فروغِ ولایت(سیرت امیر المومنین علی علیہ السلام کا مکمل جائزہ)
گروہ بندی امیر المومنین(علیہ السلام)
مصنف آیت اللہ جعفر سبحانی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


نام کتاب: فروغِ ولایت

(سیرت امیر المومنین علی علیہ السلام کا مکمل جائزہ)

تالیف: آیة اللہ جعفر سبحانی

ترجمہ: سید حسین اختر رضوی اعظمی

تطبیق اورتصحیح : مسعود اختر رضوی اعظمی

نظر ثانی: سیدشجاعت حسین رضوی

پیشکش: معاونت فرہنگی ،مجمع جہانی اہل بیت،ادارۂ ترجمہ

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

طبع اول : ۱۴۲۹ھ ۲۰۰۸ ء

تعداد : ۳۰۰۰

مطبع : لیلا


قال رسول اﷲ :

''انی تارک فیکم الثقلین، کتاب اﷲ، وعترتی اهل بیتی ما ان تمسکتم بهما لن تضلّوا ابدا وانهما لن یفترقا حتّیٰ یردا علیّ الحوض'' ۔

حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں:(ایک) کتاب خدا اور (دوسری) میری عترت اہل بیت (علیہم السلام)، اگر تم انھیں اختیار کئے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے، یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں''۔

اس حدیث شریف کومتواتر اور اس سے مشابہ دوسری حدیثوں کو مختلف تعبیروں کے ساتھ شیعہ اور اہل سنت کے مختلف کتابوں میں ذکرکی گئی ہیں۔

(صحیح مسلم: ۱۲۲۷، سنن دارمی: ۴۳۲۲، مسند احمد: ج۳، ۱۴، ۱۷، ۲۶. ۳۶۶۴ و ۳۷۱. ۱۸۲۵اور ۱۸۹، مستدرک حاکم: ۱۰۹۳، ۱۴۸، ۵۳۳. و غیرہ.)


پروردگار عالم کا ارشاد ہے:

( اِنَّمَا یُرِیدُ اللَّهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیْراً )

(سورۂ احزاب : آیت ۳۳)

شیعہ اور اہل سنت کی کتابوں میںرسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بہت سی احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ آیۂ مبارکہ پنجتن پاک کی شان میں نازل ہوئی ہے اور '' اہل بیت'' سے مرادیہی اصحاب کساء ہیں اور وہ : محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، علی ، فاطمہ، حسن و حسین علیہم السلام ہیں۔نمونہ کے طور پر ان کتابوں کی طرف رجوع کریں: مسند احمد بن حنبل(وفات ۲۴۱ھ): ج۱، ص۳۳۱،ج۴،ص۱۰۷، ج۶،ص۲۹۲ و ۴؛ صحیح مسلم (وفات۲۶۱ ھ) ج۷،ص۱۳۰؛ سنن ترمذی (وفات ۲۷۹ھ ):ج۵،ص۳۶۱ و...؛ الذریة الطاہرة النبویة دولابی (وفات: ۳۱۰ ھ ص۱۰۸؛ السنن الکبریٰ نسائی(وفات ۳۰۳ ھ ): ج۵ ،ص۱۰۸ و ۱۱۳؛ المستدرک علی الصحیحین حاکم نیشاپوری(وفات: ۴۰۵ ھ): ج۲، ص ۴۱۶، ج۳،ص۱۳۳و ۱۴۷ و ۱۱۳؛ البرہان زرکشی(وفات ۷۹۴ ھ ) ص۱۹۷؛ فتح الباری شرح صحیح البخاری ابن حجر عسقلانی(وفات ۸۵۲ ھ):ج۷،ص۱۰۴؛ اصول الکافی کلینی(وفات ۳۲۸ ھ ): ج۱،ص ۲۸۷ ؛ الامامة و التبصرة ابن بابویہ (وفات ۳۲۹ ھ): ص۴۷، ح۲۹؛ دعائم الاسلام مغربی(وفات ۳۶۳ ھ):ص۳۵ و ۳۷؛ الخصال شیخ صدوق(وفات ۳۸۱ ھ):ص۴۰۳ و ۵۵۰؛ الامالی شیخ طوسی(وفات ۴۶۰ ھ):ح ۴۳۸،۴۸۲ و ۷۸۳ نیز مندرجہ ذیل کتابوں میں اس آیت کی تفسیر کی طر ف مراجعہ کریں: جامع البیان طبری(وفات۳۱۰ھ) ؛ احکام القرآن جصاص(وفات ۳۷۰ ھ )؛ اسباب النزول واحدی(وفات ۴۶۸ ھ)؛ زاد المسیرابن جوزی(وفات۵۹۷ ھ)؛ الجامع لاحکام القرآن قرطبی(وفات ۶۷۱ ھ)؛ تفسیر ابن کثیر (وفات ۷۷۴ ھ)؛ تفسیر ثعالبی (وفات۸۲۵ ھ)؛ الدر المنثور سیوطی(وفات ۹۱۱ ھ)؛ فتح القدیر شوکانی(وفات ۱۲۵۰ ھ)؛ تفسیر عیاشی(وفات ۳۲۰ ھ)؛ تفسیر قمی(وفات:۳۲۹ ھ)؛ تفسیر فرات کوفی (وفات ۳۵۲ ھ) آیۂ اولوا الامر کے ذیل میں؛ مجمع البیان طبرسی(وفات ۵۶۰ ھ)ان کے علاوہ اور بھی بہت سی دوسری کتابیں ہیں۔


بسم الله الرحمٰن الرحیم

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے منھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کر لیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پر نور ہو جاتے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا ،دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و مؤسس سرور کائنات حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمئہ حق و حقیقت سے سیراب کر دیا ،آپ کے تمام الہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا ،اس لئے ۲۳ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑ گئیں ،وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ ،ولولہ اورشعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھو دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک چوتھائی صدی سے کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کر لیا۔

اگرچہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت (ع) اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے ،وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہو کر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کر دئی گئی تھی ،پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیرمکتب اہل بیت (ع) نے اپنا چشمئہ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنہوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشت پناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہرقسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے ،خاص طور پر عصر حاضر میں


اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام وقرآن اور مکتب اہل بیت ٪ کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں ،دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت و اقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین و بے تاب ہیں ،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھا کر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا ،وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت (ع) کونسل)مجمع جہانی اہل بیت (ع) نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت (ع) و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہو سکے ،ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت٪ عصمت وطہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدوخال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن ،انانیت کے شکار ،سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن ونجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے لئے استقبال کے لئے تیار کیا جا سکتا ہے ۔

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کومؤلفین ومترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں ،زیر نظر کتاب ،مکتب اہل بیت (ع) کی ترویج و اشاعت کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ، آیةاللہ جعفر سبحانی دام ظلہ کی گرانقدر کتاب فروغ ولایت کو فاضل جلیل مولانا سید حسین اختر رضوی اعظمی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنہوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے ،خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت ،مجمع جہانی اہل بیت (ع)


بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم

مقدمہ

انسانی معاشرہ، تحقیق وجستجو کرنے والوں کی نظر میں ایک ایسے دریا کے مانند ہے جو خاموش اور بغیرآواز کے ہے اور زمانہ گزرنے کی وجہ سے اس کے بعض حصّے خشک ہوگئے ہیں اور اب جبکہ بہت زیادہ عرصہ گزر گیاہے تو ممکن ہے نابود وختم ہوجائے جس چیز نے اس کوخاموش اور بغیر آواز کا دریا باقی رکھا ہے وہ صرف ہوا کے تند اور تیز جھونکے اور تند وضعیف طوفان ہیں طوفان اورہوا کے جھونکے اٹھتے ہیں اور موج بنا کر کشتیوں کی قسمت وتقدیریں معین کرتے ہیں اور اس میں سے بعض موجیں ایسی بھی ہیں جو کشتی کو غرقاب کرکے لوگوں کو موت کی وادی تک پہونچا دیتی ہیں اور بعض موجیں ایسی ہیں جو نجات اور زندگی عطا کرتی ہیں ۔

جی ہاں، عظیم تاریخی شخصیتیں انسانی معاشرے کے لئے وہی بہترین موجیں ہیں جو کبھی کبھی لوگوں کو ہلاکت وبدبختی میں گرفتار کردیتی ہیں اور کبھی کبھی زندگی وسعادت کے لئے ہمیشہ راہنمائی کرتی ہیں ، حقیقتاً خدا وندعالم کی طرف سے معین کئے ہوئے الٰہی نمائندے اور پیغمبر اور پاک وپاکیزہ راہنما وہی بہترین موجیں ہیں جو اپنی بے مثال موج ہدایت کے ذریعے معاشرہ کی کشتی کو اپنی عاقلانہ اورمنطقی تربیت اور لوگوں کو آخرت کی طرف رغبت دلانے یا نجات تک پہونچانے اور ہمیشہ عمدہ زندگی کی طرف راہنمائی کرنے کے لئے انسانی اور الٰہی قوانین کی طرف راغب کرتی ہیں ۔

یہ صاحبان عظمت وشرافت برائیوں اور پلیدگیوں سے خدا کی دی ہوئی طاقت و ہدایت کے ذریعہ ہمیشہ جنگ کرتے رہے اور انسانی معاشرے کو عزت وکرامت جیسی نعمتوں سے نوازتے رہے تاریخ شاہد ہے کہ جہاں پر بھی وحی کا نور چمکا ہے وہاں کے افراد کی فکریں اور عقلیں کھل گئیں ہیں اور انسانیت اور معاشرے میں ترقی کا سبب بنا ہے ۔


پیغمبر اسلام (ص) ایک نور تھے جو انسانوں کے تاریک قلب ودماغ میں چمکے اور اس زمانے کے بدبخت وخبیث معاشرے کو انسانی فرشتوں سے روشناس کرایا اور تہذیب وتمدن کا ایسا تحفہ پیش کیا جو آج تک تمام انسانی قوانین میں سب سے عمدہ اور قیمتی ہے اور ہر شخص اس بات کی تصدیق کرتاہے، اوراگر صرف اور صرف تمام مسلمان اس راستے پرچلتے جو پیغمبر نے اسلامی معاشرے کے لئے معین کیا تھا اور اختلاف وتفرقہ ، تعصب اور خود غرضی سے پرہیز کرتے تو یقین کامل ہے کہ چودہ سو سال گذرجانے کے بعد آج بھی اس تہذیب وتمدن کے مبارک درخت سے بہترین بہترین میوے تناول کرتے ، اور ایسی ظلم و ستم سے دنیا میں اپنی عظمت وبزرگی کے محافظ ہوتے لیکن افسوس اور ہزار افسوس کہ پیغمبر ختمی مرتبتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دردناک رحلت کے بعد جنگ وجدال، خود غرضی اور مقام طلبی نے بعض مسلمانوں پر قبضہ جمالیا تھا جس کی وجہ سے اسلامی اور الٰہی راستے میں زبردست اور خطرناک انحراف پیدا ہوگیا اور اسلام کے سیدھے راستے کو بہت زیادہ نقصان پہونچایا۔

حقیقتاً ، معاشرہ اُن دنوںکس چیز سے راضی نہ تھا ؟ اور کس وجہ سے لوگ ناشکری اور سرکشی اختیار کئے ہوئے تھے؟

جی ہاں ، ان لوگوں کی ناشکری اور ناراضگی ایسے امام کی مخالفت کی وجہ سے تھی کہ جنہیں پیغمبر اسلام (ص) نے مختلف طریقوں اور زاویوں اور مناسبتوں سے پہچنوایا تھا اور نتیجہ یہ ہوا کہ درد ناک اور غم انگیز مخالفتیں اور ناشکری جو تمام مومنوں، پرہیز گاروں ، عالموں ، دانشمندوں ، سیاستدانوں اور فکر وآگہی رکھنے والوں خلاصہ یہ کہ پیغمبر اسلام (ص) کے بعد سب سے بزرگ الٰہی نمائندے نے ۲۵ سال تک گوشہ نشینی اختیار کرلیا اور تنہا آپ ہی نے ان دنوں اسلامی معاشرے کو منتشر ہونے سے بچایا اور یہ بات یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس زمانے کو لوگوں نے نہ یہ کہ صرف علی ـ کو نہیں پہچانا بلکہ اس امام برحق وعظیم الشان کے فضائل وکمالات کو ذرہ برابر بھی درک نہیں کیا۔


لیکن اس ۲۵ سال کی گوشہ نشینی کے بعد جسے حضرت نے یوں تعبیر کیا ہے کہ جیسے میری آنکھ میں کانٹا اور گلے میں ہڈی ہو ، جس وقت اسلامی معاشرہ پیغمبر اسلام (ص) کے بتائے ہوئے سیدھے راستے سے بالکل منحرف ہوگیا اور مسلمانوں نے چاہا کہ پھر سے اسی راستے کو اپنائیں تو حقیقی رہنما اور عظیم وبزرگ الٰہی شخصیت اور اپنے بڑے مربی کو تلاش کرنے لگے ، تاکہ وہ معاشرے کو صحیح راستے پر لائیں اور جس طرح سے پیغمبر (ص)چاہتے تھے اسی طرح عدل وانصاف سے آراستہ حکومت قائم کریں، اور ان لوگوں نے اس مقدس مقصد کے لئے حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھوں پر بیعت کی اور آپ نے بھی خداوند عالم کے حکم کے مطابق '' جب عدل وانصاف کی حکومت قائم کرنے کے لئے زمینہ فراہم ہوجائے تو فوراً حکومت قائم کرو'' ان کی بیعت کو قبول کرلیا، لیکن معاشرے میں اس قدر اختلاف وانحراف پھیل چکا تھا کہ جس کے خاتمہ کے لئے سرکشوں اور مخالفوں سے جنگ وجدال کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔

یہی وجہ ہے کہ اس عظیم وکریم ، سخی اور بہادر اور کامل الایمان شخص کی خلافت کے زمانے میں صرف داخلی جنگیں ہوئیں، ناکثین (معاہدہ توڑنے والے) کے ساتھ جنگ شروع ہوگئی اور مارقین ( دین سے خارج ہونے والے) کو جڑ سے ختم کرنے کے بعد جنگ کا خاتمہ ہوا ،اور بالآخر کچھ اندرونی دشمنوں ( خوارج نہروان) کے بچ جانے کی وجہ سے تاریخ میں ہمیشہ باقی رہنے والے ظالم و بدبخت شخص کے ہاتھوں خدا کے گھر میں جام شہادت نوش فرمایا ، جس طرح سے خدا کے گھر میں آنکھیں کھولی تھیں ۔

اور اپنی بابرکت وباعظمت زندگی کو دو مقدس عبادت گاہوں ( کعبہ اور محراب کوفہ) کے درمیان بسر کیا۔


اس کتاب کے بارے میں :

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی پوری زندگی کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جاسکتاہے۔

۱۔ ولادت سے بعثت تک،

۲۔ بعثت سے ہجرت تک،

۳۔ ہجرت سے پیغمبر اسلام (ص) کی رحلت تک،

۴۔ رحلت پیغمبر (ص)سے خلافت تک،

۵۔ خلافت سے شہادت تک،

کتاب کی تقسیم بندی اسی طریقہ پر ہوگی ان پانچ حصوں میں امام علیہ السلام کی عام زندگی ، مستند اور آسان طریقے سے بیان ہوئی ہے ہماری یہ کوشش ہے کہ اس کتاب میں مبالغہ گوئی اور بے جا ظن وگمان سے دور رہیں اور شروع سے ہی یہی کوشش تھی کہ اصل منابع کی طرف رجوع کریں نہ اتنا طولانی فاصلہ ہو کہ آدمی تھک جائے اور نہ اتنا زیادہ ہی مختصر ہو کہ مقصد ختم ہوجائے بلکہ اس کے منابع ومآخذ کو اس مقدار تک بیان کردیںکہ پڑھنے والوں کی زبان پر شکوہ نہ آئے اور ان کے لئے یہ کافی ہو۔

جب مؤلف ''فروغ ابدیت '' ( پیغمبر اسلام (ص) کی مکمل سوانح حیات)کی طباعت ونشر سے فارغ ہوا تو اس وقت ارادہ کیا کہ شیعوں کے پہلے رہبر وپیشوا حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی قابل افتخار زندگی کو اسی کتاب کے طرزپر تحریر کروں اور خداوند عالم کا شکرکہ اس نے اس کام کے لئے توفیق بھی دیدی اور حضرت کی زندگی کا چار حصہ کتاب کی شکل میں منظر عام پر آگیا، لیکن انقلاب اسلامی کی سیاسی فضا میں چند مذہبوں کے ایجاد نے مؤلف کی فکر کو اس آفت کے دفاع کی طرف متوجہ کردیا خصوصاً مارکسیزم سے دفاع کی طرف ،اور ان ہی چیزوں نے مؤلف کو متقیوں اور پرہیز گاروں کے رہبر علی بن ابی طالب علیہ السلام کے بارے میں کچھ لکھنے سے روک دیا لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد دوبارہ خدانے توفیق دی کہ امام علیہ السلام کی زندگی کے پانچویں اور چھٹے حصے کو تحریر کروں جو آپ کی زندگی کا سب سے زیادہ حساس اور پر آشوب دور تھا اور اس طرح سے مؤلف نے امام علیہ السلام کی پوری زندگی کو تحلیلی اور مستند اور بہترین اور اس زمانے کے طریقوں کے اعتبار سے مکمل کرکے حضرت کی خدمت میں پیش کیا۔


دوباتیں :

یہاں پر دو باتوں کا تذکرہ ضروری ہے،

یہ کتاب، جیسا کہ بیان ہوا ہے امام علیہ السلام کی عام اور ذاتی زندگی کا مجموعہ ہے اور آپ کی زندگی کے دوسرے حصّے مثلاً علم وفضل، تقویٰ وپرہیز گاری، فضائل ومناقب ، خطبے اور تقریریں ، خطوط ونصیحتیں اور کلمات قصار (موعظہ) ، احتجاجات اور مناظرے ، آپ کے اصحاب اور ساتھی اور ان کے حالات ، معجزے اور کرامتیں ، فیصلے اور تعجب خیز قضاوتیں وغیرہ جیسی بحثوں کو اس کتاب میں ذکر نہیں کیا ہے کیونکہ یہ تمام عنوانات خود ایک الگ موضوع ہیں جس پر الگ الگ کتابیں درکار ہیں ۔

مؤلف کتاب '' فروغ ولایت '' اپنی تمام تر عاجزی کے ساتھ معترف ہے کہ وہ امام علیہ السلام کی نورانی زندگی کا ایک ادنیٰ سا پہلو بھی پیش کرنے سے قاصر رہا ہے لیکن اس بات پر مفتخر ہے کہ وہ حضرت یوسف کے خریداروں کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے اگرچہ اس مختصر سے بہانے ، کہ اس زمانے کے یوسف کی نظر رحمت کا بھی حقدار نہ ہوسکے ، لیکن کیا کرے :

ماکل مایتمنیٰ المرء یدرکه

تجری الریاح بما لا تشتهی السّفن

جعفر سبحانی

قم، مؤسئسہ امام صادق ـ

۱۵ رجب ۱۴۱۰ ھ

۲۲ بہمن ۱۳۶۸ ش


پہلا باب

بعثت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پہلے حضرت علی ـ کی زندگی

عظیم افراد اوران کے دوست اور دشمن

کائنات کی اہم اور بزرگ شخصیتوں کے سلسلے میں کئی طرح کے پہلو نظر آتے ہیں کبھی بالکل مختلف اور کبھی بالکل برعکس، کبھی ان کے دوست ایسے ہوتے ہیں کہ دوستی کے آگے وہ کچھ نہیں دیکھتے اور پروانہ کے مانند اپنی ساری زندگی ان پر نثار و قربان کردیتے ہیں اور اس دوستی کی وجہ سے بدترین مصیبت اور مشکلات، سختی اور شکنجے کو بھی برداشت کرتے ہیں اور اسی کے برعکس ان کے دشمن بھی ایسے ہوتے ہیں جو شیطان صفت، کینہ و بغض اور حسد میں ہمیشہ جلتے رہتے ہیں اور کبھی بھی عداوت و دشمنی سے باز نہیں آتے کہ صلح و آشتی کی راہ ہموار ہوسکے، ان افراد کی دوستی اوردشمنی کبھی کبھی اس قدر حد سے تجاوز کرجاتی ہے جس کی انتہا نہیں ہوتی اور وقت اور مقام کا بھی خیال نہیں رکھتی اور پھر بہت دنوں تک اور مختلف جگہوں پر یہ سلسلہ قائم رہتا ہے اور یہ عداوت و دشمنی انسان کے باعظمت اور محترم و باکمال ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

کائنات کی عظیم اور بزرگ شخصیتوں کے درمیان مولائے کائنات حضرت علی ـ کے علاوہ کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہے جس کے بارے میں نظرئیے قائم ہوئے ہوں۔

آپ سے محبت اور دشمنی کرنے میں بھی آپ جیسا کوئی نہیں ہے ، آپ کے چاہنے والوں کی بھی تعداد بہت ہے اور آپ کے دشمنوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، عظیم شخصیتوں اور انسانوں کے درمیان فقط جناب حضرت عیسیٰ مسیح ـکی طرح ہیں جو مولائے کائنات حضرت علی ـ کی طرح ہیں. کیونکہ حضرت عیسیٰـ سے دوستی اور دشمنی کرنے والے دو متضاد دھڑے نظر آتے ہیں ، اس طرح دونوں آسمانوی پیشواؤوں میں مشابہت پائی جاتی ہے ۔

حضرت عیسیٰـ دنیا کے تمام عیسائیوں کے گمان وخیال میں وہی خدا ئے مجسم ہیں جس نے اپنے بندوں اور چاہنے والوں کو اپنے باپ حضرت آدم سے ورثہ میں ملے ہوئے گناہوں سے نجات دلانے کے لئے زمین پر آئے اور آخرکار سولی پر چڑھا دیئے گئے وہ عامعیسائیوں کی نگاہ میں الوہیت کے علاوہ کوئی اور شخصیت کے مالک نہ تھے۔


ان کے مقابلے میں یہودی ان کے بالکل برخلاف ہیں انھوں نے حضرت پر الزام و اتہام لگایاہے اور جھوٹ کی نسبت دی ہے اور ایسی ناروا تہمتیں لگائیں کہ جس کا تذکرہ باعث شرم ہے اور آپ کی مقدس و پاکیزہ ماں کی طرف غلط نسبتیں دی ہیں۔

بالکل ایسے ہی اور بھی کچھ افراد ہیں جو مولائے کائنات حضرت علی ـ کے بارے میں متضاد فکر رکھتے ہیں ایک گروہ کم ظرف اور تنگ نظرہے اور دوسرا کچھ زیادہ ہی الفت و محبت کی وجہ سے خدا کے مطیع و فرماںبردار کو مقام الوہیت تک پہونچا دیا ہے اور جو کرامتیں اور معجزات حضرت کی پوری زندگی میں ظاہر ہوئے اس کی وجہ سے وہ خدا مان بیٹھے ہیں افسوس کہ اس گروہ نے اپنے کو اس مقدس نام ''علوی'' سے منسوب کر رکھا ہے اور آج بھی اس نظریہ پر چلنے والے اور ان کی پیروی کرنے والے افراد کثرت سے موجود ہیں. لیکن افسوس کا مقام ہے کہ شیعیت کی تبلیغ کرنے والوں نے آج تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا تاکہ حضرت علی ـ کے حقیقی چہرے کو ان کے سامنے ظاہر کریں اور ان لوگوں کی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کریں جس راستے پر خود حضرت علی ـ افتخار کر رہے ہیں اس گروہ کے مقابلے میں، ایک اور گروہ جس نے خلافت ظاہری کے ابتدائی دنوں سے ہی امام ـ سے بغض و عداوت اپنے دل میں بٹھا رکھی اور پھر کچھ مدت کے بعد خوارج اور نواصب نامی گروہ کے شکل میں ابھر کر سامنے آگئے، پیغمبر اسلام(ص) حضرت علی ـ


کے زمانہ حکومت میں ان دونوں گروہوں کے ظہور کے سلسلے میں بخوبی آگاہ تھے اسی وجہ سے آپ نے حضرت علی ـ سے ایک موقع پر فرمایا تھا:

''هَلَکَ فِیْکَ اِثْنٰانِ مُحِبّ غَالٍ وَ مُبْغِض قَالٍ'' (۱)

تمہارے ماننے والوں میں سے دوگروہ ہلاک ہوں گے ایک وہ گروہ جو تمہارے بارے میں غلو کرے گا اور دوسرا وہ گروہ جو تم سے دشمنی و عداوت رکھے گا۔

حضرت علی ـ اور حضرت عیسیٰ ـ کے درمیان ایک اور بھی مشابہت پائی جاتی ہے اوریہ وہ مقام ہے جہاں پران دو شخصیتوں کی ولادت ہوئی ہے۔

حضرت عیسیٰ ـ کی ولادت مقدس ،سرزمین بیت اللحم (بیت المقدس کے علاوہ ہے) پر ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ بنی اسرائیل کے تمام پیغمبروں سے آپ ایک جہت سے برتر وافضل ہیں، اور مولائے کائنات حضرت علی ـ کی ولادت مکہء مکرمہ کی مقدس سرزمین خانہ کعبہ کے اندر معجزاتی طور پر ہوئی، اور آپ نے خدا کے گھر (مسجد کوفہ) میں جام شہادت نوش کیا اور حسن مطلع کے مقابلے میں حسن ختام سے بہرہ مند ہوئے جو حقیقت میں بے مثال ہے اور کتنی عمدہ بات ہے کہ آپ کے متعلق کہا جائے ''نازم بہ حسن مطلع و حسن ختام او'' (یعنی ہم اس حسن مطلع اور حسن ختام پر افتخار کرتے ہیں اور نازاں ہیں)

______________________________

(۱) نہج البلاغہ، کلمات قصار نمبر ۱۷۷، فیک کے بجائے فیّ ہے۔


حضرت علی ـ کی شخصیت کے تین پہلو:

ماہرین نفسیات کی نظر میں ہر انسان کی شخصیت کے نکھار میں تین اہم عوامل ہوتے ہیں جن میں سے ہر ایک شخصیت سازی میں مؤثر ہوتا ہے گویا انسان کی روح اور صفات اور فکر کرنے کا طریقہ مثلث کی طرح ہے اور یہ تینوں پہلو ایک دوسرے سے ملنے کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں اور وہ تینوں عامل یہ ہیں۔

۱۔ وراثت ۔

۲۔ تعلیم و تربیت۔

۳۔ محیط زندگی۔

انسان کے اچھے اور برے صفات اور اس کی عظیم و پست خصلتیں ان تینوں عامل کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں اور رشد و نمو کرتی ہیں۔

وراثت کے عوامل کے سلسلے میں مختصروضاحت: ہماری اولادیں ہم سے صرف ظاہری صفات مثلاً شکل و صورت ہی بطور میراث نہیں لیتیں بلکہ ماں باپ کے باطنی صفات اور روحانی کیفیت بھی بطور میراث اولاد میں منتقل ہوتی ہیں۔

تعلیم و تربیت اور اور محیط زندگی، جو انسانی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہیں، بہترین تربیت جسے خداوند عالم نے انسان کے ہاتھوں میں دیا ہے یا مثالی تربیت جسے بچہ ماں باپ سے بطور میراث حاصل کرتا ہے اس کی بہت عظمت و منزلت ہے، ایک استاد بچے کی تقدیر یا اس کے درسی رجحان کو بدل سکتا ہے اور اسی طرح گناہوں سے آلودہ انسانوں کو پاک و پاکیزہ ،اور پاک و پاکیزہ افراد کو گناہوں کے دلدل میں ڈال سکتا ہے یہ دونوں صورتیں انسان کی شخصیت کو اتنا واضح و روشن کرتی ہیں کہ جس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے ۔البتہ یہ بات فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ ان تینوں امور پر انسان کاارادہ غالب ہے ۔


حضرت علی ـ کی خاندانی شخصیت :

حضرت علی ـ کی ولادت جناب ابوطالب کے صلب سے ہوئی... حضرت ابوطالب ـ بطحاء (مکہ) کے بزرگ اور بنی ہاشم کے رئیس تھے. آپ کا پورا وجود مہربانی و عطوفت، جانبازی اور فداکاری اور جود و سخا میں آئین توحیدکا آئینہ دار تھا .جس دن پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دادا حضرت عبد المطلب کا انتقال ہوا اس وقت آپ صرف آٹھ سال کے تھے اور اس دن سے ۴۲ سال تک آپ نے پیغمبر اسلام(ص) کی حفاظت، سفر ہو یا حضر، کی ذمہ داری اپنے ذمے لے لی تھی اور بے مثال عشق و محبت سے پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے مقدس ہدف، جو کہ وحدانیت پروردگار تھا ،میں جم کر فداکاری کی اور یہ حقیقت آپ کے بہت سے اشعار ''دیوان ابوطالب'' سے واضح ہوتی ہیں مثلاً:

''لِیَعْلَمُ خِیَارُ النَّاسِ اَنّ محمداً نَبِی کَمُوْسیٰ وَ الْمَسِیْحِ بنِ مَرْیَمِ'' (۱)

پاک و پاکیزہ اور نیک طینت والے یہ جان لیں کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، موسیٰ اور عیسیٰ ٪ کی طرح پیغمبر ہیںاور دوسری جگہ فرماتے ہیں:

''اَلَمْ تَعْلَمُوْا أَنَّا وَجَدْنَا مُحمداً رَسُولْاً کَمُوْسیٰ خُطَّ فِی اَوَّلِ الْکُتُبِ'' (۲)

کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم موسیٰ ـکی طرح آسمانی رہبر اور رسول ہیں، اور ان کی پیغمبری کا تذکرہ آسمانی کتابوں میں درج ہے۔ایک ایسی قربانی ، کہ جس میں تمام بنی ہاشم ایک سوکھی اور تپتی ہوئی غار میں قید ہوگئے اور یہ چیز مقصدسے عشق ومحبت کے علاوہ ممکن نہیں ہے کہ اتنا گہرا معنویت سے تعلق ہو، رشتہ کی الفت ومحبت اور تمام مادی عوامل اس طرح کی ایثار وقربانی کے روح انسان کے اندر پیدا نہیں کرسکتیں۔حضرت ابو طالب کے ایمان کی دلیل اپنے بھتیجے کے آئین وقوانین پر اس قدر زیادہ ہے جس نےمحققین کی نظروں کواپنی طرف جذب کر لیا ہے مگر افسوس کہ ایک گروہ نے تعصب کی بنیاد پر ابوطالب پرشک کیااور دوسرے گروہ نے تو بہت ہی زیادہ جسارت کی ہے اور آپ کوغیرمومن تک کہہ ڈالاہے .حالا نکہ وہ دلیلیں جوحضرت ابو طالب کے لئے تاریخ وحدیث کی کتابوں میں موجود ہیں اگراس میں سے تھوڑا بہت کسی اور کے متعلق تحریر ہوتا تو اس کے ایمان واسلام کے متعلق ذرہ برابر بھی شک و تردیدنہ کرتے۔مگر انسان نہیں جانتا کہ اتنی دلیلوں کے باوجود بعض انسانوں کا دل روشن نہ ہوسکا (اور وہ گمراہی کے دلدل میں پھنسے ہیں )

________________________

(۱)،(۲) مجمع البیان، ج۴، ص۳۷۔

حضرت علی ـ کی ماں کی شخصیت :

آپ کی مادر گرامی فاطمہ بنت اسد،جناب ہاشم کی بیٹی ہیں .آپ وہ پہلی خاتون ہیں جو پیغمبر پر ایمان سے پہلے آئین ابراہیمی پر عمل پیرا ہوئیں وہ وہی پاکیزہ ومقدس خاتون ہیںجو دردزہ کی شدت کے وقت مسجداالحرام کی طرف آئیں اور دیوار کعبہ کے قریب جاکر کہا :

پروردگارا: ہم تجھ پر اورپیغمبروں پر اور آسما نی کتابوں پرجو تیری طرف سے نازل ہوئی ہیں اور اپنے جد ا براہیم کے آئین پر جنھوں نے اس گھر کو بنا یا ہے ایمان کامل رکھتی ہوں.

پرور دگارا: جس نے اس گھر کو تعمیر کیا اس کی عظمت اور اس مولود کے حق کا واسطہ جومیرے رحم میں ہے اس بچہ کی ولادت کو مجھ پر آسان کردے۔

ابھی کچھ دیر بھی نہ گزری تھی کہ فاطمہ بنت اسد معجزاتی طریقہ سے خدا کے گھر میں داخل ہوگئیں اور مولائے کائنات کی ولادت ہوئی۔(۱)

اس عظیم فضیلت کو مذہب شیعہ کے معتبرمحدثین اور مورخین اور علم انساب کے معتبر دانشوروںنے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے .اہلسنت کے اکثر دانشوروں نے اس حقیقت کو صراحت سے بیان کیاہے اور اس کو ایک بے مثال فضیلت کے نام سے تعبیر کیا ہے۔(۲)

حاکم نیشاپوری کہتے ہیں :

خا نہ کعبہ میں علی ـکی ولادت کی خبر حدیث تواترکے ذریعہ ہم تک پہنچی ہے ۔(۳)

______________________

(۱) کشف الغمہ ، ج۱ ص ۹۰

(۲)جیسے مروج الذہب، ج۲ ص۳۴۹،بشرح الشفاء ، ج۱ ص ۱۵۱

(۳) مستدرک حاکم ، ج۳ ص ۴۸۳


مشہور مفسرآلوسی بغدادی لکھتے ہیں :

کعبہ میں علی ـکی ولادت کی خبر دنیا کے تمام مذہبوں کے درمیان مشہور ومعروف ہے اور آج تک کسی کو بھی یہ فضیلت حاصل نہیں ہوئی ہے۔(۱)

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آغوش میں:

اگر امام علیہ السلام کی عمر کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے تو آپ کی زندگی کا ابتدائی دور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعثت سے پہلے کا دور ہوگا .اس وقت امام علیہ السلام کی عمر دس سال سے زیادہ نہیں تھی. کیونکہ جب علی علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو پیغمبر اسلام کی عمر۳۰ سال سے زیادہ نہ تھی .اور پیغمبر اسلام چالیس سال کی عمر میں رسالت کے لئے مبعوث ہوئے۔(۲)

امام علیہ السلام کی زندگی کے حساس ترین واقعات اسی دور میںرونما ہو ئے یعنی حضرت علی ـ کی شخصیت پیغمبر کے توسط سے ابھری، عمر کایہ حصہ ہر انسان کے لئے اس کی زندگی کا سب سے حساس اور کامیاب واہم حصہ ہوتاہے ایک بچے کی شخصیت اس عمر میں ایک سفید کاغذ کے مانند ہوتی ہے اور وہ ہر شکل کو قبول کرنے اور اس پر نقش ہونے کے لئے آمادہ ہوتاہے. اس کی عمر کا یہ حصہ پرورش کرنے والوںاور تربیت کرنے والوں کے لئے سنہرا موقع ہوتا ہے تا کہ بچے کی روح کو فضائل اخلاقی سے مزین کریں کہ جس کی ذمہ داری خدا نے ان کے ہاتھوں میں دی ہے تاکہ ان کی بہترین تربیت کریں اور اسے انسانی اور اخلاقی اصولوں سے روشناس کرائیں اور بہترین اور کامیاب زندگی گذارنے کا طورطریقہ اسے سکھائیں۔پیغمبر عظیم الشان نے اسی عظیم مقصد کے لئے حضرت علی علیہ السلام کی ولا دت کے بعد ان کی تربیت کی ذمہ داری خود لے رکھی تھی، جس وقت حضرت علی ـ کی والدہ نو مولود بچے کولے کر پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوئیںتوپیغمبر اسلام نے والہانہ عشق ومحبت کے ساتھ اس بچے کودیکھا اور کہا اے چچی علی کیجھولے کو میرے بستر کے قریب رکھ دیجیئے ،اس جہت سے امام علی علیہ السلام کی زندگی کا آ غاز

___________________________

(۱) شرح قصیدہ عبدالباقی آفندی ص ۱۵

(۲) بعض لوگوں نے مثلاابن خشاب نے اپنی کتاب موالید الائمہ میں علی ـ کی کل عمر ۶۵ سال اور بعثت پیغمبر سے پہلے ۱۲


سال لکھی ہے. تفصیل کے لئے کتاب کشف الغمہ تالیف مشہور مورخ علی بن عیسیٰ اربلی (متوفی ۶۹۳ھ) ص ۶۵ پر دیکھ سکتے ہیں۔

پیغمبر اکرم کے لطف خاص سے ہوا، پیغمبر صرف سوتے وقت حضرت علی ـ کے گہوارہ کو جھولا تے ہی نہیں تھے بلکہ آپ کے بدن کو دھوتے بھی تھے اور انھیں دودھ بھی پلاتے تھے ، اور جب علی علیہ السلام بیدار ہوتے تو خلوص والفت کے ساتھ ان سے بات کرتے تھے اور کبھی کبھی انھیں سینے سے لگا کر کہتے تھے ''یہ میرا بھائی ہے اور مستقبل میں میرا ولی وناصر اور میرا وصی اور میراداماد ہوگا''

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت علی کو اتنا عزیز رکھتے تھے کہ کبھی بھی ان سے جدا نہیں ہوتے تھے اور جب بھی مکہ سے باہر عبا دت خدا کے لئے جاتے تھے توحضرت علی علیہ السلام کو چھوٹے بھائی یا عزیز ترین فرزند کی طرح اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔(۱)

اس حفاظت و مراقبت کا مقصد یہ تھا کہ حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کا دوسرا پہلو جوکہ تربیت ہے آپ کے ذریعے ہو اور پیغمبر کے علاوہ کوئی شخص بھی ان کی تربیت میں شامل نہ ہو ۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام اپنے خطبے میں پیغمبر اسلام کی خدمات کو سراہتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

وَقَدْعَلِمْتُمْ مَوْضِعِیْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ ۖ بِالْقَرَا بَةِ الْقَرِ یْبَةِ وَالْمَنْزِلَةِ الْخَصِیْصَةِ وَضعْنِیْ فِیْ حجْرِهِ وَاَنَا وَلَدیَضُمُّنِي اِلَی صَدْرِهِ وَ یَکْنُفُنِي فِیْ فِرَاشِهِ وَ یَمَسَّنِیْ جَسَدَه وَ یُشِمُّنِي عَرْفَهُ وَ کَانَ یَمضُغُ الشَّیَٔ ثُمَّ یُلقمُنِیْهِ .(۲)

_________________________

(۱) کشف الغمہ، ج۱، ص ۹۰۔

(۲) نہج البلاغہ عبدہ، ج۲ ص ۱۸۲، خطبۂ قاصعۂ ۔


پیغمبر ا سلام حضرت علی علیہ السلام کو اپنے گھر لے گئے

جب خدا نے چاہا کہ اس کے دین کا عظیم ولی سردار انبیاء پیغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر میں پرورش پائے اور رسول اسلام کے زیر نظر اس کی تربیت ہو تو پیغمبر اسلام کو اس کی طرف متوجہ کیا ۔

اسلام کے مشہور مورخین لکھتے ہیں :مکہ میں سخت قحط پڑا ،پیغمبرکے چچا ابو طالب اپنے اہل و عیال کے ساتھ اخراجات کے متعلق بہت پریشان ہوئے،پیغمبر اکرم(ص) اپنے دوسرے چچا عباس جو ابو طالب سے زیادہ امیر اوردولتمندتھے، سے گفتگو کی اور دونوں کے درمیان یہ طے پا یا کہ ہر ایک حضرت ابو طالب کے لڑکوں میں سے ایک ایک کو اپنے گھر لے جائے تا کہ اس قحط کے زمانے میں ابو طالب کی پریشا نیوں میں کچھ کمی واقع ہوچنانچہ جناب عباس ، جعفر کو اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت علی ـ کو اپنے گھر لے گئے ۔(۱)

اب جبکہ حضرت علی ـ مکمل طور پر پیغمبر کے اختیار میں تھے حضرت علی ـنے انسانی اور اخلاقی فضیلتوں کے گلستان سے بہت زیادہ فائدہ اٹھا یا اور پیغمبر اسلام کی سر پرستی میں کمال کے بلندترین درجے پر فائز ہوئے، امام علیہ السلام نے اپنے خطبے میں اس زمانے اور پیغمبر کی تربیت کی طرف اشارہ کیا ہے آپ فرماتے ہیں :

''وَلَقَدْکُنْتُ اتَّبِعُهُ الْفَصِیْلُ اُمِّهِ یِرْفَعُ لِیْ کُلَّ یَوْمٍ مِنْ اَخْلاٰقِهِ عَلَماً وَ یَأْمُرُنِیْ بِالْاِقْتِدائِ بِهِ'' (۲)

میں اونٹ کے اس بچہ کی طرح جو اپنی ماں کی طرف جاتاہے ، پیغمبر کی طرف گیا،آپ روزانہ مجھے اپنے اخلاق حسنہ کا ایک پہلو سکھاتے تھے اور حکم دیتے کہ ان کی پیروی کروں۔

حضرت علی علیہ السلام غار حرا میں

پیغمبر اسلام (ص)رسالت پرمبعوث ہونے سے پہلے تک سال میں ایک مہینہ غار حرا میں عبادت میں مصروف رہتے تھے اور جیسے ہی مہینہ ختم ہوتاتھا آپ پہاڑ سے نیچے اترتے تھے اور سیدھے

______________________

(۱) سیرۂ ابن ہشام، ج۱ ص ۲۳۶ ۔

(۲) نہج البلاغہ عبدہ، ج۲ ص ۱۸۲۔


مسجدالحرام کی طرف جاتے تھے اور سات مرتبہ خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے پھراپنے گھرواپس آتے تھے ۔

یہاں پر سوال یہ ہے کہ جب پیغمبر اسلام حضرت علی ـ سے اس قدر محبت کر تے تھے تو کیا اس عجیب وغریب جگہ پر عبادت ودعا کے لئے حضرت علی ـ کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے یا انھیں اتنی مدت تک چھوڑ کر جاتے تھے ؟

تمام قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ جس دن سے پیغمبراسلام حضرت علی ـ کو اپنے گھرلے گئے اس دن سے ایک دن کے لئے بھی انھیں اپنے سے جدا نہیں کیا۔

مورخین لکھتے ہیں :حضرت علی ـ ہمیشہ پیغمبر کے ساتھ رہتے تھے اور جب بھی پیغمبرشہر سے باہر جاتے اور بیابان اور پہاڑ کی طرف جاتے تو حضرت علی ـ کو اپنے ساتھ لے جاتے۔(۱)

ابن ابی الحد یدکہتے ہیں :

حدیثوں سے پتہ چلتا ہے کہ جب جبرئیل پہلی مرتبہ پیغمبر اسلام پر نازل ہوئے اور انھیںرسالت کے عہدے پر فائز کیا اس وقت علی ـ پیغمبر (ص)کے ہمراہ تھے اوروہ دن انہی دنوں میں سے تھا جن دنوںپیغمبر اسلام غار حرا میں عبا دتوں کے لئے جایا کر تے تھے ۔

حضرت امیرالمٔومنین علیہ السلام اس سلسلے میں فرماتے ہیں :

وَلَقَدْکَانَ یُجَاوِزُ فِیْ کُلِّ سَنَةٍ بِحَرائِ فَأرَاهُ وَ لاٰیُرَاهُ غَیْرِیْ ...(۲)

''پیغمبر ہر سال غار حرا میں عبادت کے لئے جاتے تھے اور میرے علاوہ کسی نے انھیں نہیں دیکھا'' اس جملے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مولائے کائنات غار حرا میں پیغمبر اسلام کے ہمراہ ،رسالت کے بعدبھی تھے لیکن گذشتہ قرآئن سے مولائے کائنات کا پیغمبر اسلام کے ساتھ غار حرا میں ہونا غا لباً رسالت سے پہلے ہے اور خودیہ جملہ اس بات کی تائیدکرتا ہے کہ یہ واقعہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت سے پہلے کا ہے ۔

______________________

(۱)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۱۳ ص ۲۰۸

(۲) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۸۷ (قاصعہ)


