کتاب:شاہکار رسالت

مولف : آیت اللہ مرتضی مطہری

مترجم / مصحح : عابد عسکری

ناشر : ادارہ منہاج الصالحین

نشر کی جگہ : لاہور (پاکستان)

نشر کا سال : ۲۰۰۰

جلدوں کی تعداد : ۱

صفحات : ۱۰۰

سائز : رقعی

زبان : اردو


حرف ناشر

علمی دنیا کے جتنے بھی باسی ہیں وہ آیت اللہ شہید مرتضیٰ کے نام نامی سے ضرور واقف ہیں پھر دینی حلقوں میں جتنا شہید مطہری کی گرانقدر کتب کو پذیرائی ملی ہے شاید کس اور مصنف کی کسی کتاب کو ملی ہو۔شہید مطہری جس طرح علم و عمل، فکر و نظر، خطابت میں یگانہ روزگار تھے آپ قلمی دنیا کے اس سے بھی زیادہ تر شہوار تھے۔جب آپ کسی بحث کو شروع کرتے ہیں اس کو اس قدر اسھل اور آسان بنا دیتے ہیں کے سننے اور پڑھنے والے پر کسی قسم کی اکتاہٹ طاری نہیں ہوتی۔ علامی شہید نے اپنی زندگی میں ایک ختم نبوت کے نام سے ایک علمی رسالہ تحریر کیا تھا اس زمانے میں ہند و پاک میں ختم نبوت جیسے موضوع پر وسیع پیمانے پر بحث و تمحیص ہو رہی تھی، ختم نہ ہونے والے مناظروں، مجادلوں کا سلسلہ وسیع تر ہو تا جارہا تھا، شہید مطہری کا یہ رسالہ جو نہی شائع ہو کر منظر عام پر آیا تو اس کو ہاتھوں ہاتھ لے لیا گیا، علمی و دینی حلقوں میں اس کو بہت زیادہ پذیرائی ملی بہت سے مقررین خطباء اور قلم کاروں نے اس کتاب سے استفادہ کرکے ختم نبوت جیسے کثیر المفاہیم موضوع کو آسان تر کردیا اور یوں مسلمانوں کو ان لوگوں پر فتح نصیب ہوئی کہ جو ختم نبوت کے قائل نہ تھے۔

شہید مطہری نے منکرین کے اعتراضات کو سامنے رکھ کر تاریخ اسلام کے چیدہ چیدہ پہلوؤں پر روشنی ڈالی سب سے پہلے انہوں نے قرآن مجید کی جامعیت اور ہمہ گیریت کو بیان کرتے ہوئے آیات قرآنی کی بارش کردی اور یہ ثابت کردیا کہ قرآن مجید کامل و اکمل ہے اور تھا اور رہے گا، پھر شہید نے دلائل دیتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ دین محمد کامل ہے اور کامل تھا اور کامل رہے گا۔پھر انہوں نے ثابت کیا کہ اسلامی تعلیمات کا ہرہر اصول فطرت کے تواضوں کے عین مطابق ہے۔آپ نے اپنی گفتگو میں ختم نبوت کو روز روشن کی طرح واضح و آشکار کردیا، اس کتاب کو پڑھنے سے علم و دانش سے وابستگی رکھنے والا پوری چرح سے مظمئن ہو جاتا ہے جس طرح گرمی کے موسم میں پیاسا شخص ٹھنڈا اور سد پانی پی کر سیرابی حاصل کرتا ہے اس چرح اس کتاب کا قاری ایک خاص طرح کی علمی لذت اور دینی سکون حاصل کرتا ہے، شہید مطہری نے علماء کرام کے موجودہ دور میں دینی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانے پر زور دیتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ نیک و صالح اور متدین ترین علماء ہی پیغمبر اسلام کے علوم کے حقیقی وارث ہیں، شہید مطہری نے اجتہاد کی تعریف و توصیف اور تشریح اس انداز میں کی کہ اجتہاد بارش کے صاف و شفاف قطرات کی مانند ذہنوں میں رچ بس گیا، پھر انہوں نے بتایا کہ قرآن مجید کی بے پایاں وسعت ہر جگہ پر محیط ہے اس کی تلاوت کی جائے اس کے مفاہیم و معانی پر غور و خوض کیا جائے، اس کے لازوال برکات سے کماحقہ استفادہ کیا جائے، قرآن مجید کے مفاہیم ہر زمانہ میں تر وتازہ ہیں، اور اس کی ضدت و ندرت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قائم و دائم رہے گی۔عصر حاضر اور جدید ذہنوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم اس کتاب کو شاہکار رسالت کے نام سے موسوم کررہے ہیں، ہم نے کوشش کی ہے کہ ترجمہ کرتے وقت مصنف کے خیالات و افکار انتہائی اجلے انداز میں محترم کائین کے سامنے پیش کیا جائے۔

ہم محترم علامہ آقا عابد عسکری ریسرچ سکالر کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہماری توجہ آیت اللہ مطہری شہید کے کتب کی طرف مبذول کرائی ہے۔ علامہ عسکری صاحب شہید مطہری کے عاشقوں اور عقیدت مندوں میں سے ہیں، ان کے علاوہ نہت سے دانشمند حضرات کا ہم سے بھر پور اصرار تھا کہ شہید مطہری کی تمام کتب کا آسان وسلیس ترجمہ کرکے نئے لباس اور جدید انداز میں شائع کیا جائے۔

آخر میں ہماری تمام علماء کرام، واعظین عظام کے اور مومنین ذوالاحتشام سے گزارش ہے کہ وہ دینی و مذہبی جذبہ کے پیش نظر ادارہ ہذا کے ساتھ ہر طرح کا تعاون فرمائیں اور ہمارا یہ آپ سے وعدہ ہے کہ ہم آپ کو ایسی ایسی خوبصورت کتابیں دیں گے کہ آپ ان کی دلآویزی پر فخر کرسکیں گے"دینی مدارس کے اساتذہ، طلبہ، حوزہ علمیہ قم المقدسہ، حوزہ علمیہ مشہد مقدس، حوزہ علمیہ زنبیہ دمشق، حوزہ علمیہ نجف اشرف میں مقیم اوردو سمجھنے اور پڑھنے والے طلبہ سے گزارش ہے کہ وہ قلمی و تحریری میدان میں ہمارے ساتھ تعاون کریں، ہم انشاء اللہ، اسلامی تعلیمات کے فروغ و اشاعت کے لئے شب و روز کو شاں ہیں امید کی جاتی ہے علمی صاقتوں کایہ پر خلوص ترجمان ادارہ آپ کے ساتھ ساتھ رہے گا جہاں بھی ہمیں بلائیں گے وہاں ہمیں اپنے پاس موجود پائیں گے۔دعا ہے رب العزت ہماری اس خالصتاً علمی کاوش کو قبول فرمائے (آمین) ۔

ریاض حسین جعفری

سرپرست ادارہ منہاج الصالحین لاہور


مقدمہ

دین اسلام کا ظہور اس کے ابدی ہونے اور سلسلہ نبوت کے ختم ہونے کا اعلان دونوں کے درمیان کوئی فصل نہیں ہے۔

مسلمانوں نے ختم نبوت کو ہمیشہ ایک امر واقعہ کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ان کے سامنے یہ سوال کبھی نہیں آیا کہ حضرت محمد (ص) کے بعد کوئی دسرا پیغمبر بھی آئے گا یا نہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے سلسلہ نبوت کے ختم ہونے کا بڑی صراحت کے ساتھ اعلان کیا ہے اور پیغمبر (ص) نے خود بھی کئی بار اس کا اعادہ کیا ہے، مسلمانوں میں رسول اکرم (ص) کے بعد کسی دوسرے پیغمبر کے ظہور کے خیال کو خدا کی وحدانیت یا قیامت کے انکار کے مشابہ اور ایمان کے منافی سمجھا گیا ہے۔

مفکرین اسلام نے ختم نبوت کے مسئلے پر اگر کوئی تحقیقی و علمی کاوش کی ہے تو اس کا مقصد گمراہ کن خیالات کی بیخ کنی کرنا اور عقیدہ ختم نبوت کو زیادہ سے زایدہ واضح اور روشن کرنا رہا ہے۔

ہاں ہم وحی و نبوت کی ماہیئت پر گفتگو کرنا نہیں چاہتے، یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ وحی ایک ایسی رہنامئی کا نام ہے جو غیب و ملکوت کے ساتھ ضمیر کے ربط و اتصال سے حاصل ہوتی ہے، نبی، تمام انسانوں اور عالم غیب سے ربط و تعلق کا ایک ویلہ ہے، در حقیقت وہ عالم انسانیت اور جہان غیب کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔

نبوت، شخصی اور انفرادی پہلو سے ایک فرد انسانی کی روحانی شخصیت کی وسعت کانام ہے اور عمومی و اجتماعی پہلو سے نبوت کا مطلب عالم انسانیت کے لئے ایک ایسا پیام الٰہی ہے جو اس کی رہنمائی کی خاطر ایک منتخب شخصیت کے ذریعہ بھیجا گیا ہے۔یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے عقیدہ ختم نبوت سے متعلق مختلف سوالات سامنے آتے ہیں۔کیا خاتم النبیین (ص) کے بعد کسی دورے نبی کے ظاہر نہ ہونے اور سلسلہ نبوت کے ختم ہو جانے سے روحانی و معنوی پہلوؤںسے انسانیت کو کسی تنزل کا سامنا کرنا پڑا ہے؟ کیا مادر زمانہ ایسے ملکوتی صفات فرزندوں کو جنم دینے سے عاجز ہو چکی ہے جو عالم غیب و ملکوت سے رشتہ رکھتے ہیں؟ کیا ختم نبوت کا اعلان کرنے کا مطلب فطرت کا بانجھ ہو جانا اور ایسے عالی مرتبت فرزندوں کو وجود میں لانے کی صلاحیت سے اس کا محروم ہو جانا ہے؟

اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انسان خدا کی رہنمائی اور اس کا پیغام کا محتاج ہے۔اس کی یہ ضرورت ہی سلسلہ نبوت کے آغاز کا سبب بنی۔ماضی میں مختلف زمانوں اور ادوار کے تقاضوں کے مطابق پیغام الہی کی تجدید ہوتی رہی ہے ۔پیغمبروں کا پے درپے آنا شریعتوں کی مسلسل تجدید اور کتب آسمانی کا یکی بعد دیگری نزول اس لئے ہوا کہ ہر دور میں انسان کی ضروریات میں تغیر آتا رہا ہے اور انسان کو ہر زمانے میں ایک نئے پیغمبر کی ضرورت رہی ہے ۔جب یہ صورت ہے تو کس طرح یہ بات فرض کی جاسکتی ہے کہ ختم نبوت کے اعلان کے ساتھ ہی یہ رابط یک دم منقطع ہوگیا اور وہ پل کہ جس نے عالم انسانیت کو عالم غیب کے ساتھ جوڑ رکھا تھا وہ یک بیک ڈھ گیا ہے ۔اس کے بعد اب کوئی الہی پیغام انسانیت کی طرف نہیں بھیجا جائے گا تو کیا انسانیت کو فرائض اور ذمہ داریوں کے بغیر یو نہی آزاد چھوڑدیا جائے گا ۔ہم اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہنوح (ع)، ابراہیم (ع)، موسی (ع) اور عیسی (ع) جیسے صاحب شریعت پیغمبروںکے درمینی زمانوں میں کچھہ دوسرے پیغمبروں کا سلسلہ بھی موجود رہا ہے "اس سلسلے سے تعلق رکھنے والے پیغمبر اپنے سے پہلے کی شریعت کو نافذ کرنے اور پھیلانے کا کام انجام دیتے رہے ہیں ۔نوح علیہ السالم کے بعد ہزاروں انبیا آئے ۔ان انبیاء نے نوح علیہ السلام کی شریعت کو نافذ کیا اور پھلایا ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد بھی ایسا ہی ہوا ۔بالفرض یہ تسلیم کرلیا جائے کہ شریعت اسلام کی آمد کے ساتھ ہی شریعت لانے والی نبوت اور شریعتوں کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کے بعد تبلیغی نبوتوں کا سلسلہ کیوں منقطع ہوگیا "جبکہ ماضی میں ہر شریعت کے نازل ہونے کے بعد بےشمار پیغمبر ظاہر ہوتے رہے اور ظہر ہوتے رہے اور سابق شریعت کی تبلیغ، ترویج اور نگہبانی کا فرض ادا کرتے رہے لیکن اسلام کی درآمد کے بعد اس طرح کا ایک پیغمبر بھی ظاہر نہ ہوا؟

یہ ہیں وہ سوالات جو عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں پیدا ہوتے ہیں ۔ختم نبوت کا عقیدہ اسلام نے پیش کیا ہے اور وہی اس کا جواب بھی دیتا ہے۔

اسلام نے ختم نبوت کے عقیدہ کو ایک ایسے جامع فلسفہ کی صورت میں پیش کیا ہے کہ ذہنوں میں کوئی شک و ابہام باقی نہیں رہتا ۔

اسلام کی رو سے ختم نبوت کا عقیدہ نہ انسانیت کے تنزل کی علامت ہے اور نہ انسانی صلاحیت کے نقصان کی نہ مادر زمانہ کے بانجھ ہوجانے کی، اور نہ عقیدہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسانیت اب پیغام الہی سے بے نیاز ہوچکی ہے اور انسان کو مختلف ناسازگار زمانوں کے تقاضوں کے مطابق کسی رہنمائی کی ضرورت نہیں ہے ۔ اسلام اس بارے میں ایک دوسرا ہی فلسفہ اور توجیہ پیش کرتا ہے ۔

سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا چاپیئے کہ اسلام نے خود ختم نبوت کے بارے میں کیا کہا ہے، اس کے بعد ان سوالات کا جواب تلاش کرنا چاہیئے ۔سورہ احزاب کی آیت ۴۰ میں ہم پڑہتے ہیں

( ما کان محمد ابا احد من رجالکم و لکن رسول الله و خاتم النبیین )

"محمد تم مردون میں سے کسی کا باپ نہیں ہے لیکن وہ اللہ کا رسول (ص) اور انبیا کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہے"

اس آیت میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا خاتم النبیین کے نام سے یاد کیا گیا ہے ۔ختم کا لفظ عرنبی لغت کے اعتبار سے ایک بایسی چیز کے لئے بولتا جاتا ہے جو کسی دوسری چیز کے سلسے کو ختم کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے ۔اس لئے اس مہر کو خاتم کہتے ہیں جو خط بند کرنے کے بعد لفافے پر لگائی جاتی ہے ۔روج کے مطابق انگشتری کے نگینینے پر نام یا دستخط کندہ ہوتے ہیں اور وہی خطوط پر ثبت کئے جاتے ہیں "اسی لئے انگشتری کو خاتم کہاجاتاہے ۔قرآن میں جہاں کہیں اور جس صورت میں بھی "ختم "کا مادہ استعمال کیا گیا ہے ختم کرنے یا بند کرنے کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے جیسا کہ سورہ یسین کی آیت ۶۵ میں آیا ہے :( الیوم نختم علی افواههم و تکلمنا ایدیهم و تشهد ارجلهم بما کانو یکسبون )

"آج ہم ان کے منہ پر مہر لگاتے ہیں اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کرتے ہیں اور ان کے پیر جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس پر گوہی دیتے ہیں۔"

زیر بحث آیت کا انداز خود یہ بتاتا ہے کہ اس آیت کے نزول سے پہلے پیغمبر اسلام پر سلسلہ نبوت کا ختم ہونا کا ختم ہونا مسلمانوں کےدرمیان ایک مسلمہ امر کی حیثیت رکھتا تھا۔مسلمان جس طرح محمد (ص) کو خدا کا رسول (ص) سمجھتے تھے اسی طرح ان کے خاتم النبیین ہونے پر بھی یقین رکھتے تھے۔آیت صرف یہ یاد دلاتی ہے کہ محمد (ص) کو کسی کے باپ کی حیثیت سے نہ پکارو بلکہ حقیقی خطاب رسول اللہ اور خاتم النبیین سے آپ (ص) کو مخاطب کرو۔

یہ آیت عقیدہ ختم نبوت کے اصل جوہر کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

سورہ حجر آیت ۹ میں اس طرح آیا ہے:

( انا نحن نزلنا الذکر و انا له لحفظون )

"ہم نے خود اس کتاب کو نازل کیا ہے اور ہم خوس اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔"

اس آیت میں قرآن کو کسی طرح بھی تحریف و تغییر اور ضیاع سے محفوظ رکھنے کا وعدہ جس قطعیت کے ساتھ کیا گیا اس کی نظیر نہیں ملتی۔

نئے نئے پیغمبروں کی درآمد اور رسالت کی تجدیدی کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب انبیاءکی لائی ہوئی مقدس کتابوں اور تعلیمات میں لوگوں کی جانب سے کی جانے والی تحریفات اور تبدیلیاں بھی ہیں۔ان ہی تحریفات کے سبب سابق انبیاء کی کتابوں اور تعلیمات میں لوگوں کی ہدایت کی صلاحیت پوری طرح باقی نہیں رہی تھی۔غالباً یہی وجہ ہے کہ پے در پے پیغمبروں کو بھیجا گیا تا کہ وہ انیباء کی فراموش کی ہوئی نعمتوں کو زندہ کریں اور ان کی تعلیمات میں جو تحریفات کی گئی ہیں ان کی اصلاح کریں۔

قطع نظران انبیاء کے جو صاحب کتاب وا شریعت تھے بلکہ ایک صاحب کتاب و شریعت پیغمبر کے تابع تھے جیسا کہ ابراہیم (ع) کے موسی (ع) کے زمانے تک آنے والے پیغمبر اور موسی (ع) سے عیسی (ع) تک ظاہر ہونے والے پیغمبر خود صاحب شریعت انبیاء نے بھی اپنے سے پہلے گزر نے والے پیغمبروں کے ضانطوں اور طریقوں کی تائید کی ہے۔پیغمبروں کے پے در پے آنے کا واحد سبب وہ تحریفات تبدیلیاں تھیں جو آسمانی کتابوں اور انبیاء کی تعلیمات میں کی گئی تھیں۔

چند ہزار سال قبل انسان میں یہ صلاحیت موجود نہیں تھی کہ وہ اپنے علمی اور دینی ورثوں کی حفاظت کرسکے، ابھی انسان کے اندر اس صلاحیت کے پیدا ہونے کے لئے کافی وقت درکار تھا کہ وہ اپنے دینی ورثوں کو ہر طرح کے نقصان سے بچا کر محفوظ رکھ سکے اور اپنی تکمیل و ترقی کے ایک ایسے مقام پر پہنچ جائے جہاں پیغام الٰہی کی تجدید اور نئے پیغمبروں کی آمد ضرورت باقی نہ رہے اور ایک دین کی ہمیشگی کے ساتھ باقی رہنے کی لازمی شرط (کافی شرط نہیں) پوری ہوجائے۔

متذکرہ بالا آیت نزول قرآن کے بعد سے نبوت و رسالت کی تجدید کے ایک اہم سبب کے ختم ہوجونے کی طرف اشارہ کرتی ہے اور در حقیقت ختم نبوت کی ایک بڑی بنیاد کی توثیق کرتی ہے۔

جیسا کہ سب جانتے ہیں آسمانی کتابوں میں سے اگر کوئی کتاب کسی کمی و بیشی کے بغیر پوری طرح اپنی اصلی حالت میں محفوظ ہے تو یہ صرف قرآن مجید ہے، اس کے علاوہ رسول اکرم (ص) کی بہت سی سنریں قطعی صورت میں بلاتردید آفات زمانہ سے آج تک محفوظ چلی آرہی ہیں، ہم اس بات کی بعد میں وضاحت کریں گے کہ کتاب آسمانی کو محفوظ رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو ذریعہ بنایا وہ اس دور کے انسان کی رشد و قابلیت ہے جسے انسان کے اجتماع بلوغ کی نشانی کہا جاسکتا ہے۔

