِينَ والأَنْصَارِ - وقَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ يَوْمَ أُسِرَ أَخُوكَ - فَإِنْ كَانَ فِيه عَجَلٌ فَاسْتَرْفِه - فَإِنِّي إِنْ أَزُرْكَ فَذَلِكَ جَدِيرٌ - أَنْ يَكُونَ اللَّه إِنَّمَا بَعَثَنِي إِلَيْكَ لِلنِّقْمَةِ مِنْكَ - وإِنْ تَزُرْنِي فَكَمَا قَالَ أَخُو بَنِي أَسَدٍ:

مُسْتَقْبِلِينَ رِيَاحَ الصَّيْفِ تَضْرِبُهُمْ

بِحَاصِبٍ بَيْنَ أَغْوَارٍ وجُلْمُودِ

وعِنْدِي السَّيْفُ الَّذِي أَعْضَضْتُه بِجَدِّكَ - وخَالِكَ وأَخِيكَ فِيمَقَامٍ وَاحِدٍ - وإِنَّكَ واللَّه مَا عَلِمْتُ الأَغْلَفُ الْقَلْبِ

زندگی گزار رہے تھے لیکن کل یہ تفرقہ پیدا ہوگیا کہ ہم نے ایمان کا راستہ اختیار کرلیا اور تم کافر رہ گئے اورآج یہ اختلاف ہے کہ ہم راہ حق پر قائم ہیں اورتم فتنہ میں مبتلا ہوگئے ہو۔تمہاا مسلمان بھی اس وقت مسلمان ہوا ہے جب مجبوری پیش آگئی اور سارے اشراف عرب اسلام میں داخل ہوکر رسول اکرم (ص) کی جماعت میں شامل ہوگئے ۔

تمہارا یہ کہنا کہ میں نے طلحہ و زبیر کو قتل کیا ہے اورعائشہ کو گھر سے باہر نکال دیا ہے اور مدینہ چھوڑ کر کوفہ اوربصرہ میں قیام کیا ہے تو اس کا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔نہ تم پر کوئی ظلم ہوا ہے اورنہ تم سے معذرت کی کوئی ضرور ت ہے۔

اور تمہارا یہ کہنا کہ تم مہاجرین و انصارکے ساتھ میرے مقابلہ پرآرہے ہو تو ہجرت تو اس دن ختم ہوگئی جب تمہارا بھائی گرفتار ہواتھا اور اگر کوئی جلدی ہے تو ذرا انتظار کرلو کہ میں تم سے خود ملاقات کرلوں اوریہی زیادہ مناسب بھی ہے کہ اس طرح پروردگار مجھے تمہیں سزا دینے کے لئے بھیجے گا اوراگر تم خودبھی آگئے تو اس کا انجام ویسا ہی ہوگا جیسا کہ بنی اسد کے شاعرنے کہا تھا :

''وہ موسم گرما کی ایسی ہوائوں کا سامنا کرنے والے یں جو نشینوں اورچٹانوں میں ان پر سنگریزوں کی بارش کر رہی ہیں ''

اورمیرے پاس وہی تلوار ہے جس سے تمہارے نانا ماموںاوربھائی کو ایک ٹھکانے تک پہنچا چکا ہوں اور تم خدا کی قسم میرے علم کے مطابق وہ شخص جس کے دل پر


الْمُقَارِبُ الْعَقْلِ - والأَوْلَى أَنْ يُقَالَ لَكَ - إِنَّكَ رَقِيتَ سُلَّماً أَطْلَعَكَ مَطْلَعَ سُوءٍ عَلَيْكَ لَا لَكَ - لأَنَّكَ نَشَدْتَ غَيْرَ ضَالَّتِكَ ورَعَيْتَ غَيْرَ سَائِمَتِكَ - وطَلَبْتَ أَمْراً لَسْتَ مِنْ أَهْلِه ولَا فِي مَعْدِنِه - فَمَا أَبْعَدَ قَوْلَكَ مِنْ فِعْلِكَ - وقَرِيبٌ مَا أَشْبَهْتَ مِنْ أَعْمَامٍ وأَخْوَالٍ - حَمَلَتْهُمُ الشَّقَاوَةُ وتَمَنِّي الْبَاطِلِ عَلَى الْجُحُودِ بِمُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فَصُرِعُوا مَصَارِعَهُمْ حَيْثُ عَلِمْتَ - لَمْ يَدْفَعُوا عَظِيماً ولَمْ يَمْنَعُوا حَرِيماً - بِوَقْعِ سُيُوفٍ مَا خَلَا مِنْهَا الْوَغَى - ولَمْ تُمَاشِهَا الْهُوَيْنَى

وقَدْ أَكْثَرْتَ فِي قَتَلَةِ عُثْمَانَ - فَادْخُلْ فِيمَا دَخَلَ فِيه النَّاسُ ثُمَّ حَاكِمِ الْقَوْمَ إِلَيَّ - أَحْمِلْكَ وإِيَّاهُمْ عَلَى كِتَابِ اللَّه تَعَالَى - وأَمَّا تِلْكَ الَّتِي تُرِيدُ - فَإِنَّهَا خُدْعَةُ الصَّبِيِّ عَنِ اللَّبَنِ فِي أَوَّلِ الْفِصَالِ - والسَّلَامُ لأَهْلِه.

غلاف چڑھا ہوا ہے اور جس کی عقل کمزور ہے اور تمہارے حق میں مناسب یہ ہے کہ اس طرح کہا جائے کہ تم ایسی سیڑھی چڑ گئے ہوجہاں سے بد ترین منظر ہی نظر آتا ہے کہ تم نے دوسرے کے گم شدہ کی جستجو کی ہے اوردوسرے کے جانور کو چرانا چاہا ہے اور ایسے امر کو طلب کیا ہے جس کے نہ اہل ہو اور نہ اس سے تمہارا کوئی بنیادی لگائو ہے۔تمہارے قول وفعل میں کس قدر فاصلہ پایا جاتا ہے اورتم اپنے چچا اور ماموں سے کس قدرمشابہ ہو جن کو بد بختی اور باطل کی تمنائے پیغمبر (ص) کے انکار پرآمادہ کیا اور اس کے نتیجہ میں اپنے اپنے مقتل میں مر مر کرگرے جیسا کہ تمہیں معلوم ہے۔نہ کسی مصیبت کو دفع کر سکے اور نہ کسی حریم کی حفاظت کرسکے۔ان تلواروں کی مار کی بناپ ر جن سے کوئی میدان جنگ خالی نہیں ہوتا اور جن میں سستی کا گزر نہیں ہے۔

اورت منے جو بار بار عثمان کے قاتلوں کاذکر کیا ہے تو اس کا آسان حل یہ ہے کہ جس طرح سب نے بیعت کی ہے پہلے میری بیعت کرو۔اس کے بعد میرے پاس مقدمہ لے کرآئو۔میں تمہیں اورتمہارے مدعا علیہم کو کتاب خدا کے فیصلہ پرآمادہ کروں گا لیکن اس کے علاوہ جو تمہارا مدعا ہے وہ ایک دھوکہ ہے جوبچہ کو دودھ چھڑاتے وقت دیا جاتا ہے۔اور سلام ہو اس کے اہل پر۔


(۶۵)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إليه أيضا

أَمَّا بَعْدُ - فَقَدْ آنَ لَكَ أَنْ تَنْتَفِعَ بِاللَّمْحِ الْبَاصِرِ مِنْ عِيَانِ الأُمُورِ - فَقَدْ سَلَكْتَ مَدَارِجَ أَسْلَافِكَ بِادِّعَائِكَ الأَبَاطِيلَ، واقْتِحَامِكَ غُرُورَ الْمَيْنِ والأَكَاذِيبِ وبِانْتِحَالِكَ مَا قَدْ عَلَا عَنْكَ - وابْتِزَازِكَ لِمَا قَدِ اخْتُزِنَ دُونَكَ - فِرَاراً مِنَ الْحَقِّ - وجُحُوداً لِمَا هُوَ أَلْزَمُ لَكَ مِنْ لَحْمِكَ ودَمِكَ - مِمَّا قَدْ وَعَاه سَمْعُكَ - ومُلِئَ بِه صَدْرُكَ - فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ الْمُبِينُ - وبَعْدَ الْبَيَانِ إِلَّا اللَّبْسُ - فَاحْذَرِ الشُّبْهَةَ واشْتِمَالَهَا عَلَى لُبْسَتِهَا - فَإِنَّ الْفِتْنَةَ طَالَمَا أَغْدَفَتْ جَلَابِيبَهَا - وأَغْشَتِ الأَبْصَارَ ظُلْمَتُهَا.

وقَدْ أَتَانِي كِتَابٌ مِنْكَ ذُو أَفَانِينَ مِنَ الْقَوْلِ - ضَعُفَتْ قُوَاهَا عَنِ السِّلْمِ

(۶۵)

آپ کامکتوب گرامی

(معاویہ ہی کے نام)

امابعد! اب وقت آگیا ہے کہ تم امور کامشاہدہ کرنے کے بعد ان سے فائدہ اٹھالو کہ تم نے باطل دعویٰ کرنے ۔جھوٹ اور غلط بیانی کے فریب میں کود پڑنے ۔جوچیز تمہاری اوقات سے بلند ہے اسے اختیار کرنے اور جو تمہارے لئے ممنوع ہے اس کو ہتھیار لینے میں اپنے اسلاف کا راستہ اختیارکرلیا ہے اور اس طرح حق سے فرار اورجوچیز گوشت وخون سے زیادہ تم چمٹی(۱) ہوئی ہے اس کا انکار کرنا چاہتے ہو جسے تمہارے کانوں سے سنا ہے اورتمہارے سینے میں بھری ہوئی ہے۔تواب حق کے بعد کھلی ہوئی گمراہی کے علاوہ کیا باقی رہ جاتا ہے۔اور وضاحت کے بعد دھوکہ کے علاوہ کیا ہے۔لہٰذا شبہ اور اس کے دسیسہ کاری پرمشتمل ہونے سے ڈرو کہ فتنہ ایک مدت سے اپنے دامن پھیلائے ہوئے ہے اوراس کی تاریکی نے آنکھوں کواندھا بنا رکھا ہے ۔

میرے پاس تمہارا وہ خط آیا ہے جس میں طرح طرح کے بے جوڑ باتیں پائی جاتی ہیں اور ان سے کسی صلح و

(۱)ابن ابی الحدید کا بیان ہے کہ معاویہ روزغدیر موجود تھا جب سرکار دو عالم (ص) نے حضرت علی کے موائے کائنات ہونے کا اعلان کیا تھااور اسنے اپنے کانوں سے سنا تھا اور اسی طرح روز تبوک بھی موجود تھا جب حضرت نے اعلان کیا تھا کہ علی کامرتبہ وہی ہے جو ہارون کا موسیٰ کے ساتھ ہے اوراسے معلوم تھا کہ حضورنے علی کو صلح کو اپنی صلح اور ان کی جنگ کو اپنی جنگ قراردیا ہے۔مگر اس کے باوجود اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں ہوا کہ اس کا راستہ اس کی پھوپھی ام جمیل اور اس کے ماموں خالد بن ولید جیسے افراد کا تھا جن کے دل و دماغ میں نہ اسلام داخل ہوا تھا اورنہداخل ہونے کا کوئی امکان تھا۔


وأَسَاطِيرَ لَمْ يَحُكْهَا مِنْكَ عِلْمٌ ولَا حِلْمٌ - أَصْبَحْتَ مِنْهَا كَالْخَائِضِ فِي الدَّهَاسِ - والْخَابِطِ فِي الدِّيمَاسِ - وتَرَقَّيْتَ إِلَى مَرْقَبَةٍ بَعِيدَةِ الْمَرَامِ - نَازِحَةِ الأَعْلَامِ - تَقْصُرُ دُونَهَا الأَنُوقُ - ويُحَاذَى بِهَا الْعَيُّوقُ

وحَاشَ لِلَّه أَنْ تَلِيَ لِلْمُسْلِمِينَ بَعْدِي صَدْراً أَوْ وِرْداً - أَوْ أُجْرِيَ لَكَ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ عَقْداً أَوْ عَهْداً - فَمِنَ الآنَ فَتَدَارَكْ نَفْسَكَ وانْظُرْ لَهَا - فَإِنَّكَ إِنْ فَرَّطْتَ حَتَّى يَنْهَدَ إِلَيْكَ عِبَادُ اللَّه - أُرْتِجَتْ عَلَيْكَ الأُمُورُ - ومُنِعْتَ أَمْراً هُوَ مِنْكَ الْيَوْمَ مَقْبُولٌ والسَّلَامُ.

(۶۶)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى عبد الله بن العباس وقد تقدم ذكره بخلاف هذه الرواية

آشتی کی تقویت نہیں مل سکتی ہے اور اس میں وہ خرافات ہیں جن کے تانے بانے نہ علم سے تیار ہوئے ہیں اورنہ حلم سے۔اس سلسلہ میں تمہاری مثال ا س شخص کی ہے جودلدل میں دھنس گیا ہواوراندھے کنویں میں ہاتھ پائوں مارہا ہو۔اورتم نے اپنے کو اس بلندی(۱) تک پہنچانا چاہا ہے جس کا حصول مشکل ہے اور جس کے نشانات گم ہوگئے ہیں اور جہاں تک عقاب پرواز نہیں کرسکتا ہے اور اس کی بلندی ستارہ عیوق سے ٹکر لے رہی ہے۔

حاشا و کلا یہ کہاں ممکن ہے کہ تم میرے اقتدار کے بعد مسلمانوں کے حل و عقد کے مالک بن جائو یا میں تمہیں کسی ایک شخص پر بھی حکومت کرنے کا پروانہ یا دستاویز دے دوں۔لہٰذا ابھی غنیمت ہے کہ اپنے نفس کا تدارک کرواور اس کے بارے میں غوروفکر کرو کہاگر تم نے اس وقت تک کوتاہی سے کام لیا جب اللہ کے بندے اٹھ کھڑے ہوں تو تمہارے سارے راستے بند ہوجائیں گے اور پھر اس بات کا بھی موقع نہ دیا جائے گا جوآج قابل قبول ہے ۔والسلام!

(۶۷)

آپ کامکتوب گرامی

(عبداللہ بن عباس کے نام۔جس کاتذکرہ پہلے بھی دوسرے الفاظ میں ہو چکا ہے )

(۱)معاویہ نے حضرت سے مطالبہ کیا تھا کہ اگر اسے ولی عہدی کاعہدہ دے دیا جائے تو وہ بیعت کرنے کے لئے تیار ہے اور پھرخون عثمان کوئی مسئلہ نہ رہ جائے گا۔آپ نے بالکل واضح طر پر اس مطالبہ کو ٹھکرا دیا ہے اور معاویہ پر روشن کردیا ہے کہ میری حکومت میں تیرے جیسے افراد کی کوئی جگہ نہیں ہے اورت و نے جس مقام کا ارادہ کیا ہے وہ تیریر پروازسے بہت بلند ہے اوروہاں تک جانا تیرے امکان میں نہیں ہے۔بہتر یہ ہے کہ اپنی اوقات کا ادراک کرلے اور راہ راست پرآجائے ۔


أَمَّا بَعْدُ - فَإِنَّ الْمَرْءَ لَيَفْرَحُ بِالشَّيْءِ الَّذِي لَمْ يَكُنْ لِيَفُوتَه - ويَحْزَنُ عَلَى الشَّيْءِ الَّذِي لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَه - فَلَا يَكُنْ أَفْضَلَ مَا نِلْتَ فِي نَفْسِكَ - مِنْ دُنْيَاكَ بُلُوغُ لَذَّةٍ - أَوْ شِفَاءُ غَيْظٍ - ولَكِنْ إِطْفَاءُ بَاطِلٍ أَوْ إِحْيَاءُ حَقٍّ - ولْيَكُنْ سُرُورُكَ بِمَا قَدَّمْتَ - وأَسَفُكَ عَلَى مَا خَلَّفْتَ - وهَمُّكَ فِيمَا بَعْدَ الْمَوْتِ.

(۶۷)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى قثم بن العباس - وهو عامله على مكة

أَمَّا بَعْدُ فَأَقِمْ لِلنَّاسِ الْحَجَّ -( وذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ الله ) واجْلِسْ لَهُمُ الْعَصْرَيْنِ - فَأَفْتِ الْمُسْتَفْتِيَ - وعَلِّمِ الْجَاهِلَ وذَاكِرِ الْعَالِمَ - ولَا يَكُنْ لَكَ إِلَى النَّاسِ سَفِيرٌ إِلَّا لِسَانُكَ - ولَا حَاجِبٌ إِلَّا وَجْهُكَ - ولَا تَحْجُبَنَّ ذَا حَاجَةٍ عَنْ لِقَائِكَ بِهَا - فَإِنَّهَا إِنْ ذِيدَتْ عَنْ أَبْوَابِكَ فِي أَوَّلِ وِرْدِهَا - لَمْ تُحْمَدْ فِيمَا بَعْدُ عَلَى قَضَائِهَا.وانْظُرْ إِلَى مَا اجْتَمَعَ عِنْدَكَ مِنْ مَالِ اللَّه - فَاصْرِفْه إِلَى مَنْ قِبَلَكَ مِنْ ذَوِي الْعِيَالِ والْمَجَاعَةِ - مُصِيباً بِه مَوَاضِعَ الْفَاقَةِ

امابعد!انسان کبھی کبھی ایسی چیز کو پاکربھی خوش ہو جاتا ہے جو جانے والی نہیں تھی۔اور ایسی چیز کو کھو کر رنجیدہ ہو جاتا ہے جو ملنے والی نہیں تھی لہٰذا خبردار تمہارے لئے دنیا کی سب سے بڑی نعمت کسی لذت کا حصول یا جذبہ انتقام ہی نہ بن جائے بلکہ بہترین نعمت باطل کے مٹانے اورحق کے زندہ کرنے کوسمجھو اور تمہاراسرور ان اعمال سے ہو جنہیں پہلے بھیج دیا ہے اور تمہارا افسوس ان امور پر ہو جسے چھوڑ کرچلے گئے ہو اورتمامتر فکر موت کے بعد کے مرحلہ کے بارے میں ہونی چاہیے ۔

(۶۷)

آپ کامکتوب گرامی

(مکہ کے عامل قثم بن العباس کے نام)

امابعد! لوگوں کے لئے حج کے قیام کا انتظار کرو اورانہیں اللہ کے یاد گار دنوں کی یاد دلائو۔صبح و شام عمومی جلسہ رکھو۔سوال کرنے والو ں کے سوالات کے جوابات دو۔جاہل کو علم دواورعلماء سے تذکرہ کرو۔لوگوں تک تمہارا کوئی ترجمان تمہاری زبان کے علاوہ نہ ہواور تمہارا کوئی دربان تمہارے چہرہ کے علاوہ نہ ہو۔کسی ضرورت مند کو ملاقات سے مت روکنا کہ اگر پہلی ہی مرتبہ اسے واپس کردیا گیا تو اس کے بعد کام کر بھی دوگے تو تمہاری تعریف نہ کی جائے گی۔جو اموال تمہارے پاس جمع ہو جائیں ان پر نظر رکھو اور تمہارے یہاں جو عیال دار اور بھوکے پیاسے لوگ ہیں ان پر صرف کردو بشرطیکہ انہیں


والْخَلَّاتِ - ومَا فَضَلَ عَنْ ذَلِكَ فَاحْمِلْه إِلَيْنَا لِنَقْسِمَه فِيمَنْ قِبَلَنَا.

ومُرْ أَهْلَ مَكَّةَ أَلَّا يَأْخُذُوا مِنْ سَاكِنٍ أَجْراً - فَإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه يَقُولُ -( سَواءً الْعاكِفُ فِيه والْبادِ ) - فَالْعَاكِفُ الْمُقِيمُ بِه - والْبَادِي الَّذِي يَحُجُّ إِلَيْه مِنْ غَيْرِ أَهْلِه - وَفَّقَنَا اللَّه وإِيَّاكُمْ لِمَحَابِّه والسَّلَامُ.

(۶۸)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى سلمان الفارسي رحمهالله - قبل أيام خلافته

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّمَا مَثَلُ الدُّنْيَا مَثَلُ الْحَيَّةِ - لَيِّنٌ مَسُّهَا قَاتِلٌ سَمُّهَا - فَأَعْرِضْ عَمَّا يُعْجِبُكَ فِيهَا - لِقِلَّةِ مَا يَصْحَبُكَ مِنْهَا - وضَعْ عَنْكَ هُمُومَهَا - لِمَا أَيْقَنْتَ بِه مِنْ فِرَاقِهَا - وتَصَرُّفِ حَالَاتِهَا -

واقعی محتاجوں اور ضرورت مندوں تک پہنچا دواور اس کے بعد جوبچ جائے وہ میرے پاس بھیج دوت اکہ یہاں کے محتاجوں پر تقسیم کردیا جائے ۔

اہل مکہ سے کہو کہ خبردار مکانات(۱) کا کرایہ نہ لیں کہ پروردگار نے مکہ کو مقیم اورمسافر دونوں کے لئے برابر قراردیاہے ( عاکف مقیم کو کہا جاتا ہے اوربادی جو باہرسے حج کرنے کے لئے آتا ہے ) اللہ ہمیں اورتمہیں اپنے پسندیدہ اعمال کی توفیق دے ۔والسلام!

(۶۸)

آپ کامکتوب گرامی

(جناب سلمان فارسی کے نام۔اپنے دور خلافت سے پہلے)

اما بعد! اسدنیا کی مثال صرف سانپ جیسی ہے جو چھونے میں انتہائی نرم ہوتا ہے لیکن اس کا زہر انتہائی قاتل ہوتا ہے اس میں جو چیز اچھی لگے اس سے بھی کنارہ کشی کرو کہ اس میں سے ساتھ جانے والا بہت کم ہے۔اس کے ہم و غم کو اپنے سے دور رکھو کہ اس سے جدا ہونا یقینی ہے اور اس کے حالات بدلتے ہی رہتے ہیں۔اس سے جس وقت

(۱)کھلی ہوئی بات ہے کہ یہ امرو جوبی نہیں ہے اور صرف استحابی اور احترامی ہے ورنہ حضرت نے جس آیت کریمہ سے استدلال فرمایا ہے اس کاتعلق مسجد الحرام سے ہے۔سارے مکہ سے نہیں ہے اورمکہ کومسجد الحرام مجازاً کہا جاتا ہے جس طرح کہ آیت معراج میں جناب ام ہانی کے مکان کو مسجد الحرام قراردیا گیا ہے۔ویسے یہ مسئلہ علماء اسلام میں اختلافی حیثیت رکھتا ہے اورابو حنیفہ نے سارے مکہ کے مکانات کو کرایہ پر دینے کو حرام قراردیا ہے اوراسکی دلیل عبداللہ بن عمروبن العاص کی روایت کو قراردیا گیا ہے جوعلماء شیعہ کے نزدیک قطعاً معتبرنہیں ہے اورحیرت انگیز بات یہ ہے کہ جو اہل مکہ اپنے کوحنفی کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں وہ بھی ایام حج کے دوران دگنا چوگنا بلکہ دسگنا کرایہ وصول کرنے ہی کو اسلام اورحرم الٰہی کی خدمت تصورکرتے ہیں۔اورحجاج کرام کو '' ضیوف الرحمان '' قراردے کر انہیں '' ارض الرحمان '' پر قیام کرنے کا حق نہیں دیتے ہیں۔


وكُنْ آنَسَ مَا تَكُونُ بِهَا أَحْذَرَ مَا تَكُونُ مِنْهَا - فَإِنَّ صَاحِبَهَا كُلَّمَا اطْمَأَنَّ فِيهَا إِلَى سُرُورٍ - أَشْخَصَتْه عَنْه إِلَى مَحْذُورٍ - أَوْ إِلَى إِينَاسٍ أَزَالَتْه عَنْه إِلَى إِيحَاشٍ والسَّلَامُ.

( ۶۹ )

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى الحارث الهمذاني

وتَمَسَّكْ بِحَبْلِ الْقُرْآنِ واسْتَنْصِحْه - وأَحِلَّ حَلَالَه وحَرِّمْ حَرَامَه - وصَدِّقْ بِمَا سَلَفَ مِنَ الْحَقِّ - واعْتَبِرْ بِمَا مَضَى مِنَ الدُّنْيَا لِمَا بَقِيَ مِنْهَا - فَإِنَّ بَعْضَهَا يُشْبِه بَعْضاً - وآخِرَهَا لَاحِقٌ بِأَوَّلِهَا - وكُلُّهَا حَائِلٌ مُفَارِقٌ - وعَظِّمِ اسْمَ اللَّه أَنْ تَذْكُرَه إِلَّا عَلَى حَقٍّ - وأَكْثِرْ ذِكْرَ الْمَوْتِ ومَا بَعْدَ الْمَوْتِ - ولَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ إِلَّا بِشَرْطٍ وَثِيقٍ - واحْذَرْ كُلَّ عَمَلٍ يَرْضَاه صَاحِبُه لِنَفْسِه - ويُكْرَه لِعَامَّةِ الْمُسْلِمِينَ - واحْذَرْ كُلَّ عَمَلٍ يُعْمَلُ بِه فِي السِّرِّ - ويُسْتَحَى مِنْه فِي الْعَلَانِيَةِ - واحْذَرْ كُلَّ عَمَلٍ إِذَا سُئِلَ عَنْه صَاحِبُه أَنْكَرَه أَوْ اعْتَذَرَ مِنْه -

زیادہ انس محسوس کرواس وقت زیادہ ہوشیار رہو کہ اس کا ساتھی جب بھی کسی خوشی کی طرف سے مطمئن ہوتا ہے یہ اسے کسی ناخوشگوار کے حوالے کردیتے ہے اور انس سے نکال کروحشت کے حالات تک پہنچادیتی ہے۔والسلام!

(۶۹)

آپ کا مکتوب گرامی

(حارث ہمدانی کے نام )

قرآن کی ریسمان ہدایت سے وابستہ رہو اور اس سے نصیحت حاصل کرو ۔اس کے حلال کو حلال قراردو اور حرام کو حرام حق کی گذشتہ باتوں کی تصدیق کرواوردنیا کے ماضی سے اس کے مستقبل کے لئے عبرت حاصل کرو کہ اس کا ایک حصہ دوسرے سے مشابہت رکھتا ہے اورآخر اول سے ملحق ہونے والا ہے اور سب کا سب زائل ہونے والا اورجدا ہو جانے والا ہے۔نام دا کو اس قدر عظیم قرار دو کہ سوائے حق کے کسی موقع پر استعمال نہ کرو۔موت اوراس کے بعد کے حالات کوبرابر یاد کرتے رہو اور اس کی آرزو اس وقت تک نہکر و جب تک مستحکم اسباب نہ فراہم ہو جائیں۔ہر اس کا م سے پرہیز کرو جسے آدمی اپنے لئے پسند کرتا ہو اورعام مسلمانوں کے لئے نا پسند کرتا ہو اور ہراس کام سے بچتے رہو جو تنہائی میں کیاجا سکتا ہو اور علی الاعلان انجام دینے میں شرم محسوس کی جاتی ہو اور اسی طرح ہر اس کام سے پرہیز کروجس کے کرنے والے سے پوچھ لیا جائے تو یا انکارکردے یا معذرت


ولَا تَجْعَلْ عِرْضَكَ غَرَضاً لِنِبَالِ الْقَوْلِ - ولَا تُحَدِّثِ النَّاسَ بِكُلِّ مَا سَمِعْتَ بِه - فَكَفَى بِذَلِكَ كَذِباً - ولَا تَرُدَّ عَلَى النَّاسِ كُلَّ مَا حَدَّثُوكَ بِه - فَكَفَى بِذَلِكَ جَهْلًا - واكْظِمِ الْغَيْظَ وتَجَاوَزْ عِنْدَ الْمَقْدَرَةِ واحْلُمْ عِنْدَ الْغَضَبِ - واصْفَحْ مَعَ الدَّوْلَةِ تَكُنْ لَكَ الْعَاقِبَةُ - واسْتَصْلِحْ كُلَّ نِعْمَةٍ أَنْعَمَهَا اللَّه عَلَيْكَ. ولَا تُضَيِّعَنَّ نِعْمَةً مِنْ نِعَمِ اللَّه عِنْدَكَ - ولْيُرَ عَلَيْكَ أَثَرُ مَا أَنْعَمَ اللَّه بِه عَلَيْكَ.

واعْلَمْ أَنَّ أَفْضَلَ الْمُؤْمِنِينَ - أَفْضَلُهُمْ تَقْدِمَةً مِنْ نَفْسِه وأَهْلِه ومَالِه - فَإِنَّكَ مَا تُقَدِّمْ مِنْ خَيْرٍ يَبْقَ لَكَ ذُخْرُه - ومَا تُؤَخِّرْه يَكُنْ لِغَيْرِكَ خَيْرُه - واحْذَرْ صَحَابَةَ مَنْ يَفِيلُ رَأْيُه - ويُنْكَرُ عَمَلُه فَإِنَّ الصَّاحِبَ مُعْتَبَرٌ بِصَاحِبِه - واسْكُنِ الأَمْصَارَ الْعِظَامَ فَإِنَّهَا جِمَاعُ الْمُسْلِمِينَ - واحْذَرْ مَنَازِلَ الْغَفْلَةِ والْجَفَاءِ - وقِلَّةَ الأَعْوَانِ عَلَى طَاعَةِ اللَّه - واقْصُرْ رَأْيَكَ عَلَى مَا يَعْنِيكَ - وإِيَّاكَ ومَقَاعِدَ الأَسْوَاقِ - فَإِنَّهَا مَحَاضِرُ الشَّيْطَانِ ومَعَارِيضُ الْفِتَنِ - وأَكْثِرْ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى مَنْ فُضِّلْتَ عَلَيْه -

کرے۔اپنی آبرو کو لوگوں کے تیر ملامت کا نشانہ نہ بنائو اور ہر سنی ہوئی بات کو بیان نہ کردوکہ یہ حرکت بھی جھوٹ ہونے کے لئے کافی ہے۔اور اسی طرح لوگوں کی ہر بات کی تردید بھی نہ کردو کہ یہ امرجہالت کے لئے کافی ہے۔غصہ کو ضبط کرو۔طاقت رکھنے کے بعد لوگوں کو معا فکرو۔غضب میں حلم کا مظاہرہ کرو۔اقتدارپا کر درگزر کرناسیکھوتاکہ انجام کار تمہارے لئے رہے اللہ نے جو نعمتیں دی ہیں انہیں درست رکھنے کی کوشش کرو اور اس کی کسی نعمت کو برباد نہ کرنا بلکہ ان نعمتوں کے آثار تمہاری زندگی میںواضح طور پر نظر آئیں ۔

اوریاد رکھو کہ تمام مومنین میں سب سے بہتر انسان وہ ہے جو اپنے نفس ' اپنے اہل و عیال اور اپنے مال کی طرف سے خیرات کرے کہ یہی پہلے جانے والا خیر وہاں جاکرذخیرہ ہو جاتا ہے اورتم جو کچھ چھوڑ کرچلے جائوگے وہ تمہارے غیر کے کام آئے گا۔ایسے شخص کی صحبت اختیار نہکرنا جس کیرائے کمزوراوراس کے اعمال نا پسندیدہ ہوں کہ ہر ساتھی کا قیاس اس کے ساتھی پر کیا جاتا ہے۔سکونت کے لئے بڑے شہروں کا انتخاب کرو کہ وہاں مسلمانوں کا اجتماع زیادہ ہوتا ہے اور ان جگہوں سے پرہیز کرو جوغفلت' بیوفائی اوراطاعت خدامیں مدد گاروں کی قلت کے مرکز ہوں۔اپنی فکر کو صرف کام کی باتوں میں استعمال کرواورخبردار بازاری اڈوں پرمت بیٹھنا کہ یہ شیطان کی حاضری کی جگہیں اورف تنوں کے مرکز ہیں۔زیادہ حصہ ان افراد پرنگاہ رکھوجن سے پروردگارنے


فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ أَبْوَابِ الشُّكْرِ - ولَا تُسَافِرْ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ حَتَّى تَشْهَدَ الصَّلَاةَ - إِلَّا فَاصِلًا فِي سَبِيلِ اللَّه أَوْ فِي أَمْرٍ تُعْذَرُ بِه - وأَطِعِ اللَّه فِي جَمِيعِ أُمُورِكَ - فَإِنَّ طَاعَةَ اللَّه فَاضِلَةٌ عَلَى مَا سِوَاهَا - وخَادِعْ نَفْسَكَ فِي الْعِبَادَةِ وارْفُقْ بِهَا ولَا تَقْهَرْهَا - وخُذْ عَفْوَهَا ونَشَاطَهَا - إِلَّا مَا كَانَ مَكْتُوباً عَلَيْكَ مِنَ الْفَرِيضَةِ - فَإِنَّه لَا بُدَّ مِنْ قَضَائِهَا وتَعَاهُدِهَا عِنْدَ مَحَلِّهَا - وإِيَّاكَ أَنْ يَنْزِلَ بِكَ الْمَوْتُ - وأَنْتَ آبِقٌ مِنْ رَبِّكَ فِي طَلَبِ الدُّنْيَا - وإِيَّاكَ ومُصَاحَبَةَ الْفُسَّاقِ - فَإِنَّ الشَّرَّ بِالشَّرِّ مُلْحَقٌ - ووَقِّرِ اللَّه وأَحْبِبْ أَحِبَّاءَه - واحْذَرِ الْغَضَبَ فَإِنَّه جُنْدٌ عَظِيمٌ مِنْ جُنُودِ إِبْلِيسَ - والسَّلَامُ.

(۷۰)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى سهل بن حنيف الأنصاري - وهو عامله على المدينة - في معنى قوم

من أهلها لحقوا بمعاوية

تمہیں بہتر قراردیا ہے کہ یہ بھی شکر خدا کا یاراستہ ہے جمعہ کے(۱) دن نماز پڑے بغیر سفرنہ کرنا مگر یہ کہ راہ خدا میں جارہے ہو یا کسی ایسے کام میں جو تمہارے لئے عذر بن جائے اورتمام امور میں پروردگار کی اطاعت کرتے رہنا کہ اطاعت خدا دنیا کے تمام کاموں سے افضل اوربہتر ہے اپنے نفس کو بہانے کرکے عبادت کی طرف لے آئو اور اس کے ساتھ نرمی برتو۔جبرنہ کرو اوراس کی فرصت اور فارغ البالی سے فائدہ اٹھائو۔مگر جن فرائض کو پروردگار نے تمہارے ذمہ لکھ دیاہے انہیں بہرحال انجام دینا ہے اوران کا خیال رکھنا ہے اوردیکھوخبردار ایسا نہ ہو کہ تمہیں اس حال میں موت آجائے کہ تم طلب دنیا میں پروردگار سے بھاگ رہے ہو۔اورخبردار فاسقوں کی صحبت اختیار نہ کرنا کہ شربالآخر شر سے مل جاتا ہے۔اللہ کی عظمت کا اعتراف کرواوراس کے محبوب بندوں سے محبت کرو اور غصہ سے اجتناب کروکہ یہ یطان کے لشکروں میں سب سے عظیم تر لشکر ہے ۔والسلام!

(۷۰)

آپ کامکتوب گرامی

(عامل مدینہ سہل بن حنیف انصاری کے نام جب آپ کو خبر ملی کہ ایک قوم معاویہ سے جا ملی ہے)

(۱)واضح رہے کہ جمعہ کے دن تعطیل کوئی اسلامی قانون نہیں ہے۔صرف مسلمانوں کا ایک طریقہ ہے۔ورنہ اسلام نے صرف بقدر نمازکاروباربند کرنے کاحکم دیا ہے اور اس کے بعد فوراً یہ حکم دیا ہے کہ زمین میں منتشر ہو جائو اور رزق خدا تلاش کرو۔مگر افسوس کہ جمعہ کی تعطیل کے بہترین روز عبادت کو بھی عیاشیوں اوربدکاریوں کا دن بنادیا گیا اور انسان سب سے زیادہ نکما اورناکارہ اسی دن ہوت ہے ۔انا للہ وانا الیہ راجعون


أَمَّا بَعْدُ - فَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ رِجَالًا مِمَّنْ قِبَلَكَ يَتَسَلَّلُونَ إِلَى مُعَاوِيَةَ - فَلَا تَأْسَفْ عَلَى مَا يَفُوتُكَ مِنْ عَدَدِهِمْ - ويَذْهَبُ عَنْكَ مِنْ مَدَدِهِمْ - فَكَفَى لَهُمْ غَيّاً - ولَكَ مِنْهُمْ شَافِياً فِرَارُهُمْ مِنَ الْهُدَى والْحَقِّ - وإِيضَاعُهُمْ إِلَى الْعَمَى والْجَهْلِ - فَإِنَّمَا هُمْ أَهْلُ دُنْيَا مُقْبِلُونَ عَلَيْهَا ومُهْطِعُونَ إِلَيْهَا - وقَدْ عَرَفُوا الْعَدْلَ ورَأَوْه وسَمِعُوه ووَعَوْه - وعَلِمُوا أَنَّ النَّاسَ عِنْدَنَا فِي الْحَقِّ أُسْوَةٌ - فَهَرَبُوا إِلَى الأَثَرَةِ - فَبُعْداً لَهُمْ وسُحْقاً

إِنَّهُمْ واللَّه لَمْ يَنْفِرُوا مِنْ جَوْرٍ - ولَمْ يَلْحَقُوا بِعَدْلٍ - وإِنَّا لَنَطْمَعُ فِي هَذَا الأَمْرِ أَنْ يُذَلِّلَ اللَّه لَنَا صَعْبَه - ويُسَهِّلَ لَنَا حَزْنَه إِنْ شَاءَ اللَّه - والسَّلَامُ.

(۷۱)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى المنذر بن الجارود العبدي، وخان في بعض ما ولاه من أعماله

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ صَلَاحَ أَبِيكَ غَرَّنِي مِنْكَ - وظَنَنْتُ أَنَّكَ تَتَّبِعُ هَدْيَه - وتَسْلُكُ سَبِيلَه

اما بعد !مجھے یہ خبرملی ہے کہ تمہارے یہاں کے کچھ لوگ چپکے سے معاویہ کی طرف کھسک گئے ہیں توخبردار تم اس عدد کے کم ہوجانے اور اس طرقت کے چلے جانے پر ہر گز افسوس نہ کرنا کہ ان لوگوں کی گمراہی اور تمہارے سکون نفس کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ لوگ حق و ہدایت سے بھاگے ہیں اور گمراہی اور جہالت کی طرف دوڑ پڑے ہیں۔یہ اہل دنیاہیں لہٰذا اس کی طرف متوجہ ہیں اور دوڑ لگا رہے ہیں۔حالانکہ انہوں نے انصاف کوپہچانا بھی ہے اوردیکھا بھی ہے۔سنابھی ہے اور سمجھے بھی ہیں اورانہیں معلوم ہے کہ حق کے معاملہ میں ہمارے یہاں تمام لوگ برابر کی حیثیت رکھتے ہیں اسی لئے یہ لوگ خود غرضی کی طرف بھاگ نکلے ۔خدا انہیں غارت کرے اورتباہ کردے ۔

خداکی قسم ان لوگوں نے ظلم سے فرار نہیں کیا ہے اور نہ عدل سے ملحق ہوئے ہیں۔اور ہماری خواہش صرف یہ ہے کہ پروردگار اس معاملہ میں دشواریوں کوآسان بنادے اورنا ہمواری کو ہموار کردے ۔

(۷۱)

آپ کامکتوب گرامی

(منذر بن جارود عبدی کے نام۔ جس نے بعض اعمال میں خیانت سے کام لیا تھا)

امابعد! تیرے باپ کی شرافت نے مجھے تیرے بارے میں دھوکہ میں رکھا اور میں سمجھا کہ تواسی کے راستہ پرچل رہا ہے اوراسی کے


فَإِذَا أَنْتَ فِيمَا رُقِّيَ إِلَيَّ عَنْكَ لَا تَدَعُ لِهَوَاكَ انْقِيَاداً - ولَا تُبْقِي لِآخِرَتِكَ عَتَاداً - تَعْمُرُ دُنْيَاكَ بِخَرَابِ آخِرَتِكَ - وتَصِلُ عَشِيرَتَكَ بِقَطِيعَةِ دِينِكَ - ولَئِنْ كَانَ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ حَقّاً - لَجَمَلُ أَهْلِكَ وشِسْعُ نَعْلِكَ خَيْرٌ مِنْكَ - ومَنْ كَانَ بِصِفَتِكَ فَلَيْسَ بِأَهْلٍ أَنْ يُسَدَّ بِه ثَغْرٌ - أَوْ يُنْفَذَ بِه أَمْرٌ أَوْ يُعْلَى لَه قَدْرٌ - أَوْ يُشْرَكَ فِي أَمَانَةٍ أَوْ يُؤْمَنَ عَلَى جِبَايَةٍ - فَأَقْبِلْ إِلَيَّ حِينَ يَصِلُ إِلَيْكَ كِتَابِي هَذَا إِنْ شَاءَ اللَّه.

قال الرضي والمنذر بن الجارود - هذا هو الذي قال فيه أمير المؤمنينعليه‌السلام - إنه لنظار في عطفيه مختال في برديه - تفال في شراكيه

(۷۲)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى عبد الله بن العباس

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّكَ لَسْتَ بِسَابِقٍ أَجَلَكَ - ولَا مَرْزُوقٍ مَا لَيْسَ لَكَ - واعْلَمْ بِأَنَّ الدَّهْرَ يَوْمَانِ - يَوْمٌ لَكَ ويَوْمٌ

طریقہ پر گامزن ہے لیکن تازہ ترین اخبار سے اندازہ ہوتا ہے کہ تو نے خواہشات کی پیروی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے اور آخرت کے لئے کوئی ذخیرہ نہیں کیا ہے۔آخرت کو برباد کرکے دنیا کو آباد کررہا ہے اوردین سے رشتہ توڑ کر قبیلہ سے رشتہ جوڑ رہا ہے۔اگرمیرے پاس آنے والی خبریں صحیح ہیں تو تیرے گھر والوں کا اونٹ اور تیرے جوتہ کا تسمہ بھی تجھ سے بہتر ہے اور جو تیرا جیسا ہو اس کے ذریعہ نہ رخنہ کوبند کیا جا سکتا ہے نہ کسی امرکونافد کیا جاسکتاہے اور نہ اس کے مرتبہ کو بلند کیاجاسکتا ہے نہ اسے کسی امانت میں شریک کیا جاسکتا ہے۔یا مال کی جمع آوری پر امین سمجھا جائے لہٰذا جیسے ہی میرا یہ خط ملے فوراً میری طرف چل پڑو۔انشاء اللہ

سید رضی : منذربن الجارود ۔یہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں امیر المومنین نے فرمایا تھا کہ یہ اپنے بازئوں کو برابر دیکھتا رہتا ہے اور اپنی چادروں میں جھوم کر چلتا ہے اور جوتی کے تسموں کو پھونکتا رہتا ہے ( یعنی انتہائی مغرور اورمتکبر قسم کاآدمی ہے )

(۷۲)

آپ کامکتوب گرامی

(عبداللہ بن عباس کے نام )

اما بعد! نہ تم اپنی مدت حیات سے آگے بڑ ھ سکتے ہو اورنہ اپنے رزق سے زیادہ حاصل کرسکتے ہو۔اوریاد رکھو کہ زمانہ کے دو دن ہوتے ہیں ۔ایک تمہارے حق میں اور


عَلَيْكَ - وأَنَّ الدُّنْيَا دَارُ دُوَلٍ - فَمَا كَانَ مِنْهَا لَكَ أَتَاكَ عَلَى ضَعْفِكَ - ومَا كَانَ مِنْهَا عَلَيْكَ لَمْ تَدْفَعْه بِقُوَّتِكَ.

(۷۳)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى معاوية

أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي عَلَى التَّرَدُّدِ فِي جَوَابِكَ - والِاسْتِمَاعِ إِلَى كِتَابِكَ - لَمُوَهِّنٌ رَأْيِي ومُخَطِّئٌ فِرَاسَتِي - وإِنَّكَ إِذْ تُحَاوِلُنِي الأُمُورَ - وتُرَاجِعُنِي السُّطُورَ - كَالْمُسْتَثْقِلِ النَّائِمِ تَكْذِبُه أَحْلَامُه - والْمُتَحَيِّرِ الْقَائِمِ يَبْهَظُه مَقَامُه - لَا يَدْرِي أَلَه مَا يَأْتِي أَمْ عَلَيْه - ولَسْتَ بِه غَيْرَ أَنَّه بِكَ شَبِيه - وأُقْسِمُ بِاللَّه إِنَّه لَوْ لَا بَعْضُ الِاسْتِبْقَاءِ - لَوَصَلَتْ إِلَيْكَ مِنِّي قَوَارِعُ تَقْرَعُ الْعَظْمَ - وتَهْلِسُ اللَّحْمَ - واعْلَمْ أَنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ ثَبَّطَكَ - عَنْ أَنْ تُرَاجِعَ أَحْسَنَ أُمُورِكَ - وتَأْذَنَ لِمَقَالِ نَصِيحَتِكَ والسَّلَامُ لأَهْلِه.

ایک تمہارے خلاف اور یہ دنیا ہمیشہ کروٹیں بدلتی رہتی ہے لہٰذا جو تمہارے حق میں ہے وہ کمزوری کے باوجود تم تک آجائے گا اور جو تمہارے خلاف ہے اسے طاقت کے باوجودتم نہیں ٹال سکتے ہو۔

(۷۳)

آپ کامکتوب گرامی

(معاویہ کے نام )

امابعد! میں تم سے خط و کتابت کرنے اور تمہاری بات سننے میں اپنی رائے کی کمزوری اوراپنی دانش مندی کی غلطی کا احساس کر رہا ہوں اور تم بار بارمجھ سے اپنی بات منوانے اورخط و کتابت جاری رکھنے کی کوشش کرنے میں ایسے ہی ہو جیسے کوئی بستر پر لٹا خواب دیکھ رہا ہو اور اس کا خواب غلط ثابت ہو یا کوئی حیرت زدہ منہ اٹھائے کھڑا ہو اور یہ قیام بھی اسے مہنگا پڑے اوری ہی نہ معلوم ہو کہ آنے والی چیز اس کے حق میں مفید ہے یا مضر۔ تم بالکل یہی شخص نہیں ہو لیکن اسی کے جیسے ہو اورخداکی قسم کہ اگر کسی حد تک باقی رکھنا میری مصلحت نہ ہوتا تو تم تک ایسے حوادث آتے جو ہڈیوں کوتوڑ دیتے اور گوشت کا نام تک نہ چھوڑتے اوریاد رکھوکہ یہ شیطان نے تمہیں بہترین امور کی طرف رجوع کرنے اورعمدہ ترین نصیحتوں کے سننے سے روک رکھا ہے۔اور سلام اس کے اہل پر۔


(۷۴)

ومن حلف لهعليه‌السلام

كتبه بين ربيعة واليمن ونقل من خط هشام بن الكلبي

هَذَا مَا اجْتَمَعَ عَلَيْه أَهْلُ الْيَمَنِ - حَاضِرُهَا وبَادِيهَا - ورَبِيعَةُ حَاضِرُهَا وبَادِيهَا - أَنَّهُمْ عَلَى كِتَابِ اللَّه يَدْعُونَ إِلَيْه - ويَأْمُرُونَ بِه ويُجِيبُونَ مَنْ دَعَا إِلَيْه وأَمَرَ بِه - لَا يَشْتَرُونَ بِه ثَمَناً - ولَا يَرْضَوْنَ بِه بَدَلًا - وأَنَّهُمْ يَدٌ وَاحِدَةٌ عَلَى مَنْ خَالَفَ ذَلِكَ وتَرَكَه - أَنْصَارٌ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ - دَعْوَتُهُمْ وَاحِدَةٌ - لَا يَنْقُضُونَ عَهْدَهُمْ لِمَعْتَبَةِ عَاتِبٍ - ولَا لِغَضَبِ غَاضِبٍ - ولَا لِاسْتِذْلَالِ قَوْمٍ قَوْماً - ولَا لِمَسَبَّةِ قَوْمٍ قَوْماً - عَلَى ذَلِكَ شَاهِدُهُمْ وغَائِبُهُمْ - وسَفِيهُهُمْ وعَالِمُهُمْ وحَلِيمُهُمْ وجَاهِلُهُمْ - ثُمَّ إِنَّ عَلَيْهِمْ بِذَلِكَ عَهْدَ اللَّه ومِيثَاقَه - إِنَّ عَهْدَ اللَّه كَانَ مَسْئُولًا.

وكَتَبَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ.

(۷۴)

آپ کا معاہدہ

(جسے ربیعہ اوراہل یمن کے درمیان تحریر فرمایا ہے اور یہ ہشام کی تحریر سے نقل کیا گیا ہے )

یہ وہ عہد ہے جس پر اہل یمن(۱) کے شہری اور دیہاتی اورقبیلہ ربیعہ کے شہری اور دیہاتی سب نے اتفاق کیا ہے کہ سب کے سب کتاب خدا پر ثابت رہیں گے اور اسی کی دعوت دیں گے۔ جو اس کی طرف دعوت دے گا اوراس کے ذریعہ حکم دے گا اس کی دعوت پر لبیک کہیں گے ۔نہ اس کی کسی قیمت پرفروخت کریں گے اور نہ اس کے کسی بدل پر راضی ہوں گے ۔اس امر کے مخالف اوراس کے نظرانداز کرنے والے کے خلاف متحد رہیں گے اور کسی سرزنش کرنے والے کی سر زنش پر اس عہد کوت وڑیں گے اور نہ کسی غیظ و غضب سے اس راہ میں متاثر ہوں گے اور نہ کسی قوم کوذلیل کرنے یا گالی دینے کا وسیلہ قراردیں گے۔اسی بات پر حاضرین بھی قائم رہیں گے اور غائبین بھی اسی پر کم عقل بھی کاربند رہیں گے اور عالم بھی۔اسی کی پابندی صاحبان دانش بھی کریں گے اورجاہل بھی۔پھر اس کے بعد ان کے ذمہ عہد الٰہی اورمیثاق پروردگار کی پابندی بھی لازم ہوگئی ہے اور عہد الٰہی کے بارے میں روز قیامت بھی سوال کیا جائے گا ۔کاتب علی بن ابی طالب

(۱)عرب کے وہ قبائل جن کا سلسلہ نسب قحطان بن عامر تک پہنچتا ہے انہیں یمن سے تعبیر کیا جاتا ہے اورجن کا سلسلہ ربیعہ بن نزار سے ملتا ہے انہیں ربیعہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔دور جاہلیت میں دونوں میں شدید اختلافات تھے لیکن اسلام لانے کے عد دونوں مستحد ہوگئے ۔والحمد للہ


(۷۵)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى معاوية في أول ما بويع له

ذكره الواقدي في كتاب «الجمل»

مِنْ عَبْدِ اللَّه عَلِيٍّ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ - إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ:

أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ عَلِمْتَ إِعْذَارِي فِيكُمْ - وإِعْرَاضِي عَنْكُمْ - حَتَّى كَانَ مَا لَا بُدَّ مِنْه ولَا دَفْعَ لَه - والْحَدِيثُ طَوِيلٌ والْكَلَامُ كَثِيرٌ - وقَدْ أَدْبَرَ مَا أَدْبَرَ - وأَقْبَلَ مَا أَقْبَلَ - فَبَايِعْ مَنْ قِبَلَكَ - وأَقْبِلْ إِلَيَّ فِي وَفْدٍ مِنْ أَصْحَابِكَ والسَّلَامُ.

(۷۶)

ومن وصية لهعليه‌السلام

لعبد الله بن العباس عند استخلافه إياه على البصرة

سَعِ النَّاسَ بِوَجْهِكَ ومَجْلِسِكَ وحُكْمِكَ - وإِيَّاكَ والْغَضَبَ فَإِنَّه طَيْرَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ - واعْلَمْ أَنَّ مَا قَرَّبَكَ مِنَ اللَّه يُبَاعِدُكَ مِنَ النَّارِ -

(۷۵)

آپ کامکتوب گرامی

(معاویہ کے نام ۔اپنی بیعت کے ابتدائی دورمیں جس کا ذکر و اقدی نے کتاب الجمل میں کیا ہے )

بندہ خدا امیر المومنین علی کی طرف سے معاویہ بن ابی سفیان کے نام ۔

امابعد! تمہیں معلوم ہے کہ میں نے اپنی طرف سے حجت تمام کردی ہے اورتم سے کنارہ کشی کرلی ہے۔مگر پھر بھی وہ بات ہو کر رہی جسے ہوناتھا اور جسے ٹالا نہیں جا سکتا تھا۔یہ بات بہت لمبی ہے اور اس میں گفتگو بہت طویل ہے لیکن اب جسے گذر نا تھا وہ گذر گیا اور جسے آنا تھا وہ آگیا۔اب مناسب یہی ہے کہ اپنے یہاں کے لوگوں سے میری بیعت لے لو اور سب کولے کرمیرے پاس حاضر ہو جائو۔والسلام

(۷۶)

آپ کی وصیت

(عبداللہ بن عباس کے لئے ۔جب انہیں بصرہ کا والی قرار دیا)

لوگوں سے ملاقات کرنے میں۔انہیں اپنی بزم میں جگہ دینے میں اور ان کے درمیان فیصلہ کرنے میں وسعت سے کام لو اورخبردار غیظ و غضب سے کام نہ لینا کہ یہ شیطان کی طرف سے ہلکے پن کا نتیجہ ہے اور یاد رکھوکہ جوچیز اللہ سے قریب بناتی ہے وہی جہنم سے


ومَا بَاعَدَكَ مِنَ اللَّه يُقَرِّبُكَ مِنَ النَّارِ.

(۷۷)

ومن وصية لهعليه‌السلام

لعبد الله بن العباس لما بعثه للاحتجاج على الخوارج

لَا تُخَاصِمْهُمْ بِالْقُرْآنِ - فَإِنَّ الْقُرْآنَ حَمَّالٌ ذُو وُجُوه - تَقُولُ ويَقُولُونَ... ولَكِنْ حَاجِجْهُمْ بِالسُّنَّةِ - فَإِنَّهُمْ لَنْ يَجِدُوا عَنْهَا مَحِيصاً

(۷۸)

ومن كتاب لهعليه‌السلام

إلى أبي موسى الأشعري جوابا في أمر الحكمين ذكره سعيد بن يحيى الأموي في كتاب «المغازي».

فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ تَغَيَّرَ كَثِيرٌ مِنْهُمْ عَنْ كَثِيرٍ مِنْ حَظِّهِمْ - فَمَالُوا مَعَ الدُّنْيَا ونَطَقُوا بِالْهَوَى - وإِنِّي نَزَلْتُ مِنْ هَذَا الأَمْرِ مَنْزِلًا مُعْجِباً ،اجْتَمَعَ بِه أَقْوَامٌ أَعْجَبَتْهُمْ أَنْفُسُهُمْ - وأَنَا أُدَاوِي مِنْهُمْ قَرْحاً أَخَافُ أَنْ يَكُونَ عَلَقاً

دورکرتی ہے اورجوچیز اللہ سے دورکرتی ہے وہی جہنم سے قریب بنا دیتی ہے ۔

(۷۷)

آپ کی وصیت

(عبداللہ بن عباس کے نام۔جب انہیں خوارج کے مقابلہ میں اتمام حجت کے لئے ارسال فرمایا)

دیکھو ان سے قرآن کے بارے میں بحث نہ کرنا کہ اس کے بہت سے وجوہ و احتمالات ہوتے ہیں اوراس طرح تم اپنی کہتے رہوگے اوروہ اپنی کہتے رہیں گے ۔بلکہ ان سے سنت کے ذریعہ بحث کرو کہ اس سے بچ کرنکل جانے کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

(۷۸)

آپ کامکتوب گرامی

(ابو موسیٰ اشعری کے نام۔حکمین کے سلسلہ میں اس کے ایک خط کے جواب میں جس کا تذکرہ سعید بن یحییٰ نے ''مغاری'' میں کیا ہے )

کتنے ہی لوگ اسے ہیں جو آخرت کی بہت سی سعادتوں سے محروم ہوگئے ہیں۔دنیا کی طرف جھک گئے ہیں اور خواہشات کے مطابق بولنے لگے ہیں۔میں اس امرکی وجہ سے ایک حیرت و استعجاب کی منزل میں ہوںجہاں ایسے لوگ جمع ہوگئے ہیں جنہیں اپنی ہی بات اچھی لگتی ہے ۔ میں ان کے زخم کا مداوا تو کررہا ہوں لیکن ڈر رہا ہوں کہ کہیں یہ منجمد خون کی شکل نہ اختیار کرلے۔


ولَيْسَ رَجُلٌ فَاعْلَمْ أَحْرَصَ عَلَى جَمَاعَةِ أُمَّةِ مُحَمَّدٍصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - وأُلْفَتِهَا مِنِّي - أَبْتَغِي بِذَلِكَ حُسْنَ الثَّوَابِ وكَرَمَ الْمَآبِ - وسَأَفِي بِالَّذِي وَأَيْتُ عَلَى نَفْسِي - وإِنْ تَغَيَّرْتَ عَنْ صَالِحِ مَا فَارَقْتَنِي عَلَيْه - فَإِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ حُرِمَ نَفْعَ مَا أُوتِيَ مِنَ الْعَقْلِ والتَّجْرِبَةِ - وإِنِّي لأَعْبَدُ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ بِبَاطِلٍ - وأَنْ أُفْسِدَ أَمْراً قَدْ أَصْلَحَه اللَّه - فَدَعْ مَا لَا تَعْرِفُ - فَإِنَّ شِرَارَ النَّاسِ طَائِرُونَ إِلَيْكَ بِأَقَاوِيلِ السُّوءِ - والسَّلَامُ.

(۷۹)

ومن كتاب كتبهعليه‌السلام

لما استخلف إلى أمراء الأجناد

أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ - أَنَّهُمْ مَنَعُوا النَّاسَ الْحَقَّ فَاشْتَرَوْه - وأَخَذُوهُمْ بِالْبَاطِلِ فَاقْتَدَوْه

اوریاد رکھو کہ امت پیغمبر (ص) کی شیرازہ بندی اوراس کے اتحاد کے لئے مجھ سے زیادہ خواہش مند کوئی نہیں ہے جس کے ذرعیہ میں بہترین ثواب اور سرف رازی آخرت چاہتا ہوں اورمیں بہرحال اپنے عہد کو پوراکروں گا چاہے تم اس بات سے پلٹ جائو جو آخری ملاقات تک تمہاری زبان پر تھی۔یقینا بد بخت وہ ے جو عقل و تجربہ کے ہوتے ہوئے بھی اس کے فوائد سے محروم رہے۔میں تواس بات پر ناراض ہوں کہ کوئی شخص حرف باطل زبان پر جاری کرے یا کسی ایسے امر کوفاسد کردے جس کی خدانے اصلاح کردی ہے۔لہٰذا جس بات کوتم نہیں جانتے ہو اس کو نظراندازکردو کہ شریر لوگ بڑی باتیں تم تک پہنچانے کے لئے اڑ کر پہنچاکریں گے ۔والسلام۔

(۷۹)

آپ کامکتوب گرامی

(خلاف کے بعد۔روساء لشکر کے نام)

امابعد! تم سے پہلے والے صرف اس بات سے ہلاک ہوگئے کہ انہوں نے لوگوں کے حق روک لئے اور انہیں رشوت دے کر خریدلیا اور انہیں باطل کا پابند بنایا تو سب انہیں کے راستوں پر چل پڑے ۔


حكم أمير المؤمنينعليه‌السلام

باب المختار من حكم أمير المؤمنينعليه‌السلام ويدخل في ذلك المختار من أجوبه مسائله

والكلام القصير الخارج في سائر أغراضه

۱ - قَالَعليه‌السلام كُنْ فِي الْفِتْنَةِ كَابْنِ اللَّبُونِ - لَا ظَهْرٌ فَيُرْكَبَ ولَا ضَرْعٌ فَيُحْلَبَ.

بسمہ سبحانہ

امیر المومنین کے منتخب حکیمانہ کلمات

(اور اس باب میں سوالات کے جوبات اوران حکیمانہ کلمات کا انتخاب بھی شامل ہے جو مختلف اغراض کے تحت بیان کئے گئے ہیں )

(۱)

فتنہ وفساد کے زمانہ میں اس طرح رہو جس طرح دو سال کا اونٹنی کابچہ ہوتا ہے کہ نہ اس کی پشت سواری کے قابل ہوتی ہے اور نہ اس کے دوہنے کے لائق تھن ہوتے ہیں ۔

اس ارشاد کا مقصد فتنہ و فساد سے الگ رہ جانا نہیں ہے کہ یہ اسلام کے مجاہدانہ مزاج کے خلاف ہے۔اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان اس قدر ہوشیار رہے کہ لوگ اسے استعمال نہ کرنے پائیں اور اس کے ذریعہ فتنہ کی ہوا کو تیز تر نہ کرنے پائیں ۔


۲ - وقَالَعليه‌السلام أَزْرَى بِنَفْسِه مَنِ اسْتَشْعَرَ الطَّمَعَ - ورَضِيَ بِالذُّلِّ مَنْ كَشَفَ عَنْ ضُرِّه - وهَانَتْ عَلَيْه نَفْسُه مَنْ أَمَّرَ عَلَيْهَا لِسَانَه.

۳ - وقَالَعليه‌السلام الْبُخْلُ عَارٌ والْجُبْنُ مَنْقَصَةٌ - والْفَقْرُ يُخْرِسُ الْفَطِنَ عَنْ حُجَّتِه - والْمُقِلُّ غَرِيبٌ فِي بَلْدَتِه

۴ - وقَالَعليه‌السلام الْعَجْزُ آفَةٌ والصَّبْرُ شَجَاعَةٌ - والزُّهْدُ ثَرْوَةٌ والْوَرَعُ جُنَّةٌ -

(۲)

جس نے طمع کو شعار بنالیا اس نے اپنے نفس کو رسوا کردیا اور جس نے اپنی پریشانی کا اظہار کردیا وہ اپنی ذلت پر راضی ہوگیا اور جس نے نفس پر زبان کوحاکم بنادیا اس نے نفس کوسبک تربنا دیا۔

انسان کا بنیادی فرض ی ہے کہ اپنے نفس کوب ے نیازی کی تربیت دے اور طمع کا شکار نہ ہو۔اس کے بعد کوئی پریشانی آجائے تو صبر کو شعاربنائے اور ہر ایک سے فریاد نہ کرے کہ اس کی نگاہ میں ذلیل ہو جائے ۔اور جب بولنے کا وقت آئے تو فکر کو زبان پر حاکم بنائے اور زبان کو نفس کا حاکم نہ بنادے کہ جو چاہے کہنا شروع کردے ۔

(۳)

بخل ننگ و عار ہے اور بزرگی منفقت ۔فقر ہوشمند کو بھی اس کی حجت کے لئے گونگا بنادیتا ہے اور مفلس آدمی اپنے وطن میں بھی غریب ہوتا ہے۔

یہ ایک اجتماعی حقیقت ہے کہ فقرو فاقہ انسان کو خاموش بنا دیتے ہیں اور کوئی شخص فقیر کی بات سننے کو تیار نہیں ہوتا ہے اس کے علاوہوہ غربت انسان کو اپنے ہی شہر میں ایسا اجنبی بنا دیتی ہے کہ لوگ پہچاننے سے انکار کردیتے ہیں۔

(۴)

عاجزی آفت ہے اور صبر شجاعت ، زہد ثروت ہے اور پرہیز گاری سپر


ونِعْمَ الْقَرِينُ الرِّضَى.

۵ - وقَالَعليه‌السلام الْعِلْمُ وِرَاثَةٌ كَرِيمَةٌ والآدَابُ حُلَلٌ مُجَدَّدَةٌ - والْفِكْرُ مِرْآةٌ صَافِيَةٌ.

۶ - وقَالَعليه‌السلام صَدْرُ الْعَاقِلِ صُنْدُوقُ سِرِّه - والْبَشَاشَةُ حِبَالَةُ الْمَوَدَّةِ - والِاحْتِمَالُ قَبْرُ الْعُيُوبِ.

ورُوِيَ أَنَّه قَالَ فِي الْعِبَارَةِ عَنْ هَذَا الْمَعْنَى أَيْضاً: الْمَسْأَلَةُ خِبَاءُ الْعُيُوبِ ومَنْ رَضِيَ عَنْ نَفْسِه كَثُرَ السَّاخِطُ عَلَيْه.

۔انسان کا بہترین ساتھی رضائے الٰہی پر راضی رہنا ہے۔

یعنی عاجزی انسان کو بیکار بنا دیتی ہے اور صبر اس میں حوصلہ پیدا کراتا ہے۔دنیا سے بے نیازی خود ایک دولت ہے اور پرہیز گاری دنیا کی ذلت اور آخرت کے عذاب سے بچانے کی بہترین سپر ہے۔رضائے الٰہی سے بہتر کوئی ساتھی اور مصاحب نہیں ہے جو ہمیشہ ساتھ رہنے والا ہے ۔

(۵)

علم بہترین وراثت ہے اور آداب نوبہ نو لباس ہیں اورف کر بہترین شفاف آئینہ ہے۔

انسان علم سے بہتر کوئی تر کہ چھوڑ کر نہیں جاتا ہے اور آداب سے بہتر کوئی لباس نہیں ہے جو زمانہ کے حالات کے اعتبارسے بدلتا رہتا ہے ۔فکر انسان کے معلومات کا بہترین وسیلہ ہے جس طرح شفاف آئینہ میں شکل دیکھی جاتی ہے۔

(۶)

عاقل کا سینہ اسرار کا خزینہ ہے اور بشارت محبت کا جال ہے اور تحمل و بردباری عیوب کا مدفن ہے اور صلح و صفائی عیوب کے چھپانے کا ذریعہ ہے۔


۷ - والصَّدَقَةُ دَوَاءٌ مُنْجِحٌ - وأَعْمَالُ الْعِبَادِ فِي عَاجِلِهِمْ نُصْبُ أَعْيُنِهِمْ فِي آجَالِهِمْ.

۸ - وقَالَعليه‌السلام اعْجَبُوا لِهَذَا الإِنْسَانِ يَنْظُرُ بِشَحْمٍ ويَتَكَلَّمُ بِلَحْمٍ - ويَسْمَعُ بِعَظْمٍ ويَتَنَفَّسُ مِنْ خَرْمٍ.

۹ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا أَقْبَلَتِ الدُّنْيَا عَلَى أَحَدٍ أَعَارَتْه مَحَاسِنَ غَيْرِه وإِذَا أَدْبَرَتْ عَنْه سَلَبَتْه مَحَاسِنَ نَفْسِه.

۱۰ - وقَالَعليه‌السلام خَالِطُوا النَّاسَ مُخَالَطَةً إِنْ مِتُّمْ مَعَهَا بَكَوْا عَلَيْكُمْ - وإِنْ عِشْتُمْ حَنُّوا إِلَيْكُمْ.

(۷)

صدقہ بہترین کارآمد دوا ہے اور لوگوں کے دنیا کے اعمال آخرت میں ان کی نگاہوں کے سامنے ہوں گے ۔

(۸)

انسان کی ساخت(۱) پر تعجب کروکہ چربی کے ذریعہ دیکھتا ہے اورگوشت سے بولتا ہے اور ہڈی سے سنتا ہے اور سوراخ سے سانس لیتا ہے۔

(۹)

جب(۲) دنیاکسی کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے تو یہ دوسرے کے محاسن بھی اس کے حوالہ کردیتی ہے اور جب اس سے منہ پھراتی ہے تو اس کے محاسن بھی سلب کر لیتی ہے۔

(۱۰)

لوگوں کے ساتھ ایسا میل جول(۳) رکھوکہ مرجائو تو لوگ گریہ کریں اور زندہ رہو تو تمہارے مشتاق رہیں۔

(۱)حضرت کے بیان کا یہ حصہ علم الا عضاء سے تعلق رکھتا ہے۔جس کا مقصد طبی دوائوں کا بیان نہیں ہے بلکہ قدرت خدا کی طرف توجہ دلانا ہے کہ شائد انسان اس طرف شکر خالق کی طرف متوجہ ہو جائے ۔

(۲)یہ علم الا جتماع کا نکتہ ہے جہاں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ زمانہ عیب دار کو عیب عیب بھی بنا دتا ہے اور بے عیب کو عیب دار بھی بنا دیتا ہے اوردونوں کا فرق دنیا کی توجہ ہے جس کا حصول بہر حال ضروری ہے ۔

(۳)یہ بھی بہترین اجتماعی نکتہ ہے جس کی طرف ہر انسان کو متوجہ رہنا چاہیے۔


۱۱ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا قَدَرْتَ عَلَى عَدُوِّكَ - فَاجْعَلِ الْعَفْوَ عَنْه شُكْراً لِلْقُدْرَةِ عَلَيْه.

۱۲ - وقَالَعليه‌السلام أَعْجَزُ النَّاسِ مَنْ عَجَزَ عَنِ اكْتِسَابِ الإِخْوَانِ - وأَعْجَزُ مِنْه مَنْ ضَيَّعَ مَنْ ظَفِرَ بِه مِنْهُمْ.

۱۳ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا وَصَلَتْ إِلَيْكُمْ أَطْرَافُ النِّعَمِ - فَلَا تُنَفِّرُوا أَقْصَاهَا بِقِلَّةِ الشُّكْرِ.

۱۴ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ ضَيَّعَه الأَقْرَبُ أُتِيحَ لَه الأَبْعَدُ.

(۱۱)

جب دشمن پر قدرت(۱) حاصل ہو جائے تو معاف کردینے ہی کو اس قدرت کا شکریہ قرار دو۔

(۱۲)

عاجز(۲) ترین انسان وہ ہے جو دوست بنانے سے بھی عاجز ہو اور اس سے زیادہ عاجز وہ ہے جو رہے سہے دوستوں کوبھی برباد کردے ۔

(۱۳)

جب نعمتوں(۳) کا رخ تمہاری طرف ہو تو نا شکری کے ذریعہ انہیں اپنے تک پہنچنے سے بگھا نہ دو۔

(۱۴)

جسے قریب(۴) والے چھوڑ دیتے ہیں اسے دور والے مل جاتے ہیں۔

(۱)یہ اخلاقی تربیت ہے کہ انسان میں طاقت کا غرور نہیں ہونا چاہیے اور اسے ایک نعمت پروردگار سمجھ کر اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور شکریہ بھی غلطی کرنے والوں کی معافی کی شکل میں ظاہر ہونا چاہیے۔

(۲)یہ بھی ایک اجتماعی نکتہ ہے کہ انسان میں دوست بنانے کی صلاحیت انتہائی ضرورت ہے اور جس میں یہ صلاحیت نہ ہو اسے واقعاً انسان نہں کہا جا سکتا ہے اور اس سے بد تر گیا گذرا انسان وہ ہے جو پائے ہوئے دوستوں کوبھی گنوادے۔

(۳)پروردار عالم نے یہ اخلاقی نظام بنادیا ہے کہ نعمتوں کی تکمیل شکریہ ہی کے ذریعہ ہو سکتی ہے لہٰذا جسے بھی اس کی تکمیل درکار ہے اسے شکریہ کا پابند ہونا چاہیے۔

(۴)انسان کو اعزا و اقربا کی بے رخی سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔پروردگار جس طرح قرابتدار پیدا کر سکتا ہے اسی طرح دور والے مخلص بھی پیدا کر سکتا ہے اور اس طرح اعزاو اقربا میں یہ غرورنہیں ہونا چاہیے کہ ہم ساتھ چھوڑ دیں گے تو انسان لاوارث ہو جائے گا۔لاوارث کا وارث پروردگار اور اس نے حیات پیغمبر اسلام (ص) میںاس کا بہترین نمونہ پیشکردیا ہے ۔


۱۵ - وقَالَعليه‌السلام مَا كُلُّ مَفْتُونٍ يُعَاتَبُ.

۱۶ - وقَالَعليه‌السلام تَذِلُّ الأُمُورُ لِلْمَقَادِيرِ حَتَّى يَكُونَ الْحَتْفُ فِي التَّدْبِيرِ.

۱۷ - وسُئِلَعليه‌السلام عَنْ قَوْلِ الرَّسُولِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - غَيِّرُوا الشَّيْبَ ولَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ - فَقَالَعليه‌السلام إِنَّمَا قَالَصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ذَلِكَ والدِّينُ قُلٌّ - فَأَمَّا الآنَ وقَدِ اتَّسَعَ نِطَاقُه وضَرَبَ بِجِرَانِه - فَامْرُؤٌ ومَا اخْتَارَ.

۱۸ - وقَالَعليه‌السلام فِي الَّذِينَ اعْتَزَلُوا الْقِتَالَ مَعَه -

.

(۱۵)

ہر فتنہ(۱) میں پڑ جانے والا قابل عتاب نہیں ہوتا ہے۔

(۱۶)

سارے معاملات(۲) تقدیر کے تابع ہوتے ہیں یہاں تک کہ کبھی کبھی تدبیر سے موت واقع ہو جاتی ہے۔

(۱۷)

آپ سے رسول اکرم (ص) کے اس ارشاد کے بارے میں سوال کیا گیا کہ '' ضعیفی کو خضاب کے ذریعہ بدل(۳) دو اورخبردار یہودیوں کی شبیہ نہ بنو''تو آپ (ص) نے فرمایا کہ یہ اس دور کے لئے ہے جب دیندار کم تھے لیکن آج اسلام کا دئارہ وسیع ہو چکا ہے اور وہ سینہ ٹیک کرجم چکا ہے لہٰذا ہر انسان کو اپنی پسند سے کام کرنا چاہیے ۔

(۱۸)

آپ نے میدان جنگ سے کنارہ کشی کرنے والوں کے بارے میں فرمایا کہ

(۱)انسان اپنے ارادہ اختیار سے فتنوں میں مبتلا ہو جائے تو یقینا قابل ملامت ہوتا ہے۔لیکن حالات کی مجبوری اسے اس اقدام پرآمادہ کردے تو پروردگار مجبوریوں کامحاسبہ نہیں کرتا ہے جس کی مثال یاسر کی زندگی میں دیکھی جا سکتی ہے ۔

(۲)انسان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کائنات ارادہ ٔ الٰہی کے مطابق چل رہی ہے۔اس میں محنت ' مشقت ایک فرض بشریت ہے لیکن اس سے مقدارات کو بدلا نہیں جا سکتا ہے ورنہ یہ تصور کبھی انسان کو ہلاکت سے بھی دو چار کر سکتا ہے جس کی مثال موسیٰ کی نجات اور فرعون کی غرقابی میں دیکھی جا سکتی ہے ۔

(۳)یہودیت میں خضاب ایک عیب تھا اوربعض مسلمان بھی اس نظریہ سے متاثر تھے اس لئے حضور نے چاہا کہ مسلمان خضاب لگا کر میدان جنگ میںقدم رکھیں تاکہ کفار کے دل جوانوں کے لشکر کو دیکھ کر دہل جائیں۔اس کے بعد جب اسلام کو قوت حاصل ہوگئی تو خضاب کی ضرورت نہیں رہ گئی لیکن پھر بھی عیب نہیں ہے۔


خَذَلُوا الْحَقَّ ولَمْ يَنْصُرُوا الْبَاطِلَ.

۱۹ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ جَرَى فِي عِنَان أَمَلِه عَثَرَ بِأَجَلِه

۲۰ - وقَالَعليه‌السلام أَقِيلُوا ذَوِي الْمُرُوءَاتِ عَثَرَاتِهِمْ - فَمَا يَعْثُرُ مِنْهُمْ عَاثِرٌ إِلَّا ويَدُ اللَّه بِيَدِه يَرْفَعُه

۲۱ - وقَالَعليه‌السلام قُرِنَتِ الْهَيْبَةُ بِالْخَيْبَةِ والْحَيَاءُ بِالْحِرْمَانِ - والْفُرْصَةُ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ فَانْتَهِزُوا فُرَصَ الْخَيْرِ.

۲۲ - وقَالَعليه‌السلام لَنَا حَقٌّ فَإِنْ أُعْطِينَاه

'' ان لوگوں نے حق(۱) کو بھی چھوڑدیا اورباطل کی بھی مدد نہیں کی ۔

(۱۹)

جوامیدوں کی راہ میں دوڑتا ہی چلا جاتا ہے وہ آخرمیں موت(۲) سے ٹھوکر کھا جاتا ہے ۔

(۲۰)

با مروت(۳) لوگوں کی لغزشوں سے درگذر کرو۔کہ ایسا شخص جب بھی ٹھوکر کھاتا ہے تو قدرت کا ہاتھ اسے سنبھال کر اٹھا دیتا ہے ۔

(۲۱)

مرعوبیت(۴) کو ناکامی سے اور حیاء کو محرومی سے ملادیا گیا ہے۔فرصت کے مواقع بادلوں کی طرح گزر جاتے ہیں لہٰذا نیکیوں کی فرصت کو غنیمت خیال کرو۔

(۲۲)

ہمارا ایک حق ہے جو مل گیا توخیر ورنہ ہم اونٹ

(۱)اردو میں اس صورت حال کے بارے میں کہا جاتا ہے :''نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔نہادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے''

(۲)جب موت برحق ہے تو امیدوں سے لو لگانے کی کیا ضرورت ہے۔ایک دن تو ان کا سلسلہ بہر حال ختم ہونا ہے تو بلا وجہ ان کی راہ میں جان دینے کی کیا ضرورت ہے۔

(۳)ہر انسان معصوم نہیں ہوتا ہے تو غلطی کا امکان بہر حال رہتا ہے لہٰذا ہر شخص کا فرض ہے کہ کسی شریف آدمی سے غلطی ہو جائے تو اسے معاف کردے اور نالائقوں سے محاسب و مواخذہ کرے۔

(۴)جو بلا وجہ خوفزدہ ہو جائے گا وہ مقصد کو حاصل نہیں کر سکتا ہے اور جو بلا وجہ شرماتا رہے گا وہ ہمیشہ محروم رہے گا۔انسان ہرموقع پر شرماتا ہی رہتا تو نسل انسانی وجود میں نہ آتی۔


وإِلَّا رَكِبْنَا أَعْجَازَ الإِبِلِ - وإِنْ طَالَ السُّرَى.

قال الرضي وهذا من لطيف الكلام وفصيحه - ومعناه أنا إن لم نعط حقنا كنا أذلاء - وذلك أن الرديف يركب عجز البعير - كالعبد والأسير ومن يجري مجراهما.

۲۳ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ أَبْطَأَ بِه عَمَلُه لَمْ يُسْرِعْ بِه نَسَبُه.

۲۴ - وقَالَعليه‌السلام مِنْ كَفَّارَاتِ الذُّنُوبِ الْعِظَامِ إِغَاثَةُ الْمَلْهُوفِ - والتَّنْفِيسُ عَنِ الْمَكْرُوبِ.

۲۵ - وقَالَعليه‌السلام يَا ابْنَ آدَمَ إِذَا رَأَيْتَ رَبَّكَ سُبْحَانَه يُتَابِعُ عَلَيْكَ نِعَمَه - وأَنْتَ تَعْصِيه فَاحْذَرْه.

پر(۱) پیچھے ہی بیٹھنا گوارا کرلیں گے چاہے سفر کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو۔

سید رضی : یہ بہترین لطیف اور فصیح کلام ے کہ اگر حق نہ ملا تو ہم کو ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا کہ ردیف میں بیٹھنے والے عام طور سے غلام اورقیدی وغیرہ ہواکرتے ہیں۔

(۲۳)

جسے اس کے اعمال کے پیچھے ہٹا دیں اسے نسب آگے نہیں بڑھا سکتا ہے۔

(۲۴)

بڑے بڑے گناہوں کا کفارہ یہ ہے کہ انسان ست رسیدہ کی فریاد(۲) رسیکرے اور رنج دیدہ انسان کے غم کو دور کرے۔

(۲۵)

فرزند آدم ! جب گناہوں کے باوجود پروردگار کی نعمتیں مسلسل تجھے ملتی رہیں تو ہوشیار(۳) ہو جانا۔

(۱)یعنی ہم حق سے دستبردار ہونے والے نہیں ہیں اور جہاں تک غاصبانہ دبائو کا سامانا کرنا پڑے گا کرتے رہیں گے ۔

(۲)ستم رسیدہوہ بھی ہے جس کے کھانے پینے کا سہارا نہ ہو اور وہ بھی ہے جس کے علاج کا پیسہ یا اسکول کی فیس کا انتظام نہ ہو

(۳)اکثر انسان نعمتوں کی بارش دیکھ کر مغرور ہو جاتا ہے کہ شائد پروردگار کچھ زیادہہی مہربان ہے اور یہ نہیں سوچتا ہے کہ اس طرح حجت تمام ہورہی ہے اورڈھیل دی جارہی ہے ورنہ گناہوں کے باوجود اس بارش رحمت کا کیا امکان ہے۔


۲۶ - وقَالَعليه‌السلام مَا أَضْمَرَ أَحَدٌ شَيْئاً إِلَّا ظَهَرَ فِي فَلَتَاتِ لِسَانِه - وصَفَحَاتِ وَجْهِه.

۲۷ - وقَالَعليه‌السلام امْشِ بِدَائِكَ مَا مَشَى بِكَ

۲۸ - وقَالَعليه‌السلام أَفْضَلُ الزُّهْدِ إِخْفَاءُ الزُّهْدِ.

۲۹ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا كُنْتَ فِي إِدْبَارٍ والْمَوْتُ فِي إِقْبَالٍ فَمَا أَسْرَعَ الْمُلْتَقَى.

۳۰ - وقَالَعليه‌السلام الْحَذَرَ الْحَذَرَ فَوَاللَّه لَقَدْ سَتَرَ حَتَّى كَأَنَّه قَدْ غَفَرَ.

(۲۶)

انسان جس بات کو د میں چھپانا چاہتا ہے وہ اس کی زبان کے بیساختہ کلمات(۱) اورجہرہ کے آثار سے نمایاں ہو جاتی ہے

(۲۷)

جہاں تک ممکن ہو مرض کے ساتھ چلتے رہو (اورفوراً علاج کی فکرمیں لگ جائو)

(۲۸)

بہترین زہد۔زہد کا مخفی رکھنا اور اظہار نہکرنا ہے ( کہ ریا کاری زہد نہیں ہے نفاق ہے )

(۲۹)

جب تمہاری زندگی جارہی ہے اور موت آرہی ہے تو ملاقات بہت جلدی ہو سکتی ہے۔

(۳۰)

ہوشیار ہوشیار! کہ پروردگار نے گناہوں کی اس قدر پردہ پوشی کی ہے کہ انسان کو یہ دھوکہ ہوگیا ہے کہ شائد معاف کردیا ہے ۔

(۱)زندگی کی بیشمار باتیں ہیں جن کا چھپانا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک زبان کی حرکت جاری ہے اور چہرہ کی غمازی سلامت ہے اور چہرہ کی غمازی سلامت ہے۔ان دو چیزوں پر کوئی انسان قابو نہیںپا سکتا ہے اور ان سے حقائق کا بہر حال انکشاف ہوجاتا ہے۔


۳۱ - وسُئِلَعليه‌السلام عَنِ الإِيمَانِ - فَقَالَ الإِيمَانُ عَلَى أَرْبَعِ دَعَائِمَ - عَلَى الصَّبْرِ والْيَقِينِ والْعَدْلِ والْجِهَادِ - والصَّبْرُ مِنْهَا عَلَى أَرْبَعِ شُعَبٍ - عَلَى الشَّوْقِ والشَّفَقِ والزُّهْدِ والتَّرَقُّبِ - فَمَنِ اشْتَاقَ إِلَى الْجَنَّةِ سَلَا عَنِ الشَّهَوَاتِ - ومَنْ أَشْفَقَ مِنَ النَّارِ اجْتَنَبَ الْمُحَرَّمَاتِ - ومَنْ زَهِدَ فِي الدُّنْيَا اسْتَهَانَ بِالْمُصِيبَاتِ - ومَنِ ارْتَقَبَ الْمَوْتَ سَارَعَ إِلَى الْخَيْرَاتِ - والْيَقِينُ مِنْهَا عَلَى أَرْبَعِ شُعَبٍ - عَلَى تَبْصِرَةِ الْفِطْنَةِ وتَأَوُّلِ الْحِكْمَةِ - ومَوْعِظَةِ الْعِبْرَةِ وسُنَّةِ الأَوَّلِينَ - فَمَنْ تَبَصَّرَ فِي الْفِطْنَةِ

(۳۱)

آپ سے ایمان کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ ایمان(۱) کے چا ستون ہیں : صبر ' یقین ' عدل اور جہاد۔

پھر صبرکے چار شعبے ہیں(۲) :شوق ' خوف ' زہد اور انتظارموت ۔پھر جس نے جنت کا اشتیاق پیدا کرلیا اسنے خواہشات کو بھلا دیا اورجسے جہنم کا خوف حاصل ہوگیا اس نے محرمات سے اجتناب کیا۔دنیا میں زہد اختیار کیا۔دنیا میں زہد اختیار کرنے والا مصیبتوں کو ہلکا تصورکرتا ہے اورموت کا انتظار کرنے والا نیکیوں کی طرف سبقت کرتا ہے۔

یقین کے بھی چار شعبے(۳) ہیں: ہوشیاری کی بصیرت ' حکمت کی حقیقت رسی ' عبرت کی نصیحت اور سابق بزرگوں کی سنت۔ہوشیاری میں بصیرت رکھنے

(۱)واضح رہے کہ اس ایمان سے مراد ایمان حقیقی ہے جس پر ثواب کا دارومدار ہے اور جس کاواقعی تعلق دل کی تصدیق اوراعضاء و جوارح کے عمل و کردارسے ہوتا ہے ورنہ وہ ایمان جس کاتذکرہ''یا ایھا الذن امنوا '' میں کیا گیا ہے اس سے مراد صرف زبانی اقرار اورادعائے ایمان ہے۔ورنہ ایسا نہ ہوتا تو تمام احکام کا تعلق صرف مومنین مخلصین سے ہوتا اور منافقین ان قوانین سے یکسر آزاد ہو جاتے ۔

(۲)صبر کا دارومدار چار اشیاء پر ہے۔انسان رحمت الٰہی کا اشتیاق رکھتا ہو اورعذاب الٰہی سے ڈرتا ہوتا کہ اس راہ میں زحمتیں برداشت کرے۔اس کے بعد دنیا کی طرف سے لا پرواہ ہو اور موت کی طرف سراپا توجہ ہوتا کہدنیا کے فراق کو برداشت کرلے اورموت کی سختی کے پیش نظر ہر سختی کو آسان سمجھ لے ۔

(۳)یقین کی بھی چار بنیادی ہیں۔اپنی ہر بات پر مکمل اعتماد رکھتا ہو۔حقاق کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔دیگر اقوام کے حالات سے عبرت حاصل کرے اورصالحین کے کردار پرعمل کرے۔ایسا نہیں ہے تو انسان جہل مرکب میں مبتلا ہے اور اس کا یقین فقط و ہم و گمان ہے یقین نہیں ہے۔


تَبَيَّنَتْ لَه الْحِكْمَةُ - ومَنْ تَبَيَّنَتْ لَه الْحِكْمَةُ عَرَفَ الْعِبْرَةَ - ومَنْ عَرَفَ الْعِبْرَةَ فَكَأَنَّمَا كَانَ فِي الأَوَّلِينَ

- والْعَدْلُ مِنْهَا عَلَى أَرْبَعِ شُعَبٍ - عَلَى غَائِصِ الْفَهْمِ وغَوْرِ الْعِلْمِ - وزُهْرَةِ الْحُكْمِ ورَسَاخَةِ الْحِلْمِ - فَمَنْ فَهِمَ عَلِمَ غَوْرَ الْعِلْمِ - ومَنْ عَلِمَ غَوْرَ الْعِلْمِ صَدَرَ عَنْ شَرَائِعِ الْحُكْمِ - ومَنْ حَلُمَ لَمْ يُفَرِّطْ فِي أَمْرِه وعَاشَ فِي النَّاسِ حَمِيداً –

والْجِهَادُ مِنْهَا عَلَى أَرْبَعِ شُعَبٍ - عَلَى الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ والنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ - والصِّدْقِ فِي الْمَوَاطِنِ وشَنَآنِ الْفَاسِقِينَ - فَمَنْ أَمَرَ بِالْمَعْرُوفِ شَدَّ ظُهُورَ الْمُؤْمِنِينَ - ومَنْ نَهَى عَنِ الْمُنْكَرِ أَرْغَمَ أُنُوفَ الْكَافِرِينَ - ومَنْ صَدَقَ فِي الْمَوَاطِنِ قَضَى مَا عَلَيْه - ومَنْ شَنِئَ الْفَاسِقِينَ وغَضِبَ لِلَّه غَضِبَ اللَّه لَه - وأَرْضَاه يَوْمَ الْقِيَامَةِ -

والے پر حکمت روشن ہو جاتی ہے اورحکمت کی روشنی عبرت کو واضح کر دیتی ہے اور عبرت کی معرفت گویا سابق اقوام سے ملا دیتی ہے۔

عدل کے بھی چار شعبے ہیں : تہ تک پہنچ جانے والی سمجھ' علم کی گہرائی فیصلہ کی وضاحت اور عقل کی پائیداری۔

جس نے فہم کی نعمت پالی وہ علم کی گہرائی تک پہنچ گیا اور جس نے علم کی گہرائی کو پالیا وہ فیصلہ کے گھاٹ سے سیراب ہو کرباہرآیا اور جس نے عقل استعمال کرلی اس نے اپنے امر میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور لوگوں کے درمیان قابل تعریف زندگی گزاردی۔

جہاد کے بھی چار شعبے ہیں:امر(۱) بالمعروف' نہی عن المنکر' ہر مقام پر ثبات قدم اورفاسقوں سے نفرت و عداوت ۔لہٰذا جس نے امر بالمعروف کیا اس نے مومنین کی کمر کو مضبوط کردیا۔اور جس نے منکرات سے روکا اس نے کافروں کی ناک رگڑدی۔جس نے میدان قتال میں ثبات قدم کامظاہرہ کیا وہ اپنے راستہ پر آگے بڑھ گیا اور جسنے فاسقوں سے نفرت و عداوت کا برتائو کیا پروردگار اس کی خاطر اس کے دشمنوں سے غضب ناک ہوگا اور اسے روز قیامت خوش کردے گا۔

(۱)جہاد کا انحصار بھی چارمیدانوں پر ہے۔امر بالمعروف کامیدان۔نہی عن المنکرکا میدان ' قتال کامیدان اور فاسقوں سے نفرت و عداوت کا میدان۔ان چاروں میدانوں میں حوصلہ جہاد نہیں ہے تو تنہا امرو نہی سے کوئی کام چلنے والا نہیں ہے اور نہ ایسا انسان واقعی مجاہد کہے جانے کے قابل ہے ۔


والْكُفْرُ عَلَى أَرْبَعِ دَعَائِمَ - عَلَى التَّعَمُّقِ ،والتَّنَازُعِ والزَّيْغِ والشِّقَاقِ - فَمَنْ تَعَمَّقَ لَمْ يُنِبْ إِلَى الْحَقِّ - ومَنْ كَثُرَ نِزَاعُه بِالْجَهْلِ دَامَ عَمَاه عَنِ الْحَقِّ - ومَنْ زَاغَ سَاءَتْ عِنْدَه الْحَسَنَةُ وحَسُنَتْ عِنْدَه السَّيِّئَةُ - وسَكِرَ سُكْرَ الضَّلَالَةِ - ومَنْ شَاقَّ وَعُرَتْ عَلَيْه طُرُقُه وأَعْضَلَ عَلَيْه أَمْرُه - وضَاقَ عَلَيْه مَخْرَجُه –

والشَّكُّ عَلَى أَرْبَعِ شُعَبٍ - عَلَى التَّمَارِي والْهَوْلِ والتَّرَدُّدِ والِاسْتِسْلَامِ - فَمَنْ جَعَلَ الْمِرَاءَ دَيْدَناً لَمْ يُصْبِحْ لَيْلُه - ومَنْ هَالَه مَا بَيْنَ يَدَيْه نَكَصَ عَلَى عَقِبَيْه - ومَنْ تَرَدَّدَ فِي الرَّيْبِ

اور کفر کے بھی چار ستون ہیں(۱) :بلاوجہ گہرائیوں میں جانا، آپس میں جھگڑا کرنا، کجی اور انحراف اوراختلاف اور عناد۔

جو بلا سبب گہرائی میں ڈوب جائے گا وہ پلٹ کرحق کی طرف نہیں آسکتا ہے اور جو جہالت کی بنا پرجھگڑا کرتا رہتا ہے وہ حق کی طرف سے اندھا ہو جاتا ہے جو کجی کاشکار ہو جاتا ہے اسے نیکی برائی'اور برائی نیکی نظر آنے لگتی ہے اوروہ گمراہی کے نشہ میں چورہو جاتا ہے اورجو جھگڑے اور عناد میں مبتلا ہو جاتا ہے اس کے راستے دشوار ' مسائل ناقابل حل اوربچ نکلنے کے طریقے تنگ ہو جاتے ہیں ۔

اس کے بعد شک(۲) کے چار شعبے ہیں :کٹ حجتی ' خوف ' حیرانی اور باطل کے ہاتھوں سپردگی۔ظاہر ہے کہ جو کٹ حجتی کو شعار بنالے گا اس کی رات کی صبح کبھی نہ ہوگی اور جو ہمیشہ سامنے کی چیزوں سے ڈرتا رہے گا وہ الٹے پائوں پیچھے ہی ہٹتا رہے گا۔جو شک و شبہ میں حیران و

(۱)کفر انکارخدا کی شکل میں ہو یا انکار رسالت کی شکل میں۔اس کی اساس شرک پر ہو یا انکارحقائق و واضحاب مذہب پر ہر سم کے لئے چار میں سے کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہوتا ہے یا انسان ان مسائل کی فکرمیں ڈوب جاتا ہے جو اس کے امکان سے باہر ہیں۔یا صرف جھگڑے کی بنیاد پرکسی عقیدہ کو اختیار کرلیتا ہے یا اس کی فکرمیں کجی پیدا ہو جاتای ہے یا وہ عناد اور ضد کا شکار ہو جاتا ہے۔اور کھلی ہوئی بات ہے کہ ان میں سے ہر بیماری وہ ہے جو انسان کو راہ راست پر آنے سے روک دیتی ہے اور انسان ساری زندگی کفر ہی میں مبتلا رہ جاتا ہے۔بیماری کی ہر قسم کے اثرات الگ الگ ہیں لیکن مجموعی طور پر سب کا اثر یہ ہے کہ انسان حق رسی سے محروم ہو جاتا ہے اور ایمان و یقین کی دولت سے بہرہ مند نہیں ہو پاتا ہے۔

(۲)شک ایمان و کفر کے درمیان کا راستہ ہے جہاں نہ انسان حق کا تیقن پیدا کر پاتا ہے اور نہ کفر ہی کا عقیدہ اختیار کرسکتا ہے اور درمیان میں ٹھوکریں کھاتا رہتا ہے اوراس ٹھوکر کے بھی چار اسباب یا مظاہر ہوتے ہیں یا انسان بلا سوچے سمجھے بحث شروع کر دیتا ہے یا غلطی کرنے کے خوف سے پرچھائیوں سے بھی ڈرنے لگتا ہے۔یا تردد اور حیرانی کا شکار ہو جاتا ہے یا ہر پکارنے والے کی آواز پر لبیک کہنے لگتا ہے :

''چلتا ہوں تھوڑی دور ہرایک راہ و کے ساتھ پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں ''


وَطِئَتْه سَنَابِكُ الشَّيَاطِينِ - ومَنِ اسْتَسْلَمَ لِهَلَكَةِ الدُّنْيَا والآخِرَةِ هَلَكَ فِيهِمَا.

