حدیث منزلت پر ایک نظر
گروہ بندی متفرق کتب
مصنف آیت اللہ سید علی حسینی میلانی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


حدیث منزلت پر ایک نظر

تألیف: آ یت اللہ سید علی حسینی میلانی

مترجم: شیر علی نادم شگری


ابتدائیہ

ادیان الٰہی میں سے آخری اور کامل ترین دین خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفے(ص) کی بعثت کے ذریعے دنیا والوں کے لئے پیش کیا گیا اور پیغام الٰہی لے کر آنے والوں کا سلسلہ آپ(ص)کی نبوت کے ساتھ ختم ہو گیا۔دین اسلام شہر مکہ میں پروان چڑھا اوررسالتمآب (ص)اور ان کے بعض با وفا دوستوں کی تیئس ( ۲۳) سالہ طاقت فرسا زحمتوں کے نتیجے میں پورے جزیرۂ عرب پر چھا گیا۔

رسول اللہ (ص) کے بعد اس راہ الٰہی کو جاری رکھنے کی ذمہ داری خداوند متعال کی طرف سے ۱۸ ذی الحجہ کو غدیر خم میں عالم اسلام کے اولین جوانمرد یعنی امیر المومنین حضرت علی(ع) کو سونپی گئی۔

اس روز حضرت علی(ع) کی ولایت و جانشینی کے اعلان کے ساتھ نعمت الٰہی اور دین اسلام کی تکمیل اور پھر دین اسلام کے خدا کا واحد پسندیدہ دین ہونے کا اعلان کیا گیا۔اس لئے کافر اور مشرکین دین اسلام کو نابود کر سکنے سے مایوس ہو گئے۔

زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ پیغمبر(ص) کے بعض اطرافی ،پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت، آپ(ص) کی رحلت کے بعد ہدایت ورہبری کی راہ کو تبدیل کر بیٹھے۔ شہر علم کے دروازے کو بند کرکے مسلمانوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ انہوں نے اپنی حکومت کے ابتدائی دنوں میں ہی حدیث لکھنے پر پابندی لگانے ، جھوٹی حدیثیں گھڑنے، شبہات ایجاد کرنے اور شیطانی طریقوں سے حقائق کو توڑ مروڑ کرنے کے ذریعے اسلام کے سورج جیسے تابناک حقائق کو شک وتردید کی کالی گھٹاوں کی اوٹ قرار دیا۔

ظاہر یہ ہے کہ تمام سازشوں کے باوجود امیرالمومنین(ع) ، ان کے اوصیاء(ع) اور بعض باوفا اصحاب و انصار (رضی اللہ عنھم) کے توسط سے اسلام کے حقائق اور پیغمبر اکرم(ص) کے گہر بار فرامین تاریخ میں ثبت ہو گئے ہیں اور زمانے کے مختلف موڑ پر جلوہ دکھاتے ہیں۔ ان حضرات نے حقائق بیان کرنے کے ضمن میں شکوک و شبہات اور شیطان و دشمنان اسلام کے اٹھائے جانے والے سوالوں کا جواب دیا ہے۔ اور حقیقت کو ہر کسی کے لئے آشکار کر چھوڑا ہے۔


اس راہ میں شیخ مفید، سید مرتضیٰ ، شیخ طوسی، خوا جہ نصیر، علامہ حلی، قاضی نور اللہ، میر حامد حسین، سید شرف الدین اور علامہ امینی(رحمھم اللہ) جیسے روشن ستارے چمک اٹھے ہیں جنہوں نے حقائق اسلامی کے دفاع اور مکتب اہل بیت(ع) کی اصلیت بیان کرنے کی راہ میں تحقیق و جستجو اور شبہات کا جواب دینے کے لئے اپنی زبان اور قلم کو حرکت دی ہے۔

عصر حاضر میں حریم امامت وولایت امیر المومنین(ع) سے عالمانہ دفاع کرنے اور دین مبین کے تابناک حقائق کو رسا بیان وقلم کے ذریعے پیش کرنے والے دانشمندوں میں سے ایک عظیم محقق حضرت آیت اللہ سید علی حسینی میلانی ہیں۔ان کے رشحات قلم میں سے ایک نمونہ ہم آپ کی خدمت میں اردو زبان میں پیش کر رہے ہیں امید ہے عاشقان اہل بیت(ع) کے لئے یہ کتاب ایک نایاب تحفہ ثابت ہوگی۔

نادم شگری

ربیع الاول ۱۴۳۸ ھ

قم المقدس


مقدمہ

الحمد للّٰه ربّ العالمین والصّلاة والسّلام علیٰ محمّد وآله الطّاهرین ولعنة اللّٰه علیٰ اعدآء هم اجمعین من الاوّلین والآخرین ۔

شیعہ اور اہل سنت کے منابع میں ذکر ہونے والی معروف احادیث میں سے ایک حدیث’’حدیث منزلت‘‘ہے۔ جس میں پیغمبر اکرم(ص) حضرت امیرالمومنین(ع) سے فرماتے ہیں:

"اما ترضی ان تکون منّی بمنزلة هارون من موسیٰ " ۔کیا پسند نہیں کہ تم میرے لئے ایسے ہو جاو جیسے موسیٰ کے لئے ہارون؟‘‘

دوسری نقل کے تحت آپ(ص) نے فرمایا:

’’انت منّی بمنزلة هارون من موسیٰ ‘‘ تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لئے ہارون۔‘‘

ایک اور تعبیر میں یوں ہے کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا:

’’علیّ منّی بمنزلة هارون من موسیٰ ‘‘ ۔علی(ع)کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی۔‘‘

دیگر بہت ساری احادیث کے مقابلے میں اس حدیث کی ممتاز خصوصیت یہ ہے کہ اس حدیث کو دیگر محدثین کے علاوہ بخاری اور مسلم نے بھی نقل کیا ہے۔ اہل سنت کی اصطلاح میں یہ حدیث ایسی حدیث ہے کہ بخاری و مسلم دونوں نے اس پر اتفاق کیا ہے۔

دوسری بات یہ کہ یہ حدیث امیرالمومنین(ع) کی امامت پر کئی پہلووں سے دلالت کرتی ہے ؛ لہٰذا اس اعتبار سے اسی حدیث سے کئی جہات سے استدلال کیا جا سکتا ہے ۔ اسی لئے ہمارے علماء نے شروع سے ہی اس حدیث پر خصوصی توجہ فرمائی ہے۔ اسی طرح دوسروں نے بھی اسے اپنی اسناد سے نقل کرنے اور مختلف راستوں سے اس کا جواب دینے کا اہتمام کیا ہے۔

ہم اس تحریر میں’’سند‘‘اور ’’دلالت‘‘کے اعتبار سے اس حدیث شریف کی تحقیق کرکے محققین اور متلاشیان علم کے حوالے کریں گے۔

سید علی حسینی میلانی


پہلا حصہ:

راویان ’’حدیث منزلت‘‘ پر ایک نظر

حدیث منزلت کے راوی

متن حدیث کی تحقیق سے پہلے ہم بعض اصحاب پیغمب(ص)کے نام بیان کریں گے جنہوں نے اس حدیث کو نقل کیا ہے ۔ اسی طرح مختلف صدیوں سے تعلق رکھنے والے مشہور ترین محدثین ، مفسرین اور مورخین کی طرف بھی اشارہ کریں گے۔

۱ ۔ امیر المومنین علی علیہ السلام

راویان حدیث کی ابتدا میں خود امیرالمومنین(ع) کا اسم گرامی چمک رہا ہے۔ اسی طرح بعض اصحاب نے اس حدیث کو نقل کیا ہے، ان کے نام یہ ہیں:

۲ ۔ عبد اللہ ابن عباس

۳ ۔عبد اللہ ابن مسعود

۴ ۔ جابر ابن عبد اللہ انصاری

۵ ۔ سعد ابن ابی وقاص

۶ ۔ عمر ابن خطاب

۷ ۔ ابو سعید خدری

۸ ۔ براء ابن عازب


۹ ۔ جابر ابن سمرہ

۱۰ ۔ ابوہریرہ

۱۱ ۔مالک ابن حویرث

۱۲ ۔ زید ابن ارقم

۱۳ ۔ ابو رافع

۱۴ ۔ حذیفہ بن اسید

۱۵ ۔ انس بن مالک

۱۶ ۔ عبد اللہ ابن ابی اوفی

۱۷ ۔ ابو ایوب انصاری

۱۸ ۔ عقیل ابن ابی طالب

۱۹ ۔ حُبشی ابن جنادہ

۲۰ ۔ معاویہ ابن ابو سفیان

اس حدیث کے راویوں میں خواتین بھی ہیں کہ جو مندرجہ ذیل ہیں:

۱ ۔ ام المومنین ام سلمہ

۲ ۔ اسماء بنت عمیس


حدیث منزلت کا تواتر

تیس ( ۳۰) سے زائد اصحاب نے اس حدیث کو روایت کیا ہے ، ممکن ہے اصحاب میں سے مردوں اور خواتین کو ملا کر راویوں کی تعداد چالیس ( ۴۰) تک پہنچ جائے۔

ابن عبد البر’’الاستیعاب‘‘میں اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں:یہ حدیث، صحیح ترین اور معتبر ترین روایات میں سے ہے۔ وہ اسی تسلسل میں کہتے ہیں: سعد ابن ابی وقاص کی حدیث بہت ساری اسناد سے نقل ہوئی ہے۔

ابن عبد البر اس حدیث کو روایت کرنے والے بعض اصحاب کا نام لینے کے بعد کہتے ہیں: البتہ ایک اور گروہ نے بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے جس کے تمام افراد کا نام لینا طوالت کا باعث ہوگا۔(۱؎)

’’تہذیب الاکمال‘‘میں مزی نے بھی اس حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے اور امیرالمومنین(ع) کے حالات زندگی میں اسی طرح اظہار نظر کیا ہے۔(۲؎)

حافظ ابن عساکر بھی’’ تاریخ مدینہ دمشق‘‘ میں بہت سارے مواقع پر امیرالمومنین(ع) کے حالات بیان کرتے وقت اس حدیث کی اسناد وطرق کو تقریباً بیس ( ۲۰) اصحاب سے ذکر کرتا ہے ۔(۳؎)

____________________

۱۔ الاستیعاب: ۳/ ۱۰۹۷

۲۔ تہذیب الکمال: ۲/۴۸۳

۳۔ تاریخ مدینۃ دمشق: ۱/۳۰۶۔۳۹۳، حضرت علی(ع) کے حالات زندگی


اسی طرح حافظ ابن حجر عسقلانی اس حدیث کو نقل کرنے والے بعض اصحاب کانام لینے کے بعد ان میں سے ایک گروہ کی روایت کا متن نقل کرتے ہوئے اور کہتا ہے:ابن عساکر نے علی(ع) کے حالات زندگی کے ضمن میں حدیث منزلت کے تمام طرق کو ذکر کیا ہے۔(۱؎)

اس بناء پر حدیث منزلت ، کہ جو شیعہ مفکرین کے ہاں متواتر ہے، اہل سنت کے ہاں بھی صحیح ، معروف اور مشہور احادیث میں سے ہے؛ بلکہ ان کے ہاں بھی متواتر احادیث میں شمار ہوتی ہے۔

حاکم نیشاپوری اسی ضمن میں کہتے ہیں:حدیث منزلت ، تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہے۔(۲؎)

اسی طرح’’قطف الازهارالمتناثرة فی الأ خبار المتواترة‘‘ میں ، جس میں متواتر احادیث ہیں، حافظ جلال الدین سیوطی نے اس حدیث کو بھی نقل کیا ہے ۔(۳؎)

شیخ علی متقی ہندی نے’’ قطف الازهارالمتناثرة فی الأ خبار المتواترة ‘‘ میں اس حدیث کو نقل کرنے میں سیوطی کی پیروی کی ہے۔ اس حدیث کے متواتر ہونے کا اعتراف کرنے والوں میں سے ایک دیار ہند کے محدث شاہ ولی اللّٰہ دہلوی ہے ۔ انہوں نے اس مطلب کو’’ازالة الخفاء فی سیرة الخلفاء ‘‘ میں لکھا ہے۔

____________________

۱۔ فتح الباری: ۷/۶۰

۲۔ کفایۃ الطالب فی مناقب علی ابن ابی طالب(ع): ۲۸۳

۳۔ قطف الازہار المتناثرۃ فی الاخبار المتواترہ: حرف الف


مختلف صدیوں میں اس حدیث کے راوی

یہاں ہم اہل سنت کے مشاہیر میں سے ایک ایسے گروہ کی طرف اشارہ کریں گے جو مختلف صدیوں میں اس حدیث کو روایت کرنے والے ہیں:

۱ ۔ محمد ابن اسحاق ۔صاحب کتاب السیرۃ ؛

۲ ۔ ابوداود سلیمان ابن داود طیالسی ۔صاحب المسند ؛

۳ ۔ محمد ابن سعد۔مصنف الطبقات الکبریٰ؛

۴ ۔ ابو بکر ابن ابی شیبہ۔صاحب کتاب المصنّف؛

۵ ۔ احمد ابن حنبل شیبانی ۔صاحب المسند ؛

۶ ۔ محمد ابن اسماعیل بخاری ۔ صحیح بخاری؛

۷ ۔ مسلم نیشاپوری۔ صحیح مسلم؛

۸ ۔ ابن ماجہ قزوینی۔ سنن ابن ماجہ؛

۹ ۔ ابو حاتم ابن حبّان۔صحیح؛

۱۰ ۔ محمد ابن عیسیٰ ترمذی۔سنن ترمذی؛

۱۱ ۔ عبد اللہ ابن احمد ابن حنبل ۔ یہ اہل سنت کے بڑے پیشوااحمد ابن حنبل کا بیٹا ہے۔ کبھی بعض علماء ، عبد اللہ کو اس کے باپ پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس نے اس حدیث کو ’’زیادات مسند احمد‘‘اور’’زیادات مناقب احمد‘‘میں نقل کیا ہے۔


۱۲ ۔ ابو بکر بزار۔صاحب المسند؛

۱۳ ۔ نسائی ۔ صاحب صحیح؛

۱۴ ۔ ابو یعلی موصلی ۔ صاحب المسند؛

۱۵ ۔ محمد ابن جریر طبری۔ صاحب تاریخ و تفسیر؛

۱۶ ۔ ابو عوانہ۔ صاحب صحیح؛

۱۷ ۔ ابو شیخ اصفہانی ۔ صاحب طبقات المحدثین؛

۱۸ ۔ ابو القاسم طبرانی۔ صاحب معجم (کبیر، اوسط، صغیر)؛

۱۹ ۔ ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوری۔ صاحب المستدرک علی الصحیحین؛

۲۰ ۔ ابو بکر شیرازی۔صاحب الألقاب؛

۲۱ ۔ ابو بکر ابن مردویہ ۔ صاحب تفسیر؛

۲۲ ۔ ابو نعیم اصفہانی ۔ صاحب حلیۃ الأولیاء ؛

۲۳ ۔ ابو القاسم تنوخی ۔انہوں نے حدیث منزلت کی اسناد ذکر کرتے ہوئے الگ سے ایک کتاب لکھی ہے۔

۲۴ ۔ ابو بکر خطیب بغدادی ۔صاحب تاریخ بغداد؛

۲۵ ۔ ابن عبد البر ۔ صاحب الاستیعاب؛

۲۶ ۔بغوی ۔یہ اہل سنت کے ہاں’’محی السنۃ ‘‘(سنت کو زندہ کرنے والا) کے نام سے معروف ہے۔’’مصابیح السنہ ‘‘نامی کتاب ان کی لکھی ہوئی ہے ۔


۲۷ ۔ رزین عبدی۔ صاحب کتاب الجمع بین الصحاح؛

۲۸ ۔ ابن عساکر۔ صاحب تاریخ مدینہ دمشق؛

۲۹ ۔ فخر رازی ۔ صاحب تفسیر کبیر؛

۳۰ ۔ مجد الدین ابن اثیر جزری ۔ صاحب جامع الاصول؛

۳۱ ۔ عز الدین ابن اثیر ۔ صاحب اسد الغابہ؛

۳۲ ۔ ابن نجار بغدادی ۔ صاحب تاریخ بغداد؛

۳۳ ۔ نووی ۔ صاحب شرح صحیح مسلم ؛

۳۴ ۔ ابوالعباس محب الدین طبری ۔ صاحب الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ المبشرۃ

۳۵ ۔ ابن سید الناس ۔ صاحب السیرۃ ؛

۳۶ ۔ ابن قیم جوزیہ ۔ صاحب السیرۃ ؛

۳۷ ۔ یافعی ۔ صاحب مرآۃ الجنان؛

۳۸ ۔ ابن کثیر دمشقی ۔ صاحب تفسیر و تاریخ؛

۳۹ ۔ خطیب تبریزی ۔ صاحب مشکاۃ المصابیح؛

۴۰ ۔ جمال الدین مزی۔ صاحب تہذیب الکمال؛

۴۱ ۔ ابن شحنہ ۔ معروف تاریخ کے مصنف؛

۴۲ ۔ زین الدین عراقی ۔ معروف محدث ، مختلف کتابوں کے مصنف ہیں ؛ جن میں سے ایک کتاب ’’الالفیہ فی علوم الحدیث ‘‘ہے؛


۴۳ ۔ ابن حجر عسقلانی؛

۴۴ ۔ جلال الدین سیوطی؛

۴۵ ۔ دیار بکری ۔ تاریخ خمیس؛

۴۶ ۔ ابن حجر مکی ۔ الصواعق المحرقہ؛

۴۷ ۔ متقی ہندی ۔ کنز العمال؛

۴۸ ۔ منّاوی ۔ فیض القدیر فی شرح الجامع الصغیر؛

۴۹ ۔ شاہ ولی اللہ دہلوی ۔ ازالۃ الخفاء ، الحجۃ البالغہ؛

۵۰ ۔ احمد زینی دحلان ۔ السیرۃ الدحلانیۃ۔

ان کے علاوہ مختلف صدیوں اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے محدثین، مورخین اور مفسرین نے اس حدیث شریف کو اپنی اپنی کتب میں نقل کیا ہے۔


دوسرا حصہ :

حدیث منزلت کے متن پر ایک نظر

حدیث منزلت کا متن اور اس کی تصحیح


بخاری کی روایت

صحیح بخاری میں یہ روایت دو جگہ نقل ہوئی ہے۔

محمد بن بشار، غندر سے ، وہ شعبہ سے اور شعبہ ، سعد سے نقل کرتا ہے، وہ کہتا ہے:کہ میں نے ابراہیم بن سعد سے ،اس نے اپنے باپ سعد بن ابی وقاص سے سنا ، کہتا تھا کہ پیغمبر خدا(ص) نے فرمایا:

"اما ترضیٰ ان تکون منّی بمنزلة هارون من موسیٰ" ۔کیا پسند نہیں کہ تم میرے لئے ایسے ہو جاو جیسے موسیٰ کے لئے ہارون؟‘‘(۱؎)

____________________

۱۔صحیح بخاری: ۵/۲۴


بخاری دوسری جگہ اس حدیث کو اس طرح نقل کرتا ہے:

مسدد، یحییٰ سے ، وہ شعبہ سے ، شعبہ ، حکم سے ، وہ مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے اور سعد اپنے باپ سے نقل کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے:

’’جب پیغمبر جنگ تبوک کے لئے مدینے سے باہر جا رہے تھے تو آپ(ص) نے علی(ع) کو مدینے میں اپنی جگہ چھوڑ دیا ۔علی(ع) نے عرض کیا:کیا آپ (ص)عورتوں اور بچوں کی ذمہ داری میرے کندھوں پر ڈال دیں گے؟

پیغمبر(ص) نے فرمایا :

"الا ترضیٰ ان تکون منّی بمنزلة هارون من موس یٰ الا انّ ه ل یس بعدی نبیّ "

کیا تم خوش نہیں ہو کہ میرے لئے، موسیٰ کے لئے ہارون کی طرح ہو جاو سوائے یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ؟‘‘(۱؎)

____________________

۱۔صحیح بخاری: ۶/۳


مسلم کی روایت

مسلم بن حجاج قشیری اس حدیث کو متعدد اسناد سے روایت کرتا ہے ۔ بطور نمونہ ایک مورد کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

ان روایات میں سے ایک وہ روایت ہے جو اس نے اپنی سند کے ساتھ سعید بن مسیب سے نقل کیا ہے ، سعید نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے اس نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر(ص) نے علی(ع) سے فرمایا :

"انت منّی بمنزلة هارون من موسیٰ الاّ انّه لا نبیّ بعدی " ۔

تم میرے لئے اس طرح ہو جس طرح موسیٰ کے لئے ہارون تھا سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا ۔‘‘

سعید کہتا ہے:میں چاہتا تھا کہ اس حدیث کو بالمشافہ سعد سے ہی سنوں ، اسی لئے میں نے اس سے ملاقات کی اور عامر کی نقل کردہ حدیث سعد کے ہاں بیان کردی۔

اس نے کہا :میں نے یہ حدیث پیغمبر(ص) سے سنی ہے ۔

میں نے کہا :کیا واقعی!تم نے خود سنی ہے ؟

اس نے میرے جواب میں اپنی انگلیوں کو کانوں پر رکھا اور کہا :جی ہاں!اگر جھوٹ کہوں تو میرے کان بہرے ہو جائیں ۔(۱؎)

____________________

۱۔صحیح مسلم: ۴/۱۸۷۰، حدیث ۲۴۰۴


قابل ذکر ہے کہ اس متن میں چند ایک نکات ہیں ان پر توجہ کرنی چاہئے۔

مسلم اپنی صحیح میں کسی دوسری جگہ یوں نقل کرتا ہے :

بکیر بن مسمار نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے اور اس نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے ، وہ کہتا ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان نے سعد سے کہا: ابوتراب کو برا بھلا کہنے سے کون سی چیز تمہارے لئے مانع ہے ؟

سعد نے کہا :اس (علی(ع))کے بارے میں پیغمبر کی بیان کی گئی تین خصوصیات جب بھی مجھے یاد آتی ہیں میں ہرگز اس کو برا بھلا نہیں کہہ سکتا۔پھر سعد نے وہ تین خصوصیات بیان کیں کہ جن میں سے ایک حدیث منزلت تھی۔(۱؎)

____________________

۱۔ صحیح مسلم: ۴/ ۱۸۷۱


اہل سنت کی نگاہ میں دوصحیح کتابیں

جو کچھ گزر چکا ہے وہ ایسی حدیثیں تھیں جو اہل سنت کی دو صحیح کتابوں میں نقل ہوئی ہیں ۔ آپ جانتے ہیں کہ اہل سنت کے درمیان مشہور و معروف یہ ہے کہ ان دونوں کتابوں کی حدیثیں قطعی طور پر صحیح اور درست ہیں ، اکثر اہل سنت اس بات کے معتقد ہیں کہ ان دونوں کتابوں کی ساری کی ساری احادیث ’’قطعی الصدور‘‘ہیں اور ان روایات کی سند میں جھگڑنے اور شک و شبہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

زیادہ سے زیادہ اطمینان کے لئے آپ علوم حدیث میں لکھی گئی کتب سے رجوع کر سکتے ہیں ۔ بطور نمونہ :جلال الدین سیوطی کی تالیف ’’تدریب الراوی فی شرح تقریب النووی‘‘، اسی طرح ’’الفیۃ الحدیث‘‘پر لکھی گئی شرحیں ،مثلا:شرح ابن کثیر ، شرح زین الدین عراقی وغیرہ دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہاں تک کہ ابو الصلاح کی کتاب علوم الحدیث میں بھی یہ مطلب دیکھا جا سکتا ہے۔

ایک طرف سے اہل سنت کی معتبر اور مورد اعتماد کتاب ’’حجۃ اللّٰہ البالغۃ‘‘میں شاہ ولی اللہ دہلوی ، دو صحیح کتابوں پر تاکید کرتے ہیں؛ وہ صحیح مسلم اور صحیح بخاری پر تمام علماء کے اجماع اور اتفاق کو بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں:تمام علماء متفق النظر ہیں ،ہر وہ شخص کہ جو ان دونوں کتابوں سے بے اعتنائی کرے اور انہیں بے اہمیت سمجھے وہ بدعت گزار اور مؤمنین کے راستے پر نہ چلنے والا ہے۔

اس بنا پر اور شاہ ولی اللہ کی بات پر ، کہ جس میں اجماع کا دعویٰ کیا گیا ہے، توجہ دینے سے ، حدیث منزلت کی سند پر اعتراض کرنے والا دین میں بدعت ایجاد کرنے والا ہو جائے گا جو مؤمنین کے راستے سے ہٹ کر کسی دوسری راہ پر چل رہا ہے۔

دوسری طرف سے اگر رجال کی کتب دیکھ لی جائیں تو معلوم ہو جائے گا کہ مسلم اور بخاری نے جس راوی سے کوئی ایک حدیث نقل کی ہے تو تمام راوی شناسوں نے اسی راوی پر اعتماد کرکے اس کی حدیث کو قبول کیا ہے ؛ اس طرح کہ ان میں سے بعض کا کہنا ہے : جس کسی نے ان دونوں سے روایت نقل کی وہ پل سے گزر گیا۔


اسی لئے شیعہ اپنے حق کو ثابت کرنے یا دوسروں کے نظریات کو باطل کرنے کے لئے ہمیشہ معتبر احادیث سے استدلال کرتے ہیں۔ جب اہل سنت جواب دینے سے عاجز آ جاتے ہیں اور انہیں بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ملتا تو اپنے مفاد کے خلاف احادیث کو یہ کہہ کر رد کرتے ہیں کہ ’’یہ حدیث شیخین (بخاری و مسلم) نے اپنی کتب میں نقل نہیں کی ہے۔‘‘

بطور نمونہ یہ حدیث ملاحظہ فرمائیں :

پیغمبر اکرم(ص)نے فرمایا :

"ستفترق امّتی علیٰ ثلاث و سبعین فرقة" ۔

میرے بعد میری امت تہتر ( ۷۳) گروہوں میں تقسیم ہو جائے گی ۔

یہ حدیث اسی تعبیر کے ساتھ صحیح بخاری اور مسلم میں نہیں آئی ہے؛ لیکن سنن چہار گانہ (سنن ترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن نسائی اور سنن ابی داود) میں موجود ہے۔ ابن تیمیہ اس حدیث کے ردّ میں کہتا ہے :’’یہ حدیث صحیحین میں نقل نہیں ہوئی ہے۔‘‘(۱؎)