در حقیقت ختم نبوت کے ستونوں میں سے ایک بڑا ستون انسان کا س حد تک اجتماعی بلوغ حاصل کرلینا ہے کہ وہ اپنے علمی اور دینی ورثوں کی حفاظت کرسکے ان می نشر و اشاعت تعلیم و تبلہغ اور تفسیر و توضیح کرسکے، اس پہلو پر ہم بعد میں بحث کریں گے۔

پورا قرآن اس بات پر زور دیتا ہے کہ ابتدائے آفرینش سے لے کر قیامت تک دین ایک ہی ہے اور تمام پیغمبروں نے انسانیت کو ایک ہی دین کی طرف دعوت دی ہے سورہ شوری کی آیت ۱۳ میں آیا ہے :

( شرع لکم من الذین ما وصی به نوحا و الذی اوحینا الیک و ما وصینا به ابراهیم و موسی و عیسی )

ترجمہ:اس نے تمہارے لئے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جسے (اے محمد ) اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعے سے بھیجا ہے اور جس ہدایت ہم ابراہیم اور موسی اور عیسی کو دے چکے ہیں ۔

قرآن نے ہر جگہ اس دین کو اسلام ہی کے نام سے یاد کیا ہے جس کی طرف آدم سے لے کر خاتم تک تمام انبیاء نے لوگوں کو دعوت دی ہے ۔مراد یہ نہیں ہے کہ ہر زمانے میں اس دین کا نام "لفظا "اسلام ہی آیا ہے، مدعایہ کہ دین جس حقیقت و ماہیت کا حامل ہے اس کا بہترین اظہار لفظ اسلام ہی ہوسکتا ہے ۔سورہ آل عمران کی آیت ۶۷ میں ابراہیم علیہ السلام کے بارہ میں آیا ہے:

( ماکان ابراهیم یهودیا و لا نصرانیا و لکن کان حنیفا مسلما )

ترجمہ: "ابراہیم یہودی تھا نہ عیسائی بلکہ وہ تو ایک مسلم یکسو تھا اور وہ ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا۔"

سورہ بقرہ کی آیت ۱۳۲ میں حضرت یعقوب (ع) اور ان کے لڑکوں کے بارے میں آیا ہے۔

( و وصی بها ابراهیم بنیه و یعقوب یبنی ان الله اصطفیٰ لکم الدین فلا تموتن و انتم مسلمون )

ترجمہ:"اسی طریقے پر چلنے کی ہدایت ابراہیم نے اپنی اولاد کو کی تھی اور اسی کی وصیت یعقوب (ع) نے اپنی اولاد کو کی تھی۔انہوں نے کہا تھا کہ میرے بچو، اللہ نے تمہارے لئے یہی دین پیدا کیا ہے لہٰذا مرتے دم تک مسلم ہی رہنا۔"

اس بارے میں قرآن کی آیتیں بہت زیادہ ہیں ان سب کا یہاں حوالہ دینے کی ضرورت نہیں ہے البتہ پیغمبروں کی لائی ہوئی شعریعتوں اور قوانین میں باہم کچھ اختلاف رہا ہے۔قرآن جہاں تمام انبیاء کے دین کو ایک ہی قرار دیتا ہے بعض مسائل میں چریعتوں اور قوانین میں اختلاف کو تسلیم کرتا ہے۔

( لکل جعلنا منکم شرعة و منهاجا )

ترجمہ:"ہم نے تم (انسانوں) میں سے ہر ایک کے لئے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کیا۔"(۱)

انبیاء (ع) نے جن فکری اور علمی اصولوں کی طرف دعوت دیہے وہ چونکہ بغیر کسی اختلاف کے ایک ہی ہیں اس لئے وہ شاہراہ اور ہدف بھی ایک ہے جس کی جانب انسانوں کو بلانے کے لئے انہیں مامور کیا گیا تھا ۔شریعتوں اور قوانین کے جزئی اختلاف کا اس جوہر اور ماہیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا جسے قرآن کی اصطلاح میں اسلام کہا گیا ہے ۔انبیاء کی تعلیمات میں باہمی فرق و اختلاف کسی ملک کے مختلف منصوبوں اور لوائح عمل کا سا ہے ہر چند کہ انہیں الگ الگ رو بعمل لایا جاتا ہے لیکن وہ سب ملک کے ایک ہی آئین سے ہدایت حاصل کرتے ہیں ۔پیغمبروں کی تعلیمات اپنے باہمی جزئی اختلاف کے با وجود ایک دوسرے کے تکمیل و اتمام کا سبب بنتی ہیں ۔

پیغمبروں کی آسمانی تعلیمات کا فرق و ختلاف ان مکاتب خیال کے باہمی اختلاف کی طرح نہیں ہے جو فلسفہ "سیاست" اجتماعات اور اقتصادیات سے تعلق رکھتے ہیں اور متضاد افکار کا حامل ہوتے ہیں ۔تمام انبیاء ایک ہی مکتب سے تعلق رکھتے ہیں اور سب کا thestss ایک ہی رہا ہے ۔

انبیاء کی تعلیمات میں باہمی اختلاف کسی درسگاہ کی اعلی و ادنی جماعتوں کی تعلیمات کی طرح کا ہے یا پھر ایک اصول کے مختف حالات و شرائط میں نفاذ سے پیدا ہونے والے اختلاف کا سا ۔

ہم اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ اعلی جماعتوں کے طالب علم کو نہ صرف نئے نئے مسائل سے واقفیت حاصل ہوتی ہے بلکہ ان پر انے مسائل کے بارے میں بھی اس کی رائے تبدیل ہوجاتی ہے جس کا علم اس نے ابتدائی جماعتوں میں حاصل کیا تھا ۔انبیاء کی تعلیمات کا بھی یہی حال ہے ۔

توحید وہ پہلا سنگ بنیاد ہے جسے انبیاء نصب کرنے میں مصروف رہے ہیں لیکن یہی توحید درجات و مراتب رکھتی ہے ۔عام آدمی خدائے واحد کا جو تصور رکھتا ہے وہ ایک عارف کے قلب میں پیدا ہونے والی الی تجلی کی طرح نہیں ہے ۔خود عارفوں کے درجات بھی مختلف ہیں:لو علم ابوذر ما فی قلب سلمان لقتله (۲)

"اگر ابوذر رحمہ اللہ علیہ جو کچھہ سلمان رحمہ اللہ علیہ کے دل میں تھا اس سے واقف ہوجاتے تو ان کے بارے میں کفر کا گمان کرنے لگتے اور انہیں قتل کردیتے"!

یہ بات واضح ہے کہ سورہ حدید کی ابتدائی آیات اور سورہ حشر کی آخری آیات اور سورہ قل ھواللہ احد کی آیات چند ہزار سال بلکہ ایک ہزار سال پہلے کے انسان کے لئے قابل ہضم ہوسکتی تھیں ۔البتہ اہل توحید میں سے تھوڑے لوگ ان آیات کی گہرائی تک پہنچ سکتے تھے کتب اسلامی میں یہ بات آئی ہے کہ:"اللہ تعالی علم رکھتا تھا کہ بعد کے زمانوں میں گہری فکر رکہنے والے لوگ پیدا ہوں گے تو اس نے قل ھو اللہ کی آیت اور سورہ حدید کی ابتدائی پانچ آیتیں نازل کیں "

کسی بھی بنیادی اصول کے نفاذ کی عملی صورتیں مختلف حالات میں مختلف ہوتی ہیں انبیاء کے عملی رویے میں جو فرق و اختلاف نظر آتا ہے اس کا تعلق قانون کے نفاذ سے قانون کی روح سے نہیں۔اس پہلو پر ہم بعد میں گفتگو کریں گے۔

قرآن نے دین کے کلمے کو کبھی جمع کی صورت میں استعمال نہیں کیا۔قرآن میں دین کا ذکر ہر جگہ واحد و مفرد شکل میں کیا گیا ہے، کیونکہ آدم (ع) سے لے کر خاتم تک صرف ایک دین موجود رہا ہے کئی ادیان نہیں۔قرآن نے یہ صراحت بھی کی ہے کہ دین فطرت کا تقاضا اور انسان کے روحانی وجود کی آواز ہے:

( فاقم وجک للذین حنیفاً فطرت الله التی فطر الناس علیها ) (۳)

اے محمد (ص) اپنا رخ (اپنا فکر) دین کی سمت جمادو اس حالت میں کہ تم وحدانیت پرست ہو، جو خدا کی فطرت (آفرینش پیدائش) ہے جس پر لوگوں کوخلق کیا گیا ہے۔

انسان کی فطرت، سرشت اور طبیعت گوناگون ہے جبکہ دین ابتدائے آفرینش سے قیامت تک ایک ہی ہے اور وہ انسانی فطرت وسرشت سے تعلق رکھتا ہے۔اس طرح انسانی فطرت و سرشت بھی ایک سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔اس میں ایک بڑا راز اور عظیم فلسفہ پوشیدہ ہے اور اسی سے ہمیں ارتقاء کا ایک خاص تصور ملتا ہے۔ارتقا کے نظریئے سے سب واقف ہیں اس مسئلے پر ہر جگہ گفتگو ہوتی رہتی ہے۔دنیا کا ارتقاء جنداروں کا ارتقاء انسان اور معاشرہ کا ارتقاء۔

یہ ارتقاء کیا چیز ہے اور یہ کس طرح صورت پذیر ہتوتا ہے؟ کیا یہ اسباب کا ایک اتفاقی سلسلہ ہے جو ارتقاء کی منزل تک پہنچتا ہے؟ کیا اس کی سرشت میں کوئی ایسی چیز ہے جو خود تکمیل تک پہنچتی ہے اور وہ اپنے اندر ارتقاء کی خواہش رکھتی ہے اس لئے اس نے پہلے سے اپنے لئے ارتقاء کی ایک راہ منتخب کر رکھی ہے؟ کیا ارتقاء کا عمل ہمیشہ ایک مقرر و متعین راہ پر اور پہلے سے طے شدہ مقصد و ہدف کے مطابق وقوع پذیر ہوتا ہے یا یہ عمل چند ایک بار اتفاقی اسباب کے تحت ایک خاص راستے پر صورت پذیر ہوتا ہے اور مسلسل اپنی سمت بدلتا رہتا ہے اور اپنا کوئی خاص مقصد و ہدف نہیں رکھتا؟

قرآن کی رو دے دنیا انسان اور معاشرہ کا ارتقاء ایک ہدایت یافتہ یا ہدف عمل ہے اور یہ اس ایکہی راہ پر صورت پذیر ہوتا ہے جسے صارط مستقیم کہا گیا ہے اس عمل کا نقطہ آغاز اور راہ سفر اور منزل مقصود سب متعین و مشخص ہیں۔

انسان اور معاشرہ تغیر پذیر و ترقی پذیر ہیں لیکن ان کی سمت اور راہ سفر صرف ایک ہی ہے اور وہ مستقیم ہے۔

( و ان هذا صراطی مستقیماً فاتبعوه و لا تتبعوا السبل فتفرق بکم عن سبیله ) (۴)

ترجمہ:نیز اس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کردیں گے۔

کی خط است از اول تابہ آخر

بر او خلق خدا جملہ مسافر

انسانی ارتقاء کا معاملہ اس طرح کا نہیں ہے کہ وہ ہر دور میں اسباب کے ایک خاص سلسلے کے تحت (صنعتی یا اجتماعی یا اقتصادی) ایک راہ پر اپنا سفر شروع کرے اور مسلسل اپنا راستہ اور سمت دونوں بدلتارہے۔

قرآن بڑی شدت کے ساتھ دین کے ایک ہونے پر زور دیتا ہےوہ صرف ایک شاہراہ کا قائل ہے شریعتوں اور قوانین کے اختلافات کو وہ ایسی شاخین قرار دیتا ہے جو ایک نظرئیے و عقیدہ کی جڑ سے نکلی ہوں۔

انسان ارتقاء کی راہ پر ٹھیک اس قافلہ کی مانند ہے جو ایک متعین منزل کی طرف رواں دواں ہے لیکن اس منزل تک پہنچنے کے راستے سے وہ آگاہ نہیں ہے چند قدم چلنے کے بعد وہ کسی واقف راہ سے منزل کا پتہ پوچھتا ہے۔اس کی بتائی ہوئی نشانیوں کے مطابق کم و بیش دس میل کا راستہ ط کرلیتا ہے لیکن اب اس قافلے کو بھی پھر کسی رہنما کی ضرورت پیش آتی ہے اوہ وہ اس کی بتائی ہوئی علامات کے مطابق مزید دس میل کا سفر مکمل کرلیتا ہے۔اس طرح منزل کی طرف بڑھنے کی اس کی صلاحیت میں بتدریج اضافہ ہوتا رہتا ہے بالاخر اسے ایک ایسا شخص مل جاتا ہے جو اسے راہ سفر کا ایک مکمل نقشہ دے دیتا ہے اور قافلہ اس نقشے کے حاصل ہونے کے بعد کسی نئے رہبر کی ضرورت سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔

قرآن نے یہ بات اچھی طرح واضح کردی ہے کہ انسان کی راہ تک متعین و مستقیم راہ ہے اور تمام پیغمبران تمام اختلافات کے باوجود جو وہ زمان و مکان اور موقع محل کے مطابق انسانی معاشروں کی رہبری میں باہم رکھتے ہیں، وہ ایک ہی منزل اور ایک ہی شاہراہ کی جانب ان کی رہنمائی کرتے ہیں، اس طرح قرآن نے ختم نبوت کی راہ کو ہماری نگاہوں کے سامنے خوب روشن اور ان عقیدے کو پوری طرح واضح کردیا ہے۔عقیدہ ختم نبوت اسی صورت میں معقول اور قابل فہم ہو سکتا ہے کہ تغیر اور ترقی پذیر انسان کی ارتقاء کی راہ متعین اور مستقیم ہو لیکن اس کے بر عکس انسان دوڑ دھوپ میں ہو اور دوسرے لمحے اس کی راہ سفر تبدیل ہوتی رہے اور اس کے سرکا مقصد اور منزل تعین نہ ہو اور وقت کے ہر مرحلے میں وہ ایک دوسرا ہی راستہ اختیار کرے تو پھر ختم نبوت یعنی دائمی اور کل لائحہ عمل اور نقشہ کار معقول اور قابل فہم نہیں قرار پاتا۔

( و کذالک جعلنکم امة و سطا لتکونوا شهداء علیٰ الناسن و یکون الرسول علیکم شهیداً )

ترجمہ:"اور اس طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ایک امت وسط بنایا ہے تا کہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ اور رسول تم پر گوہ ہو۔"


قرآن کی روسے امت مسلمہ ایک امت وسط ہے۔

یہ بات ظاہر ہے کہ یہ امت ایسی تعلیمات کی پروردہ ہے جو توسط و تعادل کی حامل ہے۔قرآن کی یہ آیت ختمی امت اور ختمی تعلمیات کا ذکر صرف ایک کلمہ کے ذریعہ کردیتی ہے اور وہ وسطیت و تعادل ہے۔

ہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا تمام انبیاء کی تعلیمات میں وسطیت اور تعادل موجود نہیں رہا ہے۔اس سوال کے جواب میں کچھ کہنا ضروری ہے۔

اس روئے زمین پر انسان ہی ایک جاندار مخلوق نہیں ہے اور صرف وہی اجتماعی انداز میں زندگی بسر کرنے کا عادی نہیں ہے، دوسری جاندار مخلوقاتبھی ہیں جو مقررہ معمولات، ایک خاصنظم اور ڈھانچے کے مطابق زندگی بسر کرتی ہیں انسان کے بر عکس ان کی زندگی جنگل کے زمانے پتھر کے زمانے لو ہے کے زمانے ایٹم کے زمانے سے آشنا نہیں ہے۔روز اول سے جب سے کہ وہ وجود میں آئی ہیں ان کی زندگی کا ایک ہی منظم ڈھانچہ ہے یہ انسان ہی ہے جو اس آیت قرآنی کے مطابق"

( و خلق الانسان ضعیفاً ) (۵)

ترجمہ:"انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔"

اپنی زندگی کا آغاز صفر سے کرتا ہے اور ترقی کے لامتناہی راستے پر آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔انسان فطرت کا ایک ہونہار اور بالغ فرزند ہے اسی لئے اسے آزادی و خود مختاری حاصل ہے اسے کسی مستقل ناظم و سرپرست اور ایسی جبری ہدایت کی ضرورت نہیں جس پر عمل کرنے کے لئے کوئی پوشیدہ اندرونی قوت اسے مجبور کرے۔دوسرے جاندار جو کچھ جبلت کے سامنے سر جھکا کر انجام دیتے ہیں وہ انسان آزادانہ ماحول میں عقل و قانین کے مطابق انجام دیتا ہے:

( انا هدینٰه السبیل اما شاکراًو اما کفوراً ) (۶)

ترجمہ:"ہم نے اسے راستہ دکھا دیا خواہ شکر کرنے والا ہے یا کفر کرنے والا۔"

انسان میں انحراف و سقوط اور جمود و انحطاط پایا جاتا ہے جبکہ دوسرے جاندار ایک حالت پر قائ رہتے ہیں۔وہ اس بات پر قدرت نہیں رکھتے کہ سوچ سمجھ کر کہ خود آگے بڑھیں یا پیچھے ہٹیں، سیدھی جانب کا رخ کریں یا بائیں سمت کا تیز چلیں یا آہستہ اس کے بر عکس انسان اپنی عقل و شعور سے کام لے کر آگے بھی قدم بڑھا سکتا ہے پیچھے بھی ہٹ سکتا ہے وہ دائیں یا بائیں کسی بھی سمت مڑسکتا ہے وہ تیز بھی چل سکتا ہے اور آہستہ بھی وہ ایک بندہ شاکر بھی بن سکتےا ہے اور سرکس کافر بھی۔اس طرح وہ افراط و تفریط کے درمیان کحڑا نظر آتا ہے۔

انسانی معاشرہ کبھی اس طرح عادات کا اسیر اور جامد و ساکن ہوجاتا ہے کہ کوئی موثر طاقت ہی اس کی زنجیروں کو کاٹ کر اسے حرکت میں لاسکتی ہے۔کبھی انسانی معاشرہ پر حرص و طمع اور نئی راہوں پر چلنے کی خوہش اس طرح مشلط ہوجاتی ہے کہ وہ فطرت کے اصول و قوانین تک کو بھلا بیٹھتا ہے اور کبھی وہ غرور و خود پرستی اور تکبر میں غرق ہوجاتا ہے، اسے خود بینی کی راہ سے ہٹا کر زہد و پرہیزگاری کی راہ پر ڈالنے کے لئے کسی اثر انداز ہونے والی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے حقوق کے ساتھ دوسروں کے حقوق کا بھی خیال رکھ سکے جب یہی انسانی معاشرہ آرام طلبی مادر پدر آزادی اور ظلم و ستم کی راہ پر چل پڑتا ہے تو اس کے ضمیر کو جھنجھوڑ نے اور اس میں حقوق کا شعور احساس کے پیدا کرنے کے سوا اور چارہ نہیں ہوتا۔

یہ بات واضح ہے کہ تیزی کے ساتھ پیش قدمی ہو یا سست روی بائیں جانب میلان ہو یا دائیں جانب ان میں سے ہر ایک کے لئے ایک خاص لائحہ عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر معاشرہ کا انحراف دائیں جانب ہو تو اصلاح کرنے والی طاقت کو اسے بائیں جانب موڑنے کی کوشش کرنی ہوگی دورسری صورت میں اسے اس کے بر عکس عمل کرنا ہوگا۔

