بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ پیغمبر اکرم(ص) کا سلوک
گروہ بندی رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
مصنف محمد علی چنارانی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


نام کتاب : بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ پیغمبر اکرم(ص) کا سلوک

مؤلف : محمد علی چنارانی

مترجم :سید قلبی حسین رضوی

مصحح : کلب صادق اسدی

پیشکش :ادارۂ ترجمہ،معاونت فرہنگی ، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

ناشر : مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام


حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پرنمودار ہوتاہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ ونکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کا فور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کاسورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمہ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کی تمام الہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ۲۳ برس کے مختصر عر صے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمران ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماندپڑگئیں ، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہب عقل و آگہی ہے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

اگر چہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام او ر ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کے بے توجہی اورناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کاشکار ہوکراپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمہ فیض جاری رکھا اورچودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکارو نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگیں تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیاہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن او رمکتب اہل بیت علیہ السلام کی طرف اٹھی او رگڑی ہوئی ہیں ، دشمنان اسلام اس فکر و معنوی قوت و اقتدار کو توڑنے کے لئے اوردوستداران اسلام سے اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامران زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین و بے تاب ہیں ، یہ زمانہ عملی اور فکری مقابلے کازمانہ ہے اورجو مکتب بھی تبلیغ او رنشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھا کر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیاتک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کو نسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایاہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر اندازسے اپنا فریضہ ادا کرے، تا کہ موجود دنیا ئے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف وشفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوت (ص) و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق وانسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواراں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کیعالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققیں ومصنفیں کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفیں و مترجمیں کا ادنی خدمتگار تصور کرتے ہیں ، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل مولف محمد علی چنارانی کی گرانقدر کتاب ''بچوں اورنوجوانوں کے ساتھ نبی اکرم (ص) کا حسن سلوک '' کو فاضل جلیل مولانا سید قلبی حسین رضوی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیاہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ، اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں او رمعاونیں کا بھی صمیم قلب سے شکر یہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنی جہاد رضائے مولی کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت،

مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام


پیش لفظ

آج کل کی دنیا میں بچوں کی تربیت،سماج کاایک بنیادی ترین مسئلہ اور بشریت کی سعادت کا اہم ترین عامل شمار ہوتی ہے۔اس لئے دانشوروں نے بچوں کے نفسیات اور تربیت کے بارے میں کافی مطالعہ اورتحقیق کی ہے اوراس موضوع پر بہت سی کتابیں بھی تالیف کی ہیں ۔

اسی طرح بڑے ممالک میں ،بچوں کے جسم وروح کی صحیح تربیت کی غرض سے وسیع پیمانے پرانجمنیں بنائی گئی ہیں اور بچوں کی علمی اور عملی لحاظ سے نگرانی کی جارہی ہے۔

لیکن چودہ سو سال قبل،جب بشریت جہل و نادانی کے اندھیرے میں بھٹک رہی تھی،اس وقت پیغمبر اسلام (ص)نے بچوں کی قدر ومنزلت اور تربیت کوخاص اہمیت دی، اور اس سلسلہ میں اپنے پیرئوں کوضروری ہدایات دیں۔

اگرچہ آج دانشور اور ماہرین بچوں کی پیدائش کے بعد ان کی تربیت کو اہمیت دیتے ہیں ،لیکن اسلام نے ازدواجی زندگی کے بنیادی اصول،شریک حیات کے خصوصیات،نسل کی پاکیزگی،دودھ پلانے اور بچوں کے جسم وروح کی تربیت کے سلسلہ میں لوگوں کی ذمہ داریوں کو قدم بہ قدم بیان کیا ہے۔

اگر آج دنیا کے دانشوروں نے بچوں کی تربیت کے سلسلہ میں بہت سے نفسیاتی اور تربیتی مسائل کو دقیق انداز میں اپنی علمی کتابوں میں درج کیا ہے،تواسلام کے پیشوائوں نے بہت پہلے ہی میں ان نکات کو مذہبی روایات کی صورت میں بیان کر دیا تھا اور خود بھی اپنی زندگی میں اس کوعملی جامہ پہنا یا ہے۔

اس کتاب میں ہمارا مقصددو بنیادی اصولوں پر استوار ہے:

اول یہ کہ تمام مسلمان،بالخصوص نوجوان اور طلبہ،کہ جو معاشرہ کی بڑی تعداد کو تشکیل دیتے ہیں ،دین مقدس اسلام کے منصوبوں اور دستورات کی ہمہ گیری اور اس آسمانی دین کے عملی اقدار سے آگاہ ہو جائیںاور قوی و مضبوط ایمان واعتقاد سے اس کی پیروی کریں اور دشمنوں کے فریب میں نہ آئیں۔

دوسرے یہ کہ والدین اپنے بچوں کی تربیت کے سلسلہ میں اپنی مذہبی اور قومی ذمہ داریوں سے آگاہ ہو جائیںتاکہ اس اہم اورسنگین ذمہ داری کو بہتر صورت میں انجام دے سکیں۔کیونکہ بہت سے اجتماعی مشکلات اور اخلاقی برائیاںاپنی ذمہ داریوں سے ناواقفیت کی بنا پر ہی وجود میں آتی ہیں ۔

اس لئے ہم نے یہ فیصلہ کیاکہ ان لو گوں کے لئے ایک عملی نمونہ پیش کریںکہ جو اپنے بچوں کی جسمانی و روحانی لحاظ سے صحیح تر بیت کرنا چاہتے ہیں ۔مسلمانوں کے لئے بہترین نمونہ پیغمبر اسلام حضرت محمدمصطفے (ص)اور آپ (ص)کے حقیقی جانشین ہیں کہ ہم اپنی زندگی کے تمام مراحل میں انھیں اطمینان بخش نمونہ قرار دیں اوران کی پیروی کر یںچنانچہ ان کامل انسانوں کی پیروی واطاعت میں کسی قسم کی قباحت نہیں ہے، کیونکہ ان شخصیتوں کوخداوند متعال نے ہر برائی سے پاک قرار دیا ہے اوران کی اطاعت کہیں بھی اور کبھی بھی

مشکل پیدا نہیں کرسکتی ہے۔دعا ہے کہ بشریت آگاہ ہو جائے اورحقیقی پیشوائوں کی پیروی کرے ،جھوٹے اور شیطانی نمونوں کی اطاعت نہ کریں تاکہ اس طرح وہ دنیاوآخرت کی سعادت سے ہمکنار ہو جائے۔

یہ کتاب دوحصوں پر مشتمل ہے:

۱۔پیغمبر اسلام (ص)کا بچوں کے ساتھ سلوک، اس میں پانچ فصلیں ہیں اور ہر فصل چند موضوعات پر مشتمل ہے۔

۲۔پیغمبر اسلام (ص) کانوجوانوں کے ساتھ سلوک،اس میں چار فصلیں ہیں اور ہرفصل چند عناوین پرمشتمل ہے

آخر پر میں ان تمام حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں ،جنہوں نے اس کتاب کی تالیف میں میری مدد فر مائی۔

مؤلف


پہلا حصہ:

بچوں کے ساتھ

پیغمبر اسلام (ص)کا سلوک

بچوں کے ساتھ پیار ومحبت سے پیش آنا پیغمبر اکرم (ص)کے نمایاں خصوصیات میں سے تھا۔

پہلی فصل:

تر بیت

اپنے بچوں کااحترام کرواوران کے ساتھ ادب سے پیش آؤ۔

( پیغمبر اکرم (ص))

تربیت کی اہمیت

بچہ پیدائش کے بعداپنے خاندان سے جدا ہونے اور دوسروں کے ساتھ مشترک زندگی گزارنے تک تربیت کے دودور سے گزرتا ہے:

۱۔بچپنے کا دور،یہ دورایک سال کی عمرسے سات سال تک ہوتا ہے۔اس دور میں بچہ کے اندر براہ راست تر بیت حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی ،کیونکہ وہ اس دور میں اپنی دنیا سے بے خبر ہوتا ہے۔

۲۔سات سے چودہ سال کی عمر تک کا دور۔اس دور میں عقل تدریجاً بڑ ھتی ہے اور فکری فعالیتوں کے لئے آمادہ ہوتی ہے۔اس دور میں انسان سیکھ سکتا ہے اور تعلیم حاصل کرسکتا ہے۔

پہلے دور میں تربیت،براہ راست نہیں ہونی چاہئے اور ہر گز اس کو کسی چیز سے روکنے اور کسی چیز کے حکم دینے میں سختی نہیں کر نا چاہئے بلکہ بچہ اپنے ماحول سے تربیت پاتا اور ادب سیکھتا ہے اس طرح اس کے وجود میں اخلاق کی پہلی بنیاد پڑتی ہے اور وہ اپنے ماحول کے بارے میں اچھی یاد داشتیں اور مناسب طرز عمل کو اپنے ذہن میں محفوظ کرلیتا ہے۔

دوسرے دور میں بھی بچے کو آزادنہیں چھوڑنا چاہئے اور اس کی غلطیوں سے چشم پوشی نہیں کرنی چاہئے، بلکہ اس کو اس کی بے ادبیوں سے روکنا چاہئے، اسے نظم وضبط سکھانا اورحد سے زیادہ کھیل کود وغیرہ میں وقت ضائع کرنے سے روکنا چاہئے،عبادت اور نیک کاموں کی طرف اسے رغبت دلانا چاہئے۔(۱)

افسوس کہ اکثر لوگ یہ نہیں جانتے ہیں کہ اپنے بچوں کی تربیت کب سے شروع کریں۔بعض والدین یہ تصور کرتے ہیں کہ بچو ں کی تربیت چھ سال تمام ہونے کے بعدکی جانی چاہئے اور بعض تربیت کا آغازتین سال کی عمر ہی سے کر دیتے ہیں ۔

لیکن یہ خیال غلط ہے،کیونکہ جب بچے کی عمرتین سال مکمل ہوتی ہے تو اس میں ۷۵فیصد صفات اچھے اور برے صفات پیدا ہو جاتے ہیں ۔

بعض ماہرین نفسیات کا یہ خیال ہے کہ بچے کی تربیت پیدائش سے ہی شروع کی جانی چاہئے،لیکن بعض دوسرے ماہرین کسی حد تک احتیاط کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بچے کی تر بیت پیدائش کے بعد دوسرے مہینے کی پہلی تاریخ سے ہی ہوناچاہئے ۔لیکن ''شکا گو''یونیور سٹی میں اس موضوع پردقیق تحقیق کرنے کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ:

''ایک صحیح وسالم بچے کی فکری سطح چار سال کی عمرمیں ۵۰فیصد،آٹھ سال کی عمر میں ۳۰ فیصد اور سترہ سال کی عمر میں ۲۰ فیصد مکمل ہوتی ہے۔لہذا ہر چار سالہ بچہ۵۰فیصد سوجھ بوجھ کی صلاحیت رکھتاہے،اسی طرح۲اور۳ سال کے درمیان

بچے میں رونماہونے والی تبدیلیاں ۸اور۹ سال کے درمیان رونما ہونے والی تبدیلیوں سے کئی گنا زیادہ اوراہم ہوتی ہیں ۔(۲) ''

بچے کی تربیت کہاں سے شروع کریں؟

تعلیم وتربیت کو مفیدبنانے کے لئے ضروری ہے کہ آج کل کے تصور کے برخلاف مذکورہ مدت سے پہلے ہی بچے کی تربیت اس کی پیدائش کے ابتدائی ہفتوں سے ہی شروع کرنا چاہئے ،پہلے صرف جسمانی مسائل اور پھر ایک سال کی عمر سے نفسیاتی مسائل کی طرف توجہ کی جانی چاہئے۔

یہ نکتہ قابل ذکر ہے کہ بچے کے لئے وقت کی اہمیت یکساں نہیں ہوتی،کیونکہ ایک سال کی عمر میں ایک دن کی مدت،تیس سال کی عمر میں ایک دن کی مدت سے کئی گنا طولانی ہوتی ہے۔شاید یہ مدت جسمانی اور نفسیاتی حوادث کے لحاظ سے چھ گنا زیادہ ہو۔لہذا بچپن کے اس گرانقدر دور سے پھر پورا فائدہ اٹھانے میں غفلت نہیں کرنی چاہئے۔اس بات کا قوی احتمال ہے کہ بچے کی ابتدائی چھ سال کی عمر کے دوران زندگی کے قواعد وضوابط کے نفاذ کانتیجہ یقینی ہے۔(۳)

اسی لئے حضرت علی فرماتے ہیں :

''من لم یتعلّم فی الصّغر لم یتقدّم فی الکبر'' ۔(۴)

''جوبچپن میں کچھ نہ سیکھے وہ بڑا ہو کرآگے نہیں بڑھ سکتا ۔''

لہذا بچپن کا دور زندگی کے صحیح طور طریقے سیکھنے کا بہترین وقت ہو تا ہے۔کیونکہ اس زمانے میں بچے میں تقلید اور حفظ کی توا نائی بہت قوی ہوتی ہے۔اس دور میں بچہ اپنے معاشرہ کے افراد کے حرکات وسکنات اور ان کے چال چلن کو پوری توجہ کے ساتھ دیکھتا ہے اور ان کا عکس،کیمرے کے مانند،اپنے ذہن میں کھینچ لیتاہے۔

اس لئے،بچے کے جسم کی نشو ونما اور تکامل کے ساتھ اس کی روح کی بھی صحیح راستے کی طرف ہدایت ہونی چاہئے تاکہ اس میں نیک اور شائستہ صفات پیدا ہو جائیں۔ کیونکہ جن بچوں کی بچپن میں صحیح طریقے سے تربیت نہیں ہوتی ہے،ان میں بڑے ہو نے کے بعد اخلاقی تبدیلی کا آنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

خوش قسمت اورکامیاب وہ لوگ ہیں ،جو ابتدائے زندگی سے ہی صحیح وسالم تربیت کے ساتھ نشو ونما پاتے ہیں اور نمایاں اورگرانقدر صفات ان کی زندگی کا جزولا ینفک بن جاتے ہیں ۔

بعض ماہرین نفسیات نے بچے کوایک ننھے پودے سے تشبیہ دی ہے،جس کی حالت کو ایک باغبان صحیح طریقہ کار کے تحت بدل سکتاہے۔لیکن جو لوگ ایک پرانے درخت کے مانند گندے اور نا پسندماحول میں پلے بڑھتے ہیں ،ان کی اصلاح کرنا بہت دشوار ہوتا ہے،اور جو شخص ایسے افراد کے کردارو طرز عمل کو بدلنا چاہے گا،اسے بہت سی مشکلات کا سامناکر ناپڑے گا۔(۵)

پیغمبر اکرم (ص) لو گوں کے لئے نمونہ عمل ہیں

خدا وند متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے:

( لقد کان لکم فی رسول اﷲ اسوة حسنة ) (احزاب۲۱)

''بیشک رسول خدا (ص) تمہارے لئے بہترین نمونہ ہیں ،لہذا تم لوگ ان کے وجودمبارک سے مستفید ہو سکتے ہو۔''

پیغمبر اسلام (ص) پوری تاریخ میں بشریت کے لئے سب سے بڑے نمونہ عمل تھے،کیونکہ آپ (ص) اپنے بیان کے ذریعہ لوگوں کے مربیّ وراہنما ہونے سے پہلے اپنی سیرت اور طرز عمل سے بہترین مربیّ اور رہبر تھے،

پیغمبر اسلام (ص) کی شخصیت صرف کسی خاص زمانہ،کسی خاص نسل ،کسی خاص قوم،کسی خاص مذہب اورکسی خاص علاقہ کے لئے نمو نہ نہیں تھی،بلکہ آپ (ص) عالمی اورابدی لحاظ سے تمام لوگوں اورتمام ادوار کے لئے نمونہ تھے۔

ہم یہاں پرمعتبر اسناد وشواہد کی روشنی میں بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ پیغمبر اسلام (ص) کے حسن سلوک اور طرز عمل کو بیان کر رہے ہیں ۔

بچے کو اہمیت دینا

دور حاضر میں بچوں کوبہت اہمیت دی جارہی ہے۔خاندانوں اور معا شروں کے بچوں کی شخصیت کے احترام پرحکومت اور قوم کافی توجہ دے رہی ہے۔اس کے باوجود پیغمبر اسلام (ص) بچوں کی تربیت پرجتنی توجہ دیتے تھے،اتنی توجہ آج کی دنیا بھی نہیں دے پا رہی ہے ۔

اگرچہ،کبھی کبھی تہذیب و ترقی یافتہ ممالک کے زمامدار اور حکمران یتیم خانوں اور نرسریوں میں جاکرایک دو گھنٹے بچوں کے ساتھ گزار تے ہیں اور ان میں سے بعض تو بچوں کو گود میں لیکرتصویریں کھنچاتے ہیں اور ویڈیوفلم بناتے ہیں ،ان کے بارے میں مقا لات بھی لکھتے ہیں اور اس طرح بچوں کے تئیں اپنے احترام کولو گوں پر ظاہر کر تے ہیں ،لیکن آج تک کوچہ و بازار میں کسی شخص نے بھی پیغمبر اسلام (ص) کے مانندنہایت سادگی کے ساتھ بچوں کو گود میں لے کرپیار نہیں کیا ۔اس طرح پیغمبر اکرم (ص)اپنے اور غیروں کے تمام بچوں ،سے خاص محبت فرماتے تھے۔اس سلسلہ میں آنحضرت (ص) کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ:

''والتّلطف بالصبیان من عادةالرّسول'' (۶)

''بچوں سے پیار ومحبت کرنا پیغمبر اسلام (ص)کی عادت تھی ''

شیعوں کے ائمہ اطہار علیہم السلام دوسرے دینی پیشوائوں نے بھی اسی پر عمل کیا ہے اور وہ بھی بچوں کی اہمیت کے قائل تھے۔ذیل میں ہم چند نمونے پیش کر رہے ہیں :

۱۔بچے سے سوال کرنا

حضرت علی علیہ السلام ہمیشہ لوگوں کے سامنے اپنے بچوں سے علمی سوالات کر تے تھے اور بعض اوقات لوگوں کے سوالات کا جواب بھی انھیں سے دلوا تے تھے۔

ایک دن حضرت علی علیہ السلام نے اپنے فرزندامام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام سے چند موضوعات کے بارے میں کچھ سوالات کئے چنانچہ ان میں سے ہر ایک

نے مختصر لفظوں میں حکیمانہ جواب دئے۔اس کے بعدحضرت علی علیہ السلام نے مجلس میں موجودحارث اعور نامی ایک شخص سے مخاطب ہو کر فرمایا:

ایسی حکیمانہ باتیں اپنے بچوں کو سیکھاؤ ،کیونکہ اس سے ان کی عقل وفکر میں استحکام وبالیدگی پیدا ہوتی ہے ۔(۷)

اس طرح حضرت علی علیہ السلام نے ان کا بہترین انداز میں احترام کیا اور ان کے وجود میں ان کی شخصیت کو اجاگر کیا اور خود اعتمادی پیدا کی ۔

۲۔حسن معاشرت

بچے میں شخصیت پیدا کرنے کاایک بنیادی سبب اس کے ساتھ اچھا برتاؤبھی ہے۔رسول خدا (ص) نے مختصرلفظوں میں فرمایا اور اپنے پیروئوں کوآشکار طور پر اسے نافذ کرنے کاحکم دیا ہے:

''اپنے فرزندوں کا احترا م کرواور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ(۸) ''

لہذاجو لوگ اپنے بچوں کی با عزت وبا حیثیت شخص بنانا چاہتے ہیں ،انھیں چاہئے کہ اپنے بچوں کواچھی تعلیم وتر بیت کے ساتھ رہنمائی کریں۔ اور برے، ناپسند اور توہین آمیز سلوک سے پر ہیز کر یںکیو نکہ نا پسنداور برے طرز عمل سے اپنے بچوں کی ہر گز صحیح تربیت نہیں کی جا سکتی ۔

۳۔وعدہ پورا کرنا

وعدہ پورا کرنا ان عوامل سے ایک ہے کہ جن کے ذریعہ بچے میں اعتماد پیدا کیا جاسکتا ہے اور یہ ان کی شخصیت کے نشو ونما میں کافی موثرہے۔ائمہ اطہار علیہم السلام نے بچوں سے وعدہ وفائی کرنے کے سلسلہ میں بہت تاکید کی ہے اس سلسلہ میں ہم ائمہ معصومین کے چند اقول پیش کرتے ہیں :

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

''جائزنہیں ہے کہ انسان سنجیدگی سے یا مذاق میں جھوٹ بولے۔

جائز نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنے بچے سے وعدہ کرلے اور اسے پورا نہ کرے(۹) ''

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ رسول خدا (ص) نے فرما یا:

''اگر تم میں سے کسی نے اپنے بچے سے کوئی وعدہ کیا ہے۔تو اسے پورا کرنا چاہئے اور اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہئے۔(۱۰) ''

شیعوں کی احادیث کی کتابوں میں ائمہ اطہار علیہم السلام سے والدین کے وعدہ وفائی کے بارے میں بے شمار روایتیں نقل ہوئی ہیں ،لیکن ہم اختصار کے پیش نظر یہاں پر انھیں ذکر کر نے سے چشم پوشی کرتے ہیں ۔

۴۔بچے کو مشکلات سے آگاہ کرنا۔

اپنے بچوں ، خاص کر بیٹوں کو شخصیت اور حیثیت والابنانے کا مالک سبب یہ بھی ہے

کہ انھیں مشکلات سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ مستقبل میں مشکلات سے مقا بلہ کرسکیں،کیونکہ بچوں کو عملی طور پر یہ سمجھنا چاہئے کہ ہر چیز کو حاصل کرنے کے لئے کوشش و زحمت کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر کوئی بچہ مشکلات اور سختیوں سے آگاہ نہ ہو تووہ مستقبل میں زندگی کے گوناگوں مشکلات کے مقابلہ میں گھبرا جائے گا۔یہ حقیقت ہمارے ائمہ اطہار علیھم السلام کی روایات میں بھی بیان ہوئی ہے۔

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا:

''بہتر ہے کہ بچہ بچپنے میں زندگی میں پیش آنے والی سختیوں اور مشکلات سے دو چارہو،جوکہ حقیقت میں زندگی کا کفارہ ہے،تاکہ جوانی اور بوڑھاپے میں صبروبرد باری سے کام لے ۔(۱۱) ''

یہ یاد دہانی کرا دینا ضروری ہے کہ،بچوں کو مشکلات سے آشناکرنا بچے کی ناراضگی کا سبب نہیں بنناچاہئے۔یعنی بچے کے ذمہ کئے جانے والے کام اس کی توانائی اور طاقت سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں،اس لئے بچے کی طاقت و توانائی کومد نظر رکھنا ضروری ہے۔

رسول خدا (ص) نے اس سلسلہ میں درج ذیل چار نکات کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے:

۱۔بچہ نے اپنی طاقت بھر جو کام انجام دیا ہے اسے قبول کرنا۔

۲۔جو کام بچے کی طاقت سے باہر ہو بلکہ اس کے لئے نا قا بل برداشت ہو اس کام کا اس سے مطالبہ نہ کرنا۔

۳۔بچے کوگناہ اور سر کشی پر مجبور نہ کرنا۔

۴۔اس سے جھوٹ نہ بولنااور اس کے سامنے فضول اور احمقانہ کام انجام نہ دینا۔(۱۲)

دوسری ر وایتوں میں یوں نقل ہوا ہے:

''جب رسول خدا (ص) سات سال کے تھے،ایک دن اپنی دایہ(حلیمہء سعدیہ)سے پو چھا:میرے بھائی کہاں ہیں ؟(چونکہ آپ (ص)حلیمہ سعدیہ کے گھر میں تھے،اس لئے ان کے بیٹوں کو بھائی کہتے تھے)انہوں نے جواب میں کہا:پیارے بیٹے!وہ بھیڑبکریاں چرانے گئے ہیں ،جو خداوند متعال نے ہمیں آپ (ص) کی بر کت سے عطا کی ہیں ۔آپ(ص)نے کہا:اما جان آپ نے میرے ساتھ انصاف نہیں کیا ! ماں نے پو چھا:کیوں ؟

جواب میں کہا:کیایہ مناسب ہے کہ میں خیمہ میں بیٹھ کر دودھ پیوں اور میرے بھائی بیا بان میں تپتی دھوپ میں ہوں ۔(۱۳) ''

۵۔بچے کے کام کی قدر کر نا

رسول خدا (ص) نے بچوں کی تربیت و پرورش اور انھیں اہمیت دینے کے بارے میں اپنے پیروئوں کو جوحکم د یا ہے، پہلے اس پر خود عمل کیا ہے۔پیغمبر اکرم (ص) کی ایک سیرت یہ بھی تھی کہ آپ (ص)بچوں کے کام کی قدر کرتے تھے۔

عمرو بن حریث نے یوں روایت کی ہے:

''ایک دن رسول خدا (ص) عبداللہ ابن جعفرا بن ابیطالب کے نزدیک سے گزرے۔جبکہ وہ بچے تھے ،آنحضرت (ص) نے ان کے حق میں یہ دعا کی:خدا وندا! اس کی تجارت میں برکت عنایت فرما۔(۱۴) ''

۶۔بچوں کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونا

رسول اکرم (ص)کی یہ بھی سیرت تھی کہ کبھی آپ(ص) اپنے بچوں کی تعظیم کے لئے نماز کے سجدہ کو طول دیتے تھے یا لوگوں کے بچوں کی تعظیم کے لئے نماز کو جلدی تمام کرتے تھے اور ہر حال میں بچوں کا احترام کرتے تھے اور اس طرح عملی طور پرلوگوں کو بچوں کی تعظیم کرنے کا درس دیتے تھے۔

ایک دن پیغمبر اکرم (ص)بیٹھے تھے کہ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام داخل ہوئے۔آنحضرت (ص) ان کے احترام میں اپنی جگہ سے اٹھ کرانتظار میں کھڑے رہے۔چونکہ دونوں بچے اس وقت صحیح طریقے سے چل نہیں پاتے تھے،اس لئے آنے میں کچھ دیر ہوئی۔لہذا پیغمبر اسلام (ص) نے آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا ۔دونوں بچوں کو گود میں لے لیا اور دوش مبارک پر سوار کر کے چلے اور فر مایا کہ میرے پیارے بیٹو!تمہاری کتنی اچھی سواری ہے اور تم کتنے اچھے سوار ہو۔(۱۵) ؟!''

آنحضرت (ص)حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی تعظیم کے لئے بھی کھڑے ہوتے تھے۔(۱۶)

۷۔بچوں کے مستقبل کا خیال رکھنا

ایک دن حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام نے اپنے بچوں اور بھتیجوں کو اپنے پاس بلاکر فرمایا:تم آج معاشرہ کے بچے ہو لیکن مستقبل میں معاشرہ کی بڑی شخصیت ہوگے،لہذاعلم حاصل کرنے کی کوشش کرو،تم میں سے جو بھی علمی مطالب کو حفظ نہ کر سکے،وہ انھیں لکھ ڈالے اوراپنی تحریروں کو اپنے گھرمیں محفوظ رکھے تاکہ ضرورت کے وقت ان سے استفادہ کرے۔(۱۷)

اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ امام حسن مجتبی علیہ السلام بچوں کے مستقبل کو ملحوظ رکھتے تھے اور بچوں کے والدین کواس حقیقت سے آگاہ فرماتے تھے۔اس لئے دین کے پیشوا بچوں کے مستقبل کے بارے میں خاص توجہ رکھتے تھے۔چنانچہ ایک حدیث میں آیا ہے:

''انصار میں سے ایک شخص چند بچوں کوچھوڑ کر دنیا سے اٹھا۔اس کے پاس تھوڑا سا سرمایہ تھاکہ جسے اس نے اپنی عمر کے آخری دنوں میں عبادت اور خدا کی خوشنودی کے لئے خرچ کر دیا۔جبکہ اسی زمانے میں اس کے بچے تنگ دستی کی وجہ سے دوسروں سے مدد طلب کرتے تھے۔یہ ماجرا پیغمبر اسلام (ص) کی خدمت میں نقل کیا گیا۔آنحضرت(ص)نے سوال کیا:تم نے اس شخص کے جنازہ کو کیا کیا؟کہا گیاکہ اسے ہم نے دفن کردیا۔آنحضرت (ص) نے فرمایا:اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا تواسے مسلما نوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہ دیتا!!کیونکہ اس نے اپنی دولت کوضائع کردیا اور اپنے بچوں کودوسروں کا محتاج بنا کرچھوڑ دیا ۔(۱۸)

۸۔دینی احکام کی تعلیم دینا

بارگاہ خدا میں بچے کی عبادت،دعااور حمدوثنا کی تمرین سے اس کا باطن روشن ہوتا ہے،اگر چہ ممکن ہے بچہ نماز کے الفاظ کے معنی نہ سمجھتاہو ،لیکن خدا وند متعال کی طرف توجہ،راز ونیاز،پروردگار عالم سے مدد کی درخواست،دعا اور بارگاہ الہٰی سے التجا کو وہ بچپنے سی ہی سمجھتا ہے اور اپنے دل کوخدا وند متعال اور اس کی لا محدودرحمت سے مطمٔن بنا تا ہے اور اپنے اندرایک پناہ گاہ کا احساس کرتا ہے اور مشکلات وحوادث کے وقت اپنے دل کو تسکین دیتا ہے،چنانچہ خدا وند متعال فرماتا ہے:

( الذین آمنوا وتطمٔن قلو بهم بذکرا ﷲلا بذکراﷲتطمٔن القلوب ) (رعد۲۸)

ٍٍ''یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور ان کے دلوں کویاد خدا سے اطمینان حاصل

ہو تا ہے اور آگاہ ہو جائوکہ اطمینان یاد خدا سے ہی حاصل ہو تا ہے۔''

بچوں کوابتداء سے ہی مئومن اور خدا پرست بنانے کی تربیت کے لئے ضروری ہے کہ ان کے جسم وروح ایمان کے لحاظ سے یکساں ہوں ۔اسی لئے اسلام نے والدین پرذمہ داری ڈالی ہے کہ اپنے بچوں کوخدا کی طرف متوجہ کریں اور انھیں خدا پرستی اور دین کی تعلیم دیں اور دوسری طرف حکم دیا ہے کہ بچوں کو نماز اور عبادت کی مشق کرائیں۔

معاویہ ابن وہب نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیاکہ ہم بچہ کو کس عمر میں نماز پڑھنے کے لئے کہیں ؟ آپ نے فر مایا:چھ سے سات سال کی عمر میں انھیں نماز

پڑھنے کے لئے آمادہ کرنا چاہئے۔(۱۹)

رسول خدا (ص) نے ایک حدیث میں فرما یا:''اپنے بچوں کوسات سال کی عمر میں نمازپڑھنے کا حکم دو۔(۲۰) ''

امام محمدباقرعلیہ السلام نے ایک دوسری روایت میں بچوں کی عمر کے مختلف دور میں اعتقادی تر بیت کے سلسلہ میں والدین کی ذمہ داریوں کو اس طرح بیان فر ما یا ہے:

''تین سال کی عمر میں بچہ کو کلمہ لا الہ الا اللہ سکھا ئیں،چار سال کی عمر میں محمدرسول اللہ سکھائیں،پانچ سال کی عمر میں اسے قبلہ کی طرف رخ کرنا سکھا ئیں اور اسے حکم دیں کہ سجدہ میں جائے،چھ سال کی عمر میں اسے مکمل طور پر رکوع و سجود سکھا ئیں اور سات سال کی عمر میں منہ ہاتھ دھونا(وضو)اور نماز پڑھنا سکھا ئیں۔(۲۱) ''

والدین اور مربیّ کومعلوم ہوناچاہئے کہ مذہب ان کا سب سے بڑا معاون ومدد گار ہے،کیونکہ ایمان ایک روشن چراغ کے مانند ہے جو تاریک راہوں کو روشن کرتا ہے اور ضمیروں کو بیدار کرتا ہے اورجہاں کہیں انحراف ہوگا اسے آسانی کے ساتھ اس انحراف وکجروی سے بچاکر حقیقت وسعادت کی طرف رہنمائی کرے گا ۔

بچے میں صحیح تربیت کے آثار

بچوں کی صحیح تربیت ان میں استقلال اور خود اعتمادی کا سبب بنتی ہے اوران کا احترام

انھیں با حیثیت انسان بنا تا ہے،کیونکہ جو بچہ ابتداء سے اپنی قدر ومنزلت کو پہچانتا ہے وہ بڑا ہوکراپنے اندر احساس کمتری کاشکار نہیں ہو تا ۔چنانچہ اسلامی روایتوں میں آیا ہے کہ بچہ اوراس کا دل ایک صاف وخالی زمین کے مانند ہے کہ جوبھی بیج اس میں بویا جائے گا اسے قبول کر کے اس کی پرورش کرتی ہے۔(۲۲)

مثال کے طور پرحضرت علی علیہ السلام کی شخصیت رسول خدا (ص) کی آغوش میں تربیت پانے کے نتیجہ میں رشد و کمال تک پہنچی۔اگرچہ علی علیہ السلام جسم وروح کے اعتبار سے عام بچہ نہیں تھے،بلکہ ان کے وجود مبارک میں مخصوص قابلیتیں موجود تھیں، لیکن ان کے بارے میں پیغمبر اسلام (ص) کی خصو صی نگرا نیوں اور توجہ سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی ۔

بچے کی صحیح تربیت کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ وہ شجاع اوربہادر بنتا ہے۔اس چیز کوحضرت امام حسین علیہ السلام کی تر بیت میں بخوبی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔

ابن شہاب کہتا ہے:

''ایک مرتبہ جمعہ کے دن خلیفہ دوم منبرپر تھے۔حضرت امام حسین علیہ السلام بچہ تھے مسجد میں داخل ہوئے اور کہا:اے عمر!میرے باپ کے منبر سے نیچے اترو!عمر نے روتے ہو ئے کہا:سچ کہا،یہ منبر آپ کے جدامجد کا ہے، بھتیجے !ذرا ٹھہرو !! امام حسین علیہ السلام عمر کا دامن پکڑے ہوئے کہتے رہے کہ میرے جد کے منبر سے اتر و،عمر مجبور ہو کر اپنی گفتگو روک کر منبر سے اتر آئے اور نماز پڑھنے میں مشغول ہو گئے۔نماز کے بعد کسی کوبھیجا تاکہ امام حسین علیہ السلام کو بلاکر لا ئے۔جوں ہی امام حسین علیہ السلام تشریف لائے،عمر نے پوچھا:بھتیجے! میرے ساتھ اس طرح

گفتگو کرنے کاآپ سے کس نے کہا تھا؟

امام حسین علیہ السلام نے فر ما یا:مجھے کسی نے یہ حکم نہیں دیا ہے۔اورآپ نے یہی جملہ تین بار دہرایا،جبکہ امام حسین علیہ السلام اس وقت بالغ بھی نہیں ہوئے تھے۔(۲۳)

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی زندگی کے حالات کے بارے میں نقل کیا گیا ہے کہ امام رضا علیہ السلام کی رحلت کے بعد،خلیفہ وقت ،مامون بغداد آیا۔ایک دن شکار کے لئے نکلا راستہ میں ایک ایسی جگہ پر پہنچا جہاں چند بچے کھیل رہے تھے۔امام رضا علیہ السلام کے فرزند امام محمد تقی علیہ السلام ، کہ جن کی عمراس وقت تقریباً گیارہ سال تھی ، ان بچوں کے درمیان کھڑے تھے۔جوں ہی مامون اور اس کے ساتھی وہاں پہنچے تو سب بچے بھاگ گئے۔ لیکن امام محمد تقی علیہ السلام وہیں کھڑے رہے۔جب خلیفہ نزدیک پہنچا حضرت پر ایکنظر ڈالی اورآپ کا نورانی چہرہ دیکھتا ہی رہ گیا۔ اورآپ سے سوال کیا کہ آپ دوسرے بچوں کے ساتھ کیوں نہیں بھاگے؟

امام محمدتقی علیہ السلام نے فوراًجواب دیا:اے خلیفہ! راستہ اتنا تنگ نہیں تھا کہ میں خلیفہ کے لئے راستہ چھوڑ کر بھاگتا ۔میں نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے کہ میں سزا کے ڈر سے بھاگتا۔میں خلیفہ کے بارے میں حسن ظن رکھتا ہوں اور تصور کرتا ہوں کہ وہ بے گناہوں کو کوئی ضرر نہیں پہنچائے گا۔اسی لئے میں اپنی جگہ پر کھڑا رہا اور نہیں بھاگا۱ ! مامون آپ کے منطقی اور محکم جواب اور آپ کے پر کشش چہرہ سے حیرت زدہ رہ گیا اور کہنے لگا آپ کانام کیا ہے؟امام نے جواب دیا:محمد۔پوچھا:کس کے بیٹے ہو؟ آپ نے فر مایا:علی بن موسی رضا علیہ السلام کا۔(۲۴)


دوسری فصل:

محبت

بچوں سے پیار کرو اور ان کے ساتھ مہر بانی اور ہمدردی سے پیش آجائو۔

( پیغمبر اکرم (ص))

بچوں سے پیار

جس طرح بچہ غذا اور آب وہوا کا محتاج ہوتا ہے اسی طرح وہ پیارمحبت کا بھی محتاج ہوتا ہے۔بچے کی روح وجان کے لئے پیار محبت بہترین روحانی غذا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بچہ چومنے اور گود میں لینے سے خوش ہو تا ہے۔

اس لئے جو بچہ ابتداء سے ہی کافی حد تک اپنے والدین کے پیار ومحبت سے سرشار اور ان کے چشمہء محبت سے سیراب رہتا ہے،اس کی روح شادرہتی ہے۔

ائمہ دین کی روایتوں میں بچے سے محبت کرنے کو مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے اور اس کی تاکید کی گئی ہے۔ہم ان میں سے بعض کاذکر کرتے ہیں :

رسول خدا (ص) نے خطبہء شعبانیہ میں لوگوں کی ذمہ داریاں بیان کرتے ہوئے

فر مایا:''اپنے بڑوں کا احترام کرو اور اپنے بچوں سے ہمدردی اور محبت ومہربانی سے پیش آئو(۲۵) ''

آنحضرت (ص) نے ایک دوسری حدیث میں فر مایا:

''جو شخص مسلمانوں کے بچوں سے رحمدلی اور محبت سے پیش نہ آئے اور بڑوں کا احترام نہ کرے،وہ ہم میں سے نہیں ہے۔(۲۶) ''

ایک اور روایت میں فر مایا:

''بچوں سے پیار کرو اور ان کے ساتھ ہمدردی اور نرمی سے پیش آئو۔(۲۷) ''

حضرت علی علیہ السلام نے شہادت کے موقع یہ وصیت کی:

ٍٍ''اپنے خاندان میں بچوں سے محبت اور بڑوں کا احترام کرو۔(۲۸) ''

آپ نے ایک دوسری روایت میں اپنے پیرو ئوں سے یہ فرما یا:

''بچے کو بڑوں کا کردار اختیار کرنا چاہئے اور بڑوں کو بچوں کے ساتھ شفقت سے پیش آناچاہئے ،ایسا نہ ہو کہ بچوں کے ساتھ زمانہ جا ہلیت کے ظالموں کا جیسا سلوک کریں۔(۲۹) ''

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فر مایا:

''جو شخص اپنے بچے سے زیادہ محبت کرتا ہے اس پر خدا وند متعال کی خاص رحمت اور عنایت ہوگی۔(۳۰) ''

پیغمبر اکرم (ص) کا بچوں سے پیار

حضرت علی علیہ السلام فر ماتے ہیں :

''میں بچہ ہی تھا،پیغمبر اکرم (ص) مجھے اپنی آغوش میں بٹھاتے تھے اور اپنے سینہء مبارک پر لٹا تے تھے اورکبھی مجھے اپنے بسترمیں سلاتے تھے اور شفقت کے ساتھ اپنے چہرے کو میرے چہرے سے ملاتے تھے اور مجھے اپنی خوشبوسے معطر فرماتے تھے۔(۳۱)

جی ہاں،بچہ شفقت کا محتاج ہوتاہے،اس کے سر پر دست شفقت رکھنا چاہئے۔

اور اس کومحبت بھری نگاہ سے دیکھنا چاہئے اور اسے پیارکی نظروں سے ہمیشہ خوش رکھنا چاہئے ۔(۳۲) ''

پیغمبر اسلام (ص) بچوں پر اتنا مہربان تھے ،کہ نقل کیا گیا ہے کہ جب آپ(ص) ہجرت فرماکر طائف پہنچے تو وہاں کے بچوں نے آپ (ص) کو پتھر مارنا شروع کیا لیکن آپ نے انھیں نہیں روکا،بلکہ حضرت علی علیہ السلام نے بچوں کو آنحضرت (ص) سے دور کیا۔(۳۳)

رسول خدا (ص)جب انصار کے بچوں کو دیکھتے تھے تو ان کے سروں پر دست شفقت پھیرتے تھے اور انھیں سلام کرکے دعا دیتے تھے۔(۳۴)

انس بن مالک کہتے ہیں :

'' پیغمبر اکرم (ص) سے زیادہ میں نے کسی کو اپنے خاندان والوں سے محبت کرتے نہیں دیکھا۔(۳۵) ''

آپ (ص)ہر روزصبح اپنے بیٹوں اور نواسوں کے سر پر دست شفقت پھیرتے تھے(۳۶)

بچوں سے پیار ومحبت اور شفقت کرنا پیغمبر اکرم (ص) کی خصوصیات میں سے تھا۔(۳۷)

ایک دن پیغمبر (ص) اپنے اصحاب کے ساتھ ایک جگہ سے گزر ے جہاںچند بچے کھیل رہے تھے۔پیغمبر اکرم (ص) ان بچوں میں سے ایک کے پاس بیٹھے اور اس کے ماتھے کو چوما اور اس سے شفقت کے ساتھ پیش آئے۔آپ(ص) سے جب اس کا سبب پوچھاگیا،تو آپ(ص) نے فرمایا:میں نے ایک دن دیکھا کہ یہ بچہ میرے فرزند حسین علیہ السلام کے ساتھ کھیل رہا تھا اور حسین علیہ السلام کے پائوں کے نیچے سے خاک اٹھاکراپنے چہرہ پر مل رہاتھا۔چونکہ یہ بچہ حسین علیہ السلام کودوست رکھتا ہے اس لئے میں بھی اسے دوست رکھتا ہوں ۔جبرئیل نے مجھے خبردی ہے کہ یہ بچہ کربلا میں حسین علیہ السلام کے اصحاب میں سے ہوگا۔(۳۸)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فر مایا:

''موسی ابن عمران نے اپنی مناجات میں خدا وند متعال سے سوال کیا:پرور دگارِ!تیرے نزدیک کو ن سا عمل بہتر ہے؟وحی ہوئی:بچوں سے پیار کرنامیرے نزدیک تمام اعمال سے برتر ہے،کیونکہ بچے ذاتی طور پرخدا پرست ہوتے ہیں اور مجھے محبت کرتے ہیں ۔اگر کوئی بچہ مر جاتا ہے تو میں اسے اپنی رحمت سے بہشت میں داخل کرتا ہوں ۔(۳۹) ''

مگر بچوں سے بہت زیادہ محبت بھی نہیں کرنی چاہئے،کیونکہ اس کے نقصا نات ہیں ۔اسی لئے اسلامی روایات میں بچوں کے ساتھ بہت زیادہ محبت کرنے کا منع کیاگیا ہے۔

رسول اکرم (ص) کا امام حسن اور امام حسین علیھما السلام سے پیار

رسول خدا (ص) اپنے نواسوں امام حسن اور امام حسین علیھماالسلام سے بہت محبت کرتے تھے۔یہ حقیقت بہت سی کتابوں میں بیان ہوئی ہے،اس سلسلہ میں چند نمونے ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں :

اہل سنّت کی کتابوں مین نقل ہوا ہے کہ عبداللہ ا بن عمر سے روایت کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا:

''امام حسن اورامام حسین علیھما السلام،دنیا میں میرے خوشبودار پھول ہیں ۔(۴۰) ''

انس بن مالک سے نقل کیا گیا ہے کہ

''رسول خدا (ص) سے پوچھا گیاکہ آپ(ص) اپنے اہل بیت میں سے کس کو زیادہ چاہتے ہیں ؟رسول خدا (ص) نے جواب میں فر مایاکہ میں حسن اور امام حسین علیھما(علیہ السلام) کو دوسروں سے زیادہ دوست رکھتا ہوں ۔(۴۱) ''

ایک اور روایت میں سعیدا بن راشد کہتا ہے:

'' امام حسن اور امام حسین علیھما( علیہ السلام) رسول خدا (ص) کے پاس دوڑتے ہوئے آئے۔آپ(ص) نے انھیں گود میں اٹھایا اورفرمایا:یہ دنیا میں میرے دو خوشبو دار پھول ہیں ۔(۴۲) ''

امام حسن مجتبی علیہ السلام نے فر مایا:

ٍٍ''رسول خدا (ص) نے مجھ سے فر مایا:اے میرے فرزند! تم حقیقت میں میرے لخت جگر ہو،خوش نصیب ہے وہ شخص جو تم سے اور تمہاری اولاد سے محبت کرے اور وائے ہو اس شخص پر جو تم کو قتل کرے۔(۴۳) ''

رسول خدا (ص) امام حسین علیہ السلام سے اس قدر محبت کرتے تھے کہ آپ(ص) ان کا رونا برداشت نہیں کرپاتے تھے۔

یزیدا بن ابی زیاد کہتا ہے:

''رسول خدا (ص) عائشہ کے گھر سے باہر تشریف لائے۔اور فاطمہ زہراسلام اللہ

علیہاکے گھر سے گزرے امام حسین علیہ السلام کے رونے کی آواز سنی،توآپ(ص) نے فاطمہ سلام اللہ علیہاسے فر مایا: کیا تم نہیں جانتی ہو کہ مجھے حسین( علیہ السلام) کے رونے سے تکلیف ہوتی ہے؟!(۴۴) ''

بچوں کے حق میں پیغمبر اسلام (ص) کی دعا

بچوں سے متعلق پیغمبر اسلام (ص) یہ معمول تھاکہ مسلمان اپنے بچوں کو آپ(ص) کی خدمت میں لاتے تھے اور آپ(ص) سے ان کے حق میں دعا کرنے کی درخواست کرتے تھے۔

جمرہ بنت عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک بیٹی نے کہا:

''میرا باپ مجھے پیغمبر خدا (ص) کی خدمت میں لے گیا اور آپ(ص) سے درخواست کی کہ میرے حق میں دعا کریں۔پیغمبر خدا (ص) نے مجھے اپنی آغوش میں بٹھا کرمیرے سر پر دست شفقت رکھا اور میرے لئے دعا فر مائی۔(۴۵) ''

بچوں سے شفقت کرنا

عباس بن عبدالمطلب کی بیوی،ام الفضل،جو امام حسین علیہ السلام کی دایہ تھی،کہتی ہے:

''ایک دن رسول خدا (ص) نے امام حسین علیہ السلام،جو اس وقت شیر خوار بچہ

تھے،کو مجھ سے لے کر اپنی آغوش میں بٹھایا، بچے نے پیغمبر اکرم (ص) کے لباس کو تر کر دیا۔میں نے جلدی سے بچے کو آنحضرت (ص)سے لے لیا نتیجہ میں بچہ رونے لگا ۔آنحضرت (ص)نے مجھ سے فر مایا:ام الفضل!آہستہ!میرے لباس کو پانی پاک کر سکتا ہے،لیکن میرے فرزند حسین علیہ السلام کے دل سے اس رنج و تکلیف کے غبار کو کونسی چیز دور کرسکتی ہے(۴۶) ؟''

منقول ہے کہ جب کسی بچے کودعا یا نام رکھنے کے لئے رسول خدا (ص) کی خدمت میں لاتے تھے۔توآپ (ص)اس بچہ کے رشتہ داروں کے احترام میں ہاتھ پھیلا کربچے کو آغوش میں لیتے تھے۔کبھی ایسا اتفاق بھی ہوتا تھا کہ بچہ آپ (ص)کے دامن کو ترکر دیتا تھا،موجود افراد بچے کو ڈانٹتے تھے تاکہ اسے پیشاب کرنے سے روک دیں۔رسول خدا (ص)انھیں منع کرتے ہوئے فر ماتے تھے:''سختی کے ساتھ بچے کو پیشاب کرنے سے نہ روکنا''،اس کے بعد بچے کو آزاد چھوڑ تے تھے تاکہ پیشاب کرکے فارغ ہو جائے۔

جب دعا ونام گزاری کی رسم ختم ہو جاتی،توبچے کے رشتہ دار نہایت ہی خوشی سے اپنے فرزند کو آنحضرت (ص)سے لیتے اور بچے کے پیشاب کرنے کی وجہ سے آپ(ص) ذرا بھی ناراض نہیں ہوتے تھے۔ بچے کے رشتہ داروں کے جانے کے بعد پیغمبر اکرم (ص) اپنا لباس دھو لیتے تھے۔(۴۷)

پیغمبر اکرم (ص) کا بچوں کو تحفہ دینا

پیغمبر اسلام (ص) کا بچوں کے ساتھ حسن سلوک کا ایک اور نمو نہ یہ تھاکہ آپ (ص) ان کو تحفے دیتے تھے۔

عائشہ کہتی ہیں :

''حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے رسول خدا (ص) کے لئے حبشہ میں بنی ہوئی سونے کی ایک انگوٹھی تحفہ کے طورپر بھیجی ۔رسول خدا (ص) نے امامہ بنت ابی العاص(جو پیغمبر اکرم (ص) کی ربیبہ تھی)کو بلا کر فرمایا:بیٹی!اس تحفہ سے اپنے آپ کو زینت دو۔(۴۸) ''

ایک دوسری حدیث میں عائشہ کہتی ہیں :

''پیغمبر خدا (ص) کے لئے ایک سونے کا گلو بند تحفہ کے طور پر لایا گیا رسول خدا (ص) کی تمام بیویاں ایک جگہ جمع ہوگئی تھیں۔امامہ بنت ابی العاص،جو ایک چھوٹی بچی تھی،گھر کے ایک کونے میں کھیل رہی تھی۔رسول خدا (ص) نے اس گلو بند کودکھا کر ہم سے پوچھا:تمہیں یہ کیسالگ رہا ہے ؟ہم سب نے اس پر نظر ڈال کر کہا:ہم نے آج تک اس سے بہتر گلوبند نہیں دیکھا ہے۔

رسول خدا (ص) نے فر مایا:اسے مجھے دیدو ۔عائشہ کہتی ہیں :میری آنکھوں میں تاریکی چھاگئی ۔میں ڈر گئی کہیں آپ (ص) اسے کسی دوسری بیوی کی گردن میں نہ ڈال دیں۔ اوردوسری بیویوں نے بھی ایسا ہی تصور کیا۔ہم سب خاموش تھے،اسی اثنا میں امامہ رسول خدا (ص) کے پاس آگئی اور آپ (ص)نے گلو بند کو اس کی گردن میں ڈال دیا پھر وہاں سے تشریف لے گئے۔(۴۹) ''

بعض روایتوں میں اس طرح نقل ہوا کہ ایک عرب نے پیغمبر اکرم (ص)کی خدمت میں آکر کہا:

''اے رسول خدا (ص)!میں ہرن کے ایک بچہ کوشکار کر کے لایا ہوں تاکہ تحفہ کے طور پر آپ(ص) کی خدمت میں پیش کروں اور آپ (ص)اسے اپنے فرزند امام حسن اور امام حسین علیہماالسلام کو دیدیں۔

آنحضرت (ص) نے تحفہ کو قبول کر کے شکاری کے لئے دعا کی ۔اس کے بعد اس ہرن کے بچے کوامام حسن علیہ السلام کو دیا امام حسن علیہ السلام اس ہرن کے بچہ کو لے کر اپنی والدہ حضرت ماطمہ زہرائ٭ کی خدمت میں آئے۔لہذا امام حسن علیہ السلام بہت خوش تھے اور اس ہرن کے بچہ سے کھیل رہے تھے۔(۵۰) ''

شہیدوں کے بچوں کے ساتھ پیغمبر اسلام (ص) کاسلوک

بشیرا بن عقریہ ا بن جہنی کہتا ہے:

''میں نے جنگ احدکے دن رسول خدا (ص) سے پو چھا کہ میرے والد کس طرح شہید ہوئے؟ آپ(ص)نے فرمایا :''وہ خدا کی راہ میں شہید ہوئے،ان پر خدا کی رحمت ہو ۔میں رونے لگا۔پیغمبر اکرم (ص) نے مجھے اپنے نزدیک بلاکر میرے سر پر دست شفقت پھیر ا اور مجھے اپنے مرکب پر سوار کرکے فرمایا :کیا تمہیں پسند نہیں ہے کہ میں تمہارے باپ کی جگہ پر ہوں ؟(۵۱) ''

جمادی الاو ل ۸ ہجری کو جنگ موتہ واقع ہوئی۔اس جنگ میں لشکر اسلام کے تین کمانڈر ،زیدا بن حارثہ،جعفرا بن ابیطالب اور عبداللہ ا بن رواحہ شہید ہوئے ۔

یہ لشکر واپس مدینہ پلٹا(۵۲) رسول خدا (ص) اور مسلمان ترانہ پڑھتے ہوئے اس لشکر کے استقبال کے لئے نکلے۔پیغمبر اسلام (ص)مرکب پر سوار تھے اور فرمارہے تھے:

''بچوں کو مرکبوں پر سوار کرو اور جعفر کے بیٹے کومجھے دو !عبیداللہ ا بن جعفرابن ابی طالب کو لایا گیا ۔پیغمبر اسلام (ص) نے اسے اپنے سامنے مرکب پر بٹھایا۔(۵۳) ''

ابن ہشام لکھتا ہے : جعفر کی بیوی ،اسماء بنت عمیس کہتی ہے:

''جس دن جعفر جنگ موتہ میں شہید ہوئے اس دن،پیغمبر اکرم (ص) ہمارے گھر تشریف لائے ۔اور میں اسی وقت گھر کے کام کاج صفائی اور بچوں کونہلا دھلا کر فارغ ہو ئی تھی آپ(ص)نے مجھ سے فرمایا: جعفر کے بچوں کو میرے پاس لائو !میں ان کو آنحضرت (ص)کی خدمت میں لے گئی، آپ(ص)نے بچوں کو اپنی آغوش میں بٹھاکرپیار کیا جبکہ آپ (ص)کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

میں نے سوال کیا :اے رسول خدا (ص)!میرے ماںباپ آپ(ص) پر فدا! آپ(ص) کیوں رو رہے ہیں ؟کیا جعفر اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں آپ (ص)کو کوئی خبر ملی ہے ؟ آپ (ص)نے فرمایا :جی ہاں ،وہ آج شہید ہو گئے(۵۴) ''

بیشک،لوگوں کے بچے بھی رسول خدا (ص) کی اس پدرانہ شفقت سے محروم نہیں

تھے۔ منقول ہے کہ:

''رسول خدا (ص) بعض بچوں کو اپنی گود میں لیتے تھے اور بعض کو اپنی پشت اور کندھوں پر بٹھاتے تھے (اور اپنے اصحاب سے فرماتے تھے:کہ بچوں کو گود میں لے لو ،انھیں اپنے کندھوں پر سوار کرو) بچے اس سے خوش ہوتے تھے اور خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے اور ان دلچسپ یادوں کو کبھی نہیں بھولتے تھے،بلکہ کچھ مدت کے بعد اکٹھا ہوکران باتوں کو ایک دوسرے کے سامنے بیان کرتے تھے اور فخر ومباہات کے ساتھ کوئی یہ کہتا تھا کہ پیغمبر اکرم (ص) نے مجھے گود میں لیا اور تجھے اپنی پشت پر سوارکیا۔دوسرا کہتا تھاکہ پیغمبر اکرم (ص) اپنے اصحاب کو حکم دیتے تھے کہ تمہیں اپنی پشت پر سوار کریں۔(۵۵) ''

پیغمبر اسلام (ص)کا نماز کی حالت میں اپنے بچوں سے حسن سلوک

شداد بن ہاد کہتا ہے:

''رسول خدا (ص)ایک دن نماز ظہر یا عصرپڑھ رہے تھے اور آپ کے بیٹوں حسن علیہ السلام وحسین علیہ السلام میں سے کوئی ایک آپ کے ساتھ تھا ۔آپ(ص) نمازیوں کی صفوں کے آگے کھڑے ہوگئے اور اس بچے کو اپنے دائیں طرف بٹھادیا۔ اس کے بعدآپ (ص)سجدہ میں گئے اور سجدہ کو طول دیا۔

راوی اپنے باپ سے نقل کرتا ہے:

میں نے لو گوں کے درمیان سجدہ سے سر اٹھایا،دیکھا کہ رسول خدا (ص)ابھی سجدہ

میں ہیں اور وہ بچہ پیغمبر اکرم (ص) کی پشت پر سوار ہے ،میں دوبارہ سجدہ میں چلاگیا ۔جب نماز ختم ہوئی ،لوگوں نے عرض کی کہ اے رسول خدا (ص)!آج جو نماز آپ (ص)نے پڑھی اس میں ایک سجدہ بہت طولانی کیا کہ دوسری نمازوں میں آپ نے اتنا طولانی سجدہ نہیں کیا ، کیا اس سلسلہ میں آپ(ص) کے پاس کوئی حکم آیا ہے یا کوئی وحی نازل ہوئی ہے ؟آپ (ص)نے جواب میں فر مایا :ایسا کچھ نہیں تھا ،بلکہ میرا فرزند میری پشت پر سوار ہوگیا تھا ،میں اسے ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا،اس لئے میں نے اسے آزاد چھوڑدیا کہ جو چاہے کرے۔(۵۶) ''

ایک دوسری حدیث میں ابوبکر سے منقول ہے:

''میں نے حسن اور حسین علیھما السلام کو دیکھا کہ رسول خدا (ص)حالت نماز میں ہیں اور یہ اُچھل کرآپ کی پشت پر سوار ہورہے ہیں ،رسول خدا (ص)دونوں بچوں کو ہاتھ سے پکڑ لے رہے تھے تاکہ آپ (ص)کھڑے ہوجائیںاور اپنی کمر سیدھی کرلیںاور بچے آسانی کے ساتھ زمین پر اترجائیں۔نماز کو ختم کرنے کے بعد آنحضرت(ص) دونوں بچوں کو آغوش میں لے کر ان کے سروں پردست شفقت پھیرتے ہوئے فرماتے تھے:یہ میرے دونوں بیٹے خوشبودارپھول حسن و حسین ہیں ۔(۵۷) ''

دوسری حدیث میں آیا ہے کہ بچہ خوشبودار پھول ہے اور میرے خوشبودار پھول حسن وحسین علیھما السلام ہیں ایک روایت میں اس طرح نقل ہوا ہے:

''ایک دن پیغمبر اکرم (ص)مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ ایک جگہ نماز

پڑھ رہے تھے،جب آنحضرت (ص)سجدہ میں جاتے تھے توحسین علیہ السلام ،جو کہ بچہ تھے،آپ(ص)کی پشت پر سوار ہوکر اپنے پائوں کو ہلاتے ہوئے ''ہے ہے ''کرتے تھے۔جب پیغمبر اکرم (ص)سجدہ سے سر اٹھانا چاہتے تھے،تو امام حسین علیہ السلام کو ہاتھ سے پکڑ کرزمین پر بٹھاتے تھے ،یہ کام نماز کے ختم ہونے تک جاری رہتاتھا۔ایک یہودی اس ماجرے کو دیکھ رہاتھا ۔اس نے نماز کے بعد رسول خدا (ص)کی خدمت میں عرض کی :آپ (ص)اپنے بچوں سے ایسا برتائو کر رہے ہیں کہ ہم ہر گز ایسا نہیں کرتے۔رسول خدا (ص)نے فرمایا:اگر تم لوگ خدا اور اس کے رسول (ص)پر ایمان رکھتے تو اپنے بچوں سے شفقت کرتے ۔پیغمبر اسلام (ص) کی بچوں کے ساتھ مہر ومحبت نے یہودی کو اس قدر متاثر کیا کہ اس نے اسلام قبول کرلیا۔(۵۸)

رسول خدا (ص)دوسروں کے بچوں کا بھی احترام کرتے تھے اور آپ(ص) ان کے نفسیاتی جذبات کابھی پورا پورا خیال رکھتے تھے۔


تیسری فصل:

بچّوں کا بوسہ لینا

''بچے خوشبودار پھول ہیں ۔''

پیغمبر اکرم (ص)

بچوں کے ساتھ رسول خدا (ص)کے حسن سلو ک میں سے ان کا بوسہ لینا بھی ہے۔اس سلوک کا اثر یہ ہے کہ والدین اور اولاد کے درمیان گہری محبت پیدا ہوتی ہے اور دوسرے یہ کہ بچے کی محبت کی پیاس کوبجھانے کا یہ بہترین طریقہ ہے اوربوسہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ماں باپ بچے سے محبت رکھتے ہیں نیز یہی بوسہ بچے کے اندر بھی پیار محبت کے جذبے کو زندہ رکھنے کا سبب بنتا ہے اور بچہ اپنے والدین کے دل میں اپنے تئین رکھنے والی محبت سے آگاہ ہوجاتا ہے اور اس کے اندرایک نیا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ پیغمبر اسلام (ص)اکثر اوقات لوگوں کے سامنے اپنے بچوں سے محبت کاا ظہار کرتے تھے۔اس کے دو فائدے تھے:

اول یہ کہ لوگوں کے سامنے بچوں کا احترام کرنے سے ان کی شخصیت بنتی ہے۔

دوسرے یہ کہ رسول خدا (ص)اس سلوک سے لوگوں کوبچوں کی تربیت کا طریقہ سکھاتے تھے۔

اسلام میں اپنے بچے کا بوسہ لینے کی بہت تاکید کی گئی ہے۔

پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:

''جو شخص اپنے بچے کا بوسہ لیتاہے،خدا وند متعال اس کے حق میں ایک نیکی لکھتا ہے اور جو شخص اپنے بچے کو خوش کرتا ہے ،خدا وند متعال قیامت کے دن اس کو خوش کرے گا۔(۵۹) ''

عائشہ کہتی ہیں :

''ایک شخص رسول خدا (ص)کی خدمت میں آگیا اور کہا :کیا آپ (ص)بچوں کا بوسہ لیتے ہیں ؟میں نے کبھی کسی بچے کا بوسہ نہیں لیا ہے۔رسول خدا (ص) نے فرمایا :میں کیا کروں کہ خدا وند متعال نے تیرے دل سے اپنی رحمت کو نکا ل لیا ہے؟(۶۰) ''

ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ

''ایک شخص رسول خدا (ص)کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا:میں نے آج تک کسی بھی بچے کا بوسہ نہیں لیاہے!جیسے ہی یہ شخص گیا پیغمبر (ص) نے فرمایا :میری نظر میں یہ شخص جہنّمی ہے۔(۶۱) ''

ایک اور روایت میں آیا ہے:

''رسول خدا (ص) نے حسن وحسین علیھما السلام کا بوسہ لیا۔اقرع ا بن حابس نے کہا:میرے دس فرزند ہیں اور میں نے کبھی ان میں سے کسی ایک کا بھی بوسہ نہیں

لیا ہے!رسول خدا (ص) نے فر مایا :میں کیا کروں کہ خدا وند متعال نے تجھ سے رحمت چھین لی ہے(۶۲) ؟!