حضرت علی علیہ السلام کی طہارت وپاکیزگی اورپیغمبر اسلام کے ہاتھوں ان کی پرورش کاہونا اس بات کا سبب بنا کہ اسی بچپن کے زمانے میں حساس دل ا و ر چشم بصیرت اور اپنی بہترین سماعتوں کے ذریعے ایسی چیزیں دیکھیں اور ایسی آوازیں سنیں کہ جن کا سننا یا دیکھنا عام آدمی کے لئے ممکن نہیں ہے ۔چنانچہ ا مام علیہ السلام خوداس سلسلے میں فرماتے ہیں :

''أَرْیَ نُوْرَ الْوَحْیِ وَ الَّرَسٰالَةِ وَ أَشُمُّ رِیْحَ النُّبُوَةِ'' (۱)

ہم نے بچپن کے زمانے میں غار حرا میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ وحی اور رسالت کے نور کو دیکھا جو پیغمبر پر چمک رہا تھااور پاک وپاکیزہ نبوت کی خوشبو سے اپنے مشام کومعطر کیا ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :امیرالمو منین (ع)نے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت سے پہلے نور رسالت اور وحی کے فرشتے کی آواز کو سنا تھا اس عظیم موقع پر جب کہ آپ پر وحی نا زل ہوئی. آپ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا : اگر میں خاتم الانبیاء نہ ہوتا تو تم میں پیغمبری کی تمام چیزیں بدرجہ اتم موجودتھیں اورتم میرے بعد پیغمبرہوتے لیکن تم میرے بعد میرے وصی اور وارث اور تمام وصیوں کے سردار اور متقیوں کے پیشوا ہو۔(۲)

امیرالمومنین علیہ السلام اس غیبی آواز کے متعلق جس کو آپ نے بچپن میں سنا تھا ارشاد فرماتے ہیں : جس وقت پیغمبر پر وحی نازل ہوئی اسی وقت میرے کانوں سے کسی کے نالہ وفریاد کی آواز ٹکرائی میں نے رسول خدا سے پوچھا یارسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یہ نالہ و فریاد کیسا ہے ؟آپ نے فرما یا: یہ شیطان کی نالہ وفریاد ہے اور اس کی علت یہ ہے کہ میری بعثت کے بعد زمین والوں کے درمیان جو اس کی اطا عت وپر ستش ہوتی اس سے یہ نا امید ہوگیا ہے پھر پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علی ـ کی طرف مخاطب ہوکر کہتے ہیں:

''اِنَّکَ تَسْمَعُ مَا اسْمَعُ وَتَریٰ مٰا اَرَیٰ ، أَلٰا أَنَّکَ لَسْتَ بِنَبِیٍ وَلٰکِنَّکَ وَزِیْر''

اے علی! جس چیز کو میں نے سنا اور دیکھا تم نے بھی اسے دیکھا اور سنا مگر یہ کہ تم پیغمبر نہیں ہو بلکہ تم میرے وزیر اور مدد گار ہو ۔

______________________

(۱) قبل اس کے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی طرف سے رسالت کے منصب پر فائز ہوں وحی اور غیبی آوازوں کو سنا جیسا کہ روایات میں ذکر ہے شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ، ج۱۳ ص ۱۹۷

(۲) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۱۳ ص ۳۱۰

دوسرا باب

بعثت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد اور ہجرت سے پہلے حضرت علی ـ کی زندگی

پہلی فصل :

پہلا مسلمان

حضرت علی ـ کی زندگی کا دوسرا دوربعثت کے بعد اور ہجرت سے پہلے کا ہے اس وقت آپ کی عمر ۱۳ سال سے زیادہ نہیں تھی حضرت علی ـ اس پوری مدت میں پیغمبر اسلام کے ہمراہ تھے اور تمام ذمہ داریوںکو تحمل کئے ہوئے تھے، ا س زما نے کی بہترین اور حساس ترین چیز ایک ایسی قابل افتخارشئی ہے جو امام کونصیب ہوئی اور پوری تاریخ میں یہ سعادت و افتخار مولائے کائنات کے علاوہ کسی کو نصیب نہ ہوا ۔آپ کی زندگی کا پہلا افتخار اس عمرمیں سب سے پہلے اسلام کاقبول کرنا ہے ، بلکہ بہترین لفظوں میں یوں کہا جائے کہ اپنی دیرینہ آرزویعنی اسلام کا اظہار اور اعلان کرنا تھا ۔(۱) اسلام کے قبول کرنے میں سبقت کرنا اور قوانین توحید کا ماننا ان امور میں سے ہے جس پر قرآن نے بھروسہ کیا ہے، اور جن لوگوں نے اسلام کے قبول کرنے میں سبقت کی ہے صریحاًان کا اعلان کیا ہے ''اور وہ لوگ خدا کی مرضی اور اس کی رحمت قبول کر نے میں بھی سبقت کرتے ہیں''۔(۲) قرآن کریم نے اسلام قبول کرنے میں سبقت کرنے والوں پر اس حد تک خاص توجہ دی ہے کہ وہ لوگ جوفتح مکہ سے بھی پہلے ایمان لائے اور اپنے جان ومال کو خداکی راہ میںقربان کیا ہے ، ان لوگوں پر جو فتح مکہ کی کامیابی کے بعد ایمان لائے ہیںاورجہاد کیا برتری اور فضیلت دی ہے۔(۳)

یہ بات واضح ہے کہ آ ٹھویں ہجری میں مکہ فتح ہواہے ا ور پیغمبر نے بعثت کے اٹھارہ سال بعد بت پرستو ں کے مضبوط قلعے اور حصار کو بے نقاب کر دیا ،فتح مکہ سے پہلے مسلمانوںکے ایمان کی فضیلت وبرتری کی وجہ یہ تھی کہ وہ لو گ اس زمانے میں ایمان لائے جب کہ اسلام کی حکومت شبہ جزیرہ پر نہیں پہونچی

______________________

(۱) اس بات کی وضاحت آخر میں ہوگی۔

(۲) خدا فرماتا ہے:''والسابقون السابقون اولئک المقربون'' سورۂ واقعہ، آیت ۱۰ و ۱۱۔

(۳) ''لایستوی منکم ...'' سورۂ حدید، آیت ۱۰۔

تھی ، اور ابھی بھی بت پرستوں کا مرکز ایک محکم قلعہ کی طرح باقی تھا اور مسلمانوں کی جان و مال کا بہت زیادہ خطرہ تھا، اگرچہ مسلمان، مکہ سے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت کی وجہ سے، اور گروہ اوس و خزرج اور وہ قبیلے جو مدینے کے آس پاس تھے ایک طاقتور گروہ سمجھے جاتے تھے اور بہت سی لڑائیوں میں کامیاب بھی ہوئے تھے لیکن خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے تھے۔

اس وقت جب کہ اسلام کا قبول کرنا اور جان و مال کا خرچ کرنا اہمیت رکھتا ہو، قطعی طور پر ابتدائی زمانے میں ایمان کا ظاہر کرنا اور قبول اسلام کا اعلان کرنا جب صرف قریش اور دشمنوں کی ہی طاقت و قوت تھی ایسے مقام پر اس کی اہمیت و فضیلت اور بڑھ جاتی ہے اس بنا پر مکہ میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کے درمیان اسلام قبول کرنے میں سبقت حاصل کرناایک ایسا افتخار ہے جس کے مقابلے میں کوئی فضیلت نہیں ہے۔عمر نے اپنی خلافت کے زمانے میں ایک دن خباب، جس نے اوا ئل اسلام میںبہت زیادہ زحمتیں برداشت کی تھیں ،سے پوچھا کہ مشرکین مکہ کا برتائو تمہارے ساتھ کیسا تھا ؟اس نے اپنے بدن سے پیراہن کو جدا کرکے اپنی جلی ہوئی پشت اور زخموں کے نشان خلیفہ کو دکھایا اور کہا .اکثر وبیشتر مجھے لوہے کی زرہ پہناکر گھنٹوں مکہ کے تیزاورجلانے والے سورج کے سامنے ڈال دیتے تھے اور کبھی کبھی آگ جلاتے تھے اور مجھے آگ پر لے جاکر بیٹھاتے تھے یہاں تک کہ آگ بجھ جا تی تھی۔(۱)

جی ہاں ۔مسلّم و عظیم فضیلت اور معنوی برتری ان افراد سے مخصوص ہے جن لوگوں نے اسلام کی راہ میں ہر طرح کے ظلم وستم کو برداشت اور صمیم قلب کے سا تھ اسے قبول کیا۔

علی ـ سے پہلے کسی نے اسلام قبول نہیں کیا

اکثر محدثین و مؤرخین بیان کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام دوشنبہ کو منصب رسالت پرفائز ہوئے اور اس کے دوسرے دن (سہ شنبہ )حضرت علی ـ ایمان لائے(۲) تمام لوگوں سے پہلے اسلام قبول کرنے میںحضرت علی ـ نے سبقت کی ،اور پیغمبرنے اس کی تصریح کرتے ہوئے صحابہ کے مجمع عام میں فرمایا:

______________________

(۱) اسد الغابہ، ج۲ ص ۹۹

(۲) ''بعث النبی یوم الاثنین و اسلم علی یوم الثلاثائ''، مستدرک حاکم، ج۲ ص۱۱۲، الاستیعاب، ج۳ ص ۳۲


قیامت کے دن سب سے پہلے جو حوض کوثر پرمجھ سے ملاقات کرے گا جس نے اسلام لانے میں تم سب پرسبقت حاصل کی ہے وہ علی ابن ابی طالب ـ ہے ۔(۱) پیغمبر اسلام (ص)، حضرت امیر المو منین اور بزرگان دین سے منقول حدیثیں اور روایتیں مولائے کائنات کے اسلام قبول کرنے میں سبقت سے متعلق اس قدر زیادہ ہیں کہ سب کو اس کتاب میں نقل کرنا ممکن نہیں ہے۔(۲)

اس سلسلے میں امام ـ کا صرف ایک قول اور ایک واقعہ پیش کررہے ہیں امیر المومنین ـ فرماتے ہیں :

اَنٰا عَبْدُاللّٰهِ وَاَخُورَسُوْلِ اللّٰهِ وَاَنٰا الصِّدِّیْقُ الْاَکْبَر لاٰیَقُوْلُهٰابَعْدِیْ اِلَّاکَاذِب مُفْتَرِی وَلَقَدْ صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰه قَبْلَ النَّاسِ بِسْبَعِ سِنِیْنَ وَاَنَا اَوَّلُ مَنْ صَلَّی مَعَه ۔(۳)

میں خدا کا بندہ، پیغمبر کابھائی اور صدیق اکبر ہوں .میرے بعد یہ دعوی صرف جھوٹا شخص ہی کرے گا ، تمام لوگوں سے سات سال پہلے میں نے رسول خدا کے ساتھ نماز پڑ ھی اور میں ہی وہ پہلا شخص ہوں جس نے رسول خدا کے ساتھ نماز پڑھی

ا مام علی ـایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:

اس وقت اسلام صرف پیغمبر اور خدیجہ کے گھر میں تھا اورمیں اس گھر کا تیسرا فرد تھا۔(۴)

ایک اور مقام پر امام ـ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

''اللُهَّم اِنِّی اَوَّلُ مَنْ اَنَابَ وَسَمِعَ وَأجاَبَ لَمْ یَسْبِقْنِیْ اِلاَّرَسُوْلُ اللّٰه ۖ بِالصَّلاَةِ'' (۵)

پر وردگارا ، میں پہلا وہ شخص ہوں جو تیری طرف آیا اور تیرے پیغام کو سنا اور تیرے پیغمبر کی دعوت پر

لبیک کہا اور مجھ سے پہلے پیغمبر کے علاوہ کسی نے نماز نہیں پڑھی۔

______________________

(۱) ''اولکم وارداً علی الحوض اولکم اسلاما علی بن ابیطالب'' ، مستدرک حاکم، ج۳، ص ۱۳۶

(۲) مرحوم علامہ امینی نے اس سلسلے کی تمام روایتوں اور حدیثوں کے متون اور مورخین کے اقوال کو الغدیر کی تیسری جلد ص ۱۹۱ سے ۲۱۳ پر نقل کیا ہے۔

(۳) تاریخ طبری، ج۲، ص ۲۱۳، سنن ابن ماجہ، ج۱، ص ۵۷ ۔

(۴) نہج البلاغہ عبدہ، خطبہ ۱۸۷۔

(۵) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۲۷

عفیف کندی کا بیان :

عفیف کندی کہتے ہیں :ایک دن میں کپڑااور عطر خریدنے کے لئے مکہ گیا اور مسجدالحرام میں عباس بن عبدالمطلب کے بغل میں جاکر بیٹھ گیا ،جب سورج اوج پر پہونچا تو اچانک میں نے دیکھا کہ ایک شخص آیا اور آسمان کی طرف دیکھا پھر کعبہ کی طرف رخ کرکے کھڑا ہوا، کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ایک نوجوان آیا اور اس کے داہنے طرف کھڑاہو گیا پھر ایک عورت آئی اور مسجد میں داخل ہوئی اور ان دونوں کے پیچھے آکر کھڑی ہوگئی پھر وہ تینوں نمازوعبادت میں مشغول ہوگئے ، میں اس منظر کو دیکھ کر بہت متعجب ہواکہ مکہ کے بت پرستوں سے ان لوگوں نے اپنے کو دور کر رکھا ہے اور مکہ کے خدائو ں کے علاوہ دوسرے خدا کی عبادت کررہے ہیں. میں حیرت میں تھا ، میں عباس کی طرف مخاطب ہوا اور ان سے کہا .''اَمرعَظِیم ''،عباس نے بھی اسی جملے کو دہرایا اور فرمایا .کیا تم ان تینوں کوپہچانتے ہو؟

میں نے کہا نہیں انہوں نے کہا سب سے پہلے جو مسجد میں داخل ہوا اور دونوں آدمیوں سے آگے کھڑا ہوا وہ میرا بھتیجا محمد بن عبداللہ ہے اور د وسراشخص جو مسجد میں داخل ہوا وہ میرا دوسرا بھتیجا علی ابن ابی طالب ہے اوروہ خاتون محمد کی بیوی ہے اور اس کا دعوی ہے کہ اس کے تمام قوانیں خدا وند عالم کی طرف سے اس پر نازل ہوئے ہیں ، اور اس وقت کائنات میں ان تینوں کے علاوہ کوئی بھی اس دین الہی کا پیرو نہیں ہے۔(۱) ممکن ہے یہاں پر سوال کیا جائے کہ اگر حضرت علی ـ پہلے وہ شخص ہیں جو بعثت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ان پر ایمان لائے تو بعثت سے پہلے حضرت علی ـ کی وضعیت کیا تھی؟.

اس سوال کا جواب بحث کے شروع میں بیان کیا گیا ہے جس سے واضح اور روشن ہوتاہے کہ یہاں پر ایمان سے مراد، اپنے دیرینہ ایمان کا اظہار کر نا ہے جو بعثت سے پہلے حضرت علی کے دل میں موجزن تھا،اور ایک لمحہ کے لئے بھی حضرت علی ـ سے دور نہ ہوا ، کیونکہ پیغمبر کی مسلسل تربیت ومراقبت کی وجہ سے حضرت علی ـ کے روح ودل کی گہرائیوں میں ایمان رچ بس گیا تھااور ان کا مکمل وجودایمان واخلاص سے مملو تھا ۔

______________________

(۱)تاریخ طبری ج۲ص۲۱۲۔کامل ابن اثیر ج۲ ص۲۲. استیعاب ج۳۔ص۳۳۰و...


ان دنوں جب کہ پیغمبر مقام رسالت پر فائز نہ ہوئے تھے ،حضرت علی ـ پر لازم تھا کہ رسول اسلام کے منصب رسالت پر فائز ہونے کے بعد پیغمبر سے اپنے رشتے کو اور مستحکم کرتے اور اپنے دیرینہ ایمان اور اقرار رسالت کو ظاہر اور اعلان کرتے، قرآن مجید میں ایمان و اسلام کا استعمال اپنے دیرینہ عقیدہ کے اظہار کے متعلق ہوا ہے .مثلاً خدا وند عالم نے جناب ابراہیم کو حکم دیا کہ ا سلام لائو جناب ا براہیم کہتے ہیں ،میں سارے جہان کے پروردگارپر ایمان لایا.

قرآن مجید نے پیغمبر کے جملے کو نقل کیا ہے، پیغمبر خود اپنے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:( وَاُمِرْتُ اَنْ اَسْلَمَ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ ) (مومن۶۶)اور مجھے تو یہ حکم ہوچکا ہے کہ اپنے بارے میں سارے جہان کے پالنے والے کا فر ماںبر دار بنوں ،حقیقتاًان موا رد اور ان سے مشابہت رکھنے والے تمام موارد میں اسلام سے مراد ، خدا کے سامنے اپنی سپردگی کا اظہار کرنا اور اپنے ایمان کوظاہر کرناہے ، جو انسان کے دل میں موجود تھا،اور اصلاً اسلام کے اظہار کا مطلب ایمان کا حاصل کرنا یا ایمان لانا نہیں ہے ،کیونکہ پیغمبر اسلام اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے بلکہ بعثت سے پہلے موحد اور خدا کی بارگاہ میں اپنے کو تسلیم کرنے والے تھے اس بنا بر ثابت ہے کہ ایمان کے دو معنی ہیں ،

۱۔اپنے باطنی ایمان کا اظہار کرنا جو پہلے سے ہی انسان کے قلب وروح میں موجود تھا، حضرت علی کا بعثت کے دوسرے دن ایمان لانے کا مقصد اور ہدف بھی یہی تھا اس کے علاوہ کچھ اور نہ تھا ۔

۲۔ایمان کا قبول کرنااور ابتدائی گروہ کااسلام لانا پیغمبر کے بہت سے صحابیوں اور دوستوں کا ایمان تھا (جو پہلے والے معنی کے بر عکس ہے )۔

اسحاق سے مامون کا مناظرہ :

مامون نے اپنی خلافت کے زمانے میں چاہے سیاسی مصلحت کی بنیاد پر یا اپنے عقید ے کی بنیاد پر،مولائے کائنات کی برتری کا اقرار کیا اور اپنے کو شیعہ ظاہر کیا ایک دن ایک علمی گروہ جس میں اس کے زمانے کے( ۴۰)چالیس دانشمند اور خود اسحاق بھی انھیں کے ہمراہ تھے ، کی طرف متوجہ ہوا اورکہا:

جس دن پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رسالت پر مبعوث ہوئے اس دن بہترین عمل کیا تھا؟۱

اسحاق نے جواب دیا ، خدا اور اس کے رسول کی رسالت پر ایمان لانا ۔


مامون نے دوبا رہ پوچھا ، کیا اسلام قبول کرنے میں اپنے حریفوں کے درمیان سبقت حاصل کر نا بہترین عمل نہ تھا ؟

اسحاق نے کہا ، کیوںنہیں ہم قرآن مجید میں پڑھتے ہیں .والسا بقون السا بقون اولیک المقربون،اور اس آیت میں سبقت سے مراد وہی اسلام قبول کرنے میں سبقت کرنا ہے

مامون نے پھرسوال کیا ، کیا علی ـ سے پہلے کسی نے اسلام قبول کرنے میں سبقت حاصل کی ہے ؟یا علی ـ وہ پہلے شخص ہیںجو پیغمبر پر ایمان لائے ہیں ؟

اسحاق نے جواب دیا ،علی ہی وہ ہیں جو سب سے پہلے پیغمبر پر ایمان لائے لیکن جس دن وہ ایمان لائے ، بچے تھے اور بچے کے اسلام کی کوئی اہمیت نہیں ہے لیکن ابو بکر اگر چہ وہ بعدمیں ایمان لائے اور جس دن خدا پرستوں کی صف میں کھڑے ہوئے وہ بالغ وعاقل تھے لہٰذا اس عمرمیں ان کا ایمان اور عقیدہ قابل قبول ہے.

مامون نے پوچھا ، علی کس طرح ایمان لائے ؟کیا پیغمبر نے انھیں اسلام کی دعوت دی یا خدا کی طرف سے ان پر الہام ہوا کہ وہ آئیںاورتوحید اور اسلام کو قبول کریں؟

یہ بات کہنا بالکل صحیح نہیں ہے کہ حضرت علی کا اسلام لانا خدا وند عالم کی طرف سے الہا م کی وجہ سے تھا، کیونکہ اگر ہم یہ فرض کر لیں تو اس کا لازمہ یہ ہوگا کہ علی کا ایمان پیغمبر کے ایمان سے زیادہ افضل ہو جائے گا اس کی دلیل یہ ہے کہ علی کا پیغمبر سے وابستہ ہونا جبرئیل کے توسط اور ان کی رہنمائی سے تھا نہ یہ کہ خدا کی طرف سے ان پر الہام ہوا تھا ۔

بہرحال اگر حضرت علی کا ایمان لانا پیغمبر کی دعوت کی وجہ سے تھا تو کیا پیغمبر نے خود ایمان کی دعوت دی تھی یا خدا کا حکم تھا ؟۔یہ کہنا بالکل صحیح نہیں ہوگا کہ پیغمبر خدا نے حضرت علی کوبغیرخدا کی اجازت کے اسلام کی دعوت دی تھی بلکہ ضروری ہے کہ یہ کہا جائے کہ پیغمبر اسلام نے حضرت علی کو اسلام کی دعوت ،خدا کے حکم سے دی تھی ۔


کیا خدا وند عالم اپنے پیغمبر کو حکم دے گا کہ وہ غیر مستعد(آمادہ ) بچے کو جس کا ایمان لانا اور نہ لانا برابرہو اسلام کی دعوت دے ؟(نہیں ) ۔بلکہ یہ ثابت ہے کہ امام ـ بچپن میں ہی شعوروادراک کی اس بلندی پر فائز تھے کہ ان کا ایمان بزرگوں کے ایمان کے برابر تھا۔(۱)

یہاں مناسب تھا کہ مامون اس کے متعلق دوسرا بھی جواب دیتا کیونکہ یہ جواب ان لوگوں کے لئے مناسب ہے جن کی معلومات بحث ولایت وامامت میں بہت زیادہ ہو اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اولیائے الہی کا کبھی بھی ایک عام آدمی سے مقابلہ نہیں کرناچاہئے اور نہ ان کے بچپن کے دورکو عام بچوں کے بچپن کی طرح سمجھنا چاہئے اور نہ ہی ان کے فہم وادراک کو عام بچوںکے فہم و ادراک کے برابرسمجھنا چاہیے ، پیغمبروں کے درمیان بعض ایسے بھی پیغمبرتھے جوبچپن میں ہی فہم وکمال اور حقایق کے درک کرنے میں منزل کمال پر پہونچے تھے ،اور اسی بچپن کے زمانے میں ان کے اندر یہ لیاقت موجود تھی کہ پروردگار عالم نے حکمت آمیز سخن اور بلند معارف الہیہ ان کو سکھایا، قرآن مجید میں جناب یحییٰ علیہ السلام کے متعلق بیان ہوا ہے :

( یَا یَحْییٰ خُذِالْکِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَیْنٰاه الْحُکْمَ صَبِیّاً ) (مریم۱۲) اے یحییٰ کتاب (توریت) مضبوتی کے ساتھ لو اور ہم نے انھیں بچپن ہی میں اپنی بارگاہ سے حکمت عطا کی جب کہ وہ بچے تھے۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس آیت میں حکمت سے مرادنبوت ہے اور بعض لوگوں کا احتمال یہ ہے کہ حکمت سے مراد معارف الہی ہے .بہر حال جو بھی مراد ہو لیکن آیت کے مفہوم سے واضح ہے کہ انبیاء اور اولیاء الہی ایک خاص استعداد اور فوق العادہ قا بلیت کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں ،اور ان کا بچپن دوسروں کے بچپن سے الگ ہوتا ہے ،

حضرت عیسیٰ ـ اپنی ولادت کے دن ہی خدا کے حکم سے لوگوں سے گفتگو کی اور کہا : بے شک میں خدا کا بندہ ہوں ،مجھ کو اُسی نے کتاب عطا فرمائی ہے اور مجھ کونبی بنایا۔(۲)

معصومین علیہم السلام کے حالات زندگی میں بھی ہم پڑھتے ہیں کہ ان لو گوںنے بچپن کے زمانے

______________________

(۱) عقد الفرید، ج۳، ص ۴۳. اسحاق کے بعد جاحظ نے کتاب العثمانیہ میں اشکال کیاہے اور ابوجعفر اسکافی نے کتاب نقض العثمانیہ میں اس اعتراض کا تفصیلی جواب دیاہے اور ان تمام بحثوں کو ابن ابی الحدید نے نہج البلاغہ کی شرح ج۱۳ ص ۲۱۸ سے ص ۲۹۵ پر لکھا ہے۔

(۲) سورۂ مریم، آیت ۳۰

میں عقلی ،فلسفی اور فقہی بحثوں کے مشکل سے مشکل مسئلوں کا جواب دیا ہے ۔(۱)

جی ہاں نیک لوگوں کے کاموں کو اپنے کاموں سے قیاس نہ کریں اور اپنے بچوں کے فہم و ادراک کو پیغمبروں اوراولیاء الہی کے بچپن کے زمانے سے قیاس نہ کریں۔(۲)

______________________

(۱) بطور مثال وہ مشکل سوالات جو ابوحنیفہ نے امام موسیٰ کاظم سے اور یحییٰ ابن اکثم نے امام جواد ـ سے کیے تھے. اور جوجوابات ان لوگوںنے سنا وہ آج بھی حدیث اور تاریخ کی کتابوںمیں محفوظ ہیں۔

(۲) امیر المومنین ـ فرماتے ہیں:لَایُقٰاسُ بِآلِ مُحَمَدٍ مِنْ هٰذِهِ الْاُمَّةِ اَحَد . اس امت کے کسی بھی فرد کو پیغمبر اسلام کے فرزندوں اور خاندان سے موازنہ نہ کرو۔ نہج البلاغہ، خطبہ دوم


دوسری فصل

حضرت علی ـ کے فضائل و کمالات بیان کرنے پر پابندی

تاریخ انسانیت میں بہت ہی کم شخصیتیں مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام جیسی ہوںگی جن کے دوست اور دشمن دونوںنے مل کر ان کے فضائل وکمالات کو چھپائے ہوں گے اس کے باو جود ان کے فضائل وکمالات سے عالم پُر ہے۔

دشمن نے ان سے عداوت ودشمنی کو اپنے دل میں بٹھا رکھا ، اور حسد وکینہ کی وجہ سے ان کے بلند وبا فضیلت مقامات اور کمالات کو لوگوںسے چھپایا ،اور دوست نے جوانھیںدل وجان سے چاہتااور محبت کرتا ہے وہ دشمنوں کے شکنجے اورجان کے خوف کی وجہ سے ان کے فضائل وکمالات کو چھپایا، ان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہ تھا کہ اپنے لبوں کو جنبش نہ دیں اور ان سے محبت والفت کا اظہار نہ کریں اور ان کے متعلق اصلاً گفتگو نہ کریں۔

خاندان بنی امیہ کے افرادہمیشہ اس بات پر کوشاں رہتے تھے کہ جس طرح سے بھی ممکن ہو علی ـ اوران کے خاندان کے فضائل کو مٹادیا جائے

بس اتنا کہناہی کافی تھا کہ یہ علی ـ کا چاہنے والا ہے بنی امیہ کے حکومتی سپاہیوں میں سے دو آادمی گواہی دیتے تھے کہ یہ علی ـ کا چاہنے وا لا ہے اور فوراً ہی اس کا نام حکو مت میں کام کرنے والوں کی فہرست سے حذف کر دیاجاتا تھا، اور بیت المال سے اس کا وظیفہ بند کر دیا جاتا تھا ، معاویہ اپنے گورنروں اورحاکموںکو خطاب کرتے ہوئے کہتاہے: اگر کسی شخص کے لئے معلوم ہو جائے کہ وہ علی ـ اور ان کے خاندان سے محبت رکھنے والاہے تو اس کا نام کام کرنے والوں کی فہرست سے خارج کر دو، اور اس کا وظیفہ ختم کردو اور اسے تمام سہو لتوں سے محروم کر دو ۔(۱)

پھر معاویہ اپنے دوسرے حکم نامہ میں سختی اور تاکید سے حکم دیتا ہے کہ: جوبھی علی ـ اور ان کے

______________________

(۱)اُنظروا ا لی من قامت علیه البینته انه یحب علیاً واهل بیته فا محو ه من الد یوان واسقطو اعطائه ورزقه،


خاندان سے دوستی کا دم بھرتا ہے اس کے ناک اور کان کو کاٹ ڈالو اور ان کے گھر کو ویران کردو۔(۱)

اس فرمان کے نتیجے میں،عراق کی عوام خصوصاً اہل کوفہ اس قدر ڈرے اور سہمے کہ شیعوں میں سے کوئی بھی ایک شخص معاویہ کے جاسوسوں کی وجہ سے اپنے راز کو اپنے دوستوں تک سے بیان نہیں کر سکتا تھا مگر یہ کہ پہلے قسم لے لیتا تھا کہ اس کے راز کو فاش نہ کرنا ۔(۲)

اسکافی اپنی کتاب نقض عثمانیہ میں لکھتے ہیں :

بنی امیہ اور بنی عباس کی حکومت ،مولائے کائنات کے فضل وکمالات کے متعلق بہت زیادہ حساس تھی اور ان کے فضائل کو روکنے اورمشہورنہ ہونے کے لئے اس نے اپنے فقھا ء ومحدثین اور قاضیوں کو اپنے پاس بلایا اور بہت سختی سے منع کیا کہ اپنی اپنی کتابوں میں علی ـ کے فضائل و کمالات کو نقل نہ کریں ،اس وجہ سے بہت سے محدثین مجبور تھے کہ امام کے فضائل وکمالات کو اشارے اور کنایہ کے طور پر نقل کریں اور یہ کہیں کہ قریش کے فلاں آدمی نے ایسا کیا ہے۔

معاویہ نے تیسری مر تبہ سرزمین اسلامی پر پھیلے ہوئے اپنے سیاسی نمائندوںکو خط لکھا کہ علی کے شیعوں کی گواہی کسی بھی مسئلے میں قبول نہ کریں ۔لیکن اس کا یہ حکم بہت زیادہ مفید ثابت نہ ہوا جو علی و خاندان کے فضائل کو منتشر ہونے سے روک پاتا ، اس وجہ سے معاویہ نے چوتھی مرتبہ اپنے گورنر کو لکھاکہ جو لوگ عثمان کے فضائل ومناقب کو نقل کریں ان کا احترام کرو اور ان کا نام اور پتہ میرے پاس روانہ کرو تا کہ ان کی عظیم خدمات کا صلہ انھیںدیا جا سکے ۔یہ ایک ایسی خوشخبری تھی جو اس بات کاسبب بنی کہ تمام شہروں میں عثمان کے جعلی فضائل ومناقب گڑھے جانے لگے اور یہ فضائل نقل کرنے والے عثمان کے فضائل کے متعلق حدیثیں لکھ لکھ کر مالدار بننے لگے ،اور یہ سلسلہ بڑی تیزی سے چلتا رہا ۔ یہاں تک کہ خود معا ویہ اس بے اساس اور جھوٹے فضائل کے مشہور ہونے کی وجہ سے بہت ناراض ہوا اور اس مرتبہ حکم دیا کہ عثمان کے فضائل بیان نہ کیئے جائیں ۔ اور خلیفہ اول اور دوم اور دوسرے صحابہ کے فضائل بیان کئے جائیں اور اگر کوئی محدث ابو تراب کی

______________________

(۱)من اتهمتموه بموالات هولاء فنکلوابه واهد مواداره

(۲)شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحد ید ج۱۱ ۔ص۴۵۔۴۴


فضیلت میں کوئی حدیث نقل کرے تو فوراً اسی سے مشابہ ایک فضیلت پیغمبر کے دوسرے صحابیوں کے بارے میں گڑھ دیا جائے اور اسے لوگوں کے درمیان بیان کیا جائے کیونکہ یہ کام شیعوں کی دلیلوں کوبے اثر کرنے کیلئے بہت مؤثر ہے(۱)

مروان بن حکم ان لوگوں میں سے تھا جس کا یہ کہنا تھا کہ علی نے عثمان کا جو د فاع کیا تھاایسا دفاع کسی نے نہیں کیا ۔اس کے باوجود ہمیشہ امام ـ پر لعنت و ملامت کرتا تھا جب اس پر اعتراض کیا گیاکہ تم علی کے بارے میں جب ایسا عقیدہ رکھتے ہو تو پھر کیوں انھیں برا بھلا کہتے ہوتو اس نے جواب دیا : میری حکومت صرف علی کو برا بھلا کہنے اور ان پر لعنت کر نے کی وجہ سے ہی محکم اور مستحکم ہوگی ، اور ان میں سے بعض لوگ ایسے بھی تھے جو حضرت علی کی پاکیزگی اور طہارت اور عظمت و جلا لت کے کے قائل تھے لیکن اپنے مقام ومنصب کی بقا کے لئے حضرت علی اور ان کے بچوں کو برا بھلا کہتے تھے ۔

عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں :

میرے باپ مدینہ کے حاکم اور مشہور خطیب اور بہت بہادر تھے، اور نما زجمعہ کا خطبہ بہت ہی فصیح وبلیغ انداز سے دیتے تھے، لیکن حکومت معاویہ کے فرمان کی وجہ سے مجبور تھے کہ خطبہء جمعہ کے درمیان علی ـ اور ان کے خاندان پر لعنت کریں ، لیکن جب گفتگو اس مرحلے تک پہونچی تو اچانک ان کی زبان لکنت کرنے لگتی اور ان کے چہرہ کارنگ تبدیل ہونے لگتا اور خطبہ سے فصاحت وبلاغت ختم ہو جاتی تھی. میں نے اپنے باپ سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا جو کچھ میں علی ـ کے بارے میں جانتا ہوں اگر دوسرے بھی وہی جانتے تو کوئی بھی میری پیروی نہیں کرتا اور میں علی ـکے تمام فضائل وکمالات اور معرفت کے بعد بھی انھیںبرابھلا کہتا ہوں ،کیو نکہ آل مروان کی حکومت کو بچانے کیلئے میں مجبور ہوں کہ ایسا کروں(۲) بنی امیہ کی اولاد کادل علی کی دشمنی سے لبریز تھا، جب کچھ حقیقت پسند افراد نے معاویہ کو نصیحت کی کہ اس کام سے باز آجائے تو معاویہ نے کہا کہ میں اس مشن کو اس حد تک جاری رکھوں گا کہ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے یہ فکر لئے ہوئے بڑے ہو جائیں او رہمارے بزرگ اسی حالت میں بوڑھے ہو جا ئیں۔

______________________

(۱)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳۔ص۱۵

(۲)شرح نہج البلاغہ ج۱۳۔ص۲۲۱۔


حضرت علی ـ کو ساٹھ سال تک منبروں ، نشستوںمیں وعظ و نصیحت اور خطباء کے ذریعے،اور درس وتدریس کے ذریعے، خطباء اور محدثین کے درمیان معاویہ کے حکم سے برا بھلا کہا جاتا رہا اور یہ سلسلہ اس قدر مفید و مؤثر ہوا کہ کہتے ہیں کہ ایک دن حجاج نے کسی مرد سے غصہ میں بات کی اور وہ شخص قبیلہ ''بنی ازد'' کا رہنے والا تھا،اس نے حجاج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اے امیر! مجھ سے اس انداز سے بات نہ کرو، ہم بافضیلت لوگوں میں سے ہیں. حجاج نے اس کے فضائل کے متعلق سوال کیا اس نے جواب دیا کہ ہمارے فضائل میں سے ایک فضیلت یہ ہے کہ اگر کوئی چاہتا ہے کہ ہم سے تعلقات بڑھائے تو سب سے پہلے ہم اس سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ ابوتراب کو دوست رکھتا ہے یا نہیں ؟!اگر وہ تھوڑا بہت بھی ان کا چاہنے والا ہوتا ہے تو ہرگز ہم اس سے تعلقات و رابطہ برقرار نہیں کرتے علی ـ اور ان کے خاندان سے ہماری دشمنی اس حد تک ہے کہ ہمارے قبیلے میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں ملے گا کہ جس کا نام حسن یا حسین ہو اور کوئی بھی لڑکی ایسی نہیں ملے گی جس کا نام فاطمہ ہو. اگر ہمارے قبیلے کے کسی بھی شخص سے یہ کہا جائے کہ علی ـسے کنارہ کشی اختیار کرو تو فوراً اس کے بچوں سے بھی دوری اختیار کرلیتا ہے۔(۱)

خاندان بنی امیہ کے لوگوں نے مولائے کائنات حضرت علی کے فضائل کو پوشیدہ رکھااور ان کے مناقب سے انکار کیا اور اتنا برا بھلا کہا کہ بزرگوں اور جوانوں کے دلوں میں رسوخ کر گیااور لوگ حضرت علی کو براکہنا ایک مستحب عمل سمجھنے لگے .اور بعض لوگوں نے اسے اپنا اخلاقی فریضہ سمجھا. جب عمر بن عبد العزیز نے چاہاکہاسلامی معاشرے کے دامن پر لگے اس بد نما داغ کو پاک کرے، تو بنی امیہ کی روٹیوں پر پلنے والے کچھ لوگوںنے نالہ و فریاد بلند کرنا شروع کردیاکہ خلیفہ ،اسلامی سنت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

ان تمام چیزوں کے باوجود اسلامی تاریخ کے اوراق آج بھی گواہی دے رہے ہیں کہ بنی امیہ کے بد خصالوں نے جو نقشہ کھینچا تھا ان کی آروزئیں خاک میں مل گئیں اوران کی مسلسل کوششوں نے توقع کے خلاف نتیجہ دیااور فضائل و مناقب امام (ع) اموی خطیبوں کے چھپانے کے باوجود سورج کی طرح چمکا، اور اس نے نہ صرف یہ کہ لوگوں کے دلوں میں حضرت علی کی محبت کو بیدار کیابلکہ یہ سبب بنا کہ لوگ

______________________

(۱) فرحة الغری، مولف؛ مرحوم سیدابن طاؤوس طبع نجف، ص ۱۴۔ ۱۳ ۔


حضرت علی ـ کے بارے میں بہت زیادہ تلاش و جستجو کریں اور امام ـ کی شخصیت پر سیاست کی عینک اتار کر قضاوت کریں، یہاں تک کہ عبداللہ بن زبیر کا پوتا عامر جو خاندان علی کا دشمن تھا اپنے بیٹے کو وصیت کرتا ہے کہ علی کو برا کہنے سے باز آجائے کیونکہ بنی امیہ نے ساٹھ سال تک منبروں سے علی پر سب و شتم کیا لیکن نتیجہ کچھ بھی نہ نکلا بلکہ حضرت علی کی شخصیت اور بھی اجاگر ہوتی گئی اور لوگوںکے دلوں میں ان کی محبت اور بھی بڑھتی گئی۔(۱)

پہلا مددگار

مولائے کائنات کے فضائل کا چھپانا اور ان کے مسلم حقائق کے بارے میں منصفانہ تحلیل تحلیل نہ کرنا صرف بنی امیہ کے زمانے سے مخصوص نہیں تھا بلکہ بشریت کے اس نمونہء کامل ہمیشہ ہتک کی متعصب مؤرخین نے مولائے کائنات حضرت علی کے خاندان اور ان کے حق پر حملہ کرنے سے گریز نہیں کیا ہے ۔اور آج بھی جب کہ اسلام آئے ہوئے چودہ صدیاں گزر گئیں وہ لوگ جو اپنے کو نئی نسل کا رہبر اور روشنفکر تصور کرتے ہیں اپنے زہریلے قلم کے ذریعے اموی مقاصد کی مدد کرتے ہیں اور مولائے کائنات کے فضائل و مناقب پر پردہ ڈالتے ہیں جس کی ایک واضح مثال یہ ہے:

غار حرا میں پہلی مرتبہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قلب پر وحی الہی کا نزول ہوا اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم منصب رسالت و نبوت پر فائز ہوئے، وحی کے فرشتے نے اگرچہ آپ کو مقام رسالت سے آگاہ کردیا لیکن اعلان رسالت کا وقت معین نہیں کیا ،لہٰذا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تین سال تک عمومی اعلان سے گریز کیا اور جب بھی راستے میں شائستہ اور معتبر افراد سے ملاقات ہوتی یا خصوصی ملاقات ہوتی تو ان کو اس نئے قوانین الہی سے روشناس کراتے اور چند گروہ کو اس نئے قانون الہی کی دعوت دیتے، یہاں تک کہ وحی کا فرشتہ نازل ہوا اور خداوند عالم کی طرف سے حکم دیا کہ اے پیغمبر اپنی رسالت کا اعلان اپنے رشتے داروںاوردوستوں کے ذریعے شروع کریں۔:

( وَانذِرْ عَشِیرَتَکَ الْاقْرَبِینَ وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنْ اتَّبَعَکَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ فَانْ عَصَوْکَ فَقُل ا ِنِّی بَرِیئ مِمَّا تَعْمَلُونَ ) (۲)

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۱۳، ص ۳۲۱

(۲) سورۂ شعرائ، آیت ۲۱۶۔ ۲۱۴


اور اے رسول! تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو (عذاب خدا سے) ڈراؤ اور جو مومنین تمہارے پیرو ہوگئے ہیں ان کے سامنے اپنا بازو جھکاؤ (تواضع کرو) پس اگر لوگ تمہاری نافرمانی کریں تو تم (صاف صاف) کہہ دو کہ میں تمہارے کرتوتوں سے بری الذمہ ہوں۔

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عمومی دعوت کا اعلان رشتہ داروں سے شروع ہونے کی علت یہ ہے کہ جب تک نمائندئہ الہی کے قریبی اور نزدیکی رشتہ دار ایمان نہ لائیں اور اس کی پیروی نہ کریںاس وقت تک غیر افراد اس کی دعوت پر لبیک نہیں کہہ سکتے ،کیونکہ اس کے قریبی افراد اس کے تمام حالات و اسرار اور تمام کمالات و معایب سے آگاہ ہوتے ہیں، لہٰذا اعزہ و احباب کا ان کی رسالت پر ایمان لانا ان کی صداقت کی نشانی شمار ہوگا اور رشتہ داروںکا پیروی و اطاعت سے اعراض کرنا ان کی صداقت سے منہ پھیرنا ہے۔

اسی لئے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام نے حضرت علی ـ کو حکم دیا کہ بنی ہاشم کے ۴۵ بزرگوں کو دعوت پر مدعو کریں اور ان کے کھانے کیلئے گوشت اور دودھ کا انتظام کریں،تمام مہمان اپنے معین وقت پرپیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور لوگوں نے کھانا کھایا ،پیغمبر کے چچا ابولہب نے ایک حقیر اور پست جملہ سے، بنے ہوئے ماحول کو خراب کر دیا اور لوگ منتشر ہوگئے اور بغیر کسی نتیجہ کے دعوت ختم ہوگئی اور لوگ کھانا کھا کر پیغمبر کے گھر سے نکل گئے ۔

پیغمبر نے پھر دوسرے دن اسی طرح کی دعوت کا اہتمام کرنے اور ابو لہب کے علاوہ تمام لوگوں کو دعوت دینے کا ارادہ کیا اور پھر حضرت علی ـنے پیغمبر کے حکم سے گوشت اور دودھ کھانے کے لئے آمادہ کیا اور بنی ہا شم کی مشہور ومعروف شخصیتوں کو کھانے اور پیغمبر کی گفتگوسننے کے لئے دعوت دی ،تمام مہمان اپنے معین وقت پر حاضر ہوئے اور کھانے وغیرہ کی فراغت کے بعد پیغمبر نے اپنی گفتگو کا آغازیوں کیا :

''خدا کی قسم میں لوگوںکو راہ راست پر لانے میں غلط بیانی سے کام نہ لو ںگا میں (بر فرض محال) اگر دوسروں سے غلط بیانی سے کام لوںتو بھی تم سے غلط نہیں کہوںگا اگر دوسروں کو دھوکہ دوں تو تمھیں دھوکا نہیں دوںگا ،خدا کی قسم کہ جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں میں تمہاری طرف اور تمام عالم کی ہدایت کے لئے اسی کی طرف سے بھیجا گیا ہوں ،ہاں ،آگاہ ہو جائو ،جس طرح تم سو جاتے ہو ویسے ہی مر جائو گے اور جس طرح سوکر اٹھتے ہو ویسے ہی زندہ کئے جائو گے، اچھے اعمال انجام دینے والوںکو ان کا اجر دیا جائے گا اور برے اعمال انجام دینے والے اپنے عمل کا نتیجہ پائیں گے ،اور نیک اعمال کرنے والوں کے لئے جنت ہمیشگی کاگھر ہے اور برے کام کرنے والوں کے لئے جہنم آمادہ ہے۔


