یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے
کتاب :اسرار غدیر
مولف
محمد باقر انصاری
مقدمہ ناشر
غدیر حضر ت امیر المو منینعليهالسلام کی سب سے بڑی فضیلت
فقال الرجل لا میرالمومنینعليهالسلام : فاخبرنی بافضل منقبةلکَ من رسول اللهصلىاللهعليهوآلهوسلم فقال:
<نَصْبُهُ اِیَّایَ بِغَدِیْرِخُمٍّ، فَقَامَ لِیْ بِالْوِلَایَةِمِنَ اللهِ عَزَّوَجَلَّ بِاَمْرِاللّٰهِ تَبَارَکَ وَتَعٰالیٰ>
”ایک شخص نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: آپعليهالسلام کےلئے پیغمبر اکرم کی طرف سے عطا کی گئی سب سے بڑی فضیلت کیا ہے ؟
آ پ نے فرمایا:خداوند عالم کے حکم سے مجھ کو غدیر خم کے میدان میں ولایت کا تاج پہنانا۔ (کتاب سلیم صفحہ ۹۰۳ حدیث ۶۰)
اہداء
کیا یہ ناچیز مکتوب باعظمت خاتون کی بارگاہ میں قبول ہو جا ئیگا جس کو میں نے ان کے پر برکت جوار ،ان کی عنایت کے زیر سایہ اور ان کی شفاعت کی امید میں تالیف کیا ہے ؟
کیا کر یمہ آل محمد حضرت فاطمہ معصومہ سلا م اللہ علیھا اس مو لف کے سر کو اپنے آستانہ پر جھکانے کو قبول کریں گی ؟
اس امید کی کرامت میں کتاب حاضر کوان کی بارگاہ میں تقدیم کر تا ہوں ۔
حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا نے حدیث غدیر کی سند
مندرجہ ذیل طریقہ سے نقل کی ہے
۔۔۔حضرت فاطمہ دختر امام مو سیٰ بن جعفر علیہ السلام نے فاطمہ دختر حضرت امام جعفر صادقعليهالسلام سے انھوں نے فاطمہ دختر حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے انھوں نے فاطمہ دختر حضرت امام زین العا بدین علیہ السلام سے انھوں نے فا طمہ اور سکینہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی بیٹیوں سے انھوں نے حضرت فاطمہ زھرا علیھا السلام کی بیٹی ام کلثوم سے نقل کیا ہے کہ ان کی مادر گرامی حضرت فاطمہ زھراء دختر رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مروی ہے کہ :اَنَسِیْتُمْ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰهِ یَوْمَ غَدِیْرِخُمٍّ : ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ“؟!
”کیا تم نے غدیر خم میں رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس فرمان کو بھلا دیا ہے : جس کا میں مولا اور صاحب اختیار ہوں یہ علی علیہ السلام اس کے مو لا اور صاحب اختیار ہیں “؟!( ۱ )
مقد مہ
غدیر ہمارا پاک و پا کیزہ عقیدہ
”غدیر “یہ مقدس اورپاک و پا کیزہ نام ہما رے عقیدہ کا عنوان اورہما رے دین کی بنیاد ہے
غدیر خلقت کا ما حصل ،تمام ادیان الٰہی کا نچوڑ اور مکتب وحی کا خلا صہ ہے ۔
غدیر ہمارا عقیدہ ہے صرف ایک تا ریخی واقعہ نہیں ہے ۔
غدیر،نبوت کا ثمر اور رسالت کا میوہ ہے ۔
غدیر،قیامت تک مسلمانوں کے گامزن رہنے کے لئے راستے کو معین کر نے کا نام ہے ۔
غدیر ،کوئی بھلادینے والی یا پرا نی ہو نے والی چیز نہیں ہے ۔
غدیر ،وہ پانی ہے جس سے گلستان توحید کے تمام درختوں اورغنچوں کواپنے رشد و نمو کےلئے سیراب ہونے کی ضرورت ہے ۔
غدیرپل صراط ہے اورغدیر پر ایمان رکھ کر ہی اس صراط سے گذرا جا سکتا ہے ورنہ اس شمشیر کی ایسی تیز دھار ہے جس سے ہر منافق اور ملحد دو ٹکڑے ہو جا ئے گا ۔
غدیر ،اسلام کی تاریخ کا سب سے حساس موڑہے جس نے ابتداء ہی میں دین خدا کو دشمنوں کی طرف تمام اندرونی اور بیرونی یقینی خطرات سے فکری اور معنوی اعتبار سے نجات دی ۔
غدیر، اسلام کے ماضی کا محا فظ اور مستقبل کا ضامن ہے ،جس کا منصوبہ بنانے والا خداوند عالم، اعلان کر نے والے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم اورجامہ عمل بنانے والے بارہ امام علیھم السلام ہیں ۔
غدیر پوری انسانیت کی عید ہے ۔اس د ن انسانی تخلیق کا آخری مقصد بیان ہو ااور انسانیت کا مقصد معین ہوا ۔جنھوں نے اس دن کو برباد کیا انھوں نے حق انسانیت کو پا ئمال کر دیا اور ار بوں انسانوں کے حق کو نظرانداز کیا ہے ۔
غدیر ہماری روح اور ہماری سرشت ہے ۔ھم غدیر کے ذریعہ ہی اس دنیا میں آئے ہیں ،اور ہم اسی کے ساتھ اپنے پر وردگار سے ملاقات کریں گے ۔
غدیرفکر کا مقام ہے اس لئے کہ اس کا تعلق انسان کی حقیقت سے ہے ،اور انسان کے وجود میں مختلف جہتوں سے مو ثر ہے اور دنیا و آخرت میں اس کی ذمہ داریوں کو معین کر تا ہے ۔
چودہ سو سال سے شیعہ غدیر کے بابرکت نتھرے پانی کو ولایت کے درختوں کی جڑوں پر چھڑ کتے ہیں ،اور اس خشک بیابان سے ، عقائد سے ھرے بھرے پودوں اور محبت کے خوبصورت پھولوں کو پروان چڑھا تے ہیں حضرت علی علیہ السلام سے کینہ و بغض و حسد رکھنے والوں سے برائت اور ان پر لعنت کرکے ان کی بنیادوں کو اکھاڑ پھینکتے ہیں اور رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عطا کی ہو ئی محکم و مضبوط حجت کے ذریعہ غدیر کی سرحدوں کو مخالفین غدیر کےلئے بند کرکے ان سے ھمت دکھانے کی طاقت و قوت چھین لی ہے ۔غدیر کے شھیدوں نے چودہ سو سال کے عرصہ میں غدیر کے نام پر شھید ہونے والے ،غدیرکے سب سے پہلے شھداء حضرت فا طمہ زھرا سلام اللہ علیھا اور حضرت محسن علیہ السلام کے نقش قدم پر چلنے والے اور کربلا میںاس کے با عظمت شھدا کے پیروکار ہیں ۔عاشورا مولود غدیر اور اس کا محا فظ ہے اور ٹھیک سقیفہ کے مد مقابل مو رچہ بنائے ہوئے ہے ۔
غدیر میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی چشم مبارک بہت دور کا نظارہ کر رہی تھیں جو کشتی اسلام کا بیڑا پار لگا ئے اور اس کے آخری ہدف کو آشکار کرے ،مستقبل کا نظارہ بھی کر رہی تھیں بھیڑیا دھسان عقیدہ رکھنے والے اسلام کو اندر سے کھوکھلا کرنے کی کوشش میں لگے ہیں ۔
اسی سبب کے مد نظر پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھ کو اپنے دست مبارک میں لیکر بلند کیا اور تاریخ کی تمام نسلوں کو دکھلایا اور ان کا اپنے جا نشین کے عنوان سے تعا رف کرایا ۔
ھمارے پاس غدیر کی میراث کے وارث ہیں اور ہمارا وجود اسی کی عظمت کامرہون منت ہے آج غدیر دشمنوں کی آنکھوں کو خیرہ کرنے والا وہ آفتاب ہے جو پوری دنیا کو ضوفشاں کررھا ہے اور اس کی طاقتور کشتی کو وسیع و عریض گیتی میں کہے رہا ہے اور چودہ سو سال سے سقیفہ کے فتنہ میں غرق ہو نے والوں کو گرمی پہنچا رہا ہے اور اس کوکفر و گمراھی کے گردابوں سے بچاکر اس کی روح کو نئی زندگی عطا کررھا ہے ۔
اے صاحب غدیر
غدیر والے آپ کو اوج غدیریت سے سلام عرض کرتے ہیں ،تعظیم کرتے ہیں ،آپ کے دست مبارک، پیر اورآپ کی خاک پا کو چو متے ہیں آپعليهالسلام کے بلند و بالا مقام کے با لمقابل خود کو بہت چھو ٹا سمجھتے ہیں !۔۔۔اگر آپعليهالسلام ان کی اس خا کساری کو قبول فر ما ئیں ۔!؟
انتظار سے لبریز آنسو کے قطرہ کا ۔۔۔سلام !
اس کتاب کو تحریر کرنے کی وجہ
غدیر سر نوشت ساز واقعات کا مجموعہ ہے کہ ’خطبہ غدیر “ان کی سب سے آشکار اور سب سے زندہ سند ہے ۔یہ خطبہ اسلام کا بنیادی دستور اور اسلام کی ابدی عزت ہے جس کا خلاصہ جملہ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ“” جس کا م یں مو لا ہوں اس کے علی مو لا ہیں “اور اس کا نتیجہ ”امیر المو منین علیہ السلام کی ولا یت “ہے ۔
غدیر کا ایک چھوٹے جملہ یا ایک تفصیلی تقریر میں خلا صہ نہیں کیا جا سکتا ہے اس خطبہ کے ذیل میںبہت سے مطالب اور واقعات ہیں جن کو واقعہ غدیر کے مجمو عہ کے عنوان سے یاد کیا جا سکتا ہے اور اس کی مکمل نقشہ کشی کی جا سکتی ہے ۔
غدیر خم کے خطبہ کے ذیل میں جو کچھ رونما ہوااس سے اس عظیم واقعہ میں پوشیدہ حقائق کو درک کرنے یھاں تک کہ خطبہ غدیر کے بعض جملوں اور عبارتوں کو سمجھنے کے اسباب فر ا ہم کرتا ہے ۔
اگر ہم کو غدیر کے واقعات کا الگ الگ علم ہوجائے لیکن ہم پر ان کا ایک دو سرے سے رابطہ واضح نہ ہو تو ہم پر ایسی حقیقتیں مخفی رہ جا ئیں گی جن کا ایک مسلمان کے عقیدے سے براہ راست تعلق ہے اور ان کے مد نظر اکثر مسلمانوں کے حضرت امیرالمو منین علیہ السلام کی ولایت و امامت سے منحرف ہو نے کے علل واسباب سے پردہ اٹھ جا ئےگا ۔
تا ریخ کے ان فقروں کی جمع آوری ،ان کی تنظیم اور ان کے رابطہ کو درک کرنا ایک مسلمان کو یہ سمجھا تا ہے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان مخصوص حالات میں (مسلمانوں کوائمہ معصومین علیھم السلام کے راستہ پر متحد رہنے کے لئے یہ مفصل خطبہ ایک بڑے شان و شوکت والے پروگرام میں ارشاد فر مایا اور قیا مت تک کےلئے اپنے جا نشینوں کاباقاعدہ تعارف کرایا ۔ان تمام باتوں کے با وجود مسلمان ایک دوسرے کیوںمتفرق ہیں اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے معین و مشخص فر ما ئے ہو ئے جانشینوں کے ایک دل و زبان سے پیرو کار کیوں نہیں ہیں ؟
اس مقام پر پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم مسلمانوں سے سوال فر ما سکتے ہیں ۔ہر مسلمان کاضمیراپنے آپ کواس خطبہ کے بالمقابل دیکھتا ہے تو وہ واقعہ غدیر کا دقت سے مطالعہ کرنے پرمجبور ہوجاتاہے ۔
اسی سبب کے مد نظر ہم نے یہ کتاب تا لیف کی ہے اور اسی سبب نے ہمیں موضوع ”غدیر “کے تمام جزئیات کو جمع کرنے اور موجودہ کتاب کی صورت میں قا رئین کرام کی خدمت میں پیش کرنے کا شوق دلایا ہے ۔
کتاب کے اغراض و مقاصد
اب جبکہ حدیث غدیر کی سند اور متن کے سلسلہ میں علامہ مجلسی ،علا مہ میر حا مد حسین ہندی، علا مہ امینی اور دو سرے علماء اعلام کے ذریعہ علمی بحثیں با لکل مکمل اور صاف طور پر بیان ہو چکی ہیں تو ان حضرات کی کا وشوں اور زحمتوں کو مد نظررکھتے ہوئے خطبہ غدیر پر مفصل نظر ڈالنا ضروری ہے ،او ر یہ خطبہ جس کو خا تم الانبیاء نے سب سے اہم اور آخری پیغام کی شکل میں ایک دائمی منشور کے عنوان سے مسلمانوں کےلئے بیان فرمایا ہے لہٰذا اس کامخصوص حالات کے ساتھ جائزہ لینا ضروری ہے ۔
اس اہم مسئلہ کےلئے ہمیں سب سے پہلے اُس وقت کے اسلامی معا شرہ پر حاکم فضا کا مطالعہ اور واقعہ غدیر کی اہمیت کی مختلف جہات کا جا ئزہ لیناہوگا ہم نے کتاب کا پہلا حصہ اسی مطلب سے مخصوص کیا ہے ۔
اس کے بعد واقعہ غدیر کے رونما ہو نے کے تمام جزئیات کو مد نظر رکہیں گے جن کا آغاز پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مدینہ سے سفر کرنے سے ہو تا ہے یھاں تک کہ جو کچھ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مکہ مکرمہ اور مراسم حج انجام دیتے وقت غدیر کے سلسلہ میں بیان فر مایا ہے ۔لوگوں کے غدیر میں حاضر ہو نے کی دعوت ، حاجیوں کا ایک ساتھ نکلنا اور ان کا غدیر کے بیابان میں حاضر ہونا ،غدیر خم کے ظاہری اور رو حی اسباب کا فرا ہم کرنا ،خطابت کا طریقہ ،خطیب ،مخا طبین اور جو کچھ اس مقدس مقام پر تین دن کے عرصہ میں وقوع پذیر ہوا جس میں بیعت ،مبارک بادی ،جبرئیل کا ظاہر ہونا اور معجزہ الٰہی شامل ہے یہ سب کتاب کے دوسرے حصہ میں بیان کیا گیا ہے ۔
یہ بات بھی جان لینا ضروری ہے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس عظیم اقدام کے وقت منافقین اور دشمنان اسلام منصوبے بنانے اور خیانت کر نے میں مشغول تھے اور اسلام کے خلاف اپنے پروگرام تشکیل دے رہے تھے ، اور آنحضرت کو قتل کرنے کا منصوبہ بنارہے تھے ۔پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کے ان تمام منصوبوں سے آگاہ تھے اور معاشرہ کے اجتماعی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیتے تھے تیسرے حصہ میں اسی موضوع کو بیان کیا گیا ہے ۔
اس کے بعد چوتہے حصہ میں اس بات کی نوبت آگئی ہے کہ خطبہ غدیر کے مطالب کا مو ضوعی اعتبار سے مطالعہ کیا جا ئے تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ اسلام کا یہ دائمی منشور کن پیغامات کا حامل ہے اس طرح خطبہ کے عربی متن اور اردو ترجمہ کا دقت سے مطالعہ کیا جائے گا ۔
حدیث غدیر کی سند اور متن کے علمی اور استدلالی ابحاث کے سلسلہ میں کتاب کے پانچویں حصہ میں اشارہ کیا گیا ہے ۔
چھٹے حصہ میں خطبہ غدیر کے عربی متن کا نو نسخوں سے مقابلہ کرکے منظم و مرتب صورت اور اعراب گذاری کے ساتھ قارئین کرام کی خدمت میں پیش کیا گیا ہے اور حاشیہ میں نسخوں کے اختلاف اور ضروری توضیحات درج کی گئی ہیں ۔
ساتویں حصہ میں خطبہ کا مکمل اردو ترجمہ اس کے عربی متن سے مطابقت کے ساتھ نقل کیا گیا ہے
خطبہ غدیر سے نتائج اخذ کرنا اور اس کی تفسیر آٹھویں حصہ میں تحریر کی گئی ہے ۔
نویں حصہ میں ”عید اور جشن غدیر “،اھمیت غدیر ،اورعید غدیر کس طرح منائی جا ئے کے متعلق مطالب تحریر کئے گئے ہیں تا کہ ہم اسلام کے اس بزرگ شعار کو زندہ کرکے اپنے ائمہ سے تجدید بیعت کرسکیں۔
دسویں حصہ میں تاریخچہ غدیر اور چودہ صدیوں میں اس کے تاریخ اسلام پر ہو نے والے اثرات سے متعلق بحث کی گئی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس حساس موڑ پر اقدامات کتنے دقیق تھے جو اتنے طولانی زمانہ تک مسلمانوں کےلئے موثر اور کارساز واقع ہوئے ہیں ۔
اس تالیف میں انہیں اغراض و مقاصد کو مد نظر رکھا گیا ہے انشاء اللہ ان سب کو اس کتاب میں الگ الگ عنوان سے بیان کیا جائے گا ۔جو نتائج آپ حضرات کی خدمت میں پیش کئے جا ئیں گے وہ سب اہل تشیع کے بڑے بڑے علماء کی علمی کاوشوں کا نتیجہ ہیں جنھوں نے ہمارے لئے ان اسناد و مدارک کی حفاظت کی ہے اور ان کے حدیثی اور تا ریخی متون کا جائزہ لیا گیاہے ۔
اس بات کا بیان کر دینا بھی لازم و ضروری ہے کہ ہم نے جو کچھ بھی واقعہ غدیر کو بیان کرنے میں محنت و کوشش کی ہے ان میں فقط مدارک کے اسناد اور متون کی عبارتوں کے جزئیات پر بہت زیادہ غوروفکرکی ہے اور اندازہ ،خیالی اور گڑھی ہو ئی داستانوں کو نقل کرنے سے گریز کیا گیا ہے ۔
کتاب کے منابع و مصادر
غدیر کے سلسلہ میں شیعہ اور سنّی منابع و مصادر کی کتابوں کی دقیق اور جا مع فھرست کتاب کے آخر میں ہر مورد کے سلسلہ میں دقیق حوالہ کے ساتھ درج کی گئی ہے ۔
علاّمہ شیخ حر عاملی ،علامہ مجلسی،علامہ بحرانی اور علامہ امینی رضوان اللہ علیھم نے چا ر کتابوں ” اثبات الھدات جلد/ ۲ ،بحارالانوار جلد / ۳۷ ،عوالم العلوم جلد/ ۱۵/۳ اور الغدیر جلد / ۱ میں غدیر سے متعلق بطور کامل اور جامع مطالب بیان کئے ہیں ان بزرگوں کی زحمتوں کے مد نظر آسانی سے متعلقہ اسناد و مطالب تک رسائی کی جا سکتی ہے ۔
اس کتاب کی تالیف کے بعد پچاس سے زیادہ اہم کتابوں ”جو مستقل طور پر غدیر کے سلسلہ میں تالیف کی گئی ہیں “ کا مطالعہ کیا گیا اور ان سے استفادہ کیا گیا ہے ۔
یہ کتاب پہلی مرتبہ غدیر کے چودہ سو پانچویں ۱۴۱۵ ھ مطابق ۱۳۷۴ ھ ش سالگرہ کے موقع پر اور دوسری ،تیسری اور چوتھی مرتبہ ۱۴۱۷ ھ ، ۱۴۱۸ ھ ،اور ۱۴۲۰ ھ میں طبع ہوئی ہے اب یہ چوتھا ایڈیشن مندرجہ ذیل نکات کے اضافہ کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے :
۱ ۔نو حصوں سے اخذ شدہ نتائج ۔
۲ ۔خطبہ کے متن کا دوسرے اور دو نسخوں سے مقابلہ ۔
دسویں حصہ ”غدیر قیامت تک کھلی رہنے والی فائل“کا اضافہ ۔
موجودہ کتاب اس دن کے وعدہ کی وفا کےلئے لکھی گئی ہے جس دن پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے عہد لیاتھا اور دریائے بیکران غدیر کے سلسلہ میں دقیق تحقیق اور مطالعہ کےلئے پیش کی جا رہی ہے
اس دن کے انتظار میں جس دن ہم صاحب غدیر حضرت بقیة اللہ الاعظم ارواحنا فداہ وعجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے ظہور کے ذریعہ”مَنْ کُنْتُ مَوْ لَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “ کو عمل ی طور پر محقق ہو نے کا مشاہدہ کریں،ان کے وجود مبارک کے نزدیک”اَللَّهُمَّ وَالِ مَنْ و َالَاهُ “ کے معنی کا تہہ دل سے احساس کریںاور ان کی مدد سے”اَللَّهُمَّ انْصُرْمَنْ نَصَرَهُ“ کے اوج کا اظھار کر یں اور غدیر کو جس طرح غدیر خم میں بیان کیا گیا اسی طرح مانیں اس سے لذت حاصل کریں اور لطف اٹھائیں ۔
محمد باقر انصاری زنجانی خو ئینی
قم ،
عید غدیر ۱۴۲۱ ھ ،زمستان ۱۳۷۹ ۔
____________________
[۱]۔عوالم العلوم جلد ۱۱ صفحہ ۵۹۵،اسنی المطالب جزری صفحہ۵۰ ۔
واقعہ غدیر کاپیش خیمہ
غدیر کاعمیق مطالعہ کر نے کےلئے اس عظیم واقعہ کے وقوع پذیر ہونے کے وقت معا شرہ کے سماجی،اعتقادی اور اخلاقی حالات سے آگاہ ہو نا ضروری ہے ،تا کہ معلوم ہو کہ غدیر خم میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سا تھ کون لو گ تھے ؟ اور وہ کیسے مسلمان تھے ؟ان کا عقیدہ کیسا تھا ؟اور وہ کتنے گروہوں میں تقسیم ہو سکتے ہیں ؟
یہ فکری آمادگی واقعہ غدیر کے جزئیات اور اس کی خاص کیفیت کاتجزیہ و تحلیل کر نے میں مدد گار اور نتیجہ خیز ثابت ہو گی ۔
۱.ہجرت کے پہلے عشرہ میں اسلامی معا شرے کی تشکیل
دین اسلام کی تبلیغ میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رسالت( ۱ )
دین اسلام آخری دین ہے جو گزشتہ تمام ادیان کو منسوخ کر دینے والا اور معارف الٰہی کے سب سے بلند وبالا مطالب کا حا مل ہے جو کسی زمان و مکان میں محدود نہیں ہیں ۔لہٰذا ان معارف کو پوری دنیا میں ہمیشہ کےلئے لوگوں کی فکر و روح کی تعمیر کرنے والی اور انسانیت ساز قانونی دستاویز کے طور پر ہونی چا ہئے
اس عظیم رسالت کی ذمہ داری خا تم الانبیاء حضرت محمد بن عبد اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کاندھوں پرڈالی گئی ہے ۔ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اسلامی احکام و معارف لوگوں کےلئے آہستہ آہستہ بیان فر ما تے تھے اور ہر اقدام سے پہلے اس کےلئے ماحول کوسازگار بناتے تھے ۔جیسے جیسے اسلام کی قدرت و طاقت اورترقی میں اضافہ ہو تا جاتا تھا پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم بھی سنگین تر اسلامی مطالب کو لو گو ں کے سامنے بیان فر ما تے تھے ،اور یہ طریقہ آپ کی حیات طیبہ کے آخری وقت تک جاری و ساری رہا ۔
ہجرت سے پہلے مسلمان( ۲ )
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تیرہ سال کی تبلیغ کے دوران مکہ معظمہ میں مسلمانوں کی تعدادبہت کم تھی اور اس کی وجہ ظا ہر ی طور پر اسلام کاکمزور ہوناتھا ،لہٰذا دنیوی خواہشات کے خواھاں اسلام کی طرف بہت کم ما ئل ہو تے تھے ۔
اگر چہ اس دور میں بھی کچھ منا فقین اپنا مستقبل بنا نے کی غرض سے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں حاضر رہتے تھے ، اپنے جاہلیت والے مقاصدکوحاصل کرنے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اقدامات کو نابود کر نے کےلئے دل ہی دل میں منصوبہ بنایا کر تے تھے ،لیکن دوسرے افراد کی نیک نیتی ان کے تمام ارادوں پر پانی پھیر دیتی تھی ۔
ہجرت کے بعد مسلمان( ۳ )
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدینہ تشریف آوری ،آپ کے استقبال اور مسلمانوں کےلئے امن و امان کی جگہ فراہم ہو جا نے کے بعدروز بروز مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہو تا گیا۔اسلام اس قدر ترقی کی راہ پر گا مزن تھا کہ گروہ گروہ اور کبھی توساراقبیلہ مسلمان ہو جا تا تھا ۔مدینہ کے گرد و نواح سے بھی افراد آنحضرتعليهالسلام کی خدمت با برکت میں حا ضر ہو تے تھے اور اسلام قبول کر تے تھے ۔اس بنا پر مسلمانوں کی آبادی میں ایک بنیادی تبدیلی ہو رہی تھی ،مشرکین ،یہودی اور عیسائی ایمان لا کرمسلمان معاشرہ میں داخل ہو چکے تھے اور یہ معاشرہ مختلف قبائل اورمختلف گرو ہوں کو اپنے اندر جگہ دے رہا تھا۔ان لوگوں میں سے بعض لوگ اپنے قبیلہ کے سرداروں کی اتباع میں ، کچھ جنگو ں میں شرکت کر کے مال غنیمت حا صل کر نے کے قصد و ارادہ سے مسلمان ہوئے اور بعض دوسرے افرادعھدہ ومنصب وغیرہ حاصل کرنے کی غرض سے اسلام لا ئے ۔
جب پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جنگیں اوج پر پہنچیں اورمسلمانوں کی معاشرتی اور فوجی طاقت بڑھی اور مسلمان جنگوں کو فتح کر نے لگے ،تو کثرت سے لوگ اپنی جان و مال کی حفا ظت کے لئے اسلام قبول کر نے لگے اور کچھ لوگو ں نے رسوا و ذلیل نہ ہونے کی خاطرخود کو اکثریت کے ساتھ ملحق کر لیا ۔
اگرچہ مخلص اور فدا کار مسلمانوں کی تعدادبھی کم نہیں تھی اور یھی وہ افراد تھے جو منافقین کے منصوبوں اور دنیا پرستوں کی خوا ھشات میں رکاوٹ ڈالتے تھے ۔
فتح مکہ کے بعد مسلمان( ۴ )
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذریعہ مکہ فتح ہو نے کے بعدیہ صورت حال نے مزیدپیچیدہ ہوگئی۔یہ بڑی فتح جس میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور حضرت علی علیہ السلام نے بت پرستی اور شرک کی کمر توڑ دی تھی ، پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے عام طور پر در گزرکر نے کے اعلان کے بعد بہت سے وہ افراد جو کل تک جنگوں میں مسلمانوں کے خلاف تلوار چلاتے تھے ،مسلمانوں کے گروہ میں داخل ہو گئے اس طرح مسلمان معاشرہ نے نئی شکل اختیارکرلی ۔
حجةالوداع کے سال اسلامی معاشرہ( ۵ )
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیات طیبہ کے آخری سال میں جھاں آپ کے ساتھ ایک طرف سلمان ابوذر اور مقداد جیسے مخلص مسلمان تھے تو دو سری طرف وہ نئے مسلمان بھی تھے جو کل تک اسلام کے خلا ف تلواراٹھایا کرتے تھے ۔اس کے علاوہ خواہشات نفسانی کے پابند ہویٰ و ہوس کے غلام اور دنیا کے خواھاں افراد بھی تھے جن کامقصددنیاحا صل کر نا تھا۔
کچھ افراد کی افکار پر دور جا ہلیت کے تعصبات کا غلبہ ،بدر و احد وحنین اور خیبر کے کچھ باقیماندہ عُقدے اور دنیاوی لالچ نے کچھ لوگوں کے دلوں سے ایمان راسخ کو ختم کر دیا تھااس کے علاوہ مخفی حسد جو روز بروز آشکار ہو تا جا رہا تھا حجة الوداع کے وقت سب چیزیں مسلمانوں کے معا شرہ پرحکم فرما تھیں اور اس وقت کی فضا انہیں اسباب کی دین تھی۔
مسلم معا شرے میں منا فقین( ۶ )
مسلم معاشرے کی سب سے بڑی مشکل، نفاق تھاجوان افراد کی مختل کمزوریوں سے فائدہ اٹھاکر ان کے اندر سے روح ایمان کو سلب کرکے انہیں اپنی طرف مائل کر لیتاتھا ۔ منافقین وہ لوگ تھے جو ظاہری طور پر تو مسلمان تھے لیکن قانونی طور پر ان سے پیش آنامشکل تھا ۔
یہ گروہ بعثت کی ابتدا ہی سے مسلمانوں کے درمیان مو جودتھا اور بعض تو ابتدا ہی سے منا فقانہ نیت سے مسلمان ہو ئے تھے ،لیکن ان کی تعداد بہت کم تھی ۔جیسے جیسے اسلام کی قوت بڑھتی جا رہی تھی ویسے ویسے منا فقین بھی اپنے کو منظم کر تے جا رہے تھے اور اسلام کی ظاہر ی عبا زیب تن کئے ہو ئے اسلام کے نئے پودے پر کفار و مشرکین سے بھی زیادہ مہلک وار کر تے تھے ۔
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیات طیبہ کے آخر ی سالوں میں منا فقین عملی طور پر میدان میں آگئے تھے ،وہ مٹینگیں کیا کر تے تھے ،اسلام اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خلاف سا زش کر تے اور ماحول خراب کیا کر تے تھے جس کی بہترین گواہ قرآن کریم کی آیات ہیں ۔ اگر ہم قرآن کر یم کی آیات کے نا زل ہو نے کی تر تیب کا جا ئزہ لیں تو منا فقین سے متعلق اکثرآیات پیغمبر اکر مصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیات طیبہ کے آخری سالو ں میں نا زل ہو ئی ہیں ۔( ۷ )
منافقین ظا ہر ی طور پرتو مسلمان تھے لیکن با طنی طور پر کفر والحاد اور شرک کی طرف ما ئل تھے ان کے دل میں یہ آرزو تھی کہ دین اسلام کو ہر اعتبار سے نقصان پہنچا یا جا ئے اورکسی طرح اپنی پرانی حا لت پرپلٹ جا ئےں لیکن وہ یہ بھی اچھی طرح جا نتے تھے کہ ہم اس ہدف کو آسانی سے نہیں حا صل کر سکتے اور کم سے کم پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیات طیبہ میں تو ایسا ہو نا نا ممکن ہے ۔لہٰذا انھوں نے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد اپنے ناپاک عزائم کو عملی جامہ پہنانے کا منصوبہ بنایا ۔
انھوں نے حجةالوداع کے سال میں اپنے درمیان کئی عہد نا موں پر دستخط کئے تھے اور ان میں اسلام کے خلاف کئی دقیق اور پیچیدہ سازشیں تیارکی تھیں ۔( ۸ )
غدیر ،سازشوں کی ناکامی کی بنیاد
جو چیزاس ماحول میں منا فقو ں کی سازشوں کو بالکل نیست و نا بود ،اسلام کواس کی اصلیت اور حقیقت کے ساتھ محفوظ رکھ سکتی تھی وہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد آپ کے جا نشین کااعلان تھا۔ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی بعثت کے آغاز سے ہی ہر منا سب مو قع پراس کا اعلان فر ما یا تھا یھاں تک کہ متعدد مر تبہ سند کے طور پرمعاشرہ کی پشت پناھی کے ساتھ بیان فرمایا ،یھاں تک کہ ایک روز امیر المو منینعليهالسلام کو بلایا اسکے بعد اپنے خادم کو حکم فرما یا کہ قریش کے سو افراد ،دیگرعربوں سے اسّی افراد عجم سے ساٹھ افراد اور حبشہ کے چالیس افراد جمع کریں جب یہ افراد جمع ہو گئے تو آپ نے ایک کاغذ لا نے کا حکم دیا ۔
اس کے بعد سب کو ایک دو سرے کے پہلو میں نماز کی طرح صف میں کھڑے ہو نے کا حکم دیا اور فر مایا: ”ایھا الناس ، کیا تم اس بات کو تسلیم کر تے ہو کہ خداوند عالم میرا ما لک ہے اور مجھ کو امر اور نھی کر تا ہے اور میںخدا وند عالم کے قو ل کے مقابلہ میں امر و نھی کر نے کا حق نہیں رکھتا“؟
انھو ں نے کہا :ھاں ، یا رسول اللہ ۔آپ نے فر مایا :کیا میں تمھارے نفوس پر تم سے زیا دہ حا کم نہیں ہوں ، تم کو امر و نھی کرتاہوں اور تم کو میرے مقابلہ میں امر و نھی کر نے کا حق نہیں ہے ؟انھوں نے کہا : ھاں ،یا رسول اللہ ۔
فرمایا :جس شخص کا خداوند عالم اور میں صاحب اختیار ہوں یہ علی بھی اس کے صاحب اختیار ہیں یہ تم کو امر و نھی کر نے کا حق رکھتے ہیں اور تمہیں ان کو امر و نھی کر نے کا حق نہیں ہے ۔خدایا علیعليهالسلام کے دوست کو دوست رکھ اور علیعليهالسلام کے دشمن کو دشمن قرار دے ،جو اس کی مدد کرے تو اس کی مدد کر،جو اس کو ذلیل و رسوا کر ے تو اُس کو ذلیل و رسوا کر۔ خدایا تو اس بات کا شاہد ہے کہ میں نے تبلیغ کی اور ان تک پیغام پہونچا دیا اور ان کے سلسلہ میں پریشان رہا۔
اس کے بعد اس کاغذ(جس میں یہ مطالب تحریر تھے )کو ان افراد کے سا منے تین مر تبہ پڑھنے کا حکم دیا ۔ اس کے بعد تین مر تبہ فر مایا :تم میں کون شخص اس عہد سے پھرجائے گا؟انھوں نے تین مرتبہ کہا : ہم خدا اور اس کے رسول کی پناہ چا ہتے ہیں اگر ہم اپنے عہد سے پھریں۔
اس کے بعد آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کاغذکو لپیٹا اور اس پر مجمع میں موجودسب افراد کے دستخط کرائے اور فرمایا: اے علیعليهالسلام اس نوشتہ (تحریر ) کو اپنے پاس رکھو،اور اگر ان میں سے کسی نے عہد شکنی کی تو یہ تحریر اس کو پڑھ کر سنا ناتا کہ میں قیامت میں اس کے خلاف مبغوض رہوں ۔( ۹ )
ان تمام اقدامات کے با وجود پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت علیعليهالسلام کو قا نونی طور پر اپناجانشین و خلیفہ معین فر ما نے کےلئے اپنی حیات طیبہ کے آخری ایا م میں زمان ،مکان اور تا ریخ کے اس عظیم جم غفیر کے منتظر تھے منافقین کو بھی اس چیز کا خطرہ تھا اور متعدد طریقو ں سے اس اعلان میں رو ڑے اٹکا رہے تھے ۔
قانونی طور پر زمان و مکان کے اعتبار سے اعلان کر نے کا سب سے بہترین مو قع ’غدیر خم“تھا جس نے منافقین کو مبہوت کر کے رکھ دیا تھا، ان کی کئی سالو ں سے چلی آرھی سازشوں کوچکنا چور کر دیااور ان کے شیطانی منصوبوں پرپانی پھیر دیا ۔( ۱۰ )
حضرت فا طمہ زھراءصلىاللهعليهوآلهوسلم اس سلسلہ میں فر ما تی ہیں :
”وَ اللهِ لَقَدْ عَقَدَ لَهُ یَوْ مَئِذٍ الْوِلَا ءَ لِیَقْطَعَ مِنْکُمْ بِذلِکَ الرَّجَا ءَ “ ( ۱۱ )
”پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر کے دن عقد ولایت کو حضرت علیعليهالسلام کےلئے محکم و استوار فرما یا تا کہ اس طرح تمھا ری آرزوئیں اس سے منقطع ہو جا ئیں “
غدیر عرصہ دراز کےلئے اتمام حجت
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس دین اسلام کے قیامت تک باقی رہنے اور پوری دنیا میںمسلمانوں کے پھیل جا نے کے بعدقیا مت تک باقی رہنے والے اپنے جانشینوں (یعنی بارہ ائمہ معصومین علیھم السلام)کا اپنے ایک خطبہ میں تعارف کرا یا ۔
اس لئے اگر اس دن اکثر مسلمانوں نے اپنے ھمدرد پیغمبرکے کلام کوتسلیم نہ کیاا ور امیر المو منین حضرت علی علیہ السلام کی بلا فصل خلافت کو قبول نہیں کیا لیکن مسلمانوں کی بعد میں آنے والی نسلوںکے اکثر افرادنے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حقیقی وصی کی معرفت حا صل کرلی ۔یھی غدیر کا سب سے اہم اور بنیادی ہدف تھا ۔
اگر چہ منا فقین نے اپنے ارادوں کو عملی جا مہ پہنایا لیکن یہ غدیر کا ہی نور ہے کہ جس نے چودہ صدیا ں گذر جانے کے با وجود دنیا کی اس وسیع و عریض زمین پر تاریخ کے ہر دورمیں کروڑوں شیعوں اور اہل بیت علیھم السلام سے محبت رکھنے والوں کوباقی رکھا اور اسی طرح نور ولایت کودنیا کے مختلف مقامات پر روشن اورتابناک محفوظ رکھا ہے ۔
اسی طرح اگر عر صہ دراز تک مسلمانو ں کے گروہ نے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حقیقی جا نشینوں کے سا منے سر تسلیم خم نہ کیا اور نہیں کر تے ہیں لیکن شیعوں کی یہ بہت بڑی تعداد فقط علی بن ابی طالبعليهالسلام اور ان کی نسل سے گیارہ فرزندوں کو پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جا نشین سمجھتی ہے ۔
اس مقدمہ سے یہ بات ظاہر ہو تی ہے کہ خطبہ غدیر کچھ محدود گروہ اور خاص زمانہ کےلئے نہیں بیان کیا گیا تھا ،بلکہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خود یہ ارشاد فر مایا کہ حا ضرین غائبین کو ،شھر میں رہنے والے گاوں میں رہنے والوں کو اورباپ اپنی اولاد کوقیامت تک یہ خبر پہنچا تے رہیں اور سب اس پیغام کو پہنچا نے میں اپنی ذمہ داری پر عمل کریں ۔( ۱۲ )
جب پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے لوگوں پر اپنی حجت تمام کر دی ،تو اب یہ صرف لو گو ں کے اوپر ہے کہ وہ چا ہے جنت کو اختیار کر یں یا جہنم کو ،اور ان کا ولایت علیعليهالسلام کو قبول کر نا یا قبول نہ کرنا ایک الٰہی امتحان ہے ۔
اس سلسلہ میں امام علی رضا علیہ السلام فر ما تے ہیں :
(مَثَلُ الْمُومِنِیْنَ فِیْ قَبُوْلِهِمْ وِلَاءَ اَمِیْرِالْمُو مِنِیْنَ عَلَیْهِ السَّلّا مُ فِیْ یَوْمِ غَدِیْرِخُمٍّ کَمَثَلِ الْمَلَا ئِکَةِ فِیْ سُجُوْدِهِمْ لِآدَمَ،وَمَثَلُ مَنْ اَبیٰ وِلَایَةَ اَمِیْرِالْمُو مِنِیْنَ یَوْمَ الْغَدِیْرِ مَثَلُ اِبْلِیْسَ )
”غدیر خم کے دن حضرت علیعليهالسلام کی ولایت کو قبول کر نیوالے مو منین کی مثال حضرت آدم کو سجدہ کر نےوالے ملا ئکہ جیسی ہے ،اور ولایت امیر المو منینعليهالسلام کا انکار کرنے والوں کی مثال ابلیس جیسی ہے ‘( ۱۳ )
اس مختصر سی بحث سے اسلامی معا شرے پر حکم فرما فضااور وہ حالات جن میں واقعہ غدیررونما ہوا اور وہ اھداف و مقاصدجوغدیرکے مد نظر تھے واضح ہو جا تے ہیں ۔
۲. خطبہ غدیر کی اہمیت کے پھلو
پیغمبر اسلا مصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پوری تا ریخ بعثت میں صرف ایک حکم ایسا ہے جو اتنے تفصیلی مقد مات، ایک خاص مقام اور مسلمانوں کے جم غفیر میں ایک طولانی خطبہ کے ذیل میں بیان ہو ا ہے دیگر تمام احکام الٰہی مسجد النبی یا آپ کے بیت الشرف میں بیان ہو تے تھے اور اس کے بعد ان کی اطلاع سب کو دیدی جا تی تھی ، اسی بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلا م کا یہ الٰہی حکم دوسرے تمام الٰہی احکام سے ممتاز اور اہم ہے ۔حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام فر ما تے ہیں :
لَمْ یُنَادِبِشَيء مِثْلَ مَانُوْدِیَ بِالْوِلَایَةِ یَوْمَ الْغَدِیْر
”غدیر کے دن ولایت کے مانند کسی حکم کا اعلان نہیں ہوا “
ہم ذیل میں فھر ست وار خطبہ غدیر کی اہمیت کے اسباب بیان کر رہے ہیں :
جغرافیائی اعتبار سے غدیرکی جگہ جحفہ میں اس مقام سے پہلے ہے جھاں سے تمام راستے الگ الگ ہوتے تھے اورتمام قبائل اپنے اپنے راستہ کی طرف جانے کی وجہ سے ایک دوسرے سے جدا ہوتے تھے ۔اسی طرح اس گرم و ریگستانی علاقہ میں تین دن قیام کرنااور وقت کے لحاظ سے حجة الوداع کے بعد کا زمانہ اوریہ اس دن تک مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع تھا ۔
خطیب کی جگہ،مخاطبین یعنی حا جیوں کی خاص کیفیت وہ بھی اتمام حج کے بعداور واپسی کے وقت نیزمخاطبین کے سامنے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات کے نزدیک ہو نے کااعلان اس لئے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اس خطبہ کے ستّر دن بعد اس دنیا سے رحلت فر ما گئے ۔
خدا وند عالم کا یہ فرمان ”اے پیغمبر اس پیغام کو پہنچا دیجئے جو آپ پر خدا وند عالم کی طرف سے نا زل ہوا ہے اگر آپ نے یہ پیغام نہ پہنچایا تو گویا رسالت کا کو ئی کام ہی انجام نہیں دیا “یعنی فرامین الٰہی میں سے کسی ایک فرمان کے لئے بھی ایسا حکم نہیں ہوا ۔
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو خوف اورمسلمانوں کے مستقبل کی خاطر ولایت اور امامت کے حکم کو جاری کر نے کےلئے خدا کاقطعی فیصلہ ، اس حکم الٰہی کو پہنچا نے کی خصوصیات میں سے ہے کہ پیغمبر کسی بھی حکم کو پہنچا نے کےلئے اس طرح فکرمند نہ ہو ئے ۔
خدا وند عالم کا دشمنوں کے شر سے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت کی ذمہ داری لینا اس پیغام اور اس اعلان کی خصوصیت ہے اور احکام الٰہی میں سے کسی کے لئے بھی ایسی ضما نت نہیں دی گئی ۔
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا غدیر خم میں لوگوں سے اقرار لینا ۔
اس دستور الٰہی کو بیان کر نے کےلئے خاص اسباب کا اہتمام، اتنا بڑا مجمع ،بیان کر نے کا خاص انداز اور منبر صرف اسی حکم الٰہی کےلئے تھا ۔خاص طور سے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا لوگوں کو الوداع کہنا جبکہ بیرونی دشمنوں کی طرف سے اب اسلام کونقصان پہنچانانا ممکن ہو گیا تھا۔
مسئلہ امامت صرف ایک پیغام اور ایک ہی خطبہ کی صورت میں نہیں پہنچایا گیا بلکہ خدا وند عالم کے حکم وفر مان اور عام مسلمانوں کی بیعت اور ان سے عہد کے ذریعہ سے عمل میںآیا ۔
وہ عظیم ا ور حساس مطالب جو ولایت کوبیان کر تے وقت خطبہ میںذکرکئے گئے ہیں ۔
خطبہ سے پہلے اور بعد واقع ہو نے والے خاص رسم و رسومات مانند بیعت ،عمامہ سحاب اور مبارکباد جو اس واقعہ کی خاص اہمیت پر دلالت کر تے ہیں ۔
خداوند عالم کا یہ خطاب ”آج میں نے تمھارا دین کا مل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر تمام کر دیں“جو اس دن تک کسی بھی مو قع پر نہیں فر مایا گیا ۔
ائمہ علیھم السلام کا پیغمبر کے خطبہ غدیر کو اپنی توجہ کا مر کز قرار دینا ،خاص طور پر حضرت امیرالمو منین اور حضرت زھرا علیھما السلام کا یہ فر مان ”پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر میں کسی کےلئے کو ئی عذر باقی نہیں چھو ڑا “(۱۴) نیز علماء کا ائمہ ہدیٰ علیھم السلام کی اتباع میں غدیر سے متعلق موضوعات کا تفصیل سے بیان کر نا کہ یھی ولایت و امامت کی بنیاد ہے ۔
تاریخی ،حدیثی ،کلا می اور ادبی اعتبار سے اس حدیث کی سند اور نقل کر نے کا اندازاسی طرح اس کلام کا لوگوں کے دلوں میں بیٹھ جا ناجو روایات ولایت میں ممتاز اوربے مثال ہے محققین اس روایت کے تواتر کو ثابت کرچکے ہیں اور تمام مسلمان چا ہے وہ کسی بھی فرقہ اور مسلک کے ہوں اس حدیث کے صحیح ہو نے کااعتراف کرتے ہیں
خطبہ غدیر میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بلند و بالا مقاصد
۱ ۔ اپنی تیئس سال کی زحمتوں کانتیجہ اخذکرنے کےلئے اپنا جا نشین معین کر نا جس کے ذریعہ اس راہ کوبرقرار رکہے گا۔
۲ ۔اسلام کو کفار و منافقین سے ہمیشہ کےلئے محفوظ کرنے کی خاطر ایسے جا نشینوں کا معین فر مانا جو اس ذمہ داری کو نبھا سکیں ۔
۳ ۔ خلیفہ معین کرنے کےلئے قانونی طور پر اقدام کرنا جوھرقوم کے قوانین کے اعتبار سے ہمیشہ رائج رھاہے اور تاریخ میںبطورسندثابت ہے ۔
۴ ۔اپنے تیئس سالہ پروگرام میں گذشتہ اور مسلمانوں کے ماضی اورحال کا بیان کرنا۔
۵ ۔دنیا کے اختتام تک مسلمانوں کے مستقبل کا راستہ ھموار کر نا ۔
۶ ۔لوگوں پر حجت تمام کرناجو انبیاء علیھم السلام کی بعثت کاایک اصلی مقصد ہے ۔
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس عملی اقدام کا نتیجہ جو اہل بیت علیھم السلام کے حق کو پہچاننے والوںاور اس کا اعتراف کر نے والوں کی کثرت، اور تاریخ میں اربوں شیعوں کا وجود خاص طور سے اس دور میں اس کی اہمیت کا بہترین گواہ ہے ۔
____________________
[۱] بحا ر الانوار جلد :۱۸،۱۹،۲۰۔
[۲] بحا ر الانوار جلد :۱۸ صفحہ ۱۴۸۔ ۲۴۳ ، جلد ۱۹ صفحہ ۱۔۲۷۔
[۳] بحا ر الانوار جلد ۱۹ صفحہ ۱۰۴ ۔۱۳۳ ، جلد ۲۰ ،جلد ۲۱ صفحہ ۱ ۔۹۰۔
[۴] بحا ر الانوار :جلد۲۱ صفحہ ۹۱۔۱۸۵۔
[۵] بحا ر الانوار :جلد ۲۱ صفحہ ۱۸۵۔۳۷۸۔
[۶] بحا رالانوار :جلد ۲۲۔اسی طرح منا فقین سے متعلق آیات ،قرآن کریم میں ملا حظہ فر ما ئیں ۔
[۷] اس سلسلہ میں سورہ آل عمران ،نساء ،ما ئدہ، انفال ، تو بہ، عنکبوت ، احزاب ،محمد ، فتح ، مجا دلہ، حدید ، منافقین و حشر میں رجوع کریں۔
[۸] منافقوں کی سازشوں کی تفصیل اس کتاب کے تیسرے حصہ میں بیان کی جا ئے گی ۔
[۹] فیض الغدیر :صفحہ ۳۹۴۔
[۱۰] اس کتاب کے دوسرے اور تیسرے حصہ میں رجوع فر ما ئیں ۔
[۱۱] عوالم : جلد ۱۱ صفحہ ۵۹۵ حدیث ۵۸۔
[۱۲] اس سلسلہ میں خطبہ غدیر کے گیا رہویں حصہ میں رجوع کیجئے ۔
[۱۳] عوالم : جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۲۴ ۔
[۱۴] بحا ر الانوار جلد ۲۸ صفحہ ۱۸۶۔عوالم جلد ۱۱ صفحہ ۵۹۵ حدیث ۵۹۔
غدیر خم کے تین روز کی رسومات
غدیر خم میں رو نما ہو نے والے واقعات ایک ہی مقام پر اور ایک ہی شخص سے نقل نہیں ہو ئے ہیں حاضرین میں سے ہر ایک نے اس باعظمت پروگرام کے بعض پھلوؤں پر روشنی ڈالی ہے اور کچھ مطالب ائمہ معصومین علیھم السلام نے نقل کئے ہیں ۔
ھم نے اخبار و احا دیث کے مطالعہ اور جائزہ سے واقعہ غدیر کی منظر کشی کی ہے جس کو مندرجہ ذیل تین حصوں میں بیان کیا جاتا ہے :
ابتدا میںخطبہ سے پہلے کے واقعات جوخطبہ کےلئے ماحول کوسازگار بنانے کے لئے رونماہوئے ، اس کے بعد پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خطبہ کی کیفیت اور وہ عملی اقدامات جو آپ نے منبر پر انجام دئے ،اور تیسرے حصہ میں وہ چیزیں بیان کی جا ئینگی جو خطبہ غدیر کے بعد انجام دی گئیں۔
۱ خطبہ سے پہلے کے پروگرام
حجة الوداع کی اہمیت( ۱ )
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہجرت اور آپ کا مکہ معظمہ سے تشریف لیجانا تاریخ اسلام کا ایک حساس موڑ شمار کیا جا تا ہے اور ہجرت کے بعد پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مکہ معظمہ کے تین سفر فر ما ئے ۔
پھلی مر تبہ آٹھویں ہجری میں صلح حدیبیہ کے بعدعمرہ کے عنوان سے مکہ معظمہ تشریف لے گئے اور مشرکین کے ساتھ معاہدہ کے مطابق فوراً واپس پلٹ آئے ۔
دوسری مر تبہ نویں ہجری میں فتح مکہ کے عنوان سے اس شھر میں داخل ہو ئے ،اور تمام امور کی تکمیل اور کفر و شرک اور بت پرستی کا جا ئزہ لینے کے بعد آپ طائف تشریف لے گئے لوٹتے وقت مکہ تشریف لا ئے اور عمرہ بجالانے کے بعد مدینہ واپس لوٹ آئے ۔
تیسری اور آخری مرتبہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم ہجرت کے بعد دس ہجری میں حجة الوداع کے عنوان سے مکہ تشریف لا ئے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے پہلی مر تبہ رسمی طور پر حج کا اعلان فر مایا تاکہ جھاں تک ممکن ہوسب لوگ اپنے تئیں حا ضر ہوں۔
اس سفر میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دو بنیادی مقصد اسلام کے دو اہم احکام بیان کرنا تھا جن کو آ نحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ابھی تک لوگوں کے لئے مکمل اور رسمی طور پر بیان نہیں فر مایا تھا :ایک حج اور دوسرے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد خلافت و ولایت اور جا نشینی کا مسئلہ تھا ۔
سفر حج کا اعلان( ۲ )
خدا وند عالم کے حکم کے بعد پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مدینہ اور اس کے اطراف میں منا دی دینے والوں کو روانہ فر مایا تاکہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس سفر کی اطلاع سب تک پہنچا دیں اور یہ اعلان کردیںکہ جو چا ہے وہ آپعليهالسلام کے ساتھ سفر کر سکتا ہے ۔
عام اعلان کے بعد مدینہ کے اطراف سے متعدد افراد آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم ،مھا جرین اور انصار کے ساتھ مکہ جا نے کےلئے شھر مدینہ آئے ۔مدینہ سے مکہ کے درمیان راستہ میں مختلف قبیلوں کے متعدد افراد آ نحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ شامل ہوتے گئے دور دراز علاقوں میں بھی اس اہم خبر کے پہنچتے ہی مکہ کے اطراف اور یمن وغیرہ شھر وںکے متعدد افراد نے بھی مکہ کےلئے رخت سفر باندھا تاکہ حج کے جز ئی احکام ذاتی طور پر خود پیغمبر اکر مصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سیکھیں اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ اس پہلے رسمی سفر حج میں شریک ہوسکیں ۔مزید یہ کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ اشارہ فر ما دیا تھا کہ یہ میری زندگی کا آخری سفر ہے جس کے نتیجہ میں چا روں طرف سے لوگوں کے اضافہ ہو نے کابا عث بنا ۔
تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار افراد( ۳ ) حج میںشریک ہو ئے جن میں سے صرف ستّرہزار افراد مدینہ سے آنحضرتعليهالسلام کے ساتھ آئے تھے یوں لبیک کہنے والوں کا سلسلہ مکہ سے مدینہ تک جڑاہوا تھا ۔
مدینہ سے مکہ تک سفر کا راستہ
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ھفتہ کے دن ۲۵ ذیقعدہ کو غسل انجام دیااور احرام کے دو لباس اپنے ھمراہ لیکر مدینہ سے با ہر تشریف لا ئے ، آپعليهالسلام کے اہل بیت جن میں حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا اما م حسن علیہ السلام ،امام حسین علیہ السلام شامل تھے نیز آ پ کی ازواج سب کے سب اونٹوں کے کجا ووں اور محملوں میں سوار تھے ”مسجد شجرہ “ ”جو مدینہ کے نزدیک ہے “سے احرام با ندھنے کے بعد آپ نے مکہ کی راہ لی اور سوار و پیادہ لوگ آ پ کے ھمراہ چل رہے تھے ۔
اگلے دن صبح” عِرْق ُ الظَّبْیَه “ پہنچے اور اس کے بعدمقام” روحا ء “ پر کچھ دیر کےلئے توقف فر مایا
وھاں سے نماز عصر کےلئے مقام”مُنصرَف “ پہنچے ۔نماز مغرب و عشا ء کے وقت مقام”مُتَعَشّیٰ“ پر قیام فر مایارات کا کھانا وہیں نوش فرمایا ، نماز صبح کے لئے مقام”ا ثَا یَةً“ ،پہونچے منگل کی صبح مقام ”عرج “ پر تھے اور بدھ کے روز” سقیاء “ کی منزل پر قدم رکھا ۔
راستے کے دوران پیدل چلنے والوںنے راستہ کی مشکلات کا تذکرہ کیاآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سواری کی درخواست کی گئی تو آپعليهالسلام نے فر مایا ابھی سواری مھیانہیں ہے آپ نے حکم دیا کہ آسانی کےلئے سب اپنی کمریں باندھ لیں اورتیز رفتاراور دوڑ دوڑ کر سفر طے کریں ۔اس حکم پر عمل پیرا ہو ئے تو کچھ راحت و آرام ملا ۔
جمعرات کے دن مقام” ابواء“ پہونچے ،جھاں پر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مادر گرامی جناب آمنہ کی قبر ہے ،آپعليهالسلام نے اپنی والدہ گرامی کی قبر کی زیارت فر ما ئی ۔ جمعہ کے دن مقام” جحفه “ اور” غدیر خم “ سے گذر نے کے بعد مقام” قُدَیْد “ کےلئے عا زم ہو ئے اور ھفتہ کے دن وہاں پہنچے۔اتوار کے دن مقام” عسفان “ پہنچے اور ”پیر کے دن مقام” مرّالظهران “ پر پہنچے اور رات تک وہیں پر قیام فر مایا ۔رات کے وقت مقام ” سیرف “ کی طرف حرکت کی اور وہاں پہونچے اوراس کے بعد کی منزل مکہ معظمہ تھی ۔دس دن کا سفر طے کر نے کے بعد منگل کے روز پانچ ذی الحجہ کو مکہ پہنچے ۔
حضرت امیر المو منین علیہ السلام کا مدینہ سے یمن اور یمن سے مکہ کا سفر
دو سری طرف حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلام کی طرف سے ایک لشکر کے ھمراہ نجران اور اس کے بعد یمن تشریف لے گئے اس سفر میں آپ کا مقصد خمس زکوٰة اور جزیہ وصول کرنا اور نیز اسلام کی دعوت دینا تھا ۔
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مدینہ سے چلتے وقت حضرت علی علیہ السلام کےلئے ایک خط تحریر فر مایا اورآپعليهالسلام کو حکم دیا کہ وہ بھی یمن سے مکہ چلے آئیں ۔نجران اور یمن کے امور انجام دینے کے بعد حضرت علی علیہ السلام کا لشکر نیز اہل یمن کے کچھ افراد (جن کی تعداد بارہ ہزار تھی) کے ساتھ میقات سے احرام با ندھنے کے بعد عازم مکہ ہو ئے ۔پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم مدینہ کی طرف سے مکہ کے نز دیک پہنچے توادھرسے حضرت امیر المو منین علی علیہ السلام بھی یمن سے مکہ کے نزدیک پہنچے ۔آپعليهالسلام نے لشکرمیں اپنا جا نشین مقرر فر مایا اور خود آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ملا قات کےلئے تشریف لے گئے اور مکہ کے نزدیک آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خد مت میں پہنچے اور روداد سفر سنا ئی ۔
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم مسرور ہوئے اور حکم دیا کہ جتنا جلدی ممکن ہو آپعليهالسلام کے لشکر کو مکہ لا یا جا ئے ۔
حضرت علی علیہ السلام پھر اپنے لشکر کے پاس آئے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قافلہ کے ساتھ منگل کے دن پا نچ ذی الحجہ کو مکہ پہنچے ۔
ایام حج آنے کے بعد آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نویں ذی الحجہ کے دن عرفات تشریف لے گئے اس کے بعد مشعر اور منٰی پہنچے ۔اس کے بعدیکے بعد دیگرے اعمال حج انجام دئے اورحج کے واجب و مستحب اعمال لو گوں کےلئے بیان فر مائے۔
غدیر سے پہلے خطبے( ۴ )
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مقام غدیر سے پہلے دو حساس مقامات پر دو خطبے دئے جن کا مقصد حقیقت میں خطبہ غدیر کےلئے ماحول فراہم کر نا تھا ۔
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے پہلا خطبہ منیٰ میں دیا تھا ۔ اس خطبہ کے آغاز میںآپعليهالسلام نے معاشرہ میں مسلمانوں اور عوام الناس کی جان ،مال ،عزت اور آبرو کی حفاظت ،اس کے بعددور جا ہلیت میں نا حق خون ریزی اور نا حق لئے گئے اموال کو رسمی طور پر معاف فرمایا تاکہ لوگوں کے مابین ایک دوسرے سے کینہ ختم ہو جائے تاکہ معاشرے میں پوری طرح امنیت کا ماحول پیدا ہو جا ئے اور اس کے بعد لوگوں کو اپنے بعد اختلاف کر نے اور ایک دوسرے پر تلواراٹھانے سے خوف دلایا ۔
اس مقام پر آ پ نے واضح طورپر فر مایا:
”اگر میں نہ رہوں تو علی ابن ابی طالبعليهالسلام خلاف ورزی کر نے والوں کے سا منے اٹھ کھڑے ہو ں گے “
اس کے بعد آپعليهالسلام نے اپنی زبان مبارک سے حدیث ثقلین بیان کی اور فرمایا:
”میں تمھا رے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑکر جا رہا ہوں اگر ان دونوں سے متمسک رہوگے تو ہر گز گمراہ نہ ہو گے :کتاب خدا اور میری عترت یعنی میرے اہل بیتعليهالسلام “
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس بات کی طرف بھی اشارہ فر مایا کہ میرے ان اصحاب میں سے بعض کوقیامت کے دن جہنم کی آگ میں جھونک دیا جا ئیگا ۔
اھم بات یہ ہے کہ اس خطبہ میں حضرت امیر المو منینعليهالسلام آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کلام کی لوگوں کےلئے تکرار فر ما رہے تھے تا کہ دور بیٹھنے والے افراد بھی سن لیں۔
منیٰ کی مسجد خیف میں دوسرا خطبہ( ۵ )
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے دوسرا خطبہ منیٰ کی مسجد خیف میں ارشاد فر مایا ۔منیٰ میں قیام کے تیسر ے روز آپعليهالسلام نے لوگوں کے مسجد خیف میں جمع ہو نے کا حکم صادر فر مایا۔وھاں پر بھی آپ نے خطبہ دیا جس میں صاف صاف یہ اعلان فر مایاکہ اس خطبہ کو یاد رکہیں اور حا ضرین غا ئبین تک پہنچائیں۔
اس خطبہ میں آ پعليهالسلام نے اخلاص عمل ،مسلمانوں کے امام سے متعلق ھمدردی اور تفرقہ نہ ڈالنے پر زور دیااور تمام مسلمانوں کے حقوق اور قوانین الٰہی میں برابرہو نے کا اعلان فر مایا اس کے بعد مسئلہ خلافت بیان فر مایا پھرآپعليهالسلام کی زبان مبارک پر حدیث ثقلین جا ری ہو ئی اور دوسری مرتبہ غدیر کے لئے زمینہ فراہم کیا ۔
اس موقع پر منافقوں نے مکمل طور پر خطرہ کا احساس کیا اور واقعہ کوسنجیدگی سے لیا انھوں نے عہد نا مہ لکھا اور قسمیں کہا ئیں اور اپنے پروگرا موں کا آغاز کیا ۔( ۶ )
غدیر سے پہلے انبیاء علیھم السلام کی میراث کا حوالہ کرنا( ۷ )
مکہ میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر الٰہی قانون اس طرح نا زل ہوا :”آپ کی نبوت مکمل ہو گئی اورآپ کا زمانہ ختم ہو کیا ۔اسم اعظم اور آثار علم و میراث انبیاء علیھم السلام، علی ابن ابی طالبعليهالسلام کے حوالہ کر دیجئے جو سب سے پہلے ایمان لا ئے ہیں ۔میں زمین کو اس عالم کے بغیر ایسے ہی نہیں چھوڑ دوں گا کہ جس کے ذریعہ میری اطاعت اور ولایت سے لوگ متعارف ہوں اور وہ میرے پیغمبر کے بعد لوگوں کےلئے حجت ہو “
انبیاء علیھم السلام کی یا دگاریں حضرت آدم و نوح و ابراھیم علیھم السلام کے صحیفے،توریت و انجیل، حضرت مو سیٰ علیہ السلام کا عصا ،حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگشتری اور دوسری تمام میراث صرف اور صرف حجج الٰہی کے ھا تھوں میںرہتی ہیں ۔اس دن خاتم الانبیاءصلىاللهعليهوآلهوسلم اس پوری میراث کے محافظ تھے اور اب حکم الٰہی حضرت امیر المومنین کےلئے آگیا ۔یہ تمام چیزیں حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب سے یکے بعد دیگرے ائمہ علیھم السلام تک منتقل ہو تی رہیں اور اب یہ تمام چیزیں خدا وند عالم کی آخری حجت پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو طلب فر مایا اور ایک مخصوص میٹینگ کی جس میں خداوند عالم کی اما نتیں حضرت علی علیہ السلام کے حوالہ کر نے میں ایک رات دن لگ گیا ۔
لقب امیر المو منینعليهالسلام
لقب امیر المو منینعليهالسلام ( ۸ ) مکہ میں جبرئیلعليهالسلام خدا وند عالم کی طرف سے حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کےلئے خاص طور سے لقب ( امیر المو منین )لیکر نا زل ہو ئے اگر چہ اس سے پہلے بھی یہ لقب آپ ہی کےلئے معین ہو چکاتھا ۔
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تمام اصحاب کو حکم دیا کہ ایک ایک صحابی حضرت علی علیہ السلام کے پاس جا ئے اور آپعليهالسلام کو ”السلام علیک یا امیر المومنین “ کھکر سلام کرے ۔اس طرح پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے دور حیات میں ہی اصحاب سے حضرت علی علیہ السلام کے امیر ہو نے کا اقرار کرا لیا تھا ۔
اس مقام پر ابو بکر اور عمر نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اعتراض کرتے ہوئے کھا: کیا یہ حق خدا وند عالم اور ان کے رسول کی طرف سے ہے ؟آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم غضبناک ہو ئے اور فرمایا:”یہ حق خدا اور اس کے رسول کی طرف سے ہے ،خدا وند عالم نے مجھ کو یہ حکم دیا ہے “
غدیرمیں حاضرہونے کےلئے قانونی اعلان( ۹ )
لوگ اس چیز کے منتظر تھے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ا پنے اس آخری سفرحج میں کچھ ایام مکہ میں قیا م فر ما ئیں،لیکن اعمال حج تمام ہو نے کے فوراً بعد آپ نے اپنے منادی بلال کولوگوں کے لئے اس بات کا اعلان کر نے کا حکم دیا :کل محتاجو ں کے علاوہ سب کو چلنا ہے کو ئی بھی مکہ میں نہ رہنے پائے تاکہ وقت معین پر ”غدیر خم “میں حا ضر ہو سکیں ۔
”غدیر “ کے علاقہ کا انتخاب جو خاص حکم الٰہی کی وجہ سے تھا کئی اعتبار سے قابل غور ہے :
ایک یہ کہ مکہ سے واپس آتے وقت غدیراس جگہ سے پہلے ہے جھاں پر لوگوں کے راستے ایک دو سرے سے جدا ہو تے ہیں ۔
دوسرے یہ کہ مستقبل میں مسلمانوں کے حج کرنے والے قافلے مکہ آتے اور جا تے وقت جب اس مقام سے گذریں تووادی غدیر اور مسجد النبیصلىاللهعليهوآلهوسلم میں نماز پڑہیں اور اپنے عقیدہ کے مطابق تجدید بیعت کریں تاکہ اس واقعہ کی یاد دلوں میں دوبارہ زندہ ہو جائے ۔( ۱۰ )
تیسرے یہ کہ ”غدیر “ جحفہ سے پہلے وہ وسیع و عریض میدان تھا جھاں پر سیلاب اور شمال مغرب کی طرف سے بہنے والے چشمہ کا پانی آکرجمع ہوتا تھا اور اس میدان میںکچھ پرانے اور مضبوط درخت بھی تھے لہٰذا یہ میدان پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے تین دن کے پرو گرام اورخطبہ ارشاد فرمانے کےلئے بہت ہی منا سب تھا لوگوں کےلئے بھی یہ بڑے تعجب کی بات تھی کہ پیغمبر (دس سال مکہ سے دور رہنے کے با وجود ) مکہ میں قیام نہیں فر ماتے تاکہ ان کی خدمت با برکت میں لوگ حا ضر ہوں اور ان سے اپنے مسائل بیان کر یںبلکہ اعمال حج تمام ہو نے کے بعد فور اً وہاں سے رخت سفر با ندھ لیتے ہیں اور لوگوں کو بھی مکہ سے چلنے اور ” غدیر خم “میں حاضر ہو نے کا حکم فر ما تے ہیں ۔
جس صبح کو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مکہ سے کوچ فرمایا آپ کے ساتھ ایک لاکھ بیس ہزار( ۱۱ ) سے زیادہ افراد تھے یھاں تک کہ مکہ کے پانچ ہزارافراد اور یمن کے تقریبابارہ ہزار افراد”جن کا ادھر سے راستہ بھی نہیں تھا “بھی غدیر کے پروگرام میں شریک ہونے کےلئے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ آئے تھے ۔
۲ خطبہ کی کیفیت اور اس کے جزئیات
غدیر میں لوگوں کا اجتماع( ۱۲ )
پیر( ۱۳ ) کے دن ظھر کے وقت جیسے ہی”کراع الغُمَیم “ ( ۱۴ ) (وہ علاقہ جھاں پر ”غدیر خم “ واقع ہے )پر پہنچے ،آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنا راستہ دائیں طرف اور غدیر کی جانب بدلتے ہو ئے فرمایا :
”اَیُّهاالنَّاس،اجیبواداعیَ الله ،اناَرسُول الله “
”ایھا الناس خدا کی طرف دعوت دینے والے کی دعوت پر لبیک کہو ،میں خدا کا پیغام لانے والا ہوں “ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اہم پیغام کے پہنچا نے کا وقت آگیا ہے ۔
اس کے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے منادی کو یہ ندا لگا نے کا حکم دیا :”تمام لوگ ٹھھر جا ئیں جو لوگ آگے بڑھ گئے ہیں وہ پیچہے پلٹ آئیں اور جوپیچہے رہ گئے ہیں وہ ٹھھر جا ئیں “تاکہ تمام لوگ پہلے سے معین شدہ مقام پر جمع ہو جا ئیں ۔اسی طرح یہ حکم بھی صادر فر مایا :کوئی شخص قدیم درختوں کے نیچے نہ جا ئے اور وہ جگہیں اسی طرح خالی رہیں ۔
اس حکم کے صادر ہو نے کے بعد تمام مرکب رک گئے ،اور جو لوگ بڑھ گئے تھے وہ واپس پلٹ آئے ، تمام لوگ غدیر خم کے مقام پر اترگئے ہر ایک نے اپنی اپنی جگہ تلاش کی ،اور آہستہ آہستہ سکون و اطمینان کاسانس لیایہ صحرا پہلی مرتبہ ایسے عظیم انسانی مجمع کا شاہد تھا ۔
گرمی کی شدت اور گرم زمین اتنی تکلیف دہ تھی کہ لوگ یھاں تک کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی اپنی عبا کا ایک حصہ اپنے سر اقدس پر اور دوسرا حصہ اپنے پیروں کے نیچے بچھا رکھا تھا اور کچھ لوگ گرمی کی شدت کی وجہ سے اپنی عبا اپنے پیروں پر لپیٹے ہو ئے تھے !
خطبہ اور منبر کی جگہ کی تیاری( ۱۵ )
دوسری طرف پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مقداد ،سلمان ،ابوذر اور عمار کو بلاکر یہ حکم صادر فر مایا کہ ان پانچ پرانے درختوں (جوتالاب غدیر کے کنا رے ایک لائن میں کھڑے ہو ئے تھے )کے نیچے جگہ تیار کریں انھوں نے درختوں کے نیچے سے کا نٹوں کو صاف کیا ،پتھروں کو جمع کیا ،درختوں کے نیچے صفائی کی اور پا نی کا چھڑکا و کیا ۔اس کے بعد درختوں کی زمین تک لٹکنے والی شاخوں کو کا ٹا ۔پھر دھوپ سے بچنے کی غرض سے دو نزدیک کھڑے ہو ئے درختوںکی شاخوں پر کپڑا ڈال کرسائبان بنایا،اوراس طرح وہ جگہ تین دن کے پروگرام کیلئے بالکل تیارہوگئی۔
اس شا میانہ کے نیچے پتھروں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھا اور پالان شتر کاآنحضرتعليهالسلام کے قد کے برابر منبر تیار کیا اور اس پر کپڑا ڈالا منبر کو مجمع کے درمیان بنایا تھا تاکہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم خطبہ ارشاد فرما تے وقت سب کو دیکھ سکیں، اور آپعليهالسلام کی آواز سب تک پہنچ سکے اور سب لوگ آپ کا دیدار کرسکیں ،اور جیساکہ غدیر کے واقعہ میں آیا ہے کہ:غدیر خم میں کو ئی ایسا شخص نہیں تھا جس نے آپعليهالسلام کا دیدار نہ کیا ہو اور اپنے کا نوں سے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی آواز نہ سنی ہو ۔
البتہ ربیعہ بن امیہ بن خلف لوگوں کےلئے آپعليهالسلام کے کلام کی تکرار کر رہے تھے تاکہ دور بیٹھنے والے افراد بہتر طریقہ سے مطالب سمجھ سکیں ۔
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور امیر المومنین علیہ السلام منبر پر( ۱۶ )
ظھر کے وقت انتظار کی گھڑیاں تمام ہوئی یھاں تک کہ منادی نے نماز جما عت کےلئے آواز لگا ئی لوگوں کے اپنے اپنے خیموں سے باھر آنے اور نماز کی صفیں مرتب کر نے کے بعد پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے خیمہ سے با ہر تشریف لائے اور نماز با جما عت بجالائے ۔
اس کے بعد مجمع مشاہدہ کر رہا تھا کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم منبر پر کھڑے ہو ئے اور آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو بلایا اور حکم دیا کہ آپ منبر پر آئیں اور میرے پاس دائیں طرف کھڑے ہو جائیں ،خطبہ شروع ہو نے سے پہلے امیر المومنین علیہ السلام آپعليهالسلام سے ایک زینہ نیچے کھڑے ہو ئے تھے اور آنحضرتعليهالسلام اپنادست مبارک آپعليهالسلام کے دوش پر رکہے ہو ئے تھے ۔
اس کے بعد پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مجمع پر دائیں اور با ئیں طرف نظر ڈالی اور مجمع کا پوری طرح جمع ہو نے کا انتظار کیاجلسہ میں ایک طرف عورتیں بھی بیٹھی ہو ئیں تھیں جو پیغمبر کو اچھی طرح دیکھ رہیں تھیں ۔مجمع کے تیار ہو جا نے کے بعد پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے دنیائے اسلام کے لئے اپنے آخری اور تا ریخی خطاب کا آغاز فر مایا ۔
منبر اور خطبہ کے اس دلچسپ انداز کو مد نظر رکھ کرکہ دو آدمی منبر پر ہیں اور ایک لاکھ بیس ہزار افراد اس انو کہے منظر کا نظارہ کر رہے ہیں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خطبہ پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں ۔
ھم یہ بات بیان کر تے چلیں کہ ایک تقریر کےلئے ایک لاکھ بیس ہزار افراد کا مجمع اس عالم میں کہ ایک خطیب کو تمام لوگ دیکھ رہے ہوں آج کی دنیا میںبھی یہ ایک غیر معمولی مسئلہ ہے چہ جائیکہ عصر بعثت میں گذشتہ انبیاء علیھم السلام کے چھ ہزار سالہ دور میں کسی تقریر کےلئے اتنابڑا مجمع جمع ہوا ہو ۔
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کاخطبہ( ۱۷ )
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کاغدیر خم میں تاریخ ساز خطبہ جو تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہا اس کو گیارہ حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے سب سے پہلے خدا وند عالم کی حمد و ثنا اور اس کی قدرت و رحمت کا تذکرہ فر مایا اور اس کے بعد خدا وند عالم کے سامنے اپنی بندگی کا اقرار فر مایا ۔
دوسرے حصہ میں آپ نے مجمع کو اصل مطلب کی طرف متوجہ کرتے ہو ئے فر مایا کہ مجہے علی بن ابی طالبعليهالسلام کے سلسلہ میں ایک اہم پیغام پہنچا ناہے اگر میں نے یہ پیغام نہ پہنچایا تو گو یا رسالت الٰہی کا کوئی کام انجام نہیں دیا اور میں خدا کے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔
تیسرے حصہ میں آپ نے اپنے بعدقیامت تک کےلئے بارہ اماموں کا اعلان فر مایاتاکہ اقتدار کی تمام امیدیں ایک دم قطع ہو جا ئیں ۔ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تقریر میںسب سے اہم بات یہ تھی کہ ائمہ معصومین علیھم السلام قیامت تک کےلئے تمام انسانوں پر ولایت رکھتے ہیں اور ہر زمانہ میں اور ہر جگہ ہر معاملہ میں ان ہی کے کلمات و ارشادات کا بول بالا ہوگا اور خداو رسول کی جا نب سے حلال و حرام میں حضرات ائمہ علیھم السلام کی مکمل نیابت اور ان کے تام الاختیار ہو نے کا اعلان فر مایا ۔
خطبہ کے چو تھے حصہ میں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کے ھا تھوں کو بلند کر کے فر مایا :<مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَاعَلِیٌّ مَوْ لَاهُ،اَللَّهُمّّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِمَنْ عَادَاهُ وَانْصُرْمَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ >
”جس کا میں مو لا ہوں اس کے یہ علی مو لا ہیں پر ور دگارا جو علی کو دوست رکہے اس کو تو دوست رکھ اور جو علی سے دشمنی کرے اس کو دشمن رکھ اور جو ان کی مد د کرے اس کی تو مدد کراور جو ان کو رسوا کرے اس کو تو رسوا و ذلیل کر“
اور اس کے بعد ائمہ علیھم السلام کی ولایت کے ذریعہ اکمال دین اور نعمتوں کے تمام ہو نے کا اعلان فر مایا اور اس کے بعد خدا ،ملائکہ اور لوگوں کو اپنے اس پیغام کے پہونچا نے پر شاہد قرار دیا ۔
پا نچویں حصہ میں آپعليهالسلام نے صاف صاف یہ اعلان فر مایا :جو ائمہ علیھم السلام کی ولایت سے سر پیچی کر ے گا اس کے تمام نیک اعمال حبط ہو جا ئیں گے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے “اس کے بعد امیر المو منین علیہ السلام کے کچھ فضا ئل بیا ن فر ما ئے ۔
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے چھٹے حصہ میں غضب الٰہی کے کچھ گو شوں پر رو شنی ڈالی ،آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے عذاب اور لعنت کے متعلق آیات کی تلاوت کرتے ہوئے فرمایا :” ان آیات سے مراد میرے بعض اصحاب ہیں کہ جن سے میں اغماض نظر کرنے پر ما مور ہوں ،لیکن جان لو! خدا وند عالم نے مجہے دشمنوں ، مخا لفین ،خائنین اور مقصرین پر حجت قرار دیا ہے اور دنیا میں اغماض نظر کرنا آخرت میں ان کے عذاب سے مانع نہیں ہے “
اس کے بعد جہنم کی طرف لے جانے والے گمراہ راہنماوںکے با رے میں اشارہ کرتے ہو ئے فر مایا”میں ان سب سے بیزار ہوں “ رمزی طورپر”اصحاب صحیفہ ملعونہ “ کی طرف اشارہ کیا اور صاف طور پر فر مایا کہ میرے بعد کچھ لوگ مقام امامت کو غصب کریں گے اور اس کے غاصبین پر لعنت فرمائی ۔
ساتویں حصہ کو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اہل بیت علیھم السلام کی محبت و ولایت اور ان کے اثرات کاذکر کرتے ہو ئے فر مایا : سورہ حمدمیں صراط مستقیم والوںسے مراد اہل بیت علیھم السلام کے شیعہ ہیں ۔
اس کے بعد اہل بھشت کے با رے میں کچھ آیات کی تلاوت فر مائی اور ان کی تفسیر شیعہ اور آل محمد علیھم السلام کی اتباع کر نے والوں سے فر ما ئی ۔اھل جہنم سے متعلق بھی کچھ آیات کی تلا وت فر ما ئی اور ان کی تفسیر میں دشمنان آل محمد علیھم السلام کا تذکر ہ فر مایا ۔
آٹھویں حصہ میں” حضر ت بقیة الله الاعظم حجة بن الحسن المهدی ارواحنا فداه “ کا تذکرہ فر مایا اور ان کے مخصوص اوصاف بیان فر مائے اور مستقبل میں آپ کے وجود مبارک کے ذریعہ دنیا کے عدل و انصاف سے پرُہونے کی خوشخبری سنائی ۔
نویں حصہ میں فرمایا:خطبہ تمام ہو جا نے کے بعد میں تمہیں اپنی بیعت اور اس کے بعدعلی بن ابی طالبعليهالسلام کی بیعت کی دعوت دیتا ہوں ۔اس بیعت کاسرچشمہ یہ ہے کہ میں نے خدا وند عالم کی بیعت کی ہے اور علیعليهالسلام نے میری بیعت کی ہے ،نتیجتاً یہ بیعت جو میں تم سے لے رہا ہوں یہ خداوند عالم کی جانب سے ہے اور خدا وند تبارک و تعالیٰ کے ساتھ بیعت ہے ۔
دسویں حصہ میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے احکام الٰہی کے سلسلہ میں گفتگو فر مائی جس کا مقصد چند بنیادی عقائد اور اہم مسائل بیان کرنا تھا :منجملہ یہ کہ چونکہ تمام حلال و حرام بیان کرنا میرے امکان میں نہیں ہے لہٰذا میں نے تم سے ائمہ علیھم السلام کی بیعت لے کرقیامت تک کےلئے تمام حلال و حرام کو بیان فر ما دیاہے چونکہ ان کا علم و عمل حجت ہے ،دوسرے یہ کہ امر با لمعروف و نھی عن المنکر کا سب سے اہم مر حلہ ائمہ علیھم السلام کے سلسلہ میں پیام غدیر کی تبلیغ ،انکی اطاعت کا حکم اور ان کی مخا لفت سے روکنا ہے ۔
اپنے خطبہ کے آخری حصہ میںزبانی بیعت انجام پا ئی اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: ”خدا وند عالم کا یہ حکم ہے کہ ہاتھ کے ذریعہ بیعت لینے سے پہلے تم سے زبانوں کے ذریعہ اقرار لوں “اس کے بعد جس مطلب کی تمام لوگوں کو تا ئید کرنا تھی وہ معین فر مایا جس کا خلاصہ بارہ اماموں کی اطاعت دین میں تبدیلی نہ کرنے کاعھد و پیمان ،آئندہ نسلوں اور غائبین تک پیغام غدیر پہنچا نا تھا ۔ضمناً یہ بیعت ہاتھ کی بیعت بھی شمارہو تی تھی چونکہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فر مایا :کہو کہ ہم اپنی جان و زبان اور ھاتھوں سے بیعت کر تے ہیں “
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خطبہ کے آخری کلمات آپ کے فرامین کی اطاعت کرنے والوں کے حق میں دعا اور آپ کے فرامین کا انکار کر نے والوںپر لعنت تھی اور خداوند عالم کی حمد و ثنا پر آپ نے خطبہ تمام فر مایا ۔
منبر پر دو عملی اقدام
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خطبہ کے دوران منبرپر دو عملی اقدام انجام فر ما ئے جو اب تک بے نظیر اور بہت ہی جا ذب نظر تھے :
حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام منبرپرپیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ھا تھوں پر( ۱۸ ) پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تمام مقدمات فراہم کرنے اور امیر المو منین علیہ السلام کی خلافت و ولایت کا تذکرہ کرنے کے بعد اس غرض سے کہ قیامت تک ہر طرح کا شک و شبہ ختم ہو جائے اور اس سلسلہ میں ہر طرح کا مکر و فریب غیرموثر ہو جا ئے ابتدا میں آپ نے زبانی طور پر اشارہ فرمایا اور اس کے بعد لوگوں کے لئے عملی طور پر بیان کرتے ہوئے ابتدا میں اس ترتیب کے ساتھ بیان فر مایا :
”قرآن کا باطن اور تفسیر تمھارے لئے کو ئی بیان نہیں کر سکتا مگر یہ شخص جس کا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہے اور اس کو بلند کر رہا ہوں “
اس کے بعد آنحضر تصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے قول کو عملی صورت میں انجام فر مایا اور امیر المو منین علیہ السلام سے جو منبر پر آپ کے پاس کھڑے ہوئے تھے فرمایا :”میرے اور قریب آو “حضرت علی علیہ السلام اور قریب آئے ،اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کے دونوں بازووںکو پکڑا اس وقع پرحضرت علی علیہ السلام نے اپنے دونوں ھا تھوں کو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چھرہ اقدس کی طرف بڑھا دیا یھاں تک کہ دونوں کے دست مبارک آسمان کی طرف بلند ہو گئے ۔اس کے بعد آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو ”جوآپ سے ایک زینہ نیچے کھڑے ہو ئے تھے “ان کی جگہ سے اتنا بلند کیا کہ ان کے پا ئے اقدس آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زانو کے بالمقابل آگئے اورسب نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سفیدی بغل کا مشاہدہ کیا جو اس دن تک کبھی نہیں دیکھی گئی تھی اس حالت میں آپ نے فر مایا :
”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَهٰذَا عَلِیٌّ مَوْلَاهُ“ ”جس کا م یں مولا ہوں اس کے یہ علی مو لا ہیں “
۲ ۔دلوں اور زبانوں کے ذریعہ بیعت( ۱۹ )
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا دوسرا اقدام یہ فرمایا کہ چونکہ اس انبوہ کثیر کے ایک ایک فرد سے بیعت لینا غیر ممکن تھا اور دوسری جانب ممکن تھا لوگ بیعت کر نے کےلئے مختلف قسم کے بھانے کریں اور بیعت کرنے کےلئے حاضر نہ ہوں ،جس کے نتیجہ میں ان سے عملی طور پر پابند رہنے کا عہد اور قا نونی گواھی نہ لی جا سکے ،لہٰذا آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے خطبہ کے آخر میں فر مایا :ایھا الناس !ایک ہاتھ پر ،اتنے کم وقت میںاس انبوہ کثیرکابیعت کر نا سب کےلئے ممکن نہیں ہے لہٰذا جو کچھ میں کہنے جا رہا ہوں سب اس کی تکرار کر تے ہو ئے کہیں :ھم آپ کے اس فر مان کی جو آپ نے حضرت علی بن ابی طالب اور ان کی اولا د سے ہونے والے اماموں کے متعلق فرمایا اس کو قبول کر تے ہیں اور اس پر راضی ہیں ،ھم اپنے دل ،جان ،زبان اور ھاتھوں سے اس مدعاپر بیعت کر تے ہیں ۔۔۔ان کےلئے ہم سے اس بارے میں ہما رے دل و جان ،زبانوں، ضمیروں اور ھاتھوں سے عہد و پیمان لے لیا گیاہے جو شخص ہاتھ سے بیعت کر سکا ہاتھ سے اور جو ہاتھ سے بیعت نہ کر سکا وہ زبان سے اس کا اقرار کر چکا ہے “
ظاہر ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم جس کلام کی بعینہ تکر ار کرانا چا ہتے تھے وہ آپ نے ان کے سامنے بیان کیااوراس کی عبارت معین فرمادی تاکہ ہر انسان اپنے مخصوص طریقہ سے اس کا اقرار نہ کرے بلکہ جو کچھ آپ نے بیان فرمایاہے سب اسی طرح اسی کی تکر ار کریں اور بیعت کریں ۔
جب آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا کلام تمام ہوا سب نے اس کو اپنی زبانوں پر دھرایا اس طرح عمومی بیعت انجام پائی ۔
۳ خطبہ کے بعد کے مراسم
مبارکباد ی( ۲۰ )
خطبہ تمام ہو نے کے بعد ،لوگ ہر طرف سے منبر کی طرف بڑہے اور حضرت علی علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کی ،آنحضر تصلىاللهعليهوآلهوسلم اور حضرت امیر المو منین علی علیہ السلام کو مبارک باد پیش کی اور آنحضر تصلىاللهعليهوآلهوسلم فر ما رہے تھے:”اَلْحَمْدُ لِلهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَاعَلیٰ جَمِیْعِ الْعٰا لَمِیْن“َ
تاریخ میں عبارت اس طرح درج ہے :خطبہ تمام ہو جا نے کے بعد لوگوں کی صدائیں بلند ہوئیں کہ: ھاں ،ھم نے سنا ہے اور خدا و رسول کے فر مان کے مطابق اپنے دل و جان ، زبان اور ھا تھوں سے اطاعت کر تے ہیں “اس کے بعد مجمع پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور حضرت علی علیہ السلام کی طرف بڑھا اور بیعت کےلئے ایک دوسرے پر سبقت کر تے ہو ئے ان کی بیعت کی ۔
مجمع سے اٹھنے والے اس احساساتی اور دیوانہ وار شورسے اس بڑے اجتماع کی شان و شو کت دوبالا ہو رہی تھی۔
جس اہم اور قابل توجہ مطلب کا پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی کسی بھی فتح و پیروزی (چا ہے جنگوں میں ہو یادوسرے مقامات پرہوحتی ٰکہ فتح مکہ بھی )میں مشاہدہ نہ کیا گیا وہ یہ ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم میں فر مایا :مجہے مبارکباد دو مجہے تہنیت کہو اس لئے کہ خدا نے مجھ سے نبوت اور میرے اہل بیت علیھم السلام سے سے امامت مخصوص کی ہے “
یہ بڑی فتح و پیروزی اور کفرو نفاق کی تمام آرزووں کا قلع و قمع کر دینے کی علامت تھی ۔
دوسری طرف پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے منادی کو حکم دیا کہ وہ مجمع کے درمیان گھوم گھوم کر غدیر کے خلاصہ کی تکرار کرے:”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَهٰذَاعَلِیٌ مَوْلَاهُ اَللَّهُمَّ وٰالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِمَنْ عَادَاهُ وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ“ تا کہ غدیر کا مرقع لوگوں کے ذہن میں منقش ہو جا ئے ۔
لوگوں سےبیعت( ۲۱ )
مسئلہ کو رسمی طور پر مستحکم کرنے کیلئے اوراس لئے کہ پورا مجمع منظم و مرتب طریقہ سے بیعت کر سکے لہٰذا پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خطبہ تمام کر نے کے بعد دو خیمے لگا نے کا حکم صادر فرمایا ۔ایک خیمہ اپنے لئے مخصوص قرار دیا اور آپ اس میں تشریف فر ما ہو ئے اور حضرت علیعليهالسلام کو حکم دیا کہ آپ دوسرے خیمہ کے دروازہ پر تشریف فر ماہوں اور لوگوں کو جمع ہو نے کا حکم دیا ۔
اس کے بعد لوگ گروہ گروہ کر کے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خیمہ میں آتے اورپ کی بیعت کرتے اور آپ کو مبارکباد پیش کر تے ،اس کے بعدحضرت امیر المو منینعليهالسلام کے خیمہ میں آتے اور آپ کو پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خلیفہ اور امام ہو نے کے عنوان سے آپ کی بیعت کر تے اور آپ پر (امیر المو منین )کے عنوان سے سلام کرتے اور اس عظیم منصب پر فائز ہونے کی مبارکباد پیش کرتے تھے ۔
بیعت کا یہ سلسلہ تین دن تک چلتا رہا ،اور تین دن تک آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم میں قیام فرمایا ۔یہ پروگرام اس طرح منظم و مرتب تھا کہ تمام لوگ اس میں شریک ہو ئے ۔
یھاں پراس بیعت کے سلسلہ میں تاریخ کے ایک دلچسپ مطلب کی طرف اشارہ کرنا منا سب ہو گا: سب سے غدیر میں جن لوگوں نے امیر المو منین علیہ السلام کی بیعت کی وہ وھی لوگ تھے جنھوںنے سب سے پہلے یہ بیعت توڑی اور اپنا عہد و پیمان خود ہی اپنے پیروں تلے روند ڈالا ۔وہ افراد :ابو بکر، عمر،عثمان ، طلحہ ا ور زبیر تھے جو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعدیکے بعد دیگرے آپعليهالسلام کے مد مقابل آئے ۔
تعجب خیز بات یہ ہے کہ عمر نے حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کے بعد اپنی زبان سے یہ کلمات ادا کئے :
”مبارک ہو مبارک اے ابو طالبعليهالسلام کے بیٹے ،مبارک اے ابو الحسن آج آپ میرے اور ہر مو من مرد اور ہر مو منہ عورت کے مو لا ہو گئے “!
دو سری بات جس نے ان دورخے چھروں کو اجاگرکیا یہ تھی کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حکم صادر ہو جا نے کے بعد تمام لو گوں نے چون و چرا کے بغیر حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کی ،لیکن ابو بکر اور عمر (جنھوں نے سب سے پہلے حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کی تھی )نے بیعت کر نے سے پہلے اعتراض کر تے ہو ئے سوال کیا : کیا یہ حکم خدا وند عالم کی جا نب سے ہے یا اس کے رسول کی جانب سے ہے (یعنی آپ یہ اپنی طرف سے کہہ رہے ہیں )؟آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :خدا اوراس کے رسول کی طرف سے ہے ۔کیا اتنا بڑا مسئلہ خدا وند عالم کے حکم کے بغیر ہو سکتا ہے ؟نیز فرمایا :”ھاں یہ حق ہے کہ حضرت علی علیہ السلام خدا اور اس کے رسول کی طرف سے امیر المو منین ہیں “
عورتوں کی بیعت( ۲۲ )
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے عورتوں کو بھی حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کر نے کا حکم دیا اوران کوامیر المو منین کہہ کر سلام کریں اور ان کو مبارکباد پیش کریں اور اس حکم کی اپنی ازواج کےلئے تا کید فر مائی ۔
اس عمل کو انجام دینے کےلئے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے پانی کا ایک برتن منگایااوراسکے اوپر ایک پردہ لگایا اس طرح کہ عورتیں پردہ کے ایک طرف پانی کے اندر ہاتھ ڈالیں پردہ کے ادھر سے مولائے کائنات کا ہاتھ پانی کے اندر رہے اور اس طرح عورتوں کی بیعت انجام پائے۔
یہ بات بھی بیان کر دیں کہ حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا بھی غدیر خم میں حا ضر تھیں ۔ اسی طرح پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ازواج ،حضرت علی علیہ السلام کی بہن ام ھانی ،حضرت حمزہ علیہ السلام کی بیٹی فاطمہ اور اسماء بنت عمیس بھی اس پرو گرام میں مو جود تھیں ۔
عما مہ ” سحاب“(۲۳ )
عرب جب کسی کو کسی قوم کا رئیس بنا تے تھے تواُن کے یھاں اس کے سر پرعمامہ با ندھنے کی رسم تھی ۔عربوں کے یھاں اس بات پر بڑا فخرہوتا تھا کہ ایک بڑی شخصیت اپنا عمامہ کسی شخص کے سر پر باند ھ دے کیونکہ اس کامطلب ا س پر سب سے زیادہ اعتماد ہو تا تھا۔( ۲۴ )
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس رسم و رواج کے مو قع پر اپنا عمامہ جس ک ”سحاب “ کہا جاتا تھا تاج افتخار کے عنوان سے حضرت امیر المو منین علیہ السلام کے سر اقدس پر با ندھا اور تحت الحنک کو آپ کے دوش پر رکھ کر فرمایا :”عمامہ تاجِ عرب ہے “
خود امیر المو منین حضرت علی علیہ السلام اس سلسلہ میں یوں فر ما تے ہیں :
”پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے دن میرے سر پر عمامہ باندھا اور اس کا ایک کنا رہ میرے دوش پر رکھتے ہو ئے فر مایا :خدا وند عالم نے بدر و حنین کے دن اس طرح کا عمامہ باندھنے والے ملا ئکہ کے ذریعہ میری مدد فر ما ئی “۔
غدیر کے موقع پر اشعار( ۲۵ )
غدیر کے پروگرام کا دوسرا حصہ حسان بن ثابت کا اشعار پڑھنے کی درخواست تھی ۔اس نے پیغمبر
اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی :یا رسول اللہ اجازت مر حمت فرمائیے میں نے حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے سلسلہ میں جو شعر اس عظیم واقعہ کی مناسبت سے کہے ہیں ان کو پڑھوں ؟
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :پروردگار عالم کے نام اور اس کی بر کت سے پڑھو۔
حسان ایک بلند جگہ پر کھڑے ہو ئے اور اس کا کلام سننے کےلئے جم غفیر اکٹھا ہوگیا ۔حسان نے کھا: ”اے قریش کے بزر گو! میری بات رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی گواھی اور اجازت سے سنو“
اس کے بعد اس نے اسی مقام پر کہے ہوئے اشعار کوپڑھنا شروع کیا جو غدیر کی تا ریخی سند کے اعتبار سے ثبت ہو ئے اور یادگاری کے طور پر باقی رہے ۔ھم ذیل میں حسان کے عربی اشعار کا متن اور ان کا تر جمہ پیش کر تے ہیں :
اَلَمْ تَعْلَمُوْا ا نَّ النَّبِیَّ مُحَمَّداً لَدیٰ دَوْحِ خُمٍّ حِیْنَ قَا مَ مُنَا دِیاً
کیا تم نہیں جا نتے کہ محمد پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے درختوں کے پاس منادی کی حیثیت کھڑے ہوئے:
وَقَدْ جَا ءَ هُ جِبْرِیْلُ مِنْ عِنْدِ رَبِّهِ بِاَ نَّکَ مَعْصُوْمٌ فَلَا تَکُ وَا نِیاً
اور ان کے پاس جبرئیلعليهالسلام خدا وند عالم کی طرف سے یہ پیغام لے کر آئے کہ اے رسول اس پیغام کو پہنچا نے میں سستی نہ کیجئے آپ محفوظ رہیں گے ۔
وَبَلِّغْهُمْ مَااَنْزَلَ اللهُ رَبُّهُمْ وَاِنْ اَنْتَ لَمْ تَفْعَلْ وَحَاذَرْتَ بَا غِیاً
جو کچھ آپ پر خداوند عالم کی طرف سے نا زل ہوا ہے اس کو پہنچا دیجئے اگر آپ نے ایسا نہ کیا اور سر کشوں سے خوف کہا گئے “
عَلَیْکَ فَمَا بَلَّغْتَهُمْ عَنْ اِلٰهِهِمْ رِسَا لَتَهُ اِنْ کُنْتَ تَخْشیٰ اِلَّا عَا دِیٰا
”اگر آپ ظالموں سے خوف ڈرگئے اور دشمنوں سے ڈر گئے تو گو یا آپ نے اپنے پروردگار کی رسالت کا کوئی کام ہی انجام نہیں دیا “
فَقَامَ بِهِ اِذْ ذَاکَ رَافِعُ کَفِّهِ بِیُمْنیٰ یَدَیْهِ مُعْلِنُ الصَّوْتِ عَا لِیاً
”اس وقت پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کے دست مبارک کو بلند کیا اور بلند آوازمیں فر مایا :
فَقَالَ لَهُمْ :مَنْ کُنْتُ مَوْ لَاهُ مِنْکُمْ وَکَانَ لِقَوْ لِیْ حَا فِظاً لَیْسَ نَا سِیاً “
میں تم میں سے جن لوگوں کا مو لا ہوں اور جو میری بات یاد رکہے گا اور فراموش نہیں کرے گا
فَمَوْ لَاهُ مِنْ بَعْدِیْ عَلِیٌّ وَاِنَّنِیْ بِهِ لَکُمْ دُوْ نَ الْبَرِ یَّةِ رٰا ضِیاً
”میرے بعد علیعليهالسلام اس کے مو لا ہیں اور میںصرف علی کےلئے ،کسی اور کےلئے نہیں ،اپنے جا نشین کے عنوان سے راضی ہو ں “
فَیَا رَبِّ مَنْ وَالیٰ عَلِیّاً فَوَالِهِ وَکُنْ لِلَّذِیْ عَا دیٰ عَلِیَّاً مُعَادِیاً
”پروردگار ا!جو علیعليهالسلام کو دوست رکہے تو اس کو دوست رکھ اور جو علی سے دشمنی رکہے تو اس کو دشمن رکھ“
وَ یَارَبِّ فَا نْصُرْنَاصِرِیْهِ لِنَصْرِهِمْ اِمَامَ الْهُدیٰ کَالْبَدْرِیَجْلُو الدَّیَاجِیَا
”پروردگارااس کی مدد کرنے والوں کی مدد کر اس لئے کہ وہ اس ہدایت کر نے والے امام کی مدد کر تے ہیں جو شب کی تاریکیوں میں چو دہویں رات کے چاند کی مانندروشنی بخشتا ہے “
وَیَارَبِّ فَاخْذُلْ خَا ذِلِیْهِ وَکُنْ لَهُمْ اِذَا وَقَفُوْایَوْ مَ الْحِسَا بِ مُکَافِیاً
”اس کو رسوا کرنے والے کو رسوا کر اور قیامت کے دن جب وہ حساب کےلئے کھڑا ہو تو خود اس کو جزا دینا“
حسان کے اشعار ختم ہو نے کے بعد پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فر مایا :جب تک اپنی زبان سے ہمارا دفاع کر تے رہو گے روح القدس کی طرف سے تمھاری تائید ہو تی رہے گی ۔
غدیر میں جبرئیل کا ظا ہر ہو نا( ۲۶ )
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خطبہ کے بعد ایک اور یہ مسئلہ پیش آیا اور دوسری مرتبہ لوگوں پر حجت تمام ہو ئی کہ ایک خوبصورت شخص لوگوں کے پاس کھڑا ہوا کہہ رہا تھا :
”خدا کی قسم آج کے دن کے مانندمیںنے کوئی دن نہیں دیکھا ۔کس طرح پیغمبر نے اپنے چچا زاد بھا ئی کے سلسلہ میں تاکید فر ما ئی ،اس کے لئے یوں عہد لیا کہ خداوند عالم اور اس کے رسول کے علاوہ کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑسکتا وائے ہو اس پر جو اپنا باندھا ہوا پیمان و عہد توڑے“
اس وقت عمر نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کیا :آپ نے اس مرد کی باتیں سنیں؟آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فر مایا :کیا تم نے اس شخص کو پہچان لیا ہے ؟عمرنے کہا :نہیں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :
”وہ روح الامین جبرئیل ہے ۔تم اپنے ایمان کی حفاظت کرنا کہ کہیں عہد شکنی نہ کر بیٹھو،اگر تم نے ایسا کیا تو خدا ،رسول ،ملائکہ اور مو منین تجھ سے بیزار ہو جا ئیں گے “
معجزئہ غدیر،تائید الٰھی( ۲۷ )
معجزہ کے عنوان سے ایک واقعہ جو غدیر کے پروگرام کے اختتام پر پیش آیا وہ ”حارث فھری ‘ ‘ کا ما جرا تھایہ شخص تیسرے دن پروگرام کی آخری گھڑیوں میں اپنے بارہ ساتھیوں کو لیکر آیا اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے عرض کیا :
”اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم میں آپ سے تین سوال پوچھنا چا ہتا ہوں :خدا وند عالم کی وحدانیت کی گواھی اور اپنی رسالت کا اعلان آپ نے پرور دگار عالم کی جانب سے یا اپنی طرف سے کیا ہے ؟ کیا نماز و زکات و حج اورجھادکا حکم پروردگار عالم کی جا نب سے آیا ہے یا آپ نے اپنی طرف سے ان کا حکم دیا ہے ؟ آپ نے جو حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے با رے میں یہ فرمایا ہے :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَا هُ فَعَلِیٌ مَوْلَاهُ“ یہ آپ نے پر وردگار عالم کی جا نب سے فر مایا ہے یا آپ کی طرف سے ہے ؟
تو آپ نے تینوں سوالوں کے جواب میں فرمایا :
خدا وند عالم نے مجھ پر وحی کی ہے میرے اور خدا کے درمیان جبرئیل واسطہ ہیں ،میں خدا وند عالم کے پیغام کا اعلان کر نے والاہوں اور خداوند عالم کی اجازت کے بغیر میں کو ئی اعلان نہیں کرتا “
حارث نے کہا :
”پروردگارا محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جو کچھ بیان فرمایاہے اگر وہ حق ہے اور تیری جانب سے ہے تو مجھ پر آسمان سے پتھر یا دردناک عذاب نازل فرما “
حارث کی بات تمام ہو گئی اور اس نے اپنی راہ لی تو خداوند عالم نے اس پرآسمان سے ایک پتھر بھیجا جو اس کے سر پر گرا اور اس کے پاخانہ کے مقام سے نکل گیا اور اس کا وہیں پر کام تمام ہو گیا ۔
اس واقعہ کے بعد آیت:
( سالَ سَائلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ لِلْکَافِرِیْنَ لَیْسَ لَهُ دَافِعٌ ) ( ۲۸ ) نازل ہوئی پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے اصحاب سے فر مایا :کیا تم نے دیکھا اور سنا ہے ؟ انھوں نے کھا: ھاں ۔
اس معجزہ کے ذریعہ سب کویہ معلوم ہو گیا کہ ”غدیر “ منبع وحی سے معرض وجود میں آیا اور ایک الٰہی فر مان ہے ۔
دوسری جانب ،اس دن کے تمام منافقین اور طول تاریخ میں حارث فھری کے مانند فکر رکھنے والے افراد کےلئے جو اپنی دانست میںخدا و رسول کو تو قبول کر تے ہیں اور یہ جانتے ہوئے علی بن ابی طالبعليهالسلام کی ولایت خداوند عالم کی جانب سے ہے صاف طور پر کہتے ہیں کہ ہمیں یہ برداشت نہیں ہے !!خدا کے اس دندانشکن اور فوری جواب نے یہ ثابت کردیا کہ جس نے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کو قبول نہیں کیا اس نے خدا و رسول کا انکار کیا اور وہ کافر ہے ۔
تین دن کے پروگرام میں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دیگر فرامین( ۲۹ )
تین دن تک بیعت کا سلسلہ چلتا رہا ،اور مختلف طبقوں کے افراد گروہ گروہ میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خد مت میں حا ضر ہو تے رہے ۔ان چھوٹے چھوٹے اجتماعات میں(خطبہ اور مسئلہ بیعت کی اہمیت کے پیش نظر کچھ سوالات ابھر کر سامنے آئے جن کی وضاحت کی ضرورت تھی ۔آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی خطبہ کے مطالب مختصر اور مختلف عبارتوںمیں بیان فر ما تے اور بعض موارد میں وضاحت کے طور پر دیگر مطالب کا بھی اضافہ فر ماتے اور کبھی سوال و جواب کی صورت میں بیان فر ماتے ۔ان میں سے بعض مطالب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم مفصل خطبے سے پہلے بیان فر ما ئے جو لوگوں کے آمادہ ہو نے کےلئے تھے ہم نمونہ کے طور پر ذیل میں چند فرامین کا تذکرہ کر رہے ہیں :
اپنے انتقال کی خبر
ایھاالناس !مجھ سے پہلے آنے والے تمام انبیا ء نے اس دنیا میںزندگی بسر کی اور جب خدا نے ان کی اجل بھیجی تو انھو ں نے اس پر لبیک کھی ۔میں بھی عنقریب داعی اجل کو لبیک کہنے والا ہوں خدوند لطیف و خبیر نے مجھ کو خبر دی ہے کہ( اِنَّکَ مَیِّتٌ وَاِنَّهُمْ مَیِّتُوْنَ ) گویا مجھ کو بھی دعوت اجل دی گئی ہے اور میں اس پر لبیک کہہ چکاہو ں ۔اے لوگو !ھر پیغمبر اپنی قوم میںاپنے سے پہلے پیغمبر کی نسبت آدھی مدت رہتا ہے ۔
حضرت عیسیٰ بن مریم اپنی قوم کے درمیان چالیس سال رہے اور میں بیس سال کے بعد اس دنیا سے جا نے کےلئے تیار ہوں اور نزدیک ہے کہ تم سے مفارقت کر جا وں ۔
رسالت کے پہنچا نے پر اقرا ر
آگاہ ہو جا و کہ مجھ سے بھی سوال ہو گا اور تم سے بھی باز پُرس ہو گی ۔میں جو کچھ رسالت کے عنوان سے تمھارے لئے لیکر آیا ہوں ،کتاب خدا اور اس کی حجت جس کو میں نے یاد گاری کے طور پر تمھارے درمیان چھوڑا ہے اس کا مسئول ہوں اور تم بھی (ان کے سلسلہ میں) مسئول ہو ۔کیا میں نے پہنچا دیاہے ؟تم اپنے پروردگار کے سامنے کیا کہوگے ؟
ھر طرف سے آوازیں بلند ہو ئیں : ہم گواھی دیتے ہیں کہ آپ خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔آپ نے اس کی رسالت کو پہنچایا اور اس کی راہ میں جھاد کیا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کا امر پہونچا دیا،آپ خیر خواہ تھے اور جو کچھ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذمہ تھا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے وہ پہونچا دیا ،خدا وند عالم آپ کو ہماری طرف سے وہ بہترین جزا دے جو کسی پیغمبر کو اس کی امت کی طرف سے دی جا تی ہے ۔
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فر مایا :خدا یا گواہ رہنا ۔
دوسرے انداز سے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کا بیان
ایھا الناس میرا شجرئہ طیبہ بیان کرو ۔لوگوں نے کہا :آپ محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ھاشم بن عبد مناف ہیں ۔
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :خدا وند عالم جب مجھ کو معراج پر لے گیا تو اس نے مجھ پر اس طرح وحی نازل کی: اے محمد ،میں محمود ہوں اور تو محمد ہے !میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے مشتق کیا جو شخص تیرے ساتھ نیکی کرے گا میں اس کے ساتھ نیکی کروں گا اور جو شخص تجھ سے دور رہے گا میں اس سے دور رہوں گا ، میرے بندوں کے پاس جانا اور اپنی نسبت میری کرامت کی ان کو خبر دینا ۔میں نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس کا وزیر قرار دیا ۔تم میرے پیغمبر ہو اور علیعليهالسلام تمھارے وزیر ہیں !
آگاہ ہو جاو : میں تم کو اس چیز کا گواہ بناتا ہوں کہ میں گواھی دیتا ہوں: خدا وند عالم میرا صاحب اختیار ہے اور میں ہر مومن کا صاحب اختیار ہوں کیا تم اس بات کا اقرار کر تے ہو اوراس کی گواھی دیتے ہو؟ انھوں نے کھا: ھاں ،ھم اس بات کی آپ کےلئے گواھی دیتے ہیں ۔آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فر مایا :”آگاہ ہو جاومَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْ لَاهُ ،جس کا م یں مو لا ہوں یہ علی اس کے مو لا ہیں “اور امیر المو منین کی طرف اشارہ فرمایا ۔
اے مسلمانو!حاضرین غائبین تک یہ پیغام پہنچا دیں :جو لوگ مجھ پر ایمان لائے اور انھوں نے میری تصدیق کی ہے میں ان کو ولایت علیعليهالسلام کی وصیت کر تا ہوں ۔ جان لو کہ علی کی ولایت میری ولایت،اور میری ولایت خدا کی ولایت ہے ۔یہ وہ عہد و پیمان ہے جوخدا وند عالم نے مجھ سے لیاہے اور مجہے تم تک پہنچا نے کا حکم دیا ہے اس کے بعد تین مر تبہ فر مایا :کیا تم نے سنا ؟ انھوں نے کہا : یا رسول اللہ ہم نے سن لیا ۔
ایھا الناس کس چیز کی گواھی دو گے ؟انھوں نے کہا :ھم گواھی دیتے ہیں کہ خدا کے علاوہ اور کو ئی خدا نہیں ہے ۔آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: اس کے بعد کس چیز کی گو اھی دیتے ہو ؟انھوں نے کہا :محمد اللہ کے بندے اوراسکے رسول ہیں ۔آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :تمھارا صاحب اختیار کون ہے : انھوں نے کھا: خدا اور اس کا رسول ہمارے صاحب اختیار ہیں ۔آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فر مایا: جس شخص کے خدا اور رسول صاحب اختیار ہیں یہ شخص(علی علیہ السلام ) اس کے صاحب اختیار ہیں
کیا میں ہر مو من پر ا س کے نفس سے زیادہ حق نہیں رکھتا ؟
انھوں نے کہا :ھاں یا رسول اللہ ۔
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے آسمان کی طرف نظریں اٹھا کرتین مرتبہ فرمایا:اے خدا گواہ رہنا! اس کے بعد فرمایا : آگاہ ہو جا و !جس شخص کا میں صاحب اختیار ہوں اور اس کے نفس پر اس سے زیادہ حق رکھتا ہوں یہ علیعليهالسلام اس کے صاحب اختیار اور اس کے نفس پر اس سے زیادہ حق رکھتے ہیں ۔
سلمان نے سوال کیا :حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کس طرح ہے اور اسکا نمونہ کیا ہے ؟
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :علی علیہ السلام کی ولایت میری ولایت کے مانند ہے ۔جس شخص پر میں اس کے نفس سے زیادہ حق رکھتا ہوں علیعليهالسلام بھی اس کے نفس پر اس سے زیادہ حق رکھتے ہیں ۔
دوسرے شخص نے سوال کیا :حضرت علی علیہ السلام کی ولایت سے کیا مراد ہے ؟
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:جس شخص کا میں پیغمبر ہوں اس شخص کے یہ علی علیہ السلام امیر ہیں ۔
قیامت کے دن ولایت کا سوال
کیا تم اس بات کو تسلیم کرتے ہو کہ اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور میں تمھاری طرف اس کا رسول ہوں ،جنت و جہنم اور مرنے کے بعد زندہ ہو نا حق ہے ؟
انھوں نے کہا :ہم ان باتوں کی گواھی دیتے ہیں ۔
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :خدایا یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پرگواہ رہنا ۔
آگاہ ہو جاو کہ تم لوگوں نے مجھ کو دیکھا ہے اورمیرا کلام سنا ہے ۔ جو شخص جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ با ندہے گا اس کا ٹھکانا جہنم ہے ۔آگاہ ہوجاو کہ میں حوض کوثر پر تمھارا منتظر ہوںگااور قیامت کے دن دوسری امتوں کے مقابلہ میں تمھاری کثرت پر فخر کروں گا ۔تم وہاں پر آنا لیکن دوسری امتوں کے مقابل میں مجھ کو شرمندہ نہ کرنا !!
آگاہ ہو جاو میں تمھارا انتظار کروں گا اور تم قیامت کے دن میرے پاس حوض کوثر پر آو گے وہ حوض جس کی چوڑائی بُصریٰ سے لیکر صنعا تک( ۳۰ ) ہے ،اس میں آسمان کے ستاروں کی تعدادسے برابر پیالے ہیں ۔
آگاہ ہو جاو کہ قیامت کے دن جب تم میرے پاس حوض کوثر پر حا ضر ہو گے تو میں نے جس چیز پر آج تم سے شھادت لی ہے اس کے سلسلہ میں اور ثقلین سے متعلق سوال کروں گا کہ تم نے ان کے ساتھ کیسا برتاو کیا ؟دیکھو جس دن مجھ سے ملاقات کروگے دیکھوں گا کہ تم نے میری عدم مو جود گی میں ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا۔
سوال کیا گیا : یا رسول اللہ ثقلین کون ہیں ؟آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :ثقل اکبر خدا وند عز و جل کی کتاب ہے جو خدا اور مجھ سے تمھارے ھاتھوں میں ایک متصل واسطہ ہے اس کا ایک طرف خداوند عالم کے ہاتھ میں ہے اور دوسری طرف تمھارے ھاتھوں میں ہے اس میں ماضی میںاورروز قیامت تک مستقبل کے علوم موجودہیں ۔
ثقل اصغر قرآن کا ھمتا ہے اور وہ علی بن ابی طالب اور ان کی عترت ہے اور یہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو ںگے یھاں تک کہ قیامت کے دن حو ض کوثر پر میرے پاس حا ضر ہوں ۔
ان سے سوال کر نا اور ان کے علاوہ کسی اور سے سوال نہ کرنا ورنہ گمراہ ہو جا و گے ۔میں نے ان دونوں کے لئے خدا وند عالم سے درخواستیں کیں وہ خدا وند لطیف و خبیر نے مجہے عطا کی ہیں ،ان کی مدد کرنے والا میری مدد کرنے والااور ان کو رسوا کرنے والا مجہے رسوا کرنے والا ہے ،ان دونوں کا دوست میرا دوست اور ان کا دشمن میرا دشمن ہے ۔تم سے پہلے کو ئی امت ھلاک نہیں ہو ئی مگراس وقت جب انھوں نے اپنے دین کو اپنی خواہشات نفسانی کے تحت قرار دے لیا، ایک زبان ہو کر اپنے پیغمبر کی مخالفت کی اور اپنے درمیان عدالت سے فیصلہ کر نے والوں کو قتل کر ڈالا۔
آگاہ ہو جا وکہ میں بہت سے لوگوں کوآتش جہنم سے نجات دلاو ں گا اور لیکن بعض کو مجھ سے لے لیا جا ئے گا میں خدا سے عرض کروں گا پروردگارا یہ میرے اصحاب ہیں ؟!مجھ کو جواب ملے گا :آپ کو نہیں معلوم کہ انھوں نے آپ کے بعد کیا کیا کارنامے انجام د ئے ہیں !!
