یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے
علی (ع) صراط اللہ المستقیم
موءلف: شیخ ضیاء جواھری
عرض مؤلف
کسی انسان کیلئے یہ ممکن نہیں ہے۔ ( خواہ اسکا احاطہ علمی کتنا زیادہ ہی کیوں نہ ہو اور اسکی فکر کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو ) کہ وہ حضرت امیر المؤمنین صلوات اللہ و سلامہ علیہ کی زندگی کے تمام ابعاد پر واضح اور روشن گفتگو کر سکے یا کوئی رائے قائم کرسکے کیونکہ یہاں تو گہرائی ہی گہرائی ہے ، ان کا تعلق مثل و معنویات سے ہے ۔ یہ کیسے ممکن ہے !؟ کسی کی عقل یہاں تک پہنچ ہی نہیں پائی کہ وہ ان کی اصالت کو درک کر سکے جہاں فقط گہرائی اور عمق ہے ۔ اس سمندر میں موجیں غرق ہو جایا کرتی ہیں اور وہاں تک عقل کی پرواز نہیں ہو تی۔
جب ہم نے تسلیم کر لیا کہ ہم انھیں درک کرنے سے قاصر ہیں ۔ لہٰذا ہمارے موضوع کے لئے دو باتیں ہی کافی ہیں۔ ہم انھی پر اکتفاء کرتے ہیں۔ان میں سے ایک حضرت رسول خدا (ص)کے عَلَم والی حدیث ہے جیسے تمام کتب احادیث نے بیان کیا ہے جس میں حضرت نے فرمایا:
لَا عْطِیَنَّ الرَّایَةَ غَداً لِرَجُلٍ یُحِبُّ الله َ وَ رَسُولَه ویُحِبُّهُ الله ُ وَ رَسُولُهُ کَرَّارٌ غَیْرُ فَرَّارٍ لَا یَرْجَعُ حَتّٰی یَفْتَحَ الله ُ عَلٰی یَدِیهِ ۔
کل میں علم ایک مرد کو دوں گاجو اللہ اور اسکے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اسکا رسول اس سے محبت کرتے ہیں وہ کرّار ہے فرار نہیں ہے۔اور وہ اس وقت تک وآپس نہ لوٹے گا جب تک اللہ اسکے ہاتھوں فتح نہ دیدے۔( ۱ )
گویا خیبر کے دن ہر صحابی کی خواہش تھی کہ وہی لفظ رجل ( مرد ) کا مصداق قرار پائے ۔ ابھی صبح صادق ہوئی ہی تھی کہ حضرت رسول خدا (ص)نے پکار کر فرمایا ۔ علی علیہ السلام کو میرے پاس لاؤ ۔ آپ سے کھاگیا یا رسول اللہ (ص)وہ آشوب چشم میں مبتلا ہیں۔ لیکن کسی کو بھیج کر بلوایا گیا جب وہ تشریف لائے تو آشوب چشم کی وجہ سے انھیں دیکھائی نہیں دے رھاتھا۔ اسوقت حضرت رسول خدا(ص)نے آپ کی آنکھوں پراپنا لعاب دھن لگایا اور رب العزّت سے شفا یابی کی دعا کی ۔ اس سے بڑھکر اور کیا علامت ہوسکتی ہے جو نھی دعائیہ یہ کلمات آسمان کی طرف روانہ ہوئے تو آپ کی تکریم اور عظمت کی خاطر اسے صحّت و عافیت نصیب ہوئی ۔ یہ اس پر اللہ کی نعمتوں کے نزول کا مقدمہ ہے کہ متقابلاً ایک دوسرے کی نصرت کی جارھی ہے ۔ یعنی اس مرد کی خاطر اب حروف پر نقطے لگائے جا رھے ہیں جیسے اللہ سے محبت ہے اور وہ اللہ کا مرید ہے۔
دوسرے سورہ مائدہ میں خداوند متعال کی یہ تین آیات ہیں۔
( یَا اَیُّهَا الّذِینَ آمَنُوا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیِنِهِ فَسَوْفَ یَاٴتِی اللهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ و یُحِبُّونَه اَذِلَّةٍ عَلَی الْمُؤمِنینَ اَعِزَّةٍ عَلَیِ الکَافِرِینَ یُجَاهِدونَ فِی سَبِیل اللهِ وَلاَ یَخَافُونَ لَوْمَةَ لاَئِمٍ ذَلِکَ فَضْلُ اللهِ یُؤتِیْهِ مَن یَّشَاء ُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِینَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیمُونَ الصَّلوٰةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکاةَ وَهُمْ رَاکِعُونَ وَمَنْ یَّتَوَلَّ اللهَ وَ رَسُولَه وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا فَاِنَّ حِزْبَ اللهِ هُمُ الْغَالِبُونَ ) ( ۲ )
اے ایمان والو! تم میں سے جو بھی اپنے دین سے پلٹ جائے گا تو عنقریب خدا ایک قوم کو لے آئے گا جو اسکی محبوب ہوگی اوروہ اس سے محبت کرنے والی ہوگی۔ مؤمنین کے سامنے خاکسار اور کفار کے سامنے صاحب عزت ہوگی اور راہ خدا میں جہاد کرنے والی اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرنے والی ہوگی۔ یہ خدا کا فضل ہے وہ جسے چاھتا ہے عطا کرتا ہے اور وہ صاحب وسعت اور علیم ہے ۔ پس تمہارا ولی صرف اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبان ایمان جو نماز قائم کرتے ہیںاور حالت رکوع میں زکوة دیتے ہیں ۔ اور جو بھی اللہ ، رسول اور صاحبان ایمان کو اپنا ولی بنائے گا۔ تو اللہ ہی کی جماعت غالب آنے والی ہے۔
جیسا کہ صاحب مجمع البیان نے بھی ذکر کیا ہے کہ مندرجہ بالا آیات کریمہ حضرت امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب (ع) کی شان میں اسوقت نازل ہوئیں جب آپ نے ناکثین ، قاسطین اور مارقین سے جنگ کی ۔ سب محدثین ، نے اس حدیث کوجناب عمار ، حدیفة ، ابن عباس سے بیان کیا ہے۔نیز یہ حدیث حضرت امام زین العابدین اور حضرت امام محمد باقر علیھما السلام سے بھی مروی ہے ۔ اوریہاں اس بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت رسول خدا(ص) نے آیت میں مذکور صفات کے ساتھ اسوقت حضرت علی علیہ السلام کو متصف فرمایا تھا جب آپ نے لوگوں کی کئی مرتبہ بزدلی دیکھنے کے بعد فتح خیبر کا علم حضرت علی علیہ السلام کے حوالے فرمایا تھا ۔( ۳ )
حقیقتاً مذکورہ آیات میں بیان ہونے والی صفات فقط حضرت امیر المؤمنین پرصادق ہوتی ہیں۔ وہ علی علیہ السلام جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے مساکین اور اہل دین کی محبت سے نوازا تھا۔
جب معاویہ نے ضرار بن ضمرہ کو حضرت علی علیہ السلام کے اوصاف بیان کرنے کو کھاتھا تو ضرار اوصاف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں وہ ہمارے درمیان اس طرح زندگی کرتے تھے گویا وہ ہم میں سے ایک ہوں ۔ جب ہم ان کے پاس جاتے وہ عطا کرتے ، جب سوال کرتے وہ جواب دیتے ۔ وہ ہم جیسے پست لوگوں کو شفت سے اپنے پاس بیٹھاتے ہیں۔ ہم ان کی ھیبت کی وجہ سے بات تک نہیں کرسکتے ۔ اور انکی عظمت کی وجہ سے آنکھیں اوپر نہ اٹھا سکتے۔ وہ اہل دین کی تعظیم فرماتے اور مساکین سے محبت کرتے تھے۔
جہاں تک آپ کے کافروں اور مشرکوں پرسخت ہونے ، اللہ کی راہ میں جہاد کر نے اور ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرنے کا تعلق ہے تو یہ فقط حضرت علی علیہ السلام کی خصوصیت ہے کہ آپ ہی میں یہ سب (نہ جدا ہونے والی) نشانیاں پائی جاتی تھیں ۔ آپ سختی میں بھی معروف تھے اور نرمی میں بھی ۔ خدا کی خاطر سخت بھی تھے اور نرم بھی ۔یہاں تک کہ آپ کے قریبی اور دور والے سب لوگوں نے اللہ اور رسول کی خاطر آپ کی ان صفات کو ملاحظہ کیا اور انھیں پتہ چل گیاکہ یقینا اس میں کوئی بڑا راز پوشیدہ ہے۔
یہاں تک کہ بعض اوقات حضرت رسول خدا (ص)اسلام اور مسلمانوں کی خاطر قریش کو جھڑک دیا کرتے جیسا کہ سھیل بن عمر ایک گروہ کے ساتھ حضرت رسول خدا کے پاس آکر کھنے لگا۔ اے محمد (ص)ھمارے غلام آپ کے ساتھ آملے ہیں ، انھیں وآپس پلٹا دیں۔
حضرت نے فرمایا تھا اے قریشی گروہ !۔ اب ایسا نہ ہوگا اللہ عنقریب تم میںایسے شخص کو بھیجے گا جو قرآن کی تاویل پر تمہارے ساتھ اس طرح جنگ کرے گا جیسے میں قرآن کی تنزیل پر تم سے جنگ کیا کرتا تھا۔ آپ کے کسی صحابی نے کھایارسول اللہ وہ کون ہے ؟ کیا ابوبکر ہیں؟ فرمایا نہیں ۔ مگر وہ جو حجرے میں جوتا گانٹھ رہاھے ۔ اس وقت حضرت علی علیہ السلام ، حضرت رسول خدا (ص)کا جوتا گانٹھ رھے تھے۔( ۴ ) یہ اللہ کا فضل ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاھتا ہے ، عطا کرتا ہے۔
جہاں تک دوسری آیت( اِنَّماَ وَلِیُّکُمُ اللهُ وَ رسُولُه وَ الَّذِین آمَنُوا الّذِینَ یُقیمُونَ الصَّلوٰة ویُؤتُون الزَّکَاةَ وَهُمْ راکعونَ )
( پس تمھارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبان ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوة دیتے ہیں ۔) کا تعلق ہے اس پر دونوں فرقوں کا اجماع ہے کہ جب حضرت علی علیہ السلام نے نماز میں صدقہ کے طور پر انگوٹھی دی تھی تو اس وقت آپ(ع) کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حروف حصر میں سے قوی ترین حرف ( اِنَّمَا) کے ساتھ ولایت کی حصر فرمائی ہے ، یعنی ولایت فقط خدا ، رسول اور امیرالمؤمنین کے لئے ہے۔اللہ تبارک و تعالی نے تیسری آیت میں اس طرح ارشاد فرمایا:
( وَمَنْ یَّتَوَلَّ اللهَ وَ رَسُولَه وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا فَاِنَّ حِزْبَ اللهِ هُمُ الْغَالِبُونَ ) ( ۵ )
جو اللہ ، رسول اور صاحبان ایمان کو اپنا ولی بنائے تو بے شک اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والاہے۔
توالی کے معنی ولی بنانا ہے تو اب اس آیت کا یہ معنی ہوگا جو اللہ تعالی ، اسکے رسول اور امیر المؤمنین کو اپنی زندگی اور مرنے کے بعداپنا ولی قرار دیتا ہے ۔ اور ان کے ذریعے دین حاصل کرتا ہے اور ان سے محبت اور مودت کرتا ہے اور ان کی اطاعت کرتا ہے تو وہی غالب ، فلاح یافتہ اور کامیاب ہے ۔ یعنی جزاء کے طور پر یہ صفات ،غلبہ ، کامیابی اور فلاح ) اسے نصیب ہوتی ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے بندوں سے کیئے گئے وعدہ کا نتیجہ ہے ۔اور ایسا کرنے والے کو دنیا و آخرت کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔
قارئین کرام ! ایک بات باقی بچ گئی ہے جو نھی اس کاوقت آیا تو ہم اسے واضح کرتے رھے ہیں اور اسکی صراحتیُّحِبُّهُمْ و یُحِبُّونَه کے ذریعے ہوجاتی ہے ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کی ان کے ساتھ محبت کا لازمہ یہ ہے کہ یہ لوگ ھرظلم سے بری ہیں اور ہر رجس و پلیدی سے پاک و طاہر ہیں ۔ کیونکہ ظلم اور پلیدی ان امور سے ہیں جو محبوب خدا واقع نہیں ہو سکتے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فروں ، ظالموں، مفسدوں ،حد سے بڑھے ہوؤں ، تکبر کرنے والوں اور اسراف کرنے والوں سے کبھی محبت نہیں کرتا۔
بالکل اسکے بر عکس اللہ تعالی احسان کرنے والوں ، صابروں ، متقیوں ، توبہ کرنے والوں، پاک رھنے والوں ، توکل کرنے والوں ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ۔ اہل قبلہ میں سے کسی کو شک و تردید نہیں ہے حتی کہ اہل قبلہ کے علاوہ دوسرے لوگوںکو بھی کسی قسم کا ریب و شک نہیں ہے کہ حضرت علی علیہ السلام ہی ان محبوب صفات کی حقیقی مثال ہیں بلکہ آپ مجسم صفات ہیں۔ اور یہ صفات آپ کی شخصےت اور جسم کا حصّہ ہیں ۔
کسی شاعر نے کیا خوب کھاھے:
جُمِعَت فِی صِفَاتِکَ الاٴضداد
ولذا عزّت لک الانداد
فَاتِک نَاسِک حَلِیم شُجَاع
حَاکِم زَاهِد فَقِیر جَواد
شَیم مَا جَمعن فِی بَشَر قط
وَلَا حَازَ مِثلهُنَّ العباد
خُلُقٌ یُخْجِلُ النَسیم مِن اللطف
وَباٴ س یَذُوب مِنه الجَماد
آپ میں وہ صفات جمع ہیں جو ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ آپکی شان و شوکت کی کوئی نظیر و مثال نہیں ہے۔ آپ بیباک بھی ہیں عابد بھی ۔ حلیم بھی ہیں اور شجاع بھی ، حاکم بھی ہیں اور زاہد بھی اور فقرو سخاوت بھی آپ کا خاصہ ہے یہ بلند صفات آپ کے علاوہ کسی انسان میں جمع نہیں ہو سکتیں اور آپ جیسی صفات کسی انسان کو نصیب نہ ہوئیں ۔ آپ اتنے خلیق ہیں کہ نسیم صبح بھی آپ پر ہونے والے لطف سے شرمندگی محسوس کرتی ہے اور آپ میں اتنی شدت ہے کہ جس سے جمادات پانی ہو جاتے ہیں۔
اور جہاں تک (اللہ تعالی کیلئے) مبغوضہ صفات کا تعلق ہے تو نفسِ علی علیہ السلام میں ان کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ آپ کو ان صفات سے شدید نفرت تھی ۔ کیونکہ آپ کی پوری زندگی فقط تقرب خدا میں گزری ہے اور آپ نے ساری زندگی خالق بزرگوار کی خاطر گزار دی ہے۔ لہٰذا اس کا مولا(خدا) جس سے محبت کرتا ہے یہ(علی (ع)) بھی اسی سے محبت کرتے ہیں اور اسکا مولیٰ جس سے غضبناک ہوتا ہے اس سے یہ بھی غضبناک ہوتے ہیں۔
اے یا علی (ع) آپ تو ربّ العالمین کے حبیب ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کے لئے لطف ، جمال اور فضل کی صفات کا جامع اور عمدہ کلمہ(یُحِبُّهُمْ) استعمال کیا ہے ۔
کیا ہم محبوب خدا کو اپنا ولی نہ سمجھیں !؟
جب کہ ہمارے لئے کوئی شک و تردید نہیں ہے کہ اور ثابت ا ور واضح ہے کہ آپ ولی خدا اور حبیب خدا ہیں توکیا اب بھی ہمارے لئے جائز ہو سکتا ہے کہ ہم آپ کے علاوہ کسی او رکو اپنا ولی قرار دیں ۔ جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرما رہاھے۔
( وَمَنْ یَّتَوَلَّ اللهَ وَ رَسُولَه وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا فَاِنَّ حِزْبَ اللهِ هُمُ الْغَالِبُونَ )
جو اللہ ، رسول اور صاحبان ایمان کو اپنا ولی بنائے تو بے شک اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والاہے۔
والسلام
مؤلف: شیخ ضیاء جواہری
____________________
[۱] البدایة و النھایة ابن کثیر دمشقی ج ۴ ، ص ۲۱۳ ، دلائل بیھقی جلد ۴ ص ۲۱۰ ، ۲۱۲ ، مستدرک حاکم ج ۳ ص۷ ۳ اور اس نے کھاھے کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ھے اور ذھبی نے اسے بیان کیا اور اس کی موافقت کی ھے ۔نیز مسلم نے اسحاق بن ابراھیم سے اور انھوں نے ابی عامر سے اسکو ۳۲ کتاب الجہاد باب غزوة ذی قرد، ص ۱۴۳۹ پر ذکر کیا ھے۔
[۲] سورہ مائدہ آیت نمبر ۵۴، ۵۵ ، ۵۶۔
[۳] علامہ طباطبائی کی تفسیر المیزان جلد ۶ ص ۳۹۸ ۔ ۳۹۹(مندرجہ بالا آیات کی تفسیر
[۴] سید طباطبائی کی تفسیر المیزان جلد ۶ ص ۳۹۸ ، ص ۳۹۹ ۔ تفسیر سورہ مائدہ۔،
[۵] سورہ مائدہ آیت ۵۶۔
عرض مترجم
باد النظر مں سرت نوس اک اسان کام دکھائ دتا ہے کس شخصت کے حالات کو کجا کر دنا سرت نوس کو اس کے فرض منصب سے سبکدوش کرنے کے لئے کاف ہے لکن صاحبان نظر اور ارباب فھم جب اس سمندر ک گھرائوں مں اترتے ھں تو حران اور عجز کے علاوہ کچھ دکھائ نھں دتا سرت نوس سے پہلے اس مفھوم سے اشنا ہونا ضرور ہے، کہ سرت ‘تصور باطن، کفات قلب ،اور حقائق واقع کا نام ہے جب کوئ کس شخصت ک سرت کوسپرد قرطاس کرنا چاھتا ہے تو اسے اس ک باطن تصور لفظوں مں کھنچنا ہوت ہے ،اس ک قلب حالت پر مطلع ہو کر دوسروں تک پھنچانا ہوت ہے تاکہ حقائق واقع سب پر عاں ہو جائں بھرحال سرت نوس کے لئے انتہائ احتاط سے کام لنا پڑتا ہے جبکہ تصنف اس ک نسبت اک آسان کام ہے اس مں انسان اپنے تفکرات کو ظاہر کرتا چلا جاتا ہے جبکہ تالف ک بنا ددوسروں کے اقوال پر ہوت ہے اس کے لئے بڑ دقت ،تلاش اور جستجو ک ضرورت ہے
کئ کئ کتب کے مطالعہ کے بعد تھوڑا سا مواد مسر ہوتا ہے مختلف دراؤں مں غوطہ زن کے بعدتب کبھ گوھر مرادملا کرتا ہے جذبات و احساسات اور ذات پسند و نا پسند سے بالاتر ہوکر عراق کے مفکر حجة السلام ضاء جواھر نے جس خوبصورت سے حضرت عل علہ السلام ک ھمہ گر شخصت پر روشن ڈال ہے وہ پڑھنے اور سمجھنے سے تعلق رکھت ہے وں تو مولا ئے متقان امر المومنن علہ السلام پر بے انتھاسوانح حات لکھ جا چک ھں لکن اپک ولادت سے شہادت تک کے حالات کو حققت پسندانہ طرقے سے اک علم امانت کے طور پر دوسروں تک پھنچانے ک ہ اک نئ کوشش اور گراں بھا کاوش ہے ہ قمت ذخرہ عرب زبان مں تھا اردو دان طبقہ اس سے بھرہ مند نھں ہو سکتا تھالہذامؤسسہ امام عل (ع) نے اس کو اردو مں منتقل کرکے اک بہت بڑے طبقے کے لئے اک اچھ اور مفد پش کش کا بندوبست کا ہے ھمار اس کتاب مں پور کوشش رھ ہے کہ مفاہیم کو صحح انداز مں منعکس کرں تاکہ قارئن محترم زادہ سے زادہ استفادہ کر سکں،اس سلسلے مں ہم قارئن کے مفد مشوروں کا خر مقدم کرں گے مں اپن اس ناچز س کاوش کا ثواب اپن والدہ محترمہ کو عنات کرتا ہوں جو جولائ کو تحصل عل پور ضلع مظفر گڑھ مں کار حادثے ک وجہ سے خالق حقق سے جا ملں ھں اور بارگاہ ازد سے طالب دعا ہوں کہ خدا انھں جوار حضرت فاطمة الزھرا ء سلام اللہ علھا عنات فرمائے
امن ثم امن
سد محمد نقوی النجف
ذوالحجہ
مقدمہ
حضرت رسول خدا (ص)نے فرمایا :
اٴنا وَ عَلِيٌّ مِنْ نُوْرٍ وَاحِدٍ ( ۱ )
میں اور علی علیہ السلام ایک نور سے ہیں۔
اسی طرح حضرت رسول خدا (ص)نے مزید فرمایا:
خُلِقتُ اٴنا وَ عَلِيٌّ مِنْ نُوْرٍ وَاحِد ( ۲ )
مجھے اور علی علیہ السلام کو ایک نور سے خلق کیا گیا۔
شبلنجی کہتے ہیں کہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام تشریف لائے تو حضرت رسول خدا(ص)نے فرمایا:
مَرْحَباً بِاٴَخِيْ وَابْنِ عَمِيّ واَلَّذِيْ خُلِقْتُ اٴنَا وَ هُو مِنْ نُوْرٍ وَاحِدٍ ۔( ۳ )
مرحبا ۔ میرے بھائی اور چچا زاد کیلئے کہ وہ اور میں ایک نور سے خلق کئے گئے۔
میں نے اپنے مولا و سردار ، مولود کعبہ حضرت امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ایام ولادت یعنی رجب ۲۱ ۱۴ ھجری میں اپنی سردار حضرت فاطمہ(ع) بنت حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام (جو کہ فاطمہ معصومہ (ع)کے نام سے مشھور ہیں) کی زیارت کے لئے قم آنے کا پروگرام بنایا۔
یہاں پھنچنے کے بعد اسی شھر میں مؤسسہ امام علی علیہ السلام جانے کا قصد کیا تا کہ وہاں حضرت آیت اللہ شیخ محمد حسن قدس سرہ کے عزیز اپنے فاضل بھائی حجة الاسلام و المسلمین شیخ ضیاء جواہری سے ملوں اور انھیں اپنی کتاب سبیل الوحدة کی آخری طباعت کا نسخہ دوں اور وہ اس کادنیا کی مشھور مختلف زبانوں میں ترجمہ کروائیں ۔ چنانچہ انھوں نے میری خواہش کو قبول فرمایا۔
اس وقت موصوف نے خواہش ظاہر کی کہ میں ان کی عمدہ اور جامع کتابعَلِیٌ صِرَاطُ اللهِ الْمُسْتَقِیمَ پر مقدمہ لکھوں۔ اس سے قبل بھی وہ سید تنا و مولاتنا حضرت فاطمة الزھراء کی سیرت پرحوراء الانسیہ کے عنوان سے کتاب لکھ چکے ہیں۔ میں نے بھتر جانا کہ ےمن میں افریقی اور ایشائی تنظےم کے نمائندے استاد بزرگوار جناب یحییٰ علوی کے سامنے پےش کئے گئے چند سوالات کے جوابات کو مقدمی میں شامل کروں اور ان کی خدمت میں یہ سوالات میں نے کچھ عرصہ پہلے قاہرہ میں عرض کئے تھے۔ لہٰذا مناسب ہے کہ میں حضرت علی علیہ السلام کے متعلق کئے گئے سوال وجواب کو مِن وعَن قارئین کرام کی خدمت میں پیش کروں۔
والسلام
بسم الله الرحمن الرحیم
برادر محترم استاد فاضل جناب سید مرتضی رضوی صاحب(تولاّه الله وایّاي )
آپ پر اور آپ سے محبت کرنے والوں پر اللہ کا سلام۔ اور ان پر جنھیں اطمینان ہے کہ آپ شیعہ اور سنی کو اخوت ، محبت ، صفاء اور مؤدت کے ساتھ دعوت دیتے ہیں اور دلوں سے تفرقہ اور شقاوت و بدبختی کی جڑیں اکھاڑ پھینکتے ہیں ۔
اما بعد : میں آپ کے سامنے اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ میں آپ کی خدمت میں آپ کے بھےجے گئے اھم سوالات کے جواب پیش کئے دیتا ہوں جب آپ استاد بزرگوار ( ہم دونوں کے دوست،جو کہ سن کے لحاظ سے تو بوڑھے ہو چکے ہیں لیکن ان میں بہار ہی بہار ہے) ، رئیس الشیوخ استاد احمد ربیع مصری سے ملنے آئیں تو جوابات لے لےجئے گا۔ بھر حال میں نے صراحت کے ساتھ ان کا جواب تحریر کر دیا ہے۔
خداوندعالم ہر لغزش کو معاف فرمائے اور اسی پر بھروسہ ہے۔
والسلام
آپ کا برادر دینی
عبداللہ یحیی علوی
سوال و جواب:
پہلا سوال: کیا حضرت رسول خدا (ص)نے اپنے بعدھونے والے خلیفہ کیلئے وضاحت بیان فرمائی تھی؟
جواب : جی ہاں حضرت رسول خدا (ص)نے صریح اور صحیح احادیث کے ساتھ نص فرمائی ، یہ بالکل واضح احادیث ہیں ۔ انھیں تعصب اور آل(ع) کے بغض سے دور ہو کر سمجھا جاسکتا ہے ۔ اور عقل سلیم بھی اس پر دلالت کرتی ہے۔ ان احادیث میں سے چند ایک یہ ہیں:
اٴنت مِنّی بمنزلة هارون من موسیٰ اِلّا اَنّه لا نبیَّ بعدی
(اے علی) آپ اور مجھ میں وہی نسبت و منزلت ہے جو ہارون اور موسیٰ کے درمیان تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔( ۴ )
اٴنْت ولیُّ کِلّ مؤمنٍ بعدی ۔
آپ میرے بعد ہر مؤمن کے ولی ہیں۔( ۵ )
علیٌ مَعَ القرآنِ و القُرانُ مَع عَلیٍّ وَ لن یَفتَرِقا حتی یردا علیَّ الحوض ۔
علی قرآن کے ساتھ اور قرآن علی(ع) کے ساتھ ہے ۔(چنانچہ) یہ حوض کوثر پر میرے پاس آنے تک جدا نہ ہونگے ۔( ۶ )
مَن کنتُ مَولاَه فعلیٌّ مولاه ۔
جس کا میں مولیٰ ہوں علی ( بھی) اس کے مولا ہیں۔( ۷ )
صرف اور صرف یھی احادیث بھترین دلیل بن سکتی ہیں کہ آنحضرت(ص)نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنا خلیفہ بنایا ، اگر کوئی ان احادیث کے الفاظ اور معنی پر غور کرے، کیونکہ حضرت رسول خدا (ص)جنگ تبوک پر جاتے وقت اپنی قوم میں حضرت علی علیہ السلام کو اس طرح خلیفہ بنا کر گئے جیسے جناب موسیٰ (ع)نے جناب ہارون کو اپنی قوم میں خلیفہ بنا یا تھا، حضرت رسول خدا (ص)نے موسیٰ کی ہارون کے ساتھ حضرت علی (ع) کی تشبیہ دینے سے پورا پورا استدلال کیا ہے کہ میرے انتقال کے بعد یھی میرا بلند پایہ ساتھی ہی تمھارا خلیفہ ہوگا۔
فقط واقعہ غدیر کو مدنظر رکھیں ( جو کہ معروف اور متواتر ہے) تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ حضرت رسول خدا (ص)نے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کو ثابت کیا تا کہ فقط حضرت علی علیہ السلام ہی ان کے خلیفہ قرار پائیں۔ جب اصحاب کی رائے سے ھرج و مرج لازم آرہا تھا تو رسول خدا (ص)کی خواہش تھی کہ مرض الموت میں ایک ایسانوشتہ لکھ جائیں تا کہ وہ انکی گمراہی اور تفرقہ سے محفوظ رکھے۔
اے کاش حضرت عمر ابن خطاب اس نوشتے کے درمیان حائل نہ ہوتے۔
حضرت رسول خدا (ص)کا یہ فرمانمَن کُنْتُ مَولاَه فَعَلِیٌّ مَولاَه (جس کا میں مولا ہوں علی (ع) بھی اس کے مولا ہیں)واضح طور پر بیان کر رہاھے کہ حضرت علی علیہ السلام شروع ہی سے ہر مؤمن ومؤمنہ کے ولی ہیں۔
جہاں تک حضرت علی کرم اللہ وجھہ کے حقدارخلافت ہونے کی عقلی دلیل کا تعلق ہے تو وہ یہ ہے کہ حضرت رسول خدا (ص)کی وفات کے بعد خلافت اور مسلمانوں کے امور کی ولایت فقط اسی ہستی کے حصّے میں آسکتی ہے جو فضائل و شمائل میں بے نظےر اور زمانے کا بہادر ترین شخص ہو ،جو تمام ساتھیوں میں بلند ترےن ہو ، اورھم کفولوگوں کا مرّبی ہو۔نظریات اور رائے میں ممتاز ہو ، اشکالات سے دور ہو ، مشکلات کے حل کیلئے منفرد ہستی ہو ۔ اسکے مثل کسی کی نظر نہ ہو ، اس کا کوئی نظیر نہ ہو ۔ اس کا کوئی ہم پلّہ نہ ہو ، اپنے دین ، علم اور تقویٰ میں کا مل ہوتاکہ اس کے ذرےعے کلمہ لا الہ الااللہ کو سر بلندی نصیب ہو۔اور وہ سید الانام (ص)کا مدد گارہو ۔ پوری مخلوق میں سب سے پہلے اسلام لانے والا ہو ، کسی معارض کے بغیر تمام لوگوں میں اسکی فضلیت ، شجاعت اور تقویٰ زیادہ ہو (یعنی کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ فلاں شخص میں کوئی صفت ان سے زیادہ ہے)چنانچہ یہ سب کی سب صفات حضرت امام علی علیہ السلام میں جمع ہیں آپ مسلمان پیدا ہوئے ۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم سے اسلام کو تقوےت بخشی۔ آپ مکتب رسول(ص)کے پروردہ تھے ۔ اور سید الوجود(ص) اور متقیوں کے سردار (ص)کی گود میں پرورش پاکر جوان ہوئے۔
خدا کی راہ میں آپ کا جہاد ہر جہاد سے بلند، آپ کا تقوی ہر تقویٰ سے بڑھکر،آپ کی بہادری ہر بہادری سے بلند اور آپ کا زھد و ایمان ہر زھد و ایمان سے بڑھکر تھا۔ آپ اس نبی(ص)کی طرف مائل تھے ، آپ کو رب و خالق نے کامیاب قرار دیا تھا۔آپ اپنے اقوال و فرامین میں ممتاز تھے۔ فضیلت اپنے مصدر سے پہچانی جاتی ہے ۔ آپ سے عرفان پھوٹتا تھا۔ ایمان کو تعیین نصیب ہوئی ۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ سید المرسلین کے پروردہ تھے اور وہی آپ کی تربیت کرنے والے اور مربّی تھے ۔ حضرت رسولخدا (ص)آپ کواپنے حجرے میں رکھنے کی خواہش کرتے رھتے ،اپنے سینے پر لٹاتے ۔ اپنے بستر پر سلاتے ۔ آپ کے جسم کو چھوتے رھتے ۔ آپ کی معرفت کو محسوس کرتے ۔ اور آپ میں نور وحی کو ملاحظہ فرماتے تھے۔
جب تاریخ کی خوشبو عقل سلیم کو معطر کرتے ہوئے گزرتی ہے تو چند بڑے اصحاب کا تذکرہ بھی ہوتا ہے اوروہ(تاریخ) ان کے اعمال و افعال کا فوراً قصّہ بیان کرتی ہے۔ جب ہم اصحاب اور حضرت علی کرم اللہ وجھہ کے اعمال و افعال کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں ۔اور ان کی سعی ، جہاد، مقاصد اور رسول خدا (ص)کے نزدیک مقام و منزلت کو ملاحظہ کرتے ہیں ۔ تو عقل کسی شک و تردید کے بغیر فیصلہ سناتی ہے کہ وہی خلافت کے لائق اور حقدار تھے۔
کیا عقل یہ نہیں کہتی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجھہ خلافت کے زیادہ حقدار تھے؟ !! اور رسول خدا (ص)نے انھیں ولایت عطا فرمائی ۔ وہ تو مسلمان ہی پیدا ہوئے ۔ کبھی بتوں کو سجدہ نہ کیا۔ اللہ کی گواھی میں خالص تھے، رسول خدا(ص) کی دعوت اسلام سے پہلے ہی مسلمان تھے۔
کیا عقل کا یہ فیصلہ نہیں ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجھہ خلافت کے زیادہ حقدار تھے !؟ کیونکہ وہ مولود کعبہ ہونے کی ساتھ حضرت رسول خدا (ص)کے ساتھ سب سے پہلے پڑھی جانے والی نماز میں بھی شریک تھے۔
کیا عقل ہی کا یہ فرمان نہیں کہ حضرت علی علیہ السلام خلافت کے زیادہ حقدار تھے؟! جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے اہل بیت (ع)کو آیت تطھیر میں رجس اور پلیدی سے پاک و طاہر قرار دیا تھا ۔ اور یہ اللہ کا ارادہ ہے وہ جسے چاھتا ہے عطا کرتا ہے۔
کیا عقل نہیں کہتی کہ حضرت علی علیہ السلام اسلئے بھی خلافت کے زیادہ حقدار تھے وہ رسول اللہ(ص) کے ساتھ ہونے والی تمام جنگوں میں شریک تھے سوائے غزوہ تبوک کے ۔ اسمیں آپ حضرت علی (ع) کواپنا خلیفہ بنا کر مدینہ میں چھوڑ گئے تھے ۔ وہ بہت تیز حملہ کرنے والے جوان تھے۔ شیر سے زیادہ بہادر تھے۔ ان کے علاوہ کوئی ان خصوصیات کا حامل نہ تھا ،ھر جنگ میں فقط انھی پر دارو مدار ہوتا تھا۔ فقط یھی لوگوں کی شادابی اور خوشحالی کا موجب بنتے تھے۔ ان کی ثابت قدمی اور صبر کو دیکھ کر آسمانی فرشتے تعجب میں پڑجاتے تھے۔ حضرت جبرئیل نے زمین و آسمان کے درمیان صدا بلند کی ۔
لَا فَتٰی اِلَّا عَلِیٌّ وَ لَا سَیْفَ اِلَّا ذُوالْفِقَار
(حضرت )علی علیہ السلام سے بڑھکرکوئی جوان نہیں اور ذوالفقار سے بڑھکر کوئی تلوار نہیں۔
کیا عقل حضرت علی علیہ السلام کو خلافت کا زیادہ حقدار نہیں سمجھتی کیونکہ حضرت رسول خدا(ص)نے حضرت علی علیہ السلام کے متعلق جنگ خندق میں عمر ابن عبدود العامری سے جنگ کے وقت ارشاد فرمایا تھا:
بَرَزَ الْاِیْمَانُ کُلّه إلیٰ الشِّرکِ کُلِّه
کل ایمان ،کل شرک کے مقابلے میں جارہاہے۔
کیا عقل حضرت علی علیہ السلام کے زیادہ حقدار خلافت ہونے کو نہیں کہتی!؟ کیونکہ اللہ نے تمام مسلمانوں پر ان کی اور اہل بیت(ع)کی مودّت کو واجب قرار دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے کارِ رسالت اور رسول خدا (ص)کی زحمتوں کا اجر قرار دیا ہے۔
کیا عقل حضرت علی علیہ السلام کے خلافت پر زیادہ حقدار ہونے کا حکم نہیں لگاتی جبکہ حضرت رسول خدا (ص)نے ان کے متعلق فرمایا :
اٴنَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ وَ عَلِیٌ بَابُهَا
میں علم کا شھر ہوں اور علی ( علیہ السلام )اسکا دروازہ ہیں۔
کیا عقل حضرت علی علیہ السلام کے خلیفہ رسول (ص)ہونے کو زیادہ حقدار نہیں سمجھتی ؟! کیونکہ وہ دنیا و آخرت میں رسول خدا (ص)کے بھائی ان کے پشت پناہ ، وزیر، خزانہ علم ،وارث حکمت ، سابق الامت ، صاحب نجویٰ ، پوشیدہ اور علانیہ مال خرچ کرنے والے ، وارث کتاب اور(احکام رسول (ص))کو مکمل طریقہ سے سننے والے تھے۔
کیا عقل حضرت علی علیہ السلام کے خلیفہ نبی(ص) ہونے کے زیادہ حقدار ہونے کو نہیں کہتی !؟ کیونکہ وہ امیر المؤمنین ، یعسوب الدین، شوہر جناب بتول ،فاجروں کے قاتل،صاحب الرایہ (علمبردار) اور سیّد العرب تھے۔
کیا عقل حضرت علی علیہ السلام کے زیادہ حقدا رخلافت ہونے کو نہیں کہتی جنکے متعلق حضرت عمر ابن خطاب کہتے ہیں:
لَو لَا عَلِیٌّ لَهَلَکَ عُمَرَ
اگر علی( علیہ السلام )نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔
کیا عقل کا یہ تقاضا نہیں کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کو خلافتِ رسول (ص)کا زیادہ حقدار سمجھے کیونکہ جناب شیخین( حضرت ابو بکر اور حضرت عمر )نے غدیر خم میں ان کی ولایت کا اقرار کیا ۔ اور دونوں کی زبان پر یہ ورد تھا:
بَخٍ بَخٍ لَکَ یَا بنَ ابِی طَالِبٍ اَصبَحْت واٴَمْسَیت مُولَایَ وَمَوْلَی کُلِّ مُؤمِنٍ وَ مُوْمِنَةٍ
اے ابن ابی طالب مبارک ہو مبارک ہو ۔ صبح و شام آپ ہمارے اور ہر مؤمن و مومنہ کے مولا ہیں۔
کیا عقل حضرت علی علیہ السلام کے خلیفہ نبی(ص) ہونے کا اعتراف نہیں کرتی جبکہ آپ وہ ہستی ہیں جن کے متعلق حضرت رسول خدا (ص)نے ایک طویل حدیث میں ارشاد فرمایا:
اَلَّلهُمَّ اَدْرِ الْحَقَّ مَعَه حَیْثُ دَارَ
خدایا حق کو اسکے ساتھ اُدھر پھیر دے جدھریہ پھرے۔
جی ہاں حضرت علی کرم اللہ وجھہ ہی رسول خدا (ص)کے بعد خلافت کے حقدار ہیں ۔ اور بے شک آپ ہی تمام صفات و خوبیوں کے جامع ہیں۔
وَلَمْ تک تَصْلَحُ الاَّ لَهُ وَلَمْ يک يَصْلَح اِلَّا لَهَا
مقام خلافت فقط انھیں زیب دیتا ہے اور ےھی مقام خلافت کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
امامِ برحق کے ہوتے ہوئے حضرت رسول خدا (ص)کے بعد حضرت ابوبکر خلیفہ بن بیٹھے۔ یہ حضرت علی علیہ السلام پر حضرت ابو بکر کے افضل ہونے کے دلیل نہیں ہے۔ بلکہ ہر زمان و مکان کی یھی سیاست ہے ۔ یہ یوم سقیفہ سے حاصل شدہ فضیلت ہے جبکہ خدا و رسول(ص) کا حکم ترک کردیا گیا اور قریش کی خواہشات کو لیا گیا۔یہ سب اس دن کے اختلاف کا نتیجہ ہے جب سید الوجود (ص)نے اپنے اصحاب سے قلم و دوات مانگا تھا تا کہ ان کے لیئے نوشتہ لکھ دیںتاکہ آپ کی رحلت کے بعد امت گمراہ نہ ہو۔
دوسراسوال :
کیا خلافت نص سے ثابت ہوتی ہے یا اجماع سے؟
جواب: اس میں کسی قسم کا شک و تردید نہیں ہے بلکہ ایک اصولی قاعدہ ہے کہ جب نص موجود ہو تو ہر دلیل باطل ہو جایا کرتی ہے۔
ھم یہاں استاد بزرگوا ر عبد اللہ یحیی علوی صاحب ۔ کے فقط انھی جوابات پر اکتفاء کرتے ہیں۔ اور چونکہ باقی دوسرے بہت سے سوال وجواب ہمارے موضوع سے باھر تھے لہٰذا ہم ان کا تذکرہ نہیں کرتے۔
وَالله ُ نَسْاٴَلُ اَنْ یُوفَقَ العَاملِینَ المُخْلِصِینَ لِمَرْضَاتِهِ انَّه وَ لِیُّ التَّوفیق
سید مرتضیٰ رضوی
۲۰ رجب المرجب ۱۴۲۱ ھجری
____________________
[۱] مناقب سیدنا علی ص ۲۷ مطبوعہ حیدر آباد ، ھند وستان۔
[۲] وھی مصدر ص ۳۴۔
[۳] ینابیع المودة ص ۱۱،قندوزی حنفی، طبع استانبول۔
[۴] فضائل صحابہ امام احمد بن حنبل ص ۱۳،صحیح مسلم ج۷ص۱۲۰۔
[۵] المعجم الکبیر، طبرانی ج ۱۲ ، ص ۷۸ ، سنن الکبریٰ، نسائی ج ۵ ص ۱۳۲ ، کنز العمال، متقی ھندی ج۱۱ ص ۵۹۹۔
[۶] تاریخ ابن عساکر ، ج ۳ ص ۱۲۴ ۔
[۷] فضائل الصحابة ، احمد ابن حنبل ص ۱۴ ، مسند احمد ، احمد ابن حنبل ج ۱ ص ۸۴ ، سنن ابن ماجہ ، محمد بن یزید قزوینی ج ۱ ص ۵۴،سنن ترمذی ج ۵ ص ۲۹۷۔
محل ولادت ، امتیازات اورخصوصیات
محل ولادت اور کرامات جلی
امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام مکہ مکرمہ میں بروز جمعہ ، تیرہ رجب سن تیس عام الفیل کوخانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔ آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کوئی شخص بھی بیت اللہ میں پیدا نہیں ہوا۔ یہ اللہ تعالی کی طرف سے آپ کی عظمت وجلالت اور منزلت کا خصوصی مقام ہے۔( ۱ )
صاحبب بحار نے یزید بن قعنب کی روایت بیان کی ہے ، جس میںوہ کہتے ہیں کہ میں، عباس بن عبد المطلب اور عبدالعزیٰ کے ایک گروہ کے ساتھ خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھا ہوا تھا ۔وہاں حضرت امیر المومنین کی والدہ ماجدہ جناب فاطمہ بنت اسد تشریف لائیں۔( آپ کے دن پورے ہوچکے تھے) جب آپ کو درد زہ شروع ہوا توآپ نے خدا کی بارگاہ میں عرض کیا:
”رب انی مؤمنة بک و بما جاء من عندک من رسل و کتب وانی مصدقة بکلام جدی ابراهيم الخليل فبحق الذی بنی هذا البیت وبحق المولود الذی فی بطنی لمايسَّرت علیَّ ولادتی
بارالھا! میں تجھ پر ایمان رکھتی ہوںاور تو نے جو رسول (علےھم السلام ) بھیجے اور جو کتابیں نازل کی ہیں‘ان پر ایمان رکھتی ہوں ، میں اس گھر کی بنیاد رکھنے والے اپنے جد امجد حضرت ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام کے کلام کی تصدیق کرتی ہوں اور اپنے شکم میں موجودبچہ کا واسطہ دے کر کہتی ہوں مجھ پر اس کی ولادت کو آسان فرما۔
یزید کھتا ہے کہ ہم نے دیکھا کہ دیوار کعبہ شق ہوئی اور جناب فاطمہ بیت اللہ میں داخل ہو گئیںاور ھماری نظروں سے اوجھل ہو گئیں، دیوار کا شگاف آپس میں مل گیا۔ ہم نے کوشش کی کہ دروازے پر لگا تالا کھولیں لیکن وہ نہ کھل سکا تو ہم نے سوچا کہ یقینا خدا کا یھی حکم ہے ۔
تین ر روز بعد فاطمہ(ع) باھر تشریف لائیں تو آپ نے حضرت امیر المومنین کو اٹھایا ہوا ہے، آپ فرماتی ہیں: جب میں بیت اللہ سے باھر نکلنے لگی تو ہاتف غیبی کی جانب سے یہ آواز بلند ہوئی اے فاطمہ(ع) اس کا نام علی (ع) رکھنا ۔( ۲ )
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی والدہ فاطمہ بنت اسد فرماتی ہیں:
خداوندعالم نے مجھے پھلی تمام خواتین پر فضیلت عطا فرمائی کیونکہ آسیہ بنت مزاحم، اللہ تعالی کی عبادت چھپ کر وہاں کیا کرتیں تھیںجہاں اللہ تعالی اضطراری حالت کے علاوہ عبادت کو پسند نہیں کرتا اور مریم بنت عمران کھجور کی شاخوں کو اپنے ہاتھوں سے نیچے کرتیںتا کہ اس سے خشک کھجوریں تناول کر سکیں جبکہ میں بیت اللہ میں جنت کے پھل تناول کرتی رھی اور جب میں نے بیت اللہ سے باھر نکلنے کا ارادہ کیا تو ہاتف غیبی کی آواز آئی ۔
اے فاطمہ اسکا نام علی(ع) رکھنا کیونکہ یہ علی(ع) ہے اور اللہ علی الاعلیٰ ہے مزید فرمایا اسکا نام میرے نام سے نکلا ہے میں نے اسے اپنا ادب عطا کیا ہے اور اپنے پوشیدہ علوم سے آگاہ کیا ہے یھی میرے گھر میں موجود بتوں کو توڑے گا ،اس کی محبت اور اطاعت کرنے والا خوش بخت ہے اوراس سے بغض رکھنے اور نافرمانی کرنیوالے کے لئے لعنت اور بدبختی ہے( ۳ )
سید حمیری ،حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی ولادت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
ولدته فی حرمِ إلا له و اٴمنه
والبیت حیث فنائه والمسجدُ
بیضاء طاهرة الثیاب کریمة
طابت وطاب وليدها والمولدُ
فی ليلة غابت نحوس نجومها
وبدت مع القمر المنير الاسعدُ
ما لُفَّ فی خرق القوابل مثله
الا ابن آمنة النبی محمد( ۴ )
صرف اس خاتون نے حرم الٰھی اور جائے امن میں اسے پیدا کیا اور بیت اللہ اور مسجد اس کے آنگن کی حیثیت رکھتا ہے۔وہ چمکدار لباس، پاکیزگی سے مزّین اور شرافت والی ہے۔ یہ ایک ایسی رات تھی جب نحس ستارے چھپ گئے اور قمر منےر کے ساتھ یہ نےک اور سعید ستارہ نمودار ہوا، وہ پاک ہے اس کا مولود بھی پاک ہے اور اس کی جائے ولادت بھی پاک ہے اس جیسے (نجیب) کو قنداق نہیں کیا جا سکتا مگر آمنہ کے لال نبی احمد(ص)کے ہاتھ سے۔
حضر ت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ بنت اسد علیھاالسلام سے فرمایا:
اس کو میرے بستر کے قریب رھنے دیا کرو ۔اکثرحضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی علیہ السلام کی تربیت کے فرائض انجام دیتے ، نھلانے کے وقت ان کو نھلاتے، بھوک کے وقت دودھ پلاتے، نیند کے وقت جھولا جھلاتے اور بیداری کے وقت ان کو لوریاں سناتے تھے ۔اپنے سینے اور کندھوں پر سوار کرکے فرمایا کرتے تھے۔ یہ میرا بھائی ،ولی ،مددگار، وصی، خزانہ اور قلعہ ہے۔( ۵ )
مستدرک میں حاکم کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں تواتر کے ساتھ روایات موجود ہیں کہ جناب فاطمہ بنت اسد نے حضرت امیر المومین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کوخانہ کعبہ میں جنا۔( ۶ )
کتاب نور الابصار میں اس طرح ذکر ہوا ہے : حضرت علی علیہ السلام مکہ میں خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ۔ایک قول کے مطابق آپ کی ولادت ۱۳ رجب ، ۳۰ عام الفیل، بروز جمعہ ہوئی یعنی ہجرت سے ۲۳ سال پہلے اور بعض مؤرخےن کے مطابق ۲۵ سال پہلے یعنی بعثت سے ۱۲ سال پہلے اوربعض کہتے ہیں کہ بعثت سے ۱۰ سال پہلے پیدا ہوئے اور آپ سے پہلے کوئی بھی بیت اللہ میں پیدا نہیں ہوا ۔( ۷ )
امتیازات اور خصائص
اسم گرامی :
اخطب خوارزم کہتے ہیں کہ آپ کا مشھور نام (حضرت )علی (ع) ہے اور آپ کے ناموں میں اسد اور حیدر کا بھی ذکر ہوا ہے کیونکہ حضرت علی علیہ السلام خود فرماتے ہیں ۔
”سمتنی امی حیدره “
میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے۔
اور اشعار میں بھی اس کا ذکر ہے:
اسد ا لا له و سيفه و قنا ته کا لظفر یوم صیاله و الناب
جا ء النداء من السماء و سيفه بدم الکماة یلجُ فی التسکاب
لاسيف الا ذوالفقار و لافتیً الا علیٌّ هازم الا حزاب
یہ اللہ کاشےر ہے اوراس کی تلوار اور نےزہ جنگ کے دن کامیابی ہے ،آسمان سے صدا آئی کہ اس کی اس تلوار مسلح بہادروں کے خون کے ساتھ سمندر میں تیرتی ہے ،جو تلوار خون کی ندیاں بھادےتی ہے اور کشتوں کے پشتے لگا دےتی ہے۔ وہ ندا یہ تھی کہ ذوالفقار کے علاوہ کوئی تلوار نہیں ہے اورحضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی بہادر نہیں ہے جو جنگ میں جتھوںکو شکست دینے والے ہیں۔( ۸ )
کنیت:
حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی جو کنیتیں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہیں وہ یہ ہیں۔
ابوالحسن،ابوالحسین،ابوالسبطین،ابوالریحانتین وابوتراب ( ۹ )
حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں ۔حسن (ع)اور حسین (ع) نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات میں کبھی مجھے یا اباہ(اے ابا جان) کہہ کے نہیں پکارا بلکہ وہ ہمیشہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یااباہ کہتے تھے جبکہ حسن (ع) مجھے یا اباالحسین، اور حسین(ع)مجھے یاا باالحسن کہہ کر پکا رتے تھے۔( ۱۰ )
لقب :
حضرت کے القاب مندرجہ ذیل ہیں:
”امیر المؤمنین، یعسوب الدین والمسلمین، مبیرالشرک والمشرکین ،قاتل الناکثین والقاسطین والمارقین مولی المؤمنین شبیه هارون المرتضی نفس الرسول، اٴخوه رسول زوج البتول، سیف الله المسلول، اٴبوالسبطین اٴمیر البرره، قاتل الفجره، قسیم الجنة والنار ، صاحب اللواء، سید العرب والعجم، وخاصف النعل کاشف الکرب ، الصدّیق الاٴکبر، ابوالریحا نتین ، ذوالقرنین ، الهادی ، الفاروق، الواعی، الشاهد، وباب المدینة وبیضة البلد، الولي ، والوصي ، وقاضی دین الرسول، و منجز وعده ( ۱۱ )
نسب شریف:
حضرت علی علیہ السلام کے والدحضرت ابو طالب ہیں( جنکانام عبد مناف بن قصیٰ ہے) آپ عبدالمطلب (جن کا نام شیبہ ہے) بن ہاشم(عمرو)بن عبد مناف بن قصیٰ کے فرزند ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام کا نام سب سے پہلے آپ (ع) کی والدہ نے اپنے والد اسد بن ہاشم کے نام پر حیدر رکھا تھا، اسد اور حیدر کے ایک ہی معنی ہیں پھر آپ کے والد نے آپ(ع) کانام علی رکھا۔
حضرت ابوطالب(ع) کی والدہ کا نسب یہ ہے۔ فاطمہ بنت عمروبن عائد بن عمران بن محزوم۔ آپ حضرت رسول اکرم (ص)کے والد حضرت عبداللہ کی بھی مادر گرامی ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام کی والدہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم بن عبد مناف بن قصیٰ ہیں آپ ہی پھلی ہاشمیہ ہیں جن سے ایک ہاشمی پیداھوا۔
حضرت علی علیہ السلام اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ جعفرآپ سے ۱۰ سال بڑے تھے ، عقیل ،جعفرسے ۱۰ سال بڑے تھے اور طالب ، عقیل سے ۱۰ سال بڑے تھے، فاطمہ بنت اسد کی والدہ فاطمہ بنت ھرم بن رواحہ بن حجربن عبد بن معیص بن عامر بن لویٰ تھیں۔( ۱۲ )
خوارزمی نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے نسب کے متعلق یہ اشعار کھے ہیں:
نسب المطهرّبین اٴنساب الوری کالشمس بین کواکب الاٴنساب
والشمس ان طلعت فما من کوکب الا تغیّب فی نقاب حجاب
اس پاک و پا کیزہ ہستی کانسب‘ تمام نسبوں میں ایسے ہے جیسے خورشید ستاروںکے درمیان طلوع ہوتا ہے تو تمام ستارے غائب ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ کہ سورج تارےکی کے پردے میں چلا جائے.( ۱۳ )
حلیہ:
حضرت علی علیہ السلام کاقد میانہ تھا،آپ کی آنکھیں سیاہ اور بڑی تھیں آپ (ع) کا چھرہ چودھویں کے چاند کی مانند خوبصورت تھا ،پیٹ مناسب حد تک بڑا، سےنے پر بال اور دوسرے اعضاء مضبوط اور مناسب تھے،آپ کی گردن چاندی کی صراحی کی مانند تھی اور آپ کے بال خفیف تھے۔آپ کی ناک لمبی اور خوبصورت تھی آپ کے جوڑ شیر کی طرح مضبوط تھے اور جس پر بہت سے لوگ مل کر نہ قابو کر سکتے ہوں اسے آپ تنہا اپنے قبضہ میں کر لیتے اور وہ سانس تک نہ لے سکتا۔( ۱۴ )
____________________
[۱] ارشاد شیخ مفید ،ج ۱ ص ۵۔
[۲] بحار ج ۳۵ ص ۸۔
[۳] کشف الغمہ ج ۱ ص ۶۰۔
[۴] منتھی الامال ج۱ ص۲۸۳۔
[۵] کشف الغمہ ج ۱ ص ۶۰۔
[۶] مستدرک الصحیحین ج ۳ ص ۴۸۳۔
[۷] نور الابصار ص ۱۹۔
[۸] مناقب خوارزمی ص۳۷،۳۸
[۹] الحاج علی محمد علی دخیل کی کتاب آئمتنا ج۱ ص ۳۱۔خوارزمی نے مناقب میں آپ کی کنیت میں ابو محمد کا اضافہ کیا ھے۔
[۱۰] مناقب خوارزمی ص۴۰۔
[۱۱] مناقب خوازمی ص ۴۰ ۔
[۱۲] شرح نھج البلاغہ ج ۱ ص ۱۱۔۱۴
[۱۳] مناقب خوارزمی ص ۴۸ ۔
[۱۴] نصر بن مزاحم کی کتاب، واقعہ صفین ،ص۲۳۳۔
دوسری فصل
سب سے پہلے مومن
قرآن مجید میں علی (ع) کے فضائل
آپ اور آپ کے اہل بیت ہی طاہر و مطھر ہیں
سب سے پہلے مومن
ترمذی نے اپنی صحیح میں زید بن ارقم سے روایت کی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔( ۱ )
حضرت رسول اکرم (ص)نے فرمایا:
اٴولکم واردا عليَّ الحوض، اٴولکم اسلاماً، علی بن ابی طالب
تم میں سے سب سے پہلے میرے پاس حوض کوثر پر وہ پھنچے گا جو تم میں سب سے پہلے اسلام لایا ہو اور وہ حضرت علی ابن ابی طالب ہیں۔( ۲ )
سعد بن ابی وقاص ایک گروہ کے پاس کھڑے تھے ان میں سے ایک شخص حضرت علی ابن ابی طالب پر سب و شتم کر رہاتھا اس وقت سعد نے کہا اے شخص تو علی ابن ابی طالب کو برا بھلا کیوں کہہ رہاھے؟۔
کیا وہ سب سے پہلے مسلمان نہ تھے؟
کیا انھوں نے سب سے پہلے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز کیا وہ سب سے زیادہ زاہدنہ تھے؟
کیا وہ سب سے زیادہ عالم نہ تھے؟
کیا حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی کا عقد ان سے نہیں پڑھا ؟
کیا وہی جنگوںاور اسلامی معرکوں میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علمبردار نہ تھے؟
اس کے بعد سعدروبقبلہ ہو کر دونوں ہاتھ کو بلند کر کے کھنے لگے :
اے اللہ جس نے تیرے اولیاء میں سے اس ولی پر سب و شتم کیا ہے وہ تیری قدرت کا نظارہ دیکھے بغیر اس جگہ سے نہ جانے پائے (اس روایت کے راوی)متین بن حازم کہتے ہیں۔
خدا کی قسم ہم اس سے جدا ہوئے ہی تھے کہ اس کے سر پر کھجور کے دانے کے برابر پتھر آکرلگا اور اس کا بھےجاٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔( ۳ )
ابن حجر،لےلی غفاریہ کی سند سے روایت کرتے ہیں وہ کہتی ہیں کہ میں حضرت نبی اکرم( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ھمراہ کسی غزوہ میں شرےک تھی، اس غزوہ میں میری ذمہ داری زخمیوں کو مرہم پٹی کرنے کے ساتھ ساتھ بیماروں کی تیمار داری کرنا تھی ،جب حضرت علی علیہ السلام بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو میں بھی ان کے ساتھ چل دی میں نے وہاں حضرت عائشہ کو دیکھاتو اس کے پاس گئی اور اس سے پوچھا:
کیا تم نے حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں کوئی فضیلت سنی ہے؟۔
نھیں پڑھی ؟
حضرت عائشہ کھنے لگی:
ہاں ایک دن حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے اور وہ (حضرت علی علیہ السلام) بھی ہمارے ساتھ تھے،حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاص قسم کی چادر اوڑھ رکھی تھی اورعلی (ع) ہمارے سامنے آ کر بیٹھ گئے۔
میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کھاکہ آپ کو اس سے بڑا مکان نہیں مل سکتا جہاں ہم سب آسانی سے رہ سکیں تو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا:
” یا عائشه دعی لی اخی فانه اول الناس اسلاماً ، وآخر الناس لی عهداً واٴول الناس بي لقیا یوم القیامه“
اے عائشہ! میرے بھائی کو میرے پاس بلا کر لے آؤ۔وہ لوگوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے ، آخر تک میرے عھد پر قائم رھنے والے اور قیامت کے دن سب سے پہلے مجھ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔( ۴ )
حضرت عمر ابن خطاب سے مروی ہے کہ تم میں سے کوئی بھی علی علیہ السلام کا مقام و عظمت حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ میں نے حضرت رسول اکرم(ص)کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ان میں تین خصوصیات ایسی ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی میرے پاس ہو تی تووہ مجھے کائنات کی ھرچیز سے زیادہ محبوب تھی ۔
حضرت عمر کہتے ہیں:میںحضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا ہمارے ساتھ حضرت ابو بکر، حضرت ابو عبیدہ بن الحراج اور صحابہ کرام کی ایک جماعت بھی تھی حضرت رسول اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:
”اٴنت اٴول الناس اسلاماً، و اٴول الناس ایماناً، واٴنت منی بمنزلةِ هارونَ مِن موسیٰ“
آپ (ع)ھی سب سے پہلے اسلام لانے والے ، سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں ،آپ(ع) کی مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون(ع) کو حضرت موسیٰ (ع) سے تھی۔( ۵ )
ایک دوسری سند کے ساتھ ابن عباس سے اس طرح مروی ہے کہ عمر ابن خطاب نے کھاکہ کوئی بھی علی(ع) ابن ابی طالب(ع) کی برابری نہیں کر سکتا کیونکہ میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناھے کہ حضرت علی علیہ السلام کے اندر تین خصلتیں ایسی ہیں جنھیں کوئی بھی نہیں پا سکتا مندرجہ بالا حدیث کا سیاق بھی گزشتہ حدیث کی طرح ہے ۔
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
انّ الملائکه صلت عليَّ وعلیٰ عليٍ سبع سنين قبل اٴن يسلم بشر
تمام لوگوں کے اسلام قبول کرنے سے سات سال پہلے ملائکہ مجھ پر اور علی(علیہ السلام) پردرود و سلام بھیجتے تھے۔( ۶ )
محمد ابن اسحاق سے روایت ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرسب سے پہلے ایمان لانے والے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام تھے اور جو کچھ آپ اللہ کی طرف سے لائے اس کی تصدیق کرنے والے بھی حضرت علی علیہ السلام ہی تھے، اس و قت آپکی عمر ۱۰ سال تھی اور آپ پر اللہ کا یہ خصوصی اکرام ہے کہ آپ کی پرورش حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آغوش میں ہوئی ۔( ۷ )
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! تین اشخاص نے سبقت حاصل کی ہے ،حضرت موسی ٰکی طرف یوشع بن نون ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف صاحب ےٰسےن نے اورحضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طر ف حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے سبقت حاصل کی۔( ۸ )
عبد اللہ ابن مسعود کہتے ہیں:حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سب سے پھلی چیز کا جب مجھے علم ہواتو میں اپنی پھوپھی کے ھمراہ مکہ میں آیا وہاں ھمیں عباس بن عبدالمطلب کے پا س بھیجا گیا ہم نے ان کو زمزم کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا۔
ھم بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔ اس وقت ہم نے ایک شخص کو باب صفا سے داخل ہوتے دیکھا۔ جس کارنگ سرخ ، لمبے بال، خوبصورت اورلمبی ناک،سفید دانت ،آنکھیں اور ابرو ملی ہوئی ہیں، گھنی داڑھی ،مضبوط بازو،اور خوبصورت چھرہ ہے۔
ایک عورت ان کے پاس آکر کھڑی ہوئی جو پردے میں تھی یہ سب لوگ حجر اسود کی طرف بڑھے اور سب سے پہلے اس شخص نے سلام کیا اس کے بعد اس نوجوان نے اور آخر میں اس خاتون نے سلام کیا پھر اس ہستی نے بیت اللہ کا سات بار طواف کیا اور اس کی اتباع میں اس نوجوان(حضرت علی علیہ السلام) اور اس خاتون نے بھی طواف کیا۔
اس وقت ہم نے پوچھا اے اباالفضل اس دین کو ہم نہیں پہچانتے ،کیا یہ کوئی نیا مذھب ہے؟ ۔اس نے جواب دیا یہ میرے بھائی کے فرزندحضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور یہ نوجوان حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام اور یہ خاتون خدیجہ بنت خویلد ہیں ،اس کرہ ارض پر ان تینوں کے علاوہ کوئی بھی اللہ تعالی کی اس طرح عبادت نہیں کرتا۔( ۹ )
شرح نھج البلاغہ میں ابن ابی الحدید کہتے ہیں: جان لیجئے ہمارے علماء متکلمین ا س با ت پر متفق ہیں کہ لوگوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔( ۱۰ )
اس کے بعد ابن ابی الحدید کہتے ہیں۔ مذکورہ تمام چیزیں ا س بات کی دلیل ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام سب سے پہلے اسلام لائے اور اگر کوئی اس کا مخالف ہے تو اس کی مخالفت شاذ ونادر ہے۔
اور شاذو نادر کا اعتبار نہیں کیا جاتا ۔
عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کے متعلق ارشاد فرمایا:
”انّک اٴوّل المؤمنین معي ایماناً واٴعلمهم بآیات اللهِ واٴوفاهم بعهد اللّه واٴراٴفهم بالرعیه واٴقسمهم بالسویه و اٴعظمَهم عند اللّه مزیه ( ۱۱ )
بیشک آپ مومنین میں سب سے پہلے مجھ پر ایمان لانے والے ،سب سے زیادہ اللہ کی آیات جاننے والے،سب سے زیادہ بھتر انداز میں اللہ کے عھد کو نبھانے والے،سب سے زیادہ لوگوں کے ساتھ مھربان ہیں اور برابر سے تقسیم کرنے میں سب سے زیادہ بھتر ہیں آپ کا مرتبہ اللہ تبارک تعالی کے نزدیک عظیم ہے۔
ترمذی نے روایت کی ہے کہ راوی نے کھامیں نے حضرت علی علیہ السلام کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے:
”اٴناعبد اللّه واٴخو رسوله واٴنا الصدیّق الاٴکبر لا یقولها بعدي الاَّ کاذب مفتر ، صليت مع رسول الله قبل الناس بسبع سنین
میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا بھائی ہوں۔ میں صدیق اکبر ہوں اور میرے بعد یہ دعوی کرنے والا جھوٹا بھتان باندھنے والا ہے اورسب سے پہلے میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ سات سال کی عمر میں نماز پڑھی۔( ۱۲ )
شیخ مفید اعلی اللہ مقامہ نے خدیجہ بن ثابت انصاری ،صاحب ذی الشھادتین رضی اللہ عنہ سے یہ اشعار نقل کیے ہیں ۔
ما کنت احسب هذا الاٴمر منصرفاً
عن هاشم ثم منها عن اٴبي حسن
اٴلیس اٴول من صلّیٰ لقبلتهم
واٴعرفُ النّاسِ بالآثار والسننِ
وآخرُ الناسِ عهداً بالنبي و مَن
جبریل عونٌ له فی الغسلِ والکفنِ
من فیه ما فیهم لا یمترون به
ولیس فی القومِ ما فیهِ من الحسنِ
ما ذا الذي ردّکم عنه فنعلمه
ها ان بیعتکم من اٴغبن الغبن
میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ امر خلافت کو بنی ھاشم میں حضرت ابو الحسن علیہ السلام سے دور رکھا جائے گا ۔میں کبھی بھی جناب ہاشم اور پھر ان کی اولاد سے منہ موڑنے والوں کو دوست نہیں رکھتا، میں حضرت ابوالحسن علیہ السلام کی اس فضیلت کو نظر انداز نہیں کر سکتا ۔ کہ وہ پھلی شخصیت ہیں جنھوں نے تمہار ے ساتھ قبلہ کی طرف نماز پڑھی اور وہ سنن نبی(ص) کے سب سے زیادہ عارف ہیں اور آخر دم تک عھد نبی(ص) پر قائم رھے حضرت نبی(ص) کو غسل و کفن دینے میں جبرئیل انھیں کے مددگار تھے اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔قوم کی تمام خوبیاں ان میں بدرجہ کامل تھیںاور پوری قوم میں ان جیسی خوبیاں نہیں ہیں۔ کیا چیز ہے جس نے تمھیں ان سے ہٹادیا ہے تاکہ ہم بھی اسے جان لےں خبردار تمہاری بےعت دھوکوں میں سب سے بڑا دھوکا ہے( ۱۳ )
ابن حجر اپنی کتاب الاصابہ میں ابی لیلہ غفاری سے روایت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ابی لیلہ غفاری نے کھاکہ میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
ستکون من بعدی فتنة فاذا کان ذلک فآلزموا علی بن اٴبي طالب فانه اٴول من آمن بی واٴولُ من يُصافحنی یوم القیامه وهو الصدیق الاکبر وهو فاروق هذه الامة وهو يعسوب المؤمنین والمالُ یعسوبُ المنافقین
عنقریب میرے بعد فتنے اٹھیں ہوں گے ا س وقت تم حضرت علی (ع)کے دامن کو تھام لینا کیونکہ وہ پہلے شخص ہیں جو مجھ پر ایمان لائے وہ پہلے شخص ہوں گے جو قیامت کے دن مجھ سے مصافحہ کریں گے وہ اس امت کے صدیق اکبر اور فاروق اعظم ہیں اور وہ مومنین کے رھنما ہیں جبکہ مال منافقین کا رھنما ہے۔( ۱۴ )
قرآن مجےد میں علی (ع) کے فضائل
قرآن کریم میں ارشاد ہو تا ہے:
( اِنَّماَ وَلِیُّکُمُ اللهُ وَ رسُولُه وَ الَّذِین آمَنُوا الّذِینَ یُقیمُونَ الصَّلوٰة ویُؤتُون الزَّکَاةَ وَهُمْ راکعونَ ) ( ۱۵ )
بےشک اللہ اور اس کا رسول اور اس کے بعد وہ تمہاراولی ہے جو ایمان لایا اورنماز قائم کی اور رکوع کی حالت میں زکات ادا کی۔
زمخشری اپنی کتاب کشاف میں بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں اس وقت نازل ہوئی جب آپ نے نما ز پڑھتے وقت حالت رکوع میں سائل کو اپنی انگوٹھی عطا کی۔ زمخشری مزید کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اعتراض کرے کہ اس آیت میں تو جمع کا لفظ آیا ہے اور یہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لئے کس طرح درست ہو سکتا ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ جب کسی کام کا سبب فقط ایک ہی شخص ہو تو وہاں اس کے لئے جمع کا لفظ استعمال ہو سکتا ہے تا کہ لوگ اس فعل کی شبیہ بجا لانے میں رغبت حاصل کرےں اور ان کی خواہش ہو کہ ہم بھی اس جیسا ثواب حاصل کرلےں۔( ۱۶ )
نیزاللہ تعالی کا ارشاد ہے:
( اٴَفَمَنْ کَانَ عَلیٰ بینةٍ مِنْ رَبّهِ وَ يَتْلُوْهُ شَاهِد مِنْهُ ) ( ۱۷ )
کیا وہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی دلےل پر قائم ہے اور اس کے پیچھے پیچھے ایک گواہ ہے جواسی سے ہے۔
سیوطی درمنثور میں کہتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت علی علیہ السلام ہیں اور مزیدکھتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اٴفمن کان علیٰ بینةٍ من ربهِ و يتلوه شاهدٌ منه
وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلےل پر قائم ہے وہ میں ہوں اور اس کے پےچھے پےچھے ایک گواہ بھی ہے جو اسی سے ہے اوروہ حضرت علی علیہ السلام ہیں۔( ۱۸ )
نیزاور اللہ کا یہ ارشاد ہے :
( اٴَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنْ کَانَ فَاسِقًا لاَیَسْتَوُون ) ۱۹ )
کیا ایمان لانے والا اس شخص کے برابر ہے جو بد کاری کرتا ہے ؟یہ دونوں برابر نہیں ہیں۔
واحدی نے مذکورہ آیات کے اسباب نزول کے بارے میں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ ولےد بن عقبہ بن ابی محےط نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے کہا۔
میں آپ سے عمر میں زیادہ ،زبان میںگویا تر اور زیادہ لکھنا جانتا ہوں۔ حضرت علی علیہ السلا م نے اس سے کھاکہ خاموش ہو جاؤ تم تو فاسق ہو اور اس وقت یہ آیت نازل ہوئی :
( اٴَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنْ کَانَ فَاسِقًا لاَیَسْتَوُونَ )
کیا ایمان لانے والا شخص اس کے برابر ہے جو کھلی بدکاری کرتا ہے؟ یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے ۔
ابن عباس کہتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علی علیہ السلام مومن ہیں اور ولےد بن عقبہ فاسق ہے ۔( ۲۰ )
نیز اللہ کا فرمان ہے :
( إِنْ تَتُوْبَا إِلَی اللهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا وَ إِنْ تَظَاهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللهَ هُوَ مَوْلٰیه وَجِبْرَيْلُ وَصَالِحُ الْمؤمنین وَالمَلٰا ئِکَةُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَهِيْرٌ )
( اے نبی کی ازواج ) اگر تم اللہ کے حضور توبہ کر لو (تو بھتر ہے ) کیونکہ تمہارے دل کج ہو گئے ہیں اگر تم دونوں نبی کے خلاف کمر بستہ ہو گئےں توبےشک اللہ ،جبرئےل اور صالح مومنین اس کے مدد گار ہیں اور ان کے بعد ملائکہ کے بعد ملائکہ ان کی پشت پر ہیں ۔( ۲۱ )
ابن حجر کہتے ہیں طبری نے مجاھد کے حوالہ سے نقل کیا ہے صالح المومنین حضرت علی علیہ السلام ‘ ابن عباس ، حضرت امام محمد بن علی ا لباقر اور ان کے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام ہیں ۔ ایک دوسری روایت میں مروی ہے کہ صالح المومنین سے مراد حضرت علی علیہ السلام ہیں( ۲۲ )
اسی طرح خداوندعالم کا یہ ارشاد :
( لِنَجْعَلَهَا لَکُمْ تَذْکِرَةً وَتَعِیَهَا اٴُذُنٌ وَاعِیَةٌ ) ( ۲۳ )
اس واقعہ کو تمہارے لیئے یادگار بنا دیں تاکہ یاد رکھنے والے کان اس کو یا د رکھیں۔
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن مجید کی اس آیتوتعیهااٴُذن واعیه کی تلاوت فرمائی اور پھر حضرت علی علیہ السلام کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:
اللہ تعالی سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کے کانوں کو ان خصوصیات کا مالک بنا دے حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں رسول اکرم سے جس چیز کو بھی سنتا تھااسے فراموش نہیں کرتا تھا۔( ۲۴ )
حضرت علی کے متعلق اللہ تعالی کا ایک اور یہ فرمان ہے:
( اٴَنْتَ مُنذِرٌ وَلِکُلِّ قَوْمٍ هَادٍ ) ( ۲۵ )
آپ تو محض ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم میں ایک نہ ایک ھدایت کرنے والا ہوتا ہے۔
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں:اٴنا المنذر وعلي الهادي وبک یا علی يهتدی المهتدون من بعدی ۔ میں ڈرانے والا اور حضرت علی علیہ السلام ہادی ہیں ،اس کے بعداسی جگہ فرمایا:اے علی(علیہ السلام) میرے بعد ھدایت چا ھنے والے تیرے ذریعے ھدایت پائیں گے( ۲۶ )
اسی طرح خداوند متعال کا ایک اور فرمان ہے:
( الَّذِینَ یُنفِقُونَ اٴَمْوَالَهُمْ بِاللَّیْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلاَنِیَةً فَلَهُمْ اٴَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلاَخَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلاَهُمْ یَحْزَنُونَ )
وہ لوگ جو دن اور رات میں اپنا مال پوشیدہ اور آشکار طور پر اللہ تعالیٰ کی راہ میںخرچ کرتے ہیں ،ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے اور انھیں کسی قسم کا خوف و غم نہیں ہے۔( ۲۷ )
ابن عباس کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی ابن ابی طالب کی شان میں نازل ہوئی آپ کے پاس چار درھم تھے آپ نے ایک درھم رات میں، ایک درھم دن میں، ایک درھم چھپا کر اور ایک درھم علانیہ اللہ کی راہ میں خرچ کیاتو یہ آیت نازل ہوئی۔( ۲۸ )
نیزاللہ کا فرمان ہے:( إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَیَجْعَلُ لَهُمْ الرَّحْمٰنُ وُدًّا ) ( ۲۹ )
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کئے عنقریب خدائے رحمن ان کی محبت کو لوگوں کے دلوں میں پیدا کرے گا ۔
حضرت علی علیہ السلام کے فضل و کمال کے سلسلہ میں نازل ہونے والی آیات میں خداوندمتعال کاارشاد سیجعل لھم الرحمن ودا خصوصی طور پر آپ کی بابرکت شان کی عکاسی کرتا ہے ۔اسی کے بارے میں ابوحنفیہ کہتے ہیں کہ کوئی مومن نہیں ہے جس کے دل میں حضرت علی علیہ السلام اور ان کے اھلبیت کی محبت قائم نہ ہو۔( ۳۰ )
نیز اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
( إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اٴُوْلَئِکَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ ) ( ۳۱ )
جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کئے یھی لوگ مخلوقات میں سب سے بھتر ہیں۔
ابن عباس کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:
یا علي تاتي اٴنت و شيعتک یوم القیامة راضين مرضين و یاٴتي عدوک غضا باً مقمَّحين
(اے علی (ع))وہ خیر البریہ آپ اور آپ کے شیعہ ہیں آپ اور آپ کے شیعہ قیامت کے دن خوشی و مسرت کی حالت میں آئیں گے اور آپ کے دشمن رنج و غضب کی حالت میں آئیں گے۔
قال: ومن عدوی؟
حضرت علی نے کہایا رسول اللہ میرا دشمن کون ہے ؟
قال:من تبراٴ منک ولعنک
آپ نے فرمایا:
جو آپ سے دوری اختیار کرے اور آپ کو برا بھلا کھے وہ آپ کا دشمن ہے۔( ۳۲ )
اسی طرح خداوندمتعال کا ایک اور فرمان ہے :
( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ ) ( ۳۳ )
اے مومنین ! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ ۔
سورہ تو بہ کی اس آیہ شریفہ کے ذیل میں جناب سیوطی کہتے ہیں: ابن مردویہ نے ابن عباس سے روایت بیان کی ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اللہ تعالی کا یہ فرمان :
( اتَّقُوا اللهَ وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ ) ( ۳۴ )
اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔( ۳۵ )
اس میں سچوں کے ساتھ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ ہو جاؤ۔
نیزاللہ کا فرمان ہے:( اٴَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِی سَبِیلِ اللهِ لاَیَسْتَوُونَ عِنْدَ اللهِ وَاللهُ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ ) ( ۳۶ )
کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد الحرام کو آبادکرنے کے کام کو اس شخص کی خدمت کے برابر سمجھ لیا ہے جو اللہ تعالی اور روز قیامت پر ایمان لا چکا ہے اور اللہ کی راہ میں جہاد بھی کر چکا ہے یہ دونوں خدا کے نزدیک برابر نہیں ہو سکتے اور خدا ظالموں کو سیدھے راستہ کی ھدایت نہیں کرتا۔
السدی کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام ،جناب عباس اور شبیر بن عثمان آپس میں فخر کیا کرتے تھے ،حضرت عباس کہتے تھے میںآپ سب سے افضل ہوں کیونکہ میں بیت اللہ کے حاجیوں کو پانی پلاتا ہوں ،جناب شبیر کہتے تھے کہ میں نے مسجد خدا کی تعمیر کی ۔حضرت علی علیہ السلام کہتے ہیں: میں نے حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم ) کے ساتھ ہجرت کی اور ان کے ساتھ مل کر اللہ کی راہ میں جہاد کیا تو خدا نے یہ آیت نازل فرمائی:
( الَّذِینَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِی سَبِیلِ اللهِ بِاٴَمْوَالِهِمْ وَاٴَنفُسِهِمْ اٴَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللهِ وَاٴُوْلَئِکَ هُمْ الْفَائِزُونَ یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَهُمْ فِیهَا نَعِیمٌ مُقِیمٌ ) ( ۳۷ )
وہ لوگ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ تعالی کی راہ میں جان ومال کے ذریعہ جہاد کیا اللہ تعالی کے نزدیک انکا بہت بڑا مقام ہے ،یھی لوگ کا میاب ہیں اللہ تعالی نے انھیں اپنی رحمت کی بشارت دی ہے باغات اور جنت انھیں کے لیئے ہیں اور وہ ہمیشہ وہاںرھیں گے۔
نیز اللہ تعالی یوں ارشاد فرماتا ہے:
( وَقِفُوْهُمْ اِنّهُمْ مَسْؤلُون ) ( ۳۸ )
انھیں روکو-، ان سے سؤال کیاجائے گا۔
ابن حجر کہتے ہیں کہ دیلمی نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجےد کی اس آیت سے مراد یہ ہے کہ انھیںروکو،کیونکہ ان سے ولایت علی (ع)ابن ابی طالب علیہ السلام سے متعلق سوال کیاجائے گا۔
اسی مطلب کو واحدی نے بھی بیان کیا ہے کہ اللہ تبارک وتعالی کے فرمان وقفوھم انھم مسئولون ۔کہ انھیں ٹھھراؤ یہ لوگ ذ مہ دار ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ یہ لوگ حضرت علی علیہ السلام اور اہل بیت کی ولایت کے سلسلے میں جواب دہ ہیں کیونکہ اللہ تبارک تعالی نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ لوگوں کو بتاؤ کہ میں تم سے تبلیغ رسالت کا فقط یھی اجر مانگتا ہوں کہ میرے قرابت داروں سے محبت رکھو۔
کیا ان لوگوں نے(حضرت) علی علیہ السلام اور اولاد علی (ع) سے اسی طرح محبت کی جس طرح رسول اللہ(ص)نے حکم دیا تھا یا انھوں نے ان سے محبت کرنے کا اھتمام نہیں کیا اور اسے اھمیت نہیں دی لہٰذا اس سلسلہ میں ان لوگوں سے پوچھا جائے گا۔( ۳۹ )
خداوندعالم کا ارشاد ہوتا ہے :
( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا مَنْ یَرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِینِهِ فَسَوْفَ یَاٴْتِی اللهُ بِقَوْمٍ یُحِبُّهُمْ وَیُحِبُّونَهُ اٴَذِلَّةٍ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ اٴَعِزَّةٍ عَلَی الْکَافِرِینَ یُجَاهِدُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ وَلاَیَخَافُونَ لَوْمَةَ لاَئِمٍ ذَلِکَ فَضْلُ اللهِ یُؤْتِیهِ مَنْ یَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِیمٌ ) ( ۴۰ )
اے ایمان والو! تم میں سے جو اپنے دین سے پھر جائے عنقریب اللہ ایسے لوگوں کو ان کی جگہ پر لے آئے گا جنھیں اللہ دوست رکھتا ہے اور وہ اللہ سے محبت رکھتے ہونگے ،مومنین کے ساتھ نرم اور کافروں کے ساتھ سخت ہونگے اور وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کے ملامت سے نہیں ڈریں گے،یہ خدا کی مھربانی ہے ،جسے چاھے عطا فرمائے اور خدا صاحب وسعت اور جاننے والا ہے۔
فخر الدین رازی اور علماء کا ایک گروہ اس آیہ مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں :
یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ،اور اس پر دو چیزیں دلالت کرتی ہیں پھلی یہ کہ جب حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غدیر کے دن فرمایا:
لاٴدفعن الرایة غداً الیٰ رجلٍ یحب الله ورسوله ویحبه الله ورسوله
کل میں یہ پرچم اس شخص کے حوالے کروں گا جو اللہ اور اس کے رسول کومحبوب رکھتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہیں۔اس کے بعد پرچم حضرت علی علیہ السلام کے حوالے کیا لہٰذا یہ وہ صفت ہے جو آیت میں بیان ہوئی ہے ۔
دوسری یہ کہ ا للہ نے اس آیت کے بعد مندرجہ ذیل آیت بھی حضرت علی علیہ السلام کے حق میں بیان فرمائی:
( إِنَّمَا وَلِیُّکُمْ اللهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاَةَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَهُمْ رَاکِعُونَ )
تمہارا حاکم اور سردار فقط اللہ،اس کا رسول،اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور پابندی سے نماز پڑھتے ہیں اور حالت رکوع میں زکات دیتے ہیں ۔
ابن جریر کہتے ہیں:
اگریہ آیت یقینا حضرت علی علیہ السلام کے حق میں نازل ہوئی ہے تو اس سے پھلی والی آیت کا حضرت علی کے حق میں نازل ہونا اولی ہے۔( ۴۱ )
نیزاللہ تعالی کا یہ فرمان :
( فَاسْاٴَلُوا اٴَهْلَ الذِّکْرِ إِنْ کُنْتُمْ لاَتَعْلَمُونَ ) ( ۴۲ )
اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے سوال کرو۔
جابر جعفی کہتے ہیں کہ جب یہ آیت ”فاُسئلوا اٴهل الذکر ان کنتم لا تعلمون “نازل ہوئی تو حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرماتے تھے ہم اہل ذکر ہیں۔( ۴۳ )
اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے:
( اٴَفَمَنْ شَرَحَ اللهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلاَمِ فَهُوَ عَلَی نُورٍ مِنْ رَبِّهِ فَوَیْلٌ لِلْقَاسِیَةِ قُلُوبُهُمْ مِنْ ذِکْرِ اللهِ اٴُوْلَئِکَ فِی ضَلاَلٍ مُبِینٍ )
کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیئے کھول دیا ہے اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے نور(ھدایت)پر ہے اس کے برابر ہو سکتا ہے جو کفر کی تاریکیوں میں پڑا رھے پس افسوس ہے ان لوگوں پر جن کے دل یاد خدا کے سلسلے میں سخت ہو گئے ہیں وہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں ۔( ۴۴ )
یہ آیت بھی حضرت علی علیہ السلام کے فضائل کو بیان کرتی ہے کیونکہ یہ آیت حضرت علی علیہ السلام ،حضرت حمزہ علیہ السلام ‘ابو لھب اور اس کی اولاد کے متعلق نازل ہوئی حضرت علی علیہ السلام اور حضرت حمزہ وہ ہیں جن کے سینوں کو اللہ تبارک تعالی نے اسلام کے لیئے کھول دیا ہے اور ابولھب اور اس کی اولاد وہ ہے جن کے دل سخت ہیں۔( ۴۵ )
ایک اور آیت میں اللہ فرماتا ہے:
( مِنْ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَیْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَی نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِیلًا ) ( ۴۶ )
مومنین میں سے بعض ایسے بھی ہیں جنھوں نے خدا سے کیا ہوا عھد سچ کر دکھایا ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی ذمہ داری پوری کر چکے ہیں اور بعض (شہادت) کے منتظر ہیں اور انھوں نے( ذرا سی بھی)تبدیلی اختیار نہیں کی ۔
حضرت علی علیہ السلام کوفہ میں منبر پر خطبہ دے رھے تھے وہاں آپ سے اس آیت کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا :
یہ آیت میرے چچا حمزہ اور میرے چچا زاد بھائی عبیدہ بن الحارث بن عبد المطلب اور میری شان میں نازل ہوئی ہے۔ عبیدہ اپنی ذمہ داری بدر کے دن شھید ہو کر پوری کرگئے اور حمزہ احد کے دن درجہ شہادت پر فائز ہو کر اپنی حیات مکمل کر گئے ۔اور میں اس کا منتظر و مشتاق ہوں۔ پھر اپنی ریش مبارک اور سر کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ وہ عھد ہے جو مجھ سے میرے حبیب حضرت ابوالقاسم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لیاھے ۔( ۴۷ )
اس طرح خدا وند عالم کا ارشاد ہے:
( وَالَّذِی جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ اٴُوْلَئِکَ هُمْ الْمُتَّقُونَ ) ( ۴۸ )
اور جو سچی بات لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی یھی لوگ( تو) پرھیز گار ہیں۔
ابو ھریرہ کھتا ہے کہ صدق کو لانے والے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی تصدیق کرنے والے حضرت علی علیہ السلام ہیں( ۴۹ )
ایضاً اللہ ارشاد فرماتا ہے:
( مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیَانِ بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لاَیَبْغِیَان فَبِاٴَیِّ اٰ لآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَان ) ( ۵۰ )
اس نے آپس میں ملے ہوئے دو دریا بھادئیے ہیں اور دونوں کے درمیان ایک پردہ ہے جو ایک دوسرے پر زیادتی نہیں کرتا پھر تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوںکو جھٹلاؤ گے ان دونوں سے موتی اور مونگے ( لو لو اور مرجان) نکلتے ہیں۔
ابن مردویہ نے ابن عباس سے مرج البحرین یلتقیان کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا ان سے مراد حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ (ع) ہیں اور برزخ لا یبغیان سے مراد حضرت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اوریخرج منهما اللؤلؤ و المرجان سے مراد حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام ہیں۔( ۵۱ )
ایضاًاللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
( اٴَمْ حَسِبَ الَّذِینَ اجْتَرَحُوا السَّیِّئَاتِ اٴَنْ نَجْعَلَهُمْ کَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَحْیَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ سَاءَ مَا یَحْکُمُونَ )
جو لوگ برے کاموں کے مرتکب ہوتے رھتے ہیں کیا انھوں نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ ہم ان کو ان لوگوں کی مانند قرار دیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رھے کیا ان کا جینا و مرنا مساوی ہے یہ لوگ (کیسے کےسے )برے حکم لگایا کرتے ہیں۔( ۵۲ )
کلبی کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام ،حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ اور تین مشرکین عتبہ ،شیبہ اور ولید بن شیبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔
یہ تینوں مومنین سے کہتے تھے کہ تم کچھ بھی نہیں ہو اگر ہم حق کہہ دیں تو ھمارا حال قیامت والے دن تم سے بھتر ہو گا۔ جیسا کہ دنیا میں ھماری حالت تم سے بھتر ہے۔لیکن اللہ تبارک و تعالی نے اپنے اس فرمان کے ساتھ ان کی نفی کی ہے کہ یہ واضح ہے کہ ایک فرمانبردار مومن کا مرتبہ و مقام ایک نا فرمان کافر کے برابر ھرگزنھیں ہو سکتا ۔( ۵۳ )
ایضاً اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :
( وَهُوَ الَّذِی خَلَقَ مِنْ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا وَکَانَ رَبُّکَ قَدِیرًا )
اور وہی قادر مطلق ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا اور پھر اس کو بیٹا اور داماد بنا دیا (اور)پروردگار ہر چیز پر قادر ہے ۔( ۵۴ )
محمد بن سرین اس آیت کی تفسیر میں کھتا ہے کہ یہ آیت حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و االہ و سلم اور حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو آنحضرت(صلی اللہ علیہ و االہ و سلم) کے چچا زاد اور آنحضرت کی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیھا کے شوہر ہیں گویا ”نسباً“اور” صھراً “کی تفسیرےھی ہستی ہے۔( ۵۵ )
ایضاً پروردگار عالم کا ارشاد ہے:
( بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِی خُسْرٍ إِلاَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ) ( ۵۶ )
زمانے کی قسم بےشک انسان خسارے میں ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے اور باھم ایک دوسرے کو حق کی وصیت اور صبر کی تلقین کرتے ہیں۔
سیوطی کہتے ہیں کہ ابن مردویہ نے ابن عباس سے یہ قول نقل کیا ہے کہوَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِی خُسْرٍ ،سے مراد ابوجھل بن ھشام ہے اور”إِلاَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ “ سے مرادحضرت علی علیہ السلام اور حضرت سلمان ہیں۔( ۵۷ )
ایضاًاللہ تعالی کا ارشاد ہوتا ہے :
( وَعَلَی الْاٴَعْرَافِ رِجَالٌ یَعْرِفُونَ کُلًّا بِسِیمَاهُمْ ) ( ۵۸ )
اعراف پر کچھ ایسے لوگ (بھی )ھوں گے جولوگوں کی پیشانیاں دیکھ کر انھیں پہچان لیں گے ۔
ثعلبی نے ابن عباس سے روایت بیان کی ہے کہ ابن عباس کہتے ہیں پل صراط کی ایک بلند جگہ کا نام اعراف ہے اور اس مقام پر حضرت عباس ، حضرت حمزہ اور حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام موجود ہوں گے وہاں سے دو گروہ گزریں گے یہ لوگ اپنے محبوں کو سفید اور روشن چھروںاور اپنے دشمنوں کو سیاہ چھروں کے ذریعے پہچان لیں گے ۔( ۵۹ )
قارئین کرام !تھی یہ حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شان اور فضیلت میں نازل ہونے والی آیات کی یہ ایک جھلک ہے کیونکہ آپ کی شان میں نازل شدہ تمام آیات کو اس مقام پر بیان کرنا مشکل ہے۔بھرحال خطیب بغدادی ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا حضرت علی علیہ السلام کی فضیلت اور شان میں تین سو سے زیادہ آیات نازل ہوئی ہیں ۔( ۶۰ )
ابن حجر اور شبلنجی ابن عامر اور ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ کسی کے متعلق بھی اس قدر آیات نازل نہیں ہوئیں جتنی آیات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے متعلق نازل ہوئی ہیں ۔( ۶۱ )
ھم حضرت علی علیہ السلام کی بلند و بالا اور اعلیٰ وارفع شان اور آپ کی فضیلت اور اللہ کے نزدیک آپ کی عظیم منزلت کے متعلق نازل ہونے والی آیات کریمہ کا آنے والے ابواب میں تذکرہ کریں گے ۔
آپ اور آپ کے اہل بیت ہی طاہر و مطھر ہیں
اللہ تعالی کا فرمان ہے :
( إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیرًا ) ( ۶۲ )
اے اھلبیت رسول! خدا کا فقط یھی ارادہ ہے کہ وہ ہر قسم کی گندگی اور رجس کو آپ سے دور رکھے اور آپ کو ایسا پاک و پاکیزہ رکھے جیسا پاک رکھنے کا حق ہے۔
حضرت ام سلمیٰ ارشاد فرماتی ہیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام حضرت حسن علیہ السلام، حضرت حسین علیہ السلام،اور حضرت فاطمہ علیھاالسلام کو اپنی چادر کے نیچے بلا کر فرمایا:
اللهم هؤلاء اٴهل بیتي وخاصتي اٴذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهیرا
پروردگارا ! یھی میرے اھلبیت اور خاص لوگ ہیں ان سے ہر قسم کی گندگی کو دور فرما اور انھیں پاک و پاکیزہ رکھ جیسا پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔
اس مقام پر حضرت ام سلمی نے کھااے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا میں بھی آپ کے ساتھ ہوں آپ(ص)نے فرمایا تم خیر پر ہو ۔( ۶۳ )
اسی طرح اللہ تعالی کا فرمان ہے:
( فَمَنْ حَاجَّکَ فِیهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ کَ مِنْ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اٴَبْنَاءَ نَا وَاٴَبْنَاءَ کُمْ وَنِسَاءَ نَا وَنِسَاءَ کُمْ وَاٴَنْفُسَنَا وَاٴَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اللهِ عَلَی الْکَاذِبِینَ ) ( ۶۴ )
جو شخص آپ سے (حضرت عیسی کے بارے میں) خواہ مخواہ الجھ پڑے اس کے بعد کہ تمھیں علم ہو چکا ہو تو (صاف صاف) کہہ دیں آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیںتم اپنے بیٹوں کو بلاؤ ہم اپنی عورتوں کو بلائیں تم اپنی عورتوں کو بلاؤ،ھم اپنی جانوں کو بلائیں تم اپنی جانوں کو بلاؤ۔اور پھر ہم آپس میں مباھلہ کریںاور جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں۔
معاویہ بن ابی سفیان‘ سعد بن ابی وقاص سے کھتا ہے کہ تمھیں کس چیز نے ابو تراب پر لعن و طعن کرنے سے منع کیا ہے ؟
سعد نے جواب دیا:
تم حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان تین حدیثوں کوبھلا دیاجو حضرت علی (ع) کے فضائل میں بیان فرمائی تھی کہ اگر ایک بھی ان میں سے مجھے مل جاتی تو تمام دنیا و آخرت کی نعمتوں پر بھاری تھی لہٰذا ان کے ہوتے ہوئے میں حضرت علی علیہ السلام پر کس طرح لعن طعن کر سکتا ہوں آپ نے فرمایا:
۱ ۔ ان پر ھرگز سب و شتم نہ کرنا۔
جب حضرت رسول خد ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنگ تبوک میں تشریف لے جا رھے تھے ، آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنا خلیفہ بنایا تو حضرت علی علیہ السلام نے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں پر خلیفہ بنا کر جا رھے ہیں؟۔
اس وقت میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
اٴما ترضیٰ اٴن تکون مني بمنزلة هارون من موسی الّا اٴنه لا نبي بعدي ۔
کیا آپ اس پر راضی نہیں ہیں کہ میرے ساتھ آپ کی نسبت وہی ہو جو حضرت ہارون کی حضرت موسیٰ سے تھی لیکن میرے بعد کوئی نبوت نہیں ہے۔
۳ ۔ اور تےسرا مقام یہ ہے کہ میں نے جنگ خیبر والے دن حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا:
لاٴعطین الرایة رجلا یحب الله ورسوله ویحبه الله ورسوله ۔
میں کل علم اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول کو دوست رکھتا ہے، (او ر) اللہ اور اس کا رسول اسے دوست رکھتے ہیں۔
اس کے بعد حضرت نے فرمایا:
(حضرت) علی کو میرے پاس بلا لاؤ۔
حضرت علی علیہ السلام آپ کے پاس تشریف لائے ،آپ(ع) کی آنکھیں کچھ خراب تھیںحضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں علم دیا اور اللہ نے فتح عطا فرمائی۔
اسی طرح جب یہ آیتقل تعالواندع ابناء نا و ابناء کم نازل ہوئی تو حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام ،حضرت امام حسن علیہ السلام، حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھاکو اپنے پاس بلا کر فرمایا۔ پروردگارا! یھی میرے اھلبیت ہیں۔( ۶۵ )
اس طرح آپ کے فضائل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی ارشاد فرماتا:
( یُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَیَخَافُونَ یَوْمًا کَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِیرًا وَیُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَی حُبِّهِ مِسْکِینًا وَیَتِیمًا وَاٴَسِیرًاإِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْهِ اللهِ لاَنُرِیدُ مِنْکُمْ جَزَاءً وَلاَشُکُورًا ) ( ۶۶ )
اور وہ اپنی منتوں کو پورا کرتے ہیں اور اس دن سے خوف کھاتے ہیں جس کی سختی ہر طرف پھیل جا ئے گی اور وہ خدا کی محبت میں مسکین‘ یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں، (اور یہ کہتے ہیں کہ)ھم تو فقط اللہ کی خوشنودی کے لیئے کھلاتے ہیں اور ہم کسی قسم کے بدلے اور شکریہ کے طالب نہیں ہیں ۔
ابن عباس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام مریض ہو گئے تو حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اے ابو الحسن آپ اپنے بچوں کے لیئے منت مانےں ۔
حضرت علی علیہ السلام نے کھااگر خداوندمتعال انھیں صحت عطا فرمائے تو میں تین دن تک روزہ رکھوں گا اسی طرح جناب فاطمہ سلام اللہ علیھانے بھی ےھی منت مانی۔
آپ کی کنیز جناب فضہ ثوبیہ نے بھی منت مانی کہ اگر میرے سردار ٹھیک ہو جائیں تو میں تین روزے رکھوں گی حضرت علی علیہ السلام شمعون خیبری کے پاس گئے اور اس سے تین صاع جو قرض لئے اور جناب فاطمہ کے پاس آئے بی بی نے ایک صاع جو کو پیس کر اس سے روٹی تیار کی۔
حضرت علی علیہ السلام حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ کر گھر وآپس آئے اور جب ان کے سامنے کھانا چنا گیا تو دروازے پر ایک مسکین نے آواز دی۔
السلام علیکم اهل بیت محمد ۔
اے اہل بیت محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ پرسلام ہو۔
میں ایک مسکین مسلمان ہوں مجھے کھانا کھلائیں خدا آپ کو جنت کے پھل عطا کرے گا۔
حضرت علی علیہ السلام نے اس آواز کو سنا تو فرمایا سارا کھانا اسے دے دیں اورخودپانی کے چند گھونٹ کے ساتھ روزہ افطار کیا۔
دوسرے دن حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھانے ایک صاع جؤ کی روٹیاں تیار کیں حضرت علی علیہ السلام حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ کر وآپس آئے جب کھانا لگایا گیا اس وقت ایک یتیم نے دروازہ پر آکر کہا۔
السلام علیکم اهل بیت محمد ۔
اے اہل بیت محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ پر سلام ہو۔
مہاجرین میں سے ایک یتیم آپ کے دروازے پر کھڑا ہے ، اسکاباپ شھید ہو چکا ہے اسے کھانا کھلائیں۔
آپ(ع) نے سارا کھانا اسے دے دیا اور دوسرے دن بھی پانی کے علاوہ کچھ نہ چکھا جب تیسرا دن ہوا جنا ب فاطمہ (ع)نے آخری صاع گندم کوپیسا اور اس سے کھانا تیار کیا حضرت علی علیہ السلام جب حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ کر وآپس آئے اورکھانا لگایا گیا اس وقت دروازے پر کھڑے ایک قیدی کی صد ا بلند ہوئی۔
السلام علیکم اهل بیت النبوة ۔
اے اہل بیت محمد آپ پر سلام ہو۔دشمنوںنے ھمیں اسیر بنایا ہمارے ساتھیوںکو شھید کیا اور کھانا تک نہ دیا آپ مجھ اسیر کو کھانا کھلائیں۔ حضرت علی علیہ السلام نے ساری غذا اس کے حوالے کردی آپ نے تین شب وروز تک پانی کے علاوہ کچھ نہیں کھایا۔حضرت رسول اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آپ نے سب کو بھوکا دیکھا اس وقت اللہ تعالی نے آپ کی شان میں قران مجےد میں:هل اٴتی علیٰ الانسان حینٌ من الدهر سے لے کر جزاء ولا شکورا تک کی آیات نازل فرمائیں۔( ۶۷ )
اور اللہ تعالی کا فرمان ہے۔
( قُلْ لاَاٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْهِ اٴَجْرًا إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی ) ( ۶۸ )
اے رسول (ص)ان سے کہہ دیں کہ میں تبلیغ رسالت کے سلسلے میںاپنے قرابت داروں یعنی اھلبیت کی محبت کے علاوہ تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا ۔
ایک اعرابی رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کھنے لگا۔ اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مجھے اسلام قبول کروائیں تو حضرت نے فرمایا تم گواھی دوکہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد( صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اس کے عبد اور رسول ہیں۔ جب کلمہ تو حید اور رسالت پڑھ چکا تو کھنے لگا مجھ پر اس کی کوئی اجرت ہے۔
فرمایا :
نھیں مگر یہ کہ میرے قرابت داروں سے محبت ۔
اس نے کھا، آپ کے قرابت داروں کی محبت پر میں آپ کی بیعت کرتا ہوں اور جو شخص آپ اور آپ کے قرابت داروں سے محبت نہیں کرتا اللہ اس پر لعنت کرے ،اس وقت حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا آمین۔( ۶۹ )
حضرت امام حسن علیہ السلام اپنے والد بزرگوار حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شہادت کے دن خطبہ کے درمیان فرماتے ہیں:
یایها الناس من عرفني فقد عرفني، و من لم یعرفني فاٴنا الحسن بن علي واٴنا ابن النبي صلیٰ الله علیه وآله و سلم واٴنا ابن الوصي واٴنا ابن البشیر واٴنا ابن النذير واٴنا ابن الداعي الیٰ الله باذنهِ واٴنا ابن السراج المنير
اے لوگو!جو مجھے جانتا ہے سو جانتا ہے اور جو نہیں جانتا وہ جان لے کہ میں حسن (ع)ابن علی( علیہ السلام )ھوں میں حضرت نبی ( صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا فرزند ہوں میں ابن وصی ہوں، میں بشارت دینے والے اور ڈرانے والے کا بیٹا ہوں، میں اللہ کی طرف دعوت دینے والے کا جگر گوشہ ہوں اور میں سراج منیر کا چشم وچراغ ہوں ۔
نیزمزید فرمایا:
واٴنا من اٴهل البیت الذین کان جبريل ينزل الينا ويصعدْ من عندنا واٴنا من اهل البیت الذین اٴذهب الله عنهم الرجس وطهرهم تطهیرا واٴنا من اٴهل البیت الذی افترض الله مودتهم علیٰ کل مسلم فقال تبارک وتعالی لنبیه صلی الله علیه ( وآله وسلم ) : قل لا اٴساٴلکم علیه اجراً الا المودة في القربیٰ
میں ان اھلبیت کے ساتھ تعلق رکھتا ہوں جن کے ہاں حضرت جبرئیل علیہ السلام آتے اور ہمارے ہاں سے آسمان کی طرف جاتے ہیں،میں ان اھلبیت سے ہوں جن سے اللہ تعالی نے رجس کو دور رکھا ہے اور انھیں ایسا پاک و پاکیزہ رکھا جیسا پاک رکھنے کا حق ہے، میں ان اھلبیت کی فرد ہوں جن کی محبت کو اللہ تعالی نے تمام مسلمانوں پر واجب اور ضروری قرار دی۔
اور اللہ تبارک تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ارشاد فرمایا:
ان لوگوں سے کہہ دیں میں تم سے اپنے اھلبیت کی محبت کے علاوہ کوئی اجر رسالت نہیں مانگتا۔ بھرحال جو شخص نیکی کو پہچان لیتا ہے اس کی نیکیوں میں اضافہ کردیاجا تا ہے اور نیکیوں کی پہچان ہم اھلبیت کی محبت ہے ۔( ۷۰ )
یہاں تک تو ہم نے یہ بیان کیا ہے کہ آیت مودة حضرت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قرابت داروں کی شان میں نازل ہوئی البتہ وہ روایات جو بتاتی ہیں فقط حضرت علی علیہ السلام ، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا، حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام ہی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قرابت دار ہیں۔ ان روایات کی تعداد بہت زیادہ ہے اور وہ سب روایات مندرجہ بالا مطلب کی حکایت کرتی ہیں۔
جناب زمخشری صاحب اپنی کتاب کشاف میں آیت مودة کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
جب آیت مودة نازل ہوئی تو حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سوال کیا گیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ کے قرابت دار کون ہیںجن کی محبت ہم پر واجب کی گئی ہے۔
تب حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
وہ علی (علیہ السلام) ،فاطمہ (سلام اللہ علیہا) اور ان کے دو بیٹے ہیں۔
تفسیر کبیر میں فخر رازی آیت مودة کی تفسیر بیان کرتے ہوئے صاحب کشاف کی روایت نقل کرنے کے بعدکھتے ہیں:
فثبت اٴن هؤلاء الاربعة اٴقارب النبي صلیٰ الله علیه و آله و سلم
پس ثابت ہو گیا کہ یھی چار ھستیاں ہی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قرابت دار ہیں۔
اس کے بعدمزید کہتے ہیں:
جب یہ بات ثابت ہوگئی تو ہم پر واجب ہے کہ ہم مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر دوسروں کی نسبت ان کی زیادہ عزت اور تعظیم کریں۔
۱ ۔بے شک اھلبیت علیھم السلام وہ ھستیاں ہیں کہ جن کی طرف تمام امور کی بازگشت ہوتی ہے اور ھروہ شخص جس کی بازگشت ان (اھل بیت ) کی طرف ہو وہی محبت کا حقدار ہے۔
اور اس میں بھی کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے کہ حضرت فاطمہ(ع) ‘حضرت علی(ع) حضرت امام حسن(ع) اور حضرت امام حسین(ع) کا حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ گھراتعلق ہے اور یہ مطلب تواتر کے ساتھ روایات میں موجود ہے ۔
۲ ۔ یہ بات بلاشک و تردید ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھاسے بہت محبت کرتے تھے اورحضرت فاطمہ سلام اللہ علیھاکے متعلق فرمایا:
فاطمة بضعة مني يؤذيني مايؤذيها
فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے ایذیت پھنچائی۔
یہ بات بھی مواتر روایات سے ثابت ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم،حضرت علی علیہ السلام، حضرت حسن علیہ السلام اورحضرت حسین علیہ السلام سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے، جب یہ سب کچھ روز روشن کی طرح واضح ہے تو امت پر( اللہ تعالی کے درجہ ذیل فرامےن کی روشنی میں)اھلبیت کی اطاعت اور محبت ضروری ہے ۔
۱ ۔( وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّکُمْ تَهْتَدُون ) ( ۷۱ )
ان کی اتباع کرو تا کہ تم ھدایت پا جاؤ ۔
۲ ۔( فَلْیَحْذَرْ الَّذِینَ یُخَالِفُونَ عَنْ اٴَمْرِهِ ) ( ۷۲ )
پس ان لوگوں سے ڈرو(بچو)جو امر خدا کی مخالفت کرتے ہیں ۔
۳ ۔( قُلْ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِی یُحْبِبْکُمْ اللهُ ) ( ۷۳ )
اے رسول ان سے کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا ۔
۴ ۔( لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللهِ اٴُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ) ( ۷۴ )
بے شک تمہارے لیئے رسول اللہ کی زندگی بھترین نمونہ ہے ۔
۳ ۔ آل کے لئے دعا ایک بہت بڑا منصب ہے اسی وجہ سے اس کو تشھد کی صورت میں نماز کے اختتام پر واجب قرار دیا گیا ہے اور اس کی صورت اللھم صلی علی محمد و آلہ محمد ہے۔
یہ تعظیم آل کے علاوہ کسی اور کے حق میں بیان نہیں ہوئی ہے،ان سب مطالب کی اس بات پر دلالت ہے کہ حضرت محمد(ص) و آل محمد(ص) کی محبت ہم سب پر واجب ہے۔( ۷۵ )
تفسیر المیزان میں جناب ابن عباس سے روایت موجود ہے کہ جب یہ آیت”قل لا اٴساٴ لکم علیه اجراً الاّ المودة في القربیٰ “نازل ہوئی تو لوگوں نے پوچھا :
یا رسول اللہ آپ کے قرابت دار کون ہیں جن کی محبت واجب قرار دی گئی ہے۔
آپ(ص) نے فرمایا ان سے مراد علی (ع)۔فاطمہ(ع)۔اور ان کی اولاد( علیھم السلام) ہیں۔صاحب تفسیر میزان کہتے ہیں کہ طبرسی نے مجمع البیان میں وولداھاکی جگہ و” ولدھا“ کا لفظ استعمال کیا ہے ۔( ۷۶ )
____________________
[۱] صحیح ترمذی ج ۲ ص۳۰۱،اسی طرح حاکم نے بھی مستدرک ج۳ ص ۱۳۶پر اس مطلب کو ذکر کیا ھے اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی یھی مطلب بیان کیا ھے۔
[۲] المستدرک ج ۳ ص ۱۳۶۔
[۳] حاکم کھتے ھیں کہ شیخین کی شرط پر یہ حدیث صحیح ھے۔مستدرک الصحیحین ج۳ ص۴۹۹
[۴] ابن حجر ، الاصابہ فی تمیز الصحا بہ ج ۸، قسم اول، ص ۱۸۳
[۵] کنز العمال ج ۶ ص۳۹۵ ۔
[۶] کنز العمال۶ ص ۱۵۶ ۔
[۷] کشف الغمہ ج ۱ ص ۷۹۔
[۸] کشف الغمہ ج ۱ ص ۸۳۔
[۹] مناقب خوارزمی ص ۵۶۔
[۱۰] شرح نھج البلاغہ ج ۴ ص ۱۲۲۔
[۱۱] کشف الغمہ ج۱ ص ۸۵۔
[۱۲] تاریخ طبری ج ۲ ص ۵۶۔
[۱۳] ارشاد ج۱ ص۳۲۔
[۱۴] ابن حجرا لاصابہ ج ۷ حصہ اول ص۱۶۷۔
[۱۵] سورہ مائدہ آیت ۵۵۔
[۱۶] الکشاف ج۱ ص ۶۴۹۔
[۱۷] سورہ ھود آیت ۱۷۔
[۱۸] سیوطی نے در منثور میں اس آیت کے ذیل میں اس مطلب کو بےان کےا ھے۔
[۱۹] سورہ سجدہ :آیت۱۸۔
[۲۰] واحدی اسباب نزول ص۲۶۳۔
[۲۱] سورہ تحرےم:آیت۴۔
[۲۲] ابن حجر العسقلانی فتح الباری ،ج ۱۳ ص ۲۷۔
[۲۳] سورہ حاقة آیت ۱۲۔
[۲۴] تفسیر ابن جریر الطبری ج ۲۹ ص ۳۵۔
[۲۵] سورہ رعد آیت ۷۔
[۲۶] کنز العمال ج ۶ ص۱۵۷۔
[۲۷] سورہ بقرہ آیت ۲۷۴۔
[۲۸] اس روایت کو اسد الغابہ میں ابن اثیر جزری نے ج ۴ ص ۲۵، ذکر کےا ھے۔ اور اسی مطلب کو زمحشری نے تفسیرکشاف میں نقل کیا ھے ان کے علاوہ دوسری کتب میں بھی ےھی تفسیر مذکور ھے ۔
[۲۹] سورہ مریم آیت ۹۶۔
[۳۰] ریاض النضرہ ج ۲ ص ۲۰۷،الصواعق ابن حجر ص۱۰۲، نور الابصار شبلنجی ص ۱۰۱۔
[۳۱] سورہ البینہ آیت ۷
[۳۲] صواعق محرقہ ابن حجر ص ۹۶،نور الابصار شبلنجی ص ۷۰ اور ص ۱۰۱ ۔
[۳۳] سورہ توبہ آیت ۱۱۹۔
[۳۴] سورہ توبہ آیت ۱۱۹۔
[۳۵] سورہ توبہ آیت ۱۹.
[۳۶] سیوطی در منثور در ذیل آیت۔
[۳۷] سورہ توبہ آیت ۲۰تا ۲۱۔، تفسیر ابن جریر طبری ج ۱۰ ص ۶۸۔
[۳۸] سورہ صافات آیت۲۴۔
[۳۹] الصواعق محرقہ ابن حجر ص ۷۹ ۔
[۴۰] فخر رازی نے تفسیر کبیر میں سورہ مائدہ کی اس آیت کے ذیل میں یہ تفسیر بیان کی ھے ۔
[۴۱] سورہ مائدہ آیت ۵۴۔
[۴۲] سورہ نحل آیت۴۳۔
[۴۳] تفسیر ابن جریرطبری ج ۱۷ ص۵۔
[۴۴] سورہ زمر: ۲۲۔
[۴۵] ریاض النضرہ ‘محب طبری ج ۲ ص ۲۰۷۔
[۴۶] سورہ احزاب :۲۳۔
[۴۷] صواعق محرقہ ابن حجر ص ۸۰۔
[۴۸] سورہ زمر :۳۳۔
[۴۹] سیوطی در منثور ذیل تفسیر آیہ ۔
[۵۰] سورہ رحمن: ۱۹تا ۲۲ ۔
[۵۱] سیوطی در منثور ۔
[۵۲] سورہ جاثیہ : ۲۱۔
[۵۳] تفسیر کبیر ،فخر الدین رازی ذیل تفسیر آیہ۔
[۵۴] سورہ فرقان: ۵۴۔
[۵۵] نور الابصار شبلنجی ص۱۰۲۔
[۵۶] سورہ عصر۔
[۵۷] درمنثور تفسیر سورہ عصر۔
[۵۸] سورہ اعراف :۴۶ ۔
[۵۹] صواعق محرقہ ابن حجرص ۱۰۱۔
[۶۰] تا ریخ بغداد‘ خطیب بغدادی ج۶ ص ۲۲۱۔
[۶۱] صواعق محرقہ ص ۷۶ ،نور الابصار ص ۷۳۔
[۶۲] سورہ احزاب آیت ۳۳ ۔
[۶۳] صحیح ترمذی ج ۲ ص۳۱۹۔
[۶۴] سورہ آل عمران آیت ۶۱۔
[۶۵] صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابہ با ب فضایل علی ابن ابی طالب (ع)۔
[۶۶] سورہ دھر آیت :۸ و:۹۔
[۶۷] اسد الغابہ ابن جزری ۔ج۵ ص۵۳۰۔
[۶۸] سورہ شوری آیت ۲۳۔
[۶۹] حلیة الاولیاء ج ۳ ص ۲۰۱۔
[۷۰] مستدرک صحیحین ج ۳ص ۱۷۲۔
[۷۱] سورہ اعراف آیت ۱۵۸۔
[۷۲] سورہ نور آیت ۶۳۔
[۷۳] سورہ آل عمران آیت ۳۱۔
[۷۴] سورہ احزاب آیت ۲۱۔
[۷۵] فخر رازی تفسیر کبیر ذیل آیت مودة ۔
[۷۶] المیزان فی تفسیر القرآن ج ۸ ص ۵۲۔
تیسری فصل
آنحضرت(ص)کے فرامین اور اھلبیت (ع)کی عظمت
صادق اور امین کی زبان سے وحی الٰھی کے نمونے
حضرت(ص)کے ارشادات اور اھلبیت (ع)کی عظمت
آنحضرت(ص)کے فرامین اور اھلبیت (ع)کی عظمت
گزشتہ فصل میں ہمارے لئے واضح ہوگیا ہے کہ اہل بیت (ع) رسول کون ہیں کیونکہ آیت تطھیر ‘حدیث کساء ‘آیت مباھلہ اور آیت مودة نے واضح کردیا کہ اطہار (ع)وھی ہیں جو ھرگندگی سے پاک ہیں اور ان کی مودة و محبت کو خداوندعالم نے ہر مسلمان پر واجب قرار دیا ہے اور یھی پاک ھستیاں ہی تعظیم اور دعا کے ساتھ مخصوص ہیں اسی وجہ سے نماز میں اللہ تعالی نے ان کے ذکر اور ان پر درود بھیجنے کو حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذکر اوردرود و سلام کے ساتھ بیان کیا ہے۔
ھم یہاں پر مناسب سمجھتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم(ص)(جو کہ اپنی امت پربھت زیادہ شفیق و مھربان تھے)، کے ان اقوال کو بیان کریں جن میں آپ نے اپنی امت کو اپنے بعد انحراف سے ڈرایا ہے اور قرآن مجید کے ہم پلہ یعنی عترت کے بارے میں سفارش کی ہے ،لہٰذا ہم ان احادیث کو ذیل میں بیان کرتے ہیں:
حدیث ثقلین
زید ابن ارقم اور حبیب ابن ابی ثابت کہتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :
انّي تارک فیکم ما ان تمسکتم به لن تضلّوا بعدياٴحدهما اٴعظم من الآخر کتاب الله حبل ممدود من السماء الی الارض وعترتي اٴهل بیتي ولن یتفرقا حتیٰ یردا عليّٰ الحوض فانظروا کيف تخلفوني فيهما ( ۱ )
میں تم میں دو (گرنقدر)چیزیں چھوڑ کر جارھاھوں اگر تم نے اسکومضبوطی سے تھامے رکھا تو میرے بعد ھرگز گمراہ نہیں ہو گے ان میں ہر ایک دوسری سے بڑھ کر (قیمتی) ہے (ایک)اللہ کی کتاب جو زمین و آسمان کے درمیان دراز رسی ہے اور ( د و سر ی ) میری عترت اور اھلبیت ہے یہ دونوںھرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونگے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس آئیں دیکھوتم میرے بعد کس طرح ان دونوں کے ساتھ کیسا سلوک کرو۔
حذیفہ بن اسد الغفاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
اٴیها الناس انی فرطکم و انکم واردو ن عليُّ الحوض فاني سا ئلکم حین تردون عليُّ عن الثقلین فاٴنظر وا کیف تَخلّفو ني فیهما الثقل الاٴ کبر کتاب الله سبب طرفه بید الله و طرفه بایدیکم فاٴستمسکوا به لا تضلوا ولا تبدلوا و عترتي اٴهل بیتي فانه قد نبّاٴني اللطیف الخبیر اٴنهما لن یفترقا حتیٰ یردا عليَّ الحوض ( ۲ )
اے لوگو، میں تم سے پہلے جانے والاھوں اورتم میرے پاس حوض کوثر پرآؤ گے تو میں تم سے ثقلین کے متعلق سوال کروں گا۔
دیکھو !کس طرح ان دونوں کے ساتھ کیسا سلوک کرو ۔ثقل اکبر، اللہ کی ایسی کتاب ہے جس کا ایک کنارہ اللہ کے ہاتھ میں اور دوسرا کنارہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اس کومضبوطی سے تھامے رکھوتو گمراہی اور ضلالت سے بچ جاؤ گے اور دوسری میری عترت اور اہل بیت (علےھم السلام) ہے مجھے خداوند لطیف و خبیر نے بتایا ہے کہ یہ دونوں جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر آئیں گے۔( ۳ )
اسی طرح حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: میں تم سے پہلے جانے والاھوںتم میرے پاس حوض کوثر پرآنے والے ہو۔جسکی چوڑائی صنعاء سے بصرہ تک کی دوری کے برابر ہے جس میں سونے اور چاندی کے جام ہونگے پس دیکھو کس طرح دو بھاری اور گراں قدر چیزوں کے متعلق تم میری وصیت پر عمل کرتے ہو، پوچھا گیا یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ گراں قدر چیزیں کون سی ہیں ؟
فرمایا:ان میںثقل اکبر اللہ کی کتاب ہے اور وہ رسی ہے جس کا ایک کنارہ اللہ اور دوسرا کنارہ آپ کے پاس ہے اگر اس سے متمسک رھے تو ذلیل اور گمراہ نہ ہوں گے۔ اور ثقل اصغر میری عترت ہے یہ دونوں حوض کو ثر پر میرے پاس پھنچنے تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے اور ان دونوں کے متعلق سوال کیا جائے گا اور ان دونوں سے آگے نہ نکلنا ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے اور انھیں سیکھانے کی کوشش بھی نہ کرنا کیونکہ یہ دونوں تم سے زیادہ جاننے والے ہیں ۔( ۴ )
زید بن ارقم کہتے ہیں کہ جب حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حجتہ الوداع سے وآپس آرھے تھے اور جب غدیر خم پر پھنچے تو کاروان کو وہاںجمع ہونے کا حکم دیا اور فرمایا۔ میں نے آپ لوگوں کو دعوت دی اور تم نے قبول کیا بے شک میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رھاھوں ھرایک چیز دوسری سے بڑھ کر ہے اللہ کی کتاب اور میری عترت۔ پس دیکھو کس طرح تم ان دونوںکے متعلق میری وصیت پر عمل کرتے ہو یہ دونوں ایک دوسرے سے ھرگز جدا نہیں ہونگی یہاں تک حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں گی۔
پھر فرمایا: بے شک اللہ میرا مولا ہے اور میں ہر مومن کا مولا ہوںپھر حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:
من کنتُ مولاهُ فهذاولیه اللهم وال من والاه وعاد من عاداه
جس جس کا میں مولا ہوں اسکا علی مولا ہے اے اللہ اس سے محبت رکھ جو علی سے محبت رکھے اور اس سے عداوت رکھ جو علی سے عداوت رکھے۔( ۵ )
صاحب مستدرک کہتے ہیں کہ شیخین کی شرط سے یہ حدیث صحیح ہے اور اسی حدیث کونسائی نے خصائص میںص ۲۱ پر بیان کیا ہے وہ آخر میں کہتے ہیں ابوطفیل کھتا ہے کہ میں نے زید سے کھاکہ میں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے خود دیکھا اورسنا پس آپ(ص) نے فرمایا:
کجاووں میں کوئی شخص بھی ایسا نہ تھا جس نے ( اس منظر کو) اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو اور کانوں سے نہ سنا ہو ۔
ابن حجرکھتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مرض الموت میں فرمایا: اے لوگو!میں عنقریب ہی اس دنیا سے رخصت ہونے والاھوںمیں تم سے ایک بات کھتاھوںکہ میں تم میںکتاب خدا اور اپنی عترت (اھلبیت) چھوڑرہاھوں پھر حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ بلند کر کے فرمایا ۔
هذا علیِ مع القرآن و القرآن مع علي لا يفترقان حتٰی يردا علیَِّ الحوض فا ساٴلوهما ماخلّفت منهما
یہ علی (ع) قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی(ع) کے ساتھ ہے یہ دونوں جدا نہیں ہونگے یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر پہنچ جائیں ان کو میں نے خلیفہ بنایاھے پس میں ان دونوں کے بارے میںسوال کروں گا۔( ۶ )
قارئین کرام! ہو سکتا یہاں پر کوئی شخص یہ سوال کر ے کہ حدیث ثقلین مختلف الفاظ میں بیان کی گئی ہے ایسا کیوں ہے ؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث ثقلین کے الفاظ کا مختلف ہونا اشکال کا موجب نہیں ہے کیونکہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس حدیث شریف کو مختلف مواقع پر ذکر کیا جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں ۔
مثلا ًروز عرفہ حجة الوداع کے موقع پر اس حدیث کو بیان فرمایا اور پھر مدینہ میں اپنے مرض کے دوران بھی یھی حدیث شریف ذکر فرمائی۔ اسوقت آپ کا حجرہ مبارک اصحاب کرام سے بھرا ہوا تھا ایک مرتبہ اسے غدیر خم میں بیان فرمایا اور چوتھی مرتبہ طائف سے وآپسی کے بعد جب آپ خطبہ دے رھے تھے تو اس وقت ذکر فرمایا۔ بھرحال مختلف مواقع اورمتعدد مقامات پر کتاب عزیز اور عترت اطہار کی قدر ومنزلت اور شان وشوکت کو بیان کرنے کے لیئے حضرت نے اھتمام کے ساتھ اس کا تذکرہ فرمایا ہے۔( ۷ )
حدیث سفینہ
حنش کنانی کھتا ہے کہ میں نے جناب ابوذر سے خانہ کعبہ کا دروازہ پکڑ کر یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے لوگو!جو مجھے جانتا ہے پس میں وہی ہوں جس کو تم جانتے ہو اور جو مجھے نہیں جانتا وہ (جان لے کہ میں )ابوذر ہوں میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا:
مثل اٴهل بیتيِ فیکم مثل سفینة نوح من رکبها نجا ومن تخلف عنها غرق
تم میں میرے اھلبیت کی مثال کشتی نوح کی سی ہے جو اس پر سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا اور اس سے رہ گیا وہ غرق ہو گیا۔( ۸ )
حاکم کھتاھے کہ یہ حدیث درست ہے ۔کیونکہ یہ روایت صحیح مسلم میں موجود ہے اوراس نے بھی اس روایت کو اپنی کتاب کی تیسری جلد میں ایک اورسند کے ساتھ بیان کیاھے عباد بن عبداللہ اسدی کہتے ہیں کہ میںحضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ساتھ ایک مقام پر تھا اس وقت ایک شخص آیا اور اس نے اس آیت کے متعلق سوال کیا ۔
افمن کان علی بینة من ربه ویتلوه شاهدمنه
کیا وہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے ایک کھلی دلیل پر قائم ہے اور اس کے پیچھے پیچھے ایک گواہ ہے جو اس کے نفس سے ہے۔
اس وقت حضرت نے ارشاد فرمایا قریش میں سے کسی شخص کو یہ فضیلت حاصل نہیں ہے کہ قرآن کا ایک حصہ اس کی شان میں نازل ہوا ہو صرف اھلبیت علیھم السلام کی شان میں ایسا ہے۔
خدا کی قسم وہ لوگ جانتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک پر ہم اھلبیت سے پہلے کسی کاتذکرہ نہیں تھا اگر یہ وسیع میدان سونے اور چاندی سے میرے لئے بھر دیا جائے تو میں اس عظمت کو زیادہ محبوب رکھتا ہوں ۔
خدا کی قسم اس امت میں ھماری مثال نوح کی قوم میں کشتی نوح بنی اسرائیل کے باب حطہ جیسی ہے ۔( ۹ )
ابی سعید خدری کہتے ہیںکہ میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ کہتے ہوئے سنا :
مثل اٴهل بیتيِ فیکم کمثل سفینة نوح من رکبها نجا ومن تخلف عنها غرق
تم میں میرے اھلبیت کی مثال کشتی نوح جیسی ہے اس پر جو سوار ہوا وہ نجات پاگیا اور جو اس سے رہ گیاوہ غرق ہوا۔( ۱۰ )
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
میرے اھلبیت کی مثال نوح کی کشتی کی جیسی ہے جو اس پر سوار ہوا وہ نجات پا گیا اور جس نے اس سے تمسک کیا وہ کامیاب ہو گیا اورجو اس سے رہ جائیگااسے جھنم میں ڈالاجائے گا ۔( ۱۱ )
ابن حجر کہتے ہیں :
حضرت اھلبیت علیھم السلام کی کشتی نوح علیہ السلام کے ساتھ تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ جس نے ان سے محبت اور ان کی تعظیم کی اوراس نعمت کا شکریہ اداکیااور انھیں ھدایت کی نشانیاں سمجھا وہ مخالفتوں کی تاریکی سے نجات پا گیا اورجو ان سے پیچھے رہ گیا وہ کفر کے سمندر میں اپنی سرکشی کی وجہ سے غرق اور ہلاک ہوگیا۔( ۱۲ )
حدیث باب حطہ۔
متقی ھندی کنز العمال میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :
علی بن اٴبیِ طالب باب حطة من دخل منهاکان مؤمنا و من خرج منهاکان کافرا ( ۱۳ )
علی ابن ابی طالب باب حطہ ہیں جو اس میں داخل ہو گیا وہ مومن ہے اور جو اس سے خارج ہوگیا وہ کافر ہے ۔
کنز العمال کے حوالے سے بیان شدہ حدیث باب حطہ کی تشریح کرتے ہوئے ”مناوی “فیض قدیر میں کھتا ہے ۔
جس طرح خداوندمتعال نے بنی اسرائیل کے لیئے باب حطہ میں تواضع، انکساری اور خضوع و خشوع کے ساتھ داخل ہونے کو عام بخشش کا ذریعہ قرار دیا تھا۔اسی طرح اس امت (محمدی)کے لئے حضرت علی علیہ السلام کی محبت اور ھدایت کو عام بخشش ،جنت میں داخل ہونے اور جھنم کی آگ سے نجات پانے کا سبب قرار دیا ہے۔ اور اس باب سے خارج ہونے کا مطلب حضرت علی علیہ السلام کی مخالفت کرنا ہے۔( ۱۴ )
چنا نچہ علامہ فیروز آبادی کہتے ہیں کہ مناوی کی مذکورہ وضاحت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے مقابلے میںخروج کرنے والے کافر ہیں ۔( ۱۵ )
ابی سعید خدری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :
إنما مثل اٴهل بیتیِ فیکم مثل باب حطه فیِ بنی إسرائیل من دخله غفرله
تم لوگوں میں اھلبیت علیھم السلام بنی اسرائیل کے باب حطہ کی مثل ہیں جو شخص اس میں داخل ہو گیا وہ بخشا جائے گا۔( ۱۶ )
میری امت کی امان میرے اھلبیت ہیں
حاکم نے روایت بیان کی ہے کہ ابن عباس کہتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :
النجوم اٴمان لاٴهل الارض من الغرق واٴهل بیتي امان لامتیِ من إلاختلاف،فا ذا خالفتها قبيلة من العرب إختلفوا فصاروا حزب إبلیس
غرق سے بچنے کے لئے، ستارے اہل زمین کے لئے امان ہیں اور اختلاف سے بچنے کے لیئے میرے اھلبیت میری امت کے لئے امان ہیں عرب کا جوقبیلہ ان کی مخالفت کرے گا وہ حزب شیطان قرار پائے گا ۔( ۱۷ )
ایک دن حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شام کے وقت مسجد کی طرف روانہ ہوئے اور نماز عشاء ادا کرنے میں اتنی تا خیر فرمائی۔
یہاں تک کہ سرخی زائل ہو گئی اورکچھ وقت گزر گیا اور لوگ مسجدمیں آپ کے منتظر تھے اس وقت حضرت نے فرمایا :
آپ کس چیز کا انتظار کر رھے ہیں۔
انھوں نے جواب دیا ہم نماز کا انتظار کر رھے ہیں۔
اس وقت آنحضرت نے فرمایا :
یقینا تم لوگ ہمیشہ نمازی رہو گے کیونکہ تم نماز کا اس قدر انتظار کرتے ہو پھر فرمایا کیا جانتے ہو تم سے پہلے والی امتوں نے نماز کو یوں نہیں پڑھا پھر اپنا سر آسمان کی طرف بلند کر کے فرمایا:
ستارے اہل آسمان کے لیئے باعث امن ہیں اور جب ستارے غائب ہو جائیں گے تو آسمان ایسا ہو جائے گا جیسا اس کے بارے میں وعدہ کیا گیا ہے اس کے بعد آپ(ص) نے فرمایا :
میرے اھلبیت میری امت کے لیئے امان ہیں جب میرے اھلبیت اس دنیا سے چلے جائیں گے تو میری امت کے لیئے وہ دن آجائے گا جس کا اس سے وعدہ کیا گیا ہے (یعنی قیامت)( ۱۸ )
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
ستارے اہل آسمان کے لیئے امان ہیں جب ستارے غائب ہو جائیں گے تو اہل آسمان بھی ختم ہو جائیں گے اور میرے اھلبیت علےھم السلام اہل زمین کے لیئے امان ہیں جب اھلبیت اس دنیا سے چلے جائیں گے تو اس وقت اہل ارض بھی مٹ جائیں گے۔( ۱۹ )
ام سلمہ کہتی ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمارے پاس موجود تھے، حضرت فاطمہ الزھرا سلام اللہ علیھاتشریف لائیں اور آپ کو چادر اڑھا دی ۔ ان کے ساتھ حضرت امام حسن اورحضرت امام حسین علیھم السلام بھی تھے تو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جناب زھرا (ع)سے پوچھا۔
آپ(ع) کے شوہر نامدار کہاں ہیں ؟
جائ انھیں بلا لائیں۔
آپ(ع) گئیں اور انھیں بلا لائیں۔
حضرت نے کچھ تناول فرمایا اور کساء کو سب پر ڈال دیا اوراس کا ایک کنارہ بائیں ہاتھ میں پکڑا اور دائیں انگلی آسمان کی طرف بلند کر کے فرمایا:
”اللهم هؤلاء اٴهل بیتيِ وحامتّیِ و خاصّتیِ اللهم اٴذهب عنهم الرجس وطهرّهم تطهیرا اٴنا حرب لمن حاربهم سلمُ لمن سالمهم عدو لمن عاداهم“
اے پروردگار!
