آفتاب ولایت
گروہ بندی امیر المومنین(علیہ السلام)
مصنف علی شیر حیدری
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


آفتاب ولایت

مصنف:علی شیر حیدری


پیش لفظ

علی اور دیگر آئمہ معصومین کی معرفت کیونکر ضروری ہے؟

بے شک بہت سی قیمتی اور اعلیٰ کتابیں مولا علی علیہ السلام اور باقی آئمہ معصومین علیہم السلام کو متعارف کروانے کیلئے اور اُن کی ولایت برحق کے ثبوت میں لکھی جاچکی ہیں اور وہ مسلمانوں اور حق کی تلا ش کرنے والوں کے ہاتھوں تک پہنچ چکی ہیں ۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ان تمام کتابوں کے میسر ہونے کے باوجود خدا کے ان خاص بندوں کی مظلومیت اقوام عالم میں اب بھی اظہر من الشمس ہے اور اُن کا مقام اعلیٰ، عظمت بالا، اُسوئہ حسنہ ،بندگی خدااور عبادت بے ریاء بہت سے مسلمانوں کی نظروں سے ابھی تک اوجھل ہے۔

اس کے برعکس ہم دیکھ رہے ہیں کہ شیطانی قوتیں اور گمراہ قومیں روز بروزلوگوں کو اہل بیت اطہاراور صراط مستقیم سے منحرف کرنے کیلئے اپنا دائرئہ اثر وسیع سے وسیع تر کررہی ہیں۔ لہٰذا زیادہ سے زیادہ ایسی کتابیں لکھے جانے کی ضرورت ہے جو عصر جدید کے تقاضوں کوکماحقہ پورا کرسکیں۔

امام کی خدمت میں ایک حقیر تحفہ

پیش نظر کتاب جو حقیقتاً خاندان نبوت کے دریائے فضائل کے سامنے ایک قطرہ یا اُس سے بھی کم تر حیثیت کی حامل ہے، مجھ ناچیز کی طرف سے جناب مولائے متقیان امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی خدمت اقدس میں یہ حقیر تحفہ اور اُن کے فرزند باکمال، قطب عالم امکان، بقیة اللہ الاعظم امام زمانہ علیہ السلام کے توسط سے پیش ہے۔

اس اُمید کے ساتھ کہ میری یہ بہت مختصر اور حقیرکوشش شاید اُن افراد کیلئے جو ان بزرگوں کے اعلیٰ کردار ، بزرگی اور عظمت و بلندی کی مکمل پہچان کی جستجو میں ہیں، مددگار ثابت ہو، اور وہ تلاش حق میں کامیاب ہوں ،نیز اُن افرادکیلئے جن کے دل محبت اہل بیت نبوت سے سرشار ہیں، مزید تقویت ایمانی کا باعث بنے۔ انشاء اللہ مجھے خدائے بزرگ و برترسے اُمید کامل ہے کہ جس دن


( یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالَ وَلا بَنُون )

کی صدابلند ہوگی، اُس دن اہل بیت سے ہمارا یہ رشتہ عشق و محبت توشہ آخرت ثابت ہوگا اور یہ بزرگ اُس دن ہمیں لوائے حمد کے سایہ میں جگہ دیں گی۔

معاشرے میں صالح حکومت اور مخلص رہبر کی ضرورت

اس میں کوئی شک نہیں کہ صالح حکومت اور مخلص رہبر کا وجود ہر معاشرے کی بنیادی اور اہم ترین ضرورت ہے۔ دنیا کے تمام عاقل اور دانشمند حضرات اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور اسے معاشرے کی سلامتی اور ترقی کیلئے بنیادی شرط مانتے ہیں ۔ مخلص رہبر کا ہونا تو سب سے اہم اور لازم ہے، اس کے بغیر کسی بھی معاشرے کا قائم رہنا ناممکن ہے۔ جس معاشرے میں کوئی حکومت اور رہبر نہ ہو، اُسے بیمار اور زوال پذیر معاشرہ سمجھا جاتا ہے۔

کلی طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صالح حکومت اورمخلص رہبر (جس نقطہ نظر سے بھی دیکھیں) کی ضرورت روز روشن کی طرح واضح ہے۔

انسانوں کی حکومت بنانے کی کوششیں

یہ نکتہ غور طلب ہے کہ انسان نے حکومت بنانے اور رہبر چننے کی ضرورت کو بہت عرصہ پہلے محسوس کر لیا تھا لیکن ان میں سے بہت سے علوم لازمہ سے باخبر نہ ہونے کی وجہ سے حکومت بنانے اور رہبر چننے کیلئے غلط راستوں پر چلے۔ ہمیں یہ تسلیم کرناہوگا کہ غلطی کی بنیادصرف یہ تھی کہ ان لوگوں نے محض اپنی محدود عقل پر بھروسہ کیا، جبکہ ان کے مقابلہ میں دوسرے گروہ نے پیغمبران خدا کی تعلیمات کی روشنی سے اپنی محدود عقل کو وسعت بخشی۔ اس طرح اُن کی فکری نظر لامحدود اور


کامل تر ہوگئی۔ اس کے نتیجہ میں جلد ہی غلط اور صحیح راستے میں پہچان ہوگئی اور ایسی شکل میں حکومت سامنے آئی جو تمام افراد کی مادّی اور معنوی ضروریات کا خیال رکھے اور یہ حکومت سوائے اللہ تعالیٰ کی حکومت کے اور کوئی نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ اس سیدھے راستے کے پیروکار ہمیشہ اقلیت میں رہے لیکن اپنے پختہ اورسچے ارادے سے اس کوشش میں رہے کہ ایسی سعادت مند حکومت کا قیام ہوجائے ۔ یہاں تک کہ اللہ نے اپنے پیغمبرخاتم کے ذریعے دین اسلام کو مکمل کردیااور ایک وسیع حکومت اسلامی معرض وجود میں آئی۔ اللہ نے اس حکومت اسلامی کو برقرار رکھنے کیلئے اپنے رسول کے ذریعے ایسے مخصوص افراد کی پہچان کروائی تاکہ اُن کی بدولت یہ اسلامی حکومت اپنے مقاصد عالی تک پہنچ سکے اور لوگ اُن کی اطاعت کرکے حق کے راستے کو پہچانیں اور گمراہی سے بچ جائیں اور منازل عالیہ کو حاصل کرسکیں۔

حکومت اسلامی کی قابل توجہ خصوصیات

حکومت اسلامی کی قابل توجہ خصوصیات جنہوں نے اسے دیگر طرز کی حکومتوں سے ممتاز کردیا، وہ اس کے دو بنیادی اور اہم ستون ہیں ،جن کی وجہ سے انتہائی کم مدت میں اسلام کی آواز دنیا کے کونے کونے میں پہنچ گئی۔ جلد ہی اس کے لاکھوں بلکہ کروڑوں پیروکار اور معتقدجہان میں پھیل گئے۔ البتہ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے علم و دانش میں ترقی ہوگی، لوگ باقی طرزہائے حکومت کے نقائص اور بے فائدہ ہونے کو جان جائیں گے اور انشاء اللہ حکومت اسلامی کی طرف لوگوں کا رحجان بہت تیزی سے بڑھے گا۔

حکومت اسلامی کی دو قابل توجہ خصوصیات یہ ہیں:

۱۔ اُس خدائے پاک نے جس نے انسان کو خلق کیا اور وہ اس انسان کی تمام مادی اورروحانی ضروریات سے سوفیصد واقف ہے،ایک ایسا نظام حیات کتابی صورت میں عطا کیا جس میں اُس نے اپنے لطف و کرم کی عظمت کے تحت کوئی ایسا ضابطہ حیات جو انسان کی ترقی کیلئے ضروری ہو، کم نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے تمام قوانین الٰہی اپنے انبیاء، اوصیاء اور اولیاء کے ذریعے سے انسانوں تک پہنچا ئے۔


۲۔ اسلام اور حکومت اسلامی کی دوسری قابل توجہ خصوصیت اُن افراد پاک سے تعلق رکھتی ہے جو ان قوانین اور دستورات الٰہی کو انسانوں تک پہنچانے کے ذمہ دار ہیں اوررہیں گے۔

مندرجہ بالا خصوصیات سے ظاہر ہوا کہ حکومت اسلامی میں قوانین کی بنیاد اور اساس قول خداوندی ہونے کے ساتھ ساتھ ان کو لوگوں تک پہنچانے اور معاشرے میں رائج کرنے کے ذمہ دار افراد بھی خدا کی طرف سے متعین ہوں گے۔ پہلے مرحلہ میں خود پیغمبران خدا اور دوسرے مرحلہ میں اُن کے جانشین برحق اس کام کے ذمہ دار ہیں۔

اس بنیاد پر سید المرسلین کے وجود پاک کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت ازلی کے سبب یہ ذمہ داری آپ کے اوصیائے کرام یعنی آئمہ معصومین علیہم السلام کے حصہ میں آئی اور ابھی تک یہ خدا کا کرم بصورت جناب حجة القائم امام مہدی علیہ السلام ابن الحسن عسکری قائم ہے۔ یہاں تک کہ امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کے دوران بھی لوگوں کو صحیح راستہ بتانے کیلئے اور اُمت مسلمہ کی رہنمائی کیلئے ذمہ داری فقہائے بزرگ و باتقویٰ اور علمائے کرام جن کے سربراہ ولایت فقیہ ہیں، دی گئی ہے۔(۱)

____________________

۱ : کتاب کمال الدین باب۔۴۵ اور دیگر کتب کے حوالہ سے ایک اہم حدیث خود امام زمانہ علیہ السلام(عج) سے یوں نقل ہے:آپ نے اسحاق بن یعقوب ، ایک معروف شیعہ بزرگ عالم(بواسطہ محمد بن عثمان بن سعید) کے خط کے جواب میں ارشاد فرمایا:

”وَاَمَّاالْحَوَادِثُ الْوَاقِعَةُ فَارْجِعُوْافِیْهَااِلٰی رُوَاةِ حَدِیثِنَافَاِنَّهُمْ حُجَّتِیْعَلَیْکُم وَاَ نَاحُجَّةُ اللّٰهِ عَلَیْهِمْ“

”تمہارے لئے جو حوادث اور واقعات پیش آئیں، اُن کی رہنمائی کیلئے ہمارے علماء و فقہاء کی طرف رجوع کرو کیونکہ وہ تم سب پر حجت ہیں اور میں اُن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت ہوں“۔


پیغمبر اسلام کے بعد رہبری جامعہ اسلامی میں اختلاف بین المسلمین پر ایک نظر

تاریخ اسلام خطرناک اور حساس واقعات سے بھری پڑی ہے۔ اس میں نشیب و فرازبھی ہیں، کامیابی کی داستانیں بھی ہیں اور پسپائی کے منظر بھی۔انہی راستوں سے تمام ایمان کےدعویداروں کا امتحان بھی ہوا اور آزمائش الٰہی بھی۔ آہستہ آہستہ حقیقی مومن اور ظاہری دعویداران ایمان الگ الگ ہوگئے۔ یہ روش جاری رہی اور تاقیامت جاری رہے گی۔ اس طرح کا ایک واقعہ تاریخ اسلام میں ایسا بھی ہوا جس میں آزمائش کے تمام مواقع موجود تھے۔ ہم مسلمانوں کے درمیان اختلاف کی اصلی وجہ کو بھی اس میں تلاش کریں گے۔

جب سرورکائنات، اشرف مخلوقات، سبب وجود کائنات، پیغمبر اسلام حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس جہان فانی کو خیر باد کہہ کر لقائے رب العالمین کیلئے اُس جہان کی طرف منتقل ہوئے تو سارا عالم اسلام ماتم کدہ بن گیا(۱) ۔ ہر دل غمگین ہوگیا اور ہر چہرہ پریشان ہوگیا۔

_____________________

۱:جناب رسول خدا کے انتقال کے فوری بعد ایک گروہ سقیفہ بنی ساعدہ میں نئے رہبر اور خلیفہ کے انتخاب میں مشغول ہوگیا۔ان لوگوں نے امامت اور رہبر کے بارے میں اپنے پیغمبر کی تمام نصیحتوں اور فرامین کو یکسر فراموش کردیا۔جبکہ حضرت علی علیہ السلام اور چند دیگر اصحاب خاص رسول خدا کے کفن و دفن میں مصروف تھے۔


اُن مخصوص حالات میں تمام مسلمانان عالم پر واجب تھا کہ وہ رسول خدا کی واضح نصیحتوں اور امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی امامت اور رہبری کے بارے میں ارشادات کو پیش نظر رکھتے تاکہ تمام مسلمانوں کو ہر قسم کے فتنہ و فساد سے بچایا جاسکتا۔ لیکن افسوس !ایسا نہ ہوا۔ مسلمانوں میں سے ایک گروہ کی لاعلمی کی وجہ سے اور منافقین کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے اہم فیصلے ایسے افراد کےہاتھوں میں آگئے جو اس کے اہل نہیں تھے، جنہوں نے مسلمانوں کی عدم توجہ سے ناجائز فائدہ اٹھایا اور پیغمبر اسلام کی تمام نصیحتوں اور برملا اعلانات کو پس پشت ڈال دیا۔ اس طرح عوام الناس کو خدا کے چنے ہوئے برگزیدہ اماموں کی رہنمائی سے محروم کردیا گیا۔

ان وجوہات کی بناء پر اور عالم اسلام کی سلامتی کی خاطر سب سے پہلے جناب سیدہ فاطمة الزہراسلام اللہ علیہا نے شہادت پائی۔ جناب سیدہ سلام اللہ علیہا ایک عظیم عالمہ اور ولایت علی علیہ السلام کی سب سے بڑی محافظہ تھیں۔ آپ رسول اللہ کے بہت نزدیک تھیں۔ مزید برآں خاص اصحاب رسول اُس معاشرے میں تن تنہا رہ گئے اور دوسرے افراد حکومت میں نفوذ کرگئے۔

اس طرح مسئلہ خلافت اور حکومت پر مسلمان دودھڑوں میں تقسیم ہوگئے اور آہستہ آہستہ یہ خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی گئی اور یہ بات مسلمانوں میں مزید دھڑے بندیوں کا باعث بنی۔

کچھ عرصہ گزرنے کے بعد عیسائی، یہودی اور اُن تمام لوگوں نے جن کے دلوں میں اسلام کے خلاف کینہ تھا، اس سانحہ عظیم سے بہت فائدہ اٹھایا اور ہر ممکنہ کوشش کی کہ مسلمانوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ اختلافات پیدا کئے جائیں۔ اُن کااصلی مقصد تو صرف دین اسلام کی بنیاد اکھاڑنا تھا۔ وہ کسی حد تک اس میں کامیاب بھی ہوئے ۔ وہ افراد جنہوں نے مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کئے اور اس چیز کا باعث بنے کہ مسلمان قیامت تک متحد نہ ہو سکیں، یقینا اُس دن اُن سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا، جس دن چھوٹی سے چھوٹی نیکی اور چھوٹی سے چھوٹی بدی کا بھی حساب ہوگا۔ اُس وقت اُن کے پاس شرمساری کے سوا کوئی جواب نہیں ہوگا۔ البتہ اُس دن شرمساری کوئی فائدہ نہیں دے گی۔


آج ضرورت وقت کیا ہے؟

رحلت رسول خدا کے بعد مسلمانوں کو جوتلخ تجربات ہوئے اور جن نازک حالات سے گزرے، اُن کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان جس فرقہ یا نظریہ کے بھی ماننے والے ہوں، اپنا فرض سمجھ کر آگے آئیں اور موجودہ دور کی ترقی علم و دانش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رسول خدا کے اُن تمام ارشادات جو انہوں نے حکومت اسلامی اور اس کے رہبران کے تعارف کیلئے فرمائے، کا مطالعہ کریں۔ یہ مطالعہ اُسی وقت فائدہ دے گا جب ہر قسم کے تعصبات اور شیطانی وسوسوں کو بالائے طاق رکھ کر تلاش حق کیلئے جستجو کی جائے۔

ملت اسلامیہ سے عمومی طور پر اور برادران و خواہران اہل سنت سے خصوصی طورپر مخلصانہ درخواست ہے کہ علمائے اہل سنت کی کتابوں کا بھی مطالعہ کریں جن میں انہوں نے مقام اور فضائل حضرت علی علیہ السلام بیان کئے ہیں۔

قرآن پاک میں بہت سی آیات ہیں جو حضرت علی علیہ السلام اور اہل بیت کی شان میں نازل ہوئیں۔ اس بارے میں رسول خدا کی بہت سی روایات موجود ہیں۔ ان کے علاوہ خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر، خلیفہ دوم حضرت عمر، خلیفہ سوم حضرت عثمان اور حضرت عائشہام المومنین اور دیگر فلسفی اور دانشمند حضرات نے بیشمار فضائل حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں بیان فرمائے ہیں۔ اس لئے ہماری گزارش ہے کہ اُن کا بھی مطالعہ کیا جائے۔ اس طرح پڑھنے والے کو اصل حقائق جس طرح واقع ہوئے ہیں، کا علم ہوجائے گا۔

کچھ اس کتاب کے بارے میں

کتاب ہذا کے چند باب ہیں ،جس کے باب اوّل میں امامت کے بارے میں دلائل عقلی لکھے گئے۔ بعد کے ابواب میں روایات اور دیگر مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ سب سے زیادہ روایات برادران اہل سنت کی کتابوں سے لی گئی ہیں تاکہ برادران و خواہران اہل سنت اپنی ہی کتابوں کے مندرجات سے آگاہ ہوں اور مقام اعلیٰ و عظمت حضرت علی علیہ السلام اور اہل بیت اطہار سے آشنا ہوں۔


کتاب کے باقی ابواب میں موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے آیات قرآنی، احادیث پیغمبر اکرم، بیانات خلفائے اوّل ، دوم اور سوم، حضرت بی بی عائشہ اُم المومنین اور علمائے اہل سنت کو جمع کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں غیر مسلم دانشوروں کے نظریات کو بھی ایک باب میں اکٹھا کیا گیا ہے۔

آخر میں مخالفین اور دشمنان حضرت علی و اہل بیت علیہم السلام کے نظریات بھی تحریر کئےگئے ہیں۔

مجھے اُمید ہے کہ خدا کے لطف و کرم سے اور امام زمانہ حضرت حجة ابن الحسن علیہ السلام کی نظر عنایت سے یہ کتاب تمام مسلمان بھائیوں کیلئے مفید ثابت ہوگی۔

میں خدائے پاک کا شکرگزار ہوں کہ جس نے مجھے ہمت اور توفیق دی کہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اُن کے خانوادئہ نورانی کی تھوڑی سی خدمت کرسکوں۔میں واجب سمجھتا ہوں کہ اس موقع پر امام خمینی اور دیگر شہدائے اسلام اور خصوصاً اپنے عزیز یحییٰ سراج کو خراج تحسین پیش کروں۔

میں مولا علی علیہ السلام کے فرزند صالح ، رہبرمعظم ایران حضرت آیت اللہ علی خامنہ ای مدظلہ العالی اور تمام خدمت گزاران اسلام جو امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کیلئے سازگار ماحول پیدا کررہے ہیں، کی سلامتی اور درازی عمر کا خواہاں ہوں۔

آخر میں اُن تمام رفقائے محترم کا جنہوں نے میرے اس کام میں میری مدد فرمائی

(استاد محترم حضرت حجة الاسلام والمسلمین حاجی شیخ ید اللہ سراج اور استاد محترم حضرت حجة الاسلام حاجی شیخ محمود گودرزی زاہدی اور ناشر محترم جناب آقای سید مہدی نبوی) کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور خدائے بزرگ وبرترسے اُن کیلئے اجر عظیم کا طلبگار ہوں۔

والحمدللّٰه ربّ العالمین

۱۵/شعبان المعظم۱۴۱۲ہجری

محمد ابراہیم سراج، قم،المقدسہ ایران


پہلا باب بحث عقلی

عقلی دلائل پر توجہ دینے کی ضرورت

تمام بنی نوع انسان عقلی دلائل کو نہایت اہمیت دیتے ہیں ۔اس طرح عقلی دلائل اور عقلی بحث کا ایک خاص مقام ہے۔ اسلام میں بھی اس کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں بار بار انسانوں کو فکر کرنے اور عقل سے کام لینے کی طرف توجہ دلاتا ہے اور(آیات قرآن جیسےافلاتعقلون : سورئہ بقرہ۴۶۔۷۶،لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْن ،سورئه بقره:۷۳-۲۴۲، اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لاٰیٰاتٍ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْن ،سورئه رعد:۴، سورئہ نحل۱۲اور اسی طرح دوسرے مقامات پر۔اَکْثَرُهُمْ لٰا یَعْقِلُوْن :سورئہ عنکبوت۶۳، سورئہ مائدہ۱۰۳ اور دوسری آیات)عقل سے کام نہ لینے کی مذمت کرتا ہے۔ درحقیقت اسلام کے جدیدمسائل کے اجتہاد کیلئے عقلی دلائل سے مطابقت ایک اہم شرط ہے، کیونکہ شریعت کے احکام عقل و دانائی کے عین مطابق ہیں اور ذات باری تعالیٰ کوئی حکم خلاف عقل صادر نہیں کرتی۔

اس سے معلوم ہوا کہ شرعی احکام اور عقل کے درمیان ایک گہرا تعلق ہے۔ ہر وہ چیز جس کو عقل سلیم تسلیم کرتی ہے، شریعت بھی اُس کی تائید کرتی ہے۔ لہٰذا عقل کا کسی چیز کو تسلیم کرنا بڑی اہمیت کا حامل ہے اور لازماً اُس پر توجہ دینی چاہئے۔ اسی قانون کے پیش نظر اس کتاب میں بھی محققین اور دانشور حضرات کیلئے امامت اور رہبری کے موضوع پر اس طرف خصوصی توجہ دی گئی ہے،نیز روایات اور احادیث کو بیان کرنے سے قبل عقلی دلائل کو زیر بحث لایا گیا ہے تاکہ اس اہم موضوع کیلئے تمام دلائل عقلی واضح ہوجائیں اور روایات، احادیث اور آیات قرآن کریم کو پڑھنے کے بعد فیصلہ کرتے وقت کام آسکیں اور ہم منزل مقصودکو پاسکیں۔


مسئلہ امامت پر بحث کی ضرورت

بعض اوقات اسلام کے بنیادی اصولوں سے بالکل ناواقف اور کم علم لوگ بڑی سنجیدگی سے اسلامی مسائل پر رائے زنی کرتے ہیں۔اس کا نتیجہ سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں ہوتا کیونکہ جب بھی لاعلمی اور عدم آگاہی کی بنیاد پر کسی موضوع پر اظہار خیال کیا جائے تو پریشانی افکار اور پراگندگی اذہان کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیںآ تا۔

افسوس کہ یہ علم سے بے بہرہ لوگ، دین اسلام کے دو اہم مسائل یعنی امامت اور رہبری پر ماضی میں بھی اظہار خیال کرتے رہے ہیں اور اب بھی کررہے ہیں۔ اس سے بُرے عزائم رکھنے والے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ وہ ان لوگوں سے اپنی وابستگی کا اعلان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امامت اور خلافت کے بارے میں کوئی بات کرنا، یا رسول پاک کے انتقال کے بعد کس کو زمام حکومت سنبھالنا چاہئے تھی؟ اس پربحث کرنا زمانہ گزشتہ کی بات ہے جسے کئی صدیاں گزر چکی ہیں۔ لہٰذا اس پر بحث کرنے کا کوئی نتیجہ یا فائدہ نہیں ،کیونکہ اس کی حیثیت صرف تاریخی رہ گئی ہے۔

اس طرح کے نتائج نکالنے والوں پرحقائق واضح کرنے کی ضرورت ہے ، اس لئے ذیل میں چند نکات پیش خدمت ہیں جو اس طرح کے سوالات اور شبہات کے روشن جوابات ہیں:

اوّل: گو مسلمانوں کی امامت اور رہبری جیسے اہم مسائل رسول خدا کی وفات کے بعد بہت پرانے ہوچکے ہیں اورانہیں صدیاں گزر چکی ہیں لیکن ان پر بحث کرنا بہت ہی اہم ہے۔ کیونکہ مسلمانوں اور حق طلبوں کی تاریخ اس سے وابستہ ہے۔ یہ تو واضح ہے کہ اگر ان موضوعات پر کوئی بحث اور تحقیق نہ ہو تو لوگوں کو صراط مستقیم کا سراغ نہیں مل سکتا بلکہ آہستہ آہستہ وہ راہ حق سے دور ہوتے جائیں گے اور حقائق اسلام اُن سے پوشیدہ رہیں گے۔ آئمہ معصومین (پیغمبر اسلام کے برحق نائبین) کو نہ پہچاننے کی وجہ سے بہت سے اسلامی فرقے غلط راستوں پر چل پڑے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے امامت اور رہبری جیسے اہم مسائل کیلئے اُن تفاسیر اور روایات نبوی سے مدد لی جن کے لکھنے والے کسی نہ کسی اعتبار سے قابل اعتماد نہ تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان مسائل پر اُن کا نظریہ نہ تو قرآن پاک سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی معتبرروایات سے۔


دوسرا: عقلی دلائل کی بنیاد پر یہ ثابت ہے کہ دین اسلام میں امام کا انتخاب خدائے پاک کی رف سے ہونا چاہئے نہ کہ لوگوں کی طرف سے۔ صرف اور صرف اسی ایک نکتہ پر اگرتمام مسلمانان عالم تحقیق کریں اور توجہ دیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی پاک کے بعد امام اور ولی کے طور پرکس کا تعارف کروایا ہے؟ تاکہ اُس کی اطاعت اور پیروی کرکے سعادت اُخروی پر فائز ہوسکیں۔ مختصراً ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ امامت کے موضوع پر تحقیق کرنا انتہائی ضروری ہے۔

انتخاب امام پر سنی اور شیعہ حضرات کا نظریہ

نبی کے بعد امام کا انتخاب کیسے کیا جائے، اس کو جاننے کیلئے ہم اہل سنت اورشیعہ حضرات دونوں کے نظریات کا الگ الگ جائزہ لیں گے اور اُن کو عقل و منطق کی کسوٹی پر

پرکھیں گے۔

انتخاب امام کیلئے علمائے اہل سنت کا نقطہ نظر

علمائے اہل سنت کے نزدیک امام کا انتخاب ایک اجتماعی مسئلہ ہے جو تقریباً ہر معاشرے میں پایا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ زمانہ قدیم سے لے کر آج تک دنیا کی تمام ملتوں میں پایاجاتا ہے۔ اس کی مثال کسی جمہوری ملک کے ایسے سربراہ کی سی ہے جسے ایک خاص عرصہ اور مدت کیلئے وہاں کے رہنے والے چنیں۔ لہٰذا اہل سنت حضرات مقام امامت اور رہبری کو صرف عمومی حیثیت دیتے ہیں اور لوگ یا وہ افراد جن کے ہاتھ میں زمام اقتدار ہو، اس مقام اور منصب کیلئے کسی فرد کو چن سکتے ہیں۔

انتخاب امام کیلئے شیعہ علماء کا نقطہ نظر

علمائے شیعہ اور مکتب شیعہ کی نظر میں امامت اللہ کا عطا کردہ منصب ہے اور یہ اللہ ہی کا کام ہے کہ جس فردکو اس مقام اور عہدہ کے لائق اور اس عظیم ذمہ داری کے قابل سمجھے، اُس کا تعارف بطور امام کروائے۔ اس کی دلیل واضح ہے کیونکہ اگر امام اور پیغمبرکو فضائل ، مراتب اور ذمہ داریوں کے اعتبارسے دیکھا جائے تو اُن میں سوائے نزول وحی کے اور کوئی فرق نہیں کیونکہ وحی صرف نبیوں اور رسولوں کیلئے مخصوص ہے۔


جس طرح ایک نبی کے انتخاب میں عوام کو کوئی اختیار حاصل نہیں ، اسی طرح امام کے انتخاب میں بھی اُن کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا۔مندرجہ ذیل دلائل اس کی تصدیق کرتے ہیں:

(ا)۔ اگر انتخاب امام کا اختیار لوگوں کو دے دیا جائے تو یہ لوگوں کے درمیان شدید اختلافاور تفرقہ کا باعث بنے گا۔اس صورت میں ہر گروہ اور قبیلہ امام کے انتخاب کیلئے اپنے اپنے منظور نظر افراد کو پسند کرے گا۔

(ب)۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ لوگ بغیر کسی اختلاف کے کسی ایک شخص کواس مقام کیلئے چن لیں گے تو پھر بھی اُن کا یہ عمل خطا سے بَری نہیں کہا جاسکتا کیونکہ عین ممکن ہے کہ وہ شخص جس کو چناگیا ہے، اُس میں وہ صلاحیتیں جو اس ذمہ داری کو نبھانے کیلئے ضروری ہیں، نہ ہوں۔ اس طرح ایک نادرست عمل کی وجہ سے مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے اور وہ صراط مستقیم سے بھٹک سکتے ہیں اور اس طرح تمام نبیوں اور رسولوں کا بڑی زحمتوں سے کیا ہوا تبلیغی کام ضائع ہوسکتا ہے۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ جس دین کو پھیلانے کیلئے خدانے اپنے بندگان خاص سے صدیوں تک کام لیا ہو، اُسی دین کو اب بے یارومددگار چھوڑ دے ۔ یہ اُس کی حکمت اور لطف و کرم سے بعید ہے۔ اُس کی ہرگز یہ منشاء نہیں ہوسکتی کہ لوگ گمراہی اور نقصان کے راستے پر چلیں۔

خدا کی حکمت اور لطف و کرم کا تقاضا

اس دنیا میں جب ہم وحدت خداوندی کو دیکھتے ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ ہدایت عمومی کیلئے ایک واضح اور روشن دلیل بھی نظر آتی ہے۔ اگر ہم اس کو پہچان لیں تو بہت سے شکوک و شبہات دور ہوجاتے ہیں اور بہت سے سوالات کا جواب بھی مل جاتا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ جب پروردگار اپنے لطف و کرم سے اپنی مخلوق کو پیدا کرتا ہے تو ہر پیدا ہونے والے کو صراط مستقیم اور منزل مقصود کی ہدایت کرتاہے۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ دنیا کی کسی مخلوق کا کوئی فرد بھی خدا کے اس قانون سے باہر نہیں ،حتیٰ کہ انسان بھی جو خدا کی ایک مخلوق ہی نہیں بلکہ اُس کی نظر میں اشرف المخلوقات ہے۔


قرآن مجید نے انسان کے احترام و اکرام کے بارے میں واضح ارشاد فرمایا ہے:

( وَلَقَدْ کَرَّمْنَابَنِیْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنَهُمْ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَهُمْ مِّنَ الطَّیِبٰتِ وَفَضَّلْنَهُمْ عَلٰی کَثِیْرٍمِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا ) (سورئہ بنی اسرائیل:آیت۷۰)

”اوریقینا ہم نے اولاد آدم کو عزت دی اور خشکی و تری میں ان کوسواریاں دیں اور اچھی اچھی چیزوں سے اُن کو روزی دی اور بہت سی مخلوق پر ان کو فضیلت دی جیسا کہ فضیلت دینے کا حق ہے“۔

وہ بھی خدا کی جانب سے اس قانون کے تحت ہدایت کیا گیا ہے۔

البتہ انسان تنہا اپنی عقل کے بل بوتے پر ہرگز اُس منزل کمال کو نہیں پہنچ سکتا جو اُس کی تخلیق کا مقصد تھا۔لہٰذا ضروری تھا کہ خدا انسان کی ہدایت کا انتظام رسولوں، نبیوں اور اپنی کتب کے ذریعے سے کرے اور یہ سلسلہ ہدایت خاتم النبیین حضرت محمد کی بعثت پر اختتام پذیر ہو۔

اب یقینایہ سوال پیداہوگا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کو بھیجنے کا سلسلہ خاتم المرسلین کے بعد بند کردیا تو لوگوں کی ہدایت بغیر کسی نبی کے کیسے ممکن ہوگی۔ یعنی تاروز قیامت لوگ کس طرح حق و باطل ، غلط و صحیح اور کج روی و صراط مستقیم میں فرق جان سکیں گے۔ اس کے علاوہ کون اُن کو جعلی احادیث، آیات قرآنی کی تفسیربالرائے، بدعتوں کی شناخت اورجدید مسائل کے بارے میں ہدایت کرے گا! یہ خدا کی عنایات غیر محدود سے بعید ہے کہ وہ اپنے بندوں کو خاتم المرسلین کے بعد بغیر کسی رہبر یا ہادی کے لاوارث چھوڑ دے اور گمراہ کرنے والوں کیلئے میدان کھلا چھوڑ دے۔ نہیں ،ہرگز نہیں!! ایسا ہرگز ممکن نہیں۔ اُس نے تو اپنے منتخب نمائندوں کا لوگوں میں تعارف کرواکے اُن کی ہدایت دائمی کا سامان مہیا کردیا۔ یہ اُس کی مہربانی اور فضل و کرم کی بہترین مثال ہے۔

ان سوالات کے جوابات کیلئے ہم عقل سلیم کی طرف رجوع کرتے ہیں اور جو جوابات ملیں، اُن کو اپنی بحث میں شامل کرتے ہیں۔


ہدایت الٰہی کی تعریف

ہدایت الٰہی کی تعریف یہ ہے کہ وہ انسان کو وہ راستہ دکھائے جس پر چل کر انسان فلاح و بہبود پائے اور گناہ و گمراہی سے دور رہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی منزل کی طرف رہنمائی دعوت ارشاد، تبلیغ حق اور فرمان الٰہی کیبغیرممکن نہیں۔نصیحت و تبلیغ کی ضرورت تو انسان کو ہمیشہ رہتی ہے۔ علم کلام کے اساتذہ کے مطابق خدا پر واجب ہے کہ وہ انسان کی ہدایت کیلئے کرئہ ارض کو اپنے ہادی سے خالی نہ رکھے کیونکہ اگر حق تعالیٰ کی طرف سے اس میں کمی یا نفی ہو تو اس کا لازماً اثر یہ ہوگا کہ غرض خلقت بشر پوری نہ ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں بغیر سامان ہدایت مہیا کئے مقصد خدا ناکام رہے گا۔مقصد میں ناکامی بجائے خود ایک ناپسندیدہ اور قبیح چیز ہے۔ خدا کی ذات بغیر کسی شک کے ہر قسم کے ناپسندیدہ اور قبیح افعال سے پاک و منزہ ہے۔

لہٰذا اُس کی حکمت و رحمانیت و ہدایت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ انسان کو کبھی بھی ہادی برحق اور رہنما سے محروم نہ رکھے۔ قابل ستائش رہبروں کو بھیج کر انسان کو ہر طرح کی گمراہی و بےراہ روی سے نجات دیدے۔

پس اس بحث کا نتیجہ یہ ہے کہ امامت حقیقت میں خدا کی جانب سے انسان کو کمال تک پہنچانے کیلئے ہدایت اور حجت ہے۔

امام ہونے کی شرائط اہل سنت اور شیعہ حضرات کی نگاہ میں

گزشتہ بحث میں انتخاب امام کیلئے اہل سنت اور شیعہ حضرات کے جدا جدا نظریات بیان کئے گئے۔ اب ہم امامت اور خلافت جیسے اہم مراتب کیلئے امام ہونے کی لازم شرائط کے بارے میں اہل سنت اور شیعہ حضرات کے نظریات بیان کریں گے۔

علمائے اہل سنت کی نگاہ میں شرائط امام

علمائے اہل سنت کی نظر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امام یا خلیفہ چننے کیلئے کسی خاص شرط کی ضرورت نہیں بلکہ یہ ایک عادی اور معمول کا عمل ہے اور لوگ اختیار رکھتے ہیں کہ اپنے امام کو چن لیں۔ کسی شخص کی ظاہری قابلیت اُس کو اس عہدہ پر چننے کیلئے کافی سمجھی جاتی ہے اور دیگر کسی خصوصی شرط کی کوئی قید نہیں۔


علمائے شیعہ کی نگاہ میں شرائط امام

لیکن شیعہ علماء برخلاف نظریات برادران اہل سنت اس عظیم منصب کیلئے ، جو قوموں کے حالات بدل کر رکھ دے، کو اس طرح آسانی سے چن لینے کو صحیح نہیں سمجھتے۔ وہ تو امام یا وصی نبی کیلئے چند خاص شرائط کو لازم سمجھتے ہیں اور ٹھوس دلائل کے ساتھ اپنے دعویٰ کو قوت بخشتے ہیں۔ ان کے خاص خاص دلائل ذیل میں درج کئے جاتے ہیں:

(ا)۔ کیونکہ امام نبی کا وصی ہونے کے ناطے اُس کی تمام تبلیغات اور دین و شریعت کےسلسلہ کو جاری و ساری رکھنے کا ذمہ دار ہوتا ہے، لہٰذا اُس کی ذمہ داری بھی عین نبی کی ذمہ داری کے مساوی ہوتی ہے۔ اگر مقام وحی کو الگ سمجھا جائے تو مقام امام اور مقام نبی میں کوئی فرق نہیں رہتا اور امام کو بھی اُسی علم ، حلم ، تقویٰ اور دیگر کمالات کا حامل ہونا چاہئے جن کا نبی حامل ہے۔ امام کی عادات و اطواراوراوصاف بھی وہی ہونے چاہئیں جو نبی کے ہوں تاکہ وہ نبی کا پورا پوراعکس ہو۔

(ب)۔ شریعت محمدی بغیر کسی شک و شبہ کے آخری شریعت الٰہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے مکمل اور تسلیم شدہ دین بنا کر لوگوں تک پہنچایا ۔ اس کی تصدیق میں ارشاد خداوندی ہے:

( اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ )

”آج میں نے تمہارا دین تمہارے لئے کامل کردیا“۔(سورئہ مائدہ:آیت۳)

( اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ )

”اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین صرف اسلام ہے“۔(آل عمران:آیت۱۹)

یہ دین قیامت تک انسانوں کے مادی و روحانی تجسسّات و سوالات کا جواب دہندہ رہے گا۔

رسول خدا نے اپنے اوصاف اعلیٰ اور کمال علم کے باوجود بعض مسائل انسانی جو زمان و مکان سے مربوط ہیں، مصلحت دین کی خاطر بیان نہ فرمائے تاکہ لوگوں کے فہم و ادراک میں بلندی آنے پر دین کے اُن مسائل پر اُس زمانے میں تحقیق کی جاسکے۔


اس بناء پر ذات حق پر واجب ہوا کہ وہ ہدایت الٰہیہ کی گزشتہ روایت کو جاری رکھتے ہوئے ایسے افراد کو چنے اور یہ ذمہ داری سونپے کہ وہ لوگوں کو احکام خدا پہنچاتے رہیں۔ زمانہ جدید کے تقاضوں کے عین مطابق دینی مسائل کے حل کیلئے قیامت تک رہنمائی کرتے رہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ جن اشخاص کو یہ ذمہ داری سونپی جائے، وہ کردار و رفتار ، علم و حلم ، عصمت و صداقت اور پاکیزگی میں یا باالفاظ مختصر وہ تمام صفات و عادات جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تھیں، اُن میں بھی ہونی چاہئیں۔ ابلاغ و تبلیغ جیسے کٹھن کام اور شریعت کے مشکل مسائل کو حل کرنے کیلئے اُن میں بھی رسول پاک جیسا وسیع خداداد علم ہونا چاہئے۔

اس طرح ایسے افراد کو پاک طینت، زندہ و روشن ضمیر ہونا چاہئے اور ہر طرح کی خطا اور گناہ سے بھی مبرا ہونا چاہئے تاکہ لوگوں کا اعتماد ہمیشہ بحال رہے۔ مزید برآں اُن کو دین میں ممکنہ تبدیلی کرنے یا کوئی بدعت شروع کرنے سے بھی پاک و منزہ ہونا چاہئے۔

اوپر بیان کئے گئے دلائل سے ثابت ہواکہ امام اور وصی نبی کو یقینا خصوصی شرائط کا حامل ہونا چاہئے۔ ذیل میں اہم شرائط کو بیان کیا جاتا ہے:

اہم شرائط امام کی تشریح

عصمت و پاکدامنی

سب سے اہم شرط جو امام میں لازماً ہونی چاہئے، وہ اُس کی عصمت اور پاکدامنی ہے یعنی امام کو معصوم ہونا چاہئے۔ اس شرط کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی اس شرط کا قائل نہیں تو وہ واضح دلائل کی روشنی میں اپنے دعویٰ میں خرابی کا شکار ہوجائے گا کیونکہ یہ تسلسل کا محتاج ہوجائے گا۔اس کی تشریح درج ذیل ہے:

امام کے وجود کی ضرورت اسی بناء پر ہے کہ وہ انسانوں کیلئے شمع ہدایت ہو اور ظلم و زیادتی اور فساد کو روکنے والا ہو، اگر امام خود معصوم نہیں ہوگا تو وہ کسی اور امام کا محتاج ہوگا جو اُس کی رہنمائی کرسکے اور اُسے بُرے کاموں سے روکے، اسی طرح یہ دوسرا امام کسی تیسرے امام کا محتاج ہوگا، لہٰذا یہ سلسلہ ایک غیر متناہی صورت پیدا کرے گا جو عقلاء کی نظر میں باطل ہے۔


اس کے علاوہ اگر امام معصوم نہ ہو تو دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہوجائے گا کہ امام سے گناہ سرزد ہونے کی صورت میں لوگوں کے پاس دو راستوں کے علاوہ اور کوئی راستہ نہ ہوگا:

پہلا راستہ

لوگ امام کو اُس کے گناہ کرنے کی وجہ سے تنبیہ کریں اور آئندہ کیلئے منع کریں۔ اس صورت میں امام اپنے منصب اعلیٰ سے پستی میں گر جائے گا اور لوگوں کا اُس پر اعتماد اٹھ جائے گا۔ اُس کے احکام دینی و دنیوی میں کوئی اثر باقی نہیں رہے گا۔ اس طرح اُس کے امام ہونے کا فائدہ زائل ہوجائیگا۔

دوسرا راستہ لوگ امام کو اُس کے گناہ پر منع نہ کریں ۔ اس صورت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا وجود معاشرے میں ختم ہوجائے گا جو بغیر کسی شک کے مزید خرابیوں کا راستہ ہے۔امام کی تو سب سے بڑی ذمہ داری ہی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے تاکہ شریعت دین کی حفاظت کی جاسکے۔ اگر امام بھول چوک سے بھی خطا کر بیٹھے تو لوگوں کو اُس کے کسی بھی حکم پر حکم خدا کے مطابق ہونے پر شک رہے گا۔

لہٰذادرج بالا بحث سے ثابت ہوا کہ یہ راستہ بھی ٹھیک نہیں۔

عہد خدا ظالموں تک نہیں پہنچ سکتا

امام کے معصوم ہونے کی ایک اور محکم دلیل قرآن سے بھی ثابت ہے۔ سورئہ مبارکہ بقرہ کی آیت ۱۲۴ میں ارشاد خداوندی ہے:

( لَایَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ )

”میرا عہد(امر امامت و رہبری) ظالموں تک نہیں پہنچے گا“۔


جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب سے سوال کیا کہ ”:اے میرے رب! کیا منصب امامت پر میری اولاد میں سے بھی کوئی پہنچے گا؟“ تو ارشاد خداوندی ہوا کہ امامت کے درجہ پر کوئی ظالم نہیں پہنچ سکتا۔ ظلم سے مراد صرف لوگوں پر ظاہری ظلم و ستم ہی نہیں بلکہ اس کا تعلق عدم عدل سے ہے یعنی جہاں عدل نہیں ہوگا، وہاں ظلم ہوگا۔ اگر اس کو مزید دیکھیں تو ظلم تین طرح سے ہوسکتا ہے:

خدا کے ساتھ ۔

اپنے نفس کے ساتھ ۔

لوگوں پر ۔

ظاہر ہے کہ اگر کوئی ظلم کی ان تین اقسام میں سے کسی ایک ظلم کا مرتکب بھی ہوتا ہے تو وہ ظالم شمار ہوگا اور وہ منصب امامت کے لائق نہیں رہے گا۔

یہ دلیل بجائے خود عظیم اہمیت کی حامل ہے اور آئمہ معصومین کیلئے خلافت برحق ہونے کی ایک اہم دلیل ہے۔ یہی آیت قرآنی اور اس کی تفسیر حضرت علی علیہ السلام اور اُن کی اولاد پاک کیلئے خلافت کوثابت کرتی ہے کیونکہ اس سے اس نکتہ کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ دوسرے صحابہ دور جاہلیت میں اپنی اپنی عمر کے کچھ حصے بت پرستی میں گزار چکے تھے اور قرآن کریم اس بارے میں فرماتا ہے:

( یَبُنَیَّ لَا تُشْرِکُ بِاللّٰهِ اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ )

”لقمان حکیم اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں“

” اے میرے بیٹے! خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا کیونکہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے“۔(سورئہ لقمان:آیت۱۳)۔

اس سے پتہ چلا کہ شرک سب سے بڑا (خدا کے ساتھ) ظلم ہے ۔ اب رسول خدا کے صحابہ پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلے گا کہ جس کسی نے ایک لحظہ کیلئے بھی بتوں کے سامنے سجدہ نہ کیا، وہ حضرت علی علیہ السلام تھے۔


گزشتہ بحث میں اشارہ کیا گیا کہ امام کے لئے پہلی اور سب سے ضروری شرط یہی ہے کہ امام کی پوری مادّی اور معنوی زندگی کے ہر پہلو میں پاکیزگی، طہارت اور عصمت ہو۔ گہری سوچ رکھنے والے دانشمند حضرات اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ عصمت(ہرگناہ سے پاکیزگی) انسان کا اندرونی مسئلہ ہے اور اس کو مکمل جانچنے اور پرکھنے کیلئے کوئی طریقہ کار یا پیمانہ موجود نہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے امام معصوم کی معرفت اور شناخت کی جانی چاہئے۔ خدا عالم مطلق ہے، حاضر و غائب کو جاننے والا ہے، دلوں کی کیفیات کو زبانوں سے بہتر جانتا ہے، اس لئے امام حق کا تعارف کروانے کیلئے ہم اُسی کی ذات کے محتاج ہیں اور وہی ہمیں اُن افراد ذی قدر کا تعارف کروائے۔

حقیقت شناسی کا ثبوت انسان کو مطالعہ اور تحقیق کرنے پر مجبور کرتا ہے اور اس طرح وہ فرمودات خدا اور رسول تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ تحقیق ہی کا نتیجہ ہے کہ تمام پوشیدہ حقائق ایک ایک کرکے مانند آفتاب انسان کے سامنے آجاتے ہیں او رہر قسم کے ظلمت و تاریکی ، جہل و تعصب کے پردے چاک ہو جاتے ہیں۔ آئیے ہم محکم دلائل، آیات قرآنی اور احادیث متواترہ کو تلاش کریں تاکہ امام کو پہچاننے میں جتنی رکاوٹیں یا شکوک و شبہات ہیں، دور ہوجائیں اور حق تلاش کرنے والوں کو سچا رہبر اور صراط مستقیم مل جائے۔

فرمودات خدا اور دیگر دلائل کچھ اس طرح سے ہیں کہ قرآن کریم کی متعدد آیات اور رسول اکرم کی معتبراحادیث متواترہ نہایت خوبصورت انداز میں لوگوں کو اعلیٰ ترین انسانوں سے متعارف کرواتی ہیں۔ یہ عظیم ہستیاں انسانوں کی ہدایت و رہبری کی ذمہ دار ہیں۔انہی سالاران حق کے پہلے رہبر مولائے متقیان ، امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام ہیں اور ان کا آخری رہبر حضرت قائم آل محمدبقیة اللہ الاعظم حجة بن الحسن العسکری علیہ السلام ہیں۔

خدا کی مدد و نصرت سے آئندہ ان دلائل کو تفصیل سے بیان کیا جائے گا اور اس کے علاوہ دوسرے ابواب میں ہم اور نئی چیزیں بیان کریں گے جو انشاء اللہ مقصد کتاب کی تصدیق کرنے والی ہوں گی،لیکن آخری فیصلہ ہم پڑھنے والوں پر ہی چھوڑتے ہیں۔

اَلّٰلهُمَّ عَرِّفْنِیْ نَفْسَکَ فَاِ نَّکَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِیْ نَفْسَکَ لَمْ اَعْرِفْ رَسُولَکَ،اَلّٰلهُمَّ عَرِّفْنِیْ رَسُولَکَ فَاِ نَّکَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِیْ رَسُولَکَ لَمْ اَعْرِفْ حُجَّتَکَ،اَلّٰلهُمَّ عَرِّفْنِیْ حُجَّتَکَ فَاِنَّکَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِیْ حُجَّتَکَ ضَلَلْتُ عَنْ دِیْنِیْ،اَلّٰلهُمَّ لاٰ تُمِتْنِیْ مَیْتََةً جٰاهِلِیَّةً وَلاٰ تُزِغْ قَلْبِیْ بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنِیْ ۔(آمین)۔


دوسرا باب

فضائل علی علیہ السلام قرآن کی نظر میں ۔ ۲

(ا)۔عَنْ اُمِّ سلمه قَالَتْ: نَزَلَتْ هٰذِهِ الآیَةُ فِی بَیْتِیْ”اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیْرًا“، وَفِی الْبَیْتِ سَبْعَة، جبرئیل و میکائیل و علیٌ فاطمة والحسن والحسین وأَنَا عَلٰی بٰابِ الْبَیْتِ قُلْتُ: یٰارَسُوْلَ اللّٰهِ، أَ لَسْتُ مِنْ اَهْلِ الْبَیْتِ؟ قٰالَ اِنَّکِ عَلٰی خَیْرِ اِنَّکِ مِنْ اَزْوَاجِ النَّبِیَ ۔

”اُم سلمہ سے روایت کی جاتی ہے کہ انہوں نے کہا کہ آیہ تطہیر اُن کے گھر میں نازل ہوئی اور آیت کے نزول کے وقت گھر میں سات افراد موجود تھے اور وہ جبرئیل، میکائیل، پیغمبر اسلام، حضرت علی علیہ السلام، جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا، امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام تھے۔ میں گھر کے دروازے کے پاس کھڑی تھی۔ میں نے عرض کیا:”یا رسول اللہ! کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟“ پیغمبر اکرم نے فرمایا کہ اے سلمہ! بے شک تو خیر پر ہے لیکن تو ازواج میں شامل ہے“۔

(ب)۔ ثعلبی اپنی تفسیر میں اُم سلمہ سے یوں نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم گھر میں موجود تھے کہ بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا ایک ریشمی چادر اپنے بابا کے پاس لائیں۔ پیغمبر خدا نے فرمایا:”بیٹی فاطمہ ! اپنے شوہر اور اپنے دونوں بیٹوں حسن اور حسین کو میرے پاس لاؤ“۔ بی بی فاطمہ نے اُن کو اطلاع دی اور وہ آگئے۔ غذا تناول کرنے کے بعد پیغمبر نے چادر اُن پر ڈال دی اور کہا:

’اَلّٰلهُمَّ هٰولٰاءِ اَهلُبَیْتِیْ وَعِتْرَتِیْ فَاَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِیْرا‘

”خداوندا! یہ میرے اہل بیت ہیں۔ ان سے ہر قسم کے رجس کو دور رکھ اور ان کو ایسا پاک رکھ جیسا کہ پاک رکھنے کا حق ہے“۔

اس وقت یہ آیت( اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیْرًا ) نازل ہوئی۔

میں نے عرض کیا:”یا رسول اللہ! کیا میں بھی آپ کے ساتھ اس میں شامل ہوں؟“ آپ نے فرمایا:”سلمہ! تو خیر اور نیکی پر ہے(لیکن تو اس میں شامل نہیں)“۔


(ج)۔ علمائے اہل سنت کی کثیر تعداد نے جن میں ترمذی ، حاکم اور بہیقی بھی شامل ہیں، اس روایت کو نقل کیا ہے:

عَنْ اُمِّ سَلْمَه قٰالَت: فِیْ بَیْتِیْ نَزَلَتْ”اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیْرًا“ وَفِیْ الْبَیْتِ فاطمةُ وَعَلیُ والحسنُ والحُسینُ فَجَلَّلَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلّٰی اللّٰه علیهِ وآله وسلَّم بِکِسٰاءِ کَانَ عَلَیْهِ، ثُمَّ قٰالَ: هٰولٰاءِ اَهْلُ بَیْتِی فَاَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَ طَهِّرْهُمْ تَطْهِیْرا

”اُم سلمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ آیہ تطہیر اُن کے گھر میں نازل ہوئی۔ آیت کے نزول کے وقت بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا، علی علیہ السلام، حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام گھر میں موجود تھے۔ اُس وقت رسول اللہ نے اپنی عبا جو اُن کے جسم پر تھی، اُن سب پر ڈال دی اور کہا:(اے میرے اللہ)! یہ میرے اہل بیت ہیں۔ پس ہر قسم کے رجس کو ان سے دور رکھ اور ان کوایسا پاک رکھ جیسا کہ پاک رکھنے کا حق ہے“۔

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ حافظ حسکانی، کتاب شواہد التنزیل، جلد۲،صفحہ۵۶اورصفحہ۳۱۔

۲۔ ہیثمی، مجمع الزوائد، باب مناقب اہل بیت ، ج۹،ص۱۶۹ وطبع دوم ،ج۹،ص۱۱۹۔

۳۔ ابن مغازلی شافعی، کتاب مناقب امیر المومنین ، حدیث۳۴۵،صفحہ۳۰۱، طبع اوّل۔

۴۔ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد ج۹،ص۱۲۶، باب شرح حال سعد بن محمد بن الحسن عوفی

۵۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب، باب۶۲، صفحہ۲۴۲اور باب ۱۰۰،صفحہ۳۷۱۔

۶۔ حاکم، کتاب المستدرک، جلد۳،صفحہ۱۳۳،۱۴۶،۱۷۲ اور جلد۲،صفحہ۴۱۶۔

۷۔ ابن کثیر اپنی تفسیر میں ج۳،ص۴۸۳،البدایہ والنہایہ ج۷،ص۳۳۹، باب فضائل علی

۸۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب ۳۳،صفحہ۱۲۴اور صفحہ۲۷۱۔


۹۔ فخر رازی تفسیر کبیر میں، جلد۲۵،صفحہ۲۰۹۔

۱۰۔ زمخشری تفسیر کشاف میں، جلد۱،صفحہ۳۶۹۔

۱۱۔ سیوطی ، تفسیر الدرالمنشور، جلد۵،صفحہ۲۱۵۔

۱۲۔ ابی عمر یوسف بن عبداللہ، استیعاب، ج۳،ص۱۱۰۰، روایت شمارہ۱۸۵۵، باب علی

۱۳۔ ذہبی، تاریخ اسلام، واقعات۶۱ہجری تا ۸۰ہجری، تفصیل حالات امام حسین ،ص۹۶

۱۴۔ حافظ بن عساکر، تاریخ دمشق، حدیث۹۸، جلد۱۳،صفحہ۶۷۔

۱۵۔ ابن جریر طبری اپنی تفسیر میں جلد۲۲،صفحہ۶،۷۔

دسویں آیت

مودت اہل بیت کا ایک انداز

( قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی )

”(اے میرے رسول) کہہ دو کہ میں تم سے کوئی اجر رسالت نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ تم میرے اہل بیت سے محبت کرو“۔(سورئہ شوریٰ:آیت۲۳ )

تشریح

”اس آیت کی شان نزول اس طرح بیان کی جاتی ہے کہ جب پیغمبر اسلام مدینہ میں تشریف لائے اور اسلام کی بنیاد مضبوط ہوئی تو انصار کی ایک جماعت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا:”یا رسول اللہ! ہم اعلان کرتے ہیں کہ اگر آپ کوکوئی مالی یا اقتصادی مشکل درپیش ہے تو ہم اپنے اموال و دولت آپ کے قدموں پر نچھاور کرتے ہیں۔ جب انصار یہ باتیں کررہے تھے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آیت نازل ہوئی:( قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی )

”میں تم سے کوئی اجر رسالت نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ تم میرے قریبیوں سےمودّت کرو“۔

پس رسول خدا نے اپنے قریبیوں سے محبت کرنے کی تاکید کی ہے۔(مجمع البیان، جلد۹،ص۲۹)


قربیٰ سے مراد کون کونسے رشتہ دار ہیں؟

قربیٰ کو پہچاننے کا سب سے بہترین اور احسن ترین ذریعہ قرآنی آیات اور روایات ہیں۔ قربیٰ سے محبت تمام مسلمانوں پر فرض کی گئی ہے۔ یہ اجر رسالت بھی ہے ، خدا اور اُس کے رسول کا حکم بھی۔ لہٰذا ان کو پہچاننے میں نہایت دقت اورسوچ سمجھ سے کام لینا ہوگا۔ ہم بغیر کسی مزید بحث کئے ہوئے برادران اہل سنت کی کتب سے تین روایات نقل کرتے ہیں، ملاحظہ ہوں:

(ا)۔ احمد بن حنبل کتاب” فضائل الصحابہ“ میں یہ روایت نقل کرتے ہیں:

لَمَّا نَزَلَتْ’ ( قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰیط‘ )

قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰه مَنْ قَرابَتُکَ؟مَنْ هٰولَاءِ الَّذِیْنَ وَجَبَتْ عَلَیْنَا مَوَدَّ تُهُم؟ قَالَ صلّٰی اللّٰه عَلَیْهِ وَآله وَسَلَّم علیٌ فاطمةُ وَ اَبْنَاهُمَا وَقٰالَهٰا ثَلَا ثاً

جب یہ آیہ شریفہ( قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی ) نازل ہوئی۔ اصحاب نے عرض کیا:”یا رسول اللہ! آپ کے جن قرابت داروں کی محبت ہم پر واجب ہوئی، وہ کون افراد ہیں؟“ آپ نے فرمایا:”وہ علی علیہ السلام، فاطمہ سلام اللہ علیہا اور اُن کے دونوں فرزند ہیں“۔ آپ نے اسے تین بار تکرار کیا۔

(ب)۔ سیوطی تفسیر”الدرالمنثور“ میں اس آیت پر بحث کرتے ہوئے ابن عباس سے یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا:

اَنْ تَحْفَظُوْنِیْ فِیْ اَهْلِ بَیْتِیْ وَتُوَدُّوْهُمْ بِیْ

”میرے اہل بیت کے بارے میں میرے حق کی حفاظت کریں اور اُن سے میری وجہ سے محبت کریں“۔


(ج)۔ زمخشری تفسیر کشاف میں ایک بہترین اور خوبصورت روایت نقل کرتے ہیں۔ فخررازی ، قرطبی اور دوسروں نے بھی اپنی تفسیروں میں اس کے کچھ حصے نقل کئے ہیں۔ یہ حدیث واضح طور پر مراتب و مقام اور فضیلت آل محمدکوبیان کرتی ہے۔ ہم بھی اس کو اس کی اہمیت کے پیش نظر تفصیل سے بیان کرتے ہیں:

قَالَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صلّٰی اللّٰه علیه وآله وسلم

”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

( i )۔مَنْ مَاتَ عَلٰی حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ شَهِیْداً

جو کوئی محبت آل محمد میں مرا، وہ شہید مرا۔

( ii )۔اَ لَاوَمَنْ مَاتَ عَلٰی حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ مَغْفُوْراً

آگاہ ہوجا ئیے کہ جو کوئی محبت آل محمد میں مرا وہ مغفور (جس کے سارے گناہ بخش دئیے جائیں) مرا۔

( iii )۔اَ لَاوَمَنْ مَاتَ عَلٰی حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ تَائِباً ۔

آگاہ ہوجا ئیے کہ جو کوئی محبت آل محمد میں مرا وہ تائب(جس کی توبہ قبول ہوگئی ہو)مرا۔

( iv )۔اَ لَاوَمَنْ مَاتَ عَلٰی حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ مُومِناً مُسْتَکْمِلَ الاِ یْمَانِ ۔

آگاہ ہوجا ئیے کہ جو کوئی محبت آل محمد میں مرا وہ مومن اور مکمل ایمان کے ساتھ مرا۔

( v )۔اَ لَاوَمَنْ مَاتَ عَلٰی حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ بَشَّرَه مَلَکُ الْمَوْتِبِالجَنَّةِ ثُمَّ مُنکَرٌوَنَکِیرٌ ۔

آگاہ ہوجا ئیے کہ جو کوئی محبت آل محمد میں مرا اُس کو ملک الموت نے اور پھر منکر و نکیرنے جنت کی بشارت دی۔

( vi )۔اَ لَاوَمَنْ مَاتَ عَلٰی حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ یَزَّفُ اِلی الجَنَّةِ کَمَا تَزُفُّ العُرُوسُ اِلٰی بَیتِ زَوجِهَا ۔

آگاہ ہوجا ئیے کہ جو کوئی محبت آل محمد میں مرا اُسے جنت میں ایسے لے جایا جائے گا جیسے دلہن اپنے شوہر کے گھر لے جائی جاتی ہے۔


( vii )۔اَ لَاوَمَنْ مَاتَ عَلٰی حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ فُتِحَ لَه فِیْ قَبْرِه بَابَانِ اِلٰی الجَنَّةِ ۔

آگاہ ہوجا ئیے کہ جو کوئی محبت آل محمد میں مرا اُس کی قبر میں دودروازے جنت کی طرف کھول دئیے جاتے ہیں۔

( viii )۔اَ لَاوَمَنْ مَاتَ عَلٰی حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ جَعَلَ اللّٰهُ قَبْرَه مَزَارَ مَلا ئِکَةِ الرَّحْمَةِ

آگاہ ہوجا ئیے کہ جو کوئی محبت آل محمد میں مرا اللہ نے اُس کی قبر کو فرشتوں کی زیارتگاہ بنادیا۔

( ix )۔اَ لَا وَ مَنْ مَاتَ عَلٰی حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ عَلَی السُنَّة وَالْجَمَاعَةِ ۔

آگاہ ہوجا ئیے کہ جو کوئی محبت آل محمد میں مراوہ اہل سنت والجماعت کے طریقہ پرمرا۔

( x )۔اَ لَاوَمَنْ مَاتَ عَلٰی بُغْضِ آلِ مُحَمَّدٍ جاءَ یَوْمَ القِیٰامَةِ مَکْتُوْبٌبَیْنَ عَیْنَیْهِ اَئِسٌ مِنْ رَحْمَةِ اللّٰهِ

آگاہ ہوجائیے کہ جو کوئی دشمنی آل محمد میں مرا وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئےگا کہ اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ”خدا کی رحمت سے مایوس“ لکھا ہوا ہوگا۔

( xi )۔اَ لَاوَمَنْ مَاتَ عَلٰی بُغْضِ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ کَافِرًا

آگاہ ہوجائیے کہ جو کوئی دشمنی آل محمد میں مرا، وہ کافر مرا۔

( xii )۔اَ لَاوَمَنْ مَاتَ عَلٰی بُغْضِ آلِ مُحَمَّدٍ لَمْ یَشُُمَّ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ

آگاہ ہوجائیے کہ جو کوئی دشمنی آل محمد میں مرا وہ جنت کی خوشبو تک نہیں سونگھ سکے گا۔

آل محمد کے بارے میں فخرالدین رازی کے نظریات

بڑی دلچسپ بات ہے کہ فخرالدین رازی جو اہل سنت کے بڑے بزرگ عالم دین ہیں، نے حدیث بالا جو تفسیر کشاف میں بڑی واضح طور پر اور تفصیل سے بیان کی گئی ہے، کو اپنی تفسیر میں نقل کرنے کے بعد لکھاہے کہ آل محمد سے مرادوہ افراد ہیں جن کا پیغمبر خدا سے بڑا گہرا اور مضبوط تعلق ہو اور اس میں شک تک نہیں کہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا، علی علیہ السلام، حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام کا تعلق پیغمبر خدا سے سب سے زیادہ تھا اور یہ مسلمہ حقیقت ہے اور روایات متواترہ سے ثابت شدہ ہے۔پس لازم ہے کہ انہی ہستیوں کو آل محمد قرار دیاجائے۔


فخرالدین رازی اپنی تفسیر میں اس حدیث کی تفصیل میں لکھتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اصحاب نے عرض کیا:”یا رسول اللہ! وہ آپ کے قریبی رشتہ دار کون سے افراد ہیں جن کی محبت ہم پر واجب کی گئی ہے؟“ آپ نے فرمایا:”وہ علی علیہ السلام ، فاطمہ سلام اللہ علیہا،حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام ہیں“۔

اس کے علاوہ اہل سنت کی کتابوں میں بہت سی دوسری احادیث اور روایات اس بارے میں بیان کی گئی ہیں۔ اُن سب کو یہاں پر بیان کرنا ممکن نہیں اور صرف مزید اطلاع دینے کی غرض سے اشارہ کررہے ہیں کہ اوپر درج کی گئی حدیث جو محبت آل محمد کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور اپنے موضوع کے اعتبار سے بڑی اہم ہے، اہل سنت کی کم از کم پچاس معروف کتابوں میں درج کی گئی ہے۔

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ زمخشری تفسیر کشاف میں ، جلد۴،صفحہ۲۱۹۔

۲۔ بیضاوی اپنی تفسیر(تفسیر بیضاوی ) میں، جلد۲،صفحہ۳۶۲۔

۳۔ ابن کثیر اپنی تفسیر میں، جلد ۴،صفحہ۱۱۲۔

۴۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب۳۲،صفحہ۱۲۳اور ۴۴۴، اس کےعلاوہ اس حدیث کو مکمل طور پر مقدمہ کتاب میں بھی نقل کیا ہے۔

۵۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب علی علیہ السلام میں، حدیث۳۵۲،صفحہ۳۰۷۔

۶۔ حافظ حسکانی، کتاب شواہد التنزیل، جلد۲،صفحہ۱۳۰، طبع اوّل، حدیث۸۲۲۔

۷۔ عبداللہ بن احمد بن حنبل، کتاب الفضائل میں، حدیث۲۶۳،صفحہ۱۸۷،طبع اوّل،باب فضائل امیرالمومنین علی ۔

۸۔ ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد، جلد۹،صفحہ۱۶۸، باب فضائل اہل بیت ۔

۹۔ سیوطی، تفسیر الدرالمنثور میں، جلد۶،صفحہ۷،۸۔

۱۰۔ فخر رازی اپنی تفسیر(تفسیر کبیر) میں، جلد۲۷،صفحہ۱۶۶۔


۱۱۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب، باب۸۶۔

۱۲۔ حموینی ، کتاب فرائد السمطین، باب۲۶،جلد۲،صفحہ۱۲۰۔

۱۳۔ ابن اثیر، کتاب اسد الغابہ حبیب ابن ابی ثابت کے تراجم میں، جلد۵،صفحہ۳۶۷۔

۱۴۔ حاکم، کتاب المستدرک میں، جلد۳،صفحہ۱۷۲ اور بہت سے علمائے اہل سنت۔

گیارہویں آیت

علی نفس رسول ہیں(علی اور اہل بیت آیت مباہلہ میں)

( فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَاَبْنَآءَ کُمْ وَنِسَآ ءَ نَا وَ نِسَآ ءَ کُمْ وَاَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَکُمْ قف ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ ۔)

”پس آپ کہہ دیجئے کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ اور ہم اپنی عورتوں کو(بلائیں)اور تم اپنی عورتوں کو(بلاؤ) اور ہم اپنے نفسوں کو(بلائیں) اور تم اپنے نفسوں کو(بلاؤ) پھر ہم خدا کی طرف رجوع کریں اور خدا کی لعنت جھوٹوں پر قرار دیں“۔(سورئہ آل عمران:آیت۶۱)۔

تشریح

تمام مفسرین اور محدثین اہل سنت اور شیعہ کے مطابق یہ آیت (جو آیت مباہلہ کے نام سے مشہور ہے)اہل بیت کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ اس میں ”اَبْنَاءَ نَا“سي امام حسن اور امام حس ین مراد ہیں،”نِسَاءَ نَا “سے فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور”اَنْفُسَنَا“ سے علی ابن ابی طالب علیہما السلام مرادہیں۔

روایات لکھنے سے پہلے ہم مباہلہ کے واقعہ کو مختصراً بیان کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔


پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجران کے عیسائیوں کودعوت اسلام دی۔ عیسائیوں کے بڑے بڑے پادریوں نے باہم مشورہ کیا اور اکٹھے ہوکر مدینہ میں آئے او رپیغمبر اسلام سے ملاقاتیں کیں اور بحث و مباحثہ شروع کردیا۔یہ سلسلہ مناظرہ تک جاپہنچا۔ رسول اللہ نے انہیں محکم دلائل دئیے جس کے جواب میں عیسائیوں نے اپنے عقائد کو درست قرار دینے کیلئے بحث میں ضد کی۔ اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بحکم خدا عیسائیوں کو مباہلہ(مخالف گروہوں کا مل کر جھوٹوں پر خدا کی لعنت بھیجنا)کی دعوت دی تاکہ حق ظاہر ہوجائے۔

عیسائیوں نے یہ دعوت قبول کرلی اور قرار پایا کہ مباہلہ کیلئے اگلے روز مدینہ سے باہر کھلے میدان میں جمع ہوں گے۔ مباہلہ کا وقت آن پہنچا۔ تمام عیسائی ، اُن کے علماء اور راہب مدینہ سے باہر مقررہ جگہ پر پہنچ گئے اور پیغمبر اسلام کے آنے کا انتظار کرنے لگے۔اُن کا خیال تھا کہ آپ یقینا مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد کے ہمراہ آئیں گے۔ ابھی زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ نصاریٰ نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ پیغمبر خدا کے ساتھ مسلمانوں کی جماعت ہے نہ اصحاب و انصار کی کوئی تعداد۔آپ بڑی متانت کے ساتھ صرف چار افراد کے ہمراہ تشریف لارہے ہیں۔ اُن میں سے ایک بچہ(آپ کا نواسہ امام حسین علیہ السلام) ہے جو آپ کی گود میں ہے۔ دوسرے بچے(آپ کا نواسہ امام حسن علیہ السلام)کی انگلی پکڑی ہوئی ہے۔ آپ کے پیچھے ایک بی بی ہیں جن کو خاتون جنت کہا جاتا ہے یعنی سیدہ فاطمة الزہرا اور اُن کے پیچھے اُن کے شوہرنامدار حضرت علی ہیں۔ ان سب افراد کے چہروں سے نورانی کرنیں پھوٹ رہی ہیں۔یہ سب افراد کمال اطمینان اور ایمان راسخ کے ساتھ آہستہ آہستہ میدان کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ عیسائیوں کا رہبر” اسقف اعظم“ حیران ہوا اوراپنے لوگوں سے پکار کر کہنے لگا کہ دیکھو! محمد اپنے بہترین عزیزوں کو لے کر مباہلہ کیلئے تشریف لا رہے ہیں۔ خدا کی قسم! اگر اُن کو مباہلہ میں کوئی فکروتشویش ہوتی تو ہرگز اپنے قریبی رشتہ داروں کو نہ لاتے۔ اے لوگو!ان افراد کے چہروں سے نور کی کرنیں پھوٹتی ہوئی دیکھ رہا ہوں۔ اگر یہ افراد خدا سے دعا کریں تو پہاڑ اپنی جگہ سے حرکت کرنا شروع کردیں۔لہٰذا ان سے مباہلہ کرنے سے گریز کریں وگرنہ ہم سب عذاب خدا میں گرفتار ہوجائیں گے۔