غدیر کے پروگرام کا اختتام( ۳۱ )
اس طرح غدیر کا تین دن کا پروگرام اپنے اختتام کو پہنچااور وہ روز ”ایام الولایة“کے نام سے ذہنوں میں بیٹھ گئے،مختلف گروہ اور عرب کے قبیلوںمیں سے ھرایک نے دنیائے معارف اسلام ،اپنے پیغمبرسے الوداع کہنے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جا نشین کی کامل معرفت کے ساتھ اپنے اپنے شھر و دیار کی راہ لی ۔مکہ اور یمن کے رہنے والے جنوب کی طرف جس راستے سے آئے تھے اسی راستے سے واپس پلٹ گئے ،اور مختلف قبیلے راستے میں اپنے اپنے وطنوں کی طرف چلے گئے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی مدینہ کا رخ کیادر حا لیکہ کاروان بعثت کو اس کے منزل مقصود تک پہنچا دیا تھا۔
واقعہ غدیر کی خبر شھروں میں منتشر ہو ئی، بہت جلدی شائع ہو ئی اور سب کے کانوں تک پہنچ گئی، اور بیشک مسافروں ،ساربانوں اور تاجروں کے ذریعہ اس وقت کے سب سے دور ممالک یعنی ایران، روم اور چین تک پھیل گئی ،اور غیر مسلم بھی اس سے با خبر ہو ئے ۔دوسری جانب ،ملکوں کے بادشاہ جو اسلام کی نئی قدرت و طاقت کے مخالف تھے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد کے ایام کے متظرتہے ان کے ارادے و منصوبے بھی حضرت علی علیہ السلام کے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جا نشین ہو نے کی خبر سن کر پاش پاش ہو گئے ۔ اسلامی معا شرہ دوبارہ نئی طاقت بن کر سامنے آیا ،اور اغیار کے احتمالی حملوںسے محفوظ ہو گیا ،اس طرح خدا وند عالم نے لوگوں پر اپنی حجت تمام کی: حضرت امیر المو منین علیہ السلام فر ما تے ہیں :
”مَاعَلِمْتُ اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلىاللهعليهوآلهوسلم تَرَکَ یَوْمَ الْغَدِیْرِلِاَحَدٍ حُجَّةً وَلَالِقَائِلٍ مَقَا لاً“ ( ۳۲ )
”پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر کے دن کسی کےلئے کوئی حجت اور کوئی بھانہ باقی نہیں چھوڑا ‘ ‘
یہیں سے خدا وند تبارک و تعالیٰ کے کلام کے عمیق و دقیق ہو نے کو پہچانا جا سکتا ہے جو یہ فر ماتا ہے :
”لَوْ اِجْتَمَعَ النَّاسُ کُلُّهُمْ عَلیٰ وِلَایَةِ عَلِیٍّ مَاخَلَقْتُ النَّارَ “ ( ۳۳ )
”اگر تمام لوگ حضرت علی علیہ السلام کی ولایت پر متفق ہو جاتے تو میں جہنم کو پیدا نہ کر تا “
____________________
[۱] بحا رالانوار جلد ۳۷صفحہ۲۰۱۔
[۲] عوالم العلوم جلد۱۵/۳صفحہ۱۶۷،۲۹۷۔الغدیرجلد۱صفحہ۹،۱۰۔بحارالانوارجلد ۱صفحہ۳۶۰،۳ ۳۸،۳۸۴ ، ۳۹۰ جلد ۲۸ صفحہ ۹۵ ۔
[۳] بعض روایات میں ایک لاکھ اسّی ہزار افراد نقل ہوئے ہیں ۔
[۴] بحارالانواتر جلد ۳۷ صفحہ ۱۱۳،جلد ۲۱صفحہ ۳۸۰۔
[۵] بحارالانوار جلد ۳۷ صفحہ ۱۱۴۔
[۶] منافقین کے اقدامات کی تفصیل کااس کتاب کے تیسرے حصہ میں تذکرہ ہو گا ۔
[۷] بحار الانوار جلد ۲۸ صفحہ ۹۶،جلد ۳۷ صفحہ ۱۱۳،جلد ۴۰ صفحہ ۲۱۶۔
حضرت بقیة اللہ الاعظم علیہ السلام کے پاس ہیں ۔
[۸] بحارالانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۱۱،۱۲۰جلد ۳۷صفحہ۱۱۳،جلد ۴۰ صفحہ ۲۱۶۔عوالم ۱۵/۳صفحہ ۳۹،کتاب سلیم بن قیس صفحہ۷۳۰۔
[۹] بحارالانوارجلد۲۱صفحہ۳۸۵،جلد۳۷صفحہ ۱۱۱۔۱۵۸۔اثبات الھدات:جلد ۲ صفحہ ۱۳۶حدیث ۵۹۳۔الغدیر جلد ۱ صفحہ ۱۰،۲۶۸۔
[۱۰] غدیر میں مسجد نبیعليهالسلام ”جو اس تاریخی واقعہ کی یادگار ہے “نے دوست و دشمن کی طرف سے عجیب دن دیکہے ہیں ہم اس کتاب میں اس بات کی طرف اشارہ کریں گے ۔
[۱۱] ایک قول کے مطابق ایک لاکھ چالیس ہزار اور دوسرے قول کے مطابق ایک لاکھ اسّی ہزارافراد تھے ۔
[۱۲] بحار الانوارجلد ۲۱ صفحہ ۳۸۷ ،جلد ۳۷ صفحہ ۱۷۳،۲۰۳،۲۰۴،جلد ۹۸ صفحہ ۲۹۸،عوالم :جلد ۱۵/۳ صفحہ۵۰،۶۰،۷۵، ۷۹،۸۰،۳۰۱۔ جلد ۱ صفحہ ۱۰ ،۲۲ ۔مدینة المعا جز صفحہ ۱۲۸۔الفصول المھمة صفحہ ۲۴،۲۵۔
[۱۳] گذشتہ حصہ میں بیان شدہ روایتوں کے مطابق آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم مدینہ سے ۲۵ ذیقعدہ ھفتہ کے روز چلے اور ۵ /ذی الحجہ منگل کے روز مکہ پہنچے ۔اس بنا پر ۱۸ ذی الحجہ پیرکے روزہو تی ہے ۔اور پندرہ سو سالہ ہجری قمری اور عیسوی (تحقیق:حکیم قریشی ) ڈائری کے مطابق دس ہجری میں ۱۸ ذی الحجہ دس ہجری مطابق ۱۵ مارچ ۶۳۲ ء پیر کے روز تھی ۔
[۱۴] کُرا ع : اس جگہ کو کہا جاتا ہے جھاں پر جا کر پانی کاراستہ ختم ہو جاتا ہے ۔” غمیم “ اس علاقہ کا نام ہے غدیراس تالاب کو کہتے ہیں جس میںسیلاب کے بعدپانی باقی رہ جا ئے ۔”خم “اس آبگیر کو کہتے ہیں ۔”غدیر خم“ کا علاقہ وادی جحفہ میں ہے اور اسی نام سے مشہور ہے ‘
[۱۵] بحارالانوار جلد۱ ۲صفحہ ۳۸۷،جلد ۳۷صفحہ۱۷۳،۲۰۳،۲۰۴،جلد۹۸صفحہ۲۹۸۔عوالم:جلد ۱۵/۳ صفحہ۵۰، ۶۰، ۷۵، ۷۹،۸۰،۳۰۱۔احقاق الحق جلد ۲۱ صفحہ ۴۶۔
[۱۶] بحا رالانوار جلد ۱ ۲صفحہ ۳۸۷ ،جلد ۳۷ صفحہ ۲۰۹۔عوالم :جلد ۱۵/۳صفحہ ۴۴،۹۷،۳۰۱۔اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ۷ ۲۶حدیث ۳۸۷ ،۳۹۱۔احقاق الحق جلد ۲۱صفحہ ۵۳۔۵۷۔
[۱۷] بحار الانوار جلد ۳۷ صفحہ ۲۰۱ ۔۲۰۷۔اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ ۱۱۴ ،جلد ۳ صفحہ ۵۵۸۔
[۱۸] بحار الانوار جلد ۳۷صفحہ /۱۱۱،۲۰۹۔عوالم :جلد ۱۵/۳صفحہ ۴۷۔کتاب سلیم :صفحہ ۸۸۸حدیث/۵۵۔
[۱۹] ۱۔بحار الانوار جلد ۳۷صفحہ /۲۱۵،۲۱۹۔بیعت غدیر کے سلسلہ میں اس کتاب کے آٹھویں حصہ کی چوتھی فصل میں رجوع فرمائیں ۔
[۲۰] بحار الانوار:جلد ۲۱صفحہ ۳۸۷۔امالی شیخ مفید:صفحہ ۵۷۔
[۲۱]بحار الانوار جلد۲۱ صفحہ ۳۸۷، جلد ۲۸ صفحہ ۹۰، جلد ۳۷ صفحہ۱۲۷ ۔۱۶۶۔ا لغدیر جلد ۱ صفحہ ۵۸،۲۷۱،۲۷۴۔ عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۴۲،۶۰،۶۵،۱۳۴،۱۳۶،۱۹۴،۱۹۵،۲۰۳،۲۰۵۔
[۲۲] بحارالانوار جلد ۲۱صفحہ/ ۳۸۸۔عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۳۰۹۔
[۲۳] الغدیر جلد ۱صفحہ/ ۲۹۱۔عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۱۹۹۔اثبات الھداة جلد۲صفحہ۲۱۹حدیث ۱۰۲۔
[۲۴] تاج العروس جلد ۸ صفحہ ۴۱۰۔
[۲۵] بحا رالانوار :جلد ۲۱ صفحہ ۳۸۸،جلد ۳۷ صفحہ ۱۱۲،۱۶۶،۱۹۵۔عوالم :جلد۱۵/۳ صفحہ ۴۱،۹۸،۱۴۴،۲۰۱۔کفا یة الطّالب صفحہ ۴۔اشعار کاعربی متن کتاب سلیم بن قیس صفحہ۲۸۲ سے نقل کیا گیا ہے جوتھوڑے فرق کے ساتھ دوسروں کتابوں میں بھی موجود ہے ۔
[۲۶] بحارالانوار جلد ۳۷ صفحہ ۱۲۰،۱۶۱۔عوالم جلد ۱۵/۳ صفحہ ۸۵ ،۱۳۶۔
[۲۷] بحار الانوار جلد ۳۷ صفحہ ۱۳۶ ،۱۶۲،۱۶۷۔عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۵۶،۵۷،۱۲۹،۱۴۴۔الغدیر:جلد ۱ صفحہ ۱۹۳۔یہ بات بیان کر دینا ضروری ہے کہ روایات میں ”حارث فھری “کا نام مختلف ناموں سے ذکر ہوا ہے ، احتمال ہے کہ بعض نام اس کے بارہ ساتھیوں کے ہوں ۔
[۲۸] سورہ معارج آیت /۲۱۔
[۲۹] عوالم العلوم جلد ۱۵/۳صفحہ ۴۳،۴۴،۴۶،۴۹،۵۴،۷۵،۹۷،۱۹۶،۱۹۹،۲۳۹،۲۶۱۔
[۳۰] ”بصری “ملک شام کا ایک شھر ہے اور”صنعا “ملک یمن کا ایک شھر ہے ،لیکن یھاں پر اس سے حوض کوثرکا وسیع ہونا مراد ہے “
[۳۱] بحار الانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۳۶،جلد ۳۹صفحہ ۳۳۶،جلد ۴۱صفحہ۲۲۸۔عوالم :جلد۱۵/۳صفحہ ۶۸۔کشف المھم :صفحہ ۱۰۹۔بصا ئرالدرجات صفحہ۲۰۱۔
[۳۲] اثبات الھُداة :جلد ۲ صفحہ ۱۵۵حدیث۴۷۶۔
[۳۳] بحارالانوار جلد ۳۹صفحہ۲۴۷۔
غدیر میں شیاطین و منافقین
ابلیسی شیاطین اور انسانی شیاطین کے رد عمل کا افشا اوران کے اقدامات پر روشنی ڈالناغدیر کی اہم ابحاث میں سے ہے ،چو نکہ اس کے پس منظر میں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد جو کچھ واقع ہوا اس کا آسانی سے پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ لوگوں نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ایک پوری زندگی کی زحمات اور غدیر کے عظیم خطبہ کوکوئی اہمیت نہ دیتے ہو ئے بھُلادیا ، یہ سب کچھ قطعاً ان کی پہلے سے بنائی ہوئی سازشوںکے تحت تھا شیطانوںاور منافقوں نے اپنی تمام تر کو ششوں کو اس سلسلہ میں صرف کر دیا تھا ۔
غدیر میں ابلیس اور اس کے گروہ پر مصائب کے پھا ڑ ٹوٹ گئے ،اور منافقین بھی نا امید ی و افسوس میں بسر کر رہے تھے ،ان کی تمام امیدوں پر پانی پھر گیا تھا ۔
شیطان اور اس کے تابعین امت اور مسلمانوں کو گمراہ کر نے اور جہنم رسید کر نے کی نئی فکر کر نے میں لگے تھے ،اور بظاہر مسلمان نما کفار دوران جا ہلیت اور کفر وشرک و الحاد کو دوبارہ زندہ کر نے کی فکر میں لگے ہو ئے تھے ۔
تاریخ کے اس حصہ میں یہ بات ھلا دینے والی ہے کہ غدیر میں شیاطین اپنے دل منافقین سے لگا ئے ہو ئے تھے اور وہ اپنی انکھوں سے ٹکٹکی باندہے ہو ئے ان کے ھاتھوں اور ان کے پروگراموںکو دیکھ رہے تھے ،اور خود کو ہر طرح سے بے سروپا سمجھ رہے تھے یہ مشرک و کافر منافقین تھے جنھوں نے شیطان اور اس کے تابعین کو سرخرو کر دیا تھا ،اور انھوں نے اپنے فرزندان خَلَف کو جواُن سے کسی طرح کم نہیں تھے وحی نبوت سے مقابلہ کا درس دیااور ایسا نقشہ کھینچا کہ نہ صرف وہ اپنے برے مقاصد میں کامیاب ہو ئے بلکہ قیامت تک اکثر مسلمانوں کو صراط مستقیم اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے برحق بارہ جا نشینوں سے منحرف کردیا اور اسلامی خلافت کودنیا کے سامنے مخدوش بھی کردیا ۔
اس حصہ میں پہلے ہم غدیر کے دن ابلیس اور شیطانوں کے درمیان رو نما ہو نے والے واقعات بیان کریں گے اس کے بعد منافقین کے اقدامات اور ردعمل کو بیان کریں گے۔
۱ غدیر میں ابلیس اورشیاطین
ابلیس اور اس کے شاگرد” انسان کے سخت ترین دشمن “غدیر کواپنے لئے سب سے خطرناک موقع سمجھ رہے تھے ۔ان کو یہ خیال تھا کہ غدیر کے بعد مسلمانوں کے گمراہ ہو نے کا راستہ بند ہو جا ئے گا اسی وجہ سے وہ سب اس دن بڑے غمگین و رنجیدہ تھے اور وہ بلندآواز سے فریاد کر رہے تھی ۔
لیکن انسانی شیطانوں نے ابلیس کی آواز پر لبیک کھی اور وہیں غدیر میںھی اس سے وعد ے کئے، منصوبے بنائے ،جس سے اس کے تمام رنج و غم دور ہو گئے اور وہ خوش و خرم و مسرور ہو گیا ۔
جب اس نے سقیفہ میں ان تمام پر وگراموں کو عملی جامہ پہنتے دیکھا تو وہ پھولا نہیں سما رہا تھا ،اس دن ابلیس(سب سے بڑا شیطان ) نے ان کی تاج پوشی کی اور ا پنے گروہ کو رسمی طور پر خوش وخرم ہو نے کا حکم دیا ۔
ھم ذیل میںاس مدعا سے متعلق چند احا دیث نقل کر رہے ہیں :
غدیر میں شیطان کی فریاد
امام محمد با قر علیہ السلام نے فرما یا ہے :ابلیس کی چار مر تبہ فریادبلند ہوئی :جس دن وہ خدا وند عالم کی لعنت کا مستحق قرار پایا ،جس دن آسمان سے زمین پر بھیجا گیا ،جس دن پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم مبعوث ہو ئے اور غدیر خم کے دن (جب امیر المو منین علیہ السلام جانشین رسول بنے )۔( ۱ )
منافقین کے شیطان کے ساتھ وعدے
امام محمد باقر علیہ السلام کافرمان ہے :جب پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑکر فرمایا <مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌ مَوْلَاهُ >ابل یس اور اس کے گروہ کے بڑے بڑے شیاطین مو جود تھے ۔
ان شیاطین نے اس سے کہا :تو نے ہم سے یہ نہیں کہا تھا !بلکہ تم نے تو یہ خبر دی تھی کہ جب پیغمبر دنیا سے رحلت کریں گے تو ان کے اصحاب متفرق ہو جا ئیں گے !لیکن آنحضرت کے بیان سے تو یہ واضح ہو رہا ہے کہ انھوں نے ایک محکم پروگرام کی پیش گوئی کی ہے کہ جب ان کے جانشینوں میں سے ایک کا انتقال ہو جا ئیگا تو دوسرا اس کا قائم مقام ہو گا !
ابلیس نے جواب دیا :جاو ، ان کے اصحاب نے مجھ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ ان کی کسی بات کا اقرار نہ کریں ،اور وہ اپنے اس وعدے سے ہر گز سر پیچی نہیں کر یں گے !( ۲ )
مسلمانوں کے مرتد اور کافر ہو جانے سے شیطان خوش
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایاہے :جب پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے امیر المو منین حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا تو ابلیس نے ایک چیخ ماری جس سے خشکی اور تری کے تمام شیطانوں نے اس کو اپنے گھیرے میں لے کر کہا :اے ہمارے آقا ،اور اے ہمارے مولا آپ کو کس مشکل نے گھیر لیا؟ ہم نے آج تک تمھاری اس سے زیادہ بھیانک آواز نہیں سنی !
ابلیس نے کہا :
اس پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے وہ کام انجام دیا ہے کہ اگر نتیجہ بخش ثابت ہو گیا تو ہر گزکوئی خدا وند عالم کی معصیت نہیں کرے گا ۔
شیطانو ں نے کہا :اے ہمارے آقا ،اے ہمارے مولا تم نے تو آدم علیہ السلام تک کو گمراہ کردیا!
جب منافقین نے آپس میں باتیں کیںکہ:”پیغمبر اپنی خواہشات نفسانی سے بات کررہے ہیں “ اوران دو آدمیوں (ابو بکر اور عمر )میںسے ایک نے دوسرے سے کہا :نہیں دیکھ رہے ہو کہ ان کی آنکہیں ان کے سر میں دیوانوں کی طرح گردش کر رہی ہیں “،جب ان دونوں نے یہ باتیں کیں تو ابلیس نے خوشی سے نعرہ لگایا اور اس نے اپنے تمام دوست و احباب کو جمع کر کے کہا :کیا تم جا نتے ہو کہ میں نے آدم علیہ السلام کو گمراہ کیا ؟انھوں نے کہا :ھاں ،تو ابلیس نے کھا:آدمعليهالسلام نے اپنا عہد و پیمان توڑالیکن وہ منکر خدا نہیں ہو ئے لیکن ان لوگوں نے اپنے عہد و پیمان کو توڑ دیا اور پیغمبر کا انکار کر بیٹہے “!!
جب پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے انتقال فر مایا اور لوگوں نے حضرت علی علیہ السلام کوچھوڑکر غیر کو اپنا خلیفہ بنا لیاتو ابلیس نے بادشاہت کا تاج سر پر رکھا اور ایک منبر رکھ کر اس پر بیٹھا اپنے تمام شیطانوں کو جمع کر کے کھا:
”خوشی مناو اس لئے کہ جب تک امام قیام نہیں کرےگا اس وقت تک خدا وند عالم کی اطاعت نہیں ہو سکتی “( ۳ )
شیعو ں کو گنا ہ میں ملوث کر نے کی شیطان کی کو شش
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فر مایا :جب پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم میں خطبہ دیا اور امیر المو منین علیہ السلام کولو گوں کے لئے اپنا خلیفہ و جانشین معین فرمایا تو شیطان نے ایک چیخ ماری جس سے اس کے تمام دوست و احباب اس کے پاس جمع ہو کر کہنے لگے اے ہمارے سردار تم نے یہ چیخ کیوں ماری ؟!ابلیس نے کہا :وائے ہو تم پر آج کا دن عیسیٰ کے دن کے مانند ہے !
خدا کی قسم ،اس سلسلہ میں لوگوں کو گمراہ کروں گا ۔۔۔
ابلیس نے دوسری مرتبہ چیخ ماری تو اس کے گروہ کے بڑے بڑے لیڈر اس کے پاس جمع ہو کرکہنے لگے : اے ہمارے سردار یہ دوسری چیخ کیوں ماری ؟!ابلیس نے کہا :
خدا وند عالم نے میرے قول کے سلسلہ میں آیت نازل فر مائی ہے( وَلَقَدْصَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهُ ) ( ۴ )
”اور ان پر ابلیس نے اپنے گمان کو سچ کر دکھایا“
اس کے بعد ابلیس نے آسمان کی طرف متوجہ ہو کر کہا :
خداوندا تیری عزت و جلال کی قسم ہدایت یافتہ گروہوں کو بھی دوسرے گروہوں سے ملا دوں گا !
اس مقام پر پیغمبر ”جو ابلیس کے کردار ورفتار سے واقف تھے “نے خداوند عالم کی جانب سے اس آیت کی تلاوت فرمائی:( اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْهِمْ سُلْطَانِّ ) ( ۵ )
”میرے بندوں پر تیرا کو ئی اختیار نہیں ہے “
پھر ابلیس نے چیخ ماری اور اس گروہ کے بڑے سردار نے اس کے پاس واپس آکر اس سے سوال کیا یہ تیسری چیخ کیوں ماری؟ابلیس نے کہا :
خدا کی قسم ،میں علی علیہ السلام کے اصحاب پر (تسلط نہیں رکھتا ہوں)!لیکن خدوند عالم تیری عزت و جلال کی قسم ،گنا ہوں کو ان کے لئے (یعنی علی علیہ السلام کے شیعہ )اچھا بناکر پیش کروں گا ،تاکہ ان کوان کے ارتکاب کرا کے تیری بارگاہ میں مبغوض کروں ۔( ۶ )
غدیر میں شیطان کی پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے گفتگو
غدیر میں شیطان نے ایک بوڑہے خوبصورت مرد شکل میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر کہا :اے محمد ،کتنے کم افراد ہیں جو آپ کی گفتگو کے مطابق آپ کی واقعی بیعت کر نے والے ہیں !!( ۷ )
غدیر میں شیطان کا حزن اور سقیفہ میں خو شی
امیر المومنین علی علیہ السلام نے فر مایا :پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مجہے خبر دی ہے :
ابلیس اور اس کے گروہ کے بڑے بڑے لیڈر میرے جانشین بننے کے وقت غدیر میں مو جود تھے اس دن ابلیس کے اصحاب نے اس کی طرف منھ کر کے کہا : یہ امت رحمت کے لائق قرار پائی اور گمراھی سے محفوظ ہو گئی ،اب ہمارے اور تمھارے لئے ان کو بھکا نے کا کوئی موقع نہیں ہے ،چونکہ انھوں نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد اپنے امام اورپناہ گاہ کی معرفت حا صل کر لی ہے ۔
ابلیس غمگین و رنجیدہ ہو کر ان سے جدا ہو گیا ۔
امیر المو منین علی علیہ السلام نے مزید فرمایا :پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مجھ کو خبر دی ہے :
میری رحلت کے بعد جب لوگ تمھاری بیعت توڑ لیں گے ابلیس اپنے اصحاب کو جمع کر ے گا اور وہ اس کو سجدہ کر تے ہو ئے سوال کریں گے :
اے ہما رے سرپرست ،اے ہمارے بڑے سردار ،تونے ہی نے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے باھر کیا تھا !
ابلیس کہتا ہے :
کو نسی امت اپنے پیغمبر کے بعد گمراہ نہیں ہو ئی ؟!تم یہ گمان کر تے ہو کہ میں ان پر کو ئی تسلط نہیں رکھتا ہوں ؟!تم نے مجھ کو کیسا پایا کہ میں نے ایسا کام کیا جس سے انھوں نے حضرت علی علیہ السلام کی اطاعت کے سلسلہ میں خدا اور پیغمبر کے امر کو ترک کر دیا ؟( ۸ )
۲ غدیر میں منافقین
غدیر میں منافقین کے رفتار و کردار کا تین طرح سے جا ئزہ لیا جا سکتا ہے :
۱ ۔غدیر کے خلاف ان کے عملی اقدامات اور سازشیں ۔
۲ ۔غدیر کے سلسلہ میں ان کا حسد،کینہ اور منافقانہ اقوال۔
۳ ۔غدیر میں ان کے عکس العمل کے واضح نمونے ۔
غدیر میں منا فقوں کی سازشیں
غدیر سے مدتوں پہلے منافق پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خلاف اپنی صفوف مستحکم کر رہے تھے اور بعض حساس مو قعوں پرتھوڑا بہت اپنی منافقت کا اظھار بھی کرتے رہتے تھے ۔
حجة الوداع میںجب منافقین آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے نزدیک اوراپنے بعد رسمی طور اپنا جانشین معین فرمانے سے واقف ہوئے تو منافقین بنیادی اقدامات کاآغاز کیا اور خود کو پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعدکے دنوں کےلئے آمادہ و تیار کرلیا ،اس مقام پر کفر و نفاق متحد ہوگئے ،ان کے جاسوس پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ارادوں کے جزئیات کو ان تک پہنچا نے لگے ۔
پھلی سازش( ۹ )
منافقوں کی سازشوں کا نطفہ اس وقت منعقد ہوا جب دو آدمیوں نے اس بنیادی کام کے سلسلہ میںآپس میں عہد و پیمان کیاکہ :
”اگر محمد اس دنیا سے کوچ کر گئے یا قتل ہو گئے تو ہر گز ان کی خلافت اور جا نشینی ان کے اہل بیت علیھم السلام تک نہیں پہنچنا چا ہئے “
ان کے اس عہد میں تین آدمی اور شریک ہو گئے اور سب سے پہلا معاہدہ کعبہ کے پاس لکھاگیا، دستخط کر نے کے بعد اس کو کعبہ کے اندر زیر خاک چھپا دیا گیا تاکہ اس پیمان کو ہر حال میں عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک سند رہے ۔
ان تین آدمیوں میں سے ایک شخص معاذ بن جبل کا کہنا ہے :
”آپ اس مسئلہ کو قریش کے ذریعہ حل کریں انصار کا ذمہ وار میں ہوں “
انصار کے رئیس کل” سعد بن عبادہ“ تھے ،وہ ابو بکر و عمر کے ساتھ ہم عہد بھی نہیں تھے لہٰذامعاذ بن جبل، بشیر بن سعید اور اسید بن حضیرجو آدہے انصار یعنی ان کے دو قبیلے” اوس“ اور” خزرج“میں سے ایک کا حاکم تھا، کی تلاش میں نکلے اور ان کو خلافت غصب کر نے کےلئے اپنا ہم عہد بنالیا۔
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کو قتل کر نے کی سازش( ۱۰ )
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کو قتل کر نے کی سازش ایک مرتبہ جنگ تبوک میں اور کئی مرتبہ زھر اور دوسرے حربوں سے کی گئی مگر ہر بار ناکامی ہو ئی ۔
لیکن حجة الوداع کے موقع پر انہیں پانچ ہم پیمان منافقوں نے دوسرے نو افراد کے ساتھ مل کرآخری مرتبہ مکہ سے مدینہ واپس آنے کے راستہ میں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کو قتل کرنے پر وگرام بنایا اور اس پروگرام کی ایک وجہ حضرت علی بن ابی طالب کے اعلان خلافت سے پہلے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کو قتل کرکے آسانی سے اپنے مقاصد تک پہنچنا تھی لیکن محل سازش تک پہنچنے سے پہلے ہی حکم خدا نازل ہوگیااور غدیر کے مراسم انجام پاگئے۔اگر چہ وہ اپنے منصوبے سے پیچہے نہیں ہٹے۔
ان کا پروگرام یہ تھاکہ کوہ ھرشیٰ کی چوٹی پر کمین میں بیٹھاجائے چونکہ اکثرلوگ ،پھاڑ کے دامن سے گذرجاتے ہیں اور چوٹی پر نہیں آتے لہٰذاجیسے ہی پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا اونٹ پھاڑکی چوٹی سے گذر کر اترنے لگے گا تو بڑے بڑے پتھر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اونٹ کی طرف پھینک دئے جائےںجو آپعليهالسلام کے اونٹ کو جاکر لگیںجس سے آپعليهالسلام کااونٹ یا گر جائے یا اچھل کر پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو گرادے اور وہ رات کی تاریکی میں آ پعليهالسلام پر حملہ کردیںاور یقینی طورپر پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کا خون ہوجائے۔
اور اسکے بعد فرار ہوکر دوسرے لوگوں کے ساتھ مل جائیں تاکہ قاتل کا پتہ نہ چل سکے ۔
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قتل کی سازش ناکام
خداوندعالم نے اپنے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس پرو گرام سے آگاہ کیا اور ان کی حفاظت کاوعدہ دیا۔چودہ افراد پر مشتمل منافقین کا گروہ ”رات کی تاریکی میں اپنی وعدہ گاہ کو ہ ھرشی کی چوٹی کا اختتام اور اس کے نشیب کی ابتدا “پر پہنچا اور اپنے اونٹوں کو ایک کنارے پر بٹھادیااور سات سات آدمی پھاڑکے دائیں بائیں چھپ کر بیٹھ گئے۔ انھوں نے اپنے پاس کے بڑے بڑے برتن ریت اور کنکریوں سے بھر کر رکہے ہوئے تھے تاکہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اونٹ کی طرف ان کو پھینک کر اسکو دوڑادیں۔
جیسے ہی پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سواری پھاڑکی چوٹی پر پہنچی اور پھاڑسے نیچے اترنا چاہتی تھی منافقوںنے بڑے بڑے پتھر اور ریت اور کنکریوں سے بھرے برتنوں کو ان کی طرف چھوڑ دیا۔قریب تھاکہ اونٹ کو جاکے لگتے یا اونٹ دوڑنے بھاگنے لگتا۔پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اونٹ کو رک جانے کا حکم دیا۔یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب حذیفہ اورعمار میں سے ایک آنحضرت کی سواری کی لگام تھامے ہوئے تھے اور دوسرا اسکو پیچہے سے ھانک رہا تھا۔
اونٹ کے رک جانے سے پتھرگذرکر پھاڑسے نیچے کی طرف چلے گئے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم صحیح وسالم بچ گئے۔منافقین کو جو اپنے اس دقیق پروگرام سے مطمئن تھے فوراً تلواریں لے کر کمینگاہوں سے باھر نکل آئے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف حملہ کرنے کےلئے بڑہے ۔
لیکن عمار اور حذیفہ نے بھی تلوار یں کھینچ لیں اور جوابی کاروائی شروع ہوگئی۔آخر کار وہ بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔
منافقوں نے پھاڑوں کے پیچہے پناہ لی تاکہ پیغمبر کے تھوڑا آگے بڑھنے کے بعد رات کی تاریکی سے استفادہ کر تے ہو ئے قافلہ کے ساتھ ملحق ہو جا ئیں ۔
اس لئے کہ آنے والی نسلوں کو یہ معلوم ہو جا ئے کہ اس زمانہ میں منافقین کے سردار کون لوگ تھے اور پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد ہو نے والی سازشوں کی تحلیل آسانی سے ہو سکے ،آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسی رات ان کے چھروں سے نقاب الٹ دی اور اچانک چند لمحوں کےلئے فضا میں نور چمکا جس سے عمار اور حذیفہ نے بھی ان چودہ افراد کے چھروں کو بخوبی پہچان لیاحتی ان کی سواریوں کو بھی دیکھ لیا جن کو انھوں نے ایک طرف بٹھا رکھا تھا اور وہ چودہ آدمی یہ تھے :
ابو بکر ،عمر ،عثمان ،معاویہ ،عمرو عاص ،طلحہ،سعد بن ابی وقاص ،عبد الرحمن بن عوف ،ابو عبیدہ بن جراح ،ابو موسیٰ اشعری ،ابو ھریرہ ،مغیرہ بن شعبہ ،معاذ بن جبل اور سالم مو لیٰ ابی حذیفہ۔
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ حکم تھا کہ اس وقت آپ ان سے کو ئی بات نہ کریں اس لئے کہ ان حساس حالات میں فتنہ و فساد پھیلنے اور گزشتہ تمام زحمتوں کے بر باد ہو نے کا خطرہ تھا ۔
دوسرے روز جب صبح کی نماز با جماعت قائم ہو ئی تو یہ چودہ لوگ سب سے پہلی صف میں تھے !! اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کی طرف اشارہ کر تے ہو ئے چند باتیں بیان کیں اور فرمایا :
”کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ انھوں نے کعبہ میں یہ قسم کہا ئی ہے کہ اگر محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم دنیا سے چلے گئے یا قتل ہو گئے تو ہر گز خلافت ان کے اہل بیت علیھم السلام تک نہیں جانے دیں گے ۔
مدینہ میں دوسری سازش( ۱۱ )
وہ منافق جو پہلے شکست کہا چکے تھے انھوں نے ہی مدینہ پہنچتے ہی ایک میٹنگ کی جس میں وہ چو نتیس افراد شریک ہو ئے جو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد اس طرح کے کا موں میں پیش پیش رہتے تھے ۔
اس میٹنگ میں آئندہ کے پروگرام کا منصوبہ بنایا گیااور سب نے اس پر دستخط کئے۔دستخط کرنے والوں میں گذشتہ چودہ افراد کے علاوہ بعض قبیلوں کے سردار تھے کہ جن میں سے ہر ایک کے ساتھ لوگوں کا ایک گروہ تھا۔منجملہ ان میں سے :ابوسفیان، ابوجھل کابیٹا عکرمہ،سعید بن عاص،خالد بن ولید، بشیر بن سعید، سھیل بن عمرو ،ابوا لاعور اسلمی،صھیب بن سنان اور حکیم بن حزام تھے ۔
پیمان نامہ کا لکھنے والا سعید بن عاص اورمیٹنگ کی جگہ ابوبکر کا گھر تھا۔دستخط کے بعد پیمان نامہ کو بند کرکے ابو عبیدہ جراح کو بعنوان امانت دےدیا تاکہ اسکو مکہ لے جائے اور کعبہ کے اندر پہلے صحیفہ کے ساتھ دفن کردے تاکہ سند کے طور پر محفوظ رہے ۔
اسکے دوسرے دن پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے نماز صبح کے بعد منافقوں کے اس اقدام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
میری امت کے بعض لوگوں نے ایک معاہدہ لکھا ہے جو زمان جاہلیت کے اس معاہدہ سے مشابہ ہے جو کعبہ میں لٹکایا ہواتھا لیکن میںاس راز کو فاش نہ کرنے پر مامور ہوں“
اسکے بعد ابو عبیدہ جراح کی طرف رخ کرکے فرمایا”اب تم اس امت کے امین بن گئے ہو؟“
اسامہ کا لشکر( ۱۲ )
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے منافقین کے اقدامات کے ساتھ آخری مقابلہ کرنے اور اپنی وفات کے بعد مدینے کو ان کے وجود سے خالی کرنے کی غرض سے اسامہ بن زید کی حکمرانی میں ایک لشکرتشکیل دیااور منافقین میں سے چار ہزار افراد کو ان کے نام کے ساتھ معین کرکے حکم دیا کہ یہ گروہ حتماًاس لشکر میں حاضر ہواور جلدازجلدسرزمین شام میں رومیوں کی طرف حرکت کریں۔اس گروہ میں سے ابوبکراور عمر کے لشکر میں حاضرہونے پر زیادہ زور دے رہے تھے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا اس میں شامل نہ ہونے والوںپرلعنت کرنا اور لشکرکے جلدی حرکت کرنے والوں پر لعنت کرنے پر زیادہ زور دینا قابل دید تھا۔
لیکن آنحضرت کے اس اقدام کی منافقوں نے سخت مخالفت کی اور کسی نہ کسی بھانے سے مدینہ واپس لوٹ آنے اور لشکر کے حرکت کرنے میں اتنی تاخیر کی کہ پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم دنیا سے رحلت فرماگئے اور انھوں نے اپنے پروگراموںکو آسانی سے عمل میں لاناشروع کردیا۔
غدیر کا نور ولایت کا محافظ
یہ واقعہ غدیر کے زمانے میں منافقین کے اقدامات اور نیز ان کے مقابلے میں ان کی سازشوں کو ناکام کرنے ،تیئیس سالہ زحمات کی حفاظت کرنے، اور مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کی ہدایت کے لئے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اقدامات کا خلاصہ تھا۔
لیکن منافقین نے اپنی سازشوں کو عملی جامہ پہنادیااور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعدمسلمانوں کو پچھلے پاؤں پلٹنے پر مجبورکردیا اور مسلمان بھی پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زحمات اور واقعہ غدیر کو نظر انداز کرکے جاہلیت کی طرف پلٹ گئے۔اور اس کام میں انھوں نے اتنی جلدی کی کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے غسل ودفن ہونے کا بھی انتظار نہیں کیا !!
امام صادقعليهالسلام سے اس آیةشریفہ کے بارے میں سوال ہوا( یعرفون نعمةاللهثم ینکرونها ) تو آپ نے فرمایا:
”غدیر کے دن اسکو پہچانتے ہیں اور سقیفہ کے دن اسکا انکار کرتے ہیں “( ۱۳ )
طول تاریخ میں امیر المومنین علی علیہ السلام کے مقابلے میں منافقوں کے اقدامات کو مد نظر رکھ کر خداوند متعال کے اس کلام کی گھرائی کو معلوم کیا جاسکتاہے :
( لَوْاِجْتَمَعَ النَّاسُ کُلُّهُمْ عَلیٰ وِلَایَةِ عَلِیٍّ مَاخَلَقْتُ النَّارَ )
”اگر تمام لوگ ولایت علی پر متفق ہو جا تے تو میں آتش جہنم کو پیدا نہ کر تا “( ۱۴ )
غدیر میں منافقین کے اقوال
منافقوں نے غدیر کے دن کینہ اور حسد کی وجہ سے جو الفاظ کہے ان میںسے بعض اس وقت سے مر بوط ہیں جب آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم خطبہ ارشاد فر ما رہے تھے ،خاص طور سے جس وقت آ پ امیر المومنینعليهالسلام کے ھاتھوں کو بلند کرکے ان کا تعارف کرا رہے تھے ،بعض الفاظ اس پروگرام کے ختم ہوجانے کے بعد سے متعلق ہیں جب منافقین آپس میں جمع ہوکر ایک دوسرے کو اپنا درد دل سنا رہے تھے
خطبہ کے دوران ان کی گفتگوکے چندنمونے( ۱۵ )
وہ اپنے چچا زاد بھائی کے گرویدہ ہو گئے ہیں ۔
وہ اس جوان کے سلسلہ میںدھوکہ کھاگئے ہیں ۔
وہ اپنے چچازاد بھائی کے معاملہ کوعجب محکم اور مضبوط کر رہے ہیں ۔
ھم راضی نہیں ہیں ،اور یہ ایک تعصب ہے !
ھم ہر گز ان کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہو ں گے ۔
یہ امر خدا نہیں ہے وہ اپنی طرف سے کہہ رہے ہیں !
ان کی آنکھوں کودیکھو(معاذاللہ)مثل دیوانوں کے گھوم رہی ہیں ۔
اگر اس میں طاقت و قدرت ہو تی تو قیصر و کسریٰ کی طرح کام کر تا !
خطبے کے بعد کی گفتگو کے چند نمونے( ۱۶ )
ھمارے سب منصوبے خاک میں مل گئے!
ھم ہر گز محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بات کی تصدیق نہیں کریں گے اور علیعليهالسلام کی ولایت کا اقرار نہیں کریں گے۔
ھمیں بھی علی کی ولایت میں شریک کرے تاکہ ہمارا بھی کچھ حصہ رہے ۔
وہ ابھی علیعليهالسلام کو ہمارے اوپر مسلط کررہے ہیں لیکن خدا کی قسم بعد میں انکو معلوم ہوگا(کہ ہم نے کیا منصوبے بنا رکہے ہیں ۔)
۳ غدیر میںمنافقین کے عکس العمل کے واضح نمونے
منافقین کی مذکورہ گفتگو کے علاوہ ان کی رفتار وگفتار کے بعض دوسرے نمونہ درج ذیل ہیں
اب کہتاہے :میرے خدا نے ایسا کہا ہے !!
امام صادقعليهالسلام نے فرمایا:پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جب امیر المومنین کو غدیر کے دن (عھدہ امامت پر)منصوب کیااور ان کا تعارف کرایا تو ان کے سامنے منافقوں کے یہ سات آدمی بیٹہے ہوئے تھے : ابوبکر،عمر، عبدالرحمن بن عوف،سعد بن ابی وقاص، ابو عبیدہ بن جراح ،سالم مولی ابی حذیفہ اور مغیر ہ بن شعبہ۔
ان میں سے عمر نے کھا:
اسکو نہیں دیکھتے کہ اس کی آنکہیں مجنون کی طرح گھوم رہی ہیں ؟!اب وہ کہتا ہے :
میرے خدا نے ایسا کہا ہے !( ۱۷ )
ھم تصدیق نہیں کریںگے ۔۔۔اقرار نہیں کریں گے!
حذیفہ کا بیان ہے :معاویہ غدیر کے دن امیرالمومنین علیعليهالسلام کے منصوب ہونے کے بعد غضب و غصّہ کی حالت میں اٹھااور تکبر سے اپنادایاں ہاتھ ابوموسیٰ اشعری اور بایاں ہاتھ مغیرہ بن شعبہ کے کاندہے پر رکھ کر آگے بڑھتے ہوئے کہنے لگا:
”ھم محمد کی اس بات کی تصدیق نہیں کرتے اورعلی کی ولایت کا اقرار نہیں کرتے۔۔۔“
خداوند متعال نے یہ آیت اسکے بارے میں نازل کی:
( فَلَاصَدَّقَ وَلَاصَلیّٰ وَلٰکِنْ کَذَّبَ وَتَوَلّیٰ ثُمَّ ذَهَبَ اِلیٰ اَهْلِهِ یَتَمَطّیٰ ) ( ۱۸ )
”اس نے نہ کلام خدا کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی ۔بلکہ تکذیب کی اور منھ پھیر لیا۔پھر اپنے اہل کی طرف اکڑتا ہوا گیا۔
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اسکو واپس بلا کر قتل کرنا چاہتے تھے کہ آیت نازل ہوئی:
( لَاتُحَرِّکْ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ ) ( ۱۹ )
”دیکھئے آپ قرآن کی تلا وت میںعجلت کے ساتھ زبان کو حرکت نہ دیں“
اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم صبر کرنے پر مامور ہوئے۔( ۲۰ )
کاش اس سوسمارکو۔۔۔؟
جب غدیر کا واقعہ رونماہوا تومنافقین لگے”ہماری ساری تدبیر ےںفیل ہوگئیں“جب سب لوگ متفرق ہوگئے تو منافقین جمع ہوئے اور اس واقعہ پر افسوس کرنے لگے اتنے میں ایک (سوسمار) ان کے پاس سے گزرا تو آپس میں کہنے لگے:
کاش محمد نے اس سوسمار کو ۔۔۔ہماراامام بنادیا ہوتا!!
ابوذر نے اس بات کو سن لیا انھوں نے پیغمبر کو بتایا ۔جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان منافقین کو حاضر کیا تو سب جھوٹی قسمیں کھانے لگے تو آپ نے فرمایا:
”جبرئیل نے مجہے خبر دی ہے کہ قیامت کے دن ایک ایسی قوم کو لایا جائے گا جس کا امام سوسمار ہوگا:خبردار کہ وہ تم نہ ہو!!( ۲۱ )
____________________
[۱] بحا رالانوار جلد ۳۷ صفحہ ۱۲۱۔
[۲] بحار الانوار جلد ۳۷ صفحہ ۱۲۰ ،۱۶۸۔عوالم :جلد۱۵/۳صفحہ ۱۲۵،۱۳۵۔
[۳] روضہ کافی صفحہ ۳۴۴ حدیث ۵۴۲۔اس آخری حدیث کا عربی متن اس طرح ہے :لَا یُطَاعُ اللّٰهُ حتیّٰ یَقُوْمَ الْاِمَامُ “اس جملہ کے معنی میں دو احتمال پائے جا تے ہیں :
الف:جب تک امام حق امور کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں نہ لے خدا کی اطاعت نہیں ہو سکتی ہے ۔
ب:جب تک امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف قیام نہ کریں خدا کی مکمل طور پر اطاعت نہیں ہو سکتی ۔
[۴] سورہ سباآیت/۲۰۔
[۵] سورہ حجر آیت/۴۲۔
[۶] بحارالانوار جلد ۳۷صفحہ۱۶۴،۱۶۵۔
[۷] بحار الانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۳۵۔عوالم :جلد ۱۵/۳صفحہ ۳۰۳۔
[۸] کتاب سلیم حدیث۵۷۹۔روضہ کافی صفحہ ۳۴۳حدیث ۵۴۱۔
[۹] بحار الانوار جلد ۱۷صفحہ ۲۹،جلد ۲۸صفحہ ۱۸۶،جلد۳۶ صفحہ ۱۵۳،جلد ۳۷صفحہ ۱۱۴،۱۳۵۔کتاب سلیم: ۸۱۷ حدیث ۳۷۔ عوالم ۱۵/۳صفحہ ۱۶۴۔
[۱۰] بحا رالانوار جلد ۲۸صفحہ ۹۹۔۱۰۰،جلد ۳۷ صفحہ ۱۱۵،۱۳۵۔عوالم:جلد ۱۵/۳صفحہ ۳۰۴۔اقبال الاعمال:صفحہ ۴۵۸ ۔ تبوک میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قتل کی سازش کے سلسلہ میں :بحارالانوار جلد ۲۱صفحہ ۱۸۵تا ۲۵۲۔
[۱۱] بحار الانوارجلد ۲۸صفحہ۱۰۲۔۱۱۱
[۱۲] بحار الانوارجلد ۲۸صفحہ۱۰۷۔ ۱۰۸
[۱۳] اثبات الھدات جلد صفحہ ۱۶۴حدیث۷۳۶۔
[۱۴] بحارالانوارجلد ۳۹صفحہ۲۴۷۔
[۱۵] بحارالانوارجلد۳۷صفحہ ۱۱۱،۱۳۹،۱۵۴،۱۶۰،۱۷۲،۱۷۳۔
[۱۶] بحارالانوارجلد ۳۷صفحہ۱۵۴،۱۶۰،۱۶۱،۱۶۲۔
[۱۷] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ۱۳۴۔
[۱۸] سورہ قیامت آیت /۳۱۔۳۴۔
[۱۹] سورہ قیامت آیت/ ۱۶۔
[۲۰] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۹۶،۹۷،۱۲۵۔
[۲۱] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۱۶۳۔بحارالانوارجلد ۳۷صفحہ۱۶۳۔
خطبہ غدیر کا خلاصہ
اگر چہ خطبہ غدیر کا عربی متن اور اس کا اردو ترجمہ اس کتاب کے چھٹے اور ساتویں حصہ میں بیان ہو گا لیکن خطبہ کا خلاصہ ،اس کی مو ضوعی تقسیم اورمطالب کا جدا جدا بیان کرنا قارئین کرام کےلئے خطبہ کے متن کا دقیق طور پر مطالعہ کرنے کا ذوق بڑھاتا ہے ۔لہٰذاھم اس اہم مطلب کو دو حصوں میں بیان کرتے ہیں ۔
۱ خطبہ غدیر کے چند اہم نکات
خطبہ غدیر پر ایک سرسری نگاہ کرنے سے کچھ مھم نکات نظر آتے ہیں جن کو ہم ذیل میں ذکر کر رہے ہیں :
۔پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خطبہ کے مختلف موارد میں اپنی تبلیغ پر خداوند عالم کو گواہ بنانا۔
۔پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کامختلف مواقع پر اپنے پیغام کو پہنچانے پر لوگوں کو گواہ بنانا۔
۔خطبہ کے دوران قرآن کی آیتوں کو بطور شاہد پیش کرنا۔
۔خطبہ کے دوران کئی جگہوں پر اپنے بعدبارہ اماموںعليهالسلام کی امامت کے مسئلہ پرتاکید کرنا۔
۔حرام وحلال کے تبدیل نہ ہونے اور اماموں کے ذریعے ان کے بیان ہونے پر تاکیدکرنا
۔خطبہ میں بہت ساری آیتوں کی اہل بیت علیھم السلام کے ذریعے تفسیر کرنا۔
۔کئی مقامات پر منافقین کے گذشتہ اور آئندہ اقدامات کی طرف کبھی صاف طور پراور کبھی تلویحاً اشارہ کرنا۔
۔خطبہ کے پہلے آدہے حصہ کو امیر المومنین علیعليهالسلام کی ولایت کے رسمی اعلان سے مخصوص کرنا اور اس بنیادی مطلب اوراصل مو ضوع کو بیان کر نے کے بعداس کے سلسلہ میں وضاحت نیز دوسرے مطالب جیسے نماز۔زکات ،حج وغیرہ کا بیان کرنا۔
۲ خطبہ غدیر کے مطالب کی موضوعی تقسیم
وہ مطالب جو ذیل میں ۲۱ عنوان کے تحت ذکر ہوئے ہیں خطبہ غدیر جو انشاء اللہ چھٹی اور ساتویںفصل میں ذکر ہوگاکے متن سے لئے گئے ہیں ان کو ذکر کرنے سے پہلے چارنکات کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے :
۱ ۔وہ موضوعات جو ہم نے مد نظر رکہے ہیں اور ان کاذکر کیا ہے خطبہ کے مھم مطالب سے مربوط ہیں اور پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان پر زیادہ زوردیا ہے اگر خطبہ کے تمام مطالب کا ذکر کیا جائے توایک مفصل مو ضوعی فھرست درکار ہے ۔
۲ ۔اختصار کی وجہ سے ہم نے خطبہ کی عبارتوں کو مختصر تلخیص کے ساتھ ذکر کیا ہے علاقہ مند حضرات زیادہ توضیحات کے لئے متن خطبہ کی طرف مراجعہ کرسکتے ہیں ۔
۳ ۔ہر عبارت کے آخر میں بریکٹ کے اندر خطبہ کے گیارہ حصوںمیں سے جس کے اندر وہ عبارت ذکر ہوئی ہے اسکا ایڈرس نیچے دیا گیاہے ۔
۴ ۔اس موضوعی تقسیم کے عناوین درج ذیل ہیں :
۱ ۔توحید۔
۲ ۔پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نبوت۔
۳ ۔علی بن ابی طالبعليهالسلام کی ولایت۔
۴ ۔بارہ معصوم اماموں کا تذکرہ۔
۵ اہل بیتعليهالسلام کے فضائل۔
۶ ۔امیرالمومنینعليهالسلام کے فضائل۔
۷ ۔ امیرالمومنین ہونے کا لقب۔
۸ ۔اہل بیتعليهالسلام کا علم ۔
۹ ۔حضرت مھدی (عج)۔
۱۰ ۔اہل بیتعليهالسلام کے شیعہ اور محبّین۔
۱۱ ۔اہل بیتعليهالسلام کے دشمن۔
۱۲ ۔گمراہ کرنے والے امام۔
۱۳ ۔اتمام حجت۔
۱۴ ۔بیعت۔
۱۵ ۔قرآن۔
۱۶ ۔تفسیر قرآن۔
۱۷ ۔حلال و حرام۔
۱۸ ۔نمازاور زکات۔
۱۹ ۔حج اور عمرہ۔
۲۰ ۔امر بالمعروف ونھی عن المنکر۔
۲۱ ۔قیامت ۔
۱ ۔توحید
خطبہ کا پہلا حصہ ، توحید کے متعلق اعلیٰ اور معنی عبارت پر مشتمل ہے کہ جسکی طرف اجمالی طور پر اشارہ کیا جاتا ہے :خداوند عالم کی عظمت اور بزرگی،اسکا علم ،قدرت اورخالقیت،اسکا سمیع وبصیر ہونا،اسکا ازلی اور ابدی ہونا،اسکا بے نیاز ہونا،اس کا ارادہ،اس کی ضداور شریک کا نہ ہونا،پروردگارکا حکےم وکریم ہونا، اسکا قدوس اورمنزہ ہونا،تمام امور کاخدا کی طرف پلٹنا،بندوں سے اسکاقریب ہونا۔خداکی رحمت ونعمت کا وسیع ہونا،انسان اورافلاک کے اندر اسکی قدرت کے آثار، خدا کا انتقام اورعذاب،خدا کی حمد وثناکاضروری ہونا، اسکی صفات کو درک کرنے سے عاجز ی کا اظھار کرنا۔اسکی عظمت کے مقابلے میں تواضع اور انکساری کرنا۔( ۱)
۲ ۔پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نبوت
۔میں زمین وآسمان کی تمام مخلوقات پر خداکی حجت ہوں جو بھی اس بارے میں شک کرے وہ کافرہے ۔( ۳)
۔جس نے میری ایک بات میں شک کیا گویا اس نے میری ساری گفتگومیں شک کیا اور جو میری گفتار میں شک کرے اسکا ٹھکاناجہنّم ہے ۔( ۳)
۔خدا کے حکم کے بغیرمیرے کلام میں تغیر وتبدیلی نہیں آسکتی۔( ۴)
۔مجھ سے پہلے والے انبیاء اور مرسلین نے میرے آنے کی بشارت دی ہے ۔ ( ۳)
۔کوئی ایسا علم نہیں ہے جس کی خدا نے مجہے تعلیم نہ دی ہو( ۳)
۳ ۔علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت
خداوند عالم نے علی کو صاحب اختیار اور تم لوگوں پر امام بنایا ہے ( ۳ )
علیعليهالسلام کی اطاعت شھری ، دیھاتی ،عربی، عجمی ،آزاد، غلام ،چھوٹے بڑے سب پر واجب ہے ۔
علیعليهالسلام کام حکم ھرموحد( موجود) پرقابل اجراء اور ان کا کلام مورد عمل اورامر نافذ ہے ۔( ۳)
جس جس پر میں اختیار رکھتا ہوں یہ علیعليهالسلام بھی اس پر اختیار رکھتے ہیں ۔( ۳)
علیعليهالسلام کی ولایت خدا کی طرف سے ہے اور اس کا حکم بھی خدا کی طرف سے ہوا ہے ( ۳)
خدایا ! جو علیعليهالسلام کو دوست رکہے تو اس کو دوست رکھ ۔( ۴)
خدا نے تمھارے دین کو حضرت علی علیہ السلام کی امامت کے ذریعے کا مل کیا ہے ۔( ۵)
علیعليهالسلام کے حکم کو غور سے سننا تا کہ سالم رہو ،ان کی اطاعت کر نا تا کہ ہدایت پا سکو ،ان کے روکنے سے باز رہنا تاکہ صلاح و بھبودی تک پہونچ سکو ،اور اس کے ارادہ کے پیچہے پیچہے چلنا تاکہ مختلف راستے تم کو گمراہ نہ کر سکیں ۔( ۶)
علیعليهالسلام کے راستے کو چھو ڑ کر گمراھی کی طرف مت چلے جانا ،ان سے دور نہ ہوجانا اور ان کی ولایت سے سر پیچی نہ کر نا ۔
اگر طویل عر صہ گزرنے کے بعد تم نے کو تا ہی کی یاان کوبھول گئے تو یاد رکھو کہ تمھارے نفسوں پر اختیار رکھنے والے اور تمھارے دین کو بیان کرنے والے علی ہیں جس کو خدا نے میرے بعد اپنی مخلوق پر امین قرار دیا ہے ۔وہ تمھارے ہر سوال کا جواب دیں گے اور جس چیز کو تم نہیں جانتے اس کو بیان کریں گے( ۱۰)
۴ ۔ بارہ ائمہ معصومین علیھم السلام کا تذکرہ
میں خدا کا وہ صراط مستقیم ہوں جس کی پیروی کا خدا نے تم کو حکم دیا ہے اور میرے بعد علیعليهالسلام اور ان کی نسل سے میرے فرزند ہیں جو حق کی طرف ہدایت کر نے والے امام ہیں ۔( ۷)
میری نسل میں امامت علیعليهالسلام کی اولاد سے ہو گی جب تک کہ قیامت کے دن خدا اور اس کے رسول سے ملاقات نہ کر لو ۔( ۳)
جس شخص نے خدا ،رسول ،علی اور ان کے بعد آنے والے ائمہ کی اطاعت کی یقیناً وہ بڑا کامیاب ہوگا ۔( ۱۱)
امیر المو منین علیعليهالسلام ،حسن ،حسین اور باقی ائمہعليهالسلام کی کلمہ باقی اور طیب و طاھر کے اعتبار سے بیعت کرو ( ۱۱ )
قرآن تم کو دعوت دے رہا ہے کہ علی علیہ السلام کے بعد ان کے فرزند امام ہیں اور میں نے بھی تم لوگو ں کو آگاہ کر دیا ہے کہ باقی امام میری اور ان کی نسل سے ہیں ،قرآن کہہ رہا ہے :( وَجَعَلَهَا کَلِمَةً بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهِ ) اور میں کہہ رہا ہوں ( ۱۰)لَنْ تَضِلُّوْامَااِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَا > ( ۱۰) جو لوگ قیامت تک علیعليهالسلام اور ان کی نسل اور میری اولاد سے ہو نے والے اماموں کو امام کے عنوان سے قبول نہیں کریں گے ان کے اعمال حبط ہو جا ئیں گے اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہینگے( ۵)
میں خلا فت کو امامت کے عنوان سے اپنی نسل میں قیامت تک کےلئے چھو ڑے جا رہا ہوں ۔( ۶)
حلا ل و حرام اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ میں ان کو ایک مجلس میں بیٹھ کر شمار کروں پس مجھ کو خدا کی جانب سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ علی امیر المو منین اور ان کے بعدقیامت تک اماموں کے بارے میں جو میری اولاداور ان کی نسل سے ہیں اور ان کا قائم مھدی ہے ان کے سلسلہ میں جو کچھ خدا کی جانب سے نازل ہوا ہے اس پر تم لوگوں سے بیعت لوں ۔( ۱۰)
حلال وہ ہے جس کو خدا ،رسول اور بارہ امام حلال قراردیں اور حرام وہ ہے جس کو خدا ،رسول اور بارہ امام حرام قرار دیں ۔( ۳)
۵ ۔اہل بیت علیھم السلام کے فضائل
تمھارا پیغمبر بہترین پیغمبر ،تمھارے پیغمبر کاجانشین بہترین جا نشین اور ان کی اولاد بہترین جا نشین ہیں ۔
حضرت علیعليهالسلام صبر اور برد باری کا بہترین نمونہ ہیں اور ان کے بعد ان کی نسل سے میرے فرزند ۔
خدا وند عالم نے اپنا نور مجھ میں پھر علیعليهالسلام میں ان کے بعد ان کی نسل میں مھدی مو عود تک قرار دیا ہے ۔ ( ۶)
۶ ۔امیر المو منین علیہ السلام کے فضائل
علیعليهالسلام امام مبین اور امام المتقین ہیں ۔( ۳)
علیعليهالسلام حق کی طرف ہدایت کر تے ہیں ،اور اس پر عمل کر تے ہیں باطل کو نیست و نا بود کر نے والے اور اس سے منع کر نے والے ہیں اور راہِ خدا میں کسی ملا مت کر نے والے کی ملامت ان کے لئے رکا وٹ نہیں ہوسکتی ۔( ۳)
علیعليهالسلام خدا وند عالم پر ایمان لا نے والے سب سے پہلے شخص ہیں ۔( ۳)
علیعليهالسلام کو سب سے افضل مانو اس لئے کہ وہ میرے بعد ہر مرد و عورت سے افضل ہیں ۔( ۳)
علیعليهالسلام جنب خدا ہیں قرآن میںآیا ہے :( یَاحَسْرَتَا عَلیٰ مَافَرَّطْتُ فِیْ جَنْبِ اللهِ ) ( ۳)
یہ علیعليهالسلام ہیں جس نے تم سب سے زیادہ میری مدد کی ،تم میں سب سے زیادہ میرے نزدیک محبوب اور عزیز ہیں میں اور میرا خدا اس سے راضی ہیں ۔( ۵)
خدا وند عالم کی رضا کے با رے میں کوئی آیت نازل نہیں ہو ئی مگر علیعليهالسلام کے بارے میں ۔( ۵)
خداوند عالم نے قرآن میں جب بھی مو منین سے خطاب کیاتو ان میں سب سے پہلے علیعليهالسلام کومخاطب قراردیا ۔( ۵)
خدا وند عالم نے سورہ ”ھل اتیٰ “میں جنت کی گوا ہی صرف علیعليهالسلام کے لئے دی ہے ( ۵)
سورہ ” ھل اتیٰ“فقط علیعليهالسلام کے سلسلہ میں اور علیعليهالسلام کی مدح میں نازل ہوا ہے ۔( ۵)
علیعليهالسلام دین خدا کے یاور ومددگاراور رسول کے محافظ ہیں ۔( ۵)
علیعليهالسلام تقی ،نقی ،ھادی اور مھدی ہیں ۔( ۵)
علیعليهالسلام وعدہ گاہ الٰہی ہیں ( ۶)
علیعليهالسلام مبشر ہیں ۔۔۔علیعليهالسلام ھادی ہیں ۔( ۷)
علیعليهالسلام وہ شخصیت ہیں جن کو خدا وند عالم نے مجھ سے خلق فرمایا اور مجھ کو علیعليهالسلام سے خلق فرمایا ۔( ۱۰)
حضرت علیعليهالسلام کے فضائل و کمالات صرف خدا جانتا ہے اور خداوند عالم نے ان کو قرآن میں بیان فر مایا ہے ،علیعليهالسلام کے فضائل اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ میں ان کو ایک مجلس میں بیان کروں ۔پس جو بھی علیعليهالسلام کے فضائل تمھارے سامنے بیان کرے (بشر طیکہ ان کی معرفت بھی رکھتا ہو )اس سے قبول کر لو ۔
۷ ۔”امیر المو منینعليهالسلام “کے القاب
میرے بھا ئی (علیعليهالسلام ) کے علاوہ کو ئی” امیر المو منین “نہیں ہے اور میرے بعد مو منین کا امیر بننا علیعليهالسلام کے علاوہ کسی کے لئے جا ئز نہیں ہے ۔( ۳)
علیعليهالسلام کو امیر المو منین کہہ کر سلام کیا کرو ۔( ۱۱)
جو لوگ علیعليهالسلام کو امیر المو منین کہہ کر سلا م کر نے میں سبقت کریں گے وہ کامیاب ہیں ۔( ۱۱)
۸ ۔اہل بیت علیھم السلام کا علم
کو ئی ایسا علم نہیں ہے جس کی خدا نے مجہے تعلیم نہ دی ہو اور کوئی ایسا علم نہیں ہے جس کی میں نے علیعليهالسلام کو تعلیم نہ دی ہو ۔( ۳)
خدا وند عالم نے مجھ کو امر و نھی کیا ہے اور میں نے علیعليهالسلام کو امرونھی کیا ہے پس علیعليهالسلام نے امر و نھی خدا کی جانب سے سیکھا ہے ۔( ۶)
ایھا الناس !میں نے تمھارے لئے (احکام) بیان کئے اور تمہیں تعلیم دی ہے اور میرے بعد تمہیں یہ علیعليهالسلام تعلیم دیں گے ۔( ۹)
۹ ۔حضرت مھدی عج
خدا وند عالم نے اپنا نور میرے اور علیعليهالسلام کے صلب میں اور اور ان کی نسل میں مھدی قائم تک قرار دیا ہے ( ۶)
مھدی ،حق خدا اور ہمارے ہر حق کا بدلہ لیں گے ۔( ۶)
کو ئی ایسی سر زمین نہیں ہے مگر خدا وند عالم اس کے باشندوں کو ان کی تکذیب کی وجہ سے ھلاک کرے گا اور ان کو مھدی کے اختیار میں قرار دے گا ۔( ۶)
خاتم الا ئمہ ،قائم آل محمد ہم سے ہیں ۔( ۸)
مھدی وہ ہیں جو تمام ا دیان پر غالب آنے والے ،ظالموں سے انتقام لینے والے دین خدا کے مددگار ،ناحق بہنے والے خون کے منتقم،قلعوںکوفتح کرنے والے،دریائے عمیق سے نشات پانے والے انسانوں کو ان کی حیثیت کے مطابق نشاندھی کرانے والے،علوم کے وارث اور آیات الٰہی کو استحکام بخشنے والے ہیں ۔( ۸)
مھدی وہ ہیں جن کے سپرد امور کئے گئے ہیں گزشتہ انبیاء و ائمہ نے ان کے آنے کی بشارت دی ہے وہ زمین پر باقی رہنے والی خدا کی حجت اوراس کے ولی ہیں اور وہ خداوند عالم کے سرّ اور آشکار کے امانتدار ہیں ۔( ۸)
۱۰ ۔اہل بیت علیھم السلام کے دوستدار اور شیعہ
خدا وند عالم ہر اس شخص کو بخش دے گا جو علیعليهالسلام کا کلام سنے گا اور اس کی اطاعت کرے گا ۔( ۳)
خدایا جو علیعليهالسلام کو دوست رکہے تو اس کو دوست رکھ ۔( ۴)
متقی شخص کے علاوہ کوئی خدا کو دوست نہیں رکھ سکتا ،اور مخلص مو من کے علا وہ کوئی علی پر ایمان نہیں لا سکتا ۔( ۷)
علیعليهالسلام کے دوست وہ لوگ ہیں جن کا تذکرہ خدا وند عالم نے قر آن میں کیا ہے (اس کے بعد آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کے سلسلہ میںقر آن کریم کی چند آیات کی تلاوت فر ما ئی)( ۷)
ہمارا دوست وہ شخص ہے جس کی خدا نے تعریف کی ہے اور جس کو خدا دوست رکھتا ہے ( ۷)
جو شخص خدا ،اس کے رسول اوربارہ اماموں کی اطاعت کر ے گا وہ عظیم کا میابیاں حاصل کرے گا ( ۱۱)
وہ لوگ جو علیعليهالسلام کی بیعت ،ولایت اور ”امیر المو منین “ کے عنوان سے سلام کر نے میں سبقت کرےںگے وہ کامیاب ہیں اور ان کا ٹھکا نا جنت ہے ۔( ۱۱)
۱۱ ۔اہل بیت علیھم السلام کے دشمن
علیعليهالسلام کی مخالفت کر نے والا ملعون ہے ۔( ۳)
خدا وند عالم علیعليهالسلام کی ولایت کا انکار کر نے والے کی توبہ ہر گز قبول نہیں کرے گا اور اس کو نہیں بخشے گا ۔( ۳)
علیعليهالسلام کی مخالفت سے بچو ورنہ ایسی آگ کے حوالے کئے جا و گے جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں اور وہ کافروں کے لئے بنا ئی گئی ہے ۔( ۳)
خدا وند عالم فرماتا ہے (جو شخص علیعليهالسلام کے ساتھ دشمنی رکہے اور ان کی ولایت قبول نہ کرے اس پر میری لعنت اور غضب نا زل ہو ۔( ۳)
ملعون ہے ،ملعون ہے ،مغضوب ہے ،مغضوب ہے وہ شخص جو (علی کے بارے میں )میری اس بات کو قبول نہ کرے اور اس سے متفق نہ ہو ۔( ۳)
خدایا علی کے دشمن کو اپنا دشمن قرار دے ،علیعليهالسلام کے منکر پر اپنی لعنت بھیج اورحق علیعليهالسلام کے منکر پر اپنا غضب نازل فرما ۔( ۴)
جو لوگ علیعليهالسلام اور ان کے جا نشینوں کی امامت کے منکر ہیں قیامت کے دن ان کے اعمال حبط ہو جا ئیں گے اور وہ ہمیشہ آتش جہنم میں جلیں گے ان کے عذاب میں کو ئی کمی نہیں ہو گی اور ان کو مھلت نہیں دی جا ئے گی ۔( ۵)
شقی انسان کے علاوہ کو ئی علی سے دشمنی نہیں کرے گا ۔( ۵)
خدا وند عالم نے ہمیں دنیائے عالم کے تمام مقصروں ،معاندوں ،مخالفوں ،خائنوں، گناہگاروں ظالموں اور غاصبوں پر حجت قرار دیا ہے ۔( ۶)
گمراہ کرنے والے پیشوا ،ان کے دوست ،ان کی اتباع کر نے والے اور ان کی مد د کرنے والے جہنم کے سب سے نچلے درجہ میں ہو ں گے ۔( ۶)
علیعليهالسلام کے دشمن ،اھل شقاوت اہل نفاق اور اپنے نفسوں پر ظلم کر نے والے ہیں ،وہ شیطانوں کے بھا ئی ہیں جو آپس میںبظاہر خوبصورت اور تکبر آمیز باتیں کیا کرتے ہیں ۔( ۷)
خداوند عالم نے قر آن کریم میں علیعليهالسلام کے دشمنوں کا تذکرہ کیا ہے (اس کے بعد آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس سلسلہ میں قرآن کریم کی چند آیات کی تلاوت فر ما ئی )( ۷)
ہمارا دشمن وہ شخص ہے جس پر خدا وند عالم نے لعنت و ملامت کی ہے ۔( ۷)
۱۲ ۔گمرا ہ کر نے والے پیشوا
عنقریب میرے بعد ؛کچھ افراد اپنے آپ کو امام کھلا ئیں گے اور لوگوں کو آتش جہنم کی طرف دعوت دیں گے ،قیامت کے دن ان کی کو ئی مدد نہیں کی جا ئیگی ،خدا وند عالم اور میں ان سے بیزار ہیں ،وہ ان کے اعوان و انصار اور ان کی اتباع کر نے والے جہنم کے سب سے آخری درجہ میں ہو ں گے ،آگاہ ہو جاو وہ اصحاب صحیفہ ہیں لہٰذا تم میں سے ہر کوئی اپنے صحیفہ پرغور کرلے (آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کے ذریعہ اصحاب صحیفہ ملعونہ کی طرف اشارہ فرمایاہے )۔( ۶)
عنقریب میرے بعد کچھ لوگ خلافت کو بادشاہت کے عنوان سے غصب کر لیں گے ۔خدا ان غاصبوں پر لعنت کرے ۔( ۶)
۱۳ ۔اتمام حجت
خدا وند عالم نے ہمیں دنیا کے تمام مقصروں ،دشمنوں ،مخالفوں ،خائنوں ،گناہگاروں ،ظالموں اور غاصبوں پر حجت قرار دیا ہے ۔( ۶)
مجہے خدا نے جس چیز کے پہنچانے کا حکم دیا تھا میں نے پہنچا دیا تاکہ ہر حاضر و غائب اور ہر اس شخص پر جو دنیا میں آیا ہے یا ابھی نہیں آیا حجت تمام ہو جا ئے ۔( ۶)
حاضر ین غائبین کو اور باپ اپنی اولاد کو قیامت تک اس(واقعہ غدیر) پیغام کو پہنچا ئیں ۔( ۶)
ایھا الناس ،خدا تم لوگوں کو تمھارے حال پر نہیں چھوڑے گا یھاں تک کہ خبیث لوگوں کوپاک لوگوں سے الگ کرلے ( ۶)
سب سے بڑا امر با لمعروف یہ ہے کہ تم میری باتوں کو غور سے سنو اور جو حاضر نہیں ہیں ان تک پہنچاو،ان کو ان باتوں کے قبول کر نے پر زور دو اور ان کی مخالفت کر نے سے روکو۔( ۱۰)
حضرت آدم علیہ السلام ایک معمولی سے ترک اولیٰ کی وجہ سے زمین پر بھیج دئے گئے، حالانکہ خدا کے منتخب بندے تھے تو تمھارا کیا حشر ہو گا حالانکہ تم ہو !(یعنی تم میں اور حضرت آدم علیہ السلام بہت میں فرق ہے )اور تمھارے درمیان خدا کے دشمن بھی مو جود ہیں ۔( ۵)
ایسی باتیں کروکہ خداتم سے راضی ہو ،اس لئے کہ اگرتم اور تمام روئے زمین کے لوگ کافر ہو جا ئیں تو خدا کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔( ۱۰)
تم میں سے ہر ایک علیعليهالسلام کی نسبت جتنی دل میں محبت اور نفرت رکھتا ہے اسی کے مطابق پر عمل کرے۔( ۶)
۱۴ ۔بیعت
میں خطبہ کے بعد تم لوگوں کو دعوت دونگا کہ میرے ساتھ علیعليهالسلام کی بیعت اور ان کے بلندو بالامقام کے اقرارکے عنوان سے ہاتھ ملائیں اور میرے بعد علی علیہ السلام سے ہاتھ ملا ئیں ۔آگاہ ہو جا ؤ !میں نے خدا کی بیعت کی ہے اور علیعليهالسلام نے بھی میری بیعت کی ہے اور میں خدا کی نیابت میں علیعليهالسلام کےلئے بیعت لے رہا ہوں،پس جو بھی اپنی بیعت سے منھ موڑے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا ( ۹)
میں تم لوگوں سے بیعت لینے پر مامو ر ہوں اور امیر المومنین علیعليهالسلام اور ان کے بعد ائمہ جو مجھ سے ہیں اور ان کا آخری قائم ہے ان کے سلسلہ میں جو کچھ خدا کی جانب سے لا یا ہوں اس کی قبولیت پر تمھارے ساتھ ہاتھ ملاوں۔( ۱۰)
ایھا الناس !تمھاری تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کہ میں تم سے اس مختصر سے وقت میں بیٹھ کر بیعت لوں ،لہٰذا خدا نے مجہے یہ حکم دیا ہے کہ میں علیعليهالسلام اور ان کے بعد آنے والے ائمہ کی خلافت اورمقام کے بارے میں تمھاری زبانوں سے اقرار لوں ۔( ۱۱)
امیر المو منین علیعليهالسلام ،حسن ،حسین اور باقی ائمہعليهالسلام کی بیعت کرو۔( ۱۱)
جو کچھ میں کہوں تم اس کو اپنی زبان سے دھراو۔۔۔کہو ”ھم نے سنا اور ہم اطاعت کریںگے‘( ۱۱)
علیعليهالسلام کی بیعت کرنے میں سبقت کر نے والے افراد کا میاب ہیں ۔( ۱۱)
۱۵ ۔قرآن
قرآن میں تدبر کرو ،اس کی آیات کو سمجھو ،اس کے محکمات میں دقت کرو اور متشابھات کے پیچہے مت جا و ۔( ۳)
خدا کی قسم علی بن طالب علیہ السلام کے علاوہ کو ئی قرآ ن کے باطن اور اس کی تفسیر بیان نہیں کر سکتا ہے کہ جن کے ھاتھو ں کو میں نے تمھارے سامنے بلند کر رکھا ہے ۔( ۳)
۱۶ ۔تفسیر قرآن
رضا ئے خدا کے بارے میں نازل ہو نے والی آیت، علیعليهالسلام کے بارے میں ہے ( ۵)
خدانے قرآن میں مومنین کو مخاطب نہیں قرار دیا مگران میں سب سے پہلے شخص علیعليهالسلام ہیں ۔( ۵)
خدانے سورہ (ھل آتی)کو فقط علی کے بارے میں نازل کیا ہے اور اسمیں صرف علی کی مدح کی ہے ۔( ۵)
خدا کی قسم سورہ ”والعصر“علی بن ابی طالب کے بارے میں نازل ہوا ہے ۔( ۵)
قرآن تم سے کہہ رہا ہے کہ علیعليهالسلام کے بعد امام ان کی اولاد میں سے ہوں گے۔۔لہٰذا خدا فرماتاہے :
( وجعلهاکلمة باقیة فی عقبه ) ( ۱۰)
خدا نے علی کے فضائل کو قرآن میں نازل کیا ہے ۔( ۱)
یہ علیعليهالسلام ہے جس نے نمازکو قائم کیا،حالت رکوع میں زکات دی اور ہر حال میں خدا کو یاد رکھتا ہے ۔(آیت”انماولیکم واللہورسولہ و۔۔۔کی تفسیر( ۲)
خدا کا یہ قول:<۔۔۔من قبل ان نطمس وجوھافنردھاعلی آدبارھا> سورہ نساء آیت/ ۴۷ ۔”۔۔۔قبل اس کے کہ ہم تمھارے چھروں کو بگاڑکر پشت کی طرف پھیر دیں“میرے اصحاب میں سے ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوا ہے جن کو میں نام ونسب سے جانتا ہوں مگرمجہے ان کے نام نہ لینے کا حکم دیا گیا ہے ۔
۱۷ ۔حلال اور حرام
ھر وہ حلال جس کی طرف میں نے تمھاری ہدایت کی ہے اور ہر وہ حرام جس سے میں نے منع کیا ہے ہمیشہ وھی رہے گا کبھی بھی اس میں تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی۔یہ بات ہمیشہ یاد رہے اور دوسروں کو بھی اس بات کی تلقین کر دیجئے کہ ہر گز میرے حلال وحرام میں تغیّرو تبدل نہ کریں۔( ۱)
حلال وحرام اس سے زیادہ ہیں کہ میں سب کوتم لوگوںکے سامنے گنوادوں اور ایک ہی مجلس میں تمام حلال کاموں کاامر کروں اور تمام حرام کاموں سے نھی کروں پس میں مامور ہوں کہ تم سے بیعت لوںاوراس بات پرھاتھ ملاوںکہ جو کچھ میں خدا وند عالم کی طرف سے علیعليهالسلام اور ان کے بعد کے ائمہعليهالسلام کے بارے میں لیکر آیا ہوںتم اسے قبول کرو۔( ۱۰)
حلال کام فقط وھی ہے جسکو خدا ،اسکے رسول اور اماموں نے حلال کیا ہو،اور حرام کام فقط وھی ہے جسکو خدا،اسکے رسول اور اماموں نے حرام کیا ہو۔( ۳)
۱۸ ۔نماز اور زکات
نماز کو قائم رکھو اور زکات دیتے رہو جیسا کہ خدا نے تمہیں حکم دیا ہے ۔( ۱۰)
میں دوبارہ اپنی بات کی تکرار کر رھاہوں ۔”نماز کو قائم رکھو اور زکات ادا کرو۔“
۱۹ ۔حج اور عمرہ
حج اور عمرہ شعائر الٰہی ہیں ۔( ۱۰)
خانہ خداکے حج کےلئے جاؤ،کوئی انسان خانہ خداکی زیارت نہیں کرے گا مگریہ کہ غنی ہو جا ئیگا اور (ممکن ہونے کے باوجود) کوئی خانہ خدا کی زیارت سے انکار نہیں کرے گا مگر یہ کہ فقیرہوجائے گا۔( ۱۰)
دین کامل اور معرفت کے ساتھ خانہ خدا کی زیارت کے لئے جاؤ ،اور گناہوںسے دوری اور توبہ کئے بغیر مقدس مقامات سے واپس نہ لوٹو۔
حاجیوںکی مدد کی جائے گی جو کچھ وہ خرچ کریں گے دوبارہ انکو دے دیاجائے گا۔خدا احسان کرنے والوں کا اجر ضایع نہیں کرتا۔( ۱۰)
کوئی مومن موقف پہ توقف نہیں کرتا مگر خدا اس وقت تک کے اسکے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور جب اسکا حج تمام ہوجاتا ہے تو اسکے نامہ اعمال کانئے سرے سے آغاز ہوتا ہے ۔( ۱۰)
۲۰ ۔امر بالمعروف و نھی عن المنکر
میں اپنی بات کی تکرار کرتا ہوں۔”امر با لمعروف ونھی عن المنکر کرو۔“( ۱۰)
بہترین امر با لمعروف اور نھی عن المنکر یہ ہے کہ میری بات کو غور سے سنواور جو لوگ حاضر نہیں ہیں ان تک پہنچاؤ اوران کو قبول کرنے کا حکم دو۔
اور اسکی مخالفت سے بچو،اس لئے کہ یہ حکم خدا کی طرف سے ہے ۔( ۱۰)
کوئی امر بہ معروف ونھی ازمنکر نہیں ہے مگر معصوم امام( کی راہنمائی) کے ساتھ۔( ۱۰)
۲۱ ۔قیامت اور معاد
تقویٰ اختیار کرو۔تقویٰ اختیار کرو۔روز قیامت سے ڈرو۔موت،حساب و کتاب۔ میزان،اور خدا کی بارگاہ میںمحاسبہ اورثواب وعقاب کو یاد کرو۔( ۱۰)
جواپنے ساتھ نیکی لے کرآئے گااسکو ثواب دیا جائے گا اور جو گناہ لے کرآئے گاوہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ پائے گا۔( ۱۰)
اس مقام پر خطبہ غدیر کے مطالب کا خلاصہ اور اس کی مو ضوعی تقسیم تمام ہوجاتی ہے ۔
حدیث غدیر کی سند اور متن کے سلسلہ میں تحقیق
اگرچہ حدیث غدیرکی سند اورمتن کے سلسلہ میں مفصل علمی بحثیں ہیں لیکن پھر بھی ہم ان پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں ۔
علماء کرام نے ان دونوں مطالب کے سلسلہ میں کافی اور وافی بحثیں کی ہیں مطالعہ کرنے والے افراد اسی حصہ میں جن کتابوں کا تذکرہ کیا گیا ہے ان کی طرف رجوع کریں ۔
۱ حدیث غدیر کی سند
غدیر کے عظیم واقعہ میں خطبہ سے پہلے جو مقدماتی مراحل انجام پائے،خطبہ کامتن،اور وہ واقعات جو خطبہ کے ساتھ یا خطبہ کے بعد رونما ہوئے سب ایک روایت کی شکل میں ہمارے ھاتھوں تک نہیں پہنچ پائے۔بلکہ غدیر میں موجود افراد میں سے ہر ایک نے مراسم کے ایک گوشہ یا آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی باتوں کے ایک حصے کو نقل کیا ہے ۔البتہ اس واقعہ کا کچھ حصہ متواتر طریقے سے بھی ہم تک پہنچاہے اور خطبہ غدیر بھی مکمل طورپر کتابوں میں محفوظ ہے ۔
حساس دور میں حدیث غدیرکی روایت
غدیر کے میدان میں اس جمع غفیر میں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جو باتیں کیںوہ اس طریقے سے شھروں میں منتشر ہوگئیں کہ حتی غیر مسلم بھی ان سے باخبر ہوگئے۔
بجا ہوتا اگر غدیرمیںایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ حاضرمسلمانوں میں سے ہر ایک اپنے سھم کے مطابق خطبہ غدیر کے ایک حصہ کو حفظ کرتااوراسکے متن کو اپنی اولاد ،اپنے رشتہ داروں اور دوستوں تک پہنچاتا۔
افسوس کا مقام ہے کہ اس وقت کی مسلمانوںکی اجتماعی حالت اور رحلت پیغمبر کے بعدکی تاریک فضا کہ جس میں کئی سال تک حدیث سنانا اور لکھنا ممنوع تھا۔اس بات کا سبب بنی کہ لوگ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تقدیر ساز باتوں کو بھی بھول جائیں،اور ان کی اہمیت کو کھوبیٹہیں ۔
طبیعی طور پر ایسا ہی ہونا چاہے ے تھا اسلئے کہ مسئلہ غدیر کو چھیڑنا ،غاصبین خلافت کی جڑوں کو اکھاڑپھینکنے کے مترادف تھا اور وہ ہر گزاس کام کی اجازت نہیں دے سکتے تھے لیکن اسکے باوجود واقعہ غدیر یوں لوگوں کے ذہنوں میں بیٹھا کہ اکثر لوگوں نے غطبہ غدیر یا اس کا کچھ حصہ حفظ کیااور اس کوآنے والی نسلوں تک پہنچایا اور کسی کے بس میں نہیں تھا کہ اس پر کنٹرل کر سکے اور اس مھم خبر کو منتشرہونے سے روک سکے۔
خود امیر المومنینعليهالسلام اور فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھاجو غدیر کا رکن تھے اور ائمہ یکے بعد دیگرے اس حدیث کو محفوظ رکھتے رہے اور کئی بار دوستوں اور دشمنوں کے مقابلے میں اس کے ذریعے استدلال پیش کرتے رہے ۔( ۱ ) ھم دیکھتے ہیں کہ اس خطرناک ماحول میں امام باقر علیہ السلام خطبہ غدیر کے مکمل متن کو اپنے اصحاب کےلئے بیان کرتے تھے ۔
اسی طرح صحابہ میں سے دو سو آدمیوں نے اور تابعین کے ایک گروہ نے اس تقیہ کے ماحول میں کہ جھاں ایک حدیث کا نقل کرنا ایک جان دینے کے برابر تھا اسکو نقل کیا۔کتاب عوالم العلوم:ج ۱۵/۳ صفحات ۴۹۳ ۔ ۵۰۸ میں حدیث غدیر کے راویوں کی چودہ سو سال سے اب تک کی زمانہ کے لحاظ سے ایک فھرست ذکر ہوئی ہے اور ا س میں ثابت کیا ہے کہ یہ نقل خَلَف از سَلَف اس بات کی دلیل ہے کہ بغیر انقطاع کے حدیث غدیر کے نقل کاسلسلہ مستحکم ہے ۔صفحات ۵۰۱ ۔ ۵۱۷ میں غدیر کے راویوں کو الف، با ،کی ترتیب سے ذکر کیا ہے ، صفحہ ۵۲۲ میں وہ مو لفین جنھوںنے حدیث غدیر کو ضبط(لکھا) کیا ہے کاتذکرہ کیا ہے ۔صفحات ۹ ۲ ۵ ۔ ۴ ۳ ۵ میں حدیث غدیر کے نقل کرنے والے صحابہ تابعین اور دوسرے لوگوں کی وثاقت کو بیان کیا ہے ۔اسی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان ”حدیث غدیر“برابرکسی حدیث کے راوای نہیں ہیں اوراس کے تواترکے علاوہ علم رجال اور درایت اسناد کے اعتبار سے بھی یہ حدیث فوق العادہ ہے ۔
حدیث غدیر کی سند کے سلسلہ میں کتابوں کی شناخت
حدیث غدیر کی سند سے مربوط تاریخی اور رجالی بحثوں کے اعتبار سے بہت سی مفصل کتابیں تالیف ہوئی ہیں ۔
ان کتابوں میں ،حدیث غدیر کے راویوں کے نام جمع کئے گئے ہیں اور راویوں کے موثق ہونے کے بارے میں رجالی بحثیں ہوئی ہیں راویوںاور اسنادکے بارے میں مفصل تاریخ بیان ہوئی ہے اور اس کے اسناد و رجال کے بارے میںتعجب خیز باتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے ذیل میں دو نمونوں کی طرف ا شارہ کیا جاتاہے :
ابوالمعالی جو ینی کہتے ہیں :میں نے بغداد میں ایک جلد ساز کے پاس ایک کتاب دیکھی کہ جس کی جلد پر یہ لکھا ہوا تھا۔”من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ“کی اسنادکے بارے میں اٹھائیسویں جلد اور اس جلد کے بعد انتیسویںجلدہے “( ۲ )
ابن کثیر کہتے ہیں :میں نے دو ضخیم جلدوں میں ایک کتاب کو دیکھا جس میں طبری نے غدیر خم کی احادیث کو جمع کیا ہے ۔( ۳ )
اھل سنت کی بہت سی بڑی بڑی کتابوں میں حدیث غدیر کو مسلمات کے عنوان کے تحت ذکر کیا گیاہے ۔منجملہ ان کے مولفین یہ ہیں :اصمعی ، ابن سک یت ،جاحظ،سجستانی، بخاری اندلسی ، ثعلبی، ذھبی، مناوی، ابن حجر،تفتازانی،ابن اثیر،قاضی عیاض،باقلانی۔( ۴ )
اگر چہ اس سلسلے میں کتابوں کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن ہم یھاںپر اختصار کے ساتھ چند ایک کتابوںکاتعارف کراتے ہیں :
۱ ۔عبقات الانوار۔میرحامد حسین ہندی۔(غدیر سے مربوط جلدیں)
۲ ۔الغدیر:علامہ امینی؛ج ۱ ص ۱۲ ۔ ۱۵۱ ۔ ۲۹۴ ۔ ۳۲۲ ۔
۳ ۔نفحات الازھارفی خلاصة عبقات الانوار:علامہ سید علی میلانی؛ج ۶ ۔ ۹ ۔
۴ ۔عوالم العلوم:شیخ عبداللہبحرانی؛ج ۱۵/۳ ص ۳۰۷ ۔ ۳۲۷ ۔
۵ ۔بحار الانوار ،علا مہ مجلسی :جلد / ۳۷ ،صفحہ / ۱۸۱ ۔ ۱۸۲ ۔
۶ ۔اثبات الھدات ،شیخ حر عا ملی جلد ۲ صفحہ ۲۰۰ ۔ ۲۵۰ ۔
۷ ۔کشف المھم فی طریق خبر غدیر خم سید ھاشم بحرانی ۔
۸ ۔الطرائف سید ابن طا وس صفحہ / ۳۳ ۔
خطبہ غدیرکے مکمل متن کے مدارک
اسلامی کتابوں کی تاریخ میں:خطبہ غدیر کو مستقل طور پر نقل کرنے میں سب سے پہلی کتاب کہ جس کو شیعہ عالم ،علم نحو کے استاد،شیخ خلیل بن احمد فراھیدی متوفیٰ ۱۷۵ ہجری نے تالیف کیا ہے ملتی ہے ۔کہ جو عنوان”جزء فی خطبةالنبیصلىاللهعليهوآلهوسلم یوم الغدیر“( ۵ ) کے تحت پہچانی جاتی ہے اور اسکے بعدبہت سی کتابیں اس سلسلے میں تالیف ہوئی ہیں ۔
خوش قسمتی سے خطبہ غدیر کا مکمل اور مفصل متن ،شیعوںکے معتبر مدارک میں سے طبع شدہ نو کتابوںمیں متصل سند کے ساتھ مذکورہے ۔
ان نو کتابوں کی روایات تین سلسلوںپر ختم ہوتی ہیں :
ایک امام باقرعلیہ السلام کی روایت کا سلسلہ ہے کہ جو معتبر اسناد کے ساتھ چار کتابوں”روضة الواعظین“(شیخ ابن فتال نیشاپوری)( ۶ ) ”الاحتجاج“(شیخ طبری)( ۷ ) ، ”الیقین“(سیدابن طاووس( ۸ ) اور ”نزھة الکرام ”شیخ محمد بن حسینی رازی)( ۹ ) میں نقل ہوا ہے ۔
دوسرا سلسلہ :حذیفہ بن یمان کی روایت ہے کہ جے متصل سند کے ساتھ سیدابن طاووس نے اپنی کتاب”الاقبال“( ۱۰ ) ”النشر والطیّ“کتاب نقل کیا ہے ۔
تیسرا سلسلہ:زید بن ارقم کی روایت کا ہے کہ جومتصل اسنا د کے ساتھ چار کتابوں ”العُدد القویة“ تالیف شیخ بن یوسف حلی( ۱۱ ) ،”التحصین“تالیف سیدابن طاووس( ۱۲ ) ،”الصراط المستقیم“ تالیف شیخ علی بن یونس بیاضی( ۱۳ ) اور ”نھج الایمان“ تالیف شیخ علی بن حسین بن جبر( ۱۴ ) ، دونوں نے مورخ طبری کی کتاب”الولایة “ کے مطابق نقل کیا ہے ۔
شیخ حرعاملی نے کتاب”اثبات الھداة“( ۱۵ ) میں،علامہ مجلسی نے ”بحار الانوار“( ۱۶ ) میں،سید بحرانی نے کتاب”کشف المھم“( ۱۷ ) میں اور باقی متاخرین علماء نے خطبہ غدیر کو مکمل طورپر مدارک مذکور سے نقل کیاہے ۔
اس طرح خطبہ غدیر کے متن کامل کی ان شیعہ بزرگوں کے ذریعہ حفاظت ہو ئی اور ہم تک پہنچاہے اور یہ خود عالم اسلام میں شیعوں کےلئے فخر کا مقام ہے ۔
خطبہ غدیر کے متن کامل کی روایت کر نے والے اسناد و رجال
ذیل میں خطبہ غدیر کے پشت پناہ کے اعتبار سے خطبہ غدیر سے مربوط روایات کو بعینہ نقل کیاجارھا
ہے ۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی روایت دو سندوں کے ساتھ :
۱ ۔شیخ احمد بن علی بن ابی منصور طبر سی اپنی کتاب ”الاحتجاج “میں لکھتے ہیں :مجہے سید عالم عابد ابو جعفر مھدی بن ابی الحرث الحسینی مر عشی نے ، شیخ ابو علی حسن بن شیخ ابو جعفر محمد بن حسن طوسی سے بیان کیا انھوں نے شیخ سعید ابو جعفر قدس اللہ روحہ سے انھوں نے ایک جماعت سے اورانھوں نے ابو محمدھارون بن مو سیٰ تلعکبری سے انھوں نے ابو علی محمد بن ھمام سے انھوں نے علی سوری سے انھوں نے اولاد افطس (وہ اللہ کے صالح بندوں میں سے تھے )میں سے ابو محمد علوی سے انھوں نے محمد بن مو سیٰ ھمدانی سے انھوں نے محمد بن خالد طیالسی سے انھوں نے سیف بن عمیرہ و صالح بن عقبہ سے انھوں نے قیس بن سمعان سے انھوں نے علقمہ بن محمد حضرمی سے اورانھوں نے ابو جعفر محمد بن علی (الباقر) علیہ السلام سے نقل کیا ہے ۔
۲ ۔حذیفہ بن یمان کی روایت کی سند اس طرح ہے :
سید بن طاؤ س نے اپنی کتاب ”الاقبال “میں نقل کیا ہے :مولف کتاب ”النشرو الطی “نے احمد بن محمد بن علی المھلب سے انھوں نے شریف ابوالقاسم علی بن محمد بن علی بن القاسم شعرانی سے انھوں نے اپنے والد بزرگوارسے انھوںنے سلمہ بن فضل انصاری سے انھوںنے ابو مریم سے انھوں نے قیس بن حیان (حنان) سے انھوں نے عطیہ سعدی سے انھوںنے حذیفہ بن یمان سے نقل کیا ہے ۔
۳ ۔زید بن ارقم کی روایت کی سند یوں ہے :
سید بن طاؤ س نے اپنی کتاب ”التحصین “میں نقل کیا ہے کہ حسن بن احمد جاوانی نے اپنی کتاب ”نور المھدی والمنجی من الردی “میں ابوالمفضل محمد بن عبد اللہ شیبانی سے نقل کیا ہے انھوں نے ابو جعفر محمد بن حریر طبری اورھارون بن عیسیٰ بن سکین البلدی سے انھوںنے حمید بن الربیع الخزاز سے انھوںنے یزید بن ھارون سے انھوں نے نوح بن مبشر سے انھوں نے ولید بن صالح سے اور انھوں نے زید بن ارقم کی زوجہ اورزید بن ارقم سے نقل کیا ہے ۔
۲ حدیث غدیر کا متن
جس طرح غدیر کا واقعہ اور اس کا خطبہ ایک سند کے ذریعہ ہم تک نہیں پہنچا ہے اسی طرح اس کا متن بھی ٹکڑوں ٹکڑوں میں نقل ہوا ہے اور مختلف وجوھات جیسے تقیہ اور اس کے مانند چیزیں نیز خطبہ کے طولانی ہو نے اوراس کے سب کےلئے مکمل طورپر حفظ نہ ہو نے کی وجہ سے غدیر کے اکثر راویوں نے اس کے گوشوں کو نقل کیا ہے لیکن جملہ ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌ مَوْلَاه “اور دوسرے چند جملوں کو تمام راو یوں نے اشارتاًیا صاف طور پر نقل کیا ہے ۔ ان تمام باتوں کے با وجود خطبہ کا پورا متن ہم تک پہنچا ہے جیساکہ پہلے حصہ میں ہم نے بیان کیا ہے اور صاحب ولایت کا لطف و کرم ہے کہ اسلام کی اس بڑی سند کو ہمارے لئے محفوظ کیا ہے ۔
کلمہ ”مو لیٰ“ کے معنی کے متعلق بحث
خطبہ غدیر کو اسلام کا دائمی منشور کہا جاتا ہے اور اس میں اسلام کے تمام پہلو کلی طورپر جمع ہیں لیکن حدیث غدیر کے متن میں علمی بحثیں عام طور سے کلمہ ”مولیٰ “کے لغوی اور عرفی معنی کے اعتبار سے ذہنوں کو اپنی طرف مر کوز کئے ہو ئے ہیں ۔
یہ اس لئے ہے کہ حدیث کا اصل محور جملہ”مَنْ کُنْتُ مَوْ لَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “ ہے اور جب بھ ی حدیث غدیر کی طرف مختصر طور پر اشارہ کیا جاتا ہے یھی جملہ مد نظر ہو تا ہے ۔راویوں اور محدثین نے بھی اختصار کے وقت اسی جملہ پر اکتفا کی ہے اور اس کے قرائن کو حذف کر دیا ہے ۔
اس سلسلہ میں قابل غور بات یہ ہے کہ خطبہ کے مفصل متن اور خطبہ میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بیان کردہ تمام مطالب کے پیش نظر غدیر میں کلمہ ”مولیٰ “کے معنی اور ولایت سے مراد تمام مخاطبین کےلئے با لکل واضح و روشن تھا اور خطبہ کے متن کامطالعہ کرنے اور خطبہ کی تمام شرطوں کو مکمل طور پر نظر میں رکھنے والے ہر منصف پر یہ معنی اتنے واضح ہو جا ئےں گے کہ اس کو کسی بحث اور دلیل کی ضرورت ہی نہیں رہے گی ۔( ۱۸ )
کلمہ”مو لیٰ “کو استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کوئی دوسرا لفظ جیسے ”امامت “،” خلافت “اور ”وصایت “ اور ان کے مانند الفاظ اس معنی کے حامل نہیں ہیں جو لفظ ”ولایت “میں مو جود ہیں اور یہ مندرجہ بالا الفاظ کے معانی سے بالا ہے ۔
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت علی علیہ السلام کی صرف امامت یا خلافت یا وصایت کو بیان کر نا نہیں چا ہتے ہیں بلکہ آپ تو ان کے لو گو ں کے جان و مال و عزت و آبرواور ان کے نفسو ں سے اولیٰ اور ان کے تام الاختیار ہو نے کو بیان کرنا چا ہتے ہیں واضح الفاظ میں آپ ان کی ”ولایت مطلقہ الٰھیہ“یعنی خدا وند عالم کی طرف سے مکمل نیابت کو بیان کرنا چا ہتے تھے اس بنا پر کو ئی بھی لفظ ،لفظ ”مولیٰ “سے فصیح اور بلیغ اورواضح نہیں ہے ۔
اگر کو ئی اور لفظ استعمال کیا جاتا تو غدیر کے دشمن اس کو بڑی آسانی کے ساتھ قبول کرلیتے یا اس کی تردید میں اتنی تلاش و جستجو نہ کرتے ،اور اگر متعدد معنی رکھنے کی بنا ہو تی تو دوسرے لفظوں میں بہت آسان تھی۔وہ اس کلمہ کے معنی سے متعلق شک میں ڈال کر اس کے عقیدتی اور معاشرتی پہلو سے جدا کرنا چاہتے تھے اور اس کو عاطفی اور اخلاقی مو ضوع کی حد تک نیچے لاناچا ہتے تھے ۔
غدیر کے مخالفین ”اولیٰ بنفس “کے وسیع معانی سے خوف کہا تے ہیں وہ اس کے معنی کو بڑی اچھی طرح سمجھتے ہیں لہٰذا اس طرح ان کا مقابلہ کرنے کےلئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ھم کو اس معنی پر زور دینا چا ہئے، اور اس طرح کے کلمہ کے استعمال کرنے کےلئے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا شکریہ ادا کرنا چا ہئے جس نے ہماری اعتقاد میں ایک محکم و مضبوط بنیاد ڈالی ہے جس سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ ہو تے ہیں :
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد بلا فاصلہ بارہ معصوم اماموںکی امامت و ولایت ۔
ان کی ولایت اور اختیار کا تمام انسانوںپر تمام زمان و مکان اور ہر حال میں عام اور مطلق ہونا ۔
ان کی ولایت کا پروردگار عالم کی مھر سے مستند ہو نا اور یہ کہ امامت ایک منصب الٰہی ہے ۔
صاحبان ولایت کی عصمت کا خدا وندعالم اور رسول کی مھر کے ذریعہ اثبات ۔
لوگوں کا ائمہ علیھم السلام کی ولایت کا عہد کرناان کی طرف سے بالکل رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ولایت کے عہد کے مانند ہے ۔
سب سے اہم بات یہ کہ اس طرح کے بلند مطالب کے اثبات کا لازمہ ،خداوند عالم کی اجازت اور انتخاب کے بغیر ہر ولایت، شرعی ولایت نہیں ہے ،اس طرح ہر اس دین و مذھب کی نفی ہو جا تی ہے جو اھلبیتعليهالسلام کے علاوہ کسی اور کی ولایت کو تسلیم کرتاہو۔
کلمہ مولیٰ میں بحث کا منشا
کلمہ ”مو لیٰ “کے معنی کے سلسلہ میں بحث اس وقت شروع ہوئی جب شیعوں کے مخالف اکثر راویوں نے حدیث کے صرف اسی جملہ کو نقل کرنے پر اکتفا کیا اوران کے متکلمین نے اپنا دفاع کرنے کےلئے تاریخ کے تمام قرینوں اور مطالب کو چھوڑتے ہو ئے پورے خطبہ سے صرف کلمہ ”مو لیٰ “کا انتخاب کیا اور اس کے معنی کے سلسلہ میں لغوی اور عرفی بحث کرنا شروع کردی ۔( ۱۹ ) یہ فطری بات ہے کہ ان کے مقابلہ میں علماء شیعہ نے بھی اسی مو ضوع کے سلسلہ میں بحث و جستجو کی ہے اور ان کو لازمی جوابات دئے ہیں اور سب نے نا خواستہ طورپر اسی کلمہ کو مد نظر رکھا ہے ۔
واقعہ غدیر کے ہر پہلو کا دقیق و کامل مطالعہ اور خطبہ کے متن میں دقت کرنے سے کلمہ ”مو لیٰ“ کے معنی واضح ہو نے کے لئے بہت سے جاذب نظر مطالب سامنے آتے ہیں :
پھلی تجلی
اگر ہم پورے خطبہ پر نظر ڈالیں تو یہ مشاہدہ کریں گے کہ اس کے اکثر مطالب کلمہ ”مو لیٰ“کے معنی کی تفسیر و تو ضیح ،اس کے مصداق معین کرنے اور معاشرہ میں”ولایت “کی قدر و قیمت اور اس کے توحید و نبوت و وحی سے مرتبط ہونے کے بارے میں ہے ۔
بنابریں جب پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کلمہ ”مو لیٰ “کے معنی واضح و روشن فر ما دئے اور غدیرمیں مو جود تمام افراد (جن کے مابین عرب کے بڑے شاعر حسان بھی تھے )صاحب اختیار ہو نے کے معنی سمجھ گئے اور اسی اعتبار سے انھوں نے بیعت کی ، تو پھر اس کا کو ئی مطلب نہیں رہ جاتا کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کلام کے معنی سمجھنے کےلئے ہم لغت اور اس کے عرفی معنی کی طرف مراجعہ کریں ،چا ہے وہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تفسیر کے مطابق ہوں یا تفسیر کے مطابق نہ ہوں ۔
دوسری تجلی
یہ بات طے شدہ ہے کہ غدیر کے اجتماع اور خطبہ کا اصل مقصد مسئلہ ولایت کا بیان کرنا تھا اور اس وقت تھا جب لوگوں نے خود پیغمبر اکر مصلىاللهعليهوآلهوسلم سے اس سلسلہ میں مطالب سنے تھے ۔ان تمام باتوں کے باوجود ظاہر ہے کہ غدیر کا عظیم اجتماع مسئلہ ولایت اور کلمہ مو لا کے معنی میں باقی رہ جانے والے ابہام کو رفع کرنے کے لئے تھا ۔
اس بنا پر یہ بات بڑی مضحکہ خیز ہو گی کہ اس طرح کے مجمع اور ان حساس شرطوں میں ”مولیٰ “ کے سلسلہ میں گفتگو کی جا ئے جو نہ صرف مطالب کو روشن نہ کرے بلکہ اس میں اور زیادہ ابہام پیدا ہو جائے اور اس ابہام کو رفع کرنے کےلئے لغت اور اس کے مانند کتابوں کی ضرورت پیش آئے اور ہر عقل مند انسان یہ فیصلہ کرتا ہوا نظر آئے کہ اصلا ً اس طرح سے اتنا بڑا جلسہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ !!
تیسری تجلی
اس دن کا اجتماع مسئلہ ولایت میں پیدا ہو نے والے ہر ابہام کو دور کرنے کیلئے تھا ،اور اگریہ بنا قرار دی جا ئے کہ اسی مجلس میں، اس مسئلہ میں بڑے ابہام کاآغازہوااور اس میں ایک ایسا عجیب کلمہ استعمال کیا جا ئے جو بہت پیچید گی کا حامل ہو ،تو ایسی صورت میں تو یہ کہنا ہی منا سب ہو گاکہ: اگراس طرح کی مجلس بر پا ہی نہ ہو تی تو بھی مسئلہ ولایت بہت واضح تھا !!!
اسی مقام پر آیہ قرآن :<وَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَابَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ >محقق ہو تی ہے ۔یعنی اگر ابلاغ پیغام اس طرح ہو کہ اس کا مطلب چودہ صدیوںمیں روشن و واضح نہ ہوا ہو تو گو یاحقیقت میں پیغام ابلاغ ہی نہیں ہوا ہے !!
چوتھی تجلی
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سب سے زیادہ فصیح و بلیغ تھے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ انھوں نے اپنی زندگی کی سب سے اہم گفتگو میں ایک ایسا مطلب بیان فرمایا کہ جسے سمجھنے کے لئے چودہ سو سال سے مسلمان اس کے تحت اللفظی معنی کو سمجھنے کی خاطربحث کر رہے ہیں اور ابھی تک کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکے تو یہ آپ کی اس فصاحت و بلاغت کے خلاف ہو گا اور کسی پیغمبر نے الٰہی پیغام کواس طرح نہیں پہنچایا ہے !!
پانچویں تجلی
یہ سوال پیدا ہو تا ہے :کہ جب غاصبین خلافت کو خلیفہ معین کرنے کاکو ئی حق نہیں تھاتو پھر بھی وہ اپنا خلیفہ معین کرتے تھے اور کلمہ ”و لی“سے استفادہ کرتے تھے تو کسی شخص نے یہ کیوں نہیں کہا کہ اس لفظ کے ستّر معنی ہیں ؟جب ابو بکر نے عمر کے لئے لکھا کہ”:ولَّیْتُکُمْ بعدی عمربن خطاب “ تو ولایت کے معنی میں کو ئی ابہام نہیں تھا اور یہ ابہام صرف غدیر خم میں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی گفتگومیں ہی کیوں پیش آیا ؟
ظاہر ہے کہ بحث کلمہ کے لغوی معنی اور ابہام میں نہیں ہے بلکہ غدیر کا وزن اتنا زیادہ اور گراں ہے کہ دشمن اس طرح کی مذبوحانہ کو شش کرنے پر مجبور ہو گئے ؟
چھٹی تجلی
اسی طرح ذہن میں یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ :حدیث غدیر اہل سنت اور شیعوں کے نزدیک متواتر ہے اور بہت کم ایسی حدیثیں ہیں چودہ سو سا ل کے دور ان میں اس کے اتنے زیادہ نقل کرنے والے ہوں اگر اس کے معنی اتنے زیادہ مبھم ہیں کہ آج تک کو ئی بھی اس کے واقعی معنی کو نہیں سمجھ سکا ہے اور وہ اتنے احتمالات کے درمیان اسی طرح سرگردان ہے تو اس حدیث کو کیوں نقل کیا گیا اور یہ بڑے بڑے راوی جن میں سے بہت سے علما ء اور مولفین ہیں تو ان کو اس حدیث کے نقل کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟!حدیث مبھم کو نقل کرنے کی کیا ضرورت ہے !حدیث مبھم کی تو سند کو جمع کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے !تو یہ کہنا چاہئے کہ: ”مو لیٰ “ کے اہم معنی تو سب کےلئے واضح و روشن تھے لہٰذا اس کو نقل کرنے کےلئے اتنا اہتمام کیاگیا ۔
ساتویں تجلی
کو ئی شخص یہ سوال کر سکتا ہے :ابوبکر ،عمر ،حارث فھری اور کئی افراد نے یہ سوال کیا :”کیا یہ مسئلہ خدا وند عالم کی طرف سے ہے یا خود آپ کی طرف سے ہے ؟“یہ سب اسی وجہ سے تھا کہ وہ کلمہ مو لیٰ سے صاحب اختیار ہونے کے معنی کو اخذ کرچکے تھے لہٰذا انھوں نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ایسا سوال کرنے کی جسارت کی ورنہ سب جانتے تھے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تمام گفتار آیہ( وَمَایَنْطِقُ عَنِ الهَویٰ ) کے مطابق وحی الٰہی اور خداوند عالم کے کلام کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔
کلمہ مولیٰ کے معنی کا واضح ہونا
بارہ زیادہ اہم قرینے جملہ” مَنْ کُنْتُ مَوْ لَاهُ “ کے معن ی کے بیان گرہیں کہ ان میں ہر ایک تنھا اس کے اثبات کےلئے کا فی ہے ،یھاں تک کہ اگر ان میں سے ایک بھی نہ ہوتا پھر بھی اس کے معنی واضح تھے ہم ان کو ترتیب کے ساتھ ذیل میں نقل کر رہے ہیں :
پھلا قرینہ
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ”نفس سے اولیٰ ہو نا “کے سلسلہ میں پہلے خدا وند عالم اس کے بعد اپنا ذکر فرمایا پھر اس کے بعد اس کلمہ کو امیر المو منین علیہ السلام کے بارے میں استعمال کیا جبکہ ان کی ولایت مطلقہ کے معنی کسی پر پوشیدہ نہ تھے ۔
دوسرا قرینہ
آیت :( یَااَیُّهَاالرَّسُوْلُ) جس کے آخر میں خداوندعالم فرماتا ہے :( وَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَابَلَّغْتَ رِسَا لَتَهُ ) یہ کسی بھی حکم الٰہی کے بارے میں نازل نہیں ہو ئی ہے لہٰذا اسلام کا سب سے اہم مسئلہ ہو نا چا ہئے جس کے با رے میں اس طرح کے مطلب کو مد نظر رکھا گیا ہے ۔
تیسرا قرینہ
بیابان و جنگل میں لوگوں کو روکنا وہ بھی تین دن ،نظم و ترتیب کے ساتھ پروگرام کرنا اور ایک استثنا ئی طویل خطبہ ارشاد فرمانا یہ سارے پروگرام پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زندگی میں بلکہ پوری تاریخ میں بے مثال ہیں یہ سب سے قوی و محکم دلیل ہے کہ مو لیٰ کے معنی بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔
چو تھا قرینہ
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کااس بات کی طرف اشارہ فرمانا کہ میری عمر اختتام کو پہنچ رہی ہے اور میں تمھارے درمیان سے جانے والا ہوں ،یہ اس بات کا بہت ہی اچھا قرینہ ہے کہ مو لیٰ کے معنی آپ کی رحلت کے بعد والے ایام سے متعلق ہو جو وھی امامت اور وصایت ہیں ۔
پانچواں قرینہ
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس پیغام کے پہنچانے پر کئی مرتبہ خدا وندعالم کو اپنا گواہ قرار دیا کہ کسی بھی حکم الٰہی کو پہنچا نے پر آپ نے ایسا نہیں کیا ۔اس کے بعد آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے متعدد مرتبہ لوگوں سے یہ بھی چاھاکہ ”حاضرین غائبین تک یہ پیغام پہنچا دیں “ایساکسی اور حکم الٰہی کے لئے نہیں فرمایا ۔
چھٹا قرینہ
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا اس بات کی تصریح فرمانا کہ مجہے ڈر ہے کہیں لوگ میری تکذیب نہ کریں حالانکہ کسی دوسرے حکم الٰہی میں آپ کو ایسا خو ف نہیں تھا ۔ظاہر ہے کہ جا نشین کا معین کرناھی وہ حساس نکتہ ہے جسے لوگ آسانی سے قبول نہیں کر سکتے ہیں ۔
ساتواں قرینہ
آیت :( اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ ) بھ ی مندرجہ بالا آیت کے مانند کسی بھی حکم الٰہی کے سلسلہ میں نازل نہیں ہو ئی اور یقیناً وہ حکم جس کے سلسلہ میں یہ آیت نازل ہو ئی ہے وہ اسلام کا سب سے اہم حکم ہو نا چاہئے جس کے ذریعہ دین کی تکمیل ہو رہی ہے ۔
آٹھواں قرینہ
بیعت کا مسئلہ جو خطبہ کے دوران زبانی طورپر بیان کیا گیا اور خطبہ کے بعد ہاتھ کے ذریعہ انجا م دیا گیا اس کا ولایت کو قبول کرنے کے علاوہ کو ئی دوسرا مطلب نہیں ہوسکتاہے ۔
نواں قرینہ
غدیر خم میں مو جود لوگوں کا بیعت کرنا اور مبارک باد پیش کرنا اور دوست و دشمن کے ذریعہ ہو نے والی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اس جملہ سے ولایت اور امارت کے معنی سمجہے تھے اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی اس طرح کے مطلب کے اخذ کرنے کی نھی نہیں فرما ئی ہے یا ان کی اصلاح نہیں کی ہے ۔
دسواں قرینہ
حسان بن ثابت کے ذریعہ پڑہے جا نے والے اشعار جن کی پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تا ئید فرما ئی یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے انھوں نے بھی مولیٰ سے”اولیٰ بہ نفس “کے معنی سمجہے تھے ۔چونکہ وہ عرب کے بڑے ادباء اور شعراء میں شمار ہو تا ہے لہٰذا وہ لغوی اعتبار سے دوسرے ہر لغتنامہ پر ترجیح رکھتا ہے چونکہ لغتنامہ میں صرف کلمہ کے معنی بیان کئے جاتے ہیں لیکن اس مورد معین کے کونسے معنی حاضرین کے ذہن میںآتے ہیں یہ خداوندعالم کا لطف و کرم تھا کھاتنا بڑا لغت شناس شاعر غدیر خم میں حا ضر تھا اور اس نے اپنے ذہنی تبادر کااسی مقام پر صریح طور پر اعلان کیا یھاں تک کہ اس کو شعر کی صورت میں ڈھال دیا جو ہمیشہ کے لئے محکم سند ہے ۔
گیار ہواں قرینہ
حارث فھری کی داستان مو لا کے معنی میں شک کر نے والوں کے لئے ایک قسم کا مباھلہ تھا اس نے صاف طور پر یہ سوال کیا کہ کیا ” مولیٰ “کا مطلب یہ ہے کہ علی بن ابی طالب ہمارے صاحب اختیار ہو ں گے ؟اس مباھلہ میںخداوند عالم نے فوراً حق کی نشاندھی کرائی اور حارث پر عذاب نازل فرمایا اور اس کو ھلاک کیا تاکہ ”مو لیٰ “ کا مطلب ”اولیٰ بہ نفس “ثابت ہو جائے ۔
بارہواں قرینہ
حضرت عمر نے وہیں غدیر میں جملہ”اَصْبَحْتَ مَوْلَایَ وَمَوْلیٰ کُلِّ مُومِنٍ وَمُومِنَةٍ“ استعمال کیا جس سے اس بات کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ دشمن کا اس سے بہتر کو نسا اقرار ہو گا ۔کلمہ” اَصْبَحْتُ “ اس نئے واقعہ ک ی طرف اشارہ ہے اور کلمہ”کُلْ “ ولایت مطلقہ کی طرف اشارہ کرتا ہے یہ اقرار اس بات کی علا مت ہے کہ دشمن نے بھی اس کو قبول کیا ہے ۔
تیرہواں قرینہ
علی بن ابی طالب کے سامنے حاضر ہو کرآپعليهالسلام کو”امیرالمو منین کے عنوان سے سلام کرنے “ کا حکم عنوان بھی مو لیٰ کے لئے امارت کے معنی کو ثابت کرتا ہے اور اس کا عملی اقرار بھی کرنا ہے ۔
معصومین علیھم السلام کے کلام میں مو لیٰ کا مطلب
اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ ہم غدیر میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کلمہ مو لیٰ “کے معنی کاصاحبان غدیراور ائمہ معصومین علیھم السلام سے سوال کریں :
۱ ۔اس چیز میں اطاعت کرنا جسکو دوست رکھتے ہو یا دوست نہیں رکھتے ہو
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سوال کیاگیا :جس ولایت کے ذریعہ آپ ہماری نسبت ہم سب سے مقدم ہیں وہ کیا چیز ہے ؟آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :جن تمام چیزوںکو پسندیانا پسند کرتے ہو ان سب میں ہمارے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنااور ہماری اطاعت کرنا ۔( ۲۰ )
۲ ۔حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کےلئے نمونہ
غدیر خم میں جناب سلمان نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سوال کیا :حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کس ولایت کے مانند ہے ؟آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :ان کی ولایت میری ولایت کے مانند ہے ۔میں جس شخص پر میںاس کی نسبت زیادہ اختیار رکھتا ہوں علی بھی اس کے نفس پر اس سے زیادہ اختیار رکھتے ہیں ۔( ۲۱ )
۳ ۔ولایت یعنی امامت
حضرت امام زین العا بدین علیہ السلام سے سوال کیا گیا :پیغمبر اکر مصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس کلام”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌِّ مَوْلَاهُ “ کاک یا مطلب ہے ؟ آپعليهالسلام نے فرمایا : آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے لوگوں کو خبر دار کیا کہ میرے بعد علی امام ہیں ۔( ۲۲ )
۴ ۔یہ بھی سوال ہو سکتا ہے ؟!