قال الرضي وبعد هذا كلام تركنا ذكره خوف الإطالة - والخروج عن الغرض المقصود في هذا الكتاب.

۳۲ - وقَالَعليه‌السلام فَاعِلُ الْخَيْرِ خَيْرٌ مِنْه وفَاعِلُ الشَّرِّ شَرٌّ مِنْه.

۳۳ - وقَالَعليه‌السلام كُنْ سَمْحاً ولَا تَكُنْ مُبَذِّراً - وكُنْ مُقَدِّراً ولَا تَكُنْ مُقَتِّراً

۳۴ - وقَالَعليه‌السلام أَشْرَفُ الْغِنَى تَرْكُ الْمُنَى

۳۵ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ أَسْرَعَ إِلَى النَّاسِ بِمَا يَكْرَهُونَ - قَالُوا فِيه بِمَا لَا يَعْلَمُونَ.

سرداں رہے گا اسے شیاطین اپنے پیروں تلے روند ڈالیں گے اور جو اپنے کو دنیا و آخرت کی ہلاکت کے سپرد کردے گا وہ واقعاً ہلاک ہو جائے گا۔

(۳۲)

خیر کا انجام دینے والا اصل خیر سے بہتر ہوتا ہے اور شر کا انجام دینے والا اصل شر سے بھی بدتر ہوتا ہے ۔

(۳۳)

سخاوت کرو لیکن فضول خرچی نہ کرو اور کفایت شعاری اختیار کرو۔لیکن بخیل مت بنو۔

(۳۴)

بہترین مالداری اوربے نیازی یہ ہے کہ انسان امیدوں کو ترک کردے ۔

(۳۵)

جو لوگوں کے بارے میں بلا سوچے سمجھے وہ باتیں کہہ دیتا ہے جنہیں وہ پسند نہیں کرتے ہیں۔لوگ اس کے بارے میں بھی وہ کہہ دیتے ہیں جسے جانتے بھی نہیں ہیں۔


۳۶ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ أَطَالَ الأَمَلَ أَسَاءَ الْعَمَلَ.

۳۷ - وقَالَعليه‌السلام وقَدْ لَقِيَه عِنْدَ مَسِيرِه إِلَى الشَّامِ دَهَاقِينُ الأَنْبَارِ - فَتَرَجَّلُوا لَه واشْتَدُّوا بَيْنَ يَدَيْه - فَقَالَ:

مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمُوه فَقَالُوا خُلُقٌ مِنَّا نُعَظِّمُ بِه أُمَرَاءَنَا - فَقَالَ واللَّه مَا يَنْتَفِعُ بِهَذَا أُمَرَاؤُكُمْ - وإِنَّكُمْ لَتَشُقُّونَ عَلَى أَنْفُسِكُمْ فِي دُنْيَاكُمْ - وتَشْقَوْنَ بِه فِي آخِرَتِكُمْ - ومَا أَخْسَرَ الْمَشَقَّةَ وَرَاءَهَا الْعِقَابُ - وأَرْبَحَ الدَّعَةَ مَعَهَا الأَمَانُ مِنَ النَّارِ!

(۳۶)

جس نے امیدوں کو دراز(۱) کیا اس نے عمل کو برباد کردیا۔

(۳۷)

(شام کی طرف جاتے ہوئے آپ کا گذر ابنار کے زمینوں کے پاس سے ہوا تو وہ لوگ سواریوں سے اتر آئے اور آپ کے آگے دوڑنے لگے توآپ نے فرمایا ) یہ تم نے کیا طریقہ اختیار کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی کہ یہ ہمارا ایک ادب ہے جس سے ہم شخصیتوں کا احترام کرتے ہیں۔فرمایا کہخدا گواہ ہے اس سے حکام کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے اورتم اپنے نفس کو دنیا میں زحمت(۲) میں ڈالتے ہو اور آخرت میں بد بختی کا شکار ہو جائو گے اور کس قدرخسارہ کے باعث ہے وہ مشقت جس کے پیچھے عذاب ہو اورکس قدر فائدہ مند ہے وہ راحت جس کے ساتھ جہنم سے امان ہو۔

(۱)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ دنیا امیدوں پر قائم ہے اور انسان کی زندگی سے امیدکا شعبہ ختم ہو جائے تو عمل کی ساری تحریک سرد پڑ جائے گی اور کوئی انسان کوئی کام نہ کرے گا لیکن اس کے بعد بھی اعتدال ایک بنیادی مسئلہ ہے اور امیدوں کی درازی بہر حال عمل کو برباد کر دیتی ہے کہ انسان آخرت سے غافل ہو جاتا ہے اورآخرت سے غافل ہو جانے والا عمل نہیں کر سکتا ہے ۔

(۲)اس ارشاد گرامی سے صاف واضح ہوتا ہے کہ اسلام ہر تہذیب کوگوارا کرتا ہے اور اس کے بارے میں یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ اس کی افادیت کیا ے اورآخرت میں اس کا نقصان کس قدر ہے۔ہماری ملکی تہذیب میں فرشی سلام کرنا' غیر خدا کے سامنے سجدرکوع جھکنا بھی ہے جو اسلام میں قطعاً جائز نہیں ہے۔کسی ضرورت سے جھکنا اور ہے اور تعظیم کے خیال سے جھکنا اور ہے۔سلام تعظیم کے لئے ہوتا ہے لہٰذا اس میں رکوع کی حدوں تک جانا صحیح نہیں ہے۔


۳۸ - وقَالَعليه‌السلام لِابْنِه الْحَسَنِعليه‌السلام :

يَا بُنَيَّ احْفَظْ عَنِّي أَرْبَعاً وأَرْبَعاً - لَا يَضُرُّكَ مَا عَمِلْتَ مَعَهُنَّ - إِنَّ أَغْنَى الْغِنَى الْعَقْلُ وأَكْبَرَ الْفَقْرِ الْحُمْقُ - وأَوْحَشَ الْوَحْشَةِ الْعُجْبُ وأَكْرَمَ الْحَسَبِ حُسْنُ الْخُلُقِ.

يَا بُنَيَّ إِيَّاكَ ومُصَادَقَةَ الأَحْمَقِ - فَإِنَّه يُرِيدُ أَنْ يَنْفَعَكَ فَيَضُرَّكَ - وإِيَّاكَ ومُصَادَقَةَ الْبَخِيلِ - فَإِنَّه يَقْعُدُ عَنْكَ أَحْوَجَ مَا تَكُونُ إِلَيْه - وإِيَّاكَ ومُصَادَقَةَ الْفَاجِرِ فَإِنَّه يَبِيعُكَ بِالتَّافِه - وإِيَّاكَ ومُصَادَقَةَ الْكَذَّابِ - فَإِنَّه كَالسَّرَابِ يُقَرِّبُ عَلَيْكَ الْبَعِيدَ ويُبَعِّدُ عَلَيْكَ الْقَرِيبَ.

۳۹ - وقَالَعليه‌السلام لَا قُرْبَةَ بِالنَّوَافِلِ إِذَا أَضَرَّتْ بِالْفَرَائِضِ.

(۳۸)

آپ نے اپنے فرزند امام حسن سے فرمایا: بیٹا مجھ سے چار اور پھر چار(۱) باتیں محفوظ کرلو تو اس کے بعد کسی عمل سے کوئی نقصان نہ ہوگا۔

بہترین دولت و ثروت عقل ہے اوربد ترین فقیری حماقت ۔سب سے زیادہ وحشت ناک امرخود پسندی ہے اور سب سے شریف حسب خوش اخلاقی ۔بیٹا!خبردار کسی احمق کی دوستی اختیار نہ کرنا کہ تمہیں فائدہ بھی پہنچانا چاہے گا تو نقصان پہنچادے گا۔اور اسی طرح کسی بخیل سے دوستی نہ کرناکہ تم سے ایسے وقت میں دور بھاگے گا جب تمہیں اس کی شدید ضرورت ہوگی اور دیکھو کسی فاجر کا ساتھ بھی اختیار نہ کرنا کہ وہ تم کو حقیر چیز کے عوض بھی بیچ ڈالے گا اور کسی جھوٹے کی صحبت بھی اختیارنہ کرناکہ وہ مثل سراب ہے جو دور والے کو قریب کر دیتا ہے اورق ریب والے کو دور کردیتا ہے ۔

(۳۹)

مستحباب الٰہی میں کوئی قربت الٰہی نہیں ہے اگر ان سے واجبات کو نقصان پہنچ جائے ۔

(۱)چار اور چار کا مقصد شائد یہ ہے کہ پہلے چار کاتعلق انسان کے ذاتی اوصاف وخصوصیات سے ہے اور دوسرے چار کا تعلق اجتماعی معاملات سے ہے اور کمال سعادت مندی یہی ہے کہ انسان ذاتی زیور کردارسے بھی آراستہ رہے اور اجتماعی برتائو کوب ھی صحیح رکھے ۔


۴۰ - وقَالَعليه‌السلام لِسَانُ الْعَاقِلِ وَرَاءَ قَلْبِه وقَلْبُ الأَحْمَقِ وَرَاءَ لِسَانِه قال الرضي - وهذا من المعاني العجيبة الشريفة - والمراد به أن العاقل لا يطلق لسانه.

إلا بعد مشاورة الروية ومؤامرة الفكرة - والأحمق تسبق حذفات لسانه وفلتات كلامه - مراجعة فكره ومماخضة رأيه - فكأن لسان العاقل تابع لقلبه - وكأن قلب الأحمق تابع للسانه.

۴۱ - وقد روي عنهعليه‌السلام هذا المعنى بلفظ آخر - وهو قوله:

قَلْبُ الأَحْمَقِ فِي فِيه - ولِسَانُ الْعَاقِلِ فِي قَلْبِه.

ومعناهما واحد:

(۴۰)

عقل مند(۱) کی زبان اس کے دل کے پیچھے رہتی ہے اور احمق کا دل اس کی زبان کے پیچھے رہتا ہے۔

سید رضی : یہ بڑی عجی و غریب اور لطیف حکمت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عقلمند انسان غورو فکر کرنے کے بعد بولتا ہے اور احمق انسان بلا سوچے سمجھے کہہ ڈالتا ہے گویا کہعاقل کی زبان دل کی تابع ہے اور احمق کا دل اس کی زبان کا پابند ہے۔

(۴۱)

احمق کا دل اس کے منہ کے اندر رہتا ہے اور عقل مند کی زبان اس کے دل کے اندر۔

(۱)دوسرے مقام پر امام علیہ السلام نے اسی بات کو عاقل و احمق کے بجائے مومن اور منافق کے نام سے بیان فرمایا ہے اورحقیقت امر یہ ہے کہ اسلام کی نگاہ میں مومن ہی کو عاقل اور منافق ہی کو احمق کہا جاتا ہے۔ورنہ جو ابتد اسے بے خبر اور انتہا سے غافل ہو جاے نہ رحمان کی عبادت کرے اورنہ جنت کے حصول کا انتظام کرے اسے کس اعتبارسے عقل مند کہا جاسکتا ہے اور اسے احمق کے علاوہ دسرا کون سا نام دیا جا سکتا ہے۔

یہ اوربات ہے کہ دور حاضر میں ایسے ہی افراد کو دانش مند اور دانشور کہا جاتا ہے اور انہیں کے احترام کے طور پر دین و دانش کی اصلاح نکالی گئی ہے کہ گویا دیندار' دیندار ہوتا ہے اور دانشور نہیں۔اور دانشور ' دانشور ہوتا ہے چاہے دیندار نہ ہو اور بیدینی ہی میں زندگی گزارے ۔


۴۲ - وقَالَعليه‌السلام لِبَعْضِ أَصْحَابِه فِي عِلَّةٍ اعْتَلَّهَا - جَعَلَ اللَّه مَا كَانَ مِنْ شَكْوَاكَ حَطَّاً لِسَيِّئَاتِكَ - فَإِنَّ الْمَرَضَ لَا أَجْرَ فِيه - ولَكِنَّه يَحُطُّ السَّيِّئَاتِ ويَحُتُّهَا حَتَّ الأَوْرَاقِ - وإِنَّمَا الأَجْرُ فِي الْقَوْلِ بِاللِّسَانِ - والْعَمَلِ بِالأَيْدِي والأَقْدَامِ - وإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه يُدْخِلُ بِصِدْقِ النِّيَّةِ - والسَّرِيرَةِ الصَّالِحَةِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِه الْجَنَّةَ.

قال الرضي - وأقول صدقعليه‌السلام إن المرض لا أجر فيه - لأنه ليس من قبيل ما يستحق عليه العوض - لأن العوض يستحق على ما كان في مقابلة فعل الله تعالى بالعبد - من الآلام والأمراض وما يجري مجرى ذلك - والأجر والثواب يستحقان على ما كان في مقابلة فعل العبد - فبينهما فرق قد بينهعليه‌السلام - كما يقتضيه علمه الثاقب ورأيه الصائب.

۴۳ - وقَالَعليه‌السلام فِي ذِكْرِ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ - يَرْحَمُ اللَّه خَبَّابَ بْنَ الأَرَتِّ

(۴۲)

اپنے ایک صحابی سے اس کی بیماری کے موقع پر فرمایا ''اللہ نے تمہاری بیماری کو تمہارے گناہوں کے دور کرنے کا ذریعہ بنادیا ہے کہ خود بیماری میں کوئی اجر نہیں ہے لیکن یہ برائیوں کو مٹا دیتی ہے اوراس طرح جھاڑ دیتی ہے جیسے درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔اجرو ثواب زبان سے کچھ کہنے اور ہاتھ پائوں سے کچھ کرنے میں حاصل ہوتا ہے اور پروردگار اپنے جن بندوں(۱) کوچاہتا ہے ان کی نیت کی صداقت اورباطن کی پاکیزگی کی بنا پرداخل جنت کردیتا ہے۔

سید رضی : حضرت نے بالکل سچ فرمایا ہے کہ بیماری میں کوء یاجر نہیں ہے کہ یہ کوئی استحقاقی اجروالا کام نہیں ہے۔عوض تو اس عمل پر بھی حاصل ہوتا ہے۔جو بیماریوں وغیرہ کی طرح خدا بندہ کے لئے انجام دیتا ہے لیکن اجرو ثواب صرف اسی عمل پر ہوتا ہے جو بندہ خود انجام دیتا ہے اور مولائے کائنات نے اس مقام پر عوض اور اجرو ثواب کے اسی فرق کو واضح فرمایا ہے جس کا ادراک آپ کے علم روشن اورف کر صائب کے ذریعہ ہوا ہے۔

(۴۳)

آپ نے خباب بن الارثکے بارے میں فرمایا کہ خدا خباب ابن الارت پر رحمت نازل کرے۔وہ

(۱)مقصد یہ ہے کہ پروردگار نے جس اجرو ثواب کا وعدہ کیا ہے اور جس کا انسان استحقاق پیدا کر لیتا ہے وہ کسی نہ کسی عمل میں پر پیدا ہوتا ہے اور مرض کوئی عمل نہیں ہے۔لیکن اس کے علاوہ فضل و کرم کا دروازہ کھلا ہوا ہے اوروہ کسی بھی وقت اور کسی بھی شخص کے شامل حال کیا جا سکتا ہے ۔اس میں کسی کا کوئی اجارہ نہیں ہے۔


فَلَقَدْ أَسْلَمَ رَاغِباً وهَاجَرَ طَائِعاً وقَنِعَ بِالْكَفَافِ ورَضِيَ عَنِ اللَّه وعَاشَ مُجَاهِداً.

۴۴ - وقَالَعليه‌السلام طُوبَى لِمَنْ ذَكَرَ الْمَعَادَ وعَمِلَ لِلْحِسَابِ - وقَنِعَ بِالْكَفَافِ ورَضِيَ عَنِ اللَّه.

۴۵ - وقَالَعليه‌السلام : لَوْ ضَرَبْتُ خَيْشُومَ الْمُؤْمِنِ بِسَيْفِي هَذَا - عَلَى أَنْ يُبْغِضَنِي مَا أَبْغَضَنِي - ولَوْ صَبَبْتُ الدُّنْيَا بِجَمَّاتِهَا عَلَى الْمُنَافِقِ - عَلَى أَنْ يُحِبَّنِي مَا أَحَبَّنِي - وذَلِكَ أَنَّه قُضِيَ فَانْقَضَى عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ صلى‌الله‌عليه‌وآله - أَنَّه قَالَ يَا عَلِيُّ لَا يُبْغِضُكَ مُؤْمِنٌ ولَا يُحِبُّكَ مُنَافِقٌ.

۴۶ - وقَالَعليه‌السلام سَيِّئَةٌ تَسُوءُكَ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّه مِنْ حَسَنَةٍ تُعْجِبُكَ.

اپنی رغبت سے اسلام لائے ۔اپنی خوشی سے ہجرت کی اور بقدر ضرورت سامان پر اکتفا کی۔اللہ کی مرضی(۱) سے راضی رہے اورمجاہدانہ زندگی گزاری۔

(۴۴)

خوشا بحال اس شخص کا جس نے آخرت کو یاد رکھا ' حساب کے لئے عمل کیا، بقدر ضرورت پرقانع رہا اور اللہ سے راضی رہا۔

(۴۵)

اگر میں اس تلوار سے مومن کی ناک بھی کاٹ دوں کہ مجھ سے دشمنی کرنے لگے تو ہرگز نہکرے گا اور اگر دنیا کی تمام نعمتیں منافق پر انڈیل دوں کہ مجھ سے محبت کرنے لگے تو ہرگز نہ کرے گا۔اس لئے کہ اس حقیقت کا فیصلہ نبی صادق کی زبان سے ہو چکا ہے کہ ''یاعلی ! کوئی مومن تم سے دشمنی نہیں کر سکتا ہے اور کوئی منافق تم سے محبت نہیں کرسکتا ہے ۔''

(۴۶)

وہ گناہ(۲) جس کا تمہیں رنج ہو۔اللہ کے نزدیک اس نیکی سے بہتر ہے جس سے تم میں غرور پیدا ہوجائے ۔

(۱)حقیقت امر یہ ہے کہ انسان زندگی کا کمال یہ نہیں ہے کہ اللہ اس سے راضی ہو جائے ۔یہ کام نسبتاً آسان ہے کہ وہ سریع الرضا ہے۔کبھی معمولی عمل سے بھی راضی ہو جاتا ہے اورکبھی بد ترین عمل کے بعد بھی توبہ سے راضی ہوجاتا ہے ۔سب سے مشکل کام بندہ کا خدا سے راضی ہو جانا ہے کہ وہ کسی حال میں خوش ہو تا ہے اور اقتدار فرعون و دولت قارون پانے کے بعد بھی یا مغرور ہو جاتا ہے یا زیادہ کامطالبہ کرنے لگتا ہے۔امیر المومنین نے خباب کے اسی کردار کی طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ انتہائی مصائب کے باوجود خداسیراضی رہے اورایک حرف شکایت زبان پرنہیں لائے۔اور ایسا ہی انسان وہ ہوتا ہے جس کے حق میں طوبیٰ کی بشارت دی جا سکتی ہے اور وہ امیر المومنین کی طرف سے مبارک باد کامستحق ہوتا ہے۔

(۲)اگرچہ گناہ میں کوئی خوبی اور بہتری نہیں ہے۔لیکن کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ گناہ کے بعد انسان کا نفس ملامت کرنے لگتا ہے اور وہ توبہ پرآمادہ ہو جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسا گناہ جس کے بعداحساس توبہ پیدا ہو جائے اس کا ر خیر سے یقینا بہتر ہے جس کے بعد غرور پیدا ہو جائے اور انسان اخوان الشیاطین کی فہرست میں شامل ہو جائے۔


۴۷ - وقَالَعليه‌السلام قَدْرُ الرَّجُلِ عَلَى قَدْرِ هِمَّتِه وصِدْقُه عَلَى قَدْرِ مُرُوءَتِه - وشَجَاعَتُه عَلَى قَدْرِ أَنَفَتِه وعِفَّتُه عَلَى قَدْرِ غَيْرَتِه.

۴۸ - وقَالَعليه‌السلام الظَّفَرُ بِالْحَزْمِ والْحَزْمُ بِإِجَالَةِ الرَّأْيِ - والرَّأْيُ بِتَحْصِينِ الأَسْرَارِ.

۴۹ - وقَالَعليه‌السلام احْذَرُوا صَوْلَةَ الْكَرِيمِ إِذَا جَاعَ واللَّئِيمِ إِذَا شَبِعَ.

۵۰ - وقَالَعليه‌السلام قُلُوبُ الرِّجَالِ وَحْشِيَّةٌ فَمَنْ تَأَلَّفَهَا أَقْبَلَتْ عَلَيْه.

(۴۷)

انسان کی قدرو قیمت اس کی ہمت(۱) کے اعتبار سے ہوتی ہے اور اس کی صداقت اس کی مردانگی کے اعتبارسے ہوتی ہے شجاعت کا پیمانہ حمیت و خود داری ہے اورعفت کا پیمانہ غیرت و حیا۔

(۴۸)

کامیابی دوراندیشی سے حاصل ہوتی ہے اور دوراندیشی فکر و تدبر سے۔فکر و تدبر کا تعلق اسرار کی را ز داری سے ہے۔

(۴۹)

شریف انسان کے حملہ سے بچو جب وہ بھوکا ہو' اورکمینے کے حملہ سے بچو جب اس کا پیٹ بھرا ہو۔

(۵۰)

لوگوں کے دل صحرائی جانوروں جیسے ہیں جو انہیں سدھالے(۲) گا اس کی طرف جھک جائیں گے ۔

(۱)کیا کہنا اس شخص کی ہمت کا جو دعوت ذوالعشیرہ میں ساری قوم کے مقابلہ میں تن تنہا نصرت پیغمبر (ص) پرآمادہ ہوگیا اور پھر ہجرت کی رات تلواروں کے سایہ میں سو گیا اور مختلف معرکوں میں تلواروں کی زد پر رہا اور آخر کار تلوارکے سایہ ہی میں سجدہ آخر بھی ادا کردیا۔اس سے زیادہ قدر و قیمت کاحقدار دنیا کا کون سا انسان ہوسکتا ہے۔

(۲)مقصد یہ ہے کہ انسان دلوں کو اپنی طرف مائل کرنا چاہے تو اس کا بہترین راستہ یہ ہے کہ بہترین اخلاق وکردار کامظاہرہ کرے تاکہ یہ دل وحشی رام ہوجائے ورنہ بد اخلاقی اورب د سلوکی سے وحشی جانور کے مزید بھڑک جانے کاخطرہ ہوتا ہے اس کے رام ہو جانے کا کوئی تصورنہیں ہوتا ہے۔


۵۱ - وقَالَعليه‌السلام عَيْبُكَ مَسْتُورٌ مَا أَسْعَدَكَ جَدُّكَ

۵۲ - وقَالَعليه‌السلام أَوْلَى النَّاسِ بِالْعَفْوِ أَقْدَرُهُمْ عَلَى الْعُقُوبَةِ.

۵۳ - وقَالَعليه‌السلام السَّخَاءُ مَا كَانَ ابْتِدَاءً - فَأَمَّا مَا كَانَ عَنْ مَسْأَلَةٍ فَحَيَاءٌ وتَذَمُّمٌ

۵۴ - وقَالَعليه‌السلام لَا غِنَى كَالْعَقْلِ ولَا فَقْرَ كَالْجَهْلِ - ولَا مِيرَاثَ كَالأَدَبِ ولَا ظَهِيرَ كَالْمُشَاوَرَةِ.

۵۵ - وقَالَعليه‌السلام الصَّبْرُ صَبْرَانِ صَبْرٌ عَلَى مَا تَكْرَه وصَبْرٌ عَمَّا تُحِبُّ.

(۵۱)

تمہارا عیب اسی وقت تک چھپا رہے گا جب تک تمہارا مقدر ساز گار ہے۔

(۵۲)

سب سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار وہ ہے جو سب سے زیادہ سزا دینے کی طاقت رکھتا ہو۔

(۵۳)

سخاوت(۱) جیسی کوئی دولت نہیں ہے اور جہالت جیسی کوئی فقیری نہیں ہے۔ادب جیسی کوئی میراث نہیں ہے اورمشورہ جیسا کوئی مدد گار نہیں ہے ۔

(۵۴)

عقل(۲) جیسی کوئی دولت نہیں ہے اور جہالت جیسی کوئی فقیری نہیں ہے۔ادب جیسی کوئی میراث نہیں ہے اور مشورہ جیسا کوئی مدد گار نہیں ہے۔

(۵۵)

صبر کی دو قسمیں ہیں : ایک ناگوار حالات پر صبر اور ایک محبوب اورپسندیدہ چیزوں کے مقابلہ میں صبر۔

(۱) مقصد یہ ہے کہ انسان سخاوت کرنا چاہے اور ا س کا اجرو ثواب حاصل کرنا چاہے تو اسے سائل کے سوال کا انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ سوال کے بعد تو یہ شبہ بھی پیدا ہو جاتا ہے کہ اپنی آبروب چانے کے لئے دے دیا ہے اور اس طرح اخلاص نیت کا عمل مجروح ہوجاتا ہے اور ثواب اخلاص نیت پر ملتا ہے ' اپنی ذات کے تحفظ پر نہیں۔

(۲) آج مسلمان تمام اقوام عالم کا محتاج اسی لئے ہوگیا ہے کہ اس نے علم و فن کے میدان سے قدم ہٹا لیاہے اور صرف عیش و عشرت کی زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ورنہ اسلامی عقل سے کام لے کرباب مدینتہ العلم سے وابستگی اختیار کی ہوتی تو باعزت زندگی گزارتا اور بڑی بڑی طاقتیں بھی اس کے نام سے دہل جاتیں جیسا کہ دورحاضر میں باقاعدہ محسوس کیا جا رہا ہے۔


۵۶ - وقَالَعليه‌السلام الْغِنَى فِي الْغُرْبَةِ وَطَنٌ والْفَقْرُ فِي الْوَطَنِ غُرْبَةٌ.

۵۷ - وقَالَ عليهلامت الْقَنَاعَةُ مَالٌ لَا يَنْفَدُ.

قال الرضي: وقد روي هذا الكلام عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم.

۵۸ - وقَالَعليه‌السلام الْمَالُ مَادَّةُ الشَّهَوَاتِ.

۵۹ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ حَذَّرَكَ كَمَنْ بَشَّرَكَ.

۶۰ - وقَالَعليه‌السلام اللِّسَانُ سَبُعٌ إِنْ خُلِّيَ عَنْه عَقَرَ

(۵۶)

مسافرت میں دولت مندی ہو تو وہ بھی وطن کادرجہ رکھتی ہے اور وطن میں غربت ہو تو وہ بھی پردیس کی حیثیت رکھتا ہے ۔

(۵۷)

قناعت(۱) وہ سرمایہ ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔

سید رضی : یہ فقرہ رسول اکرم (ص) سے بھی نقل کیا گیا ہے ( اور یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے ۔علی بہر حال نفس رسول (ص) ہیں )

(۵۸)

مال خواہشات کا سر چشمہ ہے۔

(۵۹)

جو تمہیں برائیوں سے ڈرائے گویا اس نے نیکی کی بشارت دے دی۔

(۶۰)

زبان ایک درندہ(۲) ہے۔ذراآزاد کردیا جائے تو کاٹ کھائے گا۔

(۱) کہاجاتا ہے کہ ایک شخص نے سقراط کو صحرائی گھاس پر گذارہ کرتے دیکھا تو کہنے لگا کہ اگر تم نے بادشاہ کی خدمت میں حاضری دی ہوتی تو اس گھاس پر گذارہ کرنا پڑت تو سقراط نے فوراً جواب دیا کہ اگر تم نے گھاس سے گذارہ کرلیا ہوتا توبادشاہ کی خدمت کے محتاج نہ ہوتے۔گھاس پر گذارہ کرلینا عزت ہے اوربادشاہ کی خدمت میں حاضر رہناذلت ہے۔

(۲) اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ زبان انسانی زندگی میں جس قدرکارآمد ہے اسی قدر خطرناک بھی ہے۔یہ تو پرردگار کاکرمہے کہ اس نے اس درندہ کو پنجرہ کے اندر بند کردیا ہے اور اس پر ۳۲ پہرہ دار بٹھا دئیے ہیں لیکن یہ درندہ جب چاہتا ہے خواہشات سے ساز باز کرکے پنجرہ کا دروازہ کھول لیتا ہے اور پہرہ داروں کو دھوکہ دے کر اپنا کام شروع کر دیتا ہے اور کبھی کبھی '' ان الرجل لیھجر '' کہہ کر ساری قوم کو کھا جاتا ہے۔


۶۱ - وقَالَعليه‌السلام الْمَرْأَةُ عَقْرَبٌ حُلْوَةُ اللَّسْبَةِ

۶۲ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا حُيِّيتَ بِتَحِيَّةٍ فَحَيِّ بِأَحْسَنَ مِنْهَا وإِذَا أُسْدِيَتْ إِلَيْكَ يَدٌ فَكَافِئْهَا بِمَا يُرْبِي عَلَيْهَا - والْفَضْلُ مَعَ ذَلِكَ لِلْبَادِئِ.

۶۳ - وقَالَعليه‌السلام الشَّفِيعُ جَنَاحُ الطَّالِبِ.

۶۴ - وقَالَعليه‌السلام أَهْلُ الدُّنْيَا كَرَكْبٍ يُسَارُ بِهِمْ وهُمْ نِيَامٌ.

۶۵ - وقَالَعليه‌السلام فَقْدُ الأَحِبَّةِ غُرْبَةٌ.

۶۶ - وقَالَ عليهامسل فَوْتُ الْحَاجَةِ أَهْوَنُ مِنْ طَلَبِهَا إِلَى غَيْرِ أَهْلِهَا.

(۶۱)

عورت اس بچھو(۱) کے مانند ہے جس کا ڈسنا بھی مزیدار ہوتا ہے۔

(۶۲)

جب تمہیں کوئی تحفہ دیا جائے تو اس سے بہتر واپس کرو اور جب کوئی نعمت دی جائے تواس سے بڑھا کر اس کا بدلہ دو لیکن اس کے بعد بھی فضیلت اسی کی رہے گی جو پہلے کا ر خیر انجام دے ۔

(۶۳)

سفارش کرنے والا طلب گار کے بال و پر کے مانند ہوتا ہے ۔

(۶۴)

اہل دنیا اس سواروں کے مانند ہیں جو خود سو رہے ہیں اور ان کا سفر جاری ہے ۔

(۶۵)

احباب کا نہ ہونا بھی ایک غربت ہے۔

(۶۶)

حاجت(۲) کا پورا نہ ہونا نا اہل سے مانگنے سے بہتر ہے۔

(۱)اس فقرہ میں ایک طرف عورت کے مزاج کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس میں غیظ وغضب کا عنصر ہمیشہ غالب رہتا ہے اور دوسری طرف اس کی فطری نزاکت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جہاں اس کا ڈنک بھی مزیدار معلوم ہوتاہے۔

(۲)انسان کو چاہیے کہ دنیا سے محرومی پر صبرکرلے اور جہاں تک ممکن ہو کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے کہ ہاتھ پھیلانا کسی ذلت سے کم نہیں ہے


۶۷ - وقَالَعليه‌السلام لَا تَسْتَحِ مِنْ إِعْطَاءِ الْقَلِيلِ - فَإِنَّ الْحِرْمَانَ أَقَلُّ مِنْه.

۶۸ - وقَالَعليه‌السلام الْعَفَافُ زِينَةُ الْفَقْرِ والشُّكْرُ زِينَةُ الْغِنَى.

۶۹ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا لَمْ يَكُنْ مَا تُرِيدُ فَلَا تُبَلْ مَا كُنْتَ.

۷۰ - وقَالَعليه‌السلام لَا تَرَى الْجَاهِلَ إِلَّا مُفْرِطاً أَوْ مُفَرِّطاً.

۷۱ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا تَمَّ الْعَقْلُ نَقَصَ الْكَلَامُ.

(۶۷)

مختصر مال دینے میں بھی شرم نہ کرو کہ محروم کردینا اس سے زیادہ کمتر درجہ کا کام ہے۔

(۶۸)

پاکدامانی(۱) فقیری کی زینت ہے اورشکریہ مالداری کی زینت ہے۔

(۶۹)

اگرتمہارے حسب خواہش کام نہ ہو سکے تو جس حال میں رہو خوش رہو(۲) ( کہ افسوس کا کوئی فائدہ نہیں ہے )

(۷۰)

جاہل ہمیشہ افراط و تفریط کاشکار رہتا ہے یا حدسے آگے بڑھ جاتا ہے یا پیچھے ہی رہ جاتا ہے ( کہ اسے حدکا اندازہ ہی نہیں ہے )

(۷۱)

جب عقل مکمل ہوتی ہے تو باتیں کم ہو جاتی ہے ( کہ عاقل کو ہربات تول کر کہنا پڑتی ہے ۔

(۱)مقصد یہ ہے کہ انسان کو غربت میں عضیف اورغیرت دار ہونا چاہیے اور دولت مندی میں مالک کا شکرگذار ہوناچاہیے کہ اس کے علاوہ شرافت و کرامت کی کوئی نشانی نہیں ہے۔

(۲)بعض عرفاء نے اس حقیقت کو اس انداز سے بیان کیا ہے کہ '' میں اس دنیا کو لے کر کیا کروں جس کاحال یہ ہے کہ میں رہ گیا تو وہ نہ رہ جائے گی اور وہ رہ گئی تو میں نہ رہ جائوں گا۔


۷۲ - وقَالَعليه‌السلام الدَّهْرُ يُخْلِقُ الأَبْدَانَ - ويُجَدِّدُ الآمَالَ ويُقَرِّبُ الْمَنِيَّةَ - ويُبَاعِدُ الأُمْنِيَّةَ مَنْ ظَفِرَ بِه نَصِبَ ومَنْ فَاتَه تَعِبَ.

۷۳ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ نَصَبَ نَفْسَه لِلنَّاسِ إِمَاماً - فَلْيَبْدَأْ بِتَعْلِيمِ نَفْسِه قَبْلَ تَعْلِيمِ غَيْرِه - ولْيَكُنْ تَأْدِيبُه بِسِيرَتِه قَبْلَ تَأْدِيبِه بِلِسَانِه - ومُعَلِّمُ نَفْسِه ومُؤَدِّبُهَا أَحَقُّ بِالإِجْلَالِ - مِنْ مُعَلِّمِ النَّاسِ ومُؤَدِّبِهِمْ.

۷۴ - وقَالَعليه‌السلام نَفَسُ الْمَرْءِ خُطَاه إِلَى أَجَلِه

۷۵ - وقَالَ عليهامسل كُلُّ مَعْدُودٍ مُنْقَضٍ وكُلُّ مُتَوَقَّعٍ آتٍ.

۷۶ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ الأُمُورَ إِذَا اشْتَبَهَتْ اعْتُبِرَ آخِرُهَا بِأَوَّلِهَا

(۷۲)

زمانہ بدن کو پرانا کر دیتا ہے اورخواہشات کونیا۔موت کو قریب بنا دیتا ہے اور تمنائوں کودور۔یہاں جو کامیاب ہو جاتا ہے وہ بھی خستہ(۱) حال رہتا ہے اورجواسے کھو بیٹھتا ہے وہ بھی تھکن کا شکار رہتا ہے۔

(۷۳)

جوشخص اپنے کو قائد ملت بنا کر پیش کرے اس کا فرض ہے کہ لوگوں کو نصیحت کرنے سے پہلے اپنے نفس کو تعلیم دے اور زبان سے تبلیغ کرنے سے پہلے اپنے عمل سے تبلیغ کرے اوریہ یاد رکھے کہ اپنے نفس کو تعلیم و تربیت دینے والا دوسروں کو تعلیم و تربیت دینے والے سے زیادہ قابل احترام ہوتا ہے۔

(۷۴)

انسان کی ایک ایک سانس موت کی طرف ایک قدم ہے ( روحی لہ الفدائ)

(۷۵)

ہرشمار ہونے والی چیز ختم ہونے والی ہے (سانسیں ) اور ہر آنے والا بہر حال آکر رہے گا (موت)

(۷۶)

جب مسائل میں شبہ پیدا ہو جائے تو ابتدا کو دیکھ کر انجام کار کا اندازہ کرلیانا چاہیے ۔

(۱)مال دنیا کا حال یہی ہے کہ آجاتا ہے تو انسان کا روبارمیں مبتلاہوجاتا ہے اور نہیں رہتا ہے تو اس کے حصول کی راہ میں پریشان رہتا ہے ۔


۷۷ - ومِنْ خَبَرِ ضِرَارِ بْنِ حَمْزَةَ الضَّبَائِيِّ - عِنْدَ دُخُولِه عَلَى مُعَاوِيَةَ - ومَسْأَلَتِه لَه عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَعليه‌السلام وقَالَ فَأَشْهَدُ لَقَدْ رَأَيْتُه فِي بَعْضِ مَوَاقِفِه - وقَدْ أَرْخَى اللَّيْلُ سُدُولَه وهُوَ قَائِمٌ فِي مِحْرَابِه قَابِضٌ عَلَى لِحْيَتِه يَتَمَلْمَلُ تَمَلْمُلَ السَّلِيمِ - ويَبْكِي بُكَاءَ الْحَزِينِ ويَقُولُ:

يَا دُنْيَا يَا دُنْيَا إِلَيْكِ عَنِّي أَبِي تَعَرَّضْتِ أَمْ إِلَيَّ تَشَوَّقْتِ - لَا حَانَ حِينُكِ هَيْهَاتَ غُرِّي غَيْرِي لَا حَاجَةَ لِي فِيكِ - قَدْ طَلَّقْتُكِ ثَلَاثاً لَا رَجْعَةَ فِيهَا - فَعَيْشُكِ قَصِيرٌ وخَطَرُكِ يَسِيرٌ وأَمَلُكِ حَقِيرٌ –

آه مِنْ قِلَّةِ الزَّادِ وطُولِ الطَّرِيقِ - وبُعْدِ السَّفَرِ وعَظِيمِ الْمَوْرِدِ

(۷۷)

ضرار(۱) بن حمزہ الضبائی معاویہ کے دربار میں حاضر ہوئے تو اس نے امیر المومنین کے بارے میں دریافت کیا؟ ضرار نے کہا کہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ رات کی تاریکی میں محراب میں کھڑے ہوئے ریش مبارک کو ہاتھوں میں لئے ہوئے ۔یوں تڑپتے تھے جس طرح سانپ کا کاٹا ہوا تڑپتا ہے اور کوئی غم رسیدہ گریہ کرتا ہے۔اور فرمایا کرتے تھے:

''اے دنیا ۔اے دنیا!مجھ سے دور ہو جا۔تو میرے سامنے بن سنور کرآئی ہے یا میری واقعاً مشتاق بن کرآئی ہے ؟ خدا وہ وقت نہ لائے کہ تو مجھے دھوکہ دے سکے ۔جامیرے علاوہ کسیاور کودھوکہ دے مجھے تیری ضرورت نہیں ہے۔میں تجھے تین مرتبہ طلاق(۲) دے چکاہوں جس کے بعد رجوع کا کوئی امکان نہیں ہے۔تیری زندگی بہت تھوڑی ہے اور تیریرحیثیت بہت معمولی ہے اور تیری امید بہت حقیر شے ہے''

آہ زاد سفر کس قدر کم ہے۔راستہ کس قدر طولانی ہے منزل کس قدر دور ہے اوروارد ہونے کی جگہ کس قدرخطر ناک ہے۔

(۱)بعض حضرات نے ان کا نام ضرار بن ضمرہ لکھا ہے اوری ہ ان کا کمال کردار ہے کہ معاویہ جیسے دشمن علی کے دربار میں حقائق کا اعلان کردیا اوراسمشہورحدیث کے معانی کومجسم بنایدا کہ بہترین جہاد بادشاہ ظالم کے سامنے کلمہ حق کا اظہار و اعلان ہے۔

(۲)کھلی ہوئی بات ہے کہ جب کوئی شخص کسی عورت کو طلاق دے دیتا ہے تو وہ عورت بھی ناراض ہوتی ہے اور اسکے گھر واے بھی ناراض رہتے ہیں ۔امیر المومنین سے دنیا کا انحراف اور اہل دنیا کی دشمنی کا رازیہی ہے کہ آپ نے اسے تین مرتبہ طلاق دے دی تھی تو اس کا کوئی امکان نہیں تھاکہ اہل دنیا آپ سے کسی قیمت پرا ضی ہو جاتے اور یہی وجہ ہے کہ پہلے ابناء دنیا نے تین خلافتوں کے موقع پر اپنی بیزاری کا اظہارکیا اور اس کے بعد تین جنگوں کے موقع پر اپنی ناراضگی کا اظہارکیا لیکن آپ کسی قیمت پردنیا سے صلح کرنے پرآمادہ نہ ہوئے اور ہر مرحلہ پر دین الٰہی اوراسکی تعلیمات کو کلیجہ سے لگائے رہے۔


۷۸ - ومِنْ كَلَامٍ لَهعليه‌السلام لِلسَّائِلِ الشَّامِيِّ لَمَّا سَأَلَه - أَكَانَ مَسِيرُنَا إِلَى الشَّامِ بِقَضَاءٍ مِنَ اللَّه وقَدَرٍ - بَعْدَ كَلَامٍ طَوِيلٍ هَذَا مُخْتَارُه.

وَيْحَكَ لَعَلَّكَ ظَنَنْتَ قَضَاءً لَازِماً وقَدَراً حَاتِماً - لَوْ كَانَ ذَلِكَ كَذَلِكَ لَبَطَلَ الثَّوَابُ والْعِقَابُ - وسَقَطَ الْوَعْدُ والْوَعِيدُ - إِنَّ اللَّه سُبْحَانَه أَمَرَ عِبَادَه تَخْيِيراً ونَهَاهُمْ تَحْذِيراً - وكَلَّفَ يَسِيراً ولَمْ يُكَلِّفْ عَسِيراً - وأَعْطَى عَلَى الْقَلِيلِ كَثِيراً ولَمْ يُعْصَ مَغْلُوباً - ولَمْ يُطَعْ مُكْرِهاً ولَمْ يُرْسِلِ الأَنْبِيَاءَ لَعِباً - ولَمْ يُنْزِلِ الْكُتُبَ لِلْعِبَادِ عَبَثاً - ولَا خَلَقَ السَّمَاوَاتِ والأَرْضَ ومَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا –

( ذلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ ) .

(۷۸)

ایک مرد شامی نے سوال کیا کہ کیا ہمارا شام کی طرف جانا قضا و قدارالٰہی کی بنا پر تھا ( اگر ایساتھا تو گویا کہ کوئی اجرو ثواب نہ ملا ) تو آپ نے فرمایا کہ شائد تیرا خیال یہ ہے کہ اس سے مراد قضاء لازم اورقدرحتمی ہے کہ جس کے بعد عذاب و ثواب بیکار ہو جاتا ہے اور وعدہ و وعید کا نظام معطل ہو جاتا ہے۔ایسا ہرگز نہیں ہے ۔پروردگار نے اپنے بندوں کوحکم دیا ہے تو ان کے اختیار کے ساتھ اورنہی کی ہے تو انہیں ڈراتے وئے۔اس نے آسان سی تکلیف دی ہے اور کسی زحمت میں مبتلا نہیں کیا ہے تھوڑے عمل پر بہت سااجر دیا ہے اوراس کی نا فرمانی اس لئے نہیں ہوتی ہے کہ وہ مغلوب ہو گیا ہے اور نہ اطاعت اس لئے ہوتی ہے کہ اس نے مجبور کردیا ہے۔اس نے نہ انبیاء کو کھیل کرنے کے لئے بھیجا ہے اور نہ کتاب کو عبث نازل کیا ہے اورنہ زمین وآسمان اور ان کی درمیانی مخلوقات کو بیکار پیدا کیا ہے۔یہ صری کافروں کا خیال ہے اورکافروں کے لئے جہنم میں ویل ہے ''

(آخر میں وضاحت فرمائی کہ قضاء امر کے معنی میں ہے اور ہم اس کے حکم سے گئے تھے نہ کہ جبر و اکراہ سے )


۷۹ - وقَالَعليه‌السلام خُذِ الْحِكْمَةَ أَنَّى كَانَتْ - فَإِنَّ الْحِكْمَةَ تَكُونُ فِي صَدْرِ الْمُنَافِقِ فَتَلَجْلَجُ فِي صَدْرِه - حَتَّى تَخْرُجَ فَتَسْكُنَ إِلَى صَوَاحِبِهَا فِي صَدْرِ الْمُؤْمِنِ.

۸۰ - وقَالَعليه‌السلام الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ - فَخُذِ الْحِكْمَةَ ولَوْ مِنْ أَهْلِ النِّفَاقِ.

۸۱ - وقَالَعليه‌السلام قِيمَةُ كُلِّ امْرِئٍ مَا يُحْسِنُه.

قال الرضي - وهي الكلمة التي لا تصاب لها قيمة - ولا توزن بها حكمة ولا تقرن إليها كلمة.

(۷۹)

حرف حکمت جہاں بھی مل جائے لے لو کہ ایسی بات اگرمنافق کے سینہ میں دبی ہوتی ہے تو وہ اس وقت تک بے چین رہتا ہے جب تک وہ نکل نہ جائے ۔

(۸۰)

حکمت مومن کی گم شدہ دولت ہے لہٰذا جہاں ملے لے لیناچاہیے ۔چاہے وہ حقائق سے ہی کیوں نہ حاصل ہو۔

(۸۱)

ہر انسان کی قدرو قیمت وہی نیکیاں(۱) ہیں جو اس میں پائی جاتی ہیں۔

سید رضی : یہ وہ کلمہ قیمہ ہے جس کی کوئی قیمت نہیں لگائی جاسکتی ہے اوراس کے ہم پلہ کوء یدوسری حکمت بھی نہیں ہے اور کوئی کلمہ اس کے ہم پایہ بھی نہیں ہو سکتا ہے ۔

(۱)یہ امیر المومنین کا فلسفہ حیات ہے کہ انسان کی قدرو قیمت کا تعین نہ اس کے حسب و نسب سے ہوتا ہے اور نہ قوم و قبیلہ سے۔نہ ڈگریاں اس کے مرتبہ کربڑھا سکتی ہیں اور نہ خزانے اس کو شریف بنا سکتے ہیں۔نہ کرسی اس کے معیارحیات کوب لند کرس کتی ہے اور نہاقتدار اسکے کمالات کاتعین کر سکتا ہے۔انسانی کمال کا معیار صرف وہ کمال ہے جواس کے اندرپایا جاتا ہے۔اگر اس کے نفس میں پاکیزگی اورکردار میں حسن ہے تو یقینا عظیم مرتبہ کا حامل ہے ورنہ اس کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے۔


۸۲ - وقَالَعليه‌السلام أُوصِيكُمْ بِخَمْسٍ - لَوْ ضَرَبْتُمْ إِلَيْهَا آبَاطَ الإِبِلِ لَكَانَتْ لِذَلِكَ أَهْلًا - لَا يَرْجُوَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا رَبَّه ولَا يَخَافَنَّ إِلَّا ذَنْبَه - ولَا يَسْتَحِيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِذَا سُئِلَ عَمَّا لَا يَعْلَمُ - أَنْ يَقُولَ لَا أَعْلَمُ - ولَا يَسْتَحِيَنَّ أَحَدٌ إِذَا لَمْ يَعْلَمِ الشَّيْءَ أَنْ يَتَعَلَّمَه - وعَلَيْكُمْ بِالصَّبْرِ فَإِنَّ الصَّبْرَ مِنَ الإِيمَانِ كَالرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ - ولَا خَيْرَ فِي جَسَدٍ لَا رَأْسَ مَعَه - ولَا فِي إِيمَانٍ لَا صَبْرَ مَعَه.

۸۳ - وقَالَعليه‌السلام لِرَجُلٍ أَفْرَطَ فِي الثَّنَاءِ عَلَيْه وكَانَ لَه مُتَّهِماً - أَنَا دُونَ مَا تَقُولُ وفَوْقَ مَا فِي نَفْسِكَ.

(۸۲)

میں تمہیں ایسی پانچ باتوں کی نصیحت کررہا ہوں کہ جن کے حصول کے لئے اونٹوں کو ایڑ لگا کردوڑا یا جائے تو بھی وہاس کی اہل ہیں۔

خبردار! تم میں سے کوئی شخص اللہ کے علاوہ کسی سے امید نہ رکھے اور اپنے گناہوں کے علاوہ کسی سے نہ ڈرے اور جب کسی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے اور نہ جانتا ہو تو لا علمی کے اعتراف میں نہ شرمائے اور جب نہیں جانتا ہے تو سیکھنے میں نہ شرمائے اور صبر و شکیبائی اختیار کرے کہ صبر(۱) ایمان کے لئے ویسا ہی ہے جیسا بدن کے لئے سر اور ظاہر ہے کہ اس بدن میں کوئی خیر نہیں ہوتا ہے جسے میں سر نہ ہو اور اسایمان میں کوء ی خیرنہیں ہے جس میں صبر نہ ہو۔

(۸۳)

آپ نے اس شخص سے فرمایا جوآپ کا عقیدت مند تو نہ تھا لیکن آپ کی بے حد تعریف کر رہاتھا۔''میں تمہارے بیان سے کمتر ہوں لیکن تمہارے خیال سے بالاتر ہوں '' (یعنی جو تم نے میرے بارے میں کہا ہے وہ مبالہ ہے لیکن جو میرے بارے میں عقیدہ رکھتے ہو وہ میری حیثیت سے بہت کم ہے )

(۱)صبرانسانی زندگی کا وہ جوہر ہے جس کی واقعی عظمت کا ادراک بھی مشکل ہے۔تاریخ بشریت میں ا س کے مظاہر کاہرقدم پرمشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔حضرت آدم جنت میںتھے۔پروردگارنے ہر طرح کا آرام دے رکھا تھا۔صرف ایک درخت سے روک دیا تھا۔لیکن انہوں نے مکمل قوت صبرکامظاہرہ نہکیا جس کا نتیجہ یہ ہواکہجنت سے باہرآگئے۔اور حضرت یوسف قید خانہمیں تھے لیکن انہوں نے مکمل قوت صبرکامظاہرہ کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہواکہ عزیز مصر کے عہدہ پر فائز ہوگئے اور لمحوں میں ''غلامی '' سے '' شاہی'' کافصلہ طے کرلیا۔

صبر اور جنت کے اسی رشتہ کی طرف قرآن مجید نے سورہ ٔ دہر میں اشارہ کیا ہے '' جزاھم بما صبروا جنتة و حریرا'' اللہ ے ان کے صبرکے بدلہ میں انہیں جنت اورحیریر جنت سے نوازدیا ۔


۸۴ - وقَالَعليه‌السلام بَقِيَّةُ السَّيْفِ أَبْقَى عَدَداً وأَكْثَرُ وَلَداً.

۸۵ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ تَرَكَ قَوْلَ لَا أَدْرِي أُصِيبَتْ مَقَاتِلُه

۸۶ - وقَالَعليه‌السلام رَأْيُ الشَّيْخِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ جَلَدِ الْغُلَامِ - ورُوِيَ مِنْ مَشْهَدِ الْغُلَامِ.

۸۷ - وقَالَعليه‌السلام عَجِبْتُ لِمَنْ يَقْنَطُ ومَعَه الِاسْتِغْفَارُ.

(۸۴)

تلوار کے بچے ہوئے لوگ زیادہ باقی رہتے ہیں اور ان کی اولاد بھی زیادہ ہوتی ہے۔

(۸۵)

جس نے نا واقفیت کا اقرار چھوڑ دیا وہ کہیں نہ کہیں ضرور مارا(۱) جائے گا۔

(۸۶)

بوڑھے کی رائے جوان کی ہمت(۲) سے زیادہ محبوب ہوتی ہے۔یا بوڑھے کی رائے جوان کے خطرہ میں ڈٹے رہنے سے زیادہ پسندیدہ ہوتی ہے ۔

(۸۷)

مجھے اس شخص کے حال پر تعجب ہوتا ہے جو استغفار کی طاقت رکھتا ہے اور پھر بھی رحمت خداسے مایوس ہو جاتا ہے۔

(۱)یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم (ص) کے بعد مولائے کائنات کے علاوہ جس نے بھی ''سلونی '' کا دعویٰ کیا اسے ذلت سے دوچار ہونا پڑا اور ساری عزت خاک میں مل گئی۔

(۲)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ زندگی کے ہرمرحلہ عمل پر جوان کی ہمت ہی کام آتی ہے ۔کاشتکاری ' صنعت کاری سے لے کر ہلکی دفاع تک سارا کام جوان ہی انجام دیتے ہیں اور چمنستان زندگی کی ساری بہار جوانوں کی ہمت ہی سے وابستہ ہے۔لیکن اس کے باوجود نشاط عمل کے لئے صحیح خطوطکا تعین بہرحال ضروری ہے اور یہکام بزرگوں کے تجربات ہی سے انجام پاسکتا ہے۔لہٰذا بنیادی حیثیت بزرگوں کے تجربات کی ہے اور ثانوی حیثیت نوجوانوں کی ہمت مردانہ کی ہے۔اگرچہ زندگی کی گاڑی کو آگے بڑھانے کے لئے یہ دونوں پہئیے ضروری ہیں۔


۸۸ - وحَكَى عَنْه أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْبَاقِرُعليه‌السلام أَنَّه قَالَ:

كَانَ فِي الأَرْضِ أَمَانَانِ مِنْ عَذَابِ اللَّه - وقَدْ رُفِعَ أَحَدُهُمَا فَدُونَكُمُ الآخَرَ فَتَمَسَّكُوا بِه - أَمَّا الأَمَانُ الَّذِي رُفِعَ فَهُوَ رَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وأَمَّا الأَمَانُ الْبَاقِي فَالِاسْتِغْفَارُ قَالَ اللَّه تَعَالَى -( وما كانَ الله لِيُعَذِّبَهُمْ وأَنْتَ فِيهِمْ - وما كانَ الله مُعَذِّبَهُمْ وهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ) .

قال الرضي - وهذا من محاسن الاستخراج ولطائف الاستنباط.

۸۹ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ أَصْلَحَ مَا بَيْنَه وبَيْنَ اللَّه - أَصْلَحَ اللَّه مَا بَيْنَه وبَيْنَ النَّاسِ - ومَنْ أَصْلَحَ أَمْرَ آخِرَتِه أَصْلَحَ اللَّه لَه أَمْرَ دُنْيَاه - ومَنْ كَانَ لَه مِنْ نَفْسِه وَاعِظٌ - كَانَ عَلَيْه مِنَ اللَّه حَافِظٌ.

(۸۸)

امام محمد باقر نے آپ کا یہ ارشاد گرامی نقل کیا ہے کہ '' روئے زمین پر عذاب الٰہی سے بچانے کے دوذرائع تھے۔ایک کو پروردگار نے اٹھالیا ہے ( پیغمبر اسلام (ص) ) لہٰذا دوسرے سے تمسک اختیار کرو۔یعنی استغفار کہ مالک کائنات نے فرمایا ہے کہ '' خدا اس وقت تک ان پر عذاب نہیں کر سکتا ہے جب تک آپ موجود ہیں۔اوراس وقت تک عذاب کرنے والا نہیں ہے جب تک یہ استغفار کر رہے ہیں۔

سید رضی : یہ آیت کریمہ سے بہترین استخراج اورلطیف ترین استباط ہے۔

(۸۹)

جس نے اپنے اور اللہ کے درمیان کے معاملات کی اصلاح کرلی۔اللہ اس کے اور لوگوں کے درمیان کے معاملات کی اصلاح کردے گا اورجو آخرت کے امور(۱) کی اصلاح کرلے گا اللہ اس کی دنیا کے امور کی اصلاح کردے گا۔اور جو اپنے نفس کو نصیحت کرلے گا اللہ اس کی حفاظت کا انتظام کردے گا۔

(۱)امور آخرت کی اصلاح کادئارہ صرف عبادات وریاضات میں محدود نہیں ہے بلکہ اس میں وہ تمام امور دنیا شامل ہیں جوآخرت کے لئے انجام دئیے جاتے ہیں کہ دنیاآخرت کی کھیتی ہے اور آخرت کی اصلاح دنیا کی اصلاح کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ آخرت والے دنیا کو برائے آخرت اختیار کرتے ہیں اوردنیا داراسی کو اپناہدف اور مقصد قرار دے لیتے ہیں اور اس طرح آخرت سے یکسر غافل ہو جاتے ہیں۔


۹۰ - وقَالَعليه‌السلام الْفَقِيه كُلُّ الْفَقِيه مَنْ لَمْ يُقَنِّطِ النَّاسَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّه - ولَمْ يُؤْيِسْهُمْ مِنْ رَوْحِ اللَّه ولَمْ يُؤْمِنْهُمْ مِنْ مَكْرِ اللَّه.

۹۱ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ هَذِه الْقُلُوبَ تَمَلُّ كَمَا تَمَلُّ الأَبْدَانُ - فَابْتَغُوا لَهَا طَرَائِفَ الْحِكَمِ

۹۲ - وقَالَعليه‌السلام أَوْضَعُ الْعِلْمِ مَا وُقِفَ عَلَى اللِّسَانِ - وأَرْفَعُه مَا ظَهَرَ فِي الْجَوَارِحِ والأَرْكَانِ

۹۳ - وقَالَعليه‌السلام لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفِتْنَةِ - لأَنَّه لَيْسَ أَحَدٌ إِلَّا وهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَى فِتْنَةٍ - ولَكِنْ مَنِ اسْتَعَاذَ فَلْيَسْتَعِذْ مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ - فَإِنَّ اللَّه سُبْحَانَه يَقُولُ -( واعْلَمُوا أَنَّما أَمْوالُكُمْ وأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ ) - ومَعْنَى ذَلِكَ أَنَّه يَخْتَبِرُهُمْ - بِالأَمْوَالِ والأَوْلَادِ لِيَتَبَيَّنَ السَّاخِطَ لِرِزْقِه - والرَّاضِيَ بِقِسْمِه -

(۹۰)

مکمل عالم دین وہی ہے جو لوگوں کو رحمت خدا سے مایوس نہ بنائے اور اس کی مہربانیوں سے نا امید نہ کرے اور اس کے عذاب کی طرف مطمئن نہ بنادے۔

(۹۱)

یہ دل اسی طرح اکتا جاتے ہیں جس طرح بدن اکتاجاتے ہیں لہٰذا ان کے لئے نئی نئی لطیف حکمتیں تلاش کرو۔

(۹۲)

سب سے حقیر علم وہ ہے جو صرف زبان(۱) پر رہ جائے اور سب سے زیادہ قیمتی علم وہ ہے جس کا اظہار اعضاء و جوارح سے ہو جائے ۔

(۹۳)

خبردار تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ خدایا میں فتنہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔کہ کوئی شخص بھی فتنہ سے الگ نہیں ہوسکتا ہے۔اگر پناہ مانگنا ہے تو فتنوں کی گمراہیوں سے پناہ مانگو اس لئے کہ پروردگارنے اموال اور اولاد کوبھی فتنہ قراردیا ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اموال اور اولاد کے ذریعہ امتحان لینا چاہتا ہے تاکہ اس طرح روزی سے ناراض ہونے والا قسمت پرراضی رہنے

(۱)افسوس کہ دورحاضر میں علم کا چر چا صرف زبانوں پر رہ گیا ہے اور قوت گویائی ہی کو کمال علم کو تصور کرلیا گیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عمل و کردار کا فقدان ہوتا جا رہا ہے اور عوام الناس اپنی ذاتی جہالت سے زیادہ دانشور کی دانشوری اوراہل علم کے علم کی بدولت تباہ وبرباد ہو رہے ہیں۔


وإِنْ كَانَ سُبْحَانَه أَعْلَمَ بِهِمْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ - ولَكِنْ لِتَظْهَرَ الأَفْعَالُ الَّتِي بِهَا يُسْتَحَقُّ الثَّوَابُ والْعِقَابُ - لأَنَّ بَعْضَهُمْ يُحِبُّ الذُّكُورَ ويَكْرَه الإِنَاثَ - وبَعْضَهُمْ يُحِبُّ تَثْمِيرَ الْمَالِ ويَكْرَه انْثِلَامَ الْحَالِ

قال الرضي - وهذا من غريب ما سمع منه في التفسير.

۹۴ - وسُئِلَ عَنِ الْخَيْرِ مَا هُوَ - فَقَالَ لَيْسَ الْخَيْرُ أَنْ يَكْثُرَ مَالُكَ ووَلَدُكَ - ولَكِنَّ الْخَيْرَ أَنْ يَكْثُرَ عِلْمُكَ - وأَنْ يَعْظُمَ حِلْمُكَ وأَنْ تُبَاهِيَ النَّاسَ بِعِبَادَةِ رَبِّكَ - فَإِنْ أَحْسَنْتَ حَمِدْتَ اللَّه وإِنْ أَسَأْتَ اسْتَغْفَرْتَ اللَّه - ولَا خَيْرَ فِي الدُّنْيَا إِلَّا لِرَجُلَيْنِ - رَجُلٍ أَذْنَبَ ذُنُوباً فَهُوَ يَتَدَارَكُهَا بِالتَّوْبَةِ - ورَجُلٍ يُسَارِعُ فِي الْخَيْرَاتِ.

۹۵ - وقَالَعليه‌السلام لَا يَقِلُّ عَمَلٌ مَعَ التَّقْوَى وكَيْفَ يَقِلُّ مَا يُتَقَبَّلُ؟

والے سے الگ ہو جائے ۔جب کہ وہ ان کے بارے میں خود ان سے بہتر جانتا ہے لیکن چاہتا ہے کہ ان اعمال کا اظہار ہو جائے جن سے انسان ثواب یا عذاب کاحقدار ہوتا ہے کہ بعض لوگ لڑکا چاہتے ہیں لڑکی نہیں چاہتے ہیں اور بعض مال کے بڑھانے کو دوست رکھتے ہیں اورشکستہ حالی کو برا سمجھتے ہیں ۔

سید رضی : یہ وہ نادر بات ہے جو آیت '' ان ما امرالکم '' کی تفسیر میں آپ سے نقل کی گئی ہے۔

(۹۴)

آپ سے خیر کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو فرمایا کہ خیر مال اور اولاد کی کثرت نہیں ہے۔خیر علم کی کثرت اورحلم کی عظمت ہے اور یہ ہے کہ لوگوں پر عبادت پروردگارنے ناز کرو لہٰذا اگر نیک کام کرو تو اللہ کا شکربجا لائو اورب راکام کرو تو استغفار کرو۔ اوریاد رکھو کہ دنیامیں خیر صرف دو طرح کے لوگوں کے لئے ہے۔وہ انسان جوگناہ کرے تو توبہ سے اس کی تلافی کرلے اور وہ انسان جو نیکیوں میں آگے بڑھتا جائے ۔

(۹۵)

تقویٰ کے ساتھ کوئی عمل قلیل نہیں کہا جا سکتا ہے۔کہ جوعمل بھی قبول(۱) ہو جائے اسے قلیل کس طرح کہاجاسکتا ہے۔

(۱)یہ اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے کہ پروردگار صرف متقین کے اعمال کو قبول کرتا ہے۔اوراس کا مقصد یہ ہے کہ اگر انسان تقویٰ کے بغیر اعمال انجام دے تو یہ اعمال دیکھنے میں بہت نظر آئیں گے لیکن واقعاً کثیر کہے جانے کے قابل نہیں ہیں۔اور اس کے بر خلاف اگرتقویٰ کے ساتھ عمل انجام دے تودیکھنے میں شائد وہ عمل قلیل دکھائی دے لیکن واقعاً قلیل نہ ہوگا کہ درجہ قبولیت پر فائز ہو جانے والا عمل کسی قیمت پر قلیل نہیں کہا جا سکتا ہے۔


۹۶ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِالأَنْبِيَاءِ أَعْلَمُهُمْ بِمَا جَاءُوا بِه - ثُمَّ تَلَا( إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْراهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوه - وهذَا النَّبِيُّ والَّذِينَ آمَنُوا ) الآيَةَ - ثُمَّ قَالَ إِنَّ وَلِيَّ مُحَمَّدٍ مَنْ أَطَاعَ اللَّه وإِنْ بَعُدَتْ لُحْمَتُه - وإِنَّ عَدُوَّ مُحَمَّدٍ مَنْ عَصَى اللَّه وإِنْ قَرُبَتْ قَرَابَتُه!

۹۷ - وسَمِعَعليه‌السلام رَجُلًا مِنَ الْحَرُورِيَّةِ يَتَهَجَّدُ ويَقْرَأُ - فَقَالَ:

نَوْمٌ عَلَى يَقِينٍ خَيْرٌ مِنْ صَلَاةٍ فِي شَكٍّ.

(۹۶)

لوگوں میں انبیاء سے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوتے ہیں جو سب سے زیادہ ان کے تعلیمات سے باخبر ہوں۔یہ کہہ کر آپ نے آیت شریفہ کی تلاوت فرمائی ''ابراہیم سے قریب تر وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کریں۔اور یہ پیغمبر ہے اورصاحبان ایمان ہیں '' اس کے بعد فرمایا کہ پیغمبر (ص) کادوست وہی ہے جو ان کی اطاعت کرے ' چاہے نسب کے اعتبار سے کسی قدر دور کیوں نہ ہو اورآپ کا دشمن وہی ہے جوآپ کی نا فرمانی کرے چاہے قرابت کے اعتبارسے کتنا ہی قریب کیوں نہ ہو۔

(۹۷)

آپ نے سنا کہ ایک خارجی شخص نماز شب پڑھ رہا ے اور تلاوت قرآن کر رہا ے تو فرمایا کہ یقین(۱) کے ساتھ سوجانا شک کے ساتھ نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔

(۱)یہ اصلاح عقیدہ کی طرف اشارہ ہے کہ جس شخص کو حقائق کا یقین نہیں ہے اور وہ شک کی زندگی گذار رہا ہے اس کے اعمال کی قدروقیمت ہی کیا ہے۔اعمال کی قدرو قیمت کا تعین انسان کے علم ویقین اوراس کی معرفت سے ہوتا ہے۔لیکن اس کایہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ جتنے اہل یقین ہیں سبکو سوجانا چاہیے اور نماز شبکا پابند نہیں ہونا چاہیے کہ یقین کی نیند شک کے عمل سے بہتر ہے۔

ایساممکن ہوتا تو سب سے پہلے معصومین ان اعمال کو نظرانداز کر دیتے جن کے یقی کی شان یہ تھی کہ اگر پردے اٹھا دئیے جاتے جب بھی یقین میں کسی اضافہ کی گنجائش نہیں تھی۔


۹۸ - وقَالَعليه‌السلام اعْقِلُوا الْخَبَرَ إِذَا سَمِعْتُمُوه عَقْلَ رِعَايَةٍ لَا عَقْلَ رِوَايَةٍ - فَإِنَّ رُوَاةَ الْعِلْمِ كَثِيرٌ ورُعَاتَه قَلِيلٌ.

۹۹ -وسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ -( إِنَّا لِلَّه وإِنَّا إِلَيْه راجِعُونَ ) - فَقَالَ عليه السلام:

إِنَّ قَوْلَنَا( إِنَّا لِلَّه ) إِقْرَارٌ عَلَى أَنْفُسِنَا بِالْمُلْكِ - وقَوْلَنَا( وإِنَّا إِلَيْه راجِعُونَ ) - إِقْرَارٌ عَلَى أَنْفُسِنَا بِالْهُلْكِ

۱۰۰ - وقَالَعليه‌السلام ومَدَحَه قَوْمٌ فِي وَجْهِه - فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَعْلَمُ بِي مِنْ نَفْسِي - وأَنَا أَعْلَمُ بِنَفْسِي مِنْهُمْ - اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا خَيْراً مِمَّا يَظُنُّونَ واغْفِرْ لَنَا مَا لَا يَعْلَمُونَ.

(۹۸)

جب کسی خبر کو سنو تو عقل کے معیار(۱) پر پرکھ لو اورصرف نقل پربھروسہ نہ کرو کہ علم کے نقل کرنے والے بہت ہوتے ہیں اور سمجھنے والے بہت کم ہوتے ہیں۔

(۹۹)

آپ نے ایک شخص کو کلمہ انا للہ زبان پر جاری کرتے ہوئے سنا تو فرمایا : انا للہ اقرار ہے کہ ہم کسی کی ملکیت ہیں اور انا للہ راجعون اعتراف ہے کہ ایک دن فنا ہو جانے والے ہیں۔

(۱۰۰)

ایک قوم نے آپ کے سامنے آپ کی تعریف کردی توآپنے دعا کے لئے ہاتھ اٹھادئیے ۔خدایا تو مجھے ' مجھ سے بہتر جانتا ہے اورمیں اپنے کو ان سے بہتر پہچانتا ہوں لہٰذا مجھے ان کے خیال سے(۲) بہتر قرار دے دینا اور یہ جن کوتاہیوں کونہیں جانتے ہیں انہیں معاف کردینا۔

(۱)عالم اسلام کی ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ مسلمان روایات کے مضامین سے یکسر غافل ہے اور صرف راویں کے اعتماد پر روایات پر عمل کررہا ہے جب کے بے شمار روایات کے مضامین خلاف عقل و منطق اورمخالف اصول و عقائد ہیں اورمسلمان کو اس گمراہی کا احساس بھی نہیں ہے۔

(۲)اے کاش ہر انسان اس کردار کو اپنا لیتا اورتعریفوں سے دھوکہ کھانے کے بجائے اپنے امور کی اصلاح کی فکر کرت اور مالک کی بارگاہمیں اسیطرح عرض مدعاکرتا جس طرح مولائے کائنات نے سکھایا ہے مگرافسوس کہ ایسا کچھ نہیں ہے اور جہالت اس منزل پرآگئی ہے کہ صاحبان علم عوام الناس کیتعریف سے دھوکہ کھا جاتے ہیں اور اپنے کو با کمال تصورکرنے لگتے ہیں جس کا مشاہدہ خطباء کی زندگی میں بھی ہو سکتا ہے اور شعراء کی مخفلوں میں بھی جہاں اظہار علم کرنے والے با کمال ہوتے ہیں اور تعریف کرنے والوں کی اکثریت ان کے مقابلہ میں بے کمال۔مگراس کے بعد بھی انسان تعریف سے خوش ہوتا ہے اورمغرور ہو جاتا ہے۔


۱۰۱ - وقَالَعليه‌السلام لَا يَسْتَقِيمُ قَضَاءُ الْحَوَائِجِ إِلَّا بِثَلَاثٍ - بِاسْتِصْغَارِهَا لِتَعْظُمَ وبِاسْتِكْتَامِهَا لِتَظْهَرَ - وبِتَعْجِيلِهَا لِتَهْنُؤَ

۱۰۲ - وقَالَعليه‌السلام يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُقَرَّبُ فِيه إِلَّا الْمَاحِلُ - ولَا يُظَرَّفُ فِيه إِلَّا الْفَاجِرُ - ولَا يُضَعَّفُ فِيه إِلَّا الْمُنْصِفُ - يَعُدُّونَ الصَّدَقَةَ فِيه غُرْماً وصِلَةَ الرَّحِمِ مَنّاً - والْعِبَادَةَ اسْتِطَالَةً عَلَى النَّاسِ - فَعِنْدَ ذَلِكَ يَكُونُ السُّلْطَانُ بِمَشُورَةِ النِّسَاءِ - وإِمَارَةِ الصِّبْيَانِ وتَدْبِيرِ الْخِصْيَانِ.

۱۰۳ - ورُئِيَ عَلَيْه إِزَارٌ خَلَقٌ مَرْقُوعٌ فَقِيلَ لَه فِي ذَلِكَ

(۱۰۱)

حاجب روائی تین چیزوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتی ہے :((۱) عمل کوچھوٹا سمجھے تاکہ وہ بڑا اقرار پا جائے ۔(۲) اسے پوشیدہ سور پر انجام دے تاکہ وہ خود اپنا اظہار کرے(۳) اسے جلدی پورا کردے تاکہ خوشگوار معلوم ہو(۱) ۔

(۱۰۲)

لوگوں پر ایک زمانہ آنے والا ہے جب صرف لوگوں کے عیوب بیان کرنے والا مقرب بارگاہ ہواکرے گا اور صرف فاجر کو خوش مزاج سمجھا جائے گا اور صرف منصف کو کمزور قراردیاجائے گا۔لوگ صدقہ کو خسارہ صلہ رحم کو احسان اور عبادت کو لوگوں پر برتری کا(۲) ذریعہ قرار دیں گے ۔ایسے وقت(۱۴) میں حکومت عورتوں کے مشورہ ' بچوں کے اقتدار اورخواجہ سرائوں(۳) کی تدبیر کے سہارے رہ جائے گی۔

(۱۰۳)

لوگوں نے آپ کی چادر کو بوسیدہ دیکھ کر گزارش کردی

(۱)ظاہر ہے کہ حاجت برآری کا عمل جلد ہو جاتا ہے تو انسان کو بے پناہمسرت ہوتی ہے ورنہ اسکے بعد کام تو ہو جاتا ہے لیکن مسرت کا فقدان رہتا ہے اور وہ روحانی انبساط حاصل نہیں ہوتا ہے جو مدعا پیش کرنے کے فوراً بعد پورا ہو جانے میں حاصل ہوتا ہے۔

(۲)افسوس کہ اہل دنیا نے اس عبادت کوبھی اپنی برتری کا ذریعہ بنالیا ہے جس کی تشریع انسان کے خضوع و خشوع اورجذبہ ٔ بندگی کے اظہار کے لئے ہوئی تھی اور جس کامقصد یہ تھا کہ انسان کی زندگی سے غرور اور شیطنت نکل جائے اور تواضع و انکسار اس پرمسلط ہو جائے ۔

(۳)بظاہر کسی دور میں بھی خواجہ سرائوں کومشیر مملکت کی حیثیت حاصل نہیں رہی ہے اور نہ ان کے کسی مخصوص تدبر کی نشاندہی کی گئی ہے۔اس لئے بہت ممکن ہے کہ اس لفظ سے مراد وہ تمام افراد ہوں جن میں ان لوگوں کی خصلتیں پائی جاتی ہیں اورجو حکام کی ہر ہاں میں ہاں ملا دیتے ہیں اور ان کی ہر رغبت وخواہش کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے ہیں اورانہیں زندگی کے اندر و باہر ہر شعبہ میں برابر کا دخل رہتا ہے ۔


فَقَالَ: يَخْشَعُ لَه الْقَلْبُ وتَذِلُّ بِه النَّفْسُ - ويَقْتَدِي بِه الْمُؤْمِنُونَ إِنَّ الدُّنْيَا والآخِرَةَ عَدُوَّانِ مُتَفَاوِتَانِ - وسَبِيلَانِ مُخْتَلِفَانِ - فَمَنْ أَحَبَّ الدُّنْيَا وتَوَلَّاهَا أَبْغَضَ الآخِرَةَ وعَادَاهَا - وهُمَا بِمَنْزِلَةِ الْمَشْرِقِ والْمَغْرِبِ ومَاشٍ بَيْنَهُمَا - كُلَّمَا قَرُبَ مِنْ وَاحِدٍ بَعُدَ مِنَ الآخَرِ - وهُمَا بَعْدُ ضَرَّتَانِ.

۱۰۴ - وعَنْ نَوْفٍ الْبَكَالِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَعليه‌السلام ذَاتَ لَيْلَةٍ - وقَدْ خَرَجَ مِنْ فِرَاشِه فَنَظَرَ فِي النُّجُومِ - فَقَالَ لِي يَا نَوْفُ أَرَاقِدٌ أَنْتَ أَمْ رَامِقٌ - فَقُلْتُ بَلْ رَامِقٌ قَالَ:

يَا نَوْفُ طُوبَى لِلزَّاهِدِينَ فِي الدُّنْيَا - الرَّاغِبِينَ فِي الآخِرَةِ - أُولَئِكَ قَوْمٌ اتَّخَذُوا الأَرْضَ بِسَاطاً - وتُرَابَهَا فِرَاشاً ومَاءَهَا طِيباً - والْقُرْآنَ شِعَاراً والدُّعَاءَ دِثَاراً - ثُمَّ قَرَضُوا الدُّنْيَا قَرْضاً عَلَى مِنْهَاجِ الْمَسِيحِ.

يَا نَوْفُ إِنَّ دَاوُدَعليه‌السلام قَامَ فِي مِثْلِ هَذِه السَّاعَةِ مِنَ اللَّيْلِ - فَقَالَ إِنَّهَا لَسَاعَةٌ لَا يَدْعُو فِيهَا عَبْدٌ إِلَّا اسْتُجِيبَ لَه -

تو آپ نے فرمایا کہ اس سے دل میں خشوع اورنفس میں احساس کمتری پیدا ہوتا ہے اور مومنین اس کی اقتدا بھی کرسکتے ہیں۔یاد رکھودنیا اورآخرت آپس میں دوناساز گار دشمن ہیں اور دو مختلف راستے ۔لہٰذا جو دنیا سے محبت اورتعلق خاطر رکھتا ہے وہ آخرت کادشمن ہو جاتا ہے اور جو راہر و ایک سے قریب تر ہوتا ہے وہ دوسرے سے دور ترہوجاتا ہے۔پھریہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کی سوت جیسی ہیں ۔

(۱۰۴)

نوف بکالی کہتے ہیں کہ میں نے ایک شب امیرالمومنین کو دیکھا کہ آپ نے بستر سے اٹھ کرستاروں پر نگاہ کی اور فرمایا کہ نوف! سو رہے ہو یا بیدار ہو؟ میں نے عرض کی کہ حضورجاگ رہا ہوں۔فرمایا کہ نوف ! خوشا بحال ان کے جو دنیا سے کنارہ کش ہوں توآخرت کی طرف رغبت رکھتے ہوں۔یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے زمین کو بستر بنایا ہے اورخاک کو فرش ' پانی کو شربت قراردیاہے اور قرآن و دعا کو اپنے ظاہرو باطن کامحافظ اس کے بعد دنیا سے یوں الگ(۱) ہوگئے جس طرح حضرت مسیح ۔

نوف! دیکھودائود رات کے وقت ایسے ہی موقع پر قیام کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ وہ ساعت ہے جس میں جو بندہ بھی دعاکرتا ہے پروردگار اس کی دعا

(۱)اس مقام پر لفظ قرض اشارہ ہے کہ نہایت مختصر حصہ حاصل کیا ہے جس طرح دانت سے روٹی کاٹ لی جاتی ہے اور ساری روٹی کو منہمیں نہیں بھر لیا جاتا ہے کہ اس کیفیت کوخضم کہتے ہیں۔قرض نہیں کہتے ہیں۔


إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَشَّاراً أَوْ عَرِيفاً أَوْ شُرْطِيّاً - أَوْ صَاحِبَ عَرْطَبَةٍ وهِيَ الطُّنْبُورُ أَوْ صَاحِبَ كَوْبَةٍ وهِيَ الطَّبْلُ –

وقَدْ قِيلَ أَيْضاً إِنَّ الْعَرْطَبَةَ الطَّبْلُ - والْكَوْبَةَ الطُّنْبُورُ.

۱۰۵ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ اللَّه افْتَرَضَ عَلَيْكُمْ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا - وحَدَّ لَكُمْ حُدُوداً فَلَا تَعْتَدُوهَا - ونَهَاكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ فَلَا تَنْتَهِكُوهَا - وسَكَتَ لَكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ ولَمْ يَدَعْهَا نِسْيَاناً فَلَا تَتَكَلَّفُوهَا

۱۰۶ - وقَالَعليه‌السلام لَا يَتْرُكُ النَّاسُ شَيْئاً مِنْ أَمْرِ دِينِهِمْ لِاسْتِصْلَاحِ دُنْيَاهُمْ - إِلَّا فَتَحَ اللَّه عَلَيْهِمْ مَا هُوَ أَضَرُّ مِنْه.

کوقبول کرلیتا ہے---مگر یہ کہ سرکاری ٹیکس وصول کرنے والا' لوگوں کی برائی کرنے والا: ظالم حکومت کی پولیس والا یا سارنگی اورڈھول(۱) تاشہ والاہو۔

سید رضی : عرطبة : سارنگی کو کہتے ہیں اور کوبة کے معنی ڈھول کے ہیں اور بعض حضرات کے نزدیک عرطبہ ڈھول ہے اور کوبہ سارنگی ۔

(۱۰۵)

پروردگارنے تمہارے ذمہ کچھ فرائض قرار دئیے ہیں لہٰذا خبردار انہیں ضائع نہ کرنا اور اسنے کچھ حدود بھی مقرر کردئیے ہیں لہٰذا ان سے تجاوز نہ کرنا۔اس نے جن چیزوں سے منع کیا ہے ان کی خلاف ورزی نہ کرنا اورجن چیزوں سے سکوت اختیار فرمایا ہے زبردستی انہیں جاننے کی کوش نہ کرناکہ وہ بھولا نہیں ہے۔

(۱۰۶)

جب بھی لوگ دنیا سنوارنے کے لئے دین کی کسی بات کو نظرانداز کردیتے ہیںتو پروردگار اس سے زیادہ نقصان دہ راستے کھول دیتا ہے۔

(۱)افسوس کی بات ہے کہ بعض علاقوں می بعض مومن اقوام کی پہچان ہی ڈھول تاشہ اورسارنگی بن گئی ہے جب کہ مولائے کائنات نے اس کاروبار کو اس قدر مذموم قراردیا ہے کہ اس عمل کے انجام دینے والوں کیدعابھی قبول نہیں ہوتی ہے۔

اس حکمت میں دیگر افراد کا تذکرہ ظالموں کے ذیل میں کیا گیا ہے اور کھلی ہوئی بات ہے کہ ظالم حکومت کے لئے کسی طح کا کام کرنے والا پیش پروردگار مستجاب الدعوات نہیں ہو سکتا ہے ۔جب وہ اپنے ضروریات حیات کوظالموں کی اعانت سیوابستہ کردیتا ہے تو پروردگار اپنا دست کرم اٹھالیتا ہے ۔


۱۰۷ - وقَالَعليه‌السلام رُبَّ عَالِمٍ قَدْ قَتَلَه جَهْلُه وعِلْمُه مَعَه لَا يَنْفَعُه.