ہی وجہ ہے کہ کسی ایک زمانے اور کسی ایک قوم کی اصلاح کے لئے کوئی تدبیر دوا کی حیثیت رکھتی ہے تو وہی تدبیر دوسرے دور اور دوسری قوم کے لئے ایک مرض مہلک میں مبتلا کرنے کا سبب بن سکتی ہے چنانچہ بظاہر مختلف انبیاء کے درمیان ایک اختلاف نظر آتا ہے کسی پیامبر (ص) کو جنگ کی راہ اختیار کرنی پڑتی ہے تو کسی کو صلح کی کوئی نبی نرمی سے کام لیتا ہے تو کوئی سختی سے کسی پیغمبر کو انقلابی انداز میں کام کرنا پڑتا ہے تو کسی کو اعتدال و سلامتی کی راہ اپنانی پڑتی ہے۔ایک پیغمبر کا سارا دور ابتلاؤ آزمایش سے بھرا ہوتا ہے تو دوسرے پیغمبر کے حصے میں فتح و نصرت بھی آتی ہے۔انبیاء کے درمیان اختلافات کا تعلق ان کے اس روئے سے ہے جو وہ اپنے زمانے کے حالات کے پیش نظر اختیار کرتے ہیں ورنہ ہدف کے اعتبار سے ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے ہدف تمام انبیاء کا یک ہی ہے اور راستہ وہی صراط مستقیم ہے۔

قرآن کریم نے قصص انبیاء کے ضمن میں پوری طرح اس بات کی نشان وہی کی ہے کہ پیغمبروں میں سے ہر ایک مبداء و معاد سے متعلق اپنی مشترک تعلیمات کے تحت کسی ایک خاص نکتہ پر زور دیتا ہے وہ ایک مخصوص لائحہ عمل کے اجراء پر مامور ہوتا ہے یہ بات قصص قرآنی کے مطالعہ سے بخوبی روشن ہوجاتی ہے۔

مصلحین جب کسی تیزی سے آگے قدم بڑھانے والے یا پسماندہ معاشرہ میں دائیں یا دائیں جانب مائل معاشرہ میں ظہور کرتے ہیں اور اصلاح کا کام شروع کرتے ہیں تو وہ بھول جاتے ہیں کہ ایک متعین لائحہ عمل صرف ایک محدود مدت کے لئے قابل اجراء ہوتا ہے اور معاشرہ کسی بھی نوعیت کا ہوا سے راہ عدل پر لانے کے لئے اس سے زیادہ جدوجہد کرنی پڑتی ہے جتنی کہ دوسری جانب سے اسے انحطاط و انحراف کی زاہ پر ڈالنے کے لئے کی جاتی ہے۔

ان توضیہحات کے بعد ہم زیر نظر آیت کے مفہوم کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں۔

پیغمبر اسلام کی رسالت تمام دوسرے انبیاء کی رسالتوں سے ان معنوں میں فرق و امتیاز رکھتی ہے کہ اس کی حیثیت قانون کی ہے کسی وقتی لائحہ عمل کی نہیں انسانیت کے لئے آپ کا لایا ہوا اساسی قانون کسی ترقی پسند یا رجعت پسندیدہ دائیں بازو یا بائیں بازو کی جانب مائل معاشرہ کے لئے مخصوص نہیں ہے۔

اسلام ایک جامع اور ہمہ گیر نظام حیات ہے جو ہر موقع و محل کے لئے کار آمد اور زندگی کے تمام جزئی طریقوں پر حاوی ہے۔انبیاء کسی ایک معاشرہ کے لئے مبعوث کئے جاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس معاشرہ کے لئے ایک مخصوص لائحہ عمل لے کر آتے تھے۔اسلام کی آمد کے بعد علماء اور امت مسلمہ کے دینی رہنماؤں کو بھی اسی طرح کام کرنا چاہیے جس طرح انبیاء نے انجام دیا تھا لیکن علماء و مصلحین اور انبیاء کے کام کے درمیان فرق یہ ہے کہ علماء وحی اسلام کے ابدی سرچشمے سے ہدایت حاصل کرکے ایک خاص لائحہ عمل وضع کرتے ہیں اور اس کے نفاذ کی کوشش کرتے ہیں۔

قرآن دوسری آسمانی کتابوں کی وقتی اور محدود تعلیمات کی روح اپنے اند لئے ہوئے ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن خود آسمانی کتابوں کا محافظ و نگہبان قرار دیتا ہے:

( و انزلنا الیک الکتٰاب بالحق مصدقا لما بین یدیه من الکتٰب و مهیمناً علیه ) (۷)

ترجمہ:"پھر اے نبی (ص) ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھجی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محفظ و نگہبان ہے۔"

اسلامی مخصوص سے یہ بات ثابت ہے کہ تمام انبیاء جو ایک کلی و خاتمی نبوت اور ایک اساسی قانون کے پیشرو کی حیثیت رکھتے ہیں اس بات کی پابند رہے ہیں کہ وہ اپنی اپنی امتوں کو ختم نبوت کے آخری دور میں دین کے اتمام و تکمیل کی خوشخبری دیں، اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں تمام پیغمبروں سے عہد و پیمان لیا ہے۔

نہج البلاغہ کے پہلے خطبے میں اس کا ذکر بڑی عمدگی کے ساتھ کیا گیا ہے:

ولم یخل سبحانه خلقه من نبی مرسل اور کتاب منزل اور حجه لازمه اور محجه قائمه رسل لاتقصیر بهم قله عددهم و لاکثره المکذبین لهم و سلفت الاباء خلفت الابناء الی ان بعث الله محمدا رسول الله (ص) من سابق سعی که من بعده اوغا بر بر عرفه من قبله علی ذلک نسلت القرون و مضت الدهور لانجاز عدته و تمام نبوته ماخوذا علی النبین، میثاقه، مشهور سماته کریما میلاده ۔

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو کبھ کسی پیغمبریا کسی کتاب آسمانی یا کافی دلیل یا کسی روش طریقے سے خالی نہیں رکھا ہے، پیغمبروں کو ان کی قلت تعداد اور ان کے مخالفین کی کثرت تعداد نے کبھی ادائے فض سے نہیں روکا، ہر پیغمبر اپنے سے پہلے گزرنے والے پیغمبر سے پوری طرح متعارف رہا ہے اور خود اس کی آمد کی بشارت سابق پیغمبر کی زبانی لوگوں کو ملتی رہی ہے اسی طرح ایک نسل کے بعد دوسری نسل آتی رہی اور زمانہ گزر تا چلا گیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق محمد (ص) کو سلسلہ نبوت کی تکمیل کے لئے بھیجا، اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے آپ کے بارہ میں پہلے ہی عہد و پیمان لے رکھا تھا۔آپ کی نشانیاں مشہور و معروف ہوچکی تھیں اور آپ کی ولادت ایک ولادت عظیم تھی۔

اس بارے میں رسول اکرم (ص) کے دو بڑے عمدہ کلمے ہم یہاں نقل کرتے ہیں:

"نحن الاخرون السابقون یوم القیامة"

"ہم تمام پیغمبروں اور امتوں کے بعد دینا میں آئے ہیں لیکن آخرت میں ہم سب سے آگے ہوں گے اور سب ہمارے پیچھے آئیں گے۔"

آپ کا ایک دوسرا ارشاد یہ ہے:

"آدم و من دونه تحت للوئ ی یوم القیامة"

"قیامت کے دن تمام پیغمبر میرے پرچم تلے ہوں گے۔"

قیامت کے دن اس پیشروی اور پس روی اور رسول اکرم (ص) کے پرچم تلے تمام انبیاء کے ہونے کا اصل سبب یہ ہے کہ تمام انبیاء رسول اکرم (ص) کی بعثت کے لئے مقدمہ ہیں تو آپ نتیجہ سابق انبیاء پر جو وحی نازل ہوئی وہ ایک وقتی لائحہ عمل کے دائرہ تک محدود تھی اور رسول اکرم (ص) پر نازل ہونے والی وحی ایک کلی و ابدی قانون اساسی کے لئے تھی۔مسلمان بزرگوں نے رسول اکر (ص) کے ان دو عمدہ کلمات اور معارف اسلامی کے اس اصولسےہدایت حاصل کرتے ہوئے کہ جو کچھ اس دنیا میں ظاہر ہوتا ہے اس دنیا کے واقعات کا ملکوتی ظہور ہے بڑی عمدہ اور دلپذیر باتیں کہی ہیں:

و انی وان کنت ابن آدم صورۃ

فلی فیہ معنی شاہد بابوتی

و کلہم عن سبق معنای دائیر

بدائیرئی او وارد من شریعتی

و ما منہم الا و قد کان داعیا

بہ قومہ للحق عن تبعیتی

و قبل فعالی دون تکلیف ظاہری

ختمت بشرعی المضحی کل شرعۃ

مولوی نے بھی یہی مضمون باندھا ہے:

ظاہراً آن شاخ اصل میوہ است

باطناً بھر ثمر شد شاخ

گر نبودی میل و امید ثمر

کی نشاندہی باغبان بیخ شجر

پس بمعنی آن شجر از میوہ زاد

گر بصورت از شجر بودش بار

مصطفیٰ زین گفت کارم و انبیاء

خلف من باشند در زیر لوا

بھر این فرمودہ است آن زد فنون

رمز نحن آلاخرون و السابقون

گر بصورت من ز آدم زادہ ام

من بعمنی جد جد افتادہ ام

پس ز من زائید در معنی پدر

پس ز میوہ زاد در معنی شجر

اول فکر آخر آمد در عمل

خاصہ فکری کو بود وصف ازل

شبستری کہتا ہے:

کی خط است از اول تابہ آخر

بر او خلق خدا جمل مسافر

در این رہ انبیاء چون سار بانند

دلیل و رہنمای کاروانند

و زیشان سید ماگشتہ سالار

ہم او اول ہم او آخر در این کا

احد درمیم احمد گشت ظاہر

دراین دور اور آمد عین آخر

ز احمد تا احد یک میم فرق است

جھانی اندرین یک میم غرق است

بر او ختم آمد پایان این راہ

بدو منزل شدہ ادعوا الی اللہ

مقام دلکشایش جمع جمع است

جمال جانفرایش شمع جمع است

شدہ اور پیش و دلہا جملہ در پی

گرفتہ دست جادہا دامن وی

قرآن کریم نے بعد میں آنے والے انبیاء (اور بدرجہ اولی خاتم انبیاء) پر سابق انبیاء کی جانب سے ایمان لانے ان کی نبوت کو تسلیم کرنے بلکہ ان کی آمد کو خوشخبری دینے کا اور ذمہ داری کا کہ وہ اپنی امت کو بھی ایسا کرنے کی ہدایت کریں اور انہیں بعد میں آنے والے انبیاء کی تعلیمات کو قبول کرنے کے لئے تیار کریں اور اسی طرح بعد میں آنے والے پیغمبروں کی جانب سے پیشرو پیغمبروں کی تائید و تصدیق کا اور اللہ تعالیٰ کا اپنے پیغمبروں سے اس خوشخبری اس تسلیم تائید تصدیق پر پختہ عہد لینے کا اس طرح ذکر کیا ہے:

( و اذ اخذ الله میثاق النبین لما اتییکم من کتاب و حکمة ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتومنن به و لتنصرنه قال اقررتم و اخذتم علی ذلکم اصی قالوآ اقررنا قال فاشهدوا وانا معکم من الشهدین ) (۸)

ترجمہ:"یاد کرو اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ"آج میں نے تمہیں کتاب اور حکمت و دانش سے نوازا ہے۔کل اگر کوئی دوسرا رسول تمہارے پاس اس تعلیم کی تصدیق کرتا ہوا آئے جو پہلے سے تمہارے پاس موجود ہے تو تم کو اس پر ایمان لانا ہوگا اس کی مدد کرنی ہوگی"یہ ارشاد فرما کہ اللہ نے پوچھا"کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو اور اس پر میری طرف سے عہد کی بھاری ذمہ داری اٹھاتے ہو۔"انہوں نے کہا"ہاں ہم اقرار کرتے ہیں"اللہ نے فرمایا "اچھا تو گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گاوہ ہوں۔"

ن یوتوں کا ا یک رشتہ میں بندھا ہونا اور ایک نبوت کا دوسری سے مربوط ہوتے چلے جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ نبوت تکمیل کی جانب ایک تدریجی سفر ہے جس کا آخر حلقہ اس کی سب سے اونچی چوٹی ہے۔عارفین اسلام کہتے ہیں:

"الخاتم من ختم المراتب باسره ا"

عنی پیغمبر خاتم وہ ہے جس نے تمام مراحل طے کرلیے ہیںاور وحی کی رو سے کوئی ایسی راہ باقی نہیں رہ گئی ہے جسے اس نے طے نہ کیا ہو اور کوئی ایسا نکتہ باقی نہیں رہ گیا ہے جس کی اس نے وضاحت نہ کی ہو۔اگر ہم یہ فرضکر لیں کہ کسی علم سے متعلق تمام مسائل حل ہوچکے ہیں تو پھر اس شعبہ میں کسی نئی تحقیق یا کسی نئے انکشاف کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔وحی سے متعلق مسائل کا معاملہ بالکل ایسا ہی ہے۔خدا کے آخری دستور کے آجانے کے بعد کسی نئے انکشاف اور کسی نے پیغمبر کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ذریعہ جو کچھ انسنا پر منکشف ہوا ہے، اسے ایک ایسے کامل ترین مکاشفہ کی حیثیت حاصل ہے جو کسی انسنا کے دائرہ امکان میں ہو سکتا ہے یہ بات واضح ہے کہ ایک ایسے مکمل مکاشفہ کے بعد دوسرا جو بھی مکاشفہ ہو گا، وہ دار اصل پہلے سے طے کردہ راہ کی ہی ایک چیز ہو گی اس کے ساتھ کوئی نئی بات نہیں ہوغی، آخری بات تو وہی ہے جو اس کامل ترین مکاشفہ میں آچکی ہے:

( و تمت کلمت ربک صدقاً و عدلاً لامبدل لکلمٰته و هو السمیع العلیم ) (۹)

ترجمہ:"تمہارے رک کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے کوئی اس کے فرامین کو تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔"

مرحوم فیض نے اپنی کتنا علم الیقین کے(۱۰) پر کسی بزرگ کا قول نقل کیا ہے:

"انسانی فطرت کا ہدف و مقصود و قرب الٰہی کے مقام تک پہنچنا ہے اور پیغمبروں کی رہنمائی کے بغیر ممکن نہیںہے۔اس اعتبار سے نبوت نظام زندگی کا ایک حصہ قرار پاتی ہے لیکن اس کا مقصود اور ہدف سب سے اونچا مرتبہ اور نبوت کا آخری درجہ ہے نہ کہ نبوت کا اولین درجہ، سنت الٰہی کے مطابق نبوت بتدریج درجہ کمال تک پہنچتی ہے جیسے کہ ایک عمارت بتدریج مکمل ہوتی ہے۔عمارت کی تعمیر کا ہدف اس کے پایے اور دیواریں نہیں ایک مکمل مکان ہوتا ہے، نبوت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے نبوت کا ہدف اس کی تکامل صورت ہے یہی وجہ ہے کہ نبوت کا سلسلہ ایک جگہ پہنچ کر ختم ہو جاتا ہے اور مکلم ہو جاتا ہے۔

وہ مزید کسی اضافے کو قبول نہیں کرتا کیونکہ تکمیل کے بعد کوئی اضافہ و کمال کے منافی ہو تا ہے اور اس کی حیثیت ایک زائد انگلی کی سی ہو جاتی ہے، پیغمبر اکرم (ص) کی معروف حدیث میں اس جانب اشارہ کیا گیا ہے، آپ نے فرمیا نبوت ایک مکان کی مانند ہے جو تیار ہو چکا ہے لیکن اس کے مکمل ہو ے میں سرف ایک اینٹ کی جگہ باقی رہ گئی ہے اس جگہ کو میں ہی بھرنے والا ہوں یا میں ہی اس آخری اینٹ کی جگہ باقی رہ گئی ہے اس جگہ کو میں ہی بھرنے والا ہوں یا میں ہی اس آخری اینٹ کا نصب کرنے والا ہوں!

ہم نے گذشتہ صفحات میں جو کچھ لکھا ہے، وہ عقیدہ ختم نبوت کے پس منظراور اس کی بنیادون کی جانب رہنمائی کے لیے کافی ہے۔

یہ بات واضح ہوگئی کہ انسانی فطرت میں دین کی طلب وہ بنیاد ہے جس پر عقیدہختم نبوت استوار ہوتا ہے تمام انسانوں کی فطرت ایک ہے، تکمیل انسانیت کا سفر ایک با مقصد سفر ہے جو ایک متعین اور سیدھے راستہ جاری ہے ۔اس اعتبار سے دین حق، جو فطرت کے تقاضوں کی وضاحت کرتا ہے اور انسان کی راہ راست کی جانب رہنمائی کرتا ہے، صرف ایک ہی ہوسکتا ہے ۔ایک طریق زندگی جو انسانی فطرت کے مطابق ہو، جامع اور کلی ہو اور ہر طرح کی تبدیلی و تحریف سے محفوظ ہو اور جو مسائل کی اچھی طرح تشخیص کر سکے اور جسے اچھی طرح منطبق کیا جاسکے اور عمل و نفاذ کے مرحلے میں ہمیشہ رہنمائی کرسکے اور حالات کے مطابق مختلف طریقوں لائحہ عمل اور بے شمار جزئی قوانین کے لئے سرچشمہ ثابت ہوسکے انسانی فطرت کا ایک اہم تقاضا اور انسان کی ایک بنیادی ضرورت ہے آئدہ مضامین اس پہلو کو بہتر طریقے پر واضح کریں گے ۔

اب ہم ان سوالات کا جواب تلاش کرتے ہیں جن کی طرف ابتدا میں اشارہ کیا گیا تھا۔

آسمانی دروازے

پہلا سوال جس کے سبب ختم نبوت کا عقیدہ وجود میں آیا وہ عالم غیب اور انسان کے درمیان رابطے سے تعلق رکھتا ہے وہ سوال یہ ہے کہ سب سے پہلے دور کے انسان نے اپنی جہالت اور بے علمی کے باوجود وحی و الہٰام کے راستے سے عالم غیب کے ساتھ کس طرح رابطہ پیدا کرلیا اور اس پر آسمان کے دروازے کیسے کھل گئے؟ جبکہ ترقی یافتہ بعد کا انسان اس رحمت سے محروم رہا اور اس پر آسمان کے دروازے بند ہوگئے۔

کیا فی الواقع انسان کی روحانی اور باطنی صلاحیتیں کم ہوگئی ہیں اور وہ اس اعتبار سے تنزل میں چلا گیا ہے۔

یہ شبہ اس خیال سے پیدا ہوا ہے کہ عالم غیب کے ساتھ معنوی ربط و تعلق انبیاء کے ساتھ مخصوص ہے اس لئے سلسلہ نبوت کے منقطع ہونے کا لازمی نتیجہ عالم غیب اور عالم انسانی کے درمیان روحانی اور معنوی رابطے کے انقطاع کی صورت میں ظاہر ہوگا۔