ابان بن تغلب نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ “کے سلسلہ م یں سوال کیا توآپ نے فرمایا :
اے ابو سعید کیا اس مطلب کے سلسلہ میں بھی سوال ہو سکتا ہے !؟ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے لوگوں کو سمجھا یا کہ میرے بعد حضرت علی علیہ السلام میرے مقام پر ہوں گے ۔( ۲۳ )
۵ ۔حزب اللہ کی علا مت
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام سے”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ “ کے سلسلہ م یں سوال کیا گیاتو آپعليهالسلام نے فر مایا :
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کو ایک ایسی نشانی قرار دینا چا ہتے تھے کہ وہ لوگوں کے اختلاف اور تفرقہ کے وقت خداوند عالم کے حزب کی شنا خت ہو سکے ۔( ۲۴ )
۶ ۔علیعليهالسلام کے امر کے ہوتے ہوئے لوگوں کو اختیار نہیں ہے
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ :پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے غدیر خم کے میدان میں حضرت علی علیہ السلام کے سلسلہ میں اس فرمان”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌِّ مَوْلَاهُ کا ک یا مطلب ہے ؟آپعليهالسلام نے فرمایا :خدا کی قسم یھی سوال آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے بھی کیا گیا تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کے جواب میں فرمایا :
خدا وند عالم میرا مو لا ہے اور وہ مجھ پر مجھ زیادہ سے اختیار رکھتا ہے اور اس کے امر کے ہوتے ہوئے میرا کو ئی امر و اختیار نہیں ہے اور میں مومنوں کا مو لا ہوں اور ان کی نسبت ان پر ان سے زیادہ اختیار رکھتا ہوں اور میرے امر کے ہوتے ہوئے ان کا کو ئی اختیار نہیں ہے اور جس شخص کا میں صاحب اختیار ہوں اور میرے امر میں اس کا کو ئی دخل نہیں ہے ،علی بن ابی طالب اس کے مو لا ہیں اور اس پر اس کے نفس سے زیادہ اختیار رکھتے ہیں اور ان کے امر کے ہوتے ہوئے اس شخص کاکوئی امر اور اختیار نہیں ہے ۔( ۲۵ )
حدیث غدیر کے متن کے سلسلہ میں کتابوں کا تعارف
جیسا کہ حدیث غدیر کی سند کے سلسلہ میں کتابوں میں مفصل بحث ہو ئی ہے ،حدیث کے متن کے سلسلہ میں بھی بڑی محکم کتابیں تا لیف کی گئی ہیں ہم ذیل میں ان میں سے بعض کتابوںکا تذکرہ کررہے ہیں :
۱ ۔عبقات الانوار ،میر حا مد حسین ،غدیر سے متعلق جلدیں ۔
۲ ۔الغدیر علا مہ امینی جلد ۱ صفحہ ۳۴۰ ۔ ۳۹۹ ۔
۳ ۔عوالم العلوم جلد ۱۵/۳ صفحہ / ۳۲۸ ۔ ۳۷۹ ۔
۴ ۔فیض القدیر فیمایتعلق بحدیث الغدیر،شیخ عباس قمی ۔
۵ ۔المنھج السوی فی معنی المو لیٰ والولی ،محسن علی بلتستا نی پاکستانی ۔
۶ ۔بحا رالانوار جلد ۳۷ صفحہ ۲۳۵ ۔ ۲۵۳ ۔
۷ ۔الغدیر فی الاسلام ،شیخ محمد رضا فرج اللہ صفحہ / ۸۴ ۔ ۲۰۹ ۔
۸ ۔کتاب ”اقسام المو لیٰ فی اللسان “شیخ مفید ۔
۹ ۔رسالہ فی معنی المو لیٰ،شیخ مفید ۔
۱۰ ۔رسالہ فی الحواب عن الشبھات الواردة لخبر الغدیر،سید مرتضیٰ۔
۱۱ ۔معا نی الاخبار ،شیخ صدوق صفحہ ۶۳ ۔ ۷۳ ۔
اس بات کے مد نظر کہ مفصل استد لالی بحثیں اس کتاب میں بیان کرنا مقصود نہیں ہیں لہٰذا ہم امید کرتے ہیں کہ قارئین کرام مذکورہ کتابوں کو ملاحظہ فرما کر اپنے مقصود تک رسا ئی حاصل کرسکتے ہیں ۔
۳ خطبہ غدیر کے کامل متن کو مھیا اور منظم کرنا
خطبہ غدیر کے نسخوں کی ایک دوسرے سے مقایسہ کرنے کی اہمیت و ضرورت
”خطبہ غدیر “کے متن کو مقایسہ کرنے کی اہمیت مندرجہ ذیل طریقوں سے واضح ہو تی ہے :
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ،ائمہ معصومین علیھم السلام اور اصحاب سے نقل شدہ احادیث چودہ صدیاں طے کر کے ہم تک پہنچی ہیں لیکن اس دوران انہیں بڑی مشکلیں جھیلنا پڑیںجیسے تقیہ ،شیعوں کے ثقافتی اور اقتصادی حالات کا نا مساعد ہونا ،کتابوں کو چھاپنے کے امکانات کا نہ ہونا ،نسخہ برداری کرنے میں فنی اصول کی رعایت کا امکان نہ ہونا ،ناسخین کی کتابت کی غلطیاں اور ان کے مانند دو سرے اسباب ہیں جوکسی ایک معین روایت کے سلسلہ میں نسخوں کے اختلاف کا باعث ہوئے ہیں ۔
لہٰذا ایک کتاب کے نسخوں کا مقابلہ اور تطبیق یا ایک حدیث کے متن کا تقابل جو کئی مختلف کتابوں میں نقل ہو ئی ہے یہ متن سے متعلق بہت سی مشکلوں کو حل کردیتا ہے اور دو سرے نسخہ میں جو ابہام و مشکل پا ئی جاتی ہے اس کو برطرف کردیتا ہے اور اس طرح متن کامل طور پر روشن ہو جاتا ہے ۔
”خطبہ غدیر “کے سلسلہ میں تین اہم جہتوںسے مقایسہ کرنا لازم و ضروری ہے :
۱ ۔ایک سر نوشت ساز حدیث کے عنوان سے خود خطبہ کی اہمیت اور اس دائمی منشور کی طرف امت کا لازمی طور پر توجہ دینا جوخطبہ کی عبارت کو واضح کرنے کی ذمہ داری کو بہت مشکل بنا دیتی ہے ۔
۲ ۔متن کا طولا نی ہونااور فطری طور پرطولانی متن میں مبھم اور مشکل الفاظ و معانی بہت زیادہ ہوتے ہیں جن کو مقایسہ کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے ۔
۳ ۔حدیث کا سماعی ہونا ،یعنی حدیث املاء کے طور پر نہیں بیان کی گئی جو راوی ھمت کرکے لکھ لیتا ،بلکہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خطبہ کے دوران اسے ذہن نشین کیا ہے اور اس کے بعد نقل کیا ہے اور یہ بات فطری ہے کہ ایسے مواقع میں حدیث کے کم یا زیادہ ہونے کا امکان زیادہ ہو تا ہے اور مقابلہ کے طریقہ سے حذف شدہ جملے اور کلمات کو ان کے مقام پر لایا جاسکتا ہے ۔
خطبہ غدیر کے مقابلہ کے نتائج
روایات اور نسخوں کی قدرو قیمت کا اندازہ ایک دوسرے سے تقابل کرنے کے بعد ہی ہو سکتا ہے اور ھرایک کے علمی مقام ومرتبہ کو بڑی آسانی کے ساتھ مشخص ومعین کیا جاسکتا ہے
خطبہ غدیر کے مختلف نسخوں کے ایک دوسرے سے مقائسہ کرنے سے مندرجہ ذیل نتایئج اخذ ہوتے ہیں :
۱ ۔خطبئہ غدیر کے سلسلہ مےں ذکر شدہ تینوں روایات(امام باقرعليهالسلام ،حذیفہ اور زید بن ارقم کی روایات) متن کے اعتبارسے مکمل طور پر ایک دوسرے کے موافق ہیں سوائے وہ کلمات اور عبارات کے وہ اختلافی موارد جن کا ہر حدیث مےں ہونا ایک عام امر سمجھا جاتاہے حدیث کے طولا نی ہونے کے باوجود اس مطابقت کا ہونا حدیث کے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے خاص طور سے اس مطلب کو مدنظر رکھ کر کہ امام باقر علیہ السلام نے اس خطبہ کو علم الٰہی اور غیبی طریقہ سے نقل فرمایا ہے اور آپ بذات خود غدیر خم مےں تشریف نہیں رکھتے تھے حالانکہ حذیفہ اور زیدبن ار قم وشعبہ غدیر کے چشم دید گواہ ہیں اور زید بن ارقم اور حذیفہ اھلسنت کے قابل اعتماد راوی بھی ہیں ۔
۲ ۔تینوں روایات ایک دوسرے کی تائید اور تکمیل کرتی ہیں :اس کا مطلب یہ ہے کہ نسخوں کا ایک دوسرے سے مقایسہ کر تے وقت ایک نسخہ مےں امام باقر علیہ السلام کی روایت میں ایک کلمہ یا جملہ موجود ہے لیکن دوسرے نسخہ مےں مو جود نہیں ہے اور وھی کلمہ یا جملہ زید بن ارقم اور حذیفہ سے مروی روایات مےں بھی ایک میںموجود ہے اور دوسری روایت مےں موجود نہیں ہے جس سے اس مطلب کا پتہ چلتا ہے کہ راویوں اور نا سخین سے غلطی یا کو تا ہی ہوئی ہے اور اس بات کی نشاندھی ہوتی ہے کہ اصل مےں تینوں روایات ایک دوسرے پر منطبق ہوتی ہیں ۔
۳ ۔دو یاتین مقامات جھاں مسئلہ تو لاّ اور تبرا سے متعلق جملہ جو بعض نسخوں مےںموجود ہے تینوں روایات میں اشارہ کے طور پرآیا ہے یا حذف ہوگیا ہے اور یہ بات خطبہ کے راویوں کے تقیہ کے مخصوص حالات کی حکایت کرتی ہے اس مسئلہ کا نمونہ دو اصحاب صحیفہ اور سب سے پہلے بیعت کرنے والوں کانام ہے جو بعض نسخوں میں صاف طور پر بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
۴ ۔کتاب ”الاقبال “مولف سید بن طاؤس نیز کتاب”الصراط المستقیم“ مولف علامہ بیاضی کی ایک روایت میںایک قسم کی تلخیص کی گئی ہے اسکا مطلب یہ ہے یاتو مولف نے اختصار سے کام لیا ہے یااسکے اصل راوی نے مختصر طورپر نقل کیاہے ۔
بھر حال ان دو کتابوں مےں بھی موجود متن کابھی مقابلہ کیا گیا ہے اور ان دونوں کتابوں مےں نسخوں کے مابین اختلافی موارد کو حاشیہ مےں ان کے نام کے ساتھ ذکر کیا گیاہے ۔
۵ ۔کتاب وروضتہ الوا عظین کی روایت کتاب”التحصین “ کے ساتھ بہت سے مقامات پر مشابہت رکھتی ہے اور خاص مقامات پر دوسرے تمام نسخوں سے مختلف ہے ۔
۶ ۔کتاب”نهج الایمان “ کی روایت کتاب”العدد القویه ّ “ کے ساتھ بہت سے مقامات پر مشابہت رکھتی ہے اور اس نے کئی مقامات پر عبارتوں کی مشکل حل کی ہے ۔
۷ ۔کتاب”التحصین “ میں نقل کی گئی روایت کے آخر کے دو صفحہ ناقص ہیں جن کا اس کے مقام پر حاشیہ مےں پور ے متن کے ساتھ اشارہ کیا گیا ہے ۔
۸ ۔روایت کتاب”الیقین “ میں متعدد مقامات پر کچھ اضافہ کیاگیاہے اور اور بعض مقامات پر اس کی جملہ بندی مےں دوسری روایات سے فرق پایا جاتا ہے ۔
غدیر مےں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے تمام فرامین کا جمع کرنا
اس بات کا بیان کردینا نھایت ہی ضروری ہے کہ بعض روایات مےں جو خطبہ یا واقعہ غدیرکاایک حصہ نقل ہواہے اس سے اس میں بعض ایسے مطالب کامشاھد ہ ہوتا ہے جو خطبہ کا مل کے متن مےں موجود نہیں ہیں ان میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لوگوں سے لئے گئے اقراروں کا تذکرہ ہے اور ان سوا لا ت کے جوابات درج ہیں جولوگوں نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے دریافت کئے ہیں ۔
اسی طرح پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا اپنی وفات کے نزدیک ہونے کی خبردینا ،لوگوں کے ساتھ اپنے گزشتہ معاملات کا تذکرہ کرنا، قیامت کا تذکرہ اور غدیر کے سلسلہ میں جوابات دینا ہیں جو دوسرے حصہ میں مفصل طور پر بیان کئے گئے ہیں ۔
ان موارد کے سلسلہ میں کئی احتمال پائے جاتے ہیں :
۱ ۔چونکہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مکہ ،عرفات اور منیٰ میں کئی مرتبہ خطبے ارشاد فر مائے ہیں لہٰذا وہ تمام خطبے راویوں کی نظر میں خطبہ حجة الوداع کے عنوان سے موجود اور انھوں نے ان کے بعض حصوںکو خطبہ غدیر کے ایک حصہ کے عنوان سے نقل کیا ہے ۔
۲ ۔جو مطالب متن کامل میں نہیں ہیں ان کے سلسلہ میں یہ احتمال ہے کہ یہ مطالب خطبہ سے پہلے یا خطبہ کے بعد لوگوں کے چھوٹے چھوٹے جلسوں میں بیان ہو ئے ہیں اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم میں تین دن قیام فرمایا لہٰذا ان تین ایام میںآپ کی زبان اقدس سے متعدد فرامین جا ری ہوئے ہیں ۔
۳ ۔چونکہ نقل کرنے والے کا مقصد اصل خطبہ نقل کرنا تھا یہ مطالب جو سوال و جواب کی شکل میں نقل ہوئے ہیں ان کو متن میں شمار نہیں کیا گیا ہے صرف خطبہ کے متن کو ذکر کیا گیا ہے ۔
۴ ۔مختصر طور پر غدیر میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرامین میں سے متن خطبہ کے بعض مطالب خطبہ کے قبل و بعد کے مطالب کے ساتھ مخلوط طور پر نقل کئے گئے ہیں ۔
بھر حال خطبہ کو منظم کرنے میں فقط جن نسخوں میں خطبہ غدیر کو مفصل طور پر ایک متن کی صورت میںنقل کیا گیا ہے ان میں ایک دو سرے سے مقابلہ کیا گیا ہے ۔غدیر میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے تمام فرامین کو جداگانہ طور پر دستہ بندی کرکے کتاب کے دو سرے حصہ میں نقل کیا گیا ہے ۔
خطبہ کے عربی متن کو منظم کرنا
خطبہ غدیر کا عربی متن متعدد مرتبہ مستقل طور پر طبع ہو چکا ہے جو تمام کے تمام کتاب ”الاحتجاج “ کی روایت کے مطابق تھے ۔اس کے مشہور و معروف دو نمو نوں میں سے ایک کتاب”الخطبة المبار کة النبویة “ جس کو علامہ سید حسن حسینی لواسانی نے مرتب و منظم کیا ہے اور دوسراکتاب”خطبة النبی الاکرم فی یوم الغدیر “ ہے جس کو مرحوم استاد عماد زادئہ اصفھانی نے منظم و مرتب کیا ہے ۔
مو جودہ متن حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ،حذیفہ بن یمان ،اور زید بن ارقم کی تین روایات کے مطابق ہے ۔ اس کے نو منابع اور مدارک یعنی ” روضة الواعظین،الاحتجاج ،الیقین ،التحصین ،العدد القویة ، الاقبال ،الصراط المستقیم ،نھج الایمان اور نزہة الکرام سے مقائسہ کرنے کے بعد منظم و مرتب کیا گیا ہے اوراسے گیارہ حصوں میں پیش کیا جائیگا اور ہر حصہ سے پہلے اس کا عنوان ذکرکیا جائیگا ۔
مطالعہ کی آسانی اور اس کو حفظ کرنے کیلئے حروف پر حرکات اور کلمات پر اعراب گذاری کی گئی ہے ۔وہ مقامات جو خطبہ کا جزء نہیں ہیں ان کو خاص حروف اور بغیر اعراب کے ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ متن کے اہم موارد کو سیاہ حروف میں ذکر کیا گیا ہے ۔خطبہ کے کامل متن کو بچانے کی غرض سے جوجملے قطعی طورپر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کلام کا جزء نہیں ہیں ان پر صلی اللہ علیہ وآلہ اور علیہ السلام لکھنے سے احتراز کیا گیا ہے
حاشیہ میں نسخوں میں اختلافات کے مقامات اور ان کی کیفیت بیان کی گئی ہے ۔چھ اصلی مقابلہ کی گئی کتابوں کےلئے مندرجہ ذیل اشاروں کو بیان کیا جا رہا ہے :
الف :الاحتجاج ۔ ب:الیقین ۔ ج:التحصین ۔
د : روضة الواعظین ۔ ھ:العدد القویة ۔ و:نھج الایمان ۔
جن بعض موارد میں نسخوں کا اختلاف کتاب ”الاقبال “،”الصراط المستقیم “اور ”نزھة الکرام “ سے ذکر کیا گیا ہے وہاں پر ان کتابوں کا نام ذکر ہوا ہے اور کوئی رمز نہیں آیا ہے ۔
اس با ت کو مد نظر رکھتے ہوئے موجودہ متن نو روایات اور نو کتابوں سے اخذ کیا گیا ہے حاشیوں اور دوسرے نسخوں کے مطالب اس لئے اہمیت کے حا مل ہیں کہ ہر نسخہ واقع کو نمایاں کرنے میںکردار اداکرسکتا ہے ۔
حاشیے میں قرآنی آیات کے حوالے اور مشکل کلمات اور جملوں کی وضاحت کی گئی ہے ۔
چونکہ خطبہ کا متن عربی زبان میں ہے لہٰذا حاشیے بھی عربی زبان میں ہی ذکر کئے گئے ہیں تا کہ دو زبانوں میں خلط ملط نہ ہو جائے ۔ضمناً خطبہ کے گیارہ حصوں میں سے ہر ایک کے حاشیہ کا نمبر جداگانہ طورپر لکھا گیا ہے ۔
۴ خطبہ غدیر کے ترجمے
”خطبہ غدیر “کا فارسی ،اردو ،ترکی اور انگریزی زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے نیز عربی ،فارسی اردواور ترکی زبان کے اشعار میں متعدد مرتبہ منظم کیا گیاہے اور ان میں سے بہت سے ترجمے و اشعار کے مجموعے چھا پے جا چکے ہیں ۔ ہم ذیل میں خطبہ کے نظم و نثر کے چند نمونوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں :
خطبہ غدیر کا سب سے پہلے فارسی زبان میں ترجمہ ۶ ھ میںایک بلندپایہ کے عالم شیخ محمد بن حسین رازی کے ذریعہ کتاب ”نزھة الکرام “میں انجام پایا اور بعینہ کتاب مذکور میں طبع بھی ہوا ہے ۔
خطبہ غدیر کے فارسی زبان میں چھپے ہوئے تین عنوانوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے :
۱ ۔”خطبہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم در غدیر خم “ مو لف استاد حسین عماد زادہ اصفھانی ۔یہ ترجمہ مختلف صورتوں میں چھاپا گیا ہے کبھی عربی متن اور اس کے نیچے فارسی ترجمہ اور کبھی مستقل فارسی ترجمہ کی صورت میں چھاپا گیا ہے ،اسی طرح ایک مفصل کتاب ”پیامی بزرگ از بزرگ پیامبران “کی صورت میں بھی طبع ہواہے ۔
۲ ۔غدیریہ مولف ملا محمد جعفر بن محمد صالح قاری ۔
۳ ۔غدیر پیوند نا گسستنی رسالت و امامت مو لف شیخ حسن سعید تھرانی مرحوم ۔
خطبہ غدیر کے اردو زبان میں چھاپے گئے تین عنوانوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
۱ ۔”غدیر خم اور خطبہ غدیر“ مو لف علا مہ سید ابن حسن نجفی یہ ترجمہ کراچی میں طبع ہوا ہے ۔
۲ ۔”حدیث الغدیر “مولف علامہ سید سبط حسن جا ئسی یہ ترجمہ ہندوستان میں طبع ہوا ہے ۔
۳ ۔”حجة الغدیر فی شرح حدیث الغدیر“ یہ ترجمہ دھلی میں طبع ہوا ہے ۔
خطبہ غدیر کا ترجمہ آذری ترکی زبان میںکتاب حاضر سے ”غدیر خطبہ سی “کے عنوان سے انجام پایا ہے ۔
انگریزی زبان میں ہونے والے تین ترجموں کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
۱ ۔ what happend in qadir ?(واٹ ھیپنڈ ان غدیر )کتاب حاضر میں مذکور خطبہ غدیر کا ترجمہ کیا گیا ہے ۔
۲ ۔ the last two khutbas of the last prophet pbuh (دا لاسٹ ٹو خطباز آف دا لاسٹ پرفیٹ )مترجم سید فیض الحسن فیضی جو راولپنڈی پاکستان میں طبع ہوا ہے ۔
۳ ۔ the last sermon of prophet mohammad at ghadir khum (دا لاسٹ سِر مُن آف پرافیٹ محمد ایٹ غدیر خم )مترجم حسین بھا نجی جو تنزانیا میں طبع ہوا ہے ۔
”حدیث غدیر “کی عربی نظم علامہ امینی کی کتاب ”الغدیر “میں جمع کی گئی ہیں اس کتاب کی گیارہ جلدوں میں ”غدیر “سے متعلق عربی اشعار کو جامع طور پر تدوین کیا گیا ہے ۔اسی طرح کتاب ”شعراء الغدیر “جو مو سسہ الغدیر کے ذریعہ دو جلدوں میں تدوین کی گئی ہے ۔
خطبہ غدیرکی فارسی نظم مندرجہ ذیل کتابوں میںذکر کی گئی ہے :
۱ ۔”سرود غدیر “مو لف علامہ سید احمد اشکوری ، ۲ جلد۔
۲ ۔”شعرائے غدیر از گذشتہ تا امروز “تالیف ڈاکٹر شیخ محمد ھادی امینی ۱۰ جلد ۔
۳ ۔”غدیر در شعر فارسی از کسا ئی مروزی تا شھر یار تبریزی “محمد صحتی سردرودی ۔
کچھ فارسی شعراء نے خطبہ غدیر کو فارسی نظم کی صورت میں تحریر کیا ہے ہم ذیل میں چند طبع شدہ نمونو ں کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
۱ ۔خطبة الغدیر مولف مرحوم صغیر اصفھانی جو مرحوم عماد زادہ کی مدد سے تحریر کیا گیا ہے ۔
۲ ۔خطبہ غدیریہ مولف مرزا رفیع ، جس کو ۱۳۱۳ ھ میں ہندوستان میں طبع کیا گیا ہے ۔
۳ ۔ترجمہ (منظوم )خطبہ غدیر خم مولف مرزا عباس جبروتی قمی ۔
۴ ۔”غدیر خم “مولف مرتضیٰ سرفراز جس کو ۱۳۴۸ ھ ش میں طبع کیاگیا ہے ۔
یہ چندکتابیں نمونے کے طور پر پیش کی گئی ہیں اور زیادہ اطلاع کے لئے دو کتاب”الغدیر فی التراث الاسلامی “اور ”غدیر در آئینہ کتاب “ملا حظہ کیجئے ۔
غدیر کے خطبہ کو فارسی میں منظم و مرتب کیاجانا
خطبہ کے تمام تر جمے کتاب ”الاحتجاج “کے مطابق ہیں لیکن مو جودہ ترجمہ کے عربی متن کو مذکورہ نو کتابوں سے مقائسہ کرنے کے بعد انجام دیا گیا ہے اورعلم حدیث کی رو سے اضافات اور عبارتوںمیں تغیر و تبدیلی ہو ئی ہے نیز عقیدتی پہلووں پر بھی رو شنی ڈالی گئی ہے ۔
یہ عربی متن کے مطابق ترجمہ (جس کو ہم چھٹے حصہ میں ذکر کریں گے )گیارہ حصوں میں تقسیم ہوا ہے اور حصہ کے آغاز میںاس کانام بھی ذکرکیا گیا ہے ۔
خطبہ غدیر بلند و بالا مطالب و مفاہیم کا حامل ہے لہٰذا ترجمہ کرنے میں ان مطالب کوروشن و واضح کرنے کا خیال رکھا گیا ہے اور تحت اللفظ ترجمہ کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے البتہ خطبہ کی اہمیت ہو نے کے باوجود بعض مقامات پر تفسیر کی احتیاج ہے جس کو اس کتاب کے آٹھویں حصہ میں کسی حد تک بیان کرنے کی کو شش کی گئی ہے ۔
خطبہ کے متن میں موجودہ آیات کو پہلے عربی صورت میں تحریر کیا گیا اس کے بعد ان کا ترجمہ بھی تحریر کیا گیا ہے ۔
جن مقامات پر یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ یہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا کلام نہیں ہے وہاں جملہ ”صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم “اور” علیہ السلام “تحریر نہیں کیا گیا ہے ۔
خطبہ میں کلمہ ”معاشر الناس “اور ”الا“بہت زیادہ آیا ہے چونکہ اردو زبان میں اس کے معادل کوئی اچھالفظ نہیں ہے لہٰذا پہلے کلمہ کا ” اے لوگو “اور دو سرے کلمہ کا”آگاہ ہو جاؤ “ترجمہ کیا گیاہے ۔
خطبہ کے اہم مقامات کو سیاہ حرفوں میں تحریر کیا گیا ہے خطبہ کے متن سے خارج موارد کو مشخص طور پر اور مختلف حروف کے ساتھ تحریر کیا گیا ہے ۔
نسخوں کے جن اختلافی موارد کو عربی متن کے حاشیہ میں تحریر کیا گیا ہے اگر کسی ایسے اہم مطلب کا حامل ہے کہ جس کا متن سے استفادہ نہیں ہو رہا ہے یا عبارت میں اتنا اختلاف ہے جس سے جملہ کے معنی تبدیل ہو جاتے ہیں تو اس صورت میں اس مطلب کو ترجمہ کے حاشیہ میں ذکر کیا گیاہے لیکن اگر کلمات مےں اختلاف ہو اورنئے اور اہم مطلب کا حامل نہ ہو تو اس کوترجمہ کے حاشیہ میں لکھنے سے خودداری کی گئی ہے الف اور با کی علامات جن کو عربی متن کے حاشیہ میں استعمال کیا گیا ہے ان کویھاں پر بھی استعمال کیا گیا ہے اور وہ چند موارد جو دو کتاب ”الاقبال “اور ”الصراط المستقیم “سے بیان کئے گئے ہیں ان کو علامت کے بغیر ذکر کیا گیا ہے ۔
وہ موارد جن میں عبارت کی وضاحت ضروری ہے یا تاریخ سے مربو ط ہیں ان اس کو حاشیہ میں بیان کیا گیا ہے ۔
ھم امید کرتے ہیں کہ مذکورہ نسخوں سے مقائسہ کیلئے جواقدار بیان کئے گئے ہیں ان کے مد نظر قارئین کرام کےلئے خطبہ غدیر کی اہمیت واضح ہو گئی ہو گی اور وہ بڑی توجہ کے ساتھ اس کا مطالعہ کرینگے ۔
____________________
[۱] عوالم جلد ۱۵/۳ صفحہ ۴۷۲۔۴۷۶۔
[۲] بحار الانوار:ج۳۷صفحہ/۲۳۵۔
[۳] بحار:جلد۳۷صفحہ/۲۳۶۔
[۴] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ /۴۷۷۔
[۵] الذریعة جلد ۵ صفحہ /۱۰۱،نمبر ۴۱۸۔الغدیر فی التراث الاسلامی صفحہ۲۳۔
[۶] روضةالواعظین جلد۱صفحہ/۸۹۔
[۷] الاحتجاج جلد۱صفحہ۶۶۔بحارالانوارجلد۳۷صفحہ۲۰۱۔
[۸] الیقین صفحہ/۳۴۳۔ بحارالانوارجلد ۳۷ صفحہ /۲۱۸۔
[۹] نزھة الکرام و بستان العوام جلد پ صفحہ ۱۸۶۔ نزھة الکرام و بستان العوام جلد پ صفحہ ۱۸۶۔
[۱۰] الاقبال صفحہ/۴۵۴،۴۵۶۔۔بحارالانوارجلد۳۷صفحہ/۱۲۷،۱۳۱۔۳۔
[۱۱] العدد القویہ صفحہ /۱۶۹۔۴۔
[۱۲] التحصین صفحہ /۵۷۸ باب۲۹ دوسری قسم ۔
[۱۳] الصراط المستقیم جلد ۱صفحہ /۳۰۱۔
[۱۴] نھج الایمان صفحہ /۹۲۔
[۱۵] اثبات الھدات جلد ۲ صفحہ /۱۱۴۔جلد ۳ صفحہ ۵۵۸۔
[۱۶] بحارالانوارجلد ۳۷ صفحہ ۲۰۱۔۲۱۷۔
[۱۷] کشف المھم صفحہ /۱۹۰۔
[۱۸] اس سلسلہ میں مکمل بیان اسی کتاب کے آٹھویں حصہ میں آئے گا ۔
[۱۹] کتاب ” عوالم العلوم “جلد ۱۵/۳صفحہ /۳۳۱پر کلمہ ” مولیٰ “ کے سلسلہ میں مفصل بحث کی ہے اور صفحہ/۵۸۹ پراھلسنت کی تفسیر کی چند کتابوں کے نام درج کئے ہیں جن میں کلمہ ”مو لیٰ “ کے معنی ”اولیٰ “ بیان کئے گئے ہیں ۔اسی طرح صفحہ /۵۹پر ان راویان حدیث،شعرا اور اہل لغت کے اسماء کی فھرست نقل کی ہے جنھوں نے معنی ”اولیٰ “کو کلمہ”مولیٰ “ کے اصلی معنی سمجھا ہے ذیل میں ہم ان کے نام درج کررہے ہیں :
محمد بن سائب کلبی م ۱۴۶۔سعید بن اوس انصاری لغوی م۲۱۵،معمر بن مثنی نحوی م ۲۰۹،ابو الحسن اخفش نحوی م ۲۱۵،احمد بن یحییٰ ثعلب م۲۹۱،ابوالعباس مبرّد نحوی م ۲۸۶،ابو اسحاق زجاج لغوی نحوی م ۳۱۱،ابو بکر ابن انباری م۳۲۸،سجستانی عزیزی م۳۳۰،ابو الحسن رمانی م ۳۸۴،ابو نصر فارابی م ۳۹۳،ابو اسحاق ثعلبی م ۴۲۷،ابوالحسن واحدی م ۴۶۸،ابو الحجاج شمنتری م ۴۷۶،قاضی زوزنی م ۴۸۶،ابو زکریا شیبانی م ۵۰۲،حسین فرّاء بغوی م ۵۱۰،جار اللہ زمخشری م ۵۳۸،ابن جو زی بغدادی م ۵۹۷،نظام الدین قمی م ۷۲۸،سبط ابن جو زی م ۶۵۴،قاضی بیضاوی م ۶۸۵،ابن سمین حلبی م ۷۵۶،تاج الدین خجندی نحوی م ۷۰۰،عبد اللہ نسفی م ۷۱۰،ابن صباغ ما لکی ۷۵۵،واعظ کا شفی م ۹۱۰،ابو سعود مفسّرم ۹۸۲،شھاب الدین خفا جی م ۱۰۶۹،ابن حجر عسقلانی ،فخر رازی ،ابن کثیر دمشقی ،ابن ادریس شافعی ،جلال الدین سیوطی ،بدر الدین عینی ۔
[۲۰] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۹۶۔
[۲۱] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۶۱۔
[۲۲] معا نی الاخبار صفحہ ۶۳۔
[۲۳] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۱۲۸۔معا نی الاخبار صفحہ ۶۳۔
[۲۴] اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ ۱۳۹حدیث ۶۰۶۔
[۲۵] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ /۱۳۳حدیث ۱۹۰۔
Signature Down with America Down with Israel punjtni۱۴ View Public Profile Visit punjtni۱۴'s homepage! Find More Posts by punjtni۱۴ ۱۲-۱۱-۰۸, ۰۹:۲۹ AM post no : ۱۹ punjtni۱۴ Urdu Shia Lover Re : اسرار غدیر -محمد باقر انصاری-مکمل کتاب Online Read Book
خطبہ غدیر کا عربی متن
غدیر خم میں پیغمبر اکر مصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خطبہ کا مکمل عربی متن
بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم
۱ الحمدوالثنائ
اَل ْحَمْدُلِلّٰ ه ِ الَّذِی ْ عَلَافِی ْ تَوَحُّدِه ِ وَدَنَافِ ی ْ تَفَرُّدِه ِ( ۱ ) وَجَلَّ فِی ْ سُل ْطَانِ ه ِ وَعَظُمَ فِ ی ْ اَر ْکَانِ ه ِ، وَا حَاطَ بِکُلِّ شَی ْ ءٍ عِل ْماًوَ ه ُوَفِ ی ْ مَکَانِه ِ وَقَ ه َرَجَمِ ی ْ عَ ال ْخَلْقِ بِقُدْرَتِ ه ِ وَ بُرْ ه َانِ ه ِ،حَمِ ی ْ داً( ۲ ) لَم ْ یَزَل ْ،مَحْمُوْداً لَا یَزَالُ(وَمَجِی ْ داً لَایَزُو ْلُ،وَمُبْد ِئاًوَمُعِی ْ داًوَکُلُّ اَم ْرٍاِلَ ی ْ ه ِ یَعُو ْدُ )( ۳ )
بَارِی ال ْمَسْمُوْکاَتِ وَدَاحِ ی ال ْمَدْحُوَّاتِ( ۴ ) وَجَبَّارُالْاَرَضِ ی ْ نَ وَالسَّمٰوَا ت ِ، قُدُّو ْسٌ سُبُّوْحٌ ،رَبُّ الْمَلَائِکَةِوَالرُّوْحِ،مُتَفَضِّلٌ عَل یٰ جَمِی ْ عِ مَن ْ بَرَاه ،ُ مُتَطَوِّلٌعَلیٰ جَمِی ْ عِ مَن ْ اَنْشَا ه ُ( ۵ ) یَل ْحَظُ کُلَّ عَی ْنٍ( ۶ ) وَالْعُ یُو ْنُ لَاتَرَا ه ُ
کَرِی ْ مٌ حَلِی ْ مٌ ذُو ْاَنَاةٍ،قَدْوَسِعَ کُلَّ شَ ی ْ ءِ رح ْمَتُ ه ُ وَمَنَّ عَلَ ی ْ ه ِمْ( ۷ ) بِنِع ْمَتِ ه ِ لا یَع ْجِلُ ُ بِاِن ْتِقَامِ ه ِ، وَلَا یُبَادِر ُاِلَی ْ ه ِمْ بِمااس ْتَحَقُّوْا( ۸ ) مِنْ عَذَابِ ه ِ
قَد ْفَ ه ِمَ السَّرَائِرَوَعَلِمَ الضَّمَائِرَ،وَلَم ْ تَخْفَ عَلَ ی ْ ه ِ ال ْمَکْنُوْنَاتِ وَلَااشْتَبَ ه َتْ عَلَ ی ْ ه ِ ال ْخَفِ یَّاتُ لَ ه ُ الْاِحَاطَةُبِکُلِّ شَ یءٍ وَال ْغَلَبَةُ عَل یٰ کُلِّ شَی ْ ءٍ وَال ْقُوَّةُ فِ ی ْ کُلِّ شَی ْ ءٍ وَال ْقُدْرَةُ عَل یٰ کُلِّ شَی ْ ءٍ،وَلَی ْ سَ مِث ْلُ ه ُ شَ ی ْ ءٌ وَ ه ُوَمُنْشِ ی الشَّی ْ ءِ حِی ْ نَ لَا ْشَ ی ْ ءَ( ۹ ) دَائِمٌ حَیٌّ( ۱۰ ) وَقَائِمٌ بِال ْقِسْطِ، لَااِلٰ ه َ اِلَّا ه ُوَالْعَزِ ی ْ زُال ْحَکِ ی ْ مُ
جَلَّّ عَن ْ ا ن ْ تُد ْرِکَ ه ُ الْا ب ْصٰارَوَ ه ُوَ یُد ْرِکُ ال ْا ب ْصٰارَوَ ه ُوَاللَّط یفُ ال ْخَبْ یرُ لاٰ یَل ْحَقُ اح ْد وَص ْفَ ه ُ مِنْ مُعٰا یَنَةٍ،وَلاٰیَجِدُاحَدٌکَی ْ فَ مِن ْ سِرٍّوَعَلاٰنِ یَةٍاِلاّٰبِمٰادَلَّ عَزَّوَجَلَّ عَلیٰ نَف ْسِ ه ِ( ۱۱ )
وَاش ْ ه َدُا نَّه ُ الل هُ الَّذِ ی مَلَا( ۱۲ ) الدَّه رَقُدْسُ ه ُ، وَالَّذی یَغ ْشَ ی ال ْا بَدَنُورُه( ۱۳ ) ،وَالَّذِی یُن ْفِذُا ٴَ م ْرَ ه ُ بِلاٰمُشٰاوَرَةِ مُشیرٍوَلاٰمَعَه ُ شَریکٌ فی تَق ْد یرِه ِ وَلاٰیُعٰاوَنُ فی تَد ْب یرِه ِ( ۱۴ )
صَوَّرَمَاابتَدَعَ( ۱۵ ) عَلیٰ غَی ْ رِمِثٰالٍ،وَخَلَقَ مٰاخَلَقَ بِلاٰمَعُونَةٍ مِن ْ ا ح ْدٍ وَلاٰ تَکَلُّفٍ وَلَا اح ْتِ یٰالٍ( ۱۶ ) ان ْشَا ه ٰا( ۱۷ ) فَکٰانَت ْ وَبَرَا ه ٰافَبٰانَتْفَ ه ُوَاللهُ الَّذ ی لاٰاِلٰه َ اِلاّٰ ه ُوَ الْمُتَقِنُ الصَّنْعَةُ( ۱۸ ) ، الْحَسَنُ الصَّن یعَةُ( ۱۹ ) ،ال ْعَدْلُ الَّذِ ی لاٰیَجُو ْرُ،وَالْا ک ْرَمُ الَّذِی تَر ْجِعُ اِلَ ی ْ ه ِ ال ْا مُورُ
وَاش ْ ه َدُا نَّه ُ الل هُ الَّذِ ی تَوٰاضَعَ کُلُّ شَی ْی ءٍ لِعَظَمِتِه ،وَذَلَّ کُلُّ شَ ی ْی ءٍ لِعِزَّتِه ِ، وَاسْتَسْلَمَ کُلُّ شّ ی ْی ءٍ لِقُد ْرَتِ ه ِ،وَخَضَعَ کُلُّ شَ ی ْی ءٍ لِه َ ی ْ بَتِه ِمَلِکُ الْا م ْلاٰکِ( ۲۰ ) وَمُفَلِّکُ ال ْا ف ْلاٰکِ وَمُسَخِّرُالشَّم ْس ِ وَال ْقَمَرِ( ۲۱ ) ،کُلٌّ یَج ْر ی لِاجَلٍ مُسَمّیٰ یُکَوِّرُ اللَّی ْ لَ عَلَی النَّه ٰارِ وَ یُکَوِّرُ النَّه ٰارَ عَلَ ی اللَّی ْ لِ یَط ْلُبُ ه ُ حَث ْ یثاً قٰاصِمُ کُلِّ جَبّٰارٍعَن یدٍوَمُه لِکُ کُلِّ شَی ْ طٰانٍ مَریدٍ
لَم ْ یَکُن ْ لَه ُ ضِدٌّوَلاٰمَعَ ه ُ نِدٌّ( ۲۲ ) اح ْدٌصَمَدٌلَمْ یَلِد ْوَلَمْ یُولَد ْوَلَمْ یَکُن ْ لَه ُ کُفْواًا حَدٌ اِلٰ ه ٌ وٰاحِدٌ وَرَبٌّ مٰاجِدٌ( ۲۳ ) یَشٰاءُ فَیَم ْض ی،وَیُریدُ فَیَق ْض ی،وَیَع ْلَمُ فَیُح ْص ی، وَیُمیتُ وَیُح ْ یی، وَ یُف ْقِرُوَ یُغ ْن ی،وَیُض ْحِکُ وَیُب ْک ی،(وَیُد ْن ی وَیُق ْص ی)( ۲۴ ) وَیم ْنَعُ وَیُع ْطِ ی ْ( ۲۵ ) لَه ُ الْمُلْکُ وَلَ ه ُ الْحَمْدُ،بِ یَدِه ِ ال ْخَ ی ْ رُ وَه ُوَعَل یٰ کُلِّ شَی ْی ءٍ قَدیرٍ یوُلِجُ اللَّی ْ لَ فِی النَّه ٰارِوَ یوُلِجُ النَّه ٰارَفِ ی اللَّی ْ لِ،لاٰاِلٰه َ اِلاّٰ ه ُوَا لْعَز یزُ
ال ْغَفّارُ( ۲۶ ) مُس ْتَج یبُ الدُّعٰاءِ( ۲۷ ) وَمُج ْزِلُ الْعَطٰاءِ( ۲۸ ) ،مُحْصِ ی ال ْا ن ْفٰاسِ وَرَبُّ ال ْجِنَّةِ وَالنّٰاس الَّذ ی لایشکل علیه شیءٌ( ۲۹ ) ولَایَض ْجُرُ ه ُ صُرَاخُ ال ْمُسْتَصْرِخِ ی ْ نَ وَلَایُب ْرِمُ ه ُ اِل ْحَاحُ المُلِحِّ ی ْ نَ( ۳۰ ) ال ْعٰاصِمُ لِلصّٰالِح ینَ، وَال ْمُوَفِّقُ لِلْم ُف ْلِحْ ینَ،وَمَو ْلَ ی ال ْمُو مِنینَ وَرَبُّ ال ْعٰالَم ینَ( ۳۱ ) الَّذی اس ْتَحَقَّ مِنْ کُلِّ مَنْ خَلَقَ ا ن ْ یَش ْکُرَ ه ُ وَیَح ْمَدَ ه ُ (عَلیٰ کُلِّ حٰالٍ)( ۳۲ )
اح ْمَدُ ه ُ کَثیراًوَاش ْکُرُ ه ُ دٰائِماً( ۳۳ ) عَلَی السَّرّٰاءِ وَالضَّرّٰاءِ وَالشِّدَّةِ وَالرَّخٰاءِ، وَاومِنُ بِه ِ وَبِمَلاٰئِکَتِ ه ِ وَکُتُبِ ه ِ وَرُسُلِ ه ِا س ْمَعُ لِام ْرِ ه ِ وَاطیعُ وَابٰادِرُاِلیٰ کُلِّ مٰایَر ْضٰا ه ُ وَاس ْتَسْلِمُ لِمٰاقَضٰاه ُ( ۳۴ ) ،رَغ ْبَةًف ی طٰاعَتِه ِ وَخَوْفاًمِنْ عُقُوبَتِ ه ِ،لِا نَّه ُ الل هُ الَّذِ ی لاٰیُومَنُ مَک ْرُ ه ُ وَلاٰ یُخٰافُ جَو ْرُ ه ُ
۲ امرالهی فی موضوع ه امّ
وَاقِرُّلَه ُ عَلیٰ نَف ْس ی بِالعُبُودِیَّةِوَاش ْ ه َدُلَ ه ُ بِالرُّبُوبِیَّةِ،وَ اودّی مٰااو ْح یٰ بِه ِ اِل یَّ حَذَراًمِن ْ ا ن ْ لاٰاف ْعَلَ فَتَحِلَّ بی مِن ْ ه ُ قٰارِعَةٌلاٰ یَد ْفَعُ ه ٰاعَنّ ی اح ْدٌوَاِنْ عَظُمَت ْ ح یلَتُه ُ وَصَفَت ْ خُلَّتُ ه ُ( ۳۵ ) لاٰاِلٰ ه َ اِلاّٰ ه ُوَلِا نَّه ُ قَد ْا ع ْلَمَن ی انّی اِن ْ لَمْ ا بَلِّغ ْ مٰاان ْزَلَ اِلَیَّ (فی حَقِّ عَلِیٍّ)( ۳۶ ) فَمٰا بَلَّغ ْتُ رِسٰالَتَ ه ُ، وَقَدْضَمِنَ( ۳۷ ) ل ی تَبٰارَکَ وَتَعٰالیٰ ال ْعِصْمَةَ(مِنَ النّٰاسِ)( ۳۸ ) وَ ه ُوَاللهُ الْکٰافِ ی ال ْکَر یمُ
فَاو ْح یٰ اِلَیَّ:( بِسمْ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحیمِ،یٰاایُّهَاالرَّسُوْلُ بَلِّغْ مٰااُنزِلَ اِلَیکَ مِنْ رَبِّکَ فی عَلِیٍّ یَعْنی فِی الْخِلاٰفَةِلِعَلِیِّ بْنِ ابی طٰالِبٍ وَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمٰابَلَّغْتَ رِسٰالَتَهُ وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنَ النّٰاسِ ) ( ۳۹ )
مَعٰاشِرَالنّٰاسِ،مٰاقَصَّر ْتُ فی تَب ْل یغِ مٰاان ْزَلَ الل هُ تَعٰال یٰ اِلَیَّ( ۴۰ ) وانَااُبَیِّنُ لَکُم ْ سَبَبَ ه ٰذِ ه ِ الْآ یَةِ:اِنَّ جَب ْرَئْ یلَ ه َبَطَ اِلَ یَّ( ۴۱ ) مِرٰاراًثَلاٰثاًیَامُرُنی عَنِ السَّلاٰمِ رَبّی وَه ُوالسَّلاٰمُ( ۴۲ ) ان ْ اقُومَ فی ه ٰذَاالْمَشْ ه َدِفَا ع ْلِمَ کَلَّ اب ْ یَضٍ وَاس ْوَدٍ( ۴۳ ) :انَّ عَلِی ب ْنَ ا بی طٰالِبٍ اخی وَوَصِیّی وَخَلیفَتی (عَلیٰ امَّتی)( ۴۴ ) وَال ْاِمٰامُ مِنْ بَعْد ی،الَّذی مَحَلُّه ُ مِن ّی مَحَلُّ ه ٰارُوْنَ مِنْ مُوْس یٰ اِلاّٰانَّه ُ لاٰنَبِیَّ بَع ْد ی وَه ُو َوَلِیُّکُم ْ بَع ْدَاللهِ وَرَسُولِ ه ِ،وَقَدْا ن ْزَلَ الل هُ تَبٰارَکَ وَتَعٰال یٰ عَلَیَّ بِذٰلِکَ آیَةً مِن ْ کِتٰابِ ه ِ( ه ِ یَ)( ۴۵ ) :<اِنَّمٰاوَلِیُّکُمُ الل هُ وَرَسُوْلُ ه ُ وَالَّذِ ینَ آمَنُو ْاالَّذِ ینَ یُقیمُو ْنَ الصَّلاٰةَوَیُوتُو ْنَ الزَّکٰاةَ وَه ُمْ رٰاکِ عُونَ>( ۴۶ ) ،وَعَلِیُّ ب ْنُ ا بی طٰالِبٍ الَّذِی اقٰامَ الصَّلاٰةَوَآتَی الزَّکٰاةَوَه ُوَرٰاکِعٌ یُریدُالل هَ عّزَّوَجَلَّ فی کُلِّ حٰالِ( ۴۷ )
وَسَال ْتُ جَب ْرَئ یلَ انُ یَس ْتَعْفِ یَ لِیَ (السَّلاٰمَ)( ۴۸ ) عَن ْ تَبْل یغِ ذٰلِکَ اِلَی ْ کُم ْ ا یُّ ه َا النّٰاسُ لِعِل ْم ی بِقِلَّةِال ْمُتَّق ینَ وَکَث ْرَةِالْمُنٰافِق ینَ وَاِد ْغٰالِ اللاّٰئِم ینَ( ۴۹ ) وَحِیَلِ ال ْمُسْتَ ه زِئ ینَ بِال ْاِسْلامِ( ۵۰ ) ، الَّذ ینَ وَصَفَه ُمُ الل هُ ف ی کِتٰابِه ِ بِا نَّه ُمْ یَقُولُونَ بِال ْسِنَتِ ه ِمْ مٰا لَی ْ سَ فی قُلُوبِه ِمْ،وَ یَح ْسَبُونَ ه ُ ه َ یِّناً وَه ُوَعِنْدَاللهِ عَظ یمٌ( ۵۱ ) ،وَکَث ْرَةِا ذٰاه ُمْ لی غَی ْ رمَرَّة( ۵۲ ) حَتّیٰ سَمُّونی اُذُناًوَزَعَمُواانّیٰ کَذٰ لِکَ( ۵۳ ) لِکَث ْرَةِ مُ لَازَمَتِه ِ اِیَّایَ وَاِق ْبَالِ ی عَلَی ْ ه ِ (وَه َوَا ه ُ وَقَبُوْلِ ه ِ مِنِّ ی ْ )( ۵۴ ) حَتّیٰ اَن ْزَلَ اللّ ه ُ عَزَّوَجَلَّ فِ ی ْ ذَلِکَ( ۵۵ ) <وَمِن ْ ه ُمُ الَّذِ ی ْ نَ یُوذُو ْنَ النَّبِیَّ وَیَقُو ْلُوْنَ ه ُوَاُذُنٌ،قُلْ اُذُنُ)-عَلَ ی الَّذِی ْ نَ یَز ْعَمُوْنَ اَنَّه ُ اُ ذُنٌ-( ۵۶ ) ( خَی ْ رٍلَکُم ْ، یُومِنُ بِاللّٰه ِ وَ یُومِنُ لِل ْمُو مِنِی ْ نَ>( ۵۷ ) الآیة وَلَوْشِئْتُ اَنْ اُسَمِّ یَ ال ْقَائِلِ ی ْ نَ بِذٰلِکَ بِاَس ْمَائِ ه ِمْ لَسَمَّ ی ْ تُ وَاَن ْ اَوْمَ ی اِلَی ْ ه ِمْ بِاَع ْ یَانِه ِمْ لَاَو ْمَا تُ وَاَن ْ اَدُلَّ عَلَ ی ْ ه ِمْ لَدَلَل ْ تُ،( ۵۸ ) وَ لٰکِنِّی ْ وَاللّٰه ِ فِ ی ْ اُمُو ْرِ ه ِمْ قَدْ تَکَرَّمْتُ( ۵۹ )
وَکُلُّ ذٰلِکَ لَایَر ْضَ ی اللّٰه ُ مِنِّ ی ْ اِلّااَن ْ اُبَلِّغَ مٰااَنْزَلَ اللّٰ ه ُ اِلَ یَّ ) فِی ْ حَقِّ عَلِیٍّ( ۶۰ ) ،ثُمَّ تَلاَ:<یَاَیُّه َاالرَّسُوْلُ بَلِّغ ْ مَااُنْزِلَ اِلَ ی ْ کَ مِن ْ ربِّکَ(فِ ی ْ حَقِّ عَلِیٍ )وَاِن ْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَابَلَّغْتَ رِسَالَتَ ه ُ وَاللّٰ ه ُ یَع ْصِمُکَ مِنَ النَّا سِ>( ۶۱ )
۳ الاعلان الرسمی بامامةالائمة الاثنی عشرعلیه م السلام و ولایته م
فَاع ْلَمُوْامَعَاشِرَالنَّاسِ) ذٰلِکَ فِی ْ ه ِ وَاف ْ ه َمُوْ ه ُ وَاعْلَمُوْا( ۶۲ ) اَنَّ اللّٰ ه َ قَدْنَصَب َه ُ لَکُمْ وَلِ یّاً وَاِمَا مَاً فَرَضَ( ۶۳ ) طَاعَتَه ُ عَلَ ی ال ْمُ ه َاجِرِ ی ْ نَ وَال ْاَنْصَارِوَعَل یَ التَّابِعِی ْ نَ لَه ُمْ بِاِحْسَانٍ وَعَلَ ی ال ْبَادِ ی ْ وَال ْح َاضِرِ، وَعَلیَ ال ْعَجَمِ یِّ( ۶۴ ) وَال ْعَرَبِ یِّ،وَال ْحُرِّوَا ل ْمَمْلُوْکِ( ۶۵ ) وَالصَّغِ ی ْ رِ وَ ال ْکَبِ ی ْ رِ،وَعَلیَ ال ْاَبْ یَضِ وَال ْاَسْوَدِ، وَعَل یٰ کُلِّ مُوَحِّدٍ( ۶۶ ) مٰاضٍ حُک ْمُ ه ُ، جَارٍقَوْلُ ه ُ،( ۶۷ ) نَافِذٌ اَمْرُ ه ُ،مَلْعُوْنٌ مَنْ خَالَفَ ه ُ، مَرْحُ و ْمٌ مَن ْ تَبِعَ ه ُ وَصَدَّقَ ه ُ،فَقَدْغَفَرَاللّٰ ه ُ لَ ه ُ وَلِمَنْ سَمِعَ مِنْ ه ُ وَاَطَاعَ لَ ه ُ( ۶۸ )
مَعَاشِرَالنَّاسِ،اِنَّه ُ آخِرُمَقَا مٍ اَقُو ْمُ ه ُ( ۶۹ ) فِ ی ْ ه ٰذ االْمَشْ ه َدِ،فَاسْمَعُوْاوَاَطِ ی ْ عُو ْا وَان ْقَادُ وْالِاَمْر )اللّٰ ه ِ( ۷۰ ) رَبِّکُمْ،فَاِنَّ اللّٰ ه َ عَزَّوَجَلَّ ه ُوَمَوْلَاکُمْ وَاِلٰ ه ُکُمْ،ثُمَّ مِنْ دُوْنِ ه ِ رَسُوْلَ ه ُ وَنَبِ یَّه ُ ال ْمُخَ اطِبَ لَکُم ْ،( ۷۱ ) ثُمَّ مِنْ بَعْدِ ی ْ عَلِیٌّ وَلِیُّکُم ْ وَاِمَامُکُم ْ بِاَمْرِاللّٰ ه ِ رَبِّکُمْ، ثُمَّ الْاِمَامَةُفِ ی ْ ذُرِّیَّتِی ْ مِن ْ وُلْدِ ه ِ اِل یٰ یَو ْ مٍ تَل ْقَوْنَ اللهَوَرَسُوْلَ ه ُ( ۷۲ )
لَاحَلَالَ اِلَّامَااَحَلَّه ُ اللهُ وَرَسُوْلَ ه ُ وَ ه ُمْ،( ۷۳ ) وَلَاحَرَامَ اِلَّامَاحَرَّمَ ه ُ اللّٰ ه ُ عَلَ ی ْ کُم ْ( ۷۴ ) وَرَسُو ْلُ ه ُ وَ ه ُمْ ْ،وَاللهُ عَزَّوَجَلَّ عَرَّفَنِ ی ال ْحَلَالَ وَالْحَرَا مَ وَاَنَااَفْضَ ی ْ تُ بِمَاعَلَّمَنِی ْ رَبِّی ْ مِن ْ کِتَابِ ه ِ وَ حَلَالِه ِ وَحَرَامِه ِ اِلَ ی ْ ه ِ( ۷۵ )
مَعَاشِرَالنَّاسِ، ) فَضِّلُو ْ ه ُ( ۷۶ ) ،مَامِنْ عِلْمٍ اِلَّاوَقَدْاَحْصَا ه ُ اللهُ فِ یَّ،وَکُلُّ عِل ْمٍ عُلِّمْتُ فَقَدْاَحْصَ ی ْ تُه ُ فِی ْ اِمَامِ ال ْمُتَّقِ ی ْ نَ،وَمَامِن ْ عِل ْمٍ اِلَّاوَقَدْعَلَّمْتُ ه ُ عَلِ یّاً( ۷۷ ) ، وَه ُو َالْاِمَامُ الْمُبِ ی ْ نُ ) اَلَّذِی ْ ذَکَرَه ُ اللّٰه ُ فِ ی ْ سُو ْرَةِ یٰس:<وَکُلُّ شَی ْ ءٍ اَح ْصَ ی ْ نَاه ُ فِی ْ اِمَامٍ مُبِینٍ>( ۷۸ )
مَعٰاشِرَالنّٰاسِ،لاٰتَضِلُّواعَن ْ ه ُ وَلاٰتَن ْفِرُوامِنْ ه ُ( ۷۹ ) ،وَلاٰتَسْتَنْکِفُواعَنْ وِلاٰ یَتِه ِ،فَ ه ُوَ الَّذی یَه د ی اِلَی ال ْحَقِّ وَ یَع ْمَلُ بِه ِ،وَ یُز ْ ه ِقُ ال ْبٰاطِلَ وَ یَن ْ هیٰ عَن ْ ه ُ،وَلاٰتَا خُذُه ُ فِی الل هِلَوْمَةُ لاٰئِمٍا وَّلُ مَن ْ آمَنَ بِا لل هِوَرَسُولِ ه ِ (لَم ْ یَس ْبِقْ ه ُ اِلَی ال ْا یمٰانِ بی احَدٌ)( ۸۰ ) ،وَالَّذی فَدیٰ رَسُولَ الل هِ بِنَف ْسِ ه ِ،وَالَّذ ی کٰانَ مَعَ رَسُولِ الل هِوَلاٰا حَدَیَع ْبُدُاللهَمَعَ رَسُولِه ِ مِنَ الرِّجٰالِ غَ ی ْ رُه ُ(ا وَّلُ النّٰاسُ صَلاٰةً وَاوَّلُ مَن ْ عَبَدَالله َمَعی ا مَر ْتُ ه ُ عَنِ الل هِا ن ْ یَنٰامَ فی مَض ْجَع ی،فَفَعَلَ فٰادِیاًلی بِنَف ْسِ ه ِ)( ۸۱ )
مَعٰاشِرَالنّٰاسِ،فَضِّلُوه ُ فَقَد ْفَضَّلَ ه ُ اللهُ،وَاقْبَلُو ه ُ فَقَدْنَصَبَ ه ُ اللهُ
مَعٰاشِرَالنّٰاسِ،اِنَّه ُ اِمٰامٌ مِنَ الل هِ( ۸۲ ) ،وَلَنْ یَتُوبَ الل هُعَل یٰ اح ْدٍا ن ْکَرَوِلاٰ یَتَه ُ وَلَن ْ یَغ ْفِرَلَ ه ُ( ۸۳ ) ، حَت ْماًعَلَ ی الل هِا ن ْ یَف ْعَلَ ذٰلِکَ بِمَن ْ خٰالَفَ ا م ْرَ ه ُ وَان ْ یُعَذِّبَه ُ عَذٰاباًنُک ْراًا بَدَ ال ْآبٰادِ وَدَ ه رَال دُّه ُورِ( ۸۴ ) فَاح ْذَرُواا ن ْ تُخٰالِفُوه ُ( ۸۵ ) فَتَص ْلُوانٰاراًوَقُودُ ه ٰاالنّٰاسُ وَالْحِجٰارَةُ ا عِدَّت ْ لِل ْکٰافِر ینَ( ۸۶ )
مَعٰاشِرَالنّٰاسِ،بی(وَالل هِ)بَش َّرَال ْا وَّلُونَ مِنَ النَّبِیّینَ وَال ْمُرْسَل ینَ،وَانَا(وَالل هِ)( ۸۷ ) خٰاتَمُ الْا ن ْبِ یٰاءِ وَال ْمُرْسَل ین( ۸۸ ) وَال ْحُجَّةُعَل یٰ جَم ْ یعِ ال ْمَخْلُوق ینَ مِن ْ ا ه لِ السَّمٰوٰاتِ وَال ْا رَضینَ فَمَنْ شَکَّ فِ ی ْ ذَلِکَ فَقَد ْ کَفَرَ( ۸۹ ) کَفَرَ الْجَا هِلِیَّةِ الاُولیٰ وَمَن ْ شَکَّ فِ ی ْ شکَّ فِی ْ شَی ءٍ مِن ْ قَوْلِ ی ْ ه ٰذافَقَدْ شَکَّ کُلِّ مٰاا ن ْزِلَ اِلَیَّ،وَمَن ْ شَکَّ فی وٰاحِدٍمِن ال ْا ئِمَّةِفَقَد ْشَکَّ فِی ال ْکُلِّ مِنْ ه ُمْ، َالشّٰاکُ ف ینٰافِی النّٰارِ( ۹۰ )
مَعٰاشِرَالنّٰاسِ،حَبٰانِیَ الل هُعَزَّوَجَلَّ بِ ه ٰذِ ه ِ الْفَض یلَةِمَنّاًمِن ْ ه ُ عَلَیَّ وَاِح ْسٰاناًمِنْ ه ُ اِلَ یَّ وَلاٰاِلٰه َ اِلاّٰ ه ُوَ،ا لاٰلَه ُ ال ْحَمْدُمِنّ ی ابَدَال ْآبِد ینَ وَدَه رَالدّٰا ه ِر ینَ وَعَلیٰ کُلِّ حٰالٍ
مَعٰاشِرَالنّٰاسِ،فَضِّلُواعَلِیّاًفَاِنَّه ُ اف ْضَلُ النّٰاسِ بَع ْد ی مِن ْ ذَکَرٍوَا ن ْث یٰ مٰاان ْزَلَ الل هُ الرِّزْقَ وَبَقِ یَ ال ْخَلْقُمَلْعُونٌ مَلْعُونٌ،مَغْضُوبٌ مَغْضُوبٌ مَنْ رَدَّعَلَ یَّ قَو ْل ی ه ٰذٰاوَلَمْ یُوٰافِق ْ ه ُ ا لاٰاِنَّ جَب ْرَئ یلَ خَبَّرَنی عَنِ الل هِتَعٰال یٰ بِذٰلِکَ وَیَقُولُ:”مَن ْ عٰاد یٰ عَلِیّاًوَلَم ْ یَتَوَلَّه َُ فَعَلَی ْ ه ِ لَع ْنَت ی وَغَضَبی“( ۹۱ ) ،<وَل ْتَنْظُرْنَفْسٌ مٰاقَدَّمَتْ لِغَدٍوَاتَّقُوااللهَ(ا ن ْ تُخٰالِفُوه ُ فَتَزِ لَّ قَدَمٌ بَع ْدَثُبُوتِ ه ٰا)اِنَّ اللهَخَب یرٌبِمٰاتَع ْمَلُونَ >( ۹۲ )
مَعٰاشِرَالنّٰاسِ،اِنَّه ُ جَن ْبُ اللهِالَّذ ی ذَکَرَفی کِتٰابِه ِ الْعَز یزِ،فَقٰالَ تَعٰالیٰ(مُخ ْبِراً عَمَّنْ یُخٰالِفُه ُ )( ۹۳ ) :<ان ْ تَقُولَ نَف ْسٌ یٰاحَس ْرَتٰاعَل یٰ مٰافَرَّط ْتُ ف ی جَن ْبِ اللهِ>( ۹۴ )
مَعٰاشِرَالنّٰاسِ،تَدَبَّرُواالقُر ْآنَ وَاف ْ ه َمُواآ یٰاتِه ِ وَان ْظُرُوااِل یٰ مُح ْکَمٰاتِ ه ِ وَلاٰتَت َّبِعُوا مُتَشٰابِه َ ه ُ،فَوَاللهِلَنْ یُبَبِّنَ لَکُم ْ زَوٰاجِرَ ه ُ( ۹۵ ) وَلَنْ یُوضِحَ لَکُم ْ تَفْس یرَه ُ اِلاَّالَّذی انَاآخِذٌ بِیَدِه ِ وَمُص ْعِدُ ه ُ اِلَ یَّ وَشٰائِلٌ بِعَضُدِه ِ(وَرٰافِعُ ه ُ بِ یَدَیَّ)( ۹۶ ) وَمُع ْلِمُکُمْ:اَنَّ مَنْ کُنْتُ مَوْلَا ه ُ فَ ه ٰذَاع َلِیٌ مَو ْلَا ه ُ، وَ ه ُوَعَلِ یُّ ب ْنُ اَبِ ی ْ طَالِبٍ اَخِی ْ وَوَصِیّ،وَمُوَالَاتُه ُ مِنَ اللّٰه ِ عَزَّوَجَلَّ اَنْزَلَ ه َاعَلَ یَّ( ۹۷ )
مَعٰاشِرَالنّٰاسِ،اِنَّ عَلِیّاًوَالطَّیِّبِی ْ نَ مِن ْ وُلْدِ ی ْ) مِن ْ صُلْبِ ه ِ( ۹۸ ) ه ُمُ الثِّقْلُ الْاَصْغَرُ ، وَالْقُرْآنُ الثِّقْلُ الْاَکْبَرُ،فَکُلُّ وَاحِدٍمِنْ ه ُمَامُنْبِ ی عَن ْ صَاحِبِ ه ِ( ۹۹ ) وَمُوَافِقٌ لَ ه ُ،لَنْ یَف ْتَرِقَا حَتّیٰ یَرِدَعَلَیَّ ال ْ حَو ْضَ اَل َااِنَّه ُمْ اُمَنَاءُ اللّٰ ه ِ فِ ی ْ خَل ْقِ ه ِ وَحُکَّ امُه فِ ی ْ اَر ْضِ ه ُِ( ۱۰۰ )
اَلَاوَقَد ْاَدَّ ی ْ تُ،اَلَاوَقَد ْبَلَّغْتُ،اَلَاوَقَدْاَسْمَعْتُ،ا لَاوَقَد ْاَوْضَحْتُ،( ۱۰۱ ) ا لَاوَاِنَّ الل هَعَزَّوَجَلَّ قَالَ وَاَنَاقُلْتُ( ۱۰۲ ) عَنِ اللّٰ ه ِ عَزَّوَجَلَّ،ا لَااِنَّه ُ لاٰ”اَمِ ی ْ رَال ْمُو مِنِی ْ نَ“غَی ْ رَاَخِی ْ ه ٰذَا،( ۱۰۳ ) الَاٰ لَاتَحِلُّ اِم ْرَةُ الْمُو مِنِی ْ نَ بَع ْدِ ی ْ لِاَحَدٍغَی ْ رُه ُ
۴ رفع علیّ علیه السلام بیدی رسول اللّٰه صل ی اللّٰه عل یه وَآله وسلم
ثم ضرب بیده الیٰ عضدعلیّ علیه السلام فرفعه وکان ام یرالمومنین علیه السلام منذ اول ماصعدرسول اللّٰه صل ی اللّٰه ُ عل یه وآله وسلم منبر ه عل یٰ درجةدون مقامه مت یامناًعلیٰ وجه رسول اللّٰ ه صل ی اللّٰه ُ عل یه وآله کانّ ه ماف ی مقام واحد فرفع ه رسول اللّٰ ه صل ی اللّٰه عل یه وآله ِ بیده وبسطه ماال ی الّسمآءِ و شال علیاًعلیه السلام حتی صارت رجله مع رکبةرسو ل اللّٰ ه صل ی اللّٰه عل یه وَآله ِ( ۱۰۴ ) ،ثُمَّ قالَ:
مَعٰاشِرَالنّٰاس،ه ٰذَاعَلِ یٌّ اَخِی ْ وَوَصِیِّ وَوَاعِی ْ عِل ْمِ ی ْ( ۱۰۵ ) ،وَخَلِی ْ فَتِی ْ فِی ْ اُمَّتِی ْ عَلیٰ مَن ْ آمَنَ بِ ی ْ وَعَلیٰ تَف ْسِ ی ْ رِکِتَابَ اللّٰه ِ عَزَّوَجَلَّ وَالدَّاعِ ی ْ اِلَی ْ ه ِ وَال ْعَامِلُ بِمَا یَر ْضَا ه وَال ْمُحَار ِبُ لِاَع ْدَائِ ه ِ وَالْمُو َالِی ْ عَلیٰ طَاعَتِه ِ( ۱۰۶ ) وَالنَّاه ِ ی ْ عَن ْ مَعْصِ یَتِه ِاِنَّ ه ُ خَل یفَةُ رَسُولِ الل هِ وَ ا میرُال ْمُو مِنینَ وَالاِمٰامُ ال ْ ه ٰاد ی مِنَ الل هِ،وَقٰاتِلُ النّٰاکِث ینَ وَال ْقٰاسِط ینَ وَال ْمٰارِق ینَ بِام ْرِاللهِ یَقُولُ الل هُ:<مٰا یُبَدَّلُ ال ْقَوْلُ لَد َیَّ>( ۱۰۷ ) بِام ْرِکَ یٰارَبِّ اقُولُ( ۱۰۸ ) :اللّٰه ُمَّ وٰالِ مِن ْ وٰالاٰ ه ُ وَعٰادِمَنْ عٰادٰا ه ُ(وَانْصُرْمَنْ نَصَرَ ه ُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَ ه ُ)( ۱۰۹ ) وَالْعَنْ مَنْ ا ن ْکَرَ ه ُ وَاغ ْضِبْ عَل یٰ مَن ْ جَحَدَحَقَّ ه ُ( ۱۱۰ )
اللّٰه ُمَّ اِنَّکَ ان ْزَلْتَ ال ْآ یَةَفی عَلِیٍّ وَلِیِّکَ عِن ْدَتَبْ یینِ ذٰلِکَ وَنَص ْبِکَ اِ یّٰاه ُ لِه ٰذَاالْ یَو ْمِ( ۱۱۱ ) :<ال ْ یَو ْمَ اک ْمَلْتُ لَکُم ْ د ینَکُم ْ وَات ْمَمْتُ عَلَی ْ کُم ْ نِع ْمَت ی وَرَضیتُ لَکُم ْ الاِسْلاٰمَ د یناً>( ۱۱۲ ) ،<وَمَن ْ یَب ْتَغِ غَی ْ رَالاِس ْلاٰمِ دیناًفَلَن ْ یُق ْبَلَ مِن ْ ه ُ وَ ه ُوَفِ ی ال ْآخِرَةِمِنَ الْخاسِر ینَ>( ۱۱۳ ) اللّٰه ُمَّ اِنّی اش ْ ه ِدُکَ انّی قَد ْبَلَّغْتُ( ۱۱۴ )
۵ التاکیدعلی توجّه الا مّةنحومسالةالامامة
مَعٰاشِرَالنّٰاسِ،اِنَّمٰااک ْمَلَ الل هُعَزَّوَجَلَّ د ینَکُم ْ بِاِمٰامَتِه ِ( ۱۱۵ ) فَمَن ْ لَمْ یَاتَمَّ بِه ِ وَبِمَنْ یَقُومُ مَقٰامَه ُ مِنْ وُلْد ی( ۱۱۶ ) مِن ْ صُلْبِ ه ِ اِل یٰ یَو ْمِ ال ْقِ یٰامَةِوَال ْعَرْضِ عَلَی الل هِعَزَّوَجَلَّ فَا ولٰئِکَ الَّذینَ حَبِطَت ْ اع ْمٰالُ ه ُمْ (فِی الدُّن ْ یٰاوَال ْآخِرَةِ )( ۱۱۷ ) وَفِی النّٰارِه ُمْ خٰالِدُونَ،لاٰ یُخَفَّفُ عَن ْ ه ُمُ الْعَذٰابُ وَلاٰ ه ُمْ یُن ْظَرُوْنَ( ۱۱۸ )
مَعٰاشِرَالنّٰاسِ،ه ٰذاعَلِ یٌّ،ان ْصَرُکُمْ لی وَاحَقُّکُم ْ بی( ۱۱۹ ) وَاق ْرَبُکُمْ اِلیَّ وَاعَزُّکُم ْ عَلَیَّ، وَالل هُ عَزَّوَجَلَّ وَا نَاعَن ْ ه ُ رٰاضِیاً وَمٰانَزَلَتْ آ یَةُرِضٰا(فِی ال ْقُرْآنِ)( ۱۲۰ ) اِلاّٰف یه ِ،وَلاٰ خٰاطَبَ الل هُ الَّذِ ینَ آمَنُوا اِلاّٰبَدَابِه ِ، وَلاٰنَزَلَت ْ آ یَةُمَد ْحٍ فِی ال ْقُرآنِ الاّٰف یه ِ،وَلاٰشَ ه ِدَاللهُ بِالجَنَةِفی<ه َلْ ا تیٰ عَلَی ال ْاِنْسٰانِ>اِلاّٰلَ ه ُ( ۱۲۱ ) ،وَلاٰا ن ْزَلَ ه ٰاف ی سِوٰاه ُ وَلاٰمَدَحَ بِ ه ٰاغَ ی ْ رَه ُ
مَعٰاشِرَالنّٰاسِ،ه ُوَنٰاصِرُد ینَ الل هِوَالْمُجٰادِلُ عَنْ رَسُولِ اللهِ( ۱۲۲ ) ،وَ ه ُوَالتَّقِ یُّ النَّقِیُّ ال ْ ه ٰادِ ی ال ْمَ ه دِ یُّ نَبِ یُّکُم ْ خَی ْ رُنَبِیٍّ وَوَصِیُّکُم ْ خیروصی (وَبَنُو ْ ه ُ) خَ ی ْ رُ الاَو ْصِ یَاءِ( ۱۲۳ ) مَعٰاشِرَ النّٰاسِ، ذُرِّیَّةُ کُلِّ نّبِیٍّ مِن ْ صُلْبِ ه ِ،وَذُرِّ یَّتی مِن ْ صُلبِ(ام یرالمومنین( ۱۲۴ ) علَیٍّ
معاشرالناسِ، اِنَّ ابلیسَ اَخ ْرَجَ آدَمَ مِنَ الْجَنَّةِبِالحَسَدِ،فَلا ٰتَحْسُدُ و ه ُ فَتَحْبَطَ ا ع ْمٰالُکُمْ وَتَزِلَّ اق ْدٰامُکُمْ،فَاِنَّ آدَمَ اه بِطَ اِلَی ال ْا ر ْضِ بِخَطیئَةٍ وٰاحِدةٍ( ۱۲۵ ) ،وَه ُوَصَفْوَةُ اللهِ عَزَّوَجَلَّ،وَکَ ی ْ فَ بِکُم ْ وَ ان ْتُمْ ان ْتُمْ وَمِن ْکُمْ ا ع ْدٰاءُ الل هِ( ۱۲۶ )
الاٰوَاِنَّه ُ لاٰیُب ْغِضُ عَلِیّاًاِلاّٰشَقِیٌّ،وَلاٰیُواٰلی عَلِیّاً( ۱۲۷ ) اِلاّٰتَقِیٌّ،وَلاٰیُومِنَ بِه ِ اِلاّٰ مُو مِنٌ مُخ ْلِصٌ وَفِ ی ْ عَلِیٍ (وَاللّٰه ِ )نَزَلَتْ سُوْرَةُ الْعَصْرِ:<بِسْمِ اللّٰ ه ِ الرَّ حْمٰنِ الرَّحِ ی ْ مِ وَال ْعَصْرِ اِنَّ الْاِنْس َا نَ لَفِی ْ خُس ْر>ٍ اِلاَّ عَلِ یٌّاَلَّذِی ْ آمَنَ وَرَضِیَ بِا ل ْحَقِّ وَالصَّبْرِ( ۱۲۸ )
مَعَاشِرَالنَّاسِ،قَد ْاسْتَشْ ه َدْتُ اللّٰه َ وَبَلَّغْتُکُمْ رِسَالَتِ ی ْ وَمَاعَلیَ الرَّسُو ْلِ اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِ ی ْ نُ،( ۱۲۹ ) مَعَاشِرَالنَّا<اِتَّقُو ْاللّٰ ه َ حَقَّ تُقٰاتِ ه ِ وَلَاتَمُوْتُنَّ اِلَّاوَاَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ>( ۱۳۰ )
۶ الاشارةالیٰ مقاصدالمنافقین
مَعَاشِرَالنَّاس،<آمِنُو ْابِاللّٰ ه ِ وَرَسُوْلِ ه ِ وَالنُّوْرِ الَّذِ ی ْ اُن ْزِلَ مَعَ ه ُ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَطْمِسَ وُجُوْ ه اًفَنَرُدَّ ه َاعَل یٰ اَد ْبَارِ ه ٰااَوْنَلْعَنَ ه ُمْ کَمَالَعَنَّا اَصْحَابَ السَّبْتِ>( ۱۳۱ ) بِاللّٰ ه ِ مَاعَن یٰ بِه ٰذِ ه ِ الْآ یَةِ اِلَّاقَو ْماًمِنْ اَص ْحٰابِ ی ْ اَع ْرِفُ ه ُمْ بِاَسْمَائِ ه ِمْ وَاَنْسَابِ ه ِمْ،وَاُمِرْتُ بِالصَّفْحِ عَنْ ه ُمْ فَلْ یَع ْمَلْ کُلُّ ام ْرِ یءٍ عَلیٰ مَایَجِدُ لِعَلِیٍّ فِی ْ قَل ْبِ ه ِ مِنَ الْحُبِّ وَالْبُغْض( ۱۳۲ )
مَعَاشِرَالنَّاس،النُّو ْرُ مِنَ اللّٰه ِ عَزَّوَجلَّ مَسْلُوْکٌ فِ ی ثُمَّ فِی ْ عَلِی ْ بِن ْ اَبِ ی ْ طَالِبٍ( ۱۳۳ ) ثُمَّ فِی النَّس ْلِ مِنْ ه ُ اِلَ ی ال ْقَائِمِ الْمَ ه دِ ی ْ الَّذِی ْ یَاخُذُ بِحَقِّ اللّٰه ِ وَبِکُلِّ حَقِّ ه ُوَلَنَا( ۱۳۴ ) ، لِاَنَّ اللّٰه َ عَزَّوَجَ لَّ قَد ْ جَعَلَنَاحَجَّةً عل یٰ ال ْمُقَصِّرِ ی ْ نَ( ۱۳۵ ) وَال ْمُعَا نِدِ ی ْ نَ وَال ْمُخَالِفِ ی ْ نَ وَال ْخَائِنِ ی ْ نَ وَال ْآثِمِ ی ْ نَ وَالظَّالِمِی ْ نَ وَال ْغَاصِبِ ی ْ نَ مِن ْ جَمِ ی ْ عِ ال ْعَالَمِ ی ْ نَ
مَعَاشِرَالنَّاس،اُن ْذِرُکُمْ اَنِّی ْ رَسُو ْلُ اللّٰ ه ِ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِ یَ الرُّسُلُ،اَفَاِن ْ مِتُّ اَوْقُتِلْتُ انْقُلَبْتُمْ عَل یٰ اَع ْقَابِکُمْ؟وَمَنْ یَن ْقَلِبْ فَلَن ْ یَّضُرَّاللّٰه َ شَی ْ ئاًوَسَیَج ْزِ یَ اللّٰه ُ الشَّاکِرِ ی ْ نَ ) الصَّابِرِی ْ نَ( ۱۳۶ ) ا َلَاوَ اِنَّ عَلِیّاًه ُوَالْمَوْصُوْفُ بِالصَّب ْرِوَالشُّکْرِ،ثُمَّ مِنْ بَعْدِ ه ِوُلْدِ ی ْ مِن ْ صُلْبِ ه ِ
مَعَاشِرَالنَّاس،لَاتمُنُّواعَلَیَّ بِاِس ْلَامِکُمْ، بَلْ لَاتَمُنُّواعَل یَ اللّٰه ِ فَ یُح ْبِطَ عَمَلَکُم ْ وَ یَس ْخَطَ عَلَی ْ کُم ْ وَیَب ْتَلِ یَکُم ْ بِشُوَاظٍ مِن ْ نَاروَنُحَاسٍ، اِنَّ رَبَّکُمْ لَبِالْمِرْصَاد( ۱۳۷ )
مَعَاشِرَالنَّاس،اِنَّه ُ سَیَکُو ْنُ مِن ْ بَعْدِ ی ْ ائِمَّةٌ یَد ْعُوْنَ اِلیَ النَّارِوَیَو ْمَ ال ْقِ یَامَةِ لَایَن ْصُرُوْنَ
مَعَاشِرَالنَّاس،اِنَّ اللّٰه َ وَاَنَابَرِ یئانِ مِن ْ ه ُمْ
مَعَاشِرَالنَّاس،اِنَّه ُمْ وَاَن ْصَارَ ه ُمْ وَاَتْبَاعَ ه ُمْ وَاَشْ یَاعَه ُمْ فِی الدَّر ْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِوَلَبِئْسَ مَثْوَ ی ال ْمُتَکَبِّرِ ی ْ نَ( ۱۳۸ ) اَلَااِنَّه ُمْ اَصْحَابُ الصَّحِ ی ْ فَةِ فَل ْ یَن ْظُرْاَحَدُکُمْ فِی ْ صَحِی ْ فَتِه ِ !!( ۱۳۹ )
قٰالَ: فَذَه َبَ عَل یٰ النَّاسِ(اِلَّاشِر ْذِمَةٌ مِنْ ه ُمْ )اَمْرَ الصَّحِ ی ْ فَةِ( ۱۴۰ )
مَعَاشِرَالنَّاس،اِنِّی اَدَعُه َااِمَامَةً وَوِرَاثَةً (فِ ی ْ عَقِبِی ْ الیٰ یَو ْمِ ال ْقِ یَامَةِ،( ۱۴۱ ) وَقَد ْبَلَّغْتُ مَااُمِرْتُ بِتَبْلِ ی ْ غِه ِ( ۱۴۲ ) حُجَّةً عَلیٰ کُلِّ حَاضِرٍوَغٰائِبٍ وَعَلیٰ کعليهالسلام لِّ اَحَدٍ مِمَّن ْ شَ ه ِدَاَوْلَمْ یَش ْ ه َدْ،وُلِدَاَوْلَمْ یُو ْلَدْ،فَلْ یُبَلِّغِ ال ْحَاضِرُالْغَائِبَ وَالْوَالِدُ الْوَلَدَال یٰ یَو ْمِ ال ْقِ یٰامَةِ
وَسَیَج ْعَلُوْنَ ال ْاِمَامَةَ بَعْدِ ی ْ مُل ْکاًوَاغْتِصَابا،ً(اَلَا لَعَنَ اللّٰ ه ُ الْغٰاصِبِ ی ْ نَ ال ْمُغْتَصِبِ ی ْ نَ)( ۱۴۳ ) ،وَعِن ْدَ ه ٰاسَ یَف ْرُغُ لَکُم ْ ایُّ ه َاالثَّقَلاٰنِ (مَن ْ یَف ْرُغُ )( ۱۴۴ ) وَیُر ْسِلُ عَلَی ْ کُمٰاشُوٰاظٌ مِن ْ نٰارٍَ وَنُحٰاسٌ فَلاٰتَنَتَص ِرٰانِ( ۱۴۵ )
مَعٰاشِرَالنّٰاسِ،اِنَّ الل هَ عَزَّوَجَلَّ لَمْ یَکُن ْ لِیَذَرَکُم ْ عَلیٰ مَا ان ْتُمْ عَلَی ْ ه ِ حَتّیٰ یَمیز َال ْخَب یثَ مِنَ الطَّیِّبِ،وَمٰاکٰانَ الل هُ لِ یُط ْلِعَکُمْ عَلَی ال ْغَ ی ْ بِ( ۱۴۶ )
مَعٰاشِرَالنّٰاسِ،اِنَّه ُ مٰامِن ْ قَرْ یَةٍاِلاّٰوَالل هُ مُه لِکُ ه ٰابِتَکْذ یبِه ٰاقَبْلَ یَو ْمِ ال ْقِ یٰامَة ِوَمُمَلِّکُه َاالْامٰامَ الْمَ ه دِ یَّ وَالل هُمُصَدِّقٌ وَعْدَ ه ُ( ۱۴۷ )
مَعٰاشِرَالنّٰاسِ،قَد ْضَلَّ قَب ْلَکُ م ْ ا ک ْثَرُالْا وَّلینَ،وَالل هُلَقَدْا ه لَک الاولین( ۱۴۸ ) وَه ُومُ ه لِکُ الآخِر ینَ ٰالَ اللهُتَعٰال یٰ:الَم ْ نُه لِکِ الْا وَّلینَ،ثُمَّ نُت ْبِعُ ه ُمالْآخِر ینَ،کَذٰلِکَ نَف ْعَلُ بِالْمُجْرِم ینَ، وَی ْ لٌ یَو ْمَئِذٍ لِل ْمُکَذِّبِ ی ْ نَ( ۱۴۹ ) مَعٰاشِرَالنّٰاسِ،اِنَّ الل هَقَدْا مَرَنی وَنَه ٰ انی،وَقَد ْا مَر ْتُ عَلِیّاً وَنَه َ ی ْ تُه ُ (بِام ْرِ ه ِ )( ۱۵۰ ) فَعِل ْمُ الْا م ْرِوَالنَّ هیِ لَدَی ْ ه ِ( ۱۵۱ ) ،فَاس ْمَعُوالِا م ْرِ ه ِ تَس ْلِمُواوَا طیعُوه ُ تَه تَدُواوَانْتَ ه ُوالِنَ هیِه ِ تُر ْشِدُوا، (وَصیرُوااِلیٰ مُرٰادِه ِ)( ۱۵۲ ) وَلاٰتَتَفَرَّقُ بِکُمُ السُّبُلُ عَن ْ سَب یلِه ِ
۷ اولیاء اه ل البیت( علیه م السلام) واعدائه م
مَعٰاشِرَالنّٰاسِ،انٰاصِرٰاطُ الل هِالْمُسْتَق یمُ الَّذی امَرَکُم ْ بِاتِّبٰاعِه ِ( ۱۵۳ ) ،ثُمَّ عَلِیٌّ مِن ْ بَعْد ی، ثُمَّ وُل ْد ی مِن ْ صُلْبِ ه ِ ا ئِمَّةُ(ال ْ ه ُد یٰ)( ۱۵۴ ) یَه دُونَ اِلَی ال ْحَقِّ وَبِ ه ِ یَع ْدِلُونَ( ۱۵۵ )
ثُمَّ قَرَا:”بِس ْمِ اللّٰ ه ِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِ ی ْ مِ( ۱۵۶ ) اَل ْحَمْدُ لِلّٰ ه ِ رَبِّ الْعَالِمِ ی ْ نَ “ ال یٰ آخِرِه َا( ۱۵۷ ) ، وَقَالَ:فِیَّ نَزَلَت ْ وَفِ ی ْ ه ِمْ (وَاللّٰه ِ)( ۱۵۸ ) نَزَلَت ْ،وَلَ ه ُمْ عَمَّتْ وَاِ یَّاه ُمْ خَصَّت ْ( ۱۵۹ ) ا ولٰئکَ اَو ْلِ یَاءُ اللّٰه ِ اَلَّذِی ْ نَ لَاخَو ْفٌ عَلَ ی ْ ه مْ وَلَاه ُمْ یَح ْزَنُوْنَ( ۱۶۰ ) ،اَلَااِنّ حِز ْبَ اللّٰ ه َ ِ ه م الْغَالِبُوْنَ( ۱۶۱ )
الَا اِنَّ اع ْدَائَ ه ُمْ ه م السُّفَ ه َا ءُ الْغَاوُوْنَ اِخْوَ انُ الشَّ یَاطِی ْ نِ( ۱۶۲ ) یُو ْح ی بَع ْضُ ه ُمْ ال یٰ بَع ْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْراً
الَااِنَّ اَو ْلِ یَائَه مُ اَلَّذِی ْ نَ ذَکَرَه ُمُ اللّٰ ه ُ فِ ی ْ کِتَابِه ِ ،فَقَالَ عَزَّوَجَلَّ :<لَاتَجِدُقَوْماً ً یُومِنُو ْنَ بِاللّٰه ِ وَالْ یَو ْ مِ الآخِرِیُوَادُّو ْنَ مَن ْ حَادَّاللّٰ ه َ وَرَسُوْلَ ه ُ وَلَوْکَانُوْاآبَائَ ه ُمْ اَوْ اَبْنَائَ ه ُمْ ا و ْاِخْوَانَ ه ُمْ او ْعَشِ ی ْ رَتَه ُمْ،ا ولٰئِکَ کَتَبَ فِی ْ قُلُو ْبِ ه ِمُ الاِ ی ْ مَانَ>الیٰ آخرالآیة( ۱۶۳ )
الَااِنَّ اَو ْلِ یَائَه مُ ال ْمُو مِنُو ْ نَ اَلَّذِی ْ نَ وَصَفَه ُمُ اللّٰ ه ُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ:الَّذِ ی ْ نَ آمَنُو ْاوَلَمْ یَل ْبَسُوْااِ ی ْ مَا نَه ُمْ بِظُلْمٍ ا ولٰئِکَ لَه ُمُ الْاَمْنُ وَ ه ُمْ مُ ه تَدُوْنَ>( ۱۶۴ )
الَااِنَّ اَو ْلِ یَائَه مُ اَلَّذِی ْ ن آمَنُو ْاوَلَمْ یَر ْتَابُوْا( ۱۶۵ )
الَااِنَّ اَو ْلِ یَائَه مُ اَلَّذِی ْ نَ یَد ْخُلُوْنَ ال ْجَنَّةَ بِسَلَامٍ آمِنِ ی ْ نََ،تَتَلَقّٰاه ُمُ ال ْمَلَائِکَةُ بِالتَّسْلِ ی ْ مِ یَقُو ْلُوْنَ :سَلَاَمٌ عَلَی ْ کُم ْ طِب ْتُمْ فَادْخُلُوْ ه َاخَالِدِ ی ْ نَ( ۱۶۶ )
الَااِنَّ اَو ْلِ یَائَه مْ،لَ ه ُمُ ال ْجَنَّةُ یُر ْزَقُوْنَ فِی ْ ه َابِغَ ی ْ رِ حِسَابٍ( ۱۶۷ )
الَااِنَّ اَع ْدَائَ ه ُمُ الَّذِ ی ْ نَ یَص ْلَوْنَ سَعِی ْ راً( ۱۶۸ )
الَااِنَّ اَع ْدَائَ ه ُمُ الَّذِ ی ْ نَ یَس ْمَعُوْنَ لِجَه َنَّمَ شَ ه ِ ی ْ قاًوَه ِ یَ تَفُو ْرُوَ یَرَو ْنَ لَه َازَفِ ی ْ راً( ۱۶۹ )
الَااِنَّ اَع ْدَائَ ه ُمُ الَّذِ ی ْ نَ قَالَ اللّٰه ُ فِ ی ْ ه ِمْ :کُلَّمَادَخَلَت ْ ا مَّةٌ لَعَنَت ْ اُخْتَ ه َا>الآ یة( ۱۷۰ )
الَااِنَّ اَع ْدَائَ ه ُمُ الَّذِ ی ْ نَ قَالَ اللّٰه ُ عَزَّوَجَلَّ:<کُلَّمَااُلْقِ یَ فِی ْ ه َافَوْجٌ سَالَه ُمْ خَزَنَتُه َاا لَم ْ یَاتِکُم ْ نَذِی ْ ر،قَالُو ْابَل یٰ قَد ْجَائَنَانَذِ ی ْ رٌفَکَذَّب ْنَاوَقُلْنَامَانَزَّلَ اللّٰه ُ مِنْ شَ ی ْ ءٍ اِن ْ اَنْتُمْ اِلَّافِ ی ْ ضَلَالٍ کَبِی ْ رٍ>الیٰ قوله :<ا لَافَسُح ْقاً لِاَص ْحَابِ السَّعِ ی ْ رِ>( ۱۷۱ )
الَااِنَّ اَو ْلِ یَائُه مُ اَلَّذِی ْ نَ یَخ ْشَوْنَ رَبَّه ُمْ بِالْغَ ی ْ بِ،لَه ُمْ مَغ ْفِرَةٌ وَاَجْرٌکَب ِی ْ رٌ( ۱۷۲ )
مَعَاشِرَالنَّاسِ،شَتَّانَ مَابَی ْ نَ السَّعِی ْ رِوَالاَج ْرِالْکَبِ ی ْ رِ( ۱۷۳ )
مَعَاشِرَالنَّاسِ،( ۱۷۴ ) عَدُوُّنَامَن ْ ذَمَّ ه ُ اللّٰ ه ُ وَلَعَنَ ه ُ ،وَوَلِ یُّنَا(کُلُّ)( ۱۷۵ ) مَن ْ مَدَحَ ه ُ اللّٰ ه ُ وَاَحَبَّ ه ُ
مَعَاشِرَالنَّاسِ،الَاوَاِنِّی ْ (انَا )( ۱۷۶ ) النَّذِی ْ رُوَعَلِیٌّ اَل ْبَشِ ی ْ رُ
مَعَاشِرَالنَّاسِ،(الَا)( ۱۷۷ ) وَاِنِّی ْ مُن ْذِرٌوَعَلِ یٌّ ه َادٍ( ۱۷۸ )
مَعَاشِرَالنَّاسِ،(الَا)( ۱۷۹ ) وَاِنِّی ْ نَبِیٌّ وَعَلِیٌّ وَصیّی( ۱۸۰ )
مَعَاشِرَالنَّاسِ،الَاوَاِنِّی ْ رَسُو ْلٌ وَعَلِ یٌّ ال ْاِمَامُ وَالْوَ صِیُّ مِن ْ بَعْدِ ی ْ ،وَال ْاَئِمَّةُ مِن ْ بَعْدِ ه ِ وُلْدُ ه ُا لَاوَانِّی ْ وٰالِدُه ُمْ وَ ه ُمْ یَخ ْرُجُوْنَ مِن ْ صُلْبِ ه ِ)( ۱۸۱ )
۸ الامام المه د ی عجّل اللّٰه فرج ه
الَااِنَّ خَاتِمَ ال ْا ئِمَّةِ مِنَّاال ْقَائِمَ الْمَ ه دِ یَّ( ۱۸۲ ) الَااِنَّه ُ الظاه رعل یٰ الدِّی ْ نِ( ۱۸۳ ) الَااِنَّه ُ ال ْمُنْتَقِمُ مِنَ الظَّالِمِ ی ْ نَ ا لَااِنَّه ُ فٰاتِحُ ال ْحُصُوْنِ وَ ه ٰادِمُ ه َاا لَاانَّه ُ غَالِبُ کُلِّ قَبِی ْ لَةٍ مِن ْ ا ه ل الشِّر ْکِ وَ ه َادِ ی ْ ه َا( ۱۸۴ )
الَاانَّه ُ ال ْمُدْرِکُ بِکُلِّ ثٰارٍلِا و ْلِ یَاءِ اللّٰه ِا لَااِنَّه ُ النَّاصِرُ لِدِی ْ نِ اللّٰه ِ
الَااِنَّه ُ ال ْغَرَّافُ مِنْ بَحْرٍعَمِ ی ْ قٍ اَلَااِنَّه ُ یَسِمُ کُلَّ ذِی ْ فَض ْلٍ بِفَضْلِ ه ِ( ۱۸۵ ) وَکُلَّ ذِ ی ْ جَه لٍ بِجَ ه لِ ه ِ ا لَااِنَّه ُ خِیَرَة اللّٰه ِ وَمُخْتَارُ ه ُا لَاانَّه ُ وَارِثُ کُلِّ عِل ْمٍ وَا ل ْمُحِ ی ْ طُ بِکُلِّ فَه مٍ
الَااِنَّه ُ ال ْمُخْبِرُعَنْ رَبِّ ه ِ عَزَّوَجَلَّ وَالْمُشَ یِّدُلِاَم ْرِآ یَاتِه ِ( ۱۸۶ ) الَااِنَّه ُ الرَّشِی ْ دُ السَّدِی ْ دُ ا لَاانَّه ُ ال ْمُفَوِّضُ اِلَ ی ْ ه ِ
الَاانَّه ُ قَد ْبَشّرَبِ ه ِ مَنْ سَلَفَ مِنَ الْقُرُوْنِ بَ ی ْ نَ یَدَی ْ ه ِ( ۱۸۷ ) الَااِنَّه ُ ال ْبَاقِ ی ْ حُجَّةً وَلَاحُجَّةَ بَع ْدَ ه ُ( ۱۸۸ ) وَلَاحَقَّ ا لَّامَعَه ُ وَلَانُو ْرَا لَّاعِن ْدَ ه ُ
الَاانَّه ُ لَاغَالِبَ لَه ُ وَلَامَنْصُوْرَعَلَ ی ْ ه ِا لَاوَانَّه ُ وَلِیُّ اللّٰه ِ فِ ی ْ ار ْضِ ه ِ،وَحَکَمُ ه ُ فِی ْ خَل ْقِ ه ِ،وَا مِی ْ نُه ُ فِی ْ سِرِّه ِ وَعَلَانِ یَتِه ِ
۹ التمهید لامرالبیعة
معاشرَالنَّاسِ،انِّی ْ قَد ْ بَ یَّن ْتُ لَکُم ْ وَا ف ْ ه َمْتُکُمْ ،وَه ٰذَا عَلِ یٌّ یُف ْ ه ِمُکُمْ بَع ْدِ ی ْ
الَاوَانِّی ْ عِن ْدَ انْقِضَاءِ خُطْبَتِ ی ْ اد ْعُوْکُمْ الیٰ مُصَافَقَتِی ْ عَلیٰ بَی ْ عَتِه ِ وَال ْاِقْرَارِ بِ ه ِ،ثُمَّ مُصَافَقَتِ ه ِ بَعْدِ ی ْ( ۱۸۹ )
الَاوَانِّی ْ قَد ْ بَا یَع ْتُ اللّٰه َ وَعَلِ یٌّ قَد ْ بَا یَعَنِی ْ ،وَاَنَاآخِذُکُم ْ( ۱۹۰ ) بِالْبَ ی ْ عَةِ لَه ُ عَنِ اللّٰ ه ِ عَزَّوَجَلّّ<ا نَّ الَّذِی ْ نَ یُبَایِعُو ْنَکَ انَّمَایُبَایِعُو ْ نَ اللّٰه َ، یَدُاللّٰه ِ فَو ْقَ اَ ی ْ دِی ْ ه ِمْفَمَنْ نَکَثَ فَا نَّمَایَن ْکُثُ عَلیٰ نَف ْسِ ه ِ،وَمَنْ ا و ْف یٰ بِمَاعَاه َدَ عَلَ ی ْ ه ُ اللّٰه ُ فَسَ یُوتِی ْ ه ِ اج ْراًعَظِ ی ْ ماً>( ۱۹۱ )
۱۰ الحلال والحرام ،الواجبات والمحرمات مَعَاشِرَالنَّاسِ،اِنَّ ال ْحَجَّ وَالْ عُم ْرَةَ مِنْ شَعَا ئِرِاللّٰ ه ِ،<فَمَنْ حَجَّ الْبَ ی ْ تَ اَوعتَمَرَفَلَاجُنَاحَ عَلَی ْ ه ِ اَن ْ یَطَّوَّفَ بِه ِمَا> الآ یة( ۱۹۲ )
مَعَاشِرَالنَّاسِ،حِجُّو ْاالْبَ ی ْ تَ فَمَاوَرَدَه ُ ا ه ل بَ ی ْ تٍ اِلَّااس ْتَغْنَوْاوَاُبْشِرُوْا،وَلَا تَخَلَّفُوْاعَنْ ه ُ اِلَّابَتَرُوْاوَافْتَقَرُوْا( ۱۹۳ )
مَعَاشِرَالنَّاسِ،مَاوَقَفَ بِال ْمَوْقِفِ مُو مِنٌ اِلَّاغَفَرَ اللّٰهُ لَه ُ مَاسَلَفَ مِنْ ذَنْبِ ه ِ اِل یٰ وَق ْتِ ه ِ ذَلِکَ، فَاِذَاانْقَضَتْ حَجَّتُ ه ُ اسْتَا نَفَ عَمَلَه ُ( ۱۹۴ )
مَعَاشِرَالنَّاسِ،اَل ْحُجَّاجُ مُعَانُو ْنَ وَنَفَقَاتُ ه ُمْ مُخَلَّفَةٌ عَلَ ی ْ ه ِمْ وَاللّٰه ُ لَا یُضِی ْ عُ اَج ْرَ الْمُحْسِنِ ی ْ نَ
مَعَاشِرَالنَّاسِ،حِجُّو ْاالْبَ ی ْ تَ بِکَمَالِ الدِّی ْ نِ وَالتَّفَّقُه ِ( ۱۹۵ ) ، وَلَاتَن ْصَرِفُوْاعَنِ الْمَشَا ه ِد ِ اِلَّابِتَو ْبَةٍ وَاِقْلَاعٍ( ۱۹۶ )
مَعَاشِرَالنَّاسِ،اقِی ْ مُو ْاالصَّلَاةَ وَآتُو ْاالزَّکَاةَ کَمَاا مَرَکُمُ اللّٰه ُ عَزَّوَجَلَّ( ۱۹۷ ) ،فَاِن ْ طَالَ عَلَ ی ْ کُمُ ال ْاَمَدُفَقَصَّرْتُمْ ا و ْنَسِ ی ْ تُم ْ فَعَلِیٌّ وَلِیُّکُم ْ وَمُبَیِّنٌ لَکُم ْ،اَلَّذِ ی ْ نَصَبَه ُ اللّٰ ه ُ عَزَّ وَجَلَّ لَکُمْ بَع ْدِ ی ْ امِی ْ نَ خَل ْقِ ه ِاِنَّ ه ُ مِنِّ ی ْ وَانَامِن ْ ه ُ،وَ ه ُوَ وَمَن ْ تَخْلُفُ مِنْ ذُرِّ یَّتِی ْ یُخ ْبِرُوْنَکُمْ بِمَاتَس ْا لُونَ عَن ْ ه ُ( ۱۹۸ ) وَ یُبَیِّنُو ْنَ لَکُم ْ مٰا لَاتَعْلَمُوْنَ
الَااِنَّ ال ْحَلَالَ وَالْحَرَامَ ا ک ْثَرُمِنْ ان ْ اح ْصِ یَه ُمَاوَا عَرِّفَه ُمَا( ۱۹۹ ) فَآمُرَوَاَن ْ ه ِ ی عَنِ ال ْحَرَامِ فِ ی ْ مَقَامٍ وَاحِدٍ،فَامِر ْتُ ان ْ آخُذَ ال ْبَ ی ْ عَةَ مِن ْکُمْ وَالصَّفْقَةَ لَکُمْ بِقَبُوْلِ مَاجِئْتُ بِ ه ِ عَنِ اللّٰ ه ِ عَزَّ وَجَلَّ فِی ْ عَلِیٍّ اَمِی ْ رِال ْمُو مِنِی ْ نَ وَال ْاَوْصِ یَا ءِ( ۲۰۰ ) مِن ْ بَعْدِ ه ِ اَلَّذِ ی ْ نَ ه م مِنِّ ی ْ وَمِن ْ ه ُ اِمَامَةً فِ ی ْ ه ِمْ قَائِمَةً،خَاتِمُه َا الْمَ ه دِ یُّ اِلیٰ یَو ْمٍ یَل ْق یٰ اللّٰه َ الَّذِ ی ْ یُقَدِّرُوَیَق ْضِ ی ْ( ۲۰۱ ) مَعَاشِرَالنَّاسِ،وَکُلُّ حَلَالٍ دَلَل ْتُکُمْ عَلَ ی ْ ه ِ وَکُلُّ حَرَامٍ نَه َ ی ْ تُکُم ْ عَن ْ ه ُ فَاِنِّ ی ْ لَم ْ ا ر ْجِعْ عَن ْ ذَلِکَ وَلَمْ ا بَدِّل ْ( ۲۰۲ ) الَا فَاذ ْکُرُوْا( ۲۰۳ ) ذَلِکَ وَاحْفَظُوْ ه ُ وَتَوَاصَوْابِ ه ِ،وَلَا تُبَدِّلُوْ ه ُ وَلَاتُغَ یِّرُو ْ ه ُ
الَاوَاِنِّی ْ اجَدِّدُ ال ْقَوْلَ:ا لَافَاقِی ْ مُو ْاالصَّلَاةَ وَآتُو ْاالزَّکَاةَ وَاْمُرُوْابِالْمَعْرُوْفِ وَانْ ه َوْا عَنِ الْمُنْکَرِ
الَاوَاِنَّ رَاسَ ال ْاَمْرِبِالْمَعْرُوْفِ ا ن ْ تَن ْتَ ه ُوْااِل یٰ قَو ْلِ ی ْ وَتُبَلِّغُو ْ ه ُ مَنْ لَمْ یَح ْضُروَتَامُرُوْ ه ُ بِقَبُو ْلِ ه ِ ع َنِّی ْ وَتَن ْ ه َوْ ه ُ عَنْ مُخَالِفَتِ ه ِ( ۲۰۴ ) ،فَاِنَّ ه ُ ا م ْرٌمِنَ اللّٰه ِ عَزَّوَجَلَّ وَمِنِّ ی ْ( ۲۰۵ ) وَلَااَم ْرَ بِمَع ْرُوْفٍ وَلَانَهیَ عَن ْ مُنْکَرٍاِلَّا مَعْ اِمَامٍ مَعْصُوْمٍ( ۲۰۶ )
مَعَاشِرَالنَّاسِ،اَل ْقُرْآنُ یُعَرِّفُکُم ْ انَّ ال ْاَئِمَّةَ مِن ْ بَعْدِ ه ِ وُلْدُ ه ُ،وَعَرَّفْتُکُمْ اِنَّ ه ُمْ مِنِّ ی ْ وَمِن ْ ه ُ،حَ ی ْ ث یَقُو ْلُ اللّٰه ُ فِ ی ْ کِتَابِه ِ:<وَجَعَلَ ه َاکَلِمَةً بَاقِ یَةً فِی ْ عَقِبِه ِ >( ۲۰۷ ) ،وَقُل ْتُ:<لَنْ تَضِلُّوْامَااِنْ تَم َسَّک ْتُمْ بِه ِمَا>( ۲۰۸ )
مَعَاشِرَالنَّاسِ،التَّق ْو یٰ، اَلتَّق ْو یٰ،( ۲۰۹ ) وَاح ْذَرُواالسَّاعَةَ کَمَا قَالَ عَزَّ وَجَلَّ<اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَ ی ْ ءٌ عَظِی ْ مٌ >( ۲۱۰ )
اذ ْکُرُوْالمَمَاتَ (وَال ْمَعَادَ)( ۲۱۱ ) وَالْحِسَا بَ وَالْمَوَازِ ی ْ نَ وَال ْمُحَاسَبَةَ بَ ی ْ نیَدَی ْ رَبِّ ال ْعَالَمِ ی ْ نَ وَالثَّوَابَ وَال ْعِقَابَفَمَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ ا ثِی ْ بَ عَلَی ْ ه َا( ۲۱۲ ) وَمَن ْ جَاءَ بِالسَّ یِّئَةِ فَلَی ْ سَ لَه ُ فِ ی ْ ال ْجَنَانِ نَصِی ْ بٌ
۱۱ البیعة بصورة رسمیة
مَعَاشِرَالنَّاسِ،اِنَّکُم ْ اک ْثَرُ مِن ْ ا ن ْ تُصَافِقُو ْنِ ی ْ بِکَفٍّ وَاحِدٍ فِی ْ وَق ْتٍ وَاحِدٍ،وَقَدْا مَرَنِیَ اللّٰه ُ عَزَّوَجَلَّ ا ن ْ آخُذَ مِن ْ ا ل ْسِنَتِکُمْ ال ْاِقْرَارَبِمَاعَقَّدْتُ لِعَلِ یٍّ امِی ْ رِ ال ْمُو مِنِی ْ نَ( ۲۱۳ ) ،وَلِمَن ْ جَاءَ بَعْدَ ه ُ مِنَ الْاَئِمَّةِ مِِنّ ی ْ وَمِن ْ ه ُ،عَل یٰ مَااع ْلَمْتُکُمْ انَّ ذُرِّیَّتِی ْ مِن ْ صُلْبِ ه ِ
فَقُو ْلُوْابِا ج ْمَعِکُمْ :اِنَّاسَامِعُو ْنَ مُطِ ی ْ عُو ْنَ رَاضُو ْنَ مُنْقَادُوْنَ لِمَابَلَّغْتَ عَنْ رَبِّنَاوَرَبِّکَ فِ ی ْ ام ْرِاِمَامِنَاعَلِ یٍ اَمِی ْ رِال ْمُو مِنِی ْ نَ وَمَن ْ وُلِدَتْ مِنْ صُلْبِ ه ِ مِنَ الاَئِمَّةِ( ۲۱۴ ) نُبَا یِعُکَ عَلیٰ ذَلِکَ بِقُلُو ْبِنَاوَاَنْفُسِنَاوَا ل ْسِنَتِنَاوَاَ ی ْ دِی ْ نَا( ۲۱۵ ) علیٰ ذَلِکَ نَحییٰ وَعَلَی ْ ه ِ نَمُو ْتُ وَعَلَ ی ْ ه ِ نُب ْعَثُ وَلَانُغَ یِّرُوَلَانُبَدِّلُ،وَلَانَشُکُّ (وَلَانَج ْحَدُ )( ۲۱۶ ) وَلَانَرْتَابُ،وَلَا نَرْجِعُ عَنِ الْعَ ه دِ وَلَانَنْق ُضُ ال ْمِ ی ْ ثَاقَ( ۲۱۷ )
وَعَظ ْتَنَابِوَعَظِ اللّٰه ِ فِ ی ْ عَلِیٍّ امِی ْ رِال ْمُو مِنِی ْ نَ وَال ْاَئِمَّةِ الَّذِ ی ْ نَ ذَکَر ْتَ مِنْ ذُرِّ یَّتِکَ مِن ْ وُلْدِ ه ِ بَعْدَ ه ُ،الْحَسَنِ وَالْحُسَ ی ْ نِ وَمَن ْ نَصَبَ ه ُ اللّٰ ه ُ بَعْدَ ه ُمَافَالْعَ ه دُ وَالْمِ ی ْ ثٰاقُ لَه ُمْ مَاخُوْذٌمِنَّاَمِنْ قُلُو ْبِنَاوَاَنْفُسِنَاوَا ل ْسِنَتِنَاوَضَمَائِرِنَاوَاَ ی ْ دِی ْ نَا مَنْ اَدْرَکَ ه َا بِ یَدِه ِ وَاِلَّافَقَد ْ اَقَرَّبِلِسَانِ ه ِ،وَلَانَبْتَغِ ی ْ بِذَلِکَ بَدَلاًوَلَایَرَی اللّٰه ُ مِنْ اَنْفُسِنَاحِوَلاًنَحْنُ نُو دِّی ْ ذَلِکَ عَن ْکَ الدَّانِ ی ْ وَال ْقَا صِی ْ مِن ْ اَوْلَادِنَا وَ ا ه َالِ ی ْ نَا، وَنُش ْ ه ِدُ اللّٰ ه َ بِذَلِکَ وَکَف یٰ بِاللّٰه ِ شَ ه ِ ی ْ داًوَان ْتَ عَلَی ْ نَابِه ِ شَه ِ ی ْ دٌ( ۲۱۸ )
مَعَاشِرَالنَّاسِ،مٰاتَقُولُونَ؟ فَاِنَّ الل هَ یَع ْلَمُ کُلَّ صَو ْتٍ وَخٰافِ یَةَ کُلَّ نَف ْس( ۲۱۹ ) <فَمَنِ ا ه تَد یٰ فَلِنَف ْسِ ه ِ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمٰا یَضِلُّ عَلَی ْ ه ٰا >( ۲۲۰ ) وَمَن ْ بٰا یَعَ فَاِنَّمٰایُبٰاِیعُ الل هَ، < یَدُ الل هِ فَوْقَایْ دِیه ِمْ >( ۲۲۱ )
مَعٰاشِرَالنّٰاسِ، فَبٰایِعُواالل هَ وَبٰایِعُونی وَبٰایِعُواعَلِیّاً( ۲۲۲ ) ،ا میرَال ْمُو مِنینَ وَال ْحَسَنْ وَالْحَسَ ی ْ نَ وَال ْاَئِمَّةَ (مِنْ ه ُمْ فِ ی الدُّن ْ یٰاوَالآخِرَةِ )( ۲۲۳ ) ،کَلِمَةً بٰاقِیَةً یُه لِکُ الل هُ مَنْ غَدَرَ وَ یَر ْحَمُ مَن ْ وَف یٰ( ۲۲۴ ) <وَمَن ْ نَکَثَ فَاِنَّمٰایَن ْکُثُ عَلیٰ نَف ْسِ ه ِ وَمَنْ اَوْف یٰ بِمٰاعٰاه َدَ عَلَ ی ْ ه ُ الل هُ فَسَ یُؤ ْت یه ِ اج ْراًعَظ یماً>( ۲۲۵ )
مَعَاشِرَالنَّاسِ،قُو ْلُوْااَلَّذِ ی ْ قُل ْتُ لَکُمْ وَسَلِّمُوْاعَل یٰ عَلِیٍّ بِاِم ْرَةِ الْمُو مِنِی ْ نَ( ۲۲۶ ) ، وَقُو ْلُوْا: <سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاغُفْرَانَکَ رَبَّنَاوَاِلَ ی ْ کَ ال ْمَصِ ی ْ رُ>( ۲۲۷ ) ،وَقُو ْلُوْا:<اَلْ حَم ْدُ لِلّٰ ه ِ الَّذِ ی ْ ه َدَانَا لِ ه ٰذَاوَمَ ا کُنَّالِنَه تَدِ یَ لَو ْلَا ا ن ْ ه َدَانَااللّٰ ه ُ>الآ یة( ۲۲۸ )
مَعَاشِرَ النَّاسِ،اِنَّ فَضَائِلَ عَلِیِّ ب ْنِ ا بِی ْ طَالِبٍ عِن ْدَاللّٰ ه ِ عَزَّوَجَلَّ (وَقَدْ ا ن ْزَلَ ه َافِ ی ْ ال ْقُرْآنِ ) ا ک ْثَرُمِنْ ان ْ اُح ْصِ یَه َافِ ی ْ مَقَامٍ وَاحِدٍ،فَمَن ْ ا ن ْبَا کُم ْ بِه َاوَعَرَفَ ه َا( ۲۲۹ ) فَصَدِّقُو ْ ه ُ( ۲۳۰ )
مَعَاشِرَالنَّاسِ،مَن ْ یُطِعِ اللّٰه َ وَرَسُوْلَ ه ُ وَعَلِ یّاًوَال ْاَئِمَّةَ الَّذِی ْ نَ ذَکَر ْتُ ه ُمْ( ۲۳۱ ) فَقَدْ فَازفَوْزاً عَظِ ی ْ ماً
مَعَاشِرَالنَّاسِ،السَّابِقُو ْنَ اِلیٰ مُبَایَعَتِه ِ وَمُوَالَاتِه ِ وَالتَّسْلِ ی ْ مِ( ۲۳۲ ) عَلَی ْ ه ِ بِاِم ْرَةِ الْمُو مِنِی ْ نَ اولٰئِکَ ه م الْفَائِزُوْنَ( ۲۳۳ ) فِ ی ْ جَنّٰاتِ النَّعِی ْ مِ
مَعَاشِرَالنَّاسِ،قُو ْلُوْامَا یَر ْضَ ی اللّٰه ُ بِ ه ِ عَنْکُمْ مِنَ الْقَوْلِ،فَاِنْ تَکْفُرُوْاا ن ْتُمْ وَمَن ْ فِ ی ْ ال ْاَرْضِ جَمِ ی ْ عاًفَلَن ْ یَّضُرَّاللّٰه َ شَی ْ ئاً( ۲۳۴ )
اَللَّه ُمَّ اغ ْفِرْلِلْمُو مِنِی ْ نَ (بِمَا ادَّی ْ تُ وَامَر ْتَ )( ۲۳۵ ) وَاغ ْضِبْ عَل یٰ (ال ْجَاحد ی ْ نَ)( ۲۳۶ ) ال ْکَافِرِ ی ْ نَ، وَال ْحَمْدُ لِلّٰ ه ِ رَبِّ الْعَالَمِ ی ْ نَ
____________________
[۱] ”ب “ و ” د “ علا بتوحیده ودنا بتفریده ” ج “ فی تو حیده
[۲] ” الف “ و ” ب “ و ” ه “ مجیدا ً
[۳] الزیادة من ” ج “ و ” د “ و ” ه “
[۴] المسموکات ای المرفوعات وهی السموات،والمد حوّات ای المبسوطات وهی الارضون
[۵] ” ج “ و ” د “ و ” ه “ و ” و “:متطوّل علیٰ کل من ذراهُ
[۶] ” ج “ و ” د “ و ” ه “ و ” و “ : کل نفس
[۷] ” د “ : علیٰ جمیع خلقه
[۸] ” ج “ ،” ه “ و ” و “ :یستحقون
[۹] ”ج “ و”د“ وهومنشی حیّ حین لا حیّ ”و“ وهومنشی ء کل شیء وحی حین لا حی
[۱۰] ”ب “ دائم غنیّ
[۱۱] ” و “ ولا یحدّه احد کیف هو من سر و علا نیة الّا بما دلّ هو عزّ و جلّ علیٰ نفسه
[۱۲] ” د “ : ابلیٰ
[۱۳] ” ج “ یغشی الامد ” د “ یفنی الابد
[۱۴] ” الف “ و ” ب “ و ” د “: ولا تفاوت فی تدبیره ” و “ ولا معاون فی تدبیره
[۱۵] ” الف “ ما ابدع
[۱۶] ” اختبال والاختبال بمعنی الفساد
[۱۷] ” ج “ شائها
[۱۸] ”و “ الصبغة
[۱۹] ” ب “ : الحسن المنعة ” ه “ : الحسن الصبغة
[۲۰] ” ب “ و ” ج “:مالک الاملاک
[۲۱] هٰذ ه الفقرة فی ” د “ هٰکذا :ملک الاملاک و مسخر الشمس والقمر فی الافلاک
[۲۲] ” الف “ و ” ب “ :لم یکن معه ضد ولا ندّ” ج “ ولم یکن معه ندّ
[۲۳] ” ج “ الهاً واحداً ما جداً
[۲۴] الزیادة من ” الف “ اور ” ب “ اور ” ه “ وفی ” د “ ویدبّر فیقضی
[۲۵] ” ب “ ویمنع و یثری
[۲۶] ” ج “ و ” و “ :لا یولج لِلَّیلٍ فِیْ نَهَا رٍ ولا مو لجٌ لِنَهارٍ فی لیلٍ الّا هوَ وفی ” ه “ لا مولج اللیل فی نهار ولا مولج النهار فی لیل الّا هو
[۲۷] ” الف “ مجیب الدعا
[۲۸] ” د “ جزیل العطا
[۲۹] ” ج “ و ” د “و ” ه “و”و“:لا یشکل علیه لغة
[۳۰] ” ج “ و ” ه “:لا یضجره مستصرخة ” د “: الملحیّن علیه
[۳۱] ” د “:الموفق للمتقین و مو لی العالمین
[۳۲] الزیادة من ”ج “ و ” د “و ” ه“
[۳۳] ”الف “ احمده علی السراءوفی ” ب “هذه الفقرة متصلة بما قبلها هکذا:ان یشکره و یحمده علی السراء وفی ” د “ احمده و اشکره
[۳۴] ”ج “ ابادر الیٰ رضاه ” الف “:استسلم لقضائهوهذه الفکرة فی ” د “ هکذا:فاسمعوا واطیعوا لامره وبادرواالیٰ مرضاته وسلّموا لما قضاه ”و “:ابادر الیٰ ما ارواه واسلم لما قضاه
[۳۵] ”ب “ وان عظمت حیلته و صفة حیلته”د “ وان عظمت منّتهُ
[۳۶] الزیادة من ” ب “
[۳۷] ”و “ :تضمن
[۳۸] الزیادة من ”ب “
[۳۹] سورة الما ئده الآیة/۶۷
[۴۰] ”ج“و”ه“و”و“هکذاماقصرت فیما بلّغت ولا قعدت عن تبلیغ ماانزله
[۴۱] ”و“علیَّ
[۴۲] ”ب“و”ج“و”ه“عن السلام ربِّ السلام
[۴۳] زاد فی ”د“احمر
[۴۴] الزیاد ة من ”ب“
[۴۵] الزیادةمن ”و“
[۴۶] سورةالمائدة الا یة ۵۵
[۴۷] ”ب“وهو راکع یرید وجه الله یرید ه اللهفی کل حال
[۴۸] الزیادةمن ”ب“و”ج“و”ه“و”و“
[۴۹] ”الف “و”و“ادغال الاثمین ”ب“ادعاء الا ئمین ”ج“اعذال لظالمین ”ه“اعذال اللائمین والا دغال بمعنی ادخال ما یُفسد، والعَئذل بمعنی اللوم
[۵۰] ”الف “ختل المستهزئین ”ه“حیل المستسرین ”و“حیلة المستسرین والختل بمعنی الخدعة
[۵۱] ا شارةالی الا یة ۱۱فی سورة الفتح ،والا یة ۱۵ من سورة النور
[۵۲] ”ج“مرة بعد اُخری ”و“مرة بعد مرة
[۵۳] ”و“انّی هو
[۵۴] الزیادة من ”ج“و”ه“و”و“
[۵۵] ”ب“انزل الله فی کتابه ذلک ”ج“و”ه“و”و“انزل عزوجل فی ذلک لا اله الا هو
[۵۶] الزیادة من”الف“ و ”د “
[۵۷] سورة التوبة الآ یة ۶۱
[۵۸] ”د“واومات ا لیهم با عیانهم ولو شئت ان ادل علیهم لدللت
[۵۹] ”ج“و”ه“و”و“ولکنّی والله بسترهم قد تکرمت
[۶۰] الزیادة من ” ب “
[۶۱] سورة المائده الآیة۶۷
[۶۲] الزیادة من ”ب “ و ” ج “و ” د “و”ه “
[۶۳] ”الف“مفتر ضة ”ب“مفروضاً
[۶۴] ”الف “و”ب“و”د“الا عجمی
[۶۵] ”ب“الحرّوالعبد
[۶۶] ”ج“و”ه“و”و“علی کل موجود
[۶۷] ”الف“و”ب“و”د“و”و“جائز قوله
[۶۸] ”ب“ماجور من تَبِعه ومن صدَّقه واطاعه ،فقد غفر الله له ولمن سمع واطاع له
[۶۹] ”و“اقوم
[۷۰] الزیادة من ”ب“و”ج“و”ه“
[۷۱] ”الف “و”د“ثم من دونه رسولکم محمّد ولیکم القائم المخاطب لکم
[۷۲] ”ج“و”ه“و”و“ثم الا مامة فی ولدی الذین من صلبه الی یوم القیامة ویوم یلقون الله ورسوله وفی ”د“ثم الائمة الذین فی ذرّیتی
[۷۳] ” ج “و ” د “:لا حلال الّا ما احلّه اللّٰه ولا حرام الّا ما حرّمه اللّٰه
[۷۴] الزیادة من ” ج “و ” ه “
[۷۵] ” ب “:وانا عرّفت علیّا ” ج “و” و“:وانا وصیت بعلمه الیه ” ه “:وانا رضیت بعلمه
[۷۶] الزیادة من ” ج“
[۷۷] ”ب “وکل علم علّمنیه فقد علّمتُهُ علیّاوالمتقین من ولده ” ج “ و”ه “:وکلّ علم علّمنیه فقد علّمته علیّاوهو المبیّن لکم بعدی
[۷۸] الزیادة من ” ب “والآیة فی سورة یس:الآیة /۱۲وفی ” و “ من قوله” وکل علم“الیٰ هنا هٰکذا:وکلُّ علم علّمته فقد علّمته علیاهو المبین لکم بعدی
[۷۹] ”ج “و ” د “ولا تفروا منه” و “لا تفرقوا منه
[۸۰] الزیادة من ” ب“
[۸۱] الزیادة من ”ب “
[۸۲] ” ب “ انّه امامکم با مراللّٰه
[۸۳] ”ج “و” و“:لن یتوب اللّٰه علیٰ احدانکره ولن یغفراللّٰه له
[۸۴] ”ب “ حتماعلیٰ اللّٰه نبارک اسمه ان یعذّب من یجحده ویعانده معی عذاباًنکراًابد الآبدین ودهرالداهرین” و“ابد الابدودهرالدهر
[۸۵] ”د“:ان تخالفونی
[۸۶] اشارةالیٰ الآیة ۲۴من سورة البقرة
[۸۷] الزیادة من ”ه “و ” و “
[۸۸] ” ج “:معا شرالناس،لی واللّٰه بشریٰ لاکون من النبیین والمرسلین ”د “:ایها الناس،هی واللّٰه بشریٰ الاولین من النبیین والمرسلین
[۸۹] ”ب “ و ”ج “فهوکافر
[۹۰] هذ ه الفقرة فی ” الف “و ” ج “و”د “هکذا:ومن شک فی شی ءٍ من قولی هذا فقد شک فی الکل منه ،والشاکّ فی ذلک فی الناروفی ” ه “و”و“:ومن شکّ فی شی ءٍ من قولی فقد شکّ فی الکل منه
[۹۱] هذه الفقرة فی ” ب “:هٰکذ ا:معا شرالناس،انّ اللّٰه قد فضّل علی بن ابی طالب علی الناس کلهم وهو افضل الناس بعدی من ذَکرٍ او انثیٰ،ما انزل الرزق وبقی واحد من الخلقملعون ملعون من خالف قولی هذا ولم یوافقه وفی ”ج “ و ”ه“ و ” و“هکذا:ملعون ملعون من خالَفَه ،مغضوب علیهقولی عن جبرئیل وقول جبرئیل عن اللّٰه عز وجل فلتنظر نفس ما قدمت لِغدٍ،واتقوااللّٰه ان تخالفوه ،انّ اللّٰه خبیر بما یعملون
[۹۲] اشارة الیٰ الآیة ۱۸من سورة الحشر،والآیة ۹۴من سورة النحل
[۹۳] الزیادة من ”ب “
[۹۴] سورة الزمر:الآیة ۵۶
[۹۵] ”د “ فو اللّٰه لهو مبیّن لکم نوراً واحداً
[۹۶] الزیادة من ”ب “ و ” ج “
[۹۷] ”و“:امر من اللّٰه انزله علیّّ
[۹۸] الزیادة من ”ج “و”ه“و”و“وفی ” ب“ :انّ علیّاً والطاهرین من ذریّتی و ولدی
[۹۹] ”و “خ ل:مبنیّ علیٰ صاحبه
[۱۰۰] ” الف “:حکما و ه فی ارضه ”ج“و ” و“ :امر من اللّٰه فی خلقه وحکمه فی ارضه
[۱۰۱] ”ج“:الا وقد نصحت
[۱۰۲] ” ب “: وانی اقول ”د“ وانا قلته
[۱۰۳] ”الف “ و ” ب “و ”د“:الا انّه لیس امیر المو منین غیر اخی هٰذا
[۱۰۴] ”ب “:علی درجة دون مقامه،فبسط یده نحو وجه رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآله وسلم بیده (کذا)حتی استکمل بسطهما الی السماء وشال علیاعلیه السلام حتی صارت رجلا ه مع رکبتی رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآلهوهذه الفقرة فی کتاب ” الاقبال “لابن طاووس هٰکذا:ثم ضرب بیده علیٰ عضده فرفعه بیده وقال:ایها الناس،من اولیٰ بکم بانفسکم ؟قالوا:اللّٰه ورسوله فقال :الا من کنت مولاه فهذا علی مولاه ،اللهم وال من والاه وعاد من عاداه وانصر من نصره واخذل من خذله
[۱۰۵] ”د “:والراعی بعدی
[۱۰۶] ” ب “ :علیٰ من آمن بی ،الا انّ تنزیل القرآن علیّ وتا ویله و تفسیره بعدی علیه والعمل بما یر ضی اللّٰه ومحاربة اعدائه والدال علیٰ طاعته”ج “و ” و“:وعلیٰ تفسیرکتاب ربیّ عز وجل والدعاء الیه والعمل بما یُرضیه والمحاربة لاعدائه والدال علیٰ طاعته
[۱۰۷] سورة ق الآیة/۲۹
[۱۰۸] ”الف “:اقول :ما یبدل القول لدیّ بامر ربّی ”ه“بامر اللّٰه اقول :ما یبدل القول لدیّ
[۱۰۹] الزیادة من ”ه “
[۱۱۰] ”ه “و”و“:من جحده
[۱۱۱] ”و“:لها
[۱۱۲] سورة الما ئده الآیة/ ۳
[۱۱۳] سورة آل عمران الآیة/۸۵
[۱۱۴] هذه الفقرة اوردناها طبقالمافی ”ج “وفی ”الف “هکذا:اللَّهم انّک انزلت علیّ انّ الامامة بعدی لعلی ولیّک عند تبیانی ذلک ونصبی ایاه بما اکملت لعبادک من دینهم واتممت علیهم بنعمتک ورضیت لهم الاسلام دینا،فقلت :ومن یبتغ غیرالاسلام دینافلن یقبل منه وهوفی الآخرة من الخاسرین “اللَّهم انّی اُشهدُکَ اَنّی قد بَلَّغْت
وفی ” ب “ هکذا :اللهم انک انزلت علیّ اَنّ الامامة لعلی وانّک عند بیانی ذلک ونصبی ایاه لما اکملت لعبادک من دینهم
وفی ”د “:اللهم انک انت انزلت علیّ اَنّ الامامة لعلی ولیک عند تبیین ذلک بتفضیلک ایاه بما اکملت لعبادک
وفی ”ه “هکذا:اللّهم انک انزلت فی علیّ ولیّک عند تبیین ذلک ونصبک ایاه لها :الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا،ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منه وهو فی الآخرة من الخاسرین “اللّهم اشهدک ا نی قد بلغت
ثم انّ الظاهر انّ فی هذ االموضع ینتهی الکلام الذی قاله صلی اللّٰه علیه وآله عند رفعه امیرالمومنین علیه السلام بیده
[۱۱۵] ” ب “:معا شرالناس ،هذا علیّ،انّما اکمل اللّٰه عزّ و جلّ لکم دینکم بامامته
[۱۱۶] ”و “:وبمن کان من ولدی
[۱۱۷] الزیادة من ”ب“وهی اشار ة الی الآیة ۲۲من سورة آل عمران
[۱۱۸] سورة آل عمران الا یة ۸۸
[۱۱۹] ”ج“و”د“و”و“واحق الناس بی
[۱۲۰] الزیاد من ”ب“
[۱۲۱] اشارة الی الآیة ۱۲من سورة الا نسان حیث قال الله تعالیٰ:”وجزٰاهم بماٰصبرواجنّةً و حریراً ‘
[۱۲۲] ”ب “هوقاضی د ینی والمجادل عَنِیّْ ”ج “و ”ه “ و ” و “:هو یودّ ی د ین اللّٰه
[۱۲۳] الزیاد ة من ”الف “و”ج“،وما قبله فی ”ب“و”ه“هکذا نبیّه خیرالانبیاء وهوخیرالا وصیاء وفی ”ج“و”و“نبیّه خیر نبیّ ووصیّه خیر وصیّ
[۱۲۴] الزیادة من ”ج“و”ه“وفی ”و“علی بن ابی طالب
[۱۲۵] ”ب“بذنبه وخطیته
[۱۲۶] ”ب“وقدکثراعدا ء الله ”ج“و”ه“فکیف انتم ؟فان ابیتم فانتم اعداء الله
[۱۲۷] ”الف “و”د“و”ه“ولا یتوالی علیّاً ”ب“لایتولاه”و“والله ما یبغض علیاً
[۱۲۸] الزیادة من ”ج“و”ه“و”و“والآیات فی سورة العصرالآایات ۱۳ وجاء هذه الفقرة فی کتاب الاقبال لابن طاووس هکذاوفی علی نزلت ”والعصر“وتفسیر هاوربِّ عصرالقیامة ،”انّ الا نسان لفی خسر“ اعدا ء آل محمّد ،”الاَ الَّذین آمنوا “بولا یتهم و”عملو الصالحات “بمواساة اخوانهم ”وتواصوابالصبر“فی غیبة غائبهم
[۱۲۹] ”ب“قد اشهدتُ الله وبلّغتکم رسالتی وما علیَّ الا البلا غ المبین وفی ”ج“و”ه“و”و“قد اشهد نی الله وابلغتکم وما علی الرسول
[۱۳۰] سورة آل عمران الآ یة ۱۰۲
[۱۳۱] سورة النساء :الا یة ۴۷
[۱۳۲] هذ ه الفقر ة من قوله ”بالله “الی هنا لا توجد الا فی ”الف “و”ب“
[۱۳۳] ”ب“:مسبوکٌ
[۱۳۴] ”د“:وبحق کل مو من
[۱۳۵] ”ب“: الا وان الله قد جعلنا حجة وفی ”ج“و”و“هکذا :وبکل حق هو لنا بقتل المقصّر ین والمعا ندین (الغادرین)
[۱۳۶] الزیادة من ”د“و”و“وهذه الفقر ة اشارة الی الایة ۱۴۴ من سورة آل عمران
[۱۳۷] اوردنا هذه الفقرة طبقاًل ”ب“وفی ”الف “:لاتمنّواعلی الله اسلامکم فیسخط علیکم و یصیبکم بعذابٍ من عنده ، انّه لبالمرصاد وفی ”ج“:ویبتلیکم بسوط عذاب وفی ”ه“و”و“:لاتمنوا علی الله فینامالا یطیعکم (”و“لا یعطیکم )الله ویسخط علیکم ویبتلیکم بسوط عذاب
[۱۳۸] اشارة الی الآیة ۱۴۵من سورة النساء ،والآ یة ۲۹ من سورة النحل
[۱۳۹] هذان الفقرتان فی ”ب“هکذا :معاشر الناس ،انّ الله وانابریئان منهم ومن اشیاعهم وانصارهم ،وجمیعهم فی الدرک الا سفل من النارولبئس مثوی المتکبرین الاانهم اصحاب الصحیفة معاشرالناس،فلینظراحدکم فی صحیفته
[۱۴۰] اشار صلی الله علیه واله فی کلامه هذا الی الصحیفة الملعو نة الاولی التی تعاقد علیها خمسة من المنا فقین فی الکعبة فی سفر هم هذا وکان ملخصها منع اهل البیت علیهم السلام من الخلافة بعد صاحب الرسالة وقد مرّتفصیلها فی الفصل الثالث من هذا الکتاب وقوله ”فذهب علی الناس “ای لم یفهم اکثرهم مراده صلی الله علیه وآله من ”الصحیفة “واثارت سئوالا فی اذهانهم
[۱۴۱] الزیادة من ”الف “و”ب“و”د“
[۱۴۲] ”ج“و”ه“و”و“:وقد بلَّغت ماقد بلّغت
[۱۴۳] الزیادة من ”الف “و”ب“و”د“
[۱۴۴] الزیادة من ”ب“و”ج“و”ه“
[۱۴۵] اشار ة الی الایات ۳۱ و۳۵ فی سورة الرحمن
[۱۴۶] اشارة الی الا یة ۱۷۹ فی سور ة آل عمران
[۱۴۷] اور دنا هذه طبقاًل ”ج“و”ه“و”و“وفی ”الف “و”د“هکذا :معاشر الناس ، انَّه ما من قریة الا والله مهلکها بتکذ یبها وکذلک یهلک القری وهی ظالمة کما ذکرالله تعالی ،وهذاعلیّ امامکم وولیکم وهومواعیدالله (”د“:وهومواعدٌ)،وَاللهیصدق ماوَعَده وفی ”ب“هکذا:وکذلک یهلک قریتکم وهوالمواعدکماذکرالله فی کتابه وهومنّی ومن صلبی والله منجزوعده
[۱۴۸] ”ب“::فَاهلکهم الله ”ج“و”ه“:والله فقد اهلک الا وّلین بمخالفة انبیائهم ”و“:والله قدْ اَ هلک الاولین بمخالفة انبیا ئهم
[۱۴۹] سورة المرسلات:الآیات ۱۶۱۹
[۱۵۰] الزیاد ةمن ”ب“
[۱۵۱] ”الف “:فَعَلِمَ الا مر والنهی من ربّه عزوجلّ ”د“:وعلیه الا مر والنهی من ربّه عزوجل
[۱۵۲] الزیادة من ”الف “و”د“
[۱۵۳] ”ب“و”ج“و”و“:انا الصراط المستقیم الّذی امر کم الله ان تسلکو االهدی الیه
[۱۵۴] الزیادةمن ”ج“و”ه“و”و“
[۱۵۵] اشارة الی الآیة ۱۸۱ من سورة الا عراف
[۱۵۶] الزیادة من ”ب“
[۱۵۷] ای قر ا صلی الله علیه وآله الی آخر سورة الحمد
[۱۵۸] الزیادة من ”ه“
[۱۵۹] ”ب“: فیهم نزلت وفیهم ذکرت ،لهم شملت ،ایاهم خصّت وعمّت ،”ج“و”و“فیمن ذکرت ؟ذکرت فیهم والله فیهم نزلت ، ولهم والله شملت ،وآبا ئهم (”و“:ایاّهم)خصّت وعمّت
[۱۶۰] اشارة الی الآیة ۶۲ من سورة یونس
[۱۶۱] اشارة الی الآیة ۵۶ من سورة المائد ة وفی ”ب“:هم المفلحون فهو اشارة الی الآیة ۲۲ من سورة المجادلة
[۱۶۲] ”الف “و”د“و”و“:الا انّ اعداء علی هم اهل الشقاق العادون اخوان الشیاطین
[۱۶۳] سورة المجادلة :الآ یة ۲۲
[۱۶۴] سورة الا نعام :الآیة ۸۲
[۱۶۵] الزیادة من ”ب“و”ج“و”ه“
[۱۶۶] اشارة الی الآیة ۷۳ من سورة الزمر
[۱۶۷] اشارة الی الآیة ۴۰من سورة غافروفی ”الف“و”ب“و”د“:الاانّ اولیائهم الذین قال اللّٰه عزّوجلّ: َ”یدخلون الجنة بغیرحساب“
[۱۶۸] اشارة الیٰ الآیة ۱۰من سورة النساء
[۱۶۹] اشارة الیٰ الآیة ۱۰۶من سورة هودوفی ”الف“و ” د“:وهی تفور ولها زفیر
[۱۷۰] سورة الاعراف :الآیة /۳۸
[۱۷۱] سورة الملک :الآیات /۸۱۱
[۱۷۲] سورة الملک :الآیة /۱۲
[۱۷۳] ”الف “و ” د “:شتان مابین السعیر والجنة ”ب“:قد بیّنا ما بین السعیر والاجر الکبیر
[۱۷۴] الزیادة من ”ج “و ” د“
[۱۷۵] الزیادة من ”ج “و ” ه“
[۱۷۶] الزیادة من ”و“
[۱۷۷] الزیادة من ”ج “و”ه “
[۱۷۸] ”ب “ انّی المنذر و علیّ الهادی
[۱۷۹] الزیادة من ”و“
[۱۸۰] ”ب “اِنِّی النَّبِیْ وَ عَلِیُّ الْوَصِیْ”ج“:اِنِّیْ نَبِیٌّ وَعَلِیٌّ وَصِیٌّ
[۱۸۱] الزیادة من ”ب “و ”ج“و”ه“وفی ”و“و” ج “خ ل:والائمة منه ومن ولدهوفی ”ه“:الا وانی والد الائمة
[۱۸۲] ”ب“:الا انّ الامام المهدی منّا”ه“و ” و“:ومنّا القائم المهدی الظاهر علی الدین
[۱۸۳] ”ب “ علی الادیان ”و“:علی الدین کله
[۱۸۴] ”الف “و ”ب“و”د“:الاانّه قاتل کل قبیلة من اهل الشرک ”و“وهازمها
[۱۸۵] ”ب“:الا انّه المجتاز من بحر عمیق الا انّه المجازی کل ذی فضل بفضله ”ج“و”ه“و”و“:الا انّه المصباح من البحرالعمیق الواسم لکل ذی فضل بفضله
[۱۸۶] ”الف“و”ب“و”د“:المنبّه بامرایمانه ”ه“:والمسند لا مرآبائه ”و“:والمشیّدلامرآبائه
[۱۸۷] ”ج“:الا انّه قد بَشَّر بِهِ کلّ نبیّ سلف بین یدیه
[۱۸۸] ”ب“:الا انّه باقی حجج الحجیج
[۱۸۹] ”ج“و”ه“و”و“ادعوکم الی مصافقتی علی یدی ببیعته والاقراربه،ثمّ مصافقته بعد یدی
[۱۹۰] ”ج“:اَمدّکم
[۱۹۱] سورة الفتح :الآیة ۱۰
[۱۹۲] سورة البقر ة :الآیة ۱۵۸
[۱۹۳] ”د“و”ه“:فماورده اهل بیت الانمواونسلواولاتخلّفواعنه الاتبرواوافترقواوفی ”و“:ایْسروا مکان اُبشروا
[۱۹۴] ”ب“و”و“:فائذا قضی حجّه استئونف به
[۱۹۵] ”ج“:بکمالٍ فی الدین وتَفَقُّهٍ
[۱۹۶] ”ج“و”و“:بتوبة اقلاعٍ
[۱۹۷] ”ج“و”ه“:واتواالزکاة کما امر تُکم (”و“کما اُمر تم )
[۱۹۸] ”الف “و”ج“و”ه“:بعدی ومن خلقه الله منی وانا منه ،یخبر کم بما تسالون عنه ”د“و”و“:ومن خلفه الله منی ومنه
[۱۹۹] ”ب“و”ج“و”ه“و”و“:اَعُدَّهُمَا
[۲۰۰] ”الف “و”د“: الا ئمة ”و“:الا ولیا ء
[۲۰۱] ”الف “و”ب“:هم منی ومنه ،ائمة قائمهم منهم المهدی الی یوم القیامة الذی یقضی بالحق ”د“:اُمَّة قائمة فیهم ”ه“:ومنه ائمة فیهم قائمة
[۲۰۲] ”ب“: ولم اُبدّله
[۲۰۳] ”ج“:فادرسوا
[۲۰۴] هنا آخر الخطبة فی کتاب التحصین (نسخة ”ج“)
[۲۰۵] هذه الفقرة فی ”ب“هکذا:الاوانّ راس اعمالکم الامربالمعروف والنهی عن المنکر، فعرفوامن لم یحضر مقامی ویسمع مقالی هذا ،فانّه بامر اللهربیّ وربّکم
[۲۰۶] ”ه“:ولا امر بمعروف ولانهی عن منکر الا بحضرة امام ”و“:ولا امر بمعروف ولا نهی عن منکر الابحضرة امام
[۲۰۷] سورة الزخرف :الآیة ۲۸
[۲۰۸] هذه الفقرة فی”ب“ هٰکذا:معا شر الناس انِّی اخلف فیکم القرآن ،و وصیِّی علیٌّ والآئمَّةُ من ولده بعدی،قد عرفتم انَّهُمْ مِنِّی، فان تمسکتم بهم لن تضلّوا”ه“و”ه“:معا شر الناس القرآن فیکم وعلیّ والائمة من بعده،فقد عرّفتکم انَّهم منِّی وانا منهم وفی” الف“انَّه منِّی وانا منه
[۲۰۹] ”ب“:الا انّ خیر زادکم التقویٰ وبعده فی”و“اُحَذِّرُکمُ السَّاعة
[۲۱۰] سورة الحج الآیة۱
[۲۱۱] الزیادة من ”ب“وفی ”ه“و”و“:اذکروالمآب والحساب ووضع المیزان
[۲۱۲] ”د“:فمن جاء با لحسنة افلح
[۲۱۳] ”الف “و”ب“و”ه“:بما عَقّدت لعلی بن ابی طالب من اِمرة المو منین
[۲۱۴] ”الف“:فی امر علی وامر ولد ه من صلبه من الا ئمة ”ب“فی امامنا وائّمتنا من ولد ه ”د“فی امر علی امیرالمومنین ومن ولده من صلبه من الائمة
[۲۱۵] تبایعک علی ذلک قلوبنا وانفسنا والسنتنا واید ینا
[۲۱۶] الزیادة من”ب“
[۲۱۷] ”ه“:ولا نرجع فی عهد ومیثاق
[۲۱۸] هناآخرالنص الذی طلب رسول الله صلی الله علیه وآله من الناس تکراره بعده واقرار هم به وقد اورد ناالنص طبقاًل”ب“ومن قوله ”وعظتنابوعظ الله “الی هناورد فی ”الف“و”د“و”ه“و”و“ بصورة اخر ی نوردها فیمایلی بعینهامع الاشارة الی تفاوت النسخ الثلاثة بین القوسین
ونطیع اللهونطیعک (”و“نعطی اللهونعطیک )وعلیاً امیرالمو منین وولده الا ئمة الذین ذکرتهم من ذریتک من صلبه (”ه“و”و“ذکر تهم انهم منک من صلبه متی جاء وا وادعو ا)بعد الحسن والحسین ،الذین قد عرّفتکم مکانهمامنّی ومحلّهما عندی ومنزلتهما من ربی عزوجل ،فقد ادیت ذلک الیکم وانهما سیدا شباب اهل الجنة وانهما الا مامان بعد ابیهما علی ،واناابوهما قبله ‘
وقولوا:”اعطیناالله بذلک وایاک وعلیاًوالحسین والحسین والائمة الذین ذکرت عهد ا ًومیثاقاًماًخوذاً لامیرالمومنین (”ه“و”و“:اطعنا الله علی عهد ومیثاق ،فهی ماخوذ ة من المومنین )من قلوبناوانفسناوالسنتنا ومصافقة ایدینا،من ادرکها بیده والا فقد اقرَّبهابلسانه لانبتغی بذلک بدلا ولانری من انفسناعنه حولاًابدا ً(”د“و”ه“و”و“:ولایری الله عزوجل منهاحولا ًابداًا)
نحن نودّی ذلک عنک الدانی والقاصی من اولادناواهالینا (”ه“و”و“:عنک الی کل من رایناممن ولدنا اولم نلده )،اشهدناالله بذلک وکفی بالله شهیداًوانت علینابه شهید وکل من اطاع الله ممن ظهرواستتروملا ئکة الله وجنوده وعبیده واللهاکبرمن کل شهید“
وفی کتاب ”الصراط المستقیم “جاء هذه الفقرات من قوله ”قولوا:اعطینا “الی هناهکذا :معاشر الناس ،قولوا:اعطیناک علی ذلک عهداًمن انفسناومیثاقاًبالسنتناوصفقة بایدینانودیه الی من راینا وولدنا،لا نبغی بذلک بدلا وانت شهیدعلیناوکفی بالله شهیداً
[۲۱۹] ”ب“:وخائنة الا عین وما تخفی الصدور”و“:خافیة کل نفس وعیب
[۲۲۰] سورة الاسراء :الآیة۱۵
[۲۲۱] سورةالفتح :الآیة۱۰
[۲۲۲] ”الف “:اتّقواالله وبایعوا علیاً ”د“:وتابعوا علیاً
[۲۲۳] الزیادة من ”ب“و”ه“و”و“
[۲۲۴] فانها کلمة باقیة یهلک بها من غدر ویرحم الله من وفی
[۲۲۵] سورة الفتح :الآیة۱۰
[۲۲۶] ”ب“:معاشر الناس ،لَقِّنُوْا مَالَقَّنْتُکُمْ وَقُوْلُوا مٰاقلته وسلّمواعلی امیرکم
[۲۲۷] سورة البقرة :الآیة ۲۸۵
[۲۲۸] سورة الا عراف :الآ یة ۴۳
[۲۲۹] الزیادة من ”الف “و”ه“
[۲۳۰] هذه الفقرة فی ”ب“ هکذا:معاشرالناس ،انّ فضائل علی وماخصّه الله به فی القرآن اکثر من ان اذکرهافی مقام واحد،فمن انباکم بها فصدِّقو ه
[۲۳۱] ”ب“:من یُطع اللهورسوله واولی الا مر فقد فاز
[۲۳۲] ”د“السلام
[۲۳۳]”ه“و”و“:اولئک المقرّبون
[۲۳۴] ”ه“و”و“:فانَّ اللهلغنی حمید
[۲۳۵] الزیادة من ”ب“
[۲۳۶] الزیادة من ”ب“وفی ”د“:اعطب ،مکان ”اغضب“
خطبہ غدیر کااردو ترجمہ
غدیر خم میں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خطبہ کا کامل متن
اردو ترجمہ
خدا کی حمد و ثنا
ساری تعریف اس اللہ کےلئے ہے جو اپنی یکتائی میں بلند اور اپنی انفرادی شان کے باوجود قریب ہے( ۱ ) وہ سلطنت کے اعتبار سے جلیل اور ارکان کے اعتبار سے عظیم ہے وہ اپنی منزل پر رہ کر بھی اپنے علم سے ہر شے کا احاطہ کےے ہوئے ہے اور اپنی قدرت اور اپنے برھان کی بناء پر تمام مخلوقات کو قبضہ میں رکہے ہوئے ہے ۔( ۲ )
وہ ہمیشہ سے قابل حمد تھااور ہمیشہ قابل حمد رہے گا ،وہ ہمیشہ سے بزرگ ہے وہ ابتدا کرنے والا دوسرے :خداوند عالم کا علم تمام چیزوں کا احاطہ کئے ہو ئے ہے درحالیکہ خداوند عالم اپنے مکان میں ہے ۔البتہ خداوند عالم کےلئے مکان کا تصور نہیں کیا جا سکتا ،پس اس سے مراد یہ ہے کہ خداوند عالم تمام مو جودات پر اس طرح احاطہ کئے ہوئے ہے کہ اس کے علم کےلئے رفت و آمد اور کسب کی ضرورت نہیں ہے ۔
ہے وہ پلٹانے والاہے اور ہر کام کی باز گشت اسی کی طرف ہے بلندیوں کا پیدا کرنے والا ،فرش زمین کابچھانے والا،آسمان و زمین پر اختیار رکھنے والا ، پاک ومنزہ ،پاکیزہ( ۳ ) ،ملائکہ اور روح کا پروردگار، تمام مخلوقات پر فضل وکرم کرنے والا اور تمام موجودات پر مھربانی کرنے والا ہے وہ ہر آنکھ کو دیکھتا ہے( ۴ ) اگر چہ کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھتی ۔
وہ صاحب حلم وکرم اوربردبار ہے ،اسکی رحمت ہر شے کااحاطہ کئے ہوئے ہے اور اسکی نعمت کا ہر شے پراحسان ہے انتقام میں جلدی نہیں کرتا اور مستحقین عذاب کو عذاب دینے میں عجلت سے کام نہیں لیتا ۔