____________________

۱۔ منہاج السنۃ: ۳/۴۵۶


سنن و مسانید لکھنے والوں،جیسے امام احمد بن حنبل اور دیگر علماء کے اس حدیث کو اپنی کتب میں نقل کرنے کے باوجود ابن تیمیہ اس بہانے کے ساتھ اس حدیث کو قبول نہیں کرتا کہ یہ صحیح بخاری اور مسلم میں نہیں آئی ہے۔

وہ چیز ، جو سب سے پہلے ہر منصف انسان کو اپنی جانب متوجہ کراتی ہے ، یہ ہے کہ صحیحین میں آئی ہوئی احادیث کے قطعی الصدور ہونے پر اہل سنت کا اصرار ہے اور بخاری و مسلم کا نقل کرنا روایت کے قبول کرنے اور ان کا نقل نہ کرنا روایت کے رد کئے جانے کی دلیل سمجھتے ہیں ؛ اس کے باوجود جب وہ لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ ان دو کتابوں میں ایسی کوئی حدیث موجود ہے جس سے شیعہ لوگ مقام استدلال میں فائدہ اٹھائیں گے تو انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ اس حدیث کو ردّ کرتے اور اسے غلط گردانتے ہیں ۔

اسی لئے صحیح بخاری و مسلم میں نقل شدہ اس روایت کو کہ:’’حضرت زہرا(ع) ، ابوبکر سے ناراض ہو گئیں اور جب تک زندہ رہیں اس سے بات نہیں کی۔‘‘تحفةالاثنا عشریه کا مصنف باطل سمجھتا اور ردّ کرتا ہے۔(۱؎)

____________________

۱۔ تحفۃ الاثنا عشریہ: ۲۷۸


اسی طرح صحیح بخاری کی شرح ’’ارشاد الساری‘‘میں قسطلانی اور ’’الصواعق المحرقہ‘‘ میں ابن حجر مکی ، بیہقی سے نقل کرتے ہیں کہ وہ زہری کی اس حدیث کو ضعیف شمار کرتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حضرت علی(ع) نے چھ ماہ تک ابو بکر کی بیعت نہیں کی۔ یعنی بیہقی اس حدیث کی تضعیف کرتا ہے اور قسطلانی و ابن حجر اس تضعیف کو نقل کرتے ہیں حالانکہ یہ حدیث دونوں صحیح کتابوں (مسلم و بخاری) میں موجود ہے ۔

اس سلسلے میں حافظ ابو الفرج ابن جوزی نے حدیث ثقلین کو کتاب

’’العلل المتناهیة فی الاحادیث الواهیة‘‘

میں درج کیا ہے جو ضعیف اور بے بنیاد احادیث کو اکٹھا کرنے کے لئے لکھی گئی تھی ۔ حالانکہ حدیث ثقلین صحیح مسلم میں بھی آئی ہے ۔ اسی لئے بعض علماء نے اس (ابو الفرج )پر نکتہ چینی کی ہے۔

واضح ہو گیا کہ احادیث کو قبول کرنے یا ٹھکرا دینے کا معیار اہل سنت کی مصلحتیں ہیں۔ جب یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ کوئی حدیث ان کے اپنے اور ان کے فائدے میں ہے تو اس پر اعتماد کرتے اور صحیحین میں اس کی موجودگی کی وجہ سے اس کے صحیح ہونے پر استدلال کرتے ہیں ؛ لیکن اگر کوئی حدیث ان کے نقصان میں ہو اور ان کے عقیدتی مکتب اور مذہب کے ستون کو گرانے کا باعث ہو تو اس حدیث کو ضعیف شمار کرتے یا خلاف حق سمجھتے ہیں اگرچہ کسی ایک صحیح یا دونوں میں نقل ہوگئی ہو۔


ظاہر ہے کہ احادیث کی تحقیق میں یہ طریقہ کار کوئی پسندیدہ روش نہیں ہے ، مفکرین اور صاحب فضیلت لوگ اس قسم کی کوئی روش کے حامل نہیں ہیں ۔ یہ لوگ اور ہر وہ شخص جو اپنے عقیدے کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرکے اس پر عمل پیرا ہو تا ہے اس طرح کا طریقہ کار نہیں اپناتا۔

جب ’’حدیث منزلت ‘‘کی باری آتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ اصول اور علم کلام کے بعض علماء کھلم کھلا اس کی سند میں بحث اور جھگڑا کرتے ہیں، یا اس کی تضعیف کرتے ہیں اور اسے صحیح نہیں سمجھتے۔ حالانکہ یہ حدیث دونوں صحیح کتابوں میں موجود ہے۔

ہم سوال کرتے ہیں:پس ان دونوں صحیح کتابوں کی تمام احادیث کے قطعی الصدور ہونے کی بات کہاں گئی؟ اور اس مطلب پر آپ کے اصرار کا کیا معنی ہے؟

البتہ ہم خود بھی صحیحین کی احادیث کے قطعی الصدور ہونے کے معتقد نہیں ہیں بلکہ اس بات کے قائل ہیں کہ قرآن کریم کے سوا کوئی اورکتاب نہیں جس کے اوّل سے آخر تک صحیح ہو۔

لیکن ہمارا مخاطب وہ لوگ ہیں جو ان دونوں کتابوں کو صحیح سمجھتے ہیں ، ان سے انہی کی تصریحات کی بنیاد پر بات کرتے ہیں۔

بنا بر ایں گزشتہ مطالب سے معلوم ہوا کہ اہل سنت کے ہاں کوئی پائیدار قاعدہ نہیں ہے جس کی ہمیشہ رعایت کی جائے اور اس کے لوازم کو قبول کیا جائے ۔ جو کچھ ہے وہ ان کے من کی چاہت ہے جس کو قاعدے کے عنوان سے مرتب کر کے اصل و اساس قرار دیا ہے ۔ جب چاہتے ہیں تو ان قواعد کو کام میں لاتے ہیں اور جب ان کی طبیعت کے موافق نہ ہو تو ان کو یکسر بھلا دیتے ہیں ۔


حدیث منزلت کے مزید متون

حدیث منزلت صحیح بخاری ومسلم کے علاوہ اہل سنت کی دوسری مشہور و معروف کتب میں نقل ہو گئی ہے ۔ ہم ان کے متن کو ذکر کریں گے کیونکہ ہر نقل اور ہر متن کی اپنی الگ ایک خصوصیت ہے جس میں اچھی طرح سے تامل کرنا چاہئے ۔

ابن سعد کی روایت

الطبقات الکبریٰ میں ابن سعد اس حدیث کو چند اسناد کے ساتھ ذکر کرتا ہے ۔

۱ ۔ سعید بن مسیب سے متصل سلسلہ :

یہ وہی حدیث ہے کہ جو ہم نے صحیح مسلم سے نقل کی ہے ۔ یہاں اس کی نقل اورمسلم کی سعید بن مسیب سے کی گئی نقل کے درمیان مقائسہ کرنے کا وقت ہے ۔ سعید کہتا ہے : میں نے سعد بن مالک (وہی سعد بن ابی وقاص )سے کہا :میں چاہتا ہوں کہ تم سے کسی حدیث کے بارے میں پوچھوں ؛ لیکن یہ سوال کرتے ہوئے ڈر رہا ہوں۔

سعد نے کہا :بھتیجے !ایسا نہ کر ۔ جب تمہیں معلوم ہو جائے کہ میں کسی چیز سے آگاہ ہوں تو پوچھ لیا کرو اور مجھ سے مت ڈرو!

میں نے کہا :جب پیغمبر اکرم(ص) نے جنگ تبوک کے وقت علی(ع) کو مدینے میں اپنی جگہ چھوڑا تو علی(ع) سے کیا کہا ؟

طبقات کا مصنف کہتا ہے :سعد نے پوری حدیث اس کے لئے نقل کی۔(۱؎)

____________________

۱۔الطبقات الکبریٰ: ۳/۲۴


اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں علی(ع) و اہل بیت پیغمبر(ع) کے بارے میں موجود حدیث ، صحابی رسول سے پوچھتے ہوئے ڈر لگتا اور خوف محسوس ہوتا تھا ؟ اگر حدیث دوسروں کے بارے میں ہوتی تو پوری آزادی اور آرام و راحت کے ساتھ پوچھا جاتا تھا۔

۲ ۔براء بن عازب اور زید بن ارقم سے متصل سلسلہ:

محمد بن سعد ’’الطبقات‘‘میں دوسری بار اپنی اسناد کے ساتھ برا بن عازب اور زید بن ارقم سے اس طرح نقل کرتا ہے کہ انہوں نے کہا :

جب جنگ تبوک کا زمانہ آیا تو پیغمبر اسلام(ص) نے علی(ع) ابن ابی طالب(ع) سے فرمایا :

"انّه لا بدّ ان اقیم او تقیم" ۔ضروری ہے کہ میں مدینے میں رہوں یا آپ رہیں۔‘‘(۱؎)

پیغمبر اکرم(ص) کے اس فرمان سے واضح ہوتا کہ مدینہ میں کچھ حادثات پیش آرہے تھے یا بعض سازشیں جنم لے رہی تھیں ۔ بعد والی حدیث میں ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے۔ اس وقت کی حساس صورتحال کا تقاضا یہی تھا کہ پیغمبر اکرم(ص) خود مدینہ میں رہیں یا حضرت علی(ع) رہیں ؛کیونکہ یہ کام کسی اور کے بس کا نہیں تھا۔

____________________

۱۔الطبقات الکبریٰ: ۳/۲۴


اور دوسری جہت سے جنگ تبوک میں پیغمبر اکرم(ص) کا شریک ہونابھی ناگزیر تھا اس لئے امیر المومنین(ع) سے فرمایا :

’’انّه لا بدّ ان اقیم او تقیم" ۔

ضروری ہے کہ میں مدینے میں رہوں یا آپ رہیں ۔

جب پیغمبر اکرم(ص) حضرت علی(ع) کو مدینہ میں اپنا جانشین بنا کر تبوک تشریف لے گئے تو ایک گروہ نے ، بعض نے نقل کیا ہے قریش کا ایک گروہ اور بعض نے کہا ہے :کچھ منافقین ، نے اس طرح کہا:

’’پیغمبر(ص) نے علی(ع) کو مدینے میں اس لئے چھوڑا ہے کہ آنحضرت(ص)، علی(ع) کو پسند نہیں کرتے۔ ‘‘

یہ بات امیرالمومنین(ع) کے کانوں تک پہنچی تو آپ(ع) ، رسول اللہ(ص) کے پیچھے چلے گئے ، جب پیغمبر(ص) سے ملے تو حضور(ص)نے آپ سے فرمایا :’’اے علی(ع)!آپ یہاں کیوں چلے آئے؟‘‘

جواب میں عرض کیا :اے رسول خدا(ص)!آپ کی مخالفت کا ہرگزارادہ نہ تھا مگر کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ مجھے مدینے میں اس لئے چھوڑا گیا ہے کہ آپ(ص) مجھے ناپسند کرتے ہیں۔

پیغمبر اکرم(ص) نے تبسم فرمایا اور کہنے لگے :

"یا علی!أما ترضیٰ ا ن تکون منّی کهارون من موسیٰ الّا انّک لست بنبیّ؟قال :بلیٰ یا رسول الله!قال:فانّه کذالک " ۔

اے علی(ع)! کیا یہ پسند نہیں کہ تم میرے لئے اسی طرح رہو جس طرح موسیٰ کے لئے ہارون تھے، سوائے اس کے کہ تم پیغمبر نہیں ہو؟‘‘عرض کیا :کیوں نہیں اے اللہ کے رسول(ص)!فرمایا :پس تم اسی طرح ہو۔‘‘


نسائی کی روایت

نسائی اس روایت کو ’’خصائص‘‘میں یوں نقل کرتے ہیں :

لوگوں نے کہا :پیغمبر(ص)، علی(ع) سے تنگ آگئے ہیں اور اس کی ہمراہی سے متنفر ہیں۔

ایک اور روایت میں آیاہے کہ علی(ع) نے پیغمبر(ص) سے عرض کیا :قریش گمان کرتا ہے کہ چونکہ میری ہمراہی آپ(ص) پر گراں گزرتی ہے اور آپ(ص) کے ساتھ میرا رہنا آپ کے لئے نا پسند ہے اس لئے مجھے مدینے میں چھوڑ دیا ہے ۔

پھر حضر ت نے گریہ کیا ، جب پیغمبر(ص) نے یہ دیکھا تو لوگوں کے درمیان پکار کر فرمایا :

"مامنکم احد الّا و له خاصّ ة یابن ابی طالب!اما ترضیٰ ان تکون منّی بمنزلة ه ارون من موس یٰ الّا انّه لا نب یّ بعدی"

تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو اپنے لئے کوئی چیز مختص نہ کرتا ہو۔ اے فرزند ابوطالب!کیا تم راضی نہیں ہوگے کہ میرے لئے ، موسیٰ کے لئے ہارون کی طرح ہوجاو سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں؟

امیر المومنین(ع) نے عرض کیا :


’’رضیتُ عن الله وعن رسوله ۔

خدا وند متعال اور اس کے پیغمبر(ص) کی جانب سے راضی ہوں ۔(۱؎)

’’سیرہ ابن سید الناس‘‘،’’ سیرہ ابن قیم جوزیہ‘‘ ،’’ سیرہ ابن اسحاق‘‘ اور بعض دوسرے مصادر کی نقل کے مطابق حضرت علی(ع) پر اعتراض کرنے والے لوگ ، منافقین میں سے تھے ۔(۲؎)

بعض دوسرے متون میں لکھا ہے کہ لوگوں سے مراد قریش یامنافقین تھے، اس رو سے واضح ہو جاتا ہے کہ قریش کے درمیان بھی منافقین موجود تھے یہ بات بڑی اہم ہے۔

طبرانی کی روایت

طبرانی کی معجم الاوسط میں حضرت علی(ع) سے نقل ہوا ہے کہ پیغمبر(ص) نے ان سے فرمایا:

"خلّفتک ان تکون خلیفتی قلتُ:اتخلّف عنک یا رسول الله؟ قال:الا ترضیٰ ان تکون منّی بمنزلة هارون من موسیٰ الّا انّه لا نبیّ بعدی " ۔

میں تمہیں اپنی جگہ چھوڑ رہا ہوں تاکہ میرے جانشین اور خلیفہ ہو جاو۔عرض کیا :اے اللہ کے رسول(ص)!کیا آپ کے ساتھ نہ رہوں؟ فرمایا: کیا راضی نہیں ہو کہ میرے لئے اسی طرح ہوجاؤ جس طرح موسیٰ کے لئے ہارون تھے، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ؟‘‘(۳؎)

اس حدیث کا یہ جملہ قابل غور ہے:

’’خلّفتک ان تکون خلیفتی‘‘

میں تمہیں اپنی جگہ چھوڑ رہا ہوں تاکہ میرے جانشین اور خلیفہ ہو جاو۔

____________________

۱۔ خصائص نسائی: ۶۷، احادیث ۴۴، ۶۱، ۷۷

۲۔ عیون الاثر: ۲/ ۲۹۴؛ زاد المعاد: ۳/ ۵۵۹۔ ۵۶۰؛ سیرہ ابن ہشام: ۲/ ۵۱۹۔ ۵۲۰

۳۔ معجم الاوسط: ۴/ ۴۸۴، حدیث ۴۲۴۸


سیوطی کی روایت

جلال الدین سیوطی ، جامع الکبیر میں اس روایت کو ایک گروہ سے نقل کرتا ہے ، جن میں ابن نجار بغدادی ، ابوبکر شیرازی کی کتاب القاب، حاکم نیشاپوری کی الکنیٰ اور بزرگ حافظان حدیث میں سے حسن بن بدر کی کتاب’’مارواہ الخلفاء‘‘ شامل ہے۔

یہ سارے راوی ابن عباس سے نقل کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ ایک دن عمر بن خطاب نے کہا :اب کے بعد علی ابن ابی طالب(ع) کے بارے میں بات نہ کریں ؛کیونکہ میں نے پیغمبر اکرم(ص) سے علی(ع) کے بارے میں تین باتیں سنی ہوئی ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی ایک بھی میرے لئے ہوتی تو وہ میرے لئے ان تمام چیزوں سے بہتر ہوتی جن پر سورج کی روشنی پڑتی ہے۔(۱؎)

ہم لوگ ( ابو بکر ، ابو عبیدہ بن جراح(۲؎) اور اصحاب پیغمبر میں سے ایک اور شخص) حضور (ص) کی خدمت میں تھے ، آپ(ص)، علی ابن ابی طالب(ع)سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، ایسے میں اپنے دست مبارک کو علی(ع) کے کندھے پر رکھا اور فرمایا :

"یاعلی!انت اول المو منین ایماناً و اوّله م اسلاماً،وانت منّ ی بمنزلة ه ارون من موس یٰ ، و کذب من زعم انّه یحبّنی و یبغضک"

اے علی(ع)!تم پہلے مؤمن ہو جو ایمان لے آیا اور پہلے فرد ہو جو اسلام لایا ، تم میرے لئے وہی حیثیت رکھتے ہو جو حیثیت موسیٰ کے لئے ہارون کی تھی ، اور وہ شخص جھوٹ بولتا ہے جو تم سے دشمنی رکھتا ہے اورمجھ سے محبت کرنے کا گمان کرتا ہے۔ ‘‘

ابن کثیر کی روایت

ابن کثیر نے بھی یہ روایت اپنی تاریخ میں لکھی ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے حضرت علی(ع) سے فرمایا :

"او ما ترضیٰ ان تکون منّی بمنزلة ه ارون من موس یٰ الاّ النّبوّة"

کیا راضی نہیں ہو کہ میرے لئے وہی ہو جاؤ جو موسیٰ کے لئے ہارون تھے،سوائے پیغمبری میں؟‘‘(۳؎)

____________________

۱۔ قابل توجہ یہ ہے کہ یہ لوگ کیوں حضرت علی(ع) کے بارے میں باتیں کرتے تھے ؟ اور کیا کچھ کہتے تھے ؟ کیوں عمر ان لوگوں کو آپ(ع)کے تذکرے سے منع کر رہا ہے؟ کیا یہ لوگ حضرت(ع) کو اچھے لفظوں سے یاد کرتے تھے ؟ اور اب عمر انہیں اس کام سے روک رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ علی(ع) کے بارے میں بات نہ کریں ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب مل جائے تو پوشیدہ حقائق سامنے آئیں گے۔ ۲۔واضح رہے کہ مہاجرین میں سے انہی تین افرادنے سقیفہ برپا کیا تھا ۔۳۔ البدایۃ و النہایۃ: ۷/ ۳۴۰


قابل ذکر ہے کہ ان روایات میں تین تعبیریں ذکر ہوئی ہیں :

۱ ۔الاّ النّبوّة :سوائے پیغمبری میں ۔

۲ ۔الاّ انّک لست بنبیّ :سوائے اس کے کہ تم پیغمبر نہیں ہو۔

۳ ۔الاّ انّه لا نبیّ بعدی :سوائے یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

ظاہر ہے کہ ان تعبیروں کے درمیان بہت فرق پایا جاتا ہے ۔

ابن کثیر اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے : اس کی سند صحیح ہے ؛ لیکن صحیح احادیث کی جو کتب لکھی گئی ہیں ان میں اس کو نقل نہیں کیا گیا ہے ۔

اسی طرح ابن کثیر اپنی تاریخ میں معاویہ اور سعد کی حدیث کے ضمن میں نقل کرتا ہے کہ ایک روز معاویہ ایک گروہ کے سامنے علی(ع) کو برا بھلا کہہ رہا تھا[!]

سعد نے اس سے کہا :خدا کہ قسم!اس (علی(ع) )کی تین خصوصیتوں میں سے اگر میں ایک کا بھی حامل ہوتا تو میرے لئے ان تمام چیزوں سے بہتر تھا جن پر سورج کی روشنی پڑتی ہے ۔۔۔۔پھر اس نے ان تین خصوصیات میں سے ایک کے طور پر’’حدیث منزلت‘‘ بیان کی۔(۱؎)

اہل سنت کے حافظین میں سے ایک حافظ زرندی اسی حدیث کو نقل کرتا ہے ؛ مگر معاویہ کا نام لئے بغیر کہتا ہے :راویوں میں ایک نے سعد سے پوچھا :کون سی چیز تمہیں علی(ع) کو برا بھلا کہنے سے روکتی ہے؟(۲؎)

____________________

۱۔ البدایۃ و النہایۃ: ۷/ ۳۴۰

۲۔ نظم درر السمطین: ۱۰۷


ظاہر ہے کہ وہ معاویہ کا نام مخفی رکھنا چاہتا ہے تاکہ اپنی اور دوسروں کی آبرو بچ جائے۔

یہ واقعہ ، تاریخ مدینہ دمشق ، الصواعق المحرقہ اور دوسرے مصادر میں یوں نقل ہوا ہے: کسی نے معاویہ سے کوئی مسئلہ پوچھا ۔ اس نے کہا :علی(ع) سے پوچھو کہ وہ دانا تر ہے۔

پوچھنے والے نے کہا :اگر تم میرے سوال کا جواب دو تو علی(ع) کے جواب دینے سے بھی زیادہ مجھے پسندیدہ ہے ۔معاویہ نے کہا :تم نے بری بات کی!کیا واقعاً ایسے شخص سے ناخوش ہو کہ جسے پیغمبر(ص)نے اپنے علم سے مکمل طور پر سیراب کیا ہے!اور اس سے کہا ہے :

" انت منّی بمنزلة هارون من موسیٰ الاّ انّه لا نبیّ بعدی" ۔

تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لئے ہارون، سوائے یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

جب بھی عمر کسی مشکل کو حل کرنے سے عاجز رہ جاتا تو اس( علی(ع)) سے استفادہ کرتا تھا ۔(۱؎)

تمام مختلف متون میں سے جس متن کو ہم نے منتخب کیا ہے اس کی الگ خصوصیت ہے کہ جسے دقیق نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے ۔

____________________

۱۔ تاریخ مدینۃ دمشق: ۱/۳۹۶، حدیث ۴۱۰ حضرت علی(ع) کے حالات زندگی؛ الریاض النضرۃ: ۳/ ۱۶۲ مناقب امام علی(ع)؛ ابن مغازلی: ۳۴، حدیث ۵۲


تیسرا حصہ:

حدیث منزلت کی دلالتوں پر ایک نظر


حدیث منزلت کی دلالتیں

ہماری گفتگو کا دوسرا محور ،حدیث منزلت کی دلالتیں ہیں۔ چنانچہ پہلے اشارہ ہو چکا ہے کہ حدیث منزلت متعدد امور پر دلالت کرتی ہے ان میں سے ہر ایک امیر المومنین(ع) کی امامت پر مکمل دلیل ہے ۔

قرآن کی رو سے حضرت ہارون کا مقام

حدیث منزلت کی دلالتوں کی تحقیق کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم حضرت ہارون(ع) کے مقامات پر ایک نظر ڈالیں اور یہ جان لیں کہ حضرت موسیؑ کی نسبت سے آپ(ع) کیا مقام و مرتبہ رکھتے تھے ؛ تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ پیغمبر(ص) کی نسبت سے علی(ع) کس مقام و مرتبے کے حامل ہیں۔

اس مطلب سے آشنائی کے لئے ضروری ہے کہ ہم قرآن مجید سے رجوع کرکے حضرت ہارون(ع) کے مقام و مرتبے سے آ گاہی حاصل کریں؛ کیونکہ قرآن مجید کی آیات میں ٹھیک طرح غورو خوض کرنے سے بخوبی معلوم ہو جاتا ہے کہ جناب ہارون(ع)مندرجہ ذیل مقامات کے حامل تھے :

۱ ۔ نبوت

حضرت ہارونؑ کا اولین مقام ’’پیغمبری‘‘ ہے ۔ خدا وند متعال فرماتا ہے :

" وَوَه َبْنَا لَ ه ُ مِنْ رَحْمَتِنٰا اَخٰا ه ُ ه ٰارُوْنَ نَبِ یّاً "

اور ہم نے اپنی رحمت سے اس (حضرت موسیٰ)کو اس کا بھائی ہارون عطا کر دیا جو پیغمبر تھا۔‘‘(۱؎)

____________________

۱۔ مریم: ۵۳

۲۔ وزارت


حضرت ہارون(ع) کا دوسرا مقام ’’وزارت‘‘تھا ۔ وزیر وہ ہوتا ہے جو امیر کی مسئولیت کا بارگراں اپنے کندھوں پر اٹھائے اور اسے انجام دینے کا عہدہ سنبھالے۔ اس مقام کو خدائے متعال نے حضرت موسیٰ کی زبان سے اس طرح بیان کیا ہے کہ حضرت موسیٰ نے خدا وند متعال سے عرض کیا :

"وَاج ْعَل لِی وَزِیراً مِن اَه لِ ی ه ٰارُونَ اَخِ ی"

اور میرے لئے میرے خاندان سے میرا بھائی ہارون وزیر قرار دے۔‘‘(۱؎)

اسی طرح خدا وند متعال ، قرآن مجید میں اسی مقام کے بارے میں فرماتا ہے :

"وَ لَقَد آتَینٰا مُوسَی الکِتٰابَ وَجَعَلنٰا مَعَه اَخٰا ه ُ ه ٰارُونَ وَزِ یراً"

بے شک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی اور اس کے بھائی ہارون کو اس کا وزیر قرار دیا۔‘‘(۲؎)

سورہ قصص میں بھی ہارون(ع) کی وزارت کے بارے میں بات آ گئی ہے ؛ وہاں حضرت موسیٰ کی زبان سے نقل ہوتا ہے ، آپ(ع) فرماتے ہیں :

"وَ اَخِی ه ٰارُونَ ه ُوَ اَفصَحُ مِنِّ ی لِسٰاناً فَاَرسِله ُ مَعِ یَ رِدءًا یُّصَدِّقَنِی"

اور میرا بھائی ئی ہارون کہ کس کی زبان مجھ سے زیادہ گویا ہے ، پس اسے میرے ہمراہ بھیج دے تاکہ میرا مدد گار ہو اور میری تصدیق کرے۔‘‘(۳؎)

____________________

۱۔ طٰہٰ: ۳۹۔ ۳۰

۲۔ فرقان: ۳۵

۳۔ قصص: ۳۴


۳ ۔ خلافت و جانشینی

حضرت ہارون(ع) کے مقامات میں سے ایک حضرت موسیٰ کی خلافت و جانشینی ہے ۔ خداوند اس مقام کو یوں بیان کرتا ہے :

"وَ قَالَ مُوسیٰ لِاَخِیه ِ ه ٰارُونَ اخلُفنِ ی فِی قَومِی وَاَصلِح وَلَا تَتَّبِع سَبِیلَ المُفسِدِین"

اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون(ع) سے کہا :قوم کے درمیان میرا جانشین بنے رہو اور ان (کے امور)کی اصلاح کرو اور فساد پھیلانے والوں کے راستے کی پیروی نہ کرو ۔‘‘(۱؎)

۴،۵ ، ۶ ۔اخوت و رسالت میں مشارکت ، مضبوط پشت پناہ

قرآن مجید کی رو سے حضرت ہارون(ع) کا چوتھا ، پانچواں اور چھٹا مقام ، آپ(ع) کا حضرت موسیٰ کے ساتھ اخوت کا رشتہ ہونا، رسالت میں جناب موسیٰ کے ساتھ شریک ہونا اور ان کے لئے ایک پشت پناہ ہونا ہے۔ حضرت موسیٰ نے خدا وند متعال سے اس طرح دعا فرمائی:

’’وَاج ْعَل لِی وَزِیراً مِن اَه لِ ی هٰارُونَ اَخِی اشدُد بِه ِ اَزرِ ی وَ اَشرِکه ُ فِ ی اَمرِی"

اور میرے لئے میرے خاندان سے ایک وزیر قرار دے ، میرے بھائی ہارون کو ، اور اسے میرے لئے ایک مضبوط پشت پناہ قرار دے اور میرے کام میں شریک فرما۔‘‘(۲؎)

____________________

۱۔ اعراف: ۱۴۲

۲۔ طٰہٰ: ۳۱۔۳۲


حضرت علی(ع) کے مقام ومنزلت پر ایک نظر

حدیث منزلت کے مندرجات کے مطابق پیغمبر اکرم(ص) نے اپنے اس فرمان کے ذریعے نبوت و پیغمبری کے علاوہ ،جناب ہارون(ع) کے وہ تمام مقامات حضرت امیرالمومنین(ع) کی شان میں ثابت کر دیا ہے جنہیں قرآن مجید نے حضرت ہارون(ع) کے لئے ثابت کیا ہے۔

حضور(ص) نے اس حدیث میں ہارون کے تمام مناصب کو مطلق بیان فرمایا ہے ؛ لیکن منصب پیغمبری کو استثناء فرمایا ہے ؛ کیونکہ ضرورت یہ کہتی ہے کہ ان کے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہوگا۔

اس بنا پر پیغمبری کے علاوہ حضرت ہارون(ع) کے لئے ثابت شدہ تمام مناصب حضرت علی(ع) کے لئے بھی ثابت ہو جائیں گے ۔ اس موضوع کی وضاحت کرتے ہوئے ہم کہیں گے کہ :

امیر المومنین(ع) اور حضرت ہارون(ع) کے معنوی منازل اور مقامات میں واحد فرق یہی ہے کہ علی(ع) ، پیغمبر نہیں ہیں ؛ لیکن آپ(ع) نے اپنی بعض خصوصیات اور اوصاف ’’خطبہ قاصعہ‘‘ میں یوں بیان فرمایا ہے :

’’ وَقَدْ عَلِمْتُمْ مَوْضِعِی مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ بِالْقَرَابَةِ الْقَرِیْبَةِ، وَالْمَنْزِلَةِ الْخَصِیْصَةِ: وَضَعَنِی فِی حِجْرِهِ وَأَنَا وَلَدٌ ،یَضُمَّنِی اِلَیٰ صَدْرِهِ، وَیَکْنُفُنِی فِی فِرَاشِهِ، وَیُمِسُّنِی جَسَدَهُ، وَیْشِمُّنِی عَرْفَهُ، وَکَانَ یَمْضَعُ الشَّیَٔ ثُمَّ یُلْقِمُنِیْهِ، وَمَا وَجَدَ لِی کَذْبَةً فِی قَوْلٍ، وَلاَ خَطْلَةً فِی فِعْلٍ، وَلَقَدْ قَرَنَ اللّٰهُ بِهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهِمِنْ لَدُنْ اَنْ کَانَ فَطِیْمًا اَعْظَمَ مَلَکٍ مِنْ مَلاَئِکَتِهِ، یَسْلُکُ بِهِ طَرِیْقَ الْمَکَارِمِ، وَمَحَاسِنَ اَخْلاَقِ الْعَالَمِ، لَیْلَهُ وَنَهَارَهُ، وَلَقَدْ کُنْتُ اَتَّبِعُهُ اَتَّبَاعَ الْفَصِیْلِ اَثَرَ اَمَّهِ، یَرْفَعُ لِی فِی کُلَّ یَوْمٍ مِنْ اَخْلاَقِهِ، عَلَمًا، وَیَامُرُنِی بِالْاِقْتَدَائِ بِهِ وَلَقَدْ کَانَ یُجَاوِرُ فِی کُلَّ سَنَةَ بِحِرَائَ فَأَرَاهُ، وَلاَ یَرَاهُ غَیْرِی، وَلَمْ یَجْمَعُ بَیْتُ وَاحِدٌ یَوْمَئِذٍ فِی الْاِسْلاَمِ غَیْرَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ وَخَدِیْجَةَ وَاَنَا ثَالِثُهُمَا ۔


تم جانتے ہی ہو کہ رسول اللہ (ص) سے قریب کی عزیز داری اور مخصوص قدر و منزلت کی وجہ سے میرا مقام ان کے نزدیک کیا تھا! میں بچہ ہی تھا کہ رسول (ص) نے مجھے گود میں لے لیا تھا۔ اپنے سینے سے چمٹائے رکھتے تھے۔ بستر میں اپنے پہلو میں جگہ دیتے تھے۔ اپنے جسم مبارک مجھ سے مس کرتے تھے اور اپنی خوشبو مجھے سنگھاتے تھے۔ پہلے آپ (ص) کسی چیز کو چباتے پھر اس کے لقمے بنا کر میرے منہ میں دیتے تھے۔ انہوں نے نہ تو میری کسی بات میں جھوٹ کا شائبہ پایا نہ میرے کسی کام میں لغزش و کمزوری دیکھی۔ اللہ نے آپ (ص) کی دودھ بڑھائی کے وقت ہی سے فرشتوں میں سے ایک عظیم المرتبت ملک ( روح القدس) کو آپ (ص) کے ساتھ لگا دیا جو انہیں شب و روز بزرگ خصلتوں اور پاکیزہ سیرتوں کی راہ پر لے چلتا تھا، اور میں ان کے پیچھے پیچھے یوں لگا رہتا تھا جیسے اونٹنی کابچہ اپنی ماں کے پیچھے۔ آپ ہر روز میرے لئے اخلاق حسنہ کے پرچم بلند کرتے تھے اور مجھے ان کی پیروی کا حکم دیتے تھے اور ہر سال (کوہ) حرا میں کچھ عرصہ قیام فرماتے تھے اور وہاں میرے علاوہ کوئی انہیں نہیں دیکھتا تھا۔ اس وقت رسول اللہ (ص) اور (ا م المؤمنین) خدیجہ(ع) کے گھر کے علاوہ کسی گھر کی چار دیواری میں اسلام نہ تھا۔‘‘


یہ حصہ خصوصی طور پر دیکھئے کہ حضرت فرماتے ہیں :

’’ اَرَیٰ نُورَ الْوَحْیِ وَالرَّسَالَةِ، وَاَشُمُّ رِیْحَ النُّبُوَّةِ،وَلَقَدْ سَمِعْتُ رَنَّةَ الشَّیْطَانِ حِیْنَ نَزَلَ الْوَحْیُ عَلَیْهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ ،فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰهِ!مَاهٰذِهِ الرَّنَّةُ؟ فَقَالَ: هٰذَا الشَّیْطَانُ قَدْاَیِسَ مِنْ عِبَادَتِهِ ۔

میں رسالت کی خوشبوسونگھتا تھا ۔ جب آپ (ص) پر (پہلے پہل) وحی نازل ہوئی تو میں نے شیطان کی ایک چیخ سنی، جس پر میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ (ص) یہ آواز کیسی ہے؟ آپ (ص) نے فرمایا کہ یہ شیطان ہے کہ جو اپنے پوجا جانے سے مایوس ہو گیا ہے۔‘‘

اب حضرت علی(ع) کے بارے میں پیغمبر(ص) کے مندرجہ ذیل فرمان پر غور کریں !فرماتے ہیں :

’’ اِنَّکَ تَسْمَعُ مَا اَسْمَعُ وَتَرَیٰ مَا اَرَیٰ اِلاَّ اَنَّکَ لَسْتَ بَنِبِیًّ وَلٰکِنَّکَ لَوَزِیْرٌ وَاِنَّکَ لَعَلٰی خَیْرٍ ۔(اے علی(ع)!) جو میں سنتا ہوں تم بھی سنتے ہو اور جو میں دیکھتا ہوں تم بھی دیکھتے ہو، فرق اتنا ہے کہ تم نبی نہیں ہو؛ بلکہ (میرے ) وزیر اور جانشین ہو اور یقینا بھلائی کی راہ پر ہو۔‘‘(۱؎)

____________________

۱۔نہج البلاغہ: خطبہ ۱۹۳، قاصعہ


ان جملوں پر توجہ کی جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ حدیث پیغمبر اور’’ خطبہ قاصعہ‘‘ میں امیر المومنین(ع) کے فرامین کے ساتھ آیات قرآن کس طرح ہم آہنگ ہیں۔ اگرچہ امام علی(ع) ، پیغمبر نہیں ؛ لیکن وحی و رسالت کے نور کو دیکھا اور خوشبوئے رسالت کو سونگھا ہے ۔

اب ہم پوچھیں گے کہ :کیا امیر المومنین(ع) کا یہ مقام و منزلت پیغمبر خدا(ص) کے دوسرے اصحاب کے مقام ومنزلت سے قابل مقائسہ ہے ؟

پس کیوں بعض لوگ کچھ خالی خیالی فضائل کو اس بلند مقام و مرتبے پر برتری دینا چاہتے ہیں ؟

حضرت علی(ع) ، پیغمبر نہیں ؛ لیکن وزیر ہیں ۔ کون سی شخصیت کا وزیر؟

اس پیغمبر کا جو اشرف المرسلین ، تمام پیغمبروں سے بزرگوار ترین ، شریف ترین اور خدا وند سبحان کی ان سب سے نزدیک ترین ہیں۔

اس بنا پر ایسی شخصیت کا وزیر ہونا حضرت موسیٰ کی وزارت سے کافی حد تک مختلف ہے ؛ اس لحاظ سے ہارون کہاں اس مقام ومرتبے تک پہنچ سکتا ہے ؟

اس وقت ہماری بات ہارون(ع) پر علی(ع) کی برتری کے بارے میں نہیں ہے ؛ بلکہ اس بارے میں ہے کہ رسول خدا(ص) کی خلافت کا مستحق علی(ع) ہیں یا ابو بکر؟


بعثت کی ابتدا ء اور حضرت علی(ع) کی وزارت

حضرت علی(ع) کی وزارت پر دلالت کرنے والی احادیث میں سے ایک حدیث’’حدیث الدار‘‘ ہے۔ وہی دن کہ جس میں پیغمبراکرم(ص) نے اپنی بعثت کے آغاز میں قریبی رشتہ داروں کو جمع کر کے فرمایا:’’فایّکم یوازرنی علیٰ امری هذا؟‘‘ تم میں سے کون اس کام میں میرا وزیر بنو گے ؟

امیر المومنین(ع) نے عرض کیا :’’انا یا نبیّ الله!اکون وزیرک علیه ‘‘ میں ، اے اللہ کے رسول(ص)!اس مسئولیت میں ، میں آپ(ص)کا وزیر بنوں گا ۔

پیغمبر(ص)نے فرمایا:

’’انّ هٰذا اخی و و صیّی و خلیفتی فیکم فاسمعو ا له و اطیعوا ۔بے شک یہ میرے بھائی ، وصی اور تمہارے درمیان میرے جانشین ہیں ، پس اس کی بات پر کان دھرو اور اس کی اطاعت کرو۔‘‘(۱؎)

____________________

۱۔ تفسیر بغوی: ۴/۲۷۸ ۔ نیز دوسرے مصادر۔


حلبی ، اپنی سیرہ میں اس واقعے کو یوں نقل کرتا ہے :

اس وقت علی(ع) نے آمادگی کا اظہار کیا تو پیغمبر(ص) نے اس سے فرمایا :

’’اِجلس!فانت ا خی و وزیری و وصیّی و وارثی و خلیفتی من بعدی ۔بیٹھ جا!تو میرا بھائی، وزیر ، وصی ، وارث اور میرے بعد میرا جانشین ہوگا۔‘‘(۱؎)

____________________

۱۔السیرۃ الحلبیہ: ۱/ ۴۶۱


علی(ع) کی وزارت اور پیغمبر(ص) کی دعا

تاریخ مدینہ دمشق ، المرقاۃ ، درالمنثور اور ریاض النضرۃ لکھنے والوں نے یہ روایت ابن مردویہ ، ابن عساکر ، خطیب بغدادی اور دوسروں سے نقل کی ہے کہ اسماء بنت عمیس ؓ نے رسول خدا(ص) کو درگاہ الٰہی میں یہ عرض کرتے ہوئے سنا :

’’اللّهمّ انّی اقول کما قال اخی موسیٰ:اللّهمّ اجعل لی وزیراً من اهلی اخی علیّاً،اشدد به ازری و اشرکه فی امری کی نسبّحک کثیراً و نذکرک کثیراً، انّک کنت بنا بصیراً ۔ خداوندا!میں تجھ سے وہی کہوں گا جو میرے بھائی موسیٰ نے کہا تھا: خدایا!

میرے لئے میرے خاندان سے ایک وزیر قرار دے میرے بھائی علیؑ کو، اس کے ذریعے میری پشت کو مضبوط بنا، اسے میرے کام میں شریک فرما تاکہ زیادہ تیری تسبیح کروں اور زیادہ تیری یاد میں رہوں ، بے شک تو ہمیں دیکھنے والا ہے۔‘‘(۱؎)

____________________

۱۔ تاریخ مدینۃ دمشق:۱/۱۲۰۔۱۲۱، حدیث ۱۴۷، حضرت علی(ع) کے حالات زندگی۔ الدر المنثور: ۵/۵۶۶؛ الریاض النضرۃ: ۳/ ۱۱۸


مخصوص منزلت

امیر المومنین(ع)،پیغمبر اکرم(ص)کی نسبت سے ایک مخصوص مقام کے حامل ہیں جو آپ(ع) نے اپنے فصیح و بلیغ خطبے میں بیان فرمایا ہے :’’تم جانتے ہی ہو کہ رسول اللہ (ص) سے قریب کی عزیز داری اور مخصوص قدر و منزلت کی وجہ سے میرا مقام ان کے نزدیک کیا تھا۔‘‘

یہ وہی قریبی رشتہ ہے جو موسیٰ و ہارون(ع) کے واقعے میں حضرت موسیٰ نے خدا وند عالم سے طلب کرتے ہوئے عرض کیا :

’’وَاجْعَل لِی وَزِیراً مِن اَهلِی هٰارُونَ اَخِی ۔اور میرے لئے میرے خاندان سے ایک وزیر قرار دے، میرے بھائی ہارون کو۔‘‘

اسی وجہ سے ، جیسا کہ بعد میں بیان کریں گے، پیغمبر(ص) نے اپنی اور علی(ع) کی برادری کا اعلان کرتے وقت حدیث منزلت ذکر فرمائی۔

خصوصی برتری

امیر المومنین(ع) کی خصوصیات ان باتوں سے کہیں بلند ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

’’واُولُوا الاَرحٰامِ بَعضُهُم اَولیٰ بِبَعضٍ فِی کِتَابِ اللّٰهِ مِنَ المُومِنِین وَ المُهاجِرِینَ ۔ اور کتاب اللہ کی رو سے رشتے دار آپس میں مومنین اور مہاجرین سے زیادہ حقدار ہیں ۔‘‘(۱؎)

____________________

۱۔ احزاب: ۶


یہ تین خصوصیات (ایمان ، ہجرت اور قرابت)حضرت علی(ع) کے سوا کسی پر منطبق نہیں ہو سکتیں۔ اس بناء پر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ پیغمبر (ص)کے بعد خلافت وولایت کے مضبوط پایوں میں سے ایک پایہ نزدیکی رشتہ ہونا ہے۔

فخر رازی نے مذکورہ آیت کی تفسیر میں محمد بن عبد اللہ بن حسن مثنیٰ (فرزند امام حسن(ع) ) کے ، جو عالم و فاضل اور قرآن کریم سے آشنا شخص تھے، استدلال کو نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جناب محمد بن عبد اللہ بن حسن مثنیٰ نے عباسی خلیفہ منصور کو لکھے گئے ایک خط میں اسی آیت سے استدلال کیا ہے ۔

منصور نے ان کے جواب میں لکھا :پیغمبر(ص) کی نسبت ، علی(ع) سے زیادہ عباسؓ حقدار ہے ؛ کیونکہ عباس ؓ ،آنحضرت(ص) کے چچا جبکہ علی(ع)، چچا کے بیٹے ہیں۔

فخر رازی ، اگرچہ عباسی نہیں ہیں ؛ لیکن اس نے عباسیوں کے دعویٰ کو قبول کیا ہے۔ اس کا یہ عمل بنی عباس سے دوستی کی وجہ سے نہیں ؛ بلکہ بخاطر ۔۔۔!

البتہ خود فخر رازی کو بخوبی علم ہے کہ عباس اگرچہ حضور پاک(ص) کے چچا ہیں ؛ لیکن مہاجرین میں سے نہیں ہیں ؛ کیونکہ وہ فتح مکہ کے بعد مدینہ آئے ہیں اور پیغمبر فرما چکے تھے کہ فتح مکہ کے بعد اب کوئی ہجرت نہیں ہے ۔ اس بنا ء پر مہاجرین میں سے واحد شخص جو حضور(ص) کا قریبی رشتہ ہے وہ تنہا علی(ع) کی ذات گرامی ہے ۔

انصاف کی رو سے دیکھا جائے کہ پیغمبر(ص) کے اصحاب میں علی(ع) کے علاوہ مؤمن اور مہاجر بہت سارے ہیں ؛ لیکن ان میں سے کوئی بھی رسول خدا(ص) کا قریبی نہیں ہے ۔ فقط عباس رہ جاتا ہے ؛ لیکن وہ مہاجر نہیں ہے پس یہ آیت علی(ع) کے سوا کسی اور پر قابل انطباق نہیں ہے ۔


قابل ذکر ہے کہ رازی اس مقام پر عباسیوں اور منصور عباسی سے موافقت کر لیتا ہے ؛ جبکہ ہاشمیوں اور علویوں کی مخالفت کرتا ہے تاکہ ، بزعم خود ، اس آیت سے امیر المومنین(ع) کی امامت پر استدلال نہ کیا جا سکے ۔

بنا ء بر ایں ، آیہ شریفہ’’اولوا الارحام‘‘ آپ(ع) کی امامت پر ایک اور دلیل ہو جائے گی اور یہیں سے آشکار ہو جاتا ہے کہ امیر المومنین(ع) کا اس آیت سے استدلال کرنا اور قرابت کا مسئلہ اٹھانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ آیت امامت و ولایت کے مسئلے میں دخل رکھتی ہے ۔

اس کے علاوہ یہ کہ عباس نے غدیر خم میں آپ(ع) کی بیعت کی اور اسی بیعت پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کی بیعت نہیں کی اور ماجرائے سقیفہ کے وقت جناب امیر المومنین(ع)کی خدمت میں آکر آپ(ع) کی تجدید بیعت کرنا چاہی۔

اس لحاظ سے عباس ؓ ، پیغمبر(ص) کے بعد امامت و خلافت کے مستحق نہ تھے ۔

امور میں شرکت

ایک مقام جو کسی اور آیت میں بیان ہوا ہے وہ یہ کہ موسیٰ نے جب خدا سے چاہا کہ ہارون(ع)کو ان کے کاموں میں شریک کردے تو عرض کیا :

( وَأَشْرِکْهُ فِی أَمْرِی ) اور اسے میرے کام میں شریک قرار دے ۔‘‘(۱؎)

____________________

۱۔طٰہٰ: ۳۲


یعنی ہارون(ع) ان تمام مسئولیتوں اور تمام مناصب و مقامات میں شریک تھے جو حضرت موسیٰ کو دئیے گئے تھے ۔ اس حدیث کے تحت یہ مقام امیر المومنین(ع) کے لئے ثابت ہوگا اور آپ(ع) پیغمبری کے علاوہ تمام امور میں پیغمبر اکرم(ص) کے یاور ہوں گے ۔اس بناء پر پیغمبری کے علاوہ ہر منصب و مقام میں امیر المومنین(ع) پیغمبر خدا(ص) کے شریک ہوں گے۔

رسول خدا(ص) کی ایک ذمہ داری قرآن کریم کی تعلیم دینا اور اس کی تفسیر کرنا تھا ؛ جیسا کہ فرما رہا ہے :

( وَأَنزَلْنَا إلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إلَیْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ یَتَفَکَّرُونَ ) ۔اور ہم نے قرآن آپ پر نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کے لئے ان کی طرف جو کچھ اتارا گیا ہے اسے روشن کردیں اور شاید یہ لوگ غور کریں۔ ‘‘(۱؎)

اسی طرح آنحضرت(ص) کو حکمت عطا کی گئی ہے :

( وَأَنزَلَ اللّهُ عَلَیْکَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ ) ۔اور خدا نے تم پر کتاب وحکمت نازل فرمائی ہے۔‘‘(۲؎)

نیز قرآن مجید کے مطابق آنحضرت (ص) کی ایک ذمہ داری ، اختلافات اور تنازعات کے موقع پر لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنا ہے:

( لِیُبَینَِّ لَهُمُ الَّذِی یخَْتَلِفُونَ فِیه ) تاکہ اللہ ان کے لیے وہ بات واضح طور پر بیان کرے جس میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں ۔‘‘(۳؎)

اسی طرح آپ(ص) ،لوگوں پر حاکم تھے :

( إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاکَ اللّهُ ) ۔ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ آپ کی طرف نازل کی ہے تاکہ جیسے اللہ نے آپ کو بتایا ہے اسی کے مطابق لوگوں میں فیصلے کریں۔‘‘(۴؎)

____________________

۱۔نحل: ۴۴

۲۔ نساء: ۱۱۳

۳۔ نحل : ۳۹

۴۔ نساء: ۱۰۵


اور ایک جہت سے پیغمبر(ص) لوگوں پر خود ان سے زیادہ برتری رکھتے ہیں اور آپ(ص) کا حکم سب لوگوں پر نافذ ہے :

( النَّبِیُّ أَوْلَی بِالْمُومِنِینَ مِنْ أَنفُسِهِمْ ) ۔نب ی مومنین کی جانوں پر خود ان سے زیادہ حق تصرف رکھتا ہے۔۔۔۔‘‘(۱؎)

ان تمام مقامات اور دیگر مناصب میں جو قرآن ، پیغمبر(ص) کے لئے ثابت کرتا ہے امیر المومنین(ع) ، پیغمبر(ص) کے شریک ہیں اور آپ(ع) خود ان مقامات کے حامل ہوں گے ۔

ایک مختصر جملے میں یہ کہ حضرت علی(ع) ،نفس پیغمبر(ص) ہیں اور نبوت کے علاوہ تمام مقامات و کمالات میں پیغمبر(ص) کے ساتھ شریک ہیں ۔یہ وہ نکتہ ہے جو پیغمبر اکرم(ص) نے روز مباہلہ اپنی جان اور نفس کے طور پر علی(ع) کا تعارف کرا کے بیان فرمایا ہے:

( فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاء نَا وَأَبْنَاء کُمْ وَنِسَاء نَا وَنِسَاء کُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَکُمْ ) ۔تو آپ کہہ د یں:آو ہم اپنے بیٹوںکو بلاتے ہیں اورتم اپنے بیٹوں کو بلاو، ہم اپنی خواتین کو بلاتے ہیں اور تم اپنی عورتوں کوبلاو، ہم اپنے نفسوںکو بلاتے ہیں اور تم اپنے نفسوں کو بلاو ۔‘‘(۲؎)

اس بناء پر امیر المومنین(ع)تمام مؤمنین کی جانوں پر خود ان سے زیادہ حق رکھتے ہیں اور ان پر آپ(ع) کا حکم نافذ ہے ۔ آپ(ع) ہی قرآن کے مفسر ومبین ، احکام کوبیان کرنے والے، مطلق حاکم اور اختلافات کے وقت مرجع ہوں گے ۔

____________________

۱۔احزاب: ۶

۲۔ آل عمران: ۶۱


اب کیا ایسے شخص کے ہوتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ کوئی اور پیغمبر(ص) کا جانشین ہوگا ؟

کیا عقل تسلیم کرتی ہے کہ ایسے شخص کو کنارے لگا دیا جائے اور ایک ایسے کو خلیفہ بنا دیا جائے جو ذرہ برابر ان مقامات کا حامل نہیں ہے اور اس نے ان مقامات کی خوشبو تک نہیں سونگھی ہے ؟

پیغمبر اکرم(ص) کے بعد امیر المومنین(ع) کی موجودگی گویا خود پیغمبر(ص) کی موجودگی ہے کہ وہ جان پیغمبر (ص) اور آپ(ص) کے شریک کار تھے ۔

پیغمبر اکرم(ص) کی پشت پناہی

حضرت موسیٰ نے خدا سے جن چیزوں کی درخواست کی تھی ، ان میں ایک حضرت ہارون(ع) کے ذریعے اپنی پشت پناہی کی دعا تھی :( اشْدُدْ بِهِ أَزْرِی ) ۔اسے میرا پشت پناہ بنا دے!‘‘(۱؎)

خدا نے بھی آپ(ع) کی دعا قبول کی اور فرمایا :( سَنَشُدُّ عَضُدَکَ بِأَخِیکَ ) عنقریب ہم آپ کے بھائی کے ذریعے آپ کے بازو مضبوط کریں گے۔‘‘(۲؎)

____________________

۱۔طٰہٰ: ۳۱

۲۔ قصص: ۳۵


اس بارے میں مروی روایات کے علاوہ مندرجہ بالا آیت ہی کی بنا پر پیغمبر(ص) کی پشتیبانی کا مرتبہ حضرت علی(ع) سے مخصوص ہوگا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ختم رسالت کا بوجھ پیغمبر خاتم (ص) کے کندھوں پر رکھا گیا ہے ، یہ تمام مسئو لیتوں سے بہت بڑی اور بہت بھاری مسئولیت تھی اور پیغمبر گرامی اسلام(ص) کے سوا کوئی اس بوجھ کو اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا تھا ۔

جیسا کہ ذکر شدہ احادیث میں گزر گیا کہ پیغمبر اکرم(ص) نے دعا فرمائی کہ امیر المومنین(ع) اس بڑی مسئولیت کے سلسلے میں آپ(ص) کا پشت پناہ اور قوی بازو بن جائے ۔