یہ میرے اھلبیت ہیں اورمیرے رشتہ داراوخواص ہیں ان سے رجس کو دور رکھ اور انھیں ایسا پاک و پاکیزہ رکھ جیسا پاک پاکیزہ رکھنے کا حق ہے جو ان سے لڑے گا میں اس سے لڑوں گا جو ان سے صلح کرے گا میں اس سے صلح کروں گا اور جو ان سے دشمنی رکھے گا میں بھی اس سے دشمنی رکھوں گا ۔( ۲۰ )
حضرت ابو بکر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ایک خیمہ میں ٹیک لگائے دیکھا اور خیمے کے اندر حضرت علی (ع) حضرت فاطمہ(ع) حضرت امام حسن(ع) اور حضرت امام حسین( علیھم السلام) تھے تو اس وقت آپ(ص) نے فرمایا:
اے مسلمانو! میں اس شخص کے ساتھ صلح کروں گا جو اہل خیمہ کے ساتھ صلح کرے گا اور اس کے ساتھ جنگ کروں گا جو ان کے ساتھ جنگ کرے گا میں اس کا دوست ہوں جو ان کا دوست ہے، ان سے محبت وہی کرے گا جو حلال زادہ اور جس کا نسب صحیح ہو گا اور ان سے بغض و عداوت وہی رکھے گا جو حلال زادہ اورجو صحیح النسب نہ ہوگا ۔( ۲۱ )
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
نحن اٴهل بیت لا یقاس بنا اٴحد ( ۲۲ )
ھم اھلبیت ہیں ہمارے ساتھ کسی کا موازنہ نہیں ہوسکتا۔
جناب سلمان کہتے ہیں کہ آل محمدکی وہی منزل ہے جو بدن کی نسبت سر اور سر کی نسبت آنکھوں کی ہوتی ہے کیونکہ جسم سر کے بغیرکسی کام کا نہیں اور سر آنکھوں کے بغیر بے کار ہے ۔( ۲۳ )
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میری امت کو جب کوئی مشکل پیش آئے تو انھیں چاھیے کہ وہ میرے اھلبیت کی طرف رجوع کریں کیونکہ ان کی وجہ سے وہ گمراھوں کی تحریف ،باطل پرستوں کے مکر و فریب اور جاھلوں کی تاویل سے بچ جائیں گے ۔( ۲۴ )
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
الشفعاء خمسةالقرآن والرحم والامانه ونبيکم واٴهل بیته
پانچ چیزیں شفاعت کرنے والی ہیںقرآن صلہ رحمی‘امانت داری ،تمہارا نبی(ص) اور آپ کے ا ھلبیت ۔( ۲۵ )
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
حوض کوثر پر میرے اھلبیت میرے پاس آئےں گے اور میری امت کے وہ لوگ جو ان سے محبت رکھتے ہوں گے، انھیں محبت اھلےبیت کی وجہ سے حوض کوثر پر لایا جائے گا ۔( ۲۶ )
حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کہتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
شفاعتی لامتی من احب اهل بیتی وهم شيعتی
میری امت میں میری شفاعت فقط اس شخص کو نصیب ہو گی جو میرے اھلبیت کے ساتھ محبت رکھے گا اور پیروکار ہیں ۔( ۲۷ )
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
من مات علٰی حب آل محمد مات شهيداً،اٴلا ومن مات علٰی حب آل محمد مات مغفوراً له،اٴلا ومن مات علیٰ حب آل محمد مات تائباً، الا مِن مات علیٰ حب آل محمد مات مؤمناً مستکمل الإیمان،اٴلا من مات علی حب آل محمد بشره ملک الموت بالجنة ثم منکر ونکیرالاومن مات علیٰ حب آل محمد یُزَفُّ الی الجنة کما تزف العروس الی بیت زوجها،الاومن مات علی حب آل محمد فُتح له فیِ قبره بابان إلیٰ الجنه اٴلا ومن مات علیٰ حب آل محمد جعل اللّه قبره مزار لملائکة الرحمن
جو شخص محبت اھلبیت پر مر جائے وہ شھیدھوتاھے خبردار جو شخص محبت اھلبیت پراس دنیا سے گیا ہو وہ گناھوں سے پاک ہوکر گیا،خبردار جو شخص محبت اھلبیت میں کوچ کر گیا ہو وہ گناھوں سے تائب مرا،خبردار جو شخص محبت اھلبیت میںدنیا چھوڑ گیا ہووہ کامل ایمان اور مومن مرا۔
خبردارجس نے محبت آل محمد(ص) میں جان دی پہلے اسے ملک الموت اور پھر منکر نکیر جنت کی بشارت دیں گے، خبردار جوشخص محبت اھلبیت پر اس دنیا سے اٹھ جائے اسے اس طرح سجا کر جنت کی طرف لے جایا جاتا ہے جیسے دلھن کو اس کے شوہر کے گھر لایا جاتا ہے۔
خبردار جو شخص حب آل محمد (ص)پر مرا اس کے لیئے قبر میں جنت کی طرف دو دروازے کھول دئیے جائیں گے خبردار جو شخص حب آل محمد(ص) پر مرا اللہ تعالی اس کی قبر کو ملائکہ کی زیارت گاہ بنا دیتا ہے ۔
حضرت مزید ارشاد فرماتے ہیں:
الا و من مات علی بغض آل محمد جاء یوم القیامة مکتوباً بین عينیه آيس من رحمة الله ،الا و من مات علی بغض آل محمد مات کافراً،الا و من مات علی بغض آل محمد لم يشم رائحة الجنة
یہ بھی جان لو جوشخص بغض آل محمد(ص) پر مرااس کو قیامت کے دن اس طرح لایا جائے گا کہ اس کی آنکھیں پیچھے ہوں گی اوروہ رحمت خدا سے مایوس ہو گا خبردار جو آل محمد(ص) کے بغض و عداوت پر مرتا ہے وہ کافر کی موت مرتا ہے خبردار جوشخص آل محمد کے بغض پر مرجائے وہ جنت کی خوشبو تک نہیں سونگھ سکتا ۔( ۲۸ )
حضرت رسول اکرم نے فرمایا: تم میں سے فقط اس شخص کو صراط پر لایا جائے گا جو میرے اھلبیت کے ساتھ زیادہ محبت رکھتا ہو گا ۔( ۲۹ )
صادق و امین کی زبان سے وحی الٰھی کے نمونے
مقدمہ:
حضرت علی علیہ السلام کے فضائل ایک ایسے سمندرکے مانند ہیں جس کی کوئی انتھااور ساحل نہیں ہے انسان جب اس سمندر میں تیرتا ہے تو سمندر سے موتی اور ھیرے حاصل کرتا ہے۔
ھم اس شخصیت کے فضائل کے متعلق کیا عرض کر سکتے ہیں جس کے فضائل کو اس کے دشمنوں نے حسد اور عداوت کی وجہ سے اور دوستوں نے خوف اور تقیہ کی وجہ سے چھپایا ۔
لیکن اس کے باوجود اس کے فضائل سے دنیا بھری ہے آپ کے فضائل اس مشک کی طرح ہیں کہ جسے جتنا چھپایا جائے وہ اتنا ہی خوشبو پھیلائی گی آپ کے فضائل پر جتنا پردہ ڈالا گیا وہ اتنا ہی ضوء فشاں ہوئے خلاصہ یہ کہ ہر فضیلت آپ کی ذات پر ختم ہوتی ہے ۔
آپ ہر فضیلت کے سردار اور سرچشمہ ہیں فضیلتوں کے میدان میں آپ(ع) اول اور سابق ہیں فضائل حاصل کرنے والے آپ(ع) ہی سے فضائل حاصل کرتے ہیں ۔
احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے تمام اصحاب کے متعلق اس قدر فضائل بیان نہیں ہوئے جتنے تنہا حضرت علی ابن ابی طالب کے متعلق بیان ہوئے ہیں ۔( ۳۰ )
دوسرے مقام پر احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ حسان کی اسناد کے مطابق اصحاب میں سے کسی کے متعلق اس قدر فضائل بیان نہیں ہوئے جتنے حضرت علی علیہ السلام کے فضائل بیان ہوئے ہیں۔( ۳۱ )
عمر ابن خطاب کہتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کسی شخص نے بھی حضرت علی کی مانند فضل وکمال حاصل نہیں کیا( ۳۲ )
ابن قتےبہ کہتے ہیں کہ ھمدان میں برد نامی ایک شخص رھتا تھا وہ معاویہ کے پاس آیا اور اس نے وہاں عمرو کو حضرت علی علیہ السلام کے متعلق زبان درازی کرتے سنا، تو اس نے عمرو سے کھاکہ ہمارے بزرگوں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:
من کنت مولاه فعلیِ مولاه
جس کا میں مولاھوں اس کا علی مولا ہے۔
اب تو بتا کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ فرمان سچ ہے یا جھوٹ؟۔
عمر وکھنے لگا: یہ حق ہے۔ اور میں تمھیں مزید بتاتا ہوں کہ اصحاب حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں جس قدر فضائل و مناقب حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں ہیں۔ اتنے کسی اور کے نہیں ہیں (یہ سن کر ) وہ نوجوان چلا گیا( ۳۳ )
ابن عباس کہتے ہیں: قرآن کریم میں جس قدر آیات حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہیںاتنی کسی اور کے متعلق نازل نہیں ہوئیں۔( ۳۴ )
بھر حال ہم یہاں چند فضائل کا تذکرہ کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔اگرچہ آپ کے فضائل سورج کی طرح روشن ہیں اور کسی سے مخفی نہیں ہیں:
ابن عسا کر،ام سلمہ سے روایات کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:
علیِ مع الحق والحق مع علیِ ولن يفتر قا حتیٰ يردا علیِ الحوض
علی حق کے ساتھ ہے اور حق علی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں حوض پر میرے پاس پھنچیںگے اورایک دوسرے سے جدا نہیں ہونگے ۔( ۳۵ )
شےخ مفےد اعلی اللہ مقامہ کہتے ہیں کہ حضرت رسول خدا(ص) غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت علی علیہ السلام کو مدینہ میں اپنا جانشےن بنا کر جانے لگے توحضرت علی علیہ السلام نے عرض کی ۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم منافقےن گمان کرےں گے کہ آپ(ص) نے مجھے بچوں اور عورتوں کے پاس چھوڑ دیا ہے، اس وقت حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
میرے بھائی آپ(ع) واپس جائےے کیونکہ میرے اور آپ کے بغیر مدینہ کی کوئی اھمےت نہیں ہے، آپ (ع)میری موجودگی اور عدم موجودگی میں میری امت کے خلیفہ ہیں کیا آ پ (ع) اس پر راضی نہیں ہیں کہ آپ (ع) کی مجھ سے وہی نسبت ہوجو ہارون(ع) کوموسیٰ(ع) سے تھی بس اتنا فرق ہے کہ میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہو گا۔( ۳۶ )
حدیث حدار
جب یہ آیت نازل ہوئی” وانذر عشیر تک الاقربین“ یعنی اپنے قریبی رشتہ داروں کو انذار کرو (ڈراؤ) تو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :
اے بنی عبد المطلب اللہ تعالی نے مجھے پوری مخلوق کے لئے نبی بنا کر مبعوث کیا ہے میں تمھیں دوکلموں کی طرف دعوت دیتا ہوں جنھیں زبان پر لانا آسان ہے جب کہ وہ میزان میں بہت بھاری ہیں ان کی وجہ سے تم عرب وعجم کے مالک بن جاؤ گے اور امتےںتمہاری مطیع ہو جائیں گی اور ان کی وجہ سے تم جنت میں داخل کےے جاؤ گے اور تمھیں جھنم کی آگ سے چھٹکارا ملے گا اور وہ دو کلمے یہ ہیں ۔
هادة الا اله الا الله واٴنی رسول الله،فمن یجیبني إلیٰ هذا الامر و یؤازرني علیه و علیٰ القیام به یکن اٴخي ووصیي ووزیري ووارثي وخلیفتي من بعدي
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ اور جو شخص اس کام میں میری دعوت قبول کریگا اوراس کی تبلیغ میں مدد کرے گا وہ میرابھائی، وصی،وزےر ،وارث اور میرے بعد میرا خلیفہ ہو گا۔
ان میں سے کسی نے جواب نہ دیا حضرت علی (علیہ السلام )فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں کے سامنے کھڑا ہواگرچہ میں اس وقت سن میں سب سے چھو ٹا تھا،اورمیں نے کہا:
اے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) میں آپ کا ساتھ دونگا۔ لیکن حضور (اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے مجھے بٹھا دیا اور اپنی بات کو تےن مرتبہ دھرایا ہر مرتبہ میں کھڑا ہوا اور کھایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں آپ کا ساتھ دونگا تےسری مرتبہ بھی اسی طرح ہوا تو حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم )نے فرمایا :
فانت اٴخي ووصیي ووزير ي ووارثي وخلیفتي من بعدي ( ۳۷ )
یا علی (ع) آپ میرے بھائی، میرے بعد میرے وصی ،وزےر اوروارث ہیں اور میرے خلیفہ ہیں۔
جنگ خندق میں جب حضرت علی علیہ السلام نے عمر ابن عبد ود کو فی النار کیا تو اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا۔جنگ خندق میں حضرت علی علیہ السلام کا عمر وبن عبدود سے جنگ کرنا( ۳۸ ) میری امت کے قیامت تک کے اعمال سے افضل و بھترھے۔( ۳۹ )
حدیث الرایہ
خیبر میں جب یھودیوںکے ساتھ جنگ کرتے ہوئے بھاگنے والے بھاگے تو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :
لاٴُعطینَّ الرایه غداً رجلاً یحبه اللّهُ و رسوله ویحبُ الله و رسوله‘ کرار غیر فرار لايرجع حتٰی يفتح الله علیٰ يدیهِ
کل میں علم اس شخص کودو ںگا جس سے اللہ تبارک و تعالی اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) محبت کرتا ہے اور وہ اللہ تبارک و تعالی اور رسول کے ساتھ محبت کرتا ہے اور وہ کرار ہوگا، غیر فرارہو گا ،اوروہ اس وقت تک واپس نہیں آئے گا جب تک اللہ تبارک و تعالی اس کے ہاتھوں فتح نصےب نہ فرمائے ۔( ۴۰ )
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
اے انس اس دروازے سے سب سے پہلے داخل ہونے والا شخص مومنین کا امیر، مسلمانوں کا سردار ،قائد الغر المحجلین اور خاتم الاوصیا ہے۔ انس کہتے ہیں:
میں نے دعا مانگی اے اللہ اس شخص کو انصار سے قرار دینا لیکن اسی وقت حضرت علی علیہ السلام تشریف لے آئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
اے انس یہ وہی شخصیت ہیں ۔میں نے کھاکہ آپ کی مراد حضرت علی (علیہ السلام) ہیں۔
حضرت نے فرمایا:
ہاں ۔
پھر میں خوشی خوشی کھڑا ہوا اور آپ کے چھرے پر موجود پسےنے کے قطرات کو اپنے ہاتھ سے صاف کیا اوراپنے ہاتھوں کو اپنے چھرے پر پھیرا۔( ۴۱ )
حدیث غدیر
حضرت علی علیہ السلام نے غدیر خم میں موجود لوگوں سے حدیث غدیر کے بارے میںاقرار لینا چاھاتو فرمایا کون ہے جو حدیث غدیر کی گواھی (خدا اس کی کمک کرے) توتیرہ افراد نے کھڑے ہو کر گواھی دی ۔بے شک ہم نے بھی حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے یہ حدیث سنی تھی جس میں آنحضرت نے فرما یا تھا:
الست اولیٰ بالمومنین من اٴنفسهم قا لوا بلیٰ یا رسول اللّه
کیا میں مومنین کے نفسوں(جان) پر ان سے زیا دہ تصرف کا حق نہیں رکھتا ؟ سب نے کہا: کہ ےقےنا آپ زیادہ حق رکھتے ہیں۔
آپ نے حضرت علی علیہ السلام کابازوبلند کر کے فرمایا:
”من کنتُ مولاه فهذا مولاهُ اللهم وال من ولاه وعاد من عاداه واٴحب من اٴحبه واٴبغض من اٴبغضه وانصر من نصره واخذل من خذله “
جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی (ع)مولا ہیں،اے اللہ جو اس سے محبت رکھے توبھی اس سے محبت رکھ جو اس سے دشمنی رکھے تو بھی اس سے دشمنی رکھ اور جو اس سے بغض رکھے تو بھی اس سے بغض رکھ اور جو اس کی مدد کرے تو بھی اس کی مدد فرما جو اسے رسوا کرے توبھی اسے ذلیل کر۔( ۴۲ )
حدیث مواخاة :
انس اور عمر کہتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم( صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) نے لوگوں کے درمیا ن مواخاة کے دن حضرت علی (علیہ السلام) سے فرمایا:
اٴنت اٴخي في الدنیا والآخرة
آپ دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہیں( ۴۳ )
حدیث طائر :
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک مشھور رحدیث ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا: پروردگار! تیری مخلوق میں جو تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے اسے میرے پاس بھےج تاکہ وہ میرے ساتھ اس پرندہ کوتناول کرے چنانچہ اس وقت حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام تشریف لائے۔( ۴۴ )
حدیث سد الابواب :
زید بن ارقم کہتے ہیں۔ کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اصحاب کے نام سے مسجد میں چند دروازے کھلتے تھے ایک دن حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
باب علی علیہ السلام کے علاوہ تمام دروازے بند کر دےے جائیں راوی کھتا ہے کہ اس سلسلے میں لوگوںنے چہ مےگوےئاں شروع کر دیں،انھیں سن کر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کھڑے ہوکر خطبہ دینے لگے اور خدا کی حمد کے بعد فرمایا:
امابعد فاٴني اٴمرت بسد هذه الابواب الا باب علي وقال فیه قا ئلکم وانيوالله ما سددت شيئا ولا فتحته ولکنی امرت بشيء فاتبعته
میں نے باب علی (ع) کے علاوہ تمام دروازے بند کرنے کا حکم دیا ہے اورچہ مےگوئیاں کرنے والوں سے فرمایا :
خدا کی قسم میں نے اپنی مرضی سے کسی چیز (دروازے) کے بند کرنے یا کھولنے کاحکم نہیں دیا ہے بلکہ مجھے جس چیز کا حکم دیاگیا ہے میں نے اس کی پیروی کی ہے( ۴۵ )
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
لا يحل لاٴحد اٴن يُجنب في هذا المسجد إلا اٴنا وعلي
میرے اور علی (ع)کے علاوہ کسی مجنب کے لئے جائز نہیں کہ وہ مسجد میں داخل ہو( ۴۶ )
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
اٴنا و هذا يعني علیا حجة علیٰ اٴمتي یوم القیامه
میں اور حضرت علی علیہ السلام قیامت تک اپنی امت کے لئے حجت ہیں( ۴۷ )
علامہ شرف الدین اپنی کتاب مراجعات میں فرماتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرح حجت خدا ہیں کیونکہ آپ ہی حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عھد میں ان کے ولی اور ان کی وفات کے بعد ان کے جانشےن ہیں۔( ۴۸ )
حدیث ا لایات (سورہ براة کے متعلق )
حضرت رسول اکرم( صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے سورہ برائت کی چند آیات حضرت ابوبکر کے سپرد کر کے انھیں مشرکین کی طرف تبلیغ کے لئے روانہ کیا اس وقت حضرت جبر ئےل امین نازل ہوئے اور کھاکہ اللہ تبارک تعالی نے آپ کو سلام کھلوا بھیجا ہے۔
اور ارشاد فرمایا ہے:
اس کام کو آپ خود انجام دیں یا وہ انجام دے جو آپ سے ہے ۔
اسی وقت حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو بلوایا اور ان سے کھاتےز ترےن ناقہ پر سوار ہوکر ابوبکر تک پھنچو اور اس کے ہاتھ سے سورہ برائت کی آیات کو واپس لے لو اور ان کو لے کر جاؤ اور مشرکین کے عھد کو ان کی طرف پھنچا دو اور ابو بکر کو اختیا ر دے دو کہ وہ تمہارے ھمراہ رھے یا میرے پاس واپس آجائے۔
حضرت ابو بکر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس یہ کہتے ہوئے واپس لو ٹ آئے یا رسول اللہ آپ نے مجھے ایک اھم کام سونپا ، جب اس کی طرف متوجہ ہوا تو آپ نے مجھ سے وہ کام واپس لے لیا کیا قرآن میں اس کے متعلق کچھ نازل ہوا ہے حضرت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: جی نھیں! لیکن حضرت جبرائےل امین اللہ تعالی کی طرف سے میرے پاس یہ پیغام لائے ہیں کہ اس کام کو یا تو آپ خود انجام دیں یا وہ شخص اس کام کو انجام دے جو آپ سے ہو اور علی مجھ سے ہے اور میرے کام کی ذمہ داری حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی نہیں نبھا سکتا۔( ۴۹ )
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جو شخص چاھتا ہے کہ وہ میرے ساتھ زندہ رھے اور میرے ساتھ اس کی روح پرواز کرے اور میرے ساتھ ہمیشہ کے لئے اس جنت میں رھے( جس کا مجھ سے میرے رب نے وعدہ فرمایا ہے) تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی طرف رجوع کرے۔ کیونکہ وہ کبھی بھی تمھیں ھدایت سے دور نہیں ہونے دیں گے اور کبھی بھی تمھیں گمراہی کی طرف نہیں لے جائیں گے۔( ۵۰ )
متقی ھندی نے اسی حدیث کو ابن عباس کی زبانی بیان کیا ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:جو میرے ساتھ جےنا اور مرنا چاھتا ہے۔ اور جنت عدن میں میرے ساتھ رھنا چاھتا ہے۔،وہ میرے بعد حضرت علی( علیہ السلام ) سے محبت رکھے ۔اور اس کے محب سے محبت رکھنے والے میرے بعد میرے اھلبیت( علیھم السلام ) کی اقتداء کرے کیو نکہ وہ میری عترت ہیں جنھیں میری مٹی سے پیدا کیا گیا اور انھیں میرا علم و فھم عطا کیا گیاھے۔ میری امت میں ان کی فضیلت کونہ ماننے والوں اور ان سے قطع رحم کرنے والوں کے لئے ھلاکت ہے اور اللہ تعالی انھیں میری شفاعت نصےب نہیں کرے گا۔( ۵۱ )
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی کا بازو پکڑ کر فرمایا:
ھذا إمام البررہ ،قاتل الفجرہ ‘،منصور مَن نصرہ ، مخذول مَن خذَلہ ، ثم مدَّ بھا صوتہ۔( ۵۲ )
یہ نیک لوگوں کے امام ہیں ،فاسق و فاجر لوگوں کے قاتل ہیں ان کی مدد کرنے والا کامیاب اور انھیں رسواکرنے والا خود رسوا ہے ،یہ بات آپ نے بہت بلند آواز میں ارشاد فرمائی۔
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
إن الله عهد إليّٰ في علي اٴنه رایة الهدیٰ وإمام اٴولیائي، و نور من اٴطاعني وهو الکلمهَ التي اٴلزمتها المتقين
خدا وندعالم نے مجھ سے حضرت علی علیہ السلام کے متعلق عھد لیا ہے کہ(حضرت ) علی ھدایت کا علم ،میرے اولیاء کاامام اور میرے اطاعت گزاروں کا نور ہے اور یہ متقےن کے لئے ایک لازمی کلمہ ہے( ۵۳ )
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
اٴنا مدینة العلم وعلي بابها ، فمن اٴراد العلم فلیاٴت الباب
میں علم کا شھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے جس نے علم حاصل کرنے کا ارادہ کیااسے چاھیے کہ وہ اس دروازے پر آئے ۔( ۵۴ )
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : کہ ہر وہ آیت جہاں اللہ تعالی نے ”یا اٴیهاالذین آمنو ا “ فرمایا ہے۔ وہاں حضرت علی کے علاوہ کوئی مراد نہیں ہے حضرت علی علیہ السلام ہی مومنوں کے سردار اور امیر ہیں۔( ۵۵ )
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی (ع) سے فرمایا:
تاویل کرنے والوں سے اس طرح جنگ کرے جس طرح تنزےل کے مخالفوں سے لڑے تھے پھر حضرت علی (ع) کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا:
میں اس سے صلح کروں گا جس سے تم صلح کروگے اور میں اس سے جنگ کروں گا جس سے تم جنگ کرو گے۔تم ہی عروة الوثقی ہو اور میرے بعدھر مومن اور مومنہ کے ولی اور امام ہو۔
(اس کے بعد )مزید فرمایا :
اللہ تعالی نے مجھے آپ کے فضائل بیان کرنے کو کھاھے لہٰذا میں لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر ان تک وہ پھنچا رھاھوں جس کا خدا نے حکم دیا ہے پھر ان سے فرمایا:
ان خیانت کاروں سے بچو جو تمہارے لیئے اپنے سینے میں بغض و کینہ رکھتے ہیں اور میری موت کے بعد وہ اس کو ظاہر کریں گے، یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں اس کے بعد حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گریہ کرنے لگے تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کیوں گریہ فرما رھے ہیں :
تب آپ نے فرمایا:
مجھے جبرئیل( علیہ السلام) نے خبر دی ہے کہ وہ لوگ ان کے ساتھ ظلم کریں گے اور ان کے حق کو غصب کریں گے وہ ان سے جنگ کرےں گے اور ان کے فرزندوں کو قتل کریں گے اور میرے بعد ان پر ظلم کریں گے ۔( ۵۶ )
عبداللہ ابن مسعود کہتے ہیں کہ ہم یہ گفتگو کیا کرتے تھے کہ اہل مدینہ میں سب سے افضل علی ابن ابی طالب ہیں اسی طرح یہ روایت بھی انھیں سے ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کوستر سورتیں سنائیںاور دوسرے لوگوں میں سب سے بھتر انسان علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے پوراقرآن سنایا۔( ۵۷ )
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا۔ تین شخص صدیق ہیں:
۱ ۔مومن آل یٰسےن حبیب النجار نے کہا۔
( یا قوم إتّبعوا المرسلین )
اے قوم، مرسلین کا اتباع کرو ۔
۲ ۔مومن آل فرعون جناب حزقیل نے یہ کہا:
( اٴتقتلون رجلا اٴن یقول ربي الله )
کیا تم اس شخص کو قتل کرتے ہو جو کھتا ہے کہ میرا رب فقط اللہ ہے۔
۳ ۔لیکن حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام جوان سب سے افضل ہیں( ۵۸ )
حضرت سلمان اور حضرت ابوذر کہتے ہیں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:
اٴلا إنّ هذا اٴول مَن آمن بي،و هذا اٴول من يصافحني یوم القیامة، و هذا الصديق الاٴکبروهذا فاروق هذه الامة يفرّق بین الحق و الباطل وهذا يعسوب المؤمنین والمال يعسوب الظالمین
جان لو یہ سب سے پھلا شخص ہے جو مجھ پر ایمان لایا یہ پھلا شخص ہے جو قیامت کے دن مجھ سے مصافحہ کرے گا یہ صدیق اکبر اور اس امت کا فاروق ہے اور یھی حق وباطل کے درمیان فرق کرے گایہ مومنین کا رھبر وسردارھے اور مال ظالموں کا رھبر ہے ۔( ۵۹ )
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
یا علي طوبیٰ لمن اٴحبّک و صدق فیک و ويل لمن اٴبغضک وکذّب فیک
یا علی بشارت ہے اسی شخص کے لئے جو تم سے محبت کرے اور تیرے بارے میں (نازل ہونے والی وحی)کی تصدیق اور اس شخص کےلئے ھلاکت و تباھی ہے جو تم سے بغض و عداوت رکھے اور تم پر نازل ہونے والی وحی کو جھٹلائے۔( ۶۰ )
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
من اٴراد اٴن ینظر الیٰ نوح في عزمهِ،والیٰ آدم في علمه، والیٰ ابراهیم فيحلمهِ، والیٰ موسیٰ في فطنتهِ، والی عیسیٰ في زهده فلینظر الیٰ علي بن اٴبي طالب
جو شخص نوح کا عزم‘ آدم کاعلم‘ ابراھیم کا حلم ‘موسی کی ذہانت و فطانت اورعیسیٰ کا زھد دیکھنا چاھتا ہے اسے چاھیے کہ وہ علی ابن ابی طالب کو دیکھ لے۔( ۶۱ )
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا دعوت حق کی طرف تین اشخاص سابق ہیں حضرت موسی کے زمانہ میں حضرت یوشع بن نون نے سبقت کی حضرت عیسی کے زمانہ میں صاحب یسٰین نے سبقت کی اورحضرت محمد(ص)کے زمانہ میں علی (ع)ابن ابی طالب نے سبقت کی ہے ۔( ۶۲ )
عبد اللہ ابن مسعود کہتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
النظر الی علی عبادة“
علی کی طرف دیکھنا عبادت ہے ۔( ۶۳ )
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں ۔ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے بتایا کہ میرے بعد امت تجھ پر ظلم کرے گی۔( ۶۴ )
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں ۔ ہم حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ تھے انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم دونوں مدینہ سے باھر کی سمت نکل پڑے، راستے میں ایک باغ آیا۔
میں نے کھا:
یا رسول اللہ کتنا اچھا باغ ہے:
آپ (ص)نے فرمایا:
جنت میں اس سے بھی بھترباغ آپ(ص) کی ملکیت ہے ۔
پھر ھمارا گزر ایک اور باغ سے ہوا۔
میں نے کھا: یا رسول اللہ یہ بھی کتنا اچھا باغ ہے۔
حضرت نے فرمایا جنت میں آپ (ع)کا اس سے بھی خوبصورت باغ ہے۔
یہاں تک کہ ہم سات باغوں سے گزرے اور ہر باغ کے بارے میں میں نے یھی کھاکہ یہ کتنا اچھا اور خوبصورت باغ ہے حضرت نے ہر مرتبہ فرمایا جنت میں آپ کا اس سے بھی اچھا باغ ہے جب میرا راستہ ان سے جدا ہونے لگا تو مجھے قریب بلایا اور پھر گریہ کرنے لگے ۔
میں نے عرض کی یا رسول (ص)اللہ آپ گریہ کیوں فرما رھے ہیں
حضرت نے فرمایا لوگوں کے دلوں میں آپ(ع) کے متعلق ایسا بغض موجود ہے جو میری وفات کے بعد آپ (ع)پر ظاہر ہو گا ۔میں نے عرض کی یا رسول اللہ میرا دین تو سالم رھے گا فرمایا آپ (ع)یقینا میرے دین پر سالم رھیں گے۔( ۶۵ )
حارث ھمدانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا:
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زبان مبارک سے اللہ تعالی کا یہ فیصلہ صادر ہوا ہے:
اٴنه لا یحبنی الاّ مؤمن ولا يُبغضني الاّ منافق وقد خاب من افتریٰ
فقط مجھ علی سے محبت کرنے والا مومن ہے اور مجھ سے بغض رکھنے والا منافق ہے اور جھوٹ و افتراء باندھنے والا نقصان اٹھائے گا۔( ۶۶ )
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں :حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ سے حضرت علی ابن ابی طالب کے متعلق سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا: میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا ہے:
انّ علیا وشيعته هم الفائزون
یقینا(حضرت) علی (ع) اور اس کے شیعہ ہی کامیاب ہیں۔( ۶۷ )
ابن عبا س کہتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
حب علی بن ابی طالب یاٴکل السیئات کما تاٴکل النار الحطب
حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی محبت گناھوں کو اس طرح کھا جاتی ہے جس طرح آگ لکڑی کو راکھ بنا دیتی ہے ۔( ۶۸ )
ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا کیا جھنم سے بچنے کا کوئی طریقہ ہے؟ فرمایا جی ہاں میں نے کھاوہ کیا ہے؟ تو حضرت نے فرمایا:
حب علي بن اٴبي طالب
وہ علی ابن ابی طالب (علیہ السلام )کی محبت ہے ۔( ۶۹ )
ام سلمہ کہتی ہیں کہ حضرت علی ابن ابی طالب حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس تشریف لائے تو حضرت (ص)نے فرمایا جھوٹا ہے وہ شخص جو یہ دعوی کرے کہ وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے جب کہ وہ علی (ع) سے بغض رکھتا ہو۔( ۷۰ )
ابن عباس کہتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ان کلمات کے متعلق سوال کیا گیا جنھیں حضرت آدم علیہ السلام نے بارگاہ خداوندی سے سیکھا اوران کے ذریعہ توبہ کی تو ان کی توبہ قبول ہوئی تو حضرت (ص)نے فرمایا:
اساٴلک بحق محمد وعلي وفاطمه والحسن والحسین الا تبت عليّ فتاب علیه
وہ کلمات محمد(ص) ۔علی (ع)۔فاطمہ(ع)۔حسن (ع)۔حسین (علیھم السلام )ھیں جن کا واسطہ دے کر حضرت آدم (ع)نے سوال کیا اور توبہ کی تو ان کی تو بہ قبول ہوئی ۔( ۷۱ )
عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ باطل احادیث کے ساتھ خالص احادیث کے مخلوط اور مشتبہ ہو جانے سے پہلے مجھ سے یہ حدیث سن لو۔ میں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
”انا الشجرة و فاطمه فرعها وعلي لقاحهاو الحسن والحسین ثمرتهاو شيعتنا ورقها واٴصل الشجرةفي جنةعدن“
میںدرخت ہوں ۔فاطمہ(ع) اس کی شاخیں ہیں۔ علی (ع) اس کا تنا ہیں۔ حسن(ع) اورحسین (ع)اس کے پھل ہیں اور ہمارے شیعہ اس درخت کے پتے ہیں اور اس مبارک درخت کی جڑیں جنت الفردوس میں ہیں ۔( ۷۲ )
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیھاسے فرمایا:
کیا آپ جانتی ہیں کہ اللہ تعالی نے زمین والوںکی طرف جب رخ کیا تو سب سے پہلے آپ کے باپ کو منتخب کیا اور پھر آپ کے شوہر کو منتخب فرمایا اس نے میری طرف وحی بھیجی ہے کہ میںعلی (ع) کو اپنا جانشین اور وصی مقرر کروں۔( ۷۳ )
جناب عمار بن یاسر کہتے ہیں کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :
اوصي مَن آمن بي وصدّقني بولایة علي بن اٴبي طالب، فمن تولاّه فقد تولاّني ومَن تولاّني فقد تولیٰ اللّه عزوجل
جو بھی مجھ پر ایمان لایا میں اسے وصیت کرتا ہوں کہ وہ میری رسالت کی تصدیق علی ابن ابی طالب (ع)کی ولایت کے ساتھ کرے جو شخص ان کی ولاےت کا اقرار کرتا ہے وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے اور جو مجھ سے محبت رکھتا ہے تو وہ یقینا اللہ سے محبت رکھتا ہے ۔( ۷۴ )
حدیث طائر :
انس ابن مالک کہتے ہیں کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ایک پرندہ تحفہ کے طور پر دیا گیا جب آپ نے تناول فرمانا چاھاتو فرمایا:
پروردگارا!
جو تجھے تیری مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہے اسے میرے پاس بھیج تا کہ وہ میرے ساتھ اسے تناول کرے چنانچہ اسی وقت میں حضرت علی (ع)ابن ابی طالب(ع) تشریف لائے اور پوچھا کیا میں حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آسکتا ہوں۔
وہ کھتاھے۔
میں نے کھااجازت نہیں ہے کیونکہ میں چاھتاتھا کہ حضرت کے ساتھ انصار سے کوئی شریک ہو‘ آپ چلے گئے۔ پھر دوبارہ وآپس آئے اور پھر اجازت طلب فرمائی۔ تو حضرت رسول خدا (ص)نے آپ(ع) کی آواز کو سن لی اور فرمایا: یاعلی اندر تشریف لائیے اور پھر فرمایا۔ پروردگارا یھی تیرا محبوب ہے ، یھی تیرا محبوب ہے۔( ۷۵ )
مخنف بن سلیم کہتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب انصاری گھوڑے پر سوار ہو کر ہمارے پاس آئے میں نے ان سے کھا،اے ابو ایوب انصاری آپ نے تو حضرت رسول خدا صلی
اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ھمراھی میں مشرکین سے قتال کیا تھا لیکن اب مسلمانوںسے قتال کرنے میں لگے ہوئے ہو، حضرت ابوایوب انصاری نے جواب دیا:
مجھے رسول خدا نے تین قسم کے لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا تھا:
۱) ناکثین۔
۲)قاسطین۔
۳) مارقین ۔
اب تک میں نے فقط قاسطین اورناکثےن سے جنگ کی ہے کیا ہے اب انشاء اللہ مارقےن سے جنگ کرنے ولا ہوں ۔میدانوں‘ میں راھوں اورنھروان میں میرے لیئے کوئی فرق نہیں کہ یہ قاسطین اور ناکثین اور مارقین کوئی بھی ہوں( ۷۶ )
حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
اٴنا و علي من شجرة واحده والناس من اٴشجار شتیٰ
میں اور علی (ع) شجرہ واحدہ سے ہیں جبکہ لوگ مختلف اشجار سے ہیں۔( ۷۷ )
جناب شیخ صدوق اپنی کتاب اکمال میں حضرت امام رضا علیہ السلام سے حدیث نقل کرتے ہیں امام نے فرمایا مجھ سے میرے والد محترم نے اور ان سے ان کے آباء اجدادنے اور ان سے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس حدیث کو بیان فرمایا:
واٴنا وعلی اٴبوا هذه الاٴمُّة من عرفنا فقد عرف اللّه ومن اٴنکرنافقد اٴنکر الله عزوجل و من علی سبطا اٴمتُي وسیدا شباب اٴهل الجنة،الحسن والحسین‘ من ولد الحسین تسعه طاعتهم طاعتي و معصيتهم معصيتي ، تاسعهم قائمهم و مهدیهم
میں اور علی (ع) اس امت کے باپ ہیں جس نے ھمیں پہچان لیا اس نے خدا کو پہچانا اور جس نے ھمارا انکار کیا اس نے اللہ تعالی کا انکار کیا اور علی (ع) سے میرے دو نواسے ہیں اور جوانان جنت کے سردار ہیں وہ حسن (ع) وحسین (ع) ہیں اور حسین (علیہ السلام)کی اولاد سے ۹ بیٹے ہوں گے، ان کی اطاعت میری اطاعت ہے اور ان کی نافرمانی میری نا فرمانی ہے اور ان میں (نویں ) حضرت قائم اور مھدی (عج) ہیں ۔( ۷۸ )
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
اے ابن سمرہ جب خواہشات پر اگندہ ہوں اورآراء متفرق ہوں تو آپ پر حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی طرف رجوع کرنا لازم ہے، کیونکہ وہ میری امت کے امام اور میرے بعد میرے خلیفہ ہیں ۔( ۷۹ )
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
الائمة بعدي اثنا عشر اٴوّلهم علي وآخرهم القائِم هم خُلفائي و اٴوصیائي
میرے بعد بارہ امام ہیں ان میں پہلے حضرت علی علیہ السلام اور آخری حضرت قائم (عج) ہیں یہ سب کے سب میرے خلفاء اور اوصیاء ہیں ۔( ۸۰ )
____________________
[۱] صحیح تر مذی ج۲ ص۳۰۸،اسد الغابہ ج۲ ص۱۲،سیوطی در منثور ذیل آیت وغیرہ
[۲] صحیح ترمذی،ج۲، ص ۳۰۸. اسد الغابہ، ج۲ص۱۲. سیوطی در منثور ذیل آیت.
[۳] ابو لغیم کی کتاب حلیة الاولیاء ج۱ص ۳۵۵۔اسی روایت کو خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد ج۸ص۴۴۲ پراورصاحب کنزالعمال نے ج۷ ص ۵ ۲ ۲ پر بیان کیاھے۔
[۴] کنز العمال ج ۱ ص ۴۷۔
[۵] مستدرک الصحیحین ج ۳ ص ۱۰۹ ۔
[۶] صواعق محرقہ ابن حجر ص ۷۵۔
[۷] بحوث فی الملل والنحل ج۱ص۳۲۔شیخ سبحانی۔
[۸] مستدرک الصحیحین ج ۲ ص ۳۴۳۔
[۹] کنز العمال :جلداص۲۵۰۔
[۱۰] مجمع الزوائد الھیثمی ج ۹ ص ۱۶۸۔
[۱۱] ذخائر عقبی محب طبری ص ۲۰ ۔
[۱۲] صواعق محرقہ ابن حجر ص۱۵۳ ۔
[۱۳] کنزالعمال ج۶،ص۱۵۳۔
[۱۴] فیض القدیر ج ۴ص ۳۵۶۔
[۱۵] فضائل خمسہ من صحاح ستہ فیروز آبادی ج۲ ص۶۶۔
[۱۶] مجمع الزوائد ج۹ص۱۶۸۔اور صواعق محرقہ ابن حجر ص۲۳۶۔
[۱۷] مستدرک الصحیحین ج۳ص۱۴۹،صواعق محرقہ ابن حجر ص۲۳۶۔
[۱۸] مستدرک الصحیحین ج۳،ص۴۵۸۔
[۱۹] ذخائر العقبی، المحب الطبری ص۱۷ ۔صواعق محرقہ ابن حجر ص۲۳۶۔
[۲۰] ذخائر عقبی ص ۲۳۔
[۲۱] ریاض النضرة ج۲ ص ۱۹۹۔
[۲۲] کنز العمال ج۶ ص۲۱۸۔
[۲۳] مجمع الزوائد ج۹ ص ۱۷۲۔
[۲۴] ذخائر عقبی محب طبری ص ۱۷۔
[۲۵] کنز العمال ج ۷ ص ۲۱۴۔
[۲۶] ذخائر عقبی محب طبری ص ۱۸۔
[۲۷] تاریخ بغدادخطیب بغدادی ج۲ص۱۴۶۔
[۲۸] اس مطلب کو زمخشری نے کشاف میں آیت مودة کے ذیل میں بےان کےا ھے ۔
[۲۹] کنوز الحقائق مناوی ص ۵۔
[۳۰] مستدرک الصحیحین ج ۳ص ۱۰۷۔
[۳۱] الاسےتعاب ابن عبد البر ج۲ ص ۴۶۶ ۔
[۳۲] ریاض النضرہ ج ۲ ص ۲۱۴۔
[۳۳] الاامامہ والسےاسہ ص۹۷۔
[۳۴] نور الابصارشبلنجی ص۷۳ ۔
[۳۵] مختصر تاریخ دمشق ابن عساکر ج ۱۸ ص۴۵ ۔
[۳۶] ارشاد ‘ج۱‘ص۱۵۶‘اس طرح مناقب خوارزمی ص۱۳۳‘ابن اثیر کی تاریخ کامل ج۲ص۲۷۸’مجمع الزوائد الھیثمی ‘ج ۹ ص ۹ ۰ ۱ ۔
[۳۷] الارشاد شیخ مفید ج ۱ ص ۴۹ تا ۵۰۔
[۳۸] بعض روایات میں ”علی علیہ السلام کی ایک ضربت “آیا ھے (مترجم)
[۳۹] مستدرک الصحیحین ج۲،ص۳۲۔
[۴۰] ارشاد شیخ مفید ج۱ ص۶۴ ، اسی طرح صحیح بخاری کتاب جہاد والسےر فی باب افضل من اسلم علی ےدہ رجل۔
[۴۱] حلیة الاولےا ج۱ ص۶۳ ارشاد مفید ج۱ص۴۶ اور مجمع الزوائدجلد :۹ص۱۲۱ ۔
[۴۲] مجمع الزوائد ج۹ ص۱۰۵ ،انھی الفاظ سے ملتے جلتے الفاظ میںابن عساکر نے اسے مختصرتاریخ دمشق ج ۱۷ ص۳۳۴ پر ذکر کیا ھے اور شیخ مفید نے ارشاد ج۱ ص ۱۷۶ ،پر ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ ج۷ص۳۲۸ ،اور اس کے علاو ہ دوسری اھم تاریخی کتب نے مختلف الفاظ میں اس واقعہ کو بےان کےا ھے ۔
[۴۳] البدایہ والنہایہ ابن کثیر ج۷ ص۳۱۸ اور ابن عبدالبر نے بھی استعاب میں بےان کیا ھے۔
[۴۴] ارشاد شیخ مفید ج ۱ ص۳۸۔
[۴۵] مجمع الزوائد ج ۹ س۱۱۴۔
[۴۶] صواعق محرقہ ابن حجر ص۱۲۲ اور مجمع الزوائد ج ۹ ص۱۱۰۔
[۴۷] کنز العمال ج۶ س۱۵۷۔
[۴۸] مراجعات علامہ شرف الدین موسوی ص۱۷۸۔
[۴۹] الارشاد و،شیخ مفید ج۱ ص۶۵،۶۶ ،تاریخ یعقوبی ج ۲ ص۷۶ سیرت ابن ھشام ج ۴ س۱۹۰۔
[۵۰] المراجعات امام شرف الدین موسوی ص۱۷۶۔
[۵۱] مستدرک الصحیحین ج۳ص۱۲۹ ،پھر صاحب کتاب کھتے ھیں کہ یہ صحیح الاسناد حدیث ھے، اسی طرح اس حدیث کو کنز العمال نے ج ۶ ص۱۵۳ حدیث ۲۵۲۷ میں بےان کیا ھے ۔
[۵۲] کنزالعمال ج۶ ص۲۱۷ ،حدیث ۳۸۱۹، انھی الفاظ سے ملتے جلتے الفاظ میں ابو نعیم نے بھی اپنی کتاب حلیة ج ۱ ص۸۶ پر اس حدیث کو نقل کےا ھے۔
[۵۳] حلیة ا لا ولیا ء ابی نعیم ج۱ ص۶۷۔
[۵۴] مستدرک الصحےےن ج۳ص۲۲۶ ،جامع الصغیر سیوطی ص۱۰۷۔
[۵۵] حلیة الاولیا ء ج۱س۶۴۔
[۵۶] المناقب الخوارزمی ص ۶۱ ۔۶۲۔
[۵۷] مجمع الزوائد ج۹ ص ۱۱۶۔
[۵۸] مختصر تاریخ دمشق ابن عساکر ج۱۷ص۳۰۷۔
[۵۹] مختصر تاریخ دمشق ابن عساکر ج ۱۷ ص ۳۰۶۔
[۶۰] مستدرک صحیحین ج ۳ ص۱۳۵ ۔
[۶۱] آیت مباھلہ کے معنی میں تفسیر کبیر رازی ج۲ ص۲۸۸۔
[۶۲] صواعق محرقہ ابن حجر ص ۱۲۵۔
[۶۳] مجمع الزوائد ج ۹ ص ۱۱۹۔
[۶۴] مستدرک الصحیحن ج۳ ص ۱۴۰،چنا نچہ صاحب مستدرک کھتے ھیں کہ یہ حدیث سند کے اعتبار سے درست ھے اس روایت کو خطیب بغدادی نے اپنی کتاب تاریخ کی ج ۱۱ ص ۲۱۶ پر بھی بیان کیا ھے۔
[۶۵] مجمع الزوائد ج ۹ ص۱۱۸ تاریخ بغداد ج۱۲ ص۳۹۸۔
[۶۶] ارشاد مفید ج۱ ص۴۰۔ بحار الانوار ج ۳۹ ص ۲۵۵۔
[۶۷] علامہ مجلسی کی البحار ج ۶۸ص ۳۱ ارشاد شیخ مفید ج ۱ ص۴۱۔
[۶۸] کفایة الطالب حافظ محمد یوسف کنجی ص ۳۲۵۔
[۶۹] کفایت الطالب ص ۳۲۵ ۔
[۷۰] کفایة الطالب حافظ الکنجی ص ۳۲۰ ۔کنز العمال ج ۶ ص ۳۹۹۔
[۷۱] درمنثور سیوطی تفسیر ذیل آیت سورہ بقرہ فتلقی آدم من ربہ کلمات۔
[۷۲] مستدرک الصحیحین ج ۳ ص ۱۶۰۔
[۷۳] مجمع الزوائد ج ۸ ص۲۵۳ کنز العمال ج۶ ص ۱۵۳۔
[۷۴] کفایةالطالب حافظ کنجی شافعی،ص ۷۴ ۔
[۷۵] ارشاد شیخ مفید ج ۱ ص ۳۸، کفایة الطالب ۔حافظ الکنجی شافعی ص ۱۴۵، کنز العمال ج۶ ص ۴۰۶۔
[۷۶] کفایة الطالب ص۱۶۹ ،اسد الغابہ ج۴ص۳۳۔
[۷۷] کنز العمال ج۶ص ۱۵۴۔
[۷۸] مراجعات سید شرف الدین المراجہ ۶۲ص۲۰۲ بحوالہ صدوق مرحوم کی کتاب اکمال دین و اتمام النعمة۔
[۷۹] مراجعات امام شریف الدین مراجعہ ۶۲ص ۲۱۰ بحوالہ کتاب صدوق اکمال الدین۔
[۸۰] مراجعات امام شرف الدین کے مراجعہ ۶۲ ص۲۰۱ پررجوع کریں وہاں انھوں نے جناب صدوق کی کتاب اکمال الدین و اتمام النعمةکے حوالے سے اس حدیث نقل کیا ھے ۔
چوتھی فصل
صفات کمال
وہ گھر جس میں عظیم ترین انسان رھتا تھا جو روئے زمین پر ایسا کامل ترین انسان تھا کہ جسے اللہ تعالی نے اپنی رسالت کے لئے منتخب فرمایا تا کہ وہ انسانوں کو الٰھی رنگ میں (ھدایت کرے) بدل دے۔
اسی طیّب و طاہر گھر میں حضرت علی علیہ السلام نے اپنی زندگی گزاری اور آپ کی تربیت اسی کامل ترین انسان یعنی حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمائی ۔
جس کا معلم وحی الٰھی کا حامل ہو وہ کیوں نہ اپنی حیثیت میں منفرد ہو اس کی ھدایت کا نور دنیا میں اس طرح چمکا کہ آنے والی نسلوں کو حیرت میں ڈال دیا۔
کسی شاعر نے کیا خوب کھا۔
ذا علی بشر کیف بشر ربه فیه تجلی و ظهر
یہ علی (ع) کیسے بشر ہیں جو صفات الھیہ کا مظھر ہیں ۔
۱ ۔علم
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے صفات کمال میں پھلی صفت علم ہے۔
ابن حدید کہتے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کسی شخص کے متعلق یہ نہیں کھاجا سکتا کہ ہر فضیلت اس کی ذات سے پھوٹتی ہو ہر فرقہ کی انتہاء انھی کی طرف ہو ہر گروہ اسی کی طرف جذب ہونے کا متمنی ہو۔
آپ جانتے ہیں کہ علوم میں سب سے اعلی علم ،علم الٰھی ہے آپ(ع) کے کلام میں اس علم کے اقتسبات موجود ہیں۔ آپ(ع) ہی سے یہ کلام نقل ہوا ہے آپ کی طرف ہی اس کلام کی ابتداء و انتھاھے۔
اھل توحید و عدل اور ارباب نظر کے عنوان سے شھرت رکھنے والے معتزلہ بھی آپ کے شاگرد ہیں کیونکہ معتزلہ کے بزرگ واصل بن عطا،ابوہاشم عبداللہ بن محمد بن حنفیہ کے شاگرد ہیں اور ابوہاشم اپنے والد کے اور ان کے والد حضرت امیر علیہ السلام کے شاگرد ہیں ۔ جہاں تک اشعریہ کا تعلق ہے اس گروہ کے سر کردہ ابوالحسن اشعری ہیں، آپ ابو علی جبائی کے شاگرد ہیں اور ابوعلی جبائی کا شمار معتزلہ کے بزرگوں میں ہوتا ہے۔لہٰذا اشعریہ کی بازگشت معتزلہ کی طرف ہی ہے اور ان کے معلم حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں ۔اورامامیہ اور زیدیہ کا حضرت میر علیہ السلام کا شاگرد ہونا بہت ہی واضح اور روشن ہے ۔( ۱ )
اسی طرح علوم میں سب سے اھم علم ،علم فقہ ہے اس علم کے بانی بھی حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام ہیں، اسلام کے ہر فقیہ کی بازگشت آپ کی طرف ہے ۔
مذاھب اربعہ کے آئمہ جیسے امام ابو حنیفہ ،امام شافعی ،امام احمدابن حنبل اور امام مالک ہیں ان لوگوں کا آپ کی طرف رجوع کرناواضح ہے کیونکہ یہ لوگ شخصی طور پر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد ہیںیا ان میں سے بعض آپ(ع) کے شاگردوں کے شاگرد ہیں جیسا کہ امام مالک ہیں انھوں نے ربیعہ الرای کے پاس علم حاصل کیا انھوں نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے ابن عباس سے اور ابن عباس حضرت امیر علیہ السلام کے شاگرد تھے ۔( ۲ )
شیعہ اور اہل سنت کی کتب میں یہ روایت ہے کہ حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :
”اٴقضاکم علي “
تم میں سب سے بڑے قاضی علی( علیہ السلام) ہیں۔
قضاوت فقہ کی ہی ایک قسم ہے جیسا کہ روایت میں ہے کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جب حضرت علی(ع) کو یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو بارگاہ خداوندی میں عرض کی بار الھااس کے دل و زبان کو مضبوط و محکم رکھنا حضرت امیر علیہ السلام کہتے ہیں امت میرے کسی بھی فیصلے میں شک نہ کرتی تھی۔( ۳ )
ابن عباس کہتے ہیں کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشادفرمایا:
علي بن اٴبي طالب اٴعلم اُمتّيِ واٴقضاهم فیما آختلفوا فیه من بعدي
علی ابن ابی طالب میری امت میں سب سے زیادہ صاحب علم ہیں میرے بعد ہر قسم کے اختلافات کا سب سے بھتر فےصلہ کرنے والے ہیں۔( ۴ )
ابو سعید خد ری کہتے ہیں کہ میں ُنے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :
اٴ نا مدینة العلم و علي بابها فمن اراد العلم فلیقتبسه من علي ( ۵ )
میں علم کا شھر ہوں اور علی(ع) اس کا دروازہ ہے جو علم حاصل کرنا چاھتا ہے اسے چاہئے کہ وہ علی (ع) سے حاصل کرے۔
عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی کو ایک طرف بلایا آپ ہم سے علیحدہ ہو گئے جب وآپس آئے تو ہم نے وجہ پوچھی حضور(ص)نے حضرت علی سے فرمایا انھیں جواب دیں۔حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
علّمَنِی رسول الله(ص) اٴلف بابٍ مِنَ العلمِ ینفتَح لِي من کل باب اٴلفَ باب
رسول اللہ نے مجھے علم کے ایک ہزار ابواب کی تعلیم دی، جس کے ہر باب سے ہزار ابواب میرے لئے کھل گئے ہیں ۔( ۶ )
اسی طرح باقی تمام علوم کے موجد بھی حضرت علی علیہ السلام ہیں مثلا علم تفسیر ہے اس میں آپ کو ید طولیٰ حاصل ہے آپ کی نظر کتب تفسیر میں نظر واحد ہے اس کے مصداق آپ کے اور ابن عباس کے شاگرد قدح معلی ہیں آپ کہتے ہیں،
فوالذی فلق الحبه وبراٴ النسمه لو ساٴلتموني عن آیة ، آيةفي لیل نزلت اٴ و في نهار مکیُّها ومدنيُّها ، سفريُّها وحضريها ناسخها ومنسوخها ومحکمها و متشابهها وتاٴويلها وتنزیلها لاٴخبرتکم
مجھے اس رب کی قسم جس نے گٹھلی کو چیرا اور مخلوقات کو پیدا کیا اگر تم مجھ سے کسی آیت کے متعلق سوال کرو کہ فلاں آیت رات میں نازل ہوئی یادن میں نازل ہوئی وہ مکی ہے مدنی ہے، سفر میں نازل ہوئی یا حضر میں ناسخ ہے یامنسوخ، متشابہ ہے یا محکم ہے اس کی تاویل کیا ہے اس کی وجہ تنزیل کیا ہے میں ہر چیز کے متعلق تمھیں جواب دوں گا ۔( ۷ )
اس طرح حضرت نے یہ بھی فرمایا:
ما من آیة الا وقد علمتُ فیمن نزلت واٴین نزلت في سهل اٴوجبل واِنَّ بین جوانحي لعلماً جمّاً
کوئی بھی آیت ایسی نہیں ہے جس کے متعلق میں نہ جانتا ہوں کہ وہ کس کے متعلق نازل ہوئی ہے اور کہاں نازل ہوئی ہے زمین پر نازل ہوئی ہے یا پہاڑ پر۔ میرے سےنے میں ٹھاٹےں مارتا ہوا سمندر ہے ۔( ۸ )
ابن عباس سے سوال کیا گیا کہ آپ کے چچازاد بھائی اور آپ کے علم میں کیا نسبت ہے ؟ابن عباس کہتے ہیں سمندر کے مقابلہ میں جو قطرہ کو نسبت ہے وہی نسبت علی علیہ السلام کے اور میرے علم میں ہے۔( ۹ )
اسی طرح علم نحو ، اخلاق ، تصوف ،کلام اور فرائض وغیرہ کے مؤسس اور بانی بھی حضرت علی علیہ السلام ہیں اور آپ نے ہی ان علوم کے اصول اور فروع کی تشرےح فرمائی ہے جیسا کہ علم نحو کے جوامع ابو الاسود الدؤلی کوکلمہ کی اسم فعل حرف کی طرف تقسیم ، معرفہ نکرہ اعراب اور حرکات کی پہچان کی تعلیم آپ نے ہی فرمائی ہے ۔یہاں تک کہ شرح نھج البلاغہ میں ابن حدید کہتے ہیں آپ جس قدر علوم کی انتہاء تک پھنچے ہوئے تھے انھیںمعجزات کھنا بعےد معلوم نہیں ہوتا کیونکہ اس طرح کے حصر اور استنباط کرنا قوت بشر سے باھر ہے۔( ۱۰ )
مکارم اخلاق :
علم مکارم اخلاق میں حضرت کو تمام بنی نوع انسان پر فضیلت حا صل تھی جو کچھ اس علم کے متعلق ان سے سنا اور دےکھا گیاان سے قبل کسی سے نہیں سنا اور دےکھا نھیںگیا چنا نچہ صعصہ بن صوحان وغیرہ آپ(ع) کا وصف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :وہ ہم میں نہایت نرم دل ‘شدید متواضع اور جلدی بات کو قبول کرنے والے تھے ۔ھم ان سے ایسے ھبیت زدہ رھتے تھے جیسے ایک پابندسلاسل قیدی مسلح دروغہ کے سامنے سھما ہوا ہوتاھے ۔( ۱۱ )
معاویہ ایک دن قےس بن سعدی بن عبادہ سے کھتا ہے اللہ ابوالحسن پر رحم کرے وہ ھشاش بشاش اور صاحب مزاح تھے۔
میں نے جواب دیا۔
جی ہاں !حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اپنے اصحاب سے مزاح اور تبسم فرمایا کرتے تھے کہ میں تجھے دیکھ رھاھوں کہ تو حضرت علی (ع)کی نکوھت کر کے خوش ہونا چاھتاھے خدا کی قسم وہ اسی مزاح اور خندہ روئی کے باوجود بھوکے شیر سے بھی زیادہ ھیبت رکھتے تھے یہ ان کے تقوی ٰ کی ھبیت تھی ان سے لوگ اس طرح ڈرتے تھے جس طرح تجھ سے یہ شامی احمق ڈرتے ہیں۔( ۱۲ )
واقعا آپ کی ذات گرامی ھشاس بشاس تھی،یہاں تک کہ جب عمر ابن خطاب نے آپ کو خلیفہ بنانا چاھاتو آپ سے کہا۔خدا کی قسم اگروالد کی طرف سے آپ میں یہ خصلتےں نہ ہوتےںتوآپ خلیفہ تھے۔( ۱۳ ) ابن حدید کہتے ہیں کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہ عیب ہے یا یہ عیب ہے کہ انسان سخت دل ہو اور لوگ اس سے نفرت کرےں ۔
علم تصوف :
جھاں تک علم تصوف کا تعلق ہے ارباب طریقیت اور اصحاب حقےقت تصفیہ باطن اور تزکیہ نفس کی جتنی صورتےں ہیں ان تمام کی نسبت حضرت علی علیہ السلام کی طرف ہے یہ لوگ اپنے طریق کی باز گشت آ پ ہی کی طرف لے جاتے ہیں۔( ۱۴ )
علم کلام :
اصحاب رسول حضرت علی علیہ السلام کے مقابلے میںعلم کلام میں اپنی کم علمی کا اظہار کرتے ہیں کہ آپ علم کلام کے ایسے شھسوار ہیں جن کی گرد کو کوئی چھو نہیں سکتا آپ کے علم کا احاطہ ممکن نہیں ہے۔
اگر آپ کے خطبوں پرایک نظر کی جائے تو معلوم ہوگا کہ آپ ہی اس گھاٹ پر اترنے والے سب سے پہلے شخص ہیں یہ علوم آپ کے ساتھ مخصوص ہیں آپ کے خطبو ں میں وجوب معرفت خدا تعالی، خدا کی واحدنےت ،اس کے ساتھ کسی کو تشبیہ دینے کی نفی اور خدا تعالی کے اوصاف کا تذ کرہ بدرجہ اتم موجود ہے۔آپ نے ایک دن کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ خدا سات مختلف قسم کے پردوں میں پوشےدہ ہے حضرت نے اس سے فرمایا:تیرے لئے ھلاکت ہو خداوند متعا ل اس سے منزہ و مبرا ہے کہ وہ کسی چیز میں پوشےدہ ہو یا اس میں کوئی چیز پوشےدہ ہو پاک و پاکیزہ ہے وہ ذات اسے مکان کی احتیاج نہیں ہے اور زمےن پر موجود کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے۔( ۱۵ )
علم میراث:
جہاں تک علوم فرائض کا تعلق ہے آپ کی طرح کوئی بھی اس علم میں ثابت قدم نہیں ہے چنانچہ آپ(ع) کے کو دیکھ کر صاحبان عقل دنگ رہ جاتے ہیں اوراس بات کی گواھی دیتے ہیں کہ آپ(ع) اس میدان میں بے مثل و بے نظےر ہیں کوئی اےسا مادی اور معنوی مسئلہ نہیں جس کا جواب آپ(ع) نے عناےت نہ کیا ہو۔ (ھماری جانےں آپ(ع) پر قربان ہوں) آپ (ع)اتنا واضح اور روشن جواب دیتے ہیں کہ عقلیں دنگ رہ جاتےں۔
چنا نچہ آپ (ع)منبر پر تشریف فرما تھے ایک شخص آپ (ع)سے سوال کرتا ہے:
اے امیر المومنین میری بےٹی کا شوہر انتقال کر گیا ہے اس نے کچھ مال و منال چھوڑا ہے اس میں میری بےٹی کونواں حصہ دیاگیا ہے میں آپ(ع) سے انصاف کا طلب گار ہوں۔
حضرت نے فرمایا: یہ بتا کہ اس شخص کی دو بیٹیاں ہیں ۔
وہ کھنے لگا جی ہاں۔
حضرت نے فرمایا:
اس میں تمہاری بیٹی کا نواں حصہ ہے تو اب اس سے زیادہ ایک پائی کا مطالبہ بھی نہیں کرسکتا اس کے بعد آپ(ع) نے دوبارہ خطبہ دینا شروع کیا۔
علی ابن عبیس اربلی (قدس سرہ) کہتے ہیں کہ پلک جھپکنے سے پہلے ہی آپ کے جوابات حاضر ہوتے تھے آ پ کو معلوم ہونا چاھیے کہ حضرت علی علیہ لسلام توصےف کی حدود سے کھیں آگے تھے۔( ۱۶ )
مسئلہ دینار:
آپ کے پاس ایک عورت آئی جبکہ آپ پابہ رکاب تھے۔
کھنے لگی:
اے امیرالمؤمنین میرابھائی مر گیا ہے اس نے چھ ( ۶) سودینار میراث چھوڑی ہے اورانھوں(وارثوں)نے اس میں سے مجھے ایک دینار دیاھے ۔میں آپ سے انصاف کا سوال کرتی ہوں؟
حضرت نے فرمایا : تیرے بھائی کے پسماندگان میں دو بیٹیاں ہیں ۔
اس نے کھاہاں ۔
حضرت نے فرمایا:
ان کے لئے دو ثلث جو کہ چار سو دینار ہے ۔اس کی ایک ماںھے اس کے لئے سدس ہے جو کہ ایک سو دینار ہے اوراس کی ایک بیوی ہے اس کے لئے ثمن ہے جو پچھتر دینار ہے۔ اورتیرے بارہ بھائی ہیں بقیہ پچیس دینار میں سے ان میں ہر ایک کے لئے دو دینار ہیں اورتیرے لیے ایک پس تو نے اپنا حصہ لے لیا ہے۔پھر آپ گھوڑے پر سوار ہوئے اور چلے گئے ۔
علم بلاغت اور علم بیان :
ان علوم میں بھی آپ(ع) کے علم کی حدود تک کوئی نہیں پہنچ سکتا کیونکہ آپ کا کلام امام الکلام ہے معانی اور الفاظ کے ایسے جواھر آپ(ع) کے کلام سے عیاں ہیں جن کی چمک دل میں اترتی ہے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور آپ (ع)کے کلام کی باریکیاں اور نزاکت کوئی نہیں سمجھ سکتا آپ (ع) کا کلام تمام مخلوق کے کلام سے زیادہ فصیح ہے اعلی وپختہ رائے کے حامل ارباب لغت و صنعت یھاں تک کہتے ہوئے نظر آتے ہیں :
ان کلامهم دونَ کلام الخالق و فوقَ کلامِ المخلوق
آپ (ع) کا کلام خالق کے کلام سے کم لیکن تمام مخلوق کے کلام سے بلند و بالا ہے۔
اگر ہم ان علوم کی تفصےل کو بیان کرنا چاھیں جو آپ (ع) کی طرف منسوب ہیں اور آپ مشھورھیں مثلاً علوم ریاضیات ،علوم فلکیات ،علوم حیات ، علوم فلکیات وغیرہ تو ان کے لئے ھمیں طوےل کتب لکھنے کی ضرورت ہے ہم فقط گذشتہ مطلب پراکتفاء کرتے ہیں،اب ہم آپ (ع) کے علم و فضل سے متعلق مشھور روایات کا مختصرتذکرہ کرتے ہیں۔
مسجد نبوی میں آپ (ع) کی خلافت پر بیعت ہونے کے بعد آپ (ع) نے فرمایا :
”یا معشر الناس ،سلوني قبل اٴن تفقدوني سلوني فان عندی علم الاٴولین والآخرین اٴما واللّه لو ثنيت لي الوساده لحکمت بین اٴهل التوارةِ بتوراتِهمو بین اٴهل الانجیل بانجیلهم واٴهل الزبور بزبورهم واٴهل القرآن بقرآنهم حتیٰ یز هر کل کتاب من هذه الکتب ويقول یارب ان علیا قضیٰ بقضائِک“
اے لوگوں مجھ سے سوال کرو اس سے قبل کہ تم مجھے کھو بیٹھو مجھ سے پوچھو کہ میرے پاس اولین اور آخرین کا علم ہے۔
خدا کی قسم اگر میرے لئے مسند علم بچھا دی جائے تو میں اہل تورات کے فیصلے تورات کے مطابق کروں اہل انجےل کے انجیل کے مطابق‘ اہل زبور کے زبور کے مطابق ‘اھل قرآن کے قرآن کے مطابق حکم سناؤ ں گا یہاں تک کہ آپ پر ان میں سے ہر کتاب پوری طرح روشن ہوجائے اور کھے کہ” اے پروردگار علی نے تیرے فےصلوں کے مطابق فیصلے کیے ہیں“۔( ۱۷ )
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
اٴ علم اٴُ متی من بعدي علي بن اٴبي طالب
میرے بعد میری امت میں سب سے بڑے عالم علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔( ۱۸ )
ایک اور مقام پر حضرت رسول اکرم( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے ارشاد فرمایا:
علي وعاء علمی و وصیي وبابي الذي اُوتٰیٰ منه ( ۱۹ )
علی (ع) میرے علم کا مرکز ہے‘ میرا وصی ہے اور میرا اےسا دروازہ ہے جس سے ہر کسی کو آنا ہے۔
جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت علی علیہ السلام کے متعلق سوال کیا گیاتو آپ(ص)نے فرمایا :
قُسمت الحِکمةُ عشرةَ اٴجزاءٍ فاٴعطي علي تسعة اٴجزاء والناس جزء اً واحداً
حکمت کو دس حصوں میں تقسیم کیا گیا جن میں سے نو حصے حضرت علی علیہ السلام کو عطاء کےے گئے اور ایک حصہ تمام انسانوں کو دیا گیا۔( ۲۰ )
عبداللہ ابن مسعود کہتے ہیں :
ان القران اُنزل علیٰ سبعهِ اٴحرف مامنها حرف الالهُ ظهرٌ و بطنٌ ان علي بن ابي طالب عنده علم الظاهر والباطن ( ۲۱ )
قرآن مجےد سات قسم کے حروف میں نازل ہوا ہے۔ ہر حرف کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے صرف علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہی ہیں جنھیں انکے ظاھرو باطن کا علم ہے۔
جناب عائشہ بنت ابو بکر کہتی ہیں :
علی اعلم الناس بالسنه
حضرت علی علیہ السلام سنت کو تمام لوگوں سے زیادہ جاننے والے ہیں۔( ۲۲ )
حضرت علی علیہ السلام فر ماتے ہیں :
میں شب وروز میں جب بھی حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا اوران سے میں کوئی سوال کرتا تو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے جواب عناےت فرماتے۔ جو آیت ان پر نازل ہوتی وہ مجھے سناتے اور اس کی تفسیر اور تاویل کی تعلیم دیتے اور خدا وند عالم کی بار گاہ میں میرے لئے دعا کرتے اور وہ یھی چاھتے تھے کہ مجھے ہر اس علم کی تعلیم دیں جو ان کے پاس ہے۔مجھے حلال و حرام ‘امر ونھی ،اطاعت اور معصےت کے متعلق بتاتے اور میرے سےنے پر ہاتھ رکھ کر فرماتے:
اللهَّم املاء قلبهُ علماً وفهماً و حکماً و نوراً
اے پر وردگار عالم اس کے دل کوعلم و فھم وحکمت اور نور سے بھردے ۔
پھر مجھ سے فرماتے میرے پروردگار عالم نے مجھے خبر دی ہے کہ آپ کے بارے میں میری یہ دعا قبول کرلی ہے ۔( ۲۳ )
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دختر جناب فاطمة الزاھرء سلام اللہ علیھاسے فر مایا :
اٴما ترضین یافاطمه انّي زوجتکِ اٴقدمهم سلماً و اکثر هم علماً ان الله اطّلع اِلیٰ اَهل الارض اِطلاعة فاختار منهم اٴباکِ فجعله نبیا واطلع اِلیهم ثانیةً فاختار مِنهُم بعلکِ فجعله وصیا واٴوحیٰ اِلیّ اٴن اٴنکحَکِ اِیاه اٴما علمتِ یا فاطمه اِنک بکرامة الله اِیاک زوجتک اٴعظمهم حلماً و اٴکثرهم علماً واٴقدمهم سلماً
کیا آپ (ع) اس بات پر خوش نہیں ہیں کہ میں نے آپ (ع) کی شادی اس شخص سے کی ہے جو اسلام میں سب سے اول اورعلم میںسب سے افضل ہے ۔بےشک اللہ جب اہل ارض کی طرف متوجہ ہوا تواس نے پوری مخلوق میں تیرے باپ کو منتخب کیا ہے، اور اسے نبی بنایا اور پھر دوسری مرتبہ اہل ارض کی طرف نگاہ کی تو ان میں آپ(ع) کے شوہر کا انتخاب فرمایا ہے اور ان کو وصی بنایا اور میرے پاس وحی بھیجی کہ میں تیرا نکاح انھیں سے کروں۔
اے فاطمہ کیا آپ (ع)جانتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی کے نزدیک ان کی بہت عظمت ہے۔ میں تیری شادی اس سے کر رھاھوں جو اہل زمےن میں سب سے زیادہ حلیم ‘سب سے زیادہ عالم اور سب سے پھلا مسلمان ہے۔( ۲۴ )
سعد بن جبیر ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر ابن خطاب نے کھا:
علي اٴقضانا
ھم میں سب سے بڑے قاضی حضرت علی علیہ السلام ہیں ۔
اور ا ن سے کئی مرتبہ یہ جملہ سنا گیا :
لولا علي لهلک َعمر
اگر علی (علیہ السلام) نہ ہو تے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔( ۲۵ )
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ حضرت عمر ہر اس مشکل سے اللہ کی پناہ مانگتے جس کی نجات کے لئے حضرت ابو الحسن علیہ السلام نہ ہو ۔( ۲۶ )
جناب ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنھافرماتی ہیں کہ حضرت ر سول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے متعلق فرمایا:
اٴنتَ مع ا لحق والحقُ معک
اے علی (ع) آپ(ع) حق کے ساتھ ہیں اور حق آپ (ع)کے ساتھ ہے۔( ۲۷ )
ابی یسر اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم جناب عائشہ کے پاس موجود تھے وہ کھنے لگیں کس نے خوارج کو قتل کیا ہے تو میرے باپ نے کھاانھیں حضرت علی علیہ السلام نے قتل کیا ہے ۔
حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ یہ جھو ٹ ہے۔راوی کھتا ہے کہ اس وقت مسروق داخل ہوئے تو عائشہ نے اس سے پوچھا کہ خوارج کو کس نے قتل کیا ہے۔وہ کھنے لگا۔
انھیں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے قتل کیا ہے اس وقت حضرت عائشہ نے کھاجو کچھ میں کھناچاھتی ہوں اس کو کوئی روک نھیںسکتا میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:
علي مع الحق والحق معه
علی (ع)حق کے ساتھ ہے اور حق علی (ع)کے ساتھ۔( ۲۸ )
ابو موسی اشعری کھتا ہے کہ میں گواھی دیتا ہوںکہ حق علی (ع)کے ساتھ ہے اور دنیا کا مال ودولت دنیا کے لئے ہے۔ میں نے حضرت پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
یا علی انت مع الحق والحق بعدی معک اے علی (ع)آپ (ع)حق کے ساتھ ہیں اور میری وفات کے بعد بھی حق آپ(ع) کے ساتھ ہی ر ہے گا ۔( ۲۹ )
جناب ام سلمہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
علي مع القرآن والقرآن معه لا یفترقا حتیٰ یردا عليّ الحوض
علی قرآن کے ساتھ اور قرآن علی (ع)کے ساتھ ہے یہ دونوںایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پھنچیں گے۔( ۳۰ )
۲ ۔شجاعت :
ابن حدید کہتے ہیں کہ جہاں تک شجاعت کا تعلق ہے آپ (ع)سے پہلے اور آپ(ع) کے بعد لوگوں میں کوئی بھی آپ(ع) کی شجاعت کو نہیں پہنچ سکا ،مشھور جنگوں میںآپ (ع)نے قیامت تک کے لئے ایسی مثالیں قائم کی ہیں کہ جن تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ وہ ایسے شجاع تھے جنھوں نے کبھی بھی فرار کا راستہ اختیار نہیں کیا اور نہ ہی کسی بھاگتے ہوئے کا پیچھا کیا اور جس نے بھی آپ (ع) کو مبارزہ کے لئے طلب کیا وہ آپ (ع)کے ہاتھوں قتل ہوا۔ آپ کی ایک ہی ضرب کافی ہوتی تھی دوسری ضرب کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی اور حدیث میں ہے کہ آپ(ع) کی ضربیں بہت شدید ہوتی تھیں۔( ۳۱ )
جب حضرت امیر علیہ السلام نے معاویہ سے مبارزہ طلبی کی تاکہ جنگ میں دونوں میں سے ایک کے مارے جانے سے لوگ سکون کی زندگی بسر کر سکیں اس وقت عمر بن عاصی نے معاویہ سے کہا: علی (ع)نے تمہارے ساتھ انصاف کیا ہے۔
معاویہ نے کھاجب بھی تم مجھے نصیحت کرتے وہ میرے فائدے کی ہوتی ہے مگر آج ؟
کیا تو مجھے ابوالحسن کے مقابلہ میں بھیجنا چاھتا ہے حالانکہ تو جانتا ہے کہ وہ بہت بڑے بہادر ہیں یا یہ کہ تو میرے بعد شام کی امارت کی طمع اور لالچ رکھتاھے (یعنی تمہاری نصیحتیں میرے لئے قابل عمل تھیں لیکن آج میں تمہاری نصیحت پر عمل نہیں کروں گا کیونکہ تمہاری نصیحت کا مطلب یہ ہے کہ میں علی علیہ السلام کے مقابلے میں جاؤں اور مارا جاؤں اور تم شام کے حاکم بن جاؤ۔( ۳۲ )
عبداللہ بن زبیر پاؤں سمیٹ کر بیٹھا تھا اس نے معاویہ کو دےکھا تو وہاں سے اٹھا اور معاویہ کے پاس جا کر کھنے لگا علی (ع)نے تمھیں بلایا تھا اگر تو چاھتا تو امن و سکون قائم کرسکتا تھا اور یقینا تجھے ایسا ہی کرنا چاہئے تھا ۔
وہ کھنے لگا شجاعت ہم سے بعید ہے، اس وقت عبداللہ نے کھاتیری شجاعت کو کس نے روکا تھا جب کہ توصف میں علی (ع)کے مقابل کھڑا تھا پھر کھااس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ وہ دائیں ہاتھ سے تجھے اور تیرے باپ کو قتل کرتے ‘باقی رھابایاں ہاتھ تو اس سے دوسروں کو قتل کرتے۔( ۳۳ )
جنگ بدر میں کافروں کے ستر افراد قتل ہوئے ان میں آدھے جنگ بدر میں شریک مومنین نے تین ہزار ملائکہ کے ساتھ مل کر فی النار کیے اور ان مقتولین کے جسموں پر نشانات تھے اور آدھے امیر المومنین علی ابن ابی طالب نے اللہ کی مدد‘ نصرت اور توفیق سے قتل کئے۔ ان مقتولوں میں قریش کے بڑے بڑے شےطان شامل تھے جیسے نوفل بن خولد۔حنظلہ بن ابو سفیان۔ عاص بن سعید بن عاص۔طعیمہ بن عدی اور ولید بن عتبہ وغیرہ ۔( ۳۴ )
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ بدر والے دن مجھے قوم کی جرات دیکھ کر تعجب ہوا ہم نے عتبہ۔ولید ۔شیبہ کو قتل کیا۔ میری طرف حنظلہ بن ابوسفیان حملہ کرنے کے لئے بڑھا جب میرے قریب ہوا تو میں نے تلوار کی ایسی ضرب لگائی اس کی آنکھیں پھٹ گئیں (ایسے لگتا تھا کہ )زمین کی خواہش تھی کہ یہ لوگ قتل کئے جائیں (یعنی زمین کو ان مقتولوں کی ضرورت تھی)( ۳۵ )
جابر انصاری کہتے ہیں کہ جنگ خیبر میں حضرت علی علیہ السلام نے پہلے باب خیبر کو اکھاڑا اور اس کے بعد جنگ کی جبکہ درِ خیبر کو چالیس آدمی کھولتے اور بندکرتے تھے( ۳۶ )
معاویہ بسر ابن ارطاة سے کھتا ہے کہ کیا تو علی(ع) کے ساتھ مقابلہ کرے گا؟ بسر نے کہا:
تو اس کا بھترین حق دار ہے کیا وجہ ہے کہ تومقابلہ نہیں کرتا اور مجھے مقابلے کے لئے بھیجتاھے اس وقت بسر کے نزدیک اس کا چچا زاد بھائی موجود تھا جو کہ حجاز سے آیا تھا اس سے اس کی بیٹی نے کھاتھا: جب بسر ملے تو اسے کھنا کس چیز نے تجھے علی کے مبارزہ کی طرف بلایا ہے تو بسر نے کھااپنی بات کو مجھ پر تمام کرو مجھے شرم محسوس ہوتی ہے کہ میں اس کو پورا کیے بغیر لوٹوں اور وہ موت کے سوا کچھ بھی نہیں ،میرے لئے اللہ کی ملاقات ضروری ہے۔
اگلے دن حضرت علی علیہ السلام لشکر سے دور کسی طرف نکلے آپ (ع)نے اپنا ہاتھ مالک اشتر کے ہاتھوں میں ڈالا ہوا تھا دونوں اتنی دور نکل گئے کہ دکھائی نہیں دیتے تھے اس وقت اچانک چھپے ہوئے بسر نے آپ(ع) کو مبارزہ کے لئے طلب کیا اس وقت وہ پہچانا بھی نہ جاتا تھا۔ اس نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو مقابلہ کے لئے بلایا۔
حضرت علی علیہ السلام نے اس سے عذر خواھی کی لیکن جب وہ قریب ہوا اور آپ(ع) کو طعنہ دیا تو حضرت علی نے اسے اٹھا کر زمین پر دے مارا اور بسر اپنی شرمگاہ کے بل زمین پر گر پڑا اور اس نے اپنی شرمگاہ کوننگی کردی اس طرح بچ گیا اور اس سے کھاکہ ذرا آنکھیں اٹھا کر دیکھو، اور واقعہ کشف ستر کو بیان کرنے لگا۔( ۳۷ )
ابن عباس سے ایک شخص نے سوال کیا: کیا حضرت علی علیہ السلام نے صفین میں جنگ لڑی تھی ؟ابن عباس نے جواب دیا خدا کی قسم میں نے حضرت علی (ع) کے علاوہ کسی شخص کو بھی اپنے نفس پر اس قدر قادر نہیں دیکھا میں نے انھیں دیکھا کہ آپ(ع) میدان جنگ کی طرف نکلتے ہیں آپ(ع) کا سر اٹھا ہوا ہے ہاتھ میں تلوار ہے آپ (ع) لعینوں کی طرف گئے اورانھیں فی النار کیا۔( ۳۸ )
۳ ۔قوت بازو:
قوت بازو اس قدر تھی کہ باقاعدہ ضرب المثل بن گئی یعنی یہ وہ شخصےت ہیں جنھوں نے باب خیبر کو اکھاڑا جبکہ لوگوں کا ایک گروہ اسے اکھاڑنے کے لئے اکھٹا ہوا لیکن اسے نہ اکھاڑ سکا۔
اسی طرح کھاجانے لگا کہ اس ہستی نے ھبل کو کعبہ سے اکھاڑ پھینکا حالانکہ وہ بہت بڑا بت تھاآپ نے اسے اٹھا کر زمین پر دے مارا۔آپ(ع) ہی وہ شخصیت ہیں جنھوں نے اپنی خلافت کے دوران ایک عظیم پتھر کو اپنے ہاتھ سے اکھاڑا اور اس کے نیچے سے پانی نکال لیا جب کہ آپ کے لشکر والے مل کر اکھاڑنے سے عاجزآ گئے تھے۔( ۳۹ )
جابر انصاری کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے درِ خیبر کو اکھاڑا اس کے بعد جنگ کی ،حالانکہ اس دروازے کو چالیس افراد مل کر کھولتے اور بند کرتے تھے۔( ۴۰ )
ابن ابی حدید آپ (ع)کے واقعات میں آپ(ع) کی عظمت کو اس انداز سے بیان کرتے ہیں ۔
اقالع الباب الذی عن هزه
عجزت اٴکفُّ اٴربعون واٴربعُ
اے وہ ہستی جس نے در خیبر کو جڑ سے اکھاڑ دیا جبکہ چالیس ہاتھ اس کو اکھاڑنے سے عاجز تھے۔
جنگ احد کے بعد زید بن وھب ابن مسعود سے پوچھتے ہیں کیا لوگ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے اور فقط حضرت علی (ع)‘ ابودجانہ اور سھل باقی رہ گئے تھے ؟
ابن مسعود کہتے ہیں کہ حضرت علی (ع) کے علاوہ سب لوگ بھاگ گئے تھے (البتہ بھاگنے والوں میں )سب سے پہلے عاصم بن ثابت لوٹے اور پھر ابودجانہ اور سھل بن حنیف لوٹے اور پھر ان کے ساتھ طلحہ بن عبید اللہ بھی وآپس آگئے۔
زید بن وھب سوال کرتا ہے اس وقت ابوبکر اور عمر کہاں تھے ؟
ابن مسعود کہتے ہیں دونوں زندگی بچانے کی فکر میں تھے۔
پھر پوچھا عثمان کہاں تھا؟
جواب دیا وہ تو اس واقعہ کے تین دن بعد تشریف لائے اس سے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کس کام سے بھاگے تھے اور تم کہاں تھے؟
اس نے جواب میںکہا! میں زندگی بچانے گیاتھا ۔
میں نے پوچھا:
اس وقت حضرت کے ساتھ کون تھا؟
اس نے کہا!عاصم بن ثابت اور سھل بن حنیف ۔
میں نے کہا:
علی کا اس مقام پر ہونا تعجب سے خالی نہیں ہے ۔
اس نے کہا:
اس پر فقط تجھے تعجب نہیں ہے بلکہ ملائکہ بھی متعجب ہیں۔
کیا تم نہیں جانتے کہ جبرئیل نے آسمان سے پرواز کرتے ہوئے اسی (احد والے) دن کھاتھا ۔
”لافتی اِلاّ عليلاسیف اِلاّ ذوالفقار“
علی (ع) کے علاوہ کوئی جوان نہیں ہے اورذوالفقار کے علاوہ کوئی تلوار نہیں ہے ۔
وہ کھتا ہے کہ ھمیں کس طرح معلوم ہو گا کہ جبرئیل نے یہ جملے کھے۔
فرمایا تمام لوگوں نے جبرائیل کی یہ ندا سنی اور اس کی تصدیق حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کی۔( ۴۱ )
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب میں نے باب خیبر کو اکھاڑا میرے بازو میں قدرت آئی اور میں نے اس قوم کو قتل کیا اور اللہ نے انھیں برباد کیا ان کے قلعہ کے دروازے کو میں نے اٹھا کر خندق میں پھینک دیا ۔اس وقت ایک شخص نے کھاآپ (ع) اس قدر بھاری دروازہ کیسے اٹھا سکتے ہیں؟
آپ(ع) نے فرمایا یہ میرے ہاتھوں کی طاقت اس دن کے علاوہ بھی ہے۔ کھاگیاھے کہ جب مسلمان اس دروازہ کو اٹھانے لگے جب تک ستر آدمی جمع نہ ہوئے اس کو نہ اٹھا سکے اور جب بھی دروازہ اٹھانا ہوتا تو کم از کم ستر آدمیوں کی ضرورت پڑتی تھی ۔( ۴۲ )
جب خالد بن ولید کو حضرت علی علیہ السلام کے قتل کرنے کا حکم دیا گیا تو وہ تلوار اٹھا کر مسجد میں آگیا اور حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ ہی بیٹھ گیا اس سے کھاگیا تھاکہ جب حضرت ابوبکر نماز کے سلام کو ختم کردیں تو تم حضرت علی (ع) کو قتل کردینا۔
جب ابوبکر نے نماز شروع کی تو خالد کو دئیے جانے والے حکم کے بارے میںفکر لاحق ہو گئی اس وقت وہ تشھد میں تھا اس نے تشھد کا تکرار کرنا شروع کر دیا یہاں تک کہ قریب تھا کہ سورج طلوع ہوجائے پھر سلام شروع کرنے سے پہلے ابو بکر نے کہا:
لاتفعل ما اٴمرتْکَ
جو کام تمہارے ذمہ لگایا گیا ہے اسے انجام نہ دو یہ کھنے کے بعد سلام پڑھنا شروع کردیا۔ حضرت علی علیہ السلام نے خالد سے پوچھا یہ کیا ہے ؟
خالد نے کھامجھے حکم دیا گیا تھا کہ جب سلام پڑھوں تو میں آپ (ع)کی گردن اتارلوں۔
حضرت نے کھاکیا تو میری گردن اتارنے والا ہے ؟
خالد کھتا ہے کہ جیسا مجھے حکم دیا گیا تھا ویسے ہی ہوتا تو میں ضرور کرتا۔
حضرت نے اسے پکڑا اور اٹھا کر زمین پر دے مارا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ(ع) نے اپنی ایک انگلی سے اسے اٹھایا اور گھمایا یہاں تک کہ اس کا کپڑوں ہی میں پیشاب نکل گیا اس وقت آپ(ع) نے اسے نیچے پھینک دیا اور پاؤں سے ٹھوکر ماری اور پھر خالد کو چچا عباس کی سفارش پر چھوڑ دیا ۔( ۴۳ )
۴ ۔زھد وتقوی:
جہاں تک زھد کا تعلق ہے، آپ(ع) تمام زاہدوں کے سردار ہیں اور اسی طرح قطب اور ابدال کے بھی آپ ہی سردار ہیںآپ(ع) کبھی پیٹ بھر کر کھانا تناول نہ فرماتے تھے اور آپ (ع)سب لوگوں سے کم کھانا کھاتے تھے اور سب سے سستا لباس پھنتے تھے۔
عبداللہ بن ابی رافع کھتا ہے کہ میں عید والے دن آپ (ع)کی خدمت میں حاضر ہوا ،ا ٓپ(ع) نے ایک پرانی تھیلی نکالی ہم نے اس میں جو کی ایک خشک روٹی دیکھی آپ (ع)نے اسے نکالا اور تناول فرمانا شروع کیا میں نے عرض کی اے امیر المومنین آپ (ع)اس روٹی کو کس طرح چباتے ہیں فرمایا۔میں ڈرتا ہوں کہ میرے بیٹے اس میں مکھن اور گھی لگادیں ۔( ۴۴ )
عمار بن یاسر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :
اے علی اللہ تعالی نے آپ (ع)کو ایسی زینت سے مزین کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں میں کسی کو عطا نہیں فرمائی اور یھی چیز مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے کہ آپ(ع) دنیا میں سب سے بڑے زاہد اور دنیا سے دوری رکھنے والے ہیں اسی وجہ سے فقراء آپ(ع) سے محبت رکھتے ہیں اورآپ کی اتباع و پےروی کرتے ہیں اور آپ(ع) کوامام جانتے ہیں۔یاعلی (ع) خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جو آپ سے محبت رکھے اور آپ کی تصدیق کرے، اور ھلاکت ہے اس کے لئے جوآپ سے بغض رکھے اور آپ کو جھٹلائے۔( ۴۵ )
عمر ابن عبدالعزیز کہتے ہیں کہ ہم اس امت میں کسی کو نہیں جانتے جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے زیادہ زاہد ہو (یعنی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت علی سب سے زیادہ زاہد ہیں )( ۴۶ )
حضرت علی علیہ السلام روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
مَن زهِدَ في الدنیا علّمهُ الله تعالیٰ بلا تعلم و هداهُ بلاهدایة و جعله بصیراً و کشفَ عنه العمیٰ، و کان بذات الله علیما و عرفان الله في صدره عظیماً
جو شخص اس دنیا میں زھد و تقوی اختیار کرےگا تو اللہ تعالی اسے بغیر معلم کے علم عطا فرمائے گابغیر ہادی کے اس کی ھدایت کرے گا اور اس کو بصیر بنا دے گا اور تا ریکی اور جہالت میں اس کی رھبری کرے گا اور وہ ذاتِ خدا کا عالم بن جائے گااور اس کے سینے میں اللہ کا عظیم عرفان پیدا ہوجائے گا ۔( ۴۷ )
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ میں قصر میں حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا آپ (ع)بیٹھے ہوئے تھے اور آپ (ع) کے سامنے پیالہ میں کھٹا دودھ رکھا تھا اس سے خوشبو آرھی تھی آپ کے ہاتھ میں جؤ کی سخت روٹی تھی آپ اسے اپنے ہاتھوں سے توڑ رھے تھے اور جب وہ ہاتھوں سے نہیں ٹوٹتی تھی تو اپنے گھٹنے پر رکھ کر اس کو توڑتے تھے اور جب آپ (ع)نے اس کو توڑ لیا تو روٹی کو اس پیالے میں ڈال دیا اور فرمایا:
آیئے ہمارے ساتھ کھانا تناول کیجئے۔
میں نے عرض کی مولا میں روزے سے ہوں۔
آپ (ع)نے فرمایا کہ میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا :
من منعه الصیام من طعام یشتهیه کان حقاعلیٰ الله اٴن یطعمه من طعام الجنة و یسقیه من شرابها
جو شخص روزے کی حالت میں ہو، کھانے کی خواہش کے باوجود اپنے آپ کو کھانے سے دور رکھے تو اللہ تعالی کے لئے سزاوار ہے کہ وہ اسے جنت کا کھانا عنایت فرمائے اور آ پ کوشراب سے سیراب کرے گا۔
راوی کھتا ہے کہ میں نے حضرت علی علیہ السلام کے قریب کھڑی ہوئی آپ کی کنیز سے کھااے فضہ تجھ پر وائے ہو، تو اللہ سے اس بزرگ کے حقوق کے بارے میں نہیں ڈرتی کیا کوئی کھجور اور عمدہ کھانا نہیں ہے ۔
وہ کھنے لگی کہ حضرت(ع) فرماتے ہیں کہ ہمارے لئے کھجور اور عمدہ کھانا نہ لایا جائے۔
راوی کھتا ہے کہ جو کچھ میں نے ان کے بارے میں سنا تھا اسکی خبر دیتا ہوں اور کھامیرے ماں باپ ان پر فدا ہوں انھوں نے تین دن سے کچھ تناول نہیں فرمایا یہاں تک کہ اللہ تعالی نے ان کی روح کو قبض کر لیا ۔( ۴۸ )
آپ (ع)کے لباس پر کبھی چمڑے اور کبھی پرانے کپڑے کے پیوند لگے ہوتے تھے اور پھر پیوند پر پیوند لگائے جاتے، آپ(ع) سفید روئی سے بنا ہوا موٹا اور کھر درا لباس پھنا کرتے تھے ۔
اگر آپ (ع)کے لباس کی لمبائی زیادہ ہوتی تو اس کو کاٹ دیتے اور وہ ہمیشہ آپ(ع) کے گھٹنوں تک ہوتا تھا آپ (ع)کی غذا بہت ہی معمولی ہوا کرتی تھی آپ(ع) کبھی نمک کبھی سبزی اور کبھی اونٹ کی چربی کا استعمال کرتے۔ آپ(ع) بہت کم گوشت کھاتے تھے اور اس سلسلے میں فرمایا کرتے تھے کہ اپنے پیٹوں کو حیوانات کی قبریں نہ بناؤ آپ (ع)نے دنیا کو طلاق دیدی تھی شام کے علاوہ پورے عالم اسلام سے آپ (ع)کی خدمت میںبیت المال لایا جاتا تھا آپ(ع) سارا خزانہ غریبوں اور مستحقوں میں تقسیم کرکے خالی کر دیتے اور فرماتے تھے:
هذا جَنايَو خیارُه فیه
اِذ کلُّ جانٍ یدهُ اِلیٰ فیه
یہ میرا دشمن ہے اور اس معاملے میں مجھے مکمل اختیار حاصل ہے اور کیونکہ ہر ظالم کی بازگشت بھی اسی کی طرف ہے۔( ۴۹ )
ابن نباج حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی خدمت میں یہ کہتے ہوئے حاضر ہوئے۔ اے امیر المومنین مسلمانوں کا بیت المال سونے چاندی سے بھر گیا ہے تو حضرت علی علیہ السلام اللہ اکبر کہتے ہوئے، ابن نباج کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اٹھے اور فرمایا:
کوفہ کے لوگوں کو میرے پاس بلا لاؤ۔
راوی کھتا ہے کہ لوگوں میں اعلان کیا گیا جب سب لوگ جمع ہوگئے تو حضرت علی علیہ السلام نے سارا بیت المال مسلمانوں میں تقسیم کر تے ہوئے فرماتے تھے:
اے سونا اور چاندی کسی اور کو دھوکا دینا یہاں تک کہ بیت المال میں کوئی درھم و دینار بھی باقی نہ بچتا۔ پھر فرماتے تھے میرے لئے مصلی لاؤ ،وہاں آپ دو رکعت نماز پڑھا کرتے تھے۔( ۵۰ )
ہارون بن عنترہ اپنے باپ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ میں” خورنق“ میں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور ان کے خدمت میں عرض کی:
یا امیر المو منین اللہ تعالی نے آپ (ص)کو اور آپ(ع) کے اہل بیت کو اس مال میں حق دار بنایا ہے آپ (ع)جتنا مال اپنے لئے لینا چاھیں لے لیں۔
لیکن حضرت علی علیہ السلام نے فرمایاخدا کی قسم مجھے تمہارے مال سے کسی قسم کا لگاؤ نہیں ہے اور یہ میری ذریت ہے جس کے لئے میں اپنے گھر سے نکلا ہوں یا فرمایا جس کی وجہ سے میں مدینہ سے نکلا ہوں۔( ۵۱ )
حضرت علی علیہ السلام نے اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا:
میں نے اپنے پیراھن میں اتنے پیوند لگوائے ہیں کہ اب پیوند لگوا نے والے سے بھی شرم آتی ہے، چنانچہ ایک شخص نے مجھے سے کھاکہ اس پرانے لبا س کو کیوں نہیں دور پھینک دیتے، میں نے اس سے کہا: میرے پاس سے دور ہوجا کیونکہ جو لوگ صبر و استقامت سے کام لیتے ہیں وہی کامیاب ہوتے ہیں۔
عدی ابن ثابت کہتے ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں فالودہ لایا گیا آپ نے اسے کھانے سے انکار کر دیا اورفر مایا ہر وہ چیز جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ کھاتے تھے مجھے وہ چیز اور وہ کھانا پسند نہیں ہے( ۵۲ )
ایک دن حضرت علی علیہ السلا م نے دو موٹے کپڑے خریدے اور قنبر سے کھاان میں سے ایک کا انتخاب کر لو اس نے ایک لباس لے لیا اور اسے پھن لیا اور دوسرے لباس کے بازو لمبے تھے تو حضرت علی علیہ السلام نے اس کی لمبائی کو کاٹ دیا اور خود زیب تن فرمایا۔( ۵۳ )
۵ ۔عبادت اور پر ہےز گاری :
حضرت علی علیہ السلا م تمام لوگوں میں سے سب سے زیادہ عبادت گذار تھے نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے میں آپ کو تمام لوگوں پر برتری حاصل تھی آپ سے ہی لوگوں نے نماز شب اور ضروری اذکار اور نافلہ نمازےں پڑھنا سےکھیں( ۵۴ )
سعید سریہ سے حضرت علی علیہ السلام کی رمضان کی نمازوں کے متعلق سوال کیا گیا تو انھوں نے کھارمضان اور شوال میں سوائے حضرت علی علیہ السلام کے کوئی بھی اس قدر نمازےں نہیں پڑھتا تھا، آپ تو ساری ساری رات عبادت فرماتے تھے( ۵۵ )
ابن حدیدشرح نھج البلا غہ میں لکھتے ہیں آپ کے ذھن میں کوئی اےسا شخص نہیں ہوگا جو ورد کی پابندی اور حفاظت میں اس مقام تک پھنچا ہو ا ہو جس طرح یہ ہستی ہے ۔
جس کے لئے جنگ صفین میں لیلة الھرےر کومصلی بچھا یا گیا وہاں بےٹھ کر آپ نے نماز اور مناجات کی جب کہ نیزے اور تیر آپ کے سامنے آپس میں ٹکرا رھے تھے۔ گھوڑے دائیں سے بائےں گزر رھے تھے۔ جب تک آپ اپنے وظےفہ سے فارغ نہیں ہوئے اس وقت تک آپ نہ پنے مصلی سے اٹھے اور نہ آپ نے جنگ کی ۔( ۵۶ )
۶ ۔ عدل :
حضرت علی علیہ السلام کی زندگی عدل کی بہار تھی آپ(ع) نے اپنے عھد کے دور ان تمام لوگوں کے درمیان مساوات کی حلاوت پیدا کی فقےروں ،مستضعفوں اور محروموں کے درمیان ایسی مساوات قائم کی کہ وہ اپنی مثال آپ ہیں۔
آپ کے علاوہ کسی نے ان غرےبوں کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کیا جوعظیم فتنہ وفساد کے پیدا ہونے کا سبب بنا ےعنی امراء اور مال ودولت کے ساتھ محبت رکھنے والے لوگوں نے غرےبوں کے ساتھ محبت کرنے کی وجہ سے آپ کے خلاف فتنہ برپا کیا حالانکہ خلیفہ ثالث نے لوگوں کے درمیان اقربا پروری کو رواج دیا تھا۔
حضرت علی علیہ السلام اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
زمےن کا ہر وہ حصہ جسے عثمان نے اپنی زمےنوں میں شامل کردیا ہے اور اللہ کے مال سے جو اس نے اپنے ہی لوگوں میں تقسیم کرلیا ہے اس کی ایک ایک پائی بیت المال میں جمع کرنا ہوگی، کیونکہ حق قدےم کسی چیز کو باطل نہیں کرتا میں نے اس مال کودیکھاکہ تم نے اس کو عورتوں کے مھر میں دیدیاھے یا مختلف گھروں میں جاجا کر خرچ کر دیا ہے۔
پھر بھی میں مال کو اس کے اصل مقام پر ضرور لوٹاؤں گا کیونکہ عدل میں وسعت ہوتی ہے ۔اور جس نے حق میں تنگ نظری پیدا کرنے کی کوشش کی اس کی خبر نہ ہوگی۔( ۵۷ )
حضرت علی علیہ السلام نے اپنے کاتب عبداللہ ابی رافع سے فرمایا(جب آپ(ع) بخشش فرماتے تو عبداللہ اس بخشش کے سلسلے میں یاد اشت کیا کرتا تھا ۔ )
سب سے پہلے مہاجرین کو بلایا کر ان کی ہر فرد کو ان کے حصے کے تےن تین دینار دئےے،پھر انصار کوبھی مہاجرین ہی کی طرح دےئے پھر تمام حاضرےن کو چاھے کالے ہوں یا سفید اسی طرح برابر برابر مال دیا ۔
اس وقت سھل بن حنےف کھتا ہے اے امیر المومنین (ع) یہ شخص کل تک تو میرا غلام تھا آ ج میں نے اسے آزاد کیا ہے (کیا اس کا حصہ بھی میرے حصہ کے برابر ہو گا) حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہم اسے اتنا ہی مال دیں گے جتنا تمھیں دیا ہے۔( ۵۸ )
ہارون بن سعد کہتے ہیں کہ عبداللہ ابن جعفر بن ابی طالب حضرت علی علیہ السلام سے کہتے ہیں اے حضرت امیر المومنین علیہ السلام آپ(ع) میری مدد اور خرچ کے لئے حکم صادر فرمائیں کیونکہ خدا کی قسم میرے پاس گھر کا خرچ نہیں ہے مگر یہ کہ میں اس گھوڑے کو بےچوں اور گھر کا خرچ چلاؤ ں توحضرت علی علیہ السلا م نے فرمایا:خدا کی قسم میرے پاس بیت المال میں ایک پائی بھی اضافی نہیں جو میں تمھیں دے دو ں ہاں البتہ اگر تم اپنے چچا کو یہ کھو کہ وہ چوری کرکے تمھیںدے تب توالگ بات ہے ۔( ۵۹ ) (جبکہ ایسا ممکن نہیں ہے۔)
علی ابن یوسف مدائنی کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کے اصحاب میں سے ایک گروہ آپ(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کھاکہ یہ اموال ھمیں عطیہ کر دیں اور عجم کے غلاموں پر قریش اور عرب کے اشراف کو فضیلت دیں کیونکہ اگر آپ(ع) انھیں مال ودولت سے نہ نوازیں گے تو ھمیں خوف ہے کہ یہ لوگ آپ(ع) کو چھوڑ کر معاویہ سے جا ملیں گے۔
حضرت علی علیہ السلام نے ان ارشاد فرمایا:
اس کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ مجھ سے یہ چاھتے ہو کہ میں ظلم و جور کے ذرےعے مدد طلب کروں۔ خدا کی قسم جب تک سورج طلوع کرتا رھے گا اور آسمان پر ستارے چمکتے رھیں گے میں اےسا ھرگز نہیں کروں گا ۔پھر فرمایا: اگر میرا ذاتی مال ہوتا میں تب بھی تمام لوگوں میں برابر برابر تقسیم کرتا لیکن یہاں تو مال بھی انھیں لوگوں کا ہے لہٰذاتمہاری بات میں کےسے قبول کر سکتا ہوں( ۶۰ )
ایک اور روایت میں ہے کہ میں اس طرح کیسے کر سکتاھوں یہ تو اللہ کا مال ہے۔( ۶۱ )
جب آپ (ع)کے بھائی جناب عقیل نے عرض کی تھی کہ بیت المال سے مجھے میرے حق سے زیادہ عناےت فرمائیں توحضرت علی علیہ السلام نے اس سے جمعہ کے روز کا وعدہ فرمایا:
جب جمعہ والے دن عقےل آئے تو آپ نے فرمایا: تو اس شخص کے متعلق کیا کھتا ہے جو ان تمام لوگوں کے ساتھ خیانت کرے۔
عقیل نے کھاوہ برا آدمی ہے۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا کیا تو مجھے یہ کھنا چاھتا ہے کہ ان تمام لوگوں کے ساتھ خیانت کروں اور تجھے مال و دولت عطا کروں۔( ۶۲ )
حضرت علی علیہ السلا م کے اپنے بھائی عقےل کے سلسلہ میںرویہ مشھور ومعروف ہے کہ حجاز میں جب عقےل نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر بیت المال سے مزید خرچ طلب کیا تو حضرت علی علیہ السلام نے مسلمانوں کے بیت المال سے اضافی رقم دینے سے انکار کر دیا جیسا کہ آپ نے اسی بات کو اپنے خطبوں میں بیان فرمایا ہے یہ آپ کی پرھیزگاری اور عدل کی انتھاء ہے۔( ۶۳ )
عقاد اپنی کتاب عبقر یةالامام میں کہتے ہیں حضرت علی علیہ السلا م کا اپنے گھر میں اپنی ازواج اور بچوں کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا جہاںتک تعلق ہے تو آپ اس سلسلے میں بھی زھد وپرھےزگاری کا کامل نمونہ ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام خلیفة المسلمےن جیسی ہستی نے بہت کم مال چھوڑا ہے حضرت علی علیہ السلام نے اپنی پوری رعےت میں مال کے اعتبار سے سب سے کم حصہ چھوڑا ہے جب کہ آپ (ع) خلیفة المسلمین تھے۔( ۶۴ )
حضرت علی علیہ السلام نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیان کردہ عدل مساوات کے سلسلہ میں تمام تقاضوں کو پورا کیااور آپ نے لوگوں کے درمیا ن مال و دولت کو مساوی طور پرتقسیم کیا۔
ھمیشہ اپنے تمام اعمال اور اقوال میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے رھے اور آپ نے اپنی خلافت کے ابتدائی ایام سے ہی تمام لوگوں کے درمیان مال ودولت کو برابر تقسیم کر دیا حا لانکہ آپ سے قبل خلفاء کے دور میں اموال کی تقسیم میں بے حد بد نظمی اور تفاوت تھا۔
پھلے دو خلفاء یعنی حضرت ابو بکر اورحضرت عمر کے دور میں بعض کو پندرہ سے بارہ ہزار تقسیم کیے جاتے جب کہ فقراء اور عوام کو تےن سے چار ہزار تک دےے جاتے۔
خلیفہ سوم کے دور میں تو تقسیم ہو تی تھی اےسا لگتا تھا جیسے زمانہ جاھلیت بد ترےن صورت میں لو ٹ آیا ہو خلیفہ سوم اپنے خاندان کے قریبی لوگوں کو تمام لوگوں پر فوقےت دیتے تھے اور اپنے خاندان کے ان لوگوں کو سردار بنا دیا جو اسلام کے ساتھ جنگوں میں مشرکوں کے طرف دار تھے۔( ۶۵ )
۷ ۔جہاد فی سبےل اللہ
جہاں تک اللہ کی راہ میں جہاد کا تعلق ہے تو آپ کے دوست اور دشمن اس بات کے معترف ہیں کہ آپ ہی مجا ھدوں کے سردار تھے آپ کے علاوہ کوئی جہاد کرنا بھی نہیں جانتا تھا ، (انتھاتک کوئی بشر بھی نہیں پہنچ سکتا۔)
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سب سے مشھور جنگ، جنگ بدر تھی جس میں مشرکین کو سخت شکست اٹھانا پڑی اور اس لڑائی میں مشرکین کے ستر آدمی قتل ہوئے ان میں سے نصف تنہا حضرت علی علیہ السلام کی ذات نے فی النار کئے اور باقی نصف مسلمانوں اور ملائکہ نے مل کر قتل گئے۔( ۶۶ )
زید بن وھب کھتا ہے کہ میں نے ابن مسعود سے دریافت کیا کہ کیا حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سب لوگ چھو ڑ کر بھاگ گئے ،حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ فقط حضرت علی علیہ السلام ابو دجانہ اور سھیل بن حنیف رہ گئے تھے۔
اس نے کھاجی ھاں حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ سب لوگ بھاگ گئے تھے۔
البتہ کچھ لوگ بعد میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹ آئے تھے ان میں سے سب سے پہلے عاصم بن ثابت ،ابو دجانہ اور سھیل بن حنےف تھے بعد میں ان کے ساتھ طلحہ بن عبداللہ بھی آملے۔
میں نے اس سے پوچھا۔
حضرت عمر اور حضرت ابو بکر اس وقت کہاں تھے۔
اس نے کھایہ دونوں بھی رسول خدا کو چھوڑ کر کھیں بھاگ گئے تھے ۔
میں پوچھا حضرت عثمان کہاں تھے۔
اس نے کھایہ صاحب تو اس واقعہ کے تےن دن بعد واپس لوٹے اور ان سے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم کھیں بہت دور بھاگ گئے تھے۔
میں نے ان سے پوچھا: جناب آپ کھاں تھے؟
اس نے کہا:میں بھی انھی لوگوں میں شامل ہوں جو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ کر بھا گ گئے تھے ۔
میں نے پوچھا کہ واپس کون کون پلٹا۔
اس نے کھاعا صم اور سھیل بن حنےف ۔
میں نے اس سے کھاحضرت علی علیہ السلام کا اس مقام پر ثابت قدم رھنا بڑے تعجب کی بات ہے۔
انھوں نے جواب میں کھا۔
صرف تجھے ہی تعجب نہیں بلکہ اس پر ملائکہ کو بھی تعجب ہے کیا تیرے علم میں نہیں ہے کہ اس دن حضرت جبرئےل علیہ السلام نے آسمان کی طرف پرواز کرتے ہوئے یہ قصےدہ پڑھا :
لا سیف اِلا ذوالفقار لا فتی اِلا علي
حضرت علی علیہ السلام سے بڑھ کر کوئی جوان نہیں ہے اور ذوالفقار جیسی کوئی تلوار نہیں ہے۔( ۶۷ )
ربےعہ سعدی کھتا ہے کہ میرے پاس حذےفہ بن یمان آئے میں نے ان سے کھاکہ ہم حضرت علی علیہ السلام اور ان کے مناقب سے متعلق گفتگو کر رھے تھے۔ ہم سے اہل بصرہ نے کھاکہ آپ لوگ حضرت علی علیہ السلام کے فضائل کے متعلق زیادہ روی سے کام لیتے ہیں کیا آپ بھی اس سلسلے میںکچھ کھیں گے؟ حذےفہ کہتے ہیں کہ اے ربےعہ تو حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں جو پو چھنا چاھتا ہے وہ پو چھ۔
والذي نفسي بيده لو وضع جمیع اٴعمال اٴصحاب محمد فی کفة المیزان منذ بعث الله محمداً الیٰ یوم القیامة و وضع عمل عليّ في الکفه الاٴخری لرجح عمل عليّ علیٰ جمیع اٴعمالهم
مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبعوث ہونے کے دن سے لے کر قیامت تک کے تمام اصحاب کے اعمال اگر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دےے جائیںاور حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے اعمال دوسرے پلڑے میں رکھ دیئے جائیں تو حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے اعمال والا پلڑا تمام مسلمانوں کے اعمال والے پلڑے کے مقابلے میں بھاری اور وزنی نظر آئے گا۔
ربےعہ کھتا ہے اس بات کو کوئی قبول نہیں کر سکتا ،حذیفہ فرماتے ہیں یہ تم کےسے کہتے ہو؟ کیوںکوئی نھیںمانے گا۔
ذرا مجھے بتاؤ کہ حضرت ابو بکر ،حضرت عمر اور حذیفہ اوردیگر اصحاب رسول اس دن کہاں تھے جب عمر بن عبد ود ان کو بار بار مقابلے کے لئے بلا رھاتھا!