۱۰۸ - وقَالَعليه‌السلام لَقَدْ عُلِّقَ بِنِيَاطِ هَذَا الإِنْسَانِ بَضْعَةٌ - هِيَ أَعْجَبُ مَا فِيه وذَلِكَ الْقَلْبُ - وذَلِكَ أَنَّ لَه مَوَادَّ مِنَ الْحِكْمَةِ وأَضْدَاداً مِنْ خِلَافِهَا - فَإِنْ سَنَحَ لَه الرَّجَاءُ أَذَلَّه الطَّمَعُ - وإِنْ هَاجَ بِه الطَّمَعُ أَهْلَكَه الْحِرْصُ - وإِنْ مَلَكَه الْيَأْسُ قَتَلَه الأَسَفُ - وإِنْ عَرَضَ لَه الْغَضَبُ اشْتَدَّ بِه الْغَيْظُ - وإِنْ أَسْعَدَه الرِّضَى نَسِيَ التَّحَفُّظَ - وإِنْ غَالَه الْخَوْفُ شَغَلَه الْحَذَرُ - وإِنِ اتَّسَعَ لَه الأَمْرُ اسْتَلَبَتْه الْغِرَّةُ - وإِنْ أَفَادَ مَالًا أَطْغَاه الْغِنَى - وإِنْ أَصَابَتْه مُصِيبَةٌ فَضَحَه الْجَزَعُ - وإِنْ عَضَّتْه الْفَاقَةُ شَغَلَه الْبَلَاءُ - وإِنْ جَهَدَه الْجُوعُ قَعَدَ بِه الضَّعْفُ - وإِنْ أَفْرَطَ بِه الشِّبَعُ كَظَّتْه الْبِطْنَةُ -

(۱۰۷)

بہت سے عالم(۱) ہیں جنہیں دین سے نا واقفیت مارڈالاہے اور پھر ان کے علم نے بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچایا ہے۔

(۱۰۸)

اس انسان کے وجود میں سب سے زیادہ تعجب خیز وہ گوشت کا ٹکڑا ہے جو ایک رگ سے آویزاں کردیا گیا ہے اور جس کا نام قلب ہے کہ اس میں حکمت(۲) کے سر چشمے بھی ہیں اوراس کی ضدیں بھی ہیں کہ جب اسے امید کی جھلک نظر آتی ہے تو طمع ذلیل بنادتی ہے اور جب طمع میں ہیجان پیدا ہوتا ہے تو حرص برباد کردیتی ہے اورجب مایوسی کا قبضہ ہو جاتا ہے تو حسرت مار ڈالتی ہے اور جب غضب طاری ہوتا ہے ۔توغم و غصہ شدت اختیار کر لیتا ہے اور جب خوشحال ہو جاتا ہے تو حفظ ماتقدم کو بھول جاتا ہے اور جب خوف طاری ہوتا ہے تواحتیاط دوسری چیزوں سے غافل کردیتی ہے۔اور جب حالات وسعت پیدا ہوتی ہے تو غفلت قبضہ کرلیتی ہے -اورجب مال حاصل کر لیتا ہے تو بے نیازی سر کش بنا دیتی ہے اورجب کوئی مصیبت نازل ہو جاتی ہے توفریادرسواکر دیتی ہے اور جب فاقہ کاٹ کھاتا ہے تو بلاء گرفتار کر لیتی ہے اور جب بھوک تھکا دیتی ہے توکمزوری بٹھا دیتی ہےاورجب ضرورت سے زیادہ پیٹ بھر جاتا ہے

(۱)یہ دانشوران ملت ہیں جن کے پاس ڈگریوں کاغرورتو ہے لیکن دین کی بصیرت نہیں ہے۔ظاہر ہے کہ ایسے افراد کا علم تباہ کرسکتا ہے آباد نہیں کر سکتا ہے۔

(۲)انسانی قلب کو دو طرح کی صلاحیتوں سے نوازا گیا ہے۔اس میںایک پہلو عقل و منطق کا ہے اور دوسرا جذبات و عواطف کا۔اس ارشاد گرامی میں دوسرے پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس کے متضاد خصوصیات کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔


فَكُلُّ تَقْصِيرٍ بِه مُضِرٌّ وكُلُّ إِفْرَاطٍ لَه مُفْسِدٌ.

۱۰۹ - وقَالَعليه‌السلام نَحْنُ النُّمْرُقَةُ الْوُسْطَى بِهَا يَلْحَقُ التَّالِي - وإِلَيْهَا يَرْجِعُ الْغَالِي

۱۱۰ - وقَالَعليه‌السلام لَا يُقِيمُ أَمْرَ اللَّه سُبْحَانَه إِلَّا مَنْ لَا يُصَانِعُ - ولَا يُضَارِعُ ولَا يَتَّبِعُ الْمَطَامِعَ

۱۱۱ - وقَالَعليه‌السلام : وقَدْ تُوُفِّيَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ الأَنْصَارِيُّ بِالْكُوفَةِ - بَعْدَ مَرْجِعِه مَعَه مِنْ صِفِّينَ - وكَانَ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْه.

لَوْ أَحَبَّنِي جَبَلٌ لَتَهَافَتَ

معنى ذلك أن المحنة تغلظ عليه - فتسرع المصائب إليه - ولا يفعل ذلك إلا بالأتقياء الأبرار - والمصطفين الأخيار: وهذا مثل قولهعليه‌السلام :

تو شکم پری کی اذیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔مختصر یہ ہے کہ ہر کوتا ہی نقصان دہ ہوتی ہے اور ہر زیادتی تباہ کن۔

(۱۰۹)

ہم اہل بیت ہی وہ نقطہ اعتدال(۱) ہیں جن سے پیچھے رہ جانے والا آگے بڑھ کر ان سے مل جاتا ہے اور آگے بڑھ جانے والا پلٹ کر ملحق ہو جاتا ہے۔

(۱۱۰)

حکم الٰہی کا نفاذ وہی کر سکتا ہے جو حق کے معاملہ میں مروت نہ کرتا ہو اورعاجزی و کمزوری کا اظہارنہ کرتا ہو اور لالچ کے پیچھے نہ دوڑتا ہو۔

(۱۱۱)

جب صفین سے واپسی پر سہل بن حنیف انصاری کاکوفہ میں انتقال ہوگیا جو حضرت کے محبوب صحابی تھے تو آپ نے فرمایا کہ''مجھ سے کوئی پہاڑ بھی محبت کرے گا تو ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا ۔

مقصد یہ ہے کہ میری محبت کی آزمائش سخت ہے اور اس میں مصائب کی یورش ہو جاتی ہے جوشرف صرف متقی اورنیک کردار لوگوں کوحاصل ہوتا ہے جیسا کہ آپنے دوسرے موقع پر ارشاد فرمایا ہے۔

(۱)شیخ محمد عبدہ نے اس فقرہ کی یہ تشریح کی ہے کہ اہل بیت اس مسند سے مشابہت رکھتے ہیں جس کے سہارے انسان کی پشت مضبوط ہوتی ہے اوراسے سکون زندگی حاصل ہوتا ہے ۔وسطی کے لفظ سے اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ تمام مسندیں اسی سے اتصال رکھتی ہیں اور سب کا سہارا وہی ہے۔اہل بیت اس صراط مستقیم پر ہیں جن سے آگے بڑھ جانے والوں کو بھی ان سے ملنا پڑتا ہے اور پیچھے رہ جانے والوںکوبھی ۔!


۱۱۲ - مَنْ أَحَبَّنَا أَهْلَ الْبَيْتِ فَلْيَسْتَعِدَّ لِلْفَقْرِ جِلْبَاباً.

وقد يؤول ذلك على معنى آخر ليس هذا موضع ذكره.

۱۱۳ - وقَالَعليه‌السلام لَا مَالَ أَعْوَدُ مِنَ الْعَقْلِ ولَا وَحْدَةَ أَوْحَشُ مِنَ الْعُجْبِ - ولَا عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ ولَا كَرَمَ كَالتَّقْوَى - ولَا قَرِينَ كَحُسْنِ الْخُلُقِ ولَا مِيرَاثَ كَالأَدَبِ - ولَا قَائِدَ كَالتَّوْفِيقِ ولَا تِجَارَةَ كَالْعَمَلِ الصَّالِحِ - ولَا رِبْحَ كَالثَّوَابِ ولَا وَرَعَ كَالْوُقُوفِ عِنْدَ الشُّبْهَةِ - ولَا زُهْدَ كَالزُّهْدِ فِي الْحَرَامِ ولَا عِلْمَ كَالتَّفَكُّرِ - ولَا عِبَادَةَ كَأَدَاءِ الْفَرَائِضِ - ولَا إِيمَانَ كَالْحَيَاءِ والصَّبْرِ ولَا حَسَبَ كَالتَّوَاضُعِ - ولَا شَرَفَ كَالْعِلْمِ ولَا عِزَّ كَالْحِلْمِ - ولَا مُظَاهَرَةَ أَوْثَقُ مِنَ الْمُشَاوَرَةِ.

(۱۱۲)

جو ہم اہل بیت سے محبت کرے اسے جامہ(۱) فقر پہننے کے لئے تیار ہو جانا چاہیے ۔

سید رضی : بعض حضرات نے اس ارشاد کی ایک دوسری تفسیر کی ہے جس کے بیان کا یہ موقع نہیں ہے۔

(۱۱۳)

عقل سے زیادہ فائدہ مند کوئی دولت نہیں ہے اور خود پسندی سے زیادہ وحشت ناک کوئی تنہائی نہیں ہے۔تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں ہے اورتقویٰ جیسی کوئی بزرگی نہیں ہے۔حسن اخلاق جیسا کوئیساتھی نہیں ہے اوراد ب جیسی کوئی میراث نہیں ہے ۔توفیق جیساکوئی پیشرو نہیں ہے اورعمل صالح جیسی کوئی تجارت نہیں ہے۔ثواب جیسا کوئی فائدہ نہیں ہے اور شبہات میں احتیاط جیسی کوئی پرہیز گاری نہیں ہے۔حرام کی طرف سے بے رغبتی جیساکوئی زہد نہیں ہے اورتفکر جیسا کوئی علم نہیں ہے۔ادائے فرائض جیسی کوئی عبادت نہیں ہے اورحیا و صبر جیسا کوئی ایمان نہیں ہے۔تواضع جیسا کوئی حسب نہیں ہے اور علم جیسا کوئی شرف نہیں ہے۔حلم جیسی کوئی عزت نہیں ہے اور مشورہ سے زیادہ مضبوط کوئی پشت پناہ نہیں ہے۔

(۱)مقصد یہ ہے کہ اہل بیت کاکل سرمایہ حیات دین و مذہب اور حق و حقانیت ہے اور اس کے برداشت کرنے والے ہمیشہ کم ہوتے ہیں لہٰذا اس راہ پر چلنے والوں کو ہمیشہ مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کے لئے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔


۱۱۴ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا اسْتَوْلَى الصَّلَاحُ عَلَى الزَّمَانِ وأَهْلِه - ثُمَّ أَسَاءَ رَجُلٌ الظَّنَّ بِرَجُلٍ لَمْ تَظْهَرْ مِنْه حَوْبَةٌ فَقَدْ ظَلَمَ - وإِذَا اسْتَوْلَى الْفَسَادُ عَلَى الزَّمَانِ وأَهْلِه - فَأَحْسَنَ رَجُلٌ الظَّنَّ بِرَجُلٍ فَقَدْ غَرَّرَ

۱۱۵ - وقِيلَ لَهعليه‌السلام كَيْفَ نَجِدُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - فَقَالَعليه‌السلام كَيْفَ يَكُونُ حَالُ مَنْ يَفْنَى بِبَقَائِه - ويَسْقَمُ بِصِحَّتِه ويُؤْتَى مِنْ مَأْمَنِه

۱۱۶ - وقَالَعليه‌السلام كَمْ مِنْ مُسْتَدْرَجٍ بِالإِحْسَانِ إِلَيْه - ومَغْرُورٍ بِالسَّتْرِ عَلَيْه ومَفْتُونٍ بِحُسْنِ الْقَوْلِ فِيه - ومَا ابْتَلَى اللَّه أَحَداً بِمِثْلِ الإِمْلَاءِ لَه

۱۱۷ - وقَالَعليه‌السلام هَلَكَ فِيَّ رَجُلَانِ مُحِبٌّ غَالٍ ومُبْغِضٌ قَالٍ

(۱۱۴)

جب زمانہ اور اہل زمانہ پر نیکیوں کا غلبہ ہوا اور کوئی شخص کسی شخص سے کوئی برائی دیکھے بغیر بد ظنی پیدا کرے تواس نے اس شخص پر ظلم کیا ہے اور جب زمانہ اور اہل زمانہ پر فساد کا غلبہ ہو اور کوئی شخص کسی سے حسن ظن قائم کرلے تو گویا اسنے اپنے ہی کودھوکہ دیا ہے ۔

(۱۱۵)

ایک شخص نے آپ سے مزاج پرسی کرلی تو فرمایا کہ اس کا حال کیا ہوگا جس کی بقاہی فناکی طرف لے جا رہی ہے اور صحت ہی بیماری کا پیش خیمہ ہے اور وہ اپنی پناہ گاہ ہی سے ایک دن گرفت میں لے لیاجائے گا۔

(۱۱۶)

کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہیں نیکیاں دے کر گرفت میں لیا جاتا ہے اور وہ پردہ(۱) پوشی ہی سے دھوکہ میں رہتے ہیں اوراپنے بارے میں اچھی بات سن کردھوکہ کھا جاتے ہیں ۔اور دیکھو اللہ نے مہلت سے بہتر کوئی آزمائش کاذریعہ نہیں قرار دیا ہے۔

(۱۱۷)

میرے بارے میں دو طرح کے لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔وہ دوست جو دوستی میںغلو سے کام لیتے ہیں اوروہ دشمن جو دشمنی میں مبالغہ کرتے ہیں۔

(۱)انسانوں میں جومختلف کمزوریاں پائی جاتی ہیں ان میں اہم ترین کمزوریاں یہ ہیں کہ وہ ہر تعریف کواپناحق سمجھتا ہے اور ہر مال کو اپنامقدر قراردے لیتا ہے اور پروردگار کی پردہ پوشی کو بھی اپنے تقدس کا نام دے دیتا ہے اوریہ احساس نہیں کرتا ہے کہ یہ فریب زندگی کسی وقت بھی دھوکہ دے سکتا ہے اوراس کا انجام یقینا برا ہو گا۔


۱۱۸ - وقَالَعليه‌السلام إِضَاعَةُ الْفُرْصَةِ غُصَّةٌ.

۱۱۹ - وقَالَ علالسلام مَثَلُ الدُّنْيَا كَمَثَلِ الْحَيَّةِ لَيِّنٌ مَسُّهَا - والسَّمُّ النَّاقِعُ فِي جَوْفِهَا - يَهْوِي إِلَيْهَا الْغِرُّ الْجَاهِلُ ويَحْذَرُهَا ذُو اللُّبِّ الْعَاقِلُ.

۱۲۰ - وسُئِلَعليه‌السلام عَنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ - أَمَّا بَنُو مَخْزُومٍ فَرَيْحَانَةُ قُرَيْشٍ - نُحِبُّ حَدِيثَ رِجَالِهِمْ والنِّكَاحَ فِي نِسَائِهِمْ - وأَمَّا بَنُو عَبْدِ شَمْسٍ فَأَبْعَدُهَا رَأْياً - وأَمْنَعُهَا لِمَا وَرَاءَ ظُهُورِهَا - وأَمَّا نَحْنُ فَأَبْذَلُ لِمَا فِي أَيْدِينَا - وأَسْمَحُ عِنْدَ الْمَوْتِ بِنُفُوسِنَا - وهُمْ أَكْثَرُ وأَمْكَرُ وأَنْكَرُ - ونَحْنُ أَفْصَحُ وأَنْصَحُ وأَصْبَحُ.

(۱۱۸)

فرصت(۱) کا ضائع کردینا رنج و اندوہ کاباعث ہوتا ہے۔

(۱۱۹)

دنیا کی مثال سانپ جیسی ہے جوچھونے میں انتہائی نرم ہوتا ہے اور اس کے اندر زہر قاتل ہوتا ہے ۔ فریب خوردہ جاہل اس کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور صاحب عقل(۲) و ہوش اس سے ہوشیار رہتا ہے۔

(۱۲۰)

آپ سے قریش کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ بنی محزوم قریش کامہکتا ہواپھول ہیں۔ان سے گفتگو بھی اچھی لگتی ہے اور ان کی عورتوں سے رشتہ داری بھی محبوب ہے اوربنی عبد شمس بہت دورت کسوچنے والے اور اپنے پیٹھ پیچھے کی باتوں کی روک تھام کرنے والے ہیں۔لیکن ہم بنی ہاشم اپنے ہاتھ کی دولت کے لٹانے اورموت کے میدان میں جان دینے والے ہیں۔وہ لوگ عدد میں زیادہ ۔مکرو فریب میں آگے اوربد صورت ہیں اور ہم لوگ فصیح و بلیغ ' مخلص اور روشن چہرہ ہیں۔

(۱)انسانی زندگی میں ایسے مقامات بہت کم آتے ہیں جب کسی کام کا مناسب موقع ہاتھ آجاتا ہے لہٰذا انسان کا فرض ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھالے اوراسے ضائع نہ ہونے دے کہ فرصت کا نکل جانا انتہائی رنج و اندوہ کاب اعث ہوتا ہے ۔

(۲)عقل کا کام یہ ہے کہ وہ اشیائکے باطن پرنگاہ رکھے اور صرف ظاہر کے فریب میں نہ آئے ورنہ سانپ کا ظاہر بھی انتہائی نرم و نازک ہوتا ہے جبکہ اس کے اندر کا زہر انتہائی قاتل اورتباہ کن ہوتا ہے ۔


۱۲۱ - وقَالَعليه‌السلام شَتَّانَ مَا بَيْنَ عَمَلَيْنِ - عَمَلٍ تَذْهَبُ لَذَّتُه وتَبْقَى تَبِعَتُه - وعَمَلٍ تَذْهَبُ مَئُونَتُه ويَبْقَى أَجْرُه.

۱۲۲ - وتَبِعَ جِنَازَةً فَسَمِعَ رَجُلًا يَضْحَكُ فَقَالَ - كَأَنَّ الْمَوْتَ فِيهَا عَلَى غَيْرِنَا كُتِبَ - وكَأَنَّ الْحَقَّ فِيهَا عَلَى غَيْرِنَا وَجَبَ - وكَأَنَّ الَّذِي نَرَى مِنَ الأَمْوَاتِ سَفْرٌ عَمَّا قَلِيلٍ إِلَيْنَا رَاجِعُونَ - نُبَوِّئُهُمْ أَجْدَاثَهُمْ ونَأْكُلُ تُرَاثَهُمْ كَأَنَّا مُخَلَّدُونَ بَعْدَهُمْ - ثُمَّ قَدْ نَسِينَا كُلَّ وَاعِظٍ ووَاعِظَةٍ ورُمِينَا بِكُلِّ فَادِحٍ وجَائِحَةٍ

(۱۲۱)

ان دو طرح کے اعمال میں کس قدر فاصلہ پایا جاتا ہے۔وہ عمل(۱) جس کی لذت ختم ہو جائے اوراس کا وبال باقی رہ جائے اوروہ عمل جس کی زحمت ختم ہو جائے اور اجرباقی رہ جائے ۔

(۱۲۲)

آپ نے ایک جنازہ میں شرکت فرمائی اور ایک شخص کو ہنستے ہوئے دیکھ لیا تو فرمایا '' ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موت کسی اور کے لئے لکھی گئی ہے اور یہ حق کسی دوسرے پر لازم قراردیا گیا ہے اور گویا کہجن مرنے والوں کو ہم دیکھ رہے ہیں وہ ایسے مسافر ہیں جو عنقریب واپس آنے والے ہیں کہ ادھر ہم انہیں ٹھکانے لگاتے ہیں اور ادھر(۲) ان کا ترکہ کھانے لگتے ہیں جیسے ہم ہمیشہ رہنے والے ہیں۔اس کے بعد ہم نے ہر نصیحت کرنے والے مرد اورعورت کو بھلا دیا ہے اور ہر آفت و مصیبت کا نشانہ بن گئے ہیں۔

(۱)دنیا اورآخرت کے اعمال کا بنیادی فرق یہی ہے کہ دنیا کے اعمال کی لذت ختم ہو جاتی ہے اور آخرت میں اس کا حساب باقی رہ جاتا ہے اورآخرت کے اعمال کی زحمت ختم ہو جاتی ہے اوراس کا اجرو ثواب باقی رہ جاتا ہے۔

(۲)انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ کسی مرحلہ پر عبرت حاصل کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا ہے اور ہر منزل پراس قدر غافل ہو جاتا ہے جیسے نہ اس کے پاس دیکھنے والی آنکھ ہے اور نہ سمجھنے والی عقل ۔ورنہ اس کے معنی کیا ہیں کہ آگے آگے جنازہ جا رہاہے اور پیچھے لوگ ہنسی مذاق کر رہے ہیں یا سامنے میت کو قبر میں اتارا جا رہا ہے اورحاضرین کرام دنیا کے سیاسی مسائل حل کر رہے ہیں۔یہ صورت حال اس بات کی علامت ہے کہ انسان بالکل غافل ہو چکا ہے اور اسے کسی طرح کا ہوش نہیں رہ گیا ہے۔


۱۲۳ - وقَالَعليه‌السلام طُوبَى لِمَنْ ذَلَّ فِي نَفْسِه وطَابَ كَسْبُه - وصَلَحَتْ سَرِيرَتُه وحَسُنَتْ خَلِيقَتُه - وأَنْفَقَ الْفَضْلَ مِنْ مَالِه وأَمْسَكَ الْفَضْلَ مِنْ لِسَانِه - وعَزَلَ عَنِ النَّاسِ شَرَّه ووَسِعَتْه السُّنَّةُ ولَمْ يُنْسَبْ إلَى الْبِدْعَةِ.

قال الرضي أقول ومن الناس من ينسب هذا الكلام إلى رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وكذلك الذي قبله.

۱۲۴ - وقَالَعليه‌السلام غَيْرَةُ الْمَرْأَةِ كُفْرٌ وغَيْرَةُ الرَّجُلِ إِيمَانٌ.

۱۲۵ - وقَالَعليه‌السلام لأَنْسُبَنَّ الإِسْلَامَ نِسْبَةً لَمْ يَنْسُبْهَا أَحَدٌ قَبْلِي - الإِسْلَامُ هُوَ التَّسْلِيمُ

(۱۲۳)

خوشا بحال اس کاجس نے اپنے اندر تواضع کی ادا پیدا کی ' اپنے کسب کو پاکیزہ بنالیا۔اپنے باطن کونیک کرلیا اپنے اخلاق کوحسین بنالیا۔اپنے مال کے زیادہ حصہ کو راہ خدا میں خرچ کردیا اور اپنی زبان درازی پر قابو پالیا۔اپنے شر کو لوگوں سے دور رکھا اورسنت کو اپنی زندگی میں جگہ دی اور بدعت سے کوئی نسبت نہیں رکھی۔

سید رضی: بعض لوگوں نے اس کلام کو رسول اکرم (ص) کے حوالہ سے بھی بیان کیا ہے جس طرح کہ اس سے پہلے والا کلام حکمت ہے ۔

(۱۲۴)

عورت کا غیرت(۱) کرنا کفر ہے اور مرد کا غیور ہونا عین ایمان ہے۔

(۱۲۵)

میں اسلام کی وہ تعریف کر رہا ہوں جو مجھ سے پہلے کوئی نہیں کر سکا ہے۔اسلام سپردگی ہے اور

(۱)اسلام نے اپنے مخوص مصالح کے تحت مرد کو چار شادیوں کی اجازت دی ہے اور اسی کو عالمی مسائل کا حل قرار دیا ہے لہٰذا کسی عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ وہمرد کی دوسری شادی پر اعتراض کرے یا دوسری عورت سے حسد اور بیزاری کا اظہار کرے کہ یہ بیزاری در حقیقت اس دوسری عورت سے نہیں ہے اسلام کے قانون ازدواج سے ہے اور قانون الٰہی سے بیزاری اور نفرت کا احساس کرنا کفر ہے اسلام نہیں ہے۔

اس کے بر خلاف عورت کو دوسری شادی کی اجازت نہیں دی گئی ہے لہٰذا شوہر کا حق ہے کہ اپنے ہوتے ہوئے دوسرے شوہر کے تصورسے بیزاری کا اظہارکرے اوریہی اس کے کمال حیا و غریت اور کمال اسلام و ایمان کی دلیل ہے لہٰذا عورت کا غیرت کرنا کفر ہے اور مرد کا غیرت کرنا اسلام و ایمان کے مرادف ہے۔


والتَّسْلِيمُ هُوَ الْيَقِينُ - والْيَقِينُ هُوَ التَّصْدِيقُ والتَّصْدِيقُ هُوَ الإِقْرَارُ - والإِقْرَارُ هُوَ الأَدَاءُ والأَدَاءُ هُوَ الْعَمَلُ.

۱۲۶ - وقَالَعليه‌السلام عَجِبْتُ لِلْبَخِيلِ يَسْتَعْجِلُ الْفَقْرَ الَّذِي مِنْه هَرَبَ - ويَفُوتُه الْغِنَى الَّذِي إِيَّاه طَلَبَ - فَيَعِيشُ فِي الدُّنْيَا عَيْشَ الْفُقَرَاءِ - ويُحَاسَبُ فِي الآخِرَةِ حِسَابَ الأَغْنِيَاءِ - وعَجِبْتُ لِلْمُتَكَبِّرِ الَّذِي كَانَ بِالأَمْسِ نُطْفَةً - ويَكُونُ غَداً جِيفَةً - وعَجِبْتُ لِمَنْ شَكَّ فِي اللَّه وهُوَ يَرَى خَلْقَ اللَّه - وعَجِبْتُ لِمَنْ نَسِيَ الْمَوْتَ وهُوَ يَرَى الْمَوْتَى - وعَجِبْتُ لِمَنْ أَنْكَرَ النَّشْأَةَ الأُخْرَى - وهُوَ يَرَى النَّشْأَةَ الأُولَى - وعَجِبْتُ لِعَامِرٍ دَارَ الْفَنَاءِ وتَارِكٍ دَارَ الْبَقَاءِ.

۱۲۷ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ قَصَّرَ فِي الْعَمَلِ ابْتُلِيَ بِالْهَمِّ ولَا حَاجَةَ لِلَّه فِيمَنْ لَيْسَ لِلَّه فِي مَالِه ونَفْسِه نَصِيبٌ.

سپردگی یقین ۔یقین تصدیق ہے اورتصدیق اقرار۔اقرار ادائے فرض ہے اور ادائے فرض عمل۔

(۱۲۶)

مجھے بخیل کے حال پر تعجب ہوتا ہے کہ اسی فقر میں مبتلا ہو جاتا ہے جس سے بھا گ رہا ہے اور پھر اس دولت مندی سے محروم ہو جاتا ہے جس کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔دنیا میں فقیروں جیسی زندگی گزارتا ہے اورآخرت میں مالداروں جیسا حساب دینا پتا ہے۔اسی طرح مجھے مغرورآدمی پر تعجب ہوتا ہے کہ جو کل نطفہ تھا اور کل مردار ہو جائے گا اورپھراکڑ رہا ہے۔مجھے اس شخص کے بارے میں بھی حیرت ہوتی ہے جو وجودخدامیں شک کرتا ہے حالانکہ مخلوقات خدا کو دیکھ رہا ہے اور اس کاحال بھی حیرت انگیز ہے جو موت کو بھولا ہوا ہے حالانکہ مرنے والوں کو برابر دیکھ رہا ہے۔مجھے اس کے حال پر بھی تعجب ہوتا ہے جو آخرت کے امکان کا انکار کردیتا ہے حالانکہ پہلے وجود کامشاہدہ کر رہا ہے۔اور اس کے حال پر بھی حیرت ہے جو فنا ہو جانے والے گھر کو آباد کر رہا ہے اورباقی رہ جانے والے گھر کوچھوڑے ہوئے ہے۔

(۱۲۷)

جس نے عمل میں کوتاہی کی وہ رنج و اندوہمیں بہر حال مبتلا ہوگا اور اللہ کو ایسے بندہ کی کوئی پرواہ نہیں ہے جس کے جان(۱) و مال میں اللہ کا کوئی حصہ نہ ہو۔

(۱)بخل اوربزدلی اس بات کی علامت ہے کہ انسان اپنے جان و مال میں سے کوئی حصہ اپنے پروردگار کو نہیں دینا چاہتا ہے اور کھلی ہوئی بات ہے کہ جب بندہ محتاج ہو کر مالک سے بے نیاز ہو نا چاہتا ہے تو مالک کو اس کی کیا غرض ہے۔وہ بھی قطع تعلق کرل یتا ہے۔


۱۲۸ - وقَالَعليه‌السلام تَوَقَّوُا الْبَرْدَ فِي أَوَّلِه وتَلَقَّوْه فِي آخِرِه - فَإِنَّه يَفْعَلُ فِي الأَبْدَانِ كَفِعْلِه فِي الأَشْجَارِ - أَوَّلُه يُحْرِقُ وآخِرُه يُورِقُ

۱۲۹ - وقَالَعليه‌السلام عِظَمُ الْخَالِقِ عِنْدَكَ يُصَغِّرُ الْمَخْلُوقَ فِي عَيْنِكَ.

۱۳۰ - وقَالَعليه‌السلام : وقَدْ رَجَعَ مِنْ صِفِّينَ فَأَشْرَفَ عَلَى الْقُبُورِ بِظَاهِرِ الْكُوفَةِ

يَا أَهْلَ الدِّيَارِ الْمُوحِشَةِ - والْمَحَالِّ الْمُقْفِرَةِ والْقُبُورِ الْمُظْلِمَةِ - يَا أَهْلَ التُّرْبَةِ يَا أَهْلَ الْغُرْبَةِ - يَا أَهْلَ الْوَحْدَةِ يَا أَهْلَ الْوَحْشَةِ - أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ سَابِقٌ ونَحْنُ لَكُمْ تَبَعٌ لَاحِقٌ - أَمَّا الدُّورُ فَقَدْ سُكِنَتْ وأَمَّا الأَزْوَاجُ فَقَدْ نُكِحَتْ - وأَمَّا الأَمْوَالُ فَقَدْ قُسِمَتْ - هَذَا خَبَرُ مَا عِنْدَنَا فَمَا خَبَرُ مَا عِنْدَكُمْ؟

ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِه فَقَالَ -

(۱۲۸)

سردی کے موسم سے ابتدا میں احتیاط کرو اور آخرمیں اس کا خیرمقدم کرو کہ اس کا اثر بدن پر درختوں کے پتوں جیسا ہوتا ہے کہ یہموسم ابتدا میں پتوں کو جھلسا دیتا ہے اور آخر میں شاداب بنا دیتا ہے ۔

(۱۲۹)

اگر خالق کی عظمت کا احساس پیدا ہو جائے گا تو مخلوقات خود بخود نگاہوں سے گر جائے گی۔

(۱۳۰)

صفین سے واپسی پر کوفہسے باہر قبرستان پرنظر پڑ گئی تو فرمایا۔اے وحشت ناک گھروں کے رہنے والو! اے ویران مکانات کے باشندو! اور تاریک قبروں میں بسنے والو۔ اے خاک نشینو۔اے غربت ' وحدت اور وحشت والو! تم ہم سے آگے چلے گئے ہو اور ہم تمہارے نقش قدم پرچل کر تم سے ملحق ہونے والے ہیں ۔دیکھو تمہارے مکانات آباد ہوچکے ہیں ۔تمہاری بیویوں کادوسرا عقد ہو چکا ہے اور تمہارے اموال تقسیم ہو چکے ہیں۔یہ تو ہمارے یہاں کی خبر ہے۔اب تم بتائو کہ تمہارے یہاں کی خبر کیا ہے ؟

اس کے بعد اصحاب کی طرف رخ کرکے فرمایا کہ


أَمَا لَوْ أُذِنَ لَهُمْ فِي الْكَلَامِ - لأَخْبَرُوكُمْ أَنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى.

۱۳۱ - وقَالَعليه‌السلام وقَدْ سَمِعَ رَجُلًا يَذُمُّ الدُّنْيَا - أَيُّهَا الذَّامُّ لِلدُّنْيَا الْمُغْتَرُّ بِغُرُورِهَا - الْمَخْدُوعُ بِأَبَاطِيلِهَا أَتَغْتَرُّ بِالدُّنْيَا ثُمَّ تَذُمُّهَا - أَنْتَ الْمُتَجَرِّمُ عَلَيْهَا أَمْ هِيَ الْمُتَجَرِّمَةُ عَلَيْكَ - مَتَى اسْتَهْوَتْكَ أَمْ مَتَى غَرَّتْكَ - أَبِمَصَارِعِ آبَائِكَ مِنَ الْبِلَى - أَمْ بِمَضَاجِعِ أُمَّهَاتِكَ تَحْتَ الثَّرَى - كَمْ عَلَّلْتَ بِكَفَّيْكَ وكَمْ مَرَّضْتَ بِيَدَيْكَ - تَبْتَغِي لَهُمُ الشِّفَاءَ وتَسْتَوْصِفُ لَهُمُ الأَطِبَّاءَ - غَدَاةَ لَا يُغْنِي عَنْهُمْ دَوَاؤُكَ ولَا يُجْدِي عَلَيْهِمْ بُكَاؤُكَ - لَمْ يَنْفَعْ أَحَدَهُمْ إِشْفَاقُكَ ولَمْ تُسْعَفْ فِيه بِطَلِبَتِكَ - ولَمْ تَدْفَعْ عَنْه بِقُوَّتِكَ

''اگر انہیں بولنے کی اجازت(۱) مل جاتی تو تمہیں صرف یہ پیغام دیتے کہ بہترین زاد راہ تقویٰ الٰہی ہے۔

(۱۳۱)

ایک شخص کو دنیا کی مذمت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا۔اے دنیا کی مذمت کرنے والے اور اس کے فریب میں مبتلا ہو کراس کے مہملات سے دھوکہ کھا جانے والے ! تو اسی سے دھوکہ بھی کھاتا ہے اور اسی کی مذمت بھی کرتا ہے۔یہ بتا کہ تجھے اس پر الزام لگانے کاحق ہے یا اسے تجھ پرالزام لگانے کاحق ہے۔آخر اس نے کب تجھ سے تیری عقل کو چھین لیا تھا اور کب تجھ کو دھوکہ دیا تھا؟ کیا تیرے آباء واجداد کی کہنگی کی بنا پرگرنے سے دھوکہ دیا ہے یا تمہاری مائوں کی زیرخاک خواب گاہ سے دھوکہ دیا ہے ؟ کتنے بیمار ہیں جن کی تم نے تیمارداری کی ہے اور اپنے ہاتھوں سے ان کا علاج کیا ہے اورچاہا ہے کہ وہ شفایاب ہوجائیں اور اطباء سے رجوع بھی کیا ہے۔اس صبح کے ہنگام جب نہ کوئی دوا کام آرہی تھی اور نہ رونا دھونافائدہ پہنچا رہا تھا۔ نہ تمہاری ہدردی کسی کو فائدہ پہنچا سکی اور نہ تمہارا مقصد حاصل ہو سکا اور نہ تم موت کو دفع کر سکے

(۱)انسانی زندگی کے دو جزء ہیں ایک کا نام ہے جسم اور ایک کا نام ہے روح اور انہیں دونوں کے اتحاد و اتصال کا نام ہے زندگی اور انہیں دونوں کی جدائی کا نام ہے موت۔اب چونکہ جسم کی بقا روح کے وسیلہ سے لہٰذا روح کے جدا ہو جانے کے بعد وہ مردہ بھی ہو جاتا ہے اور سڑ گل بھی جاتا ہے اور اس کے اجزاء منتشر ہو کرخاک میں مل جاتے ہیں۔لیکن روح غیر مادی ہونے کی بنیاد پراپنے عالم سے ملحق ہہو جاتی ہے اور زندگی رہتی ہے یہ اوربات ہے کہ اس کے تصرفات اذن الٰہی کے پابندہوتے ہیں اور اس کی اجازت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کر سکتی ہے۔اوریہی وجہ ہے کہ مردہ زندوں کی آواز سن لیتا ہے لیکن جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔

امیر المومنین نے اسی راز زندگی کی نقاب کشائی فرمائی ہے کہ یہ مرنے والے جواب دینے کے لائق نہیں ہیں لیکن پروردگار نے مجھے وہ علم عنایت فرمایا ہے جس کے ذریعہ میں یہ احساس کرسکتا ہوں کہ ان مرنے والوں کے لا شعور میں کیا ہے اور یہ جواب دینے کے قابل ہوتے تو کیا جواب دیتے اور تم بھی ان کی صورت حال کومحسوس کر لو تو اس امر کا اندازہ کرسکتے ہو کہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی جواب اور کوئی پیغام نہیں ہے کہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے۔


وقَدْ مَثَّلَتْ لَكَ بِه الدُّنْيَا نَفْسَكَ وبِمَصْرَعِه مَصْرَعَكَ - إِنَّ الدُّنْيَا دَارُ صِدْقٍ لِمَنْ صَدَقَهَا - ودَارُ عَافِيَةٍ لِمَنْ فَهِمَ عَنْهَا - ودَارُ غِنًى لِمَنْ تَزَوَّدَ مِنْهَا - ودَارُ مَوْعِظَةٍ لِمَنِ اتَّعَظَ بِهَا - مَسْجِدُ أَحِبَّاءِ اللَّه ومُصَلَّى مَلَائِكَةِ اللَّه - ومَهْبِطُ وَحْيِ اللَّه ومَتْجَرُ أَوْلِيَاءِ اللَّه - اكْتَسَبُوا فِيهَا الرَّحْمَةَ ورَبِحُوا فِيهَا الْجَنَّةَ - فَمَنْ ذَا يَذُمُّهَا وقَدْ آذَنَتْ بِبَيْنِهَا ونَادَتْ بِفِرَاقِهَا - ونَعَتْ نَفْسَهَا وأَهْلَهَا فَمَثَّلَتْ لَهُمْ بِبَلَائِهَا الْبَلَاءَ - وشَوَّقَتْهُمْ بِسُرُورِهَا إِلَى السُّرُورِ - رَاحَتْ بِعَافِيَةٍ وابْتَكَرَتْ بِفَجِيعَةٍ - تَرْغِيباً وتَرْهِيباً وتَخْوِيفاً وتَحْذِيراً - فَذَمَّهَا رِجَالٌ غَدَاةَ النَّدَامَةِ - وحَمِدَهَا آخَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ - ذَكَّرَتْهُمُ الدُّنْيَا فَتَذَكَّرُوا وحَدَّثَتْهُمْ فَصَدَّقُوا - ووَعَظَتْهُمْ فَاتَّعَظُوا.

اس صورت حال میں دنیا نے تم کو اپنی حقیقت دکھلادی تھی اور تمہیں تمہاری ہلاکت سے آگاہ کردیا تھا(لیکن تمہیں ہوش نہ آیا) یاد رکھو کہ دنیا باورکرنے والے کے لئے سچائی کا گھر ہے اورسمجھ دار کے لئے امن و عافیت کی منزل ہے اور نصیحت حاصل کرنے والے کے لئے نصیحت کامقام ہے۔یہ دوستان(۱) خدا کے سجود کی منزل اور ملائکہ آسمان کا مصلیٰ ہے یہیں وحی الٰہی کا نزول ہوتا ہے اور یہیں اولیاء خداآخرت کا سودا کرتے ہیں جس کے ذریعہ رحمت کو حاصل کر لیتے ہیں اور جنت کو فائدہ میں لے لیتے ہیں۔کسے حق ہے کہ اس کی مذمت کرے جب کہ اس نے اپنی جداء یکا اعلان کردیا ہے اور اپنے فراق کی آواز لگادی ہے اور اپنے رہنے والوں کی سنانی سنادی ہے اپنی بلاء سے ان کے ابتاء کا نقشہ پیش کیا ہے اور اپنے سرورسے آخرت کے سرور کی دعوت دی ہے۔اس کی شام عافیت میں ہوتی ہے تو صبح مصیبت میں ہوتی ہے تاکہ انسان میں رغبت بھی پیدا ہو اورخوف بھی۔اسے آگاہ بھی کردے اور ہوشیار بھی بنادے۔کچھ لوگندامت کی صبح اس کی مذمت کرتے ہیں اور کچھ لوگ قیامت کے روز اس کی تعریف کریں گے جنہیں دنیا نے نصیحت کی تو انہوںنے اسے قبول کرلیا۔اسنے حقائق بیان کئے تو اس کی تصدیق کردی اورموعظہ کیا تواس کے موعظہ سے اثر لیا۔

(۱)بھلا اس سر زمین کو کون برا کہہ سکتا ہے جس پر ملائکہ کا نزول ہوتا ہے۔اولیاء خدا سجدہ کرتے ہیںخاصان خدا زندگی گزارتے ہیں اورنیک بندے اپنی عاقبت بنانے کا سامان کرتے ہیں۔یہ سر زمین بہترین سرزمین ہے اور یہ علاقہ مفید ترین علاقہ ہے مگر صرف ان لوگوں کے لئے جو اس کا وہی مصرف قرار دیں جوخاصان خدا قرار دیتے ہیں اور اس سے اسی طرح عاقبت سنوارنے کا کام لیں جس طرح اورلیاء خدا کام لیتے ہیں۔ورنہ اس کے بغیر یہ دنیا بلاء ہے بلائ۔اوراس کا انجام تباہی اور بربادی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔


۱۳۲ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ لِلَّه مَلَكاً يُنَادِي فِي كُلِّ يَوْمٍ - لِدُوا لِلْمَوْتِ واجْمَعُوا لِلْفَنَاءِ وابْنُوا لِلْخَرَابِ.

۱۳۳ - وقَالَعليه‌السلام الدُّنْيَا دَارُ مَمَرٍّ لَا دَارُ مَقَرٍّ والنَّاسُ فِيهَا رَجُلَانِ - رَجُلٌ بَاعَ فِيهَا نَفْسَه فَأَوْبَقَهَا ورَجُلٌ ابْتَاعَ نَفْسَه فَأَعْتَقَهَا.

۱۳۴ - وقَالَعليه‌السلام لَا يَكُونُ الصَّدِيقُ صَدِيقاً حَتَّى يَحْفَظَ أَخَاه فِي ثَلَاثٍ - فِي نَكْبَتِه وغَيْبَتِه ووَفَاتِه.

(۱۳۲)

پروردگار کی طرف سے ایک ملک معین ہے جو ہر روز آواز دیتا ہے کہ ایہا لناس ! پیدا کرو تو مرنے کے لئے جمع کرو تو فنا ہونے کے لئے اور تعمیر کرو تو خراب ہونے کے لئے ( یعنی آخری انجام کو نگاہ میں رکھو)

(۱۳۳)

دنیا ایک گزر گاہ ہے ۔منزل نہیں ہے اس میں لوگ دو طرح کے ہیں ۔ایک وہ شخص ہے جس نے اپنے نفس کو بیچ ڈالا اور ہلاک کردیا اورایک وہ ہے جس نے خرید لیا اورآزاد کردیا۔

(۱۳۴)

دوست اس وقت تک دوست نہیں ہو سکتا ہے جب تک اپنے دوست کے تین مواقع پر کام نہ آئے ۔

مصیبت کے موقع پر۔اس کی غیبت میں۔اور مرنے کے بعد۔


۱۳۵ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ أُعْطِيَ أَرْبَعاً لَمْ يُحْرَمْ أَرْبَعاً - مَنْ أُعْطِيَ الدُّعَاءَ لَمْ يُحْرَمِ الإِجَابَةَ - ومَنْ أُعْطِيَ التَّوْبَةَ لَمْ يُحْرَمِ الْقَبُولَ - ومَنْ أُعْطِيَ الِاسْتِغْفَارَ لَمْ يُحْرَمِ الْمَغْفِرَةَ - ومَنْ أُعْطِيَ الشُّكْرَ لَمْ يُحْرَمِ الزِّيَادَةَ.

قال الرضي - وتصديق ذلك كتاب الله - قال الله في الدعاء( ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ) - وقال في الاستغفار( ومَنْ يَعْمَلْ سُوءاً أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَه - ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ الله يَجِدِ الله غَفُوراً رَحِيماً ) - وقال في الشكر( لَئِنْ شَكَرْتُمْ لأَزِيدَنَّكُمْ ) - وقال في التوبة -( إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى الله لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهالَةٍ - ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ فَأُولئِكَ يَتُوبُ الله عَلَيْهِمْ - وكانَ الله عَلِيماً حَكِيماً ) .

۱۳۶ - وقَالَعليه‌السلام الصَّلَاةُ قُرْبَانُ كُلِّ تَقِيٍّ - والْحَجُّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ - ولِكُلِّ شَيْءٍ زَكَاةٌ

(۱۳۵)

جسے چار چیزیں دیدی گئیں وہ چار سے محروم نہیں رہ سکتا ہے۔جسے دعا کی توفیق مل گئی وہ قبولیت سے محروم نہ ہوگا اور جسے توبہ کی توفیق حاصل ہوگئی وہ قبولیت سے محروم نہ ہوگا۔استغفار حاصل کرنے والا مغفرت سے محروم نہ ہوگا اور شکر کرنے والا اضافہ سے محروم نہ ہوگا۔

سید رضی : اس ارشاد گرامی کی تصدیق آیات قرآنی سے ہوتی ہے کہ پروردگار نے دعا کے بارے میں فرمایا '' مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔اور استغفار کے بارے میں فرمایا ہے '' جو برائی کرنے کے بعد یا اپنے نفس پر ظلم کرنے کے بعد خداسے توبہ کرلے گا وہ اسے غفورورحیم پائے گا ''

شکر کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے '' اگر تم شکریہ ادا کرو گے تو ہم نعمتوں میں اضافہ کردیں گے '' اورتوبہ کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے '' توبہ ان لوگوں کے لئے جو جہالت کی بناپرگناہ کرتے ہیں اور پھر فوراً توبہ کر لیتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جن کی توبہ کو اللہ قبول کرلیتا ہے اوروہ ہر ایک کی نیت سے با خبر بھی ہے اور صاحب حکمت بھی ہے ''

(۱۳۶)

نماز متقی کے لئے وسیلہ تقرب ہے اورحج ہر کمزور کے لئے جہاد ہے۔ہر شے کی ایک زکوٰة ہوتی ہے


وزَكَاةُ الْبَدَنِ الصِّيَامُ - وجِهَادُ الْمَرْأَةِ حُسْنُ التَّبَعُّلِ

۱۳۷ - وقَالَعليه‌السلام اسْتَنْزِلُوا الرِّزْقَ بِالصَّدَقَةِ.

۱۳۸ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ أَيْقَنَ بِالْخَلَفِ جَادَ بِالْعَطِيَّةِ.

۱۳۹ - وقَالَعليه‌السلام تَنْزِلُ الْمَعُونَةُ عَلَى قَدْرِ الْمَئُونَةِ.

۱۴۰ - وقَالَعليه‌السلام مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ.

۱۴۱ - وقَالَعليه‌السلام قِلَّةُ الْعِيَالِ أَحَدُ الْيَسَارَيْنِ.

اور بدن کی زکوٰة روزہ ہے۔عورت کا جہاد شوہر کے ساتھ بہترین برتائو(۱) ہے۔

(۱۳۷)

روزی کے نزول کا انتظام صدقہ کے ذریعہ سے کرو۔

(۱۳۸)

جسے معاوضہ کا یقین ہوتاہے وہ عطاء میں دریا دلی سے کام لیتا ہے ۔

(۱۳۹)

خدا ئی امداد کا نزول بقدرخرچ ہوتا ہے ( ذخیرہ انوزی اورفضول خرچی کے لئے نہیں )

(۱۴۰)

جو میانہ روی سے کام لے گاہ وہ محتاج نہ ہوگا۔

(۱۴۱)

متعلقین کی کمی(۲) بھی ایک طرح کی آسودگی ہے۔

(۱)اس بہترین برتائو میں اطاعت 'عفت 'تدبیرمنزل ' قناعت ' عدم مطالبات ' غیرتو حیا اور طلب رضا جیسی تمام چیزیں شامل ہیں جن کے بغیر ازدواجی زندگی خوشگوار نہیں ہو سکتی ہے۔اور دن بھر زحمت برداشت کرکینقہ فراہم کرنے والا شوہر آسودہ مطمئن نہیں ہو سکتا ہے۔

(۲)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تنظیم حیات ایک عقلی فریضہ ہے اور ہر مسئلہ کوصرف توکل بخدا کے حوالہ نہیںکیا جا سکتا ہے۔اسلام نے ازدواجی ' کثرت نسل پر زور دیا ہے۔لیکن دامن دیکھ کر پیر پھیلانے کا شعور بھیدیا ہے لہٰذا انسان کیذمہ داری ہے کہ ان دونوں کے درمیان سے راستہ نکالے اور اس امر کے لئے آمادہ رہے کہ کثرت متعلقین سے پریشانی ضرور پیدا ہوگی اور پھرپریشانی کی شکایت اورفریاد نہ کرے ۔


۱۴۲ - وقَالَعليه‌السلام التَّوَدُّدُ نِصْفُ الْعَقْلِ.

۱۴۳ - وقَالَعليه‌السلام الْهَمُّ نِصْفُ الْهَرَمِ.

۱۴۴ - وقَالَعليه‌السلام يَنْزِلُ الصَّبْرُ عَلَى قَدْرِ الْمُصِيبَةِ - ومَنْ ضَرَبَ يَدَه عَلَى فَخِذِه عِنْدَ مُصِيبَتِه حَبِطَ عَمَلُه.

۱۴۵ - وقَالَعليه‌السلام كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَه مِنْ صِيَامِه إِلَّا الْجُوعُ والظَّمَأُ - وكَمْ مِنْ قَائِمٍ لَيْسَ لَه مِنْ قِيَامِه إِلَّا السَّهَرُ والْعَنَاءُ - حَبَّذَا نَوْمُ الأَكْيَاسِ وإِفْطَارُهُمْ.

۱۴۶ - وقَالَعليه‌السلام سُوسُوا إِيمَانَكُمْ بِالصَّدَقَةِ وحَصِّنُوا أَمْوَالَكُمْ بِالزَّكَاةِ - وادْفَعُوا أَمْوَاجَ الْبَلَاءِ بِالدُّعَاءِ.

(۱۴۲)

میل محبت پیدا کرنا عقل کا نصف حصہ ہے۔

(۱۴۳)

ہم و غم خودبھی آدھا بڑھاپا ہے۔

(۱۴۴)

صبر بقدر مصیبت نازل ہوتا ہے اور جس نے مصیبت کے موقع پر ران پر ہاتھ مارا۔گویا کہ اپنے عمل اور اجر کو برباد کردیا (ہنر صبر ہے ہنگامہ نہیں ہے۔لیکن یہ سب اپنی ذاتی مصیبت کے لئے ہے )

(۱۴۵)

کتنے روزہ دار ہیں جنہیں روزہ سے بھوک اورپیاس کے علاوہ کچھ نہیں حاصل ہوتا ہے اور کتنے عابد شب زندہ دار ہیں جنہیں اپنے قیام سے شب بیداری اورمشقت کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ ہوشمند(۱) ا نسان کا سونا اور کھانابھی قابل تعریف ہوتا ہے۔

(۱۴۶)

اپنے ایمان کی نگہداشت(۲) صدقہ سے کرو اور اپنے اموال کی حفاظت زکوٰة سے کرو۔بلائوں کے تلاطم کودعائوں سے ٹال دو۔

(۱)مقصد یہ ہے کہ انسان عبادت کو بطور رسم و عادت انجام نہ دے بلکہ جذبہ اطاعت و بندگی کے تحت انجام دے تاکہ واقعاً بندۂ پروردگار کہے جانے کے قابل ہو جائے ورنہ شعور بندگی سے الگ ہو جانے کے بعد بندگی بے ارزش ہو کر رہ جاتی ہے۔

(۲)صدقہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان کو وعدہ ٔ الٰہی پراعتبار ہے اوروہ یہ یقین رکھتا ہے کہ جو کچھ اس کی راہ میں دے دیا ہے وہ ضائع ہونے والا نہیں ہے بلکہ دس گنا ۔سو گناہ ۔ہزار گنا ہوکر واپس آنے والا ہے اور یہی کمال ایمان کی علامت ہے ۔


۱۴۷ - ومِنْ كَلَامٍ لَهعليه‌السلام

لِكُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ النَّخَعِيِّ قَالَ كُمَيْلُ بْنُ زِيَادٍ - أَخَذَ بِيَدِي أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍعليه‌السلام - فَأَخْرَجَنِي إِلَى الْجَبَّانِ فَلَمَّا أَصْحَرَ تَنَفَّسَ الصُّعَدَاءَ - ثُمَّ قَالَ:

يَا كُمَيْلَ بْنَ زِيَادٍ - إِنَّ هَذِه الْقُلُوبَ أَوْعِيَةٌ فَخَيْرُهَا أَوْعَاهَا - فَاحْفَظْ عَنِّي مَا أَقُولُ لَكَ: النَّاسُ ثَلَاثَةٌ - فَعَالِمٌ رَبَّانِيٌّ ومُتَعَلِّمٌ عَلَى سَبِيلِ نَجَاةٍ - وهَمَجٌ رَعَاعٌ أَتْبَاعُ كُلِّ نَاعِقٍ يَمِيلُونَ مَعَ كُلِّ رِيحٍ - لَمْ يَسْتَضِيئُوا بِنُورِ الْعِلْمِ ولَمْ يَلْجَئُوا إِلَى رُكْنٍ وَثِيقٍ.

يَا كُمَيْلُ الْعِلْمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَالِ - الْعِلْمُ يَحْرُسُكَ وأَنْتَ تَحْرُسُ الْمَالَ - والْمَالُ تَنْقُصُه النَّفَقَةُ والْعِلْمُ يَزْكُوا عَلَى الإِنْفَاقِ - وصَنِيعُ الْمَالِ يَزُولُ بِزَوَالِه.

يَا كُمَيْلَ بْنَ زِيَادٍ مَعْرِفَةُ الْعِلْمِ دِينٌ يُدَانُ بِه - بِه يَكْسِبُ الإِنْسَانُ الطَّاعَةَ فِي حَيَاتِه - وجَمِيلَ الأُحْدُوثَةِ بَعْدَ وَفَاتِه - والْعِلْمُ حَاكِمٌ والْمَالُ مَحْكُومٌ عَلَيْه.

يَا كُمَيْلُ هَلَكَ خُزَّانُ الأَمْوَالِ وهُمْ أَحْيَاءٌ -

(۱۴۷)

آپ کا ارشاد گرامی جناب کمیل بن زیاد نخعی سے کمیل کہتے ہیں کہ امیر المومنین میرا ہاتھ پکڑ کر قبرستان کی طرف لے گئے اور جب آبادی سے باہرنکل گئے تو ایک لمبی آہ کھینچ کرفرمایا: ۔ اے کمیل بن زیاد!دیکھو یہ دل ایک طرح کے ظرف ہیں لہٰذا سب سے بہتر وہ دل ہے جو سب سے زیادہ حکمتوں کو محفوظکرسکے اب تم مجھ سے ان باتوں کو محفوظ کرلو۔لوگ تین طرح کے ہوتے ہیں : خدا رسیدہ عالم۔راہ نجات پر چلنے والا طالب علم اورعوام الناس کا وہ گروہ جو ہر آوازکے پیچھے چل پڑتا ہے اور ہر ہوا ک ساتھ لہرانے لگتا ہے۔اسنے نہ نور کی روشنی حاصل کی ہے اور نہ کسی مستحکم ستون کاس ہارا لیا ہے۔

اے کمیل !دیکھو علم مال(۱) سے بہرحال بہتر ہوتا ہے کہ علم خود تمہاری حفاظت کرتا ہے اورمال کی حفاظت تمہیں کرنا پڑتی ہے مال خرچ کرنے سے کم ہو جاتا ہے اور علم خرچ کرنے سے بڑھ جاتا ہے۔پھر مال کے نتائج و اثرات بھی اس کے فناہونے کے ساتھ ہی فنا ہو جاتے ہیں۔

اے کمیل بن زیاد! علم کی معرفت ایک دین ہے جس کی اقتدا کی جاتی ہے اور اسی کے ذریعہ انسان زندگی میں اطاعت حاصل کرتا ہے اور مرنے کے بعد ذکرجمیل فراہم کرتا ہے۔علم حاکم ہوتا ہے اورمال محکوم ہوتا ہے۔ کمیل دیکھو مال کاذخیرہ کرنے والے جیتے جی ہلاک ہوگئے اور صاحبان علم

(۱)علم و مال کے مراتب کے بارے میں یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ مال کی پیداوار بھی علم کا نتیجہ ہوتی ہے ورنہ ریگستانی علاقوں میں ہزاروں سال سے پٹرول کے خزانے موجود تھے اور انسان سے بالکل بے خبر تھا۔اس کے بعد جیسے ہی علم نے میدان انکشافات میں قدم رکھا' برسوں کے فقیر امیر ہوگئے اورصدیوں کے فاقہ کش صاحب مال و دولت شمار ہونے لگے۔


والْعُلَمَاءُ بَاقُونَ مَا بَقِيَ الدَّهْرُ - أَعْيَانُهُمْ مَفْقُودَةٌ وأَمْثَالُهُمْ فِي الْقُلُوبِ مَوْجُودَةٌ - هَا إِنَّ هَاهُنَا لَعِلْماً جَمّاً وأَشَارَ بِيَدِه إِلَى صَدْرِه لَوْ أَصَبْتُ لَه حَمَلَةً - بَلَى أَصَبْتُ لَقِناً غَيْرَ مَأْمُونٍ عَلَيْه - مُسْتَعْمِلًا آلَةَ الدِّينِ لِلدُّنْيَا - ومُسْتَظْهِراً بِنِعَمِ اللَّه عَلَى عِبَادِه وبِحُجَجِه عَلَى أَوْلِيَائِه - أَوْ مُنْقَاداً لِحَمَلَةِ الْحَقِّ لَا بَصِيرَةَ لَه فِي أَحْنَائِه - يَنْقَدِحُ الشَّكُّ فِي قَلْبِه لأَوَّلِ عَارِضٍ مِنْ شُبْهَةٍ - أَلَا لَا ذَا ولَا ذَاكَ - أَوْ مَنْهُوماً بِاللَّذَّةِ سَلِسَ الْقِيَادِ لِلشَّهْوَةِ - أَوْ مُغْرَماً بِالْجَمْعِ والِادِّخَارِ ،- لَيْسَا مِنْ رُعَاةِ الدِّينِ فِي شَيْءٍ - أَقْرَبُ شَيْءٍ شَبَهاً بِهِمَا الأَنْعَامُ السَّائِمَةُ - كَذَلِكَ يَمُوتُ الْعِلْمُ بِمَوْتِ حَامِلِيه.

اللَّهُمَّ بَلَى لَا تَخْلُو الأَرْضُ مِنْ قَائِمٍ لِلَّه بِحُجَّةٍ - إِمَّا ظَاهِراً مَشْهُوراً وإِمَّا خَائِفاً مَغْمُوراً - لِئَلَّا تَبْطُلَ حُجَجُ اللَّه وبَيِّنَاتُه - وكَمْ ذَا وأَيْنَ أُولَئِكَ

زمانہ کی بقا کے ساتھ رہنے والے ہیں۔ان کے اجسام نظروں سے اوجھل ہوگئے ہیں لیکن ان کی صورتیں دلوں پر نقش ہیں۔دیکھو اس سینہ میں علم کا ایک خزانہ ہے۔کاش مجھے اس کے اٹھانے والے مل جاتے ۔ہاںملے بھی تو بعض ایسے ذہین جو قابل اعتبار نہیں ہیں اور دین کو دنیا کا آلہ کاربناکراستعمال کرنے والے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کے ذریعہ اس کے بندوں اور اس کی محبتوں کے ذریعہ اس کے اولیاء پر برتری جتلانے والے ہیں یا حاملان حق کے اطاعت گذار تو ہیں لیکن ان کے پہلو میں بصیرت نہیں ہے اور ادنیٰ شبہ میں بھی شک کاشکار ہو جاتے ہیں۔یاد رکھو کہ یہ یہ کام آنے والے ہیں اور نہ وہ۔اس کے بعد ایک قسم ان لوگوں کی ہے جو لذتوں کے دلدادہ اورخواہشات کے لئے اپنی لگام ڈھلی کر دینے والے ہیں یا صری مال جمع کرنے اور ذخیرہ اندوزی کرنے کے دلدادہ ہیں۔یہ دونوں بھی دین کے قطعاً محافظ نہیں ہیں اور ان سے قریب ترین شباہت رکھنے والے چرنے والے جانور ہوتے ہیں اور اس طرح علم حاملان علم کے ساتھ مرجاتا ہے۔لیکن۔اس کے بعد بھی زمین ایسے شخص سے خالی نہیں ہوتی ہے جو حجت(۱) خدا کے ساتھ قیام کرتا ہے چاہے وہ ظاہر اور مشہور ہو یا خائف اور پوشیدہ۔تاکہ پروردگار کی دلیلیں اور اس کی نشانیاں مٹنے نہ پائیں۔لیکن یہ ہیں ہی کتنے اور کہاں ہیں ؟

(۱)یہ صحیح ہے کہ ہر صفت اس کے حامل کے فوت ہو جانے سے ختم ہو جاتی ہے اور علم بھی حاملان علم کی موت سے مر جاتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس دنیا میں کوئی دور ایسا بھی آتا ہے جب تمام اہل علم مر جائیں اور علم کا فقدان ہو جائے۔اس لئے کہ ایسا ہوگیا تواتمام حجت کاکوئی راستہ نہ رہ جائے گا اور اتمام حجت بہر حال ایک اہم اور ضروری مسئلہ ہے لہٰذا ہر دور میں ایک حجت خدا کا رہنا ضروری ہے چاہے ظاہر بظاہر منظر عام پر ہو یا پردہ ٔ غیبت میں ہو کہ اتمام حجت کے لئے اس کاوجود ہی کافی ہے۔اس کے ظہورکی شرط نہیں ہے


أُولَئِكَ واللَّه الأَقَلُّونَ عَدَداً - والأَعْظَمُونَ عِنْدَ اللَّه قَدْراً - يَحْفَظُ اللَّه بِهِمْ حُجَجَه وبَيِّنَاتِه حَتَّى يُودِعُوهَا نُظَرَاءَهُمْ - ويَزْرَعُوهَا فِي قُلُوبِ أَشْبَاهِهِمْ - هَجَمَ بِهِمُ الْعِلْمُ عَلَى حَقِيقَةِ الْبَصِيرَةِ - وبَاشَرُوا رُوحَ الْيَقِينِ واسْتَلَانُوا مَا اسْتَوْعَرَه الْمُتْرَفُونَ - وأَنِسُوا بِمَا اسْتَوْحَشَ مِنْه الْجَاهِلُونَ - وصَحِبُوا الدُّنْيَا بِأَبْدَانٍ أَرْوَاحُهَا مُعَلَّقَةٌ بِالْمَحَلِّ الأَعْلَى - أُولَئِكَ خُلَفَاءُ اللَّه فِي أَرْضِه والدُّعَاةُ إِلَى دِينِه - آه آه شَوْقاً إِلَى رُؤْيَتِهِمْ - انْصَرِفْ يَا كُمَيْلُ إِذَا شِئْتَ.

۱۴۸ - وقَالَعليه‌السلام الْمَرْءُ مَخْبُوءٌ تَحْتَ لِسَانِه.

۱۴۹ - وقَالَعليه‌السلام هَلَكَ امْرُؤٌ لَمْ يَعْرِفْ قَدْرَه.

۱۵۰ - وقَالَعليه‌السلام لِرَجُلٍ سَأَلَه أَنْ يَعِظَه:

لَا تَكُنْ مِمَّنْ يَرْجُو الآخِرَةَ

واللہ ان کے عدد بہت کم ہیں لیکن ان کی قدرو منزلت بہت عظیم ہے۔اللہ انہیں کے ذریعہ اپنے دلائل و بینات کی حفاظت کرتا ہے تاکہ وہ اپنے ہی جیسے افراد کے حوالے کردیں اور اپنے امثال کے دلوں میں بودیں۔انہیں علم نے بصیرت کی حقیقت تک پہنچا دیا ہے اور یہ یقین کی روح کے ساتھ گھل مل گئے ہیں۔انہوں نے ان چیزوں کو آسان بنالیا ہے جنہیں راحت پسندوں نے مشکل بنا رکھاتھا اوران چیزوں سے انس حاصل کیا ہے جن سے جاہل وحشت زدہ تھے اور اس دنیا میں ان اجسام کے ساتھ رہے ہیں جن کے روحیں ملاء اعلیٰ سے وابستہ ہیں۔یہی روئے زمین پر اللہ کے خلیفہ اور اس کے دین کے داعی ہیں۔ہائے مجھے ان کے دیدار کا کس قدر اشتیاق ہے۔

کمیل (میری بات تمام ہوچکی ) اب تم جا سکتے ہو۔

(۱۴۸)

انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا رہتا ہے۔

(۱۴۹)

جس شخص نے اپنی قدرو منزلت کو نہیں پہچانا وہ ہلاک ہوگیا۔

(۱۵۰)

ایک شخص نےآپ سےموعظہ کا تقاضا کیا تو فرمایا '' ان لوگوں میں نہ ہوجانا جو عمل(۱) کے بغیرآخرت کی

(۱)مولائے کائنات کے اس ارشاد گرامی کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد اگر دورحاضر کے مومنین کرام ' واعظین محترم ' خطباء شعلہ نوا۔شعراء طوفان افزا۔سربراہان ملت قائدین قوم کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہمارے دور کے حالات کا نقشہ کھینچ رہے ہیں اور ہمارے سامنے کردار کا ایک آئینہ رکھ رہے ہیں جس میں ہرشخص اپنی شکل دیکھ سکتا ہے اور اپنے حال زار سے عبرت حاصل کرسکتا ہے۔


بِغَيْرِ عَمَلٍ - ويُرَجِّي التَّوْبَةَ بِطُولِ الأَمَلِ - يَقُولُ فِي الدُّنْيَا بِقَوْلِ الزَّاهِدِينَ - ويَعْمَلُ فِيهَا بِعَمَلِ الرَّاغِبِينَ،إِنْ أُعْطِيَ مِنْهَا لَمْ يَشْبَعْ وإِنْ مُنِعَ مِنْهَا لَمْ يَقْنَعْ - يَعْجِزُ عَنْ شُكْرِ مَا أُوتِيَ ويَبْتَغِي الزِّيَادَةَ فِيمَا بَقِيَ - يَنْهَى ولَا يَنْتَهِي ويَأْمُرُ بِمَا لَا يَأْتِي - يُحِبُّ الصَّالِحِينَ ولَا يَعْمَلُ عَمَلَهُمْ - ويُبْغِضُ الْمُذْنِبِينَ وهُوَ أَحَدُهُمْ - يَكْرَه الْمَوْتَ لِكَثْرَةِ ذُنُوبِه - ويُقِيمُ عَلَى مَا يَكْرَه الْمَوْتَ مِنْ أَجْلِه - إِنْ سَقِمَ ظَلَّ نَادِماً وإِنْ صَحَّ أَمِنَ لَاهِياً - يُعْجَبُ بِنَفْسِه إِذَا عُوفِيَ ويَقْنَطُ إِذَا ابْتُلِيَ - إِنْ أَصَابَه بَلَاءٌ دَعَا مُضْطَرّاً وإِنْ نَالَه رَخَاءٌ أَعْرَضَ مُغْتَرّاً - تَغْلِبُه نَفْسُه عَلَى مَا يَظُنُّ ولَا يَغْلِبُهَا عَلَى مَا يَسْتَيْقِنُ - يَخَافُ عَلَى غَيْرِه بِأَدْنَى مِنْ ذَنْبِه - ويَرْجُو لِنَفْسِه بِأَكْثَرَ مِنْ عَمَلِه - إِنِ اسْتَغْنَى بَطِرَ وفُتِنَ وإِنِ افْتَقَرَ قَنِطَ

امید رکھتے ہیں اور طولانی امیدوں کی بنا پر توبہ کو ٹال دیتے ہیں۔دنیا میں باتیں زاہدوں جیسی کرتے ہیں اور کام راغبوں جیسا انجام دیتے ہیں۔کچھ مل جاتا ہے توسیر نہیں ہوتے ہیں اورنہیں ملتا ہے توقناعت نہیں کرتے ہیں۔جودے دیا گیا ہے اس کے شکریہ سے عاجز ہیں لیکن مستقبل میں زیادہ کے طلب گار ضرور ہیں۔لوگوں کو منع کرتے ہیں لیکن خود نہیں رکتے ہیں۔اور ان چیزوں کا حکم دیتے ہیں جو خود نہیں کرتے ہیں۔نیک کرداروں سے محبت کرتے ہیں لیکن ان کا جیسا عمل نہیں کرتے ہیں اور گناہگاروں سے بیزار رہتے ہیں لیکن خود بھی انہیں میں سے ہوتے ہیں۔گناہوں کی کثرت کی بنا پر موت کو نا پسند کرتے ہیں اور پھر ایسے ہی اعمال پر قائم بھی رہتے ہیں جن سے موت نا گوار ہو جات یہے۔بیمار ہوتے ہیں تو گناہوں پر پشیمان ہو جاتے ہیں اور صحت مند ہوتے ہیں تو پھر لہوولعب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔بیماریوں سے نجات مل جاتی ہے تو اکڑ نے لگتے ہیں اور آزمائش میں پڑ جاتے ہیں تو مایوس ہو جاتے ہیں۔کوئی بلا نازل ہو جاتی ہے تو بشکل مضطر دعاکرتے ہیں اور سہولت وآسانی فراہم ہو جاتی ہے تو فریب خوردہ ہو کر منہ پھیر لیتے ہیں ۔ان کا نفس انہیں خیالی باتوں پرآمادہ کر لیتا ہے لیکن وہ یقینی باتوں میں اس پر قابو نہیں پا سکتے ہیں۔دوسروں کے بارے میں اپنے سے چھوٹے گناہ سے بھی خوفزدہ رہتے ہیں اور اپنے لئے اعمال سے زیادہ جزا کے امیدوار رہتے ہیں۔مالدار ہو جاتے ہیں تو مغرور و مبتلائے فتنہ ہو جاتے ہیں اور غربت زدہ ہو جتے ہیں تو مایوس


ووَهَنَ - يُقَصِّرُ إِذَا عَمِلَ ويُبَالِغُ إِذَا سَأَلَ - إِنْ عَرَضَتْ لَه شَهْوَةٌ أَسْلَفَ الْمَعْصِيَةَ وسَوَّفَ التَّوْبَةَ - وإِنْ عَرَتْه مِحْنَةٌ انْفَرَجَ عَنْ شَرَائِطِ الْمِلَّةِ - يَصِفُ الْعِبْرَةَ ولَا يَعْتَبِرُ - ويُبَالِغُ فِي الْمَوْعِظَةِ ولَا يَتَّعِظُ - فَهُوَ بِالْقَوْلِ مُدِلٌّ ومِنَ الْعَمَلِ مُقِلٌّ - يُنَافِسُ فِيمَا يَفْنَى ويُسَامِحُ فِيمَا يَبْقَى - يَرَى الْغُنْمَ مَغْرَماً والْغُرْمَ مَغْنَماً - يَخْشَى الْمَوْتَ ولَا يُبَادِرُ الْفَوْتَ - يَسْتَعْظِمُ مِنْ مَعْصِيَةِ غَيْرِه مَا يَسْتَقِلُّ أَكْثَرَ مِنْه مِنْ نَفْسِه - ويَسْتَكْثِرُ مِنْ طَاعَتِه مَا يَحْقِرُه مِنْ طَاعَةِ غَيْرِه - فَهُوَ عَلَى النَّاسِ طَاعِنٌ ولِنَفْسِه مُدَاهِنٌ - اللَّهْوُ مَعَ الأَغْنِيَاءِ أَحَبُّ إِلَيْه مِنَ الذِّكْرِ مَعَ الْفُقَرَاءِ

اور سست ہو جاتے ہیں ۔عمل میں کوتاہی کرتے ہیں اور سوال میں مبالغہ کرتے ہیں خواہش نفس سامنے آجاتی ہے تو معصیت فوراً کر لیتے ہیں اور توبہ کو ٹال دیتے ہیں ۔کوئی مصیبت لاحق ہو جاتی ہے تواسلامی جماعت سے الگ ہو جاتے ہیں ۔عبرت ناک واقعات بیان کرتے ہیں لیکن خود عبرت حاصل نہیں کرتے ہیں ۔موعظہ میں مبالغہ سے کام لیتے ہیں لیکن خود نصیحت نہیں حاصل کرتے ہیں ۔قول میں ہمیشہ اونچے رہتے ہیں اور عمل میں ہمیشہ کمزور رہتے ہیں فنا ہونے والی چیزوں میں مقابلہ کرتے ہیں اور باقی رہ جانے والی چیزوں میں سہل انگاری سے کام لیتے ہیں۔واقعی فائدہ کو نقصان سمجھتے ہیں اور حقیقی نقصان کوف ائدہ تصور کرتے ہیں۔موت سے ڈرتے ہیں لیکن وقت نک جانے سے پہلے عمل کی طرف سبقت نہیں کرتے ہیں۔دوسروں کی اس معصیت کوبھی عظیم تصور کرتے ہیں جس سے بڑی معصیت کو اپنے لئے معمولی تصور کرتے ہیں اور اپنی معمولی اطاعت کو بھی کثیر شمار کرتے ہیں جب کہ دوسرے کی کثیر اطاعت کو بھی حقیر ہی سمجھتے ہیں ۔ لوگوں پر طعنہ زن رہتے ہیں اور اپنے معاملہ میں نرم و نازک رہتے ہیں۔مالداروں کے ساتھ لہوولعب(۱) کو فقیروں کے ساتھ بیٹھ کر ذکر خداسے زیادہ دوست رکھتے

(۱)دورحاضر کا عظیم ترین عیار زندگی یہی ہے اور ہرشخص ایسی ہی زندگی کے لئے بے چین نظر آتا ہے۔کافی ہائوس ' نائٹ کلب اوردیگر لغویات کے مقامات پر سرمایہ داروں کی مصاحبت کے لئے ہر متوسط طبقہ کاآدمی مرا جارہا ہے اور کسی کو یہ شوق نہیں پیدا ہوتا ہے کہ چند لمحہ خانہ خدا میں بیٹھ کر فقیروں کے ساتھ مالک کی بارگاہ میں مناجات کرکے اور یہ احساس کرے کہ اس کی بارگاہ میں سب فقیر ہیں اور یہ دولت و امارت صرف چند روزہ تماشہ ے ورنہ انسان خالی ہاتھ آیا ہے اورخالی ہاتھ ہی جانے والا ہے۔دولت عاقبت بنانے کاذریعہ تھی اگر اسے بھی عاقبت کی بربادی کی اہ پر لگادیا تو آخرت میں حسرت و فاسوس کے علاوہ کچھ ہاتھ آنے والا نہیں ہے۔


يَحْكُمُ عَلَى غَيْرِه لِنَفْسِه،ولَا يَحْكُمُ عَلَيْهَا لِغَيْرِه - يُرْشِدُ غَيْرَه ويُغْوِي نَفْسَه - فَهُوَ يُطَاعُ ويَعْصِي ويَسْتَوْفِي ولَا يُوفِي - ويَخْشَى الْخَلْقَ. فِي غَيْرِ رَبِّه ولَا يَخْشَى رَبَّه فِي خَلْقِه.

قال الرضي - ولو لم يكن في هذا الكتاب إلا هذا الكلام - لكفى به موعظة ناجعة وحكمة بالغة - وبصيرة لمبصر وعبرة لناظر مفكر.

۱۵۱ - وقَالَعليه‌السلام لِكُلِّ امْرِئٍ عَاقِبَةٌ حُلْوَةٌ أَوْ مُرَّةٌ.

۱۵۲ - وقَالَعليه‌السلام لِكُلِّ مُقْبِلٍ إِدْبَارٌ ومَا أَدْبَرَ كَأَنْ لَمْ يَكُنْ.

۱۵۳ - وقَالَعليه‌السلام لَا يَعْدَمُ الصَّبُورُ الظَّفَرَ وإِنْ طَالَ بِه الزَّمَانُ.

ہیں۔اپنے حق میں دوسروں کے خلاف فیصلہ کردیتے ہیں اور دوسروں کے حق میں اپنے خلاف فیصلہ نہیں کر سکتے ہیں۔دوسروں کو ہدایت دیتے ہیں اور اپنے نفس کو گمراہ کرتے ہیں۔خود ان کی اطاعت کی جاتی ہے اور یہخود معصیت کرتے رہتے ہیں اپنے حق کو پورا پورا لے لیتے ہیں اور دوسروں کے حق کوادا نہیں کرتے ہیں۔پروردگار کوچھوڑ کر مخلوقات سے خوف کھاتے ہیں اور مخلوقات کے بارے میں پروردگار سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔

سید رضی : اگر اس کتاب میں اس کلام کے علاوہ کوئی دوسری نصیحت نہ بھی ہوتی تو یہی کلام کامیاب موعظت ' بلیغ حکمت اور صاحبان بصیرت کی بصیرت اور صاحبان فکرو نظر کی عبرت کے لئے کافی تھا۔

(۱۵۱)

ہرشخص کا ایک انجام بہر حال ہونے والا ہے چاہے شیریں ہو یاتلخ۔

(۱۵۲)

ہرآنے والا پٹنے والا ہے اور جوپلٹ جاتا ہے وہ ایسا ہوجاتا ے جیسے تھا ہی نہیں۔

(۱۵۳)

صبرکرنے والا کامیابی سے محروم نہیں ہو سکتا ہے چاہے کتنا ہی زمانہ کیوں نہ لگے جائے ۔


۱۵۴ - وقَالَعليه‌السلام الرَّاضِي بِفِعْلِ قَوْمٍ كَالدَّاخِلِ فِيه مَعَهُمْ - وعَلَى كُلِّ دَاخِلٍ فِي بَاطِلٍ إِثْمَانِ - إِثْمُ الْعَمَلِ بِه وإِثْمُ الرِّضَى بِه.

۱۵۵ - وقَالَعليه‌السلام اعْتَصِمُوا بِالذِّمَمِ فِي أَوْتَادِهَا

۱۵۶ - وقَالَعليه‌السلام عَلَيْكُمْ بِطَاعَةِ مَنْ لَا تُعْذَرُونَ بِجَهَالَتِه

۱۵۷ - وقَالَعليه‌السلام قَدْ بُصِّرْتُمْ إِنْ أَبْصَرْتُمْ وقَدْ هُدِيتُمْ إِنِ اهْتَدَيْتُمْ وأُسْمِعْتُمْ إِنِ اسْتَمَعْتُمْ.

۱۵۸ - وقَالَعليه‌السلام عَاتِبْ أَخَاكَ بِالإِحْسَانِ إِلَيْه وارْدُدْ شَرَّه بِالإِنْعَامِ عَلَيْه.

(۱۵۴)

کسی قوم کے عمل سے راضی ہو جانے والا بھی اسی کے ساتھ شمار کیا جائے گا اورجو کسی باطل میں داخل ہوجائے گا اس پر دہرا گناہ ہوگا عمل کابھی گناہ اور راضی ہونے کابھی گناہ۔

(۱۵۵)

عہدوپیمان کی ذمہداری ان کے حوالہ کرو جو میخوں کی طرح مستحکم اورمضبوط ہوں۔

(۱۵۶)

اس کی اطاعت ضرر کرو جس سے نا واقفیت قابل معافی نہیں ہے۔(یعنی خدائی منصب دار)

(۱۵۷)

اگر تم بصیرت رکھتے ہو تو تمہیں حقائق دکھلائے جا چکے ہیں اور اگر ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہوتو تمہیں ہدایت دی جا چکی ہے اور اگر سننا چاہتے ہو تو تمہیں پیغام سنایا جا چکا ہے۔

(۱۵۸)

اپنے بھائی کو تنبیہ کرو تو احسان(۱) کرنے کے بعد اور اس کے شر کا جواب دو تولطف و کرم کے ذریعہ۔

(۱)کھلی ہوئی بات ہے کہ انسان اگر صرف تنبیہ کرتا ہے اور کام نہیں کرتا ہے تواس کی تنبیہ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ہے کہ دوسرا شخص پہلے ہی بد ظن ہو جاتا ہے تو کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوتا ہے اور نصیحت بیکارچلی جاتی ہے ۔اس کے برخلاف اگر پہلے احسان کرکے دل میں جگہ بنالے اوراس کے بعد نصیحت کرے تو یقینا نصیحت کا اثر ہوگا اوربات ضائع و برباد نہ ہوگی۔


۱۵۹ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ وَضَعَ نَفْسَه مَوَاضِعَ التُّهَمَةِ - فَلَا يَلُومَنَّ مَنْ أَسَاءَ بِه الظَّنَّ.

۱۶۰ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ مَلَكَ اسْتَأْثَرَ

۱۶۱ - وقَالَعليه‌السلام مَنِ اسْتَبَدَّ بِرَأْيِه هَلَكَ - ومَنْ شَاوَرَ الرِّجَالَ شَارَكَهَا فِي عُقُولِهَا.

۱۶۲ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ كَتَمَ سِرَّه كَانَتِ الْخِيَرَةُ بِيَدِه.

۱۶۳ - وقَالَعليه‌السلام الْفَقْرُ الْمَوْتُ الأَكْبَرُ.

۱۶۴ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ قَضَى حَقَّ مَنْ لَا يَقْضِي حَقَّه فَقَدْ عَبَدَه.

(۱۵۹)

جس نے اپنے نفس کو تہمت کے مواقع(۱) پر رکھ دیا۔اسے کسی بد ظنی کرنے والے کو ملامت کرنے کا حق نہیں ہے۔

(۱۶۰)

جو اقتدار حاصل کر لیتا ہے وہ جانبداری کرنے لگتا ہے ۔

(۱۶۱)

جو خود رائی سے کام لے گا وہ ہلاک ہوجائے گا اور جو لوگوں سے مشورہ کرے گا وہ ان کی عقلوں میں شریک ہو جائے گا۔

(۱۶۲)

جو اپنے راز کو پوشیدہ رکھے گا اس کا اختیار اس کے ہاتھ میں رہے گا۔

(۱۶۳)

فقیری سب سے بڑی موت ہے ۔

(۱۶۴)

جو کسی ایسے شخص کا حق ادا کردے جو اس کا حق(۲) ادا نہ کرتا ہو تو گویا اس نے اس کی پرستش کرلی ہے۔

(۱)عجیب و غریب بات ہے کہ انسان ان لوگوں سے فوراً بیزار ہو جاتا ہے جواس سے بدگمانی رکھتے ہیں لیکن ان الات سے بیزاری کا اظہار نہیں کرتا ہے جن کی بناپربدگمانی پیدا ہوتی ہے جب کہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے بد ظنی کے مقامات سے اجتناب کرے اور اس کے بعد ان لوگوں سے ناراضگی کا اظہار کرے جو بلا سبب بد ظنی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

(۲)مقصد یہ ہے کہ انسان کے عمل کی کوئی بنیاد ہونی چاہیے اور میزان و معیار کے بغیر کسی عمل کو انجام نہیں دینا چاہیے۔اب اگر کوئی شخص کسی کے حق کی پرواہ نہیں کرتا ہے اوروہ اس کے حقوق کوادا کئیے جارہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے کو اس کابندہ ٔ بے دام تصور کرتا ہے اوراس کی پرستش کئے چلا جا رہا ہے۔


۱۶۵ - وقَالَعليه‌السلام لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ.

۱۶۶ - وقَالَعليه‌السلام لَا يُعَابُ الْمَرْءُ بِتَأْخِيرِ حَقِّه إِنَّمَا يُعَابُ مَنْ أَخَذَ مَا لَيْسَ لَه.

۱۶۷ - وقَالَعليه‌السلام الإِعْجَابُ يَمْنَعُ الِازْدِيَادَ

۱۶۸ - وقَالَعليه‌السلام الأَمْرُ قَرِيبٌ والِاصْطِحَابُ قَلِيلٌ . 

۱۶۹ - وقَالَعليه‌السلام قَدْ أَضَاءَ الصُّبْحُ لِذِي عَيْنَيْنِ.

(۱۶۵)

خالق کی معصیت کے ذریعہ مخلوق کی اطاعت نہیں کی جا سکتی ہے۔

(۱۶۶)

اپناحق لینے میں تاخیرکردینا عیب نہیں ہے۔ دوسرے کے حق(۱) پرقبضہ کرلینا عیب ہے۔

(۱۶۷)

خود پسندی(۲) زیادہ عمل سے روک دیتی ہے۔

(۱۶۸)

آخرت قریب ہے اور دنیاکی صحبت بہت مختصر ہے۔

(۱۶۹)

آنکھوں والوں کے لئے صبح روشن ہوچکی ہے۔

(۱)انسان کی ذمہ داری ہے کہ زندگی میں حقوق حاصل کرنے سے زیادہ حقوق کی ادائیگی پرتوجہ دے کہ اپنے حقوق کو نظر انداز کردینا نہ دنیا میں باعث ملامت ہے اور نہ آخرت میں وجہ عذاب ہے لیکن دوسروں کے حقوق پر قبضہ کرلینا یقینا باعث مذمت بھی ہے اور وجہ عذاب و عقاب بھی ہے۔

(۲)کھلی ہوئی بات ہے کہ جب تک مریض کو مرض کا احساس رہتا ہے وہ علاج کی فکر بھی کرتا ہ لیکن جس دن ورم کو صحت تصور کر لیتا ہے ' اس دن سے علاج چھوڑ دیتا ہے یہی حال خود پسندی کا ہے کہ خود پسندی کردار کا ورم ہے جس کے بعد انسان اپنی کمزوریوں سے غافل ہو جاتا ہے اوراس کے نتیجہ میں عمل ختم کر دیتا ہے یا رفتار عمل کو سست بنادیتا ہے اور یہی چیز اس کے کردارکی کمزوری کے لئے کافی ہے۔


۱۷۰ - وقَالَعليه‌السلام تَرْكُ الذَّنْبِ أَهْوَنُ مِنْ طَلَبِ الْمَعُونَةِ.

۱۷۱ - وقَالَعليه‌السلام كَمْ مِنْ أَكْلَةٍ مَنَعَتْ أَكَلَاتٍ.

۱۷۲ - وقَالَعليه‌السلام النَّاسُ أَعْدَاءُ مَا جَهِلُوا.

۱۷۳ - وقَالَعليه‌السلام مَنِ اسْتَقْبَلَ وُجُوه الآرَاءِ عَرَفَ مَوَاقِعَ الْخَطَإِ.

۱۷۴ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ أَحَدَّ سِنَانَ الْغَضَبِ لِلَّه قَوِيَ عَلَى قَتْلِ أَشِدَّاءِ الْبَاطِلِ.

(۱۷۰)

گناہ کا نہ کرنابعد(۱) میںمدد مانگنے سے آسان تر ہے۔

(۱۷۱)

اکثر اوقات ایک کھانا کئی کھانوں ے روک دیتا ہے۔

(۱۷۲)

لوگ ان چیزوں کے دشمن ہوتے ہیں جن سے بے خبر ہوتے ہیں ۔

(۱۷۳)

جومختلف(۲) آرائکا سامنا کرتا ہے وہ غلطی کے مقامات کو پہچان لیتا ہے۔

(۱۷۴)

جو اللہ کے لئے غضب کے سنان کو تیز کر لیتا ہے وہ باطل کے سور مائوں کے قتل پر بھی قادر ہو جاتا ہے۔

(۱)مثل مشہور ہے کہ پرہیز کرنا علاج کرنے سے بہتر ہے کہ پرہیز انسان کو بیماریوں سے بچا لیتاہے اور اس طرح اس کی فطری طاقت محفوظ رہتی ہے لیکن پزہیز نہ کرنے کی بنا پر اگر مرض نے حملہ کردیا تو طاقت خود بخود کمزور ہو جاتی ہے اور پھر علاج کے بعد بھی وہ فطری حالت واپس نہیںآتی لہٰذا انسان کا فرض ہے کہ گناہوںکیذریعہ نفس کے آلودہ ہونے اورتوبہ کے ذریعہ اس کی تطہیر کرنے سے پہلے اس کی صحت کاخیال رکھے اور اسے آلودہ نہ ہونے دے تاکہ علاج کی زحمت سے محفوظ رہے۔

(۲)اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مشورہ کرنے والا غلطیوں سے محفوظ رہتا ہے کہ اسے کئی طرح کے افکارحاصل ہو جاتے ہیں اور ہر شخص کے ذریعہ دوسرے کی فکر کی کمزوری کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے اور اس طرح صحیح رائے اختیار کرنے میں کوئی زحمت نہیں رہ جاتی ہے۔


۱۷۵ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا هِبْتَ أَمْراً فَقَعْ فِيه - فَإِنَّ شِدَّةَ تَوَقِّيه أَعْظَمُ مِمَّا تَخَافُ مِنْه.