اس موقع پر اسقف نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ ہم آپ سے ہرگز مباہلہ نہیں کریں گے بلکہ آپ سے صلح کرنا چاہتے ہیں۔ پیغمبر خدا نے اُن کی تجویز کو قبول کرلیا اور معتبر روایات کے مطابق علی علیہ السلام کے دست مبارک سے صلح نامہ لکھا گیا۔


اوپر بیان کئے گئے پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے چند روایات جو تشریح اور تفسیر آیت مباہلہ کے ضمن میں نقل کی گئی ہیں، ملاحظہ فرمائیں:

(ا)۔ ابو نعیم اپنی کتاب حلیة الاولیاء میں لکھتے ہیں کہ عامر بن سعد اپنے باپ سے اسناد کے ساتھ روایت کرتے ہیں:

لَمَّا نَزَلَتْ هٰذِ هِ الاٰ یَةُ (فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَاَبْنَآءَ کُمْ وَنِسَآ ءَ نَا وَ نِسَآ ءَ کُمْ وَاَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَکُمْ قف ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ) دَعٰا رَسُوْلُ اللّٰهِ صلّٰی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ عَلِیاً وَفَاطِمةَ وَحَسَناًوَحُسَیْناً فَقَالَ:اَلَّلهُمَّ هٰولاءِ اَهْلِیْ

جس وقت یہ آیت( فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَاَبْنَآءَ کُمْ وَنِسَآ ءَ نَا وَ نِسَآ ءَ کُمْ وَاَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَکُمْ قف ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ ) نازل ہوئی، پیغمبر اسلام نے علی ،فاطمہ ، حسن اور حسین علیہم السلام کو اپنے پاس بلایا اور خدا کے حضور عرض کی:”پروردگار! یہ میرے اہل بیت ہیں“۔

(ب)۔ اسی طرح کتاب حلیة الاولیاء میں اسناد کے ساتھ جابر روایت کرتے ہیں:

قَالَ جَابِرُ: فِیْهِمْ نَزَلَتْ هٰذِهِ الآ یَةُ قَالَ جَابِرْ:اَنْفُسَنَا رَسُوْلُ اللّٰه وَعَلِیٌّ وَ ”اَبْنَاءَ نَا“ اَلحَسَنُ وَالحُسَیْنُ وَ ”نِسَاءَ نَا“ فَاطِمَةُ

جابر کہتے ہیں کہ یہ آیہ شریفہ( فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَاَبْنَآءَ کُمْ وَنِسَآءَ نَا وَ نِسَآ ءَ کُمْ وَاَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَکُمْقفثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ ) ان ہستیوں(یعنی حضرت محمد، علی ، فاطمہ ، حسن اور حسین علیہم السلام)کیلئے نازل ہوئی ہے۔

جابر کہتے ہیں کہ اَنْفُسَنَا سے رسول خدااور عل ی علیہ السلام اوراَبْنَآءَ نَا سي حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام اورَنِسَآءَ نَا سے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا مراد ہیں۔


تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ فخرالدین رازی تفسیر کبیر میں، جلد۱۲،صفحہ۸۰ اور اشاعت دوم، جلد۸،صفحہ۸۵۔

۲۔ ابن کثیر اپنی تفسیر میں، جلد۱،صفحہ۳۷۱ ، البدایہ والنہایہ ،جلد۷،ص۳۴۰،باب فضائل علی علیہ السلام۔

۳۔ سیوطی تفسیر الدرالمنثور میں، جلد۲،صفحہ۴۳اور کتاب تاریخ الخلفاء، صفحہ۱۶۹۔

۴۔ گنجی شافعی کتاب کفایة الطالب، باب۳۲،صفحہ۱۴۲۔

۵۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب علی علیہ السلام، حدیث۳۱۰،صفحہ۲۶۳اور۳۱۸۔

۶۔ حافظ حسکانی، کتاب شواہد التنزیل، جلد۱،صفحہ۱۲۵، اشاعت اوّل۔

۷۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی ،ینابیع المودة، باب مناقب، ص۲۷۵،حدیث۱۰،ص۲۹۱

۸۔ زمخشری تفسیر کشاف میں، جلد۱،صفحہ۳۶، اشاعت دوم، صفحہ۱۹۳۔

۹۔ حاکم، کتاب المستدرک، جلد۳،صفحہ۱۵۰(اشاعت حیدرآباد)۔

۱۰۔ بیضاوی اپنی تفسیر میں، جلد۱،صفحہ۱۶۳۔

۱۱۔ حموینی، کتاب فرائد السمطین، چوتھا باب، جلد۲،صفحہ۲۳، اشاعت اوّل۔

۱۲۔ حافظ ابونعیم اصفہانی، کتاب”ما نزل من القرآن فی علی “ ، کتاب دلائل النبوة،ص ۲۹۷

۱۳۔ احمد بن حنبل، کتاب مسند، جلد۱،صفحہ۱۸۵،اشاعت مصر۔

۱۴۔ طبری اپنی تفسیر میں، جلد۳،صفحہ۱۹۲۔

۱۵۔ واحدی نیشاپوری، کتاب اسباب النزول میں، صفحہ۷۴(اشاعت انڈیا)۔

۱۶۔ آلوسی ، تفسیر ”روح المعانی“میں، جلد۳،صفحہ۱۶۷،اشاعت مصر۔

۱۷۔ علامہ قرطبی، ”الجامع الاحکام القرآن“، جلد۳،صفحہ۱۰۴، اشاعت مصر۱۹۳۶۔

۱۸۔ حافظ احمد بن حجر عسقلانی،’کتاب الاصابہ‘ ،ج۲،ص۵۰۲، اشاعت :مصطفی محمد، مصر۔


بارہویں آیت

اللہ تعالیٰ نے علی کو ایمان کامل اورعمل صالح کے سبب دلوں کا محبوب بنادیا۔

( اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا )

”بہ تحقیق وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے، عنقریب خدائے رحمٰن اُن کیلئے ایک محبت قرار دے گا“۔(سورئہ مریم:آیت۹۶)

تشریح

اس آیت میں دو نکات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے:

(ا)۔ یہ آیہ شر یفہ ہمیں یہ پیغام دے رہی ہے کہ ایمان اور عمل صالح کا اثر پوری کائنات پر

چمکتا ہے اور نتیجتاً اُس کی محبوبیت کی شعاعیں تمام مخلوق کو اپنے حلقہ اثر میں لے لیتی ہیں اور وہ ذات اقدس ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کو دوست رکھتی ہے اور اُن کو تمام مخلوقات کا بھی محبوب بنادیتی ہے۔

(ب)۔ اگرچہ ہر فرد ایمان لانے کے بعد عمل صالح بجالانے پر اس منزل کو پاسکتا ہے لیکن

اہل سنت اور شیعہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت سب سے پہلے امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی شان میں نازل ہوئی۔ حقیقت میں تمام اصحاب رسول میں سب سے پہلے جو ایمان اور عمل صالح کے نتیجہ میں عنایات خداوندی کا مستحق ٹھہرا اور جس کی محبت تمام توحید پرستوں کے دلوں میں ڈال دی گئی، وہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام تھے۔

اس سلسلہ میں روایات ملاحظہ ہوں:

(ا)۔عَنْ اِبْنِ عباس فِی قَولهِ تعالٰی ( اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا ) قَالَ: اَلْمُحَبَّةُ فِی صُدُوْرِ المُومِنِینَ نَزَلَتْ فِی عَلِیِّ ابْنِ اَبِی طَالِب عَلَیْهِ السَّلَام ۔

”ابن عباس ے روایت ہے کہ آپ نے اس آیت( اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا ) کے بارے میں فرمایا کہ خدا محبت کو مومنوں کے دلوں میں جگا دیتا ہے اور یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے(اور یہ اس بات کو بیان کرتی ہے کہ خدا نے محبت علی علیہ السلام مومنوں کے دلوں میں ڈال دی ہے)۔


(ب)۔ ثعلبی اپنی تفسیر میں براء بن عاذب سے اس طرح نقل کرتے ہیں:

قَالَ رسول اللّٰه لعلی ابن ابی طالب:یَا عَلِیُّ وَ قُل، اَلّٰلهُمَّ اجْعَلْ لِیْ عِنْدَکَ عَهْداً وَاجْعَلْ لِی فِی صُدُوْرِ الْمُومِنِیْنَ مَوَدَّة، فَانْزَلَ اللّٰهُ ( اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا ) قَالَ: نَزَلَتْ فِیْ عَلِی

”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی ابن ابی طالب علیہما السلام سے فرمایا:’کہو ، اے میرے اللہ! میرے لئے اپنی دوستی(محبت) قرار دے اور میرے لئے مومنوں کے دلوں میں محبت ڈال دے‘۔ اُس وقت یہ آیت( اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا ) نازل هوئ ی۔ آپ نے فرمایا کہ یہ آیت علی علیہ السلام کیلئے نازل ہوئی ہے“۔

(ج)۔ حافظ حسکانی کتاب ”شواہد التنزیل“ میں اس آیت کے ضمن میں ابن حنفیہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:”میں نے امیر المومنین سے پوچھا کہ اس آیت( اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا ) سے اللہ تعالیٰ کی کیا مراد ہے؟“

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم کسی مردوزن مومن کو نہیں پاؤ گے جس کے دل میں علی اور اُن کی آل کی محبت نہ ہو(یعنی ایمان کی اہم ترین شرط علی اور اُن کی پاک آل سے محبت ہے)“۔

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ سیوطی، تفسیر الدرالمنثور میں، جلد۴،صفحہ۲۸۷اور اشاعت دوم،صفحہ۳۱۵۔

۲۔ ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد، باب اوّل من یحبُ علیاً او یبغضہ، جلد۹،صفحہ۱۲۵۔

۳۔ حافظ حسکانی، کتاب شواہد التنزیل، حدیث ۵۰۲،جلد۱،صفحہ۳۶۵۔

۴۔ حموینی، کتاب فرائد السمطین، چودہواں باب، جلد۱،صفحہ۷۹۔

۵۔ زمخشری تفسیر کشاف میں، جلد۳،صفحہ۴۷۔


۶۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب امیر المومنین ، حدیث۳۷۴،صفحہ۳۲۷،اشاعت اوّل۔

۷۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب، باب۶۲،صفحہ۲۴۹۔

۸۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، صفحہ۲۵۰اور۳۶۳۔

۹۔ طبرانی، کتاب معجم الکبیر، جلد۳،صفحہ۱۷۲(ترجمہ عبداللہ بن عباس)۔

۱۰۔ ثعلبی اپنی تفسیر کشف البیان ، جلد۲،صفحہ۴۔

تیرہویں آیت

علی تنہا اس آیت کے حکم پر عمل کرنے والے ہیں

( یٰاَ یُّهَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓ ااِذَانَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّ مُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰ کُمْ صَدَ قَةًط ذٰلِکَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَاَطْهَرُط فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْم ) ”اے ایمان لانے والو! جب تم رسول سے علیحدگی میں کچھ عرض کرنا چاہو تو اپنے اس تخلیہ سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو ، تمہارے لئے بہتر(بھی) ہے اور زیادہ پاک کرنے والا(بھی)پھر تم کو اگر یہ میسر نہ ہو تو ضرور اللہ بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے“۔(سورئہ مجادلہ:آیت۱۳)۔

تشریح

اس سے پہلے کہ اس آیہ شریفہ سے متعلق روایات نقل کی جائیں، مناسب ہوگا کہ مرحوم علامہ طبرسی نے مجمع البیان میں اور دوسرے بہت سے مفسرین نے اپنی معروف کتب میں اس آیت کے شان نزول میں جو ذکر کیا ہے، اُس پر توجہ فرمائیں۔

عرب کے تقریباً سبھی اُمراء پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے تھے اور آپ سے رازونیاز کی باتیں آپ کے کان میں کرتے تھے( اس عمل سے نہ صرف پیغمبر اسلام کا قیمتی وقت ضائع ہوتا تھا بلکہ غرباء کیلئے باعث تشویش بنتا جارہا تھا یعنی اُمراء اس کو اپنا حق تصور کرنے لگے) اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو اور اس کے بعد والی آیت کو نازل فرمایا اور حکم دیا کہ پیغمبر اکرم کے کان میں سرگوشی کرنے سے قبل صدقہ دیا جائے اور اسے مستحقین تک پہنچا دیا جائے۔ جب اُمراء، اغنیاء اور سرداروں نے یہ حکم سنا تو سرگوشی کرنے سے پرہیز کرنے لگے تو اس آیت کے بعد والی آیت نازل ہوئی(جس میں بخل کرنے پر اُن کی مذمت کی گئی اور کچھ رعایت دی گئی) اور سرگوشی کرنے کی اجازت سب کو دے دی گئی۔


اہل سنت اور شیعہ مفسرین نے جو روایات نقل کی ہیں، اُن کی بناء پر تو صرف اور صرف علی نے اس آیت پر بڑی شائستگی کے ساتھ عمل کیا اور وہی اس امتحان میں کامیاب ہوئے۔ اس سلسلہ میں دو روایات پر توجہ فرمائیں:

(ا)۔قٰالَ عَلِیٌّ عَلَیْهِ السَّلَام: آ یَةٌ مِّن کِتَابِ اللّٰهِ لَمْ یَعْمَلْ بِهٰا اَحَدٌ قَبْلِی وَلَا یَعْمَلْ بِهَا اَحَدٌ بَعْدِیْ، کَانَ لِیْ دِیْنَارٌ فَصَرَفْتُهُ بِعَشْرَةِ دَرٰاهِمَ فَکُنْتُ اِذَاجِعْتُ اِلَی النَّبِیْ صلّٰی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ تَصَدَّقْتُ بِدِرْهَمٍ

”حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ قرآن میں یہ ایک ایسی آیت ہے جس پر نہ مجھ سے پہلے اور نہ ہی کسی نے بعد میں عمل کیا۔ میرے پاس ایک دینار تھا جس کو میں نے دس درہموں میں تبدیل کیا اور جب بھی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی راز کی بات کرتا تو میں اس سے قبل ایک درہم صدقہ دے دیتا“۔

(ب)۔عَنْ اِبْن عَبَّاس رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ فی قَولِهِ تَعٰالٰی ( یٰٓاَ یُّهَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓ ااِذَانَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّ مُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰ کُمْ صَدَقَةًط ذٰلِکَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَاَطْهَرُط فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْم ) قَالَ: اِنَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ حَرَّمَ کَلٰامَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صلّٰی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ و(اصحابُ رسولِ اللّٰه)بَخِلُوْا اَنْ یَّتَصَدِّ قُوْا قَبْلَ کَلامِه قَال:وَتَصَدَّقَ عَلَیٌّ وَلَمْ یَفْعَلْ ذٰلِکَ اَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ غَیْرُه ۔

”ابن عباس سے روایت کی گئی ہے کہ اس آیت یعنی

( یٰٓاَ یُّهَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓ ااِذَانَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰکُمْ صَدَقَةًط ذٰلِکَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَاَطْهَرُط فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْم )

میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کے ساتھ سرگوشی کو حرام قراردیاہے مگر یہ کہ جو چاہے وہ پہلے صدقہ دے ۔ اصحاب نے اس ضمن میں سرگوشی کرنے سے قبل صدقہ دینے میں بخل سے کام لیا اور صرف علی علیہ السلام نے صدقہ دیا اور اس کام کو سوائے علی علیہ السلام کے کسی دوسرے مسلمان نے انجام نہ دیا۔


تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ فخر رازی اپنی تفسیر میں،جلد۲۹،صفحہ۲۷۱۔

۲۔ سیوطی الدرالمنثور میں، جلد۶،صفحہ۱۸۵اور اشاعت دوم صفحہ۲۰۵اور حدیث۲۵،کتاب جمع الجوامع، جلد۲،صفحہ۲۸، اشاعت اوّل۔

۳۔ حافظ حسکانی، حدیث۹۴۹، شواہد التنزیل جلد۲،صفحہ۲۳۱،۳۴۳، اشاعت اوّل۔

۴۔ ابن کثیر اپنی تفسیر میں جلد۴،صفحہ۳۲۶۔

۵۔ حاکم، کتاب المستدرک میں باب”کتاب التفسیر“جلد۲،صفحہ۴۸۲۔

۶۔ ابن مغازلی، مناقب امیر المومنین ، حدیث۳۷۲،۳۷۲،صفحہ۳۲۵،اشاعت اوّل۔

۷۔ حموینی، کتاب فرائد السمطین، باب۶۶،جلد۱،صفحہ۳۵۸،اشاعت بیروت۔

۸۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب، باب۶۲،صفحہ۲۴۸،باب۲۹،صفحہ۱۳۵۔

۹۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة ، باب۲۷،صفحہ۱۲۷۔

۱۰۔ بیضاوی اپنی تفسیر میں، جلد۲،صفحہ۴۷۶۔

۱۱۔ واحدی، کتاب اسباب النزول، صفحہ۳۰۸، اشاعت اوّل۔

۱۲۔ حافظ ابونعیم اصفہانی، کتاب ”مانزل من القرآن فی علی علیہ السلام“۔

چودہویں آیت

علی اور اُن کے شیعہ بہترین مخلوق ہیں

( اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْاالصَّالِحٰاتِ اُوْلٰئِکَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ )

”یقینا جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے، ساری مخلوق سے بہتروہی لوگ ہیں“۔(سورئہ بیّنہ:آیت۷)


تشریح

یہ آیت نہایت پُرمعنی اور عظمت والی ہے اورعلی علیہ السلام اور اُن کے حقیقی ماننے والوں کے مدارج و مراتب کو بیان کرتی ہے۔ اس حقیقت کو جاننے کیلئے ہم مختلف روایات جو اہل سنت اور شیعہ مفسرین نے اس ضمن میں بیان کی ہیں، کی طرف رجوع کرتے ہیں، ملاحظہ ہوں:

(ا)۔ حافظ حسکانی کتاب شواہد التنزیل میں روایت نقل کرتے ہیں:

عَنْ ابنِ عباس رضی اللّٰه عنه قال: لَمَّا نَزَلَتْ هٰذِه الآیةُ ( اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْاالصَّالِحٰاتِ اُوْلٰئِکَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ ) قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ لِعَلِیٍّ علیه السَّلام هُمْ اَنْتَ وَشِیْعَتُکَ تَاتِی اَنْتَ وَشِیْعَتُکَ یَومَ القِیٰامَةِ رٰاضِیِّیْنَ مَرْضِیِّیْنَ وَیَاتِی عَدُ وُّ کَ غِضْبَاناً مُقْمِحِیْنَ

”ابن عباس سے روایت ہے ،انہوں نے کہا کہ جب یہ آیت

( اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْاالصَّالِحاتِ اُوْلٰئِکَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ )

نازل ہوئی تو پیغمبر اکرمنے علی علیہ السلام سے فرمایا کہ ”یا علی !اس آیت سے مراد تم اور تمہارے شیعہ ہیں۔ تم اور تمہارے شیعہ قیامت کے روز میدان محشر میں اس طرح داخل ہوں گے کہ خدا تم سے اور تم خدا سے راضی ہوگے اور تمہارے دشمن پریشان حالت میں میدان محشر میں داخل ہوں گے“۔

(ب)۔ خوارزمی اس آیت کی فضیلتیں بیان کرتے ہوئے نقل کرتے ہیں:

عَنْ جابر قال:کُنَّاعِنْدَالنَّبِیْ صلی اللّٰه علیه وآله وسلَّم فَأَ قْبَلَ علی ابن ابی طالب علیه السلام فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلی اللّٰه علیه وآله وَسلَّم قَدْأَ تٰاکُمْ اَخِی ثُمَّ اِلْتَفَتَ اِلَی الْکَعْبَةِ فَضَرَبَهٰابِیَدِه ثُمَّ قَالَ:وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِه اِنَّ هٰذَا وَشِیْعَتَهُ هُمُ الفَائِزُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ ثُمَّ قٰالَ اِنَّه اَوَّلُکُمْ اِیْمَاناً بِاللّٰهِ وَأَوْفٰاکُمْ بِعَهْدِاللّٰهِ تَعَالٰی وَاَقْوَمُکُمْ بِاَمْرِاللّٰهِ وَاَعْدَلُکُمْ فِی الرّعِیَةِ وَاَقْسَمُکُمْ بِالسَّوِیَّةِ وَاَعْضَمُکُمْ عِنْدَاللّٰهِ مَزِیَّةً

قَالَ جابر: وَفِی ذٰلِکَ الْوَقْتِ نَزَلَتْ فِیْهِ( اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْاالصَّالِحٰاتِ اُوْلٰئِکَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ ) قَالَ وَکَانَ اصحٰابُ النَّبِی اِذَاَقْبَلَ عَلَیْهِمْ علیٌ قَالُوْ قَدْ جَاءَ خَیْرُ البَرِیَّةِ


”جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم پیغمبر اکرم کی خدمت میں بیٹھے تھے ۔ علی علیہ السلام ہماری طرف آرہے تھے۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا:’میرا بھائی تمہاری طرف آرہا ہے‘۔ پھر کعبہ کی طرف رخ مبارک کیا اور کعبہ کی دیوار پر ہاتھ لگا کر کہا:”مجھے اُس ہستی کی قسم ہے جس کے قبضہ میں میری جان ہے، یہ شخص اور اس کے شیعہ قیامت کے روز کامیاب ہیں‘۔ بعد میں فرمایا:’خدا کی قسم! وہ تم سب سے پہلے خدا پر ایمان لانے والا ہے۔ خدا کے ساتھ عہد میں اُس کی وفا سب سے زیادہ ہے۔ خدا کے احکام کیلئے اُس کا قیام سب سے زیادہ ہے۔اُس کا عدل اپنی رعیت کے ساتھ سب سے زیادہ ہے اور تقسیم بیت المال میں اُس کی مساوات سب سے بڑھی ہوئی ہے اور اُس کا مقام نزد خدا سب سے بلند تر ہے“۔

جابر نے کہا:اس وقت خدا کی طرف سے یہ آیت

( اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْاالصَّالِحاتِ اُوْلٰئِکَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ )

رسول اکرم پر نازل ہوئی۔ اس کے بعد جب بھی علی علیہ السلام اصحاب پیغمبر کی طرف جاتے تو وہ کہتے کہ بہترین مخلوق خدا آرہے ہیں“۔

(ج)۔ علامہ جلال الدین سیوطی نے اپنی تفسیر الدرالمنثور میں درج ذیل روایت کو نقل کیا ہے:

عَنْ ابنِ مَرْدَوِیة، عَنْ علی علیه السلام قٰالَ:قٰالَ لِی رَسُوْل اللّٰهِ صلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ أَ لَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ اللّٰهِ: ( اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْاالصَّالِحٰاتِ اُوْلٰئِکَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ ) (هم) أَنْتَ وَشِیْعَتُکَ وَمَوْعِدی وَمَوْعِدُکُمُ الحَوْضُ اِذٰاجِعْتَ الْاُمَمَ لِلْحِسَابِ تَدْعُوْنَ غُرّاً مُحَجَّلِیْنَ ۔

”حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا :پیغمبر اسلام نے مجھ سے فرمایا:’کیا تم نے خدا کا یہ کلام

( اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْاالصَّالِحاتِ اُوْلٰئِکَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ )

سنا ہے؟ ‘ پھر فرمایاکہ’وہ تم اور تمہارے شیعہ ہیں۔ تمہارا اور میرا مقام حوض کوثر ہے۔ جب اُمتوں کو حساب کیلئے بلایاجائے گا تو تم اس حالت میں آؤ گے کہ تمہاری پیشانی سفید ہوگی اور جانی پہچانی ہوگی“۔


تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ حافظ حسکانی ، کتاب شواہد التنزیل، جلد۲،صفحہ۳۵۶،۳۵۹،نمبر۱۱۲۵،۱۱۳۰،اشاعت اوّل۔

۲۔ حافظ ابن عساکر، کتاب تاریخ دمشق، جلد۲،صفحہ۳۴۴،۴۴۲،باب امیر المومنین کے حالات، حدیث۸۵۲،۹۵۸، اشاعت دوم(شرح محمودی)۔

۳۔ سیوطی، تفسیر الدرالمنثور، جلد۶،صفحہ۳۷۹،اشاعت دوم، صفحہ۴۲۴۔

۴۔ حموینی، کتاب فرائد السمطین، جلد۱،صفحہ۱۵۵، باب۳۱۔

۵۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب، صفحہ۲۴۵،باب۶۲۔

۶۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة ، صفحہ۳۶۱۔

۷۔ بلاذری، کتاب النساب الاشراف، ج۲ص۱۱۳حدیث۵۰،اشاعت اوّل بیروت

۸۔ شبلنجی ،کتاب نورابصار، صفحہ۷۰،۱۰۱۔

۹۔ خوارزمی، کتاب مناقب امیر المومنین ،حدیث۱۱،صفحہ۶۲۔

پندرہویں آیت

پیغمبر کی صداقت پر قرآن ایک روشن دلیل ہے اور علی ایک سچے گواہ ہیں

( اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّ بِّه وَیَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِنْ قَبْلِه کِتٰبُ مُوْسٰٓی اِمَامًا وَّرَحْمَةً )

”کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہو اور اُس کے پیچھے پیچھے ایک گواہ آتا ہو جو اُسی کا جزو ہو(سورئہ ہود:آیت۱۷)


تشریح

اس آیت شریفہ کی تفسیر میں بیان کیا گیا ہے کہ کون(مَنْ) سے مرادجناب رسول خدا

فضائل علی علیہ السلام قرآن کی نظر میں ۔۳

کی ذات مبارک ہے اور روشن دلیل(بَینَہ)سے مرادقرآن مجید ہے اور (نبوت کے) گواہ صادق(شاہد) سے مراد علی ابن ابی طالب علیہما السلام ہیں۔بعض مفسرین نے شاہد سے مراد جبرئیل علیہ السلام کو لیا ہے اور بعض نے َیَتْلُوْهُ کو مادّہ تلاوت سے قرأ ت کے معنی میں لیا ہے نہ کہ اس معنی میں کہ ایک کے بعد دوسرے کا آنا۔ انہوں نے شاہد سے مراد زبان رسول اللہ لی ہے۔ لیکن بہت سے اہل سنت اور شیعہ مفسرین نے شاہد سے مراد سچے مومنین لئے ہیں اور سچے مومن کی تصویر علی علیہ السلام کو لیا ہے اور اس ضمن یں بڑی اہم روایات کو بیان کیا ہے۔ ان میں سے چند ایک یہاں بیان کی جاتی ہیں:

(ا)۔ سیوطی نے کتاب جمع الجوامع اور تفسیر الدرالمنثور میں یہ روایت بیان کی ہے:

حَدَّثْنَا عبادُ بنُ عَبْدِاللّٰهِ الاَ سَدِی قال:سَمِعْتُ عَلِیَّ بنَ ابی طالبٍ وَهُوَ یَقُولُ:مٰا أَحَدٌ مِنْ قُرَیْشٍ اِلَّا وَقَدْ نَزَلَتْ فیهِ آیةٌ وآیتانِ فَقٰالَ لَهُ رَجُلٌ:وَمٰانَزَلَ فِیْکَ یٰااَمِیْرَالمومنینَ؟قٰالَ:فَغَضِبَ ثُمَّ قٰالَ: اَمٰاوَاللّٰهِ لَولَمْ یَسْأَلْنِیْ عَلٰی رُووسِ الْقَوْمِ مٰاحَدَّ ثْتُکَ،ثُمَّ قال:هَلْ تَقْرَأُ سورةَ هودٍ؟ ثُمَّ قَرَاءَ: ( اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّ بِّه وَیَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ ) رسولُ اللّٰه عَلٰی بَینةٍ مِنْ رَبَّهِ وَاَنَاالشّٰاهِدُ مِنْهُ ۔

”عباد بن عبداللہ اسدی کہتے ہیں کہ میں نے علی علیہ السلام سے سنا کہ وہ فرماتے ہیں کہ قریش کے سرداروں میں کوئی نہیں مگر اُس کے بارے میں ایک یا دو آیتیں نازل ہوئی ہوں۔ پس ایک شخص نے سوال کیا:یا امیر المومنین ! آپ کے بارے میں کونسی آیت نازل ہوئی ہے۔ آپ(اُس شخص کے جہل یا عداوت کی وجہ سے) غضبناک ہوئے اور کہا کہ اگر دوسرے لوگ موجود نہ ہوتے تو میں تمہارے سوال کا جواب نہ دیتا۔ اُس وقت آپ نے فرمایا : کیا تم نے سورئہ ہود پڑھی ہے؟ اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:

( اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّ بِّه وَیَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ ) ”اور فرمایا کہ پیغمبر روشن دلیل یعنی قرآن مجید (بَینَةٍ) رکھتے تھے اور میں گواہ تھا“۔


(ب)۔ کچھ مفسرین اس روایت کو نقل کرتے ہیں:

عَنْ انس(فی قَولِه تعالٰی) ( اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّ بِّه وَیَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُط“قَالَ هُوَرسولُ اللّٰهِ ”وَیَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ ) قَالَ هُوَ عَلِیُّ ابْنُ اَبِیْطَالِب، کَانَ وَاللّٰهِ لِسَانَ رَسُولِ اللّٰهِ ۔

”انس بن مالک سے اس آیت کی تفسیر سے متعلق روایت کی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ آیت کے اس حصہ( اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّ بِّه ) سے مراد پیغمبر اسلام کی ذات مبارک ہے اور( یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ ) سے مرادعلی ابن ابی طالب علیہما السلام ہیں۔ خدا کی قسم! یہ(علی کا نام)رسول اللہ کی زبان پر تھا“۔

(ج)۔ تفسیر برہان، جلد۲،صفحہ۲۱۳پر یہ روایت بیان کی گئی ہے:

امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اس آیت میں ”شاہد“ سے مراد امیرالمومنین علی علیہ السلام ہیں اور اُن کے یکے بعد دیگرے جانشین ہیں۔

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ سیوطی، کتاب جمع الجوامع، جلد۲،صفحہ۶۸،حدیث۴۰۷،۴۰۸ اور ج۳،ص۳۲۴۔

۲۔ حافظ ابن عساکر تاریخ دمشق میں، جلد۲،صفحہ۴۲۰،حدیث۹۲۸۔

۳۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب، باب ۶۲،صفحہ۲۳۵۔

۴۔ حافظ الحسکانی، کتاب شواہد التنزیل، حدیث۳۸۶،جلد۱،صفحہ۲۷۷۔

۵۔ ابن مغازلی شافعی، کتاب مناقب امیرالمومنین ، حدیث۳۱۸،صفحہ۲۷۰۔

۶۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب۲۶،صفحہ۱۱۵۔

۷۔ متقی ہندی، کتاب کنزل العمال، جلد۱،صفحہ۲۵۱،اشاعت اوّل۔

۸۔ طبری اپنی تفسیر میں جلد۱۵،صفحہ۲۷۲،شمارہ۱۸۰۴۸۔

۹۔ ثعلبی اپنی تفسیر میں، جلد۲،صفحہ۲۳۹۔


سولہویں آیت

علی صدیق اکبر اورشہید فی سبیل اللہ ہیں

( وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْابِاللّٰهِ وَرُسُلِه اُوْلٰٓئِکَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ وَالشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَنُوْرُهُمْْ )

”اور جو لوگ اللہ پر اور اُس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں وہی تو اپنے پروردگارکے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ اُن کا اجر اور اُن کا نور اُن ہی کیلئے ہوگا“(سورئہ حدید،آیت۱۹)

تشریح

اس میں کوئی شک نہیں کہ سچائی اور راست گوئی ایسی صفت ہے جو انسان کو اعلیٰ مقام تک پہنچادیتی ہے۔ ہمیں یہ صفت حضرت علی کے وجود پاک میں روز روشن کی طرح نظر آتی ہے۔

اگرچہ اہل سنت میں خلیفہ اوّل ہی صدیق کے طور پر مشہور ہیں لیکن بہت سی روایات جو اہل سنت اور شیعہ مفسرین نے اس آیت کے ذیل میں نقل کی ہیں، اُن کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ صفت سچائی اور راست گوئی ہر لحاظ سے مکمل طور پر حضرت علی علیہ السلام کے وجود پاک میں نظر آتی ہے۔ چند روایات ذیل پرتوجہ فرمائیں:

(ا)۔عَنْ اِبْنِ عباس فِی قَوْلِه تعٰالٰی ( وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْابِاللّٰهِ وَرُسُلِه اُوْلٰٓئِکَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ ) قال صدیقُ هَذِه الْاُمَّةِ عَلِیُّ ابْنُ اَبِیْطَالِب هُوَ الصِّدِّ یقُ الْاَکْبَرُ وَالْفَارُوْقُ الْاَعْظَمُ

”ابن عباس سے روایت ہے کہ اس آیت شریفہ( وَالَّذیْ نَ اٰمَنُوْابِاللّٰهِ وَرُسُلِه اُوْلٰٓئِکَ هُمُ الصِّدِّ یْ قُوْن ) کے بارے میں حضور نے فرمایا کہ اس اُمت کے صدیق علی ابن ابی طالب ہیں۔ علی ابن ابی طالب علیہ السلام صدیق اکبر بھی ہیں اور فاروق(حق اور باطل کو جدا کرنے والا) اعظم بھی“۔


(ب)۔عَنْ عبدالرحمٰنِ بن ابی لیلٰی عَنْ اَبِیْهِ قٰالَ رسولُاللّٰهِ اَلصِّدِّیْقُوْنَ ثَلاٰ ثَةٌ: حَبِیبُ النَّجَّارِ، مومِنُ آلِ یٰسِینَ وَحِزْبِیْلُ مُومِنُ آلِ فِرْعَوْنَ وَ عَلِیُّ ابْنُ اَبِیْطالِبٍ وَهُوَ اَفْضَلُهُمْ

”عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ تین افراد صدیق ہیں اور وہ ہیں:حبیب نجار، مومن آل یاسین اور حزبیل مومن آل فرعون اور علی ابن ابی طالب علیہما السلام اور علی علیہ السلام اُن سب سے افضل ہیں“۔

(ج)۔عَنْ عُبادِ بنِ عَبْداللّٰهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیّاً علیه السلام یقولُ: أَ نَا الصِّدِّیقُ الْاَکْبَرُ لَایقُولُهَا بَعْدِیْ اِلَّا کَذَّابٌ وَلَقَدْ صَلَّیْتُ قَبْلَ النَّاسِ سَبْعَ سِنِیْنَ ۔

”عباد بن عبداللہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے علی علیہ السلام سے سنا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں ہی صدیق اکبر ہوں اور میرے بعد کوئی بھی اپنے آپ کو صدیق اکبر نہیں کہلا سکتا لیکن سوائے جھوٹے اور کذاب کے اور میں نے لوگوں سے سات سال پہلے نماز پڑھی(یعنی سب سے پہلے خدا اور اُس کے رسول پر میں ایمان لایا)“۔

(د)۔ اسی طرح سب علمائے اہل سنت مثلاً حافظ ابی نعیم، ثعلبی، حافظ بن عساکر، سیوطی اور دوسرے بہت سے مفسرین سورئہ توبہ آیت۱۱۹( اِتَّقُوااللّٰهَ وَکُوْنُوْامَعَ الصَّادِقِیْن ) میں ابن عباس اور دوسروں سے بھی روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا کہ”الصادقین“ سے مراد علی ہیں ۔ روایت اس طرح سے ہے:

عَنْ ابنِ عباس فِی قوله تعٰالٰی ( اِتَّقُواللّٰهَ وَکُوْنُوْامَعَ الصَّادِقِیْنَ ) قَالَ نَزَلَتْ فِی عَلِیٍّ عَلَیْهِ السَّلَامُ خٰاصَّةً“

”ابن عباس کہتے ہیں کہ یہ آیت صرف علی علیہ السلام کی شان میں نازل کی گئی ہے“۔

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق میں، جلد۲،صفحہ۲۸۲،حدیث۸۱۲،اشاعت اوّل۔

۲۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب امیر المومنین ، صفحہ۲۴۶،۲۴۷، حدیث۲۹۶۔

۳۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب، باب۶۲،صفحہ۲۳۶اور باب۲۴،صفحہ۱۲۳۔

۴۔ حافظ حسکانی ، کتاب شواہد التنزیل۔


۵۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب ۴۲،صفحہ۱۴۶۔

۶۔ نسائی، کتاب خصائص امیرالمومنین ، حدیث۶،صفحہ۳۸۔

۷۔ سیوطی ،کتاب اللئالی المصنوعہ، باب فضائل علی ، جلد۱،صفحہ۱۶۰۔

۸۔ احمد بن حنبل، کتاب الفضائل، باب فضائل امیر المومنین ،حدیث۱۱۷،صفحہ۷۸۔

۹۔ حافظ المزی،کتاب تہذیب الکمال، ترجمہ العلاء بن صالح، جلد۴،صفحہ۱۹۳۔

سترہویں آیت

اللہ تعالیٰ نے علی کے وسیلہ سے پیغمبر کی مدد کی

( هُوَالَّذِیْٓ اَ یَّدَکَ بِنَصْرِه وَبِالْمُومِنِیْنَیٰٓاَ یُّهَاالنَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰهُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُومِنِیْنَ )

”وہ وہی ہے جس نے اپنی امداد سے اور مومنین کے ذریعہ سے تمہاری تائید کی تھی۔

اے نبی! تمہارے لئے اللہ اور مومنین میں سے جو تمہارا اتباع کرتے ہیں، وہی کافی ہیں ہیں“۔(سورئہ انفال: آیات۶۲،۶۴)۔

تشریح

کچھ مفسرین نے ان آیات کے ضمن میں خصوصاً آیت :۶۴کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ آیت اُس وقت نازل ہوئی جب یہودیوں کے قبائل بنی قریظہ اور بنی نضیر کے کچھ افراد پیغمبر اسلام کی خدمت میں مکروفریب سے حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ” اے پیغمبر خدا! ہم حاضر ہیں کہ آپ پر ایمان لائیں اور آپ کی پیروی کریں اور مدد کریں“۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر سے کہہ رہا ہے کہ ہرگز کسی غیر پر اعتماد نہ کریں بلکہ اللہ اور وہ مومنین جو آپ کی اتباع کرتے ہیں، آپ کے لئے کافی ہیں، انہی پر اعتماد کریں(تفسیر تبیان، جلد۵،صفحہ۱۵۲)۔


اہل سنت اور شیعہ علماء کی کثیر تعداد روایات لکھنے کے بعد کہتے ہیں کہ ان دو آیتوں میں مومنین سے مراد علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔ اگرچہ دوسرے مومنین بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں لیکن ان آیتوں کے مصداق(پوری طرح آیت کے مطابق) علی ابن ابی طالبعلیہما السلام ہیں۔ پیغمبر اسلام نے ہمیشہ تمام مشکلات اور سخت حالات میں علی علیہ السلام کے وجود مقدس پر فخر کیا۔ ذیل میں لکھی گئی دو روایات پر توجہ فرمائیں:

(ا)۔عَنْ اَبِیْ هُریرةِ قَالَ: قال رسولُ اللّٰه رَأَیْتُ لَیْلَةً اُسْرِیَ بِی اِلَی السَّمٰاءِ عَلَی الْعَرْشِمَکْتُوْباً: لَااِلٰهَ اِلّٰا أَنَا وَحْدِیْ لَا شَرِیْکَ لِیْ وَمحمدًعَبْدِی وَرَسُوْلِی اَیَّدْتُهُ بِعَلیٍّ(قال)فَذٰلِکَ قَوْلُهُ ( هُوَالَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِه وَبِالْمُومِنِیْن ) ۔

”ابوہریرہ نے روایت کی ہے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ شب معراج میں نے دیکھا کہ عرش پر لکھا ہوا تھا :’میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں تنہا اور لاشریک ہوں اور محمد میرا بندہ اور میرا رسول ہے اور میں نے علی کے ذریعے سے اپنے رسول کی مدد کی ہے اور اس آیت شریفہ( هُوَالَّذِیْٓ اَ یَّدَکَ بِنَصْرِه وَبِالْمُومِنِیْنَ ) میں بھی اسی طرف اشارہ ہے“۔

(ب)۔ حافظ حسکانی جو اہل سنت کے نامور عالم ہیں، کتاب شواہد التنزیل میں روایت نقل کرتے ہیں جو معتبر اسناد کے ساتھ امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے والد بزرگوارحضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے حوالہ سے لکھتے ہیں۔ انہوں نے اس آیت( یٰٓاَ یُّهَاالنَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰهُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُومِنِیْنَ ) کی تفسیرمیں فرمایا کہ یہ آیت علی علیہ السلام کی شان میں نازل کی گئی ہے جو ہمیشہ رسول اللہ کے مددگار و حامی و ناصر رہے ہیں۔

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق میں حدیث۹۲۶، باب احوال امیرالمومنین ، ج۲،ص۴۱۹

۲۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب، باب۶۲،صفحہ۲۳۴۔

۳۔ سیوطی، تفسیر الدرالمنثور میں، جلد۳،صفحہ۲۱۶،اشاعت دوم، صفحہ۱۹۹۔

۴۔ حافظ الحسکانی، کتاب شواہد التنزیل، شمارہ۲۹۹،جلد۱،صفحہ۲۲۳اور اشاعت اوّل میں جلد۱،صفحہ۲۳۰،شمارہ۳۰۵۔


۵۔ ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد، باب مناقب علی علیہ السلام، جلد۹،صفحہ۱۲۱۔

۶۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب ۲۳،صفحہ۱۰۹ اور باب۲ص۲۱

۷۔ ذہبی، میزان الاعتدال، ج۱،ص۲۶۹،حدیث۱۰۰۶اور ص۵۳۰،ج۱،شمارہ۱۹۷۷۔

۸۔ المحب الطبری، کتاب ریاض النضرہ، جلد۲،صفحہ۱۷۲۔

۹۔ متقی ہندی، کتاب کنزل العمال،جلد۶،صفحہ۱۵۸، اشاعت اوّل۔

اٹھارہویں آیت

حضرت علی کا بغض اور دشمنی شقاوت قلب، نفاق اور انسان کی بدبختی کا باعث ہے

( وَلَوْنَشَآءُ لَاَرَیْنَکَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰهُمْوَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ )

”اور اگر ہم چاہیں تو ہم اُن لوگوں کو تمہیں دکھلا دیں پھر تم اُن لوگوں کو اُن کی علامتوں سے پہچان لو اور تم اُن کو اُن کی بات کے لہجے سے ضرور پہچان لوگے“۔(سورئہ محمد، آیت:۳۰)۔

تشریح

اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر اسلام کومنافقین کی اور شقاوت قلبی رکھنے والے انسانوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر سے فرماتا ہے :”اگر ہم چاہیں تو ہم تمہیں اُن کی شناخت کروادیں گے“ تاکہ صرف اُن کی چال ڈھال اور قیافہ دیکھنے سے ہی اُن کو پہچا ن لو۔ اس کے علاوہ اُن کے لہجہ و کلام سے بھی پہچان سکتے ہو کہ اُن کے ناپاک دلوں میں کیا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اُن کے بولنے کا انداز کیا تھا کہ پروردگار نے اُس کو منافقین کے پہچاننے کا ایک اہم طریقہ بتایا۔اس ضمن میں اہل سنت اور شیعہ علماء نے جو روایات بیان کی ہیں، اُن پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ منافقین کے دلوں میں حضرت علی علیہ السلام کیلئے شدید دشمنی اور کینہ پایا جاتا تھا۔


البتہ وہ اپنی اس دشمنی اور کینہ کو رسول اللہ کی زندگی میں واضح طور پر ظاہر نہیں کرتے تھے۔ شاید وہ اس میں اپنی بھلائی اور فائدہ نہیں دیکھتے تھے ۔ اس لئے وہ موقع بہ موقع رسول اللہ اور مسلمانوں کے پاس آکر حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں بدگوئی کرتے تھے اور تنقید کرتے تھے۔ اُن کی اس چال کا مقصد صرف حضرت علی علیہ السلام کو لوگوں کے درمیان کمزور کرنا اور اُن کی محبوبیت کو کم کرنا تھا۔

لیکن خدائے بزرگ نے یہ آیت نازل کرکے اُن کے مکروفریب کو باطل کردیا اور اُن کے ناپاک چہروں کو سب کے سامنے آشکار کردیا۔ اس ضمن میں دو روایات پر توجہ فرمائیں:

(ا)۔عَنْ اَبی سعیدُالخَدْری فِی قوله عزوجل”وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ“ قال بِبُغْضِهِمْ عَلَیّاً عَلَیْهِ السَّلَام ۔

”ابی سعید خدری سے روایت ہے کہ اس آیت’( وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ ) کی تفسیر میں فرمایاکہ یہ علی کی دشمنی اور بغض کی وجہ سے ہے(یعنی دشمنی علی اُن کی زبان سے ظاہر ہوجاتی ہے)“۔

(ب)۔ درج ذیل روایت کو اکثر مفسرین نے اس آیت کی بحث کے دوران ذکر کیا ہے اور رسول اکرم کے خاص صحابہ کی زبان سے بیان کی گئی ہے جیسے ابی سعید اور دوسروں نے نقل کیا ہے:

کُنَّا نَعْرِفُ الْمُنَافِقِیْنَ عَلٰی عَهْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ بِبُغْضِهِمْ عَلِیّاً ۔

”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں منافقین کو اُن کی علی علیہ السلام سے دشمنی کے سبب پہچانتے تھے“۔

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ حافظ الحسکانی، شواہد التنزیل، جلد۲،صفحہ۱۷۸،حدیث۸۸۳،اشاعت اوّل۔

۲۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ،ج۲، ص۴۲۱،حدیث۹۲۹،باب احوال علی ،اشاعت۲

۳۔ گنجی شافعی،کتاب کفایة الطالب، باب۶۲،صفحہ۲۳۵۔

۴۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب امیرالمومنین ، حدیث۳۵۹،۳۶۲،صفحہ۳۱۵۔

۵۔ سیوطی، تفسیر المدرالمنثور، جلد۶،صفحہ۷۴اورتاریخ الخلفاء،صفحہ۱۷۰۔


۶۔ ابن عمر یوسف بن عبداللہ، کتاب استیعاب، جلد۳،صفحہ۱۱۰۔

۷۔ بلاذری، انساب الاشراف، جلد۲،صفحہ۹۶،حدیث۱۹،اشاعت اوّل از بیروت۔

۸۔ متقی ہندی کنزالعمال، جلد۱،صفحہ۲۵۱،اشاعت اوّل اور اسی طرح احمد بن حنبل ۔

کتاب فضائل میں اور ابن اثیر کتاب جامع الاصول میں، طبری کتاب ریاض النضرہ میں اور بہت سے دوسرے۔

اُنیسویں آیت

علی صالح المو منین ہیں

( وَاِنْ تَظٰهَرَاعَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَمَوْلَهُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُومِنِیْنَ )

”اور اگر تم دونوں ہمارے رسول کے برخلاف ایک دوسرے کے پشت و پناہ بنو تو اللہ ، جبرئیل اور صالح مومنین اُس کے مددگار ہیں“۔(سورئہ تحریم:آیت۴)

تشریح

یہ نکتہ توجہ طلب ہے کہ اگرچہ کلمہ”صالح المومنین“ اپنے اندر وسیع تر معنی رکھتا ہے اور تمام صالح مومنین اور پرہیز گار اس میں شامل ہوسکتے ہیں لیکن مومن کامل اور اکمل ترین انسان کون ہے؟اس کے لئے ہمیں روایات سے مدد لینا ہوگی اور روایات کو دیکھنا ہوگا۔ تحقیق کرنے پر بڑی آسانی سے ہم منزل تک پہنچ جائیں گے ۔ شیعہ علماء سے منقول روایات کے علاوہ اہل سنت نے بھی بہت سی روایات نقل کی ہیں۔ ان سب سے یہی پتہ چلتا ہے کہ متذکرہ بالا آیت میں صالح مومنین سے مراد ذات مقدس امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہما السلام ہیں۔ یہاں ہم چند ایک روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

(ا)۔عَنْ اَسماءِ بنتِ عُمَیس قٰالَتْ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ یَقْرَأُ هٰذِهِ الآیَة:وَاِنْ تَظٰهَرَاعَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَمَوْلَهُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُومِنِیْنَ، قَالَ صَالِحُ المُومِنِیْنَ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْطَالِب ۔


”اسماء بنت عمیس روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے پیغمبر اسلام سے یہ آیت سنی( وَاِنْ تَظٰهَرَاعَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَمَوْلٰهُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُومِنِیْنَ ) آیت پڑھنے کے بعد پیغمبر خدا نے فرمایا کہ صالح المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں“۔

(ب)۔عَنْ السُّدی عَن ابنِ عَبَّاس، فِی قَولِه عَزَّوَجَلَّ’وَصَالِحُ المُومِنِیْنَ قَالَ:هُوَ عَلِیُّ ابْنُ اَبِیْ طَالِب ۔

”سدی، ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کہ جس میں صالح المومنین کا ذکر کیا گیا ہے، اس سے مراد علی ابن ابی طالب علیہما السلام ہیں“۔

(ج)۔عَنْ مُجٰاهِد فی قَولِهِ تَعٰالٰی:”وَصَالِحُ المُومِنِیْنَ“ قَالَ: صَالِحُ المُومِنِیْنَ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِب ۔

”مجاہد سے روایت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس کلام میں جہاں صالح المومنین کا تذکرہ ہے، وہاں صالح المومنین سے مراد علی ابن ابی طالب علیہما السلام ہیں“۔

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ حافظ الحسکانی، کتاب شواہد التنزیل میں، حدیث۹۸۴ اور ۹۸۵،جلد۲،صفحہ۲۵۷۔

۲۔ حموینی، کتاب فرائد السمطین میں، باب۶۷،جلد۱،صفحہ۳۶۳۔

۳۔ سیوطی، تفسیر الدرالمنثور میں، جلد۶،صفحہ۲۴۴اور اشاعت دیگر صفحہ۲۶۹،۲۷۰۔

۴۔ ابن مغازلی، مناقب امیر المومنین میں، حدیث۳۱۶،صفحہ۲۶۹،اشاعت اوّل۔

۵۔ گنجی شافعی، کتاب کفایت الطالب میں، باب۳۰،صفحہ۱۳۷۔

۶۔ متقی ہندی، کتاب کنزالعمال میں،حدیث لا شی، جلد۱،صفحہ۲۳۷، اشاعت اوّل۔

۷۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق میں، جلد۲،صفحہ۴۲۵، اشاعت دوم، حدیث۹۳۲،۹۳۳۔

۸۔ ابن حجر فتح الباری میں، جلد۱۳،صفحہ۲۷۔


بیسویں آیت

قیامت کے دن لوگوں سے ولایت علی کے بارے میں سوال کیا جائے گا

( وَقِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَ )

”اور ان کو ٹھہرا ؤ کہ ابھی ان سے سوالات کئے جائیں گے“۔(سورئہ صافات:آیت۲۴)

تشریح

سورئہ مبارکہ صافات کے ایک حصہ میں جہاں پروردگار قیامت اور اس کے متعلقہ مسائل اور عذاب عظیم جو مشرکین اور گمراہوں کے انتظار میں ہے، کے بارے میں بیان فرماتا ہے، اس آیت( وَقِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَ ) سے اپنے تمام فرشتوں اور ملائکہ کو اُس دن دوسرے احکام کے ساتھ یہ اہم حکم دے گا اور وہ حکم یہ ہوگا کہ اے میرے فرشتو ! ان کو روک لو ، ابھی ان سے سوال کیا جائیگا۔

لوگوں کے اس سوال پر کہ قیامت والے دن اس آیت کے مطابق کونسی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے گا، اہل سنت اور شیعہ مفسرین نے مختلف جواب دئیے ہیں۔ کچھ نے کہا ہے کہ توحید کے بارے میں سوال کیا جائے گا، کچھ نے کہا ہے کہ اُس دن لوگوں سے بدعتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا جو وہ دنیا میں چھوڑ گئے، کچھ اوروں نے مختلف دیگر چیزوں کا ذکر کیا ہے۔ لیکن یہ جوابات آیت کے مفہوم سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اہل سنت اور شیعہ کتب میں بہت سی روایات موجود ہیں جن کے مطابق باقی اہم سوالوں کے علاوہ جو مجرموں سے پوچھے جائیں گے، ولایت علی ابن ابی طالب کے بارے میں بھی سوال کیا جائے گا۔ اس مطلب کی وضاحت کیلئے درج ذیل روایات پر توجہ فرمائیں:

(ا)۔عَنْ اَبِیْ سعید خدری، عَنْ النبی فی قوله تعالٰی ( وَقِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَ ) قال: عَنْ وِلَایَةَ عَلِیِّ ابْنِ اَبِیْ طَالِب ۔

”ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت( وَقِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَ ) ک ی تفسیر میں فرمایا کہ ولایت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا جائے گا“۔


(ب)۔وَرَوِیٰ اَبُوالْاَحْوَضِ عَنْ أَبی اسحٰاقِ فی قولِهِ تعٰالٰی: ( وَقِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَ ) قَالَ یَعنی مِنْ وِلَایَةِ عَلِیِّ ابنِ اَبِی طَالِب اِنَّهُ لَا یَجُوْزُ اَحَدُالصِّرَاطَ اِلَّا وَبِیَدِهِ بَرَاةً بِوِلَایةِ عَلِیِّ ابْنِ اَبِی طَالِب ۔

”ابو احوض، ابواسحاق سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اس آیہ شریفہ( وَقِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَ ) کی تفسیر میں کہا کہ ولایت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا جائیگااور مزید کہا:”اِنَّهُ لَا یَجُوْزُ اَحَدُالصِّرَاطَ اِلَّا وَبِیَدِهِ بَرَاةً بِوِلَایَةِ عَلِی“ ’ کسی کو پل صراط سے گزرنے کا حق حاصل نہ ہوگا مگر وہ جس کے ہاتھ میں ولایت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کا پروانہ ہوگا‘۔

(ج)۔عَنْ اِبْنِ عباس فِی قولِه عَزَّوَجَلَّ ( وَقِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْن ) قَالَ:عَنْ وِلَایةِ علی ابنِ ابی طالب ۔

”ابن عباس سے اس آیت( وَقِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْن ) کي باري م یں روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ علی ابن ابی طالب علیہما السلام کے بارے میں سوال کیا جائے گا“۔

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ حموینی، کتاب فرائد السمطین، باب۴،جلد۱،صفحہ۷۹۔

۲۔ حافظ الحسکانی، کتاب شواہد التنزیل، شمارہ۷۸۷،جلد۲،صفحہ۱۰۶،اشاعت اوّل۔

۳۔ ذہبی، کتاب میزان الاعتدال، باب حال علی بن حاتم، ج۳،ص۱۱۸،شمارہ۵۸۰۲۔

۴۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب، باب۶۲،صفحہ۲۴۷۔

۵۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب۳۷،صفحہ۱۳۳اور اسی کتاب میں

باب مناقب ،صفحہ۲۸۲،حدیث۵۱۔

۶۔ خوارزمی، کتاب مناقب، باب۱۷،صفحہ۱۹۵۔

۷۔ ہیثمی، کتاب صواعق المحرقہ، صفحہ۸۹اور کتاب لسان المیزان،جلد۴،صفحہ۲۱۱۔

۸۔ ابن جوزی، کتاب تذکرة الخواص، باب دوم، صفحہ۲۱۔


اکیسویں آیت

اللہ تعالیٰ نے جنگوں اور مشکلات میں مسلمانوں کی مدد علی کے وسیلہ سے کی

( وَرَدَّاللّٰهُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْابِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًاوَکَفَی اللّٰهُ الْمُومِنِیْنَ الْقِتَالَوَکَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًا )

”اور اُن لوگوں کو جو کافر ہوگئے تھے، اللہ نے اُن کے غصے ہی کی حالت میں لوٹا دیا کہ وہ کسی مراد کو نہ پہنچیں اور اللہ نے مومنوں پر لڑائی کی نوبت ہی نہ آنے دی اور اللہ صاحب قوت اور صاحب غلبہ ہے“۔(سورئہ احزاب: آیت۲۵)۔

تشریح

یہ آیت سورئہ احزاب سے ہے جس کی کچھ دوسری آیتیں جنگ خندق(جنگ احزاب) کے متعلق ہیں۔ جنگ خندق ایسی جنگ ہوئی ہے جس میں مسلمانوں کو کامیابی معجزانہ طور پر نصیب ہوئی اور بغیر کسی وسیع قتل و غارت کے کفار شکست خوردہ اور مایوس ہوکر مدینہ کے محاصرے کو توڑ کر ناکام واپس اپنے علاقوں کی طرف چلے گئے۔اس میں مدد غیبی کی ایک شکل تو قدرت کی طرف سے زبردست طوفان اور سخت ترین سرد ہوائیں چلیں جس نے کفار کے حوصلے پست کردئیے ۔ اُن کے دلوں میں خدائی طاقت کا رعب اور ڈر بیٹھ گیا اور دوسری طرف حضرت علی علیہ السلام نے اُن کے طاقتور ترین پہلوان اور جنگجو یعنی عمر بن عبدود پر وہ کاری ضرب لگائی کہ وہ نیست و نابود ہوگیا۔ اس سے کفار کی اُمیدوں پر پانی پھر گیا اور وہ مایوسی میں تبدیل ہوگئیں۔ کفارکے بڑے بڑے سرداروں کے حوصلے پست ہوگئے۔

اس جنگ میں حضرت علی علیہ السلام کی فداکاری اور کارکردگی اتنی اہمیت کی حامل تھی کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ:

”لَمُبارِزَةُ عَلِی ابنِ ابی طالب لِعُمروبنِ عَبدُوَدیَومَ الْخَنْدَقِاَفْضَلُ مِنْ اَعْمٰالِ اُمَّتِیْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰامَةِ“

”حضرت علی علیہ السلام کی جنگ خندق میں ایک ضربت میری تمام اُمت کی قیامت تک کی عبادت سے افضل ہے“۔

حاکم، کتاب المستدرک میں، جلد۳،صفحہ۳۲۔

شیخ سلیمان قندوزی، ینابیع المودة، باب۲۳،صفحہ۱۰۹اور باب۴۶،ص۱۶۱اوربہت سے دوسرے۔


اب اس آیت کی تفسیر میں چند ایک روایات بیان کی جارہی ہیں جو توجہ طلب ہیں:

(ا)۔عَنْ عَبْدِاللّٰهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ اِنّه کَانَ یَقْرَاُ هٰذِهِ الآیة”وَکَفَی اللّٰهُ الْمُومِنِیْنَ الْقِتَالَ“ بِعَلِیِّ ابْنِ اَبِی طَالِب عَلَیْهِ السَّلَام ۔

”عبداللہ بن مسعود سے روایت کی گئی ہے کہ وہ یہ آیت

( وَکَفَی اللّٰهُ الْمُومِنِیْنَ الْقِتَال )

تلاوت فرمارہے تھے اور اس سے مراد حضرت علی علیہ السلام کی ذات مقدس کو لے رہے تھے“۔

(ب)۔عَنْ عبداللّٰهِ بن مسعود قَالَ: لَمَّا قَتَلَ عَلِیٌّ عمروبن عَبْدُوَدْ یَوْمَ الْخَنْدَقِ، اَنْزَلَ اللّٰهُ تعالٰی:”وَکَفَی اللّٰهُ الْمُومِنِیْنَ الْقِتَال“بِعَلِیٌّ ۔

”عبداللہ بن مسعود سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ جب حضرت علی علیہ السلام نے جنگ خندق میں عمربن عبدود کو ہلاک کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت

( وَکَفَی اللّٰهُ الْمُومِنِیْنَ الْقِتَال )

حضرت علی علیہ السلام (کے عمل) کی خاطر نازل فرمائی“۔

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ حافظ الحسکانی کتاب شواہد التنزیل میں، شمارہ۶۲۹،جلد۲،صفحہ۳۔

۲۔ ابن عساکر تاریخ دمشق میں، باب حال امیرالمومنین ، شمارہ۹۲۷،جلد۲،صفحہ۴۲۰،

اشاعت دوم(شرح محمودی)۔

۳ ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں، شمارہ۴۱۴۹،جلد۲،صفحہ۳۸۰۔

۴۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب، باب۶۲،صفحہ۲۳۴۔

۵۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة، باب۲۳،صفحہ۱۰۸اور باب۴۶،ص۱۶۱۔

۶۔ سیوطی تفسیر الدالمنثور میں، جلد۵،صفحہ۲۰۹۔


بائیسویں آیت

علی اورفاطمہ علم و معرفت کے دریائے بیکراں ہیںاور حسن و حسین اُن کے انتہائی قیمتی موتی ہیں

( مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِبَیْنَهُمَابَرْزَخٌ لَّایَبْغِیٰنِفَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَآ تُکَذِّبٰنِیَخْرُجُ مِنْهُمَاالُّلو وَالْمَرْجَانُ )

”اُس نے دودریا بہادئیے، وہ باہم ملتے ہیں اور اُن دونوں کے مابین پردہ ہے کہ ایک دوسرے پر زیادتی نہیں کرسکتا۔پھر تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ اُن دونوں سے موتی اور مونگا برآمد ہوتے ہیں“۔(سورئہ رحمٰن:آیات۱۹تا۲۱)۔

تشریح

وہ افراد جو قرآن اور علوم قرآن سے واقف ہیں، اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کتاب آسمانی اپنے اندر معنی کا سمندر رکھتی ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ ایک آیت بعض اوقات چند معنی رکھتی ہو اور بعض اوقات بیسیوں معنی رکھتی ہو جبکہ اُن کا ہر معنی اپنی جگہ قابل توجہ اور اہمیت کا حامل ہو اور وہ ایک دوسرے سے ٹکراؤ بھی نہ رکھتے ہوں۔مثال کے طور پر یہ چند آیات جو سورئہ رحمٰن سے ہیں اوراوپر بیان کی گئی ہیں، اس طرح کی آیات ہیں جن کے مختلف معنی نکل سکتے ہیں۔

وہ لوگ جو ان آیات کو ظاہری اعتبار سے دیکھتے ہیں تو اُن کے اذہان میں یہی معنی آتے ہیں کہ کرئہ ارض کے بڑے بڑے دریا اور سمندر جو اس کے تین چوتھائی حصے پر پھیلے ہوئے ہیں اور اُن کے اندر بڑے بڑے قیمتی گوہر اور معدنیات موجود ہیں، یہ خدائے بزرگ کی طرف سے عظیم نعمتیں ہیں۔ یہ سب ،انسان کو غوروفکر کرنے پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ دیکھیں کہ خدا نے انسان کیلئے کس طرح یہ دریااور سمندر پھیلائے اور اُن میں بیش بہا نعمتیں پیدا کیں۔ لیکن ہمیں یہ جاننا چاہئے کہ ان آیات کے دوسرے مطالب ہیں جو مقصود خالق ہیں۔


روایات اور اطلاعات جو اسلامی تاریخ میں موجود ہیں، اُن کو بغور دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ ان آیات سے دو عظیم ہستیوں کا تعارف کروانا مقصود ہے۔ وہ ہستیاں جو علم و معرفت اور کمال کے دریائے بیکراں ہیں اور ان سے ملنے والے دو قیمتی موتی حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام ہیں۔توضیح کیلئے درج ذیل روایات پر توجہ فرمائیں:

عَنْ اِبْنِ عباس رضی اللّٰه عنه فی قوله تعالٰی ( مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰن ) قال:علی و فاطمه ،( بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّایَبْغِیٰنِ ) اَلنّبی،( یَخْرُجُ مِنْهُمَاالُّلو وَالْمَرْجَانُ ) قال:اَلْحَسَنُ وَالْحُسَیْن علیهماالسلام ۔

”ابن عباس سے روایت کی گئی ہے کہ تفسیر( مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰن ) سے مراد علی علیہ السلام اور فاطمہ سلام اللہ علیہا ہیں۔”بَیْ نَھُمَابَرْزَخٌ لَّایَبْغِ یٰن“ سے مراد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے(پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات جناب علی علیہ السلام اور جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کے درمیان وہ واسطہ ہے جس سے یہ صحیح بندگی خدا اور اُس کی عبودیت کے لئے روشنی حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح اُن کی ذات گرامی سے خود بھی فیض یاب ہوتے ہیں اور اپنی آنے والی نسلوں کیلئے بطور نمونہ اُن کی رہنمائی اور ہدایت کا باعث بنتے ہیں)۔( یَخْرُجُ مِنْهُمَاالُّلووَالْمَرْجَانُ ) سے مراد امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام ہیں۔

یہ قابل توجہ بات ہے کہ درج بالا روایت کو علمائے اہل سنت نے دوسرے صحابہ سے بھی نقل کیا ہے اور شیعہ علماء نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کیا ہے اور یہ روایت بجائے خود بہت اہمیت کی حامل ہے۔

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ سیوطی تفسیر الدرالمنثور میں، جلد۶،صفحہ۱۵۸اور دوسری اشاعت میں ج۶،ص۱۴۲

۲۔ حافظ الحسکانی، شواہد التنزیل ، حدیث۹۱۹،ج۲،ص۲۰۹،اشاعت اوّل،ج۲،

صفحہ۲۱۲،اشاعت دوم۔

۳۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب امیر المومنین ، صفحہ۳۳۹،حدیث ۳۹۰۔

۴۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب۳۹،صفحہ۱۳۸۔


۵۔ ثعلبی، تفسیر ثعلبی میں جلد۴،صفحہ۲۸۹۔

۶۔ حافظ ابونعیم اصفہانی، کتاب ”مانزل من القرآن فی علی “،اس آیت کی تشریح میں۔

۷۔ شبلنجی، کتاب نورابصار میں، صفحہ۱۰۱۔

۸۔ خوارزمی، کتاب مقتل الحسین ، صفحہ۱۱۲۔

۹۔ کراجکی، کتاب کنزالفوائد میں، صفحہ۳۶۶۔

تئیسویں آیت

علی اور اہل بیت سے محبت نیکی ہے اور ان سے بغض گناہ ہے

( مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَه خَیْرٌ مِّنْهَا وَهُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍاٰمِنُوْنَ وَمَنْ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَکُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَاکُنْتُمْ تَعَْمَلُوْنَ )

”جو شخص کوئی نیکی لے کر آئے گا پس اُس کیلئے اس کا عوض اس سے بہتر موجود ہے اور وہ اُس دن خوف سے امن میں ہوں گے اور جو بدی لے کر آئے گا وہ اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دئیے جائیں گے، جو کچھ تم کرتے تھے، اُسی کا بدلہ تمہیں ملے گا“(سورئہ نمل:آیت۸۹اور۹۰)

تشریح

اس آیت میں دو الفاظ یعنی”حَسَنَةِ“ اور”سَيِّئَةِ“ استعمال ہوئے ہیں۔آیت کا اصلی مقصد بھی انہی کو سمجھانا ہے کہ نیکی اور بدی اصل میں کہتے کسے ہیں کیونکہ اس کا انسان کی مادّی اور روحانی زندگی پر گہرا اثر پڑتا ہے۔

”حَسَنَةِ“ اور”سَيِّئَةِ“ ، یہ دوالفاظ اس آیت میں اور قرآن کی دیگر آیات میں استعمال ہوئے ہیں۔ان الفاظ کے مفہوم اور معنی نہایت وسیع ہیں مثلاً”حَسَنَةِ“ میں تمام نیک اور پسندیدہ اعمال شامل ہیں اور ان میں سرفہرست خدا پر ایمان، اُس کے پیغمبر پر ایمان اور حضرت علی علیہ السلام اور آئمہ علیہم السلام کی ولایت پر ایمان ہے اور”سَيِّئَةِ“ میں تمام قبیح اور ناپسندیدہ اعمال شامل ہیں جو انسان کو خدا اور اُس کے رسول


اور اُس کے اولیائے حق کے خلاف سرکشی پر ابھارتے ہیں اور یہ ”حَسَنَة“کی مکمل ضد ہے۔ لیکن ان کلمات کی تفاسیر اور تعابیر جو ہم تک آئمہ معصومین کے ذریعے سے پہنچی ہیں اور جسے بہت سے علمائے اہل سنت اور شیعہ نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے، کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ”حَسَنَة“ سے مراد قبول ولایت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور اُن کی اولاد ہیں اور ”سَےئَة“ سے مرادعدم قبول ولایت علی اور اولاد علی ہے۔درج ذیل روایت میں اسی بات کی تفسیر ہے:

عَنْ ابی عبدِاللّٰهِ الجَدَلِی قال: قٰال لی علی علیه السلام:اَلٰا اُنَبِّئُکَ بِالْحَسَنَةِ الَّتِی مَنْ جٰاءَ بِهٰااَدْخَلَهُ اللّٰهُ الجَنَّةَ وَبِالسَّيّئَةِ الَّتِی مَنْ جٰاءَ بِهٰااَکَبَّهُ اللّٰهُ فِی النّٰارِوَلَمْ یُقْبَلُ لَه عَمَلاً؟ قُلْتُ بلٰی ثُمَّ قَرَأَ(امیرالمومنین) مَنْ جٰاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَه خَیْرُ مِنْهٰاوَهُمْ مِنْ فَزَعِ یَومَئِذٍآمِنُوْنَ وَمَنْ جٰاءَ بالسَّيّئَةِ فَکُبَّتْ وَجُوْهَهُمْ فِی النَّارِهَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ثُمَّ قٰالَ: یٰا أَبٰاعَبْدِاللّٰهِ، اَلْحَسَنَةُ حُبُّنٰاوَالسَّيِّئَةُ بُغْضُنَا

”ابو عبداللہ جدلی سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ امیر المومنین علی علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا:’کیا میں تجھے اُس نیک عمل کی خبر نہ دوں کہ جو کوئی اُس کو انجام دے گا، پروردگار اُس کو بہشت میں داخل کرے گا اور کیا تجھے اُس بدعمل کی خبر نہ دوں کہ اُسے جو کوئی انجام دے گا، پروردگار اُسے جہنم میں پھینکے گااور اُس کاکوئی دوسراعمل بھی قبول نہ ہوگا‘۔

میں نے عرض کی:’ہاں مولا! میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اس سے باخبرکریں‘۔ حضرت علی علیہ السلام نے پھر یہ آیت پڑھی:

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَه خَیْرٌ مِّنْهَا وَهُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍاٰمِنُوْنَوَمَنْ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَکُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِهَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَاکُنْتُمْ تَعْمَلَُوْنَ

پھر فرمایاحَسَنَةہم اہل بیت سے محبت ہے اورسَےئَة اہل بیت سے بغض و دشمنی ہے۔اسی طرح بعض دوسری روایات میں آیاہے کہ آپ نے اس بارے میں فرمایا:

”اَلْحَسَنَةُ مَعْرِفَةُ الْوِلَایَةِ وَحُبُّنٰا اَهْلِ الْبَیْتِ وَالسِّيِّئَةُ اِنْکَارُ الْوِلَایَةِ وَبُغْضُنَا اَهْلَ الْبَیْتِ“ ۔

”حَسَنَة یعنی معرفت ولایت علی علیہ السلام اورہم اہل بیت سے محبت ہے اور سَّےئَة یعنی انکار ولایت علی علیہ السلام اور ہم اہل بیت سے بغض و دشمنی ہے“۔


تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ حموینی، کتاب فرائد السمطین، باب۶۱،جلد۲،صفحہ۲۹۹۔

۲۔ حافظ الحسکانی، کتاب شواہد التنزیل میں، حدیث۵۸۲،۵۸۷،ج۱،ص۴۲۶،۴۲۸

۳۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب۲۴،صفحہ۱۱۳۔

۴۔ ثعلبی اپنی تفسیر میں، جلد۲۔

۵۔ الحنینی کتاب خصائص الوحی المبین، صفحہ۱۲۸۔

۶۔ رشید الدین، مناقب آل علی ، جلد۲،صفحہ۲۲۵،عنوان درجات علی عند قیام الساعة۔

چوبیسویں آیت

اللہ تعالیٰ علی کے وسیلہ سے کفارو مشرکین سے انتقام لیتا ہے

( فَاِمَّانَذْهَبَنَّ بِکَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ )

”پس اگر تم کو ہم لے جائیں گے تو ہم اُن سے بھی ضرور ہی بدلہ لینے والے ہیں“۔

(سورئہ زخرف:آیت۴۱)۔

تشریح

سورئہ مبارکہ زخرف میں اللہ تعالیٰ کفار کی حرکتوں کو نظر میں رکھتے ہوئے اپنے پیغمبر کی تسلی اور سکون کی خاطر فرمارہا ہے کہ کفار کی چالوں کی وجہ سے اسلام کے مستقبل کے بارے میں بالکل پریشان نہ ہوں کیونکہ اگر وہ کفر، ظلم اور انتقام جوئی کو ترک نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ بھی یقینا اُن سے انتقام لے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ بشری زندگی کے مختلف زمانوں میں اپنے قابل دید اور ناقابل دید لشکروں سے کفار، منافق اور مشرکوں سے انتقام لیتا رہا ہے اور اُن کوسزائیں دیتا رہا ہے اور یہ عمل اُس کیلئے کوئی مشکل نہیں کیونکہ اُس کی ذات

( فَعَّالٌ لِمٰا یُرِیْد )

”وہ جو چاہتا ہے ، کرتا ہے“۔


اللہ تعالیٰ کے انتقام کی کوئی مثال دیکھنی ہو تو وہ انتقام ہے جس کا ارادہ تو خدا کی ذات نے کیااور اُسے انجام علی علیہ السلام نے دیا۔ تمام علماء اور مفسرین اہل سنت اور شیعہ نے اپنی کتابوں میں روایات نقل کی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت مذکورسے مراد وجود پاک حضرت علی علیہ السلام ہے کیونکہ آپ نے تمام کفار و منافقین سے اُن مظالم اور زیادتیوں کا جو انہوں نے پیغمبر اسلام پر کی تھیں، کا بدلہ لیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تمام مسلمان اور دانشمند حضرات حتیٰ کہ غیر مسلم بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے اپنے اعمال سے رسول اللہ کی زندگی میں اور اُن کی ظاہری زندگی کے بعد کفار کی کمر توڑ کے رکھ دی تھی اور منافقین کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مایوس کردیا تھا۔حق اور صراط مستقیم کو عیاں کردیا۔ اس ضمن میں چند روایات نیچے درج کی جارہی ہیں جو آپ کی توجہ کی طالب ہیں:

(ا)۔عَنْ جَابِرقٰالَ:لَمَّا نَزَلَتْ عَلٰی رَسُوْلِاللّٰه”فَاِمَّانَذْهَبَنَّ بِکَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ“قٰالَ بِعَلیِّ ابْنِ اَبِی طَالِب عَلَیْهِ السَّلَام ۔

”جابر ابن عبداللہ سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ جب یہ آیت

( فَاِمَّانَذْهَبَنَّ بِکَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ )

رسول خدا پر نازل ہوئی توآپ نے آیت کو مد نظر رکھتے ہوئے فرمایا کہ علی علیہ السلام کے وسیلہ سے انتقام الٰہی لیا جائے گا“۔

(ب)۔ عَنْ حُذَ یْ فَة بن الیَمٰان قٰالَ فی قولہ تعالٰی”فَامَّانَذْهَبَنَّ بکَ فَانَّا منْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ“ یَعْنِ ی بعَلی بن ابی طالب علیہ السلام۔

”حذیفہ بن یمان سے روایت کی گئی ہے ، انہوں نے اس آیت

( فَاِمَّانَذْهَبَنَّ بِکَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ )

کی تفسیر میں فرمایا کہ علی علیہ السلام کے وسیلہ سے انتقام لیا جائے گا“۔


(ج)۔عَنْ جابربن عبداللّٰه عَنِ النَّبی فی قوله’فَاِمَّانَذْهَبَنَّ بِکَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ‘نَزَلَتْ فِی عَلِیٍّ اِنَّه یَنْتَقِمُ مِنَ النَّاکِثِیْنَ وَالقَاسِطِینَ بَعْدِی ۔

”جابر ابن عبداللہ انصاری سے روایت کی گئی ہے کہ پیغمبر اکرم نے اس آیت

( فَاِمَّانَذْهَبَنَّ بِکَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ )

کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ علی میرے بعد ناکثین(بیعت توڑنے والے اصحاب جنگ جمل) اور قاسطین(جنگ صفین میں لشکر معاویہ) سے انتقام لیں گے“۔

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ سیوطی ،تفسیر الدرالمنثور میں، جلد۶،صفحہ۲۰،آیت مذکور کے ضمن میں۔

۲۔ ابن مغازلی شافعی، حدیث۳۶۶کتاب ”مناقب امیر المومنین “، ص۲۷۵اور۳۲۰

۳۔ حافظ الحسکانی، شواہد التنزیل، حدیث۸۵۱، جلد۲،صفحہ۱۵۲، اشاعت اوّل۔

۴۔ شیخ سلیمان قندوزی ، کتاب ینابیع المودة میں، باب۲۶،صفحہ۱۱۴اور اسی کتاب میں

باب(مناقب)۷۰،صفحہ۲۸۷،حدیث۲۴۔

۵۔ طبرانی، کتاب معجم الکبیر میں، جلد۳،صفحہ۱۱۱۔

پچیسویں آیت

علی نے اپنی جان مبارک کامعاملہ اللہ تعالیٰ سے طے کرلیا

( وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ )

”اور آدمیوں میں سے ایسابھی ہے جو رضائے خدا حاصل کرنے کیلئے اپنے نفس کو فروخت کرتا ہے“۔(سورئہ بقرہ: آیت۲۰۷)۔


تشریح

پیغمبر اسلام کا مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنا اور اُس سے ہی متعلق دوسرے اُمور ایسے موضوع ہیں جن پر تقریباً تمام تاریخ دانوں نے اپنی اپنی تواریخ میں لکھا ہے اور اس واقعہ میں پیغمبر اسلام کی بردباری ،صبروتحمل اور اُن کے وفادار اصحاب کی شان بیان کی ہے۔

ہجرت پیغمبر میں سب سے اہم واقعہ ہجرت کی رات کا ہے جب پیغمبر اکرم کے حکم کے مطابق حضرت علی علیہ السلام آپ کے بستر پر سوئے اور کفار مکہ جو جنگی ہتھیاروں سے لیس تھے ، کی طرف سے کسی بھی وقت حملہ کے منتظر رہے۔ نصف شب کے قریب مسلح کفار جنہوں نے نبی اکرم کے گھر کا محاصرہ کیا ہوا تھا، داخل منزل ہوئے۔ حضرت علی علیہ السلام بستر سے اُٹھے اور مقابلہ کیلئے تیار ہوئے۔ کفار مکہ نے جب حضرت علی علیہ السلام کو دیکھا تو مایوس ہوکر واپس لوٹ گئے۔ اس طرح کفار مکہ کے تمام ارادے خاک میں مل گئے اور پیغمبر خدا کچھ دنوں بعد صحیح و سلامت مدینہ پہنچ گئے۔

بہت سے شیعہ اور اہل سنت علماء نے آیت مذکور کو علی علیہ السلام کی فداکاری سے منسوب کیا ہے اور اس کی تائید میں بہت سی روایات نقل کی ہیں جن میں سے چند ایک بطور نمونہ درج کی جارہی ہیں، ملاحظہ ہوں:

(ا)۔عَنْ علی بن الحسین فی قوله تعالٰی’وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ‘قال نَزَلَتْ فِیْ عَلِیٍّ عَلَیْهِ السَّلَام حینَ بٰاتَ عَلٰی فِراشِ رَسُولِ اللّٰهِ ۔ (المیزان)

”علی ابن الحسین امام زین العابدین علیہما السلام سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت

( وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰه )

کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے جب وہ شب ہجرت پیغمبر خدا کے بستر پر سوئے تھے“۔


(ب)۔رَوَی السُّدیُّ عَنْ اِبْنِ عَبَّاس قٰالَ نَزَلَتْ هٰذِهِ الآیةُ فِی عَلِیِّ ابْنِ اَبِی طَالِب عَلَیْهَ السَّلَام حِینَ هَرَبَ النَّبِیعَنِ الْمُشْرِکِیْنَ اِلَی الْغٰارِ ونٰام علی عَلٰی فِراشِ النَّبی ۔(مجمع البیان)

”سدی ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ یہ آیت

( وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰه )

حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی جب پیغمبر اسلام کفار کے شر سے بچنے کیلئے مدینہ کیلئے ہجرت کرتے ہوئے غار ثور کی طرف چلے اور علی علیہ السلام آپ کے بستر پر سوئے۔

اسی طرح بہت سے علماء نے من جملہ صاحب مجمع البیان نے اس آیت کے بارے میں درج ذیل روایت بیان فرمائی ہے جو بہت زیادہ اہمیت کی حامل اور قابل توجہ ہے۔ روایت اس طرح ہے:

لَمَّانَامَ عَلِیٌّ فِراشَه قَامَ جِبْرَائِیلُ عِنْدَ رَاسِهِ وَمِیْکَائِیلُ عِنْدَ رِجْلَیْهِ وَجِبْرَائِیلُ یُنٰادِی بَخٌ بَخٌ مَنْ مِثْلُکَ یابْنَ اَبِیْ طَالِب؟ یُبٰاهِی اللّٰهُ بِکَ الْمَلٰائِکَةُ

”جب حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلام کے بستر پر(شب ہجرت)سوئے تو جبرئیل سرہانے کی طرف اور میکائیل پاؤں کی طرف کھڑے ہوگئے اور جبرئیل نے بہ آواز بلند کہا:’مبارک ہو،مبارک ہو، تم جیسا(باایمان اور فداکار) کون ہے؟ خداوند پاک فرشتوں کو مخاطب کرکے تم پر فخر کررہا ہے‘۔

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ فخرالدین رازی تفسیر کبیر میں، جلد۵،صفحہ۲۰۴،اشاعت دوم،تہران۔ آیت مذکور کے بارے میں۔

۲۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب، باب۶۲،صفحہ۲۳۹۔

۳۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، صفحہ۱۰۵،باب۲۱۔

۴۔ ثعلبی، کتاب احیاء العلوم، جلد۳،صفحہ۲۳۸۔

۵۔ شبلنجی، کتاب نورالابصار میں، صفحہ۸۶۔


فضائل علی علیہ السلام قرآن کی نظر میں ۔۴

(چند دوسری مثالیں)

حضرت علی علیہ السلام سورہ والعصر میں

( وَالْعَصْرِاِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍاِلَّاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاوَعَمِلُوْاالصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْابِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْبِالصَّبْرِ )

”وقت عصر کی قسم! انسان ضرور گھاٹے میں ہے۔ سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے اور ایک دوسرے کو حق کی پیروی کی تاکید کرتے رہے اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کرتے رہے“۔

روایت

عَنْ اِبْنِ عباس فِی قوله تعالٰی:”وَالْعَصْرِ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ اِلَّاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْابِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْبِالصَّبْرِ“قٰالَ: هُوَ عَلِی علیه السلام ۔

اس روایت کو علامہ سیوطی نے تفسیر الدرالمنثور جلد۶،صفحہ۴۳۹(آخری روایت تفسیر سورئہ عصر) پر درج کیا ہے۔ اسی روایت کو حافظ الحسکانی نے کتاب شواہد التنزیل، حدیث۱۱۵۶

جلد۲،صفحہ۳۷۳، اشاعت اوّل اور حافظ ابی نعیم اصفہانی نے کتاب”ما نزل من القرآن فی علی علیہ السلام“ میں بیان کیا ہے اور بہت سے دوسروں نے اسی روایت کو نقل کیا ہے۔

ترجمہ

”ابن عباس سے روایت کی گئی ہے کہ اس کلام الٰہی

”وَالْعَصْرِاِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ“ کی تفسیر میں کہا کہ اس سے مراد ابوجہل لعنة اللّٰہ علیہ ہے اور”اِلَّاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاوَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْابِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْبِالصَّبْر“ کی تفسیر میں کہا گیاکہ اس سے مراد حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام ہیں۔


علی علم الٰہی کا خزینہ ہیں

( قُلْ کَفٰی بِاللّٰهِ شَهِیْدًام بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ وَمَنْ عِنْدَه عِلْمُ الْکِتٰبِ )

”آپ کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی دینے کو (ایک تو) اللہ کافی ہے(دوسرے)وہ جن کے پاس اس کتاب کا پورا علم ہے“۔(سورئہ رعد:آیت۴۳)۔

روایت

عَنْ عَبْدِاللّٰهِ ابْنِ سَلٰام رضی اللّٰه عَنْهُ فِی قَولِه تَعٰالٰی”وَمَنْ عِنْدَه عِلْمُ الْکِتٰبِ“قَالَ سَئَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ قَالَ اِنَّمَا ذٰلِکَ عَلِیُّ بْنُ اَبِی طَالِب ۔

اس روایت کو شیخ سلیمان قندوزی حنفی نے کتاب ”ینابیع المودة“، باب مناقب، صفحہ۲۸۴،حدیث۶۰میں بیان کیا ہے اور ابن عباس سے نقل کرتے ہوئے اسی کتاب میں باب۳۰،صفحہ۱۲۱پر بھی درج کیا ہے۔اسی طرح حافظ الحسکانی نے کتاب ”شواہد التنزیل“،

،جلد۱،صفحہ۳۰۸،اشاعت اوّل، حدیث دوم میں بیان کیا ہے اور حافظ ابی نعیم اصفہانی نے کتاب ”مانزل من القرآن فی علی علیہ السلام“ میں اس آیت کی تفصیل میں بیان کیا ہے۔

ترجمہ

”عبداللہ بن سلام نے کلام الٰہی”وَمَنْ عِنْدَه عِلْمُ الْکِتٰبِ“ کے بارے میں روایت کی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ اس سے مراد کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ ا س سے مراد علی ابن ابی طالب علیہما السلام ہیں“۔

علی اور آپ کے اصحاب سچائی کا نمونہ ہیں

( یٰٓاَ یُّهَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوااتَّقُوااللّٰهَ وَکُوْنُوْامَعَ الصّٰدِقِیْنَ )

”اے ایمان لانے والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ“۔(سورئہ توبہ:آیت۱۱۹)۔


روایت

عَنْ اِبْنِ عباس رضی اللّٰهُ عنهُ فِی هٰذِهِ الآیَةِ”یٰٓاَ یُّهَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوااتَّقُوااللّٰهَ وَکُوْنُوْامَعَ الصّٰدِقِیْنَ“قَالَ مَعَ علی واصحابه ۔

اس روایت کو ثعلبی نے اپنی تفسیر(تفسیر ثعلبی) جلد۱اور سیوطی نے تفسیر الدرالمنثور میں اس آیت کے سلسلہ میں بیان کیا ہے۔ ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں باب شرح حال امیر المومنین میں حدیث۹۳۰،جلد۲،صفحہ۴۲۱میں بیان کیا ہے اور اسی طرح حافظ الحسکانی نے کتاب”شواہد التنزیل“،جلد۱،صفحہ۲۵۹،حدیث اوّل کے تحت بیان کیا ہے۔

ترجمہ

”ابن عباس سے روایت کی گئی ہے کہ اس آیت

( یٰٓاَ یُّهَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوااتَّقُوااللّٰهَ وَکُوْنُوْامَعَ الصّٰدِقِیْنَ )

کے بارے میں انہوں نے کہاکہ” کُوْنُوْامَعَ الصّٰدِقِ یْ ن “سے مراد علی ابن ابی طالب علیہما السلام اور آپ کے اصحاب ہیں“۔

ولایت علی و اہل بیت پر اعتقاد رکھنے کا نتیجہ قبولیت توبہ،ایمان، عمل صالح اور ہدایت ہے

وَاِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰی ۔

”اور میں اُس کو جو توبہ کرے ، ایمان لائے اور نیک عمل کرے اورپھر ہدایت یافتہ بھی ہو، ضرور بخشنے والا ہوں“۔(سورئہ طٰہ:آیت۸۲)۔

روایت

عَنْ علی علیه السلام فِی قولِه تعٰالٰی”وَاِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰی“ قَالَ اِلٰی وِلٰایَتِنَا ۔

اس روایت کو حافظ ابونعیم اصفہانی نے کتاب”مانزل من القرآن فی علی علیه السلام“ میں نقل کیا ہے اور حافظ الحسکانی نے کتاب ”شواہد التنزیل“،جلد۱،صفحہ۳۷۵،

اشاعت اوّل میں امام محمدباقر علیہ السلام اور حضرت ابوذرغفاری کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔


ترجمہ

”حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے اس کلام الٰہی

”وَاِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهتَدٰی“

کے بارے میں فرمایا:’یعنی وہ جس نے ہماری ولایت کو تسلیم کیا اور اُس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کئے اور پھر ہدایت یافتہ بھی ہوا، اللہ اُس کو ضرور بخشنے والا ہے‘۔“

امت اور ولایت علی پر ایمان اصل میں ایک ہیں

( وَاِنَّ الَّذِیْنَ لَایُومِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَٰنکِبُوْنَ )

”اور ضروروہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، راہ راست سے ہٹ جانے والے ہیں“۔(سورئہ مومنون:آیت۷۴)۔

روایت

عَنْ علی ابنِ ابی طالب فی قوله تعٰالٰی”وَاِنَّ الَّذِیْنَ لَایُومِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَٰنکِبُوْنَ“قَالَ عَنْ وَلٰایَتِنَا ۔

اس روایت کو حافظ ابونعیم اصفہانی نے کتاب”مانزل من القرآن فی علی علیہ السلام“ میں ،حموینی نے کتاب”فرائد السمطین“، باب۶۱،جلد۲،صفحہ۳۰۰اور حافظ الحسکانی نے کتاب”شواہد التنزیل“ حدیث۵۵۷جلد۱،صفحہ۴۰۲پر نقل کیا ہے۔

ترجمہ

”علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اس آیت خداوندی

( وَاِنَّ الَّذِیْنَ لَایُومِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَٰنکِبُوْنَ )

کے بارے میں فرمایا کہ صراط سے یہاں مراد ہماری ولایت ہے(ولایت علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور ولایت اہل بیت )“۔


علی کواذیت پہنچانابہت بڑ اصریح گناہ ہے

( وَالَّذِیْنَ یُوذُوْنَ الْمُومِنِیْنَ وَالْمُومِنٰتِ بِغَیْرٍمَااکْتَسَبُوْافَقَدِ احْتَمَلُوْابُهْتَانًاوَّاِ ثْمًامُّبِیْنًا )

”اور جو لوگ ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں کو بلاقصور ایذا پہنچاتے ہیں، وہ بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے ذمے لیتے ہیں“۔(سورئہ احزاب:آیت۵۸)۔

روایت

عَنْ مقاتِلَ بن سلیمان فِی قولِه عَزَّوَجَل”وَالَّذِیْنَ یُوذُوْنَ الْمُومِنِیْنَ وَالْمُومِنٰتِ بِغَیْرِمَااکْتَسَبُوْافَقَدِاحْتَمَلُوْابُهْتَانًاوَّاِ ثْمًامُّبِیْنًا“

قَالَتْ نَزَلَتْ فِی علی ابن ابی طالب وَذٰلِکَ اَنَّ نَفَراً مِنَ الْمُنٰافِقِیْنَ کَانُوْایُوْذُوْنَه وَیَکْذِبُوْنَ عَلَیْهِ

اس روایت کو ابی نعیم اصفہانی نے کتاب”مانزل من القرآن فی علی علیہ السلام“ میں درج کیا ہے۔ اس کے علاوہ واحدی نے کتاب ”اسباب النزول“،صفحہ۲۷۳اور حافظ الحسکانی نے کتاب”شواہد التنزیل“،جلد۲،صفحہ۹۳،اشاعت اوّل،حدیث۷۷۵میں نقل کیا ہے۔

ترجمہ

”مقاتل بن سلیمان روایت کرتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ یہ آیت

وَالَّذِیْنَ یُوذُوْنَ الْمُومِنِیْنَ وَالْمُومِنٰتِ بِغَیْرِ مَااکْتَسَبُوْافَقَدِاحْتَمَلُوْابُهْتَانًاوَّاِ ثْمًامُّبِیْنًا

حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس کے نازل ہونے کی وجہ یہ تھی کہ کچھ منافقین آپ کو اذیت پہنچاتے تھے اور اُن کو جھٹلاتے تھے“۔


اللہ تعالیٰ آل محمدپر سلام بھیجتا ہے

( سَلٰمٌ عَلٰی آلِ یَاسِیْنَ )

”آل یاسین تم پر سلام ہو“۔(سورئہ الصّٰٓفّٰت:آیت۱۳۰)۔

روایت

عَنْ اِبْنِ عباس رضی اللّٰه عنهُ فِی قوله تعٰالٰی”سَلٰمٌ عَلٰٓی اِلْ یَاسِیْنَ“قَالَ آلِ محمد صلَّی اللّٰهُ علیه وآله وسلَّم ۔

اس روایت کو حافظ ابی نعیم اصفہانی نے کتاب”مانزل من القرآن فی علی علیہ السلام“میں، ابن حجر ہیشمی نے ”صواعق المحرقہ“ میں صفحہ۷۶پر اور حافظ الحسکانی نے کتاب”شواہد التنزیل“،جلد۲،صفحہ۱۱۰،اشاعت اوّل میں نقل کیا ہے۔

ترجمہ

”ابن عباس سے روایت کی گئی ہے کہ خدا کے اس کلام( سَلٰمٌ عَلٰٓی آلِ یَاسِیْنَ ) سے مراد آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں“۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ معتبر روایات کے مطابق آل محمد سے مراد حضرت علی علیہ السلام،جناب سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا، امام حسن علیہ السلام ،امام حسین علیہ السلام اور اُن کی پاک

اولاد ہیں“۔

علی اور تصدیق نبوت پیغمبر اکرم

( وَالَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهٓ اُولٰٓئِکَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ )

”اور وہ جو سچ کو لے کر آیا اوروہ جس نے اُس کی تصدیق کی(خدا سے) ڈرنے والے وہی تو ہیں“۔(سورئہ زمر:آیت۳۳)۔


روایت

عَنْ مُجٰاهِدٍ فِی قوله تعالٰی”وَالَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهٓ اُولٰٓئِکَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ“قَالَ جٰاءَ بِاالصِّدْقِ محمدصلَّی اللّٰه علیه وآله وسلَّم صَدَّقَ بِهِ علی ابنِ ابی طالب ۔

اس روایت کو ابن مغازلی شافعی نے کتاب”مناقب“،صفحہ۲۶۹،حدیث۳۱۷،

اشاعت اوّل میں، حافظ الحسکانی نے کتاب ”شواہد التنزیل“،جلد۲،صفحہ۱۲۱،حدیث۸۱۲،

اشاعت بیروت اور حافظ ابی نعیم اصفہانی نے کتاب”مانزل من القرآن فی علی علیہ السلام“میں آیت مذکور کی تشریح کے سلسلہ میں بیان کیا ہے۔

ترجمہ

”مجاہد سے روایت کی گئی ہے کہ اس کلام الٰہی

( وَالَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهٓ اُولٰٓئِکَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ )

کے بارے میں انہوں نے کہاکہ”جَآءَ بالصدْق“سي مراد پ یغمبر اسلام ہیں اور”صَدَّقَ بہٓ“سے مراد علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں(یعنی جو کوئی صداقت اور حق کے ساتھ آیاوہ پیغمبر اسلام ہیں اور جس نے اُن کی تصدیق کی، وہ علی علیہ السلام ہیں)“۔

علی اور آپ کے ماننے والے حزب اللہ ہیں اور وہی کامیاب ہیں

( اَ لَآاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ )

”آگاہ رہو کہ خدائی گروہ کے لوگ(پوری پوری) فلاح پانے والے ہیں“۔

(سورئہ مجادلہ:آیت۲۲)


روایت

عَنْ علی عَلَیْهِ السَّلام قَال سَلْمَانُ:فَلَمَّااِطَّلَعْتُ عَلٰی رسولِ اللّٰه یٰا اَبَاالْحَسَنْ اِلَّا ضَرَبَ بَیْنَ کِتْفِیْ وَقٰالَ:یَاسَلْمَانُ هَذَاوَحِزْبُهُ هُمُ الْمُفْلِحُوْن

اس روایت کو گنجی شافعی نے کتاب”کفایة الطالب“ باب۶۲،صفحہ۲۵۰میں، حافظ ابن عساکر نے کتاب”تاریخ دمشق“،باب شرح حال امیرالمومنین علیہ السلام،جلد۲،صفحہ۳۴۶

حدیث۸۵۴،اشاعت دوم میں، ابو نعیم اصفہانی نے کتاب”مانزل من القرآن فی علی علیہ السلام“ میں اس آیت کی تشریح میں اور حافظ الحسکانی نے ”شواہد التنزیل“،جلد۱،صفحہ۶۸،اشاعت اوّل میں سورئہ بقرہ کی آیت۴کی تفسیر کرتے ہوئے نقل کیا ہے۔

ترجمہ

”حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ سلمان نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا:’یا اباالحسن !میں جب بھی رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر آپ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ اے سلمان! یہ شخص اور اس کی جماعت فلاح(کامیابی) پانے والے ہیں“۔

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ رسول اکرم اور علی کے ماننے والوں کو رسوا نہیں کرے گا

( یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَه )

”جس دن خدا تعالیٰ نبی کو اور اُن لوگوں کو جو اُن کے ساتھ ایمان لائے ہیں، رسوا نہ کرے گا“۔(سورئہ تحریم:آیت۸)۔

روایت

قَرَأَ بْنُ عَبَّاس(یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَه)قَالَ عَلِیٌ وَاَصْحٰابُهُ

اس روایت کو حافظ ابی نعیم اصفہانی نے کتاب”مانزل من القرآن فی علی علیہ السلام“ میں اس آیت کے ضمن میں اور علامہ سیوطی نے کتاب”جمع الجوامع“میں جلد۲،صفحہ۱۵۵پر نقل کیا ہے۔


ترجمہ

”روایت کی گئی ہے کہ ابن عباس یہ آیت

”یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَه“

تلاوت فرمارہے تھے،اُس وقت انہوں نے کہا کہ ”وہ لوگ جو ایمان لائے“سے مراد علی علیہ السلام اور اُن کے ماننے والے ہیں“۔

روزقیامت ولایت علی کے بارے میں سوال کیا جائے گا

( ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ )

”پھر تم سے اُس دن نعمتوں کی بابت ضرور بازپرس کی جائے گی“۔(سورئہ تکاثر:آیت۸)۔

روایت

عَنْ جَعْفَرِابْنِ محمد علیه السلام فِی قولِهِ عَزَّوَجَلَّ”ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ“قَالَ:عَنْ وِلَایَةِ عَلِیّ ۔

اس روایت کو حافظ ابی نعیم اصفہانی نے کتاب”مانزل من القرآن فی علی علیہ السلام“ میں اس آیت کے بارے میں بیان کرتے ہوئے اور حافظ الحسکانی نے کتاب ”شواہد التنزیل،جلد۲،صفحہ۳۶۸،اشاعت اوّل میں نقل کیا ہے۔

ترجمہ

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے اس آیت

( ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ )

کے بارے میں فرمایا کہ وہ نعمت جس کے بارے میں روز قیامت سوال کیا جائے گا وہ ولایت علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہے“۔


فضائل امام علی علیہ السلام احادیث کی نظر میں۔ ۱

(حصہ اول)

پچھلے ابواب میں ہم نے مولائے متقیان امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کا تعارف قرآن کریم کی وساطت سے کروایا اور اس طرح آپ کی عظمت اور بلند مرتبہ شخصیت سے کسی حد تک آشناہوئے۔ اس سے پہلے بھی ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کی شان میں جوا ٓیات قرآن کریم میں موجود ہیں، اُن کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ہم تو صرف چند آیات کو بیان کرسکے ہیں۔

اس باب میں انشاء اللہ روایات کی مدد سے ہم آپ کی شخصیت بزرگ اور نورانی چہرے کو اُجاگر کریں گے۔ یہاں جتنی بھی روایات نقل کی جائیں گی، وہ سب حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہیں۔ یہ وہ پیغمبر ہیں جو شریف ترین انسان اور عظیم ترین نبی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ سے دیکھیں اور اُن کے بلند ترین مقام کو پہچانیں۔

ان مختصر سے ابتدائی کلمات میں یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ جیسے پچھلے ابواب میں اہل سنت کی کتب سے اسناد پیش کی گئیں، اس باب میں بھی اُسی طرح اہل سنت کی کتب سے اسناد پیش کی جائیں گی۔ یہاں یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ برادران اہل سنت کی کتب سے حوالہ جات لکھنے کا یہ مطلب ہرگزنہیں کہ شیعہ علماء نے ان روایات کے بارے میں کچھ نہیں لکھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان تمام روایات کو شیعہ علماء نے اپنی کتب میں واضح طور پر بیان کیا ہے اور اُن کی نظر میں یہ سب معتبر اور تسلیم شدہ ہیں۔ ان کے بارے میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔لہٰذا ان وجوہات کے پیش نظر شیعہ علماء اور کتب شیعہ سے کوئی حوالہ نہیں لکھا جارہا۔ صرف چند ایک جگہوں پر اشارتاً ذکر کیا گیا ہے۔

اصل مدعا یہ ہے کہ وہ لوگ جو آپ کو صرف مسلمانوں کا چوتھا خلیفہ مانتے ہیں اور اُن کو رسول اللہ کا خلیفہ بلافصل نہیں مانتے، آپ کے فضائل اُن کی زبانی سنے جائیں۔ اس طرح ایک تو مسلمانان عالم کو صحیح راستہ دکھا سکیں گے اور دوسرے اہل تشیع کے ایمان نسبت بہ محمد و آل محمدکومزید تقویت پہنچاسکیں گے،انشاء اللہ۔


پہلی روایت

علی سب سے پہلے نبوت اورکلمہٴ توحید کی گواہی دینے والے ہیں

عَنْ انس ابن مالک قَالَ: قَالَ رَسُوْل اللّٰهِ:صَلّٰی عَلیَّ الْمَلٰا ئِکَةُ وَعَلٰی عَلِیِّ سَبْعَ سِنِیْنَ وَلَمْ یَصْعُدْ اَوْلَمْ یَرْتَفِعْبِشَهٰادَةِ اَنْ لَااِلٰهَ اِلَّااللّٰهُ مِنَ الْاَرْضِ اِلَی السَّمَاءِ اِلَّا مِنِّی وَمِنْ علی ابنِ ابی طالب ۔

”انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتے سات سال تک مجھ پر اور علی علیہ السلام پر درود بھیجتے رہے(یہ اس واسطے کہ ان سات سالوں میں) خدا کی وحدانیت کی گواہی زمین سے آسمان کی طرف سوائے میرے اور علی کے علاوہ کسی نے نہ دی“۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے اسلام لانے کے بارے میں اہل سنت اور شیعہ کتب سے کافی روایات ملتی ہیں۔ جیسے زید بن ارقم کہتے ہیں”اَوَّلُ مَنْ اَسْلَمَ عَلِی ۱“سب سے پہلے جو اسلام لائے وہ علی تھے۔ اس کے کچھ حوالہ جات نیچے بھی درج کئے گئے ہیں۔ اسی طرح انس بن مالک کہتے ہیں: ۲

”بُعِثَ النَّبِیُّ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَاَسْلَمَ عَلِیٌّ یَوْمَ الثلا ثا“

یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیر کے روز مبعوث برسالت ہوئے اور علی علیہ السلام نے منگل کے روز اسلام قبول کیا۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن عساکر تاریخ دمشق ،باب شرح حال امام علی ،جلد۱،ص۷۰،حدیث۱۱۶۔

۲۔ ابن مغازلی کتاب مناقب امیرالمومنین ،حدیث ۱۹،ص۸،اشاعت اوّل،ص۱۴پر

۳۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب۱۲،صفحہ۶۸۔

۴۔ حافظ الحسکانی، کتاب شواہد التنزیل میں، حدیث ۷۸۶اور ۸۱۹۔

۵۔ سیوطی، کتاب اللئالی المصنوعہ،ج۱،ص۱۶۹و(صفحہ۱۶۶اشاعت بولاق)

۶۔ متقی ہندی، کنزالعمال،ج۱۱،ص۶۱۶(موسسة الرسالہ بیروت،اشاعت پنجم)۔


حوالہ جات روایت زید بن ارقم ۱

۱۔ ابن کثیر کتاب البدایہ والنہایہ،جلد۷،صفحہ۳۳۵(باب فضائل علی علیہ السلام)۔

۲۔ گنجی شافعی کتاب کفایة الطالب،باب۲۵،صفحہ۱۲۵۔

۳۔ سیوطی ،کتاب تاریخ الخلفاء، صفحہ۱۶۶(باب ذکر علی ابن ابی طالب علیہ السلام)۔

حوالہ جات روایت انس بن مالک ۲

۱۔ خطیب،تاریخ بغداد میں،جلد۱،صفحہ۱۳۴(حال علی علیہ السلام،شمارہ۱)۔

۲۔ حاکم ،المستدرک میں، جلد۳،صفحہ۱۱۲(باب فضائل علی علیہ السلام)۔

۳۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ،جلد۳،صفحہ۲۶۔

۴۔ سیوطی، کتاب تاریخ الخلفاء،صفحہ۱۶۶(باب ذکر علی ابن ابی طالب علیہ السلام)۔

۵۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة، باب۱۲،صفحہ۶۸اورباب۵۹،ص۳۳۵۔

۶۔ ابن عساکر تاریخ دمشق ، حال امیر المومنین امام علی ،جلد۱،ص۴۱،حدیث۷۶۔

دوسری روایت

علی پیغمبر کے ساتھ اورپیغمبرعلی کے ساتھ ہیں

عَنْ علی ابنِ ابی طالب قَالَ: قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلَّی اللّٰهُ علیه وآله وسلَّمْ:یَا عَلِیُّ اَنْتَ مِنِّی وَاَنَامِنْکَ

”علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے روایت ہے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا:یا علی ! تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں“۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ حاکم، کتاب المستدرک میں جلد۳،صفحہ۱۲۰۔

۲۔ ذہبی، میزان الاعتدال،جلد۱،صفحہ۴۱۰،شمارہ ۱۵۰۵،ج۳،ص۳۲۴،شمارہ۶۶۱۳

۳۔ ابن ماجہ سنن میں، جلد۱،صفحہ۴۴،حدیث۱۱۹۔


۴۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ،جلد۷،صفحہ۳۴۴(باب فضائل علی علیہ السلام)۔

۵۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق میں، باب حال امیر المومنین ،ج۱،ص۱۲۴،حدیث۱۸۳

۶۔ سیوطی،تاریخ الخلفاء،صفحہ۱۶۹۔

۷۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، حدیث۲۷۵،صفحہ۲۲۸،اشاعت اوّل۔

۸۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب، باب ۶۷،صفحہ۲۸۴۔

۹۔ شیخ سلیمان قندوزہ حنفی ،کتاب ینابیع المودة، صفحہ۲۷۷،باب۷،صفحہ۶۰۔

۱۰۔ بخاری، کتاب صحیح بخاری میں، جلد۵،صفحہ۱۴۱(عن البراء بن عازب)۔

۱۱۔ نسائی الخصائص میں، صفحہ۱۹اور۵۱اور حدیث۱۳۳،صفحہ۳۶۔

۱۲۔ ترمذی اپنی کتاب میں، جلد۱۳،صفحہ۱۶۷(عن البراء بن عازب)۔

۱۳۔ متقی ہندی، کتاب کنزل العمال ،جلد۱۱،صفحہ۵۹۹،اشاعت پنجم بیروت۔

تیسری روایت

پیغمبر اور علی کی خلقت ایک ہی نور سے ہے

عَنْ جٰابِرِبْنِ عَبْدُاللّٰهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِی(رسول اللّٰه) یَقُوْلُ لِعَلیٍّ:النّاسُ مِنْ شَجَرٍ شَتّیٰ وَاَنَاوَاَنْتَ مِنْ شَجَرَةٍ وٰاحِدَةٍ ثُمَّ قَرَأَالنَّبِی”وَجَنٰاتٌ مِنْ اَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِیْلٌ صِنْوٰانٌ وَغَیْرُ صِنْوٰانٍ یُسْقٰی بِمٰاءٍ وٰاحِدٍ“

”جابرابن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول خدا سے سنا کہ وہ حضرت علی علیہ السلام سے مخاطب تھے اور فرمارہے تھے ”سب لوگ سلسلہ ہائے مختلف(مختلف اشجار)سے پیدا کئے گئے ہیں لیکن میں اور تو(علی ) ایک ہی سلسلہ(شجرئہ طیبہ) سے خلق کئے گئے ہیں اور پھر آپ نے یہ آیت پڑھی:


( ثُمَّ قَرَأَالنَّبِی”وَجَنٰاتٌ مِنْ اَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِیْلٌ صِنْوٰانٌ وَغَیْرُ صِنْوٰانٍ یُسْقٰی بِمٰاءٍ وٰاحِدٍ ) ۔(سورئہ رعد:آیت:۱۳)

”اور انگوروں کے باغ اور کھیتیاں اور کھجور کے درخت ایک ہی جڑ میں سے کئی اُگے ہوئے اور علیحدہ علیحدہ اُگے ہوئے کہ یہ سب ایک ہی پانی سے سینچے جاتے ہیں“۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب، حدیث ۴۰۰اور حدیث۹۰،۲۹۷میں۔

۲۔ حموینی، کتاب فرائد السمطین،باب۴،حدیث۱۷۔

۳۔ حاکم، کتاب المستدرک،جلد۲،صفحہ۲۴۱۔

۴۔ ابن عساکر،تاریخ دمشق ،شرح حال علی ،ج۱،ص۱۲۶،حدیث۱۷۸،شرح محمودی۔

۵۔ سیوطی، تفسیر الدرالمنثور میں،جلد۴،صفحہ۵۱اور تاریخ الخلفاء،صفحہ۱۷۱۔

۶۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة، باب مناقب۷۰،حدیث۳۷،صفحہ۲۸۰۔

۷۔ حافظ الحسکانی،کتاب شواہد التنزیل میں، حدیث۳۹۵۔

۸۔ متقی ہندی، کنزالعمال،جلد۶،صفحہ۱۵۴،اشاعت اوّل ،جلد۲،ص۶۰۸(موسسة

الرسالہ بیروت، اشاعت پنجم)۔

چوتھی روایت

علی ہی دنیا وآخرت میں نبی کے علم بردار ہیں

عن جابر ابنِ سَمْرَةَ قَالَ: قِیْلَ یَارَسُوْلَ اللّٰهِ مَنْ یَحْمِلُ ٰرایَتَکَ یَوْمَ القِیٰامَةِ؟ قٰالَ: مَنْ کَانَ یَحْمِلُهَا فِی الدُّ نْیٰاعلی ۔

”جابر ابن سمرہ سے روایت ہے کہ رسول خدا کی خدمت میں عرض کیا گیا:’یا رسول اللہ! قیامت کے روز آپ کاعَلَم کون اٹھائے گا؟‘آپ نے فرمایا جو دنیا میں میرا علمبردارہے یعنی علی “۔


حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ، جلد۷،صفحہ۳۳۶(باب فضائل حضرت علی )۔

۲۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ، شرح حال علی ، ج۱،ص۱۴۵،حدیث۲۰۹،شرح محمودی۔

۳۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب امیر المومنین علیہ السلام میں، حدیث۲۳۷،صفحہ۲۰۰۔

۴۔ علامہ اخطب خوارزمی، کتاب مناقب،صفحہ۲۵۰۔

۵۔ علامہ عینی، کتاب عمدة القاری،۱۶۔۲۱۶۔

۶۔ متقی ہندی، کتاب کنزالعمال میں، جلد۱۳،صفحہ۱۳۶۔

انچویں روایت

پیغمبر اکرم اور علی ایک ہی شجرئہ طیبہ سے ہیں

عَنْ ابنعباس قٰالَ: قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ حُبُّ عَلِیٍّ یَأ کُلُ السِّیِّاتِ کَمٰا تَاکُلُ النَّارُالخَطَبَ ۔

”ابن عباس کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’علی کی محبت گناہوں کو ایسے کھاجاتی ہے جیسے خشک لکڑی کو آگ‘ ۔“

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن عساکر ،تاریخ دمشق ،باب شرح حال امیر المومنین ، ج۲،ص۱۰۳حدیث۶۰۷

۲۔ خطیب ،تاریخ بغداد شرح حال احمد بن شبویة بن معین موصلی، ج۴،ص۱۹۴،شمارہ۱۸۸۵۔

۳۔ متقی ہندی، کنزل العمال، ج۱۵،ص۲۱۸،اشاعت دوم، شمارہ۱۲۶۱(باب فضائل

علی ) اور دوسری اشاعت ج۱۱،ص۴۲۱(موسسة الرسالة بیروت، اشاعت۵)

۴۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب مناقب سبعون، صفحہ۲۷۹،حدیث۳۳اور باب۵۶صفحہ۲۱۱اور ۲۵۲۔

۵۔ سیوطی دراللئالی المصنوعہ، جلد۱،صفحہ۱۸۴،اشاعت اوّل۔


چھٹی روایت

در علی کے علاوہ تمام در مسجد بند کرنے کا حکم

عَنْ زَیْداِبْنِ اَرْقَم قالَ: کَانَ لِنَفَرٍ مِنْ اَصْحٰابِ رَسُولِ اللّٰهِ اَبْوابٍ شَارِعَةٍ فِی الْمَسْجِدِ قَالَ: فَقٰالَ(النَّبِیُّ) یَوْمًا: سُدُّ وا هٰذِهِ الاَ بْوَابَ اِلَّا بَابَ عَلیقٰالَ: فَتَکَلَّمَ فِیْ ذٰالِکَ اُنَاسٍ قٰالَ: فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰهِ فَحَمَدَ اللّٰهَ وَأَ ثْنٰی عَلَیْهِ ثُمَّ قٰالَ أَمَّا بَعْدُ فَاِنِّی اُمِرْتُ بِسَدِّ هٰذِهِ الْاَبْوَابِ غَیْرَ بَابِ عَلِیٍّ فَقٰالَ فیهِ قَاعِلُکُمْ،وَاِنِّی وَاللّٰهِ مَاسَدَدْتُ شَیْئًا وَلَا فَتَحْتُه وَلَکِنِّی اُمِرْتُ بِشَیءٍ فَاتَّبِعُه ۔

”زید بن ارقم کہتے ہیں کہ چند اصحاب رسول خدا کے گھروں کے دروازے مسجد کی طرف کھلتے تھے۔ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ تمام دروازوں کو (سوائے حضرت علی علیہ السلام کے دروازے کے) بند کردیاجائے۔ چند لوگوں نے اس پر چہ میگوئیاں کرنا شروع کردیں۔ پس رسول خدا کھڑے ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا شروع کردی اور فرمایا کہ جب سے میں نے دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے ،اُس کے بعد سے کچھ لوگوں نے باتیں کی ہیں(اس کے بارے میں صحیح رائے نہیں رکھتے)۔ خدا کی قسم! میں نے کسی دروازے کو اپنی طرف سے بند کرنے کا حکم نہیں دیا اور نہ ہی کسی کے کھلنے کا حکم اپنی طرف سے دیا ہے، لیکن خدا کی طرف سے مجھے حکم ملا اور میں نے حکم خدا کو جاری کردیا ہے“۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن عساکرتاریخ دمشق ، باب شرح حال امام علی ، ج۱،احادیث۳۲۳تا۳۳۵۔

۲۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب، حدیث۳۰۲،صفحہ۲۵۳۔

۳۔ ابونعیم ، کتاب حلیة الاولیاء، باب شرح حال عمروبن میمون۔

۴۔ حاکم، کتاب المستدرک، جلد۳،صفحہ۱۲۵،حدیث۶۳،باب مناقب علی علیہ السلام۔

۵۔ ابن کثیر کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد۷،صفحہ۳۴۳،اشاعت بیروت۔

۶۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب، باب۵۰،صفحہ۲۰۱۔


۷۔ بہیقی، کتاب السنن الکبریٰ، جلد۷،صفحہ۶۵۔

۸۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی،ینابیع المودة، باب مناقب السبعون ، ص۲۷۵،حدیث۱۱اور باب۱۷،صفحہ۹۹۔

۹۔ محب الدین طبری، کتاب ذخائر العقبی،صفحہ۱۰۲۔

۱۰۔ ابن حجر،کتاب فتح الباری،جلد۸،صفحہ۱۵۔

۱۱۔ متقی ہندی، کتاب کنزل العمال،جلد۱۱،صفحہ۵۹۸و۶۱۷،اشاعت بیروت۔

۱۲۔ احمد بن حنبل، کتاب المسند،جلد۱،صفحہ۱۷۵۔

۱۳۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ،جلد۹،صفحہ۱۷۳۔

۱۴۔ ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں ، جلد۹،صفحہ۱۱۵۔

ساتویں روایت

علی کا مقام و منزلت

عَنْ اِبْنِ عباس، عَنِ النَّبِی قٰالَ لِاُمِّ سَلَمَة:یَااُمِّ سَلَمَةَ اِنَّ عَلِیًّا لَحْمُهُ مِنْ لَحْمِیْ وَدَمُهُ مِنْ دَمِیْ وَهُوَ بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی اِلَّا اَنَّهُ لَا نَبِیَّ بَعْدِی ۔

حدیث منزلت امام علی علیہ السلام ایک نہایت ہی اہم اور معتبر ترین حدیث پیغمبر اسلام ہے جو حضرت علی علیہ السلام کی شان ،مقام عالی اور منزلت کا پتہ دیتی ہے۔ البتہ یہ حدیث کئی اور ذرائع اور مختلف طریقوں سے بھی بیان کی جاتی ہے۔ مندرجہ بالا حدیث میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جناب اُم سلمہ سے مخاطب ہیں۔ لیکن ابوہریرہ سے یہ روایت(اس روایت کو ابن عساکر نے ترجمہ تاریخ دمشق ،جلد۱،حدیث۴۱۲میں اس طرح نقل کیا ہے)اس طرح سے منقول ہے:

اِنَّ النَّبی قٰالَ بِعَلِیٍّ عَلَیْهِ السَّلَام: یَاعَلِیُّ اَنْتَ بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی اِلَّا النَّبُوَّةَ ۔

”پیغمبر اسلام نے حضرت علی علیہ السلام سے ارشاد فرمایا:’یا علی ! آپ کی نسبت مجھ سے ایسی ہے جیسی ہارون کی موسیٰ علیہ السلام سے تھی، سوائے نبوت کے“۔


ترجمہ

”ابن عباس سے روایت کی گئی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جناب اُم سلمہ سے فرمایا :’اے اُم سلمہ! بے شک علی کا گوشت میرا گوشت ہے، علی کا خون میرا خون ہے اور اُس کی نسبت محمد سے ایسی ہے جیسی ہارون کی موسیٰ سے تھی سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئیگا“۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق،شرح حال امام علی ، جلد۱،حدیث۴۰۶،۳۳۶سے لے کر۴۵۶تک۔

۲۔ احمد بن حنبل، مسند سعد بن ابی وقاص ، جلد۱،صفحہ۱۷۷،۱۸۹اورنیز الفضائل میں،حدیث۷۹،۸۰۔

۳۔ ابن ماجہ قزوینی اپنی کتاب میں، جلد۱،صفحہ۴۲،حدیث ۱۱۵۔

۴۔ بخاری،صحیح بخاری میں،جلد۵،صفحہ۸۱،حدیث۲۲۵(فضائل اصحاب النبی )۔

۵۔ ابی عمریوسف بن عبداللہ، استیعاب ،ج۳،ص۱۰۹۷اورروایت۱۸۵۵کے ضمن میں

۶۔ ابونعیم، کتاب حلیة الاولیاء ، جلد۷،صفحہ۱۹۴۔

۷۔ بلاذری، کتاب انصاب الاشراف، ج۲،ص۹۵،حدیث۱۵،اشاعت اوّل بیروت

۸۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب۶،صفحہ۵۶،۱۵۳۔

۹۔ ابن مغازلی،کتاب مناقب میں،حدیث۴۰،۵۰،صفحہ۳۳۔

۱۰۔ حاکم، المستدرک میں، جلد۳،صفحہ۱۰۸۔

۱۱۔ ابن کثیر،کتاب البدایہ والنہایہ ،جلد۸،صفحہ۷۷۔

۱۲۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب۳۷،صفحہ۱۶۷۔

۱۳۔ ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں، جلد۲،صفحہ۳،حدیث۲۵۸۶۔

۱۴۔ حافظ الحسکانی، کتاب شواہد التنزیل میں، حدیث۶۵۶۔

۱۵۔ سیوطی،کتاب اللئالی المصنوعة،جلد۱،صفحہ۱۷۷،اشاعت اوّل۔

۱۶۔ ابن حجر عسقلانی،کتاب لسان المیزان میں، جلد۲،صفحہ۳۲۴۔


آٹھویں روایت

حدیث ولایت اور مقام علی

عَنْ عَمْروذی مَرَّ عَنْ عَلی اَنَّ النَّبِی صلی اللّٰه علیه وآله وسلَّم قٰالَ: مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ، اَلَّلهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عٰادٰاهُ

حدیث ولایت بھی ایک اہم ترین حدیث ہے جو شان علی اور مقام علی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ حدیث بھی مختلف ذرائع اور مختلف انداز میں بیان کی گئی ہے لیکن اصل مفہوم وہی ہے۔

”عمروذی حضرت علی علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا کہ جس کا میں مولا ہوں، اُس کا علی مولا ہے۔ پروردگار! تو اُس کودوست رکھ جو علی علیہ السلام کو دوست رکھے اور تو اُس کو دشمن رکھ جو علی علیہ السلام سے دشمنی رکھے“۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب شرح حال امام علی ، جلد۲،ص۳۰،حدیث۵۳۲۔

۲۔ احمد بن حنبل ،المسند،جلد۴،ص۲۸۱،حدیث۱۲،جلد۱،ص۲۵۰،حدیث۹۵۰،۹۶۱،۹۶۴۔

۳۔ حاکم،المستدرک میں، حدیث۸،باب مناقب علی ،،جلد۳،صفحہ۱۱۰اور۱۱۶۔

۴۔ سیوطی، تفسیرالدرالمنثور،جلد۲،صفحہ۳۲۷اوردوسری اشاعت جلد۵،صفحہ۱۸۰اورتاریخ الخلفاء صفحہ۱۶۹۔

۵۔ ابن مغازلی، مناقب میں، حدیث۳۶،صفحہ۱۸،۲۴،۲۶،اشاعت اوّل۔

۶۔ ہیثمی،کتاب مجمع الزوائد میں، جلد۹،صفحہ۱۰۵،۱۰۸اور۱۶۴۔

۷۔ ابن ماجہ سنن میں،جلد۱،صفحہ۴۳،حدیث۱۱۶۔

۸۔ ابن عمر یوسف بن عبداللہ ،استیعاب ، ج۳،ص۱۰۹۹،روایت۱۸۵۵کے ضمن میں

۹۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد۷،صفحہ۳۳۵،۳۴۴،۳۶۶۔

۱۰۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں، باب۴،صفحہ۳۳۔


۱۱ خطیب”حال یحییٰ بن محمد ابی عمرالاخباری“،شمارہ۷۵۴۵،کتاب تاریخ بغداد میں،جلد۱۴،صفحہ۲۳۶۔

۱۲۔ بلاذری، کتاب انساب الاشراف میں،جلد۲،صفحہ۱۰۸،اشاعت اوّل،حدیث۴۵اور باب شرح حال امیر المومنین علیہ السلام میں۔

۱۳۔ گنجی شافعی،کتاب کفایة الطالب میں، باب۱،صفحہ۵۸۔

۱۴۔ نسائی، کتاب الخصائص میں، حدیث۸،صفحہ۴۷اورحدیث۷۵،صفحہ۹۴۔

۱۵۔ ابن اثیر، کتاب اسدالغابہ میں ،جلد۴،صفحہ۲۷اور ج۳،ص۳۲۱اورج۲،ص۳۹۷

۱۶۔ ترمذی اپنی کتاب صحیح میں، حدیث۳۷۱۲،جلد۵،صفحہ۶۳۲،۶۳۳۔

نویں روایت

علی کی محبت جہنم سے بچاؤاور جنت میں داخلے کی ضمانت ہے

عَنْ اِبْنِ عباس،قٰالَ: قُلْتُ لِنَّبِی صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ یَارَسُوْلَ اللّٰهِ هَلْ لِلنَّارِ جَوازٌ؟قٰالَ نَعَمْ قُلْتُ وَمَاهُوَ؟ قٰالَ حُبُّ علیِّ ۔

ترجمہ

”ابن عباس سے روایت ہے کہ انہوں نے پیغمبر اسلام سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا جہنم سے عبور کیلئے کوئی جواز یا پروانہ ہے؟ پیغمبر اسلام نے فرمایا:’ہاں‘۔ میں نے پھر عرض کیا کہ وہ کیا ہے؟آپ نے فرمایا:’علی سے محبت‘۔“

اس طرح کی دوسری مشابہ حدیث بھی ابن عباس سے روایت کی گئی ہے:

عَنْ ابنِ عباس قٰالَ: قٰالَ رَسُوْل اللّٰه صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ: علیٌ یَوْمَ الْقِیٰامَةِ عَلَی الْحَوْضِ لَایَدْخِلُ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ جَاءَ بِجَوَازمِنْ عَلِیِّ ابْنِ اَبِی طَالِب ۔

ترجمہ روایت

”ابن عباس سے روایت ہے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ علی علیہ السلام قیامت کے دن حوض کوثر پر ہوں گے اور کوئی بھی جنت میں داخل نہ ہوسکے گا مگر جس کے پاس علی علیہ السلام کی جانب سے پروانہ ہوگا“۔


حوالہ جات روایت ہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق میں،باب حال علی ،جلد۲،صفحہ۱۰۴،حدیث۶۰۸اورجلد۲

صفحہ۲۴۳،حدیث۷۵۳۔

۲۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، حدیث۱۵۶،صفحہ۱۱۹،۱۳۱اور۲۴۲۔

۳۔ شیخ سلیمان قندوزی ، کتاب ینابیع المودة، باب۵۶،ص۲۱۱اور باب۳۷،ص۱۳۳،

۲۴۵،۳۰۱۔

۴۔ سیوطی، اللئالی المصنوعة ، جلد۱،صفحہ۱۹۷،اشاعت اوّل(آخر مناقب علی )۔

۵۔ محب الدین طبری، کتاب ریاض النضرةمیں،جلد۲،صفحہ۱۷۷،۲۱۱اور۲۴۴۔

دسویں روایت

قیامت کے روز حُب علی اور حُب اہل بیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا

عَنْ اَبِی ذَر قٰالَ:قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ لَا تَزُوْلُ قَدَمٰا اِبْنِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیٰامَةِ حَتّیٰ یُسْأَلَ عَنْ اَرْبَعٍ،عَنْ عِلْمِه مٰا عَمِلَ بِه،وَعَنْ مٰااکْتَسَبَهُ،وَفِیْمٰااَنْفَقَهُ،وَعَنْ حُبِّ اَهْلِ الْبَیْتِ فَقِیْلَ یٰا رَسُوْلَ اللّٰهِ،وَمَنْ هُمْ؟ فَأَوْمَأَ بِیَدِهِ اِلٰی عَلِیِّ ۔

”ابوذر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن کوئی انسان اپنا قدم نہ اٹھاسکے گا جب تک اُس سے چار سوال نہ کئے جائیں گے:

اُس کے علم کے بارے میں کہ کس طرح اُس نے عمل کیا؟

اُس کی دولت کے بارے میں کہ کہاں سے کمائی؟

وہ دولت کہاں خرچ کی؟

اہل بیت سے دوستی کے بارے میں۔


عرض کیا گیا :’یا رسول اللہ! آپ کے اہل بیت کون ہیں؟آپ نے اپنے ہاتھ سے علی علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا اور کہا:علی ابن ابی طالب علیہ السلام‘۔“

حوالہ جات روایت، اہل سنت کی کتب سے

۱۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب۹۱۱،صفحہ۳۲۴۔

۲۔ ابن عساکر،تاریخ دمشق ،باب حال امیر المومنین ،،جلد۲،ص۱۵۹،حدیث۶۴۴۔

۳۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة،باب۳۲،ص۱۲۴،باب۳۷ص۱۳۳،۲۷۱

۴۔ ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں، جلد۱۰،صفحہ۳۲۶۔

۵ ۔ ابن مغازلی، حدیث۱۵۷،مناقب میں صفحہ۱۲۰،اشاعت اوّل۔

۶۔ حموینی، کتاب فرائد السمطین میں، حدیث۵۷۴،باب۶۲۔

۷۔ خوارزمی، کتاب مقتل میں،جلد۱،باب۴،صفحہ۴۲،اشاعت اوّل۔

یارہویں روایت

علی سے اللہ اور اُس کے رسول محبت کرتے ہیں

عَنْ دٰاودبنِ علیِّ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عباس، عَنْ اَبِیْهِ عَنْ جَدِّه ابنِ عباس قٰالَ: اُتِیَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ بِطٰائِرِ فَقَالَ: اَلَّلهُمَّ اِئْتِنِیْ بِرَجُلٍ یُحِبُّهُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ،فَجٰاءَ عَلِیٌّ فَقٰالَ: اَلَّلهُمَّ وٰالِ ۔

ترجمہ

”ابن عباس کہتے ہیں کہ ایک دن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک مرغ بطور طعام پیش کیا گیا۔ آپ نے دعافرمائی کہ پروردگار! ایسے شخص کو میرے پاس بھیج جس کو خدا اور رسول دوست رکھتے ہیں(تاکہ اس کھانے میں میرے ساتھ شریک ہوجائے)۔پس تھوڑی دیر بعد ہی علی وہاں پہنچے ۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا:پروردگار! توعلی علیہ السلام کودوست رکھ۔علی پیغمبر اسلام کے ساتھ بیٹھے اور آپ نے پیغمبر کے ساتھ وہ کھانا تناول فرمایا“۔


مندرجہ بالا حدیث ایک اہم اور متواتر حدیث ہے جو کتب اہل سنت اور شیعہ میں مختلف صورتوں میں بیان کی گئی ہے۔ ماجراکچھ اس طرح ہے کہ ایک دن پیغمبر خدا کی خدمت میں طعام مرغ پیش کیا گیا۔پیغمبر خدا نے اُس وقت دعا مانگی کہ پروردگار!ایسے شخص کو میرے پاس بھیج دے جس کو خداا و رسول محبوب رکھتے ہوں(تاکہ میرے ساتھ طعام میں شامل ہوسکے)۔کچھ ہی دیر بعد امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام وہاں پہنچے۔ آپ خوش ہوئے۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب حال امیر المومنین ،ج۲،ص۶۳۱،حدیث۶۲۲اورج۲،حدیث۶۰۹تا۶۴۲(شرح محمودی)۔

۲۔ ابن مغازلی، مناقب میں حدیث۱۸۹،صفحہ۱۵۶،اشاعت اوّل۔

۳۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب۸،صفحہ۶۲۔

۴۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد۷،صفحہ۳۵۱اور اس کے بعد۔

۵۔ حاکم، کتاب المستدرک میں جلد۳،صفحہ۱۳۰(باب فضائل علی علیہ السلام)۔

۶۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب۳۳،صفحہ۱۴۸۔

۷۔ ذہبی، میزان الاعتدال ، باب شرح حال ابی الہندی،ج۴،صفحہ۵۸۳،شمارہ۱۰۷۰۳اورتاریخ اسلام میں جلد۲،صفحہ۱۹۷۔

۸۔ ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں، جلد۹،صفحہ۱۲۵اور جلد۵،صفحہ۱۹۹۔

۹۔ خطیب، تاریخ بغداد ، باب شرح حال طفران بن الحسن بن الفیروزان،ج۹،صفحہ۳۶۹،شمارہ۴۹۴۴۔

۱۰۔ ابو نعیم،حلیة الاولیاء میں،جلد۶،صفحہ۳۳۹۔

۱۱۔ بلاذری، کتاب انساب الاشراف میں، باب شرح حال علی ،حدیث۱۴۰،ج۲،صفحہ

۱۴۲،اشاعت اوّل از بیروت۔

۱۲۔ خوارزمی، کتاب مناقب ، باب ۹،صفحہ۶۴،اشاعت تبریز اور اشاعت دوم ،صفحہ۵۹۔

۱۳۔ ابن اثیر، کتاب اسد الغابہ میں، باب شرح حال امیر المومنین میں،جلد۴،صفحہ۳۰۔

۱۴۔ طبرانی،معجم الکبیر میں، باب مسند انس بن مالک، جلد۱،صفحہ۳۹۔

۱۵۔ نسائی، کتاب الخصائص میں ، حدیث۱۲،صفحہ۵۱۔


فضائل امام علی علیہ السلام احادیث کی نظر میں۔ ۱

(حصہ دوم)

بارہویں روایت

حُب علی کے بغیر پیغمبر اسلام سے دوستی کا دعویٰ جھوٹا ہے

عَنْ جابِر قٰالَ: دَخَلَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ وَنَحْنُ فِی الْمَسْجِدِ وَهُوَاَخِذَ بِیَدِ عَلِیٍّ فَقٰالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ،اَلَسْتُمْ زَعَمْتُمْ اَ نَّکُمْ تُحِبُّوْنِیْ؟ قٰالُوا:بَلٰی یَارَسُوْلَ اللّٰهِ قٰالَ: کَذِبَ مَنْ زَعَمَ اَنَّهُ یُحِبُّنِیْ وَیُبْغِضُ هٰذا ۔

”جابر سے روایت ہے کہ پیغمبر اکرم مسجد میں داخل ہوئے اور ہم بھی پہلے سے وہاں موجود تھے۔ آپ نے علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور فرمایا:’کیا تم یہ گمان نہیں کرتے کہ تم سب مجھ سے محبت کرتے ہو؟‘ سب نے کہا:’ہاں! یا رسول اللہ‘۔ آپ نے فرمایا کہ اُس نے جھوٹ بولا جو یہ کہتا ہے کہ مجھ(محمد) سے محبت کرتا ہے لیکن اس (علی علیہ السلام) سے بغض رکھتا ہے“۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن عساکر تاریخ دمشق میں، باب شرح حال امیر المومنین ،ج۲،ص۱۸۵،حدیث

۶۶۴اور اس کے بعد کی احادیث۔

۲۔ ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں، جلد۱،صفحہ۵۳۶،شمارہ۲۰۰۷۔

۳۔ ابن کثیر البدایہ والنہایہ میں، جلد۷،صفحہ۳۵۵،باب فضائل علی علیہ السلام۔

۴۔ حاکم، المستدرک میں، جلد۳،صفحہ۱۳۰۔

۵۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں، باب۴،صفحہ۳۱۔

۶۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب۸۸،صفحہ۳۱۹۔

۷۔ ابن حجر عسقلانی ، کتاب لسان المیزان میں،جلد۲،صفحہ۱۰۹۔

۸۔ سیوطی، کتاب جامع الصغیر میں،جلد۲،صفحہ۴۷۹۔


تیرہویں روایت

محبان علی مومن اور دشمنان علی منافق ہیں

عَنْ زَرِّبْنِ جَیْشٍ قٰالَ سَمِعْتُ عَلِیًّا یَقُوْلُ:وَالَّذِی فَلَقَ الَْحَبَّةَ وَبَرَی النَّسَمَةَ اِنَّهُ لَعَهِدَ النَّبِیُ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ اِلیَّ اَنْ لَا یُحِبُّکَ اِلَّا مُومِنُ،وَلَا یُبْغِضُکَ اِلَّا مُنٰافِقٌ ۔

ترجمہ

”زر بن جیش کہتے ہیں کہ میں نے علی علیہ السلام سے سنا کہ انہوں نے فرمایا کہ مجھے قسم ہے اُس خدا کی جودانہ کو کھولتا ہے اور مخلوق کو وجود میں لاتا ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے عہد کرتے ہوئے فرمایا:’یا علی ! تم سے کوئی محبت نہ رکھے گا مگر سوائے مومن کے اور تم سے کوئی بغض نہیں رکھے گا سوائے منافق کے‘۔“

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ احمد بن حنبل، کتاب المسند، باب مسند علی ،جلد۱،صفحہ۹۵،حدیث۷۳۱اور دوسریاشاعت میں صفحہ۲۰۴اور حدیث۶۴۲،جلد۱،صفحہ۸۴،اشاعت اوّل۔

۲۔ ابن عساکر تاریخ دمشق ، باب شرح حال امیر المومنین ،ج۲،ص۱۹۰،حدیث۶۷۴

۳۔ ابن مغازلی مناقب میں، حدیث۲۲۵،صفحہ۱۹۰،اشاعت اوّل۔

۴۔ خطیب ،تاریخ بغداد میں، شمارہ۷۷۸۵،باب شرح حال ابی علی بن ہشام حربی۔

۵۔ بلا ذری، کتاب انسابُ الاشراف میں، باب شرح حال علی ،حدیث۲۰،ج۲،ص۹۷اورحدیث۱۵۸،صفحہ۱۵۳۔

۶۔ حاکم، المستدرک میں، جلد۳،صفحہ۱۲۹۔

۷۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ میں، جلد۷،صفحہ۳۵۵،باب فضائل علی علیہ السلام۔

۸۔ ابن عمر یوسف بن عبداللہ ، استیعاب میں، جلد۳،صفحہ۱۱۰۰اور روایت۱۸۵۵۔

۹۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب۳،صفحہ۶۸۔

۱۰۔ ابن ماجہ قزوینی اپنی کتاب ”سنن“ میں، جلد۱،صفحہ۴۲،حدیث۱۱۴۔

۱۱۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں ،باب۶،صفحہ۵۲اور۲۵۲پر۔

چودہویں روایت

علی مسلمانوں کے اور متّقین کے امام ہیں

حَدَّثَنِی عَبْدُاللّٰهِ بْنِ اَسْعَدْبنِ زُرَارة قٰالَ:قٰالَ رسول اللّٰهِ لَیْلَةً اُسْرِیَ بِی اِنْتَهَیْتُ اِلٰی رَبِّی،فَأَوْحٰی اِلیَّ(اَوْاَخْبَرَنِی)فِی عَلِیٍ بثلَاثٍ:اِنَّهُ سَیِّدُالْمُسْلِمِیْنَ وَوَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ وَقَائِدُالْغُرَّالْمُحَجَّلِیْنَ ۔

ترجمہ

”عبداللہ بن اسعد بن زرارہ کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ شب معراج جب میں اپنے پروردگار عزّوجلّ کے حضور پیش ہوا تو مجھے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں تین باتوں کی خبر دی گئی جو یہ ہیں کہ علی مسلمانوں کے سردار ہیں، متقین اور عبادت گزاروں کے امام ہیں اور جن کی پیشانیاں پاکیزگی سے چمک رہی ہیں اُن کے رہبر ہیں“۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن عساکر تاریخ دمشق ،باب شرح احوال امام ج۲ص۲۵۶حدیث۷۷۲ص۲۵۹

۲۔ ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں ،صفحہ۶۴،شمارہ۲۱۱۔

۳۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، حدیث۱۲۶اور۱۴۷،صفحہ۱۰۴۔

۴۔ ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں، جلد۹،صفحہ۱۲۱۔

۵۔ حاکم، کتاب المستدرک میں، جلد۳،صفحہ۱۳۸،حدیث۹۹،باب مناقب علی ۔

۶۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب۴۵،صفحہ۱۹۰۔

۷۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں، صفحہ۲۴۵،باب۵۶،صفحہ۲۱۳۔

۸۔ حافظ ابونعیم، کتاب حلیة الاولیاء میں، جلد۱،صفحہ۶۳۔

۹۔ خوارزمی، کتاب مناقب میں، صفحہ۲۲۹۔

۱۰۔ ابن اثیر، کتاب اسد الغابہ میں،جلد۱،صفحہ۶۹اورجلد۳،صفحہ۱۱۶۔

۱۱۔ متقی ہندی، کنزالعمال میں، جلد۱۱،صفحہ۶۲۰(موسسة الرسالہ ،بیروت)۔


پندرہویں روایت

پیغمبر اکرم اور علی خدا کے بندوں پر اُس کی حجت ہیں

عَنْ أَنْس قٰالَ: قٰالَ النَّبِیُّ اَنَا وَعَلِیٌ حُجَّةُ اللّٰهِ عَلٰی عِبٰادِهِ ۔

ترجمہ

”انس روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور علی اللہ کی طرف سے اُس کے بندوں پر حجت ہیں“۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن عساکر،تاریخ دمشق میں، باب شرح حال امام علی علیہ اسلام،جلد۲،صفحہ۲۷۲،احادیث۷۹۳تا۷۹۶(شرح محمودی)۔

۲۔ خطیب، تاریخ بغداد میں، باب شرح حال محمد بن اشعث،جلد۲،صفحہ۸۸۔

۳۔ ابن مغازلی، مناقب میں، حدیث۶۷اور۲۳۴،صفحہ۴۵اور۱۹۷،اشاعت اوّل۔

۴۔ ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں، جلد۴،صفحہ۱۲۸،شمارہ۸۵۹۰۔

۵۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة میں، باب مناقب، صفحہ۲۸۴،حدیث۵۷۔

۶۔ ابو عمر یوسف بن عبداللہ، کتاب استیعاب میں ،جلد۳،صفحہ۱۰۹۱اور روایت۱۸۵۵”یَاعلی اَنْتَ ولی کل مومن بَعْدِی “ کے تسلسل میں۔