لیکن واضح ہے کہ پیغمبر خاتم (ص) کی پشت پناہی اور حضرت موسیٰ کی پشت پناہی ، بہت ہی مختلف ہے اور یہ اختلاف اس اختلاف کے مطابق ہے جو ان حضرات کے مقام و مرتبے میں ہے ۔

امور کی اصلاح ودرستگی

ساتواں مرتبہ، جو آیت سے استفادہ ہوتا ہے ، امور کی اصلاح اوردرستگی ہے۔ خداوند متعال ، حضرت موسیٰ کی زبان سے فرماتا ہے کہ انہوں نے خدا سے عرض کیا :

( وَقَالَ مُوسَی لأَخِیهِ هَارُونَ اخْلُفْنِی فِی قَوْمِی وَأَصْلِحْ ) ۔اور موس یٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا: میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور اصلاح کرتے رہنا۔(۱؎)

____________________

۱۔ اعراف: ۱۴۲


چنانچہ ہارون(ع) ،امت موسیٰ کے مصلح تھے اور آپ(ع) ، حضرت موسیٰ کی جگہ پر اس کی امت کے امور کی اصلاح اور انہیں منظم کرتے تھے ۔ اس امت میں یہ مقام علی(ع) ابن ابی طالب(ع) کے حوالے کیا گیا ہے ۔ آپ(ع) کو امت پیغمبر(ص) کے امور کی اصلاح و آراستگی کرنا ہے ، فتنوں کے آگے کھڑے ہو کر روکنا ہے اور گمراہی و انحرافات سے لوگوں کو بچا کر رکھنا ہے ۔

یہ واضح ہے کہ جو شخص ہرکام میں مطلقًا مصلح (اصلاح کرنے والا) ہو تو حتما ًاسے ہر حال میں صالح (اصلاح شدہ ) ہونا چاہئے ؛ اسی طرح جو مطلقًا ہر شعبے میں مصلح ہو اسے چاہئے کہ ہر چیز کی خوبی و برائی سے خوب آ گاہ ہو ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اصلاح کے نام پر برائی کی ترویج کر بیٹھے ۔

اس لحاظ سے یہ مقام ، امیر المومنین(ع) کی عصمت اور علم لدنی کا اقتضا کرتا ہے ۔

علم و آگہی

ہارون(ع) کی منزلتوں میں سے ایک یہ تھی کہ آپ(ع) حضرت موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل میں سے داناتر اور آ گاہ ترین فرد تھے ۔ اور حضرت علی(ع) کے ہارون(ع) کی جگہ لینے سے یہ مقام آپ(ع) کے لئے بھی ثابت ہوجانا چاہئے ۔ آپ(ع) نے خطبہ قاصعہ میں اس فضیلت کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے :

’’ کُنْتُ اَتَّبِعُهُ اَتَّبَاعَ الْفَصِیْلِ اَثَرَ اَمَّهِ، یَرْفَعُ لِی فِی کُلَّ یَوْمٍ مِنْ اَخْلاَقِهِ، عَلَمًا، وَیَامُرُنِی بِالْاِقْتَدَائِ بِهِ ۔ میں ان کے پیچھے پیچھے یوں لگا رہتا تھا جیسے اونٹنی کابچہ اپنی ماں کے پیچھے۔ آپ ہر روز میرے لئے اخلاق حسنہ کے پرچم بلند کرتے تھے اور مجھے ان کی پیروی کا حکم دیتے تھے ۔‘‘(۱؎)

____________________

۱۔نہج البلاغہ: خطبہ ۱۹۳، قاصعہ


ایک اور خطبے میں ، جبکہ بات غیب کی ہوئی ہے ، آپ(ع) فرماتے ہیں :

’’فَهَذَا عِلْمُ الْغَیْبِ الَّذِی لَا یَعْلَمُهُ أَحَدٌ إِلَّا اللَّهُ وَ مَا سِوَی ذَلِکَ فَعِلْمٌ عَلَّمَهُ اللَّهُ نَبِیَّهُ فَعَلَّمَنِیهِ وَ دَعَا لِی بِأَنْ یَعِیَهُ صَدْرِی وَ تَضْطَمَّ عَلَیْهِ جَوَانِحِی ۔یہ وہی علم غیب ہے جو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا اور ( خدا نے جو علم اپنے لئے مختص کیا ہے ) اس کے علاوہ باقی وہ علم ہے کہ جو خدا نے پیغمبر(ص) کو سکھایا ہے ، پھر آنحضرت(ص) نے مجھے اس کی تعلیم دی ہے اور میرے لئے دعا فرمائی ہے کہ میرے سینے میں اس کی گنجائش ہو جائے اور میرے اعضاء و جوارح اس سے پُر ہو جائے ۔‘‘(۱؎)

آپ(ع) کی اعلمیت اور آگاہی ایک طرف سے اسی خطبہ قاصعہ سے بھی ثابت ہو جاتی ہے جس میں خود آپ(ع) نے آنحضرت(ص) سے نقل فرمایا ہے کہ حضور(ص) نے آپ(ع) سے فرمایا :

’’ اِنَّکَ تَسْمَعُ مَا اَسْمَعُ وَتَرَیٰ مَا اَرَیٰ ۔( اے علی(ع)!) جو میں سنتا ہوں تم بھی سنتے ہو اور جو میں دیکھتا ہوں تم بھی دیکھتے ہو۔‘‘(۲؎)

ایک اور مقام پر پیغمبر اکرم(ص) ، امیر المومنین(ع) سے فرماتے ہیں :

’’انا مدینة العلم وعلی بابها فمن اراد المدینة فلیاتها من بابها ۔میں علم کا شہر ہوں اور علی(ع) اس کا دروازہ ہیں پس جو اس شہر میں آنا چاہے اس پر لازم ہے کہ دروازے سے آئے ۔‘‘(۳؎)

____________________

۱۔ نہج البلاغہ: خطبہ ۱۲۸

۲۔نہج البلاغہ: خطبہ ۱۹۳، قاصعہ

۳۔تاریخ الخلفاء: ۱۳۵؛ المعجم الکبیر: ۱۱/۶۵ ، ح۱۱۰۶۱؛ مجمع الزوائد: ۹/۱۱۴


یہ حدیث بھی ان احادیث میں سے ہے جو امیر المومنین(ع) کی امامت کو ثابت کرتی ہیں ۔ اس حدیث کے لئے الگ ہی بحث مختص کر دینا چاہئے تاکہ اس کی اسناد و دلالت کی تحقیق و جستجو کی جائے اور اس کو ردّ کرنے کے لئے مخالفین کی طرف سے کی جانے والی کوششوں ، جھوٹے پروپیگنڈوں ، تحریفوں اور ان کی خیانتوں سے پردہ اٹھایا جائے ۔

لیکن یہ بات ثابت شدہ ہے کہ حضرت موسیٰ کے بعد ہارون(ع) سب سے دانا تر تھے۔ بطور نمونہ مندرجہ ذیل آیت کے ضمن میں کتب تفاسیر سے رجوع فرمائیں!خدا وند متعال قارون کی زبانی نقل فرماتا ہے :

( قَالَ إنَّمَا أُوتِیتُهُ عَلَی عِلْمٍ عِندِی ) ۔قارون نے کہا: یہ سب مجھے اس مہارت کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘(۱؎)

مفسرین نے اس آیت کے ذیل میں یہ تصریح کی ہے کہ ہارون(ع) حضرت موسیٰ کے سوا تمام بنی اسرائیل سے دانا تر تھے ۔(۲؎)

____________________

۱۔ قصص: ۷۸

۲۔ ملاحظہ ہوں: تفسیر بغوی: ۴/ ۳۵۷؛ تفسیر جلالین: ۲/ ۲۰۱ ۔ اور دوسری تفسیریں


مقام عصمت

حدیث شریف سے معلوم ہونے والا نواں مقام ’’مقام عصمت ‘‘ہے ۔ واقعاً کیا کسی کو حضرت ہارون(ع) کی عصمت میں شک ہے ؟ اس حدیث میں پیغمبر(ص) نے علی(ع) کو ہارون(ع) کی طرح اور ان کی منزلت پر قرار دیا ہے ۔ ایک طرف سے کسی ایک صحابی نے مقام عصمت کا دعویٰ نہیں کیا ہے ۔ اسی طرح کوئی بھی حضرت علی(ع) کے سوا کسی صحابی کی عصمت کا دعویٰ نہیں کرتا۔

ساتویں مقام کی توضیح میں ہم کہہ چکے ہیں کہ کوئی بھی تمام امور میں مصلح نہیں ہوتا مگر یہ کہ خود تمام امور میں صالح ہو ۔ اب اس مقام کی توضیح میں چند سوالات درپیش ہیں۔

کیا کوئی عاقل مان سکتا ہے کہ پیغمبر(ص) کے بعد معصوم کی موجودگی میں کوئی غیر معصوم شخص ، امام بن جائے ؟

کیا عقل انسانی تسلیم کرتی ہے کہ معصوم کی موجودگی میں غیر معصوم، خدا اور مخلوقات کے درمیان واسطہ بن جائے ؟

کیا عقل کی رو سے صحیح ہے اور کیا عقلاء اجازت دیتے ہیں کہ معصوم کی موجودگی میں غیر معصوم کی پیروی کی جائے ؟

جی ہاں!امیر المومنین(ع) خطبہ قاصعہ میں اسی مقام عصمت کی جانب اشارہ فرما رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میں رسالت و وحی کے نور کو دیکھتا ہوں اور نبوت و پیغمبری کی خوشبو کو استشمام کرتا ہوں ۔


حقیقتاً کیا یہ معقول طرز عمل ہے کہ ایسے انسان کو کنارے لگا دیا جائے اور ایسے کی پیروی کی جائے جس کو اس منزلت سے تھوڑا سا حصہ بھی نہ ملا ہو ؟

واضح ہے کہ ہمارے پیغمبر(ص) جو کچھ دیکھتے اور سنتے تھے وہ گزشتہ انبیا ء کے دیکھنے اور سننے سے بہت بالا تر اور با اہمیت تھا ۔ پس امیر المومنین(ع) ہر وہ چیز سنتے تھے جو ہمارے پیغمبر(ص) سنتے اور ہر وہ دیکھتے جو ہمارے پیغمبر(ص) دیکھتے تھے ۔یہ نکتہ بیشتر غور و فکر کا متقاضی ہے ۔

مقام طہارت و پاکیزگی

دسویں منزلت ، طہارت و پاکیزگی کی منزلت ہے ۔ خدا ئے متعال نے مسجد الاقصیٰ کے بارے میں جناب ہارون(ع) کے لئے وہ چیزیں حلال کردیں جو دوسروں کے لئے حلال نہ تھیں ، حدیث منزلت کی رو سے یہ فضیلت و خصوصیت بھی امیر المومنین(ع) اور اہل بیت(ع) کے لئے موجود ہونا چاہئے ، اور یہ آپ(ع) اور اہل بیت(ع) کی ایک ایسی خصوصیت ہوگی جو ان بزرگواروں کو دوسروں سے ممتاز کرے گی اور یہ ہستیاں اس جہت سے دوسروں سے برتر ہوں گی ۔

جو فضیلت جناب ہارون(ع) کے لئے ثابت تھی وہ امیر المومنین(ع) کے لئے اثبات کرنے کے لئے احادیث میں بہت سارے شواہد ہیں ۔


ان میں سے ایک حدیث ’’سدّ الابواب‘‘ہے؛ ایسی حدیث جو شیعہ سنی مورد اتفاق روایات میں مختلف عبارتوں کے ساتھ نقل ہوئی ہے ۔ یہاں اہل سنت کی معتبر کتابوں سے بعض احادیث کی طرف اشارہ کریں گے ۔

ابن عساکر اپنی تاریخ میں یوں نقل کرتے ہیں :ایک دن رسول خدا(ص) نے ایک خطبہ دیا اور اس طرح ارشاد فرمایا :

’’انّ الله امر موسیٰ و هارون ا ن یتبوّا لقومهما بیوتا ً ، و امرها ان لا یبیت فی مسجدهما جنب ، ولا یقربوا فیه النسآء الّا هارون و ذرّیّته ، ولا یحلّ لاحد ان یقرب النسآء فی مسجدی هذا ولا یبیت فیه جنب الّا علیّ و ذرّیّته ۔خدا وند عالم نے حضرت موسیٰ اور ہارون کو حکم دیا کہ اپنی قوم کے لئے گھروں کا انتخاب کریں اور انہیں حکم دیا کہ کوئی بھی موسیٰ و ہارون کی مسجد میں جنابت کی حالت میں رات نہ گزارے اور کوئی مسجد میں عورتوں سے مقاربت نہ کرے سوائے ہارون اور اس کی ذرّیت کے ۔ اور کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ میری اس مسجد میں عورتوں سے مقاربت کرے اور حالت جنابت میں یہاں رات بسر کرے ، سوائے علی(ع) اور اس کی ذرّیت کے ۔‘‘(۱؎)

اس حدیث کو سیوطی نے بھی در منثور میں ،تاریخ ابن عساکر سے نقل کیا ہے ۔(۲؎)

____________________

۱۔ تاریخ مدینۃ دمشق: ۱/۲۹۶، حضرت علی(ع) کے حالات زندگی

۲۔ الدر المنثور: ۴/ ۳۸۴


مجمع الزوائد میں ہے کہ علی(ع) نے فرمایا : پیغمبر(ص) نے میرا ہاتھ تھاما اور فرمایا :

’’انّ موسیٰ سال ربه ا ن یطهّر مسجده بهارون و انّی سالت ربّی ا ن یطهّر مسجدی بک و بذرّیّتک ۔موسیٰ نے اپنے پروردگار سے چاہا تھا کہ اس کی مسجد کو ہارون(ع) کے لئے پاک فرما دے اور میں نے اپنے پروردگار سے چاہا ہے کہ میری مسجد کو تمہارے اور تمہاری ذرّیت کے لئے پاک قرار دے ۔‘‘

اس وقت پیغمبر اکرم(ص) نے کسی کو ابوبکر کے پاس یہ کہلابھیجا کہ تم نے جو دروازہ اپنے گھر سے مسجد کی طرف کھولا ہے اسے بند کرو ۔

ابوبکر نے کہا :’’انّا لله و انّا الیه راجعون‘‘ ، پھر کہا :سن لیا اور اطاعت کی۔ اسی وقت گھر کے دروازے کو مسدود کر دیا ۔پھر حضور اکرم(ص) نے کسی کو عمر اور ابن عباس کے ہاں اسی فرمان کے ساتھ بھیجا ۔

اس موقع پر آپ(ص) نے فرمایا :’’ما انا سددتُ ابوابکم و فتحتُ باب علیّ ، ولکنّ الله فتح باب علیّ و سدّ ابوابکم ۔میں نے تمہارے گھروں کے دروازے بند نہیں کئے اور علی(ع) کا دروازہ کھلا نہ چھوڑا ؛ بلکہ خدا نے علی(ع) کے گھر کا دروازہ کھلا چھوڑا اور تمہارے دروازے بن کر دئیے ۔‘‘(۱؎)

____________________

۱۔مجمع الزوائد: ۹/ ۱۱۴


یہ واقعہ دوسری بار مجمع الزوائد ، کنز العمال اور دیگر منابع میں کسی اور صورت میں نقل ہوا ہے ۔ مجمع الزوائد میں ذکر ہوا ہے کہ:

جب پیغمبر اکرم(ص) نے تمام اہل مسجد کو نکال باہر کر دیا اور علی(ع) کے دروازے کے سوا مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند کرا دیئے تو لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں ، لوگ اعتراض کرنے لگے ، حضور اکرم (ص) کو اس اعتراض کی خبر ہوئی تو آپ(ص) نے فرمایا :

’’ما انا اخرجتکم من قبل نفسی ولا انا ترکته، ولکن اللّٰه اخرجکم و ترکه ، انّما انا عبد مامور ، ما امرت به فعلت، ان اتّبع الّا ما یُوحیٰ الیّ ۔میں نے خود ہی سے تمہیں مسجد سے باہر نہیں نکالا اور علی(ع) کو اپنے حال پر باقی نہ رکھا ، بلکہ خدا وند متعال نے تمہیں خارج کردیا اور علی(ع) کے دروازے کو اپنی حالت پر چھوڑ دیا ۔ میں تو فقط ایک مامور ہوں ، جس چیز کا مجھے حکم دیا جاتا ہے میں انجام دیتا ہوں ، میں فقط مجھ پر ہونے والی وحی کی پیروی کرتا ہوں ۔ ‘‘(۱؎)

____________________

۱۔ مجمع الزوائد: ۹/۱۱۵؛ کنز العمال: ۱۱/ ۶۰۰، حدیث ۳۲۸۸۷


دوسرے مصادرنے بھی اس واقعے کو نقل کیا ہے؛ احمد بن حنبل کی ’’مسند‘‘اور ’’المناقب‘‘، حاکم نیشاپوری کی ’’المستدرک‘‘، مجمع الزوائد ، تاریخ مدینہ دمشق اور دوسرے مصادر میں زید بن ارقم سے نقل ہوا ہے کہ وہ کہتا ہے:

’’اصحاب پیغمبر(ص) میں سے ایک گروہ کے گھروں کے دروازے مسجد کی طرف کھلتے تھے، ایک روز حضور(ص) نے فرمایا :’’سدّوا هذا الابواب الّا باب علیّ‘‘ علی(ع) کے دروازے کے سوا ان تمام دروازوں کو بند کر دو!

بعض نے آپ(ص) کے اس حکم کے بارے میں مختلف باتیں کیں اور اعتراضات کئے۔ ایسے میں پیغمبر اکرم(ص) کھڑے ہو گئے اور حمد و ثنا ئے الٰہی کے بعد ارشاد فرمایا:

’’امّا بعد فانّی امرتُ سدّ هذه الابواب غیر باب علی ، فقال فیه قائلکم واللّٰه ما سددت شیئاً ولا فتحته ولکن امرت بشیء اتبعته ۔میں نے حکم دیا کہ سوائے در علی(ع) کے باقی تمام دروازے بند کردیئے جائیں ۔ تم میں سے بعض نے اعتراض کیا۔ خدا کی قسم!میں نے کوئی دروازہ بند نہیں کیا اور نہ ہی کھولا؛ بلکہ مجھے حکم دیا گیا اور میں نے اطاعت کی ۔‘‘(۱؎)

یہ حدیث سنن ترمذی ، خصائص نسائی اور دوسرے مصادرمیں بھی نقل ہوئی ہے۔(۲؎)

____________________

۱۔ المناقب: ۷۲، حدیث ۱۰۹؛ مسند احمد: ۵/ ۴۹۶، حدیث ۱۸۸۰۱؛ المستدرک: ۳/ ۱۲۵؛ مجمع الزوائد: ۹/ ۱۱۴؛ تاریخ مدینۃ دمشق: ۱/ ۲۷۹۔۲۰۸، حدیث ۳۲۴، حضرت علی(ع) کے حالات زندگی؛ الریاض النضرۃ: ۳/۱۸۵

۲۔ ملاحظہ ہو: سنن ترمذی: ۵/ ۳۰۵؛ خصائص نسائی: ۵۹ / حدیث ۳۸


بنا بر این در خانہ علی(ع) کے سوا مسجد کی طرف کھلنے والے دروازوں کو بند کرنے کا ماجرا ، حدیث منزلت کے موارد میں سے ایک ہوگا کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا :

’’انت منّی بمنزلة هارون من موسیٰ الاّ انّه لا نبیّ بعدی ۔تم میرے لئے اسی مقام پر جس مقام پر موسیٰ کے لئے ہارون تھے؛ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں۔‘‘

مذکورہ تمام مطالب کے پیش نظر حضرت امیر المومنین(ع) کی امامت پر حدیث منزلت کی دلالت چند جہات سے واضح ہوجاتی ہے:

۱ ۔حضرت امیر المومنین(ع) کی عصمت کی جہت سے،

۲ ۔ دوسروں پر آپ(ع) کی افضلیت و برتری کے حوالے سے،

۳ ۔ان خصوصیات کے ثابت ہونے کی جہت سے جو جناب ہارون(ع) کے لئے ثابت تھیں۔


چوتھا حصہ:

امیر المومنین(ع) کی خلافت پر

حدیث منزلت کی دلالت


حدیث منزلت اور خلافت علی(ع)کا واضح بیان

گزشتہ مطالب سے معلوم ہوا کہ حدیث منزلت امیر المومنین(ع) کے لئے متعدد ایسے مقامات و منزلتوں کو ثابت کرتی ہے کہ جن میں سے ہر ایک کا لازمہ آپ(ع) کی امامت و خلافت ہے ۔ یہاں اس بارے میں بات کی جا رہی ہے کہ لوازم سے ہٹ کر یہ حدیث بلاواسطہ اور صراحتاً بھی آپ(ع) کے لئے پیغمبر اکرم(ص) کی خلافت و جانشینی کے مقام کو ثابت کرتی ہے۔ بنا بر ایں یہ حدیث واضح اور کھلے لفظوں میں آپ(ع) کی خلافت پر دلالت کرتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جناب ہارون(ع)کے مقامات میں سے ایک آپ(ع) کا حضرت موسیٰ کا جانشین ہونا تھا۔ خدا وند متعال ، حضرت موسیٰ کی زبان سے نقل کرتا ہے کہ انہوں نے ہارون(ع) سے یوں فرمایا:

’’اخْلُفْنِی فِی قَوْمِی وَأَصْلِحْ وَلاَ تَتَّبِعْ سَبِیلَ الْمُفْسِدِینَ ۔میری قوم میں میرا جانشین بنے رہو ،ان کے امور کی اصلاح کرو اور مفسدین کی پیروی نہ کرو۔‘‘(۱؎)

____________________

اعراف: ۱۴۲


پیغمبر(ص) کی جانشینی، فضائل کی اوج

بغیر کسی شک وشبہ کے کہا جا سکتا ہے کہ پیغمبر(ص) کی خلافت و جانشینی کے لئے قابلیت اور صلاحیت کا ہونا ضروری ہے اس طرح کہ جانشین ، آنحضرت(ص) کی جگہ پر بیٹھ سکے اوران کی غیر موجودگی میں تمام امور اورذمہ داریوں کو بخوبی انجام دے؛ کیونکہ وہ پیغمبر(ص) کی جگہ پر بیٹھا ہوا ہے۔ آپ(ص) کا جانشین ، آپ(ص) کی خالی جگہ کو پر کرنے کے لئے ہے ، اس رو سے لازم ہے کہ وہ پیغمبر(ص) کے ساتھ کوئی تناسب رکھتا ہو تاکہ اس کام سے عہدہ برآ ہو سکے۔

جانشین پیغمبر(ص) کے لئے ضروری ہے کہ فضائل و کمالات میں بلندی پر ہو تاکہ یہ بلند مقام ، اس سے جڑ سکے، اور ایسی صلاحیت کا حامل ہو کہ پیغمبر(ص) کی جگہ اس کو بٹھانا عقل و منطق کی رو سے کوئی بعید کام شمار کیا نہ ہو ؛ کیونکہ یہ واضح ہے کہ کسی ایسے شخص کو کسی کی جگہ بٹھایا جائے جو اس کی صلاحیت نہ رکھتا ہو، اس کے امور کو بخوبی انجام نہیں دے سکتا ہو اور دونوں کے درمیان کوئی تناسب ہی نہ ہو تو ایسا کیا جانا ، عقل وحکمت سے بعید کام ہے۔


قابلیت کا ظہور

اب سوال یہ ہے کہ جناب موسیٰ نے ایسی صلاحیت اپنے بھائی ہارون میں دیکھی تھی اور ہارون کو اس قابل سمجھتے تھے کہ ان کی اپنی غیر موجودگی میں آپ کا جانشین بن جائے ؟ اور کیا ہارون اس مقام کی اہلیت رکھتے تھے یا نہیں؟

جب خدا وند متعال نے اس خلافت کی تائید فرمائی اور قرآن مجید میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے تو قطعا ایسی صلاحیت ہارون(ع) میں دیکھی ہوگی۔

دلچسپ بات یہ کہ حضرت موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون کو کسی قید وشرط کے بغیر اپنا خلیفہ قرار دیا ہے:’’اخْلُفْنِی فِی قَوْمِی‘‘ میری قوم میں میرا جانشین بنے رہو ۔یعنی جناب ہارون ان تمام مسئولیتوں میں ، جوحضرت موسیٰ کے ذمے تھیں ، آپ کے جانشین اور قائم مقام ہیں۔

بنا بر ایں حضرت موسیٰ نے اپنے بھائی کو ، اگرچہ کوہ طور پر جانے کی قلیل مدت کے لئے ہی سہی، اپنا جانشین مطلق قرار دیا ؛ یعنی ہارون(ع) تمام حالتوں میں موسیٰ کا جانشین ہے اور انہوں نے بھی حضرت موسیٰ کی طرح روحانی کمالات اور معنوی مقامات کے درجات کو طے کیا ہے اس لئے اس مقام کے حامل ہو سکتے ہیں۔ ایک جملے میں اگر کہا جائے تو یہ کہ حضرت ہارون(ع) ، خدا کا وہ مورد پسند شخص ہے جسے خدا نے اسی مقام کے لئے لائق انتخاب کیا ہے۔

اگر وہ اس مقام کے حامل ہیں تو جب بھی موسیٰ غائب ہوں انہی کو خلیفہ اور جانشین ہونا چاہئے ، خواہ ان کی کی زندگی میں ہو یا ان کی وفات کے بعد۔


یہ اتنا اہم نہیں ہے کہ ہارون(ع) نے کتنے روز خلافت کی؛ بلکہ اہم یہ ہے کہ وہ اس مقام کے لئے قابلیت و صلاحیت رکھتا ہے۔ کیونکہ جب حضرت موسیٰ کے بارے میں یہ طے ہو گیا کہ آپ خدا سے مناجات کرنے کوہ طور جائیں گے تو یہ طے تھا کہ مناجات ۰ روز پر مشتمل ہوگی ؛ لیکن ۰ دن اس پر اضافہ ہو گئے ۔ ہم پوچھتے ہیں کہ اگر موسیٰ نے ہارون کو شروع ہی سے صرف ۰ دنوں کے لئے خلیفہ قرار دیا تھا تو اضافہ کئے گئے دس دنوں میں وہ کس طرح اس مقام پر باقی رہے؟

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہارون(ع) کی خلافت فقط تیس روز پر مشتمل نہ تھی؛ بلکہ ہر اس وقت کہ جب موسیٰ غائب ہوں وہ خلیفہ ہوں گے؛ یہاں تک کہ اگر آپ(ع) کی غیبت اس چالیس روز سے زیادہ بھی ہوتی۔