۱۷۶ - وقَالَعليه‌السلام آلَةُ الرِّيَاسَةِ سَعَةُ الصَّدْرِ.

۱۷۷ - وقَالَعليه‌السلام ازْجُرِ الْمُسِيءَ بِثَوَابِ الْمُحْسِنِ

۱۷۸ - وقَالَعليه‌السلام احْصُدِ الشَّرَّ مِنْ صَدْرِ غَيْرِكَ بِقَلْعِه مِنْ صَدْرِكَ.

۱۷۹ - وقَالَعليه‌السلام اللَّجَاجَةُ تَسُلُّ الرَّأْيَ.

(۱۷۵)

جب کسی امر سے دہشت محسوس کروتواس میں پھاند پڑو کہ زیادہ خوف و احتیاط خطرہ سے زیادہ خطر ناک ہوتی ہے۔

(۱۷۶)

ریاست کاوسیلہ وسعت صدر ہے۔

(۱۷۷)

بد عمل کے سرزنش کے لئے نیک عمل(۱) والے کو اجرو انعام دو۔

(۱۷۸)

دوسرے کے دل سے شر کا کاٹ دینا ہے تو پہلے اپنے دل سے اکھاڑ کر پھینک دو۔

(۱۷۹)

ہٹدھرمی صحیح رائے کو بھی دور کردیتی ہے۔

(۱)ہمارے معاشرہ کی کمزوریوں میں سے ایک اہم کمزوری یہ بھی ہے کہ یہاں بدکرداروں پر تنقید تو کی جاتی ہے لیکن نیک کردار کی تائید و توصیف نہیں کی جاتی ہے۔آپ ایک دن غلط کام کریں تو سارے شہر میں ہنگامہ ہو جائے گا لیکن ایک سال تک بہترین کام کریں تو کوئی بیان کرنے والا بھی نہ پیدا ہوگا ۔حالانکہ اصول بات یہ ہے کہ نیکی کے پھیلانے کا طریقہ صرف برائی پر تنقید کرنا نہیں ہے بلکہ اس سے بہتر طریقہ خود نیکی کی حوصہل افزائی کرنا ہے جس کے بعد ہر شخص میں نیکی کرنے کا شعور بیدار ہو جائے گا اور برائیوں کا قلع قمع ہو جائے گا۔


۱۸۰ - وقَالَعليه‌السلام الطَّمَعُ رِقٌّ مُؤَبَّدٌ.

۱۸۱ - وقَالَعليه‌السلام ثَمَرَةُ التَّفْرِيطِ النَّدَامَةُ وثَمَرَةُ الْحَزْمِ السَّلَامَةُ.

۱۸۲ - وقَالَعليه‌السلام لَا خَيْرَ فِي الصَّمْتِ عَنِ الْحُكْمِ - كَمَا أَنَّه لَا خَيْرَ فِي الْقَوْلِ بِالْجَهْلِ.

۱۸۳ - وقَالَعليه‌السلام مَا اخْتَلَفَتْ دَعْوَتَانِ إِلَّا كَانَتْ إِحْدَاهُمَا ضَلَالَةً.

۱۸۴ - وقَالَعليه‌السلام مَا شَكَكْتُ فِي الْحَقِّ مُذْ أُرِيتُه.

(۱۸۰)

لالچ(۱) ہمیشہ ہمیشہ کی غلامی ہے۔

(۱۸۱)

کوتاہی ہی کا نتیجہ شرمندگی ہے اورہوشیاری کا ثمرہ سلامتی ۔

(۱۸۲)

حکمت(۲) سے خاموشی میں کوئی یر نہیں ہے جس طرح کہ جہالت سے بولنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔

(۱۸۳)

جب دو مختلف دعوتیں دی جائیں تو دو میں سے ایک یقینا گمراہی ہوگی۔

(۱۸۴)

مجھے جب سے حق دکھلا دیا گیا ہے میں کبھی شک کا شکار نہیں ہوا ہوں۔

(۱)یہ انسانی زندگی کی عظیم ترین حقیقت ہے کہ حرص و طمع رکھنے والا انسان نفس کا غلام اورخواہشات کا بندہ ہوجاتا ہے اور جو شخص خواہشات کی بندگی میں مبتلا ہوگیا وہ کسی قیمت پر اس غلامی سے آزاد نہیں ہو سکتا ہے۔انسانیزندگی کی دانشمندی کا تقاضایہ ہے کہ انسان اپنے کو خواہشات دنیا اورحرص طمع سے دور رکھے تاکہ کسی غلامی میں مبتلا نہ ہونے پائے کہ یہاں ''شوق ہر رنگ رقیب سرو سمان '' ہواکرتا ہے اور یہاں کی غلامی سے نجات ممکن نہیں ہے۔

(۲)انسان کو حرف حکمت کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ دوسروے لوگ اس سے استفادہ کریں اور حرف جہالت سے پرہیز کرنا چاہیے کہ جہالت کی بات کرنے سے خاموشی ہی بہتر ہوتی ہے۔انسان کی عزت بھی سلامت رہتی ہے اور دوسروں کی گمراہی کابھی کوئی اندیشہ نہیں ہوتا ہے۔


۱۸۵ - وقَالَعليه‌السلام مَا كَذَبْتُ ولَا كُذِّبْتُ ولَا ضَلَلْتُ ولَا ضُلَّ بِي.

۱۸۶ - وقَالَعليه‌السلام لِلظَّالِمِ الْبَادِي غَداً بِكَفِّه عَضَّةٌ

۱۸۷ - وقَالَعليه‌السلام الرَّحِيلُ وَشِيكٌ

۱۸۸ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ أَبْدَى صَفْحَتَه لِلْحَقِّ هَلَكَ

۱۸۹ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ لَمْ يُنْجِه الصَّبْرُ أَهْلَكَه الْجَزَعُ.

۱۹۰ - وقَالَعليه‌السلام وَا عَجَبَاه أَتَكُونُ الْخِلَافَةُ بِالصَّحَابَةِ والْقَرَابَةِ؟

(۱۸۵)

میں نے نہ غلط بیانی کی ہے اور نہ مجھے جھوٹ خبردی گئی ہے ۔نہ میں گمراہ ہوا ہوں اورنہ مجھے گمراہ کیا جا سکا ہے۔

(۱۸۶)

ظلم(۱) کی ابتدا کرنے واے کو کل ندامت سے اپنا ہاتھ کاٹنا پڑے گا۔

(۱۸۷)

کوچ کا وقت قریب آگیا ہے۔

(۱۸۸)

جس نے حق سے منہ موڑ لیا وہ ہلاک ہوگیا۔

(۱۸۹)

جسے صبر(۲) نجات نہیں دلا سکتا ہے اسے بے قراری مار ڈالتی ہے ۔

(۱۹۰)

واعجباہ!خلافت صرف صحابیت کی بناپ رمل سکتی ہے لیکن اگر صحابیت اور قرابت دونوں جمع ہو جائیں تونہیں مل سکتی ہے

(۱)اگریہ دنیا میں ہر ظلم کرنے والے کا انجام ہے تو اس کے بارے میں کیا کہا جائے گا جس نے عالم اسلام میں ظلم کی ابتدا کی ہے اور جس کے مظالم کا سلسلہ آج تک جاری ہے اور اولاد رسول اکرم (ص) کسی آن بھی مظالم سے محفوظ نہیں ہے۔

(۲)دنیا میں کام آنے والا صرف صبر ہے کہ اس سے انسان کا حوصلہ بھی بڑھتا ہے اور اسے اجرو ثواب بھی ملتا ہے۔بے قراری میں ان میں سے کوئی صفت نہیں ہے اور نہ اس سے کوئی مسئلہ حال ہونے والا ہے۔لہٰذا ارکسی شخص نے صبر کو چھوڑ کر بے قراری کا راستہ اختیار کرلیا توگویا اپنی تباہی کا آپ انتظام کرلیا اور پروردگار کی معیت سے بھی محروم ہوگیا کہ وہ صبر کرنے والوں کے ساتھ رہتا ہے جزع و فزع کرنے والوں کے ساتھ نہیں رہتا ہے۔


قال الرضي - وروي له شعر في هذا المعنى:

فإن كنت بالشورى ملكت أمورهم

فكيف بهذا والمشيرون غيب

وإن كنت بالقربى حججت خصيمهم

فغيرك أولى بالنبي وأقرب

۱۹۱ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّمَا الْمَرْءُ فِي الدُّنْيَا غَرَضٌ تَنْتَضِلُ فِيه الْمَنَايَا - ونَهْبٌ تُبَادِرُه الْمَصَائِبُ - ومَعَ كُلِّ جُرْعَةٍ شَرَقٌ - وفِي كُلِّ أَكْلَةٍ غَصَصٌ - ولَا يَنَالُ الْعَبْدُ نِعْمَةً إِلَّا بِفِرَاقِ أُخْرَى - ولَا يَسْتَقْبِلُ يَوْماً مِنْ عُمُرِه إِلَّا بِفِرَاقِ آخَرَ مِنْ أَجَلِه - فَنَحْنُ أَعْوَانُ الْمَنُونِ وأَنْفُسُنَا نَصْبُ الْحُتُوفِ - فَمِنْ أَيْنَ نَرْجُو الْبَقَاءَ - وهَذَا اللَّيْلُ والنَّهَارُ لَمْ يَرْفَعَا مِنْ شَيْءٍ شَرَفاً - إِلَّا أَسْرَعَا الْكَرَّةَ فِي هَدْمِ مَا بَنَيَا وتَفْرِيقِ مَا جَمَعَا.

سید رضی : اس معنی میں حضرت کا یہ شعر بھی ہے۔

''اگر تم نے شوریٰ سے اقتدار حاصل کیا ہے تو یہ شوریٰ کیسا ہے جس میں مشیر ہی سب غائب تھے۔

اور اگر تم نے قرابت سے اپنی خصوصیت کا اظہار کیا ہے تو تمہاراغیرتم سے زیادہ رسول اکرم (ص) کے لئے اولیٰ اور اقرب ہے ''

(۱۹۱)

انسان اس دنیا میں وہ نشانہ ہے جس پرموت اپنے تیر چلاتی ہے ۔اوروہ مصائب کی غارت گری کی جولانگاہ بنا رہتا ہے۔یہاں کے ہر گھونٹ پر اچھو ہے اور ہر لقمہ پر گلے میں ایک پھندہ ہے۔انسان ایک نعمت کوحاصل نہیں کرتا ہے مگر یہ کہ دوسری ہاتھ سے نکل جاتی ہے اور زندگی کے ایک دن(۱) کا استقبال نہیں کرتا ہے مگر یہ کہ دوسرا دن ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔

ہم موت کے مدد گار ہیں اور ہمارے نفس ہلاکت کانشانہ ہیں۔ہم کہاں سے بقاء کی امید کریں جب کہ شب و روز کسی عمارت کو اونچا نہیں کرتے ہیں مگر یہ کہ حملہ کرکے اسے منہدم کردیتے ہیں اورجسے بھی یکجا کرتے ہیں اسے بکھیر دیتے ہیں۔

(۱)کس قدرغلط فہمی کاشکار ہے وہ انسان جو ہر آنے وایل دن کو اپنی زندگی میں ایک اضافہ تصور کرتا ہے۔حالانکہ حقیقت امر یہ ہے کہ اس میں کسی طرح کا کوئی اضافہ نہیں ہے بلکہ ایک دن نے جا کردوسرے دن کے لئے جگہ خالی ہے اور اس کی آمد کی زمین ہموار کی ہے تو اس طرح انسان کا حساب برابر ہی رہ گیا۔ایک دن جیب میں داخل ہوا اورایک دن جیب سے نکل گیا اور اس طرح ایکدن زندگی کاخاتمہ ہو جائے گا۔


۱۹۲ - وقَالَعليه‌السلام يَا ابْنَ آدَمَ مَا كَسَبْتَ فَوْقَ قُوتِكَ - فَأَنْتَ فِيه خَازِنٌ لِغَيْرِكَ.

۱۹۳ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ لِلْقُلُوبِ شَهْوَةً وإِقْبَالًا وإِدْبَاراً - فَأْتُوهَا مِنْ قِبَلِ شَهْوَتِهَا وإِقْبَالِهَا - فَإِنَّ الْقَلْبَ إِذَا أُكْرِه عَمِيَ.

۱۹۴ - وكَانَعليه‌السلام يَقُولُ: مَتَى أَشْفِي غَيْظِي إِذَا غَضِبْتُ؟ أَحِينَ أَعْجِزُ عَنِ الِانْتِقَامِ فَيُقَالُ لِي لَوْ صَبَرْتَ - أَمْ حِينَ أَقْدِرُ عَلَيْه فَيُقَالُ لِي لَوْ عَفَوْتَ.

.

(۱۹۲)

فرزند آدم ! اگر تونے اپنی(۱) غذا سے زیادہ کمایا ہے تو گویا اس مال میں دوسروں کا خزانچی ہے۔

(۱۹۳)

دلوں کے لئے رغبت و خواہش ۔آگے بڑھنا اور پیچھے ہٹنا سبھی کچھ ہے لہٰذا جب میلان اور توجہ کا وقت ہوتو اس سے کام لے لو کہ دل کو مجبورکرکے کام لیا جاتا ہے تو وہ اندھا ہو جاتا ہے۔

(۱۹۴)

مجھے غصہ(۲) آجائے تو میں اس سے تسکین کس طرح حاصل کروں ؟ انتقام سے عاجز ہو جائوں گا تو کہا جائے گا کہ صبرکرو اور انتقام کی طاقت پیداکرلوں گا تو کہا جائے گا کہ کاش معاف کردیتے ( ایسی حالت میں غصہ کا کوئی فائدہ نہیں ہے )

(۱)یہ بات طے شدہ ہے کہ مالک کا نظام تقسیم غلط نہیں ہے اوراس نے ہر شخص کی طاقت ایک جیسی نہیں رکھی ہے تو اس کامطلب یہ ہے کہ اس نے ذخائر کائنات میں حصہ سب کا رکھا ہے لیکن سب میں انہیں حاصل کرنے کی یکساں طاقت نہیں ہے بلکہ ایک کو دوسرے کے لئے وسیلہ اورذریعہ بنادیا ہے تو اگر تمہارے پاس تمہارای ضرورت سے زیادہ مال آجائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مالک نے تمہیں دوسروں کے حقوق کا خازن بنادیا ہے اور اب تمہاری ذمہ داری یہ ہے کہ اس میں کسی طرح کی خیانت نہ کرو اور ہر ایک کو اس کا حصہ پہنچا دو۔

(۲)آپ اس ارشاد گرامی کے ذریعہ لوگوں کو صبرو تحمل کی تلقین کرتے ہیں کہ جب طات نہیں تھی تو انتقام لینے کی ضرورت ہی کیا تھی اور طاقتور ثابت ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہ کمزور آدمی سے کیا انتقام لینا ہے۔مقالہ کسی برابر والے سے کرنا چاہیے تھا۔ایسی صورت میں تقاضائے عقل و منطق یہی ہے کہ انسان صبرو تحمل سے کام لے اور جب تک انتقام فرض شرعی نہ بن جائے اس وقت تک اس کا ارادہ بھی نہ کرے اور پھر جب مالک کائنات انتقام لینے والا موجود ہے تو انسان کو اس قدر زحمت برداشت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔


۱۹۵ - وقَالَعليه‌السلام وقَدْ مَرَّ بِقَذَرٍ عَلَى مَزْبَلَةٍ - هَذَا مَا بَخِلَ بِه الْبَاخِلُونَ.

ورُوِيَ فِي خَبَرٍ آخَرَ أَنَّه قَالَ - هَذَا مَا كُنْتُمْ تَتَنَافَسُونَ فِيه بِالأَمْسِ.

۱۹۶ - وقَالَعليه‌السلام لَمْ يَذْهَبْ مِنْ مَالِكَ مَا وَعَظَكَ.

۱۹۷ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ هَذِه الْقُلُوبَ تَمَلُّ كَمَا تَمَلُّ الأَبْدَانُ - فَابْتَغُوا لَهَا طَرَائِفَ الْحِكْمَةِ.

۱۹۸ - وقَالَعليه‌السلام لَمَّا سَمِعَ قَوْلَ الْخَوَارِجِ لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّه - كَلِمَةُ حَقٍّ يُرَادُ بِهَا بَاطِلٌ.

۱۹۹ - وقَالَعليه‌السلام فِي صِفَةِ الْغَوْغَاءِ - هُمُ الَّذِينَ إِذَا اجْتَمَعُوا

(۱۹۵)

ایک مزبلہ سے گزرتے ہوئے فرمایا:'' یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں بخل کرنے والوں نے بخل کیا تھا''یا دوسری روایت کی بنا پر''جس کے بارے میں کل ایک دوسرے سے رشک کر رہے تھے ''۔( یہ ہے انجام دنیا اور انجام لذات دنیا)

(۱۹۶)

جو مال نصیحت کاسامان فراہم کردے وہ برباد نہیں ہوا ہے ۔

(۱۹۷)

یہ دل اسی طرح اکتا جاتے ہیں جس طرح بدن۔لہٰذا ان کے لئے لطیف ترین حکمتیں فراہم کرو۔

(۱۹۸)

جب آپ نے خوارج کا یہ نعرہ سنا کہ '' خدا کے علاوہ کسی کے لئے حکم نہیں ہے '' تو فرمایا کہ '' یہ کلمہ حق ہے '' لیکن اس سے باطل معنی مراد لیے گئے ہیں۔

(۱۹۹)

بازاری لوگوں کی بھیڑ بھاڑ کے بارے میں فرمایا کہ ۔یہی وہ لوگ ہیں جو مجتمع ہو جاتے ہیں۔تو


غَلَبُوا وإِذَا تَفَرَّقُوا لَمْ يُعْرَفُوا - وقِيلَ بَلْ قَالَعليه‌السلام - هُمُ الَّذِينَ إِذَا اجْتَمَعُوا ضَرُّوا وإِذَا تَفَرَّقُوا نَفَعُوا - فَقِيلَ قَدْ عَرَفْنَا مَضَرَّةَ اجْتِمَاعِهِمْ فَمَا مَنْفَعَةُ افْتِرَاقِهِمْ - فَقَالَ يَرْجِعُ أَصْحَابُ الْمِهَنِ إِلَى مِهْنَتِهِمْ - فَيَنْتَفِعُ النَّاسُ بِهِمْ كَرُجُوعِ الْبَنَّاءِ إِلَى بِنَائِه - والنَّسَّاجِ إِلَى مَنْسَجِه والْخَبَّازِ إِلَى مَخْبَزِه.

۲۰۰ - وقَالَعليه‌السلام وأُتِيَ بِجَانٍ ومَعَه غَوْغَاءُ فَقَالَ - لَا مَرْحَباً بِوُجُوه لَا تُرَى إِلَّا عِنْدَ كُلِّ سَوْأَةٍ

غالب(۱) آجاتے ہیں اور منتشر ہو جاتے ہیں تو پہچانے بھی نہیں جاتے ہیں۔

اور بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ حضرت نے اس طرح فرمایا تھا کہ ۔جب مجتمع ہو جاتے ہیں تو نقصان دہ ہوتے ہیں اور جب منتشر ہو جاتے ہیں تبھی فائدہ مند ہو تے ہیں۔تو لوگوں نے عرض کی کہ اجتماع میں نقصان تو سمجھ میں آگیا لیکن انتشار میں فائدہ کے کیا معنی ہیں ؟ تو فرمایا کہ سارے کاروبار والے اپنے کاروبار کی طرف پلٹجاتے ہیں اور لوگ ان سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں جس طرح معمار اپنی عمارت کی طرف چلا جاتا ہے۔کپڑا بننے والا کارخانہکی طرف چلا جاتا ہے اور روٹی پکانے والا تنور کی طرف پلٹ جاتا ہے۔

(۲۰۰)

آپ کے پاس ایک مجرم کو لایا گیا جس کے ساتھ تماشائیوں کا ہجوم تھا تو فرمایا کہ '' ان چہروں پر پھٹکار ہوجو صرف(۲) برائی اور رسوائی کے موقع پر نظر آتے ہیں۔

(۱)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عوامی طاقت بہت بڑی طاقت ہوتی ہے اور دنیا کا کوئی نظام اس طاقت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا ہے اور اسی لئے مولائے کائنات نے بھی مختلف مقامات پر ان کی اہمیت کجی طرف اشارہ کیا ہے اور ان پر خاص توجہ دینے کی ہدایت کی ہے۔لیکن عوام الناس کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ ان کی اکثریت عقل و منطق سے محروم اورجذبات و عواطف سے معمور ہوتی ہے اور ان کے اکثر کام صرف جذبات واحساسات کی بناپ رانجام پاتے ہیں اور اس طرح جونظام بھی ان کے جذباتو خواہشات کی ضمانت دے دیتا ہے وہ فوراً کامیاب ہوجاتا ہے اور عقل و منطق کا نظام پیچھے رہ جاتا ہے لہٰذا حضرت نے چاہا کہ اس کمزوری کی طرف بھی متوجہ کردیا جائے تاکہ ارباب حل و عقد ہمیشہ ان کے جذباتی اور ہنگامی و جود پر اعتماد نہ کریں بلکہ اس کی کمزوریوں پر بھی نگاہ رکھیں۔

(۲)عام طور سے انسانوں کا مزاج یہی ہوتا ہے کہ جہاں کسی برائی کا منظر نظرآتا ہے فوراً اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔مسجد کے نمازیوں کا دیکھنے والا کوئی نہیں ہوتا ہے لیکن قیدی کا تماشا دیکھنے والے ہزاروں نکلآتے ہیں اور اس طرح اس اجتماع کا کوئی مقصد بھی نہیں ہوتا ہے ۔آپ کامقصد یہ ہے کہ یہ اجتماع عبرت حاصل کرنے کے لئے ہوتا تو کوئی بات نہیں تھی مگر افسوس کہ یہ صرف تماشا دیکھنے کے لئے ہوتا ہے اور انسان کے وقت کا اس سے کہیں زیادہ اہم مصرف موجود ہے لہٰذا اسے اسی مصرف میں صرف کرنا چاہیے۔


۲۰۱ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ مَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ مَلَكَيْنِ يَحْفَظَانِه - فَإِذَا جَاءَ الْقَدَرُ خَلَّيَا بَيْنَه وبَيْنَه - وإِنَّ الأَجَلَ جُنَّةٌ حَصِينَةٌ

۲۰۲ - وقَالَعليه‌السلام وقَدْ قَالَ لَه طَلْحَةُ والزُّبَيْرُ - نُبَايِعُكَ عَلَى أَنَّا شُرَكَاؤُكَ فِي هَذَا الأَمْرِ - لَا ولَكِنَّكُمَا شَرِيكَانِ فِي الْقُوَّةِ والِاسْتِعَانَةِ - وعَوْنَانِ عَلَى الْعَجْزِ والأَوَدِ

۲۰۳ - وقَالَعليه‌السلام أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّه الَّذِي إِنْ قُلْتُمْ سَمِعَ - وإِنْ أَضْمَرْتُمْ عَلِمَ - وبَادِرُوا الْمَوْتَ الَّذِي إِنْ هَرَبْتُمْ مِنْه أَدْرَكَكُمْ - وإِنْ أَقَمْتُمْ أَخَذَكُمْ - وإِنْ نَسِيتُمُوه ذَكَرَكُمْ.

۲۰۴ - وقَالَعليه‌السلام لَا يُزَهِّدَنَّكَ فِي الْمَعْرُوفِ مَنْ لَا يَشْكُرُه لَكَ

(۲۰۱)

ہر انسان کے ساتھ دو محافظ فرشتے رہتے ہیں لیکن جب موت کا قوت آجاتا ے تو دونوں ساتھ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں گویا کہ موت ہی بہترین سپر ہے۔

(۲۰۲)

جب طلحہ و زبیر نے یہ تقاضا کیا کہ ہم بیعت کر سکتے ہیںلیکن ہمیں شریک ار بنانا پڑے گا ؟ تو فرمایا کہ ہرگز نہیں تم صرف قوت پہنچانے اور ہاتھ بٹانے میں شریک ہو سکتے ہو اور عاجزی اور سختی کے موقع پر مدد گار بن سکتے ہو۔

(۲۰۳)

لوگو! اس خدا سے ڈرو جو تمہاری ہر بات کو سنتا ہے اور ہر راز دل کا جاننے والا ہے اور اس موت کی طرف سبقت کرو جس سے بھاگنا بھی چاہو تو وہ تمہیں پالے گی اور ٹھہر جائو گے تو گرفت میں لے لی گی اورتم اسے بھول بھی جائو گے تو وہ تمہیں یاد رکھے گی۔

(۲۰۴)

خبردار کسی شکریہ ادا نہ کرنے والے کی نالائقی تمہیں کارخیر(۱) سے بد دل نہ بنادے۔ہو سکتا ہے کہ تمہارا

(۱)اولاً تو کار خیر میں شکریہ کا انتظار ہی انسان کے اخلاص کو مجروح بنادیتا ہے اور اس کے عمل کاوہ مرتبہ نہیں رہ جاتا ہے جو صرف فی سبیل اللہ عمل کرنے والے افراد کاہوتا ہے جس کی طرف قرآن مجید نے سورہ ٔ مبارکہ دہر میں اشارہ کیا ہے '' لا نرید منکم جزاء اولا شکورا ''اس کے بعد اگر انسان فطرت سے مجبور ہے اورف طری طور پرشکریہ کا خواہش مند ہے تو مولائے کائنات نے اس کابھی اشارہ دے دیا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ کمی دوسرے افراد کی طرف سے پوری ہوجائے اور وہ تمہارے کارخیرکی قدر دانی کرکے شکریہ کی کمی کا تدارک کردیں۔


- فَقَدْ يَشْكُرُكَ عَلَيْه مَنْ لَا يَسْتَمْتِعُ بِشَيْءٍ مِنْه - وقَدْ تُدْرِكُ مِنْ شُكْرِ الشَّاكِرِ - أَكْثَرَ مِمَّا أَضَاعَ الْكَافِرُ -( والله يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ) .

۲۰۵ - وقَالَعليه‌السلام كُلُّ وِعَاءٍ يَضِيقُ بِمَا جُعِلَ فِيه - إِلَّا وِعَاءَ الْعِلْمِ فَإِنَّه يَتَّسِعُ بِه.

۲۰۶ - وقَالَعليه‌السلام أَوَّلُ عِوَضِ الْحَلِيمِ مِنْ حِلْمِه - أَنَّ النَّاسَ أَنْصَارُه عَلَى الْجَاهِلِ.

۲۰۷ - وقَالَعليه‌السلام إِنْ لَمْ تَكُنْ حَلِيماً فَتَحَلَّمْ - فَإِنَّه قَلَّ مَنْ تَشَبَّه بِقَوْمٍ - إِلَّا أَوْشَكَ أَنْ يَكُونَ مِنْهُمْ.

۲۰۸ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ حَاسَبَ نَفْسَه رَبِحَ ومَنْ غَفَلَ عَنْهَا خَسِرَ - ومَنْ خَافَ أَمِنَ ومَنِ اعْتَبَرَ أَبْصَرَ -

شکریہ وہ ادا کردے جس نے اس نعمت سے کوئی فائدہ بھی نہیں اٹھایا ہے اور جس قدر کفران نعمت کرنے والے نے تمہارا حق ضائع کیا ہے اس شکریہ اداکرنے والے کے شکریہ سے برابر ہو جائے اور ویسے بھی اللہ نیک کام کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

(۲۰۵)

ہر ظرف اپنے سامان کے لئے تنگ ہو سکتا ہے لیکن علم ظرف(۱) علم کے اعتبار سے وسیع تر ہوتا جاتا ہے۔

(۲۰۶)

صبر کرنے والے کا اس کی قوت برداشت پر پہلا اجریہ ملتا ہے کہ لوگ جاہل کے مقابلہمیں اس کے مدد گار ہو جاتے ہیں۔

(۲۰۷)

اگر تم واقعاً بردبار نہیں بھی ہو تو بردباری کا اظہار کرو کہ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی کسی قوم کی سباہت اختیار کرے اوران میں سے نہ ہوجائے ۔

(۲۰۸)

جو اپنے نفس کاحساب کرتا رہتا ہے وہ فائدہ میں رہتا ہے اورجوغافل ہو جاتا ہے وہی خسارہ میں رہتا ہے خوف خدا رکھنے والا عذاب سے محفوظ رہتا ہے اور عبرت

(۱)علم کا ظرف عقل ہے اور عقل غیر مادی ہونے کے اعتبارسے یوں بھی بے پناہ وسعت کی مالک ہے۔اس کے بعد مالک نے اس میں یہ صلاحیت بھی رکھی ہے کہ جس قدر علم میں اضافہ ہوتا جائے گا اس کی وسعتوں پراضافہ ہوتا جائے گا اور اسکی وسعت کسی مرحلہ پر تمام ہونے والی نہیں ہے ۔


ومَنْ أَبْصَرَ فَهِمَ ومَنْ فَهِمَ عَلِمَ.

۲۰۹ - وقَالَعليه‌السلام : لَتَعْطِفَنَّ الدُّنْيَا عَلَيْنَا بَعْدَ شِمَاسِهَا - عَطْفَ الضَّرُوسِ عَلَى وَلَدِهَا - وتَلَا عَقِيبَ ذَلِكَ -( ونُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأَرْضِ - ونَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً ونَجْعَلَهُمُ الْوارِثِينَ ) .

۲۱۰ - وقَالَعليه‌السلام اتَّقُوا اللَّه تَقِيَّةَ مَنْ شَمَّرَ تَجْرِيداً وجَدَّ تَشْمِيراً - وكَمَّشَ فِي مَهَلٍ وبَادَرَ عَنْ وَجَلٍ - ونَظَرَ فِي كَرَّةِ الْمَوْئِلِ - وعَاقِبَةِ الْمَصْدَرِ ومَغَبَّةِ الْمَرْجِعِ

کرنے والا صاحب بصیرت ہوتا ہے۔بصیرت والا فہیم ہوتا ہے اور فہیم ہی عالم ہو جاتا ہے۔

(۲۰۹)

یہ دنیا منہ زوری دکھلانے کے بعد ایک دن ہماری طرف(۱) بہرحال جھکے گی جس طرح کاٹنے والی اونٹنی کواپنے بچہ پر رحم آجاتا ہے۔اس کے بعد آپ نے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی۔'' ہم چاہتے ہیں کہ ان بندوں پراحسان کریں جنہیں روئے زمین میں کمزور بنادیا ہے۔اورانہیں پیشوا اقرار دیں اور زمین کا وارث بنادیں۔

(۲۱۰)

اللہ سے ڈرو اس شخص کی طرح جس نے دنیا چھوڑ کر دامن(۲) سمیٹ لیا ہو اور دامن سمیٹ کر کوشش میں لگ گیا ہو۔اچھائیوں کے لئے وقفہ مہلتمیں تیزی کے ساتھ چل پڑا ہو اورخطروں کے پیش نظر قدم تیز بڑھادیا ہو۔اور اپنی قرار گاہ اپنے اعمال کے نتیجہ اور اپنیانجام کار پرنظر رکھی ہو۔

(۱)یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی ظالم میں اگر ادنیٰ انسانیت پائی جاتی ہے تو اسے ایک دن مظلوم کی مظلومیت کابہر حال احساس پیدا ہو جاتا ہے اور اس کے حال پرمہربانی کا ارادہ کرنے لگتا ہے چاہے حالات اورمصالح اسے اس مہربانی کو منزل عمل تک لانے سے روک دیں۔دنیا کوئی ایسی جلاد اور ظالم نہیں ہے جسے دوسرے کو ہٹا کر اپنی جگہ بنانے کاخیال ہو لہٰذا اسے ایک نہایک دن مظلوم پر رحم کرنا ہے اور ظالموں کو منظر تاریخ سے ہٹا کر مظلوموں کو کرسی ریاست پر بٹھانا ہے یہی منشاء الٰہی ہے اور یہی وعدۂ قرآنی ہے جس کے خلاف کا کوئی امکان نہیں پایاجاتا ہے۔

(۲)یہ اس امرکی طرف اشارہ ہے کہ تقویٰ کسی زبانی جمع خرچ کا نام ہے اور نہ لباس و غذا کی سادگی سے عبارت ہے۔تقویٰ ایک انتہائی منزل دشوار ہے جہاں انسان کو مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔پہلے دنیا کو خیر باد کہنا ہوتا ہے۔اس کے بعد دامن عمل کو سمیٹ کر کام شروع کرنا ہوتا ہے اوراچھائیوں کی طرف تیز قدم بڑھانا پڑتے ہیں۔اپنے انجام کا ر اور نتیجہ عمل پر نگاہ رکھنا ہوتی ہے اور خطرات کے دفاع کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔یہ سارے مراحل طے ہو جائیں توانسان متقی اور پرہیز گار کہے جانے کے قابل ہوتا ہے۔


۲۱۱ - وقَالَعليه‌السلام الْجُودُ حَارِسُ الأَعْرَاضِ - والْحِلْمُ فِدَامُ السَّفِيه - والْعَفْوُ زَكَاةُ الظَّفَرِ - والسُّلُوُّ عِوَضُكَ مِمَّنْ غَدَرَ - والِاسْتِشَارَةُ عَيْنُ الْهِدَايَةِ - وقَدْ خَاطَرَ مَنِ اسْتَغْنَى بِرَأْيِه - والصَّبْرُ يُنَاضِلُ الْحِدْثَانَ - والْجَزَعُ مِنْ أَعْوَانِ الزَّمَانِ - وأَشْرَفُ الْغِنَى تَرْكُ الْمُنَى - وكَمْ مِنْ عَقْلٍ أَسِيرٍ تَحْتَ هَوَى أَمِيرٍ - ومِنَ التَّوْفِيقِ حِفْظُ التَّجْرِبَةِ - والْمَوَدَّةُ قَرَابَةٌ مُسْتَفَادَةٌ ولَا تَأْمَنَنَّ مَلُولًا

۲۱۲ - وقَالَعليه‌السلام عُجْبُ الْمَرْءِ بِنَفْسِه أَحَدُ حُسَّادِ عَقْلِه.

۲۱۳ - وقَالَعليه‌السلام أَغْضِ عَلَى الْقَذَى والأَلَمِ تَرْضَ أَبَداً.

(۲۱۱)

سخاوت عزت(۱) وآبروکی نگہبان ہے اوربردباری احمق کے منہ کا تسمہ ہے۔معافی کامیابی کی زکوٰة ہے اور بھول جانا غداری کرنے والے کا بدل ہے اور مشورہ کرنا عین ہدایت ہے۔جس نے اپنی رائے ہی پر اعتماد کرلیا اسنے اپنے کوخطرہ میں ڈال دیا۔صبر حوادث کامقابلہ کرتا ہے اوربے قراری زمانہ کی مدد گار ثابت ہوتی ہے۔بہترین دولت مندی تمنائوں کا ترک کردینا ہے۔کتنی ہی غلام عقلیں ہیں جو روساء کی خواہشات کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔ تجربات کومحفوظ رکھنا توفیق کی ایک قس ہے اور محبت ایک اکتسابی قرابت ہے اورخبردار کسی رنجیدہ ہو جانے والے پر اعتماد نہ کرنا۔

(۲۱۲)

انسان کا خود پسندی میں مبتلا ہو جانا خود اپنی عقل سے حسد کرنا ہے۔

(۲۱۳)

آنکھوں کے خس و خاشاک اور رنج و الم پر چشم(۱) پوشی کرو ہمیشہ خوش رہو گے۔

(۱)اس کلمہ حکمت میںمولائے کائنات نے تیرہ مختلف نصیحتوں کاذکر فرمایا ہے اوران میں ہر نصیحت انسانی زندگی کا بہترین جوہر ہے۔کا شانسان اس کے ایک ایک فقرہ پر غور کرے اور زندگی کی تجربہ گاہ میں استعمال کرے تو اسے اندازہ ہو گا کہ ایک مکمل زندگی گذارنے کا ضابطہ کیاہوتا ہے اور انسان کس طرح دنیا وآخرت کے خیر کو حاصل کرلیتا ہے۔

(۲)حقیقت امریہ ہے کہ ہر ظلم کا ایک علاج اور دنیا کی ہرمصیبت کا ایک توڑ ہے جس کا نام ہے صبرو تحمل۔انسان صرف یہ ایک جوہر پیداکرلے تو بڑی سے بڑی مصیبت کامقالہ کر سکتا ہے اور کسی مرحلہ پر پریشان نہیں ہوسکتا ہے۔رنجیدہ و غمزدہ وہی رہتے ہیں جن کے پاس یہ جوہر نہیں ہوتا ہے اورخوش حال و مطمئن وہی رہتے ہیں جن کے پاس یہ جوہر ہوتا ہے اوروہ اسے استعمال کرنا بھی جانتے ہیں۔


۲۱۴ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ لَانَ عُودُه كَثُفَتْ أَغْصَانُه

۲۱۵ - وقَالَعليه‌السلام الْخِلَافُ يَهْدِمُ الرَّأْيَ.

۲۱۶ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ نَالَ اسْتَطَالَ

۲۱۷ - وقَالَعليه‌السلام فِي تَقَلُّبِ الأَحْوَالِ عِلْمُ جَوَاهِرِ الرِّجَالِ.

۲۱۸ - وقَالَعليه‌السلام حَسَدُ الصَّدِيقِ مِنْ سُقْمِ الْمَوَدَّةِ

(۲۱۴)

جس درخت کی لکڑی(۱) نرم ہو اس کی شاخیں گھنی ہوتی ہیں (لہٰذا انسان کو نرم دل ہو نا چاہیے )

(۲۱۵)

مخالفت صحیح رائے کوبھی برباد کر دیتی ہے۔

(۲۱۶)

جو منصب(۲) پالیتا ہے وہ دست درازی کرنے لگتا ہے۔

(۲۱۷)

لوگوں کے جوہر حالات کے انقلاب میں پہچانے جاتے ہیں۔

(۲۱۸)

دوست کاحسد کرنا محبت کی کمزوی ہے۔

(۱)کتنا حسین تجربہ حیات ہے جس سے ایک دیہاتی انسان بھی استفادہ کر سکتا ہے کہ اگر پروردگار نے درختوں میں یہ کمال رکھا ہے کہ جن درختوں کی شاخوں کو گھنا بنایا ہے ان کی لکڑیوں کو نرم بنا دیا ہے تو انسان کوبھی اس حقیقت سے عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ اگر اپنے اطراف مخلصین کا مجمع دیکھنا چاہتا ہے اور اپنے کو بے سایہ درخت نہیں بنانا چاہتا ہے تو اپنی طبیعت کونرم بنادے تاکہ اس کے سہارے لوگ اس کے گردجمع ہوجائیں اور اس کی شخصیت ایک گھنیرے درخت کی ہوجائے ۔

(۲)کس قدر افسوس کی بات ہے کہ انسان پروردگار کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے کفران نعمت پر اتر آتا ہے اور اس کے دئیے ہوئے اقتدار کو دست درازی میں استعمال کرنے لگتا ہے حالانکہ شرافت و انسانیت کا تقاضا یہی تھا کہ جس طرح اس نے صاحب قدرت و قوت ہونے کے بعد اس کے حال پر حم کیا ہے اسی طرح اقتدار پانے کے بعد یہ دوسروں کے حال پر رحم کرے۔


۲۱۹ - وقَالَعليه‌السلام أَكْثَرُ مَصَارِعِ الْعُقُولِ تَحْتَ بُرُوقِ الْمَطَامِعِ.

۲۲۰ - وقَالَعليه‌السلام لَيْسَ مِنَ الْعَدْلِ الْقَضَاءُ عَلَى الثِّقَةِ بِالظَّنِّ.

۲۲۱ - وقَالَعليه‌السلام بِئْسَ الزَّادُ إِلَى الْمَعَادِ الْعُدْوَانُ عَلَى الْعِبَادِ.

۲۲۲ - وقَالَ عليهلامو مِنْ أَشْرَفِ أَعْمَالِ الْكَرِيمِ غَفْلَتُه عَمَّا يَعْلَمُ.

۲۲۳ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ كَسَاه الْحَيَاءُ ثَوْبَه لَمْ يَرَ النَّاسُ عَيْبَه.

۲۲۴ - وقَالَعليه‌السلام بِكَثْرَةِ الصَّمْتِ تَكُونُ الْهَيْبَةُ - وبِالنَّصَفَةِ يَكْثُرُ الْمُوَاصِلُونَ - وبِالإِفْضَالِ تَعْظُمُ الأَقْدَارُ

(۲۱۹)

عقلوں کی تباہی کی بیشتر منزلیں حرص و طمع کی بجلیوں(۱) کے نیچے ہیں۔

(۲۲۰)

یہ کوئی انصاف نہیں ہے کہ صرف ظن و گمان کے اعتماد پر فیصلہ کردیا جائے ۔

(۲۲۱)

روز قیامت کے لئے بد ترین زاد سفر بندگان خدا پر ظلم ہے۔

(۲۲۲)

کریم کے بہترین اعمال میں جان کر انجان بن جانا۔

(۲۲۳)

جسے حیا نے اپنا لباس اوڑھا دیا اس کے عیب کو کوئی نہیں دیکھ سکتا ہے۔

(۲۲۴)

زیادہ خاموشی ہیبت کا سبب بنتی ہے اورانصاف سے دوستوں میں اضافہ ہوتا ہے۔فضل و کرم سے قدرو

(۱)حرص و طمع کی چمک دمک بعض اوقات عقل کی نگاہوں کو بھی ذخیرہ کر دیتی ہے اور انسان نیک وبد کے امتیاز سے محروم ہوجاتا ہے۔لہٰذا دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ اپنے کو حرص و طمع سے دور رکھے اورزندگی کا ہر قدم عقل کے زیر سایہ اٹھائے تاکہ کسی مرحلہ پر تباہ وبرباد نہ ونے پائے ۔


وبِالتَّوَاضُعِ تَتِمُّ النِّعْمَةُ - وبِاحْتِمَالِ الْمُؤَنِ يَجِبُ السُّؤْدُدُ - وبِالسِّيرَةِ الْعَادِلَةِ يُقْهَرُ الْمُنَاوِئُ - وبِالْحِلْمِ عَنِ السَّفِيه تَكْثُرُ الأَنْصَارُ عَلَيْه.

۲۲۵ - وقَالَ علالسلام الْعَجَبُ لِغَفْلَةِ الْحُسَّادِ عَنْ سَلَامَةِ الأَجْسَادِ.

۲۲۶ - وقَالَعليه‌السلام الطَّامِعُ فِي وِثَاقِ الذُّلِّ.

۲۲۷ - وسُئِلَ عَنِ الإِيمَانِ - فَقَالَ الإِيمَانُ مَعْرِفَةٌ بِالْقَلْبِ - وإِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ وعَمَلٌ بِالأَرْكَانِ.

منزلت بلند ہوتی ہے اور تواضع سے نعمت مکمل ہوتی ہے۔دوسروں کا بوجھ اٹھانے سے سرداری حاصل ہوتی ہے اور انصاف پسند کردار سے دشمن پر غلبہ حاصل کیا جاتا ہے۔احمق کے مقابلہ میں بردباری کے مظاہرہ سے انصار و اعوان(۱) میں اضافہ ہوتا ہے۔

(۲۲۵)

حیرت کی بات ہے کہ حسد کرنے والے جسموں کی سلامتی پرحسد کیوں نہیں کرتے ہیں ( دولت مند کی دولت سے حسد ہوتا ہے اور مزدورکی صحت سے حسد نہیں ہوتا ہے حالانکہ یہ اس سے بڑی نعمت ہے۔

(۲۲۶)

لالچی(۲) ہمیشہ ذلت کی قید میں گرفتار رہتا ہے۔

(۲۲۷)

آپ سے ایمان کے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرمایا کہایمان دل کا عقیدہ ' زبان کا اقرار اوراعضاء و جوارح کے عمل(۳) کا نام ہے۔

(۱)اس نصیحت میں بھی زندگی کے سات مسائل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اوریہ بتایا گیا ہے کہ انسان ایک کامیاب زندگی کس طرح گزار سکتا ہے اور اسے اس دنیا میں باعزت زندگی کے لئے کن اصول و قوانین کو اختیار کرنا چاہیے۔

(۲)لالچ میں دو طرح کی ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک طرف انسان نفسیاتی ذلت کاشکار رہتا ہے کہ اپنے کو حقیر فقیر تصورکرتا ہے اوراپنی کسی بھی دولت کا احساس نہیں کرتا ہے اور دوسری طرف دوسرے ارفاد کے سامنے حقارت و ذلت کا اظہار کرتا رہتا ہے کہ شائد اسی طرح کسی کو اس کے حال پر رحم آجائے اوروہ اس کے مدعا کے حصول کی راہ ہموار کردے

(۳)علی والوں کو اس جملہ کو بغور دیکھنا چاہیے کہ کل ایمان نے ایمان کو اپنی زندگی کے سانچہ میں ڈھال دیا ہے کہ جس طرح آپ کی زندگی میں اقرار ' تصدیق اور عمل کے تینوں زخ پائے جاتے تھے ویسے ہی آپ ہر صاحب ایمان کو اس کردار کا حامل دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کے بغیر کسی کو صاحب ایمان تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیںہیں اور کھلی ہوئی بات ہے کہ بے عمل اگر صاحب ایمان نہیں ہو سکتا ہے تو کل ایمان کا شیعہ اور ان کا مخلص کیسے ہو سکتا ہے ۔


۲۲۸ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ أَصْبَحَ عَلَى الدُّنْيَا حَزِيناً - فَقَدْ أَصْبَحَ لِقَضَاءِ اللَّه سَاخِطاً - ومَنْ أَصْبَحَ يَشْكُو مُصِيبَةً نَزَلَتْ بِه - فَقَدْ أَصْبَحَ يَشْكُو رَبَّه - ومَنْ أَتَى غَنِيّاً فَتَوَاضَعَ لَه لِغِنَاه ذَهَبَ ثُلُثَا دِينِه - ومَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ - فَهُوَ مِمَّنْ كَانَ يَتَّخِذُ آيَاتِ اللَّه هُزُواً - ومَنْ لَهِجَ قَلْبُه بِحُبِّ الدُّنْيَا الْتَاطَ قَلْبُه مِنْهَا بِثَلَاثٍ - هَمٍّ لَا يُغِبُّه وحِرْصٍ لَا يَتْرُكُه وأَمَلٍ لَا يُدْرِكُه.

۲۲۹ - وقَالَعليه‌السلام كَفَى بِالْقَنَاعَةِ مُلْكاً وبِحُسْنِ الْخُلُقِ نَعِيماً وسُئِلَعليه‌السلام عَنْ قَوْلِه تَعَالَى -( فَلَنُحْيِيَنَّه حَياةً طَيِّبَةً ) فَقَالَ هِيَ الْقَنَاعَةُ.

۲۳۰ - وقَالَعليه‌السلام شَارِكُوا الَّذِي قَدْ أَقْبَلَ عَلَيْه الرِّزْقُ - فَإِنَّه أَخْلَقُ لِلْغِنَى وأَجْدَرُ بِإِقْبَالِ الْحَظِّ عَلَيْه.

(۲۲۸)

جودنیاکے بارے(۱) میں رنجیدہ ہو کرصبح کرے وہ درحقیقت قضائے الٰہی سے ناراض ہے اور جو صبح اٹھتے ہی کسی نازل ہونے والی مصیبت کاشکوہ شروع کردے اس نے درحقیقت پروردگار کی شکایت کی ہے۔جوکسی دولت مند کے سامنے دولت کی بنا پرجھک جائے اس کا دو تہائیدین بابرباد ہوگیا۔اورجوشخص قرآن پڑنے کے باوجود مرکر جہنم واصل ہوجائے گویا اسنے آیات الٰہی کامذاق اڑایا ہے۔جس کا دل محبت دنیامیں وارفتہ ہو جاء اس کے دل میں یہ تین چیزیں پیوست ہو جاتی ہیں۔وہ غم جو اس سے جدا نہیں ہوتا ہے ' وہ لالچ جو اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی ہے اوروہ امید جسے کبھی حاصل نہیں کر سکتا ہے۔

(۲۲۹)

قناعت سے بڑی کوئی سلطنت اور حسن اخلاق سے بہتر کوئی نعمت نہیں ہے۔آپ سے دریافت کیا گیا کہ '' ہم حیات طیبہ عنایت کریں گے ''اس آیت میں حیات طیبہ سے مراد کیا ہے ؟۔فرمایا : قناعت۔

(۲۳۰)

جس کی طرف روزی کا رخ ہو اس کے ساتھ شریک ہو جائو کہ یہ دولت مندی پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ اور خوش نصیبی کا بہترین قرینہ ہے۔

(۱)اس مقام پر چار عظیم نکات زندگی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لہٰذا انسان کو ان کی طرف متوجہ رہنا چاہیے اور صبرو شکر کے ساتھ زندگی گذارنی چاہیے۔نہ شکوہ و فریاد شروع کردے اورنہ دولت کی غلامی پر آمادہ ہوجائے ۔قرآن پڑھے تواس پر عمل بھی کرے اور دنیا میں رہے تو اس سے ہوشیار بھی رہے۔


۲۳۱ - وقَالَعليه‌السلام : فِي قَوْلِه تَعَالَى( إِنَّ الله يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ والإِحْسانِ ) - الْعَدْلُ الإِنْصَافُ والإِحْسَانُ التَّفَضُّلُ.

۲۳۲ - وقَالَعليه‌السلام : مَنْ يُعْطِ بِالْيَدِ الْقَصِيرَةِ يُعْطَ بِالْيَدِ الطَّوِيلَةِ.

قال الرضي - ومعنى ذلك أن ما ينفقه المرء من ماله - في سبيل الخير والبر وإن كان يسيرا - فإن الله تعالى يجعل الجزاء عليه عظيما كثيرا - واليدان هاهنا عبارة عن النعمتين - ففرقعليه‌السلام بين نعمة العبد - ونعمة الرب تعالى ذكره بالقصيرة والطويلة - فجعل تلك قصيرة وهذه طويلة - لأن نعم الله أبدا - تضعف على نعم المخلوق أضعافا كثيرة - إذ كانت نعم الله أصل النعم كلها - فكل نعمة إليها ترجع ومنها تنزع.

(۲۳۱)

آیت کریمہ'' ان اللہ یا مر بالعدل(۱) '' میں عدل ' انصاف ہے اوراحسان فضل و کرم۔

(۲۳۲)

جو عاجز ہاتھ سے دیتا ہے اسے صاحب اقتدار ہاتھ سے ملتا ہے۔

سید رضی : جوشخص کسی کا رخیر میں مختصر مال بھی خرچ کرتا ہے پروردگار اس کی جزاء کوعظیم و کثیر بنا دیتا ہے۔یہاں دونوں '' ید '' سے مراد دونوں نعمتیں ہیں۔بندہ کی نعمت کو ید قصیرہ کہا گیا ہے اورخدائی نعمت کو یدطویلہ ۔اس لئے کہ اللہ کی نعمتیں بندوں کے مقابلہ میں ہزاروں گنا زیادہ ہوتی ہیں۔اور وہی تمام نعمتوں کی اصل اور سب کامرجع و منشاء ہوتی ہے۔

(۱)حضرت عثمان بن مظعون کا بیان ہے کہ میرے اسلام میں استحکام اس دن پیداہوا جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور میں نے جناب ابو طالب سے اس آیت کا ذکر کیا اور انہوں نے فرمایا کہ میرا فرزند محمد (ص) ہمیشہ بلند ترین اخلاق کی باتیں کرتا ہے لہٰذا اس کا اتباع اور اس سے ہدایت حاصل کرنا تمام قریش کا فریضہ ہے۔


۲۳۳ - وقَالَعليه‌السلام لِابْنِه الْحَسَنِ -عليه‌السلام لَا تَدْعُوَنَّ إِلَى مُبَارَزَةٍ وإِنْ دُعِيتَ إِلَيْهَا فَأَجِبْ - فَإِنَّ الدَّاعِيَ إِلَيْهَا بَاغٍ والْبَاغِيَ مَصْرُوعٌ

۲۳۴ - وقَالَعليه‌السلام خِيَارُ خِصَالِ النِّسَاءِ شِرَارُ خِصَالِ الرِّجَالِ - الزَّهْوُ والْجُبْنُ والْبُخْلُ - فَإِذَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ مَزْهُوَّةً .لَمْ تُمَكِّنْ مِنْ نَفْسِهَا - وإِذَا كَانَتْ بَخِيلَةً حَفِظَتْ مَالَهَا ومَالَ بَعْلِهَا - وإِذَا كَانَتْ جَبَانَةً فَرِقَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يَعْرِضُ لَهَا.

۲۳۵ - وقِيلَ لَه صِفْ لَنَا الْعَاقِلَ - فَقَالَعليه‌السلام هُوَ الَّذِي يَضَعُ الشَّيْءَ مَوَاضِعَه - فَقِيلَ فَصِفْ لَنَا الْجَاهِلَ

(۲۳۳)

اپنے فرزند امام حسن سے فرمایا: تم کسی کو جنگ کی دعوت(۱) نہ دینالیکن جب کوئی للکار دے تو فوراً جواب دے دینا کہ جنگ کی دعوت دینے والا باغی ہوتا ہے اور باغی بہرحال ہلاک ہونے والا ہے۔

(۲۳۴)

عورتوں کی بہترین خصلتیں جو مردوں کی بد ترین خصلتیں شمار ہوتی ہیں۔ان میں غرور۔بزدلی اور بخل ہے کہ عورت(۲) اگر مغرورہوگی تو کوئی اس پر قابو نہ پاسکے گا اوراگربخیل ہوگی تو اپنے اور اپنے شوہر کے مال کی حفاظت کرے گی اوراگر بزدل ہوگی تو ہر پیش آنے والے خطرہ سے خوفزدہ رہے گی۔

(۲۳۵)

آپ سے گزارش کی گئی کہ عاقل کی توصیف فرمائیں۔تو فرمایا کہ عاقل وہ ہے جو ہرشے کو اس کی جگہ پر رکھتا ہے۔عرض کیا گیا پھر جاہل کی تعریف کیا

(۱)اسلام کا توازن عمل یہی ہے کہ جنگ میں پہل نہ کی جائے اور جہاں تک ممکن ہو اس کو نظرانداز کیا جائے لیکن اس کے بعد اگر دشمن جنگ کی دعوت دیدے تو اسے نظرانداز بھی نہ کیا جائے کہ اس طرح اسے اسلام کی کمزوری کا احساس پیداہو جائے گا اوراس کے حوصلے بلند ہو جائیں گے ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہاسے یہ محسوس کرادیا جائے کہ اسلام کمزور نہیں ہے لیکن پہل کرنا اس کے اخلاقی اصول و آئین کے خلاف ہے۔

(۲)یہ تفصیل اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ یہ تینوں صفات انہیں بلند ترین مقاصد راہ میں محبوب ہیں ورنہ ذاتی طور پر نہ غرور محبوب ہو سکتا ہے اور نہ بخل و بزدلی۔ہر صفت اپنے مصرف کے اعتبار سے خوبی یا خراجی پیدا کرتی ہے اور عورت کے یہ صفات انہیں مقاصد کے اعتبار سے پسندیدہ ہیں مطلق طور پر یہ صفات کسی کے لئے بھی پسندیدہ نہیں ہو سکتے ہیں۔


فَقَالَ قَدْ فَعَلْتُ.

قال الرضي - يعني أن الجاهل هو الذي لا يضع الشيء مواضعه - فكأن ترك صفته صفة له - إذ كان بخلاف وصف العاقل.

۲۳۶ - وقَالَعليه‌السلام واللَّه لَدُنْيَاكُمْ هَذِه - أَهْوَنُ فِي عَيْنِي مِنْ عِرَاقِ خِنْزِيرٍ فِي يَدِ مَجْذُومٍ

۲۳۷ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ قَوْماً عَبَدُوا اللَّه رَغْبَةً فَتِلْكَ عِبَادَةُ التُّجَّارِ - وإِنَّ قَوْماً عَبَدُوا اللَّه رَهْبَةً فَتِلْكَ عِبَادَةُ الْعَبِيدِ - وإِنَّ قَوْماً عَبَدُوا اللَّه شُكْراً فَتِلْكَ عِبَادَةُ الأَحْرَارِ.

۲۳۸ - وقَالَعليه‌السلام الْمَرْأَةُ شَرٌّ كُلُّهَا وشَرُّ مَا فِيهَا أَنَّه لَا بُدَّ مِنْهَا.

ہے۔ فرمایا یہ تو میں بیان کر چکا ۔

سید رضی : مقصد یہ ہے کہ جاہل وہ ہے جو ہرشے کو بے محل رکھتا ہے اور اس کا بیان نہ کرنا ہی ایک طرح کا بیان ہے کہ وہ عاقل کی ضد ہے۔

(۲۳۶)

خداکی قسم یہ تمہاری دنیا میری نظر کوڑھی کے ہاتھ میں سور(۱) کی ہڈی سے بھی بد تر ہے۔

(۲۳۷)

ایک قوم ثواب کی لالچ میں عبادت کرتی ہے تو یہ تاجروں کی عبادت ہے اور ایک قوم عذاب کے خوف سے عبادت کرتی ہے تو یہ غلاموں کی عبادت ہے۔اصل وہ قوم ہے جو شکرخدا کے عنوان سے عبادت کرتی ہے اور یہی آزاد لوگوں کی عبادت ہے۔

(۲۳۸)

عورت سرپا شر(۲) ہےاور اس کی سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ اس کے بغیر کام بھی نہیں چل سکتا ہے۔

(۱)ایک تو سور جیسے نجس العین جانورکی ہڈی اوروہ بھی کوڑھی انسان کے ہاتھ میں۔اس سے زیادہ نفرت انگیز شے دنیا میں کیا ہو سکتی ہے۔امیر المومنین نے اس تعبیر سے اسلام اور عقل دونوں کے تعلیمات کی طرف متوجہ کیا ہے کہ اسلام نجس العین سے اجتناب کیدعوت دیتا ہے اور عقل متعدی امراض کے مریضوں سے بچنے کی دعوت دیتی ہے۔ایسے حالات میں اگر کوئی شخص دنیا پر ٹوٹ پڑے تو نہ مسلمان کہے جانے کے قابل ہے اور نہ صاحب عقل۔

(۲)بعض حضرات کا خیال ہے کہ حضرت کا یہ اشارہ کسی '' خاص عورت '' کی طرف ہے ورنہ یہ بات قرین قیاس نہیں ہے کہ عورت کی صنف کو شر قرار دے دیا جائے اور اسے اس حقارت کی نظر سے دیکھا جائے '' لا بد منھا '' اس رشتہ کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے جسے توڑا نہیں جا سکتا ہے اور ان کے بغیر زندگی کو ادھورا اور نامکمل قراردیا گیا ہے ۔


۲۳۹ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ أَطَاعَ التَّوَانِيَ ضَيَّعَ الْحُقُوقَ - ومَنْ أَطَاعَ الْوَاشِيَ ضَيَّعَ الصَّدِيقَ.

۲۴۰ - وقَالَعليه‌السلام الْحَجَرُ الْغَصِيبُ فِي الدَّارِ رَهْنٌ عَلَى خَرَابِهَا.

قال الرضي - ويروى هذا الكلام عن النبيصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ولا عجب أن يشتبه الكلامان - لأن مستقاهما من قليب ومفرغهما من ذنوب

۲۴۱ - وقَالَعليه‌السلام يَوْمُ الْمَظْلُومِ عَلَى الظَّالِمِ - أَشَدُّ مِنْ يَوْمِ الظَّالِمِ عَلَى الْمَظْلُومِ.

۲۴۲ - وقَالَعليه‌السلام اتَّقِ اللَّه بَعْضَ التُّقَى وإِنْ قَلَّ - واجْعَلْ بَيْنَكَ وبَيْنَ اللَّه سِتْراً وإِنْ رَقَّ.

۲۴۳ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا ازْدَحَمَ الْجَوَابُ خَفِيَ الصَّوَابُ.

(۲۳۹)

جوشخص کاہلی اور سستی سے کام لیتا ہے وہ اپنے حقوق کوبھی برباد کردیتا ہے اورجوچغل خور کی بات مان لیتا ہے وہ دوستوں کوبھی کھو بیٹھتا ہے۔

(۲۴۰)

گھرمیں ایک پتھر بھی غصبی لگا ہوتو وہ اس کی بربادی کی ضمانت ہے۔

سیدرضی : اس کلام کو رسول اکرم (ص) سے بھی نقل کیا گیا ہے اور یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے کہ دونوں کا سر چ شمہ علم ایک ہی ہے۔

(۲۴۱)

مظلوم کا دن (قیامت ) ظالم کے لئے اس دن سے سخت تر ہوتا ہے جو ظالم کا مظلوم کے لئے ہوتا ہے۔

(۲۴۲)

اللہ کا ہر نعمت میں ایک حق ہے۔جو اسے ادا کردے گا۔اللہ اس کی نعمت کو بڑھا دے گا اورکو کوتاہی کرے گا وہموجودہ نعمت کو بھی خطرہ میں ڈال دے گا۔

(۲۴۳)

جب جوابات کی کثرت ہو جاتی ہے تو اصل بات گم ہو جاتی ہے۔


۲۴۴ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ لِلَّه فِي كُلِّ نِعْمَةٍ حَقّاً - فَمَنْ أَدَّاه زَادَه مِنْهَا - ومَنْ قَصَّرَ فِيه خَاطَرَ بِزَوَالِ نِعْمَتِه.

۲۴۵ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا كَثُرَتِ الْمَقْدِرَةُ قَلَّتِ الشَّهْوَةُ.

۲۴۶ - وقَالَعليه‌السلام احْذَرُوا نِفَارَ النِّعَمِ فَمَا كُلُّ شَارِدٍ بِمَرْدُودٍ.

۲۴۷ - وقَالَعليه‌السلام الْكَرَمُ أَعْطَفُ مِنَ الرَّحِمِ

۲۴۸ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ ظَنَّ بِكَ خَيْراً فَصَدِّقْ ظَنَّه.

(۲۴۴)

اللہ کا ہر نعمت میں ایک حق ہے۔جو اسے ادا کردے گا۔اللہ اس کی نعمت کو بڑھادے گا اور جو کوتاہی کرے گا وہ موجودہ نعمت کو بھی خطرہ میں ڈال دے گا۔

(۲۴۵)

جب طاقت زیادہ(۱) ہو جاتی ہے توخواہش کم ہو جاتی ہے۔

(۲۴۶)

نعمتوں کے زوال سے ڈرتے رہو کہ ہر بے قابو ہوکر نکل جانے والی چیز واپس نہیں آیا کرتی ہے۔

(۲۴۷)

جذبہ کرم قرابت داری سے زیادہ مہربانی کا باعث ہوتا ہے۔

(۲۴۸)

جو تمہارے بارے میں اچھا خیال(۲) رکھتا ہو اس کے خیال کو سچا کرکے دکھلا دو۔

(۱)جب فطرت کا یہ نظام ہے کہ کمزور آدمی میں خواہش زیادہ ہوتی ہے اور طاقتور اس قدرخواہشات کاحامل نہیں ہوتا ہے تو سیاسی دنیا میں بھی انسان کا طرزعمل ویسا ہی ہونا چاہیے کہ جس قدر طاقت و قوت میںاضافہ ہوتا ہے اپنے کوخواہشات دنیا سے بے نیاز بناتا جائے اور اپنے کردار سے یہ ثابت کردے کہ اس کی زندگی نظام فطرت سے الگ اور جدا گانہ نہیں ہے۔

(۲)یہ انسانی زندگی کا انتہائی حساس نکتہ ہے کہ انسان عام طور سے لوگوں کو حسن ظن میں مبتلا پا کراس سے غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے اوراسے یہ خیال پیداہو جاتا ہے کہ جب لوگ شراب خانہمیں دیکھ کر بھی یہی تصور کریںگے کہ تبلیغ مذہب کے لئے گئے تھے تو شراب خانہ سے فائدہ اٹھالینا چاہیے حالانکہ تقاضئاے عقل ودانش اورمقتضائے شرافت وانسانیت یہ ہے کہ لوگ جس قدر شریف تصورکرتے ہیں۔اتنی شرافت کا اثبات کرے اور ان کے حسن ظن کو سوظن میں تبدیل نہ ہونے دے ۔


۲۴۹ - وقَالَعليه‌السلام أَفْضَلُ الأَعْمَالِ مَا أَكْرَهْتَ نَفْسَكَ عَلَيْه.

۲۵۰ - وقَالَعليه‌السلام عَرَفْتُ اللَّه سُبْحَانَه بِفَسْخِ الْعَزَائِمِ - وحَلِّ الْعُقُودِ ونَقْضِ الْهِمَمِ.

۲۵۱ - وقَالَعليه‌السلام مَرَارَةُ الدُّنْيَا حَلَاوَةُ الآخِرَةِ - وحَلَاوَةُ الدُّنْيَا مَرَارَةُ الآخِرَةِ.

۲۵۲ - وقَالَعليه‌السلام فَرَضَ اللَّه الإِيمَانَ تَطْهِيراً مِنَ الشِّرْكِ - والصَّلَاةَ تَنْزِيهاً عَنِ الْكِبْرِ - والزَّكَاةَ تَسْبِيباً لِلرِّزْقِ - والصِّيَامَ ابْتِلَاءً لإِخْلَاصِ الْخَلْقِ - والْحَجَّ تَقْرِبَةً لِلدِّينِ - والْجِهَادَ عِزّاً لِلإِسْلَامِ - والأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ مَصْلَحَةً لِلْعَوَامِّ - والنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ رَدْعاً لِلسُّفَهَاءِ - وصِلَةَ الرَّحِمِ مَنْمَاةً لِلْعَدَدِ - والْقِصَاصَ حَقْناً لِلدِّمَاءِ - وإِقَامَةَ الْحُدُودِ إِعْظَاماً لِلْمَحَارِمِ

(۲۴۹)

بہترین عمل وہ ہے جس پر تمہیں(۱) اپنے نفس کو مجبور کرنا پڑے ۔

(۲۵۰)

میں نے پروردگار کو ارادوں کے ٹوٹ جانے ' نیتوں کے بدل جانے اورہمتوں کے پست ہو جانے سے پہچانا ہے۔

(۲۵۱)

دنیا کی تلخی آخرت کی شیرینی ہے اور دنیا کی شیرینی آخرت کی تلخی ۔

(۲۵۲)

اللہ نے ایمان کو لازم قراردیا ہے شرک سے پاک کرنے کے لئے۔اور نماز کو واجب کیا ہے غرور سے باز رکھنے کے لئے۔زکوٰة کو رزق کا وسیلہ قرار دیاہے اور روزہ کوآزمائش اخلاص کاوسیلہ ۔جہاد کواسلام کی عزت کے لئے رکھا ہے اور امر بالمعروف کو عوام کی مصلحت کے لئے۔نہی عن المنکر کو بیوقوفوں کو برائیوں سے روکنے کے لئے واجب کیا ہے اور صلہ رحم عدد میں اضافہ کے لئے ۔قصاص خون کے تحفظ کا وسیلہ ہے اور حدود کا قیام محرمات کی اہمیت کے سمجھانے کا

(۱)انسان تمام اعمال کونفسکی خواہش کے مطابق انجام دے گا تو ایک دن نفس کاغلام ہو کر رہ جائے گا لہٰذا ضرورت ہے کہ ایسے اعمال انجام دیتا رہے جہاں نفس پر جبر کرنا پڑے اوراسے اس کی اوقات سے آشنا بناتا رہے تاکہ اس کے حوصلے اس قدربلند نہ ہوجائیںکہ انسان کو مکمل طور پراپنی گرفت میں لیلے اور پھرنجات کاکوئی راستہ نہ رہ جائے ۔


وتَرْكَ شُرْبِ الْخَمْرِ تَحْصِيناً لِلْعَقْلِ - ومُجَانَبَةَ السَّرِقَةِ إِيجَاباً لِلْعِفَّةِ - وتَرْكَ الزِّنَى تَحْصِيناً لِلنَّسَبِ - وتَرْكَ اللِّوَاطِ تَكْثِيراً لِلنَّسْلِ - والشَّهَادَاتِ اسْتِظْهَاراً عَلَى الْمُجَاحَدَاتِ - وتَرْكَ الْكَذِبِ تَشْرِيفاً لِلصِّدْقِ - والسَّلَامَ أَمَاناً مِنَ الْمَخَاوِفِ - والأَمَانَةَ نِظَاماً لِلأُمَّةِ - والطَّاعَةَ تَعْظِيماً لِلإِمَامَةِ.

۲۵۳ - وكَانَعليه‌السلام يَقُولُ: أَحْلِفُوا الظَّالِمَ إِذَا أَرَدْتُمْ يَمِينَه - بِأَنَّه بَرِيءٌ

ذریعہ۔شراب خواری کو عقل کی حفاظت کے لئے حرام قراردیا ہے اورچوری سے اجتناب کو عفت کی حفاظت کے لئے لازم قرار دیا ہے۔ترک زنا کا لزوم نسب کی حفاظت کے لئے ہے اور ترک لواط(۱) کی ضرورت نسل کی بقا کے لئے ہے۔گواہیوں کو انکارکے مقابلہ میں ثبوت کا ذریعہ قراردیا گیا ہے اور ترک کذب کو صدق کی شرافت کا وسیلہ ٹھہرادیا گیا ہے۔قیام امن کو خطروں سے تحفظ کے لئے رکھا گیا ہے اور امامت کو ملت کی تنظیم کاوسیلہ قراردیا گیا ہے اور پھر اطاعت کو عظمت امامت کی نشانی قراردیا گیا ہے۔

(۲۵۳)

کسی ظالم سے قسم لینا ہو تو اس طح قسم لو کہ وہ پروردگار کی طاقت اور قوت سے بیزار ہے اگر اس کا

(۱)یہ اسلام کا عالم انسانیت پر عمومی احسان ہے کہ اس نے اپنے قوانین کے ذریعہ انسانی آبادی کو بڑھانے کا انتظام کیا ہے اور پھرحرام زادوں کی درآمد کو روک دیا ہے تاکہ عالم انسانیت میں شریف افراد پیداہوں اور یہ عالم ہر قسم کی بربادی اور تباہکاری سے محفوظ رہے۔اس کے بعد اس کا صنف نسواں پر خصوصی احسان یہ ہے کہ اس نے عورت کے علاوہ جنسی تسکین کے ہر راستہ کوبند کردیا ہے۔کھلی ہوئی بات ہے کہ انسان میں جب جنسی ہیجان پیدا ہوتا ہے تو اسے عورت کی ضرورت کا احساس پیدا ہوتا ہے اور کسی بھی طرقہ سے جب وہ ہیجانی مادہنکل جاتا ہے تو کسی مقدار میں سکون حاصل ہو جاتا ہے اور جذبات کا طوفان ک جاتا ہے۔اہل دنیا نے اس مادہ کے اخراج کے مختلف طریقے ایجاد کئے ہیں۔اپنی جنس کاکوئی مل جاتا ہے تو ہم جنسی سے تسکین حاصل کر لیتے ہیں اور اگر کوئی نہیں ملتا ہے تو خود کاری کا عمل انجام دے لیتے ہیں اور اس طرح عورت کی ضرورت سے بے نیاز ہو جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج آزاد معاشروں میں عورت عضو معطل ہوکر رہ گئی ہے اور ہزار وسائل اختیارکرنے کے بعد بھی اس کے طلب گاروں کی فہرست کم سے کمتر ہوتی جارہی ہے۔اسلام نے اس خطرناک صورت حال کامقابلہ کرنے کے لئے مجامعت کے علاوہ ہر وسیلہ تسکین کو حرام کردیا تاکہ مرد عورت کے وجودسے بے نیاز نہ ہونے پائے اورعورت کاوجود معاشرہ میں غیر ضروری نہ قرار پا جائے ۔

افسوس کہ اس آزادی اور عیاشی کی ماری ہوئی دنیامیں اس پاکیزہ تصورکا قدردان کوئی نہیں ہے اور سب اسلام پر عورت کی ناقدری ہی کا الزام لگاتے ہیں ۔گویا ان کی نظر میں اسے کھولنا بنالینا اور کھیلنے کے بعد پھینک دینا ہی سب سے بڑی قدردانی ہے۔


مِنْ حَوْلِ اللَّه وقُوَّتِه فَإِنَّه إِذَا حَلَفَ بِهَا كَاذِباً عُوجِلَ - الْعُقُوبَةَ وإِذَا حَلَفَ بِاللَّه الَّذِي لَا إِلَه إِلَّا هُوَ لَمْ يُعَاجَلْ - لأَنَّه قَدْ وَحَّدَ اللَّه تَعَالَى.

۲۵۴ - وقَالَعليه‌السلام يَا ابْنَ آدَمَ كُنْ وَصِيَّ نَفْسِكَ - فِي مَالِكَ واعْمَلْ فِيه مَا تُؤْثِرُ أَنْ يُعْمَلَ فِيه مِنْ بَعْدِكَ.

۲۵۵ - وقَالَعليه‌السلام الْحِدَّةُ ضَرْبٌ مِنَ الْجُنُونِ - لأَنَّ صَاحِبَهَا يَنْدَمُ - فَإِنْ لَمْ يَنْدَمْ فَجُنُونُه مُسْتَحْكِمٌ.

۲۵۶ - وقَالَعليه‌السلام صِحَّةُ الْجَسَدِ مِنْ قِلَّةِ الْحَسَدِ.

۲۵۷ - وقَالَعليه‌السلام لِكُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ النَّخَعِيِّ - يَا كُمَيْلُ مُرْ أَهْلَكَ أَنْ يَرُوحُوا فِي كَسْبِ الْمَكَارِمِ - ويُدْلِجُوا فِي حَاجَةِ مَنْ هُوَ نَائِمٌ - فَوَالَّذِي وَسِعَ سَمْعُه الأَصْوَاتَ -

بیان صحیح نہ ہو۔کہ اگ اس طرح جھوٹی قسم کھائے گا تو فوراً مبتلائے عذاب ہو جائے گا اور اگر خدائے وحدہ لا شریک کے نام کی قسم کھائی تو عذاب میں عجلت نہ ہوگی کہ بہرحال تو حید پروردگار کا اقرار کرلیا ہے۔

(۲۵۴)

فرزند آدم ! اپنے مال میں اپناوصی خود بن اور وہ کام خود انجام دے جس کے بارے میں امید رکھتا ہے کہ لوگ تیرے بعدانجام دے دیں گے ۔

(۲۵۵)

غصہ جنون کی ایک قسم ہے کہ غصہ ورکو بعد میں پشیمان ہونا پڑتا ہے اور پشیمان نہ ہو تو واقعاً اس کا جنون مستحکم ہے۔

(۲۵۶)

بدن کی صحت کا ایک ذریعہ حسد کی قلت بھی ہے۔

(۲۵۷)

اے کمیل! اپنے گھر والوں کو حکم دو کہ اچھی خصلتوں کو تلاش کرنے کے لئے دن میں نکلیں اور سوجانے والوں کی حاجت روائی کے لئے رات میں قیام کریں۔قسم ہے اس ذات کی جو ہر آواز کی سننے والی ہے کہ


مَا مِنْ أَحَدٍ أَوْدَعَ قَلْباً سُرُوراً - إِلَّا وخَلَقَ اللَّه لَه مِنْ ذَلِكَ السُّرُورِ لُطْفاً - فَإِذَا نَزَلَتْ بِه نَائِبَةٌ جَرَى إِلَيْهَا كَالْمَاءِ فِي انْحِدَارِه - حَتَّى يَطْرُدَهَا عَنْه كَمَا تُطْرَدُ غَرِيبَةُ الإِبِلِ.

۲۵۸ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا أَمْلَقْتُمْ فَتَاجِرُوا اللَّه بِالصَّدَقَةِ.

۲۵۹ - وقَالَعليه‌السلام الْوَفَاءُ لأَهْلِ الْغَدْرِ غَدْرٌ عِنْدَ اللَّه - والْغَدْرُ بِأَهْلِ الْغَدْرِ وَفَاءٌ عِنْدَ اللَّه.

کوئی شخص کسی دل میں سرور وارد نہیں کرتا ہے مگر یہ کہ پروردگار اس کے لئے اس سرور سے ایک لطف پیداکر دیتا ہے۔کہ اس کے بعد اگر اس پر کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے ۔تو وہ لطف(۱) اس کی طرف نشیب کی جانب بہنے والے پانی کی طرح تیزی سے بڑھتا ہے اور اس مصیبت کو یوں ہنکا دیتا ہے جس طرح اجنبی اونٹ ہنکائے جاتے ہیں۔

(۲۵۸)

جب غربت کا شکار ہوجائو تو اللہ سے صدقہ کے ذریعہ تجارت(۲) کرلو(صدقہ صرف دولت مندوں کے لئے نہیں ہے )

(۲۵۹)

غداروں سے وفاداری بھی اللہ کے نزدیک ایک قسم کی غداری ہے اور غداروں سے بیوفائی ایک طرح کی وفاداری ہے۔

(۱)لطف پروردگار کا بہترین وسیلہ مومنین کے دلوں میں سرور کا داخل کرنا ہے اور ادخال سرور کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ ان کی جاجت برآری کے لئے اس وقت کا انتخاب کیا جائے جب ساری دنیا خواب غفلت میں ہو کہ اس طرح کا رخیر کرنے والے کے اخلاص میں اضافہ ہوتا ہے اور غریب وفقر انسان کی عزت وآبرو کاتحفظ ہوتا ہے اوراسے اس کارخیرسے فرحت بھی زیادہ حاصل ہوتی ہے کہ وہ دن بھر کی تگ و دو سے عاجز اور مایوس ہوکر بستر خواب کی طرف آیا ہے اور کھلی ہوئی بات ہے کہ ایسے اوقات میں کار خیرکی لذت ہی کچھ اور ہوتی ہے۔

(۲)عام طور سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ صدقہ اورکارخیر صرف بڑے لوگوں کے لئے ہے اورغریبوں کاکام صرف صدقات و خیرات کا گزارا کرنا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔دنیا میں جس طرح ہر امیر سے بڑا امیر پڑا ہوا ہے اسی طرح ہر فقیر سے بڑا فقیر بھی پایا جاتا ہے۔لہٰذا کوئی بھی انسان اگر کسی امیر کے اعتبارسے فقیر اورمحتاج خیرات ہے تو ہو سکتا ہے کہ دوسرے فقیر کے اعتبارسے دولت مند اور مطمئن تصور کیاجاتا ہولہٰذا اس کا فرض ہے کہ اپنے سے کمتر افراد پر رحم کرے تاکہ پروردگار اس کی غربت پر مزیدرحم کرے کہ غربت کے عالم میں کارخیر دولت مندوں کے کارخیر سے یقینا زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔


۲۶۰ - وقَالَعليه‌السلام كَمْ مِنْ مُسْتَدْرَجٍ بِالإِحْسَانِ إِلَيْه - ومَغْرُورٍ بِالسَّتْرِ عَلَيْه - ومَفْتُونٍ بِحُسْنِ الْقَوْلِ فِيه - ومَا ابْتَلَى اللَّه سُبْحَانَه أَحَداً بِمِثْلِ الإِمْلَاءِ لَه.

قال الرضي - وقد مضى هذا الكلام فيما تقدم - إلا أن فيه هاهنا زيادة جيدة مفيدة

(۲۶۰)

کتنے ہی لوگ ہیں جنہیں احسان کے ذریعہ عذاب کی لپیٹ میں لے لیا جاتا ہے اور وہ پردہ پوشی(۱) کی بنا پر دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں اورلوگوں کے اچھے الفاظ سن کرف ریب خوردہ ہوگئے ہیں۔اللہ نے کسی بھی شخص کا امتحان مہلت سے زیادہ بہتر کسی ذریعہ سے نہیں لیا ہے ۔

سید رضی : یہ بات پہلے گذر چکی تھی لیکن اس میں قدرے مفید اضافہ تھا اس لئے دوبارہ نقل کردی گئی ہے۔

(۱)خدا جانتا ہے کہ مالک کائنات اگرجبر کے ذریعہ انسان کو راہ راست پرلانا چاہتا تواسے طاقت استعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور کسی کے سر پر جلادوں کے مسلط کرنے کا کوئی کام نہیں تھا۔وہ صرف عیوب کی پردہ پوشی کا سلسلہ ختم کردیتا اور ایک نظام بنادیتا کہ جو انسان بھی خلوت اور تنہائی میں کوئی غلط کام انجام دے گا یا اپنے دل و دماغ میں کسی غلط تصور کوجگہ دے گا۔اس کے اس عیب کا فوری اعلان کردیا جائے گا۔اور اسے اس کی پیشانی پر لکھ دیا جائے گا۔تو سارے انسان ایک لمحہ میں شریف ہو جاتے ہیں اور نہ کسی میں غداری اورمکاری کی ہمت ہوتی اورنہ کوئی منافقت اور ریاکاری سے کام لینے کی جرأت کرتا۔ہر انسان شریف ہوتا اور معاشرہ پاکیزہ کرداروں کا معاشرہ ہوتا لیکن وہ کسی طرح کے جبرو اکراہ کو استعمال نہیں کرنا چاہتا ہے اور انسان سے اسی کی شرافت کے راستہ سے کام لینا چاہتا ہے۔ورنہ جبرو اکراہ کو استعمال کرنا ہوتا تو شیطان سے بھی سجدہ کرایا جاتا تھا اور اسے اس قدر مہلت دینے کی کوئی گنجائش نہ تھی۔


فصل

نذكر فيه شيئا من غريب كلامه المحتاج إلى التفسير

۱ - وفي حديثهعليه‌السلام

فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ ضَرَبَ يَعْسُوبُ الدِّينِ بِذَنَبِه - فَيَجْتَمِعُونَ إِلَيْه كَمَا يَجْتَمِعُ قَزَعُ الْخَرِيفِ.

قال الرضي - يعسوب الدين اليعسوب - السيد العظيم المالك لأمور الناس يومئذ - والقزع قطع الغيم التي لا ماء فيها.

۲ - وفي حديثهعليه‌السلام

هَذَا الْخَطِيبُ الشَّحْشَحُ.

يريد الماهر بالخطبة الماضي فيها - وكل ماض في كلام أو سير فهو شحشح - والشحشح في غير هذا الموضع البخيل الممسك

۳ - وفي حديثهعليه‌السلام

إِنَّ لِلْخُصُومَةِ قُحَماً.

يريد بالقحم المهالك -

فصل

اس فصل میں حضرت کے ان کلمات کو نقل کیا گیا ہے جو محتاج تفسیر تھے اور پھر ان کی تفسیر و توضیح بھی نقل کیا گیا ہے۔

(۱)

جب وہ وقت آئے گا تو دین کا یعسوب اپنی جگہ پر قرار پائے گا اور لوگ اس کے پاس اس طرح جمع ہوں گے جس طرح موسم خریف کے قزع۔

سید رضی : یعسوب اس سردار کو کہا جاتا ہے جوت مام امور کا ذمہ دار ہوتا ہے۔اور قزع بادلوں کے ان ٹکڑوں کا نام ہے جن میں پانی نہ ہو۔

(۲)

یہ خطیب شحشح ( صعصعہ بن صوحان عبدی)

شحشح اس خطیب کو کہتے ہیں جوخطابت میں ماہر ہوتا ہے اور زبان آوری یا رفتار میں تیزی سے آگے بڑھتا ہے۔اس کے علاوہ دوسرے مقامات پر شحشح بخیل اور کنجوس کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔

(۳)

لڑائی جھگڑے کے نتیجہ میں قحم ہوتے ہیں۔

قحم سے مراد تباہیاں ہیں۔کہ یہ لوگوں کی


لأنها تقحم أصحابها في المهالك والمتالف في الأكثر - فمن ذلك قحمة الأعراب - وهو أن تصيبهم السنة فتتعرق أموالهم - فذلك تقحمها فيهم - وقيل فيه وجه آخر وهو أنها تقحمهم بلاد الريف - أي تحوجهم إلى دخول الحضر عند محول البدو.

۴ - وفي حديثهعليه‌السلام

إِذَا بَلَغَ النِّسَاءُ نَصَّ الْحِقَاقِ فَالْعَصَبَةُ أَوْلَى.

والنص منتهى الأشياء ومبلغ أقصاها - كالنص في السير لأنه أقصى ما تقدر عليه الدابة - وتقول نصصت الرجل عن الأمر - إذا استقصيت مسألته عنه لتستخرج ما عنده فيه - فنص الحقاق يريد به الإدراك لأنه منتهى الصغر - والوقت الذي يخرج منه الصغير إلى حد الكبير - وهو من أفصح الكنايات عن هذا الأمر وأغربها - يقول فإذا بلغ النساء ذلك - فالعصبة أولى بالمرأة من أمها - إذا كانوا محرما مثل الإخوة والأعمام - وبتزويجها إن أرادوا ذلك -. والحقاق محاقة الأم للعصبة في المرأة - وهو الجدال والخصومة - وقول كل واحد منهما للآخر أنا أحق منك بهذا - يقال منه حاققته حقاقا مثل جادلته جدالا –

وقد قيل إن نص الحقاق بلوغ العقل وهو الإدراك - لأنهعليه‌السلام إنما أراد منتهى الأمر - الذي تجب فيه الحقوق والأحكام

ہلاکتوں میں گرادیتی ہیں اور اسی سے لفظ '' قحمتہ الاعراب '' نکلا ہے جب ایسا قحط پڑ جاتا ہے کہ جانور صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہجاتے ہیں اور گویا یہاس بلا میں ڈھکیل دئیے جاتے ہیں ۔یادوسرے اعتبارسے قحط سالی ان کی صحرائوں سے نکال کر شہروں کی طرف ڈھکیل دیتی ہے۔

(۴)

جب لڑکیاں نص الحقاق تکپ ہنچ جائیں تو ددھیالی قرابتدار زیادہ اولویت رکھتے ہیں۔

نص : آخری منزل کو کہا جاتا ہے۔

نصصت الرجل: یعنی جہاں تک ممکن تھا اس سے سوال کرلیا۔نص الحقاق سے مراد منزل ادراک ہے جو بچپنے کی آخری حد ہے اور یہاس سلسلہ کا بہترین کنایہ ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ جب لڑکیاں حد بلوغ تک پہنچ جاتیں ہیں تو ددھیالی رشتہ دار جو محرم بھی ہوں جیسے بھائی اورچچا وغیرہ وہ اس کا رشتہ کرنے کے لئے ماں کے مقابلہ میں زیادہ اولویت رکھتے ہیں۔اور حقاق سے ماں کا ان رشتہ داروں سے جھگڑا کرنا اور ہرایک کا اپنے کو زیادہ حقدار ثابت کرنا مراد ہے جس کے لئے کہا جاتا ہے '' حاققتہ حقاقا'' جادلتہ جدالا''

اوربعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نص الحقاق کمال عقل ہے جب لڑکی ادراک کی اس منزل پر ہوتی ہے جہاں اس کے ذمہ فرائض واحکام ثابت ہو جاتے ہیں اور


ومن رواه نص الحقائق - فإنما أراد جمع حقيقة.

هذا معنى ما ذكره أبو عبيد القاسم بن سلام -. والذي عندي أن المراد بنص الحقاق هاهنا - بلوغ المرأة إلى الحد الذي يجوز فيه تزويجها - وتصرفها في حقوقها - تشبيها بالحقاق من الإبل وهي جمع حقة وحق - وهو الذي استكمل ثلاث سنين ودخل في الرابعة - وعند ذلك يبلغ إلى الحد الذي يتمكن فيه - من ركوب ظهره ونصه في السير - والحقائق أيضا جمع حقة - فالروايتان جميعا ترجعان إلى معنى واحد - وهذا أشبه بطريقة العرب من المعنى المذكور أولا.

۵ - وفي حديثهعليه‌السلام

إِنَّ الإِيمَانَ يَبْدُو لُمْظَةً فِي الْقَلْبِ - كُلَّمَا ازْدَادَ الإِيمَانُ ازْدَادَتِ اللُّمْظَةُ.

واللمظة مثل النكتة أو نحوها من البياض - ومنه قيل فرس ألمظ - إذا كان بجحفلته شيء من البياض. 

جن لوگوں نے نص الحقائق نقل کیا ہے۔ان کے یہاں حقائق حقیقت کی جمع ہے۔یہ ساری باتیں ابو عبیدہ القاسم بن سلام نے بیان کی ہیں لیکن میرے نزدیک عورت کا قابل شادی اور قابل تصرف ہو جانا مراد ہے کہ حقاق حقہ کی جمع ہے اورحقہ وہ اونٹنی ہے جو چوتھے سال میں داخل ہو جائے اور اس وت سواری کے قابل ہو جاتی ہے ۔اور حقائق بھی حقہ ہی کے جمع کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور یہ مفہوم عرب کے اسلوب سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔

(۵)

ایمان ایک لمظہ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور پھر ایمان کے ساتھ یہ لمظہ بھی بڑھتا رہتا ہے ( لمظہ سفید نقطہ ہوتا ہے جو گھوڑے کے ہونٹ پر ظاہر ہوتا ہے )


۶ - وفي حديثهعليه‌السلام

إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا كَانَ لَه الدَّيْنُ الظَّنُونُ - يَجِبُ عَلَيْه أَنْ يُزَكِّيَه لِمَا مَضَى إِذَا قَبَضَه.