علی علیہ السلام نے فرمایا:

''اپنے بچوں کا بوسہ لیاکرو ،کیونکہ تمھیں ہر بوسہ کے عوض(جنت کا) ایک درجہ ملے گا۔(۶۳) ''

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

''اپنے بچوں کا زیادہ بوسہ لیاکرو ،کیونکہ ہر بوسہ کے مقا عوض میں خدا وند متعال تمھیں (جنت میں ) ایک درجہ عنایت فرمائے گا۔(۶۴) ''

ابن عباس کہتے ہیں :

''میں پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں تھاآپ (ص)کے بائیں زانو پر آپ (ص) کے بیٹے ابراھیم علیہ السلام اور دائیں زانو پر امام حسین علیہ السلام بیٹھے تھے۔آنحضرت (ص)کبھی ابراھیم علیہ السلام کا اور کبھی امام حسین علیہ السلام کا بوسہ لیتے تھے ۔(۶۵) ''

بچوں کے ساتھ انصاف کرنا

ایک اہم نکتہ جسے والدین کو اپنے بچوں کے بارے میں ملحوظ رکھنا چاہئے یہ ہے کہ وہ بچوں کے درمیان عدل وانصاف سے کام لیں ۔کیونکہ بچوں کو ابتداء سے ہی عدل

وانصاف کا مزہ چکھنا چاہئے تاکہ اس کی خوبی کو محسوس کریںاور اس سے آشنا ہوجائیں اور اسے اپنی زندگی اور معاشرہ کے لئے ضروری سمجھیں اور بے انصافی ،ظلم اورہر طرح کے امتیازسے پرہیز کریں۔کیونکہ بچوں کی زندگی میں کوئی چیز چھوٹی نہیں ہوتی،لہذاعدل وانصاف کے نفاذ میں چھوٹی سے چھوٹی چیز کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

''پیغمبر اسلام (ص)نے ایک ایسے شخص کو دیکھا کہ جس کے دو بچے تھے ،اس نے ایک کا بوسہ لیا اور دوسرے کا بوسہ نہیں لیا ۔آنحضرت (ص) نے فرمایا:تم نے کیوں ان کے درمیان عدل وانصاف سے کام نہیں لیا ۔''

ابی سعید خدری کہتے ہیں :

''ایک دن رسول خدا (ص) اپنی بیٹی فاطمہ(س) کے گھر تشریف لے گئے۔علی علیہ السلام بسترپر محو آرام تھے،حسن اور حسین علیھما السلام بھی ان کے پاس تھے ۔انہوں نے پانی مانگا ،رسول خدا (ص) ان کے لئے پانی لائے۔حسین علیہ السلام آگے بڑھے،پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا :تمہارے بھائی حسن( علیہ السلام) نے تم سے پہلے پانی مانگا ہے۔فاطمہ ٭ نے فر ما یا :کیا آپ (ص)حسن علیہ السلام سے زیادہ محبت رکھتے ہیں ؟آنحضرت (ص)نے فرمایا :میرے نزدیک دونوں برابر ہیں کوئی بھی ایک دوسرے سے برتر نہیں ہے ''لیکن عدل وانصاف سے کام لینا ضروری ہے ۔ہر ایک کو اپنی نوبت پر پانی پینا چاہئے(۶۶) ''

انس کہتے ہیں :

''ایک شخص پیغمبر اکرم (ص) کے پاس بیٹھا تھا ۔اس کا بیٹا آگیا ۔باپ نے اسے چوم کر اپنے زانو پر بیٹھالیا ۔اس کے بعد اس کی بیٹی آگئی ۔(بوسہ لئے بغیر)اسے اپنے پاس بٹھا لیا۔پیغمبر اکرم (ص)نے فر مایا :تم نے کیوں ان کے درمیان عدل وانصاف سے کام نہیں لیا ؟(۶۷)

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

''اپنے بچوں کے درمیان اسی طرح عدل وانصاف سے کام لو ،جس طرح تم خود چاہتے ہو کہ تمھارے ساتھ عدل وانصاف کیا جائے۔(۶۸) ''

پیغمبر اسلام (ص) کا حضرت فاطمہ زہراکو بوسہ دینا

پیغمبر اسلام (ص)اپنی بیٹی حضرت فاطمہ زہراعلیہا اسلام سے بہت محبت کر تے تھے، باوجودیکہ حضرت فاطمہ کی شادی ہو چکی تھی اور بچے بھی ہو چکے تھے ،آنحضرت (ص) ان کا بوسہ لیتے تھے۔

ابان ا بن تغلب کہتے ہیں :

''پیغمبر اسلا م (ص)اپنی بیٹی فاطمہ ٭کو بہت بوسہ دیتے تھے۔(۶۹) ''

امام باقر علیہ السلام اور امام صادق علیہ السلام نے فر مایا:

''پیغمبر اکرم (ص)رات کو سونے سے پہلے فاطمہ(س)کو بوسہ دیتے تھے اور اپنے چہرے کو ان کے سینہ پر رکھ کر ان کے لئے دعا کرتے تھے۔(۷۰) ''

عائشہ کہتی ہیں :

''ایک دن رسول خدا (ص)نے فاطمہ(س)کے گلے کا بوسہ لیا۔میں نے آنحضرت(ص) سے کہا :اے رسول خدا(ص) فاطمہ ٭کے ساتھ آپ جیسابرتائو کررہے ہیں ایسا دوسروں کے ساتھ نہں کرتے؟پیغمبر (ص)نے فرمایا:اے عائشہ !جب مجھے بہشت کا شوق ہوتا ہے تومیں فاطمہ(س)کے گلے کا بوسہ لیتاہوں ۔(۷۱) ''

کس عمر کے بعد بچے کابوسہ نہیں لینا چاہئے؟

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بچوں کو کس عمر کے بعد نہیں چومنا چاہئے؟اس سوال کے جواب کے لئے ہمیں ائمہ دین کی احادیث کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔

اسلام نے بچوں کی تربیت کے سلسلے میں چھ سے دس سال تک کی عمر پر خاص توجہ دی ہے اور اپنے پیرئوں کو ضروری ہدایتیں دی ہیں اور لوگوں کی جسمی اور روحی حالت کے مطابق قوانین الٰہی بنائے گئے ہیں ۔اس طرح عملی طریقے سے بچوں کے جنسی رجحانات کوکنٹرول کیا ہے تاکہ ان میں اخلاقی برائیاں پیدا نہ ہوں ۔

اس لئے ،اسلام چھ سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو جنسی میلانات کو ابھار نے والی ہر چیز سے دور رکھتا ہے اوروالدین کو ہدایت دیتا ہے کہ اپنے بچوں کے جنسی رجحات کو قابو میں رکھنے کے لئے مناسب ماحول فراہم کریں۔

رسول خدا (ص) نے فرمایا:

''چھ سال کی لڑکی کا کوئی مرد بوسہ نہ لے اوراسی طرح عورتیں بھی چھ سات سال کی

عمر کے بعد کسی لڑکے کو چومنے سے پرہیز کریں۔(۷۲) ''

پیغمبر اسلام (ص)کا امام حسن اورامام حسین علیھما السلام کو چومنا

پیغمبر اکرم (ص) اپنی بیٹی فاطمہ زہرائ کا بوسہ لینے کے علاوہ ان کے بیٹوں امام حسن اور امام حسین علیھما السلام سے بھی محبت کرتے تھے اور ان کا بوسہ لیتے تھے۔

ابو ہریرہ کہتے ہیں :

''پیغمبر اکرم (ص) ہمیشہ حسن و حسین علیھما السلام کابوسہ لیتے تھے۔انصار میں سے عینہ نے کہا:میرے دس بچے ہیں ،اور میں نے کبھی ان میں سے کسی ایک کا بوسہ نہیں لیاہے۔آنحضرت (ص)نے فر مایا :''جورحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا ۔(۷۳) ''

سلمان فارسی کہتے ہیں :

''میں رسول خدا (ص) کی خدمت میں حاضر ہوا،دیکھا کہ آپ (ص) حسین علیہ السلام کو اپنے زانو پر بٹھا کر کبھی ان کی پیشانی اور کبھی ان کے ہونٹوں کا بوسہ لے رہے ہیں(۷۴)

ابن ابی الدنیا کہتے ہیں :

''زیدا بن ارقم نے جب عبیداللہ ابن زیاد کی مجلس میں دیکھا کہ وہ فاسق ایک چھڑی سے امام حسین علیہ السلام کے لبوں سے بے ادبی کر رہا ہے تو انہوں نے

عبیداللہ ابن زیاد سے مخاطب ہو کر کہا:

چھڑی کو ہٹا لو!خدا کی قسم میں نے بارہا پیغمبر اکرم (ص)کوان دونوں لبوں کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھا ہے ۔ یہ جملہ کہنے کے بعدزیدرونے لگے، ابن زیاد نے کہا :خدا تیری آنکھوں کو ہمیشہ رلائے،اگرتم بوڑھے نہ ہوتے اورتمہاری عقل زائل نہ ہو گئی ہوتی تو میں ابھی تمہاری گردن مار دینے کا حکم دے دیتا۔(۷۵) ''

زمخشری کہتاہے:

''رسول خدا (ص)نے حسن علیہ السلام کو آغوش میں لے کر ان کا بوسہ لیا ۔اس کے بعد انھیں اپنے زانو پر بٹھالیا اور فرمایا :میں نے اپنے حلم ،صبر اورہیبت کو انھیں بخشا اس کے بعد حسین علیہ السلام کو آغوش میں لے کر ان کا بوسہ لیا اور انھیں بائیں زانو پر بٹھا کر فرمایا :میں نے اپنی شجاعت اورجودو کرم کو انھیں بخشا(۷۶)


چوتھی فصل:

بچو ں کے ساتھ کھیلنا

جس شخص کے یہاںکوئی بچہ ہو،اُسے اس بچہ کے ساتھ بچوں جیسا سلوک کرنا چاہئے۔

( پیغمبر اکرم (ص))

بچوں کی شخصیت کوسنوار نے کے لئے مئوثر طریقہ بڑوں کاان کے ساتھ کھیلنا ہے۔ کیونکہ بچے ایک طرف تو اپنے اندر جسمانی کمزوری کا احسا س کرتے ہیں اور دوسری طرف بڑوں کے اندر موجود طاقت کا مشاہدہ کرتے ہیں تو فطری طور پر ان کو رشد وکمال سے جو عشق ہو تا ہے وہ اس امر کا سبب بنتا ہے کہ وہ بڑوں کے طریقہ کار پر عمل کریں اور خود کو ان کا جیسا بنا کر دکھائیں۔

جب والدین بچے بن کر ان کے ساتھ کھیل کود میں شریک ہوتے ہیں ،تو یقینا بچہ مسرور اور خوش ہوتاہے اور جذ بات میں آکر محسوس کرتا ہے کہ اس کے بچگا نہ کام کافی اہمیت رکھتے ہیں ۔

اس لئے آج کل کے تربیتی پرو گراموں میں بڑوں کا بچوں کے ساتھ کھیلنا ایک قابل قدر امر سمجھا جاتا ہے اور علم نفسیات کے ماہرین اس طریقہ کار کو والدین کی ذمہ داری جانتے ہیں ۔

ٹی،ایچ،موریس( T.H.MORRIS )''اپنی کتاب والدین کے لئے چند اسباق''میں لکھتا ہے:

''اپنے بچوں کے رفیق اور دوست بن جائو،ان کے ساتھ کھیلو،ان کو کہا نیاں سناؤ۔اور ان کے ساتھ دوستانہ اور مخلصا نہ گفتگو کرو۔بالخصوص والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کے ساتھ بچہ بن جا ئیں اور ان سے ایسی بات کریں کہ وہ ان کی بات کو سمجھ سکیں۔(۷۷) ''

ایک اور ماہر نفسیات لکھتا ہے:

''باپ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے تفریحی پروگراموں میں شرکت کرے۔یہ حسن تفاہم ضروری ہے۔لیکن بچوں کی زندگی سے مربوط زمان ومکان اور موسم مختلف ہوتے ہیں ۔جو باپ اپنے بچوں کے کھیل کود میں شرکت کرتا ہے، بیشک وہ مختصر مدت کے لئے ایسا کرتا ہے،لیکن اس کا بچوں کے ساتھ بچہ بننا، چاہے کم مدت کے لئے ہی ہو بچوں کی نظر میں اس کی اتنی اہمیت ہے کہ اس کو بہر حال اس کے لئے وقت نکالنا چاہئے خواہ کم ہی ہو ۔(۷۸)

بچوں کے کھیلنے کی فطرت

خدا وند متعال نے جو جبلّتیں بچوں میں قراردی ہیں ،ان میں سے ایک ان کی کھیل کود

سے دلچسپی بھی ہے۔وہ دوڑ تا ہے،اچھل کود کرتا ہے اور کبھی اپنے کھلونوں کے ساتھ مشغول رہتا ہے اور ان کو اُلٹ پُلٹ کرنے میں لذت محسوس کرتا ہے۔اگر چہ اس کی یہ حرکتیں ابتداء میں فضول دکھائی دیتی ہیں ،لیکن حقیقت میں یہ بچے کے جسم وروح کے کمال کا سبب بنتی ہیں ،اس کے نتیجہ میں بچے کا بدن مضبوط ہو جاتا ہے اور اس کے اندرغور وفکر اور تخلیق کی قوت بڑھ جاتی ہے اور اس کے اندرموجود پوشیدہ توانائیاں آشکار ہوجاتی ہیں ۔شاید اسلامی روایات میں بچوں کے کھیل کود کو اہمیت دینے کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔

بچے کا کھیلنا،اس کے ارادہ کی آزادی اور قوت تخلیق کو زندہ کرنے کی مشق ہے،کیونکہ

جب بچہ کھلونوں سے ایک عمارت بنانے میں مشغول ہوتا ہے ،اس کی فکر ایک انجینئر کے مانند کام کرتی ہے اور وہ اپنی کامیابیوں سے لذت محسوس کرتا ہے۔جب وہ اس کام کو انجام دینے کے دوران کسی مشکل سے دو چار ہوتا ہے تو اس کا حل تلاش کر تا ہے ،نتیجہ میں یہ تمام کام اس کی فکر کی نشو ونمااور اس کی شخصیت کو بنانے میں کافی مؤثر ہو تے ہیں ۔

رسول خدا (ص) نے فرمایا:

''جس شخص کے یہاں کوئی بچہ ہواسے اس بچہ کے ساتھ بچوں جیسا سلوک کرنا چاہئے۔(۷۹) ''

نیزفرمایا:

''اس باپ پر خدا کی رحمت ہوجو نیکی اور کار خیر میں اپنے بچے کی مدد کرتاہے۔ اس کے ساتھ نیکی کرے اور ایک بچے کے مانند اس کادوست بن جائے اور اسے دانشور اور باادب

بنائے۔(۸۰) ''

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

''اپنے بچے کو سات سال تک آزاد چھوڑدو تاکہ وہ کھیلتا رہے۔(۸۱) ''

امام جعفر صادق علیہ السلا م نے فرمایا:

''بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی سات سال کے دوران کھیلتا ہے۔دوسرے سات سال کے دوران علم سیکھنے میں لگتا ہے اور تیسرے سات سال کے دوران حلال وحرام(دینی احکام) سیکھتا ہے۔(۸۲) ''

حضرت علی علیہ السلام نے فر مایا:

''جس شخص کے یہاں کوئی بچہ ہو اسے اس کی تربیت میں اس کے ساتھ بچے جیسا

بر تائو کرنا چاہئے۔(۸۳)

پیغمبر اسلام (ص)کا بچوں کے ساتھ کھیلنا

رسول اکرم (ص)اپنے بچوں ،امام حسن و امام حسین علیھماالسلام کے ساتھ کھیلتے تھے۔اس سلسلہ میں بہت سی روایتیں نقل کی گئی ہیں ،ہم یہاں ان میں سے چند روایتیں بیان کرتے ہیں :منقول ہے کہ

''پیغمبر اکرم (ص)ہر روز صبح اپنے بچوں اور ان کی اولاد کے سروں پر دست شفقت پھیرتے تھے اور حسین علیہ السلا م کے ساتھ کھیلتے تھے۔(۸۴) ''

یعلی ا بن مرّہ کہتا ہے:

''رسول خدا (ص)کی( ایک دن کہیں )دعوت تھی ،ہم بھی آنحضرت (ص)کے ہمراہ تھے، ہم نے دیکھا کہ امام حسن علیہ السلام کوچہ میں کھیل رہے ہیں ۔پیغمبر اکرم (ص)نے بھی انھیں دیکھا ،اور آپ (ص) لوگوں کے سامنے دوڑتے ہوئے امام حسن علیہ السلام کی طرف گئے اور ہاتھ بڑھا کر انھیں پکڑ نا چاہا۔لیکن بچہ ادھراُدھر بھاگ رہا تھا اور اس طرح رسول خدا (ص)کو ہنساتاتھا،یہاں تک کہ رسول خدا (ص)نے بچے کو پکڑ لیا اور اپنے ایک ہاتھ کو امام حسن علیہ السلام کی ٹھوڑی پر اور دوسرے ہاتھ کوان کے سر پر رکھ کر اپنے چہرے کو ان کے چہرے سے ملاکرچومتے ہوئے فرمایا:حسن مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ،جو اسے دوست رکھے گاخدا وند متعال اس کو دوست رکھے گا۔(۸۵) ''

لیکن بہت سی روایات میں نقل ہوا ہے کہ یہ واقعہ حسین علیہ السلام کے بارے میں ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

''ایک دن امام حسین علیہ السلام پیغمبر اکرم (ص)کی آغوش میں تھے ،آنحضرت (ص) ان کے ساتھ کھیل رہے تھے اور ہنس رہے تھے ۔عائشہ نے کہا :اے رسول خدا! (ص)!آپ (ص)اس بچے کے ساتھ کتنا کھیلتے ہیں ؟! رسول خدا (ص)نے جواب میں فرمایا:افسوس ہے تم پر!میں کیوں اس سے پیار نہ کروں جبکہ وہ میرے دل کا میوہ

اور میرا نور چشم ہے۔(۸۶) ''

جبیرا بن عبداللہ کا کہنا ہے:

''رسول خدا (ص)اپنے اصحاب کے بچوں سے کھیلتے تھے اور انھیں اپنے پاس بٹھاتے تھے۔(۸۷) ''

انس ابن مالک کاکہنا ہے:

''پیغمبر اکرم (ص)لوگوں میں سب سے زیادہ خوش اخلاق تھے۔میرا ایک چھوٹا بھائی تھا،اس سے دودھ چھڑایا گیا تھا ،میں اس کو پال رہا تھا ،اس کی کنیت ابو عمیر تھی۔آنحضرت (ص)جب بھی اسے دیکھتے تھے تو فرماتے تھے:تمہارا دودھ چھڑا نے سے تمھیںکیسی مصیبت آ گئی ہے؟آپ (ص)خود بھی اس کے ساتھ کھیلتے تھے۔(۸۸) ''

ایک حدیث میں نقل ہوا ہے:

''پیغمبر اکرم (ص)،عباس کے بیٹوں ،عبداللہ،عبیداللہ اور کثیر یا قشم کو اپنے پاس بلاتے تھے،وہ چھوٹے تھے اور کھیلتے تھے۔ان سے آنحضرت (ص)فرماتے تھے:

جو تم میں سے پہلے اور جلدی میرے پاس پہنچے گااس کو میں انعام دوں گا ۔بچے مقابلہ کی صورت میں آپ (ص)کی طرف دوڑ تے تھے ۔رسول خدا (ص) انھیں آغوش میں لے کر ان کا بوسہ لیتے تھے(۸۹) !! اور کبھی ان کو اپنے پیچھے مرکب پر سوار کرتے

تھے،ان میں سے بعض کے سر پر دست شفقت پھیرتے تھے(۹۰) !!

بچوں کو سوار کرنا۔

پیغمبر اسلام کا بچوں کے ساتھ حسن سلوک کا ایک اور نمونہ یہ تھاکہ آپ (ص) انھیں کبھی اپنی سواری پر اپنے پیچھے اور کبھی اپنے سا منے بٹھاتے تھے ۔نفسیاتی طور پر پیغمبر اسلام (ص)کا یہ طرز عمل بچوں کے لئے انتہائی دلچسپ تھا ۔کیونکہ وہ پیغمبر اکرم (ص)کے اس برتائو کو اپنے لئے ایک بڑا فخر سمجھتے تھے اور یہ ان کے لئے ایک ناقابل فراموش واقعہ ہوتا تھا ۔

قابل غور بات یہ ہے کہ آنحضرت (ص)کبھی اپنے بچوں کواپنے کندھوں پر اور کبھی اپنی پشت پر سوار کرتے تھے اور دوسروں کے بچوں کو اپنے سواری پر بٹھاتے تھے ۔ان میں سے کچھ نمونے ہم اس فصل میں ذکر کریں گے۔

جیسا کہ ہم نے بیان کیا کہ پیغمبر اسلام(ص) اپنے بچوں کو اپنی پشت مبارک پر سوار کرتے تھے اور ان کے ساتھ کھیلتے تھے ۔اس سلسلہ میں بہت سی روایتیں نقل کی گئی ہیں ۔

پیغمبر اکرم (ص)کے عظیم صحابی،جابر کہتے ہیں :

''میں پیغمبر اسلام (ص)کی خدمت میں حاضرہوا،اس وقت حسن وحسین علیھما السلام آنحضرت (ص)کی پشت مبارک پر سوار تھے ،آپ (ص)اپنے ہاتھوں اور پائوں سے چل رہے تھے اور فرمارہے تھے :تمھاری سواری کیااچھی سواری ہے اور تم کیا اچھے سوار ہو۔(۹۱) ''

ابن مسعود کا کہنا ہے کہ

''پیغمبر اسلام (ص)،حسن وحسین علیھما السلام کو اپنی پشت پر سوار کرکے لے جارہے تھے،جبکہ حسن علیہ السلام کو دائیں طرف اور حسین علیہ السلام کو بائیں طرف سوار کئے ہوئے تھے ۔آپ (ص)چلتے ہوئے فرماتے تھے:تمھاری سواری کیا اچھی سواری ہے اور تم بھی کتنے اچھے سوار ہو۔تمھارے والد تم دونوں سے بہتر ہیں ۔(۹۲) ''

پیغمبر اسلام (ص)کا لوگوں کے بچوں کو اپنی سواری پر سوار کرنا

پیغمبر اسلام (ص)جیسا برتائو اپنے بچوں سے کرتے تھے ویسا ہی برتائو اپنے اصحاب کے بچوں سے بھی کرتے تھے اور انھیں اپنی سواری پر سوار کرتے تھے ۔اس سلسلہ میں ہم چند روایتیں ذکر کرتے ہیں :

عبداللہ ابن جعفرا بن ابیطالب کہتے ہیں :

''ایک دن رسول خدا (ص)نے مجھے اپنے مرکب پر اپنے پیچھے سوار کیا اور میرے لئے ایک حدیث بیان فر مائی ،جسے میں کسی سے بیان نہیں کروں گا۔(۹۳) ''

مروی ہے کہ جب کبھی رسول خدا (ص)سفر سے لوٹتے ہوئے راستہ میں بچوں کو دیکھتے تو حکم فر ماتے تھے کہ انھیں اٹھا لو ۔ان میں سے بعض بچوں کو اپنے مرکب پراپنے سامنے اور بعض کو اپنے پیچھے سوار کرتے تھے ۔کچھ مدت گزرنے کے بعد وہ بچے ایک دوسرے سے کہتے تھے:رسول خدا (ص)نے مجھے اپنے سامنے سوار کیا لیکن تجھے پیچھے سوار کیا!!اور دوسرے کہتے تھے:رسول خدا (ص)نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ تجھے آپ(ص) کے مرکب پر آپ (ص)کے پیچھے سوار کریں۔(۹۴) ''

فضیل بن یسار کہتا ہے :میں نے امام باقر علیہ السلام کویہ فرماتے ہوئے سنا:

''پیغمبر اکرم (ص)کسی کام کے لئے اپنے گھر سے باہر نکلے ۔فضیل بن عباس کو دیکھا توفرمایا:اس بچے کو میرے مرکب پر میرے پیچھے سوار کرو ۔اس بچے کو پیغمبر اکرم (ص)کے پیچھے مرکب پر سوار کیا گیا اور آپ (ص)اس بچے کا خیال رکھے ہوئے تھے۔(۹۵) ''

عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں :

''میں عباس کے بیٹوں ،قثم اور عبیداللہ کے ہمراہ تھا اور ہم کھیل رہے تھے ۔رسول خدا (ص) ہمارے پاس سے گزرے اور فرمایا :اس بچے(عبداللہ ابن جعفر)کو اٹھا کر سوار کر دو ۔اصحاب نے اسے اٹھا کر رسول اﷲ (ص)کے آگے بٹھا دیا۔اس کے بعد آپ (ص)نے فرمایا :اس بچے(قثم)کو اٹھا لو۔اسے بھی اٹھا کرآنحضرت(ص) کے پیچھے سوار کیا گیا(۹۶) ''

پیغمبر اسلام (ص)کے اپنے بچوں کو اپنے کندھوں پر سوار کرنے کی چند صورتیں نقل کی گئی ہیں کہ ہم ان کو ذیل میں بیان کرتے ہیں :

۱۔دونوں (حسن وحسین علیھما السلام)کو اپنے کندھوں پر اس طرح سوار کرتے تھے کہ دونوں ایک دوسرے کے روبرو ہوں ۔

۲۔دونوں کو اپنے کندھوں پر ایک دوسرے کی طرف پشت کرکے سوار کرتے تھے۔

۳۔ایک کو اپنے دائیں کندھے پر آگے کی طرف رخ کرکے اور دوسرے کو اپنے بائیں کندھے پر پیچھے کی طرف رخ کر کے سوار فرماتے تھے۔(۹۷)


پانچویں فصل:

بچّوں کو کھلانا اور پلانا

پیغمبر اسلام (ص)کے بارے منقول ہے :

آنحضرت (ص)چھو ٹوں اور بڑوں کوسلام کرتے تھے۔

بچو ں کی تربیت اورپرورش کے سلسلہ میں ایک اہم اور سنگین ذمہ داری یہ ہے کہ ان کے درمیان عدل وانصاف برقرار رکھا جائے۔اس لئے جن والدین کے یہاں کئی بچے ہیں ،انھیں اپنے برتائو اور سلوک میں تمام بچوں کے ساتھ عدل وانصاف اور مساوات کے ساتھ پیش آنا چاہئے اوراپنے عمل میں تمام بچوں کو یکساں سمجھنا چاہئے تاکہ ان میں سے بعض احساس کمتری کا شکار نہ ہوں ۔پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے بچوں کے ساتھ ایسا ہی کیا ہے ۔اسی سلسلہ میں اپنے بچوں کو پانی دیتے وقت عدالت کی رعایت فرمانابھی اس سلسلہ میں نقل کیا گیا ہے۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

''رسول خدا (ص)ہمارے گھر تشریف لائے ،میں اورحسن و حسین علیھما السلام ایک لحاف میں سوئے ہوئے تھے۔حسن نے پانی مانگاتورسول خدا (ص)گئے اور ایک برتن میں پانی لے کر آئے۔اسی اثنا ء میں حسین علیہ السلام بھی بیدار ہوئے اور پانی مانگا ۔لیکن رسول خدا (ص)نے پہلے انھیں پانی نہیں دیا۔

فاطمہ(س)نے فرمایا :

''اے رسول خدا ! (ص)کیاآپ حسن کو حسین سے زیادہ دوست رکھتے ہیں ؟رسول خدا (ص)نے فرمایا:حسن نے حسین سے پہلے پانی مانگا تھا ۔قیامت کے دن میں ،تم،حسن وحسین اور یہ جو سوئے ہوئے ہیں (علی علیہ السلام)ایک ہی جگہ ہوں(۹۸) !!''