۷۔ سیوطی ، اللئالی المصنوعہ میں، ج ۱،صفحہ۱۸۹،اشاعت اوّل اور بعد والی میں۔


سولہویں روایت

علی پیغمبران خدا کی تمام اعلیٰ صفات کے حامل تھے

عَنْ اَبِی الحَمْرَاءِ قٰالَ: قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ مَنْ اَرَادَ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی آدَمَ فِیْ عِلْمِه وَاِلٰی نُوْحٍ فِیْ فَهْمِه وَاِلٰی اِبْرَاهِیْمَ فِیْ حِلْمِه وَاِلٰی یَحْییٰ بِن زِکرِیَّا فِی زُهْدِهِ وَاِلٰی مُوْسٰی بن عِمْرَانِ فِی بَطْشِه فَلْیَنْظُرْ اِلٰی عَلِیِ بْنِ اَبِیْ طَالِب عَلَیْهِ السَّلَام ۔

ترجمہ

”ابوالحمراء سے روایت ہے کہ پیغمبر خدا نے فرمایا کہ جوکوئی چاہتاہے کہ آدم علیہ السلام کو اُن کے علم میں دیکھے،نوح کو اُن کی فہم و دانائی میں دیکھے ، ابراہیم علیہ السلام کو اُن کے حلم میں دیکھے ،یحییٰ بن زکریا کو اُن کے زہد میں دیکھے اور موسیٰ بن عمران کو اُن کی بہادری میں دیکھے ، پس اُسے چاہئے کہ وہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے چہرئہ مبارک کی زیارت کرے“۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب شرح حال امام علی ، جلد۲،صفحہ۲۸۰،حدیث۸۰۴(شرح محمودی)۔

۲۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، صفحہ۲۵۳۔

۳۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب۲۳،صفحہ۱۲۱۔

۴۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، حدیث۲۵۶،صفحہ۲۱۲،اشاعت اوّل۔

۵۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ میں، جلد۷،صفحہ۳۵۶۔

۶۔ ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں،جلد۴،صفحہ۹۹،شمارہ۸۴۶۹۔

۷۔ ابن ابی الحدید، نہج البلاغہ ، باب شرح المختار(۱۴۷)ج۲ص۴۴۹اشاعت اوّل،مصر

۸۔ حموینی، کتاب فرائد السمطین میں، حدیث۱۴۲،باب۳۵۔


سترہویں روایت

علی بہترین انسان ہیں ،جو اس حقیقت کو نہ مانے ،وہ کافر ہے

عَنْ حُذَیْفَةِ بْنِ الْیَمٰانِ قٰالَ: قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ: عَلِیٌّ خَیْرُ الْبَشَرِ،مَنْ أَبٰی فَقَدْکَفَرَ

ترجمہ

”حذیفہ بن یمان سے روایت ہے کہ پیغمبر خدا نے فرمایا کہ علی بہترین انسان ہیں اور جو کوئی اس حقیقت سے انکار کرے گا، اُس نے گویا کفر کیا“۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ خطیب، تاریخ بغداد میں، (ترجمہ الرجل)جلد۳،صفحہ۱۹۲،شمارہ۱۲۳۴۔

۲۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب شرح حال امام علی ،جلد۲،صفحہ۴۴۴،حدیث۹۵۵(شرح محمودی)۔

۳۔ گنجی شافعی، کفایة الطالب میں،باب۶۲،صفحہ۲۴۴۔

۴۔ بلاذری، انساب الاشراف ، حدیث۳۵،باب شرح حال علی ،ج۲،ص۱۰۳،اشاعت اوّل،بیروت۔

۵۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی،کتاب ینابیع المودة، باب۵۶،صفحہ۲۱۲۔

۶۔ حموینی،کتاب فرائد السمطین میں، باب۳۰،حدیث۱۲۷۔

۷۔ سیوطی، کتاب اللئالی المصنوعہ،جلد۱،صفحہ۱۶۹،۱۷۰،اشاعت اوّل۔

۸۔ متقی ہندی، کنزالعمال میں،جلد۱۱،صفحہ۶۲۵(موسسة الرسالہ،بیروت)۔


اٹھارہویں روایت

علی اور اُن کے شیعہ ہی قیامت کے روزکامیابی اور فلاح پانے والے ہیں

عَنْ عَلِیٍّ عَلَیْهِ السَّلَام قٰال: قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ یٰاعَلِیُّ اِذَکَانَ یَوْمُ الْقِیٰامَةِ یَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ قُبُوْرِهِمْ لِبَاسُهُمُ النُّوْرُ عَلٰی نَجٰائِبَ مِنْ نُوْرٍ أَزِمَّتُهَا یَٰواقِیتُ حُمْرٌتَزُقُّهُمُ الْمَلاٰ ئِکَةُ اِلَی الْمَحْشَرِفَقٰالَ عَلِیُّ تَبٰارَکَ اللّٰهُ مٰا اَکْرَمَ قَوْمًا عَلَی اللّٰهِ قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ یَاعَلِیُّ هُمْ اَهْلُ وِلٰایَتِکَ وَشِیْعَتُکَ وَمُحِبُّوْکَ،یُحِبُّوْنَکَ بِحُبِّی وَیُحِبُّوْنِی بِحُبِّ اللّٰهِهُمُ الْفٰائِزُوْنَ یَوْمَ الْقِیٰامَةِ

ترجمہ

”امیر المومنین علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ پیغمبر اکرم کا ارشاد ہے کہ یا علی ! قیامت کے روز قبروں سے ایک گروہ نکلے گا ،اُن کا لباس نوری ہوگا اور اُن کی سواری بھی نوری ہوگی۔ اُن سواریوں کی لجا میں یاقوت سرخ سے مزین ہوں گی۔فرشتے ان سواریوں کو میدان محشر کی طرف لے جارہے ہوں گے۔ پس علی علیہ السلام نے فرمایا:تبارک اللہ! یہ قوم پیش خدا کتنی عزت والی ہوگی۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا :’یا علی ! وہ تمہارے شیعہ اور تمہارے حُب دار ہوں گے۔ وہ تمہیں میری دوستی کی وجہ سے دوست رکھیں گے اور مجھے خدا کی دوستی کی وجہ سے دوست رکھیں گے اور وہی قیامت کے روز کامیاب اور فلاح پانے والے ہیں“۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب شرح حال امام علی ، ج۲،ص۳۴۶،۸۴۶،شرح محمودی

۲۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب۸۶،صفحہ۳۱۳۔

۳۔ خطیب، تاریخ بغداد میں، شرح حال فضل بن غانم،شمارہ۶۸۹۰،جلد۱۲،صفحہ۳۵۸

۴۔ ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں،جلد۱۰،صفحہ۲۱اورجلد۹،صفحہ۱۷۳۔

۵۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، حدیث۳۳۹،صفحہ۲۹۶،اشاعت اوّل۔


۶۔ بلاذری، انساب الاشراف،باب شرح حال علی ،جلد۲،صفحہ۱۸۲،اشاعت اوّل۔

۷۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب مناقب،صفحہ۲۸۱،حدیث۴۵۔

۸۔ ذہبی،کتاب میزان الاعتدال میں،جلد۱،صفحہ۴۲۱،شمارہ۱۵۵۱۔

۹۔ حافظ الحسکانی، شواہد التنزیل میں، حدیث۱۰۷(سورئہ بقرہ آیت ۴کی تفسیر میں)۔

۱۰۔ طبرانی، معجم الکبیر میں، شرح حالابراهیم المکنی بأبی ،جلد۱،صفحہ۵۱۔

اُنیسویں روایت

اہم کاموں کیلئے علی کا انتخاب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتا تھا

عَنْ زَیدِبْنِ یَشِیعَ قٰالَ بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰهِ اَبَابَکْرٍبِبَرٰاء ةٍ،ثُمَّ اَ تْبَعَهُ عَلِیاً فَلَمَّا قَدَمَ اَ بُوْبَکْرٍقٰالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ أَنْزَلَ فِی شَی؟ قٰالَ لَا وَلٰکِنِّی اُمِرْتُ اُبَلِّغَهٰا أَنَااَ وْرَجُلٌ مِنْ اَهْلِ بَیْتِیْ

ترجمہ

ٍ ”زید بن یشیع کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام نے حضرت ابوبکر کو سورئہ برائت کے ساتھ(مکہ) روانہ کیاتاکہ مشرکین مکہ کیلئے تلاوت فرمائیں ۔تھوڑی ہی دیر کے بعد علی علیہ السلام کو اُن کے پیچھے بھیجا،علی علیہ السلام نے وہ سورہ اُن سے واپس لے لیا۔جب حضرت ابوبکر واپس آئے تو عرض کیا:’یا رسول اللہ! کیا میرے بارے میں کوئی چیز نازل ہوئی ہے؟‘ پیغمبر خدا نے فرمایا:’نہیں،لیکن خدائے بزرگ کی جانب سے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اس سورہ کی کوئی تبلیغ نہ کرے سوائے میرے یامیری اہل بیت کا کوئی فرد‘۔“

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ بلاذری، انساب الاشراف ، شرح حال علی ،حدیث۱۶۴،جلد۲،صفحہ۱۵۵،اشاعت اوّل،بیروت۔

۲۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق میں، شرح حال امام علی ،،جلد۲،صفحہ۳۷۶،احادیث۸۷۱تا۸۷۳اور اُس کے بعد(شرح محمودی)۔

۳۔ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ میں جلد۵،صفحہ۳۷اور جلد۷،صفحہ۳۵(باب فضائل علی )۔


۴ ۔ احمد بن حنبل، المسند میں، جلد۱،صفحہ۳۱۸،روایت۱۲۹۶۔

۵۔ ابن مغازلی، مناقب میں، حدیث۲۶۷اوراس کے بعد صفحہ۲۲۱،اشاعت اوّل۔

۶۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب۶۲،صفحہ۲۵۴،اشاعت الغری۔

۷۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب۱۸،صفحہ۱۰۱۔

۸۔ ترمذی اپنی سنن میں، حدیث۸،(باب مناقب علی علیہ السلام)جلد۱۳،صفحہ۱۶۹۔

بیسویں روایت

علی کا چہرہ دیکھنا عبادت ہے

عَنْ اَبِی ذَرٍ قٰالَ: قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم مَثَلُ عَلِیٍّ فِیکُمْاَوْقٰالَ فِی هٰذِهِ الْاُمَّةِ کَمَثَلِ الْکَعْبَةِ الْمَسْتُوْرَةِ،اَلنَّظَرُ اِلَیْهَا عِبَادةٌ،وَالْحَجُّ اِلَیْهَا فَرِیْضَةً ۔

”ابوذر کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ علی کی مثال تمہارے درمیان یا اُمت کے درمیان کعبہ مستورہ کی مانند ہے کہ اُس کی طرف نظر کرنا عبادت ہے اور اُس کا قصد کرنا یا اُس کی جانب جانا واجب ہے“۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق شرح حال امام علی ، ج۲ص۴۰۶حدیث۹۰۵،شرح محموی

۲۔ سیوطی، تاریخ الخلفاء میں، صفحہ۱۷۲”اَلنَّظَرُ اِلٰی عَلیٍّ عِبَادة“

۳ ابن اثیر، اسدالغابہ میں،جلد۴،صفحہ۳۱(بمطابق نقل آثار الصادقین،جلد۱۴،صفحہ۲۱۳”اَنْتَ بِمَنْزِلَةِ الْکَعْبَة“

۴۔ ابن مغازلی، مناقب میں، حدیث۱۴۹،صفحہ۱۰۶اور حدیث۱۰۰،صفحہ۷۰۔

۵۔ حموینی، کتاب فرائد السمطین ، جلد۱،صفحہ۱۸۲(بمطابق نقل آثار الصادقین، جلد۱،صفحہ۱۸۲)”کعبہ اور علی کی طرف نظر کرنا عبادت ہے“۔


۶۔ حاکم، المستدرک ،حدیث۱۱۳،باب مناقب علی ،جلد۳،صفحہ۱۴۱’اَلنَّظَرُ اِلٰی وَجْهِ علی عبادة‘

۷۔ ابونعیم ،حلیة الاولیاء ، شرح حال اعمش،ج۵ص۵۸’اَلنَّظَرُ اِلٰی وَجْهِ علی عباده‘

۸۔ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ میں، جلد۷،صفحہ۳۵۸”اَلنَّظَرُ اِلٰی وَجْهِ علی عبادة“

۹۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب۳۴،صفحہ۱۶۰اور۱۶۱۔

۱۰۔ ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں،جلد۴،صفحہ۱۲۷،شمارہ۸۵۹۰اور جلد۱،صفحہ

۵۰۷،شمارہ۱۹۰۴”اَلنَّظَرُ اِلٰی وَجْهِ علی عبادة“

اکیسویں روایت

حکمت و دانائی کو دس حصوں میں تقسیم کیا گیا، اُن میں سے نوحصے علی علیہ السلام کو دئیے گئے

عَنْ عَلْقَمَةِ،عَنْ عَبدِاللّٰهِ قٰالَ کُنْتُ عِنْدَالنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم فَسُئِلَ عَنْ عَلِیٍّ فَقٰال:قُسِّمَتِ الْحِکْمَةُ عَشَرَةَ اَجْزٰاءٍ فَأُعْطِیَ عَلِیٌّ تِسْعَةَ اَجْزَاءٍ والنَّاسُ جُزْءٌ وَاحِدٌ

”علقمہ سے روایت کی گئی کہ عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تھا۔ اس دوران حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا گیا۔ پیغمبر اکرم نے فرمایا کہ دانائی کو دس حصوں میں تقسیم کیا گیا، ان میں سے نو( ۹) حصے حضرت علی علیہ السلام کودئیے گئے اور ایک حصہ باقی تمام لوگوں کو دیا گیا ہے“۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابونعیم، کتاب حلیة الاولیاء میں، باب شرح حال امیر المومنین ، جلد۱،صفحہ۶۴۔

۲۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب شرح حال امام علی ،جلد۲،صفحہ۴۸۱،حدیث۹۹۹۔

۳۔ ابویوسف بن عبداللہ، استیعاب ، ج۳،ص۱۱۰۴،روایت۱۸۵۵کے ضمن میں۔

۴۔ ذہبی، میزان الاعتدال ، حدیث۴۹۹،جلد۱،صفحہ۵۸اور اشاعت بعد،ص۱۲۴۔

۵۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، حدیث۳۲۸،صفحہ۲۸۶،اشاعت اوّل۔


۶۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة، باب مناقب السبعون،حدیث۴۷،صفحہ۲۸۲

۷۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب۵۹،صفحہ۲۲۶اور صفحہ۲۹۲،۳۳۲۔

۸۔ حموینی، کتاب فرائد السمطین میں، حدیث۷۶،باب۱۰اور دوسرے ابواب۔

بائیسویں روایت

پیغمبر اکرم علم کا شہر ہیں اور علی اُس کا دروازہ ہیں

عَن الصَّنٰابجِی،عَن عَلِیٍّ عَلَیْهِ السَّلاٰم قٰالَ:قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ اَنَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُهَافَمَنْ اَرٰادَالْعِلْمَ فَلْیَأتِ بٰابَ الْمَدِیْنَةِ ۔

ترجمہ

”صنابجی حضرت علی علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی علیہ السلام اُس کا دروازہ ہیں۔ جو کوئی علم چاہتا ہے، وہ شہر علم کے در سے آئے“۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن عساکر،تاریخ دمشق ، باب شرح حال امام علی ،جلد۲،صفحہ۴۶۴،حدیث۹۸۴۔

۲۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، حدیث۱۲۰،صفحہ۸۰،اشاعت اوّل۔

۳۔ سیوطی، کتاب تاریخ الخلفاء میں، صفحہ۱۷۰اور جامع الصغیر میں،حدیث۲۷۰۵۔

۴۔ حاکم، المستدرک میں، جلد۳،صفحہ۱۲۶۔

۵۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں، صفحہ۱۵۳اور مناقب السبعون میں صفحہ۲۷۸،حدیث۲۲،باب۱۴،صفحہ۷۵۔

۶۔ خطیب ،تاریخ بغداد،باب شرح حال عبدالسلام بن صالح: ابی الصلت الھروی، جلد۱۱،صفحہ۴۹،۵۰،شمارہ۵۷۲۸۔


۷۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب۵۸،صفحہ۲۲۱۔

۸۔ ذہبی،کتاب میزان الاعتدال میں،جلد۱،صفحہ۴۱۵،شمارہ۱۵۲۵۔

۹۔ ابوعمریوسف بن عبداللہ ، کتاب استیعاب میں، جلد۳،صفحہ۱۱۰۲،روایت۱۸۵۵۔

۱۰۔ حافظ ابونعیم، کتاب حلیة الاولیاء میں،جلد۱،صفحہ۶۴۔

۱۱۔ ابن کثیر،کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد۷،صفحہ۳۵۹،باب فضائل علی علیہ السلام۔

۱۲۔ خوارزمی، کتاب مقتل ، باب۴،صفحہ۴۳۔

تئیسویں روایت

علی ہی وصیِ برحق اوروارث پیغمبر ہیں

عَنْ اَبِی بُرَیْدَةِ عَن اَبِیْهِ: قٰالَ،قٰالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم لِکُلِّ نَبِیٍّ وَصِیٌ وَوَارِثٌ وَاِنَّاعَلِیًا وَصِیِّی وَوَارِثِی ۔

”ابی بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا کہ ہر نبی کا کوئی وصی اور وارث ہوتا ہے اور بے شک علی علیہ السلام میرے وصی اور وارث ہیں“۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، حدیث۲۳۸،صفحہ۲۰۱،اشاعت اوّل۔

۲۔ ابن عساکر ،تاریخ دمشق ، باب شرح امام علی ،ج۳،ص۵،حدیث۱۰۲۲شرح محمودی

۳۔ ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں، جلد۴،صفحہ۱۲۷،۱۲۸،شمارہ۸۵۹۰۔

۴۔ گنجی شافعی،کتاب کفایة الطالب میں، باب۶۲،صفحہ۲۶۰۔

۵۔ ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں، جلد۹،صفحہ۱۱۳اورجلد۷،صفحہ۲۰۰۔

۶۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں، باب۱۵،صفحہ۹۰اور۲۹۵۔

۷۔ سیوطی، کتاب اللئالی المصنوعة میں، جلد۱،صفحہ۱۸۶،اشاعت اوّل(بولاق)


۸۔ حافظ الحسکانی، کتاب شواہد التنزیل میں، تفسیر آیت۳۰سورئہ بقرہ۔

۹۔ حموینی، کتاب فرائد السمطین میں، باب۵۲،حدیث۲۲۲۔

۱۰۔ خوارزمی، کتاب مناقب میں، حدیث۲۲،باب۱۴،صفحہ۸۸اور دوسرے۔

چوبیسویں روایت

علی اور آپ کے سچے صحابیوں کودوست رکھنا واجب ہے

عَنْ سُلَیْمٰانِ بْنِ بُرِیْدَةَ عَنْ ابیهِ قٰالَ: قٰالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم اِنَّ اللّٰهَ تَبَارَکَ وَتَعٰالٰی أَمَرَنِی أَنْ اُحِبَّ اَرْبَعَةً قٰالَ قُلْنٰامَنْ هُمْ؟ قٰالَ،عَلِیُّ وَاَ بُوْذَرْ وَالْمِقْدٰادُ وَسَلْمٰانُ ۔

ترجمہ

”سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ’پیغمبر اکرم نے مجھ سے فرمایا کہ بے شک اللہ تبارک وتعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ چار افراد کو دوست رکھوں‘۔ میں نے عرض کیا کہ وہ کون افراد ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ وہ علی ، ابوذر،مقداد اور سلمان ہیں“۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق میں، باب شرح حال مقداد،صفحہ۱۰۰اور اس کتاب کےترجمہ امام علیہ السلام،جلد۲،صفحہ۱۷۲،حدیث۶۵۸(شرح محمودی)۔

۲۔ حاکم، المستدرک میں، جلد۳،صفحہ۱۳۰،۱۳۷۔

۳۔ ابن ماجہ قزوینی اپنی کتاب سنن میں،جلد۱،صفحہ۶۶،حدیث۱۴۹۔

۴۔ ابونعیم،کتاب حلیة الاولیاء ،ترجمہ مقداد،ج۱،ص۱۷۲،شمارہ۲۸اورج۱،ص۱۹۰

۵۔ گنجی شافعی، کفایة الطالب ، باب۱۲،صفحہ۹۴(صرف علی کے نام کاذکر ہے)۔


۶۔ ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں، جلد۹،صفحہ۱۵۵۔

۷۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، حدیث۳۳۱،صفحہ۲۹۰۔

۸۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں، باب۵۹،صفحہ۳۳۷،حدیث۵۔

۹۔ سیوطی، کتاب تاریخ الخلفاء میں،صفحہ۱۶۹۔

۱۰۔ بخاری اپنی کتاب میں، باب شرح حال ابی ربیعہ ایادی، شمارہ۲۷۱،صفحہ۳۱۔

پچیسویں روایت

علی حق کے ساتھ ہیں اورحق علی کے ساتھ ہے

عَنْ اَبِی ثٰابِتٍ مَولٰی اَبِی ذَر قٰالَ دَخَلْتُ عَلٰی اُمِّ سَلَمَة فَرَأیتُهَا تَبْکِی وَتذکُرُ عَلِیّاً وَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم یَقُوْلُ:عَلِیٌّ مَعَ الْحَقِّ وَالْحَقُّ مَعَ عَلِیٍّ وَلَنْ یَفْتَرِقٰا حَتّٰی یَرِدٰا عَلَیَّ الْحَوْضَ یَوْمَ الْقِیٰامَةِ ۔

ترجمہ

”ابو ثابت غلام حضرت ابوذر روایت کرتے ہیں کہ میں نے اُم سلمہ کو روتے ہوئے پایا ،وہ حضرت علی علیہ السلام کویاد کررہی تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ میں نے رسول اللہ سے سنا کہ انہوں نے فرمایا:’علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ، یہ دونوں جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ دونوں کنار حوض کوثر میرے پاس آپہنچیں گے‘ ۔“

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، صفحہ۲۴۴۔

۲۔ ابن عساکر،تاریخ دمشق ، باب شرح حال امام علی ، ج۳،ص۱۱۹،حدیث۱۱۶۲(شرح محمودی)۔

۳۔ حاکم، المستدرک میں،حدیث۶۱،جلد۳،صفحہ۱۲۴(باب مناقب علی علیہ السلام)۔


۴۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں، باب۲۰،صفحہ۱۰۴۔

۵۔ خطیب، تاریخ بغداد ،ترجمہ یوسف بن محمد المودب،ج۱۴،ص۳۲۱،شمارہ۷۶۴۳۔

۶۔ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ میں،جلد۷،صفحہ۳۲۱(آخر باب فضائل علی علیہ السلام)۔

۷۔ ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں، جلد۹،صفحہ۱۳۵۔

۸۔ خوارزمی، کتاب مناقب میں، صفحہ۲۲۳۔

۹۔ ترمذی اپنی کتاب سنن میں، حدیث۳،جلد۱۳،صفحہ۱۶۶(باب مناقب علی )۔

۱۰۔ متقی ہندی، کنز العمال ،ج۱۱،ص۶۲۱،۶۲۳(موسسة الرسالة،بیروت، پنجم)۔

چھبیسویں روایت

علی قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی کے ساتھ ہے

عَنْ اُمِّ سَلَمَةِ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم یَقُوْلُ:عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ مَعَ الْقُرْآنِ وَالْقُرْآنُ مَعَه،لَا یَفْتَرِقٰانِ حَتّٰی یَرِدٰاعَلَیَّ الْحَوْضَ

ترجمہ

”جناب اُم سلمہ روایت کرتی ہیں کہ میں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا کہ علی قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں باہم جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ کنار حوض کوثر یہ دونوں مجھ تک آپہنچیں گے“۔


حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ حاکم، المستدرک میں،جلد۳،صفحہ۱۲۴۔

۲۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی ، کتاب ینابیع المودة میں، باب۲۰،صفحہ۱۰۳۔

۳۔ ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں،جلد۹،صفحہ۱۳۴۔

۴۔ سیوطی، کتاب تاریخ الخلفاء میں، صفحہ۱۷۳(باب فضائل علی علیہ السلام میں)۔

۵۔ متقی ہندی، کنزالعمال ،جلد۱۱،صفحہ۶۰۳۲(موسسة الرسالہ،بیروت،پنجم)

ستائیسویں روایت

پیغمبر اکرم کے بعد علی کی اتباع اور پیروی کرنا لازم ہے

عَنْ اَبِی لَیْلٰی الْغَفٰارِی، قٰالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ یَقُوْلُ:

سَتَکُوْنُ مِنْ بَعْدِی فِتْنَةٌ فَاِذٰاکَانَ ذٰالِکَ فَاَلْزِمُوْا عَلِیَّ ابْنَ ابِی طَالِبْ فَاِنَّه اَوَّلُ مَنْ یَرٰانِیْ وَاَوَّلُ مَنْ یُصٰافِحُنِی یَوْمَ الْقِیٰامَةِ،وَهُوَ مَعِی فِی السَّمٰاءِ الْاَ عْلٰی وَهُوَ الْفٰارُوْقُ مِنَ الْحَقَّ وَالْبَاطِلِ

ترجمہ

”ابولیلیٰ غفاری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے سنا کہ آپ نے فرمایا:

’میری زندگی کے بعد فتنہ پیدا ہوگا، ان حالات میں لازم ہے کہ تم پیرو علی ابن ابی طالب علیہما السلام رہو کیونکہ حقیقت میں قیامت کے دن سب سے پہلے وہی مجھے دیکھیں گے اور سب سے پہلے مجھ سے مصافحہ کریں گے اور وہی اعلیٰ آسمانوں میں میرے ساتھ ہوں گے اور وہی ہیں جو حق اور باطل کو جداکرنے والے ہیں‘۔“


حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب شرح حال امام علی ،ج۳،ص۱۲۳،حدیث۱۱۶۴،شرح محمودی۔

۲۔ ذہبی، میزان الاعتدال ،جلد۲،صفحہ۳،(صرف الدال)۲۵۸۷اورجلد۱،ص۱۸۸،شمارہ۷۴۰۔

۳۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں، صفحہ۹۳،۱۵۲،باب۴۳۔

۴۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں،باب۴۴،صفحہ۱۸۸۔

۵۔ طبرانی،مسند ابی رافع ابراہیم میں معجم الکبیر سے، جلد۱،صفحہ۵۱۔

۶۔ متقی ہندی کنزالعمال ،جلد۱۱،صفحہ۶۱۲(موسسة الرسالہ، بیروت، اشاعت پنجم)

فضائل امام علی علیہ السلام احادیث کی نظر میں۔۲

اٹھائیسویں روایت

علی قرآن کے حقیقی حامی اور دفاع کرنے والے ہیں

عَنْ اَبِیْ سَعِیْدَ الْخَدْرِی قٰالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم یَقُوْلُ:اِنَّ مِنْکُمْ مَنْ یُقَاتِلُ عَلٰی تَاوِیْلِ الْقُرْآنِ کَمَاقَا تَلْتُ عَلٰی تَنْزِیْلِهقَالَ اَبُوبَکر:اَنَا هُوَ یَارَسُوْلَ اللّٰهِ؟قَالَ: لَاقٰالَ عُمَرُ:فَاِنَّا هُوَ یَارَسُوْلَ اللّٰه؟قٰالَ:لَا وَلٰکِنْ خٰاصِفُ النَّعْلِ قٰالَ(ابوسعید)وَکَان قَدْ اَعْطِیْ عَلِیّاً نَعْلُه یَخْصِفُهَا ۔

ترجمہ

”ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ میں نے پیغمبر اکرم سے سنا کہ آپ نے فرمایا:

’بے شک تم میں وہ کون ہے جو قرآن کی تاویل(حکم باطن) پر جنگ کرے گا جس طرح میں نے قرآن کی تنزیل(حکم ظاہر) پر (مشرکین سے) جنگ کی تھی۔حضرت ابوبکر نے کہا:’یا رسول اللہ! کیا وہ شخص میں ہوں؟‘پیغمبر اسلام نے فرمایا:’نہیں‘۔حضرت عمر نے کہا:’یا رسول اللہ! کیا وہ شخص میں ہوں؟‘پیغمبر اکرم نے فرمایا:’نہیں، لیکن وہ شخص وہ ہے جو جُوتا مرمت کررہا ہے‘۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ یہ واقعہ اُس وقت ہوا جب پیغمبر اسلام نے اپنا جوتا حضرت علی علیہ السلام کو دیا تھا کہ وہ اُس کی مرمت کردیں“۔


حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ میں،جلد۷،صفحہ۳۶۱(باب فضائل علی ،آخری حصہ)۔

۲۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب شرح حال امام علی ، ج۳،ص۱۳۰،حدیث۱۱۷۱(شرح محمودی)۔

۳۔ حاکم، المستدرک میں، جلد۳،صفحہ۱۲۲،حدیث۵۳(باب فضائل علی علیہ السلام)۔

۴۔ ابن مغازلی، مناقب میں، صفحہ۲۹۸،حدیث۳۴۱،اشاعت اوّل۔

۵۔ ہیثمی، مجمع الزوائد میں، جلد۵،صفحہ۱۸۶اور جلد۶،صفحہ۲۴۴اورجلد۹،صفحہ۱۳۳۔

۶۔ ابن ابی الحدید، نہج البلاغہ میں، باب شرح المختار ،جلد۳،صفحہ۲۰۶۔

۷۔ سیوطی، تاریخ الخلفاء میں، صفحہ۱۷۳۔

۸۔ حافظ ابونعیم، حلیة الاولیاء ، جلد۱،صفحہ۶۷(باب شرح حال امیرالمومنین علی میں)۔

۹۔ خطیب، تاریخ بغداد میں، جلد۱،صفحہ۱۳۴(باب شرح حال امیرالمومنین )شمارہ۱۔

۱۰۔ گنجی شافعی، کفایة الطالب ، باب۹۴،صفحہ۳۳۳اور دوسری اشاعت میں صفحہ۱۹۱۔

۱۱۔ٍ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں، صفحہ۲۴۷اور باب۱۱،صفحہ۶۷۔

اُنتیسویں روایت

علی کو ناکثین،قاسطین اور مارقین سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا

عَنْ عَلِیٍّ قٰالَ: أَمَرَنِی رَسُوْلُ اللّٰه صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم بِقِتَالِ النَّاکِثِیْنَ وَالْمٰارِقِیْنَ وَالقٰاسِطِیْنَ ۔

ترجمہ

”حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ناکثین، مارقین اور قاسطین کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے“۔


ناکثین: بیعت توڑنے والوں یعنی طلحہ و زبیر وغیرہ (اصحاب جنگ جمل مراد ہیں)۔

مارقین: جنگ نہروان کے خوارج۔

قاسطین: جنگ صفین میں لشکر معاویہ۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں، جلد۷،صفحہ۲۳۸اورجلد۵،صفحہ۱۸۶۔

۲۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق میں، باب حال امیر المومنین علی علیہ السلام،جلد۳،ص۱۵۸،

حدیث۱۱۹۵اور اُس کے بعد(شرح محمودی)۔

۳۔ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ میں،جلد۷،صفحہ۳۰۵،۳۶۲۔

۴۔ ابن عمر یوسف بن عبداللہ کتاب استیعاب میں،جلد۳،صفحہ۱۱۱۷،روایت۱۸۵۵۔

۵۔ خطیب، تاریخ بغداد میں، جلد۸،صفحہ۳۴۰،شمارہ۴۴۴۷۔

۶۔ ذہبی، میزان الاعتدال میں، ج۱،ص۲۷۱،شمارہ۱۰۱۴اور ص۴۱۰،شمارہ۱۵۰۵

۷۔ حاکم، المستدرک میں،جلد۳،صفحہ۱۳۹،حدیث۱۰۷(شرح حال امیرالمومنین )۔

۸۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب۴۳،صفحہ۱۵۲۔

۹۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب۳۷،صفحہ۱۶۷۔

۱۰۔ ابن ابی الحدید،نہج البلاغہ میں، شرح المختار(۴۸)جلد۳،صفحہ۲۰۷اور دوسرے۔


تیسویں روایت

نسل پیغمبر اکرم صُلب علی سے ہے

عَنْ جَابِر قٰالَ: قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم اِنَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ جَعَلَ ذُرِیَّةَ کُلِّ نَبِیٍ فِی صُلْبِهِ وَاِنَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ جَعَلَ ذُرِیَّتِی فِیْ صُلْبِ عَلِیِ بْنِ ابی طالب علیه السلام ۔

”جناب ابن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کی نسل کو اُس کے صلب میں رکھا اور بے شک میری نسل کوحضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے صلب میں رکھا‘۔“

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں ،باب۶۲،صفحہ۷۹اور۳۷۹۔

۲۔ ابن عساکر ،تاریخ دمشق ، باب حال علی ،ج۲،ص۱۵۹،حدیث۶۴۳،شرح محمودی۔

۳۔ ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں،جلد۹،صفحہ۱۷۲۔

۴۔ شیخ سلیمان قندوزی ، ینابیع المودة ، باب مناقب السبعون،ص۲۷۷،حدیث۲۰،صفحہ۳۰۰۔

۵۔ ابن مغازلی، مناقب میں، صفحہ۴۹۔

۶۔ متقی ہندی، کنزالعمال ، ج۱۱،صفحہ۶۰۰،موسسة الرسالہ، بیروت، اشاعت پنجم۔


اکتیسویں روایت

پیغمبر اکرم ،علی و فاطمہ حسن و حسین کے دشمنوں کے دشمن اور ان کے دوستوں کے دوست ہیں

عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ،قٰالَ : قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ لِعَلِیٍ وفاطِمَةَ وَبِالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ: اَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَکُمْ وَسِلْمٌ لِمَنْ سٰالَمَکُمْ

ترجمہ

”زید بن ارقم کہتے ہیں کہ رسول خدانے حضرت علی علیہ السلام ،جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا،امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام سے فرمایا:’میری اُس سے جنگ ہے جو تم سے جنگ پر ہے اور میری اُس سے صلح ہے جو تم سے صلح پر ہے‘۔“

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں،(دوسرا حصہ) صفحة۴۴۴۔

۲۔ حاکم، المستدرک میں،جلد۳،صفحہ۱۴۹۔

۳۔ ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں،جلد۹،صفحہ۱۶۹۔

۴۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، صفحہ۳۲۹،باب۹۳۔

۵۔ ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں،جلد۱،صفحہ۱۷۵،۱۷۶درشمارہ۷۱۲۔

۶۔ ابن ماجہ قزوینی اپنی کتاب میں،جلد۱،صفحہ۵۲،حدیث۱۴۵۔

۷۔ متقی ہندی، کنزالعمال ،ج۱۲،صفحہ۹۷(موسسة الرسالہ،بیروت،اشاعت پنجم)۔


بتیسویں روایت

علی سے دُوری پیغمبر اکرم سے دُوری ہے

عَنْ اَبِیْ ذَرْ قٰالَ: قٰالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم یٰاعَلِیُّ مَنْ فٰارَقَنِی فَقَدْ فٰارَقَ اللّٰهَ وَمَنْ فٰارَقَکَ یٰاعَلِیُّ فَقَدْ فٰارَقَنِی ۔

ترجمہ

”حضرت ابوذرغفاری کہتے ہیں کہ رسول خدانے فرمایا:’یا علی ! جو کوئی مجھ سے جدا ہوا، وہ خدا سے جدا ہوا اور جو تم سے جدا ہوا، وہ بالتحقیق مجھ سے جدا ہوا‘۔“

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ حاکم، المستدرک میں،جلد۳،صفحہ۱۲۴،۱۲۶۔

۲۔ ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں،جلد۲،صفحہ۴۹،روایت۲۷۷۹۔

۳۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة ،صفحہ۳۶۴(باب آیات قرآن جو علی کی شان

میں نازل ہوئیں)۔

۴۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ،باب شرح حال امام علی ،جلد۲،صفحہ۲۶۸،حدیث۷۸۹۔

۵۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب۴۴،صفحہ۱۸۹۔

۶۔ متقی ہندی، کتاب کنزالعمال،جلد۱۱،صفحہ


تینتیسویں روایت

محبان علی سعید و کامیاب ہیں اوردشمنان علی پر خدا کا غضب ہے

عَنْ اَبِیْ مَرْیَمَ الثَّقَفِیْ،سَمِعْتُ عَمَّارِ بْنِ یٰاسِر،سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم یَقُوْلُ لِعَلِیٍّ: یاعَلِیُّ طُوْبٰی لِمَنْ اَحَبَّکَ وَصَدَّقَ فِیْکَ وَوَیْلٌ لِمَنْ اَبْغَضَکَ وَکَذَّبَ فِیْکَ ۔

ترجمہ

”ابی مریم ثقفی سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے عمار بن یاسر سے سنا،عمار بن یاسر کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ رسول اللہ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:’یا علی !سعادت مند ہے وہ شخص جس نے تم سے محبت کی اور تمہاری تصدیق کی اور حیف ہے اُس شخص پر جس نے تم سے بغض رکھا اور تمہاری نفی کی‘۔“

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ حاکم، المستدرک میں،جلد۳،صفحہ۱۳۵۔

۲۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ،جلد۷،صفحہ۳۵۶۔

۳۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة،صفحہ۲۵۲۔

۴۔ ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں، جلد۳،صفحہ۱۱۸۔

۵۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق میں،باب حال امام علی ،جلد۲،صفحہ۲۱۱،حدیث۷۰۵۔

۶۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں،صفحہ۱۹۲،باب۴۶۔

۷۔ متقی ہندی، کنزالعمال ، ج۱۱،ص۶۲۳(موسسة الرسالہ، بیروت،اشاعت پنجم)


چونتیسویں روایت

علی دنیا و آخرت میں رسول خداکے بھائی ہیں

عَنْ اِبْنِ عمراَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم قٰالَ لِعَلیٍ:اَنْتَ أَخِیْ فِی الدُّ نْیَاوَالْآخِرَة ۔

ترجمہ روایت

”ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے علی علیہ السلام سے فرمایا کہ یا علی ! تم اس دنیا میں اور آخرت میں بھی میرے بھائی ہو“۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ذہبی،کتاب میزان الاعتدال میں،جلد۱،صفحہ۴۲۱،شمارہ۱۵۵۲۔

۲۔ سیوطی، تاریخ الخلفاء میں،صفحہ۱۷۰۔

۳۔ ابی عمر یوسف بن عبداللہ ،’استیعاب ‘،ج۳،ص۱۰۹۹،روایت۱۸۵۵کے تسلسل میں

۴۔ ابن کثیر کتاب البدایة والنہایہ میں،جلد۷،صفحہ۳۳۶،باب فضائل علی علیہ السلام۔

۵۔ متقی ہندی،کنزالعمال ،ج۱۱،ص۵۹۸(موسسة الرسالہ،بیروت،اشاعت پنجم)

پینتیسویں روایت

علی محبوب خدا ورسول ہیں اورمشکلوں کا حل اُن کے پاس ہے

عَنِ النَّبِی صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم قٰالَ یَوْمَ الْخَیْبَرِ:

لَاُعْطِیَنَّ الرّٰایَةَ غَدًارَجُلاً یُحِبُّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ وَیُحِبُّهُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ لَیْسَ بِفَرّٰارٍ،یَفْتَحُ اللّٰهُ عَلٰی یَدَیْهِ(فَبَعَثَ اِلٰی عَلِیٍ فَاَعطٰاهُ الرّٰایةَ)

ترجمہ

”پیغمبر اکرم نے خیبر کے روز فرمایا کہ کل میں عَلَم اُس کو دوں گا جو خدا اور رسول کو دوست رکھتاہوگا اور خداورسول بھی اُسے دوست رکھتے ہوں گے۔وہ(میدان جنگ سے) بھاگنے والا نہیں ہوگا اور خدا اُس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا(اگلے روز علی علیہ السلام کو پرچم عطافرمایا)“۔


بہت سی روایات جو اس ضمن میں موجود ہیں، اُن سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اُس دن(روز فتح خیبر) شروع میں دوسرے سردار اس قلعہ کو فتح کرنے کیلئے گئے لیکن کامیاب نہ ہوسکے ۔پس رسول خدا نے علی علیہ السلام کو اس کام کیلئے منتخب فرمایا۔ علی علیہ السلام کے جانے پر اور درخیبر کے اکھاڑنے پر یقینی فتح نصیب ہوئی۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابی عمر یوسف بن عبداللہ، کتاب استیعاب میں،جلد۳،صفحہ۱۰۹۹،روایت۱۸۵۵۔

۲۔ حافظ ابی نعیم،حلیة الاولیاء میں،جلد۱،صفحہ۶۲۔

۳۔ ابن کثیر ،کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد۷،صفحہ۳۳۷۔

۴۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب۱۴،صفحہ۹۸میں۔

۵۔ سیوطی، تاریخ الخلفاء میں،صفحہ۱۶۸۔

۶۔ بلاذری، کتاب انساب الاشراف میں،جلد۱،صفحہ۹۴،حدیث۱۲۔

۷۔ بخاری ،صحیح بخاری میں،جلد۵،صفحہ۷۹،حدیث۲۲۰،باب فضائل اصحاب النبی۔

۸۔ ابن ماجہ اپنی کتاب میں، جلد۱،صفحہ۴۳،حدیث۱۱۷۔

۹۔ متقی ہندی، کنزالعمال ،ج۱۳،ص۱۲۱(موسسة الرسالہ،بیروت،اشاعت پنجم)


چھتیسویں روایت

علی ہادی و مہدی ہیں اوراُن کا راستہ ہی صراط مستقیم ہے

عَنْ حذیفة،قٰالَ:قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم اِنْ وَلُّواعَلِیاً فَهٰادِیَاً مَهْدِیَاً(وَجَاءَ فِی روایةٍ اُخْریٰ اِنَّه قٰال صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم)اِنْ تُوَلُّوْاعَلِیاً وَجَدْ تُمُوْهُ هٰادِیاً مَهْدِیاً یَسْلُکُ بِکُمْ عَلَی الطَّرِیْقِ الْمُسْتَقِیْمِ ۔

”حذیفہ روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم نے ولایت اور سرداری علی ابن ابی طالب علیہما السلام کو قبول کیا(تو جان لو) کہ علی ہدایت کرنے والے ہیں اور خود ہدایت یافتہ ہیں اور دوسری روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ اگر تم ولایت علی کو قبول کرو تو تم اُس کو ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ پاؤ گے اور وہ تمہیں صراط مستقیم پر چلانے والاہے“۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن عمر یوسف بن عبداللہ، استیعاب ،ج۳،ص۱۱۱۴،روایت۱۸۵۵کا تسلسل۔

۲۔ ابن عساکر،تاریخ دمشق ، باب شرح حال امام علی ،جلد۳،صفحہ۶۸،حدیث۱۱۱۰۔

۳۔ حافظ ابونعیم، کتاب حلیة الاولیاء میں،جلد۱،صفحہ۶۴۔

۴۔ ابن کثیر،کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد۷،صفحہ۳۶۱(آخر باب فضائل علی )۔

۵ ۔ بلاذری، انساب الاشراف،ج۲،صفحہ۱۰۲،حدیث۳۴(اشاعت اوّل،بیروت)۔

۶۔ خطیب، تاریخ بغداد، باب شرح حال ابی الصلت الھروی،ج۱۱،ص۴۷،

شمارہ۵۷۲۸۔

۷۔ حاکم، المستدرک میں،جلد۳،صفحہ۱۴۲،باب فضائل علی علیہ السلام۔

۸۔ متقی ہندی، کنزالعمال ،ج۱۱،ص۶۱۲(موسسة الرسالہ، بیروت،اشاعت پنجم)


سینتیسویں روایت

پیغمبراکرم کا علی و فاطمہ کے گھر پر آیہ تطہیر کا پڑھنا

عَنْ اَبِی الْحَمْرَاء قٰالَ أَ قَمْتُ بِالْمَدِ یْنَةِ سَبْعَةَ اَشْهُرٍ کَیَوْمٍ وَاحِدٍ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم یَجِی کُلَّ غَدَاةٍ فَیَقُوْمُ عَلٰی بٰابِ فٰاطِمَةَ یَقُولُ:اَلصَّلَاة ”اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیْراً ۔(احزاب:۳۳)

”ابی الحمراء سے روایت کی گئی ہے ،وہ کہتے ہیں کہ میں سات ماہ تک متواتر مدینہ میں قیام پذیر رہا(اور اس چیز کا مشاہدہ کرتا رہا)۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہرروز صبح تشریف لاتے اور خانہ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا پر رُکتے اور فرماتے”الصَّلاة“اور پھر فرماتے:’اے اہل بیت ! سوائے اس کے نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کے رجس کو دور رکھے اور تم کو ایسا پاک کردے جیسا کہ پاک کرنے کا حق ہے‘۔“

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن عساکر ،تاریخ دمشق ،باب شرح حال امیر المومنین ،ج۱،حدیث۳۲۰تا۳۲۲۔

۲۔ بلاذری،انساب الاشراف ،ج۲،ص۱۵۷،۲۱۵اور اشاعت بیروت،صفحہ۱۰۴۔

۳۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب۶۲،صفحہ۲۴۲۔

۴۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة میں، باب۵،صفحہ۵۱۔

۵۔ حاکم، المستدرک میں،جلد۳،صفحہ۱۵۸۔

۶۔ ابن کثیر اپنی تفسیر میں،جلد۳،صفحہ۴۸۳،آیہ تطہیر کے ذیل میں۔

۷۔ متقی ہندی، کنز العمال ،ج۱۳،ص۶۴۶(موسسة الرسالہ،بیروت،اشاعت پنجم)


اڑہتیسویں روایت

جس نے علی کو تکلیف پہنچائی اُس نے گویا پیغمبر کو تکلیف پہنچائی

عَنْ عَمْروبْنِ شٰاسٍ اَنَّه سَمِعَ النَّبِیَّ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم یَقُوْلُ: مَنْ آذیٰ عَلِیّاً فَقَدْ آذانِیْ ۔

ترجمہ

”عمروبن شاس روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا کہ جس کسی نے علی کو اذیت پہنچائی، اُس نے گویا مجھے اذیت پہنچائی“۔

نوٹ یہی روایت کتاب استیعاب میں بہتر طور پراور تفصیل سے بیان کی گئی ہے یعنی پیغمبر اسلام نے فرمایا:

مَنْ اَحَبَّ عَلِیّاً فَقَدْ اَحَبَّنِیْ وَمَنْ اَبْغَضَ عَلِیّاً فَقَدْ اَبْغَضَنِیْ وَمَنْ آذیٰ عَلِیّاً فَقَدْ آذَانِیْ وَمَنْ آذَانِیْ فَقَدْ آذَی اللّٰه ۔

ترجمہ

”جس کسی نے علی علیہ السلام سے محبت کی، اُس نے گویا مجھ سے محبت کی اور جس کسی نے علی علیہ السلام سے بغض رکھا، اُس نے گویا مجھ سے بغض رکھا اور جس کسی نے علی کو اذیت پہنچائی،اُس نے گویا مجھے اذیت پہنچائی اور جس کسی نے مجھے اذیت پہنچائی، اُس نے گویا اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی“۔


حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق، باب شرح حال امام علی ،جلد۱،صفحہ۳۸۸،حدیث۴۹۵

(شرح محمودی)۔

۲۔ حاکم، المستدرک میں،جلد۳،صفحہ۱۲۲۔

۳۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی،ینابیع المودة،باب مناقب سبعون،صفحہ۲۷۵،حدیث۹۔

۴۔ احمد بن حنبل،المسند،حدیث بعنوان”حدیث عمروبن شاس الاسلمی“،جلد۳،صفحہ

۴۸۳،اشاعت اوّل۔

۵۔ ابی عمر یوسف بن عبداللہ ،استیعاب ،ج۳،ص۱۱۰۱،روایت۱۸۵۵اور صفحہ۱۱۸۳

۶۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں،باب۶۸،صفحہ۲۷۶۔

۷ بلاذری، انساب الاشراف ، حدیث۱۴۷،ج۲،ص۱۴۶،اشاعت بیروت،اوّل۔

۸۔ سیوطی، کتاب تاریخ الخلفاء میں،صفحہ۱۷۲۔

۹۔ متقی ہندی،کنزالعمال ، ج۱۱،صفحہ۶۰۱(موسسة الرسالہ، بیروت، اشاعت پنجم)

اُنتالیسویں روایت

زندگی اور موت میں رسول کے ساتھ اورجنت میں رسول کے ہمراہ ہونا ،یہ سب علی کی ولایت کے اقرار کے ساتھ مشروط ہیں

عَنْ زَیْد اِبنِ اَرْقَمْ قٰالَ،قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم مَنْ یُرِیْدُ اَنْ یَحْیٰی حَیٰاتِیْ وَیَمُوْتَ مَوْتِیْ وَیَسْکُنَ جَنَّةَ الْخُلْدِالَّتِیْ وَعَدَنِیْ رَبِّیْ،فَلْیَتَوَلِّ عَلَیَّ ابنَ اَبِیْ طَالِب فَاِنَّه لَنْ یُخْرِجَکُمْ مِنْ هُدیً وَلَنْ یُدْخِلَکُمْ فِی ضَلٰا لَةٍ ۔


ترجمہ

”زید بن ارقم سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جوکوئی بھی یہ چاہتا ہے کہ اُس کی زندگی اور موت میری نسبت سے منسلک رہے اور وہ جنت جس کا پروردگار نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے،اُسے نصیب ہو، اُس کو چاہئے کہ علی ابن ابی طالب علیہما السلام کو دوست رکھے کیونکہ وہ یقینا تمہیں ہدایت کے راستہ سے ہٹنے نہیں دیں گے اور یقینا گمراہی میں پڑنے نہیں دیں گے“۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ حاکم، المستدرک میں، جلد۳،صفحہ۱۲۸۔

۲۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب۴۳،صفحہ۱۴۹،۱۵۰۔

۳۔ حافظ ابی نعیم، کتاب حلیة الاولیاء،جلد۱(صفحہ۸۶)۔

۴۔ متقی ہندی،کنزالعمال،ج۱۱،ص۶۱۱(موسسة الرسالہ،بیروت ، اشاعت پنجم)

چالیسویں روایت

پیغمبر کا علی کی شہادت کی خبر دینااورآپ کے قاتل کو سب سے زیادہ شقی القلب قرار دینا

عَنْ عُثْمٰانَ ابْنِ صُهَیْبٍ،عَنْ اَبِیْهِ قٰالَ:قٰالَ عَلِیٌ قٰالَ لِی رَسُولُ اللّٰه مَنْ اَشْقَی الْاَوَّلِیْن؟قُلْتُ:عٰاقِرُالْنّٰاقِةِقٰالَ صَدَ قْتَ،فَمَنْ اَشْقَی الآخِرِیْنَ؟ قُلْتُ لَاعِلْمَ لِی رَسُوْلُ اللّٰهِ قٰالَ الَّذِیْ یَضْرِبُکَ عَلٰی هٰذِهِ وَاَشَارَ بِیَدِهِ اِلٰی یٰافُوْخِهِ وَکَانَ(عَلِیٌ)یَقُوْلُ:وَدَدْتُ اَنَّه قَدِانْبَعَثَ اَشْقٰاکُمْ فَخَضِبَ هٰذِهِ مِنْ هٰذِهِیَعْنِی لِحْیَتَهُ مِنْ دَمِ رَأسِهِ


ترجمہ

”عثمان بن صہیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ’علی علیہ السلام نے فرمایا کہ رسول خدا نے مجھ سے فرمایا کہ پہلے آنے والوں میں بدبخت ترین شخص کون ہے؟ میں نے عرض کی کہ ناقہ صالح کو کاٹنے والا۔ آپ نے فرمایا:یا علی ! تم نے سچ کہا،اور آخرمیں آنے والوں میں بدبخت ترین شخص کون ہے؟ میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ! میں نہیں جانتا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ جوکوئی تمہارے سر پرمارے گا اور اپنے ہاتھ سے علی کے سر کی طرف اشارہ کیا۔ علی ساتھ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ میں اس چیز کو پسند کرتا ہوں کہ شقی ترین شخص اُٹھے اور میری ریش کو میرے سر کے خون سے خضاب کرے“۔

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے

۱۔ ابن عساکر،تاریخ دمشق ، باب شرح حال علی ،جلد۳،صفحہ۲۸۲،حدیث۱۳۷۱۔

۲۔ ابن کثیر،کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد۷،صفحہ۳۲۴۔

۳۔ ہیثمی،کتاب مجمع الزوائد میں،جلد۹،صفحہ۱۳۶۔

۴۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودةمیں، باب۵۹،صفحہ۲۱۶اور۳۳۹۔

۵۔ متقی ہندی،کنزالعمال ،ج۱۳،ص۱۹۰(موسسة الرسالہ، بیروت، اشاعت پنجم)

۶۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، صفحہ۴۶۳۔

۷۔ سیوطی ،تاریخ الخلفاء میں،صفحہ۱۷۳۔

۸۔ خطیب، تاریخ بغداد میں،جلد۱،صفحہ۱۳۵(باب حال علی ،شمارہ۱)اور دوسرے۔

۹۔ اس ضمن میں بہت سی روایات موجود ہیں۔منجملہ روایت ابی رافع کہ وہ کہتے ہیں کہ

پیغمبر اسلام نے علی علیہ السلام سے فرمایا:”اَنْتَ تَقْتَلُ عَلٰی سُنَّتِی “۔”یا علی ! تم

میری سنت اور روش پر قتل کئے جاؤگے“۔ابن عساکر ،تاریخ دمشق میں، باب شرح

حال امام علی ،جلد۳،ص۲۶۹،حدیث۱۳۴۷اور دوسرے۔


فضائل علی علیہ السلام روایات کی نظر میں

(ا)۔عَنْ ابنِ عباس قٰالَ:قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوْ اَنَّ الرَّیَاضَ اَقْلَامٌ وَالبَحْرَ مِدَادٌ وَالْجِنَّ حُسَّابٌ وَالْاِنْسَ کُتَّابٌ مٰااَحْصَوْافَضٰائِلَ عَلِی ۔

”پیغمبر اکرم نے فرمایا:’اگر تمام درخت قلم بن جائیں اور تمام سمندر سیاہی بن جائیں اور تمام جن حساب کرنے والے بن جائیں، تمام انسان لکھنے والے بن جائیں تو یہ سب مل کر بھی علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے فضائل شمار نہیں کرسکیں گے“۔

حوالہ جات

۱۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب ،باب۶۲،صفحہ۲۵۱۔

۲۔ شیخ سلیمان قندوزی،ینابیع المودة، باب مناقب السبعون،صفحہ۲۸۶،حدیث۷۰۔

(ب)۔عَن انس بن مٰالِک،اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم قٰالَ لِعَلِیٍّ:اَنْتَ تُبَیِّنُ لِاُمَّتِی مَااخْتَلَفُوْا فِیْهِ بَعْدِی ۔

”انس بن مالک سے روایت کی گئی ہے کہ پیغمبر اسلام نے علی علیہ السلام سے فرمایا کہ تم میری اُمت کے لئے اُس چیزکوبیان کرنے والے (واضح کرنے والے)ہو جس میں میری اُمت میرے بعد اختلاف کرے گی“۔

حوالہ جات

۱۔ حاکم، المستدرک میں،جلد۳،صفحہ۱۲۲۔

۲۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب حال امام ج۲،ص۴۸۶،حدیث۱۰۰۵شرح محمودی


(ج)۔قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم اَنَاالشَّجَرَةُ وَفَاطِمَةُ فَرْعُهَاوَعَلِیٌ لِقٰاحُهٰا وَالْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ ثَمَرَتُهَا وَشِیْعَتُنَاوَرَقُهَاوَاَصْلُ الشَّجَرَةِ فِیْ جَنَّةِ عَدْنٍ وَسَائِرُذٰالِکَ فِی سَائِرِالْجَنَّةِ ۔

”رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری مثال ایک درخت کی سی ہے اور فاطمہ سلام اللہ علیہا اُس کی شاخ ہیں اور علی علیہ السلام اس درخت کو باردارکرنے والے ہیں۔حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام اس کے پھل ہیں اور ہمارے شیعہ اس کے پتے ہیں ۔ اس درخت کی جڑ جنت عدن میں ہے اور بقیہ حصہ جنت میں ہے“۔

حوالہ جات

۱۔ حاکم، المستدرک میں،جلد۳،صفحہ۱۶۰۔

۲۔ ذہبی، میزان الاعتدال میں،جلد۱،صفحہ۵۰۵،شمارہ۱۸۹۶اور دوسرے۔

(د) عَنْ جٰابِرٍ:أَمَرَنَارَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم اَنْ نَعْرِضَ اَوْلٰادَنٰا عَلٰی حُبِّ عَلِی ابنِ اَبِیْ طَالِبْ

”جابر کہتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اپنی اولاد کو امام علی علیہ السلام کی دوستی سے پرکھئے“(تاکہ اُن کے حلال زادہ ہونے کی تصدیق ہوسکے)۔

حوالہ جات

۱۔ ذہبی، میزان الاعتدال میں،جلد۱،صفحہ۵۰۹،شمارہ۱۹۰۴۔

۲۔ ابن عساکر،تاریخ دمشق ،باب شرح حال امام علی ،ج۲،ص۲۲۵،حدیث شمارہ۷۳۰


(یااَیُّهَاالنَّاس اِمْتَحِنُوْااَوْلَادَکُمْ بِحُبِّ عَلِیٍّ عَلَیْهِ السَّلَام)

(”اے لوگو! اپنی اولاد کی علی علیہ السلام کی محبت سے آزمائش کرو“)

اور نیز ترجمہ مذکو ر میں جلد۲،صفحہ۲۲۴پر روایت کی گئی ہے کہ:

(قٰالَتِ الْاَنْصَار:اِنَّ کُنَّالَنَعْرِفَ الرَّجَلُ اِلٰی غَیْرِ اَبِیْهِ بِبُغْضِه عَلِی)

(”انصار کہتے ہیں کہ حرام زادے افراد کو ہم علی علیہ السلام کے بغض سے پہچانتے تھے“)۔

(ه) قٰالَ النَّبِیُ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم لَوِاجْتَمَعَ النّٰاسُ عَلٰی حُبِّ عَلِیِّ ابْنِ اَبِی طَالِبِ لَمْ یَخْلُقِ اللّٰهُ النّٰارَ

”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’اگر تمام لوگ محبت علی علیہ السلام پر اتفاق کرتے(یعنی کوئی علی علیہ السلام کا مخالف نہ ہوتا) تو خداوند تعالیٰ جہنم کو پیدا نہ کرتا‘۔“

حوالہ جات

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة،باب مناقب السبعون،صفحہ۲۸۱،حدیث

۴۱اور باب۴۲،صفحہ۱۴۷اور صفحہ۱۰۴اور اسی طرح خوارزمی مناقب میں اور دوسرے بھی۔

(و)۔ جنگ بدر میں منادی دینے والے کی آواز آئی:

”لَا فَتٰی اِلَّا عَلِیٌ لَا سَیْفَ اِلَّا ذُوْالفِقٰار“

”کوئی جوان نہیں سوائے علی علیہ السلام کے اور کوئی تلوار نہیں سوائے ذوالفقار کے“۔


حوالہ جات

۱۔ ابن مغازلی، مناقب میں، صفحہ۱۹۷(یوم الاحد)۔

۲۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد۷،صفحہ۳۳۷۔

۳۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، باب۶۹،صفحہ۲۷۷۔

۴۔ شیخ سلیمان قندوزی،ینابیع المودة ،باب۱۵،ص۱اور باب۵۳،صفحہ۱۸۵اور۲۴۶

۵۔ ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں، جلد۳،صفحہ۳۲۴،شمارہ۶۶۱۳۔

۶۔ محب الدین طبری، کتاب ذخائرالعقبیٰ ، صفحہ۷۴،اشاعت قدس مصر اور دوسرے۔

جس وقت حضرت علی علیہ السلام جنگ بدر میں(بعض روایات میں جنگ اُحد) اپنی شجاعت و بہادری بے نظیر سے دشمنوں کی صفوں کو چیررہے تھے اور اُن پر حملوں پر حملے کررہے تھے،اُس وقت آسمان سے ایک آواز آئی اور جس کو سب نے سنا جو یہ تھی:

”لَا فَتٰی اِلَّا عَلِیٌ لَا سَیْفَ اِلَّا ذُوْالفِقٰار“

اس اہم روایت کو بہت زیادہ علمائے شیعہ اور سنی نے نقل کیا ہے۔ البتہ بعض نے اس کو اس طرح نقل کیا ہے:

”لَاسَیْف اِلَّا ذُوْالْفِقٰارلَافَتٰی اِلَّا عَلِی “

(ز) عَنْ علی قٰالَ:اَوْصٰانِی النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ عَنْ لاٰ یُغَسِّلُهُ اَحَدٌ غَیْرِیْ

حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی گئی ہے ،انہوں نے فرمایا کہ مجھے نبی اکرم نے وصیت فرمائی کہ یا علی ! سوائے تمہارے مجھے اور کوئی غسل نہ دے۔(یہ روایت اس حقیقت کی دلیل ہے کہ معصوم کو سوائے معصوم کے نہ کوئی غسل دے اور نہ نماز پڑھائے)۔

حوالہ

متقی ہندی، کتاب کنزالعمال میں، جلد۷،صفحہ۲۵۰،اشاعت بیروت(موسسة الرسالہ،صفحہ۱۴۰۵اشاعت پنجم)اور دوسرے۔


(ح) عَنْ علی علیه السلام قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰه صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم: لَوْلَاکَ یَاعَلِیُّ مَا عُرِفَ الْمُومِنُوْنَ مِنْ بَعْدِی ۔

”حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی گئی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’یا علی ! اگر تم نہ ہوتے تو میرے بعد مومنین پہچانے نہ جاتے‘۔“

حوالہ روایت

متقی ہندی، کنزالعمال میں،جلد۱۳،صفحہ۱۵۲۔

(ط) عَنْ اِبنِ مَسْعُوْدٍ قٰالَ:قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰه صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم عَلِیُّ بْنُ اَبِی طَالِبٍ مِنِّی کَرُوْحیْ فِیْ جَسَدِیْ ۔

”ابن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام میرے لئے ایسے ہیں جیسے میرے بدن میں روح“۔

حوالہ روایت

متقی ہندی،کنزالعمال میں،جلد۱۱،صفحہ۴۲۸۔

(ی) عَنْ جابرقٰالَ:قٰالَ النَّبِیُ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم مَکْتُوْبٌ فِی بَابِ الجَنَّةِ قَبْلَ اَنْ یَخْلُقَ السَّمٰوٰاتِ وَالْاَرْضَ بِاَلْفَیْ سَنَةٍ،لاٰاِلٰهَ اِلَّااللّٰهُ مُحَمَّداٌ رسُولُ اللّٰهِ اَ یَّدْ تُهُ بِعَلیٍ ۔

”جابر کہتے ہیں کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ زمین و آسمان کی خلقت سے ہزار سال قبل جنت کے دروازے پر یہ لکھا ہوا تھا:’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،محمد اس کے رسول ہیں جن کی تائید و حمایت میں نے علی سے کروائی ہے“۔


حوالہ روایت

متقی ہندی، کنزالعمال میں،جلد۱۱،صفحہ۶۲۴۔

(ک) عَنْ اِبْنِ عَبَّاس،اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم قٰالَ لِعَلِیِّ بْنِ ابِی طالب:اَنْتَ وَلِیُّ کُلِّ مُومِنٍ بَعْدِی ۔

”ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی ابن ابی طالب سے فرمایا:’میرے بعد تم سب مومنوں کے ولی ہو‘۔“

حوالہ جات

۱۔ ابی عمر یوسف بن عبداللہ، کتاب استیعاب میں، جلد۳،صفحہ۱۰۹۱،روایت ۱۸۵۵۔

۲۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ میں، جلد۷،صفحہ۳۳۹،۳۴۵۔

۳۔ متقی ہندی، کنزالعمال ،ج۳،صفحہ۱۴۲(موسسة الرسالہ،بیروت،اشاعت پنجم )۔

(ل) عَنْ النبی صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم قٰالَ: مَنْ اَحَبَّ اَنْ یَتَمَسَّکَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰی فَلْیَتَمَسَّکَ بِحُبِّ عَلِیٍّ وَاَهْلِ بَیْتِیْ ۔

”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’جو کوئی چاہتا ہے کہ (اللہ کی) محکم اور نہ ٹوٹنے والی رسی کو تھامے رکھے ،اُسے چاہئے کہ علی علیہ السلام اور میرے اہل بیت کی محبت سے پیوستہ رہے‘۔“

حوالہ روایت

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة،صفحہ۲۹۱اور دوسرے۔


(م) عَنْ سَلمَان عَنِ النَّبیکُنْتُ اَنَاوَعَلِیٌّ نُوْراً یُسَبِّحُ اللّٰهَ وَیُقَدِّ سُهُ قَبْلَ اَنْ یَخْلُقَ آدَمَ بِاَرْبَعَةِ اَ لٰافِ عٰامٍ

”پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’میں اور علی ایک نور تھے اور آدم کی خلقت سے چار ہزار سال قبل ہم اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تقدیس بیان کرتے تھے‘۔“

حوالہ روایت

ذہبی، کتاب میزان الاعتدال میں، جلد۱،صفحہ۵۰۷،شمارہ۱۹۰۴اوردوسرے۔

(ن) عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْن علیه السلام عَنْ اَبِیْهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم أَخَذَ بِیَدِحَسَنٍ علیه السلام وَحُسَینٍ عَلَیْهِ السَّلام فَقٰالَ:مَنْ اَحَبَّنِی وَاَحَبَّ هٰذَیْنِ وَاَبَاهُمَاوَاُمُّهُمَا کَانَ مَعِی فِی دَرَجَتِی یَوْمَ الْقِیَامَةِ ۔

”حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اپنے والد بزرگوار سے اور وہ اپنے والد بزرگوار حضرت علی سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن اور حسین کے بازؤوں کو پکڑکرفرمایا:’جوکوئی مجھے اور میرے ان بیٹوں اور ان کے والد اور ان کی والدہ سے محبت رکھے گا، وہ قیامت کے روز میرے ہمراہ ہوگا‘۔“

حوالہ جات

۱۔ مسند احمد بن حنبل،جلد۱،صفحہ۱۶۸،روایت۵۷۶(مسند علی علیہ السلام)۔

۲۔ ابی عمر یوسف بن عبداللہ، استیعاب،ج۳،ص۱۱۰۱،حدیث۱۸۵۵کے تسلسل میں

۳۔ متقی ہندی،کنزالعمال،جلد۱۲،صفحہ۹۷،۱۰۳(موسسة الرسالہ، بیروت،پنجم)۔


(س) عَنْ عَبْدِاللّٰهِ بْنِ عَبّٰاسٍ قٰالَ:سُئِلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم عَنِ الْکَلَمٰتِ الَّتِیْ تَلَقَّاهٰاآدَمُ مِنْ رَبِّه فَتٰابَ عَلَیْهِ قٰالَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم سَأَلَهُ ”بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَعَلِیٍ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ اَلَّا تُبْتَ عَلَیَّ“ فَتٰابَ عَلَیه ۔

”عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا اُن کلمات کے بارے میں جو حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے سیکھے اور اللہ تعا لیٰ نے اُن کلمات کی وجہ سے اُن کی توبہ قبول کرلی۔پیغمبر اکرم نے فرمایا:

’حضرت آدم نے اللہ تعالیٰ سے بحق محمد وآل محمد ،(علی ،فاطمہ ، حسن اور حسین ) درخواست کی کہ اُن کی توبہ قبول کرلی جائے۔اللہ تعالیٰ نے اُن کو معاف کیا اور اُن کی توبہ قبول کرلی‘۔“

(اس روایت کی توضیح کیلئے سورئہ بقرہ کی آیت۳۷کی تفسیرالدرالمنثورملاحظہ کی جائے”فَتَلَقَّیٰ آدَمُ مِنْ رَبِّه کلمات “۔

حوالہ جات

۱۔ ابن مغازلی،کتاب مناقب میں،صفحہ۶۳،حدیث۸۹۔

۲۔ سیوطی، تفسیر الدرالمنثور،آیت۳۷،سورئہ بقرہ کی تفسیر میں۔

۳۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة،باب۲۴میں۔

(ع) عَنْ عَلیٍ قٰالَ:قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰه:اَلنُّجُوْمُ أَمَانٌ لِاَهْلِ السَّمَاءِ فَاِذَاذَهَبَتِ النُّجُوْمُ ذَهَبَ أَهْلُ السَّمٰاءِ،وَاَهْلُ بَیْتِیْ أَمَانٌ لِاَهْلِ الْاَرْضِ فَاِذا ذَهَبَ اَهْلُ بَیْتِیْ ذَهَبَ اَهْلُ الْاَرْضِ

”حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی گئی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا:’ستارے اہل آسمان کیلئے امان و سلامتی ہیں۔ پس جب ستارے ختم ہوجائیں،اہل آسمان بھی ختم ہوجائیں گے۔ میرے اہل بیت زمین پر رہنے والوں کیلئے امان و سلامتی ہیں۔جب میرے اہل بیت دنیا سے رخصت ہوجائیں گے، اہل زمین بھی تباہ و برباد ہو جائیں گے‘۔“


حوالہ جات

۱۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة۔

۲۔ ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں،جلد۹،صفحہ۱۷۴۔

۳۔ متقی ہندی،کنزالعمال،ج۱۲،ص۹۶،۱۰۱،۱۰۲،موسسة الرسالہ،بیروت،پنجم

(ف) عَنْ عِبَایَةِ بن رَبْعی،عَنْ اِبْنِ عَبّاسٍ قٰالَ:قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰه صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم اَنَاسَیَّدُ النَّبِیِّیْنَ وَعَلیٌ سَیَّدُ الْوَصِیِّیْنَ اِنَّ اَوْصِیٰائی بَعْدِیْ اِثْنٰی عَشَرَ اَوَّلُهُمْ عَلیٌ وَآخِرُهُمْ القٰائِمُ الْمَهْدِیُّ ۔

”عبایہ بن ربعی، ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’میں نبیوں کا سردار ہوں اور علی اوصیاء کے سردار ہیں۔میرے بارہ وصی(جانشین) ہوں گے۔ اُن میں پہلے علی ہیں اور آخری قائم مہدی علیہ السلام(صاحب الزمان) ہیں‘۔“

حوالہ روایت

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة، باب۷۸،صفحہ۳۰۸اور۵۳۷اور دوسرے۔

(ص) عَنِ الْاَصْبَغِ بْنِ نَبٰا تَه عَنْ عَبْدِاللّٰهِ بْنِ عَبَّاسٍ قٰالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم یَقُوْلُ أَ نَا وَعَلِیٌ وَالْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ وَتِسْعَةٌ مِنْ وُلْدِالْحُسَیْنِ مُطَهَّرُوْنَ مَعْصُوْمُوْنَ

”اصبغ بن نباتہ، عبداللہ بن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول خدا سے سنا کہ فرمارہے تھے :’میں،علی ،حسن ، حسین اور اُن کے نوفرزند پاک اورمعصوم ہیں‘۔“


حوالہ جات

۱۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب۷۸،صفحہ۳۰۸اور۵۳۷۔

۲۔ فرائد السمطین،جلد۲،صفحہ۱۳۳۔

نوٹ

یہ نکتہ لکھنا ضروری ہے کہ یہاں جناب سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا نام شامل نہیں۔ یہ اس واسطے کہ جناب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حدیث میں مقام نبوت اور امامت کا ذکر فرمارہے تھے وگرنہ پاکیزگی اور معصومیت میں جناب فاطمة الزہرا سلام اللہ علیہا کا مقام تو مرکزی ہے۔

(ق) قٰالَ النَّبِی اِنَّ فَاطِمَةَ وَعَلِیّاً وَالْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ فِیْ حَظِیْرَةِ الْقُدْسِ فِی قُبَّةٍ بَیْضَاءِ سَقْفُهَاعَرْشُ الرَّحْمٰن

”رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’بے شک فاطمہ سلام اللہ علیہا،علی علیہ السلام، حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام جنت کے بالا ترین حصے(حَظِیْرَةُ الْقُدْس)م یں جو سفید نوری ہوگا اور اُس کی چھت رحمٰن کا عرش ہوگا،وہاں یہ رہیں گے“۔

حوالہ حدیث

متقی ہندی،کتاب کنزالعمال ،ج۱۲،صفحہ۹۸،اشاعت بیروت، موسسة الرسالہ۔


(ر)۔ کتاب ینابیع المودة میں اور اہل سنت کی دیگر کتب میں ایک بہت اہم روایت نقل کی گئی ہے کہ اس میں اسمائے آئمہ معصومین پیغمبر اسلام کی مقدس و پاک زبان سے بیان کئے گئے ہیں۔ اس روایت میں ہر ایک معصوم کا نام وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ یہ انتہائی قابل توجہ اور اہمیت کی حامل روایت ہے۔ البتہ باقی بہت سی کتب میں بھی مختلف روایات اس ضمن میں موجود ہیں لیکن اس کتاب میں درج ذیل پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔

اس روایت کی ابتدا میں ایسے لکھا ہے کہ ایک یہودی پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے سوال کیا:

”ہر پیغمبر کا وصی اور جانشین تھا،لہٰذا مجھے بتائیے کہ آپ کا وصی کون ہے؟ رسول خدانے اُس کے سوال کے جواب میں ارشادفرمایا:

اِنَّ وَصِیِّ عَلِیُّ بْنُ اَبِی طَالِبٍ وَبَعْدُهُ سِبْطٰایَ الحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ تَتْلُوهُ تِسْعَةُ آئِمَّةٍ مِنْ صُلْبِ الْحُسَیْن

قٰالَ:یٰامُحَمَّدُ فَسَمَّهُمْ لِیْ

قٰالَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم اِذٰ مَضَی الْحُسَیْنُ فَاِبْنُهُ عَلِیٍ فَاِذَامَضیٰ عَلِیٌ فَاِبْنُهُ مُحَمَّدٌ،فَاِذَا مَضیٰ مُحَمَّدٌ فَاِبْنُهُ جَعْفَرٌ،فَاِذا َمَضَی جَعْفَرٌ فَاِبْنُهُ مُوْسٰی، فَاِذَامَضیٰ مُوْسٰی فَاِبْنُهُ عَلِیٌ، فَاِذَا مَضیٰ عَلِیٌ فَاِبْنُهُ مُحَمَّدٌ، فَاِذَامَضیٰ مُحَمَّدٌ فَاِبْنُهُ عَلِیٌ، فَاِذَامَضیٰ عَلِیٌ فَاِبْنُهُ الْحَسَنُ، فَاِذَا مَضیٰ الْحَسَنُ فَاِبْنُهُ الْحُجَّةُ الْقٰائمُ الْمَهْدِیُّ فَهٰولَاءِ اِثْنٰی عَشَرَ

”پیغمبر اکرم نے فرمایا:

’بے شک میرا وصی علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہے اور اُن کے بعد میرے بیٹے حسن اور حسین ہیں اور اُن کے بعد حسین علیہ السلام کی اولاد سے نو آئمہ ہیں‘۔


یہودی نے عرض کیا:

’یا محمد! اُن نو آئمہ کے اسمائے گرامی مجھے بتائیے؟‘

حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:

’جب حسین علیہ السلام کی امامت ختم ہوجائے گی تو اُن کے بیٹے علی ابن الحسین اور جب علی ابن الحسین کی امامت ختم ہوجائے گی تو اُن کے بیٹے محمد اور جب محمد ابن علی کی امامت ختم ہوجائے گی تو اُن کے بیٹے جعفر اور جب جعفر ابن محمد کی امامت ختم ہوجائے گی تو اُن کے بیٹے موسیٰ اور جب موسیٰ ابن جعفر کی امامت ختم ہوجائے گی تو اُن کے بیٹے علی اور جب علی ابن موسیٰ کی امامت ختم ہوجائے گی تو اُن کے بیٹے محمد اور جب محمد ابن علی کی امامت ختم ہوجائے گی تو اُن کے بیٹے حسن اور جب حسن بن علی کی امامت ختم ہوجائے گی تو اُن کے بیٹے حجة القائم مہدی علیہ السلام کی امامت ہوگی،یہ ہیں میرے بارہ وصی و جانشین‘۔“

حوالہ روایت

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة،باب۷۶،صفحہ۵۲۹۔

اس ضمن میں روایت جابر باب۶۳،صفحہ۴۳۳میں بھی بیان کی گئی ہے اور اسی طرح شیعہ اور اہل سنت کی کتب میں روایات موجود ہیں۔

(ش) عَنْ اَبِیْ سَعِید قٰالَ:قٰالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم لَتَمْلَأَنَّ الْاَرْضُ ظُلْماً وَعُدْوٰاناً ثُمَّ لَیَخْرُجَنَّ رَجُلٌ مِنْ اَهْلِ بَیْتِیْ حَتّٰی یَمْلَأُهٰا قِسْطاًوَعَدْلاً کَمَامُلِئَتْ ظُلْماً وَعُدْ وَاناً

”ابی سعید روایت کرتے ہیں کہ رسول خدانے فرمایا:ایسا وقت آئیگا کہ یہ زمین ظلم و ستم سے بھر جائے گی ،اُس وقت میری اہل بیت سے ایک شخص آئے گا جو اس زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح پہلے یہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی تھی“۔


حوالہ روایت

۱۔ متقی ہندی، کتاب کنزالعمال ،ج۱۴،ص۲۶۶،اشاعت بیروت، موسسة الرسالہ

۲۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب مودة العاشر،صفحہ۳۰۸۔

(ت) عَنْ اُمِّ سَلَمَةَ،عَن رَسُوْلِ اللّٰه صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم اَلْمَهْدِیُّ مِنْ عِتْرَتِی مِنْ وُلْدِ فَاطِمَةَ

”اُم سلمہ روایت کرتی ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا کہ مہدی میرے خاندان سے ہوں گے اور فاطمہ سلام اللہ علیہا کے فرزند ہوں گے“۔

حوالہ روایت

متقی ہندی، کتاب کنزالعمال ،ج۱۴،ص۲۶۴،اشاعت بیروت، موسسة الرسالہ


فضائل علی علیہ السلام انبیاء کی نظر میں

پچھلے باب میں جو روایات پڑھنے والوں کی نظر سے گزریں، وہ فرمودات رسول اکرم حضرت محمد تھے۔ یہ روایات بخوبی بلند شخصیت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہما السلام کو ظاہر اور روشن کرتی ہیں۔ اب یہ مناسب ہوگا کہ علی کی شخصیت کو دوسرے انبیائے کرام کی نظر سے دیکھیں۔

اس بارے میں تحقیق کرنے سے معلوم ہوگا کہ خدائے بزرگ و برتر نے حضرت علی کی شخصیت کا تعارف تمام انبیاء(حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک) کو خود کروایا ہے۔

یہ حقیقت آسمانی کتب سے اور ارشادات انبیائے کرام (قبل از پیغمبر اسلام) سے بالکل واضح ہوجاتی ہے۔ ذیل میں ہم چند نہایت اہم واقعات اور مطالب کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروائیں گے۔

آدم علیہ السلام کا پنجتن پاک سے ارتباط

حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حو ّ ا کا واقعہ قرآن میں ذکر ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اُن کا جنت سے نکلنا اور زمین پر آباد ہونا ایسا قصہ ہے جسے شاید ہی کوئی ایساہو جو نہ جانتا ہو۔ حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حو ا ترک اولیٰ کی وجہ سے بہشت سے زمین پر بھیجے گئے۔سالہا سال تک حضرت آدم علیہ السلام زمین پر گریہ کرتے رہے اور خدا سے طلب مغفرت کرتے رہے لیکن بالآخر اسمائے پنجتن پاک یعنی محمد، علی علیہ السلام، جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا، حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام کے توسل سے اُن کی توبہ قبول ہوئی جیسے قرآن پاک میں ذکر ہے اور اسی اہم موضوع کی طرف اشارہ ہے:

( فَتَلَقّٰی آدَمُ مِنْ رَبِّه کَلِمٰاتٍ فَتٰابَ عَلَیْهِ اِنَّهُ هُوَالتَّوّٰابُ الرَّحِیْم )

”پس آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے کلمات سیکھے، خدا نے اُن کی توبہ قبول کی، بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے“۔(سورئہ بقرہ:آیت۳۷)۔


اس آیت کی تفسیر میں شیعہ اور سنی اکابرین نے درج ذیل روایت نقل کی ہے جس کو لکھنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں:

عَنْ عَبْدِاللّٰهِ بْنِ عَبّاسٍ قٰالَ:سُئِلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم عَنِ الْکَلِمٰتِ الَّتِیْ تَلَقّٰا اٰدَمُ مِنْ رَبِّه فَتَابَ عَلَیْهِ قَالَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم سَأَلَهُ ”بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَعَلِیٍ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ اِلَّا تُبْتَ عَلَیَّ“فَتَابَ عَلَیْهِ ۔

”عبداللہ ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم سے اُن کلمات کے بارے میں سوال کیا گیا جو حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے دریافت کئے تھے اور جن کی وجہ سے اُن کی توبہ قبول ہوئی تھی۔ جواب میں پیغمبر اکرم نے فرمایا کہ آدم علیہ السلام نے بحق پنجتن پاک (محمد،علی ،فاطمہ ،حسن اور حسین ) اللہ تعالیٰ سے درخواست کی تھی کہ اُن کی غلطی کو معاف فرما۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی غلطی کو معاف کردیا اور اُن کی توبہ کو قبول کرلیا“۔

حوالہ جات

۱۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب علی علیہ السلام میں، حدیث۸۹،صفحہ۶۳.