کوئی بھی شخص اپنے اہل وعیال کے لئے مجھ سے اچھی چیز نہیں لایا ہے میں تمہاری دنیا وآخرت کے لئے بھلائی لے کر آیا ہوں میرے خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ تم کو اس کی وحدانیت اور اپنی رسالت کی طرف دعوت دوں تم میں سے کون ہے جو اس راہ میں میری مدد کرے تا کہ وہ میرا بھائی ،وصی اور تمہارے درمیان میرا نما ئندہ ہو؟''

آپ نے یہ جملہ کہا اور تھوڑی دیر خاموش رہے تاکہ دیکھیں کہ حاضرین میں سے کون ہمیشہ نصرت و مدد کرنے کے لئے آمادہ ہوتا ہے مگر اس وقت خاموشی نے ان پر حکومت کررکھی تھی اور سب کے سب اپنے سروں کوجھکائے فکروں میں غرق تھے

یکایک حضرت علی ـجن کی عمر پندرہ سال سے زیادہ نہ تھی ، اس خاموشی کے ماحول کو شکست دے کر اٹھے اور پیغمبر سے مخاطب ہوکر کہا: اے پیغمبر خدا ، میں آپ کی اس راہ میں نصرت و مددکروں گا پھراپنے ہاتھوں کو پیغمبر اسلام کی طرف بڑھایا تاکہ اپنے عہدوپیمان کی وفاداری کا ثبوت پیش کریں

پیغمبر نے حکم دیا کہ اے علی بیٹھ جائو اور پھر اپنے سوال کو ان لوگوں کے سامنے دہرایا ،پھر علی ـ اٹھے اورنصرت پیغمبر کا اعلان کیا ، اس مرتبہ بھی پیغمبر نے حکم دیا کہ علی بیٹھ جائو،تیسری مرتبہ پھر مثل سابق علی کے علاوہ کوئی دوسرا نہ اٹھا اور صرف علی ـنے اٹھ کر پیغمبر کی نصرت اور محافظت کا اعلان کیا ۔ اس موقع پر پیغمبر نے اپنے ہاتھ کو علی کے ہاتھ میں دیا اور حضرت علی کے بارے میں بزرگان بنی ہاشم کی بزم میں اپنے تاریخی کلام کا آغاز اس طرح سے کیا۔

''اے میرے رشتہ دارو اور دوستو ،جان لو کہ علی میرا بھائی میرا وصی اور تمہارے درمیان میرا جانشین وخلیفہ ہے''

سیرہ حلبی کی نقل کی بنا پر ۔رسول اکرم نے اس جملے کے علاوہ دو اور باتیںاس کے ساتھ بیان کیںکہ :'' وہ میرا وزیر اور میرا بھائی ہے ''۔

اس طریقے سے پر خاتم النبیین کے توسط سے اسلام کے سب سے پہلے وصی کا تعیّن، اعلان رسالت کے آغاز پر اس وقت ہوا جب بہت ہی کم لوگ اس قانون الہی کے پیرو تھے،

پیغمبر اسلام نے ایک ہی موقع پر اپنی نبوت اور حضرت علی ـ کی امامت کا اعلان کرکے.یہ ثابت کر دیاکہ نبوت وامامت دو ایسے مقام ہیں جو ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں اور امامت تکمیل نبوت ورسالت ہے ۔


اس تاریخی واقعہ کے مدارک:

شیعہ اور غیر شیعہ محدثین اور مفسرین نے اس تاریخی واقع کو بغیر کسی کمی وزیادتی کے اپنی کتابوں میںنقل کیا ہے(۱) اور امام ـکے اہم فضائل ومناقب میں شمار کیا ہے اہلسنت کے صرف ایک مشہور مورخ ابن تیمیہ دمشقی نے جو اہلبیت علیھم السلام کے بارے میں ہر حدیث سے انکار کرنے میں مہارت رکھتے ہیں اس سند کو رد کیا ہے اور اس سند کوجعلی قراردیا ہے ۔

انہوں نے نہ صرف اس حدیث کو جعلی اور بے اساس قرار دیاہے بلکہ امام کے خاندان کے سلسلے میں خاص نظریہ رکھنے کی وجہ سے اکثر ان حدیثوں کو جو خاندان رسالت کے فضائل و مناقب میں بیان ہوئیں ہیں اگر چہ وہ حد تواتر تک پہونچ چکی ہوں جعلی اور بے اساس قراردیاہے

تاریخ ''الکامل'' پر حاشیہ لگانے والے نے اپنے استاد کہ جن کا نام پوشیدہ رکھاہے، سے نقل کیاہے کہ میرے استاد نے بھی اس حدیث کوجعلی قرار دیا ہے (شاید ان کا استادبھی ابن تیمیہ کی فکروں پر چلنے والا تھا، یا یہ کہ اس سند کو خلفاء ثلاثہ کی خدمت کے مخالف جانا ہے اس لئیجعلی قراردیاہے )،پھر وہ خود عجیب انداز سے اس حدیث کے مفہوم کی توجیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :اسلام میں امام ـ کا وصی ہونا ،بعد میں ابوبکر کی خلافت کے منافی نہیں ہے ،کیونکہ اس دن علی ـ کے علاوہ کوئی مسلمان نہ تھا جو پیغمبر کا وصی ہوتا۔

ایسے افرادسے بحث ومباحثہ کرنا فضول ہے. ہمارا اعتراض ان لوگوں ہے جنہوں نے اس حدیث کو اپنی بعض کتابوں میں تفصیل سے اور بعض کتابوں میںمختصر اور مجمل طریقے سے ذکر کیا ہے ،یعنی ایک طرح سے حقیقت بیان کرنے سے چشم پوشی کی ہے ،یا ہمارا اعتراض ان افراد پر ہے جن لوگوں نے اس حدیث کو اپنی کتاب کے پہلے ایڈ یشن میںتو شامل کیا لیکن اسکے بعد کے ایڈیشن میں کسی دبائو اور خوف وہراس سے

______________________

(۱) تفسیر سورہ شعراء آیت نمبر ۲۱۴ کی طرف رجوع کریں


حذف کردیا ہے. یہاں پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے انتقال کے بعد امام کے حقوق وفضائل کو پوشیدہ اور چھپا یا گیا ہے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔اب یہاں پرہم اس بات کی تشریح کررہے ہیں ۔

تاریخی حقایق کاکتمان:

محمد بن جریر طبری جوتاریخ اسلام کا ایک عظیم مؤرخ ہے ،اس نے اپنی تاریخ طبری میں اس تاریخی فضیلت کو معتبر سندوں کے ساتھ نقل کیاہے(۱) لیکن جب اپنی تفسیر(۲) میں اس آیت( وَانذِرْ عَشِیرَتَکَ الْاقْرَبِینَ ) پر پہونچتا ہے تو اس سند کو توڑ مروڑ کر مجمل اور مبہم نقل کرتا ہے جس کی وجہ تعصب کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

اس کے پہلے ہم بیان کرچکے ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دعوت ختم ہونے کے بعد حاضرین کو مخاطب کر کے پوچھا تھا:

''فأیکم یوازرنی علیٰ ان یکون أخی و وصیّی وخلیفتی''؟

لیکن طبری نے اس سوال کو اس طرح نقل کیا ہے۔

''فأیکم یوازرنی علی ان یکون أخی و کذا وکذا''؟!

تعجب کی بات نہیں ہے کہ دو کلمہ وصی و خلیفتی کو تبدیل کر کے مبہم اور مجمل الفاظ کو اس کی جگہ پر ذکر کرنا سوائے تعصب اور خلیفہ کے مقام و منزلت کو گھٹانے کے کچھ نہیں ہے۔

اس نے نہ صرف پیغمبر(ص) کے سوال میں تحریف کیا ہے، بلکہ حدیث کا دوسرا حصہ جو پیغمبر اسلام(ص) نے حضرت علی سے فرمایا تھا کہ''ان هذا اخی و وصیّی و خلیفتی'' بھی بدل ڈالا ہے، اور دو ایسے ا لفاظ جو مولائے کائنات امیر المومنین کی بلا فصل خلافت پر واضح دلیل تھے کو ایسے لفظوں یعنی

______________________

(۱) اس تاریخی فضیلت کو ان کتابوں نے نقل کیا ہے ، تاریخ طبری ج۲ ص ۲۱۶، تفسیر طبری ج۱۹ ص ۷۴، کامل ابن اثیر ج۲ ص ۲۴، شرح شفای قاضی عیاض ج۳ ص ۳۷، سیرۂ حلبی ج۱ ص ۳۲۱ و اس حدیث کو تاریخ و تفسیر لکھنے والوں نے دوسرے طریقے سے بھی نقل کیا ہے جن کو ہم یہاں نقل کرنے سے پرہیز کر رہے ہیں۔

(۲) تفسیر طبری، ج۱۹، ص ۷۴


کذاوکذا سے بدل دیاہے جو غیر معروف اور غیر مشہور ہیں۔

ابن کثیر شامی جس کی تاریخ کی اساس تاریخ طبری ہے، لیکن جب اس سند تک پہونچا ہے تو تاریخ طبری کوچھوڑ کر طبری کی تفسیر کی روش کی پیروی کی اور وہ بھی مبہم اور مجمل طریقے سے ۔ ان تمام چیزوں سے بدتر و ہ تحریف ہے جسے اس زمانے کے روشن فکر اور مصر کے مشہور مورخ ڈاکٹر محمد حسنین ہیکل نے اپنی کتاب ''حیات محمد'' میں کیاہے اور خود اپنی کتاب کے معتبر ہونے پر سوالیہ نشان لگادیاہے۔

کیونکہ اولاً انھوں نے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دو حساس جملے کو جودعوت کے آخر میں پیغمبر نے بعنوان سوال فرمایا تھا اس کو نقل کیا ہے لیکن اس دوسرے جملے کو جو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی سے فرمایاتھا کہ تو میرا بھائی ،وصی اور میرا خلیفہ ہے کوبالکل حذف کردیا اور اس کا تذکرہ تک نہیں کیا۔

ثانیاً اپنی کتاب کے دوسرے اور تیسرے ایڈیشن میں اپنا تعصب کچھ اور بھی دکھایا اور اس حدیث کے پہلے حصے کو بھی حذف کردیا. گویا متعصب افراد نے انھیںاس پہلے جملے کو نقل کرنے پر ہی بہت ملامت کی،اور اس کتربیونت کی وجہ سے ناقدین تاریخ کو تنقید کا موقع دیا ، اور اپنی کتاب کے اعتبار کو گرا دیا ۔


اسکافی کا بیان

اسکافی نے اپنی مشہور و معروف کتاب میں اس تاریخی فضیلت کا تذکرہ کیاہے کہ حضرت علی نے اپنے باپ، چچا اور بنی ہاشم کی بزرگ شخصیتوں کے سامنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عہد و پیمان باندھاکہ ہم آپ کی مدد کریں گے اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انھیں اپنا بھائی، وصی اور خلیفہ قرار دیا. اس کے متعلق وہ لکھتے ہیں :

''وہ افراد جو یہ کہتے ہیں کہ امام بچپن میں ہی صاحب ایمان تھے ،اوریہ وہ زمانہ ہوتا ہے کہ جب بچہ اچھے اور برے میںتمیز نہیں کرپاتا، اس تاریخی فضیلت کے سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟!

کیا یہ ممکن ہے کہ پیغمبر اسلام(ص) کثیر تعداد میں موجود افراد کے کھانے کا انتظام ایک بچے کے حوالے کریں؟ یاایک چھوٹے بچے کو حکم دیں کہ بزرگان کو کھانے پر مدعو کرے؟

کیایہ بات صحیح ہے کہ پیغمبر ایک نابالغ بچے کو راز نبوت بتائیں اور اپنے ہاتھ کو اس کے ہاتھ میںدیں اور اسے اپنا بھائی ، وصی اور اپنا خلیفہ لوگوںکے لئے معین کریں؟!

بالکل نہیں ! بلکہ یہ بات ثابت ہے کہ حضرت علی اس دن جسمانی قوت اور فکری لحاظ سے اس حد پر پہونچ چکے تھے کہ ان کے اندر ان تمام کاموں کی صلاحیت موجود تھی یہی وجہ تھی کہ اس بچے نے کبھی بھی دوسرے بچوں سے انسیت نہ رکھی اورنہ ان کے گروہ میں شامل ہوئے اور نہ ہی ان کے ساتھ کھیل کود میں مشغول ہوئے، بلکہ جس وقت سے پیغمبر اسلام(ص) کے ساتھ نصرت و مدد اور فداکاری کا پیمان باندھا تو اپنے کئے ہوئے وعدے پر قائم و مستحکم رہے اور ہمیشہ اپنی گفتار کو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کردار میں ڈھالتے رہے اور پوری زندگی پیغمبر(ص)کے مونس و ہمدم رہے۔


وہ نہ صرف اس موقع پر پہلے شخص تھے جو سب سے پہلے پیغمبر اسلام(ص) کی رسالت پر اپنے ایمان کا اظہار کیا ،بلکہ اس وقت بھی جب کہ قریش کے سرداروں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہا کہ اگر آپ اپنے وعدے میں سچے ہیں اور آپ کارابطہ خدا سے ہے تو کوئی معجزہ دکھائیں (یعنی حکم دیں کہ خرمے کا درخت یہاں سے اکھڑ کر آپ کے سامنے کھڑا ہوجائے) تو اس وقت بھی علی وہ واحد شخص تھے جو تمام لوگوںکے انکار کرنے کے باوجود اپنے ایمان کا لوگوں کے سامنے اظہار کیا۔(۱)

امیر المومنین علیہ السلام نے قریش کے سرداروں کے معجزہ طلبی کے واقعے کو اپنے ایک خطبہ میںنقل کیاہے. آپ فرماتے ہیں کہ پیغمبر اسلام(ص) نے ان لوگوں سے کہا:اگر خدا ایساکرے تو کیا خدا کی وحدانیت اور میری رسالت پر ایمان لاؤ گے؟ سب نے کہا: ہاں یا رسول اللہ۔

اس وقت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دعا کی اور خدا نے ان کی دعا کو قبول کیااور درخت اپنی جگہ سے اکھڑ کر پیغمبر(ص) کے سامنے بڑے ادب سے کھڑا ہوگیا. معجزہ طلب کرنے والے سرداروں نے کفر و عناد و عداوت کی راہ اختیار کی اور تصدیق کرنے کے بجائے پیغمبر(ص) کو جادوگر کے خطاب سے نوازا ،اور میں پیغمبر(ص) کے پاس کھڑا تھا ،میں نے ان کی طرف رخ کر کے کہا: اے پیغمبر ! میں وہ پہلا شخص ہوںجوآپ کی رسالت پر ایمان لایا، اور میں اعتراف کرتا ہوں کہ درخت نے اس کام کو خدا کے حکم سے انجام دیاہے تاکہ آپ کی نبوت کی تصدیق کرے اور آپ کے قول کوسچا کر دکھائے۔

اس وقت میرا یہ اعتراف کرنا اور تصدیق کرنا ان لوگوں پر گراں گزرا، ان لوگوںنے کہا کہ تمہاری تصدیق علی کے علاوہ کوئی نہیں کرے گا۔(۲)

______________________

(۱) النقض علی العثمانیہ ص ۲۵۲، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱۳ ص۲۴۴ و ۲۴۵، میں تذکرہ کیا ہے۔

(۲) نہج البلاغہ عبدہ، خطبہ ۲۳۸ (قاصعہ)


تیسری فصل

بے مثال فداکاری

ہر انسان کے اعمال و کردار کا پتہ اس کے فکر اور عقیدے سے ہوتا ہے ،اورقربانی اور فداکاری اہل ایمان کی علامت ہے .اگر انسان کا ایمان کسی چیز پر اس منزل تک پہونچ جائے کہ اسے اپنی جان و مال سے زیادہ عزیز رکھے توحقیقت میں اس چیز پر کبھی آنچ نہیں آنے دے گا. اور اپنی ہستی اور تمام کوششوں کواس پر قربان کرے گا قرآن مجیدنے اس حقیقت کو اس اندازسے بیان کیاہے:

( انَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ آمَنُوا بِاﷲِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِامْوَالِهِمْ وََنفُسِهِمْ فِی سَبِیلِ اﷲِ ُوْلَئِکَ هُمْ الصَّادِقُونَ ) (۱)

''سچے مومن تو بس وہی ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے ، پھر انہوں نے اس میں سے کسی طرح کا شک وشبہ نہ کیا اور اپنے مال سے اور اپنی جانوں سے خدا کی راہ میں جہاد کیا یہی لوگ ( دعوائے ایمان میں ) سچے ہیں''

بعثت کے ابتدائی ایام میں مسلمانوں نے بہت زیادہ شکنجے اور ظلم و بربریت کواپنی کامیابی کی راہ میں برداشت کیا تھا جس چیز نے دشمنوں کو خدا کی وحدانیت کے اقرار سے روک رکھا تھا وہی بیہودہ خاندانی عقائد اوراپنے خداؤں پر فخر و مباہات اور قوم پرستی پر تکبر و غرور اور ایک قبیلے کا دوسرے قبیلے والوں سے کینہ و عداوت تھیم یہ تمام موانع مکہ اور اطرافیان مکہ میں اسلام کے نشر و اشاعت میں اس وقت تک رہے جب تک پیغمبر(ص) نے مکہ فتح کر نہ لیا تھا اور صرف اسلام کی قدرت کاملہ سے ہی یہ تمام موانع ختم ہوئے۔

مسلمانوں پر قریش کی زیادتی سبب بنی کہ ان میں سے کچھ لوگ حبشہ اور کچھ لوگ مدینہ کی طرف ہجرت کریں، اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت علی جنہیں خاندان بنی ہاشم خصوصاً حضرت ابوطالب کی مکمل حمایت حاصل تھی لیکن جعفر بن ابی طالب مجبور ہوئے کہ بعثت کے پانچویں سال چند مسلمانوں کے ساتھ مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کریں اور ہجرت کے ساتویں سال (فتح خیبر کے سال) تک وہیں پررہیں۔

______________________

(۱)سورۂ حجرات، آیت ۱۵


بعثت کا دسواں سال پیغمبر اسلام(ص) کے لئے بہت سخت تھا، جب آپ کے حامی اور پشت پناہ اور مربی اور عظیم چچا کا انتقال ہوگیا. ابھی آپ کے چچا جناب ابوطالب کی وفات کو چند دن نہ گزرے تھے کہ آپ کی عظیم و مہربان بیوی حضرت خدیجہ کا بھی انتقال ہوگیا. جس نے اپنی پوری زندگی اور جان و مال کو پیغمبر کے عظیم ہدف پر قربان کرنے پر کبھی دریغ نہیں کیا، پیغمبر اسلام (ص)ان دو باعظمت حامیوں کی رحلت کی وجہ سے مکہ کے مسلمانوں پر بہت زیادہ ظلم و زیادتی ہونے لگی ، یہاں تک کہ بعثت کے تیرہویں سال تمام قریش کے سرداروں نے ایک میٹنگ میں یہ طے کیا کہ توحیدکی آواز کو ختم کرنے کے لئے پیغمبر(ص) کو زندان میں ڈال دیا جائے یا انھیں قتل کردیا جائے یا پھر کسی دوسرے ملک میں قیدکردیاجائے تاکہ یہ آواز توحید ہمیشہ کے لئے خاموش ہو جائے، قرآن مجید نے ان کے ان تینوں ارادوں کا تذکرہ کیاہے۔

ارشاد قدرت ہے:

( وَاذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا لِیُثْبِتُوکَ َوْ یَقْتُلُوکَ َوْ یُخْرِجُوکَ وَیَمْکُرُونَ وَیَمْکُرُ اﷲُ وَاﷲُ خَیْرُ الْمٰاکِرِیْنَ ) (۱)

اور (اے رسول وہ وقت یاد کرو) جب کفار تم سے فریب کر رہے تھے تاکہ تم کوقید کرلیں یاتم کومار ڈالیں یا تمہیں (گھر سے) باہر نکال دیں وہ تو یہ تدبیر کر رہے تھے اور خدا بھی (ان کے خلاف) تدبیر کر رہا تھا اور خدا تو سب تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے۔

قریش کے سرداروں نے یہ طے کیا کہ ہر قبیلے سے ایک شخص کو چنا جائے اور پھر یہ منتخب افراد نصف شب میں یکبارگی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر پر حملہ کریں اور انھیں ٹکڑے ٹکڑے کردیں اور اس طرح سے مشرکین بھی ان کی تبلیغ اور دعوت حق سے سکون پا جائیں گے اور ان کا خون پورے عرب کے قبیلوں میں پھیل جائے گا. اور بنی ہاشم کا خاندان ان تمام قبیلوں سے جو اس خون کے بہانے میں شامل تھے جنگ و جدال نہیں کرسکتے، فرشتۂ وحی نے پیغمبر(ص) کو مشرکوں کے اس برے ارادے سے باخبر کیا اور حکم خدا کو ان تک پہونچایا کہ جتنی جلدی ممکن ہو مکہ کو چھوڑ کر یثرب چلے جائیں۔

ہجرت کی رات آگئی ،مکہ اور پیغمبر اسلام(ص) کا گھر رات کے اندھیروں میں چھپ گیا ،قریش کے

______________________

(۱) سورۂ انفال، آیت ۳۰


مسلح سپاہیوں نے چاروں طرف سے پیغمبر(ص)کے گھر کا محاصرہ کرلیا اس وقت پیغمبر(ص) کے لئے ضروری تھا کہ گھر کو چھوڑ کر نکل جائیں اور اس طرح سے جائیں کہ لوگ یہی سمجھیں کہ پیغمبر گھر میں موجود ہیں اور اپنے بستر پر آرام فرما رہے ہیں. لیکن اس کام کے لئے ایک ایسے بہادر اور جانباز شخص کی ضرورت تھی جو آپ کے بستر پر سوئے اور پیغمبر کی سبز چادر کو اس طرح اوڑھ کر سوئے کہ جو لوگ قتل کرنے کے ارادے سے آئیں وہ یہ سمجھیں کہ پیغمبر ابھی تک گھر میں موجود ہیں اور ان کی نگاہیں صرف پیغمبر کے گھر پر رہے اور گلی کوچوں اور مکہ سے باہر آنے جانے والوں پر پابندی نہ لگائیں ، لیکن ایسا کون ہے جو اپنی جان کو نچھاور کرے اور پیغمبر کے بستر پر سو جائے؟ یہ بہادر شخص وہی ہے جو سب سے پہلے آپ پر ایمان لایا اور ابتدائے بعثت سے ہی اس شمع حقیقی کا پروانہ کی طرح محافظ رہا، جی ہاں یہ عظیم المرتبت انسان حضرت علی کے علاوہ کوئی اور نہ تھا اور یہ افتخار بھی اسی کے حصہ میں آیا، یہی وجہ ہے کہ پیغمبر نے حضرت علی ـکومخاطب کرتے ہوئے فرمایا: مشرکین قریش مجھے قتل کرنا چاہتے ہیںاور ان کا یہ ارادہ ہے کہ یک بارگی مل جل کر میرے گھر پر حملہ کریںاور مجھے بستر پر ہی قتل کردیں. خداوند عالم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں مکہ سے ہجرت کرجاؤں .اس لئے ضروری ہے کہ آج کی شب تم میرے بستر پر سبز چادر کواوڑھ کر سوجاؤ تاکہ وہ لوگ یہ تصور کریں کہ میں ابھی بھی گھر میں موجود ہوں اور اپنے بستر پر سو رہا ہوںاور یہ لوگ میرا پیچھا نہ کریں. حضرت علی پیغمبر کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے ابتداء شب سے پیغمبر اسلام کے بستر پر سوگئے۔

چالیس آدمی ننگی تلواریں لئے ہوئے رات بھر پیغمبر(ص) کے گھر کا محاصرہ کئے رہے اور دروازے کے جھروکوں سے گھر کے اندر نگاہیں جمائے تھے اور گھر کے حالات کا سرسری طور پر جائزہ لے رہے تھے ، ان لوگوں کا خیال یہ تھا کہ خود پیغمبر اپنے بستر پر آرام کر رہے ہیں. یہ جلاد صفت انسان مکمل طریقے سے گھر کے حالات پر قبضہ جمائے تھے اور کوئی چیز بھی ان کی نگاہوںسے پوشیدہ نہیں تھی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ دشمنوں کے اتنے سخت پہروںکے باوجود پیغمبر کس طرح سے اپنے گھر کو چھوڑ کر ہجرت کر گئے. بہت سے مؤرخین کا نظریہ ہے کہ پیغمبر اکرم جب گھر سے نکلے تو سورۂ یٰسن کی تلاوت کر رہے تھے۔(۱)

______________________

(۱) یہاں سورۂ یٰسین کی آٹھویںاور نویں آیتیں مراد ہیں۔


اور محاصرین کی صفوں کوتوڑتے ہوئے ان کے درمیان سے اس طرح نکلے کہ کسی کو بھی احساس تک نہ ہوا .یہ بات قابل انکار نہیں ہے کہ مشیت الہی جب بھی چاہے پیغمبر کو بطور اعجاز اور غیر عادی طریقے سے نجات دے، کوئی بھی چیزاس سے منع نہیں کرسکتی. لیکن یہاں پر بات یہ ہے کہ بہت زیادہ قرینے اس بات کی حکایت کرتے ہیںکہ خدا اپنے پیغمبر کو معجزے کے ذریعے سے نجات نہیں دینا چاہتاتھا کیونکہ اگر ایسا ہو تا تو ضروری نہیں تھاکہ حضرت علی پیغمبر کے بستر پر سوتے اور خود پیغمبر غار ثور میں جاتے اور پھر بہت زیادہ زحمت و مشقت کے ساتھ مدینے کا راستہ طے کرتے۔

بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ جس وقت پیغمبر اپنے گھر سے نکلے اس وقت تمام دشمن سورہے تھے اور پیغمبر ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر چلے گئے، لیکن یہ نظریہ حقیقت کے برخلاف ہے، کیونکہ کوئی بھی عقلمند انسان یہ قبول نہیں کرسکتاکہ چالیس جلاد صفت انسانوںنے گھر کا محاصرہ صرف اس لئے کیاتھا کہ پیغمبر گھر سے باہر نہ جاسکیں تاکہ مناسب وقت اور موقع دیکھ کر انھیں قتل کریں اور وہ لوگ اپنے وظیفے کواتنا نظر انداز کردیں کہ سب کے سب سے آرام سے سوجائیں۔

لیکن بعیدنہیں ہے جیساکہ بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ پیغمبر محاصرین کے درمیان سے ہوکر نکلے تھے۔(۱)

______________________

(۱) سیرۂ حلبی ج۲ ص ۳۲


خانۂ وحی پر حملہ

قریش کے سپاہی اپنے ہاتھوں کوقبضۂ تلوار پر رکھے ہوئے اس وقت کے منتظر تھے کہ سب کے سب اس خانہء وحی پر حملہ کریں اور پیغمبر کو قتل کردیں جو بستر پر آرام کر رہے ہیں .وہ لوگ دروازے کے جھروکے سے پیغمبر کے بستر پر نگاہ رکھے تھے اور بہت زیادہ ہی خوشحال تھے اوراس فکر میںغرق تھے کہ جلدی ہی اپنی آخری آرزؤں تک پہونچ جائیں گے،مگر علی علیہ السلام بڑے اطمینان و سکون سے پیغمبر کے بستر پر سو رہے تھے. کیونکہ وہ جانتے تھے کہ خداوند عالم نے اپنے حبیب، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کودشمنوں کے شر سے نجات دیا ہے. دشمنوں نے پہلے یہ ارادہ کیاتھا کہ آدھی رات کو پیغمبر کے گھر پر حملہ کریں گے لیکن کسی وجہ سے اس

ارادے کوبدل دیا اور یہ طے کیا کہ صبح کو پیغمبر کے گھر میں داخل ہوں گے اور اپنے مقصد کی تکمیل کریںگے،

رات کی تاریکی ختم ہوئی اور صبح صادق نے افق کے سینے کو چاک کیا. دشمن برہنہ تلواریں لئے ہوئے یکبارگی پیغمبر کے گھر پر حملہ آور ہوئے اوراپنی بڑی اوراہم آرزوؤں کی تکمیل کی خاطر بہت زیادہ خوشحال پیغمبر کے گھر میں وارد ہوئے، لیکن جب پیغمبر کے بستر کے پاس پہونچے تو پیغمبر کے بجائے حضرت علی ـ کوان کے بستر پر پایا ،ان کی آنکھیں غصے سے لال ہوگئیں اور تعجب نے انھیں قید کرلیا .حضرت علی ـکی طرف رخ کر کے پوچھا: محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کہاںہیں؟

آپ نے فرمایا: کیاتم لوگوںنے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو میرے حوالے کیا تھا جو مجھ سے طلب کر رہے ہو؟


اس جواب کو سن کر غصے سے آگ بگولہ ہوگئے اور حضرت علی پر حملہ کردیااور انہیں مسجد الحرام لے آئے، لیکن تھوڑی جستجو وتحقیق کے بعد مجبور ہوکر آپ کوآزاد کردیا، وہ غصے میں بھنے جارہے تھے،اور ارادہ کیا کہ جب تک پیغمبر کو قتل نہ کرلیں گے آرام سے نہ بیٹھیں گے۔(۱)

قرآن مجیدنے اس عظیم اور بے مثال فداکاری کو ہمیشہ اور ہر زمانے میں باقی رکھنے کے سلسلے میں حضرت علی ـکی جانبازی کو سراہا ہے اور انھیں ان افراد میں شمار کیا ہے جو لوگ خدا کی مرضی کی خاطر اپنی جان تک کونچھاور کردیتے ہیں:

( وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَه ابْتِغَاء مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ اللّٰهُ رَؤف بِالْعِبٰادِ )

اور لوگوں میں سے خدا کے بندے کچھ ایسے ہیں جو خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے اپنی جان تک بیچ ڈالتے ہیں اور خدا ایسے بندے پر بڑا ہی شفقت والاہے۔(۲)

بنی امیہ کے زمانے کے مجرم

بہت سارے مفسرین نے اس آیت کی شان نزول کو ''لیلة المبیت'' سے مخصوص کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت حضرت علی ـکے بارے میں اسی مناسبت سے نازل ہوئی ہے۔(۳)

______________________

(۱) تاریخ طبری ج۲ ص ۹۷

(۲) سورۂ بقرہ، آیت ۲۰۷

(۳) حضرت علی کے بارے میں اس آیت کے نزول کے متعلق سید بحرینی نے اپنی کتاب تفسیر برہان (ج۱ ص ۲۰۶۔ ۲۰۷) میں تحریر کیا ہے۔ مرحوم بلاغی نے اپنی کتاب تفسیر آلاء الرحمان ، ج۱ ص ۱۸۵۔ ۱۸۴، میں نقل کیاہے. مشہور شارح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید کہتا ہے کہ مفسرین نے اس آیت کے نزول کو حضرت علی کے بارے میں نقل کیا ہے (مراجعہ کریں ج۱۳ ص ۲۶۲)


سمرہ بن جندب، بنی امیہ کے زمانے کا بدترین مجرم صرف چار لاکھ درہم کی خاطر اس بات پر راضی ہوگیا کہ اس آیت کے نزول کو حضرت علی ـ کی شان میں بیان نہ کر کے لوگوں کے سامنے اس سے انکار کردے اور مجمع عام میں یہ اعلان کردے کہ یہ آیت عبد الرحمن بن ملجم کی شان میں نازل ہوئی ہے .اس نے صرف اتنا ہی نہیں کیا کہ اس آیت کو علی ـکے بارے میں نازل ہونے سے انکار کیا، بلکہ ایک دوسری آیت جو منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی اس کو حضرت علی ـسے مخصوص کردیا(۱) کہ یہ آیت ان کی شان میں نازل ہوئی ہے وہ آیت یہ ہے:

( وَمِنْ النَّاسِ مَنْ یُعْجِبُکَ قَوْلُهُ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَیُشْهِدُ اﷲَ عَلَی مَا فِی قَلْبِهِ وَهُوَ َلَدُّ الْخِصَامِ ) (۲)

اے رسول: بعض لوگ (منافقین سے ایسے بھی ہیں) جن کی (چکنی چپڑی) باتیں (اس ذراسی) دنیوی زندگی میں تمہیں بہت بھاتی ہیںاو روہ اپنی دلی محبت پر خدا کو گواہ مقرر کرتے ہیں حالانکہ وہ (تمہارے) دشمنوںمیں سب سے زیادہ جھگڑالو ہیں۔

اس طرح سے حقیقت پر پردہ ڈالنا اور تحریف کرنا ایسے مجرم سے کوئی بعیدنہیں ہے .وہ عراق میں ابن زیاد کی حکومت کے وقت بصرہ کا گورنر تھا، اور خاندان اہلبیت سے بغض و عداوت رکھنے کی وجہ سے ۸ ہزار آدمیوں کو صرف اس جرم میں قتل کر ڈالا تھاکہ وہ علی ـکی ولایت و دوستی پر زندگی بسر کر رہے تھے. جب ابن زیاد نے اس سے باز پرس کی کہ تم نے کیوں اور کس بنیاد پر اتنے لوگوںکو قتل کر ڈالا، کیا تو نے اتنا بھی نہ سوچا کہ ان میں سے بہت سے افراد بے گناہ بھی تھے، اس نے بہت ہی تمکنت سے جواب دیا ''لو قتلت مثلہم ما خشیت'' میں اس سے دو برابر قتل کرنے میں بھی کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتا۔(۳)

سمرہ کے شرمناک کارناموں کا تذکرہ یہاں پر ممکن نہیں ہے ،کیونکہ یہ وہی شخص ہے جس نے پیغمبر اسلام کا حکم ماننے سے انکار کردیا آپ نے فرمایا: جب بھی اپنے کھجور کے پیڑ کی شاخیں صحیح کرنے کے لئے

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۴ ص ۷۳

(۲) سورۂ بقرہ، آیت ۲۰۴

(۳) تاریخ طبری ج۲سن ۵۰، ہجری کے واقعات


کسی کے گھر میں داخل ہو تو ضروری ہے کہ صاحب خانہ سے اجازت لے، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا یہاں تک کہ پیغمبر اس درخت کو بہت زیادہ قیمت دیکر خریدنا چاہ رہے تھے پھر بھی اس نے پیغمبر کے ہاتھ نہیں بیچا اور کہا کہ اپنے درخت کی دیکھ بھال کے لئے کبھی بھی اجازت نہیں لے گا۔

اس کی ان تمام باتوں کو سن کر پیغمبر نے صاحب خانہ کو حکم دیا کہ جاؤ اس شخص کے درخت کو جڑ سے اکھاڑ کر دور پھینک دو. اور سمرہ سے کہا: ''انک رجل مضار و لا ضرر و لاضرار''یعنی تو لوگوںکونقصان پہونچاتا ہے اور اسلام نے کسی کو یہ حق نہیں دیا کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو نقصان پہونچائے، جی ہاں، یہ چند روزہ تحریف سادہ مزاج انسانوںپربہت کم اثر انداز ہوئی، لیکن کچھ ہی زمانہ گذرا تھا کہ تعصب کی چادریں ہٹتی گئیں اور تاریخ اسلام کے محققین نے شک و شبہات کے پردے کو چاک کرکے حقیقت کوواضح و روشن کردیاہے اور محدثین ومفسرین قرآن نے ثابت کردیا کہ یہ آیت حضرت علی کی شان میں نازل ہوئی ہے، یہ تاریخی واقعہ اس بات پر شاہد ہے کہ شام کے لوگوں پر اموی حکومت کی تبلیغ کا اثر اتنا زیادہ ہوچکا تھا کہ جب بھی حکومت کی طرف سے کوئی بات سنتے تو اس طرح یقین کرلیتے گویالوح محفوظ سے بیان ہو رہی ہے، جب شام کے افراد سمرہ بن جندب جیسے کی باتوں کی تصدیق کرتے تھے تو اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ تاریخ اسلام سے ناآشنا تھے، کیونکہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اس وقت عبدالرحمن پیدا بھی نہ ہوا تھا اور اگر پیدا ہو بھی گیا تھا تو کم از کم حجاز کی زمین پر قدم نہ رکھا تھا اور پیغمبر کو نہیں دیکھا تھا کہ اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوتی۔


ناروا تعصب

حضرت علی ـکی فداکاری، اس رات جب کہ پیغمبر کے گھر کو قریش کے جلادوںنے محاصرہ کیا تھا ایسی چیز نہیں ہے جس سے انکار کیا جاسکے یا اسے معمولی سمجھا جائے۔

خداوند عالم نے اس تاریخی واقعے کو ہمیشہ باقی رکھنے کے لئے قرآن مجید کے سورۂ بقرہ آیت ۲۰۷ میں اس کا تذکرہ کیا ہے اور بزرگ مفسرین نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ یہ آیت حضرت علی ـکی شان میں نازل ہوئی ہے .لیکن حضرت علی ـ سے بغض و عداوت اور کینہ رکھنے والوںنے پوری کوشش وطاقت سے اس بات کی کوشش کی کہ اس بزرگ اور عظیم تاریخی فضیلت کی اس طرح سے تفسیر کی جائے کہ حضرت علی ـ کی عظیم و بے مثال قربانی کی کوئی فضیلت باقی نہ رہے۔

جاحظ، اہلسنت کا ایک مشہور ومعروف دانشمند لکھتا ہے :

علی ـکا پیغمبر کے بستر پرسونا ہرگز اطاعت اور بزرگ فضیلت شمار نہیں ہوسکتی، کیونکہ پیغمبر نے انھیں اطمینان دلایاتھا اگر میرے بستر پر سوجاؤ گے توتمہیں کوئی تکلیف ونقصان نہیں پہونچے گا۔(۱)

اس کے بعد ابن تیمیہ دمشقی(۲) نے اس میں کچھ اور اضافہ کیاہے کہ علی ـ کسی اور طریقے سے جانتے تھے کہ میں قتل نہیں ہوسکتا، کیونکہ پیغمبر نے ان سے کہا تھا کہ کل مکہ کے ایک معین مقام پر اعلان کرناکہ جس کی بھی امانت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس ہے آکر اپنی امانت واپس لے جائے. علی اس ماموریت کوجو پیغمبر نے انھیں دیا تھا ،سے خوب واقف تھے کہ اگر پیغمبر کے بستر پر سوؤں گا تو مجھے کوئی بھی ضرر نہیں پہونچے گا اور میری جان صحیح و سالم بچ جائے گی۔

______________________

(۱) العثمانیہ، ص ۴۵

(۲) ابن تیمیہ علمائے اسلام سے مخالفت رکھتا تھااورایک خاص عقیدہ ، شفاعت، قبروںکی زیارت و... کے متعلق رکھتا تھااس لئے علمائے وقت نے اسے چھوڑ دیاتھا اور آخر کار شام کے زندان میں ۷۲۸ ہجری میں اس کا انتقال ہوگیا۔


جواب

اس سے پہلے کہ اس موضوع کے متعلق بحث کریں ایک نکتے کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ جاحظ اور ابن تیمیہ اور ان دونوں کے ماننے والوں نے جوخاندان اہلبیت سے عداوت رکھنے میں مشہور ہیں، علی ـ کی اس فضیلت سے انکار کرنے کی وجہ سے غیر شعوری طور پر بڑی فضیلت کوحضرت علی ـ کے لئے ثابت کیا ہے ،کیونکہ حضرت علی پیغمبر کی طرف سے مامور تھے کہ ان کے بستر پر سوجائیں، ایمان کے اعتبار سے یہ بات دوحالتوں سے خارج نہیں ہے ،یاان کا ایمان پیغمبر کی صداقت پر ایک حد تک تھا یا وہ بغیر چون و چرا پیغمبر کی ہر بات پر ایمان رکھتے تھے. پہلی صورت میںہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ حضرت علی کو اپنی جان و سلامتی کے باقی رہنے کا قطعی طور پر علم تھا .کیونکہ جو شخص ایمان وعقیدے کے اعتبار سے ایک عام مرتبہ پرفائز ہو، ہرگز پیغمبر کی گفتار سے یقین واعتماد حاصل نہیں کرسکتا ،اور اگر ان کے بستر پر سوجائے توبہت زیادہ ہی فکر مند اور مضطرب رہے گا۔

لیکن اگر حضرت علی ـ ایمان کے اعتبار سے عالی ترین مرتبہ پر فائز تھے اور پیغمبر کی گفتگو کی سچائیان کے دل ودماغ پر سورج کی روشنی کی طرح واضح وروشن تھی توایسی صورت میںحضرت علی ـکے لئے بہت بڑی فضیلت کوثابت کیا ہے. کیونکہ جب بھی کسی شخص کا ایمان اس بلندی پر پہونچ جائے کہ جوکچھ بھی پیغمبر سے سنے اسے صحیح اور سچا مانے کہ وہ اس کے لئے روز روشن کی طرح ہو اور اگر پیغمبر اس سے کہیں کہ میرے بستر پر سوجاؤ تواسے کوئی نقصان نہ پہونچے گا تووہ بستر پر اتنے اطمینان اور آرام سے سوئے کہ اسے ایک سوئی کی نوک کے برابر بھی خطرہ محسوس نہیں ہوتو ایسی فضیلت کی کوئی بھی چیز برابری نہیں کرسکتی۔


آئیے اب تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں

ابھی تک ہماری بحث اس بات پر تھی کہ پیغمبر نے حضرت علی ـسے کہا کہ تم قتل نہ ہوگے. لیکن اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تومعلوم ہوگاکہ بات ایسی نہیں ہے جیسا کہ جاحظ اور ابن تیمیہ کے ماننے والوں نے گمان کیا ہے اور تمام مؤرخین نے اس واقعہ کواس طرح نقل نہیں کیا ہے جیساکہ ان دونوںنے لکھا ہے:

طبقات کبریٰ(۱) کے مؤلف نے واقعۂ ہجرت کو تفصیل سے ذکر کیاہے اور جاحظ کے اس جملے کو(کہ پیغمبر نے علی سے کہا کہ میرے بستر پر سوجاؤ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہونچے گا) ہرگز تحریر نہیں کیا ہے۔

نہ صرف یہ بلکہ مقریزی نویں صدی کا مشہور مؤرخ(۲) اس نے اپنی مشہور کتاب ''امتاع الاسماع'' میں بھی کاتب واقدی کی طرح اس واقعے کا تذکرہ کیا ہے اور اس بات سے انکار کیاہے کہ پیغمبر نے علی ـ سے کہا ''کہ تمہیں کوئی نقصان نہ پہونچے گا''

جی ہاں. انہی افراد کے درمیان ابن ہشام نے اپنی کتاب سیرت ج۱ ص ۴۸۳ پراور طبری نے اپنی کتاب تاریخ طبری ج۲ ص۹۹ پر اس کا تذکرہ کیاہے اور اسی طرح ابن اثیر نے اپنی کتاب تاریخ کامل ج۲ ص ۳۸۲ پراس کے علاوہ اور بھی بہت سے مؤرخین نے اسے نقل کیا ہے ان تمام مؤرخین نے سیرۂ

______________________

(۱) محمد بن سعد جوکاتب واقدی کے نام سے مشہور ہے ۱۶۸ ہجری میں پیدا ہوئے اور ۲۳۰ ہجرت میں دنیا سے رخصت ہوئے ان کی کتاب طبقات جامع ترین اور سب سے اہم کتاب ہے جو سیرت پیغمبر پر لکھی گئی ہے ج۱ ص ۲۲۸ پر رجوع کرسکتے ہیں

(۲) تقی الدین احمد بن علی مقریزی (وفات ۸۴۵ ہجری)


ابن ہشام یاتاریخ طبری سے نقل کیا ہے۔

اس بنا ء پر عقل اس بات کو قبول نہیں کرتی کہ پیغمبر نے یہ بات کہی ہے، اور اگر مان لیں کہ پیغمبر نے یہ بات کہی بھی ہے تو کسی بھی صورت سے یہ معلوم نہیں کہ ان دونوں باتوں کو (نقصان نہ پہونچنا اور لوگوں کی امانت واپس کرنا) اسی رات میں پہلی مرتبہ کہا ہو. اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس واقعے کوعلماء اور شیعہ مورخین اور بعض سیرت لکھنے والے اہلسنت نے دوسرے طریقے سے نقل کیاہے، جس کی ہم وضاحت کر رہے ہیں:

شیعوں کے مشہور و معروف دانشمند مرحوم شیخ طوسی اپنی کتاب ''امالی'' میںہجرت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ،جو کہ پیغمبر کی سلامتی اور نجات پر ختم ہوتا ہے، لکھتے ہیں :