لیکن یہ خیال اپنی کوئی بنیاد نہیں رکھتا۔قرآن کریم بھی غیب اور ملکوت کے ساتھ اتصال کے درمیان اور مقام نبوت کے درمیان لازم و ملزوم کے تعلق کا قائل نہیں ہے جیسا کہ خرق عادت کو وہ پیغمبری کی واحد دلیل تسلیم نہیں کرتا، قرآن کریم ایسے اشخاص کا بھی ذکر کرتا ہے کہ ان کی معنوی زندگی ایسی طاقت سے بہرہ مند رہی ہے کہ انہوں نے فرشتوں کے ساتھ ہمکلامی کی ہے اور ان سے خارق العادت (غیر معمولی) امور انجام پائے ہیں حالانکہ وہ اشخاص نبی نہیں تھے۔اس کی بہترین مثال عمران کی بیٹی، عیسی مسیح (ع) کی ماں مریم ہے۔قرآن نے ان کے بارے میں حیرت انگیز واقعات کا ذکر کیا ہے۔قرآن موسیٰ (ع) کی والدہ کے بارے میں بھی کہتا ہے ہم نے اس کی طرف وحی بھیجی کہ موسیٰ (ع) کو دودہ پلائے اور جب اسے موسیٰ (ع) کے بارے میں کسی خوف کا احساس ہوا تو اسے دریا میں بہادے ہم اسے محفوظ رکھ کر تیری طرف واپس لوٹا دیں گے ہمیں معلوم ہے کہ عیسیٰ (ع) کی ماں پیغمبر تھیں اور نہ موسیٰ (ع) کی والدہ۔

حقیقت یہ ہے کہ ملکوتی حقائق کے غیب و شہود کے ساتھ اتصال، آواز غیبی کا سننا اور بالاخر غیب سے خبر کا پانا نبوت نہیں ہے، نبوت پیغام کا لانا ہے ہر دو شخص جسے غیب کی خبر مل جائے پیغام کا لانے والا نہیں ہوتا۔

قرآن اشراق اور الہٰام کا درازہ ان تمام لوگوں پر کھلتا ہے جو اپنے باطن کو پاک کرلیتے ہیں:

( ان تتقوا الله یجعل لکم فرقاناً ) (۱۱)

ترجمہ:"اگر تم خدا ترسی اختیار کرو گے تو اللہ تمہارے لئے کسوئی بہم پہنچادے گا۔"

( والذین جاهد و افینا لنهدینهم سبلنا ) (۱۲)

ترجمہ:جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے رستے دکھائیں گے۔

اسی فلسفہ کے نقطہ نظر سے معنوی اور عرفانی زندگی زندگی کا ایک نمونہ پیش کرنے کے لئے نہج البلاغہ کے ایک خطبہ کچھ حصہ یہاں نقل کرنا کافی ہوگا۔

نہج البلاغہ کے خطبہ ۲۲۰ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔

"ان الله تعال یٰ جعل الذکر جلاء للقوب تسمع به بعد الوقر ة و تبصربه بعد العشو ة و تنقادبه بعد المعاند ة و ما برح لله عزت آلائ ه ف ی البرهة بعد البرهة و فی ازمان الفترات عبادنا جاه م ف ی فکر ه م و کلم ه م ف ی ذات عقوله م"

ترجمہ:"اللہ تعالیٰ نے اپنی یاد کو دلوں کا صیقل قرار دیا ہے۔دل بہرے ہوجانے کے بعد بھی اس ذکر کے ذریعہ سننے والے اور اندھے ہوجانے کے بعد دیکھنے والے اور سرکشی و عناد کی راہ پر چل پڑنے کے بعد بھی مطیع و فرمانبردار ہو جاتے ہیں۔ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے اور آج بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ زمانے کے ہر ایک حصے میں اور ان زمانوں میں جبکہ لوگوں کے درمیان کوئی پیغمبر موجود نہ ہو اللہ تعالیٰ کے ایسے بنے موجود رہے ہیں آج بھیء موجود ہیں جن کے دلوں میں وہ کوئی راز کی بات ڈالتا رہا ہے اور ان کی عقلوں کی راہ سے ان کے ساتھ بات کرتا ہے۔"

رسول اکرم (ص) سے روایت ہے:

( ان لله عباداً لیسوا بانبیاء یغبط هم النبوة )

"اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے بھی موجود ہیں کہ وہ پیغمبر نہیں ہیں لیکن نبوت ان پر رشک کرتی ہے۔"

شیعہ ائمہ اطہار (ع) کی باطنی ولایت و امامت کے قائل ہیں جبکہ وہ انہیں نبی نہیں سمجھتے۔اس سے بات بالکل واضح ہوجاتی ہے۔

عارفین اسلام نے عرفانی اصطلاحات میں معنی سیرو سلوک کے مراتب کو چار مرحلوں میں تقسیم کیا ہے ہم طول کلام سے بچنے کے لئے اس کے صرف دو مرحلوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

الف) سفر از خلق بہ حق (مخلوق کی طرف سے خالق کی جانب سفر)

ب) سفر حقبہ خلق (خالق کی طرف سے مخلوق کی جانب سفر)

مخلوق کی جانب سے خلاق کی طرف سفر پیغمبروں کے لئے مخصوص نہیں ہے۔پیغمبر تو معبوث ہی اسی لئے ہوئے ہیں کہ اس سفر میں انسان کی مدد کریں، جو کچھ پیغمبروں کے لئے مخصوص ہے، وہ خالق کی جانب سے مخلوق کی جانب سفر ہے یعنی وہ مخلوق کی دستگیری اور ارشاد ہدایت پرمامور ہیں اس سے مراد پیغمبر کی کثرت کی جانب واپسی ہے تا کہ اسے وحدت کی راہ دکھا سکے۔

صدر المتالھین(۱۳) پر لکھتے ہیں:

"وحی یعنی پیغمبری اور منصب نبوت کے لئے قلب و سماعت پر فرشتے کا نزول منقطع ہو چکا ہے اور اب کسی شخص پر کوئی فرشتہ نازل مہیں ہوگا اور اسے کسی فرمان الٰہی کے جاری کرنے پر مامور نہیں کیا جائے گا، کیونکہ "اکلمت لکم دینکم" کے حکم کے تحت جو کچھ وحی کے راستے انسان تک پہنچتا تھا وہ پہنچ چکا ہے لیکن الہام و اشراق کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوا ہے اور نہ آئند ہوگا اس راہ کا مسدوء ہونا ممکن نہیں۔"

اس سلسلے میں پہلے بہت کچھ کہا جا چکا ہے اس کا نقل مرنا موجب ظوالت ہوگا۔ہمارے زمانے کے دانشمندوں میں سے عالمہ اقبال نے ایک بڑی لطیف بات کہی ہے۔اقبال نے نبی اور عارف کے درمیان (ان کے قول کے مطابق مرد باطنی) فرق کو اس طرح واضح کیا ہے۔

ایک مرد عارف تجرنہ اتحادی (وصول بہ حق) سے حاصل کرنے والے اطمینان و سکون کے بعد حیات دنیوی کی جانب واپسی کو پسند نہیں کرتا۔اگر وہ ضرورت کی بنا پر واپس بھی آتا ہے تو انسانیت کے لئے اس کی واپسی چنداں سودمند نہیں ہوتی لیکن خلق کی طرف پیغمبر کی واپسی ثمر بخش اور تخلیقی پہلو کی حامل ہوتی ہے۔پیغمبر واپس آتا ہے اور وقت کے دھارے میں اتر جاتا ہے تاکہ تاریخ کے دھارے کو قابو میں لائے اور اس طرح کمال مقاصد سے ایک جہاں تازہ پیدا کرے۔ایک مرد عارف کے لیے تجربہ اتحادی (وصول بہ حق) سے حاصل ہونے والا سکون ایک انتہائی مرحلہ ہے اور پیغمبر کے لئے اس کی روحانی قوت کا بیدار ہونا ہے جو ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔یہ قوت ایک ایسے اندازے کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے کہ عالم انسانی میں ایک مکمل انقلاب برپا کردیتی ہے پیغمبری کو ایک ایسی باطنی خود آگاہی رکھنے والی نوع سے تعبیر کیا جاسکتا ہے کی اس میں تجربہ اتحادی (وصول بہ حق) اپنی حدود سے باہر نکلنے کے قریب پہنچ جاتا ہے اور ایسے مواقع کی تلاش میں ہوتا ہے کہ اجتماعی زندگی کی طاقتوں کو از سر نو توجیہ کرے یا انہیں ایک تازہ شکل دے!

پس انقطاع نبوت سے مراد ارشاد و ہدایتر کے لیے خدا کی طرف سے ماموریت کا منقطع ہونا ہے۔خدا کی طرف سفر کرنے والوں اور سالکوں کے لیے معنوی فیض کا منقطع ہونا نہیں۔

اگر ہم نے یہ گمان کیا کہ اسلام نے نبوت کے اعلان کے ساتھ معنوی زندگی کی بھی نفی کردی ہے تو ہم سخت غلطی کریں گے۔

نبوت تبلیغی

دوسرا سوال یہ ہے کہ پیغمبران کرام بحثییت مجموعی دو بڑی ذمہ داریوں کو پورا کرتے رہے ہیں۔وہ خدا کی طرف سے انسان کے لیے قانون اور دستور العمل لاتے رہے ہیں وہ دوسرے یہ کہ وہ لوگوں کو خدا کی طرف بلانے کے ساتھ انہیں اس دور اور زمانے کے الٰہی دستور العمل پر کاربند ہونے کی دعوت دیتے رہے ہیں۔پیغمبروں کی اکثریت اسی دوسرے فریضے کے انجام دینے پر مامور رہی ہے۔ایسے پیغمبروں کی تعداد بہت کم ہے جن کو قرآن اولوالعزم قرار دیتا ہے اور جن کے ذریعے قانون اور دستور العمل بھیجا گیا ہے۔اس اعتبار سے نبوتیں دو قسم کی رہی ہیں ایک نبوت تشریعی اور دوسری نبوت تبلیغی تشر یعی پیغبر جن کی تعداد بہت تھوڑی ہے وہ صاحب شریعت و قانون انبیاء کہلاتے ہیں جبکہ تبلیغی پیغمبروں کا کام صاحب شریعت پیغمبروں کی تعلیمات کو عام کرنا اور ان ہی کے مطابق تعلیم و ارشاد کا کام انجام دینا رہا ہے۔اسلام نے ختم نبوت کا اعلان کرکے نہ صرف تشریعی نبوت بلکہ تبلیغی نبوت کے سلسلے کوبھی ختم کردیا ہے۔آخر ایسا کیوں کیا گیا؟ امت محمد (ص) اور ملت اسلامیہکو پیغمبروں کے ہدایت و ارشاد کے اس سلسلے سے کیوں محروم کیا گیا؟

بلفرض ہم نے یہ بات تسلیم کرلی کہ تکمیل اتمام اور جامعیت و کلیت کی بنا پر تسریعی نبوت کا سلسلہ منقطع کردیا گیا لیکن تبلیغی نبوت کے سلسلے کو کس حکمت و فلسفے کی بنا پر ختم کیا گیا؟

حقیقت یہ ہے کہ نبوت اور ہدایت وحی کی اصل ذمہ داری یعنی وہی پہلی ذمہ داری (تشریعی) ہے جبکہ تبلیغ تعلیم اور دعوت کی ذمہ داری (تبلیغی) نصف بشری ہے تو نصف الٰہی۔

وحی اور نبوت یعنی عالم وجود کی بنیادوں سے ایک پوشیدہ اتصال اور رابطہ اور مخلوق کی ہدایت کے لیے اس کی ماموریت در اصل مظاہر ہدایت کا ایک مظہر ہے جو سارے عالم وجود پر حکم فرما ہے۔

( الذی خلق فسویٰ والذی قدر فهدیٰ ) (۱۴)

ترجمہ:"جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی۔"

موجودات زندگی کی سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے اس درجہ کمال کی مناسبت سے جس پر وہ پہنچ جاتے ہیں ہدایت خاص سے پہرہ مند ہوتے ہیں یعنی ہدایت کی شکل اور خصوصیت زندگی کے مختلف مراحل کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے۔تمام دانشور اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ حیوانات اپنی ساخت کے وسائل طبیعی کے اعتبار سے ضعیف تر اور ناتوان تر ہیں لیکن وہ پوشیدہ جبلی رہنمائی کے اعتبار سے قوی تر ہوتے ہیں انہیں فطرت کی ایک مستقل سر پرستی اور حمایت حاصل رہتی ہے۔وہ جس قدر طبعی وسائل اور عقلی وہمی خیالی اور حسی طاقتوں سے لیس ہوتے چلے جاتے ہیں وجود کی سیڑھی پر ان کے قدم بلندی کی جانب اٹھتے چلے جاتے ہیں۔ان کی جبلی ہدایت میں کمی آنے لگتی ہے۔ٹھیک اس بچہ کی طرح جو کمسنی کے ابتدائی مراحل میں ماں باپ اور دوسرے اشخاص کی مستقل سر پرستی اور نگرانی سے بہرہور رہتا ہے اور جس قدر وہ رشد و بلوغ حاصل کرتا جاتا ہے والدین کی مستقل نگرانی و سرپرستی کے دائرے سے باہر نکتا چلا جاتا ہے۔

جاندار مخلوقات کا زندگی کی سیڑھیوں پر چڑھ کر بلند ہونا اور ان کا عقلی وہمی خیالی حسی اور عضوی وسائل سے لیس ہونا ان کے استحکام و استقلال کو بڑھانا ہے اور اس اعتبار سے ان کی جبلی ہدایت کم ہوجاتی ہے۔

کہا جاتا ہے کیڑے دوسرے تمام حیوانات کی بہ نسبت جبلی ہدایت سے زیادہ لیس ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تکمیلی مراحل کے اعتبار سے سب سے نچلے درجہ میں ہیں اور انسان جو تکمیل کی سیڑھی کے سب سے اونچے پلہ پر پہنچا ہوا ہے تمام مخلوقات کی بہ نسبت جبلی ہدایت میں کمزور تر ہے۔

وحی ہدایت کے عالی ترین اور بلند ترین مراتب و مظہر میں سے ایک ہے۔وہ اپنے اندر ایک ایسی رہنمائی رکھتی ہے جو حس خیال عقل علم اور فلسفہ کی دسترس سے باہر ہے ان میں سے کوئی چیز وحی کی جگہ نہیں لے سکتی لیکن وحی تشریعی ہی اس خصوصیت کی حامل ہے وحی تبلیغی نہیں وحی تبلیغی کا معاملہ دوسرا ہے۔

انسان اس وقت تک تبلیغی وحی کا محتاج رہتا ہے جب تک اس کی عقل علم اور تمدن کا فرجہ اس مقام تک بلند نہیں ہو جاتا کہ وہ خود اپنے دین کے بارے میں دعوت تعلیم تبلیغ تفسیر اور اجتہاد کا فرض انجام دے سکے علم اور عقل کا ظہور دوسرے الفاظ میں انسانیت کا رشد و بلوغ خود وحی تبلیغی کو ختم کر دیتا ہے اور علماء ان انبیاء کے جانشین قرار پاتے ہیں۔

جیسا کہ ہمیں معلوم ہے قرآن نے اپنی نازل ہونے والی پہلی آیت میں پڑھنے لکھنے کی اور قلم وعلم کی بات کی ہے۔

( اقرا باسم ربک الذی خلق؛ خلق الانسان من علق؛ اقراء و ربک الاکرم؛ الذی علم بالقلم؛ علم الانسان مالم یعلم ) (۱۵)

ترجمہ: "پڑھو (اپنے نبی) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا جمے ہوئے خون کے ایک لو تھڑے سے انسان کی تخلیق کی پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا۔انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا۔"

یہ آیت اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ قرآن کا عہد پڑھنے لکھنے سکھانے کا اور علم و عقل کا عہد ہے۔یہ آیت ہمیں اشار تا بتاتی ہے کہ قرآن کے اس دور میں تعلیم تبلیغ اور آسمانی آیات کی حفاظت کی ذمہ داری علماء کی طرف منتقل کردی گئی ہے اور علماء اس اعتبار سے انبیاء کے جانشین قرار پاتے ہیں۔اس آیت نے اس عہد میں بشریت کے استقلال اور بلوغ کا اعلان کیا ہے۔ قرآن نے اپنی تمام آیات میں تدبر عقلی استدلال فطرت کے تجرباتی و عینی مشاہدہ تاریخ کے مطالعہ اور گہرے غور و فکر کی دعوت دیتا ہے یہ سب ختم نبوت کی اور وحی تبلیغی کی جگہ علم و عقل کے جانشین ہونے کی نشانیاں ہیں۔

قرآن کے لیے جس قدر کام ہوچکا ہے کیا کسی دوسری آسمانی کتاب کے لیے اس قدر کام انجام دیا گیا ہے؟ نزول قرآن کے ساتھ ہی قرآن کے ہزاروں حافظ پیدا ہوگئے۔نزول قرآن کو ابھی نصف صدی بھی نہیں گزری تھی کہ علوم قرآنی کی خاطر نحو وصرف قواعد زبان اور عربی زبان کی لغات کی تیاری کا کام شروع ہوچکا تھا۔معانی بیان اور بدایع کا علم ایجاد ہوا ہزاروں تفسیریں اور ان کے مفسرین تفسیر قرآن کی درسگاہیں وجود میں آگئیں۔قرآن کے لفظ لفظ کے بارے میں تحقیق کا کام ہونے لگا اس کام زیادہ حصہ ان لوگوں کے ہاتھوں انجام پاتا رہا جن کی مادری زبان عربی نہیں ہے۔ صرف یہ قرآن سے متعلق خاطر ہی رہی ہے جس نے اس قدر جوش و جذبہ پیدا کردیا۔یہ ساری سرگرمیاں آخر توریت انجیل اور اوستا کے لیے کیوں ظاہر نہیں ہوئیں کیا خود یہ بات بشریت کے رشد و بلوغ اور کتاب آسمانی کی تبلیغ و حفاظت اس کی صلاحیت پر دلالت نہیں کرتی؟ کیا یہ اس بات کی دلیل نہیںہے کہ عقل و دانش نبوت تبلیغی کی جانشین بن گئی ہے۔

انسان اپنے ابتدائی دور میں مکتب کے اس کمسن بچے کی طرح تھا جو چند روز بعد ہی اپنی کتاب کو پھاڑ کرپھینک دیتا ہے اس کے بر عکس عہد اسلامی کا انسان ایک بزرگ عالم کی طرح ہے کہ وہ جس قدر اپنی کتابوں کا بار بار مطالعہ کرتا ہے اسی قدر ان کے مضمین اسے یاد ہوتے چلے جاتے ہیں اور وہ ان کی گہرائی میں اتر تا چلا جاتا ہے۔

انسانی زندگی کو بالعموم عہد تاریخ اور تاریخ سے پہلے کے عہد کے دو ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔تاریخ کا عہد اس دور کو کہا جاتا ہے جس میں انسان اپنی یادداشتوں کو کتبوں اور کتابوں کی صورت میں محفوظ کرنے کے قابل ہوگیا تھا اس دور کی زندگی کے بارے میں ان ہی یادداشتوں کو فیصلہ کن قرار دیا جاتا ہے لیکن ما قبل تاریخ کے عہد کے ایسے کوئی آثار موجود نہیں ہیں جو اس زمانے کی زندگی کے بارے میں فیصلے کی بنیاد بن سکیں۔

لیکن ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ عہد تاریخ کے آثار بھی زیادہ تر پراگندہ اور منتشر ہیں، البتہ اس عہد کا وہ آخری حصہ ظہور اسلام کے دور سے پوری طرح متصل ہے جس میں انسان نے پانی تاریخ اور آثار کو منظم طریقے پر نسل بہ نسل منتقل کرنا شروع کردیا تھا خود اسلام کو اس رشد عقلی کا ایک بڑا عامل سمجھا جاتا ہے۔عہد اسلامی میں مسلمانوں نے خود اپنے آثار کی حفاظت و نگہداشت کا کام شروع کردیا تھا۔اس کے ساتھ مسلمانوں نے پچھلی قوموں کے آثار کی بھی کم و بیش حفاظت کی اور انہیں بعد کی نسلوں کی طرف منتقل کرتے رہے۔یہ ختم نبوت کا قریبی زمانہ ہی ہے کہ جس میں انسان نے اپنے علمی اور دینی ورثوں کی کی حفاظت کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔امر واقع یہ ہے کہ حقیقی عہد تاریخ ظہور اسلام کے عہد سے بالکل متصل ہے، گذشتہ ادوار میں ایک طرف نفیس علمی، فلسفی، اور دینی آثار ہوا اور دوسری طرف یہ آثار آب و آتش کے نذر بھی ہوتے رہے، تاریخ میں اس کی دردناک تفصیلات پوری طرح محفوظ ہیں۔

اسکندریہ کا عظیم مشرق روم کی شہنشاہیت پر مسیحیت کے اثر و رسوخ کے بعد تباہ ہو گیا اور اس مرکز تاریخی کتب خانہ متعصب عیسائیوں کے ہاتھوں نزر آتش ہو گیا!