۲۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی ،ینابیع المودة، صفحہ۱۱۱،باب۲۴اور ص۲۸۳،حدیث۵۵

۳۔ سیوطی، تفسیر الدرالمنثور میں۔

۴۔ تفسیر نمونہ،ج۱،صفحہ۱۹۹اور تفسیر المیزان،جلد۱،صفحہ۱۴۹اوردوسری کتب میں۔

اسی ضمن میں دوسری روایت بھی ملاحظہ ہو:

قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم لَمَّا خَلَقَ اللّٰهُ تَعٰالٰی آدَمَ اَبَالْبَشَرِ وَنَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُوْحِهِ اِلْتَفَتَ آدَمُ یُمْنَةَ الْعَرْشِ فَاِذاً فِی النُّوْرِخَمْسَةُ اَشْبٰاحٍ سُجَّداً وَرُکَّعٰا، قٰالَ آدَمُ:(علٰی نَبِیِّنٰا وَآلِه وَعَلَیْهِ السَّلام)هَلْ خَلَقْتَ اَحَداً مِنْ طِیْنِ قَبْلِی؟ قٰالَ لاٰ یَا آدَمَ! قٰالَ:فَمَنْ هٰولٰاءِ الْخَمْسَةِ الْاَشْبٰاحِ الَّذِیْنَ اَرٰاهُمْ فِیْ هَیْئَتِیْ وَصُوْرَتِیْ؟قٰالَ هٰولٰاءِ خَمْسَةٌ مِنْ وُلْدِکَ،لَوْلَاهُمْ مَا


خَلَقْتُکَ،هٰولٰاءِ خَمْسَةٌ شَقَقْتُ لَهُمْ خَمْسَةَ اَسْمٰاءٍ مِنْ اَسْمٰائِی لَوْلَاهُمْ مٰاخَلَقْتُ الْجَنَّةَ وَالنّٰارَ ، وِلَاالْعَرَْشَ ، وَلَاالکُرْسِیَ ، وَلَاالسَمَاءَ وَلَاالْاَرْضَ وَلَاالْمَلاٰ ئِکَةَ وَلَاالْاِنْسَ وَلَاالْجِنَّ،فَاَنَاالْمَحْمُوْدُوَهَذٰامُحَمَّدٌوَاَنَالعٰالی وَهٰذَاعَلِیٌّ،وَاَنَاالْفٰاطِرُوَهٰذِهِ فَاطِمَة،وَاَنَاالْاِحْسٰانُ وَهٰذَاالْحَسَن وَاَنَاالْمُحْسِنُ وَهٰذَالْحُسَیْن اَلَیْتُ بِعِزَّتِی اَنْ لٰایَأتِیْنِی اَحَدٌ مِثْقٰالَ ذَرَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ بُغْضِ اَحَدِ هِمْ اِلَّا اَدْخُلُهُ نٰاری وَلٰااُبٰالِی یٰاآدَمَ هٰولٰاءِ صَفْوَتِی بِهِمْ اُنْجِیْهِم وَبِهِمْ اُهْلِکُهُمْ فِاِذَاکَانَ لَکَ اِلَیَّ حٰاجَةٌ فَبِهٰولٰاءِ تَوَسَّلْ

”پیغمبر اکرم نے فرمایاکہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کو خلق فرمایا اور اپنی روح میں سے اُس میں پھونکی تو آدم علیہ السلام نے عرش کے دائیں جانب نظر کی تو دیکھا کہ پانچ نوریشخصیات رکوع و سجود کی حالت میں ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے میرے خدا! کیا تو نے مجھ سے پہلے کسی کو مٹی اور پانی سے خلق کیا ہے؟ جواب آیا ،نہیں۔ میں نے کسی کو خلق نہیں کیا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے پھر عرض کیا کہ یہ پانچ شخصیات جو ظاہری صورت میں میری طرح کی ہیں، کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ پانچ تن تیری نسل سے ہیں، اگر یہ نہ ہوتے تو تجھے بھی پیدا نہ کرتا۔ان کے ناموں کو اپنے ناموں سے اخذ کیا ہے۔ اگر یہ پانچ تن نہ ہوتے تو نہ بہشت و دوزخ کو پیدا کرتا اور نہ ہی عرش و کرسی کو پیدا کرتا، نہ آسمان و زمین کو پیدا کرتا اور نہ انس و جن و فرشتگان کو پیدا کرتا۔ان پانچ ہستیوں کا تعارف اللہ تعالیٰ نے اس طرح کروایا کہ اے آدم! سنو:

میں محمود ہوں اور یہ محمد ہیں

میں عالی ہوں اور یہ علی ہیں

میں فاطر ہوں اور یہ فاطمہ ہیں

میں محسن ہوں اور یہ حسن ہیں

میں احسان ہوں اور یہ حسین ہیں


مجھے اپنی عزت وجلالت کی قسم کہ اگر کسی بشر کے دل میں ان پانچ تن کیلئے تھوری سی دشمنی اورکینہ بھی ہوگا،اُس کو داخل جہنم کروں گا۔ اے آدم ! یہ پانچ تن میرے چنے ہوئے ہیں اور ہر کسی کی نجات یا ہلاکت ان سے محبت یا دشمنی سے وابستہ ہوگی۔ اے آدم ! ہر وقت جب تمہیں مجھ سے کوئی حاجت ہوتو ان کا توسل پیدا کرو“۔

حوالہ جات

۱۔ علامہ امینی،کتاب فاطمة الزہرا سلام اللہ علیہا،صفحہ۴۰۔

۲۔ تفسیر المیزان،جلد۱۔

۳۔ مجمع البیان،جلد۱اور دوسری تفاسیر میںآ یت ۳۷،سورئہ بقرہ کے ذیل میں۔

دوسرے انبیاء کی بعثت ولایت پیغمبر و علی کی مرہون منت ہے

عَنِ الْاَسْوَدِعَنْ عَبْدِاللّٰهِ بْنِ مَسْعُود قٰالَ،قٰالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم یا عَبْدَاللّٰهِ أَ تٰانِیْ مَلَکٌ فَقٰالَ:یَامُحَمَّدُ!”وَاسْئَل مَنْ اَرْسَلْنٰامِنْ قَبْلِکَ مِنْ رُسُلِنٰا“عَلٰی مٰابُعِثُوا؟قٰالَ:قُلْتُ:عَلٰی مٰابُعِثُوْا؟ قٰالَ:عَلٰی وَلَایَتِکَ وَوِلَایَةِ عَلِیِّ ابْنِ اَبِی طَالِب

”اسود جناب عبداللہ ابن مسعود سے روایت کرتے ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم نے فرمایاکہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتہ آیا اور کہا کہ اے پیغمبر خدا!آپ مجھ سے اپنے سے پہلے انبیاء کے بارے میں سوال کریں کہ وہ کس لئے نبوت پر مبعوث ہوئے تھے؟ آپ نے فرمایا کہ میں نے اُس فرشتے سے کہا ،بتاؤ کہ وہ کس لئے مبعوث ہوئے تھے؟ فرشتے نے کہا کہ وہ آپ کی اور حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کی تصدیق کیلئے مبعوث ہوئے تھے“۔

حوالہ جات

۱۔ ابن عساکر،تاریخ دمشق ، باب حال امام علی ،ج۲،ص۹۷،حدیث۶۰۲،شرح محمودی

۲۔ حاکم نیشاپوری، کتاب ”المعرفة“اپنی سند کے ساتھ عبداللہ ابن مسعود سے۔


حضرت علی علیہ السلام آسمانی کتابوں میں

حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کی معرفت اور عظمت کو پہچاننے کا ایک انتہائی اہم ذریعہ آسمانی کتابیں اور گزشتہ پیغمبروں کے صحائف ہیں۔اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے سب سے پہلے انسان اور پیغمبر حضرت آدم علیہ السلام کو اسمائے اعلیٰ یعنی حضرت محمد،علی علیہ السلام،جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا،حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام کی تعلیم دی تھی تو انہوں نے ان اسماء کی تعلیم اپنی اولاد اور دوسرے انبیاء کو پہنچا دی۔ محکم روایات سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان نوری افراد کو خلقت بشر سے پہلے پیدا کیا تھا تاکہ دنیا میں یہ افراد بطور نمونہ، کامل ترین اخلاق کا مظہر ہوں۔

لہٰذا موضوع کے اعتبار سے مزید اطلاعات حاصل کرنے کیلئے ہم حکیم سید محمود سیالکوٹی کی کتاب ”علی و پیغمبران“ سے چند اقتباسات لیتے ہیں:

۱۔ نام علی علیہ السلام انجیل میں

آسمانی کتابوں میں خاتم النبیین حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اُن کے جانشین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے بارے میں بشارت دی گئی تھی۔ لیکن اسلام دشمن لوگ یہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ حقیقت واضح ہو بلکہ اس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے درپے تھے۔مثلاً انجیل میں”صحیفہ غزل الغزلات“ اشاعت لندن،سال۱۸۰۰عیسوی،باب۵،آیت۱

تا۱۰میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے ارشادات بیان کئے گئے ہیں جس میں انہوں نے پیغمبر خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اُن کے نائب امیرالمومنین علی علیہ السلام کے بارے میں اشارہ کیا ہے اور آخر میں واضح کہتے ہیں کہ وہ ”خلومحمد یم“(وہ دوست اور محبوب محمد ہیں)۔لیکن وہ انجیل جو ۱۸۰۰ء کے بعد شائع ہوئی ہے، اُن میں سے یہ الفاظ ”خلومحمد یم“ حذف کردئیے گئے ہیں۔ اسی طرح لفظ”ایلیا“ یا”ایلی“ یا ”آلیا“ جو آسمانی کتابوں میں مذکور ہے، مخالفین یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس سے مراد پیغمبر حضرت الیاس یا مسیح یا یوحنّا ہیں ،نہ کہ حضرت علی علیہ السلام۔


لیکن بہت سے مسیحی علماء نے لفظ ”ایلیا“ یا ”ایلی“ یا ”آلیا“ کے بارے میں تحقیق کی ہے اور وہ تعصب کی دنیا سے باہر آگئے اور پھر اصل حقیقت بیان کی۔

ایک مسیحی عالم Mr. J.B. Galidon لکھتے ہیں:

In the language of oldest and present Habrew the word ALLIA"or "AILEE" is not in the meanings of God or Allah but this word is showing that in text and last time of this world anyone will become nominates "ALLIA" or "AILEE ".

”زبان عبرانی جدید یا قدیم میں لفظ”ایلیا“ یا”ایلی“ سے مراد اللہ نہیں ہے بلکہ اس لفظ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ آئندہ زمانے میں یا آخری زمانہ میں کوئی شخص آئے گا جس کا نام ”ایلیا“ یا ”ایلی“ ہوگا“۔

حوالہ

۱. " A notebook on old and new testaments of Bible" published in London in ۱۹۰۸, Vol.۱, page ۴۲۸ ."

۲۔ حکیم سید محمود سیالکوٹی کتاب ”علی اور پیغمبران“،دلائل اور شواہد سے ثابت کیا ہے کہ

اسماء”ایلیا“ یا ”ایلی“ یا ”آلیا“ سے مراد علی علیہ السلام ہیں۔

۲۔ علی او رپیشگوئی داؤد

حضرت علی علیہ السلام کا مقدس نام زبور(حضرت داؤد علیہ السلام کی کتاب) میں بھی آفتاب کی طرح درخشاں ہے۔ آسمانی کتاب زبور میں حضرت علی علیہ السلام کا دنیا میں آنا تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ کتاب”علی اور پیغمبران“ میں زبور سے ایک حصہ نقل کیا گیا ہے۔ زبور کا یہ قدیمی نسخہ احسان اللہ دمشقی ،رہبرمسیحیان،شام کے پاس بھی موجود ہے۔


زبور سے اقتباس

(مطعنی شل قثوتینمر قث پاھینوا نی وز”ایلی“ متازہ امطع ملغ شلو شمائت پزانان ہمنیقتہ خلذ وقث فل”حدار“

کمرتوہ شیھوپلت انی قاہ بوتاہ خزیماہ رث جین”کعاباہ“ بنہ اشود کلیامہ کاذوقثوتی قتمرعندوبریما برینم فل خلذملغ خایوشنی پم مغلینم عت جنحاریون)۔

”تم پر اُس شخصیت جس کا نام ”ایلی“ ہے، کی اطاعت واجب ہے اور دین و دنیاکے ہر کام میں اُس کی فرمانبرداری تمہاری اصلاح کرے گی۔ اُس عظیم شخصیت کو ”حدار“(حیدر) کہتے ہیں۔ وہ بیکسوں اور ضعیفوں کا مددگار ہوگا اور وہ شیروں کا شیرہوگا اور بے پناہ طاقت کا مالک ہوگا۔وہ کعابا(کعبہ) میں پیدا ہوگا۔ تمام پر واجب ہے کہ اُس کے دامن کو پکڑیں اور غلام کی طرح اُس کی اطاعت کیلئے ہمیشہ حاضر رہیں۔ جو سن سکتا ہے اُس کی ہر بات کو غور سے سنے اور جو عقل و فہم رکھتا ہے، اُس کی باتوں کو سمجھے۔ جو دل و مغز رکھتا ہے، وہ غوروفکر کرے کیونکہ جو وقت گزرجاتا ہے، واپس نہیں آتا“۔

۳۔سلیمان کا علی سے مدد مانگنا

اس باب کے شروع میں احادیث و روایات اور سورئہ بقرہ کی آیت۳۷کی تشریح کے حوالہ سے بیان ہوچکا ہے کہ وہ کلمات جو حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے یاد کئے تھے اور انہی کلمات کا اللہ تعالیٰ کو واسطہ دیا تھا، پانچ تن پاک کے اسمائے گرامی تھے۔ اب ایک اور پیغمبرحق یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف رجوع کرتے ہیں جو ان پنجتن پاک کے مقدس ناموں کا واسطہ دے کر اللہ تعالیٰ سے مناجات کرتے ہیں۔ اس ضمن میں ایک دفعہ پھر کتاب”علی و پیغمبران“ سے اقتباس نقل کرتے ہیں جو ذیل میں درج کیا جارہا ہے:

”پہلی جنگ عظیم(۱۹۱۶ء میلادی عیسوی) میں جب انگریزوں کا ایک دستہ بیت المقدس سے چند کلومیٹر دور ایک چھوٹے سے گاؤں اونترہ کے پاس مورچہ بندی کیلئے کھدائی کررہا تھا تو وہاں اُن کو ایک چاندی کی تختی ملی جس کے چاروں طرف خوبصورت قیمتی موتی جڑے ہوئے تھے اور اُس کے اوپر سونے کے پانی سے کچھ لکھا ہوا تھا جو کسی قدیم زبان میں تھا ۔وہ اُسے اپنے انچارج میجر ای۔این۔گرینڈل( Maj. E.N.Grandal ) کے پاس لے آئے۔ وہ بھی اس کو نہ سمجھ سکا اور بالآخر اسے اپنے کمانڈر انچیف جنرل گلیڈ سٹون تک پہنچا دیا۔


وہ بھی اس کو نہ سمجھ سکا اور اُس نے اسے آثار قدیمہ کے ماہرین تک پہنچادیا۔۱۹۱۸ء میں جنگ بند ہوئی تو ایک کمیٹی بنادی گئی جس کے ممبران امریکہ، برطانیہ،فرانس،جرمنی اور دیگر ممالک کے ماہرین تھے۔ چند ماہ کی کوشش اور تحقیق سے پتہ چلا کہ یہ تختی اصل میں”لوح سلیمانی“ ہے اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے چند کلمات بھی اُس پر لکھے ہوئے ہیں۔ اس تختی پر عبرانی زبان میں لکھا ہوا ہے۔ ہم اس کے اصل الفاظ اور ترجمہ نقل کرتے ہیں:

ترجمہ لوح سلیمانی لوح سلیمانی کا نقش

اللہ

احمد

ایلی

باھتول

حاسن

حاسین

”اے احمد میری فریاد سن لیں

یا ایلی (علی) میری مدد فرمائیے

اے باھتول (بتول ) مجھ پر نظر کرم فرمائیے

اے حاسن (حسن) مجھ پر کرم فرمائیے

اے حاسین (حسین) مجھے خوشی بخشئے

یہ سلیمان پنجتن پاک سے مدد مانگ رہا ہے

اور علی قدرت اللہ ہے“۔

مزید اطلاعات کیلئے کتاب Wonderful Stories of Islam اشاعت لندن،صفحہ۲۴۹پر مراجعہ کریں۔


۴۔ علی کا نام کشتی نوح کا زیور

پیغمبران بزرگ جو نام مقدس پیغمبر اسلام حضرت محمد،علی علیہ السلام ، جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا اور حسنین شریفین علیہما السلام پکار کر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہے، اُن میں حضرت نوح علیہ السلام بھی شامل ہیں۔اس کا ثبوت وہ لکڑی کے تختے ہیں جو روسی معدنیات کے کارکنوں نے دریافت کئے تھے۔ حکیم سید محمود سیالکوٹی نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر اس طرح سے کیا ہے:

”جنوری۱۹۵۱ء میں روسی محکمہ معدنیات کے چند کارکن زمین کھودنے میں مشغول تھے کہ اچانک لکڑی کے چند تختے اُن کو نظر آئے جو عام لکڑی کے تختوں سے مختلف تھے اور کسی چھپے راز کی نشاندہی کرتے تھے۔انہی لکڑی کے تختوں میں ایک ایسی لکڑی کی تختی ملی جس کی لمبائی چودہ انچ اور چوڑائی تقریباً دس انچ تھی۔ عجیب بات یہ تھی کہ باقی تختے وقت گزرنے کے ساتھ کہنہ اور بوسیدہ ہوچکے تھے لیکن یہ تختہ ابھی بالکل اپنی صحیح حالت میں تھا۔ اس پر چند قدیم الفاظ درج تھے۔ روسی حکومت نے تحقیق کیلئے ۲۷/فروری۱۹۵۳ء کو کمیٹی بنائی جس کے ممبران قدیم زبانوں کے ماہر تھے۔ آٹھ ماہ کی سخت محنت اور تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ جو الفاظ لکھے ہوئے ہیں، وہ مدد مانگنے اور سلامتی کی دعا کیلئے لکھے گئے ہیں۔ذیل میں اس کی تصویر دی جارہی ہے:

تحقیقی کمیٹی نے اُن الفاظ کا ترجمہ روسی زبان میں کیا جس کا ترجمہ لسانیات کے ماہرمسٹر این۔ایف۔ماکس( N. F. Maks )نے انگریزی زبان میں کیا جو ذیل میں درج کیا جارہا ہے:

O" my God! my Helper! Keep my hand with mercy andwith your holy bodies, Mohammad, Alia, Shabbar, Shabbir, Fatema. They all are biggests and honourables. The world established for them. Help me by their names. You can reform to right

ترجمہ

”اے میرے اللہ! اے میرے مددگار! ذوات مقدسہ محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)،

ایلیا ،شبر ،شبیر اور فاطمہ علیہم السلام کے صدقہ میں مجھ پر اپنا رحم و کرم فرما۔ یہ پنجتن سب سے بڑے اور سب سے زیادہ عزت والے ہیں۔ یہ تمام دنیا اُن کیلئے بنائی گئی۔ اے میرے پروردگار! اُن کے ناموں کا واسطہ! میری مدد فرما۔ تو ہی صحیح راستے کی ہدایت کرنے والاہے“۔


حضرت موسیٰ شہادت علی سے باخبر تھے

مرحوم علامہ مجلسی رحمة اللہ علیہ اپنی کتاب جلاء العیون، جلد۱،صفحہ۲۷۶،باب زندگانی حضرت علی علیہ السلام میں لکھتے ہیں:

”ابن بابویہ ،معتبرسندکے ساتھ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودی عالم حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور کچھ مسائل پوچھے اور یہ بھی پوچھا کہ آپ کے پیغمبر کا وصی اُن کی زندگی کے بعد اس دنیا میں کتنا عرصہ زندہ رہے گا؟ حضرت نے فرمایا کہ تیس سال۔ اُس یہودی نے پھر سوال کیا کہ بتائیں کہ وہ طبعی موت مرے گا یا قتل کردیاجائے گا؟حضرت نے جواب دیا کہ وہ قتل کردیا جائے گا۔ اُس کے سر پر ضربت لگائی جائے گی۔ اُس یہودی نے کہا:خدا کی قسم! آپ نے سچ کہا۔ میں نے اُس کتاب میں جو حضرت موسیٰ نے تحریر فرمائی ہے اور حضرت ہارون نے لکھی ہے، اسی طرح ہی پڑھا ہے“۔

حضرت ابراہیم اور معرفت علی

جابر ابن عبداللہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کوملکوت دکھائے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرش کے پاس ایک نور دیکھا تو پوچھا کہ پروردگار! یہ نور کونسا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ نور محمد ہے جو میری مخلوق میں سب سے زیادہ عزت و بزرگی والا ہے، اس نور کے ساتھ ایک دوسرے نور کو بھی دیکھا۔ اُس کے بارے میں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا۔ کہا گیا کہ یہ نور علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا ہے جو میرے دین کا مدد کرنے والا ہے۔ ان دو نوروں کے ساتھ تین نور اور دیکھے اور اُن کے بارے میں پوچھا۔ کہا گیا کہ یہ نور فاطمہ ہے جو اپنے حُب داروں کو آتش جہنم سے بچائے گا اور دوسرے دو نور اس کے بیٹے حسن اور حسین کے ہیں ۔ پھر فرمایا:اے میرے پروردگار!میں کچھ اور نور بھی اس نور کے ساتھ دیکھ رہا ہوں۔ کہا گیا کہ یہ اماموں کے نور ہیں جو نسل علی و فاطمہ علیہم السلام سے ہوں گے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کی پروردگار!تجھے پنجتن پاک کا واسطہ!مجھے ان کا تعارف کروا۔کہا گیا کہ ان میں پہلا علی ابن الحسین اور پھر اُن کے بیٹے محمد اور اُن کے بیٹے جعفر اور اُن کے بیٹے موسیٰ اور اُن کے بیٹے علی اور اُن کے بیٹے محمد اور اُن کے بیٹے علی اور اُن کے بیٹے حسن اور اُن کے بیٹے حجت قائم ہیں“۔

حوالہ کتاب زندگانی فاطمة الزہرا سلام اللہ علیہا،مصنف:آیت اللہ شہید دستغیب،صفحہ۱۲۷،تفسیر برہان سے نقل کی گئی۔


حضرت ابراہیم بھی شیعان علی سے ہیں

حضرت ابراہیم خلیل اللہ جو انتہائی بڑی منزلت کے مالک تھے۔ جب انہوں نے انوار شیعان اہل بیت کو دیکھاجو آفتاب ولایت کے گرد ستاروں کی طرح چمک رہے تھے،خدا سے التجا کی کہ اُسے بھی شیعان علی میں سے قرار دے ۔ چنانچہ تفسیر سورئہ الصٰفّٰت:آیت۸۳میں:

( وَاِنَّ مِنْ شِیْعَتِه لَاِبْرَاهِیْمَ )

”اور بے شک اُن کے شیعوں میں سے ابراہیم ہیں“۔

حوالہ آیت اللہ دستغیب، کتاب زندگانی فاطمة الزہرا سلام اللہ علیہا، صفحہ۱۲۶۔

حضرت خضر کی حضرت علی سے دوستی

اعمش روایات اور احادیث کے معتبر راوی ہیں اور شیعہ سنی دونوں اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک اندھی عورت تھی۔ اُس کاکام یہ تھا کہ لوگوں کو پانی پلاتی تھی اور کہتی تھی کہ علی علیہ السلام کی دوستی کے صلہ میں پانی پیو۔ اُسی کومکہ میں بھی دیکھا،اس حال میں کہ اُس کی دونوں آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور ان سے دیکھ سکتی تھی اور پانی پلاتی تھی اور یہ کہتی تھی کہ لوگو! پانی پیو اُس کی دوستی کے صدقہ میں کہ جس نے میری بینائی لوٹا دی۔ اعمش کہتے ہیں کہ میں نے اُس سے اُس کا حال پوچھاتو اُس نے جواب دیا کہ ایک شخص میرے پاس آیااور کہنے لگا کہ تو ہی وہ عورت ہے جو علی علیہ السلام کی حب دار ہے؟ میں نے کہا:ہاں۔ اُس نے کہا:

”اَلّٰلهُمَّ اِنْ کَانَتْ صَادِقَةً فَرُدَّ عَلَیْهَا بَصَرَهَا“

”خدایا! اگر یہ کنیز اپنے دعوے میں سچی ہے تو اس کی بینائی اس کو واپس لوٹا دے“۔

خدا کی قسم! اُس حال میں میری بینائی لوٹ آئی۔ میں نے پوچھا کہ تو کون ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ میں خضر ہوں اور میں شیعہ علی ابن ابی طالب علیہما السلام ہوں۔


حوالہ جات

۱۔ سید ابوتراب صنائی، کتاب قصہ ہای قرآن ، باب شرح زندگی حضرت خضر ،صفحہ۱۲۰

۲۔ زندگانی فاطمة الزہرا،شہید آیت اللہ دستغیب،صفحہ۱۶۲جنہوں نے سفینة البحار جلد

۱،صفحہ۳۹۱سے نقل کیا ہے۔

فضائل علی علیہ السلام خلفاء کی نظر میں

حضرت علی علیہ السلام کی ذات اعلیٰ کی معرفت کا ایک بہترین ذریعہ کلام خلفاء ہے۔ چند وجوہات کی بناء پر ان کا جاننا نہایت ضروری ہے۔

پہلی اہم وجہ تو یہی ہے کہ یہ کلام اُن شخصیات کا ہے جنہیں اصحاب رسول خدا کہلانے کا شرف حاصل ہے اور انہوں نے خود علی علیہ السلام کی بزرگی اور عظیم منزلت کی معرفت کیلئے فرمودات پیغمبر اسلام سنے۔ اس سے زیادہ معتبر ذریعہ اور کیا ہوسکتا ہے؟

دوسری وجہ یہ ہے کہ دیگر مذاہب کے ماننے والے ان کے کلام کو پڑھ کر زیادہ اثر قبول کریں گے اور تیسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ افراد شناخت ہوجائیں گے جنہوں نے پیغمبر اسلام کی زندگی مبارک کے بعد اُن کی نصیحتوں اور وصیتوں کو جو علی علیہ السلام کے بارے میں کی گئی تھیں، یکسر بھلا دیا اور حضرت علی علیہ السلام کو خلافت و ولایت کے حق سے محروم کردیا۔ اسی بحث کے دوران حضرت عائشہ کے فرمودات کا بھی تذکرہ کریں گے جنہوں نے علی علیہ السلام کی عظمت کیلئے کہے تھے:

۱۔کلام حضرت ابو بکر بن ابی قحافہ

(الف)۔فَقٰالَ اَبُوبَکر:صَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ قٰالَ لِی رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ لَیْلَةَ الْهِجْرَةِ،وَنَحْنُ خٰارِجٰانِ مِنَ الْغٰارِ نُرِیْدُ الْمَدِیْنَةَ:کَفِّی وَ کَفُّ عَلِیٍّ فِی الْعَدْلِ سِوَاءٌ

”حضرت ابوبکر بن قحافہ کہتے ہیں کہ خدا اور اُس کے رسول نے سچ کہا۔ہجرت کی رات ہم غار سے باہر تھے اور مدینہ کی طرف جارہے تھے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا:’میرا ہاتھ اور علی کا ہاتھ عدل میں برابر ہیں‘۔“


حوالہ جات

۱۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب، حدیث۱۷۰،صفحہ۱۲۹۔

۲۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق میں،باب حال امام علی ،جلد۲،صفحہ۴۳۸،آخر حدیث۹۵۳(شرح محمودی)۔

۳۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة،باب مناقب السبعون،ص۲۷۷،حدیث۱۷،صفحہ۳۰۰۔

۴۔ متقی ہندی، کنزالعمال ،ج۱۱،ص۶۰۴(موسسة الرسالہ،بیروت،اشاعت پنجم)

(ب)۔عَنْ عٰائِشةَ قٰالَتْ:رَأَیْتُ اَبَابَکْرِالصِدِّیْقَ یُکْثِرُ النَّظَرَ اِلٰی وَجْهِ عَلِیِ ابْنِ اَبِیْ طَالِبٍ،فَقُلْتُ یٰا أَبَةَ اِنَّکَ لَتُکْثِرُالنَّظَرَاِلٰی عَلِیِّ ابْنِ اَبِیْ طالِبْ؟ فَقٰالَ لِی:یٰا بُنَیَّةُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم یَقُوْلُ ”اَلنَّظَرُ اِلٰی وَجْهِ عَلِیٍ عِبَادَة“ ۔

”حضرت عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے باپ ابوبکر کو دیکھا جو علی علیہ السلام کے چہرئہ مبارک کو بکثرت دیکھ رہے تھے۔ میں نے کہا:بابا جان! آج آپ علی علیہ السلام کے چہرئہ مبارک کو کیوں دیکھ رہے ہیں؟ حضرت ابو بکر نے کہا :”اے میری بیٹی! میں نے رسول خدا سے سنا ہے جنہوں نے فرمایا ہے:”علی کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے“۔

حوالہ جات

۱۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ، جلد۷،صفحہ۳۵۸۔

۲۔ سیوطی ،کتاب تاریخ الخلفاء میں، صفحہ۱۷۲۔

۳۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، صفحہ۲۱۰،حدیث۲۵۲،اشاعت اوّل۔

۴۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب شرح حال امام علی ،جلد۲،صفحہ۳۹۱،حدیث۸۹۵

(شرح محمودی)و دیگر۔


(ج)۔عَنْ اِبْنِ عُمَرَ قٰالَ:قٰالَ اَبُوْبَکْرٍ الصدیق:اِرْقِبُوْامُحَمَّداً صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم فِی اَهْلِ بَیْتِه اَیْ اِحْفِظُوْهُ فِیْهِمْ فَلٰا تُوْذُوْهُمْ

”ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکرنے کہا کہ حضرت محمد کا اور اُن کے اہل بیت کا دھیان رکھیں(یعنی اُن کی عزت و حرمت کا) اور اُن کے اہل بیت کی حفاظت کریں۔ اُن کو اور اُن کے اہل بیت کو اذیت نہ پہنچائیں“۔

حوالہ جات

۱۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب۵۴،صفحہ۱۹۴،۳۵۶۔

۲۔ متقی ہندی، کنزالعمال ،ج۱۳،ص۶۳۸(موسسة الرسالہ، بیروت، اشاعت پنجم)

(د)۔ حارث بن اعور روایت کرتے ہیں کہ ایک دن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں ایسے شخص کا پتہ دیتا ہوں جوعلم میں حضرت آدم علیہ السلام ،فہم و ادراک میں حضرت نوح علیہ السلام اور حکمت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسا ہو۔ تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ علی علیہ السلام وہاں تشریف لے آئے، حضرت ابوبکر نے عرض کی:

یٰارَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم اِقْتَسْتَ رَجُلاًبثَلاٰثَةٍ مِنَ الرُّسُلِبَخٍ بَخٍ لِهٰذاالرَّجُلِمَنْ هُوَیٰا رَسُوْلَ اللّٰه؟ قٰالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم اَوَلَا تَعْرِفُهُ یٰااَبَابَکْرٍ؟قٰالَ:اللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ اَعْلَمُقٰالَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم هُوَ اَبُوْالْحَسَنِ عَلِیِّ بْنُ اَبِیْ طَالِبْ فَقٰالَ اَبُوْبَکْرٍ بَخٍ بَخٍ لَکَ یٰا اَبَاالْحَسَنِ وَاَیْنَ مِثْلُکَ یٰااَبَاالْحَسَن ۔

”یا رسول اللہ! آپ نے اُس شخص کو تین رسولوں کے برابر کردیا۔ واہ واہ! وہ شخص کون ہے؟ نبی اکرم نے فرمایا:اے ابوبکر! کیا تو اُس شخص کو نہیں جانتا؟ حضرت ابو بکر نے عرض کی:خدا اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ابوالحسن علی ابن ابی طالب علیہما السلام ہے۔ پس ابوبکر نے کہا:مبارک مبارک! یا اباالحسن! تمہاری مثال کون ہوگا اے اباالحسن !“


حوالہ

بوستان معرفت، سید ہاشم حسینی تہرانی، صفحہ۴۴۷،نقل ازخوارزمی، باب۷،ص۴۵۔

(ھ)۔قٰالَ الشَّعْبِیْ:بَیْنَااَبُوْبَکْرٍجٰالِسٌ اِذْطَلَعَ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طالِبْ مِنْ بَعِیْدٍ فَلَمَّارَاَهُ اَبُوْبَکْرٍ قٰالَ مَنْ سَرَّهُ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی اَعْظَمِ النّٰاسِ مَنْزِلَةً وَاَقْرَبِهِمْ قَرٰابَةً وَاَفْضَلِهِمْ دٰالَّةً وَاَعْظَمِهِمْ غَنٰاءً عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم فَلْیَنْظُرْاِلٰی هٰذَاالطّٰالِعِ ۔

”شعبی نے کہا کہ ابو بکر اپنی جگہ پر تشریف فرما تھے کہ علی ابن ابی طالب علیہما السلام دور سے نظر آئے۔ جب ابوبکر نے اُن کو دیکھا تو کہا کہ ہر کسی کو خوش ہوجانا چاہئے کیونکہ وہ سب سے عظیم انسان کو دیکھے گا ۔ جو مرتبہ میں سب سے اعلیٰ اور (پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) قرابت داری میں سب سے زیادہ نزدیک ہے اور انسانوں میں سب سے زیادہ بلند ہے اور لوگوں سے بے نیازی میں سب سے زیادہ بے نیاز ہے اور یہ چیز اُس کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ملی ہے۔ پس اُن پر نگاہ کرو جو دور سے نظر آرہے ہیں“۔

حوالہ جات

بوستان معرفت،صفحہ۶۵۰، نقل از ابن عساکر، تاریخ امیر المومنین ،جلد۳،صفحہ۷۰،حدیث۱۱۰۰اور مناقب خوارزمی، باب۱۴،صفحہ۹۸۔


(و)۔عَنْ زَیْدِ ْبنِ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْن قٰالَ:سَمِعْتُ اَبِیْ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْن یَقُوْلُ:سَمِعْتُ اَبِی الْحُسَیْن بنِ عَلِیْ یَقُوْلُ قُلْتُ لِاَبِیْ بَکْرٍ یَا اَبَابَکْرٍ مَنْ خَیْرُ النّٰاسِ بَعدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ؟فَقٰالَ لِی:اَبُوْکَ

”زید بن علی بن الحسین سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:میں نے اپنے بابا علی ابن الحسین سے سنا،وہ فرماتے تھے کہ انہوں نے اپنے بابا حسین بن علی علیہما السلام سے سنا کہ انہوں نے حضرت ابوبکرسے پوچھا:اے ابابکر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کون سا شخص سب سے بہتر ہے؟انہوں نے جواب دیا:تمہارے والد بزرگوار“۔

(ز)۔عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسٰارٍ الْمُزْنِی قٰالَ:سَمِعْتُ اَبَابَکْرٍالصِّدِّیْقَ یَقُوْلُ:عَلِیُّ عِتْرَةُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم ۔

”معقل بن یسار مزنی روایت کرتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ میں نے ابوبکر سے سنا کہ انہوں نے کہا کہ علی علیہ السلام اہل بیت سے ہیں اور خاندان رسول خداسے ہیں“۔

حوالہ

کنزالعمال،جلد۱۲،صفحہ۴۸۹(موسسة الرسالہ،بیروت،اشاعت پنجم)۔

(ح)۔(الریاض النظرةج۲،ص۱۶۳)قٰالَ:جٰاءَ اَبُوبَکرٍوَعَلِی یَزُورٰانِ قَبْرَالنَّبِی صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم بَعْدَ وَفٰا تِه بِسِتَّةِ اَیَّامٍ،قٰالَ عَلِیٌّ عَلَیْهِ السَّلَام لِاَبِی بَکْرٍ تَقَدَّمْ فَقٰالَ اَبُوْبَکْرٍ مٰاکُنْتُ لِأَتَقَدَّمَ رَجُلاً سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰه صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم یَقُوْلُ:عَلِیٌ مِنِّی بِمَنْزِلَتِیْ مِنْ رَبِّی ۔


”کتاب ریاض النظرہ،جلد۲صفحہ۱۶۳پر لکھتے ہیں کہ ابوبکر اور حضرت علی علیہ السلام بعد از وفات پیغمبر اسلام متواتر چھ روز تک زیارت قبر کیلئے جاتے رہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے ابوبکر سے کہا کہ آپ آگے آگے چلیں توحضرت ابوبکر نے کہا کہ میں ہرگز اُس شخص کے آگے نہیں چلوں گا جس کے بارے میں خود رسول اللہ سے سنا کہ آپ فرماتے تھے کہ علی علیہ السلام کی منزلت میرے نزدیک وہی ہے جو میری منزلت خدا کے سامنے ہے“۔

(ط)۔عَنْ مَعْقَلِ بْنِ یَسٰارِالْمُزْنِی یَقُوْلُ:سَمِعْتُ اَبٰابَکْرٍالصِّدِّیْقَ یَقُوْلُ لِعَلِیِّ ”عُقْدَةُ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم“ ۔

”معقل بن یسار مزنی روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکرصدیق کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ علی ابن ابی طالب علیہما السلام عقدئہ رسول اللہ ہیں“۔

”عقدہ“ بمعنی وہ شخص جو لوگوں سے رسول اللہ کیلئے بیعت منعقد کروائے۔

حوالہ ابن عساکر،تاریخ دمشق میں، شرح حال امام علی ،جلد۳،حدیث۱۰۹۲،ص۵۴

(ی) عَنْ قَیسِ بْنِ حٰازِمٍ قٰالَ:اِلْتَقٰی اَ بُوْبَکْرٍالصِّدِّیْقُ وَعَلِیٍُّ فَتَبَسَّمَ اَبُوْبَکْرٍ فِی وَجْهِ عَلِیٍّ فقٰالَ لَهُ مَالَکَ تَبَسَّمْتَ؟قٰالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ یَقُوْلُ”لَا یَجُوْزُ اَحَدٌ الصِّرٰ اطَ اِلَّامَنْ کَتَبَ لَهُ عَلِیُّنِ الْجَوٰاز“

”قیس بن حازم سے روایت کی گئی ہے کہ حضرت ابوبکر نے حضرت علی علیہ السلام سے ملاقات کی اور انہوں نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے چہرے کو دیکھا اور مسکرائے۔ حضرت علی علیہ السلام نے پوچھا کہ مسکرانے کی وجہ کیا ہے؟ تو حضرت ابوبکر نے کہا کہ میں نے پیغمبراسلام سے سنا ہے کہ کوئی بھی پل صراط سے نہ گزرسکے گا مگر جس کو علی علیہ السلام نے گزرنے کیلئے پروانہ(اجازت) لکھ کر دیا ہو“۔


حوالہ جات

نقل از مقدمہ کتاب”پھر میں ہدایت پاگیا“، مصنف:ڈاکٹر سید محمد تیجانی سماوی، صفحہ۲،بمطابق نقل از ابان السمان درالموافقہ، صفحہ۱۳۷اور ابن حجر،کتاب صواعق محرقہ،صفحہ۱۲۶اور ابن مغازلی شافعی، کتاب مناقب علی علیہ السلام،صفحہ۱۱۹۔

(ک)۔ حضرت ابوبکر نے بہت دفعہ برسر منبر مسلمانوں کی کثیر تعداد کے سامنے کہا:

”اَقِیْلُوْنِی،اَقِیْلُوْنِی وَلَسْتُ بِخَیرٍ مِنْکُمْ وَعَلِیٌ فِیْکُمْ“

”مجھے چھوڑ دو،مجھے چھوڑ دو کیونکہ میں تم سے بہترنہیں ہوں جب علی علیہ السلام تمہارے درمیان ہوں“۔

حوالہ جات

جناب محمد رازی، کتاب ”میں کیوں شیعہ ہوا“،صفحہ۳۳۲میں بنقل از فخر رازی،کتاب نہایة العقول۔ اسی طرح طبری،تاریخ طبری میں،بلاذری کتاب انساب الاشراف میں۔سمعانی کتاب فضائل میں۔ غزالی کتاب سرالعالمین میں۔سبط ابن جوزی کتاب تذکرہ قاضی بن روز بہان اور ابی الحدید اور دوسرے۔

حضرت ابوبکر کے کلمات کی تصدیق نہج البلاغہ میں امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے خطبہ سے بھی ہوتی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے:

’فَیٰاعَجَبَابَیْنٰاهُوَیَسْتَقِیْلَهَافِی حِیَاتِهِ اِذْعَقَدَهٰالِآخِرَبَعْدَمَمٰاتِهِ‘

”یہ کتنی تعجب کی بات ہے کہ ابوبکر اپنی خلافت کے زمانہ میں خود خلافت سے استقالہ

(بیزاری) کرتے رہے لیکن اس دنیا سے جاتے ہوئے خلافت کسی اور کے سپرد کرگئے“۔


۲۔کلام حضرت عمر بن خطاب

(الف) عَنْ عُمَرَبنِ الْخَطَّابِ قٰالَ:کُنْتُ وَ اَبُوْبَکْرٍ وَ اَبُوْعُبَیْدَةٍ وَجَمٰاعَةٌ اِذ ضَرَبَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم مِنْکَبَ عَلِیٍّ فَقٰالَ:یٰاعَلِیُّ اَنْتَ اَوَّلُ الْمُومِنِیْنَ اِیْمٰاناً وَاَوَّلُهُمْ اِسْلٰاماً وَاَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ هٰارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی

”عمر بن خطاب سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے کہاکہ میں،ابوبکر ،ابوعبیدہ اوربعض دوسرے افراد تھے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کے شانہ پرہاتھ رکھا اور کہا:یا علی !تم مومنوں میں ایمان کے اعتبار سے سب سے اوّل ہو اور اسلام قبول کرنے کے لحاظ سے بھی اوّل ہو اور تمہاری منزلت کی نسبت میرے نزدیک وہی ہے جو ہارون علیہ السلام کی منزلت کی نسبت موسیٰ علیہ السلام سے تھی“۔

حوالہ جات

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة،صفحہ۲۳۹،اشاعت قم،سال۱۳۷۱ء اور تقی ہندی،کنزالعمال ،جلد۱۳،صفحہ۱۲۲اور۱۲۳(موسسة الرسالہ، بیروت، اشاعت پنجم)۔

(ب) عَنْ عمَّارَالدُّ هْنِی عَن سَالِم بِنْ اَبِیْ الْجَعْد قٰالَ:قِیْلَ لِعُمَرَ:

اِنَّکَ تَصْنَعُ بِعَلیٍ شَیْئاً لٰا تَصْنَعُهُ بِأَحَدٍ مِنْ اَصْحٰابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم قٰالَ:اِنَّهُ مَوْلٰایَ

”عماردھنی،سالم بن ابی جعد سے روایت کرتے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر سے پوچھا کہ آپ حضرت علی علیہ السلام سے جس طرح کا(اچھا) سلوک کرتے ہیں، اُس طرح کا(اچھا) سلوک کسی اور صحابی پیغمبر سے نہیں کرتے۔ اس پر حضرت عمر نے جواب دیا :بے شک علی علیہ السلام میرے مولیٰ ہیں“۔

حوالہ ابن عساکر،تاریخ دمشق ، باب حال امام علی ،ج۲،ص۸۲،حدیث۵۸۴،شرح محمودی


(ج) عَنْ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ قٰالَ:نَصَبَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم عَلِیاً عَلَماً فقٰالَ:مَنْ کُنْتُ مَوْلٰاهُ فَعَلِیٌ مَوْلٰاهُ،اَلَّلهُمَّ وَالِ مَنْ وَالٰاهُ وَعَادِمَنْ عٰادٰاهُ وَاخذُلْ مَنْ خَذَلَهُ وَانْصُرْمَنْ نَصَرَهُ اَلَّلهُمَّ اَنْتَ شَهِیْدِی عَلَیْهِمْ قٰالَ عُمَرُ وَکَانَ فِی جَنْبِی شَابٌ حَسَنُ الْوَجْهِ،طِیِّبُ الرِّیْحِ،فَقٰال:یٰاعُمَرُ لَقَدْعَقَدَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم عَقْداً لٰا یَحِلُّهُ اِلّٰا مُنٰافِقٌ فَاحذَرْاَنْ تَحِلَّهُ قٰالَ عُمَرُ:فَقُلْتُ یٰارَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم اِنَّکَ حَیْثُ قُلْتَ فِی عَلِیٍ(مٰاقُلْتَ)کَانَ فِیْ جَنْبِی شَابٌ حَسَنُ الوْجَهِ طَیِّبُ الرِّیْحِ قٰالَ کذٰاوکَذٰا قٰالَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم نَعَمْ یٰاعُمَرُاِنَّهُ لَیْسَ مِنْ وُلْدِآدَمَ لَکِنَّهُ جِبْرَئِیْلُ اَرٰادَ اَنْ یُوکَّدَعَلَیْکُمْ مٰا قُلْتُهُ فِیْ عَلِیٍّ

”عمر بن خطاب سے روایت کی گئی ہے ،انہوں نے کہاکہ رسول خداحضرت علی علیہ السلام کو سب سے بہتر اور بزرگ جانتے تھے۔پس رسول خدا نے فرمایا کہ جس کامیں مولا ہوں،اُس کا علی مولا ہیں۔پروردگار!تو اُس کو دوست رکھ جو علی علیہ السلام کو دوست رکھے اور اُس کودشمن رکھ جو علی سے دشمنی رکھے اور اُس کو ذلیل و رسوا کر جو علی علیہ السلام کو رسوا کرے اور اُس کی مدد فرما جو علی کی مدد کرے۔ پروردگار! تو اس پر میرا گواہ رہنا۔

حضرت عمر نے کہا کہ ایک خوش شکل نوجوان جس سے پاکیزہ خوشبو آرہی تھی، اُس نے مجھ سے کہا کہ یا عمر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا وعدہ پورا کردیا ہے۔ اب اس کو کوئی نہیں توڑے گامگر منافق۔اے عمر! تو بھی محتاط رہ کہ اس کو نہ توڑے۔ حضرت عمر نے کہا کہ میں نے رسول خدا کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ! جب آپ حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں فرمارہے تھے تو وہ خوش شکل، اچھی خوشبو والا جوان مجھ سے اُسی طرح کہہ رہا تھا۔ حضرت رسول خدا نے فرمایا:ہاں، اے عمر! وہ آدم کی اولاد سے نہ تھابلکہ وہ جبرائیل تھا اور چاہتا تھا کہ جو میں نے علی علیہ السلام کے بارے میں کہا ہے،وہ تجھ سے تاکیداً کہے“۔


حوالہ جات

۱۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة(باب مودّت الخامسہ)صفحہ۲۹۷۔

۲۔ ابن عساکر،تاریخ دمشق میں،باب حال علی ،جلد۲،صفحہ۸۰(شرح محمودی)نقل ازبخاری تا ریخ کبیر سے،جلد۱،صفحہ۳۷۵اور دوسرے۔

(د) عَنْ عَمّٰارِالدُّهْنِیْ عَنْ اَبِی فٰاخِتَةَ ، قٰالَ: اَقْبَلَ عَلِیٌ وَعُمَرُجٰالِسٌ فِی مَجْلِسِهِ فَلَمَّارَاٰهُ عُمَرُ تَضَعْضَعَ وَتَوٰاضَعَ وَتَوَسَّعَ لَهُ فِی الْمَجْلِسِ،فَلَمَّاقٰامَ عَلِیٌ،قٰالَ بَعْضُ الْقَوْمِ:یٰااَمِیْرَالْمُومِنِیْنَ اِنَّکَ تَصْنَعُ بِعَلِیٍ صَنِیعًا مٰاتَصْنَعُهُ بِاَحَدٍ مِنْ اَصْحٰابِ مُحَمَّدٍ قٰالَ عُمَرُ:وَمٰارَأَیْتَنِی اَصْنَعُ بِهِ؟قٰالَ:رَأَیْتُکَ کُلَّمٰارَأَیْتَهُ تَضَعْضَعْتَ وَتَوٰاضَعْتَ وَاَوْسَعْتَ حَتّٰی یَجْلِسَ قٰالَ:وَمٰایَمْنَعُنِی،وَاللّٰهِ اِنَّهُ مَوْلٰایَ وَمَوْلٰی کُلِّ مُومِنٍ

”عماردھنی، ابی فاختہ سے روایت کرتے ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بیٹھے تھے کہ حضرت علی علیہ السلام تشریف لائے تو جب حضرت عمر نے حضرت علی علیہ السلام کوآتے دیکھا تو لرزے اور استقبال کیا اور اپنے پاس بیٹھنے کیلئے جگہ بنائی۔جب علی علیہ السلام چلے گئے تو ایک شخص نے حضرت عمر سے کہا کہ اے میرے آقا! آپ نے حضرت علی علیہ السلام سے ایسا سلوک کیا ہے جوآپ کسی دوسرے صحابی پیغمبر سے نہیں کرتے۔ حضرت عمر نے کہا کہ میں نے کونسا ایسا سلوک کیا ہے جو تو نے دیکھا؟ اُس شخص نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ جیسے ہی آپ کی نظر حضرت علی علیہ السلام پر پڑی تو آپ لرزے اور اُن کا استقبال کیا اور اُن کے بیٹھنے کیلئے جگہ مہیا کی کہ وہ بیٹھ جائیں۔ حضرت عمرنے کہا کہ مجھے کونسی چیز اس سلوک سے باز رکھ سکتی ہے! خدا کی قسم! حضرت علی علیہ السلام میرے بھی مولیٰ ہیں اور تمام مومنین کے بھی مولیٰ ہیں“۔

حوالہ

ابن عساکر، تاریخ دمشق میں، باب شرح حال امام علی ،جلد۲،صفحہ۸۲،حدیث۵۸۵(شرح محمودی)۔


(ھ)قٰالَ عُمَرُبْنُ الْخَطَّاب:لَقَدْ أُعْطِیَ عَلِیٌ ثَلاٰثَ خِصٰالٍ لَأَنْ تَکُوْنَ لِی خَصْلَةٌ مِنْهَا اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ أَنْ أُعْطِیَ حُمُرَ النَّعَمِ،فَسُئِلَ وَمٰاهِیَ؟قٰالَ تَزْوِیجُ النَّبِیِّ اِبْنَتَهُ وَسُکْنٰاهُ الْمَسْجِدَ لَایَحِلُّ لِاَحَدٍ فِیْهِ مٰایَحِلُّ لِعَلیٍ وَالرّٰایَةُ یَوْمَ خَیْبَرٍ ۔

”حضرت عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے تین سعادتیں عطا فرمائی ہیں کہ اُن میں سے ایک بھی سعادت مجھے ملتی تو وہ مجھے سرخ اونٹوں کی قطاروں سے بھی زیادہ محبوب ہوتی۔ پوچھا گیا کہ وہ کونسی سعادتیں ہیں؟ حضرت عمر نے جواب دیا:

پہلی: پیغمبر اسلام کی بیٹی سے شادی کرنا۔

دوسری: مسجد کے اندر حضرت علی علیہ السلام کے گھرکا دروازہ کھلناجو کسی دوسرے کیلئے جائز نہ تھا

مگر علی علیہ السلام کے لئے جائز تھا۔

تیسری: جنگ خیبر میں پیغمبر اسلام کا علی علیہ السلام کو عَلَم عطا کرنا۔

حوالہ جات

۱۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی ،کتاب ینابیع المودة،باب سوم،صفحہ۳۴۳۔

۲۔ حاکم المستدرک میں،جلد۳،صفحہ۱۲۵۔

۳۔ ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں، جلد۹،صفحہ۱۲۰۔

۴۔ ابن عساکر،تاریخ دمشق ، باب حال امام علی ،ج۱ص۲۱۹حدیث۲۸۲شرح محمودی


(و)۔عَنْ ابنِ عباس:مَشِیْتُ وَعُمَرَبْنَ الْخَطّٰابِ فِی بَعْضِ اَزِقَّةِ الْمَدِیْنَةِ فَقٰال لِییا ابن عباسوَاللّٰهِ لَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم یَقُوْلُ لِعَلِیِ بنِ اَبِی طَالِبٍ:مَنْ اَحَبَّکَ اَحَبَّنِی وَمَنْ اَحَبَّنِیْ اَحَبَّ اللّٰه، وَمَنْ اَحَبَّ اللّٰهَ اَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ مُدْخَلاً

”ابن عباس روایت کرتے ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ میں اور حضرت عمربن خطاب مدینہ کی ایک گلی سے گزر رہے تھے کہ حضرت عمر نے مجھ سے کہا:اے ابن عباس! خدا کی قسم، میں نے رسول اللہ سے سنا،رسول خدانے علی علیہ السلام سے کہا:’یا علی ! جس نے تمہیں دوست رکھا، اُس نے مجھے دوست رکھا اور جس نے مجھے دوست رکھا،اُس نے گویا اللہ تعالیٰ کو دوست رکھا اور جس نے اللہ کو دوست رکھا،اُسے اللہ تعالیٰ بہشت میں داخل کرے گا“۔

حوالہ کتاب تاریخ دمشق ،باب حال امام علی علیہ السلام،جلد۲،صفحہ۳۸۸(شرح محمودی)۔

(ز)۔عَنْ عَبْدِاللّٰهِ بْنِ ضَبِیْعَةَ الْعَبْدِی،عَنْ اَبِیْهِ،عَنْ جَدِّهِ قٰالَ:أَتٰی عُمَرَبْنَ الْخَطّٰابِ رَجُلاٰنِ سَأَلاٰهُ عَنْ طَلاٰقِ الْأَمَةِ،فَقٰامَ مَعَهُمٰا فَمَشیٰ حَتّٰی أَتیٰ حَلْقَةً فِی الْمَسْجِدِ،فیهٰارَجُلٌ اَصْلَعُ،فَقٰال:اَیُّهَاالْاصْلَعُ مٰاتَریٰ فِی طَلاٰقِ الْأَمَةِ؟فَرَفَعَ رَأسَهُ اِلَیْهِ ثُمَّ أَوْمَأَ اِلَیْهِ بِالسَّبٰابَةِ وَالْوُسْطیٰ،فَقٰالَ لَهُ عُمَرُ:تَطلِیقَتٰانِفَقٰالَ اَحَدُهُمٰا:سُبْحٰانَ اللّٰهِ،جِئْنٰاکَ وَأَنْتَ اَمِیْرُالْمُومِنِیْنَ فَمَشِیْتَ مَعَنٰاحَتّٰی وَقَفْتَ عَلٰی هٰذِهِ الرَّجُلِ فَسَأَ لْتَهُ،فَرَضِیْتَ مِنْهُ أَنْ أُوَمَاَاِلَیْکَ؟فَقٰالَ لَهُمٰا(عُمَرُ)مٰا تَدْرِیَانِ مَنْ هٰذَا؟قٰالَ:لاٰقٰالَ هٰذَا عَلیُّ بْنُ اَبی طٰالِبٍأُشْهِدُعَلٰی رَسُوْلِ اللّٰه صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم لَسَمِعْتُهُ وَهُوَ یَقُوْلُ:اَنَّ السَّمٰاوٰاتِ السَّبْعِ وَالْارْضِیْنَ السَّبْعِ لَوْوُضِعَتٰافِی کَفَّةِ(میزٰانِ)ثُمَّ وُضِعَ اِیْمٰانُ عَلِیٍّ فِی کَفَّةِ مِیزٰانِ لَرَجَعَ اِیْمٰانُ عَلِیٍّ ۔

”دومرد حضرت عمر بن خطاب کے پاس آئے اور اُن سے کنیز کی طلاق کے بارے میں سوال کیا۔حضرت عمر ان کو ہمراہ لے کر مسجد کی طرف آئے ۔بہت سے لوگ مسجد میں بیٹھے تھے۔ اُن کے درمیان ایک شخص بیٹھا تھا(جس کے سر کے اگلے حصے کے تھوڑے سے بال گرے ہوئے تھے)۔حضرت عمر نے اُن سے پوچھا کہ کنیز کی طلاق کیلئے آپ کی کیا رائے ہے؟


اُس شخص نے سربلند کیا اور اپنی شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا اور جواب دیا۔ پس حضرت عمر نے سائل کو جواب کی طرف متوجہ کیا اور کہا کہ کنیز کیلئے دو طلاقیں ہیں۔اس پر اُن دومردوں میں سے ایک نے کہا:سبحان اللہ۔ ہم تو آپ کے پاس آئے تھے کہ آپ خلیفہ وقت ہیں اور ہمارے امیرالمومنین ہیں اور آپ تو ہمیں اس شخص کے پاس لے آئے ہیں اور مسئلہ اُس سے پوچھتے ہیں اور اُس کے اشارہ کے ہی جواب پر راضی اور مطمئن ہوگئے۔ اس پر حضرت عمر نے اُن دونوں مردوں سے کہا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ وہ مرد کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ، ہم نہیں جانتے۔ حضرت عمر نے جواب دیا کہ وہ حضرت علی علیہ السلام ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میں نے خود سنا ہے کہ اگر ترازو کے ایک پلڑے میں سات زمینیں اور ساتوں آسمان رکھ دئیے جائیں اور دوسرے پلڑے میں ایمان علی رکھ دیا جائے تو ایمان علی والا پلڑا بھاری ہوگا“۔

حوالہ جات

۱۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب حال امام علی ،ج۲ص۳۶۵حدیث۸۷۲شرح محمودی

۲۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب میں، صفحہ۲۸۹،شمارہ۳۳۰،اشاعت اوّل اور خوارزمی،

باب۱۳،مناقب میں،صفحہ۷۸،اشاعت از تبریز۔

۳۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں، آخر باب۶۲،صفحہ۲۵۸اور دوسرے۔

(ح)۔فقال عُمَرُبْنُ الْخَطَّابِ:عَجَزَتِ النِّسٰاءُ اَنْ یَلِدْنَ مِثْلَ عَلِی ۔

”حضرت عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ تمام عورتیں عاجز ہیں کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام جیسا فرزند پیدا کریں“۔

حوالہ

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب۶۵،صفحہ۴۴۸۔


(ط)۔عَنْ عَبْدِاللّٰهِ بْنِ عَبّٰاسِ قٰالَ:سَمِعْتُ عُمَرَبْنَ الْخَطّٰابِ یَقُوْلُ:کُفُّوْا عَنْ ذِکْرِ عَلِیٍّ فَلَقَدْ رَأَیْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ فِیْهِ خِصٰالاً لَاَنْ تَکُونَ لِی وٰاحِدَةً مِنْهُنَّ فِیْ آلِ الْخَطّٰابِ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمّٰاطَلَعَتْ عَلَیْهِ الشَّمْسُ

”عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی بدگوئی سے پرہیز کرو کیونکہ میں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے علی علیہ السلام کی فضیلتوں اور خصلتوں کو دیکھا کہ اگر اُن میں سے ایک بھی فضیلت خاندان خطاب میں ہوتی تو وہ مجھے ہرچیز اور زمین کی ہرجگہ جہاں پر سورج چمکتا ہے، سے عزیز تر ہوتی“۔

حوالہ کتاب آثار الصادقین، جلد۱۴،صفحہ۲۱۲،نقل از فضائل الخمسہ،جلد۲،صفحہ۲۳۹،کنزالعمال،جلد۶،صفحہ۳۹۳۔

(ی)۔عَنْ عُمَرَبْنِ الْخَطّٰابِ،قٰالَ:قٰالَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم:مَااکْتَسَبَ مَکْتَسِبٌ مِثْلَ فَضْلِ عَلِیٍّ،یَهْدِی صٰاحِبَهُ اِلَی الْهُدٰی وَیَرُدُّ عَنِ الرَّدٰی ۔

”حضرت عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کو بھی علی ابن ابی طالب علیہ السلام جیسی فضیلت میسر نہ آسکی جو اپنے ساتھی اور پاس بیٹھنے والے کو ہدایت کرتا ہے اور اُسے گمراہ ہونے سے باز رکھتا ہے“۔

حوالہ

آثارالصادقین،جلد۱۴،صفحہ۲۱۲،نقل از الغدیر،جلد۵،صفحہ۳۶۳اور فضائل الخمسہ جلد۱،صفحہ۱۶۷،مستدرک سے۔


(ک)۔عَنوَعُمَرِبْنِ الْخَطّٰاب وَ،اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم قٰالَ:اَلنَّظَرُاِلٰی وَجْهِ عَلِیٍّ عِبٰادَةٌ ۔

”بہت سے راویوں اور عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا کہ حضرت علی علیہ السلام کے چہرے پر نگاہ کرنا عبادت ہے“۔