اس رو سے حدیث منزلت کے تحت پیغمبر اکرم(ص) کی نسبت امیر المومنین(ع) ایسی منزلت رکھتے ہیں یعنی رسول خدا(ص) کی نیابت و خلافت آپ(ع) کے لئے ثابت ہو جاتی ہے اور آنحضرت(ص) کی غیر موجودگی میں فقط آپ(ع) ہی کو جانشین ہونا چاہئے۔

جی ہاں!اس حدیث سے بخوبی استفادہ ہوتا ہے کہ خدا وند متعال نے امیر المومنین(ع) کو اس مقام کے لئے انتخاب کیا ہے اور اللہ تعالیٰ ، آپ(ع) کو اس مقام کا لائق سمجھتا ہے۔

مختصر یہ کہ مقام خلافت ، کوئی سریع الزوال منصب نہیں ہے ؛ بلکہ قرب الٰہی کے درجات اور روحانی مقامات میں سے ہے کہ جو ضروری صلاحیتوں اور رضائے الٰہی کا محتاج ہے۔


بلا شرط فرمان برداری

خلافت کا اثر و نتیجہ یہ ہے کہ لوگوں پر تمام امور میں بغیر کسی قید وشرط کے امیر المومنینؑ کی اطاعت کرنا اور ہمیشہ آپ(ع) کے فرامین پر کان دھرنا واجب ہے۔اور آپ(ع) کی اس اطاعت اور بدون قید وشرط فرمان برداری کا لازمہ یہ ہے کہ آپ(ع) امامت و ولایت عامہ کے حامل ہوں۔

ممکن ہے کوئی یہ گمان کرے کہ ہارون کی بے چون و چرا اطاعت کا واجب ہونا اس لحاظ سے تھا کہ وہ پیغمبر تھے نہ کہ اس لحاظ سے کہ وہ موسیٰ کے جانشین تھے بنا بر ایں اطاعت مطلقہ کا واجب ہونا خلافت کے آثار میں سے نہیں ہے؛ اور چونکہ امیر المومنین(ع) ، پیغمبر نہیں اس لئے یہ اثر آپ(ع) کے لئے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

یہ اشکال اگرچہ بعض علمائے اہل سنت نے اپنی کتب میں ذکر کیا ہے؛ لیکن یہ ایک فضول اور غلط توہم کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

اس مطلب کی وضاحت یہ ہے کہ اگر بلا چون وچرا اطاعت کا واجب ہونا ، خلافت کے نہیں بلکہ نبوت کے آثار میں سے ہے تو پہلے تین خلفا کی اطاعت بھی واجب نہیں ہے؛ کیونکہ وہ بھی تو پیغمبر نہیں تھے اور امیر المومنین(ع) کی اطاعت بھی خلیفہ چہارم ماننے کے سبب واجب نہیں کہ آپ(ع) بھی پیغمبر نہیں فقط جانشین پیغمبر ہیں۔


حدیث منزلت اور علمائے اہل سنت کا نظریہ

اس ضمن میں جو کتب لکھی گئی ہیں ان میں اہل سنت کے علماء اور دانشمندوں نے تصریح کردی ہے کہ یہ حدیث حضرت علی(ع) کی امامت و خلافت پر دلالت کرتی ہے۔

بطور نمونہ ایک کتاب ’’تحفہ اثنا عشریہ‘‘ہے جو شیعہ اثنا عشری کے ردّ میں لکھی گئی ہے۔ اس کا مصنف اعتراف کرتا ہے کہ حدیث منزلت حضرت علی(ع) کی خلافت کو ثابت کرتی ہے؛ بلکہ بات اس سے بڑھ گئی ہے، کہتا ہے :کوئی بھی اس حدیث کی دلالت کا انکار نہیں کرتا مگر یہ کہ وہ ناصبی و دشمن اہل بیت ہو اور اہل سنت ہرگز ایسے لوگوں سے راضی نہیں ہیں۔(۱؎)

ہماری بات یہاں خلافت بلافصل ثابت کرنے میں ہے یعنی پیغمبر(ص) کے بعد بلافاصلہ آپ(ع) ہی آنحضرت(ص) کے جانشین ہیں؛ لیکن اس حدیث سے اصل خلافت کا اثبات ایسی بات ہے جس سے انکار ممکن نہیں مگر یہ کہ کسی ناصبی یا دشمن علی(ع) سے۔ جیسا کہ تحفہ اثنا عشریہ کے مصنف نے اس مطلب کی تصریح کی ہے ۔ اور حدیث کی دلالت کو اسی حد تک قبول کیا ہے۔

اس کے باوجود اہل سنت کی کتب احادیث اور ان کی شروحات سے مراجعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ خلافت و ولایت پر اس حدیث کی اصل دلالت کو ہی قبول نہیں کرتے اور اس میں مناقشہ کرتے ہیں، یعنی وہی کام کرتے ہیں جس کی نسبت تحفہ اثنا عشریہ کے مصنف نے ناصبیوں اور دشمنان اہل بیت کی طرف دی ہے۔

____________________

۱۔ تحفۃ الاثنا عشریہ: ۲۱۰


بطور نمونہ اگر حافظ بن حجر عسقلانی کی فتح الباری ، حافظ نووی کی شرح صحیح مسلم اور المرقاۃ فی شرح المشکاۃ سے رجوع کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ اس حدیث کی شرح و تفسیر میں امامت وولایت پر اس کی دلالت پر اشکال کرتے ہیں ؛ یعنی تحفہ اثنا عشریہ کی وہی بات جو ہم پہلے نقل کر چکے ہیں۔

اب شرح صحیح مسلم میں نووی کی باتوں پر توجہ کریں ۔ اس کی عین عبارت یااسی طرح کی عبارت اہل سنت کے مذکورہ لکھاریوں نے اپنی مذکورہ کتب میں نقل کی ہے۔

نووی کا بیان ہے:یہ حدیث پیغمبراکرم (ص) کے بعد، علی(ع)کی جانشینی پر کوئی دلالت نہیں کرتی؛ کیونکہ پیغمبر(ص) نے یہ جملہ اس وقت فرمایا کہ جب آپ(ص) ، علی(ع) کو مدینہ میں اپنی جگہ چھوڑ کر تبوک کی طرف جا رہے تھے۔

نووی یہ کہنا چاہتا ہے کہ یہ حدیث ایک خاص مورد میں بیان ہوئی ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ ہارون(ع) ، علی(ع) کی جس سے تشبیہ دی گئی ہے ، موسیٰ کے بعد خلیفہ نہ تھے ؛ بلکہ وہ موسیٰ کی زندگی میں ہی دنیا سے چل بسے ۔ تاریخ نگاروں کے نزدیک جو بات مشہور ہے اس کے مطابق ہارون(ع) نے حضرت موسیٰ کی وفات سے چالیس سال قبل رحلت فرمائی۔ کہتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ نے اپنے پروردگار کی میقات کی جانب مناجات کے لئے جانا چاہا تو ہارون(ع) کو اپنا جانشین بنایا ۔ پس یہ خلافت و جانشینی ایک خاص محدودے میں ایک خاص واقعے سے متعلق ، موقت جانشینی ہے ، ہماری بحث ’’خلافت و جانشینی ‘‘ پر اس کی کوئی دلالت نہیں ہے۔(۱؎)

____________________

۱۔شرح صحیح مسلم، نووی: ۱۵//۱۷۴


سچ بتائیے !فیصلہ کیجئے!کیا ناصبی کے علاوہ کوئی ایسی بات کر سکتا ہے ؟ ایسی بات کہ کوئی بھی شخص یہاں تک تحفہ اثنا عشریہ کا مصنف بھی اس کی نسبت اپنی طرف دینا نہیں چاہتا، اسی لئے اس نے ناصبیوں کی طرف نسبت دی ہے۔

البتہ ہم ابن تیمیہ اور شیعہ عقائد کو رد کرنے والے دوسرے افراد کی باتیں بھی نقل کریں گے اور ان کی عبارتوں کے مخصوص حصوں کو لکھیں گے تاکہ معلوم ہوجائے کہ ناصبی کون لوگ ہیں ۔ اس وقت آپ پہلے سے زیادہ ناصبیوں کے بارے میں آشنا ہو جائیں گے۔

اب تک یہ بیان ہوا کہ حدیث منزلت کس طرح صراحت سے امیر المومنین(ع) کی خلافت و امامت اور ولایت پر دلالت رکھتی ہے کہ صاحب تحفہ اثنا عشریہ بھی اس دلالت کا منکر نہیں ہے ؛ لیکن آخر میں کہتا ہے :طرف مقابل سے پورا نزاع اور جھگڑا پیغمبر(ص) کے بعد بلا فصل امامت کے بارے میں ہے۔


پانچواں حصہ:

حدیث منزلت کو رد کرنے کی علمی کوششیں


حدیث منزلت کو ردّ کرنے کی کوششیں

گزشتہ مباحث میں سند اور متن کے لحاظ سے حدیث منزلت کی تحقیق کی۔ اس حصے میں علمی اشکالات اور ان کوششوں کی تحقیق کریں گے جو اس حدیث کو رد کرنے کے لئے اہل تسنن کی طرف سے کی گئی ہیں۔ ان اعتراضات اور اشکالات کو ہم دو مرحلوں میں ذکر کریں گے:

علمی اشکالات

ہم حدیث منزلت کے بارے میں ہر اشکال اور اعتراض قبول کرنے کو تیار ہیں بشرطیکہ وہ علمی بنیادوں پر مشتمل ہوں اور مناظرہ و گفتگو کے بارے میں بیان شدہ قواعد پر مبنی ہوں۔

اس حدیث کی دلالت پر کئے گئے اشکالات بطور خلاصہ تین اشکالات میں سمٹ جاتے ہیں:

پہلا اشکال :مدعا پر حدیث کا دلالت نہ کرنا

مخالفین کے پہلے اشکال کا ماحصل یہ ہے:

اس حدیث سے عمومی طور پر یہ استفادہ نہیں کیا جا سکتا کہ علی(ع) ہر جہت سے ہارون(ع) کی شبیہ ہیں؛ کیونکہ ان دونوں میں فقط ایک جہت سے شباہت پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ہم اس بات کو بھی قبول نہیں کرتے کہ علی(ع) ، رسول اللہ (ص) کے لئے ہر مقام اور منزل پر وہی حیثیت رکھتے ہوں جو موسیٰ کے لئے ہارون کی حیثیت تھی۔


دوسرا اشکال :خلافت کی محدودیت

اس حدیث سے جو خلافت و جانشینی ثابت ہوتی ہے وہ ایک موقتی خلافت ہے جو کسی خاص تقاضے کے مطابق ، محدود وقت کے لئے تھی۔ وہی زمانہ کہ جس میں پیغمبر(ص) زندہ تھے ، اور ہارون(ع) کی خلافت بھی اس وقت سے مربوط تھی جب حضرت موسیٰ اپنے رب سے مناجات کرنے گئے تھے ۔

اس مطلب کی تائید موسیٰ کی زندگی میں ہارون کے انتقال کر جانے سے بھی ہوتی ہے۔ اس بنا پر ہم کس خلافت کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں؟

تیسرا اشکال :خلافت صرف جنگ تبوک کے وقت سے مخصوص تھی

یعنی یہ کہ حدیث منزلت جنگ تبوک کے وقت صادر ہوئی ہے ۔ جب پیغمبر(ص) مدینہ سے باہر تبوک کی طرف جارہے تھے علی(ع) کو اس لئے مدینہ چھوڑ گئے تھے کہ اپنے شخصی اور گھریلو امور کو سنبھالے اور مدینہ میں رہ جانے والوں کے امور کی تدبیر کرے ۔ اس بنا پر یہ حدیث ، کہ جو ایک معین واقعہ میں بیان ہوئی ہے ، اسی مورد کے لئے خاص ہو جائے گی۔


پہلے اشکال کا جواب

اس اشکال کا خلاصہ یہ تھا کہ ہارون(ع) سے علی(ع) کی شباہت تمام مقامات و منزلتوں میں نہیں ہے اور یہ شباہت ایسی عمومیت نہیں رکھتی جو ہارون کے تمام مقامات و منزلتوں کو شامل ہو جائے۔

اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ اس حدیث میں دو ایسی عبارتیں ہیں جو اس کے معنی کو واضح کر دیتی ہیں:

ا۔’’انت منّی بمنزلة هارون‘‘

اس عبارت میں اسم جنس’’منزلة‘‘ علم’’هارون ‘‘ کی طرف اضافہ ہوا ہے۔

۲ ۔استثنا :’’الّا انّه لا نبیّ بعدی‘‘

اس استثنا کے ذریعے نبی اکرم(ص) نے ان تمام مقامات میں سے ، کہ جو امام(ع) کو حاصل ہیں ، فقط نبوت کو خارج کر دیا ہے۔ یہی استثنا بتاتا ہے کہ حضرت ہارون(ع) متعدد مقامات کے حامل تھے ان میں سے ایک مقام سے علی(ع) کو الگ رکھا گیا ہے۔

اصول فقہ ، بلاغت اور ادبیات کی کتب میں اس بات کو صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ ’’استثنا ، عموم کا معیار اور ملاک ہے ؛ یعنی جب کسی جملے میں استثنا آئے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس جملے میں عمومیت پائی جاتی ہے اور اس کا حکم سب کو شامل ہے جن میں سے فقط ایک مورد کو الگ کیا گیا ہے۔

اسی طرح ان کتب میں اس بات کی بھی تصریح ہے کہ ’’اسم جنس مضاف‘‘الفاظ عموم میں سے ہے۔ کیا اس کے باوجود بھی کوئی اشکال باقی رہ جاتا ہے؟


اس بنا پر اس حدیث میں’’بمنزلة هارون‘‘ اسم جنس مضاف اور صیغہ عموم میں سے ہے۔ اسی طرح استثناء کا جملہ بھی عموم کے وجود کی دلیل ہے ؛ یعنی امیر المومنین(ع) پیغمبری کے سوا تمام مقامات اور منزلتوں میں حضرت ہارون کی طرح ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ حدیث تمام منابع میں اسی کیفیت کے ساتھ نقل ہوئی ہے ؛ یعنی یہی دو قرائن حدیث کے تمام متون میں موجود ہیں۔’’انت منّی بمنزلة هارون‘‘ اور’’الّا انّه لا نبیّ بعدی‘‘

لہٰذا اس حدیث سے پیغمبر(ص) کی مراد عموم نہ ہونے کا کوئی احتمال باقی نہیں رہتااور حدیث اپنے مطلب میں صراحت کی حامل ہے؛ لہٰذا پہلا اشکال سرے سے ہی باطل ہو جاتا ہے۔

اہل فن کا نظریہ

ابن حاجب علم اصول اور عربی ادبیا ت کے بزرگوں اور پیشواوں میں سے ہے وہ اپنی کتاب مختصر الاصول میں ، جس کی بہت سی شرحیں لکھی جا چکی ہیں اور حوزات علمیہ کی درسی کتب میں شامل رہی ہے ، یوں لکھتا ہے:

محققین کے نزدیک جو صیغے عموم کے لئے وضع کئے گئے ہیں وہ مند رجہ ذیل ہیں: اسم شرط، اسم استفہام، موصولات، وہ جمع جس پر الف لام عہدنہ ہو بلکہ الف لام جنس داخل ہو اور خود اسم جنس جو الف لام یا اضافہ کے ذریعے معرفہ ہو گیا ہو۔(۱؎)

____________________

۱۔ المختصر( بیان المختصر۲) :۱۱۱


وہ محققین جو زیادہ مدارک و ماخذ کے خواہاں ہیں وہ ادبی کتب سے ،جیسے جلال الدین سیوطی کی کتاب ’’الاشباہ و النظائر‘‘اور ’’الکافیہ فی علم النحو‘‘ با شرح محقق جامی کہ جو’’ الفوائد الضیائیہ ‘‘کے نام سے مشہور ہے، رجوع کر سکتے ہیں ۔ یہ کتاب بھی حالیہ وقتوں میں حوزات علمیہ میں پڑھائی جاتی رہی ہے۔

اصولی کتب میں سے قاضی بیضاوی کی کتاب ’’المنہاج ‘‘اور اسی پر لکھی گئی شرحوں کی طرف مراجعہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ’’فواتح الرحموت فی شرح مسلم الثبوت‘‘ کو ملاحظہ کیا جا سکتا ہے ۔ یہ کتاب ، اصول فقہ میں اہل تسنن کی معتبر اور مشہور کتب میں سے ہے۔

علم بلاغت کی کتب میں سے تفتازانی کی کتب’’ المطوّل فی شرح التلخیص‘‘ اور’’مختصر المعانی فی شرح التلخیص‘‘ دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہ دونوں کتابیں بھی حوزات میں پڑھائی جاتی ہیں۔ اسی طرح اصول فقہ، نحو اور بلاغت کے موضوع پر لکھی گئی کتابیں بھی ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔

استثناء کے بارے میں بھی اصول فقہ کے تمام علمائے ما سلف نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ عموم کی موجودگی کا معیار استثناء کا وجود ہے۔

یہ بات قاضی بیضاوی کی کتاب ’’منھاج الوصول الی علم الاصول‘‘ اور اس پر لکھی گئی شرحوں میں مرقوم ہے۔ جیسا کہ ’’شرح ابن امام الکاملیہ‘‘ اور دوسری شرحوں میں ہے۔


بنا بر ایں ہر وہ مقام ،جہاں پر استثناء صحیح ہو اور حکم افراد خاص میں محصور نہ ہو تو وہ عام ہوگا اور حدیث منزلت میں بھی استثناء پایا جاتا ہے۔

ہاں ! اگر کوئی یہ کہے کہ یہ حدیث صرف غزوۂ تبوک سے مختص ہے ؛ لہٰذا اس کی عمومیت سے صرف نظر کرنا چاہئے ؛ کیونکہ جب تخصیص کی کوئی دلیل یا شاہد نہ ہو تو پھر لفظ، عموم پر دلالت نہیں کرے گا۔ اس بنا پر حدیث منزلت صرف یہ بیان کر پائے گی کہ علی(ع) کی جانشینی ، مدینے میں باقی رہنے والوں کے لئے تھی تاکہ آپ(ع) بچوں، عورتوں اور ضعیفوں کے امور کی دیکھ بھال کریں، جیسا کہ ابن تیمیہ کا یہی نظریہ ہے، اسکے علاوہ حدیث سے کچھ ثابت نہیں ہوتا۔

واضح ہے کہ یہ اشکال اور دعویٰ دونوں صحیح نہیں ہیں؛ کیونکہ ، ہم بعد میں بھی بیان کریں گے ، حدیث منزلت غزوہ تبوک کے علاوہ دوسرے مواقع پر بھی رسول اکرم (ص) سے روایت ہو چکی ہے۔

ایک اشکال یہ بھی کیا جاتا ہے کہ استثناء جب استثنائے متصل ہو تو اپنے سابق جملے کی عمومیت پر دلالت کرتا ہے ؛ جبکہ یہاں استثناء ، منقطع ہے ؛ کیونکہ حدیث میں جو کچھ استثناء ہوا ہے وہ ایک جملہ خبریہ ہے اور جملہ خبریہ کا استثناء، استثنائے متصل ہو ہی نہیں ہو سکتا۔

اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ بیان کردہ مطالب ، علمی بحثیں ہیں کہ جن سے حقائق کے متلاشی افراد کسی حد تک آشنا ہوں گے۔یہ اشکال دیکھنے میں بہت خوبصورت اور زیبا ہے۔ اگر یہ صحیح ہو تو پھر استثناء کی موجودگی کے ذریعے حدیث کی عمومیت پر استدلال کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ اس اشکال کو صاحب تحفۃ الاثنا عشریہ نے ذکر کیا ہے۔(۱؎)

____________________

۱۔ تحفۃ الاثنا عشریہ: ۲۱۱


لیکن جب ہم حدیث کے مختلف متون کو ملاحظہ کرتے ہیں تو ان میں سے بعض متون میں’’الَّا‘‘ کے بعد جملہ خبریہ کی بجائے صرف’’النّبوّة‘‘ موجود ہے۔

اسی عبارت کے ساتھ نقل ہونے والی حدیث یا احادیث کی اسناد صحیح ہیں؛ جیسا کہ ابن کثیر دمشقی نے اپنی تاریخی کتاب’’البدایة والنهایة‘‘ میں اس حدیث کی سند کے صحیح ہونے کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔(۱؎)

اس کے علاوہ اہل سنت کے ہاں یہ مسلم بات ہے کہ علم اصول اور بلاغت کی رو سے استثناء میں ’’اصل اولی‘‘ استثنائے متصل ہونا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس اصل سے دستبردار ہونا اس وقت تک صحیح نہیں ہے جب تک کوئی دلیل یا قرینہ نہ ہو۔

صاحب تحفۃ الاثنا عشریہ ، جملہ خبریہ کی صورت میں آنے والے استثناء کو قرینہ بنا کر اس ’’اصل اولی ‘‘سے دستبردار ہونا چاہتا ہے؛ لیکن ہم نے جوابا ً کہا ہے کہ بعض متون میں یہ مستثنیٰ جملہ خبریہ کی صورت میں نہیں ؛ بلکہ اسم ہے۔

استثناء میں ’’ اصل اولی‘‘ استثنائے متصل ہونا ہے نہ کہ منقطع ہونا، اس سلسلے میں علمائے اہل سنت کی تعبیرات اور تصریحات سے آشنائی کے لئے حوزہ علمیہ میں پڑھائی جانے والی کتاب’’المطوّل‘‘ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔(۲؎)

نیز اصول بزدوی کی شرح میں لکھی گئی شیخ عبد العزیز بخاری کی کتاب ’’کشف الاسرار‘‘ سے بھی مراجعہ کیا جا سکتا ہے جو اہل سنت کے اصولی مصادر میں سے ہے۔(۳؎)

____________________

۱۔ البدایہ و النہایہ: ۷/ ۳۴۰

۲۔المطوّل: ۲۰۴۔۲۲۴

۳۔ کشف الاسرار: ۳/ ۱۷۸


اس کے علاوہ ابن حاجب بھی ’’مختصر الاصول‘‘ میں اسی مطلب کی تصریح کی ہے۔(۱؎) یہاں تک کہ اگر حدیث کی شرحوں کی طرف رجوع کیا جائے تو اس حدیث کے شارحین یہ تصریح کرتے نظر آئیں گے کہ یہ استثناء ، منقطع نہیں؛ متصل ہے۔ بطور نمونہ’’ارشاد الساری‘‘ (۲؎) میں قسطلانی کا بیان اور’’فیض القدیر فی شرح الجامع الصغیر‘‘ بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

____________________

۱۔مختصر(بیان مختصر۲) : ۲۴۶

۲۔ارشاد الساری :۶/ ۱۱۷۔ ۱۱۸


ان نکات کو پیش نظر رکھنے سے پہلا اعتراض اور اشکال ختم ہو جائے گا اور حدیث منزلت سے تمام مقامات اور منزلتیں ثابت ہوں گی؛ البتہ مذکورہ تمام مباحث، فنی اور تخصصی مباحث ہیں جن پر خصوصی توجہ دینے اور زیادغور کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے قواعد اورمخصوص علمی اصطلاحات پر مسلط ہونا چاہئے۔

دوسرے اشکال کا جواب

اس اشکال کا خلاصہ یہ تھا کہ پیغمبر اکرم (ص) نے اپنی زندگی کے ایک خاص واقعے میں حضرت علی(ع) کو اپنا جانشین قرار دیا ہے؛ جس طرح حضرت موسیٰ نے جناب ہارون کو اپنی زندگی میں جانشین قرار دیا تھا۔ جناب ہارون ، حضرت موسیٰ سے پہلے رحلت کر گئے؛ اس لحاظ سے حدیث منزلت ،اس خلافت و امامت پر دلالت ہی نہیں کررہی جو ہمارا محل نزاع ہے۔

اہل سنت کے بہت سے بڑے بڑے علماء نے یہی اشکال پیش کیا ہے؛ جن میں سے ابن حجر عسقلانی، قسطلانی و قاری؛ نیز ان کے متکلمین نے بھی اپنی کتابوں میں یہی اشکال نقل کیا ہے۔

اس اشکال کا جواب دو صورتوں میں دیا جا سکتا ہے:

پہلی صورت:

جناب ہارون(ع) کے بیان کردہ مقامات اور منزلتیں متعدد تھیں جن میں سے ہر ایک کے ذریعے حضرت علی(ع) کی خلافت و جانشینی کا پتہ چلتا تھا؛ مثلا: لوگوں کے امور کی اصلاح کے لئے پیغمبر اکرم (ص) کے شریک کار ہونا یا آپ(ع) کی عصمت وغیرہ، اور یہ مقامات کسی معین اور مشخص زمانے تک ہرگز محدود نہیں رہے ہیں۔


دوسری صورت:

ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ خلافت ، ایک روحانی اور معنوی مقام ہے ۔ جب ہم کہتے ہیں: فلاں شخص خلیفہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شائستگی اور صلاحیت کے ایسے درجے پر پہنچ گیا ہے کہ اس مقام و خلافت کے اہل ہوگیا ہے۔ خلافت پیغمبر دراصل ، خلافت خدا ہے اور مقام الٰہی کی جانشینی کے لئے خود خلیفہ کے اندر شائستگی اور اہلیت کا پایا جانا ضروری ہے۔

پیغمبر اکرم (ص) کے خلیفہ اور جانشین کے لئے ضروری ہے کہ وہ علمی حوالے سے آنحضرت(ص) کے ہم پلہ ہو ؛ تاکہ ان کی غیر موجودگی میں لوگوں کی ہدایت کی کر سی پر بیٹھ سکے۔ قرآن کی تاویل اور بطون سے آشنا ہو ؛ تاکہ لوگوں کو اسی طرح قرآن بیان کرے جس طرح پیغمبر اکرم (ص) بیان کرتے تھے ،اور قرآن کے معارف و اسرار سے پردہ اٹھائے۔

مختصر یہ کہ پیغمبر اکرم (ص) کا خلیفہ وہی شخص ہوگا جو آنحضرت (ص) کی غیر موجودگی میں اللہ تعالیٰ اور بندوں کے درمیان واسطہ بنے؛ کیونکہ حضور اکرم (ص) کی رحلت کے ساتھ اگرچہ نبوت کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے ؛ لیکن آسمان سے رابطہ کبھی منقطع نہیں ہوتا؛ لہٰذا کوئی ایسا شخص ضرور ہونا چاہئے جس پر ہر سال ، شب قدر میں روح اور فرشتے نازل ہوں اور تمام امور کو اس کے سامنے پیش کیا جائے۔