رسول خدا (ص)اپنے بچوں کو خود کھانا کھلاتے تھے ۔آپ (ص)کا یہ سلوک اس بات کی دلیل ہے کہ آپ (ص)اپنے بچوں کے مزاج سے خوب واقف تھے۔

سلمان فارسی کہتے ہیں :

''میں رسول خدا (ص)کے گھر میں داخل ہوا۔حسن وحسین علیھما السلام آپ (ص)کے پاس کھانا کھا رہے تھے۔آنحضرت (ص)کبھی ایک لقمہ امام حسن علیہ السلام کے منہ میں اور کبھی امام حسین علیہ السلام کے منہ میں ڈالتے تھے۔جب بچے کھاناکھاچکے توآنحضرت(ص)نے امام حسن علیہ السلام کواپنے کندھے پراور امام حسین علیہ السلام کوزانو پر بٹھا لیا۔اس کے بعد میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا:اے سلمان! کیا تم انھیں دوست رکھتے ہو؟میں نے جواب میں عرض کی :اے رسول خدا (ص) کیسے ممکن ہے کہ میں انھیں دوست نہ رکھوں جبکہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہاہوں کہ آپ (ص) کے نزدیک ان کی کیا قدر ومنزلت ہے؟!(۹۹) ''

بچوں کو سلام کرنا

رسول خدا (ص) کے نیک کردار میں سے ایک بچوں کو سلام کرنا بھی ہے ۔کیونکہ بچے باوجود یکہ کہ عمر کے لحاظ سے چھوٹے ہوتے ہیں اور کھیل کود کو پسند کرتے ہیں اور ذمہ داریوں سے دور بھاگتے ہیں لیکن اچھی طرح سمجھتے ہیں اور محبت کو محسو س کرتے ہیں ۔

رسول خدا (ص)کا یہ سلوک بعض تنگ نظر اور جاہل افراد کے نظریہ کے برعکس ہے،جو بچوں کے احترام کے قائل نہیں ہیں اور اُنہیں حقیر سمجھتے ہیں ۔لیکن مکتب اسلام میں اس کی سخت تاکید کی گئی ہے کہ بچے بھی اسی سلوک اور احترام کے حقدار ہیں جس کے بڑے ہیں ۔بیشک،پیغمبر اسلام (ص)بچوں کا احترام کرتے تھے اور انھیں معاشرے کے ماحول میں داخل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

پیغمبر اسلام (ص)کے بچوں کو سلام کرنے کے سلسلہ میں بے شمار روایتیں نقل ہوئی ہیں ،ان میں سے چند ایک کو ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں :

انس ا بن مالک کہتے ہیں :

''حضرت محمد مصطفےٰ (ص) کہیں تشریف لے جارہے تھے۔راستہ میں چند چھوٹے بچوں سے ملاقات ہوئی،آپ (ص)نے انھیں سلام کیا اور کھانا کھلایا۔(۱۰۰) ''

ایک دوسری حدیث میں کہتے ہیں :

''پیغمبر اسلام (ص) ہمارے یہاں تشریف لائے،ہم بچے تھے،آپ (ص)نے ہم کو سلام کیا(۱۰۱) ۔''

امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا:

''پانچ چیزیں ایسی ہیں ،جنہیں میں مرتے دم تک ترک نہیں کروں گا،ان میں سے ایک بچوں کو سلام کرنا ہے ۔(۱۰۲) ''

ایک اور حدیث میں نقل ہوا ہے:

''پیغمبر اکرم (ص)چھوٹے اور بڑوں کوسلام کرتے تھے۔(۱۰۳) اور سلام کرنے میں دوسروں حتیٰ بچوں پر بھی سبقت حاصل کرتے تھے،(۱۰۴) جس کو بھی دیکھتے ،پہلے آپ (ص) سلام کرتے تھے اور ہاتھ ملاتے تھے۔(۱۰۵)

آپ (ص)نے دوسری حدیث میں فرمایا:

''میں بچوں کو سلام کرنے کے سلسلہ میں حساس ہوں تاکہ یہ طریقہ میرے بعد مسلمانوں میں سنّت کی صورت میں باقی رہے اور وہ اس پر عمل کریں(۱۰۶) ۔''

کیا پیغمبر اسلام (ص)بچوں کی سرزنش کرتے تھے؟

کیا رسول خدا (ص)بچوں کی تربیت کے لئے ان کی سرزنش اور پٹائی کرتے تھے یا نہیں ؟

آنحضرت (ص)کی سیرت کے سلسلہ میں گہری تحقیق کے بعد معلوم ہو تا ہے کہ آپ (ص)بچوں کی تر بیت کے لئے کبھی اُنہیں مارتے نہیں تھے۔اگر چہ ڈانٹنا پھٹکار نا ضروری ہے،کیونکہ بہت کم ایسے بچے پائے جاتے ہیں جن کی تربیت کے دوران ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی تنبیہ نہ کی گئی ہو ۔لیکن ہماری بحث کا موضوع یہ ہے کہ کیا بچے کو مارا پیٹا جاسکتا ہے یا نہیں ؟

اسلامی روایتوں اور دینی پیشوائوں کی سیرت کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کی پٹائی نہیں کر ناچاہئے۔دور حاضر میں ،علم سکھانے اورتربیت کر نے کے لئے بھی بچوں کی پٹائی کرنا اور ادب سکھانے کے لئے ان کو جسمانی اذیت یاسزا دینامناسب نہیں سمجھا جاتا ہے اور تقریباً دنیاکے تمام ممالک میں بچوں کی پٹائی کرنااور انھیں جسمانی اذیت پہنچانا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

لیکن کچھ جاہل اور بے خبرافراداسلام کے پیشوائوں کی سیرت سے غفلت کی وجہ سے بچوں کی پٹائی سے روکنے والی روایتوں پر توجہ نہیں کرتے ۔حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے ایک شخص سے اپنے بیٹے کے خلاف شکایت کرنے پرواضح طور پر فرمایا:

''اپنے بیٹے کی پٹائی نہ کرنااور اسے ادب سکھا نے کے لئے ناراضگی اور غصہ کا اظہار کرنا،لیکن خیال رکھناکہ غصہ زیادہ دیر کے لئے نہ ہو اور حتی الامکان اس کے ساتھ نر می سے پیش آنا۔(۱۰۷) ''

پیغمبر اسلام (ص)نہ صرف بچوں کوجسمانی اذیت نہیں دیتے تھے،بلکہ اگر کوئی دوسرا بھی ایسا کر تا تھا تو آپ(ص) اس کی سخت مخالفت کرتے تھے اورشدید اعتراض کرتے تھے۔ تاریخ میں اس سلسلہ میں چند نمونے درج ہیں :

ابو مسعود انصاری کہتے ہیں :

''میرا ایک غلام تھا،میں اس کی پٹائی کر رہاتھاکہ میں نے پیچھے سے ایک آواز سنی،کوئی کہہ رہا ہے:ابو سعید!خدا وند متعال نے تجھے اس پر قدرت بخشی ہے(اسے تیرا غلام بنایا ہے)میں نے مڑ کرجب دیکھا تو رسول خدا (ص)تھے۔میں نے رسول خدا (ص) کی خد مت میں عرض کی ،میں نے اسے خدا کی راہ میں آزاد کیا۔پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:اگر تم یہ کام نہ کرتے تو تجھے آگ کے شعلے اپنی لپیٹ میں لیتے۔(۱۰۸) ''

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

''رسول خدا (ص)کا قبیلہء بنی فہد کے ایک شخص سے سامنا ہوا،جو اپنے غلام کی پٹائی کررہاتھااور وہ غلام فریاد کرتے ہوئے خدا کی پناہ اور مدد چاہتاتھا۔لیکن وہ شخص اس کی فریاد پر کوئی توجہ نہیں کررہا تھا۔جیسے ہی اس غلام کی نظر رسول خدا (ص)پر پڑی تو کہا :ان سے مدد مانگ لونگا،مالک نے پٹائی کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا۔

رسول خدا (ص)نے اس کے آقاسے کہا :

''خدا سے ڈرواور اسے نہ مارو اور اسے خدا کے لئے بخش دو،لیکن اس شخص نے اسے نہیں بخشا۔پیغمبر (ص)نے فرمایا:اسے محمد (ص)کے لئے بخش دوجبکہ خدا وند متعال کے لئے بخشنا محمد (ص) کے لئے بخشنے سے بہتر ہے ۔''

اس شخص نے کہا:

میں نے اس غلام کوخداکی راہ میں آزاد کیا۔پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:اس خدا کی قسم جس نے مجھے رسالت پرمبعوث کیا ،اگر تم اسے آزاد نہ کرتے تو جہنم کی آگ تجھے اپنے لپیٹ میں لے لیتی۔(۱۰۹) ''

تاریخ کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول خدا (ص)خلاف ورزی کرنے والے بچوں کو بھی جسمانی اذیت کے ذریعہ سزا نہیں دیتے تھے اور ان کے ساتھ بھی محبت اور حسن اخلاق سے پیش آتے تھے۔

تاریخ میں ہے کہ جب جنگ احد کے لئے لشکر اسلام آمادہ ہواتوان کے درمیان چند بچے بھی دکھائی دیئے جو شوق وولولہ کے ساتھ رضاکارانہ طور پرمیدان جنگ میں جانے کے لئے آمادہ تھے۔رسول خدا (ص) کو ان پر رحم آیا اور انھیں لوٹا دیا ۔ان کے درمیان رافع ابن خدیج نام کا ایک بچہ بھی تھا ۔آنحضرت (ص)کی خدمت میں عرض کیاگیا کہ وہ ایک زبردست تیر انداز ہے ،اس لئے پیغمبر اکرم (ص)نے اسے لشکراسلام کے ساتھ جانے کی اجازت دیدی ۔

ایک اور بچے نے روتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ رافع سے بھی زیادہ قوی ہے اس لئے پیغمبر اکرم (ص)نے ان سے کہا:آپس میں کُشتی لڑو ،کُشتی میں رافع نے شکست کھائی اس کے بعد پیغمبر اکرم (ص)نے انھیں میدان جنگ میں جانے کی اجازت دیدی۔(۱۱۰)

لہذا،جسمانی سزا کو تربیت کے لئے موثر عامل قرار دینے کے طور پر اختیار نہیں کرنا چاہئے۔چنانچہ اگر یہ طریقہ لمبی مدت تک جاری رکھا جائے تو بچے کی حیثیت پر کاری ضرب لگنے کا سبب بنتا ہے اور سر زنش کا اثر بھی باقی نہیں رہتا اور بچہ اسے ایک معمولی چیز خیال کر تا ہے، اس سے پرہیز نہیں کرتا اور شرم وحیا کا احساس بھی ختم ہو جاتا ہے۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

''عقلمند انسان ادب و تربیت سے نصیحت قبول کرتا ہے۔صرف مویشی اور حیوانات ہیں جو تازیانوں سے تر بیت پاتے ہیں ۔(۱۱۱) ''

اس لئے جسمانی سر زنش سے پر ہیز کرنا اس قدر اہم ہے ،کہ حکم ہوا ہے کہ نا بالغ اگر جرم کے مرتکب بھی ہو جائیں ان پر حد جاری کرنا جائز نہیں ہے بلکہ ان کی اصلا ح کے لئے سزا دی جائے۔(۱۱۲)

اس لئے ہم پیغمبر اسلام (ص)اور دین کے دوسرے پیشوا ئوں کی تاریخ میں کہیں یہ نہیں پاتے ہیں کہ انھیں اپنے بچوں کی تر بیت کے مقدس کام میں پٹائی کرنے کی ضرورت پڑی ہو ۔وہ اپنے بچوں کے ساتھ ایک مہر بان اور ہمدرد دوست،ایک محبوب پیشوا،اورایک غمگساررہنما کی حیثیت سے برتائو کرتے تھے۔اور ان کے بچپن کے دوران ان کے ساتھ کھیلتے تھے اور بڑے ہو کر ان کے دوست اور ہمدم رہتے تھے۔ان کا یہ طریقہ ان کے پیرو ئوں کے لئے مختلف زمانوں اور جگہوں پر راہنما ہو سکتا ہے کیونکہ اسلام ودین کے دستو رات کسی خاص زمان ومکان یا فرقہ وگروہ سے مخصوص نہیں ہوتے ،بلکہ ہر وقت اور ہر جگہ اور پوری بشریت کے لئے ہوتے ہیں ۔


دوسراحصہ:

پیغمبر اسلام (ص) کا جوانوں کے ساتھ سلوک

جوانی خدا وند متعال کی ایک گرانقدر نعمت اورانسانی زندگی کی سعادت کا بڑاسر مایہ ہے۔

پہلی فصل:

جوانی کی طاقت

میں تمہیں وصیت کرتاہوں کہ نوجوانوں اور جوانوں کے ساتھ نیکی کرو۔

( پیغمبر اکرم(ص))

پہلے حصہ میں مختصر طور پر آپ ،پیغمبر اسلام (ص) کے بچوں کے ساتھ حسن سلوک سے آگاہ ہوئے۔اب ہم دوسرے حصہ میں پیغمبر اسلام (ص) کے جوانوں کے ساتھ حسن سلوک کو پیش کرتے ہیں ،تاکہ معاشرے اور مسلمانوں کی رہنمائی ہو سکے ،کیونکہ ایک ملک کا سب سے بڑا سر مایہ اس ملک کے انسان ہوتے ہیں اور ہرملک کی سب سے اہم انسانی طاقت اس ملک کے جوان ہی ہو تے ہیں ۔کیونکہ یہ جوانی کی طاقت ہی ہے جو زندگی کی مشکلات پر قابو پاسکتی ہے اور دشوار وناہموار راستوں کو طے کرسکتی ہے ۔اگر کھیتیاں سر سبز اورلہلہاتی ہیں اور بڑی صنعتوں کی مشینیں چل رہی ہیں ،اگر زمین کے اندر موجود کانیں زمین کی گہرائیوں سے نکال کر باہر لائی جاتی ہیں ،اگر فلک بوس عمارتیں تعمیر کی جاتی ہیں ،اگر شہر آباد کئے جاتے ہیں اور ملک کی اقتصادی بینادوں کو مستحکم اور بارونق بنا یا جاتا ہے،اگر ملک کی سرحدوں کودشمنوں کے حملوں سے محفوظ رکھاجاتا ہے اور ملک میں امن و امان بر قرارکیا جاتا ہے،تو یہ سب جوان نسل کی گرانقدر کو ششوں کا نتیجہ ہے،کیونکہ جوانوں کی یہ انتھک طاقت تمام ملتوں اورقوموں کی امید کا سبب ہوتی ہے۔

اسی لئے جوانی کے دن پہنچتے ہی بچپن کا دور ختم ہو جاتا ہے اور انسان شخصی ذمہ داریوں کی دنیامیں قدم رکھتا ہے اور اجتماعی و عمومی فرائض انجام دینے کابیڑا اٹھا لیتاہے اس لئے آج کی دنیا میں جوا نوں کو خاص اہمیت دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے نو جوان،سیاسی ، اجتماعی ،اقتصادی،صنعتی واخلاقی جیسے تمام مسائل میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں ۔

دین مقدس اسلام نے بھی چودہ سو سال قبل اپنے جامع،روح افزا اور سعادت بخش منصوبوں کے پیش نظر جوان نسل پر ایک ایسی خاص توجہ کی ہے کہ آج تک کوئی معا شرہ،کوئی تہذیب،کوئی دین اور کوئی مکتب اس کی مثال پیش نہیں کرسکا ۔اسلام نے جوانوں کو مادی، معنوی، نفسیاتی،تر بیتی، اخلاقی،اجتماعی،دنیوی و اخروی،غرض کہ ہر لحاظ سے زیر نظر رکھا ہے،جبکہ دوسرے مذاہب اور تہذبیوں میں جوانوں کے صرف بعض مسا ئل پر توجہ دی جا تی ہے۔

جوانی کی قدر وقیمت

جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ آج کی دنیا میں جوانوں کا موضوع اور ان کی قدر وقیمت تمام ملتوں اور اقوام کی زبان پر ہے اور ہر جگہ نسل جوان کا چرچا ہے ۔اس لئے محقیقن،مفکرین اور مصنفین نے ان کے بارے میں گونا گون علمی بحثیں کی ہیں ۔

ان میں سے بعض افراد نے تند روی سے کام لے کرجوا نوں کو اپنے شائستہ مقام ومنزلت سے بلند تر کر دیا ہے اور کچھ لو گوں نے تفریط سے دو چار ہوکرنا پختگی اور علمی وعملی نا تجربہ کاری کے سبب جوانوں کو ان کے اصلی مقام سے گرا دیا ہے ۔ایک تیسرا گروہ بھی ہے جس نے اس سلسلہ میں درمیانی راستہ اختیار کیا ہے۔

دین کے پیشوائوں نے جوانی کو خدا وند متعال کی ایک گرانقدر نعمت اور انسانی زندگی کی سعا دت کا عظیم سر مایہ جا نا ہے اور اس مو ضوع کے بارے میں مختلف عبارتوں میں مسلمانوں کویاد دہانی کرائی ہے۔

رسول خدا (ص) نے فر ما یا:

ٍٍٍٍ''میں تمھیں وصیت کرتا ہوں کہ نوجوانوں اور جوانوں کے ساتھ نیکی کرو،کیونکہ ان کا دل نرم اور فضیلت کوقبول کرنے والا ہو تا ہے۔خدا وند متعال نے مجھے رسالت پر مبعوث کیا کہ لوگوں کو رحمت الہٰی کی بشارت دوں اور انھیں خدا کے عذاب سے ڈرا ؤں۔جوا نوں نے میری بات کو قبول کر کے میری بیعت کی لیکن بوڑھوں نے میری دعوت کو قبول نہ کرتے ہوئے میری مخالف کی ۔(۱۱۳) ''

علی علیہ السلام نے فر مایا:

''دو چیزیں ایسی ہیں جن کی قدر وقیمت کوئی نہیں جانتا،مگر وہ شخص جس نے ان کو کھودیا :ان میں سے ایک جوانی ہے اور دوسری تند رستی۔(۱۱۴) ''

جب محمد ابن عبداللہ ابن حسن نے قیام کیا اورلوگوں سے اپنے لئے بیعت لے لی توامام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں آکر ان سے بیعت لینے کی درخواست کی لیکن امام نے قبول نہ کرتے ہوئے انھیں چند نصیحتیں کیں،ان میں سے ایک جوانوں کے بارے میں نصیحت بھی تھی ۔امام علیہ السلام نے یہ فرمایا:

''تمھیں جوانوں کو اپنے ساتھ رکھنا چاہئے اور بوڑھوں سے دوری اختیار کرنی چاہئے۔(۱۱۵) ''

امام جعفر صادق علیہ السلام کی یہ نصیحت بذات خود جوانوں کی قدر وقیمت اور اہمیت واضح کرتی ہے اور خدا وند متعال کی اس بڑی نعمت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔اسی لئے رسول خدا (ص) ابو ذر سے فرماتے ہیں :

''پانچ چیزوں کو کھو دینے سے پہلے ان کی قدر کرو،اوران میں سے ایک جوانی بھی ہے کہ بڑھا پے سے پہلے اس کی قدر کرو(۱۱۶) ''

جوانوں کو اہمیت دینا

اسلام کے سچے پیشوائوں نے قدیم زمانے سے، اپنے گرانقدر بیا نات سے جوا نو ں کی پاک روح اور ان کی اخلاقی وانسانی اصولوں کی پابندی کی نصیحت اور تاکید کی ہے اور جوان نسل کو تر بیت کرنے کے سلسلہ میں مربیوں کے اس گرانقدر سرمایہ سے استفادہ کرنے کی تا کیدکی ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک صحابی ''ابی جعفر احول'' نے ایک مدت تک شیعہ مذہب کی تبلیغ اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کی فکر کی تعلیم وتربیت کی۔ایک دن وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوے۔امام علیہ السلام نے ان سے پوچھا:تم نے اہل بیت علیہم السلام کی روش کو قبول کرنے اور شیعہ عقائد کو قبول کرنے کے سلسلہ میں بصرہ کے لوگوں کو کیسا پا یا؟

اس نے عرض کی :ان میں سے بہت کم لوگوں نے اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کو قبول کیا ۔امام نے فر مایا :تم جوان نسل میں تبلیغ کر نا اور اپنی صلاحیتوں کو ان کی ہدایت میں صرف کرنا،کیونکہ جوان جلدی حق کو قبول کرتے ہیں اورہر خیر ونیکی کی طرف فوراًما ئل ہو تے ہیں ۔(۱۱۷)

اسماعیل بن فضل ہاشمی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے(حضرت یوسف کو کنویں میں ڈالنے کے بعد یوسف کے بھائیوں نے اپنے باپ کے پاس آکر عفو وبخشش کی درخواست کی) اپنے بیٹوں کی عفو وبخشش کی درخواست کو منظور کرنے میں کیوں تاخیر کی ،جبکہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو فورا بخش دیا اور ان کے لئے مغفرت کی دعا کی ؟

امام جعفرصادق علیہ السلام نے جواب میں فرمایا!''اس لئے کہ جوان کا دل بوڑھے کی نسبت حق کو جلدی قبول کرتاہے۔(۱۱۸) ''

مذکورہ دو روایتوں سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ جوان نسل فضیلتوں کو پسند کرتی ہے اور خوبیوں کو جلدی قبول کرتی ہے اور فطری طور پر بہادری ،شجاعت،سچائی،اچھائی وعدہ وفائی، امانت داری ،خود اعتمادی،لوگوں کی خدمت خلق،جان نثاری اور اس طرح کی دوسری صفتوں کی طرف رجحان اور دلچسپی رکھتی ہے اور پست اور برُے اخلاق سے متنفر ہوتی ہے۔

چندنکات

دین کے پیشوائوں کی نظر میں ،جوانی ایک گراںبہااور گرانقدر شی ہے۔جو لوگ اپنے لئے سعادت اور خوشبختی کے خواہشمند ہیں اور اس گرانقدرطاقت سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں ،انھیں درج ذیل چند نکات کی طرف خاص توجہ رکھنی چاہئے!

۱۔جوانی کا دور،انسانی زندگی کا ایک بہترین ،گرانقدر اور مفید دور ہے۔

۲۔جوانی کی طاقت سے استفادہ کرنے کے سلسلہ میں سعی وکوشش کرنا، کامیابی کی بنیادی شرط ہے۔

۳۔ہر انسان کی خوشبختی اور بد بختی کی داغ بیل اس کی جوانی کے دوران پڑتی ہے،کیونکہ جو انسان ان فرصتوں سے ضروری استفادہ کرے،وہ کامیاب ہو سکتاہے اور صلاحیتوں سے استفادہ کرکے اپنی پوری زندگی کے لئے خوشبختی حاصل کر سکتا ہے۔(۱۱۹)

قیامت کے دن جوانی کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

رسول خدا (ص)نے فر مایا:

''قیامت کے دن کوئی بندہ مندرجہ ذیل سوالات کا جواب دئے بغیرایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکے گا:

۱۔اس نے اپنی عمر کس کام میں صرف کی ؟

۲۔اس نے اپنی جوانی کس طرح اورکہاں گزاری ؟

پیغمبر اسلام (ص)کے اس ارشاد سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام نے جوانی کی طاقتوں کو کس قدر اہمیت دی اور توجہ دی ہے،کیونکہ اس گرانقدر سرمایہ کو ضائع کرنے کے سلسلہ میں قیامت کے دن خاص طور پر سوال کیا جائے گا۔

جی ہاں،اخلاقی اقدار اور انسانی صفات کے مالک جوانوں کی قدر ومنزلت، پھولوں کی ایک شاخ کی مانند ہے جو عطر وخوشبو سے لبریز ہے،تازگی کے علاوہ ،اس کی فطری خوبصورتی اور حسن و جمال بھی معطر ہے۔لیکن اگر جوانی الہٰی اقدارکی مالک نہ ہو،تو اس کی مثال کانٹوں کی سی ہے جن سے ہرگزکوئی محبت نہیں کرتا۔

رسول خدا (ص)نے فرمایا:

''با ایمان شخص کے لئے ضروری ہے کہ اپنی طاقت سے اپنے لئے استفادہ کرے اور دنیا سے اپنی آخرت کے لئے، جوانی سے بڑھاپے سے پہلے اور زندگی سے موت سے پہلے استفادہ کرے۔(۱۲۰)

آنحضرت (ص)نے مزید فرمایا:

''فرشتہ الہٰی،ہر شب بیس سالہ جوانوں سے مخاطب ہوکر فریاد کر تا ہے کہ سعی وکوشش کرواور کمال وسعادت تک پہنچنے کے لئے کو شش کرو۔(۱۲۱) ''

اس لئے،جوانی کا دور،انفرادی مسئولیت ،بیداری،ہوش میں آنے اور عمل وکوشش کا دور ہے اور جو لوگ اس الہٰی طاقت سے استفادہ نہیں کریں گے،انھیں سر زنش کی جائے گی۔

خدا وند متعال فرماتا ہے :

( ولم نعمّرکم مایتذکّر فیه من تذکّر ) (فاطر۳۷)

''تو کیا ہم نے تمھیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ جس میں عبرت حاصل کرنے والے عبرت حاصل کرتے؟''

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

''یہ آیت ان غافل جوانوں کی سرزنش و ملامت کے لئے ہے جو اٹھارہ سال کے ہو گئے ہیں اور اپنی جوانی سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔(۱۲۲)


دوسری فصل:

نوجوانوں میں مذہب کی طرف رجحان کا زمانہ

''اگر نوجوان عقیدہ کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرے،تو قرآن مجید اس کے گوشت وخون میں مل جائے گااور اس کے بدن کے تمام اعضاء پر اثراندازہو گا۔''

امام جعفر صادق علیہ السلام

مذہب اور دین سے لگاؤانسان کے فطری رجحانات میں سے ایک ہے،جو بالغ ہونے کے ساتھ جوانوں میں دوسرے فطری میلا نات کے مانند پیدا ہوتا ہے اور نتیجہ میں انھیں اس سلسلہ میں سعی وکوشش کرنے پر ابھارتا ہے۔

فطری طور پر جوان مذہبی مسائل کو سمجھنے اور انھیں درک کرنے کی کافی دلچسپی رکھتے ہیں ۔اسی لئے وہ دین سے مربوط بیانات کو انتہائی دلچسپی اور رغبت سے سنتے ہیں ،یہ بہت سی عظیم شخصیتوں اور تربیت کے ماہرین کا نظریہ ہے۔جان بی کایزل کہتا ہے:

''اب تک کئے جا نے والے تجربات کے مطابق ،کلی طور پر مذہبی عقیدہ بارہ سال کی عمر میں شروع ہوتا ہے۔(۱۲۳) ''

اکثرماہر دانشور اس بات کے قائل ہیں کہ تقریباً بارہ سال کی عمر میں ،یعنی فطری طور پر نوجوانی کے آغاز میں ،انسان کے اندر ایک اور رجحان پیداہوتا ہے اور یہ وہی مذہب سے اس کا عشق ومحبت ہے ۔یہ میلان انسان کے دوسرے فطری میلانات اور دلچسپیوں کے ساتھ ترقی کرتا ہے اورمسلسل بڑھتا جا رہا ہے یہاں تک کہ سولہ سال کی عمر میں اپنے کمال تک ۱پہنچتا ہے ،اس کے نتیجہ میں نوجوان دوسروں کی برائیوں اور بد اخلاقیوں سے رنجیدہ ہوتے ہیں اور دوسروں کی گندی باتوں اور انحرا فات پر افسوس کرتے ہیں اور پوری دنیا میں اخلاقی فضائل کے پھیلنے کی مسلسل آرزو کرتے ہیں اور سعی وکوشش کرتے ہیں ،کہ دنیا کے تمام لوگ صحیح اور حقیقی اقدار کی راہ میں قدم بڑھا ئیں۔

نوجوانوں میں دینی تعلیمات کے اثرات

دینی تعلیم اور ایمانی واخلاقی صفات کی تربیت نوجوانوں میں دو بڑے اثرات پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں :

۱۔جوانوں کے دینی اور مذہبی جذبات،جو ان کے فطری خواہشات میں سے ایک ہے،وہ اسی کے ذریعہ پو رے ہوتے ہیں ۔

۲۔مذہب و عقیدہ کی طاقت ،نوجوانوں کے دوسرے فطری اور جبلّتی رجحانات قابو رکھتی ہے اور ان کو انتہا پسندی اور سر کشی سے روکتی ہے ۔جس کے نتیجہ میں وہ ناکامی ،پستی اور بد بختی سے محفوظ رہے ہیں ۔

قابل ذکربات یہ ہے کہ اسلام نے نسل جوان کی تربیت کے ایک بنیادی اصول،یعنی تربیتی ،ایمانی اور منصوبوں کو جوانوں کی فطری خواہشات اورتقاضوں کے مطابق پیش کیا ہے ۔

اس لئے،جب نوجوانوں کے وجودمیں مذہبی رجحانات پیداہوتے ہیں تو ان میں احکام اور دینی مسائل سیکھنے کا شوق پیدا ہو تا ہے ۔یہاں پر مذہبی قائدین فرصت سے پورا پورافائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے سامنے دین کا تعمیری منصوبہ پیش کرتے ہیں اور نوجوانوں کو قرآن مجید،مذہبی احکام ،بندگی کے طریقے، برائیوں سے روکنے اور نیک کام انجام دینے کی تعلیم وتر بیت دے کر انھیں ذمہ دار بناتے ہیں ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

'' اگر قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا ایک با ایمان جوان ہو، تو قرآ ن مجید اس کے گوشت و خون میں مل کر اس کے بدن کے تمام اعضاء پر اثر ڈالتا ہے(۱۲۴) ''

اما م علیہ السلام نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا:

''لڑکا سات سال تک کھیلتا ہے ،سات سال تک لکھنا سیکھتا ہے اور سات سال میں دین و مذہب سے مر بوط حلال و حرام سیکھتا ہے ۔(۱۲۵)

امام باقر علیہ السلام نے فر مایا:

'' اگر ہم کسی ایسے شیعہ جوان کو دیکھیں گے جو مذہبی مسائل اور احکام کو نہیں سیکھتا ہے اور اس فریضہ کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو ہم اسے سزادیں گے(۱۲۶) ''

اس لئے جو نوجوان گرانقدراخلاقی و انسانی صفات کی تربیت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور نمایاں معنوی شخصیت کے مالک بننا چاہتے ہیں ، عام اور بحرانی حالات میں اپنے نفسانی خواہشات پر مسلط ہونا چاہتے ہیں اور اپنی عمر پاکدامنی اور سچائی میں گزار نا چاہتے ہیں ، انھیں جوانی کی ابتداء سے ہی دین و مذہب اور دینی عقائد کو دل و جان سے سیکھنا چاہئے تاکہ عملی منصوبوں کو منظم کرکے دین کے احکام کی پیروی سے اپنے روحی عہد و پیمان کو خدا وند متعال سے مضبوط کریں اور ہر حال میں خدا کی یاد میں رہیں ۔

نوجوانوں کے مذہبی جذبات کو اہمیت نہ دینے کا نتیجہ

نوجوانوں کے جذبات کو اہمیت نہ دینا اور بے اعتنایی برتناقوانین فطرت اور خلقت کی سنت کے خلاف ہے۔ خلقت کے قوانین اور دستورات کی نا فرمانی کرنے والے سزا سے نہیں بچ سکتے ۔ کیونکہ یہ نافرمانیاں اور سرکشیاں تمام دنیا میں نوجوانوں کے لئے روزافزوں خود خواہی اور بے راہ روی کا سبب بنتی ہیں ۔اس لئے حاصل شدہ اعداد وشمار کے مطابق مغربی ممالک اور مذہب و عقائد سے عاری ممالک میں نوجوانوں میں جرائم ہر روز بڑھتے جارہے ہیں ۔یہ جرائم ،چوری ،قانون شکنی ،علم ودانش کی طرف بے اعتنائی ،منشیات کی لت ،بے حیائی اور مختلف قسم کی برائیاں ،ایمان سے عاری تربیت اور خلقت کے قانون کی نافرمانی کا نتیجہ ہیں ، کیونکہ گناہ اورگندی باتیں بے دینی کا نتیجہ ہیں ، جس نے جوانوں اور ان کے سر پرستوں کی زندگی کو مکدّر اورناگوار بنا دیا ہے اور معاشرے کو شدید طور پر معطل کرکے رکھدیاہے۔

اس لئے ،آج کی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں نوجوانوں کا موضوع معاشرہ کی بڑی مشکلات کی فہرست میں قرار پایا ہے اور دانشوروں کی فکروں کو مشغول کر رکھاہے ۔اس سلسلہ کے چندراہ حل کے نمونے ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں :

جرائم کو روکنے اور مجرموں کو کنٹرول کرنے کے سلسلہ میں اقوام متحدہ کی تیسری کانفرنس''استکہلم''میں منعقد ہوئی۔اس میں ایک ہزار ججوں ،ماہرین سماجیات اور پلیس کے اہل کاروں نے شرکت کی ۔ایک ہفتہ کے بعد یہ کانفرنس اختتام کو پہنچی۔اس کانفرنس میں دنیا کے تمام ممالک سے درخواست کی گئی ہے کہ جوانوں کے جرائم کے خلاف قدم اٹھائیں اور ان جرائم کو روکنے کے لئے ضروری اقدا مات کریں کیونکہ دنیا جوانوں کے ان جرائم سے تنگ آچکی ہے۔

کنیڈا کے جرائم کو روکنے کی نیشنل کونسل بچوں کے جرائم کا سد باب کرنے والی کمیٹی نے ۱۹۹۱ء کی اپنی سالانہ رپورٹ میں یہ لکھا ہے:

''۱۹۹۱ء میں کنیڈا میں بارہ لاکھ بچے غربت اور مفلسی کی زندگی بسر کر رہے تھے کہ ان میں سے پانچ لاکھ بچوں کی عمر سات سال سے کم تھی اور زیادہ جرائم ان ہی بچوں میں پائے جاتے تھے ۔ان بچوں کے جرائم کا سبب والدین کی ان سے لاپروائی اور ٹیلی ویزن اور فلیموں کے تشدّد آمیز پرو گرام تھے۔''

نا چاقی پائی جا نے والے گھرانوں میں پرورش پانے والے بچوں میں خود کشی کا احتمال دوسرے گھرانوں کی نسبت سات گناہ زیادہ ہو تاہے۔یہ بچے اپنی عمر کے بچوں سے چوبیس گناہ زیادہ جنسی خواہشات میں مبتلا ہوتے ہیں اور مشاہدہ کیا گیا ہے کہ امریکہ میں ۷۶ فیصدی جرائم پیشہ بچے ایسے ہی خاندانوں میں پیدا ہوئے ہیں ۔

گیارہ سے بیس سال کی عمر کے بچوں کے ہاتھوں قتل کئے گئے باپ میں سے ۶۳ فیصدوہ قاتل تھے کہ جنہوں نے اپنے باپ کو ماں کی پٹائی کرتے ہوئے دیکھا تھا!!