اسرارکو جانتا ہے اور ضمیروں سے باخبر ہے ،پوشیدہ چیزیں اس پر مخفی نہیں رہتیں ،اور مخفی امور اس پر مشتبہ نہیں ہوتے ،وہ ہر شے پر محیط اور ہر چیز پر غالب ہے ،اسکی قوت ہر شے میں اسکی قدرت ہر چیز پر ہے ،وہ بے مثل ہے اس نے شے کو اس وقت وجود بخشا جب کو ئی چیز نہیں تھی اوروہ زندہ ہے ،( ۵ ) ہمیشہ رہنے والا،انصاف کرنے والا ہے ،اسکے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے ،وہ عزیز و حکیم ہے ۔
نگاہوں کی رسائی سے بالاتر ہے اور ہر نگاہ کو اپنی نظر میں رکھتا ہے کہ وہ لطیف بھی ہے اور خبیر بھی کوئی شخص اسکے وصف کو پا نہیں سکتا اور کوئی اسکے ظاہر وباطن کی کیفیت کا ادراک نہیں کرسکتا مگر اتنا ہی جتنا اس نے خود بتادیا ہے ۔
میں گواھی دیتا ہوں کہ وہ ایسا خدا ہے جس کی پاکی و پاکیزگی کا زمانہ پر محیط اور جسکا نور ابدی ہے
اسکا حکم کسی مشیر کے مشورے کے بغیر نافذہے ،اور نہ ہی اس کی تقدیرمیں کوئی اسکا شریک ہے ،اور نہ اس کی تدبیر میں کوئی فرق ہے ۔( ۶ )
جو کچھ بنایا وہ بغیر کسی نمونہ کے بنایا اور جسے بھی خلق کیا بغیر کسی کی اعانت یا فکر ونظر( ۷ ) کی زحمتکے بنایا ۔جسے بنایا وہ بن گیا( ۸ ) اور جسے خلق کیا وہ خلق ہوگیا ۔وہ خدا ہے لا شریک ہے جس کی صنعت محکم اور جس کا سلوک بہترین ہے ۔وہ ایسا عادل ہے جو ظلم نہیں کرتااور ایسا کرم کرنے والا ہے کہ تمام کام اسی کی طرف پلٹتے ہیں ۔
میں گو اھی دیتا ہوں کہ وہ ایسا بزرگ و برتر ہے کہ ہر شے اسکی قدرت کے سامنے متواضع ، تمام چیزیں اس کی عزت کے سا منے ذلیل ،تمام چیزیں اس کی قدرت کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہو ئے ہیں اور ہر چیز اسکی ھیبت کے سامنے خاضع ہے ۔
وہ تمام بادشاہوں کا بادشاہ( ۹ ) ،تمام آسمانوں کا خالق ،شمس و قمر پر اختیاررکھنے والا ،یہ تمام معین وقت پرحرکت کر رہے ہیں ،دن کو رات اور رات کو دن پر پلٹانے والا( ۱۰ ) ہے کہ دن بڑی تیزی کے ساتھ اس کا پیچھا کرتا ہے ،ھرمعاندظالم کی کمر توڑنے والا اورھرسرکش شیطان کو ھلاک کرنے والا ہے ۔
نہ اس کی کوئی ضد ہے نہ مثل،وہ یکتا ہے بے نیاز ہے ،نہ اسکا کوئی باپ ہے نہ بیٹا ،نہ ھمسر۔ وہ خدائے واحد اور رب مجید ہے ،جو چاہتا ہے کرگزرتا ہے جوارادہ کرتا ہے پور ا کردیتا ہے وہ جانتا ہے پس احصا کر لیتاہے ،موت وحیات کا مالک،فقر وغنا کا صاحب اختیار ،ہنسانے والا، رلانے والا،قریب کرنے والا ،دور ہٹادینے والا( ۱۱ ) عطا کرنے والا( ۱۲ ) ،روک لینے والا ہے ، ملک اسی کے لئے ہے اور حمد اسی کے لئے زیبا ہے اورخیر اسکے قبضہ میں ہے ۔وہ ہر شے پر قادر ہے ۔
رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے ۔( ۱۳ ) اس عزیزو غفار کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے ،وہ دعاؤں کا قبول کرنے والا، بکثرت عطا کرنے والا،سانسوں کا شمار کرنے والا اور انسان و جنات کا پروردگار ہے ،اسکے لئے کوئی شے مشتبہ نہیں ہے ۔( ۱۴ ) وہ فریادیوں کی فریاد سے پریشان نہیں ہوتا ہے اور اسکو گڑگڑانے والوں کا اصرار خستہ حال نہیں کرتا ،نیک کرداروں کا بچانے والا ، طالبان فلاح کو توفیق دینے والامو منین کا مولا اور عالمین کا پالنے والاہے ۔اسکا ہر مخلوق پر یہ حق ہے کہ وہ ہر حال میں اسکی حمد وثنا کرے ۔
ھم اس کی بے نھایت حمد کرتے ہیں اورھمیشہ خوشی ،غمی،سختی اور آسائش میں اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں ،میں اس پر اور اسکے ملائکہ ،اس کے رسولوں اور اسکی کتابوں پر ایمان رکھتا ہوں،اسکے حکم کو سنتا ہوں اور اطاعت کرتا ہوں ،اسکی مرضی کی طرف سبقت کرتا ہوں اور اسکے فیصلہ کے سامنے سراپا تسلیم ہوں( ۱۵ ) چونکہ اسکی اطاعت میں رغبت ہے اور اس کے عتاب کے خوف کی بناء پر کہ نہ کوئی اسکی تدبیر سے بچ سکتا ہے اور نہ کسی کو اسکے ظلم کا خطرہ ہے ۔
۲ ایک اہم مطلب کے لئے خداوند عالم کا فرمان
میں اپنے لئے بندگی اور اسکے لئے ربوبیت کا اقرار کرتا ہوں اوراپنے لئے اس کی ربوبیت کی گواھی دیتا ہوں اسکے پیغام وحی کو پہنچانا چاہتا ہوں کہیں ایسا نہ ہوکہ کوتاھی کی شکل میں وہ عذاب نازل ہوجائے جس کا دفع کرنے والا کوئی نہ ہواگر چہ بڑی تدبیرسے کام لیا جائے اور اس کی دوستی خالص ہے ۔اس خدائے وحدہ لا شریک نے مجہے بتایا کہ اگر میں نے اس پیغام کو نہ پہنچایا جو اس نے علی کے متعلق مجھ پرنازل فرمایاہے تو اسکی رسالت کی تبلیغ نہیں کی اور اس نے میرے لئے لوگوں کے شرسے حفاظت کی ضمانت لی ہے اور خدا ہمارے لئے کافی اور بہت زیادہ کرم کرنے والا ہے ۔
اس خدائے کریم نے یہ حکم دیا ہے :( بِسم اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحیمِ،یٰاایُّهَاالرَّسُوْلُ بَلِّغْ مٰااُنزِلَ اِلَیکَ مِنْ رَبِّکَ( فی عَلِیٍّ یَعْنی فِی الْخِلاٰفَةِلِعَلِیِّ بْنِ ابی طٰالِبٍ) وَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمٰابَلَّغْتَ رِسٰالَتَهُ وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنَ النّٰاسِ ) ( ۱۶ )
”اے رسول!جوحکم تمھاری طرف علیعليهالسلام (یعنی علی بن ابی طالب کی خلافت )کے بارے میں نازل کیاگیا ہے ،اسے پہنچادو،اوراگرتم نے ایسانہ کیا( ۱۷ ) تو رسالت کی تبلیغ نہیں کی اوراللہ تمہیں لوگوںکے شرسے محفوظ رکہے گا “
ایھا الناس! میں نے حکم کی تعمیل میں کوئی کوتا ہی نہیں کی اور میں اس آیت کے نازل ہونے کا سبب واضح کردینا چاہتا ہوں :
جبرئیل تین بار میرے پاس خداوندِسلام( ۱۸ ) پروردگار(کہ وہ سلام ہے )کا یہ حکم لے کر نازل ہوئے کہ میں اسی مقام پرٹھھر کر سفیدوسیاہ کو یہ اطلاع دے دوں کہ علی بن ابی طالبعليهالسلام میرے بھائی ،وصی،جانشین اور میرے بعد امام ہیں ان کی منزل میرے لئے ویسی ہی ہے جیسے موسیٰ کےلئے ھارون کی تھی ۔فرق صرف یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا،وہ اللہ و رسول کے بعد تمھارے حاکم ہیں اور اس سلسلہ میں خدا نے اپنی کتاب میں مجھ پریہ آیت نازل کی ہے :
( اِنَّمٰاوَلِیُّکُمُ اللهُ وَرَسُوْلُهُ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْاالَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلاٰةَوَیُوتُوْنَ الزَّکٰاةَ وَهُمْ رٰاکِعُونَ ) ( ۱۹ )
”بس تمھارا ولی اللہہے اوراسکارسول اوروہ صاحبان ایمان جونمازقائم کرتے ہیں اورحالت رکوع میںزکوٰةادا کرتے ہیں “علی بن ابی طالبعليهالسلام نے نماز قائم کی ہے اور حالت رکوع میں زکوٰةدی ہے وہ ہر حال میں رضا ء الٰہی کے طلب گار ہیں ۔( ۲۰ )
میں نے جبرئیل کے ذریعہ خدا سے یہ گذارش کی کہ مجہے اس وقت تمھارے سامنے اس پیغام کو پہنچانے سے معذور رکھا جائے اس لئے کہ میں متقین کی قلت اور منافقین کی کثرت ،فساد برپاکرنے والے ،ملامت کرنے والے اور اسلا م کا مذاق اڑانے والے منافقین کی مکاریوںسے با خبرہوں ،جن کے بارے میں خدا نے صاف کہہ دیا ہے کہ”یہ اپنی زبانوں سے وہ کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہے ،اور یہ اسے معمولی بات سمجھتے ہیں حالانکہ پروردگارکے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے “۔اسی طرح( ۲۱ ) منافقین نے بارھا مجہے اذیت پہنچائی ہے یھاں تک کہ وہ مجہے ”اُذُنْ “”ھر با ت پرکان دھرنے والا“کہنے لگے اور ان کا خیال تھا کہ میں ایسا ہی ہوںچونکہ اس (علی )کے ہمیشہ میرے ساتھ رہنے،اس کی طرف متوجہ رہنے،اور اس کے مجہے قبول کرنے کی وجہ سے یھاں تک کہ خداوند عالم نے اس سلسلہ میں آیت نازل کی ہے :
( وَمِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُوْذُوْنَ النَّبِیَّ وَیَقُوْلُوْنَ هُوَاُذُنٌ،قُلْ اُذُنُ )عَلَی الَّذِیْنَ یَزْعَمُوْنَ اَنَّهُ اُذُنٌ-(خَیْرٍلَکُمْ،یُومِنُ بِاللّٰهِ وَ یُومِنُ لِلْمُومِنِیْنَ ) ( ۲۲ )
اس مقام پر یہ بات بیان کردینا ضروری ہے کہ”یُومِنُ بِاللّٰهِ “ اللہ ”باء “ کے ساتھ اور”یُومِنُ لِلْمُومِنِیْنَ ‘مو منین ”لام کے ساتھ ان دونوں میں یہ فرق ہے کہ پہلے کا مطلب تصدیق کرنا اور دوسرے کا مطلب تواضع اور احترام کا اظھار کرنا ہے ۔
”اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو رسول کو ستاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ بس کان ہی (کان) ہیں (اے رسول )تم کھدوکہ (کان تو ہیں مگر)تمھاری بھلائی (سننے )کے کان ہیں کہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور مو منین( کی باتوں) کا یقین رکھتے ہیں “( ۲۳ )
ورنہ میں چاہوں تو ”اُذُنْ “کہنے والوں م یںسے ایک ایک کا نام بھی بتاسکتا ہوں،اگر میں چاہوں تو ان کی طرف اشارہ کرسکتا ہوں اور اگرچا ہوں توتمام نشانیوں کے ساتھ ان کاتعارف بھی کراسکتا ہوں ،لیکن میں ان معاملات میں کرم اور بزرگی سے کام لیتا ہوں ۔( ۲۴ )
لیکن ان تمام باتوں کے باوجود مرضی خدا یھی ہے کہ میں اس حکم کی تبلیغ کردوں۔
اس کے بعد آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اس آیت کی تلا وت فرما ئی :
( یٰاایُّهَاالرَّسُوْلُ بَلِّغْ مٰااُنزِلَ اِلَیکَ مِنْ رَبِّک (فِیْ حَقِّ عَلِیْ )وَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمٰابَلَّغْتَ رِسٰالَتَهُ وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنَ النّٰاسِ ) ( ۲۵ )
”اے رسول!جوحکم تمھاری طرف علیعليهالسلام کے سلسلہ میں نازل کیاگیا ہے ،اسے پہنچادو،اوراگرتم نے ایسانہ کیاتورسالت کی تبلیغ نہیں کی اوراللہ تمہیں لوگوںکے شرسے محفوظ رکہے گا “
۳ بارہ اماموں کی امامت اور ولایت کا قانونی اعلان
لوگو! جان لو(اس سلسلہ میںخبر دار رہواس کو سمجھواور مطلع ہوجاؤ) ہوکہ اللہ نے علی کو تمھارا ولی اور امام بنادیا ہے اور ان کی اطاعت کو تمام مھاجرین ،انصار اورنیکی میں ان کے تابعین اور ہر شھری، دیھاتی، عجمی، عربی، آزاد، غلام، صغیر، کبیر، سیاہ، سفید پر واجب کردیا ہے ۔ہر توحید پرست( ۲۶ ) کیلئے ان کا حکم جاری،ان کا امر نافذ اور ان کا قول قابل اطاعت ہے ،ان کا مخالف ملعون اور ان کا پیرو مستحق رحمت ہے ۔( ۲۷ ) جو ان کی تصدیق کرے گا اور ان کی بات سن کر اطاعت کرے گا اللہ اسکے گناہوں کو بخش دے گا
ایھا الناس ! یہ اس مقام پر میرا آخری قیام ہے لہٰذا میری بات سنو ، اور اطاعت کرو اور اپنے پر ور دگار کے حکم کو تسلیم کرو ۔ اللہ تمھارا رب ، ولی اور پرور دگار ہے اور اس کے بعد اس کا رسول محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم تمھارا حاکم ہے جو آج تم سے خطاب کر رہا ہے ۔( ۲۸ ) اس کے بعد علی تمھارا ولی اور بحکم خدا تمھارا امام ہے اس کے بعد امامت میری ذریت اور اس کی اولاد میں تمھارے خدا و رسول سے ملاقات کے دن تک با قی رہے گی ۔
حلال وھی ہے جس کو اللہ ،رسول اور انھوں(بارہ ائمہ )نے حلال کیا ہے اور حرام وھی ہے جس کو اللہ،رسول اور ان بارہ اماموں نے تم پر حرام کیا ہے ۔ اللہ نے مجہے حرام و حلال کی تعلیم دی ہے اور اس نے اپنی کتاب اور حلال و حرام میں سے جس چیز کا مجہے علم دیا تھا وہ سب میں نے اس( علیعليهالسلام )کے حوالہ کر دیا ۔
ایھا الناس علیعليهالسلام کو دوسروں پر فضیلت دو خداوندعالم نے ہر علم کا احصاء ان میں کر دیا ہے اور کو ئی علم ایسا نہیں ہے جو اللہ نے مجہے عطا نہ کیا ہو اور جو کچھ خدا نے مجہے عطا کیا تھا سب میں نے علیعليهالسلام کے حوالہ کر دیا ہے ۔( ۲۹ ) وہ امام مبین ہیں اور خداوند عالم قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے :
( وَکُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنَاهُ فِیْ اِمَامٍ مُبِیْنٍ ) ( ۳۰ ) ”ھم نے ہر چیز کا احصاء امام مبین میں کردیا ہے “
ایھا لناس ! علیعليهالسلام سے بھٹک نہ جانا ، ان سے بیزار نہ ہو جانا اور ان کی ولایت کا انکار نہ کر دیناکہ وھی حق کی طرف ھدا یت کر نے والے ،حق پر عمل کر نے والے ، باطل کو فنا کر دینے والے اور اس سے روکنے والے ہیں ،انہیں اس راہ میں کسی ملامت کر نے والے کی ملامت کی پروانہیں ہوتی ۔
وہ سب سے پہلے اللہ و رسول پر ایمان لا ئے اور اپنے جی جا ن سے رسول پرقربان تھے وہ اس وقت رسول کے ساتھ تھے جب لوگوں میں سے ان کے علا وہ کوئی عبادت خدا کر نے والا نہ تھا(انھوں نے لوگوں میں سب سے پہلے نماز قائم کی اور میرے ساتھ خدا کی عبادت کی ہے میں نے خداوند عالم کی طرف سے ان کو اپنے بستر پر لیٹنے کا حکم دیاتو وہ بھی اپنی جان فدا کرتے ہو ئے میرے بستر پر سو گئے ۔
ایھا الناس ! انہیں افضل قرار دو کہ انہیں اللہ نے فضیلت دی ہے اور انہیں قبول کرو کہ انہیں اللہ نے امام بنا یا ہے ۔
ایھا الناس ! وہ اللہ کی طرف سے امام ہیں( ۳۱ ) اور جو ان کی ولایت کا انکار کرے گا نہ اس کی توبہ قبول ہوگی اور نہ اس کی بخشش کا کوئی امکان ہے بلکہ اللہ یقینااس امر پر مخالفت کر نے والے کے ساتھ ایسا کرے گااور اسے ہمیشہ ھمیشہ کےلئے بدترین عذاب میں مبتلا کرے گا۔ لہٰذا تم ان کی مخالفت( ۳۲ ) سے بچو کہیں ایسا نہ ہو کہ اس جہنم میں داخل ہو جا و جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں اور جس کو کفار کےلئے مھیا کیا گیا ہے ۔
ایھا الناس ! خدا کی قسم تمام انبیاء علیھم السلام و مرسلین نے مجہے بشارت دی ہے اور میں خاتم الانبیاء والمر سلین اور زمین و آسمان کی تمام مخلوقات کےلئے حجت پر ور دگار ہوں جو اس بات میں شک کرے گا وہ گذشتہ زمانہ جا ہلیت جیسا کا فر ہو جا ئے گا اور جس نے میری کسی ایک بات میں بھی شک کیا اس نے گویا تمام باتوں کو مشکوک قرار دیدیا اورجس نے ہمارے کسی ایک امام کے سلسلہ میں شک کیااس نے تمام اماموںکے بارے میں شک کیااور ہمارے بارے میں شک کرنے والے کا انجام جہنم ہے ۔( ۳۳ )
اس بات کا بیان کردینا بھی ضروری ہے کہ شاید ”جا ہلیت اول کے کفر“ سے دور جاہلیت کے کفر کے درجہ میں سے شدیدترین درجہ ہے ۔
ایھا الناس ! اللہ نے جو مجہے یہ فضیلت عطا کی ہے یہ اس کا کرم اور احسان ہے ۔ اس کے علا وہ کو ئی خدا نہیں ہے اور وہ میری طرف سے تا ابد اور ہر حال میں اسکی حمدو سپاس ہے ۔
ایھا الناس ! علیعليهالسلام کی فضیلت( ۳۴ ) کا اقرار کرو کہ وہ میرے بعد ہر مرد و زن سے افضل و بر تر ہے جب تک اللہ رزق نا زل کررھا ہے اور اس کی مخلو ق با قی ہے ۔ جو میر ی اس بات کو رد کرے اور اس کی موافقت نہ کرے وہ ملعون ہے ملعون ہے اور مغضوب ہے مغضوب ہے ۔ جبرئیل نے مجہے یہ خبر دی ہے( ۳۵ ) کہ پر ور دگار کا ارشاد ہے کہ جو علی سے دشمنی کرے گا اور انہیں اپنا حاکم تسلیم نہ کر ے گا اس پر میری لعنت اور میرا غضب ہے ۔لہٰذا ہر شخص کو یہ دیکھنا چا ہئے کہ اس نے کل کےلئے کیا مھیا کیا ہے ۔اس کی مخالفت کرتے وقت اللہ سے ڈرو ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ راہ حق سے قدم پھسل جا ئیں اور اللہ تمھا رے اعمال سے با خبر ہے ۔
ایھا الناس ! علیعليهالسلام وہ جنب اللہ( ۳۶ ) ہیں جن کاخداوند عالم نے اپنی کتاب میں تذکرہ کیا ہے اور ان کی مخالفت کرنے والے کے با رے میں فرمایا ہے :( اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یَاحَسْرَتَاعَلیٰ مَافَرَّطَّتُ فِیْ جَنْبِ اللّٰهِ ) ( ۳۷ ) ھائے افسوس کہ م یں نے جنب خداکے حق میں بڑی کو تا ہی کی ہے “
ایھا الناس ! قر آن میں فکر کرو ، اس کی آیات کو سمجھو ، محکمات میں غوروفکر کرو اور متشابھات کے پیچہے نہ پڑو ۔ خدا کی قسم قر آن مجید کے باطن اور اس کی تفسیر( ۳۸ ) کو اس کے علاوہ اور کو ئی واضح نہ کرسکے گا۔( ۳۹ )
جس کا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہے اور جس کا بازو تھام کر میں نے بلند کیا ہے اور جس کے بارے میں یہ بتا رہا ہوں کہ جس کا میں مو لا ہوں اس کا یہ علیعليهالسلام مو لا ہے ۔ یہ علی بن ابی طالبعليهالسلام میرا بھائی ہے اور وصی بھی ۔ اس کی ولایت کا حکم اللہ کی طرف سے ہے جو مجھ پر نا زل ہوا ہے ۔
ایھا الناس ! علیعليهالسلام اوران کی نسل سے میری پاکیزہ اولاد ثقل اصغر ہیں اور قرآن ثقل اکبر ہے( ۴۰ ) ان میں سے ہر ایک دوسرے کی خبر دیتا ہے اور اس سے جدا نہ ہوگا یھاں تک کہ دونوں حوض کو ثر پر وارد ہوں گے جان لو! میرے یہ فرزند مخلوقات میں خدا کے امین اور زمین میں خدا کے حکام ہیں ۔( ۴۱ )
آگاہ ہو جاو میں نے میں نے اداکر دیا میں نے پیغام کو پہنچا دیا ۔میں نے بات سنا دی، میں نے حق کو واضح کر دیا،( ۴۲ ) آگاہ ہو جا و جو اللہ نے کہا وہ میں نے دھرا دیا۔ پھر آگاہ ہو جاو کہ امیر المو منین میرے اس بھا ئی کے علاوہ کو ئی نہیں ہے( ۴۳ ) اور اس کے علاوہ یہ منصب کسی کےلئے سزا وار نہیں ہے ۔
۴ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ھاتھوں پر امیرا لمومنین علیہ السلام کا تعارف
(اس کے بعد علیعليهالسلام کو اپنے ھا تھوں پرپازوپکڑکر بلند کیا یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت علی علیہ السلام منبر پر پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ایک زینہ نیچے کھڑے ہوئے تھے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دائیں طرف ما ئل تھے گویا دونوں ایک ہی مقام پر کھڑے ہو ئے ہیں ۔
اس کے بعد پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے دست مبارک سے حضرت علی علیہ السلام کو بلند کیا اور ان کے دونوں ھاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھایااورعلیعليهالسلام کو اتنابلند کیا کہ آپعليهالسلام کے قدم مبارک آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گھٹنوں کے برابر آگئے۔( ۴۴ ) اس کے بعد آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فر مایا :
ایھا الناس !یہ علیعليهالسلام میرا بھائی اور وصی اور میرے علم کا مخزن( ۴۵ ) اورمیری امت میں سے مجھ پر ایمان لانے والوںکے لئے میرا خلیفہ ہے اور کتاب خدا کی تفسیر کی رو سے بھی میرا جانشین ہے یہ خدا کی طرف دعوت دینے والا ،اس کی مر ضی کے مطابق عمل کر نے والا ،اس کے دشمنوں سے جھاد کر نے والا، اس کی اطاعت( ۴۶ ) ۔ پر ساتھ دینے والا ، اس کی معصیت سے رو کنے والا ۔
یہ اس کے رسول کا جا نشین اور مو منین کا امیر ،ہدایت کرنے والاامام ہے اورناکثین( بیعت شکن ) قاسطین (ظالم) اور مارقین (خا رجی افرا( ۴۷ ) سے جھاد کر نے والا ہے ۔
خداوند عالم فر ماتا ہے :( مٰایُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ ) ( ۴۸ ) ”میرے پاس بات میں تبدیلی نہیں ہو تی ہے “ خدایا تیرے حکم سے کہہ رہا ہوں( ۴۹ ) ۔خدا یا علیعليهالسلام کے دوست کو دوست رکھنا اور علیعليهالسلام کے دشمن کو دشمن قرار دینا ،جو علیعليهالسلام کی مدد کرے اس کی مدد کرنا اور جو علیعليهالسلام کو ذلیل و رسوا کرے تو اس کو ذلیل و رسوا کرناان کے منکر پر لعنت کر نا اور ان کے حق کا انکارکر نے والے پر غضب نا زل کرنا ۔
پر ور دگا را ! تو نے اس مطلب کو بیان کرتے وقت اور آج کے دن علیعليهالسلام کو تاج ولایت پہناتے وقت علیعليهالسلام کے بارے میں یہ آیت نازل فر ما ئی:
( الْیَوْمَ اکْمَلْتُ لَکُمْ دینَکُمْ وَاتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتی وَرَضیتُ لَکُمْ الاِسْلاٰمَ دیناً ) ( ۵۰ )
”آج میںنے دین کو کا مل کر دیا ،نعمت کو تمام کر دیا اور اسلام کو پسندیدہ دین قرار دیدیا“
( وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَالاِسْلاٰمِ دیناًفَلَنْ یُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَفِی الْآخِرَةِمِنَ الْخاسِرینَ ) ( ۵۱ )
”اور جو اسلام کے علاوہ کو ئی دین تلاش کر ے گا وہ دین قبول نہ کیا جا ئے گا اور وہ شخص آخرت میں خسارہ والوں میں ہو گا “
پرور دگارا میں تجہے گواہ قرار دیتا ہوں کہ میں نے تیرے حکم کی تبلیغ کر دی ۔( ۵۲ )
۵ مسئلہ امامت پر امت کی توجہ پر زور دینا
ایھا الناس !اللہ نے دین کی تکمیل علیعليهالسلام کی امامت سے کی ہے ۔لہٰذا جو علیعليهالسلام اور ان کے صلب سے آنے والی میری اولاد کی امامت کا اقرار نہ کرے گا ۔اس کے دنیا و آخرت کے تمام اعمال بر باد ہو جا ئیں گے( ۵۳ ) وہ جہنم میں ہمیشہ ھمیشہ رہے گا ۔ ایسے لوگوں کے عذاب میں کو ئی تخفیف نہ ہو گی اور نہ انہیں مھلت دی جا ئے گی ۔
ایھا الناس ! یہ علیعليهالسلام ہے تم میں سب سے زیادہ میری مدد کر نے والا ، تم میں سے میرے سب سے زیادہ قریب تر اور میری نگاہ میں عزیز تر ہے ۔اللہ اور میں دونوں اس سے را ضی ہیں ۔قرآن کریم میں جو بھی رضا کی آیت ہے وہ اسی کے با رے میں ہے اور جھاں بھی یا ایھا الذین آ منوا کہا گیا ہے اس کا پہلا مخا طب یھی ہے قرآن میںھر آیت مدح اسی کے با رے میں ہے ۔ سورہ ھل اتیٰ میں جنت کی شھا دت صرف اسی( ۵۴ ) کے حق میں دی گئی ہے اور یہ سورہ اس کے علا وہ کسی غیر کی مدح میں نا زل نہیں ہوا ہے ۔
ایھا الناس ! یہ دین خدا کا مدد گار ، رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم ( ۵۵ ) سے دفاع کر نے والا ، متقی ، پا کیزہ صفت ، ھا دی اور مھدی ہے ۔تمھارا نبی سب سے بہترین نبی اور اس کا وصی بہترین وصی ہے اور اس کی اولاد بہترین او صیاء ہیں ۔
ایھا الناس !ھر نبی کی ذریت اس کے صلب سے ہو تی ہے اور میری ذریت علیعليهالسلام کے صلب سے ہے
ایھا الناس ! ابلیس نے حسد کر کے آدم کو جنت سے نکلوادیا لہٰذا خبر دار تم علی سے حسد نہ کرنا کہ تمھارے اعمال برباد ہو جا ئیں ،اور تمھا رے قد موں میں لغزش پیدا ہو جا ئے ،آدم صفی اللہ ہو نے کے با وجود ایک ترک او لیٰ پر زمین میں بھیج دئے گئے تو تم کیا ہو اور تمھاری( ۵۶ ) کیا حقیقت ہے ۔تم میں دشمنان خدا بھی پا ئے جا تے ہیں( ۵۷ ) یاد رکھو علی کا دشمن صرف شقی ہو گا اور علی کا دوست صرف تقی ہو گا اس پر ایمان رکھنے والاصرف مو من مخلص ہی ہو سکتا ہے اور خدا کی قسم علیعليهالسلام کے با رے میںھی سورہ عصر نا زل ہوا ہے ۔
( بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَالْعَصْرِاِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْر ) ( ۵۸ )
”بنام خدائے رحمان و رحیم ۔قسم ہے عصر کی ،بیشک انسان خسارہ میں ہے “مگر علیعليهالسلام جو ایمان لا ئے اور حق اور صبر پر راضی ہو ئے ۔
ایھا الناس !میں نے خدا کو گواہ بناکر اپنے پیغام کو پہنچا دیا اور رسول کی ذمہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔ایھا الناس !اللہ سے ڈرو ،جو ڈرنے کا حق ہے اور خبر دار !اس وقت تک دنیا سے نہ جانا جب تک اس کے اطاعت گذار نہ ہو جا ؤ ۔
۶ منافقوں کی کار شکنیوں کی طرف اشارہ
ایھا الناس !”اللہ ، اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور اس نور پر ایمان لا و جو اس کے ساتھ نا زل کیا گیا ہے ۔قبل اس کے کہ خدا کچھ چھروں کو بگا ڑ کر انہیں پشت کی طرف پھیر دے یا ان پر اصحاب سبت کی طرح لعنت کرے “( ۵۹ )
جملہ ” جو شخص اپنے دل میں علیعليهالسلام سے محبت اور بغض کے مطابق عمل کرتا ہے “کی آٹھویں حصہ کے دوسرے جزء میں وضاحت کی جا ئے گی ۔
خدا کی قسم اس آیت سے میرے اصحاب کی ایک قوم کا قصد کیا گیا ہے کہ جن کے نام و نسب سے میں آشنا ہوں لیکن مجہے ان سے پردہ پوشی کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔پس ہر انسان اپنے دل میں حضرت علی علیہ السلام کی محبت یا بغض کے مطابق عمل کرتاہے ۔
ایھا الناس !نور کی پہلی منزل میں ہوں( ۶۰ ) میرے بعد علیعليهالسلام اور ان کے بعد ان کی نسل ہے اور یہ سلسلہ ا س مھدی قائم تک بر قرار رہے گاجو اللہ کاحق اورھما راحق حا صل کر ے گا( ۶۱ ) چو نکہ اللہ نے ہم کو تمام مقصرین ،معا ندین ،مخا لفین ،خا ئنین ،آثمین اور ظالمین کے مقابلہ میں اپنی حجت قرار دیا ہے ۔( ۶۲ )
ایھا الناس !میں تمہیں با خبر کرنا چا ہتا ہوں کہ میں تمھا رے لئے اللہ کا نما ئندہ ہوں جس سے پہلے بہت سے رسول گذر چکے ہیں ۔ تو کیا میں مر جا وں یا قتل ہو جا ؤں تو تم اپنے پرا نے دین پر پلٹ جا و گے ؟ تو یاد رکھو جو پلٹ جا ئے گا وہ اللہ کا کو ئی نقصان نہیں کرے گا اور اللہ شکر کرنے والوں کو جزا دینے والا ہے ۔آگاہ ہو جا و کہ علیعليهالسلام کے صبر و شکر کی تعریف کی گئی ہے اور ان کے بعد میری اولا د کو صابر و شاکر قرار دیا گیا ہے ۔جو ان کے صلب سے ہے ۔
ایھا الناس !مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ رکھوبلکہ خدا پر بھی احسان نہ سمجھوکہ وہ تمھارے اعمال کو نیست و نابود کردے اور تم سے ناراض ہو جا ئے ،اور تمہیں آگ اور”پگھلے ہوئے “تانبے کے عذاب میں مبتلا کردے تمھارا پروردگار مسلسل تم کو نگاہ میں رکہے ہو ئے ہے ۔( ۶۳ )
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ”پھلے صحیفہ ملعونہ “کی طرف اشارہ فر مایا ہے جس پرمنافقین کے پانچ بڑے افراد نے حجة الوداع کے موقع پر کعبہ میں دستخط کئے تھے جس کا خلاصہ یہ تھا کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد خلافت ان کے اہل بیت علیھم السلام تک نہیں پہنچنی چا ہئے اس سلسلہ میں اس کتاب کے تیسرے حصہ کے دوسرے جزء کی طرف رجوع کیجئے “
ایھا الناس !عنقریب میرے بعد ایسے امام آئیں گے جو جہنم کی دعوت دیں گے اور قیامت کے دن ان کا کو ئی مدد گار نہ ہو گا ۔اللہ اور میں دونوں ان لوگوں سے بیزار ہیں ۔
ایھا الناس !یہ لوگ اور ان کے اتباع و انصار سب جہنم کے پست ترین درجے میں ہو ں گے اور یہ متکبر لوگو ں کا بد ترین ٹھکانا ہے ۔آگاہ ہو جا و کہ یہ لوگ اصحاب صحیفہ( ۶۴ ) ہیں لہٰذاتم میں سے ہر ایک اپنے صحیفہ پر نظر رکہے ۔
راوی کہتا ہے :جس وقت پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی زبان مبارک سے ”صحیفہ ملعونہ “کا نام ادا کیا اکثر لوگ آپ کے اس کلام کا مقصد نہ سمجھ سکے اور اذھان میں سوال ابھر نے لگے صرف لوگوں کی قلیل جما عت آپ کے اس کلام کا مقصد سمجھ پائی ۔
ایھا الناس !آگاہ ہو جا و کہ میں خلافت کو امامت اوروراثت کے طورپر قیامت تک کےلئے اپنی اولاد میں امانت قرار دے کر جا رہا ہوں اور مجہے جس امر کی تبلیغ کا حکم دیا گیا تھا میں نے اس کی تبلیغ کر دی ہے تا کہ ہر حا ضر و غائب ،مو جود و غیر مو جود ، مو لود و غیر مو لود سب پر حجت تمام ہو جا ئے ۔ اب حا ضر کا فریضہ ہے کہ قیامت تک اس پیغام کوغائب تک اورماں باپ اپنی اولاد کے حوالہ کر تے رہیں ۔
میرے بعد عنقریب لوگ اس امامت(خلافت) کو باشاہت سمجھ کرغصبی( ۶۵ ) غصب کرلیں گے ،خدا غا صبین اور تجاوز کرنے والوں پر لعنت کرے ۔یہ وہ وقت ہوگا جب (اے جن و انس( ۶۶ ) تم پر عذاب آئے گا آگ اور(پگھلے ہوئے) تانبے کے شعلے بر سا ئے جا ئیں گے جب کو ئی کسی کی مدد کرنے والا نہ ہو گا ۔( ۶۷ )
ایھا الناس !اللہ تم کو انہیں حالات میں نہ چھو ڑے گا جب تک خبیث اور طیب کو الگ الگ نہ کر ایھا الناس !کوئی قریہ( ۶۸ ) ایسا نہیں ہے مگر یہ کہ اللہ (اس میں رہنے والوںکو آیات الٰہی کی تکذیب کی بنا پر) ھلا ک کر دےگااور اسے حضرت مھدی کی حکومت کے زیر سلطہ لے آئے گا یہ اللہ کا وعدہ ہے اوراللہ صا دق الوعد ہے ۔( ۶۹ )
ایھا الناس !تم سے پہلے اکثر لوگ ھلاک ہو چکے ہیں اور اللہ ہی نے ان لوگوں کو ھلاک کیا ہے( ۷۰ ) اور وھی بعد والوںکو ھلا ک کر نے والا ہے ۔خداوند عالم کا فرمان ہے :
( الَمْ نُهْلِکِ الْاوَّلینَ،ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْآخِرینَ،کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمینَ،وَیْلٌ یَوْمَئِذٍ لِلْمُکَذِّبینَ ) ( ۷۱ )
”کیا ہم نے ان کے پہلے والوں کو ھلاک نہیں کردیا ہے پھر دوسرے لوگوں کو بھی انہیں کے پیچہے لگا دیں گے ہم مجرموں کے ساتھ اسی طرح کا بر تاو کرتے ہیں اور آج کے دن جھٹلانے والوں کے لئے بربادی ہی بربادی ہے “
ایھا الناس !اللہ نے مجہے امر و نھی کی ہدایت کی ہے اور میں نے اللہ کے حکم سے علیعليهالسلام کوامر ونھی کیا ہے ۔ وہ امر و نھی الٰہی سے با خبر ہیں ۔( ۷۲ ) ان کے امر کی اطاعت کرو تاکہ سلا متی پا و ، ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پا و ان کے روکنے پر رک جا و تاکہ راہ راست پر آجا و ۔ان کی مر ضی پر چلو اور مختلف راستے تمہیں اس کی راہ سے منحرف کردیں گے ۔
۷ اہل بیت علیھم السلام کے پیرو کار اور ان کے دشمن
میں وہ صراط مستقیم ہوں جس کی اتباع کا خدا نے حکم دیا ہے ۔( ۷۳ ) پھر میرے بعد علیعليهالسلام ہیں اور ان کے بعد میری اولاد جو ان کے صلب سے ہے یہ سب وہ امام ہیں جو حق کے ساتھ ہدایت کر تے ہیں اور حق کے ساتھ انصاف کر تے ہیں ۔
اس کے بعد آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس طرح فرمایا :( بسم الله الرحمٰن الرحیم، الحمد لله رب العا لمین ) سورہ الحمد کی تلاوت کے بعد آپ نے اس طرح فرمایا :
خدا کی قسم یہ سورہ میرے اور میری اولاد کے با رے میں نا زل ہوا ہے ، اس میں اولاد کےلئے عمو میت بھی ہے اور اولاد کے ساتھ خصوصیت بھی ہے ۔( ۷۴ ) یھی خدا کے دوست ہیں جن کےلئے نہ کوئی خو ف ہے اور نہ کو ئی حزن ! یہ حزب اللہ ہیں جو ہمیشہ غالب رہنے والے ہیں ۔
آگاہ ہو جا و کہ دشمنان علی ہی اہل تفرقہ ، اہل تعدی اور برادران شیطان ہیں جواباطیل کوخواھشات نفسانی کی وجہ سے ایک دوسرے تک پہونچا تے ہیں ۔( ۷۵ )
آگاہ ہو جا و کہ ان کے دوست ہی مو منین بر حق ہیں جن کا ذکر پر ور دگار نے اپنی کتاب میں کیا ہے :
( لَاتَجِدُ قَوْماًیُومِنُوْنَ بِاللهِ والْیَوْمِ الْآخِرِیُوَادُّوْنَ مَنْ حَادَّاللهَ وَرَسُوْلَه وَلَوْ کَانُوْااٰبَائَهُمْ اَوْاَبْنَائَهُمْ اَوْاِخْوَانَهُمْ اَوْعَشِیْرَتَهُمْ ،اُولٰئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِم الاِیْمَانَ ) ( ۷۶ )
”آپ کبھی نہ دیکہیں گے کہ جوقوم اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والی ہے وہ ان لوگوں سے دوستی کر رہی ہے جو اللہ اور رسول سے دشمنی کر نے والے ہیں چا ہے وہ ان کے باپ دادا یا اولاد یا برادران یا عشیرة اور قبیلہ والے ہی کیوں نہ ہوں اللہ نے صاحبان ایمان کے دلوں میں ایمان لکھ دیا ہے “
آگاہ ہو جا و کہ ان (اہل بیت )کے دوست ہی وہ افراد ہیں جن کی توصیف پر ور دگار نے اس انداز سے کی ہے :( الَّذِیْنَ آمَنُوْاوَلَمْ یَلْبَسُوْااِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُوْلٰئِکَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُوْن ) ( ۷۷ )
” جو لوگ ایمان لا ئے اور انھوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہیں کیا انہیں کےلئے امن ہے اور وھی ہدایت یا فتہ ہیں “
آگاہ ہو جا ؤ کہ ان کے دوست وھی ہیں جو ایمان لائے ہیں اور شک میں نہیں پڑے ہیں ۔
آگاہ ہوجاو کہ ان کے دوست ہی وہ ہیں جوجنت میں امن و سکون کے ساتھ داخل ہو ں گے اور ملا ئکہ سلام کے ساتھ یہ کہہ کے ان کا استقبال کریں گے کہ تم طیب و طاھر ہو ، لہٰذا جنت میں ہمیشہ ھمیشہ کےلئے داخل ہو جا و “
آگاہ ہو جا و کہ ان کے دوست ہی وہ ہیں جن کے لئے جنت ہے اور انہیں جنت میں بغیر حساب رزق دیاجائیگا ۔( ۷۸ )
آگاہ ہو جا و کہ ان (اہل بیت ) کے دشمن ہی وہ ہیں جوآتش جہنم کے شعلوں میںداخل ہوں گے۔
آگاہ ہو جا و کہ ان کے دشمن وہ ہیں جوجہنم کی آواز اُس عالم میں سنیں گے کہ اس کے شعلے بھڑک
رہے ہوں گے اور وہ ان کو دیکہیں گے ۔
آگاہ ہو جا و کہ ان کے دشمن وہ ہیں جن کے با رے میں خدا وند عالم فر ماتا ہے :
( کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَعَنَتْ اُخْتَهَا ) ( ۷۹ )
” (جہنم میں) داخل ہو نے والاھر گروہ دوسرے گروہ پر لعنت کرے گا ۔۔۔ ‘ ‘
آگاہ ہو جا و کہ ان کے دشمن ہی وہ ہیں جن کے با رے میں پر ور دگار کا فرمان ہے :
( کُلَّمَا اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَالَهُمْ خَزْنَتُهَااَلَمْ یَاتِکُمْ نَذِیْرٌ. قَالُوْابَلَیٰ قَدْجَاءَ نَانَذِیْرٌفَکَذَّبْنَاوَقُلْنَامَانَزَّلَ اللهُ مِنْ شَیْءٍ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّافِیْ ضَلَالٍ کَبِیْرٍ. اَلَا فَسُحْقاًلِاَصْحَا بِ السَّعِیْرِ ) ( ۸۰ )
” جب کوئی گروہ داخل جہنم ہو گا تو جہنم کے خازن سوال کریں گے کیا تمھا رے پاس کو ئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا ؟تو وہ کہیں گے آیا تو تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلا دیا اور یہ کہہ دیا کہ اللہ نے کچھ بھی نا زل نہیں کیا ہے تم لوگ خود بہت بڑی گمرا ہی میں مبتلا ہو۔۔۔آگاہ ہوجا ؤ تو اب جہنم والوں کےلئے تو رحمت خدا سے دوری ہی دوری ہے “( ۸۱ )
آگاہ ہو جا و کہ ان کے دوست ہی وہ ہیں جو اللہ سے از غیب ڈرتے ہیں( ۸۲ ) اور انہیں کےلئے مغفرت اور اجر عظیم ہے ۔
ایھا الناس!دیکھو آگ کے شعلوں اوراجر عظیم کے ما بین کتنا فا صلہ ہے ۔( ۸۳ )
ایھا الناس!ہمارا دشمن وہ ہے جس کی اللہ نے مذمت کی اور اس پر لعنت کی ہے اور ہمارا دوست وہ ہے جس کی اللہ نے تعریف کی ہے اور اس کو دوست رکھتا ہے ۔
ایھا الناس!آگاہ ہو جا و کہ میں ڈرانے والا ہو ں اور علیعليهالسلام بشارت دینے والے ہیں ۔( ۸۴ )
ایھا الناس!میں انذار کرنے والا اور علیعليهالسلام ہدایت کرنے والے ہیں ۔
ایھا الناس!میں پیغمبر ہوں اور علیعليهالسلام میرے جا نشین ہیں ۔
ایھا الناس!آگاہ ہو جا و میں پیغمبر ہوں اور علیعليهالسلام میرے بعد امام اور میرے وصی ہیں اوران کے بعد کے امام ان کے فرزند ہیں آگاہ ہو جاو کہ میں ان کا باپ ہوں اور وہ اس کے صلب سے پیدا ہو نگے۔
۸ حضرت مھدی عج۔۔
یاد رکھو کہ آخری امام ہمارا ہی قائم مھدی ہے ، وہ ادیان پر غالب آنے والا اور ظالموں سے انتقام لینے والا ہے ،وھی قلعوں کو فتح کر نے والا اور ان کو منھدم کر نے والا ہے ،وھی مشرکین کے ہر گروہ پر غالب اور ان کی ہدایت کر نے والا ہے ۔( ۸۵ )
آگاہ ہوجا ؤ وھی اولیاء خداکے خون کا انتقام لینے والااور دین خدا کا مدد گار ہے جان لو!کہ وہ عمیق سمندر سے استفادہ کر نے والا ہے ۔( ۸۶ )
عمیق دریا سے مراد میں چند احتمال پائے جا تے ہیں ،منجملہ دریائے علم الٰہی ،یا دریائے قدرت الٰہی ،یا اس سے مراد قدرتوں کا وہ مجمو عہ ہے جو خداوند عالم نے امام علیہ السلام کو مختلف جہتوں سے عطا فر مایا ہے “
وھی ہر صاحب فضل پر اس کے فضل اور ہر جا ھل پر اس کی جھالت کا نشانہ لگا نے والا ہے ۔( ۸۷ )
آگاہ ہو جا و کہ وھی اللہ کا منتخب اور پسندیدہ ہے ، وھی ہر علم کا وارث اور اس پر احا طہ رکھنے والا ہے ۔
آگاہ ہو جا ؤوھی پرور دگار کی طرف سے خبر دینے والا اورآیات الٰہی کو بلند کر نے والا ہے( ۸۸ ) وھی رشید اور صراط مستقیم پر چلنے والا ہے اسی کو اللہ نے اپنا قانون سپرد کیا ہے ۔
اسی کی بشارت دور سابق میں دی گئی ہے ۔( ۸۹ ) وھی حجت با قی ہے اور اس کے بعد کو ئی حجت نہیں ہے ، ہر حق اس کے ساتھ ہے اور ہر نور اس کے پاس ہے ، اس پر کو ئی غالب آنے والا نہیں ہے وہ زمین پر خدا کا حاکم ، مخلوقات میں اس کی طرف سے حَکَم اور خفیہ اور علانیہ ہر مسئلہ میں اس کا امین ہے ۔
۹ بیعت کی وضاحت
ایھا الناس!میں نے سب بیان کر دیا اور سمجھا دیا ،اب میرے بعد یہ علی تمہیں سمجھا ئیں گے
آگاو ہو جا و ! کہ میں تمہیں خطبہ کے اختتام پر اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ پہلے میرے ہاتھ پر ان کی بیعت کا اقرار کرو ،( ۹۰ ) اس کے بعد ان کے ہاتھ پر بیعت کرو ، میں نے اللہ کے ساتھ بیعت کی ہے اور علیعليهالسلام نے میری بیعت کی ہے اور میں خدا وند عالم کی جا نب سے تم سے علی(ع)کی بیعت لے رہا ہوں (خدا فرماتا ہے )( ۹۱ ) :( اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَایُبَایِعُوْنَ اللهَ یَدُ اللهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ فَمَنْ نَکَثَ فَاِنَّمَایَنْکُثُ عَلیٰ نَفْسِه وَمَنْ اَوْفَیٰ بِمَاعَاهَدَ عَلَیْهُ اللهَ فَسَیُوْتِیْهِ اَجْراًعَظِیْماً )
” بیشک جو لوگ آپ کی بیعت کر تے ہیں وہ درحقیقت اللہ کی بیعت کر تے ہیں اور ان کے ھا تھوں کے اوپر اللہ ہی کا ھا تھ ہے اب اس کے بعد جو بیعت کو توڑ دیتا ہے وہ اپنے ہی خلاف اقدام کر تا ہے اور جو عہد الٰہی کو پورا کر تا ہے خدا اسی کو اجر عظیم عطا کر ے گا “
۱۰ حلال و حرام ،واجبات اور محرمات
ایھا الناس!یہ حج اور عمرہ اور یہ صفا و مروہ سب شعا ئر اللہ ہیں (خدا وند عالم فر ماتا ہے :( ۹۲ )
( فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِعتَمَرَفَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا ) ( ۹۳ ) ”لہٰذا جوشخص بھی حج یا عمرہ کر ے اس کےلئے کو ئی حرج نہیں ہے کہ وہ ان دونوں پھا ڑیوں کا چکر لگا ئے “
ایھا الناس!خا نہ خدا کا حج کرو جو لوگ یھاں آجاتے ہیں وہ بے نیاز ہو جا تے ہیں خوش ہوتے ہیں اور جو ا س سے الگ ہو جا تے ہیں وہ محتاج ہو جا تے ہیں ۔( ۹۴ )
ایھا الناس!کو ئی مو من کسی مو قف(عرفات ،مشعر ،منی ) میں وقوف( ۹۵ ) ہیں کرتا مگر یہ کہ خدا اس وقت تک کے گناہ معاف کر دیتا ہے ،لہٰذا حج کے بعد اسے از سر نو نیک اعمال کا سلسلہ شروع کرنا چاہئے
ایھا الناس!حجا ج کی مدد کی جاتی ہے اور ان کے اخراجات کا اس کی طرف سے معا وضہ دیا جاتا ہے اور اللہ محسنین کے اجر کو ضا ئع نہیں کرتا ہے ۔
ایھا الناس!پورے دین اور معرفت احکام کے ساتھ حج بیت اللہ کرو ،اور جب وہ مقدس مقامات سے واپس ہو تو مکمل توبہ اور ترک گنا ہ کے ساتھ ۔
ایھا الناس!نماز قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو جس طرح اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے( ۹۶ ) اگر وقت زیادہ گذر گیا ہے اور تم نے کو تا ہی و نسیان سے کام لیا ہے تو علیعليهالسلام تمھا رے ولی اور تمھارے لئے بیان کر نے والے ہیں جن کو اللہ نے میرے بعداپنی مخلوق پرامین بنایا ہے اور میرا جا نشین بنایا ہے وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ۔( ۹۷ )
وہ اور جو میری نسل سے ہیں وہ تمھارے ہر سوال کا جواب دیں گے اور جو کچھ تم نہیں جا نتے ہو سب بیان کر دیں گے ۔
آگاہ ہو جاو کہ حلا ل و حرام اتنے زیادہ ہیں کہ سب کا احصاء اور بیان ممکن نہیں ہے ۔مجہے اس مقام پر تمام حلال و حرام کی امر و نھی کرنے اور تم سے بیعت لینے کا حکم دیا گیاہے اور تم سے یہ عہد لے لوں کہ جو پیغام علیعليهالسلام اور ان کے بعد کے ائمہ کے با رے میں خدا کی طرف سے لا یا ہوں ،تم ان سب کا اقرار کرلوکہ یہ سب میری نسل اور اس (علیعليهالسلام )سے ہیں اور امامت صرف انہیں کے ذریعہ قائم ہوگی ان کا آخری مھدی ہے جو قیا مت تک حق کے ساتھ فیصلہ کر تا رہے گا “
ایھا الناس!میں نے جس جس حلال کی تمھارے لئے رہنما ئی کی ہے اور جس جس حرام سے روکا ہے کسی سے نہ رجوع کیا ہے اور نہ ان میں کو ئی تبدیلی کی ہے لہٰذا تم اسے یاد رکھو( ۹۸ ) اور محفوظ کرلو، ایک میں پھر اپنے لفظوں کی تکرار کر تا ہوں :نماز قا ئم کرو ، زکوٰة ادا کرو ، نیکیوں کا حکم دو ، برا ئیوں سے روکو ۔
اور یہ یاد رکھو کہ امر با لمعروف کی اصل یہ ہے کہ میری بات کی تہہ تک پہنچ جا و اور جو لوگ حاضر نہیں ہیں ان تک پہنچا و اور اس کے قبول کر نے کا حکم دو اور اس کی مخالفت سے منع کرو( ۹۹ ) اس لئے کہ یھی اللہ کا حکم ہے اور یھی میرا حکم بھی ہے( ۱۰۰ ) اور امام معصوم کو چھو ڑ کر نہ کو ئی امر با لمعروف ہو سکتا ہے اور نہ نھی عن المنکر ۔( ۱۰۱ )
ایھا الناس!قرآن نے بھی تمہیں سمجھا یا ہے کہ علیعليهالسلام کے بعد امام ان کے فرزند ہیں اور میں نے تم کو یہ بھی سمجھاد یا ہے کہ یہ سب میری اور علی کی نسل سے ہیں جیساکہ پر ور دگار نے فر مایا ہے :
( وَجَعَلَهَاکَلِمَةً بَاقِیَةً فِیْ عَقَبِهِ ) ( ۱۰۲ )
” اللہ نے (امامت )انہیں کی اولاد میں کلمہ با قیہ قرار دیا ہے “اور میں نے بھی تمہیں بتا دیا ہے کہ جب تک تم قرآن اور عترت سے متمسک رہو گے ہر گزگمراہ نہ ہو گے( ۱۰۳ )
ایھا الناس!تقویٰ اختیار کرو تقویٰ۔قیا مت سے ڈروجیسا کہ خدا وندعالم نے فر مایا ہے :
( اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ ) ( ۱۰۴ )
” زلزلہ قیامت بڑی عظیم شی ہے “
موت ، قیامت ،حساب، میزان ،اللہ کی با رگاہ کا محا سبہ ،ثواب اور عذاب سب کو یاد کرو کہ وہاں نیکیوں پر ثواب ملتا ہے( ۱۰۵ ) اور برا ئی کر نے والے کا جنت میں کو ئی حصہ نہیں ہے ۔
۱۱ قانونی طور پر بیعت لینا
ایھا الناس!تمھاری تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ایک ایک میرے ہاتھ پر ہاتھ ما ر کر بیعت نہیں کر سکتے ہو ۔لہٰذا اللہ نے مجہے حکم دیا ہے کہ میں تمھاری زبا ن سے علیعليهالسلام کے امیر المو منین( ۱۰۶ ) ہو نے اور ان کے بعد کے ائمہ جو ان کے صلب سے میری ذریت ہیں سب کی امامت کا اقرار لے لوں اور میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ میرے فرزند ان کے صلب سے ہیں ۔
لہٰذا تم سب مل کر کہو :ھم سب آپ کی بات سننے والے ، اطاعت کر نے والے ، راضی رہنے والے اور علیعليهالسلام اور اولاد علیعليهالسلام کی امامت کے با رے میں جو پروردگار کا پیغام پہنچایا ہے اس کے سا منے سر تسلیم خم کر نے والے ہیں ۔ھم اس بات پر اپنے دل ، اپنی روح ، اپنی زبان اور اپنے ھا تھوں سے آپ کی بیعت کر رہے ہیں اسی پر زندہ رہیں گے ، اسی پر مریں گے اور اسی پر دو بارہ اٹہیں گے ۔نہ کو ئی تغیر و تبدیلی کریں گے اور نہ کسی شک و ریب میں مبتلا ہو ں گے ، نہ عہد سے پلٹیں گے نہ میثاق کو تو ڑیں گے ۔
اورجن کے متعلق آپ نے فرمایا ہے کہ وہ علی امیر المومنین اور ان کی اولاد ائمہ آپ کی ذرّیت میںسے ہیں ان کی اطاعت کریں گے ۔جن میںسے حسن وحسین ہیں اور ان کے بعد جن کو اللہ نے یہ منصب دیا ہے اور جن کے بارے میں ہم سے ہمارے دلوں،ہماری جانوںہماری زبانوں ہمارے ضمیروں اور ہمارے ھاتھوںسے عھدوپیمان لے لیاگیا ہے ہم اسکا کوئی بدل پسند نہیں کریں گے ،اور اس میں خدا ہمارے نفسوں میں کوئی تغیر و تبدل نہیں دیکہے گا۔
ھم ان مطالب کو آپ کے قول مبارک کے ذریعہ اپنے قریب اور دور سبھی اولاد اور رشتہ داروں تک پہنچا دیں گے اورھم اس پر خدا کو گواہ بناتے ہیں اور ہماری گواھی کے لئے اللہ کافی ہے اور آپ بھی ہمارے گواہ ہیں ۔( ۱۰۷ )
ایھاالناس!اللہ سے بیعت کرو ،علیعليهالسلام امیر المومنین ہونے اور حسن وحسین اور ان کی نسل سے باقی ائمہ کی امامت کے عنوان سے بیعت کرو۔جو غداری کرے گا اسے اللہ ھلاک کردے گا اور جو وفا کرے گا اس پر رحمت نازل کرے گا اور جو عہد کو توڑدے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور جو شخص خداوند عالم سے باندہے ہوئے عہد کو وفا کرے گا خدوند عالم اس کو اجر عظیم عطا کرے گا ۔
ایھاالناس !جومیں نے کہا ہے وہ کہو اور علی کو امیر المومنین کہہ کر سلام کرو،( ۱۰۸ ) اور یہ کہو کہ پرودگار ہم نے سنا اور اطاعت کی ،پروردگاراھمیں تیری ہی مغفرت چاہئے اور تیری ہی طرف ہماری بازگشت ہے اور کہو :حمدو شکرہے اس خداکاجس نے ہمیں اس امر کی ہدایت دی ہے ورنہ اسکی ہدایت کے بغیر ہم راہ ہدایت نہیں پاسکتے تھے ۔
ایھاالناس!علی ابن ابی طالب کے فضائل اللہ کی بارگاہ میں اور جواس نے قرآن میں بیان کئے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ میں ایک منزل پر شمار کر اسکوں۔لہٰذا جو بھی تمہیں خبر دے اور ان فضائلسے آگاہ کرے اسکی تصدیق کرو۔( ۱۰۹ )
یاد رکھو جو اللہ ،رسول،علی اور ائمہ مذکورین کی اطاعت کرے گا وہ بڑی کامیابی کا مالک ہوگا ۔
ایھا الناس!جو علی کی بیعت ،ان کی محبت اور انہیں امیر المومنین کہہ کر سلام کرنے میں سبقت کریں گے وھی جنت نعیم میں کامیاب ہوں گے ۔ایھالناس!وہ بات کہو جس سے تمھارا خدا راضی ہوجائے ورنہ تم اور تمام اہل زمین بھی منکر ہوجائیں تو اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہونچا سکتے۔
پرودگارا !جو کچھ میں نے ادا کیا ہے اور جس کا تونے مجہے حکم دیا ہے اس کے لئے مومنین کی مغفرت فرما اور منکرین (کافرین )پر اپنا غضب نازل فرمااور ساری تعریف اللہ کے لئے ہے جو عالمین کا پالنے والا ہے ۔
ب : ”عَرَّفَھَا “ تشدید کے ساتھ ،یعنی جو شخص امیر المو منین علیہ السلام کے فضائل بیان کرے اور ان کا لوگوں کو تعارف کرائے تو اس کی تصدیق کرو ۔
”ب “ میں عبارت اس طرح ہے :ایھا الناس ،فضائل علیعليهالسلام اور جو کچھ خداوند عالم نے ان سے مخصوص طور پر قرآن میں بیان کیا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے کہ میں ایک جلسہ میں بیٹھ کر سب کو بیان کروں ،لہٰذا جو کو ئی اس بارے میں تم کو خبر دے اس کی تصدیق کرو ۔
____________________
[۱] توحید کے متعلق خطبہ کی ابتدا کے الفاظ بہت دقیق مطالب کے حامل ہیں جن کی تفسیر کی ضرورت ہے ۔مذکورہ جملہ کی اس طرح وضاحت کی جا سکتی ہے :ساری تعریف اس خد اکےلئے ہے جو یکتا ئی میں بلند مرتبہ رکھتا ہے ،وہ یکتا ہو نے اور بلند مرتبہ ہونے کے باوجوداپنے بندوں سے نزدیک ہے ۔ ” ب “اور ” د “ کی عبارت اس طرح ہے :اس خد ا کی حمد ہے جو اپنی یکتا ئی کے ساتھ بلند مرتبہ اور اپنی تنھائی کے با وجود نزدیک ہے ۔
[۲] اس جملہ سے مندرجہ ذیل دو جہتوں میں سے ایک جہت مراد ہو سکتی ہے :
پھلے :خداوند عالم کا علم تمام چیزوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے درحالیکہ وہ چیزیں اپنی جگہ پر ہیں اور خداوند عالم کو ان کے معائنہ اور ملا حظہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
[۳] کلمہ ”قُدُّوْسٌ “کا مطلب ہر عیب و نقص سے پاک اور منزّہ ،اور کلمہ ”سُبُّوْحٌ “ کا مطلب جس کی مخلوقات تسبیح کرتی ہے اور تسبیح کا مطلب خداوند عالم کی تنزیہ اور تمجید ہے “
[۴] ”ج “، ” د “اور ” ھ “ھر نفس اس کے زیر نظر ہے ۔
[۵] ” ج “اور ” د “وھی عدم سے وجود عطا کرنے والا ہے “
[۶] ” الف “ ، ” ب “ اور ” د “اس کی تدبیر میں کو ئی اختلاف نہیں ہے “
[۷] ” ج “بغیر فساد کے “
[۸] ” ج “ :اس نے چاھا پس وہ وجود میںآگئے ۔
[۹] ” ب “ اور ” ج “:بادشاہوں کا مالک ۔
[۱۰] اس چیز سے کنایہ ہے کہ رات اور دن دو کشتی لڑنے والوں کی طرح ایک دو سرے پر غالب آجاتے ہیں اور اس کو زمین پر پٹک دیتا ہے اور خود اوپر آجاتا ہے ۔دن کے بارے میں فرمایا ہے ”رات کا بہت تیزی کے ساتھ پیچھا کرتا ہے “ لیکن رات کے بارے میں نہیں فر مایا ۔شاید یہ اس بات سے کنایہ ہو کہ چونکہ دن نور سے ایجاد ہو تا ہے اور جیسے ہی نور کم ہوا رات آجاتی ہے ۔
[۱۱] ”د “تدبیر کرتا ہے اور مقدر بناتا ہے ۔
[۱۲] ” ب “ منع کرتا ہے اور ثروتمند بنا دیتا ہے ۔
[۱۳] ” ج “ اور ” ھ “ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنے والا اس کے علاوہ اور کو ئی نہیں ہے ۔
[۱۴] ” ج “ اور ”د “اور ”ھ “ سے کسی زبان کی مشکل پیش نہیں آتی ہے ۔
[۱۵] ” د “ ” ھ “اس کے حکم کو سنو اور اطاعت کرو ،اور جس چیز میں اس کی رضایت ہے اس کی طرف سبقت کرو اور اس کے مقدرات کے مقابلے میں تسلیم ہو جاؤ۔
[۱۶] سورہ ما ئدہ آیت/۶۷۔
[۱۷] ” ج “ اور ” ھ “ جو کچھ میں نے پہنچایاہے اس میں کسی قسم کی کو ئی کو تا ہی نہیں کی ہے اور جو کچھ مجھ پر ابلاغ ہوا اس کے پہنچانے میں کسی قسم کی کاھلی نہیں کی ہے ۔
[۱۸] ان دو مقامات پر سلام پروردگار عالم کے نام کے عنوان سے ذکر ہوا ہے ۔
[۱۹] سورہ ما ئدہ آیت/۵۵۔
[۲۰] ” ب “ حالت رکوع میں خداوند عالم کی خاطر زکات دی ہے خداوند عالم بھی ہر حال میں ان کا ارادہ کرتا ہے ۔
[۲۱] یعنی اس مھم کے ابلاغ میں معافی چاہنے کی ایک علت یہ بھی ہے
[۲۲] سورہ توبہ آیت/ ۶۱۔
[۲۳] یھاں پر اس کا مطلب یہ ہو گاکہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم خداوند عالم کے کلام کی تصدیق فرماتے ہیں اورمو منین کے مقابل میں تواضع اور احترام کا اظھار کرتے ہیں اور ان کی باتوں کو رد نہیں کرتے ۔
[۲۴] ” ج “ اور ” ھ “ لیکن خدا کی قسم ان کی باتوں کو در گزر کرتے ہوئے ان پر کرامت کرتا ہوں ۔
[۲۵] سورہ مائدہ آیت/۶۷۔
[۲۶] ” ج “ اور ” ھ “ ہر موجود پر ۔۔۔
[۲۷] ” ب “جو شخص ان کا تابع ہوگا ان کی تصدیق کرے گا اس کو اجر ملے گا ۔
[۲۸] آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس کلام سے مراد خود آپ ہی ہیں ۔
[۲۹] ”اَحْصَاهُ “ کا مطلب ”عَدَّ هُ وَضَبَطَهُ “ہے ۔یعنی ذہن سے قریب کرنے کےلئے کلمہ”جمع اور جمع آوری “سے استفادہ کیا گیا ہے ۔
[۳۰] سورہ یس آیت/۱۲۔
[۳۱] وہ خداوند عالم کے امر سے امام ہیں ۔
[۳۲] میری مخالفت کرنے سے پرھیز کرو ۔
[۳۳] ”الف‘ ‘، ”ج “اور ” د “اگر کو ئی میری اس گفتگو میں کسی ایک چیز میں شک کرے گو یا اس نے تمام چیزوں میں شک کیا ہے اور اس میں شک کرنے والے کا ٹھکانا جہنم ہے ۔” ھ “:جو شخص میری گفتار کی ایک چیز میں شک کرے گویا اس نے پوری گفتار میں شک کیا ہے
[۳۴] ” ب “ ایھا الناس ،خداوند عالم نے علی بن ابی طالب کو سب پر افضل قرار دیا ہے ۔
[۳۵] ” ج “ اور ” ھ “میرا کلام جبرئیل سے اور جبرئیل پروردگار عالم کی طرف سے یہ پیغام لا ئے ہیں ۔
[۳۶] ” جنب “ یعنی طرف ،جہت ،پھلو ۔شاید یھاں پراس سے مراد امیر المو منین علیہ السلام کا خداوند عالم سے بہت زیادہ مرتبط ہو نا ہے
[۳۷] سورہ زمر آیت/۵۶۔
[۳۸] ” زواجر “یعنی باطن ،ضمیر اورنھی کے معنی میں بھی آیا ہے ،اور پہلے معنی عبارت سے بہت زیادہ منا سبت رکھتے ہیں
[۳۹] خدا کی قسم وہ نور واحد کے عنوان سے تمھارے لئے بیان کرنے والے ہیں ۔
[۴۰] یہ حدیث :<انی تارک فیکم الثقلین > کی طرف اشارہ ہے ۔
[۴۱] ” ج “یہ خداوند عالم کی جانب سے اس کی خلق میںامراور زمین میں اس کا حکم ہے ۔
[۴۲] ” ج “ جان لو !میںنے نصیحت فرما دی ہے ۔
[۴۳] ” الف “ اور ” ب “اور ” د “:جان لو کہ امیرالمومنین میرے اس بھا ئی کے علاوہ کوئی نہیں ہے ۔
[۴۴] ” ب “ امیر المو منین علیہ السلام نے اپنے دونوں ھاتھوں کو پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چھرہ اقدس کی طرف اس طرح بلند کیا کہ آپ کے دونوں ہاتھ مکمل طورپر آسمان کی طرف کھل گئے تو پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو بلند کیا یھاں تک کہ ان کے قدم مبارک آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گھٹنوں کے برابر آگئے ۔
یہ فقرہ کتاب اقبال سید بن طا ؤس میں اس طرح آیا ہے :۔۔۔پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو بلند کرتے ہو ئے فر مایا :ایھا الناس ،تمھارا صاحب اختیار کون ہے ؟ انھوں نے کہا :خدا اور اس کا رسول ۔آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : آگاہ ہو جاؤ جس کا صاحب اختیار میں ہوں یہ علی اس کے صاحب اختیار ہیں ۔خداوندا جو علی کو دوست رکہے تو اس کو دوست رکھ اور جو علی سے دشمنی کرے تو اس کو دشمن رکھ ،جو اس کی مدد کرے تو اس کی مدد کر اور جو اس کو ذلیل کرے تو اس کو ذلیل و رسوا کر ۔
[۴۵] ” د “ اور میرے بعد امور کے مدبر ہیں ۔
[۴۶] ” ب “ :۔۔۔اور میری امت کے جو لوگ مجھ پر ایمان لائے ہیں ان پرمیرے جا نشین ہیں ۔آگاہ ہو جا ؤ کہ قرآن کا نازل کرنا میری ذمہ داری ہے لیکن میرے بعد اس کی تاویل ،تفسیر کرنا اور وہ عمل کرنا جس سے خدا راضی ہوتا ہے اور دشمنوں سے جنگ کرنا اس کے ذمہ ہے اور وہ خداوند عالم کی اطاعت کی طرف راہنما ئی کرنے والے ہیں ۔
[۴۷] ناکثین :طلحہ ،زبیر ،عائشہ اور اہل جمل ؛قاسطین :معاویہ اور اہل صفین ؛اور مارقین :اھل نھروان ہیں ۔
[۴۸] سورہ ق آیت/۲۹۔
[۴۹] ” الف “ میں کہتا ہوں :میری بات (خداوند عالم کے امر سے )نہیں بدلتی ہے ۔” ھ “ میں خداوند عالم کے امر سے کہتا ہوں :میری بات میں کو ئی تغیر و تبدل نہیں ہوتاہے ۔
[۵۰] سورہ ما ئدہ آیت /۳۔
[۵۱] سورہ آل عمران آیت/ ۸۵۔
[۵۲] ” الف “ ،” ب “ ، ” د “ اور ” ھ “ : خدایا! تو نے مجھ پر نازل کیا ہے کہ میرے بعد امامت علیعليهالسلام کے لئے ہے میں نے اس مطلب کو بیان کیا علیعليهالسلام کو امام معین فرمایا ،جس کے ذریعہ تو نے اپنے بندوں کے لئے دین کو کامل کیا ، ان پر اپنی نعمت تمام کی اور فرمایا :جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو انتخاب کرے گا وہ دین قبول نہ کیا جا ئیگا اور وہ آخرت میں گھاٹا اٹھا نے والوں میں سے ہوگا “خدایا میں تجھ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے پہنچادیا اور گواھی کے لئے تجھ کو کا فی سمجھتا ہو ں ۔
[۵۳] ” حبط “ یعنی سقوط ،فساد ،نابودہونا ،ضائع ہونا اور ختم ہوجانا ہے ۔
[۵۴] ہ سورہ انسان کی آیت ۱۲ کی طرف اشارہ ہے جس میں خدافرماتا ہے :<وَ جَزَاهُمْ بِمَاصَبَرُوْاجَنَّةً وَ حَرِیْراً > اور انہیں ان کے صبر کے عوض جنت اور حریر جنت عطا کرے گا “ سورہ انسان آیت/ ۱۲۔
[۵۵] ” ب “ وہ میرا قرض ادا کرنےوالا اور میرا دفاع کرنے والا ہے ۔’ ھ “ وہ خداوند عالم کا دَین (قرض) ادا کرنے والا ہے ۔
[۵۶] یعنی تمھارے ایمان کے درجہ کا حضرت آدم علیہ السلام کے درجہ سے بہت زیادہ فاصلہ ہے ۔
[۵۷] ” ب “ درحالیکہ خداوند عالم کے بہت زیادہ دشمن ہو گئے ہیں ۔” ج “اور ” ھ “ اگر تم انکار کروگے تو تم خدا کے دشمن ہو ۔
[۵۸] سورہ عصر آیت/۱۔
کتاب اقبال سید بن طاؤس میں عبارت اس طرح آئی ہے : سورہ ” والعصر “ حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوا ہے اور اس کی تفسیر یوں ہے :قیامت کے زمانہ کی قسم، انسان گھا ٹے میں ہے اس سے مراد دشمنان آل محمد ہیں ،مگر جو لوگ ان کی ولایت پر ایمان لائے اور اپنے دینی برادران کے ساتھ مواسات کے ذریعہ عمل صالح انجام دیتے ہیں اور ان کی غیبت کے زمانہ میںایک دوسرے کو صبر کی سفارش کرتے ہیں ۔
[۵۹] یہ سورہ نساء آیت/ ۴۷کی طرف اشارہ ہے ۔کلمہ ” طمس “ کا مطلب ایک تصویر کے نقش و نگار کو محو کرنا ہے ۔اس مقام پر (احادیث کے مطابق )دل سے ہدایت کا مٹا دینا اور اس کو گمرا ہی کی طرف پلٹا دینامراد ہے ۔
[۶۰] ” مسلوک “یعنی داخل کیاگیا۔اور ” ب “ میں مسبوک ہے جس کا مطلب قالب میں ڈھالاہوا ہے ۔
[۶۱] د”اور ہر مو من کا حق حاصل کرے گا “
[۶۲] ج”۔۔۔مھدی قائم خداوند عالم اور ہمارے ہر حق کو تمام مقصرین ،معاندین ،مخالفین،خا ئنین ،آثمین،ظالمین اور غاصبین کو قتل کر کے وصول کرے گا “
[۶۳] ”ھ“ ہمارے سلسلہ میں خداوند عالم پر احسان نہ جتاؤخداوند عالم تمھاری باتیں قبول نہیں کرے گا ،تم پر غضب نازل کرے گا اور تم پر عذاب نازل کرے گا اس “
[۶۴] کلمہ ”اغتصاب “کا مطلب ظلم و زبر دستی کے ساتھ اخذ کرنا ‘
[۶۵] کلمہ ”الثقلان“ کا ”جن و انس “ترجمہ کیا گیا ہے ۔
[۶۶] یہ سورہ رحمن کی ۳۱ اور ۳۵ ویں آیت کی طرف اشارہ ہے ۔
[۶۷] یہ سورہ آل عمران کی ۱۷۹ویںآیت کی طرف اشارہ ہے
کردے اور اللہ تم کو غیب پر با خبر کرنے والا نہیں ہے ۔
[۶۸] کلمہ ”قریہ “کے معنی گاؤں اور آبادی کے ہیں اور اس مو قع پر دوسرے معنی منا سب ہیں ۔
[۶۹] ”الف “اور ”د“ایھا الناس ! کو ئی ایسی بستی نہیں ہے جس کے رہنے والوں کو پروردگار عالم نے تکذیب کی وجہ سے ھلا ک نہیں کیا اسی طرح خداوند عالم ظالموں کی بستیوں کو ھلاک کرتا ہے جیسا کہ خداوند عالم نے قرآن کریم میں ارشاد فر مایا ہے اور یہ علیعليهالسلام تمھارے امام اور صاحب اختیار ہیں وہ وعدہ گاہ الٰہی ہیں اور خداوند عالم اپنے وعدہ کو عملی کرتا ہے ۔
[۷۰] ”ج اور ”ھ “خدا کی قسم تم سے پہلے والے لوگوں کو ان کی اپنے انبیاء کی مخالفت کرنے کی وجہ سے ھلاک کیا ہے ۔
[۷۱] سورہ مرسلات :آیات /۱۶۔۱۹۔
[۷۲] ”الف “پس وہ امر و نھی کو خداوند عالم کی طرف سے جانتے ہیں ۔”د“امر و نھی خداوند عالم کی طرف سے ان کے ذمہ ہے “
[۷۳] ”الف “اور ” د “جان لو ! کہ علیعليهالسلام کے دشمن اہل شقاوت ،تجاوز کرنے والے اور شیا طین کے بھا ئی ہیں ۔
[۷۴] سورہ مجا دلہ آیت/ ۲۲۔
[۷۵] سورہ انعام آیت/۸۲۔
[۷۶] سورہ مجادلہ آیت /۲۲۔”ب “اور ”ج “میں وہ سیدھا راستہ ہوں جس سے تمہیں خداوند عالم نے ہدایت پانے کا حکم دیاہے ۔
[۷۷] سورہ انعام آیت/۸۲۔”ج“:کس شخص کے بارے میں نازل ہوا ہے ؟انہیں کے بارے میں نازل ہوا ہے (خدا کی قسم انہیں کے بارے میں نازل ہوا ہے خداکی قسم ان سب کو شامل ہے اور ان کے آباء و اجداد سے مخصوص ہے اور عام طور پر ان سب کو شامل ہے ۔
[۷۸] ”الف “، ”ب “اور ” د“آگاہ ہو جا ؤ کہ ان کے دوست وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں خدا وند عالم فر ماتا ہے :وہ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہو ں گے “
[۷۹] سورہ اعراف آیت /۳۸ ۔
[۸۰] سورہ ملک آیات / ۸۔۱۱۔
[۸۱] کلمہ”سحق “کے معنی ھلاکت ،اور دوری کے ہیں ۔
[۸۲] جملہ ”یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ “کا شاید یہ مطلب ہے کہ وہ خداوند عالم کو دیکہے بغیر غیب پر ایمان رکھنے کی وجہ سے اس سے ڈرتے ہیں ۔
[۸۳] ”الف “اور ”د “آگ کے شعلوں اور بھشت کے ما بین کتنا فا صلہ ہے ۔”ب “ھم نے آگ کے شعلوں اور عظیم اجر کے مابین فرق واضح کر دیا ہے “
[۸۴] شاید اس سے یہ مراد ہو کہ میں نے تم کو برائیوں سے ڈرایا اور تصفیہ کیا اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ تم علیعليهالسلام کے ساتھ بھشت کی راہ اختیار کرلو ۔
[۸۵] ”الف “، ”ب “اور ”د “وہ ہر اہل شرک قبیلہ کا قاتل ہے “
[۸۶] وہ عمیق سمندر سے عبور کرنے والا ہے ۔
[۸۷] ”ب“وہ وھی ہے جو صاحب فضل کو اس کے فضل کے مانند جزا دیتا ہے ۔
[۸۸] وہ اپنے آبا ؤ اجدادکے حکم کو محکم و مضبوطی عطا کرنے والا ہے ۔
[۸۹] وہ وھی ہے جس کی ہر گزشتہ پیغمبر نے بشارت دی ہے ۔
[۹۰] ” ج “ میں تمھاری طرف بیعت کے لئے ہاتھ بڑھاؤں گا ۔
[۹۱] سورہ فتح آیت/ ۱۰۔
[۹۲] پرانٹز کے اندرجملہ اس لئے لکھا گیا ہے کہ ” بھما “کی ضمیر کا حج و عمرہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس کامرجع صفا و مروہ ہیں
[۹۳] سورہ بقرہ آیت / ۱۵۸)
[۹۴] شاید منقطع ہو جا نے سے مراد کم نسل ہو جا نا ہو جیساکہ کلمہ ”بتر “سے استفادہ کیا گیا ہے ،اور ”د “اور ”ھ “میں اس طرح ہے :”گھر والے خا نہ خدا میں داخل نہیں ہو تے مگر یہ کہ وہ رشد و نمو کر تے ہیں اوران کا غم ختم ہو جا تا ہے اور کو ئی خاندان اس کو ترک نہیں کرتا مگر یہ کہ وہ ھلاک اورمتفرق ہو جاتا ہے “
[۹۵] اس سے مراد ان تین جگہوں پر وقوف کرنا ہے جو اعمال حج کا جزشمار ہو تا ہے ۔
[۹۶] ”ج “اور ”ھ “زکات ادا کرو جیسا کہ میں نے تم کو حکم دیا ہے “
[۹۷] ”الف “ اور ”ج “جس شخص کو خداوند عالم نے مجھ سے خلق کیا ہے اور میں اس سے ہوں۔ ”د “جس کو خداوند عالم نے خود اپنا اور میرا خلیفہ قرار دیا ہے [۹۸] اس مطلب کے سلسلہ میں فکر کرنا اور تحقیق کرناـ
[۹۹] یہ جملہ (نسخہ ”ج “)کتاب ” التحصین “کے مطابق خطبہ کا آخری جملہ ہے ۔
[۱۰۰] ” ب “جان لہ کہ تمھارے سب سے بلند و برتر اعمال امر بالمعروف اور نھی عن المنکر ہیں ۔پس جو لوگ اس مجلس میں حا ضر نہیں ہیں اور انھوں نے میری ان باتوں کو نہیں سنا ہے ان کو سمجھانا چونکہ تم تک یہ حکم میرے اور تمھارے پرور دگار کا ہے ۔
[۱۰۱] شاید اس سے مراد یہ ہو کہ معروف و منکرات کا معین کرنا نیز معروف و منکرات کی شرطوں اور اس کے طریقہ کو امام معصوم معین کرتاہے ۔ نسخہ ” ج “میں اس طرح آیا ہے :”امر بالمعروف اور نھی عن المنکرصرف امام معصوم کے حضور میں ہو تا ہے ۔
[۱۰۲] سورہ زخرف آیت / ۲۸۔
[۱۰۳] ” ب “ایھا الناس میں قرآن کو اپنی جگہ پر قرار دے رہا ہوں اور میرے بعد میرے جا نشین علیعليهالسلام اورائمہ ان کی نسل سے ہیں ،اور میں نے تم کوسمجھادیا کہ وہ مجھ سے ہیں ۔اگر تم ان سے متمسک رہو گے تو ہر گز گمراہ نہ ہو گے ۔
[۱۰۴] سورہ حج آیت/۱ ۔
[۱۰۵] ” د “جو شخص اچہے کام کرے گا کامیاب ہوگا ۔
[۱۰۶] ”الف “، ” ب “اور ” ھ “جو کچھ میں نے علیعليهالسلام کےلئے ”امیر المو منین“ کے عنوان سے بیان کیا ہے ۔
[۱۰۷] اس مقام تک وہ عبارتیں تھیں جن کے سلسلہ میں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے لوگوں سے چاھا کہ وہ اس کومیرے ساتھ دھرائیںیں اور اس کے مضمون کا اقرار کریں۔ یہ عبارتیں نسخہ ”ب“ کے مطابق بیان کی گئی ہیں ۔ اس کے بعد ”الف“، ”د“ اور ” ھ “ میںاس جملہ ”آپ نے ہماری مو عظہ الٰہی کے ذریعہ نصیحت فر ما ئی “یھاں تک اس طرح آیا ہے :
”۔۔۔ھم خدا وند عالم ،آپ ،علی امیر المو منینعليهالسلام ان کے امام فرزندجن کے سلسلہ میں آپ نے فر مایا کہ وہ آپ کے فرزنداور ان (علی) کے صلب سے ہیں کی اطاعت کرتے ہیں ۔ ”ھ “ (آپ نے فرمایا وہ علیعليهالسلام کے صلب سے آپ کے فرزند ہیں وہ جب بھی آئیں اور امامت کا دعویٰ کریں )جو حسن و حسین علیھما السلام کے بعد ہیں میں نے ان دو نوںکے مقام و منزلت کی اپنے اور خدا کے نزدیک نشاندھی کرادی ہے ۔ان دونوں کے سلسلہ میں میں نے یہ مطالب تم تک پہنچا دئے ہیں ، وہ دونوں جوانان جنت کے سردار ہیں ،وہ اپنے والد بزرگوار علیعليهالسلام کے بعد امام ہیں اور میں علیعليهالسلام سے پہلے ان دونوں کاباپ ہوں۔
کہو ”ھم اس سلسلہ میں خدا وند عالم ،آپ ،علیعليهالسلام ،حسن و حسین اور جن اماموں کا آپ نے تذکرہ فر مایا ہے ان سے عہد و پیمان باندھتے ہیں اورھم سے امیر المو منین علیہ السلام کے لئے میثاق لیاجائے ۔(”ھ “پس یہ پیمان مو منین سے لے لیا گیاہو ) ہمارے دلوں ،جانوں ،زبانوں اور ہاتھ سے ،جس شخص کےلئے ممکن ہو اس سے ہاتھ سے ورنہ وہ اپنی زبان سے اقرار کرے ۔اس پیمان کو ہم نہیں بد لیں گے اور ہم کبھی بھی اس میں تغیرو تبدل کرنے کا ارادہ نہیں کریں گے۔
ھم آ پ کا یہ فرمان اپنے دور اور قریب سب رشتہ داروں تک پہنچا دیں گے۔ ”ھ“ ہم آپ کا یہ قول اپنے تمام بچوں تک پہنچا ئیں گے چا ہے وہ پیدا ہو گئے ہوں اور چا ہے ابھی پیدا نہ ہو ئے ہوں )،ھم خدا کو اس مطلب کے لئےاپنا گواہ بناتے ہیں اور گواھی کے لئے خدا کافی ہے اور آپعليهالسلام ہم پر شاہد ہیں ،نیز ہر وہ انسان جوخدا کی اطاعت کرتا ہے (چا ہے آشکار طور پر اور چاہے مخفی طور پر) نیز خداوند عالم کے ملا ئکہ ،اس کا لشکر اور اس کے بندوں کو اپنا گواہ قرار دیتے ہیں اور خداوند عالم تمام گواہوںسے بلند و بالا ہے “۔
ایھا الناس!اب تم کیا کہتے ہو ؟یاد رکھو کہ اللہ ہر آواز کو جانتا ہے اور ہر نفس کی مخفی حالت سے باخبر ہے ،جو ہدایت حاصل کرے گاوہ اپنے لئے اور جو گمراہ ہوگا وہ اپنا نقصان کرے گا ۔جو بیعت کرے گا اس نے گویا اللہ کی بیعت کی،اسکے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ ہے ۔
[۱۰۸] یعنی کہو ”السلام علیک یا امیر المو منین “۔اور عبارت ” ب “میں اس طرح ہے :ایھا الناس جس کی میں نے تملوگوں کوتلقین کی ہے اس کی تکرار کرو اوراپنے امیر المو منین کو سلام کرو“۔
[۱۰۹] اس عبارت کے دو طریقہ سے معنی بیان کئے جا سکتے ہیں :
الف :”عَرَفَھَا “بغیر تشدید ،یعنی امیرالمو منین علیہ السلام کے فضائل بیان کرنے والے کو اہل معرفت ہو نا چا ہئے اورصرف سنے ہوئے کو لیں اس وقت تک نقل نہ کریں جب تک دشمنوںکی مکاریوںاور حذف شدہ عبارتوں سے آگاہ نہ ہو جائیں کہ کہیں ایک فضیلت کا نتیجہ برعکس نہ ہوجائے ۔
خطبہ غدیر کے اغراض و مقاصد کا جائزہ
غدیر کی تقریر کی خاص اھمیت، مخصوص کیفیت اور تقریر کرنے والے اور سننے والوں( ۱ ) کے جداگانہ شرائط کے پیش نظر ،اور ان باتوں کے باوجود کہ غدیر کے مخاطبوں کی اساس و بنیاد پر ہی ساری دنیا کے قیامت تک آنے والے مسلمانوںکی زندگی استوار ہو گی لہٰذا پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس خطبہ میںجن بنیادی اوراعتقادی مسائل کو مسلمانوں کیلئے دائمی راہ و روش اور پشت پناھی کے طورپر معین فرمایا تھا ان کی جمع بندی کرنا ضروری ہے ۔
ان نتائج کے ماتحت جو خطبہ غدیر کے مطالب سے ماخوذہیں یہ معلوم ہو جا ئیگا کہ امت کو گمراہ کرنے والے اور خداوند عالم کے دین میں تحریف کرنے والے خداوند متعال اور اسکے پیغمبر کے سامنے کس طرح کھڑے ہوگئے اور لوگوں کوجنت کے راہ مستقیم سے منحرف کردیا جو تمام انبیاء علیھم السلام اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مسلسل تیئس سالہ کاوشوںاور زحمتوں کا نتیجہ تھا اور جس سے استفادہ اور ثمرحاصل کرنے کا وقت آن پہنچا تھا ،اس سے ہٹاکر مسلمانوں کو بڑی تیزی کے ساتھ جہنم کے راستہ پر گامزن کردیا اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بیان کردہ بنیادی عقائدوغیرہ کے مقابلہ میں مسلمانوں کےلئے ایک طولانی انحراف کے ستونوں کو مستحکم کردیا واضح ر ہے کہ جو بھی مطالب خطبہ کے متن سے اخذ کئے گئے ہیں اور بعض مقامات پر تھوڑی وضاحت و تشریح کے ساتھ ذکرہوئے ہیں ۔خطبہ کی اصل عبارت کواس کتاب کے چھٹے اور ساتویں حصہ نیز چو تھے حصہ کے تیسرے جزء میں خطبہ کی مو ضوعی تقسیم کے اندر ملاحظہ کیا جاسکتاہے ۔
خطبہ غدیر کے مطالب کی جمع بندی
خطبہ غدیر میں گفتگو کا محور
جب پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر خداوند عالم کی جا نب سے ”حجة الوداع “کا حکم نا زل ہوا تو خطاب الٰہی اس طرح تھا کہ حج اور ولایت( ۲ ) کے علا وہ تمام الٰہی پیغام لوگوں تک پہونچ چکے ہیں ۔حج کے اعمال بھی اس طو لانی سفر میں مکمل طور پر بیان ہو ئے اور غدیر کےلئے صرف ایک موضوع ”ولایت “ باقی رہ گیا تھا ۔
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا خطبہ غدیر میں ایک اساسی اور بنیادی مقصد تھا جس کا نچوڑ (خلاصہ ) اس جملہ میں کیا جا سکتا ہے :
”اپنے بعد قیا مت تک بارہ اماموں کی امامت اور ولایت کا اعلان “
پور ی دقت کے ساتھ پورے خطبہ میں یہ نکتہ مکمل طور پر واضح و روشن ہے کہ رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی گفتگو کا محور بارہ اماموںکی ولایت کو قرار دیا اور اپنی گفتگو کے اختتام تک اسی مو ضوع پر گفتگو فر ماتے رہے اور اگر درمیان میں کچھ دو سرے مطالب بھی بیان فر مائے تو بھی ان کا اسی اصل مطلب سے بلا واسطہ تعلق ہے ۔
پھلی دقت نظر میں یہ ادعا کیا جا سکتا ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا کلام اس گفتگو میں ان تین باتوں پر مشتمل تھا :خطبہ میں کچھ مطالب صاف طور پر ولایت اور اما مت کے سلسلہ میں بیان ہو ئے ہیں ۔
اور کچھ مطالب موضوع ولایت کے لئے تمھید ی طور پر بیا ن ہو ئے ہیں ،کچھ مطالب امامت کے متعلق، ائمہ کی ولایت کی حدود،ان کے فضائل ،ان کے معا شرتی پروگرام ،نیز ان کے دشمنوں کے متعلق اور گمراہ اور منحرف ہو جانے والے افراد کے سلسلہ میں بیان فر مائے ۔
خطبہ غدیر میں بیان ہونے والے مو ضوعات اور کلمات کی تعداد
ھم تین اہم پھلوؤں کی تعداد کے اعتبار سے پورے خطبہ کا جا ئزہ لیتے ہیں :
پھلے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پیش نظر موضوعات کے اعتبار سے اور ہر مو ضوع سے متعلق جملوں کی تعداد مندرجہ ذیل ہے :
۱ ۔ خدا وند عالم کے صفات : ۱۱۰ جملے ۔
۲ ۔پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مقام : ۱۰ جملے ۔
۳ ۔ولایت امیر المو منین علیہ السلام : ۵۰ جملے ۔
۴ ۔ولایت ائمہ علیھم السلام : ۱۰ جملے ۔
۵ ۔فضائل امیر المو منین علیہ السلام : ۲۰ جملے ۔
۶ ۔حضرت مھدی علیہ السلام کی حکومت : ۲۰ جملے ۔
۷ ۔اہل بیت علیھم السلام کے شیعہ اور ان کے دشمن : ۲۵ جملے ۔
۸ ۔ائمہ علیھم السلام کے ساتھ بیعت : ۱۰ جملے ۔
۹ ۔قرآن اور اس کی تفسیر ۱۲ جملے ۔
۱۰ ۔حلال و حرام، واجبات اور محرمات : ۲۰ جملے ۔
دو سرے :ان اسماء اور کلمات کی تعداد جو خطبہ میں استعمال ہو ئے ہیں جن سے خطبہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتاہے :
۱ ۔امیر المو منین علیہ السلام کا اسم مبارک ”علی علیہ السلام “کے عنوان سے چالیس مرتبہ آیا ہے ۔
۲ ۔کلمہ ” ائمہ علیھم السلام “ دس مرتبہ آیا ہے ۔
۳ ۔امام زمانہ علیہ السلام کا اسم مبارک ”مھدی علیہ السلام “کے عنوان سے چار مرتبہ ذکر ہوا ہے
البتہ اکثر خطبہ ائمہ علیھم السلام کے سلسلہ میں ہے جو ضمیر یا اشارہ یا عطف کے ذریعہ بیان ہوا ہے اسی طرح بہت سے مطالب حضرت بقیة اللہ الاعظم کے سلسلہ میں آئے ہیں ۔مذکورہ مطالب سے مراد پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ان اسماء مبارک کو صاف طور پر بیان کرنا ہے جو ان کی فوق العادہ اہمیت کو بیان کرنا ہے
تیسرے :قرآن کریم کی ان آیات کی تعداد جو شاہد کے عنوان سے یا تفسیر کےلئے خطبہ میں بیان ہو ئی ہیں ۔خطبہ میں بعض مقامات پر قرآن کریم کی بہت سی آیات کو استشھاد کے طور پر پیش کرنا اس کے برجستہ نکات ہیں ۔خطبہ غدیر میں شاہد یا تفسیر کے عنوان سے بیان ہو نے والی آیات کی تعداد ۵۰ ہے جو اسلام کی اس بڑی سند کو جلو ہ نما کر تی ہیں ۔
اہل بیت علیھم السلام کی شان میں ۲۵ آیات اور اہل بیت علیھم السلام کے دشمنوں کے سلسلہ میں ۱۵ آیات خطبہ کے اہم نکات میں سے ہے ۔
قرآن کی کریم کی دس سے زیادہ آیات واقعہ غدیر کے ایام میں نازل ہو ئی ہیں اور اس کا آشکار نمو نہ یہ آیات:( یَاَیُّهَاالرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَااُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ ربِّکَ ) ،( الْیَوْمَ اکْمَلْتُ لَکُمْ دینَکُمْ وَاتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتی وَرَضیتُ لَکُمْ الاِسْلاٰمَ دیناً ) اور( سَا لَ سَائِل بِعَذَابٍ وَاقِعٍ ) ہیں ۔
یہ خطبہ کے اہم مقامات کی مختصر سی تعداد ہے ۔خطبہ کا دقیق طور پرمطالعہ کرنے کے بعد جاذب نظر اور دقیق تعداد کو اخذ کیا جا سکتا ہے ۔
۱ خطبہ غدیر کا خلا صہ :” مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “
خطبہ غدیر کا سب سے نمایاں جملہ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “ ہے ۔جب پ یغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خطبہ کے حساس مو قع پر امیر المو منین علیہ السلام کے بازو پکڑ کر مجمع کے سامنے ان کا تعارف کرتے ہوئے بیان فر مایا ہے ۔( ۳ )
اگر ہم اس جملہ کی اچہے طریقہ سے تحلیل کریں تو یہ معلوم ہوگا کہ یہ جملہ کو تا ہ ضرور ہے لیکن پُر معنی ہے اور کئی اعتقادی پھلوؤں پر مبنی ہے کہ اگر کو ئی اس کوتسلیم نہ کرتا ہو تو وہ اس جملہ کو بھی قبول نہیں کر سکتا ہے ہم اسی خطبہ میں مذکورہ مطالب کے ذریعہ ہم جملہ کی تشریح کر تے ہیں ۔
جملہ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ “ کے کلمات ک ی تشریح جملہ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌ مَوْلَاهُ“ پانچ کلموں سے بنا ہے :
”مَنْ “یعنی ”ھر شخص “۔یہ کلمہ ان تمام مسلمانوں کو شامل ہے جو پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو تسلیم کرتے ہیں ۔
”کُنْتُ “،یعنی ” میں تھا “۔فعل ما ضی سے استفادہ کرتے ہوئے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ ”مَوْلَاهُ “ یعنی ”مولا اور اس کا صاحب اختیار ۔۔۔“۔یہ جملہ کلمہ کا اصلی محور ہے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم خود اس خطبہ اور دوسرے مقامات پر اس جملہ کے معنی بیان فر ما ئے ہیں ۔”مولی“یعنی جس شخص کے ہاتھ میں لوگوں کا اختیار ہو اور ان کی نسبت وہ ان لوگوں کے نفس سے زیادہ اختیار رکھتا ہو اور جو بھی حکم ان کو دیدے وہ اس حکم کو کسی چون و چرا کے بغیر قبول کریںاور اگراس حکم میں اس کی حقانیت یا شک یا اعتراض کے عنوان سے کو ئی کو تا ہی کرے تو یہ کفر کے برابر ہے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نبوت کا انکار کرنا ہے ۔
”فَعَلِیٌّ “یعنی ”پس علی ۔۔۔۔علی بن ابی طالبعليهالسلام کومنصب و مقام کےلئے معین کرنا جو بعد کے کلمہ میں ذکر ہوا ہے یہ فتنہ ڈالنے والوں اور سازش و منصوبہ بنا نے والوں کے منھ پر زور دار طمانچہ مارناہے تا کہ وہ امام کی شخصیت کے متعلق شک و تردیدیا اس کے تعدد کے احتمال کو اپنے ذہن سے نکال دےں ۔ دوسری طرف حضرت علی علیہ السلام کے تعارف سے دوسرے گیارہ امام جو ان کے بعد ان کے مقام منصب پر فا ئز ہوں گے ان کو اس طرح معین کرنا ہے کہ جس سے تحریف اور شک کا راستہ بند ہو جا ئے ۔
”مَوْلَاهُ “ ، یعنی ”اس کا مو لا اور صاحب اختیار ہے “۔وھی منصب جو اس جملہ کے تیسرے کلمہ میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کےلئے ذکر ہوا بالکل وھی منصب علی بن ابی طالبعليهالسلام اور آپ کے بعد آپ کی نسل سے آنے والے گیارہ اماموں کےلئے ہے اور خداوند عالم کی جانب سے عطا کیا گیا ہے وہ لوگوں کے صاحب اختیار ہیں جو کچھ وہ فر مائیں اسے بے چون و چرا قبول کرنا ضروری ہے ،اور ان کے سلسلہ میں ہر طرح کا اعتراض اور شک و تردید کفر کے مساوی ہے ۔
جملہ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ “ کا دقیق مطلب
اس جملہ کے کلمات کو بیان کرنے کے بعد اس کا ترکیبی صورت کی وضاحت کے ساتھ ترجمہ کرتے ہیں :
ھر مسلمان جو پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنا صاحب اختیار قبول کرتا ہے اور ان کے فرامین اوراوامر و افعال میں اپنے کو کسی طرح کا شک و شبہ اور اعتراض کرنے کی اجازت نہیں دیتا ،اس کو علی بن ابی طالبعليهالسلام کی نسبت بھی یھی عقیدہ رکھنا چا ہئے اور ان کی گفتگو ،افعال اور جو کچھ ان سے دیکہے اور سنے اس کو حق سمجہے اور چونکہ ان کے وجود کے سلسلہ میں کسی طرح کے کسی شک و اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے ،لہٰذا جو شخص کسی بھی طریقہ سے ان کی مخالفت کرے اوران کے مد مقابل ہو جا ئے وہ باطل ہے اور کفر کے مسا وی ہے ۔
”علی علیہ السلام “کے اسم مبارک کو بیان کرنے میں ایک اہم بات
حضرت علی بن ابی طالبعليهالسلام کا اسم مبارک پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد امام بلا فصل کے عنوان سے امامت کی راہ میں پہلے شخص کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے تا کہ ان کی امامت ثابت ہو جا نے کے بعد یہ رشتہ باقی رہے اوران کے بعدگیارہ اماموں میں سے ھرایک یکے بعد دیگرے اس منزل کو قیامت تک پہنچائے ۔
خطبہ میں مختلف مقامات پر امیر المو منین علیہ السلام کے اسم مبارک کو ذکر کرنے کے بعد فوراً بلا فاصلہ اماموں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ خداوند عالم نے اپنے نا ئب کے عنوان سے ان صاحب اختیارلوگوں کوقیامت تک کےلئے (تسلسل کے ساتھ )لوگوں کےلئے معین فرما دیا ہے اور لوگوں پر اس طرح حجت تمام کردی ہے کہ وہ سیدہے راستہ کو آسانی کے ساتھ اخذ کرلیں اور کسی کےلئے کو ئی عذر باقی نہ رہے ۔
کلمہ ”مولیٰ “کے بارے میں اہم بات
ظاہر ہے لوگوں کا مطلق صاحب اختیار وھی شخص ہو سکتا ہے جونہ صرف گنا ہ ہی نہ کرے اور شیطان اور ہویٰ و ہوس کو اپنے نفس پرمسلط نہ ہونے دے بلکہ وہ اشتباہ و غلطی بھی نہ کرے تاکہ وہ لوگوں کی ھلاکت کا باعث نہ ہو سکے ۔
خداوند عالم نے ان لوگوں کو صاحب اختیار قرار دیا ہے جو مطلق عصمت کے مالک ہیں اور وہ ہر طرح کی برائی و پلیدی سے پاک و پاکیزہ اور منزہ ہیں ۔اس کے علاوہ اس نے اُن کے علم کو اپنے لا محدود علم سے متصل فرمایا ہے تاکہ وہ لوگوں کی طرح طرح کی مشکلوں کے جواب دہ ہو سکیں ۔
چودہ معصومین علیھم السلام کا لوگوں کے صاحب اختیار ہونے کو مشخص و معین کرنا جن کا امر ہر مو جود پر نافذ ہے فقط خداوند عالم کی جا نب سے ہو سکتاہے ، چونکہ وھی مخلوق کو وجود سے آراستہ کرنے والا ہے اس نے بہترین چیزوں کو خلق فر مایا ہے اور صرف وھی ہے جو کسی شخص کے ہاتھ میں لوگوں کے اختیار تام کو حوالہ کرنے کی ضمانت دے سکتا ہے ۔ یہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں جنھوں نے خداوند عالم کی جا نب سے ائمہ معصومین علیھم السلام کی اس مقام کے سلسلہ میں پشت پنا ہی کے عنوان سے تعارف کرایا ہے ۔
پروردگار مھر بان نے نظامِ خلقت میں صرف اسی پر اکتفا نہیں کی ہے بلکہ اس نے صاحبان اختیار ان لوگوں کو قرار دیا ہے جونور سے خلق ہو ئے ہیں اور ان کو انسانی قالب میں ڈھال دیا ہے معصومین علیھم السلام وہ افراد ہیں جو عالَم کی تخلیق سے پہلے خلق ہو ئے ہیں اور پوری دنیا ان کے وجود کی برکت سے خلق ہو ئی ہے ۔
خداوند عالم نے لوگوں کو نورانی موجودات کے سپردکردیا ہے تاکہ لوگ اس طریقہ سے اس (خدا) کی عبادت کریں اور ان سے ہدایت حاصل کریں ،لہٰذا اور کسی بھی طریقہ سے اخذ کی جانے والی ہدایت خداوند عالم کی بارگاہ میں قابل قبول نہیں ہے ۔امیر المو منین علیہ السلام واقعہ غدیر کو بیان کرتے وقت فر ما تے ہیں :
”وَکَانَتْ عَلیٰ وِلَایَتِیْ وِلَایَة اللّٰهِ،وَعَلیٰ عَدَاوَتِیْ عَدَوَةُ اللّٰهِ،فَکَانَتْ وِلَایَتِیْ کَمَالُ الدِّیْنِ وَرَضِیَ الرَّبِّ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ“ ( ۴ )
”خدا وند عالم کی ولایت میری ولایت کے ذریعہ پہچا نی جا تی ہے اور خداوند عالم سے عداوت بھی میری عداوت کے ذریعہ پہچا نی جا تی ہے ۔۔۔لہٰذا میری ولایت کمال دین اور خداوند عالم کی رضایت کا باعث ہے “
اسی طرح حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اس سلسلہ میں فر ماتے ہیں :جب خداوند عالم نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد اپنے اولیاء کو منصوب فرماکر تم لوگوں پر احسان کیا تو پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے فرمایا :
( الْیَوْمَ اکْمَلْتُ لَکُمْ دینَکُمْ وَاتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتی وَرَضیتُ لَکُمْ الاِسْلاٰمَ دیناً ) اور اس نے اپنے اولیا ء کے لئے تم پر حقوق واجب کئے اور تم کو حکم دیا کہ اگر تم نے ان کے حقوق کو ادا کیا تو جو کچھ تمھارے پاس ازواج ،اموال اور کھانے پینے کی چیزیں ہیں وہ تمھارے لئے حلال ہیں اور اس میں تمھارے لئے خیر و بر کت ہے تا کہ یہ معلوم ہوجا ئے کہ کون شخص خداوند عالم کی اطاعت کرتا ہے ۔( ۵ )
بہترین مو لیٰ کا انتخاب
مسلمان بلکہ تمام انسان خداوند عالم کا کتنا شکر ادا کریں کہ اس نے اپنی بیکراں رحمت کے دروازے اس طرح لوگوں کےلئے کھولے ،اور چودہ معصومین علیھم السلام کے انوار مقدسہ کو اس عالَم نورانی سے انسانی شکل میں قرار دیا اور ان کا اپنے نمائندوں کے عنوان سے تعا رف کرایا ،اس بڑی نعمت کے ذریعہ اس نے عالم بشریت پر ایک عظیم احسان کیا ہے ۔
ھم خداوند عالم کے شکر گزار ہیں کہ اس نے ہم کو یہ اجازت نہیں دی کہ ہم اپنا صاحب اختیار خود معین کریں کہ ہزاروں غلطیوں سے دو چا ر ہو جا ئیں ،اور اس نے اپنے انتخاب کے ذریعہ بھی معمو لی انسانوں کو ہمارا مو لا معین نہیں فر مایا ،بلکہ ان ھستیوں کو ہمارا مو لا معین فرمایا جو تمام عالم انسانیت میں سب سے بلند و بالا مقام پر فا ئز ہیں ۔جیسا کہ خود آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا ہے :تمھارا پیغمبر سب سے بہترین پیغمبر ،اور تمھارا وصی سب سے بہترین جا نشین ،اور ان کی اولاد سب سے بہترین جا نشین ہیں “
جملہ ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ “سے نت یجہ اخذ کرنا
اس مقام پر خطبہ کی دو اہم جہت جو جملہ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ“ سے نت یجہ اخذ کرنے کے مترادف ہیں کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
الف :صراط مستقیم جس پر قرآن و حدیث استوار ہیں صرف ائمہ معصو مین علیھم السلام کا راستہ ہے
اس سلسلہ میں خطبہ میں دو جامع جملے بیان ہو ئے ہیں :
۱ ۔میں خداوند عالم کا وہ سیدھا راستہ ہوں جس کی تم کوپیروی کا حکم دیا گیا ہے اور میرے بعد علیعليهالسلام ان کے بعد ان کے صلب سے میرے فرزند جو ہدایت کرنے والے امام ہیں ۔
۲ ۔” سورہ حمد ائمہ علیھم السلام کی شان میں نازل ہوا ہے “یعنی مسلمان جو ہر دن کم سے کم دس مرتبہ”اِهْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ “ کہتے ہیں وہ حقیقت میں خدا وند عالم سے یہ چا ہتے ہیں کہ وہ ان کی ائمہ معصومین علیھم السلام کے راستہ کی طرف ہدایت کرے اور جو لوگ اس راہ کی طرف ہدایت پاتے ہیں وہ”اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ “ ہیں اور جو لوگ اس راہ سے منحرف ہو جاتے ہیں وہ”مَغْضُوْبٌ عَلَیْهِمْ“ اور”ضَا لِّیْنَ“ ہیں ۔
ب:خداوند عالم کا دین اورخداوند عالم کی سب سے بڑی نعمت ،کہ جس نعمت کے آنے سے نعمتیں کا مل ہو ئیں ،ائمہ علیھم السلام کی ولایت اوروہ ان کا لوگوں کا صاحب اختیار ہونا تھا،اور وہ اسی وقت دین اسلام ایک کامل دین کے عنوان سے خدوند عالم کی بارگا ہ میں قبولیت کے درجہ پر فائز ہوا اس سلسلہ میں خطبہ غدیر میں دو جملہ ارشاد فر ما ئے :
۱ ۔پروردگار جب میں نے لوگوں کےلئے علی بن ابی طالبعليهالسلام کی ولایت بیان کی تو تو نے یہ آیت:( اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ ) نازل فر ما ئی آج میں نے دین اسلام کو کا مل کردیا تم پر اپنی نعمتیں تمام کردیں اور تمھارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنا دیا ہے “اور یہ آیت :( وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْناً ) نازل فرما ئی ”اور جو اسلام کے علاوہ کو ئی بھی دین تلاش کرے گا تو وہ دین اس سے قبول نہ کیا جا ئے گا اور وہ قیامت کے دن خسارہ اٹھانے والوں میں ہوگا “۔
۲ ۔ایھا الناس !خداوند عالم نے اس (علیعليهالسلام ) کی امامت کے ذریعہ اپنے دین کو کا مل کردیا ہے لہٰذا جو شخص ان کی اور ان کے بعد ان کی نسل سے ان کے جا نشین امام جن کا سلسلہ قیامت تک رہے گا کی اقتدا نہ کرے اور ان کو اپنا امام قرار نہ دے تو اس کے اعمال بیکار ہیں اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے “
۲ ” ولایت “کے سلسلہ میں غدیر کے اعتقادی ستون
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا منصب
غدیر کی اساس و بنیاد پیغمبر اکرم حضرت محمد بن عبد اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نبوت و خاتمیت پر ہے اور جو کچھ غدیر میں اسلام اور جھان کے مستقبل کے لئے پیشینگو ئی ہو ئی ہے وہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مقام ِشامخ کے بیان پر مبتنی ہے ،لہٰذا آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خطبہ کے چند حصوں اپنے مقام و منزلت کو لوگوں کے سامنے بیان فر ما یاہے ۔ان میں سے اکثر مقامات پر اپنے تذکرہ کے بعد ائمہ علیھم السلام کے اسماء کا تذکرہ فرمایا تا کہ یہ معلوم ہو جا ئے کہ اس شجرہ طیبہ کی اساس و بنیاد ،اس طولانی پروگرام کے بانی اور ولایت و امامت کی اصل خود خاتم الانبیاءصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں ۔اس سلسلہ میں جو کچھ متن خطبہ میں بیان ہوا ہے اس کو چھ عنوان میں جمع کیا جا سکتا ہے :
۱ ۔آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سلسلہ میں پیشنگوئی :گذشتہ انبیاء و مرسلین نے آ پصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سلسلہ میں بشارت دی ہے ۔
۲ ۔آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خا تمیت :آپصلىاللهعليهوآلهوسلم خاتم اور انبیاء و مر سلین کی آخری کڑی ہیں اور ان کے بعد کو ئی نبی نہیں آئے گا ۔اس مطلب کے سلسلہ میں یوں اشارہ فرمایا ہر پیغمبر کی اولاد خو د اس کے صلب سے ہے لیکن میری نسل حضرت علی علیہ السلام کے صلب سے ہو گی ۔
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مقام و منصب :اس سلسلہ میں چار پھلوؤں کی طرف اشارہ فرمایا :
الف :ان کے وجود میں خداوند عالم کی جانب سے نور قرار دیا گیا ہے ۔
ب:وہ نبی مر سل ،ڈرانے والے ہیں ،اور بہترین پیغمبر ہیں ۔
ج:خداوند عالم کے بعد وہ لوگوں کے مو لیٰ اور صاحب اختیار ہیں اور ان کا اختیار لوگوں پر خود ان کے نفسوں سے زیادہ ہے ۔
د:وہ خداوند عالم کا سیدھا راستہ ہیں کہ جس کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے ۔
۴: آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا علم :خداوند عالم نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو تمام علوم کی تعلیم دی ہے اور ان علوم کو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سینہ میں قرار دیا ہے ۔
۵ ۔آ پصلىاللهعليهوآلهوسلم کا حجت ہونا :اس سلسلہ میں تین پھلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے :
الف :آپصلىاللهعليهوآلهوسلم تمام مخلوقات اہل آسمان و زمین پرخداوند عالم کی حجت ہیں صرف انسانوں کے لئے حجت نہیں ہیں ۔
ب:آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حجت ہونے میں شک کرنے والا شخص کافر ہے ،اور جو شخص آپ کی کسی بات میں شک کرے گویا اس نے آپ کے تمام اقوال میں شک کیا ہے اور ایسا شک کفر ہے ۔
ج:آپصلىاللهعليهوآلهوسلم جو کچھ بیان فر ماتے ہیں خداوند عالم کی طرف سے بیان فرماتے ہیں ۔آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا قول جبرئیل سے اور جبرئیل کا قول خداوند عالم کا کلام ہے ۔
۶ ۔آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تبلیغ :اس سلسلہ میں بھی تین باتوں پر رو شنی ڈالی گئی ہے :
الف :جو کچھ خدا وند عالم نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر نازل فرمایا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کے پہنچا نے میں کو ئی کو تا ہی نہیں کی ہے ۔
ب:مطالب کو لوگوں کے لئے روشن کیا اور ان کو سمجھایا ہے ۔عین عبارت یوں ہے :آگاہ ہو جاؤ میں نے ادا کردیا ،پہنچادیا ،سنا دیا اور واضح کردیا ہے “۔
ج:آپ نے پیغام پہنچانے اور اپنے تبلیغ کرنے پر خداوند عالم کو شاہد قرار دیا ہے ۔
حضرت امیر المو منین علیہ السلام کی ولا یت
غدیر میں امیر المو منین علیہ السلام کے فقط پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خلیفہ اور ان کے جا نشین ہو نے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ علیعليهالسلام آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد ان کے قائم مقام ہو ہوں گے بلکہ وہ لوگوں کے تمام امورمیں تام الاختیار ہیں جن امور میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم صاحب اختیار تھے ان کے جانشین کےلئے بھی ان سب کا اعلان کیا گیا ہے ۔
خطبہ غدیر میں”امام “کا مطلب یعنی جو بشر کی تمام ضرورتوں کا جواب گو ہو ،یہ قدرت ان کو خداوند عالم عطا کرتا ہے ۔جو کچھ امامت کے عنوان سے حضرت امیر المو منین علیہ السلام کی امامت کے سلسلہ میں خطبہ غدیر میں بیان ہوا ہے وہ مندر جہ ذیل ہے :
الف :لوگوں پر صاحب امر اور واجب الاطاعت کے عنوان سے آپعليهالسلام کی مطلق حکو مت وولایت ،اس سلسلہ میں یہ تعبیر ات ہیں :امیر المو منین ،امام، خداو رسول کی حد تک لوگوں کے ولی ،خلیفہ وصی مفروض الطاعت اور نا فذ الامر ہیں ۔
ب:لوگوں کی خداوند عالم کی طرف ہدایت کرنا جو مندرجہ ذیل تعبیرات کی صورت میں آیا ہے :
وہ ہدایت کرنے والے ہیں ۔
حق کی طرف ہدایت کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔
باطل کو نیست و نابود کرتے ہیں اور لوگوں کو اس سے منع کرتے ہیں ۔
خداوند عالم کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔
جو کچھ خداوند عالم کی رضا ہے اس پر عمل کرتے ہیں ۔
خداوند عالم کی معصیت سے منع کرتے ہیں ۔
بشارت دینے والے ہیں ۔
ج:لوگوں کی علمی ضرورتوں کا جواب دینا جس کالازمہ لوگوں کی تمام علمی ضروریات سے آگاہ ہونا ہے اس مطلب کو مندرجہ ذیل تعبیرات سے بیان گیا ہے :
وہ میرے علم کے اٹھانے والے ہیں اور میرے بعد تم کو سمجھا ئیں گے اور بیان کریں گے۔ وہ تفسیر قرآن کے سلسلہ میں جا نشین اور خلیفہ ہیں ۔
د :دشمنوں کے ساتھ جنگ کرنا جو امام کا ایک طریقہ ہے مندرجہ ذیل دو طریقوں سے آیا ہے :
وہ خداوند عالم کے دشمنوں کے ساتھ جنگ کرنے والے ہیں ۔
وہ ناکثین ،قاسطین اور ما رقین کو قتل کرنے والے ہیں ۔
وسیع معنی کے اعتبار سے ”امامت “ جو خطبہ غدیر میں بیان کی گئی ہے یہ سب خداوند عالم کی پشت پنا ہی اور اس کے دستخط کے ذریعہ ہے اور وھی اس قدرت کو عطا کرنے والا ہے ۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل عبارتیں ملتی ہیں :
وہ خداوند عالم کی طرف سے امام ہیں ۔
ان کی ولایت خداوند عالم کی جا نب سے ہے جو مجھ پر نا زل کی گئی ہے ۔
خداوند عالم نے ان کو منصوب فر مایا ہے ۔
وہ خداوند عالم کے امر سے دشمنوں سے جنگ کرتے ہیں ۔
امیر المو منین علیہ السلام کے فضائل
امیر المو منین علیہ السلام کے مناقب و فضائل (مخفی کرنے اور منتشر نہ کرنے کے باوجود) تمام عالم میں سنے جا رہے ہیں ،دوست و دشمن ،مسلمان اور غیر مسلمان نے ان کو تحریر کر رکھا ہے اور کو ئی شخص ان کا انکار نہیں کرسکتا ہے ۔اس سلسلہ میں خطبہ غدیر میں دو اہم مطلب بیان کئے گئے ہیں :
۱ ۔امیر المو منین علیہ السلام کی مطلق اور لا محدود فضیلت کا اثبات
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خطبہ غدیر میں حضرت امیر المو منین علیہ السلام کی فضیلت کے سلسلہ میں وہ بیان فرمایا کہ کو ئی شخص اس سے زیادہ بیان ہی نہیں کرسکتا ہے اور وہ آپعليهالسلام کا قیامت تک تمام لوگوں سے افضل ہونا ہے (پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے علا وہ )لا محدود ،اورناقابل قیاس فضائل ،وہ فضائل جن کا عطا کرنے والا اللہ ہے اور ان کا اعلان کرنے والا آخری رسول ہے ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو فضیلت ان کے سلسلہ میں بیان کی جا ئے وہ کم ہے اور عقل بشر ان کی عظمت و جلالت کو درک کرنے سے عا جز ہے ۔ھم اس سلسلہ میں خطبہ غدیر کے پُر محتوا تین جملوں کا مشاہدہ کرتے ہیں :