ایسی شخصیت کے لئے مطلوبہ شرائط کا حامل ہونا ضروری ہے؛ تاکہ اللہ تعالیٰ اس کو منتخب کرے۔


اگر ہم خلافت کو صرف ایک ظاہری اور اعتباری مرتبہ تصور کریں ، جس کا ایک محدود وقت ہو اور اس وقت کے شروع ہوتے ہی خلافت شروع ہوجاتی ہو اور اس کے اختتام کے ساتھ خلافت بھی اختتام کو پہنچتی ہو؛ نیز اس کے لئے کسی صلاحیت اور اہلیت کی ضرورت ہی نہ ہو تو یہ بہت ہی دور از حقیقت بات ہوگی ۔

اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو خلافت کے لائق جان کر منتخب کیا ، یا رسول خدا (ص) نے کسی کے اندر ایسی صلاحیت دیکھ کر اس کو اپنا مطلق خلیفہ بنا لیا اور( اخْلُفْنِی فِی قَوْمِی ) (۱؎) کہہ کر سب کو سمجھا یا تو ہمیں ضرور سمجھ لینا چاہئے کہ یہ انسان خلیفہ پیغمبر بننے کی تمام شرائط پر پورا اترتا ہے ؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی نا اہل کو پیغمبر (ص) کا جانشین قرار نہیں دیتا۔

____________________

۱۔ اعراف: ۱۴۲


اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت علی(ع) ، علم الٰہی ، عصمت الٰہی اور قدرت الٰہی کے حامل ہیں اور فقدان پیغمبر (ص) کی خلاء کو پر کر سکتے ہیں۔

جب اللہ تعالیٰ اور رسول خدا (ص) ، کسی شخص کو تمام مقامات کے حوالے سے پیغمبر اکرم (ص) کا جانشین قرار دے ، خواہ اس کو عملیانے کا موقع نہ بھی ملے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خدا کا منتخب بندہ ہے۔ اس کی صلاحیت و شائستگی اس منزل پر ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کی غیر موجودگی میں ہر جہت سے آپ (ص)کے مقام کو سنبھال سکتا ہے؛ اختلافات میں مرجع بن سکتا ہے، لوگوں پر حاکم بھی بن سکتا ہے، احکام الٰہی کا بیان کرنے والا اور کلمات الٰہی کی تفسیر کرنے والا بھی بن سکتا ہے ؛ نیز لوگوں کے نفوس پر ان سے زیادہ اولیٰ اور اس کا حکم لوگوں پر ان کے اپنے احکام سے زیادہ نافذ بھی ہو سکتا ہے۔

اس بات کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ نے جناب ہارون کی خلافت کے لئے کوئی وقت معین نہیں کیا؛ بلکہ فرمایا:’’اخْلُفْنِی فِی قَوْمِی‘‘ یعنی: جب بھی میں نہ ہوں تو میری غیر موجودگی کی خلاء کو پر کرو۔ اسی وجہ سے جناب ہارون ، ان دس دنوں میں بھی،جنہیں حضرت موسیٰ کی مناجات کی مدت پر اضافہ کیا گیا تھا، اپنے منصب پر باقی رہے ۔

جب یہ بلند منزلت اور مرتبت ، جناب ہارون کی نسبت ثابت ہوگئی تو حضرت امیر المؤمنین(ع) کے لئے بھی ثابت ہوجائے گی۔

زیادہ توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے امیر المؤمنین(ع) کو مقام ومنزلت کے لحاظ سے جناب ہارون(ع) کی مانند قرار دیا ہے نہ کہ ان حالات کے لحاظ سے جو انہیں پیش آئے ہیں؛ دوسرے الفاظ میں یہ کہ حضور اکرم (ص) نے اس طرح بیان نہیں فرمایا کہ جناب ہارون(ع) نے چالیس روز خلافت کا منصب سنبھالا ہے ؛ لہٰذ اتم بھی چالیس روز تک خلافت کے عہدے پررہو گے؛ نہیں!؛بلکہ یہاں پر مقام و منزلت کی بات ہے۔ جناب ہارون ، جناب موسیٰ کی خلافت کے حامل تھے اور یہ مقام جناب موسیٰ کی زندگی میں بھی بنی اسرائیل کے درمیان ان کے لئے محفوظ تھا۔


حدیث منزلت اورابن تیمیہ کا نظریہ

ابن تیمیہ بھی اس حدیث پر مذکورہ اشکالات کی مانند اعتراض کرتا ہے؛ لہٰذا ہم اس کے نظرئیے کی کچھ چھان بین کریں گے۔

ابن تیمیہ کی کتاب ’’منہاج السنۃ‘‘کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب مختلف جگہوں پر حضرت امیر المؤمنین(ع) کی دشمنی، ان کی عیب جوئی اور ان پر طعنہ زنی سے مملو ہے۔ وہ اپنی کتاب کسی حصے میں یوں لکھتا ہے:

جب کبھی پیغمبر اکرم (ص) کسی جنگ، عمرہ ، حج یا کسی سفر پر جاتے تھے تو اپنے اصحاب میں سے کسی ایک کو مدینے میں اپنی جگہ چھوڑ جاتے تھے۔ یہاں تک لکھا ہے کہ ایک سفر کے وقت آنحضرت (ص) نے ’’ ابن ام مکتوم‘‘ کو مدینے میں اپنا جانشین بنایا تھا۔ کوئی شخص اس جانشینی کو ابن ام مکتوم کے لئے فضیلت یا مقام ومرتبہ شمار نہیں کرتا۔

پھر وہ حدیث منزلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: جب (پیغمبر اکرم (ص) کی آخری جنگ) جنگ تبوک شروع ہوئی تو آنحضرت (ص) نے کسی کو بھی فوج سے جدا رہنے اور اس حکم سے سرپیچی کرنے کی اجازت نہ دی۔ اس جنگ کی طرح کسی اور جنگ میں آپ(ص) کے ساتھ اتنے زیادہ لوگ نہ تھے۔ صرف عورتیں ، بچے ، معذور لوگ اور منافقین مدینے میں رہ گئے۔

مدینے میں دلاور مؤمنین نہیں تھے؛ تاکہ پیغمبر ،گزشتہ کی مانند کسی کو ان پر اپنا جانشین بنا جاتے۔ دوسری جہت سے یہ کہ مدینے میں بچوں، عورتوں اور معذوروں کے علاوہ کوئی اور رہنے والا نہ تھا؛ اس رو سے پیغمبر اکرم (ص) کو اپنے اصحاب میں سے کسی اہم اور معروف شخص کو جانشین بنانے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی؛ بلکہ اس موقع کی جانشینی حضور اکرم (ص) کی دوسری تمام جانشینیوں سے انتہائی بے وقعت جانشینی تھی ؛ یعنی تبوک کے وقت علی(ع) کی جانشینی ، ابن ام مکتوم کی جانشینی سے بھی بے وقعت اور بے اہمیت تھی۔[!!]


ابن تیمیہ مزید کہتا ہے: علی(ع) کی جانشینی کے وقت مدینے میں طاقتور مؤمنین کی زیادہ تعداد موجود نہ تھی تاکہ ان کے لئے کسی زبردست کو جانشین قرار دینے کی نوبت آئے۔ اس بنا پر پہلے جن لوگوں نے حضور (ص) نے اپنا جانشین بنایا ہے ان کی جانشینی ، علی(ع)کی جانشینی سے بہتر اور برتر ہوگی۔

اسی وجہ سے علی(ع) ، روتے ہوئے حضور اکرم (ص) کی خدمت آئے اور گویا ہوئے: کیا آپ (ص) مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑیں گے؟

پیغمبراکرم (ص) نے فرمایا: امانت داری کی خاطر تمہیں اپنا جانشین بنایا ہے اور پیغمبر (ص) کی جانشینی کبھی عیب ونقص شمار نہیں ہوتی، جس طرح موسیٰ نے ہارون کو اپنی قوم کے لئے اپنا جانشین قرار دیا تھا۔

جب کوئی بادشاہ اور دوسرے لوگ جنگ کے لئے نکلتے ہیں تو اپنے ساتھ ایسے افراد کو لے لیتے ہیں جن سے زیادہ استفادہ کرنا ہو، کشمکش کے وقت ان کی ضرورت ہو، ان کے مشوروں سے سبق لینا ہو اور ان کی زبانوں، ہاتھوں اور تلواروں سے فائدہ اٹھانا مقصود ہو۔ اس لحاظ سے پیغمبر اکرم (ص) کو اس جنگ میں علی(ع) کی کوئی ضرورت نہیں تھی تاکہ ان سے مشورہ کیا جائے یا ان کی زبان، ہاتھ اور تلوار سے استفادہ کیا جائے [!] جبھی تو انہیں چھوڑ کر دوسروں کو ہمراہ لے لیا؛ کیونکہ ان امور میں وہ لوگ آنحضرت (ص) کے کام آتے تھے۔


اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ابن تیمیہ کہتا ہے: ایک چیز کو دوسری کے ساتھ تشبیہ دینے کا لازمہ یہ نہیں کہ دونوں چیزیں تمام جہتوں سے ایک دوسرے کی طرح ہوں؛ بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ بات کس موقع پر کہی گئی ہے ۔ کیا آپ وہ روایات نہیں دیکھتے جو صحیح بخاری اور مسلم میںنقل ہوئی ہیں اور ثابت ہیں؟ روایت میں ہے کہ جب پیغمبر اکرم (ص) نے اسیروں کے بارے میں ابوبکر سے مشورہ کیا تو اس نے کہا: ان کے بدلے میں پیسے اور فدیہ لے کر انہیں رہا کردیں۔ پھر آنحضرت (ص) نے عمر سے مشورہ لیا تو اس نے کہا: ان سب کو قتل کر دو۔

پس آنحضرت (ص) نے فرمایا: اب میں ان دو ساتھیوں کا مقام تم لوگوں کو بتاتا ہوں۔ اے ابو بکر! تم ابراہیم کی مانند ہو [!] اور اے عمر ! تم نوح کی مانند ہو۔ [!]

لہٰذا اگر پیغمبر اکرم (ص) کسی سے یہ فرمائے کہ تم ابراہیم و عیسیٰ کی طرح ہو یا کسی دوسرے سے فرمائے کہ تم نوح اور موسیٰ کی مانند ہو تو ایسا کہنا نہایت اہم اور بہتر ہے یہ کہنے سے کہ تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسی کے لئے ہارون۔

جو کچھ بیان ہوا وہ ابن تیمیہ کے بیان اور کلام کا ایک حصہ تھا۔ خدا سے دعا کرتے ہیں کہ اس شخص کے ساتھ اپنے عدل کے مطابق سلوک کرے اور ہر کلمے کے مقابلے میں اسے وہی جزا دے جس کا وہ مستحق ہے۔


نظریہ ابن تیمیہ کی ردّ

اب ہم چند موارد میں ابن تیمیہ کے نظرئیے کی مختصر تحقیق کریں گے:

۱ ۔ جو احادیث ہم نے پہلے نقل کی ہیں اور جو بعد میں نقل کریں گے، ان میں مختلف تعبیریں استعمال ہوئی ہیں۔ ایک نقل کے مطابق پیغمبر اکرم (ص) نیحضرت امیر المؤمنین(ع) سے فرمایا:

’’انّه لا بدّ ان اقیم او تقیم ۔ضروری ہے کہ میں مدینے میں رہوں یا آپ رہیں۔‘‘

دوسری تعبیر میں آنحضرت (ص) نے فرمایا:

’’فانّ المدینة لا تصلح الاَّ بي أو بک ۔ مد ینے کے امور میرے یا آپ(ع) کے بغیر درست اور منظم نہیں ہوں گے۔‘‘

ایک تعبیر ،ہم اس طرح ملاحظہ کرتے ہیں:

’’ انّه لا ینبغی أن أذهب الاَّ و أنت خلیفتی ۔ کسی صورت میں میرا جانا صحیح نہیں ہے؛ مگر یہ کہ تم میرا جانشین بنے رہو۔‘‘

ان عبارتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر مدینے میں کوئی دوسرا ہرگز جانشین پیغمبر کے طور پر نہیں رہ سکتا تھااور صرف آنحضرت (ص) یا حضرت امیر المؤمنین(ع) ہی مدینے کے امور کی دیکھ بھال کر سکتے تھے۔

واضح رہے کہ اس وقت مدینے پر ایک خاص فضا حاکم تھی اور منافقین سازشوں کے ایسے جال بچھا رہے تھے کہ کوئی بھی صحابی ان سازشوں کا مقابلہ کرکے انہیں ناکام بنانے کی قدرت و صلاحیت نہیں رکھتا تھا ۔ اس کام سے صرف دو افراد : پیغمبر اکرم (ص) یا حضرت امیر المؤمنین(ع)ہی عہدہ بر آ ہو سکتے تھے۔


واقعاً اگر ( بقول ابن تیمیہ) یہ جانشینی ، حضرت امیر المؤمنین(ع) کے لئے کوئی فضل و رتبہ ثابت نہیں کرتی ؛ بلکہ حضور اکرم (ص) کی پہلی جانشینیوں سے بے وقعت اور بے اہمیت ہے تو عمر اپنے لئے اس مقام اور جانشینی کی آرزو کیوں کیا کرتا تھا؟ کیوں سعد بن ابی وقاص کے دل میں اس مقام تک پہنچنے کی حسرت تھی؟

۲ ۔ ابن تیمیہ کا یہ کہنا کہ ’’ علی(ع) اس حالت میں پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں آئے کہ ان کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ ‘‘ سراسر جھوٹ ہے۔ امیر المؤمنین(ع) کا رونا اس وجہ سے نہ تھا کہ پیغمبر (ص) نے آپ(ع) کو عورتوں اور بچوں کے درمیان چھوڑا تھا؛ بلکہ اس وجہ سے تھا کہ آپ(ع) اس جنگ میں شریک نہ ہو سکتے تھے ؛ نیز منافقین کی جانب سے سنی گئی دل دکھانے والی باتیں بھی رونے کا سبب بنی تھیں۔

دوسری بات یہ کہ امیر المؤمنین(ع) نے فرمایا:’’أ تخلّفنی فی النساء و الصبیان ‘‘ کیا آپ (ص) مجھے عورتوں اور بچوں میں اپنا جانشین بنا رہے ہیں؟ یہ بات آپ(ع) نے اس وقت فرمائی تھی جب رسول اللہ (ص) جنگ کے لئے مدینہ سے باہر نہ گئے تھے؛ لیکن آپ(ع) نے گریہ اس وقت کیا جب مدینے سے نکلنے کے بعد آپ(ع) پیغمبر اکرم (ص) سے ملاقات کے لئے آئے تھے جس کی وجہ بھی منافقین کی باتیں اور افواہیں ہی تھیں نہ کہ آپ(ع) نے اس جانشینی کو بے وقعت سمجھا ہو۔ اس لحاظ سے ابن تیمیہ کا یہ کہنا کہ ’’ علی(ع) نے جب خود کو عورتوں اور بچوں کے درمیان خلیفہ بنتے دیکھا تو اعتراضاً گریہ کیا۔ ‘‘ امیر المؤمنین(ع) کی نسبت بہت بڑی ناروا تہمت اور افتراء ہے۔


۳ ۔ ابن تیمیہ نے پیغمبر اکرم (ص) سے ایک حدیث نقل کی ہے جس میں آنحضرت (ص) نے ابوبکر کو حضرت ابراہیم(ع) سے اور عمر کو حضرت نوح (ع) سے تشبیہ دی ہے۔ اس نے مذکورہ حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح بخاری اور مسلم میں نقل ہوئی ہے۔

اس سے بڑھ کر واضح جھوٹ اور کیا ہو سکتا ہے؟ ؛ کیونکہ صحیح بخاری اور مسلم آپ کی دسترس میں ہے، دیکھیں کیا کوئی ایسی حدیث ان دونوں کتابوں میں ہے؟!

اس بات کی شاہد ، ’’منہاج السنۃ‘‘ کی نئی اشاعت ہے جو ڈاکٹر محمد رشاد سالم کی تحقیق کے ساتھ ۹ جلدوں میں سعودی عرب سے شائع ہوئی ہے۔ اس کے متن کو ملاحظہ کرکے ابن تیمیہ کا اس حدیث سے استدلال اور اس کی صحیحین کی طرف نسبت کو مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ اس کتاب کا محقق ، ابن تیمیہ کی بات کے نیچے حاشئے میں لکھتا ہے:

یقینا یہ حدیث فقط ’’ مسند احمد ‘‘ میں نقل ہوئی ہے اور مسند کے محقق، شیخ احمد شاکر کا کہنا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔

یہ حدیث احمد بن حنبل کی کتاب ’’مناقب الصحابہ‘‘ میں بھی مذکور ہے جو حال ہی میں سعودی عرب سے دو جلدوں میں شائع ہو چکی ہے۔ اس کے محقق نے بھی اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد حاشئے میں لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔


نتیجہ یہ ہوا کہ صحیح بخاری اور مسلم میں اس حدیث کا کوئی وجود نہیں ہے تاکہ ان دونوں میں مذکور ’’ حدیث منزلت‘‘ سے تعارض کر سکے اور جن کتابوں میں اس کا وجود ہے ان کے محققین نے اس کے ضعیف ہونے کی تصریح کر دی ہے۔

شاید ابن تیمیہ نے یہ سوچا بھی نہ ہوگا کہ کوئی محقق اس کی کتاب کو پڑھ کر صحیح بخاری اور مسلم کے ساتھ اس کا مقائسہ کرے گاپھر اس کی دھوکہ دہی اور جھوٹ کا بھانڈا پھوڑ دے گا۔

ابن تیمیہ نے اپنی اس عبارت میں حضرت امیر المؤمنین(ع) کی ذات گرامی پر جو طعنہ زنی کی ہے اور جو ناروا باتیں آپ(ع) کے حق میں روا رکھی ہیں، ہم ان کے بارے میں کچھ کہے بغیر اس کے جواب کو اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ بہترین حاکم اور فیصلہ کرنے والا ہے۔

اعور واسطی کا نظریہ

ابن تیمیہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اعور واسطی نے بھی شیعوں کی ردّ میں بہت ساری باتیں لکھی ہیں۔ یہ اہل سنت کے ہاں ، یوسف اعور واسطی کے نام سے مشہور ہے۔ شیعوں کی ردّ میں لکھے گئے ایک رسالے میں یہ پلید ناصبی لکھتا ہے: اگر مان لیا جائے کہ حدیث منزلت سے مقام خلافت ثابت ہوتا ہے تو اس میں فتنہ و فساد کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا؛ کیونکہ ہارون(ع) کی خلافت کے دوران فتنہ و فساد اور مؤمنین کے مرتد ہونے کے سوا کچھ نہیں تھا، اس زمانے میں بنی اسرائیل گوسالہ پرست ہوگئے ۔ اسی طرح علی(ع) کی خلافت کے دوران فتنہ و فساد اور جمل و صفین میں مسلمانوںکے قتل کے سوا کچھ اور پیش نہ آیا۔ [!]

کیا اس کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ ہارون(ع) کی خلافت کے دوران بنی اسرائیل کا گوسالہ پرستی کرنا ، ہارون کی خلافت و جانشینی سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ؟


بالفرض اس کی بات کو مان لیا جائے تو پیغمبروں کی پیغمبری کے دوران ہونے والی تمام خرابیاں، کفر ، ظلم و ستم اور قتل و غارت جیسی برائیاں ، ان کی نبوت کے لئے عیب اور نقص شمار ہوتی ہیں؟

کیا یہ صحیح ہے کہ سرکشوں، مستکبروں اور جابروں کے تمام گناہوں کو مصلحین، انبیاء اور خلفائے الٰہی اپنے ذمے لیں؟ کیا اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت ، اسلام اور ایمان کے دعویداروں کی آزمائش پر مبنی ہے ؟ تاکہ جس کے اندر کھوٹ ہے وہ ذلیل و رسوا ہوجائے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

( أَ حَسِبَ النَّاسُ أَن یُترَْکُواْ أَن یَقُولُواْ ء َامَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُونَ ) ۔کیا لوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ وہ صرف اتنا کہنے سے چھوڑ دئیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور یہ کہ وہ آزمائے نہیں جائیں گے؟‘‘(۱؎)

حضرت موسیٰ کو کوہ طور پر جانا اور ہارون کو ان کا خلیفہ بننا چاہئے ؛ تاکہ معلوم ہو جائے کہ کون حضرت موسیٰ اور ان کے خدا پر واقعی ایمان رکھتا ہے اور کون فقط زبان سے ایمان کا اظہار کرتا ہے؛ لیکن اندر سے کوئی عقیدہ نہیں رکھتا۔

لیکن کیا کوئی یہ کہنے کی جرأت کر سکتا ہے کہ دورخی کرنے والوں کا کفر اور ستمگروں کا ستم، ہارون کی خلافت میں رخنہ ڈالے گایا اس میں کوئی کمزوری پیدا کر ے گا؟

____________________

۱۔ عنکبوت: ۲


پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ایک اور انداز سے جاری ہوئی جس کے ذریعے لوگوں کی آزمائش ہوئی ؛ تاکہ ہر اس شخص کا عقیدہ طشت ازبام ہوجائے جو دل سے پیغمبر اکرم (ص) اور خدا پر ایمان نہیں رکھتا تھا؛ نیز ہر اس شخص کا باطن آشکار ہو جائے جس کے سر میں سلطنت و حکومت کا سودا سمایا ہواتھااور اس نے سلطنت ہی کی خاطر اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس طرح وہ خلیفہ رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہوجائے، جنگ کے شعلے بھڑکائے اور مسلمانوں کو اس کی آگ میں جھونک دے۔

ظاہر ہے کہ کسی بھی منطق کے مطابق ظالم افراد کے ظلم وستم اور سرکش لوگوں کی نافرمانیوں کو مصلح افراد کے کھاتے میں نہیں ڈالا جا سکتا؛ لیکن اعور واسطی انتہائی ڈھٹائی اور کمال بے شرمی کے ساتھ ظالموں کے ظلم وستم، آشوب گروں کے فتنوں اور رخنہ اندازوں کی نافرمانیوں کے پیش نظر حضرت امیر المؤمنین(ع) کی خلافت پر انگلی اٹھاتا ہے اور اس کی تضعیف کرتا ہے۔

اس کے علاوہ اگر تبوک کے واقعے میں امیر المؤمنین(ع) کی جانشینی کوئی اہمیت نہیں رکھتی اور آپ(ع) کے لئے کسی مقام و مرتبے کو ثابت نہیں کرتی؛ یہاں تک کہ یہ جانشینی ، ابن ام مکتوم کی جانشینی سے بھی بے اہمیت ہے تو سارے شیعہ سنی علماء نے اس حدیث کو اتنی اہمیت کیوں دی ہے؟ کیوں مختلف زمانوں میں اس کی مختلف سندوں کو ذکر کیا اور اس کے راویوں کی تحقیق کی ہے؟ نیز کس لئے اس حدیث کی دلالت و معانی کی اتنی چھان بین کی ہے؟

اگر یہ موضوع اس قدر بے اہمیت اور یہ جانشینی تمام جانشینیوں سے پست تر تھی جو کسی تحقیق و جستجو کے بھی لائق نہ تھی تو اس حدیث کے سلسلے میں اس حد تک اہتمام کا کیا مطلب ہے؟

کیوں عمر کہتا ہے کہ اگرمیں ان خصوصیات میں سے کسی ایک کا بھی حامل ہوتا تو یہ میرے لئے ان تمام چیزوں سے زیادہ بہتر تھا جن پر سورج کی روشنی پڑتی ہے؟


کیوں سعد بن ابی وقاص کہتا ہے کہ ان مقامات میں سے ایک میرا ہوتا تو وہ میرے لئے ہر اس چیز سے زیادہ محبوب تھا جس پر سورج طلوع کرتا ہے؟

کیوںعلی (ع) کی فضیلت بیان کرتے وقت معاویہ اسی حدیث کو بیان کرتا ہے؟

کیوں اس حدیث کو ردّ کرنے اوراس کو باطل ثابت کرنے کے لئے اتنی کوششیں ہوئی ہیں؟

فضل بن روبہان ان افراد میں سے ہے جو ہمیشہ پیغمبر اکرم (ص) کی احادیث کے سلسلے میں شیعوں کے استدلالات کو ردّ کرنے کے درپے ہوتا ہے؛ اس کے باوجود’’حدیث منزلت ‘‘کے بارے میں وہ کہتا ہے: ’’اس حدیث کے ذریعے علی(ع) کے لئے برادری، تبلیغ رسالت میں پیغمبر اکرم (ص) کی وزارت اور بعض دوسری فضیلتیں ثابت ہوجاتی ہیں۔‘‘

مذکورہ بیان کی روشنی میں دوسرے اشکال کے لئے بھی کوئی راہ باقی نہیں رہتی۔

تیسرے اشکال کا جواب

تیسرا اشکال یہ تھا کہ ’’حدیث منزلت ‘‘غزوۂ تبوک سے مختص ہے۔

جی ہاں ! اس اشکال کی گنجائش اس وقت ہوگی جب یہ حدیث صرف اور صرف جنگ تبوک کے موقع پر بیان ہوئی ہو، اور اس شان نزول کو ہم قبول بھی کرلیں ؛ نیز یہ شان نزول حدیث کے اسی مورد کے ساتھ مختص ہونے کا سبب بھی بن جائے۔

لیکن معاملہ ایسا نہیں ہے؛ کیونکہ پیغمبر اکرم (ص) نے ’’حدیث ثقلین‘‘ اور ’’ حدیث غدیر‘‘ کی طرح ’’ حدیث منزلت‘‘ کو بھی بہت سی جگہوں پر مختلف مواقع میں بیان فرمایا ہے۔ اہل سنت کی کتابیں سب کی دسترس میں ہیں، آزاد فکر اور منصف مزاج محقق ان روایتوں کوملاحظہ کر سکتے ہیں جن میں سے بعض کو ہم آنے والے حصے میں بیان کریں گے۔


چھٹا حصہ:

وہ مواقع جہاں حدیث منزلت بیان ہوئی


وہ مواقع جہاں حدیث منزلت بیان ہوئی

پیغمبر اکرم (ص) نے بہت ساری جگہوں پر مختلف مناسبتوں سے حضرت امیر المؤمنین(ع) کی شان میں ’’حدیث منزلت‘‘ بیان فرمائی ہے۔ یہاں پر ہم اختصار کے ساتھ چند موارد کی طرف اشارہ کریں گے:

۱۔ اصحاب کی اخوت کے موقع پر

اصحاب پیغمبر کی باہمی اخوت اور برادری کا موقع وہ ابتدائی موقع ہے جہاں پر رسول اللہ (ص) نے حدیث منزلت بیان فرمائی۔