علم کے ظہور اور ترقی کے ایک ایسے درجے تک انسان کی رسائی نے کہ وہ دین آسمانی کا محافظ، داعی اور مبلغ بن سکے، نبوت تبلیغی کی ضرورت باقی رہنے نہ دی اور اس کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے اس امت کے علماء کو انبیاء بنی اسرائیل کی مانند کہا ہے۔

علامہ اقبال نے ایک بڑی عمدہ بات کہی ہے۔

"پیغمبر اسلام دنیائے قدیم جدید کے درمیان کھڑے ہیں۔الہام کے سرچشمے سے جب آپ کا رشتہ جوڑا جاتا ہے تو دنیائے قدیم سے آپ کا تعلق پیدا ہو جاتا ہے اور جب روح الہام کو بروئے کار لایا جاتا ہے تو دنیائے جدید سے آپ کا ربط ہو جاتا ہے۔زندگی نے آپ کی ذات میں معرفت کے وہ دوسرے سرچشمے دریافت کر لئے ہیں جو اس (زندگی) کے نئے سفر کے لیے موزون ہیں۔اسلام کا ظہور در اصل استدلالی اور استقرائی عقل کا وجود میں آنا ہے۔ظہور اسلام کے ساتھ رسالت، خود نبوت کے اختتام پذیر ہونے کی ضرورت کے نتیجے میں، حد کمال کو پہنچ جاتی ہے جس سے لازما یہ دانش مندانہ نتیجہ نکلتا ہے کہ زندگی ہمیشہ، کمسنی کے مرحلے میں اور باہر سے رہنمائی کی محتاج نہیں رہ سکتی۔اسلام میں کاہنی (فالگیر) اور موروثی سلطنت کی نفی اور قرآن میں عقل اور تجربہ پر دائمی توجہ اور اس کتاب مبین کا فطرت اور تاریخ کو معرفت بشری کے سرچشموں کی حیچیت دنیا در اصل ختم نبوت کے واحد عقیدے کے مختلف خدوخال ہیں۔عقیدہ ختم نبوت کے یہ معنے نہیں لینے چاہیں کہ زندگی کی انتہائی سرنوشت یہ ہے کہ عقل کامل جزبات و احساسات کی جگہ حاصل کرلے، یہ بات نہ ممکن ہے اور نہ مطلوب"

اسلام نے اعلان ختم نبوت کے ضمن میں اپنی ابدیت کا اعلان کیا ہے:"حلال محمّدٍ حلال الی یوم القیامه و حرام محمد حرام الی یوم القیامة"

ترجمہ: "محمد کا حلال کیا ہوا قیامت تک حلال ہے اور محمد (ص) کا حرام کیا ہوا قیامت تک حرام ہے"

سوالات اور اعتراضات کی ساری بوچھاڑ اسی موضوع سے ہے کہا جاتا ہے کیا کسی چیز کے لیے ہمیشگی ممکن ہے؟

دنیا میں ہر چیز فانی ہے، اس دنیا کی اصل بنیاد تغیر ہے، دنیا میں سرف ایک ہی چیز جاودانی ہے اور وہ یہ کہ کسی چیز کو ہمیشگی حاصل نہیں۔

ہمیشگی اور ابدیت کے منکر کبھی اپنی باتوں کو فلسفہ کا رنگ دے دیتے ہیں اور دلیل میں تغیر و تبدل کے اس قانون کو پیش کرتے ہیں جو فطرت کا ایک مجموعی قانون ہے۔

اگر ہم مسئلے پر اس نقطہ نظر سے غور کریں تو اعتراض کا واضح جواب مل جاتا ہے کہ وہ چیز جو ہمیشہ تغٰر و تبدل سے دوچار رہتی ہے وہ مادہ اور دنیا کی مادی ترکیبات ہیں لیکن قوانین اور نظامات خواہ وہ طبیعی نظامات ہوں یا وہ اجتماعی نظامات جو طبیعی اصولوں سے ہم آہنگ ہوں اس قانون تغیر و تبدل کے تحت نہیں آتے، ستارے اور شمسی نظامات ظاہر ہوتے ہیں اور چند دنوں بعد فرسودہ اور فانی ہو جاتے ہیں لیکن قانون کشش اپنی جگہ رہنا ہے، نباتات اور حیوانات وجود میں آتے ہیں اور فنا ہو جاتے ہیں لیکن قوانین حیات باقی رہتے ہیں۔

ہی حال انسانوں اور ان کی زندگی کے قابون کا ہے، انسان جن میں پیغمبر بھی شامل ہے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں لیکن پیغمبر کا لایا ہوا آسمانی قانونزندہ اور تابندہ رہتا ہے ۔

مصطفیٰ را وعدہ داد الطاف حق

گر بمیری تو نمیرد این سبق

مظاہر فطرت تغیر پذیر ہیں قوانین فطرت کو تغیر نہیں، اسلام قانون ہے نہ کہ مطاہر کائنات سے ایک مظہراسلام اسی صورت مین مردہ ہو سکتا ہے کہ وہ قوانین فطرت سے ہم آہنگ نہ ہو لیکن جب اسلام کا اپنا دعویٰ ہے کہ وہ فطرت اور انسانی سرشت سے اور اس کے معاشرے سے تازگی اور قوت حاصل کرتا ہے اور قوانین فطرت سے ہم آہنگ ہے تو آخر وہ کس طرح ہو سکتا ہے؟

کبھی اجتماعیت کے پہلو سے اعتراض کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اجتماعی ضوابط اجتماعی تقاضوں کی بنیاد پر وضع کئے جاتے ہیں، جب معاشرہ کی ضروریات قوانین اجتماعی کی بنیاد ہیں تو ان کا عوامیل تمدن کی توسیع و تکمیل کے ساتھ ساتھ متغییر ہونا بھی ضروری ہے ہر زمانے کی ضروریات دوسرے زمانے کی ضروریات سے مختلف ہوتی ہیں، میزائیل طیاروں بجلی اور ٹیلی ویژن کے اس جدید دور کی ضروریات گھوڑوں، خچرون اور اونٹون کی پرانے کی ضروریات سے قطعی مختلف ہون گی، یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس جدید دور کے لیے بھی وہی ضوابط نافذ ہوں جو پرانے زمانے میں رائج تھے، دوسرے الفاظ میں عوامل تمدن کے اندر ترقی و توسیع لازمانئے تقاضے پیدا کرے گی، اس لیے جبر تاریخ کا راستہ روکنا اور زمانہ کے ایک ہی حال پر رکھنا ممکن نہیں ہے اور زمانے کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کرنا بھی ممکن نہیں ہے، جامد اور یکساں ضوابط کا پابند رہنا مقتضیات زمانہ کے ساتھ مطابقت اور لچک پیدا کرنے اور تمدن کے قافل کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

بے شک اہم ترین مسئلہ ہے، ہماری نئی نسل بجز تغیر و تبدل اور وجدت طلبی اور زمانے کے نئے نئے تقاضوں کے کچھ نہیں سوچتی، نئی نسل کا سامنا کرتے بھی جو بات سب سے پہلے کانون تک پہنچتی ہے وہ یہی ہے، اس نسل کی انتہا پسندوں کے نقطہ نظر سے مذہب اور نو طلبی دو متضاد وجود ہیں، نو طلبی کی خاصیت حرکت اور ماضٰ سے منہ موڑنا ہے جبکہ مذہب کی خاصیت جمود سکون، ماضی سے وابستگی اور موجودہ وضع کی حفاظت کرنا ہے۔

اسلام کو دسرے ہر مذہب سے زیادہ اس طرز فکر کے حامل گروہ سے مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے، اسلام کا ابدیت و ہمیشگی کا دعوی اس گروہ کے لیے بڑا نا قابل برادشت ہے، اسلام زندگی کے تمام شعبون میں عمل دخل رکھتا ہے، خدا اور بندے کے درمیان تعلق سے لے کر افراد کے اجتماعی روابط، خاندانی روابط، فرد اور اجتماع کے روابط انسنا اور اس دنیا کے با ہمی روابط سب ہی سے وہ بحث کرتا ہے، اگر اسلام دوسرے مذاہب کی طرح چند رسلم عبادات اور خشک اخلاقی ضوابط تک محدود ہوتا تو پھر اس کے لیے کوئی دشواری نہ تھی لیکن وہ اس قدر مدنی، فوجداری، دیوانی، سیاسی، اجتماعی اور خاندانی قوانین و ضوابط رکھتے ہوئے کیا کر سکتا ہے؟

ہم نے اوپر جو اعتراض نقل کیا ہے اس میں جبر تاریخ ضروریات میں تغیر مقضیات زمانہ کی رعایت جیسے نکات کو اٹھا یا گیا ہے اس لیے اعتراض کے ان تین اصل نکات پر مختصراً، بحث کرنا ضروری ہے، اس کے بعد اسلام کے نقطہ نظر سے ہم اس اعتراض کو رفع کرنے کی کوشش کریں گے، ان محدود صفحات مین بحث کے تمام پہلووں کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے، ایک ایسا مسئلہ جو فلسفہ، فقہ، تاریخ اور اجتماعیات سب ہی سے متعلق ہے ایک ضخیم کتاب کی وسعت چاہتا ہے جسے برسون کے مطالعہ کا حاسل قرار دیا جا سکے تا ہم توقع ہے کہ یہ مختسر مقالہ اس اشکال کے رفع کرنے میں مدد دے گا۔

جبر تاریخ

یہ کلمہ و اجزاء سے مرکب ہے ۔جبر اور تاریخ جبر کا مطلب کسی چیز کا حتمی اور یقینی ہونا ہے فلاسفہ کی اصطلاح میں اسے ضرورت اور وجوب کہا جاتا ہے مثلا :جب ہم ۵ *۵ کہتے ہیں تو یہ ضرب کھانے والے دونوں اعداد ضرورتا اور جبرا ۲۵ کے مساوی ہوں گے یعنی حتما ایسا ہی ہے اس کے خلاف ہونا ممکن نہیں ہے ۔یہ بات ظاہر ہے کہ جبر کا لفظ اصطلاحا ایک فلسفیانہ مفہوم رکھتا ہے ۔اس سے ہٹ کر جبر کا مفہوم حقوقی فقہی اور عرفی ہے یعنی یہ لفظ اکراہ اور جبریہ ارمال کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۵ *۵ اپنی ذاتی ساخت کی بناء پر ۲۵ کے مساوی ہے یہ کسی جبری قوت اور جبریہ عمل کی وجہ سے نہیں ہے لیکن تاریخ، تاریخ یعنی حادثات کا مجموعہ جو انسان کی سرگذشت کو تشکیل دیتا ہے ۔انسانی سرگذشت ایک راستہ طے کرتی ہے کچھہ ایسی طاقتیں کار فرما ہیں جو اسے حرکت میں لاتی ہیں اور اسے قابو میں رکھتی ہیں جیسے ایک دستی پہیہ یا ایک کارخانہ جسے ہاتھہ یا بھاپ کی طاقت سے چلایا جاتاہے ۔تاریخ کو بھی کچھہ عوامل اور طاقتیں حرکت میں رکھتی ہیں ۔اسے گردش میں لاتی ہیں اور آگے بڑھاتی ہیں ۔اس اعتبار سے جبر تاریخ، کا مطلب سرگذشت بشر کا حتمی اور پایبند ہونا ہے، جب ہم یہ کہتے ہیں کہ تاریخ کی حرکت کی حرکت جبری ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان کی اجتماعی زندگی میں کچھہ ایسے طاقتور عوامل ہیں جو اپنے قطعی اچرات رکھتے ہیں ۔ان سے بچنا ممکن نہیں ان عوامل کی تاثیر یقینی اور حتمی ہوتی ہے ۔

جبر تاریخ، کے کلمے نے ہمارے اس دور میں بڑی قدر و قیمت حاصل کر لی ہے یہ کلمہ موجودہ زمانے میں وہی کردار ادا کررہا ہے جو اس نے ماضی میں قضا و قدر کے پردہ میں ادا کیا تھا۔حوادث زمانہ کے آگے سپرڈال دینا اور اپنے غلطیوں کے عذر تراشنا اس کا مدعا ہے ۔

یہ ایک شیر خونخوار ہے کہ اس کے مقابل تسلیم و رضا کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ماضی میں اس کا نام قضا و قدر تھا اور موجودہ دور میں اسے جبر تاریخ کہا جاتا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ نقضا و قدر اور جبر تاریخ دونوں کلمہ صحیح فلسفیانہ مفہوم کے ھامل ہیں ۔ان کے حقیقی مفہوم کو نہ سمجھنا ہی غلط تعبیر کا سبب بنا ہے ہم نے اپنی کتاب "انسان و سرنوشت :میں قضاء و قدر کے بارے میں بحث کی ہے لیکن جبر تاریخ، یہ کہ انسانی سرگذشت دینا کے تمام حوادث کی طرح نہ تبدیل ہونے والا قانون رکھتی ہے اور تاریخی عوامل دوسرے تمام عوامل کی طرح قطعی اور لازمی تاثیرات رکھتے ہیں، یہ کوی ایسی بات نہیں ہے ۔قرآن کریم نے خود سنۃاللہ کہہ کر اس کی تائید کی ہے لیکن ان عوامل کی تاثیر کی نوعیت اصل مسئلہ ہے ۔کیا تاریخ کے جبری عوامل کا اثر اس صورت میں ظاہر ہوتا ہے کہ ہر چیز وقتی محدود اور زوال پذیر ہو کر رہ جاتی ہے یا اس کی کوئی دوسری صورت بھی ہے؟

ظاہر ہے اس مسئلہ کا تعلق عوامل کی نوعیت سے ہے ۔اگر تاریخ کو گردش میں لانے والے عوامل مضبوط اور پائیدار ہوں گے تو ان کی جبری تاثیر کا نتیجہ اس شکل میں ظاہر ہوگا کہ وہ گردش و تسلسل کو برقرار رکھیں گے ۔اگر اس کے بر عکس یہ عوامل ناپا ۴ دار عامل کا تعلق خاندان کی تشکیل رفیق زندگی کے انتخاب اور بچوں کی تولید میں موثر رہا ہے ۔تاریخ کے طویل دور میں خاندانی زندگی کے خلاف تحریکیں اٹھتی رہیں لیکن وہ سب ناکام ہوگئیں ۔ایسا کوں ہوا؟ یہ تحریکیں جبر تاریک کے خلاف تھیں، جبر تاریخ کا تقاضا یہ تھا کہ خاندانی زندگی باقی رہے ۔

ایک دوسرا تاریخی عامل مذہب ہے ۔پرستش انسان کی سرشت میں شامل ہے یہ کسی نہ کسی صورت میں موجود رہی ہے ۔یہ عامل تاریخ کے تمام ادوار میں موثر رہا ہے اور اس نے مذہب پر سے توجہ کو ہٹنے نہیں دیا ۔

غرض یہ کہ جبر تاریخ کو کسی محدود اور وقتی چیز کے مساوی قرار دے کر ہر قانون اور قائدہ کی ناپائیداری پر دلیل لانا ایک بڑی غلطی ہے ۔جبر تاریخ، اس جگہ ناپائیداری کو نتیجہ کی صورت میں سامنے لاتی ہے جہاں زیر نظر عامل، جیسے اقتصادی پیداوار کا عامل ہو اور کوئی دوسرا عامل اس کی جگہ لے اس لئے انسان اور اس کی ضرورت تاریخ کو گوشزد میں لانے والے عوامل اور ان میں سے ہر عامل کی معاشرہ پر اثر انداز ہونے والی تاثیری قوت کا سراغ لگانا چاہئے تا کہ یہ معلوم ہو کہ اس کا اثر کہاں تک پہنچتا ہے اور ان میں سے کونسا عامل مضبوط و پائدار ہے اور کونسا کمزور و ناپائیدار ۔

حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی کی جملہ حالتوں کی ناپائیداری کو جبر تاریخ کے مساوی قرار دینے کا مفروضہ ہی انسان کے "یک جہتی" ہونے کے مفروضے کو آگے لانے کا سبب بنا ہے اس مفروضے کے مطابق "یک جہت" انسان زیادہ قدر و قیمت نہیں رکھتا اور تاریخ کا تعغیر ایک "یک شاخہ" تعغیر ہے ۔اس مفروضے کے حامیوں کے نقطہ نظر سے ہر دور میں تاریخ کا اصلی اور بنیادی عامل معشیت ہے دولت کی پیداوار اور تقسیم کا طریقہ، افراد کے اقتصادی روابط جیسے کارخانہ اور مزدور کے روابط، کسان اور زمیندار کے روابط جو کمزور اور تعغیر پذیر روابط ہیں، زندگی کے دوسرے گوشوں مثلا دین علم، فلسفہ، قانون، اخلاق اور ہنر کا تعین کرتے ہیں ۔ابتدا "دنیا میں اس مفروضے کا بڑا چرچا ہوا لیکن اب یہ اپنی قدر و قیمت کھو چکا ہے ۔آج دنیا اور تاریخ کے بہت سے مادہ پرست مفسرین اس مفروضے کو مسترد کرچکے ہیں ۔

ہر چند کہ ابھی علمی اعتبار سے قطعی طور ہر یہ نہیں کہاجاسکتا کہ انسان "یہ ناشنوا ساوجود "کثیر الجہت ہے اور انسانی تاریخ کی توجیہ کثیرالجہت، کے مفروضے سے ہی کی جاسکتی ہے البتہ یہ تسلیم شدہ قدر ہے انسان "یک جہت" نہیں ہے ۔اس کے یک جہت ہونے کا نظریہ اور انسانی تاریخ کے سفر کا یک خطی ہونے کا مفروضہ سب سے زیادہ بے بنیاد بے بنیادمفروضہ ہے ۔


انسانی ضروریات

کیا یہ درست ہے کہ انسان کی تمام ضروریات بدلتی رہتی ہے اور ضروریات کے تغیر کے ساتھہ ان سے متعلق قوانین و ضوابط میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے ؟ اس کا جواب یہ کہ نہ تمام انسانی ضروریات حالت تعغیر میں ہوتی ہیں اور نہ ضروریات کے تغیر کا لازمی نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ زندگی کے بنیادی اصول اور ضوابط ہی میں تبدیلی آجائے ۔

ضروریات کی پہلی قسم ضروریات دو طرح کی ہیں :بنیادی ضروریات اور ثانوی ضروریات، بنیادی ضروریات انسان کی جسمانی و روحانی ساخت اور اجتماعی زندگی کے مزاج کی گہرائیوں سے تعلق رکھتی ہیں جب تک انسان اس دنیا میں موجود ہے اور اجتماعی زندگی بسر کررہا ہے اس کی یہ ضروریات باقی رہیں گی ۔یہ ضروریات تین طرح کی ہیں "جسمانی "روحانی اور اجتماعی :

۔ جسمانی ضروریات کا تعلقات خوراک، پوشاک، مسکن اور رفیق حیات سے ہے ۔

۔ روحانی ضروریات کے ذیل میں علم، زیبایش، نیکی، پرستش، احترام و تربیت آتے ہیں اور

۔ معاشرت مبادلہ اشیاء، تعاون، عدالت، آزادی اور مساوات کا تعل قاجتماعی ضروریات سے ہے