۱ ۔خداوند عالم نے علی بن ابی طالبعليهالسلام کو تمام لوگوں سے ا فضل قراردیا ہے ۔
۲: علی علیہ السلام کو سب لوگوں پر فضیلت دو ،چو نکہ وہ میرے بعد تمام مرد و عورت سے افضل ہیں جب تک خداوند عالم روزی نازل کررھا ہے اور مخلوقات با قی ہیں ۔
۳ ۔حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے فضائل (جو خداوند عالم نے قرآن میں نازل کئے ہیں )اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ میں ان کو ایک نشست میں تم کو سنا ؤں ،پس جو شخص تم کو ان کے فضائل کے سلسلہ میں بتائے اور اس کی معرفت بھی رکھتا ہو تو اس سے قبول کرلو ۔
ظاہر ہے ”با معرفت “ کی شرط ایک اہم نکتہ کو شامل ہے وہ یہ کہ اگر کو ئی شخص اہل بیت علیھم السلام کے باب مناقب میں اہل معرفت نہ ہو تو ممکن ہے وہ احادیث کے معنی میں ضروری توجہ مبذول نہ کرے اور نتیجتاً آپعليهالسلام کی شان و عظمت کے خلاف معنی سمجھ بیٹہے ۔دوسری طرف انسان کوافراد ،زمانی اور مکانی حالات ،اور لوگوں کی مختلف افکار کو نظر میں رکہے بغیر ہر فضیلت کو ہر مقام پر نہیں کہنا چا ہئے لہٰذا اس سلسلہ میں لا زمی بصیرت و معرفت کا ہونا ضروری ہے ۔
۲ ۔امیر المو منین علیہ السلام کے بعض فضائل کا تذکرہ
امیر المو منین علیہ السلام کے وہ فضائل جن کا تذکرہ آنحضر تصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے خطبہ میں فر مایا ہے وہ آپعليهالسلام کے مناقب کا اساسی اور اہم پہلو ہے جس سے لوگوں کوخدا ورسول کے ساتھ آپعليهالسلام کا مکمل اتصال سمجھ میںآ تا ہے ،ان پھلوؤں کو چا ر عناوین میں جمع کیا جا سکتا ہے :
۱ ۔دین خدا میں سب سے اول پھل کرنے والے علی بن ابی طالبعليهالسلام ہیں اس بارے میں مندرجہ ذیل چیزیں بیان ہو ئی ہیں :
اسلام لانے والے پہلے شخص ہیں ۔
خداکی عبادت کرنے والے پہلے شخص ہیں ۔
نماز پڑھنے والے پہلے شخص ہیں ۔
۲ ۔راہ خدا میںآپعليهالسلام کی فدا کا ریاںخطبہ میں یوں بیا ن ہو ئی ہیں :
وہ خداوند عالم کے دین کے مدد گار ہیں ۔
وہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا دفاع کرنے والے ہیں ۔
آ پعليهالسلام وہ وہ ہیں جنھوں نے رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بستر پر سوکر اپنی جان ان پر فدا کی ہے ۔
۳ ۔خداوند عالم کا ان سے راضی ہونا ،یہ مطلب آنحضر تصلىاللهعليهوآلهوسلم نے دو جملوں میں اس طرح بیان فر مایا ہے :
خداوند عز وجل اور میں ان سے راضی ہیں ۔
رضایت کے متعلق کو ئی بھی آیت قرآن کریم میں ان کے علاوہ کسی کےلئے نازل نہیں ہو ئی ہے
۴ ۔آپعليهالسلام کے خصوصیات کو خطبہ غدیر میں اس طرح بیان کیا گیا ہے :
”امیرالمو منین“کا لقب آپ ہی سے مخصوص ہے ۔
آپعليهالسلام ”جنب اللہ “ہیں ۔
وہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نزدیک سب سے زیادہ عزیز ہیں ۔
وہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نسبت سب سے زیادہ سزا وار ہیں ۔
وہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سب سے زیادہ قریب ہیں ۔
وہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ان سے ہیں ۔
سورہ ”ھل اتی ٰ “ان ہی کی شان میں نازل ہوا ہے ۔
سورہ ”والعصر “ان ہی کے بارے میں نازل ہوا ہے ۔
یہ فضائل اس بات کی نشاند ہی کرتے ہیں کہ خدا و رسول کی بارگا ہ میں اس طرح متصل و مقرب شخص کی موجود گی کے باوجودکوئی دوسرا چا ہے وہ جس درجہ اور مقام پر فا ئز ہو منصب امامت و ولایت کےلئے سزاوار نہیں ہے تو ناشائستہ اور بغیر فضیلت والے افراد جیسے ابو بکر ،عمر ،عثمان معاویہ اور یزید کیسے اس منصب تک پہنچ سکتے ہیں
ائمہ اطھار علیھم السلام کی ولایت و امامت
خطبہ غدیر میں ائمہ علیھم السلام کو ان ہی بارہ عدد میں منحصر کرنے پر عجیب و غریب انداز میں زور دیا گیا ہے اور یہ کہ کو ئی فرد ان کی شان میں شریک نہیں ہے ۔دوسری طرف ان سب کو قبول کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ان میںافتراق و جدائی ڈالنے کو منع کیا گیا ہے اور ان میں فرق کرناگو یا امامت میں جدائی ڈالنا ہے ۔
یہ اس وجہ سے ہے کہ تمام ائمہ علیھم السلام خداوند عالم کی طرف سے ایک جیسی شان کے ساتھ اس منصب پر فا ئز ہو ئے ہیں اور اس امر میں ہر طرح کا خدشہ و شک درحقیقت فرمان الٰہی میں شک کا مو جب ہے اور ان افراد سے روگردانی کرنا ہے جن کے مقام ومنصب پر خداوند عالم نے اپنی مھر لگا دی ہے ۔
دوسری طرف ائمہ علیھم السلام کی تعداد کے معین و منحصر ہو نے کا مطلب یہ ہے کہ اور کو ئی شخص اس شان کے لا یق ہی نہیں ہے ،اور اگر کو ئی ان کے قبول و تسلیم کرنے میں شک کرے تو گو یا اس نے خداکے سلسلہ میں شک کیا ہے ۔اس سلسلہ میں عبد اللہ بن عباس نے معاویہ سے کہا :
”وَتَعْجَبُیَامُعَا وِیةُاَنَّ رَسُوْلَ اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآله وسلم سَمَّی الْاَئِمَّةَ بِغَدِیْرِخُمًّ یَحْتَجُّ عَلَیْهِمْ وَیَامُرُبِوِلَایَتِهِمْ “ ۔( ۶ )
اے معاویہ کیا تم اس با ت پر تعجب کرتے ہو کہ رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم میں ائمہ علیھم السلام کے اسماء گرامی کا تعارف کرایا ۔۔۔اس طرح ان پر حجت تمام کی اور ان کی اطاعت کا حکم صادر فرمایا “
خطبہ غدیر میں ہم کئی مقامات پر ائمہ علیھم السلام کی تعیین کے سلسلہ میں کلمہ ”ھَذا علی “نیز امام حسن اور امام حسین علیھما السلام کا نام لیا گیا ہے جن سے نسل اما مت کا پتہ چلتاہے اور حضرت علیعليهالسلام کے بازو بازو بلند کرکے اور ان کا مکمل طور پر تعارف کرا کے شک کے راستہ کو ایک دم بند کر دیا ہے اور کئی مقامات پر صاف طور پر یہ عبارت بیا ن فرما ئی ہے :
”امامت قیامت تک میری نسل اور میری اولاد میں سے ہے “
”ائمہ میری اولاد اور حضرت علی علیہ السلام کے صلب سے ہو ں گے “
بارہ اماموں میںسے سب کو تسلیم کرنے کے سلسلہ میں ہم خطبہ غدیر میں اس جملہ کا مشاہدہ کر تے ہیں :
”جو شخص کسی ایک امام کے بارے میں شک کرے تو اس نے تمام ائمہ کے سلسلہ میں شک کیا ہے اور ہما رے سلسلہ میں شک کرنے والے کا ٹھکانا جہنم ہے “
اسی طرح خطبہ میں ان کے نورانی وجود کا تذکرہ مو جو د ہے :
”خداوند عالم کی طرف سے نور مجھ میں ،اس کے بعد علی علیہ السلام اور ان کے بعد ان کی نسل میں مھدی کے ظہور تک قرار دیا گیا ہے “
خطبہ غدیر میں ائمہ کے انحصار کو بیان کر نے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی امامت کے سلسلہ میں پانچ جہتوںکی طرف اشارہ فرمایا ہے :
الف :قرآن کے شریک :یہ ثقل اصغر ،ثقل اکبر کے ساتھ ہے ۔یہ ثقل اصغر ،ثقل اکبر کے سلسلہ میں خبردیتے ہیں اس کے موافق ہیں اور اس سے جدا نہیں ہو ں گے ۔
ب:ہدایت کرنے والے :یہ حق کی طرف ہدایت کرتے ہیں اور حق و عدالت کے ساتھ عمل کرتے ہیں ۔
ج:خداوند عالم کے امین ہیں :یہ زمین پر خداوند عالم کے حا کم اور لوگوں کے ما بین خداوند عالم کے امین ہیں ۔
د:علماء :ان کے پاس حلال و حرام کا علم ہے اور ان کے پاس ہر چیز کا علم ہے ۔جو کچھ ان سے سوال کیا جا ئے اس کے جواب گو ہیں اور جو کچھ تم نہیں جانتے ہو یہ تمہیں اس کی تعلیم دیں گے ۔ ھ:خداوند عالم کی حجج :وہ تمام دنیا والوں کےلئے حجت ہیں جب تک ان سے متمسک رہوگے ہر گز گمراہ نہ ہوگے ۔اگر تم بھول گئے یا تم نے کسی چیز میں کو ئی کو تا ہی کر دی تو ائمہ تمھارے لئے بیان فر مائیں گے۔ وہ خداوند عالم کے سات دشمن گروہوں پر حجت ہیں :مقصرین، معا ندین ،مخا لفین ،خا ئنین آثمین، ظا لمین اور غا صبین ۔
حضرت مھدی علیہ السلام کی ولا یت و امامت
خطبہ غدیر میںحضرت بقیة الله الاعظم حجة بن الحسن المهدی صلوات الله علیه وعجل اللّٰه تعا لیٰ فرجه الشریف وجعلنا من انصاره و اعوانه “ کے سلسلہ میں خا ص تو جہ دی گئی ہے ۔
مھدی مو عود سے متعلق ان افراد کو خبردیناتھا جن پر امیر المو منین علیہ السلام کی ولایت کو قبول کرنا مشکل تھا ،اسلام کے مستقبل اور دین الٰہی کے طویل پروگرام کو مسلمانوں کیلئے بیان کرنا ہے ۔ اگرچہ اُس دن کے مسلمانوں نے علی بن ابی طالبعليهالسلام کو تسلیم نہ کیا لیکن اس طویل زمانہ میں نسلوں کےلئے حقائق روشن ہو گئے اور چونکہ امور خداوند عالم کے قبضہ قدرت میں ہیں لہٰذاایک دن اہل بیت علیھم السلام کاامر ظاہر ہوجائےگا اس دن جھان کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واقعی جا نشینوں کے حوالہ کر دیا جا ئے گا اور صدیوں سے جو کچھ ان کےلئے پیش آیا ہے وہ اس خون کا انتقام لیں گے ۔
یہ بات بیان کردینا بھی ضروری ہے کہ غدیر خم میں ان مطالب و مقاصد کا اعلان ،ایک پیشینگو ئی اور غیب کی خبریں شمار ہو تا ہے ۔
خطبہ غدیر میں حضرت مھدی علیہ السلام کے سلسلہ میں پچیس جملے آئے ہیں جن کا مندرجہ ذیل چھ عناوین میں خلا صہ کیا جا سکتا ہے :
الف :ان کی بشارت :اس سلسلہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فر ما تے ہیں :
”آپعليهالسلام ،وہ ہیں جن کی تمام پہلے آنے والوں نے بشارت دی ہے “
ب:ان کی خا تمیت :اسکے سلسلہ میں دواھم پھلوؤں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے :
۱: معین شدہ اماموں میں امامت متصل ہے اور منقطع ہو نے والی نہیں ہے یھاں تک کہ ان کے آخری اور خاتم حضرت مھدی علیہ السلام تک پہنچے گی ۔
۲ ۔حضرت مھدی علیہ السلام قیامت تک حجت خدا کے عنوان سے باقی رہیں گے اور ان کے بعد کو ئی حجت نہیں ہے ۔
ج:ان کا مقام و منزلت :اس بارے میں دو پھلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے :
۱ ۔ان کے فضائل و مناقب
وہ خداوند عالم کی طرف سے منتخب شدہ ،ہدایت یافتہ اور تا ئیدشدہ ہے ۔
ان کے اندر خدا وند عالم کی جا نب سے نور قرار دیا گیا ہے ،کو ئی نور نہیں ہے مگر ان کے ساتھ ہے اورکو ئی حق نہیں ہے مگر ان کے ساتھ ہے ۔
۲ ۔ان کا معاشرہ میں مقام و منصب
وہ زمین پر خدا کے ولی اور مخلوق کے ما بین حکم کرنے والے ہیں ۔
امور ان کے سپُرد کر دئے گئے ہیں وہ خدا وند عالم کے ہر مخفی اور اور آشکار کے امین ہیں ۔
وہ خدا کے دین کے مدد گار ہیں ۔
وہ ہر صاحب فضل کو اس کے فضل کے مطابق اور ہر صاحب جھل کو اس کے جھل کے مطابق حصہ دینے والے ہیں ۔
د:ان کا علم: اس سلسلہ میں دو باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے :
۱ ۔وہ ہر علم کے وارث ہیں اور ان کا علم تمام چیزوں پر احا طہ رکھتا ہے ۔
۲ ۔ان کا علم علمِ الٰہی کے عمیق دریا سے متصل ہے ۔
ھ:اُن کا قیام
خطبہ غدیر میں کلمہ ”القائم المھدی “دو مرتبہ استعمال ہوا ہے اور اس کے بعد حضرت بقیة اللہ الاعظم ارواحنا فداہ کی اس قدرت مطلقہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو ان کو خدا وند عالم کی طرف سے عطا کی گئی ہے اور اُن کی طاقت و قدرت کے برابر کو ئی بھی طاقت و قدرت نہیں ہے اس سلسلہ میں تین باتیں بیان کی گئی ہیں :
۱ ۔اُن پر کو ئی غالب نہیں آسکتا ،اُن کے خلاف کسی کی مدد نہیں کی جا ئیگی ،وہ تمام مضبوط قلعوں کو فتح کریں گے ۔
۲ ۔وہ تمام ادیان اور تمام مشرک گروہوں پر غلبہ حا صل کریں گے ،ان کی ہدایت کریں گے یا ان کو قتل کر دیں گے ۔
۳ ۔خدا وند عالم دنیا کی تمام آبادیوں اور شھروں کو ان کی تکذیب کی وجہ سے قیامت تک ھلاک کردے گا اور ان کو حضرت مھدی علیہ السلام کے تحت تصرف لا ئیگا ۔
و: ان کا انتقام
خطبہ غدیر میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اگرچہ اہل بیت علیھم السلام اور ان کے شیعوں کا حق ظالموں کے ذریعہ پامال ہو رہا ہے لیکن منتقم آئیگا اور آخرت کے عذاب کے قطع نظر اسی دنیا میں دو ستوں کے دلوں کو انتقام لیکر خوش کرے گا ۔یہ بات تین جملوں میں بیان کی گئی ہے :
۱: وہ خداوند عالم اور اہل بیت علیھم السلام سے متعلق ہر حق کو اخذ کریں گے ۔
۲ ۔وہ او لیائے خدا کے نا حق بھائے گئے ہر خون کا انتقام لیںگے ۔
۳ ۔وہ دنیا ئے عالم کے تمام ظالموں سے انتقام لیں گے ۔
ولایت کا حب وبغض سے رابطہ
هل الدین الاالحبّ والبغض ( ۷ ) کی اساس ھمار ے اعتقاد کے سب سے اہم ار کان مےں سے ہے ۔اہل بیت علیھم السلام کی ولا یت کا مقصد ان کا صاحب اختیار ہونا اور لوگوں کا مکمل طور پر ان کی اطاعت کرنا ہے اس کالازمہ اُن سے محبت رکھنا اور ان کے دشمنوں سے بغض وکینہ رکھنا ہے اس سلسلہ مےں خطبئہ غدیر مےں تین باتوں کو بیان کیا گیا ہے :
الف :خداوند عالم کے نزدیک اہل بیت سے محبت اور بغض کی اہمیت اس سلسلہ مےں تین نکتے بیان کئے گئے ہیں :
جو شخص علی کو دوست رکھتا ہے خدا اس کو دوست رکھتا ہے اورجو علیعليهالسلام کو دشمن رکھتا ہے خدا اس کو دشمن رکھتا ہے در حقیقت اُن سے محبت ودشمنی کا مسئلہ خود خدا وندعالم سے محبت اور دشمنی کی طرف پلٹتا ہے ۔
۲ ۔اہل بیت کے دشمن کی خدا وندعالم نے مذمت کی ہے اور اُس پر لعنت فرمائی ہے ۔ان کے دوست کی خداوندعالم مدح کرتا ہے اور خدا اس کو دوست رکھتا ہے :
۳ ۔خدا وندعالم ایک خاص وحی اور خطاب مےں ارشاد فرماتا ہے :”جوشخص علیعليهالسلام سے دشمنی کرے اور ان کی ولایت کا انکار کرے اس پر میری لعنت اور میرا غضب ہو “
ب:اہل بیت علیھم السلام کی محبت اعمال کے تو لنے کا پیمانہ ہے اس سلسلہ مےں ارشاد ہوتا ہے :تم مےں سے ہر ایک کو اپنے دل مےں علی کی نسبت محبت ودشمنی کے مطابق عمل کرے یعنی ہر انسان کو عمل کر نے سے پہلے یہ دیکھنا چا ہئے کہ وہ حضرت امیر المو منین علیہ السلام سے کتنی محبت یا دشمنی رکھتا ہے اور اسی کے مطابق وہ عمل کرے اس مطلب سے تین موضوعات کا استفادہ ہو تا ہے :
۱ ۔جو اہل بیت سے محبت رکھتے ہیں وہ اس نعمت کی قدر کو پہچا نیں اور اس نعمت کے مدنظر نیک اعمال کرنے کی کو شش کریں :
۲ ۔محبین اور شیعہ حضرات محبت اہل بیت کی راہ مےں زیادہ کا م کریں ،اپنی محبت کے درجہ کو اوپر لے جائیں ،ان کی راہ اور ان کے امر کو زندہ کرنے کے لئے فدا کاری کریں ۔
۳ ۔اہل بیت علیھم السلام کے دشمن یہ جان لیں کہ جب تک وہ اہل بیت علیھم السلام کی اساس و بنیاد جو محبت ہے ،کو محکم و مضبوط نہیں کریں گے اس وقت تک وہ بیکار اپنے اعمال انجام دیتے رہیں گے چونکہ اہل بیت علیھم السلام کی محبت کے بغیر عمل کی کو ئی قدر و قیمت نہیں ہے ۔لہٰذا اگر وہ اپنی خو د سازی اور خدا وندعالم کی راہ میں قدم اٹھا نا چا ہتے ہیں تو ان کےلئے اس مرحلہ سے اپنی اصلاح شروع کردینا چا ہئے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ایک حدیث میں فر ماتے ہیں :
”اِنَّمَایَکْتَفِیْ احْدُکُمْ بِمَایَجِدُ لِعَلِیٍّ فِیْ قَلْبِه“ِ
” تم میں سے ہر ایک جو کچھ اپنے دل میںعلی کی نسبت پاتاہے اسی پر اکتفا کرے “( ۸ )
ج:اہل بیت علیھم السلام کی محبت وہ دُرّ بے بھا ہے جو ہر ایک کو نہیں ملتا ہے ۔اگر کسی شخص نے اس کو قبول کرلیا تو یہ اس کی سعادت اور تقویٰ کی علا مت ہے ،اور اگر کسی نے قبول نہ کیا تو اس کی شقاوت کی نشا نی ہے ،اور شقی انسان کے لئے اس گوھر نایاب تک دست رسائی کر نا سزاوار نہیں ہے ۔
شیعہ اور اہل بیت علیھم السلام کے محبین
شیعہ اور اہل بیت علیھم السلام سے محبت کرنے والے اس بات کو جا ن لیں کہ انہیں کو نسے مذھب کو قبول کیاگیا ہے اورولایت ومحبت کے شرائط اور معیارکی حفاظت کرے نیزاس لئے کہ پروردگار عالم کے نزدیک اس کا مقام و منزلت واضح و روشن ہو جا ئے اس سلسلہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ غدیر میںچند بنیادی نکات بیان فرمائے ہیں :
الف : ائمہ علیھم السلام کے شیعوں اور محبوں کا خداوند عالم کے نزدیک مقام و منزلت ۔
۱ ۔خداوند عالم ان کی مدح کرتا ہے ،وہ حزب اللہ ہیں اور خداوند عالم ان کی مدد کرتا ہے ۔
۲ ۔ان پر خداوند عالم کی رحمت نازل ہو گی اور وہ بخش دئے جا ئیں گے ۔
۳ ۔چونکہ محبت حقیقی ایمان کی حکایت کر تی ہے ،لہٰذا یہ خالص صاحبان ایمان اور متقی ہیں اور ایمان ان کے دلوں میں ڈالدیا گیا ہے ۔وہ خداوند بالغیب سے خو ف کہا تے ہیں ،ہدایت یافتہ ہیں اور گمراھی سے امان میں ہیں ۔
ب:قیامت کے دن شیعوں اور اہل بیت علیھم السلام سے محبت کرنے والوں کا مقام
۱ ۔وہ بڑی کا میابی کے حامل ہیں اور اجر کبیر کے مستحق ہیں ۔
۲ ۔قیامت کے ہو لناک دن کاان کو کو ئی ڈر نہیں ہے اور وہ رنجیدہ نہیں ہو ںگے۔
۳ ۔ان کی آخری جزا بھشت ہے ۔وہ امن و سلا متی کے ساتھ اس میں داخل ہوں گے اورانہیں بغیرحساب کے رزق دیاجا ئےگا ۔ان کاساتھ دینے کےلئے ملا ئکہ آئیں گے اور ان پر سلا م کریں گے، اور ان کو ابدی جنت کی بشارت دیں گے ۔
ج:جن پھلوؤں کی شیعوں اورمحبان اہل بیت علیھم السلام کودعوائے ولایت کی بناپررعایت کرنا ضروری ہے :
۱ ۔اپنے عقیدہ میں شک و شبہ کو راہ نہ دیں ۔
۲ ۔خدا ورسول اور اہل بیت علیھم اسلام کے دشمنوں سے دوستی نہ رکہیں اگرچہ وہ ان کے ماں باپ، اولاد ،بھائی اور رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ۔
۳ ۔اپنے پاکیزہ ایمان پر ظلم اور برے اعمال کا لباس نہ ڈالیں ۔
اہل بیت علیھم السلام کے دشمن
اہل بیت علیھم السلام مخلوق کا عصارہ ہیں ،خداوند عالم نے تمام مخلوقات کو اِن ہی برکت اور اِن کے وجود کی برکت کے سایہ میں پیدا کیا ہے ،جس قدر اہل بیت علیھم السلام سے محبت کی خداوند عالم کی بارگاہ میں قدر وقیمت ہے اتنا ہی خداوند عالم کی اس بہترین مخلوقات کے ساتھ اُن سے عداوت اور بغض نہ بخش دئے جانے والا گناہ ہے اور تمام اچھائیوں کو برباد کرنے والا ہے ۔
مسلمان اہل بیت علیھم السلام کے مقابل ہمیشہ دو راہے پر ہیں :یا ان سے محبت کریں یا دشمنی کریں ان کے پاس تیسرا کوئی راستہ نہیں ہے ۔اہل بیت علیھم السلام کی معرفت کے باوجودان سے محبت نہ کرناجرم ہے اور اس سلسلہ میں کسی کے لئے کو ئی فرق نہیں ہے ۔
ظاہر ہے جس طرح اہل بیت علیھم السلام سے محبت کے درجات ہیں اسی طرح ان کے دشمنوں میں بغض و عداوت بھی یکسان نہیں ہے اس میں کمی اورزیادتی اور اس کی نوعیت بھی مختلف ہے ۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ غدیر میں اہل بیت علیھم السلام سے دشمنی کے معیار (اتمام حجت کے عنوان سے )کو لوگوں کے لئے مشخص و معین فر ما دیا ہے ،اور ان کی مخالفت و دشمنی کی جزا ء اور سزا کو بھی معین فر مادیا ہے ۔جس کو ذیل میں بیان کرہے ہیں :
الف: اہل بیت علیھم السلام سے دشمنی کی نوعیت
۱ ۔ان کے حق کا انکار کرنا اور ان کی ولایت کو قبول نہ کرنا ۔
۲ ۔ان کے سلسلہ میں اور خدا وند عالم کی جانب سے ان کو عطا کئے گئے مقام ومنصب میں شک کرنا ۔
۳ ۔ان کو اپنے امام کے عنوان سے قبول نہ کرنا اور ان کی اقتدا نہ کرنا ۔
۴ ۔ان کے کلام کوردکرنا ،ان کی مو افقت نہ کرنا اور ان کے امر کی مخالفت کرنا ۔
۵ ۔ان سے دلی دشمنی اور ظاہری عداوت کرنا ۔
۶ ۔ان کو ذلیل و رسوا کرنا اور ان کی مدد کرنے سے انکار کرنا ۔
۷ ۔ان سے محبت نہ کرنا ۔
۸ ۔ان سے حسد کرنا ۔
ب:خداوند عالم کی بارگا ہ میںدشمنان اہل بیت (ع)
۱ ۔ملعون ،مغضوب اور شقی ہیں ۔
۲ ۔سفیہ(بیوقوف) ،گمراہ ،شیطانوں کے بھائی اور مکذبین ہیں ۔
۳ ۔خداوند عالم ان کی مذمت کرتا ہے ان کو خوار و رسوا کرتا ہے ، ان سے دشمنی رکھتا ہے ان کو نہیں بخشے گا اور ان کی تکذیب کی وجہ سے ان کو ھلاک کردے گا ۔
ج:قیامت کے دن اہل بیت علیھم السلام کے دشمنوں کی سزا
۱ ۔ان کے اعمال کی دنیا و آخرت میں کو ئی قدر و قیمت نہیں ہیں اور سب برباد ہو جا ئیں گے ۲ ۔وہ جہنم کے شعلوں میں ڈالے جا ئیںگے ،جہنم کے شعلوں کی آواز سنیں گے اور اس کے شعلوں کا مشاہدہ کریں گے ۔
۳ ۔ان کے عذاب میں کو ئی کمی نہیں کی جا ئے گی ۔
۴ ۔وہ ہمیشہ سخت عذاب میں رہیں گے اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہینگے ۔
گمراہ اماموں کا تعارف
دشمنان ولایت کو ان کے رھبروں کی شناخت کے ذریعہ پہچانناہدایت کےلئے بہت اثر رکھتا ہے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کوقابل اطمینان اوربے خطرمستقبل سے خوش نہیں کیا بلکہ مسلمانوں کومستقبل کے خطروں اور ان کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں سے بھی مطلع کیاہے کہ کہیں وہ ایسے مو ڑ پر آکر نہ کھڑے ہو جائیں جھاں حق کو باطل سے تشخیص نہ دے سکیں اور گمرا ہوں کے دھوکہ میں آجا ئیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سلسلہ میں تین بنیادی پیشینگوئیاں فرما ئی ہیں :
۱ ۔عوام الناس کے لئے بیان فرمایا کہ خو د سے مطمئن نہ ہو جانا خوا ھشات نفسانی اور شیطان کے دھوکہ سے بچتے رہنا اور یاد رکھو اگر میں دنیا سے چلا گیا یا قتل کردیا گیا تو یہ احتمال موجود ہے کہ نہ صرف تم گمراہ ہو جا ؤ گے بلکہ اپنی جا ہلیت کی طرف پلٹ جاؤ گے ۔
۲ ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو خبر دار کیا کہ ائمہ حق جن کا میں نے تمھارے سامنے خداوند عالم کی جا نب سے تعارف کرایا ہے ان کے مقابلہ میں کچھ ایسے لیڈر بھی ہو ں گے جو لوگوں کو آتش جہنم کی طرف بلا ئیں گے لہٰذا تم ایسے گمراہ لیڈروں سے اپنے کو بچا ئے رکھنا ۔
اسی طرح آپ نے یہ بھی خبر دی ہے کہ ائمہ حق کی امامت کو کچھ لوگ غصب کریں گے اور ریاست طلبی اور با دشاہت کے چکر میں اس مقام و منصب پر قابض ہو جا ئیں گے ،اس کے بعد آپ نے لوگوں کے سا منے ان کے غاصب ،ظالم اور نا حق ہو نے کو بیان فرمایا ۔
نتیجتاً آپ نے گمراہ لیڈروں کی اصل بنیادکو لوگوں کو بتاتے ہوئے اشارہ کے طور پریہ ارشاد فرمایا :”وہ اصحاب صحیفہ ہیں “چونکہ تمام گمراہ لیڈروں کی بنیاد وہ ”صحیفہ ملعونہ “ہے جس پر کعبہ میں دستخط کئے گئے تھے ۔( ۹ )
۳ ۔گمراھی کے اماموں اور خلافت و امامت کے غا صبوں کے سلسلہ میں دو بنیادی مطلب بیان فر ما ئے اور ان کی عاقبت کو معین و مشخص فرمایا :
الف :ان کو مورد لعنت قرار دیا اور یہ اعلان فرمایا کہ میں اور میرا پروردگار ان سے بیزار ہے ۔ ب:ان کو یہ خبر بھی دی کہ نہ صرف گمراہ امام بلکہ ان کے دوست ،ان کا اتباع کرنے والے ان کی تا ئید کرنے والے بھی جہنم کے آخری درجہ میں ہوں گے ۔
۳ ولایت سے متعلق مسائل میں، غدیر کی عملی اور اعتقادی بنیادیں
قرآن سے متعلق
خطبہ غدیر میں قرآن کے سلسلہ میں چار اساسی پھلوؤں پر رو شنی ڈالی گئی ہے :
الف ۔قرآن کی منزلت
۱ ۔قرآن مسلمانوں کے ما بین پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی یادگار اور نشا نی ہے ۔
۲ ۔قرآن ثقل اکبر( اِنّی تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْن ) ہے اور ثقل اصغر کی خبر دیتا ہے ۔
ب:قرآن کا مطالعہ
۱ ۔قرآن میں تدبّر و تفکر کرو اور اس کی آیات کو سمجھو ۔
۲ ۔محکمات قرآن پر غورکرو اور اس کے متشابھات کو چھوڑ دو ۔
ج: قرآن کی تفسیر
۱ ۔قرآ ن کے مفسر اور اس کے باطن کو بیان کرنے والے صرف اہل بیت علیھم السلام ہیں ۔
۲ ۔قرآن کی تفسیر کرنے میں اہل بیت علیھم السلام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ اور جا نشین ہیں اور وہ ھستیاںہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستخط کے ذریعہ یہ حق رکھتے ہیں ۔
د: قرآن کریم کااہل بیت علیھم السلام کے ساتھ رابطہ
۱ ۔قرآن اہل بیت علیھم السلام کے موافق ہے اور ان سے جدا نہیں ہوگا ۔
۲ ۔ان میں سے ہر ایک ،ایک دو سرے کے سلسلہ میں خبر دیتا ہے ۔
۳ ۔خداوند عالم نے قرآن کریم میں حضرت امیرالمو منینعليهالسلام کے فضائل نازل فرما ئے ہیں ۔
۴ ۔قرآن فرماتا ہے کہ ائمہ علیھم السلام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی علیہ السلام کی نسل سے ہیں ۔
امام علیہ السلام بشر کی علمی ضرورتوں کے جواب گو ہیں
معاشرہ کی سب سے بڑی ضرورت اور متعدد مشکلوں کو حل کرنے والا کہ جس سے کوئی معا شرہ بے نیاز نہیں ہو سکتاوہ ” علم “ہے ۔خدا وند عالم نے مسلمانوں کے مستقبل میں اس ضرورت کے بہترین ممکنہ حل کوان کے سامنے پیش کیا ہے ۔
تمام علوم بغیر کسی استثناء کے ہر مو ضوع کاعلم چا ہے اس کانتیجہ لوگوں تک پہونچتا ہو یا ان علوم کا نتیجہ دین اور آخرت سے متعلق ہو کی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کیاہے اور اس سے متعلق علوم ان کے سپرد کئے ہیں ۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد یہ تمام علوم علی بن ابی طالب علیہ السلام کی طرف منتقل ہو گئے ہیں اور امیر المو منین علیہ السلام کے بعد ان کے بعد والے اما م کی طرف منتقل ہوئے ہیں اور علم کا یہ بیکراں دریا ائمہ علیھم السلام میں یکے بعد دیگرے منتقل ہوتا رہا اور آج یہ علم کا مخزن قائم آل محمد حضرت صاحب العصر والزمان سلام اللہ علیہ وعجل اللہ فرجہ الشریف کے پاس ہے ۔
خطبہ غدیر میںحلا ل و حرام اور تفسیر قرآن کے علم کے علاوہ کہ جس کا خاص طور پرتذکرہ ہوا ہے کچھ مقامات پر صاف طور پر بیان ہوا ہے کہ ان کے پاس ہر علم ہے اور اس سلسلہ میں دواھم باتوں کی طرف اشارہ کیاگیا ہے :
الف: ان کے علم کی کیفیت اور قدر و قیمت
۱ ۔ان کو علم خداوند عالم نے ھبہ کیا ہے اور ان کو خداوند عالم کی طرف سے عطا کیا گیا ہے اور یہ خداوند عالم کے لا محدود علم سے متصل ہے ۔
۲ ۔کو ئی شخص اس علم تک راہ نہیں پاسکتا اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ علم صرف ان ہی کے سپرد کیا ہے اور جو شخص ان کے علاوہ ایسا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے ۔
ب:ان کے وسعت علم کا نتیجہ
۱ ۔جو کچھ تم ان سے سوال کروگے یہ تم کو جواب دیں گے ۔
۲ ۔جو کچھ تم نہیں جانتے ہو یہ بتا ئیں گے اور بیان کریں گے ۔یعنی اگر تم سوال نہیں کروگے تو بھی از خودیہ تمہیں سمجھا ئیں گے نیز اگر کچھ مقامات پر مسئلہ مبھم رہ گیا یا تم اس کو غلط سمجھ گئے تو یہ تمھارے لئے روشن کریںگے ۔
حلال و حرام کے سلسلہ میں کلی قوانین
اگرچہ حلال و حرام اور واجبات و محرمات کی تعداد بیشمار ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ۲۳ سال کے عرصہ میں کچھ ہی بیان فر ما ئے ہیں اور چونکہ ان سب کو ایک ساتھ بیان کر نے کا مو قع (نہ لوگوں کے صبروتحمل کے لحاظ سے اورنہ ہی معاشرتی حالات کے اعتبارسے )فراھم نہ ہو سکا لہٰذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احکام الٰہی کو دو بنیادی پھلوؤں سے بیان فرمایا :
الف :جو احکام انحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بیا ن فر ما ئے ان کے سلسلہ میں دو باتیں بیا ن فر ما ئیں :
۱ ۔جو کچھ میں نے بیان فرما دیا ہے اس سے ھرگز نہیں پلٹوں گا کہ کسی حلال کو حرام اور حرام کو حلال کردوں اور فطری طور پرکسی کو یہ حق حا صل بھی نہیں ہے ۔
ب:جو کچھ میں نے بیان فر مادیا ہے ہر گز اس میں کسی بھی حالت میں رد و بدل نہیں کر وں گا اور پس کسی کوبھی کسی کو ایسا کرنے کا حق حا صل نہیں ہے ۔
ب:جن احکام کو آپ بیان نہیں فر ما سکے تھے ان کے سلسلہ میں لوگوں کو علی بن ابی طالبعليهالسلام اور گیارہ ائمہ علیھم السلام سے رجوع کرنے کا حکم دیاکہ ان کی امامت قیا مت تک باقی رہے گی اس طرح آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تمام لوگوں پر حجت تمام کردی اور کسی کےلئے عذر تراشی کا کو ئی مو قع باقی نہ چھوڑا ۔
اس سلسلہ میں تین اہم باتیں بیان فر ما ئیں :
۱ ۔حلال و حرام کو بیان کرنے کےلئے ان کے علم کی ضرورت ہے اور یہ علم خداوند عالم کی طرف سے فقط پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ علیھم السلام کو عطا کیا گیا ہے ۔
۲ ۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ علیھم السلام کا کلام خداوند عالم کا کلام ہے اور قرآن کے مساوی ہے ۔
۳ ۔احکام الٰہی کے سلسلہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ علیھم السلام کے علاوہ کسی کوخبر دینے کاحق نہیں ہے اور لوگ بھی ان کے علاوہ حلال و حرام کو پہچا ننے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں بنابریں کسی دو سرے راستہ کی پیروی بدعت ،ضلالت اور حکم الٰہی کے خلاف اخذ کرنا ہے ۔
امر بالمعروف اور تبلیغ کے سلسلہ میں کلیات
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ غدیر میں امر با لمعروف اور نھی عن المنکر کے مسئلہ کو ابلاغ و تبلیغ کے مو ضوع کے ساتھ ملا کربیان فرمایا ۔دوسرے لفظوں میں امر با لمعروف اور نھی عن المنکر کے وقت انسان خداوند عالم ،رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیھم السلام کی طرف سے وظیفہ بتا کر انجام دیتا ہے اور خداوندعالم کامامور اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ علیھم السلام کے خادم کے عنوان سے عمل کرتا ہے ۔
اس مطلب کے پیش نظر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امر با لمعروف اور نھی عن المنکر کے سلسلہ میں تین بنیادی چیزیں بیان فرمائیں :
الف :اس چیز کو جا ننے کے لئے کہ امر با لمعروف کیا ہے اور منکر کیا ہے فقط ایک راہ مو جو د ہے اور وہ ائمہ معصومین علیھم السلام کا بیان ہے ۔اگر امر با لمعروف اور نھی عن المنکر کے سلسلہ میں ان کے علاوہ کسی اور طریقہ سے کو ئی بات پہونچے تو وہ نہ صرف معتبر نہیں ہے بلکہ بدعت بھی ہے ۔اسی وجہ سے آپ نے فرمایا ہے :
سب سے بلند و بالا امر با لمعروف اور نھی عن المنکر یہ ہے کہ ائمہ معصومین علیھم السلام کی ولایت کو لوگوں تک پہنچایا جائے ۔تا کہ اس ذریعہ سے معروف اور منکرات کی شناخت کے لئے لوگوں کو اس مرکز اور مرجع کا تعارف کرایا جا ئے ۔
ب:امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے سے پہلے تین اہم باتیں مد نظر رکھنی چا ہئیں :
۱ ۔اچھی طرح سیکھنا اور اصل مطلب کو سمجھنے میں اشتباہ نہ کرنا ۔
۲ ۔مطلب کو اچھی طرح ذہن نشین کرنا اور یاد کرنا۔
۳ ۔مطلب میں تغیر و تبدل نہ کرنا اور صحیح پہنچانا ۔
ج:آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دائرہ تبلیغ کی وسعت ، احکام الٰہی کی تبلیغ اور اس کے مراحل یوں بیان فر ما ئے ہیں :
۱ ۔جو جا نتے ہیں وہ ایک دو سرے کو سفارش کریں اور یا د دلا ئیں ۔
۲ ۔ماں باپ اپنی اولاد تک دین پہنچا نے میں ایک خاص وظیفہ رکھتے ہیں ۔
۳ ۔احکام الٰہی کا اپنے رشتہ داروں اور دوستوں تک پہنچانا بہت ضروری ہے ۔
۴ ۔حاضرین کوغائبین تک پہنچانا چا ہئے ۔
۵ ۔دور اور نزدیک ہر جگہ تبلیغ کرنا چا ہئے اور مطالب پہنچانا چا ہئے ۔
۶ ۔جس شخص کو دیکہیں تبلیغ کریں اور خداکے حکم کو پہنچا ئیں ۔
البتہ ان تمام موارد میں زمان و مکان اور افراد کے حالات کی رعایت کرنا ضروری ہے ۔
نماز اور زکات کے سلسلہ میں اہم باتیں
خطبہ غدیر میں نماز اور زکات کے سلسلہ میں تین اساسی باتیں بیان فرما ئی ہیں :
۱ ۔دین اسلام کی ان دو باتوں پر خاص طور پر زور دیا کہ ان کے دنیوی، اُخروی ،فردی اور معاشرتی اثرات سے سب آگاہ ہیں ۔
۲ ۔ان دو فریضوں کواس طرح انجام دینا جیسے خداوند عالم نے اس کا حکم دیاہے (کماامرکم اللہ ) اس طرح کہ ان میںجا ن بوجھ کر کسی طرح کی بدعت ،کمی اور زیادتی ان کو نابود کردیتی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ خداوند عالم لوگوں کی کامل اطاعت کے درجہ کو ان دو عمل کے ذریعہ تولنا چا ہتا ہے اور اس طرح لوگ اپنے اندر (الاسلام ھوالتسلیم )کی میزان کواپنی کسوٹی پرپرکہیں ۔
۳ ۔اگر ان دونوں عمل کے سلسلہ میں کو ئی مشکل پیش آجا ئے تو ائمہ علیھم السلام سے سوال کیاجائے تاکہ ان کو خداوند عالم کی مرضی کے مطابق انجام دیا جا سکے ۔
حج اور عمرہ کے سلسلہ میں رہنما ئی
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ غدیر میں حج و عمرہ کے متعلق چار اہم پھلوؤں پر زوردیا ہے :
الف۔حج اور عمرہ شعا ئر الٰہی میں سے ہیں :( وَمَنْ یُّعَظِّمْ مِنْ شَعَائِرَاللهِ فَاِنَّهَامِنْ تَقْوَ یَ الْقُلُوْبِ ) ،اور ان کو زندہ کرنا د ین خدا کو زندہ کرنا ہے ۔
ب۔خداوند عالم کی طرف سے حجاج کے لئے دنیاوی اور اخروی نفع کو مد نظر رکھا گیا ہے :
ب ۔دنیاوی فائدہ :جو شخص حج کرنے کےلئے جاتا ہے خداوند عالم اس کوغنی کر دیتا ہے ۔ خدا حا جیوں کی مدد فرماتا ہے ۔جو کچھ وہ سفر حج میں خرچ کرتے ہیں خداوند عالم اس کی جگہ اموال سے پرُ کردیتا ہے ۔
۲ ۔نفع اُخروی :اس کے گناہ معاف کر دئے جا تے ہیں ،ان کو نئے سرے سے اعمال انجام دینے کوکھا جاتا ہے اور ان کو بشارت دیدی جا تی ہے ۔
ج:جان بوجھ کر حج نہ کرنا خداوند عالم کے یھاں بہت اہم ہے اور عذاب اخروی کے علاوہ دنیوی ضرر بھی رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ عمر کم ہو جا تی ہے ،نسل منقطع ہو جا تی ہے اور فقر کا باعث بھی ہو تا ہے
د:جو شخص حج کرنے کےلئے جاتا ہے اس سے تین اہم چیزیں طلب کی گئی ہیں :
۱ ۔اس کا حج اکمال دین کے ساتھ ہو نا چا ہئے اور ظاہری طور پر اس سے اہل بیت علیھم السلام کی ولایت مراد ہے ۔
۲ ۔ حج کے صحیح ادراک کے ساتھ حج کے مفاہیم و مقاصد کو سمجھ کراعمال حج انجام دے ۔
۳ ۔حج میں محکم توبہ کرے کہ ہر گز خانہ خدا سے واپس آنے کے بعد دوبارہ گناہ نہیں کرےگا ۔
۴ بیعت غدیر کا دقیق جا ئزہ
”بیعت غدیر “کو خطبہ کے متن میں بیان کیا گیا ہے حقیقت میں یہ اس کے محتویٰ کا پابندہونا ہے ۔( ۱۰ )
”بیعت “یعنی کسی کے مقام و منصب کو قبول کرنا اس کا اقرار کرنا اور اس کے اقرار کرنے کے سلسلہ میں پیش آنے والی تمام ضروریات کو پورا کرنے کےلئے اپنا ہاتھ بڑھانا ۔لہٰذا بیعت میں اس کا اصلی موضوع اورکئے گئے وعدے مشخص و معین ہو نے چا ہئیں ۔اسی طرح اس کی قدرو قیمت ،اس کی پشت پنا ہی ، ضامن و شاہد ،اس کی کیفیت اور شکل معین و مشخص ہو نی چا ہئے ۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ غدیر میں ان تمام پھلوؤں پر روشنی ڈالی ہے جس کو ہم ذیل میں بیان کر رہے ہیں :
بیعت غدیر کا اصلی مو ضوع غدیر کی بیعت کا اصلی موضوع امیر المو منین علیہ السلام اورائمہ جوان کی اولادمیں سے ہیں آخر ی حضرت مھدی علیہ السلام تک ان کی امامت کو قبول کرنا اور اس کا اقرار کرنا اور ان کی امامت قیامت تک ہے اور ان کے ان تمام مناصب کو قبول کرنا جو خطبہ کے متن میں بیان ہو ئے ہیں ۔
لہٰذا خطبہ کا اصلی مو ضوع فقط علی بن ابی طالب علیہ السلام کی امامت اور خلافت نہیں ہے بلکہ تمام ائمہ علیھم السلام کی امامت ہے اور ان کی امامت قیامت تک باقی رہے گی اور ان سے پہلے اور ان کے بعد کو ئی اما م نہیں ہے اور ان کے علاوہ کسی اور کو اس طرح کا دعویٰ کرنے کا کو ئی حق نہیں ہے جن لوگوں نے حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کی گو یا انھوں نے تمام ائمہ علیھم السلام کی بیعت کی ہے ۔
بیعت غدیر کا مطلب غدیر میں لوگوں نے مو ضوع ولایت کے سلسلہ میں کئے گئے جن وعدوں کو وفا کرنے کےلئے بیعت کی ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں :
۱ ۔ھم نے سنا ہے کہ:پس کو ئی شخص یہ نہیں کہے گا کہ” میں نے نہیں سنا اور میں متوجہ نہیں ہو ا “۔
۲ ۔ھم مقام عمل میں اطاعت کرتے ہیں اور سر تسلیم خم کرتے ہیں ۔
۳ ۔ہمارا قلب و ضمیر اس مطلب سے راضی ہے ۔
۴ ۔ہماری مو ت و حیات اور حشرونشر اسی عقیدہ پر ہو گا ۔
۵ ۔ھم ان مطالب میں کو ئی تغیر و تبدل نہیں کریں گے ۔
۶ ۔ھم ان مطالب کے متعلق اپنے دل میں کو ئی شک و شبہ نہیں آنے دیں گے ۔
۷ ۔ھم ان مطالب کا مستقبل میں انکار نہیں کریں گے ،اپنی بات سے نہیں پھریں گے ،اپنے عھدوپیمان کو نہیں توڑیں گے اور اپنے وعدہ کو وفا کریں گے ۔
۸ ۔ھم آپ کا یہ فرمان اپنے قریب و دورکے رشتہ داروں اوردوستوںتک پہنچا ئیں گے۔
بیعت غدیر کی قدر و قیمت اور پشت پناھی جس طرح تمام احکام و مسائل جو دین سے متعلق ہیں ان کی اس وقت کو ئی قدر و قیمت ہو گی جب وہ خداوند عالم سے متصل ہوں اور ان کا فرمان خدوند عالم کی طرف سے صادر ہواہو ،بیعت غدیر جو حقیقت میں تمام احکام الٰہی کا تسلیم کرنا ہے اس کو بھی الٰہی پشت پناھی کی ضرورت ہے ۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سلسلہ میں بہت زیادہ زور دیا ہے کہ اس بیعت کانہ صرف خداوند عالم کی طرف سے حکم دیا گیا ہے بلکہ یہ خود خداوند عالم سے بیعت کرنے کے مترادف ہے اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل جملے فرما ئے :
۱ ۔یہ بیعت خداوند عالم کی جا نب سے اور اس کے حکم سے ہے ۔
۲ ۔جو اس بیعت کو انجام دیںگے حقیقت میں خداوند عالم سے بیعت کریں گے۔
۳ ۔میں نے خداوند عالم سے بیعت کی ہے اور علیعليهالسلام نے مجھ سے بیعت کی ہے ۔
۴ ۔خداوند عالم سے بیعت کرو اور مجھ سے ،علیعليهالسلام ،حسن ،حسین اور ائمہ علیھم السلام سے بیعت کرو ۔
۵ ۔جو بیعت کرنے میں ایک دو سرے پر سبقت کریں گے وہ کا میاب ہیں اور ان کا ٹھکانا نعمتوں کے باغات ہوں گے ۔
۶ ۔جو شخص یہ بیعت توڑے گا وہ خود اپنا ہی نقصان کرے گا اور جو شخص خداوند عالم سے کئے ہو ئے عہد کو وفا کرے گا خدا وند عالم اس کو اجر عظیم عطا کرے گا ۔
بیعت غدیر کے ضامن اور شاہد ہر عہد و پیمان کے لئے گواہ اور ضامن کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ انکار کی صورت میں اس کی طرف رجوع کیا جا سکے ۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بیعت کے گواہ خداوند عالم ،بذات خود ، ملا ئکہ ،اور خداوند عالم کے صالح بندوں کو قرار دیا اور فرمایا :
”کہو :ھم خداوند عالم کو اس مطلب پر گواہ قرار دیتے ہیں ،اور آپ بھی ہم پر گواہ ہیں اور ھروہ شخص جو خدا وند عالم کی اطاعت کرتا ہے خداوند عالم کے فرشتے ،اس کا لشکر ،اور اس کے بندوں کو شا ھد قرار دیتے ہیں اور خداوند عالم ہر شاہد و گواہ سے بلند و بالا تر ہے “۔
بیعت غدیر کی کیفیت ظاہر ہے بیعت کاعمومی طریقہ وھی ہاتھ میں ہاتھ دینا ہے ،لیکن اس ہاتھ دینے کا مطلب حقیقت میں عہد کرنا اور دل و زبان سے وفا داری مصمم ہوتی ہے ۔
غدیر میں کئی پہلو تھے جن کی وجہ سے ہاتھ سے بیعت کرنے سے پہلے ،زبانی طور پر بیعت کا اقرار لیا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متن گفتار بھی معین فر مایا وہ پھلومندرجہ ذیل ہیں :
۱ ۔ھاتھ سے بیعت کرنے کو تشریح کی ضرورت ہے ،اور یہ پہلے معلوم ہونا چا ہئے کہ کس چیز کے لئے بیعت کی جا رہی ہے ۔یہ زبانی اقرار حقیقت میں ہاتھ سے بیعت کرنے کی تشریح تھی جو خطبہ کے بعد انجا م دی گئی ہے ۔
۲ ۔اس بات کا امکان تھا کہ کچھ لوگ خطبہ کے بعد ہاتھ سے بیعت کرنے کے لئے تیار نہ ہوں اور خود کو اس مطلب سے دور کر لیں اور بعد میں یہ کہیں :”ھم نے بیعت ہی نہیں کی ہے “لہٰذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے زبانی طور پر اقرار لیااور فرمایا :”جو شخص ہاتھ سے بیعت کر سکا اس نے ہاتھ سے بیعت کر لی ہے اور جو ہاتھ سے بیعت نہیں کر سکا اس نے زبان سے اقرار کر لیا ہے “
۳ ۔اگر زبا ن سے بیعت کر نے کی عبارت اور متن معین نہ ہو تا تو ممکن تھا ہر انسان اپنے ذوق و سلیقہ کے مطابق عبارتیں استعمال کرتا جو قانو نی اعتبار سے غلط اور مشتبہ ہو تی ۔اور ھرج و مرج کے علاوہ حقیقت میں ہر انسان اس مطلب کا اقرا ر کرتا جو دوسروں سے کم اور زیادہ ہوتا ۔
۴ ۔اگر متن معین و مشخص نہ ہو تا تو یہ امکان تھا کہ کچھ فتنہ و فساد پھیلانے والے گروہ شبہہ ڈالنے والی خاص عبارتیں آمادہ و تیار کرلیتے اور ان کے ذریعہ اس بیعت کی قدرو قیمت کو کم کرنے کے اسباب فراہم کرتے ۔
۵ ۔مجمع کی کثرت ،وقت کی کمی اور لوگوں کے توقف کے نا مساعد حالات فراہم نہ ہو نے کی وجہ سے یہ قوی احتمال تھا کہ کچھ افراد کو ہاتھ سے بیعت کرنے کا مو قع نہ مل سکے لہٰذا یہ زبان سے بیعت ضرور ہو نا چا ہئے تھی ۔
اس مطلب کی وضاحت کرنے کے بعد ہم یہ با ت بیان کرنا چا ہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ اور زبان سے بیعت کو کس طرح انجام دیا:
الف :ھاتھ کے ذریعہ بیعت ۱ ۔خطبہ کے دوران بیان فر ما یا کہ میں خطبہ کے بعد تم کو ہاتھ سے بیعت کرنے کے عنوان سے بلاؤں گا ۔
۲ ۔آ پ نے حکم فرما یا کہ پہلے لوگ خود آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ائمہ علیھم السلام کے سلسلہ میں بیان کردہ کلام کا اقرارکرنے کےلئے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیعت کریں اور اس کے بعد حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی بیعت کریں ۔
۳ ۔ھاتھ سے بیعت کو دل و جان سے بیعت کی حکایت بتلایا ۔
ب:زبان سے بیعت کے سلسلہ میں پانچ باتیں بیان فر ما ئیں :
۱ ۔تمام مل کر اپنی زبان سے یہ کلمات دُھرائیں :”۔۔۔“انحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تفصیلی طور پر وھی متن معین فرمایا ۔( ۱۱ )
۲ ۔ایھا الناس جو کچھ میں نے تم سے کہا اس کو اپنی زبان سے دُھراؤ۔
۳ ۔ایھا الناس تم کیا کہتے ہو ؟خداوند عالم آوازوں کو سنتا ہے اور تمھا رے نفسوں میں مخفی چیزوں سے بھی با خبر ہے ۔(یہ اس با ت کی طرف اشارہ تھا کہ اگر چہ آوازیں ایک دو سرے سے مخلوط ہو جا ئیں گی اور باطن کی بھی کسی کو خبر نہیں ہے لیکن خداوند عالم نا ظر اور شا ھد ہے )۔
۴ ۔ایسی بات کہو جس سے خدا راضی ہو ۔
۵ ۔کہو :”ھم خداوند عالم کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے ہم کو اس مطلب کی ہدایت دی اور اگر خداوند عالم ہماری ہدایت نہ کرتا تو ہم ہدایت نہیں پا سکتے تھے “۔
بیعت غدیر کا نتیجہ اگرچہ نص ”روایت “کے باوجود بیعت غدیر کی کو ئی ضرورت نہیں تھی اور لوگوں کے لئے اسلام کے دیگر منصوص موارد کی طرح خلافت کو بھی تسلیم کرناضروری تھا ،لیکن یہ عام بیعت ایک قانو نی اور معا شرتی حق کے عنوان سے تھی جو سقیفہ کے مقابل قرار پا ئی ۔یعنی جب وہ یہ کہتے تھے : ہم سقیفہ میں لوگوں کی بیعت کے ذریعہ ابوبکر کی خلافت قائم کرچکے ہیں تواس کے مقابلہ میں ان سے کہا جاتا تھا :اس سے پہلے غدیر کی بیعت جم غفیر اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجود گی میں نص الٰہی کے ذریعہ انجا م پا چکی ہے ۔
مزید یہ کہ اہل سقیفہ نے اپنے کام کے مختلف مراحل میں مختلف بیعتوں کا سھارا لیا ہے ۔ابو بکر کی بیعت فلتة تھی (یعنی اچا نک ہو گئی تھی )جوصرف چند افرادکے ذریعہ اور بغیر مشورہ کے انجام پائی اور اس میں افضلیت کا کوئی پہلو نہیں تھا۔عمر کی بیعت ابوبکر کی سفارش اور اس کے مشخص کرنے کے ذریعہ ہو ئی اور عثمان کی بیعت عمر کی تعیین کردہ اور شوریٰ کے ذریعہ ہو ئی تھی ۔
لیکن حضرت علی علیہ السلام کی بیعت انتخاب افضل تھا اور یہ افضلیت رسول اللہ کی نص کے ذریعہ تھی اس کے علا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نص انتصابی بھی تھی جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چا ہتے تھے اس کے اقرار اور اس کوقبول کرنے کے عنوان سے ہو ئی تاکہ اگر کو ئی کسی دو سرے کی بیعت کرلے تو معلوم ہو جا ئے کہ اس نے پہلے غدیر کی بیعت قبول کر لی تھی ۔
____________________
[۱] اس سلسلہ میں ضروری وضاحت پہلے حصہ کے دوسرے جزء میں گذر چکی ہے ۔
[۲] اس سلسلہ میں اسی کتاب کے دوسرے حصہ کے پہلے جزء میں رجوع کیا جا ئے ۔
[۳] اس سلسلہ میں دوسرے حصہ کے دوسرے باب میں رجوع کیجئے ۔
منصب پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کےلئے ان کی عام نبوت کی بنیاد اوراختتام نبوت ہے اور یہ ان لوگوں سے خطاب ہے جو اب تک آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس منصب کو قبول کرتے ہیں ۔
[۴] بحا رالانوار جلد ۵۰ صفحہ ۳۲۱۔
[۵] بحا ر الانوار جلد ۲۳صفحہ ۹۹ حدیث ۳۔
[۶] کتاب سلیم صفحہ۸۴۳ح۴۲۔
[۷] بحار الا نوار جلد ۶۷ صفحہ ۵۲ ،جلد ۶۸ صفحہ ۶۳ جلد ۶۹ صفحہ ۲۴۱۔
[۸] بحار الانوار جلد ۸ ،پراناچاپ صفحہ ۳۴۵۔
[۹] صحیفہ ملعونہ کی داستان تیسرے حصہ کی دو سری قسم میں بیان ہو چکی ہے ۔
[۱۰] دو سرے حصہ کی تیسری قسم میں بیعت غدیر کے رسم و رسومات کا تذکر ہ ہو چکا ہے ۔
[۱۱] اس کتاب کے چھٹے حصہ کی گیا رہویں قسم میں ملا حظہ کیجئے ۔
Signature Down with America Down with Israel punjtni۱۴ View Public Profile Visit punjtni۱۴'s homepage! Find More Posts by punjtni۱۴ ۱۲-۱۱-۰۸, ۱۰:۱۵ AM post no : ۲۹ punjtni۱۴ Urdu Shia Lover Re : اسرار غدیر -محمد باقر انصاری-مکمل کتاب Online Read Book ____________________
عید اور جشن غدیر
درحقیقت غدیر کا دن آل محمد علیھم السلام کےلئے عید اور جشن منا نے کا دن ہے اسی وجہ سے اہل بیت علیھم السلام کی جا نب سے خاص طور پر اس دن جشن و سرور کا اظھار اور عید منا نے پر زور دیا گیا ہے
عمر کی بزم میں موجود ایک یہودی شخص نے کھاتھا :
اگر (غدیر کے دن نازل ہو نے والی)یہ آیت( اَلْیَوْ مَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ ) ہماری امت میں نا زل ہو تی تو ہم اس دن عید منا تے !( ۱ )
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فر ما تے ہیں :بنی اسرائیل کے انبیاء جس دن اپنا جانشین معین فر ما تے تھے اس دن کو عید کا دن قرار دیتے تھے ۔”عید غدیر “بھی وہ دن ہے جس دن حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنا جا نشین معین فر ما یا ہے( ۲ )
اس میں کو ئی شک و شبہ ہی نہیں ہے کہ عید غدیر منا نے کا مقصد دشمنوں کے با لمقابل اس تا ریخی دن کی یاد کوشیعہ حضرات کے دل میں باقی رکھنا اور اس کے مطالب کو زندہ جا وید رکھنا ہے اورغدیر تشیع کے صفحہ تا ریخ پر ایک بڑی علا مت اور ولایت کی دائمی نشانی ہے ۔
عید غدیر انبیاء و ائمہ علیھم السلام کی زبانی
ھم ذیل میں دوسری عیدوں کی نسبت عید غدیر کی فضیلت اور اس کی خاص اہمیت کے سلسلہ میں ائمہ علیھم السلام کی زبانی وارد ہو نے والی احادیث نقل کر رہے ہیں :
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
روز غدیر خم میری امت کی تمام عیدوں سے افضل دن ہے ۔( ۳ )
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت امیر المو منین علیہ السلام کو وصیت فر ما ئی کہ اس دن (غدیر)عید منانا اور فرمایا : انبیاء علیھم السلام بھی ایسا ہی کرتے تھے اور اپنے جا نشینوں کو اس دن عید منا نے کی وصیت کیا کر تے تھے ۔( ۴ )
حضرت امیر المو منین علیہ السلام
یہ دن عظیم الشان دن ہے ۔( ۵ )
جس سال عید غدیر جمعہ کے روز آئی تو آپ نے اس دن ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس میں بہت زیادہ مطالب عید غدیر کے متعلق بیان فرمائے منجملہ آپ نے یہ فرمایا :
”خداوند عالم نے اس دن تمھارے لئے دو عظیم اور بڑی عیدوں کوجمع کردیا ہے “( ۶ )
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام
خدا وند عالم نے کو ئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر یہ کہ اس پیغمبر نے اس دن عید منا ئی اور اس کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھا( ۷ )
عید غدیر ”عید اللہ اکبر ہے “یعنی خدا وند عالم کی سب سے بڑی عید ہے ۔( ۸ )
عید غدیر خم :عید فطر ،عید قربان ،روز جمعہ اور عرفہ کے دن سے افضل ہے اور خدا وند عالم کے نزدیک اس کا بہت بڑا مقام ہے ۔( ۹ )
غدیر کا دن بزرگ اور عظیم دن ہے یہ دن عید اور خوشی و سرور کا دن ہے ۔( ۱۰ )
روز غدیر وہ دن ہے جس کو خداوند عالم نے ہمارے شیعوں اور محبوں کےلئے عید قرار دیا ہے ۔( ۱۱ )
شاید تم یہ گمان کرو کہ خدا وند عالم نے روز غدیر سے زیادہ کسی دن کو محترم قرار دیا ہے !نہیں خدا کی قسم نہیں ،خداکی قسم نہیں ،خدا کی قسم نہیں !( ۱۲ )
قیامت کے دن چار دنوں کو دلہن کی طرح خدا کی بار گاہ میں پیش کیا جا ئیگا :عید فطر ،عید قربان، روز جمعہ اور عید غدیر ۔”غدیر خم کا دن “عید قربان اور عید فطر کے با لمقابل ستاروں کے درمیان چاند کے مانند ہے ۔خدا وند عالم غدیر خم کے موقع پر ملا ئکہ مقربین کو معین کرتا ہے جن کے سر دار جبرئیل امین ہیں انبیاء ومرسلین کو مو کل کر تا ہے جن کے سر دار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ، اوصیاء و منتجبین کو موکل کر تا ہے جن کے سردار امیرالمو منین علیہ السلام ہیں اور اپنے اولیاء کو مو کل کر تا ہے جن کے سردار سلمان و ابوذر و مقداد و عمار ہیں ۔یہ غدیر کی ھمرا ہی کر تے ہیں تا کہ اس کو جنت میں دا خل کریں ۔( ۱۳ )
حضرت امام رضا علیہ السلام
یہ دن اہل بیت محمد علیھم السلام کی عید کا دن ہے ۔( ۱۴ )
جو شخص اس دن عید منائے خداوند عالم اس کے مال میں برکت کرتا ہے ۔( ۱۵ )
غدیر کے دن آپعليهالسلام اپنے بعض خاص اصحاب کو افطار کےلئے دعوت دیتے، ان کے گھروں میں عیدی اور تحفے تحائف بھیجتے اور اس دن کے فضائل کے سلسلہ میں خطبہ ارشاد فر ما تے( ۱۶ )
حضرت امام ھادی علیہ السلام
غدیر کا دن عید کا دن ہے اور اہل بیت علیھم السلام اور ان سے محبت کر نے والوں کے نزدیک عیدوں میں سب سے افضل شمار کیا جاتا ہے ۔( ۱۷ )
۲ آسمانوں میں جشن غدیر
آسمانوں میں عید غدیر متعا رف ہے اور اس دن جشن منا یا جا تا ہے ۔ھم اس سلسلہ میں چار احادیث نقل کر تے ہیں :
غدیر ،عھد معہود کا دن
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :عید غدیر کو آسمانوں میں ”عھد معہود “کا دن کہا جاتا ہے ۔( ۱۸ )
غدیر آسمان والوں پر ولایت پیش کر نے کا دن ہے
حضرت امام رضا علیہ السلام نے فر مایا :خداوند عالم نے آسمان والوں پر غدیر کے دن ولایت پیش کی توساتویں آسمان والوں نے اس کے قبول کر نے میں دوسروں سے سبقت کی ۔اسی وجہ سے خدا وند عالم نے سا تویں آسمان کو اپنے عرش سے مزین فر مایا ہے ۔
اس کے بعد چو تھے آسمان والوں نے غدیر کو قبول کر نے میں دوسروں سے سبقت لی توخدا وند عالم نے اس کو بیت معمور سے مزین فرمایا۔
اس کے بعد پہلے آسمان والوں نے اس کو قبول کر نے میں دوسروں سے سبقت لی تو خدا وندعالم نے اس کو ستا روں سے مزین فرمایا ۔( ۱۹ )
جشن غدیر میں ملا ئکہ
حضرت امام رضا علیہ السلام نے فر مایا :غدیر کا دن وہ دن ہے کہ جس دن خدا وند عالم جبرئیل امین کو بیت معمور کے سامنے اپنی کرامت کی تختی نصب کر نے کا حکم صادر فر ماتا ہے ۔
اس کے بعد جبرئیل اس کے پاس جا تے ہیں اور تمام آسمانوں کے ملا ئکہ وہاں جمع ہو کر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کی مدح و ثنا کر تے ہیں اور امیر المو منین اور ائمہ علیھم السلام اور ان کے شیعوںاوردوستداروں کے لئے استغفار کر تے ہیں ۔( ۲۰ )
جشن غدیر شہزادی کائنات کا نچھاور
حضرت امام رضا علیہ السلام اپنے پدر بزرگ امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے وہ اپنے جد حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :روز غدیر زمین والوں سے زیادہ آسمان والوں میں مشہور ہے ۔
خداوند عالم نے جنت میں ایک قصر(محل)خلق فرمایا ہے جو سونے چاندی کی اینٹوں سے بنا ہے ،جس میں ایک لاکھ کمرے سرخ رنگ کے اورایک لاکھ خیمے سبز رنگ کے ہیں اور اسکی خاک مشک وعنبر سے ہے اس محل میں چار نھریں جاری ہیں :ایک نھر شراب کی ہے دوسری پانی کی ہے تیسری دودھ کی ہے اورچوتھی شھدکی ہے ان نھروں کے کناروں پر مختلف قسم کے پھلوں کے درخت ہیں ،ان درختوں پروہ پرندے ہیں جن کے بدن لولو کے ہیں اور ان کے پَر یا قوت کے ہیں اور مختلف آوازوںمیںگاتے ہیں ۔
جب غدیر کا دن آتا ہے تو آسمان والے اس قصر (محل )میں آتے ہیں تسبیح و تحلیل و تقدیس کرتے ہیں وہ پرندے بھی اُڑتے ہیں اپنے کو پانی میں ڈبو تے ہیں اس کے بعد مشک و عنبر میں لوٹتے ہیں ، جب ملا ئکہ جمع ہو تے ہیں تو وہ پرندے دوبارہ اُڑکرملا ئکہ پر مشک و عنبر چھڑکتے ہیں ۔
غدیر کے دن ملا ئکہ ” فاطمہ زھراء علیھا السلام کی نچھاور “( ۲۱ ) ایک دوسرے کو ھدیہ دیتے ہیں ،جب غدیر کے دن کا اختتام ہو تا ہے تو ندا آتی ہے :اپنے اپنے درجات و مراتب پر پلٹ جا ؤ کہ تم محمد و علی علیھما السلام کے احترام کی وجہ سے اگلے سال آج کے دن تک ہر طرح کی لغزش اور خطرے سے امان میں رہوگے۔( ۲۲ )
۳ غدیر کے دن متعدد واقعات کا رو نما ہونا
سال کے دنوں میں سے جو بھی دن غدیرسے مقارن ہوا اس دن عالم خلقت اور عالم تکوین وکائنات میں متعدد واقعات رو نما ہو ئے ،جس طرح انبیاء علیھم السلام نے بھی اس دن اپنے اہم پروگرام انجام دئے ہیں ۔یہ اس اہمیت کے مد نظر ہے جو حضرت امیر المو منین علیہ السلام نے اس دن کو بخشی ہے اور یہ اس بات کی عکاسی کر تا ہے کہ تاریخ عالم میں اس سے اہم کو ئی واقعہ رو نما نہیں ہو ا ہے جس وجہ سے یہ کو شش کی گئی ہے کہ تمام واقعات اس سے مقارن ہوں اور اس مبارک دن میں برکت طلب کی جا ئے ۔
انبیاء علیھم السلام کی تاریخ کے حساس ایام
۱ ۔غدیر وہ دن ہے جس دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہو ئی ۔( ۲۳ )
۲ ۔غدیرحضرت آدمعليهالسلام کے فرزند اور ان کے وصی حضرت شیث علیہ السلام کا دن ہے ۔( ۲۴ )
۳ ۔غدیرحضرت ابراھیم علیہ السلام کو آگ سے نجات ملنے کا دن ہے ۔( ۲۵ )
۴ ۔غدیر وہ دن جس دن حضرت مو سیٰ علیہ السلام نے حضرت ھارون علیہ السلام کو اپنا جا نشین معین فرمایا( ۲۶ )
۵ ۔غدیرحضرت ادریس علیہ السلام کا دن ہے ۔( ۲۷ )
۶ ۔غدیرحضرت مو سیٰ علیہ السلام کے وصی حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کا دن ہے ۔( ۲۸ )
۷ ۔غدیرکے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے شمعون کو اپنا جانشین معین فر مایا ۔( ۲۹ )
مندرجہ بالابعض موارد میں کچھ ایام مبھم طور پر ذکر ہو ئے ہیں اور اس دن کے واقعات بیان نہیں کئے گئے ہیں یہ حدیث کے پیش نظر ہے اور اس سے مردا احتمالاً ان کا مبعوث بہ رسالت ہو نا ہے یا ان کے وصی و جانشین منصوب ہو نے کا دن ہے ۔
اہل بیت علیھم السلام کی ولایت کا تمام مخلوقات کے سامنے پیش کرنا
جس طرح غدیر کے دن ”ولایت “تمام انسانوں کے لئے پیش کی گئی اسی طرح عالم خلقت میں تمام مخلوقات پر بھی پیش کی گئی ہے ۔حضرت امام رضا علیہ السلام ایک حدیث میں غدیر کے روز ان امور کے واقع ہو نے کی طرف اشارہ فر ماتے ہیں :( ۳۰ )
ولایت کا اہل آسمان کے لئے پیش ہونا ،ساتویں آسمان والوں کا اسے قبول کر نے میںسبقت کرنا اور اس کے ذریعہ عرش الٰہی کا مزین ہونا۔
ساتویں آسمان والوں کے بعد چوتہے آسمان والوں کا ولایت قبول کرنا اور اس کابیت المعمور سے سجایا جانا۔
چوتہے آسمان کے بعد پہلے آسمان والوں کا ولایت قبول کرنااور اس کاستاروں سے سجایاجانا۔
زمین کے بقعوں پر ولایت کا پیش کیا جانا اس کو قبول کر نے کےلئے مکہ کا سبقت کرنا اور اس کو کعبہ سے زینت دینا ۔
مکہ کے بعد مدینہ کا ولایت قبول کرنا اور اس (مدینہ )کو پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وجود مبارک سے مزیّن کرنا
مدینہ کے بعد کوفہ کا ولایت قبول کرنا اور اس کو امیر المومنین علیہ السلام کے وجود مبارک سے مزین کرنا ۔
پھاڑوں پر ولایت پیش کر نا ،سب سے پہلے تین پھاڑ :عقیق ،فیرورہ اور یا قوت کا ولایت قبول کر نا ، اسی لئے یہ تمام جواھرات سے افضل ہیں ۔
عقیق، فیروزہ اور یا قوت کے بعد سونے اور چاندی کی(معدن ) کان کا ولایت قبول کر نا۔
اور جن پھا ڑوں نے ولایت قبول نہیں کی ان پر کو ئی چیز نہیں اگتی ہے ۔
پانی پر ولایت پیش کرنا جس پانی نے وولایت قبول کی وہ میٹھا اور گوارا ہے اور جس نے قبول نہیں کی وہ تلخ(کڑوا)اور کھارا(نمکین) ہے ۔
نباتات پر ولایت پیش کر نا جس نے قبول کی وہ میٹھا اور خوش مزہ ہے اور جس نے قبول نہیں کی وہ تلخ ہے ۔
پرندوں پر ولایت پیش کرنا جس نے قبول کیا اس کی آواز بہت اچھی اور وہ فصیح بولتا ہے اور جس نے قبول نہیں کی وہاَلْکَن ( اس ک ی زبان میں لکنت ہے ،ھکلا ہے )ہے ۔
ایک عجیب اتفاق
خداوند عالم کے الطاف میں سے ایک لطف عظیم ہے کہ عثمان ۱۸/ ذی الحجہ کو قتل ہوا اور لوگوں نے خلافت غصب ہو نے کے ۲۳ سال بعد حضرت علی علیہ السلام کے ھا تھوں پر بیعت کی اور دوسری مرتبہ آپ کی ظاہری خلافت روز غدیر سے مقارن ہوئی ہے ۔( ۳۱ )
۴ عید غدیر کس طرح منائیں؟
عید اور جشن غدیر کی تاریخ اوربنیاد
ھر قوم و ملت کی عیدیں ان کے شعائر کو زندہ کرنے ،تجدید عہد اور ان کے سرنوشت ساز اور اہم دنوں کی یاد تازہ کرنے کےلئے منائی جاتی ہیں ۔”غدیر “کے دن عید منانا اسی حجة الوداع والے سال اور اسی غدیر کے بیابان میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ کے تمام ہونے کے بعدسے ہی شروع ہوگیاتھاغدیر خم میں تین روز توقف کے دوران رسمیں انجام دی گئیں اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے شخصی طور پرلوگوں سے خود کو مبارکباد دینے کے لئے کہا :”هَنِّؤْنِیْ ،هَنِّئُوْنِیْ “”مجھ کو مبارکباد دو ،مجھ کو مبارکباد دو“ اس طرح کے الفاظ آپ نے کسی بھی فتح کے موقع پر اپنی زبان اقدس پر جاری نہیں فر ما ئے تھے ۔
سب سے پہلے لوگوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیر المو منین علیہ السلام کو مبارکباد دی اور اسی مناسبت سے اس دن اشعار بھی پڑہے گئے ۔
یہ سنتِ حسنہ تاریخ کے نشیب و فراز میں اسی طرح بر قرار رہی اور عام و خاص تمام اہل اسلام میں ایک مستمر اور موکد سیرت کے عنوان سے جاری وساری رہی ہے اور آج تک ھرگز ترک نہیں ہوئی ہے ۔( ۳۲ )
اس عید کوشیعہ معا شروں میں معصومین علیھم السلام کی روایات کی اتباع کر تے ہوئے عید فطر اور عید قربان سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے اور بہت زیادہ جشن منا یا جاتا ہے ۔
جشن غدیر کی شان و شوکت کی رعایت کرنا
ھر قوم عید مناتے وقت اپنی ثقافت و عقیدت کا اظھار کرتی ہے لہٰذا مذھب اہل بیت علیھم السلام میں بھی غدیر کے دن عید منا نے میں مختلف امور پھلووںکو مد نظر رکھا گیا ہے جن کی رعایت کر نے سے دنیا کے سامنے اہل تشیع کی فکری کیفیت کا تعارف ہو تا ہے ہم ان موارد کو روایات کی روشنی میں ذکر کرینگے۔
عید غدیر کی مناسبت سے انجام دئے جا نے والے رسم و رسومات جن کو ہم بیان کریں گے صرف ان میں منحصر نہیں ہیں لسکن جشن وسرور کااظھار کرنے کے لئے تین بنیادی چیزوں کومد نظر رکھناضروری ہے :
۱ ۔جشن و سرور کے پروگرام عید سے مناسبت رکھتے ہوں ،صاحب عید یعنی حضرت علی علیہ السلام کے مقام و منزلت کے مناسب ہوں ،تمام پروگراموں میں مذھبی رنگ مد نظر ہو اور عام طور سے شادی بیاہ اور ولیمہ وغیرہ کے جشن سے بالکل جدا ہو نا چا ہئے ۔
۲ ۔جو کام شرع مقدس کے منافی ہیں (چا ہے وہ حرام ہوں اورچا ہے مکروہ )وہ اس جشن میں مخلوط نہیں ہو نے چا ہئیں ۔جو چیزیں ائمہ علیھم السلام کے دلوں کو رنجیدہ کر تی ہیں اور ہر انسان اپنے ضمیرسے ان کو سمجھتا ہے یہ چیزیں نہیں ہونی چا ہئیں ،یہ سب باتیں تمام جشن و سرورخاص طور سے اس طرح کے جشن میں نہیں ہو نی چا ہئیں ۔
۳ ۔جو مطالب روایات سے اخذ کئے گئے ہیں حتی الامکان ان کو غدیر کی رسم و رسومات میں جاری کرنے کی کو شش کرنی چا ہئے ہم انہیں ذیل میں ذکر کر رہے ہیں :
عید اور جشن غدیر کے سلسلہ میں ائمہ علیھم السلام کے احکام
اہل بیت علیھم السلام سے مروی احادیث میں تمام عیدوں کےلئے عام رسم و رسومات اور پروگرام وارد ہوئے ہیں جو دعا وں کی کتابوں میں مذ کورہیں ۔ان کے قطع نظر ائمہ علیھم السلام سے عیدغدیر اور جشن غدیر کےلئے مخصوص قوانین وارد ہو ئے ہیں جن کو ہم دو حصوں میں بیان کر تے ہیں :
۱ ۔اجتماعی امور ۔
۲ ۔عبادی امور ۔
عید غدیر میں اجتماعی امور
قلبی اور زبانی خو شی کا اظھار
حضرت امیر المو منین علیہ السلام فر ما تے ہیں :اس دن ایک دوسرے سے خندہ پیشانی سے پیش آئیں اور ایک دوسرے سے ملاقات کر تے وقت خو شی کا اظھار کر یں ۔( ۳۳ )
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فر ما تے ہیں :عید غدیر وہ دن ہے کہ جس دن خداوند عالم نے تم پر نعمت ولایت نازل کر کے احسان کیا لہٰذا اس کاشکر اور اس کی حمد وثنا کرو “( ۳۴ ) حضرت امام رضاعليهالسلام کا فرمان ہے : یہ دن مو منین کے مسکرانے کا دن ہے ،جو شخص بھی اس دن اپنے مو من بھا ئی کے سامنے مسکرا ئے گا خداوند عالم قیامت کے دن اس پر رحمت کی نظرکرےگااس کی ہزار حاجتیں بر لا ئے گا اور جنت میں اس کےلئے سفید مو تیوں کا قصر(محل ) بنائےگا“( ۳۵ )
مبارکباد دینا
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فر ما تے ہیں :جب تم اس دن اپنے مومن بھائی سے ملاقات کرو تو یہ کہو :
”اَلْحَمْدُ لِلهِ الَّذِیْ اَکْرَمَنَابِهٰذَ الْیَوْمِ وَجَعَلَنَامِنَ الْمُوْمِنِیْنَ وَجَعَلَنَامِنَ الْمُوْفِِیْنَ بِعَهْدِهِ الَّذِیْ عَهِدَهُ اِلَیْنَاوَمِیْثَا قِهِ الَّذِیْ وَاثَقَنَابِهِ مِنْ وِلَایَةِ وُلَاةِ اَمْرِهِ وَالْقُوَّامِ بِقِسْطِهِ وَلَمْ یَجْعَلْنَا مِنَ الْجَاحِدِیْنَ وَالْمُکَذِّبِیْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ “ ( ۳۶ )
”تمام تعریفیں اس خد اکےلئے ہیں جس نے اس دن کے ذریعہ ہمیں عزت دی ،ھم کو ان مومنین میں قرار دیا جنھوں نے عہد خدا کی وفاداری کیاور اس پیمان کی پابندی کی جو اس نے اپنے والیان امر اور عدالت قائم کر نے والوں کے سلسلہ میں ہم سے لیا تھااور ہم کو قیامت کا انکار کرنے والوں اور جھٹلانے والوں میں نہیں قرار دیا ہے “
حضرت امام رضا علیہ السلام فرما تے ہیں :اس دن ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرو اورجب اپنے مو من بھائی سے ملاقات کرو تو اس طرح کہو :
”اَل ْحَمْدُ لِله ِ الَّذِ ی ْ جَعَلَنَامِنَ ال ْمُتَمَسِّکِ ی ْ نَ بِوِلَایَةِ اَمِی ْ رِال ْمُوْمِنِ ی ْ نَ علیه السلام“
”تمام تعریفیں اس خدا کےلئے ہیں جس نے ہمیں امیر المومنین علیہ السلام کی ولایت سے متمسک رہنے والوں میں سے قرار دیا ہے “( ۳۷ )
دوسرے حصہ میں ذکر ہوچکا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غدیر خم میں لوگوں کو حکم دیا تھاکہ وہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت امیر المو منین علیہ السلام کو مبارکباد پیش کریں اور آپ فرماتے تھے :هنِّؤُنِیْ هَنِّونِیْ “( ۳۸ )
عمومی طورپر جشن منانا
جشن منانے کا مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگوں کا خوشی ومسرت کے موقع ومناسبت کے لئے جمع ہونا۔دوسرے لفظوں میں ”جشن“ کا مطلب کچھ لوگوں کا اجتماعی طورپر عید منانا ہے ۔
حضرت امیر المو منین علیہ السلام جس دن عید غدیر جمعہ کے دن آئی تھی آپ نے اس روز جشن منائی ،اس دن اسی مناسبت سے غدیر اور عید منا نے کے سلسلہ میں مفصل مطالب ارشاد فر مائے ،نماز کے بعد آپعليهالسلام اپنے اصحاب کے ساتھ حضرت امام مجتبیٰ علیہ السلام کے خانہ اقدس پر تشریف لے گئے جھاںجشن منایاجارھاتھا اور وہاں پر مفصل پذیرائی ہوئی“( ۳۹ )
حضرت امام رضا علیہ السلام نے ایک مرتبہ غدیر کے دن روزہ رکھا ،افطار کے لئے کچھ افراد کو دعوت دی، ان لوگوں کے سامنے غدیر کے سلسلہ میں مفصل خطبہ ارشافرمایا اور ان کے گھروں میں تحفے تحائف بھیجے تھے “( ۴۰ )
حضرت امیر المو منین علیہ السلام نے عید غدیر کے سلسلہ میں فر مایا :اس دن ایک دوسرے کے پاس جمع ہونا تا کہ خداوند عالم تم سب کے امور کو درست فرمائے “( ۴۱ )
اشعار پڑھنا بھی غدیر کے جشن منانے سے بہت منا سبت رکھتا ہے جو ایک قسم کی یاد گار ہے اور شعرکی خاص لطافت و حلاوت سے جشن میں چار چاند لگ جا تے ہیں ۔
غدیر کے سب سے پہلے جشن کے موقع پر حسان بن ثابت کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اجازت سے غدیر کی مناسبت سے اشعار کہنا اور پڑھنا اسی مطلب کی تا ئید کرتا ہے ۔( ۴۲ )
نیا لباس پہننا
حضرت امام رضا علیہ السلام فر ماتے ہیں :یہ دن زینت و آرائش کرنے کا دن ہے ۔جو شخص عید غدیر کےلئے اپنے آپ کومزین کرتا ہے خدا وند عالم اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے ملائکہ کو اس کےلئے حسنات لکھنے کی خاطر بھیجتا ہے تا کہ آنے والے سال تک اس کے درجات کو بلند رکہیں ۔( ۴۳ )
حضرت امام رضا علیہ السلا م نے ایک عید غدیر کے مو قع پر اپنے بعض خاص اصحاب کے گھروں میں نئے کپڑے یھاں تک کہ انگوٹھی اور جوتے وغیرہ بھی بھیجے اور ان کی اور اپنے اطراف کے لوگوں کی ظاہری حالت کوتبدیل کیااوران کے روزانہ کے لباس کو عید کے لباس میں بدل دیا“( ۴۴ )
ھدیہ دینا
حضرت امیرالمو منین علیہ السلام فرماتے ہیں :اس دن خدا وند عالم کی نعمتوں کو ایک دوسرے کو ھدیہ کے طورپر دو جس طرح خدا وند عالم نے تم پر احسان کیا ہے “( ۴۵ )
مو منین کا دیدار کرنا
حضرت امام رضا علیہ السلام فر ماتے ہیں :جو شخص اس دن مو منوں کی زیارت کرے اور ان کادیدار کرنے کےلئے جا ئے خدا وند عالم اس کی قبر پر ستّر نور وارد کرتا ہے اس کی قبر کو وسیع کرتا ہے ،ھر دن ستّرہزار ملا ئکہ اس کی قبر کی زیارت کرتے ہیں اور اس کو جنت کی بشارت دیتے ہیں “( ۴۶ )
اھل وعیال اور اپنے بھا ئیوں کے حالات میں بہتری پیدا کرنا
حضرت امیر المو منین علیہ السلام نے ایک عید غدیر کے دن فرمایا:جب تم جشن سے اپنے گھر واپس جاو تو اپنے اہل و عیال کے حالات میں بہتری پیدا کرو اور اپنے بھا ئیوں کے ساتھ نیکی کرو ۔۔۔ایک دوسرے کے ساتھ نیکی کرو تاکہ خدا وند عالم تمھاری الفت و محبت برقرار فرمائے ۔( ۴۷ )
حضرت امیر المو منین علیہ السلام نے فرمایا ہے :اس دن احسان کرنے سے مال میں برکت ہوتی اور اضافہ ہوتا ہے ۔( ۴۸ )
حضرت امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں :جو شخص اس دن اپنے اہل و عیال اور خود پر وسعت دےتا ہے خدا وند عالم اس کے مال کو زیادہ کردیتا ہے ۔( ۴۹ )
عقد اُخوّت و برادری
عید غدیر کے لئے جو رسم رسومات بیان ہو ئی ہیں ان میں سے ایک ”عقد اُخوت “کا پروگرام ہے ،اس کا مطلب یہ ہے کہ دینی برادران ایک اسلامی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنی برادری کو مستحکم کرتے ہیں ،اور ایک دوسرے سے یہ عہد کرتے ہیں کہ قیامت میں بھی ایک دوسرے کویاد رکہیں گے ضمنی طور پر اسلامی بھائی چارے کے حقوق چونکہ بہت زیادہ ہیں لہٰذا ان کی رعایت کےلئے خاص توجہ کیضرورت ہے لہٰذا ان کے ادا نہ کرسکنے کی حلیت طلب کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ ایک مرتبہ پھر اپنے آپ کوحقوق کی ادا ئیگی کی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔
صیغہ اخوت پڑھنے کا طریقہ یہ ہے :( ۵۰ )
اپنے داہنے ہاتھ کو اپنے مو من بھا ئی کے داہنے ہاتھ پر رکھ کر کہو :
”وٰاخَیْتُکَ فِی اللهِ وَصَافَیْتُکَ فِیْ اللهِ وَصَافَحْتُکَ فِیْ اللهِ وَعَاهَدْتُ اللهَ وَمَلَا ئِکَتَهُ وَاَنْبِیَائَهُ وَالْاَ ئِمَّةَ الْمَعْصُوْمِیْنَ عَلَیْهِمُ السَّلَامُ عَلیٰ اَنّی اِنْ کُنْتُ مِنْ اهل الْجَنَّةِ وَالشَّفَاعَةِ وَاُذِنَ لِیْ بِاَنْ اَدْخُلَ الْجَنَّةَ لَااَدْخُلُهَااِلَّاوَاَنْتَ مَعِیْ “
”میں راہِ خدا میں تیرے ساتھ بھائی چارگی اور ایک روئی (اتحاد )سے پیش آونگا اور تیرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتا ہوں ،میںخدا اس کے ملا ئکہ ،انبیاء اور ائمہ معصومین علیھم السلام سے عہد کرتا ہوں کہ اگر میں اہل بھشت اور شفاعت کرنے والوں میں سے ہوا اور مجھ کو بھشت میں جانے کی اجازت دیدی گئی تو میں اس وقت تک بھشت میں داخل نہیں ہونگا جب تک تم میرے ساتھ نہ ہوگے “
اس وقت اس کا دینی بھا ئی اس کے جواب میں کہتا ہے :”قَبِلْتُ “”م یں نے قبول کیا “اس کے بعد کہے :اَسْقَطْتُ عَنْکَ جَمِیْعَ حَقُوْقِ الْاُخُوَّةِ مَاخَلَا الشَّفَاعَةَ وَالدُّعَاءَ وَالزِّیَارَةَ“
”میں نے بھائی چارگی کے اپنے تمام حقوق تجھ سے اٹھا لئے (تجھ کو بخش دئے )سوائے شفاعت ،دعا اور زیارت “
عید غدیر میں عبادی امور
صلوات ،لعنت اور برائت
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا فر مان ہے :اس دن محمد و آل محمد پر بہت زیادہ صلوات بھیجو اور ان پر ظلم کرنے والوں سے برائت کرو ۔( ۵۱ )
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ہے :اس دن بہت زیادہ کہو:
”اللَّهُمّ الْعَنْ الْجَاحِدِیْنَ وَالنَّاکِثِیْنَ وَالْمُغَیِّرِیْنَ وَالْمُبْدِلِیْنَ وَالْمُکَذِّبِیْنَ الَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ مِنَ الْاَوَّلِیْنَ وَالْآخِرِیْنَ “
”اے خدا قیامت کے دن انکار کرنے والے عہد توڑنے والے ،تغیر وتبدل کرنے والے ،بدلنے(بدعت ایجاد کرنے والے )والے اور جھٹلانے والے چاہے وہ اولین میں سے ہوں یا آخرین میں سے سب پر لعنت کر “( ۵۲ )
حضرت امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں :یہ محمد وآل محمدعلیھم السلام پر بہت زیادہ صلوات بھیجنے کا دن ہے ۔( ۵۳ )
شکر اور حمد الٰھی
حضرت امیر المو منینعليهالسلام کا فرما ن ہے :اس دن خدا وند عالم کی عطا کردہ اس نعمت ( ولایت ) پر اس کا شکر ادا کرو ۔( ۵۴ )
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ہے :یہ دن خدا وند عالم کے شکر اور اس کی حمد وثنا کرنے کا دن ہے کہ اس نے تمھارے لئے امر ولایت کو نازل فر مایا ہے ۔( ۵۵ )
اس دن خدا وند عالم کا شکر ادا کر نے کے طریقہ کے سلسلہ میں مفصل طور پر دعائیں وارد ہو ئی ہیں ان میں سے ایک کا مضمون اس طرح ہے :
شکرِ خدا کہ اس نے ہم کو اس دن کی فضیلت سے روشناس کیاھمیں اس کی حرمت سمجھائی،اور اس کی معرفت کے ذریعہ ہمیں شرافت بخشی ہے “( ۵۶ )
زیارت حضرت امیرالمو منین علیہ السلام
عید غدیر کے دن کی ایک مخصوص رسم یہ ہے کہ اس دن کے صاحب یعنی حضرت امیر المو منینعليهالسلام کی اس بارگاہ مطھر ،حرم کی زیارت کرنا ہے کہ جس کے پاسبان فرشتے ہیں ۔آپعليهالسلام کی زیارت میں یہ مطلب بھی مد نظر رکھا جا سکتا ہے کہ :چونکہ ہم صحرائے غدیر میں آپ کو مبارکباد پیش کر نے کے لئے حاضر نہ ہو سکے لہٰذا اب ہم اس دن(صدیوں بعد) میں آپ کی قبر مطھر کی زیارت کے لئے جا تے ہیں اور ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ امام معصوم ہمیشہ زندہ ہو تا ہے اور ہماری آواز سنتا ہے آپ کی مقدس بارگاہ میں تبریک و تہنئت پیش کرتے ہیں اور آپعليهالسلام سے تجدید بیعت کرتے ہیں ۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فر ما تے ہیں :اگر تم عید غدیر کے روز مشھد امیر المومنین (نجف اشرف )علیہ السلام میں ہو تو آپعليهالسلام کی قبر کے نزدیک جاکر نماز اور دعائیں پڑھو ،اور اگر وہاں سے دور دراز شھروں میں ہو تو آپعليهالسلام کی قبر اطھر کی طرف اشارہ کرکے یہ دعا پڑھو۔۔۔( ۵۷ )
حضرت امام رضا علیہ السلام فر ماتے ہیں :تم کہیں پر بھی ہو عید غدیر کے دن خود کو حضرت امیر المو منین علیہ السلام کی قبر مطھر کے نزدیک پہنچاو اس لئے کہ خداوند عالم اس دن مو منوں کے ساٹھ سال کے گنا ہوں کو معاف فرماتا ہے اور ماہ رمضان ،شب قدر اور شب عید فطر کے دو برابر مومنین کو جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہے ۔( ۵۸ )
حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے غدیر کے دن سے مخصوص ایک مفصل زیارت پڑھنے کا حکم دیا ہے جو مضمون کے اعتبار سے مکمل طور پر حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی ولایت سے مربوط عقائد، فضائل محنتوں اوردرد و الم کو بیان کر تی ہے ۔( ۵۹ )
نماز ،عبادت اور شب بیداری
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :یہ دن عبادت اور نماز کا دن ہے ۔( ۶۰ )
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فر ماتے ہیں :ظھر سے آدھا گھنٹہ پہلے (خدا وند عالم کے شکر کے عنوان سے )دور کعت نماز پڑھو ۔ہر رکعت میں سورہ حمد دس مرتبہ ، سورہ توحید دس مر تبہ ، سورہ قدر دس مر تبہ اور آیة الکر سی دس مرتبہ پڑھو ۔
اس نماز کے پڑھنے والے کو خدا وند عالم ایک لاکھ حج اور ایک لاکھ عمرے کا ثواب عطا کرتا ہے اور وہ خدا وند عالم سے جو بھی دنیا اور آخرت کی حاجت طلب کرتا ہے وہ بہت ہی آسانی کے ساتھ بر آ ئیگی۔( ۶۱ )
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے :مسجد غدیر میں نماز پڑھنا مستحب ہے( ۶۲ ) چونکہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس مقام پر حضرت امیر المو منین علیہ السلام کو اپنا جا نشین معین فرمایاتھا اور خدا وند عالم نے اس دن حق ظاہر فر مایا تھا۔( ۶۳ )
روزہ رکھنا
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے :یہ وہ دن ہے کہ جب حضرت امیر المو منینعليهالسلام نے خدا وند عالم کا شکر بجالانے کی خا طر روزہ رکھا۔( ۶۴ )
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فر مایا :اس دن روزہ رکھناساٹھ مھینوں کے روزوں کے برابر ہے( ۶۵ ) اور ایک حدیث میں فر مایا ہے :اس دن کا روزہ ساٹھ سال کا کفارہ ہے “( ۶۶ )
اور ایک اور حدیث میں فرمایا ہے :ساٹھ سال کے روزوں سے افضل ہے “( ۶۷ )
امام جعفر صادق علیہ السلام کا ہی فرمان ہے :اس دن کا روزہ سومقبول حج اور سو مقبول عمرے کے برابر ہے ۔( ۶۸ )
اور یہ بھی آپ ہی کا فرمان ہے :غدیر کے دن کا روزہ دنیا کی عمر کی مقدار روزے رکھنے کے برابر ہے( ۶۹ ) (یعنی اگر انسان دنیا کی عمر کے برابر زندہ رہے اور تمام دن روزہ رکہے تو غدیر کے دن کا روزہ رکھنے والے کو اتنا ہی ثواب دیا جا ئیگا ۔)
دعا (عھد و پیمان اور بیعت کی تجدید )
عید غدیر کے دن مختصر اور مفصل دعائیں وارد ہو ئی ہیں جن کا پڑھنا خداوند عالم ،پیغمبراور ائمہ علیھم السلام سے تجدیدعھد و پیمان کرنا شمار ہوتا ہے اور اس کو” تجدید بیعت “بھی کہا جاسکتا ہے ۔
ان دعا وں کے مطالب میں شکر گزاری ،ایک شیعہ ہونے کے مد نظر ولایت وبرائت کے متعلق اپنے عقائد کا اظھار اور مستقبل کے لئے دعا شامل ہے لیکن ان سب مطالب کا ولایت،برائت اور” عید غدیر کے دن کی مبارکباد“میں خلاصہ کیا جاسکتا ہے ۔ھم ذیل میں غدیر کے دن پڑھی جانے والی بعض دعاوں کے مضامین کو نقل کر رہے ہیں :( ۷۰ )
خدا یا جس طرح میری خلقت کے آغاز (عالم ذر )میں مجھ کو ”ھاں “ کہنے والوں میں قرار دیا، اس کے بعد دوسرا کرم یہ کیا کہ اسی عہد کو غدیر میں تجدید کیا اور میری اماموں تک ہدایت فر ما ئی، خدایا اس نعمت کو کامل فر ما اور قیامت تک اس رحمت کو مجھ سے مت لیناتاکہ میری موت اس حال میں ہوکہ تو مجھ سے راضی ہو ۔
خدا یا ہم نے منادی ایمان کی ندا پر لبیک کھی ،وہ منادی پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم تھے اور آپ کی ندا ولایت تھی ۔
خدایا تیرا شکر کہ تونے ہمیں پیغمبر کے بعد ایسے اماموں کی طرف ہدایت کی جن کے ذریعہ دین کامل ہوا اور نعمتیں تمام ہو ئیں اور اسی ہدایت کی وجہ سے تو نے ہمارے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا۔
خدایا ہم پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور امیر المو منین علیہ السلام کے تا بع ہیں ہم نے جبت و طاغوت، چاروں بتوں اور ان کی اتباع کرنے والوں کا انکار کیا اور جو شخص ان کو دوست رکھتا ہے ہم اس سے زمانہ کے آغاز سے آخرتک بیزار ہیں اور ہم کو ہمارے ائمہ کے ساتھ محشور فرما ۔
خدایاھم ہر اس شخص سے برائت چا ہتے ہیں جو ان سے جنگ کرے چا ہے وہ اولین میں سے ہو یا آخرین میں سے ہوانسانوں میں سے ہو یا جنوںمیںسے ہو ۔
خدا یا ہم امیر المو منین علیہ السلام کی ولایت ،اتمام نعمت اور ان کی ولایت پر تجدید عہد و پیمان پر تیرا شکر ادا کرتے ہیں اور اس بات پر تیرے شکر گزار ہیں کہ تو نے ہم کو دین میں رد و بدل کرنے والوں اور تحریف کرنے والوں میں نہیں قرار دیا ۔
خدایا اس روز (غدیر )ہماری آنکھوں کو روشن فرما ،ھمارے مابین اتحاد پیدا کر ،اور ہم کو ہدایت کے بعد گمراہ نہ کرنا اور ہم کو نعمت کا شکر ادا کرنے والوں میں قرار دے ۔
خدا کا شکر کہ ہم نے اس دن کو گرامی رکھا اور ہم کو اپنے والیان امر کے سلسلہ میں ان سے وفاداری کے عہد و پیمان پر قائم رکھا ۔
خدایا جس دن کا ہم نے پاس و خیال کیا اس کو ہمارے لئے مبارک فر ما ،اور ہم کو ولایت پر ثابت قدم رکھ ،ھمارے ایمان کو امانت و عا ریہ پر نہ قرار دے اور ہم کو دوزخ کی طرف دعوت دینے والوں سے برائت و بیزاری رکھنے والوں میں سے قرار دے ۔
خدایا ہم کو حضرت مھدی علیہ السلام کی ہمراھی کی توفیق اور ان کے پرچم کے نیچے حاضر ہو نے کی توفیق عنایت فر ما ۔
____________________
[۱] الغدیر جلد ۱ صفحہ ۲۸۳۔عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۱۱۵،۳۰۳۔
[۲] بحار الانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۷۰۔
[۳] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ۲۰۸ ۔
[۴] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۱۱۔
[۵] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۰۹۔
[۶] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ۲۰۸ ۔
[۷] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۱۴۔
[۸] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۱۱۔
[۹] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ۲۱۰،۲۱۱،۲۱۲۔
[۱۰] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ۲۱۳۔الیقین صفحہ ۳۷۲باب ۱۳۲۔
[۱۱] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ۲۱۳۔
[۱۲] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۱۵۔
[۱۳] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۱۲۔
[۱۴] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ۳ ۲۲۔
[۱۵] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ۳ ۲۲۔
[۱۶] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ۲۲۱۔
[۱۷] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۲۶۔
[۱۸] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۱۴۔
[۱۹] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۲۴۔
[۲۰] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۲۲۔
[۲۱] حضرت فاطمہ زھرا علیھا السلام کی نچھاور درخت طوبیٰ کے وہ پھل ہیں جو ان کی شب زفاف خدا وند عالم کے امرسے اس درخت سے تمام آسمانوں پر پھینکے گئے اور ملائکہ نے ان کو یاد گار کے طور پر اٹھا لیاتھا ۔بحار الانوار جلد ۴۳صفحہ ۱۰۹۔
[۲۲] بحار الانوار جلد ۳۷ صفحہ ۱۶۳،عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۲۱۔
[۲۳] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۱۲۔
[۲۴] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۰۹۔۳۔
[۲۵] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۱۲،۲۲۲۔
[۲۶] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۱۳۔
[۲۷]عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۰۹۔
[۲۸] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۱۲۔
[۲۹] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ۲۰۹،۲۱۳۔
[۳۰] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ۲۲۴۔
[۳۱] اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ ۱۹۸،بحا رالانوار جلد ۳۱صفحہ۴۹۳۔
[۳۲] اس سلسلہ میں کتاب” الغدیر “مولف علامہ امینی :جلد ۱صفحہ ۲۸۳،اور کتاب ”الغدیر فی الاسلام “مو لف شیخ محمد رضا فرج اللہ صفحہ ۲۰۹ ملا حظہ فرمائیں ۔
[۳۳] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۱۵۔
[۳۴] بحار الانوار جلد ۳۷ صفحہ ۱۷۰۔
[۳۵] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۲۳۔
[۳۶] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۱۵۔
[۳۷] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۲۳۔
[۳۸] الغدیر جلد۱ صفحہ ۲۷۱،۲۷۴۔اس سلسلہ میں اس کتاب کے دوسرے حصہ کی تیسری قسم ملاحظہ کیجئے ۔
[۳۹] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۰۹۔
[۴۰] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۲۱۔
[۴۱] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۰۹۔
[۴۲] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۴۱۔اس سلسلہ میں دوسرے حصہ کی تیسری قسم ملا حظہ کیجئے ۔
[۴۳] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۲۴۔
[۴۴] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۲۱۔
[۴۵] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۰۹۔
[۴۶] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۲۴۔
[۴۷] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۰۹۔
[۴۸] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۰۹۔
[۴۹] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۲۳۔
[۵۰] مستدرک الوسائل( محدث نوری )چاپ قدیم جلد ۱ صفحہ ۴۵۶باب ۳ ،کتاب زاد الفردوس سے، اسی طرح شیخ نعمة اللہ بن خاتون عاملی سے نقل کیا ہے کہ اس مطلب پرپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نص وارد ہو ئی ہے ۔ اسی طرح مرحوم فیض کاشانی نے کتاب خلا صة الاذکار باب ۱۰صفحہ ۹۹ پر ”عقد اخوت “کو ذکر کیا ہے ۔
[۵۱] بحا ر الانوار جلد ۳۷ صفحہ ۱۷۱۔
[۵۲] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۱۷۔
[۵۳] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۲۳۔
[۵۴] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۰۹۔
[۵۵] بحا ر الانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۷۰۔
[۵۶] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۱۵۔
[۵۷] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۲۰۔
[۵۸] مفا تیح الجنان :باب زیارات امیر المو منین علیہ السلام ،زیارت غدیر ۔
[۵۹] بحا ر الانوار جلد ۹۷صفحہ ۳۶۰۔
[۶۰] بحار الانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۷۰۔
[۶۱] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۱۵۔
[۶۲] پہلی اورموجودہ ”مسجد غدیر “کے سلسلہ میں دسویں حصہ کی چھٹی قسم ملا حظہ کریں ۔
[۶۳] بحارالانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۷۳۔
[۶۴] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۱۳۔
[۶۵] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ۲۱۱۔
[۶۶] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۱۳۔
[۶۷] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۱۳۔
[۶۸] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۱۱۔
[۶۹] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۱۱۔
[۷۰] یہ مضامین کتاب ”الاقبال “سید بن طاؤس صفحہ ۴۶۰ سے اخذ کئے گئے ہیں نیزعوالم جلد ۱۵/۳اور صفحہ ۲۱۵۔۲۲۰پر مذ کور ہیں ۔
غدیرقیامت تک کھلی کتاب
غدیر کادروازہ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَا هُ فَعَلِیٌّ مَوْلَا هُ“ ک ی کنجی سے کھلتا ہے اور اس کے اورا ق دو حصوں میں تقسیم ہو تے ہیں :ایکاَللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وٰالَاهُ وَانْصُرْمَنْ نَصَرَه“
دوسرے”اللَّهُمَّ عَادِمَنْ عَاداهُ وَاخذُلْ مَنْ خَذَ لَهُ“ ۔جس کے بعد چودہ صد یوں کے فاصلہ اور اس طولانی دور کے درمیان غدیر اور سقیفہ دونوں کے کارناموںکا اس غدیری باب میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے ۔
اسی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسی منبر سے موافق اور مخا لف باتیں سامنے آئیںاور یہ سلسلہ جا ری رہا یھاں تک کہ غدیر کاسقیفہ کے ھاتھوںخون ہوگیاسقیفہ میں جمع ہونے والے لوگوں نے منبر پر ابوبکر اور عمرکا تعارف کرایا ،درحقیقت انھوں نے غدیر کے مد مقابل ایک محاذکھولا اورآنے والی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے اپنے عقائد نشرکرنے کی خاطر کوشش اورایک دوسرے سے جنگ وجدل کرتے رہے اس دن سے غدیر ایک سخت ومشکل امتحان بن گیا تاکہ محاذپرلڑنے والوں کی شناخت ہوسکے ۔
غدیر کی فائل قیامت تک ہر گز بند نہیں ہو سکتی جب تک کہ قیامت کے دن یہ فائل محمد و علی علیھما السلام کی خدمت اقدس میں پیش نہ کی جا ئے سامنے اور اس کے متعلق ہر ایک سے باز پُرس نہ ہوجا ئے ۔
ایک سرسری نگاہ میں اس فائل کے صفحات میں منا ظرے غدیر کے سلسلہ میں اتمام حجت، غدیرکے بارے میں دشمنوں کے اقرار ،غدیر اور سقیفہ کی طرفداری کر نے والوں کی جنگیں ،غدیر کاتہذیب و تمدن ،ادبیات غدیر اور غدیر کی یادیںشامل ہیں ان ہی تمام شیریں اور تلخ واقعات سے غدیر کا دفتر پُر ہے کہ جس نے چودہ صدیاں دیکھی ہیں اور آج تک اس کی عظمت کو بیان کر رہا ہے ۔
خدایاہمارا نام ”اللھم انصرمن نصرہ “والے صفحات میں درج فرما،اور ہم کو ”اللھم اخذل من خذلہ“والے گروہ کی مکمل شناخت عطا کر اے شیعوں کے خدا غدیر کے بلند و بالا سورج کو ہمیشہ کےلئے اقیانوس اسلام کے افق میں اہل بھشت کی راہ کا چراغ قرار دے اور اسکے نام کو دنیا میں روشن ومنور فرما۔
۱ خدا و معصومین علیھم السلام کی غدیر کے ذریعہ اتمام حجت
آج تک بغیر کسی وقفہ کے غدیر کی علمی فائل کوچودہ سو سال گذر گئے اور اس پوری مدت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دائمی فرمان جا ری و ساری رہا ہے متعدد واعظوں نے منبروں پر ،علما ء نے بحث و مناظروں کے جلسوں میں ،بڑے بڑے مولفوں نے اپنی اپنی کتابوں میں، سلمان ،ابوذر و مقداد جیسے غدیر کے سچے گواہوںنے نیز معاشرے کی خدمت کرنے والوں نے اسلام کے اس بزرگ ہدف کے دفاع کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر لی ہے ۔
اگر غدیر موجودہ معاشرے میں عملی شکل اختیار کر لیتی تو کوئی اختلاف و تفرقہ ہی نہ ہوتا کہ ولایت کی بنیاددوں کو ثابت کرنے کے لئے بحث و مناظرے اور دلیلوں کی ضرورت ہوتی ۔خداوند عالم کی ان لوگوں پر لعنت ہو جنھوں نے غدیر کے میٹہے اور گوارا چشمے کو گدلا کیا ،اور نسلوں کو اس کا میٹھا و گوارا پانی پینے سے محروم کیا ،اور امت کے مھربان اماموں پر خداوند عالم کی صلوات و رحمت و برکتیں ہوں جنھوں نے سقیفہ کے فتنوں میں غرق ہو نے والوںسے غدیر کی حفاظت فرمائی اور غدیرکو مختلف حالات میں زندہ و جاوید بنادیا۔
ان اقدامات سے وہ نوآشنا افراد مخاطب تھے جن کا اسلام کی اس عظیم حقیقت سے آشنا ہو نا ضروری تھا ،وہ سوئے ہو ئے ضمیر جنہیں تجدیدعھد اور یاد دلانے کی ضرورت تھی ،وہ مردہ دل جن کےلئے ہدایت کا راستہ کھولنا ضروری تھا تاکہ ان کی خشک زمین تک پا نی پہنچے ،اوراس دنیا میں صدیوں سال بعد آنے والی نسلیںجن کی اطلاع لئے حقیقت غدیر کو تاریخ کے اوراق میں ثبت ہونا چا ہئے تھا ۔
حریم غدیر کے اس دفاع مقدس کا تاریخچہ ،اپنے اندر ایسی شخصیتوں کو لئے ہوئے ہے جو ہر زمانہ کے تقاضوں اور ہر جگہ کے حالات کے مطابق اپنی معنویت سے سرشارفکر و روح سے لے کر جان آبروتک اخلاص کے ساتھ فدا کرتے رہے ،انھوں نے ولایت کے ان قطعی استدلال کے اسلحہ سے جن کا پشت پناہ پروردگاعالم ہے ،ولایت کے دشمنوں کوعلمی بحثوں میں شکست فاش دے کر،اور پوری دنیا میں شیعیت اور غدیر کا نام روشن کرتے رہے ۔
ان استدلالات اور غدیر کی یاد آور یوں کا واضح نمونہ خود ائمہ علیھم السلام اور ان کے اصحاب کے ذریعہ وقوع پذیر ہوا ہے ،تمام راویوں نے چودہ سو سال کے عرصہ میں حدیث غدیر کی روایت بیان کی اور اس طرح اہل سقیفہ کے مقابلہ میں جھاد کیا ہے ۔
امام زمانہ عجل اللہ تعا لیٰ فر جہ الشریف کی غیبت کے دور میں غدیر کے دفاع کا پرچم علمائے شیعہ نے اپنے ھاتھوں میں اٹھا ئے رکھا ،یھاں تک کہ بہت سے مقامات پر دشمنوں نے غدیر کا اقرار کیا اور اس کا انکار کرنے سے عاجز رہ گئے۔
آجکل ان استدلالات کا دامن کتا بوں اور جلسوں سے نکل کربہت وسیع ہو گیاکانفرنسوں ،ریڈیو، ٹیلیویزن یھاں تک کہ انٹرنٹ سے بھی اس کے پروگرام نشر کئے جا نے لگے ہیں ۔
ھم ذیل میں اتمام حجت اور استدلال کے ایسے لاکھوں موارد میں سے چندنمونے پیش کرتے ہیں :
۱ ۔خداوند عالم کا غدیر کے ذریعہ حجت تمام کرنا
۱ ۔حارث فھری کا غدیر میں اعتراض کے طور پر خداوندعالم سے عذاب کی درخواست کرنا خداوند عالم نے بھی فوراً آسمان سے ایک پتھر بھیجا اور وہ سبھی کی آنکھوں کے سامنے ھلاک ہو گیا اور یہ واقعہ خدا وند عالم کی طرف سے براہ راست سب سے پہلی اتمام حجت کے عنوان سے تاریخ میں ثبت ہوا ۔( ۱ )
۲ ۔غدیر میں لوگوں نے ایک خوبصورت شخص کو یہ کہتے ہوئے دیکھا:”خدا کی قسم میں نے آج کے دن کے مانندکوئی دن نہیں دیکھا ۔۔۔اس کےلئے ایساپیمان باندھا جس کو خدا اوراس کے رسول کا انکار کرنے والے کے علاوہ کوئی توڑ نہیں سکتا ہے ۔ ۔۔“ جب رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ وہ کون تھا؟ تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فر مایا :وہ جبرئیل تھے ۔اس طرح دوسری مرتبہ سب لوگوں کی نگا ہوں کے سامنے حجت الٰہی تمام ہوئی ۔( ۲ )
۳ ۔منافقین کے ایک گروہ نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت با برکت میں حا ضر ہوکر آپ سے آیت و نشانی طلب کی توپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :کیا تمھا رے لئے غدیر خم کا دن کافی نہیں تھا ؟جس وقت میں نے حضرت علی علیہ السلام کو اما مت کےلئے منصوب کیا تو منا دی نے آسمان سے ندا دی :”یہ خدا کا ولی ہے ،اس کی اتباع کرنا ورنہ تم پر خدا کا عذاب نازل ہوگا “( ۳ )
ایک دن ابو بکر نے چالاکی سے غصب خلافت کی توجیہ کرتے ہو ئے حضرت امیر المومنینعليهالسلام سے کہا :کیا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی ولایت کے سلسلہ میں غدیرکے بعدکسی چیز میں تغیر وتبدل نہیں کیا ۔۔۔لیکن آپعليهالسلام کے ان کا خلیفہ ہونے کے متعلق ہم سے کچھ نہیں فرمایاہے !!