کنیڈا کی خواتین کی منزلت سے مربوط قومی مشاورتی کونسل نے ۱۹۹۳ء کی اپنی سالانہ رپورٹ میں یہ لکھا ہے :

کنیڈا میں ہر ۱۷ منٹ میں ایک عورت زنابالجبر کا شکار ہوتی ہے اور ۲۵ فیصدی کنیڈائی عورتیں اپنی زندگی میں زنائے بالجبرکی شکار ہوتی ہیں اورکنیڈا کے معاشرہ میں عورتوں کی عصمت دری کرنے والے ۵۰ فیصدی مرد شادی شدہ ہو تے ہیں اور محترم شمار ہوتے ہیں ۔عصمت دری کے۴۹ فیصدی یہ واقعات دن دہاڑے ہو تے ہیں ، عصمت دری کا شکار ہونے والی۸۰ فیصد عورتوں کی عمر ۱۴ سال سے ۲۴ سال تک ہے۔

۱۹۹۳ء میں کنیڈا کی یونیور سٹیوں اور کالجوں میں ۸ئ۲۶ فیصدی لڑ کیوں کے ساتھ طالب علموں نے زنا بالجبر کیا ہے ،اور ان میں سے ۶ئ۱۳ فیصدی لڑ کیوں کے ساتھ نشہ کی حالت میں زنا بالجبر انجام پایا ہے ۔

ہر تین عورتوں میں سے ایک عورت کی اورہر چھ لڑ کوں میں سے ایک لڑ کے کی ۱۸ سال کی عمر تک عصمت دری کی جاتی ہے اور اس جرم کے مرتکب۹۸ فیصدی جوان ہیں !!

دس سال سے کم عمر لڑکیوں اور لڑ کوں میں سے ۸۰ فیصد بچے اپنے باپ کے توسط سے عصمت دری کے شکار ہوتے ہیں اور اسی صورت میں باپ اور بیٹی کے درمیان جنسی روابط روز بروز بڑھتے جارہے ہیں ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ زندانوں میں موجود ۸۰ فیصدی مجرم ،نوجوان ہیں کہ انہوں نے اپنے اعترافات میں کہا ہے کہ ''بچپن میں اپنے باپ یا دوسرے مردوں کے ذریعہ جنسی ہوس رانی کا شکار ہوئے ہیں ۔''(روزنامہ اطلاعات شمار:۱۱۷۶۵)

جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے وہ ان ہزار ہا جرائم میں سے ایک نمونہ تھا جواس سلسلہ میں روز ناموں ،کتا بوں اور رسالوں میں لکھے جاتے ہیں ۔اس کی وجہ سے انسان بے شماربیماریوں میں مبتلا ہورہاہے اور آج یہ انسانی معاشرے کی ایک بنیادی مشکل ہے ۔ یہاں پر یہ کہنا چاہئے ،کہ تمام روحانی بیماریوں کا علاج صرف دین و مذہب اور دستورات اسلام ہے ،لیکن اکثر لوگ اس علاج سے محروم ہیں ۔

پیغمبر اسلام (ص)اور نوجوان نسل

نوجوان،اپنے ضمیر اور اخلاق کے الہام سے اپنی فطرت وطینت کی بنیاد پر، حقیقت،تقدس،پاکیزگی اور سچائی کا عاشق و دلدادہ ہے۔اس لحاظ سے ایمان داری اور نیکی کی نسبت مخصوص حساسیت رکھتا ہے ،اس سے لذت محسوس کرتا ہے اور خوش ہو تا ہے اور ہمیشہ پاکیزگی اور الہٰی اقدار کی فکر میں رہتا ہے اور سعی وکوشش کرتا ہے کہ اس کا قول و فعل اچھائی اور حقیقی قدروں پر استوار ہو ۔

نوجوان ،نہ صرف دوسروں کی برائی پر اظہار افسوس کرتا ہے اور لوگوں کے برے اور نا پاک برتائو سے رنجیدہ ہو تا ہے ،بلکہ وہ ہمیشہ اس فکر میں رہتا ہے کہ ایک ایسی توا نائی اور اقتدار کو حاصل کرے،جس سے پلیدیوں کو دور اور آلود گیوں کاازالہ کر سکے۔

جب رسول خدا (ص) نے شہر مکہ میں اپنی دعوت کا کھلم کھلا اعلان کیا اور آپ(ص) کو حکم ملا کہ لوگوں کو آشکارا طور پر اسلام قبول کرنے کی دعوت دیںتوسب سے پہلے آپ (ص)کے گر ویدہ ہونے والے نوجوان تھے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ نوجوانوں کا یہ گروہ مکہ کے معروف قبیلہ قریش کے اعلیٰ طبقہ اور دولت مند خاندانوں کے لڑکے لڑ کیاں تھیں۔

بیشک،با نشاط جوانوں نے ،جو پسماندہ عرب قوم کی افسوس ناک حالت سے تنگ آچکے تھے اور پتھروں اور لکڑیوں کے بتوں کی پرستش اور زمانہ جاہلیت کے فرسودہ توہمات پر مبنی رسم ورواج سے احساس کمتری کے شکار تھے،جب پیغمبر اسلام (ص) کی روح افزا،ولولہ انگیز اور انسا نوں کو نجات دینے والی فریاد سنی ،تو دل وجان سے آپ (ص)کی دعوت کو قبول کیا۔

پیغمبر اسلام (ص)کے گرانقدر بیانات تمام طبقات کے لئے موثر تھے،لیکن جوانوں کا طبقہ دوسرے طبقات کی نسبت زیادہ دلچسپی کا اظہار کرتا تھا،کیونکہ آنحضرت (ص) کے بیانات ان کے اندرونی افکار کے جواب اور ان کی روحانی غذا شمار ہوتے تھے۔

جب آنحضرت(ص) کے خصوصی نمائندہ مصعب بن عمیر،قرآن مجیدکی تعلیم دینے اوراسلامی ودینی معارف کی نشر واشاعت کے لئے مدینہ آئے توجوانوں نے بڑوں کی نسبت ان کی دعوت کو زیادہ قبول کیا اور دینی احکام کو سیکھنے کے لئے زیادہ دلچسپی کا اظہار کیا۔ مصعب مدینہ میں اسعد بن زراہ کے گھر میں سکونت پذیر تھے اور دن میں قبائل خزرج کے اجتماع میں جاتے تھے اور انھیں دین اسلام کی دعوت دیتے تھے اوراکثر جوان ان کی دعوت کو قبول کرتے تھے۔(۱۲۷)

جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ،پیغمبر اسلام (ص)کے گرانقدر بیانات نے جوانوں میں جاہلانہ افکار کے ساتھ جوانوں کا مقابلہ ایک بڑی تبدیلی پیدا کی کہ جوان ہر وقت اور ہر جگہ اپنے مذہبی عقائد وافکار کا دفاع کرتے تھے اور جاہلانہ افکار کا مقابلہ کرتے تھے۔

سعد ابن مالک ،صدر اسلام کے ایک جوشیلے نوجوان تھے ۔جو سترہ سال کی عمر میں مسلمان ہوئے تھے ۔وہ ہجرت سے پہلے مشکل حالات میں ،دوسرے نوجوانوں کے ساتھ ہر جگہ دین مقدس اسلام سے اپنی وفاداری اور جاہلانہ افکار کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کرتے تھے۔ان کا یہ کام اس امر کا سبب بنا کہ مشرکین نے انھیں اذیت وآزار دینا شروع کیا ۔دوسرے جوان کفار کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے دن کو پہاڑوں کے درّوں کے درمیان نماز پڑھتے تھے تاکہ قریش کے کفاّرانھیں نہ دیکھ سکیں۔

ایک دن مشرکین کے ایک گروہ نے ،چند جوا نوں کو نماز کی حالت میں مشاہدہ کیا۔انہوں نے جوانوں کی سر زنش کرنا شروع کی اور ان کے عقائدکی توہیں کی۔

سعدابن مالک نے مشرکین کی باتوں سے مشتعل ہو کر اونٹ کی ایک ہڈی سے مشرکین میں سے ایک کا سر پھوڑدیا اور اس شخص کے سرسے خون جاری ہوا۔ یہ پہلا خون تھا جو اسلام کے دفاع میں زمین پر گرا۔

سعد کہتا ہیں کہ: مجھے اپنی والدہ سے انتہائی محبت تھی اور میں ان کے تئیں مہربان تھا۔ جب میں نے اسلام قبول کیا ، میری ماں اس امر سے آگاہ ہوئی۔ انہوں نے ایک دن مجھ سے کہا : بیٹا! یہ کو ن سادین ہے جسے تونے قبول کیا ہے؟ اسے چھوڑ کر تجھے بت پرستی کو جاری رکھنا پڑے گا، ورنہ میں بھوک ہڑتال کروں گی یہاں تک کہ مرجاؤں۔ اور مجھے سر زنش کر نے لگیں۔

سعد اپنی ماں سے انتہائی محبت کرتا تھا اس لئے اس نے نہایت ادب و احترام سے کہا: میں اپنے دین سے دست بردار نہیں ہو سکتا ہوں اور آپ سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ کھاناپینانہ چھوڑئیے! لیکن اس کی ماں نے اس کی بات پر توجہ نہ کی بلکہ ایک دن رات کھا نا نہیں کھایا ۔ اس کی ماں خیال کرتی تھی کہ اس کا بیٹا دین سے دست بردار ہوجائے گا۔لیکن سعد نے اپنی ماں سے انتہائی محبت رکھنے کے با وجود اس سے کہا: خدا کی قسم!اگر تیرے بدن میں ایک ہزار جانیں بھی ہو تیں اور و ہ سب ایک ایک کرکے تیرے بدن سے نکل جاتیں، پھر بھی میں اپنے دین سے دست بردار نہ ہو تا ! جب اس کی ماں نے دیکھا کہ اس کا بیٹا اپنے دین کو دل و جان سے قبول کر چکاہے، تو اس نے بھوک ہڑتال ختم کر کے کھانا کھا لیا(۱۲۸) ۔

بیشک ، سعد نے جاہلیت کے افکار سے مقابلہ کیا اور دوسرے جوانوں نے بھی اس کا ساتھ دیا اور بتوں کو توڑدیا ، بت خاتوں کو کھنڈرات میں تبدیل کیا اور ظلم و ستم کو جڑسے اکھا ڑ پھینکااور ایمان، علم ، تقوی اور اخلاقی قدروں کے اصولوں پر ایک نئے معاشرہ کی بنیاد ڈالی اور پسماندہ ترین ملتوں کو کمال اورمعنوی اقدار کے بلندترین درجات تک پہنچایا۔


تیسری فصل:

مملکت کے امور میں جوانوں سے استفادہ

'' عقلمندجوان اپنی ناپائدار جوانی سے استفادہ کرتا ہے اور اپنے اعمال کو نیکی میں تبدیل کرتا ہے اور علم ودانش حاصل کرنے میں سعی و کوشش کرتا ہے۔''

( حضرت علی علیہ السلام)

ترقی یافتہ ممالک میں ، نسل جوان کے احترام و شائستگی اور ان کی عظیم توانائیوں سے استفادہ کرنے کے موضوع پر مکمل طور پر توجہ کی جاتی ہے اور مختلف امور سے متعلق اہم اور حساس ملکی عہدے انھیں سونپے جاتے ہیں اور لائق جوانوں سے قوم و ملت کے فائدہ کے لئے استفادہ کیا جاتا ہے۔

پیغمبر اسلام (ص) نے بھی آج سے چودہ سو سال پہلے اس اجتماعی مسئلہ کی طرف خاص توجہ کی تھی اور اپنے چھوٹے اورنئے ملک میں حساس اور اہم ملکی امور میں جوانوں سے استفادہ کرتے تھے۔ مختلف مواقع پر ملک کے اہم عہدے شائستہ اور قابل جوانوں کو سو پنتے تھے اور اپنے قول و فعل کے ذریعہ کھلم کھلا ان کی حمایت فرماتے تھے۔

جہل و نادانی اور تعصب سے بھرے ایک ماحول میں یہ کام آسانی کے ساتھ قابل قبول نہیں تھا۔ کیونکہ سن رسیدہ لوگ، جوانوں کی بات ماننے اور ان کی پیروی کرنے کے لئے آمادہ نہیں تھے۔ جب پیغمبر اسلام (ص)کسی جوان کو منتخب کرکے اسے ایک اہم اور بڑے

عہدہ پر فائز کرتے تھے، تو بوڑھے اور سن رسیدہ افراد ناراض ہوتے تھے اور آنحضرت (ص) سے کھل کر شکوہ کرتے تھے۔ اس حقیقت کو پہلی دعوت ذو العشیرہ میں بخوبی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔(۱۲۹)

رسول خدا (ص) اپنی اس تحریک کو استحکام بخشنے کے لئے مسلسل تاکید کرتے تھے اورنامناسب، تعصب بھرے اور جاہلانہ افکار کاڈٹ کر مقابلہ کرتے تھے اور آخر کار اپنے حکیمانہ بیانات اور بے شمارنصیحتوں سے لوگوں کو مطمئن کرتے تھے یا انھیں خاموشی اختیار کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ اس کے علاوہ لوگوں کے سامنے منبر سے اپنے بیانات کے ذریعہ جوانوں کی تعریف کرتے تھے اور ان کی حمایت کا اعلان کرتے تھے اور اس طرح انھیں ملک کے اونچے اور اہم عہدوں پر فائز کرتے تھے۔

یہ بیان کر دیناضروری ہے کہ جوانوں کو کسی عہدہ کے لئے منتخب کرنے کی بنیادی شرط ان کی صلاحیت اور شائستگی ہے۔ آنحضرت (ص) کے بیانات کی تحقیق سے یہ حقیقت بخوبی واضح ہوجاتی ہے۔کہ جن جوانوں کو پیغمبر اسلام (ص) نے منتحب کرکے مملکت کے اہم عہدوں پرفائز کیا تھا، وہ عقل ، فکر ، ہوشیاری، ایمان ، اخلاق اور حکمت عملی کے لحاظ سے شائستہ اور لائق تھے۔

اب ہم ایسے جوانوں کے چند نمونے پیش کرتے ہیں ، جنھیں پیغمبر اسلام (ص)نے ملک کے اجرائی عہدوں پر فائز کیا تھا، تا کہ جوانوں کے حق کی تعیین میں کوئی غلطی سرزد نہ ہواور ہم اپنے بے جافیصلوں سے افراط و تفریط کے شکار نہ ہوں اور خود جوان او رعوام بھی اس سلسلہ میں غلطی کا شکار نہ ہو ں، کیونکہ جوانوں کو انتخاب کرنے کا قابل قدر معیار ، ایمان اور معنوی اقدار ہے۔

علی ابن ابیطالب علیہ اسلام

نوجوانوں میں سے ایک شخصیت جو ابتداء سے آخر تک رسول خد ا (ص) کی خدمت میں فرائض انجام دیتی رہی وہ حضرت علی علیہ السلام ہیں ۔ آپ تمام میدانوں میں فعّال طریقہ سے حاضر تھے اوررسول خدا (ص) کے محبوب تھے اور اسلام کے آغاز سے ایک جان نثار سپاہی شمار ہوتے تھے۔

علی علیہ السلام، حضرت ابوطالب کے بیٹے اور سب سے بڑے اور مشہور قبیلہ قریش سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کی والدہ فاطمہ بنت اسدابن عبد مناف تھیں۔ وہ خاندان بنی ہاشم کی ایک محترم اور عظیم خاتون تھیں۔ اس لحاظ سے علی علیہ السلام پہلے بچہ تھے جو ماںباپ دونوں کی جانب سے ہاشمی تھے ۔(۱۳۰)

علی علیہ السلام معجزانہ طور پرخانہ کعبہ میں پیدا ہو ئے۔اور یہ فضیلت کسی اور کو حاصل نہیں ہوئی ۔ آپ ولادت کے بعد تین دن تک کعبہ کے اندر رہے ۔ اس کے بعد آپ کی والدہ آپ کو گود میں لئے ہو ئے کعبہ سے باہر آئیں۔(۱۳۱)

حضرت علی علیہ السلام کے والد حضرت ابوطالب نے اسلام کے بحرانی حالات میں پیغمبر اسلام (ص) کا دفاع کیا ، جب کہ تمام لوگ آنحضرت (ص) کے خلاف متحد ہو چکے تھے۔

یہاں تک کہ بعثت کے دسویں سال حضرت ابوطالب اور آنحضرت کی شریک حیات حضرت خدیجہ اس دنیا سے رحلت کر گئیں۔ اس سال کانام ''عام الحزن'' رکھا گیا ۔ حضرت ابوطالب نے پیغمبر اسلام کی ۸ سال کی عمر سے آپ (ص) کی سرپرستی اپنے ذمہ لے لی تھی۔ حضرت ابوطالب کی وفات کے وقت حضرت علی علیہ السلام کی عمر ۶ سال تھی اور آپ(ص)اسی وقت علی علیہ السلام کو اپنے گھر لے آئے۔ چنانچہ حضرت علی نے آنحضرت (ص) کے گھر میں آپ(ص) کی سرپرستی میں پرورش پائی ۔(۱۳۲)

جبرئیل امین کے غار حرا میں نازل ہونے اور پیغمبر اسلام (ص) کے رسالت پر مبعوث ہونے کے بعد جب آنحضرت (ص) (ص) گھر تشریف لائے اور وحی کے متعلق حضرت علی علیہ السلام کو اطلاع دی تو علی علیہ السلام ، جو کہ اس وقت نو سال کے تھے، نے پیغمبر اکر م (ص) کی دعوت کو قبول کیا لہذاآپ(ص)مردوں میں پہلے مسلمان ہیں ۔(۱۳۳)

پیغمبر اسلام (ص) نے رسالت پر مبعوث ہونے کے بعد تین سال تک اپنی دعوت کو آشکار نہیں کی۔ تیسرے سال خدا کے حکم سے آنحضرت (ص) مامور ہوئے تا کہ اپنی دعوت کو آشکار فرمائیں اور اس دعوت کا آغاز میں اپنے رشتہ داروں سے کریں۔ اس لئے آنحضرت (ص) نے اپنے رشتہ داروں کو دعوت دی اور کھانا کھلانے کے بعد فرمایا: اے عبد المطلب کے بیٹو! خدواند متعال نے مجھے عام لوگوں اور بالخصوص تم لوگوں کی رہبری کے

لئے بھیجا ہے اور فرماتاہے:

( و انذر عشیرتک القربین )

''اور پیغمبر! آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئے''(۱۳۴)

پیغمبر اسلام (ص) نے تین بار اس مطلب کو دہرایا، لیکن علی علیہ السلام کے علاوہ کسی نے پیغمبر اکرم (ص) کی آواز پر لبیک نہ کہا، جبکہ اس وقت علی علیہ السلام صرف ۱۳ سال کے تھے۔ رسول خدا (ص) نے فرمایا: اے علی! تم ہی میرے بھائی ، جانشین، وارث اور وزیر ہو۔(۱۳۵)

بستر رسول (ص) پر علی علیہ السلام کی جان نثاری

بعثت کے تیرھویں سال قریش کے سرداروں نے ایک سازش کے تحت پیغمبر اسلام (ص) کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا ۔ اس کام کے لئے ہر قبیلہ سے ایک شخص کاانتخاب کیا، تاکہ رات کے وقت آنحضرت(ص) پر حملہ کرکے آپ(ص) کو شہید کرڈالیں ۔ رسول خدا (ص) نے علی علیہ السلام سے اپنے بستر ا پر سونے کو کہا تاکہ دشمن یہ نہ سمجھ سکیں کہ پیغمبر اسلام (ص) ہجرت کر گئے ۔

حضرت علی علیہ السلام کی عمر اس وقت ۲۳ سال تھی، آپ نے رسول خدا (ص) کی خواہش کو دل سے قبول کیا اور آنحضرت (ص) کے بستر پر سو گئے۔ رسول خدا (ص) شہر سے باہر نکل کر مکہ کے نزدیک واقع غارثور میں تشریف گئے۔اس رات کے آخری حصہ میں چالیس افراد نے رسول خدا (ص)کے گھر پر حملہ کیا اور رسول خدا(ص) کے بسترپر علی علیہ السلام کو پایا ۔(۱۳۶)

جنگ بدر

تاریخ اسلام میں حق وباطل کا پہلا معر کہ جنگ بدر تھا ۔یہ جنگ ۲ہجری میں کفارمکہ کے سرداروں اور اسلام کے سپاہیوں کے درمیان بدر نامی جگہ پر واقع ہوئی۔بدر کا مقام مدینہ سے ۲۸ فرسخ دور اور بحر الاحمر سے چھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔کفّارکا لشکر ایک ہزار سے زائد افراد پر مشتمل تھا اور سب کے سب جنگی ساز وسامان سے مسلح تھے ۔لیکن رسول خدا (ص)کی فوج صرف ۳۱۳ سپاہی تھے ۔اس جنگ میں لشکر کفّارکے تین نامور پہلوان عتبہ،اس کا بھائی شیبہ اوراس کا بیٹا ولید ،علی علیہ السلام، جناب حمزہ اورجناب عبیدہ کے ہاتھوں قتل ہوئے۔اس جنگ میں علی علیہ السلام کی عمر ۲۵ سال تھی۔(۱۳۷)

جنگ احد

جنگ بدر کے ایک سال بعد،مشرکین نے اپنی فوج کو نئے سرے سے منظم اور مسلح کر کے مختلف قبیلوں سے تین ہزار جنگجو ابو سفیان کی سرکردگی میں روانہ کئے اور تمام جنگی سازوسامان سے لیس ہو کر اس فوج نے مدینہ سے ایک فرسخ کی دوری پر کوہ احد کے دامن میں پڑائو ڈالا۔رسول خدا (ص)نے سات سو سپا ہیوں پرمشتمل ایک فوج کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا۔آنحضرت (ص) نے عبد اللہ ابن جبیر کی سر کرد گی میں پچاس تیراندازوں کو لشکر اسلام کے پیچھے ایک پہاڑ کے درہ پر مامور کیا اور حکم دیاکہ اس جگہ کو کسی بھی حالت میں نہ چھوڑیں۔

لشکر کفّارسے ، طلحہ ا بن ابی طلحہ، ابو سعید ا بن طلحہ، حرث ا بن ابی طلحہ، ابوعزیز ا بن طلحہ، عبد اللہ ابن ابی جمیلہ او رارطات ابن سر جیل نامی کئی پہلوان با لترتیب میدان کارزار میں

آئے اور یہ سب، ۲۶ سالہ نوجوان حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھوں قتل کئے گئے۔ اسلام کے سپاہی جنگ کی ابتدا ء میں فتحیاب ہو ئے۔ لیکن تیراندازوں کے درہ کو چھوڑنے کی وجہ سے خالدا بن ولید کی سرکردگی میں دشمن کے سواروں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا اور انھیں شکست دیدی۔ اس جنگ میں ستر مسلمان شہید ہوئے، جن میں حضرت حمزہ بھی تھے۔ بعض سپاہیوں ، من جملہ علی نے رسول خدا کا مشکل سے دفاع کیا۔ علی علیہ السلام کے بدن پر اس جنگ میں ۹۰ زخم آئے، اسی جنگ میں یہ آسمانی آواز سنی گئی'' لافتی الا علی لا سیف الا ذولفقار'':''علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی جوان نہیں اور ذوالفقار کے علاوہ کوئی تلوار نہیں(۱۳۸) ''۔

جنگ خندق(احزاب)

شوال ۵ ہجری میں مشرکین مکہ نے مدینہ میں بچے کچھے یہودیوں اور دوسرے قبائل کی مدد سے ایک ہزار سپاہیوں پر مشتمل ایک فوج تشکیل دی اور مسلمانوں کو نابود کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس جنگ میں لشکر کفّارکا اسی(۸۰) سالہ نامور پہلوان عمروا بن عبدود بھی شریک تھا۔ وہ جنگ بدر میں زخمی ہواتھا لہذا اس کے دل میں مسلمانوں کے متعلق کینہ تھا اور اس نے قسم کھائی تھی کہ جب تک رسول خدا (ص) اور مسلمانوں سے انتقام نہیں لوں گا اس وقت تک اپنے بدن پر تیل کی مالش نہیں کروں گا!!

مدینہ میں داخل ہونے کے بعد یہودیوں کے قبیلہء بنی قریضہ نے ،رسول خدا (ص)سے کئے ہوئے اپنے عہد وپیمان کو توڑ کر کفار کی مدد کرنے کا فیصلہ کر لیا!مسلمانوں نے سلمان فارسی کے مشورے پر مدینہ کے اطراف میں خندق کھودی تاکہ دشمن شہر میں داخل نہ ہوسکیں۔مسلمان ۲۸ دن تک محاصرہ میں رہے ،یہاں تک کہ کفار کا پہلوان عمروا بن عبدود نے خندق کو عبور کر کے مسلمانوں کو مقابلہ کی دعوت دی ۔علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی شخص اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوا کیونکہ عمرو بن عبدود ایک زبر دست پہلوان تھا ۔علی علیہ السلام میدان میں تشریف لائے۔جب علی علیہ السلام کاعمرو ابن عبدود سے مقا بلہ ہوا تو رسول خدا (ص)نے فرمایا:آج کل ایمان کل کفر کے مقا بلہ میں ہے۔''

اس مقابلہ میں حضرت علی نے دشمن کو ہلاک کر دیا اور اس کے سر کو تن سے جدا کر کے رسول خدا(ص) کے سامنے ڈال دیا ۔رسول خدا(ص) نے فر مایا:''بیشک خندق میں علی کی ضربت جن وانس کی عبادت سے افضل ہے۔''

علی علیہ السلام نے جس وقت یہ گرانقدرخدمت اسلام اور مسلمانوں کے حق میں انجام دی،اس وقت آپ ۲۷سالہ جوان تھے۔اس جنگ کے بعدرسول خدا (ص)،حضرت علی علیہ السلام کی سرکر دگی میں ایک لشکر کو لے کر بنی قریضہ کے یہو دیوں کی طرف روانہ ہو ئے۔یہودیوں کے سر دارحی ابن اخطب کے مارے جانے کے بعدشہر مدینہ کے باشندے یہو دیوں کے خطرہ سے مکمل طور پر محفوظ ہوئے اوریہودیوں کا مال ومنال اور ان کی عورتیںمسلمانوں کے قبضہ میں آگئیں۔(۱۳۹)

علی علیہ السلام کے ہاتھوں خیبر کی فتح

۷ ہجری میں خیبر کے یہودیوں نے ایک منصوبہ بنایا۔انہوں نے مدینہ کے

شمال مغرب میں دو سو کلو میٹر کے فاصلہ پرواقع خیبر کے سات قلعوں میں سے بعض کو جنگی اسلحوں سے بھر دیا ۔ان قلعوں میں چودہ ہزار یہودی رہائش پذیر تھے۔رسول خدا (ص)چودہ سو پیدل سپاہیوں اور دوسوشہسوا روں کے ساتھ خیبر کی طرف روانہ ہوئے اور لشکر کا پرچم علی علیہ السلام کو دیا جواس وقت تیس سال کے جوان تھے۔

اس جنگ میں عمر اور ابو بکر نے شکست کھائی ۔یہاں تک کہ رسول خدا (ص)کے حکم سے علی علیہ السلام میدان جنگ میں آئے اور یہودیوں کے نامور پہلوان مرحب پربجلی کی طرح ٹوٹ پڑے اور ایک کاری ضرب سے اس کا کام تمام کیا۔اس کے بعد مسلمانوں نے حملہ کیا اور علی علیہ السلام نے خیبر کے آہنی دروازہ کواکھاڑ کر سپر کے مانند ہاتھ میں اٹھا لیا۔اس جنگ میں یہودیوں کے تین پہلوان مرحب،حارث اور یاسر علی علیہ السلام کے ہاتھوں قتل ہوئے اور خیبر فتح ہوا۔جنگ کے خاتمہ پر چالیس آدمیوں کی مدد سے در خیبرکو دوبارہ اپنی جگہ پر نصب کیا گیا۔(۱۴۰)

فتح مکہ

۸ھ کو مکہ،پیغمبر اسلام (ص)کے ہاتھوں جنگ و خونریزی کے بغیر فتح ہوا۔پیغمبر اسلام (ص)بارہ ہزار افراد کے ہمراہ مکہ میں داخل ہوئے اور خانہ کعبہ میں موجود تمام بتوں کو توڑ ڈالا۔اس کے بعد علی علیہ السلام کو حکم دیا کہ آپ(ص)کے دوش مبارک پرقدم رکھ کرکعبہ کی دیوار پرچڑھیں اور بتوں کو توڑ یں۔علی علیہ السلام نے اطاعت کی ،بتوں کو توڑ نے کے بعددیوار سے نیچے آئے۔ پیغمبر اکرم (ص)نے پوچھا:آپ(ص)نے اتر تے وقت

کیوں میرے شانوں پر قدم نہ رکھے؟ علی علیہ السلام نے عرض کی:اوپر چڑھتے وقت آپ(ص) نے حکم فر مایا اور میں اوپر چڑھا،لیکن اتر تے وقت نہیں فرمایاکہ کیا کروں ،اسی لئے چھلانگ لگاکراترا اور اس سے بے ادبی مقصود نہیں تھی، خدا کا شکر ہے کچھ نہیں ہو(۱۴۱) ۔

جی ہاں ، اسلام کا یہ عظیم پہلوان ،ہر اس کارزار میں حاضر ہوتا تھا جہاں پر دشمن اورکفار اسلام اور مسلمانوں کو نابود کرنے کے لئے آتے تھے، اور وہ ان کے مقابلہ میں دل و جان سے اسلام و مسلمین کا دفاع کرتا تھا۔ اس طرح اس دلاور پہلوان کو ایسے فخر و مباہات نصیب ہوئے کہ دوسرے ان سے محروم رہے۔