ثانوی ضروریات وہ ضروریات ہیں جو بنیادی ضروریات سے پیدا ہوتی ہیں مختلف آلات اور وسائل زندگی کی ضروریات اسی نوع کی بنیادی ضروریات سے پیدا ہوتی ہیں جو زمانہ کے ساتھہ ساتھہ بدلتی ضرورت ہے تو خدا کے ساتھہ انسان کے رابطے یا فطرت کے ساتھہ رہتی ہیں ۔

یہ بنیادی ضروریات ہی جو انسان کو زندگی کی توسیع اور ترقی کی جانب قدم بڑھانے کے آمادہ کرتی ہیں ثانوی ضروریات زندگی کی توسیع و ترقی سے پیدا ہوتی ہیں اور زیادہ سے زیادہ توسیع و ترقی کے لئے محرک ثابت ہوتی ہیں ۔

ضروریات میں تغیر اور ان کے نئے ہونے اور پرانے ہونے کا تعلق ثانوی ضروریات سے ہے بنیادی ضروریات نہ پرانی ہوتی ہیں اور نہ ختم ہوتی ہین وہ ہمیشہ زندہ اور نئی رہتی ہیں

ثانوی ضروریات کا ایک حصہ بھی ایسا ہی ہے قانون کی ضروریات ثانوی ضروریات کے اسی حصے سے تعلق رکھتی ہے ۔قانون کی ضروریات اجتماعی زندگی کی بنیادی ضرورت کا ایک لازمی لازمی نتیجہ ہے اور اسے بھی دوام اور ہمیشگی حاصل ہے ۔انسان کسی دور میں بھی قانون سے بے نیاز نہیں ہوسکتا ۔

ضروریات کی دوسرے قسم یہ بات صحیح ہے کہ تمدن کے عوامل میں توسیع نئینئی ضروریات کو سامنے لاتی ہے اور وقتا فوقتا فرعی قوامین ضوابط و معاہدات کا ایک سلسلہ وجود میں آتا رہتا ہے مثلا حمل و نقل کے مشینی وسائل کی بنا پر یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ شہروں کے درمیان آمد ورفت کے لئے اور مختلف ممالک کے درمیان سفر اور حمل و نقل کے لئے کچھہ قوانین و ضوابط وضع کئے جائین جبکہ ماضی میں اس طرح کے قوانین اور معاہدوں کی ضرورت نہیں تھی البتہ تمدن کے عوامل میں توسیع حقوقی، تعزیری اور شہری قوانین جن کا تعلق لین دین، وکالتوں، ناجائز قبضوں، ضمانتوں، وراثت، ازدواج اور ایسے ہی دوسرے امور سے ہوتا ہے ۔اگر وہ فی الواقع عدالت اور فطری حقوق پر مبنی ہوں تو انہیں تبدیل کرنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔جب یہان سان کے رابطے سے متعلق قوانین کی تبدیلی کا سوال کیسے پیدا ہوگا۔

قانون ضروریات کی تکمیل کا شریفانہ اور عادلانہ طریقہ مقرر کرتا ہے وسائل و آلات ضرورت کی تبدیلی ان کے حصول و استفادہ اور ان کے عادلانہ تبادلے کے طریقے کو تبدیل کرنے کا سبب نہیں بنتی ۔مگر یہ فرض کرلیا جائے کہ زندگی کے اسباب وسائل اور آلات میں تبدیلی آتی ہے اور وہ ترقی و کمال کی صورت اختیار کرتے ہیں تو حق "انصاف اور اخلاق کا مفہوم بھی بدل جاتا ہے ۔دوسرے الفاظ میں ہم کو یہ فرض کرنا پڑے گا کہ حق، عدالت اور اخلاق کے مفاہیم اضافی ہیں ۔ایک چیز اگر کسی زمانے میں حق عدالت اور اخلاق کے ذیل میں آتی ہے تو دوسرے زمانے میں وہ حق، عدالت اور اخلاق کے خلاف مسجھی جاتی ہے ۔

ہمارے دور میں اس مفروضے کا بڑا چرچا ہے لیکن اس سلسلہ بیان مین اس مسئلہ پر بحث کی زیادہ گنجائش نہیں ہے یہاں ہم صرف یہ کہیں گے کہ اس مفروضے کا سبب حق، عدالت اور اخلاق کے حقیقی مفہوم سے ناواقیفیت ہے ۔حق عدالت اور اخلاق کے ذیل میں جو چیز تغیر پذیر ہے وہ ان کا نفاذ اور ان کی عملی صورت ہے نہ کہ ان کی حقیقت و ماہیت ۔اگرکوئی آئیں و دستور حقوق اور فطرت کی بنیادس پر بنایا گیا ہو تو وہ ایک زندہ انقلابی قوت سے بہرہمند ہوگا وہ زندگی کی اس شکل و سورت سے بحث کرنے کی بجائے جس کا تعلق بظاہر تمدن سے ہے، زندگی کے لئے اصلی اور حقیقی خطاط کھیچے گا ۔وہ نہ صرف زندگی کے تغیرات سے ہم آہنگ ہوگا بلکہ ان کی رہنمائی کرے گا۔نئی نئی ضروریات اور قوانین کے درمیان تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جبکہ قانون حرکت و عمل کی راہ متعین کرنے کے بجائے زندگی کی ظاہری شکل و صورت پر توجہ دے مثلا مخصوص آلات اور وسائل کو جن کا تعلق سارے کا سارا تہذیب و تمدن کے مراحل سے ہوتا ہے انہیں ہمیشہ ایک ہی صورت میں رکھنا چاہئے ۔

اگر قانون یہ چاہے کہ ہمیشہ تحریری کام ہاتھ ہی سے کیا جائے گھوڑے اور خچر ہی سواری کاکام لیا جائے اور روشنی کے لئے مٹی کے تیل کی قندیل ہی استعمال کی جائے اور صرف وہی کپڑا پہنا جائے جو ہاتھہ سے بنایاجاتا ہے ۔اس طرح کا قانون علم و تمدن کی توسیع اور اس سے پیدا ہونے والی احتیاجات سے جنگ کرتا ہے اور یہ لازمی بات ہے کہ جبر تاریخ، اس قانون کو بدل کر رکھ دے گا ۔

قانون جس قدر جزئی اور مادی ہوگا یعنی مخصوص مواد و رنگ اور مخصوص صورتوں کا حامل ہوگا، اس کے بقاء و دوام کے امکانات کم ہی ہوں گے ۔اس کے بر عکس قانون جس قدر کلی اور معنوی ہوگا اور اشیاء کی ظاہری صورتوں پر توجہ دینے کی بجائے اشیاء کے درمیان یا اشخاص کے مابین روابط پر توجہ دے گا اس کے بقاء و دوام کے امکانات زیادہ ہوں گے ۔

زمانے کے تقاضے

زمانے کے تقاضے، یعنی ماحول معاشرے اور زندگی کے تقاضے، انسان عقل، ایجاد و اختیار کی قوت سے لیس ہے اور بہتر زندگی کی خواہش رکھتا ہے، اس لیے وہ اپنی اقتصادی، اجتماعی، اور معنوی ضروریات رفع کرنے کے لیے بہتر سے بہتر افکار و نظریات اور عوامل و وسائل کو کار زار حیات میں لانے کی کوشش کرتا ہے، بہتر اور کامل تر وسائل و عوامل کی زندگی میں آمد خود بخود پرانے اور ناقص تر عوامل کو اپنی جگہ خالی کر دینے پر مجبور کرتی ہے، اس طرح انسان جدید عوامل اور ان کی مخصوص ضروریات سے وابستگی پیدا کرلیتا ہے، انسان کی مادی اور معنوی احتیاجات کے ایک سلسلے سے وابسگتی اور ان احتیاجات کو رفع کرنے والے عوامل و وسائل کا دائمی تغیر اور ان وسائل کا ہمیشہ بہتر ہوتے چلے جانا اور ایک مرحلہ پر خود ان کا نئی نئی احتیاجات کے ایک سلسلے کو وجود میں لا نا ہر دور اور زمانے میں ماحول اجتماع اور زندگی کے تقاضوں میں تغیر کا سبب بنتا رہتا ہے اور انسان کو لازمی طور پر جدید تقاضوں سے ہم آہنگی پیدا کرنے پر آمادہ کرتا رہتا ہے، اس طرح کے تقاضوں سے جنگ نہیں کرنی چاہیے اور نہ جنگ کی جاسکتی ہے۔

لیکن افسوس کہ کسی عہد کے دوران پیدا ہونے والے نئے مظاہر بہترافکار و نظریات اور کامل تر وسائل و عوامل کے اعتبار س زندگی کے لیے زیادہ سعادت بخش نہیں ہوتے۔یہ انسان ہی ہے جو اپنے زمانے، ماحول اور معاشرہ کو تشکیل دیتا ہے، اور انسان غلطی سے محفوظ نہیں ہے، اس اعتبار سے انسان کی صرف یہی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ وقر کے دہارے پر بہلتا چلا جائے اور اپنے دور کے افکار و نظریات، عادات و اطوار اور پسند و ناپسند کو اپنا تا چلا جائے اس کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہے وقت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے اور زمانے کی اصلاح کرے اگر انسان خود کو صدفی صد زمانے کے مطابق بنا تا رہے گا تو پھر وہ زمانے کو کس چیز سے ہم آہنگ کرے گا؟

افلاس فکر رکھنے والے افراد کے لیے زمانے کے تقاضے یعنی"آج کی پسنداور سلیقہ"اور یہ جملہ"آج کی دنیا پسند نہین کرتے"ہر نظری، عملی، صوری، مادی، قیاسی، تجربی، اور استقرائی منطق کی رو سے ان کی شخصیت کو متاثر کرنے اور ان کے غیر مشروط طور پر سر تسلیم خم کر دینے کے لیے بہت کافی ہے، ان لوگون کے طرز فکر کی رو سے خصوصا دنیا نے مگرب میں کسی چیز کا فیشن اور سلیقہ قرار پانا یہ کہنے کے لیے کافی ہے کہ زمانے کے تقاضے بدل گئے ہین، ان کے نزدیک یہ جبر تاریخ ہے اس سے بچنا ممکن نہیں بلندی و ترقی کے لیے اسے اختیار کرنا لازم ہے، حالانکہ یہ انسان ہی ہے جو اپنے زمانے، ماحول اور اجتماعی عوامل کو تشکیل دیا ہے، یہ چیزین عالم قدس سے نازل نہیں ہوریں، انسان خود وہ مغرب کا رہنے والا ہی کیون نہ ہو غلطی غلطی کا سزاوار ہے۔

انسان عقل اور علم سے آراستہ ہونے کے ساتھ شہوت اور خواہش نفس بھی رکھتا ہے، مصلحت اور زندگی کی طرف وہ اچھے قدم اٹھا تا ہے تو کبھی کبھی اس کے قدم غلط سمت پر بھی اٹھ جاتے ہیں، اس اعتبار سے زمانہ جہان راہ راست پر پیش قدمی کر سکتا ہے وہاں وہ راہ انحراف بھی اختیار کر سکتا ہے، اس لیے جہاں زمانے کی ایسی پیش قدمیوں کا ساتھ دنیا چاہے وہاں اس کے انحرافات کی مزاحمت بھی کرنی چاہیے۔

لفظ "آزادی" کی طرح "زمانے کے تقاضے"ان کلمات میں سے ایک ہے جن کا مشرق کی سرزمین پر بڑا برا حشر ہوا ہے اور آج یہ کلمہ استعمار کا ایک ایسا مکلم ہتھیار ہے جس سے وہ مشرق کی اصل تہذیب پر ضرب لگائے اور اس پر مغربی روح مسلط کرنے کا کام لیتا ہے کتنے فریب ہیں جو اس عنوان سے دئے جاتے ہیں اور کتنی بد بختیاں ہیں جو اس خوبصورت کتبہ کے ساتھ ہم پر مسلط کی جاتی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ زمانہ علم ہے، بلا شبہ یہ بات درست ہے لیکن کیا اس سرچشمہ علم کے علاوہ دوسرے تمام سرچشمے انسان کے لیے خشک ہو چکے ہیں اور آج جو کچھ پیش کیا جا تا ہے وہ صحیح و خالص علم کی حیثیت رکھتا ہے؟ آخر کس دور مین ہمارے اس عہد کی مانند علم و دانش کو اس قدر قوت و قدرت اور وسعت حاصل رہی ہے اور کس زمانے میں اس دور کی طرضح علم و دانش اپنی آزادی سے محروم ہو کر شہرت کے عفریت کی غلام اور خود غرضی، جاہ طلبی، زر پر ستی و استحصال کے اژدہون کا شکار رہے ہیں؟

جو لوگ اس بات کے مدعی ہیں کہ زمانے کے تغیر پذیر تقاضے کسی قانون کو ہمیشہ کے لیے باقی نہیں رہے دیتے انہیں چاہیے متذکرہ بالا دو موضوعات کو ایک دوسرے سے الگ کریں تا کہ انہیں معلوم ہو کہ اسلام میں کوئی ایسی چیز موجود نہیں ہے، جو بہتر زندگی کی جانب پیش قدمی کی مخالف ہو۔

ہمارے اس دور کی مشکل یہ ہے کہ آج کے انسانکو ان دونون باتوں کو الگ کر کے غور کرنے کی بہت کم توفیق ہوتی ہے، وہ قدیم کے ساتھ رشتہ جوڑ کر جمود اختیار کر لیتا ہے اور جو کچھ نیا ہو اس سے لڑنے لگتا ہے یا پھر اس قدر جہلات پر اتر آتا ہے کہ ہر نئی ظاہر ہونے والی چیز کو "زمانے کے تقاضوں" کے نام پر ضروری سمجھنے لگتا ہے۔

حرکت ولچک بعض مسائل جبر تاریخ، ضروریات زندگی میں تغیر زمانے کے تقاضے یہ تینوں باتیں ہمارے لیے سرف یہ جاننے کے لیے مفید ہیں کہ ہم ان بوتوں کو بہانی بنا کر اور آنکھیں بن کر کے کسی قانون کو ہدف نہیں بنا سکتے اور اس کی ابدیت کے مفکر نہیں ہو سکتے۔

واضع ہے کہ صرف ان مسائل پر بحث، قانون کی ابدیت کے مسئلے کی شکل حل کرنے کے لیے کافی نہیں ہے، اس لیے کہ یقیناً اگر کوئٰ ابدی قانونزندگی کی تمام متغیر صورتوں کا اھاطہ کرنا چاہے اور تمام مشکلات کے حل کرنے کی راہ دکھا ئے اور ہر مشکل کع بہتر طریقے پر رفع کر دے تو اسے قوت و حرکت کے ساتھ ایک لچک سے بھی بہرہ مند ہونا چاہیے وہ خشک، جامد اور بے لچک نہ ہو، ابن ہم یہ دیکھین گے کہ اسلام اپنی اس اصل کی حفاظت کرتے ہوئے "حلال محمد حلال الی یوم القیامۃ و حرام محمد حرام الی یوم القیامۃ" زندگی کے مختلف مسائل کے حل کی راہ کسی طرح دکھا تا ہے۔

قیناً اسلام کے قانون سازی کے نظام میں کوئی راز اور رمز چھپا ہوا ہےجو اس بڑی مشکل پر قابو پا لیتا ہے اسلام کی منطقی روح کے تمام بھیدون اور رازوں کا سرچشمہ اس انسان کی فطرت و طبعیت، اجتماعیت اور پورے عالم کے ساتھ کامل وابستگی ہے۔

اسلام نے اپنے قوانین و ضوابط کے وضع کرنے میں فطرت کے احترام اور فطری قوانین کے ساتھ اپنی وابستگی کا با قاعدہ طور پر اعلان کیا ہے، اسلام کی یہی وہ جہت ہے جس نے قوانین اسلام کے ابدی ہونے کا املان پیدا کر دیا ہے۔

فطرت کے ساتھ اسلام کی وابستگی اور ربط کو مندرجہ ذیل نکات سے سمجھا جا سکتا ہے۔

۱۔ حریم دین میں عقل کو جگہ دینا

دنیا کے کسی دین نے اسلام کی طرح عقل کے ساتھ اس قدر قریبی رشتہ نہں رکھتا ہے اور اس کے"حق"کو تسلیم نہیں کیا ہے، کسی دین کا نام لیا جا سکتا ہے کہ جس نے عقل کو اپنے احکام کے سرچشموں میں سے ایک سرچشمہ قرار دیا ہو، فقہاء اسلام نے احکام کے چار سر چشمے اور ذریعہ قرار دیئے ہیں، کتاب، سنت، اجتماعاور عقل، فقہائے اسلام عقل اور شرع کے درمیان نا قابل شکست رشتے کے قائل ہیں اور اسے ایک لازمی اصول قرار دیتے ہیں وہ کہتے ہیں:

"کل ما حکم به العقل حکم ب ه الشرع و کل ما حکم ب ه الشرع حکم ب ه العقل"

"جو کچھ عقل سلیم حکم کرتے ہے شرع بھی اسی کے مطابق حکم کرتے ہے اور جس چیز کا شرع حکم دیتی ہے عقل بھی اس کا حکم کرتے ہے۔"

فقہ اسلامی میں خود عقل کسی قانون کو منکشف کرنے والی ہو سکتے ہے اور وہ کسی قانون میں قیود و حدود وضع کر سکتے ہے یا اس قانون میں عمومیت پیدا کر سکتے ہے اور تمام سرچشموں اور ذرائع سے استنباط کرنے میں بڑی اچھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

عقل کی دخل اندازی کا حق اس طرح پیدا ہوا ہے کہ اسلامی قوانین زندگی کی حقیقت سے سروکار رکھتے ہیں اسلام اپنی تعلیمات مین ایسی مجہول پر اسراریت اور رمزیت کا قائل نہیں ہے، جسے حل نہ کیا جا سکتا ہو۔

۲۔ جامعیت اور خود قرآن کی تعبیر کے مطابق وسطیت

کسی قانون کا مکتب قانون کا یکطرفہ ہونا خود اپنے اندر اپنی تنسیخ کی دلیل رکھتا ہے، انسان کی زندگی پر غلبہ رکھنے والے اور اثر انداز ہونے والے عوامل بہت زیادہ ہیں، ان میں سے کسی ایک سے بھی صرف نظر کرنا خود عدم تعادل پیدا کرتا ہے، قوانین کے ابدی ہونے کا سب سے اہم عنصر ان کا تمام مادی، روحانی، انفرادی اور اجتماعی پہلوؤں پر محیط ہونا ہے، تعلیمات اسلام کی جامعیت اور ہمہ جہتی کی صفت ہی اسلام سے شنا سا ہونے والوں کے درمیان اس کی مقبولیت کا سبب ہے، اس نکتہ پر تفصیلی بحث ہماری اس گفتگو کے دائرے سے باہر ہے۔

۳۔ اسلام نے کبھی زندگی کی ظاہری شکل و صورت سے بحث نہیں کی

تمام اسلامی تعلیمات نے روح اور معانی پر اور اس طریقے پر توجہ دی ہے جو انسان کو ان مقاصد و معانی تک پہنچا تا ہے، اسلام نے مقاصد و معانی اور ان تک پہنچنے کے طریقے کی طرف رہنمائی اپنے ذمے لینے کے بعد انسان کو اس کے علاوہ دوسرے امور میں آزاد چھوڑدیا ہے، اس طرح اس نے تہذیب و تمدن کے توسیعی عمل کے ساتھ تصادم سے پرہیز کیا ہے۔