فالظنون الذي لا يعلم صاحبه - أيقبضه من الذي هو عليه أم لا - فكأنه الذي يظن به - فمرة يرجوه ومرة لا يرجوه - وهذا من أفصح الكلام - وكذلك كل أمر تطلبه - ولا تدري على أي شيء أنت منه فهو ظنون - وعلى ذلك قول الأعشى:

ما يجعل الجد الظنون الذي

جنب صوب اللجب الماطر

مثل الفراتي إذا ما طما

يقذف بالبوصي والماهر

والجد البئر العادية في الصحراء - والظنون التي لا يعلم هل فيها ماء أم لا.

۷ - وفي حديثهعليه‌السلام

أنَّه شَيَّعَ جَيْشاً بِغَزْيَةٍ فَقَالَ - اعْذِبُوا عَنِ النِّسَاءِ مَا اسْتَطَعْتُمْ.

(۶)

جب کسی شخص کو دین ظنون مل جائے تو جتنے سال گزرے گئے ہوں ان کی زکوٰة واجب ہے۔

ظنون اس قرض کا نام ہے جس کے قرضدار کو یہ نہ معلوم ہو کہ وہ وصول بھی ہو سکے گا یا نہیں اور اس طرح ' طرح طرح کے خیالات پیدا ہو تے رہتے ہیں اور اسی بنیاد پر ہر ایسے امر کو ظنون کہا جاتا ہے 'جیسا کہ اعشیٰ نے کہا ہے۔

''وہ جدظنون جو گرج کربرسنے والے ابر کی بارش سے بھی محروم ہو۔اسے دریائے فرات کے مانند نہیں قرار دیا جا سکتا ے جب کہ وہ ٹھاٹھیں مار رہا ہو اور کشتی اور تیراک دونوں کوڈھکیل کر باہر پھینک رہا ہو۔''

جد۔صحراکے پرانے کنویں کوکہاجاتا ہے اور ظنون اس کوکہا جاتا ہے جس کے بارے میں یہ نہ معلوم ہو کہ اس میں پانی ہے یا نہیں ۔

(۷)

آپ نے ایک لشکر کومیدان جنگ میں بھیجتے ہوئے فرمایا : جہاں تک ممکن ہو عورتوں سے عاذبرہو یعنی ان کی یاد سے دور رہو


ومعناه اصدفوا عن ذكر النساء وشغل القلب بهن - وامتنعوا من المقاربة لهن - لأن ذلك يفت في عضد الحمية - ويقدح في معاقد العزيمة ويكسر عن العدو - ويلفت عن الإبعاد في الغزو - فكل من امتنع من شيء فقد عذب عنه - والعاذب والعذوب الممتنع من الأكل والشرب.

۸ - وفي حديثهعليه‌السلام

كَالْيَاسِرِ الْفَالِجِ يَنْتَظِرُ أَوَّلَ فَوْزَةٍ مِنْ قِدَاحِه. الياسرون - هم الذين يتضاربون بالقداح على الجزور - والفالج القاهر والغالب - يقال فلج عليهم وفلجهم - وقال الراجز.

لما رأيت فالجا قد فلجا

۹ - وفي حديثهعليه‌السلام

كُنَّا إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ اتَّقَيْنَا بِرَسُولِ اللَّه -صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنَّا أَقْرَبَ إِلَى الْعَدُوِّ مِنْه.

۔ان میں دل مت لگائو اور ان سے مقاربت مت کرو کہ یہ طریقہ کار بازوئے حمیت میں کمزوری اور عزم کی پختگی میں سستی پیدا کردیتا ہے اور دشمن کے مقابلہ میں کمزور بنا دیتا ہے اور جنگ میں کوشش و سعی سے رو گردان کر دیتا ہے اورجوان تمام چیزوں سے الگ رہتا ہے اسے عاذب کہا جاتا ہے۔عاذب یا عذوب کھانے پینے سے دور رہنے والے کوبھی کہا جاتا ہے۔

(۸)

وہ اس یاسر فالج کے مانند ہے جو جوئے کے تیروں کا پانسہ پھینک کر پہلے ہی مرحلہ پر کامیابی کی امید لگا لیتا ہے '' یا سرون '' وہ لوگ ہیں جونحرکی ہوئی اونٹنی پر جوئے کے تیروں کا پانسہ پھینکتے ہیں اورفالج ان میں کامیاب ہو جانے والے کو کہا جاتا ہے '' فلج علیھم '' یا '' فلجھم'' اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب کوئی غالب آجاتا ہے 'جیسا کہ رجز خواں شاعر نے کہا ہے :

'' جب میں نے کسی فالج کو دیکھا کہ وہ کامیاب ہوگیا''

(۹)

جب احمرار باس ہوتا تھا تو ہم لوگ رسول اکرم(ص) کی(۱) پناہ میں رہا کرتے تھے اور کوئی شخص بھی آپ سے زیادہ دشمن سے قریب نہیں ہوتا تھا ''

(۱)پیغمبر اسلام (ص) کاکمال احترام ہے کہ حضرت علی جسے اشجع عرب نے آپ کے بارے میں یہ بیان دیا ہے اورآپ کی عظمت و ہیبت وشجاعت کااعلان کیا ہے ۔دوسراکوئی ہوتا تو اس کے برعکس بیان کرتا کہ میدان جنگ میں سرکار ہماری پناہ میں رہا کرتے تھے اورہم نہ ہوتے توآپ کاخاتمہ ہو جاتا لیکن امیرالمومنین جیسا صاحب کرداراس انداز کا بیان نہیں دے سکتا ہے اور نہ یہ سوچ سکتا ہے ۔آپ کی نظرمیں انسان کتنا ہی بلند کردار اورصاحب طاقت و ہمت کیوں نہ ہو جائے سرکار دو عالم (ص) کا امتی ہی شمار ہوگا اور امتی کا مرتبہ پیغمبر (ص) سے بلند تر نہیں ہو سکتا ہے۔


ومعنى ذلك أنه إذا عظم الخوف من العدو - واشتد عضاض الحرب - فزع المسلمون إلى قتال رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بنفسه - فينزل الله عليهم النصر به - ويأمنون مما كانوا يخافونه بمكانه.

وقوله إذا احمر البأس - كناية عن اشتداد الأمر - وقد قيل في ذلك أقوال - أحسنها أنه شبه حمي الحرب - بالنار التي تجمع الحرارة والحمرة بفعلها ولونها - ومما يقوي ذلك - قول رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وقد رأى مجتلد الناس - يوم حنين وهي حرب هوازن - الآن حمي الوطيس - فالوطيس مستوقد النار - فشبه رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ما استحر من جلاد القوم - باحتدام النار وشدة التهابها.

انقضى هذا الفصل ورجعنا إلى سنن الغرض الأول في هذا الباب.

۲۶۱ - وقَالَعليه‌السلام لَمَّا بَلَغَه إِغَارَةُ أَصْحَابِ مُعَاوِيَةَ عَلَى الأَنْبَارِ - فَخَرَجَ بِنَفْسِه مَاشِياً حَتَّى أَتَى النُّخَيْلَةَ - وأَدْرَكَه النَّاسُ

اس کا مطلب یہ ہے کہ جب دشمن کاخطرہ بڑھ جاتا تھا اور جنگ کی کاٹ شدید ہو جاتی تھی تو مسلمان میدان میں رسول اکرم (ص) کی پناہ تلاش کیا کرتے تھے اور آپ پر نصرت الٰہی کا نزول ہو جاتا تھا اور مسلمانوں کو امن و امان حاصل ہوجاتا تھا۔

احمر الباس درحقیقت سختی کا کنایہ ہے۔جس کے بارے میں مختلف اقوال پائے جاتے ہیں اور سب سے بہتر قول یہ ہے کہ جنگ کی تیزی اور گرمی کو آگیس تشبیہ دی گئی ہے جس میں گرمی اور سرخی دونوں ہوتی ہیں اوراس کا موید سرکار دو عالم (ص) کا یہ ارشاد ہے کہ آپ نے حنین کے دن قبیلہ بنی ہوازن کی جنگ میں لوگوں کوجنگ کرتے دیکھا تو فرمایا کہ اب وطیس گرم ہوگیا ہے یعنی آپ نے میدان کا رزار کی گرم بازاری کو آگ کے بھڑکنے اور اس کے شعلوں سے تشبیہ دی ہے۔کہ وطیس اس جگہ کوکہتے ہیں جہاں آگ بھڑکائی جاتی ہے۔

یہ فصل تمام ہوگئی اورپھر گذشتہ باب کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے ۔

(۲۶۱)

جب آپ کو اطلاع دی گئی کہ معاویہ کے اصحاب نے انبار پر حملہ کردیا ہے تو آپ بہ نفس نفیس نکل کر نخیلہ تک تشریف لے گئے اور کچھ لوگ بھی آپ کے


وقَالُوا - يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ نَحْنُ نَكْفِيكَهُمْ - فَقَالَ:

مَا تَكْفُونَنِي أَنْفُسَكُمْ - فَكَيْفَ تَكْفُونَنِي غَيْرَكُمْ - إِنْ كَانَتِ الرَّعَايَا قَبْلِي لَتَشْكُو حَيْفَ رُعَاتِهَا - وإِنَّنِي الْيَوْمَ لأَشْكُو حَيْفَ رَعِيَّتِي - كَأَنَّنِي الْمَقُودُ وهُمُ الْقَادَةُ - أَوِ الْمَوْزُوعُ وهُمُ الْوَزَعَةُ !

فلما قالعليه‌السلام هذا القول في كلام طويل - قد ذكرنا مختاره في جملة الخطب - تقدم إليه رجلان من أصحابه - فقال أحدهما إني لا أملك إلا نفسي وأخي - فمر بأمرك يا أمير المؤمنين ننقد له - فقالعليه‌السلام

وأَيْنَ تَقَعَانِ مِمَّا أُرِيدُ

۲۶۲ - وقِيلَ إِنَّ الْحَارِثَ بْنَ حَوْطٍ أَتَاه فَقَالَ - أَتَرَانِي أَظُنُّ أَصْحَابَ الْجَمَلِ كَانُوا عَلَى ضَلَالَةٍ ؟

فَقَالَعليه‌السلام يَا حَارِثُ إِنَّكَ نَظَرْتَ تَحْتَكَ ولَمْ تَنْظُرْ فَوْقَكَ

ساتھ پہنچ گئے اورکہنے لگے کہ آپ تشریف رکھیں۔ہم لوگ ان دشمنوں کے لئے کافی ہیں ۔تو آپ نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے لئے کافی نہیں ہو تو دشمن کے لئے کیا کافی ہو سکتے ہو۔تم سے پہلے رعایا حکام کے ظلم سے فریادی تھی اورآج میں رعایا کے ظلم سے فریاد کر رہا ہوں۔جیسے کہ یہی لوگ قائد ہیں اور میں رعیت ہوں۔میں حلقہ بگوش ہوں اوریہ فرمانروا۔

جس وقت آپ نے یہ کلام ارشاد فرمایا جس کا ایک حصہ خطبوں کے ذیل میں نقل کیا جا چکا ہے تو آپکے اصحاب میں سے دو افراد آگے بڑھے جن میں سے ایک نے کہا کہ میں اپنا اور اپنے بھائی کا ذمہ دار ہوں۔آپ حکم دیں ہم تعمیل کے لئے تیار ہیں آپ نے فرمایا کہ میں جو کچھ چاہتا ہوں تمہارا اس سے کیا تعلق ہے۔

(۲۶۲)

کہا جاتا ہے کہ حارث بن جوط نے آپ کے پاس آکر یہ کہا کہ کیا آپ کا یہ خیال ہے کہ میں اصحاب جمل کو گمراہ مان لوں گا ؟ تو آپ نے فرمایا کہ اے حارث! تم نے اپنے نیچے(۱) کی طرف دیکھاہے اوراوپر نہیں دیکھا ہے

(۱)یہ بات اس شخص سے کہی جاتی ہے جس کی نگاہ انتہائی محدود ہوتی ہے اورانپے زیر قدم اشیاء سے زیادہ دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے ورنہ انسان کی نگاہ بلندہو جائے تو بہت سے حقاق کا ادراک کر سکتی ہے۔حارث کا سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ اس نے صرف ام المومنین کی زوجیت پر نگاہ کی ہے اور طلحہ و زبیر کی صحابیت پر۔اورایسی محدود نگاہ رکھنے والا انسان حقاق کا ادراک نہیں کر سکتا ہے۔حقائق کا معیار قرآن و سنت ہے جس میں زوجہ کو گھرمیں بیٹھنے کی تلقین کی گئی ہے اور انسان کو بیعت شکنی سے منع کیا گیا ہے۔حقائق کامعیار کسی کی زوجیت یا صحابیت نہیں ہے ' ورنہ زوجہ نوح اور زوجہ لوط کو قابل مذمت نہ قراردیا جاتا اور اصحاب موسیٰ کی صریحی مذمت نہ کی جاتی ۔


فَحِرْتَ - إِنَّكَ لَمْ تَعْرِفِ الْحَقَّ فَتَعْرِفَ مَنْ أَتَاه ولَمْ تَعْرِفِ الْبَاطِلَ فَتَعْرِفَ مَنْ أَتَاه.

فَقَالَ الْحَارِثُ فَإِنِّي أَعْتَزِلُ مَعَ سَعِيدِ بْنِ مَالِكٍ وعَبْدِ اللَّه بْنِ عُمَرَ - فَقَالَعليه‌السلام

إِنَّ سَعِيداً وعَبْدَ اللَّه بْنَ عُمَرَ لَمْ يَنْصُرَا الْحَقَّ - ولَمْ يَخْذُلَا الْبَاطِلَ.

۲۶۳ - وقَالَ عليهلسلام صَاحِبُ السُّلْطَانِ كَرَاكِبِ الأَسَدِ - يُغْبَطُ بِمَوْقِعِه وهُوَ أَعْلَمُ بِمَوْضِعِه.

۲۶۴ - وقَالَعليه‌السلام أَحْسِنُوا فِي عَقِبِ غَيْرِكُمْ تُحْفَظُوا فِي عَقِبِكُمْ

۲۶۵ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ كَلَامَ الْحُكَمَاءِ إِذَا كَانَ صَوَاباً كَانَ دَوَاءً - وإِذَا كَانَ خَطَأً كَانَ دَاءً.

۲۶۶ - وسَأَلَه رَجُلٌ أَنْ يُعَرِّفَه الإِيمَانَ

اسی لئے حیران ہوگئے ہو۔تم حق ہی کو نہیں پہچانتے ہو تو کیا جانو کہ حقدار کون ہے اور باطل ہی کو نہیں جانتے ہو تو کیا جانو کہ باطل پرست کون ہے ۔

حارث نے کہا کہ میں سعید بن مالک اورعبداللہ بن عمر کے ساتھ گوشہ نشین ہوجائوں گا توآپنے فرمایاکہ سعید اورعبداللہ بن عمرنے نہ حق کی مدد کی ہے اورنہ ابطل کو نظر انداز کیا ہے (نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے )

(۲۶۳)

بادشاہ کا مصاحب(۱) شیرکاسوار ہوتا ہے کہ لوگ اس کے حالات پر رشک کرتے ہیں اور وہ خود اپنی حالت کو بہتر پہچانتا ہے۔

(۲۶۴)

دوسروں کے پسماندگان سے اچھا برتائو کرو تاکہ لوگ تمہارے پسماندگان کے ساتھ بھی اچھا برتائو کریں ۔

(۲۶۵)

حکماء کا کلام درست ہوتا ہے تو دوا بن جاتا ہے اور غلط ہوتا ہے تو بیماری بن جاتا ہے ۔

(۲۶۶)

ایک شخص نے آپ سے مطالبہ کیا کہ ایمان کی تعریف فرمائیں

(۱)حقیقت امر یہ ہے کہ مصاحبتکی زندگی دیکھنے میں انتہائی حسین دکھائی دیتی ہے کہ سارا امرو نہی کا نظام بظاہرمصاحب کے ہاتھ میں ہوتا ہے لیکن اسکاواقعی حیثیت کیا ہوتی ہے یہ اسی کادل جانتا ہے کہ نہ صاحب اقتدار کے مزاج کا کوئی بھروسہ ہوتاہے اور نہ مصاحبت کے عہدہ اقتدارکا۔

رب کریم ہر انسان کوایسی بلائوں سے محفوظ رکھے جن کا ظاہر انتہائی حسین ہوتا ہے اور واقع انتہائی سنگین اور خطر ناک۔


فَقَالَعليه‌السلام إِذَا كَانَ الْغَدُ - فَأْتِنِي حَتَّى أُخْبِرَكَ عَلَى أَسْمَاعِ النَّاسِ - فَإِنْ نَسِيتَ مَقَالَتِي حَفِظَهَا عَلَيْكَ غَيْرُكَ - فَإِنَّ الْكَلَامَ كَالشَّارِدَةِ يَنْقُفُهَا هَذَا ويُخْطِئُهَا هَذَا.

وقد ذكرنا ما أجابه به - فيما تقدم من هذا الباب وهو قوله - الإيمان على أربع شعب.

۲۶۷ - وقَالَعليه‌السلام يَا ابْنَ آدَمَ لَا تَحْمِلْ هَمَّ يَوْمِكَ الَّذِي لَمْ يَأْتِكَ - عَلَى يَوْمِكَ الَّذِي قَدْ أَتَاكَ - فَإِنَّه إِنْ يَكُ مِنْ عُمُرِكَ يَأْتِ اللَّه فِيه بِرِزْقِكَ.

۲۶۸ - وقَالَعليه‌السلام أَحْبِبْ حَبِيبَكَ هَوْناً مَا - عَسَى أَنْ يَكُونَ بَغِيضَكَ يَوْماً مَا - وأَبْغِضْ بَغِيضَكَ هَوْناً مَا - عَسَى أَنْ يَكُونَ حَبِيبَكَ يَوْماً مَا.

توفرمایا کہ کل آنا تومیں مجمع عام میں بیان کروں گا تاکہ تم بھول جائو تو دوسرے لوگ محفوظ رکھ سکیں۔ اس لئے کہ کلام بھڑکے ہوئے شکار کے مانند ہوتا ہے کہ ایک پکڑ لیتا ہے اورایک کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے ( مفصل جواب اس سے پہلے ایمان کے شعبوں کے ذیل میں نقل کیا جا چکا ہے )

(۲۶۷)

فرزند آدم ! اس دن کاغم جو ابھی نہیں آیا ہے اس دن پر مٹ ڈالو جوآچکا ہے۔کہ اگر وہ تمہاری عمرمیں شامل ہوگا تو اس کا رزق بھی اس کے ساتھ ہی آئے گا۔

(۲۶۸)

اپنے دوست سے ایک محدود حد تک دوستی کرو کہیں ایسا(۱) نہ کہ ایک دن دشمن ہو جائے اوردشمن سے بھی ایک حد تک دشمنی کرو شائد ایک دن دوست بن جائے ( تو شرمندگی نہ ہو)

(۱)یہ ایک انتہائی عظیم معاشرتی نکتہ ہے جس کا اندازہ ہراس انسان کو ہے جس نے معاشرہ میں آنکھ کھول کر زندگی گذاری ہے اوراندھوں جیسی زندگی نہیں گذاری ہے۔اس دنیاکے سردو گرم کا تقاضا یہی ہے کہ یہاں افراد سے ملنا بھی پڑتا ہے اور کبھی الگ بھی ہونا پڑتا ہے۔لہٰذا تقاضائے عقل مندی یہی ہے کہ زندگی میں ایسا اعتدال رکھے کہاگر الگ ہونا پڑے تو سارے اسرار دوسرے کے قبضہ میں نہ ہوں کہ اس کا غلام بن کر رہ جائے اوراگرملنا پڑے تو ایسے حالات نہ ہوں کہ شرمندگی کے علاوہ اورکچھ ہاتھ نہ آئے ۔


۲۶۹ - وقَالَعليه‌السلام النَّاسُ فِي الدُّنْيَا عَامِلَانِ - عَامِلٌ عَمِلَ فِي الدُّنْيَا لِلدُّنْيَا - قَدْ شَغَلَتْه دُنْيَاه عَنْ آخِرَتِه - يَخْشَى عَلَى مَنْ يَخْلُفُه الْفَقْرَ ويَأْمَنُه عَلَى نَفْسِه - فَيُفْنِي عُمُرَه فِي مَنْفَعَةِ غَيْرِه - وعَامِلٌ عَمِلَ فِي الدُّنْيَا لِمَا بَعْدَهَا - فَجَاءَه الَّذِي لَه مِنَ الدُّنْيَا بِغَيْرِ عَمَلٍ - فَأَحْرَزَ الْحَظَّيْنِ مَعاً ومَلَكَ الدَّارَيْنِ جَمِيعاً - فَأَصْبَحَ وَجِيهاً عِنْدَ اللَّه - لَا يَسْأَلُ اللَّه حَاجَةً فَيَمْنَعُه.

۲۷۰ - ورُوِيَ أَنَّه ذُكِرَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي أَيَّامِه - حَلْيُ الْكَعْبَةِ وكَثْرَتُه فَقَالَ قَوْمٌ:لَوْ أَخَذْتَه فَجَهَّزْتَ بِه جُيُوشَ الْمُسْلِمِينَ - كَانَ أَعْظَمَ لِلأَجْرِ ومَا تَصْنَعُ الْكَعْبَةُ بِالْحَلْيِ - فَهَمَّ عُمَرُ بِذَلِكَ وسَأَلَ عَنْه أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَعليه‌السلام - فَقَالَعليه‌السلام :

(۲۶۹)

دنیا میں دو طرح کے عمل کرنے والے پائے جاتے ہیں۔ایک وہ ہے جو دنیا میں دنیا ہی کے لئے کام کرتا ہے اوراسے دنیا نے آخرت سے غافل بنادیا ہے وہ اپنے بعد والوں(۱) کے فقرسے خوفزدہ رہتا ہے اور اپنے بارے میں بالکل مطمئن رہتا ہے ۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ساری زندگی دوسروں کے فائدہ کے لئے فنا کر دیتا ہے۔اور ایک شخص وہ ہوتا ہے جو دنیا میں اس کے بعد کے لئے عمل کرتا ہے اوراسے دنیا بغیر عمل کے مل جاتی ہے۔وہ دنیا و آخرت دونوں کو پالیتا ہے اوردونوں گھروں کامالک ہو جاتا ہے ۔ خدا کی بارگاہ میں سر خرو ہوجاتا ہے اور کسی بھی حاجت کاسوال کرتا ہ تو پروردگار اسے پورا کردیتا ہے۔

(۲۷۰)

روایت میں وارد ہوا ہے کہ عمر بن الخطاب کے سامنے ان کے دور حکومت میں خانۂ کعبہ کے زیورات اوران کی کثرت کا ذکر کیا گیا اور ایک قوم نے یہ تقاضا کیا کہ اگر آپ ان زیورات کو مسلمانوں کے لشکر پرصرف کردیں تو بہت بڑا اجرو ثواب ملے گا،کعبہ کو ان زیورات کی کیا ضرورت ہے؟تو انہوں نے اس رائے کو پسند کرتے ہوئے حضرت امیر سے دریافت کرلیا۔آپ نے فرمایا

(۱)دور قدیم میں اس کا نام دور اندیشی رکھا جاتاتھا جہاں انسان صبح و شام محنت کرنے کے باوجود نہ مال اپنی دنیا پر صرف کرتا تھا اور نہ آخرت پر۔بلکہ اپنے وارثوں کے لئے ذخیرہ بنا کر چلا جاتا تھا اس غریب کو یہ احساس بھی نہیں تھاکہ جب اسے خود اپنی عاقبت بنانے کی فکر نہیں ہے تو ورثاء کو اس کی عاقبت سے کیادلچسپی ہوسکتی ہے۔وہ تو ای کمال غنیمت کے مالک ہوگئے ہیں اور جس طرح چاہیں گے اسی طرح صرف کریں گے ۔


إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - والأَمْوَالُ أَرْبَعَةٌ أَمْوَالُ الْمُسْلِمِينَ - فَقَسَّمَهَا بَيْنَ الْوَرَثَةِ فِي الْفَرَائِضِ - والْفَيْءُ فَقَسَّمَه عَلَى مُسْتَحِقِّيه - والْخُمُسُ فَوَضَعَه اللَّه حَيْثُ وَضَعَه - والصَّدَقَاتُ فَجَعَلَهَا اللَّه حَيْثُ جَعَلَهَا - وكَانَ حَلْيُ الْكَعْبَةِ فِيهَا يَوْمَئِذٍ - فَتَرَكَه اللَّه عَلَى حَالِه - ولَمْ يَتْرُكْه نِسْيَاناً ولَمْ يَخْفَ عَلَيْه مَكَاناً - فَأَقِرَّه حَيْثُ أَقَرَّه اللَّه ورَسُولُه - فَقَالَ لَه عُمَرُ لَوْلَاكَ لَافْتَضَحْنَا - وتَرَكَ الْحَلْيَ بِحَالِه.

۲۷۱ - رُوِيَ أَنَّهعليه‌السلام رُفِعَ إِلَيْه رَجُلَانِ سَرَقَا مِنْ مَالِ اللَّه - أَحَدُهُمَا عَبْدٌ مِنْ مَالِ اللَّه - والآخَرُ مِنْ عُرُوضِ النَّاسِ.

فَقَالَعليه‌السلام أَمَّا هَذَا فَهُوَ مِنْ مَالِ اللَّه ولَا حَدَّ عَلَيْه - مَالُ اللَّه أَكَلَ بَعْضُه بَعْضاً -

کہ یہ قرآن پیغمبر اسلام (ص) پر نازل ہواہے اور آپ کے دورمیں اموال کی چار قسمیں تھیں۔ایک مسلمان کاذاتی مال تھا جسے حسب فرائض و رثاء میں تقسیم کردیا کرتے تھے ۔ایک بیت المال کامال تھاجسے مستحقین میں تقسیم کرتے تھے ۔ایک خمس تھا جسے اس کے حقداروں کے حوالہ کردیتے تھے ۔اور کچھ صدقات تھے جنہیں انہیں کے محل پر صرف کیاکرتے تھے ۔کعبہ کے زیورات اس وقت بھی موجود تھے اورپروردگار نے انہیں اسی حالت میں چھوڑ رکھا تھا۔نہ رسول اکرم (ص) انہیں بھولے تھے اور نہان کا وجود آپ سے پوشیدہ تھا۔لہٰذا انہیں اسی حالت پر رہنے دیں جس حالت پرخدا(۱) اور رسول(ص) نے رکھا ہے۔ یہ سننا تھا کہ عمر نے کہا آج اگر آپ نہ ہوتے تو میں رسوا ہوگیا ہوتا اور یہ کہہ کر زیورات کو ان کی جگہ چھوڑ دیا۔

(۲۷۱)

کہا جاتا ہے کہ آپ کے سامنے دو آدمیوں کوپیش کیا گیا جنہوں نے بیت المال سے مال چرایا تھا ایک ان میں سے غلام اور بیت المال کی ملکیت تھا اور دوسرا لوگوں میں سے کسی کی ملکیت تھا۔آپ نے فرمایا کہ جو بیت المال کی ملکیت ہے اس پر کوئی حد نہیں ہے کہ مال خداکے ایک حصہ نے دوسرے حصہ کو کھالیا ہے۔ لیکن

(۱)یہ صورت حال بظاہر خانہ کعبہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام مقدس مقامات کایہی حال ہے کہ ان کے زینت و آرائش کے اسباب اگرضروری ہیں توان کا تحفظ بھی ضروری ہے۔لیکن اگر ان کی کوئی افادیت نہیں ہے توان کے بارے میں ذمہ دار ان شریعت سے رجوع کرکے صحیح مصرف میں لگا دینا چاہیے۔بقول شخصے بجلی کے دورمیں موم بتی اورخوشبو کے دورمیں اگر بتی کے تحفظ کی کوئی ضرورت نہیں ہے یہی پیسہ اسی مقدس مقام کے دیگر ضرورت پر صرف کیا جا سکتا ہے۔


وأَمَّا الآخَرُ فَعَلَيْه الْحَدُّ الشَّدِيدُ فَقَطَعَ يَدَه.

۲۷۲ - وقَالَ عليهلامي لَوْ قَدِ اسْتَوَتْ قَدَمَايَ مِنْ هَذِه الْمَدَاحِضِ لَغَيَّرْتُ أَشْيَاءَ.

۲۷۳ - وقَالَعليه‌السلام اعْلَمُوا عِلْماً يَقِيناً أَنَّ اللَّه لَمْ يَجْعَلْ لِلْعَبْدِ - وإِنْ عَظُمَتْ حِيلَتُه واشْتَدَّتْ طَلِبَتُه - وقَوِيَتْ مَكِيدَتُه – أَكْثَرَ مِمَّا سُمِّيَ لَه فِي الذِّكْرِ الْحَكِيمِ - ولَمْ يَحُلْ بَيْنَ الْعَبْدِ فِي ضَعْفِه وقِلَّةِ حِيلَتِه - وبَيْنَ أَنْ يَبْلُغَ مَا سُمِّيَ لَه فِي الذِّكْرِ الْحَكِيمِ - والْعَارِفُ لِهَذَا الْعَامِلُ بِه - أَعْظَمُ النَّاسِ رَاحَةً فِي مَنْفَعَةٍ - والتَّارِكُ لَه الشَّاكُّ فِيه - أَعْظَمُ النَّاسِ شُغُلًا فِي مَضَرَّةٍ - ورُبَّ مُنْعَمٍ عَلَيْه مُسْتَدْرَجٌ بِالنُّعْمَى - ورُبَّ مُبْتَلًى مَصْنُوعٌ لَه بِالْبَلْوَى - فَزِدْ أَيُّهَا الْمُسْتَنْفِعُ فِي شُكْرِكَ -

دوسرے پر شدید حد جاری کی جائے گی۔جس کے بعد اس کے ہاتھ کاٹ دئیے گئے۔

(۲۷۲)

اگر ان پھسلنے والی جگہوں پر میرے قدم جم گئے تو میں بہت سی چیزوں کو بدل دوں گا(جنہیں پیشر و خلفاء نے ایجاد کیا ہے اور جن کا سنت پیغمبر (ص) سے کوئی تعلق نہیں ہے )

(۲۷۳)

یہ بات یقین کے ساتھ جان لو کہ پروردگار نے کسی بندہ کے لئے اس سے زیادہ نہیں قرار دیا ہے جتنا کتاب حکیم میں بیان کردیا گیا ہے چاہے اس کی تدبیر کتنی ہی عظیم ' اس کی جستجو کتنی ہی شدید اور اس کی ترکیبیں کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔اور اسی طرح وہ بندہ تک اس کامقسوم پہنچنے کی راہمیں کبھی حائل نہیں ہوتا ہے چاہے وہ کتنا ہی کمزور اور بیچارہ کیوں نہ ہو۔جو اس حقیقت کو جانتا ہے اوراس کے مطابق عمل کرتا ہے وہی سب سے زیادہ راحت اور فائدہ میں رہتا ہے اورجواس حقیقت کو نظرانداز کر دیتا ہے اور اس میں شک کرتا ہے ' وہی سب سے زیادہ نقصان میں مبتلا ہوتا ہے۔کتنے ہی افراد ہیں جنہیں نعمتیں دی جاتی ہیں اور انہیں کے ذریعہ عذاب کی لپیٹ میں لے لیا جاتا ہے۔اور کتنے ہی افراد ہیں جومبتلائے مصیبت ہوتے ہیں لیکن یہی ابتلاء ان کے حق میں باعث برکت بن جاتی ہے ۔لہٰذا اے فائدہ کے طلب گارو! اپنے لشکر میں اضافہ کرو


وقَصِّرْ مِنْ عَجَلَتِكَ - وقِفْ عِنْدَ مُنْتَهَى رِزْقِكَ.

۲۷۴ - وقَالَعليه‌السلام لَا تَجْعَلُوا عِلْمَكُمْ جَهْلًا ويَقِينَكُمْ شَكَّاً - إِذَا عَلِمْتُمْ فَاعْمَلُوا وإِذَا تَيَقَّنْتُمْ فَأَقْدِمُوا.

اور اپنی جلدی کم کردو اور اپنے رزق کی حدوں پر ٹھہر جائو

(۲۷۴)

خبردار! اپنے علم کو جہل نہ بنائو اور اپنے یقین کو شک نہ قرار دو۔

جب جان لو تو عمل(۱) کرو اور جب یقین ہوجائے تو قدم آگے بڑھائو۔

(۱)امام علیہ السلام کی نظرمیں علم اور یقین کے ایک مخصوص معنی ہیں جن کااظہار انسان کے کردار سے ہوتا ہے ۔آپ کی نگاہ میں علم صرف جاننے کا نام نہیں ہے اور نہ یقین صرف اطمینان قلب کا نام ہے بلکہ دونوں کے وجود کا ایک فطری تقاضا ہے جس سے ان کی واقعیت اور اصالت کا اندازہ ہوتا ہے کہ انسان واقعاً جب علم ہے تو باعمل بھی ہوگا اور واقعاً صاحب یقین ہے تو قدم بھی آگے بڑھائے گا۔ایسا نہ ہوتو علم جہل کہے جانے کے قابل ہے اور یقین شک سے بالا تر نہیں ہے۔


۲۷۵ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ الطَّمَعَ مُورِدٌ غَيْرُ مُصْدِرٍ وضَامِنٌ غَيْرُ وَفِيٍّ - ورُبَّمَا شَرِقَ شَارِبُ الْمَاءِ قَبْلَ رِيِّه - وكُلَّمَا عَظُمَ قَدْرُ الشَّيْءِ الْمُتَنَافَسِ فِيه - عَظُمَتِ الرَّزِيَّةُ لِفَقْدِه - والأَمَانِيُّ تُعْمِي أَعْيُنَ الْبَصَائِرِ - والْحَظُّ يَأْتِي مَنْ لَا يَأْتِيه.

۲۷۶ - وقَالَعليه‌السلام اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ - مِنْ أَنْ تُحَسِّنَ فِي لَامِعَةِ الْعُيُونِ عَلَانِيَتِي - وتُقَبِّحَ فِيمَا أُبْطِنُ لَكَ سَرِيرَتِي - مُحَافِظاً عَلَى رِثَاءِ النَّاسِ مِنْ نَفْسِي - بِجَمِيعِ مَا أَنْتَ مُطَّلِعٌ عَلَيْه مِنِّي - فَأُبْدِيَ لِلنَّاسِ حُسْنَ ظَاهِرِي - وأُفْضِيَ إِلَيْكَ بِسُوءِ عَمَلِي - تَقَرُّباً إِلَى عِبَادِكَ وتَبَاعُداً مِنْ مَرْضَاتِكَ.

(۲۷۵)

لالچ جہاں وارد کردیتی ہے وہاں سے نکلنے نہیں دیتی ہے اور یہ ایک ایسی ضمانت(۱) دار ہے جو وفادار نہیں ہے۔کہ کبھی کبھی تو پانی پینے والے کو سیرابی سے پہلے ہی اچھو لگ جاتا ہے اورجس قدر کسی مرغوب چیزکی قدر و منزلت زیادہ ہوتی ہے اس کے کھوجانے کا رنج زیادہ ہوتا ہے۔آرزوئیں دیدہ بصیرت کو اندھا بنا دیتی ہیں اور جوکچھ نصیب میں ہوتا ہے وہ بغیر کوشش کے بھی مل جاتا ہے۔

(۲۷۶)

خدایا(۲) میں اس بات سے پناہ چاہتا ہوں کہ لوگوں کی ظاہری نگاہ میں میرا ظاہرحسین ہو اور جو باطن تیرے لئے چھپائے ہوئے ہوں وہ قبیح ہو۔میں لوگوں کے دکھاوے کے لئے ان چیزوں کی نگہداشت کروں جن پر تو اطلاع رکھتا ہے کہ لوگوں پر حسن ظاہر کا مظاہرہ کروں اورتیری بارگاہ میں بدترین عمل کے ساتھ حاضری دوں۔تیرے بندوں سے قربت اختیار کروں اور تیری مرضی سے دورہو جائوں۔

(۱)لالچ انسان کو ہزاروں چیزوں کا یقین دلا دیتی ہے اور اس سے وعدہ بھی کرلیتی ہے لیکن وقت پر وفا نہیں کرتی ہے اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ سیراب ہونے سے پہلے ہی اچھو لگ جاتا ہے اور سیراب ہونے کی نوبت ہی نہیں آتی ہے۔لہٰذا تقاضائے عقل و دانش یہی ہے کہ انسان لالچ سے اجتناب کرے اور بقدر ضرورت پر اکتفا کرے جو بہرحال اسے حاصل ہونے والا ہے۔

(۲)عام طور سے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ عوام الناس کے سامنے آنے کے لئے اپنے ظاہر کو پاک و پاکیزہ اورحسین و جمیل بنا لیتے ہیں اور یہ خیال ہی نہیں رہ جاتا ہے کہ ایک دن اس کابھی سامنا کرنا ہے جو ظاہر کونہیں دیکھتا ہے بلکہ باطن پر نگاہ رکھتا ہے اور اسرار کابھی حساب کرنے والا ہے ۔

مولائے کائنات نے عالم انسانیت کواسی کمزوری کی طرف متوجہ کرنے کے لئے اس دعاکا لہجہ اختیار کیا ہے جہاں دوسروں پر براہ راست تنقید بھی نہ ہو اور اپنا پیغام بھی تمام افراد تک پہنچ جائے شائد انسانوں کو یہ احساس پیدا ہو جائے کہ عوام الناس کا سامناکرنے سے زیادہ اہمیت مالک کے سامنے جانے کی ہے اور اس کے لئے باطل کا پاک و صاف رکھنا بے حد ضروری ہے۔


۲۷۷ - وقَالَعليه‌السلام : لَا والَّذِي أَمْسَيْنَا مِنْه فِي غُبْرِ لَيْلَةٍ دَهْمَاءَ - تَكْشِرُ عَنْ يَوْمٍ أَغَرَّ مَا كَانَ كَذَا وكَذَا.

۲۷۸ - وقَالَعليه‌السلام قَلِيلٌ تَدُومُ عَلَيْه أَرْجَى مِنْ كَثِيرٍ مَمْلُولٍ مِنْه.

۲۷۹ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا أَضَرَّتِ النَّوَافِلُ بِالْفَرَائِضِ فَارْفُضُوهَا.

۲۸۰ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ تَذَكَّرَ بُعْدَ السَّفَرِ اسْتَعَدَّ.

۲۸۱ - وقَالَعليه‌السلام لَيْسَتِ الرَّوِيَّةُ كَالْمُعَايَنَةِ مَعَ الإِبْصَارِ - فَقَدْ تَكْذِبُ الْعُيُونُ أَهْلَهَا -

(۲۷۷)

اس ذات کی قسم جس کی بدولت ہم نے شب تاریک کے اس باقی حصہ کوگزار دیا ہے جس کے چھٹتے ہی روز درخشاں ظاہر ہوگا ایسا اور ایسا نہیں ہو ہے ۔

(۲۷۸)

تھوڑا عمل جسے پابندی سے انجام دیاجائے اس کثیر عمل سے بہتر ہے جس سے آدمی اکتاجائے ۔

(۲۷۹)

جب(۱) نوافل فرائض کو نقصان پہنچانے لگیں توانہیں چھوڑ دو۔

(۲۸۰)

جو دوری سفرکو یادرکھتا ہے وہ تیاری بھی کرتا ہے۔

(۲۸۱)

آنکھوں کا دیکھنا حقیقت میں دیکھنا شمار نہیں ہوتا ہے کہ کبھی کبھی آنکھیں اپنے اشخاص کودھوکہ دے

(۱)تقدس مآب حضرا ت کے لئے یہ بہترین نسخہ ہدایت ہے جو اجتماعی اور عوامی فرائض سے غافل ہوکرمستحباب پر جان دئیے پڑے رہتے ہیں اور اپنی ذمہداریوں کا احساس نہیں کرتے ہیں اور اسی طرح یہ ان صاحبان ایمان کے لئے سامان تنبیہ ہے جو مستحباب کی کوئی حیثیت نہیں ہے جن سے واجبات متاثر ہوجائیں اور انسان فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کا شکار ہوجائے ۔


ولَا يَغُشُّ الْعَقْلُ مَنِ اسْتَنْصَحَه.

۲۸۲ - وقَالَعليه‌السلام بَيْنَكُمْ وبَيْنَ الْمَوْعِظَةِ حِجَابٌ مِنَ الْغِرَّةِ

۲۸۳ - وقَالَعليه‌السلام جَاهِلُكُمْ مُزْدَادٌ وعَالِمُكُمْ مُسَوِّفٌ

۲۸۴ - وقَالَعليه‌السلام قَطَعَ الْعِلْمُ عُذْرَ الْمُتَعَلِّلِينَ.

۲۸۵ - وقَالَعليه‌السلام كُلُّ مُعَاجَلٍ يَسْأَلُ الإِنْظَارَ - وكُلُّ مُؤَجَّلٍ يَتَعَلَّلُ بِالتَّسْوِيفِ

۲۸۶ - وقَالَعليه‌السلام مَا قَالَ النَّاسُ لِشَيْءٍ طُوبَى لَه

دیتی ہیں لیکن عقل(۱) نصیحت حاصل کرنے والے کو فریب نہیں دیتی ہے۔

(۲۸۲)

تمہارے اور نصیحت کے درمیان غفلت کا ایک پردہ حائل رہتا ہے۔

(۲۸۳)

تمہارے جاہلوں کو دولت فراواں دے دی جاتی ہے اور عالم کو صرف مستقبل کی امید دلائی جاتی ہے۔

(۲۸۴)

علم ہمیشہ بہانہ بازوں(۲) کے عذر کو ختم کردیتا ہے۔

(۲۸۵)

جس کی موت جلدی آجاتی ہے وہ مہلت کا مطالبہ کرتا ہے اورجسے مہلت مل جاتی ہے وہ ٹال مٹول کرتا ہے۔

(۲۸۶)

جب بھی لوگ کسی چیز پر واہ واہ کرتے ہیں تو

(۱)انسانی علم کے تین وسائل ہیں ۔ایک اس کا ظاہری احساس و ادراک ہے اور ایک اس کی عقل ہے جس پر تمام عقلاء بشر کا اتفاق ہے اور تیسرا راستہ وحی الٰہی ہے جسپر صاحبان ایمان کا ایمان ہے اور بے ایمان اس وسیلہ ادراک سے محروم ہیں۔ان تینوں میں اگرچہ وحی کے بارے میں خطا کا کوئی امکان نہیں ہے اور اس اعتبارسے اس کا مرتبہ سب سے افضل ہے لیکن خود وحی کا ادراک بھی عقل کے بغیر ممکن نہیں ہے اوراس اعتبار سے عقل کامرتبہ ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کتب احادیث میں کتاب العقل کو سب سے پہلے قراردیا گیا ہے اور اس طرح اس کی بنیادی حیثیت کا اعلان کیا گیا ہے ۔

(۲)اگر انسان واقعاً عالم ہے تو علم کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے مطاق عمل کرے اور کسی طرح کی بہانہ بازی سے کام نہ لے جس طرح کہ درباری اور سیاسی علماء دیدہ و دانستہ حقائق سے انحراف کرتے ہیں اور دنیاوی مفادات کی خاطر اپنے عل کا ذبیحہ کردیتے ہیں ۔ایسے لوگقاتل اور رہزن کہے جانے کے قابل ہوتے ہیں۔عالم اور فاضل کہے جانے کے لائق نہیں ہیں ۔


إِلَّا وقَدْ خَبَأَ لَه الدَّهْرُ يَوْمَ سَوْءٍ.

۲۸۷ - وسُئِلَ عَنِ الْقَدَرِ - فَقَالَ طَرِيقٌ مُظْلِمٌ فَلَا تَسْلُكُوه - وبَحْرٌ عَمِيقٌ فَلَا تَلِجُوه - وسِرُّ اللَّه فَلَا تَتَكَلَّفُوه.

۲۸۸ - وقَالَعليه‌السلام : إِذَا أَرْذَلَ اللَّه عَبْداً حَظَرَ عَلَيْه الْعِلْمَ.

۲۸۹ - وقَالَعليه‌السلام : كَانَ لِي فِيمَا مَضَى أَخٌ فِي اللَّه - وكَانَ يُعْظِمُه فِي عَيْنِي صِغَرُ الدُّنْيَا فِي عَيْنِه - وكَانَ خَارِجاً مِنْ سُلْطَانِ بَطْنِه - فَلَا يَشْتَهِي مَا لَا يَجِدُ ولَا يُكْثِرُ إِذَا وَجَدَ -

زمانہ اس کے واسطے ایک برا دن چھپا کر رکھتا ہے۔

(۲۸۷)

آپ سے قضا و قدرکے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ یہ ایک تاریک راستہ ہے اس پرمت چلو اورایک گہرا سمندر ہے اس میں داخل ہونے کی کوشش نہ کرو اورایک راز الٰہی ہے لہٰذا اسے(۱) معلوم کرنے کی زحمت نہ کرو۔

(۲۸۸)

جب پروردگار کسی بندہ کو ذلیل کرنا چاہتا ہے تو اسے علم و دانش سے محروم کردیتا ہے۔

(۲۸۹)

گذشتہ زمانہ میں میرا ایک بھائی تھا۔جس کی عظمت میری نگاہوں میں اس لئے تھی کہ دنیا اس کی نگاہوں(۲) میں حقیر تھی اور اس پر پیٹ کی حکومت نہیں تھی۔جو چیز نہیں ملتی تھی اس کی خواہش نہیں کرتا تھا اور جو مل جاتی تھی اسے زیادہ استعمال نہیں کرتاتھا۔اکثر

(۱)اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اسلام کسی بھی موضوع کے بارے میں جہالت کا طرفدار ہے اور نہ جاننے ہی کو افضلیت عطا کرتا ہے۔بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اکثر لوگ ان حقائق کے متحمل نہیں ہوتے ہیں۔لہٰذا انسان کو انہیں چیزوں کا علم حاصل کرنا چاہیے جواس کے لئے قابل تحمل و برداشت ہو۔ اس کے بعد اگر حدود تحمل سے باہر ہو تو پڑھ لکھ کر بہک جانے سے نا واقف رہنا ہی بہترہے۔

(۲)بعض حضرات کاخیال ہے کہ یہ واقعاً کسی شخصیت کی طرف اشارہ ہے جس کے حالات و کیفیات کا اندازہ نہیں ہو سکا ہے اوربعض حضرات کاخیال ہے کہ یہ ایک آئیڈیل اور مثالیہ کی نشاندہی ہے کہ صاحب ایمان کو اسی کردار کا حامل ہونا چاہیے اور اگر ایسا نہیں ہے تو اسی راستہ پر چلنے کی کوشش کرنا چاہیے تاکہ اس کاشمار واقعاً صاحبان ایمان و کردار میں ہو جائے ۔


وكَانَ أَكْثَرَ دَهْرِه صَامِتاً - فَإِنْ قَالَ بَذَّ الْقَائِلِينَ ونَقَعَ غَلِيلَ السَّائِلِينَ - وكَانَ ضَعِيفاً مُسْتَضْعَفاً - فَإِنْ جَاءَ الْجِدُّ فَهُوَ لَيْثُ غَابٍ وصِلُّ وَادٍ - لَا يُدْلِي بِحُجَّةٍ حَتَّى يَأْتِيَ قَاضِياً - وكَانَ لَا يَلُومُ أَحَداً - عَلَى مَا يَجِدُ الْعُذْرَ فِي مِثْلِه حَتَّى يَسْمَعَ اعْتِذَارَه - وكَانَ لَا يَشْكُو وَجَعاً إِلَّا عِنْدَ بُرْئِه - وكَانَ يَقُولُ مَا يَفْعَلُ ولَا يَقُولُ مَا لَا يَفْعَلُ - وكَانَ إِذَا غُلِبَ عَلَى الْكَلَامِ لَمْ يُغْلَبْ عَلَى السُّكُوتِ - وكَانَ عَلَى مَا يَسْمَعُ أَحْرَصَ مِنْه عَلَى أَنْ يَتَكَلَّمَ - وكَانَ إِذَا بَدَهَه أَمْرَانِ - يَنْظُرُ أَيُّهُمَا أَقْرَبُ إِلَى الْهَوَى - فَيُخَالِفُه فَعَلَيْكُمْ بِهَذِه الْخَلَائِقِ فَالْزَمُوهَا وتَنَافَسُوا فِيهَا - فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِيعُوهَا - فَاعْلَمُوا أَنَّ أَخْذَ الْقَلِيلِ خَيْرٌ مِنْ تَرْكِ الْكَثِير.

۲۹۰ - وقَالَعليه‌السلام لَوْ لَمْ يَتَوَعَّدِ اللَّه عَلَى مَعْصِيَتِه - لَكَانَ يَجِبُ أَلَّا يُعْصَى شُكْراً لِنِعَمِه.

۲۹۱ - وقَالَعليه‌السلام وقَدْ عَزَّى الأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ عَنِ ابْنٍ لَه.

اوقات خاموش رہا کرتا تھا اور اگر بولتا تھا تو تمام بولنے والوں کو چپ کردیتا تھا۔سائلوں کی پیاس کو بجھادیتا تھا اوربظاہر عاجز اور کمزور تھا لیکن جب جہاد کاموقع آجاتاتھا توایک شیر بیشہ شجاعت اور اژدروادی ہو جایا کرتاتھا جب تک عذرسن نہ لے۔کسی درد کی شکایت نہیں کرتا تھا جب تک اس سے صحت نہ حاصل ہوجائے۔جو کرتا تھا وہی کہتا تھا اور جو نہیں کرسکتا تھا وہ کہتا بھی نہیں تھا۔اگر بولنے میں اس پرغلبہ حاصل بھی کرلیا جائے تو سکوت میں کوئی اس پر غالب نہیں آسکتاتھا۔وہ بولنے سے زیادہ سننے کاخواہشمند رہتا تھا۔جب اس کے سامنے دو طرح کی چیزیں آتی تھیں اورایک خواہش سے قریب تر ہوتی تھی تو اسی کی مخالفت کرتاتھا۔لہٰذا تم سب بھی انہیں اخلاق کو اختیار کرو اور انہیں کی فکر کرواوراگرنہیں کرس کتے ہو تو یاد رکھو کہ قلیل کا اختیارکرلیناکثیر کی ترک کردینے سے بہر حال بہتر ہوتا ہے۔

(۲۹۰)

اگر خدا نا فرمانی پر عذاب کی وعید(۱) نہ بھی کرتا جب بھی ضرورتھی کہ شکرنعمت کی بنیاد پر اس کی نا فرمانی نہ کی جائے ۔

(۲۹۱)

اشعث بن قیس کو اس کے فرزند کا پرسہ دیتے ہوئے فرمایا۔اشعث ! اگر تم اپنے فرزند کے غم میں محزون

(۱)ضرورت نہیں ہے کہ انسان صرف عذاب کے خوف سے محرمات سے پرہیز کرے بلکہ تقاضائے شرافت یہ ہے کہ نعمت پروردگار کا احساس پیداکرکے اس کی دی ہوئی نعمتوں کو حرام میں صرف کرنے سے اجتناب کرے۔


يَا أَشْعَثُ إِنْ تَحْزَنْ عَلَى ابْنِكَ - فَقَدِ اسْتَحَقَّتْ مِنْكَ ذَلِكَ الرَّحِمُ - وإِنْ تَصْبِرْ فَفِي اللَّه مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ خَلَفٌ - يَا أَشْعَثُ إِنْ صَبَرْتَ - جَرَى عَلَيْكَ الْقَدَرُ وأَنْتَ مَأْجُورٌ - وإِنْ جَزِعْتَ جَرَى عَلَيْكَ الْقَدَرُ وأَنْتَ مَأْزُورٌ - يَا أَشْعَثُ ابْنُكَ سَرَّكَ وهُوَ بَلَاءٌ وفِتْنَةٌ - وحَزَنَكَ وهُوَ ثَوَابٌ ورَحْمَةٌ.

۲۹۲ - وقَالَعليه‌السلام عَلَى قَبْرِ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - سَاعَةَ دَفْنِه.

إِنَّ الصَّبْرَ لَجَمِيلٌ إِلَّا عَنْكَ - وإِنَّ الْجَزَعَ لَقَبِيحٌ إِلَّا عَلَيْكَ - وإِنَّ الْمُصَابَ بِكَ لَجَلِيلٌ وإِنَّه قَبْلَكَ وبَعْدَكَ لَجَلَلٌ

۲۹۳ - وقَالَعليه‌السلام لَا تَصْحَبِ الْمَائِقَ - فَإِنَّه

ہو تو یہ اس کی قرابت(۱) کاحق ہے لیکن اگر صبر کرلو تو اللہ کے یہاں ہرمصیبت کا ایک اجر ہے۔

اشعث ! اگر تم نے صبر کرلیا تو قضا و قدر الٰہی اس عالم میں جاری ہوگی کہ تم اجرکے حقدار ہوگے اور اگر تم نے فریاد کی تو قدر الٰہی اس عالم میں جاری ہوگی کہ تم پر گناہ کابوجھ ہوگا۔

اشعث ! تمہارے لئے بیٹا مسرت کا سبب تھا جب کہ وہ ایک آزمائش اور امتحان تھا اور حزن کا باعث ہوگیا ہے جب کہ اس میں ثواب اور رحمت ہے۔

(۲۹۲)

پیغمبر اسلام (ص) کے دفن کے وقت قبر کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا :

صبر عام طور سے بہترین چیز ہے(۲) مگر آپ کی مصیبت کے علاوہ ۔اور پریشانی و بے قراری بری چیز ہے لیکن آپ کی وفات کے علاوہ آپ کی مصیبت بڑی عظیم ہے اورآپ سے پہلے اور آپ کے بعد ہر مصیبت آسان ہے۔

(۲۹۳)

بیوقوف کی صحبت مت اختیار کرنا کہ وہ اپنے

(۱)یہ اس بات کی علامت ہے کہ بیٹے کے ملنے پر مسرت بھی ایک فطری امر ہے اور اس کے چلے جانے پرحزن و الم بھی ایک فطری تقاضا ہے لیکن انسان کی عقل کا تقاضا یہ ہے کہ مسرت میں امتحان کو نظر انداز نہ کرے اور غم کے ماحول میں اجرو ثواب سے غافل نہ ہو جائے ۔

(۲)اس کا مطب یہ نہیں کہ صبر یا جزع و فزع کی دو قسمیں ہیں اوروہ کبھی جمیل ہوت ہے اورکبھی غیر جمیل۔بلکہ یہ مصیبت پیغمبر اسلام (ص) کی عظمت کی طرف اشارہ ہے کہ اس موقع پر صبر کا امکان ہی نہیں ہے جس طرف دوسرے مصائب میں جزع و فزع کاکوئی جواز نہیں ہے اور انسان کواسے برداشت ہی کرلینا چاہیے۔


يُزَيِّنُ لَكَ فِعْلَه ويَوَدُّ أَنْ تَكُونَ مِثْلَه.

۲۹۴ - وقَدْ سُئِلَ عَنْ مَسَافَةِ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ والْمَغْرِبِ - فَقَالَعليه‌السلام مَسِيرَةُ يَوْمٍ لِلشَّمْسِ.

۲۹۵ - وقَالَعليه‌السلام أَصْدِقَاؤُكَ ثَلَاثَةٌ وأَعْدَاؤُكَ ثَلَاثَةٌ.فَأَصْدِقَاؤُكَ صَدِيقُكَ - وصَدِيقُ صَدِيقِكَ وعَدُوُّ عَدُوِّكَ - وأَعْدَاؤُكَ عَدُوُّكَ - وعَدُوُّ صَدِيقِكَ وصَدِيقُ عَدُوِّكَ.

۲۹۶ - وقَالَعليه‌السلام لِرَجُلٍ رَآه يَسْعَى عَلَى عَدُوٍّ لَه - بِمَا فِيه إِضْرَارٌ بِنَفْسِه - إِنَّمَا أَنْتَ كَالطَّاعِنِ نَفْسَه لِيَقْتُلَ رِدْفَه

۲۹۷ - وقَالَعليه‌السلام مَا أَكْثَرَ الْعِبَرَ وأَقَلَّ الِاعْتِبَارَ.

عمل کو خوبصورت بناکر پیش کرے گا اور تم سے بھی ویسے ہی عمل کا تقاضا کرے گا۔

(۲۹۴)

آپ سے مشرق و مغرب کے فاصلہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ آفتاب کا ایک دن کا راستہ ۔

(۲۹۵)

تمہارے دوست بھی تین طرح کے ہیں اوردشمن بھی تین قسم کے ہیں۔دوستوں کی قسمیں یہ ہیں کہ تمہارا دوست ۔تمہارے دوست(۱) کا دوست اور تمہارے دشمن کا دشمن اور اسی طرح دشمنوں کی قسمیں یہ ہیں۔تمہارا دشمن ۔تمہارے دوست کادشمن اور تمہارے دشمن کا دوست۔

(۲۹۶)

آپ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے دشمن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے مگر اس میں خود اس کا نقصان بھی ہے۔تو فرمایا کہ تیری مثال اس شخص کی ہے جو اپنے سینے میں نیزہ چبھولے تاکہ پیچھے بیٹھنے والا ہلاک ہوجائے ۔

(۲۹۷)

عبرتیں کتنی زیادہ ہیں اور اس کے حاصل کرنے والے کتنے کم ہیں۔

(۱)یہ اس موقع کے لئے کہا گیا ہے کہ دونوں کی دوستی کی بنیاد ایک ہوورنہ اگر ایک شخص ایک بنیاد پر دوستی کرتا ہے اور دوسرا دوسری بنیاد پرمحبت کرتا ہے تو دوست کا دوست ہرگز دوست شمارنہیں کیا جا سکتا ہے جس طرح کہ دشمن کے دشمن کے لئے بھی ضروری ہے کہ دشمنی کی بنیاد وہی ہو جس بنیاد پر یہ شخص دشمنی کرتا ہے ورنہ اپنے اپنے مفادات کے لئے کام کرنے والے کبھی ایک رشتہ محبت میں منسلک نہیں کئے جا سکتے ہیں۔


۲۹۸ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ بَالَغَ فِي الْخُصُومَةِ أَثِمَ - ومَنْ قَصَّرَ فِيهَا ظُلِمَ - ولَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّه مَنْ خَاصَمَ.

۲۹۹ - وقَالَعليه‌السلام مَا أَهَمَّنِي ذَنْبٌ أُمْهِلْتُ بَعْدَه - حَتَّى أُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وأَسْأَلَ اللَّه الْعَافِيَةَ.

۳۰۰ - وسُئِلَعليه‌السلام كَيْفَ يُحَاسِبُ اللَّه الْخَلْقَ عَلَى كَثْرَتِهِمْ - فَقَالَعليه‌السلام كَمَا يَرْزُقُهُمْ عَلَى كَثْرَتِهِمْ - فَقِيلَ كَيْفَ يُحَاسِبُهُمْ ولَا يَرَوْنَه - فَقَالَعليه‌السلام كَمَا يَرْزُقُهُمْ ولَا يَرَوْنَه.

۳۰۱ - وقَالَعليه‌السلام رَسُولُكَ تَرْجُمَانُ عَقْلِكَ - وكِتَابُكَ أَبْلَغُ مَا يَنْطِقُ عَنْكَ.

(۲۹۸)

جو لڑائی جھگڑے میں حد سے آگے بڑھ جائے وہ گناہ گار ہوتا ہے اور جو کوتاہی کرتا ہے وہ اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے اوراس طرح جھگڑا کرنے والا تقویٰ کے راستے پر نہیں چل سکتا ہے ( لہٰذا مناسب یہی ہے کہ جھگڑے سے پرہیز کرے )

(۲۹۹)

اس گناہ کی کوئی عمر نہیں ہے جس کے بعد اتنی مہلت مل جائے کہ انسان دو رکعت نمازادا کرکے خدا سے عافیت کا سوال کرکسے ( لیکن سوال یہ ہے کہ اس مہلت کی ضمانت کیا ہے )

(۳۰۰)

آپ سے دریافت کیا گیا کہ پروردگار اس قدر بے پناہ مخلوقات(۱) کاحساب کس طرح کرے گا؟ تو فرمایاکہ جس طرح ان سب کو رزق دیتا ہے دوبارہ سوال کیا گیا کہ جب وہ سامنے نہیں آئے گا تو حساب کس طرح لے گا ؟ فرمایا جس طرح سامنے نہیں آتا ہے اور روزی دے رہا ہے ۔

(۳۰۱)

تمہارا قاصد تمہاری عقل کاترجمان ہوتا ہے اور تمہارا بہترین ترجمان ہوتا ہے ۔

(۱)انسان کے ذہن میں یہ خیالات اور شبہات اسی لئے پیدا ہوتے ہیں کہ وہ اس کی رزاقیت سے غافل ہوگیا ہے ورنہ ایک مسئلہ رزق سمجھ میں آجائے تو مسئلہ موت بھی سمجھ میں آسکتاہے اور مسئلہ حسات و کتاب بھی جو موتدے سکتا ہے وہ روزی بھی دے سکتا ہے اور جو روزی کاحساب رکھ سکتا ہے وہ اعمال کاحساب بھی کرسکتا ہے۔


۳۰۲ - وقَالَعليه‌السلام مَا الْمُبْتَلَى الَّذِي قَدِ اشْتَدَّ بِه الْبَلَاءُ - بِأَحْوَجَ إِلَى الدُّعَاءِ - الَّذِي لَا يَأْمَنُ الْبَلَاءَ.

۳۰۳ - وقَالَعليه‌السلام النَّاسُ أَبْنَاءُ الدُّنْيَا - ولَا يُلَامُ الرَّجُلُ عَلَى حُبِّ أُمِّه.

۳۰۴ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ الْمِسْكِينَ رَسُولُ اللَّه - فَمَنْ مَنَعَه فَقَدْ مَنَعَ اللَّه - ومَنْ أَعْطَاه فَقَدْ أَعْطَى اللَّه.

۳۰۵ - وقَالَعليه‌السلام مَا زَنَى غَيُورٌ قَطُّ.

(۳۰۲)

شدید ترین بلائوں میں مبتلا ہو جانے والا اس سے زیادہ محتاج(۱) دعا نہیں ہے جو فی الحال عافیت میں ہے لیکن نہیں معلوم ہے کہ کب مبتلا ہو جائے ۔

(۳۰۳)

لوگ دنیا کی اولاد ہیں اور ماں کی محبت پر(۲) اولاد کی ملامت نہیں کی جاسکتی ہے۔

(۳۰۴)

فقیرو مسکین درحقیت خدائی فرستادہ ہے لہٰذا جس نے اس کومنع کردیا گویا خا کو منع کردیا اور جس نے اسے عطا کردیا گویا قدرت کے ہاتھ میں دے دیا۔

(۳۰۵)

غیرت دار انسان کبھی زنا نہیں کر سکتا ہے ( کہ یہی مصیبت اس کے گھر بھی آسکتی ہے )

(۱)انسان کی فطرت ہے کہ جب مصیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے تو دعائیں کرنے لگتا ہے اور دوسروں سے دعائوں کی التماس کرنے لگتا ہے اورجیسے ہی بلا ٹل جاتی ہے دعائوں سے غافل ہو جاتا ہے اور اس نکتہ کو یکسر نظر انداز کر دیتا ہے۔کہ اس عافیت کے پیچھے بھی کوئی بلا ہو سکتی ہے اور موجودہ بلا سے بالاتر ہو سکتی ہے۔لہٰذا تقاضائے دانش مندی یہی ہے کہ ہر حال میں دعاکرتا رہے اور کسی وقت بھی آنے والی مصیبتوں سے غافل نہ ہو کر اس کے نتیجہ میں یاد خداسے غافل ہو جائے ۔

(۲)انسان جس خاک سے بنتا ہے اس سے بہر حال محبت کرتا ہے اور جس ماحول میں زندگی گذارتا ہے اس سے بہر حال مانوس ہوتا ہے۔اس مسئلہ میں کسی انسان کی مذمت اورملامت نہیں کی جا سکتی ہے لیکن محبت جب حد سے گذر جاتی ہے اور اصول و قوانین پر غالب آجاتی ہے تو بہر حال قابل ملامت و مذمت ہو جاتی ہے اوراس کا لحاظ رکھنا ہر فرد بشر کا فریضہ ہے ورنہ اس کے بغیر انسان قابل معافی نہیں ہو سکتا ہے۔


۳۰۶ - وقَالَعليه‌السلام كَفَى بِالأَجَلِ حَارِساً.

۳۰۷ - وقَالَعليه‌السلام يَنَامُ الرَّجُلُ عَلَى الثُّكْلِ ولَا يَنَامُ عَلَى الْحَرَبِ

قال الرضي - ومعنى ذلك أنه يصبر على قتل الأولاد - ولا يصبر على سلب الأموال.

۳۰۸ - وقَالَعليه‌السلام مَوَدَّةُ الآبَاءِ قَرَابَةٌ بَيْنَ الأَبْنَاءِ - والْقَرَابَةُ إِلَى الْمَوَدَّةِ أَحْوَجُ مِنَ الْمَوَدَّةِ إِلَى الْقَرَابَةِ.

۳۰۹ - وقَالَعليه‌السلام اتَّقُوا ظُنُونَ الْمُؤْمِنِينَ - فَإِنَّ اللَّه تَعَالَى جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى أَلْسِنَتِهِمْ.

(۳۰۶)

موت سے بہتر محافظ کوئی نہیں ہے۔

(۳۰۷)

انسان اولاد کے مرنے پر سو جاتاہے لیکن مال کے لٹ جانے پر نہیں سوتا(۱) ہے۔

سید رضی :مقصد یہ ہے کہ اولاد کے مرنے پر صبر کرلیتا ہے لیکن مال کے چھننے پرصبر نہیں کرتاہے۔

(۳۰۸)

بزرگوں کی محبت بھی اولاد کے لئے قرابت کا درجہرکھتی ہے اور محبت قرابت کی اتنی محتاج نہیں جتنی قرابت محبت کی محتاج ہوتی ہے۔

(مقصد یہ ہے کہ تم لوگ آپس میں محبت اورالفت رکھو تاکہ تمہاری اولاد تمہارے دوستوں کو اپنا قرابتدار تصور کرے )

(۳۰۹)

مومنین کے گمان سے ڈرتے رہو کہ پروردگار حق کو صاحبان ایمان ہی کی زبان پر جاری کرتا رہتا ہے۔

(۱)اس کا مقصد طعن و طنز نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ موت کا تعلق قضا و قدر الٰہی سے ہے لہٰذا اس پر صبر کرنا انسان کافریضہ ہے۔لیکن مال کاچھن جاناظلم و ستم اورغضب و نہب کا نتیجہ ہوتا ہے لہٰذا اس پرسکوت اختیار کرنا اور سکون سے سو جانا کسی قیمت پر مناسب نہیں ہے اوریہ انسانی غیرت و شرافت کے خلاف ہے لہٰذا انسان کو اسنکتہ کی طرف متوجہ رہناچاہیے ۔


۳۱۰ - وقَالَعليه‌السلام لَا يَصْدُقُ إِيمَانُ عَبْدٍ - حَتَّى يَكُونَ بِمَا فِي يَدِ اللَّه - أَوْثَقَ مِنْه بِمَا فِي يَدِه.

۳۱۱ - وقَالَعليه‌السلام لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - وقَدْ كَانَ بَعَثَه إِلَى طَلْحَةَ والزُّبَيْرِ لَمَّا جَاءَ إِلَى الْبَصْرَةِ - يُذَكِّرُهُمَا شَيْئاً مِمَّا سَمِعَه مِنْ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فِي مَعْنَاهُمَا - فَلَوَى عَنْ ذَلِكَ فَرَجَعَ إِلَيْه - فَقَالَ:

إِنِّي أُنْسِيتُ ذَلِكَ الأَمْرَ - فَقَالَعليه‌السلام إِنْ كُنْتَ كَاذِباً - فَضَرَبَكَ اللَّه بِهَا بَيْضَاءَ لَامِعَةً لَا تُوَارِيهَا الْعِمَامَةُ.

قال الرضي يعني البرص - فأصاب أنسا هذا الداء فيما بعد في وجهه - فكان لا يرى إلا مبرقعا.

۳۱۲ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ لِلْقُلُوبِ إِقْبَالًا وإِدْبَاراً - فَإِذَا أَقْبَلَتْ فَاحْمِلُوهَا عَلَى النَّوَافِلِ -

(۳۱۰)

کسی بندہ کا ایمان اس وقت تک سچا نہیں ہو سکتا ہے جب تک خدائی خزانہ پر اپنے ہاتھ کی دولت سے زیادہ اعتبار نہ کرے۔

(۳۱۱)

حضرت نے بصرہ پہنچنے کے بعد انس بن مالک سے کہاکہ جاکر طلحہ و زبیر کو وہ ارشادات رسول(۱) اکرم (ص) بتائو جو حضرت نے میرے بارے میں فرمائے ہیں۔تو انہوں نے پہلو تہی کی اور پھرآکر یہ عذر کردیا کہ مجھے وہ ارشادات یاد نہیں رہے ! تو حضرت نے فرمایا اگر تم جھوٹے ہو تو پروردگار تمہیں ایسے چمکدار داغ کی مار مارے گا کہ اسے دستار بھی نہیں چھپا سکے گی۔

سیدرضی : اس داغ سے مراد برص ہے جس میں انس مبتلا ہوگئے اور تا حیات چہرہ نقاب ڈالے ہے۔

(۳۱۲)

دل بھی کبھی مائل ہوتے ہیں اور کبھی اچاٹ ہوجاتے ہیں۔لہٰذا جب مائل ہوں تو انہیں مستحباب پرآمادہ

(۱)جناب شیخ محمد عبدہ کا بیان ہے کہ اس سے اس ارشاد پیغمبر (ص) کی طرف اشارہ تھا جس میں آپ نے براہ راست طلحہ وزبیر سے خطاب کرکے ارشاد فرمایا تھا کہ تم لوگ علی سے جنگ کرو گے اور ان کے حق میں ظالم ہوگے۔ اور ابن ابی الحدید کاکہنا ہے کہ یہ اس موقع کی طرف اشارہ ہے جب پیغمبر (ص) سے میدان عذیر میں علی کی مولائیت کا اعلانکیا تھا اورانس اس موقع پر موجود تھے لیکن جب حضرت نے گواہی طلب کی تو اپنی ضعیفی اور قلت حافظہ کا بہانہ کردیا جس پر حضرت نے یہ بد دعا دے دی اور انس اس مرض برص میں مبتلا ہوگئے جیسا کہ ابن قتیبہ نے معارف میں نقل کیا ہے۔


وإِذَا أَدْبَرَتْ فَاقْتَصِرُوا بِهَا عَلَى الْفَرَائِضِ.

۳۱۳ - وقَالَعليه‌السلام وفِي الْقُرْآنِ نَبَأُ مَا قَبْلَكُمْ - وخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ وحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ

۳۱۴ - وقَالَعليه‌السلام رُدُّوا الْحَجَرَ مِنْ حَيْثُ جَاءَ - فَإِنَّ الشَّرَّ لَا يَدْفَعُه إِلَّا الشَّرُّ.

۳۱۵ - وقَالَعليه‌السلام لِكَاتِبِه عُبَيْدِ اللَّه بْنِ أَبِي رَافِعٍ - أَلِقْ دَوَاتَكَ وأَطِلْ جِلْفَةَ قَلَمِكَ - وفَرِّجْ بَيْنَ السُّطُورِ وقَرْمِطْ بَيْنَ الْحُرُوفِ - فَإِنَّ ذَلِكَ أَجْدَرُ بِصَبَاحَةِ الْخَطِّ.

۳۱۶ - وقَالَعليه‌السلام أَنَا يَعْسُوبُ الْمُؤْمِنِينَ والْمَالُ يَعْسُوبُ الْفُجَّارِ.

کرو ورنہ صرف واجبات(۱) پراکتفا کرلو( کہ زبر دستی عمل سے کوئی فائدہ نہیں ہے جب تک اخلاص عمل نہ ہو)

(۳۱۳)

قرآن میں تمہارے پہلے کی خبر' تمہارے بعد کی پیشگوئی اور تمہارے درمیانی حالات کے احکام سب پائے جاتے ہیں۔

(۳۱۴)

جدھر سے پتھرآئے ادھر ہی پھینک دو کہ شرکا جواب شرہی ہوتا ہے ۔

(۳۱۵)

آپ نے اپنے کاتب عبید اللہ بن ابی رافع سے فرمایا۔اپنی دوات میں صوف ڈالا کرو اور اپنے قلم کی زبان لمبی رکھا کر و' سطروں کے درمیان فاصلہ رکھو اور حروف کو ساتھ ملا کر لکھا کرو۔کہ اس طرح خط زیادہ دیدہ زیب ہو جاتا ہے۔

(۳۱۶)

میں مومنین کا سردار ہوں اورمال فاجروں کا سردار ہوتا ہے ۔

(۱)انسانی اعمال کے دودرجات ہیں۔پہلا درجہ وہ ہوتا ہے جب عمل صحیح ہو جاتا ہے اور تکلیف رعی ادا ہو جاتی ہے لیکن نگاہ قدرت میں قابل قبول نہیں ہوتا ہے۔یہ وہ عمل ہے جس پر جملہ شرائط و واجبات جمع ہو جاتے ہیں لیکن اخلاص نیت اوراقبال نفس نہیں ہوتا ہے لیکن دوسرادرجہوہ ہوتا ہے جس میں اقبال نفس بھی ہوتا ہے اورعمل قابل قبول بھی ہوجاتاہے۔

حضرت نے اسی نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ فریضہ بہر حال ادا کرنا ہے لیکن مستحباب کاواقعی ماحول اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اقبال نفس کی دولت سے مالا مال ہو جاتا ہے اور واقعی عبادت الٰہی کی رغبت پیدا کرلیتا ہے۔


قال الرضي ومعنى ذلك أن المؤمنين يتبعونني - والفجار يتبعون المال - كما تتبع النحل يعسوبها وهو رئيسها.

۳۱۷ - وقَالَ لَه بَعْضُ الْيَهُودِ - مَا دَفَنْتُمْ نَبِيَّكُمْ حَتَّى اخْتَلَفْتُمْ فِيه - فَقَالَعليه‌السلام لَه إِنَّمَا اخْتَلَفْنَا عَنْه لَا فِيه - ولَكِنَّكُمْ مَا جَفَّتْ أَرْجُلُكُمْ مِنَ الْبَحْرِ - حَتَّى قُلْتُمْ لِنَبِيِّكُمْ -( اجْعَلْ لَنا إِلهاً كَما لَهُمْ آلِهَةٌ - قالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ ) .

۳۱۸ - وقِيلَ لَه بِأَيِّ شَيْءٍ غَلَبْتَ الأَقْرَانَ - فَقَالَعليه‌السلام مَا لَقِيتُ رَجُلًا إِلَّا أَعَانَنِي عَلَى نَفْسِه.

قال الرضي - يومئ بذلك إلى تمكن هيبته في القلوب.

سید رضی : یعنی صاحبان ایمان میرا اتباع کرتے ہیں اورفاسق و فاجر مال کے اشاروں پر چلا کرتے ہیں جس طرح شہد کی مکھیاں اپنے یعسوب ( سردار) کا اتباع کرتی ہیں۔

(۳۱۷)

ایک یہودی نے آپ پر طنز کردیا کہ آپ مسلمانوں(۱) نے اپنے پیغمبر (ص) کے دفن کے بعد ہی جھگڑا شروع کردیا۔تو آپنے فرمایا کہ ہم نے ان کی جانشینی میں اختلاف کیا ہے ۔ان سے اختلاف نہیں کیا ہے۔لیکن تم یہودیوں کے تو پیر نیل کے پانی سے خشک نہیں ہونے پائے تھے کہ تم نے اپنے پیغمبر (ص) ہی سے کہہ دیا کہ '' ہمیں بھی ویسا ہی خدا چاہیے جیسا ان لوگوں کے پاس ہے '' جس پر پیغمبر نے کہا کہ تم لوگ جاہل قوم ہو۔

(۳۱۸)

آپ سے دریافت کیا گیا کہ آپ بہادروں پر کس طرح غلبہ پالیتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ میں جس شخص کا بھی سامنا کرتا ہوں وہ خود ہی اپنے خلاف(۲) میری مدد کرتا ہے۔

سید رضی : یعنی اس کے دل میں میری ہیبت بیٹھ جاتی ہے۔

(۱)یہ امیر المومنین کی بلندی کردار ہے کہ آپ نے یہودیوں کے مقابلہ میں عزت اسلام و مسلمین کا تحفظ کرلیا اور فوراً جواب دے دیا ورنہ کوئی دوسرا شخص ہوتا تو اس کی اس طرح توجیہ کردیتا کہ جن لوگوں نے پیغمبر (ص) کی خلافت میں اختلاف کیا ہے وہ خود بھی مسلمان نہیں تھے بلکہ تمہاری برادری کے یہودی تھے جو اپنے مخصوص مفادات کے تحت اسلامی برادری میں شامل ہوگئے تھے ۔

(۲)یہ پروردگار کی وہ امداد ہے جو آج تک علی والوں کے ساتھ ہے کہ وہ طاقت ' کثرت اور اسلحہ میں کوئی خاص حیثیت نہیں رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی دہشت تمام عالم کفرو شرک کے دلوں میں بیٹھی ہوئی ہے اورہر ایک کو ہر انقلاب و اقدام میں انہیں کا ہاتھ نظر آتا ہے۔


۳۱۹ - وقَالَعليه‌السلام لِابْنِه مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكَ الْفَقْرَ - فَاسْتَعِذْ بِاللَّه مِنْه - فَإِنَّ الْفَقْرَ مَنْقَصَةٌ لِلدِّينِ - مَدْهَشَةٌ لِلْعَقْلِ دَاعِيَةٌ لِلْمَقْتِ.

۳۲۰ - وقَالَعليه‌السلام لِسَائِلٍ سَأَلَه عَنْ مُعْضِلَةٍ - سَلْ تَفَقُّهاً ولَا تَسْأَلْ تَعَنُّتاً - فَإِنَّ الْجَاهِلَ الْمُتَعَلِّمَ شَبِيه بِالْعَالِمِ - وإِنَّ الْعَالِمَ الْمُتَعَسِّفَ شَبِيه بِالْجَاهِلِ الْمُتَعَنِّتِ.

۳۲۱ - وقَالَعليه‌السلام لِعَبْدِ اللَّه بْنِ الْعَبَّاسِ - وقَدْ أَشَارَ إِلَيْه فِي شَيْءٍ لَمْ يُوَافِقْ رَأْيَه:

لَكَ أَنْ تُشِيرَ عَلَيَّ وأَرَى فَإِنْ عَصَيْتُكَ فَأَطِعْنِي.

۳۲۲ - ورُوِيَ: أَنَّهعليه‌السلام لَمَّا وَرَدَ الْكُوفَةَ - قَادِماً مِنْ صِفِّينَ مَرَّ بِالشِّبَامِيِّينَ - فَسَمِعَ بُكَاءَ النِّسَاءِ عَلَى قَتْلَى صِفِّينَ - وخَرَجَ إِلَيْه حَرْبُ بْنُ شُرَحْبِيلَ الشِّبَامِيِّ - وكَانَ مِنْ وُجُوه قَوْمِه فَقَالَعليه‌السلام لَه.

(۳۱۹)

آپ نے اپنے فرزند محمد حنفیہ سے فرمایا: فرزند! میں تمہارے بارے میں فقرو تنگدستی سے ڈرتا ہوں لہٰذا اس سے تم اللہ کی پناہ مانگو کہ فقر دین کی کمزوری ' عقل کی پریشانی اور لوگوں کی نفرت کا سبب بن جاتا ہے۔

(۳۲۰)

ایک شخص نے ایک مشکل مسئلہ دریافت کرلیا توآپ نے فرمایا سمجھنے کے لئے دریافت کرو الجھنے کے لئے نہیں کہ جاہل بھی اگرسیکھنا چاہے تو وہ عالم جیسا ہے اورعالم بھی اگر صرف الجھنا چاہے تو وہ جاہل جیسا ہے۔

(۳۲۱)

عبداللہ بن عباس نے آپ کے نظریہ کے خلاف آپ کومشورہ دے دیا تو فرمایا کہ تمہارا کام مشورہ دینا ہے۔اس کے بعد رائے میری ہے لہٰذا اگر میں تمہارے خلاف بھی رائے قائم کرلوں تو تمہارا فرض ہے کہ میری اطاعت کرو۔

(۳۲۲)

روایت میں وارد ہوا ہے کہ جب آپ صفین سے واپسی پرکوفہ وارد ہوئے تو آپ کا گذر قبیلہ شام کے پاس سے ہوا جہاں عورتیں صفین کے مقتولین پر گریہ کررہی تھیں۔اوراتنے میں حرب بن شرجیل شبامی جو سردار قبیلہ تھے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔توآپ نے فرمایا کہ


أَتَغْلِبُكُمْ نِسَاؤُكُمْ عَلَى مَا أَسْمَعُ - أَلَا تَنْهَوْنَهُنَّ عَنْ هَذَا الرَّنِينِ ؟

وأَقْبَلَ حَرْبٌ يَمْشِي مَعَه وهُوَعليه‌السلام رَاكِبٌ - فَقَالَعليه‌السلام :

ارْجِعْ فَإِنَّ مَشْيَ مِثْلِكَ مَعَ مِثْلِي - فِتْنَةٌ لِلْوَالِي ومَذَلَّةٌ لِلْمُؤْمِنِ.

۳۲۳ - وقَالَعليه‌السلام وقَدْ مَرَّ بِقَتْلَى الْخَوَارِجِ يَوْمَ النَّهْرَوَانِ - بُؤْساً لَكُمْ لَقَدْ ضَرَّكُمْ مَنْ غَرَّكُمْ - فَقِيلَ لَه مَنْ غَرَّهُمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - فَقَالَ الشَّيْطَانُ الْمُضِلُّ والأَنْفُسُ الأَمَّارَةُ بِالسُّوءِ - غَرَّتْهُمْ بِالأَمَانِيِّ وفَسَحَتْ لَهُمْ بِالْمَعَاصِي - ووَعَدَتْهُمُ الإِظْهَارَ فَاقْتَحَمَتْ بِهِمُ النَّارَ.

تمہاری عورتوں پرتمہارا بس نہیں چلتا ہے جو میں یہ آواز یں سن رہا ہوں اورتم انہیں اسی طرح کی فریاد(۱) سے منع کیوں نہیں کرتے ہو۔یہ کہہ کر حضرت آگے بڑھ گئے تو حرب بھی آپ کی رکاب میں ساتھ ہولئے۔آپ نے فرمایا کہ جائو واپس جائو۔حاکم کے ساتھ اس طرح پیدل چلنا حاکم کے حق میں فتنہ(۲) ہے اور مومن کے حق میں باعث ذلت ہے۔

(۳۲۳)

نہروان کے موقع پر آپ کا گزر خوارج کے مقتولین کے پاس سے ہوا تو فرمایا کہ تمہارے مقدرمیں صرف تباہی اوربربادی ہے جس نے تمہیں ورغلایا تھا اسنے دھوکہ ہی دیا تھا۔

لوگوں نے دریافت کیا کہ یہ دھوکہ انہیں کس نے دیا ہے ؟ فرمایا گمراہ کن شیطان اورنفس امارہ نے ۔ اس نے انہیں تمنائوں میں الجھا دیا اور گناہوں کے راستے کھول دئیے اور ان سے غلبہ کاوعدہ کرلیا جس کے نتیجہ میں انہیں جہنم میں جھونک دیا۔

(۱)اسلامی روایات کی بناپر مردہ پر گریہ کرنایا بلند آوازسے گریہ کرناکوئی ممنوع اورحرام عمل نہیں ہے بلکہ گریہ سرکار دو عالم (ص) اورانبیاء کرام کی سیرت میں داخل ہے لہٰذا حضرت کی ممانعت کا مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ اس طرح گریہ نہیں ہونا چاہیے۔جس سے دشمن کو کمزوری اورپریشانی کا احساس ہو جائے اور اس کے حوصلے بلند ہو جائیں یا گریہ میں ایسے الفاظ اور اندازشامل ہو جائیں جو مرضی پروردگار کے خلاف ہوں اور جن کی بناپرانسان عذابآخرت کامستحق ہو جائے ۔

(۲)اس کامقصد یہ ہے کہ اگر حاکم کے مغرور و متکبر ہو جانے اورمحکوم کے مبتلائے ذلت ہوجانے کاخطرہ ہے تو یہ انداز یقینا صحیح نہیں ہے۔لیکن اگرحاکم اس طرح کے احمقانہ جذبات سے بالات ر ہے اور محکوم بھی صرف اس کے علم و تقویٰ کا احترام کرناچاہتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے بلکہ عالم اور متقی انسان کا احرام عین اسلام اور عین دیانتداری ہے۔


۳۲۴ - وقَالَعليه‌السلام اتَّقُوا مَعَاصِيَ اللَّه فِي الْخَلَوَاتِ - فَإِنَّ الشَّاهِدَ هُوَ الْحَاكِمُ.

۳۲۵ - وقَالَعليه‌السلام لَمَّا بَلَغَه قَتْلُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ:

إِنَّ حُزْنَنَا عَلَيْه عَلَى قَدْرِ سُرُورِهِمْ بِه - إِلَّا أَنَّهُمْ نَقَصُوا بَغِيضاً ونَقَصْنَا حَبِيباً.

۳۲۶ - وقَالَعليه‌السلام : الْعُمُرُ الَّذِي أَعْذَرَ اللَّه فِيه إِلَى ابْنِ آدَمَ سِتُّونَ سَنَةً.

۳۲۷ - وقَالَعليه‌السلام مَا ظَفِرَ مَنْ ظَفِرَ الإِثْمُ بِه - والْغَالِبُ بِالشَّرِّ مَغْلُوبٌ.

(۳۲۴)

تنہائی میں بھی خداکی نا فرمانی سے ڈرو کہ جو دیکھنے والا(۱) ہے وہی فیصلہ کرنے والا ہے۔

(۳۲۵)

جب آپ کو محمد بن ابی بکر کی شہادت کی خبر ملی تو فرمایا کہ میرا غم محمد پر اتناہی ہے جتنی دشمن کی خوشی ہے ۔فرق صرف یہ ہے کہ دشمن کا ایک دشمن کم ہوا ہے اور میرا ایک دوست کم ہوگیا ہے۔

(۳۲۶)

جس عمرکے بعد پروردگار اولاد آدم کے کسی عذر کو قبول نہیں کرتا ہے۔وہ ساٹھ سال ہے ۔

(۳۲۷)

جس پر گناہ غلبہ حاصل کرلے وہ غالب نہیں ہے کہ شر کے ذریعہ غلبہ پانے والابھی مغلوب ہی ہوتا ہے۔

(۱)جب یہ طے ہے کہ روز قیامت فیصلہ کرنے والا اورعذاب دینے والا پروردگار ہے تو مخلوقات کی نگاہوں سے چھپ کر گناہ کرنے کافائدہ ہی کیا ہے فائدہ تو اسی وقت ہو سکتا ہے جب خالقین گاہ سے چھپ سکے یا فیصلہ مالک کے علاوہ کسی اور کے اختیارمیں ہو جس کاکوئی امکان نہیں ہے۔لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ انسان ہرال میں گناہ سے پرہیز کرے اورعلی الاعلان یا خفیہ طریقہ سے گناہ کا ارادہ نہ کرے ۔


۳۲۸ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ اللَّه سُبْحَانَه - فَرَضَ فِي أَمْوَالِ الأَغْنِيَاءِ أَقْوَاتَ الْفُقَرَاءِ - فَمَا جَاعَ فَقِيرٌ إِلَّا بِمَا مُتِّعَ بِه غَنِيٌّ - واللَّه تَعَالَى سَائِلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ.

۳۲۹ - وقَالَعليه‌السلام الِاسْتِغْنَاءُ عَنِ الْعُذْرِ أَعَزُّ مِنَ الصِّدْقِ بِه.

۳۳۰ - وقَالَعليه‌السلام أَقَلُّ مَا يَلْزَمُكُمْ لِلَّه - أَلَّا تَسْتَعِينُوا بِنِعَمِه عَلَى مَعَاصِيه.