جعفرا بن ابیطالب

جعفرا بن ابیطالب ، پیغمبر اسلام (ص) کے صحابی اور حضرت علی علیہ السلام کے بھائی ہیں ، جو آپ سے دس سال بڑے تھے۔ وہ ایک دلاور پہلوان اور اولین مسلمانوں میں سے تھے۔ وہ جعفر طیار کے نام سے مشہور ہیں ، کیونکہ انہوں نے ایک جنگ میں اپنے دونوں بازو قربان کئے اور رسول خدا (ص) نے ان کے بارے میں فرمایاکہ خدواند متعال نے ان کے دوبازؤں کے عوض انھیں بہشت میں دو پر عطا کئے ہیں ۔ اسی لئے جعفر طیار کے نام سے مشہور(۱۴۲) ہوئے۔

پیغمبر اسلام (ص) جعفر طیار سے کافی محبت کرتے تھے۔ انہوں نے ۵ ہجری میں دوسرے مسلمانوں کے ہمراہ حبشہ کی طرف ہجرت کی اور وہاں پر مہاجرین کے گروہ کے ترجمان کی حیثیت سے منتخب ہوئے، جبکہ اس وقت صرف ۲۴ سالہ جوان تھے۔ ہجرت کر کے جانے والے مسلمان ۷ ہجری تک حبشہ ہیں رہے اور اس کے بعد واپس مدینہ لوٹے۔ حبشہ سے مسلمانوں کی واپسی عین اس وقت ہوئی جب پیغمبر اسلام (ص) خیبر فتح کر کے مدینہ واپس لو ٹے ۔

پیغمبر اکر م(ص) نے جوں ہی انھیں دیکھا، اپنے چچا زاد بھائی کے احترام میں اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے، اپنی باہوں کو ان کی گردن میں ڈالا اور ان کے ما تھے کو چوما اور رونے لگے۔ اس کے بعد فرمایا :میں نہیں جانتا کہ میں کس چیز کی خوشی مناؤ ں،جعفر کے آنے کی یا فتح خیبر کی(۱۴۳) ۔

۸ ہجری میں ، یعنی حبشہ سے لوٹنے کے ایک سال بعد، جعفر طیار، رسول خدا (ص) کے حکم سے ، رومیوں سے جنگ کرنے کے لئے تین ہزار جنگجوؤں پر مشتمل ایک لشکر کے سپہ سالار کی حیثیت سے اردن کی طرف روانہ ہوئے۔ اسلام کے سپاہی مدینہ سے روانہ ہو کر اردن کی سرزمین میں ''موتہ'' کی جگہ پر رومیوں سے نبرد آزماہوئے۔

اس جنگ میں بہادری کے ساتھ لڑنے کے بعد جعفر کے دونوں بازو کٹ گئے، اس کے بعد انہوں نے پرچم اسلام کو اپنے سینے سے لگا لیا ، یہاں تک کہ شہید ہوگئے، ان کو اس حالت میں دفن کیا گیا کہ ، بدن پر ستر(۷۰) زخم لگے ہوئے تھے(۱۴۴) ۔

جب رسول خدا (ص) کو جعفر کی شہادت کی خبر ملی توآپ(ص) نے روتے ہوئے فرمایا: جعفر جیسے شخص کے لئے ضرور رونا چاہئے۔

مصعب ابن عمیر

مصعب ا بن عمیر تاریخ اسلام کے ایک دلاور جوان اور نمایاں فرد شمار ہوتے ہیں ۔ وہ ایک انتہائی خوبصورت ، با حیا، باہمت اور دلاور جوان تھے۔ ان کے ماں باپ ان سے انتہائی محبت کرتے تھے۔ وہ مکہ میں ایک محترم شخصیت شمار ہوتے تھے اور عمدہ لباس پہنتے تھے اور اچھی زندگی گزارتے تھے(۱۴۵) ۔

مصعب ا بن عمیر، رسول خدا(ص) کے بیانات کے دلدادہ ہوچکے تھے انہوں نے رسول خدا (ص) کے پاس نشت برخاست اور قرآن مجید کی تلاوت سننے کے نتیجہ میں مخلصانہ طور پر اسلام کو قبول کرلیا۔ اس وقت مکہ میں اسلام قبول کرنا سب سے بڑا جرم شمار

ہوتا تھا۔ اس لئے اس کا اظہار بہت مشکل تھااور بہت سے لوگ اپنے اسلام کو مخفی رکھتے تھے،ان میں سے ایک مصعب ابن عمیر تھے، یہاں تک کہ ان کے ماں باپ کو معلوم ہوا اور انہوں نے انھیں گھر میں قید کر لیا۔لیکن وہ بھاگ نکلے اور دوسرے مسلمانوں کے ہمراہ حبشہ چلے گئے اور ایک مدت کے بعد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ واپس مکہ لوٹے۔

عقبہء اولیٰ میں ایک چاندنی رات میں مدینہ کی اہم شخصیتوں میں سے بارہ افراد نے مکہ آکر رسول خدا (ص)سے ملاقات کی اور مسلمان ہوگئے ۔جب یہ گروہ واپس مدینہ لوٹنا چاہتا تھا توان میں سے دو افراد ،اسعد ابن زرارہ وزکوان ابن عبد قیس نے رسول خدا (ص)سے درخواست کی ،کہ کسی کو اپنے نمائندے کے طور پر ہمارے ساتھ مدینہ بھیجدیں

تاکہ وہ لوگوں کو قرآن سکھائے اور انھیں اسلام کی طرف دعوت دے۔(۱۴۶)

چونکہ پیغمبر اسلام (ص)کو ایک سنہرا موقع ملا تھا،اس لئے آپ(ص) کو چاہئے تھا کہ ایک ایسے نما یندہ کو روانہ کریں جو عالمانہ طرز سے لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دے،تاکہ وہ اسلام کو قبول کرلیں لہذااس نمایندکوہر لحاظ سے شائستہ اور تجربہ کار ہو نا چاہئے تھا۔

اس زمانہ میں ،مدینہ،جزیرةالعرب کے اہم شہروں میں شمار ہوتا تھا اس میں اوس وخزرج نامی دو مشہور اوربڑے قبیلے رہتے تھے اور ایک دوسرے سے دشمنی اورکینہ رکھتے تھے اور سالہا سال سے آپس میں لڑ رہے تھے۔

پیغمبر اسلام (ص)نے تمام مسلمانوں اور اصحاب میں سے مصعب ابن عمیر کو اس کام کے لئے مدینہ روانہ کیا اور فر مایا :''اسعد ابن زرارہ کے ہمراہ مدینہ چلے جاؤ۔''

مصعب، جواچھی طرح قرآن مجیدسیکھ چکے تھے،جوانی کے جوش وجذبہ کے ساتھ مدینہ پہنچے اور خلوص نیت کے ساتھ تبلیغ کے لئے سعی وکوشش کرنے لگے۔وہ مدینہ میں قبیلہء خزرج کے ایک سردار اسعد کے گھر میں ساکن ہوئے اور اپنے میز بان کے ہمراہ قبیلہء اوس کے سر براہ سعد ابن معاذ کے گھر گئے اور انھیں اسلام کی دعوت دی اور وہ مسلمان ہوگئے۔ اسی طرح اسید بن حُضیربھی مصعب کے ذریعہ مسلمان ہوئے۔دلا ور جوان مصعب نے مدینہ کے اپنے سفر میں اپنی ذمہ داری اچھی طرح انجام دی ۔وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مدینہ میں نماز جمعہ وجماعت قائم کی اور نمایاںافتخار حاصل کیا۔(۱۴۷)

مصعب کی مئوثر فعالیت اورکا میاب تبلیغ کے نتیجہ میں پیغمبر اسلام (ص) کے لئے شہر مدینہ میں آنے کے مواقع فراہم ہوئے اور وہاں کے لوگ دل کھول کر پیغمبر اسلام (ص)اور آپ(ص)کے پیرئوں کا استقبال کرنے کے لئے تیار ہوگئے ۔یہ کام مصعب کی دور اندیشی ،تقویٰ،فضلیت اور علم و بصیرت سے انجام پایا،کیونکہ اسی کی وجہ سے مدینہ کے زن ومرد ،پیر وجوان ،قبائل کے سردار اورعام لوگوں نے ان کی باتوں کو مان کر ان سے قرآن مجید سیکھا اوردین اسلام کو قبول کیا اوراپنے دلوں سے ایک دوسرے کے خلاف موجود دیرینہ دشمنیوں کو دور کرکے آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور پورے خلوص دل سے نماز جمعہ و جماعت میں شرکت کرتے تھے۔

پیغمبر خدا (ص)کے مدینہ میں داخل ہونے کے بعد ،مصعب نے بدر اور احد کی جنگوں میں شرکت کی۔جنگ احد میں انہوں نے پیغمبر (ص)کے علمدار کی حیثیت سے ذمہ داری نبھائی اور آخر کاراس جنگ میں شہید ہوئے اور پیغمبر اسلام (ص) کے چچا حضرت حمزہ کے پہلو میں سپرد خاک ہوئے۔(۱۴۸)

مکہ کے گور نر،عتاب ابن اسید

مکہ ۸ ہجری میں کسی خونریزی کے بغیراسلام کے سپاہیوں کے ہاتھوں فتح ہوا۔ فتح مکہ کے فوراً بعد جنگ حنین کا واقعہ پیش آیا ۔رسول خدا (ص)اور آپ(ص) کے ساتھی مکہ کو ترک کر کے محاذ جنگ کا رخ کرنے پر مجبور ہوئے۔

دوسری طرف رسول اللہ (ص)کے لئے ضروری تھا کہ کفار کے قبضہ سے آزاد ہونے والے

شہر مکہ کا انتظام و انصرام سنھبالنے کے لئے کسی لائق اور باصلا حیت شخص کو گورنر کے عہدہ پرمنتخب کریںتاکہ وہ لوگوں کے مسائل کو حل کریں اور دشمنوں کی طرف سے ہو نے والی کسی نا مناسب حرکت کا جواب دے ۔

پیغمبر اسلام (ص)نے تمام مسلمانوں میں سے ایک اکیس سالہ نوجوان ،عتاب ابن اسیدکو اس اہم عہدہ کے لئے منتخب فر مایا اور انھیں لوگوں کو نماز جماعت پڑھانے کاحکم دیا۔وہ پہلے امیر تھے،جنہوں نے مکہ کے فتح ہونے کے بعدوہاں پر نماز جماعت قائم کی۔(۱۴۹)

رسول خدا (ص)نے اپنے منتخب گور نر سے مخاطب ہوکر فرمایا:

''کیا تم جانتے ہو کہ میں نے تمہیں کس عہدہ پر منتخب کیا ہے اور کس قوم کی فرمانروائی تمہیں سونپی ہے ؟میں نے تمہیں حرم خدا اور مکہ معظمہ کے باشندوں کا امیر مقرر کیا ہے ۔میں اگر مسلمانوں میں کسی کو تم سے ز یادہ لائق اور شائستہ پاتا، تو'' یقینا یہ عہدہ اسی کے سپرد کر تا ۔'' جس دن رسول خدا (ص)کی طرف سے عتاب مکہ کے گورنر مقرر ہوئے ،ان کی عمر اکیس(۲۱) سال تھی۔(۱۵۰)

پیغمبراسلام (ص) کااس نوجوان کو اس عظیم اور اہم عہدہ پر مقرر کرنا،عرب کے بزرگوں اور مکہ کے سر داروں کے لئے ناراضگی کا سبب بنا۔نتیجہ میں انہوں نے شکوہ اور اعتراض کرنے کے لئے زبان کھولی اور کہا :رسول خدا (ص)ہمیں ہمیشہ حقیر اور پست رکھنا چاہتے ہیں ،لہذا ہم سن رسیدہ عربوں اور مکہ کے سرداروں پر ایک نوجوان کوامیر اورفرمانروا مقرر کیاہے۔

یہ باتیں رسول خدا (ص)تک پہنچ گئیں۔اس لئے آپ(ص)نے مکہ کے باشندوں کے نام ایک مفصل خط مرقوم فرمایا اور اس خط میں عتاب کی صلاحیتوں اور قابلیتوں کا ذکر کیا اور تاکید فرمائی کہ لوگوں پر فرض ہے کہ اس کے حکم کی پیروی کریں اور اس کے دستورات پر عمل کریں۔

اس خط کے آخر پر آنحضرت (ص)نے لوگوں کے بے محل اعتراضات کا مختصرلفظون میں اس طرح جواب دیا:

''تم میں سے کسی کو حق نہیں ہے کہ عتاب کے نوجوان ہونے کی بنیاد پر اعتراض کرے،کیونکہ انسان کی برتری اور قدر ومنزلت کا معیار اس کی عمر نہیں ہے،بلکہ اس کے بر عکس انسان کی قدر ومنزلت کا معیار،اس کی فضیلت اور معنوی کمال ہے(۱۵۱)

پیغمبر اسلام (ص)کی رحلت کے بعد ،عتاب،خلیفہ اول ابو بکر کی طرف سے بھی مکہ کے گور نر بر قرار رہے، یہاں تک کہ ۲۳ ہجری میں اس دنیا سے چل بسے۔(۱۵۲)

چنانچہ رسول خدا (ص)کا عتاب ابن اسید کے عہدہ کو استحکام بخشنے کے لئے اصراراور بزرگوں اور عمر رسیدہ لوگوں کے اس سلسلہ میں ناراض ہونے پر آپ کا توجہ دینا اور ان کے اعتراضات کا جواب دینا ،اسلام کے گرانقدر مکتب کے منصوبوں یعنی لائق و شائستہ نوجوانوں کی حمایت کرنے کی دلیل ہے ۔رسول خدا (ص)نے عتاب کی کھلم کھلا اور زبر دست حمایت کرکے نہ صرف اپنے پیرؤںکو اس

حقیقت کی طرف متوجہ کیا کہ بیوقوفیوں اور جاہلانہ تعصبات کو چھوڑنا چاہئے،بلکہ انھیں اس قسم کے غیر اسلامی طرز تفکر سے مقا بلہ کرنا چاہئے ۔اور اگر شائستہ اور لائق نوجوان موجود ہوں تو مملکت کے بعض اہم کاموں کے سلسلہ میں ان سے استفادہ کرنا چاہئے اور نسل جوان کی فائدہ بخش صلاحیتوں سے ملک وملت کے حق میں فائدہ اٹھانا چاہئے۔

معاذ ابن جبل

معاذ ابن جبل ابن عمر وانصاری ،قبیلہء خزرج سے تعلق رکھتے تھے اور ان کی کنیت ابو عبد الرحمان تھی ۔وہ رسول خدا (ص)کے ایک مشہور صحابی تھے۔وہ عقل سلیم،خوبصورتی، جو دو اور حسن اخلاق کے مالک تھے ۔وہ اٹھارہ سال کی عمر میں مسلمان ہوئے تھے اور پیغمبر اکرم (ص)کے زمانے میں تمام جنگوں میں شریک تھے۔(۱۵۳)

معاذ نے پیغمبر اسلام (ص)کی تر بیت میں مکتب الہٰی سے علم ودانش اور علوم اسلامی سیکھنا شروع کیا اور اپنی فطری استعداد اور سعی وکوشش کے نتیجہ میں چند برسوں کے اندر اسلامی معارف میں کافی مہارت حاصل کی۔ اور پیغمبر اکرم (ص)کے نمایاں اور نامور صحابیوں میں شمار ہوئے ۔

معاذا بن جبل ،فتح مکہ کے دن ۲۶ سال کے تھے ۔اس وقت ضرورت اس بات کی تھی کہ اس شہر میں ایک لائق اور شائستہ شخص کو ذمہ داری سونپی جائے تاکہ وہ عبادات اور معاملات سے متعلق اسلام کے احکام اور دستو رات لوگوں کو سکھائے۔(۱۵۴)

اس لئے معاذ کو مکہ کے علمی امور اور دینی احکام سکھانے کے لئے منتخب کیا گیا ،حقیقت میں انھیں اس شہر کے ثقا فتی امور کا رئیس مقرر کیا گیا ۔

جنگ تبوک کے بعد رسول خدا (ص)نے معاذ کو یمن بھیجدیا تا کہ وہاں پر قضاوت اورحکومت کی ذمہ داریوں کو نبھائیں ۔پیغمبر اسلام (ص)نے یمن کے لوگوں کے نام ایک خط میں یہ مرقوم فر مایا:

ٍٍ''میں نے بہترین افراد میں سے ایک کو تم لوگوں کی طرف بھیجا ہے''

پیغمبر اکرم (ص)نے معاذ کو حکم دیا کہ فوجیوں کو ٹرنینگ دیں،لوگوں کو قرآن مجید اور شرعی احکام سکھائیں اور زکوٰة جمع کر کے مدینہ بھیجیں تاکہ مسلمانوں پر خرچ کی جائے۔(۱۵۵)

جب رسول خدا (ص)اس جوان کو یمن بھیجنا چاہتے تھے اس وقت آپِ(ص)(ص)نے اس سے سوال کیا :معاذ!اگر(دو گروہوں یا فریقوں میں )لڑائی چھڑ جائے تو تم کیسے فیصلہ کروگے ؟معاذ نے عرض کی :خدا کی کتاب میں جو کچھ ہے ،اسی کے مطابق فیصلہ کروں گا ۔

آنحضرت (ص)نے فرمایا:اگر اس کا حکم قرآن مجید میں نہ ہو تو کیا کرو گے؟معاذ نے کہا :اس صورت میں پیغمبر (ص)کی سیرت کے مطابق عمل کروں گا !پیغمبر اکرم (ص)نے پوچھا :اگر میری روش اور سیرت میں بھی اس کا حکم نہ ملا تو اس صورت میں کیا کرو گے ؟معاذ نے کہا :اس صورت میں اپنی صلاح دیدکے مطا بق حکم کروں گا۔یہاں پر رسول خدا (ص)نے ان کے سینہ پر ہاتھ رکھ کر فر مایا :خدا کا شکر ہے کہ تم نے پیغمبر (ص)کو اس بات سے خوش کر دیا ہے کہ جس سے انبیاء خوش ہوتے ہیں(۱۵۶) !

جب ۱۱ ہجری میں پیغمبر اسلام (ص)نے رحلت فرمائی ،تو اس وقت معاذ یمن میں تھے پہلے خلیفہ ابو بکر نے بھی معاذ کو اپنے عہدے پر برقرار رکھا ۔اس کے بعد وہ عمر کی خلافت کے زمانہ میں شام چلے گئے اور سر زمین اُردن میں عمواس(۱۵۷) کے مقام پر ۱۸ہجری میں انہوں نے ۲۸،۳۲،یا۳۴ سال کی عمر میں طاعون کی بیماری میں وفات پائی۔(۱۵۸)

معاذ کی لیاقت وشائستگی کے نکات میں سے ایک نکتہ یہ تھا کہ وہ اس جوانی کی عمر میں اور پیغمبر اسلام (ص)کی حیات کے دوران مستقبل میں ہونے والے مجتہدوں کے طرز عمل پر فتویٰ دیتے تھے اور دینی احکام کو قرآن مجید ،سنت اور عقل سے استنباط کرتے تھے ۔صدر اسلام میں اس دلا ور نوجوان کی فطانت اور لیاقت کو ثابت کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے ۔(۱۵۹)

اسامہ ابن زید

اسامہ ا بن زید عرب نسل کے شامی عیسائی تھے ۔ان کی کنیت ابو محمد تھی وہ رسول خدا (ص)کے ایک جلیل القدر صحابی تھے۔وہ مکہ میں ہجرت سے سات سال پہلے پیدا ہوئے تھے ۔پیغمبر اسلام ان سے انتہائی محبت کرتے تھے ۔وہ ایک ہوشیار ،شائستہ اور با استعداد نوجوان تھے۔(۱۶۰)

اسامہ کے والد ،زید،رومیوں کے ساتھ جنگ میں سر زمین ''موتہ''میں جعفر ابن بیطالب کی شہادت کے بعد دوسرے کمانڈر کی حیثیت سے شہید ہوئے تھے ۔اس لئے ۱۵۷۔عمو اس فلسطین میں بیت المقدس کے نزدیک ایک علاقہ ہے کہ اس علاقہ میں ۱۸ہجری کو پہلی بار وبا پھیلی جس کے نتیجہ میں بہت سے مسلمان اور پیغمبر اکرم (ص)کے صحابی لقمہ اجل ہوگئے ۔یہ بیماری خون میں ایک جراثیم داخل ہونے کی وجہ سے پھیلتی ہے اور چند گھنٹوں کے اندر انسان کو ہلاک کر دیتی ہے معجم البلدان ج۴ ،ص۱۵۷

ا پیغمبر اسلام (ص)نے فیصلہ کیا کہ اسامہ ،جن کی عمر اٹھارہ سال سے زیادہ نہیں تھی ،کو رومیوں سے جنگ کے سلسلہ میں لشکر اسلام کا سپہ سالار مقرر فرماکر اس سر زمین کی طرف روانہ کریں۔جبکہ اسلامی لشکر کے تمام بڑے بڑے افسر اور اسلامی فوج کے سپہ سالاراور مھاجر وانصار کے تمام سردار اور عربوں کی نامور شخصیتں اس عظیم فوج میں شریک تھیں۔رسول اکرم (ص)اس لشکرکا معائنہ کرنے کے لئے مدینہ سے باہر تشریف لائے۔آپ(ص) نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تمام بڑی بڑی شخصیتں جنگ کے لئے تیار ہیں ۔(۱۶۱)

پیغمبر اسلام کی طرف سے ایک اٹھا رہ سالہ نوجوان کو کمانڈر کی حیثیت سے منتخب کرنا

بہت سے افراد کے لئے تعجب اور حیرت کا سبب بنا اور پیغمبر اسلام (ص)کے اس طرز عمل کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھنے لگے ۔نتیجہ میں پیغمبر اسلام (ص) کے بعض صحابیوں نے فوری طور پر رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی اندرونی کیفیت کو آشکار کیا اور جو کچھ دل میں تھا اسے زبان پر جاری کیا اور اعتراض کرتے ہوئے کہا:یہ نوجوان،تجربہ کار اور پہلے اسلام قبول کرنے والے مہاجرین پر کیسے سپہ سالارمقرر کیا گیا ؟

رسول خدا (ص)،بعض افسروں کی طرف سے طعنے سن کربہت رنجیدہ ہوئے ۔لہذا منبر پر تشریف لے گئے اور خدا وند متعال کی حمد و ثناء کے بعد فر مایا :لوگو!اسامہ کی سپہ سالاری کے بارے میں بعض لوگوں سے یہ کیسی باتیں سن رہاہوں ؟

تم لوگ جو آج طعنے دے رہے ہو،یہ طعنے نئے نہیں ہیں ۔جب میں نے چند سال پہلے اسامہ کے باپ زید کو جنگ موتہ میں سپہ سالار مقرر کیا تو تم لوگوں نے اس وقت بھی طعنہ زنی کی تھی۔

خدا کی قسم کل زید ابن حارثہ سپہ سالاری کے لئے لائق تھے،اور آج ان کے بیٹے اسامہ اس کام کے لئے شائستہ ہیں ،تم سب کو ان کی اطا عت کرنی چاہئے ۔(۱۶۲) لائق اور شائستہ نوجوانوں کی حمایت میں پیغمبر اسلام (ص)کی اس تاکید اور اصرار نے مسلمانوں کے افکار پر گہرا اثر ڈالا ،اور جو لوگ جوان نسل کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا تھے انہوں نے رفتہ رفتہ اپنی غلط فہمیوں کا اعتراف کیا ۔ایک اٹھارہ سالہ نوجوان کو سپہ سالار کے عہدے پر منتخب کرنا دنیا کی فوجی تاریخ میں کم نظیر ہے۔

اسامہ کی بر طرفی

بیشک،اسامہ کی سپہ سالاری کا موضوع اور پیغمبر اسلام (ص)کی یہ تاکید اور اصرار کہ سب لوگ اسامہ کے پرچم تلے جمع ہو جائیں ،تاریخ اسلام کے دلچسپ اور مشہور واقعات میں سے ہے۔اُس وقت پیغمبر اسلام (ص)بیمار تھے اور اپنی زندگی کے آخری لمحات سے گزر رہے تھے۔اسی حالت میں جب ابو بکر اور عمر پیغمبر اکرم (ص)کے سراہنے پہنچے اور پیغمبر (ص) نے انھیں دیکھتے ہی ناراضگی میں فر مایا:اسامہ کے لشکر میں چلے جاؤ!چلے جاؤ!چلے جاؤ!خدا !لعنت کرے ان لوگوں پرجو جنگی آماد گی رکھنے کے باوجود اسا مہ کے لشکر میں شامل نہ ہو ۔(۱۶۳)

پیغمبر اسلام (ص)کی رحلت کے بعد،اسا مہ مدینہ سے باہر اپنے لشکر کی چھاونی میں منتظر رہے تاکہ ان کا فریضہ معین ہوجائے؟جب ابو بکر بر سر اقتدار آگئے ،تو انہوں نے اسامہ کو اسی طرف روانہ ہونے کا حکم دیا جس طرف انھیں پیغمبر (ص)نے روانہ ہونے کا حکم دیاتھا۔اسامہ شام کی طرف بڑھے،لیکن جب شام پہنچے ،تو ابوبکر نے انھیں بر طرف کر کے یزید ابن ابی سفیان کو ان کی جگہ پر مقرر کیا۔

جب یہ جوان سپہ سالاربر طرف ہوئے ،تو مدینہ آکر مسجد النبی (ص) کے دروازے پر کھڑے ہوکر فریاد کی:اے مسلمانو!تعجب کی بات ہے ،جس شخص کا فرمانروا کل رسول خدا (ص)نے مجھے بنایا تھا وہ آج مجھ پر حکم چلا رہا ہے اور مجھے سپہ سالاری کے عہدے سے بر طرف کر رہا ہے ۔(۱۶۴)

اس کے بعد اسامہ ۵۴ھ تک مدینہ میں زندہ رہے اورمعاویہ کی حکومت کے دوران ''جُرف''نامی ایک جگہ پر وفات پائی(۱۶۵)

ان تاریخی نمونوں سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے الہٰی مکتب میں جوانوں کی کتنی قدر ومنزلت تھی۔


چوتھی فصل

جوانوں کے خصوصیات

''اگر جوانی میں کوئی شخص زاہدو عابد بن جائے تو مستقبل میں اس کے معنوی درجات دسیوں گنا بڑ ھ جائیں گے۔''

( حضرت علی علیہ السلام)

حقیقت میں انسان اپنی پوری زندگی کے دوران دوسروں کی ہدایت وراہنمائی اورنصیحت کا محتاج ہو تاہے۔ حتی کہ عمر رسید ہ افراد کہ جن کی عقل کامل ہوچکی ہوتی ہے اور اپنی زندگی کے دوران تجربات بھی حاصل کرچکے ہوتے ہیں ، وہ بھی ہمیشہ گمراہی اور انحراف کے دہانے پر ہوتے ہیں اور دوسروں کی وعظ و نصیحت کے محتاج ہوتے ہیں ، جوانوں کی بات ہی نہیں ، جو ہر وقت عقل و فکر کی ناپختگی کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں ۔ اسی لئے جوان دوسروں کی راہنمائی اور ہدایت کے زیادہ محتاج ہوتے ہیں ۔ اس دعوی کو ثابت کرنے کے لئے مندرجہ ذیل روایت پر غور کیجئے:

محمد ابن مسلم زہری اپنے زمانہ کا ایک عظیم شخص اور دانشوروعقلمند تھا۔ دولت اورمقام کی لالچ نے اسے فضیلت و پاکی کے راستہ سے منحرف کردیا تھااور بوڑھا پے میں وہ بدبخت اورذلیل و رسوا ہوا۔

اس زمانہ کے نفسیاتی طبیب یعنی حضرت امام سجاد نے ہدایت اور وعظ و نصیحت کی غرض سے اس کے نام ایک خط لکھا اور اس کے ذیل میں ایک چھوٹے سے جملہ میں عقل کی ناپختگی کی وجہ سے جوانوں کو درپیش خطرا ت سے آگاہ کیا :

ٍٍ''جب دنیا پرستی تم جیسے سن رسیدہ ،تعلیم یافتہ اور موت سے قریب لوگوں کو ایسی ذلت وپستی میں ڈال سکتی ہے توایک نوجوان نفسانی خوا ہشات سے کیسے اپنے آپ کو بچا سکتا ہے ؟کہ جو ایک طرف سے تو ابھی جوانی کے دور سے گزر رہا ہے اور دوسری طرف علم ودانش سے بھی خالی ہے اور اس کے علاوہ اس کی فکر کمزور اور عقل ناپختہ ومنحرف ہے۔(۱۶۶) ''

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

'' جوان کی نادانی کا عذر قابل قبول ہے ،کیونکہ اس کا علم ودانش محدود اور نا پختہ ہو تا ہے۔(۱۶۷) ''

اس لئے نا پختگی اور نادانی جوا نوں کے خصو صیات میں سے ایک ہے کہ تربیت کے وقت اس کا خاص خیال رکھنا چاہئے ۔یہی وجہ ہے کہ خدا وند متعال نے اپنے تمام بندوں کے لئے توبہ کا راستہ کھلا رکھا ہے اور سب سے زیادہ جوانوں کو توبہ کرنے کی تاکید فرمائی ہے کیونکہ ممکن ہے جوانی کی جہالت اور جنون ان کی بہت سی غلطیوں اور خطائوں کا سبب ہوں اور نجات کا تنہا راستہ توبہ ،خدا کی طرف راغب ہو نا اور دینی احکام کی پیروی کرنا ہے۔

جوان گوناگوں مسائل کے انتخاب میں مستقل مزاج نہیں ہوتے اور ان کی رائے ہمیشہ بدلتی رہتی ہے ۔ان کا رجحان ہمیشہ بدلتا رہتا ہے اور ہر لمحہ مختلف خطرات سے دوچار ہوتے رہتے ہیں ۔اس لئے دشمن بھی جوانوں کی اس کمزوری سے ہمیشہ فائدے اٹھاتے ہیں ۔

جوانوں کے دوسرے خصوصیات ،ان کی طاقت،توانائی،نشاط،تحرک اور سر گرمی ہے کہ اگر ان سے صحیح استفادہ نہ کیا جائے تو وہ ایسی بہت سی غلطیوں کے شکار ہو سکتے ہیں کہ جن کی تلافی ناممکن ہے ۔اس لئے جوانوں کی اس طاقت اور توانائی کو علم،تجربہ اور فکر سے ہم آہنگ کیا جانا چاہئے تاکہ مطلوب اور قابل قدر نتیجہ حاصل ہو سکے۔

علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

''میں عمر رسیدہ لوگوں کی واضح اور روشن فکر کو جوانوں کی طاقت اور توانائی سے زیادہ پسند کرتا ہوں ۔(۱۶۸) ''

مومن جوانوں کی نشانیاں

تاریخ اورائمہ دین کی احادیث کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ مومن جوانوں کی کچھ خصوصیات اور نشانیاں ہیں ۔ہم یہاں پر ان میں سے بعض کی طرف اختصار کے ساتھ اشارہ کرتے ہیں :