حضرت علی علیہ السلام کے سوا سب لوگ اس سے مقابلہ کرنے سے گھبرا رھے تھے لیکن جب اس نے حضرت علی علیہ السلام سے مقابلہ کیا تو اللہ تعالی نے حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھ اسے قتل کرایا اور مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں ،حذیفہ ،کی جان ہے ۔
حضرت امیر المومنین (ع) کا فقط اس دن کا وہ عمل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قیامت تک آنے والی امت کے اعمال سے افضل اور برتر ہے۔( ۶۸ )
سلمہ بن الاکوع کہتے ہیں کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابو بکر کو پرچم اسلام دے کر قلعہ خیبر فتح کرنے کے لئے بھےجا تھا لیکن وہ قلعہ خیبر کو فتح کیے بغیر واپس لوٹ آئے پھر اگلے روز حضرت عمر کو بھےجا وہ بھی شکست کھا کر واپس آگئے سھل بن سعد کہتے ہیں کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خیبر کے دن فرمایا :
لاٴعطيّن هذه الرایه رجلاً يفتح اللّه علیٰ یدیه یحبُ اللّهَ و رسولَه ُ
کل میں پرچم اسلام اس شخص کو دونگا جس کے ہاتھوں پر اللہ فتح عطا فرمائے گا وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہوں گے۔
لوگ اس امید پر پوری رات جاگتے رھے کہ کل علم ھمیں ملے گا دوسرے دن حضر ت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حضرت علی علیہ السلام کہاں ہیں؟
اصحاب نے کھایا رسول ان کی آنکھیں پر آشوب ہیں۔حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان کی خدمت میں جاؤ اور انھیں میرے پاس بلا لاؤ۔جب آپ(ع) تشریف لے آئے تو حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ(ع) کی آنکھوں میںا پنا لعاب دھن لگا یا اور آپ(ع) کے لئے دعا فرمائی توآپ (ع)کی آنکھیں اس طرح ٹھےک ہو گئیں گویا کہ ان میں درد تھا ہی نہیں اور آپ کوپرچم اسلام عطا فرمایا۔
حضرت علی علیہ السلام عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ (ص)میں ان کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں گا جب تک وہ اسلام قبول نہ کرلیں تب حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
میدان میں اترنے سے پہلے انھیں رسول کا پیغام سنانا پھر انھیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا اور ان چیزوں کے متعلق بتانا جو اللہ تعالی نے ان پر واجب قرار دی ہیں خدا کی قسم اگر آپ (ع)کی وجہ سے ایک شخص کو بھی اللہ تعالی نے ھدایت دیدی تو آپ کےلئے بہت بڑی نعمتوں سے افضل ہے۔
سلمہ ابن الاکوع کہتے ہیں حضرت علی علیہ السلام میدان جنگ کی طرف روانہ ہوئے خدا کی قسم ہم بھی ان کے قدموں کے نشانوں پر پاؤ ں رکھتے ہوئے ان کے پیچھے پیچھے چل پڑے یہاں تک کہ آپ نے قلعہ کے قریب پر چم اسلام کو پتھر کی ایک چٹان میں نصب کیا ۔
قلعہ کی چھت سے ایک یھودی نے آپ (ع)کو دےکھ لیا اور پوچھا کہ آپ(ع) کون ہیں۔
حضرت نے فرمایا:
میں علی ابن ابی طالب ہوں۔
یھودی کھتا ہے جو کچھ حضرت موسی علیہ السلام پر نازل ہوا تھا اس کو مد نظر رکھتے ہوئے مجھے ےقےن ہو گیا ہے کہ آپ(ع) غالب ہو جائیں گے یا اس نے اس طرح کھاکہ آپ اس وقت تک واپس نہیں لو ٹےں گے جب تک اللہ آپ (ع)کے ہاتھوں فتح نصےب نہ کردے۔( ۶۹ )
ایک اور روایت میں اس طرح بیان ہو ا ہے کہ جب حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حضرت علی علیہ السلام تشریف لا ئے آپ مرےض تھے۔
حضرت(ص) نے آپ (ع)کی آنکھوں اور سر پر اپنا لعاب دھن لگا یا اور آپ(ع) کی آنکھوں میں پھونک ماری اور اس وقت آپ(ع) کے سر کا درد ختم ہو گیا اور آپ (ع)کے لئے اللہ کی بارگاہ میں ان الفاظ کے ساتھ دعا فرمائی :
اللهم قهِ الحرّ و البرد
پروردگا ر ا اسے گرمی اور سردی سے محفو ظ رکھ۔
پھر علم عطا کیا اس علم کا رنگ سفید تھا اور فرمایا:اے علی میدان جنگ میں جاؤ جبرےئل علیہ السلام آپ(ع) کے ساتھ ہیں اور مدد خدا آپ(ع) کے سامنے ہے۔ آپ(ع) کا مخالف قوم کے دلوں میںرعب و دبدبہ ہے۔
یا علی (ع)جان لیجیے کہ ان کی کتب میں موجود ہے کہ جو شخص انھیں تباہ وبرباد کرے گا اس کا نام علی (ع)ھے جب آپ(ع) کا ان سے مقابلہ ہو آپ (ع)ان سے کھیں کہ میں علی(ع) ابن ابی طالب ہو ں اور انشاء اللہ اسی ایک کلمہ کی وجہ سے ان کے دلوں میں آپ (ع)کا خوف طاری ہو جائے گا۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب میں قلعہ خیبر کے پاس پہنچ گیا تو مرحب قلعہ سے باھرنکلااس نے زرہ اور خود (وغیرہ ) پھنا ہوا تھا اس کے سر پر پتھر نما خود تھا جو انڈے کی طرح دکھائی دیتا تھا اور وہ کھنے لگا:
قد عَلِمتْ خیبر اٴني مرحب
شاکي السلاح بطل مجرب
پورا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اور جنگ کے ھتھیاروں سے مکمل آراستہ تجربہ کار بہادر ہوں۔
حضرت کہتے ہیں کہ میں نے اس سے کھا:
اٴنا الذی سمتني اٴُمي حیدره
کلیث غابات شدید قسوره
اٴکیلکم بالسیفِ کیل السندره
میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے اور اس شیر کی مانند ہوں جس کا حملہ اور جھپٹ شدید ہوتا ہے اور میری تلوار کا وار کبھی خطا نہیں کرتا۔
ایک وقت میں ہمارے درمیان تلواریں ٹکرائیں میں نے اس (مرحب) کے پتھر سے بنے ہوئے خود پر وار کیا اور میری تلوار نے اس کے سر اور خود کو کاٹ کر دوحصوں میں بانٹ دیا۔( ۷۰ )
جب حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنگ حنین کے لئے روانہ ہوئے تو اس وقت آپ(ص) کے ساتھ دس ہزار مسلمانوں کا لشکر تھا اکثر مسلمانوں نے گمان کیا کہ اب ھمیں کبھی بھی شکست نہیں ہو سکتی کیونکہ ھماری تعداد بہت زیادہ ہے اور حضرت ابوبکر نے اتنی بڑی جمیعت پر بہت تعجب کیا اور کھاکہ اب ہم قلت کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوں گے ۔
لیکن جب یہ جنگ شروع ہوئی تو مسلمان ثابت قدم نہ رھے اور سب کے سب بھاگ گئے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بنی ہاشم کے نو افراد باقی رہ گئے اور ان
میںدسویں فرد ایمن بن ام ایمن تھے لیکن وہ شھید ہوگئے (اللہ ان پر رحمت نازل کرے )اور فقط نو ہاشمی ثابت قدم رھے ۔
( وَیَوْمَ حُنَیْنٍ إِذْ اٴَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئًا وَضَاقَتْ عَلَیْکُمْ الْاٴَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُدْبِرِینَ ، ثُمَّ اٴَنزَلَ اللهُ سَکِینَتَهُ عَلَی رَسُولِهِ وَعَلَی الْمُؤْمِنِینَ ) ( ۷۱ )
خاص طورپر جنگ حنین کے دن جب تمھیں کثرت تعداد نے مغرور کر دیا تھا اور وہ کثرت تمہارے کام نہ آئی اور تم ایسے گھبرائے کہ وسعت کے باوجود زمین تمھیں تنگ دکھائی دینے لگی اور تم پیٹھ کر کے بھاگ نکلے تب خداوندعالم نے اپنے رسول اور مومنین پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی۔
اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنے رسول اور مومنین پر تسکین نازل فرمائی یہاں مومنین سے حضرت علی علیہ السلام اور ان کے علاوہ وہ آٹھ افراد جو اس جنگ میں ثابت قدم رھے وہ مراد ہیں۔ ان میں عباس بن عبد المطلب(ع)، فضل ابن عباس ،ابوسفیان بن حارث، نوفل بن حرث ،ربیعہ بن حرث، عبداللہ بن زبیر بن عبدالمطلب، عتبہ اور معقب بن ابی لھب شامل تھے لیکن مشرکین کی کمر اس وقت ٹوٹ گئی جب حضرت علی علیہ السلام نے ابوجرول لعنة اللہ علیہ کو قتل کیا ۔( ۷۲ )
ابن حدید کہتے ہیں کہ حضرت علی (ع) کی شجاعت روز روشن کی طرح عیاں ہے اور اس کے متعلق لوگ اس طرح آگاہ ہیں جیسے مکہ اور مصر وغیرہ سے آگاہ ہیں لہٰذا اس سلسلے میں مزید بحث کی ضرورت نہیں ہے ۔( ۷۳ )
۷ ۔ حلم اور عفو:
جہاں تک آپ(ع) کے حلم اور برد باری کا تعلق ہے تو آپ(ع) سب سے زیادہ حلیم اور برد بار تھے۔ جو کچھ ہم نے کھاھے اس کی سچائی جنگ جمل میں اس وقت ظاہر ہوئی جب آپ(ع) مروان بن حکم پر فتح یاب ہوئے ۔اگرچہ اس کا شمار آپ(ع) کے بد ترین دشمنوں اور سب سے زیادہ شدید بغض رکھنے والوں میں ہوتا تھا تب بھی آپ نے اسے معاف کردیا ۔( ۷۴ )
حضرت امیر علیہ السلام کے اصحاب میں سے ایک گروہ نے یہ ارادہ کیا کہ وہ بصرہ کے سرکشوں کے مال و دولت پر قبضہ جمالیں جیسا کہ زمانہ جاھلیت کے اس وقت جنگوں میں ان لوگوں کی عادت تھی،اس وقت حضرت نے(جواب میں) فرمایا کہ ان قیدیوںمیں ام المومنین حضرت عائشہ بھی ہیں کوئی بھی ان کی شان میںجسارت نہ کرے، لہٰذا حضرت نے سب لوگوں کو معاف فرمادیا اور کسی کو اہل بصرہ (کے لشکر) کے اموال کی لوٹ مار کی اجازت نہ دی ۔( ۷۵ )
ابن حدید کہتے ہیں کہ اہل بصرہ آپ(ع) کی اولاد اور لشکر والوں سے جنگ کرتے تھے اور آپ (ع)کو گالیاں دیتے تھے نیز لعن طعن کرتے تھے لیکن جب آپ(ع) ان پر فتح یاب ہوئے تو آپ (ع)نے تلوارنھیںچلائی چنانچہ آپ(ع) کے لشکر کے صفوں میں سے ایک منادی نے ندا دی :
الا لا یُتبع مول ولا یُجهز علیٰ جریح ولا يقتل مستاسر ومن اٴلقیٰ سلاحه فهو آمن ومَن تحیز اِلیٰ عسکر الامام فهو آمن ولم یاخذ اثقالهم ولا سبیٰ ذراریهم ولا غنم شیئاً من اٴموالهم
خبردار کسی بھاگنے والا کا پیچھا نہ کیا جائے کسی زخمی کو کچھ نہ کھاجائے کسی مغلوب کو قتل نہ کیا جائے جو اپنے ھتھیار پھینک دے وہ امن قائم کرنے والا ہے جومیرے لشکر میں شامل ہو وہ بھی امن قائم کرنے والا ہے اور انھیں نہ لوٹا جائے ان کے بچوں کو قید نہ کیا جائے اور ان کے مال کو غنیمت نہ سمجھا جائے ۔ حضرت(ع) چاھتے کہ جو کچھ ان کے ساتھ کیا گیا تھا وہ ان لوگوں کے ساتھ بھی کرتے،اگر چہ حضرت ان کے ساتھ وہی برتاؤ کرسکتے تھے جو ان کے ساتھ کیا گیا تھا۔
لیکن آپ نے سب کچھ بھلا دینے کے بعدعفو و بخشش کا مظاھرہ کیااور حضرت نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی فتح مکہ والی سنت پر عمل کیا اور ان سب کو معاف فرمادیا لیکن حضرت امیر علیہ السلام کے کریمانہ اخلاق کے باوجود ان لوگوں کا بغض و کینہ ٹھنڈا نہ ہوا اور وہ اپنی دشمنی پر ہمیشہ قائم رھے۔( ۷۶ )
جنگ صفین میں جب معاویہ کے لشکر نے دریائے فرات کے پانی پر قبضہ کر لیا تو اس سے شام کے سرداروں نے کھاکہ ان کو پیاسا قتل کر دو جس طرح حضرت عثمان کو پیاسا قتل کیا گیا لہٰذامعاویہ نے حضرت علی علیہ السلام اور ان کے اقرباء پر پانی بند کر دیا۔
لیکن جب حضرت علی علیہ السلام نے فرات پر قبضہ کر لیا اور لشکر معاویہ کو دریائے فرات سے دور دھکیل دیا تو حضرت نے معاویہ کو پیغام بھیجا کہ پانی کے معاملہ میں ہم تمہارے ساتھ وہ نہیں کریں گے جو تم نے ہمارے ساتھ کیا تھا بلکہ ہم اور تم اس پانی پر برابر کے حقدار ہیں ۔( ۷۷ )
عبداللہ بن زبیر بہت سے لوگوں کی موجودگی میں حضرت علی علیہ السلام کو برا بھلا کہہ رہاتھا اور اس نے بصرہ میں ایک دن خطبہ دیا اور حضرت علی کی شان میں گستاخی اور نازیبا کلمات استعمال کئے۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ زبیر ہمارے خاندان کا ایک آدمی ہے عبداللہ بھی ھمارا ہی جوان ہے،جب حضرت علی علیہ السلام جنگ جمل میں کامیاب ہوئے تو اس کو گرفتار کر کے لایا گیاحضرت نے ان سے درگزر فرمایااور فقط اتنا کھاکہ میری نگاھوں سے دور ہوجاؤ اس کے بعد میں تمھیں نہ دیکھوں ۔( ۷۸ )
حضرت امیر علیہ السلام جنگ جمل کے بعد حضرت عائشہ کے پاس گئے وہاں صفیہ ام طلحہ الطالحات نے چلانا شروع کر دیا اور کھااللہ تیری اولاد کو اس طرح یتیم کرے جس طرح آپ نے میری اولاد کو یتیم کیا ہے۔
حضرت نے اس کو کچھ نہ کھاوہاں موجود ایک شخص نے حضرت سے کھامولا آپ اس عورت کی بیھودہ باتوں پر غضبناک کیوں نہیں ہوتے اور آپ اس عورت کے سامنے خاموش کیوں ہو گئے حالانکہ جو کچھ اس عورت نے کھاھے وہ سب آپ نے سنا ہے۔
حضرت اسے چھوڑ کر یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے کہ تم پر افسوس ہو ھمارا تو شیوا یہ ہے کہ ہم مشرک عورتوں سے بھی درگزر کرتے ہیں اور یہ تو مسلمان عورت ہے۔ ہم اس سے کس طرح درگزر نہ کریں ۔( ۷۹ )
ایک مرتبہ حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام وعظ و نصیحت فرما رھے تھے ایک خارجی نے کھڑے ہو کرآپ کے موعظہ کے درمیان خلل پیدا کیا یہ ملعون اورخارجی افراد حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ساتھ انتہائی بغض و حسد رکھتے تھے۔
(یہ لعنتی کھنے لگا )اللہ اس کافر کو قتل کرے جو بہت بڑا فقیہ بنا پھرتا ہے حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کے پیروکار اسے پکڑنے کے لئے جھپٹے حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام نے انھیں یہ فرماتے ہوئے روک دیا کہ یہ یا گالی کے بدلہ میں گالی ہے اور یا خطا کے بدلہ میں معافی ہے ۔( ۸۰ )
ناب ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ کے معاملے کو آپ اچھی طرح جانتے تھے اس کے باوجود جب حضرت کامیاب ہو گئے تو حضرت عائشہ کی تعظیم و تکریم کی، جب مدینہ لو ٹنے لگے تو آپ نے قبیلہ ابن قیس کی بیس عورتوں کو عمامے پھنا کر مسلح ان کے ھمراہ روانہ کیا جب کچھ راستہ طے ہو چکا تو جناب عائشہ کے ذھن میں ایسی بات آئی جو نہیں آنی چاھیے تھی۔
آپ وہاں کھڑی ہو گئیں اور خود سے کھاتیری ھتک عزت کی گئی ہے اور پردے کا خیال نہیں رکھا گیا ہے اور مردوں کے لشکر کے ساتھ واپس بھیجا گیا ہے جب مدینہ پہنچ گئیں تو تمام عورتوں نے اپنے عمامے اتار دیئے اور ان سے کھاھم سب خواتین ہیں ۔( ۸۱ )
سید محسن امین عاملی کہتے ہیں کہ دشمنوں کے ساتھ مروت کرنا آپ کا شیوا تھا خواہ وہ لوگ مروت کے مستحق ہوں یا نہ ہوں، آپ کی مروت کی اکثر و بیشتر مثالےںجنگوں میں بھی ظاہر ہوئی۔
شرافت آپ کا خاصہ تھا آپ کا سینہ کینہ و دشمنی سے محفوظ تھا یہاں تک کہ جو آپ کا بد ترین دشمن ہوتا اور دشمنی میں سب سے زیادہ نقصان دہ ہوتا اس سے بھی کینہ و دشمنی نہ فرماتے۔
آپ کے خلاف سب سے زیادہ کینہ رکھنے والوں میں ابن ملجم ملعون بہت مشھور تھا اس کے خلاف بھی آپ کے دل میں کچھ نہ تھا کیونکہ حضرت امیر علیہ السلام نے اپنے اھلبیت اور اصحاب کو اپنے قاتل کے ساتھ زیادتی کرنے سے منع فرمایا اورکھاکوئی بھی اسے قتل نہ کرے۔( ۸۲ )
ایک اور روایت میں ہے کہ جناب امیر علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت امام حسن علیہ السلام سے فرمایا :
میرے بیٹے اس قیدی کے ساتھ نرمی کرو اس پر رحم کھاؤ اور اس کے ساتھ حسن سلوک اور شفقت و مھربانی سے پیش آؤ۔ کیااس کی آنکھوں کی طرف نہیں دیکھ رھے ہو اس کے دل پر کیا گزر رھی ہے یہ خوف، رعب اور گھبراہٹ سے کانپ رہاھے ۔
حضرت اما م حسن علیہ السلام نے عرض کی بابا جان اس لعین اور بد کردار نے آپ پر قاتلانہ حملہ کیا ہے اور ہم پر مصیبت کا پہاڑ گرادیا ہے اور آپ فرما رھے ہیں کہ اس سے نرمی کی جائے۔
حضرت امیر علیہ السلام نے فرمایا:
جی ہاں، میرے بیٹے کیونکہ ہم اھلبیت ہیں ھمارا شیوہ ہے کہ ہم گناھگاروں کے ساتھ ہمیشہ کرم ،فیاضی، عفو،رحمت اور شفقت سے پیش آتے ہیں۔
میرے پیارے بیٹے تجھے میرے حق کی قسم جو خود کھانا اسے بھی کھلانا جو خود پھننا اسے بھی پھنانا اگر میں اس دنیا سے چلاگیا تو اس سے قصاص لینا اسے آگ میں نہ جلانا اور اس کا مثلہ بھی نہ کرنا کیونکہ میں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :
اِیّاکم والمُثله ولو بالکلب العقور
تم لوگ مثلہ کرنے سے دور رہو اگرچہ وہ باولا کتا ہی کیوں نہ ہو۔
بھرحال اگر میں زندہ رھاتو اسے معاف کرنے کا سب سے زیادہ حق رکھتا ہوں۔( ۸۳ )
۹ ۔ جود و سخا وت:
حضرت امیر المومنین (ع)میں جود و سخاوت حد کمال تک پائی جاتی تھی۔ با لفاظ دیگر آپ(ع) میں روز روشن کی طرح یہ صفت عیاں تھی کہ آپ(ع) اکثر روزہ رکھتے تھے۔خودبھوکے رھتے تھے اور اپنی غذادوسروں کو عطا فرمادیتے تھے ۔آپ کی عظمت کے متعلق یہ آیات نازل ہوئیں :
( وَیُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَی حُبِّهِ مِسْکِینًا وَیَتِیمًا وَاٴَسِیرًاإِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْهِ اللهِ لاَنُرِیدُ مِنْکُمْ جَزَاءً وَلاَشُکُورًا ) ( ۸۴ )
اور اس کی محبت میں محتاج ،یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو آپ کو بس خالص خدا کے لئے کھلاتے ہیں ہم آپ سے جزا اور شکر گزاری کے خواستگار نہیں ہیں ۔
مفسرےن نے بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ آپ(ع) کے پاس فقط چار درھم تھے آپ(ع) نے ایک درھم رات میں ،ایک درھم دن میں ،ایک درھم پوشیدہ طور پر اور ایک درھم واضح اور علانیہ طور پر صدقہ دیا تو اس وقت آپ(ع) کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی:
( الذین یُنفقون اٴموالهم باللیل والنهار سرّاً وعلانیةً )
وہ لوگ جو اپنے اموال کو دن، رات، پوشیدہ اور ظاہر بظاھر (اللہ کی راہ)میں خرچ کرتے ہیں ۔( ۸۵ )
حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام اجرت پر کام کرتے اس سے جو رقم حاصل ہوتی اسے فقیروں اور مسکینوں میں صدقہ کے طور پر خرچ کر دیتے اور بھوک کی شدت کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتے تھے ۔ حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کی سخاوت اور فیاضی کی وضاحت کے لئے آپ (ع)کے بد ترین دشمن معاویہ کی یہ گواھی کافی ہے( اور فضیلت بھی وہی ہوتی ہے جس کی دشمن گواھی دیں )معاویہ نے کھا:
( لو کان لعلي بیتان بیتٌ من تبر(ذهب)و بیت من تبن لتَصدَّق بتبره قبل تبنه )
اگر حضرت علی علیہ السلام کے پاس دو گھر ہوں ایک سونے سے بھرا ہوا ہو اور دوسرا بھوسے سے تو آپ پہلے سونے سے بھرے ہوئے گھر کو صدقہ دیں گے اور اس کے بعد بھوسے سے بھرا ہوا گھرصدقہ دیں گے۔( ۸۶ )
حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کی سخاوت و فیاضی کے لئے یھی کافی ہے کہ آپ(ع) کی ذات کے علاوہ آیت نجوی پر کسی بھی غنی وفقیر صحابی نے عمل نہیں کیا یہاں تک کہ وہ آیت منسوخ ہو گئی اور دوسرے لوگوںکے لئے اللہ تعالی کی طرف سے اس طرح توبیخ اور ملامت ہوئی۔
( اٴاٴشفَقْتُمْ اٴن تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَي نَجْواکُمْ صَدَقَاتٍ )
کیا تم لوگ سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ دینے سے ڈرتے ہو۔ بھرحال آپ کے علاوہ کسی اور نے اس طرح سخاوت نہیں کی۔( ۸۷ )
طبری اپنی تفسیر میں متعدد اسناد کے ساتھ مجاھد کی سند سے اس آیت کے بارے میں بیان کرتے ہیں:
( فقدّموا بین یدي نجواکم صدقه )
حضور سے سرگوشی سے پہلے صدقہ دیں۔
اس واقعہ کے بعد کسی نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ سرگوشی نہ کی فقط حضرت علی علیہ السلام نے ایک دینار صدقہ کے طور پر دیا اور پھر سرگوشی کی جب حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کسی نے صدقہ نہ دیا تو اللہ کی طرف سے یہ چھوٹ مل گئی کہ تم لوگ صدقہ کے بغیر بھی حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سرگوشی کر سکتے ہو ۔( ۸۸ )
شعبی کہتے ہیں حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے اور ایسے اخلاق حسنہ کے مالک تھے جنھیں اللہ دوست رکھتا ہے سخاوت اور فیاضی وغیرہ جیسی خصوصیات آپ(ع) کی ذات میں بدرجہ اکمل موجود تھیں۔
آپ(ع) کسی سائل کے سوال کو ٹھکراتے نہیں تھے ۔( ۸۹ )
اسی طرح جناب امیر المؤمنین علیہ السلام نے اپنے ہاتھوں محنت کی اور خون پسینہ کی کمائی سے اللہ کی رضا اور خوشنودی اور آتش جھنم سے نجات کے لئے ایک ہزار غلام آزاد کئے ۔( ۹۰ )
شعبی ایک غلام کی روایت کو بیان کرتاھے کہ میں کوفہ کے ایک میدان میں گیا اس وقت میرے ساتھ کسی کا غلام تھا۔ میں نے حضرت علی علیہ السلام کو دیکھا وہ سونے چاندی کے ڈھیر کے قریب کھڑے تھے ان کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس سے لوگوں کو پیچھے کر رھے تھے۔
آپ (ع)اس مال کے قریب گئے اور سارا مال لوگوں میں تقیسم کردیا اور وہاں کوئی چیز باقی نہ رھی اور آپ خالی ہاتھ اپنے گھر کی طرف چل دیے۔ راوی کھتا ہے کہ میں اپنے والد کے پاس آیا اور ان سے کھا آج میں نے لوگوں میں ایک نیک اور عجیب شخص کو دیکھا ہے اس کا باپ پوچھتا ہے کہ وہ شخص کون تھا ؟
میں نے کھامیں نے حضرت علی(ع) ابن ابی طالب(ع) کو دیکھا ہے اور پھر سارا قصہ بیان کیا اس نے روتے ہوئے ۔کھابیٹا یقینا تم نے اس کائنات کے بھترین شخص کو دیکھا ہے ۔( ۹۱ )
آپ بیت المال کے کمروں میں پڑا ہوا مال اللہ کی راہ میں دے دیتے اور اس جگہ پر نماز ادا کرتے تھے،اور فرمایا کرتے تھے۔
یا صفراء یا بیضاء غُرّي غیري
اے سونا اور چاندی تم میرے علاوہ کسی دوسرے کو دھوکا دینا حضرت امیر علیہ السلام کے ہاتھ میں شام کے علاوہ پوری دنیا تھی اس کے باوجود آپ نے کوئی میراث نہیں چھوڑی ۔
۱۰ ۔حضرت امیر(ع) کا لوگوں کو غیب کی خبر دینا :
شیخ مفید علیہ الرحمہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید میںحضرت علی کے فضا ئل میں بہت سی آیات موجود ہیں اور وہ حضرت علی علیہ السلام کے معجزات کی طرف رھنمائی کرتی ہیں اور یہ معجزات آپ(ع) کی امامت پر دلالت کرتے ہیں اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ (ع)کی اطاعت واجب ہے اور آپ(ع) تمام لوگوں پر اللہ کی حجت ہیں۔ ان معجزوں میں سے کچھ ایسے معجزے ہیں جن کے ذرےعہ خدا نے انبیا ء اور رسولوں کی نبوت و رسالت کو ظاہر کیا اور ان کی سچائی پر ایک واضح دلیل قرار دیا۔ جناب امیر المؤمےنےن علیہ السلام کے ایسے معجزات ہیں جن کا کوئی انکار نہیں کر سکتا مگر یہ کہ وہ کم عقل، جاھل، بے وقوف اور دشمن ہو۔( ۹۲ )
حضرت کے معجزات میں ایک معجزہ یہ ہے کہ جب آپ نے خوارج سے جنگ کا ارادہ ظاہر کیا تو آپ(ع) سے کھاگیا کہ وہ لوگ نھروں کا پل عبور کر کے دوسری طرف جاچکے ہیں اس وقت آپ(ع) نے فرمایا ان کے گرنے کی جگہ تو پانی کے اس طرف ہے (وہ وہاں کےسے جاسکتے ہیں )خدا کی قسم ان میں دس افراد بھی نہ بچ سکیں گے۔
ابن حدید کہتے ہیں کہ جناب امیر المؤمنین علیہ السلام کی یہ روایت تواتر کے ساتھ بیان کی جانے والی روایات میں سے ہے کیونکہ آپ(ع) کی یہ روایت بہت مشھور ہوئی اور سب لوگوں نے اسے نقل کیا ہے۔
یھی آپ کا معجزہ ہے کیونکہ اس میں آپ(ع) نے غیب کے متعلق خبر دی ہے اگرچہ آپ نے اس کے علاوہ بھی غیب کی بہت سی خبردیں ہیں لیکن یہ ایسی خبر ہے جس میں ذرہ برابر شک و شبہ نہیں ہے کیونکہ اس میں آپ (ع)نے اپنے اصحاب کے متعلق بھی ایک مخصوص عدد کے ساتھ خبر دی ہے اور خوارج کے متعلق بھی ایک خاص عدد فرمایا ہے اور جنگ کے بعد بالکل اسی طرح ہوا جس طرح آپ (ع)نے فرمایا تھا۔
اس میں کسی قسم کی کمی و زیادتی نہیں ہوئی کیونکہ یہ ایک خدا وندی امر تھا۔ جس کو آپ(ع) نے حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اور انھوں نے اللہ سے حاصل کیا تھا ۔
لہٰذا یہ ماننا پڑے گا کہ حضرت علی علیہ السلام اپنے معجزات میں تنہا ھیں ،کوئی دوسرا اس طرح کے معجزات ظاہر نہیں کر سکتا۔ کیونکہ قوت بشر ان امور کو حاصل کرنے سے قاصر ہے۔( ۹۳ )
جب تےن گروھوں نے بےعت توڑی تو حضرت امیر المؤمنین (ع) نے جنگ شروع کرنے سے پہلے فرمایا( اس روایت کو بہت سے لوگوں نے بھی نقل کیا ہے ) مجھے تےن گروھوں ناکثےن، قاسطےن اور مارقےن کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے لہٰذا میں ان سے جنگ کروں گا اور ہوا بھی اسی طرح۔
جناب امیر علیہ السلام جب ”ذی وقار“ مقام پر تشریف فرما تھے تو اس وقت حضرت نے فرمایا :
یاٴتیکُم مِن قِبَل الکوفه اٴلفُ رجل لا یزیدون رجلا ولاینقصون رجلا یبایعوني علیٰ الموت
تمہارے پاس کوفہ کی طرف سے ایک ہزار آدمی آئےں گے ایک ہزار سے ایک آدمی کم یا زیادہ نہیں ہوگا وہ سب لوگ میری اس طرح بےعت کرےں گے کہ خون کے آخری قطرہ تک میری حمایت کریں گے۔
جناب ابن عباس کہتے ہیں کہ جب آپ (ع)نے مندرجہ بالا فرمان دیا تو میں گھبرایا کہ کھیں اےسا نہ ہو کہ اس معےن مقدار میں کمی یا زیادتی ہوجائے اور آپ(ع) کا فرمان درست نہ رھے۔ لوگ کوفہ کی طرف سے آنا شروع ہوئے تو میں ان کو شمار کرنے لگا، شمار کرتے کرتے جب میں نو سونناوے پر پھنچا توکچھ دےر تک کوئی نہ آیا اس وقت میں نے انا للہ وانا... پڑھا اور سوچ میں غرق ہوگیا کہ اس کی کیا توجیہ کروں ابھی میں سوچ ہی رہاتھا کہ ایک شخص آیا آگے بڑھ کر جناب امیر علیہ السلام سے کھنے لگا آپ(ع) ہاتھ بڑھائےں تاکہ میں آپ کی بےعت کروں۔ جناب امیر علیہ السلام نے فرمایا تو کس چیز پر میری بیعت کرے گا۔
اس نے کہا: میں آپ(ع) کی اطاعت کرونگا آپ (ع)کے حکم سے آپ (ع)کے سامنے اس وقت تک جنگ کرونگا کہ یا میں شھےد ہو جاؤں یااللہ تعالی آپ کو فتح مبین عطا فرمائے۔ جناب امیر علیہ السلام نے اس سے پوچھا تیرا نام کیا ہے اس نے کھااویس قرنی۔
حضرت نے فرمایا تو اویس قرنی ہے۔
اس نے کھاجی ہاں میں اویس قرنی ہو ں۔
حضرت نے فرمایا اللہ اکبر مجھے میرے محبوب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے بتایا تھا میرے بھائی تو ایک ایسے شخص سے ملے گا جس کا نام اویس قرنی ہوگا وہ اللہ اور اس کے رسول کے گروہ سے ہوگا اور اسے شہادت نصےب ہو گی اور وہ ربےعہ اور مضر جیسے خاندان کی شفاعت کرے گا۔( ۹۴ )
جناب امیر المؤمنین علیہ السلام کی غیب کی خبروں میںسے ایک یہ بھی ہے کہ زیاد ابن نصر حارثی کھتا ہے کہ میں زیا د کے پاس موجود تھا اس وقت رشید ھجری کو لایا گیا اور اس سے زیاد نے کھاتیرے متعلق تیرے آقا اور مولا (ےعنی حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام ) نے کیا کھاتھا ہم تیرے ساتھ وہی سلوک کرےں گے۔
رشید ھجری کہتے ہیں میرے مولا نے فرمایا تھا :
تقطعون يديَّ ورجليَّ و تصلبونني
میرے ہاتھ پاؤں کاٹ کر سولی پر لٹکایا جائے گا۔
زیاد کھتا ہے کہ خدا کی قسم میں تیر ے مولا کی بات کو ضرور جھٹلاؤں گا۔ اس نے حکم دیا اس کا راستہ چھوڑ دو اور اسے آزاد کر دو جب رشید اس کے دربار سے باھر نکلنے لگا تو زیاد نے کھاخدا کی قسم جو کچھ تیرے مولا نے کھاھے میں تجھے اس سے زیادہ سخت تر عذاب دونگا ۔ حکم دیا اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر سولی پر لٹکا دو۔
رشید ھجری کہتے ہیں کہ میرے مولا امیر المومنین علیہ ا لسلام نے مجھے جو خبر دی تھی اس میں ایک چیز اور باقی ہے، زیاد کھتا ہے کہ اس کی زبان کاٹ دو اس وقت رشید کہتے ہیں کہ خدا کی قسم اب میرے مولا امیر المؤمنین (ع) کی پیشن کوئی سچی ہو گئی ہے۔( ۹۵ )
اخبار غیب میں سے ایک یہ خبر جسے اصحاب سیرہ نے مختلف طریقوں سے نقل کیا ہے کہ حجاج بن یوسف ایک دن کھنے لگا ایک ایسا شخص جو ابو تراب کے چاھنے والوں میں سے ہو اسے میرے پاس لایا جائے تاکہ میں اسے قتل کر کے خدا کا قرب حاصل کروں۔ لوگوں نے اسے بتایا کہ ہم نے قنبر کے علاوہ کسی کو بھی ابوتراب علیہ السلام کی صحبت میں زیادہ اٹھتے بےٹھتے نہیں دےکھا، حجاج نے قنبر کو قتل کرنے کی نےت کی اور اپنے کچھ آدمی بھیجے کہ وہ قنبر کو تلاش کر کے لے آئےں۔
جب قنبر کو لایا گیا تو حجاج نے کھا:
تم قنبر ہو؟ کھاجی ہاں میں قنبر ہوں ۔
حجاج نے کھاکہ قنبر ابو ھمدان۔
کھاجی ہاں۔
حجاج نے کھاکہ علی (ع) ابن ابی طالب (ع)تیرے مولا ہیں۔
کھاجی ہاں اللہ میرا مولا ہے اور حضرت علی علیہ السلام بھترین ولی ہیں۔
حجاج نے کھاکہ اپنے دین میں حضرت علی سے برائت کرو۔
قنبر نے کھااگر میں علی علیہ السلام سے برائت کروں تو کیا تو بتا سکتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام سے بھی کو ئی افضل ہے ۔
حجاج کھتا ہے کہ میں تجھے قتل کر دوں گا۔ انتخاب کرو تم کےسے مرنا چاھتے ہو؟
قنبر کہتے ہیں کہ تجھے اختیار ہے۔
حجاج کھتا ہے: کیوں؟
جناب قنبر کہتے ہیں جس طرح تو مجھے قتل کرے گا اس طرح تجھے قتل کیا جائے گا اس میں کوئی شک نہیں کہ میرے مولا امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا تھا تجھے ذبح کیا جائے گا اور اس سے تیری موت واقع ہو گی حجاج نے کھاکہ اسے ذبح کر دو۔( ۹۶ )
ابن ھلال ثقفی کتاب الغارات میں روایت بیان کرتے ہیں کہ زکریا بن ےحیٰ عطار اور ان سے فضےل اور ان سے محمد ابن علی نے کھاکہ جب حضرت علی علیہ السلام نے”سلونی قبل ان تفقدونی “ (میرے دنیا سے چلے جانے سے پہلے جو کچھ پوچھنا چاھتے ہو مجھ سے پوچھ لو )کا دعوی کیا اور مزید فرمایا ۔
خدا کی قسم کہ تم لوگ مجھ سے اس گروہ کے متعلق سوال نہیں کرو گے جو ایک سو آدمیوں کو گمراہ کرے گا اور اس گروہ کے متعلق بھی سوال نہیں کرو گے کہ جو ایک سو آدمیوں کو ھدایت کرے گا مگر میں تمھیں اس گروہ کی مہار تھام کر چلنے والے اور اس گروہ کے پس پشت مدد کرنے والے کے متعلق آگاہ کرونگا۔
اس وقت ایک شخص کھڑا ہوااور اس نے کھاکہ آپ مجھے بتائےں کہ میرے سر اور داڑھی کے کتنے بال ہیں ۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: خدا کی قسم میرے حبےب نے مجھے خبر دی ہے تیرے سر کے بال کے ساتھ ایک فرشتہ بےٹھا ہوا ہے جو تجھ پر لعنت کرتا ہے اور تیری داڑھی کے ہر بال کے نیچے ایک شےطان ہے جو تجھے گمراہ کرتا ہے اور تیرے گھر میں ایک بھیڑ ہے جو حضرت رسول خدا(ص)(ص)(ص)(ص)کے بےٹے کو قتل کرے گا اور اس کا بیٹا (امام ) حسین علیہ السلام کا قاتل ہوگا ابھی وہ بچہ ہے جو گھٹنوں کے بل چلتا ہے اور وہ سنان بن انس النخی ہے ۔( ۹۷ )
انھی غیب کی خبروںمیں ایسی بہت ساری متواتر خبرےں ہیں جنھیں حضرت امیر علیہ السلام نے اپنی وفات سے پہلے ذکر کیا تھا مثلاً میں دنیا سے شھےد ہو کر جا ؤں گا اور میرے سر پر ضربت لگے گی اور رےش مبارک سر کے خون سے رنگےن ہو جائے گی آپ نے جس طرح خبر دی تھی بالکل اسی طرح واقع ہوا۔
اسی طرح حضرت امیر علیہ السلام کا یہ فرمان ہے اس بدبخت انسان پر کون روئے گا؟ جب وہ میرے سر کو خون سے رنگےن کرے گا( ۹۸ )
ان خبروں میں ایک ایسی خبرھے جسے ثقات راویوں نے نقل کیا ہے۔
ماہ مبارک رمضان ،میں حضرت علی علیہ السلام ایک رات حضرت امام حسن علیہ السلام کے ہاں روزہ افطار فرماتے اور ایک رات ابن عباس کے پاس روزہ افطار کرتے لیکن آپ تےن لقموں سے زیادہ تناول نہ فرماتے ۔
آپ (ع) کے دونوں بےٹوں حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام میں سے کسی ایک نے عرض کیا :بابا جان آپ اتنی تھو ڑی مقدار میںکھانا کیوں تناول فرماتے ہیں۔
جناب علی علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: میرے بےٹے مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میرے پاس خدا کا امر ےعنی ملک الموت آئے اور میں اس حالت میں ہوں کہ میرا پیٹ بھرا ہوا ہو۔
راوی کھتا ہے اس بات کو کھے ہوئے ایک یا دو راتیں ہی گزری تھیں کہ آپ کو ضربت لگی۔( ۹۹ )
جناب امیر علیہ السلام جب خوارج سے جنگ کرنے میں مشغول تھے اس وقت فرمایا کہ اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ تم لوگ عمل کرنا چھوڑ دو گے تو میں تمھیں اس بات کی خبر دیتا جس کا فےصلہ اللہ نے پیارے نبی کی زبان پر جاری فرمایا۔
آپ فرماتے ہیں کہ جو لوگ اپنی گمراہی کو جاننے کے باوجود جنگ کرےنگے اور ان میں ایک شخص اےسا ہو گا جس کی گردن چھو ٹی اور ہاتھ ناقص الخلقت ہو نگے اور اس کے دونوں کندھے تنگ ہو نگے اور ایک کندھے کے اوپر عورت کے پستا ن کی طرح گوشت ہو گا وہ مخلوق خدا میں بدترےن ہوگا اس کا قاتل اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک محبوب ترےن اور مقرب ترےن افراد میںسے ہوگا۔
جب جنگ کے بعد اژدھام ہٹا تو جناب امیر اسے تلاش کرتے ہوئے فرمارھے تھے نہ میں نے جھوٹ بولا ہے اور نہ ہی میں جھٹلایا گیا ہوں یہاں تک کہ وہ شخص نظر آگیا جب اس شخص کی قمےص کو پھاڑ کر دےکھا گیا تو واقعا اس کے کندھے پر گوشت کا لو تھڑا تھا اور بالکل عورت کے پستان کی طرح لگ رہاتھا ،اس کے اوپر بال تھے جب بالوں کو کھےنچا جاتا تو تو وہ لو تھڑا اکھٹا ہو جاتا اور جب چھو ڑا جاتا تو وہ دوبارہ اپنی جگہ پر چلا جاتا تھا۔
اس وقت جناب امیر علیہ السلام نے بلند آواز میں فرمایا اللہ اکبر پھر کھااس میں با بصےرت شخص کے لئے عبرت ہے۔( ۱۰۰ )
۱۱ ۔مضبوط رائے ، حسن تدبیر و سیاست :
ابن حدید کہتے ہیں:
کان علي علیه السلام، من اٴسداِّ الناس رایاً واٴصحّهم تدبیرا
حضرت علی (ع)ابن ابی طالب علیہ السلام لوگوں میں سب سے زیادہ صحیح الفکر تھے۔( ۱۰۱ )
قارئین کرام ! اس مقام پر چند ایسے شواھد واضح طور پر بیان کرتے ہیں جن سے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے یہ اوصاف واضح اور روشن ہو جائیں گے ۔
جب جناب حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دے کر فارغ ہوئے آپ(ع) نے کفن دیا اور تنہا نماز جنازہ پڑھی یہاں تک کہ کسی نے آپ(ع) کا ساتھ نہ دیا کیو نکہ مسلمان مسجد میں اپنی سوچ میں غرق تھے کہ کون آپ(ع) کی نماز جنازہ کی امامت کرے اور آپ(ص) کو کھاں دفن کیا جائے اتنی دےر میں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس طرح زندگی میں ہمارے امام تھے، اسی طرح انتقال کے بعد بھی ہمارے امام ہیں لہٰذا آ پ لوگ گروہ گروہ ہو کر امام کے بغیر ہی نماز جنازہ پڑھ کر چلے جائیں اور اللہ تعالی نے جس جگہ بھی نبی کی جان کوقبض کیا اسی مقام پر اس کا مدفن قرار دیا ہے ۔میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی حجرے میں دفن کروں گا جہاں ان کی روح نے عالم بالا کی طرف پرواز کی ہے۔چنانچہ تمام لوگوں نے اس بات کو تسلیم کیا اور اس بات پر راضی ہو گئے۔( ۱۰۲ )
حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہی تھے جنھوں نے اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ تا ریخ اسلام کی ابتداء ہجرت سے قرار دی جائے ۔
حضرت عمر نے لوگوں کو جمع کیا اور ان سے پو چھا کہ کس دن سے سال کا آغاز کیا جائے۔ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا :
جس دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت فرمائی تھی اور کفر شرک کی زمےن کو خیر باد کیا تھااسی دن سے سال کا آغاز کیا جائے حضرت عمر نے آپ کے مشورے کے مطابق ہجرت کو ہی سال کی ابتداء کا دن قرار دیا اور بقیہ لوگوں کی رائے کو اھمےت نہ دی۔( ۱۰۳ )
حضرت علی علیہ السلام کی عمدہ رائے پر مشتمل ایک اور روایت یہ ہے کہ کوفہ کے مسلمانوں میں یہ خبر پھیلی کہ فارس کا ایک بہت بڑا لشکر جمع ہو کر حملہ کرنا چاھتا ہے، کوفہ کے مسلمانوں نے حضرت عمر کو اس کی خبر دی حضرت عمر یہ خبر سن کر انتہائی پریشان ہوگئے اور مسلمانوں کو اکھٹا کرکے اس کے متعلق مشورہ کرنے لگے۔ حضرت طلحہ نے مشورہ دیا کہ ھمیں خود ہی نکل کر حملہ کرنا چاھیے عثمان نے کھااھل شام شام سے نکلیں اہل یمن یمن سے اور مکہ اور مدینہ والے یہاں سے اور اہل کوفہ اور بصرہ والے کوفہ اور بصرہ سے سب نکلیں اور اکھٹا ہوجائیں تاکہ تمام مومنین تمام مشرکوں کے سامنے آجائیں۔ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر اہل شام شام سے نکلیں تو روم والے ادھر سے حملہ کر دیں گے۔ اگر اہل یمن یمن سے نکلیں گے تو حبشہ والے پیچھے سے حملہ کر دیں گے اور اگر حرمین والے نکلیں گے تو تجھ پر اطراف سے عرب ٹوٹ پڑیں گے ۔
مزید یہ کہ ہم نے کبھی بھی حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں کثرت کے بل پوتے پر فتوحات حاصل نہیں کیں بلکہ بصیرت کے ساتھ انھیں فتح کیا جب عجم والے تم پہ نظریں جمائیں گے تو کھیں گے یھی مرد عرب ہے اگر تم اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دو تو گویا تم نے عرب کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور یہ ان کے دلوں پر زیادہ سخت ہے ۔
لیکن میں سوچتا ہوں کہ اس طرح ہم ان کی نظروں کو دھوکا دیں گے اور تم اہل بصرہ کی طرف لکھو کہ وہ تین گروھوں میں بٹ جائیں ایک گروہ بچوں اور عورتوں کے پاس چھوڑ دو اور ایک گروہ کو عھد کرنے والوں کی حفاظت پر مامور کردو تا کہ وہ اپنا عھد نہ توڑیں اور ایک گروہ کو لشکر اسلام کی مدد کے لئے روانہ کر دو۔
حضرت عمر نے کھا: یھی بھترین رائے ہے جو مجھے بھی پسند ہے لہٰذا اسی پر عمل کرو پھر حضرت علی علیہ السلام کے قول کی تکرار کرنے لگے اور اس کے عجائبات کی وضاحت کرنے لگا اور اسی پر اس نے عمل کیا۔( ۱۰۴ )
حضرت امیر علیہ السلام ایسی شخصیت ہیں جنھوں نے عثمان کو ان امور کا مشورہ دیا تھا جس میں اس کی بھتری تھی اگر وہ ان مشوروں کو قبول کرلیتا تو اس کے ساتھ وہ مسائل پیش نہ آتے جو مشورہ پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے پیش آئے ۔( ۱۰۵ )
ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ تم اچھی طرح جان لو کہ جس قوم نے حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے فضائل کو نہیں پہچانا اور انھوں نے گمان کیا ہے کہ حضرت عمر ان سے زیادہ سیاست دان تھے اگرچہ حضرت علی علیہ السلام حضرت عمر سے زیادہ علم رکھتے تھے۔ اسی طرح جو لوگ آپ(ع) کے دشمن تھے یا آپ (ع)سے عداوت رکھتے تھے انھوں نے معاویہ کو حضرت علی علیہ السلام سے زیادہ سیاست دان اور سب سے بھتر تدبیر کرنے والا جانا۔
ابن ابی الحدید ان توھمات کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: لوگوں کی رائے میں کوئی سیاست دان سیاست کی انتہاء کو اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک اپنی رائے پر عمل پیرا نہ ہو اور جس چیز میں صلاح ہو اس کو اختیار کر لے خواہ وہ شریعت کے موافق ہو یا نہ ہوا ور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ امور مملکت چلا سکیں ۔جبکہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام خود کو شریعت کی حدود کا پابند سمجھتے تھے ۔
میدان جنگ میں ان جنگی حیلوں اور تدبیروں کی پروا نہ کرتے جو شریعت کے موافق نہ ہوتے ۔اسی طرح فتنہ عثمان‘ جنگ جمل ‘صفین اور نھروان کے فتنوں میں تمام امورپر شریعت کی حدود میں رھتے ہوئے قابو پایا۔( ۱۰۶ )
حضرت علی علیہ السلام فرماتے تھے اگر دین کا پاس و لحاظ نہ ہوتا تو میں عربوں میں سب سے زیادہ حیلہ گر ہوتا ۔
حضرت نے یہ جملہ کئی مرتبہ دھرایا: (میں نے )انکے دلوں کو کئی مرتبہ پھرتے ہوئے دیکھا اور چھروں پر حیلہ‘ مکروفریب کے آثار اور رائے میں تبدیلی کو واضح طور پر محسوس کیا۔
خدا کی قسم معاویہ مجھ سے زیادہ حیلہ گر نہیں ہو سکتا لیکن وہ فسق وفجور کا مرتکب ہوا ہے اور اگر ظلم و جور نا پسندیدہ نہ ہوتا تو میں لوگوں کی نسبت زیادہ اچھے انداز میں اسے پیش کرتا۔( ۱۰۷ )
جاحظ کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام ایسی ذات ہیں جنھوں نے اپنے قول وفعل کو پرھیز گاری سے آراستہ کیا ہوا تھا اور اپنے ہاتھوں کو ہر مینڈھے کے شکار سے روکا ہوا تھا فقط وہی کچھ کہتے اور کرتے تھے جس میں خدا کی خوشنودی ہوتی تھی ۔
جب لوگوں نے معاویہ کے بہت زیادہ حیلے اور بہانے دیکھے اور حضرت علی علیہ السلام نے اس کے خلاف کچھ نہ کیا تو ان لوگوں نے گمان کیا کہ معاویہ بڑا عاقل اور بڑا عالم ہے۔ اس گمان کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کا معاویہ کی طرف زیاد ہ اورحضرت علی علیہ السلام کی طرف کم رجحان تھا۔آپ کو یہ مد نظر رکھنا چاھیے کہ کیا یہ دھوکا نہیں ہے کہ معاویہ نے قرآن کو نیزوں پر بلند کیا پھر یہ ملاحظہ فرمائیںکیا کہ انھوں نے حضرت علی علیہ السلا م کی رائے اور حکم کی نافرمانی کر کے دھوکا نہیں دیا ۔
ھم یہ بھی جانتے ہیں کہ تین آدمیوں نے حضرت علی علیہ السلام معاویہ اور ابن عاص کو قتل کرنے پر اتفاق کیا پس اس کے بعد اتفاق تھا یا امتحان تھا ان تینوں میں فقط حضرت علی علیہ السلام شھید ہو گئے۔ یہ تمہارے مذھب کا قیاس ہے کہ وہ دونوں یعنی عمر اور معاویہ اپنی سیاست کی وجہ سے بچ گئے ہیں اور حضرت علی علیہ السلام اس لئے شھید ہو گئے ہیں کہ انھوں نے عمدہ سیاست نہ کی، بھر حال واضح ہے کہ وہ مقام امتحان اور مصیبت میں تھے اور ان کی اتباع کرنے والا کوئی نہ تھا۔( ۱۰۸ )
علامہ سید محسن الامین کہتے ہیں:
بعض اوقات وہ لوگ جو آپ کے متعلق کچھ نہیں جانتے وہ یہ گمان کرتے ہیں یا ان کا عقیدہ یہ ہے یا ان پر خواہشات نفسانی غالب آچکی ہیں یا ان پر اپنے بزرگوں کی تقلید کا اثر ہے (ان لوگوں کا خیا ل ہے کہ)حضرت علی علیہ السلام کی رائے کمزور تھی اور دوسروں کی نسبت سوچ اور فکر بھی کم رکھتے تھے ۔
اور اس پر دلیل یہ قائم کرتے ہیں کہ آپ اپنی خلافت کے زمانہ میں امر خلافت کو صحیح طور پر نہ چلا سکے جبکہ معاویہ مملکت اسلامیہ کے بہت بڑے حصے پر غالب تھا اس کے باوجود حضرت علی علیہ السلام نے کھاکہ میں اسے والی شام نہیں سمجھتا اور میں اسے اس عھدہ سے معزول کرتا ہوں۔ مزید یہ کہ حضرت علی علیہ السلام لوگوں کے ساتھ مساوات کو مدنظر رکھتے تھے جب کہ یہ چیز بھی لوگوں کی رائے کے خلاف ہے ان کا خیال ہے کہ آپ کو چاھیے تھا کہ آپ لوگوں پر بیت المال لٹاتے تا کہ وہ لوگ آپ کے ساتھ رھتے جیسا کہ معاویہ نے بیت المال لٹایا لوگ اس کے ساتھ ہو گئے ۔
ان خرافات کا جواب واضح اور روشن ہے اس سلسلہ میں کسی طویل گفتگو کی ضرورت نہیں ہے ان کے جواب میں فقط اتنا کھنا کافی ہے کہ آپ کسی مملکت کے طلبگار نہیں تھے آپ کو حکومت کی چاھت بھی نہ تھی اورآپ دنیا کے طالب بھی نہیں تھے۔
بلکہ آپ کا ھدف بہت بلند تھا آپ کا مقصد جداگانہ تھا اور آپ کا مطلوب بہت عالی تھا اور وہ مطلوب فقط رضا خداوندی تھا، حق کا پرچم بلند کرنا تھا اور باطل کو جڑ سے اکھاڑنا تھا ۔آپ کے نزدیک دنیا، مال اور ملک ایک مکھی کے بال برابر بھی نہ تھے، یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ ان چیزوں کی طرف متوجہ ہوتے جو ان کے ھدف اور مقصد کے برعکس تھیں۔
ایک اور جگہ پر سید امین کہتے ہیں: یہ کیسے ممکن تھا بادشاھت کی خاطر اس باطل کے ساتھ تعلق قائم کر لیتے حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
والله لو اٴُعطيتُ الاقالیم السبعة بما تحت اٴفلا کها علی اٴن اٴُعص الله في نملة اسلبها جلب شعیره مافعلت
خدا کی قسم اگر مجھے ساتوں زمین اور آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان تمام کی بادشاھت اس شرط پر دی جائے کہ میں اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے چیونٹی کے منہ سے دانہ نکال لوں تو میں علی (ع) ایسی حکومت لینے کے لئے تیار نہیں ہوں۔
حضرت علی علیہ السلام وہ ہستی ہیں جنھوں نے شوریٰ والے دن عبدالرحمن بن عوف کی بیعت کو قبول نہ فرمایا مگر کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول خدا صلی علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق نہ تھی اور آپ(ع) نے سیرت شیخین پر عمل کرنے سے انکار کر دیا تو انھوں نے خلافت اس شخص کے حوالے کر دی جس نے سیرت شیخین کی شرط کو قبول کر لیا تھا( ۱۰۹ )
جہاں تک سیاست کا تعلق ہے آپ (ع) کی سیاست ذات خد اسے متعلق اٹل اور ٹھوس تھی عمل کے میدان میں کسی سے رواداری نہیں کرتے تھے حتی کہ اپنے چچا زاد بھائی اور حضرت عقیل کی بات کو بھی نظر اندا ز کر دیا ‘لوگوں کو کفار کے مقابلہ میں ابھارا اورمصقلہ بن ھبیرہ جریر بن عبداللہ البجلی کے گھروں کو گرایا،مخالفین خدا کے ساتھ قطع تعلق کیا‘ ان کی جگہ دوسروں کو دی۔ یھی وہ خصوصیات ہیں جو حقیقی امام اور متقیوں کے سردار میں واضح طور پر پائی جاتیں ہیں۔( ۱۱۰ )
۱۲ ۔راسخ الایمان :
عمر ابن خطاب کہتے ہیں کہ میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں تھا میں نے انھیں یہ فرماتے ہوئے سنا :
لو اٴن السماوات السبع والاٴرضین السبع وضعن في کفه میزان و وضع اِیمان علي في کفة میزان لرجح اِیمان علي
اگر ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو ترازو کے ایک پلڑے میں اور دوسرے پلڑے میں جناب علی (ع)کے ایمان کو رکھا جائے تو علی (ع) کے ایمان والا پلڑا بھاری نظر آئے گا۔( ۱۱۱ )
ربیعی بن حراش کہتے ہیں کہ مجھے حضرت علی علیہ السلام نے” رحبہ “کے مقام پر بتایا کہ قریش جمع ہو کر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آئے ہیں اور ان لوگوں میں سھیل ابن عمرو بھی تھا انھوں نے کہا:
اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمارے چند صلح پسند افراد آپ (ص)کے ساتھ مل گئے ہیں وہ ھمیں وآپس لوٹادیں۔
حضرت غضبناک ہوئے اور آپ (ص)کے چھرہ اقدس پر غضب کے آثار نمایاں تھے آپ(ص) نے فرمایا:
اے گروہ قریش اللہ تم پر ایسے شخص کو مبعوث کرے گا جو تم میں سے ہوگا۔اللہ نے ایمان کے لئے اس کے قلب کا امتحان کر لیا ہے۔ وہ دین کی خاطر تمہاری گردنوں کو کاٹے گا ۔لوگوں نے سوال کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کیا وہ ابوبکر ہے فرمایا نہیں ۔
انھوں نے پو چھاکیا وہ عمر ہے ؟
فرمایا نھیں،بلکہ وہ شخص ہے جو اپنے حجرہ میں اپنے جوتے کو پیوند لگا رہاھے۔ لوگوں نے اس بات کو بڑا مشکل سمجھا ۔
آپ (ع)نے فرمایا کہ میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :
لاتکذبوا عليَّ فاِنه مَن کذب عليَّ متعمدا فلیلج النار
علی (ع) کو نہ جھٹلاؤ جو شخص بھی علی (ع)کو جھٹلائے گا اسے یقین کر لینا چاھیے کہ اسے آگ میں ڈالا جائے گا ۔( ۱۱۲ )
حضرت علی علیہ السلام کہتے ہیں کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح خیبر کے دن فرمایا:
اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ میری امت کے بعض لوگ ایسی باتیں کھیں گے جو عیسائی حضرت عیسی ابن مریم سے متعلق کہتے ہیں ۔تو آج میں تمھیں علی (ع)سے متعلق وہ باتیں بتاتا کہ پھر جہاں سے بھی علی(ع) کا گزرہو تا مسلمان اس کے قدموں کے مٹی اٹھا کر چومتے اور آپ (ع)کے وضو کا پانی جمع کرتے اور اس سے شفاء حاصل کرتے۔
لیکن ائے علی (ع)میں آپ(ع) کے متعلق صرف اتنا کھتا ہوں :
اٴن تکون مني واٴنا منک تَرثني واٴرثک واٴنت مني بمنزلة هارونَ من موسیٰ اِلا اٴنّه لا نبي بعدي اٴنت تؤدّي دیني وتقاتل علیٰ سنتي و اٴنت في الآخرةِ اٴقرب الناس منّي و اٴنت غدا ً علیٰ الحوض خلیفتي تذود عنه المنافقین واٴنت اٴول من یَرِدْ علي الحوضِ و اٴنت اٴول داخل الجنةفی اٴُمتي واٴن شیعتک علیٰ منابرمن نور رواء مرويیّن مبیضّهَ وجوههم حولي اٴشفع لهم فیکونون غداً في الجنة جیراني
اے علی (ع)آپ (ع)مجھ سے ہیں اور میں آپ (ع)سے، آپ(ع) میرے وارث ہیں اور میں آپ(ع) کا وارث ہوں آپ (ع)کو مجھ سے وہی نسبت ہے جوحضرت ھارون کو حضرت موسی سے تھی لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔
آپ(ع) میرا قرض ادا کریں گے‘ میری سنت پر جنگ کریں گے‘ آخرت میں بھی آپ تمام لوگوں کی نسبت مجھ سے زیادہ قریب ہوں گے اور کل روز قیامت حوض کوثر پر آپ میرے خلیفہ ہوں گے۔
وہاں سے منافقوں کو دھتکارا جائے گا اور سب سے پہلے آپ(ع) حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے آپ سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے اور آپ کے شیعہ نور کی اماریوں میں ہوں گے۔
اور میرے اردگرد ان کے چھرے منور ہوں گے‘ میں ان کی شفاعت کروں گا اور کل وہ جنت میں میرے ھمسایہ ہوں گے۔
حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مزید فرمایا :
واٴن الحقَ معک والحقُ علی لسانِک وفي قلبِک و بین عینیک والاٴیمان مخالط لحمَک و دمَک کما خالطَ لحمي و دمي ( ۱۱۳ )
اے علی (ع)حق آپ (ع)کے ساتھ ہے اور آپ (ع)کی زبان پر حق ہے‘ آپ (ع)کے دل میں حق ہے‘ آپ (ع)کی دونوں آنکھوں کے درمیان حق ہے۔
(یعنی آپ جو کچھ دیکھیں گے وہ حق ہوگا)اور ایمان آپ (ع)کے گوشت اور خون میں اس طرح رچا ہوا ہے جس طرح میرے گوشت اور خون میں رچا بساھوا ہے۔
دو آدمی حضرت عمر کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ لونڈی کی طلاق کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے۔
حضرت عمر نے کھڑے ہو کرحضرت امیر المومنین علیہ السلام سے یھی سوال دریافت کیا کہ لونڈی کی طلاق کے متعلق آپ (ع)کی کیا رائے ہے۔
حضرت نے فرمایا : دومرتبہ ۔
عمر نے ان دونوں سے کھادومرتبہ۔
ان میں سے ایک شخص نے کھاکہ حضرت ہم آپ کے پاس اس لئے آئے تھے کہ ہم لونڈی کی طلاق سے متعلق سوال کریں اور آپ ہیں کہ جاکر اس شخص سے پوچھ رھے ہیں۔ عمر نے جب یہ سنا تو کھا۔
تمہارے لئے وائے اور ھلاکت ہو۔ تم جانتے ہو کہ یہ شخص کون ہے جس سے میں نے سوال کیا تھا یہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں اور میں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے:
لواٴن السمٰوات والارض وضعت في کفه ووضع ایمان علي فی کفه لرجح ایمان علي
اگر زمین وآسمان ترازو کے پلڑے میں رکھ دیئے جائیں اوردوسرے پلڑے میں علی (ع)کا ایمان رکھا جائے تو ایمان والا پلڑا جھکتا نظر آئے گا ۔( ۱۱۴ )
معاذ بن جبل کہتے ہیں کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی علیہ السلام سے ارشاد فرمایا کہ آپ(ع) کی سات خصوصیات کی وجہ سے لوگ آپ (ع)سے دشمنی رکھیں گے۔
البتہ قریش میں سے آپ (ع)کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں کرے گا وہ سات خصوصیات یہ ہیں۔
اٴنت اٴوّلهم ایماناً با لله واٴوفا هم بعهد الله واٴقومهَم باٴ مرالله واٴقسمهم بالسویّه واٴعد لهم في الرعیه واٴبصرَهم با لقضیه واٴعظمهم عند الله مز یة
آپ (ع)سب سے پہلے اللہ پر ایمان لائے ‘ آپ (ع)نے سب سے پہلے اللہ کے عھد کو پورا کیا ‘آپ(ع) اللہ کے حکم کو سب سے پہلے بجا لائے‘ آپ(ع) کی مساوی تقسیم، عوام کے ساتھ عدالت ، آپ کی ذہانت اور آپ (ع)کا اللہ کے نزدیک عظیم مرتبہ ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ آپ کے مخالف بن گئے۔( ۱۱۵ )
۱۳ ۔تو اضع اور کرےمانہ افعال :
زاذان کہتے ہیں کہ میں نے ایک دن حضرت علی علیہ السلام کو دےکھا کہ وہ بازار کی طرف جا رھے تھے اور ان کے ہاتھ میں ایک رسی تھی اور ایک دوسرے شخص کے ہاتھ میں رسی دےکھی آپ گمشدہ چیز کو تلاش کر رھے تھے انھی لمحات میں، میں نے دےکھا کہ ایک شخص اپنے گدھے پر سامان رکھ رہاتھا، آپ اس کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن مجےد کی اس آیت کی تلاوت فرمارھے تھے:
( تِلْکَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِینَ لاَیُرِیدُونَ عُلُوًّا فِی الْاٴَرْضِ وَلاَفَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِینَ ) ( ۱۱۶ )
آخرت کا گھر ان لوگوں کے لئے ہے جو دنیا میں نہ تو کسی بلندی کو چاھتے ہیں اور نہ زمےن پر فساد برپا کرتے ہیں اور عاقبت متقےن کے لئے ہے۔
پھر فرمایا: یہ آیت ان لوگوں کے لئے نازل ہوئی ہے جو لوگوں میں بلند قدرو منزلت والے ہیں۔( ۱۱۷ )
بخاری نے اپنی سند سے صالح بیاع الاکسیہ اور اس نے اپنی دادی سے یہ روایت بیان کی ہے کہ میری دادی کہتی ہیں کہ میںنے حضرت علی علیہ السلام کو دےکھا کہ انھوں نے کچھ کھجورےں خریدیں اورانھیں کپڑے میں باندھ کر اٹھا لیا۔ میں نے اس سے کھا(یا کسی شخص نے ان سے کھا) اے امیر المومنین میں اسے اٹھا لیتا ہو ں آپ نے فرمایا اہل وعیال کا سرپرست ہی اس کو اٹھانے کا زیادہ حقدار ہے۔( ۱۱۸ )
اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں ایک شخص حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا امیر المومنین مجھے آپ سے ایک حاجت ہے جسے میں آپ سے پہلے بارگاہ خداوندی میں بھی عرض کر چکا ہوں۔ لہٰذا اب اگر آپ نے میری وہ حاجت پوری کر دی تو میں اللہ کی حمد کرونگا اور آپ کا شکر بجا لاؤنگا اور اگر میری حاجت پوری نہ کی اللہ کی تو حمد کرونگا اور آپ کا عذر بیان کرونگا حضرت علی علیہ السلام نے فر مایا۔اپنی حاجت زمین پر لکھ دے کیونکہ مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ تیرے سوال کرنے سے تیرے چھرے پر پیدا ہونے والے ذلت کے آثار دےکھوں اس نے اپنی حاجت لکھی کہ میں محتاج ہوں حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
حلہ لے آؤ، جب لے آئے تو آپ (ع) نے یہ حلہ اس محتاج کو عناےت فرمایا:
اس نے وہ لباس لیا اور اسے زیب تن کیا اور یہ اشعار کھے:
کسوتني حُلة تبلیٰ محاسنها
فسوف اٴکسوک من حُسن الثناحُللًا
اِن نلتُ حسن ثنائي نلتُ مکرمة
ولست تبغی بماقد قلته بدلا
ان الثناء ليحیٰي ذکرصاحبه
کا لغيث یحیي نداه السهل والجبلا
آپ نے مجھے پوشاک پھنائی جس کی زیبائیاں ماند پڑجائیں گیں عنقریب میں تجھے خلعت پھناؤ نگا۔ اگر میں نے بھترین کر لی تو میں نے بہت عزت پالی میں اپنے کلام کو کچھ بدلنا نہیں چاھتا ہوں ۔بے شک تعریف زندہ رکھتی ہے اپنے صاحب تعریف کو سدا ثقل اس بارش کے جس کا صحراء وپہاڑ کو زندہ رکھتاھے ۔
اس وقت حضرت علی نے فرمایا :
میں ابھی تمھیں دینار دیتا ہوں اور آپ نے سو دینار اسے دےے ۔
اصبغ کھتا ہے میں نے عرض کی یا امیر امومنین حلہ اور سودینار ( دونوں چیزےں اسے دے دیں)
حضرت نے فرمایا جی ہاں میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ” لوگوں کو ان کے مرتبے پر رکھو“ اور اس شخص کا میرے نزدیک یھی مرتبہ تھا۔( ۱۱۹ )
حضرت علی ابن حسین علیھما السلام فرماتے ہیں کہ ایک دن میں مروان ابن حکم کے پاس گیا تو اس نے کھاآپ کے والد کے علاوہ میں نے غلبہ پانے والوں کو کسی پر کرم کرتے ہوئے نہیں دےکھا جب کہ آپ کے والد نے جنگ جمل میںا علان کروایا تھا کوئی فوجی کسی بھاگنے والے کا پیچھا نہ کرے اور کسی زخمی کو خاک آلود نہ کرے۔( ۱۲۰ )
ایک سائل حضرت علی (ع)کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت علی علیہ السلام نے حضرت امام حسن (ع)یا امام حسین (ع) سے فرمایا کہ اپنی مادر گرامی کے پاس جاؤ اور ان سے کھو وہ چھ درھم جو آپ کے پاس ہیں ان میں سے کچھ اس کے لئے دے دیںشہزادے تشریف لے گئے او رواپس آکر کھاکہ اماں جان کہہ رھی ہیں جو چھ درھم آٹا لانے کے لئے رکھے تھے وہی دے دوں ؟
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ انسان کا ایمان اس وقت سچا ہوتا ہے جب اس کا اللہ پر بھروسہ ہو (ےعنی ھمارا ہر معاملے میں اللہ پر پختہ بھروسہ ہے)۔
فرمایا جی ہاں وہی چھ درھم مجھے لا دیجیئے۔
سیدہ سلام اللہ علیھانے بھجوا دیئے اور آپ نے سائل کو دے دیئے ۔
راوی کھتا ہے کہ ابھی سائل کو گئے کچھ وقت ہی گزرا تھا ایک آدمی اونٹ بےچنے کے لئے یہاں سے گزرا آپ نے پوچھا کہ اس کی کیا قےمت ہے اس نے جواب دیا کہ ایک سو چالےس درھم۔
آپ نے فرمایا کہ اسے میرے پاس چھوڑ جاؤ ہم کچھ دےرکے بعد اس کی قےمت دے دیں گے۔۔ وہ شخص اونٹ چھوڑ کر چلا گیا انھی لمحات میں ایک اور شخص آیا اور پو چھا ۔
یہ کس کا اونٹ ہے۔
حضرت نے فرمایا میرا ہے۔
اس نے پوچھا کیا اسے بیچیں گے۔
حضرت نے فرمایا جی ہاں۔
اس نے پوچھا کتنی قےمت میں بیچیں گے۔
آپ نے فرمایا دو سو درھم ۔
اس نے کھامیں اس قےمت میں خریدنا پسند کرتا ہوں ۔
راوی کھتا ہے کہ اس نے دوسودرھم دیئے اور اونٹ لے کر چلا گیا۔ حضرت امیر المومنین نے جس سے کچھ دےربعد رقم دینے کو کھاتھا اسے ایک سو چالیس درھم دے دیئے اور ساٹھ درھم جناب سیدہ سلام اللہ علیہاکی خدمت میں لے گئے انھوں نے پو چھا۔ یہ کہاں سے آئے ہیں آپ نے فرمایا یہ اللہ کا وہ وعدہ ہے جو اس نے اپنے پیارے نبی کی زبان سے کیا ہے ۔
( مَنْ جَا ءَ بِا لحَسَنَةِ فَلَهُ عَشَراٴمثَالِهَا )
جو بھی ایک نیکی کرے گا اللہ تعالی اس جیسی دس عناےت فرمائے گا۔( ۱۲۱ )
ضرار بن ضمرہ کنانی کی معاویہ سے کوئی گفتگو کا اقتباس یہ ہے کہ ضرار نے معاویہ سے کہا: حضرت علی علیہ السلام ہمارے درمیان بڑے حسن سلوک سے پیش آتے تھے ھماری تعظیم و اکرام کرتے تھے اور جب ہم ان سے کوئی سوال کرتے تھے تو اس کو پورا کرتے تھے ،اگر چہ وہ ہم پر اتنے مھربان تھے لیکن ان کی ھیبت کی وجہ سے ہم ان کے سامنے نہیں بول پاتے تھے اور جب وہ مسکراتے تھے تو گویا موتی جھڑرھے ہوں ،اھل دین کی تعظیم کرتے تھے اور مساکین سے محبت کرتے تھے اور کبھی بھی باطل کی حمایت نہیں کرتے تھے اور کمزور لوگ آپ کے عدل سے مایوس نہ تھے۔( ۱۲۲ )
صعصہ بن صوحان آپ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں وہ ہم میںایسے رھتے تھے جیسے ہم سے ایک فرد ہوں ۔آپ نرم دل ‘ منکسر مزاج ،جلد راضی ہوجانے والے تھے ۔لیکن ہم ان سے اس طرح ڈرتے تھے جیسے ایک قیدی اپنے سر پر کھڑے ہوئے مسلح جلادسے ڈرتاھے۔
معاویہ نے قیس بن سعد سے کھا۔اللہ ابوالحسن پر رحم کرے وہ ھشاش بشاش اورھنس مکھ تھے۔ قےس کھتا ہے جی ہاں خود حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب سے مزاح فرماتے اورمسکراتے تھے ۔قیس کھتاھے کہ تجھے دیکھ رہاھوں تو حسد کی وجہ سے یہ جملے کہہ کر خوش ہورھاھے جبکہ حقیقت میں تو ان کی عیب جو ئی کر رہاھے۔ خبردار! خدا کی قسم خندہ روئی اورکشادہ پیشانی کے باوجود وہ بھوکے شیر سے بھی زیادہ ھیبت والے تھے یہ انکے تقویٰ کی ھیبت تھی ایسا نھیںتھا جسطرح تجھ سے شام کے احمق ڈرتے ہیں ۔( ۱۲۳ )
ہارون بن عنترہ اپنے والد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے کھاکہ اے امیر المومنین اللہ نے آپ کو اور آپ کے اھلبیت کو اس مال کا حق دار بنایا ہے آپ جس قدر مال لینا چاھیں لے لیں آپ نے فرمایا: خدا کی قسم مجھے تیرے مال سے کچھ نہیں چاھےے میں اس لئے یہ کام کر رہاتھا تاکہ میں اس کی وجہ سے گھر سے نکلوںیا فرمایا مدینہ سے باھر نکلوں۔( ۱۲۴ )
مجمع تےمی میں ابی رجا ء کہتے ہیں میں نے حضرت علی علیہ السلام کو دےکھا کہ وہ اپنی تلوار کوبیچنے کے لئے با ہر تشریف لا ئے۔ حضرت نے فرمایا کہ کوئی مجھ سے یہ خریدنا چاھتا ہے؟ اگر میرے پاس تھوڑی سی رقم ہوتی تو میں اس کو نہ بےچتا۔ میں نے عرض کی اے امیر المومنین (ع)میں اسے آپ (ع)سے خرید تا ہو ں اور گزارش کرتا ہوں کہ عطیہ کے طور پر قبول فرمائیں ۔( ۱۲۵ )
۱۴ ۔ امیر المومنین اور خوف الھی :
ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں حضرت علی علیہ السلام کی شکایت کی تو حضرت (ع)نے ہمارے درمیان کھڑے ہوکر ایک خطبہ دیا۔ میں نے اس خطبہ کو سنا آپ (ص)فرما رھے تھے اے لوگوں حضرت علی (ع) کی شکایت نہ کرو۔ خدا کی قسم علی (ع) سب سے زیادہ متقی یعنی اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔( ۱۲۶ )
محمد بن زیاد کھتا ہے کہ حضرت عمر حج کر رھے تھے اس کے پاس ایک شخص آیا جس کی آنکھ پر تھپڑ مارا گیا تھا ۔ حضرت عمر نے پوچھا کس نے تھپڑ مارا ہے؟اس نے کھامجھے علی (ع) ابن ابی طالب (ع)نے مارا ہے۔ حضرت عمر نے کھااس کا مطلب یہ ہے کہ تجھے عین اللہ نے مارا ہے ۔ پھر اس سے اس کی وجہ نہ پوچھی کہ تجھے کیوں مارا ہے۔
اسی اثنا میں حضرت علی علیہ السلام تشریف لائے تو وہ شخص حضرت عمر کے پاس بیٹھا تھا۔ آپ (ع)نے فرمایا یہ وہ شخص ہے جو طواف کرتے ہوئے نا محرم کی طرف دیکھ رھاتھا۔
حضرت عمر نے کھاآپ (ع)نے یقینا اللہ کے نور سے دیکھا ہوگا ۔اسی واقعہ کو صاحب ریاض النضرہ نے بھی ایک دوسری سند سے بیان کیا ہے اس کے الفاظ کچھ یوں ہیں کہ میں نے اس کو دیکھا کہ یہ طواف کی حالت میں مومنین کی عورتوں کی طرف متوجہ ہے۔( ۱۲۷ )
ابن عباس کہتے ہیں کہ حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فتح کے دن ام ہانی بنت ابی طالب کے گھر گئے ۔آپ کو بھوک لگی ہوئی تھی ام ہانی نے کہا: یارسول اللہ( صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) علی ابن ابی طالب علیہ السلام اللہ کی راہ میں ملامت کرنے والوں کی ملامت کا لحاظ نہیں رکھتے جب بھی کسی میں خیانت دیکھتے ہیں تواسے ضرور سزا دیتے ہیں۔
لیکن جو شخص ام ہانی کے گھر داخل ہو جائے تو وہ امان میں ہوتاھے (یعنی حضرت اسے کچھ نہیں کہتے )یہاں تک کہ جب وہ لوگ اللہ کا کلام سنتے ہیں تو اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ایمان لے آتے ہیں۔
حضرت نے فرمایا :
اللہ ھمیں بھی ام ہانی کی طرح اجر دے ۔( ۱۲۸ )
اسحاق بن کعب بن عجز اپنے والد بزرگوار سے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: حضرت علی علیہ السلام کو گالی نہ دینا کیونکہ وہ اللہ کی راہ میں غرق ہو چکے ہیں ۔
عائشہ کہتی ہیں کہ جب مجھ تک حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کی خبر پھنچی تو اہل عرب نے وہ کچھ کیا جو ان کے دل نے چاھا اور کسی نے انھیں منع نہیں کیا ۔( ۱۲۹ )
جب حضرت کو یہ خبر پھنچی کہ بصرہ میں ان کے والی عثمان بن حنیف کو لوگوں نے کھانے میں مدعو کیا ہے اور وہ اس میں شریک ہوئے تو حضرت نے اسے خط لکھا۔
اما بعد!اے حنیف مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ بصرہ کے جوانوں نے تمھیں کھانے پر بلایا اور تم لپک کر پہنچ گئے کہ رنگا رنگ اور عمدہ قسم کے کھانے تمہارے لئے چن چن کر لائے جا رھے ہیں اور بڑے بڑے پیالے تمہاری طرف بڑھائے جا رھے ہیں مجھے یہ امید نہ تھی کہ تم ان لوگوں کی دعوت کو قبول کر لوگے جن کے یہاں سے فقیر اور نادار دھتکارے جاتے ہیں اور دولت مند مدعو ہوتے ہوں۔
پھر حضرت یوں گویا ہوئے:
تمھیں معلوم ہونا چاھیے کہ ہر مقتدی کا پیشوا ہوتا ہے جس کی وہ پیروی کرتا ہے اور جس کے نور علم سے وہ کسب ضیاء کرتا ہے ۔دیکھو تمہارے امام کی حالت تو یہ ہے کہ اس نے دنیا کے ساز وسا مان میں سے دوپھٹی پرانی چادروں اور کھانے میں سے دو روٹیوں پر قناعت کر لی ہے۔
میں مانتا ہوں کہ یہ بات تمہارے بس میں نہیں ہے لیکن اتنا تو کرو کہ پرھیز گاری سعی وکوشش یا پاکدامنی اور سلامت روی میں میرا ساتھ دو ۔ خدا کی قسم میں نے تمہاری دنیا سے سونا جمع نہیں کیا اور نہ اس کے مال و متاع میں سے انبار جمع کئے رکھے ہیں اور نہ ان پرانے کپڑوں کے بدلہ میں (جو پھنے ہوئے ہوں)کوئی نیا کپڑا میں نے مھیا کیا ہے۔( ۱۳۰ )
۱۵ ۔ طہارت اور عصمت مطلقہ :
حضرت عمار بن یاسر کہتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :
حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے دونوں محافظ کائنات کے تمام حفاظت کرنے والوں پر فخر ومباہات کرتے ہیں اور ان دونوں کی اصل حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ساتھ ہے اسی وجہ سے یہ دونوں اللہ تعالی کے کسی بھی عمل کی نافرمانی نہیں کرتے۔
یہ حدیث خطیب بغدادی نے دو اور اسناد سے بھی حضرت عمار بن یاسر سے نقل کی ہے اور آخر میں یہ جملہ نقل کیا ہے کہ وہ دونوں کسی بھی شیء میں نافرمانی نہیں کرتے جس طرح بھی ہو یہ بات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی عصمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ جب آپ(ع) کے محافظ اللہ کے کسی عمل کی نافرمانی نہیں کرتے تو لا محالہ آپ بدرجہ اولی کسی گناہ اور معصیت کے مرتکب نہیں ہو سکتے ۔( ۱۳۱ )
اللہ تعالی سورہ احزاب کی ۳۳ ویں آیت میں اس طرح ارشاد فرماتا ہے:
( إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیرًا )
بیشک اللہ فقط یھی چاھتا ہے کہ اھلبیت سے ہر قسم کے رجس اور گندگی کو دور رکھے اور ان کو اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جیسے پاک رکھنے کا حق ہے۔
صاحب تفسیر المیزان کہتے ہیں کہ لفظ رجس کسرہ اور سکون کے ساتھ پڑھا جاتا ہے اور اس کی صفت ”رجاست“ھے جسکا معنی قذارت ہے اور قذارت کا معنی کسی چیز کا نفرت اور دوری کا سبب ہونا ہے۔اور اس کی دو صورتیں ہیں:
۱ ۔ ظاھری نجاست جیسا کہ خنزیر کی نجاست ہے جس کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔
( اٴوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهُ رِجْسٌ ) ( ۱۳۲ )
یا خنزیر کا گوشت کیونکہ وہ موجب نفرت ہے۔
۲ ۔باطنی نجاست۔ یہ قذارت معنوی ہے اور اسے بھی رجس کہتے ہیں۔ قذارت جیسے شرک ،کفر،اوربرے عمل کا اثراس سے متعلق اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
( وَاٴَمَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَی رِجْسِهِمْ وَمَاتُوا وَهُمْ کَافِرُونَ ) ( ۱۳۳ )
مگر جن لوگوں کے دل میں(نفاق)کی بیماری ہے تو ان( پچھلی ) خباثت پر ایک خباثت اور بڑھادی اور یہ لوگ کفر کی حالت میں ہی مر گئے ۔
بھرحال رجس کی کوئی بھی صورت ہو خواہ رجس ظاھری ہو یا باطنی وہ ایک نفسانی اور شعوری ادراک ہے جس کا تعلق قلب کے باطل عقائد اور برے اعمال سے ہوتاھے ۔ اور اذھاب رجس یعنی رجس سے دور رکھنا (رجس پر جو الف لام ہے یہ جنس کے لئے ہے )یعنی جنس نجاست کے دوررکھنے کا معنی یہ ہے کہ نفس سے ہر اس خبیث ھیئت کا ازالہ ضروری ہے جو اعتقاد و عمل میں خطاء کی موجب بنتی ہے اوریہ بات عصمت الھیہ کے مطابق ہے جو کہ صورت عملیہ اور نفسانیہ ہے جو انسان کو باطل خیالات اور برے اعمال سے بچاتی ہے ۔( ۱۳۴ )
پھر صاحب میزان فرماتے ہیں :
یہ طے شدہ اور یقینی بات ہے کہ آیت میں رجس سے دور رکھنے کا مطلب عصمت ہے اور اللہ تعالی کے اس قول یطھرکم تطھیرا سے مراد بھی یھی ہے( اور یہاں تطھیر کی مصدر کے ساتھ تاکید کی گئی ہے) اثر رجس کا ازالہ اس کے مقابل ہے جب اللہ اس سے دور رکھے (یعنی اثر رجس اذھاب کے مقابل ہے جب اذھاب ہو گا تو اثر رجس نہیں ہوگا ) یہ واضح امر ہے کہ اعتقاد باطل کے مقابلہ میں اعتقاد حق ہے۔
لہٰذا ان کی تطھیر کا مطلب یہ ہے کہ انھیں اعتقاد اور عمل میں حق کے ادراک کے لئے آمادہ کرنا اس وقت اس کا معنی یہ ہو گا کہ اللہ تبارک وتعالی ارادہ رکھتا ہے کہ آپ کو عصمت کے
ساتھ خاص کرے اور اعتقاد باطل اور برے اعمال سے اھلبیت کو دور رکھے اورجب اس کے اثرات دورہو جائیں تو یھی عصمت ہے۔( ۱۳۵ )
ابن جرید ،ابن منذر ،ابن ابی حاتم یہ اور ابن مردویہ نے جناب ام سلمہ زوجہ نبی سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے گھر میں آرام فرما رھے تھے اور آپ نے کساء خیبری اوڑھ رکھی تھی چنانچہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیھاتشریف لائیں آپ کے ساتھ ایک گٹھری تھی جس میں ریشم کی چادر تھی۔ تو حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت فاطمة الزھراء سلام اللہ علیھاسے فرمایا اپنے شوہر اور اپنے بیٹوں حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام کو بلالیں۔
بی بی نے انھیں بلایا اور سب نے چادر اوڑھ لی۔ اس وقت حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر یہ آیت نازل ہوئی :
( إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیرًا ) ( ۱۳۶ )
اللہ نے آپ اھلبیت سے رجس کو دور رکھا اور آپ کو ایسا پاک رکھا جیسا پاک رکھنے کا حق ہے۔
اس کے بعد حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے چادر کو کنارے سے پکڑ کراسے سب پر ڈال دیا پھر ایک ہاتھ سے چادر پکڑی اور آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:
اللهم هؤلاء اٴهل بیتي وخاصتي فاذهب عنهم الرجس و طهرهُم تطهیراً
پروردگارا یھی میرے اھلبیت اور خاص افراد ہیں ان سے رجس کو دور رکھ اور انھیں ایسا پاک و پاکیزہ رکھ جیسا پاک رکھنے کا حق ہے۔
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یھی جملے تین مرتبہ دھرائے حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں :میں آپ (ع)کے قریب گئی اور عرض کی یا رسول اللہ کیامیں بھی آپ(ع) کے ساتھ شامل ہو جاؤں۔ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا آپ نیکی کی منزل پر فائز اور بھترین مومنہ ہیں۔( ۱۳۷ )
____________________
[۱] شرح نھج البلاغہ ج ۱ ص ۱۷۔
[۲] شرح نھج البلاغہ ج ۱ ص ۱۸۔
[۳] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص ۱۸۔
[۴] ارشاد مفید ج ۱ ص ۳۳۔
[۵] ارشاد مفید ج۱ ص ۳۳۔
[۶] بحارالانوار، مجلسی ص۴۰ ج۱۴۴ ۔
[۷] الامام علی منتھی المال البشری ص۱۱۰ ۔
[۸] امام علی منتھی کمال البشری عباس علی موسوی ص۱۰۹۔
[۹] شرح نھج البلاغہ ابن حدید ج ۱ص۱۹۔
[۱۰] شرح نھج البلاغہ ابن حدید ج ۱ ص۲۰۔
[۱۱] منتھی الامال شیخ عباس قمی ج ۱ص۲۹۷۔
[۱۲] شرح نھج البلاغہ ۔ج۱۔ص۲۵۔
[۱۳] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص۲۵۔
[۱۴] کشف الغمہ ج۱ص۱۳۳۔
[۱۵] الارشاد ج۱ ص۲۲۴۔
[۱۶] کشف الغمہ ج۱ ص۱۳۲۔
[۱۷] الارشاد ج۱ ص۳۰ ۔
[۱۸] الغدیر ج۳ ص۹۶۔
[۱۹] کنز العمال ج۲ ص۱۰۳ ۔
[۲۰] حلیة الاو لیاء ج ۱ ص۶۵۔
[۲۱] حلیة الا و لیا ء ج۱ ص۶۵۔
[۲۲] مختصر تا ریخ دمشق ج۱۸ ص ۲۶۔
[۲۳] مختصر تا ریخ دمشق ج۱۸ ص ۱۸ ۔
[۲۴] الارشاد ج۱ص۳۶۔
[۲۵] الاستےعاب ابن عبد البر ج ۳ ص۳۹ ۔
[۲۶] الاستےعاب ج۳ ص۳۹۔
[۲۷] کشف الغمہ ج ۱ص۱۴۴۔
[۲۸] کشف الغمہ ج ۱ ص۱۴۶۔
[۲۹] کشف الغمہ ج ۱ ص۱۴۷۔
[۳۰] کشف الغمہ ج۱ ص۱۴۸۔
[۳۱] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص۲۰۔
[۳۲] شرح نھج البلاغہ ج ۱ ص۲۱۔
[۳۳] شرح نھج البلاغہ ج ۱ ص ۲۱۔
[۳۴] الارشاد ج۱ ص ۶۹۔
[۳۵] کشف الغمہ ج۱ ص ۱۸۶ ۔
[۳۶] مناقب خوارزمی ص۱۷۲۔
[۳۷] الامام علی منتھی الکمال البشری ص ۸۷۔۸۸
[۳۸] الامام علی منتھی الکمال البشری ۸۶۔
[۳۹] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص۲۱۔
[۴۰] مناقب خوارزمی ص۱۷۴۔
[۴۱] کشف الغمہ ج۱ ص ۱۹۳۔۱۹۴۔
[۴۲] کشف الغمہ ج۱ ص۲۱۵۔
[۴۳] المناقب ج۲ ص۲۹۰ منتھی الامال فی تاریخ النبی والآل ج ۱ص ۳۰۱۔
[۴۴] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص۲۶۔
[۴۵] المناقب خوارزمی ص۱۱۶۔
[۴۶] کشف الغمہ ج۱ ص۱۶۲۔
[۴۷] حلیة الاولیاء ج ۱ ص ۷۲۔
[۴۸] لمناقب خوارزمی ص۱۱۸۔
[۴۹] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص ۲۶۔
[۵۰] حلیةالاو لیا ء ج ۱ ص۸۱ ۔
[۵۱] حلیة الاو لیا ء،ج۱ ص ۸۲۔
[۵۲] مناقب خوارزمی ص۱۱۹۔
[۵۳] کشف الغمہ ج۱ ص۱۷۵۔
[۵۴] شرح نھج البلاغہ ابن حدید ج۱ ص۲۷۔
[۵۵] کفایُة الطالب محمد بن ےوسف کنجی ص۳۹۹۔
[۵۶] شرح نھج البلاغہ ج۱ص۲۷۔
[۵۷] شرح نھج البلا غہ ج۱ ص۲۶۹۔
[۵۸] شرح نھج البلا غہ ج۷ ص۳۷ ،۳۸ ۔
[۵۹] شرح نھج البلاغہ ج۲ ص۲۰۰۔
[۶۰] الامام علی منتھی الکمال البشری ص۱۴۸۔
[۶۱] سیر ہ اثمہ اثنی عشر:جلد ۱ص۳۱۱۔
[۶۲] منا قب آل ابی طا لب ج۲ص۱۲۶۔
[۶۳] سیرت آئمہ اثناعشرہ الھاشم معروف الحسےنی ،جلداول ص۳۱۰تھوڑی سے تصرف کے ساتھ۔
[۶۴] سیرت آئمہ اثنی عشر ج ۱ ص۳۰۷۔
[۶۵] سیرت الاآئمہ الاثنی عشر ج ۱ ص۳۱۳ ۔
[۶۶] شرح نھج البلا غہ ج۱ ص۲۴
[۶۷] الارشاد ج ۱ ص۸۳ ،۸۴ ۔
۶۸] الارشاد ج ۱۰۳۔
[۶۹] حلیة الاولیاء ج۱ ص ۶۲، ۶۳۔
[۷۰] کشف الغمہ ج ۱ص۲۱۵۔
[۷۱] سورہ توبہ آیات ۵۲،۲۶۔
[۷۲] کشف الغمہ ، ج۱ص۲۲۱۔۲۲۳۔
[۷۳] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص۲۴۔
[۷۴] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص۲۲۔
[۷۵] سیرة آئمہ اثنی عشر ج ۱ ص۴۱۵۔
[۷۶] شرح نھج البلاغہ ج۱ص ۲۳۔
[۷۷] واقعہ صفین، نصر بن مزاحم ص۱۹۳۔
[۷۸] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص۲۳۔
[۷۹] مجالس السنیہ سید محسن الامین العاملی ج۲ ص۱۹۶۔
[۸۰] المجالس السنیہ ج ۲ص۱۹۴ ۔
[۸۱] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص ۲۳۔
[۸۲] المجالس السینہ ج۲ ص۱۹۶۔۱۹۷۔
[۸۳] منتھی الامال فی تواریخ النبی والآل شیخ عباس قمی ج۱ ص۳۴۱ ۔
[۸۴] سورہ دھر آیت :۸ و:۹۔
[۸۵] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص ۲۱۔۲۲ ۔
[۸۶] منتھی الامال فی التواریخ النبی والآل ج۱ص۲۹۲۔
[۸۷] اعیان الشیعہ ج۱،ص۳۴۸۔
[۸۸] اعیان الشیعہ ج۱ ص۳۴۸ ۔
[۸۹] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص ۲۲۔
[۹۰] منتھی الامال شیخ عباس قمی ج۱ ص۲۹۲۔
[۹۱] سیرة ائمہ اثنی عشر ج۱ ص۳۱۴۔
[۹۲] الارشاد ج۱ ص۳۱۳،۳۱۴۔
[۹۳] شرح نھج البلاغہ ج ۵،ص۴۰۳ ۔
[۹۴] بحار ج۸ ص۲۱۵،۲۱۶۔
[۹۵] بحا ر ج۴۲ ،ص۱۲۵۔
[۹۶] ارشاد ج۱ ص۲۲۸۔
[۹۷] شرح نھج البلاغہ ج۲ص۲۷۶۔
[۹۸] ارشاد ج ۱ ص۳۲۱،۳۲۰۔
[۹۹] المناقب خوارزمی ص۲۹۴۔
[۱۰۰] ارشاد ج ۱ ص۳۱۶ ،۳۱۷۔
[۱۰۱] نھج البلاغہ ج۱ ص۲۸۔
[۱۰۲] ارشاد ج ۱ ص ۱۸۸ ۔
[۱۰۳] اعیان الشیعہ ج۱ ص۲۳۹ ،نقل از مستدرک حاکم اورتاریخ ابن اثیر ۔
[۱۰۴] اعیان الشیعہ ج۱ ص۳۴۹ صاحب اعیان الشیعہ نے اسے ارشاد کی ج۱ ص ۲۰۸تا ۲۱۰ سے نقل کیا ھے ۔
[۱۰۵] شرح نھج البلاغہ ج۱ص ۲۸۔
[۱۰۶] شرح نھج البلاغہ ج۱ص ۲۱۲و ۲۱۳۔
[۱۰۷] شرح نھج البلاغہ ج۲ص۳۱۲ شرح نھج البلاغہ ج۱۰ ص۲۱۱۔
[۱۰۸] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص ۲۲۶۔۲۲۷۔
[۱۰۹] اعیان الشیعہ ج۱ ص۳۴۹ ۔۳۵۰ ۔
[۱۱۰] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص ۲۸۔
[۱۱۱] کشف الغمہ ج۱ ص۲۸۸۔
[۱۱۲] المناقب الخوارزمی ص ۱۲۸۔
[۱۱۳] مناقب ابن مفازلی ص ۲۳۷مناقب خوارزمی ص ۱۲۱۔
[۱۱۴] فردوس الاخبار ج۳ ص ۴۰۸۔
[۱۱۵] حلیة الاو لیاء ج ۱ ص ۶۵، ۶۶،رےا ض النضرہ ج ۲ ص۱۹۸۔
[۱۱۶] سورہ قصص آیت ۸۳۔
[۱۱۷] رےاض النضرہ ج ۲ ص۲۳۴۔
[۱۱۸] بخاری کتاب الادب المفرد ،باب کبر ،فضائل خمسہ فی الصحا ح ستہ ص۲۶۔
[۱۱۹] کنزالعمال ج ۳ ص ۳۲۴ ۔
[۱۲۰] سنن بیہقی ج۸ ص۱۸۱ ۔
[۱۲۱] کنز العمال ج۳ ص ۳۱۰ ۔
[۱۲۲] حلیة الاولیاء ج۱ ،ص۸۴تا ۸۵۔
[۱۲۳] شرح نھج البلاغہ، جلد اول ص ۲۵۔
[۱۲۴] حلیة الاولیا ء ج۱ ص۸۲ ۔
[۱۲۵] حلیة الاولیا ء ج ۱ ص۸۳، ۸۴۔
[۱۲۶] مستدرک صحیحین ج۳ ص۱۳۴۔
[۱۲۷] ریاض النضرہ ج۲ص ۱۹۶۔
[۱۲۸] ذخائر العقبی:ص۲۲۳۔
[۱۲۹] الاستیعاب ابن عبد البر ج۲ ص ۴۶۹۔
[۱۳۰] شرح نھج البلاغہ:ج۱۶ص۲۰۵۔
[۱۳۱] خطیب بغدادی کی کتاب تاریخ بغداد ۔ج ۱۴ص ۴۹۔
[۱۳۲] انعام ۱۴۵۔
[۱۳۳] توبہ۱۲۵۔
[۱۳۴] المیزان فی تفسیر القرآن ج۱۶ص ۳۱۲۔
[۱۳۵] المیزان فی تفسیر القرآن ج۱۶ص ۳۱۲،۳۱۳۔
[۱۳۶] سورہ احزاب آیت ۳۳۔
[۱۳۷] تفسیر المیزان ج۱۶ص۲۱۷۔
پانچویں فصل
زندگی کے مختلف حالات میں
آپ کے خصوصی امتیازات
کعبہ میں آپ(ع) کی ولادت
زندگی کے مختلف حالات میں
شیخ مفید قدس سرہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوالحسن علی ابن ابی طالب علیہ السلام مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے اندر ۱۳ رجب ۳۰ / عام الفیل بروز جمعہ کو پیدا ہوئے ۔ آپ (ع) کی ولادت سے پہلے نہ کوئی خانہ کعبہ میں پیدا ہوا اور نہ آپ (ع) کی ولادت کے بعد کوئی اس میں پیدا ہوگا ۔یہ اللہ تعالی کی طرف سے آپ(ع) کے لئے خصوصی عزت و اکرام اور جلالت و شرافت کا مقام ہے ۔( ۱ )
رسول خدا(ص) کی آغوش میں آ پ کی تربیت :
ابن حدید کہتے ہیں قریش کو ایک مرتبہ قحط کا سامنا کرنا پڑا اس وقت حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے دونوں چچا جناب حمزہ اور جناب عباس سے ارشاد فرمایا :
ھمیں چاہئے کہ ہم اس مشکل میں جناب ابوطالب کا بوجھ تقسیم کریں پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ھمراہ وہ دونوں بھی حضرت ابوطالب علیہ السلام کے ہاں تشریف لائے اور ان سے کھاکہ آپ اپنا ایک ایک بچہ ھمیں دے دیں ہم ان کی پرورش اپنے ذمہ لیتے ہیں۔
حضرت ابوطالب نے فرمایا :
عقیل کو میرے پاس رھنے دیں کیونکہ عقیل کے ساتھ مجھے بہت محبت ہے اور دوسرے بچے آپ حضرات لے لیں۔
جناب عباس نے طالب کو لیا جناب حمزہ نے جعفر کو لیا اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنی کفالت میں لے لیا اور پھر ان سے فرمایا ۔
میں نے حضرت علی علیہ السلام کو اللہ کی مرضی سے اختیار کیا ہے وہ سب لوگ اس بات کی گواھی دیتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام چھ سال کی عمر سے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زیر سایہ آگئے اور آپ ہی نے ان کی تربیت فرمائی ۔( ۲ )
حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:
میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سب سے بڑھ کر پیروی کرتا ہوں یہ سب میری والدہ محترمہ کی تربیت کا نتیجہ ہے وہ مجھے ہر روز بلا کر آپ کے اخلاق کی تعلیم دیتیں اور آپ کی پیروی کرنے کا حکم فرماتی تھیں اور میں کئی سال اس بحر علم کے قریب رھالہٰذا جس طرح میں نے انھیں قریب سے دیکھا ہے اس طرح کوئی بھی انھیں نہیں دیکھ سکتا ۔( ۳ )
حضرت امیر علیہ السلام نے مزید فرمایا:
تم لوگ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ میری انتہائی قربت، خصوصی قدر و منزلت اور ان کی گود میں تربیت کو اچھی طرح جانتے ہو جب میں پیدا ہوا ،تو مجھے اپنے سینے پر لیٹاتے، میری کفالت کرتے ،مجھے اپنے جسم کے ساتھ مس کرتے ،اپنی معرفت کی خوشبو سے معطر فرماتے وہ چیزوں کو اپنے منہ سے چبا چبا کر مجھے کھلاتے اور انھوں نے ہمیشہ میرے قول وفعل کو درست و یکساں پایا۔( ۴ )
۱ ۔ عبادت :
آپ عام مخلوقات میں منفرد ہیں ۔آپ (ع)کی وہ خصوصیات اور امتیازات جن کے آپ (ع)تنھامالک ہیں اور جن کی وجہ سے آپ (ع)پوری کائنات میں منفرد اور ممتاز ہیں۔ آپ(ع) ارشاد فرماتے ہیں۔
لقد عبدت الله قبل ان یعبده احد من هذا الامه سبع سنین
میں سات سال کے سن میں اس وقت اللہ کی عبادت کیا کرتا تھا جب اس امت کا کوئی فرد بھی اللہ کی عبادت سے آشنا نہیں تھا۔
اور آپ مزید فرماتے ہیں کہ میں سات سال کی عمر میں آواز (رسالت ) سنتا اور نور (رسالت) کو دیکھتا تھا اور حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس وقت خاموش رھتے تھے اور انھیں اس وقت لوگوں کو ڈراتے اور تبلیغ کا حکم نہیں دیا گیا تھا ۔( ۵ )
۲ ۔دعوت ذوالعشیرہ:
آپ (ع)کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے ۔(جس میں کوئی بھی آپکا شرےک نہیں ہے)کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذوالعشیرہ ےعنی( اٴنذِرعشیرتک الاٴقربین ) کے دن فرمایا:
اٴنتَ اٴخي وو صیي و وزیري ووارثيو خلیفتي من بعدي
آپ(ع) میرے بعد میرے بھائی ،وصی وزیر ،وارث ‘ خلیفہ اور جانشےن ہیں۔( ۶ )
۳ ۔شب ہجرت :
جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو اس رات حضور نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کو اپنے بستر پر سونے کا حکم دیا آپ(ع) اس رات بستر رسول پر آرام و سکون کی نےند سوئے اور اس خصوصیت میں آپ (ع) تمام لوگوں میں ممتاز اور منفرد ہیں۔ حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اس رات اپنی زندگی اور نفس کو اللہ کی اطاعت میں اللہ کے ہاتھ فروخت کردیا ۔آپ(ع) کے علاوہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنی زندگی کو فروخت نہیں کیا۔ آپ (ع)نے یہ معاملہ اس لئے کیا تھا تاکہ حضور(ص) دشمنوں کے فریب سے نجات پا سکیں۔ اور یھی چیز حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نجات کا سبب بنی ۔ آپ(ع) نے جب حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بستر پر وہ رات گزاری تو آپ(ع) کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ۔( ۷ )
( وَمِنْ النَّاسِ مَنْ یَشْرِی نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ وَاللهُ رَئُوفٌ بِالْعِبَادِ ) ( ۸ )
لوگوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں جواللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنی جان تک بےچ ڈالتے ہیں اور اللہ ایسے بندوں پر بڑا ہی شفقت والا ہے ۔
۴ ۔ مواخات (رشتہ اخوت):
تمام مسلمانوں میں حضرت علی علیہ السلام ہی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی علیہ السلام کے درمیان مواخات(اخوت) قائم ہوئی۔
حاکم مستدرک میں جناب ابن عمر کی سند کے ساتھ روایت نقل کرتے ہیں کہ جب حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر‘ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر ، حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عبدالرحمان بن عوف ایک دوسرے کے بھائی بنے تھے حضرت علی علیہ السلام نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے اپنے تمام اصحاب کے درمیان مواخات اور بھائی چارہ قائم فرمایا ۔لیکن میرا بھائی کون ہے؟حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ا ما ترضیٰ یا علی ان اکون اخاک
کیا آپ (ع)اس پر راضی نہیں ہیں کہ میں آپ(ع) کا بھائی ہوں۔
ابن عمر کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام بڑے بہادر اور شجاع تھے حضرت علی علیہ السلام نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں چاھتا ہوں کہ میں آپ(ع) کا بھائی بنوں تو اس وقت حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
اٴنت اٴخي في الدنیا والاٴ خرة ۔( ۹ )
آپ (ع)دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہیں ۔
۵ ۔ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہاکے ساتھ آپ کی شادی
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے امتیازات میں سے ایک یہ ہے آپ کا عقد جناب فاطمہ زھراسلام اللہ علیہاسے ہوا پوری کائنات میں یہ شرف فقط آپ ہی کو نصےب ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک آپ کا ایک خاص مقام تھا تبھی تو انھوں نے آپ کی شادی جناب فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھاکے ساتھ کی۔
خوارزمی اپنی کتاب مناقب میں حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
میرے پاس فرشتہ نازل ہوا اور اس نے کھاکہ اللہ آپ کو سلام کہہ رہاھے اور اللہ نے کھاھے حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھاکی شادی حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ کردیں ۔اور حضور نے میرے ساتھ جناب فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھاکی شادی کر دی اور شجرہ طوبی کو حکم د یا کہ وہ موتی، یاقوت اور مرجان اٹھائے اور اہل آسمان میں اس خبر سے خوشی کی لھر دوڑ گئی۔
اور مزید فرمایا عنقریب ان سے دو بچے پیدا ہونگے جو جوانان جنت کے سردار ہونگے اور انھی کے ذرےعے اہل جنت مزےن ہونگے اے محمد مصطفی آپ کے لئے بشارت ہے کہ آپ اولین اور آخرین میں سب سے بھترین انسان ہیں۔( ۱۰ )
۶ ۔میدان جہاد میں آپ کے امتیازات :
حضرت علی علیہ السلام میدان جہاد میں ایسی منفرد خصوصیات کے مالک ہیں جس کے ساتھ آپ کے علاوہ کوئی اور متصف نہیں ہو سکتایھی وجہ ہے کہ ابن ابی الحدید کہتے ہیں :
آپ مجاھدوں کے سردار ہیں اور جہاد میں آپ کی شخصےت منفرد ہے۔( ۱۱ )
آپ ایسے شجاع ہیں جن کی شجاعت میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا،کسی نے آپ کے سامنے مبارزہ طلبی نہیں کی مگر یہ کہ وہ قتل ہو گیا آپ کی کوئی ضربت ایسی نہیں جس کے بعد دوسری ضربت لگانے کی ضرورت پڑے بلکہ آپ کے ایک ہی وار سے دشمن کا کام تمام ہو جاتاتھا میدان میں جو عرب آپ (ع) کے مقابلے میں آتا وہ فخر کیا کرتا تھا کہ میں بہادر ہوںکیونکہ کہ میں (حضرت) علی (علیہ السلام) کے مقابلے میں گیا ہوں۔( ۱۲ )
اور اگر آپ کے جہادکے متعلق لکھنا چاھیں توحضرت علی علیہ السلام کا تذکر ہ قیامت تک ختم نہیں ہو گا ۔
جنگ بدر :
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی جنگ ، جنگ بدر ہے۔ اس میں مشرکوں کے ساتھ شدےد ترےن جنگ ہوئی جس میں مشرکوں کے ستر افراد مارے گئے۔ ان میں سے آدھے تنہا حضرت علی علیہ السلام نے فی النار کئے باقی ملائکہ اور تمام مسلمانوں نے مل کر قتل کئے۔( ۱۳ )
جنگ احد
اس بات کو آپ جانتے ہیںکہ جنگ احد میں مشرکوں کی شکست ان کی کامیابی سے بدل گئی کیونکہ مسلمانوں نے وہ جگہ چھوڑ دی جہاں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں پھرا دینے کو کھاتھا۔ شکست خوردہ دشمنوں نے موقع پاکر مسلمانوں کے پیچھے سے حملہ کر دیا اور کچھ لوگوں کو قتل کر دیا ۔ان میں سے ایک شخص نے آواز دی کہ( حضرت) محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل کر دئے گئے ہے۔ (یہ سننا ہی تھا )حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ سب مسلمان بھاگ گئے ۔
فقط آپ(ع) ہی حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دشمنوں کے حملے سے بچاتے اور ان کی صفوں پر پے در پے حملہ کرتے تھے۔ جناب ابن عباس کہتے ہیں کہ حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی چار خصوصیات ایسی ہیں جو فقط آپ(ع) کی ذات کے ساتھ مخصوص ہیں ۔
آپ(ع) تمام عربوں اور عجموں میں پہلے شخص ہیں جنھوں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، ہر مشکل میں ان کا ساتھ دیا اور خوف وھراس کے دن جب سب لوگ حضور کو چھوڑ کر بھاگ گئے تو آپ(ع) ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صبر و استقامت کے ساتھ قائم رھے، دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ، صرف آپ(ع) کی ذات نے ہی حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دیا اور قبر میں اتارا ۔( ۱۴ )
اور آپ(ع) کی شان میں فرشتے نے آسمان سے یہ آواز بلند کی :
لا سیفَ اِلا ذوالفقار ،ولافتیٰ اِلّا علي
ذوالفقار کے علاوہ کوئی تلوار نہیں ہے اور حضرت علی (ع)کے علاوہ کوئی جوان نہیں ۔( ۱۵ )
جنگ خندق
میدان جہاد میں آپ(ع) کے ایسے کارنامے ہیں جن کو دےکھ کر صاحبان عقل حیران و ششدر ہیں۔ ان کار ناموںمیں ایک جنگ خندق بھی ہے۔ اس جنگ میں حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ باقی تمام مسلمانوں نے (فارس یلیل ) عمر وبن عبد و د کے مقابلہ میں آنے سے انکار کر دیا تھا ۔یہ ہزار آدمیوں کے ساتھ تنہا مقابلہ کرتا تھا۔ اس نے خندق کو عبور کر کے مسلمانوں کو مقابلے کی دعوت دی۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرو بن عبد ود کے مقابلہ میں حضرت علی علیہ السلام کو بھےجتے ہوئے فرمایا ۔آپ(ع) کا یہ عمل میری امت کے قیامت تک کے اعمال سے افضل ہے۔( ۱۶ )
جنگ وادی رمل
جنگ وادی رمل جسے غزوہ السلسلہ بھی کہتے ہیں اس جنگ میں جن لوگوں کو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھےجا تھا وہ ناکام لو ٹے۔
اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام، حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق روانہ ہوئے اور اس قوم کے پاس گئے اور انھیں اختیار دیا ‘یا تم ۔ لا الہ الا اللہ ،محمد رسول اللہ پڑھو یا جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ۔
وہ سب کھنے لگے آپ (ع) بھی اسی طرح واپس لوٹ جائیں جس طرح آپ(ع) کے پہلے ساتھی لوٹ گئے ہیں ۔حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا خدا کی قسم جب تک تم اسلام قبول نہیں کرو گے یا میری تلوار سے ٹکڑے نہیں ہو جاؤ گے‘ میں نہیں جاؤنگا۔
جانتے ہو میں علی (ع) ابن ابی طالب (ع) ہوں جب انھوں نے آپ (ع) کو پہچان لیا تو پوری قوم میں اضطراب پیدا ہو گیا اور وہ لوگ جنگ سے کترانے لگے ۔
حضرت علی علیہ السلام نے ان کے چھ سات آدمیوں کو قتل کیا اس کے بعد تمام مشرکین بھاگ گئے اور مسلمانوں کو اس غزوہ میں کامیابی نصےب ہوئی ۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
لو لا اني اشفق ان تقول فیک طوائف ما قالت النصاری في عیسی بن مریم لقلت فیک الیوم مقالا لا تمر بملا منهم الااخذوا التراب من تحت قدمیک
اگر میں آپ (ع) کے متعلق وہ باتیں ظاہر کر دوں جو کچھ مختلف گروہ آپکے متعلق کہتے ہیں‘ تو لوگ آپ(ع) کے متعلق وہ کچھ کھیں گے جو عےسائی بھی حضرت عیسی ابن مریم (ع)کے متعلق نہیں کھتے۔ آج میں آپ (ع)کے متعلق ایسی بات کھتا تو لوگ کبھی بھی اس کی تاب نہ لا سکتے مگر یہ کہ آپ (ع)کے قدموں کی مٹی اٹھا لیتے۔( ۱۷ )
( یعنی اگر میں علی (علیہ السلام )کے فضائل بیان کر دیتا تو جس طرح لوگ حضرت عیسی(ع) ابن مریم (ع) کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں تو آپ (ع)کے متعلق اسی طرح کا گمان کرتے اور آپ (ع)کے قدموں کی خاک کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنالیتے )
جنگ بنی قرےضہ اور بنی مصطلق ‘ صلح حدےبیہ اورجنگ خیبر
اسی طرح حضرت علی علیہ السلام جنگ بنی قرےضہ اورجنگ بنی مصطلق اور صلح حد ےبیہ میں سب سے ممتاز حیثیت کے مالک رھے ہیں اور ان جنگوں میں بھی آپ(ع) کے عظیم کارنامے ہیں۔
آپ(ع) بڑے بڑے مصائب کو مسلمانوں کے سروں سے ٹالتے رھے ہیں ۔ جہاں تک جنگ خےبر کا تعلق ہے ‘ تواس کے متعلق آپ کیا جانےں کہ جنگ خےبر کیا ہے؟
حضرت ابو بکر نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے علم لیا جنگ کی اور ناکام لوٹ آئے ۔ پھر حضرت عمر نے علم اٹھایا جنگ کی اور ناکام بھا گ آئے اس وقت حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
اٴماوالله لا عطينهّا غدا رجلٓا یحب الله و رسوله و یحبه الله و رسوله
خدا کی قسم کل میں یہ علم ایک ایسے شخص کو دونگا جو اللہ اور اس کے رسول (ص)سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول(ص) اس سے محبت کرتے ہیں ،آپ (ص)نے ان لوگوں سے وہ علم لے لیا اس وقت حضرت علی علیہ السلام کچھ مرےض تھے۔ جب صبح ہوئی تو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حضرت علی کو میرے پاس بلالا ؤ۔ حضرت علی علیہ السلام تشریف لائے لیکن آپ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ آنحضرت (ص)نے آ پ (ع) کی آنکھوں میں اپنا لعاب لگایاجس سے درد جاتا رھا۔ پھر آپ (ع) کو علم عطا فرمایا۔ آپ(ع) قلعہ خیبر کے پاس آئے وہاں ایک یھودی نے آپ (ع) کو دےکھا اور پوچھا آپ (ع)کون ہیں۔ آپ (ع) نے فرمایا میں علی (ع)ابن ابی طالب (ع) ہوں۔ یھودی نے پکار کر کھایھودیو! اس پر غالب آجاؤ۔ اس قلعہ کا مالک مر حب رجز پڑھتے ہوئے باھر نکلا۔ تلوارےں آپس میں ٹکرائےں۔ آخر کار حضرت علی علیہ السلام نے اس کے سر پر بندھے ہوئے پتھر نماخول پر ایک وار کیا جس سے اس کا سر پھٹ گیا اور وہ زمین پر گر پڑا ۔( ۱۸ )
۷ ۔نفس رسول:
حضرت امیر المومنین علیہ السلام ،نفس حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کے لحاظ سے بھی باقی لوگوں سے ممتاز ہیں آیت مباھلہ اور دوسری آیات کا بھی یھی فےصلہ ہے کہ فقط نفس رسول آپ (ع) ہی ہیں جیسا کہ سورہ ہود میں ارشاد رب العز ت ہے ۔
( اٴَفَمَنْ کَانَ عَلیٰ بینةٍ مِنْ رَبّهِ وَ يَتْلُوْهُ شَاهِد مِنْهُ ) ( ۱۹ )
کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہو اور اس کے پیچھے ایک گواہ آتا ہو جو اس کا جز ہو۔
اسی طرح عمران بن حصےےن کی حدیث سے بھی یھی واضح ہوتا ہے۔ عمران کھتا ہے ۔
جس دن لوگ جنگ احد میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تنہاء چھوڑ کر بھاگ گئے تھے تو صرف حضرت علی علیہ السلام اپنی تلوار تھامے آپ کے سامنے موجود تھے۔
حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور آپ سے فرمایا:
آپ (ع)بھی لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں بھا گ گئے؟
حضرت امیر (ع) نے عرض کی یا رسول اللہ کیا میں مسلمان ہونے کے بعد کافر ہو جاتا۔ حضرت رسول اکرم نے ایک گروہ کی طرف اشارہ کیا جو پہاڑ سے اتر رہاتھا حضرت علی علیہ السلام نے ان پر حملہ کیا اور وہ بھاگ گئے۔ پھر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک اور لشکر کی طرف اشارہ کیا۔
آپ (ع)نے ان پر بھی حملہ کیا اور وہ بھی بھاگ گئے ۔حضرت(ص) نے ایک اور گروہ کی طرف اشارہ فرمایا آپ (ع)نے اس گروہ پر بھی حملہ کیا اور انھیں بھی بھگا دیا۔ اس وقت لوگوں نے کہایا رسول اللہ(ص) ،حضرت علی علیہ السلام کا اپنی جان اور نفس کی پروا کیے بغیر آپ (ص)کے ساتھ اس حسن سلوک پر ملائکہ تعجب کرتے ہیں اور ہم بھی اس کے ساتھ متعجب ہیں ۔
حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس میں کسی قسم کے تعجب کی بات نہیں کیونکہ ”و ہو منی وانا منہ “ وہ مجھ سے ہیں اور میں اس سے ہوں۔اس وقت حضرت جبرئےل علیہ السلام نے کھاکہ میں آپ دونوں سے ہوں۔( ۲۰ )
۸ ۔ حدیث سد ابواب :
لوگوں نے اس بات کا مشاھدہ کیا حضرت علی علیہ السلام کی شان میں حدیث سد ابواب بیان ہوئی۔ جابر انصاری کہتے ہیں کہ میں حضرت رسو ل خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ(ص)نے باب علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا:
اس کے علاوہ سب دروازے بند کر دےے جائیں۔
صاحب کفا ےة الطالب کہتے ہیں یہ حدیث حسن اور بہت ہی عالی ہے ۔ اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لئے دروازے بند کرنے کا حکم دیا تھاکیونکہ یہ دروازے لوگوں کے گھروں میں کھلتے تھے اور مسجد کی طرف سے ان کے گزرنے کا راستہ تھا۔
جب اللہ تبارک تعالی نے حےض اور جنابت کی حالت میں مسجدوں میںداخل ہو نے سے منع فرمادیا تو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجنب اور حائض کے مسجد میں داخلے اور مسجد میں ٹھھرنے پر پابندی لگا دی۔ اور سب دروازے بند کروا دیے فقط حضرت علی علیہ السلام کی یہ خصوصیت تھی کہ ان کے لئے ان مقامات پر آنا جانا مباح تھا اور قرآن مجےد میں اللہ تعالی نے آپ کی تطھیر کو اس طرح بیان فرمایا ہے۔
( إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیرًا )
اے اہل بیت اللہ چاھتا ہے کہ آپ سے رجس کو دور رکھے اور آپ کو اس طرح پاک رکھے جس طرح پاک رکھنے کا حق ہے ۔( ۲۱ )
اس سلسلے میں لوگ مختلف باتیں کرنے لگے تو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد وثنا کرنے کے بعد فرمایا اما بعد میں نے ہی باب علی (ع) کے علاوہ سب دروازے بند کرنے کا حکم دیا ہے اوراعتراض کرنے والوں سے کھا:
وا للّه ما سددته ولافتحته و لکن امرِ ت ُ بشیءٍ فا تبعته ۔
خدا کی قسم میں اپنی مرضی سے نہ کوئی دروازہ بند کرتا ہوں اور نہ اپنی مرضی سے کوئی دروازہ کھو لتا ہوں مگر جس طرح کھاجاتا ہے میں اس کی پیروی کرتا ہوں۔( ۲۲ )
۹ ۔سورہ برائت کی تبلیغ :
بے شک ان احادےث اور روایات میں صا حبان عقل کے لئے عبرت ہے حضرت ابو بکر پہلے ایمان لانے والے میں اور اسلام لانے والے گروہ میں شمار ہوتے ہیں۔
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کو اہل مکہ کی تبلیغ کے لئے سورہ برائت دے کر بھےجا کہ آئند ہ سال مشرک حج نہیں کر سکتے اور خا نہ کعبہ کا عریاں طواف نہیں کر سکتے‘ جنت میں مسلمانوں کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہو گا‘ جو ان کے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان معاھدہ ہوا ہے اس کی ایک مدت معےن ہے اللہ تعالی اور اس کا رسول مشرکوں سے براءت کرتا ہے۔
حضرت نے تبلیغ کی اس مھم پر حضرت ابو بکر کو روانہ کردیا۔پھر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا یا علی (ع) آپ فورا ًابو بکر تک پھنچےں اور اس کو میرے پاس واپس بھےج دیں اور اس پیغام کو اس سے لے کر آپ (ع) خود اہل مکہ کی طرف جائیں۔( ۲۳ )
سبط ابن جوزی نے اس کے بعد اس روایت کو آخر تک اس طرح بیان کیا ہے کہ حضرت ابو بکر حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لو ٹ آئے اور کھاکہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوںکیا میرے بارے میں خداکا کوئی حکم نازل ہوا ہے آپ نے فرمایا نہیں فقط اتنی سی بات ہے کہ تبلیغ کے اس فرےضہ کو میری طرف سے کو ئی دوسرا انجام نہیں دے سکتا مگر وہ شخص جو مجھ سے ہو۔( ۲۴ )
یہ وہ خاص مقام اور منزلت ہے جو حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو دوسروں سے ممتا ز کردیتی ہے اور اس مو ضو ع پر تدبر کرنے والے اس عمیق معنی کی گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں۔
۱۰ ۔آپ کی شان میں کثیر آیات کا نزول :
حضرت امیر لمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا تمام اصحاب اور تمام لوگو ں سے ممتاز ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ آپ کی فضیلت اور شان میں کثرت سے آیات نازل ہو ئی ہیں جن میں اللہ کے نزدیک آپ(ع) کا خا ص مقام اور منزلت ظاہر ہوتی ہے ابن عساکر ابن عباس سے روایت بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی کتاب میں جتنی آیات حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہو ئی ہیں اتنی کسی اور کے لئے نازل نہیں ہوئیں۔ اور ابن عساکر ابن عباس سے یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کی شان میں تےن سو آیا ت نازل ہو ئیں۔( ۲۵ )
طبرانی اورابن ابی حاتم جناب ابن عباس سے روایت بیان کرتے ہیں ۔یاایهاالذین امنو ا ۔اللہ تعالی نے حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل کیا کیونکہ آپ(ع) مومنوں کے امیر اور سردار ہیں اور اللہ تعالی نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کو اور مقام پر رکھا جب کہ حضرت علی علیہ السلام کا ذکر فقط خیر کے ساتھ کیا۔( ۲۶ )
۱۱ ۔آپ کے لئے سورج کا پلٹنا :
ھم حضرت علی علیہ السلام کے امتیازات کا کیا ذکر کریں اور آپ کی کس کس خصوصیت کو بیان کریں بے شک آپ کے فضائل روز روشن کی طرح عیاں ہیں ھمارا کام تو فقط صاحبان عقل و علم کو یاد دلانا ہے ۔
ابن حجر صواعق محرقہ میں کہتے ہیں کہ آپ(ع) کے کرامات و معجزات روز روشن کی طرح واضح ہیں اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ (ع)کے لئے سورج پلٹا جب انبیاء کے سردار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے حجرہ میں تشریف فرما تھے اور آپ کا سر اقدس حضرت علی علیہ السلام کی گود میں تھا اورآپ پر وحی نازل ہو رھی تھی حضرت علی علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ راز و نیاز میں مصروف تھے آپ نے نماز عصر نہیں پڑھی تھی کہ سورج غروب ہو گیا حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کے لئے ہاتھ بلند کئے اور بارگاہ خداوندی میں عرض کی۔
بارالہا!
اگر یہ تیری اور تیرے رسول کی اطاعت میں مصروف تھے توان کے لئے سورج کو پلٹا دے چنانچہ سورج غروب ہونے کے بعد دوبارہ طلوع ہو گیا ہے، ابن حجر کہتے ہیں کہ طلحاوی اور قاضی اپنی کتاب شفا میں اس حدیث کی صحت کے قائل ہیں اور شیخ الاسلام ابو زرعہ (الرازی)نے ا س حدیث کو حسن کھاھے۔( ۲۷ )
ھم یہ عرض کرتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کے تمام فضائل کے باوجود کیا اب بھی غیروں کو ان کے برابر لایا جاسکتا ہے ؟
ابی لیلہ غفاری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
ستکون من بعدی فتنه فاذا کان ذلک فآلزموا علي بن اٴبيطالب اِنّه اٴوّلُ مَن یراني واٴوّلُ مَن يصافحُني یومَ القیامه وهو معي في السماء ِالعلیا و هو الفاروق بین الحق والباطل
عنقریب میری وفات کے بعدایک فتنہ برپا ہوگا جب اس طرح ہو تو تم حضرت علی(ع) ابن ابی طالب(ع) کے دامن سے متمسک رھنا کیونکہ یہ سب سے پہلے مجھ سے ملاقات کریں گے اور قیامت کے دن سب سے پہلے مجھ سے مصافحہ کریں گے اور میرے ساتھ آسمان ا علیٰ پر ہونگے اور یھی حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والے ہیں ۔( ۲۸ )
۱۲ ۔حق اور علی ساتھ ساتھ:
حق علی کے ساتھ اور علی حق کے ساتھ ہیں سیرت حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی طرف متوجہ ہونے سے آپ کو بہت سے شواھد مل جائیں گے جو آپ کے سب سے افضل ہونے اور حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد مقام خلافت کے زیادہ حق دار ہونے پر دلالت کرتے ہیں اس سے آپ کو حق کا علم ہو جائے گا ترمذی اپنی صحیح میں حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
رحم اللّه علیاً اللّهم ادرِ الحقَ معه حیث دار
اللہ تبارک و تعالی علی(ع) پر رحم کرے، پروردگاراحق کو ادھر موڑدے جس طرف یہ رخ کریں۔( ۲۹ )
فخر الدین رازی اپنی تفسیر کبیر میں بسم اللہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
جس نے اپنے دین میں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی اقتداء کی یقینا وہ ھدایت یافتہ ہے۔ اس کی دلیل حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ہے:
اللهم اٴدر الحق مع علی حیث دار
پروردگارا! جدھر جدھر علی جائیں حق کو ادھر موڑ دے ۔
قارئین کرام !یہاں مجھے کھنے دیجیے کہ اصحاب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایسا کوئی شخص نہیں تھا جس کے اس قدر فضائل و امتیازات ہوں انصاف پسند افراد کسی بھی خصوصیت میں دوسروں کا مقابلہ حضرت علی علیہ السلام سے نہیں کیاکرتے، چاھے وہ حق خلافت ہویا طہارت و عصمت علی علیہ السلام ۔
۱۳ ۔محبت علی:
زھری کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے مجھے اس اللہ کی قسم ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
عنوان صحیفة المؤمن حبُ علي بن اٴبي طالب ( ۳۰ )
مومن کے صحیفے کا عنوان( حضرت) علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی محبت ہے ۔
جناب ابن عباس کہتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
حب علي بن اٴبي طالب یاٴکل السیئات کما تاٴکل النارُ الحطب ( ۳۱ )
حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی محبت گناھوں کو اس طرح کھا جاتی ہے جس طرح آگ خشک لکڑی کو راکھ بنا دیتی ہے ۔
حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو دےکھ کر ارشاد فرمایا :
لایحبک اِلا مؤمن ولا یبغضُک اِلّا منافق مَن اٴحبک فقد اٴحبني و مَن اٴبغضک فقد اٴبغضني وحبیبی حبیب الله و بغيضي بغیض الله، ویل لمن اٴبغضک بعدي
آپ(ع) سے فقط مومن ہی محبت کرسکتا ہے اور فقط منافق ہی آپ سے بغض رکھتا ہے۔
جس نے آپ (ع)سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی جس نے آپ کے ساتھ بغض رکھا۔ اس نے میرے ساتھ بغض رکھا میرا محب اللہ کا دوست ہے اور میرے ساتھ بغض رکھنے والا اللہ کے ساتھ بغض رکھنے والا ہے۔ اس شخص کے لئے ھلاکت وتباھی ہے جو میرے بعد آپ(ع) کے ساتھ بغض رکھے گا۔( ۳۲ )
۱۴ ۔فضائل علی (ع):
یہ وہ خصوصیات و فضائل ہیں جن کی وجہ سے حضرت علی علیہ السلام تمام لوگوں سے ممتاز دکھائی دیتے ہیں۔ اللہ تعالی نے واضح طور پر حضرت علی علیہ السلام کے فضائل بیان کرنے کا ارادہ فرمایا ہے۔
ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ ہم حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے لیکن راستہ میںحضرت علی علیہ السلام کا جوتا ٹوٹ گیا۔
آپ ہم سے پیچھے رہ گئے اور جوتا سلنے لگ گئے۔ (ھم نے )تھوڑا فاصلہ ہی طے کیا تھا کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کون ہے جو قرآن کی تفسیر کرے‘اس کی تنزیل باریکیوں کے ساتھ بیان کر سکے ۔کچھ لوگ آپ (ص)کے قریب آئے ان میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی تھے۔
حضرت ابو بکر نے کھاوہ میں ہوں۔
حضرت نے فرمایا نہیں۔
حضرت عمر نے کھاوہ میں ہوں۔
حضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے فرمایا نہیں۔ لیکن وہ شخص جوجوتا سل رہاھے (یعنی حضرت علی علیہ السلام) وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت علی کے پاس گئے اور آپ (ع) کو اس بات کی بشارت دی (لیکن )حضرت علی علیہ السلام نے اپنا سر تک نہ اٹھایا گویا حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ فرمایا تھا وہ آپ(ع) نے سن لیا تھا۔( ۳۳ )
صاحب کشف الغمہ کہتے ہیں کہ تاویل کا انکار تنزیل کے انکار کی طرح ہے کیونکہ تنزیل کا منکر اس کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ اور تاویل کا منکر اس پر عمل کرنے سے انکار کرتا ہے اپنے انکار میں دونوں برابر ہیں اور ان کے لئے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آ پ کے جانشین کے سوا کوئی پناھگاہ نہیں ہے۔چنا نچہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فقط ان خصوصیات کا مالک ہی خلافت وامامت کا حقدار ہو سکتا ہے ۔( ۳۴ )
۱۵ ۔امیر المومنین:
انس بن مالک کہتے ہیں کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے انس وضو کرنے کے لئے میرے پاس پانی لاؤ۔ جب میں پانی لے آیا تو حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے وضو فرمایا اور نماز پڑھی اس کے بعد میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا:
اے انس آج جو شخص سب سے پہلے میرے پاس آئے گا وہیاٴمیر المومنین، وسیدالمسلمین، وخاتم الوصیین، اِمام الغرالمحجلین ہو گا اچانک کسی نے دق الباب کیا میں نے دیکھا کہ حضرت علی علیہ السلام تشریف لائے ہیں۔ حضرت نے پوچھا انس دروازے پر کون ہے ؟
میں نے عرض کی حضرت علی علیہ السلام ہیں ۔
فرمایا اس کے لئے دروازہ کھول دو چنانچہ حضرت علی علیہ السلام اندر تشریف لے آئے۔( ۳۵ )
علماء کے درمیان برےدہ بن حصےب اسلمی کی یہ روایت مشھو ر و معروف ہے کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساتوں میں ساتویں سے متعلق مجھے حکم دیا۔ ان لوگوں میں حضرت ابو بکر حضرت عمر حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بھی تھے حضرت نے فرمایا:
سلموا علیٰ علي باِمرة المؤمنین
مومنوں کے امیر حضرت علی علیہ السلام کو سلام کرو۔
ھم نے انھیں سلام کیا اور حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے آنے کے بعد تشریف لائے ۔( ۳۶ )
حضرت علی علیہ السلام کا غلام سالم کھتا ہے کہ میں حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ آپ کے کھیت میں کام کر رہاتھا وہاں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر آئے اور ان دونوں نے کھا:
السلام علیک یا امیر المومنین و رحمة الله وبرکاته
اے امیر المومنین آپ(ع) پراللہ کی سلامتی، رحمت اور اس کی برکتےں نازل ہوں۔لیکن ایک وقت اےسا آیا کہ ان سے سوال کیا گیا کہ آپ (ع)تو امیر المومنین کہہ کر سلام کیا کرتے تھے اب کیا ہوا۔ وہ کھنے لگے اس وقت حکم دیا گیا تھا اس لئے امیر المومنین کہہ کر سلام کرتے تھے۔( ۳۷ )
جابر بن یزید حضرت امام محمد باقر علیہ السلام بن امام علی زےن العابدین (ع) سے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ سے حضرت علی (ع)ابن ابی طالب (ع)سے متعلق سوال کیا گیا تو انھوں نے کھاکہ میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناھے :
اِن علیا و شیعته همْ الفائزون
بے شک حضرت علی علیہ السلام اور ان کے شیعہ(قیامت کے دن)کامیاب ہونگے۔( ۳۸ )
۱۶ ۔ غدیر خم :
پوری کائنات میں اللہ تبارک و تعالی نے یہ خصوصیت صرف حضرت علی علیہ السلام کو عناےت فرمائی ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرحجة الوداع سے واپس لو ٹتے ہوئے غدیر خم کے میدان میں وحی نازل ہوئی کہ جس میں اللہ تعالی نے ارشاد فر ما یا:
( یَااٴَیُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ )
اے رسول(ص)جو کچھ آپ(ص) کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اسے لوگوں تک پھنچا دو۔
یعنی امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی خلافت اور امامت کے لئے آپ (ص)پر وحی بھیجی گئی ہے کہ اس کا اعلان کر دیں لہٰذا یہاں امامت پر نص بیان ہوئی ہے اور اللہ تعالی نے فرمایا:
( وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاس ) ( ۳۹ )
اگر آپ(ص) نے یہ کام نہ کیا تو (گویا ) آپ(ص) نے تبلیغ رسالت نہیں کی اور اللہ لوگوں کے (شر)سے آپ(ص) کی حفاظت کرنے والا ہے۔
(جب یہ حکم ملا تو)حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوںکو خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے ۔آپ نے امیر المومنین کو بلایا اور اپنے پاس دائےں جانب کھڑا کردیا (اور خطبہ دینا شروع کیا )۔
سب سے پہلے آپ(ص) نے اللہ کی حمد و ثنا کی اور پھر آپ(ص) نے فرمایا:
اٴني قد دعیت ویوشک اٴُن اُجیب و قد حان منی خفوق من بین اٴظهُرِکُم واِنی مخلِّفٌ فیکمُ ما اِن تمسکتم به لن تِضلوا اٴبداً کتابُ الله وعترتي اٴهل بیتي وانهمالن یفترقا حتّیٰ یردا عليَّ الحوض
میں نے آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ آپ میری بات کا صحیح صحیح جواب دیں۔ مجھے ایسے معلوم ہوتا ہے کہ میرا وقت قریب آچکا ہے اور میں شاید زیادہ دیر آپ لوگوں کے درمیان نہ رہو ں ۔میں دو چیزیں تمہارے درمیان چھوڑ کر جا رھاھوں ان کا دامن اگر مضبوطی سے تھامے رہو گے تو کبھی بھی گمراہ نہیں ہو گے۔ ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت و اہل بیت۔ یہ دونوں حوض کوثر پر میرے پاس آنے تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونگے۔ پھر آپ نے بلند آواز سے فرمایا :
الست اولی بکم منکم باٴ نفسکم
کیا میں تمہارے نفسوں پر تم سے زیادہ تصرف کرنے کا حق دار نہیں ہوں۔ سب نے یک زبان ہوکر کھابے شک آپ (ص)ھم سب سے بھتر ہمارے نفسوں پر تصرف کا حق رکھتے ہیں اس کے بعدآپ(ص) نے امیر المومنین علیہ السلام کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر اس قدر بلند کیا کہ بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی اور فرمایا :
فمن کنت ُمولاه فهذا عليُّ مولاه اللهمّ وال من والاه و عاد من عاداه وانصر من نصره و آخذُل مَن خذله
جس کا میںمولا ہوں اس کے یہ علی (ع)مولا ہیں ۔پروردگار ا اس سے محبت رکھ جو اس سے محبت رکھے ۔اس سے دشمنی رکھ جو اس سے دشمنی رکھے اور اس کی مدد کر جو اس کی مدد کرے اور اس کو رسوا کر جو اس کو رسوا کرے ۔
پھر تمام مسلمانوں کو حکم دیا کہ گروہ در گروہ حضرت علی علیہ السلام کے پاس جائیں اور انھیں اس بلند اور عظیم مقام کی مبارک باد دیں اورانھیں امیر المومنین کہہ کرسلام کریں۔
جس طرح انھیں حکم دیا گیاسب لوگوں نے ویسے ہی کیا پھر آپ (ص)نے اپنی ازواج اور تمام مومنین کی خواتین سے کھاکہ وہ بھی علی کو امیر المو منین کہہ کر سلام کریں اورمبارک باد دیں ان سب نے اسی طرح کیا،لیکن حضرت عمر کا تو تبریک کھنے کا انداز ہی نرالا تھا۔ وہ خوشی میں ڈوبے ہوئے تھے اور کہہ رھے تھے۔
بخ بخ یا علی اٴصبحت مولا ي ومولیٰ کلِّ مؤمنٍ و مؤمنة
اے علی( علیہ السلام) مبارک ہو مبارک ہو آپ(ع) میرے اور ہر مومن و مومنہ کے مولا و آقاھیں ۔
قارئین کرام!اس مبا رک موقع پر جناب حسان نے بھترین اشعار کھے :
ینا دیهم یوم الغدیر نبیهم
بخم واٴسمع بالرسول منادیا
وقال فمن مولاکم و ولیکُم
فقالوا ولم یبدوا هناک التعامیا
اِلٰهک مولانا و انت ولینا
و لن تجدن منّالک الیوم عاصیا
فقال له قم یاعلي فاِنني
رضیتُک من بعدي اِماماً و هادیا
فمن کنت مولاهُ فهذا ولیّه
فکونوا له اٴنصار صدقٍ موالیا
هناک دعا اللهم وال ولّیهُ
وکن للذي عادیٰ علیاً معادیا( ۴۰ )
غدیر کے دن ان کے نبی(ص) نے انھیں پکارا اور خم کے میدان میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس ندا کو سنا حضرت (ص)نے فرمایا:
آپ کا مولا اور ولی کون ہے؟
کھنے لگے آپ(ص) کے سوا کوئی بھی نہیں ہے۔ آپ (ص)کا پروردگار ھمارا مولا ہے اور آپ(ص)ھمارے ولی ہیں۔ آج کے دن آپ(ص) ہم میں سے کسی کو بھی نافرمان نہیں پائیں گے۔ پھر حضرت نے ارشاد فرمایا :یاعلی (ع) کھڑے ہو جائیے ۔میں چاھتا ہوں کہ آپ(ع) میرے بعد امام اور ہادی ہوں۔ پس جسکا میں مولا ہوں اس کے یہ ولی ہیں، لہٰذا ان کے سچے مددگار اور حامی بنو ۔
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس موقع پر دعا مانگی کہ اے اللہ جو علی (ع)سے محبت رکھے تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو علی( علیہ السلام) سے دشمنی رکھے تو بھی اس سے دشمنی رکھ ۔
۱۷ ۔بت شکن :
جیسا کہ حضرت ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام نے (اپنی قوم کے) بتوں کو توڑا تھا۔ لیکن بت شکنی کے اعتبار سے بھی حضرت علی کو جو امتیاز حاصل ہے وہ کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہوا ہے۔ آپ نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوش پر سوار ہو کر کعبہ میں رکھے ہوئے بتوں کو توڑا۔ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے تانبے یالوھے سے بنے ہوئے بڑے بت یعنی صنم قریش کو اکھاڑ کر زمین پر پھینک دو ۔حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں ابتدا ہی سے اس کا علاج کرنے والا تھا اور اس موقع پر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رھے تھے:
( جَاءَ الحَقُّ وَزَهَقَ البَاطِلُ اٴنَّ البَاطِلَ کَانَ زَهُوْقاً )
”حق آگیا ہے اور باطل چلا گیا ہے اور یقینا باطل کو تو جانا ہی ہے۔“
میں نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق بڑے بت کو زمین پر پھینک دیا اور وہ ٹوٹ گیا۔( ۴۱ )
۱۸ ۔ قربت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔
حضرت علی علیہ السلام کے امتیازات میں سے ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ آپ(ع) حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دوسروں کی نسبت زیادہ قربت رکھتے ہیں ۔
جس وقت حضور(ص) کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوئی آپ(ع) نے فرمایا میرے بھائی اور دوست کو میرے پاس بلاؤ۔
حضرت عائشہ نے سمجھا کہ آپ(ص) حضرت ابوبکر کو بلا رھے ہیں۔
انھوں نے حضرت ابوبکر کو بلابھےجا،حضرت ابوبکر اس کمرے میں تشریف لائے جہاں آپ(ص) آرام فرما رھے تھے، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی آنکھیں کھولیں اور حضرت ابوبکر کو دےکھ کر اپنا چھرہ دوسری طرف کر لیا اس وقت حضرت ابوبکر وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
کچھ دیر بعد جب آپ(ص) کی طبیعت سنبھلی تو آپ نے دوبارہ اپنے کلمات دھرائے تو حضرت حفصہ نے سمجھا کہ شاید آپ(ص) حضرت عمر کو بلا رھے ہیں۔
جب حضرت عمر حاضر ہوئے توحضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چھرہ دوسری طرف پھیر لیا،اس کے بعد حضرت نے ایک مرتبہ پھر فرمایا :
ادعوا لي اٴخي وصاحبي ۔ میرے بھائی اوردوست کو میرے پاس بلا لاؤ۔
حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے اندازہ کر لیا کہ آپ حضرت علی علیہ السلام کو بلانا چاھتے ہیں میں نے آپ(ع) کو بلایا جب حضرت علی علیہ السلام تشریف لائے تو حضرت(ص) نے آپ(ع) کی طرف اشارہ کیا کہ میرے قریب آجاؤ، آپ(ع) حضرت کے قریب ہوئے۔
اس کے بعد حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ (ع)سے کافی دیر تک آھستہ آھستہ گفتگو کرتے رھے۔ جب نفس پر وازکا وقت آیا تو آپ (ص)نے حضرت علی علیہ السلام کومخاطب کر کے فرمایا:ضع راٴسی یا علی فی حجرک فقد جاء اٴمرُالله عزوجل فاذا فاضت نفسي فتناولها بيدک واٴمسح بها وجهک ثم وجهنی اِلیٰ القبله وتول اٴمري و صلي عليَّ اٴوّل الناس ولاتفا رقني حتیٰ توارینيفي رمسي
یا علی (ع)میرے سر کو اپنی گود میں رکھو اللہ جل جلالہ کا حکم ہے کہ میری روح قبض ہونے لگے تو تمہارے چھرے کے سامنے ہو۔ تم میرا چھرہ قبلہ کی طرف کرنا ‘ میرے امر کی حفاظت کرنا‘ لوگوں میں سب سے پہلے مجھ پر نماز پڑھنا‘ میری وفات کے مراسم جب تک ختم نہ ہو جائیں مجھ سے دور نہ ہونا۔
چنا نچہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھاآپ(ص) کے چھرہ اقدس کو دیکھ کر رونے لگیں اور روتے ہوئے فرمایا :
واٴبیض یستسقیٰ الغمام بوجهه
ثُمال الیتامیٰ عصمةٌللاراملِ
سفید بادل یتیموں کے مدد گار اور بیواوں کے محافظ کے چھرے مر چھا گئے۔
اس وقت آنحضرت (ص)نے اپنی آنکھیں کھولیں اور نحیف آواز میں فرمایا : اے میری بےٹی فاطمہ یہ جملہ نہ کھو کیونکہ یہ تہارے چچا ابو طالب فرمایا کرتے تھے البتہ یہ کلمات کھو:
( وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اٴَفَإِیْن مَاتَ اٴَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی اٴَعْقَابِکُمْ ) ( ۴۲ )
محمد(ص) تو فقط رسول ہیں اور ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر گزر چکے ہیں۔ پھر اگر محمد (ص)اپنی موت سے اس دنیا سے کوچ کر جائیں یا قتل کر ڈالے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں کفر کی طرف پلٹ جاؤ گے۔( ۴۳ )
۱۹ ۔دعوی سلونی:
آپ(ع) کے امتیازات میں سے ایک امتیاز یہ ہے کہ آپ نے کئی مرتبہ فرمایا :
سلوني قبل اٴن تفقدوني سلوني فاِن عندي علم الاولين والاّخرین
مجھ سے جو کچھ پوچھنا چاھتے ہو پوچھ لو مجھ سے سوال کرو قبل اس کے کہ تم مجھے کھو دو کیونکہ میرے پاس اولین و آخرین کا علم ہے ۔
آپ(ع) مزید ارشاد فرماتے ہیں:
اما والله لو ثنیت لی الوسادة لحکمت بین اٴهل التوراة بتوراتهم و بین اٴهل الانجیل بانجیلهم واٴهل الزبور بزبورهم و اٴ هل القرآن بقرآنهم حتیٰ یزهر کل کتاب من هذه الکتب ويقول یا رب اِنَّ علیا قضیٰ بقضائِک والله اِني اٴعلم بالقرآن وتاٴویلهِ من کلِّ مدع علمه ولولا آیة في کتاب الله لاٴخبرتکم بما یکون اِلیٰ یوم القیامه ( ۴۴ )
خدا کی قسم اگر میرے لئے ایک مسند بچھائی جائے اس پر بیٹھ کر میں توریت والوں کو (ان کی) توریت سے‘ انجیل والوں کو( ان کی )انجیل سے ‘ اہل زبور کو (ان کی) زبور سے اور
قرآن والوں کو( ان کے) قرآن سے فیصلے سناؤں۔ اس طرح کہ ان کتابوں میں سے ہر ایک کتاب بول اٹھے گی کہ پروردگارا علی (ع) کا فیصلہ تیرا فیصلہ ہے۔ خدا کی قسم میں قرآن اور اس کی تاویل کو ہر مدعی علم سے زیادہ جانتا ہوں ۔قرآن مجید کی آیت کے متعلق میں تمھیں یوم قیامت تک خبر دے سکتا ہوں۔ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے امتیازات کے حوالے سے آپ(ع) کے بہت سے ایسے کامل کلمات ہیں جو آپ (ع)کی عظمت ،طہارة ، شرافت و فضیلت پر دلالت کرتے ہیں۔آپ (ع)کی ذات کے علاوہ کوئی بھی اس کا حقدار نہیں ہے۔ آپ(ع) نے ارشاد فرمایا:
والله لو کُشف الغطاء ما ازدت یقینا ( ۴۵ )
خدا کی قسم اگر پردے ہٹا دیئے جائیں تو بھی میرے یقین میں اضافہ نھیںھوگا۔اور اسی طرح حضرت کا یہ ارشاد کہ:
والله لو اُعطیتُ الاقالیم السبعة بما تحت اٴفلا کِها علیٰ اٴن اٴُعصي الله في نملهٍّ اٴسلبها جلبَ شعیره لما فعلتُ
خدا کی قسم اگر مجھے سات اقلیم اس لئے دیئے جائیں کہ میں اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے چیونٹی کے منہ سے جو کا چھلکا چھین لوں تو میں ایسا نہیں کروں گا۔( ۴۶ )
____________________
[۱] ارشاد ج ۱ص۵۔
[۲] شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱ ص۱۵۔
[۳] شرح نھج البلاغہ ج۱۳ص۱۹۷۔
[۴] شرح نھج البلاغہ ج۱۳ص۱۹۷۔
[۵] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص ۱۵۔
[۶] ارشاد ج۱ص۵۰ ۔
[۷] ارشاد ج ۱ ص ۵۲،۵۳، اسی طرح مختصر تاریخ دمشق ج ۱۷ ص۳۱۸ اور تاریخ یعقوبی ج ۲ ص۳۹۔
[۸] سورہ بقرہ آیت ۲۰۷۔
[۹] مستدرک الصحیحین ج ۳ ص۱۴ ۔
[۱۰] المناقب الخوارزمی ص۳۴۲ ،ذخائر عقبی ،محب طبری ص۳۲۔
[۱۱] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص۲۴۔
[۱۲] شرح نھج البلاغہ ج ۱ ص۲۰۔
[۱۳] شرح نھج البلاغہ ج ۱ ص۲۴۔
[۱۴] مختصر تاریخ دمشق ج ۱۷ ص۳۲۰۔
[۱۵] ارشاد ج ۱ ص۸۷۔
[۱۶] مستدرک الصحیحین ج ۳ ص۳۲۔
[۱۷] ارشاد ج۱ ص۱۱۶،۱۱۷۔
[۱۸] الکامل فی التاریخ ج ۱ ص۵۶۶ ،۵۶۷۔
[۱۹] سورہ ھود آیت ۱۷۔
[۲۰] ارشاد ج ۱ ص ۸۵۔
[۲۱] کفاےة الطالب فی مناقب علی ابن ابی طالب علیہ السلام ص۲۰۱ ،۲۰۲ ۔
[۲۲] کفاےة الطالب ،الکنجی الشافعی:ص۱۰۳‘۲۰۴ ۔
[۲۳] کشف الغمہ فی معر فة الا ئمہ ص۳۰۰ ۔
[۲۴] تذکرة الخواص ص۴۳ ۔
[۲۵] صوا عق محر قہ ابن حجر ص۱۲۷ ۔
[۲۶] صواعق محرقہ ابن حجر ص ۱۲۷۔
[۲۷] صواعق محرقہ ص۱۲۸۔
[۲۸] کفایة الطالب ص ۱۸۸۔
[۲۹] صحیح ترمذی ج۲ ص۲۹۸۔
[۳۰] تاریخ بغداد خطیب بغدادی ج۴ ص ۴۱۰۔
[۳۱] تاریخ بغداد ج۴ ص۱۹۴۔
[۳۲] مجمع الزوائد ج۹ ص۱۳۳۔
[۳۳] مستدرک الصحیحین ج ۳ص ۱۲۲۔
[۳۴] کشف الغمہ فی معرفت الآئمہ ج۱ ص ۳۳۶تا ۳۳۷۔
[۳۵] کشف الغمہ ج ۱ ص۳۴۲ ۔
[۳۶] ارشاد جلد ۱ص۴۸بحار جلد ۳۷ص۳۳۱۔
[۳۷] کشف الغمہ ج ۱ ص۳۴۲ ۔
[۳۸] تا ریخ دمشق ، تر جمہ الامام علی ابن ابی طالب :جلد ۲ ص ۳۴۸ اور ۸۵۱وارشاد جلد ۱ص۴۱ ۔
[۳۹] سورہ مائدہ آیت ۶۷۔
[۴۰] الارشاد ج۱ ص ۱۷۵ تا ۱۷۷۔
[۴۱] مناقب خوارزمی ص۱۲۳تا ۱۲۴۔مستدرک صحیحن ج ۳ ص۵۔
[۴۲] آل عمران آیت ۱۴۴ ۔
[۴۳] ارشاد ج۱ ص ۱۸۵ تا ۱۸۷۔
[۴۴] امالی الصدوق ص ۲۸۰ ارشاد ج ۱ ص ۳۵بحار ج ۴۰ ص ۱۴۴۔
[۴۵] مناقب خوارزمی ص ۳۷۵۔
[۴۶] عقائد امامیہ شیخ محمد رضا مظفر ص ۱۱۰۔
چھٹی فصل
رحلت پیغمبر (ص)کے بعد آپ پرہو نے والے ظلم
حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام اپنے کلمات قصار میں ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے اس ذات کی قسم جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور کلیوں کو نکالا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عنقریب میرے بعد یہ امت تجھ پر ظلم ڈھائے گی ۔( ۱ )
حسد اور کینہ:
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اپنے کلمات قصار میں ارشاد فرمایا کہ قریش جس قسم کا کینہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رکھتے تھے اسی قسم کا کینہ میرے ساتھ رکھتے ہیں اور میری وفات کے بعد یہ لوگ میری اولاد کے ساتھ بھی اسی طرح کا بغض اور کینہ رکھیں گے ۔میں نے قریش کا کیا بگاڑا ہے میں نے تو فقط اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں ان کے ساتھ جنگ کی ہے ۔ اگر وہ مسلمان ہیں تو مجھے یہ بتائےں کہ کیا جو اللہ اور اس کے رسول( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرے اس کی یھی جزا ہے؟( ۲ )
رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک حصہ:
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کلمات قصارمیں ارشاد فرماتے ہیں:
میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میںان کاا یک جز شمار ہوتا تھااور لوگ مجھے اس طرح عزت کی نگاہ سے دیکھتے جیسے آسمان پر ستاروں کو دیکھتے ہیں پھر ایک وقت ایسا آیازمانے نے مجھ سے آنکھیں پھیر لیں۔ اور مجھے فلاں فلاں کے ساتھ ملا دیا گیا اور وہ سب لوگ عثمان کی طرح تھے میں نے کھایہ عجیب بدبو ہے ؟ اس کے بعد بھی زمانہ مجھ سے راضی نہ ہوا اور مجھے اس قدر حقیر جانا کہ مجھے ابن ھند اور ابن نابغہ کے مقابل لا کھڑا کیا ۔( ۳ )
ایک شخص نے حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے سوال کیا کہ آپ کا کیا خیال ہے اگر حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد ان کا ایک بالغ ،عاقل اور راشد، بیٹا ہوتاتو کیا عرب خلافت اس کے سپرد کر دیتے ؟
آپ نے فرمایا: ھرگز نہیں اگر وہ میری طرح صبر نہ کرتا تو یہ لوگ اسے قتل کردیتے کیونکہ عربوں کوحضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لائے ہوئے احکام پسند نہ تھے اور اللہ تعالی نے انھیں جو فضیلت عطا فرمائی تھی اس میں وہ حسد کرتے تھے ان کے ساتھ انھوں نے بڑی بڑی جنگیں کیں یہاں تک کہ ان کی زوجہ پر تھمت لگا دی یہ لوگ بڑے بڑے انعامات اور عظیم احسانات کے باوجود ان سے نفرت کرتے تھے۔
ان کی زندگی میں ہی وہ اس بات پر متفق ہو گئے تھے کہ آپ کی وفات کے بعد خلافت کو اہل بیت( علیھم السلام) تک نہیں پھنچنے دیں گے اگر قریش نے آپ کے مبارک نام کو فقط حکومت کا ذریعہ بادشاھت اور عزت کا ڈھال نہ بنایا ہوتا تو آپ کی وفات کے بعد وہ ایک دن بھی اللہ تعالی کی عبادت نہ کرتے اور اپنی سابقہ گمراھیوں کے گڑھے کی طرف لوٹ گئے ہوتے۔ پھر اللہ تعالی نے ان پر فتح کے دروازے کھول دیئے اور فاقوں کے بعد انھیں کوئی چیز مل گئی اور انھوں نے محنت کر کے مال اکھٹا کر لیا اور اسلام جس چیز کو ناپسند کرتا وہ ان کی نظر میں اچھی کھلائی۔
اکثر لوگوں کے دل دین کے سلسلے میں مضطرب رھے اور اس قوم نے کھاکہ اگر یہ حق نہ ہوتا تو یہ کامیابی نہ ہوتی اور ان فتوحات کو وہ اپنے بادشاھوں کی حسن تدبیر اوربھترین آراء کی طرف منسوب کرتے ۔یہ لوگوں کو یہ تاکید کرتے کہ ان بادشاھوں کی تعریف کرو اور دوسروں کی توھین کرو، ہم وہ لوگ ہیں جنھیں توھین اور غلط الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے اور ہمارے نور کو بجھانے کی کوشش کی گئی ھماری آواز اور وصیت کو دبایا گیا اور ایک طویل زمانے تک یھی سلسلہ چلتا رھادنیا والے ہمارے ساتھ زیادتی کرتے رھے۔ یہاں تک کہ کئی سال ا س طرح گزر گئے اور ھمیں جاننے والے اکثر لوگ مر گئے ہیں اور بہت سے ایسے لوگ پیدا ہوگئے جو ھمیں نہیں جانتے تھے اگر اس وقت حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرزند ہوتا تو اس کا کیا حال ہوتا ؟
بے شک مجھے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جہاد اور اطاعت کی وجہ سے اپنے قریب کیا ہے اور اس وجہ سے نہیں کہ جسے تم قرب سم ھتے ہو یعنی فقط نسب اور خون کی وجہ سے میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقارب سے نہیں ہوں بلکہ حسب و نسب کے علاوہ جہاداور ان کی حکم پر عمل کرنے کی وجہ سے ان کے قریب ہوں۔
اس وقت حضرت نے راوی سے پوچھا کہ تیری رائے کیا ہے؟ اگر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیٹا ہوتا تو کیا وہ اسی طرح کرتا جیسے میں نے کیا ہے اور جس طرح میں ان سے دور ہوں وہ بھی دور ہوتا اور پھر قریش کے نزدیک اس کی قدر و منزلت کا کوئی سبب نہ ہوتا آخر میں ارشاد فرمایا:
اے اللہ تو جانتا ہے کہ میرا مملکت ،ریاست اور امارت کا کوئی ارادہ نھیں‘ میری تو فقط یہ خواہش ہے کہ تیر ی حدود اور تیری شریعت کو قائم کروں ‘تمام امور صحیح طور پر انجام دوں‘ لوگوں کے حقوق ان تک پھنچادوں ‘ انھیں تیرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راستے کی طرف ھدایت کروں اور گمراھوں کو تیری ھدایت کے نور کی طرف رھنمائی کروں ۔( ۴ )
مظلوم کائنات :
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام اپنے کلمات قصار میںارشاد فرماتے ہیں جس دن سے اللہ تبارک تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح قبض فرمائی ہے اس دن سے لےکر آج تک میں مظلومےت کی زندگی بسر کر رہاھوں۔( ۵ )
حضرت امیر امومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام اپنے کلمات قصار میں ارشاد فرماتے ہیں۔ پروردگار عالم میں تجھ سے قریش کے خلاف مدد چاھتا ہوں۔انھوں نے تیرے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سر کشی اور بغاوت کی ان کے ساتھ سخت جنگےں کیں اور میں تیرے رسول کی اطاعت میں ان کے ساتھ لڑتا رھااور اب انھوں نے مجھے نشانہ بنالیا ہے۔ پروردگار تو میرے حسن (علیہ السلام ) اور حسین (علیہ السلام) کی حفاظت فرما۔ جب تک میںزندہ ہوںقریش کے ظالموںکوان پر قدرت عطانہ کر اورجب میں اس دنیا سے کوچ کر جاؤں تو تو ہی ان کا بھترین محافظ ہے اور تو ہی ہر چیز پر گواہ ہے۔( ۶ )
وصیت رسول :
حضرت امیر امومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے علی (ع)اگر لوگ آپ(ع) کے خلاف ہو جائیں تو اس وقت صبر و تحمل اور خاموشی کے ساتھ زندگی بسر کرناچنانچہ جب لوگ مجھ سے جدا ہوئے تو میں نے ناگوارحالت میںصبر وتحمل سے کام لیا اور بالکل خاموشی کے ساتھ گوشہ نشےنی اختیار کر لی ۔( ۷ )
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں مجھے سعد اور ابن عمر پر تعجب ہے کہ ان لوگوں کا خیال ہے کہ میں دنیا کے لئے جنگ کر رھاھوں۔ کیا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی دنیا کے لئے جنگ کرتے تھے ۔
لیکن اگر ان کا خیال یہ ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو بتوں کو توڑنے اور خدا کی عبادت کے لئے جنگ کرتے تھے تو میں بھی فقط گمراھیوں کو دور کرنے اور فحاشی اور فساد کو روکنے کے لئے جنگ کرتا رہاھوں۔ کیا مجھے دنیا کی محبت کے ساتھ متھم کیا جاسکتا ہے؟ ےقےنا نہیں۔ خدا کی قسم اگر دنیا ایک انسان کی شکل میں مجسمہ بن کر میرے سامنے آجائے تو میں تلوار کے ساتھ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دونگا۔( ۸ )
پیراھن خلافت :
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام اپنے مشھو ر خطبہ شقیقیہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
خدا کی قسم ابو قحافہ کے فرزند نے خلافت کا پیراھن پھن لیا حا لا نکہ وہ میرے بارے میں اچھی طرح جانتا تھا کہ میرا خلا فت کے سلسلے میں وہی مقام ہے جو چکی کے اندر اس کے کیل کا ہوتا ہے۔ میں وہ (کوہ بلند ہوں )جس پر سے سےلاب کا پانی گزر کر نیچے گر جاتا ہے اور مجھ تک پرندہ پر نہیں مار سکتا (اس کے باوجود )میں نے خلافت کے آگے پر دہ لٹکا دیا اور اس سے چشم پوشی کر لی اور سوچنا شروع کر دیا کہ اپنے کٹے ہوئے ہاتھوں سے کس طرح حملہ کروں یا اس بھیانک تیرگی پر صبر کروں کہ جس میں سن رسیدہ چل بستے ہیں اور بچے بوڑھے ہوجاتے ہیں اور مومن جد وجھد کرتے ہوئے اپنے پروردگار کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔
مجھے اس بھیانک اندھےرے میں صبر کرنا ہی قرےن عقل نظر آیا لہٰذا میں نے صبر کیا حالا نکہ میری آنکھوں میں (غبار و اندہ )کی خلش تھی اوریہ امر حلق میں کانٹے کی طرح پھنس کے رہ گیا اور اس طرح میں اپنی میراث کو لٹتے ہوئے دےکھ رھاتھا۔( ۹ )
مکالمہ حضرت عمر اور حضرت ابن عباس
حضرت عمر ابن خطاب ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں:
ابن عباس میں تیرے مولا و آقا کو مظلوم سمجھتا ہوں۔
ابن عباس کہتے ہیں کہ اے مومنوں کے بادشاہ ان کی یہ مظلومےت آپ کی وجہ سے ہے۔
حضرت عمر ابن خطاب نے کچھ دےر توقف کیا حا لانکہ دل ہی دل میں حضرت ابن عباس کے جواب کا اعتراف کر چکے تھے کھنے لگے:
میرے خیال میں قوم نے انھیں خلافت سے اس لئے دور رکھا ہے کیونکہ وہ نوجوان ہیں اور اہل عرب انھیں کم سن سمجھتے ہیں (حا لانکہ )وہ کامل سن کے انسان ہیں ،اور اس کے بعد کھنے لگے: ابن عباس کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ تعالی نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی چالیس سال کے بعد مبعوث رسالت فرمایا تھا:
اس بات کا جواب دینا ابن عباس کے لئے چیلنج کی حیثیت رکھتا تھا ابن عباس نے کھااے مومنوں کے باد شاہ جہاں تک صاحبان حجت کا تعلق ہے وہ انھیں ابتداء ہی سے کامل ہوتے ہیں بلکہ جب سے اللہ نے منار اسلام کو بلند کیا ہے اسی وقت سے انھیں کامل بنایا ہے لیکن یہ لوگ اسے محروم گردانتے رھے ہیں اور حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی وفات سے پہلے حضرت زید کو تمام مسلمانوں کا امیر بنایا تھا تو اس وقت قریش کے بزرگ لوگ بھی موجود تھے جبکہ حضرت اسامہ بن زید فقط بےس سالہ نوجوان تھے۔( ۱۰ )
ایک اور گفتگو:
ابن حدید شرح نھج البلاغہ میں ابی بکر احمد بن عبد العزےز جوھری کی کتاب سقےفہ سے ابن عباس کی سند کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس نے فرمایا:
میں حضرت عمر کے ساتھ مدینہ کی گلی میں جا رہاتھا ہم نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے تھے حضرت عمر نے کھاابن عباس میرے خیال میں تیرے آقا بہت مظلوم ہیں میں نے دل ہی دل میں کھاخدا کی قسم اس قسم کی باتیں مجھ سے پہلے کبھی نہ کھی۔ بھر حال میں نے کھا: اے امیر ان کی یہ مظلومےت آپ کی وجہ سے ہے۔
یہ سننا تھا حضرت عمر نے میرے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا اور پھر کچھ دےر تک علیحدگی میں چلنے لگے پھر ایک جگہ ٹھھرے کچھ دیربعد میرے پاس آ کر کھنے لگے ابن عباس میرے خیال میں قوم نے کم سنی کی وجہ سے انھیں امر خلافت، سے دور رکھا ہے۔ میں نے دل میں کھاکہ یہ تو آپ کی پھلی بات سے بھی زیادہ تعجب خےز ہے۔
میں نے کھاخدا کی قسم اس وقت تو ان کی کم سنی کو مد نظر نہیں رکھا گیا کہ جب اللہ تبارک و تعالی نے انھیں حکم دیا کہ جاؤ اور حضرت ابو بکر سے سورہ برائت لے لو اور اس کی جگہ خود( حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ذریعہ )تبلیغ کے فرےضہ کو ادا کرو۔( ۱۱ )
احسا س ندامت :
جب حضرت ابوبکر نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھاکے گھر پر وہ (مشھور و معروف) چڑھائی کی حالانکہ اس مقدس گھر میں داخل ہوتے وقت حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اجازت لیتے تھے اور حضرت جبرئیل علیہ السلام اس دروازے پر کھڑے رھتے تھے ۔
توحضرت ابوبکر اپنی زندگی کے آخری ایام میں کہتے ہیں کاش میں جناب سیدہ فاطمہ(ع) کے گھر پر حملہ نہ کرتا خواہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیھامجھے برابھلا ہی کیوں نہ کہتیں۔
ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ میرے نزدیک صحیح قول یھی ہے کہ حضرت فاطمہ (ع) حضرت ابوبکر اور حضرت عمر پر ناراضگی کے عالم میں اس دنیا سے کوچ کر گئیں اور وصیت کرگئیں کہ یہ دونوں میری نماز جنازہ میں شریک نہ ہوں۔( ۱۲ )
عمر اور ابن عباس کی گفتگو :
ابوبکر احمد بن عبدالعزیز جوھری اپنی کتاب سقیفہ میں حضرت ابن عباس کی سند کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا:ایک مرتبہ حضرت عمر حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کے پاس آئے میں اس وقت حضرت کے ساتھ ان کے صحن میں کھڑا تھا انھوں نے حضرت کو سلام کیا۔
حضرت نے اس سے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے؟ وہ کھنے لگا بقیع جا رھاھوں اور حضرت سے پوچھا آپ کا یہ ساتھی (ابن عباس)وہاں نماز پڑھنے نہیں جائے گا ؟
حضرت نے فرمایا کیوں نہیں ۔
حضرت علی علیہ السلام نے مجھ سے کھاکہ اٹھو اور اس کے ساتھ جاؤ۔ میں اٹھا اور اس کے ساتھ چلنے لگا اس نے میری انگلیاں اپنی انگلیوں میں ڈالیں اور تھوڑی دیر بعد جب ہم بقیع سے آگے نکل گئے تو مجھ سے کھنے لگے ابن عباس خدا کی قسم آپ کے مولا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد پوری کائنات کے انسانوں میں خلافت کے زیادہ حقدار ہیں لیکن مجھے دو باتوں کا خوف ہے۔
ابن عباس کہتے ہیں کہ اس نے اس موضوع پر بات چھےڑ دی جبکہ میں اس مسئلہ پربات نہیں کرنا چاھتا تھا۔بھرحال میں نے پوچھا وہ دو باتیں کیا ہیں ؟ کھنے لگا مجھے اس بات کا خوف ہے کہ یہ کم سن بھی ہے اور بنی عبدمطلب سے محبت بھی رکھتا ہے۔( ۱۳ )
حضرت عمر کا استدلال :
ہاشم الحسینی اپنی کتاب سیرت ائمہ اثنی عشر میں کہتے ہیں کہ ابوحفص (عمر)نے بڑی عجیب بات کھی ہے کہ مجھے حضرت علی علیہ السلام سے اس بات کاخوف ہے کہ وہ بنی عبدالمطلب سے محبت کرتے ہیںاور اسی وجہ سے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد ان کے لئے خلافت کی بیعت نہ لی گئی ۔
جس طرح ابو حفص نے دعوی کیا ہے توکیا حضرت عثمان بن عفان کی اپنے خاندان کے ساتھ محبت کا خیال حضرت عمر کو نھیںآیا اس نے عثمان کو تو خلافت کے گھوارے میں لٹادیا اور اسے بادشاہ بنانے کے لئے دن رات صرف کر دیئے اور اس کی خاطر شوریٰ میں افراد مقرر کئے تاکہ وہ پہلے سے طے شدہ اتفاق پر قائم رھیں گویا حضرت عمر کی بات کا یہ مطلب ہے کہ عثمان کو
بادشاہ بنانے میں اس بات کا خوف نہیں ہوا کہ وہ اپنے خاندان کو لوگوں کی گردنوں پر سوار کردےگا۔( ۱۴ )
اجنبی کا تعجب :
ابن ابی الحدید شرح نھج البلاغہ میں ابوبکر الانباری کی کتاب امالی سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی السلام ایک دن مسجد میں حضرت عمر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جب آپ(ع) وہاں سے جانے کے لئے اٹھنے لگے توایک شخص نے حیرت و تعجب سے دیکھا تو اس سے ابن خطاب نے کھا: اس جیسے شخص کا حق ہے کہ ان پر تعجب کیا جائے خدا کی قسم اگر ان کی تلوار نہ ہوتی تو دین کے ستون قائم نہ ہوتے ۔ آنحضرت (ص)کے بعدیہ پوری امت میں سب سے بڑے قاضی ہیں اورامت میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے اور صاحب فضیلت ہیں۔ اس شخص نے جب یہ سنا تو وہ شخص ابن خطاب سے کھنے لگا اگر وہ ان سب خصوصیات کے مالک ہیں تو انھیں خلافت سے کیوں دور رکھا گیا ؟ ابن خطاب نے کھاھمیں ان کی کم سنی اور محبت بنی عبدالمطلب ناپسند تھی ۔( ۱۵ )
سوال وجواب :
زبیر بن بکار کتاب موفقیات میں محمد بن اسحاق سے اس طرح روایت بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر کی بیعت ہونے لگی تو تیم بن مرہ نے بہت افتخار کیا اور کھنے لگا:
سب بزرگان مہاجرو انصار کو اس میں شک نہیں ہے کہ حضرت علی علیہ السلام ہی حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صاحب امر ہیں۔ فضل بن عباس کھنے لگے اے خاندان قریش اور خصوصا اے بنی تیم بے شک آپ کوحضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی وجہ سے خلافت ملی ہے ۔اگر ہم خلافت کا مطالبہ کرتے تو ہم تمہاری نسبت اس کے زیادہ حقدار تھے اور لوگ بھی غیروں کی نسبت اسے زیادہ پسند کرتے لیکن اپنوں نے ہمارے ساتھ حسد کیا اور یہ سب کچھ ہمارے ساتھ کینہ رکھنے کی وجہ سے ہوا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں اس کے صاحب کے لئے عھد ہے اور اس کی طرف اس کی انتھا
ھے۔
ابولھب بن عبدالمطلب کے ایک بیٹے نے یہ اشعار کھے :
ماکنتُ اٴحسبُ اٴنَّ الامرَ منصرفاً
عن هاشم ثمٍ منها عن اٴبي حسنِ
اٴلیس اولُ من صلَّیٰ لقبلتکم
واٴعلمُ الناس بالقرآنِ والسننِ
واٴقرب الناسِ عهداَ بالنبي ومَن
جبریل عون له في الغسل والکفَنِ
مافیه ما فیهم لا یمترون به
ولیس في القوم ما فیه من الحسن
ماذا الذي ردهم عنه فَنَعلمه
ها اِنَّ ذا غبنُنامن اٴَعظم الغبنِ
میں یہ خیال نہیں کرتا کہ امر خلافت پہلے ہاشم اور پھر ابوالحسن سے منصرف ہوجائے۔ کیا وہ پھلی شخصیت نہیں ہیں جنھوں نے آپ کے قبلہ کی طرف نماز پڑھی اور کیا وہی پھلی ہستی نہیں ہے جو قرآن و سنت کو سب سے زیادہ جاننے والی ہے او ر کیا انھیں سب سے زیادہ قرب حضرت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حاصل نھیںھے؟
یہ وہی ہیں جن کی حضرت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل و کفن میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نے مدد کی ۔جن فضائل و خصوصیات کے یہ حامل ہیں وہ کسی میں نہیں ہیں اور کسی کو اس میں شک و شبہ نہیں ہے (کیونکہ)اور پوری قوم میں وہ خصوصیات نہیں ہیں جو ان میں موجود ہیں یہ لوگ جب ان خصوصیات کے حامل تھے تو پھر کس چیز کی وجہ سے انھیں محروم کیا گیا یقینا ہم نے انھیں بہت بڑا دھوکا دیا ۔( ۱۶ )
حضرت عمر کا حسن سلوک !!