شب ہجرت گزر گئی. اور علی ـاس مقام سے آگاہ تھے جہاں پیغمبر نے پناہ لی تھی. اور پیغمبر کے سفر پرجانے کے مقدمات کو فراہم کرنے کے لئے ضروری تھا کہ رات میں ان سے ملاقات کریں۔(۱)

پیغمبر نے تین رات غار ثور میں قیام کیا، ایک رات حضرت علی ـ، ہند بن ابی ہالہ غار ثور میں پیغمبر کی خدمت میں پہونچے، پیغمبر نے حضرت علی کو چند چیزوں کا حکم دیا:

۱۔ دواونٹ ہمارے اور ہمارے ہمسفر کے لئے مہیا کرو (اس وقت ابوبکر نے کہا: میں نے پہلے ہی سے دو اونٹ اس کام کے لئے مہیا کر لئے ہیں، پیغمبر(ص) نے فرمایا: میں اس وقت تمہارے ان دونوں اونٹوںکوقبول کروں گا جب تم ان دونوں کی قیمت مجھ سے لے لو، پھر علی کو حکم دیا کہ ان اونٹوں کی قیمت اداکردو''

۲۔ میں قریش کا امانتدار ہوں اورابھی لوگوں کی امانتیں میرے پاس گھر میں موجود ہیں، کل مکہ کے فلاںمقام پر کھڑے ہوکر بلندآواز سے اعلان کرو کہ جس کی امانت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس ہے وہ آئے اور اپنی امانت لے جائے۔

۳۔ امانتیں واپس کرنے کے بعد تم بھی ہجرت کے لئے تیار رہو، اور جب بھی تمہارے پاس میرا خط پہونچے تو میری بیٹی فاطمہ اور اپنی ماں فاطمہ بنت اسد اور زبیر بن عبدالمطلب کی بیٹی فاطمہ کو اپنے ہمراہ لے آؤ۔

______________________

(۱) اعیان الشیعہ ج۱ ص۲۳۷


پھر فرمایا: اب تمہارے لئے جو بھی خطرہ یا مشکلات تھیں وہ دور ہوگئیں ہیںاور تمہیں کوئی تکلیف نہ پہونچے گی۔(۱)

یہ جملہ بھی اسی جملے کی طرح ہے جسے ابن ہشام نے سیرۂ ہشام میں اور طبری نے تاریخ طبری میں نقل کیاہے، لہٰذا اگر پیغمبر نے حضرت علی کوامان دیاہے تو وہ بعد میں آنے والی رات کے لئے تھا نہ کہ ہجرت کی رات تھی، اور اگر حضرت علی کوحکم دیا ہے کہ لوگوں کی امانتوں کوادا کردو تووہ دوسری یا تیسری رات تھی نہ لیلة المبیت تھا۔

اگرچہ اہلسنت کے بعض مؤرخین نے واقعہ کواس طرح نقل کیا ہے کہ پیغمبر اسلام نے شب ہجرت ہی حضرت علی ـ کو امان دیا تھا اور اسی رات امانتوں کے ادا کرنے کا حکم دیا تھامگر یہ قول توجیہ کے لائق ہے کیونکہ انھوںنے صرف اصل واقعہ کونقل کیا ہے وقت اورجگہ اور امانتوں کے واپس کرنے کو وہ بیان نہیں کرنا مقصود نہیں تھا کہ جس کیوجہ سے دقیق طور پر ہر محل کا ذکر کرتے۔

حلبی اپنی کتاب ''سیرۂ حلبیہ'' میں لکھتا ہے:

جس وقت پیغمبر غار ثور میں قیام فرما تھے توانہی راتوں میں سے کسی ایک رات حضرت علی ـ، پیغمبر کی خدمت اقدس میں شرفیاب ہوئے، پیغمبر نے اس رات حضرت علی کو حکم دیا کہ لوگوں کی امانتیںواپس کردو اور پیغمبر کے قرضوں کوادا کردو۔(۲)

در المنثورمیں ہے کہ علی نے شب ہجرت کے بعد پیغمبر سے ملاقات کی تھی۔(۳)

______________________

(۱) پیغمبر کی عبارت یہ ہے:

''انہم لن یصلوا الیک من الآن بشیء تکرہہ''

(۲) سیرۂ حلبی، ج۲، ص ۳۷۔ ۳۶

(۳) سیرۂ حلبی، ج۲، ص ۳۷۔ ۳۶


امام ـ کی فداکاری پر دو معتبر گواہ

تاریخ کی دو چیزیںاس بات پر گواہ ہیں کہ حضرت علی کا عمل، ہجرت کی شب، فداکاری کے علاوہ کچھ اور نہ تھااور حضرت علی صدق دل سے خدا کی راہ میں قتل اور شہادت کے لئے آمادہ تھے ملاحظہ کیجئے۔

۱۔ اس تاریخی واقعہ کی مناسبت سے جو امام علیہ السلام نے اشعار کہے ہیں اور سیوطی نے ان تمام اشعار کواپنی تفسیر(۱) میںنقل کیا ہے جو آپ کی جانبازی اور فداکاری پر واضح دلیل ہے۔

وقیت بنفسی خیر من وطأ الحصیٰ-----و من طاف بالبیت العتیق وبالحجر

محمد لما خاف أن یمکروا به----- فوقاه ربی ذو الجلال من المکر

و بتّ اراعیهم متی ینشروننی-----و قد وطنت نفسی علی القتل والأسر

میں نے اپنی جان کو روئے زمین کی بہترین اور سب سے نیک شخصیت جس نے خدا کے گھر اور حجر اسماعیل کا طواف کیا ہے اسی کے لئے سپر (ڈھال) قرار دیا ہے۔وہ عظیم شخص محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں اور میں نے یہ کام اس وقت انجام دیا جب کفار ان کو قتل کرنے کے لئے آمادہ تھے لیکن میرے خدا نے انھیں دشمنوں کے مکر و فریب سے محفوظ رکھا۔میں ان کے بستر پر بڑے ہی آرام سے سویااور دشمن کے حملہ کا منتظر تھا اور خود کومرنے یا قید ہونے کے لئے آمادہ کر رکھاتھا۔

۲۔ شیعہ اور سنی مؤرخین نے نقل کیا ہے کہ خداوند عالم نے اس رات اپنے دو بزرگ فرشتوں، جبرئیل و میکائیل کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں تم میں سے ایک کے لئے موت اور دوسرے کے لئے حیات مقرر کروں توتم میں سے کون ہے جوموت کو قبول کرے اوراپنی زندگی کودوسرے کے حوالے کردے؟ اس وقت دونوں فرشتوں میں سے کسی نے بھی موت کو قبول نہیں کیا اور نہ ایک دوسرے کے ساتھ فداکاری کرنے کا وعدہ کیا پھر خدا نے ان دونوں فرشتوں سے کہا : زمین پر جاؤ اور دیکھو کہ علی ـنے کس طرح سے موت کو اپنے لئے خریدا ہے اور خود کو پیغمبر پر فدا کردیا ہے ،جاؤ علی ـ کودشمنوں کے شر سے محفوظ رکھو۔(۲)

______________________

(۱) الدر المنثور، ج۳، ص ۱۸۰

(۲) بحار الانوار ج۱۹ ص ۳۹ ، احیاء العلوم غزالی


اگرچہ بعض لوگوںنے طویل زمانہ گذرنے کی وجہ سے اس عظیم فضیلت پر پردہ ڈالا ہے، مگر ابتدائے اسلام میں حضرت علی کا یہ عمل دوست اور دشمن سب کی نظر میں ایک بہت بڑی اور فدا کاری شمار کی جاتی تھی ۔چھ آدمیوں پر مشتمل شوریٰ جو عمر کے حکم سے خلیفہ معین کرنے کے لئے بنائی گئی تھی، حضرت علی ـ

نے اپنی اس عظیم فضیلت کا ذکر کرتے ہوئے شرکائے شوریٰ پر اعتراض کیا اور کہا: میں تم سب کوخدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ کیا میرے علاوہ کوئی اور تھا جوغار ثور میں پیغمبر کے لئے کھانا لے گیا؟

کیا میرے علاوہ کوئی ان کے بستر پر سویا؟ اورخود کوا س بلا میں ان کی سپر قرار دیا؟ سب نے ایک آواز ہوکر کہا: خدا کی قسم تمہارے علاوہ کوئی نہ تھا۔(۱)

مرحوم سیدبن طاوؤس نے حضرت علی ـ کی اس عظیم فداکاری کے بارے میں بہترین تحلیل کرتے ہیں اورانھیں اسماعیل کی طرح فداکار اور باپ کے سامنے راضی بہ رضا رہنے سے قیاس کرتے ہوئے حضرت علی کے ایثار کو عظیم ثابت کیاہے۔(۲)

______________________

(۱) خصال صدوق ج۲ ص۱۲۳، احتجاج طبرسی ص ۷۴

(۲) رجوع کریں اقبال ص ۵۹۳، بحار الانوار ج۱۹ ص ۹۸


تیسرا باب

بعدِہجرت اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پہلے حضرت علی ـ کی زندگی

پہلی فصل

اس زمانے پر ایک نظر

پیغمبر اسلام کی ہجرت کے بعد حضرت علی کامکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنا آپ کی زندگی کا تیسرا حصہ ہے .اور اس فصل کے تمام صفحات حضرت علی کی زندگی کے اہم ترین اورتعجب خیز حالات پر مشتمل ہیں،اور امام علیہ السلام کی زندگی کے مہم اور حساس امور زندگی کے اس دور سے وابستہ ہیں جسے ہم دو مرحلوں میں خلاصہ کر رہے ہیں:

۱۔ میدان جنگ میں آپ کی فداکاری اور جانبازی

پیغمبر اسلام نے مدینے کی اپنی پوری زندگی میں مشرکوں، یہودیوں اورفتنہ و فساد برپا کرنے والوں کے ساتھ ۲۷ غزوات میں لڑیں. مسلمانوں کی تاریخ لکھنے والوں کی نظر میں جن لوگوں نے ان غزوات کے حالات اور شجاعتوں کا تذکرہ کیاہے، کہتے ہیں کہ غزوہ یعنی وہ جنگ جس میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسلامی لشکر کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے رکھی تھی، اور خود سپاہیوں کے ہمراہ میدان جنگ گئے اور انہی کے ساتھ مدینہ واپس آئے. غزوات کے علاوہ ۵۵ ''سریہ'' بھی آپ کے حکم سے انجام پائیں۔(۱)

سریہ سے مراد وہ جنگ ہے جس میں اسلامی فوج کے کچھ سپاہی و جانباز دشمنوں کو شکست دینے اور ان سے لڑنے کے لئے مدینہ سے روانہ ہوئے اور لشکر کی سپہ سالاری اسلامی فوج کے اہم شخص کے ہاتھوں میںتھی، حضرت امیر علیہ السلام نے پیغمبر کے غزوات میں سے ۲۶ غزووں میں شرکت کی اور صرف ''جنگ تبوک'' میں پیغمبر اسلام کے حکم سے مدینہ میں رہے ا ور جنگ تبوک میں شریک نہ ہوئے .کیونکہ یہ خوف تھا کہ مدینے کے منافقین پیغمبر کی عدم موجودگی میں مدینہ پر حملہ کردیںاور مدینہ میں اسلامی امور کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لیں۔جن سریوں کی باگ ڈور امام کے ہاتھوں میں تھی ان کی تعداد معین نہیں ہے مگر پھر بھی ہم ان کی تفصیلات اس حصے میں بیان کریں گے۔

______________________

(۱) واقدی نے اپنی کتاب مغازی، ج۱، ص ۲ میں پیغمبر کی سریہ کی تعدا د اس سے کم لکھی ہے۔


۲۔ وحی (قرآن) کا لکھنا

کتابت وحی اور بہت سی تاریخی اور سیاسی سندوں کا منظم کرنااور تبلیغی اور دعوتی خطوط لکھنا حضرت علی علیہ السلام کاعظیم اور حساس ترین کارنامہ تھا۔

امیر المومنین علیہ السلام نے قرآن کی تمام آیتوں کو چاہے وہ مکہ میں نازل ہوئی ہوں یامدینے میں یا پیغمبر کی زندگی میں نازل ہوئی ہوں بہت ہی عمدہ طریقے سے انھیں لکھا، اور اسی وجہ سے کاتب وحی اور محافظ قرآن مشہور ہوئے، اسی طرح سیاسی و تاریخی اسناد کے منظم کرنے اور تبلیغی خطوط لکھنے، جو آج بھی تاریخ اور سیرت کی بہت سی کتابوں میں موجودہیں، حضرت علی سب سے پہلے کاتب مشہور ہوئے ،یہاں تک کہ حدیبیہ کا تاریخی صلح نامہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے املاء پر مولائے کائنات حضرت علی ـکے ہاتھوں سے لکھا گیا۔

امام علیہ السلام کی علمی اور قلمی خدمات صرف اسی پر منحصر نہیں تھیں بلکہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آثار اور سنتوں کی بہت زیادہ حفاظت بھی کی ہے اور مختلف اوقات میں پیغمبر کی حدیثوں کو جواحکام، فرائض، آداب، سنت، حادثات و واقعات اور غیب کی خبروں پر مشتمل تھیں تحریر کیا. یہی وجہ ہے کہ امام علیہ السلام نے پیغمبر سے جو کچھ بھی سنا اسے چھ کتابوں میں لکھ کر اپنی یادگار چھوڑی. اور امام علیہ السلام کی شہادت کے بعد یہ تمام کتابیں آپ کے بیٹوں کے پاس عظیم میراث کے طورر پر پہونچیں اور امیر المومنین ـ کے بعد دوسرے رہبروں نے مناظرے وغیرہ کے وقت ان کتابوں کو بعنوان دلیل پیش کیا. زرارہ جو امام جعفر صادق ـ کے اہم ترین شاگرد تھے انھوں نے ان کتابوں میں سے چند کتابوں کو آپ کے پاس دیکھااور خصوصیتوں کو نقل کیا ہے۔(۱)

______________________

(۱) تہذیب الاحکام شیخ طوسی ج۲ ص ۲۰۹ طبع نجف ، فہرست نجاشی ص ۲۵۵، طبع ہندوستان ، مؤلف نے ان چھ کتابوں کے متعلق ''بررسی مسند احمد'' کے مقدمہ میں تفصیل سے بحث کی ہے۔


امام ـ نے کس طرح ہجرت کی

پیغمبر(ص) کی ہجرت کے بعد امام علیہ السلام پیغمبر کے خط کے منتظر تھے .کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ابو واقد لیثی حضرت کا خط لیکر مکہ پہونچا اور حضرت علی علیہ السلام کے سپرد کیا. پیغمبر نے جو کچھ بھی ہجرت کی تیسری شب غار ثور میں زبانی حضرت علی سے کہا تھا اس خط میں ان چیزوں کی تاکید کی اور حکم دیا کہ خاندان رسالت کی عورتوں کولے کر روانہ ہو جائیں اور غریب و ناتوان افراد جو ہجرت کی طرف مائل ہیں ان کی مدد کریں۔

امام علیہ السلام لوگوں کی امانت ادا کرنے کے سلسلے میں پیغمبر کے حکم پرپورے طور پر عمل کرچکے تھے اور اب صرف ایک کام باقی تھا اور وہ یہ کہ خود اور خاندان رسالت کی عورتوں کو مدینہ لے جانے کا اسباب فراہم کریں. لہٰذا مومنین کا وہ گروہ جو ہجرت کے لئے آمادہ تھا اسے حکم دیاکہ خاموشی سے مکہ سے باہر نکل جائیں اور چند کیلو میٹر دور ''ذو طویٰ'' مقام پر قیام کریں تاکہ امام کا قافلہ وہاں پہونچ جائے، حضرت علی ـ نے مومنین کو خاموشی سے جانے کا حکم دیا تھا مگر خود دن کے اجالے میں سفر کے لئے آمادہ ہوئے اورعورتوں کو ام ایمن کی بیٹی ایمن کے ذریعے عماریوں پر سوار کرایا اور ابوواقد سے کہا اونٹوں کو آہستہ آہستہ لے جاؤ کیونکہ عورتیں تیز تیز جانے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

ابن شہر آشوب لکھتے ہیں :

جب عباس حضرت علی کے اس ارادے سے باخبر ہوئے کہ وہ دن کے اجالے میں دشمنوں کے سامنے سے مکہ سے ہجرت کر رہے ہیں اور عورتوں کو بھی اپنے ساتھ لے جارہے ہیں تو فوراً حضرت علی کی خدمت میں آئے اور کہا کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پوشیدہ طور سے مکہ سے گئے تو قریش ان کو تلاش کرنے کے لئے پورے مکہ اور اطراف مکہ میں ڈھونڈتے رہے تو تم کس طرح سے دشمنوں کے سامنے عورتوں کے ہمراہ مکہ سے باہر نکلو گے؟ کیاتم نہیں جانتے کہ دشمن تمھیں مکہ سے باہر نہیں جانے دیں گے؟

علی علیہ السلام نے اپنے چچا کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: کل رات جب میں نے غار ثور میں پیغمبر سے ملاقات کی اور پیغمبر نے حکم دیاکہ ہاشمی عورتوں کے ساتھ مکہ سے ہجرت کرنا تو اسی وقت مجھے خوشخبری بھی دی کہ اب مجھے کوئی بھی تکلیف نہیں پہونچے گی، میں اپنے پروردگار پر اعتماداور احمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قول پر ایمان رکھتا ہوں اور ان کا اور میرا راستہ ایک ہی ہے اسی لئے میں دن کے اجالے اور دشمنوں کی آنکھوں کے سامنے سے مکہ سے ہجرت کروں گا۔


پھر، امام علیہ السلام نے کچھ اشعار پڑھے جن کا مفہوم وہی ہے جو ہم بیان کرچکے ہیں۔(۱)

امام نے نہ صرف اپنے چچا کو ایسا جواب دیا، بلکہ جب لیثی نے اونٹوں کی ذمہ داری اپنے سر لی اورقافلے کو جلدی جلدی لے جانے لگا تاکہ دشمنوں کے سامنے سے جلدی سے دور ہو جائے تو امام نے اُسے اونٹوں کو تیز تیز لے جانے سے منع کیا اور فرمایا: پیغمبر نے مجھ سے فرمایا ہے کہ اس سفر میں تمھیں کوئی تکلیف واذیت نہیں پہونچے گی پھر اونٹوں کو لے جانے کی ذمہ داری خود لے لی اور یہ رجز پڑھا۔

تمام امور کی باگ ڈور خدا کے ہاتھ میں ہے لہٰذا ہر طرح کی بدگمانی کو اپنے سے دور کرو کیونکہ اس جہان کا پیداکرنے والا ہر اہم حاجت کے لئے کافی ہے۔(۲)

______________________

(۱) امام علیہ السلام کے اشعار یہ ہیں:

ان ابن آمنة النبی محمداً

رجل صدوق قال عن جبرئیل

ارخ الزمام و لاتخف عن عائق

فالله یردیهم عن التنکیل

انی بربی واثق و باحمد

و سبیله متلا حق بسبیلی

(۲) امالی شیخ طوسی ص۲۹۹، بحار الانوار ج۱۹ ص ۶۵ اور رجز کی عبارت یہ ہے:

لیس الا الله فارفع ظنکا یکفیک رب الناس ما اهمّکا


قریش نے حضرت علی ـ کا تعاقب کیا

امام کا قافلہ سرزمین ''ضجنان'' پہونچنے والا تھا کہ سات نقاب پوش سوار سامنے سے آتے ہوئے دکھائی دیئے جو اپنے گھوڑوں کو بہت تیزی کے ساتھ قافلے کی طرف دوڑائے ہوئے تھے. امام نے عورتوںکو ہر طرح کی مشکلات سے بچانے اور ان کی حفاظت کے لئے واقد اور ایمن کوحکم دیا کہ فوراً اونٹوں کو بٹھادواوران کے پیروں کو باندھ دو. پھر عورتوں کواونٹوں سے اتارنے میں مدد فرمائی، جیسے ہی یہ کام ختم ہوا تمام نقاب پوش سوار برہنہ تلواریں لئے ہوئے قافلے کے قریب آگئے اور چونکہ وہ غصے سے بھرے ہوئے تھے اس لئے اس طرح برا و ناسزا کہنا شروع کردیا : کیاتم یہ سوچتے ہو کہ ان عورتوں کے ساتھ ہمارے سامنے فرار کرسکتے ہو؟ بس اس سفر سے باز آجاؤ!

حضرت علی علیہ السلام نے کہا: اگر واپس نہ گیاتو کیا کرو گے؟

انھوں نے کہا: زبردستی تم کو اس سفر سے روکیں گے یا تمہارے سر قلم کردیںگے۔

اتنا کہنے کے بعد وہ لوگ اونٹوں کی طرف بڑھے تاکہ ان کو واپس لے جائیں اس وقت حضرت علی نے اپنی تلوار نکال کر ان کو اس کام سے روکا. ان میں سے ایک شخص نے اپنی برہنہ تلوار حضرت علی کی طرف بڑھائی. ابوطالب کے لال نے اس کی تلوار کے وار کو روکا اور غصے کی حالت میں تھے ان پر حملہ کیا اور اپنی تلوار سے ''جناح'' نامی شخص پر وار کیا. قریب تھا کہ تلوار اس کے شانے کو کاٹتی کہ اچانک اس کا گھوڑا پیچھے کی طرف ہٹا اورامام کی تلوار گھوڑے کی پشت پر جالگی، اس وقت حضرت علی نے ان سب کو متوجہ کرتے ہوئے بآواز بلندکہا:

''میں عازم مدینہ ہوں اور رسول خدا کی ملاقات کے علاوہ میراکوئی اور مقصد نہیں ہے ،جو شخص بھی یہ ارادہ رکھتا ہے کہ انھیں ٹکڑے ٹکڑے کرے اور ان کا خون بہائے وہ میرے ساتھ یامیرے نزدیک آئے۔''


اتنا کہنے کے بعد آپ نے ایمن او رابوواقد کو حکم دیاکہ فوراً اٹھ کر اونٹوں کے پیر کھول دیںاور چلنے کے لئے آمادہ ہوجائیں۔

دشمنوں نے یہ احساس کرلیا کہ حضرت علی جنگ کرنے کے لئے آمادہ ہیں او رانھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص عنقریب مرنے ہی والا تھا، لہٰذا اپنے ارادے سے باز آگئے او رمکہ کے راستے کی طرف چل پڑے. امام نے بھی اپنے سفر کو مدینے کی طرف جاری رکھا آپ نے کوہ ضجنان کے نزدیک ایک دن او رایک رات قیام کیا تاکہ وہ لوگ جوہجرت کے لئے آمادہ تھے وہ بھی آجائیں تمام افراد میں سے جو حضرت علی اور ان کے ہمراہیوں سے ملحق ہوئے ان میں ایک ام ایمن تھیں جوایک پاکدامن عورت تھیں جنھوں نے آخر عمر تک خاندان رسالت کو نہیں چھوڑا۔

تاریخ کا بیان ہے کہ حضرت علی نے یہ پورا راستہ پیدل چل کر تمام کیا،اور ہر ہر منزل پر خدا کا ذکر کرتے رہے اور پورے سفر میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ نماز پڑھی۔

بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ درج ذیل آیت ان افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔(۱)

( الَّذِینَ یَذْکُرُونَ اﷲَ قِیَامًا وَقُعُودًا وَعَلَی جُنُوبِهِمْ وَیَتَفَکَّرُونَ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْارْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا ً ) (۲)

جو لوگ اٹھتے، بیٹھتے ، کروٹ لیتے (الغرض ہر حال میں) خدا کا ذکر کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی بناوٹ میںغور و فکر کرتے ہیں اور (بے ساختہ) کہہ اٹھتے ہیں کہ خداوندا تونے اس کو بیکار پیدا نہیں کیا ہے۔

جب حضرت علی ، اور ان کے ہمراہی مدینہء منورہ پہونچے تو رسول اکرم(ص) ان کے دیدار کے لئے فوراً گئے جس وقت پیغمبر اسلام کی نگاہ حضرت علی پر پڑی تو آپ نے دیکھا کہ ان کے پیر ورم کر گئے ہیںاوران سے خون کے قطرے گر رہے ہیں.آپ نے فوراً حضرت علی کو گلے سے لگایا اورفرط محبت سے آپ کی چشم مبارک سے آنسووؤں کے قطرات جاری ہوگئے۔(۳)

______________________

(۱) امالی شیخ طوسی ص ۳۰۳۔ ۳۰۱

(۲) سورۂ آل عمران، آیت ۱۹۱

(۳) اعلام الوریٰ ص ۱۹۲، تاریخ کامل ج۲ ص ۷۵


دوسری فصل

دو بڑی فضیلتیں

اگر اجتماعی مسئلوں کے ہر مسئلے پر شک کریں یا ان کو ثابت کرنے کے لئے تحقیق ،دلیل اور برہان کے محتاج رہیں توایسی صورت میں اجتماعی اتحاد و ہمبستگی اور منافع وغیرہ کے سلسلے میں شک و تردید میں نہیں الجھیں گے .اور کوئی شخص بھی ایسا نہیں ملے گا جویہ کہے کہ نااتفاقی اوراختلاف مفید چیزہے اور اتحاد واتفاق برا اور نقصان دہ ہے. کیونکہ اتفاق کی وجہ سے سب سے کم فائدہ جومعاشرے کو پہونچے گا وہ یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی اور بکھری ہوئی فوجیں آپس میں مل جائیں گی ،اور عظیم فوج کے سائے میں معاشرے میں مختلف طریقوں سے بڑے بڑے تحولات پیدا ہوںگے۔

وہ پانی جو بڑی بڑی ندیوں کے کنارے چھوٹی چھوٹی نہروں کی طرح بہتا ہوا نظر آتا ہے وہ چھوٹے دریاؤں سے ملنے کی وجہ سے وجود میں آیا ہے جس کے اندر نہ اتنی صلاحیت ہے کہ بجلی پیدا کرسکے اور نہ اتنی مقدار ہی میں ہے کہ اس سے کھیتی کی جاسکے ،لیکن جب یہ چھوٹی چھوٹی نہریں ایک جگہ جاکر مل جاتی ہیں تو ایک دریا کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور اب یہ دریاہزاروں کیلو واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کرلیتا ہے اور اس کے پانی سے ہزاروں ایکٹر زمین سیراب کر کے کھیتی کی جاتی ہے۔

غرض ز انجمن واجتماع وجمع قواست

چرا کہ قطرہ چوشدمتصل بہ ہم دریا است

اجتماع اور انجمن اور جمع ہونے کا مقصد طاقت ہے ،کیونکہ اگر پانی کا ایک قطرہ دریاسے مل جائے تو وہ بھی دریا بن جاتا ہے۔

ز قطرہ ہیچ نیایدولی چو دریا گشت

ہر آنچہ نفع تصور کنی در آن آنجا است

قطرہ سے کچھ بھی حاصل نہ ہوگا ،لیکن اگر یہی قطرہ دریابن گیا تو تم جتنا بھی فائدہ سوچ سکتے ہو تمہیں ملے گا۔


ز قطرہ ماہی پیدا نمی شود ہرگز

محیط گشت ، از آن نہنگ خواہد خاست

قطرہ میں کبھی بھی مچھلی زندہ نہیں رہ سکتی، مگر جب یہی قطرہ دریا بن گیا تواس میں نہنگ مچھلی زندہ رہ سکتی ہے ۔

ز گند می نتوان پخت نان وقوت نمود

چو گشت خرمن وخروار وقت برگ ونواست

ایک گیہوں سے روٹی نہیں پکائی جاسکتی اور زندگی بسر نہیں ہو سکتی جب وہ کھلیہان میں گیاتو ایک ذخیرہ بن گیا ہے

ز فرد فرد محال است کارہای بزرگ

ولی ز جمع توان خواستہ ہرچہ خواہی خواست

ایک بڑا کام الگ الگ مردوں سے انجام پانابہت محال ہے، لیکن اگر یہی تمام لوگ ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو جو بھی کرناچاہیں انجام دے سکتے ہیں۔


بلی چو مورچگان را وفاق دست دہد

بہ قول شیخ، ہژ بر ژیان اسیر و فنا است

اگر چیونٹیوں کی طرح اتحاد و اتفاق کا دامن ہاتھ میں رہے تو شیخ کے بقول زندگی فنا و برباد ہے ۔

اپنے مقصد میں کامیابی کے لئے نہ صرف مادی چیزوں کو طلب کرے بلکہ ضروری ہے کہ لوگوں کی فکری اور معنوی قدرت وطاقت سے اجتماعی مشکلوں کا حل تلاش کرے ،اور صحیح لائحہ عمل بنانے میں مددطلب کرے، اور ایک دوسرے سے مشورہ اور تبادلۂ نظر کے نئے نئے راستے ہموار کرے اور بزرگ و سنگین پہاڑ جیسی مشکلوں سے ہوشیار رہے۔

یہی وجہ ہے کہ آئین اسلام کے اصلی اور بیش قیمتی برناموںمیں تبادلہ خیالات اور مشورے کی اجتماعی امور میں بہت زیادہ اہمیت بیان کی گئی ہے، اور قرآن مجید نے جن لوگوں کوحق پسند اور حق شناس جیسے ناموں سے تعبیر کیا ہے ان کے تمام کام مشورے اور تبادلہ خیالات سے انجام پاتے ہیں۔

( وَالَّذِینَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَاقَامُوا الصَّلاَةَ وََمْرُهُمْ شُورَی بَیْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ یُنْفِقُونَ ) (۱)

اور جو اپنے پروردگار کا حکم مانتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیںاور ان کے کل کام آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں عطا کیاہے اس میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرتے ہیں۔

______________________

(۱) سورۂ شوریٰ آیت ۳۸


اتحاد اور اخوت

آئین اسلام کاایک اہم اور اجتماعی اصول ''اخوت و برادری'' ہے .پیغمبر اسلام(ص) مختلف صورتوں سے اخوت و برادری کو عام کرنے میں بہت زیادہ کوشاں رہے ہیں۔مہاجرین کے مدینہ پہونچنے کے بعد پہلی مرتبہ اخوت وبرادری کا رشتہ انصار کے دو گروہ یعنی اوس و خزرج کے درمیان پیغمبر اسلام کے ذریعے قائم ہوا۔

یہ دو قبیلے جومدینہ ہی کے رہنے والے تھے اور عرصۂ دراز سے آپس میں جنگ وجدال کرتیتھے ، رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی کوششوں کے نتیجے میں ایک دوسرے کے بھائی بن گئے اورارادہ کرلیاکہ ہم لوگ پرانی باتوں کو کبھی نہیں دہرائیں گے.اس اخوت و برادری کاہدف و مقصد یہ تھاکہ اوس و خزرج جو اسلام کے دواہم گروہ مشرکوںکے مقابلے میںتھے وہ آپس میں ظلم و بربریت، لڑائی جھگڑا او رایک دوسرے پر زیادتی کرنے سے باز آجائیں اور پرانی دشمنی کی جگہ صلح و صفا کویاد رکھیں۔

دوسری مرتبہ پیغمبر نے اپنے صحابیوں اوردوستوں کوچاہے مہاجرین سے ہوںیاانصار میں سے ، حکم دیا کہ آپس میں ایک دوسرے کواپنا بھائی بنالیں اوردوسرے کے بھائی بن جائیں ،کتنی عمدہ بات ہے کہ دومہاجر ایک دوسرے کے بھائی یا ایک مہاجر میں سے اور ایک انصار میں سے ایک دوسرے کے بھائی بن گئے اور بھائی چارگی کے عنوان سے ایک دوسرے کے ہاتھ میں اپناہاتھ دیااوراس طرح سے ایک سیاسی اور معنوی قدرت و طاقت ابھر کر ان کے سامنے آگئی۔

اسلامی مؤرخین ومحدثین لکھتے ہیں:

ایک دن پیغمبر اپنی جگہ سے اٹھے اوراپنے دوستوں سے فرمایا: ''تآٔخوا فی الله اخوین اخوین''

یعنی خدا کی راہ میں آپس میں دودوآدمی بھائی بن جاؤ۔

تاریخ نے اس موقع پر ان افراد کا نام ذکر کیا ہے جن لوگوں نے اس دن پیغمبر کے حکم سے ایک دوسرے کے ساتھ رشتۂ اخوت کو قائم کیا مثلاً ابوبکر اور عمر ،عثمان اور عبدالرحمن بن عوف، طلحہ او ر زبیر، ابی ابن کعب اور ابن مسعود، عمار اور ابو حذیفہ، سلمان اور ابو الدرداء وغیرہ آپس میں ایک دوسرے کے بھائی بنے اور ان افراد کی بھائی چارگی کو پیغمبر نے تائید کیا .یہ برادری اوربھائی چارگی جو چند افراد کے درمیان قائم ہوئی اس برادری اور اسلامی برادری کے علاوہ ہے جسے قرآن کریم نے اسلامی معاشرے میں معیار ومیزان قرار دیا ہے اور تمام مومنین کوایک دوسرے کا بھائی کہا ہے۔


حضرت علی ـ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھائی تھے :

رسول اسلام(ص) نے جتنے افراد بھی مسجد نبوی میں حاضر تھے انھیںایک دوسرے کا بھائی بنایا، صرف علی ـان کے درمیان تنہا بچے جن کے لئے بھائی کانتخاب نہیں کیا، اس وقت حضرت علی آنکھوں میں آنسوؤوں کا سوغات لئے ہوئے پیغمبر اسلام کی خدمت میں پہونچے اور کہا آپ نے اپنے تمام دوستوں کے لئے ایک ایک بھائی کا انتخاب کردیا لیکن میرے لئے کسی کو بھائی نہیں بنایا۔

اس وقت پیغمبر اکرم نے اپنا تاریخی کلام جوحضرت علی کی پیغمبر سے قربت و منزلت اور نسبت اور آپ کی شخصیت کو اجاگر کرتا ہے انھیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

''اَنْتَ اَخِیْ فِی الدُّنْیٰا وَ الْآخِرَةِ وَالَّذِیْ بَعَثَنِیْ بِالْحَقِّ مٰا اَخَّرتُکَ الاّٰ لِنَفْسِیْ اَنْتَ اَخِیْ فِی الدُّنْیٰاوَ الْآخِرَةِ'' (۱)

تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو .وہ خدا جس نے ہمیںحق پر مبعوث کیا ہے میں نے تمہاری برادری کے سلسلے میں خود تاخیر سے کام لیا ہے تاکہ تمہیںاپنابھائی قرار دوں، ایسی بھائی چارگی جو دونوں جہان (دنیا و آخرت) میں باقی رہے۔

رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ کلام حضرت علی ـ کی عظمت اور پیغمبر اسلام سے نسبت کو معنوی و پاکیزگی اور دین کے اہداف میں خلوص کو بخوبی واضح ورو شن کرتا ہے. خود اہلسنت کے دانشمندوں میں سے

______________________

(۱) مستدرک حاکم، ج۳، ص ۱۴، استیعاب ، ج۳، ص ۳۵


الریاض النضرة کے مؤلف نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔(۱)

یہاں پر آیت مباہلہ(۲) کی تفسیر کا مبنٰی سمجھ میں اتا ہے تمام علمائے تفسیر کا اتفاق ہے کہ( اَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ ) سے مراد علی بن ابی طالب ہیںجسے قرآن نے ''نفس پیامبر'' کے خطاب سے یاد کیا ہے. اس لئے کہ فکری اور روحی جاذبیت نہ یہ کہ صرف دو فکروں کواپنی طرف کھینچتی ہے بلکہ کبھی کبھی دو انسان کو ایک ہی شخص بتاتی ہے۔

اس لئے کہ ہر موجود اپنے ہم جنس کو جذب اور اپنے مخالف کو دفع کرتی ہے، اور یہ عالم اجسام اور اجرام زمین و آسمان سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ عظیم وبزرگ شخصیتیں جذب اوردفع کا مظہر ہیں.ایک گروہ کو جذب اور دوسرے گروہ کو دفع کرتی ہیں. اس طریقے کی کشش اور گریز سنخیت یا روح کے متضاد ہونے کی وجہ سے ہے اور یہی سنخیت اور تضاد ہے جوایک گروہ کواپنے قریب کرتی ہے اور دوسرے گروہ کواپنے سے دور کردیتی ہے۔ اس مسئلہ کو اسلامی فلسفۂ نے اس طرح تعبیر کیا ہے''السنخیة علة الانضمام'' یعنی سنخیت اور مشابہت اجتماع اورانضمام کا سرچشمہ ہے۔

امام ـ کی ایک اور فضیلت

جب مسجد نبوی کی تعمیر ہوچکی تو پیغمبر کے صحابیوں نے مسجد کے اطراف میں اپنے اپنے لئے گھر بنائے اور ہر گھر کا ایک دروازہ مسجد کی طرف کھلا رکھا پیغمبر اسلام نے بحکم خدا فرمایا: تمام دروازے جو مسجد کی طرف کھلتے ہیں اسے بند کردیا جائے سوائے علی بن ابی طالب کے دروازے کے ، یہ بات رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بہت سے صحابیوں پر ناگوار گذری لہٰذا پیغمبر اسلام منبر پر تشریف لائے اور فرمایا : خداوند عالم نے مجھے حکم دیاہے کہ تمام دروازے جو مسجد کی طرف کھلتے ہیںانھیں بند کردوں سوائے حضرت علی کے دروازے کے، اور خودمیں نے اپنی طرف سے دروازہ بند کرنے یا کھولنے کا حکم نہیں دیاہے بلکہ میں اس مسئلے میں خدا کے حکم کا پابند ہوں۔(۳)

______________________

(۱)الریاض النضرة ج۲ ص ۱۶ مؤلف محب الدین طبری

(۲)سورہ آل عمران ۶۱

(۳) مسند احمد ج۳ ص ۳۴۹، مستدرک حاکم ج۳ ص ۱۲۵ ،الریاض النضرة ج۳ ص ۱۹۲


اس دن رسول خدا کے تمام صحابیوں نے اس واقعہ کو حضرت علی ـ کی ایک بہت بڑی فضیلت سمجھا یہاں تک کہ بہت زمانے کے بعد خلیفۂ دوم نے کہا کہ ، کاش وہ تین فضیلتیں جو علی کونصیب ہوئیں وہ مجھے بھی نصیب ہوتیں، اور وہ تین فضیلتیں یہ ہیں:

۱۔ پیغمبر نے اپنی بیٹی کا عقد علی ـ سے کیا۔

۲۔ تمام دروازے جو مسجد کی طرف کھلتے تھے وہ بند ہوگئے صرف علی ـکے گھر کا دروازہ کھلا رہا۔

۳۔ جنگ خیبر میں پیغمبر نے علم کوعلی ـ کے ہاتھوں میں دیا۔(۱)

حضرت علی ـاور لوگوں کے درمیان جو فرق ہے وہ اسی لئے کہ آپ کا مسجد سے کسی وقت بھی رابطہ منقطع نہیں ہوا ،وہ خدا کے گھر میں پیدا ہوئے اورکعبہ میں آنکھ کھولی اس بنا پر پہلے ہی دن سے مسجد آپ کا گھر تھا اور یہ تمام فضیلتیں کسی دوسرے کے لئے نہ تھیں اس کے علاوہ حضرت علی ہمیشہ اور ہر حالت میں مسجد کے احکام کی رعایت کرتے تھے لیکن دوسرے افرادبہت کم مسجدکے آداب و احکام کی رعایت کرتے تھے۔

______________________

(۱) مسند احمد، ج۲، ص ۲۶


تیسری فصل

جنگ بدر کا بے نظیر بہادر

ضمضم نامی شخص کی دلسوز آواز، جس نے اپنے اونٹ کا کان کاٹ ڈالا ،اس کی ناک کو شگافتہ کر ڈالا،کوہان کو موڑے ، اونٹ کو الٹا کئے ہوئے تھا، نے قریش کو اپنی طرف متوجہ کیا .اس نے اپنے پیراہن کو آگے سے پیچھے تک پھاڑ دیا اور اونٹ کی پیٹھ پر سوار جس کے کان اور دماغ سے خون ٹپک رہا تھا ،کھڑا ہوا تھا اور چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ اے لوگو جس اونٹ کے ناف میں مشک ہے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے ساتھیوں کی وجہ سے خطرے میں ہے .وہ لوگ چاہتے ہیں کہ ان تمام اونٹوں کو سر زمین بدر کا تاوان قرار دیں، میری مدد کو پہونچو میری مدد کرو۔اس کے مسلسل چیخنے اوراستغاثہ کرنے کی وجہ سے قریش کے تمام بہادر اور نوجوان گھر، کارخانہ اور دوکانوں سے نکل کر اس کے پاس جمع ہوگئے .زخمی اونٹ کی حالت اور ضمضم کی آہ و بکا نے ان لوگوں کی عقلوں کو حیرت میں ڈال دیا اور لوگوں کواحساسکے حوالے کر دیا، اکثر لوگوں نے یہ ارادہ کرلیا کہ شہر مکہ کو کاروان قریش سے نجات دینے کے لئے ''بدر'' کی طرف چلے جائیں۔پیغمبر اسلام(ص) اس سے بلند و بالا تھے کہ کسی کے مال و دولت پر نگاہ کرتے اور کسی گروہ کے مال و متاع کو بغیر کسی سبب کے تاوان قرار دیتے، تو پھر کیاہوا کہ آپ نے اس طرح کا ارادہ بنالیا تھا؟

رسول اسلام (ص) کا مقصداس کام سے فقط دو چیز تھا۔

۱۔ قریش کواس بات کا علم ہو جائے کہ ان کے تجارت کرنے کا طریقہ ،اسلام کے ہاتھوں میں قرار دیا گیاہے اور اگر وہ لوگ اسلام کی نشر واشاعت اور تبلیغ کے لئے مانع ہوں اور بیان آزادی کو مسلمانوں سے چھین لیںتو ان کے حیات کی رگوں کواسلامی طاقتوں کے ذریعہ کاٹ دیا جائے گا. کیونکہ بولنے والا جتنا بھی قوی ہواور چاہے جتنا بھی خلوص واستقامت دکھائے لیکن اگر آزادیٔ بیان و تبلیغ سے استوار نہ ہو تو شائستہ طور پر اپنے وظیفے کو انجام نہیں دے سکتا۔

مکہ میں قریش، اسلام کی تبلیغ واشاعت اورآئین الہی کی طرف لوگوں کے متوجہ ہونے میں سب سے زیادہ مانع تھے. ان لوگوںنے تمام قبیلے والوں کواجازت دیدیا کہ حج کے زمانے میں مکہ آئیںلیکن اسلام اور مسلمانوں کے عظیم المرتبت رہبر کو مکہ اور اطراف مکہ میںداخلے پر پابندی عائد کردی ، یہاں تک کہ اگر ان کو پکڑ لیتے تو قتل کردیتے .اس وقت جب لوگ حج کے زمانے میں حجاز کے تمام شہروںسے خانہ کعبہ کے اطراف جمع ہو رہے تھے ، قوانین اسلام وتوحید کے پیغام کو پہونچا نے کا بہترین وقت تھا۔


۲۔ مسلمانوں کے بعض گروہ جو کسی بھی وجہ سے مکہ سے مدینے کی طرف ہجرت نہیں کرسکے تھے وہ ہمیشہ قریش کے عذاب میں مبتلا تھے. وہ اپنا مال و متاع اور جولوگ ہجرت کر گئے تھے ان کے مال و متاع کوآج تک حاصل نہ کرسکے تھے اور قریش کی طرف سے ہمیشہ ڈرائے اور دھمکائے جاتے تھے۔

پیغمبر اسلام نے کاروان قریش سے تجارت کے سامانوں کا تاوان لینے کے لئے قدم اٹھایااور ارادہ کیا کہ سختی سے ان کی تنبیہ کی جائے جنھوں نے مسلمانوں سے ہر طرح کی آزادی کو چھین لیا تھا اور مسلسل انھیں اذیت وتکلیف دیتے رہتے تھے اور ان کے اسباب کی پرواہ تک نہ کرتے تھے۔

اسی وجہ سے پیغمبر ماہ رمضان ۲ھ میں۳۱۳/ آدمیوںکے ہمراہ کاروان قریش کے مال و سامان سے تاوان لینے کے لئے مدینہ سے باہر آئے اور بدر کے کنویں کے پاس ٹھہر گئے، قریش کا تجارتی لشکر شام سے مکہ کی طرف واپس جا رہا تھا اور راستے میں اسے ''بدر'' نامی دیہات سے ہوکر گذرنا تھا۔