۱۔دینی احکام سے آگاہی

بنیادی اور اہم ترین علم،جو ایک جوان کو حاصل کرنا چاہئے،دین کی آگاہی ہے ،

کیونکہ دین سے نا آگاہ جوان اپنی جوانی کو برباد کرتے ہیں ۔ دین کے احکام کا فہم و ادراک جوانوں کی سعادت و خوشبختی کی ضمانت ہے۔

امام محمد باقر فرماتے ہیں :

''اگر میں شیعوں کے کسی جوان کو پاؤں کہ جو دینی احکام نہیں سیکھتا ہے اور دین کے بارے میں آگاہی نہیں رکھتا ہے ، تو میں اسے سزا دوں گا''(۱۶۹)

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں :

''اگر میں کسی ایسے شیعہ جوان کو پاؤں کہ جو دین سیکھنے کی کوشش نہیں کرتاہے تو میں اسے بیس کو ڑے ماروں گا''(۱۷۰)

۲۔ قرآن مجید سے آشنائی

چونکہ قرآن مجید خداوند متعال کا کلام ، رسول خدا(ص) کا لافانی معجزہ اور ایک گرانقدر کتاب ہے کہ جس میں انسان کی ہدایت کا پیغام اور الہی معارف موجود ہیں ، اس لئے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ قرآن مجید اور اس کے علوم سے آشنائی حاصل کرے اور اس مقدس کتاب کے ساتھ انس و محبت رکھے ۔ چنانچہ اس مضمون کی ایک روایت بیان ہوئی ہے:

جب بچہ جوانی کے دور میں قرآن مجید سے آشنا ہوتا ہے اور اسے بار بارپڑھتا ہے ، تواسے قرآن مجید سے زیادہ معنویت حاصل ہوتی ہے، گویا اس کے گوشت و خون کے ساتھ قرآن مجید مل جاتاہے اور اس کے وجود کے تمام اعضاء پر اثر اندازہوتا ہے۔(۱۷۱)

۳۔ ائمہ اطہار علیہم السلام کے ارشادات سے آشنایی

جوانوں کو شیعوں کے ائمہ اطہار اور دینی پیشوا ؤں کے ارشادات سے آشنا ہونا چایئے، تا کہ اپنے پاک دلوں کو ان گرانقدر اور قیمتی گوہر سے منور کریں ۔ ایک حدیث میں یوں بیان ہوا ہے:

''جوانوں کو اپنے دل دینی پیشواؤں کی احادیث سے نورانی کرنا چاہئے اپنی زبان اور بیان کو ان سے لطافت بخشنا اور اپنے کانوں کو ان کے احادیث سننے سے شائستہ بنانا چاہئے''(۱۷۲)

۴۔ علم سیکھنا

حضرت علی علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں :

''تجرباتی علوم جو انسان کی مادی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں او رمعاشرے کے لیئے بھی مفید ہو تے ہیں اور دوسرے ادبی وانسانی علوم، جن میں سے ہر ایک کسی نہ کسی صورت میں معاشرے کے لوگوں کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں ، جوانوں کو ان سب کو سیکھنا چاہئے''(۱۷۳)

۵۔ عبادات کا بجا لانا

شائستہ جوانوں کے خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ خداوند متعال کی عبادت اور پرستش کا خیال رکھیںاور اس کے ذریعہ اپنی روح کے زنگ کو دور کریں اور خدا کی عبادت و پرستش کے سایہ میں پروان چڑھیں ۔ چنانچہ نقل کیا گیا ہے:

''اگر جوانی کے دور میں کوئی شخص زاہد و عابد بن جائے تو مستقبل میں اس کے معنوی درجات دسیوں گناہ بڑھ جائیں گے ''(۱۷۴)

۶۔ توبہ کرنا

مو من جوانوں کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اسے اپنی غلطیوں اور خطائوں سے توبہ کرنا چاہئے ، کیونکہ جوانوں میں تغیر و تبدل ہو تا رہتا ہے ، کبھی معنوی ذہنیت کے مالک ہوتے ہیں او رکبھی جاہلانہ کام انجام دیتے ہیں ۔ اس لحاظ سے اگر ہم جوانی کو زندگی کا ناپایدار دور کہیں تو کوئی مبالغہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ،با عقیدہ جوان ہمیشہ توبہ کر تا رہتا ہے ۔ یہ طریقہ اسے تباہی اور بدبختی سے نجادت دیتا ہے۔

پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں :

''خداوندمتعال کے نزدیک محبوب ترین شخص وہ جوان ہے جو اپنے گناہوں سے توبہ کرتا ہے اور بارگاہ الہی میں مغفرت کی دعا کرتا ہے''(۱۷۵)

۷۔ کوشش و جانفشانی

جوانی کا دور، جو اٹھارہ سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے، یہی انسان کے کام کرنے اور سعی وکو شش کا دور ہوتا ہے او ر کاموں کی انجام دہی میں اپنے نشاط و تحرک سے استفادہ کرتا ہے اور اگر سستی و کاہلی سے کام لیتا ہے تو اس کے وجود میں بیہودگی جڑپکڑ لیتی ہے ۔ ایک روایت میں اس طرح نقل ہوا ہے:

''اگر اس (جوان ) نے اپنی جوانی کے دوران ( جب کہ وہ بے انتہا جسمانی اور معنوی توانائیوں کا مالک ہوتا ہے)اپنی نفسانی خواہشات سے مقابلہ نہیں کیا ہے تووہ بڑھا پے میں اپنی ذہنیت کو کیسے سنوار سکتا ہے؟ اسے اپنی توانائیوں کو بیہودہ صرف کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے ۔ کیونکہ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو بڑھا پے میں اس کے لئے مشکل ہے کہ اپنی اصلاح کے لئے کوئی کام انجام دے سکے ''(۱۷۶)

۸۔ اپنے آپ کو سنوارنا

اسلام میں زینت اورآراستگی کو خاص اہمیت دی گئی ہے او ردینی پیشواؤں نے اس سلسلہ میں بھی کچھ باتیں بیان کی ہیں جو انسان کی زندگی میں اس چیز کی اہمیت کی دلیل ہے۔ یہ خصوصیت ، دوسروں کی نسبت ، جوانوں میں زیادہ پایی جاتی ہے اور ائمہ اطہار علیہم السلام نے بھی اس قسم کے رجحانات کو ممنوع قرارنہیں دیا ہے، بلکہ عملی طور پر ان کی تائید کی ہے ۔

حضرت اما م جعفر صادق اپنے بالوں پر تیل لگاتے ہوئے فرماتے تھے:

''خداوندا ! میں تجھ سے زیبایی و زینت کی درخواست کرتا ہوں ''(۱۷۷)

اما م جعفر صادق سے یہ بھی نقل ہو ا ہے:

''ایک شخص رسول خدا (ص) کے گھر آیا اور آپ (ص) سے ملاقات کی درخواست کی۔ جب آپ(ص) اپنے گھر سے باہر نکل کر اس شخص سے ملنا چاہتے تھے،تو ایک آئینہ یا پانی کے برتن کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے سر اور چہرہ کو آراستہ فرمایا۔

عائشہ نے یہ کام دیکھ کر تعجب کیا اور آنحضرت (ص) کے واپس تشریف لانے پر آپ (ص) سے پوچھا: یا رسول اللہ (ص)! آپ (ص) باہر نکلتے وقت کیوں پانی کے برتن کے سامنے کھڑے ہوگئے اور اپنے بال اور چہرے کو آراستہ کیا؟ آپ(ص) نے جواب میں فرمایا: اے عائشہ ! خداوندمتعال دوست رکھتا ہے ، جب ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے ملنے کے لئے جائے تو و ہ اپنے آپ کو سنوار کے اس کے پاس جائے ''(۱۷۸)

اگر چہ اسلام نے ظاہری زیبایی اور لباس کو اہمیت دی ہے ، لیکن معنوی قدروں اور روحانی زیبائیوں کو اسے نقصان نہیں پہنچنا چاہئے، کیونکہ معنوی زیبایی درحقیقت وہی حقیقی زیبایی ہے او رظاہری زیبایی اسی صورت میں اچھی ہوتی ہے جب باطنی خوبصورتی اور نیک اخلاق کے ساتھ ہو۔

جوانی کے آفات

اگر چہ جوانی خداوند متعال کی بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے، لیکن اسے بعض آفات کا خطرہ لاحق ہو تا ہے، ان میں سے چند آفتوں کی طرف ہم ذیل میں اشارہ کرتے ہیں :

۱۔ جوانی کی طاقت سے غفلت

جوانی کی طاقت کو در پیش آفات میں سے ایک اس طاقت سے صحیح طور پر استفادہ نہ کرنا اوراس کا بیجا استعمال بھی ہے۔ چنانچہ اسلامی روایات میں اس امر کی طرف اشارہ ہوا ہے:

''جس جوان نے اپنی فرصت کے او قات سے مناسب استفادہ نہ کیا ہو، وہ بوڑھاپے میں خداوند متعال کے احکام اوردستورات کی اطاعت کرنے کی توانائی سے محروم رہے گا''(۱۷۹)

۲۔ جوانی کی ناپائیداری

جوانی کی آفتوں میں سے ایک آج کا کام کل پر چھوڑنا اور فرصت اور موقع کو کھودینا ہے۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

''عقلمند اور با شعور جوان اپنی اسی ناپائیدار جوانی سے جلد اور بہتر استفادہ کرتا ہے اور اپنے نیک اعمال و برتاؤ کو بڑھا وادیتا ہے۱ور علم حاصل کرنے کی سعی و کوشش کرتا ہے ''(۱۸۰)

خطاکار جوانوں سے برتاؤ کا طریقہ

جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ، پیغمبر اسلام (ص) جوانوں کے تئیں خاص احترام کے قائل تھے

۱ورہمیشہ ان سے محبت کرتے تھے اور ان کی عزّت کرتے تھے۔لیکن گہری تحقیق کے بعد پیغمبر اسلام (ص)کی سیرت میں ایک اور موضوع ملتا ہے،جو قابل غور واہمیت کا حامل ہے اور وہ موضوع گناہگار اور خطا کار جوانوں سے آپ(ص) کے برتائو کا طریقہ ہے ۔ہم اس کے چند نمونے ذیل میں بیان کرتے ہیں :

امامحمد باقر علیہ السلام نے فر مایا:

''فضل ابن عباس ایک خوبصورت جوان تھے۔عید قربان کے دن پیغمبر اکرم (ص)کے ساتھ( آپ (ص)کے مرکب پر)سوار تھے۔اسی اثناء میں قبیلہء خثعم کی ایک خوبصورت عورت اپنے بھائی کے ہمراہ پیغمبر اسلام (ص)سے احکام شرعی سے متعلق چند مسائل پوچھنے کے لئے آپ(ص)کے پاس آئی۔اس عورت کا بھائی شرعی مسائل پوچھ رہاتھا اورفضل ابن عباس اس عورت کو دیکھ رہا تھا!

رسول خدا (ص)نے فضل کی ٹھوڑی پکڑ کر اس کے رخ کواس عورت سے موڑ دیاتاکہ اس پر نگاہ نہ کر سکے۔لیکن اس جوان نے دوسری طرف سے دیکھنا شروع کیا،یہاں تک کہ پیغمبر (ص)نے اس طرف سے بھی اسے موڑ دیا۔

جب رسول خدا (ص)اس عرب کے سوالات کا جواب دے چکے ،توفضل ا بن عباس کے شانوں کو پکڑ کر فر مایا:''کیا تم نہیں جانتے ہوکہ وقت گزرنے والا ہے ،اگر کوئی اپنی آنکھ اور زبان پر کنٹرول کرے،تو خداوند متعال اس کے اعمال نامہ میں ایک قبول شدہ حج کا ثواب لکھتا ہے(۱۸۱) !!

ایک دوسری روایت میں نقل ہوا ہے:

''پیغمبر اسلام (ص)کے چچا،عباس نے(آنحضرت(ص) سے مخاطب ہو کر)کہا:کیا آپ(ص) نے اپنے چچا زادبھائی کا رخ موڑ دیا؟رسول خدا (ص)نے فرمایا:میں نے ایک جوان عورت اور ایک جوان مرد کو دیکھا کہ گناہ سے محفوظ نہیں تھے(اسی لئے یہ کام انجام دیا)۔(۱۸۲) ''

منقول ہے:

''ایک دن ایک جوان رسول خدا (ص)کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی :اے رسول خدا (ص)!مجھے زنا کرنے کی اجازت دیجئے۔لوگ یہ سن کرمشتعل ہوئے اور بلند آواز میں اعتراض کیا ،لیکن رسول خدا (ص)نے نرمی سے فر مایا:

نزدیک آئو۔وہ جوان رسول خدا (ص)کے نزدیک گیا اور آپ(ص)کے روبرو بیٹھا۔پیغمبراسلام (ص)نے محبت سے اس سے پوچھا:کیا تم یہ پسند کروگے کہ کوئی تیری ماںسے ایساہی فعل انجام دے؟جوان نے کہا:آپ(ص)پر قربان ہو جائوں نہیں !آنحضرت (ص)نے فرمایا:لوگ بھی اسی طرح تیرے اس فعل پر راضی نہیں ہوں گے!

اس کے بعد آنحضرت(ص) نے یہی سوال اس جوان کی بہن اور بیٹی کے بارے میں کیا اور جوان نے اسی طرح جواب دیا۔

اس کے بعدرسول خدا (ص)نے اس جوان سے فر مایا :کیا تم پسند کروگے کہ لوگ تیری بہن سے یہی فعل انجام دیں؟اس نے جواب دیا :نہیں ۔رسول خدا (ص)نے فر مایا:لوگ بھی ایسا ہی سو چتے ہیں ۔اس کے بعد پیغمبر (ص)نے پو چھا:کیا تم پسند کروگے کہ کوئی تیری بیٹی کے ساتھ یہی فعل انجام دے؟

اس نے کہا:نہیں ۔پیغمبر (ص)نے فرمایا:اگر کوئی ان کی بیٹی سے ایسا فعل انجام دے تو لوگ بھی تیری طرح ناراض ہو ںگے۔''

اس جوان اور رسول خدا (ص)کے در میان گفتگو کے بعد آنحضرت (ص) نے اس جوان کے سینہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر فر مایا :

''پر ور دگارا!اس کے دل کوگناہ سے پاک کر دے اور اس کے گناہوں کو بخش دے اور اسے زنا سے محفوظ رکھ۔پیغمبراکرم (ص)کے اس بر تائو کے نتیجہ میں اس کے بعد اس جوان کی نظر میں سب سے برا کام زنا تھا۔(۱۸۳) ''

پیغمبر اسلام (ص)کا گناہگار جوان سے بر تائو ،مسلما نوں کے لئے بذات خود ایک بہترین مثال ہے ۔لیکن پیغمبر اکرم (ص)کی اس سیرت میں ایک نکتہ قابل غور ہے کہ صحیح طریقے پر گناہ کو روکنا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں سے ہے۔

جوانوں کو امام خمینی کی حکیما نہ نصیحتیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی نے مختلف مو قعوں پر جوانوں کے بارے میں کچھ وعظ و نصیحتیں کی ہیں ،ہم ذیل میں ان میں سے چند کی طرف اشارہ کرتے ہیں :

''ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ ہمارے جوان انسانی تر بیت،یعنی اسلامی تر بیت حاصل کریں ۔ان جوا نوں کو مستقبل میں اس مملکت کی حفاظت کرنا چاہئے اور اس مملکت کے امور کو انجام دیناچا ہئے۔ان کی صحیح تر بیت اور اصلاح کی جانی چاہئے۔

اسلام نے جس قدرہمارے ان بچوں اور جوانوں کی تربیت کے سلسلے میں کوشش کی ہے ،کسی اور چیز کی نہیں کی ہے۔''

''میں جوان لڑکیوں اور لڑ کوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ استقلال،آزادی اورانسانی اقدار کو عیش وعشرت،بے راہ روی ،مغربی ممالک اور وطن دشمن عناصر کی طرف سے قائم کئے گئے فحاشی کے اڈوں میں جانے پر کسی قیمت پر تیار نہ ہوں ۔جو ہمیں لوٹنا چاہتے تھے،انہوں نے پوری تاریخ میں اور گزشتہ پچاس سال سے زائد عرصہ میں کوشش کی ہے کہ ہمارے جوانوں کے اختیارات سلب کر لیں ۔''

''تم مسلما ن جوانوں کی ذمہ داری ہے کہ سیاسی ،اقتصادی،اجتماعی جیسے شعبوں میں حقا ئق اسلام کی تحقیق کو مد نظر رکھتے ہوئے ،اس امتیاز کو فراموش نہ کرو ،جس کی وجہ سے اسلام دوسرے تمام مکاتب فکرپر بالا دستی رکھتا ہے ۔ہمارے جوانوں کو جاننا چاہئے کہ،جس شخص میں معنویت اور توحید پر عقیدہ نہ ہو ،اس کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ امت کی فکر کرے۔''

''اے میرے عزیز جوانو!یاس وناامیدی کو چھوڑدو،حق کامیاب ہے۔اس مملکت کی،تم جوانوں کی صلاحیتوں کے ذریعہ اصلاح ہونی چاہئے ۔یہ کس قدر فخر ومباہات کا مقام ہے کہ ہمارے ملک میں دلاور جوان اسلام کی خدمت کرتے ہیں !تم جوان،جو میری امید ہو ،اتحاد ویکجہتی قائم رکھو ۔''

''جوان نسل کی ذمہ داری ہے کہ مغرب پرستوں کو غفلت کی نیند سے بیدار کریںاور انسان دشمن حکومتوں کے المیوں اور ظلم وجبر کوطشت ازبام کرکے رکھدیں''

''ہمارے بعض جوانوں نے اپنی پوری قومی حیثیت کومغرب پر قر بان کر دیا ہے اور یہ ایک معنوی شکست تھی جو ہمارے لئے تمام ناکامیوں سے بدتر تھی۔ہمارے جوان یہ تصور نہ کریں کہ جو کچھ ہے وہ صرف مغرب میں ہے اور خود ان کے پاس کچھ نہیں ہے !''

''اس وقت جب تم جوان ہو اور جوانی کی طاقتیں محفوظ ہیں نفسانی خواہشات کو سنجیدگی کے ساتھ کچلنے کی سعی وکوشش کرو۔توبہ کی بہار جوانی کے ایام ہے،اس دوران گناہوں کابوجھ ہلکا ،دل کی کدورت اور باطنی ظلمت کم اور توبہ کے شرائط سہل وآسان ہوتے ہیں ۔(۱۸۴) ''

انشاء اللہ وہ دن دور نہیں ہے جب مملکت اسلامی کے جوان،عظیم رہبر فقید اسلام حضرت امام خمینی کی ان پدرانہ نصیحتوں پر عمل کرکے اسلامی انقلاب کے عظیم بانی کی راہ پر گامزن ہو ں گے اور اسلام اور ایران کے دشمنوں کونا امید کردیں گے۔


حواشی

____________________

۱۔''باتربیت مکتبی آشنا شویم''،ص۷۷۔۷۸

۲۔''روانشناسی کودک''،ص۷۷

۳۔''راہ و رسم زندگی''،ص۱۱۸

۴۔غرر الحکم،ص۶۱۰۷

۵۔''کودک ازنظر وراثت وتر بیت''،ص ۲۲۳و۲۲۴

۶۔المحجةالبیضا ج۳،ص۳۶۶

۷۔بحارالانور ج۳۵،ص۳۵۰،البدایة ج۸ص۳۷

۸۔بحارالانوار ج۱۰۴ص ۱۰۵،ح۴۴

۱۰۔بحار الانور،ج۷۲،ص۲۱۰۵،امالی صدوق ص۲۵۲

۱۰۔مستدرک الوسائل،ج۲،ص۶۲۶،وسائل الشیعہ ج۵،ص۱۲۶طبع قدیم

۱۱۔وسائل الشیعہ ج۵،ص۱۲۶

۱۲۔اصول کافی،ج۶،ص ۵۰

۱۱۳۔بحار الانوار،ج۱۵،ص۳۷۶

۱۴۔مجمع الزوائد،ج۱۰،ص۲۸۶

۱۵۔بحارالانورج۴۳،ص۲۸۵ح۵۱،مناقب ابن شہرآشوب ج۳،ص۳۸۸

۱۶۔السیرةالحلبیہ ج۳ص۴۸

۱۷۔بحارالانوارج۴۳،ص۲۵،ح۲۲

۱۸۔قرب الا سناد،ص۳۱

۱۱۰۔وسائل الشیعہ ج۲،ص۳

۲۰۔مستدرک الوسائل ج۱،ص۱۷۱

۲۱۔مکارم الاخلاق،طبرسی،ص۱۱۵

۲۲۔نہج البلاغہ،فیض،خط نمبر۳۱،ص۱۰۰۳

۲۳۔تاریخ المدینة المنورہ ج۳،ص۷۱۰۱۰

۲۴۔بحار الا نور ج۵۰،ص۱۰۱،کشف الغمہ ج۴ ،ص۱۸۷

۲۵۔عیون اخبار الرضاج۱،ص ۲۱۰۵،بحار الانوار ج۱۰۶،ص۳۵۶،وسائل الشیعہ ج۵،ص۱۲۶

۲۶۔مجموعہ ورام ج۱،ص۳۴،المحجةالبیضاء ج۳،ص۳۶۵

۲۷۔وسائل الشیعہ ج۵،ص۱۲۶،من لایحضرہ الفقیہ ج۳،ص۳۱۱،فروع کافی ج۶،ص۴۱۰،بحارج۱۰۴ص ۱۰۳

۲۸۔بحار الانور ج۴۲،ص۲۰۳،امالی مفید،ص۱۲۱۰

۲۱۰۔نہج البلاغہ فیض،ص۵۳۱

۳۰۔مکارم الاخلاق طبرسی،ص۱۱۵

۳۱۔نہج البلاغہ ،ملا فتح اللہ،ص۴۰۶

۳۲۔مستدرک الوسائل ج۲،ص۶۲۶،مکارم الاخلاق،ص۱۱۳ ۳۳۔بحارالانوارج۲۰ص۵۲و۶۷،تفسیر قمی ج۱ص۱۱۵

۳۴۔شرف النبی،خرگوشی ج۱،ص۱۱۵

۳۵۔سیرہ دحلان،حاشیہ سیرہ حلبیہ ج۳،ص ۵۲۵،السیراةالنبویہ،ابن کثیرج۴ص۶۱۲

۳۶۔بحارالانورج۴،ص۱۰۱۰،عدةالداعی ص۶۱

۳۷۔المجحةالبیضاج۳،ص۳۶۶

۳۸۔بحارالانوارج۴۴ص۲۴۲ح۳۶

۳۱۰۔بحار الانوار،ج۱۰۴،ص۱۰۷و۱۰۵

۴۰۔احقاق الحق ج۱۰،ص۵۱۰۵اہل سنت کے منابع سے نقل کرکے

۴۱۔احقاق الحق،ج ۱۰،ص ۶۵۵مختلف منابع سے نقل کرکے

۴۲۔احقاق الحق ج۱۰،ص۶۰۱۰ ،۶۲۱،۶۱۱۰و ۶۲۳ بے شمارمنابع سے نقل کرکے

۴۳۔ملحقات احقاق الحق ج۱۱،ص۳۱۶

۴۴۔ملحقات احقاق الحق ج۱۱،ص۳۱۱ تا۳۱۴

۴۵۔مجمع الزوائد،ج۱۰ ،ص۲۶۶

۴۶۔بحارالانور،ج۸۰ ،ص۱۰۴،اللہوف ابن طاوس ،ص۱۲،ھدیة الاحباب ،ص۱۷۶

۴۷۔معانی الاخبار،ص۲۱۱،مکارم الاخلاق ص۱۵ ،بحار الانور ج۶،ص۲۴۰

۴۸۔سنن ابن ماجہ،ج ۲ ،ص۱۳۰۳

۴۱۰۔مجمع الزوائد،ج۱۰،ص۲۵۴

۵۰۔بحارالانوار،ج۴۳،ص۳۱۲

۵۱۔مجمع الزوائد ج ۸،ص۱۶۱

۵۲۔سیرئہ ابن ہشام ج۲،ص۳۸۱

۵۳۔مسند احمد حنبل ج۱،ص۳۳۴ ،صحیح مسلم ج۱۵ ،ص۱۱۰۶ ،السیرةالحلبیة ج۳،ص۶۱۰

۵۴۔سیرئہ ابن ہشام ،ج۲ ص ۲۵۲۔(ترجمہ)

۵۵۔المحجة البیضاج۳،ص۳۶۶

۵۶۔مستدرک حاکم ج۳،ص۱۶۵،مستدرک احمدحنبل ج۳،ص۶۱۰۳

۵۷۔مقتل الحسین خوارزمی،ص۱۳۰،الارشادمفیدج۲،ص۲۵،ملحقاق احقاق الحق ج۱۰،ص۶۱۵وج۱۱ص۵۰

۵۸۔بحار الانورج۴۳،ص۲۱۰۴تا۲۱۰۶

۵۱۰۔کافی ج۶،ص۴۱۰،مکارم الاخلاق،ص۱۱۳،بحارالانوارج۳۳،ص۱۱۳

۶۰۔صحیح بخاری ج۸ ص۱۰

۶۱۔بحار الانوارج۱۰۴ ص۱۰۱۰،وسائل الشیعہ ج۱۵،ص۲۰۲ ،کافی ج۶ ص۵۰

۶۲۔بحارالانوار ج۱۰۴ ،ص۱۰۳

۶۳۔ وسائل الشیعہ ج۱۵ ،ص۱۲۶

۶۴۔وسائل الشیعہ ج۱۵،ص ۱۲۶

۶۵۔بحار الانوار ج۴۳ ،ص۱۶۱ وج۲۲ ،ص۱۵۳ ،مناقب ابن شہر آشوب ج۳ص۲۳۴

۶۶۔مجمع الزوائدج۱۰،ص۱۷۱

۶۷۔مجمع الزوائدج ۸ ،ص۱۵۸ ،مکارم الاخلاق،ص۱۱۳

۶۸۔بحار الانوار،ج۱۰۴ ،ص۱۰۲ ،ح۱۶

۶۱۰۔بحار الانوار ،ج۸،ص۱۴۲

۷۰۔بحارالانوارج۴۳ ،ص ۴۲ تا۵۵

۷۱۔ذخائر العقبی ،ص۳۶ ،ینابیع المودة،ص۲۶۰

۷۲۔مکارم الاخلاق،ص۱۱۵

۷۳۔مستدرک حاکم ج۳،ص۱۷۰،الادب المفرد،بخاری ص۳۴

۷۴۔بحارالانوارج ۳۶،ص۲۴۱،کمال الدین وتمام النعمةص۱۵۲ ،الخصال ج۲،ص۷۶ ،کفایةالاثرص ۷

۷۵۔الصواعق المحرقہ ص۱۱۰۶ ،احقاق الحق ج۱۰ ،ص۷۴۶

۷۶۔ربیع الابرار ،ص۵۱۳

۷۷۔''ماوفرزندان،''ص۴۵

۷۸۔ماو فرزندان،ص۲۲

۷۱۰۔وسائل الشیعہ ج۱۵،ص۲۰۳،من لایحضرہ الفقیہ ج۳،ص۳۱۲،کنز العمال،خ۴۵۴۱۳

۸۰۔مستدرک الوسائل ج۲ص۶۲۶

۸۱۔کافی ج ۶،ص۴۷

۸۲۔کافی ج ۶ ،ص۴۷

۸۳۔وسائل الشیعہ ج۵ ،ص۱۲۶

۸۴۔سنن النبی،ص۲ ۱۵،رحمت عالمیان،ص۶۵۸،بحارالانوار،ج۴۳ ،ص۲۸۵

۸۵۔بحار الانوار ج۴۳ ،ص۳۰۶

۸۶۔بحار الانوار،ج ۴۴ ،ص۲۶۰۔کامل الزیارہ،ص۶۸۔حیاة الحیوان ج ۱،ص۱۱۱

۸۷۔شرف النبی خرگوشی ،ص۱۰۲۔نہایة المسئوول فی روایة الرسول،ج۱ ،ص۳۴۰

۸۸۔صحیح بخاری ،ج۸ ،ص۳۷ و۵۵۔دلائل النبوة بیہقی ،ص۱۵۴ تر جمہ دامغانی،نقل ازصحیح مسلم۔

۸۱۰۔السیرةالحلبیة ج۳،ص۳۴۰ ۔اسدالغابہ ج۵،ص۲۱۰۔مجمع الزوائد الرسول ج۱۰ ص۲۸۵

۱۰۰۔مجمع الزوائد ج۱۰ ،ص۲۸۵۔مسند احمد ج۱،ص۳۳۷

۱۰۱۔احقاق الحق ج۱۰ ،ص۷۱۴ ۔بحار الانوار ج۴۳ ،ص۲۸۵ ۔سنن نسائی ج۲،ص۲۲۱۰۔مستدرک حاکم ج۳،ص۱۶۶۔مجمع الزوائد ،ج۱۰ ،ص۱۸۲

۱۰۲۔بحار الانوارج۴۳ ،ص۲۸۶

۱۰۳۔مسند احمد حنبل ج۱،ص۳۳۵،صحیح مسلم ج۱۵ ،ص۱۱۰۷

۱۰۴۔المجحة البیضا ج۳،ص۳۶۶

۱۰۵۔بحارالانوار،ج۷۷،ص۱۳۵۔امالی صدوق ج۲ ،ص۲۸۷

۱۰۶۔مجمع الزوائدج۱۰ ،ص۲۷۵،مسند احمدج ۱،ص۳۳۷

۱۰۷۔مناقب ابن شہرآشوب ج۳،ص۳۸۷۔بحار الانورج ۴۳،ص۲۸۵

۱۰۸۔مجمع الزوائد ج۱۰،ص۱۶۱۰

۱۰۱۰۔بحارالانوار ج۳۶ ،ص۳۰۴،ح۱۴۳۔کفا یة الاثرص۷

۱۰۰۔مکارم الاخلاق،ص۱۴و۳۱۔بحارالانوار ج۶،ص۲۲۱۰

۱۰۱۔سنن ابن ماجہ ج۲،ص۲۲۲۰

۱۰۲۔مستدرک الوسائل ج۲،ص۱۰۶۔امالی صدوق،ص۴۴۔اعیون اخبار الرضا علیہ السلام ص۳۳۵۔الخصال ج ۱،ص۱۳۰۔علل الشرائع ص۵۴۔بحار الانوار ج۱۶ ،ص۶۶۳