ابن حدید کہتے ہیں کہ حضرت عمر ایک لشکر لے کر جناب سیدہ فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیھاکے دروازے پر پھنچے۔ اس لشکر میں اسعد بن خضیر اور سلمہ بن اسلم وغیرہ جیسے لوگ شامل تھے ان سے عمر نے کھاجو لوگ بےعت کرنے سے انکار کر رھے ہیں انھیں لے آؤ تا کہ وہ بیعت کریں ۔ان لوگوں نے بیعت کرنے سے انکار کر دیااور حضرت زبیر نے بیعت نہ کی اور اپنی تلوار کے ساتھ ان پر ٹوٹ پڑے تو حضرت عمر نے کھا: تمہارے مقابلے میں کتا نکل آیا ہے اسے پکڑ لو تو سلمہ بن اسلم نے حضرت زبیر کے ہاتھ سے تلوار چھین کردیوار پر دے ماری۔ پھر یہ لوگ حضرت علی علیہ السلام کے طرف بڑھے اور انھیں اپنے ساتھ لے گئے آپ (ع)کے ساتھ بنی ہاشم بھی تھے حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: میں خدا کا بندہ اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھائی ہوں لیکن وہ انھیں حضرت ابوبکر کے پاس لے گئے اس نے مطالبہ کیا کہ میری بےعت کرو ۔
حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا:
کہ کیامیں تمہاری نسبت خلافت کا زیادہ حقدار نہیں ہوں؟ میں کبھی بھی تمہاری بیعت نہ کروں گا بلکہ تمہارا حق بنتا ہے کہ تم میری بیعت کرو ۔تم لوگوں نے خلافت کو انصار کے سامنے یہ دلیل پیش کر کے حاصل کیا کہ ہم رسول حضرت خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رشتہ دار ہیں لہٰذا ہر حال میں ھماری اطاعت کرو اور ھماری خلافت کو تسلیم کرو ۔
میں بھی تمہارے سامنے وہی دلیل پیش کرتا ہوں جو تم نے انصار کے سامنے پیش کی (میں کھتا ہوں کہ مجھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ قربت حاصل ہے)۔ لہٰذا اگر تم اپنی ذات کے متعلق اللہ سے ڈرتے ہو تو انصاف کرو اور ھمیں بھی خلافت کے معاملے میں اس طرح پہچانو جس طرح تمھیں انصار نے پہچانا ہے وگرنہ تم جان بوجھ کر ہم پر ظلم کرنے والوں میں قرار پاؤ گے۔
حضرت عمر کہتے ہیں جب تک یہ بیعت نہ کریں انھیں نا چھوڑنا۔ حضرت علی علیہ السلام نے اسے جواب دیا کہ تم جو خلافت کا دودھ دوہ رھے ہو اسے مضبوطی سے تھام کر رکھنا کیونکہ کل یہ معاملہ تجھے بھی پیش آئے گا (یعنی تم بھی آئندہ اپنی خلافت کے لئے راھیں ھموار کر رھے ہو)
خدا کی قسم میں تمہاری بات نہیں مانوں گا اور میں اس کی ھرگز بیعت نہ کروں گا پھر فرمایا:
اے مہاجرین اللہ اللہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خلافت کو ان کی اھلبیت سے چھین کر اپنے گھروں میں داخل نہ کرو اور لوگوں میں جو اس مقام کے زیادہ حقدار اور اہل ہیں انھیں دور نہ کرو ۔
اے گروہ مہاجرین خدا کی قسم ہم اھلبیت اس خلافت کے تم سے زیادہ حقدار ہیں کیا کوئی ہم جیسا قاری قرآن دین خدا کا فقیہ، حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کا جاننے والا اور رعیت کی ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانے والا ہے ۔خدا کی قسم ہمارے معاملات میں اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرو اور حق سے دوری اختیار نہ کرو ۔( ۱۷ )
حضرت عمر کی پریشانی:
اسی طرح حضرت عمر اور حضرت ابن عباس کے درمیان خلافت کے حوالہ سے ایک اور گفتگوبھی کتب میں موجود ہے حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ میں عمر کے پاس موجود تھا اس نے ٹھنڈی آہ لی، میں نے سمجھا کہ اس کی پسلیوںمیں درد ہو رہاھے اور میں نے اس سے سوال کیا اے امیر ٹھنڈی سانس کیوں لے رھے ہیں کیا کوئی شدید تکلیف ہے ۔
انھوں نے جواب دیا: ابن عباس خدا کی قسم ایسی بات نہیں ہے (بلکہ)میں تو سوچ رہاھوں کہ میرے بعد خلافت کس کو ملنی چاھیے پھر خود ہی کھنے لگے شاید آپ کے مولا و سردار ہی اس کے زیادہ حقدار ہیں ۔
میں نے کھاپھر تم لوگوں نے ان سے یہ حق کیوں چھینا ہے ؟حالانکہ ان کا جہاد ،قرابت رسول، سبقت اسلام اور علم تم سب پر واضح ہے ،وہ کھنے لگے تم نے سچ کھاھے لیکن وہ خوش مزاج آدمی ہیں یہ کہہ کر وہ حضرت علی علیہ السلام کے متعلق اپنے نظریہ کا اظہار کرنے لگا۔
میں نے سوچا کہ کبھی تو وہ لوگ یہ بہانہ بناتے ہیں قریش نہیں چاھتے کہ خلافت و نبوت ایک گھر میں جمع ہوں اورکبھی کہتے ہیں کہ وہ نوجوان ہیں اور بنی عبدالمطلب کے ساتھ محبت رکھتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ وہ خو ش مزاج ہیں۔خدا کی قسم ان سب سے اچھا تو یہ ہے کہ وہ سچ سچ یہ کہہ دیں کہ اگر حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو ولایت دے دیں تو یہ بات ان کی جھوٹی شان وشوکت پر گراں گزرے گی جبکہ حق واضح ہے۔
صاحب سیرت الائمہ الاثنی عشر کہتے ہیں : آپ سب لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ابن خطاب تمام مسلمانوں سے سختی، درشتی اور لوگوں کے ساتھ بد اخلاقی میں مشھور و معروف ہے، اور اکثر لوگوں نے حضرت ابوبکر کی توجہ ان خصائص اور بری صفات کی طرف مبذول کروائی اور کھاکہ یہ قبیح اور برے صفات ہیں جن سے نفرت اور دوری کی جاتی ہے ۔
جیسا کہ اس مطلب کی طرف وہ آیہ مبارکہ بھی اشارہ کر رھی ہے جس میں اللہ تعالی نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کے متعلق ارشاد فرمایا:
( وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیظَ الْقَلْبِ لاَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِکَ ) ( ۱۸ )
اگر آپ سخت دل ہوتے تویہ لوگ آپ کے نزدیک نہ بیٹھتے ۔
لیکن ان بری خصلتوں کے باوجود بھی حضرت ابوبکر اس خلافت کا اصرار کرتے ہیں۔ جہاں تک حضرت علی علیہ السلام کی فقیروں کمزوروں کی ڈھارس اور تسلی کے لئے خوش مزاجی کا تعلق ہے تو فقط اس کی وجہ سے انھیں خلافت سے دور رکھنا مناسب نہیں ہے۔ جبکہ ان کے فضائل، مناقب جہاد اور سب سے پھلا مسلمان ہونا سب کے سامنے واضح ہے ۔( ۱۹ )
حضرت عمر اور حضرت ابن عباس کی ایک اور گفتگو
ایک اور مناسبت سے حضرت عمر کہتے ہیں کہ اے ابن عباس کیا تم جانتے ہوکہ لوگوں نے تم سے خلافت کودور کیوں رکھا؟
ابن عباس کہتے ہیں اے امیر میں نہیں جانتا۔ حضرت عمر کہتے ہیں: میں جانتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ قریش خلافت اور نبوت کے ایک گھر میں جمع ہونے کو ناپسند کرتے تھے ، لہٰذا قریش نے ایسا نہ ہونے دیا، ےعنی خلافت اور نبوت کو ایک گھر میں جمع نہ ہونے دیا اور خلافت کو حاصل کر لیا اور اپنے اس کام کو صحیح سمجھتے ہیں ۔ابن عباس نے اسے جواب دیا : اے امیر اگر تیرے غضب سے مجھے امان ہو اور آپ جواب سننے کی سکت بھی رکھتے ہوں تو میں کچھ عرض کروں؟
وہ کھنے لگے جو کچھ کھنا چاھتے ہو کھو۔
ابن عباس نے کہتے ہیں:
اگر قریش اسے پسند نہیں کرتے (کہ خلافت اور نبوت ایک مقام پر ہوں)تو پھر سن لو کہ اللہ تعالی بھی ایک قوم سے اس طرح فرماتاھے :
( ذَلِکَ بِاٴَنَّهُمْ کَرِهُوا مَا اٴَنزَلَ اللهُ فَاٴَحْبَطَ اٴَعْمَالَهُمْ ) ( ۲۰ )
اللہ تعالی نے جو کچھ نازل کیا ہے وہ لوگ اسے پسند نہیں کرتے لہٰذا اللہ تعالی نے ان کے تمام اعمال اکارت کر دیئے ۔
جہاں تک تمہارا یہ کھنا کہ لوگ اس پر فخر و مباحات کرتے ہیں ۔اگر خلافت کوئی فخر ہے تو وہ قرابت کے فخر کی وجہ سے ہے اور ہم وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق سے مشتق ہیں جن کے اخلاق کے متعلق خدا اس طرح فرماتا ہے :
( وَإِنَّکَ لَعَلی خُلُقٍ عَظِیمٍ ) ( ۲۱ )
بے شک آپ خلق عظیم کے مالک ہیں۔
سورہ شعراء میں خدا اس طرح فرماتا ہے :
( وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنْ اتَّبَعَکَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ ) ( ۲۲ )
اور جو مومنین تمہارے پیروکار بن گئے ہیں ان کے سامنے اپنے بازو جھکاؤ یعنی ان کے ساتھ تواضع کرو۔
جہاں تک تیرا یہ کھنا ہے کہ قریش نے خلیفہ کو انتخاب کیا ہے۔ تو اس کے متعلق اللہ تعالی کا یہ فرمان موجود ہے :
( وَرَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشَاءُ وَیَخْتَارُ مَا کَانَ لَهُمْ الْخِیَرَةُ ) ( ۲۳ )
اور تمہارا پروردگار جسے چاھتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاھتا ہے منتخب کرتا ہے۔
اے امیر کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالی اپنی مخلوق میں سے جسے منتخب کرنا چاھتا ہے منتخب کرتا ہے اگر قریش بھی اس طرح منتخب کر سکتے ہیں جس طرح اللہ تبارک و تعالی انتخاب کرتا ہے تب’ تم‘ اور’ خلافت ‘دونوں درست ہیں اور صحیح مقام پر ہیں ۔
قارئین کرام ! اس آخری کلمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیفہ حضرت علی علیہ السلام ہیں کیو نکہ اللہ تعالی نے وحی بھےج کر حضرت امیر امومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو خلیفہ منتخب فرمایا اور نص صرےح اس پر گواہ ہے اور عقل بھی خلافت کے صحیح راستے کی نشاندھی کرتی ہے ، چنانچہ ابن عباس کے ٹھوس اور محکم بیان کے سامنے عمر لا جواب ہو کر کھنے لگے۔
اے ابن عباس خا موش ہو جا تم بنی ہاشم تو ھمےشہ قریش کے ساتھ کینہ، مخالفت اور حسد رکھتے ہو اور اس کو دل سے نہیں نکال سکتے۔
حضرت ابن عباس اس طرح استدلال پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں تم بنی ھاشم کی طرف فرےب کی نسبت نہ دو کیو نکہ ان کے دل حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دل سے ہیں اور اللہ تبارک وتعالی نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل کو پاک و پاکےزہ پیدا کیا ہے ۔
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اہل بیت (ع) کی شان میں خدا وند متعال اس طرح ارشاد فرماتا ہے :
( إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیرًا ) ( ۲۴ )
اے اہل بیت اللہ چاھتا ہے کہ آپ سے ہر قسم کے رجس کو دور رکھے اور آپ کو اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جس طرح پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ۔
اور جہاں تک تمہارا یہ کھنا ہے کہ بنی ھاشم کے دلوں میں قریش کے متعلق حسد اور کینہ ہے ۔تو تم بتاؤ کہ بنی ہاشم کس طرح ان سے نفرت نہ کرےں جنھوں نے ان کا حق غصب کر لیا ہے اور وہ اپنے حق کو غا صبوں کے ہاتھوں میںدےکھ رھے ہیں۔ حضرت عمر اس صراحت کے ساتھ جواب کو سن کر غضبناک ہو ئے کیونکہ اسے حضرت ابن عباس سے یہ امید نھیںتھی کہ وہ اس طرح کی گفتگو کرےں گے۔
لہٰذا حضرت عمر نے حضرت ابن عباس کو مخاطب کرتے ہو ئے کھاکہ تمہاری ایسی ایسی باتیں مجھ تک پھنچی ہیں جنھیں میں بیان کرنا پسند نہیں کرتا کیونکہ انھیں بیان کرنے سے میری نظر میں تمہارا کوئی مقام نہیں رھے گا۔ حضرت ابن عباس کہتے ہیں ایسی کونسی باتیں ہیں مجھے ان سے آگاہ کرو کیونکہ میری باتیں درست نہیں ہیں تو میں ان کی اصلاح کرنے کے لئے حاضر ہوں اور میری باتیں بر حق ہیں تو حق بات کی وجہ سے میرا مقام تیرے نزدیک کیوں کم ہو جائے گا۔ حضرت عمر کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ ھمےشہ سے کہتے آئے ہیں کہ ہم سے خلافت حسد اور ظلم کی وجہ سے چھینی گئی۔
حضرت ابن عباس نے جواب دینے میں تھو ڑا سا بھی توقف نہ کیا اور فوراً کھا: جہاں تک میری اس بات کا تعلق ہے کہ حسد اور ظلم کی وجہ سے آپ لوگوں نے ہم سے خلافت چھینی ہے تو تمھیں معلوم ہو نا چاھےے کہ ابلیس نے بھی حضرت آدم علیہ السلام پر حسد کیا اور انھیں بھشت سے نکلوا دیا۔ ہم بھی اسی آدم کے بےٹے ہیں جن سے آج بھی ابلیس صفت لوگ حسد کرتے ہیں اور جہاں تک ظلم کا تعلق ہے تو اے امیر تم اچھی طرح جانتے ہو کہ اس خلافت کا صحیح حق دار کون ہے؟
حضرت ابن عباس نے اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کھاکہ عرب ، عجم پر حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے فخر ومباہات کرتے ہیں۔
قریش اہل عرب پر حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رشتہ داری کی وجہ سے اپنی برتری جتاتے ہیں اور ہم بنی ھاشم قریش وغیرہ کی نسبت حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیادہ قریب ہیں اور زیادہ حق دار ہیں چنا نچہ ان الفاظ کوسننے کے بعد عمر اپنے سےنے میں تنگی محسوس کرنے لگا اور اس کا کوئی جواب نہ دے سکا اور ابن عباس کو نزدیک سے اٹھاتے ہوئے کھااے عبداللہ اٹھو اور اپنے گھر کی طرف چلے جاؤ۔ ابن عبا س وہ مجلس چھوڑ کر اپنی منزل کی طرف چل دئے حضرت عمر انتہائی غصے اور طےش کی حا لت میں ابن عباس کی طرف بڑھے اور ان سے کھنے لگے اے جانے والے میں تیرے حق کی رعاےت کرنے والا نہیں ہوں۔
ابن عباس اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے مرعوب ہوئے بغیر سخت جواب دیا اے امیر تم پر اور تمام مسلمانوں پر حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے حق ہے پس جس نے اس حق کی حفاظت کی اس نے اپنے آپ کو محفوظ کر لیا اور جس نے اس عظیم حق کو ضائع کیا اس نے اپنے آپ کو ضائع کیا۔ حضرت عمر اپنے صحابیوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں ابن عباس تم پر وائے ہو، میں نے تم جیسا جھگڑالو اور بحث کرنے والا کوئی نہیں دےکھا ۔( ۲۵ )
عبد الفتا ح مقصود اپنی کتاب علی ابن ابی طالب میں بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر اپنی وفات کے بعد خلافت ، حضرت عمر کو سونپنے کی وصیت کی تو اس غضب نے حضرت علی علیہ السلام کے دل کو توڑدیا حالانکہ وہ اپنے حق خلافت کے بارے میں بار بار اصرار کرتے رھے۔
اور اس سلسلے میں انھو ںنے صبر وتحمل کا دامن تھامے رکھا اور ان کو عوام الناس کے درمیان خاموشی سے بٹھا دیا گیا اور خلافت کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پاک سے چھین لیا گیا پھر دوسری مرتبہ بھی انھیں بچھو کی طرح ڈنک لیا اور خلافت کو ان کی دھلیز سے نکال دیا ،قریش کو دےکھ کر اس قدر تعجب نہیں ہوتا لیکن تعجب کی انتھاتو اس شےخ پر ہے کیو نکہ اس کے اور حضرت علی علیہ السلام کے درمیان تمام مسائل واضح ہو چکے تھے۔
حضرت ابو بکر نے حضرت علی علیہ السلام کی جوانی کے مقام و منزلت کا لحاظ نہ کیا حا لانکہ حضرت علی علیہ السلام کا کردار اسلام کی بقا میں روز روشن کی طرح واضح ہے اور دین اسلام کی نشو نما میں آپ نے جو گرانقدر خدمات انجام دیں اس کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا لیکن اس شےخ نے سب کچھ بھلا دیا اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے،حالانکہ وہ جانتا تھا کہ حضرت علی علیہ السلام کی حکمت عملی ہی کی وجہ سے اسلامی حکومت کمال تک پھنچی تھی۔
اس کے بعد ابو الفتاح کہتے ہیں : حضرت ابو بکر نے اپنے بعد خلیفہ کے انتخاب کا جو طریقہ کار اختیا ر کیا وہ غلط اور خطاء سے بھرا ہوا تھا اس کی اس روش سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خلافت
کے معاملے کو اپنے گھر میں پو شیدہ رکھنا چاھتا تھا اور اس کی دلی خواہش یہ تھی کہ اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا علم تک نہ ہو۔
حضرت ابو بکر کی یہ خطاء بھی اس خطاء کی مانند ہے جو حضرت عمر نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد اس وقت کی تھی جب وہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جنازے کو چھوڑ کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ سقےفہ بنی ساعدہ چلے گئے اوربنی ھاشم میں سے کسی کو اطلاع تک نہ دی۔
استاد مقصود صاحب اس پر اضافہ کرتے ہو ئے کہتے ہیں حضرت علی علیہ السلام کو تمام افراد پر جو اولوےت اور فوقےت حاصل تھی خلیفہ نے اسے بھی فراموش کر دیا اور اپنے بعد خلیفہ بنانے کے لئے حضرت علی علیہ السلام کی بجائے دوسرے لوگوں سے مشورہ کیا حا لانکہ پورے عرب میں کون ہے جو حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد حضرت علی علیہ السلام سے افضل اور ان کا قائم مقام ہوتا!! یہاں تک کہ حضرت ابو بکر نے خلافت کے معاملہ میں حضرت سے مشورہ تک کرنا گوارا نہ کیا اور اس سے زیادہ تعجب تو اس بات پر ہے کہ خلیفہ فرد واحد کے بارے میں تو حضرت علی علیہ السلام سے مشورت کی التماس کرتے رھے لیکن جہاں پوری امت اور حکومت کا معاملہ تھا وہاں آپ سے مشورہ کرنا ضروری نہ سمجھا ۔( ۲۶ )
بزرگوں کی باتیں :
زبیر بن بکار کتاب المو فقیات میں کہتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکر کی بےعت ہونے لگی تو لوگوں کی ایک جماعت بےعت کرنے لئے مسجد کی طرف بڑھی ،لیکن انصار کی اکثرےت اس بےعت پر پشےمان تھی اور بعض لوگ ایک دوسرے کو ملامت کر رھے تھے اور حضرت علی علیہ السلام کو یاد کرتے اور ان کو آواز دے کر بلاتے تھے آپ اپنے گھر میں موجود تھے اوران کی آوازےں سننے کے باوجود باھر تشریف نہ لائے۔
عبد الرحمن بن عوف کھنے لگا اے گروہ انصار اگرچہ آپ لوگ صاحب فضیلت ہیں جنگوں میں حصہ لیا ہے اور آپ(ع) کا شمار سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں ہے لیکن آپ لوگوں میں حضرت ابوبکر حضرت عمر ،حضرت علی علیہ السلام اور حضرت ابو عبےدہ جیسا کو ئی شخص بھی نہیں ہے۔
اس کے بعد زید بن ارقم نے کہا:
عبد الرحمن نے جب ان لوگوں کا تذکرہ کیا ہے ہم لوگ ان کی فضیلت کا انکار نہیں کر سکتے۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ قریش میں جن لوگوں کے نام خلافت کے لئے ذکر ہوئے ہیں ان میں ایک ہستی ایسی ہے کہ اگر اس کانام پیش کیا جائے تو کسی قسم کا جھگڑا نہیں ہو گا اور وہ ہستی حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں ۔زبیر بن بکار کہتے ہیں ۔
دوسرے دن حضرت ابو بکر نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا:
یا اٴیهاالناس اِني وُلّیت اٴمرکم و لست بخیرکم فا ذا اٴحسنت فاٴعینوني واِن اٴساٴت فقّوموني، اِنّ لي شیطانا یعترینی ( ۲۷ )
اے لوگوں میں آپ کے امور کا والی بن گیا ہوں اگرچہ میں آپ سے زیادہ بھتر نہیں ہوں بھر حال اگر میں اچھا کام کروں تو میری مدد کرنا اور اگر میں برا کام کروں تو مجھے سیدھے راستے پر لگا دینا کیونکہ مجھ پر ایک اےسا شےطان مسلط ہے جو مجھے بھکاتا رھتا ہے ۔
حضرت ابو بکر کی پر یشانی :
صاحب سیرت الائمہ اثنی عشر کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صاحب حضرت عمر کو خلیفہ بنا رھے ہوں اور وہ حضرت عثمان بن عفان کی خلافت کے متعلق اشارہ اور کنایہ سے کہہ رھے ہوں تو یہ بات ان کے اس کے قول کے بالکل منافی ہے اور مخالف ہے جو انھوں نے اپنی خلافت کے آغاز میں کہتی تھی۔
میں تم سے بھتر نہیں ہوں کیو نکہ تم میں حضرت علی علیہ السلام موجود ہیں اسی طرح ان کی وفات سے پہلے وہ اقوال جنھیں مو رخین نے قلم بند کیا ہے کہ میں تےن کاموںکی وجہ سے پریشان ہوں۔ کاش میں نے انھیںانجام نہ دیا ہوتا کاش میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھاکے گھر پر حملہ نہ کرتا اگرچہ وہ میرے خلاف حملہ کرتےں (تب بھی میں حملہ نہ کرتا )۔ ان تےنوں میں اس امر کا تذ کرہ بھی ہے جس کی وہ تمنا کیا کرتے تھے کاش اگر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کی وفات کے وقت خلافت کے بارے میں یہ سوال کرلیا جاتا کہ آیا انصار کا اس خلافت میں حق ہے یا نہیں تو اس میں کسی قسم کا جھگڑا نہ ہو تا ۔
صاحب سیرت الائمہ الاثنی عشر کہتے ہیں کہ انتہائی تعجب ہے کہ یہ شےخ بستر مرگ پر پھنچنے تک اپنی خلافت کے متعلق شک کرتا رھااور اس بات کا خائف رھاکہ شاےد خلافت میرے علاوہ کسی اور کا حق ہے جب کہ اس نے صاحبان خلافت سے خلافت کو غصب کیا تھا اور اب حیران ہے کہ میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس معاملہ میں سوال کیوں نہ کیا اور دوسری طرف یہ ذمہ داری اپنے دوش پر اٹھا لی کہ کسی تردد کے بغیرحضرت عمر کو اپنے بعد خلیفہ نامزد کر دیا۔
حضرت ابو بکر کے اس فعل پر لوگوں نے اعتراض کیا لیکن انھوں نے کسی کی بھی نہ سنی۔جب لوگوں نے خلافت کے متعلق دریافت کیا تو خدا کی قسم کھا کر کھنے لگے حضرت عمر نہ ہوتے تو خلافت عثمان کا ہی حق تھا جیسا کہ انھوں نے دعوی کیا ہے اور احتمال دیا ہے کہ حضرت رسول اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی شخص کو اپنی وفات سے پہلے خلیفہ بنا چکے تھے ۔
کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام وہ شخص ہیں جن کے متعلق حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واضح طور پر ارشاد فرما چکے ہیں تو پھر کیا وجہ ہوئی کہ انھوں نے جہالت و لا علمی کا اظہار کیا اور حضرت علی علیہ السلام کو کچھ بھی نہ سمجھا اورکھاکہ حضرت عثمان بن عفان کو خلیفہ بننے میں حضرت عمر بن خطاب کا وجود مانع ہے جب تک عمر موجود ہیں اس وقت تک عثمان خلیفہ نہیں بن سکتے۔( ۲۸ )
قریش کا حقےقی مقصد :
استاد عبد الفتاح مقصود اپنی کتاب علی (ع)ابن ابی طالب (ع)میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشےن کے انتخاب میں قریش کا اصل مقصد یہ تھا کہ ھمےشہ کے لئے آل رسول سے خلافت کو ختم کر دیاجائے اور ان کے حق کو ان سے چھین لیا جائے در اصل یہ چیز ان کے یہاں ھمےشہ سے موجود تھی۔
البتہ اس کا سلسلہ شروع شروع میں اصحاب کے درمیان پوشےدہ طور پر جاری تھا ۔کبھی کبھی ان کے افعال سے اس چیز کا اظہار ہو تا تھا اور کچھ دنوں کے بعد قریش نے یہ بات پھےلا دی کہ ہم اہل بیت کو خلافت نہیں دیں گے۔ حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد امر خلافت کو ابو بکر کے سپرد کر دیا گیا۔
اور انھوں نے بنی ھاشم کو بےباکانہ، بلند آواز میں یہ کہہ دیا کہ ہم اس چیز کو پسند نہیں کرتے کہ خلافت اور نبوت دونوں ایک ہی گھر میں جمع ہو جائیں اسی لئے یہ لوگ حضرت ابو بکر وغیرہ کو خلافت کی مبارک باد دیتے تھے اور انصار وغیرہ میں سے جو بھی حضرت علی علیہ السلام کا نام لیتا یا ذ کر کرتا تو اس کے خلاف اعلان جنگ کر دیتے ۔
بعض کتابوں میں مذکور ہے کہ سھیل بن عمر کو جب یہ معلوم ہوا ہے کہ قبےلہ انصارحضرت علی (ع) کی بےعت کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور اس بات پر بضد ہیں کہ خلافت حضرت علی علیہ السلام کو ملنی چاھےے تو سھیل بن عمر اپنی ننگی تلوارلے کر قریش کے سردار حارث بن ھشام اور عکرمہ بن ابو جھل جیسے بزرگوں کے سامنے کھتا ہے۔
اے گروہ قریش یہ لوگ تمھیں حضرت علی (علیہ السلام) کی حماےت کے لئ بلاتے ہیں ،حضرت علی علیہ السلام اپنے گھر میں موجود ہیں اگر وہ چاھیں تو ان کو اےسا کرنے سے روک سکتے ہیں اگر حضرت علی علیہ السلام انھیں نہیں روکتے تو پھر تمھیں چاھےے تھا انھیں اپنے خلیفہ کی طرف بلا ؤ اور ان لوگوںسے تجدید بےعت کراؤ اگر یہ لوگ تجدید بےعت پر راضی ہو جائیں تو ٹھےک ہے ورنہ انھیں قتل کر دیا جائے ۔اللہ کی قسم اگرتم اس کام کو عملی جامہ پھناؤ تو مجھے ےقےن ہے کہ ان کو سرکوب کرنے میں تمہاری مدد کی جائے گی۔
سھیل بن عمر اور حارث بن ھشام کہتے ہیں ۔
اے لوگوں انصار نے پہلے اسلام قبول کیا اور انھوں نے ھمیں گھر دیئے اور حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ھمیں چھوڑ کر ان کے پاس تشریف لائے اور ان لوگوں نے ھمیں جگہ بھی دی اور ھماری مدد بھی کی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب وہ خلافت کے دعوےدار بن بےٹھیں اگر یہ لوگ اپنے اس مطالبے پر ثابت قدم رھیں تو ہمارے نزدیک ان کی قربانیوں کی کوئی اھمیت نہ ہو گی بلکہ ہمارے اور ان کے درمیان فقط تلوار ہی سے فیصلہ ہوگا ۔( ۲۹ )
استدلال علی علیہ السلام :
جب لوگوں نے عثمان کی بیعت کا ارادہ کیا تو حضرت امیر المومنین نے ارشاد فرمایا تم جانتے ہوکہ مجھے دوسروں کی نسبت خلافت کا زیادہ حق حاصل ہے خدا کی قسم جب تک مسلمانوں کے امور کا نظم و نسق برقرار رھے گا اور صرف میری ہی ذات ظلم کا نشانہ بنتی رھے گی میں خاموشی اختیار کرتا رہو ں گا تاکہ اس صبر پر اللہ سے اجر ثواب طلب کروں اور اس زیب و زینت اورآرائش کو ٹھکرا دوں جس پر تم لوگ فریفتہ ہو۔( ۳۰ )
اسی طرح حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے حضرت عثمان کی بیعت ہونے سے پہلے ارشاد فرمایا تمھیں اللہ کی قسم بتاؤ کیا تم میں میرے علاوہ کوئی حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھائی ہے فقط میرے اور ان کے درمیان مواخات ہے جس دن مسلمان ایک دوسرے کے بھائی بنے؟
ان سب لوگوں نے جواب دیا نہیں۔
پھر فرمایا کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس کے متعلق حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہو :
من کنتُ مولاهُ فهذا مولاهُ
جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کا یہ مولا ہے ۔
ان سب نے یک زبان ہو کر کھاجی نہیں ۔
آپ (ع)نے فرمایا کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس کے متعلق حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ہو:
اُنتَ مني بمنزلة هارون من موسیٰ اِلاّ اٴنه لا نبي بعدي
تیری قدر و منزلت میرے نزدیک وہی ہے جو حضرت ہارون(ع) کی حضرت موسی(ع) کے نزدیک تھی۔ فقط یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
ان سب نے کھاآپ (ع)کے علاوہ کوئی ایسا نہیں ہے ،پھر حضرت نے ارشاد فرمایا:
کیا میرے علاوہ تم میں کوئی ایسا شخص ہے جسے سورہ براءت کی تبلیغ سپرد کی گئی ہو اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس کے متعلق یہ ارشاد فرمایا ہو :
اِنّه لا یؤدّي عني اِلا اٴنا و رجل مني
اس کام کو کوئی نہیں کر سکتا مگر میں خود کروں یا وہ شخص کرے جو مجھ سے ہے۔
انھوں نے کہا:
آنحضرت نے فقط آپ (ع)ھی کی ذات کے متعلق ایسا فرمایا تھا۔
پھر آپ (ع)نے فرمایا:
اے لوگو!یہ بتاؤ کہ نسب کے لحاظ سے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب تر کون ہے؟ انھوں نے کھاآپ (ع)ھی سب سے زیادہ قریب ہیں۔ اس وقت عبدالرحمن بن عوف نے آپ (ع)کی بات کاٹی اور کھااے علی (ع) لوگ فقط عثمان کو اپنا خلیفہ بنانا چاھتے ہیں لہٰذا آپ(ع) اپنے لئے خلافت کی راھیں نہ نکالیں۔( ۳۱ )
جب لوگوں نے عثمان کی بیعت کرنے کا ارادہ کیا توآپ نے فرمایا:
تمھیں معلوم ہے کہ میں تمام لوگوں میں سب سے زیادہ حق دار ہوں اور خدا گواہ ہے کہ میں اس وقت تک حالات کا ساتھ دیتا رہو ں گا جب تک مسلمانوں کے مسائل ٹھیک رھیں اور ظلم صرف میری ذات تک محدود رھے تاکہ میں اس کا اجر و ثواب حاصل کروں،اور اس زیب و زینت دنیا سے اپنی بے نیازی کا اظہار کر سکوں ،جس کے لئے تم مرے جا رھے ہو۔( ۳۲ )
____________________
[۱] شرح نھج البلاغہ ابن حدید ج ۲۰ ص ۲۲۶ کلمہ نمبر۷۳۴۔
[۲] شرح نھج البلاغہ کلمہ نمبر ۷۶۴ص ۳۲۸۔
[۳] شرح نھج البلاغہ ج ۲۰ کلمہ نمبر ۷۳۳ص ۲۲۶۔
[۴] شرح نھج البلاغہ ج ۲۰ کلمہ نمبر ۴۱۴ص ۲۹۸۔
[۵] شرح نھج البلاغہ ج ۲۰ کلمہ نمبر ۲۴۱ ص ۲۸۳۔
[۶] شرح نھج البلاغہ ج ۲۰ کلمہ ۴۱۳ ص۲۹۸۔
[۷] شرح نھج البلاغہ الحدید ج ۲۰ ص۲۲۶کلمہ نمبر ۷۳۶۔
[۸] شر ح نھج البلاغہ الحدید ج ۲۰ کلمہ نمبر ۷۶۵،ص۳۲۸ ۔
[۹] شرح نھج البلاغہ الحدید ج ۱ خطبہ ۳ ،ص۱۵۱۔
[۱۰] سیرت الائمہ الاثنی عشرتالیف، ھاشم معروف الحسےنی ج۱ص۳۳۶۔
[۱۱] شرح نھج البلاغہ ج ۵ ص۴۵۔
[۱۲] شرح نھج البلاغہ ج ۵ ص ۵۰تا ۵۱۔
[۱۳] شرح نھج البلاغہ ج۵ ص ۵۱۔
[۱۴] سیرة الائمہ الاثنی عشر ج۱ ص ۳۳۷۔
[۱۵] سیرت الائمہ الثنی عشر ج۱ ص ۳۳۷۔
[۱۶] شرح نھج البلاغہ ج۵ ص ۲۱۔
[۱۷] شرح نھج البلاغہ ج۵ ص۱۱،ص۱۲۔الا مامة والسیایة،تالیف ابن قتیبہ ص۱۸،۱۹۔
[۱۸] آل عمران آیت ۱۵۹۔
[۱۹] سیرت الائمہ الاثنی عشر ج ۱ ص ۳۳۷۔،۳۳۸
[۲۰] سورہ محمد:۹۔
[۲۱] سورہ قلم :۴۔
[۲۲] سورہ شعراء:۲۱۵۔
[۲۳] قصص:۶۸۔
[۲۴] سورہ احزاب:۳۳۔
[۲۵] سیرت الائمہ الاثنی عشر ج ۱ ص۳۴۰ ، ۳۴۲ ، ابن اثیر کی کتاب الکامل فی التاریخ ج ۲ ص۲۱۸ ، ۲۱۹ ، شرح نھج البلاغہ ج ۱۲ ص۵۲ تا۵۴
[۲۶] سیرت الائمہ اثنی عشر ج ۱ ص ۳۲۳، ۳۲۴ ۔
[۲۷] شرح نھج البلاغہ ،ج ۵ ص۱۹ ۔ ۲۳۔
[۲۸] سیرت الائمہ اثنی عشر ج ۱ ص۳۲۵، ۳۲۶۔
[۲۹] سیرت ائمہ اثنی عشر ج۱ص ۳۲۷و ۳۲۸۔
[۳۰] شرح نھج البلاغہ ج۶ص ۱۶۶۔
[۳۱] شرح نھج البلاغہ ج۶ ص۱۶۷۔۱۶۸
[۳۲] شرح نھج البلاغہ ج۶ ص۱۶۷۔۱۶۸
ساتویں فصل
خلفاء کا مشکلات میں آپ(ع) کی طرف رجوع کرنا
اس سلسلہ میں متعدد واقعات موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلفاء ثلاثہ نے مشکل کے وقت آپ(ع) کی طرف رجوع کیا ہے یہاں تک کہ خلیفہ ثانی کئی مرتبہ یہ کھنے پر مجبور ہوگئے کہ :
”لا کنتُ لمعضلةٍ لیس لها اٴبوالحسن “
میرے لئے کوئی ایسی مشکل نہیں ہے جس کا حل ابوالحسن (ع) کے پاس نہ ہو (یعنی ہر مشکل میں حضرت علی علیہ السلام مشکل کشاء ہیں )
اسی طرح حضرت عمر کا یہ قول ہے:
لو لا علي لهلکَ عُمر
اگر حضرت علی علیہ السلام نہ ہوتے تو عمر ھلا ک ہو جاتا۔
چنانچہ اسی طرح کے کئی واقعا ت مشھور ہیں ہم ان سب کو شمار تو نہیں کر سکتے البتہ چند واقعات کا ذکر کر کے ثواب حاصل کرنا چاھتے ہیں ان میں سے چند واقعات مندرجہ ذیل ہیں !
حضرت ابو بکر کی پریشانی
ایک دن حضرت ابو بکر سے اللہ تعالی کے اس فرمان ”و فا کہة و ا با “ کے متعلق سوال کیا گیا تو وہ قرآن میں موجود لفظ” اب “کا معنی نہیں جانتے تھے ۔
اور انھوں نے کھاکوئی آسمان مجھے سایہ نہ دے اور کوئی زمےن میرا بو جھ نہ اٹھائے یہ کس طرح ممکن ہے کہ اللہ کی کتاب میں اےسا لفظ ہو جس کو میں نہ جانتا ہوں۔
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام تک یہ بات پھنچی تو آپ نے فرمایا :
سبحان اللہ ،اب کا معنی ،گھاس پھوس اور چارہ ہے اور پروردگار عالم کا یہ فرمان ،و فاکهةً و اٴباّ ،ھے اس میں پروردگار عالم نے اپنی مخلوق میں جانوروں کی غذا کا ذکر کیا ہے اور یہاں انسانوں اور جانوروں کی غذا کا ذکر ہے تا کہ اس کی وجہ سے وہ زندہ رھیں اور ان کے جسم مضبوط ہوں۔( ۱ )
حضرت ابو بکر اور شرابی
حضرت ابو بکر کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی حضرت ابو بکر نے ارادہ کیا کہ اس پر حد جاری کرے ۔تو وہ شخص کھنے لگا میں نے شراب ضرور پی ہے لیکن میں آج تک اس کی حرمت کو نہیں جانتا تھا کیو نکہ میں اس قوم میں زندگی گزار رھاھوں جو اسے حلال سمجھتے ہیں چنا نچہ حضرت ابو بکر بہت بڑی مشکل میں پھنس گئے کیو نکہ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ اس کا کس طرح فےصلہ کیا جائے ۔
مجلس میں موجود بعض لوگوں نے مشورہ دیا کہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے اس کے متعلق معلوم کرےں کہ اس مسئلہ میں کیا حکم ہے۔ حضرت ابوبکر نے ایک شخص کو حضرت علی علیہ السلام کی طرف بھےجا تاکہ وہ اس مسئلہ کے متعلق سوال کرے،چنا نچہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
مسلمانوں میں سے دو ثقہ افراد کو بھےجا جائے جومہاجرین اور انصار کی طرف سے جائیں اور ان سے گواھی طلب کرےں کہ آیا کسی نے آیت تحریم یا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی حرمت کے متعلق جو کچھ کھاھے اس کا تذکرہ اس شخص سے کیا ہے یا نہیں ۔اگر دو شخص گواھی دے دیں تو اس پر حد جاری کر دو اور اگر گواھی نہ دیں تو حد جاری کیے بغیر چھو ڑ دیا جائے۔ چنا نچہ حضرت ابو بکر نے با لکل اسی طرح فیصلہ کیا جس طرح حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا تھا۔
جب مہاجرین اور انصارنے گواھی دیدی کہ ہم نے آیہ تحرےم یا حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی حدیث کے حوالہ سے کچھ نہیں بتایا تو حضرت ابو بکر نے اس شخص کو بغیر سزا کے چھوڑ دیا اور حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو اس فےصلے کے سلسلے میں دعائےں دیں ۔( ۲ )
سید راضی نے خصائص میں بزرگوں سے بیان کی گئی اس روایت کو ذکر کیا ہے کہ حضرت سلمان فارسی ،حضرت علی علیہ السلام کے پاس موجود تھے انھوں نے حضرت علی علیہ السلام سے عرض کی کہ اس قو م کو کچھ ھدایت فرمائیں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا میں چاھتا ہوں کہ تم قوم کو اس آیت کے متعلق تاکید کرو جو میرے اور ان کے متعلق ہے ۔
( اٴَفَمَنْ یَهْدِی إِلَی الْحَقِّ اٴَحَقُّ اٴَنْ یُتَّبَعَ اٴَمَّنْ لاَیَهِدِّی إِلاَّ اٴَنْ یُهْدَی فَمَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُونَ ) ( ۳ )
جوتمھیں دین حق کی راہ دکھاتا ہے ،آیا وہ زیادہ حقدار ہے کہ اس کے حکم کی پےروی کی جائے یا وہ شخص جو(دوسروں) کی ھدایت تو درکنار،خود ہی جب تک دوسرا اسے راہ نہ دکھائے،وہ راہ نہیں دےکھ پاتا تو تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ؟ تم کےسے حکم لگاتے ہو۔( ۴ )
منکرین زکات کے بارے میں مشورہ
حضرت امیر المومنین علی السلام سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر نے منکرین زکوة کے حوالہ سے جب اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشورہ کیا تو سب لوگوں نے مختلف انداز میں رائے دی اور ان کی آرا میں اختلاف ہو گیا تو حضرت ابو بکر نے کہا: اے ابوالحسن علیہ السلام اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے۔ ؟
تب حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
اگر میں تمھیں یہ کھوں کہ تم اس چیز کو چھوڑ دو جو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے وصول کی تھی تو پھر تم نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے خلاف عمل کیا ہے۔ حضرت ابو بکر نے کھاکہ آپ نے جو کچھ کھا اس کا مطلب یہ ہے کہ میں ان سے جنگ کروں اور ان سے ایک سال تک کی اونٹ اور بکری کی زکوة وصول کروں۔( ۵ )
حضرت عمر کامجنون عورت پر حکم
حضرت عمر کے زمانہ میں ایک دیوانی کو لایا گیا اس کے ساتھ کسی شخص نے زیادتی کی تھی اور اس کے گواہ بھی پیش کردئے گئے تو عمر نے حکم دیا کہ اسے کو ڑے مارے جائیں ، چنانچہ اس کو لے جارھے تھے کہ اس کا گزر حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے پاس سے ہوا۔
حضرت (ع) نے فرمایا : فلاں قبیلے کی اس مجنون اور عورت کے ساتھ کیا ہوا ہے حضرت (ع) کو بتایا گیا کہ ایک شخص نے اس سے زیادتی کی ہے اور بھاگ گیا ہے اس پرگواھی بھی ہو گئی ہے اورعمر نے اسے کوڑے مارنے کا حکم دیا ہے۔
حضرت نے ان سے ارشاد فرمایا: اسے دوبارہ عمر کے پاس لے جاؤ اور اس سے کھنا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ یہ فلاں قبیلے کی مجنون عورت ہے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے : تےن لوگ مرفوع القلم ہیں ان میں ایک مجنون بھی ہے ۔یہاں تک کہ وہ ٹھیک ہو جائے۔ مجنون کا دل اور نفس مغلوب ہوتا ہے۔چنانچہ یہ لوگ اسے حضرت عمر کے پاس لے گئے اور اس کو حضرت امیر علیہ السلام کی گفتگو سے آگاہ کیا حضرت عمر کھنے لگے اللہ انھیں سلامت رکھے (اگر وہ نہ ہوتے )تو اس عورت کو کوڑے لگا کر میں ہلاک ہو جاتا ۔( ۶ )
صاحب صحیح ابوداؤد باب المجنون یسرق و یصیب حداً کے ص ۱۴۷ پر کھتا ہے کہ حضرت عمر نے لوگوں سے مشورہ کیا اور اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں اے عمر ،کیا تو نہیں جانتا کہ تےن افراد مرفوع القلم ہیں؟
مجنون اس وقت تک جب تک وہ ٹھےک نہ ہو جائے، سونے والا شخص یہاں تک کہ وہ بےدار ہو جائے اور بچہ یہاں تک کہ وہ عا قل ہو جائے۔ وہ کھنے لگا جی ہاں جانتا ہوں۔ حضرت امیر علیہ السلام نے فرمایا تو پھر اس غرےب کے متعلق تجھے کیا ہو گیا ہے کہ اس سنگسار کرنے کا حکم دے دیا ۔ وہ کھنے لگا (اے لوگو!)اس کی کوئی سزا نہیں ہے۔ پھر اسے چھو ڑ دیا اور بلند آواز سے کھااللہ اکبر۔
حضرت عمر اور شش ماہ بچے کی ماں
یونس ،حسن سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے چھ ماہ کے بچے کو جنم دیا تھا اس نے اسے سنگسا ر کرنے کا حکم دے دیا، حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اس سے ارشاد فرمایا :
اِن خاصمُتکَ بکتاب الله خصمتُک
اگر تو اللہ کی کتاب سے جھگڑا کرے گا تو میں تجھ سے لڑوں گا کیونکہ اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا :
حملهَ و فصاله ثلا ثو ن شهراً
حمل اور دودھ پلانے کے تےس مھےنے ہیں۔
اور اللہ فرماتا ہے :
( وَالْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ اٴَوْلاَدَهُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ اٴَرَادَ اٴَنْ یُتِمَّ الرَّضَاعَةَ ) ( ۷ )
جو اپنی اولاد کو پوری مدت دودھ پلانا چاھتے ہیں تو اس کی خا طر مائیںاپنی اولاد کو پورے دوبرس تک دودھ پلائیں۔
لہٰذا جب کو ئی عورت پورے دوبرس دودھ پلاتی ہے تو حمل اور دودھ پلائی کے تےس مھینے بن جاتے ہیں ۔تو اس وقت حمل چھ ماہ کا بنتا ہے ۔حضرت عمر نے یہ سن کر اس عورت کو چھو ڑ دیا اور اسی حکم پر صحابہ اور تابعین نے عمل کیا اور آج تک اس کے مطابق عمل ہو رہاھے ۔( ۸ )
حضرت عمر کے سامنے گنھگار عورت کا اقرار
ایک عورت کو لایا گیا اور اس پر لوگوں نے گواھی دی کہ اس کو ایک گھاٹ پر دیکھا گیا ہے جہاں سے عرب پانی بھرتے تھے وہاں ایک شخص نے اس سے زناکیا ہے اور وہ اس کا شوہر بھی نہ تھا۔ حضرت عمر نے حکم دیا کہ اسے سنگسار کردیا جائے کیونکہ یہ شوہر دار عورت ہے اور اس کے زنا کا حکم سنگسار کرنا ہے۔
وہ عورت کھنے لگی پروردگارا تو تو جانتا ہے میں بے قصور ہوں۔ حضرت عمر نے جب یہ سنا تو اس پر غضبناک ہوا اور کھاکہ ان گواھوں کے متعلق کیا کہتی ہو؟
حضرت امیر المومنین علی ابن ابیطالب علیہ السلام نے ارشاد فرمایا اس عورت کے پاس جاؤ اور اس سے دریافت کروشاید اس کے پاس کوئی عذر ہو ۔ لوگ اس کے پاس گئے اور اس سے سوال کیا گیا تو اس عورت نے کھا:
میرے خاندان کا ایک اونٹ تھا۔ میں اس اونٹ پر سوار ہو کر گئی تاکہ اس پر پانی لاد کے لاؤں میری اونٹنی کا دودھ بھی نہیں تھا ۔میرے ساتھ ایک اوباش شخص بھی چل دیا، میں نے پانی لینا چاھااس نے مجھے پانی دینے سے انکار کر دیااور کھاکہ جب تک تو اپنے آپ کو میرے حوالے نہیں کردیتی میں پانی نہیں دوں گا۔ میں نے اس سے جان چھڑانے کی بہت کوشش کی اور انکار کیا لیکن وہ جبراً میرے نفس پر غالب ہو گیا اور میں مجبور تھی ۔
حضرت امیر المومنین علی (ع) ابن ابی طالب(ع) نے کھا: اللہ اکبر۔
( فَمَنْ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَلاَعَادٍ فَلاَإِثْمَ عَلَیْهِ ) ( ۹ )
پس جو شخص مجبور ہواور کسی قسم کی سرکشی اور زیادتی کرنے والا نہ ہو تو اس پر گناہ نہیں ہے۔
جب حضرت عمر نے اس بات کو سنا تو اسے چھوڑ دیا ۔( ۱۰ )
حضرت عمر کے سامنے بیوی کی شکایت
بےھقی اپنی سنن میں ابی حلال العتکی سے روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر ابن خطاب کے پاس آیا اور کھنے لگا میں نے اپنی بیوی سے کھاکہ تو مجھ سے حاملہ نہیں ہے بلکہ کسی اور سے حاملہ ہوئی ہے۔ (کیا یہ کھنے سے اسے طلاق ہو گئی ہے )حضرت عمر نے کہا:
یہ سوال حج کے موقع پر کرنا،چنانچہ وہ شخص حج کے موقع پر مسجد الحرام میں حضرت عمر کے پاس آیا اور پورا قصہ دھرایا حضرت عمر نے اس سے کھاتو اس کشادہ پیشانی والے شخص کو دیکھ رہاھے جو خانہ کعبہ کے طواف میں مصروف ہے اس کے پاس جاؤ اور اپنا سوال بیان کرو اور جوا ب لے کر پھر میرے پاس آنااور مجھے بتانا کہ اس نے کیا کھاھے۔
وہ کھتا ہے کہ میں وہاں گیا اور دیکھا کہ حضرت علی علیہ السلام وہاں موجود تھے انھوں نے پوچھا تمھیں کس نے بھیجا ہے وہ کھنے لگا مجھے خلیفہ وقت نے بھیجا ہے ۔پھر وہ کھنے لگا کہ میں نے اپنی بیوی سے کھاھے کہ تم مجھ سے حاملہ نہیں ہوئی بلکہ کسی اور سے حاملہ ہوئی ہو کیا یہ اس کو طلاق ہو گئی؟ حضرت نے فرمایا: قبلہ کی طرف منہ کر کے خدا کی قسم کھاؤ کہ تمہارا طلاق کا ارادہ تونھیں تھا، وہ شخص کھنے لگا میںقسم کھاتا ہوں کہ میر ا طلاق کا نھیںارادہ تھا۔ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا یہ تمہاری اسی طرح بیوی ہے (جس طرح پہلے تھی) ۔( ۱۱ )
حضرت عمر اور شرابی
ایک روزقدامہ بن مظعون نے شراب پی لی ۔حضرت عمر نے اس پر حد جاری کرنے کا ارادہ ظاہر کیا توقدامہ کھنے لگا مجھ پر حد جاری نہیں ہو سکتی کیونکہ خداوند عالم نے فرمایا ہے :
( لَیْسَ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ) ( ۱۲ )
جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اچھے اچھے کام کیئے ان پر جو کچھ پی چکے ہیں اس میں کچھ گناہ نہیں ہے جب انھوں نے پرھیز گاری کی اور ایمان لے آئے اور اچھے اچھے کام کئے پھر پرھیز گاری کی اور ایمان لے آئے۔
حضرت عمر نے (یہ استدلال سن کر ) اس سے حد اٹھالی۔ یہ خبر حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام تک پھنچی چنا نچہ آپ(ع) حضرت عمر کے پاس گئے اور اس سے کہا: قدامہ نے جب شراب پی ہے تو تم نے اس پر حد جاری کرنے کا ارادہ کیوں ترک کیا ہے ؟وہ کھنے لگا کہ اس نے مجھے قرآن کی آیت سنائی ہے پھر وہی آیت حضرت امیر المومنین کے سامنے پڑھنے لگا۔ حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا: قدامہ اس آیت کا مصداق نہیں ہے اور اس راستے پر نہ چلے کہ جسے اللہ تعالی نے حرام کیا ہے اسے بجا لائے کیونکہ مومن اور نیک عمل کرنے والے حرام خدا کو حلال نہیں سمجھتے تم قدامہ کو بلاؤ اور اس نے جو استدلال قائم کیا ہے وہ درست نہیں ہے۔اگر وہ توبہ کرے تو اس پر حد جاری کردو اور اگر توبہ نہ کرے تو اسے قتل کر دو بے شک وہ ملت اسلام سے خارج ہے۔
حضرت کا یہ فرمان سن کر عمر خواب غفلت سے بیدار ہوا اور یہ خبر قدامہ تک پھنچی اس نے توبہ کا اظہار کیا اور حضرت عمر نے اس کے قتل کا ارادہ ترک کردیا۔ لیکن یہ نہیں جانتا تھا کہ کیسے حد جاری کی جائے لہٰذا حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور کھنے لگا اس کی حد کے متعلق وضاحت فرمایئے حضرت نے فرمایا اس کی حد اسی ( ۸۰) کوڑے ہیں کیونکہ شراب پینے والا جب اسے پیتا ہے تو مست ہو جاتا ہے اور جب مست ہو جاتا ہے تو اس وقت وہ ہذیان کا شکار ہو جاتا ہے اور جب وہ ہذیان میں مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ بیھودہ باتیں کرنے لگتا ہے۔ حضرت عمر نے اسے حضرت کے فرمان کے مطابق اسی ( ۸۰) کوڑے لگائے۔( ۱۳ )
اقرار گناہ اور رجم
ایک عورت نے زنا کا اقرار کیا اس وقت وہ حاملہ تھی حضرت عمر نے اسے رجم کرنے کا حکم صادر کیا حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا یہ ٹھیک ہے کہ تمہاری اس عورت پر تم نے حکم لگایا ہے لیکن جو بچہ اس کے پیٹ میں ہے اس پر تو حکم نہیں لگایا جاسکتا۔( ۱۴ )
علامہ امینی نے کتاب الغدیر میں اس سے زیادہ روایت بیان کی ہے کہ حضرت عمر نے تین مرتبہ کھا۔کل احد افقہ منی ۔ ہر کوئی مجھ سے بڑا فقیہ ہے۔
حضرت علی علیہ السلام نے اس عورت کی ضمانت لی اور جب اس کاوضع حمل ہو گیا تو اسے حضرت عمر کے پاس لے گئے اور اس نے اسے رجم کیا ۔( ۱۵ )
لونڈی کی طلاق
حافظ دار قطنی اور ابن عساکر نے یہ روایت بیان کی ہے کہ دو شخص حضرت عمر کے پاس آئے اور ان سے لونڈی کی طلاق کے متعلق سوال کیا حضرت عمر ان دونوں کو لے کر مسجد کی طرف چل دئیے یہاں تک کہ مسجد میں بیٹھے ہوئے افراد کے پاس آگئے ۔ان میں ایک کشادہ پیشانی والی شخصیت بھی موجود تھی ۔
حضرت عمر کھنے لگے اے کشادہ پیشانی والے لونڈی کی طلاق کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟اس شخصیت نے سر اوپر اٹھایا پھر اس کی طرف دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا۔
حضرت عمر نے ان دونوں سے کہا: دو طھر۔
ان میں سے ایک کھنے لگا سبحان اللہ ہم تجھے امیر المومنین سمجھ کر تیرے پاس آئے تھے اور تو ھمیں اس شخص کے پاس لے آیا ہے اور اس کے بتا نے پر ھمیں بتا تا ہے ۔
حضرت عمر ان سے کہتے ہیں اس شخصیت کو جانتے ہو وہ کھنے لگے نہیں جانتے، حضرت عمر نے کہا: یہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں میں گواھی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی شان میں کہتے ہوئے سنا ہے ۔
اِن السموات السبع والاٴرضین السبع لو وضعا في کفه ثم وضع اِیمان علي في کفة لرجح اِیمان علی ۔
اگر ساتوں زمین و آسمان ترازو کے ایک پلڑے میں اور حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا ایمان دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے ۔تو حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ایمان والا پلڑابھاری نظر آئے گا ۔( ۱۶ )
عدت میں نکاح
مسروق ایک روایت اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس خبر پھنچی کہ قریش کی عورت نے اپنی عدت کے دوران کسی شخص سے شادی کر لی ہے۔ حضرت عمر نے ایک شخص کو ان کی طرف بھیجا کہ وہ انھیں ایک دوسرے سے جدا کر دے اور انھیں سزا دے اور ان سے کہہ دے کہ آئندہ کبھی بھی آپس میں شادی نہ کریں اور اپنا حقِ مھر بیت المال میں جمع کروا دیں ۔
یہ خبر لوگوں کے درمیان مشھور ہو گئی حضرت علی علیہ السلام تک بھی یہ خبر پھنچی تو آپ نے فرمایا: اللہ اس خلیفہ پر رحم کرے کہاں حق مھر اور کہاں بیت المال ؟
وہ دونوں تو جاھل تھے خلیفہ کو چاھیے کہ وہ ان دونوں کو سنت کی طرف پلٹاتا، جب آپ سے پوچھا گیا کہ آپ کا حق مھر کے متعلق کیا حکم ہے ۔
حضرت نے فرمایا :
مھر تو اس عورت کا حق ہے اور اسی وجہ سے اس کے ساتھ( جماع) حلال ہوئی ہے۔ البتہ ان دونوں کو جدا کر دیا جائے اور انھیں کوڑے نہ لگائے جائیں پہلے وہ اپنی پھلی عدت مکمل کرے اور پھر دوسری عدت مکمل کرے پھر ایک دوسرے کو شادی کی دعوت دے سکتے ہیں جب یہ خبر حضرت عمر تک پھنچی تو اس نے کھااے لوگو اپنی جہالتوں سے نکل کر سنت کی طرف لوٹ آؤ۔( ۱۷ )
عجمیوں کے خطوط اور حضرت عمر کی پریشانی
شبابہ بن سوار، ابوبکرھذلی سے روایت بیان کرتا ہے کہ ہم نے اپنے علماء اعلام سے یہ روایت سنی ہے کہ ھمدان، رے،اصفہان ،قومس،نہاوند کے رھنے والے اہل فارس نے ایک دوسرے کو خطوط لکھے۔ اور ایک دوسرے کی طرف اپنے نمائندے بھیجے کہ عرب کا بادشاہ جو اپنے پیروکاروں کے لئے دین لایا تھا اب وہ وفات پا گیا ہے۔
اس سے ان کی مراد حضرت نبی اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھی اور ان کے بعد جو بادشاہ بنا تھا تھوڑی مدت کے بعد وہ بھی مر گیا اس سے ان کی مراد حضرت ابوبکر تھی۔
اس کے بعد جو شخص بادشاہ بنا ہے اس کی لمبی عمر ہے اور وہ تمھیں اپنے شھروں سے گرفتار کرے گا اور اس کے سپاھی تمہارے ساتھ جنگ کریں گے۔ اس سے ان کی مراد حضرت عمر تھے اور وہ تم پر احسان نہیں کرے گا یہاں تک کہ اس کے لشکر تمھیں تمہارے شھروں سے نکال دیں گے لہٰذا تمہارے لئے ضروری ہے کہ قبل اس کے کہ وہ تم پر حملہ کرے تم اس کے شھر میں داخل ہو کر اس پر حملہ کر دو۔ جب یہ خبر حضرت عمر کے پاس پھنچی تو وہ بہت پریشان ہوئے اور انھوں نے تمام مہاجرین و انصار کو جمع کر کے ان سے مشورہ لیا۔
طلحہ بن عبداللہ کھڑا ہوا اور اس نے کھاتمھیں بذات خود ان کے مقابلے میں نکلنا چائےے یہ مشورہ دے کر وہ بیٹھ گیا پھر حضرت عثمان کھڑے ہوئے اور انھوں نے کھامیری رائے یہ ہے کہ اہل شام شام سے نکلیں اہل یمن یمن سے نکلیں اور تم لوگ ان دو حرموں اور ان دو شھروں کوفہ اور بصرہ سے نکلو تمام مشرکوں اور مومنوں کو ایک جگہ جمع کیا جائے۔
حضرت عمر نے کھاکوئی اور مشورہ دے۔ حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کھڑے ہوئے حمد ثناء الٰھی کے بعد آپ نے فرمایا:
اگر اہل شام شام سے نکلیں گے تو روم والے اہل شام کی اولادوں پر حملہ کر دیں گے۔
اگر اہل یمن یمن سے نکلیں گے تو حبشہ والے اہل یمن کی اولاد پر حملہ آور ہو جائیں گے اور اگر ان دوحرموں کے لوگ نکلیں گے تو اطراف کے عرب تم پر حملہ کر دیں گے اور جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ اہل عجم کی تعداد بہت زیادہ ہے اور تم پر ان کی کثرت کا رعب بیٹھ گیا ہے تو سن لے کہ ہم نے کبھی بھی حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں کثرت کے بل بوتے پر جنگیں نہیں کیں ہم نے تو فقط اللہ کی مدد اور نصرت سے جنگیں کیں ہیں۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ تجھ تک ان کے اجتماع کی خبر پھنچی ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف نکلنے والے ہیں تو اللہ تعالی تیری نسبت انھیں زیادہ نا پسند کرتا ہے عجمی جب تجھے دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں یہ عرب ہے اگر اسے ختم کردیا تو گویا عرب کو ختم کردیا لہٰذا ان پر سخت حملہ کرنا ہوگا۔ میری رائے یہ ہے کہ یہ لوگ ان شھروں میں اسی طرح رھیں تم اہل بصرہ کو خط لکھو کہ وہ تین گروھوں میں بٹ جائیں ایک گروہ بچوں کے پاس رھے اور ان کی حفاظت کرے اور ایک گروہ کو عھد لینے والا بناؤ کہ وہ اس عھد کو نہ توڑیں اور ایک گروہ کو اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے روانہ کرو۔
چنا نچہ حضرت عمر کہتے ہیں یھی سب سے بھترین و عمدہ رائے ہے اور میں اسی کو پسند کرتا ہوں اور اسی کی روشنی میں قدم اٹھایا جائے گا ۔( ۱۸ )
شیخ مفید رحمة اللہ علیہ کہتے ہیں:کہ آپ لوگ حضرت کے اس نظریہ کو دیکھیں کہ جب صاحبان عقل و علم باھم جھگڑ رھے تھے اورکسی نتیجہ تک نہیں پہنچ رھے تھے تو اس وقت حضرت علی علیہ السلام کی رائے کی عظمت اجاگر ہوئی اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر حال میں حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو یہ توفیق عطا فرما رکھی ہے کہ آپ مشکل کے وقت میں امت مسلمہ کی مشکل کشائی اس کے علاوہ آپ نے دینی امور میں ایسے ایسے فیصلے کئے ہیں جن سے دوسرے لوگ عاجز تھے اور وہ مجبوراً آپ کی طرف رجوع کرتے تھے انھوں نے آپ کو معجزے کا دروازہ پایا اور اللہ بھترین توفیق عطا کرنے والا ہے ۔( ۱۹ )
حضرت عمر کے مولا
حضرت عمر روایت کرتے ہیں کہ کسی شخص نے مجھ سے کسی مسئلہ میں جھگڑا کیا تو میں نے اس سے کھاتیرے اور میرے درمیان یہ شخص فیصلہ کرے گااس کا اشارہ حضرت علی علیہ السلام کی طرف تھا وہ کھنے لگا یہ بڑے پیٹ والا آدمی ،یہ سننا تھا کہ حضرت عمر اٹھے اور اس کو گریبان سے پکڑ کر زمین پر دے مارا پھر اس سے کھاجن کی توھین کر رہاھے تو انھیں جانتا ہے ؟ یہ میرے اور ہر مسلمان کے مولا و آقا ہیں ۔( ۲۰ )
میراث کی تقسیم
محمد بن یحییٰ بن حبان کہتے ہیں کہ میرے دادا جان کی دو بیویاں تھیں ایک ھاشمی تھی اور ایک انصاری، اس نے انصاری کو طلاق دیدی اس وقت وہ اس کے بچے کو دودھ پلا رھی تھی اور اس نے حیض نہ دیکھا تھا میرے دادا کی وفات کو ایک سال گزر گیا ۔
وہ کھنے لگی میں اس کی وارث ہوں اور مجھے ابھی تک حیض نہیں آیا ہے اسے عثمان بن عفان کے پاس لے جایا گیا اس نے بھی اس کی میراث کا حکم دیا ۔
ھاشمی بیوی نے عثمان کی ملامت کی، عثمان نے کھایہ تیرے چچا زاد کے عمل کے مطابق ہے اس کا اشارہ حضرت علی علیہ السلام کی طرف تھا ۔( ۲۱ )
محب الطیری ریاض النضرہ میں کہتے ہیں کہ یہ خواتےن عثمان کے پاس آئےں ۔
تو عثمان نے کھا:میں اس مسئلے کو نہیں جانتا ،پھر یہ حضرت علی علیہ السلام کے پاس آگئےں تو حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا تم منبر رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھڑی ہو اور قسم کھا کر مجھے بتاؤ کہ تم نے تین حیض نہیں دیکھے پھر تم میراث کی حقدار ہو اس نے منبر کے پاس کھڑے ہو کر قسم کھائی تو آپ نے اسے ارث میں شریک قرار دے دیا۔( ۲۲ )
حضرت عثمان اور چھ ماہ کے بچے کی ماں
ابن منذر اور ابن ابی حاتم، بعجہ بن عبداللہ جھنی سے روایت بیان کرتے ہیں ہمارے قبیلہ کے ایک شخص نے جھنیہ خاندان کی ایک عورت سے شادی کی اس کے ہاں چھ ماہ کا ایک کامل بچہ پیدا ہوا اس کا شوہر اسے حضرت عثمان بن عفان کے پاس لے آیا اور اس نے اسے رجم (سنگسار)کرنے کا حکم دیا۔
یہ خبر حضرت علی (ع) تک پھنچی آپ حضرت عثمان کے پاس آئے اور فرمایا تم نے یہ کیا کھاھے۔ حضرت عثمان نے جواب میں کھااس نے چھ ماہ میں پورا بچہ پیدا کیا ہے ۔
حضرت نے فرمایا کیا تو نے نہیں سنا اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا ہے:
( و حمله و فصاله ثلاثون شهراً )
حمل اور دودھ بڑھائی کے تیس مھینے ہوتے ہیں ۔
اور اللہ تعالی نے فرمایا ہے :
( والوالداتُ یرَضعن اٴولادهن حولین کاملین )
مائیں اپنی اولاد کو پورے دوبرس تک دودھ پلائیں ۔
(جب دو سال دودھ پلانا ہے تو تیس ماہ سے) باقی چھ ماہ بچتے ہیں۔ عثمان بن عفان کھنے لگا خدا کی قسم اس عورت کی وجہ سے مجھے یہ معلوم ہوا اور اس سے پہلے میں اس مسئلہ کو نہیں جانتا تھا۔ جب عورت مقدمہ سے فارغ ہوئی تو اپنے بچے سے کھنے لگی اے میرے بچے نہ گھبرا خدا کی قسم تیرے باپ کے علاوہ میرے جسم کو کسی نے نہیں دیکھا ،راوی کھتا ہے کہ جب وہ بچہ کچھ بڑا ہوا تو اس کے باپ نے بھی اعتراف کیا کہ یہ میرا بیٹا ہے، کیونکہ وہ بالکل اسی کی شبیہ تھا ۔( ۲۳ )
یہ بچہ کس کا ہے؟
حسن بن سعید اپنے والد سے روایت بیان کرتا ہے کہ یحنساور صفیہ دونوں خمس نامی مقام پر زندگی بسرکر رھے تھے وہاں صفیہ نے کسی شخص کے ساتھ تعلقات بنا لئے اور اس کے ساتھ زنا کیا کچھ عرصے کے بعد اس کے یہاں بچہ پیدا ہوا زانی اور یحنس دونوں نے دعوی کیا کہ یہ بچہ میرا ہے۔ یہ جھگڑا عثمان بن عفان کے پاس لایا گیا تو اس نے ان دونوں کو حضرت علی (ع) کے پاس بھیج دیا۔ حضرت علی (ع) نے فرمایا: میں دونوں کے متعلق حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قضاوت کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں بچہ شوہر کا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہیں پھر دونوں (زانی اور زانیہ )کو پچاس پچاس کوڑے لگائے ۔( ۲۴ )
معاویہ کا اقرار
جب معاویہ کو حضرت علی علیہ السلام کے قتل کی خبر ملی تو اس سے ایک شخص نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے متعلق سوال کیا تو معاویہ نے جواب میں کھاحضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی موت کے ساتھ علم اور فقہ اس دنیا سے ختم ہو گیا ہے ،اس کے بھائی عتبہ نے اس سے کھاکھیں تم سے یہ جملے اہل شام نہ سن لیں معاویہ نے کھامجھ سے دور ہوجا ۔( ۲۵ )
ایک شخص نے معاویہ سے کسی مسئلہ کے متعلق سوال کیا تو معاویہ نے کہا: حضرت علی علیہ السلام سے پوچھ لے کیونکہ وہ میری نسبت بہت زیادہ علم رکھنے والے ہیں ۔وہ کھنے لگا میں تم سے جواب سننا چاھتا ہوں۔
معاویہ کھنے لگا:
تیرے لئے ھلاکت ہے تو اس شخص کے سامنے سوال کرنے کو نا پسند کرتا ہے جیسے حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح علم سکھایا ہے جیسے کبوتر اپنے بچے کو غذا دیتا ہے، بڑے بڑے صحابہ کرام بھی ان کی علمی شخصےت کے معترف تھے اور جب بھی حضرت عمر کو کو ئی مشکل ہو تی وہ اپنی مشکل انھی سے حل کرواتے تھے۔
ایک شخص حضرت عمر کے پاس آیا اور اس نے اس سے سوال کیا تو حضرت عمر نے کھایہاں حضرت علی علیہ السلام ہیں ان سے پو چھ لو ، تو وہ شخص خوشامد کرتے ہوئے کھنے لگا امیر المومنین میں چا ھتا ہوں کہ آپ سے جواب سنوں حضرت عمر نے اسے جواب دیا کھڑا ہو جا اللہ تعالی کھیں تیرا نام اپنے دیوان سے نہ مٹا دے ۔( ۲۶ )
____________________
[۱] ارشاد ج۱ ص۲۰۰، الدرمنثور ، السیوطی ص۶ ص۳۱۷ ۔
[۲] ارشاد ،شیخ مفید ج ۱ ص۱۹۹
[۳] سورہ ےونس :۳۵۔
[۴] خصائص الائمہ ص۸۲۔
[۵] الریاض النضرہ ج ۲ ص۲۲۴۔
[۶] المستدرک الصحیحین ج۲ ص۵۹ ،مناقب آل ابی طالب ج۲ ص۳۶۶، ارشاد ج ۱ ص۲۰۳ ، ۲۰۴۔
[۷] سورہ بقرہ آیت ۲۳۳۔
[۸] ارشاد ج ۱ ص۲۰۶۔
[۹] سورہ بقرہ :۱۷۳۔
[۱۰] بحارج ۴۰ص ۲۵۳۔
[۱۱] سنن بیہقی ج۷ص ۳۴۳۔
[۱۲] سورہ مائدہ آیت۹۳۔
[۱۳] بحار ج ۴۰ ص ۲۴۹،الارشاد ج ۱ ص ۲۰۲۔۲۰۳ اسی طرح الکافی ج ۷ ص ۲۱۵۔
[۱۴] کفایة الطالب حافظ کبخی شافعی ص ۲۲۷۔
[۱۵] الغدیر ج ۶ ص۱۱۱،اور ذخائر العقبی ص۸۱ ۔
[۱۶] الغدیر ج۲ ص ۲۹۹۔
[۱۷] الغدیر ج۶ص۱۱۳۔
[۱۸] الارشاد ج۱ ص ۲۰۷،۲۱۰۔
[۱۹] الارشاد ج۱ ص ۲۱۰۔ ٹھوڑے تصرف کے ساتھ
[۲۰] الریاض النضرہ ج۲ ص۱۷۰۔
[۲۱] موطامالک بن انس فی طلاق المریض ص ۳۶۔
[۲۲] الریاض النضرہ ج۲ ص ۱۹۷۔
[۲۳] لدرالمثور ،سیوطی ذیل تفسیر (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا)سورہ الاحقاف۔
[۲۴] مسند امام احمد بن حنبل ج۱ ص۱۰۴۔
[۲۵] الاستیعاب ابن عبدالبر ج۲ ص۴۶۳۔
[۲۶] منا و ی کی کتاب فیض القدیر ج۳ ص۴۶
آٹھویں فصل
وفات پیغمبر(ص) کے بعد انحراف کے قطعی شواھد
نص کے مقابلے میں اجتھاد
نص سے مراد نص الٰھی یا نص نبوی ہے، اس کے مقابلے میں جب اجتہاد آجائے تو قطعی طور پر اس اجتہاد کی کوئی اھمےت نھیںھوتی اور وہ نص کے مقابلے میں ساقط ہو جاتا ہے نص کے مقابلے اجتہاد صرف اپنی خواہشات کے لئے ہوتاھے خواہ وہ کسی لباس میں ہی کیوں نہ ہو۔
اس سلسلے میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نصوص کثرت سے موجود ہیں کہ میرے بعد امام اور خلیفہ کون ہو گایہ نصو ص دعوت ذو العشیرہ سے لے کر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے آخری لمحات تک موجود ہیں یہاں ہم اجمالی طور بعض کامختصر تذکرہ کرتے ہیں ۔
دعوت ذ والعشیرہ
جب حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو (اللہ کے عذاب سے )ڈراؤ تو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو دعوت دی اور ان سے فرمایا :
اِني قد جئتکم بخیر الدنیا والآخرة وقد اٴمرني الله عزوجل اٴن اٴدعوکم اِلیه فایکم یؤمن بي ویؤازرني علیٰ هذا الاٴمرعلی اٴن یکون اٴخي و وصیي و خلیفتي فیکم
میں تمہارے پاس دنیا اور آخرت کی بھلائی لے کر آیا ہوں۔ مجھے اللہ تعالی نے حکم دیا ہے کہ تمھیں اس کی طرف دعوت دوں تم میں سے جو بھی مجھ پر ایمان لائے گا اور اس اھم معاملے میں میری مدد کرے گا وہی میرا بھائی ،وصی اور خلیفہ ہو گا۔ پوری قوم خاموش اور ساکت رھی لیکن حضرت ابن ابی طالب علی علیہ السلام کھڑے ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل کیا میں اس معاملے میں آپ (ع)کی مدد کروں گا۔
آپ نے دو مرتبہ اسی طرح کھالیکن حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ (ع) کو بٹھا دیا تےسری مرتبہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
اِن هذا اٴخي ،ووصیي وخلیفتي فیکم فاسمعوا له و اٴطیعوا
یہ تم لوگوں میں میرا بھائی‘ وصی اور خلیفہ ہے اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔( ۱ )
حد یث منزلت
اصحاب سیرت و حدیث نے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جنگ تبوک کی طرف جانے لگے تو لوگ بھی آپ (ص)کے ساتھ چل دئے۔
اس وقت حضرت علی علیہ السلام نے عرض کی یا رسول اللہ (ص)کیا میں بھی آپ(ص) کے ساتھ چلوں۔ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا نہیں۔ حضرت علی علیہ السلام نے گریہ کرنا شروع کیا توحضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اٴماترضیٰ اٴن تکونَ مني بمنزلة هارون من موسیٰ اِلاّ اٴنه لا نبي بعدي اِنّه لا ینبغي اٴن اٴذهب اِلاّ و انتَ خلیفتي
کیا آپ (ع)اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کی قدرو منزلت میرے نزدیک وہی ہے جو ہارون کی موسیٰ کے نزدیک تھی لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ میں فقط یھی چاھتا ہوں کہ آپ (ع)میرے خلیفہ ہوں۔
اِلاّ اٴنه لا نبّي بعدي
( مگر یہ کہ میرے بعد کو ئی نبی نہیں ہو گا)یہاں جو استثنا ء پایا جاتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کے جتنے مناقب تھے نبوت کے علاوہ وہ سب حضرت علی علیہ السلام کی ذات اقدس میں موجود ہیں ۔( ۲ )
حد یث غد یر
یہ حدیث متواتر احادےث میں سے ہے اسے صحابہ کرام ،تابعےن اور ہر شیعہ سنی نے نقل کیا ہے، ہم یہاں پر ابن حجر سے بیان شدہ روایت کو سپرد قرطاس کر رھے ہیں ابن حجر نے اعتراف کیا ہے کہ اس روایت کی سند صحیح ہے۔ ابن حجر کہتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غدیر کے مقام پر شجرات کے نےچے خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا :
اٴیهّا الناس اِنهّ قد نّباٴ ني اللطیف الخبیر اٴنه لم یعمّر نبي الانصفُ عمر الذي یلیه من قبله واٴنيّ لاٴظن اٴني یو شک اٴن اٴدعی فاجیب و اِنی مسؤول و اٴنکم مسؤولون فماذا اٴنتم قائلون؟ قالو ا نَشهدُاٴنّک بلغت و جهدت و نصحت فجزاک الله خیراً: فقال اٴ لیس تشهدون اٴن لا اله الا اللّه و اٴنَّ محمداً عبده ورسوله واٴن جنته حق واٴنَّ ناره حق وان الموت حق واٴن البعث حق بعدالموت ، واٴنّ الساعة آتیة لا ریب فیها واٴن اللّه یبعثُ مَن في القبور ؟قالوا بلی نشهد بذلک قالٰ اللهم اشهد ثم قال(( یا اٴیهاالناس اِن الله مولاٴي واٴنا مولیٰ المؤمنین واٴنا اٴولیٰ بهم من اٴنفسهم فمن کنت مولاه فهذا يعني علیامولاه اللهم وال من والاه وعا د من عاداه ))
اے لوگو! مجھے لطیف الخبےر نے خبر دی ہے کہ ہر نبی اپنے پہلے نبی کی نسبت آدھی عمر پاتا ہے لہٰذا میں بھی یہ گمان نہیں کرتا کہ مزید تم لوگوں کے درمیان رہو ں، مجھے بارگاہ خداوندی میں بلایا گیا ہے قریب ہے کہ میں اس دعوت کو قبول کروں، وہ وقت آپھنچا ہے کہ میں اس دار فانی کو الودع کھوں اگر میں پکاروں تو مجھے جواب دو۔میں مسئول ہو ں اور تم لوگ بھی اس کے مسئول ہیں اس بارے میں آپ کیا کہتے ہو؟ یہ سن کر وہ لوگ کھنے لگے:
ھم گواھی دیتے ہیں کہ آپ(ص) نے تبلیغ کی ،جہاد کیا ،نصےحت کی ،اللہ کی ذات ہی آپ(ص) کو بھترین جزا دینے والی ہے پھر آنحضرت(ص)نے فرمایا کیا تم یہ گواھی نہیں دیتے کہ اللہ کے علاوہ کو ئی معبود نھیںھے اور محمد اللہ(ص) کے عبد اوراس کے رسول ہیں۔
بے شک اس کی جنت ،جھنم ،موت ، موت کے بعد قبروں سے نکالنا یہ سب حق ہے اور بے شک قیامت اس کی ایسی نشانیوں میں سے ہے جس میں کسی کو کوئی شک وشبہ کی گنجا ئش نہیں ہے اور جو کچھ قبروں میں ہے اللہ ہی اس کو نکالنے والا ہے۔
وہ کھنے لگے ۔جی ہاں۔
ھم ان تمام چیزوں کی گواھی دیتے ہیں: آپ(ص) نے فرمایا اے پروردگار تو بھی اس پر گواہ رہ۔ پھر آپ (ص)نے فرمایا: اے لوگو ! ا للہ میرا مولا ہے اور میں مومنین کا مولا ہوں اور میں ان کی جانوں پر ان کی نسبت اولیٰ ہوں ۔پس جس کا میں مولا ہوں اس کا یہ علی (ع) مولا ہے پروردگار اس سے محبت رکھ جو اس سے محبت رکھے اس سے دشمنی رکھ جو اس سے دشمنی رکھے ۔( ۳ )
اس میں کسی کو شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ جو شخص حدیث غدیر کے مضمون اور اس میں موجود حالیہ اور مقالیہ قرائن کو مد نظر رکھے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ اس حدیث کا مقصد حضرت علی علیہ السلام کو امامت اور خلافت پر نصب کرنا ہے۔ اسی مطلب کو اس بابرکت محفل میں موجود مہاجرین و انصار نے بھی سمجھا ہے۔ جیسا کے اس کو پھنچانے والے نے سمجھا ہے اور ایک مدت کے بعد امت میں بھی یہ بات ظاہر ہو ئی ہے اوراس وقت سے لے کر آج تک اس کی اتباع مشھور ادباء اور شعراء نے بھی کی ہے ۔ےعنی شعراء وغیرہ نے بھی ابتداء ہی سے اس سے مراد حضرت علی علیہ السلام کا خلافت پر نصب کرنا سمجھا تھا ۔( ۴ )
اس موقع پر حسان بن ثابت حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں: یارسول اللہ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا مجھے اجاز ت ہے کہ میں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شان میں چند اشعار کھوں۔
چنا نچہ انھوںنے یہ شعارکھے:
ینادیهم یوم الغدیر نبیهُّم
بخم واٴسمعِ بالرسولِ منادیا
فقال فمن مولاکمُ وولیکم
فقالو ا و لم یبدوا هناک التعامیا
الهٰک مولانا و اٴنت ولینا
و لم تلق منا في الولایة عاصیا
فقال له قم یا علي فاِنني
رضیتُک من بعدي اِماماً و هادیا
فمن کنتُ مولاهُ فهذا ولیّه
فکونوا له اٴتباع صدق موالیا
هنا کَ دعا اللهم والِ ولیّه
وکن للذي عا دیٰ علیا مُعادیا
ان کے نبی(ص) غدیر کے دن خم کے مقام پر انھیں پکار رھے تھے اور پکارتے ہوئے نبی (ص)کتنے اچھے معلوم ہو رھے تھے انھوں نے کھاکہ تمہارا مولا اور نبی(ص) کون ہے؟ وہ سب لو گ کھنے لگے اور ان میں سے کسی نے مخالفت اور دشمنی کا اظہار نہ کیا آپ(ص) کا معبود ھمارا مولا ہے اور آپ(ص) ہمارے نبی(ص) ہیں اور آپ (ص)ولایت کے سلسلے میں ہم سے کسی کو نافرمان نہیں پائےں گے۔ آپ (ص)نے فرمایا اٹھو اے علی کیونکہ میں نے آپ(ع) کو اپنے بعد کے لئے امام اور ہادی منتخب کیا ہے۔ پس جس کا میں مولا ہوں اس کا یہ ولی اور مولا ہے ۔لہٰذا اس کے سچے پیروکار اور موالی بن جاؤ اور پھر دعا کی خدا یا اس کے دوست کوتو دوست رکھ اور حضرت علی علیہ السلام سے دشمنی کرنے والے کو دشمن رکھ۔( ۵ )
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کو تنہا(اسی مفھوم کے ساتھ) حسان بن ثابت نے ہی نہیں سمجھا تھا‘ بلکہ اس مطلب کو عمرو بن عاص نے بھی سمجھا تھا ۔حا لانکہ کہ یہ اےسا شخص ہے جس کی حضرت علی علیہ ا لسلام کے ساتھ دشمنی ڈھکی چھپی نہ تھی جب معاویہ کو اس مسئلہ میں شک ہو ا تو حضرت علی علیہ السلام کی جلالت و بزرگی کو بیان کرتے ہوئے کھتا ہے :
وکم قد سمعنا من المصطفیٰ
وصایا مخصصّة في علي
و فی یوم خمّ رقیٰ منبرا
و بلغّ والصحب لم تر حل
فاٴمنحه اِمرةالمؤمنین
من الله مستخلف المنحل
فی کفّه کفّه معلنا
ینادي باٴ مر العزیز العلي
قال فمن کنت مولیٰ له
عليٌّ له الیوم نعم الولي
ھم نے اکثر حضرت محمد (ص)سے حضرت علی (ع) سے متعلق مخصوص وصیتیں سنیں ہیں، حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خم والے دن منبر پرگئے اور خطبہ دیا۔ کسی صحابی اور صحابیہ نے ان کے مطالب کے خلاف گفتگو نہ کی ان (علی (ع)) کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر خدائے بزرگ و برتر کے حکم سے یہ اعلان کیا اور فرمایا جس جس کا میں مولا ہوں آج سے حضرت علی علیہ السلام اس کے بھترین ولی ہیں ۔( ۶ )
اس طرح حدیث غدیر کے اس معنی کو سب بزرگوں نے واضح انداز میں تسلیم کیا شاعر ذائع صےت کمےت بن زید الاسدی کھتا ہے :
و یوم الدوح دوح غدیر خم
اٴبان له الخلافة لواٴُ طیعا
یوم روح ‘روح غدیر خم ہے ۔ اگر وہ اطاعت کر لیتے توان کے لئے خلافت کا مسئلہ واضح ہو چکا ہوتا۔( ۷ )
غدیر خم میں موجود جلیل القدر صحابی حضرت قیس بن سعد بن عبادہ کہتے ہیں:
و عليٌ اِما مُنا و اِمامٌ
لسوانا اٴتی به التنز یل
یوم قال النبي من کنت مولا ه
فهذا مولاه خطبٌ جلیل
قرآن مجےد نے ھمیں بتا یا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام ہمارے اور ہمارے علاوہ دوسرے لوگوں کے امام ہیں۔ اس دن جب حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جلیل القدر خطبہ میں ارشاد فرمایا: جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کا یہ مولا ہے( ۸ )
ھم نے اس حدیث کی مزید وضاحت اور اس کی سند و دلالت اور حجت پر بحث اس لئے نہیں کی کیونکہ احادےث اور سیرت کی کتب نے اس حدیث کو بیان کیا ہے لیکن ہم نے مسلمان بھائیوں کے سامنے اس کی اصل صورت اور حقےقت پیش کر دی تاکہ صاحبا ن عقل کے سامنے حق و حقیقت واضح ہو جائے۔
۴ ۔حدیث ثقلین
حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
اِني اوشک اٴن اُدعیٰ فاجیب،واِنی تارک فیکم الثقلین کتاب الله عزوجل وعترتي،کتاب الله حبل ممدود من السماء اِلی الارض وعترتي اَهل بیتي
واِنّ اللطیف الخبیر اٴخبرني اٴنّهما لن یفترقا حتیٰ یردا عليّ الحوض فانظروا کيف تخلّفوني فیهما
مجھے بارگا ہ خدا وندی میں بلایا گیا ہے اور قریب ہے کہ میں اس دعوت پر لبےک کھوں۔ وہ وقت آن پھنچا ہے کہ میں دار فانی کو الودع کھوں۔ میں تم میں دو گراں قدر چیزےں :اللہ کی
کتاب اوراھل بیت چھوڑ کر جا رھاھوںاللہ کی کتاب اور میری اہل بیت زمےن و آسمان کے درمیان اللہ کی دراز رسی ہے۔
اور مجھے لطیف الخبےر نے خبر دی کہ یہ حو ض کوثر پر میرے پاس آنے تک ہر گز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو نگے اور دیکھومیرے بعد ان دونوں کے ساتھ کیسا سلوک کرو۔( ۹ )
۵ ۔حد یث سفینہ
حاکم اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ذر غفاری کعبہ کے درواز ہ کو پکڑ کر کہتے ہیں جو شخص مجھے جانتا ہے سو وہ جانتا ہے جو نہیں جانتا تو وہ سن لے: میں ابو ذر ہوں اور میں نے حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:
اٴلا اِنّ مثل اٴهل بیتي فیکم مثل سفینة نو ح فی قومه مَن رکبها نجا و من تخلف عنها غرق
آگا ہ ہو جاؤ تم لوگوں میں میرے اہل بیت (علیہ السلام) کی مثال حضرت نوح( علیہ السلام )کی قوم میں ان کی کشتی جیسی ہے جو اس پر سوار ہو جائے گا وہ نجا ت پا جائے گا اور جو اس کی مخا لفت کرے گا، وہ ڈوب کر ہلاک ہو جائے گا ۔( ۱۰ )
ائمہ معصومین (علیھم السلام )کی کشتی کی مثال حضرت نوح( علیہ السلام) کی کشتی سے دینے سے مراد یہ ہے کہ جس شخص نے دین اسلام کے احکام میں ان کی طرف رجوع کیا اور اس نے دین کے اصول‘ فروع اور آئمہ معصو مےن (علیھم السلام) سے تعلق جوڑا، وہ شخص عذاب جھنم سے نجات حاصل کر لے گا اور جس نے ان کے احکام کی مخا لفت کی تو وہ ڈوب جائے گا۔ جیسے نوح کی قوم نے کھاتھا کہ جب طوفان آئے گا تو لوگ بھاگ کر پہاڑ پر چڑھ جائیں گے۔ اور خدا کے اس عذاب سے بچ جائیں گے لیکن یہ سب لوگ اس پانی میں غرق ہو گئے
اور یھی ان کی تباھی کا مقام ہے۔( ۱۱ )
۶ ۔حدیث امان
حاکم، ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس نے کھاکہ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
النجومَ اٴمانٌ لاٴهلِ الارضِ من الغرق و اٴهلِ بیتیِ اٴمان لاٴمتي من اِلاختلاف فا ذا خالفتها قبیلةمن العرب اختلفوا فصاروا حزب اٴبلیس
اندھےرے میں ستارے اہل زمےن کے لئے امان ہیں اور میرے اہل بیت امت کے اختلاف کے وقت ان کے لئے امان ہیں، اور جو قبیلہ عرب ان کی مخالفت کرےگا ، وہ حزب ابلیس سے ہو گا ۔( ۱۲ )
قارئین کرام! ہم نے یہ چند ایک قطعی نصوص اور روایات نقل کی ہیں جو کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے بیان ہوئی ہیں اور جس طرح آپ نے دےکھا ان کو کتب اھلسنت نے بھی بیان کیا ہے۔ اب اس خاندان عصمت کے حق میں نازل شدہ چند آیات کا تذکرہ کرتے ہیں جنھیں حق تعالی نے ان کی شان میں نازل کیا :
۱ ۔آیت ولایت
( إِ نَّمَا وَلِیُّکُمْ اللهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاَةَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَهُمْ رَاکِعُونَ )
اللہ ، اس کا رسول اور وہ لوگ جو ایمان لے آئے اور نماز پڑھتے ہیں اور رکوع کی حالت میں زکوة ادا کرتے ہیں فقط وہی تمھارے ولی ہیں۔( ۱۳ )
تمام مفسرےن کا اجماع ہے کہ یہ آیت مبارکہ حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے ۔
۲ ۔آیت تطھیر
( إِ نَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیر ) ( ۱۴ )
اللہ صرف یہ ارادہ رکھتا ہے کہ اے اہل بیت تم کو ہر قسم کی گندگی سے دور رکھے اور اےسا پاک و پاکیزہ رکھے جیسا پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔
اس آیت کے متعلق مفسرےن کا اجماع ہے کہ یہ آیت حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،حضرت امام علی علیہ السلام ،حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا، حضرت امام حسن علیہ السلام اورحضرت امام حسین علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
۳ ۔آیت مباھلہ
( فَمَنْ حَاجَّکَ فِیهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ کَ مِنْ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اٴَبْنَاءَ نَا وَاٴَبْنَاءَ کُمْ وَنِسَاءَ نَا وَنِسَاءَ کُمْ وَاٴَنْفُسَنَا وَاٴَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اللهِ عَلَی الْکَاذِبِ ینَ ) ( ۱۵ )
اس کے متعلق واضح علم آجانے کے بعد جو شخص تم سے جھگڑا کرے تو تم کہہ دو کہ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں تم اپنے بےٹوں کو بلاؤ ہم اپنی خواتےن کو بلاتے ہیں تم اپنی خواتےن کو بلاؤ ہم اپنے نفسوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے نفسوں کو بلاؤ پھر ہم مباھلہ کرےں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کرےں۔
تمام مفسرےن کا اجماع ہے کہ پو ری دنیا سے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کوئی بھی مباھلہ کے لئے نہیں نکلا تھا مگر بےٹوں کی جگہ حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام تھے اور نساء کی نمائندگی حضرت جنا ب فاطمة الزھرا سلام اللہ علیھانے کی اور نفس رسول فقط حضرت علی علیہ السلام تھے آپ لوگ اس آیت میں غور و فکر و تا مل کرےں ۔
۴ ۔آیت اکمال د ین اور اتمام نعمت
( الْیَوْمَ اٴَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَاٴ َتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَکُمْ الْإِسْلاَمَ دِینًا ) ( ۱۶ )
آج میں نے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے اس دین اسلام کو پسند کیا۔
حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس موقع پر ارشاد فرمایا :الله اٴکبرعلیٰ اکمال اِلدین و اتمام النعمه و رضا الربْ برسالتي و الولا یةَ لعلي من بعدي
اللہ اکبر آج دین کامل ہوگیا اور نعمتےں پوری ہو گئیں اللہ رب العزت میری رسالت اور میرے بھائی علی (ع) کی ولاےت پر راضی ہے۔
یہ سننے کے بعد لوگ جو ق درجوق حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی خدمت میں جا کر تھنیت و مبارک باد عرض کرنے لگے صحابہ کرام میں سب سے پہلے مبارکباد دینے والے شیخین بھی تھے ۔ےعنی حضرت عمر اور حضرت ابو بکر اور ان کامبارک باد دینے کا انداز یہ تھا :
بخٍ بخٍ لکَ یا بنِ اٴبي طالب اٴصبحت مولاي و مولیٰ کل مؤمن و مؤمنة
مبارک ہو مبارک ہو اے ابو طالب (ع)کے فرزند آپ(ع) ہی میرے اور تمام مومنین اور مومنات کے مولا ہیں ۔( ۱۷ )
۵ ۔آیت مود ت
( قُلْ لاَاٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْهِ اٴَجْرًا إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَ ی ) ( ۱۸ )
اے رسول(ص) کہہ دیجے کہ میں تم لوگوں سے محبت اہل بیت کے علاوہ کو ئی اجر رسالت نہیں مانگتا۔
زمخشری اپنی کتاب کشاف میں کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا ؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ(ص) کے وہ قریبی رشتہ دار کون ہیں جن کی محبت و مودت کو ہم پر واجب قرار دیا گیا ہے۔ حضرت نے ارشاد فرمایا:
وہ علی ،(ع)فاطمہ(ع) اور ان کے دو بیٹے ہیں۔
( قُلْ لاَاٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْهِ اٴَجْرًا إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی )
اے رسول کہہ دیں تم سے اھلےبیت کی محبت کے علاوہ کسی چیز کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا
زمخشری نے اپنی کتاب کشاف میںاس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے بیان کیا ہے ان کے علاوہ بھی قرآن کریم کی متعدد آیات اور احادیث حضرت علی علیہ السلام کی شان میں موجود ہیں مثلاً۔اٴقضاکُم علي
تم میں سب سے بڑے قاضی حضرت علی (ع)ھیں ۔
اٴنا مدینة العلم وعلی بابُها
میں علم کا شھر ہوں اور علی (ع) اس کا دروازہ ہیں ۔
علی اٴعلم اُمتیِ بالسُّنّه
علی (ع)میری امت میں سنت کو سب سے زیادہ جانتے ہیں ۔
علي مع الحقِ والحقُ مع علی
علی (ع)حق کے ساتھ ہیں اور حق علی (ع)کے ساتھ ہے ۔
علي ولیُّکم بعدی
میرے بعد فقط علی (ع)ھی تمہاراولی ہے ۔وغیرہ وغیرہ
جب آپ لوگ ان قطعی نصوص کو جان چکے ہیں تو پھر حق کو چھوڑ کر گمراہی کی راہ اختیار کرنا اور حق کے مقابلے میں خواہشات نفس کی پیروی کرنا قرین قیاس نہیں ہے ۔ آپ کو خلیفہ اول کے ان کلمات کے متعلق خوب غور فکر کرنا چاھیے جسے وہ اپنی بیعت کے دوسرے دن اس طرح بیان کر رھے ہیںاورعذر خواھی کے بعد کہتے ہیں: میری بیعت ایک قلادہ ہے ۔اللہ اس کے شر اور فتنہ سے بچائے ۔( ۱۹ )
وہ ایک اور مقام پر کہتے ہیں: اے لوگو! میں تم پر بادشاہ بنایا گیا ہوں حالانکہ میں تم سے بھتر نہیں ہوں (بھرحال)اگر میں اچھا کام کروں تو میری مدد کرنا اور اگر غلط کام کروں تو مجھے راہ راست پر لانا کیونکہ مجھ پر ہر وقت ایک شیطان سوار رھتا ہے جو مجھے راہ راست سے دور رکھتا ہے۔( ۲۰ )
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ حضرت ابوبکر نے تو اپنی شرعی ذمہ داری کاپاس اور لحاظ کیا اور انھوں نے اپنے بعد حضرت عمر کو خلیفہ نامزد کردیا۔ اسی طرح حضرت عمر نے بھی اپنی شرعی ذمہ داری کا خیال رکھا کہ اسے بھی خلیفہ بنانا چاھیے اور اس نے ایک شوری تشکیل دی۔ یہاں تک کہ معاویہ کی بھی یھی رائے تھی کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو خلیفہ کے بغیر نہ چھوڑا جائے اور اس نے اپنے بیٹے یزید کوخلیفہ نامزد کردیا۔
توکیا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا خلیفہ بنانے کا کوئی خیال نہ تھا ؟کہ وہ بھی اپنی امت کے لئے اس قسم کا اھتمام کرتے ؟
کیا ان کی اتنی بھی ذمہ داری نہ تھی کہ وہ اپنے بعد اپنا خلیفہ نامزد فرماتے؟ یا اللہ تعالی کو بھی اس امت مرحومہ کے متعلق معاویہ یا معاویہ سے پہلے لوگو ں برابر بھی خیال نہ تھا ؟!!!
۲ ۔حضرت علی اور حضرت فاطمہ علیھاالسلام کے دروازے پر ھجوم
حضرت علی علیہ السلام اورحضرت فاطمہ سلام اللہ علیھاکے دروازے پر ھجوم کرنا اسکی حرمت کا خیال نہ رکھنا ،دروازے پر لکڑیاں جمع کرنا اور گھر کو جلانے کی دھمکیاں دینا کیا ہے؟ جبکہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیھاکا گھر انبیاء علیھم السلام کے گھروں سے بھی افضل تھا۔ سیوطی در منثور میں سورہ نور کے ذیل میں اللہ تعالی کے اس فرمان کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :
( فِی بُیُوتٍ اٴَذِنَ اللهُ اٴَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیهَا اسْمُهُ ) ( ۲۱ )
یہ ایسے گھروں میں سے ہے جس کے بارے میں خدا نے حکم دیا ہے کہ ان کی تعظیم کی جائے اس کا نام ان میں لیا جائے ۔
ابن مردویہ اور بریدہ نے روایت بیان کی ہے کہ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی تو ایک شخص نمودار ہوا اور اس نے دریافت کیا:
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کون سے گھر ہیں۔
حضرت نے فرمایا:
وہ انبیاء علیھم السلام کے گھر ہیں ۔
حضرت ابوبکر کھڑے ہوئے اور انھوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ گھر جس میں حضرت علی اور حضرت فاطمہ علیھاالسلام رھتے ہیں کیا یہ بھی انھیں گھروں میں سے ہے؟ حضرت نے جواب میں فرمایا: جی ہاں، بلکہ یہ تو انبیاء کے گھروں سے بھی افضل ہے۔( ۲۲ )
یہ وہ گھر تھا جہاں روح الامین تشریف لاتے تھے اور ملائکہ کی آمد و رفت ہوتی تھی اور اس گھر کو اللہ تعالی نے رجس سے اسطرح پاک رکھا جس طرح پاک رکھنے کا حق ہے یہ وہ گھر جس میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اجازت کے بغیر داخل نہ ہوتے تھے ۔جب اس گھر کی بے حرمتی کی گئی اور یہ بھی نہ دیکھا گیا کہ اس گھر میں کون لوگ موجود ہیں؟ اور یہ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کی وجہ سے کس قدر غمگین ہیں؟
اس گھر کے اردگرد لکڑیاں جمع کی گئیں اور اس کو جلا دینے کی دھمکیاں دیں گئیں اور اھلبیت علیھم السلام کے ساتھ زیادتی کی گئی وہ اھلبیت جن کی مودت کے واجب ہونے کا اعلان آیت مودت کرتی ہے اور آیت تطھیر جن کی طہارت اور پاکیزگی کا قصیدہ پڑھتی ہے۔
ابن قتیبہ کہتے ہیں کہ خلافت پر قبضہ جمانے والوں نے چند مرتبہ حضرت علی علیہ السلام کی طرف پیغام بھیجا لیکن آپ نے ان کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔
ابن قتیبہ مزیدکھتے ہیں کہ یہ سن کر حضرت عمر کھڑے ہوئے ان کے ساتھ ایک گروہ تھا وہ لوگ جناب فاطمہ زھراء سلام اللہ علیھاکے دروازے پر آئے انھوں نے دق الباب کیا جب جناب سیدہ سلام اللہ علیھا نے ان کی بلند آوازیں سنیں ۔
تب بی بی فاطمہ زھراء سلام اللہ علےھا بلند آواز سے پکار کر کہتیں ہیں۔ اے میرے بابا، اے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے بعد ابن خطاب اور ابن ابی قحافہ میرے دروازے پر کس طرح حملہ آور ہورھے ہیں ۔
جب لوگوں نے جناب سیدہ کے رونے کی آواز سنی تو ان میں سے بعض روتے ہوئے دروازے سے ہٹ گئے ،قریب تھا کہ ان کا دل اس دردناک آواز کو سن کر پھٹ جائے لیکن عمر اور ایک گروہ وہاں موجود رھاانھوں نے حضرت علی علیہ السلام کو گھر سے نکالا اور ابوبکر کے پاس لے آئے اور ان سے کھنے لگے کہ ابوبکر کی بیعت کرو۔
حضرت نے فرمایا اگر میں اس کی بیعت نہ کروں تو پھر؟
وہ کھنے لگے: خدا کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہم آپ(ع) کی گردن اتار لیں گے ۔( ۲۳ )
ایک اور روایت میں ابن قتیبہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے ان لوگوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا جنھوں نے اس کی بیعت کرنے سے انکار کیا تھا اور یہ لوگ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے پاس موجود تھے۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کو ان کی طرف بھیجا حضرت عمر گئے اور اس نے ان سے بیعت کرنے کا مطالبہ کیا وہ لوگ حضرت علی علیہ السلام کے گھر موجود
تھے انھوں نے گھر سے باھر نکلنے سے انکار کر دیا تو حضرت عمر نے لکڑیاں لانے کے لئے کھااور کھنے لگا :
والذي نفس عمر بیده لتخرُجن اٴولاٴحرقنها علیٰ مَن فیها فقیل له یا اٴبا حفص اِنّ فیها فاطمه فقال واِن
اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں عمر کی جان ہے اگر یہ لوگ باھر نہ نکلے تو میں اس گھر کو گھر والوںسمیت جلا کر راکھ کر دوں گا۔
کسی نے اس سے کھا: اے ابو حفص جا نتے ہو کہ اس گھر میں تو جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا موجود ہیں ، وہ کھنے لگا تو ہوتی رھیں ۔جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا فرماتی ہیں تم میں سے جو بھی بری نیت لے کر میرے دروازے پر آیا ہے میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔( ۲۴ )
حق کی جستجو کرنے والے قاری محترم آپ نے ملاحظہ کیا کہ کس کس طرح لوگوں نے رفتار گفتار اور عمل کے میدان میں حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل اور ان کی رفتار گفتار سے انحراف کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی آل پاک کے ساتھ کیسا سلوک کرنے کو کھااور ان لوگوں نے ان کے ساتھ کیا کیا؟
فدک کا غصب کرنا
فدک جناب فاطمہ زھراء سلام اللہ علیھا کا حق تھا۔ لیکن ان لوگوں نے بی بی (ع)کے اس حق کو غصب کرلیا۔بی بی (ع)نے یہ دعوی کیا تھا کہ یہ میری میراث ہے۔ لیکن اس دعوی کو انھوں نے رد کردیا اور جناب امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور جناب ام ایمن کی گواھیوں کو جھٹلادیا ۔
علامہ امام شرف الدین کہتے ہیں کہ فدک کے متعلق حاکم کا اتنا علم ہی کافی تھا کہ یہ مدعی(فاطمہ) تقدیس کی معراج پر فائز ہے اور تقدس میں وہ جناب مریم(ع) بنت بن عمران (ع)کی ہم پلہ ہے بلکہ ان سے بھی افضل ہے ۔جناب زھرا(ع)ء جناب مریم (ع)جناب خدیجہ(ع) جناب آسیہ (ع)اھل جنت کی عورتوں سے افضل ہیں ۔جس طرح اللہ تعالی نے اپنی واجب نمازوں میں اپنے بندوں پر شہادتین پڑھنا واجب قرار دیا ہے اسی طرح ان پر درود سلام بھیجنا بھی واجب قرار دیا ہے اور یہ بی بی(ع) ان ھستیوں میں سے ہے جن پر نماز میں درود بھیجنا واجب قرار دیا گیا ہے ۔( ۲۵ )
شیخ ابن عربی کہتے ہیں جیسا کہ ابن حجر کی کتاب صواعق المحرقہ وغیرہ میں بھی موجود ہے ۔
رایتُ ولائي آل طه فریضةً
علیٰ رغم اٴهل البعد یُورثني القُربیٰ
فما طلب الرحمن اٴجراً علیٰ الهدیٰ
بتبلیغهِ اِلاّ المودةَ في القربیٰ
میں سمجھتا ہوں کہ آل طہ کی ولایت واجب ہے ۔قرابت دار ہی وراثت کے حق دار ہوتے ہیں۔ اگرچہ بعض لوگوںنے ان کے اس حق کو نظر انداز کیا ہے۔ خداوند عالم نے صرف محبت اھلبیت ہی کو اجر رسالت و تبلیغ ھدایت کے عوض قرار دیا ہے۔
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام حضرت ابوبکر سے کہتے ہیں:
اے ابوبکر کیا تم نے اللہ کی کتاب کو پڑھا ہے ۔
وہ کھنے لگے جی ہاں۔
آپ (ع)نے فرمایا مجھے یہ بتاؤ کہ اللہ تعالی کا یہ فرمان کس کی شان میں نازل ہواھے :
( إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیرًا ) ( ۲۶ )
اے اھلبیت اللہ فقط یہ چاھتا ہے کہ آپ اھلبیت (ع) سے ہر قسم کی گندگی اور رجس کو دور رکھے اور ایسا پاک رکھے جیسا پاک رکھنے کا حق ہے ۔
یہ آیت ھماری شان میں نازل ہوئی ہے یا ہمارے علاوہ کسی اور کی شان میں نازل ہوئی ہے؟
وہ کھنے لگا کہ یقینا آپ(ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
حضرت نے فرمایا اچھا یہ بتاؤ اگر چند لوگ گواھی دیں کہ جناب سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا نے فلاں غلط کام کیا ہے تو تم کیا کروگے ؟
وہ کھنے لگے میں ان پر اس طرح حد جاری کروں گا جس طرح میں تمام مسلمان عورتوں پر حد جاری کرتا ہوں ۔حضرت نے فرمایا تو پھر اس وقت تو اللہ کے نزدیک کافروں کے ساتھ محسوب ہوگا۔
وہ کھنے لگا کیوں ؟
حضرت نے فرمایا چونکہ اللہ نے اس کی طہارت کی گواھی دی ہے اور تو نے اس کی گواھی کو جھٹلادیا ہے اور اس کے عوض لوگوں کی گواھی کو قبول کیا ہے تم نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کو جھٹلا دیا ہے اور ایک اعرابی کی گواھی کو قبول کیا ہے کیونکہ اللہ اور اس کے رسول نے فدک جناب سیدہ کو عطافرمایا ہے اور تم نے جناب سیدہ سے اس کو چھین لیا ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
البیّنة علیٰ المدعي والیمین علیٰ المدّعٰی علیه
گواہ اور بینہ پیش کرنا مدعی کی ذمہ داری ہے اور مدعی علیہ پر قسم ہے ۔( ۲۷ )
استاد محمود ابو ریہّ مصری المعاصر کہتے ہیں کہ اس مقام پر ضروری ہے کہ ہم اس بات کی وضاحت کریں کہ جناب فاطمہ صلوات اللہ علیھا کے ساتھ آپ(ع) کے والد محترم کی میراث کے حوالے سے حضرت ابوبکر نے جو رویہّ اختیار کیا ہے ھمیں کھل کر اس کی وضاحت کرنی چاھےے۔ اس سلسلے میں وہ کہتے ہیں کہ اولاً تو ہم اس حدیث کو مانتے نہیں جو انھوں نے گھڑی ہے۔ اورثانیا ً اگر ہم اس کو تسلیم بھی کر لیں تو یہ خبر واحد ظنی ہے اور خبر واحد ظنی، کتاب قطعی(قرآن) کے لئے کس طرح مخصص بن سکتی ہے ؟
ثالثاً اگر یہ سچ ہے اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ ہم وراثت نہیں چھوڑا کرتے( جبکہ اس خبر کے عموم کی تخصیص بھی نہیں ہے) تو اس وقت حضرت ابوبکر کے لئے بھترین موقع تھا کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کے والد محترم حضرت رسول اکرم(ص) کی چھوڑی ہوئی تمام میراث پر قبضہ جما لیتے۔
فقط خاص طور پر فدک پر ہی قبضہ کیوں کیا اور اس کو مخصص بنا کر اس حدیث کی تخصیص کیوں کی ہے؟ جبکہ فدک جناب سیدہ سلام اللہ علیھا کا وہ حق تھا جس میں کسی کو کسی قسم کا اشکال نہیں ہے۔
اس کی تخصیص تو فقط زبیر بن عوام اور محمد بن مسلمہ وغیرہ نے کی ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متروکات میں سے فدک ہی وہ ہے جس سے ابوبکر نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا کو روک دیا تھا، اگر فدک واقعا کسی کی میراث نہیں بن سکتا تھا تو خلیفہ عثمان کبھی بھی مروان کو اس کے کچھ حصے کا مالک نہ بناتا ۔( ۲۸ )
ابن ابی حدید نے بعض بزرگوں سے ایک روایت نقل کی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ ان دونوں خلفاء نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دختر کے ساتھ ان کی وفات کے بعد جو رویہّ اپنایا، ھمیں اس پر سخت تعجب ہوتا ہے!!