ابو سفیان جواس قافلے کا سرپرست تھا، پیغمبر کے ارادے سے باخبر ہوگیا اوراس خبر کو قریش کے سرداروں کے پاس ضمضم کے ذریعے بھیج دیا اور اسے قریش کے سرداروں کے پاس اپنا پیغام بھیجوانے کے لئے اجیر کرلیا تاکہ لوگ قافلے کی مدد کرنے جلد سے جلد آجائیں. ضمضم نے جوماحول بنایا وہ باعث ہوا کہ قریش کے تمام بہادر نوجوان اور جنگجو،قافلے کی مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور جنگ کے ذریعے اس کام کا خاتمہ کردیں۔

قریش نے ایسے نو سو سپاہیوں کا لشکر تیار کیا جوجنگ کے امور میں پختہ دلیری سے لڑنے والے بہترین اسلحوںکے ساتھ ''بدر'' کی طرف روانہ ہوئے لیکن مقصد پر پہونچنے سے پہلے ہی راستے میں ابوسفیان کے دوسرے ایلچی نے اس خبر سے آگاہ کیا کہ قافلے نے اپنا راستہ بدل دیا ہے اور ایک دوسرے راستے سے مسلمانوں سے بچ کر نکل گیا اوراپنے کو محفوظ کرلیا ہے، لیکن ان لوگوں نے اسلام کو، جوابھی شباب کی منزل پر پہونچا تھا سرکوبی کے لئے اپنے ہدف کی طرف سفر جاری رکھااور ۱۷ رمضان ۲ ھ کی صبح کوایک پہاڑ کے پیچھے سے بدر کے میدان میں وارد ہوئے۔


مسلمان بدر کے شمالی طرف سے گذرنے والے درہ کی ڈھلان''العدوة الدنیا'' (۱) کوپناہ گاہ بنائے ہوئے قافلہ کے گذر نے کا انتظار کر رہے تھے. کہ اچانک یہ خبر پہونچی کہ قریش کا لشکر اپنے تجارتی سامان کی حفاظت کے لئے مکہ سے روانہ ہوچکا ہے اورالعدوة القصویٰ(۲) درہ کی بلندی سے نیچے اتر رہا ہے ۔

پیغمبر اسلام کا انصار سے عہد و پیمان، دفاعی تھانہ کہ جنگی، انھوں نے عقبہ میں پیغمبر کے ساتھ عہد کیا تھا کہ اگر دشمن نے مدینہ پر حملہ کیا تووہ پیغمبر اکرم (ص)کا دفاع کریں گے نہ یہ کہ ان کے ساتھ مدینہ کے باہر دشمنوں سے لڑیںگے لہٰذا پیغمبر اسلام نے سپاہیوںکی ایک میٹنگ جوکچھ جوانان انصار اور کچھ مہاجرین کے نوجوانوں پر مشتمل تھی بلائی اور اس میں لوگوں کا نظریہ جاننا چاہا. اس میٹنگ میں جونظریات وجود میں آئے وہ یہ تھے کہ کچھ لوگوںنے شجاعت و بہادری کی بات کی اور کچھ لوگوںنے بزدلی اور عاجزی وبے چارگی کی باتیں کیں۔

سب سے پہلے ابوبکر اٹھے اور کہا:

قریش کے بزرگان اورنوجوان نے اس قافلے سے مقابلے کے لئے شرکت کی ہے، اور قریش آج تک کسی بھی قانون پر ایمان نہیں لائے اورایک لمحہ کے لئے بھی ذلیل ور سوا نہیں ہوئے ہیں اور ہم لوگ مکمل تیاری کے ساتھ یہاں نہیں آئے ہیں(۳) یعنی مصلحت یہ ہے کہ یہاں سے مدینہ واپس چلے جائیں۔

عمربھی اپنی جگہ سے اٹھے اوراپنے دوست کی بات کی مزید وضاحت کی ۔

اسی وقت مقداد اٹھے اور انھوں نے کہا :

خدا کی قسم ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں ہیں جو موسیٰ سے کہیں : ''اے موسیٰ تم اپنے خدا کے ساتھ جاؤ جہاد کرواورہم لوگ یہاںبیٹھے ہیں'' بلکہ ہم اس کے برعکس کہتے ہیں کہ آپ پروردگار کے زیر سایہ جہاد کیجئے ہم بھی آپ کے ہمراہ جہاد کریںگے۔

______________________

(۱)،(۲) سورۂ انفال، آیت ۴۲

(۳)مغازی واقدی ج۱ ص ۴۸


طبری لکھتا ہے کہ جس وقت مقداداٹھے اور چاہا کہ گفتگو کریں توپیغمبر اکرم کے چہرے سے غیض و غضب (جو عمر وابوبکر کی باتیں سن کر ہوا تھا) کے آثار نمودار تھے. لیکن جب مقداد کی گفتگواور مدد کرنے کی خوشخبری سنا تو آپ کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔(۱)

سعد معاذ بھی اٹھے اور کہا کہ جب بھی تم اس دریا (بحر احمر کی طرف اشارہ) کی طرف قدم بڑھاؤ گے ہم بھی تمہارے پیچھے پیچھے اپنے قدم بڑھائیں گے، اور جہاں پر بھی تم مصلحت سمجھناہمیں راستہ دیدینا، اس موقع پر خوشی اور مسرت کے آثار پیغمبر کے چہرۂ اقدس پر آشکار ہوئے اور خوشخبری کے طور پر ان سے کہا: میں قریش کے قتل عام کی وجہ سے مضطرب ہوں. پھر اسلام کی فوج پیغمبر کی سپہ سالاری میں وہاں سے روانہ ہوگئی اور دریائے بدر کے کنارے مستقر ہوئی۔

______________________

(۱) تاریخ طبری ج۲ ص ۱۴۰، عبداللہ بن مسعود سے نقل ہوا ہے۔


حقیقت کوچھپانا :

طبری اور مقریزی جیسے مؤرخین نے کوشش کی ہے کہ حقیقت کے چہرے کوتعصب کے پردے سے چھپادیں اور شیخین کی پیغمبر کے ساتھ ہوئی گفتگو کو جس طرح سے کہ واقدی نے مغازی میں نقل کیا ہے اس طرح نقل نہ کریں ،لہذاکہتے ہیں کہ ابوبکر نے اٹھ کر بہترین گفتگو کی اور اسی طرح سے عمر نے بھی اٹھ کر اچھی باتیں کیں۔

لیکن ضروری ہے کہ یہاں پران دو تاریخ لکھنے والوں سے سوال کیا جائے کہ جب ان دونوںنے اس میٹنگ میں اچھی اچھی باتیں کہی تھیں تو پھر تم لوگوںنے ان کی اصل گفتگوکو نقل کرنے سے کیوںگریز کیا؟ جب کہ تم لوگوں نے مقداد اور سعد کی گفتگو کو تمام جزئیات کے ساتھ نقل کیا ہے؟ تواگر ان لوگوںنے بھی اچھی گفتگواور عمدہ بات کہی تھی تو کیوں پیغمبر کا چہرہ ان کی باتیں سن کر رنجیدہ ہوگیا جیسا کہ خود طبری نے اس چیز کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے؟

لہذا ضروری ہے کہ حضرت علی ـ کی شخصیت و عظمت کے بارے میں اس جنگ کے حوالے سے تحقیق و جستجو کیا جائے۔

حق و باطل کا مقابلہ

مسلمان اور قریش دونوںگروہوں نے جنگ کے لئے صف بندی شروع کردی، اور چند چھوٹے چھوٹے حادثوں نے آتش جنگ کو شعلہ ور کردیا، ابتدا میں ایک ایک شخص لڑنے کوآمادہ ہوا تین افراد بنام عتبہ پدرہندہ (ابوسفیان کی بیوی کا باپ) اوراس کا بڑا بھائی شیبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید میدان جنگ میں آکر کھڑے ہوگئے اور اپنا مقابل طلب کیا .سب سے پہلے انصار میں سے تین آدمی ان سے لڑنے کے لئے میدان جنگ میں آئے اور اپنا تعارف کرایا،لیکن مکہ کے بہادروں نے ان سے جنگ کرنے سے پرہیز کیا اور آواز دی''یٰا مُحَمَّدُ اُخْرُجْ اِلَیْنَا اِکْفَائَنٰا مِنْ قَوْمِنٰا'' یعنی اے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! جو لوگ ہماری قوم اور ہمارے شایان شان ہیں انھیں ہمارے ساتھ جنگ کے لئے بھیجو۔


رسول خدا نے عبیدہ بن حارث بن عبد المطلب اور حمزہ اور علی کوحکم دیا کہ اٹھ کر دشمن کا جواب دیں، اسلام کے تین عظیم سپہ سالار چہرے پر نقاب ڈالے ہوئے میدان جنگ کی طرف روانہ ہوئے. ہر ایک نے اپنا اپنا تعارف کرایااو رعتبہ تینوں افراد سے لڑنے کے لئے تیار ہوگیااورکہاکہ یہ سب کے سب ہمارے شایان شان ہیں۔

یہاں پر بعض مؤرخین مثلاً واقدی لکھتاہے :

جس وقت انصار کے تین بہادر میدان جنگ میںجانے کے لئے تیار ہوئے تو خود پیغمبر نے انھیں جنگ کرنے سے روکا، کیونکہ پیغمبر نہیں چاہتے تھے کہ اسلام کی سب سے پہلی جنگ میں انصار شرکت کریںاور اسی کے ساتھ ساتھ تمام افراد کواس بات سے بھی باخبر کردیاکہ آئین توحید میری نگاہ میں اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ آپ نے اپنے عزیز ترین اور نزدیک ترین افرادکو بھی اس جنگ میں شریک کیا اسی وجہ سے بنی ہاشم کی طرف رخ کر کے کہا کہ اٹھو اور باطل کے ساتھ جنگ کرو کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ نور خدا کوخاموش کردیں۔(۱)

بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ اس جنگ میں ہر سپاہی اپنے ہم سن و سال اوراپنے مقابل سے لڑنے گیااوراس میں سب سے جوان فرد حضرت علی ، ولید (جو معاویہ کا ماموں تھا) سے لڑے اور ان سے کچھ

______________________

(۱) مغازی واقدی ج۱ ص ۶۲


بڑے حمزہ جنہوں نے عتبہ (معاویہ کا نانا) سے اور عبیدہ جو ان دونوں سے بوڑھے تھے شیبہ سے جنگ کرنا شروع کردی۔

ابن ہشام کہتے ہیں کہ شیبہ ، حمزہ کا مقابل اورعتبہ ، عبیدہ کا مقابل تھا.(۱) اب دیکھتے ہیں کہ ان دونوں نظریوں میں کونسا نظریہ صحیح ہے ان دونوں کی تحقیق و جستجوکے بعد حقیقت واضح ہوجائے گی۔

۱۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ علی ـ اور حمزہ نے اپنے حریف ومقابل کو فوراً ہی زمین پر گرادیا. لیکن عبیدہ اور ان کے مقابل کے درمیان بہت دیرتک زور آزمائی ہوتی رہی اور ان میں سے ہر ایک نے ایک دوسرے کومجروح کردیااور کسی نے بھی ایک دوسرے پرغلبہ حاصل نہیں کیا .علی ـاور حمزہ اپنے رقیبوں کو قتل کرنے کے بعد عبیدہ کی مدد کی لئے دوڑے اور ان کے مقابل کو قتل کردیا۔

۲۔ امیر المومنین علیہ السلام معاویہ کو خط لکھتے ہوئے اسے یاد دلاتے ہیںکه'' وَ عِنْدِیْ اَلْسَّیْفُ الَّذِیْ اَعْضَضْتُه بِجَدِّکَ وَ خَالِکَ وَاَخِیْکَ فِیْ مَقَامٍ وَاحِدٍ'' (۲) یعنی وہ تلوار جسے میں نے ایک دن تیرے نانا (عتبہ ، ہندہ کا باپ ہند معاویہ کی ماں) او رتیرے ماموں (ولید بن عتبہ) اور تیرے بھائی (حنظلہ) کے سر پر چلائی تھی اب بھی میرے پاس موجود ہے یعنی ابھی اسی قدرت پر باقی ہوں۔ایک اور مقام پر حضرت امیر فرماتے ہیں کہ''قَدْ عَرَفْتَ مَوَاقِعَ نصالِهٰا فِیْ اَخِیْکَ وَخَالِکَ وَجَدِّکَ وَمَا هِیَ مِنَ الظَّالِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ'' .(۳) یعنی تواے معاویہ! مجھے تلوار سے ڈراتا ہے ؟جب کہ میری تلوار جوتیرے بھائی ، ماموں، اور نانا کے سر پر پڑی تھی تواس سے خوب باخبر ہے اور تو یہ بھی جانتا کہ میں نے ان سب کوایک ہی دن میں قتل کردیا تھا۔

امام علیہ السلام کے ان دونوںخطووں سے بخوبی استفادہ ہوتا ہے کہ حضرت علی نے معاویہ کے جد کو قتل کیا تھا اور دوسری طرف یہ بھی جانتے ہیں کہ حمزہ او رحضرت علی دونوںنے اپنے مد مقابل کو بغیر کسی تاخیر کے ہلاک کر ڈالا تھا ،لہٰذا اگر حمزہ کی جنگ عتبہ (معاویہ کا جد) سے ہوتی توحضرت امیر علیہ السلام یہ کبھی نہیں فرماتے کہ ''اے معاویہ تیرے جد میری ہی تلوار کے وار سے ہلاک ہوئے ہیں'' ایسی صورت میں یہ کہنا پڑے گا کہ شیبہ اور حمزہ ایک ساتھ لڑے اور عتبہ ، عبیدہ کے مقابلے میں تھا اور حضر ت علی اور حمزہ اپنے اپنے حریفوںکوقتل کرنے کے بعد اس کی طرف گئے اوراسے قتل کردیا۔

______________________

(۱) سیرۂ ابن ہشام ج۱ ص ۶۲۵------(۲) نہج البلاغہ نامہ ۶۴---(۳) نہج البلاغہ نامہ ۶۴


چوتھی فصل

حضرت علی ـ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے داماد ہیں

حکم الہی اور سنت حسنہ پر عمل پیراہونے کے لئے حضرت علی کے لئے ضروری تھا کہ جوانی کے بحران سے نکلنے کے لئے اپنی زندگی کی کشتی کو سکون و آرام دیں، مگر حضرت علی جیسی شخصیت کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ کسی کو وقتی آرام وآسایش کے لئے اپنی شریک حیات بنائیں اور اپنی زندگی کے بقیہ ایام کو ایسے ہی چھوڑ دیں. لہٰذا ایسی شریک حیات چاہتے ہیں جو ایمان، تقویٰ، علم اور بصیرت، نجابت واصالت میں ان کی کفو اوران کی ہم پلہ ہو. اور ایسی شریک حیات سوائے پیغمبر کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا جن کی تمام خصوصیات سے بچپن سے لے کر اس وقت تک آپ واقف تھے، کے علاوہ کوئی اور نہ تھا۔

حضرت زہرا سے شادی کے خواہشمندافراد

حضرت علی سے پہلے بہت سے دوسرے افراد مثلاً ابوبکر، عمر نے حضرت زہرا کے ساتھ شادی کے لئے پیغمبر کو رشتہ دیا تھا اور دونوں نے پیغمبر سے ایک ہی جواب سنا تھا آپ نے فرمایا تھا کہ میں زہرا کی شادی کے سلسلے میں وحی کا منتظر ہوں۔

ان دونوں نے جو حضرت زہرا سے شادی کے سلسلے میں ناامید ہوچکے تھے رئیس قبیلہ اوس، سعد معاذ کے ساتھ گفتگو کی اور آپس میں سمجھ لیا کہ حضرت علی کے علاوہ کوئی بھی زہرا کا کفونہیں بن سکتا ،اور پیغمبر کی نظر انتخاب بھی علی ـکے علاوہ کسی پر نہیں ہے. اسی بنا پر یہ لوگ ایک ساتھ حضرت علی کی تلاش میں نکلے اور بالآخر انھیں انصار کے ایک باغ میں پایا .آپ اپنے اونٹ کے ساتھ کجھور کے درختوں کی سینچائی میں مصروف تھے ،ان لوگوں نے علی ـ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : قریش کے شرفا نے پیغمبر کی بیٹی سے شادی کے لئے رشتہ دیا تو پیغمبر نے ان کے جواب میں کہا کہ زہرا کی شادی کے سلسلے میں میں حکم خدا کا منتظر ہوں ہمیں امید ہے کہ اگر تم نے (اپنے تمام فضائل کی وجہ سے) فاطمہ سے شادی کی درخواست کی تو تمہاری درخواست ضرور قبول ہوجائے گی اور اگر تمہاری مالی حالت اچھی نہیں ہے تو ہم سب تمہاری مدد کریں گے۔اس گفتگو کو سنتے ہی حضرت علی کی آنکھو میں خوشی کے آنسو آگئے اور کہا: میری بھی یہی آرزو ہے کہ میں پیغمبر کی بیٹی سے شادی کروں. اتنا کہنے کے بعد آپ کام چھوڑ کر پیغمبر کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے ،اس وقت پیغمبر ام سلمہ کے پاس تھے. جس وقت آپ نے دروازے پر دستک دی. پیغمبر نے فوراً ام سلمہ سے کہا جاؤ اور دروازہ کھولو، کیونکہ یہ وہ شخص ہے جسے خدا اور اس کا رسول دوست رکھتا ہے۔


ام سلمہ کہتی ہیں کہ اس شخص کودیکھنے کے لئے میرا دل بے چین ہوگیا کہ جس شخص کی پیغمبر نے ستائش کی ہے. میں اٹھی کہ دروازہ کھولوں.عنقریب تھا کہ میرے پیر لڑکھڑا جاتے. میں نے دروازہ کھولا حضرت علی داخل ہوئے اور پیغمبر کے پاس بیٹھ گئے ،لیکن پیغمبر کی عظمت و جلالت کی وجہ سے حیا مانع بن رہی تھی کہ پیغمبر سے گفتگو کریں،اس لئے سر کو جھکائے بیٹھے تھے یہاں تک کہ پیغمبر نے خاموشی کوختم کیا اور کہا:شاید کسی کام سے آئے ہو؟حضرت علی نے جواب دیا: ہماری رشتہ داری ومحبت خاندان رسالت سے ہمیشہ ثابت و پائدار رہی اور ہمیشہ دین و جہاد کے ذریعے اسلام کو ترقی کے راستے پر لگاتے رہے ہیں، یہ تمام چیزیںآپ کے لئے روشن و واضح ہیں. پیغمبر نے فرمایا:جوکچھ تم نے کہا تم اس سے بلند و بالا ہو۔ حضرت علی نے کہا:کیا آپ میری شادی فاطمہ سے کرسکتے ہیں۔(۱)

حضرت علی نے اپنا پیغام دیتے وقت تقویٰ اور اپنے گذرے ہوئے روشن سابقہ اوراسلام پر اعتماد کیا، اور اس طرح سے دنیا والوں کویہ پیغام دیا کہ معیار فضیلت یہ چیزیں ہیں نہ کہ خوبصورتی، دولت اور منصب وغیرہ۔

پیغمبر اسلام نے شوہر کے انتخاب میں عورت کو آزاد رکھا ہے اور حضرت علی کے جواب میں فرمایا:تم سے پہلے کچھ لوگ اور بھی میری بیٹی سے شادی کی درخواست لے کر آئے تھے ، میں نے ان کی درخواست کواپنی بیٹی کے سامنے پیش کیا لیکن اس کے چہرے پر ان لوگوں کے لئے عدم رضایت کوبہت شدت سے محسوس کیا ۔اب میں تمہاری درخواست کواس کے سامنے پیش کروں گا پھر جو بھی نتیجہ ہوگا تمہیں مطلع کروں گا۔

پیغمبر اسلام جناب فاطمہ زہرا کے گھر آئے آپ ان کی تعظیم کے لئے اٹھیں، آپ کے

______________________

(۱) حضرت علی، شادی کے پیغام کے وقت ایک سنت پر عمل کر رہے تھے ،جب کہ ان پر بہت زیادہ حیا طاری تھی .آپ بذات خود اور بغیر کسی واسطے کے پیغام دے رہے تھے ،اور یہ روحی شجاعت و بہادری ، عفاف کے ہمراہ لائق تقدیر ہے


کاندھے سے ردا اٹھایا اور آپ کے پیر سے جوتے اتارے اور پائے اقدس کودھلایا پھر وضو کر کے آپ کے پاس بیٹھ گئیں. پیغمبر نے اپنی بیٹی سے اس طرح گفتگو شروع کی:

چچاابوطالب کا نور نظر علی وہ ہے جس کی فضیلت ومرتبہ اسلام کی نظر میں ہم پر واضح وروشن ہے. میں نے خدا سے دعا کی تھی کہ خدا کی بہترین مخلوق سے تمہارا عقد کروں اور اس و قت وہ تم سے شادی کی درخواست لے کر آیا ہے اس بارے میں تمہاری کیارائے ہے؟ جناب فاطمہ زہرا نے مکمل خاموشی اختیار کرلی، لیکن اپنے چہرے کو پیغمبر کے سامنے سے نہیں ہٹایااور ہلکی سی ناراضگی کے آثار بھی چہرے پر رونما نہ ہوئے .رسول اسلام اپنی جگہ سے اٹھے اور فرمایا:''اَللّٰهُ اَکْبَرُ سُکُوْتُهٰا اِقْرَارُهٰا'' یعنی خدا بہت بڑا ہے میری بیٹی کی خاموشی اس کی رضایت کی دلیل ہے۔(۱)

______________________

(۱) کشف الغمہ ج۱ ص ۵۰


روحی ، فکری اوراخلاقی اعتبار سے برابر ہونا

یہ حقیقت ہے کہ اسلام کے آئین میںہر مردمسلمان ایک دوسرے مسلمان کا کفو اورہم پلہ ہے. اور ہر مسلمان عورت جو ایک مسلمان مرد کے عقد میں آتی ہے اپنے برابر وکفوسے عقد باندھتی ہے لیکن اگر روحی و فکری اعتبار سے دیکھا جائے تو بہت سی عورتیںبعض مردوں کے ہم شان وہم رتبہ نہیں ہیںیا اس کے برعکس بعض مرد بعض عورتوں کے برابر وہم رتبہ نہیں ہیں۔

شریف و مومن او ر متدین مسلمان جوانسانیت کے بلند و بالا مراتب اوراخلاق وعلم ودانش کے وسیع مراتب پر فائز ہیں انھیں چاہئے کہ ایسی عورتوں کواپنی شریک حیات بنائیںجو روحی واخلاقی اعتبار سے ان کے ہم مرتبہ اوران سے مشابہ ہوں۔

یہ امر پاکدامن اور پرہیزگار عورتوں،جوفضائل اخلاقی اوراعلی ترین علم واندیشہ سے مالا مال ہیں ،کے لئے بھی ہے۔ شادی کا سب سے اہم مقصد، پوری زندگی میں سکون واطمینان کا ہونا ہے اوریہ چیز بغیر اس کے ممکن نہیں ہے اور جب تک اخلاقی مشابہت اور روحی ہم آہنگی پوری زندگی پر سایہ فگن نہیں ہوتیں شادی عبث اور بیکار ہوجاتی ہے۔

اس حقیت کے بیان کرنے کے بعد خدا کے اس کلام کی حقیقت روشن ہو جاتی ہے جواس نے اپنے

پیغمبر سے فرمایا تھا :

''لَوْ لَمْ اخْلقُ عَلِیّاً لَمٰا کَانَ لِفٰاطِمَةَ اِبْنَتِک کُفْو عَلٰی وَجْهِ الْاَرْضِ'' (۱)

اگر میں نے علی کو پیدا نہ کیا ہوتا توروئے زمین پر ہرگز تمہاری بیٹی فاطمہ کا کفو نہ ہوتا۔

بطور مسلم اس برابری اور کفوسے مراد مقام ومرتبے میں برابری ہے۔

______________________

(۱) بحار الانوار، ج۴۳، ص ۹ ۔


شادی کے اخراجات :

حضرت علی کے پاس مال دنیا میں صرف تلوار اور زرہ تھی جس کے ذریعے آپ راہ خدا میں جہاد کرتے تھے اور ایک اونٹ تھا کہ جس کے ذریعہ سے مدینہ کے باغوں میں کام کرکے خود کوانصار کی مہمانی سے بے نیاز کرتے تھے۔

منگنی اورعقد وغیرہ کے بعد وہ وقت بھی آ پہونچا کہ حضرت علی اپنی شریک زندگی کے لئے کچھ سامان آمادہ کریںاور اپنی نئی زندگی کو پیغمبر کی بیٹی کے ساتھ شروع کریں. پیغمبر نے قبول کرلیا کہ حضرت علی اپنی زرہ کو بیچ دیں اور اس کی قیمت سے فاطمہ کی مہر کے عنوان سے پیغمبر کوکچھ ادا کریں. زرہ چار سودرہم میں فروخت ہوئی .پیغمبر نے اس میں کچھ درہم بلال کو دیا تاکہ زہرا کے لئے عطر خریدیں اور اس میں سے کچھ درہم عمار یاسر اور اپنے کچھ دوستوں کودیا تاکہ علی و فاطمہ کے گھر کے لئے کچھ ضروری سامان خریدیں. حضرت زہرا کے جہیز کودیکھ کر اسلام کی عظیم خاتون کی زندگی کے حالات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے. پیغمبر کے بھیجے ہوئے افراد بازار سے واپس آگئے اور جو کچھ بھی سامان انھوںنے حضرت زہرا کے لئے آمادہ کیاتھا وہ یہ ہیں:

حضرت زہرا کا جہیز :

۱۔ پیراہن ۷ درہم کا۔

۲۔ روسری ۱ درہم کا۔

۳۔ کالی چادر،جو پورے بدن کوچھپا نہیں سکتی تھی۔

۴۔ ایک عربی تخت، جو لکڑی اور کھجور کی چھال سے بنا تھا۔

۵۔ دو مصری کتان سے بنی ہوئی توشک جس میں ایک ریشمی اوردوسری کھجور کی چھال سے بنی تھی۔

۶۔ چار مسندیں، دو ریشم اور دو کھجور کی چھال سے بنی ہوئیں۔

۷۔ پردہ۔

۸۔ ہجری چٹائی ۔

۹۔ چکی۔


۱۰۔ بڑا طشت۔

۱۱۔ چمڑے کی مشک۔

۱۲۔ دودھ کے لئے لکڑی کا پیالہ۔

۱۳۔ پانی کے لئے چمڑے کے کچھ برتن۔

۱۴۔ لوٹا۔

۱۵۔ پیتل کا بڑا برتن (لگن)

۱۶۔ چند پیالے۔

۱۷۔ چاندی کے بازو بند۔

پیغمبر کے دوستوں نے جو کچھ بھی بازار سے خریدا تھا پیغمبر کے حوالے کیااور پیغمبر اسلام نے اپنی بیٹی کے گھر کا سامان دیکھ کر فرمایا:''اَلّٰلهُمَّ بَارِکْ لِقَوْمٍ جُلَّ آنِیَتِهُمُ الْخَزْفَ'' یعنی خداوندا جولوگ زیادہ تر مٹی کے برتن استعمال کرتے ہیں ان کی زندگی کو مبارک قرار دے۔(۱)

______________________

(۱) بحار الانوار ج۴۳ ص ۹۴، کشف الغمہ، ج۱، ص ۳۵۹، کشف الغمہ کے مطابق حضرت زہرا کے گھر کے تمام سامان کل ۶۳ درہم میں خریدے گئے تھے۔


حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) کا مہر :

پیغمبر اسلام(ص) کابیٹی کی مہر پانچ سودرہم تھا اور ہر درہم ایک مثقال چاندی کے برابر تھا(ہر مثقال ۱۸ چنے کے برابر ہوتاہے)۔پیغمبر اسلام کی عظیم المرتبت بیٹی کا عقد بہت زیادہ سادگی اور بغیر کسی کمی کے ہوا عقدہوئے ایک مہینہ سے زیادہ گزر گیا پیغمبر کی عورتوں نے حضرت علی سے کہا: اپنی بیوی کواپنے گھرکیوں نہیں لے جاتے؟ حضرت علی نے ان لوگوں کو جواب دیا: لے جاؤں گا. ام ایمن پیغمبر کی خدمت حاضر ہوئیں اور کہا اگر خدیجہ زندہ ہوتیںتووہ فاطمہ کے مراسم ازدواج کو دیکھ کرخوش ہوجاتیں۔

پیغمبر نے جب خدیجہ کا نام سنا تو آنکھیں آنسوؤ ں سے تر ہوگئیں اور کہا:اس نے میری اس وقت تصدیق کی تھی جب سب نے مجھے جھٹلا دیا تھا. اور خدا کے دین کودوام بخشنے کے لئے میری مدد کی اور اپنے مال کے ذریعے اسلام کے پھیلانے میں مدد کی۔(۱)

ام ایمن نے کہا: فاطمہ کوان کے شوہر کے گھر بھیج کر ہم سب کو خوشحال کیجئے۔رسول اکرم نے حکم دیا کہ ایک کمرہ کو زہرا کے زفاف کے لئے آمادہ کرو اورانھیں آج کی رات اچھے لباس سے آراستہ کرو۔(۲) جب دلہن کی رخصتی کا وقت قریب آیاتو پیغمبر نے حضرت زہرا کو اپنے پاس بلایا. زہرا پیغمبر کے پاس آئیں، جب کہ ان کے چہرے پر شرم و حیا کا پسینہ تھا اور بہت زیادہ شرم کی وجہ سے پیر لڑکھڑا رہے تھے اور ممکن تھا کہ زمین پر گرجائیں. اس موقع پر پیغمبر نے ان کے حق میں دعا کی اور فرمایا:

''اَقَالَکَ اللّٰهُ الْعَثْرَةَ فِی الدُّنْیٰا وَ الآْخِرَةِ ''

خدا تمہیںدونوںجہان کی لغزش سے محفوظ رکھے، پھر زہرا کے چہرے سے حجاب ہٹایا اور ان کے ہاتھ کوعلی ـکے ہاتھ میں دیا اور مبارکباد پیش کر کے فرمایا:

''بٰارِکْ لَکَ فِی اِبْنَةِ رَسُوْلِ اللّٰهِ یَا عَلِیُّ نِعْمَتِ الزُّوْجَةُ فَاطِمَةُ''

پھر فاطمہ کی طرف رخ کر کے کہا:''نِعْمَ الْبَعْلُ عَلِیُّ '' ۔پھر دونوں کو اپنے گھر جانے کے لئے کہااور بزرگ شخصیت مثلاً سلمان کو حکم دیا کہ جناب زہرا کے اونٹ کی مہار پکڑیں اور اس طرح اپنی باعظمت بیٹی کی جلالت کا اعلان کیا۔

______________________

(۱) بحار الانوار ج۴۳ ص ۱۳۰

(۲) بحار الانوار ج۴۳ ص ۵۹


جس وقت دولہا ودولہن حجلہ عروسی میں گئے تودونوں شرم وحیا سے زمین کی طرف نگاہ کئے ہوئے تھے، پیغمبر ان کے کمرے میں داخل ہوئے اور ایک برتن میں پانی لیا اور تبرک کے طور پر اپنی بیٹی کے سر اور بدن پر چھڑکا، پھر دونوںکے حق میں اس طرح سے دعا کی:

''اَلّٰلهُمَّ هٰذِهِ اِبْنَتِیْ وَ اَحَبُّ الْخَلْقِ اِلیَّ اَلّٰلهُمَّ وَ هٰذَا اَخِیْ وَ اَحَبُّ الْخَلْقِ اِلَیَّ اَلّٰلهُمَّ اجْعَلْهُ وَ لِیّاً وَ (۱)

______________________

(۱) بحار الانوار ج۴۳ ص ۹۶


پانچویں فصل

جنگ احد میں امیر المومنین ـ کی جاں نثاری

جنگ بدر میںشکست کی وجہ سے قریش کے دل بہت زیادہ افسردہ اور مرجھائے ہوئے تھے .ان لوگوںنے اس مادی اور معنوی شکست کی تلافی کے لئے ارادہ کیا کہ اپنے قتل ہونے والوں کا انتقام لیں. اور اکثر عرب کے قبیلوں کے بہادر وجانباز اور جنگجو قسم کے افراد کاایک منظم لشکر تیار کرکے مدینہ کی طرف روانہ کریں۔

لہٰذا عمرو عاص او ربعض دوسرے افرادکومامورکیاگیاکہ کنانہ او رثقیف قبیلے کے افراد کو اپنا بنائیں اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے میں ان سے مدد طلب کریں .ان لوگوںنے کافی محنت و مشقت کر کے تین ہزار جنگ جو افراد کو مسلمانوںسے مقابلے کے لئے آمادہ کرلیا۔

اسلام کے اطلاعاتی دستہ نے پیغمبر اسلام کو قریش کے ارادے اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے وہاں سے روانہ ہونے سے آگاہ کردیا. پیغمبر اسلام نے دشمنوں سے مقابلے کے لئے جانبازوں کی ایک کمیٹی بنائی جس میں سے اکثریت کا کہنا یہ تھا کہ اسلام کا لشکر مدینے سے نکل جائے اور شہر کے باہر جاکر دشمنوں سے مقابلہ کرے. پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد ایک ہزار کا لشکر لے کر مدینہ سے کوہ احد کی طرف نکل پڑے۔

۷ شوال ۳ھ کی صبح کودونوں لشکر صف بستہ ایک دوسرے کے روبرو کھڑے ہوگئے ،اسلام کی فوج نے ایسی جگہ کومورچہ بنایاکہ ایک طرف یعنی پیچھے سے طبیعی طورپر ایک محافظ کوہ احد تھا لیکن کوہ احد کے بیچ میں اچھی خاصی جگہ کٹی ہوئی تھی اور احتمال یہ تھا کہ دشمن کی فوج کوہ کو چھوڑ کر اسی کٹی ہوئی جگہ اور مسلمانوں کے لشکر کے پیچھے کی طرف سے حملہ کرے، لہٰذا پیغمبر نے اس خطرے کو ختم کرنے کے لئے عبداللہ جبیر کو پچاس تیر اندازوں کے ساتھ اسی پہاڑی پر بھیج دیا تاکہ اگر دشمن اس راستے سے داخل ہو تواس کا مقابلہ کریں. اور حکم دیاکہ ایک لمحہ کے لئے بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹیں، یہاں تک کہ اگر مسلمانوں کو فتح نصیب ہو جائے اوردشمن بھاگنے بھی لگیںجب بھی ا پنی جگہ چھوڑ کر نہ جائیں۔


پیغمبر نے علم کو مصعب کے حوالے کیا کیونکہ وہ قبیلۂ بنی عبد الدار کے تھے اور قریش کے پرچمدار بھی اسی قبیلے کے رہنے والے تھے۔

جنگ شروع ہوگئی اور مسلمانوں کے جانباز اور بہادروں کی وجہ سے قریش کی فوج بہت زیادہ نقصان اٹھانے کے بعد بھاگنے لگی، پہاڑی پر بیٹھے ہوئے تیر اندازوں نے یہ خیال کیا کہ اب اس پہاڑی پر رکنا ضروری نہیں ہے. لہٰذا پیغمبر کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مال غنیمت لوٹنے کے لئے مورچہ کو چھوڑ کر میدان میں اگئے، خالد بن ولید جوجنگ کرنے میں بہت ماہر وبہادر تھا جنگ کے پہلے ہی سے وہ جانتاتھا کہ اس پہاڑی کا دہانہ کامیابی کی کلید ہے، اس نے کئی مرتبہ کوشش کی تھی کہ اس کے پشت پر جائے اور وہاں سے اسلام کے لشکر پر حملہ کرے، مگر محافظت کرنے والے تیر اندازوںنے اسے روکا اور یہ پیچھے ہٹ گیا، اس مرتبہ جب خالدنے اس جگہ کومحافظوں سے خالی پایا توایک زبردست اور غافل گیرحملہ کرتے ہوتے فوج اسلام کی پشت سے ظاہر ہوا ،اور غیر مسلح اور غفلت زدہ مسلمانوں پر پیچھے کی جانب سے حملہ کردیا، مسلمانوں کے درمیان عجیب کھلبلی مچ گئی اور قریش کی بھاگتی ہوئی فوج اسی راستے سے دوبارہ میدان جنگ میں اتر آئی، اور اسی دور ان اسلامی فوج کے پرچم دار مصعب بن عمیر دشمن کے ایک سپاہی کے ہاتھوں قتل کردیئے گئے اور چونکہ مصعب کا چہرا چھپا ہوا تھا ،ان کے قاتل نے یہ سوچا کہ یہ پیغمبر ہیں لہٰذا چیخنے لگا''اَلٰا قَدْ قُتِلَ مُحَمَّداً'' (اے لوگو! آگاہ ہوجاؤ محمد قتل ہوگئے) پیغمبر کے قتل کی خبر مسلمانوں کے درمیان پھیل گئی. اور ان کی اکثریت میدان چھوڑ کر بھاگنے لگی اور میدان میں چند لوگوںکے علاوہ کوئی باقی نہ بچا۔

اسلام کا بزرگ سیرت نگار ،ابن ہشام اس طرح رقمطراز ہے:

انس بن مالک کا چچا انس بن نضرکہتاہے : جس وقت اسلام کی فوج ذہنی دباؤ کا شکار ہوئی اور پیغمبر کے قتل کی خبر چاروں طرف پھیل گئی توا کثر مسلمان اپنی جان بچانے کی فکر کرنے لگے اور ہر شخص ادھر ادھر چھپنے لگا.انس کہتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ انصار و مہاجر کا ایک گروہ جس میں عمر بن خطاب، طلحہ اور عبیداللہ بھی تھے ایک کنارے پر بیٹھا اپنی نجات کی فکر کر رہا ہے.میں نے اعتراض کے انداز میں ان سے کہا: کیوںیہاں بیٹھے ہو؟


ان لوگوںنے مجھے جواب دیا: پیغمبر قتل ہوگئے ہیں او راب جنگ کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے.میں نے ان لوگوں سے کہا کہ اگر پیغمبر قتل ہوگئے تو کیا زندگی کا کوئی فائدہ نہیں ہے تم لوگ اٹھو او ر جس راہ میں وہ قتل ہوئے ہیں تم بھی شہیدہو جاؤ اور اگر محمد قتل کردیئے گئے تومحمد کا خدا زندہ ہے وہ کہتاہے کہ میں نے دیکھاکہ میری باتوں کا ان پر ذرہ برابر بھی اثر نہ ہوا، میں نے اسلحہ اٹھایا اور جنگ میں مشغول ہوگیا۔(۱)

ابن ہشام کہتے ہیں:

انس کواس جنگ میں ستر زخم لگے اور اس کی لاش کواس کی بہن کے علاوہ کوئی پہچان نہ سکا، مسلمانوں کے بعض گروہ اس قدر افسردہ تھے کہ انہوں نے خود ایک بہانہ تلاش کیا کہ عبد اللہ بن ابی منافق کا ساتھ کس طرح سے دیں تاکہ ابوسفیان سے ان کے لئے امان نامہ لیں.اور مسلمانوں کے بعض گروہ نے پہاڑی پر پناہ لی۔(۲)

ابن ابی الحدید لکھتے ہیں:

بغداد میں ۶۰۸ھ میں ایک شخص واقدی کی کتاب ''مغازی'' کوایک بزرگ دانشمند محمد بن معد علوی سے پڑھتا تھا.ایک دن میں نے بھی اس درس میں شرکت کی.او رجس وقت گفتگو یہاں پہونچی کہ محمد بن مسلمہ جوصریحاً نقل کرتاہے کہ احد کے دن خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ مسلمان پہاڑی کے اوپر چڑھ رہے تھے اور پیغمبر ان کا نام لے کر پکار رہے تھے کہ ''اِلَیَّ یا فلان'' (اے فلاں میری طرف آؤ) لیکن کسی نے بھی پیغمبر کی آواز پر لبیک نہ کہا .استادنے مجھ سے کہا فلاں سے مراد وہی لوگ ہیں جنھوں نے پیغمبر کے بعد مقام ومنصب کو حاصل کیا.اور راوی نے خوف وڈر کی وجہ سے ان کا نام لکھنے سے پرہیز کیا ہے اوروہ نہیں چاہتا تھا کہ صریحی طور پر ان سب کا نام لکھے۔(۳)

______________________

(۱)،(۲) سیرۂ ابن ہشام ج۳ ص ۸۴۔ ۸۳

(۳) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱۵ ص ۲۳


جانثاری مقصد وہدف پر ایمان کی علامت ہے

جانثاری اور جانبازی ،مقصدوہدف پر ایمان کی علامت و نشانی ہے اور اس کے ذریعے سے انسان کی جانثاری کا اندازہ اس کے ہدف پر ایمان واعتقاد کے ذریعے لگایا جاسکتا ہے ،اور حقیقت میںبلندترین اور صحیح کسوٹی ایک شخص کے عقیدے کا اندازہ کرنے کے لئے ، اس کے گزرے ہوئے حالات کودیکھ کر لگایاجاسکتاہے قرآن کریم نے اس حقیقت کو اپنی آیتوں میں اس طرح سے بیان کیا ہے:

( انَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ آمَنُوا بِاﷲِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِامْوَالِهِمْ وَانفُسِهِمْ فِی سَبِیلِ اﷲِ ُوْلَئِکَ هُمْ الصَّادِقُونَ ) (۱)

(سچے مومن) تو بس وہی ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر انھوں نے اس میں کسی طرح کا شک و شبہ نہ کیا اوراپنے مال سے اور اپنی جانوں سے خدا کی راہ میں جہاد کیا، یہی لوگ (دعوائے ایمان میں) سچے ہیں۔

جنگ احد ،مومن اور غیر مومن کی پہچان کے لئے بہترین کسوٹی تھی اورایک عمدہ پیمانہ تھا بہت سے ان افراد کے لئے جوایمان کا دعوی کرتے تھے. مسلمانوں کے بعض گروہ کا اس جنگ سے بھاگنا اتنا پر اثر تھا کہ مسلمانوں کی عورتیںجواپنے بیٹوں کے ساتھ میدان جنگ میں آئی تھیں اور کبھی کبھی زخمیوں کی خبر گیری کرتی تھیں اور پیاسے جانبازوں کو پانی سے سیراب کرتی تھیں اس بات پر مجبور ہوگئیں کہ پیغمبر کا دفاع کریں۔جب نسیبہ نامی عورت نے ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کوبھاگتے ہوئے دیکھا تو ہاتھ میں تلوار لے کر رسول اسلام(ص) کا دشمنوں سے دفاع کیا .جس وقت پیغمبر نے اس عورت کی جانثاری کو بھاگنے والوں کے مقابلے میں مشاہدہ کیا تو آپ نے اس بہادر عورت کے بارے میں ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا:''مَقٰاُم نَسِیْبَةِ بِنْتِ کَعْبٍ خَیْر مِنْ مَقٰامِ فُلٰانِ وَ فُلٰانِ'' (کعب کی بیٹی نسیبہ کا مقام و مرتبہ فلاں فلاں سے بہتر ہے)ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ راوی نے پیغمبر کے ساتھ خیانت کی ہے کیونکہ جن لوگوں کا نام پیغمبر نے صریحی طور پر ذکر کیا تھا اسے بیان نہیں کیا۔(۲) انہی افرادکے مقابلے میں تاریخ ایک ایسے جانباز کااعتراف کرتی ہے جواسلام کی پوری تاریخ میں فداکاری اور جانثاری کا نمونہ ہے، اور جنگ احد میں مسلمانوں کی دوبارہ کامیابی اسی جانثار کی قربانیوں کا

______________________

(۱) سورۂ حجرات آیت ۱۵

(۲) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱۴ ص ۲۶۶

نتیجہ تھی. یہ عظیم المرتبت جانثار، یہ حقیقی فداکار مولائے متقیان حضرت امیر المومنین کی ذات گرامی ہے.جنگ کی ابتدا میں قریش کے بھاگنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے پرچم اٹھانے والے ۹ افراد ایک کے بعد ایک مولائے کائنات کے رعب و دبدبہ کی وجہ سے اپنی جگہ سے ہٹ گئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے دلوں میںشدید رعب بیٹھ گیا اور ان کے اندر ٹھہر نے اور مقابلے کرنے کی صلاحیت باقی نہ رہی۔(۱)

امام ـ کی جانثاری پر ایک نظر:

معاصر مصری مؤرخین مجنھوں نے اسلامی واقعات کا تجزیہ کیا ہے حضرت علی کے حق کو جیسا کہ آپ کے شایان شان تھا یا کم از کم جیساکہ تاریخ نے لکھا ہے ادانہیں کیا ہے، اور امیر المومنین کی جانثاری کو دوسرے کے حق میں قرار دیا ہے اس بنا پر ضروری ہے کہ مختصر طور پر حضرت امیر کی جانثاریوں کوانہی کے مأخذ سے بیان کروں۔

۱۔ ابن اثیر نے اپنی تاریخ(۲) میں لکھا ہے:پیغمبر چاروں طرف سے قریش کے لشکر میں گھر گئے تھے ،ہر گروہ جب بھی پیغمبر پر حملہ کرتا توحضرت علی پیغمبر کے حکم سے جب کچھ قتل ہوجاتے تھے تو باقی راہ فرار اختیار کرتے تھے .ایسا جنگ احد میں کئی مرتبہ ہوا. اس جانثاری کی بنیاد پر جبرئیل امین نازل ہوئے اور حضرت علی کے ایثار کوپیغمبر کے سامنے سراہا اور کہا:یہ ایک بلند ترین جانثاری ہے جس کوانھوں نے کر دکھایا ہے. رسول خدا نے جبرئیل امین کی تصدیق کی اور کہا:''میں علی سے ہوں اور علی مجھ سے ہیں''کچھ ہی دیر کے بعد میدان میں ایک آواز سنائی دی جس کا مفہوم یہ تھا:

لَاسَیْفَ اِلاّٰ ذُوْ الْفِقٰارِ

وَلَا فَتٰی اِلاّٰ عَلی

ذو الفقار جیسی کوئی تلوار نہیں اور علی ـ کے جیسا کوئی جوان نہیں ۔

ابن ابی الحدید اس واقعہ کی مزید شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وہ گروہ جس نے پیغمبر پر حملہ کیا تاکہ ان کو قتل کردیں اس میں پچاس آدمی تھے اور علی ـنے جوکہ باپیادہ

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱۴ ص ۲۵۰

(۲)تاریخ کامل جلد ۲ ص ۱۰۷

جنگ کر رہے تھے ان لوگوں کومتفرق کردیا۔

پھر جبرئیل امین کے نازل ہونے کے بارے میں کہتے ہیں:اس مطلب کے علاوہ جو کہ تاریخ کے اعتبار سے مسلم ہے میں نے محمد بن اسحاق کی کتاب ''غزوات'' کے بعض نسخوں میں جبرئیل امین کے نزول کے متعلق دیکھا ہے کہ یہاں تک ایک دن اپنے استاد عبدالوہاب سکینہ سے اس واقعہ کی صحت کے متعلق پوچھاتوانھوں نے کہا صحیح ہے، میں نے ان سے کہا پھر کیوں اس صحیح روایت کوصحاح ستہ کے مؤلفین نے نہیں لکھا؟ انھوں نے جواب میں کہا : بہت سی صحیح روایتیں موجود ہیں جس کے لکھنے میں صحاح ستہ کے مؤلفین سے غفلت ہوئی ہے۔(۱)

۲۔ حضرت امیر المومنین نے ''رأس الیہود'' کے متعلق اپنے اصحاب کے بعض گروہ کے سامنے جو تفصیلی تقریر فرمائی اس میں اپنی جانثاری کے بارے میں اس طرح اشارہ کیا ہے :

جس وقت قریش کے لشکر نے طوفان کی طرح ہم پر حملہ کیا توانصار اور مہاجرین اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوگئے، لیکن میں نے ستر زخم کھانے کے باوجود بھی حضرت کا دفاع کیا۔

پھر آپ نے قبا کواتارا اور زخم کے نشانات جوباقی تھے اس پر ہاتھ لگا کر دکھایا، یہاں تک کہ بنا بر نقل ، ''خصال شیخ صدوق'' حضرت علی نے پیغمبر کے دفاع کرنے میں اتنی جانفشانی و جانثاری کی کہ آپ کی تلوار ٹوٹ گئی اور پیغمبر نے اپنی تلوار، ذو الفقار کو حضرت علی کے حوالے کیا تاکہ اس کے ذریعے سے راہ خدا میں جہاد کرتے رہیں۔(۲)

۳۔ ابن ابی الحدید لکھتے ہیں:جب پیغمبر کے اکثر صحابی وسپاہی میدان سے بھاگ گئے تو دشمنوں نے پیغمبر پر اور بڑھ چڑھ کر حملہ کرنا شروع کردیا. بنی کنانہ قبیلہ کا ایک گروہ اور بنی عبد مناف قبیلے کا گروہ جن کے درمیان چار نامی پہلوان موجود تھے پیغمبر کی طرف حملہ آور ہوئے.اس وقت علی ـ پیغمبر کی چاروں طرف سے پروانہ کی طرح حفاظت کر رہے تھے ، اور دشمن کونزدیک آنے سے روک رہے تھے ،ایک گروہ جس کی تعداد پچاس آدمیوں سے بھی

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱۴ ص ۲۱۵

(۲) خصال شیخ صدوق ج۲ ص ۱۵


زیادہ تھی انھوں نے پیغمبر کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا اور صرف حضرت علی کا شعلہ ور حملہ تھا جس نے اس گروہ کومنتشر کردیا، لیکن وہ پھر دوبارہ آگئے اور پھر سے حملہ شروع کردیا اور اس حملے میں وہ چار نامی پہلوان اوردس دوسرے افراد جن کا نام تاریخ نے بیان نہیں کیا ہے قتل ہوگئے جبرئیل نے حضرت علی کی اس جانثاری پر پیغمبر کو مبارک باد دی اور پیغمبر نے فرمایا: علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔

۴۔ اس پہلے کی جنگوںمیں لشکر کی علمبرداری کے سلسلے میں بہت زیادہ احتیاط رکھی گئی اور پرچم کو بہادر اور دلیر افراد کے ہاتھ میں دیا گیا. علمبردار کے بہادر ہونے کی وجہ سے جنگجووں میں بہادری و شجاعت بڑھ گئی اور سپاہیوں کوذہنی خلفشار سے بچانے کے لئے کچھ لوگوں کو لشکر کاعلمبردار معین کیا گیا تاکہ اگر ایک ماراجائے تودوسرااس کی جگہ پر پرچم کو اپنے ہاتھ میں لے لے۔

قریش، مسلمانوں کی بہادری اورجانثاریوں سے جنگ بدر میں باخبر تھے، اسی وجہ سے اپنے بہت زیادہ سپاہیوں کولشکر کا علمبردار بنایاتھا.قریش کا سب سے پہلا علمبردار طلحہ بن طلیحہ تھا وہ پہلا شخص تھا جو حضرت علی کے ہاتھوں مارا گیا.اس کے قتل کے بعد قریش کے پرچم کوافراد درج ذیل نے سنبھالا اور تمام کے تمام حضرت علی ـ کے ہاتھوںمارے گئے. سعید بن طلحہ ، عثمان بنم طلحہ ، شافع بن طلحہ، حارث بن ابی طلحہ، عزیز بن عثمان، عبد اللہ بن جمیلہ، ارطاة بن شراحبیل، صوأب۔

ان لوگوں کے مارے جانے کی وجہ سے قریش کی فوج میدان چھوڑ کر بھاگ گئی، اس طرح سے مسلمانوں نے حضرت علی کی جانثاری کی وجہ سے جنگ فتح کرلی۔(۱)

علامہ شیخ مفید اپنی کتاب ''ارشاد'' میں امام جعفر صادق ـ سے نقل کرتے ہیں کہ قریش کے علمبرداروں کی تعداد ۹ آدمیوں پر مشتمل تھی اورتمام کے تمام یکے بعد دیگرے حضرت علی کے ہاتھوںمارے گئے۔

ابن ہشام نے اپنی کتاب ''سیرئہ'' میں ان افراد کے علاوہ اور بھی نام ذکر کئے ہیں جو حضرت علی کے پہلے ہی حملہ میں قتل ہوگئے تھے۔(۲)

______________________

(۱) تفسیر قمی ص ۱۰۳، ارشاد مفید ۱۱۵، بحار الانوار ج۲۰ ص ۱۵

(۲) سیرئہ ابن ہشام ج۱ ص ۸۴، ۸۱


چھٹیں فصل

اسلام کی شرک پر کامیابی

عرب کے بت پرستوں کی فوج چیونٹی اور ٹڈی کی طرح ایک گہرے خندق کے کنارے آکر رک گئی جسے مسلمانوںنے چھ دن میں کھودی تھی. ان لوگوں نے سوچا پچھلی مرتبہ کی طرح اس مرتبہ بھی احد کے جنگل میں مسلمانوں سے مقابلہ کریں گے لیکن اس مرتبہ وہاں کوئی موجود نہ تھا. بہرحال وہ لوگ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ شہر مدینہ کے دروازے تک پہونچ گئے. مدینے کے نزدیک ایک گہری اور خطرناک خندق دیکھ کر وہ لوگ حیران و پریشان ہوگئے ،دشمن کی فوج کے سپاہیوں کی تعداد دس ہزار سے زیادہ تھی جب کہ اسلام کے مجاہدوں کی تعداد تین ہزار سے زیادہ نہ تھی۔(۱)

تقریباً ایک مہینے تک مدینہ کا محاصرہ کئے رہے اور قریش کے سپاہی ہر لمحہ اس فکر میں تھے کہ کسی طرح سے خندق کو پار کر جائیں. دشمن کے سپاہی خندق کے سپاہیوں سے مقابلے کے لئے جنہوںنے تھوڑے سے فاصلے پر اپنے دفاع کے لئے مورچہ بنایاتھا روبرو ہوئے اور دونوں طرف سے تیر چلنے کا سلسلہ شب و روز جاری رہا اور کسی نے بھی ایک دوسرے پر کامیابی حاصل نہ کی۔

دشمن کی فوج کا اس حالت پر باقی رہنا بہت دشوار اور مشکل تھا، چونکہ ٹھنڈی ہوا اور غذا کی کمی انھیں موت کی دعوت دے رہی تھی اورعنقریب تھا کہ جنگ کا خیال ان کے دماغوں سے نکل جائے اور سستی اور تھکن ان کی روح میں رخنہ پیدا کردے. اس وجہ سے فوج کے بزرگوں کے پاس کوئی اور چارہ نہ تھا مگر یہ کہ کسی بھی صورت سے ان کے بہادرو دلیر سپاہی خندق کو پار کر جائیں. فوج قریش کے چھ پہلوان و بہادر اپنے گھوڑے کودوڑاتے ہوئے خندق کے پاس گئے اوردھاوابول دیا اور بہت ہی احتیاط سے خندق پار کرکے میدان میں داخل ہوگئے ،ان چھ پہلوانوں میں عرب کا نامی گرامی پہلوان عمرو بن عبدود بھی تھا جو شبہ جزیرہ کا قوی اور بہادر جنگجو مشہور تھا،لوگ اسے ایک ہزار بہادروں پر بھاری سمجھتے تھے اور وہ اندر سے لوہے کی زرہ پہنے ہوئے تھا اور مسلمانوں کی صفوں کے سامنے شیر کی طرح غرایااور تیز تیز چلا کر کہا کہ بہشت کا

______________________

(۱) امتاع الاسماع، مقریزی،منقول از سیرۂ ہشام ج۲ ص ۲۳۸


دعوی کرنے والے کہاںہیں؟کیاتمہارے درمیان کوئی ایسا نہیں ہے جومجھے جہنم واصل کردے یامیں اس کو جنت میں بھیج دوں؟

اس کے کلمات موت کی آواز تھے اور اس کے مسلسل نعروں کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں اس طرح ڈر بیٹھ گیا تھاایسا معلوم ہوتا تھا کہ سب کے کان بند ہوگئے ہوں اور زبانیں گنگ ہو گئی ہوں۔(۱)

ایک مرتبہ پھر عرب کے بوڑھے پہلوان نے اپنے گھوڑے کی لگام کو چھوڑ دیا اور مسلمانوں کی صفوں کے درمیان پہونچ گیا اور ٹہلنے لگااور پھر اپنا مقابل مانگنے لگا۔

جتنی مرتبہ بھی اس عرب کے نامی پہلوان کی آواز جنگ کے لئے بلند ہوتی تھی فقط ایک ہی جوان اٹھتاتھا اور پیغمبر سے میدان جنگ میں جانے کی اجازت مانگتا،. مگر ہر بار پیغمبر اسے منع کردیتے تھے اوروہ جوان حضرت علی تھے. پیغمبر ان کی درخواست پر فرماتے تم بیٹھ جاؤ یہ عمرو ہے۔عمرو نے تیسری مرتبہ پھر آواز دی اور کہا میری آواز چیختے چیختے بیٹھ گئی، کیا تمہارے درمیان کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو میدان جنگ میں قدم رکھے؟ اس مرتبہ بھی حضرت علی نے پیغمبر سے بہت اصرار کیا کہ جنگ میں جانے کی اجازت دیدیں. پیغمبر نے فرمایا: یہ لڑنے والا عمرو ہے ، حضرت علی خاموش ہوگئے بالآخر پیغمبر نے حضرت علی کی درخواست کو قبول کرلیا. پھر اپنی تلوار انھیں عطا کی اوراپنا عمامہ ان کے سر پر باندھااور ان کے حق میں دعا کی(۲) اور کہا: خداوندا! علی ـ کودشمن کے شر سے محفوظ رکھ. پروردگارا: جنگ بدر میں عبیدہ اور جنگ احد میں شیر خدا حمزہ کو تو نے مجھ سے لے لیا، خدایا! علی ـکو مشکلات سے دور رکھ. پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی:( رب لاتذرنی فرداً و انتَ خیرُ الوارثین ) (۳) پھر اس تاریخی جملے کو بیان فرمایا:''برزَ الایمانُ کلّهُ الی الشرک کلِّه'' یعنی ایمان و شرک کے دو مظہر ایک دوسرے کے روبرو ہوئے ہیں۔(۴)

______________________

(۱) واقدی نے اپنی کتاب مغازی میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے وہ کہتا ہے کہ ''کان علی رؤوسہم الطیر'' گویاان کے سروں پر پرندے بیٹھے تھے. مغازی ج۲ ص ۴۸

(۲) تاریخ الخمیس ج۱ ص ۴۸۶

(۳) سورۂ انبیاء آیت ۸۹

(۴) کنز الفوائد ص ۱۳۷


حضرت علی مکمل ایمان کے مظہر اورعمرو شرک وکفر کا کا مل مظہر تھا. شاید پیغمبر کے اس جملے سے مقصد یہ ہو کہ ایمان اور شرک کا فاصلہ کم ہوگیاہے اور اس جنگ میں ایمان کی شکست شرک کی موقعیت کو پوری دنیا میں اجاگر کردے گی۔

امام ـ تاخیرکے جبران کے لئے بہت تیزی سے میدان کی طرف روانہ ہوئے اور عمرو کے پڑھے ہوئے رجز کے وزن اور قافیہ پر رجز پڑھنا شروع کیا جس کا مفہوم یہ تھا: جلدی نہ کر اے بہادر میں تجھے جواب دینے کے لئے آیا ہوں۔

حضرت علی لوہے کی زرہ پہنے ہوئے تھے اور ان کی آنکھیں مغفر (لوہے کی ٹوپی) کے درمیان چمک رہی تھیں، عمرو حضرت علی کو پہچاننے کے بعد ان سے مقابلہ کرنے سے کترانے لگا اور کہا تمہارے باپ ہمارے دوستوں میں سے تھے اور میں نہیں چاہتا کہ ان کے بیٹے کے خون کو بہاؤ ں۔

ابن ابی الحدید کہتے ہیں :جب میرے استاد ابو الخیر نے تاریخ کے اس حصے کا درس دیا تو اس طرح بیان کیا : عمرو نے جنگ بدر میں شرکت کی تھی اور بہت ہی قریب سے حضرت علی کی شجاعت و بہادری کو دیکھا تھا اسی وجہ اس نے بہانہ بنایا او ربہت خوفزدہ تھا کہ کس طرح سے ایسے بہادر سے مقابلہ کرے۔

حضرت علی نے اس سے کہا: تومیری فکر نہ کر. میں چاہے قتل ہو جاؤں چاہے فتح حاصل کرلوں، خوش نصیب رہوں گا اور میری جگہ جنت میں ہے لیکن ہر حالت میں جہنم تیرا انتظار کر رہا ہے اس وقت عمرونے ہنس کر کہا:اے میرے بھتیجے یہ تقسیم عادلانہ نہیں ہے جنت اور جہنم دونوں تمہارا مال ہے۔(۱)

اس وقت حضرت علی نے اسے وہ نذر یاد دلائی جس کو جو اس نے خدا سے کیا تھا کہ اگر قریش کا کوئی شخص اس سے دو چیزوں کا تقاضا کرے تو وہ ایک چیز کو قبول کرلے گا. عمرو نے کہا:بالکل ایسا ہی ہے حضرت علی نے کہا:میری پہلی درخواست یہ ہے کہ اسلام قبول کرلے عرب کے نامی پہلوان نے کہا: یہ درخواست مجھ سے نہ کرو مجھے تمہارے دین کی ضرورت نہیں ہے ،. پھر علی ـنے کہا:جا اور جنگ کرنے کا خیال اپنے دل سے نکال دے اور اپنے گھر کی طرف چلاجا. اور پیغمبر کے قتل کودوسروں کے حوالہ کردے کیونکہ اگروہ کامیاب ہوگیا تو قریش کے لئے باعث افتخار ہو گا اور اگر قتل ہوگیا تو تیری آرزو بغیر جنگ کے پوری ہوجائے گی ۔

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲ ص ۱۴۸


عمرو نے جواب میں کہا: قریش کی عورتیں اس طرح گفتگو نہیں کرتیں، کس طرح واپس جاؤں، جب کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میرے قبضے میں ہیں اور اب وہ وقت پہونچ چکا ہے کہ جو میں نے نذر کی تھی اس پر عمل کروں؟ کیونکہ میں نے جنگ بدر کے بعد نذر کی تھی کہ اپنے سر پر تیل اس وقت تک نہیں رکھوں گا جب تک محمد سے اپنے بزرگوں کاانتقام نہ لے لوں گا۔حضرت علی نے اس سے کہا: اب تو جنگ کے لئے آمادہ ہوجا! تاکہ پڑی ہوئی گتھی کو شمشیر کے ذریعے سلجھائیں. اس وقت بوڑھا پہلوان سخت غصے کی وجہ سے جلتے ہوئے لوہے کی طرح سرخ ہوگیا اور جب حضرت علی کو پیادہ دیکھا تو خود گھوڑے سے اتر آیا گھوڑے کو ایک ہی وار میں قتل کر دیااور ان کی طرف بڑھا اور اپنی تلوار سے حضرت علی پر حملہ کردیا اور پوری قوت سے حضرت کے سر پر مارا، حضرت علی نے اس کی ضربت کو اپنی سپر کے ذریعے روکا لیکن سپر دو ٹکڑے ہوگئی اورخود بھی ٹوٹ گئی اور آپ کا سر زخمی ہوگیا اسی لمحے امام نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور ایک کاری ضرب لگائی اور اسے زمین پر گرادیا تلوار کے چلنے کی آواز اور میدان میں گردو غبار کی وجہ سے دونوں طرف کے سپاہی اس منظر کونزدیک سے نہیں دیکھ پا رہے تھے، لیکن اچانک جب حضرت علی کی تکبیر کی آواز بلند ہوئی تومسلمان خوش ہوکر چیخنے لگے اور ان کو یقین ہوگیا کہ حضرت علی نے عرب کے پہلوان پر غلبہ پالیا ہے اور مسلمانوں کو اس کے شر سے محفوظ کردیاہے۔اس نامی و مشہور پہلوان کے قتل ہونے کی وجہ سے، پانچ اور نامی پہلوان، عکرمہ ، ہبیرہ، نوفل، ضرار اور مرد اس، جنھوں نے عمرو کے ساتھ خندق پار کیا تھا اور حضرت علی اورعمرو کی جنگ کے نتیجے کے منتظر تھے ، وہاں سے بھاگ گئے .ان میں سے چار پہلوان خندق سے پار ہوگئے تاکہ قریش کو عمروکے مرنے کی خبر سنائیں ،مگر نوفل بھاگتے وقت اپنے گھوڑے سے خندق میں گرگیا اور حضرت علی جوان سب کا پیچھا کر رہے تھے خندق میں گئے اور اس کو ایک ہی حملے میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔(۱) اس نامی پہلوان کی موت کی وجہ سے شعلۂ جنگ ہوگیااور عرب کے ہر قبیلے والے اپنے ا پنےقبیلے کی طرف واپس جانے لگے .زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ دس ہزار کا لشکر ٹھنڈک اور بھوک کی وجہ سے اپنے گھروں کی طرف چلا گیا اور ا سلام کی اساس و بنیاد جسے عرب کے نامی اور قوی دشمن نے دھمکی دی تھی حضرت کی جانثاری کی وجہ سے محفوظ ہوگئی۔

______________________

(۱) تاریخ الخمیس ج۱ ص ۴۸۷


اس جانثاری کی اہمیت

جو لوگ اس جنگ کے جزئیات اور مسلمانوں کی ابتر حالت اور قریش کے نامی پہلوان کی دھمکیوں کے خوف و ہراس سے مکمل باخبر نہیں ہیں وہ اس جانثاری اور قربانی کی واقعی حقیقت کو کبھی بھی سمجھ نہیں سکتے لیکن ایک محقق جس نے تاریخ اسلام کے اس باب کا دقیق مطالعہ کیا ہے اور بہترین روش اور طریقے سے اس کا تجزیہ و تحلیل کیا ہے پر اس واقعے کی اہمیت پوشیدہ نہیں ہے۔

اس حقیقت کا جاننا بھی ضروری ہے کہ اگر حضرت علی میدان جنگ میں دشمن سے مقابلے کے لئے نہ جاتے تو پھر کسی بھی مسلمان میں اتنی جرأت نہ تھی کہ وہ عمروکے مقابلے میں جاتا، اور ایک فوج کے لئے سب سے بڑی ذلت و رسوائی کی بات یہ ہے کہ دشمن مقابلے کے لئے بلائے اور کوئی نہ جائے اور سپاہیوں پر خوف چھا جائے. حتی اگر دشمن جنگ کرنے سے باز آجاتا اور محاصرہ کوختم کر کے اپنے گھر واپس چلا جاتا. تب بھی اس ذلت کا داغ تاریخ اسلام کی پیشانی پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باقی رہتا۔

اگر حضرت علی اس جنگ میں شرکت نہ کرتے یا شہید ہو جاتے تو قریب تھا کہ کوہ ''سلع'' میں پیغمبر کے پاس رہنے والے سپاہی جو عمرو کی للکار سے بید کے درختوں کی طرح لرز رہے تھے، میدان چھوڑ کر چلے جاتے اور کوہ سلع سے اوپر جاتے اور پھر وہاں سے بھاگ جاتے، جیسا کہ جنگ احد اور حنین میں ہوااور تاریخ کے صفحات پر آج بھی درج ہے کہ سب کے سب فرار ہوگئے علاوہ چند افراد کے، جنھوں نے پیغمبر کی جان بچائی اور سب کے سب جان بچا کر بھاگ گئے اور پیغمبر کو میدان میں تنہا چھوڑ دیا۔

اگر امام علیہ السلام اس مقابلے میں(معاذ اللہ) ہارجا تے تو نہ صرف یہ کہ جتنے بھی سپاہی کوہ ''سلع'' کے دامن میں اسلام کے زیر پرچم اور پیغمبر کے پاس کھڑے تھے بھاگ جاتے بلکہ وہ تمام سپاہی جو پوری خندق کے کنارے حفاظت اور مورچہ سنبھالنے کے لئے کھڑے تھے وہ مورچے کو چھوڑ دیتے اور ادھراُدھر بھاگ جاتے۔


اگر حضرت علی علیہ السلام نے قریش کے پہلوانوں کا مقابلہ کر کے ان کو بڑھنے سے روکا نہ ہوتا یااس راہ میں قتل ہو جاتے تودشمن بڑی آسانی سے خندق کو پار کر جاتا اور پھر دشمن کی فوج اسلام کی فوج کی طرف بڑھتی اور پورے میدان میں بڑھ بڑھ کر حملہ کرتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ آئین توحیدی پر شرک کامیاب ہوجاتااور اسلام خطرے میں پڑ جاتا، ان تمام چیزوں کودیکھنے کے بعد پیغمبر اسلام نے، الہام اور وحی الہی سے حضرت علی کی جانثاری کو اس طرح سراہتے ہیں:

''ضَرْبَةُ عَلِیٍّ یَوْمَ الْخَنْدَقِ اَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ الثَّقَلَیْنِ'' (۱)

اس ضربت کی عظمت و رفعت جو علی ـنے خندق میں دشمن پر ماری تھی دونوںجہان کی عبادتوں سے بہتر ہے۔

اس بیان کا فلسفہ یہ ہے کہ اگر یہ جانثاری واقع نہ ہوتی توقانون شرک پوری دنیا پر چھا جاتااور پھر کوئی بھی ایسی شمع باقی نہ رہتی جس کے اردگرد ثقلین طواف کرتا. اور اس کی نورانیت کے زیر سایہ خدا کی عبادت و پرستش کرتا۔

ہم یہاں پر بڑے فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ امام نے اپنی بے نظیر اور عظیم فداکاری کی وجہ سے اس دنیاکے مسلمانوں اور توحید کے متوالوںکورہین منت قرار دیاہے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ اتنا زمانہ گزر جانے کے بعد بھی اسلام و ایمان، امام کی فداکاری وجانثاری کے صدقے میں آج تک باقی ہے۔

جی ہاں، حضرت علی کی فداکاری وجانثاری کے علاوہ آپ کی سخاوت و فیاضی کایہ عالم تھا کہ عمروبن عبدود کوقتل کرنے کے بعداس کی قیمتی زرہ اور لباس کواس کی لاش کے پاس چھوڑ کر میدان سے واپس آگئے، جب کہ عمرو نے اس کام کی وجہ سے آپ کی ملامت و سرزنش کی، لیکن امام علیہ السلام نے اس کی ملامت و سرزنش پر کوئی توجہ نہ دی. اور جب اس کی بہن اس کی لاش کے سراہنے پہونچی تو اس نے کہا کہ ہرگز میں تم پر گریہ نہ کروںگی کیونکہ تو کسی کریم و شریف کے ہاتھوں قتل ہوا ہے(۲) جس نے تیرے قیمتی لباس اور قیمتی اسلحوں تک کوہاتھ نہیں لگایاہے۔

______________________

(۱) مستدرک حاکم ج۳ ص ۳۲، بحار الانوار ج۲۰ ص ۲۱۶

(۲) مستدرک حاکم ج۳ ص۳۲، بحار الانوار ج۲۰ ص ۳۳


ساتویں فصل

جنگ خیبر اوراس کے تین اہم امتیازات

کس طرح سے دشمن کی زبان حضرت علی کی عظمت وافتخار کوبیان کرنے لگی اور وہ نشست جو آپ کو برا وناسزا کہنے کے لئے تیار کی گئی تھی مدح و ستائش میں تبدیل ہوگئی؟

امام حسن مجتبیٰ ـ کی شہادت کے بعد معاویہ کو فرصت ملی کہ خود اپنی زندگی میں اپنے بیٹے یزید کی خلافت کے لئے زمین ہموار کرے اور بزرگ صحابیوں اور رسول کے دوستوں سے جو مکہ اور مدینہ میں زندگی بسر کر رہے تھے ، یزید کی بیعت لے، تاکہ اس کا بیٹا خلیفة المسلمین اور پیغمبر کا جانشین معین ہوجائے۔

اسی مقصد کے لئے معاویہ سرزمین شام سے خدا کے گھر کی زیارت کے لئے روانہ ہوا اور اپنے قیام کے دوران حجاز کے دینی مراکز اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دوستوں سے ملاقاتیں کیں اورجب کعبہ کے طواف سے فارغ ہوا تو ''دار الندوہ'' جس میں جاہلیت کے زمانے میں قریش کے بزرگ افراد جمع ہوتے تھے، میں تھوڑی دیر آرام کیا اور سعد وقاص اور دوسری اسلامی شخصیتوں سے ملاقات کی جن کی مرضی کے بغیر اس زمانے میں یزید کی خلافت وجانشینی ممکن نہ تھی.

وہ اس تخت پر بیٹھا جو دار الندوہ میں اسی کے لئے رکھا گیا تھا اور سعد وقاص کو بھی اپنے ساتھ بیٹھایا اس نے جلسہ کے ماحول کو دیکھا اور امیر المومنین کو برااورناسزا کہنے لگا یہ برا کام، اور وہ بھی خدا کے گھر کے پاس، اوروہ بھی اس صحابی پیغمبر کے سامنے جس نے حضرت امیر کی جانثاریوںاور قربانیوں کوبہت نزدیک سے دیکھا تھا اور جس کے فضائل و کمالات سے مکمل آگاہ تھا ایسی حرکت کرنا آسان کام نہ تھا، کیونکہ وہ جانتا تھاکہ کچھ ہی دنوں پہلے کعبہ کے سامنے کعبے کے اندر اور باہر بہت سے باطل خدا پناہ لئے ہوئے تھے اور حضرت علی کے ہاتھوں ہی وہ ہمیشہ کے لئے سرنگوں ہوئے تھے اور اس نے پیغمبر کے حکم سے پیغمبر کے کاندھوں پر قدم رکھا تھااوران بتوںکوجس کی خود معاویہ اور اس کے باپ دادا بہت زمانے تک عبادت کیا کرتے تھے اسے عزت کے منارے سے ذلت کے گڑھے میںگرایا اور سب کو توڑ ڈالاتھا۔(۱)

______________________

(۱) مستدرک حاکم ج۲ ص ۳۶۷، تاریخ الخمیس ج۲ ص ۹۵


معاویہ چاہتا تھا کہ توحید اور وحدانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے راہ توحید کے بزرگ جانثار، کہ جس کی قربانیوں اور فداکاریوں کے صدقے میں توحید کے درخت نے لوگوں کے دلوں میں وحدانیت کی بنیاد رکھی اور اس کے اثرات مرتب ہوگئے ،ایسی شخصیت پر تنقید کرے اور اسے برا او رناسزا کہے،.

سعدوقاص باطنی طور پر امام کے دشمنوں میں سے تھا اور آپ کے معنوی مقامات اور ظاہری افتخارات سے حسد کرتا تھا۔ جس دن عثمان مصریوں کے ہجوم کی وجہ سے قتل ہوئے سب لوگوںنے تہہ دل سے امیر المومنین کو خلافت اور زعامت کے لئے انتخاب کیا. سوائے چند افراد کے جنھوں نے آپ کی بیعت کرنے سے انکار کردیا تھاکہ سعد وقاص بھی انھیں میں سے ایک تھا.جب عمار نے اسے حضرت علی کی بیعت کے لئے دعوت دی تو اس نے بہت خراب جواب دیا.عمار نے اس واقعے کو ا مام کی خدمت میں عرض کیا۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: حسد نے اس کو میری بیعت اور میرا ساتھ دینے سے روک دیا ہے۔

سعد ،امام علیہ السلام کا اتنا سخت مخالف تھا کہ ایک دن خلیفۂ دوم نے شورائے خلافت تشکیل دینے کا حکم دیا اور شوری کے چھ آدمیوں کا خود انتخاب کیا اور سعد وقاص او ر عبد الرحمن بن عوف، سعد کا چچازاد بھائی اور عثمان کا بہنوئی، کو شوری کے عہدہ داروں میں قرار دیا. شوری کے علاوہ دوسرے افراد نے بڑی باریک بینی سے کہا کہ عمر، شوری تشکیل دیکر کہ جس میں سعد و عبد الرحمن جیسے افراد بھی شامل ہیں ، چاہتا ہے کہ تیسری مرتبہ خلافت کو حضرت علی کے ہاتھوں سے چھین لے اور آخر میں نتیجہ بھی یہی ہواکہ جس کی پیشنگوئی ہوئی تھی۔

سعد نے ،امام علیہ السلام سے عداوت و دشمنی رکھنے کے باوجود جب دیکھا کہ معاویہ، علی ـ کو برے اور نازیبا الفاظ سے یاد کر رہا ہے تو تلملا اٹھا اور معاویہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

مجھے اپنے تخت پر بٹھاکر میرے سامنے علی کو برا کہتا ہے ؟ خدا کی قسم اگر ان تین فضیلتوں میں سے جو علی کے پاس تھیں ایک بھی فضیلت میرے پاس ہوتی تواس سے بہتر ہوتی کہ وہ ساری چیزیں جن پر سورج کی کرنیں پڑتی ہیں میری ملکیت میں ہوتیں ۔

۱۔ جس دن پیغمبر نے مدینے میں اسے اپنا جانشین بنایا اور خود جنگ تبوک پرچلے گئے اور علی سے اس طرح فرمایا: تمہاری نسبت مجھ سے ایسی ہی ہے جیسے ہارون کو موسی سے تھی سوائے اس کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔


۲۔ جس دن نصارائے نجران کے ساتھ مباہلہ تھا تو پیغمبر نے علی ، فاطمہ، حسن و حسین کا ہاتھ پکڑا اور کہا: پروردگارا یہی میرے اہلبیت ہیں۔

۳۔ جس دن مسلمانوں نے یہودیوں کے اہم ترین قلعہ خیبر کے بعض حصوں کو فتح کیا تھا لیکن قلعہ ''قموص'' جو سب سے بڑا قلعہ اور یہودیوں کا سب سے بڑا مرکز تھا آٹھ دن تک اسلامی فوج کے محاصرے میں تھا اور اسلام کے مجاہدین میں اسے فتح کرنے اور کھولنے کی صلاحیت نہ تھی، اور رسول اسلام کے سر میں اتنا شدید درد تھا کہ وہ بہ نفس نفیس جنگ میں حاضر نہیں ہوسکتے تھے تاکہ فوج کی سپہ سالاری اپنے ہاتھوں میں لیتے، روزانہ آپ عَلَم کو لیتے اور فوج کے بزرگوں کو دیتے تھے اور وہ سب کے سب بغیر نتیجہ کے واپس آجاتے تھے .ایک دن عَلَم کو ابوبکر کے ہاتھ میںدیا پھر دوسرے دن عمر کو دیا لیکن دونوں کسی شجاعت کا مظاہرہ کئے بغیر رسول خدا کی خدمت میں واپس آگئے. اسی طرح سلسلہ چلتا رہا ،اس طرح کی ناکامی پیغمبر خدا کے لئے بہت سخت تھی، لہٰذا آپ نے فرمایا:

''کل میں علم ایسے شخص کودوں گا جو ہرگز جنگ کرنے سے فرار نہیں کرے گا اوردشمن کو اپنی پیٹھ نہیں دکھائے گا اور اس کو خدا اور رسول خدا دوست رکھتے ہوںگے اور خداوند عالم اس قلعہ کو اس کے ہاتھوں سے فتح کرائے گا''


جب پیغمبر کی بات کو حضرت علی سے نقل کیا گیا تو آپ نے خدا کی بارگاہ میں عرض کیا''اَلَلَّهُمَّ لٰامُعْطِیْ لِمٰا مَنَعْتَ وَ لٰامٰانِعَ لِمٰا اَعْطَیْتَ'' یعنی پروردگارا، جو کچھ عطاکرے گا اسے کوئی لینے والا نہیں ہے اور جو کچھ تو نہیں دے گا اس کا دینے والا کوئی نہ ہوگا۔

(سعد کا بیان ہے) جب سورج نکلا تو اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ کے خیمے کے اطراف میں جمع ہوگئے تاکہ دیکھیں کہ یہ افتخار رسول کے کس صحابی کو نصیب ہوتا ہے جب پیغمبر خیمے سے باہر آئے سب سر اٹھا اٹھا کر ان کی طرف دیکھنے لگے میں (سعد)پیغمبر کے بغل میں کھڑا تھا کہ شاید ا س افتخار کا مصداق میں بن جاؤں، اور شیخین سب سے زیادہ خواہشمند تھے کہ یہ افتخار ان کو نصیب ہوجائے .اسی اثناء میںپیغمبر نے پوچھا علی کہاں ہیں؟ لوگوں نے حضرت سے کہا: وہ آشوب چشم کی وجہ سے آرام کر رہے ہیں. پیغمبر کے حکم سے سلمہ بن اکوع حضرت علی کے خیمے میں گئے اور ان کے ہاتھ کو پکڑکر پیغمبر کی خدمت میں لائے. پیغمبر نے ان کے حق میں دعا کی اور آپ کی دعا ان کے حق میں مستجاب ہوئی اس وقت پیغمبر نے اپنی زرہ حضرت علی کو پہنایا،ذو الفقار ان کی کمر میں باندھا اور علم ان کے ہاتھوںمیں دیااور فرمایا کہ جنگ کرنے سے پہلے اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا، اور اگر یہ قبول نہ کریں تو ان تک یہ پیغام دینا کہ اگر وہ چاہیں تو اسلام کے پرچم تلے جز یہ دیں اور اسلحہ اتار کر آزادانہ زندگی بسر کریں. اور اپنے مذہب پر باقی رہیں. اور اگر کسی چیز کو قبول نہ کریں تو پھر ان سے جنگ کرنا ،اور جان لو کہ جب بھی خداوند عالم تمہارے ذریعے کسی کی راہنمایی کرے اس سے بہتر یہ ہے کہ سرخ بالوں والے اونٹ تمہارا مال ہوں او رانھیں خدا کی راہ میں خرچ کردو۔(۱)

سعد بن وقاص نے ان واقعات کو جن کو میں نے تفصیل سے بیان کیا ہے مختصر طور پر بیان کیا اور احتجاج کے طور پر معاویہ کی مجلس ترک کری۔

______________________

(۱) صحیح بخاری ج۵ ص ۲۳۔ ۲۲، صحیح مسلم ج۷ ص ۱۲۰، تاریخ الخمیس ج۲ ص ۹۵، قاموس الرجال ج۴ ص ۳۱۴منقول از مروج الذہب


خیبر میں اسلام کی تابناک کامیابی

اس مرتبہ بھی مسلمانوں نے حضرت امیر المومنین کی جانثاریوں کے طفیل عظیم الشان کامیابی و فتح حاصل کرلیا. یہی وجہ ہے کہ امام کو ''فاتح خیبر'' کہتے ہیں. جب امام ایک گروہ کے ساتھ جو آپ کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا قلعہ کے پاس پہونچے تو آپ نے علم کو زمین (پتھر) میں نصب کردیا، اس وقت قلعہ میں موجود تمام سپاہی باہر چلے گئے. مرحب کا بھائی حارث نعرہ لگاتا ہوا حضرت علی کی طرف دوڑا اس کا نعرہ اتنا شدید تھا کہ جو سپاہی حضرت علی کے ہمراہ تھے وہ پیچھے ہٹ گئے او رحارث نے بھوکے شیر کی طرح حضرت علی پر حملہ کیا لیکن کچھ ہی دیر گزری ہو گی کہ اس کا بے جان جسم زمین پر گرپڑا۔

بھائی کی موت نے مرحب کو بہت زیادہ متاثر کیا، وہ اپنے بھائی کا بدلہ لینے کے لئے حضرت علی کے سامنے میدان میں آیا، وہ اسلحوں سے لیس تھا. لوہے کی بہترین زرہ اور پتھر کاخود اپنے سر پر رکھے تھا اورایک اور خود اس کے اوپر سے پہن رکھا تھا، دونوں طرف سے رجز پڑھنے کا سلسلہ شروع ہوا. اسلام و یہودی کے دو بہادروں کی تلوار اور نیزے کی آواز نے دیکھنے والوں کے دلوں میں عجیب وحشت ڈال رکھی تھی اچانک اسلام کے جانباز کی برق شرر بار تلوار مرحب کے سر سے داخل ہوئی اور اس کو دو ٹکڑے کرتے

ہوئے زمین پر گرادیا. یہودی بہادرکا جو مرحب کے پیچھے کھڑے تھا وہ بھاگ گیا اور وہ گروہ جو حضرت علی سے مقابلہ کرنا چاہتا تھا ان لوگوںنے فرداً فرداً جنگ کیا اور سب کے سب ذلت کے ساتھ قتل ہوگئے۔

اب وہ وقت آپہونچا کہ امام قلعہ میں داخل ہوں مگر بند در وازہ امام اور سپاہیوں کے لئے مانع ہوا غیبی طاقت سے آپ نے باب خیبر کو اپنی جگہ سے اکھاڑا اور سپاہیوں کے داخل ہونے کے لئے راستہ ہموار کردیااور اس طرح سے فساد و بربریت کے آخری گھرکو اجاڑ دیا اور مسلمانوں کو اس شر یر اور خطرناک عناصر جو ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے دل میں رکھتے یا رکھے ہیں آسودہ کردیا۔(۱)

______________________

(۱) محدثین اور سیرت لکھنے والوں نے فتح خیبر کی خصوصیات اور امام کے قلعہ میں داخل ہونے اور اس واقعہ کے دوسرے حادثات کو بہت تفصیل سے لکھا ہے دلچسپی اور تفصیلات کے خواہشمند افرادان کتابوں کی طرح مراجعہ کریں جو سیرت پیغمبر پر لکھی گئی ہیں۔


امیر المومنین ـ کی رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نسبت

ابھی ہم نے حضرت علی کی تین فضیلتوں میں سے ایک فضیلت جو سعد بن وقاص نے معاویہ کے سامنے بیان کی تھی کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے، اس لئے بہتر ہے کہ باقی ان دو فضیلتوں کو بھی بطور خلاصہ بیان کردیں۔

تمام افتخارات میں سے ایک افتخار امام کے لئے یہ بھی ہے کہ تمام جنگوں میں آپ پیغمبر کے ساتھ ساتھ اور ہمیشہ لشکر کے علمبردار رہے سوائے جنگ تبوک کے ، کیونکہ آپ پیغمبر کے حکم سے مدینہ میں موجودتھے اور پیغمبر اسلام منافقوں کے ارادے سے باخبر تھے کہ میرے مدینے سے نکلنے کے بعد یہ لوگ مدینہ پر حملہ کریں گے .اسی وجہ سے آپ نے حضرت علی سے فرمایا: تم میرے اہلبیت اور رشتہ داروں اور گروہ مہاجرین کے سرپرست ہو. او رمیرے اور تمہارے علاوہ اس کام کے لئے کوئی دوسرا لیاقت نہیں رکھتا۔

حضرت علی کے مدینے میں قیام کی وجہ سے منافقوں کے ارادوں پر پانی پھر گیا، لہٰذا منافقوں نے ہر جگہ یہ افواہ اڑا دی کہ پیغمبراور حضرت علی کے درمیان کشیدگی ہے اور حضرت علی نے راستے کی دوری اور شدید گرمی کی وجہ سے خدا کی راہ میں جہاد کرنے سے دوری اختیار کرلی ہے۔

ابھی پیغمبر مدینے سے زیادہ دور نہیں ہوئے تھے کہ یہ خبر پورے مدینہ میں پھیل گئی، امام علی ـ

ان کی تہمت کا جواب دینے کے لئے پیغمبر کی خدمت میں پہونچے اور حضرت سے پورا ماجرا بیا ن کیا. پیغمبر نے اپنے اس تاریخی جملے(کہ جس کی سعد بن وقاص نے خواہش کی تھی کہ کاش اس کے بارے میں کہا جاتا) سے حضرت کو تسلی دی اور فرمایا:


''اما ترضی ان تکون منی بمنزلة هارون من موسیٰ الا انه لا نبی بعدی''

کیا تم راضی نہیں ہو کہ تمہاری نسبت مجھ سے ایسے ہی ہے جیسے ہارون کی نسبت موسی سے تھی؟ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔(۱)

اس حدیث ، جسے دانشمندوں کی اصطلاح میں، حدیث ''منزلت'' کہتے ہیں،نے تمام وہ منصب جو ہارون کے پاس تھے حضرت علی کے لئے ثابت کردیا سوائے نبوت کے کیونکہ نبوت کا باب ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا۔

یہ حدیث اسلام کی متواتر حدیثوں میں سے ایک ہے جسے محدثین اور مؤرخین نے اپنی اپنی کتابوں میں لکھا ہے:۔

حضرت علی کی تیسری عظیم فضیلت جسے سعد بن وقاص نے بیان کیا ہے وہ پیغمبر کا نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ تھا، ان لوگوں نے پیغمبر سے مسیحیت کے باطل عقیدوں کے بارے میں تفصیلی گفتگو کرنے کے بعد بھی اسلام قبول نہیں کیا لیکن مباہلہ کے لئے اپنی آمادگی کا اعلان کردیا۔

مباہلہ کا وقت آیا پیغمبر نے اپنے اعزاء میں سے صرف چار آدمیوں کا انتخاب کیا تاکہ اس تاریخی واقعے میں شرکت کریں اور یہ چار افراد سوائے حضرت علی اور آپ کی بیٹی فاطمہ اور حسن و حسین کے کوئی اور نہ تھا. کیونکہ تمام مسلمانوں کے درمیان ان سے زیادہ کوئی پاک و پاکیزہ اورایمان میں محکم نہیں تھا۔

پیغمبر اسلام میدان مباہلہ میں عجب شان سے آئے اپنی آغوش میں امام حسین کو لئے ہوئے تھے، ایک ہاتھ سے امام حسن کی انگلیاں پکڑے تھے اور فاطمہ اور حضرت علی آپ کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے وہاںپہونچنے سے پہلے اپنے ہمراہیوں سے کہا میں جب بھی دعا کروں تو تم لوگ آمین کہنا۔

______________________

(۱) سیرۂ ابن ہشام ج۲ ص ۵۲۰، بحارالانوار ج۲۱ ص ۲۰۷، مرحوم شرف الدین نے اپنی کتاب ''المراجعات'' میں اس حدیث کے تمام ماخذ کو ذکر کیا ہے۔


پیغمبر کا نوارانی چہرہ اور چار افراد کا چہرہ جن میںتین آپ کے شجرہ مقدس کی شاخیں تھیں، نے ایسا ولولہ پیدا کردیا کہ نجران کے عیسائی مبہوت ہوگئے عیسائیوں کے سب سے بڑے پادری نے کہا کہ میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگریہ بددعا کردیں تو یہ بیابان بھڑکتے ہوئے جہنم میں تبدیل ہو جائے اور یہ عذاب وادی نجران تک پہنچ جائے لہٰذا انھوں نے مباہلہ کرنے سے انکار کردیااور جزیہ دینے پر راضی ہوگئے۔

عائشہ کہتی ہیں:

مباہلہ کے دن پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے چار ہمراہیوں کواپنی کالی عبا کے دامن میں چھپایا اور اس آیت کی تلاوت فرمائی:

( اِنَّمٰا یُرِیْدُاللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیْراً )

زمخشری کہتے ہیں:

مباہلہ کا واقعہ اور اس آیت کا مفہوم یہ دونوں اصحاب کساء کی فضیلت پر بہت بڑے گواہ ہیں اور مذہب اسلام کی حقانیت پر ایک اہم سند اور زندہ مثال شمار ہوتے ہیں۔(۱)

______________________

(۱) کشاف ج۱ ص ۲۸۲۔ ۲۸۳، تفسیر امام رازی ج۲ ص ۴۷۱۔ ۴۷۲


آٹھویں فصل

دشمنوں کے ساتھ انصاف سے پیش آنا

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں :'' علی ـ احکام خداوندی کے جاری کرنے میں بہت زیادہ غور و فکر اور سختی سے عمل کرتے تھے اور ہرگز ان کی زندگی میں چاپلوسی اور خوشامدی کا دخل نہیں تھا''

جو لوگ اپنی زندگی میں پاکیزہ مقصد کی تلاش میں رہتے ہیںوہ دن رات اس کی تلاش و جستجو کرتے رہتے ہیں، اور ان چیزوں کے مقابلے میں جو ان کے ہدف کی مخالف ہوں ان سے بے توجہ بھی نہیں رہتے ہیں. یہ لوگ ہدف تک پہونچنے میں جو راستہ طے کرتے ہیں اس میں بعض محبت و الفت کرنے والے ملتے ہیں تو بعض عداوت و دشمنی کرتے ہیں. پاک دل ا ور روشن ضمیر ان کی عدالت پختہ گیری پر فریفتہ ہوئے ہیں لیکن غافل اورغیر متدین افراد ان کی سختی اور عدالت سے ناراض ہوتے ہیں۔

وہ لوگ جو اچھے اور برے کام انجام دیتے ہیں اور مسلمان اور غیر مسلمان کوایک ہی صف میں رکھتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ کسی کی مخالفت مول لیں ایسے لوگ کبھی مذہبی اور بامقصد نہیں ہوسکتے کیونکہ تمام طبقوں کے ساتھ اتحاد و دوستی، منافقت اور دو رخی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

امیر المومنین علیہ السلام کی حکومت کے زمانے میں ایک شخص نے اپنے علاقہ کے حاکم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تمام طبقے کے لوگ اس سے راضی ہیں. امام نے فرمایا: لگتا ہے کہ وہ شخص عادل نہیں ہے کیونکہ تمام لوگوں کا راضی ہونا اس بات کی حکایت کرتا ہے کہ وہ منافق اور صحیح فیصلہ کرنے والا نہیں ہے ورنہ تمام لوگ اس سے راضی نہ ہوتے۔

امیر المومنین علیہ السلام ان لوگوں میں سے ان ہیں جو صلح و آشتی کرنے والوں سے مہر و محبت اور پاکیزہ و صاف دلوں کو بلندی عطا کرتے تھے اوراسی کے مقابلے میں غیظ و غضب کی آگ میں جلنے والوں اور قانون توڑنے والوںکو انھیں کے سینے میں ڈال دیاکرتے تھے۔


امام عدالت کی رعایت اور کا اصول و قوانین پر سختی سے عمل کرنا صرف آپ کی حکومت کے زمانے سے مخصوص نہیں ہے اگرچہ بہت سے مؤرخین اور مقررین جب امام کی پاکیزگی اور عدالت کے متعلق گفتگو کرتے ہیںتو اکثر آپ کی حکومت کے دوران رونماہونے والے واقعات پر بھروسہ کرتے ہیں .کیونکہ آپ کی حکومت کے زمانے میں یہ عظیم انسانی فضیلت بہت زیادہ رائج تھی، مگر امام کا عدالت و انصاف اور قوانین پر سختی سے عمل پیرا ہونا رسول اسلام کے زمانے سے ہی ہر خاص و عام کی زبان پر تھا، اس بنا پر وہ لوگ جو امام کی عدالت و انصاف کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے گاہے بہ گاہے پیغمبر سے حضرت علی کی شکایت کرتے تھے اور ہمیشہ پیغمبر اس کے برعکس کہتے تھے اورکہتے تھے علی قانون الہی کے اجراء میں کسی کی رعایت نہیں کرتا.