۳۳۱ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ اللَّه سُبْحَانَه جَعَلَ الطَّاعَةَ غَنِيمَةَ الأَكْيَاسِ - عِنْدَ تَفْرِيطِ الْعَجَزَةِ

(۳۲۸)

پروردگار نے مالداروں کے اموال میں غریبوں کا رزق قراردیاہے لہٰذا جب بھی کوئی فقیر بھوکا ہوگا تواس کا مطلب یہ ہے کہ غنی نے دولت کو سمیٹ لیا ہے اور پروردگار روز قیامت اس کا سوال ضرور کرنے والا ہے۔

(۳۲۹)

عذر و معذرت سے بے نیازی سچے عذرپیش کرنے سے بھی زیادہ عزیز(۱) تر ہے۔

(۳۳۰)

خدا کا سب سے مختصر حق یہ ہے کہ اس کی نعمت کو اس کی معصیت(۲) کاذریعہ نہ بنائو۔

(۳۳۱)

پروردگار نے ہوش مندوں کے لئے اطاعت کا وہ موقع بہترین قراردیا ہے جب کا اہل لوگ کوتاہی میں مبتلا ہو جاتے ہیں ( مثلاً نمازشب)

(۱)معذرت کرنے میں ایک طرح کی ندامت اور ذلت کا احساس بہرحال ہوتا ہے لہٰذا انسان کے لئے افضل اوربہتر یہی ہے کہ اپنے کو اس ندامت سے بے نیاز بنالے اور کوئی ایسا کام نہ کرے جس کے لئے بعد میں معذرت کرنا پڑے ۔

(۲)دنیامیں کوئی کریم سے کریم اور مہربان سے مہربان انسانبھی اس بات کوگوارہ نہیں کرسکتا ہے کہ وہ کسی کے ساتھ مہربانی کرے اور دوسرا انسان اسی مہربانی کو اس کی نا فرمانی کا ذریعہ بنالے اور جب مخلوقات کے بارے میں اس طرح کی احسان فراموشی روا نہیں ہے توخالق کا حق انسان پر یقینا مخلوقات سے زیادہ ہوتا ہے اور ہرشخص کو اس کرامت و شرافت کا خیالرکھنا چاہیے کہ جب اس کا ساراوجود نعمت پروردگار ہے تو اس وجود کا کوئی ایک حصہ بھی پروردگار کی معصیت اورمخالفت میں صرف نہیں کیا جاسکتا ہے۔


۳۳۲ - وقَالَعليه‌السلام السُّلْطَانُ وَزَعَةُ اللَّه فِي أَرْضِه.

۳۳۳ - وقَالَعليه‌السلام فِي صِفَةِ الْمُؤْمِنِ - الْمُؤْمِنُ بِشْرُه فِي وَجْهِه وحُزْنُه فِي قَلْبِه - أَوْسَعُ شَيْءٍ صَدْراً وأَذَلُّ شَيْءٍ نَفْساً - يَكْرَه الرِّفْعَةَ ويَشْنَأُ السُّمْعَةَ - طَوِيلٌ غَمُّه بَعِيدٌ هَمُّه - كَثِيرٌ صَمْتُه مَشْغُولٌ وَقْتُه - شَكُورٌ صَبُورٌ - مَغْمُورٌ بِفِكْرَتِه ضَنِينٌ بِخَلَّتِه - سَهْلُ الْخَلِيقَةِ لَيِّنُ الْعَرِيكَةِ - نَفْسُه أَصْلَبُ مِنَ الصَّلْدِ - وهُوَ أَذَلُّ مِنَ الْعَبْدِ.

۳۳۴ - وقَالَعليه‌السلام لَوْ رَأَى الْعَبْدُ الأَجَلَ ومَصِيرَه - لأَبْغَضَ الأَمَلَ وغُرُورَه.

(۳۳۲)

بادشاہ روئے زمین پراللہ کا پاسبان ہوتا ہے۔

(۳۳۳)

مومن کے چہرہ(۱) پر بشاشت ہوتی ہے اور دل میں رنج و اندوہ اس کا سینہ کشادہ ہوتا ہے اور متواضع ۔بلندی کو ناپسندکرتا ہے اور شہرت سے نفرت کرتا ے۔اس کاغم طویل ہوتا ہے اور ہمت بڑی ہوتی ہے اورخاموشی زیادہ ہوتی ہے اوروقت مشغول ہوتا ہے۔وہ شکر کرنے والا۔صبر کرنے والا۔فکر میں ڈوبا ہوا۔دست طلب درازکرنے میں بخیل' خوش اخلاق اور نرم مزاج ہوتا ہے۔اس کا نفس پتھر سے زیادہ سخت ہوتا ہے اور وہخود غلام سے زیادہ متواضع ہوتا ہے۔

(۳۳۴)

اگر بندۂ خدا موت اوراس کے انجام کودیکھ لے تو امیدوار اس کے فریب سے نفرت کرنے لگے۔

(۱)اس مقام پرمومن کے چودہ صفات کاتذکرہ کردیا گیا ہے تاکہ ہر شخص اس آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھ سکے اوراپنے ایمان کا فیصلہ کرسکے ۔

۱۔وہ ادر سے محزون ہوتا ہے لیکن باہرسے بہرحال ہشاش بشاش رہتا ہے ۔۲۔اس کا سینہ اور دل کشادہ ہوتا ہے ۔ ۳۔اس کے نفس میں غرور و تکبر نہیں ہوتا ہے ۔۴۔وہ بلندی کو نا پسند کرتا ہے اور شہرت سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا ہے ۔۵۔ خوف خدا سے رنجیدہ رہتا ہے ۔۶۔ اس کی ہمت ہمیشہ بلند رہتی ہے ۔۷۔ہمیشہ خاموش رہتا ہے اور اپنے فرائض کے بارے میں سوچتا رہتا ہے ۔۸۔اپنے شب و روز کو فرائض کی ادائیگی میں مشغول رکھتا ہے ۔۹۔مصیبتوں میں صبراور نعمتوں پر شکر پروردگار کرتا ہے ۔۱۰۔فکر قیامت و حساب و کتاب میں غرق رہتا ہے ۔۱۱۔لوگوں پر اپنی ضرورت کے اظہار میں بخل کرتا ہے ۔۱۲۔مزاج اور طبیعت کے اعتبارسے بالکل نرم ہوت ہے ۔۱۳۔حق کے معاملہ میں پتھرسے زیادہ سخت ہوتا ہے ۔۱۴۔خضوع خشوع میں غلاموں جیسی کیفیت کا حامل ہوتاہے۔


۳۳۵ - وقَالَعليه‌السلام لِكُلِّ امْرِئٍ فِي مَالِه شَرِيكَانِ - الْوَارِثُ والْحَوَادِثُ.

۳۳۶ - وقَالَعليه‌السلام الْمَسْئُولُ حُرٌّ حَتَّى يَعِدَ.

۳۳۷ - وقَالَعليه‌السلام الدَّاعِي بِلَا عَمَلٍ كَالرَّامِي بِلَا وَتَرٍ.

۳۳۸ - وقَالَعليه‌السلام الْعِلْمُ عِلْمَانِ مَطْبُوعٌ ومَسْمُوعٌ - ولَا يَنْفَعُ الْمَسْمُوعُ إِذَا لَمْ يَكُنِ الْمَطْبُوعُ.

(۳۳۵)

ہر شخص کے اس کے مال میں دو طرح(۱) کے شریک ہوتے ہیں۔ایک وارث اور ایک حوادث۔

(۳۳۶)

جس سے سوال کیا جاتا ہے وہ اس وقت تک آزاد رہتا ہے جب تک وعدہ نہ کرلے ۔

(۳۳۷)

بغیر عمل کے دوسروں کو دعوت دینے والا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے بغیر چلئہ کمان کے تیر چلانے والا۔

(۳۳۸)

علم کی دو قسمیں ہیں : ایک وہ ہوتا ہے جو(۲) بات میں ڈھل جاتا ہے اور ایک وہ ہوتا ہے جو صرف سن لیا جاتا ہے اور سنا سنایا اس وقت تک کام نہیں آتا ہے جب تک مزاج کاجزء نہ بن جائے ۔

(۱)یہ اشارہ ہے کہ انسان کو ایک تیسرے شریک کی طرف سے غافل نہیں ہونا چاہیے اور وہ ہے فقیر اورمسکین کو مذکورہ دونوں شریک اپنا حق خود لے لیتے ہیں اورتیسرے شریک کو اس کا حق دینا پڑتا ہے جو امتحان نفس بھی ہے اوروسیلہ اجر و ثواب بھی ہے۔

(۲)دوسرا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک علم انسان کی فطرت میں ودیعت کردیا گیا ہے اور ایک علم باہر سے حاصل ہوتا ہے اور کھلی ہوئی بات ہے کہ جب تک فطرت کے اندر وجدان سلیم اوراس کی صلاحیتیں نہ ہوں ' باہرکے علم کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے اوراس سے استفادہ اندر کی صلاحیت ہی پر موقوف ہے۔


۳۳۹ - وقَالَعليه‌السلام صَوَابُ الرَّأْيِ بِالدُّوَلِ - يُقْبِلُ بِإِقْبَالِهَا ويَذْهَبُ بِذَهَابِهَا.

۳۴۰ - وقَالَعليه‌السلام الْعَفَافُ زِينَةُ الْفَقْرِ والشُّكْرُ زِينَةُ الْغِنَى.

۳۴۱ - وقَالَعليه‌السلام يَوْمُ الْعَدْلِ عَلَى الظَّالِمِ - أَشَدُّ مِنْ يَوْمِ الْجَوْرِ عَلَى الْمَظْلُومِ.

۳۴۲ - وقَالَعليه‌السلام الْغِنَى الأَكْبَرُ الْيَأْسُ عَمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ.

(۳۳۹)

رائے کی درستی دولت(۱) اقبال سے وابستہ ہے۔ اسی کے ساتھ آتی ہے اور ای کے ساتھ چلی جاتی ہے ( لیکن دولت بھی مفت نہیں آتی ہے اس کے لئے بھی صحیح رائے کی ضرورت ہوتی ہے)

(۳۴۰)

پاک(۲) دامانی فقیری کی زینت ہے اور شکر مالداری کی زینت ہے۔

(۳۴۱)

مظلوم کے حق میں ظلم کے دن سے زیادہ شدید ظالم کے حق میں انصاف کا دن ہوتا ہے۔

(۳۴۲)

لوگوں کے ہاتھ کی دولت سے مایوس(۳) ہوجانا ہی بہتر ین مالداری ہے ( کہ انسان صرف خدا سے لو لگاتا ہے)

(۱)یعنی دنیا کا معیار صواب و خطایہ ہے کہ جس کے پاس دولت کی فراوانی دیکھ لیتے ہیں سمجھتے ہیں کہ اس کے پاس یقینا فکر سلیم بھی ہے ورنہ اس قدر دولت کس طرح حاصل کر سکتا تھا ۔اس کے بعد جب دولت چلی جاتی ہے تو اندازہ کرتے ہیں کہ یقینا اس کی رائے میں کمزوری پیداہوگئی ہے ورنہ اس طرح کی غربت سے کس طرح دوچار ہوسکتا تھا۔

(۲)حقیقت امریہ ہے کہ نہ فقیری کوئی عیب ہے اور نہ مالداری کو ئی حسن اور ہنر۔عیب و ہنر کی دنیا اس سے ذراماوراء ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان فقیری میں عفت سے کام لے اور کسی کے سامنے دست سوال درازنہ کرے اور مالداری میں شکر پروردگار ادا کرے اور کسی طرح کے غرور و تکبر میں مبتلا نہ ہوجائے ۔

(۳)یہ عزت نفس کا بہترین مظاہرہ ہے جہاں انسان غربت کے باوجود دوسروں کی دولت کی طرف مڑ کر نہیں دیکھتا ہے اور ہمیشہ اس نکتہ کونگاہ میں رکھتا ہے کہ فقر و فاقہ سے صرف جسم کمزور ہوتا ہے لیکن ہاتھ پھیلا دینے سے نفس میں ذلت اورحقارت کا احساس پیدا ہوتا ہے جو جسم کے فاقہ سے یقینا بد تر اور شدید تر ہے ۔


۳۴۳ - وقَالَعليه‌السلام الأَقَاوِيلُ مَحْفُوظَةٌ والسَّرَائِرُ مَبْلُوَّةٌ - و( كُلُّ نَفْسٍ بِما كَسَبَتْ رَهِينَةٌ ) - والنَّاسُ مَنْقُوصُونَ مَدْخُولُونَ إِلَّا مَنْ عَصَمَ اللَّه - سَائِلُهُمْ مُتَعَنِّتٌ ومُجِيبُهُمْ مُتَكَلِّفٌ - يَكَادُ أَفْضَلُهُمْ رَأْياً - يَرُدُّه عَنْ فَضْلِ رَأْيِه الرِّضَى والسُّخْطُ - ويَكَادُ أَصْلَبُهُمْ عُوداً تَنْكَؤُه اللَّحْظَةُ - وتَسْتَحِيلُه الْكَلِمَةُ الْوَاحِدَةُ.

۳۴۴ - وقَالَعليه‌السلام : مَعَاشِرَ النَّاسِ اتَّقُوا اللَّه - فَكَمْ مِنْ مُؤَمِّلٍ مَا لَا يَبْلُغُه وبَانٍ مَا لَا يَسْكُنُه - وجَامِعٍ مَا سَوْفَ يَتْرُكُه - ولَعَلَّه مِنْ بَاطِلٍ جَمَعَه ومِنْ حَقٍّ مَنَعَه - أَصَابَه حَرَاماً واحْتَمَلَ بِه آثَاماً - فَبَاءَ بِوِزْرِه وقَدِمَ عَلَى رَبِّه آسِفاً لَاهِفاً - قَدْ «خَسِرَ الدُّنْيا والآخِرَةَ ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ».

(۳۴۳)

باتیں سب محفوظ رہتی ہیں۔اور دلوں کے رازوں کا امتحان ہونے والا ہے۔ہر نفس اپنے اعمال کے ہاتھوں گرو ہے ۔اور لوگوں کے جسم میں نقص اورعقلوں میں کمزوری آنے والی ہے مگر یہ کہ اللہ یہ بچالے۔ان میں کے سائل الجھانے والے ہیں اور جوابدینے والے بلا وجہ زحمت کر رہے ہیں۔قریب ہے کہ ان کا بہترین رائے والا بھی صرف خوشنودی یا غضب کے تصور سے اپنی راے سے پلٹا دیاجائے اورجو انتہائی مضبوط عقل وارادہ والا ہے اس کو بھی ایک نظر متاثر کردے یا ایک کلمہ اس می انقلاب پیدا کردے ۔

(۳۴۴)

ایہاالناس ! اللہ سے ڈرو کہ کتنے ہی امیدوار ہیں جن کی امیدیں پوری نہیں ہوتی ہیں اور کتنے یہ گھر بنانے والے ہیں جنہیں رہنا نصیب نہیں ہوتا ہے کتنے مال جمع کرنے والے ہیں جوچھوڑ کرچلے جاتے ہیں۔اوربہت ممکن ہے کہ باطل سے جمع کیا ہو یا کسی حق سے انکار کردیا ہو یا حرام سے حاصل کیا ہواور گناہوں کا بوجھ لاد لیا ہو۔تو اس کا وبال لے کرواپس ہو اور اسی عالم میں پروردگار کے حضور حاضرہو جائے جہاں صرف رنج اور افسوس ہواور دنیا و آخرت دونوں کا خسارہ ہو جو درحقیقت کھلا ہواخسارہ ہے۔


۳۴۵ - وقَالَعليه‌السلام مِنَ الْعِصْمَةِ تَعَذُّرُ الْمَعَاصِي.

۳۴۶ - وقَالَعليه‌السلام مَاءُ وَجْهِكَ جَامِدٌ يُقْطِرُه السُّؤَالُ - فَانْظُرْ عِنْدَ مَنْ تُقْطِرُه.

۳۴۷ - وقَالَعليه‌السلام الثَّنَاءُ بِأَكْثَرَ مِنَ الِاسْتِحْقَاقِ مَلَقٌ - والتَّقْصِيرُ عَنِ الِاسْتِحْقَاقِ عِيٌّ أَوْ حَسَدٌ.

۳۴۸ - وقَالَعليه‌السلام أَشَدُّ الذُّنُوبِ مَا اسْتَهَانَ بِه صَاحِبُه.

۳۴۹ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ نَظَرَ فِي عَيْبِ نَفْسِه اشْتَغَلَ عَنْ عَيْبِ غَيْرِه

(۳۴۵)

گناہوں تک رسائی کا نہ ہونا بھی ایک طرح کی پاکدامنی(۱) ہے۔

(۳۴۶)

تمہاری آبرو محفوظ ہے اور سوال اسے مٹا دیتا ہے لہٰذا یہ دیکھتے رہو کہ کس کے سامنے ہاتھ پھیلا رہے ہو اور آبرو کا سودا کررہے ہو ۔

(۳۴۷)

استحقاق سے زیادہ تعریف کرناخوشامد ہے اور استحقاق سے کم تعریف کرناعاجزی ہے یا حسد۔

(۳۴۸)

سب سے سخت گناہوہ ہے جسے گناہ گار ہلکا(۲) قراردیدے ۔

(۳۴۹)

جواپنے عیب پر نگاہ رکھتا ہے وہ دوسروں کے عیب سے غافل ہو جاتا ہے

(۱)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ گناہوں کے بارے میں شریعت کامطالبہ صرف یہ ہے کہ انسان ان سے اجتناب کرے اور ان میں مبتلا نہ ہونے پائے چاہے اس کا سبب اس کا تقدس ہو یا مجبوری۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ اپنے اختیار سے گناہوں کا ترک کردینے والا مستحق اجرو ثواب بھی ہوسکتا ہے اور مجبور اً ترک کردینے والا کس اجرو ثواب کا حقدار نہیں ہو سکتا ہے ۔

(۲)غیر معصوم انسان کی زندگی کے بارے میں گناہوں کے امکانات توہمہ وقت رہتے ہیں لیکن انسان کی شرافت نفس یہ ہے کہ جب کوئی گناہ سرزد ہو جائے تواسے گناہ تصور کرے اور اس کی تلافی کی فکر کرے ورنہ اگر اسے خفیف اور ہلکا تصور کرلیا تو یہ دوسرا گناہ ہوگا جو پہلے گناہ سے بد تر ہوگا کہ پہلا گناہنفس کی کمزوری سے پیداہواتھا اور یہ ایمان اور عقیدہ کی کمزوری سے پیدا ہوا ہے۔


- ومَنْ رَضِيَ بِرِزْقِ اللَّه لَمْ يَحْزَنْ عَلَى مَا فَاتَه - ومَنْ سَلَّ سَيْفَ الْبَغْيِ قُتِلَ بِه - ومَنْ كَابَدَ الأُمُورَ عَطِبَ - ومَنِ اقْتَحَمَ اللُّجَجَ غَرِقَ - ومَنْ دَخَلَ مَدَاخِلَ السُّوءِ اتُّهِمَ - ومَنْ كَثُرَ كَلَامُه كَثُرَ خَطَؤُه - ومَنْ كَثُرَ خَطَؤُه قَلَّ حَيَاؤُه - ومَنْ قَلَّ حَيَاؤُه قَلَّ وَرَعُه - ومَنْ قَلَّ وَرَعُه مَاتَ قَلْبُه - ومَنْ مَاتَ قَلْبُه دَخَلَ النَّارَ - ومَنْ نَظَرَ فِي عُيُوبِ النَّاسِ فَأَنْكَرَهَا - ثُمَّ رَضِيَهَا لِنَفْسِه فَذَلِكَ الأَحْمَقُ بِعَيْنِه - والْقَنَاعَةُ مَالٌ لَا يَنْفَدُ - ومَنْ أَكْثَرَ مِنْ ذِكْرِ الْمَوْتِ - رَضِيَ مِنَ الدُّنْيَا بِالْيَسِيرِ - ومَنْ عَلِمَ أَنَّ كَلَامَه مِنْ عَمَلِه - قَلَّ كَلَامُه إِلَّا فِيمَا يَعْنِيه.

۳۵۰ - وقَالَعليه‌السلام لِلظَّالِمِ مِنَ الرِّجَالِ ثَلَاثُ عَلَامَاتٍ - يَظْلِمُ مَنْ فَوْقَه بِالْمَعْصِيَةِ - ومَنْ دُونَه بِالْغَلَبَةِ

اور جو رزق خدا پر راضی رہتا ہے وہ کسی چیز کے ہاتھ سے نکل جانے پر رنجیدہ نہیں ہوتا ہے۔جو بغاوت کی تلوار کھینچتا ہے خوداسی سے ماراجاتا ہے اور جواہ امورکو زبر دستی انجام دیناچاہتا ہے وہ تباہ ہو جاتا ہے لہروں میں پھاند پڑنے والا ڈوب جاتا ہے اورغلط جگہوں پردخل ہونے والا بدنام ہو جاتا ہے۔جس کی باتیں زیادہ ہوتیںہیں اس کی غلطیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں اورجس کی غلطیاں زیادہ ہوتی ہیں اس کی حیاکم ہو جاتی ہے اورجس کی حیاکم ہو جاتی ہے اس کا تقویٰ بھی کم ہوجاتا ہے اورجس کا تقویٰ کم ہوجاتا ہے اس کادل مردہ ہوجاتا ہے اور جس کادل مردہ ہوجاتا ہے وہ جہنم میں داخل ہوجاتا ہے ۔

جولوگوں کے عیب کو دیکھ کرناگواری کا اظہارکرے اورپھراسی عیب کو اپنے لئے پسند کرلے تو اسی کو احمق کہا جاتا ہے ۔

قناعت ایک ایسا سرمایہ ہے جوختم ہونے والا نہیں ہے۔

جوموت کو برابر یاد کرتا رہتا ہے وہ دنیا کے مختصر حصہ پر بھی راضی ہو جاتا ہے۔اور جسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کلام بھی عمل کا ایک حصہ ہے وہ ضرورت سے زیادہ کلام نہیں کرتا ہے۔

(۳۵۰)

لوگوں میں ظالم کی تین علامات ہوتی ہیں۔اپنے سے بالاتر پر معصیت کے ذریعہ ظلم کرتا ہے۔اپنے سے کمتر پرغلبہ و قہر کے ذریعہ ظلم کرتا ہے اور پھر ظالم قوم کی


ويُظَاهِرُ الْقَوْمَ الظَّلَمَةَ

۳۵۱ - وقَالَعليه‌السلام عِنْدَ تَنَاهِي الشِّدَّةِ تَكُونُ الْفَرْجَةُ - وعِنْدَ تَضَايُقِ حَلَقِ الْبَلَاءِ يَكُونُ الرَّخَاءُ.

۳۵۲ - وقَالَعليه‌السلام لِبَعْضِ أَصْحَابِه - لَا تَجْعَلَنَّ أَكْثَرَ شُغُلِكَ بِأَهْلِكَ ووَلَدِكَ - فَإِنْ يَكُنْ أَهْلُكَ ووَلَدُكَ أَوْلِيَاءَ اللَّه - فَإِنَّ اللَّه لَا يُضِيعُ أَوْلِيَاءَه - وإِنْ يَكُونُوا أَعْدَاءَ اللَّه فَمَا هَمُّكَ وشُغُلُكَ بِأَعْدَاءِ اللَّه.

۳۵۳ - وقَالَعليه‌السلام أَكْبَرُ الْعَيْبِ أَنْ تَعِيبَ مَا فِيكَ مِثْلُه

حمایت(۱) کرتا ہے۔

(۳۵۱)

سختیوں کی انتہا ہی پر کشائش حال پیدا ہوتی ہے اور بلائوں کے حلقوں کی تنگی ہی کے موقع پرآسائش(۲) پیدا ہوتی ہے۔

(۳۵۲)

اپنے بعض اصحاب سے خطاب کرکے فرمایا: زیادہ حصہ بیوی بچوں کی فکرمیں مت رہا کرو کہ اگر یہ اللہ کے دوست ہیں تواللہ انہیں(۳) برباد نہیں ہونے دے گا اور اگراس کے دشمن ہیں تو تم دشمنان خدا کے بارے میں کیوں فکر مند ہو۔

(مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے دائرہ سے باہرنکل کر سماج اورمعاشرہکے بارے میں بھی فکر کرے ۔صرف کنویں کامینڈک بن کرنہ رہ جائے )

(۳۵۳)

بد ترین عیب یہ ہے کہ انسان کسی عیب کو برا کہے اور پھر اس میں وہی عیب پایا جاتا ہو۔

(۱)یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ صرف ظلم کرنا ہی ظلم نہیں ہے بلکہ ظالم کی حمایت بھی ایک طرح کا ظلم ہے لہٰذا انسان کا فرض ہے کہ اس ظلم سے بھی محفوظ رہے اور مکمل عادلانہ زندگی گذارے اور ہر شے کو اسی مقام پر رکھے جو اس کا محل اورموقع ہے۔

(۲)مقصد یہ ے کہ انسان کو سختیوں اور تنگیوں میں مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ حوصلہ کو بلند رکھنا چاہیے اور سر گرم عمل رہنا چاہیے کہ قرآن کریم نے سہولت کو تنگی اورزحمت کے بعد نہیں رکھا ہے بلکہ اسی کے ساتھ رکھاہے '' ان مع الیسر یسرا ''

(۳)اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے انسان اہل و عیال کی طرف سے یکسر غافل و جائے اورانہیں پروردگار کے رحم و کرم پر چھوڑدے۔پروردگار کا رحم و کرم ماں باپ سے یقینا زیادہ ہے لیکن ماں باپ کی اپنی بھی ایک ذمہداری ہے۔اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ بقدرواجب خدمت کرکے باقی معاملات کو پروردگار کے حوالہ کردے اوران کی طرف سراپا توجہ بن کر پروردگار سے غافل نہ ہو جائے ۔


۳۵۴ - وهَنَّأَ بِحَضْرَتِه رَجُلٌ رَجُلًا بِغُلَامٍ وُلِدَ لَه - فَقَالَ لَه لِيَهْنِئْكَ الْفَارِسُ - فَقَالَعليه‌السلام لَا تَقُلْ ذَلِكَ - ولَكِنْ قُلْ شَكَرْتَ الْوَاهِبَ - وبُورِكَ لَكَ فِي الْمَوْهُوبِ - وبَلَغَ أَشُدَّه ورُزِقْتَ بِرَّه.

۳۵۵ - وبَنَى رَجُلٌ مِنْ عُمَّالِه بِنَاءً فَخْماً - فَقَالَعليه‌السلام أَطْلَعَتِ الْوَرِقُ رُءُوسَهَا - إِنَّ الْبِنَاءَ يَصِفُ لَكَ الْغِنَى.

۳۵۶ - وقِيلَ لَهعليه‌السلام لَوْ سُدَّ عَلَى رَجُلٍ بَابُ بَيْتِه وتُرِكَ فِيه - مِنْ أَيْنَ كَانَ يَأْتِيه رِزْقُه - فَقَالَعليه‌السلام مِنْ حَيْثُ يَأْتِيه أَجَلُه.

۳۵۷ - وعَزَّى قَوْماً عَنْ مَيِّتٍ مَاتَ لَهُمْ فَقَالَعليه‌السلام - إِنَّ هَذَا الأَمْرَ لَيْسَ لَكُمْ بَدَأَ - ولَا إِلَيْكُمُ انْتَهَى - وقَدْ كَانَ صَاحِبُكُمْ

(۳۵۴)

حضرت کے سامنے ایک شخص نے ایک شخص کو فرزند کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ شہسوار مبارک ہو۔توآپ نے فرمایا کہ یہ مت کہو بلکہ یہ کہو کہ تم نے دینے والے کا شکریہ ادا کیاہے لہٰذا تمہیں یہ تحفہ مبارک ہو۔خداکرے کہ یہ منزل کمال تک پہنچے اور تمہیں اس کی نیکی نصیب ہو۔

(۳۵۵)

آپ کے عمال میں سے ایک شخص نے عظیم عمارت تعمیر کرلی تو آپ نے فرمایا کہ چاندی کے سکوں نے سر نکال لیا ہے ۔یقینا یہ تعمیر تمہاری مالداری کی غمازی کرتی ہے۔

(۳۵۶)

کسی نے آپ سے سوال کیا کہ اگر کسی شخص کے گھر کادروازہ بند کردیا جائے اوراسے تنہا چھوڑ دیا جائے تو اس کا رزق کہاں سے آئے گا ؟ فرمایا کہ جہاں سے اس کی موت آئے گی ۔

(۳۵۷)

ایک جماعت کو کسی مرنے والے کی تعزیت پیش کرتے ہوئے فرمایا: یہ بات تمہارے یہاں کوئی نئی نہیں ہے اور نہ تمہیں پر اس کی انتہا ہے۔تمہارا یہ ساتھی سر


هَذَا يُسَافِرُ فَعُدُّوه فِي بَعْضِ أَسْفَارِه - فَإِنْ قَدِمَ عَلَيْكُمْ وإِلَّا قَدِمْتُمْ عَلَيْه.

۳۵۸ - وقَالَعليه‌السلام أَيُّهَا النَّاسُ لِيَرَكُمُ اللَّه مِنَ النِّعْمَةِ وَجِلِينَ - كَمَا يَرَاكُمْ مِنَ النِّقْمَةِ فَرِقِينَ - إِنَّه مَنْ وُسِّعَ عَلَيْه فِي ذَاتِ يَدِه - فَلَمْ يَرَ ذَلِكَ اسْتِدْرَاجاً فَقَدْ أَمِنَ مَخُوفاً - ومَنْ ضُيِّقَ عَلَيْه فِي ذَاتِ يَدِه - فَلَمْ يَرَ ذَلِكَ اخْتِبَاراً فَقَدْ ضَيَّعَ مَأْمُولًا

۳۵۹ - وقَالَعليه‌السلام يَا أَسْرَى الرَّغْبَةِ أَقْصِرُوا ،فَإِنَّ الْمُعَرِّجَ عَلَى الدُّنْيَا لَا يَرُوعُه مِنْهَا - إِلَّا صَرِيفُ أَنْيَابِ الْحِدْثَانِ أَيُّهَا النَّاسُ تَوَلَّوْا مِنْ أَنْفُسِكُمْ تَأْدِيبَهَا - واعْدِلُوا بِهَا عَنْ ضَرَاوَةِ عَادَاتِهَا.

گرم سفر رہا کرتاتھا تو سمجھو کہ یہ بھی ایک سفر ہے اس کے بعد یا وہ تمہارے پاس وارد ہوگا یاتم اس کے پاس وارد ہوگے۔

(۳۵۸)

لوگو! اللہ نعمت کے موقع پر بھی تمہیں(۱) ویسے ہی خوفزدہ دیکھے جس طرح عذاب کے معاملہ میں ہراساں دیکھتا ہے کہ جس شخص کو فراخدستی حاصل ہو جائے اور وہ اسے عذاب کی لپیٹ نہ سمجھے تو اس نے خوفناک چیز سے بھی اپنے کومطمئن سمجھ لیا ہے اور جو تنگدستی میں مبتلا ہو جائے اوراسے امتحان نہ سمجھے اس نے اس ثواب کوبھی ضائع کردیا جس کی امید کی جاتی ہے۔

(۳۵۹)

اے حرص و طمع کے اسیرو!اب باز آجائو۔کہ دنیا پر ٹوٹ پڑنے والوں کو حوادث زمانہ کے دانت پیسنے کے علاوہ کوئی خوف زدہ نہیں کر سکتا ہے ۔

اے لوگو! اپنے نفس کی اصلاح کی ذمہ داری خود سنبھال لو اور اپنی عادتوں کے تقاضوں(۲) سے منہ موڑ لو۔

(۱)مقصد یہ ہے کہ زندگانی کے دونوں طرح کے حالات میں دونوں طرح کے احتمالات پائے جاتے ہیں۔راحت وآرام میں امکان فضل و کرم بھی ہے اور احتمال مہلت و اتمام حجت بھی ہے اور اسی طرح مصیبت اور پریشانی کے ماحول میں احتمال عتاب و عقاب بھی ہے اور احتمال امتحان و اختیار بھی ہے لہٰذا انسان کا فرض ہے کہ راحتوں کے ماحول میں اس خطرہ سے محفوظ نہ ہو جائے کہ اس طرح بھی قوموں کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیا جاتا ہے اور پریشانیوں کے حالات میں اس رخ سے غافل نہ ہو جائے کہ یہ امتحان بھی ہوسکتا ہے اوراس میں صبرو تحمل کا مظاہرہ کرکے اجرو ثواب بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

(۲)مقصد یہ ہے کہ خواہشات کے اسیر نہ بنواور دنیا کا اعتبارنہکرو۔انجام کار کی زحمتوں سے ہوشیار رہو اور اپنے نفس کواپنے قابو میں رکھو تاکہ بیجا رسوم اورمہمل عادات کا اتباع نہ کرو۔


۳۶۰ - وقَالَعليه‌السلام لَا تَظُنَّنَّ بِكَلِمَةٍ خَرَجَتْ مِنْ أَحَدٍ سُوءاً - وأَنْتَ تَجِدُ لَهَا فِي الْخَيْرِ مُحْتَمَلًا.

۳۶۱ - وقَالَعليه‌السلام إِذَا كَانَتْ لَكَ إِلَى اللَّه سُبْحَانَه حَاجَةٌ - فَابْدَأْ بِمَسْأَلَةِ الصَّلَاةِ عَلَى رَسُولِهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - ثُمَّ سَلْ حَاجَتَكَ - فَإِنَّ اللَّه أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يُسْأَلَ حَاجَتَيْنِ - فَيَقْضِيَ إِحْدَاهُمَا ويَمْنَعَ الأُخْرَى.

۳۶۲ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ ضَنَّ بِعِرْضِه فَلْيَدَعِ الْمِرَاءَ

۳۶۳ - وقَالَعليه‌السلام مِنَ الْخُرْقِ الْمُعَاجَلَةُ قَبْلَ الإِمْكَانِ - والأَنَاةُ بَعْدَ الْفُرْصَةِ

(۳۶۰)

کسی کی بات کے غلط معنی(۱) نہ لو جب تک صحیح معنی کا امکان موجود ہے۔

(۳۶۱)

اگر پروردگار کی بار گاہ(۲) میں تمہاری کوئی حاجت ہو تو اس کی طلب کا آغاز رسو ل اکرم (ص) پر صلوات سے کرو اور اس کے بعد اپنی حاجت طلب کرو کہ پروردگار اس بات سے بالاتر ہے کہ اس سے دو باتوں کا سوال کیا جائے اور وہ ایک کو پورا کردے اور ایک کو نظر انداز کردے ۔

(۳۶۲)

جو اپنی آبرو کو بچانا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ لڑائی جھگڑے سے پرہیز کرے۔

(۳۶۳)

کسی بات کے امکان سے پہلے جلدی کرنا اور وقت آجانے پر دیر کرنا دونوں ہی حماقت ہے۔

(۱)کاش ہر شخص اس تعلیم کو اختیار کرلیتا تو سماج کے بے شمارمفاسد سے نجات مل جاتی اور دنیامیں فتنہ و فساد اکثر راستے بند ہو جاتے مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہوتا ہے اورہر شخص دوسرے کے بیان میں غلط پہلو پہلے تلاش کرتا ہے اور صحیح رخ کے بارے میں بعد میں سوچتا ہے۔

(۲)یہ صحیح ہے کہ رسول اکرم (ص) ہماری صلوات اوردعائے رحمت کے محتاج نہیں ہیں لیکن اس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہے کہ ہم اپنے ادائے شکر سے غافل ہو جائیں اور ان کی طرف سے ملنے والی نعمت ہدایت کا کسی شکل میں کوئی بدلہ دیں۔ورنہ پروردگار بھی ہماری عبادتوں کامحتاج نہیں ہے تو ہر انسان عبادتوں کو نظراندازکرکے چین سے سوجائے ۔صلوات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان پروردگار کی نظر عنایت کا حقدار ہو جاتا ہے اور اس طرح اس کی دعائیں قابل قبول ہو جاتی ہیں۔


۳۶۴ - وقَالَعليه‌السلام لَا تَسْأَلْ عَمَّا لَا يَكُونُ - فَفِي الَّذِي قَدْ كَانَ لَكَ شُغُلٌ

۳۶۵ - وقَالَعليه‌السلام الْفِكْرُ مِرْآةٌ صَافِيَةٌ والِاعْتِبَارُ مُنْذِرٌ نَاصِحٌ - وكَفَى أَدَباً لِنَفْسِكَ تَجَنُّبُكَ مَا كَرِهْتَه لِغَيْرِكَ.

۳۶۶ - وقَالَعليه‌السلام الْعِلْمُ مَقْرُونٌ بِالْعَمَلِ فَمَنْ عَلِمَ عَمِلَ - والْعِلْمُ يَهْتِفُ بِالْعَمَلِ - فَإِنْ أَجَابَه وإِلَّا ارْتَحَلَ عَنْه.

(۳۶۴)

جو بات ہونے والی نہیں ہے۔اس کے بارے میں سوال مت کرو کہ جو ہوگیا ہے وہی تمہارے لئے کافی ہے۔

(۳۶۵)

فکر(۱) ایک شفاف آئینہ ہے اورعبرت حاصل کرنا ایک انتہائی مخلص متنبہ کرنیوالا ے۔تمہارے نفس کے ادب کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جس چیز کو دوسروں کے لئے نا پسند کرتے ہو اس سے خود بھی پرہیز کرو۔

(۳۶۶)

علم کا مقدر عمل(۲) سے جڑا ہوا ہے اورجو واقعی صاحب علم ہوتا ہے وہ عمل بھی کرتا ہے۔یاد رکھو کہ علم عمل کے لئے آوازدیتا ہے اور انسان سن لیتا ہے تو خیر ورنہ خود بھی رخصت ہو جاتا ہے۔

(۱)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ فکر ایک شفاف آئینہ ہے جس میں بآسانی مجہولات کاچہرہ دیکھ لیا جاتا ہے اور اہل منطق نے اس کی یہی تعریف کی ہے کہ معلومات کی اس طرح مرتب کیا جائے کہ اس سے مجہولات کاعلم حاصل ہو جائے ۔لیکن صرف مستقبل کاچہرہ دیکھ لینا ہی کوئی ہنرنہیں ہے۔اصل ہنر اور کام اس سے عبرت حاصل کرنا ہے کہ انسان کے حق میں عبرت سے زیادہ مخلص نصیحت کرنے والا کوئی نہیں ہے اور یہی عبرت ہے جو اسے ہر برائی اور مصیبت سے بچا سکتی ہے ورنہ اس کے علاوہ کوئی یہ کار خیر انجام دینے والا نہیں ہے۔

(۲)بلا شک و شبہ علم ایک کمال ہے اور مجہولات کاحاصل کرلینا ایک ہنر ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اسے با کمال اور صاحب ہنر کس طرح کہاجاسکتا ہے جو یہ تودریافت کرلے کہ فلاں چیز میں زہر ہے مگر اس سے اجتناب نہ کرے۔ایسے شخص کو تو مزید احمق اور نالائق تصور کیا جاتا ہے۔

علم کا کمال ہی یہ ہے کہ انسان اس کے مطابق عمل کرے تاکہ صاحب علم اور صاحب کمال کہے جانے کاحقدار ہو جائے ورنہ علم ایک وبال ہو جائے گا اوراپنی ناقدری سے ناراض ہو کر رخصت بھی ہو جائے گا۔صرف نام علم باقی رہ جائے گا ور حقیقت علم ختم ہو جائے گی۔


۳۶۷ - وقَالَعليه‌السلام يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَتَاعُ الدُّنْيَا حُطَامٌ مُوبِئٌ - فَتَجَنَّبُوا مَرْعَاه قُلْعَتُهَا أَحْظَى مِنْ طُمَأْنِينَتِهَا - وبُلْغَتُهَا أَزْكَى مِنْ ثَرْوَتِهَا - حُكِمَ عَلَى مُكْثِرٍ مِنْهَا بِالْفَاقَةِ - وأُعِينَ مَنْ غَنِيَ عَنْهَا بِالرَّاحَةِ - مَنْ رَاقَه زِبْرِجُهَا أَعْقَبَتْ نَاظِرَيْه كَمَهاً - ومَنِ اسْتَشْعَرَ الشَّغَفَ بِهَا مَلأَتْ ضَمِيرَه أَشْجَاناً - لَهُنَّ رَقْصٌ عَلَى سُوَيْدَاءِ قَلْبِه - هَمٌّ يَشْغَلُه وغَمٌّ يَحْزُنُه - كَذَلِكَ حَتَّى يُؤْخَذَ بِكَظَمِه فَيُلْقَى بِالْفَضَاءِ مُنْقَطِعاً أَبْهَرَاه - هَيِّناً عَلَى اللَّه فَنَاؤُه وعَلَى الإِخْوَانِ إِلْقَاؤُه - وإِنَّمَا يَنْظُرُ الْمُؤْمِنُ إِلَى الدُّنْيَا بِعَيْنِ الِاعْتِبَارِ - ويَقْتَاتُ مِنْهَا بِبَطْنِ الِاضْطِرَارِ - ويَسْمَعُ فِيهَا بِأُذُنِ الْمَقْتِ والإِبْغَاضِ - إِنْ قِيلَ أَثْرَى قِيلَ أَكْدَى - وإِنْ فُرِحَ لَه بِالْبَقَاءِ حُزِنَ لَه

(۳۶۷)

ایہاالناس! دنیا کا سرمایہ ایک سڑفا بھوسہ ہے جس سے وباء پھیلنے والی ہے لہٰذا اس کی چراگاہ سے ہوشیار رہو اس دنیا سے چل چلائو سکون کے ساتھ رہنے سے زیادہ فائدہ مند ہے اور یہاں کابقدر ضرورت سامان ثروت سے زیادہ برکت والا ہے ۔یہاں کے دولت مند کے بارے میں ایک دن احتیاج لکھ دی گئی ہے اوراس سے بے نیاز رہنے والے کو راحت کا سہارا دے دیا جاتا ہے ۔جسے اس کی زینت پسندآگئی اس کی آنکھوں کوانجام کاری ہ اندھا کردیتی ہے اورجس نے اس سے شغف کو شعار بنا لیا اس کے ضمیر کو رنج و اندوہ سے بھردیتی ہے اور یہ فکریں اس کے نقطہ قلب کے گرد چکر لگاتی رہتی ہیں بعض اسے مشغول بنالیتی ہیں اور بعض محزون بنادیتی ہیں اور یہ سلسلہ یوں ہی قائم رہتا ہے یہاں تک کہاس کا گلا گھونٹ دیا جائے اوراسے فضائ( قبر) میں ڈال دیا جائے جہاں دل کی دونوں رگیں کٹ جائیں۔خداکے لئے اس کا فناکردینا بھی آسان ہے اور بھائیوںکے لئے اسے قبر میں ڈال دینابھی مشکل نہیں ہے۔مومن وہی ہے جو دنیاکی طرف عبرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور پیٹ کی ضرورت بھر سامان پر گذارا کر لیتا ہے۔اس کی باتوں کہ عداوت و نفرت کے کانوں سے سنتا ہے۔کہ جب کسی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مالدار ہوگیا ہے تو فوراً آوازآتی ہے کہ نادار ہوگیا ہے۔اور جب کسی کو بقا کے تصور سے مسرور کیا جاتا ہے تو فناکے خیال سے رنجیدہ بنادیاجاتاہے


بِالْفَنَاءِ - هَذَا ولَمْ يَأْتِهِمْ يَوْمٌ فِيه يُبْلِسُونَ

۳۶۸ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ اللَّه سُبْحَانَه وَضَعَ الثَّوَابَ عَلَى طَاعَتِه - والْعِقَابَ عَلَى مَعْصِيَتِه ذِيَادَةً لِعِبَادِه عَنْ نِقْمَتِه - وحِيَاشَةً لَهُمْ إِلَى جَنَّتِه.

۳۶۹ - وقَالَعليه‌السلام يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ - لَا يَبْقَى فِيهِمْ مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُه - ومِنَ الإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُه - ومَسَاجِدُهُمْ يَوْمَئِذٍ عَامِرَةٌ مِنَ الْبِنَاءِ - خَرَابٌ مِنَ الْهُدَى - سُكَّانُهَا وعُمَّارُهَا شَرُّ أَهْلِ الأَرْضِ - مِنْهُمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَةُ وإِلَيْهِمْ تَأْوِي الْخَطِيئَةُ - يَرُدُّونَ مَنْ شَذَّ عَنْهَا فِيهَا - ويَسُوقُونَ مَنْ تَأَخَّرَ عَنْهَا إِلَيْهَا - يَقُولُ اللَّه سُبْحَانَه فَبِي حَلَفْتُ - لأَبْعَثَنَّ عَلَى أُولَئِكَ فِتْنَةً تَتْرُكُ الْحَلِيمَ فِيهَا حَيْرَانَ - وقَدْ فَعَلَ ونَحْنُ نَسْتَقِيلُ اللَّه عَثْرَةَ الْغَفْلَةِ.

۔اور یہ سباس وقت ہے جب ابھی وہ دن نہیں آیا ہے جب دن اہل دنیا مایوسی کاشکار ہوجائیں گے۔

(۳۶۸)

پروردگار عالم نے اطاعت پر ثواب اور معصیت پر عقاب اسی لئے رکھا ہے تاکہ بندوں کو اپنے غضب سے دور رکھ سکے اور انہیں گھیر جنت کی طرف لے آئے ۔

(۳۶۹)

لوگوں پر ایک ایسا دوربھی آنے والا ہے جب قرآن صرف نقوش باقی رہ جائیں گے اور اسلام میں صرف نام باقی رہ جائے گا مسجدیں(۱) تعمیرات کے اعتبار سے آباد ہوں گی اور ہدایت کے اعتبار سے برباد ہوں گی۔اس کے رہنے والے اورآباد کرنے والے سب بد ترین اہل زمانہ ہوں گے۔انہیں سے فتنہ باہر آئے گا اورانہیں کی طرف غلطیوں کو پناہ ملے گی۔جو اس سے بچ کر جانا چاہے گا اسے اس کی طرف پلٹا دیں گے اور جودور رہنا چاہے گا اسے ہنکا کرلے آئیں گے

پروردگار کا ارشاد ہے کہ میری ذات کی قسم میں ان لوگوں پر ایک ایسے فتنہ کو مسلط کردوں گا جو صاحب عقل کوبھی حیرت زدہ بنادے گا اور یہ یقینا ہو کر رہے گا۔ہم اس کی بارگاہ میں غفلتوں کی لغزشوں سے پناہ چاہتے ہیں۔

(۱)شائد کہ ہمارا دور اس ارشاد گرامی کا بہترین مصداق ہے جہاں مساجد کی تعمیر بھی ایک فیشن ہوگئی ہے اور اس کا اجتماع بھی ایک فنکشن ہو کر رہ گیا ہے ۔روح مسجد فنا ہوگئی ہے اور مساجد سے وہ کام نہیں لیا جا رہا ہے جو مولائے کائنات کے دور میں لیا جارہا تھا جہاں اسلام کی ہر تحریک کا مرکز مسجد تھی اورباطل سے ہر مقابلہ کامنصوبہ مسجد میں تیار ہوتا تھا۔لیکن آج مسجدیں صرف حکومتوں کے لئے دعائے خیر کامرکز ہیں اور ان کی شخصیتوں کے پروپگینڈہ کابہترین پلیٹ فارم ہیں۔رب کریم اس صورت حال کی اصلاح فرمائے ۔!


۳۷۰ - ورُوِيَ أَنَّهعليه‌السلام قَلَّمَا اعْتَدَلَ بِه الْمِنْبَرُ - إِلَّا قَالَ أَمَامَ الْخُطْبَةِ - أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّه - فَمَا خُلِقَ امْرُؤٌ عَبَثاً فَيَلْهُوَ - ولَا تُرِكَ سُدًى فَيَلْغُوَ - ومَا دُنْيَاه الَّتِي تَحَسَّنَتْ لَه بِخَلَفٍ - مِنَ الآخِرَةِ الَّتِي قَبَّحَهَا سُوءُ النَّظَرِ عِنْدَه - ومَا الْمَغْرُورُ الَّذِي ظَفِرَ مِنَ الدُّنْيَا بِأَعْلَى هِمَّتِه - كَالآخَرِ الَّذِي ظَفِرَ مِنَ الآخِرَةِ بِأَدْنَى سُهْمَتِه

۳۷۱ - وقَالَعليه‌السلام لَا شَرَفَ أَعْلَى مِنَ الإِسْلَامِ - ولَا عِزَّ أَعَزُّ مِنَ التَّقْوَى - ولَا مَعْقِلَ أَحْسَنُ مِنَ الْوَرَعِ - ولَا شَفِيعَ أَنْجَحُ مِنَ التَّوْبَةِ - ولَا كَنْزَ أَغْنَى مِنَ الْقَنَاعَةِ - ولَا مَالَ أَذْهَبُ لِلْفَاقَةِ مِنَ الرِّضَى بِالْقُوتِ - ومَنِ اقْتَصَرَ عَلَى بُلْغَةِ الْكَفَافِ - فَقَدِ انْتَظَمَ الرَّاحَةَ وتَبَوَّأَ خَفْضَ الدَّعَةِ - والرَّغْبَةُ مِفْتَاحُ النَّصَبِ

ومَطِيَّةُ التَّعَبِ - والْحِرْصُ والْكِبْرُ والْحَسَدُ - دَوَاعٍ إِلَى التَّقَحُّمِ فِي الذُّنُوبِ - والشَّرُّ جَامِعُ مَسَاوِئِ الْعُيُوبِ.

(۳۷۰)

کہا جاتا ہے کہ آپ جب بھی منبر پرتشریف لے جاتے تھے تو خطبہ سے پہلے یہ کلمات ارشاد فرمایا کرتے تھے ۔

لوگو! اللہ سے ڈرو۔اس نے کسی کو بیکار نہیں پیدا کیا ہے کہ کھیل کود میں لگ جائے اور نہ آزاد چھوڑ دیا ہے کہ لغویتیں کرنے لگے۔یہ دنیا جو انسان کی نگاہ میں آراستہ ہوگئی ہے یہ اس آخرت کا بدل نہیں بن سکتی ہے جسے بری نگاہ نے قبیح بنادیا ہے ۔جو فریب خوردہ دنیا حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے وہ اس کا جیسا نہیں ہے جو آخرت میں ادنیٰ حصہ بھی حاصل کرلے ۔

(۳۷۱)

اسلام سے بلند تر کوئی شرف نہیں ہے اور تقویٰ سے زیادہ باعزت کوئی عزت نہیں ہے۔پرہیز گاری سے بہترکوئی پناہ گاہ نہیں ہے اور توبہ سے زیادہ کامیاب کوئی شفاعت کرنے والا نہیں ہے۔قناعت سے زیادہ مالدار بنانے والا کوئی خزانہ نہیں ہے اور روزی پر راضی ہو جانے سے زیادہ فقر و فاقہ کو دورکرنے والا نہیں ہے ۔

جس نے بقدرکفایت سامان پرگذارا کرلیا اس نے راحت کو حاصل کرلیا اور سکون کی منزل میں گھر بنالیا۔

خواہش رنج و تکلیف کی کنجی اور تکان و زحمت کی سواری ہے۔

حرص ' تکبر اورحسد گناہوں میں کود پڑنے کے اسباب و محرکات ہیں اورش ر تمام برائیوں کاجامع ہے


۳۷۲ - وقَالَعليه‌السلام لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّه الأَنْصَارِيِّ - يَا جَابِرُ قِوَامُ الدِّينِ والدُّنْيَا بِأَرْبَعَةٍ - عَالِمٍ مُسْتَعْمِلٍ عِلْمَه - وجَاهِلٍ لَا يَسْتَنْكِفُ أَنْ يَتَعَلَّمَ - وجَوَادٍ لَا يَبْخَلُ بِمَعْرُوفِه - وفَقِيرٍ لَا يَبِيعُ آخِرَتَه بِدُنْيَاه - فَإِذَا ضَيَّعَ الْعَالِمُ عِلْمَه - اسْتَنْكَفَ الْجَاهِلُ أَنْ يَتَعَلَّمَ - وإِذَا بَخِلَ الْغَنِيُّ بِمَعْرُوفِه - بَاعَ الْفَقِيرُ آخِرَتَه بِدُنْيَاه.

يَا جَابِرُ مَنْ كَثُرَتْ نِعَمُ اللَّه عَلَيْه - كَثُرَتْ حَوَائِجُ النَّاسِ إِلَيْه - فَمَنْ قَامَ لِلَّه فِيهَا بِمَا يَجِبُ فِيهَا عَرَّضَهَا لِلدَّوَامِ والْبَقَاءِ ومَنْ لَمْ يَقُمْ فِيهَا بِمَا يَجِبُ عَرَّضَهَا لِلزَّوَالِ والْفَنَاءِ.

۳۷۳ - ورَوَى ابْنُ جَرِيرٍ الطَّبَرِيُّ فِي تَارِيخِه: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى الْفَقِيه - وكَانَ مِمَّنْ خَرَجَ لِقِتَالِ الْحَجَّاجِ مَعَ ابْنِ الأَشْعَثِ - أَنَّه قَالَ فِيمَا كَانَ يَحُضُّ بِه النَّاسَ عَلَى الْجِهَادِ - إِنِّي سَمِعْتُ عَلِيّاً رَفَعَ اللَّه دَرَجَتَه فِي الصَّالِحِينَ - وأَثَابَه ثَوَابَ الشُّهَدَاءِ والصِّدِّيقِينَ - يَقُولُ يَوْمَ لَقِينَا أَهْلَ الشَّامِ.

(۳۷۲)

آپ نے جابر بن عبداللہ انصاری سے فرمایا کہ جابر دین و دنیا کا قیام چارچیزوں سے ہے

وہ عالم جو اپنے علم کو استعمال بھی کرے اور وہ جاہل جو علم حاصل کرنے سے انکارنہ کرے وہ سختی جو اپنی نیکیوں میں بخل نہ کرے ۔اور فقیرو جو اپنی آخرت کو دنیاکے عوض فروخت نہ کرے ۔

لہٰذا ( یاد رکھو ) اگر عالم اپنے کوبرباد کردے گا تو جاہل بھی اس کے حصول سے اکڑ جائے گا اور اگر غنی اپنی نیکیوں میں بخل کرے گا توفقیر بھی آخرت کو دنیاکے عوض بیچنے پرآمادہ ہو جائے گا۔

جابر ! جس پراللہ کی نعمتیں زیادہ ہوتی ہیں اس کی طرفرلوگوں کی احتیاج بھی زیادہ ہوتی ہے لہٰذا جو شخص اپنے مال میں اللہ کے فرائض کے ساتھ قیام کرتا ہے وہ اس کی بقا و دوام کا سامان فراہم کرلیتا ہے اورجوان وابجات کوادا نہیں کرتا ہے وہ اسے زوال و فنا کے راستہ پر لگا دیتا ہے ۔

(۳۷۳)

ابن جریر طبری نے اپنی تریخ میں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے نقل کیا ہے جو حجاج سے مقابلہ کرنے کے لئے ابن اشعث سے نکلا تھا اور لوگوں کوجہاد پرآمادہ کر رہا تھا کہ میں نے حضرت علی ( خداصالحین میں ان کے درجات کو کا ثواب عنایت کرے ) سے اسدن سنا ہے جب ہم لوگ شام والوں سے مقابلہ کر رہے تھے کہ حضرت نے فرمایا:


أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ - إِنَّه مَنْ رَأَى عُدْوَاناً يُعْمَلُ بِه - ومُنْكَراً يُدْعَى إِلَيْه - فَأَنْكَرَه بِقَلْبِه فَقَدْ سَلِمَ وبَرِئَ - ومَنْ أَنْكَرَه بِلِسَانِه فَقَدْ أُجِرَ - وهُوَ أَفْضَلُ مِنْ صَاحِبِه - ومَنْ أَنْكَرَه بِالسَّيْفِ - لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّه هِيَ الْعُلْيَا وكَلِمَةُ الظَّالِمِينَ هِيَ السُّفْلَى - فَذَلِكَ الَّذِي أَصَابَ سَبِيلَ الْهُدَى - وقَامَ عَلَى الطَّرِيقِ ونَوَّرَ فِي قَلْبِه الْيَقِينُ.

۳۷۴ - وفِي كَلَامٍ آخَرَ لَه يَجْرِي هَذَا الْمَجْرَى: فَمِنْهُمُ الْمُنْكِرُ لِلْمُنْكَرِ بِيَدِه ولِسَانِه وقَلْبِه - فَذَلِكَ الْمُسْتَكْمِلُ لِخِصَالِ الْخَيْرِ - ومِنْهُمُ الْمُنْكِرُ بِلِسَانِه وقَلْبِه والتَّارِكُ بِيَدِه - فَذَلِكَ مُتَمَسِّكٌ بِخَصْلَتَيْنِ مِنْ خِصَالِ الْخَيْرِ - ومُضَيِّعٌ خَصْلَةً - ومِنْهُمُ الْمُنْكِرُ بِقَلْبِه والتَّارِكُ بِيَدِه ولِسَانِه - فَذَلِكَ الَّذِي ضَيَّعَ أَشْرَفَ الْخَصْلَتَيْنِ مِنَ الثَّلَاثِ - وتَمَسَّكَ بِوَاحِدَةٍ -

ایمان والو! جوشخص یہ دیکھے کہ ظلم و تعدی پر عمل ہو رہا ہے اور برائیوں کی طرف دعوت دی جارہی ہے اور اپنے دل سے اس کا انکار کردے توگویا کہ محفو ظ رہ گیا اور بری(۱) ہوگیا۔اور اگر زبان سے انکار کردے تواجرکا حقداربھی ہوگیا کہ یہ صرف قلبی انکار سے بہتر صورت ہے اور اگر کوئی شخص تلوار کے ذریعہ اس کی روک تھام کرے تاکہ اللہ کا کلمہ بلند ہو جائے اور ظالمین کی بات پستہو جائے تو یہی وہ شخص ہے جس نے ہدایت کے راستہ کو پالیا ہے اورسیدھے راستہ پر قائم ہوگیا ہے اور اس کے دل میں یقین کی روشنی پیدا ہوگئی ہے۔

(۳۷۴)

( اسی موضوع سے متعلق دوسرے موقع پرارشاد فرمایا ) بعض لوگ منکرات کا انکار دل۔زبان اور ہاتھ سب سے کرتے ہیں تو یہ خیر کے تمام شعبوں کے مالک ہیں اور بعض لوگ صرف زبان اوردل سے انکار کرتے ہیں اور ہاتھ سے روک تھام نہیں کرتے ہیں تو انہوں نے نیکی کی دوخصلتوں کو حاصل کیا ہے اور ایک خصلت کو برباد کردیا ہے۔اور بعض لوگ صرف دل سے انکار کرتے ہیں اور نہ ہاتھ استعمال کرتے ہیں اور نہ زبان۔تو انہوں نے دوخصلتوں کو ضائع کردیا ہے اور صرف ایک کو پکڑ لیا ہے۔

(۱)اس فقرہ میں سلامتی اوربراء ت کامفہوم یہی ہے کہ منکرات کو برا سمجھنا اور اس سے راضی نہ ہونا انسان کی فطرت سلیم کا حصہ ہے جس کا تقاضا اندر سے برابر جاری رہتا ہے لہٰذا اگر اس نے بیزاری کا اظہار کردیا توگویا فطرت کے سلیم ہونے کا ثبوت دے دیا اوراس فریضہ سے سبکدوش ہوگیا جو فطرت سلیم نے اس کے ذمہ عائد کیا تھا۔ورنہاگر ایسا بھی نہ کرتا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ فطرت سلیم پرخارجی عناصر غالبآگئے ہیں اور انہوں نے بری الذمہ ہونے سے روک دیا ہے ۔


ومِنْهُمْ تَارِكٌ لإِنْكَارِ الْمُنْكَرِ بِلِسَانِه وقَلْبِه ويَدِه - فَذَلِكَ مَيِّتُ الأَحْيَاءِ - ومَا أَعْمَالُ الْبِرِّ كُلُّهَا والْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّه - عِنْدَ الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ والنَّهْيِ عَنْ الْمُنْكَرِ - إِلَّا كَنَفْثَةٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍّ - وإِنَّ الأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ والنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ - لَا يُقَرِّبَانِ مِنْ أَجَلٍ ولَا يَنْقُصَانِ مِنْ رِزْقٍ - وأَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ كُلِّه كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ إِمَامٍ جَائِرٍ.

۳۷۵ - وعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَعليه‌السلام يَقُولُ: أَوَّلُ مَا تُغْلَبُونَ عَلَيْه مِنَ الْجِهَادِ - الْجِهَادُ بِأَيْدِيكُمْ ثُمَّ بِأَلْسِنَتِكُمْ ثُمَّ بِقُلُوبِكُمْ - فَمَنْ لَمْ يَعْرِفْ بِقَلْبِه مَعْرُوفاً ولَمْ يُنْكِرْ مُنْكَراً - قُلِبَ فَجُعِلَ أَعْلَاه أَسْفَلَه وأَسْفَلُه أَعْلَاه.

۳۷۶ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ الْحَقَّ ثَقِيلٌ مَرِيءٌ وإِنَّ الْبَاطِلَ خَفِيفٌ وَبِيءٌ

اوربعض وہ بھی ہیں جو دل۔زبان اور ہاتھ کسی سے بھی برائیوں کا انکارنہیں کرتے ہیں تو یہ زندوں کی درمیان مردہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور یاد رکھو کہ جملہ اعمال خیر مع جہاد راہ خدا۔امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے مقابلہ میں وہی حیثیت رکھتے ہیں جوگہرے سمندر میں لعاب دہن کے ذرات کی حیثیت ہوتی ہے۔

اور ان تمام اعمال سے بلند تر عمل حاکم ظالم کے سامنے کلمۂ انصاف(۱) کااعلان ہے۔

(۳۷۵)

ابو حجیفہ سے نقل کیا گیا ہے کہ میں نے امیر المومنین کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے پہلے تم ہاتھ کے جہاد میں مغلوب ہوگے اس کے بعد زبان کے جہادمیں اور اس کے بعد دل کے جہاد میں ۔مگر یہ یاد رکھنا کہ اگر کسی شخص نے دل سے اچھائی کواچھا اوربرائی کو برا نہیں سمجھا تواسے اس طرح الٹ پلٹ دیاجائے گا کہ پست بلند ہو جائے اور بلند پست ہو جائے ۔

(۳۷۶)

حق ہمیشہ سنگین ہوتا ہے مگرخوشگوار ہوتا ہے اور باطل ہمیشہ آسان ہوتا ہے مگرمہلک ہوتا ہے

(۱)تاریخ اسلام میں اس کی بہترین مثال ابن السکیت کاکردار ہے جہاں ان سے متوکل نے سردربار یہ سوال کرلیا کہ تمہاری نگاہ میں میرے دونوں فرزند معتبر اورموید بہترین یا علی کے دونوں فرزند حسن و حسین تو ابن السکیت نے سلطان ظالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فرمایا کہ حسن و حسین کاکیا ذکر ہے تیرے فرزند اور تو دونوں مل کرعلی کے غلام قنبر کی جوتیوں کے تسمہ کے برابر نہیں ہیں۔

جس کے بعد متوکل نے حکم دے دیاکہ ان کی زبان کی گدی سے کھینچ لیا جائے اورابن السکیت نے نہایت درجہ سکون قلب کے ساتھ اس قربانی کو پیش کردیا اور اپنے پیشرو مثیم تمار۔حجر بن عدی۔عمروبن الحمق۔ابوذر۔عماریاسر اورمختار سے ملحق ہوگئے ۔


۳۷۷ - وقَالَعليه‌السلام لَا تَأْمَنَنَّ عَلَى خَيْرِ هَذِه الأُمَّةِ عَذَابَ اللَّه،لِقَوْلِه تَعَالَى -( فَلا يَأْمَنُ مَكْرَ الله إِلَّا الْقَوْمُ الْخاسِرُونَ ) - ولَا تَيْأَسَنَّ لِشَرِّ هَذِه الأُمَّةِ مِنْ رَوْحِ اللَّه لِقَوْلِه تَعَالَى -( إِنَّه لا يَيْأَسُ مِنْ رَوْحِ الله إِلَّا الْقَوْمُ الْكافِرُونَ ) .

۳۷۸ - وقَالَعليه‌السلام الْبُخْلُ جَامِعٌ لِمَسَاوِئِ الْعُيُوبِ - وهُوَ زِمَامٌ يُقَادُ بِه إِلَى كُلِّ سُوءٍ.

۳۷۹ - وقَالَعليه‌السلام يَا ابْنَ آدَمَ الرِّزْقُ رِزْقَانِ رِزْقٌ تَطْلُبُه -

(۳۷۷)

دیکھو اس امت کے بہترین آدمی کے بارے میں بھی عذاب سے مطمئن نہ ہو جانا کہ عذاب الٰہی کی طرف سے صرف خسارہ والے ہی مطمئن ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اور اسی طرح اس امت کے بد ترین کے بارے میں بھی رحمت خداسے مایوس نہ ہو جانا کہ رحمت خدا سے مایوسی صرف کافروں کا حصہ ہے۔

(واضح رہے کہ اس ارشاد کا تعلق صرف ان گناہ گاروں سے ہے جن کا عمل انہیں سرحد کفر تک نہ پہنچا دے ورنہ کافر تو بہرحال رحمت خداسے مایوس رہتا ہے۔

(۳۷۸)

بخل عیوب کی تمام برائیوں کا جامع ہے۔اوریہی وہ زمام ہے جس کے ذریعہ انسان کو ہر برائی کی طرف کھینچ لے جاتا ہے۔

(۳۷۰)

ابن آدم ! رزق کی دو قسمیں ہیں۔ایک رزق وہ ہے جسے تم تلاش کر رہے ہو اورایک رزق(۱) وہ ہے جو تم کو

(۱)اس کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے کہ انسان محنت و مشقت چھوڑ دے اوراس امید میں بیٹھ جائے کہ رزق کی دوسری قسم بہرحال حاصل ہو جاے گی اوراسی پر قناعت کرلے گا ۔بلکہ یہ درحقیقت اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ یہ دنیا عالم اسباب ہے یہاں محنت و مشقت بہرحال کرنا اوریہ انسان کے فرائض انسانیت وعبدیت میں شامل ہے لیکن اس کے بعد بھی رزق کا ایک حصہ ہے جو انسان کی محنت و مشقت سے بالاتر ہے اور وہ ان اسباب کے ذریعہ پہنچ جاتا ہے جن کا انسان تصوربھی نہیں کرتا ہے جس طرح کہ آپ گھر سے نکلیں اور کوئی شخص راستہ میں ایک گلاب پانی یا ایک پیالی چائے پلاے ۔ظاہر ہے کہ یہ پانی یا چائے نہ آپ کے حساب رزق کاکوئی حصہ ہے اور نہ آپنے اس کے لئے کوئی محنت کی ہے ۔یہ پروردگار کا ایک کر م ہے جوآپکے شامل حال ہوگیا ہے اور اس نے اس نکتہ کی وضاحت کردی کہ اگر زندگانی دنیا میں محنت ناکام بھی ہو جائے تو رزق کا سلسلہ بند ہونے والا نہیں ہے۔پروردگار کے پاس اپنے وسائل موجودہیں وہ ان وسائل سے رزق فراہم کردے گا۔وہ مسبب الاسباب ہے اسباب کا پابند نہیں ہے۔


ورِزْقٌ يَطْلُبُكَ فَإِنْ لَمْ تَأْتِه أَتَاكَ - فَلَا تَحْمِلْ هَمَّ سَنَتِكَ عَلَى هَمِّ يَوْمِكَ - كَفَاكَ كُلُّ يَوْمٍ عَلَى مَا فِيه - فَإِنْ تَكُنِ السَّنَةُ مِنْ عُمُرِكَ - فَإِنَّ اللَّه تَعَالَى سَيُؤْتِيكَ فِي كُلِّ غَدٍ جَدِيدٍ مَا قَسَمَ لَكَ - وإِنْ لَمْ تَكُنِ السَّنَةُ مِنْ عُمُرِكَ - فَمَا تَصْنَعُ بِالْهَمِّ فِيمَا لَيْسَ لَكَ - ولَنْ يَسْبِقَكَ إِلَى رِزْقِكَ طَالِبٌ - ولَنْ يَغْلِبَكَ عَلَيْه غَالِبٌ - ولَنْ يُبْطِئَ عَنْكَ مَا قَدْ قُدِّرَ لَكَ.

قال الرضي وقد مضى هذا الكلام - فيما تقدم من هذا الباب - إلا أنه هاهنا أوضح وأشرح فلذلك كررناه - على القاعدة المقررة في أول الكتاب.

۳۸۰ - وقَالَعليه‌السلام رُبَّ مُسْتَقْبِلٍ يَوْماً لَيْسَ بِمُسْتَدْبِرِه - ومَغْبُوطٍ فِي أَوَّلِ لَيْلِه قَامَتْ بَوَاكِيه فِي آخِرِه.

۳۸۱ - وقَالَعليه‌السلام الْكَلَامُ فِي وَثَاقِكَ مَا لَمْ تَتَكَلَّمْ بِه - فَإِذَا تَكَلَّمْتَ بِه صِرْتَ فِي وَثَاقِه - فَاخْزُنْ لِسَانَكَ كَمَا تَخْزُنُ ذَهَبَكَ ووَرِقَكَ - فَرُبَّ كَلِمَةٍ

تلاش کر رہا ہے کہ اگر تم اس تک نہ پہنچو گے تو وہ تمہارے پاس آجائے گا۔لہٰذا ایک سال کے ہم و غم کو ایک دن پر بار نہ کردو۔ہر دن کے لئے اسی دن کی فکر کافی ہے۔اس کے بعد اگر تمہاری عمر میں ایک سال باقی رہ گیا ہے تو ہرآنے والا دن اپنا رزق اپنے ساتھ لے کرآئے گا اوراگر سال باقی نہیں رہ گیا ہے تو سال بھر کی فکر کی ضرورت ہی کیا ہے۔تمہارے رزق کو تم سے پہلے کوئی پا نہیں سکتا ہے اور تمہارے حصہ پر کوئی غالب نہیں آسکتا ہے بلکہ جو تمہارے حق میں مقدر ہوچکا ہے وہ دیر سے بھی نہیں آئے گا۔

سید رضی : یہ ارشاد گرامی اس سے پہلے بھی گزر چکا ہے مگر یہاں زیادہ واضح اور مفصل ہے لہٰذا دوبارہ ذکر کردیا گیا ہے۔

(۳۸۰)

بہت سے لوگ ایسے دن کا سامنا کرنے والے ہیں جس سے پیٹھ پھیرانے والے نہیں ہیں۔اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی قسمت پر سر شام رشک کیا جاتا ہے اور صبح ہوتے ہوتے ان پر رونے والیوں کا ہجوم لگ جاتا ہے ۔

(۳۸۱)

گفتگو تمہارے قبضہ میں ہے۔جب تک اس کااظہار نہ ہو جائے ۔اس کے بعد پھر تم اس کے قبضہ میں چلے جاتے ہو۔لہٰذا اپنی زبان کو ویسے ہی محفوظ رکھو جسے سونے چاندی کی حفاظت کرتے ہو۔کہ بعض کلمات نعمتوں کو


سَلَبَتْ نِعْمَةً وجَلَبَتْ نِقْمَةً.

۳۸۲ - وقَالَعليه‌السلام لَا تَقُلْ مَا لَا تَعْلَمُ بَلْ لَا تَقُلْ كُلَّ مَا تَعْلَمُ - فَإِنَّ اللَّه فَرَضَ عَلَى جَوَارِحِكَ كُلِّهَا - فَرَائِضَ يَحْتَجُّ بِهَا عَلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

۳۸۳ - وقَالَعليه‌السلام احْذَرْ أَنْ يَرَاكَ اللَّه عِنْدَ مَعْصِيَتِه - ويَفْقِدَكَ عِنْدَ طَاعَتِه - فَتَكُونَ مِنَ الْخَاسِرِينَ - وإِذَا قَوِيتَ فَاقْوَ عَلَى طَاعَةِ اللَّه - وإِذَا ضَعُفْتَ فَاضْعُفْ عَنْ مَعْصِيَةِ اللَّه.

۳۸۴ - وقَالَعليه‌السلام الرُّكُونُ إِلَى الدُّنْيَا مَعَ مَا تُعَايِنُ مِنْهَا جَهْلٌ - والتَّقْصِيرُ فِي حُسْنِ الْعَمَلِ - إِذَا وَثِقْتَ بِالثَّوَابِ عَلَيْه غَبْنٌ - والطُّمَأْنِينَةُ إِلَى كُلِّ أَحَدٍ قَبْلَ الِاخْتِبَارِ لَه عَجْزٌ.

۳۸۵ - وقَالَعليه‌السلام مِنْ هَوَانِ الدُّنْيَا عَلَى اللَّه أَنَّه لَا يُعْصَى إِلَّا فِيهَا - ولَا يُنَالُ مَا عِنْدَه إِلَّا بِتَرْكِهَا.

سلب کر لیتے ہیں اورعذاب کو جذب کرلیتے ہیں۔

(۳۸۲)

جوبات نہیں جانتے ہو اسے زبان سے مت نکالو بلکہ ہر وہ بات جسے جانتے ہو اسے بھی مت بیان کرو کہ اللہ نے ہر عضو بدن کے کچھ فرائض قراردئیے ہیں اور انہیں کے ذریعہ روز قیامت حجت قائم کرنے والا ہے۔

(۳۸۳)

اس بات سے ڈرو کہ اللہ تمہیں معصیت کے موقع پرحاضر دیکھے اور اطاعت کے موقع پر غائب پائے کہ اس طرح خسارہ والوں میں شمار ہو جائو گے ۔اگر تمہارے پاس طاقت ہے تو اس کا اظہار اطاعت خدا میں کرو اور اگر کمزوری دکھلانا ہے تو اسے معصیت کے موقع پر دکھلائو۔

(۳۸۴)

دنیا کیحالات دیکھنے کے باوجود اس کی طرف رجحان اور میلان صرف جہالت ہے۔اورثواب کے یقین کے بعد بھی نیک عمل میں کوتاہی کرنا خسارہ ہے۔امتحان سے پہلے ہر ایک پر اعتبار کرلینا عاجزی اور کمزوری ہے۔

(۳۸۵)

خداکی نگاہ میں دنیا کی حقارت کے لئے اتناہی کافی ہے کہ اس کی معصیت اسی دنیا میں ہوتی ہے اور اس کی اصلی نعمتیں اس کوچھوڑنے کے بغیر حاصل نہیں ہوتی ہیں۔


۳۸۶ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ طَلَبَ شَيْئاً نَالَه أَوْ بَعْضَه.

۳۸۷ - وقَالَعليه‌السلام مَا خَيْرٌ بِخَيْرٍ بَعْدَه النَّارُ - ومَا شَرٌّ بِشَرٍّ بَعْدَه الْجَنَّةُ - وكُلُّ نَعِيمٍ دُونَ الْجَنَّةِ فَهُوَ مَحْقُورٌ - وكُلُّ بَلَاءٍ دُونَ النَّارِ عَافِيَةٌ.

۳۸۸ - وقَالَعليه‌السلام أَلَا وإِنَّ مِنَ الْبَلَاءِ الْفَاقَةَ - وأَشَدُّ مِنَ الْفَاقَةِ مَرَضُ الْبَدَنِ - وأَشَدُّ مِنْ مَرَضِ الْبَدَنِ مَرَضُ الْقَلْبِ - أَلَا وإِنَّ مِنْ صِحَّةِ الْبَدَنِ تَقْوَى الْقَلْبِ.

(۳۸۶)

جو کسی شے کا طلب گار ہوتا ہے وہ کل یا جزء بہرحال حاصل کر لیتا ہے۔

(۳۸۷)

وہ بھلائی بھلائی نہیں ہے جس کا انجام جہنم ہو۔اوروہ برائی برائی نہیں ہے جس کی عاقبت جنت ہو۔جنت کے علاوہ ہر نعمت حقیر ہے اور جہنم سے بچ جانے کے بعد ہر مصیبت عافیت ہے۔

(۳۸۸)

یاد رکھو کہ فقرو فاقہ بھی ایک بلاء ہے اور اس سے زیادہ سخت مصیبت بدن کی بیماری ہے اور اس سے زیادہ دشوار گذار دل کی بیماری ہے۔مالداری یقینا ایک نعمت ہے لیکن اس سے بڑی نعمت صحت(۱) بدن ہے اور اس سے بڑی نعمت دل کی پرہیز گاری ہے۔

(۱) یہ نکتہ ان غرباء اورفقراء کے سمجھنے کے لئے ہے جوہمیشہ غربت کا مرثیہ پڑھتے رہتے ہیں اور کبھی صحت کا شکیرہ نہیں اداکرتے ہیں جب کہ تجربات کی دنیا میں یہبات ثابت ہوچکی ہے کہ امراض کا اوسط دولت مندوں میں غریبوں سے کہیں زیادہ ہے اور ہارٹ اٹیک کے بیشتر مریض اسی انچے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔بلکہ بعض اوقات توامیروں کی زندگی میں غذائوں سے زیادہ حصہ دوائوں کا ہوتا ہے اوروہ بیشمار غذائوں سے یکسر محروم ہو جاتے ہیں۔

صحت بدن پروردگار کا ایک مخصوص کرم ہے جو وہ اپنے بندوں کے شامل حال کردیتا ہے لیکن غریبوں کوبھی اس نکتہ کا خیال رکھنا چاہیے کہ اگر انہوں نے اس صحت کاشکریہ ادا کیا اور صرف غربت کی شکایت کرتے رہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جسمانی اعتبارسے صحت مند ہیں لیکن روحانی اعتبار سے بہر حال مریض ہیں اوریہ مرض ناقابل علاج ہو چکا ہے۔رب کریم ہر مومن و مومنہ کو اس مرض سے نجات عطا فرمائے


۳۸۹ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ أَبْطَأَ بِه عَمَلُه لَمْ يُسْرِعْ بِه نَسَبُه: وفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: مَنْ فَاتَه حَسَبُ نَفْسِه لَمْ يَنْفَعْه حَسَبُ آبَائِه.

۳۹۰ - وقَالَعليه‌السلام لِلْمُؤْمِنِ ثَلَاثُ سَاعَاتٍ فَسَاعَةٌ يُنَاجِي فِيهَا رَبَّه - وسَاعَةٌ يَرُمُّ مَعَاشَه - وسَاعَةٌ يُخَلِّي بَيْنَ نَفْسِه - وبَيْنَ لَذَّتِهَا فِيمَا يَحِلُّ ويَجْمُلُ - ولَيْسَ لِلْعَاقِلِ أَنْ يَكُونَ شَاخِصاً إِلَّا فِي ثَلَاثٍ - مَرَمَّةٍ لِمَعَاشٍ أَوْ خُطْوَةٍ فِي مَعَادٍ - أَوْ لَذَّةٍ فِي غَيْرِ مُحَرَّمٍ.

۳۹۱ - وقَالَعليه‌السلام ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُبَصِّرْكَ اللَّه عَوْرَاتِهَا - ولَا تَغْفُلْ فَلَسْتَ بِمَغْفُولٍ عَنْكَ.

۳۹۲ - وقَالَعليه‌السلام تَكَلَّمُوا تُعْرَفُوا فَإِنَّ الْمَرْءَ مَخْبُوءٌ تَحْتَ لِسَانِه.

(۳۸۹)

جس کو عمل پیچھے ہٹا دے اسے نسب آگے نہیں بڑھا سکتاہے۔یا ( دوسری روایت میں ) جس کے ہاتھ سے اپنا کردار نکل جائے اسے آباء واجداد کے کارنامے فائدہ نہیں پہنچا سکتے ہیں۔

(۳۹۰)

مومن کی زندگی کے تین اوقات ہوتے ہیں۔ ایک ساعت میں وہ اپنے رب سے راز و نیاز کرتا ہے اور دوسرے وقت میں اپنے معاش کی اصلاح کرتا ہے اور تیسرے وقت میں اپنے نفس کوان لذتوں کے لئے آزاد چھوڑ دیتا ہے جوحلال اور پاکیزہ ہیں ۔

کسی عقل مند کویہ زیب نہیں دیتا ہے کہ اپنے گھرسے دور ہو جائے مگر یہ کہ تین میں سے کوئی ایک کام ہو۔اپنے معاش کی اصلاح کرے ' آخرت کی طرف قدم آگے بڑھائے 'حلال اورپاکیزہ لذت حاصل کرے۔

(۳۹۱)

دنیامیں زہد اختیار کرو تاکہ اللہ تمہیں اس کی برائیوں سے آگاہ کردے ۔اورخبر دار غافل نہ ہو جائو کہ تمہاری طرف سے غفلت نہیں برتی جائے گی۔

(۳۹۲)

بولو تاکہ پہچانے جائو اس لئے کہ انسان کی شخصیت اس کی زبان کے نیچے چھپی رہتی ہے۔


۳۹۳ - وقَالَعليه‌السلام خُذْ مِنَ الدُّنْيَا مَا أَتَاكَ - وتَوَلَّ عَمَّا تَوَلَّى عَنْكَ - فَإِنْ أَنْتَ لَمْ تَفْعَلْ فَأَجْمِلْ فِي الطَّلَبِ

۳۹۴ - وقَالَعليه‌السلام رُبَّ قَوْلٍ أَنْفَذُ مِنْ صَوْلٍ

۳۹۵ - وقَالَعليه‌السلام كُلُّ مُقْتَصَرٍ عَلَيْه كَافٍ.

۳۹۶ - وقَالَعليه‌السلام الْمَنِيَّةُ ولَا الدَّنِيَّةُ والتَّقَلُّلُ ولَا التَّوَسُّلُ ومَنْ لَمْ يُعْطَ قَاعِداً لَمْ يُعْطَ قَائِماً

(۳۹۳)

جو دنیا میں حاصل ہو جائے اسے لے لو اور جو چیز تم سے منہ موڑ لے تم بھی اس سے منہ پھیر لو اور اگر ایسا نہیں کر سکتے ہو تو طلب میں میانہ روی سے کام لو۔

(۳۹۴)

بہت سے الفاظ حملوں(۱) سے زیادہاثر رکھنے والے ہوتے ہیں۔

(۳۹۵)

جس پر اکتفا(۲) کرلی جائے وہی کافی ہے۔

(۳۹۶)

موت ہو لیکن خبردار ذلت نہ ہو۔

کم ہو لیکن دوسروں کو وسیلہ نہ بنانا پڑے۔

جسے بیٹھ کر(۳) نہیں مل سکتا ہے اسے کھڑے ہو کر بھی نہیں مل سکتا ہے

(۱)اسی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ تلوار کا زخم بھرجاتا ہے لیکن زبان کا زخم نہیں بھرتا ہے۔اوراس کے علاوہ دونوں کا بنیادی فرق یہ ہے کہ حملوں کا اثر محدود علاقوں پر ہوتا ہے اورجملوں کا اثر ساری دنیا میں پھیل جاتا ہے جس کا مشاہدہ اس دورمیں بخوبی کیا جا سکتا ہے کہ حملے تمام دنیا میں بند پڑتے ہیں لیکن جملے اپنا کام کر رہے ہیں اور میڈیا ساری دنیا میں زہر پھیلا رہا ہے اورسارے عالم انسانیت کو ہرجہت اور ہراعتبار سے تباہی اوربربادی کے گھاٹ اتار رہا ہے۔

(۲)حرص و ہوس وہ بیماری ہے جس کاعلاج قناعت اورکفایت شعاری کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔یہ دنیا ایسی ہے کہ اگر انسان اس کی لالچ میں پڑ جائے تو ملک فرعون اور اقتداریزید وحجاج بھی کم پڑ جاتا ہے اور کفایت شعاری پر آجائے تو جو کی روٹیاں بھی اس کے کردار کا ایک حصہ بن جاتی ہیں اور وہ نہایت درجہ بے نیازی کے ساتھ دنیا کوطلاق دینے پرآمادہ ہو جاتا ہے اورپھر جوع کرنے کاب ھی ارادہ نہیں کرتا ہے۔

(۳)یہاں بیٹھنے سے مراد بیٹھ جانانہیں ہے ورنہ اس نصیحت کو سن کر ہر انسان بیٹھ جائے گا اور محنت و مشقت کا سلسلہ ہی موقوف ہو جائے گا بلکہ اس بیٹھنے سے مراد بقدر ضرورت محنت کرنا ہے جوانسانی زندگی کے لئے کافی ہواور انسان اس سے زیادہجان دینے پر آمادہ نہ ہوجائے کہ اس کاکوئی فائدہ نہیں ہے اور فضول محنت سے کچھ زیادہ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔


والدَّهْرُ يَوْمَانِ يَوْمٌ لَكَ ويَوْمٌ عَلَيْكَ - فَإِذَا كَانَ لَكَ فَلَا تَبْطَرْ - وإِذَا كَانَ عَلَيْكَ فَاصْبِرْ.

۳۹۷ - وقَالَعليه‌السلام نِعْمَ الطِّيبُ الْمِسْكُ خَفِيفٌ مَحْمِلُه عَطِرٌ رِيحُه.

۳۹۸ - وقَالَعليه‌السلام ضَعْ فَخْرَكَ واحْطُطْ كِبْرَكَ واذْكُرْ قَبْرَكَ.

۳۹۹ - وقَالَعليه‌السلام إِنَّ لِلْوَلَدِ عَلَى الْوَالِدِ حَقّاً - وإِنَّ لِلْوَالِدِ عَلَى الْوَلَدِ حَقّاً - فَحَقُّ الْوَالِدِ عَلَى الْوَلَدِ - أَنْ يُطِيعَه فِي كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا فِي مَعْصِيَةِ اللَّه سُبْحَانَه - وحَقُّ الْوَلَدِ عَلَى الْوَالِدِ - أَنْ يُحَسِّنَ اسْمَه ويُحَسِّنَ أَدَبَه ويُعَلِّمَه الْقُرْآنَ.

زمانہ دونوں کا نام ہے۔ایک دن تمہارے حق میں ہوتا ہے تو دوسرا تمہارے خلاف ہوتا ہے لہٰذا اگر تمہارے حق میں ہو تو مغرور نہ ہو جانا اور تمہارے خلاف ہو جائے تو صبر سے کام لینا۔

(۳۹۷)

بہترین خوشبو کا نام مشک ہے جس کاوزن انتہائی ہلکا ہوتا ہے اورخوشبو نہایت درجہ مہک دار ہوتی ہے۔

(۳۹۸)

فخرو سر بلندی کوچھوڑ دو اورتکبر و غرور کو فنا کردواور پھراپنی قبر کو یاد کرو۔

(۳۹۹)

فرزند کا باپ پر ایک حق ہوتا ہے اورباپ کا فرزند پرایک حق ہوتا ہے۔باپ کاحق یہ ہے کہ بیٹا ہر مسئلہ میں اس کی اطاعت کرے معصیت پروردگار کے علاوہ اور فرزند کاحق باپ پر یہ ہے کہ اس کا اچھاسانام تجویزکرے اوراسے بہترین ادب سکھائے ۔اور قرآن مجید کی تعلیم دے ۔


۴۰۰ - وقَالَعليه‌السلام الْعَيْنُ حَقٌّ والرُّقَى حَقٌّ والسِّحْرُ حَقٌّ - والْفَأْلُ حَقٌّ والطِّيَرَةُ لَيْسَتْ بِحَقٍّ - والْعَدْوَى لَيْسَتْ بِحَقٍّ - والطِّيبُ نُشْرَةٌ والْعَسَلُ نُشْرَةٌ - والرُّكُوبُ نُشْرَةٌ والنَّظَرُ إِلَى الْخُضْرَةِ نُشْرَةٌ.

۴۰۱ - وقَالَعليه‌السلام : مُقَارَبَةُ النَّاسِ فِي أَخْلَاقِهِمْ أَمْنٌ مِنْ غَوَائِلِهِمْ

۴۰۲ - وقَالَعليه‌السلام لِبَعْضِ مُخَاطِبِيه - وقَدْ تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ يُسْتَصْغَرُ مِثْلُه عَنْ قَوْلِ مِثْلِهَا:

لَقَدْ طِرْتَ شَكِيراً وهَدَرْتَ سَقْباً.