آخر میں کہتے ہیں :
وقد کان الاٴجلّ اٴن یمنعهما التکرُّم عما ارتکباه من بنت رسول الله فضلاً عن الدین
اور اس سے بڑھ کر کہ انھوں نے بنت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اکرام تک نہ کیا چہ جائیکہ وہ بی بی(ع) کا حق ادا کرتے۔
اس کے ذیل میں ابن حدید کہتے ہیں کہ اس بات کا کوئی شخص بھی جواب نہیں دے سکتاھے ۔( ۲۹ )
صاحب فدک فی التاریخ میں ایک مطلب کو بیان کرتے ہیں کہ اگر خلیفہ کا موقف درست تھا اور یہ بھی مان لیتے ہیں کہ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد بھی فرمایا تھا ہم انبیاء وراثت نہیں چھوڑا کرتے اور جو کچھ ہم چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے تو پھر حضرت عمر نے خلیفہ کے فرمان کو کیوں مھمل قراردیا اور پس پشت ڈال کر فدک کو جناب عباس اور جناب علی (ع) کے سپرد کردیا؟
فدک کو ان دونوں کے سپرد کرنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ فدک حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میراث تھی اور یہ کام انھوں نے اپنی خلافت کے دوران انجام دیا تھا۔( ۳۰ )
قارئین کرام !آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ کس طرح یہ لوگ الٹے پاؤں پھر گئے اللہ تعالی اور اس کی شریعت نے اہل بیت علیھم السلام سے متعلق مودت کا حکم دیا تھا اور وہ ان سے کس طرح روگردان ہو گئے ۔
حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی مرتبہ ارشاد فرمایا :
المرء یحفظ فی ولده
کسی شخص کی عزت و اکرام اس کی اولاد کی عزت و حفاظت کے ساتھ ہوتی ہے۔
جیسا کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیث ثقلین میں ارشاد فرمایا ہے (جس کا تذکرہ پہلے ہو چکا ہے )
فانظروا کیف تخلفونني فیهما
میں دیکھ رھاھوں کہ تم ان دونوں گراں قدر چیزوں میں کس طرح میری مخالفت کررھے ہو۔
۴ ۔نظریاتی اور اعتقادی بنیاد کو کھوکھلا کرنا
یہ لوگ نظریاتی اور اعتقادی بنیادوں کو مھمل قرار دے کر فقط فتوحات کی طرف متوجہ ہو گئے اور محرمات خدا میں ظلم و تعدی کرنے لگے جیسا کہ جلیل القدر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مالک بن نویرہ اور ان جیسے دوسرے افراد کو قتل کرنا ان کے ظلم کا واضح ثبوت ہے۔
اس جلیل القدر صحابی کو خالد بن ولید نے بڑی بے دردی کے ساتھ قتل کیا جب کہ وہ جانتا تھا کہ وہ مسلمان ہیں نمازیں پڑھتے ہیں شہادتین پر ایمان رکھتے ہیں۔
یعقوبی اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ مالک بن نویرہ کو خالد بن ولےد کے پاس لایا گیا اس کے پیچھے پیچھے اس کی بیوی بھی آگئی جب خالد نے اسے دیکھا تو اس پر فریفتہ ہوگیا۔
خالد کھنے لگا خدا کی قسم میں تجھے قتل کردوں گا اور تلوار کے ذریعہ اس نے مالک بن نوےرہ کی گردن اڑادی اور اس کی بیوی کے ساتھ شادی کرلی۔بلکہ اس سے زنا کیا۔
ابو قتادہ نے حضرت ابوبکر کو اس کی اطلاع دی اس نے فقط اس کی قیدی بیوی کو خالد کے چنگل سے آزاد کروادیا، جبکہ مالک بن نوےرہ مسلمان تھا اور اسلام کی حالت میں قتل ہوا تھا ،اس کے متعلق حضرت ابوبکرنے خالد کو کچھ بھی نہ کہا۔( ۳۱ )
خمس میں ذوی القربی کا حصہ ختم کرنا
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد خمس سے قریبی رشتہ داروں کا حصہ ختم کردیا گیا جبکہ قرآن مجید میں خمس میں ذوی القربی کے حصے کے متعلق نص موجود ہے ۔
ارشاد رب العزت ہوتا ہے :
( وَاعْلَمُوْا اٴَ نَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیءٍ فَاِنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِیْ الْقُرْبیٰ وَالْیَتَامیٰ وَالْمَسٰاکِیْنِ َوابْنِ السَّبِیْلِ اِنْ کُنْتُمْ آمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَمَا اٴَ نْزَلْنَا عَلیٰ عِبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ اِلْتَقیٰ الْجَمْعَانِ وَاللّٰهُ عَلیٰ کُلِّ شَیءٍ قَدِیْرٌ ) ( ۳۲ )
اور یہ جان لو جب کسی طرح کی غنیمت تمہارے ہاتھ آئے تو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول کا ہے (اور رسول کے )قرابت داروں،یتیموں، مسکینوں،اور مسافروں کا حق ہے اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو اور اس پر جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلہ کے دن نازل کی تھی جس دن دوگروہ آمنے سامنے آگئے اور اللہ تعالی ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔
چنا نچہ تمام مسلمانوں کااجماع ہے کہ خمس میں سے ایک حصہ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مخصوص تھا اور ایک علیحدہ حصہ آپ(ص) کے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ مخصوص تھا اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہ ہوئی حتی کہ اللہ تعالی نے آپ(ص) کو اپنی بارگاہ میں بلالیا۔
لیکن آپ(ص) کی وفات کے بعد خلافت پر مسلط ہونے والے اصحاب رسول نے خمس میں سے بنی ھاشم کا حصہ ختم کردیا اور انھیں دوسرے لوگوں کے برابر سمجھنے لگے اور انھیں دوسری یتیم عورتوں ،مسکینوں اور مسافروں کی صفوں میں شامل کردیا ۔( ۳۳ )
یہ آیت مبارکہ منسوخ بھی نہیں ہوئی ہے اور جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کہ۔
حلال محمد حلال الی یوم القیامةوحرامه حرام الی یوم القیامة ۔
حلال محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت تک کے لئے حلال اور حرام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت تک کے لئے حرام ہے۔ جب اس طرح ہے تو پھر خمس میں سے ذوی القربی کا حصہ کیوں ساقط کیا گیا !!!؟
۶ ۔متعہ الحج کا ختم کرنا
ارشاد رب العزت ہے:
( فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنْ الْهَدْیِ فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَةِ اٴَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْکَ عَشَرَةٌ کَامِلَةٌ ذَلِکَ لِمَنْ لَمْ یَکُنْ اٴَهْلُهُ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ) ( ۳۴ )
جو شخص حج تمتع کا عمرہ کرے تو اسے جو قربانی میسر آئے وہ کرنا ہوگی اور جس کے لئے قربانی کرنا ناممکن ہو تو اسے تین روزے حج کے زمانہ میں اور سات روزے جب وہ حج سے واپس آئے (رکھنے ہوں گے)اس طرح یہ دس دن پورے ہو جائیں گے یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جو مسجد الحرام (مکہ) کے باشندہ نہ ہوں ۔
عمرہ تمتع کی حج کے ساتھ صفت بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حج کے مھینوں میں کسی ایک میقات سے احرام باندھنا ہوتا ہے پھر مکہ میں خانہ کعبہ کے طواف کے لئے داخل ہونا ہوتا ہے‘ اور نماز ادا کر نی پڑتی ہے ‘ اس کے بعد صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنی ہوتی ہے اور پھر بال کٹواتے ہیں اس وقت احرام باندھنے کی وجہ سے جو کچھ حرام تھا وہ سب حلال ہو جائے گا۔ پھر اسی حالت پر باقی رھے اور اسی سال حج کے لئے ایک اور احرام باندھ کر عرفات کی طرف نکل جائے وہاں سے مشعر الحرام میں اعمال کے اختتام تک ٹھھرے۔ یھی عمرہ تمتع الی الحج ہے۔
اللہ تعالی نے جو ارشاد فرمایا ہے :
( فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَی الْحَج )
اس سے مراد یہ ہے کہ جو اس میں متعہ اور لذت پائی جاتی ہے احرام کے محرمات وغیرہ (دونوں احراموں کی مدت کے درمیان) مباح ہوگئے ہیں۔ اب محرم اور غیر محرم میں کسی قسم کا فرق نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اپنی بیویوں کو لمس بھی کر سکتا ہے۔ یھی قرآن کی شریعت ہے لیکن حکومت پر مسلط اور قابض بعض اصحاب نے اس کی مخالفت کی ۔احمد بن حنبل ابو موسی سے روایت بیان کرتے ہیں کہ ابوموسی نے متعہ کا فتوی دیا ایک شخص کھنے لگا تیرے بعض فتوے عجیب ہیں کیا تم نہیں جانتے امیر نے اس کے متعلق کیا کچھ نہیں کھاھے۔ ابو موسی کھتا ہے کہ میں حضرت عمر کے پاس گیا اور اس سے پوچھا تو حضرت عمر کھنے لگے جیسا کہ تو جانتا ہے کہ حضرت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اصحاب نے متعہ کیا لیکن میں اسے ناپسند کرتا ہوں ۔( ۳۵ )
ابی نضرہ حضرت جابر رضی اللہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ جابر نے کھاابن زبیر تو متعہ سے روکتا ہے لیکن ابن عباس متعہ کرنے کے لئے کہتے ہیں، راوی کھتا ہے کہ ہمارے سامنے یہ سیرت موجود ہے کہ ہم حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر کے زمانے میں متعہ کرتے تھے۔
جب عمر خلیفہ بنے تو انھوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اس میں انھوں نے کھابے شک رسول اللہ ہی رسول ہیں اور قرآن یھی قرآن ہے ان دونوں نے متعہ کی اجازت دی تھی اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اسی پر عمل بھی ہوتا رھالیکن میں تمھیں ان دونوں سے منع کررھاھوں اور جو شخص متعہ کرے گا، میں اسے سزا دوں گا۔
ان دونوں میں ایک متعہ النساء ہے۔ میرے پاس کوئی ایسا شخص نہ لایا جائے جس نے معینہ مدت کے لئے کسی عورت سے نکاح کیا ہو میں اسے پتھروں میں چھپا دوں گا (یعنی سنگسار کردوں گا )اور دوسرا متعہ الحج ہے ۔( ۳۶ )
بالفاظ دیگر خلیفہ یہ کھنا چاھتے ہیں کہ خدا کا حکم ہے (کہ اس نے اسے جائز قرار دیا ہے) اور میرا یہ حکم ہے (کہ میں اسے ناجائز قرار دیتا ہوں )۔اس سے بڑھ کر (اللہ کے فرمان کی مخالفت کرنے میں)اور بڑا اعتراف کونسا ہوگا اوراس سے بڑی اور کیا جسارت ہو گی !!!۔
۷ ۔مولفہ قلوب کا حصہ ختم کرنا
اللہ رب العزت کا فرمان ہے:
( إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاکِینِ وَالْعَامِلِینَ عَلَیْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِینَ وَفِی سَبِیلِ اللهِ وَاِبْنِ السَّبِیلِ فَرِیضَةً مِنْ اللهِ وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ ) ( ۳۷ )
صدقات تو فقط محتاجوں ،مسکینوں اور صدقات وصول کرنے والوں اور ان لوگوں کا حق ہے جن کی قلبی تالیف منظور ہو نیز غلام آزاد کرنے اور قرض داروں کا قرض ادا کرنے کے لئے اور راہ خدا میں (مجاھدین کی تیاری)اور مسافروں کی امداد میں صرف کیا جائے اور یہ اللہ کی طرف سے مقرر ہو چکا ہے اور اللہ صاحب علم وحکمت ہے۔
آیت واضح طور پر یہ بتاتی ہے کہ صدقات مندرجہ بالا اصناف میں سے ہر اک صنف کا حصہ ہے۔ اور سیرت مستمرہ بھی یھی رھی ہے ۔لیکن جب حضرت ابوبکر خلیفہ بنے تو مؤلفة القلوب اس کے پاس آئے تا کہ اس سے اپنا حصہ وصول کریں۔ جس طرح یہ لوگ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مؤلفة القلوب کے عنوان سے وصول کرنے کی عادت بنا چکے تھے۔ حضرت ابوبکر نے انھیں ان کا حصہ لکھ دیا وہ لوگ یہ خط حضرت عمر کے پاس لےکر گئے تا کہ اس سے اپنا حصہ وصول کریں ۔
حضرت عمر نے حضرت ابوبکر کے خط کو پھاڑ دیا اور ان لوگوں سے کہا: ھمیں تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے اللہ نے ہی اسلام کو عزت دی ہے اور وہ تم لوگوں سے بے نیاز ہے اگر تم اسلام لے آؤ تو ٹھیک ہے وگرنہ ہمارے اور تمہارے درمیان تلوار فیصلہ کرے گی۔
وہ لوگ حضرت عمر کی اس جسارت کو دیکھ کر حضرت ابوبکر کے پاس گئے اور ساراقصہ بیان کرنے کے بعد کہا: کیا آپ خلیفہ ہیں یا وہ خلیفہ ہے۔
حضرت ابوبکر کہتے ہیں انشاء اللہ وہی خلیفہ ہیں جو کچھ حضرت عمر نے فیصلہ کیا تھا اسی کے مطابق عمل کیا اور انھیں کچھ بھی نہ دیا ۔( ۳۸ )
اس آیت کریمہ پر امت اسلامیہ کا اجماع ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہوئی لہٰذا خلیفہ کے لئے یہ کس طرح جائز ہے کہ وہ کتاب وسنت کی مخالفت کرے اورقرآن وسنت کے مقابلہ میں صرف اپنی رائے پر عمل کرے!!!
جب جناب سیدہ فاطمہ الزھرہ سلام اللہ علیھا نے اپنے والد محترم حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میراث کا مطالبہ کیا تو حضرت ابوبکر کھنے لگے کہ میں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہم انبیاء وراثت نہیں چھوڑا کرتے اور جو چیز ہم چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔
اس کے بعد کہتے ہیں خدا کی قسم میں ہر اس کام کو ضرور انجام دوں گا جسے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انجام دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ انشاء اللہ تعالی۔( ۳۹ )
جب حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مؤلفة القلوب کو ان کا حصہ دیتے تھے تو حضرت ابوبکر نے ان کا حصہ کیوںختم کیا !!؟
۸ ۔اذان واقامت سے حی علی خیر العمل کا نکالنا
حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں،حی علی خیر العمل اذان واقامت کا جز تھا۔ لیکن انھوں نے اللہ تعالی کے اس حکم کو اذان واقامت سے نکال دیا۔
امام مالک اپنی کتاب موطہ ابن مالک میں بیان کرتے ہیں کہ مؤذن حضرت عمر ابن خطاب کے پاس آیا تا کہ اسے نماز صبح کی اطلاع دے لیکن اس نے حضرت عمر کو سویا ہوا پایا تواس نے یہ جملہ کھا:
الصلوٰةُ خیرٌ من النوم ۔
نماز نیند سے بھتر ہے۔
اس کے بعد حضرت عمر نے اس کو حکم دیا کہ صبح کی اذان میں اس جملے کا اضافہ کردیا جائے ۔( ۴۰ )
زرقانی موطا ابن مالک کی شرح بیان کرتے ہوئے حضرت عمر کی روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے مؤذن سے کھانماز فجر کی اذان میں جب تم
(حی علی الفلاح )پر پھنچو تو تم(الصلوٰةُ خیرٌ من النوم ۔)کا اضافہ کردینا ۔( ۴۱ )
۹ ۔بیت المال کی تقسیم میں سیرت نبی(ص) سے انحراف
حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ سیرت تھی کہ عطیات کو فوراً تقسیم کردیتے تھے اور تمام مسلمانوں کے درمیان مال غنےمت برابر برابر تقسیم فرماتے تھے۔
خواہ کو ئی عرب ہو یا غیر عرب مہاجر ہو یا انصار سب کو برابر کا حصہ ملتا تھا۔لیکن(آپ (ص)کی وفات کے بعد)اموال کی تقسیم میں کافی فرق کر دیا گیا۔
خصوصاً حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی خلافت کے دور میں تو اس تقسیم میں بہت زیادہ فرق ہونے لگا،مثلاً کسی کو ۳ ہزارکسی کو ۴ ہزار کسی کو ۵ ہزاریہاں تک کہ کسی کو ۱۲ ہزارتک دیا جانے لگا جب کہ عوام الناس اور فقراء کو ۲ ہزار ( ۲۰۰۰) ملتا تھا ۔
خلیفہ ثالث کے دور میں تو کوئی حساب کتاب ہی نہ تھا اس کا جتنا جی چاھتا اتنا مال دے دیتا۔ اس نے اپنے خاندان کے قریبی رشتہ داروں کو عوام الناس پر مسلط کردیا ،گورنری اور دیگر حکومتی عھدوں کو فقط اپنے خاندان میں ہی منحصر کردیا تھا۔( ۴۲ )
حضرت عثمان نے اپنے چچا حکم بن ابی عاص کو صدقات میں سے کثیر رقم قرابت داری کی وجہ سے عنایت کی حالانکہ حضرت رسول (اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اسے مدینہ سے نکال دیا تھا (اسی وجہ سے اسے طرید النبی(نبی کا نکالا ہوا )کھاجاتا ہے)۔( ۴۳ )
بلازری اپنی کتاب انساب میں روایت بیان کرتے ہیںکہ اسے دیئے جانے والے صدقات کی مالیت تین لاکھ درھم تھی جب یہ واپس آگیا تو عثمان نے صدقات کی یہ رقم
اپنے چچا حکم کو ھدیہ کر دیا۔( ۴۴ )
حضرت عثمان نے اپنے چچا زاد اور اپنی بیٹی ام ابان کے شوہر مروان بن حکم بن ابی عاص کو افریقہ سے حاصل ہونے والے غنائم کا خمس دے دیا جبکہ ان کی مالیت پانچ ملاکھ دینار تھی۔
اس وقت عبدالرحمن بن حنبل الجمعی الکندی شاعر نے خلیفہ کو مخاطب کر کے یہ اشعار کھے:
دعوتْ اللعینَ ( ۴۵ ) فاٴدنيتهُ خلافا لسنةمن قد مضیٰ
واٴعطیتُ مروانَ خُمس الَعبا دظلما لهم وحمیتُ الحمیٰ
تونے اپنے لعےن چچا کو بلا کرمال و دولت سے نوازا جبکہ اس کو بلانا تم سے پہلے والے لوگوں کی سنت اور سیرت کے خلاف تھا اور تو نے رشتہ داری کی وجہ سے اسے خمس دے کر دوسرے لوگوں پر ظلم کیا۔( ۴۶ )
غنائم کی تقسیم کے حوالہ سے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور سیرت یہ تھی کہ اللہ کے لئے پانچواں حصہ اور باقی چار حصے لشکر والوں کے لئے ہوتے اور اس سلسلہ میں کسی کو کسی دوسرے پر کوئی برتری حاصل نہیں تھی۔
اپنی طرف سے کسی کے حصے میں اضافہ نہیں کیا کرتے تھے اور اگر کوئی زیادہ کا مطالبہ کرتا تو اس سے کہتے تھے کہ تم اپنے مسلمان بھائی سے زیادہ حق دار نہیں ہو۔ جب حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے مال غنیمت لایا جاتا آپ اسے اسی دن تقسیم فرما دیتے اور اہل جنگ کو دوحصے اور باقی عربوں میں ایک حصہ بانٹا جاتا۔( ۴۷ )
مندرجہ بالا مطلب کی روشنی میں صحابہ کرام خلیفہ ثانی سے راضی نہ تھے کیونکہ مال کی تقسیم کے حوالہ سے یہ بعض لوگوں کو دوسروں پر ترجیح دیتے تھے جس کو کسی دوسرے پر کوئی فضیلت ہوتی اسے معتبر قرار دیتے جیسا کہ وہ حضرت نبی خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیگمات اور امہات مومنین کو دوسر ی عورتوں پرترجیح دیتے تھے اسی طرح بدری کو غیر بدری پر مہاجرین کو انصار پر اور مجاھدین کو گھر بیٹھنے والے پر وہ ترجیح دیتے تھے ۔( ۴۸ )
غلط تقسیم اور مالی تفاوت کی وجہ سے طبعی تفاوت بھی پیدا ہوگیا تھا اور انھوں نے اسلام کے خلاف چلنے کا فیصلہ کرلیا تھااور خلیفہ ثالث کے زمانہ میں تو یہ لوگ خاص طور پر زمانہ جا ھلیت کی طرف پلٹ گئے اس وقت غالب اور مغلوب طبقات پیدا ہوگئے ۔ جب ساری حکومت بنی امیہ کے ہاتھوں میں چلی گئی تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ بوستان فقط قریش کے لئے ہے اور ان کے علاوہ کسی کو اس میں داخل ہونے کاکوئی حق نہیں ہے۔ یہ انحراف قرآن کی روشنی میں شجر ملعونہ کی شکل میں ظاہر ہوا اس کے بعد لوگ غلام بن گئے اور قرآن مجید میں موجود شجرہ ملعونہ کا ثمرہ یزید بن معاویہ اور اس جیسے دوسرے لوگ تھے ۔
اگرحضرت علی علیہ السلام کو حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات حسرت آیات کے بعد خلافت مل جاتی اور تا حیات آپ کے پاس رھتی اور آپ کی شہادت کے بعد یہ خلافت،امین، طاہر اور نیک لوگوں اور اپنے سچے وارثوں کی طرف منتقل ہوتی رھتی اور اس کے وارث صحیح معنی میں ائمہ ھدی علیھم السلام قرار پاتے تو دنیا کے سامنے اسلام درست تابناک اور روشن چھرے کے ساتھ ظاہر ہوتا۔
جبکہ حضرت علی علیہ السلام کی خلافت بہت کم مدت کے لئے تھی اور آپ کو خلافت اس زمانہ میں ملی جس میں طبعی تفاوت اپنی انتھاء کو پہنچ چکے تھے کمزور لوگ مغلوب بنا لئے گئے تھے ھلاکت میں ڈالنے والی جنگوں کی وجہ سے ہر طرف وحشت ہی وحشت تھی۔
ان سپاہ سالاروں اور ان کی فتوحات پر ترقیاں اور انعامات دئیے جارھے تھے جبکہ اسلام کے صحیح وارثوں اور حقےقی امین لوگوں کو پس پشت ڈال دیا گیا جبکہ ان کے علم وعدالت سے لوگوں کی مشکلات کو حل کیا جاسکتا تھا اور یہ ھستیاں لوگوں کو آزادزندگی بسر کرنے کے وسائل فراھم کرسکتیں تھیں۔( ۴۹ )
۱۰ ۔حکم بن ابی العاص کو مدینہ واپس بلانا
خلےفہ ثالث کے چچاحکم بن ابی العاص کو مدینہ واپس بلایا گیا حالانکہ اس کو حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ سے نکال دیا تھا اور اس پر لعنت کی تھی ۔
عجےب بات ہے کہ خلیفہ ثانی نے اللہ تعالی اور اس کے پاک رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعتہ الحج اور متعة النساء جیسے احکام پر لوگوں کو عمل کرنے سے منع کر دیا حا لانکہ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ان پر عمل کیا جاتا تھا، یہ تو تھے حضرت ثانی جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول(ص)کی اس طرح مخالفت کی۔
جہاں تک حضرت ثالث کا تعلق تھا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کو کسی اور انداز میں ٹھکراتے ہوئے اپنی خواہش پر عمل کرتے ہیں اور اسے مدینہ واپس لاتے ہیں جسے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ سے نکال دیا تھا اور اس پر لعنت کی تھی۔
بلاذری اپنی کتاب انساب میں کہتے ہیں زمانہ جاھلیت میں حکم بن الی العاص حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پڑوسی تھا اور اسلام کا جانی دشمن تھافتح مکہ کے بعد مدینہ آیا اور اس نے مجبور ہو کر اسلام قبول کیاحضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گفتگو فرماتے تو یہ ملعون آپ کی نقلیں اتارتا اور ناک منہ چڑھاتا تھا۔
جب حضرت نماز پڑھتے تو تو یہ پیچھے کھڑے ہو کر انگلیوں سے اشارے کرتا تھا حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی بد تمیزی سے مطلع کیا گیا اس وقت حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی بےگم کے حجرہ میں تشریف فرما تھے آپ باھر تشریف لا ئے ۔اور فرمایا یہ لعین قابل معافی نہیں ہے اسے اور اس کے بےٹے کو یہاں نہ رھنے دیا جائے۔ اصحاب نے ان دونوں کو طائف کی طرف نکال دیا اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد تو حضرت عثمان نے حضرت ابو بکر سے اس سلسلے میں بات کی اور اسے واپس بلانے کی درخواست کی حضرت ابو بکر نے یہ جملے کہتے ہوئے حکم ابن ابی العاص کو واپس لانے سے انکار کر دیا۔ اور کھامیں طرےد رسول اللہ کو واپس نہیں لا سکتا۔
اس کے بعد حضرت عمر خلیفہ بنے تو حضرت عثمان نے اسے واپس لانے کے لئے کھاتو حضرت عمر نے بھی حضرت ابو بکر والی بات دھرائی اور اسے واپس لانے سے انکار کر دیا لیکن جب حضرت عثمان خود خلیفہ بنے تو اسے واپس مدینہ لے آئے۔ میں نے بذات خود حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق بات کی تھی اور اسے واپس لانے کی درخواست کی تھی تو انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ ان کو واپس بلا لیا جائے گا لیکن اس سے پہلے آپ کی روح مالک حقےقی کی طرف پرواز کر گئی اور مسلمانوں نے انھیںمدینہ واپس بلانے سے انکار کر دیا ۔( ۵۰ )
حاکم اپنی کتاب مستدرک میں لکھتے ہیں کہ حکم ابن ابی العاص نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آنے کی اجازت طلب کی حضرت نے اس کی آواز کو پہچان لیا اور فرمایا: کیا اسے اجازت دی جائے جس پر اور جو اس کے صلب میں موجود ہیں (اس پر)(مومنین کے علاوہ) اللہ نے لعنت کی ہے وہ اوراسکی اولاد فرےبی اور مکار ہیں دنیا میں ان سب پر لعنت ہے اور آخرت میں بھی ان کاکوئی حصہ نہیں ہوگا۔( ۵۱ )
حکم بن ابی العاص قرآن کی نظر میں
ابن ابی حاتم روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے حکم بن ابی العاص کے بےٹے کو بندروں کی طرح دےکھا اللہ تعالی نے اس کے بارے میں فرمایا :
( وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی اٴَرَیْنَاکَ إِلاَّ فِتْنَةً لِلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِی الْقُرْآنِ ) ( ۵۲ )
جیسے آپ نے دےکھا ہے وہ ہم نے اس لئے دکھا یا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان فتنہ ہے اور قرآن میں وہ شجرہ ملعونہ ہے( ۵۳ )
ابن ابی حاتم ،ابن مردویہ ، نسائی اور حاکم نے عبداللہ سے روایت صحیحہ بیان کی ہے کہ جب مروان خطبہ دے رہاتھا تو اس وقت میں مسجد میں موجو د تھا وہ کھنے لگا اللہ تعالی نے امیر المومنین ےعنی معاویہ کو ےزید کے متعلق ایک خوبصورت خواب دکھایا کہ وہ اپنے بعد اس (ملعون)کو خلیفہ بناجائے جس طرح ابو بکر نے حضرت عمر کو خلیفہ منتخب کیا۔
عبدالرحمن بن ابو بکر کھنے لگے:
اے چوڑی باچھوں والے یہ کیا بات ہے خدا کی قسم حضرت ابو بکر نے اپنی اولاد میں سے کسی کو خلیفہ منتخب نہ کیا اور اسی طرح اپنے خاندان میں بھی کسی کو خلیفہ نہ بنایا تھا ۔لہٰذا معاویہ کو بھی نہیں چاھےے تھا کہ وہ اپنے بےٹے کو خلافت کے لئے منتخب کرے جبکہ یہ سب کچھ اس نے اپنے بےٹے پرلطف و کرم کیا ہے۔
مروان نے کھاکیا اس طرح کھنے سے تو اپنے والدین کو برا بھلا نہیں کہہ رہا؟عبد الرحمن نے کہاکیا تو ابن لعین نہیں ہے کیا تیرے باپ پر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت نھیںکی تھی؟
جب حضرت عائشہ نے یہ سنا تو مروان سے کھنے لگیں مراون تو عبدالرحمن کے ساتھ اس طرح کی باتیں کرتاھے یہ(مندرجہ ذیل )آیت عبدالرحمن کے بارے میں نازل نہیں ہوئی بلکہ تیرے باپ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اللہ نے فرمایا :
( وَلاَتُطِعْ کُلَّ حَلاَّفٍ مَهِینٍ هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِیمٍ ) ( ۵۴ )
اور کسی ایسے شخص کی بات تسلیم نہ کرنا جو بڑا قسمیں کھانے والا، ذلیل خیال، عےب جو اور چغلخور ہو ۔( ۵۵ )
جناب ابو ذرحضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ابی العاص کے بےٹوں نے تےس ( ۳۰) افراد کے ساتھ اللہ کے مال کو لوٹا اللہ کے بندوں کو غلام بنا کر ان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا اور اللہ کا دین اختیار کر کے اس کو خراب کرنے کی کوشش کی۔
حلام بن جفال کھتا ہے کہ جب لوگوں نے ابوذر کی اس بات کو تسلیم نہ کیا توحضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے گواھی دی کہ میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا :
ما اظلت الخضراء ولا اقلت الخبراء علی ذی لهجه اصدق من ابی ذر
نیل گوں آسمان کے سایہ میں اور زمےن کے اوپر کوئی اےسا شخص نہیں جو حضرت ابوذر سے زیادہ سچا ہو (ےعنی ابوذر سب سے زیادہ سچے ہیں )
پھر حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا میں یہ بھی گواھی دیتا ہوں کہ یہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے ۔
بھرحال آپ لوگ غور فرمائیں یہ حکم ابن ابی العاص کاواضح و روشن چھرہ ہے، اسے شھر سے نکالا گیا تھااور یہ خلےفہ ثالث کا چچا تھا۔
علامہ امینی اپنی کتاب الغدیر میں ارشاد فرماتے ہیں:
ھمارے ذھن میں یہ سوالات ابھرتے ہیں کہ ہم خلیفہ سے پوچھیں کہ (جس لعین کو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ سے نکال دیا تھا اس کے بارے میں آپ کو بھی تو معلوم تھا )اور قرآن مجےد کی آیت بھی اس کی مذمت میں نازل ہو ئی ہے اور اس طرح حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کا بھی علم ہے کہ حضور نے اس پر اور اسکی پوری نسل پر لعنت کی ہے( مگر جو اس کے صلب سے مومن پیدا ہو اور وہ بہت ہی کم ہیں)
اے خلےفہ وہ کونسی وجہ تھی جو آپ کو اسے مدینہ واپس بلانے پر مجبور کر رھی تھی جب کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اور اس کے بےٹوں کو مدینہ سے نکال دیا تھا کیونکہ ان میں اموی پلیدگی اور گند گی پائی جاتی تھی اور اب خلیفہ سوم اسے دور کرنے کی کوشش کررھے ہیں۔ خلےفہ سوم اس سے پہلے حضرت ابو بکر اور پھر حضرت عمر سے بھی واپس بلانے کی درخواستےں کر چکے تھے اور انھوں نے یہ جواب دے کر اس کی درخواستوں کوردّ کردیا تھا کہ یہ ہمارے لئے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عھد کو توڑنا جائز نہیں ہے۔
حلبی اپنی سیرت کی دوسری جلد کے ۸۵ ویں صفحہ پر لکھتے ہیں: جس کو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ سے نکال دیا تھا اور اس پر حضور نے لعنت کی تھی اور وہ طائف کی طرف چلا گیا تھا اور وہاں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابو بکر کے زمانے تک رھاحضرت عثمان نے حضرت ابو بکر سے اسے مدینہ واپس لانے کی درخواست کی تو حضرت ابو بکر نے واپس لانے سے انکار کر دیا۔
حضرت عثمان سے کھاتیرے چچا کو واپس لاؤ ں؟تیرا چچا تو جھنم میں ہے میرے لئے بہت ہی مشکل ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کو بدل دوں( اےسا ممکن نہیں ) ۔جب حضرت ابو بکر وفات پا گئے اوراس کے بعد حضرت عمر خلیفہ بنے توحضرت عثمان نے وہی جملے حضرت عمر سے دھرائے۔
حضرت عمر نے جواب دیا: عثمان تجھ پر بہت افسوس ہے کہ تو اس شخص کے متعلق درخواست پیش کر رہاھے جس پر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت کی تھی اور اسے مدینہ سے نکال دیا تھا اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دشمن ہے۔لیکن جب حضرت عثمان خود مسند خلافت پر بےٹھے تو اس لعین کو مدینے واپس لے آئے، یہ بات مہاجرین اور انصار کے دلوں پر بہت سخت نا گوار گزری اور بزرگ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے لئے بھی یہ بات بہت گراں تھی اور انھوں نے اس کی مخالفت کی اوریہ بات ان کے نزدیک عثمان کے خلاف قیام کرنے کا بہت بڑا سبب تھا ۔
علامہ امینی قدس سرہ کہتے ہیں کیاخلیفہ وقت کے لئے رسول کو نمونہ نہیں مانتے تھے؟ جب کہ خدا وند عالم حضرت کے متعلق ارشاد فرماتا ہے ۔:
( لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللهِ اٴُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ کَانَ یَرْجُو اللهَ وَالْیَوْمَ الْآخِرَ وَذَکَرَ اللهَ کَثِیرًا ) ( ۵۶ )
مسلمانوں تمہارے لئے تو رسول اللہ کی زندگی ایک بھترین نمونہ ہے(لیکن یہ اس شخص کے لئے ہے )جو خدا اور روز آخرت کی امید رکھتا ہو اور کثرت سے خدا کی یاد کرتا ہو۔
یا یہ کہ خلیفہ سوم اپنی قوم اورساتھیوں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ پسند کرتے تھے جب کہ قرآن حکیم بھی ان کے پاس موجود تھا اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :
( قُلْ إِنْ کَانَ آبَاؤُکُمْ وَاٴَبْنَاؤُکُمْ وَإِخْوَانُکُمْ وَاٴَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیرَتُکُمْ وَاٴَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَهَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَهَا اٴَحَبَّ إِلَیْکُمْ مِنْ اللهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِی سَبِیلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّی یَاٴْتِیَ اللهُ بِاٴَمْرِهِ وَاللهُ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِینَ ) ( ۵۷ )
اے رسول کہہ دو کہ تمہارے باپ دادا نے اور تمہارے بےٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے رشتہ دار نےز وہ مال جو تم نے کمایا اور وہ تجارت جس کے نقصان کا تمھیں اندےشہ ہے اور وہ مکانات جنھیں تم پسند کرتے ہو اگر (یہ سب چیزےں)تمھیں خدا اور اس کے رسول اور ان کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ عزےز ہیں تو تم انتظار کرو یہاں تک کہ خدا کا حکم (عذاب)آجائے اور خدا نافرمان لوگوں کو ھدایت نہیں کرتا ۔( ۵۸ )
۱۱ ۔غلاموں پر بھروسہ
مملکت چلانے کے لئے غلام زادوںپر بھروسہ کیا گیااور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض مخلص اصحاب کو دشمنی کی وجہ سے نظر انداز کیا گیا ان غلام زادوں میں چند مندرجہ ذیل ہیں :
۱ ۔ معاویہ بن ابو سفیان
خلیفہ ثانی نے اسے شام کا گورنر بنایا اور اس نے شام میں ۲۲/ سال تک حکومت کی۔( ۵۹ )
خدا کی قسم ھماری سمجھ نہیں آتا کہ خلیفہ ثانی کی نظر میں اس کی کونسی سی فضیلت تھی جس کے پیش نظر اسے شام کی گونری کے لئے معین کیا گیاحا لانکہ یہ کافروں کے سردار اور بہت بڑے منافق ابو سفیان کا بیٹا تھا کیا دین اسلام میں اس کا کوئی کردار تھا؟ کیا جہاد میں اس کی کوئی فضیلت تھی؟ کیا اسلام کی تروےج کا اس نے کوئی بوجھ اٹھایا تھا؟
(ےقےنا نھیں)تو پھر سب سے پہلے اسلام لانے والوں جہاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والوں اور تقوی میں بلند مقام حاصل کرنے والے لوگوں کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟!! ھمیں نہیں معلوم کہ اللہ کی بارگاہ میں اس کا کیا جواب دیں گے جب کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ان کی نظروں کے سامنے تھا :
من اِستعمل عاملاً من المسلمين وهو يعلم اٴنَّ فيهم اٴولیٰ بذلک منه واٴعلم بکتاب الله و سنةِ نبیه فقد خانَ اللهُ ورسولَه وجميع المسلمینَ
اگر کوئی شخص یہ جانتے ہوئے کسی بد کردار شخص کو حکومت کے کسی عھدے پر نصب کر ے جب کہ اس سے بھتر افراد مسلمانوں موجود ہوں جو اللہ کی کتاب اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زیادہ جانتے ہوں تو اس نے اللہ ، اس کے رسول(ص) اور تمام مسلمانوں کے ساتھ خیانت کی ہے۔( ۶۰ )
ابن ابی الحدید شرح نھج البلاغہ میں معاویہ کے بارے میں کہتے ہیں۔ ہمارے بزرگوں کی رائے کے مطابق معاویہ اپنے دین میں مطعون ہے اور علماء اس کو زندےق سمجھتے ہیں۔اس طرح وہ مزید کہتے ہیں ہمارے بزرگ اپنی علم کلام کی کتابوں میں بیان کرتے ہیں یہ ملحد تھا ، حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جھگڑتا تھا اس میں جبر اور ارجاء کا عقیدہ پایا جاتا تھا اس کا کوئی اور جرم نہ بھی ہوتا تو بھی اس کے مفسد ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ اس نے امام علیہ السلام سے جنگ کی تھی۔( ۶۱ )
۲ ۔ولید بن عقبہ بن ابی معےط
یہ ماں کی طرف سے خلیفہ ثالث کا بھائی تھا اس کا باپ عقبہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سخت ترےن دشمن تھا اور حضور کو اذیت پھنچانے میں کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا تھا ۔
حضرت عائشہ روایت بیان کرتی ہیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں ابو لھب اور عقبہ بن معےط جیسے گندے اور شرےر لوگوں کاھمسایہ تھا یہ دونوں کوڑاوغیرہ اٹھا کر میرے دروازے پر پھنک جایا کرتے تھے۔( ۶۲ )
اس ملعون کے متعلق مشھورواقعہ ہے کہ اس نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جسارت کی اور آپکے (مقدس اور پاک )چھرے پر لعاب دھن پھےنکا۔
اس ملعون کے بارے میں خدا وند عالم نے اس طرح ارشاد فرمایا :
( وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَی یَدَیْهِ یَقُولُ یَالَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِیلًا یَاوَیْلَتِی لَیْتَنِی لَمْ اٴَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیلًا لَقَدْ اٴَضَلَّنِی عَنْ الذِّکْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَ نِی وَکَانَ الشَّیْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولاً ) ( ۶۳ )
اور جس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو اپنے دانتوں سے کاٹے گا اور کھے گا کہ کاش میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ھمرا ہ ہوتا ہائے افسوس میں نے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا باتحقےق میں تو ذکر کے آجانے کے بعد گمراہ ہوگیا اور شےطان انسان کو بہت ذلیل و رسوا کرتا ہے( ۶۴ )
یہ تو ولید کے باپ کے متعلق تھا اور جہاں تک خود ولید کا تعلق ہے تو یہ وحی مبین کی زبان میں فاسق زانی ،فاجراورشرابی و کبابی ہے اور اس نے دین کو تباہ و برباد کیا ہے اور بڑے بڑے اصحاب کو اس نے کوڑے مارے اس نے صبح کی نماز میں چار رکعتےں پڑھیں اور شراب کے نشے میں چور ہو کر یہ شعر کھنے لگا :
علق القلب الربابا بعد ما شابت و شابا
میں جب سے جوانی کا مالک بنا ہوں اس وقت سے میرا دل سرداری کے لئے مچل رہاھے پھر نشے میں کھنے لگا میںاس سے بھی زیادہ رکعتےں پڑھوں گا۔
یہ سن کر ابن مسعود نے جوتے سے اس کی پٹائی کی اور تمام نمازیوں نے ہر طرف سے اس پر پتھر بر سائے تویہ بھاگ کر اپنے گھر میں گھس گیا ۔( ۶۵ )
قارئین کرام! ہم یہ کہتے ہیں کہ اس جیسے گمراہ شخص کی طرف ان کی نظریں کیوں لگی ہوئی تھیں جب کہ خدا وند متعال نے قرآن مجےد میں اس ملعون کا اس طرح تعارف کروایاھے ۔
( اِنْ جَا ءَ کُمْ فَاسِقٌ بِنَباٴٍ فَتَبینواْ )
اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لائے تو اس میں اچھی طرح چھان بین کر لیا کرو۔
کیااس (ملعون)جیسا فاسق انسان کیو نکر اللہ کے حدود ،اس کے احکام، مسلمانوں کے اموال اور عزتوں کا نگھبان ہو سکتا ہے ؟!
اٴنّا للّٰه و اِناّ اِلیه راجعون
۳ ۔عبداللہ بن ابی سرح
یہ خلیفہ ثالث کا رضائی بھائی تھا اس کو مصر کا گورنر بنایا گیا اس نے فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کیا تھا اور مسلمانوں کے ساتھ ہجرت بھی کی تھی لیکن بعد میں مرتد اور مشرک ہو گیا تھا۔ اور قریش مکہ کے ساتھ جا ملا تھا،اور ان سے کھنے لگا : میں نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسی کاری ضرب لگائی ہے جیسی میں چاھتا تھا۔ جب مکہ فتح ہو گیا تو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا کہ اس( ملعون)کا خون مباح ہے اگرچہ یہ خانہ کعبہ کے غلاف میں ہی کیوں نہ چھپا ہو۔
یہ حضرت عثمان کے پاس چلا گیا اور حضرت عثمان نے اس کو چھپا دیا یہاں تک کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اہل مکہ سے اطمینان حاصل ہو گیا تو حضرت عثمان نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے لئے امان مانگی حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کافی دےر تک خاموش رھے۔ پھر فرمایا ہاں اسے امان ہے۔جب حضرت عثمان چلے گئے تو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ارد گرد بےٹھنے والے صحابیوں سے ارشاد فرمایا: میں اتنی دےر صرف اس لئے خاموش رہاتھا تاکہ تم میں سے کوئی شخص اس کی گردن اڑا دے۔( ۶۶ )
قرآن مجےد نے سورہ انعام میں اس کے کفر کا اس طرح اعلان فرمایاگیا ہے:
( وَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَرَی عَلَی اللَّهِ کَذِبًا اٴَوْ قَالَ اٴُوحِیَ إِلَیَّ وَلَمْ یُوحَ إِلَیْهِ شَیْءٌ وَمَنْ قَالَ سَاٴُنزِلُ مِثْلَ مَا اٴَنزَلَ اللَّهُ ) ( ۶۷ )
اس سے بڑھ کر کون ظالم ہو گا جو خدا پر جھوٹ اور افتراء پر دازی کرے اورکھے کہ ہمارے پاس وحی آئی ہے حا لانکہ اس کے پاس کو ئی وحی وغیرہ نہیں آئی یا وہ یہ دعوی کرے کہ جیسا خدا وند عالم نے قرآن نازل کیا ہے میںبھی اےسا قرآن عنقریب نازل کئے دیتا ہوں۔
تمام مفسرےن اس بات پر متفق ہیں کہ یہ عبداللہ بن ابی سرح کے الفاظ ہیں کہ میں بھی عنقریب ایسا ہی قرآن نازل کرونگا جس طرح اللہ تعالی نے نازل کیا ہے۔( ۶۸ )
اے اہل دین اور اہل انصاف کیا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمال معین کرنے کا یھی معیار اور شرائط بیان فرمائے تھے جن کا ہم معاویہ کے متعلق کی گئی بحث میں ذکر کر چکے ہیں کیا یہ کھلی ہوئی جاھلیت نہیں ہے ؟
کیا یہ حکم خدا اور رسول سے انحراف نہیں ہے ؟یقینا یہ تو الٹے پاؤ ں جاھلیت کی طرف پلٹنا اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام سے انحراف کرنا ہے ۔!!!
۴ ۔سعید بن عاص
خلیفہ ثالث نے ولید کو کوفہ کی گورنری سے معزول کر کے اس کو کوفہ کا امیر بنایا حالانکہ اسلام میں اس کا کوئی کردار نہیں تھا جہاں تک اس کے (ملعون )باپ عاص کا تعلق ہے وہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سخت دشمن تھا اور آپ کو وہ اذیت دیا کرتا تھا اسی(معلون )کو حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے جنگ بدر میں شرک کی حالت میں فی النار کردیا تھا۔( ۶۹ )
جہاں تک سعید کا تعلق ہے تو یہ ایک بے راھرو نوجوان تھا اور کسی قسم کی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کی اھلیت نہ رکھتا تھا اور اسے گورنر بنا دیا گیا اس نے اپنی گورنری کے پہلے دن سے لوگوں کو بھڑکا یا تو کوفہ کے لوگوں کو اس کی شقاوت اور گفتگو میں تضاد کا پتہ چل گیا وہ کھتا تھا کہ اس باغ(اسلامی حکومت) کی سرداری قریش کے بے راہ رو جوانوں کے لائق ہے۔ اس کودین اوراحکام کے متعلق کسی چیز کا ذرا برابر علم نہ تھا اس نے ایک مرتبہ کوفہ میں کھاکہ تم میں سے چاند کس نے دیکھا ہے( یہ چاند دیکھنا عید الفطر کے موقع پر تھا) لوگوں نے کھاکہ ہم میں سے کسی نے بھی چاند نہیں دیکھا۔
ہاشم بن عقبہ (جو کہ جنگ صفین میں امیرالمومنین علی ا بن ابی طالب کے علمبردار تھے) نے کھاکہ میں نے چاند دیکھا ہے سعید نے اس سے کھاتم نے اپنی ان اندھی آنکھوں کے ساتھ چاند دیکھ لیا ہے اور پوری قوم نے نہیں دیکھا ؟ہاشم نے کھاتم میری ان آنکھوں کا عیب نکال رھے ہو جب کہ میری یہ آنکھ تو اللہ کی راہ میں خراب ہوئی ہے (ان کی یہ آنکھ غزوہ یرموک میں خراب ہوئی تھی) جناب ہاشم نے اگلے دن روزہ نہ رکھا اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ صبح کھانا تناول کیا جب سعید تک یہ خبر پھنچی تو اس نے اپنے سپاھی بھیجے جنھوں نے ہاشم کو مارا پیٹا اور ان کے گھر کو جلا کر راکھ کردیا۔( ۷۰ )
قارئین کرام! حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے اس ظالم،سرکش اور بے راہ رو شخص کی جہالت کو ملاحظہ کریں کہ وہ روایت جسے اصحاب صحاح نے نقل کیا ہے یہ اس سے بھی ناواقف اور جاھل تھا ارشاد ہوا :
صوموا لرؤیتہ و افطروا لرؤیتہ۔چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو۔
بھت سی چیزوں کے متعلق کوفیوں نے اس کی ملامت کی ہے اور خلیفہ سے اس کی شکایت کی لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی اور جب اسے ان شکا یات کا علم ہوا تو اس نے کوفہ والوں کو بہت مارا اور انھیں سخت اذیتیں دیں ۔( ۷۱ )
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
ان فساد امتی علی ید غلمه سفهاء من قریش
قریش کے بے وقوف جوانوں کے ہاتھوں میری امت میں فساد برپا ہوگا۔( ۷۲ )
اسی وجہ سے قریش کا چھوکرا سعید بن عاص کوفہ کا والی بن گیا وہ کھتا تھا کہ اس باغ کی سرداری قریش کے چھوکروں کے لائق ہے ۔
۵ ۔عبداللہ بن عامر بن کریز ۔
یہ خلیفہ ثالث کا ماموں زاد بھائی تھا ابو موسی اشعری کو بصرہ اور عثمان بن ابوالعاص کو فارس سے معزول کرنے کے بعد خلیفہ نے اس کو بصرہ اور فارس کا والی بنایایقینا آپ کو اس بات پر تعجب ہوگا۔ لیکن اس سے زیادہ تعجب انگیز بات مندرجہ ذیل ہے کہ شبل بن خالد عثمان کے پاس آیا اس وقت امویوں کے علاوہ کوئی بھی اس کے پاس موجود نہیں تھا ۔شبل نے کھااے خاندان قریش تمھیں کیا ہو گیا ہے تم نے اپنے خاندان کے تمام لوگوں کو نجیب بنا دیا ہے اس خاندان کے تمام غریبوں کو غنی بنادیا ہے اور ہر گمنام کو نامور بنادیا ہے تم لوگوں نے ابوموسی اشعری جیسے بزرگوں کو ان کے عھدوں سے معزول کردیا اور عراق کے حق کو نظرانداز کردیا ہے ۔حضرت عثمان نے کھاایسا کس نے کھاھے اس نے عبداللہ بن عامر کی طرف اشارہ کیا ،جس وقت اسے والی بنایا گیا تھا اس وقت اس کی عمر سولہ سال کی تھی ۔( ۷۳ )
ابو عمر نے عبداللہ بن عامرکے حالات زندگی میں اسے چوبیس سال کا اور ابو الیقطان نے چوبیس یا پچیس سال کا نوجوان ذکر کیا ہے ۔( ۷۴ )
حضرت عثمان نے ان جیسے لوگوں کو اپنی خلافت میں والی مقرر کیا ، اور وہ ان کے تمام کرتوت جانتا تھا جبکہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان موجود ہے:
من اِستعمل عاملامن المسلمین وهویعلم اٴن فیهم اٴولیٰ بذلک منه واٴعلم بکتاب الله وسنةنبیه فقد خان الله و رسوله و جمیع المسلمین
جو شخص مسلمانوں میں سے کسی کو عامل مقرر کرے اور وہ یہ جانتا ہو کہ (جسے اس نے والی بنایا ہے)اس سے بھتر افراد موجود ہیں جو اللہ کی کتاب اور اس کے نبی (ص)کی سنت کو زیادہ بھتر جانتے ہیں تو گویا اس (والی مقرر کرنے والے) نے اللہ اس کے رسول اور تمام مسلمانوں سے خیانت کی۔( ۷۵ )
جب آپ ان والیوں کی صلاحیت پر ذرا گھراھی کے ساتھ غور کریںگے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ان میں ایسے اشخاص بھی ہیں جنھیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ سے نکال دیا تھا اور ان پر لعنت کی یا وہ جھوٹوں کے سردار اور فسق و فجور کے پیکر تھے۔
اور قرآن مجید نے ان کی فصیحت بیان کی ہے اور ان تمام غلام زادوں کی جائے پناہ خلیفہ ثالث تھی اس طرح انھوں نے بے راہ رو چھوکرے مسلمانوں پر حاکم اور والی بنادئےے یہ سب لوگ اسلام اور مسلمانوں کے لئے وبال جان بن گئے اور وہ ہمیشہ دین اور اللہ کے صالح افراد کے ساتھ جنگ کرنے میں مشغول رھتے تھے اور ان لوگوں سے ظاہر ہونے والا فسق وفجور ان کے اسلام سے منحرف ہونے کی واضح وروشن دلیل ہے۔
____________________
[۱] بحوت فی الملل والنحل شیخ جعفر سبحانی ج ۴۴،تا ریخ طبری ج ۲ ص۶۲ ،۶۳، تاریخ ابن اثیر ج ۲ ص۴۰ ، ۴۱۔
[۲] بحوث فی الملل والنحل ج ۶ ص۴۵ ،صحیح بخاری ۵ باب فضائل اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، باب مناقب حضرت علی علیہ السلام ۲۴۰۔
[۳] ابن حجر کی کتاب الصواعق المحرقہ ص۴۳ ،۴۴ ، اسی طرح مسند امام احمد ج ۴ ص۳۷۲۔
[۴] بحوث فی الملل والنحل ج ۶ ص ۵۰
[۵] شیخ جعفر سبحانی کی کتاب الا لھیات ج ۲ ص ۵۸۶ ، ۵۸۷۔
[۶] ابن ابی الحدید کی شرح نھج البلاغہ ج ۱۰ ،ص ۵۶ ،۵۷۔
[۷] الغدیر ج ۲ ص ۱۸۱ ۔
[۸] الالھیات ج ۲ص۶۰۰۔
[۹] مسند احمد ج ۳ ص ۱۷ تا ۲۶ مسند احمد نے اس حدیث کو ابی سعید خدری سے نقل کیا ھے ۔
[۱۰] المستدرک علی الصحیحین ج ۳ ص ۱۵۱ ۔
[۱۱] بحوث فی الملل والنحل ج ۱ ص ۳۳۔
[۱۲] المستدرک علی الصحیحین ج ۳ ص۱۴۹۔
[۱۳] سورہ مائدہ :۵۵۔ v
[۱۴] سورہ احزاب:۳۳۔
[۱۵] سورہ آل وعمران آیت ۶۱۔
[۱۶] سورہ مائدہ:۳۔
[۱۷] الا لھیات ج ۲ ص۵۸۶ ۔
[۱۸] سورہ شوریٰ آیت۲۳۔
[۱۹] شرح نھج البلاغہ ج۶ ص۴۷۔
[۲۰] شرح نھج البلاغہ ج۶ص ۲۰۔
[۲۱] سورہ نور: آیت۳۶۔
[۲۲] سیوطی درمنثور میں مندرجہ بالاآیت کی تفسیر بیان کرتے ھوئے ۔
[۲۳] ابن قتیبہ کی الامامة والسیاسة ج۱ ص ۲۰۔
[۲۴] الامامة والسیاسة ابن قتیبہ ج۱ ص ۱۹۔
[۲۵] امام شرف الدین موسوی کی کتاب النص والاجتھاد ص ۶۸ تا ۷۱۔
[۲۶] سورہ احزاب:۳۳۔
[۲۷] طبرسی کی کتاب الاجتحاج ص ۹۰،۹۲۔
[۲۸] مجلہ رسالہ مصریہ نمبر ۵۱۸ ،السنہ :۱۱ص ۴۵۷۔
[۲۹] شرح نھج البلاغہ ج۴ ص ۱۰۶۔
[۳۰] شھید سید محمد باقر الصدر کی فدک فی التاریخ ص ۴۷۔
[۳۱] تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۱۳۱،۱۳۲۔
[۳۲] سورہ انفال:۴۱
[۳۳] بحوث فی الملل والنحل جعفر سبحانی ج۶ص ۹۲،۹۳۔
[۳۴] سورہ :بقرہ :۱۹۶
[۳۵] بحوث فی الملل والنحل ج ۶، ص ۹۰،۹۲صحیح مسلم ج۱ ص۴۷۲ مسند احمد ج۱ ص۵۰ وغیر ۔
[۳۶] سنن بیہقی ج۷ ص۲۰۶،الغدیر ج۶ ص۲۱۰۔
[۳۷] سورہ توبہ آیت۶۰۔
[۳۸] بحوث فی الملل والنحل ج۶ص۹۳،۹۴منقول از الجوھرہ النیرہ فی الفقہ الحنفی ج۱ص۱۶۴۔
[۳۹] امامت و سیاست ج۱ ص۲۱۔
[۴۰] بحوث فی الملل والنحل ج۶ص۸۷۔
[۴۱] موطا مع شرح الزرقانی ج۱، ص۱۵۰، طبع مصر باب ماجاء فی النداء فی الصلوة، حدیث نمبر ۸۔
[۴۲] سیرت ائمہ اثنی عشر ج۱ ص۳۱۳۔
[۴۳] تاریخ یعقوبی ج۲ ص۴۱۔
[۴۴] انساب الاشراف بلاذری ج۵ ص۲۸۔
[۴۵] لعین سے مراد حکم ابن ابی العاص ھے جس پر حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت کی تھی اور اسے مدینہ سے نکال دیا تھا ۔
[۴۶] ابن قتیبہ کی کتاب المعارف ص ۸۴۔
[۴۷] سنن البیہقی ج۶ ص ۳۲۴،سنن ابی داؤد ج۲ ص ۲۵،مسند احمد ج۶ ص۲۹۔
[۴۸] ابن جوزی کی تاریخ عمر ابن الخطاب ص۷۹،۸۳اور بلاذری کی فتوح البلدان ص ۴۵۳۔
[۴۹] سیرت ائمہ اثنا عشر ج۱ ص۳۱۴۔
[۵۰] بلاذری کی کتاب ا نساب ج ۵ ص۲۷۔
[۵۱] حاکم کی کتاب مستدرک ج ۴ ص۴۸۱ ۔
[۵۲] سورہ اسراء آیت:۶۰۔
[۵۳] علامہ امینی کی الغدیر ج ۸ ص۲۳۹۔
[۵۴] سورہ قلم :۱۰۔۱۱۔
[۵۵] سیرت حلبیہ ج۱ ص۳۳۷، تفسیر شو کافی ج ۵ص۲۶۳،درمنثور ،سیوطی ص۴۱ ۔اور ص۲۵۱۔
[۵۶] سورہ احزاب:۲۱
[۵۷] سورہ توبہ :۲۴
[۵۸] کتاب الغدیر ج ۸ ص۲۵۴ ،۲۵۵۔
[۵۹] شرح نھج البلاغہ ج ۱ ص۳۳۸۔
[۶۰] مجمع الزوائد ج ۵ ص۲۱۱، سنن بیہقی ج ۲۰ ص۱۱۸۔
[۶۱] شرح نھج البلاغہ ج ۱ ص۳۴۰ ۔
[۶۲] طبقات ابن سعد ج ۱ ص ۱۸۶ ۔
[۶۳] سورہ فرقان :۲۷ تا ۲۹ ۔
[۶۴] سیرت ابن ھشام ج۱ ص۳۸۵ ۔
[۶۵] الغدیر علامہ امینی ج۸ ص۲۷۴۔
[۶۶] بلازری کی انساب ا لاشراف ج ۵ ص ۴۹۔
[۶۷] سورہ انعام:۹۳
[۶۸] تفسیر قرطبی ج ۷ص۴۰ زمخشری کی تفسیر کشاف ج ۱ ص۴۶۱ وغیرہ ۔
[۶۹] طبقات ابن سعد:ج۱ص۱۸۵۔
[۷۰] طبقات ابن سعد ج۵ ص۲۱۔
[۷۱] الغدیر ج۸ ص۲۷۰۔
[۷۲] حاکم کی کتاب المستدرک ج۴ ص۴۷۰۔
[۷۳] الغدیر ج ۸ص ۲۹۰ ۔
[۷۴] الغدیر ج ۸ ص ۲۹۰۔
[۷۵] مجمع الزوائد الھیثمی ج۵ص۲۱۱۔
نویں فصل
حضرت علی (ع) کاسیاسی دور، خلفاء سے تعلق، دین کی خدمت
اور اتحاد بین المسلمین
حضرت علی علیہ السلام کا سیاسی دور
اھلبیت علیھم السلام نے اسلام کی شناخت اور اس کی بقاء اور حفاظت کے سلسلے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور اسی سے ان کی پہچان ہوتی ہے انھوں نے مسلمانوں کو اسلام کی عزت و عظمت کی طرف دعوت دی اور انھیں اتحاد کا درس دیا،ان کے درمیان اخوت اور برادری کا سلسلہ قائم کیا ان لوگوں کو الفت محبت کا راستہ بتایا اور انھیں بغض وحسد سے دور رھنے کی ھدایت کی۔
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا گزشتہ خلفاء کے ساتھ رویہّ فراموش نہیں کرنا چاہئے جبکہ انھوں نے حضرت کے ساتھ زیادتی کی آپ کے حق کو غصب کیا آپ کی منصوص خلافت کو انھوں نے چھپایا اور انھوں نے حسد کی وجہ سے اس نص کو ظاہر نہ ہونے دیا۔
لیکن جب خلافت آپ تک پھنچی تو اس وقت جتنے صحابی بچ گئے تھے انھوں نے مشھور و معروف رحبہ والے دن غدیر کی نص پر گواھی دی آپ نے جو کچھ مسلمانوں اور اسلام پر گزشتہ خلافتوں کے دوران ہوا، مصلحت کی وجہ سے اس کی طرف اشارہ تک نہ کیا اور اس عھد کے متعلق اس طرح فرمایا:
فخشیت اِن لم اٴنصر اِلاسلام واٴهله اٴن اٴریٰ فیه ثلما اٴوهدما
مجھے ڈر ہے کہ اگر اسلام اورمسلمانوں کی مدد نہ کی گئی تو میں دیکھ رھاھوں کہ اسلام کو تھوڑا تھوڑا کرکے کاٹ دیا جائے گا یا اسلام کی عمارت کو آھستہ آھستہ گرا دی جائے گی۔( ۱ )
ان تمام حالات میں حضرت علی علیہ السلام نے جو مثال پیش کی ہے اس کی نظیر نہیں ملتی جب کہ ان لوگوں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھائی اور چچا زاد کے ساتھ جو سلوک کیا وہ کسی پر پوشیدہ نہیں ہے۔ آپ نے ذاتی اورشخصی مفاد سے بلندھوکر اسلامی مصالح کے تحت اہل اسلام کی خدمت کی اور اس وجہ سے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جو خلفاء کی بادشاھت کی شان وشوکت پر اثر انداز ہو یا ان کی سلطنت کے ضعف کا سبب بنے یا ان کی ھیبت کے کم ہونے کا سبب ہو ۔
آپ اپنے دل پر پتھر رکھ کر گھر میں خاموشی سے بیٹھ گئے ۔ لوگ آپ کے پاس حاضر ہوتے اور آپ کو ہر چیز کا عارف جانتے ،حضرت عمر ابن خطاب کئی مرتبہ یہ کھنے پر مجبور ہوگیا :
لاکنتُ لمعضلة لیس لها اٴبوالحسن
میرے لئے کوئی ایسی مشکل نہیں جس کو حل کرنے کے لئے ابوالحسن موجود نہ ہوں۔
اسی طرح خلیفہ ثانی نے متعدد بار کھا:لولا علي لهلَکَ عُمر ۔
اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا ۔( ۲ )
ابو سفیان کی منافقت
جب سقیفہ بنی ساعدہ میں حضرت ابوبکر کی بیعت کی جارھی تھی۔ اس وقت ابوسفیان صنحر بن حرب کھتا ہے۔ ”میں نے وہاں ایسا غبار دیکھا جو خون بہانے کے بغیر نہیں چھٹ سکتا تھا “اس نے مدینہ کی تنگ گلیوں میں چکر لگاتے ہوئے در جہ ذیل چند اشعار کھے :
بني هاشم لا تُطمعو االناس فیکم
ولا سیما تیم ابن مره او عدي
فما الاٴمر اِلاّفیکم واِلیکم
ولیس لها اِلا اَبوحسن علي
اے بنی ہاشم ! لوگ تم میں رغبت نہیں رکھتے اور خصوصا تیم بن مرہ اور عدی قبیلہ میں بھی وہ رغبت نہیں رکھتے جبکہ امر خلافت کے فقط آپ ہی سزا وار ہیں اور یہ آپ کو ہی ملنا چاہئے اور ابولحسن علی (ع)کے علاوہ کوئی اس کا حق دار نہیں ہے ۔
پھر حضرت علی علیہ السلام کی بارگاہ میں عرض کیا:
ابسط یدک اٴُبایعک فوالله لئن شئت لاٴملاٴنّها علیه خیلاً ورجلاً فابیٰ اٴمیر المؤمنین
آپ اپنے ہاتھ پھیلایئے تا کہ میں آپ کی بیعت کروں خدا کی قسم اگر آپ چاھیں تو میں گھوڑوں اور انسانوں سے میدان( جنگ )بھر دوں ۔لیکن حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے ایسا کرنے سے انکار کردیا ۔( ۳ )
شیخ مفیداپنی کتاب ارشاد میں ( اس واقعہ کے ذیل میں) بیان کرتے ہیں :
حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے ابو سفیان سے کھا:
تم یہاں سے چلے جاؤخدا کی قسم جو تیری خواہش ہے میں اس طرح کبھی بھی نہ کروں گا کیونکہ تم تو ہمیشہ سے اسلام اور اہل اسلام کو دھوکا دیتے رھے ہو۔( ۴ )
فضل بن عباس کا انداز
جب سقیفہ میں حضرت ابوبکر کی بیعت ہونے لگی تو انصار حضرت ابوبکر کو چھوڑ کر ایک طرف ہوگئے تو قریش غضبناک ہوئے اور انھوں نے ابوبکر کی خلافت کو بچانے کے لئے خطبے دینے شروع کیے عمر ابن عاص کو قوم قریش نے کھاکہ اٹھو اور خطبہ دو وہ کھڑا ہوا اور اس نے انصار کے بارے میں گفتگو شروع کردی۔
اس وقت فضل بن عباس کھڑے ہوئے اور انھوں نے عمر وبن عاص کو جواب دینا شروع کر دیا پھر وہ حضرت علی علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئے اور حضرت علی علیہ السلام کو اس کے متعلق بتایا اور کچھ اشعار پڑھے۔ حضرت علی علیہ السلام غصے کی حالت میں مسجد کی طرف روانہ ہوئے اوروہاں پہنچ کر انھوں نے انصار کو نصیحت کی اور عمر بن عاص کی گفتگو کا جواب دیا۔
جب انصار کو اس بات کا پتہ چل گیا تو وہ کھنے لگے کہ حضرت علی علیہ السلام کی گفتگو سے بھتر ہمارے پاس کوئی بات نہیں ہے (یعنی ہمارے ما فی الضمیر کو انھوں نے ہم سے بھتر انداز میں بیان کیا ہے) پھر یہ لوگ حضرت حسان بن ثابت کی خدمت میں پھنچے اور کھنے لگے کہ آپ فضل کو جواب دیں توحسان بن ثابت نے کہا: اس نے جو کچھ پیش کیا ہے وہ بکواس ہے ۔لہٰذا تم فقط حضرت علی (ع) کو اپناؤ، اور یہ اشعار کھے:
جزیٰ الله خیراً والجزاءُ بکفّه
اٴبا حسن عنا ومن کُاٴ بي حسن
سبقت قریشاً بالذي اٴنتَ اٴهلُه
فصدرک مشروح و قلُبک مُمتحن
تمنت رجال من قریش اٴعزةً
مکانک هیهات الُهزال من السَمَنِ
اللہ کی جزا پوری پوری اور مکمل جزا ہے اوروہ یہ ہے کہ ابولحسن ہم سے ہیں اور تم بتاؤ کوئی ابولحسن جیسا ہو سکتا ہے آپ اس خاندان سے ہیں جس کو قریش پر برتری نصیب ہوئی آپ کا سینہ کشادہ ہے اورآپ کا دل ہر چیز کو جانچ لیتا ہے قریشی اسی کی تمنا کرتے رھتے ہیں کہ ھمیں بھی آپ جیسی عزت نصےب ہو۔اور پھر فرمایا:
حفظت رسول الله فينا وعهدهِ
اِلیکَ و مَن اٴولیٰ به منک مَن ومِن
الستَ اٴخاهُ في الاخا ووصیهِ
واٴعلم فهرٍ بالکتابِ وبالسننِ
رسول خدا نے آپ کو برگزیدہ اور عھد کا پورا کرنے والا پایا اور فرمایا کہ تیرے اور میرے علاوہ کون بھترھے ؟ اور میرا وصی کون ہو سکتا ہے؟ کیا تم ہی اخوت والے دن میرے بھائی نہ تھے؟(بےشک)تم ہی کتاب و سنت کو زیادہ جاننے والے ہو۔( ۵ )
خلفاء کو نصیحتیں
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اپنے سے پہلے خلفاء کو جو نصیحتیں کی تھیں تاریخ نے انھیں اپنے دامن میں محفوظ رکھا ہے اور آپ کے ٹھوس اور پرخلوص مشوروں کوتاریخ نے بیان کیا ہے ۔ ہم ان میں سے چند نصےحتوں کوسپرد قرطاس کرتے ہیں۔
حضرت ابوبکر
جب حضرت ابوبکر نے رومیوں کے ساتھ جنگ کرنے کا ارادہ کرلیا تو اصحاب رسول سے مشورہ کیا بعض نے جنگ کرنے کا اور بعض نے جنگ نہ کرنے کا مشورہ دیا آخر میں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی خدمت میں مشورہ کے لئے حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا:
جنگ کے لئے نکلو،اگر تم نے میرے مشورے کے مطابق عمل کیا تو کامیابی تمہارے قدم چومے گی ۔حضرت ابوبکر نے کھا:آپ نے بہت اچھی بشارت دی ہے اور خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور حکم دیا کہ روم کی طرف نکلنے کے لئے تیار ہوجاؤ۔( ۶ )
حضرت عمر
حضرت عمر ابن خطاب کے عھد خلافت کے بارے میں ،کسی ایک مؤرخ نے بھی یہ بیان نہیں کیا حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام اس کی خلافت کے مقابل آئے ہوں۔
بلکہ آپ نے بھی دوسرے لوگوں کی طرح خاموشی اختیار کرلی اورآپ نہ تو جانے والوں کا اور نہ آنے والوں کا ذکر کرتے بلکہ اچھائیوں کا تذکر ے رھتے۔آپ اپنی نیک اور مبارک زبان سے ہمیشہ اچھی گفتگو کرتے رھتے اور انھیں مسلسل نصیحتیں کرتے رھتے تھے ۔
اسلام کی مشکل کشائی اور مصلحت کے لئے آپ نے اپنے اوپر پڑنے والی تمام مشکلات کو برداشت کرلیا اور حاکم اور حکومت کو اسی زاویے (مصلحت اسلام)سے ہی دیکھا کرتے یہاں تک کہ اسلام بڑی سرعت کے ساتھ سرزمین حجاز سے نکل کربھت دور پہنچ گیا ۔لیکن فاتح حکام کے پاؤں غفلت کی بنا پر لڑکھڑا گئے جس سے خلافت کمزور پڑنے لگی ۔حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے کئی مرتبہ یہ ارشادفرمایا :
والله لاسالِمَنَّ ما سلمت امور المسلمین ولم یکن بها جورٌ اِلا عليَّ خاصة ۔
خدا کی قسم میں مسلمانوں کے امور کے سلسلے میں ھمےشہ ان کے ساتھ ہم آھنگ رھاجبکہ فقط میرے لئے ہی ظلم و جورروا رکھا گیا۔( ۷ )
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اپنی عمومی زندگی کو وسعت دے رکھی تھی آپ نے لوگوں کے حقوق بھترین انداز میں ادا کئے۔آپ نے لوگوں کو تعلیم دینے ،فقہ سمجھانے اور ان کے درمیان قضاوت کرنے کا سلسلہ حضرت ابوبکر کے دور حکومت میں بھی وسیع پیمانے پر جاری رکھا۔
تاریخ گواہ ہے کہ حضرت عمر ابن خطاب بھی آپ کے فیصلوں کا احترام کرتے تھے اور آپ کے ہی مشوروں کو اھمیت دیتے اور تسلیم کرتے تھے یہاں تک کہ شریعت اسلامی کے علاوہ عمومی مسائل میں بھی آپ ہی کی رائے قابل توجہ ہوا کرتی تھی اور حضرت عمر یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں :
لا اٴبقاني اللّه لمعضلةٍ لیس لها اٴبواٴلحسن
اللہ تعالی مجھے کسی ایسی مشکل میں زندہ نہ رکھے جس کو حل کرنے کے لئے ابولحسن (ع) نہ ہوں۔
تاریخ ھجری کا آغاز
آج تک جاری رھنے والی مشھور معروف تاریخ ھجری کو شروع کرنے کےلئے حضرت عمر نے پروگرام بنایااوراصحاب کو جمع کیا تاکہ ان سے اس موضوع پر رائے لی جاسکے لیکن ان کی آراء میں بہت زیادہ اختلاف پیدا ہوگیا۔اگر حضرت علی (ع) اس وقت اپنی محکم اور پختہ رائے کیساتھ آگے نہ بڑھتے تو یہ اختلاف شدید تر ہو جاتا ،حضرت عمر آپ کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ سے رائے طلب کی چنا نچہ آپ نے فرمایا ھمیں چاہئے کہ ہم لوگ حضرت رسول(ص)کی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے دن سے اپنی تاریخ کا آغاز کریں حضرت عمر ابن خطاب نے اس (عمدہ اور محکم )رائے پر تعجب کیا اور اسے قبول کر کے کھنے لگے:
لا زلت موفقاً یااٴباالحسن
اے ابولحسن ہمیشہ آپ ہی کی رائے تسلیم کی جاتی ہے۔( ۸ )
حضرت علی کی مدح عمر کی زبان سے:
ا بن ابی الحدید،حسین بن محمد سبتی سے روایت بیان کرتے ہیںکہ ایک دن حضرت عمر انتہائی پریشان تھے پریشانی میں کبھی بھی اٹھتے اور کبھی بیٹھتے اور پھر جھوم کر کہتے کہ اے حاضرین محترم! آپ کی اس امر کے بارے میں کیا رائے ہے ؟انھوں نے کھااے امیر آپ ہی تو جزع و فزع کرنے والے ہیں ۔یہ سن کر حضرت عمر غضبناک ہوئے اور قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت کی :
( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِیدًا )
اے ایمان لانے والو!اللہ سے ڈرواور محکم بات کیا کرو۔( ۹ )
پھر کھامیں اور آپ سب لوگ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ تعالی کے اس فرمان کا مصداق کون ہے ؟ان لوگوں نے کھا: گویا آپ کی مراد اس سے علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) ہیں؟
حضرت عمر نے کہا: یقینا وہی اس کے مصداق ہیں اور میں اس سے کبھی رو گردانی نہیں کر سکتا اور یہ بڑے عالی ظرف انسان ہیں اورکوئی بھی ان کی مثل نہیں ہے ان لوگوں نے کھا:اے امیرپھر تو آپ انھیں ضرور یہاں دعوت دیں اور بلائیں ۔ حضرت عمر نے کھاکتنے افسوس کی بات ہے کیا ان کے علاوہ کوئی بنی ہاشم کا چشم و چراغ ہے جو نبی(ص) کے علم کا وارث ہو اور اس کا گوشت، رسول کا گوشت ہو۔
لہٰذا ہم خود ان کے پاس چلتے ہیں اور انھیں یہاں بلانے کی ضرورت نہیں۔ راوی کھتا ہے کہ ہم لوگ ان کی طرف چل پڑے جب ان کے پاس پھنچے تو ہم نے دیکھا کہ وہ ایک چار دیواری کے اندر چادر اوڑھ کر تشریف فرما ہیں اور قرآن مجید کی اس آیت مجیدہ کی آیت( اٴَیَحْسَبُ الانْسَانَ اَنْ یُتْرِکَ سَدیٰ ) ( ۱۰ ) (کیا انسان گمان کرتا ہے کہ وہ بےکار چھوڑ دیا جائے گا۔)سے لے کر آخر سورہ تک تلاوت فرما رھے ہیں۔
اوران کے رخساروں پر آنسو جاری تھے اور ان کے اس گریہ نے لوگوں کو بہت متاثر کیا اور لوگ بھی حضرت کے ساتھ مل کر گریہ کرتے رھے ،جب وہ خاموش ہوئے تو یہ سب لوگ بھی خاموش ہوگئے ۔حضرت عمر نے اس واقعہ کے متعلق آپ سے دریافت کیا توآپ نے اس کا جواب عنایت فرمایا ،حضرت عمر کھنے لگے: خدا کی قسم ہم نے تو آپ کے حق کو مدنظر رکھا لیکن آپ کی قوم نے آپ کو حق دینے انکار کردیا حضرت نے فرمایا:
اے ابوحفص !آپ فورا یہاں سے تشریف لے جائیں کیونکہ( ان یومَ الفصل کانَ میقاتاً ) ( ۱۱ )
حضرت عمر نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھا اور بڑی تیزی کے ساتھ وہاں سے نکل گئے اور یوں لگتا تھا کہ گویا وہ سراب کو دیکھ رہاتھا( ۱۲ )
بیت المقدس کی فتح اور آپ کا مشورہ
حضرت علی علیہ السلام کے مشوروں میں سے ایک مشورہ یہ تھا کہ جب خلیفہ ثانی نے بیت المقدس کی کے فتح مسئلہ میں لوگوں سے مشورہ مانگا جب کہ ابوعبیدہ نے خط کے ذرےعہ اس کی توجہ اس طرف مبذول کی تھی لہٰذا حضرت عثمان بن عفان نے اس سلسلے میں یہ مشورہ دیا کہ کہ ھمیں انکی طرف نہیں نکلنا چاھےے کیونکہ ہم انھیں حقےر جانتے ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس سلسلے میں یہ مشورہ دیا کہ ھمیں ان کی طرف جانا چاھےے کیونکہ اگر وہ مسلمانوں کا محاصرہ کر لیں تو یہ ہر مسلمان کی ذلت اور رسوائی کا سبب بن جائے گا۔ چنانچہ جب خلیفہ وہاں سے اٹھا تو اس نے وہی کیا جو حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا تھا اور جو کچھ حضرت عثمان نے کھاتھا اس نے نہ مانااور ایک بڑے لشکر کے ساتھ ان لوگوں پر حملہ کر دیا، اس طرح انھوں نے بیت المقدس کو فتح کر لیا اس دوران حضرت علی علیہ السلام مدینہ کے امور کی نگرانی کرتے رھے ۔( ۱۳ )
واقعہ نہاوند میں جب باب ،سند ،خراسان اور حلوان کے ایک لاکھ پچاس ہزار گھوڑے سوار مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کے لئے جمع ہوگئے توجب خلیفہ ثانی کویہ معلوم ہوا تو اس نے لوگوں کو مشورہ کے لئے جمع کیا لیکن خود اس نے ان کی طرف جانے کا ارادہ کر لیا، طلحہ بن عبےداللہ نے بھی یھی نظریہ دیا اور کھاکہ ھمارا کام تو آپ کی اطاعت اور پیروی کرنا ہے جو آپ کی مرضی ہے وہی رائے میری بھی ہے،حضرت عثمان اس سلسلے میں یو ں ھمکلام ہوئے میرا خیال یہ کہ آپ اہل شام کو خط میں لکھیں کہ وہ شام سے نکلیں اور اہل یمن یمن سے چلیںاور تم کوفہ اور اور بصرہ والوں کو لیکر نکلوںتا کہ تمام مسلمان تمام مشرکین کے سامنے صف آرا ہوجائیں ۔
چنا نچہ حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
اگر تمام شامی شام سے نکل پڑےں تو روم والے ان کے بچوں پر حملہ کر دیں گے اسی طرح اگر تمام ےمنی ےمن سے نکل پڑےں تو حبشہ والے ان کی اولادپر حملہ کر دیں گے اور اگر تم یہاں سے نکل پڑے تو گرد ونواح کے تمام عرب تم پر ٹوٹ پڑےں گے۔ لہٰذا میری رائے یہ ہے کہ تم بصرہ والوں کوخط لکھو، کہ وہ تےن گروہ میں تقسیم ہوجائیں ایک گروہ مستورات اور بچوں کے پاس رھے اور دوسرا گروہ اہل عھد کے ساتھ اور تےسرا گروہ اپنے کوفی بھائیوں کی مدد کے لئے نکلے اور وہاں پھےل جائے کیونکہ عجمی کل تمھیں دیکھیں گے تو وہ لوگ کھیں گے کہ یھی عربوں کا امیر المومنین اور ان کی اصل ہے لہٰذا تیرے خلاف ان کے دل زیادہ سخت ہوجائیں گے حضرت عمر نے کھایھی وہ رائے ہے جسے میں پسند کرتا ہوں اور چاھتاھوں کہ اس کے مطابق عمل کروں۔( ۱۴ )
دور عثمان
خلیفہ سوم کے زمانے میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام نے بہت زحمتےں اٹھائےں جب شوریٰ قائم ہوئی تو حضرت نے فرمایا:
والله لاسالِمَنَّ ما سلمت امور المسلمین ولم یکن بها جورٌ اِلا عليَّ خاصة
خدا کی قسم میں مسلمانوں کے امور کے سلسلے میں ھمےشہ ان کے ساتھ ہم آھنگ رھاجبکہ فقط میرے لئے ہی ظلم و جورروا رکھا گیا۔
ان تمام مشکلات کے باوجود حضرت علی علیہ السلام خلیفہ ثالث کے ساتھ ہمیشہ اخلاص کے ساتھ پیش آتے تھے اسی طرح وہ مشکلات جو انھیں اپنی ظاھری خلافت کے دوران پیش آئےں ان کے متعلق آپ(ع) نے ارشاد فرمایا: خدا کی قسم میں عثمان کو دشمنوں سے دور کرتا ہوں لیکن مجھے خوف تھا کہ اس کے باوجود گنھگار میں ہی ٹھھرایا جاؤں گا ۔( ۱۵ )
ابن قتےبہ اپنی کتاب امامت وسیاست میں کہتے ہیں کہ جب عثمان کے خلاف بغاوت بڑھتی چلی گئی تو حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کسی وادی میں چلے گئے اور وہاں مقےم ہوگئے۔
حضرت علی علیہ السلام کے چلے جانے کے بعد عثمان کے خلاف بغاوت مزید بڑھ گئی جب کہ طلحہ اور زبیرکو یہ امید تھی کہ وہ لوگوں کے دلوں کو عثمان کی طرف مائل کر لیں گے اور بغاوت پر غلبہ حاصل کر لیں گے، انھوں حضرت علی علیہ السلام کی عدم موجودگی کو غنیمت سمجھا لیکن جب بغاوت حد سے بڑھ گئی تو عثمان نے حضرت علی علیہ السلا م کو اس طرح خط لکھا:
معاملہ میرے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور میرے خلاف ایک طوفان ا مڈ آیا ہے، لوگ میری توھین کر رھے ہیں اور وہ میرا خون بہانے اور میرے قتل کے درپہ ہیں اور میں اس مصیبت کو اپنے سر سے دور نہیں کر سکتا، اور پھریہ شعر کہا:
فان کنت ماکولافکن خیر اکل ولا فارکنی ولما افرق
اگر آپ پر بھروسہ کیا جائے تو آپ بھترین بھروسہ والے ہیں میری مدد کو آئےے مجھ سے اتنا دور کیوں ہیں ؟( ۱۶ )
ابن اثیر اپنی کتاب کامل میں کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام جب وآپس لوٹ آئے تو اس وقت لوگ عثمان کی طرف رجوع کر چکے تھے آپ نے ان سے فرمایا:تم لوگوں سے ایسی گفتگو کرو جسے وہ تم سے سنیں اور تم پر گواہ قرار پائےں اور جو کچھ تمہارے دل میں ہے اللہ اس پر گواہ ہے۔
اس وقت تک امن امان قائم نہیں ہوگا جب تک کوفہ اور بصرہ سے دوسرے سوار نہ آجائیں، عثمان نے کھااے علی ان کی طرف سوار بھےجئے اگر آپ نے اےسانہ کیا تو مجھے معلوم ہورھاھے کہ وہ ہم سے قطع رحم کرےں گے اور آپ کے حق کو تسلیم نہیں کرےں گے حضرت عثمان باھر آئے انھوں نے خطبہ دیا اور لوگوں کے سامنے توبہ کی اور کھامیں پھلا شخص ہو ں جو پناہ چاھتا ہوں جو کچھ میں نے کیا ہے اس پر میں اللہ سے معافی چاھتا ہوں۔
خدا کی قسم حق کو اس کے عبد کے سپرد کر دیتا ہوں جو ہمیشہ ثابت قدم رہاھے تم اس کی پیروی کرنا اور خدا تک پھنچنے کا وہی بھترین ذرےعہ اور راستہ ہے اس سلسلے میں تم پر کوئی بات مخفی نہیں ہے۔
لوگ روتے ہوئے متفرق ہو گئے اور خلیفہ بھی رو پڑے ،جب عثمان اپنے گھر آئے تو وہاں مروان سعید اور بنی امیہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص موجود تھا(یعنی حضرت عثمان کے خطبہ کے دوران یہ لوگ وہاں موجود نہیں تھے) حضرت عثمان ان کے درمیان آکر بےٹھ گئے تو مروان نے کہا: اے امیر المؤمنین کیا میں آپ سے کچھ کھوں یا خاموش رہو ں؟
عثمان کی بیوی نائلہ بنت فرا فصہ نے کھاتم خاموش رہو ، یھی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اسے قتل کیا اور موت کی نیند سلا دیا انھوں نے ایسی گفتگو کی جس پر نزاع نہیں ہونا چاھیے تھا۔
مروان نے نائلہ سے کھاتو اس وقت نہیں تھی جب یہ سب کچھ ہوا خدا کی قسم تیرا باپ وضو خانہ میں مارا گیا، نائلہ نے کھااسے تو صحیح طور پر وضو کرنا بھی نہیں آتا تھا !مروان ٹھھر جا اور باپ کا تذکرہ چھوڑ دے ۔خدا کی قسم چچا کو اس بات سے غم و الم پھنچنے گا اگر خوف نہ ہوتا تو میں ضرور اس کے متعلق تجھ کو بتاتی اور ثابت کرتی کہ یہ بات صداقت پر مبنی ہے ۔
مروان نے پھر کہا:اے امیر المومنین میں بات کروں یا چپ رہو ں ۔ خلیفہ نے کھاکھو کیا کھنا چاھتے ہو، مروان نے کھامیرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں خدا کی قسم میں آپ کی اس قسم کی گفتگو کو پسند کرتا ہوں لیکن آپ کو روک دیا گیا اور آپ پہلے شخص ہیں جو اس پر راضی ہو گئے البتہ آپ کو جو کھنا چاھیے تھا وہ آپ نے نہیں کھااور انھوں نے معاملے کی سنگین خلاف ورزی کی جبکہ ناچیز و ذلیل حصہ دیا گیا۔ خدا کی قسم گناہ پر استغفار کرنا بھتر ہے ،اس توبہ سے جس کے بعد خوف ھراس چھاجائے اگر تم چاھتے توتوبہ کے ذریعے قریب ہو جاتے اور خطا کا اقرار نہ کرتے اس وقت دروازے پر لوگ پہاڑ کی طرح ڈٹے ہوئے تھے۔ عثمان نے کھاان کے پاس جاؤ اور ان سے کھو کہ مجھے تم سے گفتگو کرتے ہوئے شرم آتی ہے مروان باھر گیا اس نے لوگوںسے کھاتمہارا یہاں جمع ہونا تمہاری شان کے خلاف ہے گویا تم مال غنیمت لوٹنے آئے ہو ؟ کیا تم اس ارادے سے آئے ہو کہ جو کچھ ہمارے قبضہ میں ہے اس کو زبردستی ہم سے چھین لو، تو خدا کی قسم ہم نے تمہارے خلاف قدم اٹھالیا تو مشکل ہوجائیگی۔ لہٰذا تم اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ خدا کی قسم ہمارے ہاتھوں میں جو کچھ ہے ہم اس کی بدولت تم سے مغلوب نہیں ہوںگے، چنا نچہ سب لوگ واپس لوٹ گئے اور کچھ لوگ حضرت علی کے پاس آئے اور انھیں اس واقعہ کی اطلاع دی۔
حضرت علی علیہ السلام عبدالرحمن بن اسود بن عبد یغوث کے پاس آئے اور اس سے پوچھا کہ کیا تم بھی عثمان کا خطبہ سننے والوں میں موجود تھے؟اس نے کھاجی ہاں ۔حضرت نے فرمایا: جو کچھ مروان نے لوگوں سے گفتگو کی ہے اس میں بھی تم موجود تھے ؟اس نے کھاجی ہاں ۔
اس وقت حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:اے اللہ کے بندو!اے مسلمانو!اگر میں اپنے گھر میں رہو ں تو تم کہتے ہو کہ میں نے رشتہ داروں کو چھوڑ دیا ہے اور اگر میں کوئی بات بتاتا ہوں تو اس کو نظر انداز کر کے جس طرح مروان چاھتا ہے ویسا ہی کرتے ہیں اس نے تو اپنے ہی بازار سے گناھوں کا جتنا بار اٹھانا تھا اٹھالیا ہے۔
حضرت علی غضبناک حالت میں وہاں سے اٹھے اور عثمان کے پاس جاکر فرمایا :جہاں تک مروان کا تعلق ہے وہ تجھ سے اس وقت تک راضی نہ ہو گا جب تک تو اپنے دین اور عقل میں تحریف نہ کر لے اس کی مثال اس سرکش اونٹ جیسی ہے جدھر اس کا منہ ہوتا ہے ادھر ہی چل دیتا ہے ۔خدا کی قسم مروان اپنے دین اور اپنے نفس میں صاحب رائے نہیں ہے اور اللہ کی قسم میں لوگوں کو تجھ پر حملہ کرتے ہوئے دیکھ رھاھوں لیکن اس وقت تجھ سے کچھ نہ ہو سکے گا اور آج کے بعد میں یہاں نہیں آؤں گا یہ تیرا اپنا ہی تجھ پر عتاب ہے ،اس سے تیری عزت وشرف جاتا رھے گا اور تیری رائے مغلوب ہو جائے گی ۔
جب حضرت علی علیہ السلام نصیحت کر کے وہاں سے نکلے تو اس وقت اس کی بیوی نائلہ آئی اور کھنے لگی ۔میں نے تیرے متعلق حضرت علی کی گفتگو کو سن لیاھے یہ سمجھ لے کہ یہ تمہارے دشمن نہیں ہیں لیکن تم نے فقط مروان کی اطاعت کی ہے وہی تمہارا دشمن ہے جس طرح اس نے چاھاھے دشمنی کی ہے، حضرت عثمان کہتے ہیں میں کیا کروں ؟وہ کہتی ہے!اللہ سے ڈرو اور مروان کی پیروی ترک کردو، اگر تم مروان کی اطاعت کرتے رھے تو وہ تمھیں قتل کرا دے گا ،دوسرے لوگوں کے نزدیک مروان کی کوئی قدر منزلت نہیں ہے اسی وجہ سے تجھے لوگوں نے چھوڑدیا ہے تم حضرت علی کو بھیجو تاکہ وہ اصلاح کریں یہ آپ کے قرابت دار ہیں اور وہ اس کا انکا ر بھی نہ کریں گے ۔
چنا نچہ حضرت عثمان نے حضرت علی (علیہ السلام)کی طرف پیغام بھیجا لیکن حضرت نہ آئے اور فرمایا میں جانتا ہوں کہ اسے میری ضرورت نہیں ہے ۔
مروان تک نائلہ کی بات پہنچ گئی اور وہ عثمان کے پاس بیٹھ کر نائلہ سے کھنے لگا۔ اے فرافصہ کی بیٹی! یہ سن کر حضرت عثمان نے کھاکہ اے مروان چپ ہوجاؤتمہارا منہ کالا ہو جائے خدا کی قسم اس نے تو مجھے نصیحت کی ہے اور اس سلسلے میں اس کا مجھ پر زیادہ حق ہے یہ سن کر مروان خاموش ہوگیا ۔
اس کے بعد حضرت عثمان رات کی تاریکی میں حضرت علی کے گھر آئے اور ان سے کھا: میں نے غیر ضروری امور انجام دئیے ہیں اور اس کا میں ہی ذمہ دار ہوں حضرت علی (علیہ السلام)نے اس سے کھاتم حضرت رسول اعظم کے منبر پر گفتگو کرنے کے بعد آج اس چیز کا اظہار کر رھے ہو تم گفتگو کرنے کے بعد گھر میں چلے جاتے ہو ،اور مروان تمہارے دروازے پر آکر لوگوں کو اذیت پھنچاتا۔ حضرت عثمان باھر آئے جبکہ وہ کہہ رھے تھے کہ اے مروان تم نے مجھے دھوکہ دیا اور لوگوں کو میرے خلاف ہوا دی ہے حضرت علی (علیہ السلام)نے فرمایا اکثر لوگ تمہاری حمایت کرتے ہیں لیکن جب بھی تجھے میں نے کوئی مسئلہ بتایا تو تم کو مروان نے اس کی خلاف ورزی کرنے کو کھااور تم نے مروان کی بات مان لی اور میری بات کو ٹال دیا۔( ۱۷ )
خلیفہ ثالث کے حق میں حضرت علی علیہ السلام کا رویّہ
جب حضرت علی علیہ السلام خیبر سے واپس لوٹ رھے تھے تو آپ نے دیکھا کہ لوگ طلحہ کے پاس جمع ہیں ان میں اس کا کافی اثر رسوخ تھا جب حضرت علی (علیہ السلام)وہاں تشریف لائے تو ان کے پاس حضرت عثمان بھی آگیا تو اس نے کہا:
اما بعد! مجھ پر اسلام کا حق ہے بھائیوں اور رشتہ داروں کا حق ہے۔ اگر ان حقوق کا پاس ولحاظ نہ ہوتا تو ہم جاھلیت کی طرف لوٹ جاتے اور بنی عبد مناف کے لئے یہ مناسب نھیںھے کہ وہ اپنے بنی تمیم بھائیوں کے ساتھ لڑیں ۔( یہ اطلاع طلحہ نے انھیں دی تھی)
اس وقت حضرت علی نے اس سے کہا: تیری یہ خبر درست نہیں ہے پھر حضرت علی (ع)مسجد کی طرف روانہ ہوئے، وہاں انھوں نے اسامہ کو دیکھا جو لوگوں سے دور ایک طرف بیٹھا تھا ۔ اس کو اپنے ھمراہ لیااور طلحہ کے گھر آئے، حضرت نے کہا: اے طلحہ !وہ معاملہ کیا ہے جو واقع ہوا ہے اس نے کھااے ابوالحسن یہ حزام طبین کے بعد کا واقعہ ہے، حضرت علی علیہ السلام وہاں سے بیت المال کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر فرمایا:اس کا دروازہ کھولو لیکن چابیاں نہ ملیں تو انھوں نے اس کا دروازہ توڑدیا اور لوگوں میں مال تقسیم کر دیا لوگ طلحہ کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے یہاں تک کہ طلحہ اکیلا رہ گیا ۔ یہ خبر سن کر عثمان بہت خوش ہوئے اس کے بعد طلحہ عثمان کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے امیرالمومنین !میں نے ایک کام کا ارادہ کیا ہے لیکن اس کے اور میرے درمیان اللہ حائل ہے۔ عثمان نے کھاخدا کی قسم تم توبہ کرکے نہیں آئے بلکہ مغلوب ہو کر آئے ہو، اے طلحہ اللہ تیرا محاسبہ کرنے کے لئے کافی ہے۔( ۱۸ )
جب حضرت عثمان کا محاصرہ کیا گیا اور اس پر پانی بند کر دیا گیا اس وقت حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے طلحہ سے کہا: میں ان کے پاس پانی و غذا لے کر جانا چاھتا ہوں، حضرت نے اس پر شدید غصہ کیا یہاں تک کہ حضرت عثمان کے پاس پانی وغذالے گئے۔( ۱۹ )
حضرت کا خلیفہ ثالث کے ساتھ ایک عمدہ رویہّ یہ تھا کہ آپ نے اپنے بچوں حسن (علیہ السلام)اورحسین(علیہ السلام)کو حضرت عثمان کے دفاع کے لئے بھیجا ۔اور وہ اس کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اس کے دشمنوں میں سے کسی کی طاقت نہ ہوئی کہ اس کو اذیت دیں یہ اصحاب سیرت اور تاریخ میں مشھور و معروف واقعہ ہے۔
جب حضرت عثمان کا قتل ہوا تو مدینہ اور مدینہ سے باھر مختلف مقامات میں اس پر خوشی کا اظہار کیاگیا بالخصوص وہ لوگ اس پر زیادہ خوش تھے جو عوام کو اس کے خلاف اکسانے میں پیش پیش تھے جیسے طلحہ ،زبیر ،سعد بن ابی وقاص،عائشہ اور معاویہ کیونکہ اس سلسلہ میں ان لوگوں کے ذاتی مقاصد تھے۔
وہ لوگ عثمان کی ان باتوں سے ناراض تھے کہ اس نے مروان بن حکم اور بنی امیہ کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط کر دیا ہے اور مختلف شھروں میں حکومتی عھدے اپنے قریبی رشتہ داروں کو دے دئےے چنا نچہ اکثر لوگوں نے اس کے قتل پر خوشی کا اظہار کیا اگرچہ اس سلسلہ میں ان کے نظریات اور خواہشات جدا جدا تھے ۔لیکن جہاں تک حضرت علی علیہ السلام کا تعلق ہے تو انھوں نے اس پیچیدہ معاملے کو سنبھالنے کی ہر ممکن کوشش کی اور یہ ان کے لئے امتحان کا وقت تھا لیکن معاملات بہت بگڑ چکے تھے۔
آپ کئی مرتبہ خلیفہ کے پاس تشریف لائے اور انھیں نصیحتیں کیں کہ وہ اعتدال پر رھیں اور حکمت سے کام لیں خلیفہ کو نصیحت کی کہ عدل سے کام لیں مظلوموں کے ساتھ انصاف کریں تاکہ امت کی اصلاح ہو سکے اور وہ اپنے مقصد میںکامیاب ہو جائیںاور ان کے امور کو غیروں کے حوالے نہ کیا جائے، حکومتی اداروں میں دین کو پائیدار بنایا جائے اور شرعی حدود کے مطابق عمل کو جاری رکھا جائے اور غریبوں فقیروں پر خصوصی توجہ دی جائے۔
لیکن حضرت علی (علیہ السلام)خلیفہ کے رویہّ کو بدلنے پر قادر نہیں تھے لہٰذا اس وجہ سے آپ اپنے گھر میں خاموشی سے بیٹھ گئے اور اپنا دروازہ بند کر لیا اور ظالم اور مظلوم کے درمیان قضاء کے فیصلے کا انتظار کرنے لگے۔
کلمات قصار میں آپ کا یہ رویہّ پوری کتاب لکھنے کی نسبت زیادہ واضح نظر آتا ہے۔ حضرت نے فرمایاکہ میں نے اس بات کو جامع شکل میں بیان کیا ہے کہ بے شک تم متاثر ہوئے لیکن یہ تاثر مفید نہیں رہا، تم روئے اور گڑگڑائے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا البتہ متاثر اور گڑگڑانے والے کے بارے میں خدا بھتر جانتا ہے۔( ۲۰ )
____________________
[۱] عقاید امامیہ شیخ محمد رضا مظفر ص ۱۱۵،۱۱۶۔
[۲] عقاید امامیہ ص۱۱۶۔
[۳] امام شرف الدین موسوی کی کتاب الفصول المھمہ ص ۵۵،۵۶۔
[۴] الارشاد ج۱ ص۱۹۰۔
[۵] تاریخ یعقوبی ج۲ ص۱۲۸۔
[۶] تاریخ یعقوبی ج۲ ص۱۳۲۔۱۳۳۔
[۷] سیرت ائمہ اثنی عشر ج۱ ص۳۳۳۔۳۳۴۔
[۸] سیرت ائمہ اثنی عشر ج۱ ص۳۳۴۔
[۹] سورہ احزاب:۷۰۔
[۱۰] سورہ قیامة آیت ۳۶۔
[۱۱] سورہ نباء:۱۷
[۱۲] شرح نھج البلاغہ ج ۱۲۔ص۷۹۔۸۰۔
[۱۳] البدایہ والنھایہ ابن کثیر ج۷ ص۵۳۔
[۱۴] ابن اثیر کی تاریخ کامل ج ۲ص۱۷۹،۱۸۱ سے اختصار کے ساتھ
[۱۵] سیرت آئمہ اثنی عشری ج ۱ ص۳۸۶۔
[۱۶] امامت و سیاست ج۱ ص۳۷۔
[۱۷] ابن اثیر کی کامل فی التاریخ ج۲۔ص۲۸۴۔۲۸۶۔
[۱۸] ابن اثیر کی کامل فی التاریخ۲ ص۲۸۶۔
[۱۹] کامل فی التاریخ ابن اثیر ج۲ ص۲۸۶۔
[۲۰] سیرت ائمہ اثنی عشر ج۱ ص ۳۸۹۔
دسویں فصل
حضرت علی (ع) اور خلافت
خطبہ شقشقیہ میں حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے بیعت کے حوالے سے اپنے ساتھ مسلمانوں کے رویہّ کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
اس وقت مجھے لوگوں کے ھجوم نے دھشت زدہ کردیا جو میری طرف بجوّکے ایال کی طرح لگاتار بڑھ رھاتھا۔ یہاں تک کہ عالم یہ ہوا کہ حسن(علیہ السلام)اور حسین (علیہ السلام) کچلے جارھے تھے۔ اور میری ردا کے دونوں کنارے پھٹ گئے تھے۔ وہ سب میرے گرد بکریوں کے گلے کی طرح گھیرا ڈالے ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود جب میں امور خلافت کو لے کر اٹھا تو ایک گروہ نے بیعت توڑ ڈالی اور دوسرا دین سے نکل گیا اورتیسرے گروہ نے فسق اختیار کیا گویا انھوں نے اللہ کا یہ ارشاد سنا ہی نہ تھا۔
( تِلْکَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِینَ لاَیُرِیدُونَ عُلُوًّا فِی الْاٴَرْضِ وَلاَفَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِینَ ) ( ۱ )
”یہ آخرت کا گھر ہم نے ان لوگوں کے لئے قرار دیا ہے جو دنیامیں نہ (بے جا)بلندی چاھتے ہیں نہ فساد پھیلاتے ہیںاور اچھا انجام پرھیز گاروں کے لئے ہے۔
پھر آپ خلافت کے متعلق اپنے نظریہ کو بیان کرتے ہوئے اسے قبول کرنے کی وجہ بیان فرماتے ہیں ۔
دیکھو! اس ذات کی قسم جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور ذی روح چیزیں پیدا کیں ،اگر بیعت کرنے والوں کی موجودگی اور مدد کرنے والوں کے وجود سے مجھ پر حجت تمام نہ ہو گئی ہوتی اور وہ عھد نہ ہوتا جو اللہ نے علماء سے لے رکھا ہے کہ وہ ظالم کی شکم پری اورمظلوم کی گرسنگی پر سکون وقرار سے نہ بیٹھیں تو میں خلافت کی باگ ڈور اسی کے کندھے پر ڈال دیتا اور اس کے آخر کو اسی پیالے سے سیراب کرتا جس پیالے سے اس کے اول کو سیراب کیا تھا اور تم اپنی دنیا کو میری نظروں میں کسی چھینک سے بھی زیادہ ناقابل اعتناء پاتے۔( ۲ )
ثابت بن قیس بن شماس انصاری کھتا ہے جب کہ ثابت، انصار میں پہلے شخص تھے جو بیعت کے بعد حضرت علی علیہ السلام سے گفتگو کر رھے تھے ۔
خدا کی قسم! اے امیرالمومنین اگر وہ آپ سے ولایت میں پہلے تھے تو وہ دین میں آپ سے مقدم نہ تھے اگر وہ کل آپ سے پہلے حکومت کر گئے ہیں تو آج آپ کے پاس امر خلافت ہے ان لوگوں پر آپ کی منزلت بھی مخفی نہ تھی اور آپ کی عزت سے جاھل نہ تھے وہ جو چیزیں نہیں جانتے تھے ان میں آپ ہی کے محتاج رھتے تھے لیکن آپ کے علم کے ہوتے ہوئے (ھم)کسی کے محتاج نہیں ہیں۔( ۳ )
صعصہ ابن صوحان کہتے ہیں:
یا امیر المومنین (ع)! خد ا کی قسم خلافت آپ کو زیب دیتی ہے اور آپ ہی اس خلافت کے مستحق و سزا وار ہیں،خلافت کو آپ نے سر بلندی عطا کی نہ کہ خلافت نے آپ کو بلند کیا، خلافت تو آپ کی محتاج ہے۔( ۴ )
خزیمہ بن ثابت انصاری ذوالشہادتین فرماتے ہیں :
یا امیرالمومنین! ہم آپ کے علاوہ کسی کو خلافت کے لائق نہیں سمجھتے ،اور ہم فقط آپ کی ذات کی طرف ہی لوٹ سکتے ہیں یقینا آپ ہی کو صدق دل سے تسلیم کرتے ہیں کیونکہ آپ لوگوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں ،سب سے زیادہ علم رکھنے والے ہیں اور آپ کی ذات کے علاوہ رسول اللہ (ص)کا جانشین مومنین کے لئے کوئی نہیں ہے اور ان میں آپ جیسا کوئی نہیں ہے ۔( ۵ )
پھر مالک بن حارث ابن اشتر کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں :
اے لوگو! یہ وصیوں کے وصی ہیں ،انبیا ء کے علم کے وارث ہیں ،عظیم مرتبہ والے ہیں اور سب سے بڑے سخی ہیں ،اللہ کی کتاب نے جس کے ایمان کی گواھی دی اور اللہ کے رسول نے آپ کی جنت رضوان کی گواھی دی ،وہ کون ہے جس میں اس قدر کامل فضائل ہوں جوکہ بلا شک و تردید سابق الایمان ہیں اور گذشتہ و آئندہ میں سب سے زیادہ عالم اور فاضل ہیں۔( ۶ )
ابو ثور کہتے ہیں جب حضرت علی علیہ السلام کی بیعت ہو رھی تھی آپ اپنی جگہ سے اٹھے تو لوگ آپ کے اردگرد جمع ہو گئے اورآپ کی بیعت کرنے لگے ۔اورحضرت بنی مازن کے صحن میں آگئے اور ایک کھجور کے درخت کے پاس ٹےک لگا کر کھڑے ہوگئے لیکن لوگ میرے اور ان کے درمیان حائل ہو گئے ۔
میں نے لوگوںکی طرف دیکھا کہ وہ کھنیوں تک اپنے ہاتھ آگے بڑھا کر آپ کے ہاتھوں پر بےعت کر رھے ہیں،مختلف ہاتھ نظر آرھے تھے، پھر آپ مسجد کی طرف تشریف لے گئے۔
سب سے پہلے جس شخص نے منبر پر چڑھ کر آپ کی بیعت کی، وہ طلحہ تھا اس نے ہاتھ بڑھا کر بیعت کی اس کی انگلیاں شل تھیں اس وقت حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا وہ بیعت نہ کرے جو بعد میں اس کو توڑ دے ،پھر زبیر آیا اس نے آپ کی بیعت کی اور پھر سعد اور دیگر اصحاب رسول نے بیعت کی۔( ۷ )
انساب الاشراف میں بلاذری کہتے ہیں کہ حضرت علی (علیہ السلام ) نے اس امر کو ضروری سمجھا جب آپ دوگروھوں کے درمیان اصلاح کرانے میں مایوس ہوگئے ، اورجب عثمان قتل کر دیے گئے۔
لوگ اس معاملے میں پریشان تھے اور چاھتے تھے کہ حتمی طور پر ان کا کوئی امام ہو جس کے زیر سایہ یہ جمع ہوں سب لوگ حضرت علی (علیہ السلام)کے پاس آئے اور وہ یہ کہہ رھے تھے۔ ہمارے امیر حضرت علی ابن ابی طالب (ع)ھیں اور آپ کے گھر میں داخل ہوگئے اور کھنے لگے، اپنے ہاتھ بڑھائیے تاکہ ہم آپ کی بیعت کریں۔
آپ نے فرمایا : تم میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے! ہاں البتہ اس خلافت کے حق دار اہل بدر ہیں، کسی بدر والے کو راضی کر لو کہ وہ تمہارا خلیفہ بن جائے جب کوئی اہل بدر نہ مل سکا تو حضرت علی (علیہ السلام)کے پاس آئے اور کھنے لگے۔ اے ابوالحسن! اس خلافت کاھمیں آپ سے زیادہ کوئی حق دار نظر نہیں آتا۔( ۸ )
ابن اثیر اپنی کامل میں کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان قتل کر دئے گئے تو حضرت رسول اعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے مہاجراور انصاری صحابہ کرام جمع ہو گئے ان میں طلحہ اور زبیر بھی تھے۔
یہ لوگ حضرت علی(علیہ السلام)کے پاس آئے اور ان سے عرض کی کہ لوگوں کے لئے امام کا ہونا ضروری ہے۔
حضرت نے فرمایا :مجھے کوئی حاجت نہیں ہے لہٰذا اپنی خلافت کے لئے اس کو منتخب کر لو جو اس پر راضی ہو ۔
وہ کھنے لگے ہم آپ کے علاوہ کسی کو پسند نہیں کرتے اور یھی جملہ انھوں نے کئی مرتبہ دھرایا اور حضرت سے کھنے لگے: ہم آپ کے علاوہ کسی کو خلافت کا حق دار نہیں جانتے کیونکہ آپ سے پہلے ایمان لانے والا کوئی نہیں ہے اور حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے قرابت داروں میں بھی آپ سے زیادہ قربت رکھنے والا کوئی نہیں ہے ۔
لیکن حضرت نے فرمایا:ایسا نہ کرو ،میں امیر بننے کے بجائے وزیر و وصی رسول بننے کو زیادہ پسند کرتا ہوں ۔وہ کھنے لگے خدا کی قسم ہم کبھی بھی ایسا نہیں کر سکتے یہاں تک کہ آپ کی بیعت نہ کر لیں ۔
حضرت نے فرمایا : چلو پھر مسجد میں چلتے ہیں میری بیعت نہ تو مخفی ہو سکتی ہے اور نہ مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ پر ہو سکتی ہے ۔
حضرت مسجد میں گئے لوگ آپ کی بیعت کرنے لگے لوگوں میں سب سے پہلے جس نے بیعت کی وہ طلحہ بن عبداللہ تھا، حبیب بن ذؤیب نے اس کی طرف دےکھا اور کہا:اِنّا للّٰه واِنّا اِلیه راجعون سب سے پہلے جس نے آپ کی بیعت کی اس کا ہاتھ شل (سوکھا ہوا)ھے لہٰذا یہ خلافت بخوبی تمام نہ ہو گی یعنی میں نے اس کی بیعت کو بد شگونی کی علامت سمجھا ،اس کے بعد زبیر نے بیعت کی۔( ۹ )
حضرت امیرالمومنین علی (علیہ السلام)نے اپنی خلافت میں فتنہ کو ختم کرنے کے لئے سب سے پھلا قدم یہ اٹھایا کہ آپ نے عثمان کے مقرر کئے ہوئے گورنروں کو معزول کردیا۔
یعقوبی اپنی تاریخ میں کہتے ہیں کہ ابو موسیٰ اشعری کے علاوہ حضرت علی علیہ السلام نے حضرت عثمان کے تمام والیوں کو معزول کر دیا ،اورقثم بن عباس کو مکہ کا عبداللہ بن عباس کو یمن کا قیس بن سعد بن عبادہ کو مصرکا اور عثمان بن حنیف انصاری کو بصرہ کا والی بنایا۔( ۱۰ )
بزرگ اور بااثر لوگوں کے ہوتے ہوئے حضرت عثمان نے اپنے قریبی رشتہ داروں اور اپنے بھائیوں کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط کردیا تھا لیکن حضرت علی علیہ السلام نے اپنی خلافت میں عدل و انصاف پر مبنی سیاست اورحضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے مطابق عمل کیا آپ نے اپنی خلافت کو سیرت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق چلایا۔
آپ نے بعض ایسے لوگوں کو خلافت سے معزول کیا جنھیںگذشتہ خلفاء نے بیس سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ سے حکومت دے رکھی تھی اور وہ اس پر پوری طرح قابض ہوچکے تھے، یہ موثق بات ہے کہ حضرت عمر بھی بیت المال کو مساوی تقسیم نہ کرتے تھے بلکہ وہ لوگوں کے اقدار اور سبقت اسلام کا لحاظ کرتے تھے اور ان کااس طرح تقسیم کرنا اسلامی اصول کے تحت نہ تھا بلکہ اپنے ذاتی مفاد کے لئے ہوتا تھا اوراسی طرح عثمان بن عفان نے اچھے اچھے لوگوں کو چھوڑدیا اور زمین میں فساد کرنے والوں کو والی بنا دیا اور اس طرح ان میں جاھلیت کا زمانہ پلٹ آیا ،اور اموی روح اسلام پر قابض ہو گئی۔ جو لوگوں کوبغیر حساب و کتاب کے دیتا تھا ۔ چنانچہ حضرت علی (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا :
اے لوگو!میں تم میں سے ہی ایک شخص ہوں۔ میراحصہ تمہارے برابر ہے اور جو تمھیں مشکلات ہیں ۔وہ مجھے بھی ہیں “میں تم کو تمہارے نبی(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے راستہ پر چلانے والا ہوں اور تمہارے درمیان اس چیز کو نافذ کروںگا جس کا مجھے حکم دیا گیا ہے ۔( ۱۱ )
سیاست کے میدان میں حضرت علی علیہ السلام کے عدل و انصاف کی وجہ سے تمام مومن اور مستضعف راضی تھے لیکن بعض خود غرض لوگ جنھوں نے دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ رکھاتھا وہ آپ سے ناراض ہو گئے لیکن حضرت علی (علیہ السلام)نے سیاست میں قدم رکھتے ہی اپنے نظریہ کا اعلان کر تے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
خبردار ہر وہ زمین کا ٹکڑا جسے عثمان بن عفان نے بخش دیا اور ہر وہ مال جو مال خدا تھا اور لوگوں میں بانٹ دیا گیا وہ اللہ کے گھر دوبارہ لوٹا دیا جائے گا کیونکہ حق کسی چیز سے باطل نہیں ہوسکتا اور اگر ایسا مال عورتوں کے مھر اور کنیزوں کے خریدداری پر بھی صرف کیا گیا ہو اور شھروں میں پھیلا دیا گیا ہو تو میں اس کو بھی وآپس پلٹا لوں گا کیونکہ عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے میں وسعت ہے اور جسے عدل کی صورت میں تنگی محسوس ہو اسے ظلم کی صورت میں اور زیادہ تنگی محسوس ہو گی۔
اے لوگو! تم میں سے کوئی شخص بھی یہ نہ کھے کہ وہ دنیا پر مر مٹے، انھوں نے زحمتیں اٹھائیں، دریاؤں میں راستے بنائے، گھوڑوں پر سوار ہوئے اور انھوں نے وظائف لئے لیکن جب ان سے یہ سب چیزیں روک لی گئیں اور انھیں ان کاموں سے دور کر دیا گیا جو وہ کرتے تھے تو وہ یہ نہ کھیںکہ ابن ابی طالب نے ہمارے حقوق ہم پر حرام کر دئے ہیں۔
آگاہ ہو جاؤکہ حضرت رسول اعظم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اصحاب میں سے مہاجر ہو یا انصار اس کی فضیلت اس کے صحابی ہو نے پر موقوف نہیں ہے کیونکہ فضل تو اللہ کے پاس ہے اور اس کا ثواب اور اجر دینا بھی اللہ پر ہے ۔آگاہ ہو جاؤکہ جو شخص بھی اللہ اور اس کے رسول کی پےروی کرے گا تو گویا اس نے ہمارے دین کی تصدیق کی ہے اور وہ ہمارے دین میں داخل ہوا ہے اور اس نے ہمارے قبلہ کو قبول کیا ہے پس تم اسلام کے حقوق اور حدود کا خیال رکھو ۔
تم اللہ کے بندے ہو اور یہ مال اللہ کا مال ہے اور یہ تم سب کے درمیان مساوی طور پرتقسیم کیا جائے گا یہ مال حاصل کرنے میں کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ہے ۔( ۱۲ )
عھد علی (ع)میں سیاسی اورمعاشرتی حالات
۱ ۔ بعض اصحاب کی بےعت شکنی،
اکثر انصار نے آپ(ع) کی بےعت کی مگر (اس وقت )چند لوگوں نے آپ(ع) کی بےعت نہ کی ان میں حسان بن ثابت، کعب بن مالک ،مسلمہ بن مخلد ،ابوسعید حذری ،محمد بن مسلمہ نعمان بن بشےر ،زید بن ثابت، رافع بن خدےج ،فضالہ بن عبےد ، کعب بن عجرة، یہ لوگ عثمانی تھے۔
جہاں تک احسان کاتعلق ہے تو یہ ایک شاعر تھا جو کچھ وہ کھتا ہے اس کی کوئی پروانھیں کرتا تھا اور زید بن ثابت کو عثمان نے اپنے دیوان اور بیت المال کا والی بنارکھاتھا جب عثمان کا محاصرہ ہوا تو اس نے کہا:آے گروہ انصار دوبارہ اللہ کے انصار بنو، اس سے ابوایوب انصاری نے کھاوہ تمہاری اس لئے مدد نہیں کرتے کہ تم میں اکثر غلام ہیں۔
کعب بن مالک کوعثمان نے صدقہ وصول کرنے پر مقرر کیا تھا اور جب ان سے یہ عھدہ واپس لیا تو اس نے عثمان کو چھوڑ دیا، اسی طرح عبداللہ بن سلام ، صھیب بن سنان ،مسلمہ بن سلمہ بن وقش، اسامہ بن زید ،قدامہ بن مظعون اور مغیرہ بن شعبہ نے بھی آپ کی بےعت نہ کی ۔( ۱۳ )
یعقوبی کہتے ہیں تےن افراد کے علاوہ قریش کے تمام لوگوں نے آپ کی بےعت کی ،یعنی مروان بن حکم ،سعید بن عاص اور ولید بن عقبہ یہ اپنی قوم کے سردار تھے چنانچہ انھوں نے کہا:
ھم نے آپ کو اس لئے اکےلا چھوڑ دیا ہے چونکہ آپ نے ابی صبرا کو جنگ بدر میں اور جہاں تک سعید کا تعلق ہے اس کے باپ کو بھی آپ نے جنگ بدر میں قتل کیا تھا اور اس کا باپ قریش کا نور تھا اور جہاں تک مروان کا تعلق ہے اس کے باپ کو بھی آپ نے برا بھلا کھا،جب و ہ عثمان کے پاس چلاگیا تھا ۔
ان لوگوں نے کہاکہ ہم اس بناء پرآپ کی بےعت کرےں گے جو کچھ ہم پہ گزرا ہے آپ اس کا جبران کرےں گے اور جو مال ہمارے پاس ہے ،وہ ہمارے پاس رھنے دیا جائے اور ہمارے بزرگوں کے قاتلوں کوقتل کیاجاناچاہئے، اس پر حضرت علی علیہ السلام غضبناک ہوئے اور فرمایا:
تم نے جو کچھ ذکر کیا ہے اور خاص طور پر مجھے چھوڑ دیا ہے ،تو کیا حق ےھی ہے!کہ جو کچھ تم پر گزرا ہے میں اس کا جبران کروں، تو یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ جو کچھ ہوا وہ خدا کے لئے ہوا اور رھایہ کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ میں بخش دوں، تو کیا اس میں خدا اور مسلمانوں کا حق نہیں ہے؟
بھرحال عدالت میں ہی تمہارے لئے آسانی ہے اور جہاں تک عثمان کے قاتلوں کو قتل کرنے کا مسئلہ ہے ان کا قتل کرنا جس طرح آج مجھ پر ضروری ہے کل بھی ضروری ہوگا۔
لیکن تم لوگوں نے اللہ کی کتاب اور اس کے نبی(ص) کی سنت کوچھوڑ دیا تو جس پر حق مشکل دکھائی دے تو باطل اس کے لئے مزید مشکل بن کر سوار ہو گا، اگر تم چاھو تو اپنے حامیوں کے ساتھ جاکرملحق ہو جاؤ۔
اس کے بعدمروان کھتا ہے کہ ہم آپ کی بےعت کرتے ہیں اور آپ کے ساتھ ہیں جو آپ کا نظریہ ہے وہی ھمارا بھی ہے ۔( ۱۴ )
ابن کثیر اپنی سند کے ساتھ کہتے ہیں کہ مروان بن حکم ،ولید بن عقبہ اور کچھ دوسرے لوگ شام کی طرف بھاگ گئے اسی طرح واحدی کہتے ہیں کہ لوگوں نے مدینہ میں حضرت علی علیہ السلام کی بےعت کی اور سات افراد نے بےعت نہیں کی انمیں ابن عمر ،سعد بن ابی وقاص وغیرہ شامل ہیں ۔( ۱۵ )
۲ ۔سیاسی حیلوں اور کچلنے والی د شمنی کا ظھور،
یعقوبی اپنی تاریخ میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ حضرت عثمان کے قتل سے پہلے مکہ سے چلی گئیں تھیںچنا نچہ جب حج کر کے واپس آرھی تھیں توواپسی میں ابن ام کلاب سے ملاقات ہوئی اس سے پو چھا عثمان کا کیا ہوا اس نے کھاکہ وہ قتل ہوگیا ہے اس نے کھاکہ یہ سن کر عائشہ نے کھایہ تو غضب ہو گیا۔
کچھ دیر کے بعد کسی دوسرے سے ملاقات ہوئی اس سے پو چھا افراد کس کی بےعت کررھے ہیں اس نے کہاکہ طلحہ کی۔
حضرت عائشہ کہتی ہیں اس دو انگلیوں والے کی اور پھر راستے میں کسی دوسرے سے ملاقات ہوئی تواس سے بھی پوچھتی ہیں لوگ کیا کررھے ہیں وہ شخص کھتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی بےعت کررھے ہیں۔
حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ خدا کی قسم میں اس کی بےعت نہ ہونے دونگی، اور پھر مکہ میں واپس لوٹ آئیں کچھ دن قیام کیا ادھر چند روز بعد پھر طلحہ اور زبیر حضرت علی علیہ السلام کے پاس آئے اوردونوں نے کھاکہ ہم عمرہ کرنا چاھتے ہیں لہٰذاآپ ھمیںاجازت دے دیں ۔
ان میں سے بعض لوگوں نے کھاکہ حضرت علی( علیہ السلام )نے ان دونوں سے یا بعض اصحاب سے فرمایا: خدا کی قسم انھوں نے عمرہ کا ارادہ نہیں کیا تھا۔بلکہ ان دونوں نے تباھی وبربادی کاارادہ کیا تھا اوروہ مکہ میں حضرت عائشہ کے ساتھ جاملے اور اسے میرے خلاف خروج اوورقیام کے لئے مجبور کیا۔( ۱۶ )
جب حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب( علیہ السلام )کو معلوم ہواکہ طلحہ اور زبیر صرف اس وجہ سے مخالفت کر رھے ہیں کہ ہم مسلمانوں کے درمیان بیت المال کی تقسیم برابر اور عدل کے ساتھ کرتے ہیں ، تو ارشاد فرمایا:
جہاں تک بیت المال کاتعلق ہے تو،اس کے بارے میں کسی کا کسی پر کوئی اثر نہیں ہے اللہ تعالی نے اس کی تقسیم کو پورا پورا کر دیا ہے پس یہ اللہ کا مال ہے اور تم اللہ کے مسلمان بندہ ہو اور یہ اللہ کی کتاب ہے اس کا ہم نے اقرار کیا ہے اور اسے تسلیم کیا ہے اورھمارے نبی کا زمانہ ہم پر واضح ہے اور جو شخص اس پر راضی نہیں ہے وہ جوچاھے کرے ،اللہ کی اطاعت میں عمل کرنے والے کے لئے کسی قسم کی کوئی وحشت نہیں ہے ۔
پھر آپ منبر سے نیچے تشریف لے آئے آپ(ع) نے دو رکعت نماز پڑھی اور پھر عمار بن یاسر اور عبدالرحمن بن حسل کو طلحہ اور زبیر کے پاس بھےجا اور ان سے کھاتمہاراحصہ تھوڑا ہے اور تمہاری امیدیں زیادہ ہیں میں تمہارے لئے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔
مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم کہتے ہو کہ میں نے تمہارا کچھ ضروری حق ادانھیں کیاھے ،تو وہ کھنے لگے معاذاللہ ،پھر فرمایا کہ کیا اس مال سے میں اپنے لئے بھی کچھ رکھتا ہوں ؟انھوں نے کھامعاذ اللہ ایسا نہیں ہے، پھر فرمایا :کیا کسی مسلمان کا کوئی ایسا حکم یا حق ہے جسے میں نے ادا نہ کیاھو یا کم دیاھو ؟
کھنے لگے معاذاللہ ایسا بھی نہیں ہے، حضرت نے فرمایا: پھر کیا وجہ ہے کہ تم لوگ اسے پسند نہیں کرتے اور میرے خلاف غلط پروپیگنڈہ کر رھے ہو اس پر وہ کھنے لگے کہ آپ عمر ابن خطاب کی تقسیم کے خلاف لوگوں میں مال تقسیم کرتے ہیں آپ نے ھمارا حصہ عام لوگوں کے برابرکر دیا ہے ۔
تب حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
جہاں تک مساوی تقسیم کا تعلق ہے تو مساوی ہی رھے گی کیونکہ مجھے اور تمھیں معلوم ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے اور اللہ کی کتاب بھی اس پر شاھد ہے ۔
اورجہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ ھمیں مال اضافی دیا جائے اور جو ھماری تلوارےں اور تیروں کی وجہ سے ھمیں حاصل ہوا ہے اس میں ہم اور دوسرے لوگ برابر کے شرےک نہیں ہیں بلکہ وہ لوگ جو سابق الاسلام ہیںاور انھوں نے اپنی تلواروں اور تیروں کے ساتھ اسلام کی نصرت کی ہے انھیں اس میں مقدم کیاجائے۔
لیکن اس سلسلہ میں پیغمبر اکر(ص)م کسی کو فضیلت نہیں دیتے تھے اور ان کے سابق الاسلام ہونے کا بھی کوئی اثر نہ تھا اللہ تعالی سابق اور مجاھد کو قیامت کے دن ان کے اعمال کی جزا دے گا۔
خدا کی قسم! میرے نزدیک تم دونوں اوردوسرے لوگوں کے لئے اس مساوی تقسیم کے علاوہ کچھ نہیں ہے پھر دعائیہ کلمات فرمائے اللہ تعالی اس شخص پر رحم کرے جو حق کی رعاےت اوراس کی مدد کرتا ہے اور جب ظلم کو دےکھتا ہے تو اسے دور کرتا ہے۔( ۱۷ )
اس زمانہ میں جو مشکلات اور مسائل سامنے آئے ان میں سے ایک یہ ہے کہ بصرہ کے رافضی بھی مروان بن حکم کی قیادت میں جنگ جمل کافتنہ ختم ہونے کے بعد معاویہ سے جاملے اور عمر بن عاص کا گروہ بھی معاویہ سے جاملا ۔
یعقوبی اپنی تاریخ میں کہتے ہیں کہ معاویہ نے عمر ابن عاص کے پاس خط لکھا :
اما بعد: جب کہ حضرت علی علیہ السلام، طلحہ اور زبیر اور حضرت عائشہ کے معاملے (کی خبر )تم تک پہنچ چکی ہے اورمروان نے بصرہ کے رافضیوں کو ان سے علیحدہ کر کے ہمارے پاس بھیج دیا ہے اور ہمارے پاس حضرت علی علیہ السلام کی بےعت کے لئے جرےد بن عبداللہ آیا ہے، تمہارے بارے میں میرا بھی یھی خیال ہے کہ تم بھی جلد میرے پاس پہنچ جاؤ۔( ۱۸ )
۳ ۔حضرت امیرالمؤمنین (ع)کی بےعت سے معاویہ کا انکار
حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام نے معاویہ کو ایک خط لکھا جس میں آپ نے اسے بےعت کرنے کی دعوت دی اور اھم امور کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :
امابعد ! تمہارامدینہ میں آکر میری بےعت کرناضروری ہے اور تم (ابھی تک ) شام میں ہی ہو جب کہ ان تمام لوگوں نے میری بےعت کر لی ہے جنھوں نے ابو بکر، عمر اور عثمان کی بےعت کی تھی اورحاضر و غائب تمام لوگوں نے بیعت کرلی ہے اور کسی نے بھی انکار نہیں کیا ہے اور مہاجرین وانصار کی شوریٰ ہے جس نے اتفاق کے ساتھ مجھے اپنا امام تسلیم کرلیا ہے۔اور میری خلافت میں اللہ کی رضا بھی ہے اور جوشخص اس امر کی مخالفت کرے گا تو وہ غیر سمجھا جائے گا اوراسے ان لوگوں کی طرف لوٹایا جائے گا جو غیر ہیں۔
اور جواللہ کی ولایت اور مومنین کا راستہ چھوڑ کر کسی اور راستہ کا اتباع کرےگا تو اسے قتل کر دیا جائے گا اور جس نے اس ولایت کو تسلیم نہ کیا وہ واصل جھنم کیا جائے گا اورجھنم بہت براٹھکانا ہے ۔
طلحہ اور زبیر نے میری بےعت توڑدی ہے اور دونوں دھوکا کرنے کے بعد تیرے پاس آگئے ہیں ،جب کہ حق آگیا ہے اور باطل بھاگ گیا ہے اور اللہ کا امر ظاہر ہوگیا ہے جب کہ یہ لوگ اسے پسند نہیں کرتے۔
جس طرح دوسرے مسلمانوں نے بیعت کی ہے تم بھی اسی طرح بیعت کرو کیونکہ تمہارے لئے یھی بھتر ہے اور اسی میں تمہاری عافےت ہے اور تو کسی مصیبت میںگرفتار نہیں ہو گا اور اگر تو نے اس سے انکار کیا توتجھے سرکوب کرنے کیلئے مجھے اللہ کی مدد کافی ہے اورمجھ تک تیرے بارے میں عثمان کے قتل کے متعلق بہت سی باتیں پھنچی ہیں لہٰذا اس میں تیری بھلائی ہے کہ اس بےعت میں داخل ہوجا جس میں دوسرے مسلمان داخل ہوئے ہیں پھر ان کا محاکمہ کرنا میرے ذمہ ہوگا اورمیرا کام تمھیں اللہ کی کتاب کے مطابق دعوت دینا ہے اور جو باتیں تم اپنے خیال میں تصور کرتے ہو وہ صرف فریب بازی اور دھوکا دھڑی پر مبنی ہیں ۔
مجھے اپنی زندگی کی قسم اگرتم حقےقت کو عقل کی نگاھوں سے غور وخوض کرو اور اپنی خواہشات کو دور کرو تومجھے عثمان کے خون سے بری پاؤ گے اور تمھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گاکہ تم جس گروہ سے تعلق رکھتے ہو اس کا خلافت اور شوری میں کوئی حصہ اور مقام نہیں ہے میں نے تمہاری طرف جرےد بن عبداللہ کو بھیجا ہے وہ اہل ایمان اور اہل ہجرت سے ہے پس تم بےعت کرو طاقت ا ور قوت فقط اللہ کے لئے ہے۔ والسلام( ۱۹ )
جب جرےر معاویہ کے پاس پھنچے تو اس نے عمر بن عاص سے مشورہ طلب کیا، عمرو نے اسے خط لکھا اور اس میں یہ مشورہ دیا کہ حضرت عثمان کے خون کے انتقام کے معاملہ پر ڈتے رہو اور بہانہ بنا کر اہل شام کوجنگ کے لئے آمادہ کرلو۔
اس لئے معاویہ نے جامع دمشق میں عثمان کا خون آلود کرتہ اور اسکی بیوی نائلہ کی انگلیوں کے خون سے آلودہ قمیص کولٹکادیا اور اہل شام سے عھد لیا کہ وہ اس وقت تک آرام سے نہیں بےٹھیں گے اور اپنی عورتوںکے قریب نہ جائیں گے جب تک عثمان کے خون کا بدلہ نہ لے لیں اس کے بعدمعاویہ نے جرےد کے ہاتھ حضرت علی علیہ السلام کے خط کا جواب اس طرح لکھا۔
امابعد :اگرچہ قوم نے آپ کی بےعت کر لی ہے اور آپ حضرت عثمان کے خون سے بری ہیں اور آپ بھی حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کی طرح ہیں لیکن آپ نے مہاجرین وانصار کو عثمان کے حوالہ سے دھوکا دیا ہے یہاں تک کہ ان کے جاھلوں نے آپ کی بےعت کر لی اور کمزور لوگوںنے آپ کی تقویت کی جب کہ اہل شام آپ سے جنگ کرنا چاھتے ہیں مگر یہ کہ آپ عثمان کے قاتلوں کو ہمارے حوالے کر دیں۔
یھی آپ کیلئے بھترہو گا مسلمانوں کے درمیان امر شوریٰ قرار دیں اور شوریٰ بھی اہل شام کے افراد پر مشتمل ہو نہ کہ اہل حجازکے افراد پر ،البتہ آپ کے قریش میں سب سے پہلے اسلام لانے اور حضرت رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) قرابت جیسی فضیلتوں کا میں منکر نہیں ہوں ۔( ۲۰ )
اس و قت حضرت علی علیہ السلام نے معاویہ کے خط کا جواب دیتے ہوئے ارشادفرمایا :
اما بعد:مجھے ایسے شخص کا خط ملا جو ایسی بصارت نہیں رکھتا ہے جس سے وہ ھدایت حاصل کرے اسے سعادت اور ھدایت کی طرف بلانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ وہ اپنی خواہشات پر سوار ہے وہ یہ تصور کرتا ہے کہ میں نے اسے عثمان کے سلسلہ میں دھوکا دیاھے مجھے اپنی زندگی کی قسم میںخود مہاجرین و انصار میں سے ہی ایک فرد ہوں۔میں نے بھی کیا جو انھوں نے کیا،اور جیسا کہ انھوں نے کھامیں نے وہی کیا لہٰذا میں کسی دوسری قوم کے ساتھ نہیں ہوں۔
جہاں تک تمہارا یہ کھنا ہے کہ اہل شام کی شوریٰ قائم کی جائے تو بتاؤ شام میں کون ہے جو خلافت کی صلاحیت رکھتا ہو تم جس کا بھی نام لوگے بتاؤ تو مہاجرین اور انصار اس کی تکذےب کرےں گے اور جہاں تک تو نے میرے سوابق اور فضائل کا اعتراف کیا ہے تو اسمیں تو ناتواں و عاجز ہے کیونکہ اگر تو ان کوختم کرنے پر قادر ہوتا تو یقینا ختم کرنے کی لاحاصل کوشش کرتا ۔
پھر آپ نے اصبغ بن نباتہ تمیمی کے ہاتھ خط روانہ کیااور خودلشکر کی طرف نکل آئے اور اصبغ شام کی طرف روانہ ہو گیا اصبغ کھتا ہے کہ میں جب معاویہ کے پاس پھنچا تو عمر ا بن عاص معاویہ کے دائےں طرف اور ذوالکلا ع و حو شب اس کی بائےں طرف اور ان کے ساتھ اس کا بھائی عقبہ اور ابن عامر، ولید بن عتبہ ،عبد الرحمن بن خالد بن ولید ،شرحبیل بن ا لسمط اور ابو ھرےرہ بیٹھے ہوئے تھے جب کہ اس کے سامنے ابو داؤد ،نعمان بن بشےر ابو امامہ باھلی بےٹھے تھے میں ان کے پاس گیا اور انھیں حضرت علی (ع)کاخط دیا اس نے خط کو پڑھااور کھنے لگاکہ:
اےسا لگتا ہے کہ علی( علیہ السلام) عثمان کے قاتل ہمارے حوالے نہیں کرنا چاھتے اصبع کھتا ہے کہ میں نے کھاکہ اے معاویہ تمھیںعثمان کے قاتلوں کی ضرورت نہیں بلکہ تم کو تو صرف حکومت اور سلطنت کی ضرورت ہے اگر تجھے عثمان کے قاتلوں سے کوئی سروکار ہوتا تو تم علی( علیہ السلام) کی مدد کرتے لیکن تم نے اس مسئلہ کو نظر انداز کردیا ہے اور اس مسئلہ سے انتہائی دور ہو گئے ہو یہ دنیا حاصل کرنے کا ایک بہانہ ہے یہ سن کر معاویہ غضبناک ہوگیا اورمیں نے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے ابو ھریرہ سے کہا:
اے ابو ھرےرہ تم تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہو مجھے اس رب کی قسم جس کے علا وہ کوئی معبود نہیں ہے میںتجھے رسول خداکا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ تو بتا کیا تم نے بھی غدیر خم پر حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت علی علیہ السلام کے حق میں یہ کہتے سنا ہے جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے ۔
ابو ھرےرہ کھتا ہے کیوں نہیں خدا کی قسم میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کلمات فرماتے ہوئے سنا ہے، میں نے کھااے ابو ھرےرہ کیوںتو اس کے دشمن کو والی سمجھ رہاھے اور حضرت کے دشمن کی محبت میں سرمست ہے ابوھرےرہ نے سرد آہ لی اور کہا:
اِنّا للّٰه واِنّا اِلیهِ راجعون
یہ سننا تھاکہ معاویہ کا چھرہ متغیر ہوا اور کھنے لگا تم نے یہ کیا گفتگو شروع کر رکھی ہے تم اہل شام کو عثمان کے خون کا مطالبہ کرنے میںدھوکہ نہیں دے سکتے کیونکہ وہ مظلومےت کے ساتھ محترم شھر اور رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے حرم میں اپنی بیوی کے سامنے مارا گیا۔ یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے اس کو دھوکہ دے کر قتل کر دیا اور آج وہ اس کے مدد گار اور دست وبازوبنے بےٹھے ہیں حضرت عثمان کی طرح کسی کا خون نہیں بہایا گیا ۔
ذوالکلا ع ،حوشب اور معاویہ بن خدےج کہتے ہیں کہ اے معاویہ ہم تیری مدد کریں گے یہاں تک کہ تیری مراد بر آئے یاکسی ایک کو قتل کر دیا جائے اس وقت اصبغ کھڑے ہو کر کچھ اشعارپڑھتے ہیں جن کو سن کر معاویہ نے کھاکہ تم قاصد بن کر آئے ہو یا ھماری عیب جوئی کرنے آئے ہو؟یہ سن کو اصبغ عراق کی طرف روانہ ہوگئے( ۲۱ )
۴ ۔ حصول دنیا کےلئے کھلم کھلا دشمنی اور زمانہ جاھلیت کے رسم و رواج۔
اس زمانے میں حصول دنیا کے لئے کھلم کھلا دشمنی ، زمانہ جاھلیت کی طرف پلٹا‘ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سے دوری اوراحکام اسلام سے انحراف عام ہو گیا تھا اور ھماری بات پر زید بن عوام کی لوٹ گھسوٹ شاھد ہے جس کا تذکرہ بخاری کی جلد ۵ صفحہ ۲۱ کتاب جہاد کے باب برکة الغازی فی مالہ پر کیا ہے۔
جناب زیدکے مدینے میں گیارہ اور بصرہ میں دو گھر تھے جبکہ مصر اور کوفہ میں ایک ایک گھر تھا اس کی چار بیویاں تھیں اور ہر بیوی کی جائیداد ۷۷ لاکھ کے لگ بھگ تھی بخاری کہتے ہیں اس کا تمام مال ۵ کروڑ اور دو لاکھ پر مشتمل تھا۔( ۲۲ )
جہاں تک طلحہ بن عبداللہ التیمی کاتعلق ہے تواس نے کوفہ میں ایک ایسا گھر بنایا ہوا تھا جولوگوں میں دارطلحتےن کے نام سے معروف تھا اور اس کا عراق میں روزانہ ایک ہزار دینا ریا اس سے کھیں زیادہ کا غلے کا کاروبار تھا۔
اور اس سے بھی کھیں زیادہ مال ناحےةالسراة میں تھا اور اس کا مدینہ میں ایک بہت بڑا گھر تھا جسے اس نے چونے ‘اینٹوں اور کاشی سے بنوایا تھا ابراھیم بن محمد کہتے ہیںکہ جو طلحہ نے جو مال چھوڑاتھا اس کی قیمت تقریبا ۳۰ لاکھ درھم بنتے ہیں ابن جوزی کہتے ہیں کہ طلحہ نے بے ایمانی سے تےن سو سونے کے لادے ہوئے اونٹ ھتھیا لئے تھے ۔( ۲۳ )
جہاں تک عبد الرحمن بن عوف زھری کا تعلق ہے اس کے متعلق ابن سعد کہتے ہیں کہ عبد الرحمن اپنے بعد ایک ہزار اونٹ تےن ہزار بھےڑےں اور سو گھوڑے چھوڑ ے جو بقیع میں چرتے تھے اور وہ زر اعت کرتا تھا اور اس نے سونے کے کاروبار میں کافی دھوکا دھڑی کی تھی اور اس کی موجودگی میںیہ کام انجام پایاجب کہ لوگوں میں یہ بات ظاہر ہے۔( ۲۴ )
ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی (انھیں مثالوں کی روشنی میں) دےکھ لیں چنا نچہ ان جیسے لوگوں کے لئے حضرت علی علیہ السلام نے اپنی خلافت کے ابتدائی دنوں میں ارشاد فرمایا:
خبر دار : جس دنیامیں تم نے آنکھیں کھولی ہیں اس میں تمہاری خواہشےں اور تمنائیں بھی ہیں کبھی تم اسمیں ناراض اور کبھی راضی رہو گے یہ دنیا تمہارا کوئی گھر نہیں جس کے لئے تمھیں پیدا کیا گیاھے کھیں یہ تمھیں دھوکہ نہ دے دے اس لئے میں تمھیں اس سے آگاہ کرتا ہوں ۔( ۲۵ )
ابن ابی الحدید بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر نے خلافت کی باگ ڈور سنبھال لی تو اس نے مال فئی میں بعض لوگوں کو دوسروں پر فضیلت دی اور جس طرح پہلے مال تقسیم کیا جاتا تھا اس روش کو بھلادیااسطرح عمر کی خلافت (کی مدت) میں اضافہ ہو گیا کیونکہ اس نے لوگوں کے دلوں کو مال ودولت کی وجہ سے جیت لیا تھا اور جن لوگوںکے حقوق کم کئے گئے تھے انھوں نے صبرکرلیا اوروہ قناعت کے عادی بن گئے اورحکمرانوںنے یہ خیال تک نہ رکھاکہ یہ سلسلہ کب تک جاری رھے گا۔
یااس میں کبھی کوئی تبدیلی بھی واقع ہوگی ۔جب حضرت عثمان خلیفہ بنے تو انھوں نے حضرت عمر کے طریقہ کارکو جاری رکھا اور اپنے باوثوق ساتھیوں کو پہلے سے بھی زیادہ مال غنیمت دیا۔
لیکن جب حضرت علی علیہ السلام مسند خلافت پر جلو ہ فگن ہوئے توانھوں اس معاملے کو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے مطابق چلا یا حالانکہ پہلے دونوں خلفاء کے زمانے میں ( ۲۲ سال تک) حضرت رسول خدا(ص)کی سیرت اورر وش کے خلاف عمل ہوتا رھالیکن جب حضرت علی (ع) سیرت کے مطابق عمل شروع ہو اتو یہ ان لوگوں کو برا لگا ،اسی وجہ سے انھوںنے کینہ و حسدکی بنا پر آپ کی مخالفت کی اور جو ان کے جی میں آیا وہ انھوں نے کھا۔( ۲۶ )
آپ ملاحظہ کرےں گے کہ کس طرح زمانہ جاھلیت کے کےنے ظاہر ہو گئے اور دوبارہ نئے انداز میں حق کے ساتھ برسر پیکارہو گئے ابن ابی الحدید حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی خلافت میں بعض سرداروں کی مخالفت کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ صبح کی نماز کے بعدلوگ مسجدمیں تھے کہ طلحہ اور زبیرحضرت علی علیہ السلام کے نزدیک سے اٹھ کر دوسری جگہ جا بیٹھے اس کے بعد مروان ، سعید اور عبد اللہ بن زبیر بھی ان دونوں کے پاس جا بےٹھے پھر قریش کا ایک گروہ آیا اور وہ بھی ان کے ساتھ بےٹھ گیا۔
یہ لوگ راز داری میں کافی دےر باتیں کرتے رھے اس کے بعد ولید بن عقبہ بن ابی معےط وہاںسے اٹھا اور حضرت علی علیہ السلام کے پاس آیااور کھنے لگا اے ابو لحسن :آپ نے ےقےنا ہم سب پر ظلم کیا تھا جنگ بدر میں آپ نے میرے باپ کوقتل اور میرے بھائی کوذلیل و رسواکیا ہے۔
جہاں تک سعید کا تعلق ہے تو آپ نے اس کے باپ کوجنگ بدر میں قتل کر دیا تھا حالانکہ کہ وہ قریش کا سردار تھا اور جہاں تک مروان کی بات ہے تو اس کا باپ جب عثمان کے پاس آیا تھا تو آپ نے اس کے باپ کی بے عزتی کی تھی۔
جب کہ ہم بنی عبد مناف آپ کے بھائی بند کھلاتے ہیں۔ آج ہم نے آپ کی بےعت کی ہے تا کہ آپ بھی عثمان کی طرح ھمیں مال ودولت سے نوازتے رھیں اورعثمان کے قاتلوں کو قتل کرےں اور اگر آپ نے ھمیںسب کو برابر سمجھا تو ہم آپ کاساتھ چھوڑ دیں گے اور شام میں جا کرآپ کے مخالفوں میں شامل ہو جائیں گے۔
اس وقت حضرت علی (ع)نے ارشاد فرما یا :
تم لوگوں نے جس ظلم کا تذکرہ کیا ہے در حقیقت خود تم لوگوںنے ظلم کیا ہے میں نے نہیں کیا اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ پہلے کی طرح جو کچھ مال ومتاع تمھیں ملتا تھا میں بھی اسی طرح تمھیں دے دیتاھوں تو سن لو میرے لئے ضروری نہیں ہے کہ میں اللہ کے حق کو تم اور تم جیسے دوسرے لوگوں پر ضائع کردوں اور جہاں تک عثمان کے قاتلوں کا تعلق ہے تو جس طرح ان کو کیفر کردار تک پھنچانا آج مجھ پرضروری ہے اسی طرح کل بھی مجھ پرلازم تھا۔
اب تم مجھے ڈراتے ہو کہ میں تم پر احسان کروں اور میں تمھیں گرفتارہو نے کا خوف دلاتا ہوں۔چنا نچہ ولید وہاں سے اٹھ کر اپنے ساتھیوں کے پاس چلاگیا اور ان سے بات چیت کرنے میں مشغول ہو گیاپھر یہ لوگ حضرت علی (ع) کی عداوت اور دشمنی کی قسم کھا کروہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔( ۲۷ )
اگر ہم ان کے زمانہ جاھلیت کی طرف پلٹنے کے تمام شواھد پیش کرنا چاھیں تو یہ کتاب اس کی اجازت نھیںدیتی البتہ اس قسم کے بہت سے شواھد (تاریخ میں)موجود ہیں۔
ان میں ایک واضح ترےن شاھد یہ ہے کہ ان لوگوں نے غلاموں ‘ غلام زادوں، فاسقوں ‘فاجروں ‘ حضرت رسول خدا (ص)کے دشمنوں اوراپنی حکومت میں بڑے بڑے عھدے دیئے اورانھیںگورنر تک بنایا۔
اسلام کے دشمنوں اور اسلام کو دھوکا دینے والوں کوان کی داستانےں تاریخ اور سیرت کی کتب میں مشھور ومعروف ہیں ۔
ان میں ایک شاھد یہ ہے کہ اپنے عھدیداروںکے ساتھ خلیفہ ثالث تشریف فرما تھے اس واقعہ کو ابوھلال عسکری نے اپنی کتاب اوائل میں اس طرح بیان کیا ہے کہ معاویہ عثمان کی خلافت کے آخری ایام میں مدینہ آیا عثمان بعض لوگوں کے درمیان بےٹھے ہوئے تھے اور پیش آنے والے اھم مسائل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہہ رھے تھے۔کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کافر کی توبہ قبول فرماتے تھے لہٰذا میں بھی اپنے چچا کو دوبارہ واپس بلاتا ہوں کیونکہ اس نے توبہ کر لی ہے اور اس کی توبہ قبول کر لی گئی ہے اگرحضرت ابو بکر اورحضرت عمر کی بھی اس کے ساتھ وہ رشتہ داری ہوتی جو میرے ساتھ ہے وہ بھی اسے ضرورپناہ دیتے ۔
جہاں تک مجھ پر یہ اشکال کیا جاتا ہے کہ میں خدا کے مال سے لوگوں کو نوازتا ہوں تو یہ اس لئے ہے کہ میں خلیفہ ہوں اور اس مال کے متعلق وہی حکم دیتا ہوں جس میں امت کی مصلحت دےکھتا ہوں اگر اےسا نہ ہو تو پھر خلیفہ کس چیز کا ہوا۔معاویہ نے اس کی بات کاٹی اور اس کے سامنے جو مسلمان موجود تھے انھیں مخاطب کر کے کھنے لگا (ھماری شاھد مثال بھی یھی ہے )
اے مہاجرین! آپ جانتے ہیں کہ اسلام سے پہلے یہ اپنی قوم کا سردار تھا تمام امور اسی کے سپرد تھے یہاں تک کہ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہوئے تو اس نے اسلام قبول کیا ۔بڑے بڑے لوگ اس کی رائے کے سامنے کمزور پڑ جاتے تھے اور تم پربھی سبقت کی وجہ سے ہی مقدم ہے نہ کسی اور وجہ سے۔
لیکن آج یہ کھاجاتا ہے کہ فلاں قبیلہ فلاں خاندان جب کہ اس سے پہلے یہ چیزےں نہ تھیں اور جن امور میں تمہاری استقامت ہے اسی میں تم دوام پیدا کرو اور اگر تم نے ہمارے اس شےخ کو چھوڑا تو منہ کے بل گرو گے اور یہ تمہارے اختیار میں ہے اگر اےسا ہوا تو تمہارااس جگہ ثابت قدم رھنا اور ہجرت کرنا تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا ۔
حضرت علی علیہ السلام نے اس سے کھاکہ اے کثیف عورت کے فرزند!