۱۰۳۔مستدرک الوسائل ج۲،ص۶۱۰

۱۰۴۔رحمت عالمیان،ص۲۱۵،ح۲

۱۰۵۔عفایةالمسئوول فی روایة الرسول ج۱ ،ص۳۴۱ ۔مکارم اخلاق ج۱ص۲۳۔

۱۰۶۔وسائل الشیعہ ج۳،ص۲۰۱۰

۱۰۷۔بحار الانوار ج ۱۰۴ ص ۱۰۱۰ ،ح۷۴۔عدةالداعی ص ۶۱

۱۰۸۔بحار الانوار ج۷۴ ،ص۱۴۲،ح۱۲

۱۰۱۰۔بحار الانوار،ج ۷۴،ص۱۴۳،ح۱۵

۱۱۰۔اسلام وتر بیت کود کان ج۱،ص۲۲۴

۱۱۱۔شرح غررالحکم ج۱ ،ص۱۰،ح۸۱

۱۱۲۔مستدرک الوسائل ج۳،ص۲۲۳

۱۱۳۔''باتر بیت مکتبی آشنا شویم''،ص۳۲۰

۱۱۴۔شرح غرر الحکم ج۴،ص۱۸۳

۱۱۵۔کافی ج ۲،ص۱۶۳

۱۱۶۔بحا رالانوار ج۷۷،ص۷۵،ج۸۱،ص۱۸۰۔الحضال ج۱،ص۱۱۳

۱۱۷۔روضہ کافی،ص۱۰۳

۱۱۸۔سفینہ البحار،مادہ قلب ج۲،ص۲۴۲

۱۱۱۰۔''گفتار فلسفی،جوان''ج۱ ص۷۱

۱۲۰۔وسائل الشیعہ ج ۴ ص۳۰

۱۲۱۔مستدرک الوسائل ج۲،ص۳۵۳

۱۲۲۔مذکورہ آیت کے ذیل ہیں ،تفسیر البرہان

۱۲۳۔''شاد کامی''،ص۴۱

۱۲۴۔وسائل الشیعہ ، ج ۲،ص ۱۲۰

۱۲۵۔ کافی ، ج ۶، ص ۴۷

۱۲۶۔ سفینہ البحار ، ج ۱، ص ۶۸۰، مادہ شبب

۱۲۷۔ اعلام الوریٰ، ص ۶۸

۱۲۸۔ اسد الغابہ ، ج ۲، ص ۲۱۰۰

۱۲۱۰۔ تاریخ طبری ج ۲، ص ۶۲۔ الکامل ، ج ۲، ص ۴۰۔ مسند احمد ، ج ۱، ص ۱۱۱۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ، ج ۳، ص ۲۱۰

۱۳۰۔ تاریخ انبیاء ج ۱، ص ۷۶بحار الانوار ج ۳۵، ص ۶۸، شرح نہج البلاغہ حدیدی، ج ۱، ص ۶

۱۳۱۔ مستدرک حا کم، ج ۳، ص ۴۸۳۔ کفایہ المطالب، ص۲۶۰، الغدیر ، ج ۶، ص ۲۲

۱۳۲۔ اصول کافی، ج ۱، ص ۴۴۔ الغدیر، ج ۷، ص ۳۳۰۔ بحار الانوار ، ج ۳۵، ص ۶۸ تا ۱۸۳

۱۱۳۳۔ تاریخ طبری، ج ۲، ص ۲۱۲۔ الغدیر،ج ۳،ص ۲۲۶۔ بحار الانوار ، ج ۳۸، ص ۲۶۲۔احقاق الحق، ج ۲، ص ۱۵۳

۱۳۴۔ شعرائ۲۱۴، تفسیر فرات ، ص ۱۱۲

۱۳۵۔ احقاق الحق ج ۶، ص ۴۴۱۰، بحار الانوار، ج ۳۸، ص ۲۴۴، مناقب ابن شہر آشوب ، ج ۲،ص ۱۸۰، کنزالعمال ، ج ۶، ص ۳۱۰۷

۱۳۶۔ احقاق الحق، ج ۳، ص ۲۶ و ج ۶، ص ۴۷۱۰۔ بحار الانوار ج ۱۱۰، ص ۶۰۔ سیرہ حلبیہ ج ۲، ص ۲۶

۱۳۷۔ احقاق الحق، ج ۸، ص ۳۵۲۔ بحار الانوار ، ج ۴۱ ، ص ۸۰۔ ارشادمفید ، ج ۱، ص ۶۲

۱۳۸۔ احقاق الحق، ج ۸، ص ۳۵۱۰۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج ۳، ص ۴۰۱۔ تذکرة الخواص، ص ۳۰، تاریخ طبری ، ج ۳، ص ۳۷

۱۳۱۰۔احقاق الحق ج۸،ص۳۷۸ ،مستدرک حاکم ج ۳ص۳۲۔تاریخ بغداد ج۱۳،ص۱۱۰ ۔مقتل الحسین خوارزمی ص۴۵

۱۴۰۔احقاق الحق ج۵،ص ۴۲۰۔کنز العمال ج۵ ،ص۲۸۳۔ارشاد مفید ج۱،ص۱۱۴ ۔مستدرک الصحیحین ج۳ ص۳۷

۱۴۱۔احقاق الحق، ج ۸، ص ۶۸۲۔ سیرہ ابن ہشام ج ۲، ص ۴۲۱۰۔ اسد الغابہ ، ج ۳، ص ۱۰۲۔ الاصابہ ، ج ۱، ص ۳۱۸

۱۴۲۔ الاعلام زرکلی ، ج ۲، ص ۱۲۵، الاصابہ، ج ۱، ص۲۳۷، صفة الصفوہ،ج ۱، ص ۲۰۵، مقاتل الطالبین،ص ۳

۱۴۳۔ الاستیعاب فی ھامش الاصابہ، ج ۱، ص ۲۱۲۔ حلینہ الاولیاء ، ج ۱، ص ۱۱۴، طبقات ابن سعد ، ج ۴، ص ۱۲۵

۱۴۴۔ الاصابہ ، ج ۱، ص ۲۳۱۰، سیرہ حلبیہ، ج ۲، ص ۷۸۶، معجم البلدان ، ج ۵، ص ۲۱۱۰، الاعلام زرکلی، ج ۳، ص ۱۲۵

۱۴۵۔ الاعلام زرکلی ، ج ۷، ص ۲۴۸

۱۴۶۔حلیة الاولیاء ج۱ ،ص۱۰۶

۱۴۷۔طبقات ابن سعدج۳،ص۸۲۔الاصابة ج۳،ص۴۰ حلیة الاولیاء ج۱،ص۱۰۶

۱۴۸۔سیرةابن ہشام ج ۲،ص۲۱۰۴ ۔اسد الغابہ ج ۴، ص۳۶۱۰۔صفة الصفوہ ج۱،ص۱۲۵ ۔بحار الانوار ج ۶،ص۴۰۵

۱۴۱۰۔تاریخ اسلام ذھبی ج ۱،ص۳۸۰۔شذرات الذہب ج۱ ،ص۲۶۔سیرہ حلبیہ ج۳،ص۱۲۰

۱۵۰۔اسد الغابہ ج ۳ ص۳۵۸۔الاعلام زرکلی ج ۴،ص۲۰۰

۱۵۱۔ناسخ التواریخ،حالات پیامبر (ص)ص۳۷۸

۱۵۲۔الاعلام زرکلی،ج۴ ص۲۰۰۔الاصابہ ج۲ ،ص۴۵۱

۱۵۳۔اسد الغابہ ج۴ ،ص۳۷۶۔طبقات ابن سعد ج۳ ،ص۱۲۰ ،القسم الثانی

۱۵۴۔سیرہ حلبیہ ج۳ ،ص۱۲۰

ًًًً ۱۵۵۔حلیة الاولیاء ج۱ ص۲۲۸

۱۵۶۔الاصا بة ج۲ص۳۵۷

۱۵۸۔مجمع الزوائد ج۱۰ ،ص۳۱۰۔غایة النھایة ج۲ ،ص۳۰۱ صفة الصفوة ج۱،ص۱۱۰۵

۱۵۱۰۔طبقات ج ۳،ص۱۲۰ ۔الاستیعاب در حاشیہ الاصابة،مادئہ ''معاذ''

۱۶۰۔الاعلام زرکلی ج ۱،ص۲۱۰۱۔الاصابہ ج۱،ص ۲۱۰

۱۶۱۔طبقات ج۴ ،ص۴۲۔بحار الانوار ج۲۱،ص۵۰۔اسعد الغابہ ج۱،ص۶۴

۱۶۲۔بحار الانوار ،ج۲۱ ،ص۵۰۔اسد الغابہ ج۲،ص۸۱

۱۶۳۔طبقات ابن اسد ج۲ ،ص۴۲ ۔تہذیب تاریخ ابن عساکر ج ۲ ص۳۱۰۱

۱۶۴۔اعلام الوری ص۱۴۵

۱۶۵۔الاعلام زرکلی ج۱،ص۲۱۰۱۔الاصابہ ج۱،ص۲۱۰

۱۶۶۔تحف العقول ص۲۷۷

۱۶۷۔غرر الحکم ص۳۷۲

۱۶۸۔ نہج البلاغہ ، فیض ص ۱۱۱۴

۱۶۱۰۔ بحار الانوار ، ج ۱، ص ۲۱۴

۱۷۰۔ سفینہ البحار، ج ۱، ص ۶۸۰

۱۷۱۔ کافی ، ج ۶، ص ۴۷

۱۷۲۔ کافی ، ج ۶، ص ۴۷

۱۷۳۔ شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید، ص ۲۰، حکمت نمبر ۸۱۷

۱۷۴۔ مجمع البیان، ج ۲، ص ۳۸۵

۱۷۵۔ مجموعہ ورام ، ج ۲، ص ۱۱۸، مشکاة الانوار ، ص ۱۵۵

۱۷۶۔ مستدرک الوسایل، ج ۲ ، ص ۳۵۳، تفسیر برہان، ص ۸۸۲۔ غرر الحکم ، ص ۶۴۵

۱۷۷۔ مکارم الاخلاق، ص ۵۱

۱۷۸۔ ''با تربیت مکتبی آشناشویم'' ، ص ۱۱۳

۱۷۱۰۔ کافی ، ج ۲، ص ۱۳۵، تاریخ یعقوبی ، ج ۲، ص۵۱۰

۱۸۰۔ نہج البلاغہ ، فیض، خطبہ نمبر ۸۲

۱۸۱۔بحار الانوارج ۱۰،ص۳۵۱،ح۳۔فقہ الرضا،ص۷۳

۱۸۲۔اسلام وتر بیت کودک ،ص۳۸۳

۱۸۳۔روش تبلیغ،ص۶۳

۱۸۴۔کلمات قصار،پندہا وحکمتہای امام خمینی ،ص۲۱۶


منا بع

۱۔شوشتری،نور اللہ،احقاق،قم،مکتبةالمر عشی،۱۴۰۸.ھ

۲۔بخاری،محمّد،الادب المفرد،بی جا،۱۳۰۹.ش۔

۳۔مفید،محمّد،الارشاد،ترجمہ رسولی محلاتی،تہران،انتشارات علمیہ،بی تا۔

۴۔نمری ،عبدالبر،الاستیعاب،مصر،مکتبة المثنی،۱۳۲۸.ھ۔

۵۔ابن اثیر ،علی،اسد ایغایة ،بیروت،دار احیاء التراث العربی ،بی تا۔

۶۔بھشتی ،احمد ،اسلام وتربیت کود کان،تبلیغات اسلامی،۱۳۷۰.ش۔

۷۔کلینی ،محمّد ،اصول کافی ،تہران ،دار الکتب الاسلامیہ،۱۳۸۸.ھ۔

۸۔عسقلانی،ابن حجر،الاصابہ فی تمیز الصحابہ،مصر،مطبعة السعادة،۱۳۲۸.ھ۔

۹۔زر کلّی،خیر الّدین،الاعلام،بیروت ،دار الملایین،۱۹۸۹.ئ۔

۱۰۔طبرسی ،فضل،اعلام الوری،تہران،مکتبةالاسلامیہ،۱۳۳۸.ھ۔

۱۱۔امین،محسن،اعیان الشیعہ،بیروت،دار التعارف للمطبوعات،۱۴۰۳.ھ۔

۱۲۔صدوق،محمّد،الا مالی،ترجمہ کمرہ ای،کتابخانہ اسلامی،۱۳۶۲.ش۔

۱۳۔طوسی،محمّد،امالی الطوسی ،قم ،دارا لثقا فہ،۱۴۱۴.ھ۔

۱۴۔مفید ،محمّد،امالی،ترجمہء حسین استاد ولی،مشہد،بنیاد پزوھشہای اسلامی،۱۳۶۴.ش۔

۱۵۔مقریزی،احمد،امتاع الاسماع،قاہرہ،۱۹۴۱.ئ۔

۱۶۔مظلومی،رجبعلی،باتربیت مکتبی آشنا شویم،تہران،امیر کبیر،۱۳۶۶.ش۔

۱۷۔مجلسی،محمّدباقر،بحارالانوار،بیروت،مئوسسةالوفائ،۱۴۰۳.ھ۔

۱۸۔ابن کثیر،ابوالفدائ،البدایة والنہایة،بیروت،دار احیاء التراث،۱۴۰۸.ھ۔

۱۹۔صدوق ،محمّد،ثواب الاعمال،قم،منشورات رضی،۱۳۶۴.ش۔

۲۰۔ذھبی ،محمّد،تاریخ اسلام ،بیروت،دارالکتاب العربی،۱۴۰۹.ھ۔

۲۱۔دیار بکری،تاریخ الخمیس،قاہرہ،بی تا۔

۲۲۔طبری،محمّد،تاریخ طبری،(تاریخ الامم والملوک) ، بیروت ، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۰۸.ق۔

۲۳۔ابن شبہ،عمر،تاریخ المدینة المنورة،تحقیق فہیم محمّد شلتوت،مدینة،۱۴۰۲.ھ۔

۲۴۔یعقوبی،ابن واضح،تاریخ یعقوبی،بیروت،دار صادر،بی تا۔

۲۵۔حرانی ،حسن،تحف العقول،ترجمہء غفاری ،تہران،اسلامیہ،۱۳۵۴.ھ۔

۲۶۔ابن جوزی ،عبد الرحمن،تذکرةالخواص،بیروت مئوسسة اہل البیت،۱۴۰۱.ھ۔

۲۷۔بحرانی،ہاشم،البرھان،تہران،آفتاب،بی تا۔

۲۸۔فرات،تفسیر الفرات،نجف،حیدریہ،بی تا۔

۲۹۔قمی،علی،تفسیرالقمی،تحقیق،جزائری،قم،مئوسسة اہل البیت،۱۴۰۱.ھ۔

۳۰۔ابو نعیم ،احمد،حلیة الاولیائ،بیروت ،دار الکتاب العربی،۱۴۰۷.ھ۔

۳۱۔دمیری،محمّد،حیاة الحیوان،قم،مئو سسةالرضی ،بی تا۔

۳۲۔صدوق،محمّد،الخصال،ترجمہء فھری زنجانی،شیراز،انتشارات علمیة اسلامیة،بی تا۔

۳۳۔فلسفی،محمّد تقی،در مکتب اہل البیت،خوزستان شرکت سیمان درود،۱۳۵۳.ش۔

۳۴۔ابو نعیم،احمد،حلیةالاولیائ،بیروت،دار الکتاب العربی،۱۳۹۸.ھ۔

۳۵۔طبری،محب الدّین،ذخائر العقبی،کاظمین،دارالکتب العراقیة،۱۳۸۷.ھ۔

۳۶۔مصر عہ،احمد،التکامل فی الاسلام،ترجمہ ادیب لاری،تہران،دارالکتب الاسلامیة، ۱۳۶۱.ش۔

۳۷۔کارل آلکسیس،راہ ورسم زندگی،ترجمہء پرویزدبیری،اصفہان،تایید،۱۳۵۶.ش۔

۳۸۔زمخشری،محمود،ربیع الابرار،تحقیق سلیم المنجی،قم،شریف رضی،۱۴۱۰.ھ۔

۳۹۔کمپانی،فضل اللہ،رحمت عالمیان،تہران،دار الکتب الاسلامیہ،بی تا

۴۰۔مسلوب بالان،روان شناسی کودک بہ زبان سادہ ،تہران،مشعل ،۱۳۷۰.ش۔

۴۱۔شیرازی ،بی آزاد ،روش تبلیغ ،قم،دفتر تبلیغات،۱۴۰۳.ھ۔

۴۲۔کلینی محمّد روضہء کافی،تر جمہء محلاتی،تہران ،علمیہ اسلامیہ،۱۳۵۰.ش۔

۴۳۔محلاتی سیّد ہاشم ،زند گانی امیرالمئو منین،تھران،علمیہ اسلامیہ،۱۴۰۵.ھ۔

۴۴۔قمی، شیخ عباس ،سفینةالبحار،تہران،سنائی ،بی تا۔

۴۵۔ذہبی ،محمّد ،سیر اعلام النبلائ،بیروت ،الرسالة،۱۳ ۱۴.ھ۔

۴۶۔ابن ہشام ،عبد الملک ،السیرةالنبویہ ،بیروت ،دار احیاء التراث،بی تا۔

۴۷۔ابن کثیر ،اسماعیل ،السیرةالنبویہ ،بیروت ،دار احیاء التراث،۱۳۸۳.ھ۔

۴۸۔حلبی،علی،،السیرةالحلبیہ،بیروت ،دار احیاء التراث،بی تا۔

۴۹۔ابی داود ،سلیمان ،سنن ابی داود،بیروت دار الفکر،بی تا۔

۵۰۔ابن ماجہ ،محمّد ،سنن ابن ماجہ ،بیروت ،دار الکتب العلمیہ ،۱۴۰۳.ھ۔

۵۱۔طبا طبائی ،محمّدحسین ،سنن النبّی،تہران،اسلامیہ،۱۳۵۳.ھ۔

۵۲۔نسائی،احمد،سنن النسائی ،بیروت ،دار احیاء التراث العربی،۱۳۴۸.ھ۔

۵۳۔ابن عماد،شذرات الذھب ،بیروت ،داراحیاء التراث العربی،بی تا۔

۵۴۔ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ ،تحقیق محمّد ابو الفضل ابراھیم،بیروت،دار احیاء الکتب العر بیہ،۱۳۷۸.ھ۔

۵۵۔خر گوشی،شرف النبی،تصحیح محمّد روش ،تہران ،بابک،۱۳۶۱.ش۔

۵۶۔بخاری ،محمّدصحیح البخاری ،بیروت،دارالمعرفة،بی تا۔

۵۷۔ترمذی، محمّد،سنن ترمذی ،(الجامع الصحیح)تحقیق احمد،محمّد شاکر ،مکتبہ الاسلامیہ،بی تا۔

۵۸۔مسلم،صحیح مسلم،بیروت ،دار الکتاب العربی،۱۴۰۷.ھ۔

۵۹۔ابن جوزی،عبد الرحمن ،صفة الصفوة ،بیروت،دار المعرفة،۱۴۰۶.ھ۔

۶۰۔ابن حجر ،الصوا عق المحرقہ،قاہرہ ،مکتبة القاہرہ،۱۳۸۵.ق۔

۶۱۔ابن سعد ،محمّد ،طبقات الکبری ،بیروت ،دار احیاء التراث العربی ،۱۳۸۰.ھ۔

۶۲۔حلی،ابن فہد ،عدةالداعی ،تصحیح موحدی قمی ،بی جا ،دار الکتب الاسلامیہ،۱۴۰۷.ھ۔

۶۳۔صدوق محمّد،علل الشرایع،نجف،حیدریہ،۱۳۸۵.ھ۔

۶۴۔یمانی،محمّد عبدہ ،علموا اولادکم محبة آل بیت النبی (ص)،بیروت دار القبلة للثقافة الاسلامیہ، ۱۴۱۲.ھ۔

۶۵۔صدوق ،محمّد ،عیون اخبار الرضا ،مشہد ،۱۳۶۳.ش۔

۶۶۔ابن حبیب غایة النھایة ،بیروت،دار العرب الاسلامی،۱۴۱۲.ھ۔

۶۷۔آمدی ،غرر الحکم ،تحقیق ،درایتی ،قم،مکتب الاعلام الاسلامی،۱۳۶۷.ھ۔

۶۸۔امینی ،عبدالحسین ،الغدیر ،بیروت،دار الکتب العربی ،۸۷ ۱۳.ھ۔

۶۹۔کلینی ،محمّد ،فروع کافی ،تہران،دارالکتب الاسلامیہ،۱۳۶۲ .ش۔

۷۰۔فقہ الرضا ،مشہد ،مئو سسة آل البیت،۱۴۰۶.ھ۔

۷۱۔حمیری ،عبداللہ ،قرب الاسناد ،قم،مئو سسة آل البیت ،۱۳ ۱۴.ھ۔

۷۲۔ابن قولویہ،جعفر،کامل الزیارات ،تعلیق ،امینی ،نجف،،مر تضویہ ،۱۳۵۶. ش۔

۷۳۔ابن اثیر ،عزّالّدین ،الکامل فی التاریخ،بیروت ،دار صادر ،۱۳۸۵ .ھ۔

۷۴۔اربلی ،عیسی، کشف الغمة فی معرفة الائمة ،قم ،نشر حوزہ ،۱۳۶۴.ش۔

۷۵۔ابن خزاز، علی محمّد ،کفایة الاثر فی النص علی الائمة الانثی عشر،تحقیق کمرہ ای ،قم، بیدار،۱۴۰۱.ھ۔

۷۶۔گنجی، محمّد،کفایة الطالب ،تحقیق امینی ،تہران ،دار احیاء تراث اھل البیت ،۱۳۶۲.ش۔

۷۷۔خمینی،روح اللہ ،کلمات قصار ،پند ھا وحکمتہای امام خمینی مئو سسہء نشر آثار امام، تہران،۱۳۷۴.ش۔

۷۸۔صدوق ،محمّد ،کمال الدین و تمام النعمة ،قم ،مدرسین ،۱۴۰۵.ھ۔

۷۹۔متقی ھندی ،کنزالعمال ،بیروت ،مئو سسة الرسالة ،۱۴۰۵.ھ۔

۸۰۔فلسفی ،محمّد تقی ،کودک ازنظر وراثت وتربیت ،تہران،نشر معارف اسلامی،۱۳۶۳.ش۔

۸۱۔فلسفی، محمّدتقی،جوان،تہران،نشر معارف اسلامی،۶۴ ۱۳.ش۔

۸۲۔گایزل جان،ما وفرزندان ما ،ترجمہء حسن امیری ،تہران ،ابن سینا،۱۳۵۳.ش۔

۸۳۔طبرسی ،حسن،مجمع البیان ،قم،مکتبہ المرعشی،۱۴۰۳.ھ۔

۸۴۔ھیثمی۔علی،مجمع الزوائد ،بیروت ،دارالکتب ،۱۴۰۷. ھ۔

۸۵۔ابی فراس ،ورام،مجموعہ ورام،(تنبیہ الخواطر)،قم،مکتبة الفقیہ،بی تا۔

۸۶۔کاشانی،فیض،المحجة البیضائ،قم،مدرسین،۱۳۸۳.ش۔

۸۷۔ابن عساکر ،علی،مختصر تاریخ دمشق ،بیروت ،دار احیاء التراث العربی،۱۴۰۷.ھ۔

۸۸۔حاکم نیشابوری ،المستدرک علی الصحیحن،بیروت ،دار المعرفہ،۱۴۰۹.ھ۔

۸۹۔نوری،حسین،مستدرک الوسائل ،قم،مئو سسةآل البیت،۱۴۰۷.ھ۔

۹۰۔ابن حنبل ،احمد ،المسند ،بیروت،داراحیاء التراث،۱۴۱۲.ھ۔

۹۱۔حمزاوی ،مشکوة الانوار ،مصر،بی تا،

۹۲۔صدوق، محمّد،معانی الاخبار،تحقیق ،غفاری ،قم،مدرسین،۱۳۷۹.ھ۔

۹۳۔حموی،یاقوت،معجم البلدان،بیروت ،دار صادر،بی تا۔

۹۴۔ابو الفرج اصفہانی،مقاتل الطالبیین،قم،منشورات رضی،۱۴۰۵.ھ،۔

۹۵۔خوارزمی،مقتل الحسین،تحقیق سماوی،قم،المفید،۱۳۶۷.ش۔

۹۶۔طبرسی،فضل،مکارم الاخلاق،تر جمہء میر باقری،تہران،فراھانی،۱۳۶۵.ش۔

۹۷۔ابن طاووس، علی، الملھوف علی اہل الطفوف، قم، منشورات الرضی، ۱۴۰۶.ھ۔

۹۸۔ابن شہر آشوب، محمد، مناقب آل ابی طالب، قم ، بصیرتی، بی تا۔

۹۹۔ صدوق، محمد، من لا یحضرالفقیہ، بیروت، اعلمی للمطبوعات، ۱۴۰۶.ھ۔

۱۰۰۔ ذہبی،محمد، میزان الاعتدال، بیروت، دارالمعرفہ، بی تا۔

۱۰۱۔ ری شہری، محمد، میزان الحکمہ، قم ، مکتبہ الاعلام الاسلامی، ۱۴۰۴.ھ۔

۱۰۲۔ طباطبائی، محمد حسین، المیزان، تہران، دارالکتب الاسلامی، ۱۳۶۲. ش ۔

۱۰۳۔ سپہر، علی خان، ناسخ التواریخ، تہران، اسلامیہ، ۱۳۹۸.ھ۔

۱۰۴۔ راوندی، محمد ، نوادر راوندی، قم، موسسہ دارالکتب ، بی تا۔

۱۰۵۔ کازرونی، نہایہ المسؤول فی روایہ السؤول ، ترجمہ ابرقوہی، تہران، انتشارات علمی و فرہنگی، ارشاد اسلامی، ۱۳۶۶.ش۔

۱۰۶۔ فیض الاسلام، علی نقی ، نہج البلاغہ،بی جا، ۱۳۶۵.ھ۔

۱۰۷۔ حر عاملی، وسائل الشیعہ، بیروت، داراحیاء التراث العربی، ۱۴۰۳.ھ۔

۱۰۸۔ قمی، شیخ عباس، ہدیہ الاحباب، تہران، امیرکبیر، ۱۳۶۳.ھ۔

۱۰۹۔ قندوزی ، سلیمان، ینابیع المودہ، قم ، محمدی، ۱۳۸۵.ھ۔


فہرست

حرف اول ۳

پیش لفظ ۶

پہلا حصہ: ۸

بچوں کے ساتھ ۸

پیغمبر اسلام (ص)کا سلوک ۸

پہلی فصل: ۸

تر بیت ۸

تربیت کی اہمیت ۸

بچے کی تربیت کہاں سے شروع کریں؟ ۹

بچے کو اہمیت دینا ۱۱

۱۔بچے سے سوال کرنا ۱۲

۲۔حسن معاشرت ۱۲

۳۔وعدہ پورا کرنا ۱۲

۴۔بچے کو مشکلات سے آگاہ کرنا۔ ۱۳

۵۔بچے کے کام کی قدر کر نا ۱۴

۶۔بچوں کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونا ۱۵

۷۔بچوں کے مستقبل کا خیال رکھنا ۱۵

۸۔دینی احکام کی تعلیم دینا ۱۶

بچے میں صحیح تربیت کے آثار ۱۷

دوسری فصل: ۱۹

محبت ۱۹

بچوں سے پیار ۱۹

پیغمبر اکرم (ص) کا بچوں سے پیار ۲۰

رسول اکرم (ص) کا امام حسن اور امام حسین علیھما السلام سے پیار ۲۱

بچوں کے حق میں پیغمبر اسلام (ص) کی دعا ۲۲

بچوں سے شفقت کرنا ۲۳

پیغمبر اکرم (ص) کا بچوں کو تحفہ دینا ۲۳

شہیدوں کے بچوں کے ساتھ پیغمبر اسلام (ص) کاسلوک ۲۴

پیغمبر اسلام (ص)کا نماز کی حالت میں اپنے بچوں سے حسن سلوک ۲۶

تیسری فصل: ۲۸

بچّوں کا بوسہ لینا ۲۸

بچوں کے ساتھ انصاف کرنا ۲۹

پیغمبر اسلام (ص) کا حضرت فاطمہ زہراکو بوسہ دینا ۳۱

کس عمر کے بعد بچے کابوسہ نہیں لینا چاہئے؟ ۳۱

پیغمبر اسلام (ص)کا امام حسن اورامام حسین علیھما السلام کو چومنا ۳۲

چوتھی فصل: ۳۴

بچو ں کے ساتھ کھیلنا ۳۴

بچوں کے کھیلنے کی فطرت ۳۵

پیغمبر اسلام (ص)کا بچوں کے ساتھ کھیلنا ۳۶

بچوں کو سوار کرنا۔ ۳۷

پیغمبر اسلام (ص)کا لوگوں کے بچوں کو اپنی سواری پر سوار کرنا ۳۸

پانچویں فصل: ۴۰

بچّوں کو کھلانا اور پلانا ۴۰

بچوں کو سلام کرنا ۴۱

کیا پیغمبر اسلام (ص)بچوں کی سرزنش کرتے تھے؟ ۴۲

دوسراحصہ: ۴۵

پیغمبر اسلام (ص) کا جوانوں کے ساتھ سلوک ۴۵

پہلی فصل: ۴۵

جوانی کی طاقت ۴۵

جوانی کی قدر وقیمت ۴۶

جوانوں کو اہمیت دینا ۴۷

چندنکات ۴۸

قیامت کے دن جوانی کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ ۴۹

دوسری فصل: ۵۱

نوجوانوں میں مذہب کی طرف رجحان کا زمانہ ۵۱

نوجوانوں میں دینی تعلیمات کے اثرات ۵۲

نوجوانوں کے مذہبی جذبات کو اہمیت نہ دینے کا نتیجہ ۵۳

پیغمبر اسلام (ص)اور نوجوان نسل ۵۵

تیسری فصل: ۵۸

مملکت کے امور میں جوانوں سے استفادہ ۵۸

علی ابن ابیطالب علیہ اسلام ۵۹

بستر رسول (ص) پر علی علیہ السلام کی جان نثاری ۶۱

جنگ بدر ۶۱

جنگ احد ۶۱

جنگ خندق(احزاب) ۶۲

علی علیہ السلام کے ہاتھوں خیبر کی فتح ۶۳

فتح مکہ ۶۴

جعفرا بن ابیطالب ۶۴

مصعب ابن عمیر ۶۵

مکہ کے گور نر،عتاب ابن اسید ۶۷

معاذ ابن جبل ۶۹

اسامہ ابن زید ۷۰

پیغمبر اسلام کی طرف سے ایک اٹھا رہ سالہ نوجوان کو کمانڈر کی حیثیت سے منتخب کرنا ۷۱

اسامہ کی بر طرفی ۷۱

چوتھی فصل ۷۳

جوانوں کے خصوصیات ۷۳

مومن جوانوں کی نشانیاں ۷۴

۱۔دینی احکام سے آگاہی ۷۴

۲۔ قرآن مجید سے آشنائی ۷۵

۳۔ ائمہ اطہار علیہم السلام کے ارشادات سے آشنایی ۷۵

۴۔ علم سیکھنا ۷۶

۵۔ عبادات کا بجا لانا ۷۶

۶۔ توبہ کرنا ۷۶

۷۔ کوشش و جانفشانی ۷۷

۸۔ اپنے آپ کو سنوارنا ۷۷

جوانی کے آفات ۷۸

۱۔ جوانی کی طاقت سے غفلت ۷۸

۲۔ جوانی کی ناپائیداری ۷۹

خطاکار جوانوں سے برتاؤ کا طریقہ ۷۹

جوانوں کو امام خمینی کی حکیما نہ نصیحتیں۔ ۸۱

حواشی ۸۳

منا بع ۹۳

فہرست ۹۹