ابن ابی اوفیٰ کا کہنا ہے کہ جب رسول اللہ (ص) نے ، ابوبکر اور عمر سمیت، تمام اصحاب کو آپس میں بھائی بھائی بنایا تو علی(ع) نے عرض کیا:

’’ یا رسول اللّٰه! ذهب روحی وانقطع ظهری حین رأیتک فعلت ما فعلت بأصحابک غیری، فان کان هذا من سخط عَلَیّ فلک العتبی والکرامة ۔ اے رسول خدا (ص)! میری جان نکل گئی اور میری کمر ٹوٹ گئی جب میں نے دیکھا کہ آپ (ص) نے میرے علاوہ اپنے تمام اصحاب کو آپس میں ایک دوسرے کا بھائی بنادیا ہے۔ اگرآپ (ص) نے مجھ سے ناراضگی کی وجہ سے ایسا کیا ہے تو آپ (ص) کو ہی حق حاصل ہے کہ میری سرزنش کریں یا بزرگواری فرمائیں۔‘‘


اس وقت حضور اکرم (ص) نے فرمایا:

" والّذی بعثني بالحقّ! ما أخّرتک الاَّ لنفسي، و أنت منّي بمنزلة هارون من موسیٰ غیر أنّه لا نبيّ بعدی، وأنت أخي و وارثي" اس خدا ک ی قسم جس نے مجھے مبعوث فرمایا! میں نے تمہیں صرف اپنے لئے انتخاب کیا ہے اور تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لئے ہارون، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تم میرے بھائی اور وارث ہو۔ ‘‘

حضرت علی(ع) نے عرض کیا:

’’ما أرث منک یا رسول اللّٰه" اے اللہ کے رسول (ص) ! میں آپ (ص) سے کیا میراث پاؤں گا؟‘‘

پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:

’’ ما ورّث الأنبیاء من قبلي " ۔ وہ ی کچھ جو مجھ سے پہلے والے انبیاء نے ورثے میں چھوڑا ہے۔‘‘

حضرت علی(ع) نے دوبارہ سوال کیا:

’’ما ورّث الأنبیاء من قبلک" آپ (ص) سے پہلے انبیاء نے ورثے میں کیا چھوڑا؟‘‘

حضور (ص) نے فرمایا:

’’کتاب ربّهم و سنّة نبیّهم وأنت معي في قصري في الجنّة مع ابنتي و أنت أخي و رفیقي " ۔ان کے پروردگار کی کتاب اور پیغمبر کی راہ روشن۔ تم جنت میں میرے قصر میں میری بیٹی فاطمہ سمیت میرے ساتھ ہوں گے اور تم میرے بھائی اور رفیق ہو۔‘‘


پھر حضور اکرم (ص) نے اس آیت کی تلاوت فرمائی:

( إخْوَانًا عَلیَ سُرُرٍ مُّتَقَبِلِین ) ۔وہ برادرانہ طور پر تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوںگے۔‘‘(۱؎)

اس روایت کو حافظ جلال الدین سیوطی نے’’ الدر المنثور‘‘ میں درج ذیل آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے :

( اللَّهُ یَصْطَفِی مِنَ الْمَلَئکَةِ رُسُلًا وَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ سَمِیعُ بَصِیر ) ۔اللہ فرشتوں اور انسانوں میں سے پیغام پہنچانے والے منتخب کرتا ہے اللہ یقینا خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘(۲؎)

اس آیت مجیدہ اور اس مذکورہ حدیث کا تناسب قابل توجہ ہے۔ سیوطی نے اس حدیث کو بغوی، باوردی، ابن قانع، طبرانی اور ابن عساکر سے نقل کیا ہے۔(۳؎) ’’الریاض النضرة في مناقب العشرة المبشرة‘‘ (۴؎) اور احمد بن حنبل کی کتاب ’’مناقب علی(ع)‘‘(۵؎) میں بھی یہ حدیث نقل ہوئی ہے۔ متقی ہندی نے بھی کنز العمال میں اس حدیث کو مناقب سے نقل کر کے ذکر کیا ہے۔(۶؎)

____________________

۱۔ حجر: ۴۷

۲۔ حج: ۷۵

۳۔ الدر المنثور: ۶/ ۷۶۔۷۷

۴۔ الریاض النضرۃ :۳/ ۱۸۲

۵۔المناقب: ۱۴۲، حدیث ۲۰۷

۶۔ کنز العمال: ۹/ ۱۷۶، ح ۲۵۵۵۴و ۳/۱۰۵، ح۳۶۳۴۵


۲ ۔حسنین(ع) کی ولادت کے موقع پر

دوسرا موقع ، جہاں رسول اللہ (ص) نے ’’حدیث منزلت‘‘بیان فرمائی ،وہ حضرت امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) کی ولادت کا موقع ہے۔

ملا علی قاری اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: جابر بن عبد اللہ انصاری ؓ نے ایک حدیث کے ضمن میں کہا کہ حضرت امام حسن(ع) کی ولادت کے وقت پیغمبر اکرم (ص) پر جبرئیل نازل ہوئے اور انہوں نے حکم خدا سے فرمایا:

’’انّ علیّاً منک بمنزلة هارون من موسیٰ ۔ یقینا علی(ع) ، آپ (ص) کے لئے ایسے ہیں جیسے موسیٰ کے لئے ہارون تھے۔ ‘‘(۱؎)

____________________

۱۔ وسیلۃ المتعبدین الی متابعۃ سیّد المرسلین:۵/ ۲۲۵


۳ ۔ خطبہ غدیر خم

تیسرا موقع ، جہاں حضور اکرم (ص) نے اس حدیث کو بیان فرمایا، وہ غدیر خم کا خطبہ ہے۔ ہم نے اپنی کتاب ’’ نگاہی بہ حدیث غدیر‘‘ میں اس حدیث کو نقل کیا ہے۔

۴ ۔ مسجد کی طرف کھلنے والے دروازوں کو بند کراتے وقت

’’حدیث منزلت‘‘ بیان ہونے والے مواقع میں سے چوتھا موقع ، مسجد نبوی (ص) کی طرف کھلنے والے دروازوں کو بند کرانے کا ماجرا ہے۔ ہم نے اس ماجرا کے بارے میں کی گئی اپنی ایک تحقیق میں اس حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے۔ روایت یوں بیان کی گئی ہے:

’’ وانّ علیّاً منّي بمنزلة هارون من موسیٰ ۔ بے شک علی(ع) میرے لئے وہی ہیں جو موسیٰ کے لئے ہارون تھے۔ ‘‘

فقیہ مغازلی نے ’’ مناقب امام علی(ع)‘‘ میں اس روایت کو نقل کیا ہے۔(۱؎)

____________________

۱۔ مناقب امام علی(ع)، ابن مغازلی: ۲۵۵۔ ۲۵۷


۵ ۔عمر بن خطاب کا تقاضا

پانچواں موقع وہی ہے جہاں پر عمر بن خطاب نے کہا تھا:’’ کفّوا عن ذکر علیّ ‘‘ علی(ع) کے بارے میں کوئی بات نہ کریں۔۔۔

اس واقعے کو ہم گزشتہ اوراق میں مختلف مصادر سے نقل کر چکے ہیں۔

۶ ۔ دختر حمزہ کے ماجرا میں

’’حدیث منزلت‘‘ کے بیان کا چھٹا موقع ، سید الشہداء حضرت حمزہ(ع) کی بیٹی کا واقعہ ہے۔ یہ واقعہ کچھ اس طرح ہے:

جب جناب حمزہ(ع) کی بیٹی مکے سے مدینے کو آئیں تو حضرت امیر المؤمنین(ع)، جعفر اور زید کے درمیان اس کی کفالت و سرپرستی کے بارے میں اختلاف ہوگیا اور بات پیغمبر اکرم (ص) تک پہنچائی گئی تاکہ آپ (ص) اس بارے میں فیصلہ فرمائیں۔ پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت امیر المؤمنین(ع) سے فرمایا:

’’امّا أنت یا عليّ! فأنت منّي بمنزلة هارون من موسیٰ الاَّ النّبوّة ۔ مگر تم اے علی(ع)! تم میرے لئے وہی منزلت رکھتے ہو جو موسیٰ کی لئے ہارون رکھتے تھے، سوائے مقام نبوت میں۔ ‘‘

اس روایت کوابن عساکر نے تاریخ مدینۃ دمشق(۱؎) میں، احمد بن حنبل نے اپنی کتاب مسند(۲؎) میں اور بیہقی نے السنن الکبریٰ(۳؎) میں نقل کیا ہے۔ ان کے علاوہ دوسرے مصادر میں بھی یہ روایت نقل ہوئی ہے۔

____________________

۱۔ تاریخ مدینۃ دمشق: ۱/ ۳۶۸، حضرت علی(ع) کے حالات زندگی، حدیث ۴۰۹

۲۔ مسند احمد : ۱/ ۱۸۵، حدیث ۹۳۳

۳۔ السنن الکبریٰ: ۸/۶


۷ ۔ جابر کی ایک حدیث

ساتواں موقع ، جابر بن عبد اللہ انصاری کی ایک حدیث ہے۔ وہ کہتے ہیں : ہم مسجد میں سوئے ہوئے تھے کہ پیغمبر اکرم (ص) تشریف لائے اور یوں فرمایا:

’’أترقدون بالمسجد؟ انّه لا یرقد فیه ۔ کیا تم لوگ مسجد میں سوتے ہو؟ مسجد سونے کی جگہ نہیں ہے۔ ‘‘

حضور اکرم (ص)کے ساتھ حضرت علی(ع) بھی تھے،آنحضرت (ص) نے ان کی طرف رخ کر کے فرمایا:

’’تعال یا علي! انّه یحلّ لک في المسجد ما یحلّ لي أما ترضی أن تکون منّي بمنزلة هارون من موسیٰ الاَّ النبوّة ! ۔ اے علی(ع) قریب آجاؤ! جو کچھ مسجد میں میرے لئے حلال ہے وہی تمہارے لئے بھی روا ہے۔کیا تم راضی نہیں ہو کہ میرے لئے ایسے رہو جیسے موسیٰ کے لئے ہارون تھے، سوائے مقام نبوت میں؟!‘‘


یہ حدیث بھی تاریخ مدینۃ دمشق میں نقل ہوئی ہے۔(۱؎)

۸ ۔ ام سلمہ کی حدیث

آٹھواں موقع ، جہاں ’’ حدیث منزلت‘‘ بیان ہوئی ہے وہ ام سلمہ کی ایک حدیث ہے۔ پیغمبر اکرم (ص) نے اپنی زوجہ جناب ام سلمہ سے فرمایا:

’’یا امّ سلمة! انّ علیّاً لحمه من لحمي و دمه من دمي وهو منّي بمنزلة هارون من موسیٰ الاَّ انّه لا نبيّ بعدی ۔ اے ام سلمہ! علی(ع) کا گوشت ،میرے گوشت سے اور اس کا خون، میرے خون سے ہے۔ وہ میرے لئے وہی منزلت رکھتا ہے جو موسیٰ کے لئے ہارون رکھتا تھا سوائے یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ ‘‘

یہ حدیث بھی تاریخ مدینۃ دمشق میں ہے ۔(۱؎)

ان کے علاوہ بہت سے دوسرے مواقع ہیں جہاں رسول اکرم (ص) نے حضرت امیر المؤمنین(ع) کی شان میں ’’ حدیث منزلت‘‘ بیان فرمائی ہے؛ البتہ ہم نے ان تمام موارد کی تحقیق کی ہے ؛ لیکن اختصار کی غرض سے انہی مذکورہ موارد پر اکتفا کرتے ہوئے باقی تمام موارد کو ذکر کرنے سے اجتناب کریں گے۔

____________________

۱۔ تاریخ مدینۃ دمشق: ۱/۲۹۰ ، حضرت علی(ع) کے حالات زندگی، حدیث ۳۲۹

۲۔ایضا: ۱/۳۶۵ ، حضرت علی(ع) کے حالات زندگی، حدیث ۴۰۶


خلافت پر حدیث منزلت کی دلالت کا خلاصہ

حضرت امیر المؤمنین(ع) کی خلافت پر حدیث منزلت کی تصریح کو مندرجہ ذیل نکات میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے:

پہلا نکتہ:

پیغمبر اکرم (ص) کے بعض بزرگ اصحاب اس عظیم مقام کی تمنا اور آرزو کیا کرتے تھے۔

دوسرا نکتہ:

پیغمبر اکرم (ص) نے مختلف مواقع پر اس حدیث کو تکرار کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔

تیسرا نکتہ:

اس حدیث کے متن اور مختلف نقل کے اندر کچھ قرائن موجود ہیں۔

متن حدیث کے بعض قرائن

اس واقعے کے بارے میں بہت سے شواہد اور قرائن موجود ہیں۔ ہم ان میں سے بعض کو بیان کریں گے:

پہلا شاہد:

حضور اکرم (ص) نے اس حدیث میں یوں فرمایا:

’’انّه لا بدّ ان اقیم او تقیم ۔ضروری ہے کہ میں مدینے میں رہوں یا آپ رہیں۔‘‘


اس جملے سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ کسی بھی کام میں علی(ع) کے سوا کوئی بھی شخص ، پیغمبر اکرم (ص) کی جگہ نہیں بیٹھ سکتا، آنحضرت (ص) کے امور کو انجام دینے کے لئے آپ (ص) جیسا نہیں ہو سکتا اور نہ ہی آپ (ص) کی ذمہ داریوں کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے آپ (ص) کا نائب بن سکتا ہے۔

اس حقیقت کے دوسرے نمونے بھی پائے جاتے ہیں جن میں سے امیر المؤمنین(ع) کے ذریعے اہل مکہ تک سورہ برائت پہنچانے کے واقعے کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔

دوسرا شاہد:

پیغمبر اکرم (ص) نے ارشاد فرمایا:

’’خلّفتک أن تکون خلیفتی ۔میں تمہیں اپنی جگہ چھوڑ رہا ہوں تاکہ میرا جانشین بنے رہو۔‘‘

یہ عبارت بھی اسی مطلب پر ایک شاہد ہے جس کی تفصیل گزر چکی ہے۔

تیسرا شاہد:

حضور اکرم (ص) نے فرمایا:

’’أنت منّي بمنزلة هارون من موسیٰ ۔۔۔ ۔تم میرے لئے اسی منزلت پر ہو جس پر موسیٰ کے لئے ہارون تھے۔۔۔۔‘‘

یہاں تک کہ فرمایا:

’’فانّ المدینة لا تصلح الاَّ بي أو بک ۔ بتحق یق مدینے کے امور ، میرے یا تمہارے بغیر منظم نہیں ہوں گے۔‘‘


المستدرک میں اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد حاکم نیشاپوری کہتے ہیں: اس حدیث کی سند صحیح ہے ؛ لیکن بخاری اور مسلم نے اسے نقل نہیں کیا ہے۔

چوتھا شاہد:

پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت امیر المؤمنین(ع) سے فرمایا:

’’لک من الأجر مثل مالي و مالک من المغتنم مثلما لي ۔ جو کچھ مجھے اجر و ثواب ملتا ہے تمہ یں بھی دیا جائے گا اور جو غنیمت میرے حصے میں آتی ہے ، تمہارے لئے بھی اسی طرح ہی ہوگی۔‘‘

اس حدیث کو’’الریاض النضرة في مناقب العشرة المبشرة‘‘ کے مصنف نے نقل کیا ہے۔(۱؎)

پانچواں شاہد:

’’حدیث منزلت‘‘ کی ایک نقل کے مطابق ، حضور اکرم (ص) نے حضرت علی(ع) سے فرمایا:

’’ انّه لا ینبغی أن أذهب الاَّ و أنت خلیفتی ۔ کسی صورت میں میرا جانا صحیح نہیں ہے؛ مگر یہ کہ تم میرا جانشین بنے رہو۔‘‘

یہ حدیث قطعی طور پر صحیح ہے اور بہت سارے مصادر میں مذکور ہے جن میں سے مسند احمد(۲؎) ، مسند ابی یعلی، المستدرک(۳؎) ، تاریخ مدینۃ دمشق(۴؎) ، تاریخ ابن کثیر(۵؎) ، الاصابۃ(۶؎) اور دوسرے مصادر کا نام لیا جا سکتا ہے۔

____________________

۱۔الریاض النضرۃ :۳/۱۱۹ ۲۔ مسند احمد: ۱/ ۵۴۵، حدیث ۳۰۵۲

۳۔ المستدرک: ۳/ ۱۳۳۔ ۱۳۴

۴۔ تاریخ مدینۃ دمشق: ۱/ ۲۰۹، حضرت علی(ع) کے حالات زندگی، حدیث ۲۵۱

۵۔البدایہ و النہایہ: ۷/ ۳۳۸

۶۔ الاصابۃ: ۴/ ۲۷۰


چھٹا شاہد :

پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا:

’’أنت خلیفتی في کلّ مؤمن بعدي أنت منّي بمنزلة هارون من موسیٰ و أنت خلیفتی في کلّ مؤمن بعدي ۔تم م یرے بعد تمام مؤمنین کے درمیان میرے جانشین ہو۔ تم میرے لئے وہی منزلت رکھتے ہو جو موسیٰ کے لئے ہارون رکھتے تھے اور تم میرے بعد تمام مؤمنین کے درمیان میرے جانشین ہو۔‘‘

یہ حدیث بھی صحیح سند کے ساتھ خصائص نسائی میں موجود ہے۔(۳؎)

____________________

۳۔ خصائص نسائی: ۴۹۔ ۵۰


خارج از متن قرائن

حدیث کے متن سے خارج بہت سارے ایسے قرائن موجود ہیں جو ہمارے مقصود معنی پر دلالت کرتے ہیں۔ ہم نے سند اور دلالت کے لحاظ سے ’’ حدیث منزلت‘‘ کی تحقیق اور جستجو کی جس سے یہ معلوم ہوا کہ یہ حدیث صراحت کے ساتھ پیغمبر اکرم (ص) کی خلافت اور جانشینی پر دلالت کرتی ہے۔

اگر کوئی حضرت امیر المؤمنین(ع) کی خلافت کو چوتھے مرتبے پر قرار دینے کی کوشش کرے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ قطعی دلیلوں کے ساتھ پہلے والے تین افراد کی خلافت کی حقانیت کو ثابت کرے تاکہ اس حدیث کو چوتھے مرتبے پر محمول کیا جا سکے ۔ اگر کوئی قطعی دلیل نہیں ہے تو اس خلافت کو چوتھے مرتبے پر محمول کرنا کسی صورت بھی صحیح نہیں ہے۔

ایک جہت سے یہ حدیث ، حضرت امیر المؤمنین(ع) کی عصمت کو ثابت کرتی ہے اور ایک جہت سے ، اعلمیت اور افضلیت کے لحاظ سے دوسروں پر آپ(ع) کی برتری کو ثابت کرتی ہے۔

ارویٰ اور معاویہ کا واقعہ

اگرچہ بات بہت طویل ہو گئی ہے؛ لیکن ایک روایت کو ذکر کرنا بر محل ہے۔ روایت کی گئی ہے کہ حارث بن عبد المطلب بن ہاشم کی بیٹی ارویٰ جو بڑی عمر رسیدہ خاتون تھیں، ایک مرتبہ معاویہ کے پاس پہنچیں۔ معاویہ نے ان سے کہا: آفرین ہو تم پر اے خالہ! کیا حال ہے آپ کا؟


ارویٰ نے جواب دیا:

’’بخیر یابن أُختی! لقد کفرت النعمة، وأسأت لابن عمّک الصحبة، و تسمّیت بغیر اسمک، و أخذت غیر حقّک، و کنّا أهل البیت أعظم الناس في هذا الدین بلاء اً، حتّی قبض اللّٰه نبیّه مشکوراً سعیه، مرفوعاً منزلته، فوثبت علینا بعده بنو تیم وعدي و أُمیّة، فابتزّونا حقّنا، ولّیتم علینا تحتجّون بقرابتکم من رسول اللّٰه (ص) و نحن أقرب الیه منکم و أولیٰ بهذا الأمر، و کنّا فیکم بمنزلة بني اسرائیل في آل فرعون، و کان علیّ بن أبي طالب بعد نبیّنا بمنزلة هارون من موسی ۔ ٹھیک ہوں اے بھانجے! لیکن تم نے نعمت کے مقابلے میں ناشکری کی اور اپنے چچا کے بیٹے کے ساتھ بد رفتاری کی ، اپنے اوپر کسی اور کے نام کا لیبل لگا لیا اور کسی دوسرے کا حق لے لیا۔ ہم خاندان اہل بیت(ع) کا امتحان اس دین میں سب سے سخت تھا، یہاں تک کہ خدا نے اپنے پیغمبر(ص) کو اپنی طرف اٹھا لیا در حالیکہ ان کی کوششوں کی شکر گزاری کی اور ان کے مقام کو بلند بنا دیا۔ ان کی رحلت کے بعد قبیلہ تیم (ابوبکر) ، عدی (عمر) اور امیہ ( عثمان و معاویہ) نے ہم پر یلغار کی اور ہمارے حق کو غصب کیا۔ تم لوگ ہم پر مسلط ہوگئے ہیں اور رسول اکرم (ص) سے اپنی رشتہ داری کے ذریعے استدلال کرنے لگے؛ حالانکہ تم سے زیادہ ہم پیغمبر اکرم (ص) سے نزدیک تر اور اس امر کے لئے لائق تر ہیں۔ ہم تمہارے درمیان، ایسے ہیں جیسے فرعونیوں کے درمیان بنی اسرائیل، اور علی(ع) بن ابیطالب(ع) ہمارے پیغمبر (ص) کی رحلت کے بعد ، موسیٰ کے لئے ہارون کی مانند تھے۔‘‘


اس وقت عمر و عاص نے کہا : بس کر اے گمراہ بڑھیا! اپنی باتوں کو تمام کر دو ؛ کیونکہ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔

ارویٰ نے کہا: اے پسر نابغہ! تجھ جیسا بھی منہ کھولتا ہے؛ جبکہ تمہاری ماں، مکے کی مشہور ترین فاحشہ عورت تھی اور اس کی اجرت ساری عورتوں سے کم تھی۔ قریش کے پانچ افراد تجھے اپنے نطفے کی پیداوار سمجھتے ہیں؛ اسی لئے تیری ماں سے پوچھا تھا کہ تم ان میں سے کس کی ناجائز اولاد ہے؟

تیری ماں نے کہا: یہ سب میرے پاس آتے تھے۔ اب دیکھ لو جس سے زیادہ شباہت رکھتا ہے اسی کا سمجھ لو۔ ملاحظہ کیا تو، تو عاص بن وائل سے زیادہ شباہت رکھتا تھا؛ لہٰذا اس کا بیٹا سمجھ لیا گیا۔

اچانک مروان بول پڑا: او بڑھیا! بس کر! اور جس کام کے سلسلے میں یہاں آئی ہو وہ بتاؤ!

ارویٰ کہنے لگیں: اے ابن زرقاء! تو بھی بولنے لگا ہے؟

پھر معاویہ کی سمت رخ کر کے کہا: خدا کی قسم! تو نے ہی ان کو میری توہین کرنے کی اجازت دی ہے۔ سچ یہ ہے کہ تو اس ماں کی اولاد ہے جس نے جناب حمزہ(ع) کی شہادت کے موقع پر کہا تھا:

نحن جزینا کم بیوم بدر

والحرب بعد الحرب ذات سعر

ماکان لی فى عتب ة من صبر

و شکر وحشى ّ عَلَ ى ّ د ه ر ی

حتّی ترمّ أعظمی فی قبرى

ہم نے تمہیں روز بدر کا جواب دے دیا، وہ جنگ جو ایک جنگ کے بعد ہو وہ بڑی آتشیں ہوتی ہے۔ میں عتبہ کی جدائی پر صبر نہیں کر سکتی۔ پوری زندگی وحشی کی شکر گزار رہوں گی، اس وقت تک کہ میری ہڈیاں قبر میں چھپ جائیں۔


اس وقت میری چچا زاد بہن نے جواب دیا تھا:

خَزیتِ في بدر و بعد بدر

یا بنت جبّار عظیم الکفر

تو جنگ بدر میں بھی اور اس کے بعد بھی ذلیل ہوگئی ہے ، اے اس ظالم و ستمگر کی بیٹی! جو بہت ہی بڑا کافر تھا۔

ایسے میں معاویہ نے کہا: اے خالہ ! جو کچھ گزر چکا، اللہ تعالیٰ نے بخش دیا ہے[!] اپنی حاجت بتاؤ!

ارویٰ نے کہا: میں تجھ سے کوئی حاجت نہیں رکھتی؛ پھر معاویہ سے ہاں سے چلی گئیں۔

ایک روایت میں ہے کہ ارویٰ نے معاویہ کے جواب میں کہا: مجھے دو ہزار دینا چاہئے تاکہ حارث بن عبد المطلب کی غریب ونادار اولاد کے لئے آباد اور سرسبز و شاداب زمین کے ساتھ ایک چشمہ خرید سکوں، اس کے علاوہ اور دوہزار دینار بنی حارث کے فقراء کی شادی کے سلسلے میں اور دوہزار اپنے لئے تاکہ زندگی کی سختیوں اور مشکلات سے آسودہ ہو جاؤں۔

معاویہ نے حکم دیا کہ جو کچھ چاہتی ہے اسے دے دیا جائے۔

اس پورے واقعے کونقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کی چچازاد ارویٰ نے ’’حدیث منزلت‘‘ سے استشہاد کیا ہے اور اس طرح حضرت امیر المؤمنین(ع) کی امامت پر استدلال کیا ہے۔ علی(ع) کو ہارون سے تشبیہ دی ہے اور اہل بیت(ع) کو ، فرعون اور فرعونیوں کے درمیان زندگی گزارنے والے ،بنی اسرائیل کی مانند قرار دیا ہے۔

یہ روایت معمولی سی تفاوت کے ساتھ’’ العقد الفرید‘‘ ،’’ المختصر فی اخبار بنی البشر‘‘ اور ابن شحنہ کی معتبر تاریخی کتاب’’ روضة المناظر‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہے۔(۱؎)

جی ہاں ! اس طرح ’’ حدیث منزلت‘‘ کی دلالت کے بارے میں بحث ختم ہوگئی اور اس پر ہونے والے تمام علمی اعتراضات کے جواب دئیے گئے، جس کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکر گزار ہیں۔

____________________

۱۔العقد الفرید: ۲/ ۱۱۹؛ المختصر فی اخبار بنی البشر: ۱/ ۱۸۸؛ روضۃ المناظر، حاشیہ تاریخ ابن کثیر، سنہ ۶۰ ہجری کے واقعات


ساتواں حصہ:

غیر علمی اشکالات پر ایک نظر


غیر علمی اشکالات

یہاں پر کچھ ایسے اشکالات کی طرف مختصر اشارہ کریں گے جن کے سہارے ’’حدیث منزلت‘‘ کو غیر علمی طریقے سے ردّ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اہل سنت کے بعض متعصب افراد جب علمی راہ سے ’’حدیث منزلت‘‘ پر کوئی اشکال نہ کر سکے تو انہوں نے غیر علمی راستے کا سہارا لیا ہے۔

۱ ۔ حدیث کی تحریف

شکست خوردہ اشکالات اور بے سر وپا اعتراضات کے بعد مخالفین نے جس راہ کا انتخاب کیا ہے وہ تحریف حدیث کا راستہ ہے۔ جب انہوںنے دیکھا کہ سند اور دلالت کے بارے میں ان کی باتیں بے فائدہ ثابت ہو رہی ہیں تو تحریف کا ہتھکنڈہ استعمال کیا۔ ایک ناصبی کوجب تحریف کے علاوہ کوئی راہ نظر نہ آئی وہ اسی برے عمل کا مرتکب ہوا؛ لیکن تحریف بھی ایسی بری تحریف کر ڈالی کہ کوئی کافر بھی اس طرح نہیں کرتا۔

حریز بن عثمان کے حالات زندگی، خطیب بغدادی کی تاریخ بغداد اور ابن حجر عسقلانی کی تہذیب التہذیب میں ملاحظہ فرمائیں۔ ان کی نقل کے مطابق حریز کہتا ہے کہ علی(ع) کے بارے میں لوگ پیغمبر اکرم (ص) کی ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا:’’انت منّي بمنزلة هارون من موسیٰ‘‘ بات تو صحیح ہے ؛ لیکن سننے والے نے سننے میں غلطی کی ہے۔

راوی نے پوچھا: پھر روایت کس طرح تھی؟

حریز کہتا ہے:یہ حدیث اس طرح ہے:’’انت منّي بمنزلة قارون من موسیٰ‘‘ [!!]