ان تمام باتوں کا تم سے کیا تعلق ہے تو معاویہ کھتا ہے اے ابولحسن میری ماں کا اس طرح تذکرہ نہ کرو کیونکہ وہ عورتوں میں اس قدر خسےس نہ تھی اگر آپ کے علاوہ کوئی اور اس طرح کھتا تومیں جواب دیتا۔ حضرت علی(علیہ السلام) غصے کی حالت میںوہاں سے اٹھ کر باھر جانے لگے تو عثمان نے کہابےٹھ جائےے آپ نے فرمایا کہ میں نہیں بےٹھوں گا ،عثمان کھنے لگا میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ بیٹھ جائیں ۔
حضرت نے انکار کیا اور چلے گئے( ۲۸ )
____________________
[۱] سورہ قصص آیت۸۲۔
[۲] شرح نھج البلاغہ ج۱ص۲۰۰۔۲۰۲۔
[۳] تاریخ یعقوبی ج۲ ص۱۷۹۔
[۴] تاریخ یعقوبی ج۲ ص۱۷۹۔
[۵] تاریخ یعقوبی ج۲ص۱۷۹۔
[۶] تاریخ یعقوبی ج۲ص۱۷۹۔
[۷] امامہ و سیاسة،ابن قتیبہ ج۱ ص۴۷۔
[۸] سیرت ائمہ اثنی عشر ج۱ ص۳۹۱۔
[۹] الکامل فی التاریخ ج۲ ص۳۰۲۔
[۱۰] تاریخ یعقوبی ج۲ص۱۷۹۔
[۱۱] سیرت ائمہ اثنی عشر ج۱ ص۳۹۳۔۳۹۴۔
[۱۲] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص۲۶۹۔اور ج ۷ ص۳۷۔
[۱۳] الکامل فی التاریخ ابن اثیر ج۲ص۳۵۳ ۔
[۱۴] تاریخ یعقوبی ج۲ ص۱۷۸،۱۷۹۔
[۱۵] لبدایہ والنھایہ ج ۷ص۲۱۴۔
[۱۶] تاریخ یعقوبی ج۲ ص۱۸۰۔
[۱۷] شرح نھج البلاغہ ج۷ص۴۰،۴۲۔
[۱۸] تاریخ یقعوبی :ج۲ص ۱۸۴۔
[۱۹] سبط جوزی کی تذکرہ الخواص ۔صفحہ۸۱۔
[۲۰] تذکرةالخواص۔ ص۸۱ ،۸۲۔
[۲۱] تذکرةالخواص ص۸۴۔
[۲۲] لغدیر ۔ ج ۸ ۔ ص ۲۸۲۔
[۲۳] ا لغدیر۔ ج ۸ ص۔۲۸۳۔
[۲۴] الغدیر ج۸ ص۲۸۴
[۲۵] شرح نھج البلاغہ ج۷ ص۴۰
[۲۶] شرح نھج البلاغہ ج۷ ص ۴۲ ،۴۳۔
[۲۷] شرح نھج البلاغہ ج۷ ص۳۸،۳۹۔
[۲۸] شرح نھج البلاغہ ج۱ص۳۳۹۔
گیارہو یں فصل
اصلاح امت
قارئین کرام!یہ عنوان بھی روز روشن کی طرح واضح ہے جس طرح اگر حضرت علی علیہ السلام کی تلوار نہ ہوتی تو اسلام کبھی نتیجہ بخش نہ ہوتا اسی طرح اگر آپ کا عمدہ بیان نہ ہوتا تو دین کے ستون اس قدر پختہ نہ ہوسکتے چنا نچہ یہ بات طے ہے کہ حضرت کے کلام اور فرامین کی وجہ سے اسلام مستحکم ہوا۔
آپ نے اپنے کلام میں حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعارف کرایا جسکی وجہ سے ان پاک و صاف نفسوں کا آپ کی طرف اشتیاق ہوا جنھیں اللہ تعالیٰ کی محبت پر خلق کیا گیا تھا اور ان میں آپ کے قرب و رضا کا عشق موجودتھا۔
آپ ہی وہ ہستی ہیں جن کے ذریعے لوگوں کے طور طریقوں میں موجودہ کج روی کی اصلاح ہوئی ، گمراہ لوگ دوبارہ ھدایت کی طرف پلٹ آئے ان کا قول و فعل ایک ہوگیا۔اور یہ لوگ اللہ کی وعظ ونصیحت ‘اس کی آیات ،شریعت اور احکام سے وابستہ ہو گئے اور حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پر چلنے لگے اور اسلامی احکام کے مطابق عمل کرنے لگے نیز آپ کے علاوہ کسی غیر کی طرف نہیں جھکے۔
۱ ۔انداز عبادت
ایک شخص نے حضرت امیر المومنین علی (ع)کی بارگاہ میں عرض کیا ! یاامیرالمومنین آپ جو اس قدر اللہ کی عبادت کرتے ہیں کیا آپ نے اسے دیکھا ہے ؟تب حضرت امیر امومنین علیہ السلام نے اسے جواب دیا:
لم اٴکُ با لذي اٴعبد من لم اره
میں اس کی عبادت نہیں کرتا جسے میں نے نہ دےکھا ہو۔
وہ شخص کھتا ہے آپ خدا کو کس طرح دےکھتے ہیں تب حضرت علی (ع)نے جواب دیا:
یا ویحک لم تره العیون بمشاهدة الابصار و لکن راٴ ته القلوب بحقائق الاٴِیمان معروف با لدلالات منعوت با لعلامات لُا یقاس بالناس ولا تدرکه الحواس
وائے ہو تجھ پر ان آنکھوں کے ذریعہ اس کو نہیں دیکھا جا سکتالیکن دل اسے ایمان کی حقےقتوں کے ساتھ دےکھ سکتا ہے دلائل اور علامتوں کے ساتھ تو اس کی تعرےف کی جا سکتی ہے لیکن لوگوں کے ساتھ اس کا قیاس نہیں کیا جاسکتا اور حواس خمسہ اسے نہیں پا سکتے چنا نچہ وہ شخص یہ کہتے ہوئے وہاں سے چل دیا :
الله اٴعلم حیث یجعل رسا لته ۔ اللہ ہی بھترجانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کوکہاں قراردیتا ہے ۔( ۱ )
یعنی اللہ نے مناسب مقام پر رسالت رکھی ہے ۔
۲ ۔عظمت خدا
حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام غفلت خدا،مقصد مخلوقات کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
قدعلم السرائر و خبر الضمائر له الاحاطة بکل شيء والغلبةُ لکل شيء والقوة علیٰ کل شيء فلیعمل العامل منکم في ایام مهله قبل اِزهاقِ اٴجله
وہ دل کی نیتوں اور اندر کے بھیدوں کو جانتا اور پہچانتا ہے، وہ ہر چیز پراحاطہ کئے ہوئے ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے وہ ہر چیزسے قوی ہے اور تم میں سے کسی کو اگر کچھ کرنا ہے تو موت کے حائل ہونے سے پہلے مھلت کے دنوں میں کرلینا چاہئےے۔
اس کے بعدحضرت نے مزید فرمایا :
فالله الله اٴیها الناس فیما استحفظکم من کتابه و استودعکم من حقوقه فاِن الله سبحانه لم یخلقکم عبثا ولم یترککم سدی ولم یدعکم في جهالة ولا عمیٰ قد سمّیٰ آثارکم و علم اٴعمالکم و کتب آجالکم
واٴنزل علیکم الکتاب تبیاناً لکلِّ شيء و عمَّر فیکم نبیّه اٴزمانا حتیٰ اٴکمل له ولکم فیما اٴنزل من کتابه دینه الذي رضي لنفسهِ واٴنهیٰ اِلیکم علی لسانه محابه من الاعمال و مکارهه و نواهیه و اٴوامره
واٴلقیٰ اِلیکم المعذرة واتخذ علیکم الحجه و قدم اِلیکم بالوعید و اٴنذرکم بین یدي عذاب شدید
اے لوگو! اللہ نے اپنی کتاب میں جن چیزوں کے حفاظت تم سے طلب کی ہے اور جو حقوق تمہارے ذمہ عائدکئے ہیں ،ان کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو ۔کیونکہ اللہ سبحانہ نے تمھیں بے کار پیدا نہیں کیا اور نہ اس نے تمھیں بے قید و بند جہالت و گمراہی میں کھلا چھوڑ دیا ہے، اس نے تمہارے کرنے اور نہ کرنے کے اچھے اور برے کام تجویز کر دیئے ہیں اور( پیغمبراکرم(ص) کے ذریعہ) سکھا دئیے ہیں ۔
اس نے تمہاری عمریں مقررومعین کر دی ہیں اور تمہاری طرف ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں ہر چیز کا کھلا کھلا بیان ہے۔ اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زندگی دے کر مدتوں تم میں رکھا، یہاں تک کہ خداوندکریم نے قرآن مجیدمیں اپنے نبی(ص)(ص)کے لئے اور تمہارے لئے دین کو پسند کر لیا اسے کامل کر دیا۔ پیغمبر اکرم (ص)کے ذریعہ پسندیدہ اور نا پسندیدہ افعال (کی تفصیل)اور اوامر و نواھی تم تک پھنچا دیئے ، اس نے اپنے دلائل تمہارے سامنے رکھ دئیے ،اور تم پر اپنی حجت قائم کر دی اور (آنے والے)سخت عذاب سے پہلے ہی خبردار کر دیا ۔( ۲ )
تو حےد و اصول علم
حضرت امیر المومنین علیہ السلام تو حےد سے متعلق خطبہ میں علم و معرفت کے اصول بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
ما وحّده مَن کیفّه ولا حقيقَتهُ اٴصاب مَن مَثّله ولا اِیاه عنٰیٰ من شبْهّه ولاصمده مَن اٴشارَ اِلیه و توهمه کل معروف بنفسه مصنوع و کل قائم فی سواه معلول فاعل لا باضطراب آله مُقِّد ر لا بجول فکر ه غنيٌّ لا باستفاده لا تَصحَبُهُ الاٴوقات ولا تر فِدُه الاد وات سبق الاٴوقات کونُه والعدم وجودةُ واِلا بتداءَ اٴوله
جس نے اسے مختلف کےفےتوں سے متصف کیا اس نے اسے ےکتا نہیں سمجھا جس نے اس کا مثل ٹھھرایااس نے اس کی حقیقت کو نہیں پایا،جس نے اسے کسی چیز سے تشبیہ دی اس نے اس کاقصد وارادہ نہیں کیا جس نے اسے قابل اشارہ سمجھا اس نے اسے اپنے تصور کاپابند بنالیا۔
ھر معروف چیز اپنی ذات میں مصنوع و مخلوق ہے وہ آلات کو حرکت میں لائے بغیر فاعل ہے وہ ہر چیز کا مقرر کرنے والا ہے وہ فکر کی جو لانی کے بغیر ہی وہ اپنے کام میں دوسروںکا محتاج نہیں ہے اس کاکوئی ہم نشین نہیں ہے اور نہ آلات اس کے معاون و معین ہیں اس کی ہستی زمانہ سے پہلے اور اس کا وجودعدم پر سبقت رکھتا ہے اور اس کی ابتدا ہی اول ہے اس کے بعد حضرت امیر المؤمنین ارشاد فرماتے ہیں۔
ولا تجري علیهِ الحرکة و السکون و کیف يجري علیه ما هو اٴجراه و يعود فیه ما هو اٴبدا ه و یحدث فیه ما هو اٴحدثه
حرکت و سکون اس پر طاری نہیں ہو سکتے ،بھلا جو چیز اس نے مخلوقات پر طاری کی ہو ،وہ اس پر کیونکر طاری ہوسکتی ہے جو چیز سب سے پہلے اس نے پیدا کی ہو وہ اس کی طرف کیونکر لوٹ سکتی ہے اور جس چیز کو اس نے پیدا کیا ہو وہ اس میں کیونکر پیدا ہو سکتی ہے، اس کے بعد پھر حضرت ارشاد فرماتے ہیں :
اَلذي لا يحول ولا يزو ل ولا يجوز علیه الاٴفول لم یلد فیکون مولودا ولم یو لد فيصير محدودا جل عن اِتخاذ الاٴ بناء و طَهُرَ عن ملامسة النساء لا تناله الاٴ وهام فتقدره ولا متوهمهُ الفطَن فتصوره ولاٴتدرکه الحواس فتُحسُّهَ ۔
اس میں تبدیلی واقع نہیں ہوتی ہے اور نہ اس پر زوال طاری ہوتاھے، نہ اس کے لئے غروب ہونا روا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے، ورنہ یہ محدود ہو کر رہ جائے گا،وہ اہل و عیال رکھنے سے بلند وبالا اور عورتوں کو چھونے سے پاک و منزہ ہے ۔
تصورات اسے نھیںچھو سکتاکہ اس کا اندازہ لگاسکیںاور عقلیں اس کا تصور نہیں کر سکتیں تاکہ اس کی کوئی صورت مقرر کرسکیں حواس اس کا اداراک نہیں کر سکتے کہ اسے محسوس کرسکیں ۔
اس کے بعدحضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے ارشاد فرمایا :
ولا یوصف بشیء من اَلاٴجزا ء ولا با لجوارح والاٴ عضاء ولا بعرضٍ من الاٴعراض ولا بالغیریة والا بعا ض ولا یقال له حدٌّ ولانهایة ولا اِنقطاع و لاغایة
ولا اٴنَّ الاشیاء تحویه فتقلّه اٴوتُهویه اٴواٴنَّ شیئاً یحمله فیمیلهُ اٴو یعدله لیس من الاشیاء بِوالِج ولا عنها بخارج
یخبر لابلسان ولهوات و یسمع لا بخروق واٴدوات یقول ولا یلفظ و یحفظ ولا یتحفظ و یرید ولا یضمر یحب ویرضیٰ من غیر رقه و یُبغضُ و یغضب من غیر مشقة
يقول لمن اٴراد کونه‘ کن فیکون لا بصوت يَقرَعُ ولا بنداء یُسمع واِنماکلامه سبحانه فعل منه اٴنشاٴه ومَثَّلَه لم یکن من قبل ذلک کائناً ولوکان قديما لکان اِلٰها ثانیا“
اسے اجزا اوراعضاء وجوا رح میں سے کسی کے ساتھ متصف نہیں کیا جاسکتا اس کے لئے کسی حد اور اختتام ،زوال پذےری اور انتھاء کو نہیں بیان کیا جاسکتا اور نہ یہ چیزےں اس پر غالب ہیں کہ ان اشیاء کے ہو نے یا نہ ہونے سے اس کی عظمت میں کوئی فرق پڑتاھو۔
اورتمام اشیاء اس کے ارادے کے تابع ہیں، وہ نہ چیزوں کے اندر ہے اور نہ چیزوں کے باھر ،وہ زبان کی حرکت کے بغیر خبر دیتا ہے وہ آلات سماعت اور کانوں کے سوراخوں کے بغیر سنتا ہے اور وہ تلفظ کے بغیر بات کرتا ہے وہ یاد کرنے کے بغیر ہی ہر چیز کو یاد رکھتا ہے اور وہ ضمےر اور قلب کے بغیر ارادہ کرتا ہے اور وہ رقت طبع کے بغیر دوست رکھتا اور خوشنود ہوتا ہے وہ غم وغصہ کے بغیر ہی دشمن رکھتا ہے اور غضبناک ہوتا ہے ۔
وہ جس چیز کو پیدا کرنا چا ھتا ہے تواسے ”کن “کھتا ہے توو ہ ہوجاتی ہے بغیر ایسی آواز کے جو کانوں کے پردوں سے ٹکرائے اور بغیر ایسی صدا کہ جو سنی جاسکے بلکہ اللہ سبحانہ کا کلام اس کا اےجاد کردہ فعل ہے اور اس طرح کا کلام پہلے سے موجود نہیں ہوسکتا ،اگر وہ قدےم ہوتا تو دوسرا خدا ہوتا۔( ۳ )
لوگوں کواللہ نبی (ص)اور اھلبیت (ع)کی طرف رجوع کرنے کی تاکید
حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام لوگوں کو اللہ ،نبی(ص) اور اھلبیت علیھم السلام کی طرف رجوع کرنے پر زور دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
اِنَّ اللّٰه خَصَّ محمداً بالنبوة واصطفاه بالرسالةو اٴنباٴهُ بالوحي فانال بالناس و اٴنال وعندنا اٴهل البیت معاقلُ العلم واٴبوابُ الحکم و ضیاءُ الاٴمر فمن یُحبُّنا ینفعه اِیمانُه و یُتَقَبَّل عمله و من لا یُحبُّنا لا ینفعه اِیمانه ولا یُتَقَبّل عمله و اِن داٴب اللیل و النهار
بے شک اللہ تبارک و تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت کے ساتھ مختص فرمایا اور رسالت کے لئے ان کا انتخاب کیا اور انھیں وحی کے ذریعہ خبریں دیں اور انھیں لوگوں کی نسبت خیر کثیر عطا فرمایا۔ ہمارے نزدیک اھلبیت ہی علم کی عقلیں، ابواب حکمت اور امر خدا کے نور ہیں جو شخص ہمارے ساتھ محبت رکھے گا اس کا ایمان اسے نفع دے گا اور اس کا عمل مقبول ہو گا اور جو شخص ہمارے ساتھ محبت نہیں رکھے گااس کا ایمان بھی اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا اور اس کا عمل بھی قبول نہیں ہوگا اگرچہ وہ عمل کرتے کرتے دن رات ایک کر دیں۔( ۴ )
قارئین کرام!اسی گذشتہ خطبہ کی طرح آپ کا ایک اور خطبہ بھی ہے جس میں آپ اس طرح ارشاد فرماتے ہیں :
اٴلا اِن اٴبرار عترتي و اٴطایب اٴرومتي اٴحلم الناس صغاراً واٴعلم الناس کباراً اٴلا و اِنّا اٴهل بیت من عِلم اللّٰه عُلِّمنا و بحکم اللّٰه حَکمنا
وبقول صادق اٴخذنا فاِن تتَّبعوا آثارنا تهتدوا ببصائرنا و اِن لم تفعلوا یُهلِکُکَم اللّٰه بایدنا معنا رایة الحق مَن تبعها لحق ومَن تاٴخر عنها غرق اٴلا وبنا
خبردار! یہ میری عترت(ع) کے نیک افراد ہیں اور اصل میں پاکیزہ افراد ہیں ان کے بچے دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ حلیم اور ان کے بڑے دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ عالم ہیں ۔
تُدَرک ترة کلِّ مؤمن وبنا تُخلع رِبقةُ الذل من اٴعناقکم و بنا فَتَح لابکم و بنا یختم لابکم
خبردار! بے شک ہم اھلبیت کا علم اللہ کے علم سے ہوتاھے اور اللہ کے حکم سے ہی ھمارا حکم ہوتاھے اور ہم ہی اپنی گفتگو میں صادق ہیں ۔اگر تم لوگوں نے ھمارااتباع کیا تو تم بھی ھماری بصیرتوںتک پہنچ جاؤ گے اور اگر تم نے ھمارا اتباع نہ کیا توا للہ تعالی تم کو ہمارے ہاتھوں ہلاک کردے گا۔
حق و صداقت کا پر چم ہمارے پاس ہے ۔ جس نے اس کی پیروی کی وہ ہمارے ساتھ مل جائے گا اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ غرق و بر باد ہو جائے گا ہمارے ذریعے ہر مومن حق کو پا سکتا ہے اور ہمارے وسیلے سے ہی گردنوں میں پڑے ذلت کے طوقوں سے نجات مل سکتی ہے ،ھمارے ذریعہ سے فتح حاصل کی جاسکتی ہے نہ تمہارے ذریعے سے ،اورسر انجام ہمارے ہاتھ میں ہے نہ تمہارے ہاتھ میں۔( ۵ )
۵ ۔اسلام اور شریعت کے اوصاف
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام اسلام اور شریعت کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :
الحمدُ للّٰه الذي شرّع الاٴسلام فسّهل شرائعهُ لمن ورده واٴعز اٴرکانه علیٰ مَن غالبه فجعله اٴمنا لمن علقهَ وسلماً لمن دَخَلَه
وبرهاناً لمن تکلم به و شاهداً لمن خاصم عنه و نوراً من اِستضاء به وفهما لمن عقل ولباً لمن تدبر و آیة ً لمن توسم وتبصرةً لمن عزم وعبرة لمن اِتعظ ونجاةً لمن صدق وثقةً لمن توکل وراحةً لمن فوّض وَجَّنةً لمن صبر
تمام حمد اس ذات کے لئے ہے جس نے شریعت اسلام کو جاری کیا اور اس (کے سرچشمہ)ھدایت پر اترنے والوں کے لئے اس کے قوانین کو آسان بنایا اور اس کے ارکان کو حریف کے مقابلے میں غلبہ وسرفرازی عطاکی چنانچہ جو اس سے وابستہ ہوا اس کے لئے امن ہے اور جواسمیں داخل ہوا اس کے لئے سلامتی ہے جو اس کی بات کرے اس کیلئے دلیل
اور جو اس کی حمایت میں لڑے تو یہ اس پر شاھد و گواہ ہے ۔
جواس سے ضیاء حاصل کرے اسکے لئے نورھے ،عقل مند کیلئے فھم و فراست ہے ،غور کرنے والے کے لئے تدبیر ،تصدیق کرنے والے کے لئے نجات ، بھروسہ کرنے والے کے لئے باعث اعتماد اورراحت ہے اس کیلئے جو امور کو اس کے سپرد کرے، اور صبر کرنے والے کے لئے سپرھے۔
اس کے بعدمزید ارشاد فرماتے ہیں:
التصدیق منهاجُه والصالحات منارهُ والموت غایتةُوالدنیا مضمارَه والقیامة حَلَبتُه والجنة سُبقَتهُ
تصد ےق اس (اللہ اور رسول )کا راستہ ہے اور اچھے اعمال (اس کے )نشا نات ہیں دنیا گھوڑے سواری کا میدان اور موت اس کی انتھاھے ،اور دنیا اس کا میدان ہے،اور قیامت ا نعام کی جگہ اور جنت انعام ہے۔( ۶ )
۶ ۔فرائض اسلام کی دعوت
ایک اور خطبہ جس میں حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرائض کا تذکرہ کرتے ہوئے لوگوں کو ان فرائض کی طرف دعوت دیتے ہیں۔
اِنَّ اٴفضل ما توسّل بهِ المتوسلون اِلیٰ الله سبحانه و تعالی الایمانُ به وبرسوله والجهاد في سبیلهِ فاِنه ذروة الِاسلام و کلمةُ اِلاخلاص فاِنها الفطره واِقامُ الصلوٰة فاِنها المِلَّه واِیتاٰء الزکاٰة فاِنها فریضةٌ واجبة و صوم شهر رمضان فانهّ جنة من العقاب وحَجُّ البیت واِعتماره فاِنَّهما ینفیان الفقر ویرحضان الذنب ‘ وصلة الرحم فاِنهامثراةٌ في المال ومنساٴ ة في الاجِل وصدقة السرّ فانهاتکفرّ الخطیئةً وصدقة العلانیة
فانها تدفع میتة السوء وصنائع المعروف ‘فانها تقی مصارع الهوان اٴفيضوا في ذکرالله فاِنّهُ اٴحسن الذکر وارغبوا فیما وعدالمتقین فاِن وعد هُ اُصدقُ الوعد واهتدوا بهدیٰ نبیکم
فاِنّه اٴفضل الهدُی واستنؤا بسَنَّته فاِنها اٴهدیٰ السُنن وتعلموا القرآن فاِنهَّ اٴحسن الحدیث وتفقهوا فیه فاِنه ربیعُ القلوب واستشفوا بنوره فاِنه شفاء الصدور واٴحسنوا تلا وته فاِنّه اٴنفع القصص
واِنّ العالم العامل بغیر علمه کالجاهل الحائر الذي لایستفیق من جهلهِ بل الحجة ُعلیه اٴعظم والحسرةُ له اٴلزَم وهو عندالله اٴلَومْ
اللہ تعالی کی طرف و سےلہ ڈھونڈنے والوں کے لئے بھترین وسیلہ اللہ اور اس کے رسول(ص) پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرناھے اس لئے وہ اسلام کی سربلند چوٹی ہے اور کلمہ توحےدکو اپنانا اس لئے کہ وہ فطرت (کی آواز)ھے اور نماز کی پابندی کرناکیونکہ وہ عےن دین ہے اور زکوة ادا کرنا کیونکہ وہ فرض اور واجب ہے۔
اور ماہ رمضان کے روزے رکھنا کیونکہ وہ عذاب کی سپر ہیں اور خانہ کعبہ کا حج وعمرہ بجالانا کیونکہ وہ مال کی فراوانی اور عمر کی درازی کا سبب ہیں اور مخفی طور پر خیرات اداکرناکیونکہ وہ گناھوں کا کفارہ ہے اور کھلم کھلا خیرات دینااس لئے کہ وہ بری موت سے بچاتا ہے اور لوگوں پر احسان کرنا کیونکہ وہ ذلت اور رسوائی کے مواقع سے بچاتا ہے ۔
ھمیشہ اللہ کا ذکرکرتے رہو کیونکہ وہ بھترین ذکر ہے،اور اس چیز کی تمنا رکھو کہ جس کا اللہ نے پرھیز گاروں سے وعدہ کیا ہے اور اس کا وعدہ سچا ہے ۔ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی پیروی کروکہ وہ بھترین سیرت ہے اور ان کی سنت پر عمل کرو کیونکہ وہ ھدایت کا بھترین طریقہ ہے اور قرآن کا علم حاصل کرو کیونکہ وہ بھترین کلام ہے اور اس میں غور و فکر کرو کیونکہ یہ دلوں کی بہار ہے۔
اور اس کے نور سے شفا حاصل کرو کہ وہ(سینوں کے اندر چھپی ہوئی بیماریوں) کے لئے شفا ہے۔ اور اس کی اچھی طرح تلاوت کروکیونکہ اس کے قصے ،سب سے زیادہ فائدہ مند ہیں ،وہ عالم جو اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتا وہ اس سرگرداں جاھل کی مانند ہے جو جہالت کی سرمستیوں سے ہوش میں نہیں آتا بلکہ اس پر( اللہ کی )عظیم حجت قائم ہے اور حسرت و افسوس اس کامقدر ہے، اور اللہ کے نزدیک وہ زیادہ قابل ملامت ہے۔( ۷ )
۷ ۔دنیا اور اس کی زینت سے دور رھنے پر تاکید
حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام دنیا اور اس کی زینت سے ڈراتے ہوئے اور موت اور اس کے حالات کی یاد دلاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :
واُحذِّرکُم الُدنیافاِنها منزل قُلعَةٍ و لیست بدار نُجعةٍ قد تزیِّنت بغرورها و غرِّت بزینتها دارٌ، هانت علیٰ ربِّها فخلط حلالَها بحرامها وخیرها بشرها و حیاتها بموتها و حلوها بمرها
لم یصفها اللّه تعالیٰ لاولیائهِ ولم یَضِنُّ بهاعن اٴعدائهِ خیرُها زهید و شرُّها عتید و جمعها ینفذُو ملُکها یُسلَب و عامِرهُا یَخرَب فما خیر دارٍ تُنقضُ نَقض البنا ء وعمرٌ یُفنیٰ فیها
فنا ء الزاد و مدّة تنقطع اِنقطاع اِلسیر! اِجعلوا ماافترضَ اللّه علیکَم من طلبتکمُ واَ ساٴ لوه من اٴداء حقّهِ کما ساٴلکم واٴسمعِوا دعوة الموت آذا نَکم قبل اٴن يُدعیٰ بِکُم
میں تمھیں دنیا سے خبردار کئے دیتا ہوںکیونکہ یہ ایسے شخص کی منزل ہے ۔
جس کے لئے قرار نہیں ہے اور ایسا گھر ہے جس میں آب و دانہ نہیں ڈھونڈا جا سکتا ۔یہ اپنے باطل سے آراستہ ہے اور اپنی آرائیشوں سے دھوکہ دیتی ہے یہ ایک ایسا گھر ہے جو اپنے رب کی نظروں میں ذلیل و خوار ہے۔ چنانچہ اس نے حلال کے ساتھ حرام اور بھلائیوں کے ساتھ برائیاں اور زندگی کے ساتھ موت اور شیرینیوں کے ساتھ تلخیاں مخلوط کر دی ہیں اور اپنے دوستوں پر اس کی خصوصیات کو واضح کردیا اور دشمنوں پر بھی کو ئی چیز پوشےدہ نہیں رکھی ۔
اس کی بھلائیاں بہت ہی کم ہیں اور برائیاں جہاں چاھوموجود ہیں ، اسمیں اکٹھا کیا ہوا مال ختم ہو جانے والا ہے اور اس کاملک چھن جانے والا اور اس کی آبادیاں ویران ہو جانے والی ہیں ۔بھلا اس گھر میں خیر وخوبی ہی کیا ہو سکتی ہے جو کمزور عمارت کی طرح گر جائے اوروہ عمر میں جو زاد راہ کی طرح ختم ہو جائے اوروہ مدت میں جو چلنے پھرنے کی طرح تمام ہو جائے جن چیزوں کی تمھیں طلب و تلاش رھتی ہے ان میں اللہ تعالی کے فرائض کو بھی شامل کر لو اور جو اللہ نے تم سے چاھاھے اسے پورا کرنے کی توفیق بھی اس سے مانگو ،موت کا پیغام آنے سے پہلے اس پر توجہ دو ۔
اس کے بعداسی خطبہ میں حضرت(ع) مزید فرماتے ہیں :
اِنَّ الزاهدین في الدنیا تبکي قلوبهم واِن ضَحِکو ا ویشتُدحزنُهم واِن فَرِحوا و یکثُر مقتُهم اٴنفُسَهُم واِن اِغتبطوابمارُزقواقِد غاب عن قلوبکم ذکرُ الآجال وحضر تکم کواذب الآمال فصارت الدنیا اَمَلکُ بکم من الاٴخرة والعاجلهَ اٴٴَذهبَ بکمُ من الٓاجلهَ و اِنّما اٴنتم اِخوانُ علیٰ دین الله ما فرق بینکم اِلّاخبُثُ السرائر وسوُ ءُ الضمائر فلا توازرون ولا تناصحون ولا تباذلون ولا توادوُن
مابالَکم تفرحون بالیسیر من الدنیا تُدرکونهولا یحزُنُکم الکثیر من الآخرةِ تُحرّمونهُ و یُقلقُکم الیسیر من الدنیا یفوُتکم حتیٰ یتبیِّن ذلک في وجوهِکُم وقِلّةِ صبرِکمُ عمازويَ منها عنکم کاٴنها دار مُقامکم و کاٴن متاعَها باقٍ علیکم
اس دنیا میں زاہدوں کے دل روتے ہیں ،اگرچہ وہ ھنس رھے ہوں اور ان پرغم و اندوہ طاری رھتاھے اگرچہ ان (کے چھروں) سے مسرت ٹپک رھی ہو اور انھیں اپنے نفسوں پر انتہائی غلبہ ہوتا ہے اگرچہ وہ رزق جو انھیں میسر ہے وہ قابل رشک ہے ۔ تمہارے دلوں سے موت کی یاد ختم ہو گئی ہے اور جھوٹی امید وں نے تمہارے اندر گھر بنالیا ہے ،آخرت کی بنسبت تمہارا جھکا ؤدنیا کی طرف زیادہ ہے اور وہ عقبیٰ سے زیادہ تمھیں اپنی طرف کھینچتی ہے ۔تم دین خدا کے سلسلہ میں ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہو ۔
لیکن بد نیتی اور بد گمانی نے تم میں تفرقہ ڈال دیا ہے ،نہ تم ایک دوسرے کا بوجھ بٹاتے ہو نہ باھم پند و نصیحت کرتے ہو،نہ ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہو، اور نہ تمھیں ایک دوسرے کی چاھت ہے ۔
تھوڑی سی دنیا پا کر تم خوش ہوجاتے ہولیکن آخرت کے بیشتر حصہ سے محرومی تمھیں غم زدہ نہیں کرتی ذرا سی دنیا کاتمہارے ہاتھ سے نکلنا تمھیں بے چین کر دیتا ہے ۔
یہاں تک کہ بے چینی تمہارے چھروں سے ظاہر ہونے لگتی ہے اور کھوئی ہوئی چیز کے سلسلہ میں تمہاری بے صبری آشکار ہو جاتی ہے گویا یہ دنیا تمہارا (مستقل )مقام ہے اور دنیا کا ساز و برگ ہمیشہ رھنے والا ہے ۔( ۸ )
۸ ۔ توکل خدا
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام اپنی ایک دعا میں لوگوں کو خدا پر توکل اور بھروسہ کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :
اللّٰهم صن وجهي بالیسار ولا تبذُل جاهي بالاٴِ قتار فاستَر زقُ طالبي رزقکِ واٴستعِطف شرار خلقک واٴُبتلیٰ بحمد مَن اعطاني واٴُفتتن بذمِّ مَن مَنعني و اٴنتَ مِن وراء ذلک کلِّه ولي الاعطا ءِ والمنع اِنک علیٰ کلِّ شیءٍ قدیر
خدایا!میری آبرو کو غناء و توانگری کے ساتھ محفوظ رکھ اور فقر و تنگ دستی سے میری منزلت کو نظروں سے نہ گرا کہ میں تجھ سے رزق مانگنے والوں سے رزق مانگنے لگوں ۔
اورتیرے بندوں کی نگاہ لطف وکرم کواپنی طرف موڑنے کی تمنا کروں اور جو مجھے دے اس کی مدح وثناء کرنے لگوں اور جو نہ دے اس کی برائی کرنے میںمشغول ہو جاؤں اور ان سب چیزوں کے پس پردہ توھی عطا کرنے اور روک لینے کا اختیار رکھتا ہے بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔( ۹ )
ظلم سے ممانعت
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام ظلم اور ظالموںکا تعاون کرنے سے منع کرتے ہوئے، اپنے خطبے میں اس طرح ارشاد فرماتے ہیں:
واللّٰه لان اٴبیت علیٰ حَسَک السَّعدانِ مُسهّدا، اٴواٴُجَرَّ في الاغلالِ مُصفَّداًاٴحب اِليّٰ مِن اٴن اُلقی اللّٰه ورسولَهُ یوم القیامةِظالماً لبعضِ العبادِ
وغاصباً لشيءٍ من الحُطام، وکیف اٴظلِمُ اٴحداً لنفسٍی یسرع اِلیٰ البِلیٰ قُفُولها ويطولُ في الثریٰ حلولُهاواللهِ لقد راٴیت عقیلًا، وقد اٴمَلَقَ حتٰی استما حني من بُرِّکم صاعاً، وراٴیت صبیا نه شُعثَ الشعور غُبرَ الالوانِ من فقرِهم کاٴنما سوُدَتْ وُجوُهُهم بالعظِلم
وعاودنی مؤکداًوکُررعليَّ القول مردّداً فاٴصغیت اِلیه سمَعي فظن اٴنی اٴبیعه دیني واٴتبع قیادَهُ مفارقاًًطریقتي فاحمیتُ لهُ حدیدةً
ثم اٴدنیتَها من جسمهِ لیعتبرَبها فضج ضجیج ذي دَنَفٍ من اٴلمِها، وکاد اٴن یحترق من میسمها، فقلتُ له ثَکِلْتکَ الثواکِلُ یاعقیل اٴتئنُّ من حدیدةٍ اٴحماها اِنسانُها للعبِهِ، وتجرني اِلیٰ نارٍ سجَّرها جبارُها لغضبهِ اٴتئنُّ من الاٴذیٰ ولا اٴئِنّ من لظیٰ
خدا کی قسم مجھے سعدان کے کانٹوں پر جاگتے ہوئے رات گزارنا ، اور طوق و زنجےر میں جکڑ کر گھسےٹ کرلے جانا اس سے کھیں زیادہ پسند ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول(ص) سے اس حالت میں ملاقات کروں کہ میں نے اس کے کسی بندے پر ظلم کیا ہویا کسی کامال غصب کیا ہو میں اپنے اس نفس کی خاطر کیونکر کسی پر ظلم کر سکتاھوں جو جلد ہی فناھونے والا اور مدتوں تک مٹی کے نےچے پڑا رھنے والا ہے ۔
خدا میں نے(اپنے بھائی )عقےل کوسخت فقروفاقہ کی حالت میں دےکھا یہاں تک کہ وہ اپنے (حصہ کے)گیھوںمیں ایک صاع مجھ سے اضافی مانگنے لگے اور میں نے ان کے بچوں کو بھی دےکھا جن کے بال بکھرے ہوئے اور فکر وبے نوائی سے ان کے چھرے مرجھائے ہوئے تھے گویا ان کے چھرے نیل چھڑک کر سیاہ کر دےے گئے ہیں۔
وہ اصرار کرتے ہوئے میرے پاس آئے اور اس بات کو بار بار دھرایا میں نے ان کی باتوں کو کان لگا کر سنا تو انھوں نے یہ خیال کیا کہ میں ان کے ہاتھ اپنا دین بےچ ڈالوں گا اور اپنی روش کوچھوڑ کر ان کے دباؤ میں آ جاؤں گا مگر میں نے یہ کیا کہ ایک لوھے کی سلاخ کوگرم کیا اور پھر ان کے جسم کے قریب لے گیا تاکہ وہ عبرت حاصل کرےں ۔
چنانچہ وہ اس طرح چیخے جس طرح بےمار درد وکرب سے چیختا ہے اور قریب تھا ان کابدن اس داغ دینے سے جل جائے پھر میں نے ان سے کھاکہ اے عقیل رونے و الیاںتجھ پر روئےں کیا تم اس لوھے کے ٹکڑے سے چےخ اٹھے ہو۔ جسے ایک انسان نے ھنسی مذاق میں (جلانے کی نےت کے بغیر )گرم کیا ہے۔ اور تم مجھے اس آگ کی طرف دعوت دے رھے ہو کہ جس کو خداوند قہار نے اپنے غضب سے بھڑکایا ہے ۔تم تو اذےت سے چےخو۔اور میں جھنم کے شعلوں سے نہ چلاؤں۔( ۱۰ )
۱۰ ۔ تقویٰ اور خوف خدا
حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام لوگوں کو تقویٰ اور خوف خدا اختیار کرنے پرتحریک کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :
عبادُالله اُوصيکم بتقویٰ اللّه فاِنها حق اللّه علیکم والمُوجِبةُ علیٰ اللّهِ حَقَّکم واٴن تستعینوا علیهاباللّه وتستعینوا بها علیٰ الله فاِنَّ التقویٰ في الیوم الحرزوالجنة وفي غدٍ الطریق اِلیٰ الجنة مَسلَکهُا واضح وسالِکُها رابح ومستَودَعهُا حافِظلم تَبرح عارضةٌ نَفسها علیٰ الاٴُمم الماضَین منکم والغابرين
لحاجتِهم اِلیها غداً اِذا اٴعاد اللّهُ مااٴبدیٰ واُخذما اٴعطیٰ وساٴل عمّا اٴسدیٰ فما اٴقلَّ مَن قَبِلَها وحَمَلَها حقَّ حَمِلهَا اٴولئِکَ الا قلّون عدداًً وَهم اٴهلُ صفةِ اللّٰه سبحانَهُ اٴذیقول ”وقلیلٌ مِن عبادي الشکور“
اے بندگان خدا میں تمھیں اللہ سے ڈرتے رھنے کی وصیت کرتا ہوں کہ اللہ کا تم پر حق ہے جو اللہ پر تمہارے حق کوثابت کرنے کا مؤجب بنتا ہے۔تقوی ٰ کے ذریعہ اللہ سے مددطلب کرواور (تقرب) الٰھی کے لئے اس سے مدد مانگواس لئے کہ تقوی اس دنیا میں پناہ و سپر ہے اور کل جنت میں وہ ایک واضح اورآشکارراستہ ہے اور اس کی راہ پر چلنے والا نفع میں رھے گاجو اس کا حامل ہے اس کا یہ نگھبان ہے ۔
یہ تقوی اپنے آپ کوگذشتہ اور آئندہ آنے والی امتوں کے سامنے ہمیشہ پیش کرتا رہاھے کیونکہ ان سب کو کل اس کی ضرورت ہو گی ۔کل جب خداوند عالم اپنی مخلوق کو دوبارہ پلٹائے گا اور جو ان کو دے رکھا ہے وہ واپس لے گا اور اپنی بخشی ہوئی نعمتوں کے بارے میں سوال کرے گا تو اسے قبول کرنے والے اور اس کا پورا پورا حق ادا کرنے والے بہت ہی کم نکلیں گے وہ گنتی کے اعتبار سے کم اوراللہ کے اس قول کے مصداق ہیں”میرے بندوں میں شکر گزار بندے کم ہیں اس کے بعدحضرت اسی خطبہ میں مزید فرماتے ہیں:
اٴیقظوا بها نومَکُم واقطعوا بها یَومَکم واشعروها قلوبَکم وارحَضوا بها ذُنُوبَکم وداووا بها الاٴسقام و بادروا بها الحِمام واعتبروابمَن اٴضاعها ولا یَعتَبِرَنَّ بکَم مَن اٴطاعها
اسے خواب غفلت سے چونکنے کا ذریعہ بناؤاور اسی میں اپنے دن کاٹ دو اور اسے اپنے دلوں کا شعار بناؤ اور گناھوں کو اس کے ذریعہ سے دھوڈالو اور اس سے اپنی بیماریوں کا علاج کرو اور موت سے پہلے اس کا توشہ حاصل کرو اور جنھوں نے اسے ضائع و برباد کیا ہے ان سے عبرت حاصل کرو جوتقویٰ پر عمل کرے گا دوسروں کیلئے نمونہ عمل قرار پائے گا ۔( ۱۱ )
کلمات قصار‘ جلالت معنیٰ اور بھترین روش کا ایجاد کرنا
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ اسلام کے کلمات قصار جلالت معنی ٰ اور بداعات سبب کا اعلیٰ نمونہ ہیں جیسا کہ آپ ارشاد فرماتے ہیں :
فاِنَّ الغایة اٴمامَکُم واٴنَّ وراء کُم الساعةَ تحدوکم تَخفّفوا تلحقو افاِنّما یُنَتظَرُ باوّلِکُم آخرِکم
تمہاری منزل مقصود تمہارے سامنے ہے موت کی ساعت تمہارے پیچھے ہے جو تمھیں آگے کی طرف لئے چل رھی ہے ھلکے پھلکے رہو تاکہ آگے بڑھنے والوں کو پاسکوتم سے پہلے جانے والے، آنے والوں کے منتظر ہیں تاکہ یہ بھی ان تک پہنچ جائیں ۔
سید رضی فرماتے ہیں کہ کلام خدا و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جس کلام سے بھی ان کلمات کا موازنہ کیا جائے تو حسن و خوبی میںان کا پلہ بھاری رھے گا اور ہر حیثیت سے یہ کلمات ممتاز نظر آئیں گے ۔( ۱۲ )
لوگوں کوعمل صالح کی طرف رغبت دلانا
لوگوں کو عمل صالح کی طرف رغبت دلاتے ہوئے حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں :
اِن المالَ والبنینَ حرثُ الدنیاوالعمل الصالح حرثٌ الٓاخرة
ُوقد یجمعُهما الله تعالیٰ لاٴقوام فاحذروامن اللّٰه ما احذّرکم مِن نفسه واخشوهُ خشیة لیست بتعزیر واعملوا من غیر ریاءٍ ولا سمعةٍ فاِنه من یعمل لغیرِ اللّٰه یکلهُ اللّٰه اِلیٰ مَن عَمِلَ له نساٴ ل اللّٰهَ منازلَ الشهداء و معایشة السعداء و مرافقة الاٴنبیاء
بے شک مال اور اولاد دنیا کی کھیتی اور عمل صالح آخرت کی کھیتی ہے اور بعض لوگوں کے لئے اللہ ان دونوں کوایک جگہ جمع کردیتا ہے ،جتنا اللہ نے ڈرایا ہے اتنا اس سے ڈرتے اورخوف کھاتے رہو کہ تمھیں عذر نہ کرنا پڑے ،اس لئے بغیر ریاکے عمل انجام دوکیونکہ جوشخص کسی اور کے لئے عمل انجام دیتا ہے،اللہ اس کو اسی کے حوالے کردیتا ہے۔
ھم اللہ سے شھیدوں کی منزلت اور نیک لوگوں کی معاشرت اور انبیاء کی رفاقت کا سوال کرتے ہیں۔( ۱۳ )
موت کے بعدکا خوف وھراس
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام موت کے بعد پیش آنے والے خوف وھراس کامنظر اپنے ایک خطبہ میں اس طرح پیش کرتے ہیں:
فاِنکم لو قدعاینتم ماقد عاینَ من ماتَ منکم لجزعتُم و وَهلتم و سَمِعتمُ و اٴَطعتم ولکن محجوبٌ عنکم ماقد عاینواو قریبٌ مایُطرح الحجاب ولقد بُصِّرتم ان اٴبصرتم و اٴُسمِعتُم اِن سَمِعتم و هُدیتم اِن اِهتدیتم وبحقٍ اٴقول لُکم: لقد جاهرتکم العبِرَ و زُجِرتُم بما فیه مزدَجَر وما یبلِّغُ عن الله بعد رُسُل السماءِ اِلاّ البشر
جن چیزوں کو تمہارے مرنے والوں نے دیکھا ہے ۔اگر تم بھی انھیں دیکھ لیتے توتم پریشان، سراسیمہ اور مضطرب ہو جاتے اور (حق کی بات)سنتے اور اس پر عمل کرتے لیکن جو انھوں نے دیکھا ہے وہ ابھی تک تم سے پوشیدہ ہے اور قریب ہے کہ وہ پردہ اٹھا دیا جائے۔
اگر تم چشم بینا اور گوش شنوا رکھتے ہو تو تمھیں سنایا اور دکھایا جاچکاھے اور اگر تم کوھدایت کی طلب ہے تو تمھیں ھدایت کی جاچکی ہے میں سچ کہہ رھاھوں کہ عبرتیں تمھیں بلند آواز سے پکار رھی ہیں اور دھمکانے والی چیزوں سے تمھیں دھمکایا جا چکا ہے۔ آسمانی رسولوں (فرشتوں )کے بعد بشر ہی ہیں جو تم تک اللہ کا پیغام پھنچاتے ہیں( ۱۴ )
علم اور علماء کی فضیلت ۔
حضرت امیر المومنین علی (ع)بن ابی طالب علیہ السلام حضرت کمیل بن زیاد کو ایک وصیت میں علم اور علماء کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :
یاکُمیل اِنَّ هذه القلوب اٴوعیة فخیرُها اٴوعاها احفظ ما اٴقول لک الَناس ثلاثةُ عالم رَبّاني و متعلِّم علیٰ سبیل النجاة و همج رعاعٌ اَتباع کل ناعق یمیلون مع کل ریح لم یستضیئوابنور العلم
ولم یلجئوا اِلیٰ رکن وثیقیاکمیل العلم خیر مِنَ المال ،العلم یحرسُک و اٴنت تحرس المال العلم یزکوٰ علیٰ اِلانفاق والمال یزول و محبة العلم دین یُدان به یکسبه الطاعة فی حیاته و جمیل الاحدوثَه بعد مماته العلم حاکم والمالُ محکوم علیه یا کمیل مات خزانِ المال وهم اٴحیاء والعلما ء باقون ما بقي الدهر اٴعیانهم مفقوده و اٴمثالهم في القلوب موجودة
اے کمیل! یہ دل، اسرار ورموز کے ظروف ہیں ان میں سب سے بھتر وہ ہے جو زیادہ نگھداشت رکھنے والا ہو لہٰذا جو میں تمھیں بتاؤں، تم اسے یاد رکھنا ۔
دیکھو! تین قسم کے لوگ ہیں ایک عالم ربانی ،دوسرا متعلم جو نجات کی راہ پر برقرار ہے اور تیسرے عوام الناس کا وہ پست گروہ ہے کہ جو ہر پکارنے والے کے پیچھے ہوجاتا ہے ،اور ہر ہوا کے رخ پر مڑ جاتا ہے ،نہ انھوں نے نور علم سے کسب ضیاء کیا اورنہ کسی مضبوط سہارے کی پناہ لی۔
اے کمیل!یاد رکھنا علم مال سے بھتر ہے کیونکہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے اور مال کی تم اور مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے لیکن علم صرف کرنے سے بڑھتا ہے۔
اے کمیل!علم کی محبت ایک فریضہ ہے جس کو ادا کرنا ضروری ہے علم کے ذریعہ انسان اپنی زندگی میں اطاعت کا اندازسیکھتا ہے، اور مرنے کے بعداس کی خوبیاں باقی رھتی ہیں یاد رکھو کہ علم حاکم ہوتا ہے اور مال محکوم ۔
اے کمیل! مال اکٹھاکرنے والے مردہ ہوتے ہیں اور علماء رھتی دنیا تک باقی رھتے ہیں، بے شک ان کے اجسام نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں لیکن ان کی صورتیں دلوں میں باقی رھتی ہیں۔( ۱۵ )
غصب شدہ حق سے متعلق
حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام اپنے غصب کئے گئے حق سے متعلق ارشاد فرماتے ہیں :
اما بعد !جب خداوندعالم نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح کو قبض فرمایا تو ہم نے کھا:ھم ہی اس کے اھلبیت رشتہ دار اس کے وارث اور اولیاء ہیں ،باقی عوام کی نسبت ہم اس کے زیادہ حق دار ہیں ہم اس کے حق اورحکومت میں جھگڑا نہیں کرتے ۔
جب منافقوں نے اعراض کیا اور انھوں نے ہمارے نبی کے حق و حکومت کو ہم سے چھین لیا اوراس کو ہمارے غیر کے حوالے کردیا ،خدا کی قسم اس وقت ہمارے دلوں اور ھماری آنکھوں نے مل کر سخت گریہ کیااور ان کے اس عمل سے ھمیں سخت صدمہ پھنچا جس سے ھمارا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔
خدا کی قسم اگر ھمیں مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور ان میں سے اکثر لوگوں کے دین چھوڑ کر کفر کی طرف پلٹ جانے کا خوف نہ ہوتا ،توھم بتادیتے کہ ہمارے اندر بھی بیعت لینے کی طاقت موجود ہے اوراس وقت لوگ میری بیعت کرتے ان دونوں(طلحہ اور زبیر) نے مجبورا میری بیعت کی۔
پھر یہ دونوںبصرہ کے لالچ میں کھڑے ہوگئے اور تمہارے درمیان اختلاف ڈالنے میںکمر باندھ لی یہ اس ارادے کے ساتھ اٹھے کہ بصرہ میں تمہاری جماعت میں تفرقہ ڈالیں اور یہ دونوں تمہارے پاس آگئے ۔ پروردگار! انھیں اس امت کو دھوکا اور عوام کو فریب دینے پر سخت مصیبت میں گرفتار فرما ۔( ۱۶ )
اللہ تعالی سے شباھت کی نفی
شعبی کی روایت کے مطابق حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام اللہ تعالی سے تشبیہ کی نفی کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیںکہ حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے ایک شخص کو یہ جملے کہتے ہوئے سنا :مجھے قسم ہے اس ذات کی جو ساتویں طبق پر چھپا ہوا ہے اور اس کی بلندی کی کس طرح مثال پیش کروں ۔چنا نچہ پھرحضرت نے اس سے کہا:
یا ویلک اِن اللّه اٴجلّ من اٴن یحتجب عن شیء ٍاٴو یُحتجب عنه شَیء سبحان الذي لایحویه مکان ولا یخفیٰ علیه شیء ٍفي الاٴرض ولا في السماء
وائے ہوتجھ پر !اللہ تعالی اس سے بہت بلند و بالا ہے کہ وہ کسی چیز میں چھپے یا کوئی چیز اس میں پوشیدہ ہو،اللہ تو وہ پاک و پاکیزہ ذات ہے جو کسی جگہ قبضہ نہیں کرتی اور زمین وآسمان میںجو کچھ ہے وہ اس سے مخفی نہیں ۔( ۱۷ )
قضاء و قدر
قضاء وقدر ان ابحاث میں سے ہے جس میں اکثر لوگ غلطی کر جاتے ہیں اور بعض لوگ تو اس سے منحرف ہو گئے ہیں ۔لیکن حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اپنے کلام میں اس کی اس طرح تصریح فرمائی ہے کہ یہ مسئلہ واضح اور اس کا ابہام دور ہو گیا۔
چنا نچہ مرحوم کلینی علی بن محمد کی سند کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں کہ جنگ صفین ختم ہونے کے بعد ایک شخص حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی :
اے امیر المومنین !ھمیں بتائیں کہ آپ کے اور اس قوم کے درمیان ہونے والی جنگ اللہ تعالی کی قضاء وقدرکے مطابق ہے؟تب حضرت امیر المومنین نے فرمایا :
ماعَلَوُتم تلعةًولا هَبَطتُم وادیاً اِلاّوللّ ٰهِ فیه قضاء و قدر
تمہارا بلندی پر پھنچنا اور وادی میں اترنا سب قضا ؤ قدر کے مطابق ہے۔
وہ شخص کھتا ہے کہ اے امیرالمومنین !کیایہ کام اللہ کے نزدیک عنایت شمار ہوگا۔تب حضرت نے اس سے فرمایا :
مه یا شیخ!فواللّٰه لقد عظّمَ اللّه الاٴ جر في مسیر کم واٴنتم سائرون وفي مقامکم واٴنتم مقیمون ،وفي منصرفکم واٴنتم منصرفون ولم تکونوافي شيءٍ من حالاتکم مکرهین ولا اِلیه مضطرّین
اے شیخ منتظرر ہو، خدا وندا عالم انھیں کاموں کے ذریعہ تمھیں اجر دیتا ہے اور تم تمام کام انجام دیتے رھتے ہو اور کسی بھی کام میں مجبور اور مضطر نہیں ہو۔
پھرشیخ آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اپنے حالات میں کسی چیز کی طرف مجبور و مضطر نہ ہوں جبکہ قضاء وقدر ہی ھمارا راستہ ہے اور اسی سے ہم منقلب اور منصرف ہوتے ہیں ؟
حضرت نے جواب میںارشاد فرمایا :
و تظن اٴنهّ کان قضاءً حتماً وقدراًلازماً اِنه لو کان کذلک لبطل الثواب والعقاب والاٴمر والنهي والزجر من الله وسقط معنیٰ الوعد والوعید فلم تکن لائمةللمذنب ولا محمده للمحسن ولکان المذنب اٴولیٰ بالاحسان من المحسن ولکان المحسن اُولیٰ بالعقوبةِ من المذنب ،
تلک مقالة اِخوان عبدة الاٴوثان و خُصماء الرحمن وحزبْ الشیطان وقدریة هذه الامة ومجوسهاان الله تعالی کلّف تخییراً ونهیٰ تحذیرا ًواٴعطیٰ علیٰ القلیل کثیراً ولم یُعصَ مغلوباً
ولم یُطَع مکرَها ولم یملّک مفوّضاً ولم یَخلق السماوات والاٴرض ومابینهما باطلا ولم یبعث النّبین مبشرین ومنذرین عبثاً ذلک ظن الذین کفروافویل للذین کفروا من النار
شاید تم نے قضاء و قدر کوحتمی و لازمی سمجھ لیا ہے (کہ جس کے انجام دینے پر ہم مجبور ہیں) اگر ایسا ہوتا تو پھر نہ کوئی ثواب کا سوال پیدا ہوتانہ عذاب کا ،اور نہ ہی اللہ تعالی کے امر ونھی اورڈرانے کا کوئی مفھوم ہوتا ،نہ وعدہ کے کچھ معنی رھتے نہ وعید کے ،گناہ گار کا کوئی گناہ نہ ہوتا اور محسن کی کوئی تعریف نہ ہوتی اور گناھگار محسن کی نسبت احسان کا زیادہ حق دار ٹھھرتا اور محسن ،گناہ گار کی نسبت عقاب کا زیادہ سزاوار بن جاتاھے۔
یہ ان لوگوں کی گفتگوھے جو بتوں کے پجاری اوررحمن کے دشمن اور شیطان کے لشکر کے سپاھی ہیں ۔اللہ تبارک و تعالی نے تو بندوں کو خود مختار بنا کر مامور کیا ہے اور عذاب سے ڈراتے ہوئے نھی کی ہے اور تھوڑا کرنے پر زیادہ اجر دیتا ہے اس کی نافرمانی اس لئے نہیں ہوتی کہ وہ مغلوب ہو گیا ہے اسکی اطاعت اس لئے نہیں کی جاتی ہے کہ اس نے مجبور کر رکھا ہے اور وہ ایسا مالک بھی نہیں ہے جو مفوض ہو اور آسمان و زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس نے اسے بیکار پیدا بھی نہیں کیاھے ۔
اس نے بشارت دینے والے ،اورڈرانے والے نبیوں کو بے فائدہ نہیں بھیجا یہ تو ان لوگوں کا خیال ہے جنھوں نے کفر اختیار کیا اور کفر اختیارکرنے والوں کیلئے جھنم ہے۔
یہ سن کر شیخ نے یہ اشعار پڑھے :
اٴنت الامام الذي نرجو بطاعته
یوم النجاةمن الرحمن غفرانا
اٴوضحت من اٴمرِنا ماکان ملتبساً
جزاک ربُّک بالاٴِحسان اِحسانا
آپ وہ امام ہیں جن کی اطاعت کے ذریعے ہم امید رکھتے ہیں کہ قیامت کے دن خدا وند رحمن ہمارے گناہ معاف کر دے گا،ھم پر یہ پوشیدہ معاملہ ظاہر ہوگیا اللہ ہی آپ کواپنے احسان کے ساتھ بھترین جزادے گا ۔( ۱۸ )
ایک اور روایت میں حضرت امیر المومنین علی (ع)بن ابی طالب علیہ السلام قضاء وقدر کی وضاحت بیان کرتے ہیں ۔جس کووالبی نے جناب ابن عباس سے بیان کیا ہے کہ ایک شخص حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی کہ مجھے قدر کے متعلق بتائیں کہ قدر کیا ہے ؟
چنا نچہ حضرت نے فرمایا:
طریق مظلم فلا تسلکوه
یہ ایک تاریک راستہ ہے لہٰذا تم اس کے مسافر نہ بنو ۔
وہ پھر عرض کرتا ہے کہ مجھے قدر کے متعلق بتائیں۔
حضرت نے فرمایا:
سرُّالله فلاتفشه
یہ اللہ کا ایک راز ہے اسے افشا نہ کرو۔
وہ پھر کھتا ہے کہ مجھے قدر کے متعلق بتائیں ۔
حضرت نے فرمایا:
بَحرٌ عمیق فلا تَلِجّهُ
یہ ایک گھرا سمندر ہے اس میں نہ اترو۔
پھر ارشاد فرمایا :
اے سائل بتا !اللہ تعالی نے تجھے کس طرح خلق کیا ہے ؟کیا اس نے تجھے تیری مرضی کے مطابق پیدا کیا یا اپنی مرضی کے مطابق ؟
وہ کھنے لگا کہ اس نے مجھے اپنی مرضی کے مطابق پیدا کیا ہے۔
حضرت نے پھر پوچھا :
کیا تمہاری موت اسی کی مرضی کے مطابق ہو گی یاتیری مرضی کے مطابق؟وہ کھنے لگا کہ میری موت اسی کی مرضی کے مطابق ہو گی جس طرح وہ چاھے گااسی طرح موت دے گا۔
حضرت نے ارشاد فرمایا :
اٴلکَ مشیّه فوق مشیّة اللّٰه ام لک مشیّه مع مشیّة اللّٰه اٴولکَ مشیّة دون مشیّةالله فاِن قلت لکَ مشیّة فوقَ مشیّةاللّٰه فقد ادعیت الغلبه للّٰه تعالیٰ واِن قلتَ لک مشیّهَ مع مشیّة الله فقد اِدعیت اَلشرکه واِن قلتَ مشیتّي دون مشیته فقد اِکتیفت بمشیّتک دون مشیّةالله
کیا تیری مشیت اللہ کی مشیت سے ما فوق ہے ؟یا تیری مشیت اللہ کی مشیت کے برابرھے ؟یا تیری مشیت اللہ کی مشیت کے علاوہ ہے؟اگر تم نے یہ کھاکہ تیری مشیت اللہ کی مشیت سے مافوق ہے تو تم نے اللہ پرغلبہ کا دعوی کیا ہے اور اگر تم نے کھاکہ میری مشےت اللہ کی مشیت کے برابر ہے تو تم نے اللہ کے ساتھ شریک ہونے کا دعوی کیا اور اگر تم نے یہ کھاکہ میری مشیت اللہ کی مشیت کے علاوہ ہے تو پھر تم نے صرف اپنی مشیت پر اکتفاء کیا اور اللہ کی مشیت کو ضروری نہ سمجھا۔
پھر حضرت نے اس سے ارشاد فرمایا کہ تم یہ جملہ اداکرو:
لاحول ولا قوة الابالله
اللہ تعالی کے سواکوئی طاقت اور قوت نہیں ہے ،اس نے یہ جملہ ادا کیا پھر اس نے حضرت سے عرض کی کہ آپ اس کی تفسیر سے آگاہ فرما دیں۔
حضرت نے ارشاد فرمایا :
لاحول عن معصیةاللّٰه اِلاّبعصمته ولا قوّةعلیٰ طاعتهِ اِلاّ بمعونَتهِ
اللہ کی عصمت کے بغیر اس کی معصےت سے بچنا مشکل ہے اس کی مدد کے بغیر اس کی اطاعت کرنا دشوار ہے ۔
حضرت نے پوچھا :کیا اب تم نے اللہ کو سمجھ لیا ہے ؟اس نے کھاجی ہاں۔
حضرت نے اپنے اصحاب سے فرمایا :
الاٴن اٴسلم اَخوکم قومواالیه فصافحوه
اب تمہارا یہ بھائی مسلمان ہوگیا ہے اٹھو اور اس کے ساتھ مصافحہ کرو۔( ۱۹ )
مسلمانوںکے درمیان اس بات میں اختلاف چلاآرھاھے کہ آیا عمل ایمان میں داخل ہے یاداخل نہیں ہے ؟شیعہ اور معتزلہ کہتے ہیں داخل ہے اور مرجعہ کہتے ہیں کہ داخل نہیں ہے، چنانچہ حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام جن کے متعلق حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
” علی مع الحق والحق مع علی“
علی (ع)حق کے ساتھ ہیں اور حق علی (ع)کے ساتھ ہے ۔
ارشاد فرماتے ہیں:
لانسُبَنَّ الاٴِسلام نِسبةًًلم ینسُبها اٴحدٌ قبلي،اِلاسلام هو التسلیم والتسلیم هو الیقین والیقین هو التصدیق والتصدیق هو اِلاقرار واِلاقرار هو الاٴَداء والاٴداء هو العمل
اسلام کے ساتھ مجھے وہ نسبت دو جومجھ سے پہلے کسی کونصےب نہ ہوئی ہو (کیونکہ)اسلام ہی تسلیم ہے اور تسلیم ہی یقین ہے اور یقین کسی چیز کی تصدیق کرنا ہے اور کسی چیز کی تصدیق کرنا ہی اقرار کھلاتا ہے اور کسی چیز کا اقرار ادا ہوا کرتا ہے اور ادا کا نام ہی عمل ہوتا ہے۔( ۲۰ )
حضرت حجت کے بارے میں بشارت
جیساحضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت میںیہ بات گزر چکی ہے کہ حضرت نے امام منتظر عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظھور کی بشارت دی ہے اور حضرت علی (ع) بھی اس سلسلہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
لتعطفن الدنیا علینا بعد شمارسها عطف الضّروس علی وَلَدِها: و تلا عقیب ذلکَ: ( ونَرید اٴن نمنَّ علیٰ الذین اِستضُعفوا في الاٴرض ونجعلَهُم اٴئمةً و نجعلَهُم الوارثین )
یہ دنیااپنا زور دکھانے کے بعد پھر ھماری طرف جھکے گی جس طرح کاٹنے والی اونٹنی اپنے بچے کے طرف جھکتی ہے اس کے بعد حضرت نے (سورہ قصص کی پانچویں آیت کی تلاوت فرمائی) ہم یہ چاھتے ہیں کہ جو لوگ زمین میں کمزور کر دیے گئے ہیں ان پر احسان کریں اور ان کو پیشوا بنائیں اور انھی کو (اس زمین کا)مالک قرار دیں ۔( ۲۱ )
ایک اور مقام پر حضرت امیر المومنین اپنے کلام میں کمیل بن زیاد نخعی کو حضرت حجت عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظھور کے متعلق بتاتے ہیں ۔
اللهم بلیٰ لاتخلوالاٴرض من قائم للهِ بحجّة اِماّ ظاهراً مشهوراً واِما خائفاً مغموراً لئَلّا تَبطُل حجج ُاللهِ و بیّناتِهِ
ہاں زمین کبھی ایسے فرد سے خالی نہیں رہ سکتی جو خدا کی حجت کو برقرار رکھتا ہے چاھے وہ ظاھرو مشھور ہو یا خائف و پنہاں ،تاکہ اللہ کی دلیلیںاور بینات مٹنے نہ پائیں۔( ۲۲ )
حکمت اور موعظہ
حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب( علیہ السلام )دنیا کی بے ثباتی او ر آخرت کیلئے زاد راہ مھیا کرنے کے سلسلے میں وعظ ونصےحت فرماتے ہیں :
خذوارحِمَکَم اللّٰهمِن مَمرِّ کم لمقرّکم ولا تَهتکوا اٴستارَکم عند مَن لا تخفیٰ علیه اٴسرارَ کم واٴخرجوا مِن الدنیا قلوبَکم قبل اٴن تخرج منها اٴبدَانکم فللآخرة خُلقتُم و في الدنیا حُبستم اِنّ المرء اِذا هلک قالت الملائکة ما قدّم؟ وقال الناس ماخلّف ؟
فللّٰه آباؤکم قدموابعضاً یکن لکم ولا تُخلِّفوا کلًّا فیکون علیکم فاِنما مثلُ الدُنیا مثلُ السّمِّ یاکله مَن لا یَعرفهُ
اے لوگو!
اللہ تم پر رحم کرے اس راہ گزر سے اپنی منزل کے لئے توشہ اٹھالو ، جس کے سامنے تمہارا کوئی بھےد چھپا نہیں رہ سکتا اس کے سامنے اپنے پردے چاک نہ کرو قبل اس کے کہ تمہارے جسم اس دنیا سے الگ کر دئےے جائیں اپنے دل اس سے ہٹالو اس دنیا میں تمھیں محبوس کیا گیا ہے لیکن تمھیں آخرت کے لئے پیداکیا گیا ہے جب کوئی انسان مرتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں اس نے آگے کے لئے کیا سازوسامان بھیجا ہے۔
اور لوگ کہتے ہیںکہ وہ یہاں کیا چھوڑکر گیا ہے خدا تمہارا بھلا کرے کچھ آگے کے لئے بھےجو خدا کی قسم تمہارے بزرگوں نے آگے کیلئے کچھ نہ کچھ روانہ کیا ہے جس کا تمھیں کوئی فائدہ نہیں ملے گا لہٰذاتم بھی سب کا سب پیچھے نہ چھوڑ جاؤ کہ وہ تمہارے لئے بوجھ بنے گا کیونکہ یہ دنیا زھر کی مانند ہے جو اسے نہیں پہچانتا اسے وہ ہڑپ کر جاتی ہے۔
اسی کے متعلق حضرت امیر المومنین علی (ع)بن ابی طالب علیہ السلام مزید اس طرح ارشاد فرماتے ہیں:
لا حیاة اِلاّ بالدین ولا موت الا بجحود الیقین فاشربوا العذب الفرات یُنَبّهکم من نومة السبات واِیّاکم والسّمائم المهلکات
دین زندگی ہے اور یقین کا انکار موت ہے اورگوارپانی کاذائقہ چکھنا ہے تمھیں غفلت سے بےدار کیا گیا ہے اس سے بچو ،اور ہلاک کنندہ زھر سے دور رہو ۔
اس کے بعدآپ نے مزید فرمایا :
الدنیا دارصدقٍ لمن عَرَفها ،ومضمارُ الخَلاص لِمَن تزوُّد منها ، هی مَهبطُ وحي اللّٰه ومتّجَرَاٴولیائه اتَّجَروا فَربحوا الجنّة
دنیا صداقت کی جگہ ہے جس نے اسکو پہچان لیا اور جو اس دنیا سے اپنا زادر اہ فراھم کرتا ہے وہ نجات پا جاتا ہے (کیونکہ )یھی دنیا ہے جہاں اللہ کی وحی نازل ہوتی ہے یہ اولیاء خداکی تجارت گاہ ہے تم بھی یہاں تجارت کرو تاکہ فائدہ حاصل کر سکو ۔( ۲۳ )
شناخت پروردگار
جب ذعلب ےمانی نے آپ(ع) سے سوال کیا کہ یاا میر المومنین کیاآ پ نے اپنے پروردگار کو دےکھا ہے تو حضرت امیر المؤمنین (ع) نے ارشاد فرمایا :اٴفا اٴعبد مالا اری ۔
کیا میں اس اللہ کی عبادت کرسکتا ہوں جسے میں نے دےکھانہ ہو، حضرت امیرالمومنین علی (ع)بن ابی طالب علیہ السلام کے اس کلام سے مختلف پھلو نکلتے ہیں جن میں ایک پھلو یہ بھی ہے کہ آپ نے اس کلام میں اللہ کے ساتھ تشبیہ کی نفی فرما ئی ہے )ذعلب کھتا ہے مولا آپ (ع) کس طرح دےکھتے ہیں۔
حضرت نے ارشاد فرمایا:
لا تُدرکه العیون بمشاهدةِ العیان ولکن تدرکهُ القلوب بحقائقِ الایمان قریب مَن الاشیاء غیر ملًامسٍ بعیدٌ منها غیر مُباينٌ متکلّم بلا رویّة مُريد لا بهمّه صانعٌ لا بجارحةٍ لطیف لا یوصَفُ بالجفاء کبيرٌ لا یوصف بالجفاٍ بصيرٌ لا یوصَفُ بالحاسَّة رحیمٌ لا یوصفُ بالرِّقة تعنواالوجوة لعظمتهِ وتجِبُ القلوب من مخافته
اسے ظاھری آنکھوں سے نہیں دےکھا جا سکتا بلکہ اسے دل کی آنکھوں اورایمان کے حقائق کے ذرےعہ سے دیکھا جا سکتا ہے لیکن جسمانی اتصال کے طور پر نہیں وہ ہر شیء سے دور ہے لیکن الگ نہیں وہ غوروفکر کرنے کے بغیر کلام کرنے والا اورآمادگی کے بغیر قصد وارادہ کرنے والا اور اعضاء کی مددکے بغیر بنانے والا ہے۔
اللہ تبارک وتعالی لطیف ہے مگر پوشےد گی سے اسے متصف نہیں کیا جاسکتا وہ بزرگ وبر تر ہے لیکن تند خوئی اور بد خلقی کی صفت اس میں نہیں ہے وہ دےکھنے والا ہے مگر حواس سے اسے موصوف نہیں کیا جاسکتا وہ رحم کرنے والا ہے اس صفت کو نرم دلی سے تعبےر نہیں کیا جاسکتا چھرے اس کی عظمت کے سامنے ذلیل وخوار اور دل اس کے خوف سے لرزاں و ھراساں ہیں ۔( ۲۴ )
خواہشات کی پیروی
حضرت امیر المومنین علی (ع)بن ابی طالب علیہ السلام اپنے پاک کلام میں نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے سے ڈراتے ہوئے قرآن مجےد کی عظمت اوراس کے دلوںپر اثرات کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں ۔
انتفعوا ببیان اللّٰه واتعظوابمواعظِ اللّٰه واقبلوا نصيحة اللّٰه فاِن اللّٰه قد اٴعذَر اِلیکم بالجليةّ واٴخذعلیکم الحُجّة وبین لکم محابَّهُ من الاٴعمال ومکارهَهُ منها لتتبعوا هذه وتَجتنبوا هذه
خدا وند عالم کے ارشاد ات سے فائدہ اٹھاؤ اور اسکے موعظوں سے نصےحت حاصل کرو اور اس کی نصےحتوں پر عمل کروکیونکہ اس نے واضح دلیلوں سے تمہارے لئے عذر کی گنجائش نہیں رکھی اور تم پر (پوری طرح )حجت کوتمام کردیا ہے اور اپنے پسندےدہ اور ناپسندیدہ اعمال تم سے بیان کر دےے ہیں تاکہ اچھے اعمال بجالاؤ اور برے اعمال سے دوری اختیار کرو۔
جیساکہ اس سلسلہ میں حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :
ان الجنة حُفَّت بالمکارِهِ واِنَّ النارَ حُفَّت بالشهوات
بے شک جنت سختیوں سے گھری ہوئی ہے اور دوزخ خواہشوں میں گھرا ہوا ہے۔
حضرت مزید ارشاد فرماتے ہیں:
واعلموا اٴنّه مامن طاعة للّٰه في شيءَ اِلاّ یاتي في کرهٍٍ وما مِن معصية للّٰه في شيء اِلا یاتي في شهوة فرحم اللّٰه اِمرء اً نزع عن شهوتهِ وقمع هویٰ نفسهِ فاِن هذه النفس اٴبعدُ شیءٍ منزعاًً واِنّها لاتزال تَنزِعُ اِلیٰ معصيةً في هویٰ
یاد رکھو کہ اللہ کی اطاعت سختی کے ھمراہ ہے اور اسکی معصےت ہوا و ہوس کے ھمراہ ہے خدا اس شخص پر رحم فرمائے جوخواہشوں سے دوری اختیار کرے اورہو ا وھوس کی بنیاد کو اکھاڑ پھینکے کیونکہ نفس خواہشات میں لامحدود حد تک بڑھنے والا ہے اور وہ ھمےشہ خواہش وآرزوئے گناہ کی طرف مائل ہوتی ہیں۔
عظمت قرآن
حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام قرآن کی عظمت کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں :
واعلموا اٴنَّ هذا القرآنَ هو الناصح الذي لاَيغُشُّ ، والهادي الذي لا يضل ،والمحدّثُ الذي لا یکذب وما جالَسَ هذا القرآن اٴحدٌ اِلاّ قامَ عنهُ بزیادةٍ اٴونقصانٍ زیادة في هدیٰ اٴونقصان من عمیٰ
واعلموا اٴنه لیس علیٰ اٴحد بعد القرآن مِن فاقة ولا لاٴحد قبل القرآن مِن غنیٰ فاستشفوه من اٴدوائِکم واستعینوا به علیٰ لاٴ وائکم فاِن فیه شفاءً من اٴکبر الداء وهو الکفرُ والنفاقُ والغُّي والضلال فاساٴلوا اللّٰهَ به وتوجّهوا اِلیه بِحُبهّ ولا تساٴلوا به خَلقِه اِنّه ماتوجّه اِلیٰ الله تعالیٰ بمثله ۔
یاد رکھو ! یہ قرآن مجےد اےسا نصےحت کرنے والا ہے جو فرےب نہیں دیتا، اےسا ھدایت کرنے والا ہے جو گمراہ نہیں کرتا اور اےسا بیان کرنے والا ہے جو جھوٹ نہیں بولتا جو بھی قرآن کا ہم نشےن ہوا وہ گمراہی و ضلالت سے نکل کر ھدایت پا گیا۔ جان لو کسی کو قرآن (کی تعلیمات )کے بعد کسی اور لائحہ عمل کی ضرورت نہیں رھتی اور نہ کوئی قرآن سے (کچھ سےکھنے )سے پہلے اس سے بے نیاز ہو سکتا ہے اسکے ذرےعے بیماریوں سے بچنے کی شفاء طلب کرو اور اپنی مصیبتوں پر اس سے مدد مانگو۔،اس میں کفر ونفاق اورضلالت وگمراھی جیسی بڑی بڑی بیماریوں کی شفاء پائی جاتی ہے اس کے ذریعے اللہ سے مانگواور اس کی محبت کو لیکراس کا رخ کرو اور اسے لوگوں سے مانگنے کا ذرےعہ نہ بناؤ یقینا یہ بندوں کے لئے اللہ کی طرف متوجہ ہونے کا بھترین ذرےعہ ہے۔
اس کے بعدحضرت مزید ارشاد فرماتے ہیں:
واعلموا اٴنهّ شافعٌ مُشفَّعُ وقائلٌ مصدّق واٴنه من شَفع له القرآنُ یوم القیامة شفَّع فیه ومن مَحَل به القرآن یوم القیامة صُدِّق علیه فاِنهُ ينادي منادِ یوم القیامةُالا اِنّ کل حارثٍ مبتلیٰ في حرثهِ وعاقبة عملهِ غیر حَرَثةِ القرآن
فکونوا من حَرثَتهِ واٴتباعه واستدلّوِهُ علی رِبِّکم واستنصحو هُ علیٰ اٴنفسکم واتهموا علیه آراء کمُ واُستغشوا فیه اهواء کم العمل العَمَل ثم النهایة النهایة والاٴ ستقامةَ الاستقامةَثم الصبرَ الصبرَ والورَعَ الورعَ
تمھیں معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن اےسا شفاعت کرنے والا ہے جس کی شفاعت مقبول ہے اور اےسا کلام کرنے والا ہے (جس کی ہر بات ) تصدیق شدہ ہے قیامت کے دن جس کی یہ شفاعت کرے گا وہ اس کے حق میں مانی جائے گی اور اس روز جس کے عیوب بتائے گا تو اس کے بارے میں بھی اس کے قول کی تصدیق کی جائے گی قیامت کے دن ایک ندا دینے والا پکار کر کھے گا۔
دےکھو! قرآن کی کھےتی بونے والو ںکے علاوہ ہر بونے والا اپنی کھےتی اور اپنے اعمال کے نتےجہ میں مبتلا ہے لہٰذا تم قرآن کی کھےتی بونے والے اور اس کے پیرو کار بنو اور اپنے پروردگار تک پھنچنے کے لئے اسے دلےل راہ بناؤ اپنے نفسوں کے لئے اس سے پند ونصےحت حاصل کرواور اس کے مقابلہ میں اپنی خواہشوں کو غلط وفرےب خوردہ سمجھو، عمل کرو عمل کرو اور عاقبت وانجام کو دےکھو، استوار وپائدار رہو پھر یہ کہ صبر کرو صبر کرو ،تقویٰ اور پر ہےز گاری اختیار کرو۔( ۲۵ )
____________________
[۱] ارشادشیخ مفید ج۱ ص ۲۲۵۔
[۲] شرح نھج البلاغہ ج۶ ص۳۵۰ ۔
[۳] شرح نھج البلاغہ ابن حدید ج ۱۳ ص۶۹،۸۲۔
[۴] ارشاد ج۱ص۲۴۱۔
[۵] ارشاد ج۱ ص۲۴۰۔
[۶] شرح نھج البلاغہ ابن حدید ج ۷ ص۱۷۱۔
[۷] شرح نھج البلاغہ ابن حدید ج۷ص۲۲۱۔
[۸] ابن حدید کی شرح نھج البلاغہ ج۷ ص۲۴۶۔
[۹] شرح نھج البلاغہ ج۱۱ص۲۵۵۔
[۱۰] شرح نھج البلاغہ ج۱۱،ص۲۴۵۔
[۱۱] شرح نھج البلاغہ ج۱۳ص۱۱۵۔۱۱۶۔
[۱۲] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص۳۰۱۔
[۱۳] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص ۳۱۲۔
[۱۴] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص۲۹۸۔
[۱۵] تذکرة الخواص ص ۱۳۲۔
[۱۶] ارشاد ج۱ ص۲۴۵۔۲۴۶۔
[۱۷] ارشاد ج۱ ص۲۲۴۔
[۱۸] جناب کلینی کی کافی ،کتاب توحید ص۱۵۵،۱۵۶۔
[۱۹] سبط ابن جوزی کی تذکرة الخواص ص۱۴۴۔
[۲۰] شرح نھج البلاغہ ج۱۸ص۳۱۳۔
[۲۱] شرح نھج البلاغہ ج۱۹ ص۲۹۔
[۲۲] شرح نھج البلاغہ ج۱۸ص۳۴۷۔
[۲۳] ارشاد ج ۱ ص ۲۹۵ ،۲۹۶ ۔
[۲۴] شرح نھج البلاغہ ج ۱۰ص ۶۴ ۔
[۲۵] شرح نھج البلاغہ ج ۱۰ ص۶ا،۲۴ ۔
بارہو یں فصل
حضرت علی (ع)کا عوام کے ساتھ طرز عمل
جب کہ آپ پوری امت کے امام تھے اور سبھی لوگوں نے آپ کی بیعت کی تھی لیکن آپ لوگوںکے درمیان ایک عام شخص کی طرح زندگی بسر کرتے ‘ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر فرماتے‘سلاطےن اور بادشا ہوںکی سطوت و تکبر سے بہت دوررھتے آپ لوگوںکے درمیان زندگی بسر کرتے اور ان کی مشکلات حل کرتے ‘ اور ان کی اس طرح تربیت فرماتے جس طرح اللہ تعالی نے اپنی پاک کتاب میں حکم دیا ہے ۔
ابحر ابن جرموز اپنے باپ سے روایت بیان کرتا ہے کہ میں نے حضرت علی علیہ السلام کو مسجد کوفہ سے باھر نکلتے ہوئے دےکھا آپ بازار تشریف لے گئے آپ کے ہاتھ میں ایک کوڑا تھا ۔اور آپ لوگوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ سے ڈرنے ،سچ بولنے ، اورعمدہ خرید وفروخت کرنے اورپوری ناپ تول کرنے کی ھدایت فرمارھے تھے۔( ۱ )
ابو مطر روایت بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد سے نکلا وہاںایک شخص لوگوں کو خد اسے ڈرا رہاتھا اور انھیں ناپ اورتول کے سلسلے میں وعظ و نصیحت کر رہاتھا جب میں نے غور سے دیکھا تو وہ علی (ع) تھے ان کے پاس کوڑا تھا اور اسی طرح وعظ کرتے ہوئے وہ ”بازار ابل“ کی طرف بڑھ گئے اور لوگوں سے کھنے لگے کہ خرید وفروخت ضرور کرو لیکن قسمیں نہ کھاؤ کیونکہ قسمیں کھانے سے بخل پیدا ہوتا ہے اور برکت ختم ہوجاتی ہے۔ پھر آپ ایک کھجوروں کے مالک کے پاس آئے وہاں اس کی ملازمہ رو رھی تھی حضرت نے پوچھا تمھیں کیا ہوا ہے؟
اس نے کھامیں نے ان کھجوروں کو ایک درھم میں خریدا ہے اور میرا مولا اس کو قبول کرنے پر راضی نہیں ہے۔
حضرت نے اس کو ایک درھم دے دیا اور کھاکہ اپنے مالک کو دے دینا اور وہ راضی ہو جائے گا۔
راوی کھتا ہے میں نے مالک سے کھاکہ کیا تم جانتے ہویہ کون ہیں اس نے کھانھیں، میں نے بتایا یہ امیر المومنین علی (ع)بن ابی طالب علیہ السلام ہیںاس نے کھجور اٹھائے اور درھم دے دیا اور کھامیں چاھتا ہوں کہ امیرالمومنین علیہ السلام مجھ سے راضی رھیں۔
آپ نے فرمایا جب تم نے معاملہ ٹھےک کر لیا ہے میں تجھ سے راضی ہوں اور پھر آپ دوسرے کھجوریں بیچنے والوں کے پاس گئے اور فرمایا مسکینوں کو کھانا کھلاؤ اور انھیں اپنے جیسا لباس پھناؤ کہ اس سے تمہارے کاروبار میں برکت پیدا ہو گی پھرمچھلی فروشوںکے پاس گئے اور ان سے فرمایا: بازار میںحرام مچھلی نہ بیچا کرو۔( ۲ )
نیز ایک اور روایت میں ابن مطر بیان کرتے ہیں کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام” دار بزاز“ تشریف لائے (یہ کھدر کے کپڑے کا بازار تھا) چنانچہ حضرت نے فرمایا:
مجھے ایک قمیص کی ضرورت ہے اور میرے ساتھ اچھا معاملہ کرو اور تےن درھم میں مجھے قمیص دے دو ،لیکن جب اس شخص نے آپ کو پہچان لیا تو پیسے لینے سے انکار کر دیا ۔
کچھ دےرکے بعد اس کا نوجوان ملازم آگیا آپ نے اس سے تےن درھم میں قمیص خریدلی اور اسے زیب تن فرمایا جو کہ پنڈلیوں تک لمبی تھی۔جب دکان کے مالک کومعلوم ہوا کہ اس کے ملازم نے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کو دودھم کی قمیض تےن درھم میں فروخت کی ہے۔
تو اس نے ایک درھم لیا اور خود حضرت علی علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا:
مولا یہ ایک درھم آپ کا ہے حضرت نے پوچھا یہ کیسا درھم ہے اس نے عرض کی آپ نے جو قمیص خریدی ہے اس کی قیمت دو درھم تھی لیکن میرے ملازم نے اسے آپ کو تےن درھم میں فروخت کیا ہے، حضرت نے ارشاد فرمایا:اسے میں نے اپنی رضا ورغبت سے خریدا ہے اور اس نے رضا ورغبت سے فروخت کیا ہے۔( ۳ )
زاذان نے روایت بیان کی ہے کہ میں نے حضرت علی (ع)بن ابی طالب علیہ السلام کو مختلف بازاروں میںدےکھا ہے کہ آپ (ع) بزرگوں کو اپنے ہاتھوں سے سہارا دیتے اور بھولے ہوئے کو راستہ دکھا تے اور بار اٹھا نے والوں کی مدد کرتے ہیں اور قرآن مجیدکی اس آیت تلاوت کی فرماتے تھے:
( تلک الدارُ الآخرةُ نجعلُها للذین لا یُریدون علوّا في الاٴَرض ولا فساد اً و العاقبةُ للمتقین ) ( ۴ )
یہ آخرت کا گھر ہے جسے ان لوگوں کیلئے قرار دیا گیا ہے جو زمین پر تکبر اور فسادبرپا نہیں کرتے اور اچھا انجام تو فقط متقین کے لئے ہے ۔پھر فرمایا یہ آیت صاحب قد رت لوگوں کے حق میں نازل ہوئی ہے ۔
شعبی روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام بازار گئے وہاں ایک نصرانی کوڈھا ل فروخت کرتے ہوئے دےکھا حضرت علی علیہ السلام نے اس ڈھال کو پہچان لیا اور فرمایا:
یہ تو میری زرع ہے خدا کی قسم تیرے اور میرے درمیان مسلمانوں کا قاضی فیصلہ کرے گا اس وقت مسلمانوں کا قاضی شریح تھا حضرت علی علیہ السلام نے اسے فےصلہ کرنے کے لئے کھا۔
جب شریح نے حضرت امیر المومنین علی (ع)بن ابی طالب علیہ السلام کو دےکھا تو مسند قضاء سے اٹھا اور وہاں حضرت کو بٹھایا اور خود نیچے نصرانی کے ساتھ آکر بےٹھ گیا۔
حضرت علی علیہ السلام نے شریح سے فرمایا اگر میرا مخالف مسلمان ہوتا تو میں بھی اسکے ساتھ بےٹھتا لیکن میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔
کہ ان سے مصافحہ نہ کرو انھیں سلام کرنے میں پھل نہ کرو ان کی مرضی کے مطابق نہ چلو، ان کے ساتھ ملکرنہ بیٹھو ،انھیں نیچی جگہ پر بٹھاؤ اور انھیں حقےر جانو جس طرح انھیں اللہ نے حقےر کیا ہے بھر حال اسکے اور میرے درمیان فےصلہ کرو۔
شریح : یا امیر المومنین آپ کیا کھنا چاھتے ہیں۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام : میری یہ ڈھال کچھ وقت پہلے گم ہو گئی تھی ۔
شریح: نصرانی تم کیا کہتے ہو۔
نصرانی: امیرالمومنین نے جھوٹ نہیں بولا لیکن یہ میری ڈھال ہے۔
شریح: تیرے پاس کوئی ایسی دلیل ہے جس سے ثابت ہو کہ یہ تیر ی ڈھال ہے ۔
نصرانی کھتا ہے:
میں گواھی دیتا ہوں کہ یھی انبیاء کے احکام ہیں کہ امیرالمومنین ہونے کے باوجود قاضی کے پاس آئے کہ قاضی ان کے بارے میں فےصلہ کرے۔
خدا کی قسم اے امیرالمومنین یہ آپ کی ڈھال ہے جنگ کے دوران آپ سے کھیں گم ہوگئی تھی اورمیںنے اسے اٹھالیا تھا اور اب میں آپ سے متاثر ہوکر گواھی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور ےقےنا محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا اب جب کہ تم مسلمان ہوچکے ہو میں یہ ڈھال تمھیں دیتا ہوں اورآپ نے نصرانی کو ایک عمدہ گھوڑے پر سوار کیا، راوی کھتاھے:اس کے بعد میں نے اسی نصرانی کو مشرکوں کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے دےکھاھے ۔( ۵ )
سودہ بنت عمارہ ھمدانیہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی شہادت کے بعد معاویہ کے پاس گئی تو اس نے جنگ صفین کے قصے بیان کرنا شروع کئے اور معاملہ جھگڑے تک آپھنچاتومعاویہ نے کھا:
کیا تیری کوئی حاجت ہے؟
سودہ نے کھااللہ تم سے ہمارے معاملہ میں پوچھے گا تواس وقت تمہاری گردن پر ہمارے جتنے حقوق ہیں ان کے متعلق جواب ہوگا اور ہمیشہ تو ہم پرمقدم نہیں رھے گاجیسا کہ تم نے خودکواتنا اونچا بنا رکھا ہے۔
تم نے اپنی حکومت کی طاقت سے ھمیں گرفتار کیا اور ھمیں قےد خانوں میں ڈالا اور تم نے ھمیں اپنے پاؤں تلے روندا ھمیں غلام بنا کر فروخت کیا ھماری توھین کی، اور اس بُسربن ارطاة کو ہم پرفضیلت دی ہمارے مردوں کو قتل کیا ہمارے اموال کولوٹ لیا اگرھم اس کی اطاعت کریں تو پھر ھماری عزت ہے اوراگراطاعت نہ کرےں تو کفر کے فتوے لگیں۔
معاویہ کھتا ہے اے سودہ تم اپنی قوم کے ذریعہ ہم کو تھدےد کرتی ہو انھوں نے تمھیں اس مقام پر پھنچایا ہے کہ آج تم میرے پاس آئی ہوتا کہ میں تمہارے متعلق فےصلہ کروںسودہ کچھ دےر خاموش رھی اور پھر یہ اشعار پڑھے !
لی الاٴله علی روح تضمنها قبر فاٴصبح فیه العدلمدفونا
قدحالف الحق لایبغی به بدلا فصار بالحق والاٴ یمان مقرونا
اس پاک روح پر درود وسلام ہو ں جسے ہم قبر کے سپرد کر چکے ہیں اور اسی کے ساتھ عدل بھی دفن ہو گیا ہے۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ میں اس کا بدل نہیں چاھتی کیونکہ وہ حق کے ساتھ ملحق تھا اور ایمان اس کے ساتھ ملا ہوا تھا۔
معاویہ کھتا ہے سودہ تمہارے اشعار سے کون مرادھے ؟سودہ کہتی ہیں کہ خدا کی قسم حضرت علی (ع)بن ابی طالب علیہ السلام کی ذات مرادھے کیا تم نے نہیں دےکھا کہ اسے نماز کی حالت میں قتل کر دیا گیا حالانکہ اس کا رحم وکرم اور لطف ومھربانی تو ضرب المثل ہے۔ انھوں نے کھابتا تیری کوئی حاجت ہے ؟تو میں نے کھاجی ہاںآپ نے ایک حدیث بیان کی اور رونا شروع ہوگئی اور پھر کھاپروردگارامجھ پر اور ان پر گواہ رھنا میں نے بھی تیری مخلوق پر ظلم کرنے کا حکم نہیں دیا اور پھر اس نے ایک فائل نکالی جس میں لکھا ہوا تھا ۔
بسم الله الرحمن الرحیم ( قد جاءَ تکم بینة مِن ربکم فاٴوفوا الکَیل و المیزانَ ولا تبخَسوا الناسَ اٴشیا ء هم )
تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے دلیل آچکی ہے لہٰذا ناپ تول پورا رکھو اور لوگوں کو کم چیزیں نہ دو جب تم میرایہ خط پڑھو تو تمہار ے سامنے جو ھماراعمل ہے اس کی حفاظت کرو اور تم پر وہ مقدم ہے جو تم سے یہ حاصل کرلے۔والسلام( ۶ )
القعدالفرید میں ہے کہ معاویہ حج پر گیا اور اس نے بنی کنانہ کی ایک خاتون سے سوال کیا کہ جس پر لقوے کا اثر تھا اسی وجہ سے اسے دارمیہ جحونیہ کہاجاتاتھا اس کا رنگ سیاہ تھا اور اس پر بہت گوشت تھا اسے بتایا گیا کہ تم صحیح ہو سکتی ہو اور اسے معاویہ کے پاس لایا گیا اس نے کھااے آوارہ پھرنے والی عورت کی بیٹی میرے پاس کیو ں آئی ہو؟ اس نے کھامیں آوارہ نہیں ہوں بلکہ میں بنی کنانہ کی ایک خاتون ہوں اس نے کھاخوب یہ بتاؤ تم جانتی ہو کہ تمھیں کیوں لایا گیا ہے کھنے لگی :
اللہ کے علاوہ کوئی علم غیب نہیں جانتا ۔
معاویہ نے کھاتمھیں اس لئے لایا گیا ہے تاکہ تم سے سوال کیا جائے کہ تم علی علیہ السلام سے محبت کیوں کرتی ہو اور مجھ سے بغض کیوں رکھتی ہو اور اسے ولی کیوں مانتی ہو اور مجھ سے دشمنی کیوں رکھتی ہو۔
عورت کہتی ہے اگر مجھے معاف رکھوتو بتاؤں؟
کھنے لگا میں تجھے معاف نہیں کرسکتا ۔
اس عورت نے کہا:
جب اس طرح ہے تو سن میں حضرت علی علیہ السلام سے محبت اس لئے رکھتی ہوں کہ وہ رعیت کے ساتھ عدل وانصاف کرتے ہیں ،مال خدا کو برابر تقسیم کرتے ہیں۔
تجھ سے بغض اس لئے رکھتی ہوں کہ تم اس سے جنگ کرتے ہو جو تجھ سے زیادہ اس خلافت کا حقدار ہے، اور تو اس چیز کاطلب گار ہے کہ جس پر تیراکوئی حق نہیں۔
حضرت علی (ع) کو دوست رکھتی ہوںکیونکہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ولی بنایا ہے وہ مسکینوں سے محبت کرتے ہیں، صاحبان دین میں سب سے زیادہ معظم و مکرم ہیں اور تجھ سے اس لئے دشمنی رکھتی ہوں کہ تو بے گناہ خون بہاتا ہے اور تیرے فیصلے ظلم و جور اور خواہشات پر مبنی ہوتے ہیں ۔معاویہ کھنے لگا اسی وجہ سے تیرا پیٹ بہت پھولا ہوا ہے اور تیرے پستان بڑے بڑے ہیں اور تو بوڑھی ہوگئی ہے۔
وہ عورت کھنے لگی یھی صورت ھند کی تھی اسی لئے وہ تیرے باپ کے لئے ضرب المثل بن گئی تھی یہ سن کر معاویہ اس کو بہت برا بھلا کھاجس کو سن کر وہ عورت چپ ہو کر چلی گئی۔( ۷ )
حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی وصیت
آپ(ع) جن افراد کو زکوة اور صدقات وصول کرنے پر مقرر فرماتے تو ان کے لئے ایک ھدایت نامہ تحرےر فرماتے،یہاں پر ہم اس کے چند نمونے اس لئے بیان کر رھے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ آپ(ع) ہمیشہ حق کی حمایت کرتے تھے اور ہر چھوٹے بڑے اور پوشےدہ وظاھر امور میں عدل و انصاف کے نمونے قائم فرماتے تھے ۔چنا نچہ آپ ان عمال کو اس طرح وصیت فرماتے ۔
اللہ وحدہ لاشریک کا خوف دل میں لئے ہوئے یہاں سے جاؤ اور دےکھو ،کسی مسلمان کو خوف زدہ نہ کرنا اور اس کے ( املاک پر ) اس طرح سے نہ گزرنا کہ اسے ناگوار گزرے اور جتنا اس کے مال میں اللہ کا حق نکلتا ہو اس سے زائد نہ لینا جب کسی قبےلے کی طرف جانا تو لوگوںکے گھروں میں گھسنے کی بجائے پہلے ان کے کنوؤں پر جا کر اترنا ۔
پھر وقار اور سکون کے ساتھ ان کی طرف بڑھنا اور جب انکے درمیان پھنچنا،تو ان پر سلام کرنا ،اور آداب تسلیم میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھنا اس کے بعد ان سے کھنا۔
اے اللہ کے بندو!مجھے اللہ کے ولی اور خلیفہ نے تمہارے پاس بھیجا ہے کیا۔ تمہارے اموال میں اللہ کا کوئی حق واجب الادا ہے ؟ اگر ہے تو اسے اللہ کے ولی تک پھنچاؤاگر کوئی انکار کرے تو اس سے دوبارہ نہ پوچھنا۔اگر کوئی اقرار کرے تو اسے ڈرانے دھمکانے یا اس پر سختی یا تشدد کیے بغیر اس کے ساتھ ہو لینا اور جو سونا یا چاندی وہ دے اسے لے لینا اگر اس کے پاس گائے ،بکری یا اونٹ ہوں تو ان کے غول میںاس کی اجازت کے بغیر داخل نہ ہونا کیونکہ ان میں زیادہ حصہ تو اسی کا ہے اور اگر وہ اجازت دےدے تو ھرگز نہ سوچنا کہ تمھیں اس پر مکمل اختیار ہے ۔
دیکھو!نہ کسی جانور کو بھڑکانا ،نہ ڈرانااور نہ اس کے بارے میں اپنے غلط رویہ سے مالک کو رنجیدہ کرنا ،جتنا مال ہو اس کے دو حصے کردینا۔
اور مالک کو یہ اختیار دینا کہ وہ جو حصہ چاھے پسند کرلے ۔اور جب وہ کوئی سا حصہ منتخب کرے تو اس کے انتخاب سے تعرض نہ کرنا اور اس مال میںسے جو اللہ کا حق ہے وہ پورا کرکے اسے اپنے قبضہ میں کرلینا اور اس پہ بھی اگر وہ پہلے انتخاب کو مسترد کرکے دوبارہ انتخاب کرنا چاھے تو اسے اس کا موقع دینا اور دونوں حصوں کو ملا کر پھر نئے سرے سے وہی کرنا جس طرح پہلے کیا تھا یہاں تک کہ اس کے مال سے اللہ کا حق لے لو( ۸ )
نصر بن مزاحم کہتے ہیں کہ حضرت علی (علیہ السلام)واقعہ جمل کے بعد کوفہ تشریف لائے اہل بصرہ کے اشراف بھی آپ کے ھمراہ تھے اہل کوفہ نے آپ کابڑا استقبال کیا۔ آپ نے مسجد اعظم میں دو رکعت نماز ادا کی اور لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
تمہارے لئے اللہ کا تقوی اختیار کرنا ضروری ہے اور اھلبیت نبی(ص) سے، جس کی اطاعت کا اللہ نے حکم دیا ہے ان کی اطاعت کرنا تم پر لازم ہے ہمارے مخالفےن کی اطاعت کے بجائے اھلبیت(ع) کی اطاعت واجب ہے کیونکہ انھیں ہمارے فضل کی وجہ سے فضیلت ملی ہے۔
لیکن انھوں نے ہمارے امر میں ہمارے ساتھ جھگڑا کیا ہے اور ھماراحق غصب کر لیا ہے اور ہم سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے انھوں نے وہی چکھا اور پایا ہے جو انھوں نے چاھاوہ عنقریب تاریک گڑھے میں جاپڑیں گے البتہ کچھ لوگ میری مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے لیکن میں نے ان کو ڈانٹ کر بھگا دیا اور جو کچھ وہ ناپسند کرتے تھے وہ سب ان کو سنا دیا یہاں تک کہ انھوں نے اس تفرقہ کی وجہ سے حزب خدا کو پہچاننے کی کوشش شروع کر دی ۔
اس وقت مالک بن حبیب ےربو عی کھڑے ہوئے اور کھنے لگے:
خدا کی قسم میں نے حضرت علی (ع) سے ناپسندیدگی اور غلط بات کونہ دےکھا اور نہ سنا ہے۔ اس کے بعد آپ کو مخاطب کر کے کھنے لگا خدا کی قسم اگر آپ ھمیں حکم دیں تو ہم انھیں قتل کردیں۔ تب حضرت علی (علیہ السلام)نے فرمایا: سبحان اللہ اے مالک !تو نے نامناسب جزاکا فےصلہ کیا ہے اور حد کے متعلق مخالفت کی ہے اور اپنے آپ کوجھگڑے میں ڈال دیا ہے۔وہ کھنے لگا اے امیرالمومنین !اس معاملے میں تو بعض لوگ دھوکے سے اس حد تک پہنچ چکے ہیں۔لہٰذا آپ کو چاھیے کہ انھیں جڑ سے اکھاڑ پھینکیں ۔حضرت نے فرمایا: اے مالک اللہ کا حکم اس طرح نہیں ہے۔ اے مالک اللہ تعالی فرماتا ہے:( النفس بالنفس) جان کے بدلے میں جان، اور یہاں دھوکے کے ذکرکابھی کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اللہ فرماتا ہے جو مظلومیت کی حالت میں قتل ہوجائے تو اس کے ولی کو ہم نے سلطنت دی ہے۔
البتہ قتل میں حد سے نہ بڑھو ۔اور قتل میں اسراف سے مراد یہ ہے کہ جس نے تمھیں قتل کیا ہے اس کے علاوہ کسی اور کو قتل کرو ،اس سے اللہ نے منع کیا ہے اور یھی دھوکا بھی ہے ۔اس کے بعد ابوبردہ بن عوف ازدی کھڑا ہوا ہے جس نے آپ کی بیعت بھی توڑی تھی اس نے کہا:اے امیرالمومنین حضرت عائشہ ،طلحہ اور زبیر کے اردگرد جو لوگ قتل ہوئے ہیں وہ کیوں قتل ہوئے یا یوں کھاجائے کہ وہ کس لئے قتل کیے گئے ہیں؟۔
تب حضرت علی (ع)نے ارشاد فرمایا: وہ لو گ اس لئے قتل کئے گئے ہیں کیونکہ انھوں نے میرے شیعوںاورمیرے عمال کو قتل کیا تھا اور وہ مسلمانوں سے تعصب میں ربیعہ عبیدی کے بھائیوں کی وجہ سے قتل کئے گئے ہیں وہ کہتے ہیں ہم بےعت نہیں توڑےں گے جس طرح تم نے بےعت توڑی ہے ھمیں اس دھوکے میں نہ رکھا جائے جس میں تم ہو پس ان پر حملہ کرواور انھیں قتل کر دو تم ان سے معلوم کرو کہ کیوں انھوں نے مجھ پر حملہ کیا ہے؟ اور کیوں میرے بھائیوں کو قتل کیا ہے؟کیا میں نے ان کے ساتھ جنگ کا آغاز کیا تھا؟ اللہ کی کتاب میرے اوران کے درمیان حَکم ہے، انھوں نے میرا انکار کیا اور مجھ سے جنگ کی حالانکہ ان کی گردنوں پر میری بیعت تھی یعنی میری بیعت کرنے کے باوجود انھوںنے میرے ساتھ جنگ کی اور تقریبا میرے ایک ہزار شیعوں کا خون بہایا اس لئے انھیں بھی قتل کیا گیا ،کیا تمھیں اس میں کوئی شک وشبہ ہے ؟وہ کھنے لگا پہلے میں یقینا شک میں مبتلا تھا لیکن اب مجھ پر حقیقت حال واضح ہوگئی ہے اور مجھے قوم کی غلطی معلوم ہوگئی ہے اور آپ حق بجانب اور کاروان ھدایت کے رھنما ہیں۔( ۹ )
الواحدی دمشقی کہتے ہیں کہ حوشب خیری (یا حمیری)نے جنگ صفین میں حضرت علی (علیہ السلام)کو پکارا اور کھنے لگا اے ابن ابی طالب آپ ہم سے دور ہوجائیں ہم اپنے اور تمہارے خون کے متعلق اللہ سے سوال کریں گے ۔
اور ہم آپ سے اور آپ کے عراق سے دور ہو جانا چاھتے ہیں۔ لہٰذا آپ بھی ھمیں اور ہمارے شام کو الگ کردیں تاکہ مسلمانوں کا خون محفوظ رہ سکے اس وقت حضرت علی (ع)نے فرمایا: اے ظلم کے بانی ایسا کرنا بہت بعید ہے۔ خدا کی قسم اگر میں یہ جانتا فرےب دینے کی اللہ کے دین میں وسعت ہے تو میں ایسا کرتا اور یہ کام مجھ پربھت آسان ہوتا لیکن اللہ تعالی اہل قرآن کے لئے دھوکے اور خاموشی کو پسند نہیں کرتا بلکہ یہ تو خدا کی معصیت ہے ۔( ۱۰ )
سبط ابن جوزی ابی النوار کی سند سے روایت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
میں نے حضرت علی (علیہ السلام)کو ایک درزی کی دکان پر کھڑے ہوئے دیکھا آپ اس سے کہہ رھے تھے کہ دھاگے کو سخت رکھو اور کپڑے کی سلائی میں بارےک بینی اور دقت سے کام لو کیونکہ میں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا قیامت کے دن خائن درزی کو لایا جائے گا اوراس کے سامنے اس کی سِلی ہوئی وہ قمیص اور چادر رکھی جائے گی جس میں اس نے خیانت کی ہے اور اس طرح لوگوں کے سامنے اس کی رسوائی ہو گی ۔
پھر فرمایا : اے درزی! قمےص کی سلائی کے بعد جو اضافی کپڑا بچ جائے اس سے بچو۔ کیونکہ کپڑے کا مالک زیادہ حق دار ہے اگر کوئی کمی بےشی رہ جائے تو اس دنیامیں ہی اس سے اجازت طلب کر لو ۔( ۱۱ )
زمخشری ربیع ابرار میں ابی اعور کی سند بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام سے دنیامیں سخت زندگی گزارنے کے متعلق پوچھاگیا تو حضرت نے روتے ہوئے فرمایا کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ھمشیہ راتوں کو جاگتے تھے اور کبھی بھی انھوں نے پیٹ بھر کر کھانا تناول نہیں فرمایا۔
ایک دن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا کے دروازے پر نقش ونگار والا پردہ دےکھا تو آپ پلٹ آئے اور داخل نہ ہوئے اور آپ نے فرمایا ھمیں اس کی کیا ضرورت ہے اسے میری آنکھوں سے دور لے جاؤ یہ تو دنیا کے لئے ہے۔
آپ بھوک کی حالت میں پیٹ پرپتھر باندھ لیا کرتے تھے ۔اس سے آپ کو بہت تکلیف ہوا کرتی تھی ۔آیا خدا کے نزدیک یہ عزت و اکرام ہے یا توھین ؟
اگر کوئی یہ کھے کہ یہ توھین ہے وہ انتہائی جھوٹا اور مکار ہے اگر کوئی یہ کھے کہ اس سے عزت واکرام ہے اور اسے معلوم ہے کہ اللہ نے اس کے غیر کی توھین کی ہے اور لوگوں میں سے سب سے زیادہ خدا کے قریب وہ ہے جو دنیا کوحقےر سمجھے ۔
انھیں دنیا والوں پر خدا نے عزت و شرف عطا کیا ہے وہ دنیا سے بھوکے جاتے ہیں اور آخرت میں صحیح و سالم داخل ہوتے ہیں وہاں پتھر پہ پتھر اور اےنٹ پر اےنٹ نہیں اٹھائےں گے اس کے بعد ھمیں اس راستے پر چلایا ہے۔
خدا کی قسم ھمیں اتنی قوت و بلندی عطا کی کہ اب مجھے اس بلندی عطا کرنے والے کے سامنے حیا محسوس ہوتی ہے مجھے کھاگیا کہ میں آخرت کو اس کے غیر سے بدل لوں تو میں کھنے والوں سے کھوں گاوائے ہو تم پر کیونکہ قیامت کا دن تو نےک لوگوں کے لئے بشارت اور خوشخبری کا دن ہے۔( ۱۲ )
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم حضرت علی علیہ السلام کے پاس گئے ایک چٹائی کے علاوہ ان کے گھر میں کوئی چیز موجود نہ تھی ،آپ اسی چٹائی پر بیٹھے تھے ۔
میں نے عرض کی اے امیرالمومنین آپ مسلمانوں کے خلیفہ اور ان کے حاکم ہیں اور آپ کے ہاتھ میں بیت المال بھی ہے اس میں سے آپ لوگوں کو بہت زیادہ عنایت فرماتے ہیں جبکہ آپ کے گھر میں اس چٹائی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے ۔!!
آپ نے فرمایا :اے سوید عقل مند ایسی چیزیں اس عارضی گھر میں نہیں لاتا کیونکہ اس کے سامنے آخرت کا گھر بھی ہے ہم تو اپنے مال ومتاع کو اس گھر میں منتقل کرتے ہیں اور ہم جلد ہی اس گھر سے جانے والے ہیں ۔راوی کھتا ہے خدا کی قسم آپ کے اس کلام نے مجھے رلادیا ۔( ۱۳ )
سعید بن قیس کہتے ہیں کہ جنگ صفین کے موقع پر ایک سردار حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہواوہ کھتا ہے کہ میں ظھر کے وقت باھر نکلا جبکہ لوگ شدید گرمی کی وجہ سے آرام کررھے تھے۔
میں نے اس گرمی کے موسم میں حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو دیکھا اور ان کی خدمت میں عرض کی یاامیرالمومنین !