زمانہ پیغمبر میں آپ سے متعلق چند واقعات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں اور ہم یہاں بطور مثال دوواقعات کو نقل کر رہے ہیں:

۱۔ ۱۰ ھ میں جب پیغمبر اسلام نے خانہ خدا کی زیارت کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت علی کو مسلمانوں کے ایک گروہ کے ساتھ ''یمن'' بھیج دیا پیغمبر نے حضرت علی کو حکم دیا تھا کہ جب یمن سے واپس آئیں تو وہ کپڑے جسے نجران کے عیسائیوں نے مباہلہ کے دن دینے کا دعدہ کیاتھااسے اپنے ہمراہ لائیں اور اسے آپ کے پاس پہونچا دیں، آپ کو ماموریت انجام دینے کے بعد معلوم ہوا کہ پیغمبر خانۂ کعبہ کی زیارت کے لئے روانہ ہوگئے ہیں اس لئے آپ نے راستے کو کو بدل دیا اور مکہ کی جانب روانہ ہوگئے. آپ نے مکہ کے راستے کو بہت تیزی کے ساتھ طے کیا ،تاکہ جلدسے جلد پیغمبر کے پاس پہونچ جائیں .اسی وجہ سے ان تمام کپڑوں کواپنے لشکر کے ایک سپہ سالار کے حوالے کردیا اور اپنے سپاہیوں سے الگ ہوگئے اور مکہ سے نزدیک پیغمبر کے پاس پہونچ گئے. پیغمبر اپنے بھائی کے دیدار سے بہت زیادہ خوشحال ہوئے اور جب احرام کے لباس میں دیکھا تو آپ سے احرام کی نیت کے متعلق حضرت علی نے جواب دیا: میں نے احرام پہنتے وقت کہا تھا خدایا میں اسی نیت پر احرام باندھ رہا ہوں جس نیت پر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے احرام باندھا ہے۔

حضرت علی نے اپنے یمن اور نجران کے سفر اور وہ کپڑے جو لے کر آئے تھے ،سے پیغمبر کو مطلع کیا اور پھر پیغمبر کے حکم سے اپنے سپاہیوں کے پاس واپس چلے گئے تاکہ دوبارہ ان کے ساتھ مکہ واپس جائیں۔جب امام اپنے سپاہیوں کے پاس پہونچے تو آپ نے دیکھا کہ آپ کے جانشین سپہ سالار نے تمام کپڑوں کو سپاہیوں کے درمیان تقسم کردیا ہے اور تمام سپاہیوں نے ان کپڑوں کو احرام بنا کر پہن لیا ہے حضرت علی اپنے سپہ سالار کے اس عمل پر بہت سخت ناراض ہوئے اور اس سے کہا: ان کپڑوں کو رسول خدا کے سپرد کرنے سے پہلے تم نے کیوں سپاہیوں میں تقسیم کردیا؟ اس نے جواب دیاکہ آپ کے سپاہیوں نے بہت اصرار کیا کہ میں کپڑے کو ان لوگوں کے درمیان بطور امانت تقسیم کردوں او رحج کی ادائیگی کے بعد سب سے واپس لے لوں۔

حضرت علی نے اس کی بات کو قبول نہیں کیااور کہا کہ تمہیں یہ اختیا رنہیں تھا. پھر آپ نے حکم دیا کہ تمام تقسیم ہوئے کپڑوں کو جمع کرو، تاکہ مکہ میں پیغمبر کے سپردکریں۔(۱)

وہ گروہ جنھیں عدالت و انصاف اورمنظم و مرتب رہنے سے تکلیف ہوتی ہے وہ ہمیشہ تمام امور کو اپنے اعتبار سے جاری کروانا چاہتے ہیں وہ لوگ پیغمبر کی خدمت میں آئے اور حضرت علی کے نظم و ضبط اور سخت گیری کی شکایت کی، لیکن وہ لوگ اس نکتہ سے بے خبر تھے کہ اس طرح سے قانون شکنی اور بے جاخلاف ورزی ایک بڑی قانون شکنی اور خلاف ورزی شمار ہوتی ہے۔

حضرت علی کی نظر میں ایک گناہگار شخص (خصوصاً وہ گناہگار جو اپنی لغزشوں کو بہت چھوٹاتصور کرے) اس سوار کی طرح ہے جو ایک سرکش او ربے لگام گھوڑے پر سوار ہو. تو یقینا وہ گھوڑا اپنے سوار کو گڑھوں اور پتھروں پر گرا دے گا۔(۲)

امام علیہ السلام کا مقصد اس تشبیہ سے یہ ہے کہ کوئی بھی گناہ چاہے جتنا ہی چھوٹا کیوںنہ ہواگر اس کو نظر انداز کردیا جائے تو دوسرے گناہوں کواپنے ساتھ لاتا ہے اور جب تک انسان کو گناہ کا مرتکب نہیں کردیتا اور آگ میں نہیں ڈال دیتا اس سے دوری اختیار نہیں کرپاتا. اسی وجہ سے انسان کے لئے ضروری ہے کہ شروع سے ہی اپنے کو گناہوں سے محفوظ رکھے. اور اسلامی اصول و قوانین کی معمولی مخالفت سے پرہیز کرے۔

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جو حضرت علی کے تمام کام اور ان کی عدالت سے مکمل طور پر باخبرتھے، اپنے کسی ایک صحابی کو بلایا اور اس سے کہا کہ شکایت کرنے والوں کے پاس جاؤ اور میرے اس پیغام کو ان تک پہونچادو۔

______________________

(۱) بحار الانوار ج۲۱ ص ۳۸۵

(۲)أَلَا وَ اِنَّ الْخَطٰایَا خَیْل شَمْس حَمَل عَلَیْهَا اَهْلُهَا وَخَلَعَتْ لِجَمْهٰا فَتَقَحَّمَتْ بِهِمْ فِیْ النّٰار نہج البلاغہ خطبہ ۱۴.

'' علی کی برائی کرنے سے باز آجاؤ کیونکہ وہ خدا کے احکام کو جاری کرنے میں بہت سخت ہے اور اس کی زندگی میں ہرگز چاپلوسی اور خوشامد نہیں پائی جاتی۔


۲۔ خالدبن ولید قریش کا ایک بہادر سردار تھا. اس نے ۷ھ میں مکہ سے مدینے کی طرف ہجرت کی اور مسلمانوں کے ساتھ رہنے لگا .مگر اس کے پہلے کہ وہ قوانین الہی پر عمل پیرا ہوتا، اسلام کی نو بنیاد حکومت کو گرانے کے لئے قریش کی طرف سے جتنی بھی جنگیںہوئیں اس میں شریک رہا. یہ وہی شخص تھا جس نے جنگ احد میں مسلمانوں پر رات میں چھپ کر حملہ کیا اور ان کی فوج کی پشت سے میدان جنگ میں وارد ہوا. او راسلام کے مجاہدوں پر حملہ کیا .اس شخص نے اسلام لانے کے بعد بھی حضرت علی سے عداوت و دشمنی کو فراموش نہیں کیا او رامام کی قدرت و طاقت و بہادری سے ہمیشہ حسد کرتا رہا پیغمبر اسلام کی شہادت کے بعد خلیفہ وقت سے حضرت علی کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی، لیکن کسی علت کی بنا پر کا میاب نہ ہوسکا۔(۱)

احمد بن حنبل اپنی کتاب مسند میں تحریر کرتے ہیں:

پیغمبر اسلام نے حضرت علی کو اسی گروہ کے ساتھ کہ جس میں خالد بھی موجود تھا یمن بھیجا، اسلام کی فوج سے یمن کے ایک مقام پر قبیلۂ بنی زید سے جنگ ہوئی اور دشمنوں پر کامیابی حاصل کرلی اور کچھ مال غنیمت ہاتھ لگا. امام نے عدالت کو ملحوظ رکھتے ہوئے مال غنیمت تقسیم کردیا اور یہ روش خالد بن ولید کی رضایت کے برخلاف تھی. اس نے پیغمبر اسلام او رحضرت علی کے درمیان سوء تفاہم پیدا کرنے کے لئے خط لکھا اور اسے بریدہ کے حوالے کیاتاکہ جتنی جلدی ممکن ہو پیغمبر تک پہونچا دے۔

بریدہ کہتا ہے:

میں بہت تیزی کے ساتھ مدینہ پہونچا اور اس نامہ کو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حوالے کیا، حضرت نے اس نامہ کو اپنے کسی ایک صحابی کو دیا تاکہ وہ پڑھے اور جب وہ نامہ پڑھ چکا تو میں نے اچانک پیغمبر کے چہرے پر غیظ و غضب کے آثاردیکھا۔

بریدہ کہتا ہے کہ میں اس طرح کا خط لاکر بہت شرمندہ ہوا او رعذر خواہی کے لئے کہا کہ خالد کے حکم

______________________

(۱) اس واقعہ کی تشریح زندگانی امیر ا لمومنین کے چوتھے حصے میں آئی ہے جو حصہ مخصوص ہے امام کی زندگی کے حالات پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد سے۔


سے میں نے یہ کام کیا ہے اور میرا اس کے حکم کی پیروی کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔

وہ کہتا ہے کہ جب میں خاموش ہوگیا تو کچھ دیر کے لئے سکوت طاری رہا. اچانک پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس خاموشی کو توڑا اور فرمایا:

علی ـ کے بارے میں بری باتیں نہ کہو'' فَاِنَّه مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْهُ وَ هُوَ وَلِیَّکُمْ بَعْدِیْ'' (وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے بعد تمہارے ولی و حاکم ہیں)

بریدہ کہتا ہے کہ میں اپنے کئے پر بہت نادم تھا چنانچہ رسول خدا سے استغفار کی درخواست کی. ،پیغمبر نے کہا جب تک علی نہ آئیںاور اس کے لئے رضایت نہ دیں میں تیرے لئے استغفار نہیں کروں گا. اچانک حضرت علی پہونچے اور میں نے ان سے درخواست کی کہ پیغمبر سے میری سفارش کردیں کہ وہ میرے لئے استغفار کریں۔(۱)

اس روداد کی وجہ سے بریدہ نے اپنی دوستی کو خالد سے ختم کرلیا اور صدق دل سے حضرت علی سے محبت کرنے لگا اور پیغمبر کی رحلت کے بعد اس نے ابوبکر کی بیعت بھی نہ کی اور ان بارہ آدمیوں میں سے ایک تھا جنھوں نے ابوبکر کے اس عمل پر اعتراض کیااورانھیں خلیفہ تسلیم نہیں کیا.(۲)

______________________

(۱) اسد الغابہ ج۱ ص ۱۷۶، والدرجات الرفیعہ ص ۴۰۱

(۲) رجال مامقانی ج۱ ص ۱۹۹منقول از احتجاج


نویں فصل

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مخصوص نمائندہ و سفیر

''حضرت علی نے خدا کے حکم سے سورۂ برائت اور وہ مخصوص حکم جو بت پرستی کو جڑ سے اکھاڑ نے کے لئے تھا حج کے موقع پر تمام عرب قبیلے کے سامنے پڑھا ،اور اس کا م کے لئے پیغمبر کی جگہ اور جانشینی کا منصب حاصل کیا''۔تاریخ اسلام اس بات کی حکایت کرتی ہے کہ جس دن پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی رسالت کا اعلان کیا اسی دن اپنی رسالت کے اعلان کے بعد فوراً علی کی خلافت و جانشینی کا اعلان کیا۔پیغمبر اسلام نے اپنی رسالت کے تیس سالہ دور میں کبھی کنایہ کے طور پر توکبھی اشارے کے ذریعے اور کبھی واضح طور پر امت کی رہبری اور حکومت کے لئے حضرت علی کی لیاقت و شائستگی کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا اور جن لوگوں کے متعلق ذرہ برابر بھی یہ احتمال پایا جاتا تھا کہ وہ پیغمبر کے بعد حضرت علی کی مخالفت کریں گے ان کو نصیحت کرتے رہے اور انھیں عذاب الہی سے ڈراتے رہے۔تعجب کی بات تو یہ ہے کہ جب قبیلۂ بنی عامر کے رئیس نے پیغمبر سے یہ خواہش ظاہر کی کہ میں آپ کے قوانین کا بہت سختی سے دفاع کروں گا بشرطیکہ آپ اپنے بعد حکومت کی ذمہ داری مجھے سونپ دیں تو پیغمبر نے اس کے جواب میں فرمایا: ''الامر الی اللہ یضعہ حیث شائ''(۱)

یعنی یہ خدا کے اختیار میں ہے وہ جس شخص کو بھی اس کا م کے لئے منتخب کرے وہی میرا جانشین ہوگا. جس وقت حاکم یمامہ نے بھی قبیلۂ بنی عامر کے رئیس کی طرح سے پیغمبر سے خواہش ظاہر کی، اس وقت بھی پیغمبر کو بہت برالگااور آپ نے اس کے سینے پر ہاتھ سے مارا۔(۲) اس کے علاوہ بھی پیغمبر اسلام نے متعدد مقامات پر مختلف عبارتوں کے ذریعے حضرت علی ـکو اپنی جانشینی کے عنوان سے پہچنوایا ہے اور اس طرح امت کو متنبہ و متوجہ کیا ہے کہ خدا نے حضرت علی ـکو ہمارا وصی اور خلیفہ منتخب کیا ہے اور اس کام میں پیغمبر کو کوئی اختیار نہیں ہے. نمونہ کے طور پر چند موارد یہاں پر ذکر کر رہے ہیں:

______________________

(۱) تاریخ طبری ج۸ ص ۸۴، تاریخ ابن اثیر ج۲ ص ۶۵

(۲) طبقات ابن سعد ج۱ ص ۲۶۲


۱۔ آغاز بعثت میں ، جب خدا نے پیغمبر کو حکم دیا کہ اپنے اعزا و احباب اور رشتہ داروں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیںتو آپ نے اسی جلسہ میں حضرت علی کو اپنے بعد اپنا وصی و خلیفہ قرار دیا۔

۲۔ جب پیغمبر اسلام جنگ تبوک کے لئے روانہ ہوئے تو اپنے سے حضرت علی کی نسبت کو بیان کیا یعنی وہ نسبت جو ہارون کو موسی سے تھی وہی نسبت میرے اور علی ـکے درمیان ہے اور جتنے منصب ہارون کے پاس تھے سوائے نبوت کے ، وہ سب منصب علی ـ کے پاس بھی ہیں۔

۳۔ بریدہ اور دوسری اسلامی شخصیتوں سے کہا کہ علی ـمیرے بعد سب سے بہترین حاکم ہے۔

۴۔ غدیر خم کے میدان میں اور ۸۰ ہزار ( یا اس سے زیادہ) کے مجمع میں حضرت علی کو ہاتھوں پر بلند کر کے لوگوں کو پہچنوایا اور لوگوں کو اس مسئلے سے آگاہ کیا۔

اس کے علاوہ اکثر مقامات پر پیغمبر نے سیاسی کاموں کو حضرت علی کے سپرد کردیا اور اس طرح سے اسلامی معاشرہ کے ذہنوں کو حضرت علی کی حکومت کی طرف مائل کیا. مثال کے طور پر درج ذیل واقعہ کا تجزیہ کرتے ہیں۔

۲۰ سال سے زیادہ عرصہ گزر ا ہوگا کہ شرک اور دوگانہ پرستی کے بارے میں اسلام کا نظریہ حجاز کی سرزمین اور عرب کے مشرک قبیلوں تک پہونچ گیا تھا او ر بتوں اور بت پرستوں کے بارے میں ان میں سے اکثر اسلامی نظریئے سے واقف ہو گئے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ بت پرستی بزرگوں کے باطل عمل کی پیروی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ،اور ان کے باطل خدا اتنے ذلیل و خوار ہیں کہ صرف دوسروں کے امور انجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے بلکہ خود اپنے ضرر کو بھی اپنے سے دور نہیں کرسکتے اور نہ خود کو ہی نفع پہونچا سکتے ہیں ،اور اس طرح کے عاجز و مجبور خدا تعریف و خضوع کے لائق نہیں ہیں۔

دوسرا گروہ جس نے صدق دل اور بیدار ضمیر کے ساتھ پیغمبر کے کلام کو سنا تھا انھوںنے اپنی زندگی میں کافی مستحکم تبدیلیاں پیدا کرلی تھیں، اور بت پرستی چھوڑ کر خدا کی وحدانیت کو قبول کرلیا تھا خصوصاً جس وقت پیغمبر نے مکہ فتح کیا اور مذہبی مقررین کو موقع مل گیا کہ وہ آزادی سے اسلام کی تبلیغ و نشر و اشاعت کریں تو کچھ لوگوں نے بتوں کو توڑ ڈالا او رتوحید کی آواز حجاز کے اکثر مقامات پر گونج اٹھی۔


لیکن متعصب اور بیوقوف لوگ جنھیں اپنی دیرینہ عادتوں کے ختم کرنے میں بہت دشواری تھی وہ کشمکش کے عالم میں تھے اور اپنی بری عادتوں سے باز نہ آئے اور خرافات و بدبختی کی پیروی کرتے رہے۔اب وہ وقت آگیا تھا کہ پیغمبر اسلام ہر طرح کی بت پرستی اور غیر انسانی کاموںکو اپنے سپاہیوں کے ذریعے ختم کردیں. اور طاقت کے ذریعے بت پرستی کو جو معاشرے کو برباد اور اجتماعی و اخلاقی اعتبار سے فاسد کر رہے ہیں اور حریم انسانیت کے لئے کل بھی نقصان دہ تھے (اور آج بھی ہیں) اسے جڑ سے اکھاڑ دیں اور خدا اور اس کے رسول سے بیزاری و دوری کو منیٰ کے میدان میںعید قربان کے دن اس عظیم و بزرگ اجتماع میں جس میں حجاز کے تمام افراد جمع ہوتے ہیں اعلان کریں. اور خود پیغمبر یا کوئی اور سورۂ برائت کے پہلے حصے کو جس میں خدا اور پیغمبر کی مشرکوں سے بیزاری کا تذکرہ ہے اس بڑے مجمع میں پڑھے اور بلند ترین آواز سے حجاز کے بت پرستوں میں اعلان کرے کہ چار مہینے کے اندر اپنی وضعیت کو معین کریں کہ اگر مذہب توحیدکو قبول کرلیں تو مسلمانوں کے زمرے میں شامل ہوجائیں گے اور دوسروں کی طرح یہ لوگ بھی اسلام کے مادی اور معنوی چیزوں سے بہرہ مند ہو ئیں گے لیکن اگر اپنی دشمنی او رہٹ دھرمی پر باقی رہے تو چار مہینہ گزرنے کے بعد جنگ کے لئے آمادہ رہیں اور یہ بات بھی ذہن نشین کرلیں کہ جہاں بھی گرفتار ہوئے قتل کردیئے جائیں گے۔سورۂ برائت اس وقت نازل ہوا جب پیغمبر نے حج میں نہ جانے کا ارادہ کرلیا تھا کیوں کہ گذشتہ سال جو فتح مکہ کا سال تھا مراسم حج میں شرکت کیا تھا او رارادہ کیا تھا کہ آئندہ سال کہ جسے بعد میں ''حجة الوداع'' کہا جائے گا اس حج میں شرکت کریں. اس لئے ضروری تھا کہ کسی کو خدا کا پیغام پہونچانے کے لئے منتخب کریں .سب سے پہلے آپ نے ابوبکر کو بلایا اور سورۂ برائت کے ابتدائی کچھ حصے کی تعلیم دی ا ور انھیں چالیس آدمیوں کے ساتھ مکہ روانہ کیا تاکہ عید قربان کے دن لوگوں کے سامنے ان آیتوں کو پڑھیں۔ابوبکر ابھی مکہ کے راستے ہی میں تھے کہ اچانک وحی الہی کا نازل ہوئی اور پیغمبر کو حکم ہوا کہ اس پیغام کو خود یا جو آپ سے ہو وہ لوگوں تک پہونچائے ، کیونکہ ان دو کے علاوہ کوئی اور اس پیغام کے پہونچانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔(۱) اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ شخص جو وحی کے اعتبار سے پیغمبر کے اہلبیت میں سے ہے اور اتنی شائستگی و لیاقت رکھتا ہے وہ کون ہے؟

_____________________________

(۱)''لٰایُوَدَّیْهٰا عَنْکَ اِلّٰا اَنْتَ اَوْ رَجُل مِنْکِ'' اور بعض روایتوں میں اس طرح ہے ''او رجل من اہل بیتک'' سیرۂ ابن ہشام ج۴ ص ۵۴۵ وغیرہ


تھوڑی دیر بھی نہ گزری تھی کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی ـ کو بلایا اور انھیں حکم دیا کہ مکہ کی طرف روانہ ہو جاؤ اور ابوبکر سے راستے میں ملاقات کرو اوران سے آیات برائت کو لے لو اور ان سے کہہ دو کہ اس کام کی انجام دہی کے لئے وحی الہی نے پیغمبر کو حکم دیا ہے کہ ان آیتوں کو یا خود یا ان کے اہلبیت کی ایک فرد لوگوں کو پڑھ کر سنائے، اس وجہ سے یہ ذمہ دار یمجھے سونپی گئی ہے .حضرت علی، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اونٹ پر سوار ہوکر جابر اور آپ کے دوسرے صحابیوں کے ہمراہ مکہ کے لئے روانہ ہوگئے اور حضرت کے پیغام کوابوبکر تک پہونچایا ،انھوں نے بھی (سورۂ برائت کی) آیتوں کو حضرت علی کے سپرد کردیا۔امیر المومنین علیہ السلام مکہ میں داخل ہوئے اور ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو جمرۂ عقبہ کے اوپر کھڑے ہوکر بلند آواز سے سورۂ برائت کی تیرہ آیتوں کی تلاوت کی، اور چار مہینے کی مہلت جو پیغمبر نے دی تھی بلند آواز سے تمام شرکت کرنے والوں کے گوش گزار کیا. تمام مشرکین سمجھ گئے کہ صرف چار مہینے کی مہلت ہے جس میں ہمیں اسلامی حکومت کے ساتھ اپنے رابطے کو واضح کرناہے .قرآن کی آیتیں اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیغام نے مشرکین کی فکروں پر عجیب اثر ڈالا اورابھی چار مہینہ بھی مکمل نہ ہوا تھا کہ مشرکین نے جوق در جوق مذہب توحید کو قبول کرلیا اورابھی دسویں ہجری بھی تمام نہ ہوئی تھی کہ پورے حجاز سے شرک کا خاتمہ ہوگیا۔

بے جا تعصب

جب ابوبکر اپنی معزولی سے باخبر ہوئے تو ناراضگی کے عالم میں مدینہ واپس آگئے اور گلہ و شکوہ کرنے لگے اور پیغمبر اسلام سے مخاطب ہوکر کہا: مجھے آپ نے اس کام (آیات الہی کے پہونچانے اور قطعنامہ کے پڑھنے) کے لئے لائق و شائستہ جانا، مگر زیادہ دیرنہ گزری کہ آپ نے مجھے اس مقام و منزلت سے دور کردیا، کیا اس کے لئے خدا کی طرف سے کوئی حکم آیا ہے؟ پیغمبر نے شفقت بھرے انداز سے فرمایا کہ وحی الہی کا نمائندہ آیا اور اس نے کہا : میرے یا وہ شخص جو مجھ سے ہے کے علاوہ کوئی اوراس کام کی صلاحیت نہیں رکھتا۔(۱) بعض متعصب مؤرخین جو حضرت علی کے فضائل کے تجزیہ و تحلیل میں بہت زیادہ منحرف ہوئے ہیں ، ابوبکر کے اس مقام سے معزول ہونے اور اسی مقام پر حضرت علی کے منصوب ہونے کی اس طرح سے توجیہ کی ہے کہ ابوبکر شفقت و مہربانی کے مظہر اور حضرت علی بہادری و شجاعت کے مظہر تھے

______________________

(۱) روح المعانی ج۱۰ تفسیر سورۂ توبہ ص ۴۵

اورالہی پیغام کے پہونچانے اور قطعنامہ کے پڑھنے میں بہادر دل اور قدرت مند روح کی ضرورت تھی اور یہ صفات حضرت علی کے اندر بہت زیادہ پائے جاتے تھے۔یہ توجیہ: ایک بے جا تعصب کے علاوہ کچھ نہیں ہے، کیونکہ اس کے پہلے بیان ہوچکا ہے کہ پیغمبر نے اس عزل و نصب کی علت کی دوسرے انداز سے تفسیر کی ہے اور فرمایا ہے کہ اس کام کے لئے میرے اور وہ شخص جو مجھ سے ہے کے علاوہ کوئی بھی صلاحیت نہیں رکھتا۔ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اس واقعہ کا دوسرے طریقے سے تجزیہ کیاہے ،وہ کہتا ہے کہ عرب کا یہ دستور تھا کہ جب بھی کوئی چاہتا تھا کہ کسی عہد و پیمان کو توڑ دے تو اس نقض (عہد و پیمان کے توڑنے) کو خود وہ شخص یا اسی کے رشتہ داروں میں سے کوئی ایک شخص انجام دیتا ہے ورنہ عہد و پیمان خود اپنی جگہ پر باقی رہتا ہے اسی وجہ سے حضرت علی اس کام کے لئے منتخب ہوئے۔اس توجیہ کا باطل ہونا واضح ہے کیونکہ پیغمبر اسلام کا حضرت علی کے بھیجنے کا اصلی مقصد آیتوں کی تلاوت اور قطعنامہ کا پہونچانا اور عہد و پیمان کا توڑنا نہیں تھا بلکہ سورۂ توبہ کی چوتھی آیت میں صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ وہ لوگ جنھوں نے اپنے عہد و پیمان پر مکمل عمل کیا ہے ان کا احترام کرو اور عہد و پیمان کی مدت تک اس کو پورا کرو۔(۲)

اس بنا پر اگر عہد کا توڑنا بھی عہد توڑنے والوں کے بہ نسبت اس کام میں شامل تھا تو مکمل طور پر جزئی حیثیت رکھتاہے جب کہ اصلی ہدف یہ تھا کہ بت پرستی ایک غیر قانونی امر اور ایک ایسا گناہ جو قابل معاف نہیں ہے، اعلان ہو۔اگر ہم چاہیں کہ اس واقعہ کا غیر جانبدارانہ فیصلہ کریں تو ضروری ہے کہ یہ کہا جائے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کاحکم الہی سے یہ ارادہ تھا کہ اپنی زندگی میں ہی حضرت علی کو سیاسی مسائل اور حکومت اسلامی سے مربوط مسئلوں میں آزاد رکھیں. تاکہ تمام مسلمان آگاہ ہو جائیں اور خورشید رسالت کے غروب ہونے کے بعد سیاسی اور حکومتی امور میں حضرت علی کی طرف رجوع کریں اور جان جائیں کہ پیغمبر اسلام کے بعد ان تمام امور میں حضرت علی سے زیادہ شائستہ کوئی نہیں ہے کیونکہ لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ خدا کی طرف سے تنہاوہ شخص جومشرکین مکہ سے امان میں رہنے کے لئے منصوب ہوا وہ حضرت علی تھے ،کیونکہ یہ چیز حکومتی امور سے متعلق ہے۔مگر (ہاں) جن مشرکوں سے تم نے عہد و پیمان کیا تھا پھر ان لوگوں نے بھی کچھ تم سے (وفائے عہد میں) کمی نہیں کی. اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی ہو تو ان کے عہد و پیمان کو جتنی مدت کے واسطے مقرر کیا ہے پورا کردو خدا پرہیزگاروں کو یقینا دوست رکھتا ہے۔

______________________

(۲)''الا الذین عاهدتم من المشرکین ثم لم ینقضوکم شیئاً و لم یظاهروا علیکم احداً فأتمُّوا الیهم عهدهم الی مدتهم ان الله یحب المتقین''

دسویں فصل

مسلمانوں کے لئے آئندہ کا لائحہ عمل

دین اسلام کی تحریک کی مخالفت قریش والوں سے بلکہ تمام بت پرستوں کے ساتھ شبہ جزیرہ سے شروع ہوئی .وہ لوگ اس آسمانی مشعل کو خاموش کرنے کے لئے مختلف قسم کے مکرو فریب اور سازشیں کرتے رہے، لیکن جتنا بھی کوشش کرتے تھے ناکام ہی رہتے، ان سب کی آخری خواہش یہ تھی کہ رسالتمآب کے بعد اس تحریک کی بنیادوں کو ڈھادیں. اور انھیں کی طرح وہ لوگ جو پیغمبر سے پہلے زندگی بسر کر رہے تھے ان کو بھی ہمیشہ کے لئے خاموش کردیں۔(۱)

قرآن مجید نے اپنی بہت سی آیتوں میں ان کی سازشوں اورکھیلے جانے والے کھیلوں کو بیان کیاہے بت پرستوں کی فکروں کو جو انھوں نے پیغمبر کی موت کے سلسلے میں کیا تھا اسے اس آیت میں بیان کیا ہے ارشاد قدرت ہے:

( ام تأمُرُهُمْ أَحلَامُهِمْ بِهٰذَا أَمْ هُمْ قوْمُ طٰاغُونَ ) (۲)

کیا (تم کو) یہ لوگ کہتے ہیں کہ (یہ) شاعر ہیں (اور) ہم تو اس کے بارے میں زمانے کے حوادث کا انتظار کر رہے ہیں تو تم کہہ دو کہ (اچھا) تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں، کیا ان کی عقلیں انھیں یہ (باتیں) بتاتی ہیں یا یہ لوگ سرکش ہی ہیں؟

اس وقت ہمیں اس سے بحث نہیں ہے کہ دشمنوں کی تمام سازشیں ایک کے بعد ایک کس طرح ناکام ہوگئیں اور دشمن کے اندر اتنی صلاحیت نہ رہی کہ پھیلتے ہوئے اسلام کو روک سکے، بلکہ اس وقت ہمیں اس مسئلہ کی طرف توجہ کرنا ہے کہ پیغمبر کے بعد کس طرح سے اس اسلام کو دوام عطا ہو؟ اس طرح سے کہ پیغمبر کے بعد اسلام کی یہ تحریک رک نہ جائے یا گزشتہ کی طرح عقب ماندگی کا شکار نہ ہو جائے. یہاں پر دو صورتیںہیںاور ہم دونوں صورتوںکے متعلق بحث کریں گے:

______________________

(۱) ورقہ ابن نوفل کی طرح، کہ جس نے عیسائیوں کی بعض کتابوں کا مطالعہ کیا اور بت پرستی کے مذہب کو چھوڑ کر خود عیسائی بن گیا۔

(۲) سورۂ طور، آیت ۳۲۔ ۳۰


۱۔ امت اسلامیہ کے ہر فرد کی فکر و عقل اس مرحلہ تک پہونچ جائے کہ پیغمبر اسلام کے بعد بھی اسلام کی نئی بنیاد کی تحریک کی اسی طرح رہبری کریں جیسے عہد رسالت میں کیا ہے، اور اسے ہر طرح کی مشکلات سے بچائیں اورامت او ربعد میں آنے والی نسلوں کو صراط مستقیم (سیدھے راستے) کی طرف ہدایت کریں۔

پیغمبر اسلام کے بعد امت کی رہبری کا دارومدار ایسے افراد نے اپنے ذمہ لے لیا تھا کہ افسوس اکثر افراداس کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے. اس وقت یہاں اس سلسلے میں بحث نہیں کرنا ہے لیکن اتنی بات ضرور کہناہے کہ تمام طبیعتوں اور ایک امت کے دل کو گہرائیوں سے بدلنا ایک دن، دو دن یا ایک سال ، یا دس سال کا کام نہیں ہے او رانقلاب لانے والا کہ جس کی آرزو یہ ہوتی ہے کہ اپنی تحریک کو ہر زمانے کے لئے پایداری او ردوام بخش دے وہ مختصر سی مدت میں اس کام کو انجام نہیں دے سکتا۔

انقلاب کا ہمیشہ باقی رہنا اور لوگوں کے دلوں میں اس طرح رچ بس جانا، انقلاب لانے والے کے مرنے کے بعدبھی اس کی تحریک ایک قدم بھی پیچھے نہ رہے اور پرانے رسم و رواج اور آداب و اخلاق دو بارہ واپس نہ آجائیں اور اس تحریک کو چلانے کے لئے ایسے اہم افراد یا شخص کی ضرورت ہے جو اس تحریک کی باگ ڈور سنبھالے اورہمیشہ اس کی حفاظت کرے اور معاشرے میں مسلسل تبلیغ کر کے غیر مطلوب چیزوں سے لوگوں کو دور کھے تاکہ ایک نسل گزر جائے اور نئی نسل ابتداء سے اسلامی اخلاق و آداب کی عادت کرلے اور آنے والی نسلوں تک برقرار رکھے۔

تمام آسمانی تحریکوں کے درمیان اسلامی تحریک کی ایک الگ خصوصیت ہے اور اس تحریک کو بقا اور دوام بخشنے کے لئے ایسے اہم افراد کی ضرورت تھی. کیونکہ مذہب اسلام ایسے افراد کے درمیان آیاجو پوری دنیا میں سب سے پست تھے اور اجتماعی اور اخلاقی نظام کے اعتبار اور انسانیت کے ہر طرح کی ثقافت سے محروم تھے، مذہبی چیزوں میں حج کے علاوہ جسے اپنے بزرگوں سے میراث میں پایا تھا کسی اور چیز سے آشنا نہ تھے۔جناب موسی و عیسی کی تعلیمات نے ان پر کوئی اثر نہ کیا تھا ،حجاز کے اکثر لوگ اس کی خبر نہیں رکھتے تھے، جب کہ جاہلیت کے عقائد اور رسومات ان کے دلوں میں مکمل طریقے سے رسوخ کرچکے تھے اور روح و دل سے انھیں چاہتے تھے۔ممکن ہے کہ ہر طرح کی مذہبی طبیعت ایسی ملتوں کے درمیان بہت جلد اپنا اثر پیدا کرلے مگر اس کے باقی رکھنے اوراسے دوام و پائداری بخشنے کے لئے ان کے درمیان بہت زیادہ تلاش و کوشش کی ضرورت ہے تاکہ ان لوگوں کو ہر طرح کے انحرافات اور پستی سے بچائے۔


جنگ احد اور حنین کے رقت آمیز اور دل ہلا دینے والے واقعات اور مناظر کہ جس میں تحریک کو بڑھا وا دینے والے عین جنگ کے وقت پیغمبر کو چھوڑ کر چلے گئے تھے اور انھیں میدان جنگ میں تنہا چھوڑ دیا تھا یہ اس بات کے گواہ ہیں کہ پیغمبر کے صحابی ایمان و عقل کی اس منزل پر نہ تھے کہ پیغمبر تمام امور کی ذمہ داری ان کے سپرد کرتے اور دشمن کے اس آخری حربہ کو جس میں وہ پیغمبر کی موت کے امیدوار تھے اسے ختم کرتے۔

جی ہاں. اگر امت کی رہبری کو خود امت کے سپرد کرتے تب بھی صاحب رسالت کے نظریات کو حاصل نہیں کرسکتے تھے بلکہ ضروری تھا کہ کوئی اور فکر کی جائے کہ جس کی طرف ہم اشارہ کر رہے ہیں۔

۲۔ تحریک کی بقا و پایداری کے لئے بہترین راستہ تو یہ تھا کہ خداوند عالم کی طرف سے ایک شائستہ شخص، جو تحریک کے اصول و فروع پر عقیدہ و ایمان میں پیغمبر کی طرح ہو تاکہ امت کی رہبری کے لئے اس شخص کا انتخاب ہوتا، تاکہ مستحکم ایمان او روسیع علم جو کہ خطا و لغزش سے پاک ہو اس امت کی رہبری کو اپنے ہاتھوں میں لیتا اور ہمیشہ کے لئے اسے دوام بخشتا۔

یہ وہی بات ہے جس کے صحیح و محکم کا مذھب تشیع ادعا کرتا ہے اور اکثر تاریخیں اس بات پر گواہ ہیں کہ پیغمبر اسلام نے ''حجة الوداع'' کی واپسی پر ۱۸ ذی الحجہ ۱۰ ھ کو اس اہم مشکل کی گرہ کو کھول دیاتھا اور خدا کی طرف سے اپنا وصی و جانشین معین کر کے اسلام کی بقا و استمرار کا انتظام کردیاتھا۔

امامت کے بارے میں دو نظریے

شیعہ دانشمندوں کی نظر میں خلافت ایک الہی منصب ہے جو خداوند عالم کی طرف سے امت اسلامی کے شائستہ اور عقلمند شخص کو دیا جاتا ہے .امام اور نبی کے درمیان واضح اور وشن فرق یہ ہے کہ پیغمبر شریعت لے کر آتا ہے اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور وہ صاحب کتاب ہوتا ہے ،جب کہ امام اگرچہ ان چیزوں کا حقدار نہیں ہے لیکن حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے علاوہ دین کی ان چیزوں کا بیان اور تشریح کرنے والا ہوتاہے جو پیغمبر وقت کی کمی یا حالات کے صحیح نہ ہونے کی بنا پر اسے بیان نہیں کرپاتا، اور ان تمام چیزوں کے بیان کو اپنے وصیوں کے ذمہ کردیتاہے .اس بنا پر شیعوں کی نظر میں خلیفہ صرف حاکم وقت اور اسلام کا ذمہ دار، قوانین کا جاری کرنے والا اور لوگوں کے حقوق کا محافظ اور ملک کی سرحدوں کا نگہبان ہی نہیں ہوتا، بلکہ مذہبی مسائل اور مبہم نکات کا واضح او رروشن کرنے والا ہوتا ہے اور ان احکام و قوانین کومکمل کرنے والا ہوتا ہے جو کسی وجہ سے دین کی بنیاد رکھنے والا بیان نہیں کرپاتا ہے۔