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا :کیسا ہے کہ میں تمھاری پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرادوں تا کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم بذات خود تجھ کو اس کا جواب دیں ؟ ابو بکر نے اس بات کو قبول کرلیا اور نماز مغرب کے بعدحضرت علی علیہ السلام کے ھمرا ہ مسجد قبا میں آئے اور یہ مشاہدہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محراب ِمسجد کے پاس تشریف فرما ہیں اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ابو بکر سے خطاب کرتے ہو ئے فرمایا :اے ابو بکر تو نے علیعليهالسلام کی ولایت کے خلاف اقدام کیااورتو اس کے مقام پر بیٹھ گیاجو نبوت کی جگہ ہے اور علیعليهالسلام کے علاوہ اس کا اورکوئی مستحق نہیں ہے اس لئے کہ وہ میرے وصی اور خلیفہ ہیں ۔۔۔“
اس معجزے کے ذریعہ کہ جس کا پشت پناہ خدا وند عالم ہے دوسری مرتبہ خدا وند عالم نے صاحب غدیر کے حق کو غصب کر نے والے پر اپنی حجت تمام کردی ہے ۔( ۴ )
۴ ۔حضرت علی علیہ السلام نے اپنی ظاہری حکومت کے دوران غدیر کے عینی شا ھدوں کو خدا کی قسم دے کر کہا کہ وہ کھڑے ہوں اور جو کچھ انھوں نے غدیر خم میں دیکھا تھا اس کی شھادت دیں ۔کچھ لوگوں نے اٹھ کر اس کی گواھی دی لیکن آٹھ افراد نے گوھی دینے سے انکار کیا ۔
حضرت علی علیہ السلام نے فر مایا :”اگر تم جھوٹ کہہ رہے ہو اور بھانہ جوئی کر رہے ہو در انحالیکہ تم غدیر خم میں مو جود تھے اور تم نے میری خلافت کا اعلان سناتھا، تو خداوند عالم تم میں سے ہر ایک کو کسی آشکار مصیبت میں گرفتار فرمائے “اس طرح واقعہ غدیر کے تیس سال بعدپروردگار عالم کی اتمام حجت ظاہر ہوئی اور ان میں سے ہر ایک ایسے مرض میں گرفتار ہوا جس کا سب نے مشاہدہ کیا مرض میں مبتلا ہونے والے افراد دوسروں کے سامنے اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ ہم آپعليهالسلام کی دعا کے ذریعہ اس مرض سے دو چار ہوئے ہیں ۔( ۵ )
۲ ۔پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا غدیر کے ذریعہ اتمام حجت کرنا
۱ ۔اطراف مدینہ کے ایک بادیہ نشین شخص نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سوال کیا :میری قوم کے حاجی یہ خبر لا ئے ہیں کہ آپ نے خدیر خم میں حضرت علی علیہ السلام کی اطاعت کو واجب قرار دیا ہے کیا خدوند عالم کی طرف سے ہے ؟آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :اس اطاعت کو خدوند عالم نے واجب قرار دیا ہے ،اور حضرت علی علیہ السلام کی اطاعت اہل آسمان اور زمین سب پر واجب کی گئی ہے “( ۶ )
۲ ۔آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مدینہ منورہ میں فرمایا :روز غدیر میری امتوں کی سب سے اچھی عیدوںمیں سے ہے اور یہ وھی دن ہے جس میںخدا وند عالم نے مجھ کو اپنے بھائی علی بن ابی طالب کو اپنی اپنی امت کے لئے جانشین بنا نے کا حکم صادر فرمایاتھا “( ۷ )
۳ ۔آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی وصیت میں امیر المو منین علیہ السلام سے فرمایا: ”۔۔۔میں نے غدیر خم میں لوگوں سے یہ عہد و پیمان لے لیا ہے کہ تم میرے بعد میری امت میں میرے و صی ،خلیفہ اور صاحب اختیار ہو “( ۸ )
۴ ۔پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے”مَنْ کُنْتُ مَوْ لَاهُ “ کے مطلب کے سلسلہ م یں سوال کیا گیا تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :”۔۔۔جس شخص کا میں صاحب اختیار ہوں اور اس کے نفس سے زیادہ اس پر حاکم ہوں تو علی بن ابی طالبعليهالسلام اس کے صاحب اختیار ہیں اور اس کے نفس پر خود اس کی نسبت زیادہ اختیار رکھتا ہوں اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مقابلہ میں اسے کو ئی اختیار نہیں ہے “( ۹ )
۳ ۔امیر المو منین علیہ السلام کاغدیرکے ذریعہ حجت تمام کرنا
۱ ۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے سات دن بعد حضرت علی علیہ السلام مسجد میں تشریف لا ئے اورلوگوں کومخاطب کرتے ہوئے فرمایا:پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجة الوداع کے بعد غدیر خم میں تشریف لا ئے اور آپ نے وہاں پر منبر سا بنا یاگیا اور آپ اس منبر تشریف لے گئے اور آپ نے اس منبر پر میرے بازو پکڑکر مجہے اتنا بلند کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفیدی بغل دکھا ئی دینے لگی اس وقت آپ نے بلند آواز سے فرمایا :”مَنْ کُنْتُ مَوْ لَا هُ فَعَلِیٌّ مَوْلَا هُ “ خدا وند عالم نے اس دن یہ آیت نا زل فرمائی:( اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْناً ) ( ۱۰ )
۲ ۔ابو بکر اور عمر بیعت لینے کے لئے امیر المو منین علیہ السلام کے دولت کدہ پر آئے اور کچھ باتیں کرنے کے بعد با ھرنکلے توحضرت علی علیہ السلام فوراً مسجد میں تشریف لائے اور کچھ مطالب بیان کرنے کے بعد فرمایا :ابو بکر اور عمر نے میرے پاس آکر مجھ سے اس کے ساتھ بیعت کا مطالبہ کیا جس کے لئے میری بیعت کرناضروری ہے !۔۔۔میں صاحب روز غدیر میں ہوں ۔۔۔“( ۱۱ )
۳ ۔پھلی مرتبہ جب حضرت علی علیہ السلام کو زبر دستی بیعت کے لئے لایا گیا اور آپ نے بیعت کر نے سے انکار کیا تو آپعليهالسلام نے فرمایا :میں یہ گمان نہیں کرتا ہوں کہ پیغمبر اکرم صلی للہ علیہ وآلہ وسلم نے غدیر کے دن کسی کےلئے کو ئی حجت یا کسی کےلئے کوئی بات باقی چھوڑی ہو ۔میں ان لوگوں کو قسم دیتا ہوں جنھوں نے غدیر خم کے دن”مَنْ کُنْتُ مَوْ لَا هُ فَعَلِیٌّ مَوْ لَاهُ “ س نا ہے وہ اٹھ کر اس کی شھا دت دیں ۔اھل بدر کے بارہ آدمیوں نے کھڑے ہو کر غدیر کے ما جرے کی شھادت دی اور دیگر لوگ بھی اس سلسلہ میں باتیں کرنے لگے تو عمر نے ڈر کی وجہ سے مجلس کے خاتمہ کا اعلان کردیا!!( ۱۲ )
۴ ۔دوسری مرتبہ جب امیر المو منین علیہ السلام کے گلے میں رسی کا پھندا ڈال کر اور آپعليهالسلام کے سر پر تلوار لٹکا کر زبردستی بیعت کے لئے لا یا گیا تو عمر نے کہا :بیعت کرو ورنہ ہم آ پ کو قتل کر دیں گے ۔آپعليهالسلام نے فر مایا :اے مسلمانو!اے مھا جر و انصار میں تم کو خدا کی قسم دیتا ہو ں کیا تم نے غدیر خم میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان نہیں سناتھا کہ آپ نے کیا فرمایا۔۔۔ “؟ سب نے مل کر آپعليهالسلام کی بات کی تصدیق کی اور کہا : ھاں خدا کی قسم ۔( ۱۳ )
۵ ۔حضرت علی علیہ السلام غصب خلافت اور خانہ نشینی اختیار کرنے کے بعدھمیشہ غاصبین خلافت سے ترشروئی کے ساتھ پیش آتے اور اپنی حالت انزجار کا اظھارکرتے ۔ایک روزحضرت ابو بکر بھولے سے اس مشکل کا خاتمہ کرنے کےلئے تنھائی میں آپ سے ملاقات کر نے کےلئے آئے آپعليهالسلام نے ابو بکر سے فرمایا: کوخداکی قسم دیتا ہوں یہ بتا کہ غدیر کے دن پیغمبر کے فرمان کے مطابق میں تیرا اور تما م مسلمانوں کا صاحب اختیار ہوں یا تو“؟ابو بکر نے کہا :یقیناً آپ ہیں !( ۱۴ )
۶ ۔ابو بکر نے دعویٰ کیا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غدیر خم کے میدان میں علیعليهالسلام کو ہمارا صاحب اختیار قرار دیا لیکن ہمارا خلیفہ مقرر نہیں فرمایا ۔حضرت علی علیہ السلام نے جواب میں فرمایا :اگر پیغمبر اکرم صلی للہ علیہ وآلہ وسلم بذات خدو تجھ سے فرمائیں کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مجھ کو خلیفہ مقرر فر مایا ہے تو قبول کرلوگے ؟اس نے کہا :ھاں ۔حضرت علی علیہ السلام نے مسجد قبا میں ابو بکرکو رسول خدا صلی للہ علیہ وآلہ وسلم کی نشاندھی فرما ئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: علی علیہ السلام میرے وصی اور خلیفہ ہیں ۔( ۱۵ )
۷ ۔ایک دن ابو بکر نے حضرت علی علیہ السلام سے عرض کیا :اگر کوئی میرا مورد اعتماد شخص اس بات کی گواھی دیدے کہ آپعليهالسلام خلا فت کے زیادہ سزوارہیں تومیں خلافت آپکے حوالہ کردونگا !!!آپعليهالسلام نے فرما یا: اے ابو بکر کیا حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ کو ئی قابل اطمینان شخص ہے ؟! آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چا رمقامات پر تجھ سے اور عمر ،عثمان اور تیرے کئی ساتھیوں سے میری بیعت لی ان میں سے ایک حجة الواداع سے واپسی کے وقت غدیر خم کا مقام تھا ۔( ۱۶ )
۸ ۔جس وقت ابو بکر کا نما ئندہ (جس کو غصب فدک کے بعد وہاں کا نما ئندہ بنایا تھا )حضرت علیعليهالسلام کے اصحاب کے ھا تھوں قتل ہوا تو ابو بکر نے اس جگہ پر خالد کوایک لشکر کے ھمراہ بھیجا ۔جب وہ حضرت علیعليهالسلام کے روبرو ہو ا تو حضرت علی علیہ السلام نے اپنی ذو الفقار کے اشارہ سے خالد کو اس کے گھو ڑے سے نیچے گرا تے ہو ئے فر مایا :”۔۔۔کیا تیرے اطمینان کےلئے غدیر کا دن کافی نہیں تھا جو تونے آج یہ عزم وارادہ کیاہے “؟!( ۱۷ )
۹ ۔مندرجہ بالا واقعہ کے بعد حضرت علی علیہ السلام واپس مدینہ پلٹے تو ابو بکر اور آپعليهالسلام کے درمیان کچھ گفتگو ہوئی ۔اس وقت حضرت علی علیہ السلام نے اپنے چچا عباس سے مخاطب ہو کر فرمایا :اب جبکہ روز غدیر ان کےلئے قانع کنندہ نہیں ہے تو ان کو خود ان ہی کے حا ل پر چھوڑدیجئے ۔وہ ہمیں جتنا کمزور کرسکتے ہیں کرنے دیجئے خدا وند عالم ہمارا مو لا ہے اور وہ بہترین حکم کرنے والا ہے ۔
۱۰ ۔عمر کے دور میں بنی ھاشم نے مسجد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایک میٹنگ کی جس میں امیر المو منین علیہ السلام نے عمر اور ابو بکر کے ذریعہ ایجاد ہو نے والی بدعتوں کو شمار کیا منجملہ آپعليهالسلام نے فرمایا : غدیر کے روز جس وقت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری ولایت کا اعلان فر ما یا تواس وقت عمرنے اپنے دوست ابو بکر سے ملاقات کی ۔جب میرے تعارف کرانے اور منصوب کرنے کے تمام امور انجام پا گئے تو ابو بکر نے کہا :”واقعاً یہ ایک بہت بڑی کرامت ہے “!عمرنے اس پر سخت نظریں ڈالتے ہو ئے کہا : ”نہیں ،خدا کی قسم نہیں ،میں کبھی بھی ان کی باتوں پر کان نہیں دھروںگا اور ان کی اطاعت نہیں کرونگا “پھر اس کا سھارا لیتے ہوئے تکبر کی حالت میں چلتے بنے ۔( ۱۸ )
۱۱ ۔عمر کے قتل ہو جانے کے بعد عمر کی بنائی ہو ئی چھ آدمیوں کی کمیٹی نے اپنے درمیان ایک شخص کا انتخاب کرنے کے لئے جلسہ کیا یہ عثمان کومنتخب کرنے کے لئے ایک سازش تھی جسے پہلے ہی منتخب کرلیا گیا تھا حضرت علی علیہ السلام جو اس کمیٹی کے ممبر تھے آپعليهالسلام نے بقیہ لوگوں پر اپنی حجت تمام کر نے کےلئے فرمایا :”میں تم کو خدا کی قسم دیتا ہوں یہ بتاو ،کیاتم میں میرے علاوہ کو ئی ایسا ہے جس کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غدیر خم کے میدان میں خدا کے حکم سے منصوب کیا ہو اور یہ فرمایا ہو :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“؟سب نے مل کر کہا :نہیں ،آپ کے علاوہ کوئی اس فضیلت کا حامل نہیں ہے ۔حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: ”کیا میرے علاوہ تم میں کو ئی ایسا شخص ہے جس کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جحفہ میں غدیر خم کے درختو ں کے نزدیک یہ فر مایا ہو :”جس شخص نے تیری اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میری اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی ؟سب نے کہا :خدا کی قسم نہیں ،آپ کے علاوہ کوئی یہ منصب و فضلیت نہیں رکھتا ۔( ۱۹ )
۱۲ ۔ماجرائے شوریٰ اور انتخاب عثمان کے بعد لوگ اس کی بیعت کرنے کےلئے مسجد میں پہنچے تو حضرت علی علیہ السلام نے اس مجمع میں کھڑے ہوکر فرمایا :کیا تمھارے درمیان کو ئی ایساشخص ہے جسکے غدیر خم کے میدان میں رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بازو پکڑکر یہ فرمایا ہو :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“؟تو ا یک شخص نے سب کی نمائندگی کرتے ہو ئے کہا :ھم کسی ایسے شخص کو نہیں پہچا نتے جس کی گفتار آ پ کی گفتار سے زیادہ صحیح ہو ۔( ۲۰ )
۱۳ ۔ عثمان کے دور میں مسجد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں دوسو اصحاب کی موجودگی میں ایک جلسہ منعقد ہوااس جلسہ میں حضرت علی علیہ السلام نے فرما یا :خدا وند عالم نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے والیان امر کے تعارف کرانے کا حکم دیا ۔۔۔تو آنحضر ت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غدیر خم کے میدان میں مجھکو اپنا جانشین منصوب کر تے ہو ئے فرمایا :مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“؟اور خدا نے یہ آیت :( اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ ۔) نازل فرما ئی ۔
مسجد میں موجود مجمع نے کہا :ھاںخدا کی قسم ہم نے یہ سنا تھا جو کچھ آپ فرما رہے ہیں اور ہم سب غدیر خم میں موجود تھے ۔حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا :میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں جنھوں نے غدیر خم میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک ہونٹوں سے وہ پیغام سناہے وہ اس کی گواھی دیں ۔اس وقت جناب مقداد ،ابوذر،عمار،براء اور زید بن ارقم نے کھڑے ہو کر کہا :ھم گو اھی دیتے ہیں کہ ہمیں وہ وقت یاد ہے کہ جب آپعليهالسلام رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ھمرا ہ منبر پر تشریف فر ماتہے اورآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ فرمایا: ایھا الناس !۔۔۔خدا نے تم کو ولایت کا حکم دیا ہے اور میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ یہ ولایت حضرت علیعليهالسلام سے مخصوص ہے( ۲۱ )
۱۴ ۔اسی جلسہ میں جب ابو بکر کے اس دعویٰ کے سلسلہ میں سوال کیا گیا کہ رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا تھا کہ ”خداوند عالم نبوت اور خلافت کو اہل بیت علیھم السلام میں جمع نہیں کرے گا ؟“ توحضرت علی علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا :اس دعوے کے با طل ہونے کی دلیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غدیر خم کا یہ فرمان ہے :مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “ہے ۔م یں کیسے ان کا صاحب اختیار ہو سکتا ہوں اگر وہ میرے امیراورمجھ پر حاکم ہوں “؟!( ۲۲ )
۱۵ ۔اسی جلسہ میں حضرت علی علیہ السلام نے جملہ ”فلیبلغ الشاهد الغائب “ یعنی حا ضرین غا ئبین تک پہنچا دیں “کے سلسلہ میں فر مایا :پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جملہ صرف غدیرخم ،روز عرفہ اور اپنی رحلت کے دن فرمایا ۔۔۔اور تمام لوگوں کو حکم دیا کہ جب بھی وہ کسی شخص کو دیکہیں تو اس تک آل محمد علیھم السلام کے اماموں کی اطاعت اور ان کے حق کے واجب ہو نے کا پیغام پہنچائیں “۔( ۲۳ )
۱۶ ۔بصرہ میں جنگ جمل کے میدان میں حضرت علی علیہ السلام نے طلحہ سے فرمایا :میں تجھ کو خدا کی قسم دیتا ہوں یہ بتا کہ کیا تونے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا تھا:”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “اس نے کھاھاںسنا تھا ۔آپعليهالسلام ن ے فرمایا تو پھر مجھ سے جنگ کر نے کیوں آئے ہو؟اس نے کہا :میرے ذہن میں نہیں تھا اور میں بھول گیا تھا “یہ بات بیان کر دینا ضروری ہے کہ طلحہ نےغدیر خم کا پیغام یاد آ جا نے کے بعد بھی اپنے قتل ہو نے تک حضرت علی علیہ السلام سے جنگ جا ری رکھی۔( ۲۴ )
۱۷ ۔جس وقت حضرت علی علیہ السلام کوفہ میں جنگ صفین کی تیاریوں میں مصروف تھے تو آپ نے ایک خطبہ کے دوران فرمایا :اے مھا جرین وانصار ،۔۔۔کیا تم پر میری مدد کرنا واجب نہیں ہے ؟کیا میرے حکم کی اطاعت کرنا تم پر واجب نہیں ہے ؟۔۔۔کیا تم نے غدیر خم کے میدان میں میری ولایت اور صاحب اختیار ہو نے کے سلسلہ میں فرمایا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا فرمان نہیں سنا تھا؟۔( ۲۵ )
۱۸ ۔معا ویہ نے جنگ صفین میں حضرت امیر المو منین علیہ السلام کو ایک خط میں اس طرح لکھا: ”مجھ کو خبر ملی ہے کہ جب آپعليهالسلام اپنے اہل راز اورخاص شیعوں کے ساتھ تنھائی میں بیٹھتے ہیں تویہ ادعا کرتے ہیں کہ ۔۔۔خدا وند عالم نے آپ کی اطاعت مو منین پر واجب فر ما ئی ہے اور کتاب و سنت میں آپ کی ولایت کا حکم دیا ہے ۔۔۔اور (پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی غدیر خم کے میدان میں اپنی امت کو جمع کیا اور آپعليهالسلام کے سلسلہ میں جو کچھ خداوند عالم کی جا نب سے پہنچا نے پر ما مور ہو ئے تھے ا سے پہنچایا اور حکم دیا کہ حا ضرین غائبین تک یہ پیغام پہنچا ئیں اور لوگوں کو خبر دار کیا کہ آپعليهالسلام ان کے نفوس پرخود ان سے زیادہ صاحب اختیار ہیں ۔۔۔“( ۲۶ )
۱۹ ۔امیر المو منین علیہ السلام نے جنگ صفین کے میدان میں اپنے لشکریوں کوحالانکہ وہاں پر معا ویہ کے بھیجے ہو ئے کچھ افراد بھی مو جود تھے )کے لئے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا :میں تم کو خدا وند عالم کے اس فرمان( یٰایُّهَاالَّذِیْنَ آمَنُوْااَطِیْعُوْااللهَ ) کے سلسلہ میں قسم دیتا ہوں کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے میدان میں مجھ کو اپنا خلیفہ و جانشین مقرر کیا اور فرمایا :ایھا الناس !خداوند عالم میرا صاحب اختیارہے اور میں مومنوں کا صاحب اختیار ہوں اور میرا اختیار مومنوں کے نفوس پرخود ان سے زیادہ ہے جان لو ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “۔ بدر یین کے بارہ آدمیوں نے کھڑے ہو کرواقعہ غدیر میں اپنی موجودگی کی گواھی دی اور چار آدمیوں نے کھڑے ہو کرسب کےلئے واقعہ کی تفصیلات بیان کی ہے ۔( ۲۷ )
۲۰ ۔معاویہ نے حضرت علی علیہ السلام کو ایک خط میں اپنے کچھ فضائل لکھ کر بھیجے اور ان پرفخر جتایا حضرت علی علیہ السلام نے فر مایا :کیا ہندہ جگر خوار کا بیٹا مجھ پر فخر کرتا ہے ؟! اس کے بعد آپ(ع)نے ایک خط تحریر فرمایا اور اس میں اشعار میں اپنے فضائل تحریر فرماکر اس کے پاس بھیجا جس کا ایک شعر یہ ہے :
وَاَو ْجَبَ لِی ْ وِلَایَتَه ُ عَلَی ْ کُم ْ رَسُو ْلُ الل ه ِ یَو ْمَ غَدِی ْ رِخُمّ
یعنی :پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غدیر خم میں اپنی ولایت تم سب پر واجب فرمائی اور میری ولایت تم پر واجب فر ما ئی ہے ۔( ۲۸ )
۲۱ ۔جنگ صفین میں معاویہ کے لشکر کا ایک آدمی ہاتھ میں قرآن لئے ہوئے اس آیت:( عَمَّ یَتَسَائَلُوْنَ عَنِ النَّبَاِالْعَظِیْم ) کی تلاوت کر تے ہوئے میدان جنگ میں آیااورحضرت علی علیہ السلام بذات خود اس سے جنگ کر نے کےلئے گئے تو آپ نے سب سے پہلے اس سے سوال کیا :کیا جس نبا عظیم پر لوگ اختلاف رکھتے ہیں تم کو اس کی خبر ہے ؟اس مرد نے کہا :نہیں !!آپعليهالسلام نے فرمایا :خدا کی قسم میں ہی وہ نبا عظیم ہوں جس پر لو گوں نے اختلاف کیا ہے ۔میری ولایت کے متعلق ہی تم نے جھگڑا کیا ہے ۔۔۔ ان تم روزغدیر جان چکے ہو اور قیامت کے دن بھی تم اپنے کرتوتوں کو جا ن لو گے۔( ۲۹ )
۲۲ ۔حضرت امیر المو منین علیہ السلام کی ظاہری خلافت کے دور میں ایک سال عید غدیر جمعہ کے دن آگئی تو آپعليهالسلام نے جمعہ کے خطبہ کو غدیر کے مسئلہ سے مخصوص کیا اوراس کے ضمن میں فرمایا :”خدا وند عالم اپنے منتخب شدہ بندوں کے سلسلہ میں جو کچھ ارادہ رکھتا تھا وہ اس نے غدیر خم کے میدان میں اپنے پیغمبر پر نازل فرمایا اور اس پیغام کو لوگوں تک پہنچا نے کا حکم صادر فرمایا ۔۔۔خداوند عالم نے اپنا دین کامل فر مایا اور اپنے پیغمبر ،مو منین اور ان کے تابعین کی آنکھو ں کو ٹھنڈک بخشی “خطبوں اور نماز جمعہ کے بعد آپعليهالسلام اپنے اصحاب کے ھمراہ حضرت امام حسن علیہ السلام کے بیت مبارک پر تشریف لے گئے جھاں جشن غدیر منانے کا انتظام کیاگیا تھا اور مفصل طور پر پذیرائی بھی کی گئی تھی۔( ۳۰ )
۲۳ ۔حضرت علی علیہ السلام کی ظاہری خلافت کے دور میں آپعليهالسلام کے حکم سے مسجد کوفہ اور دارالامارہ کے سامنے کو فہ کے سب سے وسیع میدان میں ایک اجتماع ہوا جس میں عظیم مجمع جمع ہواتھا اور پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب بھی مو جود تھے آپعليهالسلام منبر پر تشریف لے گئے ۔
حضرت علی علیہ السلام نے منبر سے قسم دے کر فرمایا جو شخص غدیر خم میں حا ضر تھا وہ کھڑا ہو جائے اور جو کچھ اس نے غدیر خم میں دیکھا ہے اس کی گو اھی دے ۔آپعليهالسلام کی درخواست پرمجمع سے تقریبا ً تیس آدمی اٹہے اور جو کچھ انھوں نے غدیر خم میں مشاہدہ کیا تھا اس کی شھادت دی ۔لیکن غدیر میں حاضر آٹھ آدمیوں نے جا ن بوجھ کر گواھی دینے سے انکار کیا تو آپعليهالسلام نے ان سے اس انکار کی علت دریافت کی تو انھوں نے کہا ہم بھول گئے ہیں !!!
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا :”اگر تم یہ بھانہ کرکے جھوٹ بو ل رہے ہو اور جان بوجھ کر گواھی نہیں دے رہے ہو تو تم میں سے ہر ایک بلا و مصیبت میں گرفتار ہو“اور آپعليهالسلام نے ہر ایک کےلئے ایک خاص بلا ومصیبت بیان فر مائی ۔
یہ تمام کے تمام آٹھ آدمی آپعليهالسلام کے فر مان کے مطابق آشکار مصیبت میں گرفتار ہوئے اور لوگوں کے درمیان اسی بلا کے ذریعہ پہچا نے جا تے تھے ۔اور لوگوں کے درمیان مشہور تھا کہ یہ علی بن ابی طالب علیہ السلام کے نفرین شدہ ہیں ۔( ۳۱ )
۲۴ ۔حضرت علی علیہ السلام نے جنگ نھروان کے بعد اپنے سن مبارک کے آخری مھینوں میں ایک مفصل نوشتہ ایک کتابچہ کی شکل میں املا فرمایا اور مولا کے کاتب نے اس کو تحریر کیا اور یہ طے پایا کہ جمعہ کے دن آپعليهالسلام کے خاص دس اصحاب کی مو جودگی میں آپ کایہ کتابچہ لوگوں کے سامنے پیش کیاجائے اس کتابچہ کے کچھ جملے یہ ہیں :ولایت کے سلسلہ میں میری دلیل یہ ہے کہ لوگوں کا صاحب اختیار صرف میں ہوںقریش نہیں ۔۔۔چونکہ اس امت کی ولایت کے تمام اختیارات آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل تھے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد اس امت کا صاحب اختیار میں ہوں ۔۔۔اسلئے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم میں فرمایا تھا:”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “ ( ۳۲ )
۲۵ ۔حضرت امیر المو منین علیہ السلام نے اپنے امتیازات کے سلسلہ میں جو آپعليهالسلام کے علا وہ کسی اور کو عطا نہیں کئے گئے فرمایا ہے :خداوند عالم نے میری ولایت کے ذریعہ اس امت کے دین کو کا مل کیا اور ان پر نعمتیں تمام کیں ۔۔۔جس وقت پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے یو م الولایة”غدیر خم کے دن “فرمایا :اے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم لوگوں کو خبر دیدیجئے :( اَلْیَوْ مَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْناً ) ( ۳۳ )
۲۶ ۔حضرت علی علیہ السلام نے اس حدیث ”ھم اہل بیت علیھم السلام کا امر لوگوں کےلئے بہت دشوار ہے انبیائے مرسل،ملائکہ مقرب اور جن مو منین کے قلوب کا پروردگار عالم نے امتحان لیا ہے ان کے علاوہ کو ئی اس(امر )کو برداشت نہیں کرسکتا ہے “کو بیان کرتے ہو ئے فرمایا ہے :۔۔۔آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے دن میرھاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑکر فرمایا:”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “ ک یا مومنوں نے اسے قبول کیاان لوگوں کے علاوہ جنہیں اللہ نے لغزش اور گمراھی سے بچالیا تھا؟( ۳۴ )
۲۷ ۔حضرت علی علیہ السلام سے یہ درخواست کی گئی کہ آپ اپنے متعلق حضرت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی سب سے بڑی منقبت بیان فرمائیں تو آپعليهالسلام نے فرمایا :آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا غدیر خم کے میدان میں خدا کے حکم سے میری ولایت کا اعلان فرمانا “( ۳۵ )
۲۸ ۔ایک دن حضرت علی علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام ایک دوسرے کے سامنے اپنے فضائل بیان کررہے تھے تاکہ یہ فضائل ہمارے یاد رہیں ۔منجملہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: میں وہ ہوں کہ جس کے سلسلہ میں خداوند عالم نے فرمایا ہے :
( اَلْیَوْ مَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنا ً ) میں وہ نبا عظیم ہوں کہ خداوند عالم نے غدیر خم کے میدان میں میرے ذریعہ دین کا مل فرمایا ۔میں وہ ہوں کہ جس کے سلسلہ میں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا ہے:”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ“ ( ۳۶ )
۲۹ ۔ایک شخص نے حضرت علیعليهالسلام سے عرض کیا یا علیعليهالسلام میرے لئے ایمان کی اس طرح کامل تعریف کیجئے کہ کسی دوسرے سے سوال کرنے کی ضرورت نہ رہے ۔تو آپ نے چند مطالب بیان فرمائے منجملہ یہ بیان فرمایا کہ گمراہ ہونے کا سب سے کم سبب حجت خدا کی معرفت حاصل نہ کرنا ہے اس نے آپعليهالسلام سے عرض کیا کہ مجہے حجج الٰہی سے روشناس کیجئے ۔آپعليهالسلام نے فرمایا :جسکو پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے میدان میں اپنا جانشین معین فرمایا اور یہ خبر دی کہ میرا یہ جا نشین تم پر تمھارے نفسوں سے زیادہ حق رکھتا ہے ۔( ۳۷ )
۳۰ ۔ایک روز حضرت علی علیہ السلام نے فر مایا :میرے ستّر فضائل ایسے ہیں جن میں سے کسی ایک میں بھی پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کا کوئی صحابی میرے ساتھ شریک نہیں ہے ۔اس کے بعد ان میں سے اکیاون وے مقام کو اس طرح بیان فرمایا :پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے میدان میں مجھ کو سب کا مو لا مقرر کرتے ہوئے فرمایا:”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “ ظالم ین رحمت الٰہی سے دور رہیں اور ان پر خداوند عالم کا عذاب نازل ہو ۔( ۳۸ )
۳۱ ۔امیر المومنین علیہ السلام نے اس سلسلہ میں کہ وہ غدیر خم کی بیعت کے بعدلو گوں کی طرفسے ہو نے والی ہر قسم کی کو تا ہی کے وہ خود ذمہ دار ہیں فرمایا :پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مجھ سے وصیت کر تے ہوئے فرمایا:اے علی اگر تمہیں کو ئی ایسا گروہ مل جا ئے کہ دشمنوں سے جنگ کرسکوتو اپنے حق کا مطالبہ کرنا ورنہ خا نہ نشین ہو جانا چونکہ میں نے غدیر خم کے میدان میں تمھارے سلسلہ میں یہ پیمان لے لیا ہے کہ تم میرے اور لوگوں کے خودان کے نفسوں سے زیادہ صاحب اختیار ہو ۔( ۳۹ )
۳۲ ۔ایک دن حضرت علی علیعليهالسلام نے لوگوں کی طرف نظریں اٹھا تے ہو ئے فرمایا :تم نے خودمشاھدہ کیا ہے کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم غدیر خم کے روز کس طرح کھڑے ہوئے اور مجہے اپنے پاس کھڑا کیا اورمیرا ہاتھ پکڑکر میرا تعارف کرایا۔( ۴۰ )
۴ ۔غدیر کے سلسلہ میں حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کااتمام حجت کرنا
۱ ۔حضرت ام کلثوم نے اپنے تین سال کے سن مبارک میں اپنی والدہ گرا می کو یہ حدیث فرماتے سنا ہے کہ جن لو گوں نے صاحب غدیر کو چھوڑ دیا تھا اور سقیفہ کی سخت حمایت کررہے تھے آپعليهالسلام نے ان سے خطاب کرتے ہو ئے فر مایاتھا :کیا تم نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے غدیر خم کے اس پیغام کو فراموش کردیا ہے :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “ ۔( ۴۱ )
۲ ۔حضرت رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد حضرت فا طمہ زھرا سلام اللہ علیھا اُحد کے شھیدوں کی قبروں کے پاس تشریف لے جاتیں اور گریہ فرماتی تھیں ۔محمود بن لبید نے آپ سے سوال کیا :کیا پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی وفات سے پہلے صاف طور پر حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے با رے میںکچھ فر مایا تھا ؟!
حضرت زھرا سلام اللہ علیھا نے فرمایا :وا عجبا ،کیا تم نے غدیر خم کے دن کو بھلا دیا ہے ؟!( ۴۲ )
۳ ۔جس وقت اہل سقیفہ نے بیعت کےلئے حضرت علی علیہ السلام کے بیت الشرف پر دھاوا بولا تو حضرت زھرا علیھا السلام پشت در آئیں اور فرمایا :”گو یا تم کو یہ نہیں معلوم کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے دن کیا فرمایا تھا ؟!خدا کی قسم اس دن علی بن ابی طالب کی ولایت کا عہد لیاتھا تاکہ اس(ولایت) سے تمھاری امیدیں منقطع ہو جا ئیں۔ لیکن تم نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے اپنا رابطہ منقطع کرلیا! خدا وند عالم تمھارے اور ہمارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا “( ۴۳ )
۴ ۔حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کے سن مبارک کے آخری ایام میں مھاجر و انصار کی کچھ عورتیں آپ کی عیادت کے لئے آئیں ۔اس موقع پر آپ نے حضرت علی علیہ السلام کی امامت کے سلسلہ میں مطالب بیان فر ما ئے، عورتوں نے وہ مطالب اپنے مردوں سے بیان کئے ، اسکے بعد انصار و مھا جرین کے کچھ سرکردہ افراد عذر خوا ہی کے عنوان سے آپ کے پاس آئے اورکہنے لگے :اے سیدة النسا ء اگر ابو الحسن نے یہ مطالب اہل سقیفہ کی بیعت سے پہلے بیان فرما ئے ہو تے تو ہم ہر گز ان کی جگہ پر دوسروں کی بیعت نہ کرتے !!
آپ علیھا السلام نے فرمایا :مجھ سے دور ہو جا ؤ تمھارا عذر قابل قبول نہیں ہے ۔۔۔خدا وند عالم نے غدیر خم کے بعد کسی کےلئے کسی عذرکی کو ئی گنجائش باقی نہیں رکھی ہے ۔( ۴۴ )
۵ ۔ غدیر کے سلسلہ میں امام حسن علیہ السلام کا اتمام حجت کرنا
۱ ۔حضرت امیر المو منین علیہ السلام کی شھادت اور حضرت امام حسن علیہ السلام سے صلح کے بعد معا ویہ کو فہ پہنچا اور یہ طے پایا کہ امام حسنعليهالسلام اور معا ویہ منبر پر جائیں اور لوگوں کےلئے صلح کا مسئلہ بیان فر ما ئیں جب معا ویہ اپنی باتیں کہہ چکا تو حضرت امام حسن علیہ السلام نے منبر سے حضرت علیعليهالسلام کی مظلومیت کے سلسلہ میں مطالب بیان کر تے ہو ئے فرمایا :اس امت نے میرے پدر بزر گوار کو چھو ڑ کر دو سروں کی بیعت کرلی حالانکہ خود انھوں نے اس چیز کا مشا ھدہ کیاتھا کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے میدان میں میرے پدر بزرگوار کو اپنا خلیفہ و جا نشین مقرر فرمایا اور لوگوں کو حکم دیا کہ حاضرین غا ئبین تک یہ پیغام پہنچا دیں “( ۴۵ )
۲ ۔ایک دن معا ویہ نے اپنے اصحاب کے ساتھ ایک جلسہ کیا جس میںامام حسن علیہ السلام کو بھی دعوت دی اس (معاویہ ) کے اصحاب نے ہر طرح سے آپ (امام حسنعليهالسلام )کی شان اقدس میں جسارت کی اور آپعليهالسلام کے پدر بزرگوار حضرت امیر المو منین علیہ السلام کو ناسزا جملے کہے ۔
امام حسن علیہ السلام نے حضرت امیر المو منین علیہ السلام کے سلسلہ میں مفصل استدلال کیا منجملہ آپعليهالسلام نے فر مایا :پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے منبرپر حضرت علی علیہ السلام کو بلا یا اس کے بعد آپعليهالسلام کے ھاتھوں کو پکڑکر فر مایا:”اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ “ ( ۴۶ )
۶ ۔غدیر کے سلسلہ میں امام حسین علیہ السلام کا اتمام حجت کرنا
مرگ معاویہ اور واقعہ عا شوراسے ایک سال پہلے حضرت امام حسین علیہ السلام نے موسم حج میں منیٰ کے مقام پر سات سو افراد کو اپنے خیمہ میں دعوت دی جس میں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دو سواصحا ب تھے ان کے درمیان آپ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایاجس میں حضرت امیر المو منین علیہ السلام کے خلاف معا ویہ کے اقدامات کی مذمت کی آپعليهالسلام کے فضائل و مناقب بیان فرمائے اور ان سے اقرار لیا منجملہ آ پعليهالسلام نے فرمایا: میں تم کو خدا کی قسم دیتا ہوں کیا تم جا نتے ہو کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے میدان میں حضرت علی علیہ السلام کو منصوب کیا آپعليهالسلام کی ولایت کا اعلان کیا اور فرمایا :حاضرین غا ئبین تک یہ پیغام پہنچادیں ؟ مجمع نے کہا :ھاں خدا کی قسم (رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یھی فرمایا تھا )۔( ۴۷ )
۷ ۔غدیر کے سلسلہ میں امام زین العا بدین علیہ السلام کااتمام حجت کرنا
ایک شخص نے حضرت امام زین العا بدین علیہ السلام سے سوال کیا :پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس فرمان”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “کا ک یا مطلب ہے ؟آپ نے فرمایا :پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے لوگوںکو خبر دی کہ میرے بعد علی بن ابی طالب علیہ السلام امام ہیں ۔( ۴۸ )
۸ ۔غدیر کے سلسلہ میں امام باقر علیہ السلام کا احتجاج
۱ ۔حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے ان خاص حالات میں جو بنی امیہ کے دورکا اختتام کا تھا واقعہ غدیر کی تفصیلی داستان خطبہ غدیر کے مکمل متن کے ساتھ بیان فر ما ئی جو اس تاریخی خطبہ کےلئے امام معصوم علیہ السلام کی محکم سند ہے ۔( ۴۹ )
۲ ۔بصرہ کے ایک شخص نے حضرت امام باقرعليهالسلام سے عرض کیا :حسن بصری آیت( یَااَ یُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَااُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکْ ۔) کو پڑھتا ہے اور کہتا ہے :ا یک شخص کی شان میں نا زل ہو ئی ہے لیکن اس شخص کا نام بیان نہیں کرتا ہے ۔حضرت امام باقر علیہ السلام نے فر مایا :اس کو کیا ہو گیا ہے ؟وہ اگر چا ہتا تو یہ بتا دیتا کہ کس شخص کے سلسلہ میں نا زل ہو ئی ہے !جبرئیل نے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت با برکت میں حاضر ہو کر عرض کیا : خدا وند عالم نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ امت کےلئے یہ بیان فرمادیں کہ آپ کے بعد ان کا ولی کون ہے اور یہ آیت نازل فرما ئی پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم بھی کھڑے ہوئے اور حضرت علیعليهالسلام کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اوربلند کرکے فرمایا:”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “ ( ۵۰ )
۳ ۔ابو بصیر نے امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت اقدس میں عرض کیا :لوگ کہتے ہیں : پر وردگار عالم نے قرآن کریم میں صاف طور پر اہل بیت علیھم السلام کے ناموں کا تذکرہ کیوں نہیں فرمایاہے ؟ حضرت امام باقر علیہ السلام نے فرمایا :خدا وند عالم نے نماز نازل فرما ئی ہے لیکن نماز کی رکعتوں کی تعداد پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بیان فر ما ئی ہیں اسی طرح زکات اور حج ہیں ،اور آیت( اَطِیْعُوْااللهَ وَاَطِیْعُوْا الرَّسُوْلَ وَ اُوْلِی الْاَمْرِمِنْکُمْ ) نازل فرما ئ ی جو حضرت علی ،حسن اور حسین علیھم السلام کی سلسلہ میں ہے ، کلمہ ”اولوالامر “کو بیان کرتے ہو ئے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بیان فرمایا:”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌ مَوْلَاهُ “ اگر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سکوت فرماتے اور آ یہ اولوالامر کے اہل کا تعارف نہ کراتے تو آل عباس ،آل عقیل اور دوسرے افراد اس کا دعویٰ کر بیٹھتے ۔جب حضر ت رسول خدا نے اس دنیا سے رحلت کی تو لوگوں کے صاحب اختیار حضرت علی علیہ السلام تھے ،چونکہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کالوگوں کے لئے اعلان کیا تھااور آپ کو اپنا خلیفہ و جا نشین مقرر فرمایا تھا۔( ۵۱ )
۴ ۔ابان بن تغلب نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے سوال کیا :پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس فرمان:”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “ کا ک یا مطلب ہے ؟حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فر مایا : کیا اس طرح کے مطلب میں بھی کو ئی سوال کی گنجا ئش باقی رہ جا تی ہے ؟!ان کو سمجھا یا کہ وہ آپ کے جا نشین و خلیفہ ہو ں گے ۔( ۵۲ )
۵ ۔حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے امت کی طرف سے حقیقت ِ غدیر کے انکار کے سلسلہ میں تعجب سے فرمایا: کیا یہ امت اس فرمان و عہد کا انکار کرتی ہے جس کو پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علیعليهالسلام کےلئے اس دن لیا تھا جس دن آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کو ان ہی لوگوں کا خلیفہ و امام معین فرما یا تھا اور اپنے دور حیات ہی میں لوگوںکو ولایت و اطاعت کی طرف دعوت دی تھی اور ان کو اس مطلب کا گوا ہ بنایا تھا ۔( ۵۳ )
۶ ۔حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے حدیث غدیر کے ذریعہ ولایت و برائت کو بیان کرتے ہوئے فر مایا :یہ امت جب حضرت علی علیہ السلام کی خد مت میں پہنچتی ہے تو کہتی ہے : ہم علی علیہ السلام کے دو ستوں کو دوست رکھتے ہیں لیکن ان کے دشمنو ں سے بیزاری نہیں کر تے ،بلکہ ان کو بھی دوست رکھتے ہیں !ان کا یہ دعویٰ کس طرح صحیح ہو سکتا ہے جبکہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کا فر مان ہے :”اللَّهُمَّ وَال مَنْ وَا لَاهُ وَعَادِمَنْ عَادَاهُ “ ل یکن اس کے با وجود وہ ان کے دشمنوں سے دشمنی نہیں کر تے ہیں اور ان کو ذلیل و خوار کرنے والے کو ذلیل و خوار نہیں کرتے ہیں ۔یہ انصاف نہیں ہے !!!( ۵۴ )
۹ ۔غدیر کے سلسلہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام کا اتمام حجت کرنا
۱ ۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فر مایا :لوگوں نے غدیر کے سلسلہ میں خود کوغفلت میں ڈال دیا ہے ۔( ۵۵ )
۲ ۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے واقعہ غدیر نقل فرمانے کے بعد اس آیت( یَعْرِفُوْنَ نِعْمَةَ اللهِ ثُمَّ یُنْکِرُوْنَهَا ) کی تلاوت فر ما ئی ، یعنی خدوند عالم کی نعمتوں کی معرفت ہو جا نے کے بعد ان کا انکار کر تے ہیں “اور فر مایا :غدیر کے دن ان کو پہچا نتے ہیں اور سقیفہ کے دن ان کا انکار کر تے ہیں ۔( ۵۶ )
۳ ۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے امیر المو منین علیہ السلام کے رنج و محن کے سلسلہ میں تعجب سے فر مایا :غدیر کے دن آپعليهالسلام کے اتنے شاہد و گواہ تھے لیکن پھر بھی آپعليهالسلام اپنا حق نہ لے سکے حالانکہ لوگ دو گوا ہوں کے ذریعہ اپنا حق لے لیتے ہیں !!( ۵۷ )
۴ ۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے غدیرپر ثابت قدم رہنے کے سلسلہ میں فرمایا :پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم میں حضرت علی علیہ السلام کےلئے حا ضرین سے عہد و پیمان لیا اور ان سے آپعليهالسلام کی ولایت کا اقرار کرایا ۔بڑے خو ش نصیب ہیں وہ لوگ جو آپعليهالسلام کی ولایت پر ثابت قدم رہے اور وائے ہو ان لوگوں پر جنھوں نے آپعليهالسلام کی ولایت کو چھوڑدیا “۔( ۵۸ )
۵ ۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے غدیر کیلئے قرآن سے استناد کر تے ہو ئے فرمایا :خدا وند عالم کا فرمان ہے :( یَایُّهَاالرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَااُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکْ ) اور یہیں پر پیغمبر اسلام نے حضرت علی علیہ السلام سے فر مایا:”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “ ( ۵۹ )
۶ ۔غدیر پیغمبر اسلام کی رسالت کا آخری پیغام تھا اس سلسلہ میں آپعليهالسلام نے فر مایا :خداوند عالم قرآن کریم میں ارشاد فر ماتا ہے :( فَاِذَافَرَغْتَ فَانْصَبْ وَاِلیٰ رَبِّکَ فَارْغَبْ ) یعنی ”جب آپ رسالت سے فارغ ہو جائیں تو اپنے علَم اور نشانی کو منصوب فرمادیں اپنے وصی کا تعارف کرائیں اور اس کی فضیلت بیان فر ما دیں ۔۔۔“پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بھی حجة الو داع سے واپسی پر ندا دی تا کہ لوگ جمع ہوجا ئیں اور فرمایا :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “ ( ۶۰ )
۷ ۔حضرت اما م جعفر صادق علیہ السلام نے ابو بکر ،عمر اور عثمان کے کفر کے سلسلہ میں فرمایا:جب ان کے سامنے ولایت پیش کی گئی اور پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔ “تو انھو ں نے اس کا انکار ک یا بعدمیں (ظاہری طور پر اقرار کیا )لیکن جب پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس دنیا سے کوچ کیا تو یہ کا فر ہوگئے ۔۔۔اس کے بعد انھوں نے اپنے کفر میںاور شدت اختیار کی کہ جن لوگوں نے حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کی تھی ان سے اپنے لئے بیعت لی یہ ایسے لوگ تھے جن کے لئے ایمان نام کی کو ئی چیز باقی نہیں رہ گئی تھی ۔( ۶۱ )
۸ ۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام جس سفر میں مدینہ سے مکہ تشریف لے جا رہے تھے راستے میں مسجد غدیر سے گزرے تو آپعليهالسلام نے مسجد غدیر کے بائیں طرف نظر ڈالتے ہو ئے فرمایا :یہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پائے اقدس کاوہ مقام ہے جھاں پر آپ نے کھڑے ہوکر یہ فرمایا تھا: ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔“( ۶۲ )
۹ ۔حضرت امام جعفر صادقعليهالسلام نے فرمایا ہے :روز غدیر وہ دن ہے کہ جس میں امیر المو منینعليهالسلام کو خلیفہ و جا نشین بنایاگیا پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے آپعليهالسلام کےلئے پیمان ولایت کو مردوں اور عورتوں سب کی گردن میں ڈال دیا۔( ۶۳ )
۱۰ ۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے غدیر خم کی عظمت کو اس طرح یاد فرمایا :روز غدیر بہت اہم دن ہے ،خداوند عالم نے اس کی حرمت کو مو منین کے لئے عظیم قرار دیا اس دن دین کامل کیا اور ان پر نعمتیں تمام کیں اور (عالم ذر )میں جو عہد و پیمان ان سے لیا گیا تھا وہ دوبارہ لیا گیا ۔( ۶۴ )
۱۱ ۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس زمانہ میں فوری طور پر شھروں میں غدیر کی خبر منتشرہو نے کے سلسلہ میں فر مایا :جس وقت پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے میدان میں حضرت علیعليهالسلام کی ولایت کا اعلان کیا اور فرمایا:”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “ ، یہ خبر شھروں میں منتشر ہو ئی ۔پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس سلسلہ میں فرمایا :”اس خدا کی قسم جس کے علاوہ کو ئی خدا نہیں ہے یہ مسئلہ خدا کی طرف سے ہے “( ۶۵ )
۱۲ ۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا :پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس فرمان ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔ “کا ک یا مطلب ہے ؟امام جعفر صادق علیہ السلام نے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی یہ حدیث نقل فر ما ئی :”جس شخص کا میں صاحب اختیار ہوں اور اس کے نفس پرخود اس سے زیادہ اختیار رکھتا ہوں یہ علی بن ابی طالب اس کے صاحب اختیار ہیں اور اس کے نفس پر اس سے زیادہ حق رکھتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں اسے کوئی اختیار نہیں ہے “( ۶۶ )
۱۰ ۔غدیر کے سلسلہ میں امام کاظم علیہ السلام کااتمام حجت کرنا
۱ ۔حضرت مو سیٰ بن جعفر علیہ السلام نے ایک حدیث میں واقعہ غدیر کو اس طرح نقل فرمایا: پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کا مشہور و معروف واقعہ غدیر میں تعارف کرایا اور لوگوں سے سوال کیا :کیا میں تمھا رے نفسوںپر تم سے زیادہ حاکم نہیں ہوں ؟سب نے کہا : ؟ھاں، یا رسول اللہ۔آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے آسمان کی طرف اپنی نظریں اٹھا تے ہو ئے فر مایا :خدایا ،تو گواہ رہنا “،اور اس عمل کی آپ نے تین مرتبہ تکرار فرما ئی ۔اس کے بعد فرمایا :جا ن لو جس شخص کا میں مو لا ہوںاور اس کے نفس پر اس سے زیادہ حاکم ہوں یہ علی اس کے مو لا اور صاحب اختیار ہیں “۔( ۶۷ )
۲ ۔ حضرت امام مو سیٰ کاظم علیہ السلام نے غدیر میں منافقوں کی فریب کاریوں کے سلسلہ میں فرمایا :جس وقت پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے میدان میں حضرت علی علیہ السلام کی ولایت و خلافت کا اعلان فر مایا اور مھا جرین و انصارکے بزرگوں کو ان کی بیعت کرنے کا حکم صادر فرمایا تو انھوں نے ظاہری طور پر تو بیعت کی لیکن اپنے درمیان دو منصوبے بنا ئے :ایک پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد حضرت علی علیہ السلام سے خلافت چھین لیں ،دوسرے اگر ممکن ہو تو ان دونوں شخصیتوں کو قتل کر ڈالیں۔( ۶۸ )
۳ ۔جن ایام میں حضرت مو سیٰ بن جعفر علیہ السلام قید میں تھے تو ایک دن ھارون رشید نے آپعليهالسلام کو بلا بھیجا اور کچھ مسا ئل دریافت کئے منجملہ لوگوں پر اہل بیت علیھم السلام کی ولایت کے سلسلہ میں تھے ۔ سلسلہ میں تھے ۔حضرت مو سیٰ بن جعفر علیہ السلام نے فر مایا : تمام خلائق پر ہماری ولایت ہے اور اس دعوے کےلئے ہمارے پاس پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کا یہ فرمان ہے جو آپ نے غدیر خم کے میدان میں فرمایا :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔ “( ۶۹ )
۱۱ ۔غدیر کے سلسلہ میں امام رضا علیہ السلام کا اتمام حجت کرنا
۱ ۔حضرت امام رضا علیہ السلام کے زمانہ کے مخصوص حالات اور خراسان کا علاقہ جومخالفوں کا علمی مرکزتھااور اس بات کا متقاضی تھا کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مستند حدیثیں نقل کی جا ئیں لہٰذا حضرت امام رضا علیہ السلام نے حدیث غدیر کی سند کا سلسلہ اپنے آباء و اجداد حضرت مو سیٰ بن جعفر علیہ السلام امام صادق علیہ السلام ،امام باقر علیہ السلام ، امام سجاد علیہ السلام ،امام حسین علیہ السلام ،امیر المو منین علیہ السلام اور پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نقل فرمایا کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فر مایا :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“( ۷۰ )
۲ ۔جب حضرت امام رضا علیہ السلام خراسان کے شھر مرو پہنچے تو آپ کی تشریف آوری کے پہلے ایام میںلوگ امامت کے سلسلہ میں بہت زیادہ گفتگو کیا کر تے تھے خاص طور سے جمعہ کے روز شھر کی جامع مسجد میں جمع ہو کر اس سلسلہ میں محو گفتگو رہے ۔جب یہ خبرحضرت امام رضا علیہ السلام تک پہنچی تو آپعليهالسلام نے مسکرا کر فرمایا: ۔۔۔خدا وند عالم نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سن مبارک کے آخری حج حجة الوداع میں آیت :( اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْناً ) نازل فرمائی۔ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اس دنیا سے نہیں گئے مگر یہ کہ آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو لوگوں کا خلیفہ و امام منصوب فرمایا۔( ۷۱ )
۱۲ ۔غدیر کے سلسلہ میں امام علی نقی علیہ السلام کا اتمام حجت کرنا
۱ ۔جس سال معتصم عباسی نے حضرت امام ھا دی علیہ السلام کو مدینہ سے سا مرا ء بلایا تو آپعليهالسلام اس سال غدیر کے دن کوفہ تشریف لائے اور امیر المو منین علیہ السلام کی زیارت کےلئے نجف اشرف تشریف لے گئے وہاں پر آپ نے غدیر کی ثقافت کے سلسلہ میں مکمل اعتقادی زیارت کی قرائت فرمائی اور اس کے ضمن میں واقعہ غدیر کو اس طرح بیان فرمایا :پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سفر کی سختیاں طے کیں اور گرمی کی شدت میں ظھر کے وقت ایک خطبہ ارشاد کیا اور ۔۔۔فرمایا :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“ل یکن کچھ لوگوں کے علاوہ کوئی ایمان نہیں لا یا ۔( ۷۲ )
۲ ۔اہواز کے لوگوں نے حضرت امام ھادی علیہ السلام کی خد مت اقدس میں ایک خط لکھا جس میں کچھ سوالات تحریر کئے ۔حضرت امام ھادی علیہ السلام نے اس خط کے جواب میں سوالات کے جوابات تحریر فرمائے ۔منجملہ تحریر فرمایا :ھم قرآن کریم میں اس آیت( اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللهُ وَرَسُوْلُهُ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا ۔۔۔) کا مشا ھدہ کرتے ہیں ،اور تمام روایات اس بات پر متفق ہیں کہ یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نا زل ہو ئی ہے ۔ھم یہ بھی مشا ھدہ کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنے اصحاب سے جدا کیا اور فر مایا :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“ ان دونوں کے رابطہ سے ہم یہ مطلب اخذ کرتے ہیں کہ قرآن ان روایات کے صحیح ہو نے اور ان شواھد کی حقانیت کی گواھی دیتا ہے ۔( ۷۳ )
۱۳ ۔غدیر کے سلسلہ میں امام حسن عسکری علیہ السلام کا اتمام حجت کرنا
۱ ۔اسحاق بن اسما عیل نے نیشاپور سے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کےلئے ایک خط تحریر کیا جس میں کچھ مسائل تحریر کئے ۔آپعليهالسلام نے ان کے خط کا جواب اپنے نمایندوں کے ذریعہ بھیجا جس کا ایک حصہ یہ ہے :
جب خداوند عالم نے اپنے آخری پیغمبر کے بعد اپنے اولیا ء کو منصوب کرکے تمھارے اوپر احسان کیا تو پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے خطاب فرمایا :
( اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْناً ) ( ۷۴ )
۲ ۔حسن بن ظریف نے حضرت علی علیہ السلام کی خدمت با برکت میں ایک خط تحریر کیا جس میں’ ’مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“ کے معن ی دریافت کئے ۔حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے اس کا اس طرح جواب تحریر فرمایا: آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مقصد تھا کہ ان (علیعليهالسلام )کو علامت اور نشانی قرار دے دیں کہ اختلاف کے وقت خدا وند عالم کے گروہ کی ان کے ذریعہ شناخت ہو جا ئے ۔( ۷۵ )
۲ اصحاب پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور امیر المو منین علیہ السلام کے دوستوں کا غدیرکے ذریعہ اتمام حجت کرنا
۱ ۔ابن عباس کے جلسہ میں جناب ابوذر نے کھڑے ہو کر عرض کیا :میں جندب بن جنادہ ابوذر غفاری ہوں ۔میں تم کو خدا اور اس کے رسول کے حق کی قسم دے کر سوال کرتا ہوں :کیا تم نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا یہ فرمان سنا ہے : زمین وآسمان میں ابوذر سب سے سچے ہیں ؟سب نے کہا : ھاں جناب ابوذر نے کہا : کیا تم اس بات کو قبول کرتے ہو کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے میدان میں ہم سب کو جمع کر کے فرمایا : ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔؟سب نے کہا :ھاں ،خدا ک ی قسم ۔( ۷۶ )
۲ ۔غدیر کے ذریعہ جناب عماریاسر کا اتمام حجت کرنا
جنگ صفین میں عمار یاسر اور عمرو عاص کے مابین مناظرہ ہوا اور کچھ مطالب ردوبدل ہوئے
منجملہ جناب عما ر نے کہا :اے ابتر ،کیا تجھ کو پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا یہ فرمان ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“ یاد ہے ؟اس بنا پر میرے مو لا و صاحب اختیار خدا وند عالم اس کا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے بعد حضرت علی علیہ السلام ہیں لیکن تیرا کو ئی مو لااور صاحب اختیار نہیں ہے !!( ۷۷ )
۳ ۔غدیر کے ذریعہ مالک بن نویرہ کا اتمام حجت کرنا
قبیلہ بنی حنیفہ کے سردار مالک بن نویرہ مدینہ کے نزدیک کے رہنے والے غدیر خم میں مو جود تھے ۔ آپ (مالک بن نویرہ )پیغمبر کی رحلت کے بعد مدینہ آئے اور تعجب سے ابوبکر کو پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے منبر پر دیکھا تو اس سے مخا طب ہو کر کہا :”اے ابو بکر کیا تم نے غدیر خم کے دن حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کو بھلا دیا ہے ؟یہ منبر تمھاری جگہ نہیں ہے جس پر تم بیٹھ کر خطاب کر رہے ہو “!یہ کہہ کر آپ اپنے قبیلہ میں واپس پلٹ آئے ۔
ابو بکر نے مالک سے انتقام کی خا طر خالد بن ولید کو لشکر کے ساتھ روانہ کیا تو لشکر نے مالک بن نویرہ اور ان کے اصحاب کو قتل کر دیا اور ان کی عورتو ں کو اسیر کر کے مدینہ لے آئے !امیر المو منین علیہ السلام نے اس سلسلہ میں اہل سقیفہ سے مقابلہ کیا۔( ۷۸ )
۴ ۔غدیر کے ذریعہ حذیفہ بن یمان کا اتمام حجت کرنا
۱ ۔حذیفہ غدیر خم میں حاضر تھے اور ان افراد میں سے تھے جنھو ں نے خطبہ غدیر کے کامل اور مفصل متن کو حفظ کیا اور وہاں پر غیر مو جود افراد تک پہنچایا ۔( ۷۹ )
۲ ۔ایک مو قع پر حذیفہ داستان غدیر کو اس طرح نقل کر تے ہیں :خدا کی قسم میں غدیر خم میں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سامنے بیٹھا ہوا تھا اور مھا جرین و انصار اس مجلس میں مو جود تھے ۔رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنے دائیں طرف کھڑے ہو نے کا حکم دیا اس کے بعد فر مایا:
”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“( ۸۰ )
۳ ۔جناب حذیفہ قتل عثمان کے بعد حضرت امیر المو منین علیہ السلام کی ظاہری حکو مت کے دور میں شھر مدائن کے گور نر تھے ۔آپ نے لوگوں سے امیر المو منین علیہ السلام کےلئے بیعت لینے کی خاطر منبر پر جا کر اس طرح خطبہ دیا : اس وقت تمھا را حقیقی صاحب اختیار امیر المو منین اور وہ ہے جو اس نام کا حقیقت میں حق دار ہے “!بیعت کا پروگرام تمام ہو جا نے کے بعدایران کے ایک مسلم نامی جوان نے جناب حذیفہ کے پاس آکر سوال کیا آپ نے جو یہ ”امیرالمو منین حقیقی “کھکر اس سے پہلے خلفاء کی طرف اشارہ کیا ہے ۔اگر پہلے تین خلفا ء حقیقی نہیں تھے تو اس مطلب کی میرے لئے وضاحت کیجئے !
جناب حذیفہ نے اس کےلئے تاریخ کے مفصل مطالب بیان کئے یھاں تک کہ غدیر کے واقعہ تک پہنچ گئے آپ نے واقعہ غدیر کو مکمل تفصیل کے ساتھ بیان کیا کہ کسی روایت میں اتنی تفصیل کے ساتھ بیان نہیں ہوا ہے ۔آپ نے غدیر کے اصلی حصہ کو اس طرح بیان کیا :پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے میدان میں بلند آواز سے علی علیہ السلام کی ولایت کا اعلان فر مایا اور ان کی اطاعت لوگوں پر واجب فرمائی ۔۔۔اور فرمایا : ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“۔اس کے بعد سب کو حضرت عل ی علیہ السلام کی بیعت کر نے کا حکم دیا ،اور سب نے آپعليهالسلام کی بیعت کی ۔( ۸۱ )
۵ ۔غدیرکے ذریعہ بلال حبشی کا اتمام حجت کرنا
حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے موذن جناب بلال ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے ابو بکر کی بیعت نہیں کی تھی ،حالانکہ ابو بکر نے ہی اپنے پیسوں سے جناب بلال کو غلامی سے نجات دلا ئی تھی اور آپ (بلال)کو آزاد کر دیا تھا ۔ایک دن عمر نے جناب بلال کا گریبان پکڑ کر کہا :کیا ابو بکر کی تجہے آزاد کرانے کی یھی جزا ہے ؛کیا اب بھی تم ان(ابوبکر )کی بیعت نہیں کروگے ؟
جناب بلال نے کہا :اگر اس نے مجہے خدا کےلئے آزاد کرا یا تھا توخدا کے لئے مجہے میرے حال پر چھوڑدے ،اور اگر غیر خدا کے لئے آزاد کرایا تھا تو تمھاری بات پر عمل کرنا چا ہئے !!لیکن رہا ابو بکر کی بیعت کر نے کا مسئلہ ،تو جس شخص کو پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خلیفہ مقررنہیں فرمایا اور اس کو مقدم نہیں رکھا تو میں اس کی بیعت نہیں کرونگا ۔۔۔اے عمر تم اچھی طرح جا نتے ہو کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے چچا زاد بھائی کے لئے عہد لیا اور قیامت کے دن تک کے لئے ہماری گردنوں پر ان کو غدیر خم کے میدان میں ہمارا مو لا و صاحب اختیار قرار دیا ۔کس شخص میں ھمت ہو سکتی ہے کہ وہ اپنا صاحب اختیار رکھتے ہو ئے کسی دوسرے کی بیعت کرے ؟!
اس کے بعد ان لوگوں نے جناب بلال کو مدینہ سے باھر جا کر کسی دوسری جگہ زند گی بسر کرنے پر مجبور کیا( ۸۲ )
۶ ۔ غدیرکے ذریعہ اصبغ بن نباتہ کااتمام حجت کرنا
جنگ صفین میں حضرت امیر المو منین علیہ السلام نے اصبغ بن نباتہ کے ذریعہ معاویہ کےلئے ایک خط ارسال فرمایا ۔اصبغ بن نباتہ نے معاویہ کے پہلو میں بیٹہے ہو ئے ابو ھریرہ سے خطاب کرتے ہو ئے فرمایا :میں تجھ کو خدا کی قسم دیتا ہوں۔۔۔ کیا تم غدیر خم میں حا ضر تھے ؟
ابو ھریرہ نے کہا :ھاں ۔اصبغ بن نباتہ نے سوال کیا :پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کے سلسلہ میں کیا فرمایاتھا ؟ ابو ھریرہ نے کہا :میں نے رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ فرماتے سنا ہے :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ،اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِمَنْ عَادَاهُ وَانْصُرْمَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ “۔اصبغ نے کہا :اگر ا یسا ہے تو تم نے ان کے دشمن کی ولایت تسلیم کی اور ان سے دشمنی کی ہے !!
ابوھریرہ نے ایک گھری سانس لی اور کہا :اِنَّاللهِ وَاِنَّااِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ ۔( ۸۳ )
۷ ۔غدیر کے ذریعہ ابو الھیثم بن تیھان کا اتمام حجت کرنا
بارہ آدمیوں نے حضرت امیر المو منین علی علیہ السلام کی اجازت سے جمعہ کے دن ابوبکر کے منبر کے سامنے کھڑہے ہو کر اس پر اعتراض کرنے اور اتمام حجت کے عنوان سے مطالب بیان کرنے کا ارادہ کیا ۔ان میں سے ایک ابو الھیثم بن تیّھان تھے جنھوں نے اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر کہا :میں گوا ہی دیتا ہوں کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے دن حضرت علی علیہ السلام کو اپنا خلیفہ و جا نشین مقرر فرمایا انصار کے ایک گروہ نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت با برکت میں ایک شخص کو ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔‘ کے مطلب کے سلسلہ م یں سوال کرنے کی غرض سے بھیجا ۔تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا ان سے کہنا کہ:علی علیہ السلام میرے بعد مو منوں کے صاحب اختیار اور میری امت کےلئے سب سے زیادہ ھمدردو خیرخواہ ہیں ۔( ۸۴ )
۸ ۔غدیر کے ذریعہ ابو ایوب انصاری کا اتمام حجت کرنا
ایک مسافر نے حضرت علی علیہ السلام کی خدمت با برکت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے میرے مولا اور صاحب اختیار آپ پر میرا سلام!حضرت علی علیہ السلام نے فر مایا یہ کو ن ہے ؟
تو عرض کیا گیا :یہ ابو ایوب انصاری ہیں ۔
آپعليهالسلام نے فرمایا : اس کے راستہ سے ہٹ جا و !لوگ راستہ سے ہٹے اور انھوں نے آگے آکر عرض کیا :میں نے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ فرماتے سنا ہے : ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔،( ۸۵ )
۹ ۔غدیر کے ذریعہ قیس بن سعد بن عبادہ کا ااتمام حجت کرنا
۱ ۔ قیس اور ان کے باپ جوانصار کے سردار اور ابو بکر کے مخالف تھے ۔ایک دن ابو بکر نے قیس سے کہا :خدا کی قسم تم وہ کام انجام نہیں دو گے جس سے تمھا رے امام اور دوست ابو الحسن علیھما السلام نا راض ہو تے ہوں ۔قیس نے غضبناک ہوکر کہا :اے ابو قحافہ کے بیٹے ،۔۔۔خدا کی قسم اگر چہ میرے ھاتھوں نے تیری بیعت کر لی ہے لیکن میرے دل اور زبان نے تو تیری بیعت نہیں کی ہے ۔حضرت علی علیہ السلام کے سلسلہ میں میرے لئے غدیر سے بلند و بالا کو ئی حجت نہیں ہے ۔ھم کو ہمارے حال پر چھوڑ دے کہ ہم تیرے راستہ میں اندہے ہوکر غرق ہو جا ئیں اور تیرے سلسلہ میں گمرا ہی میں مبتلاہو جا ئیں حالانکہ ہمیں معلوم ہو کہ ہم نے حق کا راستہ چھوڑ دیا ہے اور با طل کے راستہ کو اپنا لیا ہے !!( ۸۶ )
۲ ۔حضرت امام مجتبیٰ علیہ السلام سے صلح ہو جا نے کے بعد معاویہ سفر حج کے ارادے سے مدینہ پہنچا تو انصار نے اس کی کو ئی پروا نہ کی تومعاویہ نے اس سلسلہ میں قیس سے اعتراض کیا ۔ قیس نے اس کے جواب میں امیر المو منین حضرت علی علیہ السلام کے فضائل اور ان کی مظلومیت کی یاد دلا ئی تو معاویہ نے سوال کیا :ان مطالب کی آپ کو کس نے تعلیم دی ہے ؟ قیس نے کہا : امیر المو منین حضرت علی علیہ السلام سے تعلیم حاصل کی ہے ۔۔۔جب پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان (علی علیہ السلام)کو غدیر خم کے میدان میں اپنا خلیفہ و جانشین بناکر فرمایا: ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“( ۸۷ )
۱۰ ۔غدیر کے ذریعہ ابو سعید خدری کا اتمام حجت کرنا
۱ ۔ابو سعید خدری ان افراد میں سے ہیں جنھوں نے واقعہ غدیر کو مفصل طور پر نقل کیا ہے انھوں نے اپنی گفتگو کے ایک حصہ میں اس طرح کہا ہے :پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غدیر خم کے روز لوگوں کو دعوت دی ۔۔۔حضرت علی علیہ السلام کے بازو پکڑ کر بلند کئے ۔۔۔اور فرمایا : ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاه ۔۔“۔اس کے بعد آ یہ( اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ ۔۔۔) نازل ہو ئ ی ۔اس کے بعد حسان بن ثابت نے اشعار پڑہے ۔( ۸۸ )
۲ ۔عبد اللہ بن علقمہ وہ شخص تھا جو بنی امیہ کے پروپگنڈے سے بہت متا ثر تھااور امیر المو منین علیہ السلام کو نا سزا الفاظ کہتا تھا ۔ایک دن ابو سعید خدری سے اس نے پوچھا :کیا تم نے حضرت علی علیہ السلام کے سلسلہ میں کو ئی منقبت سنی ہے ؟ابو سعید نے کہا :پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے روز ان کے سلسلہ میں تبلیغ کامل فر مائی اور ۔۔۔اور ان کے دونوں ھاتھوں کو بلند کیا اور فرمایا : ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“اورآپ نے اس جملہ ک ی تین مرتبہ تکرارفرمائی۔
عبد اللہ بن علقمہ نے تعجب سے سوال کیا :کیا تم نے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس فرمان کو خود سنا ہے ؟ابو سعید نے اپنے کانوں اور سینہ کی طرف اشارہ کرتے ہو ئے کہا :پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس فرمان کو میرے دونوں کا نوں نے سنا ہے اور میرے دل نے اس کو اپنے اندر جگہ دی ہے ۔اسی مقام پر عبد اللہ نے کہا :میں حضرت علی علیہ السلام کو اپنے نا سزا الفاظ کہنے سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں ۔( ۸۹ )
۱۱ ۔غدیر کے ذریعہ اُبیّ بن کعب کا اتمام حجت کرنا
معروف صحابی ابی بن کعب نماز جمعہ میں ابو بکر پر اعتراض کے عنوان سے کھڑے ہو گئے اور لوگوں سے مخاطب ہوکر کہنے لگے :اے مھا جرین و انصار کیا تم نے خود کو فراموشی میں ڈالدیا ہے یا تم کو بفراموش کردیا گیا ہے یا تم تحریف کا قصد رکھتے ہو یا حقیقتوں میں رد و بدل کرتے ہو یا ذلیل و خوار کرنے کا قصد رکھتے ہو یا عاجز ہو گئے ہو ؟!کیا تمہیں نہیں معلوم کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک اہم مو قع پر قیام فرمایا اور حضرت علی علیہ السلام کو ہمارا مو لا وآقا بنا کر فرمایا : ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“( ۹۰ )
۱۲ ۔غدیر کے ذریعہ جابر بن عبد اللہ انصاری کا اتمام حجت کرنا
۱ ۔جناب جابر غدیر کا واقعہ اس طرح نقل کرتے ہیں :خداوند عالم نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کوحکم دیا کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کو لوگوں کا خلیفہ و امام معین فر ما دیں اور لوگوں کو ان (علیعليهالسلام )کی ولایت کی خبر دیدیں ۔اس حکم کے بعد حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے میدان میں تشریف فر ماکر حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کا اعلان فر مایا ۔( ۹۱ )
۲ ۔حضرت امام زین العا بدین علیہ السلام کی موجود گی میں ایک عراقی نے جناب جابر کے گھر میں داخل ہوکر کہا :اے جا بر میں تم کو خدا کی قسم دیتا ہوں جو کچھ تم نے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم سے دیکھا اور سنا ہے وہ میرے لئے بیان کریں۔جناب جابر نے کہا :ھم جحفہ کے علاقہ میں غدیر خم کے میدان میں تھے اور وھاںپر مختلف قبیلوں کے کثیر تعداد میں لوگ مو جود تھے تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے خیمہ سے باھر تشریف لائے ،آپ نے اپنے دست مبارک سے تین مرتبہ اشارہ فر مایا اور حضرت امیر المو منین علیہ السلام کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیکر فر مایا : ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“( ۹۲ )
۱۳ ۔غدیر کے ذریعہ زید بن صوحان کا اتمام حجت کرنا
زید پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بہترین اصحاب میں سے تھے جو جنگ جمل میں شھید ہو ئے تھے جب وہ میدان جنگ میں زمین پر گرے تو حضرت امیرالمو منین علیہ السلام ان کے سرھانے تشریف لے گئے اور فرمایا :اے زید خدا تم پر اپنی رحمت نازل فرمائے ۔تم سبک بار تھے یقیناتمھاری مدد بہت اہمیت کی حا مل تھی زید نے اپنے سر کو امیر المو منین علیہ السلام کی طرف بلند کر تے ہو ئے عرض کیا :۔۔۔خدا کی قسم میں آپعليهالسلام کے لشکر میں جھالت کی حالت میں قتل نہیں ہونگا ،بلکہ میں نے رسول اسلا مصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زوجہ ام سلمہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فر مایا تھا:”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ،اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِمَنْ عَادَاهُ وَانْصُرْمَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ “۔خدا ک ی قسم میںنے ہر گز آپ کو خوار کرنا نہیں چاھاچونکہ میں نے یہ دیکھا کہ اگر میں آپعليهالسلام کو خوار کروں تو خدا مجھ کو ذلیل و خوار کرے گا ۔( ۹۳ )
۱۴ ۔غدیر کے ذریعہ حذیفہ بن اسید غفاری کا اتمام حجت کرنا
حذیفہ بن اسید واقعہ غدیر کو اس طرح نقل کر تے ہیں :پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حجة الوداع سے واپس پلٹتے وقت فرمایا :خداوند عالم میرا صاحب اختیار ہے اور میں ہر مسلمان کا صاحب اختیار ہوں اور میں مومنین کے نفوس پرخود ان کی نسبت زیادہ اختیار رکھتا ہوں ۔آگاہ ہو جاو !”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “( ۹۴ )
۱۵ ۔غدیر کے ذریعہ عبد اللہ بن جعفرکا اتمام حجت کرنا
معاویہ اپنی حکومت کے پہلے سال مدینہ آیا اور اس نے وہاں پر ایک جلسہ کیا جس میں حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین علیھما السلام ،عبد اللہ بن جعفر ،ابن عباس اور دوسرے افراد کو دعوت دی ۔اس جلسہ میں معا ویہ کے خلاف بہت زیادہ آوازیں بلند ہوئیںمنجملہ جناب عبد اللہ بن جعفر نے کہا :”اے معا ویہ ،پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم منبر پر تشریف فرما تھے اور میں ،عمربن ابی سلمہ ،اسامہ بن زید،سعد بن ابی وقاص ، سلمان ،ابوذر ، مقداد، اور زبیر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سامنے بیٹہے ہو ئے تھے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : کیا میں مو منوں کے نفوس پر خود ان کی نسبت زیادہ اختیار نہیں رکھتا؟ ہم سب نے عرض کیا : ھاں (کیوں نہیں ) یا رسول اللہ ۔تب آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “۔
معاویہ نے اس سلسلہ میں حضرت امام حسن اور امام حسین علیھما لسلام اور ابن عباس سے سوال کیا تو ابن عباس نے کہا :تو جوکچھ کہہ رہا ہے اس پر ایمان کیوں نہیں لاتا ۔اب جن اشخاص کے اس نے نام لئے ہیں ان کو بلاکر ان سے سوال کر ۔معاویہ نے عمر بن ابی سلمہ اور اسامہ کو بلا بھیجا اور ان سے سوال کیا انھوںنے گواھی دی کہ جو کچھ عبد اللہ نے کہا ہے وہ با لکل صحیح ہے اور ہم نے اسی طرح پیغمبرا سلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کو فر ماتے سنا ہے ۔( ۹۵ )
۱۶ ۔غدیر کے ذریعہ ابن عباس کا اتمام حجت کرنا
۱ ۔مدینہ میں معاویہ کی اسی نشست میں ابن عباس نے معا ویہ پر احتجاج کر تے ہو ئے کھا: پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم میں لوگوں میں سب سے افضل ،ان میں سب سے سزاواراور ان میں سب سے بہترین شخص کو امت کےلئے منصوب فرمایا اور حضرت علی علیہ السلام کے ذریعہ اس امت پر حجت تمام فرمائی اور ان کو حضرت علی علیہ السلام کی اطاعت کرنے کا حکم صادر فرمایا ۔۔۔اور ان کو با خبر فرمایا کہ جس کا صاحب اختیار پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ہے علی علیہ السلا م بھی اس کا صاحب اختیار ہے ۔(اور ایک روایت میں آیا ہے اے معا ویہ کیا تجھ کو اس بات پر تعجب ہے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے میدان میں اور دوسرے متعدد مقامات پر امامو ں کے نا م بیان فر مائے ، ان (لوگوں) پرحجت تمام کی اور ان کی اطاعت کرنے کا حکم صادر فر مایا ۔( ۹۶ )
۲ ۔ابن عباس نے ایک مقام پر غدیر کو اس طرح نقل کیا ہے :خداوند عالم نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو حکم دیا کہ آپ حضرت علی علیہ السلام کو لوگوں کا امام معین فر ما دیں اور ان کو ان(علیعليهالسلام ) کی ولایت کی خبر سے آگاہ فر ما دیں ۔اسی لئے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے میدان میں آپعليهالسلام کی ولایت کا اعلان کرنے کے لئے قیام فر مایا ۔( ۹۷ )
۳ ۔ایک دوسرے مقام پر ابن عباس واقعہ غدیر کو یوں نقل کرتے ہیں :پیغمبر اکر مصلىاللهعليهوآلهوسلم نے لوگوں کے حضور میں حضرت علی علیہ السلام کے بازو پکڑ کر فرمایا :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“ اس کے بعد ابن عباس نے کہا : خدا ک ی قسم اس اقدام سے لوگوں پر حضرت علی علیہ السلام کی بیعت واجب ہو ئی ۔( ۹۸ )
۱۷ ۔غدیر کے ذریعہ اسامہ بن زید کا اتمام حجت کرنا
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سن مبارک کے آخری ایام میں اسامہ نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کمانڈر کے عنوان سے ایک فوج تیار کی اور رومیوں سے جنگ کرنے کے لئے حرکت کی ۔اسی دوران ابوبکر نے خلافت غصب کرلی اور اس نے اسامہ کو ایک خط تحریر کیا جس میں اسامہ کو اپنی بیعت کرنے کی دعوت دی، اسامہ نے خط کا جواب اس طرح تحریر کیا :۔۔۔تم حق کو صاحب حق تک واپس پہنچا نے کی فکر کرو اور ان کے حوالہ کردو اس لئے کہ وہ تم سے کہیں زیادہ سزاوار ہیں ۔تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے میدان میں حضرت علی علیہ السلام کےلئے کیا فر ما یا ہے اتنا زیادہ عرصہ بھی تو نہیں ہوا جو تم بھول گئے ہو!( ۹۹ )
۱۸ ۔غدیر کے ذریعہ محمد بن عبد اللہ حِمیَری کا اتمام حجت کرنا
ایک دن معاویہ کے پاس تین شاعر موجود تھے جن میں سے ایک محمد حمیری تھے ۔معاویہ نے سونے کی ایک تھیلی باھر نکالتے ہو ئے کہا :میں تم میں سے یہ تھیلی اس شخص کو دونگا جو حضرت علی علیہ السلام کے سلسلہ میں حق کے علاوہ اور کچھ نہ کہے دو شاعروں نے اٹھ کر حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نا سزا اشعار پڑہے ۔اس کے بعد محمد بن عبد اللہ حمیری نے اٹھ کر امیر المو منین علی علیہ السلام کی مدح میں اشعار پڑہے جس کی ایک بیت غدیر خم سے متعلق تھی :
تَنَاسُوْا نَصْبَهُ فِیْ یَوْمِ خُمٌّ مِنَ الْبَارِیْ وَمِنْ خَیْرِالاَنَامِ
یعنی :غدیر خم کے میدان میں حضرت علی علیہ السلام کے خلیفہ وامام و جانشین رسول معین ہو نے کو بھلا دیا جو خدا وند عالم اور لوگوں میں سب سے بہترین شخص کے ذریعہ منصوب ہوئے تھے !
معاویہ نے کہا :تم نے ان سب میں سب سے صحیح اور سچ کہا !!یہ مال وزر کی تھیلی تم لے لو!( ۱۰۰ )
۱۹ ۔غدیر کے ذریعہ عمرو بن میمون اودی کا اتمام حجت کرنا
عمرو بن میمون اودی کہتے تھے :حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی نسبت بد گوئی کرنے والے جہنم کی لکڑیاں ہیں ۔میں نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعض اصحاب کہ یہ کہتے سنا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب کو وہ صفات عطا کئے گئے ہیں جو کسی اور کو نہیں دئے گئے ہیں ۔منجملہ یہ کہ وہ صاحب غدیر خم ہیں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے صاف طور پر ان کے نام کا اعلان فر مایا ،ان کی ولایت کو امت پر واجب قرار دیا ،ان کے بلند و بالا مقام کا تعارف کرایا ، ان کی منزلت کو روشن کیا ۔۔۔اور فرمایا:”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “ ( ۱۰۱ )
۲۰ ۔غدیر کے ذریعہ بَرد ھمدانی کا اتمام حجت کرنا
قبیلہ ھمدان کا ایک (بَرد )نامی شخص معاویہ کے پاس آیاحالانکہ عمرو عاص امیر المو منینعليهالسلام کی شان میں بدگوئی کر رہا تھا ۔برد نے کہا :اے عمر و عاص ہمارے بزرگوں نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ فر ما تے سنا ہے:”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “ ک یا یہ حق ہے یا باطل ہے ؟عمرو عاص نے کہا حق ہے ، اس سے بڑھکر میں یہ کہتا ہوں کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ا صحاب میں کو ئی بھی علی علیہ السلام جیسے منا قب نہیں رکھتا ہے !!
اس مر د نے اپنے قبیلہ کے پاس واپس آکر کہا :ھم اس قوم کے پاس سے آئے کہ جن سے ہم نے خود ان کے اپنے خلاف اقرار لے لیاہے !آگاہ ہوجاؤکہ علی علیہ السلام حق پر ہیں اور ان کے پیرو کار بنو !( ۱۰۲ )
۲۱ ۔غدیر کے ذریعہ زید بن علی بن الحسین علیہ السلام کا اتمام حجت کرنا
زید بن علیعليهالسلام کے پاس پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس فر مان”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ“ کا تذکرہ ہوا تو ز ید نے کہا :پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو اس علامت کے طور پر معین فرمایا کہ جس سے اختلاف کے وقت خدا وند عالم کے حزب و گروہ کی شناخت ہو جا ئے( ۱۰۳ )
۲۲ ۔پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چالیس اصحاب کا غدیرکے ذریعہ اتمام حجت کرنا
سقیفہ کے واقعہ کے بعد ،اصحاب میں سے چا لیس افراد نے امیر المو منین علی علیہ السلام کی خدمت با بر کت میں آکر عرض کیا :خدا کی قسم ہم آپ کے علاوہ کسی کی اطاعت نہیں کریں گے حضرت علی علیہ السلام نے فر مایا :کس طرح ؟انھوں نے عرض کیا : ہم نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو غدیر خم کے میدان میں آپعليهالسلام کے سلسلہ میں ان مطالب کو بیان فرماتے ہو ئے سنا ہے ۔آپعليهالسلام نے فرمایا :کیا تم اپنے عہد و پیمان پر باقی ہو؟ انھوں نے کہا :ھاں ۔آپعليهالسلام نے فرمایا :کل تم اپنے سرکے بال منڈاکر آنا ( تا کہ ہم ان سے جنگ کرنے کےلئے جا ئیں )۔( ۱۰۴ )
۲۳ ۔انصا ر کے ایک گروہ کا غدیر کے ذریعہ اتمام حجت کرنا
انصار کے کچھ افراد نے کوفہ میں امیر المو منین علیہ السلام کی خدمت با برکت میں حا ضر ہوکر عرض کیا :اے ہما رے مو لا آپعليهالسلام پر ہمارا سلام !۔۔۔حضرت علی علیہ السلام نے فر مایا :میں تمھارا مو لا کیسے ہوسکتا ہو ں جبکہ تم نئی قوم ہو؟انھوں نے عرض کیا :ھم نے غدیر خم میں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کو آپعليهالسلام کے بازو پکڑکر یہ فر ما تے سنا ہے :خدا وند عالم میرا صاحب اختیار ہے اور میں مو منوں کا مو لا ہوں اور جس شخص کا میںصاحب اختیار ہوں یہ علیعليهالسلام اس کے صاحب اختیار ہیں “( ۱۰۵ )
۲۴ ۔پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چار اصحاب کے ذریعہ غدیرکے سلسلہ میں اتمام حجت
چار آدمیوں نے کو فہ میں حضرت امیر المو منین علیہ السلام کی خدمت با برکت میں حا ضرہو کر عرض کیا :السلام علیک یا امیر المومنین ورحمة اللہ و برکاتہ ۔حضرت علی علیہ السلام نے فر مایا : علیکم السلام کھاں سے آئے ہو ؟ انھوں نے عرض کیا : ہم فلاں شھر سے آپعليهالسلام کے موالی ہیں ۔
آپعليهالسلام نے فرمایا :تم کھاں سے ہما رے موالی ہو ؟
انھوں نے عرض کیا :ھم نے غدیر خم کے میدا ن میںپیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ فر ما تے سنا ہے”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔ “( ۱۰۶ )
۲۵ ۔غدیر کے ذریعہ عبد الر حمن بن ابی لیلیٰ کااتمام حجت کرنا
۱ ۔عبد الرحمن بن ابی لیلی نے حدیث غدیر کو اس طرح نقل کیا ہے :پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو غدیر خم کے میدان میں سب کے سامنے پیش کیا اور ان کااس طرح تعارف فرمایاکہ وہ ہر مومن مرد و عورت کے صاحب اختیار ہیں ۔( ۱۰۷ )
۲ ۔ایک دن عبد الرحمن نے حضرت علی علیہ السلام کی خدمت اقدس میں کھڑے ہو کر عرض کیا : ہم آپ سے خلافت کی باگ ڈور اپنے ھاتھوں میں لینے والوں کو کیسے خلافت کے آپ کی نسبت زیادہ سزوار کہہ سکتے ہیں ؟اگر ایسا کہیں تو پھرکیوں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے میدان میں حجة الوداع کے بعد آپعليهالسلام کو خلیفہ منصوب کرتے ہو ئے فرمایا:”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“۔( ۱۰۸ )
۲۶ ۔غدیر کے ذریعہ عمران بن حصین کا اتمام حجت کرنا
عمران بن حصین نے واقعہ غدیر کو اس طرح نقل کیا ہے :پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فر مایا :تم نے مجھ سے سوال کیاہے کہ میرے بعد تمھارا صاحب اختیار کو ن ہے اور میں نے تم کو اس کی خبر دیدی ہے ۔اس کے بعد غدیر خم کے میدان میں حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فر مایا :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“( ۱۰۹ )
۲۷ ۔غدیر کے ذریعہ زید بن ارقم کا اتمام حجت کرنا
۱ ۔زید بن ارقم وہ شخص ہیں جنھوں نے غدیر خم کے دن پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سر کے اوپر سے درختوں کی شاخوں کو پکڑرکھا تھا کہ خطبہ ارشاد فرماتے وہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سر مبارک سے نہ ٹکرائیں ۔ فطری طور پر وہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذریعہ حضرت علیعليهالسلام کے بلند کئے جانے اور ان کا تعارف کراتے و قت آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا سب سے زیادہ نزدیک سے مشاہدہ کر رہے تھے ۔یہ وھی شخص ہے جس نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خطبہ غدیر کو مفصل طورپر حفظ کیا اور بعد میں آنے والی نسلوں کےلئے نقل کیا ہے ۔( ۱۱۰ )
۲ ۔حساس مواقع پرزید بن ارقم جیسے شخص کی گواھی کی ضرورت تھی جس نے غدیر میںپیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا اتنے نزدیک سے مشاہدہ کیاتھا ۔کوفہ میں حضرت علیعليهالسلام نے اس سے فرمایا کہ وہ لوگوں کے سامنے غدیر کے ماجرے کی گواھی دے لیکن اس نے اٹھ کر گواھی نہیں دی اور کہا کہ میں بھول گیا ہوں !!!
اس وقت مو لا ئے کا ئنات علیہ السلام نے فر مایا :اگر تم جھوٹ بول رہے ہو تو خدا وندعالم تمھاری آنکھو ں کو اندھا کرے وہ ابھی اس جلسہ سے باھر بھی نہیں گیا تھا کہ اندھا ہو گیا اور لوگوں کے درمیا ن امیر المو منین علیہ السلام کے نفرین شدہ کے عنوان سے اس کی شناخت کی جا نے لگی ۔اس نے یہ معجز ہ دیکھنے کے بعد یہ قسم کہا ئی کہ اس کے بعد جو بھی اس سے غدیر کے سلسلہ میں سوال کرے گاتو جو کچھ سنا اور دیکھا ہے اس کوضرور بتا وں گا ۔( ۱۱۱ )
۳ ۔زید بن ارقم کے بھا ئی کا کہنا ہے :ایک دن ہم زید کے ساتھ بیٹہے ہو ئے تھے ایک گھوڑا سوار اپنا سفر طے کر کے آیا اور اس نے سلام کرنے کے بعد زید کے بارے میں پوچھااور اس سے یوں عرض کیا: میں مصر کی فسطاط نامی جگہ سے آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں تاکہ آپ سے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سنی ہوئی اس حدیث غدیر کے بارے میں سوال کروںجو حضرت علی بن ابی طالبعليهالسلام کی ولایت پر دلالت کرتی ہے ۔زید نے غدیر کے واقعہ کو مفصل طور پر بیان کرنے کے دوران کہا :پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر میں منبر پر فرمایا : لوگو! کون شخص تمھارے نفسوں پر تم سے زیادہ حق رکھتا ہے ؟مجمع نے کہا :خدا اور اس کا رسول ہما رے صاحب اختیار ہیں ۔آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فر مایا :”خدایا گواہ رہنا اور اے جبرئیل تو بھی گواہ رہنا ‘ اور اس جملہ کی آپ نے اپنی زبان اقدس سے تین مرتبہ تکرار فرمائی ۔اس کے بعد علی بن ابی طالبعليهالسلام کے ہاتھ کو تھام کر اور اپنی طرف بلند کرتے ہو ئے فر مایا :
”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“
اور اس جملہ کی آپ نے اپنی زبان اقدس سے تین مرتبہ تکرار فر مائی ۔( ۱۱۲ )
۴ ۔عطیہ عو فی نے زید بن ارقم سے کہا :میں واقعہ غدیر کو آپ سے سننے کا متمنی ہوں ۔زید نے کھا:پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم غدیر میں ظھر کے وقت اپنے خیمہ سے باھر تشریف لائے اور حضرت علیعليهالسلام کے بازو تھام کر فر مایا :اے لوگو!کیا تم اس بات کو تسلیم کرتے ہو کہ میں تمھا رے نفسوں کا تم سے زیادہ صاحب اختیار ہوں ؟ لوگوں نے جواب دیا :ھاں ۔تب آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :
”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔ ۔۔۔“( ۱۱۳ )
۲۸ ۔غدیر کے ذریعہ برا ء بن عازب کااتمام حجت کرنا
براء بن عازب بھی وہ شخص تھے جو زید بن ارقم کی مدد کرنے کے لئے غدیر خم میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سراقدس کے اوپر سے درختوں کی شاخیں اٹھا ئے ہو ئے تھے تا کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم بالکل آرام و سکون کے ساتھ خطبہ ارشاد فر ما سکیں ۔وہ غدیر خم میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سب سے نزدیک تھے جب کوفہ میں علی بن ابی طالبعليهالسلام نے لوگوں کے مجمع میں اس سے غدیر کے سلسلہ میں گو اھی دینے کےلئے فرمایا تو اس نے انکار کیا اور وہ آپعليهالسلام کی نفرین میں گرفتار ہوا۔
وہ اس کے بعد اپنی اس حرکت پر شرمندہ ہوا اور واقعہ غدیر کو اس طرح نقل کیا کرتا تھا :میں حجة الوداع میںپیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ تھا کہ جب آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم غدیر خم میں اترے نماز جماعت کا حکم صادر ہوا اورپیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کےلئے درختوں کے درمیان جگہ صاف کئی گئی آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے نماز ظھر ادا فرمائی اور حضرت علی علیہ السلام کے بازو تھام کر فر مایا:”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“( ۱۱۴ )
۲۹ ۔غدیر کے ذریعہ شریک کااتمام حجت کرنا
شریک نخعی قاضی سے سوال کیا گیا :جو شخص ابو بکر کی معرفت حا صل کئے بغیر دنیا سے چلاجا ئے اس کا کیا حشر ہو گا ؟شریک نخعی نے جواب دیا : کچھ نہیں ،اس کے ذمہ کو ئی چیز نہیں ہے ۔سوال کیا گیا :اگر حضرت علی علیہ السلام کی معرفت حا صل کئے بغیر دنیا سے چلا جا ئے تو اس کا کیا حشر ہوگا؟ جواب دیا : اس کا ٹھکانا جہنم ہے ،اس لئے کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے میدان میں حضرت علی علیہ السلام کو لوگوں کے درمیان راہنما کے طور پر منصوب فر مایا :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“( ۱۱۵ )
۳۰ ۔غدیر کے ذریعہ ام سلمہ کااتمام حجت کرنا
رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زوجہ ام سلمہ غدیر خم میں موجود تھیں ، وہ حدیث غدیر کو اس طرح نقل فر ما تی ہیں :پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فر مایا :
”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ،اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِمَنْ عَادَاهُُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ “( ۱۱۶ )
۳۱ ۔غدیر کے ذریعہ خو لہ حنفیہ کااتمام حجت کرنا
جب قبیلہ حنیفہ کے سردار مالک بن نویرہ نے غدیر کے ذریعہ استدلال کرتے ہوئے ابو بکر کی ابوبکر کی بیعت کرنے سے انکار کردیا تو خالد بن ولید کے لشکر نے ان کے قبیلہ کے مردوں کو قتل کردیا اور عورتو ں کو قیدی بنا کرمدینہ لے آئے ۔ان ہی قیدیوں میں سے ایک خو لہ حنفیّہ نا می لڑکی کو مسجد میں لایا گیا وہاں پر اس نے امیر المو منین علیہ السلام سے عر ض کیا : آپ کون ہیں ؟آپعليهالسلام نے فر مایا :میں علی بن ابی طالب ہوں؟ حنفیّہ نے عرض کیا : آپعليهالسلام وھی شخص ہیں جن کو پیغمبر اسلام نے غدیر خم کے میدان میں لوگوں کا راہنما بنایا ؟آپعليهالسلام نے فرمایا :ھاں، میں وھی ہوں ۔حنفیّہ نے عرض کیا : آپعليهالسلام ہی کی وجہ سے ہم نے غضب کیا اور آپعليهالسلام ہی کی وجہ سے ہم پر دھاوا بولا گیا اور ہم کو قیدی بنا لیا گیا ،چونکہ ہما رے مردوں نے کہا تھا :ھم اپنے اموال کے صدقات (زکات و فطرہ وخمس وغیرہ)اور اپنی اطاعت ہر کسی کے اختیار میں قرار نہیں دیں گے مگر یہ کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے ہمارا اور تمھارا امام و خلیفہ معین فر مایا ہو ۔( ۱۱۷ )
۳۲ ۔غدیر کے ذریعہ دارمیّہ حجونیہ کااتمام حجت کرنا
(دارمیہ) نا م کی ایک سیاہ فام خاتون امیر المو منین علیہ السلام کے شیعوں میں سے تھی ،معا ویہ جب حج کی غرض سے مکہ آیا تو اس نے اس خاتون کو بلا بھیجا اور اس سے سوال کیا :تم علیعليهالسلام کو کیوں دوست رکھتی ہو اور مجھ کو کیوں دشمن رکھتی ہو ؟اور ان کی ولایت کو کیوں قبول کرتی ہو اور مجھ سے کیوں دشمنی رکھتی ہو ؟ دارمیّہ نے کہا : میں حضرت علیعليهالسلام کی ولایت کو اس عہد و پیمان کی بنا پر قبول کر تی ہوں جو پیغمبر اسلامعليهالسلام نے ہوں جو پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم کے روز ان(علیعليهالسلام )کی ولایت کےلئے لیا تھا اور تو بھی اس وقت مو جود تھا ۔!( ۱۱۸ )
یہ غدیر کے سلسلہ میں منا ظروں اور استدلالات کے بعض نمو نے تھے ۔تاریخ میں ہزاروں ایسے مواقع ہیں جن میں غدیر کے سلسلہ میں شیعہ اور ان کے مخا لفوں کے ما بین بحثیںاورمنا ظرئے ہو ئے ہیں اورحدیث غدیر کی سند اور متن کے سلسلہ میں اتمام حجت کےلئے بہت سے مطالب بیان ہو ئے ہیں جن کو ایک مستقل کتاب میں بیان کر نے کی ضرورت ہے ۔
۳ غدیر کے سلسلہ میں دشمنوں کے اقرار
تاریخ میں بہت سے ایسے مواقع آئے ہیں جھاں پرخود دشمنان غدیر نے غدیر کی حجت کا اقرار کیا ہے یہ بات خود ان کے خلاف ایک حجت ہے ،ھم ذیل میں اس کے کچھ نمونے بیان کر رہے ہیں ۔
۱ ۔ غدیر کے سلسلہ میں ابلیس کا اقرار
جناب سلمان جن کی چشم بصیرت امیر المو منین علیہ السلام کی ولایت کی روشنی کے پر تو میں ظاہر کے علاوہ باطن کا بھی نظارہ کرتی تھی وہ اس طرح نقل کرتے ہیں : ایک دن ابلیس ( آدمی کی شکل میں )کا ایسی جگہ سے گذر ہوا جھاں پر کچھ لوگ امیر المو منین علیہ السلام کو کچھ نا سزا جملے کہہ رہے تھے ابلیس نے ان سے کہا :تم لوگوں کا برا ہو جو اپنے مولا علی بن ابی طالبعليهالسلام کو برا بھلا کہہ رہے ہو! انھوں نے کہا : یہ کھاں سے معلوم ہو گیا کہ وہ ہما رے مو لا ہیں ؟ابلیس نے کہا :تمھارے پیغمبر کے اس فر مان کے ذریعہ :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“( ۱۱۹ )
۲ ۔غدیر کے سلسلہ میں ابو بکر کا اقرار
ایک دن ابوبکر خلافت غصب کر نے کی تاویل کر نے کےلئے حضرت علی علیہ السلام کی خدمت با برکت میں حاضر ہوا اور کہا :پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم میں ایام ولایت کے بعد کسی چیز میں کو ئی تغیر و تبدل نہیں فرمایا اور میں گواھی دیتا ہوں کہ آپعليهالسلام میرے مو لا ہیں اور میں ان تمام مطالب کا اقرار کرتا ہوں اور میں نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانہ میں بھی آپعليهالسلام کو امیر المو منینعليهالسلام کہہ کر سلام کیا ہے ۔( ۱۲۰ )
۳ ۔ غدیر کے سلسلہ میں عمر کا اقرار
عمر بن خطاب نے بھی حدیث غدیر کو اس طرح نقل کیا ہے :پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کی امامت کا اعلان کر تے ہوئے فر مایا :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔“خدا یا تو ان کا گواہ رہنا!