آپ اور اتنی شدید گرمی میں اس وقت یہاں ہیں جب کہ لوگ آرام و سکون سے سورھے ہیں حضرت نے ارشاد فرمایا :خدا کی قسم میں گھر سے اس لئے نکلا ہوںتا کہ میں مظلوم اور نادار لوگوںکی مدد کروں اب جب معاملہ اس طرح ہے تو میں آرام نہیں کرسکتا۔
اس وقت حضرت کے پاس ایک عورت آئی جس کا دل خوف ھراس کی وجہ سے دھڑک رھاتھا۔ وہ حضرت سے کھنے لگی میرے ساتھ میرے گھر چلیںکیونکہ میرا شوہر مجھے گالیاں دے رہاھے اور مجھے مارتا پیٹتا ہے۔
حضرت نے اپنا سر بلند کیا اور پھراس کے ساتھ یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے :
جس مقام پربھی مظلوم کا حق ہوگا میں اسے حاصل کرکے رہو ں گاپھر حضرت نے اس عورت سے پوچھا ،تیراگھر کہاں ہے؟ اس نے کھافلاں جگہ پر میرا گھر ہے ۔
حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام اس کے ساتھ اس کے گھر کی طرف چل دئیے جب گھر کے پاس پہنچ گئے تو حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے دق الباب کیا توایک جوان گھر سے باھر نکلا اس نے مختلف رنگوں والی چادر پھنی ہوئی تھی۔
حضرت نے اس سے فرمایا:
اے شخص اللہ کے عذاب سے ڈرو تجھے اپنی بیوی پر ظلم کرتے ہوئے شرم نہیں آتی راوی کھتا ہے کہ (یہ شخص حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو نہیں پہچانتا تھا)۔ بھرحال اس نے جواب دیا آپ کا اور اس کا کیا تعلق ہے ؟خدا کی قسم میں اس کو آپ کی باتوں کی وجہ سے ضرور مزا چکھاؤں گا ۔ حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے ارشاد فرمایا تیرے لئے ویل و ھلاکت ہے ،میں تو تجھے امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کر رہاھوںاور تو ہے کہ میری باتوں کا اس طرح جواب دے رہاھے۔ ابھی توبہ کرو۔ ورنہ میں تمھیں قتل کردوں گا ۔چنا نچہ شور سن کر لوگ جمع ہو گئے۔ اس وقت اس نوجوان کو معلوم ہوا کہ میرے ساتھ گفتگو کرنے والی شخصیت حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں ۔وہ معذرت کرتے ہوئے حضرت کی خدمت میں عرض کرنے لگا ۔یا امیرالمومنین آپ مجھ سے راضی ہو جائیں اور میں اس کو راضی رکھوں گا۔
حضرت نے اس آیت کی تلاوت فرمائی :
( لاَخَیْرَ فِی کَثِیرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ إِلاَّ مَنْ اٴَمَرَ بِصَدَقَةٍ اٴَوْ مَعْرُوفٍ اٴَوْ إِصْلاَحٍ بَیْنَ النَّاسِ وَمَنْ یَفْعَلْ ذَلِکَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیهِ اٴَجْرًا عَظِیمًا ) ( ۱۴ )
ان لوگوں کی اکثر راز کی باتوںمیں کوئی خیر نہیں ہے مگر شخص جو کسی صدقہ ‘نیکی یالوگوں کے درمیان اصلاح کا حکم دے اور جویہ سارے کام رضائے الٰھی کی طلب میں انجام دے گا ہم اسے اجر عظیم عطا کریں گے ۔( ۱۵ )
راوی کھتا ہے کہ یہ روایت میرے مرحوم والد نے مجھے بیان کی تھی اس کو میں پہلے سے نہ جانتا تھا ۔
ابی سعید حذری کہتے ہیں ایک مرتبہ حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام بازار میں تشریف لائے اور فرمایا :
یا اهل السوق،اتقواالله وایاکم والحلف فان الحلف ینفق السلعه و یمحق البرکة وان التاجر فاجر الامن اخذ الحق واعطی الحق والسلام علیکم
اے اہل بازار !اللہ سے ڈرو اور قسمیں کھانے سے بھی ڈرو کیونکہ قسمیں معاملے کو ختم کر دیتی ہیں ان کی وجہ سے برکت ختم ہوجاتی ہے اور یقینا حق لینے اور حق ادا کرنے والے تاجرکے علاوہ باقی سب تاجر فاسق فاجر ہیں ۔ والسلام علیکم( ۱۶ )
____________________
[۱] ابن عبدالبرکی استیعاب ج ۲ ص ۴۶۵ ۔
[۲] کنزالعمال ج ۶ ص۴۱۰۔
[۳] کنزالعمال ج۶ ص ۴۱۰۔
[۴] ریاض النضرہ ج ۲ص ۲۳۴۔
[۵] سنن بیہقی ج۱۰ ص۱۳۶
[۶] الامام علی منتھی الکمال البشری عباس علی مو سوی ص۱۷۲ ۔۱۷۳۔
[۷] المجالس السنیة ۔سید محسن الا مین ج۱ ص۶۶۔۶۷۔
[۸] شرح نھج البلاغہ ج۱۵ص۱۵۱۔
[۹] شرح نھج البلاغہ ج۳ص۱۰۲۔۱۰۴۔
[۱۰] حیلةالاولیاء ج۱ ص۸۵۔
[۱۱] تذکرةالخواص ۔۱۱۱۔
[۱۲] تذکرة الخواص،ص۱۱۱۔
[۱۳] ائمتنا،علی محمد علی دخیل ج۱ ص۵۲۔۵۳۔
[۱۴] سورہ نساء /۱۱۴)
[۱۵] قارئین کرام !یہ روایت والد محترم کی لکھی ھوئی ھے اگر چہ جلدی کی وجہ سے اس کا مدرک نھیں ڈھونڈ پائے۔
[۱۶] مختصر تاریخ دمشق ،ابن عساکر ج۱۸،ص۲۶
تیرہو یں فصل
علی (ع) اور آپ کے عمال
صاحب استعاب اپنی کتاب میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (علیہ السلام) روزانہ بیت المال کو عوام میں تقسیم کردیتے تھے اور کچھ بھی باقی نہ رکھتے تھے مگر یہ کہ تقسیم کرتے کرتے تھک جاتے ۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ اے دنیا میرے غیر کو دھوکا دے۔ اس طرح آپ مال فئی میں سے کچھ بھی نہ لیتے تھے اورناھی اپنے قریبی رشتہ داروں اوردوستوں کو عطافرماتے، اسی طرح اہل دین و دیانت کے علاوہ کسی والی کے ساتھ بھی اسے مختص نہ فرماتے۔( ۱ )
صاحب اسد الغابہ بنی ثقیف کے ایک شخص کی سند سے روایت بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت علی (علیہ السلام)کا” مدرج سابور“ میں عامل تھا ۔
حضرت نے ارشاد فرمایا: کسی شخص کو بھی درھم کے لئے کوڑے نہ لگانا اور ان سے سردیوں اور گرمیوں میں لباس اور کھانا نہ لینا اوروہاں کام کرنے والے کی سواری بھی نہ لینا اور جس شخص کے ذمہ مال کا مطالبہ ہو اس پر حدود تعزیر قائم نہ کرنا ۔
میں نے عرض کی کہ مولا!اسے پکڑ کر آپ کی خدمت میں لایا جائے جس طرح اس نے آپ سے فرار کیا ہے ۔ آپ نے فرمایا اگر میرے پاس پکڑکر لائے تو تجھ پرافسوس ہے ھمارا کام تو ان پر عفویعنی فضل کرنا ہے ۔( ۲ )
خراج وصول کرنے والے عاملوں کے نام حضرت کا خط
خدا کے بندے علی امیرالمومنین کاخط خراج وصول کرنے والوں کے نام۔
اما بعد! لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف سے پےش آو اور ان کی خواہشوں کا احترام کرو۔ صبر و تحمل سے کام لو اس لئے کہ تم رعیت کے خزانہ دار ،امت کے وکےل اور ائمہ کے سفےر ہو کسی سے اس کی ضروریات کو قطع نہ کرو ۔
اس کے مقصد میں رکاوٹ نہ ڈالو اور کسی مسلمان یا ذمی کے مال کو ہاتھ نہ لگاؤ مگر یہ کہ اس کے پا س اےسا گھوڑا یا ھتھیار ہو جسے وہ اہل اسلام کے خلاف استعمال کرنے والا ہو اس لئے کہ یہ ایک ایسی چیز ہے کہ کسی مسلمان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اس کو اسلام کے دشمنوں کے ہاتھوں میں رھنے دے جو مسلمانوں پر غلبہ کا سبب بن جائے ۔
اپنوںسے خیر خواھی ،ان سے نیک برتاؤ ، رعیت کی امداد اور دین خدا کو مضبوط کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھو اللہ کی راہ میں جو تمہارا فریضہ ہے ، اسے انجام دو۔ اللہ سبحانہ نے اپنے احسانات کے بدلہ میں ہم سے اور تم سے یہ چاھاھے کہ ہم مقدور بھر اس کا شکر اور طاقت کے مطابق اس کی نصرت کریں اور ھماری قوت و طاقت بھی توا علیٰ و عظیم خدا ہی کی طرف سے ہے ۔( ۳ )
ایک مرتبہ جب حضرت علی علیہ السلام کے پاس یہ خبر پھنچی کہ ان کے ایک عامل کی عوام کے ساتھ رفتار و گفتار شریعت کے مخالف ہے تو آپ نے اس کو کام کرنے سے روک دیا اور اللہ اور لوگوں کے حقوق کی حفاظت میں اس پر سختی کی لہٰذا” اردشیر خرہ“ میں آپ کی طرف سے نصب شدہ حاکم مصقلہ بن ھبیرہ شیبانی کو لکھے گئے خط میں یہ واقعہ موجود ہے ۔
حضرت ارشاد فرماتے ہیں: مجھے تمہارے متعلق ایک ایسے امر کی خبر ملی ہے اگر تم نے اسے کیا ہے تو اپنے خدا کو ناراض کیا اور اپنے امام کو بھی غضبناک کیا ہے وہ یہ کہ مسلمانوں کے اس مال غنیمت کو جیسے ان کے نیزوں (کی انیوں)اور گھوڑوں(کی ٹاپوں)نے جمع کیا تھا جس پر ان کے خون بہائے گئے تھے۔
اس کو تم اپنی قوم کے ان بدوؤ میں بانٹ رھے ہو جو تمہارے ہواخواہ ہیں۔ اس بابرکت ذات کی قسم جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور جاندار چیزوں کو پیداکیا اگر یہ صحیح ثابت ہوا تو تم میری نظروں میں ذلیل ہو جاؤ گے اور تمہاراپلہ ھلکا ہوجائے گا اپنے پروردگار کے حق کو سبک نہ سمجھو اور دین کو بگاڑ کر اپنی دنیا کو نہ سنوارو، ورنہ عمل کے ا عتبار سے خسارہ اٹھانے والوں میں سے قرار پاؤگے ۔
دیکھو!وہ مسلمان جو میرے اور تمہارے پاس ہیں اس مال کی تقسیم میں برابر کے حصہ دار ہیں اسی اصول پر وہ اس مال کو میرے پاس لینے کے لئے آتے ہیں اور لے کر چلے جاتے ہیں۔( ۴ )
حضرت کا خط زیاد بن ابیہ کے نام
عبداللہ بن عباس بصرہ ،شھر اھواز ،فارس اور کرمان پر حکمران تھا اور یہ بصرہ میں ان کاقائم مقام تھا ۔اس خط میں آپ ملاحظہ فرمائیں گے۔
جب حکمران لوگوں کی امانت میں خیانت کرتے ہیں تو حضرت ان کے ساتھ کس قدر سخت رویہ اپناتے ہیں بھرحال زیاد کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا : میں اللہ تعالی کی سچی قسم کھاتا ہوں اگر مجھے پتہ چل گیا کہ تم نے مسلمانوں کے مال میں خیانت کرتے ہوئے کسی چھوٹی یا بڑی چیز میں ھیرا پھیری کی ہے تو یاد رکھو میں ایسی مار ماروں گا کہ جو تمھیں تھی دست بنا دے گی اور تم پر گراں گزرے گی اور تمھیں ذلےل کر دے گی ۔( ۵ )
صاحب استیعاب کہتے ہیں کہ جب حضرت علی علیہ السلام کے پاس اپنے کسی عامل کی نامناسب شکایت پھنچی تو آپ نے اسے خط لکھا ”بے شک تمہارے پاس رب کی طرف سے موعظہ حسنہ آچکا ہے “ناپ تول میں عدل و انصاف سے کام لو، لوگوں کی چیزوں کی طرف مائل نہ ہو اور زمین پر ظلم و زیادتی کرکے فساد برپا نہ کرو۔ بقیةاللہ تمہارے لئے بھتر ہے اگر تم مومن ہو اور میں تم پرحفیظ نہیں ہوں، جب میرا خط تمہارے پاس پھنچے تو ہم نے جو کام تمہارے سپرد کیا ہے اس کی اچھی طرح حفاظت کرو یہاں تک کہ ہم تیری طرف کسی کو روانہ کرےں پھر آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر فرمایا: اے اللہ تو جانتا ہے کہ میں نے انھیں تیری مخلوق پر ظلم کرنے کو نہیں کھااور تیرے حق کو چھوڑنے کاحکم نہیں دیا ۔( ۶ )
جب بھی حضرت کسی شخص کوکوئی کام سونپتے تھے تو اسے اس کے بارے میں مکمل طور پر بتاتے تھے کہ اسے کس طرح کام انجام دینا ہے اس کی عمومی حالت کیا ہے جیسا کہ حضرت نے زکوةجمع کرنے کے لئے جس عامل کو بھیجا اس کے نام یہ عھدنامہ تحریر فرمایا :
میںتمھیں تقویٰ کا حکم دیتا ہوں کہ اپنے پوشیدہ ارادوں اور مخفی کاموں میں اللہ سے ڈرتے رہو جہاں نہ اللہ کے علاوہ کوئی گواہ ہوگا اور نہ اس کے سوا کوئی نگران ہو گااورمیں حکم دیتا ہوں کہ ایساکام نہ کرو جس میں بظاھر اللہ کی اطاعت ہو لیکن باطن میں اسکی مخالفت ہو جس شخص کا ظاہر و باطن اور رفتار و گفتار یکساں ہو تو اس نے درحقیقت امانت داری کا فرض انجام دیا اور اللہ کی عبادت میں خلوص دل سے کام لیا ہے اور میں نصیحت کرتا ہوں کہ تم لوگوں کو آرزدہ اورپریشان نہ کرو اور نہ ان سے اپنے عھدے کی برتری کی وجہ سے بے رخی کرو کیونکہ وہ تمہارے دینی بھائی اور زکوة و صدقات برآمد کرنے میں معین و مدد گار ہیں۔
یہ معلوم ہے کہ اس زکوة میں تمہارا بھی معین حصہ اور جانا پہچانا ہوا حق ہے اور اس میں بیچارے مسکین اور فاقہ کش لوگ بھی تمہارے شریک ہیں اور ہم بھی تمہارا حق پوراا پورا ادا کرتے ہیں تو تم بھی ان کا حق پورا پورا ادا کرو۔یاد رکھو ! اگر اےسا نہ کیا تو روز قیامت تمہارے ہی سب سے زیادہ دشمن ہوں گے اور اس شخص کی انتہائی بدبختی ہے جس کے خلاف فقیر، نادار، سائل، دھتکارے ہوئے لوگ اللہ کے حضور میں قیامت کے دن فریق بن کر کھڑے ہونگے ۔
یاد رکھو !جو شخص امانت کو بے وقعت سمجھتے ہوئے اسے ٹھکرا دے اور خیانت کی چراگاھوں میں چرتا پھرے ،اور اپنے دین اور خود کو اس کی آلودگی سے نہ بچائے تو اس نے دنیا میں بھی خود کو ذلت و خواری میں ڈالا اور وہ آخرت میں بھی ذلیل و رسوا ہوگا ،سب سے بڑی خیانت امت کی خیانت ہے اور سب سے بڑافریب پیشوائے دین کو فریب دینا ہے ۔( ۷ )
آپ کا خط مالک اشتر کے نام
جب حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے مالک اشتر کو مصر کی حکومت سپرد فرمائی ۔تو ایک نامہ تحریر فرمایا۔اس دستاویز میں آپ نے حاکم کے لئے دستور کامل بیان فرمایا جس میں تقرب خدا بھی ہے اور اللہ جسے رعیت کے لئے محبوب جانتا ہے وہ دستور بھی ہے ہمیشہ بحث کرنے والوں اور مفسرین نے ا س غور وفکراور دقت کی نگاہ سے دیکھاھے ،کیونکہ یہ جامع اور مانع امور پر مشتمل ہے اور ہم برکت اور ثواب کے لئے اس کا تذکرہ کئے دیتے ہیں۔
حضرت نے ارشاد فرمایا :رعایا کے لئے اپنے دل کے اندر رحم و رافت اور لطف ومحبت کو جگہ دو ،ان کے لئے پھاڑ کھانے والا درندہ نہ بنوجو انھیں نگل جانے کی تاک میں ہوکیونکہ رعایا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک تو تمہارے دینی بھائی دوسرے تمہارے جیسی مخلوق خدا ،ان سے لغزشیں بھی ہوں گی ان کی خطاؤں سے بھی سابقہ پڑے گا۔ان سے عمداً یا سھواً غلطیاں بھی ہوں
گی۔ تم ان سے اس طرح عفوو درگزر سے کام لینا جس طرح اللہ سے اپنے لئے عفو و درگزر کو پسند کرتے ہو اس لئے کہ تم ان پر حاکم ہو اور تمہارے اوپر تمہارا امام حاکم ہے اور جس(امام)نے بھی تمھیں والی بنایا ہے اس کے اوپر اللہ حاکم ہے اور اس نے تم سے لوگوں کے معاملات کو صحیح طور پر انجام دینے کا مطالبہ ہے اور ان کے ذریعہ تمہارا امتحان لے رہاھے۔
خبردار اللہ سے مقابلے کے لئے نہ اترنا اس لئے کہ اس کے غضب کے سامنے تم بے بس ہو اور اس کی عفو و رحمت سے بے نیاز نہیں ہو سکتے اپنی ذات کے بارے میں اور اپنے خاص عزیزوں اور رعایا میں سے اپنے دل پسند افراد کے معاملے میں حقوق اللہ اور حقوق الناس کے بارے میں بھی انصاف کرنا ۔
اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ظالم ٹھھرو گے اور جو خدا کے بندوں پر ظلم کرتا ہے تو بندوں کی بجائے اللہ اس کا حریف و دشمن بن جاتا ہے اور جس کا وہ حریف و دشمن ہو جائے وہ اس کی ہر دلیل کو کچل دے گا اور اللہ اس وقت تک برسرپیکار رھے گا۔یہاں تک کہ وہ باز آجائے اور توبہ کرے کیونکہ ظلم پر باقی رھنے سے اللہ کی نعمتیں سلب ہوجاتی ہیں اور اس کا عذاب جلد نازل ہوتا ہے اللہ مظلوموں کی پکار کو سنتا ہے اور ظالموں کےلئے وہ موقع کا منتظر رھتا ہے۔
اور تمہاری رعایا میں سب سے زیادہ دور اور سب سے زیادہ ناپسند تمھیں وہ شخص ہونا چاھیے جو زیادہ تر لوگوں کی عیب جوئی میں لگا رھتا ہے ،کیونکہ لوگوں میں عیب تو ہوتے ہی ہیں۔
حاکم کےلئے سب سے بڑی شان یہ ہے کہ ان پر پردہ ڈالے لہٰذ ا جو عیب تمہاری نظروں سے اوجھل ہوں انھیں نہ اچھالنا کیونکہ تمہارا کام انھی عیبوں کو چھپانا اور مٹانا ہے کہ جو پوشیدہ ہوں، ان کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اس لئے جہاں تک ہوسکے عیبوں کو چھپاؤ تاکہ اللہ بھی تمہارے ان عیوب کی پردہ پوشی کرے جنھیں تم رعیت سے پوشیدہ رکھنا چاھتے ہو ۔
لوگوں سے کینہ کی ہر گرہ کھول دو اور ان سے دشمنی کی ہر رسی کو کاٹ دو اور ہر ایسے رویہ سے جو تمہارے لیے مناسب نہیں ہے، بے خبر بن جاؤ اور جلدی سے چغل خور کی ہاں میں ہاں مت کھو کیونکہ وہ فریب کار ہوتا ہے اگرچہ خیر خواھوں کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔
اپنے مشورہ میں کسی بخیل کو شامل نہ کرنا وہ تمھیں دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے سے روکے گا اور فقرو افلاس کا خطرہ دلائے گا۔ اور نہ کسی بزدل سے سخت کاموں میں مشورہ لینا کیونکہ وہ تمہاری ھمت پست کردے گا نہ کسی لالچی سے مشورہ کرنا کیونکہ وہ ظلم کی راہ سے مال اکھٹا کرنے کو تمہاری نظروں میں سجا دے گا۔
یاد رکھو! بخل، بزدلی اورحرص اگرچہ الگ الگ خصلتیں ہیں مگر اللہ سے بد گمانی ان سب میں شریک ہے تمہارے لئے سب سے بدتر وزیر وہ ہو گا جو تم سے پہلے بد کرداروں کا وزیر اور گناھوں میں ان کا شریک رہ چکا ہے۔اس قسم کے لوگوں کو تمہارے خواص میں سے نہیں ہونا چاھیے کیونکہ وہ گناھگاروں کے معاون اور ظالموں کے ساتھی ہوتے ہیں۔
پھر تمہارے نزدیک ان میں زیادہ ترجیح ان لوگوں کو ہونا چاھیے جو حق کی کڑوی باتیں کھل کر تم سے کھنے والے ہوں اور ان چیزوں میں جنھیں اللہ اپنے مخصوص بندوں کےلئے ناپسند کرتا ہے تمہاری بہت کم مدد کرنے والے ہونے چاھیے وہ تمہاری خواہشوں سے کتنی ہی میل کھاتی ہوں۔
پرھیزگاروں اور راست بازوں سے خود کو وابسطہ رکھنا پھر انھیں اس کا عادی بنانا کہ وہ تمہارے کسی کارنامے کے بغیر تمہاری تعریف کرکے تمھیں خوش نہ کریں کیونکہ زیادہ تعرےف غرور پیدا کرتی ہے اور سرکشی کی منزل سے قریب کر دیتی ہے اور تمہارے نزدیک نیکوکار اور بد کار برابر نہ ہوں کیونکہ ایسا کرنے سے نیکوں کو نیکی سے بے رغبت کرنا ہے اور بروں کو برائی پر آمادہ کرنا ہے۔
تمھیں معلوم ہونا چاھیے کہ رعایا میں کئی طبقے ہوتے ہیں جن کی فلاح بھبود ایک دوسرے کے ساتھ وابسطہ ہوتی ہے اور وہ ایک دوسرے سے بے نیاز نہیں ہوسکتے۔
ان میں سے ایک طبقہ اللہ کی راہ میں کام آنے والے فوجیوں کا ہے اور دوسرا طبقہ وہ ہے جو عمومی اور خصوصی تحریروں کا کام انجام دیتا ہے اور تیسرا انصاف کرنے والے قاضیوں کا ہے اور چوتھا حکومت کے ان کارندوں کاھے جو امن وانصاف قائم کرنے پر مامور ہوتے ہیں۔پانچواں طبقہ خراج دینے والے مسلمانوں اور جزیہ دینے والے ذمی کافروں کا ہے چھٹا طبقہ تجار اور ھنرمندوں کا ہے اور ساتواں طبقہ فقراء مساکین کا ہے جو سب سے پست ہے اور اللہ تعالی نے ہر ایک کا حق معین کردیا ہے اور اپنی کتاب یا سنت نبوی میں اس کی حد بندی کردی ہے اور وہ (مکمل) دستور ہمارے پاس محفوظ ہے۔
پھلا طبقہ فوج یہ خدا کے حکم سے رعیت کی حفاظت کا قلعہ ،فرمانرواؤں کی زینت دین و مذھب کی قوت اور امن کی را ہیں ہیں اور رعیت کا نظم و نسق انھیں سے قائم رہ سکتا ہے اور فوج کی زندگی کا سہارہ وہ خراج ہے جو اللہ نے ان کے لئے معین کیا ہے کہ جس سے وہ دشمنوں سے جہاد کرنے میں تقویت حاصل کرتے ہیں۔
اور اپنی حالت کو درست بناتے اور ضروریات کو بھم پھنچاتے ہیں۔ پھر ان کے نظم ونسق اور بقاء کے لئے دوسرے طبقوں کی ضرورت ہے جو قضاة،عمال اور دفاتر کے کاتبوں پر مشتمل ہیں جن کے ذریعے باھمی معاھدوں کی مضبوطی خراج اور دیگر منافع کی جمع آوری ہوتی ہے ۔اور معمولی اور غیر معمولی معاملوں میں ان کے ذریعے وثوق اور اطمینان حاصل کیا جاتا ہے ۔
سب کا دارمدار تاجروں اور صنعت گروں پر ہے کہ وہ ان کی ضروریات کو فراھم کرتے ہیں بازار لگاتے ہیں اور اپنی کاوشوں سے ان کی ضروریات کو مھیا کر کے انھیں آسودہ خاطربناتے ہیں ،اس کے بعد پھر فقیروں اور ناداروں کا طبقہ ہے جن کی اعانت و دستگیری ضروری ہے ۔
اللہ تعالی نے ان سب کے گزارے کی صورتیں پیدا کر رکھی ہیں اور ہر طبقہ کا حاکم پر یہ حق ہے کہ وہ ان کے لئے اتنا سامان مھیا کرے کہ جس سے ان کی حالت بھتر ہوسکے۔
پھر یہ کہ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرنے کے لئے ایسے شخص کاانتخاب کرو جو تمہارے نزدیک تمہاری رعایا میں سب سے بھتر ہو جو واقعات کی پےچیدگیوں کو اچھے ڈھنگ سے سلجھا سکے اور غےض و غضب سے دور رھے اور اپنی غلطی پر مصر نہ رھے،نہ حق کو پہچان کر اسے اختیار کرنے میں طبیعت پر بار محسوس کرتا ہو ،نہ اس کا نفس ذاتی طمع پر جھک جاتا ہو اور نہ پوری طرح چھان بین کئے بغیر سرسری طور پر کسی معاملہ کو سمجھ لینے پر اکتفاء کرتا ہو۔
شک و شبہ کے موقع پر قدم روک لیتا ہو اور دلیل و حجت کو سب سے زیادہ اھمیت دیتا ہو اور فریقین کی بحث سے اکتانہ جاتا ہو ،معاملات کی تحقیق میں بڑے صبر و ضبط سے کام لیتا ہو اور جب حقیقت واضح ہو جاتی ہو ،تو یہ بے دھڑک فیصلہ کردیتا ہو وہ ایساھو جسے تعرےف مغرور نہ بنائے۔ اگرچہ ایسے لوگ کم ہی ملتے ہیں۔
پھر یہ کہ تم خود ان کے فیصلوں کا بار بار جائیزہ لیتے رھنا ،دل کھول کر انھیں اتنا دینا ۔کہ جو ان کے ہر عذر کو غیر مسموع بنا دے۔ اور لوگوں سے انھیں کوئی احتیاج نہ رھے اور اپنے دربار میں انھیں ایسے باعزت مرتبہ پر رکھو کہ لوگ انھیں ضرر پھنچانے کا کوئی خیال نہ کر سکیں تاکہ وہ تمہارے التفات کی وجہ سے لوگوں کی سازش سے محفوظ رھیں۔
اس کے بارے میں انتہائی بالغ نظری سے کام لینا کیونکہ (اس سے پھلے)یہ دین بد کرداروں کے پنجے میں اسیر رہ چکا ہے جس میں نفسانی خواہشوں کی کارفرمائی تھی اور اسے دنیا طلبی کا ایک ذریعہ بنا دیا گیا تھاپھر اپنے عھدے داروں کے بارے میں نظر رکھنا اور ان کو خوب آزمائش کے بعد منصب دینا، کبھی صرف رعایت اور جانبداری کی بنا پر انھیں منصب عطا نہ کرنا کیونکہ یہ باتیں ناانصافی اور بے ایمانی کا سرچشمہ ہیں۔ ایسے لوگوں کو منتخب کرنا جو آزمودہ اور غیرت مند ہوں ،ایسے خاندانوں میں سے جو اچھے ہوں اور جن کی خدمات اسلام کی سلسلہ میں پہلے سے ہوں ان کا انتخاب کرنا کیونکہ ایسے لوگ بلند اخلاق کے مالک اور شرافتمند ہوتے ہیں ۔
حرص و طمع کی طرف کم جھکتے ہیں اور عواقب و نتائج پر زیادہ نظر رکھتے ہیں ۔اور سچے اور وفادار مخبروں کو ان پر معےن کر دینا کیونکہ خفیہ طور پر ان کے امور کی نگرانی انھیں امانت داری اور رعیت کے ساتھ نرم رویہ رکھنے کی پابند بنا دے گی ۔
مالیات کے معاملہ میں مالیات ادا کرنے والوں کا مفاد پیش نظر رکھنا کیونکہ انھی کی بدولت دوسروں کے حالات درست کیے جاسکتے ہیں سب اسی خراج اور خراج دینے والوں کے سہارے پر جیتے ہیں۔خراج کی جمع آوری سے زیادہ زمین کی آبادی کا خیال رکھنا کیونکہ خراج بھی تو زمین کی آبادی سے حاصل ہو سکتا ہے۔
اور جو آباد کئے بغیر خراج چاھتا ہے وہ ملک کی بربادی اور خدا کے بندوں کی تباھی کاسامان کرتا ہے اور اس کی حکومت زیادہ نہیں چل سکتی۔ اب اگر وہ خراج کی گر انباری یا کسی ناگہانی آفت یا نھری اور بارانی علاقوں میں ذرائع آبپاشی کے ختم ہونے یا زمین کے سیلاب میں گھر جانے یا سیرابی کے نہ ہونے کے باعث اس کے تباہ ہونے کی شکایت کریں تو خراج میں اتنی کمی کر دو جس سے تمھیں ان کے حالات سدھر نے کی توقع ہو ۔
پھر خصوصیت کے ساتھ پسماندہ و افتادہ طبقہ کے بارے میں اللہ کا خوف کرنا جن کا کوئی سہارا نہیں ہوتا وہ مسکینوں محتاجوں، فقیروں ،اور معذوروں کا طبقہ ہے ان میں کچھ تو ہاتھ پھیلا کر مانگنے والے ہوتے ہیں اور کچھ کی صورت (ھی)سوال ہوتی ہے اللہ کی خاطر ان بے کسوں کے بارے میں اس کے اس حق کی حفاظت کرنا جس حق کا اس نے تمھیں ذمہ دار بنایا ہے ۔
ان کے لئے ایک حصہ بیت المال سے مختص کر دینا اور ایک حصہ ہر شھر کے اس غلہ میں سے دینا جو اسلامی غنیمت کی زمینوں سے حاصل ہوا ہو کیونکہ اس میں دور والوں کا اتنا ہی حصہ ہے جتنا نزدیک والوں کا ہے اور تم سب ان کے حقوق کی نگھداشت کے ذمہ دار بنائے گئے ہو ۔ خصوصیت کے ساتھ ایسے افراد کی خبر رکھنا ۔
جو تم تک نہیں پہنچ سکتے جنھیںآنکھیں دیکھنے سے کراھت کرتی ہوں اور لوگ انھیں حقارت سے ٹھکراتے ہوں گے ۔تم ان کے لئے اپنے کسی باوثوق انسان کو مقرر کرنا جو خوف خدا رکھنے والا ہو اور متواضع ہو تاکہ وہ ان کے حالات تم تک پھنچاتا رھے۔پھر ان کے ساتھ وہ طرز عمل اختیار کرنا جس سے قیامت کے روز تم اللہ کے سامنے حجت پیش کر سکو کیونکہ رعیت میں دوسروں سے زیادہ یہ لوگ انصاف کے محتاج ہیں اور یوں تو سب ہی ایسے ہی ہیں کہ تمھیں ان کے حقوق کو ادا کرکے اللہ کے سامنے سرخرو ہونا ہوگا ۔
دیکھو!یتیموں اور ضعےفوں کا خیال رکھنا جو نہ کوئی سہارا رکھتے ہیں اور نہ سوال کے لئے اٹھتے ہیں یھی وہ کام ہے جو حکام پر گراں گزرا کرتا ہے، ہاں جو لوگ عقبیٰ کے طلب گار رھتے ہیں خدا ان کی مشکلوں کو آسان بنا دیتا ہے اور وہ اسے اپنی ذات پر برداشت کرلیتے ہیں اور اللہ نے جو ان سے وعدہ کیا ہے وہ اس کے سچے وعدے پر اعتماد رکھتے ہیں ۔ تم اپنے اوقات کا ایک حصہ حاجتمندوں کے لئے معین کردینا۔
جس میں ہر کام چھوڑ کر انھیں کے لئے مخصوص ہوجانا اور ان کے لئے ایک عام دربار قائم کرنا اور اس میں اپنے پیدا کرنے والے اللہ کے لئے تواضع و انکساری سے کام لینا۔ فوجیوں نگھبانوںاور پولیس والوں کو ہٹا دینا تاکہ کھنے والے بے دھڑک کہہ سکیں کیونکہ میں نے رسول خدا (ص)کوکئی موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے :
اس قوم میں پاکیزگی نہیں آسکتی جس میں کمزوروں کو طاقتوروں سے حق نہیں دلایا جاتاھو۔پھر کچھ امور ایسے ہیں جنھیں خود تم ہی کو انجام دینا چاہئے ان میں سے ایک حکام کے ان مراسلات کا جواب دینا ہے جو تمہارے منشیوں کے بس میں نہ ہوں، دوسرا تمہارے سامنے پیش ہونے والے لوگوں کی حاجتیں۔
ھر دن کا کام اسی دن ختم کر دیا کرو کیونکہ ہر دن اپنے ہی کام کے لئے مخصوص ہوتا ہے اور اپنے اوقات کا بھتر و افضل حصہ اللہ کی عبادت کے لئے خاص کردینا اگرچہ وہ تمام کام بھی اللہ کے لئے ہیں جب نیت بخیر ہو اور ان کاموں سے رعیت کی خوشحالی ہو ان مخصوص کاموں میں سے جن کے ساتھ تم خلوص کے ساتھ اللہ کے لئے اپنے دینی فریضہ کو ادا کرتے رہو ان واجبات کی انجام دھی ہونا چاھیے جو اس کی ذات سے مخصوص ہیں ۔تم شب و روز کے اوقات میں اپنی اپنی جسمانی طاقتوں کا کچھ حصہ اللہ کے سپرد کردو اور جو عبادت بھی تقرب الھی کی غرض سے بجالانا وہ ایسی ہو کہ اس میں کوئی خلل اور نقص نہ ہو۔ اس میں تمھیں کتنی ہی جسمانی زحمت اٹھانا پڑے ۔
اور دیکھو!جب لوگوں کو نماز پڑھانا تو ایسا نہ ہو کہ (طول دیکر)لوگوں کو بیزار کر دو اور نہ اتنی مختصر ہو کہ نماز ہی نہ رھے کیونکہ نمازیوں میں بیمار بھی ہوتے ہیں اور بعض وہ ہوتے ہیں جنھیں کوئی ضرورت درپیش ہوتی ہے۔ مجھے جب رسول خدا(ص)نے یمن کی طرف روانہ کیا تو میں نے آپ سے دریافت کیا کہ انھیں کس طرح نماز پڑھاؤں؟
آپ نے فرمایا ”جیسی ان کے سب سے زیادہ کمزور و ناتواں کی نماز ہو سکتی ہے اور تمھیں مومنوں کے حال پر مھربان ہونا چاہئیے “۔( ۸ )
آپ کا خط عثمان بن حنےف کے نام
اس بحث کا اختتام حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے اس خط پر کرتے ہیں جو آپ نے والی بصرہ عثمان بن حنیف کو اسوقت تحریر فرمایا۔ جب اسے وہاں کے بعض افراد نے کھانے کی دعوت دی اور وہ ان کھانے میں شریک ہوئے، حضرت نے ارشاد فرمایا :
اے ابن حنیف!مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ بصرہ کے جوانوں میں ایک شخص نے تمھیں کھانے پر بلایا ہے اور تم لپک کر اس کے پاس پہنچ گئے ۔اور وہاں رنگا رنگ کے عمدہ عمدہ کھانے تمہارے لئے چن چن کر لائے جارھے تھے اور بڑے بڑے پیالے تمہاری طرف بڑھائے جارھے تھے ۔مجھے امید نہ تھی کہ تم ان لوگوں کی دعوت قبول کر لو گے جن کے ہاں سے فقیر و نادار تو دھتکارے گئے ہوں اور دولت مند مدعو کئے گے ہوں، تمھیں معلوم ہونا چاھیے کہ ہر مقتدی کا ایک پیشوا ہوتا ہے جس کی وہ پیروی کرتا ہے اور جس کے نور علم سے کسب ضیاء کرتا ہے۔
دیکھو! تمہارے اس امام کی حالت تو یہ ہے کہ اس نے دنیا کے سا زو سامان میں دو پھٹی پرانی چادروں اور کھانوں میں سے دو روٹیوں پر قناعت کر لی ہے ۔میں مانتا ہوں کہ یہ تمہارے بس کی بات نہیں ہے ۔
لیکن اتنا تو کروکہ پرھیز گاری،سعی وکوشش،پاکدامنی اور سلامت روی میں میرا ساتھ دو۔ خدا وند متعال کی قسم میں نے تمہاری دنیا سے سونا سمیٹ کر نہیں رکھا اور نہ اس کے مال و متاع میں سے انبار جمع کر رکھے ہیں اور نہ ان پرانے کپڑوں کے بدلہ میں (جو پھنے ہوئے ہوں)اور کوئی نیا کپڑا میں نے مھیا کیا ہے اور نہ ایک بالشت زمین خریدی ہے۔
اس آسمان کے سائے تلے لے دے کر ایک فدک ہی ہمارے ہاتھوں میں تھا اس پر بھی کچھ لوگوں کے منہ سے رال ٹپکی اور دوسرے فریق نے اس کے جانے کی پروا نہ کی اور بھترین فیصلہ کرنے والی اللہ تعالی کی ذات ہے۔
بھلا میں فدک یا فدک کے علاوہ کسی اور چیز کو لے کر کیا کروں گا جبکہ کل نفس کی منزل قبر قرار پانے والی ہے کہ جس کی تاریکیوں میں اس کے نشان مٹ جائیں گے اور اس کی خبریں نا پید ہوجائیں گی ۔
وہ تو ایک ایسا گڑھا ہے کہ اگر اس کا پھیلاؤ بڑھا بھی دیا جائے اور چنانچہ ہاتھ اسے کشادہ بھی کردیں جب بھی پتھر اور کنکر اس کو تنگ کریں گے اور مسلسل مٹی کے ڈالے جانے سے اس کی دراڑیں بند ہوجائیں گی ۔میری توجہ تو صرف اس طرف ہے کہ میں تقوی الٰھی کے ذریعہ اپنے نفس کو بے قابونہ ہونے دوںتاکہ جس دن خوف حد سے بڑھ جائے وہ مطمئن رھے اور پھسلنے کی جگھوں پر مضبوطی سے جما رھے ۔
اگر میں چاھتا تو بھترین شھد ،عمدہ گیھوںاور ریشم کے بنے ہوئے کپڑوں کے ذرائع مھیا کر سکتا تھا لیکن ایسا کہاں ہو سکتا ہے کہ خواہشیں مجھے مغلوب بنا لیں اور حرص مجھے اچھے اچھے کھانوں کی طرف دعوت دے جبکہ شاید حجاز اور یمامہ میں ایسے لوگ بھی ہوں جنھیں ایک روٹی ملنے کی بھی آس نہ ہو اور انھیں پیٹ بھر کر کھانا کبھی نصیب نہ ہوا ہو ۔کیا میں شکم سیر ہو کر پڑا رہو ؟جبکہ میرے اردگرد بھوکے پیٹ اور پیاسے جگر تڑپتے ہوں یا میں ویسا ہو جاؤں جیسا کھنے والے نے کھاھے۔ ”کہ تمہاری بیماری یہ کیا کم ہے کہ تم پیٹ بھر کر لمبی تان لو اور تمہارے گرد کچھ ایسے جگر ہوں جو سوکھے چمڑے کو ترس رھے ہوں“
کیا میں اسی میں مگن رہو ں کہ مجھے امیرالمومنین کھاجاتا ہے۔ مگر میں زمانہ کی سختیوں میں مومنوں کا شریک و ھمدم ،اور ان کی زندگی کی تلخیوں میں ان کے لئے نمونہ عمل نہ بنوں میں اس لئے تو پیدا نہیں ہوا ہوں کہ اچھے اچھے کھانوں کی فکر میں لگا رہو ںاس بندھے ہوئے جانور کی طرح جسے صرف اپنے چارے کی فکر لگی رھتی ہے۔ یا اس کھلے ہوئے جانور کی طرح کہ جس کا کام منہ مارنا ہوتا ہے۔
وہ گھاس سے پیٹ بھر لیتا ہے اور جو مقصد اس کے پیش نظرہو تا ہے اس سے وہ غافل رھتا ہے۔ کیا میں بے قید و بند چھوڑدیا گیا ہوں یا بیکار کھلے بندوں کی طرح رھاکر دیا گیا ہوں کہ گمراہی کی رسیوں کو کھینچتا رہو ں اور بھٹکنے کے مقامات میں سرگردان رہو ں ۔( ۹ )
____________________
[۱] مناقب اھلبیت ماردتہ العامہ الشرو انی ص۲۱۷۔
[۲] سید محسن الامین کی اعیان الشیعہ ج۱ ص۳۴۸۔
[۳] شرح نھج البلاغہ ج۱۷ ص۱۹۔۲۰۔
[۴] الامام علی منتھی الکمال البشری ص۱۶۷۔
[۵] شرح نھج البلاغہ ج۱۵۔ص۱۳۸۔
[۶] ما روتہ العامہ فی مناقب اھلبیت علیھم لسلام شیروانی ص ۲۱۶۔
[۷] شرح نھج البلاغہ ج۱۵ص۱۵۸۔
[۸] شرح نھج البلاغہ ج۱۷ص۳۲۔۸۹۔
[۹] شرح نھج البلاغہ ج۱۶ص۲۰۵۔۲۸۷۔
چودھویں فصل
تینوں جنگوں میں علی علیہ السلام کا کردار
جنگ جمل:
حضرت امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تم لوگوں نے عثمان کے حادثہ کے بعد تو میرے پاس آکر کھاھم آپ کی بیعت کرنا چاھتے ہیں ،میں نے کھامیں اس پر راضی نہیں ہوں تو تم نے اصرار کیا کہ آپ مانیں ،میں نے واضح طور پر کھاایسا نہیں ہو سکتا میں نے اپنی مٹھی بند کرلی لیکن تم اسے کھول رھے تھے میں تمہارے ساتھ جھگڑرھاتھا اور تم سر تسلیم خم کئے ہوئے تھے۔ وہ اس معاملہ میں مجھ سے بیمار اونٹ کی طرح مضطرب ہو رھے تھے۔ یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کھیں مجھے قتل نہ کر دو ،یا کھیں ایک دوسرے کو قتل نہ کر بیٹھو ،یہ سوچ کر میں نے مٹھی کھول دی اور تم لوگوں نے اپنے اختیار اور مرضی کے ساتھ میری بیعت کی۔۔ تم میں سب سے پہلے طلحہ اور زبیر نے میری بیعت کی،یہ دونوں کسی مجبوری کے بغیر میری اطاعت میں آئے، پھر انھوں نے اس بیعت کو توڑ دیا ،اللہ جانتا ہے کہ ان دونوں نے دھوکے کا ارادہ کیا تھا میں نے دوسری مرتبہ پھر ان سے تجدید بیعت کروائی تھی تاکہ امت مرحومہ میں بغاوت نہ پھیل جائے، انھوں نے دوسری مرتبہ بیعت کی لیکن اسے بھی پورا نہ کیا اور میرے عھد و پیمان اور بیعت کو توڑ دیا ۔( ۱ )
جب حضرت عائشہ ،طلحہ اور زبیر ( مکہ سے بصرہ جاتے وقت ) مل گئے تو حضرت علی (ع) نے اللہ کی حمد وثناء کرنے کے بعد ارشاد فرمایا عائشہ ،طلحہ اور زبیر جب اس راہ پر چل نکلے ہیں تو میں بتا دینا چاھتاھوں کہ ان میں سے ہر ایک فقط اپنی ذات کے لئے خلافت کا مدعی ہے۔
طلحہ اس لئے مدعی خلافت بنا کہ میں حضرت عائشہ کا چچا زاد ہوں اور زبیر اس لئے خلافت کا دعوے دار بنا کہ میں اس کے باپ کا سر ہوں خدا کی قسم اگر یہ دونوں اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے تو زبیر‘ طلحہ کی گردن اڑا دیتا اور طلحہ‘ زبیر کی گردن اڑا دیتا اور یہ دونوں ملک حاصل پر جنگ شروع کر دیتے ۔
خدا کی قسم! میں جانتا ہوں عائشہ اونٹ پر سوار ہوئی تو یہ مشکلات کو حل کرنے کے لئے اور کسی مقام کو پانے کے لئے نہ تھا بلکہ یہ معصیت اور گناہ تھا یہاں تک کہ اس کے اور اس کے ساتھیوں کے دل میں جو کچھ بھی تھا اس کو لئے ہوئے میدان جنگ میں کود پڑے۔ ایک تہائی لوگ مارے گئے ایک تہائی لوگ بھاگ گئے اور ایک تہائی ہمارے پاس لوٹ آئے ۔
خدا کی قسم طلحہ اور زبیر جانتے ہیں کہ انھوں نے گناہ کیا ہے اوروہ اس سے جاھل نہیں ہیں ،کبھی کبھی انسان جانتا ہے کہ اس کا جھل اس کا قاتل ہے اور اس کے ساتھ اس کا علم کوئی فائدہ نہیں دیتا ۔خدا کی قسم اس پر حواب کے کتے بھونکے تھے کیا کوئی معتبر شخص اس پر اعتبار کر سکتا ہے ؟یا کوئی مفکر ایسی فکر رکھ سکتا ہے ؟پھر آپ نے ارشاد فرمایا :باغی گروہ جنگ کرنے کے لئے آمادہ ہے پس احسان کرنے والے کہاں ہیں ؟( ۲ )
جب حضرت علی علیہ السلام نے ربذہ سے بصرہ کی طرف جانے کاا رادہ ظاہر کیا تو رفاعہ بن رافع کا بیٹا پوچھتا ہے ۔
اے امیرالمومنین !آپ کس چیز کا ارادہ رکھتے ہیں اور کہاں جانا چاھتے ہیں۔
حضرت نے فرمایا جہاں تک میرے ارادے اور نیت کا تعلق ہے اگر انھوں نے اس کو قبول کیا اور ھمارا جواب دیا تو ہم ان لوگوں کی اصلاح کرنا چاھتے ہیں۔ وہ کھتا ہے اگر انھوں نے جواب نہ دیا تو؟حضرت نے فرمایا: ہم انھیں بلا کر عذر پوچھیں گے ،حق کی اطاعت کھیں گے اور صبر کریںگے۔
وہ کھتا ہے اگر وہ اس پر بھی راضی نہ ہوئے تو ؟
حضرت نے فرمایا: ہم کھیں گے کہ ھمارا پیچھاچھوڑدو۔
وہ کھتا ہے اگر انھوں نے نہ چھوڑا تو ؟
آپ نے فرمایا: ہم خود کو ان سے دور رکھیں گے۔
وہ کھتا ہے ،یھی اچھا ہے ۔( ۳ )
معاویہ کا خط زبیر بن عوام کے نام
بسم اللہ الرحمن الرحیم
امیرالمومنین عبداللہ بن زبیرکی طرف معاویہ بن سفیان کا خط
سلام علیک۔
میں نے اہل شام کو تمہاری بیعت کے لئے آمادہ کر لیا ہے اور انھوں نے اس کو قبول کیا اور شھر کے شھر پر جمع ہو گئے البتہ کوفہ اور بصرہ تیرے لئے نہیں ہے۔
ان کی طرف تم سے پہلے ابن ابی طالب سبقت نہ کر بیٹھیں کیونکہ اگر ان دونوں شھر وں پر قبضہ نہ ہوا تو گویا کچھ بھی نہ ہوا، میں نے تیرے بعد طلحہ بن عبداللہ کی بیعت لی ہے۔
لہٰذا واضح طور پر عثمان کے خون کا مطالبہ کر دو اور اس معاملہ پر لوگوں کو جمع کرو، تمھیں چاھیے کہ تم دونوں ایک بن جاؤ ،اللہ تمھیں فتح دے گا اور مخالفین کو دھوکا۔
جب یہ خط زبیر کوملا تو اس کی خوشی کی انتہاء نہ رھی، اس نے طلحہ کو بتایا اور اس کے سامنے خط پڑھا اور معاویہ کی اس چالاکی پر دونوں نے شک تک نہ کیا اور دونوں عثمان کے معاملہ میں حضرت علی علیہ السلام کے خلاف اکٹھے ہو گئے ۔( ۴ )
جب طلحہ زبیر اور عائشہ جنگ شروع ہونے سے قبل بصرہ میں اکٹھے ہوئے تو آپ نے انھیں خط لکھا :
تم دونوں نے اطاعتا ًمیری بیعت کی تھی اب تم دونوں جہاں پر بھی ہو اللہ تعالی سے معافی مانگو،اور اگر تم دونوں نے مجبورا بیعت کی تھی تو پھر تمہارے لئے کوئی راہ نکل سکتی ہے یا تو اطاعت کرنے کے ساتھ پاک ہوجاتے ۔جبکہ نافرمانی اور معصیت تمہارے اندر پوشیدہ تھی، اے زبیر تم تو فارس قریش کھلاتے تھے اور اے طلحہ تم تو مہاجرین کے شیخ مشھور تھے اس معاملہ میں داخل ہونے سے پہلے میں تمھیں روک رھاھوں، اقرار کرلینے کے بعد جنگ میں کودنے سے یہ زیادہ بھتر ہے۔ تمہارا یہ کھنا کہ میں نے عثمان بن عفان کو قتل کروایا ہے تمہارے اور میرے درمیان اللہ گواہ ہے کہ تم نے اہل مدینہ میں سے میری مخالفت کی ۔
اوریہ عثمان کی اولاداس کے اولیاء ہیںاگرچہ وہ مظلومیت میں مارا گیا جیسا کہ تم دونوں کہتے ہو اور تم مہاجرین کے مرد ہو ،تم نے میری بیعت کی اور پھر اسے توڑا اور مجھ سے جنگ کے لئے نکل کھڑے ہوئے اور تم نے اس گھر سے نکلنے کا حکم لگادیا جس کو گھر میں رھنے کا حکم اللہ نے دیا تھا اور اللہ ہی تمھیں کافی ہے۔ والسلام۔( ۵ )
ایک خط جناب عائشہ کے نام
اما بعد! یقینا تو گھر سے اللہ اور اس کے رسول (ص)کی نافرمانی کرتے ہوئے نکلی ہے اور تو اس چیز کا مطالبہ کرتی ہے جو تیرے لئے مناسب نہیں ہے اور اپنے سے بنا لیا ہے کہ میں لوگوں کی اصلاح کر نے کے لئے نکلی ہوں۔مجھے بتا کہ عورتوں کا فوج کے لشکروں میں کیا کام ہے اور پھر تو سوچتی ہے کہ میں عثمان کے خون کا مطالبہ کر رھی ہوں جبکہ عثمان بنی امیہ سے تھا اور تو بنی تمیم کی عورت ہے۔
اپنی جوانی کی قسم تم نے خود کو مصیبت میں پھنسا دیا ہے اور تم نے عثمان کے قتل سے بھی بڑا گناہ کیا ہے اور تمہارا غضب خود تمہارے اوپر ہے اور تم نے فقط اپنی توھین کی ہے ۔
اے عائشہ اللہ سے ڈرو اور گھر میںچلی جاؤمیں نے تیرے پردے کا اھتمام کردیا ہے ۔
والسلام ۔
حضرت عائشہ نے آپ (ع)کو جواب دیا معاملہ اب غصہ سے ظاہر ہوگا ہم کبھی بھی آپ کی اطاعت میں داخل نہ ہوں گے آپ کا جو جی چاھتا ہے وہی کرو۔ والسلام۔( ۶ )
جنگ کے موقع پر حضرت کا خطبہ
جب حضرت علی علیہ السلام نے دیکھا کہ یہ لوگ جنگ کرنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں آپ نے اپنے ساتھیوں کو اکٹھا کیا اور انھیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا۔
اے لوگو! جان لو میں نے اس قوم کو بھانپ لیا ہے اور انھیں ڈرایا دھمکایا ہے کہ کس راہ پر چل پڑے ہو، انھوں نے انکار کیا اور مجھے صحیح جواب نہ دیااور مجھے پیغام بھیجا، مجھے طعنے دئیے اور جلاّد معین کیا، میں جنگ نہیں کرنا چاھتا تھا اور نہ میں اس کا دعوےدار تھا۔
قارہ قبیلہ کے لوگوں نے تیر اندازی شروع کی اور میں ابولحسن نے اس قوم کے قلب کو توڑا انھیں ،بھاگنے پر مجبور کیا انکی جماعت کو متفرق کردیا اسی وجہ سے ان کے دل میں میری مخالفت پیدا ہوگئی لیکن میں اپنے رب کی واضح دلیل پر ہوں کہ اس نے مجھ سے نصرت و کامیابی کا وعدہ فرمایا ہے ۔
مجھے اپنے معاملے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے خبردار موت (تو یقینی ہے) ٹھھرنے والے کو معاف نھیں، بھاگنے والے سے عاجز نہیں ہے اور جس نے جنگ نہ کی وہ بھی مارا جائے گا اور افضل موت میدان جنگ میں شہادت ہے۔پھر آپ نے اپنا ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے ارشاد فرمایا : پروردگارا!
اس طلحہ نے میری اطاعت کی قسم کھائی تھی پھر اس نے میری بیعت کو توڑ ڈالا ،پروردگارا اسے بلا لے اور اسے مھلت نہ دے اور زبیر بن عوام نے میری قرابت داری کو ختم کیا ہے میرے عھد کو توڑا ہے اور ظاہر بظاھر میرا دشمن بن گیا ہے اور مجھ سے جنگ کی ہے اور یہ بھی جانتا تھا کہ مجھ پر ظلم کر رہاھے پروردگارا تو جس طرح چاھے اسے برباد کر ۔( ۷ )
حوّ اب کے کتوں کا بھونکنا
ابن جریر اپنی تاریخ میں بیان کرتے ہیںکہ حضرت عائشہ جب بصرہ کے راستہ میں ایک جگہ پھونچی جہاں پانی بھرا ہوا تھا اور اسے حواب کہتے ہیں ۔ وہاں کے کتوں نے اس پر بھونکا تو عائشہ نے پوچھا یہ کون سی جگہ ہے اونٹ چلانے والے نے جواب دیا یہ حواب ہے ۔
اس نے فوراً (انا للّٰہ وانا الیہ راجعون) پڑھااور بلند آواز سے رونا شروع کر دیا اور اونٹ کی کوہان پر خود کو مارنا شروع کر دیا ۔
اور پھر کھاخدا کی قسم میں ہی وہ ہوں جس پر حواب کے کتے بھونکے ،اور تین مرتبہ کھامجھے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حرم میں وآپس لے چلو ۔( ۸ )
ابن سعید، ھشام بن محمد الکلبی سے حکایت بیان کرتا ہے جب حضرت عائشہ رکی ،اور واپس جانے کا ارادہ کیا اور اسے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ فرمان یاد آگیا کہ جس میں حضور نے یہ فرمایا تھا کہ میری اس بیوی کا کیا حشر ہوگا کہ جس پر حواب کے کتے بھونکیں گے ۔
طلحہ اور زبیر نے اس سے کھاکہ یہ حواب نہیں ہے اور اونٹ چلانے والے کو غلط فھمی ہوئی ہے ۔پھر انھوں نے پچاس آدمیوں کو بلا کر گواھی دلوائی اور خود بھی ان کے ساتھ گواھی دی اور قسم کھائی کہ یہ مقام حواب نہیں ہے شعبی کہتے ہیں کہ یہ اسلام میں سب سے پھلی جھوٹی گواھی دی گئی۔( ۹ )
سیف بن عمر کہتے ہیں جب عائشہ بصرہ پہنچ گئی اور اپنی اونٹنی سے نیچے اتری اس وقت عثمان بن حنیف حضرت علی علیہ السلام کی طرف سے بصرہ میں گورنر تھے تو عائشہ نے ان کے درمیان جنگ شروع کرو ادی تواس سے ابن قدامہ سعدی کی کنیز حارثہ نے پکار کر کہا:
اے ام المومنین !اس معلون اونٹ پر سوار ہوکر گھر سے نکلنے کی نسبت عثمان کا قتل زیادہ آسان ہے کیونکہ اللہ نے تیرے لئے پردہ واجب قرار دیا ہے تم نے اپنے پردے کی توھین کی ہے جو تیرے ساتھ جنگ کر سکتے ہیں تیرے قتل کا بھی سوچ سکتے ہیں۔
اگر تواطاعت کے عنوان سے آئی ہے تو اپنے گھر لوٹ جا اور اگر تو اس کو پسند نہیں کرتی تو میں استغاثہ بلند کرتی ہوں ۔( ۱۰ )
اس طرح بخاری نے بھی مندرجہ بالا حدیث کے ایک حصے کو حضرت ابوبکر سے بیان کیا ہے،
اللہ تعالی مجھے اپنے کلمات سے نفع دے میں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ و سلم سے سنا ہے کہ جنگ جمل میں عنقریب حق اصحاب جمل کے ساتھ نہیں ہوگا پس ان سے جنگ کرو۔
بخاری کہتے ہیں کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے پاس سے خبر پھنچی کہ اہل فارس پر کسری کی بیٹی حاکم بن گئی ہے تو آپ نے فرمایا وہ قوم کبھی بھی فلاح نہیں پاسکتی جن کے امور ایک عورت کے ہاتھ میں ہوں۔( ۱۱ )
طلحہ اور زبیر نے عثمان بن حنیف کو رات کی تاریکی میں دھوکا دیا اس وقت وہ مسجدمیں نمازپڑھ رھے تھے جب وہاں کوئی باقی نہ رھاتو انھوں نے اس کے چھرے کے بال اس طرح نوچ لئے کہ کوئی بال چھرے پر باقی نہ رھاپھر اسے عائشہ کے پاس لے آئے تاکہ اسے سزا دے۔
عائشہ نے کھااسے قتل کر دو اس کی بیوی نے کھااللہ سے ڈرو یہ تو حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا صحابی ہے عائشہ نے کھااسے گرفتار کر لو اور اسے چالیس کوڑے لگاؤ اور اس کے سر ،داڑھی ،ابرو،اورآنکھو ں کے بال نوچ لو چنانچہ ان لوگوں نے اسی طرح کیا ،بصرہ کے بیت الما ل کو لوٹ لیا اور ستر مسلمان بغیر جرم و خطاء قتل کر دیئے گئے یہ اسلام میں ظلما ًپھلا قتل عام تھا۔( ۱۲ )
حضرت علی (ع) نے اپنے ساتھیوں کو ان لوگوں کے ساتھ جنگ پر آمادہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:اے اللہ کے بندو اس قوم کے حملوں کو روکو اورجنگ میں اپنے سینوں کو ان کے سامنے تان لو کیونکہ انھوں نے میری بیعت توڑی ہے اور میرے عامل ابن حنیف کو بہت زیادہ مارنے اور سزا دینے کے بعد بصرہ سے نکال دیا ہے، انھوں نے نیک وصالح لوگوں کو قتل کیا ہے (یہ وہ صالح افراد تھے جن کے سپردحضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے بصرہ کا بیت المال کیا تھا۔ ) اور انھوں نے حکیم بن جبلہ عبدی اور بہت سے نیک لوگوں کا قتل کیا ہے، پھر فرمایا جو لوگ بھاگ گئے انھیں پکڑ کر لاؤ یہاں تک کہ وہ کسی دیوار وغیرہ کے پیچھے ہی کیوں نہ چھپے ہوں، پھر انھیں لاؤ اور ان کی گردنیں توڑ دو انھیں اللہ نے میرے ہاتھوں قتل کیا ہے ۔( ۱۳ )
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا تم میں سے کون ان کے سامنے قرآن پیش کرے گا ایک نوجوان نکلا اس نے قرآن اٹھایا اور صفوں سے ظاہر ہوا اور کھااللہ اللہ!ھمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے انھوں نے اس کا ایک ہاتھ کاٹ دیا پھر دوسروے ہاتھ میں قرآن اٹھایا وہ بھی کٹ گیا پھر دانتوں میں لیا یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا گیا حضرت نے بلند آواز سے کھااب تمہارے لئے ان کے ساتھ جنگ کرنا ضروری ہو گیا ہے لہٰذاان پر حملہ کردو۔( ۱۴ )
جنگ جمل میں حضرت علی علیہ السلام نے زبیر کوبلایا۔ وہ تھکا ماندہ آپ کی طرف آیا اس نے ذرہ پھنی ہوئی تھی اور مکمل طور پر ھتھیار بند تھا۔ آپ نے زبیر سے کھاتو جو یہ مسلح ہو کر آگیا ہے کیا اللہ کی بارگاہ میں اس کا کوئی عذر پیش کر سکتا ہے زبیر نے کھاھم نے تو اللہ ہی کی بارگاہ میں لوٹ کرجانا ہے۔
حضرت علی نے فرمایا تجھے میں نے اس لئے بلایا تھا تاکہ تجھے وہ بات یاد دلاؤں جو تمھیں اور مجھے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمائی تھی ۔
کیا تجھے یاد ہے کہ جب تجھے (حضرت نے)دیکھا تھا اور تو میرے ساتھ جھگڑ رہاتھا اور مجھ سے پوچھا کہ کیا تم اس سے محبت کرتے ہو اور میں نے کہاتھا کہ میں اس سے محبت کر تا ہوںکیونکہ یہ میرا بھائی اور میرا خالہ زاد ہے۔ اس وقت حضرت نے فرمایا تھا یہ عنقریب تیرے ساتھ جنگ کرے گا۔
یہ سننا تھاکہ زبیر نے” انا للہ و انا الیہ رجعون“ کا ورد کیااور کھاآپ نے مجھے وہ چیز یاد دلائی ہے جو میں بھول چکا تھا اور یہ کہہ کر وہ اپنی صفوں میں واپس لوٹ گیا۔
اس کے بیٹے عبداللہ نے اس سے کھا: تم تو لڑنے کے لئے گئے تھے اور بغیر لڑے کیوں واپس آگئے ہو ،اس نے کھامجھے حضرت علی علیہ السلام نے وہ بات یاد دلائی ہے جسے میں بھول چکا تھا میں اب ان سے کبھی جنگ نہ کروں گا۔ میں لوٹ آیا ہوں اور آج تمھیں چھوڑ کر جا رھاھوں ۔
عبداللہ نے کھامیرے خیال میں تم بنی عبدالمطلب کی تلواروں سے ڈر گئے ہو جو بہت تیز تلواریں ہیں اور بڑی تباھی مچا دیتی ہیں ۔
زبیر کھتا ہے تیرے لئے ھلاکت ہو تم مجھے جنگ کرنے پر ابھارتے ہو جبکہ میں نے قسم کھائی ہے کہ میں کبھی ان سے جنگ نہ کروں گا۔
وہ کھتا پھر تم اپنی قسم کا کفارہ دو تجھ سے قریش کی عورتیں بات نہ کریں گی۔تم نے بزدلی کا مظاھرہ کیا ہے ۔پھلے تو تم بزدل نہ تھے،زبیر نے کھامیرا غلام مکحول میری قسم کا کفارہ ہے ۔پھر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور حضرت علی علیہ السلام کے لشکر پر بے جان سا حملہ کیا۔
حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: اس کا غم دور کردو یہ بہت تنگ ہوا ہے ۔پھر یہ اپنے ساتھیوں کے پاس بھاگ گیا پھر اس نے دوسری اور تیسری مرتبہ حملہ کیا ۔لیکن اس سے کچھ نہ بن سکااور اپنے بیٹے سے آکرکھاتو ہلاک ہو جائے !بتا کیا یہ بزدلی ہے ؟اس کے بیٹے نے کھایقینا اب تو معذور ہے ۔( ۱۵ )
جس اونٹنی سے حضرت عائشہ گر گئی تو اسوقت جنگ اپنی انتہاء پہ تھی تو اس نے ایک عجیب سے آواز نکالی جو پہلے نہ سنی گئی تھی اور جب عائشہ کو شکست ہو گئی تو لوگ وہاں سے اس طرح بھاگے جس طرح ٹڈی پرواز کرتی ہے ۔
حضرت علی علیہ السلام نے بلند آواز سے حکم دیا ،بھاگنے والوں کا پیچھا نہ کرو۔ زخمی پر ہاتھ نہ اٹھاؤ۔ ان کے گرد حصار نہ بناؤ۔ ان کے ھتھیار اور لباس نہ چھینو،ان کا مال و متاع نہ لو۔ جو شخص ھتھیار پھینک دے وہ امن میں ہے اور جو اپنے دروازے بند کردے وہ بھی امان میں ہے۔( ۱۶ )
کلبی کہتے ہیں میں نے ابوصالح سے پوچھا کہ حضرت علی علیہ السلام نے جنگ جمل میں کامیابی حاصل کر لینے کے بعد اہل بصرہ کو کس طرح معاف کر دیا؟اس نے کھاانھوں نے اس طرح انھیں امن و سلامتی کا حکم صادر فرمایا تھا جس طرح حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فتح مکہ کے بعد اہل مکہ کو معاف کردیا تھا ۔( ۱۷ )
ابو الاسوددؤلی کہتے ہیں؟
جب حضرت علی (ع)جنگ جمل میں کامیاب ہو گئے تو مہاجرین و انصار کی جماعت کے ساتھ بصرہ کے بیت المال میں داخل ہوئے اس وقت میں بھی ان کے ساتھ تھا جب آپ نے بہت زیادہ مال و دولت دیکھا تو کئی مرتبہ ارشاد فرمایا:
”میرے غیر کو دھوکا دے“
پھر آپ نے مال کو دیکھنے کے بعد فرمایا:
میرے اصحاب میں پانچ، پانچ ( ۵۰۰) سو درھم تقسیم کردوچنانچہ وہ یہ مال ان لوگوں میں تقسیم کردیا گیا ،اس کے بعد فرمایا:مجھے اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ایک درھم نہ کم ہوا اور نہ زیادہ ۔گویا آپ اس کی مقدار جانتے تھے۔ وہ کل ساٹھ لاکھ درھم تھے اور بارہ ہزار لوگ تھے۔( ۱۸ )
حبہ عرنی کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے بصرہ کے بیت المال کو اپنے اصحاب کے درمیان( پانچ، پانچ سو درھم) تقسیم کردیا اور خود بھی فقط پانچ سو درھم لئے۔ گویا آپ بھی ان میں سے ہی ایک شخص تھے۔
اسی لمحے ایک ایسا شخص آگیا جو جنگ میں شریک نہ تھا وہ کھنے لگا یاامیرالمومنین !آپ شاھد ہیں کہ میں قلبا ًآپ کے ساتھ تھا اگرچہ جسما ًجنگ میں شریک نہ ہوسکا تو حضرت نے اپنے پانچ سو درھم اس کے حوالے کردیئے اور مال فئی میں کوئی چیز باقی نہ رھی ۔( ۱۹ )
اس بات پر تمام راویوں کا اتفاق ہے کہ جنگ جمل کے لشکر کے جو ھتھیار اور سازو سامان تھے وہ لوگوں میں تقسیم کردئےے گئے۔ لیکن و ہ لوگ حضرت سے کھنے لگے کہ آپ اہل بصرہ کو بھی غلام بنا کر ہم میں تقسیم کردیں۔
تب حضرت نے فرمایا:
ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا، انھوں نے کھایہ کیسے ممکن ہے کہ ان کا خون تو ہم پر حلال ہو اور ان کے بچے ہم پر حرام ہوں !
حضرت نے فرمایا: جس طرح کمزور لوگوں کی اولاد اسلام میں تجھ پر حلال نہ تھی البتہ میدان جنگ میں جومال متاع چھوڑ کر گئے ہیں وہ مال غنیمت ہے لیکن جو لوگ ساتھ لے گئے ہیں یا جنھوں نے اپنے دروازے بند کرلئے ہیں وہ سب ان کا مال ہے اس میں سے ذرا برابر بھی تمہارا حصہ نہیں ہے۔
جب اکثر لوگ اس پر راضی نہ ہوئے تو آپ نے فرمایاپھر تو تم حضرت عائشہ کے لئے بھی قرعہ ڈالوجس کا قرعہ نکلے وہ اسے لے جائے ۔وہ کھنے لگے امیرالمومنین ہم اللہ سے استغفار کرتے ہیں ، چنانچہ اس طرح وہ اپنے مطالبے سے ہٹ گئے( ۲۰ )
مرحوم کشی نے رجال میں اپنی سند کے ساتھ ،مفید امالی اورالکافیہ میں سنی شیعہ دونوں سندوں کے ساتھ اور اسی طرح ابن ابی الحدید شرح نھج البلاغہ میں اسی سے ملتی جلتی روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت امیرالمومنین نے جنگ جمل کے بعد عبداللہ ابن عباس کو حضرت عائشہ کے پاس بھیجا تاکہ اسے سواری پر بٹھاکر واپس جانے کا انتظام کرے۔
ابن عباس کہتے ہیں میں ان کے پاس آیا اور وہ بصرہ کے مضافات میں بنی خلف کے محل میں قیام پذیر تھیں میں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی لیکن اس نے مجھے اجازت نہ دی اور میں بغیر اجازت کے ہی اندر چلا گیا لیکن وہ میرے ساتھ بیٹھنے پر آمادہ نہ ہوئےں اور پردے کے پیچھے کسی نے اس کے لئے چادر بچھائی وہ اس پر بیٹھ گئےں اور مجھ سے کہا:
ابن عباس تم نے سنت گویا پا ئمال کر دیا ۔اور ہمارے گھر میں بغیر اجازت آئے ہو اور ہمارے سامنے ھماری اجازت کے بغیرآ بیٹھے ہو۔
ابن عباس نے کھاھم آپ کی نسبت سنت کے زیادہ حق دار اور زیادہ جاننے والے ہیں آپ کا گھر تو وہی ہے جسے حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے آپ کے لئے چھوڑا ہے اور آپ اس سے باھر آگئےں ہیں جب آپ اپنے گھر لوٹ جائیں گی تو میں آپ کی اجازت کے بغیر وہاں داخل نہ ہوں گا۔( ۲۱ )
ھشام بن محمد کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے جناب عائشہ کے لئے بھترین سواری کا انتظام کیا اور انھیں بہت زیادہ مال ودولت عطا کیا اور ان کے ھمراہ انکے بھائی عبدالرحمن کو ۳۰ مرد اور اشراف بصرہ کی بیس ۰ ۲ عورتوں کو عمامے پھنا کر مردوں کی طرح تلواروں کے ھمراہ انھیں روانہ کیا۔( ۲۲ )
حضرت عائشہ اس واقعہ سے بہت پشیمان تھیں اور ہمیشہ واقعہ جمل کو افسوس وپشیمانی کے ساتھ رو رو کر بیان کرتیں تھیں اور ایک روایت یہ ہے کہ ان کی موت سے پہلے ان سے پوچھاگیا کہ آیا آپ کو حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے پاس دفن کردیں ؟تو آپ نے کھانھیں کیونکہ انجانے میں ان کے بعد کیا کچھ کر بیٹھی ہوں۔( ۲۳ )
ُزر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی (علیہ السلام)کو یہ فرماتے ہوئے سنا میں نے فتنہ کی آنکھ پھوڑدی ہے ۔اگر میں اہل نھر اور اہل جمل کو قتل نہ کرتااور اگر میں گھبراجاتا اور اس کام کو ترک کر بیٹھتا تو تمہارے لئے وہ چیزیں ظاہر نہ ہوتےں جو اللہ تعالی نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد(ص) مصطفی(ص)کی زبان مبارک پر جاری فرمائی تھیں یعنی وہ کون شخص ہے جو انھیں ان کی گمراہی میں قتل کرے گا اور اس ھدایت کو جاننے والاھو گا جس پر ہم قائم ہیں۔( ۲۴ )
جنگ صفین
خوارزمی اپنی کتاب مناقب میں ابو سعید خدری سے روایت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے ھمیں ناکثین ، قاسطین،اور مارکین کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم صادر فرمایا ،ھم نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم آپ نے جو ان کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم صادر فرمایا ہے۔ ہم کس کے ساتھ مل کر ان سے جنگ کریں ؟
آپ نے فرمایا :تم لوگ حضرت علی (ع) کے ساتھ مل کر ان سے لڑیں اور عمار بن یاسر بھی حضرت علی علیہ السلام کا ساتھ دیتے ہوئے شھید ہوں گے ۔( ۲۵ )
عتاب بن ثعلبہ کہتے ہیں مجھے حضرت ابوایوب انصاری نے حضرت عمربن خطاب کی خلافت کے وقت بتایا تھا کہ”مجھے رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ مل کر ناکثین ،قاسطین ،اور مارکین کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم فرمایا تھا ۔( ۲۶ )
عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس نے مجھے اور علی بن عبداللہ بن عباس سے کھاکہ تم دونوں ابو سعید کے پاس جاؤ اور ان سے حدیث سنو ،ھم دونوں ابو سعید کے پاس گئے وہ ایک صحن میں بےٹھے تھے جب انھوں نے ھمیں دیکھا تو ھماری طرف چل دیئے۔
انھوں نے اپنی چادر اٹھائی اور پھر بیٹھ گئے اور پھر ہم سے باتیں کرتے رھے یہاں تک کہ ھماری گفتگو مسجد کی تعمیر تک پھنچی تو انھوں نے کھاھم لوگ ایک ایک اینٹ اٹھایا کرتے تھے اور عمار دودو اینٹیں اٹھا لاتے تھے جب حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے اسے دیکھا تو آنحضرت جناب عمار کے سر سے مٹی جھاڑنے لگے اور فرمایا :
عمار! تم اتنی اینٹیں کیوں نہیں اٹھاتے جتنی تمہارے ساتھی اٹھا رھے ہیں؟ جناب عمار نے عرض کی : میں بارگاہ خداوندی میں اجر کا طالب ہوں ،حضرت آپ سے مٹی جھاڑتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں ”اس باغی گروہ کے لئے ھلاکت ہو ،جو تجھے قتل کرے گا ،تو انھیں جنت کی طرف دعوت دے گا اور وہ تجھے جھنم کی طرف پکاریں گے۔( ۲۷ )
علقمہ اور اسود کہتے ہیں ہم ابو ایوب انصاری کے پاس آئے اور ان سے کھا خداوندعالم نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی سواری کو تمہارے دروازے پر رکنے کی وحی نازل فرما کر تمھیں عزت بخشی اور حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ و سلم آپ کے مھمان ہوئے اوراللہ تعالی نے اس طرح آپ کو فضیلت عنایت فرمائی۔
ھمیں حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ مل کرجنگ کرنے کی خبر دی ، حضرت ابو ایوب کہتے ہیں میں تمہارے سامنے قسم کھاتا ہوں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم اسی گھر میں جس میں تم ہو اور وہاں رسول کے علاوہ کوئی نہ تھا فقط حضرت علی علیہ السلام آپ کے دائےں طرف اور میں آپ کے بائےں طرف بیٹھا ہوا تھا اور انس بن مالک سامنے کھڑے تھے۔
اچانک دق الباب ہوا حضرت نے فرمایا دیکھو دروازے پر کون ہے ؟ انس گئے اور دیکھا اور کھاعمار بن یاسر ہیں حضرت نے فرمایا پاک وپاکیزہ عمار کے لئے دروازہ کھول دو، انس نے دروازہ کھولا اور عمار اند ر داخل ہوئے حضرت کو سلام کیا آپ اس سے خوش ہوئے اور پھر عمار سے فرمایا :
”عنقریب میرے بعد میری امت میں جھگڑا ہوگایہاںتک کہ تلواریں آمنے سامنے تلواریں چلےں گی اور کہ بعض مسلمان دوسرے مسلمانوں کو قتل کریں گے ۔اور ایک دوسرے سے برائت کا اظہار کریں گے۔ جب یہ وقت آن پھنچے تو تمہارے لئے میرے دائےں طرف بیٹھے ہوئے علی ابن ابی طالب ( علیہ السلام )کادامن تھامنا ضروری ہے۔
اگرچہ سب لوگ ایک وادی کی طرف جائیں اور علی (ع)دوسری وادی کی طرف جائے تم بھی علی (ع)کے وادی کی طرف چلو اور دوسرے لوگوں کو چھوڑ دو، علی (ع) تجھے ھلاکت سے دور کریں گے۔ اے عمار علی (ع)کی اطاعت میری اطاعت ہے اور میری اطاعت خدا کی اطاعت ہے ۔( ۲۸ )
معاویہ کی طرف ایک اور خط
حضرت امیر المومنین نے جریر بن عبداللہ بجلی کو معاویہ کی طرف ایک خط دے کر روانہ کیا جس میں اسے بیعت اور اطاعت کرنے سے متعلق مذکور تھا۔
حضرت کی تحریر اس طرح ہے:
امابعد!مدینہ میں میری بیعت ہو چکی ہے اور تم شام میں ہو کیونکہ جن لوگوں نے ابوبکر عمر اور عثمان کی بیعت کی تھی انھوں نے میرے ہاتھ پر اسی اصول پر بیعت کی ہے جس اصول پر وہ ان کی بیعت کر چکے تھے۔لہٰذا جو حاضر ہے اسے نظر ثانی کرنے کا حق نھیںھے۔
جو بروقت موجود نہیں اسے رد کرنے کا اختیار نہیں اور شوری کا حق صرف مہاجرین اور انصار کو ہے وہ اگر کسی پر اتفاق کرلیں اور اسے خلیفہ سمجھ لیں تو اسی میں اللہ کی رضا اور خوشنودی سمجھی جائے گی ۔
اب جو کوئی اس کی شخصیت پر اعتراض یا نیا نظریہ اختیار کر کے الگ ہوجائے تو اسے وہ سب اسی طرح وآپس لائےں گے جدھر سے وہ منحرف ہوا ہے اور اگر انکار کرے تو اس سے لڑیں گے ۔ کیونکہ وہ مومنوں کے طریقے سے ہٹ کر دوسری راہ اختیار کرلی ہے۔ جدھر سے وہ پھر گیا ہے اللہ تعالی بھی اسے ادھر ہی پھیر دے گا اس کا مقام جھنم ہے جوکہ بہت برا ٹھکانہ ہے ،طلحہ اور زبیر نے میری بیعت کی اور پھر اسے توڑ دیا گویا ان کا بےعت توڑنا ان کے انکار کے برابرھے اوراس پر وہ ڈٹ گئے یہاں تک کہ حق آگیا اور اللہ تعالی کا امر ظاہر ہوگیا اور وہ انکار کرتے رھے ۔
لہٰذا تم بھی اسی بیعت میں داخل ہو جاؤ جس میں باقی مسلمان داخل ہوئے ہیں یھی معاملہ اچھا ہے اور اسی میں تیری عافیت ہے ورنہ تم مصیبتوں میں پھنس جاؤ گے، اگر تم نے انکار کیا تو تیرے ساتھ جنگ کی جائے گی اور میں اللہ سے تیرے خلاف مدد چاھوں گا اور تو عثمان کے قتل کے معاملہ میں حد سے بڑھ گیا ہے اور تو اس امر میں شامل ہو جا جس میں لوگ شامل ہوئے ہیں جبکہ لوگوں نے مجھے تم پر حملہ کرنے کو کھاھے۔
انھیں اللہ کی کتاب سے ڈراؤ لیکن اگر تم اسی پر ڈٹے رھے جس کا تم نے ارادہ کیا ہے، تو یہ بچے کو دودھ کا دھوکا دینا ہوا مجھے اپنی زندگی کی قسم اگر میں تیری عقل اور تیری خواہش کو مدنظر نہ رکھتا تو سمجھا جاتا کہ قریش عثمان کے خون سے بری الذمہ ہیں اور جان لو کہ تم ان آزاد شدہ(غلاموں) سے ہو جن کو خلیفہ نہیں بنایا جاسکتا اور شوری کے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے ،بھرحال میں نے تیری طرف جرید بن عبداللہ بجلی کو بھیجا ہے جو کہ اہل ایمان اور مہاجرین میں سے ہیں لہٰذا اس کے ہاتھ پر بیعت کرو کیونکہ طاقت و قوت فقط اللہ کی ذات کے لئے ہے۔( ۲۹ )
معاویہ کاخط عمر ابن عاص کے نام
نصر بن مزاحم کہتے ہیں کہ معاویہ نے عمر ابن عاص کو خط لکھا جو کہ فلسطین میں اس کی بیعت کروانے گیا ہواتھا۔
اما بعد! یقینا تم پر علی( علیہ السلام)طلحہ اور زبیر کا معاملہ واضح ہو گیا ہوگا اہل بصرہ نے مروان بن حکم کو نکال دیا ہے اور ہمارے پاس جرید بن عبداللہ بجلی کو حضرت علی (علیہ السلام)نے بیعت کے لئے بھیجا ہے جبکہ میرا گمان تیرے متعلق وہی ہے لہٰذا جس طرح تجھے کھاگیا ہے وےسا ہی کرنا ۔( ۳۰ )
جرجانی کہتے ہیں کہ عمرو عاص نے معاویہ کے پاس ایک رات گزاری جب صبح ہوئی تو اسے مصر کی گورنری مل گئی جس کی وہ خواہش رکھتا تھا وہ اسے مل گئی اور اس کے ساتھ اسے ایک خط بھی دیا۔۔۔ پھرمعاویہ نے عمروعاص سے پوچھا حضرت علی (علیہ السلام)کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ؟
عمرو نے کھامیں تو فقط اس میں خیر ہی خیر دیکھتا ہوں اور تیرے لئے اور اہل عراق کے لئے اس بیعت میں بھلائی نظر آتی ہے اور وہ لوگوں میں بھترین شخص ہیں اور اہل شام کے متعلق تیرا یہ دعویٰ کہ وہ بیعت کو رد کردیں گے۔ اس میں بہت خطرہ ہے۔
اھل شام کا سردار شر حبیل بن سمط کندی ہے جو کہ تیری طرف خط لانے والے جریر کا بڑا دشمن ہے اس کی طرف اپنے کسی قریبی کو بھیجو تاکہ وہ لوگوں میں یہ خبر مشھور کردے کہ حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام)نے عثمان کو قتل کیا ہے تاکہ وہ شرجیل کے نزدیک پسندےدہ ہوجائیں یہ تیرے حق میں تیرے ماتحت شامیوں کے لئے بڑی بات ہے ۔( ۳۱ )
معاویہ کا شرحبیل کو خط
معاویہ نے شرحبیل کو خط لکھا حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) نے جریر بن عبداللہ کو ہمارے پاس بیعت کے لئے بھیجا ہے۔ اب ہم کیا کریں؟ اور معاویہ نے یزید بن اسد‘ بسر بن ارطاہ‘ عمر بن سفیان‘محارق بن حارث زبیدی ،حمزہ بن مالک حابس بن سعد طائی وغیرہ (یہ سب قحطان اور یمن کے سردار اور حضرت معاویہ کے خصوصی لوگ ہیں)اور اپنے چچا زاد شرحبیل بن السمط کو حکم دیا کہ اس کے ساتھ شامل ہو جائیں۔انھیں بتایا کہ حضرت علی (ع)نے عثمان کو قتل کیا ہے جب شرحبیل آیا تومعاویہ نے اس سے کھاحضرت علی (ع)نے جریر بن عبداللہ کو ہمارے پاس بیعت کے لئے بھیجا ہے۔لیکن اگر عثمان بن عفان کو قتل نہ کرتے تو حضرت علی (ع)لوگوں میں سب سے بھتر شخص تھے ۔لیکن میرا خیال ہے کہ یہ سب کچھ تیرے متعلق ہے جبکہ میں تو شام کا ایک عام آدمی ہو ں۔
شرحبیل نے کھاباھر نکل جاؤ اور وہ باھر نکل گیا پھر شرحبےل نے بعض افراد سے ملاقات کی تو سب نے اسے بتایا کہ حضرت علی (ع)نے عثمان قتل کیا ہے۔
لہٰذا وہ غصے کے عالم میں معاویہ کی طرف نکلا اور کھامعاویہ سب لوگ کہتے ہیں کہ عثمان کو حضرت علی نے قتل کیا ہے خدا کی قسم اگر اس کی بیعت کی تو ہم تجھے شام سے نکال دیں گے اور تیرے ساتھ جنگ کریں گے معاویہ نے کھامیں نے تو تمہاری مخالفت نہیں کی میں تو شام کا ایک عام آدمی ہوں اس نے کھاکہ فوراً جرےر بن عبداللہ کو یہاں نکال کراس کے ساتھی کی طرف وآپس بھیج دو ۔( ۳۲ )
معاویہ اور عمر ابن عاص نے جو کھیل کھیلا تھا ۔وہ اسی طرح چلتا رھااور انھوں نے جو ارادہ کیا تھا ۔وہ اختتام کو پھنچا ،شرحبیل بن لسمط شام کے اردگرد جاکر لوگوں کو حضرت علی( علیہ السلام)کے خلاف جنگ کرنے پر آمادہ کرتا رہا۔( ۳۳ )
معاویہ کا جواب
معاویہ نے حضرت علی (علیہ السلام)کو جریروالے خط کا جواب دیتے ہوئے لکھا:
اما بعد ! جس طرح دوسرے لوگوںنے آپ کی بیعت کی ہے اس طرح یہ قوم بھی آپ کی بیعت کرے تو آپ خون عثمان سے بری الذمہ ہو جائیں گے اور حضرات ابوبکر عمر و عثمان کی طرح خلےفہ بن جائیں گے لیکن آپ نے مہاجرین و انصار کو دھوکہ دیا اور عثمان کے خون کے بارے میںدھوکا میں رکھا ہے یہاں تک کہ جاھلوں نے آپ کی اطاعت کی ہے اور ناداروں نے آپ پر بھروسہ کیا ہے۔
جبکہ اہل شام آپ کے ساتھ جنگ کا ارادہ رکھتے ہیں مگر یہ کہ آپ عثمان کے قاتلوں کو ہمارے سپرد کردیں پھر وہ آپ کے خلاف قدم بڑھانے سے رک جائیں گے اور مسلمانوں کے درمیا ن شوریٰ قرار دو اور شوریٰ بھی اہل شام کی ہوگی نہ کہ اہل حجاز کی۔
بھرحال آپ کی فضیلت قریش میں سب سے پہلے اسلام لانے اور حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے سب سے زیادہ قریبی ہونے میں کوئی کلام نہیں ہے ۔( ۳۴ )
حضرت علی (علیہ السلام) کا معاویہ کو جواب
اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام نے معاویہ کو جواب میں لکھا اس طرح لکھا:
امابعد! ایسے شخص کا نامہ میرے پاس پھنچا ہے جس کے پاس اتنی بصارت نہیں ہے کہ اسے ھدایت کی جاسکے اور نہ ہی اس کو نصیحت کر نے میں کوئی فائدہ ہے وہ تو اپنی خواہشات کے جال میں پھنس کر رہ گیا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ عثمان کے معاملہ میں میں نے دھوکا دیا ہے ۔
مجھے اپنی زندگی کی قسم میں تو مہاجرین اور انصار میں سے ایک ہوں میں وہاں گیا ہوں جہاں وہ گئے ہیں میں نے وہ کیا ہے جو انھوں نے کیا ہے اور میں قاتلان عثمان کے ساتھ نہیں تھا اور تیرا یہ کھنا کہ اہل شام شوری بنائےں گے ۔بتاؤ شام میں کون ہے ؟جو خلافت کی صلاحیت رکھتا ہے؟اگر تم کسی کا نام لو گے تو مہاجرین و انصار تجھے جھٹلائےں گے، اور تیرا یہ اعتراف کرنا کہ میں سابق الاسلام ہوں اگر تو اس کے انکار پر قادر ہو تاتو یقینا اس سے بھی انکار کردیتا لیکن تم تو اس کے انکار سے عاجزھو، پھر آپ نے اصبغ بن نباتہ کو خط دیا اور لشکر سے دور ایک طرف چلے گئے۔( ۳۵ )
اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں کہ میں معاویہ کے پاس گیا تو اس کی دائیں جانب عمرو بن عاص اورذوالکلاع اور حوشب اس کے بائیں جانب اور اس کے ساتھ اس کا بھائی عتبہ بن عامر، ولید بن عقبی، عبدالرحمن بن خالد بن ولید، شرحبیل بن السمط اور ابو ھریرہ بیٹھے تھے اور اس کے سامنے ابو الدرداء، نعمان بن بشیر اور ابو امامہ باھلی بیٹھے تھے۔میں نے اسے خط دیا جب اس نے خط پڑھا تو کھنے لگا،
حضرت علی (علیہ السلام)عثمان کے قاتل ہمارے سپرد نہیں کرنا چاھتے اصبغ کہتے ہیں، میں نے کھا:معاویہ تو عثمان کے قاتلو ں کا مطالبہ نہ کر، تو توصرف حکومت اور سلطنت چاھتا ہے اگر تجھے عثمان سے کوئی محبت ہوتی تو اس کی زندگی میں اس کی مدد کرتا جب کہ تم نے اس سے آنکھیںپھیرلی تھیں اور اسے چھوڑدیاتھا یہ سب کچھ تیری دنیاداری کی وجہ سے ہے،یہ سن کر وہ غضبناک ہوا اور کچھ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔
میں نے کھااے ابو ھریرہ تم تو خود کو رسول کا صحابی سمجھتے ہو، میں تجھے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور تجھے اس کے رسول بر حق کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوںکیا تو نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کو حضرت علی کے حق میں غدیر خم پر یہ کہتے ہوئے نہیں سنا :
”من کنت مولاه فعلی مولاه “
جس جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں۔
وہ کھنے لگا خدا کی قسم یقینا میں نے حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ۔
میں نے کھالیکن اب تم اس کے دشمن کو ولی سمجھ رھے ہو اور حقیقی ولی سے عداوت کرنے لگے ہو ،ابو ھریرہ نے لمبی اور ٹھنڈی سانس لی اور کہا:
انا لله و انا الیه راجعون ۔
معاویہ کا چھرہ متغیر ہوگیااور کھنے لگا اب خاموش ہوجا،عثمان کے خون کے مطالبہ میں تو اہل شام کو دھوکا نہیں دے سکتا کیونکہ وہ شھر حرام اور حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے حرم میں ،اپنی بیوی کے سامنے مظلومیت کے ساتھ ماراگیا،یھی وہ ہے جنھوں نے اسے دھوکا دے کر قتل کردیا اورآج ان کے نزدیک اسی کے مددگار و انصار اوردست بازو بنے ہوئے ہیں ،حضرت عثمان اس لئے نہیں قتل ہوا تھا کہ اس کا خون رائیگاں جائے۔( ۳۶ )
معاویہ اور جرےر کی گفتگو اور حضرت کا خط
جرجانی کہتے ہیں کہ معاویہ سب سے پہلے جرےر کو اپنے گھر لایا اور اس سے کھاجریر میری ایک رائے ہے ،جریر نے کھابیان کرو معاویہ نے کہا:
کہ تم اپنے مولاکو خط لکھو کہ وہ شام اورمصر میرے حوالے کردے اور اپنی وفات کے بعد کسی کو ہم پر مسلط نہ کرے تو میںسب کچھ تسلیم کرلونگا اور تم اسے خلافت کے متعلق لکھ دو۔
جریر کہتے ہیںجو جی چاھے لکھوجب حضرت امیرالمومنین کے پاس معاویہ کا خط پھنچا تو حضرت نے جرےرکی طرف اس کا جواب لکھا :
امابعد! معاویہ نے جو یہ ارادہ کیا ہے کہ جس کے بعد اس کی گردن پر بیعت کا قلادہ نہیں رھے گا اور اسے جو کچھ پسند تھا وہی لکھ دیا اور اس نے ارادہ کیا کہ وہ ہر چیز کا مالک بن بیٹھے اور اس کا ذائقہ اہل شام کو بھی چکھائے ۔مجھے مغیرہ بن شعبہ نے بھی اسی جانب اشارہ کیا ہے کہ شام کی حکومت معاویہ کے سپرد کردی جائے جبکہ میں مدینہ میں ہوں اور اس نے اس بیعت کا انکار کردیا ہے اور اللہ مجھے نہیں دیکھ رھاکہ میں گمراھوں کو اپنے دست و بازو بناؤں بھرحال اگر یہ شخص بیعت کرتا ہے تو ٹھیک ورنہ تم وآپس آ جاؤ والسلام ۔( ۳۷ )
جب حضرت علی علیہ السلام صفین کی طرف گئے تو معاویہ نے پہلے سے ہی پانی پر قبضہ جمالیا تھا اور حضرت علی علیہ السلام کے اصحاب کو پانی کے قریب تک نہ آنے دیا حضرت علی علیہ السلام نے مالک اشتر اور جناب صعصعہ بن صوحان کو معاویہ کے پاس بھیجا۔
انھوں نے کھاتم ھمیں بھی اپنی طرح پانی استعمال کرنے دو۔ معاویہ نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ طلب کیا تو ان میںولید بن عقبی کھتا ہے:ان پر پانی اس طرح بند رھنے دیا جائے جس طرح عثمان پر چالیس دن تک پانی بند تھا ، عبداللہ بن سعد کھتا ہے ان پر اس وقت تک پانی بند رھنے دیا جائے جب تک یہ ھماری طرف رجوع نہیں کرتے اور یھی ان کی کمزوری کا موجب بنے گا اور اللہ تعالی نے قیامت تک کے لئے ان پر پانی بند کردیا ہے۔
صعصعہ بن صوحان کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تو قیامت کے دن تمہارے اور ولید بن عقبیٰ جیسے فاسق و فاجر پر شراب طھور کو حرام قرار دیا ہے یہ سن کر ولید گالیاں بکنے لگا۔ صعصعہ بن صوحان کہتے ہیں اللہ تم سب پر لعنت کرے پھر وہ اس لشکر سے نکل کر اپنے لشکر کی طرف چل دئے ۔( ۳۸ )
عمر ابن عاص، معاویہ سے کھتا ہے ان کے لئے پانی کی بندش ختم کردو دیکھتے نہیں ہو کہ ابن ابی طالب پیاس سے نڈھال ہو رھے ہیں اور ان کے ساتھ عراق کے دوسرے بزرگ مہاجرین و انصار بھی ہیں خدا کی قسم ہم نے اس سے پہلے اتنے بزرگ اس طرح اکٹھے نہیں دیکھے تم پانی بند کرنے والا غلط کام نہ کرو اور خود کومصیبت میں نہ ڈالو۔
لیکن معاویہ نے انکار کردیا وہ کھنے لگا خدا کی قسم یہ ان کی پھلی کامیابی ہے اللہ تبارک وتعالی ابو سفیان بن حرب کو حوضِ حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ و سلم سے ایک قطرہ بھی نصیب نہ ہوگا ۔
اس وقت فیاض بن حرث ازدی معاویہ سے مخاطب ہو کر کھتا ہے:
اے معاویہ خدا کی قسم آج تم نے انصاف نہیں کیا اگر آج رسول ہوتے تو ان پر پانی بند نہ کیا جاتا جبکہ ان پر کس طرح پانی بند کیا جارھاھے حالانکہ یہ اصحاب رسول ہیںان میں بدر کے غازی ،مہاجر اور انصار بھی موجود ہیں ان میں حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے چچا زاد، ان کے بھائی ،ان کے رازدار،اور ان کے حبیب اور دوست موجود ہیں۔
اے معاویہ کیا تو اللہ سے نہیں ڈرتا خدا کی قسم یہ بہت بڑی بغاوت ہے ، خدا کی قسم اگر وہ تم سے پہلے پانی پر پہنچ جاتے تو یقینا تم پر پانی بند نہ کرتے یہ کہتے ہوئے وہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لشکر کی طرف چل پڑا ۔( ۳۹ )
حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے معاویہ کی طرف عبداللہ بن بدیل الخراعی کو بھیجا اسی شخصیت نے حضرت عمر کی خلافت کے دوران اصفہان کو فتح کیا تھا، حضرت نے اس سے کھاکہ معاویہ سے کھنا ،اگر ہم تم سے پہلے پانی پر پھنچتے تو تم لوگوں پر پانی بند نہ کرتے، تمہارے لئے پانی کی بندش کا حکم دینا حرام ہے تم حضرت رسول خدا (ص)کے اصحاب کو پانی پینے کی اجازت دو تاکہ وہ پانی سے سیراب ہو سکیں یہاں تک کہ ہمارے درمیان کوئی معاملہ طے ہو۔
بھرحال جنگ شدید ہو گی بعید نہیں ہے کہ شھرالحرام میں جنگ ہو جائے لیکن معاویہ اپنی بات پر اٹل رھااورمعاویہ نے حضرت کو کھلوا یاکہ عثمان کے قاتلوں کو میرے حوالے کر دو تاکہ میں ان کو قتل کر دوں۔ عبداللہ نے معاویہ سے کھا،کیا تو یہ سوچ رہاھے کہ حضرت علی( علیہ السلام) پانی لینے سے عاجز ہیں ایسا ھرگز نہیں ہے وہ تو صرف اتمام حجت کررھے ہیں ۔( ۴۰ )
لوگوں نے حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں پیاس کی شکایت کی تو حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: خون بہانے کا معاملہ بہت بڑا ہے اسی وجہ سے میں نے ایک کے بعد دوسری مرتبہ اتمام حجت کی ہے۔
میں نے انصار اور غیر انصار میں سے مختلف لوگوں کو اس کی طرف بھیجا ہے تاکہ حجت تمام ہوجائے یہ لوگ اس کے پاس گئے اور اس سلسلے میں اس سے بات چیت کی یہ لوگ اس کے پاس پہنچ کر اس سے کھنے لگے ۔اے معاویہ اس سے پہلے کہ ہم تلوا کے زرو کے ساتھ تجھ سے پانی حاصل کر لیں تو خود ہی ہم پر پانی آزاد کردے اس نے کھاکل بھی میرے پاس تمہارا پیغام رساں آیا تھا اور آج یہ گروہ میرے پاس آگیا ہے۔
حضرت علی علیہ السلام نے ایک مرتبہ پھر معاویہ کے پاس اپنے دس بزرگ اصحاب کو بھیجا تاکہ وہ پانی کے متعلق اس سے بات چیت کریں اس موقع پر سلیل نامی شاعر نے یہ اشعار کھے:
اِسمع الیوم مایقول سلیل
اِنّ قولي قولٌ له تاٴویل
اِمنع الماء مِن صحاب علي
لا یذوقوه و الذلیلُ ذلیل
سنو آج سلیل نے جو کچھ کیا ہے اسے بیان کررھاھے میری یہ گفتگو ان کے لئے ہے نہ جانے وہ اس کی کیا تاویل کریں گے علی (ع)کے اصحاب پر پانی بند کردیا گیا اور وہ ایک گھونٹ پانی بھی نہ پی سکے بھرحال ذلیل تو ذلیل ہی ہوتا ہے۔( ۴۱ )
اشعث بن قیس حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں آ کر عرض کرتا ہے یا امیرالمومنین کیا ہم پیاس سے مر جائیں ؟آپ نے تو اس سلسلے میں ھمیں تلوار اور نیزے اٹھانے سے بھی منع کردیا ہے ،خدا کی قسم میں فرات پر قبضہ کیے بغیر واپس نہ پلٹوں گا ۔اس کے بعد مالک اشتر بھی آئے (حضرت امیر ا لمو منین علیہ السلام اپنی طرفسےجنگ کا آغاز نہیں چاھتے تھے)جب سارا لشکر جمع ہو گیا اور انھوں نے اپنی تلواریں اپنی گردنوں پر رکھ لیں اشتر اور اشعث بارہ ہزار کے لشکر سے آگے بڑھے اور معاویہ کی طرف سے ابوالاعور اٹھارہ ہزار کے لشکر کے ساتھ آگے بڑھا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ فرات پر جا پھنچے۔( ۴۲ )
ابوہانی بن معمر سدوسی کہتے ہیں کہ اس وقت میں اشتر کے ساتھ تھا اس پر پیاس کے آثار نمایاں تھے اس نے اپنے چچازاد بھائی سے کھاھمارے امیر پیاسے ہیں ،اس نے کھاکہ سب لوگ پیاسے ہیں۔
میرے پاس پانی کے کچھ برتن موجود ہیں لیکن میں نے انھیں اپنی ذات کے لئے حرام قرار دے رکھاتھا اس نے یہ مالک اشتر کے حوالے کئے اس نے اورپانی پیش کیا انھوں نے کھاجب تک دوسرے لوگ پانی نہ پئیں گے میں نھیںپےؤں گا ۔اسی اثنا میں ابی عور کے ساتھی قریب ہوئے اور انھوں نے تیر اندازی شروع کر دی ۔
مالک اشتر نے آواز دی:
اے لوگو! صبر کرو، پھر انھوں نے ابی اعور کے ساتھیوں پر حملہ کر دیا ۔ تیروں کا آمنا سامنا ہوا اور ان کے سات آدمی مارے گئے ان میں سب سے پھلا شخص صالح بن فیروزا لعکّی تھا جو بڑا شجاع مشھور تھا اشتر نے اپنا گھوڑا دریائےِ فرات میں داخل کیا اور انھوں نے اشعث پر حملہ کرکے پانی کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔( ۴۳ )
جب حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے اصحاب نے فرات پر قبضہ جما لیا اور شامیوں کو اس سے دور بھگا دیا معاویہ نے حضرت امیر علیہ السلام کے پاس ۱۲ آدمیوں کو پانی لانے کے لیے بھیجا یہ لوگ حضرت علی علیہ اسلام کے پاس گئے ان میں سے پہلے حوشب کھنے لگا ۔
آپ نیک اور پاکیزہ نفس کے مالک ہیں ھمیں پانی فراھم کیجئے اور جو کچھ معاویہ نے کیا ہے اسے فراموش کر دیجئے۔ان شامیوں میں سے ایک شخص جسکانام مقاتل بن زید العکّی تھا وہ کھنے لگا ۔
اے امیرالمومنین امام المسلمین رسول دو عالم کے چچاذاد بھائی! معاویہ عثمان کے خون کے معاملہ میں دھوکہ بازی سے کام لے رہاھے اسے صرف اور صرف بادشاھت کی چاھت ہے وہ بہانہ بنا کر بادشاھت اور حکومت کے حصول کے کوشش میں لگا ہے۔
خدا گواہ ہے کہ اگرچہ میں شامی ہوں لیکن آپکا محب ہوں خدا کی قسم میں معاویہ کی طرف لوٹ کر نہ جاؤں گا بلکہ یہاں آپ کی خدمت کروں گا اور جنگ کی صورت میں، میںآپکی طرف سے ان کے سا تھ جنگ کرنے والا پھلا شخص ہوں گا اور جلد ہی آپ کے سامنے جام شہادت نوش کروں گا کیونکہ آپ کی اطاعت میں جان دینا شہادت کی موت ہے ۔
اسکے بعد حضرت امیرلمومینین حضرت علی ابن ابی طالب نے اس انداز سے تکلم فرمایا۔ جاؤ اور معاویہ سے کھو! جتنا چاھو پانی پیئو اور اپنے حیوانات کو سیراب کروپانی کے معاملہ میںتمھیں کوئی نہ روکے گا اور کوئی بھی تم پر پانی بند نھیںکرے گا( ۴۴ )
جب حضرت امیرالمومنین علیہ اسلام نے جنگ صفین میں پانی پر غلبہ پا لیا اور آپ نے اہل شام کے ساتھ فیاضی اور بخشش کا سلوک کیا آپ نے کچھ دن معاملہ اسی طرح رھنے دیا، نہ تو آپ نے کسی کو معاویہ کے پاس بھیجا اور نہ ان کی طرف سے کوئی آیا تاکہ اہل شام کے دل نرم پڑ جائیں ۔
اھل عراق نے آپ سے جنگ کرنے کی اجازت طلب کی اور کھنے لگے :بعض لوگ گمان کرتے ہیں کہ آپ جان بوجھ کر جنگ سے کترا رھے ہیں اور آپ کو اپنی زندگی کی فکر ہے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اہل شام کے ساتھ جنگ کرنے میں آپ کسی شک میں مبتلا ہیں۔
حضرت نے ارشاد فرمایامیں اور جنگ سے کتراؤں !
تعجب کی بات تو یہ ہے کہ میں جب جوان تھا تو مجھے زندگی کی فکر نہ تھی اب اس بڑھاپے میں زندگی کی کیا فکر، میں اپنی زندگی گزار چکا ہوں۔ میرا آخری وقت بھی قریب آ چکا ہے ! اب میں موت سے کیا ڈروں گا؟ نہیں ایسا ممکن نہیں ہے۔
اور جہاں تک اس قوم کے متعلق شک کا تعلق ہے آپ کو ان کے متعلق شک ہے اور مجھے اہل بصرہ کے متعلق شک ہے خدا کی قسم میں نے اس معاملہ کے ظاہر اور باطن دونوں کو ان کے سامنے پیش کیا ہے تو مجھے اس کے علاوہ کچھ اور معلوم نہیں کہ یا جنگ کریں یاا للہاور اس کے رسول(ص) کی نافرمانی کریں ۔
میں اس قوم کو یہ بتا دینا چاھتا ہوں کہ عنقریب ان میں سے ایک گروہ یا میری اطاعت کرے گا یا اسی کی !جبکہ حضرت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ خیبر کے دن مجھ سے فرمایا تھا :
لان یھدی ا للہ بک رجلاواحدا خیرلک مما طلعت علیہ الشمس۔
اگر اس کائنات میں اللہ تعالی آپ کے ذریعے ایک شخص کو بھی ھدایت یافتہ بنا دے تو یہ ہر اس چیز سے بھتر ہے جس پر خورشےد طلوع ہوتا ہے۔( ۴۵ )
جب حضرت علی علیہ السلام نے پانی حاصل کر لیا تو اس وقت فردی اور گروھی جھڑپےں جاری رھیں بعض موت کے خوف سے ایسے بھاگے کہ پھر واپس نہیں آئے۔ بھرحال ذوالحجہ کے آخر تک اسی طرح جنگ کا سلسلہ جاری رھاجب محرم الحرام کا مھینہ آگیا دونوں طرف سے ایک نیک مھینے میں جنگ ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ ایلچیوں کی رفت وآمد شروع ہو گی۔
حضرت امیرعلیہ السلام نے یزید بن قیس ارحبی کو معاویہ کی طرف بھیجا انھوں نے معاویہ سے کہاھم تیرے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ تمھیںاس چیز سے آگاہ کریں جس کے لیے ھمیں بھیجا گیا ہے آپ ھماری بات غور سے سنیں البتہ مجھے آپ لوگوں کو نصیحتیں کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔
بھرحال ہم تجھے تذکر دینے آئے ہیںتاکہ تم پر حجت تمام ہو جائے اور ہم تیرے پاس الفت و محبت کا پےغام لے کر آئے ہیں ہمارے سردار وہ ہیں جنھیں کون ہے جو نہیں جانتا تم اور تمام مسلمان اس کے فضل و کمال سے آگاہ ہو اور میرے خیال میں اس کے فضیلت تمہارے اوپر مخفی نہیں ہے۔
اھل دین اور اہل فضل تجھے حضرت علی (ع) کے برابر نہیں سمجھتے اور تجھے ہر گز ان سے بلند وبالا نہیں سمجھتے۔اے معاویہ اللہسے ڈرو اور علی (ع) کی مخالفت نہ کرو۔
خدا کی قسم ہم نے اس دنیا میں ان سے بڑا متقی اوران سے بڑا زاہد کسی اور کو نہیں پایا۔ساری کائنات کی تمام نیکیاںصرف اور صرف اسی کی ذات میںموجود ہیں۔
معاویہ کاجواب :
امابعد! تم نے اطاعت اور جماعت کی دعوت دی ہے جہاں تک جماعت کا تعلق ہے تم نے دعوت دی ہے یہ تو ٹھیک ہے لیکن جہاں تک تمہارے دوست کی اطاعت کا تعلق ہے میں اسے تسلیم نہیں کرتا آپ کے سردار نے ہمارے خلیفہ کو قتل کیاھے،ھماری جماعت میں تفرقہ ڈالا ھماری خواہشات کو پامال کیااور پھر تمہارے سردار کہتے ہیں کہ میں نے اسے قتل نہیں کیا ہم لوگ اسے تسلیم نہیں کرتے ۔
کیا تم نے ہمارے سردار کو قتل ہوتے ہوئے دیکھا تھا؟ کیا تم نہیں جانتے تھے کہ وہ سب تمہارے سر دار کے افراد تھے؟ آپ انھیں ہمارے پاس بھیجئے ہم انھیں قتل کرنا چاھتے ہیں۔
ھم تم سے زیادہ اطاعت اور جماعت کے حقدار ہیں۔شبث بن ربعی نے معاویہ سے کہا: معاویہ تو نہیں جانتا کہ عمار کے متعلق حضرت رسول (ص)خدا نے کیا کھاھے؟ اور پھر تم نے اس کو قتل کیا ہے! معاویہ نے کھاکہ مجھے اس کو قتل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
خدا کی قسم اگر میرے لیے ممکن ہوتا کہ تمہارا سردار ابن سمیہ (سمیہ بن حنباط عمار بن یاسر کی مادر گرامی پھلی خاتون شھیدہ ہیں) کا فرزند ہے تو پھر میں اس کو عثمان کے بدلے میں قتل نہ کرتا لیکن آپ لوگوں نے ہمارے سردار عثمان بن عفان کو قتل کر دیا۔ شےث نے کھاآسمانوں کے رب کی قسم تم نے عدل و انصاف سے کام نہیں لیا مجھے اس با برکت ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ تم نے ابن یاسر کو قتل کر کے لوگوں کی تلواروں کو باھر نکلنے پر مجبور کیا ہے۔( ۴۶ )
حضرت علی(ع) کی ھمےشہ یہ سیرت رھی ہے کہ وہ تمام حالات میں محارم خدا سے پرھےز گاری اور تقوی اختیار کرتے تھے اس چیز کا آپ کے دشمن بھی واضح طور پر اعتراف کرتے ہیں ۔آپ کبھی بھی اچانک جنگ شروع کر دینا پسند نہیں کرتے تھے۔نصر بن مزاحم اپنی سند کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں جب محرم ختم ہوا حضرت علی(ع) نے مرثد بن حارث جشمی کو حکم دیا اور انھوں نے سورج ڈوبنے کے وقت آواز دی کہ اے شام والو آگاہ ہو جاؤ کہ امیرلمومنین آپ سے فرما رھے ہیں:
تم حق کی طرف پلٹ آؤ اور اس کی طرف رجوع کرو اور میں نے تم پر اللہ کی کتاب حجت کے طور پر پیش کر دی ہے اور تمھیں اللہ کی کتاب کی طرف دعوت دی ہے لیکن پھر بھی تم لوگوں نے سر کشی کو نہ چھوڑا اور حق کو قبول نہ کیا اور میں نے تم پر واضح کر دیا ہے کہ اللہ تعالی خیانت کرنے والے کو پسند نہیں کرتااس کے بعد نصر بن مزاحم کہتے ہیں :
نبذ سے مراد یہ ہے کہ دو گروھوں کے درمیان جنگ کے سلسلے میں ایک معاھدہ صلح ہونا جسے جنگ سے پہلے وہ توڑ ڈالےں ۔( ۴۷ )
عبداللہ بن جندب اپنے والد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی(ع) نے فرمایا جب جنگ میں دشمن سے تمہاراآمنا سامنا ہو تو اس وقت تمہاری ذمہ داری یہ ہے کہ۔
جب تک دشمن جنگ شروع نہ کر دے تم پھل نہ کرنا کیوں کہ تم الحمداللہ دلیل و حجت رکھتے ہو اور تمہارا انھیں چھوڑ دینا کہ وہی پھل کریں یہ ان پر دوسری حجت ہو گی اور جب تمہارے جوابی حملہ سے دشمن بھاگ کھڑا ہو تو پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے کو قتل نہ کرنا اورکسی زخمی کی جان نہ لینا۔
ان کا لباس نہ اتارنا، مرنے کے بعد ان کا مثلہ(ناک اور دوسرے اعضاء کاٹنا) نہ کرنا اور جب تم اس قوم کے مرکز میں پہنچ جاؤ انھیں مزید شرمندہ نہ کرنا اور ان کی اجازت کے بغیر ان کے گھروں میں داخل نہ ہونا انکے گھروں سے کسی چیز کو نہ اٹھانا لیکن میدان جنگ میں جنگی ھتھیار لے سکتے ہو۔
ان کی عورتوں کو اذیت نہ پھنچا نا اگرچہ تمھیں وہ برا بھلا کھیں اور تمہارے افسروں کو گالیاں دیں کیونکہ وہ جان، قوت اور عقل کے اعتبار سے ضعیف اور کمزور ہوتی ہیں ھمیں (پیغمبر اسلام(ص) کے زمانہ میں بھی) یہ حکم تھا کہ ان سے کوئی تعرض نہ کریں حالانکہ وہ مشرک ہوتی تھیں اگر جاھلیت میں بھی کوئی شخص کسی عورت کو پتھر یا لاٹھی سے گزند پھنچاتا تو اس کی اور اس کے بعد آنے والی نسلوں کو مطعون سمجھا جاتا تھا۔( ۴۸ )
حضرمی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی(ع) کو جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نھروان کے موقع پر وعظ کرتے سنااور آپ نے فرمایا۔
اللہ کے بندو اللہ سے ڈرو اپنی آنکھیں نیچی رکھو اپنی آوازیں بلند نہ کرو اور کم بولو خود کو جنگ، مقابلہ، مبارزہ اور معانقہ کے لیے آمادہ رکھو، اور ثابت قدم رہو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرو تاکہ تم فلاح پاؤ، جنگ میں کسی سے پھل نہ کروتاکہ تمھیں اللہ کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ صبر وتحمل سے کا م لو کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے پھر یہ دعا فرمائی پروردگار! ھمیں صبراور نصرت اور اجر عظیم عنایت فرما ۔( ۴۹ )
نصر بن مزاحم اپنی سند سے روایت بیان کرتے ہیں تو حضرت علی(ع) نے فرمایا کہ کون ہے جو اس قوم کے پاس قرآن لے کرجائے جو انھیں سمجھائے؟ توایک نوجوان آگے بڑھا جس کا نام سعد بن قیس تھا اس نے کھامیں جاؤں گا حضرت نے پھراس بات کو دھرایا۔
دوسرے لوگ خاموش رھے اس نوجوان نے کھامیں جاؤں گا۔حضرت(ع) نے فرمایاکیا تیرے سوا کوئی اور نھیں؟!! وہ جوان معاویہ کے پاس آیا اور اس نے چنا نچہ معاویہ کو قرآ ن سنایا اور اسے قرآن کی طرف دعوت دی لیکن معاویہ نے اسے قتل کردیا۔
اس وقت حضرت علی(ع) نے عبداللہ بن بدیل خزاعی سے کھااب ان پر حملہ کر دو چنا نچہ سب نے حملہ کر دیا۔( ۵۰ )
نصر بن مزاحم اپنی سند سے کہتے ہیں کہ ہم جنگ صفین میں حضرت علی(ع) کے ساتھ موجود تھے اس وقت عمر وبن عاص کھڑا ہوا اس نے سیاہ کپڑے کو نےزے کے ساتھ باندھ رکھا تھا۔ لوگوں نے کھایہ حضرت رسول (ص)خدا کے پرچم کا ایک حصہ ہے وہ اس طرح باتیں کرتے ہوئے حضرت علی (ع) کے پاس پہنچ گئے۔
حضرت نے فرمایا کیا تم اس چادر کے متعلق جانتے ہو بے شک عمرو اللہ کا دشمن ہے اسے اللہ کے رسول(ص) نے اسے چادر کے حصے کے ساتھ نکال دیا تھا حضرت نے اس سے پوچھا تھا اسے کہاں سے لیا تھا؟۔
عمرو نے کھاتھا یا رسول(ص) اس سے کیا ہوتا ہے؟۔
حضرت نے فرمایا: اسے لے کر (اسے پھن کر ) مسلمانوں کے ساتھ جنگ نہ کرنااور کافروں کا تقرب حاصل نہ کرنا بس اس نے وہ لے لیا۔
لیکن بے شک وہ مشرکوں کے قریب ہو گیا ہے اور آج مسلمانوں سے جنگ کرنے پر آمادہ ہے مجھے اس ذات کی قسم جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور ذی روح چیزوں کو پیدا کیا وہ کبھی بھی مسلمان نہ ہوئے انھوں نے تو صرف اسلام کا اظہار کیا ہے۔
اور کفر اُن کے اندر پوشیدہ طور پر موجود ہے جب یہ کافروں میں سے کسی کو اپنا مدد گار اور معاون پاتے ہیں تو اپنے کفر کا اظہار کردیتے ہیں۔( ۵۱ )
نصر بن مزاحم کہتے ہیں کہ زید بن ارقم معاویہ کے پاس گئے اس وقت اس کے قریب عمر بن عاص کرسی پر بیٹھا ہوا تھا جب زید نے یہ منظر دیکھا تو خود ان دونوں کے درمیان حائل ہوگیا یہ دیکھ کر عمرو بن عاص کھنے لگا۔
تم دیکھ نہیں رھے ہوکہ ہم اکٹھے بیٹھے ہیں تو میرے اور میرے امیر کے درمیان آکر بیٹھ گیا ہے ہمارے درمیان سے اٹھ جا، زید نے کھاکہ ایک جنگ میں، میں حضرت رسول خدا(ص) کے ساتھ تھا آپ دونوں اسطرح اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے حضرت رسول خدا(ص) نے گھری نظروں کے ساتھ آپ کو دیکھا اور پھر دوسرے اور تیسرے دن بھی اسی طرح دیکھا اور نظریں جما کر تمھیں دیکھنے لگے اورارشاد فرمایا کہ جب تم معاویہ اور عمرو ابن عاص کو کبھی اسطرح اکٹھا بیٹھے ہوئے دیکھو تو فورا انھیں جدا کر دینا کیوں کہ یہ دونوں کبھی بھی خیر پر(اس طرح) اکٹھا نہیں بیٹھ سکتے۔( ۵۲ )
عبداللہ بن عمر کہتے ہیں معاویہ جھنم کے نچلے درجے میں دردناک عذاب میں ہوگا اگر فرعون یہ کلمہ نہ کھتا کہاٴناربکم الاٴعلیٰ (میں تمہارا سب سے بڑا پروردگار ہوں) تو جھنم میں معاویہ سے پست درجہ کسی اور کو نہ ملتا۔( ۵۳ )
اس طرح عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت رسول(ص)نے ابو سفیان کو دیکھا کہ وہ مرکب پر سوار ہے اور معاویہ اور اس کا ایک بھا ئی ساتھ ہے ان میں سے ایک لگام پکڑے کھڑا ہے اور دوسرا اس کے پیچھے کھڑا ہے۔ جب حضرت کی ان پر نگا ہ پڑی تو حضرت نے ارشاد فرمایا :
اللّھم اللعن القائِد والسائق والراکب۔
پروردگاراکھڑے ہونے والے، لگام پکڑنے والے اور سوار‘ تینوں پر لعنت فرما۔( ۵۴ )
اورحضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام لوگوں کے ساتھ آھستہ آھستہ اہل شام کی طرف روانہ ہوئے تو انھوں (اھل شام)نے تیر پھینک کر جنگ کا آغازکیا اس وقت آپ نے ہاتھ اٹھاکر بارگاہ خدا وندی میں عرض کی:
پروردگارا ! ھمیں اپنے دشمن پر نصرت فرما، ھمیںان باغیوں سے نجات دے اور حق کی نصرت فرما،اور اگر انھیں کامیابی مل جاتی ہے تو ھمیں شہادت کے درجے پر فائز کردے اور میرے اصحاب کو اس فتنہ سے نجات دے۔( ۵۵ )
نصر،زید بن وھب سے روایت کرتے ہیں کہ جنگ صفین میں میںنے حضرت کو دیکھا کہ وہ اپنے بیٹوں کے ساتھ میسرہ کی طرف جارھے تھے میں نے دیکھا کہ تیر آپ کے کاندھوں اور شانوں سے گذر رھے تھے ،جن کو دیکھ کر آپ کے فرزند ان تیروں کو روکتے تھے، آپ نے ان کو منع فرمایا اس وقت بنی امیہ کا ایک بھادر غلام احمر نکل کر آیا اور کھنے لگا : یا علی اگر میں تم کو قتل کروں تو خدا مجھے قتل کردے،یا آپ مجھے قتل کردیں ۔
یہ سن کر امام علیہ السلام کے خادم کیسان نے اس پر حملہ کیا لیکن اس کو احمر نے قتل کر دیا اس کے بعد علی علیہ السلام احمر کے نزدیک گئے تاکہ اس پر تلوار سے وار کریں،لیکن احمر نے آپ کی ھیبت کو دیکھ کر اپنے دونوں ہاتھ ذرہ میں رکھ لئے، اس وقت حضرت امیر (ع)نے اس کو پکڑ کر اوپر اٹھالیا۔
راوی کھتا کہ میں نے دیکھا کہ احمر کے دونوں پیر حضرت کے شانوں کے قریب ہو ا میں لٹکے ہوئے تھے،حضرت نے کچھ دیر اس کواسی طرح لٹکائے رکھا اور پھر زمین پر دے مارا،جس کی وجہ سے اس کے ہاتھ پیر ٹوٹ گئے اس کے بعد امام حسین (ع) اور محمد بن حنفیہ اس پر ٹوٹ پڑے اور اس کو قتل کر ڈالا ۔اس کے بعد اہل شام حضرت کے قریب ہونے لگے لیکن حضرت آرام سے چلتے رھے اور موقع پر حضرت امام حسن علیہ السلام نے کھا: بابا آپ نہیں دیکھ رھے ہیں کہ دشمن آپ کی طرف حملہ کے لئے بڑھ رھے ہیں ۔
تب آپ نے فرمایا:اے بیٹا تمہارے باپ کے لئے ایک دن معین ہے جس پر جلدی کرنے سے کوئی اثر نہیں پڑتا اے بیٹا تمہارے باپ کو اس کا غم نہیں کہ موت ان پر آن پڑے یا وہ موت پر جا گریں۔( ۵۶ )
جنگ صفین میں حضرت علی (ع)نے اپنے ہاتھ میںعصا لے رکھا تھااور آپ کا گزر سعیدبن قیس ھمدانی کی طرف ہوا وہ عرض کرنے لگا یا امیرالمومنین (ع) کھیں کوئی آپ کو دھوکا دے کر نقصان نہ پھنچادے جبکہ آپ دشمن کے قریب ہوتے جا رھے ہیںتو اس وقت حضرت علی(ع) نے ارشاد فرمایا:
جب تک خدا کی مرضی نہ ہو تو کسی کی جراءت نہیں کہ میرا بال بھی بیکا کر سکے جب تک میں اللہ کی حفاظت میں ہوں کوئی اس وقت تک مجھ پر پس پشت سے حملہ نہیں کر سکتا اور مجھ پر دیوارنھیں گرا سکتا یا مجھ پر آفت و مصیبت کا پہاڑ نہیں توڑ سکتا۔ ہاں شب قدر میں ایسا ہوگا ۔( ۵۷ )
جابر جعفی روایت بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت علی علیہ السلام میدان جنگ کی طرف نکلنے لگے تو آپ نے سوار ہونے سے پہلے ذکر خدا کیا اور ارشاد فرمایا:
الحمدُ اللهعلیٰ نعمه علینا وفضلهِ ( سبحان الذي سخّرلنا هذاوما کُنّا له مقَرنین اِنّا اِلیٰ ربِّنا لمنقلبون )
تمام حمد و ثناء خدا وند متعال کے لئے سزاوار ہے جس نے ھمیںنعمت اور فضیلت عطا کی ہے ۔ اور وہ ایسی پاک و پاکیزہ ذات ہے جس نے اس کائنات کو ہمارے لیے مسخر فرمایا اور کوئی بھی اس کا مقابلہ کرنے والا نہیں ہے اور ھمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔
پھر آپ نے قبلہ رخ ہو کر اپنے ہاتھوں کو دعا کے لیے بلند کر کے فرمایا:
اللُّهم اِلیک نقلت الاٴَ قدام واٴتعبتُ الاٴبدان واٴفضتُ القلوب ورفعتُ الایدي وشَخَصتُ الابصارُ < ربنا افتح بیننا وبین قومِنا بالحقِّ و اٴنتَ خیرُالفاتحین
پروردگار ہمارے قدم تیری جانب رواں دواں ہیں اور بدن تیرے حکم کے تابع ہیں۔ دل تیری طرف راغب ہیں اور ہاتھ تیری بارگاہ میں بلند ہیں اور آنکھیں تیری جستجو میں ہیں، پروردگار! ھمیں اس قوم پر حق کے ساتھ فتح نصیب فرما بے شک تیری ذات ہی بھترین فتح عطا کرنے والی ہے۔
پھر ارشاد فرمایا: اللہ کی برکت سے قدم بڑھا،اور چلتے ہوئے آپ یہ ورد کر رھے تھے:
اللهُاٴکبر اللهاٴکبر لاالٰه اِلاّالله الله اٴکبرُ یا الله یااٴحد یا صَمد یا رب محمدّ اٴکفف عنا باٴس الظالمین ۔
اللہ تو سب سے بڑا ہے ۔وھی اکبر ہے۔ اے اللہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ اے اللہ، اے احد، اے بے نیاز ذات، اے محمدکے رب، ظالموں کے ظلم و اذیت کو ہم سے دور فرما۔
اورپھر فرمایا:( الحمدُ لله ِربِّ العالمین الرحمٰن الرحیم مالکِ یوم الدین اِیاّک نعبد واِیاکَ نستعین ) بسم الله الرحمن الرحیم ولا حوَلَ ولا قوّة اِلابالله العليّ العظیم
تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو عالمین کا رب، رحمن اور رحیم ہے نیز آخرت کا مالک ہے ہم صرف اس کی عبادت کرتے ہیں اسی سے مدد طلب کرتے ہیں اللہ کے نام سے شروع کرتے ہیں تمام طاقت و قوت اسی علی اور عظیم ذات کے لیے ہے ،راوی کھتا ہے صفین میں یھی کلمات حضرت کا شعار اور نعرہ تھے۔( ۵۸ )
جب جنگ صفین میں دونوں طرف سے کافی لوگ قتل ہو گئے تو حضرت علی(ع) نے میدان صفین میں کھڑے ہو کر باآواز بلند پکارا :معاویہ معاویہ، آپ نے کئی بار اس کو تکرار کیا، معاویہ نے کھاکیا کھنا چاھتے ہو حضرت نے فرمایا: توخود میرے ساتھ جنگ کے لیے آجا تاکہ معاملہ تمام ہو جائے ۔
چنانچہ جب آپ نے معاویہ کو جنگ کے لئے طلب کیا۔ اس کے ساتھ عمرو بن عاص بھی تھاجب وہ دونوں حضرت کے قریب آئے تو حضرت نے عمرو کی طرف توجہ کئے بغیرمعاویہ سے کھاتیرے لیے ھلاکت ہو تو دیکھ نہیں رھاکہ کتنے لوگ مارے جا چکے ہیںبھتر ہے تاکہ میرے اور تیرے درمیان جنگ ہو جائے جو دوسرے کو قتل کر دے وہ خلافت کا مالک بن جائے، معاویہ نے عمر وسے پوچھا اس بارے تیراکیا مشورہ ہے؟
عمرو نے کہاعلی (ع)نے انصاف سے کام لیا ہے، بھر حال اگر تو میدان میںنکلے تو تجھے کوئی نہیں مار سکتا اس زمین پر رھنے والے سب عرب تیری پشت پر ہیں (یعنی تم حضرت علی (ع)کا مشورہ مان لو)معاویہ نے کھااے ابن عاص مجھ جیسا شخص اپنے آپ کو دھوکا نہیں دے سکتا۔ خدا کی قسم علی ابن ابی طالب(ع) جیسے شجاع شخص کے ساتھ مقابلہ کرنے کبھی نہ نکلوں گا یہ تو میرے خون سے زمین کو سیراب کر دے گا۔
اس کے بعد معاویہ عمرو عاص کے ساتھ وہاں سے بھاگ گیا اور لشکر کی آخری صفوں میں پہنچ گیا۔جب حضرت نے اسے آخری صفوں میں جاتے دیکھا تو آپ مسکرا دئیے اور اپنی جگہ واپس آگئے۔( ۵۹ )
اصبغ بن نباتہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت علی ابن ابی طالب(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا یاامیرالمومنین جس قوم کے ساتھ ہم جنگ کر رھے ہیںان کا اور ھمارا دین ایک ہے رسول ایک، نماز ایک اور حج ایک ہے تو پھر ھمارا جھگڑا کس چیز میں ہے؟ لہٰذا ہم انھیں کس نام سے پکاریں؟تب حضرت نے فرمایا:
ھم انھیں وہی کچھ کھیں گے جو اللہ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے اور جو کچھ اللہ کی کتاب میں موجودھے میں سب کو جاننے والا ہوں،پھر اے نوجوان کیا تم نے اللہ کے اس فرمان کو ملاخطہ نہیں کیا جس میں اللہ ارشاد فرماتا ہے:
( تلکَ الرُسُل فضّلنا بَعضَهم علیٰ بعضِ ) سے لے کر( ولو شاءَ اللهُ ما آقتتل الذین من بعد هم مِن بعد ما جاء تهُم البیناتُ ولکن اِختلفوا فمنهم من آمن و منهم من کفر ) ( ۶۰ )
یہ سب رسول جو ہم نے بھیجے ہیں ،ان میں بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی ہے۔۔ ۔ اگر خدا چا ھتا تو جو لوگ ان پیغمبروں کے بعد واضح اور روشن معجزے آ چکنے کے بعد آپس میں نہ لڑتے مگر ان میں اختلاف پیدا ہو گئے۔
ان میں بعض تو صاحب ایمان رھے اور بعض کافر ہو گئے اور جب یہ اختلاف پیدا ہو گیا تو ہم اللہ اسکی کتاب اور اس کے نبی کے زیادہ قریب ہیں۔ھم ایمان والے ہیں اور وہ کفر کرنے والے ہیںاور اللہ نے چونکہ یھی چاھاھے کہ ہم ان( کافروں) سے لڑیں لہٰذا ھماری یہ جنگ کرنا مشیت ایزدی اوراللہ کے ارادے کے عین مطابق ہے ۔( ۶۱ )
محمد ابن اسحاق اپنی سند سے روایت بیان کرتے ہیں کہ عمرو ابن عاص کو حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب(ع) کے ایک صحابی حارث بن نضر جثعمی سے بڑی عداوت تھی حضرت علی (ع)نے اپنے اس صحابی کو شام کے بڑے لوگوں سے متعارف کروایا تھا اور ان کے دلوں میں اس کی شجاعت کا رعب و دبدبہ تھا ہر شخص اس کے سامنے آنے سے بچتا تھا اور عمرو جس جگہ بھی جاتا تھا وہاں حارث بن نضر کے چرچے سنتا تھا۔
حارث نے اس سلسلے میں کچھ اشعار کھے اور یہ اشعار زبان زد عام ہو گئے جب ان کی خبر عمرو کو ہوئی تو وہ خدا کی قسم کھا کر کھنے لگا اسے یہ اشعار علی ابن ابی طالب(ع) نے سکھائے ہیں۔بھرحال خدا مجھے ہزار مرتبہ بھی موت دے تب بھی تلواریں آپس میں ضرور ٹکرائیں گی لہٰذا اس نے اپنے نیزے سے اس پر حملہ کر دیا،اس جانب حضرت علی (ع)آ نکلے انھوں نے تلوار اور صقیل شدہ و نیزہ اٹھا رکھا تھا جب اس نے دیکھا تو اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی تاکہ آگے بڑھ جائے اور (خوف کی وجہ سے) عمر وگھوڑے سے زمین پر آ گرا اور دونوں پاؤں پھےلادئےے اور ننگا ہو گیا۔ حضرت اپنا چھرہ چھپاتے ہوئے اس سے آگے نکل گئے۔ اس دن سے لوگوں کے درمیان اس کی یہ حالت ضرب المثل بن گئی اس واقعہ پرحارث بن نضر خثعمی نے یہ اشعار کھے:
اٴفیِ کل یومٍ فارس لکَ ینتهي
وعورتُه وسط العجاجة بادیه
يکف لها عنه عليٌ سِنانه
ويضحک منها في الخلاءِ معاویه
بدت اٴمس مِن عمرو فقنّع راٴسه
وعورةُ بُسرٍ مَثلها حذو حاذیه
فقولا لعمروٍ ثم بُسرٍ اٴلاانِظُرا
لنفسکما لا تلقیا اللیث ثانیه
ولاتحمدا اِلاّ الحیا وخصاکما
هما کانتا والله للنفسِ واقیه
کیا ہر روز تیرے لیئے کوئی گھوڑ سوار آئے اور صحرا کے درمیان غبار بلند ہو اور تم ننگے ہو جاؤ تیرے لیے تو صرف علی علیہ السلام کے نیزے کی انی ہی کافی ہے تجھ پر تنہائی میں معاویہ بھی مسکر ادیا کل عمرو کو یہ معاملہ پیش آیا اور اس نے اپنا سر ڈھانپ لیا اور بسر کا انجام بھی وےسا ہی رہاپس ان دونوں نے عمر و اور پھر بسر سے کہا۔
اپنے نفوس کو نہیں دیکھتے کھیں تم پر دوبارہ شیر حملہ نہ کر دے تو شرم و حیاء کیوں نہیں کرتے خدا کی قسم اپنے نفس کی حفاظت کرو۔ حارث کہتے ہیں کہ اس کے بعد بسر بن ارطاةکے ساتھ بھی وہی کچھ کیا جو عمرو بن عاص کے ساتھ ہوا تھا( ۶۲ )
نصر بن مزاحم عمر بن سعد سے روایت بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ہمارے درمیان حضرت علی (ع)موجود تھے۔ آپ حمدان، حمیر اور دوسرے مختلف لوگ جہاں موجود تھے ان کے درمیاں کھڑے تھے اس وقت اہل شام کے کسی شخص نے آواز دی کسی نے ابی نوح حمیری کو دیکھا ہے؟
کسی نے جواب دیا جی ہاں تمھیں اس سے کیا کام ہے؟ اس نے چھرے سے خود اتارا وہ ذوالکلاع حمیری تھا۔
نوح نے کھا: ہمارے ساتھ چلو۔
اس نے کہا: کہاں؟
کھابھرحال ھمیں اس صف سے نکل جانا چاھیے۔
ابو حمیری نے کہا: کیوں؟
اس نے کہا: مجھے تم سے کام ہے۔
اس نے جواب دیا: معاذاللہمیں کیوں جاؤں میں تو یہاں جنگ کرنے کے لیے آیا ہوں۔
ذوالکلاع نے کہا: ھمیں بتا کہ تیری گردن پر اللہ، رسول(ص) اور ذوالکلاع قبیلہ کی کوئی ذمہ داری ہے؟ اگر ہے تو تم اپنے قبیلے کی طرف چلو،بھرحال میں تم سے اس معاملے کے متعلق پوچھنا چاھتا ہوں جس کی طرف تم نکلے ہو ۔ابو نوح ، ذوالکلاع کے ساتھ وہاں سے چل پڑا۔
اس نے کہا۔میں نے تمھیں اس لیے بلایا ہے تاکہ تم مجھے وہ بات بتاؤ جو عمرو بن عاص نے عمر بن خطاب کی خلافت کے زمانہ میں کھی تھی بھر حال تم ھمیں وہ حدیث ابھی سناؤ۔
اس نے کھامیرا خیال ہے کہ میں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا۔
آپ نے فرمایا :
یلتقي اُهل الشام واٴهل العراق و فی اِحدیٰ الکتیبتین الحقُ واِمام الهدیٰ ومعهُ عمار بن یاسر
اھل شام اور اہل عراق ایک مقام پر جنگ کے لیے جمع ہونگے اور ان دونوں لشکروں میں سے ایک حق پر ہوگا اور وہی امام ھدیٰ بھی ہوگا اور اس لشکر کے ھمراہ عمار بن یاسر بھی ہونگے۔
ابو نوح نے کھاجی ہاں خدا کی قسم ہم اسی گروہ میں سے ہیں ۔
اس نے کھااللہ تجھے سمجھائے تم ھمیں جنگ میں کھری کھری سنانا چاھتے ہو (یا قتل کرنا چاھتے ہو)۔
ابو نوح نے کھاجی ہاں رب کعبہ کی قسم! یہ تمہارے ساتھ رھنا جنگ کرنے کی با نسبت زیادہ سخت ہے اگر تم اکےلے ہوتے تو میں جنگ کرنے سے پہلے تمھیں ذبح کر دیتاجبکہ تم تو میرے چچازاد ہو۔
ذوالکلاع نے کھاتو ہلاک ہو جا اس چیز کی تو مجھ سے تمنا رکھتے ہو خدا کی قسم اگرچہ تم میرے رشتہ دار ہو لیکن میں تیرے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا لہٰذا مجھے اپنے قتل پر مجبور نہ کر۔
ابو نوح نے کھایہ تو اللہ تعالی نے اسلام کے ساتھ قریبی رشتہ داروں کے ساتھ قطع رحم کر دیا ہے اور جو رشتہ دار نہیں تھے انھیں اسلام کی لڑی میں پرو دیا ہے میں تمھیں بھی قتل کروں گا اور تیرے ساتھیوں کو بھی فی النار کروں گا کیونکہ ہم حق پر ہیں اور تم باطل پر ۔
ذوالکلاع نے کھاکہ میرے ساتھ اہل شام کی صفوں میں شامل ہو جاؤ کیونکہ میری نظر میں تو اس کے ھمسایہ ہو،یہاں تک عمرو بن عاص سے ملے اور اسے عمار کے متعلق خبر دی اور جنگ میں ھمیں قتل کرنے کی بات ختم ہو جائے شاید اس سے دونوں لشکروں کے درمیان صلح ہو جائے۔
ابو نوح نے اسے جواب دیا عمرو ایک مکار آدمی ہے اور تم بھی مکار اور دھوکہ باز لوگوں میں پھنسے ہوئے ہو، معاویہ کا ساتھ دینے سے بھتر ہے کہ خدا مجھے موت دے دے اور میں مر جاؤں۔
ذوالکلاع نے کھااس بات میں میں بھی تمہارا ساتھی ہوں مگر یہ کہ قتل نہ کر دیا جاؤں اور بیعت پر مجبور نہ ہو جاؤں اور نہ ہی تیرے لشکر میں محبوس نہ ہو جاؤں۔
بھرحال ابو نوح نے کھاپروردگارا تو جانتا ہے کہ ذوالکلاع کیا کہہ رہاھے اور تو اسے بھی جانتا ہے جو میرے دل میں ہے مجھے اس سے پناہ دے، پس یہ کہہ کر وہ ذوالکلاع کے ساتھ چل دیا یہاں تک کہ عمر وبن عاص تک پھنچے اس وقت وہ معاویہ کے پاس موجود تھا اور اس کے ارد گرد کچھ لوگ موجود تھے۔
ذوالکلاع نے عمرو سے کہا،اے ابو عبداللہ کیا اگرتجھے ایک ناصح، عقلمند اور شفیق انسان، عمار بن یاسر کے متعلق خبر دے تو تم اس کو جھٹلاؤ گے تو نھیں؟
عمرو نے کھا۔وہ کون ہے؟
ذوالکلاع نے کھاوہ میرا چچازاد بھائی کوفہ کا رھنے والا ہے ۔
عمرو نے کھاکیا تو مجھے ابو تراب کا ہم شکل دکھانا چاھتا ہے۔
ابو نوح نے کھاعلی (ع)تو محمد(ص) اور اس کے اصحاب کی ھیئت و شکل کے مالک ہیں جبکہ تم ابو جھل اور فرعون کی عادات و اطوار اور ھیئت و شکل والے معلوم ہوتے ہو۔
یہ سننا تھا ابو الاعور ننگی تلوار لے کر کھڑا ہوکر کھنے لگا کہ جھوٹااور لئےم شخص ہمارے درمیان کھڑے ہو کر ھمیں گالیاں دے رہاھے۔
ذوالکلاع نے کھامیں خدا کی قسم کھا کر کھتا ہوں اگر تمہارا ہاتھ اس کی جانب بڑھا تو میں تلوار سے تمہاری گردن اتار دوں گا یہ میرا چچازاد بھائی اور ھمسایہ ہے اور میں نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے میں اس کو تمہارے پاس اس لیے لایا ہوں تاکہ تمھیں تمہاری حقیقت سے آشنا کردوں۔
اس سے عمرو ابن عاص نے کھاتجھے اللہ کی قسم تم جھوٹ نہ بولنا اور ھمیں صحیح صحیح بتاؤ کہ کیا عمار بن یاسر تمہارے ساتھ ہے؟ ۔ابو نوح نے کھامیں اس وقت تک تجھے اس کی اطلاع نہیں دوں گا جب تک تم مجھے یہ نہ بتاؤ کہ تم نے یہ سوال کیوں کیا ہے؟ جبکہ ہمارے ساتھ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور بھی کافی اصحاب موجود ہیں اور سب کے سب اس جنگ میں تمھیں قتل کر دینا چاھتے ہیں۔عمرو نے کھامیں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ و علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔
اِنّ عماراً تقتلهُ الفئةُالباغیة واِنه لیس لعمّار اٴن یفارق الحق ولن تاٴکل النار مِن عمار شیئا
بے شک عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا،جبکہ حق عمار سے جدا نہیں ہو گا اور عمار بھشت میں جائے گا۔
ابو نوح نے کہا:
لااله اِلاّالله والله اُکبر اِنه یقیناً جادَ علیٰ قتالِکم
اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اللہ ہی اکبر ہے بے شک وہ ہمارے ساتھ ملکر تم سے جنگ کرے گا۔
عمرو نے بھی کھامجھے اس ذات کی قسم جسکے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔
یقناً( وہ کل )ھمارے ساتھ ہی جنگ کرے گا ۔
ابو نوح کھتا ہے جی ہاں جنگ جمل میں جب ہم اہل بصرہ پر چڑھائی کر رھے تھے تو اس نے مجھ سے کھاتھا گویا کل کی ہی بات ہے اور تم نے ھمیں مارا تھا یہاں تک کہ ہم کھجور کے درختوں تک جا پھنچے تھے اس وقت بھی ھمیں علم ہو گیا تھا کہ ہم حق پر ہیں اور تم باطل پر ہو۔
اس کے بعد ابن عاص، ذوالکلاع اور ایک جماعت کے ساتھ وہاں سے نکلا یہ سب لوگ عمار بن یاسر کے پاس جمع ہو گئے ۔عمر وبن عاص نے کھاھمارے سا تھ جنگ کرنے کی وضاحت کرو۔ کیا ہم ایک خدا کی عبادت نہیں کرتے ؟اور کیا جس قبلہ کی طرف تم منہ کر کے نماز پڑھتے ہو ہم اس کی طرف منہ کر کے نماز نہیں پڑھتے؟ اور تمہاری دعوت کو ہم نے قبول نہیں کیا؟ کیاھم قرآن نہیں پڑھتے؟ اور تمہارے نبی پر ایمان نہیں رکھتے؟۔
عمار نے جواب دیا اس اللہ کا لاکھ لاکھ شکر و حمد ہے جس نے مجھے تم لوگوں سے جدا کیا ہے قبلہ اور دین تو میرے اور میرے ساتھیوں کے لیے ہے اس طرح رحمان کی عبادت‘ نبی اورکتاب بھی میرے اور میرے ساتھیوں کے لیے ہے تیرا اور تیرے ساتھیوں کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اس پروردگار عالم کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے تمھیں اس طرح بنایا ہے اور تمھیں گمراہ اور اندھا بنایا ہے۔میں عنقریب تمھیں بتاؤں گا کہ میں تجھ سے اور تیرے ساتھیوں سے جنگ کروں گا۔
حضرت رسول خدا صلی اللہ و علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ہے:
تیرے ساتھ جنگ کرنے والے ناکثین ہیں اور ایسا ہو چکا ہے (ناکثین نے مجھ سے جنگ کی ہے) اور تجھے قتل کرنے والے قاسطین ہونگے اور وہ تم لوگ ہو جہاں تک مارقین کا تعلق ہے مجھے نہیں معلوم میرا ان سے واسطہ پڑے گا یا نہیں۔
اے بد بخت و بے اولاد کیا تو نہیں جانتا کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے (مولا کائنات کے لیے ) ارشاد نہیں فرمایا۔
من کنت مولاه فعلي مولاهُ اللهم والِ مَن والاهُ و عادِ مَن عاداه ! فاٴنا مولیٰ الله و رسولَهُ وعلي مولاي بعد هما
جس کا میں مولا ہوں اسکے علی (ع) مولاھیں خدایا اس سے محبت رکھ جو علی (ع) کو ولی جانے، اس سے بغض و عداوت رکھ جو علی (ع)سے دشمنی و عداوت رکھتا ہو، پس میں وہ ہوں جس کے مولا و آقااللہ اور رسول ہیں اور ان کے بعد علی (ع)میرا مولا و آقا ہے۔( ۶۳ )
جناب ابن ابی الحدید مندرجہ بالا روایت کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے اس قوم پر بہت تعجب ہے جنھیں حضرت عمار کی اس جنگ میں موجودگی سے تو شک ہو رہاھے کہ اگر عمار اس جنگ میں موجود ہوئے تو ہم ناحق ہونگے اور انھیں حضرت علی (ع)کی موجودگی کا خیال نہیں کہ ان کے ساتھ جنگ درست نہیں ہے ۔
عمار کے حوالہ سے استدال پیش کر رھے ہیں ۔کہ حق اس قوم عراق کے ساتھ ہے کیونکہ ان میں حضرت عمار موجود ہیں لیکن حضرت علی (ع) سے جنگ کرتے ہوئے ان کو پرواہ تک نہیں یہ لوگ رسول خدا کے اس فرمان سے تو ڈر رھے ہیں اورپریشان ہیںکہ(عمار) تجھے باغی گروہ قتل کرے گا لیکن انھیں حضرت رسول خداصلی اللہ و علیہ و آلہ وسلم کے اس فرمان سے خوف نہیں آتا جوانھوں نے حضرت علی علیہ السلام کے شان میں کھاھے۔
اللهم وال من ولاه و عاد من عاداه
خدا اسے دوست رکھ جو علی علیہ السلام سے محبت کرتا ہو اور اسے دشمن رکھ جو علی (ع)سے عداوت رکھے۔
اور انھیں رسول خدا کا یہ فرمان بھی سوچنے پر مجبور نہیں کرتا۔
لا یحبک الا مؤمن و لا یبغضک الا منافق
اے علی تجھ سے صرف مومن ہی محبت رکھ سکتا ہے اور تجھ سے بغض رکھنے والا (تو)منافق ہے۔
ابن ابی الحدید مزید فرماتے ہیں یہ اس بات کی بین اور واضح دلیل ہے کہ تمام قریشیوں کی یہ پوری سعی و کوشش تھی کہ ابتدا ہی سے علی(ع) کے ذکر کو چھپایا جائے اور ان کے فضائل پر پردہ ڈالا جائے ۔( ۶۴ )
نصر بن مزاحم عمر بن سعد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ جنگ صفین میں ایک دن اتنی شدےد لڑائی ہوئی کہ تکبیر کے علاوہ نماز تک نہ ہو سکی اس دن حضرت عمار بن یاسر قتل کر دے گئے جب ان کی نگاہ عمرو بن عاص کے پرچم کی طرف اٹھی تھی تو فرمایا تھا خدا کی قسم یہ جھنڈے والا تین اھم چیزوں کا قاتل ہے اسے کوئی ھدایت نہیں دے سکتا پھر یہ شعر کھے:
نحنُ ضربنا کم علیٰ تاٴویلهِ
کما ضربناکم علیٰ تنزیلهِ
ضرباً یزیل الهامُ عن مقیله
ویذهل الخلیلُ عن خلیلهِ
او یرجع الحق الی سبیله
ھم نے تم کو تاویل کے ساتھ اس طرح شکست دی جس طرح ہم نے تمھیں تنزےل قرآن کے ساتھ شکست دی تھی ھماری ضرب نے بات کرنے والے کو ہلاک کر دیا اور دوست سے دوست جدا ہو گیا یا حق اپنے اصل ٹھکانے کی طرف پلٹ آیا ۔
پھر عمارکو پیاس لگی پیاس کی شدت نے نڈھال کر دیا ایک سخی خاتون آئی۔نھیں جانتا تھا کہ یہ اس کی والدہ تھی جس نے دودھ کا پیالہ اٹھا رکھا تھا عمارنے اسے پیتے ہوئے کھاکہ جنت میری مشتاق ہے آج میری اپنے محبوب (رسول خدا صلی اللہ و علیہ و آلہ وسلم) سے ملاقات ہونے والی ہے۔
ذولکلاع نے عمرو بن عاص کو یہ کہتے ہوے سنا کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ و علیہ و آلہ وسلم نے عمار سے فرمایاکہ تجھے باغی گروہ قتل کرے گا اور مرتے وقت تو دودھ پیئے گا۔
ذوالکلاع نے عمرو بن عاص سے کھایہ سب کچھ کیا ہے کیا یہ تیرے لیئے افسوس کا مقام نہیں ہے؟
عمرو نے کھاابھی عنقریب یہ ابو تراب کو چھوڑ کر ہمارے ساتھ شامل ہو جائے گا یہ سب کچھ عمار کی شہادت سے پہلے کی باتیں تھیں جس دن عمار قتل ہوے اس دن ذولکلاع بھی قتل ہوا۔عمرو نے معاویہ سے کھاخدا کی قسم تم جانتے ہو ان دونوں کے قتل ہونے سے مجھے کتنی خوشی ہوئی ہے ۔خدا کی قسم ذولکلاع باقی نہیں رھااور عمار بھی قتل ہو گیا جس کی وجہ سے لوگ علی(ع) کی طرف مائل ہو رھے تھے اور معاملہ یہ ہم مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رھاتھا۔( ۶۵ )
اھل شام میں سے ابن جونی کھتا ہے کہ میں نے عمار کو قتل کیا ہے عمر بن عاص نے پوچھا جب تم نے اسے قتل کیا تھا اس وقت اس کے منہ سے کیا الفاظ نکلے تھے وہ کھتا ہے اس وقت عمار کہہ رھے تھے۔
الیوم اٴلقیٰ الاٴحبة محمداً و حزبه
آج میں اپنے احباء سے ملوں گا ۔یعنی میری حضرت محمد مصطفی صلی اللہ و علیہ وآلہ و سلم اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات ہو گی۔
عمرو نے کھاتو نے سچ کھاھے تو نے ہی اسے قتل کیا ہے اللہ نے تجھے کامیابی نہیں دی بلکہ تیرا رب غضبناک ہوا ہے۔( ۶۶ )
روایت میں ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے عمرو بن عاص پر اپنی تلوار سے حملہ کر دیا اور فرمایا اے ابن نابغہ اسے سنبھالو وہ خوف زدہ ہو کر گھوڑے سے نیچے گر گیا اور اس نے اپنی شرم گاہ کھول دی ۔
حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا اے ابن نابغہ تو اپنی شرم گاہ کا آزاد شدہ ہے معاویہ یہ سن کر مسکرایا اور اس نے کھااے عمر تو نے اپنے نفس کو کتنا رسوا کرلیاھے۔
عمر نے معاویہ سے کھااے ابو عبدالرحمن کون اس بڑی مصیبت میں پھنسنا چاھتا ہے علی(ع) کے مقابلے میں نہ تو میری جراءت و طاقت ہے اور نہ تجھ میں ھمت ہے نہ ولید میں اتنا زور ہے حتی کہ ہم جتنے لوگ بھی یہاں جمع ہیں کسی میں اتنی قدرت نہیں ہے کہ علی (ع)کا مقابلہ کر سکے اگر تجھے میری بات پر یقین نہیں آتا تو آزمالے جبکہ علی (ع)نے تو تجھے کئی بار مقابلے کے لیے بلایا ہے لیکن تجھ میں ھمت نہ ہوئی۔( ۶۷ )
ولید نے ایک ہزار گھوڑا سواروں کے ساتھ حضرت علی (ع)پر حملہ کر دیا تو حضرت نے بھی اتنے ہی گھوڑے سواروں کے ساتھ اس پر جوابی حملہ کیا تو ولید اور اس کے ساتھی میدان سے بھاگ گئے لیکن حضرت امیرالمومنین علی (ع)نے ان کا پیچھا نہ کیا آپ ہر بھاگنے والے کے ساتھ اس طرح پیش آتے رھے۔اصبغ بن نباتہ اور صعصعہ بن صوحان نے عرض کی یا امیرالمومنین اگر ہم بھاگنے والوں کے پیچھے نہ جائیں گے اور انھیں قتل نہ کریں گے تو پھر ھمیں کس طرح فتح نصیب ہو گی جبکہ ہمارے کچھ لوگ بھاگتے ہیں تو یہ لوگ پیچھا کر کے انھیں قتل کر دیتے ہیں۔
حضرت امیرالمومنین نے ارشاد فرمایا:
اِنّ معاویه لا یَعملُ بکتابِ الله، و سنة رسوله ولستُ اٴنا کمعاویه ولو کان عنده عِلم و عمل لما حاربني والله بیني و بینه
معاویہ نہ تو اللہ کی کتاب پر عمل کرتا ہے اور نہ ہی سنت رسول پر چلتا ہے جبکہ میں معاویہ کی طرح نہیں ہوں اگر اسے( دین اسلام) کا علم ہوتا اور اس پر عمل کرتا تو خدا کی قسم میرے ساتھ جنگ نہ کرتا اور ہمارے درمیان لڑائی نہ ہوتی۔( ۶۸ )
نصر بن مزاحم کہتے ہیں جب حضرت علی علیہ السلام نے جوابی حملہ کیا اورتھلیل و تکبیر بلند کرتے ہوئے یہ اشعار کھے:
من اٴي یومیَّ من الموت اٴفرّ اٴیوم لم يقدر اٴو یوم قدر
میں اپنی موت کے دن کب بھاگا ہوں کیا جب میں قادر نہیں تھا اس دن یا جس دن میں قادر تھا (یعنی میں کبھی موت سے نہیں بھاگا )( ۶۹ )
حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے حضرت رسول خدا صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کا گھوڑا منگوایا اس گھوڑے کو( مرتجز) کے نام سے یاد کیا جاتا تھا آپ اس پر سوار ہو کر صفوں کی طرف بڑھنے لگے پھر آپ نے فرمایا بغلہ( خچر) لایا جائے آپ کی خدمت میں حضرت رسول خدا کا خچر لایا گیا اس کا نام شھباء تھا آپ اس پر سوار ہوئے اور پھر آپ نے حضرت رسول خدا کا عمامہ باندھا اور یہ سیاہ رنگ کا عمامہ تھا پھر آپ نے آواز دی۔
یا ایهاالناس من یشر نفسه لله یربح
اے لوگو تم میں کون ہے جو اپنے نفس کو اللہ کے پاس بیچ کر نفع کمائے ۔
یہ سلسلہ آج کے دن ہے اور اس کا نفع بعد میں ہوگا تمہارے دشمن نے تم پر حملہ کرنے میں پھل کی ہے تم اپنے خدا کی نصرت کے لیے آگے بڑھو وہ تم دس ہزار کو بارہ ہزار پر فتح دے گا۔ ان کی تلواروں کو ان کی گردنوں پر دے مارو اور اہل شام کے لیے یہ اشعار کھے :
دَبّوادبیب النمل لا تَفوتوا
واٴصبحوافي حربکم وبیتوا
حتی تنالوا الثاراٴو تموتوا
اٴولا فاِنّي طالما عُصیتَ
قد قلتموا لو جئتنا فجيت
لیس لکم ما شئتموا و شیتُ
بل ما یریدالمحي الممیت
تم چیونٹی کی چال چل رھے ہو اور ہلاک نہیں ہوتے۔انھوں نے تم سے جنگ کرتے ہوئے(کئی) دن اور رات گزار دیئے ہیں بھر حال یہاں تک کہ تم لڑومقصد حاصل کرو یا مرجاؤاور میں تمہاری نافرمانی کو نہ دےکھوں اگر تمہارے پاس (جنگ کرنے )آئیں تو ان سے لڑنااور اگر نہ آئیں تو پھر ہم بھی یھی چاھتے ہیں کہ انھیں کچھ نہ ہو بلکہ مرنے والا زندہ رھنے کا ارادہ نہیں رکھا کرتا ۔
جب شام والوں نے حملہ کر دیا تو عراق والوں کی طرف سے بھی مالک اشتر نے بہت بڑا اور کامل حملہ کیا جس سے اہل شام کے پا ؤں اکھڑ گئے جو بھی ان کی طرف آگے بڑھتا ہوا نظر آتا اہل اعراق اسے پچھاڑ دیتے یہاں تک کہ معاویہ کی موت کا معاملہ قریب آن پھنچا حضرت علی (ع)اپنی تلوار سے لوگوں کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کرتے جاتے اور فرماتے جاتے ۔
اٴضر بهم ولا اٴریٰ معاویه
الاخزر العین العظیم الحاویة
هوت به في النارِ اٴمٌ هاویة
انھیں مارو اور معاویہ تک کی پرواہ نہ کرو یہ سبز آنکھوں والا بڑا جھنمی ہے اسے پا کر (جھنم) کی آگ بھی چیخ و پکار کرے گی۔
معاویہ نے گھوڑے پر بیٹھ کر آواز بلند کی ہے بچاؤ ۔اس نے اپنے دونوں پیر رکاب میں رکھے اور بلند ہو کر کچھ توقف کیا پھر کہا۔ اے عمر ابن عاص آج صبر کا دن ہے اور کل فخر کا دن ہوگا اس نے کھاکہ تو نے سچ کھاھے پھر معاویہ رکاب میں پاؤں رکھے اور نیچے اتر آیا اور یوں اشعری وہاں رک گئے( ۷۰ )
شعبی کہتے ہیں کہ اہل شام کا ایک شخص جس کا نام اصبغ بن خزار ازدی تھا یہ معاویہ کی جماعت میں شامل تھا اور جاسوسی کر تا تھا حضرت علی علیہ السلام نے اسے مالک اشتر کے حوالے کر دیا انھوں نے اسے قتل کرنے کے بجائے اسیر بنا لیا اور رات کے وقت اسے باندھ دیا گیا اور دوسرے ساتھیوں کے ساتھ بٹھا دیا اور صبح کا انتظار کیا جانے لگا۔
اصبغ بہت بڑا شاعر تھا اسے قتل کئے جانے کا یقین سا ہو گیا تھا اس وقت اصحاب سو چکے تھے اور اس نے بلند آواز سے قصیدہ پڑھا جس میں رحم کی اپیل کی گئی تھی چنا نچہ مالک اشتر نے اس کے اشعار سن لئے۔ وہ کھتا ہے کہ صبح اشتر مجھے حضرت علی(ع) کے پاس لے گئے اور وہاں عرض کی امیرالمومنین یہ معاویہ کا ساتھی ہے ہم نے اسے کل گرفتار کیا تھا اور گزشتہ رات یہ ہمارے پاس رھااس نے رحم کی اپیل پر مشتمل اشعار کھے اس نے مجھے متاثر کیا بھرحال اگر اسے قتل کرنا ہے تو میں اسے قتل کرنے پر آمادہ ہوں اور اگر اس کے لیے عفو اور معافی کی کوئی سبیل موجود ہے تو مجھے ھبہ کر دیجئے۔حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا اے مالک یہ تیرا ہے بھرحال جب بھی مسلمانوں کا کوئی شخص گرفتار ہو تو اسے قتل نہ کیا جائے ۔( ۷۱ )
حضرت علی علیہ السلام کے ساتھیوں نے معاویہ کے سپاھیوں پر بھر پور اور شدید حملہ کر دیا اور ان کی شکست قریب تھی معاویہ نے اپنے گھوڑے پر بلند ہو کر کھاھمیں ان سے نجات دلاؤ۔
عمر بن عاص نے کھاتم کہاں ہو اس نے کھاکیا دیکھ نہیں رھے ہو میں تیرے سامنے ہی تو کھڑا ہوں۔
عمر بن عاص نے کھاھمارے پاس اس کے علاوہ کوئی حیلہ و بہانہ نہیں ہے کہ ہم قرآن مجید کو (نیزوں پر ) بلند کریںاور انھیں اس پر فیصلہ کرنے پر آمادہ کریں اس طرح انھیں ان حملوں سے روکا جا سکتا ہے۔
معاویہ نے کھافورا قرآن نیزوں پر بلند کرو اور زور زور سے آواز دو (ندعو کم الی کتاب اللہ) ہم تمھیں قرآن کی طرف بلاتے ہیں ۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا یہ دھوکہ ہے ان لوگوں کا قرآن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے یہ اصحاب قرآن نہیں ہیں۔ اشعث نے اس پر اعتراض کیا اور معاویہ نے اس کی آواز کو سن لیا اور کھنے لگا لوگ حق کا مطالبہ کر رھے ہیں ۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا عنقریب یہ تیرے دھوکہ کو بھانپ لیں گے اور تجھ پر حملہ آور ہونگے اشعث نے کھاخدا کی قسم اب ہم انھیں جواب نہ دیں گے بلکہ آپ کو چھوڑ کر چلے جائیں گے اور یمانیہ بھی اشعث کے ساتھ مل گئے پھر اشعث نے کھاجس کا انھوں نے مطالبہ کیا ہے ہم ان پر جوابی حملہ نہ کریں گے اور ان کے بجائے آپ پر ٹوٹ پڑیں گے اس سے اشعث اور اشتر کے درمیان جھگڑا ہو گیا قریب تھا کہ ان کے درمیان جنگ چھڑ جائے۔چنا نچہ حضرت علی علیہ السلام نے سوچا کہ اس طرح میرے ساتھیوں میں تفرقہ پڑ جائے گا جب انھوں نے یہ صورت حال دیکھی تو فیصلہ کرنے پر مجبور ہو گئے۔( ۷۲ )
۳ ۔جنگ نھروان
ابو سعید کی سند کے حوالہ سے خوارزمی کہتے ہیں کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
تکون فرقة بینَ طائفتین مِن اُمتي تمرق بینهما مارقة یقتلها اٴولیٰ الطائفتین بالحق
میری امت دو گروھوں میں بٹ جائے گی ان میں سے ایک گروہ گمراہی کی وجہ سے دین سے خارج ہو جائے گا اور حق پر موجود گروہ سے جنگ کرے گا۔( ۷۳ )
ابی سعید خدری روایت بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت رسول خدا صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں موجود تھے آپ کچھ تقسیم فرما رھے تھے۔ آپ کے پا س بنی تمیم کا ایک شخص ذوالخویصرہ آیا۔ اس نے کھایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصاف کیجیے۔
حضرت نے ارشاد فرمایا۔ بدبخت اگر میں انصاف نہیں کروںگا تو کون کرے گا ؟اگر ہم عدل و انصاف سے کام نہ لیں تو تم گھاٹے اور نقصان میں رہو گے۔
اس وقت عمر ابن خطاب نے کہا:
یا رسول اللہ مجھے حکم دیں میں ابھی اس کی گردن اتار پھینکوں ۔حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا۔ اسے چھوڑدو۔
اس کے ایسے ساتھی ہیں جو تم میں سے ہیں اور وہ ایک دوسرے کی نماز کو حقیر سمجھیں گے اورایک دوسرے کے روزے کو غلط سمجھیں گے ۔وہ قرآن پڑھیں گے لیکن عمل نہیں کرےں گے وہ گمراہی کی بناء پر دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر چلہ کمان سے نکل جاتا ہے۔
وہ تیر چلانے کے بعد کمان کو دےکھتا ہے اسے مطلب کی کوئی چیزنظر نہیں آتی پھر وہ اس کے استحکام کو دیکھتا ہے۔ وہاں بھی اسے کچھ دکھائی نھیںدیتا پھر وہ اس کے رستے کو دےکھتا ہے اور وہاں بھی اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا، وہ خون بہانے میں پھل کریں گے ان کی نشانی سیاہ رنگ والا شخص ہے اس کی ایک چھاتی عورت کے پستان کی طرح ہے اور وہ مضطرب رھتا ہے کبھی آگے جاتا ہے اور کبھی پیچھے آتا ہے اور یہ لوگ کائنات کے بھترین فرقے سے جنگ کریں گے۔( ۷۴ )
اکثر محدثین نے یہ روایت بیان کی ہے کہ ایک دن حضرت رسول خدا صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا:
اِنَّ منکم مَن یُقاتل علیٰ تاٴویل القرآن کما قاتلتُ علیٰ تنزیله،
تم میں سے کون ہے جو قرآن کی تاویل پر جنگ کر کے اس طرح حفاظت کرے جس طرح میں نے تنزیل کے موقع پر جنگ کر کے اس کی حفاظت کی ۔
حضرت ابو بکر نے کھایا رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ایسا کروں گا۔ حضرت نے فرمایا نہیں۔ حضرت عمر نے کھایا رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ شخص میں ہوں، حضرت نے فرمایا نہیں بلکہ وہ شخص وہ ہے جو اپنا جوتا سی رہاھے ۔اور حضرت نے علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ذات ہے۔( ۷۵ )
حضرت علی علیہ السلام جب خوارج کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے آمادہ ہوئے تو ارشاد فرمایا :
لولا اٴننی اخاف اٴن تتکلوا و تترکوا العمل لاخبرتکم بما قضاه الله علیٰ لسان نبیه صلیٰ الله ُ علیه و آلهِ وسلم
اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ تم لوگ عمل کرنا چھوڑ دو گے تو میں تمھیں اللہ تعالی کے ان فیصلوں سے با خبر کرتا جو اللہ تعالی نے اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے جاری فرمائے ہیں کہ کون کون سے لوگ گمراھوں کی گمراہی کو دیکھتے ہوئے ان کی حماےت میں لڑےں گے۔
خوارج میں ایک شخص اےسابھی ہے جسکے ہاتھ ناقص ہیں اور اس کے پستان عورت کے پستانوں کی طرح ہیں وہ کائنات کابد ترین شخص ہے اور ان کے قاتل تو اللہ کے وسیلہ کے ساتھ حق کے قریب تر ہیں۔
یہ مخدج اور ناقص الخلقت اپنی قوم میں معروف نہیں تھا یعنی کسی کو اس کے باری میں معلوم نہ تھاجب وہ شخص مارا گیا تو حضرت علی علیہ السلام نے اسے مقتل سے منگوایا اور ارشاد فرمایا:
والله ما کذبت ولا کذبت
خدا کی قسم نہ میں نے کبھی جھوٹ بولا ہے اور نہ مجھے جھٹلایا گیا ہے۔
بھرحال یہ شخص خوارج میں موجود تھا اور جب اس کی قمیض کو پھاڑا گیا تو اس کے سینے پر عورت کے پستان کی طرح دو ابھار موجود تھے اور ان پر بال اگے ہوئے تھے جب ان بالوں کو کھینچا جاتا تو وہ دونوں سکڑ جاتے اور جب چھوڑا جاتا تو اپنی اصلی حالت پر پلٹ جاتے جب حضرت علی علیہ السلام نے اسے دیکھا تو نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے فرمایا:
اِنّ في هذا لعبرةً لمن استبصر
صاحبان بصارت کے لیے یہ بہت بڑی عبرت ہے۔( ۷۶ )
احمد بن حنبل اپنی مسند میں مسروق سے روایت بیان کرتے ہیں کہ مسروق کھتا ہے کہ مجھ سے حضرت عائشہ نے فرمایا بے شک تو میرا بیٹا ہے اور مجھے سب لوگوں میں زیادہ عزیز ہے یہ بتا کہ تجھے مخدج کے متعلق علم ہے؟ میں نے عرض کی جی ہاں، اسے حضرت علی ابن ابی طالب نے جنگ نھروان میں قتل کیا تھا اور اس دن نھروان کے تمام( بڑے بڑے )لوگوں نے اس کو دےکھا تھا۔ حضرت عائشہ نے فرمایا:
گویا اس پر بینہ بھی قائم ہے اور وہ لوگ اس وقت اس کے گواہ تھے مسروق نے حضرت عائشہ سے کھاجو کچھ میں نے اس مخدج کے متعلق حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے حوالہ سے سن رکھا تھا تم صاحب قبر سے اس کی تصدیق کرلو، حضرت عائشہ نے کھاجی ہاں میں نے بھی حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:
”اِنهم شرالخلق وا لخلیقة یقتلهم خیرالخلق والخلیقة واٴقربهم عندالله وسیلة“
وہ اس کائنات کا بد ترےن فر د ہے اور اس کے قاتل کائنات کے بھترین لوگ ہیں اور وہ اللہ کے نزدیک تر ہیں۔( ۷۷ )
طبری اپنی تاریخ میں بیان کرتے ہیں کہ(جنگ صفین سے واپسی کے بعد)جب حضرت علی علیہ السلام کوفہ میں داخل ہوئے تو ان کے ساتھ بہت سے خوارج بھی کوفہ میں داخل ہو گئے۔ بہت سے لوگ کھجوروں کے درختوں اور دوسرے باغات کی آڑ میں کوفہ پہنچ گئے۔ البتہ کافی لوگوں کو داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ لیکن حرقوص بن زھیرالسعدی اور زرعہ بن البرج الطائی داخل ہو گئے۔یہ دونوں حضرت علی علیہ السلام کے مقابلہ میں خوارج کے سردار تھے ۔ان میں حرقوص حضرت سے کھنے لگا:
آپ اپنی غلطی کی ہے،لہٰذا اللہ سے توبہ و استغفار طلب کریں ہمارے ساتھ آئیں اور معاویہ سے جنگ کریں۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: جب میں تم لوگوں کو ظلم سے روک رہاتھا تو تم سب نے انکار کر دیا تھا اور اب مجھے قصور وار ٹھھرا رھے ہو، خبردار میں نے جو کچھ کھاھے یہ معصیت نہیں یہ تمہاری تدبیر اور رائے کی کمزوری اور عاجزی ہے میں نے تو تمھیں اس سے بہت روکا تھا لیکن تم لوگوں نے میری بات نہیں مانی تھی۔
اسی کے بعدزرعہ کھتا ہے: خدا کی قسم اگر آپ نے تحکم الرجال(حکمیت) کے حوالہ سے توبہ نہ کی تو میں آپ کو قتل کر کے خدا کی خشنودی حاصل کر وں گا حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا تجھ پر افسوس ہے، تو کتنا شقی القلب ہے کیا تو مجھے قتل کرنا چاھتا ہے۔ خدا تجھے نابود کرے زرعہ نے کہا: میں اسی کو دوست رکھتا ہوں ۔( ۷۸ )
جب خوارج حضرت علی علیہ السلام کے پس پشت، دریا کے کنارے جمع ہو گئے توعبداللہ بن عباس نے انھیں خطاب کرتے ہوے ارشاد فرمایا: تم نے حضرت امیرالمومنین کے خلاف کیوںقیام کررکھا ہے؟۔
وہ کھنے لگے یہ پہلے ہمارے امیر تھے اب نہیں ہیں جب سے انھوں نے دین خدا میں تحکیم(حکمیت) کو قبول کیا ہے اس وقت سے وہ ایمان سے خارج ہو گئے ہیں اور جب وہ اس فیصلے پر ڈٹ گئے ہیںاس وقت سے وہ کفر پرھیں ،ابن عباس نے کھاکہ کسی مومن کے لئے سزاوارنھیں ہے کہ وہ کسی کے ایمان کے متعلق اس طرح کھے ۔
خوارج نے کھاانھوں نے حکمیت کو قبول کیا ہے، تب ابن عباس نے کہا: کہ خداوند عالم نے ایک شکار کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:
”یَحکم به ذوا عدلٍ منکم“
تحکیم تو صرف تم میں سے صاحبان عدل کے لیے ہے، لہٰذا تم کس طرح مسلمانوں پر ان کی امامت کے حوالہ سے انکار کر سکتے ہو، انھوں نے کہا: انھوں نے حکمیت کوقبول کیادر حالیکہ وہ دل سے راضی نہیں تھے۔
ابن عباس نے کھاکہ حکومت بھی امامت کی طرح ہے جب امام فاسق ہو جائے تو اس کی نا فرمانی واجب ہوتی ہے۔
اسی طرح یہ دونوں حکم ہیں ۔جب یہ دونوں اختلاف کریں ۔تو ان کے اقوال پر عمل کیا جائے گا پھرکھابعض بعض کے لیئے ہیں تم قریش کے احتجاج کو ان پر حجة قرار دو اوریہ تو ان لوگوں میں سے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے فرمایاھے۔
ویلٌ هم قوم خصمون
اس جھگڑا کرنے والی قوم کے لیئے ھلاکت ہے( ۷۹ )
ابو جعفر طبری کہتے ہیں:حضرت علی علیہ السلام لوگوں کو خطبہ دینے کے لیئے تشریف لائے مسجد کے ارد گرد لوگوں نے آپ کوگھیر لیا اور کھنے لگے۔
لاحکم اِلالله
حکم صرف اللہ کے لیئے ہے۔
ان میں سے ایک شخص چےخااور اس نے اپنی انگلیاں کانوں میں ٹھونس لیں اور قرآن کی یہ آیت پڑھی۔
( وَلَقَدْ اٴُوحِیَ إِلَیْکَ وَإِلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکَ لَئِنْ اٴَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُونَنَّ مِنْ الْخَاسِرِینَ ) ( ۸۰ )
اے رسول تمہاری اور تم سے پہلے بھےجے گئے پیغمبروں کی طرف ےقےنا وحی بھیجی جا چکی ہے اگر کھیں شرک کیا تو تمہارے سارے عمل خراب ہو جائیں گے اور تم ضرور گھاٹے میں ہو گے۔
حضرت علی علیہ السلام نے اس کے جواب میں اس آیت کی تلاوت فرمائی:
( فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ وَلاَیَسْتَخِفَّنَّکَ الَّذِینَ لاَیُوقِنُونَ ) ( ۸۱ )
اے رسول تم صبر کرو بے شک خدا کا وعدہ سچا ہے اور جو لوگ تیری تصدیق نہیں کرتے وہ تجھے خفیف نہیں کر سکتے۔( ۸۲ )
حضرت امیرلمومنین علیہ السلام کی خوارج کے ساتھ مھربانی کو ملاخطہ فرمائیں حالانکہ انھوں نے حضرت کو بہت کچھ نا سزا کھاتھا اس کے باوجود حضرت نے انھیں کھاکیا تم لوگ یہ نہیں جانتے ہو کہ جب اس قوم نے قرآن مجید کو نیزوں پر بلند کیا تو میں نے تمھیں کھاتھا کہ یہ سب کچھ دھوکے بازی ہے اور تمھیں کمزور کرنا مقصود ہے۔ ان لوگوں کا مقصد قرآن کو حکم بنانا ہوتا تو یہ میرے پاس آتے اور مجھے آ کر حکم بنانے کے متعلق کہتے ۔کیا تم اسے نہیں جانتے کہ جس قدر میں تحکیم کا مخالف تھا اتنا تم میں سے کوئی بھی نہیں تھا!