(۴۰۰)

چشم بد ۔فسوں کاری۔جادوگری اورفال نیک یہ سب واقعیت رکھتے ہیں لیکن بدشگونی(۱) کی کوئی حقیت نہیں ہے اور بیماری کی چھوت چھات بھی بے بنیاد امر ہے۔

خوشبو سواری' شہد اور سبزہ دیکھنے سے فرحت حاصل ہوتی ہے۔

(۴۰۱)

لوگوں کے ساتھ اخلاقیات میں قربت رکھنا ان کے شر سے بچانے(۲) کا بہترین ذریعہ ہے۔

(۴۰۲)

ایک شخص(۳) نے آپ کے سامنے اپنی اوقات سے اونچی بات کہہ دی۔تو فرمایا: تم تو پر نکلنے سے پہلے ہی اڑنے لگے اورجوانی آنے سے پہلے ہی بلبلانے لگے۔

(۱)کاش کوئی شخص ہمارے معاشرہ کو اس حقیقت سے آگاہ کر دیتا اور اسے باور کرادیتا کہ بدشگونی ایک وہمی امر ہے اوراس کی کوئی حقیقت و واقعیت نہیں ہے اور مرد مومن کو صرف حقائق اور واقعیات پراعتماد کرناچاہیے۔مگر افسوس کہ معاشرہ کا ساراکاروبار صرف اوہام وخیالات پرچل رہا ہے اور شگون نیک کی طرف کوئی شخص متوجہ نہیں ہے اور بد شگونی کا اعتبار ہر شخص کر لیتا ہے اوراس پر بیشمار سماجی اثرات بھی مرتبہو جاتے ہیں اور معاشرتی فساد کا ایک سللہ شروع ہو جاتا ہے۔

(۲)چونکہ ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ اس کے ساتھبرا برتائو نہ کریں اور وہ ہر ایک کے شر سے محفوظ رہے لہٰذا اس کابہترین طریقہ یہ ہے کہ لوگوں سے تعلقات قائم کرے اوران سے رسم و راہ بڑھائے تاکہوہ شر پھیلانے کا ارادہ ہی نہ کریں۔کہ معاشر ہ میں زیادہ حصہ شراختلاف اوردوری سے پیدا ہوتا ہے ورنہ قربت کے بعد کسی نہ کسی مقدار میں تکلف ضرور پیدا ہوجاتا ہے۔

(۳)بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس علم وفضل اور کمال و ہنر کچھ نہیں ہوتا ہے لیکن اونچی محفلوں میں بولنے کا شوق ضرور رکھتے ہیں جس طرح کہ بعض خطباء کمال جہالت کے باوجود ہر بڑی سے بڑی مجلس سے خطاب کرنے کے امیدوار رہتے ہیں اور ان کاخیال یہ ہوتا ہے کہ اس طرح اپنی شخصیت کارعب قائم کرلیں گے اور یہ احساس بھی نہیں ہوتا ہے کہ رہی سہی عزت بھی چلی جائے گی اور مجمع عام میں رسوا ہو جائیں گے۔

امیر المومنین نے اسے ہی افراد کو تنبیہ کی ہے جو قبل از وقت بالغ ہو جاتے ہیں اور بلوغ فکری سے پہلے ہی بلبلانے لگتے ہیں۔


قال الرضي والشكير هاهنا أول ما ينبت من ريش الطائر - قبل أن يقوى ويستحصف - والسقب الصغير من الإبل - ولا يهدر إلا بعد أن يستفحل.

۴۰۳ - وقَالَعليه‌السلام : مَنْ أَوْمَأَ إِلَى مُتَفَاوِتٍ خَذَلَتْه الْحِيَلُ

۴۰۴ - وقَالَعليه‌السلام وقَدْ سُئِلَ عَنْ مَعْنَى قَوْلِهِمْ - لَا حَوْلَ ولَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّه - إِنَّا لَا نَمْلِكُ مَعَ اللَّه شَيْئاً ولَا نَمْلِكُ إِلَّا مَا مَلَّكَنَا - فَمَتَى مَلَّكَنَا مَا هُوَ أَمْلَكُ بِه مِنَّا كَلَّفَنَا - ومَتَى أَخَذَه مِنَّا وَضَعَ تَكْلِيفَه عَنَّا.

۴۰۵ - وقَالَعليه‌السلام لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ - وقَدْ سَمِعَه يُرَاجِعُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ كَلَاماً

سید رضی :شکیر پرندہ کے ابتدائی پروں کو کہا جاتا ہے اورسقب چھوٹے اونٹ کا نام ہے جب کہ بلبلانے کاسلسلہ جوانی کے بعد شروع ہوتا ہے۔

(۴۰۳)

جو مختلف چیزوں پر نظر رکھتا ہے اس کی تدبیریں اس کا ساتھ چھوڑ دیتی ہیں۔

(۴۰۴)

آپ سے دریافت کیا گیا کہ'' لاحول ولا قوة الا باللہ '' کے معنی کیا ہیں ؟ توفرمایا کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے ہیں اور جو کچھ ملکیت ہے سب اسی کی دی ہوئی ہے تو جب وہ کسی ایسی چیز کا اختیار دیتا ہے جس کا اختیار اس کے پاس ہم سے زیادہ ہے تو ہمیں ذمہ داریاں بھی دیتا ہے اور جب واپس لے لیتا ہے تو ذمہ داریوں کو اٹھا لیتا ہے۔

(۴۰۵)

آپ نے دیکھا کہ عماریاسر مغیرہ(۱) بن شعبہ سے بحث

(۱)ابن ابی الحدید نے مغیرہ کے اسلام کی یہ تاریخ نقل کی ہے کہ یہ شخص ایک قافلہ کے ساتھ سفر میں جارہا تھا۔ایک مقام پر سب کو شراب پلا کر بے ہوش کردیا اور پھرقتل کرکے سارا سامان لوٹ لیا۔اس کے بعد جب یہ خطرہ پیدا ہواکہ ورثہ انتقام لیں گے اورجان کاب چانا مشکل ہو جائے گا تو بھاگکر مدینہآگیا اور فوراً اسلام قبول کرلیا کہاس طرح جان بچانے کا ایک راستہ نکل آئے گا۔

یہ شخص اسلام و ایمان دونوں سے بے بہرہ تھا۔اسلام جان بچانے کے لئے اختیار کیا تھا اورایمان کایہ عالم تھاکہ بر سر منبر '' کل ایمان'' کو گالیاں دیاکرتا تھا اور اسی بد ترین کردار کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوگیا جو ہر دشمن علی کاآخری انجام ہوتا ہے۔


دَعْه يَا عَمَّارُ - فَإِنَّه لَمْ يَأْخُذْ مِنَ الدِّينِ إِلَّا مَا قَارَبَه مِنَ الدُّنْيَا - وعَلَى عَمْدٍ لَبَسَ عَلَى نَفْسِه - لِيَجْعَلَ الشُّبُهَاتِ عَاذِراً لِسَقَطَاتِه.

۴۰۶ - وقَالَعليه‌السلام : مَا أَحْسَنَ تَوَاضُعَ الأَغْنِيَاءِ لِلْفُقَرَاءِ طَلَباً لِمَا عِنْدَ اللَّه - وأَحْسَنُ مِنْه تِيه الْفُقَرَاءِ عَلَى الأَغْنِيَاءِ - اتِّكَالًا عَلَى اللَّه.

۴۰۷ - وقَالَعليه‌السلام : مَا اسْتَوْدَعَ اللَّه امْرَأً عَقْلًا إِلَّا اسْتَنْقَذَه بِه يَوْماً مَا.

۴۰۸ - وقَالَعليه‌السلام : مَنْ صَارَعَ الْحَقَّ صَرَعَه.

۴۰۹ - وقَالَعليه‌السلام : الْقَلْبُ مُصْحَفُ الْبَصَرِ

کر رہے ہیں تو فرمایا عمار! اسے اس کے حال پرچھوڑ دو۔اس نے دین میں سے اتنا ہی حصہ لیا ہے جو اسے دنیا سے قریب تر بنا سکے اورجان بوجھ کر اپنے لئے امور کو مشتبہ بنالیا ہے تاکہ انہیں شبہات کو اپنی لغزشوں کا بہانہ قراردے سکے ۔

(۴۰۶)

کس قدر اچھی بات ہے کہ مالدار لوگ اجر الٰہی کی خاطر فقیروں کے ساتھ تواضع سے پیش آئیں لیکن اس سے اچھی بات یہ ہے کہ فقر اء خدا پر بھروسہ کرکے دولت مندوں کے ساتھ تمکنت(۱) سے پیش آئیں۔

(۴۰۷)

پروردگار کسی شخص کو عقل عنایت نہیں کرتاہے مگر یہ کہ ایک دن اسی کے ذریعہ اسے ہلاکت سے نکال لیتا ہے۔

(۴۰۸)

جو حق سے ٹکرائے گا حق بہر حال اسے پچھاڑ دے گا۔

(۴۰۹)

دل آنکھوں کا صحیفہ ہے

(۱)تکبراورتمکنت کوئی اچھی چیز نہیں ہے لیکن جہاں تواضع اورخاکساری میں فتنہ و فساد پایا جاتا ہو ورنہ تکبر اورتمکنت کا اظہار بے حد ضروری ہو جاتا ہے فقراء کے تکبرکامقصد یہ نہیں ہے کہ خواہ مخواہ اپنی بڑائی کا اظہار کریں اوربے بنیاد تمکنت کا سہارالیں۔بلکہ اس کامقصد یہ ے کہ اغنیاء کے بجائے پروردگار پر بھروسہ کریں اور اسی کے بھروسہ پر اپنی بے نیازی کا اظہار کریں تاکہ ایمان و عقیدہ میں استحکام پیدا ہو اوراغنیاء بھی تواضع اور انکسا پر مجبور ہو جائیں اور اس تواضع سے انہیں بھی کچھ اجر و ثواب حاصل ہو جائے ۔


۴۱۰ - وقَالَعليه‌السلام : التُّقَى رَئِيسُ الأَخْلَاقِ.

۴۱۱ - وقَالَعليه‌السلام : لَا تَجْعَلَنَّ ذَرَبَ لِسَانِكَ عَلَى مَنْ أَنْطَقَكَ - وبَلَاغَةَ قَوْلِكَ عَلَى مَنْ سَدَّدَكَ

۴۱۲ - وقَالَعليه‌السلام : كَفَاكَ أَدَباً لِنَفْسِكَ اجْتِنَابُ مَا تَكْرَهُه مِنْ غَيْرِكَ.

۴۱۳ - وقَالَعليه‌السلام مَنْ صَبَرَ صَبْرَ الأَحْرَارِ وإِلَّا سَلَا سُلُوَّ الأَغْمَارِ

۴۱۴ - وفِي خَبَرٍ آخَرَ أَنَّهعليه‌السلام - قَالَ لِلأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ مُعَزِّياً عَنِ ابْنٍ لَه.

إِنْ صَبَرْتَ صَبْرَ الأَكَارِمِ - وإِلَّا سَلَوْتَ سُلُوَّ الْبَهَائِمِ.

۴۱۵ - وقَالَعليه‌السلام فِي صِفَةِ الدُّنْيَا: تَغُرُّ وتَضُرُّ وتَمُرُّ -.

(۴۱۰)

تقویٰ تمام اخلاقیات کا راس و رئیس ہے۔

(۴۱۱)

اپنی زبان کی تیزی اس کے خلاف استعمال نہ کرو جس نے تمہیں بولنا سکھایا ہے اور اپنے کلام کی فصاحت کا مظاہرہ اس پر نہ کرو جس نے راستہ دکھایاہے۔

(۴۱۲)

اپنے نفس کی تربیت کے لئے یہی کافی ہے کہ ان چیزوں سے اجتناب کرو جنہیں دوسروں کے لئے برا سمجھتے ہو۔

(۴۱۳)

انسان جواں مردوں کی طرح صبر کرے گا ورنہ سادہ لوحوں کی طرح چپ ہو جائے گا۔

(۴۱۴)

دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے اشعث بن قیس کو اس کے بیٹے کی تعزیت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ بزرگوں کی طرح صبر کرو ورنہ جانوروں کی طرح ایک دن ضرور بھول جائو گے ۔

(۴۱۵)

آپ نے دنیا کی توصیف کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ دھوکہ دیتی ہے ۔نقصان پہنچاتی ہے اور گزر جاتی ہے


إِنَّ اللَّه تَعَالَى لَمْ يَرْضَهَا ثَوَاباً لأَوْلِيَائِه ولَا عِقَاباً لأَعْدَائِه وإِنَّ أَهْلَ الدُّنْيَا كَرَكْبٍ - بَيْنَا هُمْ حَلُّوا إِذْ صَاحَ بِهِمْ سَائِقُهُمْ فَارْتَحَلُوا

۴۱۶ - وقَالَ لِابْنِه الْحَسَنِعليه‌السلام لَا تُخَلِّفَنَّ وَرَاءَكَ شَيْئاً مِنَ الدُّنْيَا - فَإِنَّكَ تَخَلِّفُه لأَحَدِ رَجُلَيْنِ - إِمَّا رَجُلٌ عَمِلَ فِيه بِطَاعَةِ اللَّه - فَسَعِدَ بِمَا شَقِيتَ بِه - وإِمَّا رَجُلٌ عَمِلَ فِيه بِمَعْصِيَةِ اللَّه - فَشَقِيَ بِمَا جَمَعْتَ لَه - فَكُنْتَ عَوْناً لَه عَلَى مَعْصِيَتِه - ولَيْسَ أَحَدُ هَذَيْنِ حَقِيقاً أَنْ تُؤْثِرَه عَلَى نَفْسِكَ.

قَالَ الرَّضِيُّ ويُرْوَى هَذَا الْكَلَامُ عَلَى وَجْه آخَرَ وهُوَ.

أَمَّا بَعْدُ - فَإِنَّ الَّذِي فِي يَدِكَ مِنَ الدُّنْيَا - قَدْ كَانَ لَه أَهْلٌ قَبْلَكَ - وهُوَ صَائِرٌ إِلَى أَهْلٍ بَعْدَكَ - وإِنَّمَا أَنْتَ جَامِعٌ لأَحَدِ رَجُلَيْنِ - رَجُلٍ عَمِلَ فِيمَا جَمَعْتَه بِطَاعَةِ اللَّه

اللہ نے اسے نہ اپنے اولیاء کے ثواب کے لئے پسند کیا ہے اور نہ دشمنوں کے عذاب کے لئے۔اہل دنیا ان سواروں کے مانند ہیں جنہوں نے جیسے ہی قیام کیا ہنکانے والے نے للکار دیاکہ کوچ کا وقت آگیا ہے اور پھر روانہ ہوگئے ۔

(۴۱۶)

اپنے فرزند حسن(۱) سے بیان فرمایا: خبردار دنیا کی کوئی چیز اپنے بعد کے لئے چھوڑ کرمت جانا کہ اس کے وارث دو ہی طرح کے لوگ ہوں گے۔یا وہوں گے جو نیک عمل کریں گے تو جو مال تمہاری بد بختی کا سبب بنا ہے وہی ان کی نیک بختی کا سبب ہوگا اور اگر انہوں نے معصیت میں لگادیا تو وہ تمہارے مال کی وجہ سے بد بخت ہوں گے اورتم ان کو معصیت کے مددگار شمار ہوگے اور ان دونوں میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جسے تم اپنے نفس پر ترجیح دے سکتے ہو۔

سید رضی : اس کلام کو ایک دوسری طرح بھی نقل کیا گیا ہے کہ '' یہ دنیا جو آج تمہارے ہاتھ میں ہے کل دوسرے اس کے اہل رہ چکے ہیں اور کل دوسرے اس کے اہل ہوں گے اور تم اسے دو میں سے ایک کے لئے جمع کر رہے ہو یا وہ شخص جو تمہارے جمع کئے ہوئے کو اطاعت خدا میں صرف کرے گا تو جمع کرنے کی زحمت تمہاری

(۱)امام حسن سے خطاب مسئلہ کی اہمیت کی طرف اشارہ ہے کہ اتنی عظیم بات کا سمجھنا اوراس سے فائدہ اٹھاناہر انسان کے بس کاکام نہیں ہے ورنہ امام حسن جیسی شخصیت کا انسان ان نکات کی طرف توجہ دلانے کامحتاج نہیں ہے اور ان کا کامخود ہی عالم انسانیت کو ان حقائق سے با خبر کرنااور ان نکات کی طرف متوجہ کرنا ہے۔

بہرحال مسئلہ انتہائی اہم ہے کہ انسان کو اپنی عاقبت کے لئے جو کچھ کرناہے وہ اپنی زندگی میں کرنا ہے۔مرنے کے بعد دوسروں سے امید لگانا ایک وسوسہ شیطانی ہے اور کچھ نہیں ہے۔پھرمال بھی پروردگارنے دیا ہے تو اس کا فیصلہ بھی خود ہی کرنا ہے۔چاہے زندگی میں صرف کردے یا اس کے مصرف کا تعین کردے ورنہ فائدہ دوسرے افراد اٹھائیں گے اور وبال اسے برداشت کرنا پڑے گا۔


- فَسَعِدَ بِمَا شَقِيتَ بِه - أَوْ رَجُلٍ عَمِلَ فِيه بِمَعْصِيَةِ اللَّه - فَشَقِيتَ بِمَا جَمَعْتَ لَه - ولَيْسَ أَحَدُ هَذَيْنِ أَهْلًا أَنْ تُؤْثِرَه عَلَى نَفْسِكَ - ولَا أَنْ تَحْمِلَ لَه عَلَى ظَهْرِكَ - فَارْجُ لِمَنْ مَضَى رَحْمَةَ اللَّه - ولِمَنْ بَقِيَ رِزْقَ اللَّه.

۴۱۷ - وقَالَعليه‌السلام لِقَائِلٍ قَالَ بِحَضْرَتِه أَسْتَغْفِرُ اللَّه - ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ أَتَدْرِي مَا الِاسْتِغْفَارُ - الِاسْتِغْفَارُ دَرَجَةُ الْعِلِّيِّينَ - وهُوَ اسْمٌ وَاقِعٌ عَلَى سِتَّةِ مَعَانٍ - أَوَّلُهَا النَّدَمُ عَلَى مَا مَضَى - والثَّانِي الْعَزْمُ عَلَى تَرْكِ الْعَوْدِ إِلَيْه أَبَداً - والثَّالِثُ أَنْ تُؤَدِّيَ إِلَى الْمَخْلُوقِينَ حُقُوقَهُمْ - حَتَّى تَلْقَى اللَّه أَمْلَسَ لَيْسَ عَلَيْكَ تَبِعَةٌ - والرَّابِعُ أَنْ تَعْمِدَ إِلَى كُلِّ فَرِيضَةٍ عَلَيْكَ - ضَيَّعْتَهَا فَتُؤَدِّيَ حَقَّهَا - والْخَامِسُ أَنْ تَعْمِدَ إِلَى اللَّحْمِ الَّذِي نَبَتَ عَلَى السُّحْتِ - فَتُذِيبَه بِالأَحْزَانِ

ہوگی اور نیک بختی اس کے لئے ہوگی۔یا وہ شخص ہوگا جو معصیت میں صرف کرے گا تو اس کے لئے جمع کرکے تم بد بختی کا شکار ہوگے اوران میںسے کوئی اس بات کا اہل نہیں ہے کہ اسے اپنے نفس پر مقدم کرسکو اور اس کے لئے اپنی پشت کو گرانبار بناسکو لہٰذا جوگزرگئے ان کے لئے رحمت خدا کی امید کرو اورجوباقی رہ گئے ہیں ان کے لئے رزق خداکی امید کرو ۔

(۴۱۷)

ایک شخص نے آپ کے سامنے استغفار کیا ''استغفر اللہ '' تو آپ نے فرمایا کہ تیری ماں تیرے ماتم میں بیٹھے ۔یہ استغفار بلند ترین لوگوں کا مقام ہے اوراس کے مفہوم میں چھ چیزیں شامل ہیں:(۱) ماضی پر شرمندگی(۲) آئندہ کے لئے نہ کرنے کا عزم محکم(۳) مخلوقات کے حقوق کا ادا کردینا کہ اس کے بعد یوں پاکدامن ہو جائے کہ کوئی مواخذہ نہ رہ جائے(۴) جس فریضہ کو ضائع کردیا ہے اسے پورے طور پر ادا کردینا۔(۵) جو گوشت مال حرام سے اگا ہے اسے رنج و غم سے پگھلا(۱) دینا

(۱)اس سلسلہ میں سرکاردوعالم (ص) کا یہ ارشاد گرامی نقل کیاگیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ '' جس شخص نے ایک لقمہ حرام کھالیا اس کی نماز چالیس دن تک قبول نہ ہوگی اور اس کی دعا بھی چالیس دن تک قبول نہ ہوگی اور اس حرام سے جوگوشت اگے گا اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا اوریاد رکھو کہ ایک لقمہ سے بھی کسی نہ کسی مقدارمیں گوشت ضرور روئیدہ ہوتا ہے۔

کھلی ہوئی بات ہے کہ جب ایک لقمہ حرام کا یہاثر ہے تو جو لوگ صبح و شام لقمہ حرام ہی پر گذارا کرتے رہتے ہیں۔ان کی عبادتوں اوردعائوں کا انجام کیا ہوگا ۔ایسے لوگوں کا فرض ہے کہ دعائوں کے قبول نہ ہونے کاشکوہ کرنے کے بجائے دعائوں ک قابل قبول ہونے کا انتظام کریں تاکہ پروردگار ان کی دعائوں کو قبول کرسکے اور ان کی نمازوں کا اجرو ثواب دے سکے ورنہ صحیح نماز عذاب سے تو محفوظ بنا سکتی ہے تواث کا حقدار نہیں بنا سکتی ہے جب تک قابل قبول نہ ہوجائے۔اور صحیح اور مقبول کا بنیادی فرق یہ ہے کہ صحیح ہونے کے لئے عمل کے شرائط اور واجبات کودیکھا جاتا ہے کہ ان میں کوتاہی نہیں ہوئی ہے تو عمل صحیح ہو جائے گا اور دوبارہ انجام دینے کی ضرورت نہ ہوگی ۔لیکن قبول ہونے کے لئے اس کے علاوہ عمل کرنے والے کے تقویٰ اور اخلاص کو دیکھاجاتا ہے کہ پوردگار متقین کے علاوہکسی کے عمل کو قابل قبول نہیں قرار دیتا ہے اور اسنے صاف لفظوں میں اعلان کردیا ہے کہ وہ صرف متقین کے اعمال کو قبول کرتا ہے اور انہیں کے اعمال کو اجرو ثواب کاحقدار اور بلندی درجات کا وسیلہ و ذریعہ قراردیتا ہے۔


حَتَّى تُلْصِقَ الْجِلْدَ بِالْعَظْمِ - ويَنْشَأَ بَيْنَهُمَا لَحْمٌ جَدِيدٌ - والسَّادِسُ أَنْ تُذِيقَ الْجِسْمَ أَلَمَ الطَّاعَةِ - كَمَا أَذَقْتَه حَلَاوَةَ الْمَعْصِيَةِ - فَعِنْدَ ذَلِكَ تَقُولُ أَسْتَغْفِرُ اللَّه.

۴۱۸ - وقَالَعليه‌السلام الْحِلْمُ عَشِيرَةٌ

۴۱۹ - وقَالَعليه‌السلام : مِسْكِينٌ ابْنُ آدَمَ - مَكْتُومُ الأَجَلِ مَكْنُونُ الْعِلَلِ - مَحْفُوظُ الْعَمَلِ تُؤْلِمُه الْبَقَّةُ - وتَقْتُلُه الشَّرْقَةُ وتُنْتِنُه الْعَرْقَةُ

۴۲۰ - ورُوِيَ أَنَّهعليه‌السلام كَانَ جَالِساً فِي أَصْحَابِه - فَمَرَّتْ بِهِمُ امْرَأَةٌ جَمِيلَةٌ فَرَمَقَهَا الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ - فَقَالَعليه‌السلام :

إِنَّ أَبْصَارَ هَذِه الْفُحُولِ طَوَامِحُ وإِنَّ ذَلِكَ سَبَبُ هِبَابِهَا - فَإِذَا نَظَرَ أَحَدُكُمْ إِلَى امْرَأَةٍ تُعْجِبُه فَلْيُلَامِسْ أَهْلَه - فَإِنَّمَا هِيَ امْرَأَةٌ كَامْرَأَتِه.

یہاں تک کہ کھال ہڈیوں سے چپک جائے اورنیا گوشت پیدا ہو جائے(۶) جسم کو ویسے ہی اطاعت کا مزہ چکھائو جیسے طرح معصیت سے لطف اندوز کیا ہے ۔اس کے بعد کہو ''استغفر اللہ ''

(۴۱۸)

بردباری خود ایک پورا قبیلہ ہے۔

(۴۱۹)

ابن آدم کس قدر مسکین ہے کہ اس کی موت بھی پوشیدہ ہے اور اس کی بیماریاں بھی صیغہ راز میں ہیں اور اس کے اعمال بھی سب محفوظ کئے جا رہے ہیں۔حالت یہ ہے کہ مچھر کے کاٹنے سے چیخ اٹھتا ہے۔اچھو لگنے سے مرجاتا ہے اور پسینہ اسے بدبوداربنادیتا ہے ۔

(۴۲۰)

کہا جاتا ہے کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ تشریف فرما تھے ۔ادھر سے ایک خوبصورت عورت کا گذر ہوگیا اور لوگوں نے اسے کن آنکھیوں سے دیکھنا شروع کردیا تو آپ نے فرمایا: '' ان مردوں کی آنکھیں تاکنے والی ہیں اور یہ نظر بازی ان کی خواہشات کو برانگیختہ کرنے کا ذریعہ ہے لہٰذا جب بھی تم میں سے کوئی شخص کسی ایسی عورت کو دیکھے جو پسند آنے والی ہو تو اپنے اہل سے روابط پیدا کرے کہ یہ عورت بھی اپنی ہی عورت جیسی ہے''


فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْخَوَارِجِ - قَاتَلَه اللَّه كَافِراً مَا أَفْقَهَه - فَوَثَبَ الْقَوْمُ لِيَقْتُلُوه - فَقَالَعليه‌السلام :رُوَيْداً إِنَّمَا هُوَ سَبٌّ بِسَبٍّ أَوْ عَفْوٌ عَنْ ذَنْبٍ

۴۲۱ - وقَالَعليه‌السلام : كَفَاكَ مِنْ عَقْلِكَ مَا أَوْضَحَ لَكَ سُبُلَ غَيِّكَ مِنْ رُشْدِكَ.

۴۲۲ - وقَالَعليه‌السلام : افْعَلُوا الْخَيْرَ ولَا تَحْقِرُوا مِنْه شَيْئاً،فَإِنَّ صَغِيرَه كَبِيرٌ وقَلِيلَه كَثِيرٌ - ولَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنَّ أَحَداً أَوْلَى بِفِعْلِ الْخَيْرِ مِنِّي - فَيَكُونَ واللَّه كَذَلِكَ إِنَّ لِلْخَيْرِ والشَّرِّ أَهْلًا فَمَهْمَا تَرَكْتُمُوه مِنْهُمَا كَفَاكُمُوه أَهْلُه

۴۲۳ - وقَالَعليه‌السلام : مَنْ أَصْلَحَ سَرِيرَتَه أَصْلَحَ اللَّه عَلَانِيَتَه - ومَنْ عَمِلَ لِدِينِه كَفَاه اللَّه.

یہ سن کر ایک خارجی نے کہا کہ اللہ اس کا فرکو قتل کرے کس قدر فقیہ ہے۔تو لوگ اس کو قتل کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا کہ خبردار۔ٹہرو۔گالی کا بدلہ گالی ہوتا ہے یا خطا سے درگزر کرنا ہوتا ہے۔

(۴۲۱)

تمہارے لئے اتنی ہی عقل کافی ہے کہ گمراہی کا راستہ ہدایت کے راستہ سے الگ ہو جائے ۔

(۴۲۲)

نیکیاں انجام دو اور اس میں سے کسی چیز کوبھی حقیر نہ سمجھو کہ نیکی چھوٹی بھی بڑی ہوتی ہے اور تھوڑی بھی بہت ہوتی ہے۔خبردار تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ کوئی شخص کا رخیر کے لئے مجھ سے بہتر ہے ورنہ خدا کی قسم ایسا ہی ہو جائے گا۔نیکی اور برائی دونوںکے اہل ہوتے ہیں اگر تم اسے چھوڑ دوگے تو جو اس کا اہل ہوگا وہی اسے انجام دیدے گا۔

(۴۲۳)

جو اپنے باطن کی اصلاح(۱) کرے گا پروردگار اس کے ظاہر کو درست کردے گا اور جو اپنے دین کے لئے عمل کرے گا خدا اس کی دنیا کے لئے کافی ہو جائے گا

(۱)مقصد یہ ہے کہ ظاہر و باطن میں ایکگہرا رابطہ پایا جاتاہے اور دونوں میں کس یایک کو دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا ہے لہٰذا انسان کا فرض ہے کہ اس باطن کی اصلح پر زوردے جو ظاہری اعمال کا سرچشمہ ہے کہ اس کے بعد ظاہر کی اصلاح خود بخود ہوجائے گی اور اس کا سبب وہمالک ہوگا جس نے ظاہر کے اعمال کو باطن کے محرکات کا تابع بنادیا ہے۔


أَمْرَ دُنْيَاه - ومَنْ أَحْسَنَ فِيمَا بَيْنَه وبَيْنَ اللَّه - أَحْسَنَ اللَّه مَا بَيْنَه وبَيْنَ النَّاسِ

۴۲۴ - وقَالَعليه‌السلام : الْحِلْمُ غِطَاءٌ سَاتِرٌ والْعَقْلُ حُسَامٌ قَاطِعٌ - فَاسْتُرْ خَلَلَ خُلُقِكَ بِحِلْمِكَ وقَاتِلْ هَوَاكَ بِعَقْلِكَ.

۴۲۵ - وقَالَعليه‌السلام : إِنَّ لِلَّه عِبَاداً يَخْتَصُّهُمُ اللَّه بِالنِّعَمِ لِمَنَافِعِ الْعِبَادِ - فَيُقِرُّهَا فِي أَيْدِيهِمْ مَا بَذَلُوهَا - فَإِذَا مَنَعُوهَا نَزَعَهَا مِنْهُمْ ثُمَّ حَوَّلَهَا إِلَى غَيْرِهِمْ.

۴۲۶ - وقَالَعليه‌السلام : لَا يَنْبَغِي لِلْعَبْدِ

اور جو اپنے اور اللہ کے معاملات کو درست کرے گا پروردگار اس کے اوردوسرے انسانوں کے معاملات کو بھی ٹھیک کردے گا۔

(۴۲۴)

بردباری(۱) ڈھانک لینے والا پردہ ہے اور عقل تیز ترین تلوار ہے لہٰذا اپنے اخلاق کی کمزوریوں کو تحمل سے چھپائو اور اپنی خواہشات کا عقل کی تلوارسے مقابلہ کرو۔

(۴۲۵)

اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جنہیں پروردگار مخصوص نعمتیں دوسرے بندوں(۲) کے فائدہ کے لئے عنایت کرتاہے تو اس کے بعد جب تک وہ داد و دہش کرتے رہتے ہیں ان نعمتوں کو ان کے ہاتھوں میں باقی رکھتا ہے اور جب جودو کرم کو روک دیتے ہیں تو ان سے واپس لے لیتا ہے اور دوسروں کے حوالے کر دیتا ہے۔

(۴۲۶)

کسی بندہ کے لئے یہ مناسب نہی ہے کہ دو

(۱)انسانی زندگی کی دو عظیم خرابیاں ہیں :ایک کا نام ہے خواہش پرستی اوردوسری کا نام ہے بد اخلاقی ۔مولائے کائنات نے دونوں کا ایک ایک علاج بتایا ہے کہ خواہش پرستی کا علاج ہے اتباع عقل جس کے بعد خواہش کو امرونہی کرنے کا اختیار نہیں رہ جاتا ہے۔اوربداخلاقی کا علاج ہے بردباری کہ جس کے ذریعہ سے کم سے کم اس عیب کی پردہ پوشی کی جا سکتی ہے۔

(۲)یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کے پاس نعمتوں کی فراوانی کسی ذاتی امتیاز یا مالک سے کسی خاص رشتہ داری کی بنیاد پرنہیں ہے۔اس کا سبب درحقیقت وہ امانتداری ہے جو پروردگار اپنے بندہ میں دیکھناچاہتا ہے اوروہ انتظام ہے جو مالک کمزوروں کے لئے طاقتور افراد کے ذریعہ انجام دیتا ہے۔لہٰذا کسی انسان کو کسی غرور میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے اور کمزوروں کی حاجت برآری کرکے اپنی شرافت اور امانتداری کا ثبوت دینا چاہیے۔


أَنْ يَثِقَ بِخَصْلَتَيْنِ الْعَافِيَةِ والْغِنَى - بَيْنَا تَرَاه مُعَافًى إِذْ سَقِمَ وبَيْنَا تَرَاه غَنِيّاً إِذِ افْتَقَرَ.

۴۲۷ - وقَالَعليه‌السلام : مَنْ شَكَا الْحَاجَةَ إِلَى مُؤْمِنٍ فَكَأَنَّه شَكَاهَا إِلَى اللَّه - ومَنْ شَكَاهَا إِلَى كَافِرٍ فَكَأَنَّمَا شَكَا اللَّه.

۴۲۸ - وقَالَعليه‌السلام فِي بَعْضِ الأَعْيَادِ - إِنَّمَا هُوَ عِيدٌ لِمَنْ قَبِلَ اللَّه صِيَامَه وشَكَرَ قِيَامَه - وكُلُّ يَوْمٍ لَا يُعْصَى اللَّه فِيه فَهُوَ عِيدٌ.

۴۲۹ - وقَالَعليه‌السلام : إِنَّ أَعْظَمَ الْحَسَرَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ - حَسْرَةُ رَجُلٍ كَسَبَ مَالًا فِي غَيْرِ طَاعَةِ اللَّه - فَوَرِثَه رَجُلٌ فَأَنْفَقَه فِي طَاعَةِ اللَّه سُبْحَانَه - فَدَخَلَ بِه الْجَنَّةَ ودَخَلَ الأَوَّلُ بِه النَّارَ.

۴۳۰ - وقَالَعليه‌السلام : إِنَّ أَخْسَرَ النَّاسِ صَفْقَةً وأَخْيَبَهُمْ سَعْياً - رَجُلٌ

چیزوں پر بھروسہ کرے۔ایک عافیت اورایک مالداری۔ کہ عافیت دیکھتے دیکھتے بیماری میں تبدیل ہو جاتی ہے اور مالداری دیکھتے دیکھتے غربت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

(۴۲۷)

جو اپنے درد دل کو کسی مومن سے بیان کرے گویا اس نے خدا سے بیان کیا اور جو اس کی فریاد کسی کافر سے کرے تو گویا اس نے خدا کی شکایت کی۔

(۴۲۸)

ایک عید کے موقع پر آپ نے فرمایا کہ ''یہ عید صرف ان کے لئے ہے جن کا روزہ قبول ہو جائے اور جن کی نماز قابل قدر ہو جائے اور ویسے جس دن بھی پروردگار کی معصیت نہ کی جائے مسلمان کے لئے وہی روز۔روز عید ہے۔

(۴۲۹)

روز قیامت سب سے زیادہ حسرت ناک صورت حال اس شخص کی ہوگی جو اطاعت خداسے ہٹ کر مال حاصل کرے اورپھر اس کا وارث وہ ہو جائے جو اسے اطاعت خدا میں صرف کردے کہ وہ اسی مال سے جنت میں چلا جائے گا اورکمانے والا اسی سے جہنم کا حقدار ہو جائے گا ۔

(۴۳۰)

معاملات میں سب سے زیادہ خسارہ والا اور کوششوں میں سب سے زیادہ ناکام وہ شخص ہے جو اپنے


أَخْلَقَ بَدَنَه فِي طَلَبِ مَالِه - ولَمْ تُسَاعِدْه الْمَقَادِيرُ عَلَى إِرَادَتِه - فَخَرَجَ مِنَ الدُّنْيَا بِحَسْرَتِه وقَدِمَ عَلَى الآخِرَةِ بِتَبِعَتِه

۴۳۱ - وقَالَعليه‌السلام : الرِّزْقُ رِزْقَانِ طَالِبٌ ومَطْلُوبٌ - فَمَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا طَلَبَه الْمَوْتُ حَتَّى يُخْرِجَه عَنْهَا - ومَنْ طَلَبَ الآخِرَةَ طَلَبَتْه الدُّنْيَا حَتَّى يَسْتَوْفِيَ رِزْقَه مِنْهَا.

۴۳۲ - وقَالَعليه‌السلام : إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّه هُمُ الَّذِينَ نَظَرُوا إِلَى بَاطِنِ الدُّنْيَا - إِذَا نَظَرَ النَّاسُ إِلَى ظَاهِرِهَا - واشْتَغَلُوا بِآجِلِهَا إِذَا اشْتَغَلَ النَّاسُ بِعَاجِلِهَا -

جسم کو مال کی طلب میں خستہ حال کردے اور پھر بھی مقدر ساتھ نہ دے کہ اس طرح دنیا سے حسرتیں لے کر چلا جاتا ہے اور آخرت میں بہر حال اس کی پاداش کو برداشت کرناپڑتا ہے۔

(۴۳۱)

رزق دو طرح کا ہوتا ہے ۔ایک وہ ہے جو خود تلاش کرتا ہے اور ایک وہ ہے جسے تلاش کیاجاتا ہے۔لہٰذا یاد رکھو کہ جو دنیا کا طلب گار ہوتا ہے اس کی طلبگار موت ہوتی ہے یہاں تک کہ اسے اس دنیا سے نکال باہر کرے اور جوآخرت کا طلب گار ہوتا ہے دنیا خود اسے تلاش کرتی ہے یہاں تک کہ اپنا پورا حق حاصل کرلے۔

(۴۳۲)

اولیائ(۱) خدا وہ لوگ ہیں جو دنیا کی حقیقت پر نگاہ رکھتے ہیں جب لوگ صرف اس کے ظاہر کو دیکھتے ہیں اور آخرت کے امور میں مشغول رہتے ہیں جب لوگ دنیا کی فکرمیں لگے رہتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان خواہشات

(۱)اس مقام پرحضرت نے اولیاء خداکے آٹھ صفات کاتذکرہ فرمایا ہے تاکہ ہر انسان اس کردار کو پہچانے اوراسے اختیارکرنے کی کوشش کرے کہ روز قیامت کے خوف و حزن سے اولیاء ء خداکے علاوہ کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا ہے۔اولایء اللہ کے وہ صفات حسب ذیل ہیں:

(۱) جب لوگ دنیاکے ظاہر پر فریفتہ ہونے لگتے ہیں تو وہ اس کے اندرونی زہر کا مشاہدہ کرتے ہیں (۲) جب لوگ دنیا پر مرنے لگتے ہیں تبوہ آخرت کی فکرمیں لگ جاتے ہیں (۳) جوخواہشات انسان کو تباہ کر دیتی ہیں وہ انہیں کو تباہ کردیتے ہیں (۴) جو دولت دنیا انہیں چھوڑ دینے والی ہے وہ اسے پہلے ہی چھوڑ دیتے ہیں (۵) جس دولت دنیا کو لوگ کثیر تصور کرتے ہیں وہ اسے حقیر سمجھتے ہیں (۶) جس باطل سے لوگ صلح کر لیتے ہیں وہ اس کے سدا دشمن رہتے ہیں (۷) ان کے اور قرآن کے درمیان ایسا اتحاد کردار ہوتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے پہچانے جاتے ہیں (۸) اجرآخرت سے بہتر کوئی امید اور عذاب آخرت سے بد تر کوئی خوفناک شے اپنے دل و دماغ میں نہیں رکھتے ہیں۔


فَأَمَاتُوا مِنْهَا مَا خَشُوا أَنْ يُمِيتَهُمْ - وتَرَكُوا مِنْهَا مَا عَلِمُوا أَنَّه سَيَتْرُكُهُمْ - ورَأَوُا اسْتِكْثَارَ غَيْرِهِمْ مِنْهَا اسْتِقْلَالًا - ودَرَكَهُمْ لَهَا فَوْتاً - أَعْدَاءُ مَا سَالَمَ النَّاسُ وسَلْمُ مَا عَادَى النَّاسُ - بِهِمْ عُلِمَ الْكِتَابُ وبِه عَلِمُوا - وبِهِمْ قَامَ الْكِتَابُ وبِه قَامُوا - لَا يَرَوْنَ مَرْجُوّاً فَوْقَ مَا يَرْجُونَ - ولَا مَخُوفاً فَوْقَ مَا يَخَافُونَ.

۴۳۳ - وقَالَعليه‌السلام : اذْكُرُوا انْقِطَاعَ اللَّذَّاتِ وبَقَاءَ التَّبِعَاتِ.

۴۳۴ - وقَالَعليه‌السلام : اخْبُرْ تَقْلِه

قال الرضي - ومن الناس من يروي هذا للرسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - ومما يقوي أنه من كلام أمير المؤمنينعليه‌السلام ما حكاه ثعلب عن ابن الأعرابي.

کو مردہ بنا دیتے ہیں جن سے یہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ انہیں مار ڈالیں گی اور اس دولت کو چھوڑ دیتے ہیں جس کے بارے میں یقین ہوتا ہے کہ ایک دن ان کا ساتھ چھوڑ دے گی۔یہ لوگ اس چیز کو قلیل تصور کرتے ہیں جسے لوگ کثیر سمجھتے ہیں اور اس چیز کو فوت ہو جانا سمجھتے ہیں جسے لوگ حاصل کرلینا تصورکرتے ہیں۔اس چیز کے دشمن ہیں جس سے لوگوں کی دوستی ہے اور اس چیز کے دوست ہیں جس کے لوگ دشمن ہیں۔انہیں کے ذریعہ قرآن کو پہچانا گیا ہے اور یہ بھی قرآن ہی کے ذریعہ پہچانے گئے ہیں۔قرآن ان کے کردار سے قائم ہے اور یہ قرآن کی برکت سے زندہ ہیں۔یہ جس چیز کے امیدوار ہیں اس سے بالاتر کوئی تمنا نہیں سمجھتے ہیں اور جس چیز سے خوفزدہ ہیں اس سے زیادہ خوفناک کوئی مصیبت نہیں سمجھتے ہیں۔

(۴۳۳)

یہ یاد رکھو کہ لذتیں ختم ہونے والی ہیں اور ان کا حساب باقی رہنے والا ہے۔

(۴۳۴)

امتحان کرو تاکہ نفرت پیدا کرو۔

سید رضی : بعض حضرات نے اس قول کو رسول اکرم (ص) کے نام سے نقل کیا ہے۔حالانکہ یہ کلام امیر المومنین ہے اور اس کا شاہد ثعلب کا وہ بیان ہے جو انہوں نے ابن الاعرابی سے نقل کیا ہے کہ مامون نے اس فقرہ


قال المأمون - لولا أن علياعليه‌السلام قال اخبر تقله - لقلت أقله تخبر

۴۳۵ - وقَالَعليه‌السلام : مَا كَانَ اللَّه لِيَفْتَحَ عَلَى عَبْدٍ بَابَ الشُّكْرِ - ويُغْلِقَ عَنْه بَابَ الزِّيَادَةِ - ولَا لِيَفْتَحَ عَلَى عَبْدٍ بَابَ الدُّعَاءِ ويُغْلِقَ عَنْه بَابَ الإِجَابَةِ - ولَا لِيَفْتَحَ لِعَبْدٍ بَابَ التَّوْبَةِ ويُغْلِقَ عَنْه بَابَ الْمَغْفِرَةِ.

۴۳۶ - وقَالَعليه‌السلام : أَوْلَى النَّاسِ بِالْكَرَمِ مَنْ عُرِفَتْ بِه الْكِرَامُ.

۴۳۷ - وسُئِلَعليه‌السلام أَيُّهُمَا أَفْضَلُ الْعَدْلُ أَوِ الْجُودُ فَقَالَعليه‌السلام - الْعَدْلُ يَضَعُ الأُمُورَ مَوَاضِعَهَا والْجُودُ يُخْرِجُهَا مِنْ جِهَتِهَا - والْعَدْلُ سَائِسٌ عَامٌّ والْجُودُ عَارِضٌ خَاصٌّ - فَالْعَدْلُ أَشْرَفُهُمَا وأَفْضَلُهُمَا.

کو سن کر کہا کہ اگر حضرت علی نے اس طرح نہ فرمادیا ہوتا تو میں اسے یوں کہتا کہ ''نفرت کرو تاکہ آزمالو''

(۴۳۵)

اللہ کی شان یہ نہیں ہے کہ کسی بندہ کے لئے شکر کا دروازہ کھول دے اور پھر اضافہ نعمت کا دروازہ بند کردے یا دعا کا دروازہ کھول دے اورقبولیت کا دروازہ بند کردے یا توبہ کا دروازہ کھول دے اورمغفرت کا دروازہ بند کردے ۔

(۴۳۶)

کرم کے زیادہ حقدار وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی جڑیں ان اہل کرم میں ہوتی ہیں جن کا کرم جانا پہچانا ہوتا ہے۔

(۴۳۷)

آپ سے دریافت کیا گیا کہ انصاف اور سخاوت میں زیادہ بہتر کون سا کمال ہے ؟ تو فرمایا کہ انصاف ہر شے کو اس کی منزل پر رکھتا ہے اور سخاوت اسے اس کی منزل سے باہرنکال دیتی ہے۔انصاف سب کا انتظام کرتا ہے اور سخاوت صرف اس کے کام آتی ہے جس کے شامل حال ہو جاتی ہے۔لہٰذا انصاف بہر حال دونوں میں افضل اور اشرف ہے۔


۴۳۸ - وقَالَعليه‌السلام : النَّاسُ أَعْدَاءُ مَا جَهِلُوا.

۴۳۹ - وقَالَعليه‌السلام : الزُّهْدُ كُلُّه بَيْنَ كَلِمَتَيْنِ مِنَ الْقُرْآنِ قَالَ اللَّه سُبْحَانَه -( لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلى ما فاتَكُمْ ولا تَفْرَحُوا بِما آتاكُمْ ) .ومَنْ لَمْ يَأْسَ عَلَى الْمَاضِي ولَمْ يَفْرَحْ بِالآتِي - فَقَدْ أَخَذَ الزُّهْدَ بِطَرَفَيْه.

۴۴۰ - وقَالَعليه‌السلام : مَا أَنْقَضَ النَّوْمَ لِعَزَائِمِ الْيَوْمِ

(۴۳۸)

لوگ ان چیزوں(۱) کے دشمن ہیں جن سے ناواقف ہیں۔( اوریہی دین کی دشمنی اور آل محمد(ص) سے عداوت کا بھی راز ہے )

(۴۳۹)

تمام زہد(۲) قرآن مجید کے دو فقروں کے اندر سمٹا ہوا ہے '' جو چیز ہاتھ سے نکل جائے اس کا افسوس نہ کرو اورجو ملجائے اس پر مغرورنہ ہو جائو ''لہٰذا جو شخص ماضی پر افسوس نہ کرے اورآنے والے سے مغرورنہ ہوجائے اس نے سارا زہد سمیٹ لیا ہے ۔

(۴۴۰)

رات کی نیند دن کے عزائم کو کس قدر کمزوربنا دیتی ہے۔

(۱)یہ بات بعینہ حکمت ۱۷۱ میں بیان کی جاچکی ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ جہالت ایک ایسی بلا ہے جس مبتلا ہونے کے بعد انسان اپنے نفع ونقصان کو بھی نہیں پہچانتا ہے اور بعض اوقات اپنا بھی دشمن ہوجاتاہے اوراس کا علاج اس کے ماسوا کچھ نہیں ہے کہ انسان کو صاحب علم بنایا جائے اور ایسا صاحب علم بنایا جائے جس میں غرور علم نہ پیدا ہو ورنہ بارش سے بھاگ کر پر نالہ کے نیچے کھڑے ہونے کے مرادف ہو جائے گا۔۔

(۲)زہد کا عام تصور غربت ' ناداری ' دنیا بیزاری اور پھٹے کپڑوں میں محصور کردیا گیا ہے ۔حالانکہ اسلام میں ایسا کچھ نہیں ہے۔اس کے نزدیک زہد دولت ک ساتھ جمع ہو سکتا ہے اور غربت کے ساتھ بھی۔اس کی نگاہ میں بہترین دولت مند بھی زاہد ہو سکتا ہے اگر اس دولت سے غرور نہ پیداہوجائے ۔اور بد ترین فقری بھی زاہد ہو سکتا ہے اگر دنیاکے ہاتھ سے نکل جانے سے رنجیدہ اور محزون نہ ہو۔

مولائے کائنات نے دوسرے مقامات پر اس کی بہترین تفسیر کی ہے کہ '' زہدیہ نہیں ہے کہ تم کسی چیز کے مالک نہ بنو۔بلکہ زہد یہ ہے کہ کوئی چیز تمہاری مالک اور صاحب اختیار نہ ہونے پائے ۔یعنی دولت اور کرسی انسان کے اختیار میں ہے تو انسان زاہد ہے اور انسان ان دونوں کے اختیار میں چلا جائے تو اس کا زہد و تقویٰ اسی آن رخصت ہو جاتا ہے اور اس کی بقا کا کوئی امکان نہیں رہ جاتا ہے ۔


۴۴۱ - وقَالَعليه‌السلام : الْوِلَايَاتُ مَضَامِيرُ الرِّجَالِ

۴۴۲ - وقَالَعليه‌السلام : لَيْسَ بَلَدٌ بِأَحَقَّ بِكَ مِنْ بَلَدٍ خَيْرُ الْبِلَادِ مَا حَمَلَكَ.

۴۴۳ - وقَالَعليه‌السلام وقَدْ جَاءَه نَعْيُ الأَشْتَرِ رحمهالله :

مَالِكٌ ومَا مَالِكٌ واللَّه لَوْ كَانَ جَبَلًا لَكَانَ فِنْداً - ولَوْ كَانَ حَجَراً لَكَانَ صَلْداً - لَا يَرْتَقِيه الْحَافِرُ ولَا يُوفِي عَلَيْه الطَّائِرُ.

قال الرضي - والفند المنفرد من الجبال.

۴۴۴ - وقَالَعليه‌السلام : قَلِيلٌ مَدُومٌ عَلَيْه خَيْرٌ مِنْ كَثِيرٍ مَمْلُولٍ مِنْه.

۴۴۵ - وقَالَعليه‌السلام : إِذَا كَانَ فِي رَجُلٍ خَلَّةٌ رَائِقَةٌ فَانْتَظِرُوا أَخَوَاتِهَا.

(۴۴۱)

حکومتیں مردوں کے کردار کا میدان امتحان ہیں۔

(۴۴۲)

کوئی شہر تمہارے لئے دوسرے شہر سے زیادہ حقدار نہیں ہے۔بلکہ بہترین شہر وہ ہے جو تمہارا بوجھ اٹھائے رہے۔

(۴۴۳)

مالک اشتر کی خبر شہادت آنے کے بعدفرمایا: ''مالک کو کوئی کیا پہچان سکتا ہے۔واللہ اگر وہ پہاڑ ہوتا تو سب سے بلند تر ہوتا۔اور اگرپتھر ہوتا تو سب سے زیادہ سخت تر ہوتا۔اس کی بلندیوں کونہ کوئی سم روند سکتا ہے اور نہ وہاں کوئی پرندہ پرواز کرسکتا ہے۔

سید رضی : فند پہاڑوں میں منفرد پہاڑ کو کہا جاتا ہے۔

(۴۴۴)

مختصر عمل جس کی پابندی کی جا سکے اس کثیر عمل سے بہتر ہے جو انسان کو دل تنگ بنادے ۔

(۴۴۵)

اگر کسی انسان میں کوئی اچھی خصلت پائی جاتی ہے تو اس سے دوسری خصلتوں کی بھی توقع(۱) کی جاسکتی ہے۔

(۱)چونکہ اچھی خصلت شرافت نفس سے پیدا ہوتی ہے لہٰذا ایک خصلت کو بھی دیکھ کر یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس شخص میں شرافت نفس پائی جاتی ہے اور یہ شرافت نفس جس طرح اس ایک خصلت پرآمادہ کر سکتی ہے اسی طرح دوسری خصلتیں بھی پیدا کر سکتی ہے کہ ایک درخست میں ایک ہی میورہ نہیں پیدا ہوتا ہے۔


۴۴۶ - وقَالَعليه‌السلام لِغَالِبِ بْنِ صَعْصَعَةَ أَبِي الْفَرَزْدَقِ فِي كَلَامٍ دَارَ بَيْنَهُمَا.

مَا فَعَلَتْ إِبِلُكَ الْكَثِيرَةُ - قَالَ دَغْدَغَتْهَا الْحُقُوقُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - فَقَالَعليه‌السلام ذَلِكَ أَحْمَدُ سُبُلِهَا.

۴۴۷ - وقَالَعليه‌السلام : مَنِ اتَّجَرَ بِغَيْرِ فِقْه فَقَدِ ارْتَطَمَ فِي الرِّبَا.

۴۴۸ - وقَالَعليه‌السلام : مَنْ عَظَّمَ صِغَارَ الْمَصَائِبِ ابْتَلَاه اللَّه بِكِبَارِهَا.

۴۴۹ - وقَالَعليه‌السلام : مَنْ كَرُمَتْ عَلَيْه نَفْسُه

(۴۴۶)

غالب بن صعصعہ(۱) (پدر فرزوق) سے گفتگو کے دوران فرمایا: تمہارے بیشمار اونٹوں کا کیا ہوا ؟ انہوں نے کہاکہ حقوق کی ادائیگی نے منتشر کردیا۔فرمایاکہ یہ بہترین اور قابل تعریف راستہ ہے۔

(۴۴۷)

جو احکام کو دریافت کئے بغیرتجارت(۲) کرے گاوہ کبھی نہ کبھی سود میں ضرور مبتلا ہو جائے گا۔

(۴۴۸)

جو چھوٹے(۳) مصائب کوبھی بڑا خیال کرے گا اسے خدا بڑے مصائب میں بھی مبتلا کردے گا۔

(۴۴۹)

جسے اس کانفس عزیز ہوگا اس کی نظرمیں

(۱)ابن ابی الحدید کا بیان ہے کہ غالب فرزدق کو لے کر حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اونٹوں کے بارے میں بھی سوال کیا ار فرزدق کے بارے میں بھی سوال کیا تو غالب نے کہاکہ یہ میرا فرزند ہے اور اسے میں نے شعرو ادب کی تعلیم دی ہے۔آپ نے فرمایا کہ اے کاش تم نے قرآن مجید کی تعلیم دی ہوتی ۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ بات دل کو لگ گئی اور انہوں نے اپنے پیروں میں زنجیریں ڈال لیں اور انہیں اس وقت تک نہیں کھولا جب تک سارا قرآن حفظ نہیں کرلیا۔

(۲)یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ فقہ کی ضرورت صرف صلوٰة صیم کے لئے نہیں ہے بلکہ اس کی ضرورت زندگی کے ہر شعبہ میں ہے کہ تاکہ انسان برائیوں سے محفوظ رہ سکے اور لقمہ حلال پر زندگی گذار سکے ورنہفقہ کے بغیر تجارت کرنے میں بھی سود کا اندیشہ ہے اور سود سے بد تر اسلام میں کوئی مال نہیں ہے جس کا ایک پیسہ بھی حلال نہیں کیا گیا ہے۔

(۳)انسان کا ہنر یہ ہے کہ ہمیشہ مصائب کا مقالہ کرنے کے لئے تیار رہے اور بڑی سے بڑی مصیبت بھی آجائے تو اسے حقیر اورمعمولی ہی سمجھے تاکہ دیگر مصائب کو حملہ کرنے کاموقع نہ ملے ورنہ ایک مرتبہ اپنی کمزوری کا اظہار کردیا تو مصائب کاہجوم عام ہوجائے گا اور انسان ایک لمحہ کے لئے بھی نجات حاصل نہ کرسے گا۔


هَانَتْ عَلَيْه شَهَوَاتُه.

۴۵۰ - وقَالَعليه‌السلام : مَا مَزَحَ امْرُؤٌ مَزْحَةً إِلَّا مَجَّ مِنْ عَقْلِه مَجَّةً.

۴۵۱ - وقَالَعليه‌السلام : زُهْدُكَ فِي رَاغِبٍ فِيكَ نُقْصَانُ حَظٌّ - ورَغْبَتُكَ فِي زَاهِدٍ فِيكَ ذُلُّ نَفْسٍ.

۴۵۲ - وقالعليه‌السلام الْغِنَى والْفَقْرُ بَعْدَ الْعَرْضِ عَلَى اللَّه.

۴۵۳ - وقَالَعليه‌السلام : مَا زَالَ الزُّبَيْرُ رَجُلًا مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ - حَتَّى نَشَأَ ابْنُه الْمَشْئُومُ عَبْدُ اللَّه.

خواہشات(۱) بے قیمت ہوں گی( کہ انہیں سے عزت نفس کی تباہی پیدا ہوتی ہے )

(۴۵۰)

انسان جس قدر بھی مزاح(۲) کرتا ہے اس قدر اپنی عقل کا ایک حصہ الگ کر دیتا ہے۔

(۴۵۱)

جو تمہاری طرف رغبت کرے اس سے کنارہ کشی خسارہ ہے اور جوتم سے کنارہ کش ہو جائے اس کی طرف رغبت ذلت نفس ہے ۔

(۴۵۲)

مالداری اورغربت کا فیصلہ پروردگار کی بارگاہ میں پیشی کے بعد ہوگا۔

(۴۵۳)

زبیر ہمیشہ ہم اہل بیت کی ایک فرد شمار ہوتاتھا یہاں تک کہ اس کا منحوس فرزند عبداللہ نمودار ہوگیا۔

(۱)خواہش اس قید کا نام ہے جس کا قدی تا حیات آزاد نہیں ہو سکتا ہے کہ ہر قید کا تعلق انسان کی بیرونی زندگی سے ہوتا ہے اورخواہش انسان کواندر سے جکڑ لیتی ہے جس کے بعد کوئی آزاد کرانے والا بھی نہیں پیدا ہوتاہے اوریہی وجہ ہے کہ کہ جب ایک مرد حکیم سے پوچھا گیا کہ دنیا میں تمہاری خواہش کیا ے ؟ تو اس نیبرجستہ یہی جواب دیا کہ بس یہی کہ کسی چیز کی خواہش نہ پیدا ہو۔

(۲)مزاج ایک بہترین چیز ہے جس سے انسان خود بھی خوش ہوتا ہے اوردوسروں کوبھی خوشحال بناتا ہے لیکن اس کی شرط یہی ہے کہ مزاح بحد مزاح ہو اوراس میں غلط بیانی ' فریب کاری' ایذاء مومن ' توہین مسلمان کا پہلو نہ پیداہونے پائے اورحد سے زیادہ بھی نہ ہو ورنہ حرام اورباعث ہلاکت و بربادی ہو جائے گا۔


۴۵۴ - وقَالَعليه‌السلام : مَا لِابْنِ آدَمَ والْفَخْرِ - أَوَّلُه نُطْفَةٌ وآخِرُه جِيفَةٌ - ولَا يَرْزُقُ نَفْسَه ولَا يَدْفَعُ حَتْفَه.

۴۵۵ - وسُئِلَ مَنْ أَشْعَرُ الشُّعَرَاءِ فَقَالَعليه‌السلام :إِنَّ الْقَوْمَ لَمْ يَجْرُوا فِي حَلْبَةٍ - تُعْرَفُ الْغَايَةُ عِنْدَ قَصَبَتِهَا - فَإِنْ كَانَ ولَا بُدَّ فَالْمَلِكُ الضِّلِّيلُ

يريد إمرأ القيس

۴۵۶ - وقَالَعليه‌السلام : أَلَا حُرٌّ يَدَعُ هَذِه اللُّمَاظَةَ لأَهْلِهَا - إِنَّه لَيْسَ لأَنْفُسِكُمْ ثَمَنٌ إِلَّا الْجَنَّةَ فَلَا تَبِيعُوهَا إِلَّا بِهَا.

(۴۵۴)

آخر فرزند آدم(۱) کافخرو مباہات سے کیا تعلق ہے جب کہ اس کا ابتدا نطفہ ہے اورانتہا مردار۔وہ نہ اپنی روزی کا اختیار رکھتا ہے اور نہ اپنی موت کو ٹال سکتا ہے۔

(۴۵۵)

آپ سے دریافت کیا گیا کہ سب سے بڑا شاعر کون تھا؟ تو فرمایا کہ سارے شعراء نے ایک میدان میں قدم نہیں رکھا کہ سبقت عمل سے ان کی انتہائے کمال کا فیصلہ کیاجاسکے لیکن اگر فیصلہ ہی کرنا ہے تو بادشاہ گمراہ (یعنی امراء القیس)

(۴۵۶)

کیاکوئی ایسا آزاد(۲) مرد نہیں ہے جو دنیاکے اس چبائے ہوئے لقمہ کو دوسروں کے لئے چھوڑ دے ؟ یاد رکھو کہ تمہارے نفس کی کوئی قیمت جنت کے علاوہ نہیں ہے لہٰذا اسے کسی اور قیمت پر بیچنے کا ارادہ مت کرنا۔

(۱)انسانی زندگی کے تین دورہوتے ہیں : ابتدائ، انتہاء ، وسط ۔اور انسان کاحال یہ ہے کہ وہ ابتداء میں ایک قطرۂ نجس ہوتا ہے اور انتہاء میں مردار ہو جاتا ہے۔درمیانی حالات یقینا طاقت و قوت اور طہارت و پاکیزگی کے ہوتے ہیں لیکن اس کا بھی یہ حال ہوتا ہے کہ نہ اپنا رزق اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے اور نہ اپنی موت اپنے اختیارمیں ہوتی ہے ۔ایسے حالات میں انسان کے لئے تکبرو غرورکا جوازکہاں سے پیداہوتا ہے۔تقاضائے شرافت و دیانت یہی ہے کہ جس نے پیداکیا ہے اسی کا شکریہ ادا کرے اوراسی کی اطاعت میں زندگی گذاردے تاکہ مرنے کے بعد خود بھی پاکیزہ رہے اوروہ زمین بھی پاکیزہ ہو جائے جس میں فن ہوگیا ہے۔

(۲)دنیا وہ ضعیفہ ہے جولاکھوں کے تصرف میں رہ چکی ہے اوروہ لقمہ ہے جسے کروڑوں آدمی چبا چکے ہیں۔کیا ایسی دنیا بھی اس لائق ہوتی ہے کہ انسان اس سے دل لگائے اور اس کی خاطر جان دینے کے لئے تیار ہوجائے ۔اس کا تو سب سے بہترین مصرف یہ ہوتا ہے کہ دوسروں کے حوالے کرکے اپنی جنت کا انتظام کرلے جہاں ہر چیز نئی ہے اور کوئی نعمت استعمال شدہ نہیں ہے۔


۴۵۷ - وقَالَعليه‌السلام : مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ طَالِبُ عِلْمٍ وطَالِبُ دُنْيَا.

۴۵۸ - وقَالَعليه‌السلام : الإِيمَانُ أَنْ تُؤْثِرَ الصِّدْقَ حَيْثُ يَضُرُّكَ - عَلَى الْكَذِبِ حَيْثُ يَنْفَعُكَ - وأَلَّا يَكُونَ فِي حَدِيثِكَ فَضْلٌ عَنْ عَمَلِكَ - وأَنْ تَتَّقِيَ اللَّه فِي حَدِيثِ غَيْرِكَ

۴۵۹ - وقَالَعليه‌السلام : يَغْلِبُ الْمِقْدَارُ عَلَى التَّقْدِيرِ حَتَّى تَكُونَ الآفَةُ فِي التَّدْبِير.

قال الرضي وقد مضى هذا المعنى فيما تقدم - برواية تخالف هذه الألفاظ.

۴۶۰ - وقَالَعليه‌السلام : الْحِلْمُ والأَنَاةُ تَوْأَمَانِ يُنْتِجُهُمَا عُلُوُّ الْهِمَّةِ.

(۴۵۷)

دو بھوکے ایسے ہیں جو کبھی سیرنہیں ہو سکتے ہیں۔ایک طالب علم اور ایک طالب دنیا ۔

(۴۵۸)

ایمان کی علامت یہ ہے کہ سچ نقصان بھی پہنچائے تو اسے فائدہ پہنچانے والے جھوٹ(۱) پر مقدم رکھو۔ اور تمہاری باتیں تمہارے عمل سے زیادہ نہ ہوں اور دوسروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے خداسے ڈرتے رہو۔

(۴۵۹)

(کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ) قدرت کا مقرر کیا ہوا مقدر انسان کے اندازوں پرغالب آجاتا ہے یہاں تک کہ یہی تدبیرکی بربادی کا سبب بن جاتی ہے۔

سید رضی : یہ بات دوسرے اندازسے اس سے پہلے گذر چکی ہے۔

(۴۶۰)

بردباری اورصبر(۲) دونوں جڑواں ہیں اور ان کی پیداوار کا سرچشمہ بلند ہمتی ہے۔

(۱)یقینا ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ سچ کو جھوٹ پر مقدم رکھا جائے اورمعمولی مفادات کی راہ میں اس عظیم نعمت صدق کو قربان نہ کیا جائے لیکن کبھی کبھی اسے مواقع آس کتے ہیں جب سچ کا نقصان نا قابل برداشت ہو جائے تو ایسے موقع پر عقل اورشرع دونوں کی اجازت ہے کہ کذب کا راستہ اختیار کرکے اس نقصان سے تحفظ کا انتظام کرلیا جائے جس طرح کہ قاتل کسی نبی برحق کی تلا ش میں ہواورآپ کو اس کا پتہ معلوم ہو تو آپ کے لئے شرعاً جائز نہیں ہے کہ پتہ بتا کر نبی برحق کے قتل میں حصہ دار ہو جائیں ۔

(۲)یہ غلط مشہور ہوگیا ہے کہ مجبوری کا نام صبر ہے۔صبر مجبوری نہیں ہے ۔صبر بلند ہمتی ہے۔صبر انسان کو مصائب سے مقابلہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔صبر نسان میں عزائم کی بلندی پیداکرتا ہے۔صبر پچھلے حالات پر افسوس کرنے کے بجائے اگلے حالات کے لئے آمادگی کی دعوت دیتا ہے ۔''انا الیہ راجعون ''


۴۶۱ - وقَالَعليه‌السلام : الْغِيبَةُ جُهْدُ الْعَاجِزِ.

۴۶۲ - وقَالَعليه‌السلام : رُبَّ مَفْتُونٍ بِحُسْنِ الْقَوْلِ فِيه.

۴۶۳ - وقَالَعليه‌السلام : الدُّنْيَا خُلِقَتْ لِغَيْرِهَا ولَمْ تُخْلَقْ لِنَفْسِهَا.

۴۶۴ - وقَالَعليه‌السلام : إِنَّ لِبَنِي أُمَيَّةَ مِرْوَداً يَجْرُونَ فِيه - ولَوْ قَدِ اخْتَلَفُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ - ثُمَّ كَادَتْهُمُ الضِّبَاعُ لَغَلَبَتْهُمْ.

قال الرضي - والمرود هنا مفعل من الإرواد وهو الإمهال والإظهار

(۴۶۱)

غیبت(۱) کرناکمزور آدمی کی آخری کوشش ہوتی ہے۔

(۴۶۲)

بہت سے لوگ اپنے بارے میں تعریف ہی سے مبتلائے فتنہ ہو جاتے ہیں۔

(۴۶۳)

دنیا دوسروں(۲) کے لئے پیدا ہوئی ہے اور اپنے لئے نہیں پیداکی گئی ہے۔

(۴۶۴)

بنی امیہ میں سب کا ایک خاص میدان ہے جس میں دوڑلگا رہے ہیں ورنہ جس دن ان میں اختلاف ہوگیا تواس کے بعد بجو بھی ان پر حملہ کرنا چاہے گا تو غالب آجائے گا۔

سید رضی : مرود۔ارواد سے مفعل کے وزن پر ہے اورارواد کے معنی فرصت اور مہلت دینے کے ہیں۔جو

(۱)غیبت کے معنی یہ ہیں کہ انسان کے اس عیب کا تذکرہ کیا جائے جسے وہ خود پوشیدہ رکھنا چاہتا ہے اور اس کے اظہار کو پسند نہیں کرتا ہے۔اسلام نے اس عمل کو فساد کی اشاعت سے تعبیر کیا ہے اوراسی بناپرحرام کردیا ہے ۔لیکن اگر کسی موقع پر عیب کے اظہارنہ کرنے ہی میں سماج یا مذہب کی بربادی کاخطرہ ہو تو بیان کرنا جائزبلکہ بعض اوقات واجب ہو جاتا ہے جس طرح کہ علم رجال میں راویوں کی تحقیق کا مسئلہ ہے کہاگران کے عیوب پر پردہڈال دیا گیا تو مذہب کے تباہ و برباد ہو جانے کا اندیشہ ہے اور ہر جھوٹا شخص روایات کاانبار لگاسکتا ہے۔

(۲)دنیا کی تخلیق مقصود بالذات نہیں ہے ورنہ پروردگار اس کو دائمی اور ابدی بنادیتا ۔ دنیا کو فنا کرکے آخرت کو منظرعام پر لے آنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی تخلیق آخرت کے مقدمہ کے طور پرہوئی ہے ۔اب اگر کوئی شخص اسے قربان کرکے آخرت کما لیتاہے تو گویا اس نے صحیح مصرف میں لگا دیا ورنہ اپنی زندگی بھی برباد کی اورموت کوبھی صحیح راستہ پر نہیں لگایا۔


وهذا من أفصح الكلام وأغربه - فكأنهعليه‌السلام شبه المهلة التي هم فيها بالمضمار - الذي يجرون فيه إلى الغاية - فإذا بلغوا منقطعها انتقض نظامهم بعدها.

۴۶۵ - وقَالَعليه‌السلام فِي مَدْحِ الأَنْصَارِ - هُمْ واللَّه رَبَّوُا الإِسْلَامَ كَمَا يُرَبَّى الْفِلْوُ - مَعَ غَنَائِهِمْ بِأَيْدِيهِمُ السِّبَاطِ وأَلْسِنَتِهِمُ السِّلَاطِ

۴۶۶ - وقَالَعليه‌السلام : الْعَيْنُ وِكَاءُ السَّه.

قال الرضي - وهذه من الاستعارات العجيبة - كأنه يشبه السه بالوعاء والعين بالوكاء - فإذا أطلق الوكاء لم ينضبط الوعاء - وهذا القول في الأشهر الأظهر من كلام النبيصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم - وقد رواه قوم لأمير المؤمنينعليه‌السلام - وذكر ذلك المبرد في كتاب المقتضب - في باب اللفظ بالحروف - وقد تكلمنا على هذه الاستعارة - في كتابنا الموسوم بمجازات الآثار النبوية.

فصیح ترین اورعجیب ترین تعبیر ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ ان کا میدان عمل یہی مہلت خداوندی ہے جس میں سب بھاگے چلے جا رہے ہیں ورنہ جس دن یہ مہلت ختم ہوگئی سارا نظام درہم وبرہم ہو کر رہ جائے گا۔

(۴۶۵)

انصار مدینہ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا۔خدا کی قسم ان لوگوں نے اسلام کو اسی طرح پالا ہے جس طرح ایک سالہ بچہ ناقہ کو پالا جاتا ہے اپنے کریم ہاتھوں اور تیز زبانوں کے ساتھ۔

(۴۶۶)

آنکھ عقب(۱) کا تسمہ ہے۔

سید رضی : یہ ایک عجیب و غریب استعارہ ہے جس میں انسان کے عقب کو ظرف کو تشبیہ دی گئی ہے اور اس کیآنکھ کو تسمہ سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جب تسمہ کھولدیاجاتا ہے تو برتن کا سامان محفوظ نہیں رہتا ہے۔عام طور سے شہرت یہ ہے کہ یہ پیغمبر اسلام (ص) کاکلام ہے لیکن امیر المومنین سے بھی نقل کیا گیا ہے اور اس کاذکر مبردنے اپنی کتاب المقتضب میں باب اللفظ بالحروف میں کیا ہے اور ہم نے بھی اپنی کتاب المجازات النبویہ میں اس سے مفصل بحث کی ہے۔

(۱)مقصد یہ ہے کہ انسان کی آنکھ ہی اس کے تحفظ کاذریعہ ہے چاہے سامنے سے ہو چاہے پیچھے سے۔لہٰذا انسان کا فرض ہے کہ اس نعمت پروردگار کی قدر کرے اوراس بات کا احساس کرے کہ یہ ایک آنکھ نہ ہوتی تو انسان کا راستہ چلنا بھی دشوار ہو جاتا ۔حملوں سے تحفظ تو بہت دور کی بات ہے۔


۴۶۷ - وقَالَعليه‌السلام فِي كَلَامٍ لَه: ووَلِيَهُمْ وَالٍ فَأَقَامَ واسْتَقَامَ حَتَّى ضَرَبَ الدِّينُ بِجِرَانِه

۴۶۸ - وقَالَعليه‌السلام : يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ عَضُوضٌ - يَعَضُّ الْمُوسِرُ فِيه عَلَى مَا فِي يَدَيْه - ولَمْ يُؤْمَرْ بِذَلِكَ قَالَ اللَّه سُبْحَانَه -( ولا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ ) - تَنْهَدُ فِيه الأَشْرَارُ وتُسْتَذَلُّ الأَخْيَارُ - ويُبَايِعُ الْمُضْطَرُّونَ - وقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عَنْ بَيْعِ الْمُضْطَرِّينَ

۴۶۹ - وقَالَعليه‌السلام : يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ مُحِبٌّ مُفْرِطٌ وبَاهِتٌ مُفْتَرٍ

قال الرضي: وهذا مثل قولهعليه‌السلام

(۴۶۷)

لوگوں کے امور کاذمہ دار ایک ایساحاکم(۱) بنا جوخود بھی سیدھے راستہ پر چلا اور لوگوں کوب بھی اسی راستہ پر چلایا۔یہاں تک کہ دین نے اپنا سینہ ٹیک دیا۔

(۴۶۸)

لوگوں پر ایک ایسا سخت زمانہ آنے والا ہے جس میں موسرا پنے مال میں انتہائی بخل سے کام لے گا حالانکہ اسے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا ہے اورپروردگار نے فرمایا ے کہ '' خبردار آپس میں حسن سلوک کوفراموش نہ کردینا ''اس زمانہ میں اشرار اونچے ہو جائیں گے اور اخیار کوذلیل سمجھ لیا جائے گا مجبور(۲) و بیکس لوگوں کی خریدو فروخت کی جائے گی حالانکہ رسول اکرم (ص) نے اس بات سے منع فرمایا ہے۔

(۴۶۹)

میرے بارے میں دو طرح کے لوگ ہلاک ہوجائیں گے۔حدسے آگے بڑھ جانے والا دوست اورغلط بیانی اور افتر ا پردازی کرنے والا دشمن۔

سیدرضی : یہ ارشاد مثل اس کالام سابق کے ہے

(۱)شیخ محمد عبدہ کاخیال ہے کہ یہ سرکار دو عالم (ص) کے کردار کے طرف اشارہ ہے کہ جب آپ کا اقتدار قائم ہوگیا تو آپنے تمام لوگوں کو حق کے راستہ پر چلانا شروع کیا اوراس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام نے اپنا سینہ ٹیک دیا اوراسے استقرار و استقلال حاصل ہوگیا۔

(۲)یہاں مجبور و بیکس سے مراد وہ افراد ہیں جن کو خریدو فروخت پر مجبور کردیا جائے کہ اسلام نے اس طرح کے معاملہ کو غلط قراردیا ہے اور اس بیع و شراء کو غیر قانونی قرار دیا ہے لیکن اگرانسان کو معاملہ پر مجبورنہ کیا اور وہ حالات سے مجبور ہو کر معاملہ کرنے پر تیار ہوجائے توقف ہی اعتبار سے اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ اس میں انسان کی رضا مندی شامل ہے چاہے وہ رضا مندی حالات کی مجبوری ہی سے پیدا ہوئی ہو۔


هَلَكَ فِيَّ رَجُلَانِ مُحِبٌّ غَالٍ ومُبْغِضٌ قَالٍ

۴۷۰ - وسُئِلَ عَنِ التَّوْحِيدِ والْعَدْلِ فَقَالَعليه‌السلام

التَّوْحِيدُ أَلَّا تَتَوَهَّمَه والْعَدْلُ أَلَّا تَتَّهِمَه

۴۷۱ - وقالعليه‌السلام : لَا خَيْرَ فِي الصَّمْتِ عَنِ الْحُكْمِ كَمَا أَنَّه لَا خَيْرَ فِي الْقَوْلِ بِالْجَهْلِ.

۴۷۲ - وقَالَعليه‌السلام فِي دُعَاءٍ اسْتَسْقَى بِه:اللَّهُمَّ اسْقِنَا ذُلُلَ السَّحَابِ دُونَ صِعَابِهَا.

قال الرضي - وهذا من الكلام العجيب الفصاحة - وذلك أنهعليه‌السلام شبه السحاب ذوات الرعود والبوارق - والرياح والصواعق - بالإبل الصعاب التي تقمص برحالها وتقص بركبانها - وشبه السحاب خالية من تلك الروائع - بالإبل الذلل التي تحتلب طيعة وتقتعد مسمحة

'' میرے بارے میں دو طرح کے لوگ ہلاک ہوگئے ۔ غلو کرنے والا دوست اور عناد رکھنے والا دشمن۔

(۴۷۰)

آپ سے توحید اور عدالت کے مفہوم کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا کہ توحید یہ ہے کہ اس کی وہمی تصویر نہ بنائی جائے اور عدالت یہ ہے کہ اس کے حکیمانہ افعال کو متہم نہ کیا جائے ۔

(۴۷۱)

حکمت کی بات سے خاموشی اختیار کرنا کوئی خوبی نہیں جس طرح جہالت کے ساتھ بات کرنے میں کوئی بھلائی نہیں۔

(۴۷۲)

بارش کے سلسلہ میں دعاکرتے ہوئے فرمایا ''خدایا ہمیں فرمانبردار بادلوں سے سیراب کرنا نہ کہ دشوار گذار بروں سے۔

سید رضی : یہ انتہائی عجیب و غریب فصیح کلام ہے جس میں حضرت نے گرج ' چمک اورآندھیوں سے بھرے ہوئے بادلوں کو سر کش اونٹوں سے تشبیہ دی ہے جو پیر پٹکتے رہتے ہیں اور سواروں کو پٹک دیتے ہیں اور اسی طرح ان تام خطرات سے خالی بادلوں کوف رمانبردار اونٹوں سے تشبیہ دی ہے جو دوہنے میں مطیع اورس واری میں فرمانبردار ہوں۔


۴۷۳ - وقِيلَ لَهعليه‌السلام لَوْ غَيَّرْتَ شَيْبَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَعليه‌السلام

الْخِضَابُ زِينَةٌ ونَحْنُ قَوْمٌ فِي مُصِيبَةٍ! (يُرِيدُ وَفَاةَ رَسُولِ اللَّهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ).

۴۷۴ - وقَالَعليه‌السلام : مَا الْمُجَاهِدُ الشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّه بِأَعْظَمَ أَجْراً - مِمَّنْ قَدَرَ فَعَفَّ - لَكَادَ الْعَفِيفُ أَنْ يَكُونَ مَلَكاً مِنَ الْمَلَائِكَةِ.

(۴۷۳)

آپ سے عرض کیا گیا کہ اگر آپ اپنے سفید بالوں کا رنگبدل دیتے تو زیادہ اچھا ہوتا؟ فرمایا کہ خضاب ایک زینت ہے لیکن ہم لوگ حالات مصیبت(۱) میں ہیں (کہ سرکار دو عالم (ص) کا انتقال ہوگیا ہے )

(۴۷۴)

راہ خدا میں جہاد کرکے شہید ہوجانے والا اس سے زیادہ اجرکا حقدار نہیں ہوتا ہے ۔ جتنا اجر اس کا ہے جو اختیارات کے باوجود عفت(۲) سے کام لے کہ عفیف و پاکدامن انسان قریب ہے کہ ملائکہ آسمان میں شمار ہو جائے۔

(۱)اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خضاب بھی سرکار دو عالم (ص) کی سنت کا ایک حصہ تھا اور آپ اسے استعمال فرمایا کرتے تھے چنانچہ ایک مرتبہ حضرت نے سرکار (ص) سے عرض کی کہ یارسول اللہ ! اجازت ہے کہ میں بھی آپ کے اتباع میں خضاب استعمال کروں۔تو فرمایا نہیں اس وقت کا انتظار کرو جب تمہارے محاسن تمہارے سرکے خونس ے رنگین ہوں گے اورتم سجدہ ٔ پروردگار میں ہوگے ۔

یہ سن کر آپ نے عرض کی کہ یارسول اللہ اس حادثہ میں میرادین تو سلامت رہے گا؟ فرمایا بیشک! جس کے بعد آپ مستقل اس وقت کا انتظارکرنے لگے اور اپنے کو راہ خدامیں قربان کرنے کی تیاری میںمصروف ہوگئے ۔

(۲)یہ بات طے شدہ ہے کہ راہ خدا میں قربانی ایک بہت بڑا کارنامہ ہے اور سکار دو عالم (ص)نے بھی اس شہادت کو تمام نیکیوں کے لئے سر فہرست قراردیا ہے لیکن عفت ایک ایسا عظیم خزانہ ہے جس کی قدر و قیمت کا اندازہ کرنا ہرایک کے بس کا کام نہیں ہے ۔خصوصیت کے ساتھ دور حاضرمیں جب کہ عفت کا تصور ہی ختم ہو گیا ہے اور دامان کردار کے داغوں ہی کو سبب زینت تصورکرلیا گیا ہے ورنہ عفت کے بغیر انسانیت کا کوئی مفہوم نہیں ہے اوروہ انسان 'انسان کہے جانے کے قابل نہیں ہے جس میں عفت کردار نہ پای جاتی ہو۔

عفیف الحیوة انسان ملائکہ میں شمار کئے جانے کے قابل اسی لئے ہے کہ عفت کردارملائکہ کا ایک امتیازی کمال ہے اور ان کے یہاں تردامنی کا کوئی امکان نہیں ہے لیکن اس کے بعد بھی اگر بشراس کردارکو پیدا کرلے تو اس کا مرتبہ ملائکہ سے افضل ہو سکتا ہے۔اس لئے کہ ملائکہ کی عفت قہری ہے اور اس کا راز ان جذبات اورخواہشات کانہ ہونا ہے جو انسان کو خلاف عفت زندگی پرآمادہ کرتے ہیں اورانسان ان جذبات وخواہشات سے معمور ہے لہٰذا وہ اگر عفت کردار اختیار کرلے تو اس کا مرتبہ یقینا ملائکہ سے بلند تر ہو سکتا ہے۔


۴۷۵ - وقَالَعليه‌السلام : الْقَنَاعَةُ مَالٌ لَا يَنْفَدُ.

قال الرضي وقد روى بعضهم هذا الكلام لرسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم .

۴۷۶ - وقَالَعليه‌السلام لِزِيَادِ ابْنِ أَبِيه - وقَدِ اسْتَخْلَفَه لِعَبْدِ اللَّه بْنِ الْعَبَّاسِ عَلَى فَارِسَ وأَعْمَالِهَا - فِي كَلَامٍ طَوِيلٍ كَانَ بَيْنَهُمَا نَهَاه فِيه عَنْ تَقَدُّمِ الْخَرَاجِ -. اسْتَعْمِلِ الْعَدْلَ واحْذَرِ الْعَسْفَ والْحَيْفَ - فَإِنَّ الْعَسْفَ يَعُودُ بِالْجَلَاءِ والْحَيْفَ يَدْعُو إِلَى السَّيْفِ.

۴۷۷ - وقَالَعليه‌السلام : أَشَدُّ الذُّنُوبِ مَا اسْتَخَفَّ بِهَا صَاحِبُه.

۴۷۸ - وقَالَعليه‌السلام : مَا أَخَذَ اللَّه عَلَى أَهْلِ الْجَهْلِ أَنْ يَتَعَلَّمُوا - حَتَّى أَخَذَ عَلَى أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُعَلِّمُوا.

(۴۷۵)

قناعت وہ مال ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔

سید رضی : بعض حضرات نے اس کلام کو رسول اکرم (ص) کے نام سے نقل کیا ہے ۔

(۴۷۶)

جب عبداللہ عباس نے زیاد بن ابیہ کو فارس اور اس کے اطراف پر قائم مقام بنادیا تو ایک مرتبہ پیشگی خراج وصول کرنے سے روکتے ہوئے زیاد سے فرمایاکہ خبردار۔عدل کو استعمال کرو اور بیجا دبائو اور ظلم سے ہوشیار رہو کہ دبائو عوام کو غریب الوطنی پرآمادہ کردے گا اور ظلم تلواراٹھانے پر مجبور کردے گا۔

(۴۷۷)

سخت ترین گناہ وہ ہے جسے انسان ہلکا تصور کرلے۔

(۴۷۸)

پروردگار نے جاہلوں سے علم حاصل کرنے کا عہدلینے سے پہلے علماء سے تعلیم دینے کاعہد لیا ہے ۔


۴۷۹ - وقَالَعليه‌السلام : شَرُّ الإِخْوَانِ مَنْ تُكُلِّفَ لَه.

قال الرضي لأن التكليف مستلزم للمشقة وهو شر لازم عن الأخ المتكلف له فهو شر الإخوان.

۴۸۰ - وقَالَعليه‌السلام : إِذَا احْتَشَمَ الْمُؤْمِنُ أَخَاه فَقَدْ فَارَقَه.

قال الرضي يقال حشمه وأحشمه إذا أغضبه وقيل أخجله أو احتشمه طلب ذلك له وهو مظنة مفارقته.

وهذا حين انتهاء الغاية بنا إلى قطع المختار من كلام أمير المؤمنينعليه‌السلام ، حامدين للَّه سبحانه على ما منّ به من توفيقنا لضم ما انتشر من أطرافه، وتقريب ما بعد من أقطاره. وتقرر العزم كما شرطنا أولا على تفضيل أوراق من البياض في آخر كل باب من الأبواب، ليكون لاقتناص الشارد، واستلحاق الوارد، وما عسى أن يظهر لنا بعد الغموض

(۴۷۹)

بدترین بھائی وہ ہے جس کے لئے زحمت اٹھانی پڑے۔

سید رضی : یہ اس طرح کہ تکلیف سے مشقت پیدا ہوتی ہے اور یہ وہ شر ہے جو اس بھائی کے لئے بہر حال لازم ہے جس کے لئے زحمت برداشت کرنا پڑے ۔

(۴۸۰)

اگر مومن اپنے بھائی سے احتشام کرے تو سمجھو کہ اس سے جدا ہوگیا۔

سید رضی :حشمہ۔احشمہ:اس وقت استعمال ہوتا ہے جب یہ کہنا ہوتا ہے کہ اسے غضب ناک کردیا یا بقولے شرمندہ کردیا۔اس طرح احتشمہ کے معنی ہوں گے۔ اس سے غضب یا شرمندگی کا تقاضا کیا۔ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں جدائی لازمی ہے۔

یہ ہمارے عمل کی آخری منزل ہے جس کا مقصد امیر المومنین کے منتخب کلام کاجمع کرنا تھا اورخدا کا شکرہے کہ اس نے ہم پر یہ احسان کیا کہ ہمیں آپ کے منتشر کلمات کو جمع کرنے اور دور دست ارشادات کو قریب کرنے کی توفیق عنایت فرمائی اورہمارا روز اول سے یہ عزم رہا ہے کہ ہر باب کے آخرمیں کچھ سادہ اوراق چھوڑدیں تاکہ جو کلمات اس وقت ہاتھ نہیں لگے انہیں بھی گرفت میں لا سکیں اور جونئے ارشادات مل جائیں انہیں ملحق کر سکیں ۔شائد کہ کوئی چیز نگاہوں سے اوجھل


ويقع إلينا بعد الشذوذ، وما توفيقنا إلا باللَّه: عليه توكلنا، وهو حسبنا ونعم الوكيل.

وذلك في رجب سنة أربع مائة من الهجرة، وصلى اللَّه على سيدنا محمد خاتم الرسل، والهادي إلى خير السبل، وآله الطاهرين، وأصحابه نجوم اليقين.