حضرت عمر کا کہنا ہے :میں نے غدیر خم میں ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے :خدا کی قسم پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تم سے وہ عہد لیا جس کو منافق کے علاوہ اور کو ئی توڑنہیں سکتا ہے ۔۔۔اے عمر تو بھی اس پیمان کو توڑنے یا اس کی مخالفت کرنے سے پر ھیز کرنا !!( ۱۲۱ )
۴ ۔ غدیر کے سلسلہ میں ابو ھریرہ کا اقرار
۱ ۔سقیفہ کے قوی بازو ابو ھریرہ داستان غدیر کی اس طرح توصیف کرتے ہیں :غدیر خم میں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کا بازو تھام کر فر مایا :کیا میں مو منوں کا صاحب اختیار نہیں ہوں؟ جواب ملا :ھاں ،یا رسو ل اللہ ۔آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فر مایا ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“اور یہ آیت :( اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ ) نا زل ہو ئی ۔( ۱۲۲ )
۲ ۔جنگ صفین میں اصبغ بن نباتہ حضرت امیر المو منین علیہ السلام کا ایک خط لیکر معاویہ کے پاس آئے۔وھاں پر آپ(اصبغ بن نباتہ )نے ابو ھریرہ کو دیکھ کر کہا :میںتجھ کو خدا کی قسم دےتا ہوں ۔۔۔کیا تم روز غدیر، غدیر خم کے میدان میں مو جو د تھے ؟اس نے کہا : ھاں ۔سوال کیا :تم نے حضرت علی علیہ السلام کے سلسلہ میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا کیا فر مان سنا ہے : ابو ھریرہ نے کہا میں نے سنا ہے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فر مایا ہے ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ،اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِمَنْ عَادَاهُ وَانْصُرْمَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ “( ۱۲۳ )
۳ ۔حضرت امام حسن علیہ السلام سے صلح کر نے کے بعد معاویہ کو فہ پہنچا ۔تو ہر رات ابوھریرہ مسجد کوفہ میںمعاویہ کے پہلو میں بیٹھتا تھا ۔ایک رات ایک جوان نے اس سے کہا :میں تجھ کو خدا کی قسم دیتا ہوں یہ بتا کیا تو نے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کو حضرت علی علیہ السلام کے با رے مےں یہ فر ما تے سنا ہے :اَللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِمَنْ عَادَاهُ “؟ابو ھر یرہ نے معا ویہ کی مو جو د گی میں کہا :ھاں ۔اس جوان نے کہا :میںخدا وند عالم کو گواہ بنا کر کہتا ہوںکہ تو نے ان کے دشمن (معا ویہ ) کی ولایت تسلیم کی ہے اور ان (علی علیہ السلام )کے دوستوں سے دشمنی کی ہے !( ۱۲۴ )
۵ ۔ غدیر کے سلسلہ میں سعد بن ابی وقاص کا اقرار
۱ ۔سعد بن ابی وقاص سقیفہ کے لشکریو ں کا سردار ہے اور اس نے ان کی بڑی خد مات انجام دی ہیں ۔وہ امیر المو منین علیہ السلام کے فضائل کا اقرار کر تے ہو ئے کہتا ہے :حضرت علی علیہ السلام کے فضائل میں ان کےلئے سب سے افضل غدیر خم ہے ۔پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کے دو نوں با زوو ں کو تھام کر بلند کیااور میں یہ سب کچھ دیکھ رھاتھا اور فرمایا: کیا میں تم پر تمھا رے نفسوں سے زیادہ اختیار نہیں رکھتا ہوں ؟انھوں نے کہا :ھاں۔آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“۔( ۱۲۵ )
۲ ۔سعد (جس نے قتل عثمان کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی بیعت نہیں کی تھی )کی مکہ کے سفر میں دوعراقیوں سے ملاقات ہو ئی اس نے ان سے امیر المو منین علیہ السلام کی پانچ بژی فضیلتوں میں سے غدیر کی ایک فضیلت کی اس طرح تو صیف کی ہے :ھم حجة الوداع میں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ھمراہ تھے ۔ حج سے واپسی پر پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر خم میں قیام فر مایا اور منادی کو ندا دی کہ وہ مردوں کے درمیان یہ اعلان کرے :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَهٰذَا عَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔۔“( ۱۲۶ )
۶ ۔ غدیر کے سلسلہ میں انس بن مالک کا اقرار
انس بن مالک پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خدمت گذار اور غدیر خم میں مو جو د تھے ۔اس نے سب سے حساس مو قع (جب حضر ت علی علیہ السلام نے کوفہ میں سب لوگوں کی مو جو د گی میں اس سے غدیر کے سلسلہ میں گوا ہی دینے کےلئے فر مایا )پر آپعليهالسلام کی گوا ہی دینے سے انکار کیا اور آپعليهالسلام کی نفرین سے مرض برص میں اس طرح مبتلا ہوا کہ اس کی پیشانی پر سفید داغ ہو گیا جس کا سب مشاہدہ کر تے تھے اور سب اس کی وجہ سے واقف تھے ۔
اس نے اس مرض میں مبتلا ہو جا نے کے بعد سے غدیر کو مخفی نہ کرنے کا ارادہ کیا اس کا ایک نمونہ کچھ یوں ہے :میں نے غدیر خم کے میدان میں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اس وقت جب آپ حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ تھا مے ہو ئے تھے یہ فر ما تے سنا ہے :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ ۔۔( ۱۲۷ )
۷ ۔ غدیر کے سلسلہ میں عمرو عاص کا اقرار
معاویہ نے عمرو عاص کو ایک خط لکھا جس میں حضرت علی علیہ السلام کو نا سزا الفاظ لکھتے ہو ئے اس کو اپنی مدد کےلئے طلب کیا ۔عمرو عاص نے معاویہ کے خط کا جواب دیا اوراس کی باتوں کو رد کر تے ہو ئے مو لا ئے کا ئنات کے فضا ئل و مناقب شمار کئے منجملہ یہ تحریر کیا :پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کے سلسلہ میں فر ما یا ہے :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ،اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِمَنْ عَادَاهُ وَانْصُرْمَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ “( ۱۲۸ )
۸ ۔ غدیر کے سلسلہ میں حسن بصری کا اقرار
حسن بصری حدیث غدیر کو یوں نقل کر تے ہیں :پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو غدیر خم کے میدان میں امام مقرر کرتے ہو ئے فر مایا :”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “( ۱۲۹ )
۹ ۔ غدیر کے سلسلہ میں عمر بن عبد العزیز کا اقرار
ایک شخص نے ملک شام میں عمر بن عبد العزیز سے کہا :میں علیعليهالسلام کے مو الیوں میں سے ہوں اس نے بھی اپنے سینہ پر ہاتھ مارکر کہا :خدا کی قسم میں بھی موالیان علیعليهالسلام میں سے ہوں ۔ اس کے بعد کھا: کچھ لوگوں نے مجھ سے یہ روایت بیان کی ہے کہ ہم نے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ فر ما تے سنا ہے : ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “( ۱۳۰ )
۱۰ ۔ غدیر کے سلسلہ میں ابو حنیفہ کا اقرار
ابو حنیفہ ایک ایسی مجلس میں پہنچے جس میں غدیر کے سلسلہ میں گفتگو ہو رہی تھی تو اس نے کھا: میں نے اپنے اصحاب سے کہہ دیا ہے کہ شیعوں کے سامنے حدیث غدیر کا اقرار نہ کریں کہ وہ تمھاری مذمت کر یں !!اس مجلس میں موجود صیرفی نے نا راضگی کا اظھار کر تے ہو ئے کہا :اس کا اقرار کیوں نہ کریں؟کیا یہ مطلب تمھارے نزدیک ثابت نہیں ہے ؟ابو حنیفہ نے کہا :ثابت ہے اورخود میں نے ہی اس کو نقل کیا ہے ۔( ۱۳۱ )
۱۱ ۔غدیر کے سلسلہ میں مامون عباسی کا اقرار
مامو ن نے بنی ھاشم کو ایک خط لکھا جس میں امیر المو منین علیہ السلام کے فضائل رقم کئے تھے منجملہ اس نے یہ تحریر کیا تھا :”حدیث غدیر خم میں وہ(علیعليهالسلام )صاحب ولا یت تھے “۔( ۱۳۲ )
۲ ۔مامون نے خراسان میں ایک جلسہ منقعد کیا جس میں اسلام کی چالیس بڑی بڑی ھستیوں کواپنے ساتھ مناظرہ کے لئے دعوت دی ۔اس جلسہ میں اس نے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کے سلسلہ میں حدیث غدیر کے بارے میں استدلال کیا اور انھوں نے قبول کیا ۔( ۱۳۳ )
۱۲ ۔ غدیر کے سلسلہ میں طبری کا اقرار
اھل سنت کے مشہور و معروف مورخ طبری کے دور میں ابو بکر بن داود نے حدیث غدیر خم کے سلسلہ میں کچھ نادرست باتیں بیان کر دی تھیں ۔جب یہ خبر طبری تک پہنچی تو اس نے ابو بکر بن داود کے جواب میںحدیث غدیر کے متعلق ایک مستقل کتاب تحریر کی اور اس میں حدیث غدیر کے اسناد کو صحیح ثابت کیااور ضروری منابع و مدارک بھی تحریر کئے ۔( ۱۳۴ )
یہ سب سقیفہ کے طرفداروں کے حدیث غدیر کے سلسلہ میں اقرار کے بعض نمونے تھے ۔ان چودہ صدیوں میں اہل سنت کے بہت بڑے بڑے بزگوں نے اپنی کتابوں اور تقریروں میں حدیث غدیر کا اعتراف کیا ہے یھاں تک کہ انھوں نے اس سلسلہ میں کتا بیں بھی لکھی ہیں ۔
۴ غدیر سقیفہ کے مد مقابل
حالا نکہ غدیر ایک بہت بڑا وسیع بیابان تھا جو پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تقریر کے لئے آمادہ و تیار کیا گیا تھا ،لیکن جس دن رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس میں خطبہ غدیر ارشاد فرمایا تھا اسی دن سے وہ سقیفہ اور غدیر کامیدان جنگ قرارپایا ۔سقیفہ کے لشکر کے سردار منبر غدیر کے سامنے بیٹھنے کے با وجود اپنے تیز و طرار دانتوں کو پیس پیس کر غدیر اور غدیریوں کو ڈرا رہے تھے ،ان کے کمانڈر اور ان کے وفادار ساتھیوں کو جنگ کے لئے تیار رہنے کا چیلنج کر رہے تھے یھاں تک کہ صاحب غدیر کو برا بھلا کہہ رہے تھے ۔
سقیفہ کے لشکر کی تشکیل
ماجر ا ئے غدیر کے واقع ہو نے کے ساتھ ہی سقیفہ کی بنیاد رکھنے والوں نے فوجی ،سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی عہد نامہ پر دستخط کئے اور اپنا لشکر تیار کر نے میں جٹ گئے ۔
انھوں نے اس کام کو عملی جا مہ پہنا نے میں اتنی جلدی کی کہ ستر دن گزر نے کے بعد ایک بڑا لشکر لیکر صاحب غدیر کے گھر پر دھا وا بول دیا اور گھر کو آگ لگا دی ۔وہ بڑی ضرب و شتم کے ساتھ گھر میں گھس گئے اور غدیر کا دفاع کرنے والوں میں پیش قدمی کرنے والوں یعنی حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا اور محسنعليهالسلام کو شھید کر دیا ،صاحب غدیر کی گردن میں رسی کا پھندا ڈالا اور غدیریوں پر اس وحشیانہ حملہ سے انھوں نے اپنے خیال خام میں غدیر کافا تحہ پڑھ دیا۔
سقیفہ کے با لمقابل غدیر کی مقا ومت
اھل سقیفہ اس بات سے غافل تھے کہ خدا وند عالم ،پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ائمہ معصومین علیھم السلام غدیر کے محا فظ ہیں اور اس جنگ کے فاتح بھی وھی ہیں ۔ غدیرکے حا می بھی صاحبان غدیر کے انتخاب کے ساتھ اپنے اندر لشکر غدیر کاممبر ہو نے کی صلا حیت پیدا کرلیں گے ۔
غدیرکے سلسلہ میںسب سے پہلی بارہونے والی جنگ یعنی سقیفہ میں حقیقتاً دونوں(یعنی غدیریوں اور اہل سقیفہ ) کا پلّہ برابر نہیں تھا ؛غدیری اگرچہ مغلوب ہو گئے لیکن صاحب غدیر کی موجودگی میں صحیح طور پر حقا ئق کو واضح کرنے اور آنے والی نسلوں کےلئے حجت تمام کر نے میں کا میاب و کامران رہے ۔غدیر یوں کی صف میں پہلے توتین آدمی تھے لیکن آہستہ آہستہ اس حسن تدبیر سے سات آدمی ہو ئے اسی طرح آج ان کی تعدادکروڑوںاور اربوں افراد تک پہنچ گئی ہے ۔
غدیر،جنگ جمل ،صفین اور نھر وان میں
اگر وھی پہلے دن والی ہی سقیفہ ہو تی توھر گز یہ نوبت نہیں آسکتی تھی کہ پچیس سال کے بعدلوگ حضرت امیر المو منینعليهالسلام سے خلافت قبول کرنے کےلئے التماس کریںیہ اُن ہی کا موں کا اثر تھا جو غدیریوں نے سقیفہ کے دن انجام دئے تھے ۔ان ہی ایام میں جمل ،صفین اور نھروان جیسی جنگو ں کےلئے صف آرائی ہوئی
اگرچہ سقیفہ میں صف آرائی کی نو بت نہیں آئی اور غدیری بظاہر جلدی ہی خاموش ہو گئے اور غدیریوں کی تعداد چا لیس افراد تک نہ پہنچ سکی لیکن امیر المو منین علیہ السلام کے ساتھ ہو نے والی ان تینوں جنگوں میں بہت سے صاحبان ِ شمشیر (ایمان کے مختلف درجات کے ساتھ ) آپعليهالسلام کے ھمراہ تھے جن میں صرف پانچ ہزار افراد شرطة الخمیس( ۱۳۵ ) یعنی فدائیان غدیر تھے کہ جنھوں نے مولیٰ ،امیر المو منین کا صاحب اختیار ہونے اور مقام ولایت مطلقہ کی مطلق اطاعت کا عملی نمونہ پیش کیا۔
ان میں سے ایک اصبغ بن نباتہ تھے کہ جس وقت ان سے سوال کیا گیا :تمھا رے نزدیک امیر المو منین علیہ السلام کی منزلت کس حد تک ہے ؟انھوں نے کھاھم نے تلواروں کو اپنے کند ھوں پر رکھ لیا ہے اور جس پر وہ اشارہ کر دیں گے اس پر چلا دیں گے ۔۔۔( ۱۳۶ )
غدیر کے مقابلہ میں سقیفائی چھرے
اھل سقیفہ جن کا پہلے دن صرف ایک ہی چھرہ تھالیکن بعد میں تین خاص اور سیکڑوںعام چھرے ہوگئے کہ جن کا خلاصہ یھی تین چھرے تھے اور غدیر یوں کے ساتھ جنگ کر نے کےلئے آمادہ ہوگئے ۔یہ وہ افراد تھے جو پہلے دن اپنے باطن کو چھپا ئے ہو ئے تھے صرف غا صبوں کی پیٹھ پیچہے ہی ان کے حق میں باتیں کیا کر تے تھے لیکن اب انھوں نے یہ بتلا دیا کہ وہ اصحاب سقیفہ کا کس لئے دم بھر ر ہے تھے ۔
ایسے ایسے گروہ مو جود تھے جن کی پیشانیوں پرعبادت کی وجہ سے گھٹے پڑے ہو ئے تھے اور وہ ظاہری طور پر زاھدمعلوم ہو تے تھے لیکن اس کے با وجود وہ حضرت علیعليهالسلام کے مد مقابل آرہے تھے کچھ لوگ ریاست طلبی کے عنوان سے حضرت علی علیہ السلام کے مد مقابل آرہے تھے ، کچھ گروہ مال و دولت کے لالچ میں آپعليهالسلام سے جنگ کر نے آئے تھے ،کچھ گروہ عیاش تھے وہ اپنی عیاشی کے چکر میں حضرت علی علیہ السلام سے جنگ کر رہے تھے ،کچھ گروہ اسلام اورپیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نسبت شدید محبت کا اظھار کر نے کے با وجود صاحب غدیر کے مد مقابل ہو رہے تھے !!کچھ گروہ پیغمبر کی نسبت اپنے کفر و عناد کا مظاہرہ کر رہے تھے ،کچھ افراد صاف طور پر پیغمبر اور قر آن کے مخالف عقائد کا دم بھر نے کے با وجود اپنے کو اسلام کے وفادار سمجھتے تھے اور اسی نظریہ کے مد نظر امیر المو منین علیہ السلام کے ساتھ جنگ کر نے کےلئے آئے تھے ۔
غدیر کے مد مقابل سقیفہ کی پُرفریب صورتیں
دوسری طرف سقیفہ میں کچھ ظاہر فریب چھرے نمایاں طوپر نظر آئے کہ جنھو ں نے اپنے مدمقابل معاشرہ کی کمر توڑکر رکھ دی ہے ۔
پھلی مر تبہ جنگ میں رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زوجہ حضرت علی علیہ السلام کے مد مقابل آئیں حالانکہ پیغمبر اسلام کے دو صحا بی طلحہ و زبیر بھی اس کے ساتھ تھے ۔
ایک طرف عورت کا میدان جنگ میں آنا اور دوسری طرف پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زو جہ ہو نا عوام کو دھوکہ دینے کا نرالا طریقہ تھا جس کا بظاہر اثر بھی ہوا لیکن سقیفہ کے بانی کی بیٹی ہو نے اور اپنے پدر بزر گوار کےلئے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دورحیات اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد جا سوسی جیسے کارنامے اس کے نامہ اعمال میں درج تھے جس کی بنا پر اس کو غدیر کے مد مقابل سقیفہ کابہترین نمائندہ تصور کیا جاسکتاتھا
دوسری مرتبہ قتل عثمان کے بھانے سے جو سقیفہ کا تام الاختیار آخری لیڈر تھا جس کو سقیفہ میں بنائے گئے منصوبے کے تحت منتخب کیا گیا تھا ،معاویہ اور سقیفہ کے بقیہ دوسرے افراد نے مل کر ایک گروہ تیار کیا اور سقیفہ کے مقتول خلیفہ کا انتقام لینے کی غرض سے قیام کیا ۔سقیفہ کے کُرتے کو دمشق کے اس منبر پر لٹکایا جس کی بنیاد سقیفہ میں محکم کی گئی تھی ،خال المو منین اور کاتب وحی جیسے زیور سے آراستہ کیا اور غدیر سے جنگ کے لئے نکل آئے ۔
غدیروالوں نے بھی عمار یاسر ،اویس قرنی اور مالک اشتر جیسے فدا کاروں کے ساتھ جتنا ہو سکتا تھا فدا کاری کا مظاہرہ کیا اور ایسے حالات پیدا کردئے کہ غدیر کا سنھرا نقش آسمان پر ابھر آیا ۔
تیسری مرتبہ نھروان کے کج فکر افراد جودرحقیقت سقیفہ کی پیدا وار تھے خود خواھی اور پروردگار عالم کی طرف سے منصوب امام کی اطاعت نہ کرنے کا سقیفہ والوں کی طرح عہد کرچکے تھے وہ بھی غدیر کے میدان میں آئے ۔
اس کے بعدصاحب غدیر کی اس شمشیر سے شھادت کہ جس پر انھوں نے اسلام کے نام کا سنھرا پا نی چڑھا رکھا تھا اوراسے خالص سقیفہ کے زھر میں بجھا ئے ہو ئے تھے یہ سقیفہ وا لوں کوطرف سے غدیر کو ذبح کرنے کا راستہ صاف نظر آرھا تھا ۔
مقتل غدیر!!
معا ویہ نے بیس سال کی طویل مدت میں غدیر کےلئے ایک بہت بڑا مقتل تیار کیاتھا اور اس میں ہزاروں غدیریوں کے سر کا ٹ کر ان کے خون سے لشکر سقیفہ کو سیراب کیا تاکہ کربلا کےلئے قوی ہو جا ئیں مرگ معاویہ اور یزیدکے بر سر اقتدار آجا نے کے بعد یہ بڑا مقتل غدیر کا سر کا ٹنے کےلئے تیار تھا اور یھی غدیر کو کر بلا تک کھینچ کر لایا تا کہ سقیفہ کے لیڈروں کے خواب کی صحیح تعبیر ہو جا ئے ۔
غدیر یعنی حضرت امام حسین علیہ السلام
اس مرتبہ غدیر اپنی پوری طاقت اور چندفداکار ساتھیوں کے ساتھ کر بلا کے میدان میں پہنچی،یہ حسینعليهالسلام تھے جو اپنے ایسے با وفاساتھیوں کے ساتھ آئے تھے جو شھادت اور ٹکڑے ٹکڑے ہو نے کےلئے اپنی کمر با ندہے ہو ئے تھے اورجس کا دوسرا گروہ اسیر ہو نے ،سر بریدہ غدیر کےلئے آنسو بھانے اور شام کے بے خبروں کو غدیر کی خبر سے با خبر کر نے کےلئے تیار تھے ۔
اس مقام پر حضرت امام صادق علیہ السلام کے فرمان کے عملی نمونہ کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے :
”اِذَاکُتِبَ الْکِتَابُ قُتِلَ الْحُسَیْنُ عَلَیْهِ السلامُ “
جس وقت غدیر کے با لمقابل سقیفہ کا عہد نا مہ لکھا گیا تھا حضرت امام حسین علیہ السلام شھید ہو گئے تھے “!
ھاں !غدیر کا اس کے با وفا ساتھیوں سمیت سر قلم کردیا ،اس کے با عظمت خیموں کو غارت کر دیا ، ان میں آگ لگا دی ،غدیر کے عزیز و اقربا کو قید ی بنا لیا تا کہ سقیفہ کے دوسرے شھر والے اس پر فخر و مباھات کریں اور یہ اعلان کریں کہ غدیر کا کام تمام ہو گیا ہے ،لیکن۔۔۔!
غدیر کی حقیقی زندگی
غدیر نے اپنی واقعی اور حقیقی زندگی کا آغاز کر بلا کے دن سے کیا اور پچاس سال سقیفہ کے اوباش افراد کے ھاتھوں میںگرفتار رہنے کے بعد پھر سے نئی زندگی کا آغاز کیا۔
حضرت امام حسین علیہ السلام کی شھادت کے بعد دو بارہ غدیرکی آواز دنیا کے آخری گو شہ تک پہنچی یھاں تک کہ کفار اور مشرکین نے اہل سقیفہ پر لعنت کی اور غدیر کی سر افرازی کو مبارکباد پیش کی ہے ۔
اس مر تبہ پھرسقیفہ اور غدیر کی جنگ کے شعلے بھڑکے اور اہل سقیفہ کے کینہ و حسد کے شعلے اتنے بھڑکے کہ انھوں نے سقیفہ کا جا نشین حجاج جیسے خو نخوار وںکو بنا دیا ۔وہ بھی چراغ لیکر آئے اور غدیر کے فدا ئیوں کو چُن چُن کرمقتل سقیفہ میں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ۔ قنبرجیسوں نے بذات خود اپنے کو غدیر میں شھید ہو نے کےلئے اپنا تعارف کرایا ۔اگرچہ ان کی زبان کاٹ دی گئی یا ان کی زبان گُدّی سے نکال لی گئی لیکن یہ سب غدیر کی وہ بیش بھا قیمت تھی جو وہ اپنے جان و دل سے ادا کر رہے تھے ۔
گو یا سقیفا ئی پارٹی کو بخو بی اس بات کا پتہ تھا کہ ابھی غدیر زندہ و جا وید ہے اورھر دن اس کو نئی زندگی مل رہی ہے ۔غدیر ان نسلوں کی منتظر ہے جو اپنی کسی چیز کے کھو جا نے کے بعد اپنے ھاتھو ں کو پھیلا ئے ہو ئے اس کے استقبال کےلئے کھڑی رہیں اوردل کے پیروں سے صحرائے غدیر میںحا ضرہوں اور صاحب غدیر کی بیعت کریں ۔
غدیر اور سقیفہ تا ریخ کے آئینہ میں
اموی حکو مت کے ختم ہو نے کے ساتھ ہی سقیفہ کا دفتر بند ہو گیا لیکن پھر دو سری مرتبہ حکو مت عباسی کے آنے کے بعد اس دفتر کو غدیر سے مقابلہ کر نے کے لئے کھول دیا گیا ۔گو یا سقیفہ نے مختلف طریقو ں سے مختلف زمانوں میں اپنے جلوے دکھلا ئے ۔پا نچ سو سال برسر اقتدارعباسیوں نے غدیریوں کے لئے کو ئی خو شی کامو قع نہیں آنے دیا ان کو قتل کیا ،تختہ دار پر چڑھا یا اور قید خا نوں میں ڈال دیا اور غدیر کے اماموں کو یکے بعد دیگرے شھید کردیا ۔
لیکن زمانے نے جو چھوٹا سا راستہ تشیع کےلئے چھوڑ رکھا تھا اس میں غدیر کو ہر دن دو سروں کی توقعات کے خلاف کا میابی ملتی رہی اور اسلامی سرحدوں کے باھر سے اپنے عا شقوں کو جذب کرنے لگی اور صراط مستقیم ڈھونڈھنے والوں کی کشتی نجات، سقیفہ کے فتنوں کے دریا کی مو جو ں سے ٹکرا تی ہو ئی رواں دواں ہو ئی ۔
اگرچہ خلافت کو غصب کرنے کے دن صاحب غدیر کے ساتھ صرف تین افراد باقی رہ گئے تھے اور کربلا میں کو ئی باقی نہیں رہا !!سقیفہ کے غا صبین آج آئیں اور اپنی آنکہیں کھول کر پوری دنیا میں ان چو دہ صد یوںمیں کروڑوں غدیریوں کا مشاہدہ کریں ۔اتنے غدیری کہ غا صبوں کے وھم و گمان میں بھی نہیں تھا۔
۵ غدیر سے متعلق کتب کی وا قعیت
پھلی صدی ہجری سے غدیر کی روایت کے سینہ بہ سینہ منتقل ہو نے کے ساتھ ساتھ کتاب نے بھی مسلمانو ں کی نسلوں تک غدیر کا پیغام پہنچا نے میں اپنا کر دار ادا کیا ہے اور غدیر کا دفتر اسی طرح کھلاہوا ہے اور دوسری صدی ہجری سے کتاب اور کتاب نویسی نے جدیت کے ساتھ اس با رے میں بڑا کردار اداکیا ہے ۔
اس کے با وجود کہ رسول اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ایک لاکھ بیس ہزار مخا طب افراد (جو غدیر خم میں مو جود تھے )کو اس عظیم وا قعہ کے لکھنے کےلئے اقدام کر نا چا ہئے تھا لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا حالانکہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر کے پیغام کو آئندہ آنے والی نسلوں کےلئے پہنچانے کی بہت تا کید فر ما ئی تھی لیکن حکو متوں کے ڈر نے اس میں رکا وٹ ڈالی لیکن ان تمام حیلوں اور بھانوں کے با وجود اسلام کی ثقافت غدیر کے نام سے پر ہے اوراسلام کی اعتقادی ،تا ریخی اور حدیثی کتا بوں (وہ کہیں پر اور کسی زمانہ میں بھی تا لیف ہو ئی ہوں ) میں نور غدیر قابل کتمان نہیں تھا ۔
مو ضوع غدیر سے متعلق سب سے پہلی کتابیں
سب سے پہلے تین کتابوں کا نام لیاجا سکتا ہے جن میں واقعہ غدیر کو نقل کیا گیا :
۱ ۔”کتاب علی علیہ السلام “جس کو حضرت علیہ السلام نے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے املا ء کے ذریعہ تحریر فر مایا ۔”معروف “نام کے ایک شخص نے حضرت امام محمد با قر علیہ السلام کی خدمت با برکت میں حا ضر ہو کر واقعہ غدیر کو ابو الطفیل کے نقل کے مطابق بیان کیا ۔حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے اس کی تا ئید کر تے ہو ئے فر مایا :اس مطلب کامیں نے کتاب علی علیہ السلام میں مشاہدہ کیا ہے اور ہمارے نزدیک یہ مطلب صحیح ہے ۔“( ۱۳۷ ) یہ کتاب ودایع امامت میں سے ہے اور امام کے علا وہ کسی اور کی اس تک رسائی نہیں ہے ۔
۲ ۔تا لیفات بشری میں سب سے پہلی ی کتاب جس میں مسئلہ غدیر نقل کیا گیا ہے ”کتاب سلیم بن قیس ھلا لی “ہے ۔یہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے بعد کے سا لوں میں تا لیف ہو ئی اور اس کتاب کے مو لف نے ۷۶ ھجری میں وفات پائی ،غا صبان خلافت کی نظروں سے دور رہ کر اس کتاب میں غدیر سے متعلق مختلف مسائل کا تذکرہ کیا ہے یھاں تک کہ مستقل طور پر حدیث میں غدیر کے پورے واقعہ کو تحریر کیا ہے یہ چودہ سو سالہ یاد گارآج بھی اسی طرح باقی ہے اورمتعدد مرتبہ طبع ہو چکی ہے ۔
۳ ۔غدیر کے مو ضوع سے متعلق مستقل طور پر تالیف ہو نے والی کتاب پہلی کتاب ” خطبةالنبیصلىاللهعليهوآلهوسلم ہے جس کو ادبیات عرب کے بڑے عالم خلیل بن احمد فرا ھیدی نے تحریر کیا ہے جنھوں نے ۱۷۵ ھ میں وفات پائی اور اس کتاب میں غدیر خم میں حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خطبہ کو مفصل طور پر تحریر کیا ہے ۔
چودہ صدیوں میں غدیر کے قلمی آثار
دین کے مختلف پھلووں میں غدیر اتنی راسخ ہو چکی ہے کہ یہ متعدد مو ضو عات میںزیربحث قرار پائی ہے ۔کتب حدیث میں سند اور متن کے اعتبار سے ،کتب تا ریخ میں اسلام کے سب سے اہم واقعہ کے عنوان سے ،کتب کلام میں سب سے اہم اعتقادی عنوان سے جو یھی خلافت وولایت ہے ،کتب تفسیر میں خلافت کے متعلق آیات کی تفسیر کے عنوان سے ،کتب لغت میں کلمہ”مو لیٰ “کے معنی کے اعتبار سے اور کتب ادب و شعر میں تا ریخ اسلام کے زیبا قطعہ کے عنوان سے نظم و نثر میں بیان کیا گیا ہے ۔
پھلی صدی ہجری میں افراد کے امین سینے اورقوی حا فظے تھے انھوں نے کتاب کی طرح عمل کیا اور سو سال کے راستے کواچھی طرح طے کیا اورآل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی امانت کو محفوظ رکھا بہت سے صحابہ اور تا بعین واقعہ غدیر کو محفلوں میں بیان کر تے تھے اور اس کو اپنے بعد آنے والی نسلوں تک منتقل کر تے تھے اگر چہ کتاب سلیم کے مانند کتابیں بھی مخفی طور پر تا لیف ہو رہی تھی اور ان میں غدیر کو ثبت(لکھا ) جا رہا تھا ۔
دو سری ہجری کے آغاز میں جس میں نسبتاً معا رف دینی کو تد وین کر نے کی آزا دی تھی تبلیغ غدیر کو بھی نئی زندگی ملی اور آہستہ آہستہ روایت سے تالیف کی شکل میں نقل کی جا نے لگی ۔
چو تھی ہجری میں حدیث غدیر کے متن کے سلسلہ میں تحقیق اور بحث کا آغاز ہوا اور خطبہ غدیر کا اصلی فقرہ ”مَنْ کُنْتُ مَوْ لَاهُ فَهٰذا عَلِیٌ مَوْ لَاهُ “ش یعہ اور اس کے مخا لفوں کے درمیان منا ظروں میں بیان کیا جا نے لگا رجال اسناد اور حدیث غدیر کے ناقلین کے بارے میں بھی اس سلسلہ میں بڑی تحقیق و جستجو کر نے لگے ۔
یہ تحقیقات چو تھی ،پا نچویں اور چھٹی ہجری میں اوج پر پہنچ گئیں اور ہزارسال تک اسی طرح جا ری و ساری رہیں کہ ان صدیوں کے بر جستہ آثار آج بھی موجود ہیں ۔
گیا رہویں ہجری کے آغاز سے لیکر آج تک میدان علمی کوباز رکھتے ہوئے محققین اور اسلامی دانشمندوں نے غدیر کے سلسلہ میں مفصل اور مطالب سے پُراور اہم کتابیں تا لیف کی ہیں اور بڑے اچہے طریقہ سے ہزار سالہ زحمتوںسے نتیجے اخذ کئے ہیں ۔بڑی بڑی تحقیقات کر نے والے جیسے قاضی شوستری، علامہ مجلسی ،شیخ حر عا ملی ،سید ھاشم بحرانی ،میر حا مد حسین ہندی ،علا مہ امینی اور دو سرے علماء اس مد عا کے بہترین شا ھد ہیں ۔
کتب غدیر کی تعداد
غدیر کے سلسلہ میں زیادہ تر کتا بیں عربی ،فارسی اور اردو زبانوں میں لکھی گئی ہیں ،کچھ کتا بیں انگریزی زبان میںبھی ہیں اور کچھ کتابیں تر کی، آذری ،استا نبولی ، بنگا لی اور نو رو زی زبان میں بھی لکھی گئی ہیں ان میں سے بعض تالیفات اوربعض تر جمہ و تلخیص کی صورت میں ہیں ۔
علمی تقسیم بندی کے اعتبار سے ان میں سے بعض کتا بوں میں مکمل طور پروا قعہ غدیر کو نقل کیا گیا ہے اور کچھ کتا بوں میں صرف خطبہ غدیر کا مکمل متن تحریر کیا گیا ہے ۔بہت سی کتا بوں میں حدیث غدیر کی اسناد کی جمع آوری اور رجا لی بحث کی گئی ہے ۔
زبر دست علمی تحقیقات مخا لفوں کے جواب میں ہیں جوکلمہ ”مو لیٰ “کے معنی،سند کی تحقیق اور دلالت کے سلسلہ میں کی گئی ہیں بچوں اور نو جوانوںکے شعر و ادبیات بھی غدیر سے متعلق تا لیفات کاایک جلوہ ہیں ۔
غدیر سے متعلق کتا بیں
علا مہ سید عبد العزیز طبا طبا ئی قدس سرہ نے کتاب ”الغدیرفی التراث الاسلامی “میں غدیر سے متعلق مستقل ۱۸۴ مستقل کتابو ں کی فھر ست تحریر کی ہے اور ان کے مو لفین کی حالات زند گا نی پر رو شنی بھی ڈالی ہے ۔
اسی طرح دانشمند بزرگ محمد انصاری نے کتاب ”غدیر در آئینہ کتاب “میں غدیر سے متعلق ۴۱۴ مستقل کتا بوں کے نام درج کئے ہیں اور ان میں مکمل طور پر کتا بوں کا تعارف اور ان کی تعداد کو بڑے خو بصورت انداز میں تحریر کیا ہے ۔
کتا بوں کے ذریعہ غدیر کی وسیع تبلیغ
غدیر کے قلمی آثار پر ایک سرسری نگاہ ڈالنے سے مختلف جلووں کا نظارہ ہوتاہے چھو ٹی بڑی کتا بیں ،رسالے ،بروشر،مقالات،مجلے،اخبار،کامپیوٹری علمی پرو گرام،خوبصورت خطاطی، اعلانات ،کارڈ اور پو سٹرکی شکل میں مشاہدہ کر تے ہیں ۔
یہ طریقہ ہر سال اوج پر ہے اور حضرت بقیة اللہ الاعظم کے زیر سایہ پیغام غدیر کے ابلاغ میں موثر کردارادا کرا رہا ہے ۔
۶ شعرا ور ادبیات غدیر
اسلام کے واقعات میں سے صرف غدیر ایسا واقعہ ہے کہ جس کے رونما ہو نے کے وقت سے شعر کی سند بھی اپنے ساتھ لئے ہو ئے ہے ۔شعر اپنے وزن و قافیہ کے ساتھ غدیر کے دفتر میں ہمیشہ باقی رہنے والی سند ہے جو یکے بعد دیگرے سینوں میں حفظ ہوتی رہی اور ادبی اہمیت کے مد نظر کتا بوں میں لکھی جاتی رہی ہے ۔بعد میں آنے والی نسلیں جو دشمنوں کے غلط پروپگنڈے کے پنجے میںاپنے معا رف سے بہت زیادہ دور ہو گئی ہیں نے غدیر کے متعلق حسان اور اس کے ما نند افرادکے ا شعار سے اسے دوبارہ درک کیا ہے ۔
طول تاریخ میں حدیثی اور تا ریخی اسناد و مدارک کے ساتھ ساتھ مختلف صدیوں میں مختلف شعرا ء کے اشعار نے بھی اس واقعہ کی حفاظت کر نے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے ۔
شعر میں ایک دو سری بات یہ پا ئی جا تی ہے کہ اس نے غدیر کو کتا بوں اور محفلوں میں اس طرح پیش کیا جو دو سرے طریقوں سے ممکن نہیں ہے یا کم از کم آسان نہیں ہے بہت سی ادبی کتا بو ں میں یھاں تک کہ اہل بیت علیھم السلام کے مخالفوں نے اپنی کتابوں میں غدیر کے سلسلہ میںایک بڑے شاعر کے شعرکو ادبی شہ پارے کے طورپر نقل کیا ہے اسی طرح وہ بہت سے افراد جن کے پاس مطالعہ اور علمی متون کو سننے کا وقت نہیں ہیں وہ بھی ا شعارکے ایک قطعہ سے ہی معارف غدیر سے سر شار ہو جا تے ہیں ۔
غدیرعربی ،فارسی ،اردو اور تر کی اشعار کے آئینہ میں
چو دہ صدیوں کے عر صہ میںمسئلہ غدیر عربی ،فارسی ،اردو،تر کی اور دو سری زبانوں میں اشعار میں نظم ہو تا رہا ہے ۔اس سلسلہ میں سب سے پہلا زبردست شاعرقدم حسان بن ثابت نے اٹھایا اور نبی اکرم حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باقاعدہ اجا زت سے غدیر خُم ہی میں واقعہ غدیر کے متعلق کہے ہو ئے اشعار پڑہے ۔
خود حضرت امیر المو منین علیہ السلام نے غدیر خم کے متعلق اشعار کہے ہیں چند اصحاب پیغمبر نیز ائمہ علیھم السلام کے بعض اصحاب نے بھی غدیر کے سلسلہ میں اشعار کہے ہیں منجملہ قیس بن سعد بن عبادہ ،سید حمیری ،کمیت اسدی ،دعبل خزا عی اور ابو تمام وغیرہ ہیں ۔
اشعار سے دلچسپی رکھنے والے بڑے بڑے علماء نے بھی غدیر کے سلسلہ میں اشعار کہے ہیں منجملہ شریف رضی ،سید مر تضیٰ ،قطب راوندی ، حا فظ بر سی ، شیخ کفعمی ، شیخ بھا ئی ، شیخ کر کی ، شیخ حر عا ملی ، سید علی خان مدنی ،اور آیت اللہ شیخ محمد حسین غر وی اصفھا نی (کمپانی ) ہیں ۔
اپنے وقت کے بڑے بڑے عرب شعرا ء جیسے ابن رو می ، وا مق نصرانی ، حما نی، تنو خی ، ابو فراس حمدانی، بشنوی کردی ، کشا جم ، نا شی صغیر ،صا حب بن عباد ، مھیار دیلمی ، ابو العلا معر ی ، اقساسی ، ابن عرندس ، ابن عو دی، ابن داغر حلی ، بولس سلامہ مسیحی نے غدیر کے سلسلہ میں اشعار کہے ہیں ۔
شعرائے عرب کے علاوہ فارسی ،اردو اور ترکی زبان کے شعراء نے بھی غدیر کے مطالب کو شعر میں ڈھال کر غدیر کے پیغام کی حفاظت اور اس کو نشر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔
اس بات کی یاد دھانی ضروری ہے کہ بعض شعراء نے داستان غدیر کو بطور مفصل یا مختصر طور پر اشعار میں نظم کیا ہے ان میں سب سے پہلے شاعر حسان بن ثابت ہیں ۔دوسرے بعض شعراء نے غدیر کے فقط حساس مطلب ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَهٰذَا عَلِیٌ مَوْ لَاهُ “کو شعر م یں نظم کر کے غدیر کے پیغام کی حفا ظت کی ہے ایک گروہ نے غدیر کے ادبی اور اعتقادی پہلو کو شعر میں نظم کیا ہے اور جھا ں تک ان سے ممکن ہوا انھوں نے غدیر کے معنوی پہلو کو اشعار میں ڈھال کر ایک شیعہ شخص کی زندگی کو نشاط بخشی ہے کہ جب بھی وہ اشعار پڑہے جا تے ہیں تو ان سے ان کے جسم و روح میں ولایت کی خنکی کا احساس ہو تا ہے ۔
غدیر کے اشعارسے متعلق کتا بوں کی تد وین
بعض مو لفین نے غدیر سے متعلق اشعار کو کتابوں میں جمع کیا ہے اور غدیر کی اس ادبی اسناد کو منظم اور مرتب مجمو عوں کی شکل میں پیش کیا ہے ۔ان میں سے بعض کتا بیں صرف اشعار غدیر سے متعلق ہیں جن میں سے کچھ کتا بوں کے نام ہم ذیل میں پیش کر رہے ہیں :
ا۔الغدیر فی الکتاب والسنة والا دب ،علامہ امینی ۔
۲ ۔شعراء الغدیر ،مو سسة الغدیر بیروت ۔
۳ ۔الغدیر فی الادب الشعبی ،حسین بن حسن بھبھانی ۔
۴ ۔غدیر یات علا مہ امینی ،بر گزیدہ الغدیر ۔
۵ ۔الغدیریة ،شیخ ابراھیم کفعمی ۔
۶ ۔غدیریات ھا دفة ،سید طالب خر سان ۔
۷ ۔غدیر در شعر فا رسی ،سید مصطفےٰ مو سوی گر ما رودی ۔
۸ ۔سرود غدیر ،علا مہ سید احمد اشکو ری ، ۲ جلد ۔
۹ ۔شعراء غدیر از گزشتہ تا امروز ،محمد ھا دی امینی ، ۰ اجلد ۔
۰ ا۔غدیر در شعر فا رسی از کسا ئی مروزی تا شھر یار تبریزی ،محمد صحتی سر درودی ۔
اا۔پا سداران حما سہ غدیر ،پرویز عبا سی ۔
۲ ا۔بیعت با خو رشید ،ادارہ ارشاد خر اسان ۔
۳ ا۔در سا حل غدیر ،احمد احمدی بیر جندی ۔
۴ ا۔گلبانگ غدیر ،محمد مھدی بھداروند ۔
۵ ا۔دریا در غدیر ،ثابت محمو دی ۔
۶ ا۔خطبة الغدیر محمد حسین صغیر اصفھا نی ۔
۷ ا۔خطبہ غدیر خم ،عباس جبروتی قمی ۔
۸ ا۔خطبہ غدیریہ ،عا صی محمد میرزا ۔
۹ ا۔غدیریہ ملا مسیحا ۔
۲۰ ۔غدیریہ ،ملا محمد جعفر ۔
ا ۲ ۔مھر آب خم ،سید علی رضوی ۔
۲۲ ۔یک جر عہ از غدیر ،شعرائے قم ۔
۲۳ ۔صھبا ئے غدیر ،شعرا ئے ہند ۔
۲۴ ۔ترانہ غدیر سید محمد رضا سا جد زید پوری ۔
عصر حا ضر میں شعر غدیر
ہما رے دور میں شعر غدیر نے ادبی پہلو وں سے بڑھکر مخصوص تبلیغی شکل اختیار کر لی ہے اور اس کا مشاہدہ بہت سی کتابوں ،رسالوں ، اخباروں ،ریڈیو ،ٹیلیویزن اور کمپیوٹرکے پروگراموں میں کیا جا سکتا ہے محفلوں میں مدح کی صورت، آڈیواور ویڈیو کیسٹ اور کمپیو ٹر سی ڈی یھاں تک کہ انٹر نیٹ کے ذریعہ نشر کئے جا نے والے پرو گراموں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے جن سے غدیر ی اشعار کو ایک نئی زندگی ملی ہے ۔
ھم کتاب کے اس حصہ میں آپ کی خدمت میں عربی ،فارسی ،اردو اور ترکی ادب میں اعتقاد، ولایت اور ادبی اعتبار سے خاص اہمیت کے حامل اشعارچار حصوں میں پیش کرتے ہیں :
شعر اور ادب عربی
سب سے پہلے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اجازت خود آپ ہی کے حضور حسان بن ثابت کے اشعار پڑہے گئے ان میں سے حساس اشعار مندرجہ ذیل ہیں :( ۱۳۸ )
الم تعلمو ا انَّ النَّبیَّ محمَّداً لدیٰ دَوح خم حین قام منادیاً
فقال لهم من کنت مولاه منکم وکان لقولی حافظاً لیس ناسیاً
فمولاه من بعدی علیّْ وانَّنی به لکم دون البر یَّة راضیاً
ترجمہ :”کیا تم کونہیں معلوم کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم جب مقام خم کے درختوں کے نیچے قیام پذیر ہوئے
تو مسلمانوں سے کہا کہ میں تم میںسے جس کا مولا ہوں اور اسکو میر ی بات یاد بھی رہے
تو اس کو معلوم ہونا چاہئے کہ میرے بعد علی مولا ہیں اور میں مولاکے عنوان سے فقط انہیں سے راضی ہوں کسی اور سے نہیں ۔
معاویہ نے ایک خط میں علیعليهالسلام کے مقابلے میں اپنے افتخارات کا دعویٰ کیا تو مولائے کائنات نے اس خط کے جواب میں اشعار تحریر فرمائے جس میں بعض اشعار غدیر کے بارے میں تھے :( ۱۳۹ )
محمد النبی اخی وصنوی وحمزة سید الشهداء عمّی
واوجب لی ولایته علیکم رسول الله یوم غدیر خم
واوصانی النبی علی اختیار لامّته رضیً منکم بحکمی
الا من شاء فلیومن بهذا والا فلیمُتْ کَمَداً بغمّ
فویل ثم ویل ثم ویل لمن یلقی الاله غداً بظلمی
ترجمہ :”محمد نبی میرے بھائی میں اورحمزہ سیدا الشھداء میرے چچا ہیں ۔
غدیر خم کے مقام پر ۱۸ ذی الحجہ کو رسول خدا نے تم پر مجھ کو اپنی جانب سے حاکم قرار دیا ہے ۔
اور نبی نے مجھ کو اپنی امت کے سلسلہ میں منتخب ہونے کی وصیت کی کیونکہ تم میرے حاکم ہونے پر راضی تھے ۔
آگاہ رہو کہ جس کا دل چاہے وہ اس مطلب پر ایمان لائے ورنہ حسد اور غم کے مارے مرجائے
تو افسوس ہے افسوس ہے افسوس ہے اس شخص پر جو بروز قیامت خدا سے اس حال میں ملاقات کرے کہ مجھ پر ظلم کرچکا ہو ۔
ہناد بن سری کہتا ہے کہ: میں نے حضرت علی علیہ السلام کو ایک شب خواب میں دیکھا تو آپ نے فرمایا :میرے لئے کمیت کے وہ اشعار پڑھو جس میں اس نے کہا ہے کہ:”ویوم الدوح دوح غدیرخم “
میں نے آپ کی خدمت اقدس میں وہ اشعار پڑہے تو آپ نے فرمایا :میرا یہ شعر بھی اس میں اضافہ کرلو :( ۱۴۰ )
ولم ار َمثل ذلک الیوم یوماً ولم ارَ مثله حقاً ا ضیعا
ترجمہ :”میں نے اس دن کی طرح کسی دن کونہیں پایا اور نہ مولائے علی کے حق جیساضائع ہونے والا حق دیکھا۔
جنگ صفین میں امیر المو منین علیہ السلام کے لشکر کے کمانڈرقیس بن سعد بن عبادہ نے آپ کے لئے یہ اشعار پڑہے :( ۱۴۱ )
قلت لما بغی العدوّعلینا حسبنا ربنا و نعم الو کیل
وعلیُّ امامنا وامام لِسِوانا اتی به التنزیل
ومن قال النبی:من کنت مولاه فهذا مولاه خطب جلیل
ترجمہ :”جب ہم پر دشمن نے حملہ کیا تو میں نے کہا کہ ہمارے لئے ہمارا پروردگار کافی ہے ۔اور وہ بہتر ین ضامن ہے ۔
علی علیہ السلام ہمارے امام ہیں اور ہمارے غیروں کے بھی امام ہیں اس سلسلہ میں قرآن کی آیت گواہ ہے ۔
اس سلسلہ میں نبی کا یہ قول بھی اہمیت رکھتا ہے ہے کہ جس کا میں مولا ہو ں اس کے علی بھی مولا ہیں سید باقر رضوی ہندی متوفی ( ۱۳۲۹ ء) کہتے ہیں :
میں نے شب عید غدیر امام زمانہ علیہ السلام کو خواب میں دیکھا کہ آپ بڑے غمگین اور گریہ کررہے تھے ۔میں آپ کی خدمت بابرکت میں پہونچا ،سلام کیا ھاتھوں کا بوسہ لیا لیکن میں نے مشاہدہ کیا کہ آپ متفکر ہیں میں نے عرض کیا میرے مولا یہ ایام تو خو ش ہونے اور عید غدیر کا جشن منانے کے ایام ہیں لیکن میں آپ کو ملول، رنجیدہ خاطر اور گریاں دیکھ رہا ہوں ؟فرمایا :مجہے اپنی جدہ ماجدہ حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کا غم یاد آگیا ہے ۔اس کے بعد آپعليهالسلام نے یہ شعر پڑھا :
لا ترانی اتّخذتُ لا و عُلا ها بعد بیت الا حزان بیت سرور!
ترجمہ :”جناب فاطمہ کے عظیم مرتبہ کی قسم بیت الا حزان کے بعد تم مجھ کو کوئی خوشی کا گھر انتخاب کرتے ہوئے نہیں دیکھوگے ۔
سید باقر کہتے ہیں میںنیند سے بیدار ہوا، غدیر اور مصائب حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کے بارے میںچند اشعار لکہے جن کا کچھ حصہ مندرجہ ذیل ہے :
کلُّ غدر وقول افک وزور هو فرع عن جحد نص الغدیر
یوم اوحی الجلیل یامرطه وهوسارً ان مُر بترک المسیر
حطَّ رحل السری علی غیر ماء وکِلا ،فی الفلا بحرَّ الهجیر
ثمَّ بلَّغهم والا ّفما بلَّغت وحیاً عن اللطیف الخبیر
اقِم المرتضی اماماًعلی الخل ق و نور اًیجلودجی الدیجور
فرقی آخذا ً بکفَّ علیَّ منبراً کان من حدوج وکور
ودعا والملا حضور جمیعاً غَیَّبَ الله رشد هم من حضور
انَّ هذا امیر کم وولیّ ال امربعدی ووارثی ووزیری
هو مولی لکل من کنت مولا هُ من الله فی جمیع الامور
افصبراً یاصاحب الامر والخط ب جلیل یذیب قلب الصبور
وکانّی به یقول ویبکی بسلوَّ نزر و دمع غزیر
لا ترانی اتّخذتُ لا وعُلا ها بعد بیت الا حزان بیت سرور!
فمتیٰ یابن احمد تنشرالطاغوت والجبت قبل یوم النشور
ترجمہ :”ھر طرح کی غداری اور بہتان ،اور جھوٹ روایت غدیر کا انکار کرنے کی وجہ سے ہے ۔
جس دن خداوند جلیل نے رسول گرامی کو وحی کے ذریعہ یہ حکم دیا کہ
بے آب دانہ مقام پر جنگل مےں تپتی دھوپ مےں قافلہ روک دیا جائے یہ اس حال مےں تھا کہ رسول مکہ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے
پھر رسول کو حکم ملا کہ لوگوں تک پیغام الٰہی پہنچا دیجئے ورنہ آپ نے خدا وند لطیف وخبیر کی جانب سے کوئی حکم نہیں پہنچایا ۔
علی مرتضیٰ کو مخلوقات کا امام اور ایسا نور قرار دید یجئے جو تاریکیوں کے اند ھیرے کو ختم کردے اسی وقت رسول کجاووں کے منبر پر مولا ئے کائنات کے ہاتھ کو پکڑ کر تشریف لے گئے
اور دعا کی جبکہ تمام لوک موجود تھے وہ لوک اس طرح کے تھے کہ ہدایت الٰہی سے فیض اٹھا نے سے قاصر تھے ۔
رسول نے فرمایا یہ تمھارے امیر اور میرے بعد تمھارے امور کے ذمہ داروارث اور وزیر ہیں ۔
تمام امور مےں خدا کی جناب سے ہر اس شخص کے مولا ہیں جس کا مےں مولاہوں۔
لہٰذا اے امام زمانہ آپ صبر کیجئے حالانکہ مصیبت اتنی عظیم ہے کہ صابر شخص کے دل کو پگھلادیتی ہے ۔
اس وقت مجھ کو محسوس ہوا گویا ا مام زمانہ شدت سے روتے ہوئے فرمارہے ہیں :
جناب فاطمہ کے عظیم مرتبہ کی قسم بیت الا حزان کے بعد تم مجھ کو کوئی خوشی کا گھر انتخاب کرتے ہوئے نہیں دیکھوگے ۔
اے فرزند رسول قیامت سے پہلے آپ کب سرکشوں کو سزا دیں گے ۔
اب آپ کے بعد مختلف شعراء کے اشعار ملا حظہ فرما ئیں
سید حمیری
وکم قد سمعنا من المصطفی وصایا مخصَّصة فی علیّ
وفی یوم خم رقی منبراً یبلغ الرکب و الرکب لم یرحل
فبَخبَخَ شیخک لمّا رآی عری عقد حیدر لم تحلل
ترجمہ: ”ھم نے مولا ئے کا ئنات کے سلسلہ مےں رسول گرامی سے کتنی زیادہ خصوصی سفارشیں سُنی ہیں
اور غدیر خم کے میدان مےں آپ منبر پر تشریف لے گئے اور وہاں جاکر موجود افراد تک حکم الٰہی پہنچا یا ۔
اس وقت جب تمھارے بزرگ نے دیکھا کہ مولا ئے کائنات کے عقدوں کو کھلتے ہو ئے نہیں دیکھا تو مبارک بادپیش کی ۔
ابن رومی
قال النبی له مقالاًلم یکن یوم الغدیر لسامعیه مُجمجماً
من کنت مولاه ف ه ذا مول ی له مثل ی واصبح بالفخار متوّجاً
ترجمہ :”نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم نے غدیر کے میدان مےں علیعليهالسلام کے متعلق ایک ایسی بات کھی جو سامعین کےلئے مبھم نہ تھی ۔
آپ نے فرمایا جس جس کا مےں مولاہو ں اس کے علی بھی مولا ہیں چنانچہ آپ کے سرپر فخر کا تاج پہنا دیا گیا ۔
شریف رضی
غدر السرور بنا وکان وفاوه یوم الغدیر
یوم اطاف به الوص ی وقد تلقّب بالامیر
فتسلّ فیه وردَّعا ریة الغرام الی المعیر
ترجمہ :”خوشی نے ہم سے بے رخی کی اور وفاداری غدیر کے دن کی ۔
جس دن میدان غدیر مےں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وصی علیعليهالسلام پہنچے
لہٰذا غدیر کے دن اپنا غم دور کرو اور آسودہ خاطر ہوکر رہو ۔
سید مر تضیٰ
لله درّ یوم ما اشرفا ودرّ ما کان به ا عرفا
ساق الینا فیه ربّ العلی ماامرض الاعداء او اتلفا
ترجمہ :”اور غدیر کا کیا کہنا اس کے شر ف کا کیا کہنا اور اس مےں پہچنوائی جانے والی ھستی کا کیا کہنا۔
اس دن پر وردگار عالم نے ہم کو ایسی خوشی تحفہ مےں دی جس کی وجہ سے دشمن یا بیمار پڑگئے یا نابود ہوگئے ۔
مھیار دیلمی
واسا لهم یوم خم بعد ما عقدوا له الو لایة لِمَ َ خانوا ولِمََ خَلَعوا
قول صحیح ونیّات بها نَفَل لاینفع السیف صقل نحته طبع
انکار هم یاامیرالمومنین لها بعد اعترافهم عاربه ادّر عوا
ترجمہ :”ذرا ان سے پو چھو توکہ جب وہ غدیرمےں علی سے ولایت کاعھد کرچکے تھے توکیوں خیانت کی اور علی کو منصب خلافت سے کیوں دور کردیا ۔
اے مولا ئے کائنات اقرار کے بعد منکر ولایت ہوجانا باعث ننگ دعارہے جسکو انھوں نے سپر قرار دے رکھاہے ۔
فنجکر دی
لا تنکرنَّ غدیر خمّ انّه کا لشمس فی اشراقها بل اظهر
ماکان معروفاً باسناد الی خیر البر ایا احمد لا یُنکر
فیه امامة حیدر وکماله وجلاله حتی القیامة یذکر
ترجمہ :”خبر دارکبھی غدیر خم کا انکار نہ کرنا کیو نکہ غدیر خم درخشند گی مےںسورج کے مانند بلکہ اس سے بھی زیادہ رو شن ہے ۔
جو واقعہ بہترین مخلوق محمد مصطفٰے کی جانب بہت سی اسناد کے ذریعہ مشہور ہواس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔
اس مےں مولا ئے کائنات کی امامت مستقرہوگی اور قیامت تک آپ کے کمال اور جلال کا ذکر کیا جائیگا
ابو محمد حلّی
واذا نظرت الی خطاب محمد یوم الغدیر اذاستقرالمنزل
من کنت مولاه فهذاحیدر مولاه لایر تاب فیه محصّل
لعرفتَ نصّ المصطفی بخلافة من بعده غرّاء لایتاوَّل
ترجمہ :”جب کا روا ن ٹھھر نے کے وقت غدیر میں رسول کے اس خطاب کی طرف آپ توجہ کریں گے کہ میں جس کا میں مو لا ہوں اس کے یہ علی بھی مو لا ہیں ۔
تو آپ کو معلوم ہوجا ئیگا کہ رسول نے جو اپنے بعد علی کی خلافت کی بات کھی ہے وہ بہت روشن ہے اور اس کی تاویل نہیں کی جا سکتی ہے ۔
ابو عبداللہ خصیبی
انَّ یوم الغدیریوم سرور بیَّن الله فیه فضل الغدیر
وحباخمّ با لجلالة والتف ضیل والتحفة التی فی الحبور
یوم نادی محمد فی جمیع ال خلق اذقال مفصح التخییر
قائلا للجمیع من فوق دوح جمعوه لامره المقدور
فصدد تم عنه ولم تستجیبوا وتعرَّضتم لافک وزور
ثم قلتم قد قال :من کنت مولاه فهذا مولاه غیر نکیر
ترجمہ :”غدیر کا دن یقیناً خوشی کا دن ہے اس میں خدوند عالم نے غدیر کی فضیلت کا تذکرہ فرمایا ہے
اور غدیر خم کو جلالت ،فضیلت اور تحفہ بخشا ہے جو دانشمندوں سے مخصوص ہے ۔
جس دن رسول نے تمام مخلوقات کو مخاطب کیا اور آپ نے یہ خطاب بڑے بڑے درختوں کے نیچے سے کیا ۔
لیکن تم نے ان کی بات نہ مانی اور جھوٹ و بہتان کا سھارا لیا ۔
پھر تم نے کہا کہ رسول نے فرمایا ہے کہ جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی بھی مولا ہیں ۔
ناشی صغیر
وصارمه کبیعته بخمًّ معاقدها من القوم الرقاب
علیّ الدّر والذهب المصفّی وباقی الناس کلهم تراب
ترجمہ :”غدیر خم میں حضرت علی علیہ السلام کی تلوار آپ کی بیعت کی طرح ہے کہ جس طرح تلوار گردنوں پر پڑتی تھی اسی طرح یہ بیعت ان کی گردنوں میں آگئی ۔
علیعليهالسلام موتی اور خالص سونا ہیں اور باقی لوگ مٹی کی طرح بے حیثیت ہیں ۔
بولس سلامہ مسیحی
عاد من حجة الو داع الخطیر ولفیف الحجیج موج بحور
لجة خلف کا نتشار الغیم صبحاً فی الفدفد المغمور
بلغ العائدون بطحاء خمًّ فکانَّ الرکبان فی التنور
عرفوه غدیر خم و لیس الغ ور الاّ ثمالة من غدیر
جاء جبریل قائلاً :یا نبی الله بلَّغ کلام ربّ مجیر
انت فی عصمة من الناس فانثر بینات السماء للجمهور
واذِعها رسالة الله وحیاً سر مدیاً و حجة للعصور
مادعاهم طه لامریسیر وصعید البطحا ء وهج حرور
وارتقی منبرالحدا ئج طه یشهرالسمع للکلام الکبیر
ایهاالناس انما الله مو لا کم و مو لا ی نا صری و مجیری
ثم انی ولیُّکم منذ کان الدهر طفلاًحتی زوال الدهور
یاالهی من کنت مو لاه حقاً فعلیٌ مو لاه غیر نکیر
یاالهی وال ِ الذین یوالوان ابن عمی وانصرحلیف نصیری
کن عدوّاً لمن یعا دیه واخذل کل نکس وخاذل شریر
قالهاآخذاًبضبع علی رافعاًساعد الهمام الهصور
لاح شَعر الابطین عند اغتناق الزند للزند فی المقام الشهیر
بثَّ طه مقاله فی علی واضحاًکالنهار دون ستور
لامجازولاغموض ولبس یستحثّ الا فهام للتفسیر
فا تاه المهنَّؤ ن عیون القوم یبدون آیة التو قیر
جاء ه الصا حبان یبتدران القول طلاّ علی حقاق العبیر
بتَّ مولی للمو منین هنیئاً للمیامین بالامام الجدیر
هنّا ته ازواج احمد یتلوهنَّ رتل من الجمیع الغفیر
عیدک العید یا علی فان یص مت حسود اوطا مس للبدور
ترجمہ :”عظیم المرتبت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم حجة الوداع سے واپس ہوئے جبکہ حاجیوں کا مجمع ٹھاٹہیں مار رھاتھا ۔
مجمع بہت زیادہ پانی کی طرح تھا لگ رھاتھا جیسے صبح کے وقت
حج سے لوٹنے والے وادی خم میں پہونچے لگ رھاتھا گویا وہ لوگ تنور میں پہونچ گئے ہیں ۔
انھوں نے اس جگہ کو غدیر خم کے نام سے پہچانا
جبرئیل نے آکر نبی سے کہا اے نبی خدا ،خدا کا پیغام پہونچا دیجئے
آپ لوگوں کے شر سے محفوظ رہیں گے لہٰذا آسمانی پیغام لوگوں تک پہونچا دیجئے ۔
اس پیغام کو پہونچا دیجئے تاکہ یہ پیغام آنے والے زمانوں کیلئے حمیت رہے ۔
پیغمبر نے ان کو ایک آسان امر کیلئے دعوت نہیں دی جبکہ سر زمین غدیر دھوپ سے تپ رہی تھی ۔
رسول کجاووں کے منبر پر تشریف لے گئے تا کہ پورا مجمع ان کا کلام سن سکے۔
لوگو! بیشک اللہ تمھارا اور میرا مولا و مددگار ہے اور مجہے پناہ دینے والا ہے ۔
پھر اس کے بعد میں بچگی سے لیکر قیامت تک تمھارا ولی ہوں ۔
بار الٰھا جس کا میں حقیقی مو لا ہوں یقیناً علی بھی اس کے مو لا ہیں ۔
بار الٰھا جو میرے چچا زاد بھا ئی سے محبت کرے تو بھی اس سے محبت کر اور جو ان کی مدد کرے تو بھی اس کی مدد کر ۔
جو ان سے دشمنی کرے تو بھی اس سے دشمنی رکھ اور ہر رسوا کرنے والے کو رسوا کردے ۔
آپ نے مولائے کا ئنات کا بازو پکڑ کر اس حال میں کہا کہ آپ کی سفیدی بغل نمودار تھی۔
آپ نے مولائے کائنات کے سلسلہ میں یہ بات روز روشن کی طرح واضح طور پرکھی۔
مجاز گو ئی اور پیچید گی کا استعمال نہیں کیا کہ سمجھنے والوں کو دشواری کا سامنا ہوتا ۔
اس وقت مبارکباد پیش کرنے والے قوم کے نمایاں افراد آپ کے پاس تہنیت پیش کرنے آئے ۔
ابو بکر اور عمر بھی تیزی سے آپ کے پاس مبارکباد پیش کرنے کے لئے آئے ۔
مو لائے کائنات مو منین کے مولا ہو گئے لائق امام کے ذریعہ برکت پانے والوں کا کیا کہنا
آپ کو ازواج نبی نے بھی مبارکباد پیش کی اس کے بعد جم غفیر نے بھی مبارکباد پیش کی
اے علیعليهالسلام آپ کی عید عید ہے اس مو قع پر حسد رکھنے والا ہی خا موش ہوگا یا چاند کو بے نور سمجھنے والا ہی آپ کی ولایت کا انکار کرے گا ۔
معرو ف عبد الجید مصری
وُلّیتَ فی یوم الغدیر بآ یة شهدالحجیج بها ،فکیف تووَّل؟
انت الو لیُّ،ومن سواک معطّل عنها ،واجماع السقیفةبا طل
فا ذا اتی یوم الغدیر تنزَّلت آیات ربَّک کا لنجوم اللمّعِ
قم یامحمد انّها لرسا لة ان لم تبلّغها فلست بصادع ِ
وقف الرسول مبلَّغاًومنادیا ً فی حجة التودیع بین الاربُعِ
و ا بو تراب فی جوارالمصطفیٰ طلق المحیّا کا لهلال الطالعِ
رفع النبیّ ید الوصیّ وقال فی مرا یٰ من الجمع الغفیر و مسمعِ
”من کُنت مولاه فهٰذا المر تضیٰ مولی له “فبخٍ بخٍ لسمیدعِ!
وسَعَت جموعُ الناس نحوامیرها مابین مقطوع الرجا ،و مبا یعِ!
وصیّ بها مو سی، و هذا احمدٌ وصیّ اخا ه،فذلَّ من لم یبخعِ !!
ترجمہ :”غدیر کے دن آپ ایسے عھدے کے ذمہ دار قرار دئے گئے جس کا حجاج نے مشاہدہ کیا تو بھلا اس کی کیسے تاویل ممکن ہے ؟!
آپ ولی ہیں آپ کے علاوہ سب ولایت سے در کنار ہیں اور سقیفہ کا اجماع باطل ہے ۔
تو جب غدیر کا دن آیا تو آپ کے پروردگار کی آیات درخشاں ستاروں کی طرح نازل ہوئیں ۔
اے محمد آپ کھڑے ہو جائیے کیونکہ یہ ایسا پیغام ہے کہ اگر آپ نے اس کو نہیں پہونچایا تو گویا رسالت کا کو ئی کام ہی انجام نہیں دیا ۔
اس وقت رسول حجة الوداع کے مو قع پر اس حالت میں حکم الٰہی کی تبلیغ کے لئے کھڑے ہوئے آ پ کے پہلو میں مو لائے کا ئنات تھے ۔
آپ نے مو لائے کائنات کا ہاتھ اٹھاکر مجمع کے سامنے کھا
جس جس کا میں مو لا ہوں اس کے یہ علی مو لا ہیں اس سردار کو ولایت مبارک ہو ۔
لوگوں کا مجمع اپنے امیر کی طرف بڑھنے لگا کچھ لوگوں کی اس ولایت کے ذریعہ امیدیں ٹوٹ گئی تھیں اور کچھ نے دل سے بیعت کی تھی ۔
اس ولایت کے سلسلہ میں مو سیٰ نے بھی وصیت کی تھی اور یھاں پیغمبر نے اپنے بھائی کو وصیت کی تو اس کا انکار کرنے والا ذلیل ہے ۔
معروف عبد المجید مصری کا ایک ادبی شہ پارہ :
واختزنت ذاکرةُ العالمِ
احداثَ الیوم الموعودِ
لتشهدهاالاجیالُ
و یفطنَ مغزاهاالحکماء
و تد لَّت من اغصان الغرقَد
حبّاتُ ند یً فضّیًّ
و قفت تقطفهاالزهراء
هی ذی اودیة سالت لعلیًّ
بالوحی علی البطحا ء
فاندثرت ا حلام قریشٍ
وتلاشت محضَ هبائ
ویقال بانّک الماموربتبلیغ التنزیل
افترش الصحراء
وجمع وفودالرحمٰن
عن شطآن غدیرالوعی
وآخذبیدک ونادی :
من کنت انامولاه فهذامولاه
ذیل میں ایک ادبی قطعہ معروف عبد المجید مصری سے ملا حظہ فر مائیے :
دنیا کے ذہن میں اس یوم مو عود کے واقعہ محفوظ ہیں تا کہ نسلیں اس کی گواہ رہیں اور حکماء اس کے مفہوم کی طرف متوجہ رہیں ۔
درخت کی شاخوں پر چاندی جیسی شبنم کے قطرے آویزاں تھے
جن کو جناب فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کھڑی ہو کر چُن رہی تھیں
یہ شبنم کے قطرے ایسی وادی رکھتے تھے
جو علی کے لئے غدیر کے مقام پر وحی کے ذریعہ جاری ہو ئیں ۔
اس وقت قریش کے خواب ٹوٹ گئے
اور بکھرے ہوئے ذروں کی طرح پھیل گئے ۔
اس وقت رسول سے کہا جا رہا تھا کہ آپ کی ذمہ داری پیغام الٰہی کو پہونچانا ہے
بیابان لوگوں سے پُر ہو گیا
خدا وند عالم کے وفد اکٹھا ہو گئے ۔
تاکہ غدیر کا پیغام سنیں
رسول نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر آواز دی
جس کا میں مو لا ہوں اس کے یہ علی بھی مو لا ہیں ۔
سب سے پہلے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حضور میں جو اشعار پڑہے گئے وہ حسان بن ثابت کے اشعار ہیں کہ جن کی حساس بیت یہ ہے :( ۱۴۲ )
شعروادب فارسی
نظیری نیشاپوری
قسم بہ جان تو ای عشق ای تمامیِ ھست
کہ ھست ھستیِ ماازخمِ غدیرِتومَست
در آن خجستہ غدیرتودیددشمن ودوست
کہ آ فتاب بودآفتاب برسرِدست
فرازمنبر یوم الغدیراین رمزاست
کہ سرزجیب محمدعلی برآوردہ
حدیث لحمک لحمی بیان این معناست
کہ برلسان مبارک پیمبرآوردہ
”اے وجود کامل اے عشق تیری جان کی قسم کہ ہماری ھستی تیرے غدیر کے خم سے مست ہے ۔
تیرے اس خجستہ اور مبارک غدیر میں دشمن اور دوست نے دیکھاکہ ایک آفتاب دوسرے آفتاب کے ھاتھوں پرتھا۔
یوم الغدیر کے منبر کے اوپر یہ راز ہے کہ محمد کے وجود سے علی نکلے ۔
حدیث” لحمک لحمی“ اس معنی کی بیان گر ہے کہ جس کو نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی زبان پر جاری کیا“
محمدجوادغفورزادہ(شفق)
جلوہ گرشدباردیگرطورسینادرغدیر
ریخت از خم ولایت می بہ مینادرغدیر
رودھابایکدگرپیوست کم کم سیل شد
موج می زدسیل مردم مثل دریادرغدیر
ھدیہ جبریل بود<الیوم اَکمَلْتُُ لَکُم >
وحی آ مددرمبارک بادمولی درغدیر
باوجودفیض<اَتْمَمتُ عَلَیکم نعمَتی >
ازنزول وحی غوغابودغوغادرغدیر
برسردست نبی ہر کس علی رادیدگفت
آفتاب وماہ زیبابودزیبادرغدیر
برلبش گلواژہ<مَنْ کُنْتُ مَولا >تانشست
گلبن پاک ولایت شدشکوفادرغدیر
(برکہ خور شید)درتاریخ نامی آشناست
شیعہ جو شیدہ ست ازآن تاریخ آنجادرغدیر
گرچہ درآن لحظہ شیرین کسی باورنداشت
می توان انکاردر یاکردحتی درغدیر
باغبان وحی می دانست ازروزنخست
عمرکوتاھی ست درلبخندگلھادرغدیر
دیدہ ھادرحسرت یک قطرہ ازآن چشمہ ماند
این زلال معرفت خشکیدآیادرغدیر؟
دل درون سینہ ھا در تاب وتب بود ای دریغ
کس نمی داند چہ حالی داشت زھرا درغدیر
” غدیر میں ایک بار پھر طور سینا متجلی ہوگیاغدیر میںخم ولایت سے مینا میں شراب گری
دریا ایک دوسرے سے مل گئے اور رفتہ رفتہ سیلاب بن گئے غدیر میں لوگوں کا سیلاب دریا کی طرح مو جیں مار رھاتھا۔
غدیر میں جبرئیل کا ھدیہ ”الیوم اکملت لکم دینکم “تھاغدیر میں مولائے کائنات کو مبارکباد پیش کرنے کے لئے وحی نازل ہوئی۔
”اتممت علیکم نعمتی “نبی کے فیض ِ وجود کی بناپرغدیر میں بہت شور وغل تھا۔
نبی کے ھاتھوں پرجس نے بھی علی کو دیکھا اس نے کھاغدیر میں آفتاب و ماہتاب نھایت ہی خوبصورت تھے ۔
حضور لب مبارک پر جیسے ہی ”من کنت مو لاہ “آیاغدیر میں ولایت کا چمن کھل اٹھا۔
تاریخ میں خورشید کا تالاب آشنا نام ہے وہاں غدیر میں اس سے شیعہ وجود میں آئے ہیں ۔
اگرچہ اس شیرین لمحہ میں کسی کو یقین نہیں تھا کہ غدیر میں بھی دریا کا انکار کیا جا سکتا ہے ۔
غدیر میں وحی کا باغبان پہلے دن سے ہی جانتا تھا کہ غدیر میں پھولوں کی مسکراہٹ کی عمر مختصر ہے
اس چشمہ کی ایک بوند کی حسرت میںآنکہیں کھلی رہیں کیا غدیرمیں یہ معرفت کا چشمہ زلال خشک ہوگیا۔
بیشک سینوں کے اندر دل بے چین تھے کہ کسی کو نہیں معلوم کہ غدیرمیںجناب فاطمہصلىاللهعليهوآلهوسلم کی کیا حالت تھی ؟“
سید رضا موید :
از ولا یتعھدی حیدرخدا تاج شرف
باردیگر بر سر زھرا ی اطھر می زند
در حریم ناز وعصمت زین ھمایون افتخار
فاطمہ لبخندبرسیمای شوھرمیزند
این بشارت دوستان راجان دیگر می دھد
دشمنان را این خبر ،بر قلب خنجر می زند
باز تابید از افق روز درخشانِ غدیر
شد فضا سر شار عطرِگل زبستان غدیر
موج زددریای رحمت در بیابان غدیر
چشمہ ھای نو رجاری شد زدامان غدیر
شد غدیر خم تجلیگاہ انوار خدا
تا در آنجا جلوہ گر شد نور مِصباحُ الھُدا
آفرینش را بُوَد بر سوی آن سامان نگاہ
ماسوی اللّٰہ منتظر تا چیست فرمان اِلہ
ناگھان خَتمِ رُسُل آن آفتاب دین پناہ
بر فراز دست می گیردعلی را ھمچو ماہ
تا شناساند بہ مردم آن ولی اللّٰہ را
والِ مَن والا ہ خواند ،عادِمَن عادہ را
ای غدیر خم کہ ھستی روز بیعت باامام
بر تو ای روز امامت از ھمہ امت سلام
از تو مُحکم شد شریعت ،وز تو نعمت شد تمام
مابہ یاد آن مبارک روز و آن زیبا پیام
ازوِلای مُرتضی دل را چراغان می کنیم
بار علی بار دگر تجدید پیمان می کنیم
خط سُرخی کز غدیر خم پیمبر باز کرد
باب رحمت را از اول تا آخر باز کرد
بر جھان ما سوی حق را ہ دیگر باز کرد
از بھشت آرزوھا بر بشر دَر باز کرد
از غدیر خم کمالِ شرع پیغمبر شدہ است
مُھر این فرمان بہ خون مُحسن و اصغر شدہ است
این خدائی روز ،بر شیر خدا تبریک باد
بر تمام اَنبیا واولیا تبریک باد
یا امام العصر این شادی تو را تبریک باد
چھاردہ قرن امامت بر شما تبریک باد
سینہ ھا از داغ ھِجران داغدارت تابہ کِی
چون(مو ی د) شیعیان در انتظارات تابہ کِی
”خدا نے حیدر کی ولایت عھدی کاتاج شرف دوسری مرتبہ زھرائے اطھر کے سر پر رکھا
اس قابل فخر کی ھستی کی بنا پرحریم عصمت میںفاطمہصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے شوھر نامدار کے چھرے کو دیکھ کر مسکراتی ہیں
یہ بشارت دوستوں کا حو صلہ بڑھا تی ہے اور اس خبر سے دشمنوں کے دل پرخنجر لگتا ہے ۔
زمین سے دوبارہ غدیر کا چمکتا ہوا دن نکلابوستان غدیرکے پھول سے فضا معطر ہو گئی
صحرائے غدیر میں دریائے رحمت موج مارنے لگاغدیر کے دامن سے نورکے چشمے بہنے لگے
غدیر خم انوار خدا کی تجلی گاہ بن گیایھاں تک کہ وہاں سے مصباح الھدیٰ کا نور جلوہ گر ہو گیا
خدا کے علاوہ خلقت کی نگاہ اس طرف تھی سب منتظر تھے کہ خدا کا فرمان کیا ہے ؟ناگھاں خاتم الانبیاء چاند کی طرح علی کو ھاتھوں پر اٹھایا۔
تاکہ لوگوں کو اس ولی اللہ کا تعارف کرائیں اور وال من والاہ اور عاد من عاداہ کہیں
اے غدیر خم امام کی بیعت کے دن تیرا کیا کہنااے روز امامت ساری امت کا تجہے سلام
تیری بنا پر شریعت محکم ہوئی اور نعمت کا مل ہوئی ھم
اس مبارک دن اورنیک پیام کی یاد میں
علی مرتضیٰ کی محبت کی بنا پردل کو چراغاں کرتے ہیں
علی کے ساتھ دوبارہ تجدید عہد کرتے ہیں ۔
”غدیر خم سے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جو سرخ راستہ کھولاتو گویا ابتدا سے انتھا تک باب رحمت کھول دیا
ھمارے دنیا کے لئے حق کی جانب ایک اور راستہ کھول دیا
لوگوں کے لئے جنت کی امیدوں کا ایک اور راستہ کھول دیا
غدیر خم سے پیغمبر کی شریعت کا مل ہوئی ہے
اس دستاویز کی مھر جناب محسن اور علی اصغرعليهالسلام کے خون سے لگی ہے
یہ خدائی دن شیر خدا کو مبارک ہو
اے امامت کی چودہ صدیوں تم کو مبارک ہو
تمھارے سینے کب تک داغ حجراں سے داغدار رہیں گے
مو ی د کی طرح شیعہ تیرے انتظار میں کب تک رہیں گے “
مصطفی محدّثی خراسانی
ملتھب درکنار برکہ روح تاریخ پیر منتظر است
دست خور شید تانھد دردست آسمان در غدیر منتظر است
برسر آسمانی آن ظھر آیہ ھای شکوہ نازل شد
مژدہ دادند آیہ ھای شکوہ دین احمد تمام کامل شد
ایک حوض کے کنارے تاریخ کی بے چین روح منتظر ہے تاکہ آسمان غدیر ہاتھ میں خورشید کا ہاتھ رکھ دے
پس دور پھر میں با شکوہ آیات نازل ہوئیں
باعظمت آیات نے خو شخبری دی کہ دین کامل ہوگیا
حاج غلامر ضا ساز گار
غدیر عیدھمہ عُم رباعل ی بودن غدیر آینہ دارعلی ولی اللہ ست
غدیر حاصل تبلیغ انبیا ھمہ عمر غدیر نقش ولای علی بہ سینہ ماست
غدیر یک سند زندہ یک حقیقت محض غدیر ازدل تنگ رسول عقدہ گشاست
غدیر صفحہ تاریخ وال من والاہ غدیر آیہ توبیخ عاد من عادست
ھنوز لالہ (اکملت دینکم )روید ھنوز طوطی (اتممت نعمتی )گویاست
ھنوز خواجہ لولاک رانِداست بلند کہ ھرکہ راکہ پیمبر منم علی مولاست
بگوکہ خصم شودمنکر غدیرچہ باک کہ آفتاب بہ ھرسو نظرکنی پیداست
چوعمر صاعقہ کوتاہ باد دورانش خلافتی کہ دوامش بہ کشتن زھراست
”غدیر ساری زندگی علی کے ساتھ رہنے کی عید ہے غدیر علی ولی اللہ کی آئینہ دار ہے
غدیر انبیاء کی ساری عمر تبلیغ کا نتیجہ ہے غدیر ہمارے سینوں پر علی کی ولایت کا نقش ہے
غدیر ایک زندہ سنداور ایک خالص حقیقت ہے غدیر رسول کے پریشان دل کا عقدہ کھولتی ہے
غدیر وال من والاہ کی تاریخ کا صفحہ ہے غدیر عاد من عاداہ کی مذمت کی آیت ہے
ابھی” اکملت دینکم “کا پھول اگتا ہے ابھی ”اتممت نعمتی“ کی صدا بلند ہے
ابھی سید لولاک کی صدا بلند ہے کہ جس کا میں پیغمبر ہوں علی اس کے مولا ہیں
کھدو اگر دشمن غدیر کا انکار کردے تو کیا ڈر کیونکہ ہر طرف آفتاب نظر آئے گا
اس خلافت کا زمانہ بجلی کی مدت کی طرح مختصر ہو جائے جس کی بقا سید ہ کونین کو شھید کرنے کے ذریعہ ہے
دکتریحیی حدّادی ابیانہ
ستارہ سحر از صبح انتظار دمید
غدیر از نفس رحمت بھار چکید
گرفت دست قدر،رایت شفق بر دوش
زمین بہ حکم قضا آب زندگی نوشید
برآسمان سعادت ز مشرق ھستی
سپیدہ داد نویدِ تولدِ خورشید
بہ باغ ،بلبل شوریدہ رفت بر منبر چو از نسیم صبا بوی عشق یار شنید
زخویش رفتہ ،نواخوان عشق بود وسرود
بہ بانگ زیر وبم،اسرار خطبہ توحید
فتاد غلغلہ در باغ و شورشی انگیخت
کہ خیل غنچہ شکفت وبہ روی او خندید
ھوا زعطر گلاب محمدی مشحون
زمین بہ عترت وآل رسول بست امید
رسول،سدرہ نشین شد ،علی بہ صدر نشست
پیِ تکامل دینش خدای کعبہ گزید
گرفت پرچم اسلام را علی در دست
از این گزیدہ زمین وزمان بہ خود بالید
بہ یُمنِ فیضِ ولایت شراب خمّ اَلَست
بہ عشق آل علی از غدیر خم جوشید
”صبح انتظار سے ستارہ چمکا غدیر رحمت بھار کے سانس سے ظاہر ہوئی
شفق کے پرچم کو قدر کے ھاتھوں نے دوش پر اٹھایا زمین نے قضا کے حکم سے آب حیات پیا
آسمان سعادت پرمشرق وجود سے خورشید کے طلوع ہونے کی خبر سپیدہ صبح نے دی
بلبل باغ میں منبر پر اس وقت گئی جب اس نے نسیم صبا کے عشق یار کی خوشبو سونگھی
عشق کا نوا خواں بے ہوش ہو گیا تھا اور اس نے با آواز بلند خطبہ تو حید کے اسرار پڑھ کر سنائے
باغ میں شور مچ گیاکلیاں کھل کھلاکر مسکرا اٹہیں
فضا گلاب محمدی کے عطر سے معطر ہو گئی زمین نے آل محمد سے امید لگا ئی
رسول سدرة المنتھیٰ پر بیٹھ گئے علی صدر نشین ہو گئے
خدائے کعبہ نے اپنا دین کا مل کر لیا
علی نے پرچم اسلام کو ہاتھ میں پکڑ لیا اس انتخاب سے زمین و زمان پھولے نہ سمائے
فیض ولایت کی برکت سے ”اَلَسْتُ “کے خم ک ی شراب آل علی کے عشق میںجوش مارنے لگی “
محمد علی سالا ری
سر زد از دوش پیمبر ،ماہ در شام غدیر
تا کہ جبرائیل او را داد پیغام غدیر
مژدہ داد او را ز ذات حق کہ بافرمان خویش
نخل ھستی بارو بر آرد در ایام غدیر
دین خود را کن مکمَّل با ولا ی مرتضیٰ
خوف تاکی باید از فرمان و اعلا م غدیر
می شود مست ولای مرتضیٰ،از خود جدا
ھرکہ نوشد جرعہ ای از بادہ جام غدیر
شد بپا ھنگامہ ای درآسمان ودر زمین
تا ولایت شد علی را ثبت ،ھنگام غدیر
شور شوقی شد در آن صحرای سوزان حجاز
مرغ اقبال آمد وبنشست بر بام غدیر
عشق مولا در دلم از زاد روز من نشست
جبینم حک بود تا مرگ خود نام غدیر
” دوش پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے شام غدیر میںچاند چمکا یھاں تک کہ جبرئیل نے حضور کوپیغام غدیر پہونچایا
خدا کی جانب سے حضور کے لئے خوشخبری دی کہ اپنے حکم سے کہ تم میوہ دار درخت خرما ہو جس کے پھل ایام غدیر میں نکلیں گے
ولائے مرتضیٰ سے اپنا دین مکمل کرو اعلان غدیر کرنے سے کب تک ڈرتے رہوگے
ولائے مرتضیٰ میں مست انسان خود سے بے خود ہو جاتا ہے جو بھی جام غدیر کا ایک گھونٹ پی لیتا ہے
آسمان و زمین میں ایک ہنگامہ ہو گیا یھاں تک کہ غدیر کے وقت علی کی ولایت ثبت ہو گئی
حجاز کے اس تپتے صحرا میں ایک جوش و ولولہ پیدا ہو گیا قسمت کا پرندہ بام غدیر پرآکر بیٹھ گیا
میرے دل میں مو لائے کا ئنات کا عشق میری ولادت کے دن سے ہی بیٹھ گیامیری پیشا نی پر مرتے دم تک غدیر کا نام کندہ رہے گا “
محمود شاھرخی
بہ کا م دھر چشاندی مِیی ز خم غدیر
کہ شورو جوشش آن در رگ زمان جاری است
زچشمہ سارو لای تو ای خلا صہ لطف
بہ جو یبار زمان فیض جاودان جاری است
”تم نے زمانہ کو غدیر خم کی شراب چکھا دی جس کا جوش زمانہ کی رگ میں جاری ہے
اے خلاصہ لطف تیری ولایت کے چشمہ سے زمانہ کی نھر کی جا نب ھمیشگی فیض جا ری ہے “
حکیم ناصر خسرو
بیا ویزد آن کس بہ غدر خدا ی کہ بگریزد از عہد روز غدیر
چہ گوئی بہ محشر اگر پرسدت از آن عہد محکم شبر یا شبیر
”جوشخص عہد غدیر سے فرار اختیار کرے گا وہ خداکے عذاب میں مبتلا ہوگا
اگر تم سے اس شبیر و شبر کے محکم عہد کے بارے میں سوال کیا جائے تو تم کیا جواب دوگے “
طائی شمیرانی
سائباں با ور نکردم مہ شود بر آفتاب تا ندیدم بر فراز دست احمد بو تراب
آری آری ماہ بر خو رشید گردد سا ئباں مصطفےٰ گر آفتاب آید علی گر ما ھتاب
”مجہے یقین نہیں آیا کہ سورج کے اوپرچاند کا سایہ ہو سکتا ہے جب تک میں نے احمد کے ھاتھوں پرابو تراب کو نہیں دیکھا تھا ۔
ھاں ،ھاں چاند خورشید کے لئے سائبان بن سکتا ہے اگر مصطفےٰ آفتاب ہوں اور علی ما ہتاب“
طاھرہ مو سوی گرما رودی
ای شرف اہل ولایت ،غدیر بر کہ سر شار ہدایت ،غدیر
زمزم و کو ثر زتو کی بہتر ند آبرو ی خویش زتو می خرند
این کہ کند زندہ ھمہ چیز آب ز آب غدیر است نہ از ہر سراب
از ازل این بر کہ بجا بودہ است آینہ لطف خدا بودہ است
”اے اہل ولایت کے شرف غدیر ہدایت کے سرشار حوض غدیر
زمزم و کوثر تجھ سے کب بہتر ہیں اپنی آبرو تجھ سے خریدتے ہیں
یہ جو کہتے ہیں کہ پانی تمام چیزوں کو زندہ کرتا ہے اس سے مراد آب غدیر ہے نہ ہر سراب
یہ حوض ازل سے قائم تھاآئینہ لطف خدا تھا “
مکرم اصفھا نی
اندیشہ مکن زانکہ کند و سوسہ خناس
در باب علی یعصمک اللہ من الناس
باید بشناسانیش امرو ز بہ نشناس
بازار خَزَف بشکنی از حُقّہ الماس
حق را کنی آنگو نہ کہ حق گفت مد لّل
”خیال بد مت کروکیونکہ خناس وسوسہ کرتا ہے
علی کے سلسلہ میں خدا تم کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکہے گا
آج تم ان کا نا جاننے والوں کے سامنے تعارف کرادو
اینٹ ،پتھر اور الماس میں فرق ڈالو
جس طرح خدا نے کہا ہے حق کو دلیل کے ساتھ ثابت کرو
خو شدل کرما نشاھی
در غدیر خم نبی خشت از سر خم بر گرفت
خشت از خم ولا ی ساقی کو ثر گرفت
از خم خمر خلافت در غدیر خم بلی
ساقی کو ثر ز دست مصطفی ساغر گرفت
غدیر خم میں نبی نے خم سے اینٹ لی
ساقی کو ثر کی ولایت کے لئے خم سے اینٹ لی
بلیٰ کے غدیر خم میںخلافت کی شرافت کے خم سے
ساقی کو ثر نے مصطفےٰ کے ہاتھ سے ساغر لیا
یو سف علی میر شکاک
ماہ صد آئینہ دارد نیمہ شبھا در غدیر
روز ھا می گسترد خورشید ،خود را بر غدیر
پیش چشم آسمان ،پیشانی باز علی
آفتاب روی زھرا در پس معجر غدیر
”غدیر میں آدھی رات کے وقت چاند کے سو آئینے ہوتے ہیں
خورشید خود کو پورے دن غدیر کے اوپرتاباں رکھتاہے
آسمان کی نگاہوں کے سامنے علی کی کھلی ہو ئی پیشا نی
غدیر کے بعد گویا جناب فاطمہ زھرا َ کے چھرے کا آفتاب ہے “
سید مصطفی مو سوی گرما رودی
گلِ ہمیشہ بھار غدیر آمدہ است شراب کھنہ ما در خم جھان باقی است خدا گفت کہ (اکملت دینکم)آنک نوای گرم نبی در رگ زمان باقی است
قسم بہ خون گل سرخ در بھارو خزان ولایت علی وآل جاودان باقی است
گل ہمیشہ بھارم بیا کہ آیہ عشق بہ نام پاک تو در ذھن مردمان باقی است
۔۔۔
”میری بھار کا پھول ہمیشہ غدیر ہواہے دنیا کے خم میں ہماری کہنہ شراب باقی ہے
خدا نے اس کے لئے اکملت کہا کیونکہ نبی کی گرم آواز زمانہ کی رگ میں باقی ہے
بھار و خزاں کے سرخ پھولوں کے خون کی قسم علی وآل کی ولایت ہمیشہ باقی رہے گی
میرے ہمیشہ بھاری رہنے والے پھول آ کیونکہ آیہ عشق تیرے پاک نام کی وجہ سے لوگوں کے ذہن میں باقی ہے
در روز غدیر ،عقل اوّل آن مظھر حق نبیَّ مرسل
چو ن عرش تو را کشید بر دوش آنگاہ گشود لعل خاموش
فرمود کہ این خجستہ منظر بر خلق پس از من است رھبر
بر دامن او ہر آن کہ زد دست چون ذرہ بہ آفتاب پیوست
”غدیر میں عقل اول اور مظھر حق نبی مرسل نے جب آسمان کو دوش پراٹھایا اس وقت گویا ہوئے یہ مبارک شخص میرے بعد لوگوں کا رھبر ہے ۔
اس کے دامن سے متمسک رہووہ ذرہ کی طرح آفتاب سے جا ملا“
علی رضا سپاھی لائین
دشت غوغا بود غوغا بود غوغا در غدیر
موج می زند سیل مردم مثل دریا در غدیر
در شکوہ کاروان آن روز باآھنگ زنگ
بی گمان باری رقم می خورد فردا در غدیر
ای فرامو شان باطل سر بہ باطل افکنید
چون پیمبر دست حق را برد بالا در غدیر
حیف اما کاروان منزل بہ منزل می گذشت
کاروان می رفت وحق می ماند تنھا در غدیر !!
”دشت غدیر میں بے حد شور و غل تھا
غدیر میں دریا کی طرح لوگوں کا سیلاب مو جیں مار رہا تھا
اس وفا کے کاروان کی عظمت میں غدیرمیں مستقبل کے سلسلہ میں گفتگو کی جا رہی تھی
اے باطل پرستوں سر جھکالو
جب غدیر میںپیغمبر اپنے دست مبارک کو اٹھائیں
افسوس لیکن کاروان منزل بہ منزل گذر رہا تھا
کاروان جا رہا تھااور حق غدیر میں تنھارھا جا رہا تھا “
محمد علی صفری (زرافشان )
آن روز کہ با پر تو خورشید ولایت
رہ را بہ شب از چار طرف بست محمد
صحرائے غدیر است زیارتگہ دلھا
از شوق علی داد دل از دست محمد
تا جلوہ حق را بہ تماشا بنشینند
بگرفت علی را بہ سر دست محمد
”جس دن خورشید ولایت کے پرتو کی بنا پر
محمد نے رات کے لئے چاروں طرف سے راستہ بند کردیا
صحرائے غدیر دلو کی زیارت گاہ ہے
علی کی محبت میں محمد سر شار ہوگئے
تاکہ لوگ جلوئہ حق کا نظارہ کریںکہ محمد نے علی کا ہاتھ پکرلیا“
یحیٰ سا قی ای قدت طو بی ای لبت کو ثر
کوثری مِیَم امروز از غدیر خم آور
آور از غدیر خم ،خم خُمَم مِیِ کوثر
من منم بدہ سا غر ،خم خمم بدہ صھبا
بادہ در غدیرم دہ ،از غدیر خم ،خم خم
ھمچون زاھدان شھر ،در غدیر خم شو گم
می زخم وصلم دہ ،تا کف آورم بر لب
خم دل کنم دجلہ ،دجلہ را کنم دریا
”ساقی جس کا قد طوبیٰ کی طرح ہے تیرا لب کو ثر ہے
تو کوثر ہے آج میرے لئے غدیر خم کی شراب لے کر آ
غدیر میں مجھ کو بادہ دے غدیر کا مجھ کو خم دے
شھر کے زاھدوں کی طرح غدیر میں کھوجا
تاکہ میرے لب پرجھاگ آجا ئیں
خم دل کو دجلہ کروں اوردجلہ کو دریا کروں “
ناصر شعار بوذری
گفت بر خیز کہ از یار سفیر آمدہ است
بہ چرا غانی صحرا ئے غدیر آمدہ است
مو ج یک حا دثہ در جان غدیر است امروز
و علی چھرئہ تابان غدیر است امروز
بیعت شیشہ ای و آہن پیمان شکنی
داد از بیعت آبستن پیمان شکنی
پس از آن بیعت پر شور علی تنھا ماند
و وصایای نبی در دل صحرا جا ماند
مو ج آن حا دثہ در جان غدیر است ھنوز
و علی چھرئہ تابان غدیر است ھنوز
”اس نے کا کہ اٹھ یار کا سفیرصحرائے غدیر کی چراغانی لے کر آیاہے
آج غدیر کی جان میں ایک واقعہ کی مو ج ہے
آج علی غدیر کے چھرئہ تاباں ہیں
شیشہ کی بیعت اور پیمان شکنی کا لوہے نے بیعت سے پیمان شکنی کا درس دیا
اس ولولہ انگیز بیعت کے بعد علی تنھا رہ گئے ہیں
نبی کی وصیتیں صحرا میں رہ گئیں
ابھی غدیر کی جان میں اسی واقعہ کی مو جیں ہیں اور ابھی بھی علی غدیر کے رخ تاباں ہیں “
محمد تقی بھار
ای نگار رو حانی ،خیز و پردہ بالا زن
در سرادق لا ہوت ،کوس ”لا “و”الّا زن
در ترانہ معنی ،دم ز سرّ مو لا زن
و انگہ از غدیر خم با دہ تو لّا زن
تا زخود شوی بیرون ،زین شراب رو حا نی
در خم غدیر امروز ،بادہ ای بجوش آمد
کز صفای اورو شن ،جان بادہ نوش آمد
وان مبشّر رحمت ،بازدر خروش آمد
کان صنم کہ از عشاق بردہ عقل وھوش آمد
با ھیولی تو حیددر لباس انسانی
او ست کز خم لاھوت ،نشئا ئہ صفا دارد
در خریطہ تجرید ،گوھر وفادارد
در جبین جان پاک ، نور کبر یا دارد
در تجلی ادراک جلو ئہ خدا دارد
در رُخَش بود روشن ،راز ھای رحمانی
”اے روحانی نقش اٹھ اور پردہ کو اوپر اٹھا
لاہوت کے ماحول میں لا اور اِلّا کا طبل بجا
معنی کے ترانہ میں مولاکا راز بتا
پھر غدیر خم سے مولا کا جام لا
تا کہ اس روحا نی شراب کی وجہ سے خود سے بھار آجائے
آج خم غدیر میں ایک لاکھ بادہ جوش میں آئے
جس کی صفا سے بادہ نوش کی جان روشن ہو گئی
وہ مبشر رحمت پھر جو ش میں آیا
وہ صنم جو عشاق سے لے گیا تھاہوش میں آیا
توحید کی شکل میں انسان کے لباس میں
وہ ہے جو خم لاہوت سے صفا کی ابتدا رکھتا ہے
تجرید سے گوھر وفا رکھتا ہے
جان پاک کی پیشا نی میں نور کبریا رکھتا ہے
تجلی ادراک میں جلوئہ خدا رکھتا ہے
اس کے رُ خ میں روحا نی راز روشن ہوتے ہیں “
آیة اللہ کمپانی
ولا یتش کہ در غدیر شد فریضہ امم
حد یثی ازقدیم بود ثبت دفتر قدم
کہ زد قلم بہ لوح قلب سیّد امم رقم
مکمل شریعت آمد ومتمّم نعم
شد اختیار دین بہ دست صاحب اختیار من
باد ہ بدہ ساقیا ،ولی زخمَّ غدیر چنگ بزن مطربا، ولی بہ یاد امیر
وادی خم ّ غدیر منطقہ نور شد باز کف عقل پیر ،تجلّی طور شد
”ان کی ولایت جو غدیر میں اقوام پر واجب ہو گئی
یہ ازل سے دفتر قِدم میں ثبت تھی
قلم نے حضور کے قلب پر لکھاکہ شریعت کامل ہوگئی اور نعمت تمام ہو گئی صاحب اختیار کے ذریعہ میں نے دین کو اختیار کیا
اے ساقی غدیر خم کا بادہ دے اے مطرب مو لائے کا ئنات کی یاد میں طرب کی باتیں کر
وادی غدیر خم منور ہو گئی دوبارہ عقل تجلی طور ہو گئی
ناظم زادہ کرمانی :
عارفان راشب قدر است شب عید غدیر بلکہ قدر است ازاین عید مبارک تعبیر
کرد ہ تقدیر بدینسان چو خداوند قدیر ای علی ،ای کہ تویی بر ھمئہ خلق امیر
بھترین شاہد این قصہ بود خمِّ غدیر کرد تقدیر چنین لطف خداوند قدیر
”شب غدیر عارفوں کی شب قدر ہے بلکہ اس عید کوقدر کہنا زیادہ بہتر ہے خدانے یوں فیصلہ کیا کہ اے علی تم تمام مخلوق کے امیر ہو
اس قصہ کا بہترین شاھدغدیر خم تھاخدا کے لطف سے یہ فیصلہ ہوا “
احمد عزیزی
غدیر خم از غیرت بہ جوش است ببین قرآن ناطق را خموش است
خمّ غدیر از کف این می تَرَست زانکہ علی ساقی این کوثر است
”غدیر خم غیرت کے جوش میں ہے دیکھو کہ قرآن ناطق خا موش ہے
شراب کی وجہ سے ہاتھ سے خم غدیر تر ہے چونکہ اس کو ثر کے ساقی علی ہیں
حالی اردبیلی
صبح سعادت دمید ،عید ولایت رسید فیض ازل یار شد، نوبت دولت رسید
از کر مش برگد ا ،داد ھمی جان فزا گفت بخور زین ھلا ،کز خُم جنت رسید
”صبح سعادت نمودار ہو ئی کہ ولایت اب پہونچی فیض ازل یار ہوادولت کی نوبت آئی
اس کے کرم سے فقیر کے لئے حوصلہ افزا بات ہو گی اس نے کہا اسے کھاؤ کیونکہ یہ جنت کے خم سے آیا ہے
فرصت شیرازی
این خم نہ خم عصیر باشد این خم ،خم غدیر باشد
از خم غدیر می کنم نوش تا چون خم برآورم جوش
”یہ خم انگور کا خم نہیں ہے یہ خم ،خمِ غدیر ہے
میں خم غدیر پیتا ہوں تاکہ خم کی طرح جوش میں آجاؤں“
آیة اللہ میرز ا حبیب خراسانی
امروز بگو ،مگو چہ روز است؟ تا گویمت این سخن بہ اکرام
موجود شد از برای امروز آغاز وجود تا بہ انجام
امروز زروی نص قرآن بگر فت کمال ،دین اسلام
امروز بہ امر حضرت حق شد نعمت حق بہ خلق اتمام
امروز وجود پردہ برداشت رخسارئہ خویش جلو ہ گر داشت
امروز کہ روز دار وگیراست می دہ کہ پیالہ دلپذیر است
از جام وسبو گذشت کارم وقت خم ونوبت غدیر است
امروز بہ امر حضرت حق بر خلق جھان علی امیراست
امروز بہ خلق گردد اظھار آن سرّ نھان کہ در ضمیر است
عالم ھمہ ہر چہ بود وھستند امروز بہ یک پیالہ مستند
”آج کہو ،نہ کہو کو نسا دن ہے تاکہ میں تمہیں یہ بات اچہے انداز میں بتاؤں
آج کے لئے وجود کا آغاز انجام تک موجود ہو گیا
آج قرآن کی نص کے اعتبار سے دین اسلام کا مل ہو گیا
آج خدا کے حکم سے نعمت حق مخلوق پرکامل ہو گئی
آج وجود کا پردہ ہٹا اور رخسارہ جلوہ گر ہو گیا
آج جو پریشانیوں کا دن ہے مجہے شراب دے چونکہ پیالہ دل کو لبھانے والاہے
میرا کام جام و صبو سے گذر گیاخم کا وقت اور غدیر کی باری ہے
آج خدا کے حکم سے علی تمام مخلوقات عالم کے امیر ہیں
آج لوگوں پرضمیروں کا پوشیدہ راز آشکار ہوجا ئے گا
دنیا جو بھی تھی اور ہے آج ایک پیالہ میں مست ہے “
فارسی ادبیات میں نثر لکھنے والوں نے غدیر کے سلسلہ میں زبر دست قطعے لکہے ہیں جس کے ہم دو نمونہ ذیل میں پیش کررہے ہیں :
غدیر میں گو یا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فکر فر ما رہے تھے :حضرت علی علیہ السلام کے بغیر کیسے کام کا انجام ہو گا ؟
اور حضرت علی علیہ السلام یہ فکر کر رہے تھے کہ :حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر کیسے زندگی بسر ہو گی ؟
لوگ اسی آنے اور جا نے کے پس و پیش میں ہیں ایک مشکل میں گرفتار ہیں :
یہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں کہ اگر حضرت علی علیہ السلام کی بیعت کر لی تو باقی رہ جا ئیںگے ۔
یہ علی علیہ السلام ہیں اگر ان کی بیعت توڑ لی تو ہاتھ سے نکل جا ئیں گے !!
لوگوں کے گروہ کس طرح حضرت علی علیہ السلام کے سلسلہ میں فکر کرتے ہیں اور ان کے قائد بیعت کو توڑنے کی سا زش کرتے ہیں ۔۔۔!!؟
اسماعیل نوری علاء
آری ۔۔۔خم ! ھاں ،خم
شربدار ولایت ولایت کی شراب کی جگہ
غدیر حا دثات غدیر واقعات
ومیان منزل افشای راز ھا ست ۔ رازوں کے افشا کے درمیان ہے
بنگریدش اس کو دیکھو
کہ بر اوج دست و بازو دست و بازو کی بلندی پر
در چنگ چنگا لی از نور نور کے پنجہ میں
ایستا دہ است کھڑا ہے
بہ ابر ھا نزدیکتر تا بہ ما ہمارے مقابلہ میں بادلوں سے زیادہ نزدیک ہے
و نگاہ نمی کند نہ در چشمان مشتاق اور مشتاق آنکھوں کو نہیں دیکھتا ہے
نہ در دیدگان دریدہ از حسد ۔ نہ حسد سے پھٹی ہو ئی آنکھوں کو
بہ این ترانہ گو ش کنید اس ترانہ کو سنو
کہ در ھفت آسمان می طپد : جو ساتوں آسمانوں میں گونج رہا ہے
”جو مجھ کو اپنا مو لا سمجھتا ہواس کو معلوم ہوتا ہے کہ میرے برابر میں کھڑا ہو ا شخص بھی اس کا مو لا ہے “
آری ھاں
امروز ھمہ چیز کا مل است آج تمام چیزیں کامل ہو گئیں
معیاری بہ دنیا آمدہ دنیا کو ایک معیار مل گیا
کہ در سایہ اش جس کے سایہ میں
نیک و بد از ہم مشخصند۔ نیک و بد ایک دوسرے سے ممتاز ہیں ۔
شعر اور اردو ادب
پیمبروں نے جو ما نگی ہے وہ دعا ہے غدیر
جو گو نجتی رہے تا حشر وہ صدا ہے غدیر
جو رک سکے نہ وہ اعلان مصطفےٰ ہے غدیر
کہ ابتداء ذو العشیرہ ہے انتھا ہے غدیر
غدیر منزل انعام جا ودانی ہے
غدیر مذ ھب اسلام کی جوانی ہے
غدیر دامن صدق و صفا کی دولت ہے
غدیر کعبہ و قر آن کی ضما نت ہے
غدیر سر حد معراج آدمیت ہے
غدیر دین کی سب سے بڑی ضرورت ہے
غدیر منزل مقصود ہے رسولوں کی
غدیر فتح ہے اسلام کے اصولوں کی
متاع کون و مکاں کو غدیر کہتے ہیں
چراغ خا نہ جاں کو غدیر کہتے ہیں
صدا قتوں کی زباں کو غدیر کہتے ہیں
عمل کی روح رواں کو غدیر کہتے ہیں
غدیر منزل تکمیل ہے سفر نہ کہو
نبی کی صبح تمنا ہے دو پھر نہ کہو
ستم کئے ہیں بہت وقت کے شریروں نے
مٹائے نقش وفا خنجروں نے تیروں نے
حدیثیں ڈھا لی ہیں دنیا کے بے ضمیروں نے
فسا نے لکہے ہیں در بار کے اسیروں نے
علی کے لال کا جب ہاتھ تھام لے گی غدیر
ستمگروں سے ضرور انتقام لے گی غدیر
کوہ فاراں سے چلا وہ کا روان انقلاب آگے آگے مصطفےٰ ہیں پیچہے پیچہے بو تراب
فکر کے ظلمت کدے میں نور بر ساتا ہوا ذہن کی بنجر زمیں پر پھول بر ساتا ہوا
قافلہ تھا اپنی منزل کی طرف یوں گا مزن جیسے دریا کی روانی جیسے سورج کی کرن
خُلق پیغمبر بھی تیغ فا تح خیبر بھی ہے یعنی مر ہم بھی پئے انسانیت نشتر بھی ہے
ذہن کی دیوار ٹو ٹی باب خیبر کی طرح دل میں در وازے کھلے اللہ کے گھر کی طرح
مو ج نفرت میں محبت کے کنول کھلنے لگے خون کے پیا سے بھی آپس میں گلے ملنے لگے
ذو العشیرہ میں ہوا پہلے پھل اعلان حق یعنی یہ آغاز تھا آئینہ انجام حق
بن گئی ہجرت کی شب دین الٰہی کی سحر بستر احمد پہ سو ئے شیر داور رات بھر
بزم پیغمبر میں دیکھو آدمیت کا جلال یعنی سر داروں کے پہلو میں نظر آئے بلال
آخرش بدر و احد کے معر کے سر ہو گئے جب اٹھی تیغ علی پسپاستم گر ہو گئے
غدیر نام ہے اللہ کی عبا دت کا غدیر نام ہے انسان کی شرافت کا
غدیر نام ہے نوع بشر کی عظمت کا غدیر نام ہے ربط کتاب و عترت کا
جھاں میں جو ہے اسی اک سفر کا صدقہ ہے
ھر ایک صبح اسی دو پھر کا صدقہ ہے
کہیں سکوں کہیں جھنکار بن گئی ہے غدیر کبھی صدا ئے سرِداربن گئی ہے غدیر
کہیں قلم کہیں تلوار بن گئی ہے غدیر کہیں دعا کہیں انکار بن گئی ہے غدیر
یہ سب اثاثہ علم و یقین مٹ جاتا
اگر غدیر نہ ہو تی تو دین مٹ جاتا
دل پیمبر اعظم کا چین بھی ہے غدیر نمود قوت بدر و حنین بھی ہے غدیر
لب بتول پہ فر یاد و شین بھی ہے غدیر حسن کی صلح بھی جنگ حسین بھی ہے غدیر
کبھی صدا ئے جرس بن کے راہ میں آئی
کفن پہن کے کبھی قتل گاہ میں آئی
نبی کے بعد صف اشقیاء جب آئی تھی عدا وت آل پیمبر کی رنگ لا ئی تھی
ستم پر ستوں نے کب آستیں چڑھا ئی تھی جمل کی اور نہ صفین کی لڑائی تھی
نہ سمجھو تھا وہ شہ قلعہ گیر پر حملہ
کیا تھا اہل ہوس نے غدیر پر حملہ
یہ آرزو تھی مٹا دیں گے نقش پائے غدیر سمجھ رہے تھے کہ مقتل ہے انتھا ئے غدیر
مگر نہ رک سکی تیغوں سے بھی ہوا ئے غدیر سنا ںکی نوک پہ بھی گونج اٹھی صدا ئے غدیر
لہو میں غرق ہر اک حق پسند ہو کے رھا
مگر غدیر کا پرچم بلند ہو کے رھا
نفاق و کفر کے گھیروں نے را ستہ رو کا جفا و ظلم کے ڈیروں نے راستہ رو کا
جھا لتوں کے اندھیروں نے را ستہ رو کا قدم قدم پہ لٹیروں نے را ستہ رو کا
جو سدّ راہ بصد نخوت و غرور ہو ئے
وہ سب غدیر سے ٹکرا کے چورچور ہو ئے
جو حق پرست تھے وہ دار پر چڑھا ئے گئے نہ جانے کتنے غریبوں کے گھر جلا گئے
نقوش حق و صدا قت تھے جو مٹا ئے گئے زبا نیں کا ٹی گئیں اور لہو بھا ئے گئے
جو ایک مریض کو بیڑی پہنا نے آئے تھے
وہ سب غدیر کو قیدی بنا نے آئے تھے
ستم گروں سے کہو قتل عام کر تے رہیں نبی کے قول کی تا ویل خام کر تے رہیں
جو کر گئے ہیں اب و جد وہ کام کر تے رہیں ہزار ظلم صبح و شام کر تے رہیں
مگر غدیر کا اعلان رک نہیں سکتا
اٹھا تھا خم سے جو طوفان رک نہیں سکتا
لئے ہے تیغ علی قلعہ گیر کا وا رث نمو د قوت نان شعیر کا وارث
نبی کے لال جناب امیر کا وارث نکل کے آئے گا جس دن غدیر کا وارث
زبان تیغ بتا ئے گی عزّ و شان غدیر
کہیں پناہ نہ پا ئیں گے دشمنان غدیر
جب شکست فاش با طل کو ہو ئی جنگاہ میں بد دعا دینے کو آ پہونچے نصا ریٰ راہ میں
تب نبی و فا طمہ حسنین و حیدر آگئے اپنے اہل بیت کو لیکر پیمبر آگئے
منزل خندق پہ پہنچا جب غدیری کا رواں کل ایماں بن کے نکلے تب امام انس و جاں
سورہ تو بہ حرم میں لے کے جا ئیگا وھی جس نے چو سی ہے زباں قرآں سنا ئے گا وھی
فتح مکہ میں جھا لت کے صنم تو ڑے گئے پتھروں کے بت روایت کے صنم تو ڑے گئے
آچکا ہے اب وہاں پر کا روان انقلاب انبیاء نے مد توں دیکھا تھا جس منزل کا خواب
ہو گیا اعلان جب مو لا علی کے نام کا چھرہ رو شن ہو گیا مستقبل اسلام کا
مصطفےٰ کو تا ابد محمود حق نے کر دیا حد پہ جو آئے تو لا محدود حق نے کر دیا
ذمہ دار دین حق پڑھ کر ولا یت ہو گئی دو سرے لفظوں میں تو سیع نبوت ہو گئی
۔۔۔۔۔۔
بزم ھستی میں جلا ل کبریا ئی ہے غدیر
بھر امت امر حق کی رو نما ئی ہے غدیر
اے مسلماں دیکھ یہ دو لت کہیں گم ہونہ جا ئے
مصطفےٰ کی زندگی بھر کی کما ئی ہے غدیر
دا من تا ریخ انسان کی دو لت ہے غدیر
بیکسوں کی شان کمزوروں کی طاقت ہے غدیر
اک ذرا سا ذکر آیا اور چھرے فق ہو ئے
دشمنوں کے واسطے روز قیامت ہے غدیر
عظمت دین الٰہی کا منا رہ ہے غدیر
دو پھر میں جو تھا روشن وہ ستارہ ہے غدیر
تھام کر با زوئے حیدر مصطفےٰ بتلا گئے
ایک کیا سا رے رسولوں کا سھارا ہے غدیر
پیچ و خم کو ئی نہ کہا ئی نہ کہا نچہ ہے غدیر
جس میں ڈھلتی ہے صداقت ایسا سا نچہ ہے غدیر
پھر گیا رخ دشمنان مذ ھب اسلام کا
کفر کے رخسار پر حق کا طما نچہ ہے غدیر
منزل تکمیل دین کبریا ئی کی عید ہے
نقطہ معراج کار انبیاء کی عید ہے
آدمی کیا عترت و قرآن ملتے ہیں گلے
عید سب بندوں کی یہ دین خدا کی عید ہے
شعر و ادب تر کی
یو سف شھاب
امامی حضرت باری گرَگ ایدہ تعیین
محوّل ہر کَسَہ او لماز امور ربانی
منا دی آیہ قرآنیدور،علیدی ولی
علینی رد ایلین ،رد ایدو بدی قرآنی
منہ وصی ،سیزہ اولی بنفسدوربو علی
مباد ترک ایلیہ سیز بو وصایانی
بو امر امر الھیدی ،نہ مینم را ییم
امین وَحیِدی نا زل ایدن بو فرمانی
دو توب گو گہ یوزین عرض ایتدی اول حبیب خدا
کہ ای خدا ئے روؤف و رحیم و رحما نی
عم او غلو می دو تا دشمن او کس کہ ،دشمن دوت
محب و نا صر ینہ ،نصرت ایلہ ہر آنی
بو ما جرانی گو رندہ تمام دشمن و دو ست
غریو و غلغلہ دن دو لدی چرخ دا ما نی
او کی محبیدی مسرور او لوب ،عدو غمگین
نہ او لدی حدی سرور ونہ غصہ پایا نی
”امام کو خداوند عالم معین کرتا ہے یہ امر ربانی ہر شخص کے حوالے نہیں کیا جاسکتاہے
علی آیہ قرآن کے منادی اور خدا کے ولی ہیں ،جس شخص نے علی کا انکار کیا اس نے خدا کا انکار کردیاہے
یہ علی میرے وصی اور تم میں سب سے اولیٰ ہیں ہر گز ان سفارشات کو ترک نہ کرنا
یہ امر ،امر الٰہی ہے میری اور تمھاری رائے نہیں ہے امین وحی نے یہ فرمان نازل کیا ہے
حبیب خدا نے اپنی صورت آسمان کی طرف کرکے کھااے خداوند رؤوف و رحیم و رحمان جو شخص میرے چچازاد بھائی کا دشمن ہے تو اس کو دشمن رکھ جو اس کو دوست رکہے تو ہمیشہ اس کی مدد کر
تمام دوست اور دشمنوں نے جب یہ ماجرا دیکھا تو دنیا میں خو شی کر لھر دوڑ گئی
دوست خوشحال ہوگئے اور دشمن رنجیدہ ہوگئے غصہ کافور ہوگیا اور خو شی و شادمانی کے حالات فراہو ہوگئے “
قمری
حکم خطاب آیہ یا ایھا الرسول
تبلیغنہ وصایتوہ مد عا علی
حکم غدیر ہ منزلی حج الوداعدہ
قیلدی سنی یرندہ وصی ،مصطفیٰ علی
”یا ایھا الرسول ۔۔۔کا حکم خطاب ،اے علی تیری وصایت و خلافت کا مدعا ہے
حجة الوداع میں حکم غدیر کے اقتضا کے مطابق پیغمبر اکرم نے تجہے اپنا جا نشین منتخب فرمایا“
یوسف معزی ارد بیلی
پروردگار عالم ایدو بدور حما یتین
بیلد یر دی یر یو زندہ پیمبر رسالتین
گلدی غدیر خُمَیدہ رجعتدہ نا گھان
روح الامین گتور دی پیام و بشارتین
بعد از سلام عرض ایلدی امر ایدور خدا
امّت لَرہ یتور سون علی نون ولا یتین
فرمان و یروب رسول امین کا روان دو شوب
فر ما نیون گور و بدور اولارد ا طاعتین
منبر دو زَلدی چخدی ھمان منبر او ستنہ
اوّل پشیتدی امتی قرآن تلا وتین
خیر البشر علی کمرین دو تدی قا لخِزوب
حضار تا گور و بدور او صاحب شجا عتین
مو لا یم ہر کیمہ دیدی من ہر زماندہ
مو لا سی دور عم او غلوی ھمان با دیانتین
جبریل گتدی آیہ اکملت دینکم
اسلامون آرترو بدو بو گون حق جلا لتین
”پروردگار عالم نے اپنی حمایت کا اعلان کیا جب رسالت پیغمبر کا زمین پر اعلان فرمایا
ناگھاں غدیر خم آئی روح الامین ان کے لئے پیغام اوربشارت لے کر آئے
سلام کے بعد عرض کیاخداوند عالم کا امر ہے :ولایت علی کا پیغام امت تک پہونچا دیجئے رسول امین کے فرمان سے تمام قافلے ٹھھر گئے انھوں نے بھی رسول کے فرمان کی اطاعت کی
منبر بنایا گیا اور رسول منبر پر تشریف لے گئے پہلے قرآن کی آیت لوگوںکو پڑھ کر سنا ئی
پیغمبر خیر البشر نے علی کو اپنے ھاتھوں پر بلند کیااور حاضرین نے اس صاحب شجاعت شخص کا مشاہدہ کیا ۔
فرمایا :جس شخص کا میں ہر زمانہ میں مو لاہو ں یہ علی بھی اس کے مولا ہیں
جبرئیل آیہ اکملت لکم دینکم لیکر آئے آج اللہ نے اسلام کی جلالت و عظمت بڑھا دی ہے “
۷ غدیر کی یا دیں
غدیر کی یاد کو زندہ رکھنااس کے مطالب و محتوا کو زندہ رکھنے کا سب سے موثر سبب ہے ،طول تا ریخ میں غدیر کی یا دگا ری کے طور پر مختلف چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں چو نکہ مسلمانوںکی مختلف اقوام و ملل نے اپنے حالات کے مطابق اپنے معا شرہ میں غدیر کی یادگا ریں بپا کی ہیں ۔
مسجد غدیر ،غدیر کے بیا بان میں مسلمانوں کی زیا رتگاہ کے عنوان سے ایک متبرک جگہ تھی۔غدیر کی یاد میں منا ئی جا نے والی سالانہ محفلیں دو سرے مختلف قسم کے پروگرام ،غدیر کو زندہ کر نے کے دو سرے جلوے ہیں ،غدیرمیں زیارت امیر المو منین علیہ السلام پڑھنا صاحب غدیر سے تجدید بیعت اور غدیر کی یاد کو تازہ کرنے کے لئے ہے ۔ یہ تمام مظا ھرے غدیرکے معتقد معاشروں میں غدیر کی حفا ظت اور اس کے مخا لفوں کے با لمقابل اس کے دفاع کے لئے ہیں ۔ان ہی یادوں کے سایہ میں چو دہ صدیوں سے غدیر تا ریخ اسلام میں درخشاں و تا بندہ ہے اور غدیر کی نا بودی کی ہزاروں سازشیں ناکام ہو چکی ہیں ۔
ا مسجد غدیر
غدیر وہ سر زمین مقدس ہے جس نے دسویں ہجری میںپیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حجة الوداع میں ایک اہم کر دار ادا کیا اور ”و صایت و ولایت “امیر المو منین علی بن ابی طالب اس مقام پر انجام پا ئی آج اس کی کیا حا لت ہے ؟
کیا تا ریخ کایہ اہم نقطہ دشمنی و لجا جت کے گرد و غبار میں فر ا موشی کے سپرد کر دیا گیا ہے ؟کیا اس مقدس وا دی کو شیعہ بلکہ دنیا کے تمام مسلمانوں کی زیا رتگاہ نہیں ہو نا چا ہئے ؟ کیا چودہ صدیاں گزر نے کے با وجود اس معطرخاک نے رسالت و وصایت کی شمیم روح پرور کی نگھداری نہیں کی ہے ؟کیا ابھی بھی اس مقدس و پا کیزہ سر زمین پر پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور حضرت علی علیہ السلام کے مقدس قدموں کے نشانات نقش نہیں ہوئے؟کیا یھی خاک و بالو اس عظیم منظر کے وا قعہ کے شاہد و گواہ نہیں ہیں ؟کیا غدیر کی اس پگھلا دینے والی گرم ہوا کی امواج میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نجات دینے والی صدا نہیں آ رہی ہے ؟
کیابیت اللہ الحرام کے زا ئروں کو اس سر زمین پاک سے گزر نے اور اپنے روح و جسم کو اس فضا میں تا زگی اور شا دابی سے معطر کر نے کی اجا زت ہے جس ۸ ا ذی الحجہ کوپیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ملکوتی صدا بلند ہو ئی تھی ؟
مسجد غدیرکی تا ریخ
جس دن سے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو غدیر خم کے میدا ن میں امامت کے منصب پرمتعا رف فر مایایہ وہ وادی اور مقدس ہو گئی ۔دو نورانی ھستیوں حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور حضرت علیہ السلام کے ذریعہ اس مقام پر تین دن کے پروگرام نے اس وادی کو ایسی رو حانی کیفیت عطا کر دی کہ چودہ سو سال سے لیکر آج تک (غدیر میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مسجد )کا نام زبان زد عام ہے اور لاکھوں حا جی خا نہ کعبہ جا تے اور آتے وقت اس کی زیارت کر تے ہیں اور اس میں نماز پڑھ کر خدا وندعالم سے لو لگا تے ہیں ۔
ائمہ علیھم السلام نے اپنے اصحاب کو غدیر خم کی مسجد کی زیارت کر نے کی تا کید فر ما ئی تھی اوریہ کہ
۱ ۔بحا رالا نوار جلد ۸ قدیم صفحہ ۲۲۵ ،جلد ۳۷ صفحہ ا ۲۰ ،جلد ۵۲ صفحہ ۵ حدیث ۴ ،جلد ۰۰ ا صفحہ ۲۲۵ ۔اثبات الھداةجلد ۲ صفحہ ۷ ا حدیث ۶۷ ،صفحہ ا ۲ حدیث ۸۷ ،صفحہ ۹۹ ا حدیث ۰۰۴ ا ۔معجم البلدان جلد ۲ صفحہ ۳۸۹ ،مصباح المتھجدصفحہ ۷۰۹ ،الوسیلہ (ابن حمزہ) صفحہ ۹۶ ا ۔الغیبہ(شیخ طو سی )صفحہ ۵۵ ا۔الدروس صفحہ ۵۶ ا۔مزارات اہل البیت علیھم السلام و تا ریخھامولف سید جلا لی صفحہ ۴۲ ۔
مسجد کی زیارت کر نے سے با لکل غافل نہ ہونا ۔حضرت امام حسین علیہ السلام جب مکہ سے کربلاکی طرف تشریف لے جا رہے تھے تو آپ نے غدیر میں توقف فر مایا ۔حضرت امام باقر اور حضرت اما م صادق علیھما السلام مسجد غدیر میں تشریف فر ما ہو ئے اور انھوں نے اپنے اصحاب کےلئے غدیر میں ہو نے والے پرو گرام کی انہیں نشاندھی کی اور اس کی تشریح فر ما ئی ۔
محدثین اور بڑے علمائے کرام بھی غدیر خم میں آتے اور اس وا دی کا احترام کر تے تھے ۔تیسری صدی ہجری میں علی بن مہز یار اہوا زی اپنے سفر حج کے دوران وہاں پر آئے تھے ۔شیخ طو سی چھٹی ہجری ابن حمزہ ساتویں ھجر ی اور شھید اول اور علامہ حلی آٹھویں صدی ہجری کے کلا م میں ہم مسجد غدیر کا اسم مبارک اور اس کے با قی رہنے کے آثار کے متعلق پڑھتے ہیں ۔
سید حیدر کا ظمی نے ۲۵۰ ا ہجری میں مسجد غدیر کے وجود مبارک کی خبر دی ہے اور اس زمانہ میں اگرچہ سڑک غدیر سے بہت دور تھی لیکن غدیر کی مسجد مشہور و معروف تھی ۔محدث نوری نے بھی ۳۰۰ اھجری میں اس کے وجودکی خبر دی ہے وہ بذات خود مسجد غدیر میں گئے اور وہاں کے اعمال بجا لائے ۔
مسجد غدیر کا دشمنوں کے ھا تھوں خراب ہو نا( ۱۴۳ )
جس طرح تاریخ میں غدیر کا پرچم بلند و بالا ہے اور اس سے ”علی ولی اللہ “کا نور در خشاں ہے اسی طرح مسجد غدیر بھی دشمنان و لا یت کی آنکھوں میں خار تھی کہ جس کی مٹی اور اینٹوں کی بنیادیں زندہ سند کے عنوان سے صحرا ئے غدیر کے دل پر درخشاں ہے ۔اسی وجہ سے مو لا ئے کا ئنات سے بغض و عناد رکھنے والے جنھوں نے آپعليهالسلام کے گھر کوبھی جلا دیا تھا اوران کی اتباع کر نے والوں میں اس طرح کی اعتقاداتی اور تا ریخی عمارت کو دیکھنے کی ھمت نہیں تھی ۔
مسجد غدیر کے آثار جن کی پیغمبر اکر مصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے اصحاب نے بنیاد رکھی تھی سب سے پہلی مر تبہ عمر بن خطاب کے ذریعہ سے نیست و نابود کئے گئے اور ان کی نشانیوں کو مٹا دیا گیا ۔
حضرت امیر المو منین علیہ السلام کے زمانہ میں اسے دوبارہ زندہ کیا گیا لیکن آپعليهالسلام کی شھا دت کے بعد معاویہ نے دو سو آدمیو ں کو بھیج کر پھر مسجد غدیر کو خاک میں ملادیا !