اسلام میں کوئی مادی وسیلہ اور کوئی ظاہری شکل نہیں ملے گی، جسے تقدس حاصل ہو اور مسلمان کی یہ ذمہ داری ہو کہ وہ اس شکل اور ظاہر کی حفاظت کرے، اس اعتبار سے علم و تمدن کے توسیعی مظاہر کے ساتھ تصادم سے پرہیز اسلام کی ایک ایسی جہت ہے کہ اس نے زمانے کے تقاضوں پر دین کو منطبق کرنے کا کام آسان کر دیا ہے اور اپنی ابدیت کی راہ میں حائل ہونے والی ایک بڑی رکاوٹ کو دور کردیا ہے۔

۴۔ اس دین کی خاتمیت اور ابدیت

اس دین کی خاتمیت اور ابدیت کا ایک دوسرا زمر یہ ہے کہ قوانین فطرت کے ساتھ ہم آہنگی سے قوت حاصل کرت اہے اس نے انسان کی مستقل اور دائمی ضروریات کے لییے مستقل اور غیر متبدل قوانین بنائے ہیں اور تغیر پذیر حالات اور صورتوں کے لیے اس نے قابل تغیر وضع قانون کی پیش بینی کی ہے،

سطور بالا میں ہم کہہ چکے ہیں کہ بعض انسان ضروریات خواہ ان کا تعلق انفرادی شعبوں سے ہو یا اجتماعی شعبوں سے اپنی مستقل صورت رکھتے ہیں اور وہ تمام انسانوں میں یکساں ہوری ہیں، اسنان اپنی جبلتوں اور عادتوں کے لیے جو نظام وضع کرتا ہے وہ اخلاق کہلاتا ہے اور اجتماعی زندگی کے لیے جو نظام تشکیل دیتا ہے اس عدالت، کا نام دیا جاتا ہے اور وہ اپنے خالق سے جو رابطہ قائم کرتا ہے اور اپنے ایمان کی تجدید و تکمیل کرتا ہے اسے عبادت کہتے ہیں، ان تینوں کا تعلق ان مستقل قسم کی ضروریات سے ہے۔

انسان کی بعض دوسرے ضروریات تغیر پذیر ہوتی ہیں، جو قانون کے لحاظ سے ایسے قانون سازی کو لازم کرتے ہیں جس میں تبدیلی ہو سکتی ہے، اسلام نے ایسی تغیر پذیر احتیاجات کے لیے وضع قانون کی لچکدار صورت اختیار کی ہے اس طرح اس نے قابل تغیر حالات کے لیے قانون سازی کو مستقل اور غیر متبدل اصولوں کے ساتھ مربوط کر دیا ہے اور وہ اصول ہر تغیر پذیر نئی صورت حال میں خاص متناسب فرعی قانون کو وجود میں لاتے ہیں۔

ہم صرف دو مچالون پر اکتفا کرتے ہیں۔

اسلام میں ایک اجتماعی اصول یہ ہے:

( و اعدوا لهم ما استطعتم من قوة ) (۱۶)

عنی آخری امکانی حد تک دشمن کے مقابل قوت فراہم کرو اور طاقتور بن کر رہو، کتاب یعنی قرآن ہمیں اس اصول کی تعلیم دیتا ہے، دوسری طرف سنت سے ہمیں ہدایات کا ایک سلسلہ ملتا ہے کہ فہ میں یہ ہدایات "سبق و رمایتہ"کے عنوان سے معروف ہیں، ہدایت کی گئی ہے مسلمان اور ان کے فرزند گھوڑے سواری اور تیر اندازی میں کامل مہارت حاصل کرین، گھوڑے سواری اور تیر اندازی اس دور کے فنون حرب کے ایک اہم جز تھے اور دشمن کے مقابل قور کی فراہمی اور طاقتور بننے کا بہترین ذریعہ تھے، "سبق درمایہ"کے قانون کی اصل تو قرآنکا یہ حکم ہے:"و اعدو لہم ما استطعتم من قوہ"یعنی اسلام کے نقطہ نظر سے تیر، تلوار اور نیزہ اور گھوڑا اصلیت نہیں رکھتے، یہ اسلامی مقاصد کا جز نہیں ہیں، جو بات اصلیت رکھتی ہے، وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہر دور اور زمانے میں دشمن کے مقابل اپنے فوجی اور دفاعی وسائل کو آخری حد امکان تک مضبوط طاقتور بنا نا چاہیے۔

در حقیقت تیر اندازی اور گھوڑا دوڑانے میں مہارت ایک لباس ہے جو دشمن کے مقابل طاقت کے جسم کو پہنایا گیا ہے، دوسرے الفاظ میں تیر اندازی میں مہارت اس زمانے میں طاقتور بننے کی ایک عملی صورت تھی دشمن کے مقابل طاقتور بننے کا لزوم ایک مستقل قانون کی حیثیت رکھتا ہے، جو ایک دائمی اور مستقل ضرورت سے قوت حاصل کرنا ہے لیکن تیر اندازی اور اسب دوانی ایک وقتی ضرورت کا مظہر ہیں اور زمانے کے تقاضوں اور تہذیبی عوامل کی توسیع کے ساتھ ان میں تبدیلی آتی رہتی ہے اور دوسری چیزیں جیسے آج کے جدید اسلحہ کے استعمال میں مہارت کا حصول ان کی جگہ لے لیتی ہیں۔

دوسری مثال، پیغمبراکرم (ص) نے فرمایا ہے:

"علم و دانش کا حصول ہر مسلمان پر واجب ہے۔"

حکماء اسلام نے یہ ثابت کیا ہے کہ علم و دانش کا حصول اسلامی نقطہ نظر سے دو صوتوں میں واجب ہے:ایک اس صورت میں جبکہ ایمان کا حصول علم و دانش سے وابستہ ہو، دوسرے اس وقت جب کسی ذمہ داری کا پورا کرنا علم و دانش کے حصول پر منحصر ہو۔

دوسری صورت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ طلب دانش کا واجب ہونا تیاری کے لیے ہے کہ انسان کسی ذمہ داری کے ادا کرنے کی قابلیت پیدا کرے۔

اس لیے علوم کا حصول کا واجب ہونا یا نہ ہونا زمانے کے تقاضوں کے مطابق مختلف ہو جاتا ہے، پچھلے بعض ادوار میں اسلامی فرائض کی ادائیگی حتی اجتماعی فرائض جیسے تجارت، صنعت و سیاست کے لیے دانش کا حصول زیادہ ضروری نہیں تھا، اس کے لیے عام تجربات کافی تھے، ہمارے زمانے کی طرح بعض دوسرے زمانوں میں ان فرائض کی ادائیگی اس قدر دشار و پیچیدہ رہی ہے کہ اس کے لیے برسون تعلیم اور خصوصی تربیت لازمی قرار پائی تا کہ اسلامی اجتماعی فرائض (واجبات کفائی) انجام پا سکیں، یہی وجہ ہے کہ سیاسی، اقتصادی اور فنی علوم کی تحصیل جو ایک دور میں واجب نہیں تھی، دوسرے دور میں واجب ہو جاتی ہے، ایسا کیوں ؟ اسلامی معاشرہ کے استقلال، عزت اور حیثیت کے تحفظ کے لازمی اصول پر عمل کرنا ایک مستقل اور دائمی اسا کی حیثیت رکھتا ہے اور موجودہ دور کے حالات میں تحصیل و تکمیل دانش کے بغیر اس اصول پر پوری طرح عمل نہیں کیا جا سکتا، اس فرض کی ادائگی مختلف زمانوں اور مختلف حالات میں یکساں شکل مین نہیں رہی ہے، اس سلسلے میں بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔

۵۔ اسلامی تعلیمات کی فطرت اور طبیعت کے ساتھ ہم آہنگی

ایک دوسرا پہلو جو فطرت اور طبیعت کے ساتھ اسلام تعلیمات کی ہم آہنگی کی علامت ہے جس کی وجہ سے السامی قوانین کی ابدیت کا امکان پیدا ہوتا ہے وہ حقیقی مصالح اور مفاسد کے ساتھ احکام السامی کا علت و معلول کا رابطہ اور اس رو سے احکام کی درجہ بندی ہے۔

اسلام نے یہ واضح کیا ہے کہ احکام حقیقی مصالح و مفاسد کے ایک سلسلے کے تابع ہیں اور یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ یہ مصالح و مفاسد ایک ہی درجے میں نہیں رکھے جاتے۔

اسی وجہ سے فقہ اسلامی میں ایک مخصوص باب باب"تراجم"یا "اہم و مہم"رکھا گیا ہے تا ک فقہا اور اسلامی کارکنوں کے لیے مختلف مصالح و مفاسد کے یکجا ہونے اور ان سے واسطہ پڑنے کی صورت میں آسانی حاصل ہو، اسلام نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ اس طرح کے مواقع پر علمائے امت مصلحتوں کی اہمیت کے درجوں کا خود اسلام کی رہنمائی میں پوری توجہ کے ساتھ یقین کریں اور زیادہ اہم مصالح کو کم اہمیت والے مصالح ترجیح دیں اور تعطل کی حالت سے باہر نکل آئیں، رسول اکرم (ص) سے روایت ہے۔

"اذا اجتمعت حرمتان طرحت الصغریٰ للکبریٰ"

"جہاں دو امور واجب الاحترام جمع ہوجائیں تو بڑے امر کی خاطر چھوٹے امر سے صرف نظر کرنا چاہیے۔"

ابن کثیر"النہایہ"میں اس حدیث کو نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں"

"اگر کوئی ایسا معامہ ہو جس میں جماعت کا فائدہ اور فرد کا نقسان ہو رہا ہو تو جماعت کا مفاد فرد کے نقصان پر مقدم ہے۔"

جو کچھ ابن کثیر نے کہا ہے وہ زیادہ اہم مصلحت کو کم اہمیت والی مصلحت پر مقدم رکھنے کے ایک موقع سے متعلق ہے، حدیث کا فائدہ اسی ایک موقع تک محدود نہیں ہے، مردہ جسم کے اعضاء کی تشریح ( Anatomy ) کے علم کو ہمارے دور میں علم کی ترقی کے لیے ضروری سمجھا گیا ہے، اس کا تعلق باب"تزاحم"سے ہے، جیسا کہ ہمیں معلوم ہے اسلام نے مسلمان کے بدن کے احترام اور مراسم تجہیزیں عجلت کو لازم قرار دیا ہے جبکہ ہمارے زمانے مین طب کی تعلیم و تحقیق کے ایک حصے کا انحصار تشریح پر ہے، اس طرح دو مصلحتیں ایک دوسرے کے مقابل آگئی ہیں، ظاہر ہے کہ طبی تعلیم و تحقیق کی مصلحت میت کی جلد تجہیز اور اس کے بدن کے احترام کی مصلحت پر مقدم ہے اس احتیاط کے ساتھ کہ غیر مسلم کی لاشوں کے کافی نہ ہونے کی صورت میں مسلمان کی لاش پر انحصار کیا جائے اور پہچانی جانے والی لاس کو چھوڑ کرنہ پہچانی جانے والی لا استعمال کی جائے اسی طرح دوسرے باتوں کا بھی لحاظ رکھنا چاہیے، اس طرح "اہم ومہم"کے قاعدہ کے تحت مسلمان لاش کے اعضاء کی تشریح کی ممانعت ختم ہو جاتی ہے، اس قاعدہ کے تحت بھی بہت سی مثالیں ہیں۔

۶۔ اسلامی قوانین کو لچکدار بنانے والے قواعد کا وجود

ایک دوسری چیز جس نے اسلامی ضوابط کو لچک، حرکت اور تطبیق کی خاصیت عطا کی ہے اور ان کی ہمیشگی کو بر قرار رکھا ہے، بعض کنٹرول کرنے والے قواعد کے سلسلے کی موجودگی ہے جسے اسلامی قوانین کے متن میں شامل کیا ہے، فقہاء نے ان قواعد کا بڑا انچھا نام ہے اور انہیں"حاکمہ"کہتے ہیں یعنی وہ قواعد جو تمام اسلامی احکام و ضوابط پر بالادستی رکھتے ہیں اور ان سب پر حکومت کرتے ہیں، یہ قواعد اعلیٰ مناسب رکھنے والے انسپکٹروں کی تمام احکام و ضوابط کی نگرانی کرتے ہیں اور انہیں کنٹرول کرتے ہیں، قاعدہ"حرج"اور قاعدہ"لاضرر"ان ہی نگران قواعد (حاکمہ) سے تعلق رکھتے ہیں، در حقیقت اسلام نے ان نگران قواعد کو ویٹو کیا حق دیا ہے ان قواعد کی داستان بڑی دلچسب اور مفصل ہے۔


۷۔ اسلام کا اسلامی حکومت کو بعض مخصوص اختیارات دینا

کچھ دوسرے اختیارات میں جو اسلام نے حکومت اسلام کو اور دوسرے الفاظ میں اجتماع اسلامی کو دئیے ہیں یہ اختیارات ابتدائی درجہ میں خود پیغمبر (ص) کی حکومت سے تعلق رکھتے ہیں، اس کے بعد امام کی حکومت سے ان کا تعلق ہے پھر ہر شرعی حکومت کو یہ اختیارات حاصل ہوتے ہیں، قرآن کریم کا ارشاد ہے:( النبی اولی بالمومنین من انفسهم )

"پیغمبر خود مومنین سے زیادہ ان کے نفوس پر تسلط کا حق رکھتا ہے۔

یہ اختیارات ایک وسیع دائرہ رکھتے ہیں، اسلامی حکومت جدید حالات اور جدید ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسلام کے اساسی اصول و مبانی پر توجہ کر کے ضوابط کا ایک سلسلہ وضع کر سکتی ہے کہ ماضی میں موضوعا موجود نہیں رہے ہیں!(۱۷)

حکومت اسلامی کی قوت کے لیے ان اختیارات کو وجود لامی شر ہے تا کہ وہ آسمانی قوانین کا بہتر طریقہ پر اجرا ۴ اور انہیں بہتر انداز مین زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر سکے اور ہر دور کے مخصوص لائحہ عمل کو بہتر طور پر مرتب و منظم کر سکے یہ اختیارات کچھ حدود اور شرائط رکھتے ہیں کہ یہان ان کے بارے میں کچھ کہنے کی گنجائش نہیں ہے۔


ذمہ داری کی منتقلی

کیا یہ درست ہے کہ انسان کی تمام ضروریات بدلتی رہتی ہے اور ضروریات کے تغیر کے ساتھہ ان سے متعلق قوانین و ضوابط میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے ؟ اس کا جواب یہ کہ نہ تمام انسانی ضروریات حالت تعغیر میں ہوتی ہیں اور نہ ضروریات کے تغیر کا لازمی نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ زندگی کے بنیادی اصول اور ضوابط ہی میں تبدیلی آجائے ہماری گذشتہ باتوں سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ انسان کا عقلی و علمی بلوغ اور اس کے توانائی کے نئے دور کا آغاز، جس میں اس پر الٰہی قوانین و معارف کے تمام حقائق روشن ہوئے اور دینی ورثوں کی حفاظت، تحریفات اور بدعتوں کے خلاف جنگ، دین کی اشاعت تبلیغ اور دعوت کا کام انجام پایا ختم نبوت کا اصل بنیادی پس منظر ہے، انسان کے دور اول میں مجبورا"وحی"نے جو ذمہ داری عمدہ طریقے پر پوری کی تھی اسے رشد و بلوغ عقل کے دور میں علمی و عقلی قوت انجام دیتی ہے اور علماء انبیاء کے وارث قرار پاتے ہیں

علمائے اسلام کی ذمہ داری

باوجودیکہ اسلام رائج مذاہب کی روایات کے بر عکس علمائے امرکے لیے کسی ایسے اختیار کا قائل نہیں ہے جو طبقاتی امتیاز پر منتج ہو، دین کی بڑی اہم ترین ذمہ داری ان کے شانوں پر عائد کی ہے اسلام کی طرض کسی دین مین علمائ نے ایسا موثر اور حقیقی نقش مرتسن نہیں کیا ہے اور یہ اس دین کی خاتمیت س حاصل ہونے والے خصوصیت ہے، اولیم منصب جو خاتمیت کے دور میں پیغمبرون کی طرف سے علمائے امرت کی جانب منتقل ہوا ہے وہ دعوت، تبلیغ، ارشاد اور تحریفات و بدعات کے خلاف جن کا منصب ہے، انسانی گروہ تمام زمانون مں دعوت و ارشاد کے محتاج رہے ہیں۔قرآن نے صراحت کے ساتھ ذمہ داری کو خود امت کے ایک گروہ پر ڈالا ہے۔

( و لتکن منکم امة یدعون الی الخیر و یامرون بالمعروف و ینهون عن المنکر ) (۱۸)

"تم مین سے ایک گروہ ہونا چاہیے جو خیر کی طرف دعوت دے نیکی کا حکم کرے اور برائی سے روکے"

وہ اسباب ہر وقت موجود رہے ہیں جو تحریفات و بدعت پر منتج ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے، یہ علماء امت ہی کی ذمہ داری ہے کہ تحریفوں اور بدعتوں کے خلاف جنگ کریں، رسول اکرم (ص) نے فرمیا ہے:

"اذا ظہرت البدع فعلی العالم ان یظہر علمہ و من لو یفعل فعلیہ لعنۃ اللہ"

"جب بدعتیں ظاہر ہوں یہ عالم کی ذمہ داری ہے کہ اپنے علم کو ظاہر کرے اور جو ایسا نہیں کرے گا اس پر خدا کی لعنت۔"

جو چیز تحریفات و بدعات کے خلاف جنگ کو ممکن اور اس کے کام کو آسان بناتی ہے وہ اصلی معیار و مقیاس یعنی قرآن کا محفوظ رہنا رسلو اکرم (ص) نے خاص طور پر تاکید کی ہے جو کچھ آپ کی زبان سے نقل ہوا ہے اس کی صحت و سقم کو معلوم کرنے کے لیے قرآن کی کسوٹی سے فائدہ اٹھا یا جائے۔

کتابون کے اصل متن کو حوادث کے دستبرد سے محفوظ رکھنا، اصول سے فروع کا استنباط، جزئیات پر کلیات کا انطباق ہر دور کے جدید مسائل کی دریافت ان پر غور و بحث، یک طرفہ رجحانات کا سدباب، صورتوں، ظواہر اور عادتوں پر جمود کے خلاف جنگ، فرعی ضوابط اور فتیہ سے اصل اور مستقل احکام کو الگ کرنا، اہم ومہم تشخیص اور اہم کو ترجیح دینا وقتی قوانین کے وضع کرنے میں حکومت کے اختیارات کے حدود کا تعین، زمانے کی ضروریات سے ہم آہنگ لائحہ عمل کیا تیاری ختم نبوت کے اس دور میں علماء کے اہم فرائض ہیں۔

امت اسلامیہ کے علامء اپنی ذمہ داری اور اہم منصب کے پیش نظر اپنے زمانے کے سب سے زیادہ علام افراد ہونے چاہیں کیونکہ وہ انسانوں کے اخلاقی انحرافات اور روحانی انحطاط کے مقتضیات سے وقت کے حقیقی مقتضیات کو جدا کرکے ان کو ٹھیک ٹھیک تشخیص اس وقت تک نہیں کر سکتے جب تک کہ وہ زمانے کی روح سے زمانے کی ساخت میں کار فرما عوامل اور انع و امعل کی سمت سفر سے اچھی طرح واقف نہ ہو۔

اجتہاد

علماء امت کی اہم ذمہ داریوں اور فرائض میں سے ایک اجتہاد بھی ہے اجتہاد کا مطلب صحیح طریقے سے وہ علامانہ کو ششجو کتاب، سنت، اجماعاور عقل کے سرچشموں سے استفادہ کر کے اسلام کے اصلو و ضوابط معلوم کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔

اجتہاد کا لفظ پہلی بار احادیث نبوی میں استعمال ہوا پھر مسلمانوں مین رواج ہو گیا، قرآن مین یہ لفظ نہیںآیا، روح معنی کے لحاظ سے جو لفظ اس کا مرادف ہے اور قرآن مین بھی آیا ہے وہ "تفقہ"ہے قرآن نے صراحت کے ساتھ تفقہ، دین کی گہری فہم حاصل کرنے کی تاکید کی ہے۔