راوی نے پوچھا : تو کس سے یوں نقل کر رہا ہے؟

حریز نے کہا: میں نے سنا ہے کہ ولید بن عبد الملک ، منبر پر اس حدیث کو اسی طرح نقل کرتا تھا۔(۱؎)

____________________

۱۔ تاریخ بغداد: ۸/ ۲۶۸، حدیث ۴۳۶۵؛ تہذیب التہذیب: ۲/ ۲۰۹


افسوس کی بات یہ ہے کہ حریز ان لوگوں میں سے ہے جن پر بخاری نے اپنی صحیح میں اعتماد کیا ہے اور اس سے حدیثیں نقل کی ہیں۔ دوسری جہت سے صحیح مسلم کے علاوہ اہل سنت کی صحیح کتابوں کے مؤلفین نے اس شخص کو قبول کیا ہے ، اس کی روایتوں کی تصحیح کی ہے اور اس سے روایات نقل کی ہیں!

نقل ہوا ہے کہ احمد بن حنبل سے پوچھا گیا کہ حریز کیسا آدمی ہے؟ تو اس نے جواب میں تین مرتبہ کہا: قابل اعتماد ہے، قابل اعتماد ہے، قابل اعتماد ہے!

جبکہ حریز کے حالات زندگی میں لکھا ہوا ہے کہ وہ ہمیشہ حضرت علی(ع) کو گالیاں دیتا تھا، اپنی پوری قوت کے ساتھ علی(ع) پر حملہ کرتا اور آپ(ع) پر ظلم کرتا تھا۔ [!]

علمائے اہل سنت کی تصریح کے مطابق ، حریز ناصبی تھا جو ہمیشہ کہتا تھا: میں علی(ع) کو دوست نہیں رکھتا؛ کیونکہ اس نے میرے باپ دادا کو قتل کیا ہے۔

وہ ہمیشہ کہتا تھا: ہمارا امام (معاویہ) ہمارے لئے اور تمہارا امام ( علی(ع)) تمہارے لئے۔ وہ ہر صبح و شام حضرت علی(ع) پر ستر ( ۷۰) بار لعن کرتا تھا۔ [!]


اس طرح کی بہت ساری باتیں اس سے نقل ہوئی ہیں؛ لیکن ساری تفصیلات کے باوجود اہل سنت اس کی روایات کو صحیح سمجھتے ہیں۔ احمد بن حنبل ، تین بار کہتا ہے: وہ قابل اعتماد ہے اور مسلم کے علاوہ سارے ’’صحاح‘‘ کے مؤلفین اس سے روایت نقل کرتے ہیں۔

جی ہاں! اس صورتحال کو دیکھ کر ایک آزاد فکر محقق ، آسانی سے سمجھ جاتا ہے کہ اہل سنت ، راوی کی وثاقت کو ثابت کرنے اور حدیث کی صحت کو جانچنے میں کیسے معیارات اور ضوابط پر اعتماد کرتے ہیں اور حضرت علی(ع) کے ساتھ کس طرح کا سلوک کرتے ہیں۔

۲ ۔ شیخین کی فضلیت میں احادیث گھڑنا

بعض لوگوں نے ’’ حدیث منزلت‘‘ کے مقابلے میں ایک دوسری روش اپنائی ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے شیخین کے لئے بھی ایک حدیث منزلت تیار کی ہے اور اس کی نسبت رسول خدا (ص) کی طرف دی ہے کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا:

’’ابوبکر و عمر منّي بمنزلة هارون من موسیٰ ۔ابوبکر اور عمر دونوں میرے لئے ایسے ہیں جیسے موسیٰ کے لئے ہارون تھے۔ ‘‘[!]


اس حدیث کو خطیب بغدادی نے اپنی سند کے ساتھ نقل کیا ہے؛ اس کے بعد منّاوی نے ’’کنوز الحقائق من حدیث غیر الخلائق‘‘ میں خطیب بغدادی سے نقل کیا ہے۔(۱؎)

لیکن خوش قسمتی یہ ہے کہ ابن جوزی نے بھی اس من گھڑت حدیث کو نقل کیا ہے؛ لیکن کتاب ’’ الموضوعات‘‘ میں نہیں ؛ بلکہ’’ العلل المتناهیةفی الاحادیث الواهیة‘‘ میں اس کو جگہ دی ہے اور نقل کرنے کے بعد لکھا ہے: یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔(۲؎)

اسی طرح ذہبی نے میزان الاعتدال میں لکھا ہے کہ یہ حدیث ، منکر اور ناشناختہ ہے۔(۳؎)

اسی کتاب میں دوسری جگہ اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد ذہبی کہتا ہے: یہ ایک جھوٹی حدیث ہے۔(۴؎)

ابن حجر عسقلانی بھی اپنی کتاب ’’لسان المیزان ‘‘میں اس حدیث کو جھوٹا سمجھتا ہے اور اس کے من گھڑت اور جعلی ہونے کی تصریح کرتا ہے۔(۵؎)

بنا برایں اس جعلی حدیث سے استناد کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ یہ ایسی حدیث ہے جس کے ضعیف ہونے یا جھوٹے اور جعلی ہونے کی خود اہل سنت نے تصریح کی ہے۔ اس کے علاوہ یہ من گھڑت حدیث ، مسانید و سنن اور صحاح ستہ میں سے کسی ایک کتاب کے اندر موجود نہیں ہے۔

____________________

۱۔ تاریخ بغداد: ۱۱ / ۳۸۵، حدیث ۲۶۵۸؛ کنوز الحقائق ،حاشیہ الجامع الصغیر ، حرف الف

۲۔ العلل المتناہیۃ:۱ / ۱۹۹، حدیث ۳۱۲

۳۔ میزان الاعتدال: ۵/ ۴۷۳، حدیث ۴۹۰۰

۴۔ ایضا: ۵/ ۲۰۷، حدیث ۶۰۱۵

۵۔لسان المیزان:۵/ ۹، حدیث ۵۸۲۸۔ اس کتاب میں صرف ابوبکر کا نام ذکر ہوا ہے۔


۳ ۔ حدیث منزلت کی ردّ

تیسری اور آخری راہ جو مخالفین کو سوجھی وہ حدیث منزلت کو ردّ کرنا اور اس کی صحت کو قبول نہ کرنا ہے؛ جبکہ ہم واضح کر چکے ہیں کہ یہ حدیث ، صحیح بخاری اور مسلم سمیت دوسرے مصادر میں بھی نقل ہوئی ہے۔

اہل سنت کے بہت سارے علماء نے یہی روش اپنائی ہے جو اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ وہ دوسرے راستوں سے شکست کھا گئے ہیں اور روش علمی کے ذریعے اس حدیث پر کوئی اشکال وارد نہ کر سکے ہیں۔

ابو الحسن سیف الدین آمدی کہتا ہے: یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ ابن حجر مکی نے اس کی بات کو ’’ الصواعق المحرقہ‘‘ میں نقل کیا ہے۔(۱؎)

شریف جرجانی نے بھی ’’ شرح المواقف‘‘ میں آمدی کی بات کو قبول کر کے اسی پر اعتماد کیا ہے۔(۲؎)

قاضی ایجی نے بھی ’’حدیث منزلت ‘‘کے جواب میں کہا ہے: سند کے لحاظ سے اس حدیث کے ذریعے استدلال نہیں کیا جا سکتا۔(۳؎)

ان کے علاوہ اہل سنت کے دوسرے افراد بھی اس حدیث کو ردّ کرتے اور کہتے ہیں کہ اس کی سند صحیح نہیں ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ آمدی کی بات پر اعتماد کرتے ہیں؛ جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ذہبی نے ’’میزان الاعتدال‘‘ میں آمدی کے حالات

____________________

۱۔ الصواعق المحرقۃ: ۷۳

۲۔شرح المواقف: ۸/ ۳۶۲

۳۔ ایضا


زندگی کے ذیل میں اس طرح لکھا ہے کہ آمدی کو اس کے برے عقائد کی وجہ سے دمشق سے نکال باہر کر دیا گیا تھا اور یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ وہ نماز نہیں پڑھتا تھا۔(۱؎)

ہم یہ عرض کریں گے : جب نماز نہ پڑھنا ،ایک ایسا عیب ہے جس کی وجہ سے انسان کی عدالت چلی جاتی ہے اور دینی مسائل میں اس کی بات اور اس کے نظریات کے بے اعتبار ہونے کا سبب بنتا ہے تو پھر اس شخص پر کیوں اعتماد کیا جاتا ہے اور اس کی بات کیوں نقل کی جاتی ہے؟؟

اس کے علاوہ ، اہل سنت کے بہت سے بزرگان اور حافظان حدیث پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق ان کے حالات زندگی میں یہ بات موجود ہے کہ یہی محدثین، روایات سنت پیغمبر اور دین کے امین بنے ہوئے لوگ، نماز نہیں پڑھتے تھے۔ [!]

اگر اس تحریر میں گنجائش ہوتی تو ان کی مدح و ثنا اور توثیق و تعظیم میں لکھی گئی بعض عبارتوں کی طرف اشارہ کرتے ، جن کے ذریعے قاری کو معلوم ہوتا کہ مسلمانوں کے ہاں دین کا ستون شمار ہونے والی نماز کا ترک کرنا ان افراد کے لئے کوئی عیب و نقص کا سبب نہیں ہے۔ [!]


سخن آخر

جو تحقیق اور بیان آپ کی نظر سے گزرا وہ ’’ حدیث منزلت‘‘ کے بارے میں اہل سنت کی کوششیں اور ان کے اشکالات تھے ۔ اشکال کرنے والے ، اہل سنت کے علماء، حافظان حدیث اور وہ لوگ ہیں جن پر اہل سنت ، اپنے عقائد اور احکام کے سلسلے میں اعتماد کرتے ہیں۔

سچ یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی جانب سے امت کے نصیب میں ، اس مظلوم گروہ میں سے جو ’’ارویٰ‘‘ کے بقول فرعونیوں کے پنجے میں بنی اسرائیل کی مانند ہیں، بہترین علماء نہ ہوتے تو دین مبین اسلام کا ستیاناس ہوجاتا اور سید المرسلین (ص) کے آثار نابود ہوجاتے؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان علماء کے ذریعے ، دوسروں پر حجت تمام کر دی ہے۔

اس وقت جو منصف مزاج محققین ، بحث و تحقیق کے درپے ہیں اور جہاں کہیں سے بھی ، حق کو پانے اور اس کی پیروی کرنے کے خواہاں ہیں، ان کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ ان باتوں کی اصلیت اور حقیقت کو سمجھیں۔

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں قرآن اور مقبول و معتبر سنت کی بنیادوں پر قائم عقائد پر استوار اور ثابت قدم رکھے ، حقائق کو آشکار کرنے اور امور کی وضاحت کرنے میں اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے ؛ نیز اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ص) کے پسندیدہ امور کی طرف لانے میں طالبان حق و حقیقت کیمدد کرنے کا موقع عطا فرمائے! صلوات و رحمت خدا ہو حضرت محمد (ص) اور آپ (ص) کے خاندان پاک پر !

____________________

۱۔میزان الاعتدال: ۳/ ۳۵۸، حدیث ۳۶۵۲


کتابنامہ

۱ ۔ قرآن مجید

۲ ۔ نہج البلاغہ: (شیخ محمد عبدہ) مطبع استقامت ، مصر۔

’’الف‘‘

۳ ۔ ارشاد الساری: احمد بن محمد بن ابو بکر قسطلانی، دار احیاء تراث عربی، بیروت۔

۴ ۔ الاستیعاب: ابن عبد البر، دا الجلیل، بیروت، لبنان، اشاعت اول، ۱۴۱۲ ھ۔

۵ ۔ الاصابۃ: ابن حجر عسقلانی، دارالکتب علمیہ، بیروت ، لبنان

’’ب‘‘

۶ ۔ البدایۃ و النہایۃ: ابن کثیر، دار الفکر، بیروت لبنان

’’ت‘‘

۷ ۔تاریخ بغداد: خطیب بغداد، دار الکتب العربی، بیروت ، اشاعت اول ، ۱۴۱۷ ۔

۸ ۔تاریخ مدینۃ دمشق: ابن عساکر، دار الفکر، بیروت، ۱۴۱۵

۹ ۔تحفہ اثنا عشریہ: شاہ عبد العزیز دہلوی، نورانی کتابخانہ، پشاور ، پاکستان

۱۰ ۔ تفسیر بغوی= معالم التنزیل فی التفسیر و التأویل:ابو محمد حسین بن مسعود فراء بغوی، دارلفکر، بیروت، ۱۴۰۵

۱۱ ۔ تفسیر الجلالین: جلال الدین محمد بن احمد المحلی شافعی؛ جلال الدین سیوطی

۱۲ ۔ تفسیر ثعلبی = الکشف و البیان: امام ثعلبی، نشر مصطفی بابی حلبی، مصر ، ۱۳۸۸

۱۳ ۔ تہذیب التہذیب: ابن حجر عسقلانی، دار الفکر، بیروت، ۱۴۰۴

۱۴ ۔تہذیب الکمال: مزی ، مؤسسہ الرسالۃ ، بیروت، ۱۴۱۳

’’ج‘‘

۱۵ ۔ الجامع الکبیر: جلال الدین سیوطی، دار الفکر، بیروت ۱۴۱۴


’’خ‘‘

۱۶ ۔الخصائص: نسائی، مجمع احیاء الثقافۃ الاسلامیہ، قم، ایران، اشاعت اول، ۱۴۱۹

’’د‘‘

۱۷ ۔الدر المنثور فی تفسیر الماثور: جلال الدین سیوطی، دار الفکر، بیروت، ۱۴۰۳

’’ر‘‘

۱۸ ۔روضۃ المناظر: ابن شحنہ حنفی، ( مطبوع در حاشیہ تاریخ ابن کثیر)

۱۹ ۔ریاض النضرۃ: محب الدین الطبری، دار الکتب علمیہ ، بیروت

’’ز‘‘

۲۰ ۔زاد المعاد: ابن قیم جوزی، مؤسسہ الرسالہ ، بیروت، ۱۴۰۸

’’س‘‘

۲۱ ۔سنن ابن ماجہ: ابن ماجہ قزوینی، دار الجلیل ، بیروت، اشاعت اول ، ۱۴۱۸

۲۲ ۔ سنن ابی داؤد: ابو داؤود، دار الکتب علمیہ، بیروت ، اشاعت اول ، ۱۴۱۶

۲۳ ۔ السنن الکبریٰ: بیہقی، دار الکتب علمیہ، بیروت، اشاعت دوم، ۱۴۱۴

۲۴ ۔ سنن ترمذی: محمد بن عیسیٰ ترمذی، دار الفکر ، بیروت

۲۵ ۔ سنن النسائی: نسائی، دار المعرفۃ، بیروت، اشاعت سوم، ۱۴۱۴

۲۶ ۔ سیرۃ ابن ہشام: ابن ہشام، دار احیاء التراث العربی، بیروت، اشاعت اول ۱۴۱۵

۲۷ ۔ السیرۃ الحلبیہ: علی بن برہان الدین حلبی، مکتبۃ التجاریۃ الکبریٰ، قاہرہ، مصر، ۱۳۸۲

’’ش‘‘

۲۸ ۔ شرح صحیح مسلم: محی الدین یحییٰ بن شرف نووی

۲۹ ۔ شرح المواقف: سید شریف جرجانی، منشورات شریف رضی، قم، ایران، اشاعت اول، ۱۴۱۲


’’ص‘‘

۳۰ ۔ صحیح بخاری: محمد بن اسماعیل بخاری، دار احیاء التراث العربی، بیروت

۳۱ ۔ صحیح مسلم: مسلم بن حجاج قشیری نیشاپوری، دار الفکر، بیروت، ۱۳۹۸

۳۲ ۔ الصواعق المحرقۃ: ابن حجر ہیتمی مکی، مکتبۃ القاہرہ، قاہرہ، مصر

’’ط‘‘

۳۳ ۔الطبقات الکبریٰ :ابن سعد، دار صادر، بیروت ، ۱۴۰۵

’’ع‘‘

۳۴ ۔العقد الفرید: ابن عبد ربہ، دار الکتاب العربی، بیروت، ۱۴۰۳

۳۵ ۔ العلل المتناھیۃ: ابن جوزی ، دار الکتب علمیہ، بیروت، اشاعت اول، ۱۴۰۳

۳۶ ۔ عیون الأثر: ابن سید الناس، مکتبہ دار التراث، مدینہ منورہ، ۱۴۱۳

’’ف‘‘

۳۷ ۔فتح الباری فی شرح البخاری: ابن حجر، دار احیاء التراث العربی، بیروت

۳۸ ۔ فیض القدیر: مناوی، دار الکتب العلمیہ، بیروت، اشاعت اول، ۱۴۱۵

’’ق‘‘

۳۹ ۔ قطف الازہار المتناثرۃ فی الاخبار المتواترۃ: جلال الدین سیوطی

’’ک‘‘

۴۰ ۔کشف الاسرار فی شرح اصول البزدوی: شیخ عبد العزیز بخاری، دار الکتب علمیہ، بیروت ، ۱۴۱۸

۴۱ ۔کفایۃ الطالب فی مناقب علی بن ابی طالب(ع): حافظ گنجی

۴۲ ۔ کنز العُمّال: متقی ہندی، دار احیاء التراث العربی، بیروت

۴۳ ۔ کنوز الحقائق من حدیث خیر الخلائق : مناوی، مطبوع در حاشیہ الجامع الصغیر


’’ل‘‘

۴۴ ۔لسان المیزان: ابن حجر، دار احیاء التراث العربی، بیروت، اشاعت اول، ۱۴۱۶

’’م‘‘

۴۵ ۔مجمع الزوائد و منبع الفوائد :ہیثمی، دار الفکر، بیروت، ۱۴۱۲

۴۶ ۔ المختصر(بیان المختصر): ابن حاجب، مرکز احیاء التراث اسلامی، مکہ مکرمہ

۴۷ ۔المختصر فی اخبار بنی البشر: عماد الدین اسماعیل بن ابی الفداء ، حسینیہ مصریہ، قاہر ، مصر

۴۸ ۔المستدرک علی الصحیحین: حاکم نیشاپوری، دار الکتب علمیہ، بیروت، اشاعت اول، ۱۴۱۱

۴۹ ۔ مسند احمد بن حنبل: احمد بن حنبل شیبانی، دار احیاء التراث عربی، بیروت، اشاعت سوم، ۱۴۱۵

۵۰ ۔ المطوّل: سعد الدین تفتازانی، انتشارات داوری، قم ایران، ۱۴۱۶

۵۱ ۔ المعجم الاوسط: سلیمان بن احمد لخمی طبرانی، دار الحرمین، ۱۴۱۵

۵۲ ۔ المناقب: احمد بن حنبل شیبانی

۵۳ ۔ مناقب امام علی(ع) : ابن مغازلی، دار الاضواء، بیروت، ۱۴۰۳

۵۴ ۔ منہاج السنۃ النبویہ: ابن تیمیہ حرانی، مکتبہ ابن تیمیہ، قاہرہ ، مصر، اشاعت دوم ، ۱۴۰۹

۵۵ ۔میزان الاعتدال:ذہبی، دار الکتب علمیہ، بیروت، اشاعت اول، ۱۴۱۶

’’ن‘‘

۵۶ ۔نظم درر السمطین:جمال الدین محمد بن یوسف زرندی حنفی


فہرست

ابتدائیہ ۴

مقدمہ ۶

پہلا حصہ: ۷

راویان ’’حدیث منزلت‘‘ پر ایک نظر ۷

حدیث منزلت کے راوی ۷

۱ ۔ امیر المومنین علی علیہ السلام ۷

حدیث منزلت کا تواتر ۹

مختلف صدیوں میں اس حدیث کے راوی ۱۱

دوسرا حصہ : ۱۵

حدیث منزلت کے متن پر ایک نظر ۱۵

حدیث منزلت کا متن اور اس کی تصحیح ۱۵

بخاری کی روایت ۱۶

مسلم کی روایت ۱۸

اہل سنت کی نگاہ میں دوصحیح کتابیں ۲۰

حدیث منزلت کے مزید متون ۲۵

ابن سعد کی روایت ۲۵

۱ ۔ سعید بن مسیب سے متصل سلسلہ : ۲۵

۲ ۔براء بن عازب اور زید بن ارقم سے متصل سلسلہ: ۲۶

نسائی کی روایت ۲۸

طبرانی کی روایت ۲۹


سیوطی کی روایت ۳۰

ابن کثیر کی روایت ۳۰

تیسرا حصہ: ۳۳

حدیث منزلت کی دلالتوں پر ایک نظر ۳۳

حدیث منزلت کی دلالتیں ۳۴

قرآن کی رو سے حضرت ہارون کا مقام ۳۴

۱ ۔ نبوت ۳۴

۳ ۔ خلافت و جانشینی ۳۶

۴،۵ ، ۶ ۔اخوت و رسالت میں مشارکت ، مضبوط پشت پناہ ۳۶

حضرت علی(ع) کے مقام ومنزلت پر ایک نظر ۳۷

بعثت کی ابتدا ء اور حضرت علی(ع) کی وزارت ۴۱

علی(ع) کی وزارت اور پیغمبر(ص) کی دعا ۴۳

مخصوص منزلت ۴۴

خصوصی برتری ۴۴

امور میں شرکت ۴۶

پیغمبر اکرم(ص) کی پشت پناہی ۴۹

امور کی اصلاح ودرستگی ۵۰

علم و آگہی ۵۱

مقام عصمت ۵۴

مقام طہارت و پاکیزگی ۵۵

چوتھا حصہ: ۶۱


امیر المومنین(ع) کی خلافت پر ۶۱

حدیث منزلت کی دلالت ۶۱

حدیث منزلت اور خلافت علی(ع)کا واضح بیان ۶۲

پیغمبر(ص) کی جانشینی، فضائل کی اوج ۶۳

قابلیت کا ظہور ۶۴

بلا شرط فرمان برداری ۶۶

حدیث منزلت اور علمائے اہل سنت کا نظریہ ۶۷

پانچواں حصہ: ۷۰

حدیث منزلت کو رد کرنے کی علمی کوششیں ۷۰

حدیث منزلت کو ردّ کرنے کی کوششیں ۷۱

علمی اشکالات ۷۱

دوسرا اشکال :خلافت کی محدودیت ۷۲

پہلے اشکال کا جواب ۷۳

اہل فن کا نظریہ ۷۴

دوسرے اشکال کا جواب ۷۹

پہلی صورت: ۷۹

دوسری صورت: ۸۰

حدیث منزلت اورابن تیمیہ کا نظریہ ۸۳

نظریہ ابن تیمیہ کی ردّ ۸۶

اعور واسطی کا نظریہ ۸۹

تیسرے اشکال کا جواب ۹۲


چھٹا حصہ: ۹۳

وہ مواقع جہاں حدیث منزلت بیان ہوئی ۹۳

وہ مواقع جہاں حدیث منزلت بیان ہوئی ۹۴

۱ ۔ اصحاب کی اخوت کے موقع پر ۹۴

۲ ۔حسنین(ع) کی ولادت کے موقع پر ۹۷

۳ ۔ خطبہ غدیر خم ۹۸

۴ ۔ مسجد کی طرف کھلنے والے دروازوں کو بند کراتے وقت ۹۸

۵ ۔عمر بن خطاب کا تقاضا ۹۹

۶ ۔ دختر حمزہ کے ماجرا میں ۹۹

۷ ۔ جابر کی ایک حدیث ۱۰۰

۸ ۔ ام سلمہ کی حدیث ۱۰۱

خلافت پر حدیث منزلت کی دلالت کا خلاصہ ۱۰۲

پہلا نکتہ: ۱۰۲

دوسرا نکتہ: ۱۰۲

تیسرا نکتہ: ۱۰۲

متن حدیث کے بعض قرائن ۱۰۲

پہلا شاہد: ۱۰۲

دوسرا شاہد: ۱۰۳

تیسرا شاہد: ۱۰۳

چوتھا شاہد: ۱۰۴

پانچواں شاہد: ۱۰۴


چھٹا شاہد : ۱۰۵

خارج از متن قرائن ۱۰۶

ارویٰ اور معاویہ کا واقعہ ۱۰۶

ساتواں حصہ: ۱۱۰

غیر علمی اشکالات پر ایک نظر ۱۱۰

غیر علمی اشکالات ۱۱۱

۱ ۔ حدیث کی تحریف ۱۱۱

۲ ۔ شیخین کی فضلیت میں احادیث گھڑنا ۱۱۳

۳ ۔ حدیث منزلت کی ردّ ۱۱۵

سخن آخر ۱۱۷

کتابنامہ ۱۱۸