تم - والحمد لله -

نهج البلاغة

من كلام أمير المؤمنينعليه‌السلام

ہونے کے بعد ظہورپذیر ہو جائے اور ہاتھ سے نکل جانے کے بعد ہاتھ آجائے۔

ہماری توفیق صرف پروردگار سے وابستہ ہے اوراسی پر ہمارابھروسہ ہے۔وہی ہمارے لئے کافی ہے اوروہی ہماراکارساز ہے۔اور یہ کتاب۴۰۰ ھ میں اختتام کو پہنچی ہے۔اللہ ہمارے سردار حضرت خاتم المرسلین اورہادی الی خیرالسبل اور ان کی اولاد طاہرین اوران اصحاب پر رحمت نازل کرے جوآسمان یقین کے نجوم ہدایت ہیں۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین


فہرست

امیر المومنین کے منتخب خطبات ۴

اور احکام کا سلسلہ کلام ۴

(۱) ۴

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۴

(جس میں آسمان کی خلقت کی ابتدا اور خلقت آدم ۔ کے تذکرہ کے ساتھ حج بیت اللہ کی عظمت کا بھی ذکر کیا گیاہے) ۴

تخلیق جناب آدم کی کیفیت ۱۰

انبیاء کرام کا انتخاب ۱۲

بعثت رسول اکرم (ص) ۱۳

قرآن اور احکام شرعیہ ۱۴

ذکر حج بیت اللہ ۱۵

(۲) ۱۶

صفیں سے واپسی پرآپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۶

جس میں بعثت پیغمبر(ص) کے وقت لوگوں کے حالات' آل رسول (ص) کے اوصاف اور دوسرے افراد کے کیفیات کاذکر کیا گیا ہے۔ ۱۶

آل رسول اکرم (ص) ۱۸

ایک دوسری قوم ۱۸

(۳) ۱۹

آپ کے ایک خطبہ کا حصہ ۱۹

جسے شقشقیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۱۹


(۴) ۲۴

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۴

جوفصیح ترین کلمات میں شمار ہوتا ہے اور جس میں لوگوں کو نصیحت کی گئی ہے اور انہیں گمراہی سے ہدایت کے راستہ پرلایا گیا ہے۔(طلحہ و زبیر کی بغاوت اورقتل عثمان کے پس منظر میں فرمایا) ۲۴

(۵) ۲۵

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۵

جو آپ کے وفات پیغمبراسلام(ص) کے موقع پر ارشاد فرمایا تھا جب عباس اورابو سفیان نے آپ سے بیعت لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ ۲۵

(۶) ۲۶

حضرت کا ارشاد گرامی ۲۶

جب آپ کو مشورہ دیا گیا کہ طلحہ و زبیر کا پیچھا نہ کریں اور ان سے جنگ کا بندو بست نہ کریں ۲۶

(۷) ۲۷

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۷

جس میں شیطان کے پیروکاروں کی مذمت کی گئی ہے ۲۷

(۸) ۲۸

آپ کا ارشاد گرامی ۲۸

زبیر کے بارے میں ۲۸

جب ایسے حالات پیدا ہوگئے اور اسے دوبارہ بیعت کے دائرہ میں داخل ہونا پڑے گا جس سے نکل گیا ہے ۲۸

(۹) ۲۸

آپ کے کلام کا ایک حصہ ۲۸

جس میں اپنے اوربعض مخالفین کے اوصاف کا تذکرہ فرمایا ہے اور شاید اس سے مراد اہل جمل ہیں۔ ۲۸


(۱۰) ۲۹

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۹

جس کا مقصد شیطان ہے یا شیطان صفت کوئی گروہ ۲۹

(۱۱) ۲۹

آپ کا ارشاد گرامی ۲۹

اپنے فرزند محمد بن الخفیہ سے ۲۹

( میدان جمل میں علم لشکر دیتے ہوئے) ۲۹

(۱۲) ۳۰

آپ کا ارشاد گرامی ۳۰

(۱۳) ۳۱

آپ کا ارشاد گرامی ۳۱

جس میں جنگ جمل کے بعد اہل بصرہ کی مذمت فرمائی ہے ۳۱

(۱۴) ۳۲

آپ کا ارشاد گرامی ۳۲

(ایسے ہی ایک موقع پر) ۳۲

(۱۵) ۳۳

آپ کے کلام کا ایک حصہ ۳۳

اس موضوع سے متعلق کہ آپ نے عثمان کی جاگیروں کو مسلمانوں کو واپس دے دیا ۳۳


(۱۶) ۳۳

آپ کے کلام کا ایک حصہ ۳۳

(اس وقت جب آپ کی مدینہ میں بیعت کی گئی اور آپ نے لوگوں کو بیعت کے مستقبل سے آگاہ کرتے ہوئے ان کی قسمیں بیان فرمائی) ۳۳

اسی خطبہ کا ایک حصہ جس میں لوگوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۳۵

(۱۷) ۳۷

(ان نا اہلوں کے بارے میں جوصلاحیت کے بغیر فیصلہ کا کام شروع کر دیتے ہیں اور اسی ذیل میں دوبد ترین اقسام مخلوقات کا ذکربھی ہے) ۳۷

(۱۸) ۳۹

آپ کا ارشاد گرامی ۳۹

(علماء کے درمیان اختلاف فتویٰ کے بارے میں اور اسی میں اہل رائے کی مذمت اور قرآن کی مرجعت کا ذکر کیا گیا ہے) ۳۹

مذمت اہل رائے: ۴۰

(۱۹) ۴۱

آپ کا ارشاد گرامی ۴۱

جسے اس وقت فرمایا جب منبر کوفہ پر خطبہ دے رہے تھے اوراشعث بن قیس نے ٹوک دیا کہ یہ بیان آپ خود اپنے خلاف دے رہے ہیں۔ آپ نے پہلے نگاہوں کونیچا کرکے سکوت فرمایا اور پھرپر جلال انداز سے فرمایا: ۴۱

(۲۰) ۴۲

آپ کا ارشاد گرامی ۴۲

جس میں غفلت سے بیدار کیا گیا ہے اور خدا کی طرف دوڑ کرآنے کی دعوت دی گئی ہے ۴۲

(۲۱) ۴۲

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۴۲


(۲۲) ۴۳

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۴۳

جب آپ کو خبر دی گئی کہ کچھ لوگوں نے آپ کی بیعت توڑدی ہے ۴۳

(۲۳) ۴۵

آپ کے ایک خطبہ کا ایک حصہ ۴۵

یہ خطبہ فقراء کی تہذیب اور ثروت مندوں کی شفقت پر مشتمل ہے ۴۵

(۲۴) ۴۸

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۴۸

جس میں اطاعت خداکی دعوت دی گئی ہے ۴۸

(۲۵) ۴۸

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۴۸

جب آپ کو مسلسل(۱) خبردی گئی کہ معاویہ کے ساتھیوں نے شہروں پر قبضہ کرلیا ہے اور آپ کے دو عامل یمن عبید اللہ بن عباس اورسعید بن نمران بسر بن ابی ارطاة کے مظالم سے پریشان ہو کرآپ کی خدمت میں آگئے۔ ۴۸

(۲۶) ۵۱

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۵۱

(جس میں بعثت سے پہلے عرب کی حالت کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر اپنی بیعت سے پہلے کیے حالات کا تذکرہ کیا گیا ہے) ۵۱

(بیعت کے ہنگام) ۵۱

(۲۷) ۵۲

(جو اس وقت ارشد فرمایا جب آپ کو خبر ملی کہ ۵۲

معاویہ(۱) کے لشکرنے انبار پر حملہ کردیا ہے ۔اس خطبہ میں جہاد کی فضیلت کا ذکر کرکے لوگوں کو جنگ پر آمادہ کیا گیا ہے اوراپنی جنگی مہارت کا تذکرہ کرکے نا فرمانی کی ذمہ داری لشکر والوں پر ڈالی گئی ہے) ۵۲


(۲۸) ۵۶

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۵۶

(جو اس خطبہ کی ایک فصل کی حیثیت رکھتا ہے جس کاآغاز'' الحمد للہ غیر مقنوط من رحمة '' سے ہوا ہے اور اس میں گیارہ تنبیہات ہیں) ۵۶

(۲۹) ۵۹

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۵۹

جب تحکیم کے بعد معاویہ(۱) کے سپاہی ضحاک بن قیس نے حجاج کے قابلہ پر حملہ کردیا اور حضرت کواس کی خبر دی گئی تو آپ نے لوگوں کو جہاد پر آمادہ کرنے کے لئے یہ خطبہ ارشاد فرمایا: ۵۹

(۳۰) ۶۰

آپ کا ارشاد گرامی ۶۰

قتل عثمان کی حقیقت کے بارے میں ۶۰

(۳۱) ۶۱

آپ کا ارشاد گرامی ۶۱

جب آپ نے عبداللہ بن عباس کو زبیر کے پاس بھیجا کہ اسے جنگ سے پہلے اطاعت امام کی طرف واپس لے آئیں۔ ۶۱

(۳۲) ۶۲

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۶۲

جس میں زمانہ کے ظلم کاتذکرہ ہے اورلوگوں کی پانچ قسموں کو بیان کیا گیا ہے اور اس کے بعد زہد کی دعوت دی گئی ہے۔ ۶۲

(پانچویں قسم) ۶۳

(۳۲) ۶۴

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۶۴

(اہل بصرہ سے جہاد کے لئے نکلتے وقت جس میں آپ نے رسولوں کی بعثت کی حکمت اورپھر اپنی فضیلت اورخوارج کی رذیلت کاذکر کیا ہے) ۶۴


(۳۴) ۶۶

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۶۶

(جس میں خوارج کےقصہ کےبعد لوگوں کو اہل شام سےجہادکےلئےآمادہ کیاگیا ہےاور انکے حالات پرافسوس کا اظہار کرتےہوئےانہیں نصیحت کی گئی ہے) ۶۶

(۳۵) ۶۹

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۶۹

(جب تحکیم کے بعد اس کے نتیجہ کی اطلاع دی گئی تو آپ نے حمدو ثنائے الٰہی کے بعد اس بلا کا سبب بیان فرمایا) ۶۹

(۳۶) ۷۰

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۷۰

(اہل نہروان کو انجام کارسے ڈرانےکے سلسلہ میں) ۷۰

(۳۷) ۷۱

آپ کا ارشاد گرامی(جو بمنزلہ' خطبہ ہے اور اس میں نہر وان کے واقعہ کےبعدآپ نےاپنے فضائل اورکارناموں کا تذکرہ کیا ہے) ۷۱

(۳۹) ۷۲

(۳۸) ۷۲

آپ کا ارشاد گرامی ۷۲

(جس میں شبہ کی وجہ تسمیہ بیان کی گئی ہے اور لوگوں کے حالات کا ذکر کیا گیا ہے) ۷۲

(۳۹) ۷۲

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۷۲

(جو معاویہ کے سردار لشکر نعمان بن(۱) بشیرکے عین التمر پرحملہ کے وقت ارشاد فرمایا اور لوگوں کو اپنی نصرت پرآمادہ کیا ) ۷۲


(۴۰) ۷۴

آپ کا ارشاد گرامی ۷۴

(خوارج کے بارے میں ان کا یہ مقولہ سن کر کہ'' حکم اللہ کے علاوہ کسی کے لئے نہیں ہے) ۷۴

(۴۱) ۷۵

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۷۵

(جس میں غداری سے روکا گیا ہے اور اس کے نتائج سے ڈرایا گیا ہے) ۷۵

(۴۲) ۷۶

آپ کا ارشاد گرامی ۷۶

(جس میں اتباع خواہشات اور طول امل سے ڈرایا گیا ہے) ۷۶

(۴۳) ۷۷

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۷۷

(جب جریربن عبداللہ البجلی کو معاویہ کے پاس بھیجنے اور معاویہ کے انکار بیعت کے بعد اصحاب کو اہل شام سے جنگ پرآمادہ کرنا چاہا ) ۷۷

(۴۴) ۷۸

حضرت کا ارشاد گرامی ۷۸

(اس موقع پر جب مصقلہ(۱) بن ہیرہ شیبانی نے آپ کے عامل سبے بنی ناجیہ کے اسیرکو خرید کر آزاد کردیا اور جب حضرت نے اس سے قیمت کامطالبہ کیا تو بد دیانتی کرتے ہوئے شام کی طرف فرار کر گیا) ۷۸

(۴۵) ۷۹

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۷۹

(یہ عید الفطر کے موقع پرآپ کے طویل خطبہ کا ایک جز ہے جس میں حمد خدا اور مذمت دنیا کا ذکر کیا گیا ہے) ۷۹


(۴۶) ۷۹

آپ کا ارشاد گرامی ۷۹

(جب شام کی طرف جانے کا ارادہ فرمایا اور اس دعا کو رکاب میں پائوں رکھتے ہوئے درد زبان فرمایا) ۷۹

(۴۷) ۸۰

آپ کا ارشاد گرامی ۸۰

(کوفہ کے بارے میں ) ۸۰

(۴۸) ۸۱

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۸۱

(جو صفین کے لئے کوفہ سے نکلتے ہوئے مقام نخیلہ پر ارشاد فرمایا تھا) ۸۱

(۴۹) ۸۲

آپ کا ارشاد گرامی ۸۲

(جس میں پروردگار کے مختلف صفات اور اس کے علم کا تذکرہ کیا گیا ہے) ۸۲

(۵۰) ۸۳

آپ کا ارشاد گرامی ۸۳

(اس میں ان فتنوں کا تذکرہ ہے جو لوگوں کو تباہ کر دیتے ہیں اور ان کے اثرات کا بھی تذکرہ ہے) ۸۳

(۵۱) ۸۴

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۸۴

(جب معاویہ کے ساتھیوں نے آپ کے ساتھیوں کو ہٹا کر صفین کے قریب فرات پرغلبہ حاصل کرلیا اور پانی بند کردیا) ۸۴

(۵۲) ۸۴

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۸۴

(جس میں دنیا میں زہد کی ترغیب اور پیش پروردگاراس کے ثواب اور مخلوقات پر خالق کی نعمتوں کاتذکرہ کیا گیا ہے ) ۸۴


(۵۳) ۸۶

(جس میں روز عید الضحیٰ کا تذکرہ ہے اورقربانی کے صفات کاذکر کیا گیا ہے) ۸۶

(۵۴) ۸۶

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۸۶

(جس میں آپ نے اپنی بیعت کا تذکرہ کیا ہے) ۸۶

(۵۵) ۸۷

آپ کا ارشاد گرامی ۸۷

(جب آپ کے اصحاب نے یہ اظہار کیا کہ اہل صفین سے جہاد کی اجازت میں تاخیر سے کام لے رہے ہیں) ۸۷

(۵۶) ۸۸

آپ کا ارشاد گرامی ۸۸

(جس میں اصحاب رسول (ص) کویاد کیا گیا ہے اس وقت جب صفین کے موقع پر آپنے لوگوں کو صلح کا حکم دیا تھا) ۸۸

(۵۷) ۸۹

آپ کا ارشاد گرامی ۸۹

(ایک قابل مذمت شخص کے بارے میں) ۸۹

(۵۸) ۹۰

آپ کا ارشاد گرامی ۹۰

(جس کا مخاطب ان خوارج کو بنایا گیا ہے جو تحکیم سے کنارہ کش ہوگئے اور '' لاحکم الا اللہ '' کا نعرہ لگانے لگے) ۹۰

(۵۹) ۹۱

آپ نے اس وقت ارشاد فرمایا ۹۱

جب آپ نے خوارج سے جنگ کا عزم کرلیا اور نہر وان کے پل کو پار کرلیا ۹۱


(۶۰) ۹۲

آپ نے فرمایا ۹۲

(اس وقت جب خوارج کے قتل کے بعد لوگوں نے کہا کہ اب تو قوم کاخاتمہ ہوچکا ہے) ۹۲

(۶۱) ۹۲

آپ نے فرمایا ۹۲

(۶۲) ۹۲

آپ کا ارشاد گرامی ۹۲

(جب آپ کو اچانک قتل سے ڈرایا گیا ) ۹۲

(۶۳) ۹۳

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۹۳

(جس میں دنیا کے فتنوں سے ڈرایا گیا ہے) ۹۳

(۶۴) ۹۳

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۹۳

(نیک اعمال کی طرف سبقت کے بارے میں ) ۹۳

(۶۵) ۹۵

(جس میں علم الٰہی کے لطیف ترین مباحث کی طرف اشارہ کیا گیا ہے) ۹۵

(۶۶) ۹۷

آپ کا ارشاد گرامی ۹۷

(تعلیم جنگ کے بارے میں ) ۹۷


(۶۷) ۹۸

آپ کا ارشاد گرامی ۹۸

جب رسول اکرم (ص)کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ(۱) کی خبریں پہنچیں اور آپ نے پوچھا کہ انصار نے کیا احتجاج کیا تو لوگوں نے بتایا کہ وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ایک امیر ہمارا ہوگا اور ایک تمہارا۔تو آپ نے فرمایا:۔ ۹۸

(۶۸) ۹۹

آپ کا ارشاد گرامی ۹۹

(جب آپ نے محمدبن ابی بکر کو مصر کی ذمہ داری حوالہ کی اور انہیں قتل کردیا گیا) ۹۹

(۶۹) ۱۰۰

آپ کا ارشاد گرامی ۱۰۰

(اپنے اصحاب کو سر زنش کرتے ہوئے) ۱۰۰

(۷۰) ۱۰۱

آپ کا ارشاد گرامی ۱۰۱

(اس سحرکے ہنگام جب آپکےسر اقدس پر ضربت لگائی گئی) ۱۰۱

(۷۱) ۱۰۱

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۰۱

(اہل عراق کی مذمت کے بارے میں) ۱۰۱

(۷۲) ۱۰۲

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۰۲

(جس میں لوگوں کو صلوات کی تعلیم دی گئی ہے اور صفات خدا و رسول (ص) کا ذکر کیا گیا ہے ) ۱۰۲

(۷۳) ۱۰۵

(جو مروان بن الحکم سے بصرہ میں فرمایا) ۱۰۵


(۷۴) ۱۰۵

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۰۵

(جب لوگوں نے عثمان کی بیعت کرنے کا ارادہ کیا) ۱۰۵

(۷۵) ۱۰۶

آپ کا ارشاد گرامی ۱۰۶

(جب آپ کو خبر ملی کہ بنی امیہ آپ پر خون عثمان کا الزام لگا رہے ہیں) ۱۰۶

(۷۶) ۱۰۷

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۰۷

(جس میں عمل صالح پرآمادہ کیا گیا ہے) ۱۰۷

(۷۷) ۱۰۸

آپ کا ارشاد گرامی ۱۰۸

(جب سعید بن العاص نے آپ کو آپ کے حق سے محروم کردیا) ۱۰۸

(۷۸) ۱۰۸

آپ کی دعا ۱۰۸

(جسے برابر تکرار فرمایا کرتے تھے) ۱۰۸

(۷۹) ۱۰۹

آپ کا ارشاد گرامی ۱۰۹

(جب جنگ خوارج کے لئے نکلتے وقت بعض اصحاب نے کہا کہ امیر المومنین اس سفر کے لئے کوئی دوسرا وقت اختیار فرمائیں۔اس وقت کامیابی کے امکانات نہیں ہیں کہ علم نجوم کے حسابات سے یہی اندازہ ہوتا ہے) ۱۰۹


(۸۰) ۱۱۰

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۱۰

(جنگ جمل سے فراغت کے بعد عورتوں کی مذمت کے بارے میں) ۱۱۰

(۸۱) ۱۱۱

آپ کا ارشاد گرامی ۱۱۱

(زہد کے بارے میں) ۱۱۱

(۸۲) ۱۱۲

آپ کا ارشاد گرامی ۱۱۲

(دنیا کے صفات کے بارے میں ) ۱۱۲

(۸۳) ۱۱۳

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۱۳

اس خطبہ میں پروردگارکے صفات 'تقویٰ کی نصیحت ' دنیا سے بیزاری کاسبق قیامت کےحالات لوگوں کی بے رخی پر تنبیہ اورپھر یادخدا دلانے میں اپنی فضیلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ ۱۱۳

(۸۴) ۱۲۶

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۲۶

(جس میں عمرو عاص کاذکر کیا گیا ہے) ۱۲۶

(۸۵) ۱۲۷

(جس میں پروردگار کے آٹھ صفات کاتذکرہ کیا گیا ہے) ۱۲۷

(۸۶) ۱۲۸

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۲۸

(جس میں صفات خالق '' جل جلالہ'' کاذکر کیا گیا ہے اور پھر لوگوں کو تقویٰ کی نصیحت کی گئی ہے) ۱۲۸


موعظہ ۱۲۸

(۸۷) ۱۳۱

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۳۱

(جس میں متقین اورفاسقین کے صفات کاتذکرہ کیا گیا ہے اور لوگوں کوتنبیہ کی گئی ہے ) ۱۳۱

(۸۸) ۱۳۵

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۳۵

(جس میں لوگوں کی ہلاکت کے اسباب بیان کئے گئے ہیں) ۱۳۵

(۸۹) ۱۳۶

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۳۶

(رسول اکرم (ص) اور تبلیغ امام کے بارے میں) ۱۳۶

(۹۰) ۱۳۷

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۳۷

(جس میں معبود کے قدم اور اس کی مخلوقات کی عظمت کا تذکرہ کرتے ہوئے موعظہ پر اختتام کیا گیا ہے) ۱۳۷

(۹۱) ۱۳۹

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۳۹

(اس خطبہ کو خطبہ اشباح کہا جاتا ہے جسے آپ کے جلیل ترین خطبات میں شمار کیا گیا ہے ) ۱۳۹

قرآن مجید میں صفات پروردگار ۱۴۱

(ایک دوسرا حصہ ) ۱۴۴

(کچھ آسمان کے بارے میں) ۱۴۵

(اوصاف ملائکہ کا حصہ) ۱۴۶

زمین اور اس کے پانی پر فرش ہونے کی تفصیلات ۱۵۱


دعائ ۱۵۸

(۹۲) ۱۵۸

آپ کا ارشاد گرامی(جب لوگوں نے قتل عثمان کے بعد آپ کی بیعت کا اراہ کیا) ۱۵۸

(۹۳) ۱۵۹

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۵۹

(جس میں آپ نے اپنے علم و فضل سے آگاہ کرتے ہوئے بنی امیہ کے فتنہ کی طرف متوجہ کیا ہے ) ۱۵۹

(۹۴) ۱۶۲

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۶۲

(جس میں پروردگار کے اوصاف ۔رسول اکرم (ص) اور اہل بیت اطہار کے فضائل اور موعظہ حسنہ کا ذکر کیا گیا ہے) ۱۶۲

(انبیاء کرام ) ۱۶۲

رسول اکرم (ص) ۱۶۳

(موعظہ) ۱۶۳

(۹۵) ۱۶۴

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۶۴

(جس میں رسول اکرم (ص) کے فضائل و مناقب کا تذکرہ کیا گیا ہے ) ۱۶۴

(۹۶) ۱۶۴

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۶۴

(حضرت رب العالمین اور رسول اکرم (ص) کے صفات کے بارے میں ) ۱۶۴

(۹۷) ۱۶۵

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۶۵

(جس میں اپنے اصحاب اور اصحاب رسول اکرم (ص) کا موازنہ کیا گیا ہے) ۱۶۵


(اصحاب رسول اکرم (ص)) ۱۶۸

(۹۸) ۱۶۹

آپ کا ارشاد گرامی ۱۶۹

(جس میں بنی امیہ کے مظالم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ) ۱۶۹

(۹۹) ۱۷۰

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۷۰

(جس میں دنیا سے کنارہ کشی کی دعوت دی گئی ہے) ۱۷۰

(۱۰۰) ۱۷۲

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۷۲

(رسول اکرم (ص) اور آپ کے اہل بیت کے بارے میں) ۱۷۲

(۱۰۱) ۱۷۳

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۷۳

(جو ان خطبوں میں ہے جن میں حوادث زمانہ کاذکر کیا گیا ہے ) ۱۷۳

(۱۰۲) ۱۷۵

(آپ کے خطبہ کا ایک حصہ) ۱۷۵

(جس میں قیامت اور اس میں لوگوں کے حالات کا ذکر کیا گیا ہے ) ۱۷۵

(اس خطبہ کا ایک حصہ) ۱۷۵

(۱۰۳) ۱۷۶

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۷۶

(زہد کے بارے میں ) ۱۷۶

(صفت عالم) ۱۷۷


(آخر زمانہ) ۱۷۷

(۱۰۴) ۱۷۸

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۷۸

(۱۰۵) ۱۸۰

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۸۰

(جس میں رسول اکرم (ص) کے اوصاف ۔بنی امیہ کی تہدیداور لوگوں کی نصیحت کاتذکرہ کیا گیا ہے ) ۱۸۰

(رسول اکرم (ص)) ۱۸۰

(بنو امیہ ) ۱۸۰

(موعظہ) ۱۸۱

(۱۰۶) ۱۸۳

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۸۳

( جس میں اسلام کی فضیلت اور رسول اسلام (ص) کاتذکرہ کرتے ہوئے اصحاب کی ملامت کی گئی ہے) ۱۸۳

(رسول اکرم (ص)) ۱۸۴

اپنے اصحاب سے خطاب فرماتے ہوئے ۱۸۵

(۱۰۷) ۱۸۶

(۱۰۷) ۱۸۶

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۸۶

(صفین کی جنگ کے دوران) ۱۸۶

(۱۰۸) ۱۸۶

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۸۶

(جس میں ملاحم اور حوادث و فتن کاذکر کیا گیا ہے) ۱۸۶


(رسول اکرم (ص)) ۱۸۷

فتنہ بنی امیہ ۱۸۷

(۱۰۹) ۱۹۰

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۹۰

(قدرت خدا عظمت الٰہی اور روز محشر کے بارے میں) ۱۹۰

ملائکہ مقربین ۱۹۱

ذکر رسول اکرم (ص) ۱۹۶

اہل بیت ۱۹۷

(۱۱۰) ۱۹۷

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۹۷

(ارکان اسلام کے بارے میں) ۱۹۷

قرآن کریم ۱۹۸

(۱۱۱) ۱۹۸

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۱۹۸

(مذمت دنیا کے بارے میں ) ۱۹۸

(۱۱۲) ۲۰۳

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۰۳

(جس میں ملک الموت ' ان کے قبض روح اورمخلوقات کے توصیف الٰہی سے عاجزی کا ذکرکیا گیا ہے) ۲۰۳

(۱۱۳) ۲۰۳

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۰۳

(مذمت دنیا میں ) ۲۰۳


(۱۱۴) ۲۰۵

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۰۵

(جس میں لوگوں کی نصیحت کا سامان فراہم کیا گیا ہے) ۲۰۵

(۱۱۵) ۲۰۹

(آپ کے خطبہ کا ایک حصہ) ۲۰۹

(طلب بارش کے سلسلہ میں ) ۲۰۹

(۱۱۶) ۲۱۲

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۱۲

(جس میں اپنے اصحاب کو نصیحت فرمائی ہے) ۲۱۲

(۱۱۷) ۲۱۳

آپ کا ارشاد گرامی ۲۱۳

( جس میں جان و مال سے بخل کرنے والوں کی سرزنش کی گئی ہے ) ۲۱۳

(۱۱۸) ۲۱۴

آپ کا ارشاد گرامی ۲۱۴

(اپنے اصحاب میں نیک کردار افراد کے بارے میں ) ۲۱۴

(۱۱۹) ۲۱۴

آپ کا ارشاد گرامی ۲۱۴

(جب آپ نے لوگوں کو جمع کرکے جہاد کی تلقین کی اور لوگوں نے سکوت اختیار کرلیا تو فرمایا) ۲۱۴

(۱۲۰) ۲۱۶

آپ کا ارشادگرامی ۲۱۶

(جس میں اپنی فضیلت کاذکرکرتے ہوئے لوگوں کو نصیحت فرمائی ہے ) ۲۱۶


(۱۲۱) ۲۱۷

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۱۷

جب لیلتہ الہریرکےبعد آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے اٹھ کر کہا کہ آپ نے پہلے ہی حکم بنانے سے روکا اور پھراس کا حکم دے دیا توآخر ان دونوں میں سے کون سی بات صحیح تھی؟ تو آپ نے ہاتھ پر ہاتھ مار کر فرمایا! ۲۱۷

(۱۲۲) ۲۱۹

آپ کا ارشاد گرامی ۲۱۹

( جب آپ خوارج کے اس پڑائو کی طرف تشریف لے گئے جو تحکیم کے انکار پراڑا ہوا تھا۔اورفرمایا) ۲۱۹

(۱۲۳) ۲۲۱

آپ کا ارشاد گرامی ۲۲۱

(جو صفین کے میدان میں اپنے اصحاب سے فرمایا تھا) ۲۲۱

(۱۲۴) ۲۲۲

آپ کا ارشاد گرامی ۲۲۲

(اپنے اصحاب کو جنگ پرآمادہ کرتے ہوئے) ۲۲۲

(۱۲۵) ۲۲۴

(آپ کا ارشاد گرامی) ۲۲۴

(تحکیم کے بارے میں ۔حکمین کی داستان سننے کے بعد) ۲۲۴

(۱۲۶) ۲۲۵

آپ کا ارشاد گرامی ۲۲۵

(جب عطا یا کی برابری پر اعتراض کیا گیا) ۲۲۵


(۱۲۷) ۲۲۶

آپ کا ارشاد گرامی ۲۲۶

(جس میں بعض احکام دین کے بیان کے ساتھ خوارج کے شبہات کا ازالہ اورحکمین کے توڑ کا فیصلہ بیان کیا گیا ہے) ۲۲۶

(۱۲۸) ۲۲۸

آپ کا ارشادگرامی ۲۲۸

(بصرہ کے حوادث کی خبر دیتے ہوئے ) ۲۲۸

(ترکوں کے بارے میں ) ۲۲۹

(۱۲۹) ۲۳۱

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۳۱

(ناپ تول کے بارے میں ) ۲۳۱

(۱۳۰) ۲۳۲

آپ کا ارشاد گرامی ۲۳۲

(جو آپ نے ابو ذر غفاری سے فرمایا جب انہیں ربذہ کی طرف شہر بدر کردیا گیا ) ۲۳۲

(۱۳۱) ۲۳۳

آپ کا ارشاد گرامی ۲۳۳

(جس میں اپنی حکومت طلبی کا سبب بیان فرمایا ہے اور امام بر حق کے اوصاف کا تذکرہ کیا ہے ) ۲۳۳

(۱۳۲) ۲۳۴

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۳۴

(جس میں لوگوں کو نصیحت فرمائی ہے اور زہد کی ترغیب دی ہے ) ۲۳۴


(۱۳۳) ۲۳۶

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۳۶

(جس میں اللہ کی عظمت اور قرآن کی جلالت کا ذکر ہے اور پھر لوگوں کو نصیحت بھی کی گئی ہے ) ۲۳۶

(قرآن حکیم) ۲۳۷

(رسول اکرم (ص)) ۲۳۷

(دنیا) ۲۳۷

(موعظہ) ۲۳۷

(۱۳۴) ۲۳۸

آپ کا ارشاد گرامی ۲۳۸

(جب عمر نے روم کی جنگ کے بارے میں آپ سے مشورہ کیا) ۲۳۸

(۱۳۵) ۲۳۹

آپ کا ارشاد گرامی ۲۳۹

(جب آپ کااورعثمان کے درمیان اختلافات پیداہوا اورمغیرہ بن اخنس نے عثمان سے کہا کہ میں ان کا کام تمام کرسکتا ہوں توآپ نےفرمایا ) ۲۳۹

(۱۳۶) ۲۴۰

آپ کا ارشاد گرامی ۲۴۰

(بیعت کے بارے میں ) ۲۴۰

(۱۳۷) ۲۴۰

آپ کا ارشاد گرامی ۲۴۰

(طلحہ و زبیر اور ان کی بیعت کے بارے میں ) ۲۴۰

مسئلہ بیعت ۲۴۲


(۱۳۸) ۲۴۲

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۴۲

(جس میں مستقبل کے حوادث کا اشارہ ہے) ۲۴۲

(۱۳۹) ۲۴۴

آپ کا ارشاد گرامی ۲۴۴

(شوریٰ کے موقع پر) ۲۴۴

(۱۴۰) ۲۴۴

آپ کا ارشادگرامی ۲۴۴

(لوگوں کو برائی سے روکتے ہوئے ) ۲۴۴

(۱۴۱) ۲۴۵

آپ کا ارشاد گرامی ۲۴۵

(جس میں غیبت کے سننے سے روکا گیاہے اورحق و باطل کے فرق کو واضح کیا گیا ہے ) ۲۴۵

(۱۴۲) ۲۴۶

آپ کا ارشاد گرامی ۲۴۶

(نا اہل کے ساتھ احسان کرنے کے بارے میں ) ۲۴۶

(۱۴۳) ۲۴۷

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۴۷

(طلب بارش کے سلسلہ میں ) ۲۴۷

(۱۴۴) ۲۴۹

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۴۹

(جس میں بعثت انبیاء کاتذکرہ کیا گیا ہے) ۲۴۹


(اہل بیت علیہم السلام) ۲۴۹

(گمراہ لوگ) ۲۵۰

(۱۴۵) ۲۵۱

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۵۱

(دنیا کی فنا کے بارے میں ) ۲۵۱

(مذمت بدعت) ۲۵۱

(۱۴۶) ۲۵۲

آپ کا ارشاد گرامی ۲۵۲

(جب عمر بن الخطاب نے فارس کی جنگ میں جانے کے بارے میں مشورہ طلب کیا) ۲۵۲

(۱۴۷) ۲۵۳

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۵۳

(۱۴۸) ۲۵۶

آپ کا ارشاد گرامی ۲۵۶

(اہل بصرہ( طلحہ و زبیر ) کے بارے میں) ۲۵۶

(۱۴۹) ۲۵۷

آپ کا ارشاد گرامی ۲۵۷

(اپنی شہادت سے قبل) ۲۵۷

(۱۵۰) ۲۵۸

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۵۸

(جس میں زمانہ کے حوادث کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اورگمراہوں کے ایک گروہ کا تذکرہ کیا گیا ہے ) ۲۵۸


(۱۵۱) ۲۶۰

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۶۰

(جس میں فتنوں سے ڈرایا گیاہے ) ۲۶۰

(فتنوں سے آگاہی) ۲۶۱

(۱۵۲) ۲۶۴

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۶۴

(جس میں پروردگار کے صفات اور ائمہ طاہرین کے اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے ) ۲۶۴

(ائمہ دین) ۲۶۵

(۱۵۳) ۲۶۶

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۶۶

(گمراہوں اور غافلوں کے بارے میں) ۲۶۶

(گمراہ) ۲۶۶

(غافلین) ۲۶۶

(موعظہ) ۲۶۷

(۱۵۴) ۲۶۸

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۶۸

(جس میں فضائل اہل بیت کاذکر کیا گیا ہے) ۲۶۸

(۱۵۵) ۲۷۰

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۷۰

(جس میں چمگادر کی عجیب وغریب خلقت کا ذکر کیا گیا ہے ) ۲۷۰


(۱۵۶) ۲۷۳

آپ کا ارشاد گرامی ۲۷۳

(جس میں اہل بصرہ سے خطاب کرکے انہیں حوادث سے با خبر کیا گیا ہے) ۲۷۳

(ایک دوسرا حصہ) ۲۷۴

(۱۵۷) ۲۷۶

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۷۶

(جس میں لوگوں کو تقویٰ پرآمادہ کیا گیا ہے) ۲۷۶

(۱۵۸) ۲۷۹

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۷۹

(جس میں رسول اکرم (ص) کی بعثت اورقرآن کی فضیلت کے ساتھ بنی امیہ کی حکومت کاذکر کیاگیا ہے) ۲۷۹

(۱۵۹) ۲۸۰

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۸۰

(جس میں رعایا کے ساتھ اپنے حسن سلوک کا ذکر فرمایا ہے ) ۲۸۰

(۱۶۰) ۲۸۰

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۸۰

(عظمت پروردگار) ۲۸۰

(حمد خدا) ۲۸۰

اسی خطبہ کا ایک حصہ ۲۸۲

رسول اکرم (ص) ۲۸۳

رسول اکرم (ص) ۲۸۴


(۱۶۱) ۲۸۷

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۸۷

(جس میں رسول اکرم (ص) کے صفات ' اہل بیت کی فضیلت اور تقویٰ و اتباع رسول (ص) کی دعوت کا تذکرہ کیا گیا ہے) ۲۸۷

(۱۶۲) ۲۹۰

آپ کا ارشاد گرامی ۲۹۰

(اس شخص سے جس نے یہ سوال کرلیا کہ لوگوں نے آپ کو آپ کی منزل سے کس طرح ہٹا دیا) ۲۹۰

(۱۶۳) ۲۹۱

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۹۱

(۱۶۴) ۲۹۴

آپ کا ارشاد گرامی ۲۹۴

(جب لوگوں نے آپ کے پاس آکر عثمان کے مظالم کا ذکرکیا اور ان کی فہمائش اورتنبیہ کا تقاضا کیا توآپ نے عثمان کے پاس جا کر فرمایا ) ۲۹۴

(۱۶۵) ۲۹۶

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۲۹۶

(جس میں مورکی عجیب وغریب خلقت کاتذکرہ کیا گیا ہے ) ۲۹۶

(طائوس) ۲۹۸

(بعض الفاظ کی وضاحت) ۳۰۳

(۱۶۶) ۳۰۴

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۳۰۴

دعوت اتحاد و اتفاق ۳۰۴

(آخر زمانہ کے لوگ) ۳۰۵


(۱۶۷) ۳۰۵

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۳۰۵

(ابتدائے خلافت کے دورمیں) ۳۰۵

(۱۶۸) ۳۰۷

آپ کا ارشاد گرامی ۳۰۷

(جب بیعت خلافت کے بعد بعض لوگوں نے مطالبہ کیا کہ کاش آپ عثمان پر زیادتی کرنے والوں کو سبزا دیتے ) ۳۰۷

(۱۶۹) ۳۰۸

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۳۰۸

(جب اصحاب جمل بصرہ کی طرف جا رہے تھے) ۳۰۸

(۱۷۰) ۳۰۹

آپ کا ارشاد گرامی ۳۰۹

(دلیل قائم ہو جانے کےبعدحق کے اتباع کےسلسلہ میں ) ۳۰۹

(۱۷۱) ۳۱۰

آپ کا ارشاد گرامی ۳۱۰

(جب اصحاب معاویہ سےصفین میں مقابلہ کےلئے ارادہ فرمالیا) ۳۱۰

دعوت جہاد ۳۱۱

(۱۷۲) ۳۱۱

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۳۱۱

(حمد خدا) ۳۱۱

(روز شوریٰ) ۳۱۲

(قریش کے خلاف فریاد) ۳۱۲


(اصحاب جمل کے باے میں) ۳۱۲

(۱۷۳) ۳۱۳

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۳۱۳

(رسول اکرم (ص) کے بارے میں اوراس امر کی وضاحت کے سلسلہ میں کہ خلافت کاواقعی حقدار کون ہے ؟) ۳۱۳

(۱۷۴) ۳۱۶

آپ کا ارشاد گرامی ۳۱۶

(طلحہ بن عبید اللہ کے بارے میں جب آپ کو خبر دی گئی کہ طلحہ و زبیر جنگ کے لئے بصرہ کی طرف روانہ ہوگئے ہیں ) ۳۱۶

(۱۷۵) ۳۱۷

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۳۱۷

( جس میں موعظت کے ساتھ رسول اکرم (ص) سے قرابت کا ذکر کیا گیا ہے) ۳۱۷

(۱۷۶) ۳۱۹

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۳۱۹

(جس میں موعظہ کے ساتھ قرآن کے فضائل اوربدعتوں سے مانعت کاتذکرہ کیا گیا ہے ) ۳۱۹

(قرآن حکیم) ۳۱۹

عمل کرو عمل ۳۲۱

(نصائح) ۳۲۲

(بدعتوں کی ممانعت) ۳۲۳

(قرآن) ۳۲۴

اقسام ظلم ۳۲۵


(۱۷۷) ۳۲۶

آپ کا ارشاد گرامی ۳۲۶

(صفین کے بعد حکمین کے بارے میں ) ۳۲۶

(۱۷۸) ۳۲۷

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۳۲۷

(شہادت ایمان اور تقویٰ کے بارے میں ) ۳۲۷

(۱۷۹) ۳۲۹

آپ کا ارشاد گرامی ۳۲۹

(جب دغلب یمانی نے دریافت کیا کہ یا امیر المومنین کیا آپ نے اپنے خدا کو دیکھا ہے تو فرمایا کیا میں ایسے خدا کی عبادت کر سکتا ہوں جسے دیکھا بھی نہ ہو۔عرض کی مولا ! اسے کس طرح دیکھا جا سکتا ہے ؟فرمایا) ۳۲۹

(۱۸۰) ۳۲۹

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۳۲۹

(۱۸۱) ۳۳۱

آپ کا ارشاد گرامی ۳۳۱

(جب آپ نے ایک شخص کو اس کی تحقیق کے لئے بھیجا۔جوخوارج سے ملنا چاہتی تھی اور حضرت سے خوف زدہ تھی اور وہ شخص پلٹ کر آیاتو آپ نے سوال کیا کہ کیا وہ لوگ مطمئن ہو کر ٹھہر گئے ہیں یا بزدلی کا مظاہرہ کرکے نکل پڑے ہیں۔اس نے کہا کہ وہ کوچ کر چکے ہیں۔تو آپ نے فرمایا) ۳۳۱


(۱۸۲) ۳۳۲

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۳۳۲

نوف بکالی سے روایت کی گئی ہے کہ امیر المومنین نے ایک دن کوفہ میں ایک پتھر پرکھڑے ہو کرخطبہ ارشاد فرمایا جسے جعدہ بن ہبیرہ مخزومی نے نصب کیا تھا اور اس وقت آپ اون کا ایک جبہ پہنے ہوئے تھے اور آپ کی تلوار کا پرتلہ بھی لیف خرما کا تھا اور پیروں میں لیف خرما ہی کی جوتیاں تھیں آپ کی پیشانی اقدس پر سجدوں کے گھٹے نمایاں تھے ۔فرمایا ! ۳۳۲

(۱۸۳) ۳۳۹

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۳۳۹

(قدرت خدا فضیلت قرآن اور وصیت تقویٰ کے بارے میں ) ۳۳۹

(۱۸۴) ۳۴۴

آپ کاارشاد گرامی ۳۴۴

(جو آپ نے برج بن مسہر(۱) طائی خارجی سے فرمایا جب یہ سنا کہ وہ کہہ رہا ہے کہ خدا کے علاوہ کسی کو فیصلہ کا حق نہیں ہے ) ۳۴۴

(۱۸۵) ۳۴۵

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۳۴۵

(جس میں حمد خدا ' ثنائے رسول (ص) اوربعض مخلوقات کاتذکرہ ہے ) ۳۴۵

(۱۸۶) ۳۵۰

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۳۵۰

(توحید کے بارے میں اور اس میں وہ تمام علمی مطالب پائے جاتے ہیں جو کسی دوسرے خطبہ میں نہیں ہیں) ۳۵۰

(۱۸۷) ۳۵۷

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۳۵۷

(جس میں حوادث روز گار کا ذکر کیا گیا ہے ) ۳۵۷


(۱۸۸) ۳۵۸

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۳۵۸

(مختلف امور کی وصیت کرتے ہوئے ) ۳۵۸

(۱۸۹) ۳۶۰

آپ کا ارشاد گرامی ۳۶۰

(ایمان اور وجوب ہجرت کے بارے میں ) ۳۶۰

(۱۹۰) ۳۶۱

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۳۶۱

(جس میں حمد خدا ۔ثنائے رسول (ص) اورنصیحت تقویٰ کا ذکر کیا گیا ہے ) ۳۶۱

(۱۹۱) ۳۶۵

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۳۶۵

(جس میں حمد خدا۔ثنائے رسول (ص) اور وصیت زہد و تقویٰ کا تذکرہ کیا گیا ہے ) ۳۶۵

(۱۹۲) ۳۷۰

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۳۷۰

(خطبہ قاصعہ) ۳۷۰

(اس خطبہ میں ابلیس کے تکبر کی مذمت کی گئی ہے اور اس امر کا اظہار کیا گیا ہے کہ سب سے پہلے تعصب اور غرور کا راستہ اسی نے اختیار کیاہے لہٰذا اس سے اجتناب ضروری ہے ) ۳۷۰

(۱۹۳) ۳۹۴

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۳۹۴

( جس میں صاحبان تقویٰ کی تعریف کی گئی ہے) ۳۹۴

(۱۹۴) ۴۰۰

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۴۰۰

(جس میں منافقین کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں) ۴۰۰

(۱۹۵) ۴۰۲

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۴۰۲

(۱۹۶) ۴۰۵

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۴۰۵

(جسمیں سرکار دو عالم (ص) کی مدح کی گئی ہے ) ۴۰۵

(۱۹۷) ۴۰۶

آپ کا ارشادگرامی ۴۰۶

(جس میں پیغمبر اسلام (ص) کے امرونہی اورتعلیمات کوقبول کرنے کے ذیل میں فضیلت کاذکر کیا گیا ہے) ۴۰۶

(۱۹۸) ۴۰۷

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۴۰۷

(جس میں خداکی عالم جزئیات ہونے پر تاکید کی گئی ہے اور پھر تقویٰ پرآمادہ کیا گیا ہے ) ۴۰۷

(۱۹۹) ۴۱۳

آپ کا ارشاد گرامی ۴۱۳

(جس کی اصحاب کو وصیت فرمایا کرتے تھے ) ۴۱۳

(۲۰۰) ۴۱۶

آپ کا ارشاد گرامی ۴۱۶

(معاویہ کے بارے میں ) ۴۱۶

(۲۰۱) ۴۱۷

آپ کا ارشاد گرامی ۴۱۷

(جس میں واضح راستوں پرچلنے کی نصیحت فرمائی گئی ہے ) ۴۱۷


(۲۰۲) ۴۱۷

آپ کا ارشاد گرامی ۴۱۷

(کہا جاتا ہے کہ یہ کلمات سیدة النساء فاطمہ زہراء کے دفن کے موقع پر پیغمبراسلام (ص) سے راز دارانہ گفتگو کے اندازسے کہے گئے ہیں ۔ ۴۱۷

(۲۰۳) ۴۱۹

آپ کا ارشاد گرامی ۴۱۹

(دنیا سے پرہیزاورآخرت کی ترغیب کے بارےمیں) ۴۱۹

(۲۰۴) ۴۱۹

آپ کا ارشاد گرامی ۴۱۹

(جس کے ذریعہ اپنے اصحاب کوآوازدیاکرتے تھے ) ۴۱۹

(۲۰۵) ۴۲۰

آپ کا ارشاد گرامی ۴۲۰

( جس میں طلحہ و زبیر کو مخاطب بنایا گیا ہے جب ان دونوں نے بیعت کے باوجود مشورہ کرنے اورمدد نہ مانگنے پر آپ سے ناراضگی کا ظہار کیا ) ۴۲۰

(۲۰۷) ۴۲۲

(۲۰۶) ۴۲۲

آپ کا ارشاد گرامی ۴۲۲

(جب آپ نے جنگ صفین کے زمانہ میں اپنے بعض اصحاب کے بارے میں سنا کہ وہ اہل شام کو برا بھلا کہہ رہے ہیں ) ۴۲۲

(۲۰۷) ۴۲۲

آپ کا ارشاد گرامی ۴۲۲

(جنگ صفین کے دورا ن جب امام حسن کو میدان جنگ کی طرف سبقت کرتے ہوئے دیکھ لیا) ۴۲۲


(۲۰۸) ۴۲۳

آپ کا ارشاد گرامی ۴۲۳

(جو اس وقت ارشاد فرمایا جب آپ کے اصحاب میں تحکیم کے بارے میں اختلاف ہوگیا تھا) ۴۲۳

(۲۰۹) ۴۲۳

آپ کا ارشاد گرامی ۴۲۳

(جب بصرہ میں اپنے صحابی علاء بن زیاد حارثی کے گھر عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور ان کے گھر کی وسعت کا مشاہدہ فرمایا ) ۴۲۳

(۲۱۰) ۴۲۵

آپ کا ارشاد گرامی ۴۲۵

(جب کسی شخص نے آپ سے بدعتی احادیث اورمتضاد روایات کے بارے میں سوال کیا ) ۴۲۵

(۲۱۱) ۴۲۸

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۴۲۸

(حیرت انگیز تخلیق کائنات کے بارے میں ) ۴۲۸

(۲۱۲) ۴۳۰

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۴۳۰

(جس میں اپنے اصحاب کو اہل شام سے جہاد کرنے پر آمادہ کیا ہے ) ۴۳۰

(۲۱۳) ۴۳۰

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۴۳۰

(پروردگار کی تمجید اوراس کی تعظیم کے بارے میں) ۴۳۰

(۲۱۴) ۴۳۱

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۴۳۱

( جس میں رسول اکرم (ص) کی تعریف علماء کی توصیف اور تقویٰ کی نصیحت کا ذکر کیا گیا ہے ) ۴۳۱


(۲۱۵) ۴۳۴

آپ کی دعا کا ایک حصہ ۴۳۴

( جس کی برابر تکرار فرمایا کرتے تھے ) ۴۳۴

(۲۱۶) ۴۳۵

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۴۳۵

(جسے مقام صفین میں ارشاد فرمایا) ۴۳۵

(۲۱۷) ۴۳۹

آپ کا ارشاد گرامی ۴۳۹

(قریش سے شکایت اورف ریاد کرتے ہوئے ) ۴۳۹

(۲۱۸) ۴۴۰

آپ کا ارشادگرامی ۴۴۰

(بصرہ کی طرف آپ سے جنگ کرنے کے لئے جانے والوں کے بارے میں ۴۴۰

(۲۲۰) ۴۴۱

(۲۱۹) ۴۴۱

آپ کا ارشاد گرامی ۴۴۱

(جب روزجمل طلحہ بن عبداللہ اورعبدالرحمن بن عتاب بن اسید کی لاشوں کے قریب سے گزر ہوا ) ۴۴۱

(۲۲۰) ۴۴۱

آپ کا ارشاد گرامی ۴۴۱

( خدا کی راہ میں چلنے والے انسانوں کےبارے میں) ۴۴۱


(۲۲۱) ۴۴۲

آپ کا ارشاد گرامی ۴۴۲

(جسے الھکم التکاثرکی تلاوت کے موقع پر ارشاد فرمایا) ۴۴۲

(۲۲۲) ۴۴۸

آپ کا اشاد گرامی ۴۴۸

(جسے آیت کریمہ '' یسبح لہ فیھا بالغدوو الاصال رجال'' ان گھروں میں صبح و شام تسبیح پروردگار کرنے والے وہ افراد ہیں جنہیں تجارت اورکاروبار یاد خداس ے غافل نہیں بنا سکتا ہے۔کی تلاوت کے موقع پر ارشاد فرمایا :) ۴۴۸

(۲۲۳) ۴۵۱

آپ کا ارشاد گرامی ۴۵۱

(جسے آیت شریفہ'' ما غرک بربک الکریم' ' (اے انسان تجھے خدائے کریم کے بارے میں کس شے نے دھوکہ میں ڈال دیا ہے ؟)کے ذیل میں ارشاد فرمایا ہے :) ۴۵۱

(۲۲۴) ۴۵۴

آپ کا ارشاد گرامی ۴۵۴

(جس میں ظلم سے برائت و بیزاری کا اظہار فرمایا گیا ہے) ۴۵۴

(۲۲۵) ۴۵۷

آپ کی دعا کا ایک حصہ ۴۵۷

(جس میں پروردگار سے ے نیازی کا مطالبہ کیا گیا ہے ) ۴۵۷

(۲۲۶) ۴۵۷

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۴۵۷

(جس میں دنیا سے نفرت دلائی گئی ہے ) ۴۵۷


(۲۲۷) ۴۵۹

آپ کی دعا کا ایک حصہ ۴۵۹

(جس میں نیک راستہ کی ہدایت کا مطالبہ کیاگیا ہے) ۴۵۹

(۲۲۸) ۴۶۰

آپ کا ارشاد گرامی ۴۶۰

(جس میں اپنے بعض اصحاب کا تذکرہ فرمایاہے ) ۴۶۰

(۲۲۹) ۴۶۱

آپ کا ارشاد گرامی ۴۶۱

(اپنی بعیت خلافت کے بارے میں ) ۴۶۱

(۲۳۰) ۴۶۱

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۴۶۱

(۲۳۱) ۴۶۴

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۴۶۴

(جسے بصرہ جاتے ہوئے مقام ذی قار میں ارشاد فرمایا اوراسے واقدی نے کتاب الجمل میں نقل کیا ہے ) ۴۶۴

(۲۳۲) ۴۶۵

آپ کا ارشاد گرامی ۴۶۵

(جس کا مخاطب عبداللہ بن زکعہ کو قرادیا تھا جو کہ آپ کے اصحاب میں شمار ہوتا تھا اور اس نے آپ سے مال کا مطالبہ کرلیا تھا) ۴۶۵

(۲۳۳) ۴۶۵

آپ کا ارشاد گرامی ۴۶۵

فضائل اہلبیت ع اورزمانے کے فسادات کے بارے میں ۴۶۵


(۲۳۴) ۴۶۶

آپ کا ارشاد گرامی ۴۶۶

( غلب یمانی احمد بن قتیبہ سے۔انہوں نے عبداللہ بن یزید سے اور انہوں نے مالک بن وحیہ کلبی سے نقل کیا ہے کہ امیر المومنین کے سامنے لوگوں کے اختلاف ا مزاج کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا) ۴۶۶

(۲۳۵) ۴۶۷

آپ کا ارشاد گرامی ۴۶۷

(جسے رسول اکرم (ص) کے جنازہ کو غسل و کفن دیتے وقت ارشاد فرمایا تھا ) ۴۶۷

(۲۳۶) ۴۶۸

آپ کا ارشاد گرامی ۴۶۸

( جس میں رسول اکرم (ص)کی ہجرت کے بعدآپ سے ملحق ہنے تک کے حالات کا ذکر کیا گیا ہے ) ۴۶۸

(۲۳۷) ۴۶۸

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۴۶۸

(عمل میں تیز رفتاری کی دعوت دیتے ہوئے ) ۴۶۸

(۲۳۸) ۴۶۹

آپ کا ارشاد گرامی ۴۶۹

(حکمین کے حالات اوراہل شام کی مذمت کے بارے میں ) ۴۶۹

(۲۳۹) ۴۷۱

آپ کے خطبہ کا ایک حصہ ۴۷۱

(جس میں آل محمد علیہ السلام کا ذکر کیا گیا ہے) ۴۷۱


(۲۴۰) ۴۷۱

آپ کا ارشاد گرامی ۴۷۱

(جواس وقت فرمایا جب محاصرہ کے زمانے میں عبداللہ بن عباس عثمان کاخط لے کر آئے جس ۴۷۱

میں یہ مطالبہ کیا گیا تھاکہ آپ اپنے املاک کی طرف مقام منبع(۱) میں چلے جائیں تاکہ لوگوں میں خلافت کے لئے آپ کے نام کی آواز کم ہو جائے اور ایسا ہی مطالبہ پہلے بھی ہوچکا ہے ) ۴۷۲

(۲۴۱) ۴۷۲

آپ کا ارشاد گرامی ۴۷۲

(جس میں اپنے اصحاب کو جہاد پر آمادہ کیا ہے ) ۴۷۲

مکاتیب و رسائل ۴۷۴

(۱) ۴۷۴

مکتوب ۴۷۴

(اہل کوفہ کے نام ۔مدینہ سے بصرہ روانگی کے وقت ۴۷۴

(۲) ۴۷۵

مکتوب ۴۷۵

(جسےاہل کوفہ کےنام بصرہ کی فتح کےبعدلکھا گیاہے) ۴۷۵

(۳) ۴۷۶

مکتوب ۴۷۶

(اپنے قاضی شریح کے نام(۱) ۴۷۶

(۴) ۴۷۸

مکتوب ۴۷۸

(بعض امر اء لشکر کے نام(۱) ۴۷۸


(۵) ۴۷۹

مکتوب ۴۷۹

(آذر بائیجان کے عامل اشعث بن قیس کے نام) ۴۷۹

(۶) ۴۷۹

مکتوب ۴۷۹

(معاویہ کے نام) ۴۷۹

(۷) ۴۸۰

مکتوب ۴۸۰

(معاویہ ہی کے نام ) ۴۸۰

(۸) ۴۸۱

مکتوب ۴۸۱

(جریر بن عبداللہ بجلی کے نام جب انہیں معاویہ کی فہمائش کے لئے روانہ فرمایا) ۴۸۱

(۹) ۴۸۲

مکتوب ۴۸۲

(معاویہ کے نام ) ۴۸۲

(۱۰) ۴۸۴

مکتوب ۴۸۴

(معاویہ ہی کے نام ) ۴۸۴

(۱۱) ۴۸۶

آپ کی نصیحت ۴۸۶

(جو اپنےلشکرکودشمن کی طرف روانہ کرتےہوئےفرمائی ہے ) ۴۸۶


(۱۲) ۴۸۷

آپ کی نصیحت ۴۸۷

(جو معقل بن قیس ریاحی کواس وقت فرمائی ہے جب انہیں تین ہزار کا لشکر دے کرشام کی طرف روانہ فرمایا ہے ) ۴۸۷

(۱۳) ۴۸۸

آپ کامکتوب شریف ۴۸۸

(اپنے سرداران لشکر میں ایک سردار کے نام) ۴۸۸

(۱۴) ۴۸۸

آپ کی نصیحت ۴۸۸

(اپنے لشکر کے نام صفین کی جنگ کے آغاز سے پہلے ) ۴۸۸

(۱۵) ۴۸۹

آپ کی دعا ۴۸۹

(جسے دشمن کے مقابلہ کے وقت دہرایا کرتے تھے) ۴۸۹

(۱۶) ۴۸۹

آپ کا ارشاد گرامی ۴۸۹

(جو جنگ کے وقت اپنے اصحاب سے فرمایا کرتے تھے ) ۴۸۹

(۱۷) ۴۹۰

آپ کامکتوب گرامی ۴۹۰

(معاویہ کے نام۔اس کے ایک خط کے جواب میں ) ۴۹۰

(۱۸) ۴۹۲

حضرت کا مکتوب گرامی ۴۹۲

(بصرہ کے عامل عبداللہ بن عباس کے نام) ۴۹۲


(۱۹) ۴۹۳

آپ کامکتوب گرامی ۴۹۳

(اپنے بعض عمال کے نام ) ۴۹۳

(۲۰) ۴۹۳

آپ کا مکتوب گرامی ۴۹۳

(زیاد بن ابیہ کے نام جوبصرہ کے عامل عبداللہ بن عباس کا نائب(۲) ہوگیا تھا اور ابن عباس بصرہ اور اہواز کے تمام اطراف کے عامل تھے ) ۴۹۳

(۲۱) ۴۹۴

آپ کامکتوب گرامی ۴۹۴

(زیاد ہی کے نام) ۴۹۴

(اسراف کوچھوڑ کرمیانہ روی اختیار کرو اورآج کے دن کل کویاد رکھو۔بقدر ضرورت مال روک کر باقی روز حاجت کے لئے آگے بڑھا دو۔) ۴۹۴

(۲۲) ۴۹۴

آپ کا مکتوب گرامی ۴۹۴

(عبداللہ بن عباس کے نام۔جس کے بارے میں خود ابن عباس کا مقولہ تھا کہمیں نے رسول اکرم ۴۹۴

کے بعد کسی کلام سے اس قدر استفادہ نہیں کیا ہے جس قدراس کلام سے کیا ہے ) ۴۹۵

(۲۳) ۴۹۵

آپ کا ارشاد گرامی ۴۹۵

(جسے اپنی شہادت سے پہلے بطور وصیت فرمایا ہے) ۴۹۵

(۲۴) ۴۹۶

آپ کی وصیت ۴۹۶

(اپنے اموال کے بارےمیں جسے جنگ صفین کی واپسی پر تحریر فرمایا ہے) ۴۹۶


(۲۵) ۴۹۸

آپ کی وصیت ۴۹۸

(جسے ہر اس شخص کو لکھ کردیتے تھے جسے صدقات کاعامل قراردیتے تھے ) ۴۹۸

(۲۶) ۵۰۱

آپ کا عہد نامہ ۵۰۱

(بعض عمال کے لئے جنہیں صدقات کی جمع آوری کے لئے روانہ فرمایا تھا ) ۵۰۱

(۲۷) ۵۰۳

آپ کا عہد نامہ ۵۰۳

(محمد بن ابی بکرکے نام ۔جب انہیں مصر کا حاکم بنایا گیا ) ۵۰۳

(۲۸) ۵۰۶

آپ کا مکتوب گرامی ۵۰۶

(معاویہ کے خط کے جواب میں جو بقول سید رضی آپ کا بہترین خط) ۵۰۶

(۲۹) ۵۱۱

آپ کا مکتوب گرامی ۵۱۱

(اہل بصرہ کے نام) ۵۱۱

(۳۰) ۵۱۲

آپ کا مکتوب گرامی ۵۱۲

(معاویہ کے نام ) ۵۱۲

(۳۱) ۵۱۳

آپ کا وصیت نامہ ۵۱۳

( جسے امام حسن کے نام صفین سے واپسی پر مقام حاضرین میں تحریر فرمایا ہے ) ۵۱۳


(۳۲) ۵۳۳

(۳۲) ۵۳۳

آپ کا مکتوب گرامی ۵۳۳

(معاویہ کے نام ) ۵۳۳

(۳۳) ۵۳۴

آپ کامکتوب گرامی ۵۳۴

(مکہ کے عامل قثم(۲) بن عباس کے نام) ۵۳۴

(۳۴) ۵۳۵

آپ کامکتوب گرامی ۵۳۵

(محمدبن ابی بکرکے نام جب یہ اطلاع ملی کہ وہ اپنی معزولی اورمالک اشترکےتقریر سے رنجیدہ ہیں اور پھرمالک اشتر مصر پہنچنے سےپہلےانتقال بھی کرگئے ) ۵۳۵

(۳۵) ۵۳۶

آپ کامکتوب گرامی ۵۳۶

(عبداللہ بن عباس کے نام۔محمد بن ابی بکر کی شہادت کے بعد ) ۵۳۶

(۳۶) ۵۳۷

آپ کامکتوب گرامی ۵۳۷

(اپنے بھائی عقیل کے نام جس میں اپنے بعض لشکروں کا ذکر فرمایا ہے اور یہ درحقیقت عقیل کے مکتوب کا جواب دے ) ۵۳۷

(۳۷) ۵۳۹

آپ کا مکتوب گرامی ۵۳۹

(معاویہ کے نام) ۵۳۹


(۳۸) ۵۴۰

آپ کامکتوب گرامی ۵۴۰

(مالک اشتر کی ولایت کےموقع پر اہل مصرکے نام ) ۵۴۰

(۳۹) ۵۴۱

آپ کامکتوب گرامی ۵۴۱

(عمروبن العاص کے نام) ۵۴۱

(۴۱) ۵۴۲

(۴۰) ۵۴۲

آپ کامکتوب گرامی ۵۴۲

(بعض عمال کے نام) ۵۴۲

(۴۱) ۵۴۲

آپ کامکتوب گرامی ۵۴۲

(بعض عمال کے نام) ۵۴۲

(۴۲) ۵۴۵

آپ کا مکتوب گرامی ۵۴۵

(بحرین کے عامل عمر بن ابی سلمہ مخزومی کے نام جنہیں معزول کرکے نعمان بن عجلان الرزقی کومعین کیا تھا) ۵۴۵

(۴۳) ۵۴۶

آپ کامکتوب گرامی ۵۴۶

(مصقلہ(۱) ہبیرہ الشیبانی کے نام جوارد شیر خرہ میں آپ کے عامل تھے ) ۵۴۶


(۴۴) ۵۴۷

آپ کامکتوب گرامی ۵۴۷

(زیاد بن ابیہ کے نام جب آپ کو خبر ملی کہ معاویہ اسے اپنے نسب میں شامل کرکے دھوکہ دینا چاہتا ہے ) ۵۴۷

(۴۵) ۵۴۸

آپ کا مکتوب گرامی ۵۴۸

(اپنے بصرہ کے عامل عثمان ۱بن حنیف کے نام جب آپ کو اطلاع ملی کہ وہ ایک بڑیدعوت میں شریک ہوئے ہیں ) ۵۴۸

(اس خطبہ کا آخری حصہ ) ۵۵۲

(۴۶) ۵۵۵

آپ کا مکتوب گرامی ۵۵۵

(بعض عمال کے نام ) ۵۵۵

(۴۷) ۵۵۵

آپ کی وصیت ۵۵۵

(امام حسن اور امام حسین سے۔ابن ملجم کی تلوار سے زخمی ہونے کے بعد ) ۵۵۵

(۴۸) ۵۵۸

(۴۸) ۵۵۸

آپ کامکتوب گرامی ۵۵۸

(معاویہ کے نام ) ۵۵۸

(۴۹) ۵۵۸

آپ کا مکتوب گرامی ۵۵۸

(معاویہ ہی کے نام) ۵۵۸


(۵۰) ۵۵۹

آپ کامکتوب گرامی ۵۵۹

(روساء لشکر کے نام) ۵۵۹

(۵۱) ۵۶۰

آپ کامکتوب گرامی ۵۶۰

(خراج وصول کرنے والوں کے نام ) ۵۶۰

(۵۲) ۵۶۱

آپ کامکتوب گرامی ۵۶۱

(امراء بلاد کے نام۔نماز کے بارے میں ) ۵۶۱

(۵۳) ۵۶۲

آپ کامکتوب گرامی ۵۶۲

(جسے مالک بن اشتر نخعی کے نام تحریر فرمایا ہے۔اس وقت جب انہیں محمد بن ابی بکرکے حالات کے خراب ہو جانے کے بعد مصر اور اس کے اطراف کاعامل مقرر فرمایا ۔اور یہ عہد نامہ حضرت ک تمام سرکاری خطوط سب سے زیادہ مفصل اورمحاسن کلام کا جامع ہے ) ۵۶۲

(مشاورت) ۵۶۷

(وزارت) ۵۶۸

(مصاحبت) ۵۶۸

علاقات عامہ : ۵۷۲

دفاع: ۵۷۲

قضاوت: ۵۷۴

عمال: ۵۷۵

خراج: ۵۷۶


کاتب: ۵۷۸

(۵۴) ۵۹۱

آپ کا مکتوب گرامی ۵۹۱

(طلحہ و زبیر کے نام جسے عمران بن الحصین الخزاعی کے ذریعہ بھیجا تھا اور جس کا ذکر ابو جعفر اسکافی ۱نے کتاب المقامات میں کیا ہے ) ۵۹۱

(۵۵) ۵۹۳

آپ کامکتوب گرامی ۵۹۳

(معاویہ کے نام) ۵۹۳

(۵۶) ۵۹۴

آپ کی وصیت ۵۹۴

(جو شریح ۱بن ہانی کو اس وقت فرمائی جب انہیں شام جانے والے ہر اول دستہ کا سردار مقرر فرمایا) ۵۹۴

(۵۷) ۵۹۴

آپ کا مکتوب گرامی ۵۹۴

(اہل کوفہ کےنام۔مدینہ سے بصرہ روانہ ہوتے وقت) ۵۹۴

(۵۸) ۵۹۵

آپ کامکتوب گرامی ۵۹۵

(تمام شہروں کے نام۔جس میں صفین کی حقیقت کااظہار کیا گیا ہے ) ۵۹۵

(۵۹) ۵۹۷

(۵۹) ۵۹۷

آپ کامکتوب گرامی ۵۹۷

(اسود بن قطبہ والی حلوان کے نام) ۵۹۷


(۶۰) ۵۹۷

آپ کا مکتوب گرامی ۵۹۷

(ان اعمال کے نام جن کا علقہ فوج کے راستہ میں پڑتا تھا) ۵۹۷

(۶۱) ۵۹۹

آپ کامکتوب گرامی ۵۹۹

(کمیل بن زیاد۱النخعی کے نام جو بیت المال کے عامل تھے اورانہوں نے فوج دشمن کو لوٹ مارسے منع نہیں کیا ) ۵۹۹

(۶۲) ۶۰۰

آپ کامکتوب گرامی ۶۰۰

(اہل مصرکے نام۔مالک اشترکے ذریعہ جب ان کو والی مصر بناکر روانہ کیا) ۶۰۰

(۶۳) ۶۰۲

آپ کا مکتوب گرامی ۶۰۲

(کوفہ کے عامل ابو موسیٰ اشعری کے نام۔جب یہ خبر ملی کہ آپ لوگوں کوجنگ جمل کی دعوت دے رہے ہیں اور وہ روک رہا ہے ) ۶۰۲

(۶۴) ۶۰۳

آپ کا مکتوب گرامی ۶۰۳

(معاویہ کے جواب میں ) ۶۰۳

(۶۵) ۶۰۶

آپ کامکتوب گرامی ۶۰۶

(معاویہ ہی کے نام) ۶۰۶

(۶۷) ۶۰۷

آپ کامکتوب گرامی ۶۰۷

(عبداللہ بن عباس کے نام۔جس کاتذکرہ پہلے بھی دوسرے الفاظ میں ہو چکا ہے ) ۶۰۷


(۶۷) ۶۰۸

آپ کامکتوب گرامی ۶۰۸

(مکہ کے عامل قثم بن العباس کے نام) ۶۰۸

(۶۸) ۶۰۹

آپ کامکتوب گرامی ۶۰۹

(جناب سلمان فارسی کے نام۔اپنے دور خلافت سے پہلے) ۶۰۹

(۶۹) ۶۱۰

آپ کا مکتوب گرامی ۶۱۰

(حارث ہمدانی کے نام ) ۶۱۰

(۷۰) ۶۱۲

آپ کامکتوب گرامی ۶۱۲

(عامل مدینہ سہل بن حنیف انصاری کے نام جب آپ کو خبر ملی کہ ایک قوم معاویہ سے جا ملی ہے) ۶۱۲

(۷۱) ۶۱۳

آپ کامکتوب گرامی ۶۱۳

(منذر بن جارود عبدی کے نام۔ جس نے بعض اعمال میں خیانت سے کام لیا تھا) ۶۱۳

(۷۲) ۶۱۴

آپ کامکتوب گرامی ۶۱۴

(عبداللہ بن عباس کے نام ) ۶۱۴

(۷۳) ۶۱۵

آپ کامکتوب گرامی ۶۱۵

(معاویہ کے نام ) ۶۱۵


(۷۴) ۶۱۶

آپ کا معاہدہ ۶۱۶

(جسے ربیعہ اوراہل یمن کے درمیان تحریر فرمایا ہے اور یہ ہشام کی تحریر سے نقل کیا گیا ہے ) ۶۱۶

(۷۵) ۶۱۷

آپ کامکتوب گرامی ۶۱۷

(معاویہ کے نام ۔اپنی بیعت کے ابتدائی دورمیں جس کا ذکر و اقدی نے کتاب الجمل میں کیا ہے ) ۶۱۷

(۷۶) ۶۱۷

آپ کی وصیت ۶۱۷

(عبداللہ بن عباس کے لئے ۔جب انہیں بصرہ کا والی قرار دیا) ۶۱۷

(۷۷) ۶۱۸

آپ کی وصیت ۶۱۸

(عبداللہ بن عباس کے نام۔جب انہیں خوارج کے مقابلہ میں اتمام حجت کے لئے ارسال فرمایا) ۶۱۸

(۷۸) ۶۱۸

آپ کامکتوب گرامی ۶۱۸

(ابو موسیٰ اشعری کے نام۔حکمین کے سلسلہ میں اس کے ایک خط کے جواب میں جس کا تذکرہ سعید بن یحییٰ نے ''مغاری'' میں کیا ہے ) ۶۱۸

(۷۹) ۶۱۹

آپ کامکتوب گرامی ۶۱۹

(خلاف کے بعد۔روساء لشکر کے نام) ۶۱۹


بسمہ سبحانہ ۶۲۰

امیر المومنین کے منتخب حکیمانہ کلمات ۶۲۰

(اور اس باب میں سوالات کے جوبات اوران حکیمانہ کلمات کا انتخاب بھی شامل ہے جو مختلف اغراض کے تحت بیان کئے گئے ہیں ) ۶۲۰

(۱) ۶۲۰

(۲) ۶۲۱

(۳) ۶۲۱

(۴) ۶۲۱

(۵) ۶۲۲

(۶) ۶۲۲

(۷) ۶۲۳

(۸) ۶۲۳

(۹) ۶۲۳

(۱۰) ۶۲۳

(۱۱) ۶۲۴

(۱۲) ۶۲۴

(۱۳) ۶۲۴

(۱۴) ۶۲۴

(۱۵) ۶۲۵

(۱۶) ۶۲۵

(۱۷) ۶۲۵

(۱۸) ۶۲۵


(۱۹) ۶۲۶

(۲۰) ۶۲۶

(۲۱) ۶۲۶

(۲۲) ۶۲۶

(۲۳) ۶۲۷

(۲۴) ۶۲۷

(۲۵) ۶۲۷

(۲۶) ۶۲۸

(۲۷) ۶۲۸

(۲۸) ۶۲۸

(۲۹) ۶۲۸

(۳۰) ۶۲۸

(۳۱) ۶۲۹

(۳۲) ۶۳۲

(۳۳) ۶۳۲

(۳۴) ۶۳۲

(۳۵) ۶۳۲

(۳۶) ۶۳۳

(۳۷) ۶۳۳

(۳۸) ۶۳۴

(۳۹) ۶۳۴


(۴۰) ۶۳۵

(۴۱) ۶۳۵

(۴۲) ۶۳۶

(۴۳) ۶۳۶

(۴۴) ۶۳۷

(۴۵) ۶۳۷

(۴۶) ۶۳۷

(۴۷) ۶۳۸

(۴۸) ۶۳۸

(۴۹) ۶۳۸

(۵۰) ۶۳۸

(۵۱) ۶۳۹

(۵۲) ۶۳۹

(۵۳) ۶۳۹

(۵۴) ۶۳۹

(۵۵) ۶۳۹

(۵۶) ۶۴۰

(۵۷) ۶۴۰

(۵۸) ۶۴۰

(۵۹) ۶۴۰

(۶۰) ۶۴۰


(۶۱) ۶۴۱

(۶۲) ۶۴۱

(۶۳) ۶۴۱

(۶۴) ۶۴۱

(۶۵) ۶۴۱

(۶۶) ۶۴۱

(۶۷) ۶۴۲

(۶۸) ۶۴۲

(۶۹) ۶۴۲

(۷۰) ۶۴۲

(۷۱) ۶۴۲

(۷۲) ۶۴۳

(۷۳) ۶۴۳

(۷۴) ۶۴۳

(۷۵) ۶۴۳

(۷۶) ۶۴۳

(۷۷) ۶۴۴

(۷۸) ۶۴۵

(۷۹) ۶۴۶

(۸۰) ۶۴۶

(۸۱) ۶۴۶


(۸۲) ۶۴۷

(۸۳) ۶۴۷

(۸۴) ۶۴۸

(۸۵) ۶۴۸

(۸۶) ۶۴۸

(۸۷) ۶۴۸

(۸۸) ۶۴۹

(۸۹) ۶۴۹

(۹۰) ۶۵۰

(۹۱) ۶۵۰

(۹۲) ۶۵۰

(۹۳) ۶۵۰

(۹۴) ۶۵۱

(۹۵) ۶۵۱

(۹۶) ۶۵۲

(۹۷) ۶۵۲

(۹۸) ۶۵۳

(۹۹) ۶۵۳

(۱۰۰) ۶۵۳

(۱۰۱) ۶۵۴

(۱۰۲) ۶۵۴


(۱۰۳) ۶۵۴

(۱۰۴) ۶۵۵

(۱۰۵) ۶۵۶

(۱۰۶) ۶۵۶

(۱۰۷) ۶۵۷

(۱۰۸) ۶۵۷

(۱۰۹) ۶۵۸

(۱۱۰) ۶۵۸

(۱۱۱) ۶۵۸

(۱۱۲) ۶۵۹

(۱۱۳) ۶۵۹

(۱۱۴) ۶۶۰

(۱۱۵) ۶۶۰

(۱۱۶) ۶۶۰

(۱۱۷) ۶۶۰

(۱۱۸) ۶۶۱

(۱۱۹) ۶۶۱

(۱۲۰) ۶۶۱

(۱۲۱) ۶۶۲

(۱۲۲) ۶۶۲

(۱۲۳) ۶۶۳


(۱۲۴) ۶۶۳

(۱۲۵) ۶۶۳

(۱۲۶) ۶۶۴

(۱۲۷) ۶۶۴

(۱۲۸) ۶۶۵

(۱۲۹) ۶۶۵

(۱۳۰) ۶۶۵

(۱۳۱) ۶۶۶

(۱۳۲) ۶۶۸

(۱۳۳) ۶۶۸

(۱۳۴) ۶۶۸

(۱۳۵) ۶۶۹

(۱۳۶) ۶۶۹

(۱۳۷) ۶۷۰

(۱۳۸) ۶۷۰

(۱۳۹) ۶۷۰

(۱۴۰) ۶۷۰

(۱۴۱) ۶۷۰

(۱۴۲) ۶۷۱

(۱۴۳) ۶۷۱

(۱۴۴) ۶۷۱


(۱۴۵) ۶۷۱

(۱۴۶) ۶۷۱

(۱۴۷) ۶۷۲

(۱۴۸) ۶۷۴

(۱۴۹) ۶۷۴

(۱۵۰) ۶۷۴

(۱۵۱) ۶۷۷

(۱۵۲) ۶۷۷

(۱۵۳) ۶۷۷

(۱۵۴) ۶۷۸

(۱۵۵) ۶۷۸

(۱۵۶) ۶۷۸

(۱۵۷) ۶۷۸

(۱۵۸) ۶۷۸

(۱۵۹) ۶۷۹

(۱۶۰) ۶۷۹

(۱۶۱) ۶۷۹

(۱۶۲) ۶۷۹

(۱۶۳) ۶۷۹

(۱۶۴) ۶۷۹

(۱۶۵) ۶۸۰


(۱۶۶) ۶۸۰

(۱۶۷) ۶۸۰

(۱۶۸) ۶۸۰

(۱۶۹) ۶۸۰

(۱۷۰) ۶۸۱

(۱۷۱) ۶۸۱

(۱۷۲) ۶۸۱

(۱۷۳) ۶۸۱

(۱۷۴) ۶۸۱

(۱۷۵) ۶۸۲

(۱۷۶) ۶۸۲

(۱۷۷) ۶۸۲

(۱۷۸) ۶۸۲

(۱۷۹) ۶۸۲

(۱۸۰) ۶۸۳

(۱۸۱) ۶۸۳

(۱۸۲) ۶۸۳

(۱۸۳) ۶۸۳

(۱۸۴) ۶۸۳

(۱۸۵) ۶۸۴

(۱۸۶) ۶۸۴


(۱۸۷) ۶۸۴

(۱۸۸) ۶۸۴

(۱۸۹) ۶۸۴

(۱۹۰) ۶۸۴

(۱۹۱) ۶۸۵

(۱۹۲) ۶۸۶

(۱۹۳) ۶۸۶

(۱۹۴) ۶۸۶

(۱۹۵) ۶۸۷

(۱۹۶) ۶۸۷

(۱۹۷) ۶۸۷

(۱۹۸) ۶۸۷

(۱۹۹) ۶۸۷

(۲۰۰) ۶۸۸

(۲۰۱) ۶۸۹

(۲۰۲) ۶۸۹

(۲۰۳) ۶۸۹

(۲۰۴) ۶۸۹

(۲۰۵) ۶۹۰

(۲۰۶) ۶۹۰

(۲۰۷) ۶۹۰


(۲۰۸) ۶۹۰

(۲۰۹) ۶۹۱

(۲۱۰) ۶۹۱

(۲۱۱) ۶۹۲

(۲۱۲) ۶۹۲

(۲۱۳) ۶۹۲

(۲۱۴) ۶۹۳

(۲۱۵) ۶۹۳

(۲۱۶) ۶۹۳

(۲۱۷) ۶۹۳

(۲۱۸) ۶۹۳

(۲۱۹) ۶۹۴

(۲۲۰) ۶۹۴

(۲۲۱) ۶۹۴

(۲۲۲) ۶۹۴

(۲۲۳) ۶۹۴

(۲۲۴) ۶۹۴

(۲۲۵) ۶۹۵

(۲۲۶) ۶۹۵

(۲۲۷) ۶۹۵

(۲۲۸) ۶۹۶


(۲۲۹) ۶۹۶

(۲۳۰) ۶۹۶

(۲۳۱) ۶۹۷

(۲۳۲) ۶۹۷

(۲۳۳) ۶۹۸

(۲۳۴) ۶۹۸

(۲۳۵) ۶۹۸

(۲۳۶) ۶۹۹

(۲۳۷) ۶۹۹

(۲۳۸) ۶۹۹

(۲۳۹) ۷۰۰

(۲۴۰) ۷۰۰

(۲۴۱) ۷۰۰

(۲۴۲) ۷۰۰

(۲۴۳) ۷۰۰

(۲۴۴) ۷۰۱

(۲۴۵) ۷۰۱

(۲۴۶) ۷۰۱

(۲۴۷) ۷۰۱

(۲۴۸) ۷۰۱

(۲۴۹) ۷۰۲


(۲۵۰) ۷۰۲

(۲۵۱) ۷۰۲

(۲۵۲) ۷۰۲

(۲۵۳) ۷۰۳

(۲۵۴) ۷۰۴

(۲۵۵) ۷۰۴

(۲۵۶) ۷۰۴

(۲۵۷) ۷۰۴

(۲۵۸) ۷۰۵

(۲۵۹) ۷۰۵

(۲۶۰) ۷۰۶

فصل ۷۰۷

اس فصل میں حضرت کے ان کلمات کو نقل کیا گیا ہے جو محتاج تفسیر تھے اور پھر ان کی تفسیر و توضیح بھی نقل کیا گیا ہے۔ ۷۰۷

(۱) ۷۰۷

(۲) ۷۰۷

(۳) ۷۰۷

(۴) ۷۰۸

(۵) ۷۰۹

(۶) ۷۱۰

(۷) ۷۱۰

(۸) ۷۱۱


(۹) ۷۱۱

(۲۶۱) ۷۱۲

(۲۶۲) ۷۱۳

(۲۶۳) ۷۱۴

(۲۶۴) ۷۱۴

(۲۶۵) ۷۱۴

(۲۶۶) ۷۱۴

(۲۶۷) ۷۱۵

(۲۶۸) ۷۱۵

(۲۶۹) ۷۱۶

(۲۷۰) ۷۱۶

(۲۷۱) ۷۱۷

(۲۷۲) ۷۱۸

(۲۷۳) ۷۱۸

(۲۷۴) ۷۱۹

(۲۷۵) ۷۲۰

(۲۷۶) ۷۲۰

(۲۷۷) ۷۲۱

(۲۷۸) ۷۲۱

(۲۷۹) ۷۲۱

(۲۸۰) ۷۲۱


(۲۸۱) ۷۲۱

(۲۸۲) ۷۲۲

(۲۸۳) ۷۲۲

(۲۸۴) ۷۲۲

(۲۸۵) ۷۲۲

(۲۸۶) ۷۲۲

(۲۸۷) ۷۲۳

(۲۸۸) ۷۲۳

(۲۸۹) ۷۲۳

(۲۹۰) ۷۲۴

(۲۹۱) ۷۲۴

(۲۹۲) ۷۲۵

(۲۹۳) ۷۲۵

(۲۹۴) ۷۲۶

(۲۹۵) ۷۲۶

(۲۹۶) ۷۲۶

(۲۹۷) ۷۲۶

(۲۹۸) ۷۲۷

(۲۹۹) ۷۲۷

(۳۰۰) ۷۲۷

(۳۰۱) ۷۲۷


(۳۰۲) ۷۲۸

(۳۰۳) ۷۲۸

(۳۰۴) ۷۲۸

(۳۰۵) ۷۲۸

(۳۰۶) ۷۲۹

(۳۰۷) ۷۲۹

(۳۰۸) ۷۲۹

(۳۰۹) ۷۲۹

(۳۱۰) ۷۳۰

(۳۱۱) ۷۳۰

(۳۱۲) ۷۳۰

(۳۱۳) ۷۳۱

(۳۱۴) ۷۳۱

(۳۱۵) ۷۳۱

(۳۱۶) ۷۳۱

(۳۱۷) ۷۳۲

(۳۱۸) ۷۳۲

(۳۱۹) ۷۳۳

(۳۲۰) ۷۳۳

(۳۲۱) ۷۳۳

(۳۲۲) ۷۳۳


(۳۲۳) ۷۳۴

(۳۲۴) ۷۳۵

(۳۲۵) ۷۳۵

(۳۲۶) ۷۳۵

(۳۲۷) ۷۳۵

(۳۲۸) ۷۳۶

(۳۲۹) ۷۳۶

(۳۳۰) ۷۳۶

(۳۳۱) ۷۳۶

(۳۳۲) ۷۳۷

(۳۳۳) ۷۳۷

(۳۳۴) ۷۳۷

(۳۳۵) ۷۳۸

(۳۳۶) ۷۳۸

(۳۳۷) ۷۳۸

(۳۳۸) ۷۳۸

(۳۳۹) ۷۳۹

(۳۴۰) ۷۳۹

(۳۴۱) ۷۳۹

(۳۴۲) ۷۳۹

(۳۴۳) ۷۴۰


(۳۴۴) ۷۴۰

(۳۴۵) ۷۴۱

(۳۴۶) ۷۴۱

(۳۴۷) ۷۴۱

(۳۴۸) ۷۴۱

(۳۴۹) ۷۴۱

(۳۵۰) ۷۴۲

(۳۵۱) ۷۴۳

(۳۵۲) ۷۴۳

(۳۵۳) ۷۴۳

(۳۵۴) ۷۴۴

(۳۵۵) ۷۴۴

(۳۵۶) ۷۴۴

(۳۵۷) ۷۴۴

(۳۵۸) ۷۴۵

(۳۵۹) ۷۴۵

(۳۶۰) ۷۴۶

(۳۶۱) ۷۴۶

(۳۶۲) ۷۴۶

(۳۶۳) ۷۴۶

(۳۶۴) ۷۴۷


(۳۶۵) ۷۴۷

(۳۶۶) ۷۴۷

(۳۶۷) ۷۴۸

(۳۶۸) ۷۴۹

(۳۶۹) ۷۴۹

(۳۷۰) ۷۵۰

(۳۷۱) ۷۵۰

(۳۷۲) ۷۵۱

(۳۷۳) ۷۵۱

(۳۷۴) ۷۵۲

(۳۷۵) ۷۵۳

(۳۷۶) ۷۵۳

(۳۷۷) ۷۵۴

(۳۷۸) ۷۵۴

(۳۷۰) ۷۵۴

(۳۸۰) ۷۵۵

(۳۸۱) ۷۵۵

(۳۸۲) ۷۵۶

(۳۸۳) ۷۵۶

(۳۸۴) ۷۵۶

(۳۸۵) ۷۵۶


(۳۸۶) ۷۵۷

(۳۸۷) ۷۵۷

(۳۸۸) ۷۵۷

(۳۸۹) ۷۵۸

(۳۹۰) ۷۵۸

(۳۹۱) ۷۵۸

(۳۹۲) ۷۵۸

(۳۹۳) ۷۵۹

(۳۹۴) ۷۵۹

(۳۹۵) ۷۵۹

(۳۹۶) ۷۵۹

(۳۹۷) ۷۶۰

(۳۹۸) ۷۶۰

(۳۹۹) ۷۶۰

(۴۰۰) ۷۶۱

(۴۰۱) ۷۶۱

(۴۰۲) ۷۶۱

(۴۰۳) ۷۶۲

(۴۰۴) ۷۶۲

(۴۰۵) ۷۶۲

(۴۰۶) ۷۶۳


(۴۰۷) ۷۶۳

(۴۰۸) ۷۶۳

(۴۰۹) ۷۶۳

(۴۱۰) ۷۶۴

(۴۱۱) ۷۶۴

(۴۱۲) ۷۶۴

(۴۱۳) ۷۶۴

(۴۱۴) ۷۶۴

(۴۱۵) ۷۶۴

(۴۱۶) ۷۶۵

(۴۱۷) ۷۶۶

(۴۱۸) ۷۶۷

(۴۱۹) ۷۶۷

(۴۲۰) ۷۶۷

(۴۲۱) ۷۶۸

(۴۲۲) ۷۶۸

(۴۲۳) ۷۶۸

(۴۲۴) ۷۶۹

(۴۲۵) ۷۶۹

(۴۲۶) ۷۶۹

(۴۲۷) ۷۷۰


(۴۲۸) ۷۷۰

(۴۲۹) ۷۷۰

(۴۳۰) ۷۷۰

(۴۳۱) ۷۷۱

(۴۳۲) ۷۷۱

(۴۳۳) ۷۷۲

(۴۳۴) ۷۷۲

(۴۳۵) ۷۷۳

(۴۳۶) ۷۷۳

(۴۳۷) ۷۷۳

(۴۳۸) ۷۷۴

(۴۳۹) ۷۷۴

(۴۴۰) ۷۷۴

(۴۴۱) ۷۷۵

(۴۴۲) ۷۷۵

(۴۴۳) ۷۷۵

(۴۴۴) ۷۷۵

(۴۴۵) ۷۷۵

(۴۴۶) ۷۷۶

(۴۴۷) ۷۷۶

(۴۴۸) ۷۷۶


(۴۴۹) ۷۷۶

(۴۵۰) ۷۷۷

(۴۵۱) ۷۷۷

(۴۵۲) ۷۷۷

(۴۵۳) ۷۷۷

(۴۵۴) ۷۷۸

(۴۵۵) ۷۷۸

(۴۵۶) ۷۷۸

(۴۵۷) ۷۷۹

(۴۵۸) ۷۷۹

(۴۵۹) ۷۷۹

(۴۶۰) ۷۷۹

(۴۶۱) ۷۸۰

(۴۶۲) ۷۸۰

(۴۶۳) ۷۸۰

(۴۶۴) ۷۸۰

(۴۶۵) ۷۸۱

(۴۶۶) ۷۸۱

(۴۶۷) ۷۸۲

(۴۶۸) ۷۸۲

(۴۶۹) ۷۸۲


(۴۷۰) ۷۸۳

(۴۷۱) ۷۸۳

(۴۷۲) ۷۸۳

(۴۷۳) ۷۸۴

(۴۷۴) ۷۸۴

(۴۷۵) ۷۸۵

(۴۷۶) ۷۸۵

(۴۷۷) ۷۸۵

(۴۷۸) ۷۸۵

(۴۷۹) ۷۸۶

(۴۸۰) ۷۸۶

فہرست ۷۸۸