حوالہ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ، جلد۷،صفحہ۳۵۸۔

(ل)۔عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفْلَةَ،قٰالَ:رَأیٰ عُمَرُرَجُلاً یُخٰاصِمُ عَلِیّاً،فَقٰالَ لَهُ عُمَرُ:اِنِّی لَأَظُنُّکَ مِنَ الْمُنٰافِقِیْنَ!سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ یَقُوْلُ:عَلِیُّ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ هٰارُوْنَ مِنْ مُوسٰی اِلاّٰ اَنَّهُ لٰاَنْبِیَّ بَعْدِی ۔

”سوید بن غفلہ سے روایت کی گئی ہے ،وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عمر نے ایک شخص کو دیکھا جو حضرت علی علیہ السلام سے جھگڑ رہا تھا۔حضرت عمر نے اُس شخص سے کہا کہ میرا گمان ہے کہ تو منافقوں میں سے ہے کیونکہ میں نے خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ علی علیہ السلام کی منزلت میرے نزدیک وہی ہے جو ہارون علیہ السلام کی موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھی، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا“۔

حوالہ جات

آثار الصادقین،جلد۱۴،صفحہ۲۸۶،نقل از ابن عساکر ،تاریخ دمشق، باب شرح حال امام علی علیہ السلام،جلد۱،صفحہ۳۶۰۔

(م)۔عَن اَبِی هُرَیْرَةَ،عَن عُمَرَبْنِ الْخَطّٰابِ قٰالَ:قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم مَنْ کُنْتُ مَوْلاٰهُ فَعَلِیٌّ مَوْلاٰهُ

ابوہریرہ ، عمر بن خطاب سے روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا :

”جس کا میں مولا ہوں، اُس کا علی مولا ہے“۔


حوالہ جات

۱۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب حال امام علی ،ج۲،ص۷۹،حدیث۵۸۱،شرح محمودی

۲۔ ابن مغازلی، مناقب میں،صفحہ۲۲،شمارہ۳۱،اشاعت اوّل۔

(ن)۔قٰالَ عُمَرُبْنُ الْخَطّٰابِ:عَلِیٌّ أَقْضٰانٰا

”حضرت عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ ہم میں سے سب سے زیادہ عدل(قضاوت) کرنے والے علی ابن ابی طالب علیہما السلام ہیں“۔

حوالہ جات

۱۔ حافظ ابونعیم،حلیة الاولیاء میں،جلد۱،صفحہ۶۵۔

۲۔ سیوطی، تاریخ الخلفاء میں، صفحہ۱۷۰۔

۳۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ ،جلد۷،صفحہ۳۶۰۔

۴۔ بلاذری،کتاب انساب الاشراف میں،جلد۲،صفحہ۹۷،حدیث۲۱،اشاعت اوّل ۔

(س)۔عَنْ عُمَرَبْنِ الْخَطّٰابِ،عَنِ النَّبِی صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّم کُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ یَنْقَطِعُ یَوْمَ الْقِیٰامَةِ اِلاّٰ سَبَبِی وَنَسَبِی وَکُلٌّ وُلْدِآدَمَ فَاِنَّ عَصَبَتَهُمْ لِأَبِیْهِمْ مٰاخَلاٰ وُلْدِ فٰاطِمَةَ،فَاِنِّیْ أَ نَاأَبُوْهُمْ وَعَصَبَتْهُمْ

”حضرت عمر بن خطاب روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ قیامت کے روز تمام سببی اور نسبی رشتے منقطع ہوجائیں گے سوائے میرے سببی اور نسبی رشتوں کے۔ تمام اولادآدم کی نسبت اُن کے باپوں سے ہے، سوائے میری بیٹی فاطمہ کے۔ حقیقت میں مَیں اُن کا باپ بھی ہوں اوراُن کی قوم بھی“۔

حوالہ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب۵۷،صفحہ۳۲۰۔


(ع)۔قٰالَ عُمَرُبْنُ الْخَطّٰابِ:لاٰ یُفْتِیَنَّ اَحَدٌ فِی الْمَسْجِدِ وَعَلِیٌّ حٰاضِرٌ ۔

”حضرت عمر بن خطاب نے کہا کہ جب تک حضرت علی علیہ السلام مسجد میں تشریف رکھتے ہوں،کوئی دوسرا فتویٰ نہ دے“۔

حوالہ

آثار الصادقین،جلد۱۴،صفحہ۴۹۲،نقل از الامامُ الصادق،جلد۲،صفحہ۵۸۲۔

(ف)۔قٰالَ عُمَرُبْنُ الْخَطّٰابِ:یَابْنَ اَبِیْطٰالِبٍ،فَمٰازِلْتَ کٰاشِفَ کُلِّ شُبْهَةٍ وَمَوْضِعَ کُلِّ عِلْمٍ

”حضرت عمر بن خطاب(حضرت علی علیہ السلام کو مخاطب کرکے کہتے ہیں)کہ اے ابو طالب کے فرزند ! آپ نے ہمیشہ شک و شبہات کو دور کیا اور کل علم کی جگہ پر فائز رہے ہیں“۔

حوالہ

آثارالصادقین،جلد۱۴،صفحہ۴۹۳،نقل از الامام الصادق،جلد۲،صفحہ۵۸۲۔

(ص)۔قٰالَ عُمَرُ:لاٰ أَبْقٰانِی اللّٰهُ بَعْدَ عَلِیِّ ابْنِ اَبیطٰالِبٍ ۔

”حضرت عمر بن خطاب نے کہا:پروردگارا! مجھے علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے بعد زندہ نہ رکھنا“۔

حوالہ آثار الصادقین، جلد۱۴،صفحہ۲۹۳،نقل از الغدیر،جلد۶،صفحہ۱۲۶۔

(ق)۔قٰالَ عُمَرُفِی عِدَّةِ مَوَاطِنَ:لَولاٰعَلِیٌّ لَهَلَکَ عُمَر ۔

”حضرت عمر نے متعدد مواقع پر کہا کہ اگر حضرت علی علیہ السلام نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا“۔


حوالہ جات

۱۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی ، کتاب ینابیع المودة،باب۱۴،صفحہ۸۰اور۲۴۹۔

۲۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب،باب۵۹،صفحہ۲۲۷۔

(ر)۔عَنْ سَعِیْدِبْنِ الْمُسَیِّبِ قٰالَ:قٰالَ عُمَرُابْنُ الْخَطّٰابِ:اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ مُعْضَلَةٍ لَیْسَ لَهٰاأَبُوالْحَسَنِ،عَلِیُّ بْنُ اَبِی طٰالِبٍ ۔

”سعید ابن مسیب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب سے سنا کہ انہوں نے کہا کہ میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں اُس مشکل سے جس کے حل کیلئے ابوالحسن(علی علیہ السلام)موجودنہ ہوں“۔

حوالہ جات

۱۔ بلاذری، کتاب انساب الاشراف ، جلد۲،صفحہ۹۹،حدیث۲۹،باب شرح حال علی ۔

۲۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں،باب۵۷،صفحہ۲۱۷۔

۳۔ سیوطی، کتاب تاریخ الخلفاء میں،صفحہ۱۷۱۔

۴۔ حاکم المستدرک میں(باب المناسک)جلد۱،صفحہ۴۵۷۔

۵۔ ابن کثیر،کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد۷،صفحہ۳۶اور دوسرے۔

(ش)۔قٰالَ عُمَرُابْنُ الْخَطّٰابِ:اَلّٰلهُمَّ لاٰ تُنْزِلْ بِی شَدِیْدَةً اِلَّاوَاَبُوْ الْحَسَنِ اِلٰی جَنْبِی ۔

”حضرت عمر بن خطاب کہتے ہیں :پروردگار!مجھ پر کوئی سختی(مشکل کام) نازل نہ فرما مگر علی ابن ابی طالب علیہ السلام میرے پاس ہوں“۔


حوالہ

آثار الصادقین،جلد۱۴،صفحہ۴۹۲،نقل از ”امام الصادق“،جلد۲،صفحہ۵۸۲۔

(ت)۔عَنْ اِبْنِ عَبّٰاسٍ قٰالَ:کُنْتُ أِسِیْرُ مَعَ عُمَرَبْنِ الْخَطّٰابِ فِی لَیْلَةٍ،وَوَعُمَرعَلیٰ بَغْلٍ وَ اَناعَلیٰ فَرَسٍ،فَقَرَأَ آ یَةً فِیْهٰا ذِکْرُ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طٰالِبِ فَقٰالَ:أَمٰاوَاللّٰهِ یٰا بَنِی عَبْدُالْمُطَّلِبْ لَقَدْ کٰانَ عَلِیٌّ فِیْکُمْ أَوْلیٰ بِهٰذَاالأَمْرِمِنِّی وَمِنْ أَبِیْ بَکْرٍ،(اِلٰی اَنْ قٰالَ) وَاللّٰهِ مٰا نَقْطَعُ اَمْراً دُوْنَهُ،وَلاٰ نَعْمَلُ شَیْئاً حَتّٰی نَسْتَأذِنَهُ

”ابن عباس روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ ایک شب میں اور حضرت عمرہم سفر تھے۔ حضرت عمرخچر پر سوار تھے اور میں گھوڑے پر۔ اس دوران ایک آیت پڑھی گئی۔ اُس آیت میں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا ذکر آیا۔ اُس پر حضرت عمر بن خطاب نے کہا:خدا کی قسم! اے عبدالمطلب کے بیٹو! ہوشیاررہو۔ تم سب میں علی علیہ السلام سب سے زیادہ اس (خلافت) کے اہل ہیں، مجھ سے اور ابو بکر سےیہاں تک کہ خدا کی قسم! میں کسی کام کو بھی اُن(علی علیہ السلام) کے بغیر مکمل نہیں کروں گا اور کوئی کام اُن کی اجازت کے بغیر نہیں کرونگا“۔

حوالہ راغب،محاضرات میں، جلد۷،صفحہ۲۱۳۔

(ث) عَنِ الْحٰافِظِ الدّٰارِالْقُطْنِیْ عَنْ عُمَرَ، وَقَدْجٰاءَ هُ اَعْرٰابِیّٰانِ یَخْتَصِمٰانِ فقالَ لِعَلِیٍّ:اِقْضِ بَیْنَهُمٰا

فَقٰالَ اَحَدُهُمٰا:هٰذَا یَقْضِی بَیْنَنٰا؟!فَوَثَبَ اِلَیْهِ عُمَرُوَاَحَدَ بِتَلْبِیْبِهِ،وََقٰالَ وَیْحَکَ مٰا تَدْرِی مَنْ هٰذَا؟هٰذَا مَولاٰیَ وَمَنْ لَمْ یَکُنْ مَوْلاٰهُ فَلَیْسَ بِمُومِنٍ


”حافظ دار قطنی حضرت عمر بن خطاب سے روایت کرتے ہیں کہ دو عرب لڑتے جھگڑتے حضرت عمر کے پاس آئے۔ پس حضرت عمر نے حضرت علی علیہ السلام سے درخواست کی کہ ان کے درمیان فیصلہ فرمادیجئے۔اُن میں سے ایک نے کہا کہ کیا یہ شخص ہمارے درمیان فیصلہ کرے گا؟یہ سن کر حضرت عمراُس شخص کی طرف لپکے اور اُس کا گریبان پکڑ کر کہا:حیف ہے تجھ پر۔ کیا تو جانتا ہے کہ یہ شخص کون ہے؟ یہ میرے مولیٰ ہیں اور جس کے یہ مولیٰ نہیں، وہ شخص مومن نہیں“۔

حوالہ ابن عساکر، تاریخ دمشق ،جلد۲،صفحہ۸۲،باب حال امام علی علیہ السلام،حاشیے پر۔

(خ)۔عَنْ عُمَیْرِبْنِ بِشْْرٍالْخَثْعَمِیّ قٰالَ:قٰالَ عُمَرُ:عَلِیٌّ اَعْلَمُ النّٰاسِ بِمٰااَنْزَلَ اللّٰهُ عَلیٰ مُحَمَّدٍ ۔

”عمیر بن بشیر کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام سب انسانوں سے بڑے عالم ہیں اُس میں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل فرمایا ہے“۔

حوالہ بوستان معرفت،ص۶۷۷نقل از حسکانی، شواہد التنزیل جزو اوّل،ص۳۰حدیث۲۹

(ذ)۔قال عُمَرُبْنُ الْخَطّٰابِ(یَوْمَ غَدِیْرِخُمٍّ)هَنِیئاً لَکَ یَابْنَ اَبِی طٰالِبٍ اَصْبَحْتَ مَوْلیٰ کُلِّ مُومِنٍ وَمُومِنَةٍ ۔

”حضرت عمر بن خطاب نے غدیر خم کے دن( جس دن پیغمبر اکرم نے حضرت علی علیہ السلام کو ولایت پر منصوب فرمایا تھا) حضرت علی علیہ السلام سے کہا :یا علی !آپ کو مبارک ہو، آپ سب مومن مردوں اور عورتوں کے مولیٰ ہوگئے ہیں“۔

حوالہ جات

۱۔ ابن عساکر،تاریخ دمشق ، باب حال علی ،جلد۲،صفحہ۴۸تا۵۱(شرح محمودی)۔

۲۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ،جلد۷،صفحہ۳۵۰۔

۳۔ گنجی شافعی، کتاب کفایة الطالب میں،باب اوّل، صفحہ۶۲(حضرت ابوبکر اور عمر کی حضرت علی علیہ السلام کو مبارک باد)۔

۴۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی،ینابیع المودة، باب مناقب السبعون،صفحہ۲۸۳،حدیث۵۶اور باب۴،صفحہ۳۳،۳۴اور دوسرے۔


(ض)۔عَنْ عُمَرَبْنِ الْخَطّٰابِ اَنَّهُ قٰالَ:اُشْهِدُ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰهِ لَسَمِعْتُهُ وَهُوَیَقُوْلُ:لَوْاَنَّ السَّمٰاوٰاتِ السَّبْعَ وُضِعَتْ فِیْ کَفَّةٍ وَوُضِعَ اِیْمٰانُ عَلِیٍّ فِیْ کَفَّةٍ لَرَجَّعَ اِیْمٰانُ عَلِیٍ ۔

”حضرت عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے رسول خدا سے سنا کہ اگر ساتوں آسمانون کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور دوسرے پلڑے میں حضرت علی کا ایمان رکھ دیا جائے تو علی علیہ السلام کے ایمان والا پلڑا بھاری رہے گا“۔

حوالہ کنزالعمال،جلد۱۲،صفحہ۴۸۹(موسسة الرسالہ،بیروت،اشاعت پنجم)۔

(ظ)۔عَنْ اِبنِ عَبّٰاسٍ قٰالَ:سَمِعْتُ عُمَرَبْنِ الْخَطّٰابِ یَقُوْلُ:قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ:یٰاعَلِیُّ اَنْتَ اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ اِسْلاٰماً وَاَوَّلُ الْمُومِنِیْنَ اِیْمٰاناً ۔

”ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب سے سنا ،حضرت عمر کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا :یا علی ! آپ مسلمین میں پہلے مسلمان ہیں اور مومنین میں پہلے مومن ہیں“۔

حوالہ جات

۱۔ آثار الصادقین، جلد۱۴،صفحہ۳۴،نقل ازمناقب ابن شہر آشوب،جلد۲،صفحہ۶۔

۲۔ متقی ہندی،کتاب کنزالعمال میں،روایت کے آخر میں،جلد۶،صفحہ۳۹۵۔

(غ)۔عُمَرُبْنُ الْخَطّٰابِ رَفَعَهُ:لَوِاجْتَمَعَ النّٰاسُ عَلیٰ حُبِّ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طٰالِبٍ لَمٰاخَلَقَ اللّٰهُ النّٰارَ ۔

”حضرت عمر بن خطاب (حدیث مرفوع) روایت کرتے ہیں جس میں پیغمبر اکرم نے فرمایا تھا کہ اگر تمام انسان علی کی دوستی و محبت پر اکٹھے ہوجاتے تو اللہ تعالیٰ جہنم کو پیدا نہ فرماتا“۔

حوالہ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب المودة السادسة،صفحہ۲۹۹۔


ایک اور مثال

”حضرت عمر بن خطاب اپنی خلافت کے دوران حج سے مشرف ہوئے اور طواف کے دوران اُن کی نظر ایک جوان پر پڑی کہ اُس کی صورت ایک طرف سے سیاہ ہوگئی تھی اورآنکھیں سرخ اور خون آلودہ تھیں۔ حضرت عمر نے اُس کو آواز دی اور کہا:

یٰافتٰی مَنْ فَعَلَ بِکَ هٰذَا؟

اے جوان! تجھے اس طرح کس نے کیا اور تجھے کس نے مارا ہے؟ اُس جوان نے جواب دیا:

ضَرَبَنِی اَ بُوْالْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طٰالِبٍ ۔

حضرت علی علیہ السلام نے مجھے مارا ہے۔ حضرت عمر نے کہا: تھوڑا رک جاؤکہ علی علیہ السلام آجائیں۔ اسی حال میں علی ابن ابی طالب علیہ السلام وہاں پہنچ گئے۔ عمر نے کہا:

یٰا عَلِیُّ أَ اَنْتَ ضَرَبْتَ هٰذَاالشَّبٰابَ؟

یا علی ! کیا آپ نے اس جوان کو مارا ہے؟ علی علیہ السلام نے جواب دیا کہ ہاں! میں نے اسے مارا ہے۔ عمر نے کہا: کیا وجہ بنی کہ آپ نے اس کو مارا ہے؟ علی علیہ السلام نے جواب دیا:

رَأَیْتُهُ یَنْظُرُ حُرُمَ الْمُسْلِمِیْنَ

میں نے اسے مسلمان عورتوں اور ناموس مسلمین کی طرف نگاہ کرتے ہوئے دیکھا۔ عمر نے جواب دیا:اے جوان! لعنت ہو تجھ پر،یہاں سے اٹھ اور چلا جا۔

فَقَدْ رَاٰ کَ عَیْنُ اللّٰه وَضَرَبَکَ یَدُاللّٰهِ

بے شک تمہیں اللہ کی آنکھ نے دیکھا اور اللہ کے ہاتھ نے مارا ہے“۔

حوالہ جات

”میں شیعہ کیوں ہوا“، تالیف محمد رازی، صفحہ۲۱۸،نقل از شہرستانی”ملل و نحل“ اور طبری،ریاض النظرہ میں اور ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ۔


۳۔کلام حضرت عثمان بن عفان

(الف)رَجَعَ عُثْمٰانُ اِلٰی عَلِیٍّ فَسَأَ لَهُ الْمَصِیْرَاِلَیْهِ،فَصٰارَاِلَیْهِ فَجَعَلَ یَحُدُّ النَّظَرُ اِلَیْهِ،فَقٰالَ لَهُ عَلِیٌّ:مٰالَکَ یٰاعُثْمٰانُ؟مٰالَکَ تَحُدُّ النَّظَرَ اِلَیَّ؟قٰالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ یَقُوْلُ:النَّظَرُاِلٰی عَلِیٍّ عِبَادَةٌ ۔

”حضرت عثمان،حضرت علی علیہ السلام کی طرف پلٹے اور اُن سے درخواست کی کہ وہ اُن کی طرف آجائیں۔ حضرت علی علیہ السلام، حضرت عثمان کی طرف آئے۔ اُس وقت حضرت عثمان نے حضرت علی علیہ السلام کی طرف دیکھنا شروع کیا۔ حضرت علی علیہ السلام نے حضرت عثمان سے پوچھا کہ اے عثمان!تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ تم میری طرف کیوں دیکھ رہے ہو؟تو حضرت عثمان نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا کہ’علی کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے‘۔“

حوالہ جات

۱۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد۷،صفحہ۳۵۸،باب فضائل علی علیہ السلام۔

۲۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق میں، باب حال امام علی ،جلد۲،صفحہ۳۹۳(شرح محمودی)۔

۳۔ سیوطی، کتاب تاریخ الخلفاء میں،صفحہ۱۷۲۔

(ب)۔ خلیفہ سوم حضرت عثمان نے تین مرتبہ حضرت علی علیہ السلام کو دعوت دی کہ وہ اُن کے ساتھ تعاون کریں۔ پہلی مرتبہ ۲۲ھ میں یعنی اُسی سال جب وہ خلیفہ بنے۔ دوسری مرتبہ ۲۷ھ میں اور تیسری مرتبہ۳۲ھ میں۔ حضرت علی علیہ السلام نے کسی دفعہ بھی حضرت عثمان کی کسی دعوت کو سیاسی تعاون کیلئے قبول نہ کیا۔ البتہ ہر دفعہ حضرت علی علیہ السلام یہی جواب دیتے رہے کہ ایک کام واجب ہے یعنی قرآن کی جمع آوری اور اُس کو ایک کتابی شکل دینا۔ میں اس واجب شرعی کام کیلئے تم سے تعاون کرنے کیلئے تیار ہوں۔

حوالہ

فواد فاروقی، کتاب پچیس سال خاموشی علی علیہ السلام، نقل از روڈولف زائیگر کی کتاب”علم اور تلوار کا خداوند“۔


(ج)۔ حضرت عثمان کا حضرت علی علیہ السلام سے خطاب:

”خدا کی قسم! اگر قرار یہ ہو کہ آپ (علی علیہ السلام) مجھ سے پہلے مرجائیں تو میں زندہ رہنے کو پسند نہیں کرتا کیونکہ میں آپ کے علاوہ اپنا کوئی جانشین نہیں دیکھتا اور اگر آپ زندہ رہیں تو میں کسی بھی سرکش اور باغی کو نہیں دیکھتاجو آپ کورہبر،مددگار اور مستضعفین کی پناہ گاہ کے طور پر انتخاب کرے میری نسبت تو آپ سے وہی ہے جو کسی عاق شدہ بیٹے کی باپ سے ہو“۔

حوالہ ”امام علی علیہ السلام“باب روزگار عثمان، تالیف عبدالفتاح عبدالمقصود،صفحہ۲۰۲۔

فضائل علی علیہ السلام اُم المومنین حضرت عائشہ کی نظر میں

حضرت عائشہ،حضرت ابوبکر بن ابی قحافہ کی بیٹی اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ تھیں۔ معتبر تواریخ سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت عائشہ کا رویہ حضرت علی علیہ السلام،جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا اور اُن کے دو فرزندان ارجمندکے ساتھ اچھا نہ تھا اوراس کااظہار جنگ جمل میں مکمل طور پر ہوا۔ وہ کھل کر حضرت علی علیہ السلام کے مقابل آگئیں جبکہ پیغمبر اکرمنے واضح طور پر پیروی اور اطاعت علی علیہ السلام کا حکم دیا تھا۔

لیکن اہم نکتہ یہ ہے کہ فضائل و کمالات علی علیہ السلام اور اہل بیت اطہار اس قدر زیادہ ہیں کہ کوئی بھی ان کو چھپا نہیں سکتا۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے چمکتے آفتاب کی روشنی کو کوئی بھی چیز ڈھانپ نہیں سکتی۔ حضرت عائشہ بھی باوجودیکہ اُن کی سوچ علی علیہ السلام کے بارے میں مختلف تھی، حضرت علی کے فضائل کی معترف ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔آئیے اب اُن کے کلام کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔


(الف)۔عَنْ هِشٰامِ بْنِ عُرْوَةٍ،عَنْ اَبِیْهِ،عَنْ عٰائِشَةَ قٰالَتْ:قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ ذِکْرُ عَلِیٍّ عِبٰادَةٌ ۔

”ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے کہا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ علی کا ذکر کرنا عبادت ہے“۔

حوالہ جات

۱۔ ابن مغازلی، مناقب میں، حدیث۲۴۳،صفحہ۲۰۶۔

۲۔ ابن عساکر،تاریخ دمشق،باب حال امام علی ،ج۲ص۴۰۸حدیث۹۱۴شرح محمودی

۳۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد۷،صفحہ۳۵۸۔

۴۔ متقی ہندی،کنزالعمال میں،جلد۱۱،صفحہ۶۰۱۔

۵۔ سیوطی،تاریخ الخلفاء میں،صفحہ۱۷۲۔

۶۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة،باب مناقب السبعون،ص۲۸۱،حدیث۴۶ اور۳۱۲۔

(ب)۔عَنْ عٰائِشَةَ،اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ خَرَجَ وَعَلَیْهِ مَرْطٌ مُرَجَّلٌ مِنْ شَعْرٍأَسْوَدٍ،فَجٰاءَ الْحَسَنُ فَأَدْخَلَهُ،ثُمَّ جٰاءَ الْحُسَیْنُ فَاَدْخَلَهُ،ثُمَّ فٰاطِمَةٌ،ثُمَّ عَلِیُّ،ثُمَّ قٰالَ:اِنَّمٰایُرِیْدُاللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَیْتِ

”حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر آئے۔ انہوں نے چادر اوڑھی ہوئی تھی جو سیاہ ریشوں سے بنی ہوئی تھی۔ اتنے میں حضرت حسن علیہ السلام آئے، آپ نے انہیں چادر کے اندر کرلیا۔پھر امام حسین علیہ السلام آئے، آپ نے انہیں بھی چادر کے اندر کرلیا۔ اس کے بعد فاطمہ سلام اللہ علیہا اور علی علیہ السلام تشریف لائے، وہ بھی چادر کے اندر آگئے(جب یہ ہستیاں چادر کے اندر آگئیں) تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی:


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

( اِنَّمٰا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیْرا )

”اے اہل بیت ! سوائے اس کے نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ تم کو ہر قسم کے رجس سے دوررکھے اور تم کو ایسا پاک رکھے جیسا کہ پاک رکھنے کا حق ہے“۔

حوالہ

زمخشری،تفسیر کشاف،ج۱،ص۳۶۹،ذیل آیت۶۱،سورئہ آل عمران’فَمَنْ حَاجَّکَ

(ج)۔عَنْ عٰائِشَةَقٰالَتْ:رَحِمَ اللّٰهُ عَلِیّاً لَقَدْکٰانَ عَلَی الْحَقِّ

”حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ علی پر رحمت نازل فرمائے، بیشک وہ حق پر تھے“۔

حوالہ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد۷،صفحہ۳۰۵،حدیث۱۴۔

(د)۔عَنْ جَمیعِ بْنِ عُمَیْرٍقٰالَ دَخَلْتُ عَلیٰ عٰائِشَةَ،فَقُلْتُ لَهٰا:مَنْ کٰانَ اَحَبُّ النّٰاسِ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ قٰالَتْ:أَمّٰامِنَ الرِّجٰالِ فَعَلِیٌّ،وَأَمّٰامِنَ النِّسٰاءِ فَفٰاطِمَةُ ۔

”جمیع بن عمیر سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ تک پہنچا اور میں نے اُن سے پوچھا کہ پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک محبوب ترین شخص کون ہے؟حضرت عائشہ نے کہا کہ مردوں میں حضرت علی علیہ السلام اور عورتوں میں جناب سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا ہیں“۔


حوالہ جات

۱۔ حاکم، المستدرک میں،جلد۳،صفحہ۱۵۴،۱۵۷۔

۲۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب۵۵،صفحہ۲۰۲،۲۴۱۔

۳۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب شرح حال امام علی ،جلد۲،صفحہ۱۶۷،شرح محمودی۔

۴۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد۷،صفحہ۳۵۵اور دوسرے۔

(ھ)۔عَنْ شُرَیْحِ بْنِ هٰانِی،عَنْ اَبِیهِ،عَنْ عٰائِشَةَ قٰالَتْ:مٰاخَلَقَ اللّٰهُ خَلْقاً کٰانَ اَحَبُّ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰهِ مِنْ عَلِیٍّ ۔

”شریح بن ہانی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے کہا کہ اللہ نے کسی کو خلق ہی نہیں کیا جو رسول اللہ کو علی سے زیادہ محبوب ہو“۔

حوالہ

ابن کثیر،تاریخ دمشق ،باب حال امام علی ،ج۲،ص۱۶۲،حدیث۶۴۸،شرح محمودی

(و) عَنْ عَطٰاءٍ قٰالَ:سَأَلْتُ عٰائِشَةَ عَنْ عَلِیٍّ عَلَیْهِ السَّلام فَقٰالَتْ:ذٰاکَ خَیْرُالْبَشَرِلاٰ یَشُکُّ فِیْهِ اِلّٰاکٰافِرٌ

”عطاء سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے علی علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا تو حضرت عائشہ نے کہا کہ علی علیہ السلام سب انسانوں سے بہتر ہیں اور اس میں سوائے کافر کے کوئی شک نہیں کرسکتا“۔


حوالہ

۱۔ ابن عساکر،تاریخ دمشق ،باب حال امیرالمومنین ،جلد۲،صفحہ۴۴۸،حدیث۹۷۲۔

۲۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة،باب مودة الثالثہ،صفحہ۲۹۳۔

(ز)۔حَدَّثْنٰا جَعْفَرُبْنُ بَرْقٰان قٰالَ:بَلَغَنِی اَنَّ عٰائِشَةَ کٰانَتْ تَقُولُ:زَیِّنُوْامَجٰالِسَکُمْ بِذِکْرِعَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طٰالِب ۔

”جعفر بن برقان سے روایت ہے کہ مجھ تک یہ حدیث رسول حضرت عائشہ کے ذریعے سے پہنچی ،وہ کہتی ہیں کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا کہ اپنی مجلسوں کو ذکر علی سے زینت دو“۔

(ح) عٰائِشَةُ رَفَعَتْهُ:اِنَّ اللّٰهَ قَدْعَهِدَ اِلیٰ مَنْ خَرَجَ عَلیٰ عَلِیٍّ فَهُوَکٰافِرٌفِی النّٰارِ،قِیْلَ:لِمَ خَرَجْتِ عَلَیْهِ؟قٰالَتْ:أَنَا نَسِیْتُ هٰذَاالْحَدِیْثَ یَومَ الْجَمَلِ حَتّٰی ذَکَرْتُهُ بِالْبَصْرَةِ وَأَ نَااَسْتَغْفِرُاللّٰهَ

”حضرت عائشہ سے حدیث مرفوع(پیغمبر اکرم)روایت ہے کہ بے شک یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو کوئی بھی علی علیہ السلام سے جنگ کرے گا، وہ کافر ہے اور جہنم میں جائے گا۔ اُن سے پوچھا گیا تو پھر آپ نے کیوں علی علیہ السلام سے جنگ کی؟ کہنے لگیں کہ جنگ جمل کے روز میں یہ حدیث بھول گئی تھی جب مجھے یہ حدیث یاد آئی تو میں نے اللہ سے توبہ کرلی“۔

حوالہ

شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، باب مودة الثالثہ،صفحہ۲۹۴۔


(ط)۔عَنْ عَطَاءِ بْنِ اَبِی رَبَاحٍ، عَنْ عٰائِشَةَ، قٰالَتْ: عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طٰالِبٍ اَعْلَمُکُمْ بِالسُّنَّةِ

”عطا ابن ابی رباح روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے کہا کہ سنّت پیغمبر میں عالم ترین شخص علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں“۔

حوالہ جات

۱۔ سیوطی، تاریخ الخلفاء میں،صفحہ۱۷۱۔

۲۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة،باب۳،صفحہ۳۴۳۔

۳۔ ابن عبدالبر،کتاب استیعاب ، شرح حال علی ،جلد۳،صفحہ۱۱۰۴،حدیث۱۸۵۵۔

۴۔ ابن عساکر،تاریخ دمشق ،باب حال امام علی ،ج۳حدیث۱۰۷۹ص۴۸شرح محمودی

۵۔ بلاذری،کتاب انساب الاشراف میں۔ ،باب شرح حال علی ،جلد۲،حدیث۸۶،صفحہ ۱۲۴،اشاعت اوّل، بیروت اور دوسرے۔

(ی)۔عَنْ عَطٰاءٍ عَنْ عٰائِشَةَ قٰالَتْ:عَلِیٌّ اَعْلَمُ اَصْحٰابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ

”عطاء حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے کہا کہ اصحاب پیغمبر میں سب سے بڑے عالم حضرت علی علیہ السلام تھے“۔

حوالہ

بوستان معرفت، صفحہ۶۵۸،نقل از کتاب شواہد التنزیل(مصنف حسکانی)جزو اوّل،صفحہ۳۵،حدیث۴۰۔


(ک)۔عَنْ عٰائِشَةَ،قٰالَتْ:قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ،وَهُوَفِی بَیْتِهٰالَمّٰاحَضَرَهُ الْمَوْتُ:اُدْعُوا لِیْ حَبِیْبِی (قٰالَتْ) فَدَعَوْتُ لَهُ اَبَابَکرَ فَنَظَرَاِلَیْهِ ثُمَّ وَضَعَ رَأسَهُ ثُمَّ قٰالَ:اُدْعُوْا لِیْ حَبِیْبِیفَدَعُوْا لَهُ عُمَرَ،فَلَمّٰانَظَرَاِلَیْهِ وَضَعَ رَأسَهُ،ثُمَّ قٰالَ:اُدْعُوْا لِی حَبِیْبِی، فَقُلْتُ:وَیْلَکُمْ اُدْعُوالَهُ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طٰالِبٍ،فَوَاللّٰهِ مٰا یُرِیْدُ غَیْرُهُ(فَدَعُوْاعَلِیّاً فَأَتٰاهُ)فَلَمّٰا أَتٰاهُ أَفْرَدَالثُّوبَ الَّذِی کٰانَ عَلَیْهِ ثُمَّ أَدْخَلَهُ فِیْهِ فَلَمْ یَزَلْ یَحْتَضِنَهُ حَتّٰی قُبِضَ وَیَدُهُ عَلَیْهِ ۔

”حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جب رحلت پیغمبر کا وقت قریب تھا تو آپ نے فرمایا کہ میرے حبیب کو میرے نزدیک بلاؤ۔ پس ہم نے حضرت ابوبکر کو بلایا۔ پیغمبر اکرمنے ایک نگاہ کی اور اپنا سرجھکا دیا۔پھر فرمایا کہ میرے حبیب کو میرے نزدیک بلاؤ۔ پس ہم نے حضرت عمر کو بلالیا۔ پیغمبر اسلام نے ایک نگاہ کی اور پھر اپنا سرجھکا دیا۔ پھر فرمایا کہ میرے حبیب کو میرے نزدیک بلاؤ۔ میں نے کہا حیف ہے، علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو ان کیلئے بلاؤ۔خدا کی قسم! آپ نے علی علیہ السلام کے سوا کسی کو نہیں چاہا ہے۔ پس علی علیہ السلام کو بلایا گیا۔ جس وقت وہ آئے تو پیغمبر نے وہ چادرجو خود اوڑھی ہوئی تھی، اُس میں علی علیہ السلام کو داخل کیا اور پھر اُن سے جدا نہ ہوئے،یہاں تک کہ رحلت فرمائی اور اس حالت میں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ علی علیہ السلام کے بدن پر تھا“۔

حوالہ جات

۱۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ میں،جلد۷،صفحہ۳۶۰(روایت عبداللہ بن عمر سے)۔

۲۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ،باب شرح حال امام علی علیہ السلام ،ج۳،ص۱۴،حدیث۱۰۲۷،شرح محمودی۔

۳۔ حاکم، المستدرک میں،جلد۳،صفحہ۱۳۸،۱۳۹۔

۴ ۔ ذھبی، کتاب میزان الاعتدال میں،جلد۲،صفحہ۴۸۲،شمارہ۴۵۳۰۔

۵۔ سیوطی،اللئالی المصنوعہ میں،جلد ۱،صفحہ۱۹۳،اشاعت اوّل۔

۶۔ مناقب خوارزمی، جلد۱،صفحہ۳۸،باب۴۔


(ل)۔عَنْ عٰائِشَةَ قٰالَتْ:رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ اِلْتَزَمَ عَلِیّاً وَقَبَّلَهُ وَ(هُوَ)یَقُوْلُ:بِأَبِی الْوَحِیْدَ الشَّهِیْدَ،بِأَبِی الْوَحِیْدَ الشَّهِیْدَ ۔

”حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی علیہ السلام کے ہمراہ تھے۔ اُن کو اپنے ساتھ چمٹایا ہوا تھا اور اُن کا منہ چوم رہے تھے اور یہ بھی کہہ رہے تھے کہ اے شہید تنہا!میرے والد تم پر فدا۔ اے شہید تنہا! میرے والد تم پر فدا“۔

حوالہ جات

۱۔ ہیثمی، کتاب مجمع الزوائد میں، جلد۹،صفحہ۱۳۸۔

۲۔ ابن عساکر،تاریخ دمشق،باب حال علی ،ج۳،ص۲۸۵،حدیث۱۳۷۶،شرح محمودی

۳۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة،باب۵۹،صفحہ۳۳۹۔

۴۔ متقی ہندی،کنزالعمال میں،جلد۱۱،صفحہ۶۱۷(اشاعت بیروت، پنجم)۔


فضائل علی علیہ السلام علمائے اہل سنت کی نظر میں

مقام حضرت علی علیہ السلام کو سمجھنے کا ایک بہترین اور اہم ترین ذریعہ علمائے اہل سنت کے نظریات اور اُن کا کلام ہے۔ یہ انتہائی دلچسپ بات ہوگی کہ علی علیہ السلام کے بلندوبالا مقام کو اُن افراد کی زبانی سنیں جو مسند خلافت کیلئے تو دوسروں کو مقدم سمجھتے ہیں لیکن علی علیہ السلام کی عظمت کے قائل بھی ہیں اور احادیث نبوی کی روشنی میں علی علیہ السلام کی خلافت بلافصل کو مانتے بھی ہیں لیکن چند صحابہ کے قول و فعل کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت و نصیحت پر ترجیح دیتے ہیں۔اس سے خود اُن کو بہت بڑا نقصان ہوا کیونکہ وہ علوم اہل بیت سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہے اور حکمت و دانائی کے وسیع خزانوں اور قرآن کی برحق تفسیر سے ہدایت و رہنمائی حاصل کرنے سے قاصر رہے۔

علمائے اہل سنت کے نظریات کو لکھنے کا ایک مقصد یہ ہے کہ ان بزرگوں کے اقوال اور نظریات پر غوروفکر کیا جائے جو علی علیہ السلام کی شان میں کہے گئے ہیں اور جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ حضرت علی کی شخصیت،پیغمبر اسلام کے مقدس وجود کے بعد سب سے بلند ہے جیسے کہ قرآن کی آیات، احادیث نبوی اور کلام خلفاء کو جمع کرنے کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت واضح ہوئی ہے۔ اب ہم علمائے اہل سنت کے کلام اور نظریات کا مطالعہ کرتے ہیں کہ وہ مولیٰ علی علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔اُمید ہے کہ حق طلب حق کو پالیں گے، انشاء اللہ۔

شروع میں ابن عباس کے کلام کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ابن عباس کو اُمت مسلمہ کے تمام فرقے قبول کرتے ہیں۔

ابن عباس

ابن عباس نے اپنی عمر کے آخری لمحوں میں سربلند کرکے یہ کہا:

”اَلَّلهُمَّ اِنِّی اَ تَقَرَّبُ اِلَیْکَ بِحُبِّ الشَّیْخِ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طٰالِب“ ۔

”پروردگارا! میں علی کی دوستی اورمحبتکا واسطہ دے کر تیری قربت چاہتا ہوں“۔


ابن ابی الحدید معتزلی

”میں اُس شخص کے بارے میں کیا کہوں کہ جس پر تمام فضائل انسانی کی انتہاہوجاتی ہے۔ تمام اسلامی فرقے اُسے اپنا سمجھتے ہیں۔ وہ تمام خوبیوں کا مالک ہے اور تمام فضیلتوں کا سرچشمہ ہے۔ وہ پہلوں میں کامیاب ترین شخص تھا اور بعد میں آنے والوں میں اگر کوئی فضیلت دیکھی گئی تو تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ خوبی بھی وہاں سے ہی شروع ہوئی۔ پس چاہئے کہ خوبیاں اُسی پر اکتفا کریں اور اُس جیسے کی اقتداء کریں“۔

حوالہ ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ، جلد۱،صفحہ۱۶۔

ابن ابی الحدید اپنے قصیدہ عینیہ جو کہ اُس کے سات قصیدوں میں بہترین قصیدہ ہے اور وہ اس کو سونے کے پانی کے ساتھ مولیٰ علی علیہ السلام کے روضے پر لکھنے میں سالہا سال مصروف رہا، اُس میں کہتے ہیں:

”میں نے اُس برق سے جس نے رات کی تاریکی کو پھاڑ دیا، مخاطب ہوکرکہا:

اے برق! اگر تو سرزمین نجف میں نہیں تو بتا کہاں ہے؟ کیا تجھے پتہ ہے کہ تجھ میں کون کونسی ہستیاں پوشیدہ ہیں؟

موسیٰ بن عمران، عیسیٰ مسیح اور پیغمبر اسلام اس میں ہیں اورنور خدائے ذوالجلال تجھ میں ہے بلکہ جو بھی چشم بینا رکھتا ہے،آئے اور دیکھ لے۔

خدا کی قسم!اگر علی نہ ہوتے تو نہ تو زمین ہوتی اور نہ ہی اُس پر کوئی مرد ہوتا۔

قیامت کے روز ہمارا حساب کتاب اُسی کے وسیلہ سے خدا کے حضور پیش کیا جائے گا۔

قیامت کے ہولناک دن وہی ہمارا ایک مددگار ہوگا۔

یا علی !میں آپ ہی کی خاطر مکتب اعتزال کو بڑا سمجھتا ہوں اور آپ ہی کی خاطر سب شیعوں کو دوست رکھتا ہوں۔

حوالہ

ابن ابی الحدید، کتاب”علی علیہ السلام،چہرئہ درخشان اسلام“،حصہ پیش لفظ،صفحہ۹۔


وہ مزید کہتے ہیں:

”یا علی ! اگر آپ میں آثار حدث موجود نہ ہوتے تو میں کہتا کہ آپ ہی بخشنے والے اور جانداروں کی روح کو قبض کرنے والے ہیں۔ اگر طبعی موت آپ پر اثر انداز نہ ہوتی تو میں کہتا کہ آپ ہی سب کے روزی رساں ہیں اور آپ ہی جس کو کم یا زیادہ چاہیں، بخشیں۔ میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ دین اسلام کے پرچم کو پوری دنیا میں لہرانے اور اس جہاں میں عدل و انصاف بھرنے کیلئے آپ کے بیٹے مہدی علیہ السلام جلد تشریف لائیں گے“۔

حوالہ داستان غدیر، صفحہ۲۸۵،بہ نقل از ”المراجعات السبع العلویات“، صفحہ۴۳۔

ابن ابی الحدید نہج البلاغہ کی شرح میں لکھتے ہیں:

اِنَّهُ علیه السلام کَانَ اَولٰی بِالْاَمْرِوَاَحَقَّ لَاعَلٰی وَجْهِ النَّصِّ، بَلْ عَلٰی وَجْهِ الْاَفْضَلِیَّةِ،فَاِنَّهُ اَفْضَلُ الْبَشَرْبَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰه وَاَحَقُّ بِالْخِلاٰ فَةِ مِنْ جَمِیْعِ الْمُسْلِمِیْنَ ۔

”حضرت علی علیہ السلام منصب ولایت کیلئے سب سے بہتر اور سب سے زیادہ حقدار تھے۔ وہ اس کیلئے از طریق نص نہیں بلکہ اپنے افضل ہونے کی وجہ سے اہل تھے کیونکہ رسول اللہ کے بعد وہ سب سے افضل بشر تھے اور تمام مسلمانوں سے زیادہ خلافت پر حق اُن کا تھا“۔


ابوحامدغزالی(شافعی مذہب کے سکالر)

ابوحامد محمد ابن محمد غزالی کتاب”سرّالعالمین“میں لکھتے ہیں:

”اَسْفَرَتِ الْحُجَّةُ وَجْهَهٰاوَاَجْمَعَ الْجَمٰاهِیْرُعَلٰی مَتْنِ الْحَدِیْثِ عَنْ خُطْبَةِ یَوْمِ غَدِیْرِ خُمٍّ بِاتِّفَاقِ الْجَمِیْعِ وَهُوَ یَقُوْلُ:مَنْ کُنْتُ مَوْلاٰهُ فَعَلِیٌّ مَوْلاٰهُ فَقٰالَ عُمَرُ بَخٍ بَخٍ لَکَ یٰااَبَالْحَسَنِ لَقَدْ اَصْبَحْتَ مَوْلاٰیٰ وَمَوْلٰی کُلِّ مُومِنٍ وَمُومِنَةٍهٰذَا تَسْلِیْمٌ وَرَضِیٍّ وَتَحْکِیْمٌثُمَّ بَعْدَ هَذٰاغَلِبَ الْهَوٰی لِحُبِّ الْرِّیٰاسَةِ وَحَمْلِ عَمُودِ الْخِلاٰفَةِالخ

”رخ حقیقت سے پردہ اٹھ گیا اور تمام مسلمانان عالم حدیث غدیر خم اور خطبہ یوم غدیر کے متن پر متفق ہیں۔ جب پیغمبر اسلام نے فرمایا تھا کہ جس کا میں مولا ہوں، اُس کا علی مولا ہے، اُس وقت حضرت عمر نے کہا:اے ابا الحسن ! مبارک مبارک ۔ آج آپ نے اس حال میں صبح کی کہ میرے بھی مولیٰ ہیں اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کے بھی مولیٰ ہیں۔ اس طرح مبارک باد دینا پیغمبر کے فرمان کو تسلیم کرنا ہے اور علی علیہ السلام کی خلافت پر راضی ہونا ہے(لیکن افسوس) اس کے بعد نفس امارہ نے ریاست طلبی اور خلافت طلبی کی خاطر اُن پر غلبہ پالیا“۔

حوالہ شبہائے پشاور،صفحہ۶۰۸،نقل از ”سرّ العالمین“، غزالی۔

عبدالفتاح عبدالمقصود(مصنف معروف مصری)

”حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو آپ کی جانشینی کے قابل ہو،سوائے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاک فرزندوں کے والد یعنی علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے۔ میں یہ بات اہل تشیع کی طرفداری کیلئے نہیں کہہ رہا بلکہ یہ ایسی بات ہے کہ تاریخی حقائق اس کے گواہ ہیں۔ امام (علی علیہ السلام) سب سے بلند مرتبہ مرد ہے جسے کوئی بھی ماں آخری عمر تک پیدا نہ کرسکے گی اور وہ ایسی شخصیت ہے کہ جب بھی ہدایت تلاش کرنے والے اُس کے کلام، ارشادات اور نصیحتوں کو پڑھیں گے تو ہر جملے سے اُن کو نئی روشنیاں ملیں گی۔ ہاں! وہ مجسم کمال ہے جو لباس بشریت میں اس دنیا میں بھیجا گیا“۔

حوالہ داستان غدیر،صفحہ۲۹۱،نقل از”الغدیر“، جلد۶۔


ابوحنیفہ( مذہب حنفی کے امام)

”کسی ایک نے بھی علی سے جنگ و جدل نہیں کیا مگر یہ کہ علی علیہ السلام اُس سے اعلیٰ اور حق پر تھے۔ اگر علی علیہ السلام اُن کے مقابلہ میں نہ آتے تو مسلمانوں کو پتہ نہ چلتا کہ اس قسم کے افراد یا گروہ کیلئے اُن کی شرعی ذمہ داری کیا ہے“۔

حوالہ

مہدی فقیہ ایمانی،کتاب”حق با علی است“، نقل از مناقب ابو حنیفہ، خوارزمی،۸۳/۲،

اشاعت حیدرآباد۔

فخر رازی(اہل سنت کے مشہور و معروف مفکر)

”جوکوئی دین میں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو اپنا رہبر و پیشوا تسلیم کرے گا، وہی کامیاب ہے اور اس کی دلیل خود پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان پاک ہے۔آپ نے فرمایا:

”پروردگار!حق کو اُدھر پھیر دے جدھر علی ہو“۔

حوالہ

داستان غدیر،مصنف:بہت سے استاد، صفحہ۲۸۵،نقل از تفسیر فخر رازی، جلد۱،صفحہ۱۱۱،اور الغدیر،جلد۳،صفحہ۱۷۹۔


زمخشری(اہل سنت کے مشہور مفکر)

”میں اُس مرد کے فضائل کے بارے میں کیا کہوں کہ جس کے دشمنوں نے اپنے حسد اور کینہ کی وجہ سے اُس کے فضائل سے انکار کیا اور اُس کے دوستوں نے خوف و ترس کی وجہ سے اُس کے فضائل چھپائے۔مگر اس کے باوجود اُس کے فضائل دنیا میں اتنے پھیلے کہ مشرق و مغرب کو گھیر لیا“۔

زمخشری اس حدیث قدسی کے ضمن میں کہتے ہیں:

”مَنْ اَحَبَّ عَلِیّاً اَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ وَاِنْ عَصَانِیْ وَمَنْ اَبْغَضَ عَلِیّاً اَدْخَلَهُ النّٰارَ وَاِنْ اَطَاعَنِی“

ٍ ”جس نے علی علیہ السلام سے محبت کی، وہ جنت میں جائیگا ،گرچہ وہ میرا نافرمان ہی کیوں نہ ہو اور جس نے علی سے دشمنی و بغض رکھا، وہ جہنم میں جائیگا، بے شک وہ میرا فرمانبردار ہی کیوں نہ ہو“۔

اس کے بارے میں زمخشری کہتے ہیں کہ محبت و تسلیم ولایت علی علیہ السلام انسان کے ایمان کے کمال کا سبب ہے اور اگر کمال ایمان ہو تو فروع میں چھوٹی غلطی زیادہ نقصان نہیں پہنچاتی، لیکن اگر محبت و ولایت علی نہ ہو تو ایمان ناقص ہے اور وہ شخص جہنم کا مستحق ہے۔

حوالہ جات

۱۔ داستان غدیر،صفحہ۲۸۴بہ نقل از زندگانی امیر المومنین علیہ السلام، صفحہ۵۔

۲۔ مباحثی در معارف اسلامی،مصنف:علامہ فقید آیت اللہ حاجی سیدبہبہانی،صفحہ۱۶۹۔

شافعی(رہبر مذہب شافعی)

”اگر مولیٰ علی مرتضیٰ اپنے ظاہر وباطن کو لوگوں پر ظاہر کردیں تو لوگ کافر ہوجائیں گے کیونکہ وہ انہیں اپناخدا سمجھ کر سجدہ میں گرجائیں گے ۔ اُن کے فضائل و عظمت کیلئے بس یہی کافی ہے کہ بہت سے لوگ یہ نہ سمجھ سکے کہ علی خدا ہیں یا خدا علی ہے یاپھر علی علیہ السلام مخلوق خدا ہیں“۔

حوالہ سید یحییٰ برقعی، کتاب ”چکیدہ اندیشہ ہا“،صفحہ۲۹۷۔


حافظ ابو نعیم(اہل سنت کے مشہور عالم)

”علی ابن ابی طالب علیہ السلام سردار قوم، محب ذات مشہود،محبوب ذات کبریا،باب شہر علم،مخاطب آیات ایمانی،عالم رمز قرآنی،تلاش راہ حق کیلئے بڑی نشانی،ماننے والوں کیلئے شمع جاودانی، مولائے اہل تقویٰ و ایمان،رہبر عدالت و قاضیان، ایمان لانے والوں میں سب سے اوّل، یقین میں سب سے بڑھ کر، بردباری میں سب سے آگے، علم و دانش کا منبع، اہل عرفان کی زینت،حقائق توحید سے باخبر،خداپرستی کا عالم، حکمت و دانائی کا سرچشمہ، حق سننے اور حق بولنے والا، وفائے عہد کا بادشاہ، اہل فتنہ کی آنکھ پھوڑنے والا، امتحانات الٰہی میں سرفراز و سربلند، ناکثین کو دورکرنے والا، قاسطین و مارقین کو ذلیل و رسوا کرنے والا،خدا کے دین میں سخت کاربند،ذات الٰہی میں فانی حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہ۔

حوالہ

حافظ ابونعیم، کتاب حلیة الاولیاء،جلد۱،صفحہ۶۱،باب ذکر علی علیہ السلام۔

احمد بن حنبل(رہبر مذہب حنبلی)

محمد ابن منصور کہتے ہیں کہ ہم احمد بن حنبل کے پاس تھے کہ ایک شخص نے اُن سے کہا کہ اے اباعبداللہ! مجھے اس حدیث کے بارے میں بتائیں جو حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی گئی ہے:

”اَنَا قَسِیْمُ النّٰارِوَالْجَنَّة“

”میں جنت اور دوزخ کو تقسیم کرنے والا ہوں“

احمد بن حنبل نے جواب دیا:

”وَمٰا تُنْکِرُوْنَ مَنْ ذٰا؟“

”تم اُس سے انکار کیوں کررہے ہو؟“


کیا تمہارے پاس یہ روایت نہیں پہنچی جس میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی علیہ السلام کو مخاطب کرکے فرمایا ہے:

”یٰا عَلِیُ: لا یُحِبُّکَ اِلَّا مُومِنٌ وَلَا یُبْغِضُکَ اِلَّا مُنَافِقٌ“

”یا علی ! تم سے محبت نہیں رکھے گا مگر مومن اور تم سے بغض نہیں رکھے گا مگر منافق“۔

ہم نے کہا:ہاں۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی علی علیہ السلام سے فرمایا تھا۔ احمد بن حنبل نے کہا کہ اب بتاؤ کہ مرنے کے بعد مومن کی کونسی جگہ ہونی چاہئے؟ ہم نے کہا:بہشت۔ احمد بن حنبل نے پھر پوچھا کہ بتاؤ کہ مرنے کے بعد منافق کی کونسی جگہ ہونی چاہئے؟ ہم نے کہا:آتش جہنم۔ اس پر احمد بن حنبل نے کہا کہ بے شک

”فَعَلِیٌّ قَسِیْمُ النّٰارِ وَالْجَنَّة“

حوالہ آثار الصادقین،جلد۱۴،صفحہ۴۴۰،نقل از امام الصادق،جلد۴،صفحہ۵۰۳۔

عبداللہ بن احمد حنبل کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے علی علیہ السلام اور امیر معاویہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ علی علیہ السلام کے بہت زیادہ دشمن تھے۔ انہوں نے علی علیہ السلام کے عیب ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن ایک بھی نہ ڈھونڈ سکے۔لہٰذا علی علیہ السلام کی شخصیت کو ختم کرنے کیلئے دشمنان علی علیہ السلام کی مدح سرائی کی۔

حوالہ جات

۱۔ کتاب”شیعہ“ مذاکرات علامہ طباطبائی مرحوم اور پروفیسر ہنری کرین کے درمیان ،

صفحہ۴۲۹،باب توضیحات،نقل از صواعق،صفحہ۷۶۔

۲۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی نے کتاب ینابیع المودة،باب سوم،صفحہ۳۴۴پر نقل کیا ہے۔

”جتنے فضائل حضرت علی علیہ السلام کی شان میں آئے ہیں، اتنے فضائل کسی اور صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں نہیں آئے“۔


حوالہ جات

۱۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی،کتاب ینابیع المودة،باب۵۹،صفحہ۳۳۵۔

۲۔ حاکم، المستدرک میں،جلد۳،صفحہ۱۰۷۔

۳۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ، باب شرح حال علی ،ج۳ص۶۳حدیث۱۱۰۸شرح محموی”علی ہمیشہ حق کے ساتھ تھے اور حق بھی ہمیشہ علی کے ساتھ تھا، جہاں کہیں بھی علی ہوں“۔

حوالہ

بوستان معرفت،مصنف:سید ہاشم حسینی تہرانی، صفحہ۶۸۰،نقل از ا بن عساکر، تاریخ حضرت علی علیہ السلام،جلد۳،صفحہ۸۴،روایت۱۱۱۷۔

”عبداللہ بن احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے والد کے پاس بیٹھا تھا کہ کچھ لوگ وہاں آئے اور حضرت ابوبکر،حضرت عمر اور حضرت عثمان کی خلافتوں کے بارے میں تبادلہ خیال کرنے لگے ،یہاں تک کہ خلافت علی کا بھی ذکر آگیا تو میرے والد نے خلافت علی کے بارے میں کہا:

”اِنَّ الْخِلَافَةَ لَمْ تَزَیَّنْ عَلیّاً بَلْ عَلِیٌّ زَیَّنَهَا“

”خلافت از خود علی علیہ السلام کیلئے باعث زینت نہیں تھی بلکہ علی علیہ السلام کا خلیفہ بننا خلافت کیلئے زینت تھا“۔

حوالہ جات

۱۔ ابن عساکر، تاریخ دمشق ،باب شرح حال امام علی ،جلد۳،صفحہ۱۱۴،حدیث۱۱۵۴

۲۔ خطیب،تاریخ بغدار میں،جلد۱،صفحہ۱۳۵،باب شرح حال علی علیہ السلام، شمارہ۱۔


احمد بن حنبل کے بیٹے عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے صحابیوں کی افضلیت کے بارے میں سوال کیا تو میرے والد نے جواب دیا کہ ا بوبکر، عمر،عثمان(یعنی حضرت ابوبکرحضرت عمر سے افضل اور حضرت عمرحضرت عثمان سے افضل)۔میں نے پھر سوال کیا کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کس مرتبہ پر فائز ہیں تو میرے والد نے جواب دیا:

”هُوَمِنْ اَهْلِ الْبَیْتِ لَایُقَاسُ بِه هَولَاءِ“

”وہ(یعنی حضرت علی علیہ السلام) اہل بیت سے ہیں، اُن کا ان سے کوئی مقابلہ ہی نہیں“۔

ابن صباغ(مذہب مالکی کے مشہور مفکر)

ابن صباغ علی علیہ السلام کے بارے میں کہتے ہیں کہ:

”حکمت و دانائی اُن کے کلام سے جھلکتی تھی۔عقل و دانش ظاہری اور باطنی اُن کے دل میں بستی تھی۔ اُن کے سینے سے ہمیشہ علوم کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا اُبلتے تھے اور رسول خدا نے اُن کے بارے میں فرمایا:

”اَنَامَدِیْنَةُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُهَا“

”میں علم کا شہر ہوں اور علی اُس کا دروازہ ہے“۔

حوالہ بوستان معرفت،صفحہ۶۹۸،نقل از فصول المہمة،تالیف ابن صباغ ،فصل اوّل،ص۱۸

شبلنجی(عالم مذہب شافعی،اہل مصر)

”سب تعریف اُس خدائے بزرگ کیلئے جس نے نعمتوں کا مکمل لباس ہمیں پہنا دیا اور ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام عرب و عجم پر چن لیا اور اُن کے خاندان کو سارے جہان پر برتری بخشی اور فضل و کرم سے اُن کو سب سے اعلیٰ مقام پر فائز کیا۔ وہ دنیا و آخرت کی سرداری میں گویا سب سے آگے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ظاہر و باطن کے کمالات اُن کو عطاکردئیے اور وہ قابل فخر افتخارات و امتیازات کے مالک بنے“۔

حوالہ بوستان معرفت،صفحہ۶۹۹،نقل از نورالابصار،تالیف شبلنجی۔


ابوعَلَم شافعی(عالم مذہب شافعی)

”اُس خاندان پاک کے بارے میں تم کیا سوچتے ہو کہ جس کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

”اِنَّمَایُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیْراً“

”پس یہ اللہ کا ارادہ ہے کہ اے اہل بیت تم سے ہر قسم کے رجس(کمزوری،برائی،گناہ اور ناپاکی) کو دوررکھے اور تمہیں ایسا پاک رکھے جیسا پاک رکھنے کا حق ہے“۔

پس یہ خاندان عنایت پروردگار سے معصوم ہیں اور قوت پروردگار سے اُس کی بندگی و اطاعت کیلئے آمادہ ہیں۔ ان کی دوستی اللہ نے مومنوں پر واجب کردی ہے۔ اس کو ایمان کا ستون قرار دیا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

( قُلْ لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْراً اِلَّاالْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی )

”آپ کہہ دیجئے کہ میں اس پر کوئی اجر رسالت تم سے نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ تم میرے قریبیوں (اہل بیت ) سے محبت کرو“۔

پیغمبر اسلام نے بڑے واضح طریقہ سے بیان کیا ہے کہ میرے اہل بیت کشتی نجات ہیں اور اُمت کو اختلافات اور انحراف کی ہلاکتوں سے پناہ دینے والے ہیں۔

حوالہ بوستان معرفت،صفحہ۷۰۲،نقل از کتاب اہل بیت ،مصنف ابوعلم شافعی،آغازکتاب۔

خطیب خوارزمی(مفکر مذہب حنفی)

” امیر المومنین علی علیہ السلام،شجاعت و بہادری کا مرکز،علم نبوت کا وارث، قضاوت میں سب صحابہ سے بڑھ کر دانا، دین کا مضبوط قلعہ،امین خلیفہ،ہر اُس انسان سے زیادہ دانا اور عقلمند جو اس روئے زمین پر ہے اور آسمان کے نیچے ہے۔

رسول خدا کے بھائی اور چچا کے بیٹے کے غم و تکلیف کو مٹانے والا، اُس کا بیٹا پیغمبر خدا کا بیٹا،اُس کا خون پیغمبر خدا کا خون، اُس کا گوشت پیغمبر خدا کا گوشت،اُس کی ہڈیاں پیغمبر خدا کی ہڈیاں، اُس کی عقل و دانش پیغمبر خدا کی عقل و دانش، اُس کی اُس سے صلح جس سے پیغمبر خدا کی صلح اور اُس سے لڑائی جس کی پیغمبر خدا سے لڑائی ہے۔


دنیا میں فضیلتیں ڈھونڈنے والوں کو انہی کے درسے فضائل ملتے ہیں۔توحید و عدل کے باغ انہی کے شگفتہ کلام سے سرسبز ہیں۔

وہی ہدایت کا سرچشمہ ہیں۔ وہی اندھیروں میں چراغ ہیں۔ اصل دانائی وہی ہیں۔ سر سے پاؤں تک انہی کی غیبی طاقت(حضرت جبرائیل ) تعریف کرتی ہے اور ان کے فضائل کی گواہ ہے“۔

حوالہ

بوستان معرفت،مصنف:سید ہاشم حسینی تہرانی،صفحہ۶۹۸،نقل از مناقب خوارزمی۔

”کیا ابوتراب کی طرح کوئی جوان ہے؟کیا اُس کی طرح پاکیزہ نسل کوئی رہبروپیشوا ہے۔ جب بھی میری آنکھ میں درد پیداہوتا ہے، اُسی کے قدموں کی خاک میری آنکھ کا سرمہ بنتی ہے۔ علی وہی ہے جو رات کو بارگاہ ایزدی میں گرکرروتا ہے اور دن کو ہنستے ہوئے میدان جنگ کی طرف جاتا ہے۔ اُس کا دامن بیت المال کے سرخ اور زرد ہیروں اور جواہرات سے پاک ہے۔ وہ وہی ہے جو بت توڑنے والا ہے۔ جس وقت اُس نے دوش پیغمبر پر اپناپاؤں رکھا، ایسے لگتا تھا جیسے تمام لوگ جسم کی کھال کی مانند ہیں اور مولیٰ اُس جسم کا مغز ہیں“۔

حوالہ

”داستان غدیر“،صفحہ۲۸۶،نقل از ”الغدیر“،جلد۴،صفحہ۳۸۵(جو مطالب بیان کئے گئے ہیں، یہ قصیدہ خوارزمی کے چند اشعار کا ترجمہ ہے)۔

ابن حجر عسقلانی(مفکرمعروف شافعی)

”امام علی جنگ ہائے جمل و صفین میں، جہاں بہت کشت و خون ہوا تھا،حق پر تھے“۔

حوالہ

”حق با علی است“،مصنف:مہدی فقیہ ایمانی، صفحہ۲۱۵،نقل از فتح الباری،شرح صحیح بخاری،۲۴۴/۱۲۔


حمّوئی(عالم مذہب حنفی)

”سب تعریف اُس خدائے بزرگ کیلئے ہے جس نے اپنی نبوت و رسالت کو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر منتہا کیا اور ان کے چچا زاد بھائی سے ولایت کا آغازکیا جو حضرت محمدکیلئے وہی نسبت رکھتے ہیں جو ہارون حضرت موسیٰ سے رکھتے تھے، سوائے اس کے کہ نبی نہ تھے۔ حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اکرمکے پسندیدہ وصی تھے۔ علی علیہ السلام شہر علم کا دروازہ تھے۔ احسان و بخشش کی مشعل ،دانائی و حکمت کے مرکز،اسرار قرآن کے عالم،اُن کے معنی سے مطلع،قرآن کی ظاہری و باطنی حکمتوں سے آگاہ، جو لوگوں سے پوشیدہ ہے ،وہ اُن سے واقف اور اللہ تعالیٰ نے انہی کے خاندان پر ولایت کو ختم کیایعنی اُن کے بیٹے حضرت حجت ابن الحسن علیہ السلام پر“۔

حوالہ بوستان معرفت،صفحہ۶۹۶،نقل از فرائد السمطین،مصنف:حموینی،اوّل کتاب۔

فوادفاروقی(اہل سنت کے مشہور مفکرو مصنف)

”میری جان علی علیہ السلام پر فدا ہو جن کے دل میں شجاعت اوردرد،بازؤوں میں طاقت،آنکھوں میں چمکوہ اُس کسی(پیغمبر اسلام)کے سوگ میں آنسو بہاتا ہے جو اس دنیا میں سب سے زیادہ صرف دو انسانوں سے محبت کرتے تھے، پہلی اُن کی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا اور دوسرے آپ کے شوہر ۔“

حوالہ ۲۵سالہ سکوت علی علیہ السلام،مصنف: فواد فاروقی،صفحہ۱۶۔

”حضرت علی علیہ السلام کو دوسرے تمام مسلمانوں پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ علی علیہ السلام خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے ۔ اس لحاظ سے مورخین و مصنفین اُن کو فرزند کعبہ بھی کہتے ہیں کیونکہ اُن کی والدہ نے انہیں کعبہ میں جنا جو تمام مسلمانوں کیلئے مقدس ہے۔ علی علیہ السلام سب سے پہلے مرد ہیں جنہوں نے اسلام کو قبول کیا“۔


حوالہ ۲۵سال سکوت علی علیہ السلام،مصنف:فواد فاروقی،صفحہ۳۸۔

”دوسری بڑی فضیلت جو اللہ تعالیٰ نے علی علیہ السلام کو عنایت فرمائی ،وہ یہ ہے کہ اُنہوں نے بچپن ہی سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں پرورش دلائی اور براہ راست وہ حضرت خدیجہ اور پیغمبر خدا کے زیر سایہ اورزیر عنایات رہے“۔

حوالہ ۲۵سال سکوت علی علیہ السلام، مصنف:فواد فاروقی،صفحہ۱۳۷۔

”اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ علی علیہ السلام بعدپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود کو مسلمانوں کی رہنمائی و خلافت کیلئے سب سے زیادہ حقدار سمجھتے تھے لیکن اس کے باوجود جب تاریخ میں خلافت کا مسئلہ علی علیہ السلام کی خواہش قلبی کے برعکس طے ہوا تو انہوں نے مخالفت کی پالیسی اختیار نہ کی کیونکہ علی علیہ السلام کے نزدیک اسلام سب سے زیادہ اہم تھا“۔

حوالہ ۲۵سال سکوت علی علیہ السلام،مصنف:فواد فاروقی،صفحہ۳۹۔

”جب بھی بزرگان دین اور مفکرین کسی مسئلے کے حل کیلئے بے بس ہوجاتے تھے ،جانتے تھے کہ اب علی علیہ السلام کے پاس جانا چاہئے۔ ایسے دوست کے پاس جانا چاہئے جہاں سے وہ مدد مانگ سکیں اور جس کے بارے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کی قضاوت کی تائید فرمائی ہو“۔

حوالہ ۲۵سال سکوت علی علیہ السلام،مصنف:فواد فاروقی،صفحہ۵۴۔

”حضرت علی علیہ السلام نے تمام زندگی اسلام اور مسلمین کی خدمت کرتے ہوئے تکالیف برداشت کیں۔چاہے وہ زمانہ پیغمبر اسلام کے ساتھ جنگوں میں شامل ہوکر شمشیر زنی کی ہو یا زمان خلافت صحابہ ہو یا اپنی خلافت کا زمانہ۔لیکن تاریخ گواہ ہے کہ علی علیہ السلام نے سب سے زیادہ تکالیف اپنی خلافت و امامت کے زمانہ میں اٹھائیں کیونکہ وہ عدل و انصاف کے نمونہ تھے اور جتنی سختیاں مسلمانوں کو راہ راست پر لانے کیلئے برداشت کرنا پڑیں، اُن سے کئی سو گنا سختیاں علی علیہ السلام نے اپنی ذات پر برداشت کیں اور اُن کے گھر والوں نے برداشت کیں تاکہ اُن کے تقدس میں کوئی خلل نہ آنے پائے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کئی صدیاں گزرجانے کے باوجود حضرت علی علیہ السلام کی حکمرانی دلوں پر قائم ہے ،زندہ باد نام علی علیہ السلام“۔

حوالہ ۲۵سال سکوت علی علیہ السلام،مصنف:فواد فاروقی،صفحہ۲۸۱۔


شیخ عبداللہ شبراوی(عالم مذہب شافعی)

”یہ سلسلہ ہاشمی کہ جس میں خاندان مطہر نبوی،جماعت علوی اوربارہ امام شامل ہیں، ایک ہی نور سے پیوستہ ہیں جس نے سارے جہان کو روشن کیا ہوا ہے۔ یہ بہت فضیلتوں والے ہیں۔ اعلیٰ صفات کے مالک ہیں۔ شرف و عزت نفس والے ہیں اور باطن میں بزرگی محمدی رکھتے ہیں“۔

حوالہ : ”آئمہ اثنا عشری“،مصنف:شیخ احمد بن عبداللہ بن عباس جوہری،مقدمہ :آیت اللہ صافی گلپائیگانی،صفحہ۴۵،نقل از ”الاتحاف بحب الاشراف“،مصنف:شیخ عبداللہ شبراوی شافعی۔

ابوھذیل(اہل سنت کے مفکر اور دانشمند و استاد ابن ابی الحدید)

ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ میں لکھتے ہیں:”میں نے اپنے اُستاد ابوھذیل سے سنا ہے: جب کسی شخص نے اُن سے پوچھا کہ خدا کے نزدیک علی علیہ السلام افضل ہیں یا حضرت ابوبکر؟تو جواب میں ابوھذیل نے کہا:

وَاللّٰهِ لَمُبٰارِزَةِ عَلِیٍّ عَمْرویَوْمَ الْخَنْدَقِ تَعْدِلُ اَعْمٰال الْمُهٰاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِوَطٰاعٰاتِهِمْ کُلَّهَا تُرْبٰی عَلَیْهَا فَضْلاً عَنْ اَبِیْ بَکْرٍ وَحْدَهُ

”خدا کی قسم! علی علیہ السلام کا جنگ خندق میں عمروبن عبدودسے مقابلہ بھاری ہے تمام مہاجرین و انصار کی عبادتوں اور اطاعتوں پر، حضرت ابوبکر کا تنہا کیا مقابلہ!“

حوالہ محمد رازی، کتاب’چراشیعہ شدم‘نقل از شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید،ج۴ص۳۳۴

ابن مغازلی(عالم معروف مذہب شافعی)