اجتہاد یا تفقہ سے خاتمیت کے اس دور میں بہت نازک اور بنیادی ذمہ داری وابستہ ہے اور اسلام کی ابدیت کے لیے اسے ایک اہم شرط کی حیثیت حاصل ہے، اجتہاد کو الام کی قوت محرکہ کہا گیا جو بالکل درست ہے بزرگ مسلمان فلسفی ابن سینا بڑی روشن فکری کے ساتھ اس مسئلہ پر بحث کی ہے وہ کہتا ہے:

"اسلامی کلیات مستقل، غیر متغیراور محدود ہیں لیکن حوادث و مسائل غیر محدود اور متغیر ہیں اور ہر دور مخصوص تقاضوں اور مخصوص مسائل کا حامل ہوتا ہے، اسی لیے ہر دور اور عہد میں ایسے افراد کی ضرورت ہے جو ماہر، اسلامی کلیاتے کے عالم، زمانے کو درپیش مسائل سے آگاہ اور جو کلیات اسلامی کی روشنی میں جدید مسائل میں اجتہاد و استنباط کی صلاحیت کے حامل اور اس ذمہ داری کو پورا کرسکیں ۔"تمدن اسلامی کے درخشان دور میں جبکہ ایک وسیع اور بدوی مسلم معاشرہ ترقی و توسیع کی جانب تیزی سے قدم بڑھارہاتھا اور اس نے ایشیا کے علاوہ اور افرقہ کے بعض حصوں پر غلبہ حاصل کرلیا تھا اور گوناگون نسلوں اور قوموں پر جن میں سے ہر ایک اپنا ایک خاص ماضی اور تہذیب رکھتی تھی، اسے حکومت کرنے کا موقع ملا، اس دوران ہزاروں جدید مسائل پیدا ہوئے ۔مسلمان اس ذمہداری سے بڑی کامیابی کے ساتھہ عہدہ برآہوئے اور دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ۔علمائے اسلام نے ثابت کردیا کہ اسلامی سر چشمہ اپنی بہتر تشخیص اپنے بہتر اسنباط سے ترقی و تکمیل کے مراحل سے گزرنے والے کسی بھی معاشرہ کے ساتھہ چل سکتے ہیں اور اس کی رہنمائی کرسکتے ہیں ۔انہوں نے ثابت کردیا ہے کہ "اسلامی حقوق" کا قانون یعنی ( etytlpocedure ) زندہ ہے اور زمانے کی ترقی سے پیدا ہونے والے تقاضوں کے ساتھہ ہمآہنگی کی قابلیت رکھتا ہے اور ہر دور کی ضروریات کا جواب دےسکتا ہے ۔

مستشرقین اور ماہرین قانون جنہوں نے اس دور کی فقہ اسلامی کی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے اس حقیقت کے معترف ہیں اور حقوق اسلامی یعنی اسلام کے ( etvilprocedure ) کو مستقل "مکتب قانون "کی حثیت سے تسلیم کیا ہے اوور اسے ایک زندہ مکتب قانون قرار دیا ہے ۔

ساتویں صدی ہجری تک اجتہاد کا حق محفوظ تھا اور اس کا دروازہ کھلا ہوا تھا البتہ اس ساتویں صدی میں خاص تاریخی اسباب کی بنا پر شوری اور اجماع کو بنیاد بمناکر علماء سے یہہ حق سلب کرلیا گیا اور علماء ہمیشہ کے لئے دوسری اور تیسری صدی ہجری کے علماء کے نظریات کا اتباع کرنے پر مجبور ہوگئے اور یہیں سے چھہ معروف مذاہب تک فقہی مذاہب کی تجدید وجود میں آئی ۔

اجتہاد کے دروازے کا بند ہوجانا عالم اسلام کا ایک بڑا المناک حادثہ سمجھا جاتا ہے شاید اجتہادات میں افراط کے سلسلہ کے خلاف رد عمل کے طور پر ایسا ہوا ہو بہر کیف فقہ اسلامی میں جمود اور ٹھراؤ اسی وقت سے شروع ہوا ۔

اجتہاد کے دروازے کے بند ہونے کے ناپسندیدہ اثرات اہل تشیع پر بھی مرتب ہوئے ساتویں صدی ہجری کے بعد شیعہ فقہ میں عمیق فکر و نظر پیدا ہوگئی تھی اور بعض شعبوں میں وسیع تبدیلیاں رونماہوئی تھیں ۔اس کے باوجود اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس فقہی سسٹم میں بھی چند صدی پہلے کی طرح مسائل کی تشریح کا رجحان اور وقت کے مسائل کا سامنا کرنے سے گریز اوعر جدید و عمیق تر طریقوں کے دریافت کی جانب سے بے رغبتی واضح صورت میں نظر آتی ہے ۔نہایت افسوس کی بات یہ ہے کہ حالیہ صدیوںں کے دوران نجوانوں اور اصطلاحا روشن فکر مسلمانوں کے طبقے میں مغرب کی طرف میلان، مشرقی و اسلامی روایات کی نفی کی رجحان اور مغربی "آزمون "کی اندھی تقلید کا مرض پیدا ہوگیا ہے ۔بد قسمتی سے یہ مرض بڑھتا جارہا ہے لیکن خوش نصیبی کا پہلو یہہے کہ ان اندھے اور خوابیدہ رجحانات کی تاریکی میں بیداری اور آگاہی کا ایک کرن بھی پھوٹ رہی ہے ۔

اس خواب غفلت میں مبتلا کرنے والی گمراہی کی جڑ وہ غلط تصور ہے جو یہ گروہ اصطلاحا اسلامی ضوابط کے تحکمانہ، ادعائی ( dogmatie ) پہلو کے بارے میں رکھتا ہے ۔گذشتہ صدیوں کے دوران اجتہاد میں جمود نے ان غلط تصورات کو تقویت فراہم کی ہے ۔قوم کے رہنمائی اور ذمہ دارافراد کا غرض یہ ہے کہ جس قدر جلد ہوسکے علمی و منطقی انداز میں اس طرح کے رجحانات کا مقابلہ کرنے کے لئے اتھہ کھڑے ہوں ۔

اس صورت حال کے اسباب و عوامل کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں جس بات پر ہمیں پردہ نہیں ڈالنا چاہیئے وہ یہ ہے کہ فکری جمود اور ٹھراؤ گذشتی صدیوں کے دوران عالم اسلام پر مسلط رہا ہے ۔خسوصا اسلامی فقہ ۹ میں جمود ۔ماضی کی طرف دیکھنے اور زمانے کی روح کو سمجھنے اور اس کا سامنا کرنے سے گریز ہماری اس ناکامی اور شکست کا ایک بڑا سبب سمجھا جاتا ہے آج عالم اسلام کو ہمیشہ سے زیادہ ایک ایسی قانون سازی کی تحریک کی ضرورت ہے جو ایک جدید وسیع اور ہمہ گیر نظر سے اسلامی تعلیمات کیگہرائی سے فیض حاصل کرے اور مسلمانوں کے دست و پا کو مغربی افکار و نظریات کے استعماری بندھنوں سے آزاد کرائے ۔

قرآن بے پایان استعداد وسعت کے اعتبار سے فطرت نکی مانند ہے

فلسفہ کے موضوعات میں سے ایک حیرت انگیزز موضوع کا تعلق اسلامی سرچشموں خصوصا، قرآن کریم کے مضامیں میں تحقیق، دریافت و استنباط ہے صرف فقہ اور حقوق کے مسائل ہی نہیں تمام شعبوں کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے ہر انسانی کتاب خواہ وہ ایک بڑا شاہکار ہی کیاں نہ ہو تحقیق و مطالعہ کے لئے اپنے اندر محدود استعداد اور ختم ہوجانے والی وسعت رکھتی ہے اور اس کتاب کے تمام نکات کو واضح کرنے کے لئے چند ماہرین کافی ہوسکتے ہیں لیکن قرآن نے جن پر گذشتہ چودہ صدیوں کے دوران ہمیشہ سینکڑوں ماہرین تحقیقی کا کرتے رہے ہیں یہ ثابت کردیا ہے کہ تحقیق و اجتہاد کے نقطہ نظر سے وہ بے پایان استعداد اور وسعت اپنے اندر رکھتا ہے ۔قرآن اس اعتبار سے فطرت کے مانند ہے کہ جس قدر فکر و نظر وسیع تر اور عمیق تر ہوتی چلی جاتی ہے قرآن کے مضامین میں تحقیقات و مطالعہ کی پہنائی اور زیادہ وسیع ہوتی چلی جاتی ہے اور نئے سے نئے سے نئے راز سامنے آتے چلے جاتے ہیں مبدا و معاد حقوق، فقہ، اخلاق، تاریخی قصص اور طبیعیات سے متعلق جن مسائل کا ذکر قرآن میں آیا ہے اگر ان کا دقیق مطالعہ کرنے کے بعد چودہ صدیوں کے دوران ابھرنے والے اور پرانے ہوجانے والے نظریات کے ساتھہ موازینہ کیا جائے تو حقیقت پوری طرح روشن ہوجائے گی ۔

فکر و نظر خواہ کتنی ہی ترقی کرجائے اور وسیع تر و عمیق تر ہوجائے وہ خود کو قرآن کے ساتھہ ہم آہنگ پائےگی حقیقت یہ ہے کہ آسمانی کتاب کو جو ایک باقی رہنے والا معجزہ ہے ایسا ہونا چاہئے ۔

قرآن کے نزدیک سن سے بڑا دشمن جمود اور ایک خاص زمانے اور متعین مرحلے کی دانش پر اھصار کرنا ہے جیسا کہ علوم فطرت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوت تھی کہ ہمارے علماء یہ سمجھتے تھے کہ فطرت کا علم وہی ہے جو ماضی میں ارسطو اور افلاطون و غیرہ جیسے افراد نے ترتیب دیا ہے ۔

قرآن کے مفاہیم ہر زمانے کے لوگوں کے لئے تر وتازہ ہیں

قرآن کریم حتی کہ خود رسول اکرم (ص) کے جامع کلمات اپنے اندر تحقیق و کاوش کے بے وسعت رکھتے ہیں، اس لئے نظروں کو محدود ہوکر نہیں ہہ جانا چاہئے ۔اول روز سے اسلام کے عظیم رہبر کی وجہ اس جانب رہی ہے اور آپ (ص) اسے اپنے اصحاب کے گوش زد کرتے رہے ہیں رسول اکرم (ص) نے بار بار اپنے کلمات میں اس نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قرآن کو ایک خاص زمانے کی دانش و بینش کے ساتھہ محدود نہ کرو ۔آپنے فرمایا :"قرآن کا ظاہر خوبصورت اور اس کا باطن عمیق ہے جس کی ایک حد و ںہایت ہے پھر اس کے اوپر ایک اور حد و نہایت ہے اس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوں گے اور اس کی تازگیوں پر کبھی پژمردگی طاری نہیں ہوگی ۔"

امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا :"یہ کیا راز ہے کہ قرآن کو لوگوں کے درمیان جس قدر پھلایاجاتا ہے اور اسے پڑھاجاتا ہے اور اس کے بارے میں بحث و فکر کی جاتی ہے اسی قدر اس کی طراوت و تازگی میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ؟ "امام (ع) نے جواب دیا :"ایسا اس لئے ہے کہ قرآن کو ایک خاص و زمان کے لئے اور کسی خاص قوم کے لئے نازل نہیں کیا گیا ہے قرآن تمام زمانوں کے لئے اور تمام انسانوں کے لئے ہے اس اعتبار سے وہ ہر زمانے میں جدید ہے اور تمام لوگوں کے لئے ہروقت تازز

ہ ہے۔"

رسول اکرم (ص) جب اپنی احادیث کو ٹھیک ٹھیک یاد کرنے اور دوسروں تک پہچانے کی تاکید فرماتے تھے تو اس میں یہ خاص نکتہ پوشیدہ ےھا کہ شاید جس شخص نے آپ سے براہ راست آپ کی احادیث کو سنا ہو تفقہ سے بہرہ مند نہ ہو اور وہ کسی صاحب دانش و بینش تک انہیں منتقل کرنے کے لئے محض ایک رابطے کا کام دے یا پھر جو شخص آپ سے حادیث سنے وہ تفقہ سے بہرہ منر ہو لیکن اس کے ذریعہ جس شخص تک کی کوئی حدیث پہچانے والے سے زیادہ تفقہ کا مالک ۔

تاریخ سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بعد کے زمانوں میں آن حضور (ص) کی احادیث مفاہیم و مطالب کے سمجھنے میں پہلے سے زیادہ تفقہ سے کام لینے کی ضرورت پیش آئی۔

اجتہاد کی اضافیت

ترقی و تکمیل کی طرف مسلسل بڑھنے والی دانش و بینش کا اثر کسی جگہ اس قدر محسوس نہیں کیا جاسکتا جس قدر کہ فقہی مسائل میں اسے دیکھا جاسکتا ہے ۔فقہ اسلامی پر کئی دور گزد چکے ہیں ہر دور میں ایک خاص طرز فکر اور ایک خاص دانش حکمفرما رہی ہے ۔آج کے استنباط کے قواعد سے مختلف ہیں ۔ایک ہزار سال پہلے کے علماء جیسے شیخ طوسی یقینا ایک ممتاز مجتہد رہے ہیں اور لوگوں نے ان کی جو پیروی و تقلید کی ہے وہ صحیح ہے قدیم علماء کا طرز فکر ان کی ایسی کتابوں سے واضح ہے جو فقہ خصوصا اصول فقہ پر لکھی گئی ہیں ۔

شیخ طوسی کی اصول فقہ پر بعض کتابیں ان کے طرز تفکر کو بخوبی ظاہر کرتی ہیں یہ کتابیں آج بھی موجود ہیں ۔

حالیہ ادوار کے فقہاء پر نظر ڈالیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سابق طرز تفکر منسوخ ہوگیا ہے ۔اس لئے کہ جدید تر عمیق تر اور وسیع تر دانش نے پرانے طرز فکر کی جگہ حاصل کرلی ہے ۔جیسا کہ موجودہ دور میں سماج، نفسیات اور قانون کے شعبوں میں علم و دانش نے فقہی مسائل میں زیادہ گہرائی کے امکانات پیدا کردئے ہیں ۔

اگر کوئی شخص یہ پوچھے کہ کیا اس سابق عہد کے علماء اپنے اس وقت کے تفقہ اور طرز فکر کے ساتھہ مجتہد کے مقام پر فائز رہے ہیں ؟ اور کیا وہ اس بات کے مستحق تھے کہ عوام ان کی تقلید کرتے اور ان کے تفقہ کو اسلامی ضوابط کی تشخیص و تدوین کا اہل قرار دیتے ؟ ان سوالات کا جواب اچبات میں دیا جائے گا ۔

پھر اگر یہ سوال کیا گیا کہ موجودہ دور میں اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ چاتھی اور پانچویں سدی کے بعد کی تمام کتابیں اور تالیفات اور آچار کو جوں کا توں قبول کرلے اور خود کو پانچویں صدی میں فرض کرے اور شیخ طوسی جیسے علماء نے جن کتابوں کا مطالعہ کیا تھا ان ہی کا وہ بھی مطالعہ کرے اور وہی طرز تفکر اور وہی تفقہ اپنے اندر پیدا کرے جو ان علماء نے اپنے اندر پیدا کیا تھا تو کیا وہ مجتہد کہلاسکے گا اور لوگوں کو یہ حق حاصل ہوگا کہ اس کی تقلید کریں ؟ اس کا جواب نفی میں دیا جائے گا ۔آخر ایسا کیوں ؟ اس شخص کے درمیان اور پانچویں صدی کے لوگوں کے درمیان کیا فرق ہے؟

فرق یہ ہے کہ ان علماء نے جس دور میں زندگی بسر کی تھی اس کی دانش و بینش اسی دور کے لئے تھی یہ شخص ایسے عہد میں زندگی بسر کررہا ہے جس میں ماضی کے اس طرز تفکر اور تفقہ کی جگہ ایک جدید تر طرز تفکر اور تفقہ نے لے لی ہے اور ماضی کا وہ طرز تفکرات منسوخ ہوچکا ہے ۔

اس سے یہ بات بخوبی سمجھی جاسکتی ہے کہ اجتہاد ایک اضافی اور تکاملی مفہوم رکھتا ہے ہر دور ایک مخصوص دانش و بینش پیدا کرا ہے ۔یہ اضافیت دو چیزوں سے ختم ہوجاتی ہے ۔اشف و تحقیق کے لئے اسلامی سرچشموں کی بے پایان وسعت و صلاحیت اور دوسرے انسانی افکار اور علوم طبیعی کی تکمیل خاتمیت کا سب سے بڑا راز یہی ہے ۔


حواشی

۱.سورہ مائدہ، آیت ۴۸.

۲. سفینہ البحار، 'مادہ ذر.

۳.سورہ روم، آیت ۳۰.

۴.سورہ انعام ۱۵۳.

۵.سورہ نساء آیت ۲۸.

۶.سورہ دہر آیت ۳.

۷.سورہ مائدہ آیت ۴۸.

۸.سورہ آل عمران آیت ۸۱.

۹.سورہ انعام، آیت ۱۱۵.

۱۰.فیض کاشانی، علم الیقین، صفحہ ۱۰۵.

۱۱.سورہانفال۔آیت ۲۹.

۱۲.سورہ عنکبوت آیت ۶۹.

۱۳.صدر المتالھین شیرازی، مفاتیح الغیب، صفحہ ۱۳.

۱۴.سورہاعلیٰ آیت ۱ ۔ ۳.

۱۵.سورہ علق آیت ۱ ۔ ۵.

۱۶.سورہانفال، آیت ۶۰.

۱۷. رجوع کیجئے"تنبیہ الامہ" مرحوم آیت اللہ نائنی، صفحات ۹۷ ، ۱۰۲ ، اور مقالہ"ولایت و زعامت" علامہ طباطبائی کے قلم سے، کتاب "مرجعیت و روحانیت" چاپ دوم صفحات ۸۲ ، ۸۴ ۔

۱۸.سورہآل عمران، آیت ۱۰۴.


فہرست

حرف ناشر ۳

مقدمہ ۵

قرآن کی روسے امت مسلمہ ایک امت وسط ہے۔ ۱۴

آسمانی دروازے ۲۳

نبوت تبلیغی ۲۶

جبر تاریخ ۳۲

انسانی ضروریات ۳۵

زمانے کے تقاضے ۳۷

۱۔ حریم دین میں عقل کو جگہ دینا ۳۹

۲۔ جامعیت اور خود قرآن کی تعبیر کے مطابق وسطیت ۴۰

۳۔ اسلام نے کبھی زندگی کی ظاہری شکل و صورت سے بحث نہیں کی ۴۰

۴۔ اس دین کی خاتمیت اور ابدیت ۴۱

۵۔ اسلامی تعلیمات کی فطرت اور طبیعت کے ساتھ ہم آہنگی ۴۳

۶۔ اسلامی قوانین کو لچکدار بنانے والے قواعد کا وجود ۴۴

۷۔ اسلام کا اسلامی حکومت کو بعض مخصوص اختیارات دینا ۴۵

ذمہ داری کی منتقلی ۴۶

علمائے اسلام کی ذمہ داری ۴۶

اجتہاد ۴۷

قرآن بے پایان استعداد وسعت کے اعتبار سے فطرت نکی مانند ہے ۴۹

قرآن کے مفاہیم ہر زمانے کے لوگوں کے لئے تر وتازہ ہیں ۵۰

اجتہاد کی اضافیت ۵۱

حواشی ۵۳

فہرست ۵۴