انھوں نے کھاآپ سچ کہتے ہیں ۔پھر فرمایا ۔آپ اسے بھی جانتے ہیں کہ تم ہی لوگ تھے جنھوں نے مجھے اس پر مجبور کر دیا تھا یہاں تک کہ میں نے انھیں جواب دیا اور شرط لگائی کہ ان دونوں کا فیصلہ تب قبول ہوگا ۔جب وہ اللہ کے فیصلے کے مخالف نہ ہو لیکن جب ان دونوں نے مخالفت کی، تو میں اور تم ان سے بری ہو گئے اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ میں اللہ کے حکم سے عدول نہیں کر سکتاتب انھوں نے کھا: اللہ کی قسم ایسا ہی ہے۔
راوی کھتا ہے کہ گویا ان کے ساتھ اس وقت ابن کواء بھی تھا اور اس نے اس سے پہلے عبداللہ بن خباب کو ذبح کیا تھا، انھوں نے کھاکہ آپ نے ھماری رائے سے اللہ کے دین میں حکم بنااور ہم اس سلسلے ہم اقرار کرتے ہیں کہ یقین اھم نے بھی کفر کیا تھا لیکن اس وقت توبہ کرتے ہیں۔ اب آپ بھی توبہ کریں اور ہمارے ساتھ شام کی طرف نکلیں ۔حضرت نے فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتے اللہ تبارک وتعالیٰ نے عورت اور مرد کے مابین اختلاف کی صورت میں تحکیم کا حکم دیا ہے اور اللہ نے فرمایا ہے:
( فَابْعَثُوا حَکَمًا مِنْ اٴَهْلِهِ وَحَکَمًا مِنْ اٴَهْلِهَا ) ( ۸۳ )
ایک حکم مرد کے خاندان سے اور ایک حکم عورت کے خاندان سے فےصلے کے لئے بلاؤ۔
اور شکار کی صورت میں بھی برابر برابر( نصف درھم) تقسیم ہو اور فرمایا۔
( یحکم به ذو اعدل منکم )
تم میں جو صاحبان عدل ہیں انھیں حکم بناؤ
انھوں نے حضرت سے کھاجب آپ نے یہ لکھا تھا :
هذا ما کتبهُ عبدالله علي اٴمیرالمومنین ۔
یہ معاھدہ اللہ کے بندے علی امیرالمومنین نے لکھا ہے۔
اسوقت عمرو عاص نے اسکا انکار کیا اور آپ کا نام خلافت سے کاٹ دیا اورصرف علی ابن ابی طالب لکھا، لہٰذاآپ خلافت سے دستبردار ہو گئے تو حضرت نے فرمایا:
میرے لیے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اسوہ حسنہ موجودھے کہ جب سھیل بن عمر نے آپ کی اس عبارت پر اعتراض کیا :
هذا کتاب کتبهُ محمد رسول الله صلیٰ الله علیه وآله وسلم ۔
یہ خط اللہ کے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لکھاھے۔
سھیل بن عمر نے کھاکہ اگر ہم یہ مانتے ہوتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو پھر ھمارا جھگڑا نہ ہوتا اور ہم آپ کے فضل وکرم اور فضیلت کو تسلیم کر لیتے لہٰذا جب ہم آپ کو رسول اللہ نھیںمانتے لہٰذا محمد(ص) ابن عبداللہ لکھیںاس وقت حضرت نے مجھ سے فرمایا تھا کہ یاعلی میرے نام سے لفظ رسول اللہ مٹا دو۔ اس وقت میں نے عرض کی تھی ۔یا رسول اللہ میرے اندر اتنی جرات نہیں ہے کہ میں نبوت سے آپ کے نام کو مٹا سکوں (تنھاآپ کا نام لکھوں اور رسول اللہ نہ لکھوں ) اس وقت حضرت نے اپنے دست مبارک سے ہی لفظ رسول اللہ کومٹایا تھا اور پھر فرمایا:
اکتب محمد بن عبد الله
محمد بن عبداللہ لکھو اور پھر میری طرف دیکھ کر مسکرائے اورفرمایا ۔اے علی تیرے ساتھ بھی یہ سب کچھ ہونے والا ہے۔( ۸۴ )
ایک اور روایت کے مطابق حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے ان لوگوں سے کہامجھے یہ بتاؤ کہ تم لوگ مجھ سے کیوں جنگ کرنا چاھتے ہو تو انھوں نے جواب دیا۔
جب ہم نے آپ کے زیر سایہ اہل بصرہ کے ساتھ جنگ کی تھی اور اللہ تبارک وتعالی نے ھمیں کامیابی سے ھمکنار فرمایا دیا تھا تو آپ نے اس لشکر کے سازو سامان توھمارے درمیان تقسیم فرما دیا تھا لیکن ان کی عورتوں اور بچوں کو کنےز اور غلام بنانے سے منع فر مایا تھا،لیکن ھمارا سوال یہ ہے کہ لشکر کا مال و متاع تو ہمارے لیے حلال ہو اور ان کی عورتیں ہمارے لیے حلال نہ ہوں۔ کیوں؟
حضرت علی علیہ السلام نے ان سے فرمایا:
اے لوگو اہل بصرہ نے ہم سے جنگ کی اورآغاز بھی انھوں نے کیا تھا اور جب ھمیں کامیابی مل گئی تو میں نے مردوں کے متعلق تمھیں اجازت دی اور خواتین اور بچوں کے متعلق تمھیں روکا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ عورتوں نے تو تمہارے ساتھ جنگ نہ کی تھی کہ تم ان سے زیادتی کرتے اور بچے تو فطرت اسلام پر پیدا ہوتے ہیں انھوں نے تمھیں کچھ نہیں کھااور ان کا کوئی گناہ نہیں ہے یقیناآپ نے دیکھا ہے کہ حضرت رسول خدا صلی اللہعلیہ و آلہ وسلم کس طرح مشرکوں کے ساتھ احسان فرماتے تھے لہٰذا میں اگر مسلمانوں کے ساتھ احسان کرنے کو کہہ رھاھوں اس پر بھی تعجب نہیں کرنا چاھیے اور خواتین اور بچوں کو کچھ نہ کھنا چاھیے۔
پھر انھوں نے کھاکہ ہم آپ سے اس لیے جنگ کرنا چاھتے ہیں کہ آپ نے جنگ صفین میں اپنے نام کے ساتھ سے لفظ امیرالمومنین مٹا دیا تھا (اس کا مطلب یہ ہے کہ ) آپ ہمارے امیر نہیں ہیں تو ہم پر آپ کی اطاعت بھی ضروری نہیں ہے اور آپ کو امیر ماننا بھی ضروری نہیں ہے تب حضرت نے فرمایا: اے قوم میں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتداء کی ہے جب آپ نے صلح کی تو سھیل بن عمر نے اعترا ض کیا تھاجس کاتذکرہ گزشتہ صفحہ پر ہو چکا ہے تکرار کی ضرورت نہیں ہے ۔اس کے بعد انھوں نے مزید کہاھم اس لئے آپ سے جنگ کرنا چاھتے ہیں کہ آپ نے حکمین کے موقع پر انھیں کھاتھا:
اٴُنظرا کتاب الله
تم دونوں کتاب خدا کو ضرور مد نظر رکھنا۔
اگر آپ معاویہ سے افضل ہیں تو اسے کہتے کہ وہ خلافت کے معاملہ میں آپ کی پیروی کرے اور اگر آپ کو شک تھا تو پھر ھمیں بھی آپ کے سلسلہ میں بڑا شک ہے، حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا میں نے یہ کلمہ (تم دونوں کتاب خدا کا لحاظ رکھنا ) اس لئیے کھاتھا کہ انصاف قائم رہ سکے اگر میں انھیں کھتا کہ آپ میرے حق میں فیصلہ کرنا اور معاویہ کو چھوڑ دینا تو وہ میری بات پر راضی نہ ہوتے اور اسے تسلیم نہ کرتے ۔
اسی طرح اگر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نجران کے عیسائیوں سے یہ کھتے:
( تعالوا حتیٰ نبتهل واجعل لعنة الله علیکم )
تم لوگ آؤ اور ہم لوگ مباھلہ کرتے ہیں اور پھر ہم تم پر لعنت کریں گے تو وہ مباھلہ کے لیے آمادہ ہی نہ ہو تے لیکن انصاف یہ تھا جیسا کہ خداوندمتعال نے فرمایا:
( فنجعل لعنةالله علیٰ الکاذبین )
ھم میں سے جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔
انھوں نے اس جملہ کو انصاف پر حمل کیا بالکل اسی طرح میں نے بھی کیا ہے، اور عمرو ابن عاص نے موسیٰ اشعری کو دھوکا دینے کا پہلے سے جو ارادہ کر رکھا تھا اسکا تمھیں علم نہ تھا ۔
انھوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ھم آپ سے اس لیے جنگ کرنا چاھتے ہیں ۔کہ ایک چیز آپ کا واضح حق تھا اس کے باوجود آپ نے حاکم بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ (جب حق آپ کا تھا تو پھر اس کا فیصلہ کروانے کی ضرورت ہی نہ تھی) حضرت نے ارشاد فرمایا: حضرت رسول( خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے بھی تو سعدبن معاذ کو بنی قریضہ کے معاملے میں حاکم بنایا تھا۔ اگر وہ چاھتے تو حاکم نہ بناتے۔
بھرحال میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء و پیروی کی ہے اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا اس کے علاوہ بھی آپ کا کوئی اعتراض باقی ہے وہ خاموش ہو گئے اور اس وقت پو رے لشکر کی ہر طرف سے توبہ توبہ یا امیرالمومنین کی صدائیں بلند ہونے لگیں اور آٹھ ہزار آدمی آپ کے لشکر میں آگئے اور چار ہزار باقی بچ گئے۔( ۸۵ )
جب حضرت علی علیہ السلام کے پاس یہ خبر پھنچی کہ انھوں نے جناب خباب اور اسکی بیوی کیساتھ کیا کیا زیادتی کی اور زمین میں فساد پھلانے کی کوشش کی تو آپ نے اپنے ایک ایسے صحابی کو ان کے پاس بھیجاجنھوں نے اہل شام کے ساتھ جنگ میں بڑی بہادری کا مظاھرہ کیا تھا جب وہ ان کے پاس پھونچے تو انھیں پیغام دیا کہ ابن خباب اور جو مسلمان تم نے نھروان کے راستہ میں قتل کئے ہیں ان کے قاتل ہمارے سپرد کر دو، انھوں نے اس پیغام لانے والے شخص سے کھاھم سب نے مل کر ابن خباب کو قتل کیا ہے اور اگر ہم علی کے قتل پر بھی قادر ہوتے تو ہم علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو بھی اس کے ساتھ ہی قتل کر د یتے ۔( ۸۶ )
ابوالعباس کہتے ہیںاس لشکر کے کچھ لوگ نھروان کی طرف چلے گئے اور کچھ لوگوں نے مدائن جا نے کا منصوبہ بنا لیا اور جب راستے میں ان کی کسی مسلمان اور عےسائی سے ملاقات ہوتی تو وہ مسلمان کوقتل کر دیتے کیونکہ ان کی نظر میں وہ کافر تھا اس لئے کہ وہ ان کے اعتقادات کے مخالف تھا اور عےسائی کو نصیحت و وصیت کر کے زندہ چھوڑ دیتے اور کہتے کہ اپنے نبی کے ذمیوں کی حفاظت کرو۔
ابوالعباس مزید کہتے ہیں کہ ایک عیسائی کا ایک کجھور کا باغ تھا۔ اس سے کھاگیا کہ ھمیں کچھ کھجور دے دو۔
اس نے کھاکہ یہ آپ کی چیز ہے انھوں نے کھاکہ ہم اس کی قےمت ادا کئے بغیر نہیں لیں گے، تو اس عیسائی نے تعجب سے کھاکہ تم لوگ عبداللہ بن خباب جیسے لوگوں کوتو قتل کر دیتے ہو اور اس خرمہ کی قیمت ادا کیے بغیر قبول کرنے پر راضی نہیں ہو۔( ۸۷ )
حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے مصیر اسود (اھل نھروان) کو ان کے انجام سے ڈراتے ہوئے فرمایا :
میں تمھیں آگاہ کر تا ہوں کہ تم لوگ اس نھر کے نشیب وفرازمیں بری طرح قتل کئے جاؤ گے۔ اور اس وقت نہ تمہارے پاس اللہ کے سامنے پےش کرنے کے لیے کوئی واضح دلیل ہوگی، اور نہ کوئی ثبوت، اس طرح کہ تم اپنے گھروں سے بے گھر ہو جاؤگئے اور پھر قضائے الٰھی میں پھنس کر رہ جاؤ گے۔
میں نے تو تمھیں پہلے ہی اس تحکیم سے روکا تھا لیکن تم نے میرا حکم ماننے سے اس طرح انکار کر دیا جس طرح عھدو پےمان توڑنے والوں نے کیا تھا۔
یہاں تک کہ مجھے بھی مجبورا وہی کرنا پڑا جو تم چاھتے تھے تم لوگ بیوقوف اور نادان ہو، خدا تمھیں تباہ کرے ،میں نے تمھیں نہ کسی مصیبت میں پھنسایا ہے اور نہ تمہارے بارے میں برا سو چا ہے۔( ۸۸ )
طبری کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے ابو ایوب کے ساتھ ملکر امان کے جھنڈے کوبلند کیا اور انھیں بلند آواز سے پکار کر کھاکہ تم میں سے جو لوگ قتل نہیں ہونا چاھتے وہ اس علم کے نیچے آ جائیں تو انھیں امان ہے ۔اسی طرح جو لوگ کوفہ اور مدائن کی طرف لوٹ جائیں انھیں بھی امان ہے ان افراد میں سے پانچ سو گھوڑے سوار بند نیجین کی طرف چلے گئے، ایک گروہ کوفہ کی طرف چلا گیا اور سو کے لگ بھگ مدائن کی طرف چلے گئے ان لوگوں کی تعداد چار ہزار کے قریب تھی اور باقی دو ہزار آٹھ سو افراد بچ گئے( ۸۹ )
ابو عبےدہ معمر بن مثنیٰ روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے عبداللہ بن خباب کے قتل کے بارے میں لوگوں کو مختلف گروھوں میں تقسیم کیا اور سب سے اقرار لیا ،چنانچہ سب لو گوں نے اقرار کیا اور کھاکہ جس طرح ہم نے عبدا للہ بن خباب کو قتل کیا ہے اسی طرح آپ کو بھی قتل کریں گے،اس موقع پر حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:کہ اگر اس طرح پوری دنیا بھی عبداللہ بن خباب کے قتل کا اقرار کر لے اور میں ان سے جنگ کرنے کی قدرت رکھتا ہوں تو ان سب سے جنگ کروں گا ۔( ۹۰ )
ابو العباس محمد بن یزید المبرد اپنی کتاب کامل میں ذکر کرتے ہیں کہ جب ان لوگوں کے مقابلے میں حضرت علی علیہ السلام نے نھروان میں قیام کیا تو ارشاد فرمایا جب تک وہ پھل نہ کرےں ان کے ساتھ جنگ نہ کی جائے جب مخالفےن کے ایک شخص نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی صفوں پر حملہ کیا اور تےن افراد ماردئےے اور کھا:
اٴقتلهم ولا اریٰ علیاً ولو بدا اٴو جَرتُه الخطِّیا
انھیں قتل کر دو اور علی کی پرواہ نہ کرو اگروہ جنگ کا آغاز نہ کرےں تو انھیں نیزوں سے جواب دو۔
حضرت علی علیہ السلام ان کی طرف نکلے اور ان کے ساتھ جنگ کی جب تلوارےں آپس میں ٹکرائےں توحضرت نے فرمایا کہ جنت کی کتنی عمدہ خوشبو ہے۔عبداللہ بن وھب نے کھاخدا کی قسم نہیں معلوم کہ جنت کی طرف جارھے ہیں یا،جھنم کی طرف؟ اس پر بنی سعد قبیلے کے شخص نے کہا: ھمیں عبداللہ بن وھب دھوکا دے کر جنگ میں لایا ہے اب ہم مشکوک ہیں اور اب ہم جنگ نہیں کرناچاھتے ۔چنا نچہ ان میں سے ایک ہزار کا لشکر ابوایوب انصاری کی طرف چلا گیا۔
حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام اس وقت میمنہ کی طرف تھے ۔ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں سے ارشاد فرمایا: ان خوارج پر حملہ کردو خدا کی قسم ہمارے دس آدمی بھی نہ مارے جائیں گے اور ان کے دس افراد بھی نہ بچےں گے پس انھوں نے حملہ کیا تلوارےں ٹکرائےں حضرت علی علیہ السلام کے ساتھیوں میں سے نو افراد جاں بحق ہوئے اور خوارج کے آٹھ آدمی زندہ بچے۔( ۹۱ )
علی ابن عیسی ارملی کہتے ہیں حضرت نے اپنے ساتھیوں کو آگے جانے کا حکم دیا یہاں تک کہ وہ لوگ نظر آنے لگے اس وقت ان کے مقابلہ میں عبداللہ بن وھب ذوالثےد یہ، حرقوص بن زھےر سعدی آگے بڑھے اور کھاھم آپ سے صرف اور صرف خدا کی خوشنودی اورآخرت کے لئے جنگ کرنے آئے ہیں حضرت علی علیہ السلام علیہ السلام نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔
( قُلْ هَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاٴَخْسَرِینَ اٴَعْمَالًا الَّذِینَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَهُمْ یَحْسَبُونَ اٴَنَّهُمْ یُحْسِنُونَ صُنْعًا ) ( ۹۲ )
کیا ہم آپ کو ان لوگوں کے بارے میں بتائےں جو اپنے اعمال سے سخت خسارے میں ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی سعی و کوشش دنیاوی زندگی میں بھک گئی ہے اوروہ خیال کرتے ہیں کہ وہ اچھے اعمال انجام دے رھے ہیں ۔
اس کے بعد دونوں گروھوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی خوارج کی طرف سے فارس نے حملہ کر دیا اسے اخنس طائی کہہ کر پکارا جاتا تھا ،یہ جنگ صفین میں حضرت علی علیہ السلام کے ھمراہ تھا اس نے بھر پور حملہ کیا اور صفےں چےرتا ہوا حضرت علی علیہ السلام کے مقابلے کا مطالبہ کرنے لگا۔
حضرت علی علیہ السلام نے ایک ضرب میں اس کا کام تمام کر دیا پھر ذوالثدیہ نے حضرت علی علیہ السلام پر وار کرنا چاہا، لیکن حضرت علی علیہ السلام نے اس پر سبقت کی اور ایک ہی وار میںاس کاسر دو ٹکڑے کر دئے ۔اس کا گھوڑا بھی مارا گیا جسے نھروان میں پھےنک دیا گیا۔
اس کے بعد اس کے چچا زاد مالک بن وضاح نے حضرت علی علیہ السلام پر حملہ کر دیا حضرت نے اسے بھی ایک ضرب میںفی النار کیا اس کے بعد عبداللہ بن وھب راسبی نے یہ کہتے ہوئے حملہ کیا،اے ابن ابی طالب میں اس جنگ میں آپ کو صحیح و سلامت جانے نہ دوں گا ،یا توتم مجھ پر غالب آجاؤ یا میں تم پر غالب آجاؤلہٰذا میں صرف اور صرف آپ کے ساتھ جنگ کرنا چاھتا ہوں لہٰذا بقیہ لوگوں کو دور ہٹا دو ۔
آپ لوگوں کو ایک طرف کر دیں ہم آپس میں جنگ کرتے ہیں حضرت علی علیہ السلام اس کی بات سن کر مسکرا دئےے اور فرمایا :
اللہ تعالیٰ اس شخص کو قتل کرے ،جس میں شرم وحیاء بھی نہیں ہے اور فرمایا:یہ بھتر جانتا ہے کہ میں تیر وتلوار کا شےدائی ہوں لیکن یہ اپنی زندگی سے مایوس ہوچکا ہے۔
اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام نے ایک ضربت سے اس کا کام بھی تمام کر دیا اور اسے مقتولین کے ساتھ پھےنک دیا ۔
جنگ میں ایک گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا کہ سب کے سب قتل ہوگئے حالانکہ چار ہزار تھے ان میں سے فقط نو کے قریب لوگ بچے ان میں سے دو خراسان کی طرف بھاگ گئے اور وہاں گرفتار کرلئے گئے دو عمان کے شھروں کی طرف بھاگ گئے اور یہ دو وہاں گرفتار کر لئے گئے اور دو یمن کی طرف بھاگ گئے اور وہ وہاں گرفتار ہوگئے اور دو جزےرہ کے شھروں کی طرف بھاگ نکلے۔( ۹۳ )
جب خوارج کا قتل عام ہوا تو حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: مخدج کو تلا ش کرو۔ (مخدج کا معنی ہے ناقص الخلقت ہے اور مخدج حر قوص بن زھیر کا لقب تھا اور اس کا ہاتھ ناقص تھا )لوگ اس کی تلاش میں نکلے لیکن کسی نے اسے نہ پایا، حضرت علی علیہ السلام خوداسے تلاش کرنے نکلے اسی اثنا میںایک شخص نے کھامیں نے اسے دیکھاھے،یہ سن کر کے حضرت علی علیہ السلام نے تکبےر بلند کی اس سے اللہ تبارک تعالیٰ کے اس قول کی تصدیق ہوگئی جسے اس کے نبی نے بیان کیا تھا۔
ابو راضی کہتے ہیں(آپ کا نام عباد بن نسےب القیس تابعی تھا یہ روایت ابو داؤد نے اپنی سنن میں اسی کی سند سے بیان کی ہے ) ہم نے اپنی آنکھوں سے دےکھا جب اس سے چادر ہٹائی گئی تو اس کے سےنے پر عورتوں کے پستانوں کی طرح ایک پستان تھا اور اس پر بھےڑیئے جیسے بال تھے۔( ۹۴ )
اصحاب سیرت نے جندب بن عبداللہ الا زدی سے روایت بیان کی ہے کہ جندب کہتے ہیں کہ میں جنگ جمل اور صفین میں حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ تھا آپ نے جس شخص کو بھی قتل کیا مجھے اس کے قتل میں شک وشبہ نہیں ہوا لیکن جب ہم نھروان میں جمع ہوئے تو مجھے شک ہونے لگا میں نے خود سے کھاھم قاری قرآن ہیں اور نیک لوگ ہیں اور انھیں قتل کر رھے ہیں یہ بہت بڑی اور عجیب بات ہے۔
شام کے وقت میں باھر نکلا میرے پاس پانی کا ایک مشکیزہ بھی تھا میں ٹھلتا ہوا آگے نکل گیا یہاں تک کہ مجھے صفین نظر آنے لگی اس وقت مجھے اپنا نیزہ یاد آیا میں نے اس کو ایک طرف رکھا اور سورج کی شعاعوںسے چھپا لیا اور بیٹھ گیا انھی لمحات میں حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام تشریف لائے اور مجھ سے کھا:
اے بھائی ازد کیا تیرے پاس پانی ہے میں نے عرض کی جی ہاں اور مشکیزہ ان کے سپرد کر دیا اور وہاں سے چلا گیا اور انھیں نہ دےکھا پھر واپس آیا منہ ہاتھ دھویا اور خیمے کے سائے میں بیٹھ گیا اس وقت فارس آیا اس نے حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے متعلق سوال کیا۔
میں نے حضرت سے عرض کی کہ فارس آپ سے ملنا چاھتا ہے حضرت نے فرمایا اسے بلالاؤ میں نے اس کو اشارہ کیا اور وہ آگیا اور کھنے لگا ائے امیر المومنین علیہ السلام آپ کے مخالفین نھر عبور کر رھے ہیں اور انھوں نے پانی بھی روک لیا ہے حضرت نے فرمایا وہ ھرگز عبور نہیں کر سکتے ا س نے کھاخدا کی قسم وہ اےسا کر رھے ہیںحضرت نے فرمایا۔
وہ ھرگز اےسا نہیں کر سکتے فارس نے کھابھرحال معاملہ اسی طرح ہے کہ وہ عبور کر رھے ہیں۔ اسی وقت ایک اور شخص آیا اس نے بھی کھاکہ وہ عبور کر رھے ہیں حضرت نے فرمایا وہ ھرگز عبور نہ کر سکیں گے۔ حضرت نے مزیدفرمایا خدا کی قسم تیرے پاس کوئی بھی نہیں آسکتا یہاں تک کہ وہ ساز وسامان اورجھنڈوں کے ساتھ نظر نہ آجائیں ۔
اس کے بعدحضرت نے مزید فرمایا خدا کی قسم وہ کچھ بھی نہیں کرےں گے بلکہ ہم انھیں پچھاڑ دیں گے اور ان کا خون بہائےں گے پھر حضرت اپنی جگہ سے اٹھے تو میں بھی ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور میں نے اپنے دل میں کہا:
پروردگارا تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تونے مجھے اےسا ہادی اور رھنماعطا فرمایا ہے اور اس کے ذرےعہ مجھے اپنے امر کی معرفت کروائی ہے لوگ دو طرح کے ہیں ایک وہ جوجھوٹے ہیں اور دوسرے وہ جو پروردگار کی واضح دلیل اور اس کے نبی کے عھد پر قائم ہیں پروردگارا اگر میں نے تیرا عھد پورا کر دیا تو قیامت کے دن تو اس کے بارے میں مجھ سے سوال کرنا۔
اگر میں نے اس قوم کو عبور کرتے ہوئے دےکھا تو میں سب سے پہلے علی (ع) کے ساتھ جنگ کرنے ولا ہوں گا اور اپنے نیزے کی انی ان کے سےنے میں اتار دوں گااور اگرانھوں نے عبور نہ کیا تو بھی میں حضرت علی (ع)کے ساتھ رہو ں گا اور ان کے مخالفےن کے ساتھ جنگ کرو ںگا ہم ان کی صفوں کی جانب بڑھے تو ہم نے ان کے جھنڈوں اور ساز وسامان کو پہلے کی طرح دےکھا۔
راوی کھتا ہے کہ حضرت نے میرا شانہ پکڑتے ہوئے مجھ سے فرمایا اے ازد بھائی تجھ پر معاملہ واضح ہوا یا نھیں؟ میں نے عرض کی جی ہاں،امیر المومنین معاملہ واضح ہوگیا آپ نے فرمایا وہ تیرا دشمن ہے میں نے اس شخص کو قتل کیا پھر دوسرے شخص کو قتل کیا پھر ایک اور شخص اور میری تلوارےں ٹکرائےں میں نے اس پر حملہ کیا اس نے مجھ پر حملہ کیا ،اوراسی طرح جنگ ہوتی رھی یہاں تک کہ مخالفےن کا کام تمام کر دیا۔
شےخ مفےد فرماتے ہیں یہ مشھور و معروف حدیث ہے اور اسے مختلف کتب میں بیان کیا گیاھے۔ایک شخص حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے زمانہ میں اپنے دل کی حکاےت بیان کر رہاھے اور کسی بھی معتر ض نے اس پر اعتراض نہ کیا اور کوئی مفکر اس کا انکار نہیں کر سکتا۔ اس میں غیب کی خبرےں بھی ہیں۔ ضمیر کا علم بھی ظاہر ہے ۔نفوس کی معرفت بھی ہے اور واضح دلائل بھی ہیں ان میں جلیل بر ہان اور عظیم معجزے بھی ہیں اور حضرت ان سے آگاہ اور با خبر بھی ہیں۔( ۹۵ )
ابن دےزےل کتاب صفین میں روایت بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت علی علیہ السلام نے کوفہ سے حروریہ کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو آپ کے علم نجوم سے آشنابعض اصحاب نے کہا:
یا امیر المومنین آپ کو اس وقت میں سفرنھیں کرنا چاھیے بلکہ جب دن کی تےن ساعتےں باقی رہ جائیں اس وقت چلنا بھتر ہے کیونکہ اگر آپ اس وقت میںجنگ کے لئے روانہ ہونگے تو آپ اور آپ کے اصحاب کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا اور اگر ان آخری تےن ساعتوں میں حرکت کرےں گے تو خدا کامیابی عطا کرے گا اور آپ کی خواہشات پوری ہوں گی حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا:
کیا تم جانتے ہو کہ میری اس گھوڑی کے پیٹ میں کیا ہے؟نر ہے یامادہ۔ اس نے کھابھر حال میںنے علم نجوم کی روشنی میں اپنے گمان کوبیان کیاھے حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا : جو شخص بھی اس کی تصدیق کرے گا تو گویا وہ قرآن کی تکذےب کررھاھے کیو نکہ اللہ تبارک تعالی ارشاد فرماتا ہے:
( إِنَّ اللهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْاٴَرْحَامِ ) ( ۹۶ )
اللہ تبارک وتعالی کے پاس ہی ساعتوں کا علم ہے اور وہی بارش نازل کرتا ہے اورجانتا ہے کہ ارحام میں کیا ہے ؟
اس کے بعد ارشاد فرمایا جس علم کا تو دعوےدار ہے اس کا حضرت محمد صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے بھی دعویٰ نہ کیا تھا۔کیا تو یہ گمان کرتا ہے کہ تجھے ان تمام ساعتوں کاپتہ ہے جن میں چلنے یا نہ
چلنے سے فائدہ یا نقصان ہوتا ہے۔ جس شخص نے بھی ان باتوں پر ےقےن کیا اور ان کی تصدیق کی وہ اللہ تعالی کی مددواستعانت سے محروم ہوجائے گا جب کہ وہ صاحب جلال و اکرام ہے اور وہی ان غلط چیزوں کو دور کرتا ہے۔جو شخص تیری ان باتوں پر ےقےن کر لے گا تو وہ اللہ جل جلالہ کے بجائے تیری حمد کرے گا کیونکہ کہ تیرے گمان کے مطابق تجھے ان ساعتوں کا علم ہے جن میں کام کرنے سے انسان کو نفع یا نقصان پھنچتا ہے ،بھر حال جس نے تیری ان باتوں پر ےقےن کیا گویا وہ اللہ پر ایمان نھیںلایاکیونکہ اس نے اللہ تبارک وتعالی کے علاوہ دوسروں سے امیدیں وابستہ کر لیں۔پروردگارا نفع اور نقصان صرف تیرے ہاتھ میں ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے پھر آپ نے نجومی سے فرمایا :
ھم تیری مخالفت کرتے ہیں اور اسی میں ساعت حرکت کرتے ہیں جس میں چلنے سے تو نے روکا ہے پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا:
اٴیهاالناس اِیاّکم والتعلم للنجوم اِلاّ ما یُهتدیٰ به في ظلمات البروالبحر اِنما المنجم کالکاهن وا لکاهن کالکافر والکافر في النار
اے لوگو ! علم نجوم سےکھنے سے پر ھیز کرو آگاہ ہو جاؤ اےسا کرنے والا ھدایت سے ھمکنار نہیں ہو سکتاکیونکہ منجم کاھن کی طرح ہے اور کاھن کافر کی مانند ہے اور کافر جھنمی ہے۔خبردار اگر مجھے معلوم ہوا کہ تم نے نجوم پر عمل کیا تو میں تمھیں ہمیشہ کے لئے زندان میں ڈال دوں گا اور تمام عطاو بخشش منقطع کر دوں گا۔پھر آپ نے اس ساعت میں حرکت کی جس سے منجم نے روکا تھااور آپ کو نھروان والوں پر فتح وکامیابی نصےب ہوئی۔( ۹۷ )
____________________
[۱] ارشاد ج۱ص۲۴۴۔۲۴۵۔
[۲] ارشاد ج۱ ص ۲۴۶۔۲۴۷۔
[۳] ابن اثیر کی کامل فی التاریخ ج۲ ص ۳۲۵۔
[۴] شرح نھج البلاغہ ،ابن حدید ج۱ ص۲۳۱۔
[۵] کشف الغمہ ج۱ ص۲۳۹۔
[۶] کشف الغمہ ج۱ ص۲۴۰۔
[۷] کشف الغمہ ج۱ ص ۲۴۰۔
[۸] تذکرةالخواص ص۶۸۔
[۹] تذکرة الخواص ص۶۸۔
[۱۰] تذکرة الخواص ص ۶۸۔
[۱۱] تذکرة الخواص ص۶۹۔
[۱۲] تذکرة الخواص ص ۶۹۔
[۱۳] ارشاد ج۱ ص۲۵۲۔
[۱۴] تذکرة الخواص ص۷۳۔
[۱۵] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص۲۳۴۔
[۱۶] اعیان الشیعہ ج۱ ص۴۶۱۔
[۱۷] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص۲۴۷۔
[۱۸] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص۲۴۹۔
[۱۹] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص۲۵۰۔
[۲۰] شرح نھج البلاغہ ج۱ ص۲۵۰۔
[۲۱] اعیان الشیعہ ج۱ ص۴۶۳۔
[۲۲] تذکرة الخواص ص ۷۹۔
[۲۳] کشف الغمہ ج۱ ص۲۴۴۔۲۴۵۔
[۲۴] کشف الغمہ ج۱ ص۲۴۴۔
[۲۵] المناقب حوارزمی ص۱۹۰۔
[۲۶] مناقب خوارز می ص۱۹۰۔
[۲۷] مناقب خوارزمی ص۱۹۲۔،صحیح بخاری ج۱ ص ۳ باب تعاون فی بناء المسجد ،اور ابن سعد کی طبقات الکبری ج۳ ص۲۵۱۔۲۵۲۔
[۲۸] مناقب خوارزمی ص۱۹۳۔۱۹۴۔
[۲۹] شرح نھج البلاغہ ج۳ ص ۷۵۔۷۶۔
[۳۰] واقعہ صفین ص۳۴۔
[۳۱] واقعہ اصفین ،نصر بن مزاحم ص۴۴ ۔
[۳۲] واقعہ صفین نصربن مزاحم ۔ج۱ص۴۴۔۴۷۔
[۳۳] واقعہ صفین ص۵۰۔
[۳۴] تذکرة الخواص ص۸۲۔
[۳۵] تذکرة الخواص ص ۸۲ ۔۸۳۔
[۳۶] تذکرة الخواص ص ۸۳،۸۴۔
[۳۷] شرح نھج البلاغہ ج۳ ص۸۴۔
[۳۸] تذکرة الخواص ج۱ ص۸۶۔
[۳۹] تذکرة الخواص ص۸۶۔
[۴۰] مناقب خوارزمی ص۲۰۶۔
[۴۱] مناقب خوارزمی ص۲۰۸۔
[۴۲] مناقب خوارزمی ص۲۱۰،۲۱۵۔
[۴۳] مناقب خوارزمی، ص۲۱۵ تا ۲۱۹۔
[۴۴] مناقب خوارزمی، ص۲۲۲
[۴۵] شرح نھج البلاغہ ج۴ ،ص ۱۳
[۴۶] واقعہ صفین نصر بن مزاحم ص ۱۹۳۔۱۹۹
[۴۷] واقعہ صفین ص۲۰۲۔۲۰۳
[۴۸] واقعہ صفین ص۲۰۲۔۲۰۳۔
[۴۹] واقعہ صفین ص۲۰۴۔
[۵۰] شرح نھج البلاغہ جلد۵ص۱۹۶۔
[۵۱] شرح نھج البلاغہ جلد ۴ ص۳۰۔۳۱۔
[۵۲] واقعہ صفین ص۲۱۸۔
[۵۳] واقعہ صفین ص۲۱۷۔
[۵۴] واقعہ صفین ص ۲۲۰۔
[۵۵] اعیان شیعہ جلد ۱ ص ۴۸۶۔
[۵۶] اعیان الشیعہ جلد ۱ ص ۴۸۷ ۔
[۵۷] اعیان الشیعہ ج۱ ص۴۸۷
[۵۸] شرح نھج البلاغہ ج۵ ص۱۷۶۔
[۵۹] شرح نھج البلاغہ ج۵ص۲۱۷۔
[۶۰] سورہ بقرہ آیت۲۵۳۔
[۶۱] شرح نھج البلاغہ ج۵ ص۲۵۸ ۔
[۶۲] شرح نھج البلاغہ ج۶ ص۳۱۳ تا ۳۱۷۔
[۶۳] شرح نھج البلاغہ ج۶ ص۱۶ تا ۲۱۔
[۶۴] شرح نھج البلاغہ ج ۶ ص ۱۷تا ۱۸
[۶۵] نھج البلاغہ ج۶ص۲۴۔
[۶۶] مناقب خوارزمی ص۲۳۴۔
[۶۷] مناقب خوارزمی ص۲۳۶۔
[۶۸] منا قب خوارزمی ص۲۴۹۔
[۶۹] شرح نھج البلاغہ ج۶ ص۵۵۔
[۷۰] شرح نھج البلاغہ ج۶ ص ۵۸۔۵۹
[۷۱] شرح نھج البلاغہ ج۶ص ۱۰۱تا۱۰۲ ۔
[۷۲] تاریخ یعقوبی ج۲ ص۱۸۸۔۱۸۹۔
[۷۳] صحیح مسلم ج۳ کتاب الزکوة ص۱۱۳، مناقب خوارزمی ص۲۵۹۔
[۷۴] مناقب خوارزمی ص۲۵۹۔
[۷۵] شرح نھج البلاغہ ج۲ ص۲۷۷ ۔
[۷۶] ارشاد ج۱ ص ۳۱۷۔
[۷۷] شرح نھج البلاغہ ج۲ ص ۲۶۷۔
[۷۸] تاریخ طبری ج۵ ص ۷۲۔
[۷۹] شرح نھج البلاغہ ج۲ ص۲۷۳۔
[۸۰] سورہ زمر: ۶۵۔
[۸۱] سورہ روم :۶۰
[۸۲] تاریخ طبری ج۵ ص۷۲۔
[۸۳] سورہ نساء آیت ۳۵۔
[۸۴] شرح نھج البلاغہ ج ۷ ص ۲۷۵۔
[۸۵] کشف الغمہ فی معرفة الا ئمہ ج ۱ ص ۲۶۵۔۲۶۶۔
[۸۶] سیرت الائمہ اثنی عشر ج۱ ص ۴۴۴۔
[۸۷] شرح نھج البلاغہ نے ج۲ ص۲۸۰۔۲۸۲۔ نقل از کتاب کامل مبرد ج۳ ص ۲۱۲۔۲۱۳۔
[۸۸] شرح نھج البلاغہ ج۲ ص۲۶۵۔
[۸۹] اعیان شیعہ ج۱ ص ۵۲۴۔
[۹۰] شرح نھج البلاغہ ج۲ص۲۸۲ ۔
[۹۱] شرنھج البلاغہ ج ۲ص۲۷۳پر ابن حدید نے کامل مبرد جلد ۳ص۱۸۷سے نقل کیا ھے ۔
[۹۲] سورہ کہف۱۰۳،۱۰۴
[۹۳] کشف الغمہ فی معرفتہ الائمہ ج۱ص۲۶۶ ،۲۶۷
[۹۴] کشف الغمہ فی معرفتہ الائمہ ج ۱ ص۲۶۷
[۹۵] ارشاد ج ۱ ص ۳۱۷ تا ص ۳۱۹
[۹۶] سورہ لقمان آیت۳۴۔
[۹۷] اس روایت کو ابن ابی الحدید نے شرح نھج البلاغہ ج ۲ ص ۲۶۹ تا ۲۷۰پر ابن دےزل کی کتاب صفےن سے نقل کیا ھے ۔
پندرہو یں فصل
حضرت علی کے متعلق دانشمندوں کے اقوال
پوری کائنات میں ایسی کوئی شخصےت نھیںجو ادبا ء کے قلم اورشعراء کے افکار کا مرکز بنی رھی ہو،صرف حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ذات ایسی ہے جن کی شخصےت اور سیرت کو بیان کرتے ہوئے صاحبان قلم نے اپنے قلم توڑ دئےے ہیں ۔اس زمانے کے شعراء، مفکرےن اور دانشمندوںنے آپ کی منقبت اور فضیلت میں ایسی تحرےر یںپیش کی ہیں جن سے دل ودماغ کو ناقابل بیان لذت اور سرور حاصل ہوتا ہے ۔
البتہ یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے بلکہ حضرت امیر علیہ السلام کی پاک و پاکےزہ زندگی میں ھمےشہ عدل وانصاف کے جلوے نظر آتے ہیں۔جنگوں میں جن فاسق اور فاجر لوگوں سے آپ کا سامنا ہوتا تھا وہ بھی آپ کے خلوص ،انصاف اور انسان دوستی کو بیان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
بھر حال آپ کے فضائل اور کمالات اتنے بلند وبالا ہیں کہ پہاڑوں کی چوٹیاں ان کے مقابلے میںنیچا دکھائی دیتےں ہیں۔
حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی شان میں ارشاد فرمایا :
یاعلی ماعرف الله حق معرفته غیري وغیرک وما عرفک حق معرفتک غیرالله وغیري
یاعلی ابن ابی طالب اللہ تبارک وتعالی کے حق کو میرے اور تیرے سوا کسی نے نہیں پہچانا اور تیرے حق کو میرے اور اللہ کے علاوہ کوئی نہیں پہچان سکتا۔( ۱ )
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک اور موقع پر حضرت علی علیہ السلام کی شان میں ارشاد فرماتے ہیں :
یاعلی انا وانت ابوا هذه الامة
یاعلی آپ اور میں امت کے باپ ہیں۔
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی علیہ السلام سے مخاطب ہو کر ارشاد فرماتے ہیں:
واَلذي نفسي بيده لولا اٴن تقولُ طوائفٌ مِن اٴُمتي فیک ماقاَلتْ النصاریٰ في اِبن مریم لقلت الیوم فیک مقالاً لا تمرَّ بملاء من المسلمین اِلاّ اٴخذوا التراب مِن تحتِ قدَمیکَ للبرکه
مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر مجھے یہ خطرہ نہ ہوتا کہ میری امت کے بعض لوگ آپ کے متعلق وہی کچھ کھنا شروع کردیں گے ۔جو عیسائی ابن مریم کے متعلق کہتے ہیں تو آج میں آپ کی شان میں وہ بات کھتا جس کی وجہ سے تمام لوگ آپ کے قدموں کی خاک کو آنکھوں کا سرمہ بناتے ۔( ۲ )
جب فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھاکے پاس مہاجرین و انصار کی عورتیں عیادت کے لئے آئیں تو آپ نے فرمایا:
خدا کی قسم ان سے دوری کی وجہ ان کی تلوار سے خوف و وحشت تھی کیونکہ جانتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام قوانین اسلام کو جاری کرنے اور حق و حقیقت کے فیصلہ کرنے میںذرہ برابر بھی رعایت نہیں کرتے اور تمام تر شدت اور کما ل ِ شجاعت و استقامت سے خدا وند عالم کے احکام کو تمام چیزوں میں جاری کرتے ہیں۔
اگر یہ لوگ حضرت کی پیروی کرتے تو وہ راہ مستقیم و ھمیشگی سعادت اور دائمی خوشبختی کی طرف ھدایت کرتے اور دیکھتے کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام ان کو بھترین طریقہ سے سیراب کرتے اور ان کو بھوک سے نجات دیتے اور ان کی مشکلات کو دور کرتے ،اس طریقہ سے لوگوں کے ساتھ بر تاؤ کرتے کہ صادق اور کاذب میں تمیز ہو جاتی ۔( ۳ )
حضرت امام حسن علیہ السلام اپنے والد بزرگوار حضرت علی ابن ابی طالب (ع)کی شہادت کے بعد ارشاد فرماتے ہیں: آج رات ایسے شخص کی روح قبض کی گئی ہے جس کا عمل کے میدان میں کوئی مثل ونظےر نہیں تھا، عمل میں ان کو اولےن پر سبقت حاصل تھی اور آخرین میں کوئی بھی ان کے عمل تک نہیں پہنچ سکتا۔انھوں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کیا حضرت نے اسے علمدار بنایا جبرئےل (ع) ان کے دائےں جانب اور میکائےل بائےں جانب ہوتے جب تک اللہ انھیں فتح وکامیابی نصےب نہ فرماتا وہ واپس نہ لوٹتے تھے( ۴ )
حضرت ابوبکر کہتے ہیں کہ جو اس راز کو جاننا چاھتے ہیں اور یہ دیکھنا چاھتے ہیں کہ کون سی ہستی ہے جو پوری کائنات میں حضرت رسول خدا (ص)کے سب سے زیادہ قریب اور سب سے افضل اور سب سے زیادہ عظیم ہے اسے چاھیے کہ وہ اس شخصےت کو دےکھے اور یہ کہہ کر انھوں نے حضرت علی (ع) کی طرف اشارہ فرمایا۔( ۵ )
جب حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غدیرخم میں اس طرح ارشاد فرمایا:
مَن کنتُ مولاه فهذا عليٌّ مولاه
جس جس کا میں مولا ہوں اس علی مولاھے۔
اس وقت حضرت ابوبکر کہتے ہیں:
بخٍ بخٍ لکَ یابن اٴبی طالب اٴصبحت واٴمسيت مولاي ومولیٰ کل مؤمن ومؤمنة
مبارک ہو مبارک ہو اے ابن ابی طالب آپ ہی ہر زمانہ اورھر وقت میں میرے اور تمام مومنین اور مومنات کے مولاھیں۔( ۶ )
حضرت ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے کھاکہ حضرت علی علیہ السلام کی عظمت و فضیلت میں ےھی بات کافی ہے کہ میں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے متعلق یہ فرماتے ہوئے سناھے کہ حضرت علی ابن ابی طالب (ع)میں تےن ایسی خصوصیات ہیں ۔اگر وہ میرے پاس ہوتےں، تو مجھے کائنات کی ہر چیز سے محبوب تر ہوتےں۔ میں اور حضرت ابو بکر، ابو عبےدہ بن جراح اور دوسرے اصحاب رسول خدا وہاں موجود تھے کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی ابن ابی طالب (ع)کے شانہ پرہاتھ مار کر فرمایا:
اٴنت یاعلي اٴوّل المؤمنین اِیماناً ،واٴوّلهم اِسلاماً
ائے علی فقط آپ ہی وہ ہیں جو سب سے پہلے ایمان لائے اوراسلام قبول کیا۔
اور پھر ارشاد فرمایا:
اٴنتَ منّي بمنزلةِ هارونَ مِن موسیٰ وکذب عليَّ مَن زَعِم اٴنه یحبني و يُبغضُک
آپ کی قدرو منزلت میرے نزدیک وہی ہے جوہارون کی موسیٰ سے تھی اور جو شخص یہ کھے کہ وہ مجھ محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت رکھتا ہے اور آپ سے بغض وعدوت رکھتا ہو (وہ پوری دنیا میں) سب سے بڑاجھوٹا ہے۔( ۷ )
حضرت عمر ابن خطاب کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کی تےن ایسی فضیلتےں ہیں اگر ان میں سے ایک فضیلت بھی مجھ میں پائی جاتی تو وہ پوری کائنات کی نعمتوں سے اھم اور افضل قرار پاتی۔سائل نے پوچھا ائے مومنوں کے امیر تےن فضائل کون سے ہیں؟۔حضرت عمر نے کھاوہ یہ ہیں کہ ان کی حضرت فاطمہ الزھرا سلام اللہ علیھابنت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شادی ہوئی،حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی رہائش رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہی مسجد میں تھی اور ان پر بہت سی ایسی چیزےں جائز اور حلال ہیں جو ہم پر نہیں ہیں اور تےسری فضیلت یہ ہے کہ جنگ خےبر میں انھیں پرچم اسلام سپرد کیا گیا۔( ۸ )
حضرت عمر بن خطاب کے مشھور اقوال میں سے ایک یہ ہے کہ لولا علی لھلک عمراگر حضرت علی( علیہ السلام) نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔( ۹ )
حضرت عمر کا یہ بھی ایک مشھور قول ہے :
اٴعوذُ باللّٰه مِن مُعضِلة لیس لها اٴبو الحسن عليبن اٴبی طالب
میں اللہ تعالی سے ھراس مشکل کی پناہ مانگتا ہوں جس مشکل کو حل کرنے کے لئے حضرت ابو الحسن علی ابن ابی طالب علیہ السلام موجودنہ ہوں۔( ۱۰ )
حضرت عبداللہ بن عباس حضرت علی علیہ السلام کی شان میں ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلا م کی ذات:
علمُ الهٓدیٰ وکهفِ التُقیٰ و طود النُهیٰ و محل الحجا ، غیث الندیٰ ومنتهیٰ العلم للوری و نوراًاٴسفر في الدّجٰی وداعیا ًاِلیٰ المحجة العظمیٰ ، اتقیٰ مَن تقمصَ وارتدیٰ واٴکرم من شَهَد النجوی ، ہیں( ۱۱ )
حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے ان(حضرت علی علیہ السلام) جیسا کوئی شخص بھی نہیں دیکھا جس کے ساتھ رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس قدر محبت کرتے ہوں۔( ۱۲ )
حضرت عائشہ ایک اور موقع پر حضرت علی علیہ السلام کی شان میں ارشادفرماتی ہیں:بے شک آپ ہی پوری انسانےت سے زیادہ سنت کو جاننے والے تھے۔( ۱۳ )
ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ ہم لوگ منافقےن کو حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ پہچانتے تھے۔( ۱۴ )
سعید بن مسےب کہتے ہیں تمام بنی نوع انسان میں فقط حضرت علی علیہ السلام ہی ایسی شخصےت ہیں جنھوں نے سلونی کا دعویٰ کیا۔( ۱۵ )
جب معاویہ نے سعد بن ابی وقاص سے کھاکہ تم حضرت علی علیہ السلام کو سب شتم کیوں نہیں کرتے تو سعد ابن ابی وقاص نے کھاکیا تجھے وہ تےن فضائل یاد نہیں ہیں جوحضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کی شان میں بیان فرمائے ہیںمیں تو ھرگز انھیں گالی نہ دوں گا۔کاش ان تےن صفات میں سے میںایک کا مالک ہوتا تو وہ صفت مجھے کائنات کی پوری نعمتوں سے محبوب تر ہوتی میں، حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شان میں یہ فرماتے ہوئے سنا جب آپ جنگ تبوک کے لئے جا رھے تھے آپ نے اپنے بعد حضرت علی علیہ السلام کو مدینہ میں خلیفہ مقرر فرمایا تو حضرت علی علیہ السلام نے عرض کی :
یا رسولَ الله تخلّفني مع النساء والصبیان ؟
کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں پر خلیفہ بنا کے جارھے ہیں۔
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
اٴما ترضیٰ اٴن تکون منّي بمنزلةِ هارونَ مِن موسٰی اِلاّ اٴنه لانبي بعد ي
کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ آپ میرے نزدیک وہی رتبہ اور منزلت رکھتے ہیں جو ہارون کی موسیٰ کے نزدیک تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
اور میں نے جنگ خےبر کے دن حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شان میں یہ فرماتے ہوئے سنا،
لاٴُعطينَّ الرایة رجلاً یحبُ اللّهَ ورسولَه ویحبه اللهُ رسولُهُ ۔
میں یہ علم اس مرد کودوں گا جو اللہ اور اس کے رسول (ص)کے ساتھ محبت رکھتا ہو اور اللہ اور اس کے رسول (ص)اس سے محبت رکھتے ہونگے ۔
اس وقت ہم سب لوگ اس کی خواہش کررھے تھے کہ کل ھمیں علم ملے لیکن حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا علی(ع) کو میرے پاس بلایا جائے،جب آپ تشریف لائے تو آپ آشوب چشم میں مبتلا تھے لیکن حضرت رسول اکرم(ص) نے انپا لعاب دھن لگایا تو آنکھیں ٹھیک ہو گئیں۔آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو علم دے کر علمبردار بنایا اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو نصرت اور فتح سے ھمکنار کیا۔
اسی طرح اللہ تبارک وتعالی نے ان کی شان میں اس آیت کرےمہ کو نازل فرمایا:
( فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اٴَبْنَاءَ نَا وَاٴَبْنَاءَ کُمْ وَنِسَاءَ نَا وَنِسَاءَ کُمْ وَاٴَنْفُسَنَا وَاٴَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اللهِ عَلَی الْکَاذِبِینَ ) ( ۱۶ )
اے رسول ان سے کہ دیجیے کہ ہم اپنے بےٹوں کو لاتے ہیں تم اپنے بےٹوں کو لاؤ ہم اپنی خواتےن کو بلاتے ہیں تم اپنی خواتےن کو بلاؤ اور ہم اپنے نفس کو لاتے ہیں اور تم اپنے نفسوں کولاؤ ، اور اس کے بعد جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں۔
اس وقت حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت (علی علیہ السلام)حضرت فاطمة الزھرا سلام اللہ علیھااور حضرت حسن علیہ السلام اور حضرت حسین علیہ السلام کو بلا کر ارشاد فرمایااللّهم هٰؤلاء اهلی پروردگار ایھی میرے اھلبیت ہیں۔( ۱۷ )
حضرت عبداللہ ابن مسعود کہتے ہیں ہم سب لوگوں کا یھی خیال ہے کہ سب سے بڑے قاضی حضرت علی علیہ السلام ہی ہیں۔( ۱۸ )
جناب حافظ عاصمی اپنی کتاب زےن الفتیٰ فی شرح سورہ ھل اتیٰ میں اس مشھور واقعہ کو بیان کرتے ہیں۔ جس میں حضرت علی علیہ السلام نے سائل کے سوالوں کا جواب دے کر حضرت عثمان بن عفان کی جان چھڑائی اور اس وقت عثمان بن عفان نے کہا: لو لاعلی لھلک عثمان اگر آج علی نہ ہوتے تو عثمان ہلاک ہوجاتا۔( ۱۹ )
زید بن ارقم کہتے ہیں حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب سے پہلے نماز پڑھنے والے حضرت علی علیہ السلام ہیں۔( ۲۰ )
جب نافع بن ارزق نے کھاکہ میں حضرت علی علیہ السلام سے بغض رکھتا ہوں تو اسے عبد اللہ بن عمر نے جواب دیا:
اٴبغضَکَ اللّٰهُ اٴ تبغضُ رجلاً سابقةٌ مِن سوابقهِ خیرُ من الدنیا وما فیها ۔
اللہ تجھ سے بغض رکھے( اللہ تیرا برا کرے) کیا تو اس شخص سے بغض رکھتا ہے جو سابق الاسلام ہے وہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب سے افضل و بھتر ہے۔( ۲۱ )
حضرت عبداللہ بن عمر ایک دوسرے موقع پر کہتے ہیں کہ مجھے بہت افسوس ہے کہ میں نے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ساتھ مل کر باغی گروہ سے جنگ نہ کی۔( ۲)
معاویہ نے مختلف لوگوں کے پاس خط لکھاتاکہ اپنے مسائل حل کر سکے جب اس کے پاس یہ خبر پھنچی کہ آپ کو شھید کر دیا گیا ہے تو اس وقت معاویہ جیسا دشمن کھتاھے :
ذهبَ الفقهُ والعلم بموتِ علي بن اٴبي طالب (علیه السلام)
حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شہادت سے فقہ اور علم کا باب بند ہوگیا اس کے بھائی عتبہ نے اس سے کھاکھیں تیری یہ بات اہل شام نہ سن لیں معاویہ نے کھامجھے تنہا چھوڑدو۔( ۲۲ )
حضرت امام سجاد علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ میں مروان بن حکم کے پاس گیا تو اس نے کہا:میں نے آپ کے دادا کے علاوہ کسی شخص کو اےسا نہیں پایا جو اپنے دشمن پر کرم کرتا ہو جنگ جمل میں ہم نے ان کی یہ آواز سنی کہ بھاگنے والے کو قتل نہ کرنا اور زخمی کو کچھ نہ کھنا۔( ۲۳ )
ایک دن معاویہ ابن سفیان ضرار بن ضمرہ الکنانی سے کھتا ہے مجھے حضرت علی علیہ السلام کے فضائل سناؤ ضرار نے کھاتم مجھ پر غصہ کرو گے معاویہ نے کھاکہ میں تم پر غضبناک نہیں ہوں گا ،چنا نچہ ضرار کہتے ہیں،
خدا کی قسم حضرت علی علیہ السلام بعےد المدیٰ اور شدےد القویٰ تھے وہ ہمیشہ درست اور مناسب بات کہتے تھے اور عدل وانصاف سے فےصلہ کرتے ان کے اطراف سے علم کے چشمے پھوٹتے اور ان گرد حکمت ہی حکمت نظر آتی۔ دنیا ومافیھا سے وحشتناک ہوجاتے رات سے وہ محبت کرتے تھے۔
خدا کی قسم وہ بڑی بصارت والے اور عظےم مفکر تھے اپنے بازو چڑھالیتے اور خود سے مخاطب ہوتے۔ کھردرا لباس پسند فرماتے اور ان کاکھانا جو کی روٹی تھا۔
خدا کی قسم ! اگر وہ ھمیں کچھ نہ سمجھاتے تو ہم میں سے کسی کے پاس دین کی دولت نہ ہوتی جب ہم ان سے سوال کرتے تو وہ ھمیں جواب عناےت فرماتے وہ ھمیں تقرب بخشتے اور ہمارے قریب تر ہوجاتے۔ھم ان کی ھیبت کی وجہ ان سے بات تک نہ کر سکتے جب وہ مسکراتے تو معلوم ہوتا کہ لوء لوء کے موتی نکھررھے ہیںدینداروںکی تعظیم فرماتے۔ مسکینوں سے محبت کرتے ۔ طاقتور اور دولتمند انھیں اپنے مال ودولت کی لالچ نہیں دے سکتے تھے۔اور کمزور آپ کے عدل سے مایوس نہ تھے۔
میں خدا وند متعال کو گواہ بنا کر کھتا ہوں میں نے بعض مواقع پر آپ کو رات کے اندھیرے میںمحراب عبادت میں رےش مبارک کو ہاتھوں میں پکڑے ہوئے مار گزیدہ کی طرح تڑپ رھے تھے اور غمزدہ کی طرح رو رھے تھے اور فرما رھے تھے پروردگارا پروردگارا پھر تضرع وزاری فرمانے لگے اور پھر دنیا کی طرف مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا:
اِليَّ تغررت اِليَّ تشوقتِ هیهات هیهات غرّي غیری قد بنتک ثلاثاً فَعمرک قصیر ومجلسک حقیر (وعیشُک حقیر ) وخطرُک یسر (کبیر)
کیا تومجھے دھوکہ دینا چاھتی ہے اور مجھے اپنا فرےفتہ بنانا چاھتی ہے تو مجھے ھرگز فرےب نہیں دے سکتی،جا کسی اور کو دھوکہ دے میں تو تجھے تےن بار طلاق دے چکا ہوں کہ جس کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں ہے تیری زندگی تھوڑی ہے تیری محفل ومجلس بہت کم مدت والی ہے اور تیری زندگی بہت ہی کم ہے اور تیری اھمیت بھی بہت کم ہے۔
اور پھر ارشاد فرمایا تے:
آه آه مِن قلّة الزاد وبُعد السفر و وحشة الطریق
افسوس زاد راہ بہت کم ہے اور سفر طولانی ہے اور راستہ وحشت ناک ہے۔
یہ سن کر معاویہ کے آنسو نکل آئے جو اس کی داڑھی تک جاپھنچے اور وہ آنسو صاف کرنے لگا اور لوگوں کو اس کے رونے کا پتہ چل گیا تو اس نے کھاخدا ابو الحسن پر رحم کرے وہ واقعا ایسے ہی تھے پھر ضرار سے مخاطب ہو کر کہا:
اے ضرار ان کی مفارقت میں تمھارے رنج واندوہ کی کیا حالت ہے۔ضرار نے کہا:
بس یہ سمجھ لو کہ میرا غم اتنا ہے جتنا اس ماں کو ہوتا ہے جس کی گود میں اس کا اکلوتا بچہ ذبح کر دیا جائے۔ اور اسے اپنے حزن ملال سے کبھی بھی سکون نصےب نہیں ہوتا( ۲۴ )
شعبی کہتے ہیں کہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی اس وقت وہی مثال اور منزلت ہے جو بنی اسرائےل میں حضرت عیسیٰ ابن مریم کی تھی ۔
ایک قوم نے اس قدر محبت کی کہ کفر کی حد تک پہنچ گئی اور دوسری قوم نے آپ کے ساتھ اس قدر بغض کیا کہ وہ کفر کی حد ہی پار کر گئے۔( ۲۵ )
حضرت عمر بن عبد العزےز کہتے ہیں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد اس پوری امت میں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے علاوہ ہم کسی کو سب سے زیادہ زاہد نہیں جانتے ۔( ۲۶ )
اخنف بن قےس معاویہ سے کھتا ہے خدا کی قسم علی ابن ابی طالب کی خوبیاں خدا وند عالم کی جانب سے ہیں اور علی (ع) خدا کی راہ میں اپنے نفس پر ہر شئی کو مقدم رکھا جو نہ تیرے اور نہ تیرے علاوہ کسی کے بس میں ہیں ۔( ۲۷ )
محمد ابن ابو بکر بن ابو قحافہ، معاویہ ابن سفیان کو مخاطب کر کے کھتا ہے کہ وہ تو (حضرت علی علیہ السلام)سب سے پہلے حضرت رسول خدا کی بےعت کرنے والے،سب سے پہلے ایمان لانے والے ،سب سے پہلے حضرت کی تصدیق کرنے والے اور سب سے پہلے اسلام لانے والے اور پیغمبر(ص) کا اتباع کرنے والے اور ان کے چچازاد بھائی ہیں۔
انھوں نے آپ کی تصدیق کی، ہر مصیبت میں سےنہ سپر رھے اورآپ کی حمایت میںلڑتے رھے اور آپ کی ھمےشہ حفاظت کرتے رھے،دن رات کی گھڑیوں،خوف وخطر کے ماحول اور ہر مصیبت میں انھوں نے آنحضرت کا ساتھ دیا، حضرت کا اتباع کرنے والوں میں کوئی بھی ان کا مثل ونظےر نہیں ہے وہ قول وعمل میں حضرت کے قریب تر تھے اور میں نے تجھے بھی دیکھا ہے تو، تو ہے اور وہ ، وہ ہیں ،جب کہ وہ کائنات کے تمام لوگوں میں سب سے سچے ہیں ان کی اولاد تمام لوگوں سے افضل ہیں۔
ان کی زوجہ خیرالناس ہیں ان کے چچا افضل الناس ہیں ان کے بھائی جعفر طیار ہیں۔ ان کے چچاکو جنگ احد میں سید الشھداء کی سند ملی تھی اور ان کے والد نے حضرت رسول خدا کی پرورش کی ہے ۔
اے معاویہ ایسے باکمال انسان کے ساتھ تجھ جیسا بد بخت کیا مقابلہ کرے گا ۔تیرا سانس لینا علی (ع) کا احسان ہے۔ اور وہ وارث رسول اور ان کے وصی ہیں اور اس کے بچوں کا باپ ہے۔ سب سے پہلے حضرت کا اتباع کرنے والاھے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عھد کو سب سے پہلے پورا کرنے والے ہیں حضرت نے صرف آپ کو ہی اپنے رازوں سے باخبر کیا اور اپنے امر سے مطلع کیا۔( ۲۸ )
انس بن مالک سے سوال کیا گیا کہ آپ کے خیال میںحضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوگوں میں سب سے زیادہ قدر ومنزلت والا کون تھا ؟انس بن مالک نے کھاھم نے حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کسی کو اس شان کا مالک نہیں پایا اگرحضرت آدھی رات کو انھیں بلوا بھےجتے تو وہ آپ کے پاس حا ضر ہوجاتے تھے اور پوری دنیا کو چھوڑ دیتے۔ انس مزید کہتے ہیں میں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سناکہ آپ نے فرمایا:
”یا اٴنس تُحِبُّ علیاً“
اے انس کیا تجھے علی سے محبت ہے ؟
میں نے عرض کی یا رسول خدا کی قسم جس طرح آپ علی سے محبت کرتے ہیں میں بھی علی سے اسی طرح محبت کرتا ہوں۔چنا نچہ حضرت نے ارشاد فرمایا :
بے شک اگر تو اس سے محبت کرے گا تو اللہ تجھ سے محبت کرے گا اور اگر تو اس سے بغض وعدوات رکھے گا تو اللہ تجھ سے بغض عداوت رکھے گا اور اللہ کا تجھ پر غضب ہوگااور وہ تجھے جھنم میں ڈالے گا۔( ۲۹ )
حسن بصری حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے متعلق کہتے ہیں : خدا کی قسم حضرت علی علیہ السلام کے دشمن خدا کے لئے چمکتی ہوئی تلوار تھے۔ آپ اس امت کے مربی اوراس میں صاحب فضل وکمال تھے ۔اور آپ سابق الاسلام ہیںاور حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے نزدیک قرابت دار تھے۔
اور حکم خدا کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے ہیں۔ اور آپ نے کبھی بھی حکم خدا کے معاملے میں ملامت کرنے والوں کی ملامت کی پروا نہیں کی۔اللہ تعالیٰ کے مال کا ناجائز تصرف نہیں کیا آپ کے عمل پر قرآنی آیات نازل ہوئیں اورآپ جنت کے کامیاب ترےن شخص ہیں یہ تمام خصوصیات وصفات وفضائل صرف اور صرف حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام میں ہیں۔( ۳۰ )
جناب سفیان ثوری کہتے ہیں حب علی من العبادہ و افضل العبادہ ماکتم حضرت علی علیہ السلام کی محبت عبادت ہے اوروہ افضل ترےن عبادت ہے جسے مخفی رکھا جا سکتا ہے۔( ۳۱ )
حضرت امام سجاد علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ مروان بن حکم نے کھااس قوم میں ایک شخص بھی تمھارے سردار کے علاوہ نہیں ہے جسے ہمارے سردارنے دور کرنے کی کوشش نہ کی ہو ( ےعنی عثمان نے حضرت علی علیہ السلام کو ہر وقت دور رکھنے کی کوشش کی ہے )۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے مروان سے کھااتنی بڑی اور بزرگ ہستی کو تم لوگ منبروں سے کیوں گالیاں دیتے ہو مروان نے جواب دیا اس کے بغیر ھماری حکومت مستحکم نہیں ہو سکتی۔( ۳۲ )
حضرت ابوذر کے غلام ابو ثابت روایت بیان کرتے ہیں:
ایک دن میں ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دےکھا کہ آپ حضرت علی علیہ السلام کا نام لے کر خوب گریہ کر رھی ہیں اور کہتی ہیں میں نے حضرت رسول(ص) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔
عليٌ مع الحقِ والحقُ مع علي ولن يفترقا حتیٰ يرِدا عليَّ الحوض یوم القیامة ۔
علی حق کے ساتھ ہے اور حق علی کے ساتھ یہ دونوں قیامت تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے اور روز قیامت دونوں حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے ۔( ۳۳ )
احمد بن حنبل کہتے ہیں: حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کے فضائل میں کسی کے متعلق اتنی روایات اور آیات بیان نہیں ہوئیں جتنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے متعلق بیان ہوئیں۔( ۳۴ )
جورج جرادق کہتے ہیں اے دنیا تجھے کیا ہوگیا ہے اگر چاھتی ہے کہ تیری طاقت اور قوت کو بیان کیا جائے تو ہر زمانے میں ایک علی (ع) کی ضرورت ہے جو اپنے دل عقل ،زبان اور فتانت سے طاقت عطا کرے۔( ۳۵ )
لؤماس کارلیل کہتے ہیں جہاں تک حضرت علی علیہ السلام کی شخصےت کا تعلق ہے ان کی خصوصیات ہی ایسی ہیں کہ ہم ان سے محبت اور عشق کرنے پر مجبور ہیں ۔حضرت علی علیہ السلام بڑے دل والے جوان تھے اور بڑی عظمت کے مالک تھے اور ان کا وجودرحمت اور نیکیوں کافیض تھا ان کا دل وحی کے رازوں سے لبرےز تھا آپ شیر سے زیادہ شجاع تھے۔اور آپ کی شجاعت لطف، مھربانی اوراحسان کا مرقع تھی۔( ۳۶ )
____________________
[۱] بحار ج ۳۹ ص ۸۴ ۔
[۲] شےروانی کی کتاب ،ماروتہ العامہ فی مناقب اھل بیت(اسی روایت کو اھل سنت نے مناقب اھل بیت کے عنوان کے تحت بیان کیا ھے )ص۱۷۹۔
[۳] احتجاج طبرسی ج۱ص۱۰۸--،۱۰۹ ۔
[۴] مقاتل الطالبین ص ۳۵۔
[۵] مختصر تاریخ دمشق ابن عساکر ج ۱۷ ص ۳۲۰۔
[۶] الغدیر علامہ امینی ج ۱ ص ۱۱ ،الھیات شیخ سبحانی ج ۲ ص ۵۸۶۔
[۷] کنزالاعمال ج ۶ ص ۳۹۵۔
[۸] مختصر تاریخ دمشق ابن عساکر ج ۱۷ ص ۳۳۵۔
[۹] ذخائر عقبی ص ۸۲ ۔
[۱۰] مختصر تاریخ دمشق:ج۱۸‘ص۲۵ ۔
[۱۱] ذخائر عقبی محب طبری ص ۷۸ ۔
[۱۲] عقد الفرید ج ۲ ص ۲۱۶۔
[۱۳] استعاب فی معرفة الاصحاب ابن عبد البرج ۳ ص ۴۰۔
[۱۴] الائمہ اثنیٰ عشر ابن طولون ص ۵۶۔
[۱۵] الائمہ اثنا عشر ابن طولون ص ۵۱ ۔
[۱۶] آل عمران آیت ۶۱۔
[۱۷] اسد الغابہ ابن اثیر ج ۶ ص ۲۶ ۔
[۱۸] اسد الغابہ ج ۴ ص ۲۲۔
[۱۹] الغدیر ج۸ ص۲۱۴ ۔
[۲۰] استعاب ج ۳ ص ۳۲۔
[۲۱] آئمتنا، علی محمد علی دخیل ج ۱ ص۹۰ ۔
[۲۲] استعاب فی ھامش الاصابہ ج ۳ ص ۴۵۔
[۲۳] سنن بھیقی ج۸ ص ۱۸۱ ۔
[۲۴] حلیة الاولیاء ج ۱ ص ۸۴ تا ۸۵ ۔
[۲۵] عقد الفرید ج ۲ ص ۲۱۶ ۔
[۲۶] اسد الغابہ ج۴ ص۲۴۔
[۲۷] آئمتنا ،علی محمد علی دخیل ص ۹۵۔
[۲۸] مروج الذھب المسعودی ج ۲ ص ۴۳ ۔
[۲۹] کشف الغمہ فی معرفت آئمہ، علی ابن عیسیٰ الاربلی ج۱ ص ۱۱۸۔
[۳۰] عقد الفریدج۲ ص ۲۷۱۔
[۳۱] مختصر تاریخ دمشق ج۱۸ ص ۸۰ ۔
[۳۲] مختصر تاریخ دمشق ج۱۸ ص ۴۰۔
[۳۳] مختصر تاریخ دمشق ج۸ ص ۴۵۔
[۳۴] مختصر تاریخ دمشق ج ۸ص۳۱۔
[۳۵] امام علی صوت العدالة الانسا نیہ ۔ج۱ص۴۹۔
[۳۶] امام علی ،روکسن بن زائدالغدیزی ص ۱۰۔
سولھویں فصل
حضرت علی علیہ السلام کے اشعار
حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے اشعار کے متعلق علماء اسلام کی رائے درج ذیل ہے :
جاحظ اپنی کتاب البیان والتبین اور فضائل بنی ہاشم میں اور بلاذری اپنی کتاب انساب الاشراف میں کہتے ہیں ۔
اِن علیاً اٴشعر الصحابه واٴ فصحهم واٴخطبهم واٴکتبهم
حضرت علی علیہ السلام کو اشعار ،فصاحت ،خطابت ،اور کتابت میں تمام صحابہ پر برتری حاصل تھی۔
صاحب تاریخ بلاذری کہتے ہیں:
کان اٴبوبکر يقول الشعر وعُمر یقول الشعر وعثمانُ یقولُ الشعر وکان علي اٴشعر الثلاثة ۔
حضرت ابو بکر ،حضرت عمر اور حضرت عثمان بھی اشعار کھاکرتے تھے لیکن حضرت علی علیہ السلام ان تےنوں سے زیادہ (فصےح اور بلیغ )شعر کہتے تھے۔
بن مسیب کہتے ہیں حضرت ابو بکر ،حضرت عمر اور حضرت علی علیہ السلام اشعار کھاکرتے تھے لیکن ان تینوں میں حضرت علی علیہ السلام کے اشعار بہت بلند اور فصیح وبلیغ ہوتے تھے۔( ۱ )
مختلف کتابوں میں آپ سے منسوب بہت سے اشعار موجود ہیں اور ان اشعار کے متعلق یھی شھرت ہے کہ انھیں آ پ نے بیان فرمایا ہے اور ان اشعار کو ثقہ راویوں نے ذکر کیا ہے۔
جب ہم ان اشعار کی فصاحت اور بلاغت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو ھمیں ان اشعار کی آپ کی طرف نسبت دینا صحیح معلوم ہوتی ہے۔بھر حال ہم یہاں پر چند اشعار ذکر کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔حضرت سختی کے بعد آسانی اور اللہ تبارک تعالی سے امیدیں وابستہ کرنے کے متعلق ارشاد فرما تے ہیں۔
اِذا اشتملت علیٰ الیاٴس القلوب
وضاق لمابه اِلصدرُ الرحیبُ
واٴوطنت المکاره واستقرت
واٴرست في اٴماکنها الخطوبُ
ولم تر لانکشاف الضرّ وجهاً
ولااٴغنیٰ بحیلته الاٴریبُ
اٴتا کَ علیٰ قنوطٍ منک غوث
یَمُنُّ به اللطیف المستجیبُ
وکل الحادثات اِذ تناهت
فموصول بها فرج قریب( ۲ )
جب تمہارے دل ناامیدی پر مشتمل ہوں اور سےنہ تنگی محسوس کررھاھو اور مصائب ومشکلات کے بھنور میں پھنس گئے ہو اور رنج وغم سے نجات پانے کی کوئی صورت نظر نہ آتی ہوتو اس وقت تم خداوند عالم کی بارگاہ میں رجوع کرو، لطیف وخبیر دعا قبول کرنے والا اور احسان کرنے والا ہے اور جب مشکل کے وقت تم اسے پکارو گے تو وہ مشکل اس کی طرف سے حل ہو جائے گی۔
حضرت علی علیہ السلام نے جب عمر وبن عبدو د عامری کو جنگ خندق میں فی النار کیا تو یہ اشعار کھے :
نَصرَ الحجارة من سفاهة راٴیه
و نصرت دین محمد ٍبصوابِ
ضربته فترکته متجدلاً
کالجذع بین دکادک و روابي
وعففت عن اثوابه ولو انني
کنت المقطر بزّني اٴثوابي
لا تحسبنّ اللّٰه خاذل دینه
ونبیّه یا معشر الاٴحزاب
پتھروں کی مدد کرناتیری بے وقوفی ہے اور میں نے بھترین انداز میں حضرت احمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی نصرت کی۔
پس میں نے اسے کاری ضرب لگائی اور اسے اس جنگ میں اس طرح چھوڑ آیا ہ اس کے لباس کو میں نے جسم پر ڈال دیا۔اے گروہ احزاب ! اللہ کے دین اور اس کے نبی سے دھوکا کرنے والا اللہ کے نزدیک کسی مقام کے لائق نھیں( ۳ )
حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے جب اپنا یہ مشھور جملہ ارشاد فرمایا:
واعجبا اٴتکون الخلا فة بالصحابة ولا تکون بالصحابة والقرابة
بڑے تعجب کی بات ہے کہ خلافت پر صحابہ نے قبضہ جما لیا ہے لیکن کیا یہ خلافت اس کا حق نہیں ہے جو صحابی بھی ہے اور قرابت دار بھی۔ اس موقع پر یہ اشعار کھے !
فاِن کُنت َبالشوریٰ ملکت اٴُمورهم
فکیف بهذا والمشيرون غیب
واِن کنتَ بالقربیٰ حججت خصيمَهم
فغیرک اٴولیٰ بالنبي واٴقربُ
اگر تم شوریٰ کے ذرےعے لوگوں کے امور کے مالک بن گئے تو یہ کس طرح ہوا ؟جبکہ مشورہ دینے والے غائب تھے اگر تم یہ قرابتداری کے ذرےعے اپنے مخالف پر دلےل قائم کرو تو تمہارا حرےف (ےعنی میں) حضرت نبی اکرم سے زیادہ نزدیک تر اور قریب تر ہے لہٰذا وہ خلافت کا تم سے زیادہ حق دار اور سزاوار ہے۔( ۴ )
حضرت علی علیہ السلام نے لوگوں کو سخاوت کی طرف رغبت دلاتے ہوئے ارشا د فرمایا :
اِذا جادت الدنیا علیکَ فجُد بها
علیٰ الناسِ طُرّاً اِنها تتقلبُ
فلا الجود یفنیها اِذا هي اٴقبلت
ولا البُخل یبقیها اِذا هي تذهبُ
جب دنیا تم سے جود سخا چاھے تو تم لوگوں میں اسے زیادہ کرو، تمہاری یہ سخاوت تمہارے پاس پلٹ کر آئے گی کیونکہ یہ پسندےدہ خصلت ہے جو کبھی مٹنے والی نھیں،جب کوئی چیز مٹنے والی ہو تو اسے بخل کے ذرےعے باقی نہیں رکھا جاسکتا۔( ۵ )
معاویہ بن ابو سفیان نے حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو خط لکھا جس میں اس نے یہ افتخار کیا تھا کہ میں اسلام کا بادشاہ ہوں اورحضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے داماد ہیں اور میں مومنین کا ما موںھوں اور کاتب وحی ہوں۔ توجب حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے اس خط کو پڑھا تو ارشاد فرمایا :
اٴ عليَّ یَفخرُ اِبن آکلة الاٴ کباد
کلیجہ چبانے والی کافرزند کیا تو مجھ پر فخر مباہات کرتا ہے۔
پھرآپ نے اس کے جواب میں چند اشعار کھے :
محمدٌ النبي اٴخي وصهري
وحمزة سید الشهداء عميّ
جعفر الذي یُمسي و یضحیٰ
یطیرُ مع الملائکة اِبن اٴُمي
و بنت محمد سکني و عُرسی
مسوط لحمها بدمی ولحمی
وسبطا اُحمد ولداي منها
فمن منکم له سهم کسهمی
سبقتکُم اِلی الاِسلام طُرّاً
صغیرا مابلغتُ اٴوان حلمي
فاٴوصانيالنبي لدیٰ اِختیار
رضیً منه لاٴمته بحکمي
واٴوجب في الولا ء معاً علیکم
خلیلي یوم دوح(غدیر خم)
فويلٌ ،ثم ویلٌ، ثم ویلٌ
لمن یرد القیامه وهو خصمي
اللہ تبارک تعالی کے نبی حضرت محمد(ص)میرے بھائی اور سسر ہیں۔ سید الشھداء حضرت حمزہ میرے چچا ہیں اور صبح شام ملائکہ کے ساتھ پرواز کرنے والے جعفر میرے ہی بھائی ہیں،حضرت محمد(ص) کی بیٹی میری ھمسر ہے اس کا گوشت وپوست میرے گوشت وپوست سے مخلوط ہے اور احمد مصطفی کے نواسے میرے فرزند ہیںپس تم میںکون ہے جس کا(خاندان رسالت )کے ساتھ اتنا تعلق ہے جتنا میرا ہے؟۔
جب میں تم میں سابق الاسلام ہوں۔میں نے بچپن میں اسلام کا اظہار کیا۔ نبی اکرم(ص) نے مجھے وصیت کی اور مجھے اختیار دیا اورمیری وجہ سے وہ اپنی امت سے راضی ہیں، غدیر خم میں میرے خلیل نے تم سب پر میری محبت کو واجب قرار دیا تھا۔ جو شخص بھی قیامت کے دن اس مشکل میں حاضر ہو کہ وہ میرا دشمن ہے اس کے لئے ھلاکت ہے۔( ۶ )
حضرت علی علیہ السلام علم کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
الناسُ مِن جهة اِلتمثیل اٴکفاء اٴبوهم آدمٌ والاٴمُ حواءُ
واِن یکن لهم مِن اٴصلهم شرفٌ یفاخرون به فالطین و الما ئ
ماالفخر الا لاهل العلم انهم الی الهدیٰ لمن استهدیٰ ادلاء
وقیمة المرء ماقد کان يحسنه والجاهلون لاٴهل العلم اٴعداءُ
فقم بعلم ولا تبغي له بدلاً فالناس موتیٰ واٴهل العلم اٴحیاءُ
لوگوں کی تمثےل کے عنوان سے یھی بات کافی ہے کہ ان کے باپ حضرت آدم اور ان کی ماں حضرت حوا ہیں اور ان کی حقےقت کے لئے یھی شرف کافی ہے کہ وہ مٹی اور پانی سے بنے ہیں،البتہ اہل علم کے علاوہ فخر ومباہات کرنے کاکسی کو حق نہیں ہے کیونکہ اہل علم ہی کو یہ شرف حاصل ہے کہ ان میں جو ھدایت کے طالب ہوتے ہیںوہ ھدایت پا جاتے ہیںکسی شخص کی قدر وقےمت اس کے علم کے حساب سے ہے کیونکہ جاھل اہل علم کادشمن اٹھو اور علم حاصل کرو، علم کے علاوہ کسی چیز کی طلب نہ رکھو کیونکہ (علم سے خالی)لوگ مردہ ہیں اور اہل علم زندہ ہیں( ۷ )
موت کا ذکر کرتے ہوئے مولائے متقیان حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام اس طرح ارشاد فرماتے ہیں :
الموت لا والد اً يبقي ولا ولدا
هذا السبيل اِلیٰ اٴن لِا تریٰ اٴحداً
کان النبي ولم یخلُدلاٴُمته
لو خلّد الله قوماًقبله خَلْدا
للموت فينا سهامٌ غیر خاطئةٍ
مَن فاتَهُ الیومَ سهمٌ لم یفتُه غداً
موت نے نہ تو باپ کو باقی رکھا ہے اور نہ بےٹے کو، یہ سلسلہ جاری وساری ہے اور کسی کو اس کے انتھاکی خبر نھیںاور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسی ہستی بھی اپنی امت میںھمیشہ باقی نہ رھی۔
اگر خداوند متعال کسی قوم کو ہمیشہ کے لئے باقی رکھتا تو پھلی والی کوئی قوم بھی ہمیشہ کے لئے باقی رھتی۔
ھماری ذات میں موت کے حقوق اورحصے موجود ہیں جو ھمیں ضرور ملےں گے کسی کو اگر وہ حصہ آج نہ ملا تو کل ضرور ملے گا۔( ۸ )
حضرت علی علیہ السلام کی طرف منسوب آخرت یاد دلا نے والے اشعار :
ولو اٴناّ اِذا متنا ترکْنا
لکان الموت راحة کل حيّ
ولکنا اذا متنا بُعِثنا
ونُسئَلُ بعده عن کلُ شیءٍ
اگر ہم یہ جانتے کہ کب ہم مرےں گے اور تمام چیزوں کو چھوڑ جائیں گے توموت ہر زندہ انسان کےلئے آسان ہوجاتی لیکن یاد رکھو جب ہم مرےں گے تو اس کے بعد ھمیں اٹھایا جائے گا اور ہر چیز کے بارے میں پوچھا جائے گا۔( ۹ )
ادب کی اھمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :
کُن اِبن مَن شئت واکتسب اٴدباً
یغنیکَ محموده عن النَّسبِ
فلیسَ یُغني الحسیب نسبته
بلا لسان له ولا اٴدب
اِن الفتیٰ مَن یقول ها اٴنا ذا
لیس الفتیٰ مَن یقول کان اٴبي( ۱۰ )
اے انسان توکسی کا بھی فرزندھے اپنے آپ کو زیور علم سے آراستہ بنا کیونکہ یہ تجھے اچھے نسب سے بے نیاز بنا دے گا۔
وہ شخص جس کے پاس ادب نہیں اس کا حسب ونسب اس کو اچھا نہیں بنا سکتا اور نہ وہ صاحب ادب بن سکتا ہے ،جوان وہی ہے جو یہ کھے کہ میرے اندر یہ خوبیاں ہیں اور میں اےسا ہوں
نہ یہ کہ کھے میرا باپ اےسا ہے اور وےسا ہے۔
جب حضرت علی علیہ السلام نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو راستے میں قریش آپ کو تلا ش کرتے ہوئے وہاں آنکلے، یہ لوگ آٹھ گھوڑوں پر سوار تھے۔ آپ نے سواری پر بےٹھے ہوئے یہ شعر کھا:
خلوا سبیل الجاهد المجاهد
آلیت لا اٴعبد غیرَ الواحد
اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاھدکا راستہ چھوڑ دو۔ تمہاری خواہش کبھی بھی پوری نہ ہوگی اور میں اس ذات واحد کے علاوہ کسی عبادت نہیں کروں گا ،
حضرت علی (ع)کو جب یہ اطلاع دی گئی کہ کچھ لوگ کوفہ میں داخل ہوچکے ہیں اورفتنہ و فساد پھیلانا چاھتے ہیں تو حضرت نے ان سے دور رھنے اور بچنے کا حکم دیا ۔
اور پھر درج ذیل اشعار کھے :
من اٴي یوميَّ من الموتِ اٴفِرُّ یومَ لمُ یقدَّر اٴم یوم ُقُدِرْ
یومَ لم يُقدر لا اٴرهبه ومن المقدور لاینجو الحَذَرِ
کس دن موت سے فرار کیا جاسکتا ہے،آیا اس دن جب ان سے بھاگنے کی قدرت نہ ہو یا اس دن جب اس پر قادر ہوں۔
جس دن قادر نہیں ہونگے اس دن انھیں اونٹ پر سوار ہو کر کامیاب نہ ہونے دوں گا اور انھیں کوئی بھی نجات نہ دے سکے گا۔( ۱۱ )
حضرت علی علیہ السلام قدرکے متعلق مزید ارشاد فرماتے ہیں:
للناس حرصٌ علیٰ الدنیا بتدبیر وصفوها لک ممزوج بتکدیر
لم يُرزَقوها بعقل حینما رُزقوا لکنما رُزقوها بالمقادیر
لو کان عن قوةٍ اٴوعن مغالبةٍ طار البزاة بارزاق العصا فیر
لوگ دنیا پر اس قدر حرےص ہیں کہ اس کو حاصل کرنے میں زحمتےں برداشت کرتے ہیں، جبکہ ان کا رزق اور روزی ابتدا ہی سے مقرر ہے اور جو ان کی قسمت ہے وہی ان کو ملے گا اگر یہ چیز زور اور قوت کے بل بوتے پر ہوتی تو چڑیوں کا رزق دوسرے پرندے ہوا میں لے کر اڑ جاتے۔( ۱۲ )
حضرت علی علیہ السلام انسان کی عظمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
دواؤک فیک وماتشعر وداؤک مِنک وما تُبصر
وتحسبُ اٴنّک جرمٌ صغیر و فیک اِنطویٰ العالم الاٴکبر
تیری دوا تجھ میں پوشےدہ ہے اسے ادھار نہ لے تیرا علاج تجھ میں ہے، گھبرانھیں۔ تو صرف یھی گمان کر کہ تو ایک چھوٹا سا جسم ہے جس کے اندراتنی بڑی کائنات پوشےدہ ہے۔( ۱۳ )
حضرت فاطمہ الزھرا سلام اللہ علیھا کی وفات پر ماتم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
اے بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کسے تعزےت پیش کروں۔ میں تو تیرے ساتھ بےٹھ کر مصائب برداشت کیا کرتا تھا اب مجھے بتا کہ میں تیرے جانے کے مصائب اور عزا ء کو کس کے سامنے بیان کروں اورپھر یہ اشعار کھے:
لکل اِجتماعٍ من خلیلینِ فرقة وکل الذي دون الفراق قلیلُ
واِن اِفتقادي فاطماً بعد اٴحمدٍ دلیل علیٰ اٴن لايَدومُ خلیلُ
دوستوں کے مابین جدائی ایک حتمی چیز ہے اگرچہ کم مدت کے لئے ہی ہو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد میرا سب کچھ فاطمہ تھی۔ حضرت فاطمہ کا چلا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ پوری کائنات میں کسی کا کوئی دوست ہمیشہ رھنے والا نہیں ہے۔( ۱۴ )
اپنے امام ،سردار ،مولا وآقا حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی سیرت نوےسی کا سلسلہ ، حضرت سید ة نساء العالمین فاطمہ الزھرا سلام اللہ علیھاکی ولادت باسعادت والے دن ےعنی ۲۰ جمادی الثانی ۱۴۱۸ ھجری بروز جمعرات اختتام کو پھنچا۔میں بارگاہ خدا وندی میں سائل بن کر عرض کرتا ہوں کہ پروردگارااپنے اس حقےر بندے کی یہ ناچیز کوشش اپنی بارگاہ میں قبول ومقبول فرما ۔ اور تو ہی بھترین مولا اور مدد گار ہے۔
والسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
مؤلف: شیخ جواہری
____________________
[۱] اعیان الشیعہ سید محسن امین ج ۱ص ۵۴۹۔
[۲] اعیان ا لشیعہ ج۱ ص ۵۵۰۔
[۳] ارشاد ج ۱ ص ۹۹۔
[۴] اعیان الشیعہ ج۱ ص۵۵۱۔
[۵] آئمتنا ۔علی دخیل ج ۱ ص ۸۳۔
[۶] تذکرہ ابن جوزی، ص ۱۰۲. ۱۰۳.
[۷] تذکرة الخواص ص ۱۵۲ ۔
[۸] ٓئمتنا، ج۱ ص ۸۳ ۔
[۹] تذکرہ خواص :ص۱۵۱۔
[۱۰] آئمتنا ج ۱ ص ۸۳ ۔
[۱۱] نھج البلاغہ ج ۶ ص ۵۵۔
[۱۲] تذکرہ الخواص ،ص۱۵۲۔
[۱۳] اعیان الشیعہ :ج۱ص۵۵۲۔
[۱۴] کشف الغمہ فی معرفتہ الائمہ ج ۱ ص ۵۰۱ ۔
فہرست
عرض مؤلف ۴
عرض مترجم ۱۰
مقدمہ ۱۱
سوال و جواب: ۱۳
دوسراسوال : ۱۷
محل ولادت ، امتیازات اورخصوصیات ۱۹
محل ولادت اور کرامات جلی ۱۹
امتیازات اور خصائص ۲۱
اسم گرامی : ۲۱
کنیت: ۲۲
لقب : ۲۲
نسب شریف: ۲۳
حلیہ: ۲۳
دوسری فصل ۲۵
سب سے پہلے مومن ۲۵
قرآن مجےد میں علی (ع) کے فضائل ۳۰
آپ اور آپ کے اہل بیت ہی طاہر و مطھر ہیں ۴۰
۱ ۔ ان پر ھرگز سب و شتم نہ کرنا۔ ۴۱
تیسری فصل ۵۲
آنحضرت(ص)کے فرامین اور اھلبیت (ع)کی عظمت ۵۲
حدیث ثقلین ۵۲
حدیث سفینہ ۵۵
حدیث باب حطہ۔ ۵۶
صادق و امین کی زبان سے وحی الٰھی کے نمونے ۶۱
مقدمہ: ۶۱
حدیث حدار ۶۳
حدیث الرایہ ۶۴
حدیث غدیر ۶۵
حدیث مواخاة : ۶۵
حدیث طائر : ۶۵
حدیث سد الابواب : ۶۶
حدیث ا لایات (سورہ براة کے متعلق ) ۶۷
حدیث طائر : ۷۳
چوتھی فصل ۸۱
صفات کمال ۸۱
۱ ۔علم ۸۱
مکارم اخلاق : ۸۴
علم تصوف : ۸۴
علم کلام : ۸۵
علم میراث: ۸۵
مسئلہ دینار: ۸۶
علم بلاغت اور علم بیان : ۸۶
۲ ۔شجاعت : ۹۰
۳ ۔قوت بازو: ۹۲
۴ ۔زھد وتقوی: ۹۵
۵ ۔عبادت اور پر ہےز گاری : ۹۸
۶ ۔ عدل : ۹۹
۷ ۔جہاد فی سبےل اللہ ۱۰۲
۷ ۔ حلم اور عفو: ۱۰۷
۹ ۔ جود و سخا وت: ۱۱۰
۱۰ ۔حضرت امیر(ع) کا لوگوں کو غیب کی خبر دینا : ۱۱۳
۱۱ ۔مضبوط رائے ، حسن تدبیر و سیاست : ۱۱۸
۱۲ ۔راسخ الایمان : ۱۲۲
۱۳ ۔تو اضع اور کرےمانہ افعال : ۱۲۵
۱۴ ۔ امیر المومنین اور خوف الھی : ۱۲۹
۱۵ ۔ طہارت اور عصمت مطلقہ : ۱۳۱
پانچویں فصل ۱۴۲
زندگی کے مختلف حالات میں ۱۴۲
رسول خدا(ص) کی آغوش میں آ پ کی تربیت : ۱۴۲
۱ ۔ عبادت : ۱۴۳
۲ ۔دعوت ذوالعشیرہ: ۱۴۴
۳ ۔شب ہجرت : ۱۴۴
۴ ۔ مواخات (رشتہ اخوت): ۱۴۵
۵ ۔ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہاکے ساتھ آپ کی شادی ۱۴۵
۶ ۔میدان جہاد میں آپ کے امتیازات : ۱۴۶
جنگ بدر : ۱۴۶
جنگ احد ۱۴۷
جنگ خندق ۱۴۷
جنگ وادی رمل ۱۴۸
جنگ بنی قرےضہ اور بنی مصطلق ‘ صلح حدےبیہ اورجنگ خیبر ۱۴۹
۷ ۔نفس رسول: ۱۵۰
۸ ۔ حدیث سد ابواب : ۱۵۱
۹ ۔سورہ برائت کی تبلیغ : ۱۵۲
۱۰ ۔آپ کی شان میں کثیر آیات کا نزول : ۱۵۲
۱۱ ۔آپ کے لئے سورج کا پلٹنا : ۱۵۳
۱۲ ۔حق اور علی ساتھ ساتھ: ۱۵۴
۱۳ ۔محبت علی: ۱۵۵
۱۴ ۔فضائل علی (ع): ۱۵۵
۱۵ ۔امیر المومنین: ۱۵۶
۱۶ ۔ غدیر خم : ۱۵۸
۱۷ ۔بت شکن : ۱۶۰
۱۸ ۔ قربت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ ۱۶۱
۱۹ ۔دعوی سلونی: ۱۶۲
چھٹی فصل ۱۶۷
رحلت پیغمبر (ص)کے بعد آپ پرہو نے والے ظلم ۱۶۷
حسد اور کینہ: ۱۶۷
رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک حصہ: ۱۶۷
مظلوم کائنات : ۱۶۹
وصیت رسول : ۱۶۹
پیراھن خلافت : ۱۷۰
مکالمہ حضرت عمر اور حضرت ابن عباس ۱۷۰
ایک اور گفتگو: ۱۷۱
احسا س ندامت : ۱۷۲
عمر اور ابن عباس کی گفتگو : ۱۷۲
حضرت عمر کا استدلال : ۱۷۳
اجنبی کا تعجب : ۱۷۳
سوال وجواب : ۱۷۴
حضرت عمر کا حسن سلوک !! ۱۷۵
حضرت عمر کی پریشانی: ۱۷۶
حضرت عمر اور حضرت ابن عباس کی ایک اور گفتگو ۱۷۸
بزرگوں کی باتیں : ۱۸۲
حضرت ابو بکر کی پر یشانی : ۱۸۳
قریش کا حقےقی مقصد : ۱۸۴
استدلال علی علیہ السلام : ۱۸۵
ساتویں فصل ۱۹۰
خلفاء کا مشکلات میں آپ(ع) کی طرف رجوع کرنا ۱۹۰
حضرت ابو بکر کی پریشانی ۱۹۰
حضرت ابو بکر اور شرابی ۱۹۱
منکرین زکات کے بارے میں مشورہ ۱۹۲
حضرت عمر کامجنون عورت پر حکم ۱۹۲
حضرت عمر اور شش ماہ بچے کی ماں ۱۹۳
حضرت عمر کے سامنے گنھگار عورت کا اقرار ۱۹۴
حضرت عمر کے سامنے بیوی کی شکایت ۱۹۵
حضرت عمر اور شرابی ۱۹۵
اقرار گناہ اور رجم ۱۹۶
لونڈی کی طلاق ۱۹۷
عدت میں نکاح ۱۹۷
عجمیوں کے خطوط اور حضرت عمر کی پریشانی ۱۹۸
حضرت عمر کے مولا ۲۰۰
میراث کی تقسیم ۲۰۰
حضرت عثمان اور چھ ماہ کے بچے کی ماں ۲۰۱
معاویہ کا اقرار ۲۰۲
آٹھویں فصل ۲۰۵
وفات پیغمبر(ص) کے بعد انحراف کے قطعی شواھد ۲۰۵
نص کے مقابلے میں اجتھاد ۲۰۵
دعوت ذ والعشیرہ ۲۰۵
حد یث منزلت ۲۰۶
حد یث غد یر ۲۰۶
۴ ۔حدیث ثقلین ۲۱۱
۵ ۔حد یث سفینہ ۲۱۱
۶ ۔حدیث امان ۲۱۲
۱ ۔آیت ولایت ۲۱۳
۲ ۔آیت تطھیر ۲۱۳
۳ ۔آیت مباھلہ ۲۱۳
۴ ۔آیت اکمال د ین اور اتمام نعمت ۲۱۴
۵ ۔آیت مود ت ۲۱۴
۲ ۔حضرت علی اور حضرت فاطمہ علیھاالسلام کے دروازے پر ھجوم ۲۱۶
فدک کا غصب کرنا ۲۱۹
۴ ۔نظریاتی اور اعتقادی بنیاد کو کھوکھلا کرنا ۲۲۲
خمس میں ذوی القربی کا حصہ ختم کرنا ۲۲۳
۶ ۔متعہ الحج کا ختم کرنا ۲۲۳
۷ ۔مولفہ قلوب کا حصہ ختم کرنا ۲۲۵
۸ ۔اذان واقامت سے حی علی خیر العمل کا نکالنا ۲۲۶
۹ ۔بیت المال کی تقسیم میں سیرت نبی(ص) سے انحراف ۲۲۷
۱۰ ۔حکم بن ابی العاص کو مدینہ واپس بلانا ۲۲۹
حکم بن ابی العاص قرآن کی نظر میں ۲۳۱
۱۱ ۔غلاموں پر بھروسہ ۲۳۴
۱ ۔ معاویہ بن ابو سفیان ۲۳۴
۲ ۔ولید بن عقبہ بن ابی معےط ۲۳۵
۳ ۔عبداللہ بن ابی سرح ۲۳۶
۴ ۔سعید بن عاص ۲۳۷
۵ ۔عبداللہ بن عامر بن کریز ۔ ۲۳۹
نویں فصل ۲۴۵
حضرت علی (ع) کاسیاسی دور، خلفاء سے تعلق، دین کی خدمت ۲۴۵
اور اتحاد بین المسلمین ۲۴۵
حضرت علی علیہ السلام کا سیاسی دور ۲۴۵
ابو سفیان کی منافقت ۲۴۶
فضل بن عباس کا انداز ۲۴۷
خلفاء کو نصیحتیں ۲۴۸
حضرت ابوبکر ۲۴۹
حضرت عمر ۲۴۹
تاریخ ھجری کا آغاز ۲۵۰
بیت المقدس کی فتح اور آپ کا مشورہ ۲۵۲
دور عثمان ۲۵۳
خلیفہ ثالث کے حق میں حضرت علی علیہ السلام کا رویّہ ۲۵۶
دسویں فصل ۲۶۰
حضرت علی (ع) اور خلافت ۲۶۰
عھد علی (ع)میں سیاسی اورمعاشرتی حالات ۲۶۴
۱ ۔ بعض اصحاب کی بےعت شکنی، ۲۶۵
۲ ۔سیاسی حیلوں اور کچلنے والی د شمنی کا ظھور، ۲۶۶
۳ ۔حضرت امیرالمؤمنین (ع)کی بےعت سے معاویہ کا انکار ۲۶۸
۴ ۔ حصول دنیا کےلئے کھلم کھلا دشمنی اور زمانہ جاھلیت کے رسم و رواج۔ ۲۷۱
گیارہو یں فصل ۲۷۸
اصلاح امت ۲۷۸
۱ ۔انداز عبادت ۲۷۸
۲ ۔عظمت خدا ۲۷۹
تو حےد و اصول علم ۲۸۰
لوگوں کواللہ نبی (ص)اور اھلبیت (ع)کی طرف رجوع کرنے کی تاکید ۲۸۲
۵ ۔اسلام اور شریعت کے اوصاف ۲۸۳
۶ ۔فرائض اسلام کی دعوت ۲۸۴
۷ ۔دنیا اور اس کی زینت سے دور رھنے پر تاکید ۲۸۵
۸ ۔ توکل خدا ۲۸۷
ظلم سے ممانعت ۲۸۷
۱۰ ۔ تقویٰ اور خوف خدا ۲۸۹
کلمات قصار‘ جلالت معنیٰ اور بھترین روش کا ایجاد کرنا ۲۹۰
لوگوں کوعمل صالح کی طرف رغبت دلانا ۲۹۰
موت کے بعدکا خوف وھراس ۲۹۱
علم اور علماء کی فضیلت ۔ ۲۹۱
غصب شدہ حق سے متعلق ۲۹۲
اللہ تعالی سے شباھت کی نفی ۲۹۳
قضاء و قدر ۲۹۳
حضرت حجت کے بارے میں بشارت ۲۹۸
حکمت اور موعظہ ۲۹۸
شناخت پروردگار ۳۰۰
خواہشات کی پیروی ۳۰۰
عظمت قرآن ۳۰۱
بارہو یں فصل ۳۰۵
حضرت علی (ع)کا عوام کے ساتھ طرز عمل ۳۰۵
حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی وصیت ۳۱۰
تیرہو یں فصل ۳۱۷
علی (ع) اور آپ کے عمال ۳۱۷
خراج وصول کرنے والے عاملوں کے نام حضرت کا خط ۳۱۷
حضرت کا خط زیاد بن ابیہ کے نام ۳۱۸
آپ کا خط مالک اشتر کے نام ۳۲۰
آپ کا خط عثمان بن حنےف کے نام ۳۲۶
چودھویں فصل ۳۲۹
تینوں جنگوں میں علی علیہ السلام کا کردار ۳۲۹
جنگ جمل: ۳۲۹
معاویہ کا خط زبیر بن عوام کے نام ۳۳۱
امیرالمومنین عبداللہ بن زبیرکی طرف معاویہ بن سفیان کا خط ۳۳۱
ایک خط جناب عائشہ کے نام ۳۳۲
جنگ کے موقع پر حضرت کا خطبہ ۳۳۲
حوّ اب کے کتوں کا بھونکنا ۳۳۳
جنگ صفین ۳۳۹
معاویہ کی طرف ایک اور خط ۳۴۰
معاویہ کاخط عمر ابن عاص کے نام ۳۴۱
معاویہ کا شرحبیل کو خط ۳۴۲
معاویہ کا جواب ۳۴۳
حضرت علی (علیہ السلام) کا معاویہ کو جواب ۳۴۳
معاویہ اور جرےر کی گفتگو اور حضرت کا خط ۳۴۵
معاویہ کاجواب : ۳۵۰
۳ ۔جنگ نھروان ۳۶۸
پندرہو یں فصل ۳۸۹
حضرت علی کے متعلق دانشمندوں کے اقوال ۳۸۹
سولھویں فصل ۴۰۲
حضرت علی علیہ السلام کے اشعار ۴۰۲