خدا کی حمدوثناء اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود وسلام کے بعد لکھتے ہیں:

”درودوسلام ہو علی علیہ السلام پر ،مومنوں کے امیر ، مسلمانوں کے آقا،سفید اور چمکدار پیشانی والوں کے رہبر، نیکوکاروں کے باپ، روشن چراغ۔درود ہو سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا پر، بتول عذرا پر،نساء العالمین کی سردا رپر،دختر رسول پر اور اُن کے دوفرزندوں پر،رسول کے نواسوں پر،جوانان جنت کے سرداروں پر“۔

حوالہ بوستان معرفت،ص۶۹۴،نقل از مناقب،مصنف:ابن مغازلی،کتاب کے آغاز میں


عبدالرؤوف مناوی(عالم مذہب شافعی)

”اوّل وآخر کا خالق جانتا ہے کہ کتاب خدا کو سمجھنے کا انحصار علم علی علیہ السلام پر ہے“۔

حوالہ

بوستان معرفت،صفحہ۶۸۰،نقل از” مناوی در فیض القدیر“جلد۳،صفحہ۴۷پر عبدالرؤوف مناوی نے حدیث۲۷۰۵(انامدینة العلم وعلی بابھا) میں لکھا ہے۔

جاحظ(مفکر مذہب معتزلی)

”حضرت علی کرم اللہ وجھہ نے برسر منبر کہا:’ہمارے خاندان کا کسی سے مقابلہ نہیں ہوسکتا‘۔

بالکل صحیح فرمایا۔ کس طرح مقابلہ ہو اُس خاندان سے کسی کا!اسی خاندان سے تو پیغمبر خداہیں اور اسی سے دو پاک فرزند (حسن اور حسین ) ہیں اور سب سے پاک یعنی علی و فاطمہ اور پیغمبر اسلام اورراہ خدا کے دو شہید :شیر خدا حمزہ اور صاحب عظمت حضرت جعفر “۔

حوالہ بوستان معرفت،صفحہ۶۸۸،نقل از شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینابیع المودة، باب۵۲۔

”حقیقت میں ذاتی دشمنیاں عقل سلیم کو نقصان پہنچاتی ہیں اورانسان کے اخلاق حسنہ کوخراب کرتی ہیں اور خصوصاً اہل بیت علیہم السلام سے دشمنی ،یعنی اُن کے فضائل اور اُن کی مسلّمہ افضلیت کو دوسروں کے مقابلہ میں جھگڑے کاباعث بنانا۔ لہٰذا ہم پر واجب ہے کہ ہم حق طلب کریں۔ اُسی کی پیروی کریں اور قرآن سے وہی مراد چاہیں جو حقیقتاً منظور خدا ہے۔ یہ سب اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم تعصب و خواہشات نفس اور متقدمین(باپ دادا اور اساتذہ) کی غلط تقلیدکو دور پھینک دیں اور اہل بیت اطہار علیہم السلام اور عترت پیغمبرکی دوسروں پر افضلیت کو تسلیم کریں“۔

حوالہ بوستان معرفت،صفحہ۹۹۹،نقل از شیخ سلیمان قندوزی حنفی، باب۵۲،ینابیع المودة۔

”امیر المومنین علی علیہ السلام کے کئی سواقوال حکمت ہیں اور آپ کے ہر قول سے ہزار ہزار حکیمانہ اقوال تفسیرہوسکتے ہیں“۔

حوالہ بوستان معرفت،صفحہ۶۹۰،نقل از مناقب خوارزمی،باب۲۴،صفحہ۲۷۱۔


حضرت علی علیہ السلام شعرائے اہل سنت کی نظر میں

شعروشاعری کی زبان میٹھی اور اثر انگیز ہے۔ اکثر اوقات شعراء حضرات دو مصرعوں میں مخاطب کو وہ بات کہہ دیتے ہیں کہ یہ کلمات اُس کو گزشتہ گمراہی سے باہر لاتے ہیں اور نور کی طرف ہدایت کرتے ہیں۔اس دنیا میں کوئی شخص ایسانہیں جو اشعار کی ان خصوصیات سے انکار کرے۔ اسی حقیقت کو نظامی ان الفاظ میں کہتے ہیں:

قافیہ سنجان کہ سخن برکشند

گنج دو عالم بہ سخن درکشند

اس بناء پر ایک مختصر سی نظر شعرائے اہل سنت کے کلام پر بھی ڈالیں گے جس میں انہوں نے منقبت و مدح مولیٰ علیہ السلام کی ہے۔

یہ نکتہ یہاں بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگرچہ شیعہ شعراء نے منقبت و مدح حضرت علی علیہ السلام میں کمال درجہ کے اشعار لکھے ہیں لیکن اس کتاب میں ہمارا مقصد اُن اشعار کو اکٹھا کرنا ہے جو برادران اہل سنت نے علی علیہ السلام کی شان میں کہے ہیں۔ لہٰذا ہم شیعہ شعراء کے کلام سے یہاں اجتناب کریں گے۔


محمد بن ادریس شافعی(امام شافعی)

اذافی مجلس ذَکَرُواعلیاً

وسِبْطَیْهِ وَفاطمةَ الزَّکیَةَ

فَاجْریٰ بَعْضُهم ذِکریٰ سِوٰاهُ

فَاَیْقَنَ اَنَّهُ سَلَقْلَقِیَةَ

اِذٰا ذَکَرُوا عَلیَاً اَو ْبَنیهِ

تَشٰاغَلَ بِالْرِّوایاتِ الْعَلِیَةِ

یُقال تَجاوَزُوا یاقومِ هٰذا

فَهٰذا مِنْ حَدیثِ الرّٰافَضِیََّّةِ

بَرِئتُ الی الْمُهَیْمِن مِن اناسٍ

بَرونَ الرَّفْضَ حُبَّ الْفٰاطِمَیةِ

عَلیٰ آلِ الرَّسولِ صَلوةُ رَبِّی

وَ َلَعْنَتُهُ لِتِلْکَ الْجٰاهِلِیَّةِ


”جب کسی محفل میں ذکر علی علیہ السلام ہویا ذکر سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہاہویا اُن کے دوفرزندوں کا ذکر ہو، تب کچھ لوگ اس واسطے کہ لوگوں کو ذکر محمد و آل محمدسے دور رکھیں، دوسری باتیں چھیڑ دیتے ہیں۔ تمہیں یہ یقین کرلینا چاہئے کہ جوکوئی اس خاندان کے ذکر کیلئے اس طرح مانع ہوتا ہے،وہ بدکار عورت کا بیٹا ہے۔ وہ لمبی روایات درمیان میں لے آتے ہیں کہ علی و فاطمہ اور اُن کے دو فرزندوں کا ذکر نہ ہوسکے۔وہ یہ کہتے ہیں کہ اے لوگو! ان باتوں سے بچو کیونکہ یہ رافضیوں کی باتیں ہیں(میں جو امام شافعی ہوں) خدا کی طرف سے ان لوگوں سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں جو فاطمہ سے دوستی و محبت کرنے والے کو رافضی کہتے ہیں۔ میرے رب کی طرف سے درودوسلام ہو آل رسول پر اور اس طرح کی جہالت(یعنی محبان آل رسول کو گمراہ یا رافضی کہنا) پر لعنت ہو“۔

حوالہ جات

۱۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة، صفحہ۳۲۹،باب۶۲،از دیوان شافعی۔

۲۔ شبلنجی،کتاب نورالابصار میں،صفحہ۱۳۹،اشاعت سال۱۲۹۰۔

علیٌّ حُبُّهُ الْجُنَّة

اِمامُ النّٰاسِ وَالْجِنَّة

وَصِیُّ المُصْطَفيٰ حَقّاً

قَسِیْمُ النّٰارِ وَالْجَنَّة

”حضرت علی علیہ السلام کی محبت ڈھال ہے۔ وہ انسانوں اور جنوں کے امام ہیں۔ وہ حضرت محمد مصطفےٰ کے برحق جانشین ہیں اور جنت اور دوزخ تقسیم کرنے والے ہیں“۔

حوالہ حموینی، کتاب فرائد السمطین میں،جلد۱،صفحہ۳۲۶۔


قٰالُوا تَرَفَّضْتَ قُلْتُ کَلّٰا

مَاالرَّفْضُ دِیْنی وَلَااعْتِقٰادِی

لٰکِنْ تَوَلَّیْتُ غَیْرَ شَکٍّ

خَیْرَ اِمامٍ وَ خَیْرَ هٰادٍ

اِنَّ کٰانَ حُبُّ الْوَصِیِّ رَفْضاً

فَاِنَّنِی اَرْفَضُ الْعِبٰادِ

”مجھے کہتے ہیں کہ تو رافضی ہوگیا ہے۔ میں نے کہا کہ رافضی ہونا ہرگز میرا دین اور اعتقاد نہیں۔ لیکن بغیر کسی شک کے میں بہترین ہادی و امام کو دوست رکھتا ہوں۔ اگر وصی پیغمبر سے دوستی و محبت رکھنا رفض(رافضی ہونا) ہے تو میں انسانوں میں سب سے بڑا رافضی ہوں“۔

حوالہ جات

۱۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، کتاب ینابیع المودة،صفحہ۳۳۰،اشاعت قم،طبع اوّل۱۳۷۱۔

۲۔ شبلنجی، کتاب نورالابصار،صفحہ۱۳۹،اشاعت ۱۲۹۰۔


یٰارٰاکِباً قِفْ بِالْمُحَصَّبِ مِنْ مِنیٰ

وَاهْتِفْ بِسٰاکِنِ خِیْفِهٰا وَالنّٰاهِضِ

سَحَراً اِذَافَاضَ الْحَجِیْجُ اِلٰی مِنیٰ

فَیْضاً کَمُلْتَطَمِ الْفُراتِ الْفٰائِضِ

اَنْ کٰانَ رَفْضاً حُبُّ آلِ مُحَمَّدٍ

فَلْیُشْهَدِ الثَّقَلاٰنِِ اِنِّیْ رٰافِضِیْ

”اے سواری! تو جو مکہ جارہی ہے،ریگستان منیٰ میں توقف کرنا،صبح کے وقت جب حاجی منیٰ کی طرف آرہے ہوں تو مسجد خیف کے رہنے والوں کو آواز دینا اور کہنا کہ اگر دوستی آل محمد رفض ہے تو جن و انس یہ شہادت دیتے ہیں کہ میں رافضی ہوں“۔

حوالہ جات

۱۔ ابن حجر مکی،صواعق محرقہ،باب۹،صفحہ۹۷،اشاعت مصر۔

۲۔ یاقوت حموی، کتاب معجم الادباء،جلد۶،صفحہ۳۸۷۔

۳۔ فخر رازی، تفسیر کبیر میں،جلد۷،صفحہ۴۰۶۔


وَلَمَّا رَأَیْتُ النّٰاسَ قَدْ ذَهَبَتْ بِهِمْ

مَذَاهِبُهُمْ فِیْ اَبْحَرِ الْغَیِّ وَالْجَهْلِ

رَکِبْتُ عَلَی اسْمِ اللّٰهِ فِیْ سُفُنِ النَّجٰا

وَهُمْ اَهْلُ بَیْتِ الْمُصْطَفیٰ خٰاتِمِ الرُّسُلِ

وَاَمْسَکْتُ حَبْلَ اللّٰهِ وَهُوَوِلاٰوهُمْ

کَمٰا قَدْ اُمِرْنٰا بِالتَمَسُّکِ بِالْحَبْلِ

اِذَا افْتَرَقَتْ فِی الدِّیْن سَبْعُوْنَ فِرْقَةً

وَنِیْفاًعَلیٰ مٰاجٰاءَ فِیْ وٰاضِحِ النَّقْلِ

وَلَم یَکُ ناجٍ مِنْهُمْ غَیْرَ فِرْقَةٍ

فَقُلْ لِیْ بِهٰا یٰا ذَاالرَّجٰاجَةِ وَالْعَقْلِ

أَفِی الْفِرْقَةِ الْهُلاٰکِ آلُ مُحَمَّد

اَمِ الْفِرْقَةُ الّلا تِیْ نَجَتْ مِنْهُمْ قُلْ لِیْ


فَاِنْ قُلْتَ فِی النّٰاجَیْنِ فَالْقَوْلُ وٰاحِدٌ

وَاِنْ قُلْتَ فِی الْهُلاٰکِ حَفْتَ عَنِ الْعَدْلِ

اِذَاکٰانَ مَوْلَی الْقَوْمِ مِنْهُمْ فَاِنَّنِیْ

رَضِیْتُ بِهِمْ لاٰزٰالَ فِیْ ظِلِّهِمْ ظِلِّیْ

رَضِیْتُ عَلِیّاً لِیْ اِمٰاماً وَنَسْلَهُ

وَاَنْتَ مِنْ الْبٰاقِیْنَ فِیْ اَوْسَعِ الْحَلِ

”جب میں نے لوگوں کو جہالت اور گمراہی کے سمندر میں غرق دیکھا تو پھر بنام خدا کشتی نجات (خاندان رسالت اور اہل بیت اطہار علیہم السلام) کا دامن پکڑا اور اللہ تعالیٰ کی رسی کو تھاما کیونکہ اللہ کی رسی جو دوستی خاندان رسالت ہے ،کو پکڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔جس زمانہ میں دین تہتر فرقوں میں بٹ جائے گا تو کہتے ہیں کہ صرف ایک ہی فرقہ حق پر ہوگا ،باقی باطل پر ہوں گے۔اے عقل و دانش رکھنے والے! مجھے بتا کہ جس فرقہ میں محمد اورآل محمد ہوں گے، کیا وہ فرقہ باطل پر ہوگا یا حق پر ہوگا؟ اگر تو کہے کہ وہ فرقہ حق پر ہوگا تو تیرا اور میرا کلام ایک ہے اور اگر تو کہے کہ وہ فرقہ باطل اور گمراہی پر ہوگا تو تو یقینا صراط مستقیم سے منحرف ہوگیا ہے۔

یہ جان لو کہ خاندان رسالت قطعاً اور یقینا حق پر ہے اور صراط مستقیم پر ہے۔ میں بھی اُن سے راضی ہوں اور اُن کے طریقے کو قبول کرتا ہوں۔ پروردگار! اُن کا سایہ مجھ پر ہمیشہ قائم و دائم رکھ۔ میں حضرت علی علیہ السلام اور اُن کی اولاد کی امامت پرراضی ہوں کیونکہ وہ حق پر ہیں اور تو اپنے فرقے پر رہ ،یہاں تک کہ حقیقت تیرے اوپر واضح ہوجائے“۔

حوالہ

کتاب شبہائے پشاور،صفحہ۲۲۷،نقل از ذخیرة المال،مصنف:علامہ فاضل عجیلی۔


یااَهْلَ بَیْتِ رَسُوْلِ اللّٰهِ حُبُّکُمْ

فَرَضٌ مِنَ اللّٰهِ فِی الْقُرآنِ اَنْزَلَهُ

کَفَاکُمْ مِنْ عَظِیْمِ الْقَدْرِ اِنَّکُمْ

مَنْ لَمْ یُصَلِّ عَلَیْکُمْ لَاصَلوٰةَ لَهُ

”اے اہل بیت رسول اللہ!آپ کی دوستی و محبت اللہ کی جانب سے قرآن میں فرض قرار دی گئی ہے:

(مندرجہ بالا اشعار میں امام شافعی کا اشارہ آیت زیر کی طرف ہے:

( قُلْ لا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْراً اِلَّاالْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی )

آپ کی قدرومنزلت کیلئے یہی کافی ہے کہ جو آپ پر درود نہ پڑھے، اُس کی نماز قبول

نہیں ہوتی“۔

اشعار کے آخر میں سخت و تند لہجہ میں دشمنان اہل بیت کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں:

لَولَمْ تَکُنْ فِی حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ

ثَکَلَتْکَ اُمُّکَ غَیْرَ طَیِّبِ الْمَوْلِدِ

”اگر تم میں آل محمدکی محبت نہیں تو تمہاری ماں تمہارے لئے عزا میں بیٹھے کہ تم یقینا حرامزادے ہو۔

حوالہ جات

۱۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی، ینا بیع المودة،صفحہ۳۵۴،۳۶۶،اشاعت قم،طبع اوّل۱۳۷۱۔

۲۔ ابن حجر، کتاب صواعق محرقہ، صفحہ۸۸۔


ابن ابی الحدید معتزلی(اہل سنت کے بہت بڑے عالم)

لو لا ابو طالبٍ و ابنُهُ

لَمَا مِثْلُ الدِّیْنِ شخصاً فقاما

فذاک بمکة اوی و حامی

و هذا بیثربٍ جَسََّ الْحَمٰامٰا

تَکَفَّلَ عَبْدَ مَنٰافٍ بامرٍ

وَ أودیٰ فکان عَلِیٌّ تَمٰامٰا

فَقُلْ فِیْ ثَبِیْرٍ مضی بعد ما

قضیٰ ما قضاء وأبقی شَماما

فَللّٰهِ ذا فاتحاً لِلْهدی

وَلِلّٰهِ ذَالِلْمَعٰالِیْ خِتاما

وَمٰاضَرَّ مَجْدَ اَبِیْ طالبٍ

جَهُوْلٌ لَغٰا اَوْ بَصِیْرٌ تعامیٰ

کما لا یضر اِیٰابُ الصَّبا

حِ مَنْ ظَنَّ ضَوْءَ النَّهٰارِ الظَّلامٰا


”اگر حضرت ابو طالب اور اُن کا بیٹا(حضرت علی علیہ السلام) نہ ہوتے تو دین اسلام اس طرح مضبوط اور اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہوسکتا۔ حضرت ابوطالب نے حضرت(پیغمبر اسلام) کو مکہ میں پایا اور حمایت کی جبکہ علی علیہ السلام نے پیغمبر اسلام کو مدینہ میں تلاش کیا اور حمایت کی۔حضرت ابوطالب اپنے والد عبدالمطلب کے حکم پر عبد مناف کے فرزندوں کے امور کے محافظ بن گئے اور علی علیہ السلام نے یہ ذمہ داری احسن طریقہ سے آخر تک نبھائی اور اس کی تکمیل

کی۔ پس کہو اُس کے بارے میں جو قضائے الٰہی سے فوت ہوگئے لیکن اپنی خوشبو(علی علیہ السلام) کی صورت میں چھوڑ گئے۔ حضرت ابوطالب نے رضائے خدا کیلئے دین کی خدمت کی اور علی علیہ السلام نے اُس کی تکمیل کی اور اُس کو اعلیٰ مقام تک پہنچایا۔ جاہلوں اور نادانوں کی لغو باتیں اور داناؤں کی اندھی باتیں عظمت ابوطالب کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں کیونکہ اگر کوئی روز روشن کو رات کہے اور روشنی کو تاریکی لکھے تو اس سے نورانیت روز اور روشنی پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا“۔

حوالہ

شرح نہج البلاغہ میں ابن ابی الحدید نے جلد۳،صفحہ۳۲۱،اشاعت بیروت،صفحہ۳۱۸اور اشاعت مصرمیں یہ اشعار بزرگی ابو طالب علیہ السلام کیلئے لکھے۔

و خیرُ خلقِ اللّٰهِ بَعْدَ الْمصطفیٰ

اعظمُهُم یومَ الفَخار شَرَفا

السَّیِّدَ الْمُعَظَّمُ الْوَصِیُّ

بَعْلُ الْبَتُولِ المرتضیٰ عَلِیٌّ

وابناهُ ثُمَّ حَمزةٌ و جَعفرٌ

ثُمَّ عتیقٌ بَعْدَهُمْ لاٰ یُنْکَرُ


”رسول خداکے بعد بہترین انسان، یوم افتخار میں سب شرفاء سے زیادہ بزرگ، وصی مصطفےٰ، ہمسر بتول ، عزت و شرف والا سید وسردار علی مرتضیٰ علیہ السلام ہیں۔ اُن کے بعد اُن کے دو بیٹے(حسن اور حسین ) اور اُن کے بعد حمزہ و جعفر طیار ہیں“۔

حوالہ

ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ،جلد۳،صفحہ۴۰،اشاعت مصر اور اشاعت بیروت۔

یَقُوْلُوْنَ لِیْ قُلْ فِیْ عَلِیٍّ مَدَائِحُ

فَاِنْ اَنَالَمْ اَمْدَحْهُ قٰالُوْا مُعٰانِدٌ

وَمٰاصُنْتُ عَنْهُ الشِّعْرَمَنْ ضَعْفِ هٰاجِسٍ

وَلاٰ اِنَّنِیْ عَنْ مَذْهَبِ الْحَقِّ عٰائِدٌ

فَلَوْ اَنَّ مٰاءَ الْاَبْحُرِ السِبْعَةِ الَّلتِیْ

خُلِقْنَ مِدٰادٌ وَالسَّمٰوٰاتِ کٰاغِذٌ

وَاَشْجٰارَ خَلْقِ اللّٰهِ اَقلاٰمُ کٰاتِبٍ

اِذِالْخَلْقُ اَفْنٰاهُنَّ عٰادَتْ عَوٰائِدٌ

وَکٰانَ جَمِیْعُ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ کٰاتباً

اِذاًکَلَّ مِنْهُمْ وٰاحِدً بَعْدُ وٰاحِدٌ


فَخَطُّوْا جَمِیْعاً مَنْقَباً بَعْدَ مَنْقَبٍ

لَمٰا خُطَّ مِنْ تِلْکَ الْمَنٰاقِبِ وٰاحِدٌ

”لوگ مجھے کہتے ہیں کہ علی علیہ السلام کی مداحی کروں۔ اگر میں آنحضرت کی مداحی نہ کروں تو ڈرتا ہوں کہ مجھے اُن کا دشمن کہیں گے۔ اگر کبھی کبھی میں اُن کی شان میں کچھ شعر کہہ دیتا ہوں تو وہ ضعف نفس کی وجہ سے نہیں اور میں وہ نہیں ہوں جو مذہب حق سے پھر جاؤں۔ اگر سات دریا جو پیدا کئے گئے ہیں،اُن کے پانی کو جمع کیا جائے اور تمام آسمان کاغذ کی شکل بن جائے اور

تمام درخت قلم بن جائیں اور تمام لوگ یکے بعد دیگرے لکھ لکھ کر تھک جائیں اور چاہیں کہ آنحضرت کی فضیلتیں اور خوبیاں لکھیں تووہ آنحضرت(علی علیہ السلام) کی ایک فضیلت بھی نہ لکھ سکیں گے“۔

حوالہ

ابن ابی الحدید، کتاب ”علی ،چہرئہ درخشان اسلام“ترجمہ: علی دوانی، صفحہ۵(مقدمہ کتاب)

اَلَمْ تُخْبَرِالاخبارَ فی فتحِ خیبرٍ

ففیها لِذِی الُّلبِّ الملبِّ أعٰاجیب

وما اَنَساالْاُنسَ اللَّذین تَقدَّما

وفرَّهما والفرُّ قد عَلِماحوب


وللرّایة العظمی وقد ذَهَبابها

مَلابِسُ ذُلٍّ فوقَها و جلابیب

یَشِلُّهُمٰا من آل موسیٰ شَمَردَلُ

طویلُ نجادِ السَّیف اجیدُ یعبوب

یَمجُّ مَنوناً سیفُه وسنانُه

ویَلْهَبُ ناراً غَمْدُهُ والانابیب

اُحَضِّرْهُمٰا اَمْ حُضِّرْاخَرْجَ خاضبٍ

وَ ذانَهُمٰاام ناعم الخدّ مخضوب

عذرتکما انّ الحمام لمبغض

وانّ بقاء النّفس للنّفس محبوب

لیکره طعم الموت والموت طالب

فکیف یلذّالموت والموت مطلوب


”کیا تو نے فتح خیبر کا پورا واقعہ نہیں پڑھا ہے جو مختلف رموز و اشارات و عجائب سے بھرا پڑا ہے اور عاقلوں کیلئے موجب حیرت ہے کیونکہ وہ دونوں حضرات(یعنی ابوبکر  اور عمر  )علوم و فنون جنگ سے آشنا نہ تھے۔لہٰذا انہوں نے اُسے(پرچم باعظمت کو) پشیمانی و ذلت والا لباس پہنایا اور جنگ میں فرار کو قرار پر اختیار کیا حالانکہ یہ بھی جانتے تھے کہ جنگ میں فرار گناہ ہے۔ یہ اس لئے کہ یہودیوں کے سرداروں میں ایک جوان بلند قدوقامت،مضبوط گھوڑے پر سوار، ہاتھ میں ننگی تلوار لئے ہوئے،ہوا میں لہراتا ہوا ان پر ایسے حملہ آور ہوا تھا جیسے دست بستہ دوخوش صورت پرحملہ کررہا ہو۔

موت کا خوف ،تلوار کی جھنک اور نیزے کی کھنک نے اُن کے دل ہلا دئیے ۔(ابن ابی الحدید کہتے ہیں) کہ میں آپ(حضرت ابوبکر  اور حضرت عمر  ) کی طرف سے معذرت چاہتا ہوں کیونکہ موت ہر انسان کیلئے باعث ترس ہے اور زندگی ہر انسان کیلئے محبوب ہے۔ آپ دونوں بھی(دوسروں کی طرح) موت کا مزہ چکھنے سے بیزار تھے ،حالانکہ موت ہر ایک کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ پس کس طرح تم خود موت کو چاہتے اور اُس کا مزہ چکھتے“۔

حوالہ کتاب شبہائے پشاور،صفحہ۴۱۶،یہ اشعار اُن سات قصیدوں میں سے ہیں جو ابن ابی الحدید نے مولا علی علیہ السلام کی شان میں کہے تھے۔

قاضی ابوالقاسم تنوخی

من ابن رسول اللّٰه وابن وصیّه

الی مدغل فی عقبة الدّین ناصب

نشابین طنبور وزق و مزهر

وفی حجر شاد اوعلی صدر ضارب


ومن ظهر سکران الی بطن قینه

علی شبه فی ملکها و سوائب

یعیب علیّاً خیر من وطأ الحصی

واکرم سارفی الانام وسوائب

ویزری علی السبطین سبطی محمّد

فقل فی حضیض رام نیل الکواکب

و ینسب افعال القرامط کاذباً

الی عترة الهادی الکرام الأطائب

الی معشر لایبرح الذّم بینهم

ولا تزدری اعراضهم بالمعائب

اذا ما انتدواکانواشموس بیوتهم

وان رکبواکانواشموس المواکب


وان عبسوا یوم الوغی ضحک الردی

وان ضحکوا أبکواعیون النوادب

نشوبین جبریل وبین محمّد

وبین علیّ خیر ماش و راکب

وزیر النبی المصطفی ووصیه

ومشبهه فی شیمه وضرائب

ومن قال فی یوم الغدیر محمّد

وقدخاف من غدر العداة النواصب

أمٰااِنَّنِی اولی بکم من نفوسکم

فقالوا:بلی قول المریب الموارب

فقال لهم:من کنت مولاه منکم

فهذا أخی مولاه بعدی وصاحبی

اطیعوه طراً فهومنی بمنزل

کهارون من موسی الکلیم المخاطب


”یہ پیغام فرزند رسول اور فرزند وصی رسول کی جانب سے اُس کی طرف ہے جو دھوکے باز اور ناصبی ہے(اس میں مخاطب عبداللہ بن معز عباسی ہے جو آل ابوطالب کا سخت دشمن تھا اور تمام دشمنان آل ابوطالب بھی مخاطب ہیں)اور جس نے بلاشک و شبہ طبلہ و سارنگی ،موسیقی و نغمہ کے ماحول میں پرورش پائی ہے۔ یہ پیغام اُس کی طرف ہے جو علی علیہ السلام جیسی جری اور بہادر شخصیت اسلام میں عیب جوئی کرتا ہے۔ اُس کی طرف ہے جو دوفرزندان رسول اللہ کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔ اُسے کہہ دیجئے کہ اُس کا مقام پست ترین جگہ ہوگا۔

یہ وہی ہے جو افعال بد کو اپنی گمراہی کی وجہ سے پیغمبر خدا کے خاندان کی طرف نسبت دیتا ہے جبکہ خاندان پیغمبر خدا انتہائی پاک اور بلند ہیں اور کسی قسم کی برائی اُن تک رسائی نہیں پاسکتی اور کسی قسم کا بھی کوئی عیب اُن کی عصمت و طہارت کو چھو نہیں سکتا۔ وہ (خاندان رسول) جس محفل میں ہوں،اُسے منور کردیتے ہیں اور اُس میں مانند خورشید چمکتے ہیں۔

وہ جس سواری پر سوا رہوں،ا ُس کیلئے باعث شرف ہوتے ہیں۔ وہ سواری باقی سواریوں میں مثل خورشید ممتاز ہو جاتی ہے۔ اگر جنگ کے روز آنکھیں کھولیں تو ہلاکت ہنستی ہے اور اگر وہ ہنسیں تو دیدئہ حوادث روتی ہے۔

یہ وہ افراد ہیں جنہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم ،حضرت علی علیہ السلام اور حضرت جبرئیل جو کہ بہترین پیادہ اور بہترین سوار ہیں، کے درمیان پرورش پائی ہے۔ علی علیہ السلام جو کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم کے وزیر ہیں اور اُن کے وصی ہیں اور اخلاق و اطوار میں اُن کی شبیہ ہیں اور ان کے بارے میں پیغمبر اسلام نے اُن مخصوص حالات میں جب وہ ناصبیوں سے دشمنی کا خطرہ بھی محسوس کررہے تھے، فرمایاکہ:’اے لوگو! کیا تمہیں میں تمہاری جانوں سے زیادہ عزیز نہیں ہوں؟‘ تو سب نے بغیر کسی تردد کے کہا کہ کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپ ہیں۔ پس پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم نے فرمایا:

”جس کا میں مولا ہوں، اُس کا یہ علی جو میرا بھائی اور دوست ہے، میرے بعد مولا ہے۔ سب اُس کی اطاعت کریں ۔ اُس کی نسبت میرے نزدیک ایسے ہے جیسے حضرت ہارون کی نسبت حضرت موسی کلیم اللہ سے تھی“۔


تعارف قاضی ابوالقاسم تنوخی

قاضی ابوالقاسم تنوخی چوتھی صدی ہجری میں ہوئے ہیں۔ وہ ایک دانشمند اور مذہب حنفی سے تعلق رکھتے تھے۔ اُن کا یہ کلام کتاب ”الغدیر“،جلد۳،صفحہ۳۷۷سے نقل کیا گیا ہے۔

خطیب خوارزمی(مذہب حنفیہ کے بہت بڑے مفکر)

ألاهل من فتی کأبی ترابٍ

امام طاهر فوق الترابِ

اذاما مقلتی رمدت فکحلی

ترابٌ مسَّ نعل أبی ترابٍ

محمّد النّبیُ کمصر علم

امیرالمومنین له کَبٰابٍ

هوالبکّاء فی المحراب لکن

هوالضحاک فی یوم الحرابِ


وعن حمراء بیت المال أمسی

وعن صفرائه صفر الوطابِ

شیاطین الوغی دُحروا دحوراً

به اِذ سلَّ سیفاً کالشهابِ

علیٌ بالهدایة قد تحلّی

ولمّا یدرع برد الشبابِ

علی کاسر الأصنام لمّا

علاکتف النَّبیِّ بلا احتجابِ

علیٌ فی النساء له وصیٌ

أمین لم یمانع بالحجابِ

علیٌ قاتلٌ عمرو بن ودّ

بضرب عامر البلد الخرابِ


حدیث برائة وغدیر خمّ

ورایة خیبر فصل الخطابِ

هما مثلاً کهارون و موسیٰ

بتمثیل النَّبیِّ بلا ارتیابِ

بنی فی المسجد المخصوص باباً

له اذ سدَّ أبواب الصّحابِ

کأنُ الناس کلّهم قشورٌ

و مولانا علیٌ کاللبابِ

ولایة بلاریب کطوقٍ

علی رغم المعاطس فی الرّقابِ

اذا عُمَرُ تخبَّط فی جواب

ونَبّهه علیٌ بالصَّوابِ

یقول بعَدلِه لولا علیٌّ

هلکتُ هلکتُ فی ذاک الجوابِ

ففاطمةٌ و مولانا علیٌ

ونجلاء سروری فی الکتابِ


و من یک دأبه تشبید بیتٍ

فها أنا مدح أهل البیت دابی

و ان یکن حبّهم هیهات عاباً

فها أنا مذ عقلت قرین عابٍ

لقد قتلوا علیّاً مذ تجلّی

لأهل الحقِّ فحلاً فی الضَّرابِ

و قد قتلوا الرضا الحسن المرجّی

جواد العرب بالسمّ المذابِ

وقد منعواالحسین الماء ظلماً

وجُدّلِ بالطعان وبالضّرابِ

ولولا زینب قتلوا علیاً

صغیراً قتل بقٍّ او ذُبابٍ

وقد صلبواامام الحقِّ زیداً

فیاللّٰهِ من ظلم عجابٍ

بنات محمد فی الشمس عطشی

و آل یزید فی ظلّ القبابِ

لآل یزید من اٰدم خیامٌ

و أصحاب الکساء بلا ثیابٍ


”ابوتراب جیسا جوان کہاں ہے اور ابوتراب جیسا پاک رہبر اس دنیا میں کہاں ہے؟ اگر میری آنکھیں تکلیف میں مبتلا ہوجائیں تو میں ان کے جوتے سے لگی ہوئی خاک کو سرمہ بنالوں۔حضرت محمد مصطفےٰ علم کا شہر ہیں اور امیرالمومنین علی علیہ السلام اس شہرعلم کا دروازہیں۔ محراب عبادت میں گریہ کرتے اور میدان جنگ میں ہنستے ہوئے آتے۔ آپ نے دنیاوی زرودولت سے آنکھیں بند کرلیں اور درہم و دینار اکٹھے نہ کئے۔وہ میدان جنگ میں شیطان کے لشکر کو تہس نہس کردیتے تھے کیونکہ اُن کی شمشیر بجلی بن کر دشمن پر گرتی تھی۔

یہ حضرت علی علیہ السلام ہیں جو نور ہدایت سے مز ّین تھے۔ اس سے پہلے کہ وہ جوانی میں قدم رکھتے، انہوں نے اہل مکہ کے بت پیغمبر اسلام کے دوش مبارک پرکھڑے ہوکر پاش پاش کردئیے۔ یہ علی علیہ السلام ہی تھے جو بہ نص وصیت پیغمبراُمہات المومنین کے کفیل بنے۔ علی علیہ السلام اور پیغمبر خدا کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں تھا۔ علی علیہ السلام نے اپنی شمشیر کی ضرب سے عمر بن عبدود کو زمین پر گرادیا۔ یہ ایسی ضربت تھی جس نے اسلام کو آباد کردیا اور کفر کو برباد کردیا۔ حدیث برائت اور غدیر خم اور روز خیبرآپ کو پرچم کا عطا کرنا ذرا یاد کرو۔حضرت محمد اور حضرت علی علیہ السلام کی نسبت ایسی ہی ہے جیسے حضرت موسیٰ کی حضرت ہارون سے تھی۔ یہ نسبت خود پیغمبر اسلام نے بیان فرمائی ہے۔ مسجد میں تمام کھلنے والے دروازے بند کروادئیے مگر علی علیہ السلام کے گھر کا دروازہ کھلا رکھا۔ تمام انسان مانند جسم ہیں اور مولا امیر المومنین علی علیہ السلام کی مثال مغز کی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کی ولایت تمام مومنوں کی گردنوں میں مانند طوق ہے۔آپ نے دشمن کی ناک کو خاک پر رگڑا۔جب بھی عمر بن خطاب نے مسائل دینیہ میں غلطی کی توعلی علیہ السلام نے اُس کو ٹھیک کردیا۔ اسی واسطے حضرت عمر نے کہا کہ اگر علی علیہ السلام نہ ہوتے اور میری غلطیوں کی اصلاح نہ فرماتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔ لہٰذا جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا اور امیرالمومنین علی


علیہ السلام اور اُن کے دو بیٹے ہمارے لئے باعث خوشی و مسرت ہیں۔ کوئی جس خاندان کی چاہے مدح خوانی کرے مگر میں تو اہل بیت محمد کا ثناء خواں ہوں۔ اگر اُن سے محبت باعث ندامت و شرمندگی ہے، اور حیف ہے کہ ایسا ہو تو پھر جس روز سے مجھے عقل آئی تو میں اُس روز سے اس ندامت و شرمندگی کو قبول کرتا ہوں۔علی علیہ السلام جو کہ حق پرستوں کے رہبر تھے، وہ اکیلے ہی مرد میدان تھے۔ اُن کے بیٹے امام حسن علیہ السلام کو قتل کردیا۔ اُن کے بیٹے امام حسین علیہ السلام کو آب فرات سے محروم رکھا اور تیروتلوار اور نیزہ سے اُن کو خاک و خون میں غلطان کردیاگیا۔ اگر سیدئہ زینب سلام اللہ علیہا نہ ہوتیں تو(وہ لوگ) علی ابن الحسین علیہما السلام کو بھی قتل کردیتے۔ کمسن زید بن علی علیہ السلام کو سولی پر چڑھا دیا۔ پروردگار!یہ کتنا بڑا ظلم تھا۔کیا یہ عجیب نہیں کہ محمد کی بیٹیاں دھوپ میں پیاسی کھڑی ہوں اور یزید کے اہل خانہ محل میں آرام کررہے ہوں۔ آل رسول کیلئے جو اصحاب کساء ہیں،کوئی چادر نہ ہو جبکہ اہل یزید کیلئے زرق برق لباس ہوں“۔

حوالہ کتاب ”الغدیر“جلد۴،صفحہ۳۹۷میں ،یہ خوارزمی کا قصیدہ درج ہے۔ یاد رہے کہ حافظ ابوالموید،ابومحمد، موفق بن احمد بن ابی سعید اسحاق بن موی د مکی حنفی علمائے اہل سنت میں مشہور عالم ہیں جو چھٹی صدی ہجری میں گزرے ہیں۔


محی الدین عربی(مذہب حنفی کے ایک معروف مفکر)

رَأَیتُ وِلاٰئی آلَ طٰه فَریضةً

علیٰ رغمِ اَهْلِ الْبُعْدِ یُورِثُنِی الْقُرْبیٰ

فمٰا طَلَبَ الْمَبْعُوْثُ اَجراً عَلیَ الْهُدیٰ

بِتَبْلِیْغِهِ اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبیٰ

”اہل بیت محمد کو دوست رکھنا میرے اوپر واجب ہے کیونکہ ان کی دوستی مجھے خدا کے نزدیک کردیتی ہے ،برخلاف اُن کے جن کی دوستی خدا سے دور کردیتی ہے۔ پیغمبر اسلام نے تبلیغ دین پر اپنی کوئی اُجرت طلب نہیں کی سوائے اس کے کہ اُن کے قرابت داروں(اہل بیت یعنی علی علیہ السلام، جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا، امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام) سے محبت کی جائے“۔

حوالہ

کتاب”زندگانی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا“،مصنف:شہید محراب آیة اللہ دستغیب، صفحہ۳۵،نقل از ”الصواعق“۔

قاضی فضل بن روزبہان(عالم معروف اہل سنت)

سلامٌ علی المصطفیٰ المجتبیٰ

سلامٌ علی السیّد المرتضیٰ

سلام علی سیّدِتنا البتول

مَن اختارها اللّٰه خیر النّساء


سلام من الْمِسْک اَنفاسُهُ

علی الحسن الامعیِّ الرّضا

سلام علی الاورعی الحسین

شهید یری جسمه کربلا

سلام علی سیّد العابدین

علی ابن الحسین الزّکی المجتبیٰ

سلام علی الباقر المهتدی

سلام علی الصّادق المقتدی

سلام علی الکاظم الممتحن

رضیّ السجایا امام التقی

سلام علی الثّامن الموتمن

علیّ الرّضا سیّدِ الاصفیاء

سلام علی المتّقی التّقی

محمّد الطیب المرتجی

سلام علی الالمعیّ النّقی

علیّ المکرّم هادی الوری


سلام علی السیّد العسکری

امام یجهزّ جیش الصَّفا

سلام علی القائم المنتظر

أبی القاسم الغرّ نورالهدی

سیطلع کالشّمس فی غاسق

ینجیه من سیفه المنتفی

تری یملا الارض من عدله

کما ملأت جور اهل الهوی

سلام علیه و آبائه

و انصاره ما تدوم السَّماء

”سلام ہو اُن پر جو مصطفےٰ بھی ہیں اور مجتبیٰ بھی ہیں۔ سلام ہو ہمارے مولا علی المرتضیٰ پر۔

سلام ہو سیدہ فاطمة الزہرا پر جو بتول ہیں ،جن کو خدا نے دنیا کی تمام عورتوں کا سردار چن لیا۔

سلام ہواُس پر کہ جس کے نفس سے مُشک و عنبر کی خوشبو آتی تھی یعنی امام حسن علیہ السلام جونہایت عقلمند اور ہردلعزیز ہیں۔

سلام ہو پرہیزگار ترین فرد شہید کربلاحسین ابن علی پر کہ جن کا جسم شہادت کے بعد کربلا میں دیکھا گیا۔


سلام ہو سید الساجدین علی ابن الحسین پر جو پاک و مجتبیٰ ہیں۔

سلام ہو امام باقرعلیہ السلام(حضرت محمد ابن علی) پر جو ہدایت یافتہ ہیں۔

سلام ہو امام جعفر صادق علیہ السلام پر جو امام اور پیشواہیں۔

سلام ہو امام موسیٰ کاظم علیہ السلام پر جو امتحان شدہ ہیں جو امام المتقین ہیں۔

سلام ہو آٹھویں امین، سید الاوصیاء امام علی ابن موسیٰ رضا علیہ السلام پر۔

سلام ہو متقی امام محمد ابن علی تقی علیہ السلام پر جو پاک و طاہر ہیں اور سرمایہ اُمید ہیں۔

سلام ہو عقلمند اور باخبر امام علی ابن محمد نقی علیہ السلام پر جو بزرگ اور ہادی العالمین ہیں۔

سلام ہو ہمارے مولا امام حسن ابن علی العسکری علیہ السلام پر جو لشکر پاکیزگی سےمز ّین ہیں۔

سلام ہو امام القائم والمنتظر(حضرت مہدی علیہ السلام) حضرت ابوالقاسم پر جو امام نورانی ہیں اور راہ ہدایت کی روشنی ہیں ۔ جو انشاء اللہ ظہور کریں گے جیسے سورج جب طلوع ہوتا ہے تو تمام تاریکی غائب ہوجاتی ہے۔ اسی طرح جب یہ امام ظہور فرمائیں گے تو تمام روئے ارض عدل و انصاف سے اس طرح بھر جائے گی جیسے اس سے پہلے ظلم و ستم اور ہوس سے بھری ہوئی ہے۔

سلام ہو اُن پر اور اُن کے آباء و اجداد پر اور اُن کے انصار پر تا قیام قیامت“۔

حوالہ

کتاب شبہائے پشاور، مصنف: مرحوم سلطان الواعظین شیرازی، صفحہ۷۵،نقل از کتاب ابطال الباطل، مصنف: قاضی فضل بن روزبہان۔


حسان بن ثابت

تعارف حسان بن ثابت

حسان بن ثابت ایک بلند پایہ شاعر اسلام ہیں۔ یہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم کے زمانہ میں حیات تھے۔ پیغمبر اسلام ان کی تعریف کرتے تھے اور کہتے تھے کہ حسان کے شعروں کو شعر نہ کہو بلکہ یہ سراسر حکمت ہیں۔

یُنادِیْهِمُ یومَ الغدیر نبیّهم

بخُمٍّ واسمع بالرّسول منادیاً

وقال فمن مولا کُمْ وَوَلِیُّکُمْ

فقالوا ولم یَبْدوا هناک التعامیا

الهُک مولانا وانت ولّینا

ولم تلقَ منّا فی الولایة عاصیا

فقال له قُمْ یا علیُّ فَاِنَّنِیْ

رَضیتُک من بَعْدی اماماًوهادیا

فمن کُنْتُ مولاه فهذا ولیّه

فکونواله انصارَ صدقٍ مُوالیا

هناک دَعَا اللّٰهُمَّ والِ ولیَّه

وکن للّذی عادیٰ علیّا معادیا


”غدیر خم کے روز پیغمبر اکرم نے اُمت کو آواز دی اور میں نے آنحضرت کے منادی کی ندا سنی۔ پیغمبر اکرم نے فرمایا:تمہارا مولیٰ اور ولی کون ہے؟ تو لوگوں نے صاف صاف کہا کہ اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور آپ ہمارے ولی ہیں اور کوئی بھی اس کا انکار نہیں کرتا۔پس آپ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا کہ یا علی : اٹھو! میں اس پر راضی ہوں کہ میرے بعد آپ اس قوم کے امام اور ہادی ہوں اور فرمایا کہ جس جس کا میں مولیٰ ہوں، اُس اُس کا یہ علی مولا ہے، تم تمام سچائی اور وفاداری کے ساتھ اس کے حامی و مددگار بن جاؤ۔ پھر آپ نے دعا کی کہ خدایا! تو اُس کو دوست رکھ جو علی کو دوست رکھے اور اُس کا دشمن ہوجو علی سے دشمنی کرے“۔

حوالہ خوارزمی، کتاب مقتل، باب۴،صفحہ۴۷اور حموینی، کتاب فرائد السمطین اور گنجی شافعی ،کتاب کفایة الطالب، باب اوّل۔

من ذا بخاتمة تصدّق راکعاً

واسرَّها فی نفسه اسراراً؟

من کان باتَ علی فِراشِ محمّدٍ

ومحمّدٌ اَسْریٰ یَومُّ الغارا؟

من کان فی القرآن سُمِّی مومناً

فی تِسْعِ آیاتِ تُلینَ غَزارا؟


”وہ کون ہے جس نے حالت رکوع میں اپنی انگشتری فقیر کو دے دی اور اس بات کو اپنے دل میں پوشیدہ رکھا؟ وہ کون ہے جو پیغمبر خدا کے بستر پر سویا جب پیغمبر عازم غار ثور تھے؟ وہ کون ہے جو قرآن میں نو مرتبہ مومن کے لقب سے پکارا گیا ہے اور یہ آیتیں بہت پڑھی جاتی ہیں؟“

حوالہ

کتاب الٰہیات و معارف اسلامی، مصنف: استاد جعفر سبحانی، صفحہ۳۹۵نقل کیا گیا ہے تذکرة الخواص سے صفحہ۱۸، اشاعت نجف۔

وکان علیٌّ ارمدَ العین یبتغی

دواء فلمّا لم یحسّن مداویاً

شفاه رسولُ اللّٰه منه بتفلةٍ

فبورکَ مرقّیاً و بورکَ راقیاً

وقال ساُعطی الرایةَ الیومَ صارماً

کمیّاً محبّاً للرسول موالیاً

یُحبّ الهی والالهُ یُحبّه

به یَفْتَحِ اللّٰهُ الحُصونَ الأِوابیا

فأصفی بها دونَ البریّة کلِّها

علیّاً وسمّاه الوزیرَ المواخیا


”حضرت علی علیہ السلام کی آنکھوں میں درد تھا۔ انہوں نے دواتلاش کی مگر دوانہ مل سکی۔ پیغمبر خدا نے اُن کی آنکھوں پر لعاب لگایا اور علی علیہ السلام کو شفا ہوگئی۔ اس طرح بیمار بھی انتہائی خوش تھا اور طبیب بھی۔ آپ نے فرمایا کہ کل(روز خیبر) میں پرچم اُس کو دوں گا جو مرد میدان ہوگا ، جو خدا اور اُس کے رسول کو دوست رکھتا ہوگا، خدا اور اُس کا رسول بھی اُس کو دوست رکھتے ہوں گے اور یہ در خیبر خدا اُس کے ہاتھ سے کھلوائے گا۔ پس پیغمبر اسلام نے علی علیہ السلام کو ان اعزازات کی وجہ سے تمام لوگوں سے بلندی عطا فرمائی ہے اور اُن کو اپنا وزیر اور بھائی قرار دیا ہے“۔

حوالہ

کتاب مصباح الموحدین، مصنف: حجة الاسلام حاجی شیخ عباس علی وحیدی منفرد، صفحہ۱۵۹ اور کتاب شبہائے پشاور،صفحہ۴۲۲ میں نقل کیا گیا ہے۔ کتاب”فصول المہمہ“ سے مصنف ابن صباغ مالکی، صفحہ۲۱اور گنجی شافعی کتاب کفایة الطالب، باب۱۴سے۔

عمربن فارض مصری

ذَهَبَ العُمْرُ ضیاعاً وانقضیٰ

باطلاً اِنْ لم اَفُزْ منک بشَی

غیرَما اوتیتُ مِن عهدی الولا

عترةَ المبعوثِ مِن آلِ قُصُی


”میری عمر ضائع ہوگئی اور باطل پر گزر گئی ۔ اب جب میں مرگ کے قریب ہوں،میرا ہاتھ خالی ہے، تنہا میرا آسرا اور میرے دل کی راحت کا سامان عترت پیغمبر (یعنی علی و فاطمہ وحسن اورحسین ) ہیں“۔

حوالہ کتاب ”سید الشہداء“،مصنف:آیة اللہ شہید دستغیب،صفحہ۱۱۸اور کتاب”ولاء ھا وولایتھا“، مصنف: شہید مرتضیٰ مطہری، صفحہ۳۹۔

عمر بن فارض مصری ایک معروف عربی شاعر ہے۔ برادران اہل سنت اُسے صاحب کرامت مانتے ہیں اور اُس کے بہت بلند مرتبے کے قائل ہیں۔ اُس نے یہ اشعار اپنے قصیدہ”یائیہ اش“ کے آخر میں لکھے ہیں۔

مجد الد ّین ابن جمیل

فأنی سوف أدعوااللّٰه فیه

وأجعل مدح(حیدرةٍ) أماما

وأبعثها الیه مُنَقّحات

یفوح المسک منها والخزامی

ومن اعطاة یوم (غدیر خُمٍّ)

صریح المجد والشرف القدامی

ومن ردّت ذکاء له فصلّی

أداءً بعد ماثنت اللثاما


واَثر بالطّعام وقد توالت

ثلاث لم یذق فیها طعاماً

بقرص من شعیر لیس یرضی

سوی الملح الجریش له اِداما

اباحسن وانت فتی اذا ما

دعاه المستجیر حمی و حاما

أزرتک یقظةً غرر القوافی

فزرنی یابن فاطمة مناما

بشّرنی بأنَک لی مجیرٌ

وانّک مانعی من أن اضاما

فکیف یخاف حادثة اللیالی

فتیً یعطیه (حیدرةٌ) ذماما؟


”میں اُس مہینے(ماہ حرام) میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا اور مدح و ثنائے علی علیہ السلام کو اپنے سامنے رکھوں گا اور وہ اس حالت میں ہوگی کہ وہ پاکیزہ ہوگی اور اُس میں سے مُشک و عنبر کی خوشبو آتی ہوگی۔ اسے میں حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں پیش کروں گا۔ علی علیہ السلام ، وہ جن کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم نے یوم غدیر خم سب کے سامنے بزرگی و شرافت و بلند مرتبہ عطا فرمایا۔ وہ علی علیہ السلام جس کیلئے اُس وقت سورج پلٹا جب چاروں طرف تاریکی چھا چکی تھی تاکہ وہ وقت پر نماز پڑھ سکیں۔یہ وہ علی ہیں جنہوں نے متواتر تین روز تک کوئی غذا نہ کھائی اور اپنی غذا دوسروں کو دے دی۔(یہ سورئہ دہر کی طرف اشارہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

( وَیُطْعِمُوْنَ الطعَامَ عَلَی حُبِّه مِسْکِیْناً وَّ یَتِیْماً وَ اَسِیْرا )

اُن کی غذا نان جویں ہوتی تھی اور وہ اس پر راضی نہ ہوتے تھے کہ ان کے ساتھ نمک کے علاوہ کوئی اور غذا رکھی جائے۔ اے ابوالحسن ! تو ایساجواں مرد ہے کہ اگر کوئی تجھ سے پناہ طلب کرے تو تو یقینا اُس کو پناہ دیدے گا۔ اے فاطمہ بنت اسد کے بیٹے! میں ان اشعار کے ذریعے جاگتے ہوئے تیری زیارت کیلئے آیا ہوں ۔ تو بھی مجھے سوتے ہوئے اپنی ملاقات کا شرف عطا فرما اور مجھے یہ بشارت دے کہ تو مجھے پناہ دے گا اور مجھے رنج و غم سے نجات دلا ئے گا۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی اپنے کاموں کی باگ ڈور حیدر کے ہاتھ میں دے اور پھر بھی حوادث زمانہ سے ڈرے“۔

حوالہ

کتاب”الغدیر“، جلد۵،صفحہ۴۰۱۔

مجد الدین ابن جمیل ساتویں صدی ہجری کے علماء اور شعراء میں سے ہیں۔ الغدیر کے مصنف کے مطابق وہ عباسیہ دور میں خلیفہ الناصر الدین اللہ کی شان میں بھی قصائد لکھتے رہے ہیں، اس لئے انہوں نے کافی شہرت پائی۔انہوں نے دیوان بنام”ترکات حشریہ“ لکھا۔ وہ کافی عرصہ زندان میں رہے کہ ایک شب انہوں نے یہ قصیدہ حضرت علی علیہ السلام کی شان میں لکھا اور اگلے ہی دن زندان سے رہائی مل گئی۔


مولانا جلال الد ّین رومی

مولانا جلال الدین مولوی محمد بن الحسین البلخی المشہور مولانا روم ایک بزرگ اور عظیم شاعر تھے جنہوں نے اسلام اور ادبیات ایران کی بڑی خدمت کی ہے۔ کلیات مثنوی معنوی اُن کی معروف تصنیف ہے۔ مولانا مذہب حنفی رکھتے تھے۔ کتاب ”فرہنگ بزرگان و اسلام“ میں انہیں صفحہ۵۷۶پر فقیہ حنفی کے طور پر یاد کیا گیا ہے۔

ذیل میں ہم زبان فارسی کے اشعار نقل کررہے ہیں جو مدح امیر المومنین علی علیہ السلام کی بہترین مثال ہیں۔ اشعار کا ترجمہ پیش نہیں کیا جارہا۔ اس کو قارئین پر چھوڑ رہے ہیں۔

فضائل علی علیہ السلام غیر مسلم مفکرین کی نظر میں

امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی شخصیت ایک ایسی شخصیت ہے جس سے اپنے اور غیرسبھی مفکرین اور دانشمند متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ جس کسی نے اس عظیم انسان کے کردار،گفتار اور اذکار میں غور کیا، وہ دریائے حیرت میں ڈوب گیا۔ غیر مسلم محققین اور دانشوروں نے جب امام المتقین علیہ السلام کے اوصاف کو دیکھا تو دنگ رہ گئے کیونکہ انہوں نے افکار علی کو دنیا میں بے نظیر اور لاثانی پایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے دیکھا کہ آپ میں کمال طہارت، جادوبیانی، حرارت ایمانی، بلندی روح انسانی، بلند ہمتی، نرم خوئی جیسی صفات موجود ہیں۔ ایک اور سکالر نے کہا کہ علی علیہ السلام روشن ضمیر، شہید محراب اور عدالت انسانی کی پکار تھے۔ وہ مولا علی کوستاروں سے بلند مقام پر سمجھتا ہے۔

ایک محقق لکھتا ہے کہ علی علیہ السلام وہ پہلی شخصیت ہیں جن کا پورے جہان سے روحانی تعلق ہے۔ وہ سب کے دوست ہیں اور اُن کی موت پیغمبروں کی موت ہے۔ دوسرا محقق لکھتا ہے کہ علی علیہ السلام روح و بیان میں ایک لامتناہی سمندر کی مانند ہیں اور ان کی یہ صفت ہر زمان اور ہر مکان میں ہے۔


امیر المومنین علی علیہ السلام کی ان تمام صفات کو استاد شہریار ایک شعر میں یوں بیان کرتے ہیں:

نہ خدا تو انمش گفت نہ بشرتو انمش خواند

متحیرم چہ نامم شہ ملک لافتیٰ را

”میں(علی علیہ السلام)کو نہ تو خدا کہہ سکتا ہوں اور نہ ہی بشر کہہ سکتا ہوں۔ میں حیران ہوں کہ اس شہ ملک لافتیٰ کو کیا کہوں!“

آئیے اب غیر مسلم مفکروں کے نظریات کو دیکھتے ہیں:

شبلی شُمَیل(ایک عیسائی محقق ڈاکٹر)

”امام علی ابن ابی طالب علیہما السلام تمام بزرگ انسانوں کے بزرگ ہیں اور ایسی شخصیت ہیں کہ دنیا نے مشرق و مغرب میں، زمانہ گزشتہ اور حال میں آپ کی نظیر نہیں دیکھی“۔

حوالہ

کتاب ادبیات و تعہد در اسلام، مصنف: محمد رضا حکیمی، صفحہ۲۵۰۔

ولتر(فرانسیسی فلاسفر اور رائٹر ،اٹھارہویں صدی)

ولتر نے اپنی کتاب جو آداب و رسوم اقوام کے بارے میں لکھی، اُس میں رقمطراز ہے کہ خلافت علی برحق تھی اور اسی کی وصیت پیغمبر اسلام نے کی تھی۔ آخری وقت میں پیغمبراکرم نے قلم دوات طلب کی کہ حضرت علی علیہ السلام کی جانشینی کو خود اپنے ہاتھ سے لکھ دیں۔ ولتر اس بات پر پشیمان ہے کہ پیغمبر اسلام کی یہ وصیت کیوں نہ پوری کی گئی۔ جبکہ اُن کا جانشین علی کومقرر کردیا گیا تھاتوپیغمبر اسلام کی وفات کے بعد کچھ لوگوں نے حضرت ابوبکر کو کیوں خلیفہ چن لیا تھا؟


تھامس کارلائل(ایک انگریز فلاسفر اور رائٹر)

تھامس کارلائل لکھتا ہے:

”ہم علی کواس سے زیادہ نہ جان سکے کہ ہم اُن کو دوست رکھتے ہیں اور اُن کو عشق کی حد تک چاہتے ہیں۔ وہ کس قدر جوانمرد، بہادر اور عظیم انسان تھے۔ اُن کے جسم کے ذرّے ذرّے سے مہربانی اور نیکی کے سرچشمے پھوٹتے تھے۔ اُن کے دل سے قوت و بہادری کے نورانی شعلے بلند ہوتے تھے۔ وہ دھاڑتے ہوئے شیر سے بھی زیادہ شجاع تھے لیکن اُن کی شجاعت میں مہربانی اور لطف و کرم کی آمیزش تھی۔

اچانک کوفہ میں کسی بہانے سے اُنہیں قتل کردیاگیا۔ اُن کے قتل کی وجہ حقیقت میں اُن کا عدل جہانی کو درجہ کمال تک پہنچانا تھا۔ وہ دوسروں کو بھی اپنی طرح عادل تصور کرتے تھے۔ جب علی سے اُن کے قاتل کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر میں زندہ رہا تو میں جانتا ہوں(کہ مجھے کیا فیصلہ کرنا چاہئے) ۔اگر میں زندہ نہ بچ سکا تو یہ کام آپ کے ذمہ ہے۔اگر آپ نے قصاص لینا چاہاتو آپ صرف ایک ہی ضربت لگا کر سزا دیں اور اگر اس کو معاف کردیں تو یہ تقویٰ کے نزدیک تر ہے“۔

حوالہ

کتاب ”داستان غدیر“، صفحہ۲۹۴،نقل از کتاب صوت العدالة،صفحہ۱۲۲۹۔

نرسیسان(ایک عیسائی عالم جو بغداد میں سفارت برطانیہ کا انچارج بھی تھا)

”اگر یہ بے مثال اور عظیم خطیب(علی علیہ السلام) آج بھی منبر کوفہ پر آکر خطبہ دیں تو مسجد کوفہ اپنی تمام تر وسعت کے باوجود یورپ کے تمام رہبران او رعلماء سے کھچا کھچ بھرجائے گی۔یہ رہبراور علماء اس لئے آئیں گے کہ وہ اپنے علم کی پیاس اس در شہر علم کے بیکراں سمندر سے بجھا سکیں“۔

حوالہ کتاب”داستان غدیر“،نقل از کتاب”ماہونہج البلاغہ“،صفحہ۳۔


سلیمان کتانی(ایک عیسائی لبنانی دانشور)

”مہاجرین کی اوّلین شخصیات میں سے علی علیہ ا لسلام سب سے زیادہ معروف تھے۔ انہوں نے بہت سی جنگوں اور معرکوں میں فتح حاصل کرکے اپنے نام کا سکہ بٹھادیا تھا۔ لیکن ان کامیابیوں سے بھی قیمتی چیز یہ تھی کہ انہوں نے پیغمبر اسلام کے دل میں ایک مقام بنالیا تھا۔ وہ پیغمبر اسلام ہی کے تربیت یافتہ تھے۔ وہ اُن کے دوست بھی تھے۔ ایسے ساتھی بھی تھے جو کبھی جدا نہ ہوئے۔ وہ (حضرت علی علیہ السلام) پیغمبر اسلام کی بیٹی سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ہمسر بھی تھے۔ پیغمبر اسلام کی عظیم بیٹی جو اپنے والد کو سب سے زیادہ عزیز تھی، وہ(علی علیہ السلام) حسن و حسین کے والد بزرگوار بھی تھے جن سے نسل پیغمبر چلی۔ وہ سب سے پہلے ایمان لانے والے تھے۔ وہ دین کے سب سے طاقتور محافظ ، شجاع ترین حامی اور مستحکم جنگجو تھے۔ وہ سب سے زیادہ عقلمند،حالات کی نزاکت کو سمجھنے والے رہبر، بے نظیرمقرر اور دین کا بہترین دفاع کرنے والے تھے۔ان تمام حقیقتوں کو دیکھتے ہوئے پیغمبر اسلام خدا سے دعا کرتے ہیں:

’پروردگار! ہرکوئی جو علی کو دوست رکھے، تو بھی اُسے دوست رکھ اور جو اُس سے دشمنی رکھے، تو بھی اُس سے دشمنی رکھ۔ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں۔ علی قرآن سے ہے اور قرآن علی سے ہے‘

حوالہ کتاب’امام علی ، مشعلی و د ژی‘، مصنف:سلیمان کتانی، ترجمہ جلال الدین فارسی،صفحہ۳۴۔

”جتنے بھی فضائل و خصائل علی علیہ السلام میں اکٹھے ہو گئے تھے، وہ جب منظر عام پر آئے تو انسان کی عظمت بلند ہوئی اور یہ علی علیہ السلام ہی کی مرہون منت ہے“۔

حوالہ

کتاب’امام علی ، مشعلی و ژری‘ مصنف:سلیمان کتانی،ترجمہ جلال الدین فارسی،صفحہ۸۷۔


”حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے جس وقت سے اسلام کو پایا، اسلام (کے اصولوں) پر ہی زندگی بسر کی اور تمام مشکلات و زحمات جو اس راہ میں آئیں، اُن کو بخوشی قبول کیا۔ تمام مشکلات و مصائب کو ثابت قدمی اوردلیری سے گلے لگایا“۔

حوالہ

کتاب’امام علی ، مشعلی و ژری‘، مصنف:سلیمان کتانی، ترجمہ جلال الدین فارسی،صفحہ۲۶۔

”جس وقت علی علیہ السلام خلافت(ظاہری) پر پہنچے ،انہوں نے اپنا وظیفہ اور فرض سمجھا کہ دو محاذوں پر مقابلہ کیا جائے۔ پہلا محاذ لوگوں کو انسانی بلندی و عظمت سے آگاہ کرنا تھا اور دوسرا فتوحات جنگی کو اسلامی اصولوں کے تحت استوار کرنا تھا۔ یہی نکات تھے جو سرداران عرب کو ناپسند تھے اور انہوں نے بغاوت کے علم اٹھالئے“۔

حوالہ

کتاب”امام علی مشعلی و ژری“، مصنف:سلیمان کتانی، ترجمہ جلال الدین فارسی،صفحہ۱۳۴۔

”کونسی ایسی چیز ہے جو نہج البلاغہ(حضرت علی علیہ السلام کے ارشادات و خطبات پر کتاب) میں بیان کی گئی ہے اور وہ اُس چیز کی روح اصلی کی عکاسی نہ کرتی ہو۔ ایسا لگتا ہے جیسے آفتاب کا تمام نور سمٹ کر تن علی ابن ابی طالب علیہ السلام میں سماگیا ہو۔

کونسا ایسا کام ہے جو علی علیہ السلام نے اپنی زندگی میں انجام دیا ہو اور اُس کی تعبیر(انجام) انتہائی اعلیٰ نہ ہوئی ہو اور جس کی علت، اعلیٰ اقدار انسانی یا فطرت فرشتگان آسمانی کے خلاف ہو“۔

حوالہ

کتاب”امام علی مشعلی و ژری“، مصنف:سلیمان کتانی، ترجمہ جلال الدین فارسی،صفحہ۲۱۳۔


جانین(شاعرجرمنی)

”علی علیہ السلام کو دوست رکھنے اور اُن پر فدا ہونے کے علاوہ میرے پاس کوئی راستہ ہی نہیں کیونکہ وہ شریف النفس، اعلیٰ درجے کے جوان تھے۔ اُن کا نفس پاک تھا جو مہربانی اور نیکی سے بھرا پڑا تھا۔ اُن کا دل جذبہ قربانی اور محبت سے لبریز تھا۔ وہ بپھرے ہوئے شیر سے بھی زیادہ بہادر اور شجاع تھے، لیکن ایسے شجاع جن کا دل شجاعت کے ساتھ ساتھ لطف و مہربانی، دلسوزی اور محبت کے جذبات سے سرشار تھا“۔

حوالہ

چکیدہ اندیشہ ہا،مصنف:سید یحییٰ برقعی، صفحہ۲۹۶۔

پروفیسر استانسیلاس گویارد(فرانسیسی مصنف)

”معاویہ نے بہت سے کاموں میں خلاف اسلام قدم اٹھائے جیسے وہ علی ابن ابی طالب جو پیغمبر اسلام کے بعد شجاع ترین، پرہیزگار ترین، فاضل ترین اور خطیب ترین فرد عرب تھے، سے برسر پیکارہوگیا“۔

حوالہ

کتاب”شیعہ“،مجموعہ مذاکرات (جو مرحوم علامہ طباطبائی اور پروفیسر ہنری کرین کے مابین ہوئے)کے صفحہ۳۷۱اور کتاب”سازمانہای تمدن امپراطوری اسلام“ مصنف:پروفیسر

گویارد(ترجمہ فارسی)صفحہ۱۸سے نقل کی گئی ہے۔


بارون کاردایفو(فرانسیسی دانشور)

”علی علیہ السلام حادثات سے علی نہیں بنے بلکہ علی سے حادثات وجود میں آئے۔ اُن کے اعمال خود اُن کی فکر و محبت کا نتیجہ تھے۔ وہ ایسے پہلوان تھے جو دشمن پر عین غلبہ کے وقت بھی انتہائی نرم دل اور زاہد بے نیاز ثابت ہوئے۔ وہ دنیاوی مال و منصب سے بالکل رغبت نہ رکھتے تھے اور حقیقت میں انہوں نے اپنی جان بھی قربان کردی۔ وہ گہری روح رکھتے تھے جس کی جڑوں کی گہرائی تک کوئی نہ پہنچ سکتا تھا۔ہرجگہ وہ خوف الٰہی میں غرق رہتے تھے“۔

حوالہ کتاب”علی کیست“،مصنف: فضل اللہ کمپانی، صفحہ۳۵۷۔

جُرجی زیڈان(ایک مشہور عرب دانشور و مصنف)

”معاویہ اور اُس کے ساتھیوں نے اپنے مقاصد کے حصول کیلئے کسی بھی بُرے کام سے دریغ نہ کیا لیکن علی علیہ السلام اور اُن کے ساتھیوں نے صراط مستقیم اور حق کے دفاع سے کبھی کنارہ نہ کیا“۔

حوالہ

کتاب”شیعہ“، مصنف: مرحوم علامہ طباطبائی ،صفحہ۳۷۴اور اسے نقل کیا ہے کتاب

”تاریخ تمدن اسلام“،جلد۴،صفحہ۸۴،۹۴۔

”کیا علی علیہ السلام پیغمبر اسلام کے چچا زاد بھائی، جانشین اور داماد نہ تھے؟

کیا وہ ایک عظیم دانشور، پرہیزگار اور منصف مزاج نہ تھے؟

کیا وہ ایک مخلص اور غیرت مند مرد نہ تھے جن کی مردانگی اور غیور ہونے کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں نے عزت حاصل کی؟“

حوالہ

”داستان غدیر“،صفحہ۲۹۳اور یہ نقل کیا گیا ہے کتاب”۱۷رمضان“،صفحہ۱۱۶۔


امین نخلہ(ایک لبنانی عیسائی معروف دانشور)

”تم چاہتے ہو کہ میں علی علیہ السلام کے بلیغ ترین کلام میں سے ایک سو کلمے(اقوال) چن لوں۔ میں گیا اور نہج البلاغہ کو تھام لیا۔ ورق پر ورق الٹتا گیا مگر خدا کی قسم! میں نہیں جانتا کہ اُن کے سینکڑوں ارشادات میں سے ایک سو کلمے(اقوال) بلکہ ایک کلمہ(قول) بھی کیسے چنوں! میں محسوس کرتا ہوں کہ ایک یاقوت کو باقی لعل و گوہر سے کیسے منتخب کیا جائے۔ بس یہی کام میں نے کیا۔ جب میں ایک یاقوت تلاش کررہا تھا تو میری نظر یں اُس کی چمک اور گہرائی میں کھو گئیں۔

سب سے زیادہ حیرت والی بات میرے لئے یہ تھی کہ میں گمان نہیں کرتا کہ علم و دانش کے اس منبع سے خود کو جدا کرسکوں گا۔

اس دفعہ تو ان سو کلموں(اقوال) کو لے لو اور یاد رکھو کہ یہ علم و دانش کی نورانی کان میں سے صرف چند نمونے ہیں یا ایسے کہوں کہ باغ میں سے ایک شگوفہ ہے۔ ہاں! ادبیات عرب سے آشنا لوگ جانتے ہیں کہ نہج البلاغہ ایک نعمت الٰہی ہے جس کی وسعت سو کلموں سے کہیں زیادہ ہے“۔

حوالہ

”داستان غدیر“،صفحہ۲۹۳اور یہ کتاب”۱۷رمضان“ سے نقل کی گئی ہے۔

ایک عرب دانشور کا قول

”اگرحضرت علی علیہ السلام ابن ملجم کے ہاتھوں شہید نہ ہوتے تو عین ممکن تھا کہ وہ اس دنیا میں بے انتہا لمبی زندگی پاتے کیونکہ انہوں نے زندگی کے ہر شعبہ میں اور اپنے وجود میں کمال کا اعتدال قائم کردیا تھا“۔

حوالہ کتاب”این است آئین ما“،مصنف: مرحوم کاشف الغطاء، ترجمہ و شرح:حضرت آیت اللہ ناصر مکارم،صفحہ۱۹۳۔


پولس سلامہ(ایک لبنانی عیسائی ادیب اور وکیل)