بعد کے زمانوں میں پھر مسجد غدیر کو بنا یا گیا اور وہ حجاج کے راستہ کے نزدیک قرار پا نے کی وجہ سے بہت زیادہ مشہور و معروف تھی یھاں تک کہ سنی تا ریخ نو یسوں اور جغرافیہ دانوںنے بھی اس کا نام لیا اور اس جگہ کی نشاندھی کی ہے ۔
سو سال پہلے تک مسجد غدیر اپنی جگہ پر قا ئم تھی اگر چہ مسجد مخالفین کے علاقہ میں تھی لیکن باقاعدہ طورپر محل عبادت اور مسجد غدیر کے نام سے مشہو ر و معروف تھی یھاںتک کہ اس کو آخر ی ضربہ وھا بیوں نے لگایا ۔انھوں نے مسجد غدیر کو بر باد کر نے میں بغض و حسد سے بھرے ہو ئے دو اقدام کئے: ایک طرف تو انھوں نے مسجد کو منھدم کیا اور اس کے آثار نیست و نا بود کئے اور دو سری طرف انھوں نے راستہ بدل کراسے مسجد غدیر سے بہت دورکر دیاہے ۔
اسوقت مسجد غدیر کا مقام( ۱۴۴ )
غدیر اس وقت بھی بیابان کی صورت میں ہے جس میں ایک تالاب اور پانی کا چشمہ ہے اور مسجد جس کا اب نام و نشان نہیں ہے چشمہ اور تالاب کے درمیان تھی ۔یہ علا قہ مکہ سے دو سو کیلو میٹر کے فاصلہ پر شھر رابغ کے نزدیک جحفہ نامی دیھات کے پاس ہے جو حا جیوں کا میقات ہے اور اب بھی یہ علاقہ غدیر کے نام سے ہی جانا پہچانا جاتا ہے اور وہاں کے باشندے اس کے نام سے بخوبی آگاہ ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ شیعہ حضرات اس کی تلاش و جستجو میں وہاں پر آیا کرتے ہیں ۔
اس وقت وادی غدیر تک پہنچنے کے دو راستے ہیں :
ا۔راہ جحفہ
رابغ کے ہو ائی اڈے سے لیکر جحفہ نامی دیھات کے شروع ہونے تک ،اس کے بعدپانچ کلو شمال کی طرف ریگستان میں قصر علیا تک ریت کے ٹیلوں سے گزر کر ،اس کے بعد چھو ٹے سے بیابان سے گزر کر دائیں طرف غدیر کا راستہ ہے ۔مشرق کی طرف سے غدیر کا فاصلہ میقات جحفہ سے آٹھ کیلو میٹر ہے
۲ ۔راہ رابغ
مکہ”مدینہ “رابغ روڈ کے چو راہے سے مکہ کی طرف سڑک کے بائیں جانب دس کیلو میٹر اس کے بعد دائیں جانب غدیر کی طرف ایک چھو ٹا راستہ ہے کہ جس کا فا صلہ جنوب مشرق سے رابغ تک ۲۶ کیلو میٹر ہے ۔
اس آرزو و امید کے ساتھ کہ صاحب غدیر کے ظہور کے ساتھ خو شگوار اور روح انگیز علاقہ دوبارہ زندہ ہو اور تالاب اور اس کے چشمہ کے درمیان بڑی شان و شوکت کے ساتھ ایک عظیم الشان مسجد کی تعمیر ہواور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے منبر اور خیمہ کی جگہ مکمل طور پر بنا ئی جا ئے اور پھر سے اس عظیم واقعہ کی یاد تازہ ہو اور پوری دنیا کے افراد کی زیارت گاہ بن جا ئے ۔
۲ غدیر کے دن حضرت امیر المو منین علیہ السلام کی زیارت
ھر شیعہ انسان کی یہ دلی آرزو و تمنا ہے کہ اے کاش زمانہ پیچہے پلٹ جاتا اور ہم غدیر میں حا ضر ہو تے اور اپنے مو لا کے ہاتھ پر بیعت کرتے اور ان کو مبارکباد دیتے ۔اے کاش حضرت امیر المو منینعليهالسلام اب زندہ ہو تے اور ہم ہر سال غدیر خم میں آپعليهالسلام کی خدمت اقدس میں حا ضر ہو تے اور ان سے تجدید بیعت کرتے اور پھر انہیں تبریک و تہنیت پیش کرتے ۔
اس آرزو کا محقق ہو نا کو ئی مشکل نہیں ہے ۔نجف اشرف میں آپعليهالسلام کے حرم مطھر میں حاضر ہو نا اور صمیم دل سے آپعليهالسلام کی ساحت مقدس میں دلی آرزو کے ساتھ آپعليهالسلام سے گفتگو کرنا شیعہ نظریہ کے مطابق حقیقی بیعت کی تجدید اور واقعی طور پر تبریک و تہنیت کہنا ہے ۔غدیر کا عالم ھستی کے اس دوسرے نمبر کے شخص پرسلام جو ہماری آواز کو سنتا ہے ہمارا جواب دیتا ہے غدیر میں حا ضر ہو نے اور ان کے دست مبارک پر بیعت کر نے کا حکم انہیں کے حو الہ ہے ۔
حضرت امام صادق اور حضر ت امام رضا علیھما لسلام نے سفارش فر ما ئی ہے کہ جس حد تک ممکن ہو ہمیں غدیر کے روز حضرت امیر المو منین علیہ السلام کی قبر مبارک کے پاس حا ضر ہو نا چا ہئے اور غدیر کی اس عظیم یاد کو صاحب غدیر کے حرم میں منا ئیں ۔یھاں تک کہ اگر ہم ان کے حرم مبارک میں حا ضر نہیں ہو سکتے تو ہم کہیں پر بھی ہوں ہما رے لئے یھی کا فی ہے کہ ان کی قبر مبارک کی طرف اشارہ کر یں ان پر سلام بھیجیں اور اپنے دل کو حرم مطھر میں حا ضر کریں اور اپنے مو لا سے گفتگو کریں۔( ۱۴۵ )
غدیر کی یہ سالانہ یاد غدیر کے واقعہ کو دو بارہ زندہ کرنا اور صاحب غدیر سے تجدید بیعت کر نا ہے اور یہ یاد ائمہ علیھم السلام کے زمانہ سے لیکر آج تک اسی طرح بر قرار ہے ۔سالانہ غدیر کے دن ہزاروں افراد حضرت امیر المو منین علیہ السلام کے حرم مطھر میں جمع ہو تے ہیں اور ان کی غلا می کے ھار کو اپنی گردن میں ان کے مبارک ھاتھوں سے ڈالتے ہیں اور اپنے نفوس کے مطلق طور پر ان کے با اختیار ہو نے پر فخر کر تے ہیں اور اسے ان کے فرزند حضرت قائم عجل اللہ تعا لیٰ فر جہ الشریف سے بیعت سمجھتے ہیں ،وہ ہما رے سلام کا جواب دیتے ہیں اور ہما رے ہاتھ کو اپنے دست ید اللّٰھی سے دبا تے ہیں ۔
حضرت امام ھادی علیہ السلام جس سال معتصم عباسی نے آپعليهالسلام کو مدینہ سے سا مرا شھر بدر کیا غدیر کے دن نجف اشرف تشریف لا ئے اور اپنے جد محترم حضرت امیر المو منین علیہ السلام کے حرم مطھر میں حاضر ہو ئے اور ایک مفصل زیارت میں آپعليهالسلام (حضرت علی علیہ السلام) سے مخاطب ہوکر فر مایا( ۱۴۶ ) یہ زیارت مطالب و محتوا کے اعتبار سے شیعوں کے حضرت امیر المو منین علیہ السلام کے بارے میں عقائداور آپعليهالسلام کے فضائل اور محنت و مشقت کاایک مکمل مجموعہ ہے ۔اس مقام پر ہم اپنے تجدید عہد کے لئے اس زیارت کے چند جملے بیان کر تے ہیں نیزان دعاؤں کا بھی تذکرہ کریں گے جن میں مسئلہ غدیر بیان کیا گیا ہے ۔
ا۔دعائے ندبہ میں آیا ہے :
فَلَمَّااِنْقَضَتْ اَیَّامُهُ اَقَامَ وَلِیَّهُ عَلِیَّ بْنَ طَالِبٍ صَلَوَاتُکَ عَلَیْهِمَاوَآلِهِمَا هَادِیاًاِذْکَانَ هُوَالْمُنْذِرُوَلِکُلِّ قَوْمٍ هَادٍفَقَالَ وَالْمَلَاُاَمَامَهُ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ،اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِمَنْ عَادَاهُ وَانْصُرْمَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ “
”پھر جب آپعليهالسلام کی رسالت کے دن تمام ہو گئے تو انھوں نے اپنے ولی علی بن ابی طالب علیہ السلام کو قوم کا ھا دی مقرر کر دیا اس لئے کہ خود عذاب الٰہی سے ڈرا نے والے تھے اور ہر قوم کے لئے ھا دی کی ضرورت ہے آپ نے مجمع عام میں اعلا ن کر دیا جس کا میں صاحب اختیار ہوں اس کے یہ علیعليهالسلام صاحب اختیار ہیں خدا یا جو اسے دو ست رکہے اسے دوست رکھ اورجو اس سے دشمنی کرے اسے دشمن رکھ اور جو اس کی مدد کرے اس کی مدد کر اور جو اسے چھوڑ دے اسے ذلیل و رسوا کر “
۲ ۔دعا ئے عدیلہ میں آیا ہے :
آمَنَّابِوَصِیِّهِ اَلَّذِیْ نَصَبَهُ یَوْمَ الْغَدِیْرِوَاَشَارَبِقَوْلِهِ ”هٰذَا عَلِیٌ“اِلَیْهِ “
”ھم ایمان لا ئے ان کے وصی پر جن کو غدیر کے دن منصوب کیا اور اپنے اس قول کے ذریعہ اشارہ فر مایا کہ علی میرے جا نشین ہیں “
۳زیارت غدیر میں آیا ہے :
اَلسَّلَا مُ عَلَیْکَ یٰا مَوْلاٰیَ وَمَوْ لَی الْمُوْ مِنینَ
السّلاٰمُ عَلَیْکَ یٰا دینَ اللهِ الْقَو یمَ وَصِرٰطَهُ الْمُسْتَقیمَ
اَشْهَدُ اَنَّکَ اَخُورَسُولِ اللهِ صلی الله علیه آله وَاَنّهُ قَدْ بَلَّغَ عَنِ اللهِ مٰا اَنْزَلَهُ فیکَ،فَصَدَعَ بِامْرِهِ وَاَوْجَبَ عَلیٰ اُمَّتِهِ فَرْضَ طٰاعَتِکَ وَوِلاٰیَتِکَ وَعَقَدَ عَلَیْهِمُ الْبَیْعَةَ لَکَ وَجَعَلَکَ اَوْلیٰ بِالْمُوْمِنینَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ کَمٰاجَعَلَهُ اللهُ کَذٰلِکَ ثُمَّ اَشْهَدَاللهَ تَعٰالیٰ عَلَیهم فَقٰالَ اَلَسْتُ قَدْ بَلَّغْتُ ؟فَقٰا لُوااللهم بلیٰ فقال: اللّٰهُمَّ اشْهَدْ وَکَفٰی بِکَ شَهیداًوَحَاکِماً بَیْنَ الْعِبٰادِ فَلَعَنَ اللهُ جٰاحِدَ وِلاٰیَتِکَ بَعْدَ الاِقْرٰارِوَنٰاکِثَ عَهْدِکَ بَعْدَ الْمیثٰاقِ
”سلام ہو آپ پر اے میرے مو لا اور مومنوں کے مولا۔
سلام ہو آپ پر اے اللہ کے دین محکم اور اس کے صراط مستقیم
میں گو اھی دیتا ہوں کہ آپ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بھا ئی ہیں ۔۔۔اور میں گو اھی دیتا ہوں کہ انھوں نے آپ کے سلسلہ میں اللہ کی طرف سے جو نا زل ہوااسے پہنچا دیا اور خدا کے امر کو اجرا کیا اور انھوں نے اپنی امت پر آپ کی اطاعت اور ولا یت کوواجب کیا اور انھوں نے امت سے آ پ کے لئے بیعت لی اور آپ کو مو منین پر ان کے نفسوں کے مقابلہ میں اولیٰ قرار دیا جیسا کہ انہیں اللہ نے ایسا ہی بنایا تھا۔ پھر اللہ کو ان پر گواہ بنایا اور کہا کیا میں نے پہنچا دیا ؟ان لوگوں نے کہا ھاں پہنچا دیا پھر فر مایا خدا یا گواہ رہنا کیونکہ تیری گو اھی کا فی ہے اور تیرا حکم بندوں کے درمیان کا فی ہے پس خدا کی لعنت ہو تیری و لایت کا اقرارکر نے کے بعد انکار کر نے والے پر اور عہد کے بعد عہد شکنی کر نے والے پر“
۴غدیر کی زیارت کے دوسرے حصہ میں یوں آیاہے :
اَشْهَدُ اَنَّکَ اَمیرُ الْمُوْ مِنین الْحَقُّ الَذِی نَطَقَ بِوِلاٰیَتِکَ التَّنْز یلُ وَاَ خَذَ لَکَ الْعَهْدَ عَلَی الْاُ مَّةِ بِذٰ لِکَ الرَّ سُولُ
اَ شْهَدُ یٰااَمیرَالْمُوْمِنینَ اَنَّ الشٰاکَّ فیکَ مٰاآمَنَ بِالرَّسُولِ الْاَمینِ وَاَ نَّ الْعٰادِلَ بِکَ غَیْرَکَ عٰانَدَ عَنِ الدینِ القویم الَّذِیْ ارْتَضَاهُ لَنَارَبُّ الْعَالَمِیْنَ وَاَکْمَلَهُ بِوِلَایَتِکَ یَوْمَ الْغَدِیْرِضَلَّ وَاللّٰهِ وَاَضلَّ مَنِ اتَّبَعَ سِوٰ اکَ وَعَنَدَ عَنِ الْحَقَّ مَنْ عٰادٰاکَ
میں گوا ہی دیتا ہوں کہ آپ برحق امیر المو منین ہیں آ پ کی ولایت پر قرآن نا طق ہے اور رسول نے اس کا عہد اپنی امت سے آپ کے با رے میں لے لیا ہے ۔
اے امیر المو منین آپ کے با رے میں شک کرنے والا پیغمبرامین پر ایمان نہیں لایا اور جس نے آپ کوکسی غیر کے برابر قرار دیاوہ دین محکم کا دشمن ہے جس کو خدا وند عالم نے ہما رے لئے پسند کیا ہے اور جس کو آپ کی ولایت کے ذریعہ روز غدیر مکمل کیا ہے ۔
خدا کی قسم وہ گمراہ ہوا اور دوسروں کو گمراہ کیا جس نے تیرے علا وہ کسی اور کا اتباع کیا “
۵ ۔زیارت غدیر کے ایک اور مقام پر آیا ہے :
اَ شْهَدُ اَنَّکَ مَااتَّقَیْتَ ضٰارِعاًوَلاٰاَمْسکْتَ عَنْ حَقِّکَ جٰازِعاًوَلاٰ اَحْجَمْتَ عَنْ مُجاهَدةِ غٰاصِبیکَ نٰاکِلاًوَلاٰاَظْهَرْتَ الرِّضٰابِخِلاٰفِ مٰایُرْضِی اللهَ مُدٰاهِناًوَلاٰوَهَنْتَ لِمٰااَصٰابَکَ فی سَبیلِ اللهِ وَلاٰضَعُفْتَ وَلاَاسْتَکَنْتَ عَنْ طَلَبِ حَقِّکَ مُرَاقِباً
مَعَاذَاللهِ اَنْ تَکُوْ نَ کَذَالِکَ، بَلْ اِذْظُلِمَتَ احْتَسَبْتَ رَبَّکَ وَفَوَضّْتَ اِلَیْهِ اَمْرَکَ وَذَکَّرْتَهُمْ فَمَاادَّکَرُوْاوَوَعَظْتَهُمْ فَمَااتَّعَظُوْاوَخَوَّفْتَهُمْ فَمَا تَخَوَّفُوْا
اور میں گو ہی دیتا ہوں کہ آپ نے ذلت کی وجہ سے تقیہ نہیں کیا اور نہ آپ اپنے حق سے عاجزی کی وجہ سے رکے اور نہ آپ نے اپنے غاصبوں کے مقابلہ میںعقب نشینی کرتے ہوئے صبر کیا اور نہ آپ نے کسی سازش کے تحت خدا کی مر ضی کے خلاف مطلب کا اظھار کیا اور جو آپ کو راہ خدامیں تکلیف ہو ئی تو اس کو کمزوری اور سستی کی وجہ سے قبول نہیں کیا اور خوف کی وجہ سے اپنے حق کے مطالبہ میں کو ئی کو تا ہی نہیں کی ۔
معاذ اللہ آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں بلکہ جب آپ پر ظلم کیا گیا تو آپ نے رضائے خدا کو نگاہ میں رکھا اور اپنا امر اللہ کے حوالہ کر دیا اور آپ نے ظالموں کو نصیحت کی لیکن انھوں نے قبول نہیں کیا آپ نے ان کو مو عظہ کیا انھوں نے نہیں مانا آپ نے انہیں خدا سے ڈرایا لیکن وہ خائف نہیں ہوئے ۔
۶زیارت غدیرکے ایک اور مقام پر آیا ہے :
لَعَنَ اللهُ مُسْتَحِلّیْ الْحُرْمَةِ مِنْکَ وَذَائِدیِ الْحَقِّ عَنْکَ وَاَشْهَدُ اَنَّهُمْ الاَخْسَرُوْنَ الَّذِیْنَ تَلْفَحُ وَجوْهَهُمُ النَّارُ وَهُمْ فِیْهَا کَالِحُوْنَ
لَعَنَ اللهُ مَنْ سٰاوَاکَ بِمَنْ نَاوَاکَ
لَعَنَ اللهُ مَنْ عَدَلَ بِکَ مَنْ فَرَضَ اللهُ عَلَیْهِ وِلَایَتَکَ
”پس خدا کی لعنت ہو آپ کی حرمت ختم کر نے والے پر اور آپ کے حق کو آپ سے دور کر نے والے پر اور میں گو اھی دیتا ہوں کہ وہ لوگ گھاٹا اٹھانے والوں میں ہیں ان کے چھرے جہنم میں جھونک دئے جا ئیں گے اور وہ اسی میں پڑے جلتے رہیں گے ۔
پس اس پر خدا کی لعنت ہو جو آپ کے دشمن کو آپ کے برابر کرے ۔
خدا کی لعنت ہو اس پر جو اسے آپ کے برابر قرار دے جس پر اللہ نے آپ کی اطاعت فرض کی ہے “
۷زیارت غدیر میں ایک اور مقام پر آیا ہے :
اِنَّ اللهَ تَعالیٰ اسْتَجَابَ لِنَبِیِّهِ صلی الله علیه وآله فِیْکَ دَعْوَتَهُ،ثُمَّ اَمَرَهُ بِاِظْهَارِمَااَوْلَاکَ لِاُمَّتِهِ اِعْلَاءً لِشَانِکَ وَاِعْلَاناًلِبُرْهَانِکَ وَدَحْضاً لِلاَبَاطِیْلِ وَقَطْعاً لِلْمَعَا ذِیْرِ
فَلَمَّااَشْفَقَ مِنْ فِتْنَةِ الْفَاسِقِیْنَ وَاتَّقیٰ فِیْکَ الْمُنَافِقِیْنَ اَوْحیٰ اِلَیْهِ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ<یَااَیُّهَاالرَّسُوْلُ بَلّغْ مَااُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکْ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَابَلَّغْتَ رَسَالَتَهُ وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ >فَوَضَعَ عَلیٰ نَفْسِهِ اَوْزَارَالْمَسِیْرِوَنَهَضَ فِیْ رَمْضَاءِ الْهَجِیْرِفَخَطَبَ وَاَسْمَعَ وَنَادیٰ فَاَبْلَغَ ،ثُمَّ سَالَهُمْ اَجْمَعَ فَقَالَ:هَلْ بَلَّغْتُ؟ فَقَالُوْا:اَللَّهُمَّ بَلیٰ فَقَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْثُمَّ قَالَ:اَلَسْتُ اَوْلیٰ بِالْمُوْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ؟ فَقَا لُوْا:بلیٰ فَاَخَذَ بِیَدِکَ وَقَالَ:مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا عَلِیٌّ مَوْلَا هُ،اَللَّهُمّّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِمَنْ عَادَاهُ وَانْصُرْمَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَه“فَمَا آمَنَ بِمَااَنْزَلَ اللهُ فِیْکَ عَلیٰ نَبِیَّهِ اِلَّا قَلِیْلٌ وَلَازَادَاَکْثَرَهُمْ غَیْرَتَخْسِیْرٍ ۔
خداوند عالم نے آپ کے سلسلہ میں اپنے نبی کی دعا قبول فر ما ئی پھر ان کوحکم دیا آپ کی ولا یت کوظاہر کر نے ،آپ کی شان کو بلند کر نے ،آپ کی دلیل کا اعلان کرنے ،اور با طلوں کو کچلنے اور معذرتوں کو قطع کر نے کےلئے ۔
تو جب منافقین کے فتنہ سے ڈرے اور آپ کے با رے میں انہیں منافقین کی طرف سے خوف پیدا ہواتو عالمین کے پرور دگار نے وحی کی” اے رسول آپ اس پیغام کو پہنچا دیجئے جس کا ہم آپ کو حکم دے چکے ہیں اگر آپ نے وہ پیغام نہیں پہنچایا تو گو یا رسالت کا کو ئی کام ہی انجام نہیں دیا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفو ظ رکہے گا“ تو انھوں نے سفر کی زحمتوں کو اٹھایا اورظھر کے وقت کی سخت گرمی میں غدیر خم میں ٹھھر کر خطبہ دیا اور سنا یا اور آواز دی پھر پہو نچا دیا پھر ان سب سے پو چھا کیا میں نے پہنچا دیا تو سب نے کہا ھاں خدا کی قسم آپ نے پہنچا دیا پھر کہا کہ خدا یا گو اہ رہنا پھر کہا کیا میں مو منوں کی جان پر خود ان کی نسبت اولیٰ نہیں ہوں انھوں نے کہا ھاں پھر آپ نے علیعليهالسلام کے ہاتھ کو پکڑا اور فر مایا جس کا میں مو لا ہوں اس کے یہ علی مو لا ہیں خدا یا اس کو دو ست رکھنا جو انہیں دو ست رکہے اور اسے دشمن رکھنا جو انہیں دشمن رکہے اس کی مدد کرنا جو ان کی مدد کرے اس کو ذلیل کرجو انہیں رسواکرے تو آپ کے با رے میں جو خدا نے اپنے نبی پر نا زل کیا ہے اس پر چند لوگوں کے علاوہ اور کو ئی ایمان نہیں لایا اور زیادہ تر لوگوں نے گھا ٹے کے علا وہ کچھ بھی نہیں پایا۔
۸زیارت غدیر میں ایک اور مقام پر آیا ہے :
اَللَّه ُمَّ اِنَّانَع ْلَمُ اَنَّ ه ٰذَا ه ُوَالْحَقُّ مِنْ عِنْدِکَفَالْعَنْ مَنْ عٰارَضَ ه ُ وَاسْتَکْبَرَوَکَذبَّ بِ ه ِ وَکَفَرَوَسَ یَع ْلَمُ الَّذینَ ظَلَمُوااَیَّ مُن ْقَلَبٍ یَن ْقَلِبُونَ
لَعْنَةُ اللهِ وَلَعْنَةُ مَلاٰ ئِکَتِهِ وَرُسُلِهِ اَجْمَعینَ عَلیٰ مَنْ سَلَّ سَیْفَهُ عَلَیْکَ وَسَلَلْتَ سَیْفَکَ عَلَیْهِ یٰااَمیرَالمُومِنینَ مِن الْمُشْرِکینَ وَالْمُنٰافِقینَ اِلیٰ یَوْمِ الدّ ینِ وَعَلیٰ مَنْ رَضِیَ بِمٰاسٰائَکَ وَلَمْ یُکْرِهْهُ وَاَغْمَضَ عَیْنَهُ وَلَمْ یُنْکِرْاَوْاَعٰانَ عَلَیْکَ بِیَدٍ اَوْ لِسٰانٍ اَوْقَعَدَعَنْ نَصْرِکَ اَوْخَذَلَ عَنِ الْجِِهٰادِ مَعَکَ اَوْغَمَطَ فَضْلَکَ وَجَحَدَ حَقَّکَ اَوْعَدَلَ بِکَ مَنْ جَعَلَکَ اللهُ اَوْلیٰ بِهِ مِنْ نَفْسِهِ
”خدایا میں جانتا ہوں بیشک یہ حق تیری طرف سے ہے تو تو لعنت کر اس پر جو علی سے ٹکرائے، سر کشی کرے ،تکذیب کرے اور کفر کرے اور عنقریب ظلم کرنے والے جان لیں گے کھاں جا ئیں گے۔
اللہ اس کے ملائکہ اور تمام رسولوں کی لعنت ہو اور ان سب پر جنھوں نے اپنی تلوار کو آپ کے مقابلہ میں کھینچا اورجن پر آپ نے اپنی تلوار کھینچی اے امیر المو منین چا ہے وہ مشرکوں میں سے ہوں یا منافقین میں سے روز قیامت تک ،اور ان سب پر جو آپ کی برا ئی سے راضی ہو ئے اور اس کو نا پسند نہ کیا اور چشم پوشی کی اور انکار نہ کیا یا آپ کے خلاف مدد کی ہاتھ یا زبان سے یا آپ کی نصرت سے بیٹھارھا یا آپ کے ساتھ جھاد سے باز رہا یا آپ کے فضل کو کم کیا اور آپ کے حق کا انکار کیا یااس کو آپ کے برابر کیا جس سے خدا نے آپ کو اولیٰ بنایا تھا ۔
۹زیارت غدیر کے ایک اور حصہ میں ہم پڑھتے ہیں :
وَالْاَمْرُالْاَعْجَبُ وَالْخَطْبُ الْاَفْزَعُ بَعْدَجَحْدِکَ حَقَّکَ غَصْبُ الصَّدّ یقَةِ الطَٰاهِرَةِ الزَّهْرٰاءِ سَیَّدَةِ النَّساءِ فَدَکاًوَرَدُّشَهٰادَتِکَ وَشَهٰادَةُُُُ السَّیَّدَ یْنِ سُلاٰلَتِکَ وَعِتْرَةِ الْمُصْطَفیٰ صَلَّی اللهُ عَلَیْکُمْوَقَدْاَعْلَی اللهُ تَعٰالیٰ عَلَی الْاُمَّةِ دَرَجَتَکُمْ وَرَفَعَ مَنْزِلَتَکُمْ وَاَبٰانَ فَضْلَکُمْ وَشَرَّفَکُمْ عَلَی الْعٰالَمینَ
اور عجیب ترین امر اور سب سے نا گوار واقعہ آپ کے حق کے انکار کے بعد جناب صدیقہ طاھرہ فا طمہ زھراعليهالسلام سید ة النساء علیھا السلام کے حق فدک کا غصب کرنا ہے اور آپ کی گو اھی اور سردار جوانان جنت امام حسن اور امام حسین علیھما السلام کی گو اھی (جو آپ کی نسل اور عترت مصطفےٰ سے ہیں )کا رد کرنا ہے جبکہ خدا وند عالم نے آ پعليهالسلام کے مرتبہ کو امت پر بلند کیا ہے اور آپ کی منزلت کو رفعت دی ہے اور آپ کے فضل کو ظاہر کیا ہے اور تمام عالم پر آپ کو شرف دیا ہے ۔
۰ازیارت غدیر میں آیا ہے :
مٰااَعْمَهَ مَنْ ظَلَمَکَ عَنِ الْحَقِّ
فَاَشْبَهَتْ مِحْنَتُکَ بِهِمٰا مِحَنَ الْاَنْبِیٰاءِ عِنْدَ الْوَحْدَةِ وَعَدَمِ الْاَنْصٰارِ
مٰا یُحیطُ الْمٰادِحُ وَصْفَکَ وَلاٰیُحْبِطُ الْطٰاعِنُ فَضْلَکَ
تُخْمِدُ لَهَبَ الْحُرُوبِ بِبَنٰانِکَ وَتَهْتِکُ سُتُورَ الشُّبَهِ بِبَیٰانِکَ وَتَکْشِفُ لَبْسَ الْباطِلِ عَنْ صَریحِ الْحَقَّ
تو وہ کتناسرگشتہ اور اندھا ہے جس نے آپ کے حق پر ظلم کیا ۔
تنھائی اور ناصرو مددگار نہ ہو نے کی صورت میں آپ کی مظلومی انبیا ء علیھم السلام کی مظلومی سے کتنی مشابہ ہے ۔
پس آپ کی مدح کر نے والا آپ کی صفت کا احاطہ نہیں کر سکتا اور نہ کو ئی طعنہ دینے والا آپ کے فضل کا احاطہ کرسکتا ہے ۔
آپ نے اپنی انگلیوں (اپنی قدرت )سے جنگ کے شعلوں کو خاموش کیا اوراپنے بیان سے شبہ کے پردوں کوچاک کیااور باطل کے اشتباہ کوحق کی وضاحت سے کھول دیا ۔
اازیارت غدیر میں آیا ہے :
اللّٰهُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ اَنْبِیٰا ئِکَ وَاَوْصِیٰاءِ اَنْبِیٰائِکَ بِجَمیعِ لَعَنٰا تِکَ وَاَصْلِهِمْ حَرَّنٰارِکَ وَالْعَنْ مَنْ غَصَبَ وَلِیَّکَ حَقَّهُ وَاَنْکَرَعَهْدَهُ وَجَحَدَهُ بَعْدَ الْیَقینِ وَالْاقْرَارِ بِالْوِلاٰیَةِ لَهُ یَوْمَ اَکْمَلْتَ لَهُ الدّ ینَ
اللّٰهُمَّ الْعَنْ قََََتَلَةَ اَمیرالْمُوْمِنِیْنَ وَمَنْ ظَلَمَهُ وَاَشْیٰاعَهُمْ وَاَنصٰارَهُمْ
اللّٰهُمَّ الْعَنْ ظٰالِمِی الْحُسَیْنِ وَقٰٰاتِلیهِ وَالْمُتٰابِعینَ عَدُوَّهُ وَنٰاصِریهِ وَالرّٰاضینَ بِقَتْلِهِ وَخٰاذِلیهِ لَعْناًوَبیلاً
خدایا لعنت کر اپنے انبیاء کے قا تلوں پر اور ان کے اوصیا کے قاتلوں پر مکمل لعنت اور ان کو جہنم کی گر می میں ڈال دے اور لعنت کراس پر جس نے تیرے ولی کا حق غصب کیا اور اس کے عہد کا انکار کیا اور یقین اور اقرار و لایت کے بعد ان سے منحرف ہوا جس روز تو نے دین کو مکمل کیا ۔
خدایا لعنت کر امیر المو منین کے قاتلوں پر اور اس پر جس نے ان پر ظلم کیا اوران (ظلم کرنے والوں) کے ماننے والوں اور نا صروں پر ۔
خدایالعنت کرحسین کے ظالموں اور قا تلوں اور ان کے دشمنوں کا اتباع کرنے والوں اور مدد گاروں پر اور ان کے قتل پرراضی رہنے والوں پر اور انہیں چھو ڑنے والوں پر سخت عذاب و لعنت کر “
۲ ا۔زیارت غدیر میں ہم پڑھتے ہیں :
اللّهمّ العن اولّ ظالم ظلم آل محمّد ومانعیهم حقوقهم
اللّهمّ خُصَّ اوّل ظالم وغاصب لآل محمّد باللعن وکل مستنّ بما سنّ الی یوم القیامة
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِیِیّنَ وَعَلیٰ عَلِیٍّ سَیَّدِ الْوَصِیِیّنَ وآلهِ الطّاهرین واجْعَلْنَابِهِمْ مُتَمَسِّکِیْنَ وَبِوِلَایَتِهِمْ مِنَ الْفَائِزِیْنَ الآمِنِیْنَ الَّذِیْنَ لَاخَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَاهُمْ یَحْزَنُوْنَ
خدا یا آل محمد پر سب سے پہلے ظلم کرنے والے پرلعنت کر اور ان کے حقوق کے رو کنے والوں پر
خدایا آل محمد پر پہلے ظالم اور غاصب پر مخصوص لعنت کر اور اس پر بھی جو اس کے طریقہ پر چلے روز قیامت تک ۔
خدایا درود نا زل فرما محمد پر جو خا تم النبیین ہیں اور علی پر جو سید الو صیین ہیں اور ان کی آل پاک پر اور ہم کو ان سے اور ان کی ولا یت سے متمسک قرار دے کر کا میاب فرمااور ان صاحبان امان میں سے قرار دے جن کےلئے کو ئی خوف اور حزن نہیں ہے ۔
۳ اھم روز غدیر کی دعا میں پڑھتے ہیں :
اللَّهُمَّ صَدَّقْنَاوَاَجَبْنَادَاعِیَ اللّٰهِ وَاتَّبَعْنَاالرَّسُوْلَ فِیْ مُوَالَاةِ مَوْلَانَاوَمَوْلیَ الْمُومِنِیْنَ اَمِیْرِالْمُومِنِیْنَ عَلِیٍ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍاللَّهُمَّ رَبَّنَااِنَّنَاسَمِعْنَامُنَادِیاًیُنَادِیْ لِلاِیْمَانِ اَنْ آمِنُوْا بِرَبِّکُمْ فَآمَنَّا فَاِنَّایٰارَبَّنَا بِمَنِّکَ وَلُطْفِکَ اَجَبْنَادَاعِیْکَ وَاتَّبَعْنَاالرَّسُوْلَ وَصَدَّقْنَاهُ وَصَدَّقْنَامَوْلیَ الْمُوْمِنِیْنَ وَکَفَرْنَابِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ،فَوَلِّنَامَاتَوَلَّیْنَا
”بار الٰھاھم نے تصدیق کی اللہ کی جا نب بلانے والے کی دعوت پر لبیک کہا اور ہم نے رسول کا اتباع کیا اپنے اور مو منین کے مو لا امیر المو منین علی بن ابی طالب کی دو ستی میں ۔۔۔اے خدا اے ہما رے پرور دگار ہم نے ایمان کے لئے آواز دینے والے کی آواز کو سناکہ ایمان لا و اپنے رب پر تو ہم ایمان لے آئے ۔
بیشک اے ہمارے پروردگار ہم نے تیرے لطف و احسان کی وجہ سے تیری طرف بلانے والے کی دعوت پر لبیک کھی اور رسول کا اتباع کیا اور اس کی تصدیق کی اور اسی طرح ہم نے مو منین کے مو لا کی تصدیق کی اور جبت و طاغوت کا انکار کیا لہٰذا تو ہماری ولایت اور ایمان کی حفاظت فر ما “
۴ ا۔ھم دعائے روز غدیر میں ایک اور مقام پر پڑھتے ہیں :
اللَّهُمَّ اِنِّیْ اَسْالُکَ اَنْ تَجْعَلَنِیْ فِیْ هَذَالْیَوْمِ الَّذِیْ عَقَدْتَ فِیْهِ لِوَلِیِّکَ الْعَهْدَ فِیْ اَعْنَاقِ خَلْقِکَ وَاَکْمَلْتَ لَهمُ الدِّ یْنَ، مِنَ الْعَارِفِیْنَ بِحُرْمَتِهِ وَالْمُقَرِّیْنَ بِفَضْلِهِ اللَّهُمَّ فَکَمَاجَعَلْتَهُ عَیْدَکَ الاَکْبَرَوَسَمَّیْتَهُ فِی السَّمَاءِ یَوْمَ الْعَهْدِ الْمٍعْهُوْدوَفِیِ الاَرْضِ یَوْمَ الْمِیْثَاقِ الْمَاخُوْذِ وَالْجَمْعِ الْمَسْووْلِ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاقْرِرْبِهِ عُیُوْنَنَا وَاجْمَعْ بِهِ شَمْلَنَاوَلَاتُضِلَّنَابَعْدَ اِذْهَدَیْتَنَاوَاجعَلْنٰا لِاَنْعُمِکَ مِنَ الشٰاکِرینَ یااَرْحَمَ الرّٰاحِمینَ ۔
اے خدا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ۔۔۔مجھ کو اس روزمیں قرار دیدے جس دن تو نے اپنے ولی کےلئے اپنی مخلوق کی گردن میں عہد ڈالا ہے اوران کے دین کو مکمل کیا ہے کہ مجہے اس کی حرمت کو پہچا ننے والوں اور اس کی فضیلت کا اقرار کرنے والوں میںقرار دے۔۔۔اے خدا جس طرح تو نے اس کو عید اکبر قرار دیا ہے اس کا نام آسمان میں عہد معہو د اور زمین میں روز میثاق ما خوذ اور جمع مسئو ل قرار دیا ہے درود نا زل کر محمد وآل محمد پر اور اس سے ہماری آنکھوں کو روشن کر اور ہماری پراگندگی کو جمع کر اور ہماری ھدا یت کے بعد ہم کو گمراہ نہ کرنا اور ہم کو اپنی نعمت کا شکر ادا کر نے والوں میں قرار دے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔
۱۵ ۔ھم دعائے روز غدیر میں ایک اور مقام پر پڑھتے ہیں :
الْحَمْدُلِلِّٰه الَّذی عَرَّفَنٰافضلَ هٰذَاالیَوْمِ وَبَصَّرَنٰاحُرْمَتَهُ وَکَرَّمَنٰابِهِ وَشَرَّفَنٰابِمَعْرِفَتِهِ وَهَدانٰابِنُورِهِ اللّٰهُمَّ اِنیّ اَساَلُکَاَنْ تَلْعَنَ مَنْ جَحَدَ حَقَّ هٰذَاالْیَوْمَ وَانْکَرَحُرْمَتَهُ فَصَدَّ عَنْ سَبیلِکَ لِاطْفَا ءِ نُوْرِکَ ۔
خدا کی حمد ہے جس نے ہم کو اس دن کی فضیلت پہچنوا ئی اور اس کی حرمت کی بصیرت عطاکی، اور اس کے ذریعہ ہم کو عزت دی اور اس کی معرفت سے ہم کوشرف بخشا اور اس کے نور سے ہماری ہدایت کی ۔۔۔اے خدا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ۔۔۔اور ان پر لعنت کر جس نے اس روز کے حق کا انکار کیا اور اس کی حرمت کا انکار کیااور جس نے تیرے نور کو بجھا نے کےلئے تیری راہ بند کر دی ہے ۔
۶ ا۔عید غدیر کی دعا میں ایک اور مقام پرآیا ہے :
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ اَلَّذِیْ جَعَلَ کَمَالَ دِیْنِهِ وَتَمَامَ نِعْمَتِهِ بِوِلَایةِ اَمِیْرَالْمُومِنِیْن عَلی بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ عَلَیهِ السلام ۔
حمد ہے اس خدا کےلئے جس نے اپنے دین کو مکمل اور اپنی نعمت کو تمام کیا امیر المو منین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت کے ذریعہ ۔
۳ غدیرکی محفلیں( ۱۴۷ )
ھر سال غدیر کے سلسلہ میں ۸ ا/ذی الحجہ کوجو پوری دنیا میں محفلیں منا ئی جا تی ہیں وہ غدیر کی یاد کاسب سے مشخص و معین آئینہ ہیں اور غدیر کے مطالب کو محفوظ کر نے میں اس کا معا شرتی اثر لوگوں کے اذھان میں غیرمعمولی ہے ۔
جس طرح غدیر کی یاد گا ر محفل ہر سال آسمان پر ملائکہ کے در میان منا ئی جا تی ہے اسی طرح زمین پربھی شیعہ حضرات اس دن غدیر کی یاد میں محفلیں برپا کر تے ہیں ۔
سب سے پہلی محفل غدیر اسی بیابان غدیر میں منا ئی گئی اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور حضرت امیرالمو منینعليهالسلام کومبارکباد پیش کر نے والوں کا ایک سیلاب ا مڈ آیا اور اس دن اتنے زور شور سے محفل ہو ئی کہ اس جیسی محفل آج تک اس بیابان میں نہ ہو سکی ۔
اس کے بعدپچیس سال تک غدیر حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فا طمہ زھرا سلام اللہ علیھا کے جلے ہو ئے دروازے کے پیچہے رو تی رہی یھاں تک مو لا ئے کا ئنات نے سلطنت کی باگ ڈور سنبھا لی اور غدیر کی پہلی محفل مسجد کو فہ میں آپ کی مو جود گی میں بپا ہو ئی ۔عید غدیر جمعہ کے دن سے مقارن ہوئی اور حضرت امیر المو منین علیہ السلام نے نماز جمعہ کے خطبوں میں مفصل طور پر غدیر کی عظمت بیان فر ما ئی نماز جمعہ کے بعد تمام افراد حضرت علی علیہ السلام کے ھمراہ حضرت امام حسن علیہ السلام کے دو لت کدہ پر غدیر کا مخصوص طعام کھانے کےلئے گئے ۔
اس کے بعد غدیر کی مفصل محفل منا نے کے لئے حالات سازگار نہ ہوئے یھاں تک کہ حضرت امام رضا علیہ السلام نے اپنے دور میں خراسان میں اپنے مخصوص اصحاب کے ایک گروہ کو عید غدیر کا روزہ افطار کر نے کی دعوت فر ما ئی اور ان کے گھروں میں تحفے تحا ئف اور عیدی بھیجی اور ان کے لئے غدیر کے فضائل کے سلسلہ میں مفصل خطبہ بیان فر مایا۔
آل بویہ کے زمانہ میں ایران اور عراق میں اور فا طمی حکو مت کے دور میں شام ، مصر اور یمن میں مفصل طور پر غدیر کی محفلیں منائی جا تی رہیں اور ان محفلوں کو خا ص اہمیت دی جا تی تھی ۔( ۱۴۸ ) صفوی دور سے لیکر ہما رے دور تک غدیر کی محفلیں بڑے ہی زور و شور سے منائی جا تی ہیں اور ایران ،عراق ،لبنان ، پاکستان اور ہند و ستان میں بڑے وسیع پیمانہ پر غدیر کاجشن منا یا جا تا ہے ۔
متعدد بر سوں سے علما ء و بزرگان ،اور بلند عھدوں پر فائز افراد اور مختلف طبقوں کے لوگ غدیر کے دن ایک دو سرے کو مبار کباد ی پیغام بھیجتے ہیں اور اس کی بڑی عزت و توقیر کرتے ہیں ۔غدیر کی محفلیں بڑے بڑے شھروں سے لیکر چھو ٹے سے چھوٹے گا وں میں بھی برپا ہو تی ہیں یھاں تک پوری دنیا میں جھاں جھاں بھی شیعہ آباد ہیں چا ہے وہ کتنی ہی کم تعداد میں کیوں نہ ہوں ایک دو سرے کے پاس جا تے ہیں اور غدیر کے دن محفل کر تے ہیں ۔
۰ ا ۴ ا ھ میں غدیر کی چودہویں صدی کی منا سبت سے لندن میں ایک عظیم الشان سیمینار منعقدکیا گیاجو کئی دن تک جاری اور اس کی رپورٹ بھی طبع ہوچکی ہے اس کے بعد ایک مرتبہ پھر غدیر کی عظمت کی بین الاقوامی سطح پر نما ئش ہو ئی ۔
اب ہم چودہ سو گیارہ سالہ کا جشن غدیر منا رہے ہیں اور غدیر کو سورج کی طرح روشن و منور دیکھ رہے ہیں ہم اس پر فخر کرتے ہیں اور غدیر کی کامیابی کی خو شی منا ئیں گے اور سقیفہ کی مایوسی کو دیکہیں گے ۔
غدیر کی محفلوں میں غدیر کے سلسلہ میں تقریروں اورقصیدوںکے علاوہ غدیر میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خطبہ کی حفا ظت اور اسے حفظ کر نے والوں کو تحفے تحا ئف عطا کرنا برسوں سے رائج ہے اور اس کے مثبت آثار دیکھنے کو ملتے ہیں ۔
آخر میں ہم یہ پیشکش کر تے ہیں :
ھر سال غدیر سے متعلق ہو نے والی محفلوں اور پروگراموں میں ”خطبہ غدیر “اور واقعہ غدیرکو مفصل طور پر بیان کیاجا ئے تا کہ اس طرح ہم پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس کے ابلاغ کے بارے میںدئے ہو ئے حکم کی تعمیل کر سکیں اور صاحبان ولایت مطلقہ الٰھیہ کی پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ،حضرت امیر المو منین علیہ السلام ،فا ط م ہ زھرا سلام اللہ علیھا اور ائمہ معصو مین علیھم السلام سے تجدید عہد و پیمان کر سکیں ۔
____________________
[۱] الغدیر جلد ۱ صفحہ ۱۹۳۔بحا رالانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۳۶،۱۶۲،۱۶۷۔عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۵۶، ۵۷، ۱۲۹، ۱۴۴۔ اس واقعہ کی تفصیل اسی کتاب کے دوسرے حصہ کی تیسری قسم میں ملا حظہ کیجئے ۔
[۲] بحا رالانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۲۰،۱۶۱۔عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۸۵،۱۳۶۔اس واقعہ کی تفصیل اسی کتاب کے دوسرے حصہ کی تیسری قسم میں ملا حظہ کیجئے ۔
[۳] اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ ۱۵۳۔
[۴] بحا رالانوار جلد ۴۱صفحہ ۲۲۸۔
[۵] بحا رالانوار جلد ۴۰صفحہ ۵۴حدیث ۸۹۔
[۶] بحا رالانوار جلد ۴۰صفحہ ۵۴حدیث ۸۹۔
[۷] بحا رالانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۰۹حدیث ۲۔
[۸] اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ ۱۱۱حدیث ۴۶۵۔
[۹] اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ ۱۲۶حدیث ۵۳۵۔
[۱۰] اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ ۱۸حدیث ۷۲۔
[۱۱] بحا الانوار جلد ۲۸ صفحہ ۲۴۸۔
[۱۲] بحا الانوار جلد ۲۸ صفحہ ۱۸۶،اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ ۱۱۵۔
[۱۳] بحار الانوار جلد ۲۸ صفحہ ۲۷۳۔
[۱۴] بحا الانوار جلد ۲۹ صفحہ ۳۔۱۸۔
[۱۵] بحا الانوار جلد ۴۱ صفحہ ۲۲۸۔
[۱۶] بحا الانوار جلد ۲۹ صفحہ۵ ۳۔۳۷۔
[۱۷] بحا الانوار جلد ۲۹ صفحہ ۴۶۔۶۲۔
[۱۸] کتاب سلیم حدیث ۱۴۔
[۱۹] بحا الانوار جلد ۳۱صفحہ ۳۳۲،۳۵۱،۳۷۳،۳۸۱۔
[۲۰] بحا الانوار جلد ۳۱صفحہ ۳۶۱۔
[۲۱] بحا الانوار جلد ۳۱صفحہ ۴۱۰۔۴۱۲۔
[۲۲] بحا الانوار جلد ۳۱صفحہ ۴۱۶،۴۱۷۔
[۲۳] کتاب سلیم حدیث۱۱۔
[۲۴] الغدیر جلد ۱صفحہ ۱۸۶۔
[۲۵] بحا رالا نوار جلد ۳۲صفحہ ۳۸۸۔
[۲۶] کتاب سلیم حدیث ۲۵۔
[۲۷] کتاب سلیم حدیث ۲۵۔
[۲۸] بحا ر الانوار جلد ۳۸صفحہ ۲۳۸حدیث ۳۹۔
[۲۹] مناقب ابن شھر آشوب جلد ۳صفحہ ۸۰۔
[۳۰] بحارالانوار جلد ۹۴صفحہ ۱۱۴۔۱۱۵۔
[۳۱] بحا رالانوار جلد ۳۱صفحہ ۴۴۷،جلد ۳۷صفحہ ۱۹۹۔ عوالم ۱۵/۳صفحہ ۸۹۔۴۹۰۔الغدیر جلد ۱صفحہ ۹۳۔
[۳۲] بحا رالانوار جلد ۳۰صفحہ ۱۴۔
[۳۳] بحا رالانوار جلد ۳۹صفحہ ۳۳۶حدیث/۵۔
[۳۴] بحا رالانوار جلد ۳۷صفحہ ۲۳۴۔
[۳۵] کتاب سلیم حدیث/ ۶۰۔
[۳۶] فضائل شاذان صفحہ ۸۴۔
[۳۷] کتاب سلیم حدیث /۸۔
[۳۸] بحا رالانوار جلد ۳۱صفحہ ۴۴۳۔
[۳۹] اثبات الھدات جلد ۲ صفحہ ۱۱۱حدیث/۴۶۵۔
[۴۰] بحا رالانوار جلد ۳۸صفحہ ۲۴۰۔
[۴۱] الغدیر جلد ۱ صفحہ ۱۹۷۔
[۴۲] بحارالانوار جلد ۳۶صفحہ ۳۵۲،الغدیرجلد ۱صفحہ ۱۹۷،اثبات الھدات جلد ۲صفحہ ۱۱۲۔
[۴۳] بحارالانوار جلد ۲۸صفحہ۲۰۵۔
[۴۴] بحار الانوار جلد ۴۳صفحہ ۱۶۱۔
[۴۵] بحار الانوار جلد ۱۰صفحہ۳۹ ۱۔
[۴۶] بحار الانوار جلد ۴۴صفحہ ۷۵۔
[۴۷] کتا ب سلیم حدیث ۲۶۔
[۴۸] اثبات الھدات جلد ۲ صفحہ ۳۴ حدیث ۱۳۹۔
[۴۹] بحار الانوار جلد ۳۷صفحہ ۲۰۱حدیث ۸۶۔
[۵۰] بحار الانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۴۰حدیث ۳۴۔
[۵۱] بحار الانوار جلد ۳۵صفحہ ۳۱۱۔
[۵۲] اثبات الھدات جلد ۲ صفحہ ۳۴ حدیث ۱۴۰۔
[۵۳] اثبات الھدات جلد ۲ صفحہ ۳۴ ۱حدیث ۵۸۴۔
[۵۴] بحار الانوار جلد ۲۱صفحہ ۳۳۹۔
[۵۵] اثبات الھدات جلد ۱صفحہ ۵۲۶حدیث ۲۸۵۔
[۵۶] اثبات الھدات جلد ۲ صفحہ ۶۴ ۱حدیث ۷۳۶۔
[۵۷] بحا رالا نوار جلد ۳۷ صفحہ ۱۴۰ حدیث ۳۳۔
[۵۸] بحا رالا نوار جلد ۳۷ صفحہ ۱۰۸ ۔
[۵۹] بحا رالا نوار جلد ۳۷ صفحہ ۱۰۳ ۔
[۶۰] اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ ۴حدیث ۷۔
[۶۱] اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ ۷حدیث ۱۸۔
[۶۲] اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ ۱۶حدیث ۶۷،صفحہ ۲۱حدیث۸۷۔
[۶۳] اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ۸ ۷حدیث ۳۲۷۔
[۶۴] اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ ۹۱۔
[۶۵] اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ ۱۲۲حدیث ۵۰۵۔
[۶۶] اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ۶ ۱۲حدیث ۵۳۵۔
[۶۷] بحا ر الانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۴۲۔
[۶۸] بحا رالانوار جلد ۶ صفحہ ۵۳۔
[۶۹] بحا رالانوار جلد ۴۸صفحہ ۱۴۷۔
[۷۰] اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ۱۰۳حدیث ۴۲۵۔
[۷۱] غیبت نعمانی صفحہ ۲۱۸حدیث۶۔
[۷۲] بحا رالانوار جلد ۹۷صفحہ ۳۶۰۔
[۷۳] بحا رالانوار جلد ۲صفحہ۲۲۶حدیث ۳۔
[۷۴] بحا رالانوار جلد ۵۰صفحہ ۳۲۱۔
[۷۵] اثبات الھداة جلد ۲صفحہ ۱۳۹حدیث۶۰۶۔
[۷۶] بحا رالانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۹۳حدیث۷۶۔
[۷۷] بحا رالانوار جلد ۳۷صفحہ ۳۳حدیث۳۰۔
[۷۸] نز ھة الکرام (رازی):جلد ۱صفحہ ۳۰۱۔۳۰۲۔ قبیلہ مالک کی بیٹیوں میںسے حنفیہ کی داستان جو قید کر لی گئیں تھیں اسی اتمام حجت کے چوالیسویں(۴۴) نمبر میں بیان کی جا ئے گی ۔
[۷۹] بحا رالانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۲۷،۱۳۱۔
[۸۰] بحا رالانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۹۳،۱۹۴۔
[۸۱] بحا رالانوار جلد ۲۸صفحہ ۹۸۔اثبات الھداةجلد ۲ صفحہ ۱۵۹حدیث۷۱۰۔
[۸۲] مثالب النواصب (ابن شھر آشوب)خطی نسخہ صفحہ ۱۳۴۔
[۸۳] الغدیر جلد ۱صفحہ ۲۰۳۔
[۸۴] بحا ر الانوار جلد ۲۸صفحہ ۲۰۰۔
[۸۵] الغدیر جلد ۱ صفحہ ۱۸۸۔
[۸۶] بحا رالانوار جلد ۲۹صفحہ ۱۶۶۔
[۸۷] کتاب سلیم حدیث ۲۶۔
[۸۸] کتاب سلیم حدیث ۳۹۔
[۸۹] بحا رالانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۲۳،۱۲۴۔
[۹۰] بحا رالا نوار جلد ۲۸صفحہ ۲۲۳۔
[۹۱] اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ ۱۲۰حدیث ۴۹۸۔
[۹۲] الغدیر جلد ۱ صفحہ ۲۰۵۔
[۹۳] بحار الانوار جلد ۳۲صفحہ ۱۸۸حدیث ۱۳۸۔
[۹۴] اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ ۷۱حدیث ۳۰۹۔
[۹۵] بحا ر الانوار جلد ۳۳صفحہ ۲۶۶۔
[۹۶] کتاب سلیم حدیث ۴۲۔
[۹۷] اثبات الھداة جلد ۲صفحہ ۱۲۰ حدیث۴۹۸۔
[۹۸] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ۶۳۔
[۹۹] بحار الانوار جلد ۲۹صفحہ ۹۲۔
[۱۰۰] بحا رالانوار جلد ۳۳ صفحہ ۲۵۹۔
[۱۰۱] بحا رالانوار جلد ۴۰صفحہ ۶۸حدیث۱۰۴۔
[۱۰۲] الغدیر جلد ۱ صفحہ ۲۰۱۔
[۱۰۳] اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ ۳۴۔
[۱۰۴] بحا رالانوار جلد ۲۸صفحہ ۲۵۹حدیث۴۲۔
[۱۰۵] الغدیرجلد۱ صفحہ۱۸۷۔۱۹۱۔
[۱۰۶] عوالم جلد ۱۵/۳صفحہ ۲۵۷حدیث۳۶۴۔
[۱۰۷] اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ ۱۰۴حدیث ۴۲۸۔
[۱۰۸] بحار الانوار جلد ۲۹صفحہ ۵۸۲حدیث۱۶۔
[۱۰۹] اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ ۱۷۳حدیث ۸۰۳۔
[۱۱۰] العدد القویہ صفحہ ۱۶۹،التحصین صفحہ ۵۷۸،الصراط المستقیم جلد ۱ صفحہ ۳۰۱۔
[۱۱۱] بحا رالانوار جلد ۳۱صفحہ ۴۴۷،جلد ۳۷صفحہ ۱۹۹۔الغدیر جلد ۱ صفحہ ۹۳۔
[۱۱۲] بحارالانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۵۲۔
[۱۱۳] بحا رالانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۴۹۔
[۱۱۴] بحا رالانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۴۹۔
[۱۱۵] المسترشد صفحہ ۲۷۰حدیث۸۱۔
[۱۱۶] اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ ۱۴۹حدیث ۶۵۲۔ اثبات الھداة جلد ۲ صفحہ ۱۴۹حدیث ۶۵۲۔
[۱۱۷] ۔اثبات الھدات جلد ۲ صفحہ ۳۲حدیث ۱۷۰۔
[۱۱۸] بحا رالانوار جلد ۳۳صفحہ ۲۶۰حدیث۵۳۲۔
[۱۱۹] بحا رالانوار جلد ۳۹صفحہ ۱۶۲حدیث۱۔
[۱۲۰] بحا رالانوار جلد ۴۱صفحہ ۲۲۸۔
[۱۲۱] اثبات الھدات جلد ۲ صفحہ۰ ۲حدیث ۱۰۱۵۔
[۱۲۲] بحا رالانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۰۸حدیث۱۔
[۱۲۳] الغدیر جلد ۱صفحہ ۲۰۳۔
[۱۲۴] بحا رالانوار جلد ۱ ۳۷صفحہ ۱۹۹۔
[۱۲۵] کتاب سلیم حدیث ۵۵۔
[۱۲۶] بحا رالانوار جلد ۴۰صفحہ ۴۱۔
[۱۲۷] ثبات الھدات جلد ۲ صفحہ ۳۵حدیث ۱۴۷،صفحہ ۴۴حدیث۱۷۹۔
[۱۲۸] الغدیر جلد ۱ صفحہ ۲۰۳۔
[۱۲۹] اثبات الھدات جلد ۲ صفحہ ۱۸۵۔
[۱۳۰] الغدیر جلد ۱صفحہ ۲۱۰۔
[۱۳۱] کشف المھم صفحہ ۱۸۸۔
[۱۳۲] الغدیر جلد ۱صفحہ ۲۱۲۔
[۱۳۳] الغدیر جلد ۱صفحہ ۲۱۰۔
[۱۳۴] تاریخ الاسلام (ذھبی )جلد ۲۳صفحہ ۲۸۳۔
[۱۳۵] حا رالانوار جلد ۴۲صفحہ ۱۵۱۔
[۱۳۶] بحا رالانوار جلد ۴۲صفحہ ۱۵۰ حدیث ۱۶۔
[۱۳۷] بحار الانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۲۱حدیث ۱۵۔عوا لم جلد ۱۵/۳صفحہ ۴۴۔
[۱۳۸] اس کا تفصیلی واقعہ کتاب کے دوسرے حصہ کی تیسری قسم میں بیان ہوا ہے ۔
[۱۳۹] بحارالانوار جلد ۳۷صفحہ ۱۳۱حدیث ۴۱۷،جلد ۳۸ صفحہ ۲۳۸حدیث۳۹۔
[۱۴۰] بحارالانوار جلد ۳۵ صفحہ ۳۸۳ جلد ۲۶صفحہ۲۳۰۔
[۱۴۱] بحارالانوار جلد ۳۷ صفحہ ۱۴۸۔
[۱۴۲] اس کا مفصل واقعہ اسی کتاب کے تیسرے حصہ کے دو سرے بخش میں آیا ہے ۔
[۱۴۳] مثالب النواصب (ابن شھر آشوب )خطی نسخہ صفحہ /۶۳۔
[۱۴۴] مجلہ تراثنا شمارہ ا۲ صفحہ ۵ سے ۲۲ تک۔
[۱۴۵] عوالم جلد ۵ا/۳صفحہ ۲۲۰۔
[۱۴۶] ا رالانوار جلد ۹۷ صفحہ ۳۶۰۔
[۱۴۷] عوالم جلد ۵ا/۳صفحہ ۲۰۸،ا۲۲،۲۲۲۔
[۱۴۸] کتاب ”عید الغدیر فی عہد الفاطمیین “میں رجوع کیجئے ۔
وا قعہ غدیرکے منابع
۱ کتب شیعہ
ا۔اثبات الھداة جلد ۳ صفحہ اا ۳،۴۷۶،۵۸۴ ،ا ۶۰ ۔جلد ۴ صفحہ ۶۶ ا، ۴۷۲ ۔
۲ ۔الا حتجاج:ج اصفحہ ۶۶،۸۴ ۔
۳ ۔ احقاق الحق :ج ۲ صفحہ ۵ ا ۴ ۔ا ۵۰ ج ۳ صفحہ ۳۲۰ ج ۶ صفحہ ۲۲۵ ، ۳۶۸ ج ۲ ا ،صفحہ ا ۔ ۹۳ ج ۴ ا صفحہ ۲۸۹ ۔ ۲۹۲ ج ا ۲ صفحہ ۹۴ ۔ا ۲ ا،ج ۳۰ صفحہ ۷۷ ۔ ۷۹ ۔
۴ ۔الا ختصاص :صفحہ ۷۴ ۔
۵ ۔ الا ربعین(ابی الفوارس ):صفحہ ۳۹ ۔
۶ ۔الاربعین (منتجب الدین ):ح ۳۹ ۔
۷ ۔الا مالی (صدوق ):صفحہ ۲ ا ، ۰۶ ا ، ۰۷ ا، ۲۸۴ ۔
۸ ۔الا مالی (طوسی ):ج ا صفحہ ۲۴۳ ، ۲۵۳،۲۷۸ ،ج ۲ صفحہ ۵۹ ا ، ۷۴ ا۔
۹ ۔ اقبال الا عمال :صفحہ ۴۴۴،۴۵۳ ۔ ۴۵۹ ، ۴۶۶ ، ۶۷۳ ۔
۰ ا۔بحار الا نوار ۔ج ۷۳ ،اوردیگر تمام جلدیں۔
اا۔البرھان فی تفسیر القرآن :ج اصفحہ اا ۷ ،ج ۲ صفحہ ۴۵ ا۔
۲ ا۔بشارة المصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ:صفحہ ا ۵ ، ۰۳ ا، ۴۸ ا، ۵۰ ا، ۶۶ ا۔
۳ ا۔تاویل الا یات الظاہرة:ج ا صفحہ ۶۰ ا ج ۲ صفحہ ۴۷۳ ، ۶۲۳،۷۳۳ ، ۲ ا ۸ ۔
۴ ا۔البتیان :ج اصفحہ ۳ اا۔
۵ ا۔تفسیر الامام العسکری علیہ السلام :صفحہ ااا۔ ۹ اا۔
۶ ا۔تفسیر العیاشی :ج ا صفحہ ۲۹۲ ، ۲۹۳،۳۳۲ ۔ ۳۳۴
۷ ا۔تفسیر القمی :صفحہ ۵۰ ا، ۲۷۷،۴۷۴،۵۳۸ ۔
۸ ا۔تفسیر فرات :صفحہ ۳۶،۸۷ ا، ۸۹ ا۔
۹ ا۔التنزیہ :صفحہ ۲۰ ا۔
۲۰ ۔تہذیب الا حکام : ج ۳ صفحہ ۴۳ اج ۴ صفحہ ۳۰۵ ۔
ا ۲ ۔جامع الا خبار :صفحہ اا۔
۲۲ ۔الجنةالواقیة:صفحہ ۷۰ ۔
۲۳ ۔الجواھر السنیة:صفحہ ۲۲۷ ۔
۲۴ ۔الخصال :صفحہ ۶۵،۹ ا ۲،۲۶۴،۴۶۶،۵۵۰ ۔
۲۵ ۔رجال الکشی :صفحہ ۶۶ ۔
۲۶ ۔روضةالواعظین:صفحہ ۰۹ ا ، ۲۴ ا۔
۲۷ ۔الشافی:ج ۲ صفحہ ۲۵۸ ۔ ۳۲۵ ۔
۲۸ ۔صحیفة الرضا علیہ السلام :صفحہ ۷۲ ا۔
۲۹ ۔الصراط المستقیم ج ۲ صفحہ ۷۹،۲۳ ا۔
۳۰ ۔الطرائف :صفحہ ا ۲ ا،ا ۵ ا۔
ا ۳ ۔عبقات الا نوار :ج ا ۔ ۰ ا۔
۳۲ ۔العمدة (ابن البطریق ):صفحہ ۹۰ ۔ ۰۳ ا ، ۴۴۸ ۔
۳۳ ۔علل الشرائع :صفحہ ۴۳ ا۔
۳۴ ۔عوالم العلوم :ج ۵ ا/ ۳ ۔
۳۵ ۔عیون اخبار الرضا علیہ السلام :ج ۲ ۔صفحہ / ۴۷ ۔
۳۶ ۔غا یة المر ام :ج ا صفحہ / ۲۳۵ ۔ ۳۳۴ ۔ ۳۳۵ ۔ ۳۵۲ ۔ ۳۹۲ ۔
۳۷ ۔الغدیر :ج ا ۔اا۔
۳۸ ۔فرحة الغری :صفحہ / ۴۶ ۔
۳۹ ۔فضائل الخمسة ۔ج ا صفحہ / ا ۳۶ ۔ ۳۸۳ ۔
۴۰ ۔قرب الا سنا د ۔صفحہ / ۷ ۔ ۲۷ ۔ ۲۹ ۔
ا ۴ ۔الکافی ۔ ج ا صفحہ / ۲۹۴ ۔ ۴۲۲ ۔ج ۴ ۔صفحہ / ۴۸ ا ۔ ۵۶۶ ۔
۴۲ ۔کتاب سلیم ۔صفحہ / ۴۷ ۔ ۸۵ ا ۔ ۹ ا۔ ۶ ۲۰ ۔
۴۳ ۔کشف الغمة ۔ج ا صفحہ ۸ ا ۳ ۔ ۳۲۳ ۔ج ۲ صفحہ / ۳ ا ۲ ۔ ۲۲۲ ۔ج ۳ صفحہ / ۴۷ ۔
۴۴ ۔ کشف المھم ۔مکمل ایک جلد ۔
۴۵ ۔کشف الیقین ۔صفحہ / ۳۴ ۔ ۴۶ ۔ ۳ اا ۔
۴۶ ۔کمال الدین ۔ج ۲ صفحہ / ۵۹ ا ۔ ۷۴ ا ۔
۴۷ ۔کنز الفو ائد ۔صفحہ / ۹۰ ا ۔
۴۸ ۔مجمع البیان ۔ج ۰ اصفحہ/ ۳۵۲ ۔
۴۹ ۔المحتضر ۔صفحہ / ۴۵ ۔ااا۔
۵۰ ۔مدینة المعا جز ۔صفحہ/ ۰ ا ۔ا ۳ ۔
ا ۵ ۔المزار الکبیر ۔صفحہ / ۹۰ ا ۔
۵۲ ۔مستدر ک الو سائل ۔ج ۳ صفحہ/ ۲۵۰ ۔ج ۶ صفحہ/ ۲۷۷ ۔ج ۷ صفحہ/ ۲۰ ا ۔
۵۳ ۔مصباح الزائر ۔صفحہ / ۲۲۹ ۔
۵۴ ۔مصباح المتھجد ۔صفحہ/ ۲۷ ۔ ۳ ا ۵ ۔ا ۵۲ ۔ ۵۲۵ ۔ ۵۲۶ ۔
۵۵ ۔معانی الا خبار ۔صفحہ/ ۶۶ ۔
۵۶ ۔المنا قب ۔(ابن شھر آشوب )۔ج ۲ صفحہ / ۲۲۴ ۔ ۲۲۶ ۔ ۲۲۷ ۔ ۲۲۸ ۔ ۲۳۶ ۔ج ۳ ۔ صفحہ / ۳۸ ۔ ۴۲ ۔ ۴۳ ۔
۵۷ ۔من لا یحضر ہ الفقیة ۔ج ۲ ۔صفحہ / ۹۰ ۔ ۵۵۹ ۔
۵۸ ۔المھذب ۔(ابن فھد )۔ج ا ۔صفحہ/ ۹۴ ا ۔
۵۹ ۔وسائل الشیعة ۔ج ۳ صفحہ/ ۵۴۸ ۔ج ۷ ۔صفحہ / ۳۲۳ ۔ ۳۲۴ ۔
۲ کتب اہل سنت
۶۰ ۔اخبار اصفھان ۔ج ا ۔صفحہ / ۰۷ ا ۔ ۲۳۵ ۔ج ۲ ۔صفحہ/ ۲۲۷ ۔
ا ۶ ۔اخبار الد ول وآثار الا ول ۔صفحہ/ ۲ ۰ ا ۔
۶۲ ۔ اربعین الھروی ۔صفحہ / ۲ ا ۔
۶۳ ۔ار جح المطالب ۔صفحہ/ ۳۶ ۔ ۵۶ ۔ ۵۸ ۔ ۶۷ ۔ ۳ ۲۰ ۔ ۳۳۸ ۔ ۳۳۹ ۔ ۳۸۹ ۔ا ۵۸ ۔ ۵۴۵ ۔ا ۶۸ ۔
۶۴ ۔الا ر شاد صفحہ / ۴۲۰ ۔
۶۵ ۔ اسباب النزول صفحہ ۳۵ ا ۔
۶۶ ۔ الا ستیعاب ج ۲ صفحہ ۴۶۰ ۔
۶۷ ۔اسد الغا بة ج ا صفحہ ۳۰۸ ، ۳۶۷ ،ج ۲ صفحہ ۲۳۳ ،ج ۳ صفحہ ۹۲ ، ۹۳ ، ۲۷۴ ، ۳۰۷ ، ا ۳۲ ، ج ۴ صفحہ ۲۸ ، ج ۵ صفحہ ۶ ، ۲۰۵ ، ۲۰۸ ۔
۶۸ ۔اسعاف الراغبین صفحہ ۷۴ ا ، ۷۸ ا ۔
۶۹ ۔اسنی المطالب صفحہ ۴ ،ا ۲۲ ۔
۷۰ ۔اشعة اللمعات فی شرح المشکا ة ج ۴ صفحہ ۸۹ ۔ ۶۶۵ ، ۶۷۶ ۔
ا ۷ ۔الاصا بة ۔ج ۱ صفحہ ۳۷۲،۵۵۰ ،جلد ۲ صفحہ ۲۵۷،۳۸۲،۴۰۸،۵۰۹ ،جلد ۳ ص ۵۱۲ ،جلد ۴ صفحہ ۸۰ ۔
۷۲ ۔الاعتقاد(بیھقی) ۱۸۲ ۔
۷۳ ۔الاغانی:ج ۸ ص ۳۰۷ ۔
۷۴ ۔الامامةوالسیاسہ:ج ۱ ص ۱۰۹ ۔
۷۵ ۔امالی الشجری:ج ۱ ص ۱۷۴،۱۷۸ ۔
۷۶ ۔انساب الاشراف:ج ۱ ص ۱۵۶ ۔
۷۷ ۔انسان العیون:ج ۳ ص ۲۷۴ ۔
۷۸ ۔الانوارالمحمدیّة:ص ۲۵۱ ۔
۷۹ ۔بدائع ا لمنن:ج ۲ ص ۵۰۳ ۔
۸۰ ۔البدا یةوالنھایة:ج ۵ ص ۲۰۸،۲۰۹،۲۱۱،۲۱۲،۲۱۳،۲۱۰،۲۲۷،۲۲۸ ،ج ۷ ص
۳۳۸،۳۴۴،۳۴۶،۳۴۷،۳۴۸،۳۴۹ ۔
۸۱ ۔البریقةالمحمدیة:ج ۱ ص ۲۱۴ ۔
۸۲ ۔بلاغات النساء :ص ۷۲ ۔
۸۳ ۔بلوغ الامانی:ج ۱ ص ۲۱۳ ۔
۸۴ ۔البیان والتعریف:ج ۲ ص ۳۶ ۔
۸۵ ۔التاج الجامع:ج ۳ ص ۲۹۶ ۔
۸۶ ۔تاریخ الاسلام:ج ۲ صفحہ ۱۹۶،۱۹۷ ۔
۸۷ ۔تلخیص المستدرک:ج ۳ صفحہ ۱۱۰ ۔
۸۸ ۔تاریخ بغداد :ج ۸ صفحہ ۲۹۰ ،ج ۷ صفحہ ۳۷۷ ،ج ۱۲ صفحہ ۳۴۳ ج ۱۴ صفحہ ۲۳۶ ۔
۸۹ ۔تاریخ الخلفاء :ص ۱۱۴،۱۵۸،۱۷۹ ۔
۹۰ ۔تاریخ الخمیس :ج ۲ ص ۱۹۰ ۔
۹۱ ۔تاریخ دمشق:ج ۱ ص ۳۷۰ ،ج ۲ ص ۵،۸۵،۳۴۵ ،ج ۵ ص ۳۲۱ ۔
۹۲ ۔التاریخ الکبیر :ج ۱ ص ۳۷۵ ،ج ۲ قسم ۲ نمبر ۱۹۴ ۔
۹۳ ۔تجھیزالجیش :صفحہ ۱۳۵،۲۹۲ ۔
۹۴ ۔التحفة العلیة:صفحہ ۱۰ ۔
۹۵ ۔تذکرةالحفاظ:ج ۱ ص ۱۰ ۔
۹۶ ۔تذکرةالخواص :ص ۳۰،۳۳ ۔
۹۷ ۔تفریح الاحباب :ص ۳۱،۳۲،۳۰۷،۳۱۹،۳۶۷ ۔
۹۸ ۔تفسیر الثعلبی :ص ۷۸،۱۰۴،۱۸۱،۳۲۵ ۔
۹۹ ۔تفسیر الطبری :ج ۳ ص ۴۲۸ ۔
۱۰۰ ۔تفسیر فخر الرازی:ج ۳ ص ۶۳۶ ۔
۱۰۱ التمھید (باقلانی):ص ۱۷۱ ۔
۱۰۲ ۔التنبیہ والاشراف :ص ۲۲۱ ۔
۱۰۳ ۔التمھید والبیان (اشعری):ص ۲۳۷ ۔
۱۰۴ ۔تھذیب التھذیب:ج ۱ ص ۳۳۷ ،ج ۲ ص ۵۷ ،ج ۷ ص ۲۸۳،۴۹۸ ۔
۱۰۵ ۔تیسیرالوصول:ج ۲ ص ۱۴۷ ،ج ۳ ص ۲۳۷ ۔
۱۰۶ ۔ثمارالقلوب(ثعالبی):ص ۵۱۱ ۔
۱۰۷ ۔الجامع الصغیر :ح ۹۰۰،۵۵۹۸ ۔
۱۰۸ ۔الجرح والتعدیل:ج ۴ ص ۴۳۱ ۔
۱۰۹ ۔الجمع بین الصحاح:ص ۴۵۸ ۔
۱۱۰ ۔الحاوی للفتاوی:ج ۱ ص ۷۹،۱۲۲ ۔
۱۱۱ ۔الحبائک فی اخبار الملائک:ص ۱۳۱ ۔
۱۱۲ ۔حبیب السیر:ج ۱ ص ۱۴۴ ،ج ۲ ص ۱۲ ۔
۱۱۳ ۔حلیةالاولیاء :ج ۵ ص ۲۶،۳۶۳ ،ج ۶ ص ۲۹۴ ۔
۱۱۴ ۔حلی الایام :ص ۱۹۷ ۔
۱۱۵ ۔حیاةالصحابة:ج ۲ ص ۷۶۹ ۔
۱۱۶ ۔الخصائص:ص ۴،۴۹،۵۱ ۔
۱۱۷ ۔خصائص النسائی:ص ۲۱،۴۰،۸۶،۸۸،۹۳،۹۴،۹۵،۱۰۰،۱۰۴،۱۲۴ ۔
۱۱۸ ۔الخصائص (السیوطی):ص ۱۸ ۔
۱۱۹ ۔الخطط والاثار(مقریزی): ۲۲۰ ۔
۱۲۰ ۔الدرالمنثور:ج ۲ ص ۲۵۹،۲۹۸ ۔
۱۲۱ ۔دول الاسلام (ذھبی):ج ۱ ص ۲۰ ۔
۱۲۲ ۔ذخائر العقبی:ص ۶۷،۶۸ ۔
۱۲۳ ۔ذخائر المواریث:ج ۱ ص ۵۷،۲۱۳ ۔
۱۲۴ ۔الرصف :ص ۳۷۰ ۔
۱۲۵ ۔روح المعانی:ج ۶ ص ۵۵ ۔
۱۲۶ ۔روضات الجنات (زمجی):ص ۱۵۸ ۔
۱۲۷ ۔الروض الازھر:ص ۹۴،۳۵۷،۳۶۶ ۔
۱۲۸ ۔روضةالاحباب:ص ۵۷۶ ۔
۱۲۹ ۔الریاض النضرة:ج ۲ ص ۱۶۹،۱۷۰،۲۱۷،۲۴۴،۳۴۸ ۔
۱۳۰ ۔سرالعالمین(غزالی):ص ۱۶ ۔
۱۳۱ ۔سعد الشموس والاقمار:ص ۲۰۹ ۔
۱۳۲ ۔السمط المجید:ص ۹۹ ۔
۱۳۳ ۔سنن الترمذی:ج ۵ ص ۵۹۱ ۔
۱۳۴ ۔سنن ابن ماجة:ج ۱ ص ۴۳ ۔
۱۳۵ ۔سنن النسا ئی :جلد ۵ صفحہ ۴۵ ۔
۱۳۶ ۔سنن المصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ :جلد ۱ صفحہ ۴۵ ۔
۱۳۷ ۔السیرة الحلبیة :جلد ۳ صفحہ ۲۷۴ ، ۲۸۳ ، ۳۶۹ ۔
۱۳۸ ۔السیرة النبویة (زینی ):جلد ۳ صفحہ ۳ ۔
۱۳۹ ۔الشذرات الذھبیة :صفحہ ۵۴ ۔
۱۴۰ ۔شرح مشکاة المصابیح : جلد ۱۱ صفحہ ۳۴۰ ۔
۱۴۱ ۔شرح المقاصد :جلد ۲ صفحہ ۲۱۹ ۔
۱۴۲ ۔شرح نھج البلا غة (ابن ا بی الحدید ):جلد ۱ صفحہ ۳۱۷ ، ۳۶۲ ،جلد ۲ صفحہ ۲۸۸ ،جلد ۳ صفحہ ۲۰۸ ،جلد ۴ صفحہ ۲۲۱ : جلد ۹ صفحہ ۲۱۷ ۔
۱۴۳ ۔الشرف المو بد (نبھا نی )):صفحہ ۵۸ ، ۱۱۳ ۔
۱۴۴ ۔الشفاء ((قاضی عیاض ):جلد ۲ صفحہ ۴۱ ۔
۱۴۵ ۔شواھد التنزیل :جلد ۱ صفحہ ۱۵۸ ، ۱۹۰ ۔
۱۴۶ ۔صحیح الترمذی :جلد ۱ صفحہ ۳۲ ،جلد ۲ صفحہ ۲۹۸ ،جلد ۵ صفحہ ۶۳۳ ۔
۱۴۷ ۔صحیح مسلم :جلد ۴ صفحہ ۱۸۷۳ ۔
۱۴۸ ۔صفوة الصفوة :جلد ۱ صفحہ ۱۲۱ ۔
۱۴۹ ۔الصفین (ابن دیز یل ):صفحہ ۹۷ ۔
۱۵۰ ۔صلح الا خوان :صفحہ ۱۱۷ ۔
۱۵۱ ۔الصواعق المحرقة :صفحہ ۲۶ ، ۲۹ ، ۷۳ ، ۷۴ ۔
۱۵۲ ۔طبقات ابن سعد :جلد ۳ صفحہ ۳۳۵ ۔
۱۵۳ ۔العثمانیة:صفحہ ۱۴۵ ۔
۱۵۴ ۔العقد الفرید :جلد ۵ صفحہ ۳۱۷ ۔
۱۵۵ ۔العلل المتنا ھیة :جلد ۱ صفحہ ۲۲۶ ۔
۱۵۶ ۔عمدة الا خبار :صفحہ ۱۹۱ ۔
۱۵۷ ۔فتح الباری :جلد ۶ صفحہ ۶۱ ۔
۱۵۸ ۔فتح البیان :جلد ۳ صفحہ ۸۹ ،جلد ۷ صفحہ ۲۵۱ ۔
۱۱۵۹ ۔فتح القدیر :جلد ۳ صفحہ ۵۷ ۔
۱۶۰ ۔الفتح الکبیر :جلد ۲ صفحہ ۲۴۲ ،جلد ۳ صفحہ ۸۸ ۔
۱۶۱ ۔الفتوح (ابن الا عثم ):جلد ۳ صفحہ ۱۲۱ ۔
۱۶۲ ۔فرائد السمطین :جلد ۱ صفحہ ۵۶،۶۴ ، ۶۵ ، ۶۷ ، ۶۸ ، ۶۹،۷۲،۷۵،۷۶،۷۷ ۔
۱۶۳ ۔الفصول المھمة :صفحہ ۲۳ ، ۲۴ ، ۲۵،۲۷،۷۴ ۔
۱۶۴ ۔الفضائل(ابن حنبل ):جلد ۱ صفحہ ۴۵ ، ۵۹،۷۷،۱۱۱ ،جلد ۲ صفحہ ۵۶۰،۵۶۳،۵۶۹ ، ۵۹۲،۵۹۹ ،جلد ۳ صفحہ ۲۷،۳۵ ۔
۱۶۵ ۔فضائل الصحابة :جلد ۲ صفحہ ۶۱۰ ، ۶۸۲ ۔
۱۶۶ ۔فیض القدیر :جلد ۱ صفحہ ۵۷ ،جلد ۶ صفحہ ۲۱۷ ۔
۱۶۷ ۔القول الفصل :جلد ۲ صفحہ ۱۵ ۔
۱۶۸ ۔قضاء قرطبة :صفحہ ۲۵۹ ۔
۱۶۹ ۔الکافی الشافی :صفحہ ۹۵ ، ۹۶ ۔
۱۷۰ ۔کتاب اہل البدر :صفحہ ۶۲ ۔
۱۷۱ ۔الکفا یة :صفحہ ۱۵۱ ۔
۱۷۲ ۔کفایة الطالب :صفحہ ۱۳ ، ۱۷ ، ۵۸،۶۲،۱۵۳،۲۸۵،۲۸۶ ۔
۱۷۳ ۔کنز العمال :جلد ۱ صفحہ ۴۸ ،جلد ۶ صفحہ ۳۹۷،۴۰۵ ،جلد ۸ صفحہ ۶۰ ،جلد ۱۲ صفحہ ۲۱۰ ،جلد
۱۵ صفحہ ۲۰۹ ۔
۱۷۴ ۔کنوز الحقائق :صفحہ ۴۱،۹۸ ۔
۱۷۵ ۔کنوز الد قائق :صفحہ ۹۸ ۔
۱۷۶ ۔الکنی والا سماء :جلد ۱ صفحہ ۱۶۰ ،جلد ۲ صفحہ ۸۸ ۔
۱۷۷ ۔الکوکب الدری :جلد ۱ صفحہ ۳۹ ۔
۱۷۸ ۔لسان المیزان :جلد ۱ صفحہ ۴۲ ۔
۱۷۹ ۔مجمع الفوائد :جلد ۹ صفحہ ۱۰۳ ۔ ۱۰۸،۱۶۳ ۔
۱۸۰ ۔المختار :صفحہ ۳ ۔
۱۸۱ ۔مختصر تاریخ دمشق :جلد ۱۷ صفحہ ۳۵۸ ۔
۱۸۲ ۔مختلف الحدیث (ابن قتیبة):صفحہ ۵۲،۲۷۶ ۔
۱۸۳ ۔مرقاة المفاتیح :جلد ۱ صفحہ ۳۴۹ ،جلد ۱۱ صفحہ ۳۴۱ ، ۳۴۹ ۔
۱۸۴ ۔مروج الذھب :جلد ۲ صفحہ ۱۱ ۔
۱۸۵ ۔مستدرک الحاکم :جلد ۳ صفحہ ۱۰۹ ، ۱۱۰،۱۱۸،۳۷۱،۶۳۱ ۔
۱۸۶ ۔مسند ابن حنبل :جلد ۱ صفحہ ۸۴،۱۱۹،۱۸۰ ،جلد ۴ صفحہ ۲۴۱،۲۸۱،۳۶۸،۳۷۰ ، ۳۷۲ ، جلد ۵ صفحہ ۳۴۷،۳۶۶،۳۷۰،۴۱۹ ۔ ۴۹۴ ،جلد ۶ صفحہ ۴۷۶ ۔
۱۸۷ ۔مسند الطیا لسی :صفحہ ۱۱۱ ۔
۱۸۸ ۔مشکل الا ثار :جلد ۲ صفحہ ۳۰۸ ۔
۱۸۹ ۔مصابیح السنة :جلد ۲ صفحہ ۲۰۲،۲۷۵ ۔
۱۹۰ ۔مطالب السئوول :صفحہ ۱۶ ۔
۱۹۱ ۔المطالب العالیة :صفحہ ۴۵۶ ۔
۱۹۲ ۔معارج النبوة :جلد ۱ صفحہ ۳۲۹ ۔
۱۹۳ ۔المعارف (ابن قتیبة ):صفحہ ۵۸ ۔
۱۹۴ ۔معا لم الا یمان (دبا غ ):ج ۲ صفحہ ۲۹۹ ۔
۱۹۵ ۔المعتصر من المختصر :ج ۲ صفحہ ۳۰۱،۳۳۲ ۔
۱۹۶ ۔معجم البلدان :ج ۲ صفحہ ۳۸۹ ۔
۱۹۷ ۔المعجم اصغیر :ج ۱ صفحہ ۶۴،۷۱ ۔
۱۹۸ ۔المعجم الکبیر (طبرا نی ):ج ۱ صفحہ ۱۴۹،۱۵۷،۳۹۰ ،ج ۵ صفحہ ۱۹۶ ۔
۱۹۹ ۔معجم ما استعجم : ج ۲ صفحہ ۳۶۸ ۔
۲۰۰ ۔مفتاح النجا : صفحہ ۴۱ ، ۵۸ ۔
۲۰۱ مقا صد الطا لب : صفحہ ۱۱ ۔
۲۰۲ مقتل الحسین علیہ السلام (خوا رزمی ):صفحہ ۴۷ ۔
۲۰۳ مقصد الر ا غب :صفحہ ۳۹ ۔
۲۰۴ المنار :ج ۱ صفحہ ۴۶۳ ۔
۲۰۵ منا قب الا ئمہ (با قلا نی ):صفحہ ۹۸ ۔
۲۰۶ المنا قب (ابن جو زی ): صفحہ ۲۹ ۔
۲۰۷ المنا قب (ابن مغا زلی ):صفحہ ۱۶،۱۸،۲۰،۲۲،۲۳،۲۴،۲۵،۲۲۴،۲۲۹ ۔
۲۰۸ المنا قب (خوا رز می ):صفحہ ۲۳،۷۹،۸۰،۹۲،۹۴،۹۵،۱۱۵،۱۲۹،۱۳۴ ۔
۲۰۹ المنا قب (عبدا للہشا فعی ): صفحہ ۱۰۶،۱۰۷،۱۲۲ ۔
۲۱۰ المنا قب العشرة: صفحہ ۱۵ ۔
۲۱۱ منال الطا لب : صفحہ ۷۳ ۔
۲۱۲ منتخب کنز العما ل :ج ۵ صفحہ ۳۰،۳۲،۵۱ ۔
۲۱۳ المو ا قف : ج ۲ صفحہ ۶۱۱ ۔
۲۱۴ الموا ھب اللد نیة: ج ۵ صفحہ ۱۰ ۔
۲۱۵ مو دة القر بی : صفحہ ۵۰ ۔
۲۱۶ المو رود فی شرح سنن ابی دا ود : ج ۱ صفحہ ۲۱۴ ۔
۲۱۷ مو ضح او ھا م الجمع والتفریق : ج ۱ صفحہ ۹۱ ۔
۲۱۸ نز ل الابرار :صفحہ ۲۰ ۔
۲۱۹ نز ھة النا ظرین : صفحہ ۳۹ ۔
۲۲۰ نظم درر السمطین :صفحہ ۷۹ ، ۱۰۹،۱۱۲ ۔
۲۲۱ النھا یة (ابن الا ثیر ) : ج ۴ صفحہ ۳۴۶ ۔
۲۲۲ نھا یة العقول :صفحہ ۱۹۹ ۔
۲۲۳ وفا ء الو فا ء : ج ۲ صفحہ ۱۷۳ ۔
۲۲۴ وسیلة المآل : صفحہ ۱۱۷ ۔
۲۲۵ الوفیات(ابن خلکان):ج ۱ صفحہ ۶۰ ،ج ۲ صفحہ ۲۲۳ ۔
۲۲۶ ۔ینابیع المودة صفحہ ۲۹ ۔ ۴۰ ، ۵۳ ۔ ۵۵،۸۱ ، ۱۲۰،۱۲۹،۱۳۴،۱۵۴،۱۵۵،۱۷۹ ۔ ۱۸۷
۲۰۶،۲۳۴،۲۸۴ ۔
فہرست
مقدمہ ناشر ۴
غدیر حضر ت امیر المو منین عليهالسلام کی سب سے بڑی فضیلت ۴
اہداء ۴
حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا نے حدیث غدیر کی سند ۴
مقد مہ ۵
غدیر ہمارا پاک و پا کیزہ عقیدہ ۵
اے صاحب غدیر ۷
اس کتاب کو تحریر کرنے کی وجہ ۷
کتاب کے اغراض و مقاصد ۸
کتاب کے منابع و مصادر ۱۰
واقعہ غدیر کاپیش خیمہ ۱۲
۱.ہجرت کے پہلے عشرہ میں اسلامی معا شرے کی تشکیل ۱۲
دین اسلام کی تبلیغ میں پیغمبر اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی رسالت( ۱ ) ۱۲
ہجرت سے پہلے مسلمان( ۲ ) ۱۳
ہجرت کے بعد مسلمان( ۳ ) ۱۳
فتح مکہ کے بعد مسلمان( ۴ ) ۱۴
حجةالوداع کے سال اسلامی معاشرہ( ۵ ) ۱۴
مسلم معا شرے میں منا فقین( ۶ ) ۱۴
غدیر ،سازشوں کی ناکامی کی بنیاد ۱۵
غدیر عرصہ دراز کےلئے اتمام حجت ۱۷
۲. خطبہ غدیر کی اہمیت کے پھلو ۱۸
آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کا غدیر خم میں لوگوں سے اقرار لینا ۔ ۱۹
خطبہ غدیر میں آنحضرت صلىاللهعليهوآلهوسلم کے بلند و بالا مقاصد ۲۰
غدیر خم کے تین روز کی رسومات ۲۲
۱ خطبہ سے پہلے کے پروگرام ۲۲
حجة الوداع کی اہمیت( ۱ ) ۲۲
سفر حج کا اعلان( ۲ ) ۲۳
مدینہ سے مکہ تک سفر کا راستہ ۲۳
حضرت امیر المو منین علیہ السلام کا مدینہ سے یمن اور یمن سے مکہ کا سفر ۲۴
غدیر سے پہلے خطبے( ۴ ) ۲۵
منیٰ کی مسجد خیف میں دوسرا خطبہ( ۵ ) ۲۶
غدیر سے پہلے انبیاء علیھم السلام کی میراث کا حوالہ کرنا( ۷ ) ۲۶
لقب امیر المو منین عليهالسلام ۲۷
غدیرمیں حاضرہونے کےلئے قانونی اعلان( ۹ ) ۲۸
۲ خطبہ کی کیفیت اور اس کے جزئیات ۲۹
غدیر میں لوگوں کا اجتماع( ۱۲ ) ۲۹
خطبہ اور منبر کی جگہ کی تیاری( ۱۵ ) ۲۹
پیغمبراکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم اور امیر المومنین علیہ السلام منبر پر( ۱۶ ) ۳۰
پیغمبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کاخطبہ( ۱۷ ) ۳۱
منبر پر دو عملی اقدام ۳۳
۲ ۔دلوں اور زبانوں کے ذریعہ بیعت( ۱۹ ) ۳۴
۳ خطبہ کے بعد کے مراسم ۳۵
مبارکباد ی( ۲۰ ) ۳۵
لوگوں سےبیعت( ۲۱ ) ۳۶
عورتوں کی بیعت( ۲۲ ) ۳۷
عما مہ ” سحاب“(۲۳ ) ۳۷
غدیر کے موقع پر اشعار( ۲۵ ) ۳۸
غدیر میں جبرئیل کا ظا ہر ہو نا( ۲۶ ) ۳۹
معجزئہ غدیر،تائید الٰھی( ۲۷ ) ۴۰
تین دن کے پروگرام میں پیغمبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کے دیگر فرامین( ۲۹ ) ۴۱
اپنے انتقال کی خبر ۴۲
رسالت کے پہنچا نے پر اقرا ر ۴۲
دوسرے انداز سے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کا بیان ۴۲
قیامت کے دن ولایت کا سوال ۴۴
غدیر کے پروگرام کا اختتام( ۳۱ ) ۴۵
غدیر میں شیاطین و منافقین ۴۹
۱ غدیر میں ابلیس اورشیاطین ۵۰
غدیر میں شیطان کی فریاد ۵۰
منافقین کے شیطان کے ساتھ وعدے ۵۰
مسلمانوں کے مرتد اور کافر ہو جانے سے شیطان خوش ۵۱
شیعو ں کو گنا ہ میں ملوث کر نے کی شیطان کی کو شش ۵۲
غدیر میں شیطان کی پیغمبر اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم سے گفتگو ۵۳
غدیر میں شیطان کا حزن اور سقیفہ میں خو شی ۵۳
۲ غدیر میں منافقین ۵۴
غدیر میں منا فقوں کی سازشیں ۵۴
پھلی سازش( ۹ ) ۵۴
پیغمبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کو قتل کر نے کی سازش( ۱۰ ) ۵۵
پیغمبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کے قتل کی سازش ناکام ۵۵
مدینہ میں دوسری سازش( ۱۱ ) ۵۷
اسامہ کا لشکر( ۱۲ ) ۵۷
غدیر کا نور ولایت کا محافظ ۵۸
غدیر میں منافقین کے اقوال ۵۹
خطبہ کے دوران ان کی گفتگوکے چندنمونے( ۱۵ ) ۵۹
خطبے کے بعد کی گفتگو کے چند نمونے( ۱۶ ) ۵۹
۳ غدیر میںمنافقین کے عکس العمل کے واضح نمونے ۶۰
کاش اس سوسمارکو۔۔۔؟ ۶۱
خطبہ غدیر کا خلاصہ ۶۳
۱ خطبہ غدیر کے چند اہم نکات ۶۳
۲ خطبہ غدیر کے مطالب کی موضوعی تقسیم ۶۴
۱ ۔توحید ۶۵
۲ ۔پیغمبر اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کی نبوت ۶۵
۳ ۔علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت ۶۶
۴ ۔ بارہ ائمہ معصومین علیھم السلام کا تذکرہ ۶۷
۵ ۔اہل بیت علیھم السلام کے فضائل ۶۷
۶ ۔امیر المو منین علیہ السلام کے فضائل ۶۸
۷ ۔”امیر المو منین عليهالسلام “کے القاب ۶۹
۸ ۔اہل بیت علیھم السلام کا علم ۶۹
۹ ۔حضرت مھدی عج ۶۹
۱۰ ۔اہل بیت علیھم السلام کے دوستدار اور شیعہ ۷۰
۱۱ ۔اہل بیت علیھم السلام کے دشمن ۷۱
۱۲ ۔گمرا ہ کر نے والے پیشوا ۷۲
۱۳ ۔اتمام حجت ۷۲
۱۴ ۔بیعت ۷۳
۱۵ ۔قرآن ۷۴
۱۶ ۔تفسیر قرآن ۷۴
۱۷ ۔حلال اور حرام ۷۴
۱۸ ۔نماز اور زکات ۷۵
۱۹ ۔حج اور عمرہ ۷۵
۲۰ ۔امر بالمعروف و نھی عن المنکر ۷۶
۲۱ ۔قیامت اور معاد ۷۶
حدیث غدیر کی سند اور متن کے سلسلہ میں تحقیق ۷۶
۱ حدیث غدیر کی سند ۷۷
حساس دور میں حدیث غدیرکی روایت ۷۷
حدیث غدیر کی سند کے سلسلہ میں کتابوں کی شناخت ۷۸
خطبہ غدیرکے مکمل متن کے مدارک ۷۹
خطبہ غدیر کے متن کامل کی روایت کر نے والے اسناد و رجال ۸۰
۲ حدیث غدیر کا متن ۸۱
کلمہ ”مو لیٰ“ کے معنی کے متعلق بحث ۸۱
کلمہ مولیٰ میں بحث کا منشا ۸۳
پھلی تجلی ۸۳
دوسری تجلی ۸۴
تیسری تجلی ۸۴
چوتھی تجلی ۸۵
پانچویں تجلی ۸۵
چھٹی تجلی ۸۵
ساتویں تجلی ۸۶
کلمہ مولیٰ کے معنی کا واضح ہونا ۸۶
پھلا قرینہ ۸۶
دوسرا قرینہ ۸۶
تیسرا قرینہ ۸۷
چو تھا قرینہ ۸۷
پانچواں قرینہ ۸۷
چھٹا قرینہ ۸۸
ساتواں قرینہ ۸۸
آٹھواں قرینہ ۸۸
نواں قرینہ ۸۸
دسواں قرینہ ۸۹
گیار ہواں قرینہ ۸۹
بارہواں قرینہ ۸۹
تیرہواں قرینہ ۹۰
معصومین علیھم السلام کے کلام میں مو لیٰ کا مطلب ۹۰
۱ ۔اس چیز میں اطاعت کرنا جسکو دوست رکھتے ہو یا دوست نہیں رکھتے ہو ۹۰
۲ ۔حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کےلئے نمونہ ۹۰
۳ ۔ولایت یعنی امامت ۹۱
۴ ۔یہ بھی سوال ہو سکتا ہے ؟! ۹۱
۵ ۔حزب اللہ کی علا مت ۹۱
۶ ۔علی عليهالسلام کے امر کے ہوتے ہوئے لوگوں کو اختیار نہیں ہے ۹۱
حدیث غدیر کے متن کے سلسلہ میں کتابوں کا تعارف ۹۲
۳ خطبہ غدیر کے کامل متن کو مھیا اور منظم کرنا ۹۳
خطبہ غدیر کے مقابلہ کے نتائج ۹۴
غدیر مےں رسول صلىاللهعليهوآلهوسلم کے تمام فرامین کا جمع کرنا ۹۵
خطبہ کے عربی متن کو منظم کرنا ۹۶
۴ خطبہ غدیر کے ترجمے ۹۸
غدیر کے خطبہ کو فارسی میں منظم و مرتب کیاجانا ۱۰۰
خطبہ غدیر کا عربی متن ۱۰۴
غدیر خم میں پیغمبر اکر م صلىاللهعليهوآلهوسلم کے خطبہ کا مکمل عربی متن ۱۰۴
خطبہ غدیر کااردو ترجمہ ۱۲۶
غدیر خم میں پیغمبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کے خطبہ کا کامل متن ۱۲۶
خدا کی حمد و ثنا ۱۲۶
۲ ایک اہم مطلب کے لئے خداوند عالم کا فرمان ۱۲۸
۳ بارہ اماموں کی امامت اور ولایت کا قانونی اعلان ۱۳۰
۴ پیغمبر اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ھاتھوں پر امیرا لمومنین علیہ السلام کا تعارف ۱۳۳
۵ مسئلہ امامت پر امت کی توجہ پر زور دینا ۱۳۴
۶ منافقوں کی کار شکنیوں کی طرف اشارہ ۱۳۵
۷ اہل بیت علیھم السلام کے پیرو کار اور ان کے دشمن ۱۳۷
۸ حضرت مھدی عج۔۔ ۱۳۹
۹ بیعت کی وضاحت ۱۴۰
۱۰ حلال و حرام ،واجبات اور محرمات ۱۴۱
۱۱ قانونی طور پر بیعت لینا ۱۴۲
خطبہ غدیر کے اغراض و مقاصد کا جائزہ ۱۵۳
خطبہ غدیر کے مطالب کی جمع بندی ۱۵۴
خطبہ غدیر میں گفتگو کا محور ۱۵۴
خطبہ غدیر میں بیان ہونے والے مو ضوعات اور کلمات کی تعداد ۱۵۴
۱ خطبہ غدیر کا خلا صہ :” مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “ ۱۵۶
جملہ ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ “ کا دقیق مطلب ۱۵۷
”علی علیہ السلام “کے اسم مبارک کو بیان کرنے میں ایک اہم بات ۱۵۸
کلمہ ”مولیٰ “کے بارے میں اہم بات ۱۵۸
بہترین مو لیٰ کا انتخاب ۱۵۹
جملہ ” مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ “سے نت یجہ اخذ کرنا ۱۶۰
۲ ” ولایت “کے سلسلہ میں غدیر کے اعتقادی ستون ۱۶۱
پیغمبر اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کا منصب ۱۶۱
حضرت امیر المو منین علیہ السلام کی ولا یت ۱۶۳
امیر المو منین علیہ السلام کے فضائل ۱۶۴
۱ ۔امیر المو منین علیہ السلام کی مطلق اور لا محدود فضیلت کا اثبات ۱۶۴
۲ ۔امیر المو منین علیہ السلام کے بعض فضائل کا تذکرہ ۱۶۵
ائمہ اطھار علیھم السلام کی ولایت و امامت ۱۶۷
حضرت مھدی علیہ السلام کی ولا یت و امامت ۱۶۸
۱ ۔ان کے فضائل و مناقب ۱۶۹
۲ ۔ان کا معاشرہ میں مقام و منصب ۱۷۰
ھ:اُن کا قیام ۱۷۰
و: ان کا انتقام ۱۷۱
ولایت کا حب وبغض سے رابطہ ۱۷۱
شیعہ اور اہل بیت علیھم السلام کے محبین ۱۷۲
اہل بیت علیھم السلام کے دشمن ۱۷۳
الف: اہل بیت علیھم السلام سے دشمنی کی نوعیت ۱۷۴
ب:خداوند عالم کی بارگا ہ میںدشمنان اہل بیت (ع) ۱۷۵
ج:قیامت کے دن اہل بیت علیھم السلام کے دشمنوں کی سزا ۱۷۵
گمراہ اماموں کا تعارف ۱۷۵
قرآن سے متعلق ۱۷۶
الف ۔قرآن کی منزلت ۱۷۶
ب:قرآن کا مطالعہ ۱۷۷
ج: قرآن کی تفسیر ۱۷۷
د: قرآن کریم کااہل بیت علیھم السلام کے ساتھ رابطہ ۱۷۷
امام علیہ السلام بشر کی علمی ضرورتوں کے جواب گو ہیں ۱۷۷
الف: ان کے علم کی کیفیت اور قدر و قیمت ۱۷۸
ب:ان کے وسعت علم کا نتیجہ ۱۷۸
حلال و حرام کے سلسلہ میں کلی قوانین ۱۷۸
امر بالمعروف اور تبلیغ کے سلسلہ میں کلیات ۱۷۹
نماز اور زکات کے سلسلہ میں اہم باتیں ۱۸۱
حج اور عمرہ کے سلسلہ میں رہنما ئی ۱۸۱
۴ بیعت غدیر کا دقیق جا ئزہ ۱۸۲
عید اور جشن غدیر ۱۸۸
عید غدیر انبیاء و ائمہ علیھم السلام کی زبانی ۱۸۸
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۱۸۸
حضرت امیر المو منین علیہ السلام ۱۸۹
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ۱۸۹
حضرت امام رضا علیہ السلام ۱۹۰
حضرت امام ھادی علیہ السلام ۱۹۰
۲ آسمانوں میں جشن غدیر ۱۹۰
غدیر ،عھد معہود کا دن ۱۹۰
غدیر آسمان والوں پر ولایت پیش کر نے کا دن ہے ۱۹۰
جشن غدیر میں ملا ئکہ ۱۹۱
جشن غدیر شہزادی کائنات کا نچھاور ۱۹۱
۳ غدیر کے دن متعدد واقعات کا رو نما ہونا ۱۹۲
انبیاء علیھم السلام کی تاریخ کے حساس ایام ۱۹۲
اہل بیت علیھم السلام کی ولایت کا تمام مخلوقات کے سامنے پیش کرنا ۱۹۳
ایک عجیب اتفاق ۱۹۴
۴ عید غدیر کس طرح منائیں؟ ۱۹۴
عید اور جشن غدیر کی تاریخ اوربنیاد ۱۹۴
جشن غدیر کی شان و شوکت کی رعایت کرنا ۱۹۵
عید اور جشن غدیر کے سلسلہ میں ائمہ علیھم السلام کے احکام ۱۹۵
عید غدیر میں اجتماعی امور ۱۹۶
قلبی اور زبانی خو شی کا اظھار ۱۹۶
مبارکباد دینا ۱۹۶
عمومی طورپر جشن منانا ۱۹۷
نیا لباس پہننا ۱۹۸
ھدیہ دینا ۱۹۸
مو منین کا دیدار کرنا ۱۹۸
اھل وعیال اور اپنے بھا ئیوں کے حالات میں بہتری پیدا کرنا ۱۹۸
عقد اُخوّت و برادری ۱۹۹
عید غدیر میں عبادی امور ۲۰۰
صلوات ،لعنت اور برائت ۲۰۰
شکر اور حمد الٰھی ۲۰۰
زیارت حضرت امیرالمو منین علیہ السلام ۲۰۱
نماز ،عبادت اور شب بیداری ۲۰۱
روزہ رکھنا ۲۰۲
دعا (عھد و پیمان اور بیعت کی تجدید ) ۲۰۲
غدیرقیامت تک کھلی کتاب ۲۰۹
۱ خدا و معصومین علیھم السلام کی غدیر کے ذریعہ اتمام حجت ۲۱۰
۱ ۔خداوند عالم کا غدیر کے ذریعہ حجت تمام کرنا ۲۱۱
۲ ۔پیغمبر اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کا غدیر کے ذریعہ اتمام حجت کرنا ۲۱۲
۳ ۔امیر المو منین علیہ السلام کاغدیرکے ذریعہ حجت تمام کرنا ۲۱۳
۴ ۔غدیر کے سلسلہ میں حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کااتمام حجت کرنا ۲۲۱
۵ ۔ غدیر کے سلسلہ میں امام حسن علیہ السلام کا اتمام حجت کرنا ۲۲۲
۶ ۔غدیر کے سلسلہ میں امام حسین علیہ السلام کا اتمام حجت کرنا ۲۲۳
۷ ۔غدیر کے سلسلہ میں امام زین العا بدین علیہ السلام کااتمام حجت کرنا ۲۲۳
۸ ۔غدیر کے سلسلہ میں امام باقر علیہ السلام کا احتجاج ۲۲۳
۹ ۔غدیر کے سلسلہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام کا اتمام حجت کرنا ۲۲۵
۱۰ ۔غدیر کے سلسلہ میں امام کاظم علیہ السلام کااتمام حجت کرنا ۲۲۷
۱۱ ۔غدیر کے سلسلہ میں امام رضا علیہ السلام کا اتمام حجت کرنا ۲۲۷
۱۲ ۔غدیر کے سلسلہ میں امام علی نقی علیہ السلام کا اتمام حجت کرنا ۲۲۸
۱۳ ۔غدیر کے سلسلہ میں امام حسن عسکری علیہ السلام کا اتمام حجت کرنا ۲۲۹
۲ اصحاب پیغمبر صلىاللهعليهوآلهوسلم اور امیر المو منین علیہ السلام کے دوستوں کا غدیرکے ذریعہ اتمام حجت کرنا ۲۲۹
۲ ۔غدیر کے ذریعہ جناب عماریاسر کا اتمام حجت کرنا ۲۲۹
۳ ۔غدیر کے ذریعہ مالک بن نویرہ کا اتمام حجت کرنا ۲۳۰
۴ ۔غدیر کے ذریعہ حذیفہ بن یمان کا اتمام حجت کرنا ۲۳۰
۵ ۔غدیرکے ذریعہ بلال حبشی کا اتمام حجت کرنا ۲۳۱
۶ ۔ غدیرکے ذریعہ اصبغ بن نباتہ کااتمام حجت کرنا ۲۳۲
۷ ۔غدیر کے ذریعہ ابو الھیثم بن تیھان کا اتمام حجت کرنا ۲۳۲
۸ ۔غدیر کے ذریعہ ابو ایوب انصاری کا اتمام حجت کرنا ۲۳۳
۹ ۔غدیر کے ذریعہ قیس بن سعد بن عبادہ کا ااتمام حجت کرنا ۲۳۳
۱۰ ۔غدیر کے ذریعہ ابو سعید خدری کا اتمام حجت کرنا ۲۳۴
۱۱ ۔غدیر کے ذریعہ اُبیّ بن کعب کا اتمام حجت کرنا ۲۳۴
۱۲ ۔غدیر کے ذریعہ جابر بن عبد اللہ انصاری کا اتمام حجت کرنا ۲۳۵
۱۳ ۔غدیر کے ذریعہ زید بن صوحان کا اتمام حجت کرنا ۲۳۵
۱۴ ۔غدیر کے ذریعہ حذیفہ بن اسید غفاری کا اتمام حجت کرنا ۲۳۶
۱۵ ۔غدیر کے ذریعہ عبد اللہ بن جعفرکا اتمام حجت کرنا ۲۳۶
۱۶ ۔غدیر کے ذریعہ ابن عباس کا اتمام حجت کرنا ۲۳۷
۱۷ ۔غدیر کے ذریعہ اسامہ بن زید کا اتمام حجت کرنا ۲۳۷
۱۸ ۔غدیر کے ذریعہ محمد بن عبد اللہ حِمیَری کا اتمام حجت کرنا ۲۳۸
۱۹ ۔غدیر کے ذریعہ عمرو بن میمون اودی کا اتمام حجت کرنا ۲۳۸
۲۰ ۔غدیر کے ذریعہ بَرد ھمدانی کا اتمام حجت کرنا ۲۳۸
۲۱ ۔غدیر کے ذریعہ زید بن علی بن الحسین علیہ السلام کا اتمام حجت کرنا ۲۳۹
۲۲ ۔پیغمبر اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے چالیس اصحاب کا غدیرکے ذریعہ اتمام حجت کرنا ۲۳۹
۲۳ ۔انصا ر کے ایک گروہ کا غدیر کے ذریعہ اتمام حجت کرنا ۲۳۹
۲۴ ۔پیغمبر اکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کے چار اصحاب کے ذریعہ غدیرکے سلسلہ میں اتمام حجت ۲۴۰
۲۵ ۔غدیر کے ذریعہ عبد الر حمن بن ابی لیلیٰ کااتمام حجت کرنا ۲۴۰
۲۶ ۔غدیر کے ذریعہ عمران بن حصین کا اتمام حجت کرنا ۲۴۱
۲۷ ۔غدیر کے ذریعہ زید بن ارقم کا اتمام حجت کرنا ۲۴۱
۲۸ ۔غدیر کے ذریعہ برا ء بن عازب کااتمام حجت کرنا ۲۴۲
۲۹ ۔غدیر کے ذریعہ شریک کااتمام حجت کرنا ۲۴۳
۳۰ ۔غدیر کے ذریعہ ام سلمہ کااتمام حجت کرنا ۲۴۳
۳۱ ۔غدیر کے ذریعہ خو لہ حنفیہ کااتمام حجت کرنا ۲۴۳
۳۲ ۔غدیر کے ذریعہ دارمیّہ حجونیہ کااتمام حجت کرنا ۲۴۴
۳ غدیر کے سلسلہ میں دشمنوں کے اقرار ۲۴۴
۱ ۔ غدیر کے سلسلہ میں ابلیس کا اقرار ۲۴۵
۲ ۔غدیر کے سلسلہ میں ابو بکر کا اقرار ۲۴۵
۳ ۔ غدیر کے سلسلہ میں عمر کا اقرار ۲۴۵
۴ ۔ غدیر کے سلسلہ میں ابو ھریرہ کا اقرار ۲۴۶
۵ ۔ غدیر کے سلسلہ میں سعد بن ابی وقاص کا اقرار ۲۴۶
۶ ۔ غدیر کے سلسلہ میں انس بن مالک کا اقرار ۲۴۷
۷ ۔ غدیر کے سلسلہ میں عمرو عاص کا اقرار ۲۴۸
۸ ۔ غدیر کے سلسلہ میں حسن بصری کا اقرار ۲۴۸
۹ ۔ غدیر کے سلسلہ میں عمر بن عبد العزیز کا اقرار ۲۴۸
۱۰ ۔ غدیر کے سلسلہ میں ابو حنیفہ کا اقرار ۲۴۸
۱۱ ۔غدیر کے سلسلہ میں مامون عباسی کا اقرار ۲۴۹
۱۲ ۔ غدیر کے سلسلہ میں طبری کا اقرار ۲۴۹
۴ غدیر سقیفہ کے مد مقابل ۲۵۰
سقیفہ کے لشکر کی تشکیل ۲۵۰
سقیفہ کے با لمقابل غدیر کی مقا ومت ۲۵۰
غدیر،جنگ جمل ،صفین اور نھر وان میں ۲۵۱
غدیر کے مقابلہ میں سقیفائی چھرے ۲۵۱
غدیر کے مد مقابل سقیفہ کی پُرفریب صورتیں ۲۵۲
مقتل غدیر!! ۲۵۳
غدیر یعنی حضرت امام حسین علیہ السلام ۲۵۳
غدیر کی حقیقی زندگی ۲۵۴
غدیر اور سقیفہ تا ریخ کے آئینہ میں ۲۵۴
۵ غدیر سے متعلق کتب کی وا قعیت ۲۵۵
مو ضوع غدیر سے متعلق سب سے پہلی کتابیں ۲۵۵
چودہ صدیوں میں غدیر کے قلمی آثار ۲۵۶
کتب غدیر کی تعداد ۲۵۷
غدیر سے متعلق کتا بیں ۲۵۸
کتا بوں کے ذریعہ غدیر کی وسیع تبلیغ ۲۵۸
۶ شعرا ور ادبیات غدیر ۲۵۸
غدیرعربی ،فارسی ،اردو اور تر کی اشعار کے آئینہ میں ۲۵۹
غدیر کے اشعارسے متعلق کتا بوں کی تد وین ۲۶۰
عصر حا ضر میں شعر غدیر ۲۶۱
شعر اور ادب عربی ۲۶۲
سید حمیری ۲۶۶
ابن رومی ۲۶۶
شریف رضی ۲۶۷
سید مر تضیٰ ۲۶۷
مھیار دیلمی ۲۶۷
فنجکر دی ۲۶۸
ابو محمد حلّی ۲۶۸
ابو عبداللہ خصیبی ۲۶۸
ناشی صغیر ۲۶۹
بولس سلامہ مسیحی ۲۷۰
معرو ف عبد الجید مصری ۲۷۲
معروف عبد المجید مصری کا ایک ادبی شہ پارہ : ۲۷۳
شعروادب فارسی ۲۷۵
نظیری نیشاپوری ۲۷۵
محمدجوادغفورزادہ(شفق) ۲۷۶
سید رضا موید : ۲۷۸
مصطفی محدّثی خراسانی ۲۸۲
حاج غلامر ضا ساز گار ۲۸۳
دکتریحیی حدّادی ابیانہ ۲۸۴
محمد علی سالا ری ۲۸۶
محمود شاھرخی ۲۸۷
حکیم ناصر خسرو ۲۸۸
طائی شمیرانی ۲۸۸
طاھرہ مو سوی گرما رودی ۲۸۸
مکرم اصفھا نی ۲۸۹
خو شدل کرما نشاھی ۲۹۰
یو سف علی میر شکاک ۲۹۰
سید مصطفی مو سوی گرما رودی ۲۹۱
علی رضا سپاھی لائین ۲۹۲
محمد علی صفری (زرافشان ) ۲۹۳
ناصر شعار بوذری ۲۹۴
محمد تقی بھار ۲۹۵
آیة اللہ کمپانی ۲۹۷
ناظم زادہ کرمانی : ۲۹۸
احمد عزیزی ۲۹۸
حالی اردبیلی ۲۹۹
فرصت شیرازی ۲۹۹
آیة اللہ میرز ا حبیب خراسانی ۳۰۰
اسماعیل نوری علاء ۳۰۱
شعر اور اردو ادب ۳۰۲
شعر و ادب تر کی ۳۰۹
یو سف شھاب ۳۰۹
قمری ۳۱۱
یوسف معزی ارد بیلی ۳۱۱
۷ غدیر کی یا دیں ۳۱۳
ا مسجد غدیر ۳۱۳
مسجد غدیرکی تا ریخ ۳۱۴
مسجد غدیر کا دشمنوں کے ھا تھوں خراب ہو نا( ۱۴۳ ) ۳۱۵
اسوقت مسجد غدیر کا مقام( ۱۴۴ ) ۳۱۶
ا۔راہ جحفہ ۳۱۶
۲ ۔راہ رابغ ۳۱۶
۲ غدیر کے دن حضرت امیر المو منین علیہ السلام کی زیارت ۳۱۷
۳ غدیرکی محفلیں( ۱۴۷ ) ۳۲۶
وا قعہ غدیرکے منابع ۳۳۷
۱ کتب شیعہ ۳۳۷
۲ کتب اہل سنت ۳۴۰