”ایک رات میں بیدا رتھا اور دردورنج میں مبتلا تھا۔ میرے تصورات اور تخیلات مجھے بہت پیچھے لے گئے۔ پہلے شہید اعظم امام علی علیہ السلام اور پھر امام حسین علیہ السلام کی یاد آئی۔ میں کافی دیر تک روتا رہا۔ پھر علی و حسین کے بارے میں اشعار لکھے“۔

یہ عیسائی مصنف اپنے آپ کو غیر متعصب کہتا ہے اور یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ وہ مسائل کو کھلی آنکھ اور غیر جانبدار دل و دماغ سے دیکھتا ہے۔ وہ فضائل علی علیہ السلام کو لکھنے کے بعد شہادت علی کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:

”اے داماد پیغمبر! تیری شخصیت ستاروں کی گردش گاہوں سے بھی بلند ہے۔ یہ نور کی خصوصیت ہے کہ وہ پاک و پاکیزہ باقی رہتا ہے۔ دنیاوی گردوغبار اُس کی اصلی چمک کو ماند نہیں کرسکتا۔ہر کوئی جو شخصیت کے اعتبار سے اعلیٰ اور ثروتمند ہے، وہ کبھی فقیر نہیں ہوسکتا۔ اُس کی پاک نسل اور خاندانی شرافت دوسروں کے غموں میں شریک ہواور اعلیٰ و بزرگ ہوگئی ہے۔ دین و ایمان کی راہ کا شہید مسکراتے ہوئے دردوتکلیف برداشت کرتا ہے۔ اے ادب و سخن کے استاد! تیرا کلام بحرئہ اوقیانوس سے بھی گہرا ہے“۔

حوالہ ”داستان غدیر“، صفحہ۳۰۱۔

جبران خلیل جبران(ایک معروف عیسائی مصنف)

”میرے عقیدے کے مطابق ابو طالب کا بیٹا علی علیہ السلام پہلا عرب تھا جس کا رابطہ کل جہان کے ساتھ تھا اور وہ اُن کا ساتھی لگتا تھا۔ رات اُس کے ساتھ ساتھ حرکت کرتی تھی۔ علی علیہ السلام پہلے انسان تھے جن کی روح پاک سے ہدایت کی ایسی شعائیں نکلتی تھیں جو ہر ذی روح کو بھاتی تھیں۔ انسانیت نے اپنی پوری تاریخ میں ایسے انسان کو نہ دیکھا ہوگا۔ اسی وجہ سے لوگ اُن کی پُر معنی گفتار اور اپنی گمراہی میں پھنس کے رہ جاتے تھے۔ پس جو بھی علی علیہ السلام سے محبت کرتا ہے، وہ فطرت سے محبت کرتا ہے او رجو اُن سے دشمنی کرتا ہے، وہ گویا جاہلیت میں غرق ہے۔

علی علیہ السلام اس دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن خود کو شہید اعظم منوا گئے۔ وہ ایسے شہید تھے کہ لبوں پر سبحانَ ربی الاعلیٰ کا ورد تھا اور دل لقاء اللہ کیلئے لبریز تھا۔ دنیائے عرب نے علی علیہ السلام کے مقام اور اُن کی قدرومنزلت کو نہ پہچانا،یہاں تک کہ اُن کے ہمسایوں میں سے ہی پارسی اٹھے جنہوں نے پتھروں میں سے ہیرے کو چن لیا۔


علی علیہ السلام نے ابھی تو اپنا پیغام مکمل طو رپر اہل جہان تک نہ پہنچایا تھا کہ ابدی دنیا کی طرف راہی ہوگئے۔ لیکن میں اس چیز پر حیران ہوں کہ قبل اس کے کہ علی علیہ السلام اس خاکی دنیا کو خیرباد کہتے، اُن کے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں تھے۔

حضرت علی علیہ السلام کی موت اُن پیغمبران خدا کی موت کی طرح تھی جو اس دنیا میں آئے۔اُن لوگوں کے ساتھ ایک مدت زندگی بسر کی جو اُن کے قابل نہ تھے اور آخر وقت وہ تن تنہا اور خالی ہاتھ تھے“۔

حوالہ ”داستان غدیر“، صفحہ۲۹۵۔

ایلیا پاولویچ پطروشفسکی(روسی مورخ)

”علی ،محمد کے تربیت یافتہ تھے۔ وہ دین اسلام کے حد درجہ وفادار تھے۔ علی علیہ السلام عشق کی حد تک دین کے پابند تھے۔ وہ سچے اور صادق تھے۔ اخلاقی معاملات میں انتہائی منکسر المزاج تھے۔ وہ شاعر بھی تھے۔ اُن کے وجود پاک میں اولیاء اللہ ہونے کیلئے لازم تمام صفات موجود تھیں“۔

حوالہ ”داستان غدیر“،صفحہ۲۹۷جو ”اسلام در ایران“باب اوّل سے نقل کیا گیا ہے۔

میخائل نعیمہ(مشہور عیسائی عرب مصنف)

”امام علی علیہ السلام کی قوت و شجاعت کا سکہ صرف میدان جنگ تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ صفات الٰہی یعنی طہارت، حرارت ایمانی، تقویٰ، نرم خوئی ، بلند ہمتی، درد انسانی، جادوبیانی، مدد محروم و مظلوم اور حمایت حق میں بھی یکتا تھے۔

وہ ہر حال اور ہر صورت میں دین حق کی سربلندی چاہتے تھے۔ اُن کی یہی قوت ایمانی ہمیشہ متحر ک اور لوگوں کیلئے چراغ راہ بنی رہی ہے۔ اگرچہ دن بہ دن ، ماہ بہ ماہ اور سال بہ سال گزرتے رہے، آج بھی اور کل بھی ہمارا یہ شوق بڑھتا ہی جارہا ہے کہ اُن کی تعمیر کردہ حکمت و دانائی کی عمارت تک پہنچ جائیں۔


سچ تو یہ ہے کہ کوئی مورخ یا مصور چاہے کتنا ہی عقلمند اور دانا کیوں نہ ہو، مرد عظیم مثل علی کی شخصیت کی صحیح عکاسی نہیں کرسکتا، وہ چاہے ہزار صفحے پر ہی محیط کیوں نہ ہو۔ یہ اس لئے کہ علی ایسے اسرارو رموز کے مالک یکتا عرب انسان تھے جنہوں نے کثیر غوروفکر کیا ۔ جو کہا،اُس پر عمل کیا۔ اپنے اور اپنے رب کے درمیان ایسا راز و نیاز قائم کیا جس کو نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی آنکھ نے دیکھا۔ اُن کی شخصیت اُس سے کئی ہزار گنا بلند تر ہے جو زبان یا قلم نے ظاہر کیا ہے۔

پس علی علیہ السلام کی جو بھی تصویر کھینچی جائے، وہ اصل کے مقابل میں ناقص ہی نظر آئے گی۔ علی علیہ السلام ہر زمان و مکان میں بے مثل و بے نظیر ہیں“۔

حوالہ

کتاب ”امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام“،تالیف: عبدالفتاح عبدالمقصود،جلد۱،صفحہ۱۷،مقدمہ کتاب۔

بارون کارادوو(معروف فرانسیسی مورخ ومحقق)

”علی علیہ السلام ایسے بلند ہمت، شجاع اور بہادرانسان تھے جو پیغمبر اسلام کے ہمراہ اُن کے قدم بہ قدم دشمنوں کے ساتھ جنگ لڑتے رہے اور آپ نے بڑے بڑے معجز نما کام انجام دئیے۔ معرکہ بدر میں علی علیہ السلام ۲۰سالہ جوان تھے کہ اپنے ایک ہی وار میں قریش کے ایک گھڑ سوار کو دو ٹکڑے کردیا۔ جنگ اُحد میں پیغمبر اسلام کی تلوار(ذوالفقار) کو اپنے ہاتھ میں لیا اور دشمن کے سروں کے خود کو کاٹ دیا۔ اُن کی زرہوں کو پھاڑ دیا۔ جنگ خیبر میں ایک ہی حملے میں یہودیوں کے قلعہ کے بہت ہی وزنی دروازے کو اپنے ایک ہاتھ سے اکھاڑ دیا اور اُسے اپنی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ پیغمبر اسلام اُن کو بہت عزیز رکھتے تھے اور اُن پر بہت اعتماد کرتے تھے۔ ایک دن پیغمبر نے علی علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا:

”مَنْ کُنْتُ مَوْلاهُ فَعَلِیٌ مَوْلَاهُ“

حوالہ

کتاب”امام علی “، تالیف: عبدالفتاح عبدالمقصود،جلد۱،صفحہ۱۶،مقدمہ کتاب۔


جارج جُرداق(ایک معروف مسیحی مصنف)

”تاریخ اور حقیقت انسانی کیلئے یکساں ہے کہ کوئی علی علیہ السلام کو پہچانے یا نہ پہچانے،

تاریخ اور حقیقت انسانی خود گواہی دے رہی ہے کہ علی علیہ السلام کا ضمیر زندہ و بیدار تھا۔ وہ شہید راہ خدا تھے اور شہداء کے جد تھے، عدالت انسانی کی فریاد تھے۔ مشرق کی ہمیشہ زندہ رہنے والی شخصیت تھے۔

ایک کُل جہان! کیا تیرے لئے ممکن ہے کہ باوجوداپنی تمام قوتوں کے ، اپنی ترقی علم و ہنر کے علی جیسا ایک اور انسان جو علی جیسی عقل رکھتا ہو، اُسی جیسا دل ، ویسی ہی زبان اور ویسی ہی تلوار رکھتا ہو، اس دنیا کو دے دیتی؟“

حوالہ

کتاب ”امام علی “، تالیف: عبدالفتاح عبدالمقصود،جلد۱،صفحہ۱۸،مقدمہ کتاب۔

”علی علیہ السلام کا وجود اُس گروہ انسانی کیلئے انقلابی تھا جو اسلام کے اجتماعی نیک اہداف کے خلاف تھا۔ وہ گروہ اسلام کو منحرف کرنا چاہتا تھا۔ در حقیقت علی علیہ السلام حضرت محمد بن عبداللہ کے بعد اس انقلاب کے نمائندہ اور بانی تھے۔ اس کے اصولوں اور قوانین کو قائم کرنے والے وہی تھے۔ اس کے اہداف کو مشخص اور روشن کرنے والے تھے۔ علی تاریخ انسانی میں انقلابی ترین شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنی گفتاروکردار سے اس راہ میں بھرپور کوشش کی۔

علی کے اقوال، ارشادات، گفتار اور خطبات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ معاشرے کے ہر فرد کے اندرونی اور بیرونی احساسات سے مکمل طور پر آگاہ تھے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ عادلانہ معاشرتی نظام کو قائم رکھنے کیلئے تہذیب اخلاق انتہائی ضروری ہے اور معاشرے میں ہر فرد کو سرگرم عمل رکھنے کیلئے صحیح نظام حکومت بھی اُتنا ہی ضروری ہے۔

علی کا افراد کی شخصیت پر اعتماد اور اطمینان اُسی طرح تھا جس طرح افراد کی شخصیت کو اعتماد عقل روشن، قلب مہربان اور دل عشق حقیقی میں غلطاں دیتا ہے اور یہ تمام صفات علی علیہ السلام کے گرداگرد اکٹھی ہو گئی تھیں۔ اسی لئے اس اعتماد کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے علی کا فرمان ہے:

’اگر کوئی تجھ پر نیک ہونے کا گمان کرے تو تو اُس کے گمان کی(اپنے عمل سے) تصدیق کر‘۔


صبرو بُردباری کی یہ فضیلت وہ عظیم فضیلت ہے جس کو تم اخلاق و صفات علی ابن ابی طالب علیہما السلام میں سب سے نمایاں پاؤ گےکیا علی علیہ السلام اُن افراد کے مقابلے میں جو اُن کے خون کے پیاسے تھے، صابر و بردبار نہ تھے؟ کیا علی علیہ السلام نے اُن کے ساتھ فراخدلانہ اور مشفقانہ سلوک نہ کیا تھا کہ وہ اُن کی اس فضیلت کو پہچان سکتے؟ کیا وہ اُن کے ساتھ محبت و عاطفت کے ساتھ پیش نہ آتے تھے؟ کیا علی علیہ السلام اُن کے ساتھ برادرانہ برتاؤ نہیں کرتے تھے؟ کیاحضرت علی علیہ السلام نے کبھی اُن کے ساتھ گلہ و شکوہ کیا؟ کیا انہیں کبھی شرمندہ کیا؟ کیا علی علیہ السلام نے دشمنوں کے سخت رویے اور تکلیف دہ اقدامات کا مردانہ وار صبرواستقامت سے مقابلہ نہیں کیا؟کیاحضرت علی علیہ السلام کی تمام زندگی صبرواستقامت کی زندگی نہ تھی جب ہر طرف سے اُن کے مقابل طوفان اٹھتے رہے؟کیا یہ شرفاء اور روساء کی ہوس پرستی نہ تھی کہ دنیا والوں کے ساتھ مل کر اُن کی طرف پشت کرلی تاکہ اُن کے فضائل و کمالات کو چھپایا جاسکے؟

علی علیہ السلام نے ہمیں اُس طرح کی طرز زندگی دکھائی ہے جو سادگی، پیارومحبت اور مہرووفا کے پیکر میں خوبصورت ترین نظر آتی ہے علی علیہ السلام خود شناسی یا معرفت نفس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اپنے نفس کو نہ پہچاننااپنے آپ کو ہلاک کرنے کے مترادف ہے۔ اُن کا قول ہے:

”جس انسان نے اپنے نفس کو نہ پہچانا، وہ ہلاک ہوگیا“

نہج البلاغہ(حضرت علی علیہ السلام کے خطبات، اقوال، ارشادات پر مبنی کتاب) کے جس حصے کا بھی مطالعہ کریں، اُس میں تسلسل و ترتیب منطقی و اصولی نظرآئے گی۔ اس کے علاوہ حضرت علی علیہ السلام کی بلندی سوچ اور کمال ذہانت چھلکتی ہوئی نظر آئے گی۔ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ دو نظریات کے درمیان فکری ہم آہنگی ووحدت نظر آئے گی۔

امام علی علیہ السلام کی لامتناہی فکری سوچ کی وجہ سے وہ الفاظ کا سہارا نہیں لیتے بلکہ وہ الفاظ اور کلمات خود انسان کو مزید سوچ و بچار کی دعوت دیتے ہیں۔ تم اُن کی کسی عبارت کو نہیں پاؤ گے مگر جس سے تمہاری فکر سوچ کیلئے نئے اُفق پیدا نہ ہوجائیں۔

علی علیہ السلام اپنے سچے کردار اور سچائی کی وجہ سے دنیا میں پہچانے گئے اور حقیقت میں صدق و راستی اور سچائی ہی وہ واحد صفات ہیں جن سے کسی کے کردار کی شناخت کی جاسکتی ہے اور اس کی وجہ سے انسان دھوکہ نہیں کھاسکتا۔


علی ابن ابی طالب علیہ السلام منبر پر بڑے اطمینان اور اعتماد کامل کے ساتھ اپنے ارشادات عادلانہ کا پرچار کرتے اور تقریر کرتے۔ وہ بہت سمجھ دار اور جلد نتیجہ پر پہنچنے والے انسان تھے۔ وہ لوگوں کے دلوں کے رازوں سے آگاہ تھے اور اُن کی اندرونی ہوس و خواہشات سے بھی واقف تھے۔ علی علیہ السلام سینے میں ایسا دل رکھتے تھے جو محبت و مہربانی سے مالا مال تھا اور آزادی اور فضائل انسان سے پُر تھا۔

آج کے دور میں جب ایسے حالات پیدا کردئیے گئے ہیں جو اقوام کی بدبختی کا باعث ہیں اور دنیا جنگ کے شعلوں کے قریب ہے، یقینا واجب ہے کہ ہم حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ارشادات و اقوال پر کان دھریں اور اُن کو مشعل راہ بنالیں اور اُن کے آگے سر تعظیم خم کردیں“۔

حوالہ

کتاب”امام علی صدای عدالت انسانی“، تالیف: جارج جرداق،ترجمہ: سید ہادی خسروی خسروشاہی، جلد۴،صفحہ۴۷۰۔صفحات:,۴۶۸,۴۴۲,۳۲۵,۲۹۶,۲۴۸,۲۴۷,۱۳

۴۷۶,۴۷۰۔


فضائل علی علیہ السلام مخالفین کی نظر میں

معاویہ ابن ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کی علی علیہ السلام سے کھلی اور چھپی عداوت و مخالفت کس پر عیاں نہیں! کوئی ایسا نہیں جو اس حقیقت کا انکار کرے۔ معاویہ ابن ابوسفیان حضرت علی علیہ السلام سے ایساکینہ رکھتا تھا جس کی کوئی حد نہیں۔ اس کا رویہ علی علیہ السلام کی نسبت ویسا ہی تھا جیسا اُس کے باپ ابوسفیان کا پیغمبر اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تھا۔ معاویہ علی علیہ السلام کے مقابلہ میں میدان جنگ میں بھی آگیا۔ نتیجتاً مسلمانوں کا جانی و مالی نقصان ہوا اور یہ خود مسند خلافت پر بیٹھ گیا۔ مسلمان ایک صالح حکومت سے محروم ہوگئے۔ معاویہ نے علی علیہ السلام کے خلاف ایسا پروپیگنڈہ کیا کہ ایک مدت تک لوگ بلاوجہ علی علیہ السلام پر سبّ و شتم کرتے رہے۔

ان حالات کے باوجود معاویہ بھی عظمت علی علیہ السلام سے انکار نہ کرسکا۔ اس نے حضرت علی علیہ السلام کی عظمت کیلئے متعدد قابل توجہ اعترافات کئے ہیں۔حکماء کا قول ہے:

”اَلْفَضْلُ مٰا شَهِدَتْ بِهِ الْاَعْدٰاء“

”فضیلت وہی ہے جس کی دشمن بھی گواہی دے“۔

معاویہ کے ان اعترافات کو پڑھنے کے بعد ہر عاقل یہ سوال کرے گا کہ اے معاویہ! اگر علی علیہ السلام ایسے ہی تھے تو تم نے اُن کے ساتھ جنگ کیوں کی اور اُن کے ساتھ ایسا رویہ کیوں اختیار کیا؟

معاویہ ابن ابوسفیان کی گفتگو

قیس ابن ابی خازم کہتے ہیں کہ ایک شخص معاویہ کے پاس آیا اور اُس سے کوئی مسئلہ پوچھا۔ معاویہ نے جواب دیا کہ جاؤ علی علیہ السلام سے پوچھ لو، وہ سب سے بڑا عالم ہے۔ اُس شخص نے کہا کہ میں نے مسئلہ آپ سے پوچھا ہے اور آپ ہی سے جواب چاہتا ہوں۔


معاویہ نے فوراً جواب دیا: افسوس ہے تم پر! کیا تم اس پر خوش نہیں کہ تمہارے سوال کا جواب تمہیں وہ دے جس کو پیغمبر خدا نے خود اپنی زبان سے علم کی غذا دی ہو اور جس کے بارے میں پیغمبر نے یہ بھی کہا ہو کہ اے علی ! تیری نسبت میرے نزدیک وہی ہے جو ہارون کی موسیٰ کے ساتھ نسبت تھی۔جس سے خلیفہ دوم حضرت عمر ابن خطاب متعدد بار سوال پوچھتے رہے ہوں اور جب بھی مشکل آتی تو حضرت عمر یہ پوچھتے کہ کیا علی علیہ السلام یہاں ہیں؟

اس کے بعدمعاویہ نے غصے سے اُس شخص کو کہا کہ چلا جا۔ خدا تجھے اس زمین پر پاؤں نہ پھیلانے دے۔ اس کے بعد اُس کا نام بیت المال کی فہرست سے خارج کردیا۔

حوالہ

۱۔ کتاب”بوستان معرفت“،صفحہ۳۰۵،نقل از حموئی کی کتاب فرائد السمطین،جلد۱،

باب۶۸صفحہ۳۷۱،حدیث۳۰۲۔

۲۔ ابن عساکر، کتاب تاریخ امیر المومنین ،ج۱،ص۳۶۹،۳۷۰،حدیث۴۱۰،۴۱۱

۳۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب، صفحہ۳۴،حدیث۵۴۔

معاویہ ابن ابوسفیان کی ایک اور گفتگو

ماہ رمضان میں ایک دن احنف بن قیس معاویہ کے دسترخوان پر افطاری کے وقت بیٹھا تھا۔ قسم قسم کی غذا دستر خوان پر چن دی گئی۔ احنف بن قیس یہ دیکھ کر سخت حیران ہوا اور بے اختیار اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ معاویہ نے رونے کا سبب پوچھا۔ اُس نے کہا کہ مجھے علی کے دسترخوان کی افطاری یاد آگئی۔ کس قدر سادہ تھی۔

معاویہ نے جواب دیا:”علی علیہ السلام کی بات نہ کرو کیونکہ اُن جیسا کوئی نہیں“۔

حوالہ کتاب”علی علیہ السلام معیار کمال“، تالیف:ڈاکٹر مظلومی۔


(ا)۔شہادت علی پر معاویہ کا عکس العمل

وہ سوالات جن کا معاویہ کو جواب معلوم نہ ہوتا تھا ،وہ لکھ کر اپنے کسی آدمی کو دیتا تھا اور کہتا تھا کہ جاؤ ان سوالات کا جواب علی علیہ السلام سے پوچھ کر آؤ۔ شہادت علی علیہ السلام کی خبر جب معاویہ کو ملی تو کہنے لگا کہ علی علیہ السلام کے مرنے کے ساتھ فقہ و علم کا در بھی بند ہوگیا۔ اس پر اُس کے بھائی عتبہ نے کہا کہ اے معاویہ! تمہاری اس بات کو اہل شام نہ سنیں۔ معاویہ نے جواب دیا:”مجھے( میرے حال پر )چھوڑ دو“۔

حوالہ کتاب”بوستان معرفت“، صفحہ۶۵۹،نقل از ابوعمر کی کتاب استیعاب، جلد۳،صفحہ۴۵

شرح حال علی علیہ السلام سے۔ معاویہ کا ایک اور اعتراف

معاویہ نے ابوہریرہ سے کہا کہ میں گمان نہیں کرتا کہ زمام داری حکومت کیلئے میں حضرت علی علیہ السلام سے زیادہ مستحق ہوں۔

حوالہ

کتاب”بررسی مسائل کلی امامت“، تالیف: آیة اللہ ابراہیم امینی،صفحہ۷۴،نقل از کتاب”الامامة والسیاسة“، جلد۱،صفحہ۲۸۔

معاویہ کا خط علی علیہ السلام کے نام

وَفِیْ کِتَابِ معاویةَ اِلٰی علیٍّ علیه السلام وَأمَافَضْلُکَ فِی الْاِسْلٰامِ وَ قَرَابَتُکَ مِنَ النَّبیِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِه وَسَلَّمْ فَلَعُمْرِی مٰااَدْفَعُهُ وَلاٰ اُنْکِرُ

”معاویہ نے اپنے خط بنام علی علیہ السلام میں لکھا کہ میں اپنی جان کی قسم کھا کرکہتا ہوں کہ آپ کے فضائل اسلامی اور رسول خدا کے ساتھ قرابت داری کا منکر نہیں ہوں“۔


علی علیہ السلام کی تعریف معاویہ کی زبان سے

جب محصن ضبی معاویہ کے پاس پہنچا تو معاویہ نے اُس سے پوچھا کہ تم کہاں سے آرہے ہو؟اُس نے جواب دیا کہ میں(معاذاللہ) کنجوس ترین شخص علی ابن ابی طالب کے پاس سے آرہا ہوں۔ یہ سن کر معاویہ اُس پر چلّایا اور کہا :کیا تم اُس کو بخیل ترین شخص کہہ رہے ہو جس کے پاس اگر ایک گھر سونے(طلاء) سے بھرا ہوا ہو اور دوسرا گھر چاندی سے بھرا ہوا ہو تو وہ بیکسوں کو زیادہ سونا بانٹ دے گا اور پھر طلاء اور چاندی کو مخاطب کرکے کہے گا کہ:

یٰاصَفْرٰاءُ وَیٰا بَیْضٰاءُ غُرِّی غَیْرِی أَبِی تَعَرَّضْتِ اَمْ اِلیَّ تَشَوَّقْتِ؟هَیهٰاتَ هَیهٰاتَ قَدْ طَلَّقْتُکِ ثَلٰثاً لاٰ رَجْعَةَ فِیْکَ

”اے طلاء زرد اور سفید چاندی! میرے کسی غیر کو دھوکہ دو، کیا اس طرح تم میری مخالفت کررہی ہو یا مجھے حوصلہ دے رہی ہو۔ افسوس ہے، افسوس ہے، میں نے تجھے تین مرتبہ طلاق دے دی ہے جس کے بعد رجوع ممکن نہیں“۔

حوالہ کتاب”چراشیعہ شدم“،صفحہ۲۲۷۔

(ب)۔ شہادت علی پر معاویہ کا عکس العمل

مغیرہ نے کہا: جب علی علیہ السلام کی شہادت کی خبر معاویہ تک پہنچی ،وہ گرمیوں کے دن تھے اور معاویہ اپنی بیوی فاختہ دختر قرظہ کے ساتھ تھا۔ معاویہ اپنی جگہ سے اٹھا اور کہا:

”اِنَّالِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَیْهِ راجِعُوْن“

”ہم اللہ ہی کیلئے ہیں اور اُسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں“۔

پھر کہنے لگا کہ کیا عقل و دانش اور خیر کا منبع چلاگیا؟

معاویہ کی بیوی نے اُس سے کہا کہ کل تک تو تم علی کی طرف نیزے پھینک رہے تھے اور آجاِنَّالِلّٰه وَاِنَّا اِلَیْهِ راجِعُوْن پڑھ رہی ہو؟معاو یہ نے اُسے جواب میں کہا کہ تم نہیں جانتیں کہ کیا علم و فضیلت اور تجربہ ہاتھ سے چلا گیا۔


حوالہ

کتاب”بوستان معرفت“،صفحہ۶۶۰۔یہ نقل کیا گیا ہے ابن عساکر کی کتاب”تاریخ

امیر المومنین علیہ السلام،جلد۳،صفحہ۴۰۵،۴۰۹،حدیث۱۵۰۵،۱۵۰۷اور کتاب مناقب خوارزمی سے باب ۲۶،صفحہ۲۸۳اور ابن کثیر کتاب البدایہ والنہایہ،جلد۸،صفحہ۱۵،آخر وقایع،سال چہل، ہجری و دیگران۔

معاویہ کی تنبیہ مروان بن حکم کو

جاحظ کتاب المحاسن والاضداد میں لکھتا ہے کہ ایک دن حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام معاویہ کی محفل میں گئے۔ اس محفل میں عمروعاص، مروان بن حکم اور مغیرہ بن شعبہ اور دوسرے افراد پہلے سے موجود تھے۔جس وقت امام حسن علیہ السلام وہاں پہنچے تو معاویہ نے اُن کا استقبال کیا اور اُن کو منبر پر جگہ دی۔ مروان بن حکم نے جب یہ منظر دیکھا تو حسد سے جل گیا۔ اُس نے اپنی تقریر کے دوران امام حسن علیہ السلام کی توہین کی ۔ امام حسن علیہ السلام نے فوراً اُس خبیث انسان کو منہ توڑ جواب دیا۔ ان حالات کو دیکھ کر معاویہ اپنی جگہ سے بلند ہوا اور مروان بن حکم کو مخاطب کرکے کہنے لگا:

”قَدْ نَهَیْتُکَ عَنْ هٰذا الرَّجُل فَلَیْسَ اَ بُوْهُ کَاَبِیْکَ وَلَا هُوَ مِثْلُکَاَنْتَ اِبْنُ الطَّرِیْد الشَرِیْد،وَهُوَ اِبْنُ رَسُوْلِ اللّٰهِ الکریم ۔

”میں نے تجھے اس مرد(کی توہین) کے بارے میں منع کیا تھا کیونکہ نہ اُس کا باپ تمہارے باپ جیسا ہے اور نہ وہ خود تمہارے جیسا ہے۔ تم ایک مردود و مفرور باپ کے بیٹے ہو جبکہ وہ رسول خدا کا بیٹا ہے“۔

حوالہ کتاب”المحاسن والاضداد“،تالیف:جاحظ(از علمای اہل سنت)،صفحہ۱۸۱۔

معاویہ کا حضرت ابوبکر اور حضرت عمر پر انتقاد

ماکتبه معاویةُ اِلٰی مُحَمَّدِ بنِ اَبِی بَکر:فَقَد کُنَّا اَبُوکَ مَعَنَافِی حَیَاةٍ من نبیِّنَا،نَرٰی حَقَّ عَلِیِ بنِ اَبِی طَالِبٍ لَنَا لَازِماً،وفَضْلَهُ عَلَیْنَا مُبْرَزاً،فَلَمَّا اخْتٰارَهُ اللّٰهُ لِنَبِیِّهِ، فَکَانَ اَبُوکَ وفٰارُوقُةُ اَوَّلَ مَنِ ابْتَزَّهُ حَقَّهُ وَخٰالَفَهُ عَلٰی اَمْرِهِ


”رسول خدا کی حیات طیبہ کے زمانہ میں مَیں اور تیرا باپ(ابوبکر) علی علیہ السلام کے حق کو لازم اور واجب سمجھتے تھے اور اُن کے فضائل و عظمت ہمارے اوپر بالکل واضح تھی۔ لیکن جس وقت خدا نے علی علیہ السلام کو اپنے پیغمبر کے لئے چن لیا(بعنوان امام اور مولائے مسلمانان) تو اُس وقت تیرے باپ نے اور اُس کے فاروق(عمر بن خطاب) نے سب سے پہلے علی علیہ السلام کے حق کو پامال کردیا اور اُن کے فرمان کی مخالفت کی“۔

حوالہ

مولف: ابن عساکر، کتاب حال امام علی علیہ السلام،جلد۲،صفحہ۴۳۲پاء ورق۔

عمروعاص کی فضیلت علی پرمعاویہ سے گفتگو

”مگر یہ کہ میں عظمت علی علیہ السلام کو احترام سے یاد کرتا ہوں۔ لیکن عظمت علی علیہ السلام کو یاد کرنے میں تو مجھ سے بھی زیادہ شدید ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ تو اسے چھپاتا ہے اور میں اسے برملا کہتا ہوں“۔

حوالہ

کتاب اسرار آل محمد،مولف: سلیم بن قیس،صفحہ۲۰۳،اشاعت۱۲۔

عمروعاص کے اشعار علی کی شان میں

عمروعاص نے معاویہ کے نام خط لکھا جس میں درج ذیل اشعار لکھے:

کتب عمروبن العاص الی معاویہ

و کم قد سمعنا من المصطفیٰ

وصایا مُخَصَّصَةً فی علیٍّ


و فی یوم خمٍّ رقیٰ مِنبراً

و بلَّغ والصَّحبُ لم تَرحل

فأمنَحَه اِمرَةَ المومنین

مِن اللّٰهِ مستخلِفَ المنحل

و فی کفِّه کفُّه مُعْلِناً

یُنادی باَمرِ العزیز العلیّ

وقال: فَمَن کنتُ مولیٰ له

علیٌ له الیومَ نِعْمَ الوَلی

”علی علیہ السلام کے بارے میں رسول خدا کے بہت سے ارشادات وسفارشات ہم نے سنیں۔ غدیر خم کے روز پیغمبر خدا منبر پر تشریف لے گئے اور (ولایت علی علیہ السلام کی)تبلیغ کی۔ اس حالت میں کہ سب آپ کے ہمراہیوں نے ابھی کوچ نہیں کیا تھا(یعنی وہاں موجود تھے)۔ علی کو خدا کی طرف سے امیر المومنین مقرر کیا۔اُس روز علی کا ہاتھ پیغمبر کے ہاتھ میں تھا اور لوگوں کو واضح طور پر خدا کے فرمان کی طرف متوجہ کررہے تھے اور فرمارہے تھے کہ جس کا میں مولیٰ ہوں اُس کا یہ علی مولا ہے“

حوالہ

ابن عساکر،کتاب ”امام علی علیہ السلام“ ،صفحہ۸۹،فٹ نوٹ(شرح محمودی)۔


اعتراف سعد بن ابی وقاص

جب معاویہ اپنے بیٹے یزید کیلئے بیعت حاصل کرنے کیلئے وارد مکہ ہوا۔ اُس نے دارالندوہ میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں چند اصحاب پیغمبر اسلام بھی تھے۔ معاویہ نے اپنے کلام کا آغاز حضرت علی علیہ السلام کی بدگوئی سے کیا۔ بعد میں وہ اس انتظار میں رہا کہ سعد بن ابی وقاص بھی اپنے کلام کا آغاز علی علیہ السلام کی بد تعریفی ہی سے کرے گا۔ لیکن سعد نے برخلاف توقع کہا کہ میں ہمیشہ حضرت علی علیہ السلام کی زندگی کے تین درخشاں نکات کو یاد کرتا رہتا ہوں اور میں دل کی گہرائی سے کہتا ہوں کہ اے کاش! مجھے یہ فضیلتیں میسر آجائیں اور یہ تین فضیلتیں یہ ہیں:

۱۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی علیہ السلام سے ارشاد فرمایا کہ یا علی ! تجھے مجھ

سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

۲۔ جنگ خیبر میں ایک روز پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کل میں علم اُس کو

دوں گا جس کو خدااور اُس کا رسول دوست رکھتے ہوں گے۔ اللہ اُس کے ہاتھ پر فتح عطا کرے گا اور وہ غیر فرار ہوگا۔

۳۔ نجران کے عیسائیوں سے مباہلہ کے روز پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اردگرد علی علیہ السلام ، فاطمہ سلام اللہ علیہا ،حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام کو جمع کیا اور فرمایا:

”پروردگار! یہ میرے اہل بیت ہیں“۔

حوالہ

۱۔ کتاب”الھیات و معاف اسلامی“، مولف:استاد جعفر سبحانی، صفحہ۳۹۹،نقل از صحیح

مسلم،جلد۷،صفحہ۱۲۰۔

۲۔ کنز العمال، جلد۱۳،صفحہ۱۶۲،۱۶۳(موسسة الرسالہ،بیروت، اشاعت پنجم)۔

۳۔ ابن کثیر، کتاب البدایہ والنہایہ،جلد۷،صفحہ۳۴۰،باب فضائل علی علیہ السلام۔


سعد بن ابی وقاص سے تین روائتیں

(ا)۔ ایک دفعہ معاویہ سفر حج پر تھا کہ سعد بن ابی وقاص اُس کو ملا۔ گفتگو کے دوران ذکر علی

بھی آگیا۔ معاویہ نے علی علیہ السلام کو بُرابھلا کہا۔ اس پر سعد غصے میں آگیا اورکہنے لگا :کیا تو اُس شخص کو بُرا بھلا کہہ رہا ہے جس کے بارے میں پیغمبر خدا کہتے تھے کہ جس کامیں مولیٰ ہوں، اُس کا یہ میرا چچازاد بھائی علی بھی مولیٰ ہے اور میں نے یہ بھی سنا ہے کہ آپ نے فرمایاکہ یا علی ! تو میرے نزدیک وہی منزلت رکھتا ہے جو ہارون علیہ السلام کی موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھی،سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئیگا اور پھر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ کل(روز خیبر) میں پرچم اُس کو دوں گا جس کو خدا اور اُس کا رسول دوست رکھتے ہیں۔

حوالہ

کتاب”آثار الصادقین“جلد۱۴،صفحہ۴۶۲،نقل از الغدیر،جلد۱،صفحہ۳۹،والغدیر

از سنن ابن ماجہ،جلد۱،صفحہ۳۰۔(یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ بعض اوقات معاویہ علی علیہ السلام کو بُراکہتا تھا۔ یہ اُس کے انتہائی کینہ کی وجہ سے تھا لیکن بعض اوقات فضائل علی علیہ السلام بیان بھی کرتا تھا۔ یہ اس واسطے تھا کہ علی علیہ السلام کے فضائل چھپائے بھی نہ چھپ سکتے تھے)۔

(ب)۔ ابو یعلی و بزار سعد بن ابی وقاص سے روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا:

”مَنْ آذیٰ عَلِیاً فَقَدْ آذٰانِیْ“

”جس نے علی کو اذیت دی، اُس نے گویا مجھے اذیت دی“۔

حوالہ کتاب”مصباح الموحدین“،صفحہ۵۵۔


(ج)۔ مسلم، سعد بن ابی وقاص سے روایت کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:

( نَدْعُ اَبْنٰاءَ نٰا وَاَبْنٰاءَ کُمْ )

”ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں، تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ“

رسول خدا نے علی ،فاطمہ ،حسن اور حسین کو بلایااور کہا:

”اَلَّلهُمَّ هٰولاٰءِ اَهْلُبَیْتِیْ“

”پروردگار یہ میرے اہل بیت ہیں“۔

حوالہ کتاب”مصباح الموحدین“،صفحہ۵۲۔

ابن سعد سے ایک روایت

ابن سعد حضرت علی سے روایت کرتے ہیں کہ آپ سے پوچھا گیا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ آپ تمام اصحاب سے زیادہ احادیث جانتے ہیں تو جواب میں علی علیہ السلام نے فرمایا:

”اِنِّی کُنْتُ اِذٰاسَأَ لْتُهُ أَ نْبَأَ نِیْ وَاِذٰا سَکَتُّ اِبْتَدَأَنِیْ“

”جس وقت بھی میں نے آنحضرت سے پوچھا تو آپ نے مجھے خبر دی اورجب میں خاموش ہوجاتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بات شروع کردیتے“۔

حوالہ کتاب”مصباح الموحدین“،صفحہ۵۵۔


مروان بن حکم کی امام سجاد سے گفتگو

ایک دن مروان بن حکم(جو یزید بن معاویہ کے بعد خلافت پر بیٹھا) امام سجاد علیہ السلام سے ملا اور اُس نے امام علیہ السلام سے کہا کہ مسلمانوں میں سے کسی نے بھی آپ کے دوست سے زیادہ ہمارے دوست کی طرفداری نہیں کی(یعنی کسی نے بھی علی علیہ السلام سے زیادہ عثمان کی طرفداری نہیں کی)۔ امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا کہ پھر کیوں ہمیں اس نسبت سے برائی دیتے ہو؟مروان نے جواب دیا کہ ہماری حکومت کی بقا اس کے بغیر ممکن نہیں۔

حوالہ جات بوستان معرفت، صفحہ۶۶۴،نقل از ابن عساکر، کتاب تاریخ امیر المومنین علیہ السلام،جلد۳صفحہ۱۲۷،حدیث۱۱۴۹اور بلاذری، انساب الاشراف،ج۲،ص۱۸۴،

حدیث۲۲۰ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ،جلد۱۳،صفحہ۲۲۰،شرح خطبہ۲۳۸۔

مروان اور ولید بن عقبہ کی شجاعت علی پر گفتگو

جنگ صفین میں معاویہ بن ابی سفیان نے کہا کہ خدا کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ تم حضرت علی علیہ السلام کو تیروں کی بارش کرکے زخمی کردو تاکہ اُن کے پاؤں اکھڑ جائیں اور لوگ اُن کی طرف سے آسودہ خیال ہوجائیں۔ اس وقت مروان نے کہا:خدا کی قسم! اے معاویہ! تمہیں ہمارا وجود بُرالگتا ہے(تم چاہتے ہو کہ ہمیں موت کی وادی میں دھکیل دو)۔ اس واسطے تم ہمیں ایک خطرناک ترین سانپ اور دلیر ترین شیر کو مارنے کا مشورہ دے رہے ہو۔ وہ غصے میں اپنی جگہ سے اٹھا ۔ولید بن عقبہ جو وہاں موجود تھا، نے چند اشعار پڑھے جن میں سے دو اشعار ذیل میں لکھے جارہے ہیں:

أَتأ مُرُنٰا بِحَیَّةِ بَطْنِ وَادٍ

یُنٰاحُ لَنٰابِهِ اَسَدٌ مَهابٌ


کَاَنَّ الْخَلْقَ لَمّٰا عٰایَنُوْهُ

خِلاٰلَ النَّقْعِ لَیْسَ لَهُمْ رِقٰابٌ

”کیا تم ہمیں جنگل کے ایسے سانپ کو مارنے کا حکم دے رہے ہو جس کے ڈسنے سے جنگل کا شیر ببر بھی محفوظ نہیں۔ وہ بھی آہ و زاری کررہا ہے۔ کہتے ہیں کہ اُسے اگر میدان جنگ میں کوئی خاک و غبار میں دیکھ لے تو اُس کے خوف سے کوئی گردن سلامت نہیں رہے گی“۔

حوالہ

کتاب”آثارالصادقین“،جلد۹،صفحہ۳۰۱،نقل از سفینہ، جلد۱،صفحہ۶۹۰۔

قاتل علی ،عبدالرحمٰن بن ملجم کے تاثرات

عبدالرحمٰن ابن ملجم مرادی ولایت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا اس قدر قائل تھاکہ علامہ مجلسی بحارالانوار کی جلد۹میں لکھتے ہیں کہ جب یہ یمن سے کوفہ آیا اور امیر المومنین علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا تو اس نے ایک قصیدہ حضرت علی علیہ السلام کی شان میں لکھا۔ اس نے وہیں قیام کیا۔ اتفاق سے بیمار پڑگیا تو خود حضرت علی علیہ السلام اُس کی تیمار داری اور خدمت کیلئے اُس کے پاس جاتے رہے۔ جنگ نہروان میں ابن ملجم حضرت علی علیہ السلام کی فوج میں شامل تھا اور ایک دستہ فوج کا سالار تھا۔ ایک دفعہ عبدالرحمٰن ابن ملجم حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اُسے اطلاع دی کہ اے عبدالرحمٰن! تو میرا قاتل ہوگا تو ایک دفعہ یہ گھبرا گیا اور کہنے لگا کہ یا امیر المومنین ! مجھے ابھی اپنی تلوار سے قتل کردیں تاکہ میں اس جرم کا ارتکاب نہ کرسکوں۔ آپ نے قصاص قبل از قتل کی مذمت فرمائی۔

یہی عبدالرحمٰن ابن ملجم بعد میں دوخارجیوں کے زیر اثر آگیااورقطامہ نامی ایک بدکار عورت بنام قطامہ کے عشق میں مبتلا ہوکر اپنے ہاتھ علی علیہ السلام کے خون سے رنگ لئے۔

پس قاتل علی علیہ السلام بھی آپ کے فضائل و کمالات سے پوری طرح آگاہ تھا معترف تھا۔


فہرست کتب جن سے اس کتاب میں استفادہ کیا گیا ہے

فہرست کتب اہل سنت

-۱ تفسیر کبیر -------- فخر رازی

-۲ تفسیر شواہد التنزیل --------- حافظ حسکانی

-۳ تفسیر الدرالمنثور ------- سیوطی

-۴ تفسیر ابن کثیر ------ ابن کثیر

-۵ تفسیر کشاف ------- زمخشری

-۶ تفسیر طبری -------- طبری

-۷ تفسیر بیضاوی -------- بیضاوی

-۸ تفسیر اسباب النزول -------- واحدی نیشاپوری

-۹ تفسیر روح المعانی -------- شہاب الدین آلوسی

-۱۰ تفسیر فتح القدیر ------ قاضی شوکانی

-۱۱ الکشف والبیان ---- -- - ثعلبی

-۱۲ انساب الاشراف -------- بلاذری

-۱۳ کفایة الطالب -------- گنجی شافعی

-۱۴ ینابیع المودة -------- شیخ سلیمان قندوزی حنفی

-۱۵ مجمع الزوائد -------- ہیثمی


-۱۶ فرائد السمطین -------- علامہ حموینی

-۱۷ البدایہ والنہایہ -------- ابن کثیر

-۱۸ مناقب امیر المومنین -------- ابن مغازلی

-۱۹ کنزالعمال ------- متقی ہندی

-۲۰ تاریخ بغداد ------- خطیب بغدادی

-۲۱ تاریخ دمشق -------- ابن عساکر

-۲۲ تاریخ الخلفاء -------- سیوطی

-۲۳ مناقب امیر المومنین -------- خوارزمی

-۲۴ الصواعق المحرقہ -------- ابن حجر

-۲۵ نورالابصار --------- شبلنجی

-۲۶ اللئالی المصنوعہ --------- سیوطی

-۲۷ اسد الغابہ -------- ابن اثیر

-۲۸ ما نزل من القرآن فی علی --------- ابو نعیم اصفہانی

-۲۹ الفصول المہمة --------- ابن صباغ مالکی

-۳۰ المستدرک --------- حاکم نیشا پوری

-۳۱ المسند -------- احمد بن حنبل

-۳۲ المعجم الکبیر --------- طبرانی

-۳۳ تہذیب الکمال -------- حافظ المزی


-۳۴ الفضائل --------- قطیفی

-۳۵ میزان الاعتدال -------- ذہبی

-۳۶ استیعاب -------- ابن عبدالبر

-۳۷ تذکرة الخواص -------- سبط بن الجوزی

-۳۸ تاریخ الاسلام -------- ذہبی

-۳۹ الجامع لا حکام القرآن -------- قرطبی

-۴۰ الفضائل ------- احمد بن حنبل

-۴۱ الاصابہ -------- ابن حجر عسقلانی

-۴۲ خصائص امیر المومنین --------- نسائی

-۴۳ ریاض النظرہ -------- محب الدین طبری

-۴۴ فتح الباری -------- ابن حجر عسقلانی

-۴۵ مقتل الحسین --------- خوارزمی

-۴۶ کنزالفوائد -------- کراجکی

-۴۷ خصائص الوحی المبین --------- یحییٰ بن بطریق

-۴۸ مناقب آل نبی --------- رشید الدین

-۴۹ احیاء العلوم --------- ثعلبی

-۵۰ جمع الجوامع -------- سیوطی

-۵۱ سنن ابن ماجہ -------- محمد بن یزید قزوینی

-۵۲ صحیح ترمذی -------- محمد بن عیسیٰ ترمذی


-۵۳ صحیح بخاری --------- محمد بن اسماعیل بخاری

-۵۴ عمدة القاری -------- ابن احمد حلبی عینی

-۵۵ السنن الکبریٰ -------- بہیقی

-۵۶ شرح نہج البلاغہ -------- ابن ابی الحدید

-۵۷ ذخائر العقبی -------- محب الدین طبری

-۵۸ لسان المیزان --- ----- ابن حجر عسقلانی

-۵۹ حلیة الاولیاء --------- ابونعیم اصفہانی

-۶۰ الجامع الصغیر --------- سیوطی

-۶۱ الاتحاف بحب الاشراف -------- شبراوی

-۶۲ مثنوی معنوی -------- مولوی

-۶۳ المحاسن والاضداد --------- جاحظ

-۶۴ امام علی بن ابی طالب --------- عبدالفتاح عبدالمقصود

-۶۵ بیست و پنج سال سکوت علی علیہ السلام -------- فواد فاروقی

-۶۶ علی ،چہرئہ درخشان اسلام -------- ابن ابی الحدید

-۶۷ معجم الادباء --------- یاقوت حموی


فہرست کتب اہل شیعہ

-۱ تفسیر المیزان --------- مرحوم علامہ طباطبائی

-۲ تفسیر مجمع البیان -------- شیخ طبرسی

-۳ تفسیر البرہان -------- علامہ بحرانی

-۴ تفسیر نمونہ -------- جمیع از نویسندگان

-۵ کمال الدین ---------- شیخ صدوق

-۶ الغدیر ---------- مرحوم علامہ امینی

-۷ آثار الصادقین ---------- شیخ صادق احسان بخش

-۸ جلاء العیون ---------- علامہ مجلسی

-۹ آئمہ اثنا عشر ---------- احمد بن عبداللہ بن عیاشی جوہری

-۱۰ شیعہ در اسلام ---------- علامہ طباطبائی

-۱۱ ولاء ہاوولایتہا ---------- علامہ شہید مرتضیٰ مطہری

-۱۲ سیری در صحیحین ---------- محمد صادق نجمی

-۱۳ الحیات و معارف اسلامی ---------- آیت اللہ جعفر سبحانی

-۱۴ اسرار آل محمد ---------- سلیم بن قیس

-۱۵ امامت و رہبری ---------- علامہ شہید مرتضیٰ مطہری

-۱۶ مصباح المحدین ---------- عباس علی وحیدی منفرد

-۱۷ شبہائے پشاور ---------- سلطان الواعظین شیرازی

-۱۸ چکیدہ اندیشہ ہا ---------- سید یحییٰ برقعی

-۱۹ سید الشہداء ---------- آیت اللہ شہید دستغیب


-۲۰ علی ، معیار کمال ---------- ڈاکٹر رجب علی مظلومی

-۲۱ داستان غدیر ---------- جمیع از دبیران

-۲۲ بررسی مسائل کلی امامت ---------- آیت اللہ ابراہیم امینی

-۲۳ فاطمة الزہرا ---------- گفتار مرحوم علامہ امینی

-۲۴ علی و پیامبران ---------- حکیم سید محمود سیالکوٹی

-۲۵ چراشیعہ شدم؟ ---------- شیخ محمد رازی

-۲۶ بوستان معرفت ---------- سید ہاشم حسینی تہرانی

-۲۷ قصہ ہائے قرآن ---------- سید ابوتراب صفائیی

-۲۸ مباحثی در معارف اسلامی ---------- علامہ فقیدسید علی بہبہانی

-۲۹ ادبیات و تعہد دراسلام ---------- محمد رضا حکیمی

-۳۰ علی کیست؟ ---------- فضل اللہ کمپانی

-۳۱ ہشتادودوپرسش ---------- آیت اللہ شہید دستغیب

-۳۲ حق با علی است ---------- مہدی فقیہ ایمانی

-۳۳ زندگانی فاطمة الزہرا ---------- آیت اللہ شہید دستغیب

-۳۴ گنجینہ ہائے شعر و ادب فارسی ---------- مصطفی ہادوی

-۳۵ این است آئین ما ---------- مرحوم کاشف الغطاء

-۳۶ باب حادی عشر ---------- مرحوم علامہ شہرستانی


-۳۷ فرہنگ بزگان ایران و اسلام ---------- آذر تفضلی۔ مہین فضائلی جوان

-۳۸ النورالمشتعل ---------- تعلیق وشرح شیخ باقر محمودی

-۳۹ صلح امام حسن ---------- شیخ رازی آل یاسین

-۴۰ تجرید الاعتقاد ---------- خواجہ نصیر الدین طوسی

-۴۱ تفسیر نورالثقلین ---------- مرحوم عبد علی بن جمة الحویزی

-۴۲ آ نگاہ ہدایت شدم ---------- ڈاکٹر سید محمدتیجانی سماوی

-۴۳ ای اشک ہابریزید ---------- دیوان حبیب اللہ چائچیان

دیگر متفرق کتب

-۱ امام علی ،مشعلی و دژی ---------- سلیمان کتانی،ترجمہ جلال الدین فارسی۔

-۲ امام علی صدائے عدالت انسانی ---------- جرج جرداق

-۳ الفتوح ---------- ابومحمد احمد بن علی اعثم کوفی

-۴ محاضرات ---------- راغب اصفہانی


کتب لغت

-۱ المنجد

-۲ فرہنگ جامع

-۳ منجد الطلاب

-۴ مجمع البحرین

-۵ فرہنگ معین(شش جلدی)

-۶ فرہنگ عمید


فہرست

پیش لفظ ۴

علی اور دیگر آئمہ معصومین کی معرفت کیونکر ضروری ہے؟ ۴

امام کی خدمت میں ایک حقیر تحفہ ۴

معاشرے میں صالح حکومت اور مخلص رہبر کی ضرورت ۵

انسانوں کی حکومت بنانے کی کوششیں ۵

حکومت اسلامی کی قابل توجہ خصوصیات ۶

پیغمبر اسلام کے بعد رہبری جامعہ اسلامی میں اختلاف بین المسلمین پر ایک نظر ۸

آج ضرورت وقت کیا ہے؟ ۱۰

کچھ اس کتاب کے بارے میں ۱۰

پہلا باب بحث عقلی ۱۲

عقلی دلائل پر توجہ دینے کی ضرورت ۱۲

مسئلہ امامت پر بحث کی ضرورت ۱۳

انتخاب امام پر سنی اور شیعہ حضرات کا نظریہ ۱۴

انتخاب امام کیلئے علمائے اہل سنت کا نقطہ نظر ۱۴

انتخاب امام کیلئے شیعہ علماء کا نقطہ نظر ۱۴

خدا کی حکمت اور لطف و کرم کا تقاضا ۱۵

ہدایت الٰہی کی تعریف ۱۷

امام ہونے کی شرائط اہل سنت اور شیعہ حضرات کی نگاہ میں ۱۷

علمائے اہل سنت کی نگاہ میں شرائط امام ۱۷

علمائے شیعہ کی نگاہ میں شرائط امام ۱۸


اہم شرائط امام کی تشریح ۱۹

عصمت و پاکدامنی ۱۹

پہلا راستہ ۲۰

عہد خدا ظالموں تک نہیں پہنچ سکتا ۲۰

دوسرا باب ۲۳

فضائل علی علیہ السلام قرآن کی نظر میں ۔ ۲ ۲۳

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے ۲۴

دسویں آیت ۲۵

مودت اہل بیت کا ایک انداز ۲۵

قربیٰ سے مراد کون کونسے رشتہ دار ہیں؟ ۲۶

آل محمد کے بارے میں فخرالدین رازی کے نظریات ۲۸

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے ۲۹

گیارہویں آیت ۳۰

علی نفس رسول ہیں(علی اور اہل بیت آیت مباہلہ میں) ۳۰

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے ۳۳

بارہویں آیت ۳۴

اللہ تعالیٰ نے علی کو ایمان کامل اورعمل صالح کے سبب دلوں کا محبوب بنادیا۔ ۳۴

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے ۳۵

تیرہویں آیت ۳۶

علی تنہا اس آیت کے حکم پر عمل کرنے والے ہیں ۳۶

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے ۳۸


چودہویں آیت ۳۸

علی اور اُن کے شیعہ بہترین مخلوق ہیں ۳۸

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے ۴۱

پندرہویں آیت ۴۱

پیغمبر کی صداقت پر قرآن ایک روشن دلیل ہے اور علی ایک سچے گواہ ہیں ۴۱

فضائل علی علیہ السلام قرآن کی نظر میں ۔۳ ۴۲

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے ۴۳

سولہویں آیت ۴۴

علی صدیق اکبر اورشہید فی سبیل اللہ ہیں ۴۴

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے ۴۵

سترہویں آیت ۴۶

اللہ تعالیٰ نے علی کے وسیلہ سے پیغمبر کی مدد کی ۴۶

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے ۴۷

اٹھارہویں آیت ۴۸

حضرت علی کا بغض اور دشمنی شقاوت قلب، نفاق اور انسان کی بدبختی کا باعث ہے ۴۸

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے ۴۹

اُنیسویں آیت ۵۰

علی صالح المو منین ہیں ۵۰

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے ۵۱

بیسویں آیت ۵۲

قیامت کے دن لوگوں سے ولایت علی کے بارے میں سوال کیا جائے گا ۵۲


تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے ۵۳

اکیسویں آیت ۵۴

اللہ تعالیٰ نے جنگوں اور مشکلات میں مسلمانوں کی مدد علی کے وسیلہ سے کی ۵۴

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے ۵۵

بائیسویں آیت ۵۶

علی اورفاطمہ علم و معرفت کے دریائے بیکراں ہیںاور حسن و حسین اُن کے انتہائی قیمتی موتی ہیں ۵۶

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے ۵۷

تئیسویں آیت ۵۸

علی اور اہل بیت سے محبت نیکی ہے اور ان سے بغض گناہ ہے ۵۸

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے ۶۰

چوبیسویں آیت ۶۰

اللہ تعالیٰ علی کے وسیلہ سے کفارو مشرکین سے انتقام لیتا ہے ۶۰

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے ۶۲

پچیسویں آیت ۶۲

علی نے اپنی جان مبارک کامعاملہ اللہ تعالیٰ سے طے کرلیا ۶۲

تصدیق فضیلت اہل سنت کی کتب سے ۶۴

فضائل علی علیہ السلام قرآن کی نظر میں ۔۴ ۶۵

(چند دوسری مثالیں) ۶۵

حضرت علی علیہ السلام سورہ والعصر میں ۶۵

علی علم الٰہی کا خزینہ ہیں ۶۶

علی اور آپ کے اصحاب سچائی کا نمونہ ہیں ۶۶


امت اور ولایت علی پر ایمان اصل میں ایک ہیں ۶۸

علی کواذیت پہنچانابہت بڑ اصریح گناہ ہے ۶۹

اللہ تعالیٰ آل محمدپر سلام بھیجتا ہے ۷۰

علی اور تصدیق نبوت پیغمبر اکرم ۷۰

علی اور آپ کے ماننے والے حزب اللہ ہیں اور وہی کامیاب ہیں ۷۱

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ رسول اکرم اور علی کے ماننے والوں کو رسوا نہیں کرے گا ۷۲

روزقیامت ولایت علی کے بارے میں سوال کیا جائے گا ۷۳

فضائل امام علی علیہ السلام احادیث کی نظر میں۔ ۱ ۷۴

(حصہ اول) ۷۴

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۷۵

حوالہ جات روایت زید بن ارقم ۱ ۷۶

حوالہ جات روایت انس بن مالک ۲ ۷۶

دوسری روایت ۷۶

علی پیغمبر کے ساتھ اورپیغمبرعلی کے ساتھ ہیں ۷۶

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۷۶

تیسری روایت ۷۷

پیغمبر اور علی کی خلقت ایک ہی نور سے ہے ۷۷

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۷۸

چوتھی روایت ۷۸

علی ہی دنیا وآخرت میں نبی کے علم بردار ہیں ۷۸

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۷۹


انچویں روایت ۷۹

پیغمبر اکرم اور علی ایک ہی شجرئہ طیبہ سے ہیں ۷۹

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۷۹

چھٹی روایت ۸۰

در علی کے علاوہ تمام در مسجد بند کرنے کا حکم ۸۰

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۸۰

ساتویں روایت ۸۱

علی کا مقام و منزلت ۸۱

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۸۲

آٹھویں روایت ۸۳

حدیث ولایت اور مقام علی ۸۳

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۸۳

نویں روایت ۸۴

علی کی محبت جہنم سے بچاؤاور جنت میں داخلے کی ضمانت ہے ۸۴

حوالہ جات روایت ہل سنت کی کتب سے ۸۵

دسویں روایت ۸۵

قیامت کے روز حُب علی اور حُب اہل بیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا ۸۵

حوالہ جات روایت، اہل سنت کی کتب سے ۸۶

یارہویں روایت ۸۶

علی سے اللہ اور اُس کے رسول محبت کرتے ہیں ۸۶

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۸۷


فضائل امام علی علیہ السلام احادیث کی نظر میں۔ ۱ ۸۸

(حصہ دوم) ۸۸

بارہویں روایت ۸۸

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۸۸

تیرہویں روایت ۸۹

محبان علی مومن اور دشمنان علی منافق ہیں ۸۹

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۸۹

چودہویں روایت ۹۰

علی مسلمانوں کے اور متّقین کے امام ہیں ۹۰

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۹۰

پندرہویں روایت ۹۱

پیغمبر اکرم اور علی خدا کے بندوں پر اُس کی حجت ہیں ۹۱

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۹۱

سولہویں روایت ۹۲

علی پیغمبران خدا کی تمام اعلیٰ صفات کے حامل تھے ۹۲

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۹۲

سترہویں روایت ۹۳

علی بہترین انسان ہیں ،جو اس حقیقت کو نہ مانے ،وہ کافر ہے ۹۳

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۹۳

اٹھارہویں روایت ۹۴

علی اور اُن کے شیعہ ہی قیامت کے روزکامیابی اور فلاح پانے والے ہیں ۹۴


حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۹۴

اُنیسویں روایت ۹۵

اہم کاموں کیلئے علی کا انتخاب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتا تھا ۹۵

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۹۵

بیسویں روایت ۹۶

علی کا چہرہ دیکھنا عبادت ہے ۹۶

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۹۶

اکیسویں روایت ۹۷

حکمت و دانائی کو دس حصوں میں تقسیم کیا گیا، اُن میں سے نوحصے علی علیہ السلام کو دئیے گئے ۹۷

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۹۷

بائیسویں روایت ۹۸

پیغمبر اکرم علم کا شہر ہیں اور علی اُس کا دروازہ ہیں ۹۸

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۹۸

تئیسویں روایت ۹۹

علی ہی وصی ِ برحق اوروارث پیغمبر ہیں ۹۹

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۹۹

چوبیسویں روایت ۱۰۰

علی اور آپ کے سچے صحابیوں کودوست رکھنا واجب ہے ۱۰۰

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۱۰۰

پچیسویں روایت ۱۰۱

علی حق کے ساتھ ہیں اورحق علی کے ساتھ ہے ۱۰۱


حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۱۰۱

چھبیسویں روایت ۱۰۲

علی قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی کے ساتھ ہے ۱۰۲

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۱۰۳

ستائیسویں روایت ۱۰۳

پیغمبر اکرم کے بعد علی کی اتباع اور پیروی کرنا لازم ہے ۱۰۳

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۱۰۴

فضائل امام علی علیہ السلام احادیث کی نظر میں۔۲ ۱۰۴

اٹھائیسویں روایت ۱۰۴

علی قرآن کے حقیقی حامی اور دفاع کرنے والے ہیں ۱۰۴

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۱۰۵

اُنتیسویں روایت ۱۰۵

علی کو ناکثین،قاسطین اور مارقین سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ۱۰۵

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۱۰۶

تیسویں روایت ۱۰۷

نسل پیغمبر اکرم صُلب علی سے ہے ۱۰۷

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۱۰۷

اکتیسویں روایت ۱۰۸

پیغمبر اکرم ،علی و فاطمہ حسن و حسین کے دشمنوں کے دشمن اور ان کے دوستوں کے دوست ہیں ۱۰۸

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۱۰۸

بتیسویں روایت ۱۰۹


علی سے دُوری پیغمبر اکرم سے دُوری ہے ۱۰۹

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۱۰۹

تینتیسویں روایت ۱۱۰

محبان علی سعید و کامیاب ہیں اوردشمنان علی پر خدا کا غضب ہے ۱۱۰

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۱۱۰

چونتیسویں روایت ۱۱۱

علی دنیا و آخرت میں رسول خداکے بھائی ہیں ۱۱۱

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۱۱۱

پینتیسویں روایت ۱۱۱

علی محبوب خدا ورسول ہیں اورمشکلوں کا حل اُن کے پاس ہے ۱۱۱

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۱۱۲

چھتیسویں روایت ۱۱۳

علی ہادی و مہدی ہیں اوراُن کا راستہ ہی صراط مستقیم ہے ۱۱۳

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۱۱۳

سینتیسویں روایت ۱۱۴

پیغمبراکرم کا علی و فاطمہ کے گھر پر آیہ تطہیر کا پڑھنا ۱۱۴

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۱۱۴

اڑہتیسویں روایت ۱۱۵

جس نے علی کو تکلیف پہنچائی اُس نے گویا پیغمبر کو تکلیف پہنچائی ۱۱۵

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۱۱۶

اُنتالیسویں روایت ۱۱۶


حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۱۱۷

چالیسویں روایت ۱۱۷

پیغمبر کا علی کی شہادت کی خبر دینااورآپ کے قاتل کو سب سے زیادہ شقی القلب قرار دینا ۱۱۷

حوالہ جات روایت اہل سنت کی کتب سے ۱۱۸

فضائل علی علیہ السلام روایات کی نظر میں ۱۱۹

حوالہ جات ۱۱۹

(و)۔ جنگ بدر میں منادی دینے والے کی آواز آئی: ۱۲۱

فضائل علی علیہ السلام انبیاء کی نظر میں ۱۳۲

آدم علیہ السلام کا پنجتن پاک سے ارتباط ۱۳۲

دوسرے انبیاء کی بعثت ولایت پیغمبر و علی کی مرہون منت ہے ۱۳۵

حضرت علی علیہ السلام آسمانی کتابوں میں ۱۳۶

۱۔ نام علی علیہ السلام انجیل میں ۱۳۶

۲۔ علی او رپیشگوئی داؤد ۱۳۷

زبور سے اقتباس ۱۳۸

۳۔سلیمان کا علی سے مدد مانگنا ۱۳۸

ترجمہ لوح سلیمانی لوح سلیمانی کا نقش ۱۳۹

۴۔ علی کا نام کشتی نوح کا زیور ۱۴۰

حضرت موسیٰ شہادت علی سے باخبر تھے ۱۴۱

حضرت ابراہیم اور معرفت علی ۱۴۱

حضرت ابراہیم بھی شیعان علی سے ہیں ۱۴۲

حضرت خضر کی حضرت علی سے دوستی ۱۴۲


فضائل علی علیہ السلام خلفاء کی نظر میں ۱۴۳

۱۔کلام حضرت ابو بکر بن ابی قحافہ ۱۴۳

۲۔کلام حضرت عمر بن خطاب ۱۵۰

ایک اور مثال ۱۶۴

۳۔کلام حضرت عثمان بن عفان ۱۶۵

فضائل علی علیہ السلام اُم المومنین حضرت عائشہ کی نظر میں ۱۶۶

فضائل علی علیہ السلام علمائے اہل سنت کی نظر میں ۱۷۴

ابن عباس ۱۷۴

ابن ابی الحدید معتزلی ۱۷۵

ابوحامدغزالی(شافعی مذہب کے سکالر) ۱۷۷

عبدالفتاح عبدالمقصود(مصنف معروف مصری) ۱۷۷

ابوحنیفہ( مذہب حنفی کے امام) ۱۷۸

فخر رازی(اہل سنت کے مشہور و معروف مفکر) ۱۷۸

زمخشری(اہل سنت کے مشہور مفکر) ۱۷۹

شافعی(رہبر مذہب شافعی) ۱۷۹

حافظ ابو نعیم(اہل سنت کے مشہور عالم) ۱۸۰

احمد بن حنبل(رہبر مذہب حنبلی) ۱۸۰

ابن صباغ(مذہب مالکی کے مشہور مفکر) ۱۸۳

شبلنجی(عالم مذہب شافعی،اہل مصر) ۱۸۳

ابوعَلَم شافعی(عالم مذہب شافعی) ۱۸۴

خطیب خوارزمی(مفکر مذہب حنفی) ۱۸۴


ابن حجر عسقلانی(مفکرمعروف شافعی) ۱۸۵

حمّوئی(عالم مذہب حنفی) ۱۸۶

فوادفاروقی(اہل سنت کے مشہور مفکرو مصنف) ۱۸۶

شیخ عبداللہ شبراوی(عالم مذہب شافعی) ۱۸۸

ابوھذیل(اہل سنت کے مفکر اور دانشمند و استاد ابن ابی الحدید) ۱۸۸

ابن مغازلی(عالم معروف مذہب شافعی) ۱۸۸

عبدالرؤوف مناوی(عالم مذہب شافعی) ۱۸۹

جاحظ(مفکر مذہب معتزلی) ۱۸۹

حضرت علی علیہ السلام شعرائے اہل سنت کی نظر میں ۱۹۰

محمد بن ادریس شافعی(امام شافعی) ۱۹۱

ابن ابی الحدید معتزلی(اہل سنت کے بہت بڑے عالم) ۱۹۸

قاضی ابوالقاسم تنوخی ۲۰۳

تعارف قاضی ابوالقاسم تنوخی ۲۰۷

خطیب خوارزمی(مذہب حنفیہ کے بہت بڑے مفکر) ۲۰۷

محی الدین عربی(مذہب حنفی کے ایک معروف مفکر) ۲۱۳

قاضی فضل بن روزبہان(عالم معروف اہل سنت) ۲۱۳

حسان بن ثابت ۲۱۷

تعارف حسان بن ثابت ۲۱۷

عمربن فارض مصری ۲۲۰

مجد الد ّین ابن جمیل ۲۲۱

مولانا جلال الد ّین رومی ۲۲۴


فضائل علی علیہ السلام غیر مسلم مفکرین کی نظر میں ۲۲۴

شبلی شُمَیل(ایک عیسائی محقق ڈاکٹر) ۲۲۵

ولتر(فرانسیسی فلاسفر اور رائٹر ،اٹھارہویں صدی) ۲۲۵

تھامس کارلائل(ایک انگریز فلاسفر اور رائٹر) ۲۲۶

نرسیسان(ایک عیسائی عالم جو بغداد میں سفارت برطانیہ کا انچارج بھی تھا) ۲۲۶

سلیمان کتانی(ایک عیسائی لبنانی دانشور) ۲۲۷

جانین(شاعرجرمنی) ۲۲۹

پروفیسر استانسیلاس گویارد(فرانسیسی مصنف) ۲۲۹

بارون کاردایفو(فرانسیسی دانشور) ۲۳۰

جُرجی زیڈان(ایک مشہور عرب دانشور و مصنف) ۲۳۰

امین نخلہ(ایک لبنانی عیسائی معروف دانشور) ۲۳۱

ایک عرب دانشور کا قول ۲۳۱

پولس سلامہ(ایک لبنانی عیسائی ادیب اور وکیل) ۲۳۲

جبران خلیل جبران(ایک معروف عیسائی مصنف) ۲۳۲

ایلیا پاولویچ پطروشفسکی(روسی مورخ) ۲۳۳

میخائل نعیمہ(مشہور عیسائی عرب مصنف) ۲۳۳

بارون کارادوو(معروف فرانسیسی مورخ ومحقق) ۲۳۴

جارج جُرداق(ایک معروف مسیحی مصنف) ۲۳۵

فضائل علی علیہ السلام مخالفین کی نظر میں ۲۳۸

معاویہ ابن ابوسفیان کی گفتگو ۲۳۸

معاویہ ابن ابوسفیان کی ایک اور گفتگو ۲۳۹


(ا)۔شہادت علی پر معاویہ کا عکس العمل ۲۴۰

شرح حال علی علیہ السلام سے۔ معاویہ کا ایک اور اعتراف ۲۴۰

معاویہ کا خط علی علیہ السلام کے نام ۲۴۰

علی علیہ السلام کی تعریف معاویہ کی زبان سے ۲۴۱

(ب)۔ شہادت علی پر معاویہ کا عکس العمل ۲۴۱

معاویہ کی تنبیہ مروان بن حکم کو ۲۴۲

معاویہ کا حضرت ابوبکر اور حضرت عمر پر انتقاد ۲۴۲

عمروعاص کی فضیلت علی پرمعاویہ سے گفتگو ۲۴۳

عمروعاص کے اشعار علی کی شان میں ۲۴۳

کتب عمروبن العاص الی معاویہ ۲۴۳

اعتراف سعد بن ابی وقاص ۲۴۵

سعد بن ابی وقاص سے تین روائتیں ۲۴۶

ابن سعد سے ایک روایت ۲۴۷

مروان بن حکم کی امام سجاد سے گفتگو ۲۴۸

مروان اور ولید بن عقبہ کی شجاعت علی پر گفتگو ۲۴۸

قاتل علی ،عبدالرحمٰن بن ملجم کے تاثرات ۲۴۹

فہرست کتب جن سے اس کتاب میں استفادہ کیا گیا ہے ۲۵۰

فہرست کتب اہل سنت ۲۵۰

فہرست کتب اہل شیعہ ۲۵۴

دیگر متفرق کتب ۲۵۶

کتب لغت ۲۵۷