لیکن خلافت، اہلسنت کے دانشمندوں کی نظر میں ایک عام اور مشہور منصب ہے اور اس مقام کا مقصد صرف ظاہری چیزوں اور مسلمانوں کی مادیات کی حفاظت کے علاوہ کچھ نہیں ہے. خلیفۂ وقت عمومی رائے مشوروں سے سیاسی اقتصادی اور قضائی امور کو چلانے کے لئے منتخب ہوتا ہے اور وہ شئون و احکامات جو پیغمبر کے زمانے میں بطور اجمال تشریع ہوئے ہیں اور پیغمبر کسی علت کی بنا پر اسے بیان نہ کرسکے ہوں، اس کے بیان کرنے کی ذمہ داری علماء اور اسلامی دانشمندوں پر ہے کہ اس طرح کی مشکلات کو اجتہاد کے ذریعے حل کریں۔

حقیقت خلافت کے بارے میں اس مختلف نظریہ کی وجہ سے دو مختلف گروہ مسلمانوں کے درمیان وجود میں آگئے او روہ بھی دو حصوں میں بٹ گئے اور آج تک یہ اختلاف باقی ہے۔

پہلے نظریہ کے مطابق امام، پیغمبر کے بعض امور میں شریک اور اس کے برابر ہے اور جو شرائط پیغمبر کے لئے لازم ہیں وہی شرائط امام کے لئے بھی ضروری ہیں. ان شرائط کو ہم یہاں بیان کر رہے ہیں:

۱۔ پیغمبر کے لئے ضروری ہے کہ وہ معصوم ہو یعنی اپنی پوری عمر میں گناہ کے قریب نہ جائے اوردین کے حقائق واحکام بیان کرنے، لوگوں کے اسلامی و مذہبی سوالوں کے جوابات دینے میں خطا کا مرتکب نہ ہو. امام کو بھی ایساہی ہونا چاہئے اوردونوں کے لئے ایک ہی دلیل ہے۔

۲۔ پیغمبر، شریعت کو سب سے زیادہ اور بہتر طور پر جانتا ہو اور مذہب کی کوئی بھی چیز اس سے پوشیدہ نہ ہو. اور امام بھی جو کہ شریعت کی ان چیزوں کو مکمل کرنے اور بیان کرنے والا ہے جو پیغمبر کے زمانے میں بیان نہیں ہوئی ہیں، ضروری ہے کہ دین کے احکام و مسائل کوسب سے زیادہ جانتاہو۔

۳۔ نبوت ایک انتصابی مقام ہے نہ انتخابی، اور پیغمبر کے لئے ضروری ہے کہ خدا اس کی معرفی کرے اور اسی کی طرف سے مقام نبوت پر منصوب ہو کیونکہ تنہا اسی کی ذات ہے جو معصوم کو غیر معصوم سے جدا کرتا ہے اور صرف خدا ان لوگوں کو پہچانتا ہے جو غیبی عنایتوں کی وجہ سے اس مقام پر پہونچے ہیں او ردین کی تمام جزئیات سے واقف و آگاہ ہیں۔


یہ تینوں شرطیں جس طرح سے پیغمبر کے لئے معتبر ہیں اسی طرح امام اور اس کے جانشین کے لئے معتبر ہیں. لیکن دوسرے نظریہ کے مطابق، نبوت کی کوئی بھی شرط امامت کے لئے ضروری نہیں ہیں نہ معصوم ہونا ضروری ہے نہ عادل ہونا اورنہ ہی عالم ہونا ضروری ہے نہ شریعت پر مکمل دسترسی ضروری ہے نہ انتصاب ہونا، اورنہ عالم غیب سے رابطہ ہونا ضروری ہے بلکہ بس اتنا کافی ہے کہ اپنے ہوش و حواس اور تمام مسلمانوں کے مشورے سے اسلام کی شان و شوکت کی حفاظت کرے اور قانون کے نفاذ کے لئے امنیت کو جزا قرار دے، او رجہاد کے ذریعے اسلام کو پھیلانے کی کوشش کرے۔

ابھی ہم اس مسئلہ کو (کہ کیا مقام امامت ایک انتصابی مقام ہے یا ایک انتخابی مقام اور کیا پیغمبر کے لئے ضروری تھا کہ وہ خود کسی کو اپنا جانشین معین کریں یاامت کے حوالے کردیں) ایک اجتماعی طریقے سے حل کرتے ہیں. اور قارئین محترم کو بھی اس بات کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ اجتماعی اور فرہنگی حالات خصوصاً پیغمبر کے زمانے کے سیاسی حالات سبب بنے کہ خود پیغمبر اپنی زندگی میں جانشینی کی مشکلات کو حل کریں اور اس کے انتخاب کو امت کے حوالے نہ کریں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ مذہب اسلام، جہانی مذہب اور آخری دین ہے اور جب تک رسول خدا زندہ رہے امت کی رہبری کو اپنے ذمے لئے رہے اور آپ کی وفات( شہادت) کے بعد ضروری ہے کہ امت کی رہبری امت کے بہترین فرد کے ذمے ہو، ایسی صورت میں پیغمبر کے بعد رہبری ،کیا ایک مقام تنصیصی (نص یا قرآنی دلیل )ہے یا مقام انتخابی؟

یہاں پر دو نظریے ہیں:

شیعوں کا نظریہ ہے کہ مقام رہبری ، مقام تنصیصی(نص) ہے اور ضروری ہے کہ پیغمبر کا جانشین خدا کی طرف سے معین ہو. جب کہ اہلسنت کا نظریہ ہے کہ یہ مقام انتخابی ہے اورامت کے لئے ضروری ہے کہ پیغمبر کے بعد ملک و امت کے نظام کو چلانے کے لئے کسی شخص کو منتخب کریں، اور ہر گروہ نے اپنے نظریوں پر دلیلیں پیش کی ہیں جو عقاید کی کتابوں میں ہیں یہاں پر جو چیز بیان کرنے کی ضرورت ہے وہ پیغمبر کے زمانے میں حاکم کے حالات کا تجزیہ و تحلیل کرناہے تاکہ دونوں نظریوں میں سے ایک نظریہ کو ثابت کرسکیں۔


پیغمبر اسلام کے زمانے میں اسلام کی داخلی اور خارجی سیاست کا تقاضا یہ تھا کہ پیغمبر کا جانشین خدا کے ذریعے خود پیغمبر کے ہاتھوں معین ہو. کیونکہ اسلامی معاشرہ کو ہمیشہ ایک خطرناک مثلث یعنی روم، ایران، اورمنافقین کی طرف سے جنگ،فساداوراختلاف کا خطرہ لاحق تھا،اسی طرح امت کے لئے مصلحت اسی میں تھی کہ پیغمبر سیاسی رہبر معین کر کے تمام امتیوں کو خارجی دشمن کے مقابلے میں ایک ہی صف میں لاکر کھڑا کردیں. اور دشمن کے نفوذ اور اس کے تسلط کو ( جس کی اختلاف باطنی بھی مدد کرتا) ختم کردیں اب ہم اس مطلب کی وضاحت کر رہے ہیں۔

اس خطرناک مثلث کا ایک حصہ بادشاہِ روم تھا. یہ ایک عظیم طاقت شبہ جزیرہ کے شمال میں واقع تھی جس کی طرف سے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمیشہ اور زندگی کے آخری لمحے تک فکر مند ہے.. سب سے پہلی لڑائی مسلمانوں کی روم کے عیسائی فوج کے ساتھ ۸ ھ میں فلسطین میں ہوئی. اس جنگ میں اسلام کے تین عظیم سپہ سالار یعنی جعفر طیار، زید بن حارثہ اورعبد اللہ بن رواحہ شہید ہوگئے اور اسلامی فوج کی بہت بڑی شکست ہوئی۔

کافروںکی فوج کے مقابلے سے اسلام کی فوج کے پیچھے ہٹنے سے قیصر کی فوج کے حوصلے بلند ہو گئے اور ہر لمحہ یہ خطرہ بنا رہاکہ کہیں نئی اسلامی حکومت کے مرکزپر حملہ نہ ہوجائے۔

اسی وجہ سے پیغمبر ۹ ھ میں بہت زیادہ فوج کے ساتھ شام کے اطراف کی طرف روانہ ہوئے تاکہ ہر طرح کی فوجی لڑائی میں خود رہبری کریں. اس سفر میں اسلامی فوج نے زحمت و رنج برداشت کر کے اپنی دیرینہ حیثیت کو پالیا اور اپنی سیاسی زندگی کو دوبارہ زندہ کیا. لیکن اس کھوئی ہوئی کامیابی پر پیغمبر مطمئن نہیں ہوئے اور اپنی بیماری سے چند دن پہلے فوج اسلام کو اسامہ بن زید کی سپہ سالاری میں دے کر حکم دیا کہ شام کے اطراف میں جائیں اور جنگ میں شرکت کریں۔

اس مثلث کادوسرا خطرناک حصہ ایران کا بادشاہ تھا.یہ سبھی جانتے ہیں کہ ایران کے خسرو نے شدید غصہ کے عالم میں پیغمبر کے خط کو پھاڑا تھا. اور پیغمبر کے سفیر کو ذلیل و خوار کر کے اپنے محل اور ملک سے نکالاتھا، صرف یہی نہیں بلکہ یمن کے گورنر کو نامہ لکھا تھا کہ پیغمبر کو گرفتار کرلے. اور اگر وہ گرفتاری نہ دیں توانھیں قتل کردے۔


خسرو پرویز، اگر چہ پیغمبر کے زمانے میں ہی مرگیا تھا لیکن یمن کو آزاد کرنے کا مسئلہ (جو مدتوں تک ایران کے زیر نظر تھا) خسرو ایران کی نظروں سے پوشیدہ نہ تھا. اورغرور و تکبر نے ایران کے سیاست دانوں کواس بات کی اجازت نہ دی کہ اس طرح کی قدرت (پیغمبر اسلام )کو برداشت کرسکیں۔

اور اس مثلث کا تیسرا خطرہ گروہ منافقین کی طرف سے تھا جو ہمیشہ ستون پنجم (مدد و طاقت) کی طرح مسلمانوں کے خلاف سازش میں لگے تھے، یہاں تک کہ ان لوگوںنے کہ جنگ تبوک میں جاتے وقت راستے میں پیغمبر اسلام کو قتل کرنا چاہا منافقین کے بعض گروہ آپس میں یہ کہتے تھے کہ رسول خدا کی موت کے بعداسلامی تحریک ختم ہو جائے گی اور سب کے سب آسودہ ہو جائیں گے۔(۱)

پیغمبر کے انتقال کے بعد ابوسفیان نے بے ہودہ قسم کے مکر و حیلے اپنائے اورچاہا کہ حضرت علی کے ساتھ بیعت کر کے مسلمانوں کو دو حصوںمیں تقسم کر کے ایک دوسرے کو روبرو کردے اوراچھے لوگوں کو برائیوں کی طرف راغب کرے. لیکن حضرت علی اس کی سازش سے باخبر تھے ،چنانچہ اس کو ہوشیار کرتے ہوئے کہا: خدا کی قسم! فتنہ و فساد برپا کرنے کے علاوہ تیرا کوئی اور مقصد نہیں ہے اور صرف آج ہی تونہیں چاہتا کہ فتنہ و فساد برپا کرے بلکہ تو چاہتا ہے کہ ہمیشہ فتنہ و فساد ہوتا رہے ،جا مجھے تیری ضرورت نہیں ہے۔(۲)

منافقوں کی تخریب کاری (فتنہ و فساد) اس حد تک پہونچ گئی تھی کہ قرآن مجید نے سورۂ آل عمران، نساء ، مائدہ، انفال، توبہ، عنکبوت، احزاب، محمد، فتح، مجادلہ، حدید، منافقون او رحشر میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔

کیاایسے سخت دشمنوں کے بعد جو اسلام کے کمین میں بیٹھے تھے صحیح تھا کہ پیغمبر اسلام اپنے بعد نو بنیاد اسلامی معاشرے کے لئے دینی و سیاسی رہبر وغیرہ کو معین نہ کرتے؟ اجتماعی محاسبہ کی رو سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر پر ضروری تھا کہ رہبر کا تعیین کریںاور تاکہ اپنے بعد ہونے والے تمام اختلاف کو روک دیںاور

______________________

(۱) سورۂ طور، آیت ۳۲۔ ۳۰

(۲) کامل ابن اثیر ج۲ ص ۲۲۰، العقد الفرید ج۲ ص ۲۴۹


ایک محکم دفاعی طاقت کو وجود میں لا کر وحدت اسلامی کی بنیاد کو محفوظ کریں، اور ہر ناگوار حادثہ رونما ہونے سے پہلے اور یہ کہ رسول اسلام کے انتقال کے بعد ہر گروہ یہ کہے کہ رہبر ہم میں سے ہو یہ سوائے رہبر معین کئے ممکن نہ تھا۔

مذکورہ باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ نظریہ باکل صحیح ثابت ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے بعد ہونے والے رہبر کو خود معین کریں شایدیہی وجہیں تھیںکہ پیغمبر بعثت کی ابتداء سے آخر عمر تک مسئلہ جانشینی کو ہمیشہ بیان کرتے رہے اور اپنے جانشین کوآغاز رسالت میں بھی اور آخر زمانہ رسالت میںبھی معین کیا ،ان دونوں کی توضیح ملاحظہ کیجئے۔

دلیل عقلی، فلسفی اوراجتماعی حالات سے قطع نظر کہ یہ سب کی سب میرے نظریئے کی تائید کرتی ہیں ، وہ حدیثیںاو رورایتیں جو پیغمبر اسلام سے وارد ہوئی ہیں علمائے شیعہ کے نظریہ کی تصدیق کرتی ہیں.پیغمبر اکرم نے اپنی رسالت کے زمانے میں کئی دفعہ اپنے جانشین اوروصی کومعین کیا ہے اور امامت کے موضوع کو عمومی رائے اور انتخاب کے ذریعے ہونے والی بحث کو ختم کردیا ہے۔

پیغمبر نے نہ صرف اپنی آخری عمر میں اپنا جانشین معین کیا تھا، بلکہ آغاز رسالت میں کہ ابھی سو آدمیوں کے علاوہ کوئی ان پر ایمان نہ لایا تھا اپنے وصی و جانشین کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔

جس دن خدا نے آپ کو حکم دیا کہ اپنے رشتہ داروں کو خدا کے عذاب سے ڈرائیں اورعمومی دعوت سے پہلے انھیں مذہب توحیدقبول کرنے کے لئے بلائیں،تو اس مجمع میں جس میں بنی ہاشم کے ۴۵ سردار موجود تھے، آپ نے فرمایا:''تم میں سے سب سے پہلے جو میری مدد کرے گا وہی میرا بھائی ، وصی اور میرا جانشین ہوگا''

جس وقت حضرت علی ان کے درمیان سے اٹھے اور ان کی رسالت کی تصدیق کی. اسی وقت پیغمبر نے مجمع کی طرف رخ کر کے کہا: ''یہ جوان میرا بھائی، وصی اور جانشین ہے''

مفسرین و محدثین کے درمیان یہ حدیث ''یوم الدار'' اور حدیث ''بدء الدعوة'' کے نام سے مشہور ہے۔

پیغمبر نے نہ صرف آغاز رسالت میں بلکہ مختلف مناسبتوں اور سفرو حضر میں حضرت علی کی ولایت و جانشینی کو صراحت سے بیان کیا تھا لیکن ان میں سے کوئی بھی ایک عظمت و صراحت کے اعتبار سے ''حدیث غدیر'' کے برابر نہیں ہے

اب ہم واقعہ غدیر کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں:


واقعۂ ِ غدیر خم

پیغمبر اسلام ۱۰ ھ میں وظیفۂ حج اور مناسک حج کی تعلیم کے لئے مکہ معظمہ روانہ ہوئے اور اس مرتبہ یہ حج پیغمبر اسلام کا آخری حج تھااسی وجہ سے اسے ''حجة الوداع'' کہتے ہیں. و ہ افراد جو پیغمبر کے ہمراہ حج کرنا چاہتے تھے یا حج کی تعلیمات سے روشناس ہونا چاہتے تھے پیغمبر کے ہمراہ روانہ ہوئے جن کی تعداد تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار تھی۔

حج کے مراسم تمام ہوئے ،پیغمبر اسلام مدینے کے لئے روانہ ہوئے جب کہ بہت زیادہ لوگ آپ کی خدا حافظی کے لئے آئے سوائے ان لوگوں کے جو مکہ میں آپ کے ہمراہ ہوئے تھے وہ سب کے سب آپ کے ہمراہ تھے وہ پہلے ہی روانہ ہوگئے. جب یہ قافلہ بے آب و گیاہ جنگل بنام ''غدیر خم'' پہونچا جو جحفہ(۱) سے تین میل کی دوری پر واقع ہے ،وحی کا فرشتہ نازل ہوا اور پیغمبر کو ٹھہر نے کا حکم دیا پیغمبر نے بھی سب کو ٹھہر نے کا حکم دیدیا تاکہ جو پیچھے رہ گئے ہیں وہ بھی پہونچ جائیں۔

قافلے والے اس بے آب و گیاہ اور بے موقع ، دوپہر کے وقت ، تپتے ہوئے صحرا میں اور گرم و تپتی ہوئی زمین پر پیغمبر کے اچانک رک جانے سے متعجب تھے، لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے: لگتاہے خدا کی طرف سے کوئی اہم حکم آگیاہے اور حکم کی اتنی ہی اہمیت ہے کہ پیغمبر کو حکم دیا ہے کہ اس سخت حالت میں آگے بڑھنے سے سب کو روک دیں اور خدا کے پیغام کو لوگوں تک پہونچائیں۔

رسول اسلام پر خد اکا یہ فرمان نازل ہوا:

( یَاَیُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا ُنزِلَ ِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاﷲُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاس ) (۲)

______________________

(۱) جحفہ: رابغ سے چند میل دور مدینے کے راستے میں واقع ہے اور حاجیوں کی ایک میقات میں سے ہے۔

(۲) سورۂ مائدہ آیت ۶۷


اے پیغمبر، جو حکم تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے پہونچا دو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو (سمجھ لو کہ) تم نے اس کا کوئی پیغام ہی نہیں پہونچایااور (تم ڈرو نہیں ) خدا تم کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔

اگر آیت کے مفہوم پر غور کیا جائے تو چند نکات سامنے میں آتے ہیں:

۱۔ وہ حکم جسے پہونچانے کے لئے پیغمبر کو حکم دیا گیا وہ اتنا عظیم اوراہم تھا کہ (بر فرض محال) اگر پیغمبر اس کے پہونچانے میں خوف کھاتے اور اسے نہیں پہونچاتے تو گویا آپ نے رسالت الہی کو انجام نہیں دیا بلکہ اس پیغام کے پہونچانے کی وجہ سے آپ کی رسالت مکمل ہوئی۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ''ما انزل الیک'' سے مراد ہرگز قرآن مجید کی تمام آیتیں اور اسلامی احکامات نہیں ہیں کیونکہ اگر پیغمبر ،خداوند عالم کے تمام احکامات کو نہ پہونچائیں تو اپنی رسالت کو انجام نہیں دیا ہے تو یہ ایک ایساواضح اور روشن امر آیت کے نزول کا محتاج نہیں ہے، بلکہ اس حکم سے مراد ایک خاص امر کا پہونچانا ہے تاکہ اس کے پہونچانے سے رسالت مکمل ہو جائے اوراگر یہ حکم نہ پہونچایا جائے تو رسالت عظیم اپنے کمال تک نہیں پہو نچ سکتی، اس بنا پر ضروری ہے کہ یہ حکم اسلامی اصول کا ایک اہم پیغام ہو تاکہ دوسرے اصول و فروع سے ارتباط رکھے ہواور خدا کی وحدانیت اور پیغمبر کی رسالت کے بعد اہم ترین مسئلہ شمار ہو۔

۲۔معاشرے کو دیکھتے ہوئے پیغمبر اسلام کو یہ احتمال تھا کہ ممکن ہے اس پیغام کو پہونچاتے وقت لوگوں کی طرف سے انھیں ضرر پہونچے لیکن خداوند عالم ان کے ارادے کوقوت و طاقت دینے کے لئے ارشاد فرماتا ہے:( وَاﷲُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاس )

اب ہم ان احتمالات کا تجزیہ کریں گے جو ماموریت کے سلسلے میں مفسرین اسلامی نے بیان کئے ہیں کہ کون سا احتمال آیت کے مفہوم سے نزدیک ہے۔شیعہ محدثین اور اسی طرح اہلسنت کے ۳۰ بزرگ محدثین(۱) نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت غدیر خم

______________________

(۱) مرحوم علامہ امینی نے اپنی کتاب الغدیر، ج۱ ص ۱۹۶ تا ۲۰۹ تک ان تیس افراد کے نام و خصوصیات مکمل طریقے سے بیان کئے ہیں جن کے درمیان بہت سے نام مثلاً طبری ، ابونعیم اصفہانی، ابن عساکر، ابو اسحاق حموینی، جلال الدین سیوطی وغیرہ شامل ہیں اور پیغمبر کے صحابی میں ابن عباس ، ابو سعید خدری و براء ابن عازب وغیرہ کے نام پائے جاتے ہیں۔


میں نازل ہوئی ہے جس میں خدا نے پیغمبر کو حکم دیا ہے کہ حضرت علی کو ''مومنوں کا مولی'' بنائیں۔

پیغمبر کے بعد ولایت و جانشینی عظیم اوراہم موضوعات میں سے ہے اور اس کے پہونچانے سے رسالت کی تکمیل ہوئی ہے نہ یہ کہ امر رسالت میں نقص شمار کیا جائے۔

اسی طرح یہ بھی صحیح ہے کہ پیغمبر اسلام اپنے اجتماعی اور سیاسی حالات کی رو سے اپنے اندر رعب و ڈر محسوس کرتے کیونکہ حضرت علی جیسے شخص کی وصایت اور جانشینی جن کی عمر ۳۳ سے زیادہ نہ تھی، کا اعلان ایسے گروہ کے سامنے جو عمر کے لحاظ سے ان سے بہت بڑے تھے ،بہت زیادہ دشوار تھا۔(۱)

اس کے علاوہ اس مجمع میں پیغمبر کے اردگرد بیٹھے لوگوں کے بہت سے رشتہ داروں کاخونمختلف جنگوں میں حضرت علی کے ہاتھوں بہا تھا اورایسے کینہ توز افراد پر ایسے شخص کی حکومت بہت دشوار مرحلہ تھا، اس کے علاوہ حضرت علی پیغمبر کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے اورایسے شخص کو خلافت کے لئے معین کرنا کم ظرفوں کی نگاہ میں،رشتہ دار کو بڑھاواد ینا تھا۔

لیکن ان تمام سخت حالات کے باوجود خداوند عالم کا حکیمانہ ارادہ یہ تھا کہ اس تحریک کو دوام بخشنے کے لئے حضرت علی کو خلافت و جانشینی کے لئے منتخب کیا جائے اوراپنے پیغمبر کی رسالت کو رہبر و رہنما کا تعیین کر کے پایہ تکمیل تک پہونچایاجائے۔

______________________

(۱) خصوصاً ان عربوں پر جو اہم منصبوں کو قبیلے کے بزرگوں کے شایان شان سمجھتے تھے اورنوجوانوں کو اس بہانے سے کہ وہ تجربہ نہیں رکھتے ان کو اس کا اہل نہیں سمجھتے تھے اسی لئے جب پیغمبر نے عتاب بن اسید کو مکہ کا حاکم اوراسامہ بن زید کو فوج کا سپہ سالار بنا کر تبوک بھیجا تو بہت سے اصحاب پیغمبر اور دوستوں نے اعتراض کیا۔


واقعہ غدیر کی تشریح :

۱۸ ذی الحجہ کو غدیر خم کی سرزمین پر دو پہر کا تپتا ہوا سورج چمک رہا تھا اور اکثر مؤرخین نے مجمع جن کی تعداد ۷۰ ہزار سے ۱۲۰ ہزار تک بیان کی ہے اس جگہ پر پیغمبر کے حکم سے ٹہرے ہوئے تھے او راس روز رونما ہونے والے تاریخی واقعہ کا انتظار کر رہے تھے اور شدید گرمی کی وجہ سے اپنی رداؤں کو دو حصوں میں تہہ کر کے ایک حصے کو سر پر اوردوسرے حصے کو پیر کے نیچے رکھے ہوئے تھے۔

ایسے حساس موقع پر ظہر کی اذان پورے بیابان میں گونج اٹھی اور مؤذن کی تکبیر کی آواز بلند ہوئی ،

لوگ نماز ظہر ادا کرنے کے لئے آمادہ ہوگئے اور پیغمبر نے اس عظیم الشان مجمع میں جس کی سرزمین غدیر پر مثال نہیں ملتی نماز ظہرباجماعت ادا کی، پھر لوگوں کے درمیان اس منبر پر جو اونٹ کے کجاووں سے بنایا گیا تھا تشریف لائے اور بلند آواز سے یہ خطبہ پڑھا۔

تمام تعریفیں خدا سے مخصوص ہیں ہم اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی پر ہمارا ایمان ہے اور اسی پر بھروسہ ہے اور برے نفس اور خراب کردار سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں کہ اس کے علاوہ گمراہوں کا کوئی ہادی و رہنما نہیں ہے وہ خدا جس نے ہر شخص کی ہدایت کی اس کو گمراہ کرنے والا کوئی نہیں ہے. میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد خدا کا بندہ اور اسی کی طرف سے بھیجا ہوا ہے۔

اے لوگو، عنقریب میں تمہارے درمیان سے خدا کی بارگاہ میں واپس چلا جاؤ ں گا اور میں مسئول ہوں اور تم بھی مسئول ہو میرے بارے میں کیا فکر کرتے ہو؟


پیغمبر کے صحابیوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے خدا کے مذہب کی تبلیغ کی اور ہم لوگوں کے ساتھ نیکی کی اور ہمیشہ نصیحت کی اوراس راہ میں بہت زیادہ زحمتیں برداشت کیں خدا آپ کو جزائے خیر دے۔

پیغمبر نے پھر مجمع سے مخاطب ہو کر فرمایا:

کیا تم گواہی نہیں دو گے کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد خدا کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہے؟ جنت و جہنم اور موت حق ہیں اور قیامت بغیر کسی شک وتردید کے ضرور آئے گی اور خداوند عالم ان لوگوں کو جو قبروں میں دفن ہیں دوبارہ زندہ کرے گا؟

پیغمبر کے صحابیوں نے کہا: ہاں ہاں ہم گواہی دیتے ہیں۔

پھر پیغمبر نے فرمایا: میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں بطور یادگار چھوڑ کر جارہا ہوں کس طرح ان کے ساتھ برتاؤ کرو گے ؟ کسی نے پوچھا: ان دوگرانقدر چیز سے کیا مراد ہے؟

پیغمبر اسلام نے فرمایا: ثقل اکبر جو خدا کی کتاب ہے جس کا ایک سرا خدا کے ہاتھ میں اور دوسرا تمہارے ہاتھ میں ہے اس کو مضبوطی سے پکڑلو تاکہ گمراہ نہ ہوجاؤ اور ثقل اصغر میری عترت اور میرے اہلبیت ہیں میرے خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ میری یہ دونوں یادگاریں قیامت تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گی۔

اے لوگو، کتاب خدا او رمیری عترت پر سبقت نہ لے جانا بلکہ ہمیشہ اس کینقش قدم پر چلناتاکہ تم محفوظ رہ سکو، اس موقع پر پیغمبر نے حضرت علی کو ہاتھوں پر بلند کیا یہاں تک کہ آپ کے بغل کی سفیدی دیکھائی دینے لگی اور سب نے حضرت علی کو پیغمبر کے ہاتھوں پر دیکھا اورانھیں اچھی طرح سے پہچانا اور جان لیا کہ اس اجتماع او رٹھہرنے کا مسئلہ حضرت علی سے مربوط ہے اور سب کے سب پوری توجہ اور دلچسپی کے ساتھ آمادہ ہوئے کے پیغمبر کی باتوں کو غور سے سنیں۔


پیغمبر نے فرمایا: اے لوگو، تمام مومنین میں سب سے بہتر شخص کون ہے؟

پیغمبر کے صحابیوں نے جواب دیا خدا اور اس کا پیغمبر بہتر جانتا ہے۔

پیغمبر نے پھر فرمایا: خداوند عالم میرا مولااور میں تم لوگوں کا مولا ہوں اور ان کے نفسوں سے زیادہ ان پر حق تصرف رکھتا ہوں. اے لوگو! جس جس کا میں مولا اور رہبر ہوں علی بھی اس کے مولا اور رہبر ہیں۔

رسول اسلام نے اس آخری جملے کی تین مرتبہ تکرار کی(۱) اور پھر فرمایا:

پروردگارا ،تو اسے دوست رکھ جو علی کو دوست رکھتا ہو او رتواسے دشمن رکھ جو علی کو دشمن رکھتا ہو۔

خدایا علی کے چاہنے والوں کی مدد کر اوران کے دشمنوں کو ذلیل و رسوا کر، خدایا علی کو حق کا محور قرار دے۔

پھر فرمایا: دیکھو جو بھی اس بزم میں شریک نہیں ہے ان تک یہ پیغام الہی پہونچا دینا اور دوسروں کو اس واقعہ کی خبردے دینا۔

ابھی یہ عظیم الشان مجمع اپنی جگہ پر بیٹھا ہی تھا کہ وحی کا فرشتہ نازل ہوا اور پیغمبر اسلام کو خوشخبری دی کہ خدا نے آج تمہارے دین کو مکمل کردیا اور اپنی نعمت کو مومنین پر تمام کردیا۔(۲)

اس وقت پیغمبر کی تکبیر بلند ہوئی اور فرمایا:

خداکا شکر کہ اس نے اپنے دین کو کامل کردیا اور نعمتوں کو تمام کردیا اور میری رسالت اور میرے بعد علی کی ولایت سے خوشنود ہوا۔

پیغمبر اسلام منبر سے اترے اور آپ کے صحابی گروہ در گروہ حضرت علی کو مبارکباد دیتے رہے اور انھیں اپنا مولی اور تمام مومنین زن و مرد کا مولا مانا اس موقع پر رسول خدا کا شاعر حسان بن ثابت اپنی جگہ سے اٹھا او رغدیر کے اس عظیم و تاریخی واقعہ کو اشعار کی شکل میں سجا کر ہمیشہ کے لئے جاویدان بنا دیا یہاں اس مشہور قصیدے کے دو شعر کا ترجمہ پیش کرتے ہیں:

______________________

(۱) احمد بن حنبل نے اپنی کتاب ''مسند'' میں نقل کیا ہے کہ پیغمبر نے اس جملے کی چار مرتبہ تکرا رکی۔

(۲)الْیَوْمَ َکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وََتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَکُمْ الِْسْلاَمَ دِینًا ً سورۂ مائدہ، آیت۳


پیغمبر نے حضرت علی سے فرمایا: اٹھو میں نے تمہیں لوگوں کی راہنمائی اور پیشوائی کے لئے منتخب کیا جس شخص کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا ہے. اے لوگو! تم پر لازم ہے کہ علی کے سچے پیرو اور ان کے حقیقی چاہنے والے بنو۔(۱)

جو کچھ اب تک بیان کیا گیا وہ اس عظیم تاریخی واقعہ کا خلاصہ تھا جواہلسنت کے دانشمندوں نے بیان کیا ہے شیعہ کتابوں میں یہ واقعہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے. مرحوم طبرسی نے اپنی کتاب احتجاج(۲) میں پیغمبر کا ایک تفصیلی خطبہ نقل کیاہے تفصیل کے خواہشمند قارئین اس کتاب کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔

غدیر کا واقعہ کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا

خداوند عالم کا حکیمانہ ارادہ یہ ہے کہ عظیم تاریخی واقعہ غدیر ہر زمانے اور ہر صدی میں لوگوں کے دلوں میں زندہ اور کتابوں میں بطور سند لکھا رہے ،ہر زمانے میں اسلام کے محققین ،تفسیر ، حدیث، کلام اور تاریخ کی کتابوں میں اس کے متعلق گفتگو کریں اور مقررین و خطباء اپنی تقریروں، وعظ و نصیحت اور خطابتوں میں اس واقعہ کا تذکرہ کریں اور اسے حضرت علی کا ایسا فضائل شمار کریں جو غیر قابل انکار ہو نہ، صرف مقررین اور خطیب بلکہ بہت سارے شعراء اور دیگر افراد نے بھی اس واقعے سے ستفادہ کیا ہے اور اپنے ادبی ذوق کو اس واقعہ میں غور و فکر کرکے او رصاحب ولایت کے ساتھ حسن خلوص سے پیش آکر اپنی فکروں کو جلا بخشی ہے اور عمدہ و عالی ترین قصائد مختلف انداز اور مختلف زبانوں میں کہہ کر اپنی یادگار یںچھوڑی ہیں۔ اسی وجہ سے بہت کم ایسا تاریخی واقعہ ہے جو غدیر کے مثل تمام دانشمندوں کی توجہ کا مرکز بنا ہو بلکہ تمام افراد خصوصاً محدثین ، متکلمین، فلسفی ، خطیب و شاعر، مؤرخ اور تاریخ لکھنے والے سب ہی اس کی طرف متوجہ ہوئے ہیں اور سب نے کچھ نہ کچھ اس سلسلے میں لکھا ہے۔

______________________

(۱ ) فقالَ له قم یاعلی فاننی

رضیتک من بعدی اماماً و هادیاً

فمن کنت مولاه فهذا ولیه

فکونوا له اتباع صدق موالیاً

(۲) احتجاج طبرسی ج۱ ص ۸۴ ۔ ۷۱ ، طبع نجف


اس حدیث کے ہمیشہ باقی رہنے کی ایک علت، اس واقعہ کے بارے قرآن مجید کی دو آیتوں کا نازل ہونا ہے(۱) اور جب تک قرآن باقی ہے یہ تاریخی واقعہ بھی باقی رہے گا اور کبھی بھی ذہنوں سے بھلایا نہیں جاسکتا ، اسلامی معاشرہ نے شروع سے ہی اسے ایک مذہبی عید شمار کیاہے اور تمام شیعہ آج بھی اس دن عید مناتے ہیں اور وہ تمام رسومات اور خوشیاں جو دوسری عیدوں میں انجام دیتے ہیں اس عید میں بھی انجام دیتے ہیں۔

تاریخ کی کتابیں دیکھنے سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ ۱۸ ذی الحجہ کا دن مسلمانوں کے درمیان '' عید غدیر'' کے نام سے مشہور ہے. یہاں تک کہ ابن خلکان، مستعلی بن المستنصر کے بارے میں کہتا ہے:

۴۸۷ ھ میں ۱۸ ذی الحجہ کو غدیر کے دن لوگوں نے اس کے ہاتھ پر بیعت کیا۔(۲)

العبیدی المستنصر باللہ کے بارے میں لکھتا ہے کہ اس کا انتقال ۴۸۷ھ میں اس وقت ہوا جب ذی الحجہ مہینے کی بارہ راتیں باقی تھیں اور یہ رات ۱۸ ذی الحجہ یعنی شب غدیر تھی۔(۳)

تنہا ابن خلکان نے ہی اس رات کو غدیر کی رات نہیں کہا ہے بلکہ مسعودی(۴) اور ثعلبی(۵) نے بھی اس رات کو امت اسلامی کی معروف و مشہور رات کہا ہے۔

اس اسلامی عید کی بازگشت خود عید غدیر کے دن ہوتی ہے کیونکہ پیغمبر نے اس دن مہاجرین و انصار، بلکہ اپنی بیویوں کو حکم دیا کہ علی کے پاس جائیں اور ان کی اس عظیم فضیلت پر انھیں مبارکباد دیں۔

زید بن ارقم کہتے ہیں: مہاجرین میں سب سے پہلے جس نے علی کے ہاتھ پر بیعت کی وہ ابوبکر، عمر،

______________________

(۱) سورۂ مائدہ آیت ۳ اور ۶۷

(۲،۳) وفیات الاعیان ج۱ ص ۶۰ و ج۲ ص ۲۲۳

(۴) التنبیہ و الاشراف ص ۸۲۲

(۵) ثمار القلوب ۵۱۱


عثمان، طلحہ اور زبیر تھے اور بیعت اور مبارکبادی کا یہ سلسلہ مغرب تک چلتا رہا۔

اس تاریخی واقعہ کی اہمیت کے لئے بس اتنا ہی کافی ہے کہ ۱۱۰ صحابیوں نے حدیث غدیر کو نقل کیا ہے البتہ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اتنے زیادہ گروہوں میں سے صرف اتنی تعداد میں لوگوں نے واقعہ غدیر کو نقل کیا ہے بلکہ صرف اہلسنت کے ۱۱۰ دانشمندوںنے واضح طور پر نقل کیا ہے .یہ بات صحیح ہے کہ پیغمبر نے اپنے خطبے کو ایک لاکھ کے مجمع میں بیان کیا لیکن ان میں سے بہت زیادہ لوگ حجاز کے نہیں تھے اور ان سے حدیث نقل نہیں ہوئی ہے اور ان میں سے جن گروہوں نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے تاریخ نے اسے اپنے دامن میں جگہ تک نہیں دیا ہے ، اور اگر لکھا بھی ہے تو ہم تک نہیں پہونچا ہے۔

دوسری صدی ہجری جو کہ ''تابعین'' کا زمانہ ہے ۸۹ افراد نے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور اس صدی کے بعد جتنے بھی حدیث کے راوی ہیں سب کے سب اہل سنت کے دانشمند اورعلماء ہیں اور اس میں ۳۶۰ افراد نے اس حدیث کو اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے اور بہت زیادہ لوگوں نے اس کی حقانیت اور صحیح ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

تیسری صدی میں ۹۲ دانشمندوں نے، چوتھی صدی میں ۴۳ دانشمندوں نے ، پانچویں صدی میں ۲۴ دانشمندوں نے، چھٹی صدی میں بیس دانشمندوں نے، ساتویں صدی میں ۲۱ دانشمندوں نے، آٹھویں صدی میں ۱۸ دانشمندوں نے ،نویں صدی میں ۱۶ دانشمندوں نے، دسویں صدی میں ۱۴ دانشمندوں نے، گیارہویں صدی میں ۱۲ دانشمندوں نے، بارہویں صدی میں ۱۳ دانشمندوں نے، تیرہویں صدی میں ۱۲ دانشمندوں نے اور چودہویں صدی میں ۲۰ دانشمندوں نے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔


کچھ محدثین و مؤرخین نے صرف اس حدیث کے نقل کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ اس کی سند اور اس کے مفاد و مفہوم کے بارے میں مستقل طور پر کتابیں بھی لکھی ہیں۔

اسلام کے بزرگ مؤرخ طبری نے ایک کتاب بنام ''الولایة فی طریق حدیث الغدیر'' لکھا ہے اور اس حدیث کو ۷۰ سے زیادہ طریقوں سے پیغمبر سے نقل کیا ہے۔

ابن عقدہ کوفی نے اپنے رسالہ ''ولایت'' میں اس حدیث کو ۱۰۵ افراد سے نقل کیا ہے۔

ابوبکر محمد بن عمر بغدادی جو جعانی کے نام سے مشہور ہے اس حدیث کو ۲۵ طریقوں سے نقل کیا ہے ، جن لوگوں نے اس تاریخی واقعہ کے متعلق مستقل کتابیں لکھی ہیں ان کی تعداد ۲۶ ہے۔

شیعہ دانشمندوں نے اس اہم اور تاریخی واقعے کے متعلق بہت قیمتی کتابیں لکھی ہیں اور تمام کتابوں میں سب سے جامع اور عمدہ کتاب ''الغدیر'' ہے جو عالم تشیع کے مشہور و معروف دانشمند علامہء مجاہد مرحوم آیت اللہ امینی کی تحریر کردہ ہے، امام علی ـ کی حالات زندگی لکھنے والوں نے اس کتاب سے ہمیشہ بہت زیادہ استفادہ کیا ہے۔


چوتھا باب

پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد اور خلافت سے پہلے حضرت علی ـ کی زندگی

پہلی فصل

حضرت علی کی پچیس سالہ خاموشی

حضرت علی کی زندگی کے اہم واقعات جو پیغمبر کی زندگی میں رونما ہوئے تھے ان کی تحقیق و جستجو تمام ہوگئی. اگرچہ اس حصے میں تفصیلی تحقیق اورمکمل معلومات حاصل نہ ہوسکی اور امام کے بہت سے حالات و واقعات اس زمانے میں جب آپ اس سے رونما ہوئے تھے لیکن اہمیت کے لحاظ سے دوسرے مرحلے میں تھے لہذا بیان نہیں ہوئے ہیں. لیکن وہ عظیم واقعات جو امام کی شخصیت کو اجاگر کرتے ہیں یا آپ کے ایمان و عظمت کو واضح و روشن کرتے ہیں ترتیب سے بیان کئے جاچکے ہیں اور اس کی وجہ سے آپ کے فضائل و کمالات او رحسن اخلاق سے ایک حد تک آشنا ہوچکے ہیں۔

اب ہم امام علیہ السلام کی زندگی کے دوسرے حصے کو جو آپ کی زندگی کا چوتھا مرحلہ ہے اس کی کا تجزیہ کررہے ہیں۔

حضرت علی کی زندگی کے تین مرحلوں نے آپ کی عمر عزیز کے ۳۳ سال لے لئے، اورامام اس مختصر سی مدت میں اسلام کے سب سے بڑے شجاع و بہادر او راسلام کے عظیم الشان رہبر کی حیثیت سے پہچانے گئے. اور پوری تاریخ اسلام میں پیغمبر کے بعد کوئی بھی شخص فضیلت ، تقویٰ، علم و دانش، خدا کی راہ میں جہاد مکوشش، برادری و مواسات، غریبوں اوریتیموںکی دیکھ بھال وغیرہ میں آپ کے ہم رتبہ نہ تھا. اور تمام جگہوں پر خصوصاً حجاز و یمن میں آپ کی شجاعت و بہادری، فداکاری ، جانبازی، اور پیغمبر کی مہر و محبت علی کے ساتھ مشہور تھی۔ ان تمام کمالات کے بعد ضروری تھا کہ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد اسلام کا محور او ر اسلامی معاشرہ کی باگ ڈور حضرت علی کے ہاتھوں میں ہوتی، لیکن جب تاریخ کے صفحات پر نظر پڑتی ہے


تو اس کے برخلاف نظر آتا ہے کیونکہ امام اپنی زندگی کے چوتھے مرحلے میں جو ایک چوتھائی صدی تھی اور وہ شرائط و حالات جو رونما ہوئے تھے اس عمومی جگہ سے اپنے آپ کو کنارے کرکے خاموشی اختیار کرلی تھی نہ کسی جنگ میں شرکت کی نہ کسی عمومی جلسے میں رسمی طور پر تقریر فرمائی. تلوار کو نیام میں رکھ لیا تھا اورتنہائی کی زندگی بسر کرنے لگے یہ خاموشی اور طولانی کنارہ کشی اس شخص کے لئے جواس کے پہلے ہمیشہ عمومی مجمع میں رہا ہو اور اسلام کی دوسری عظیم شخصیت اور مسلمانوں کے لئے ایک عظیم رکن کی حیثیت سے شمار ہو اس کے لئے یہ سہل و آسان نہ تھا. روح بزرگ، حضرت علی سے چاہتی تھی کہ خود اس پر مسلط ہو جائے اور خود کو نئے حالات جو ہر اعتبار سے سابقہ حالات سے مخالف تھے، تطبیق کرے۔اس خاموشی کے زمانے میں امام چند چیزوں میں مصروف تھے جو درج ذیل ہیں:

۱۔ خدا کی عبادت: وہ بھی ایسی عبادت جو حضرت علی کی شخصیت کی شایان شان تھی یہاں تک کہ امام سجاد اپنی تمام عبادت و تہجد کواپنے دادا کی عبادت کے مقابلے میں بہت ناچیز جانتے ہیں۔

۲۔ قرآن کی تفسیر اور آیتوں کی مشکلات کو حل اور شاگردوں کی تربیت کرتے تھے وہ بھی ابن عباس جیسے شاگرد جو امام کے بعد سب سے بڑے مفسر قرآن کے نام سے مشہور ہوئے۔

۳۔ تمام فرقوں اور مذہبوں کے دانشمندوں کے سوالات کے جوابات دیتے تھے، خصوصاً وہ تمام یہودی اورعیسائی جو پیغمبر کی وفات کے بعد اسلام کے سلسلے میں تحقیق کرنے کے لئے مدینہ آئے تھے. ان لوگوں نے ایسے ایسے سوالات کئے تھے کہ جس کا جواب حضرت علی ، جو توریت اورانجیل پر مکمل تسلط رکھتے تھے اورجیسا کہ ان کی گفتگو سے بھی واضح تھا،کے علاوہ کوئی بھی صلاحیت نہیں رکھتا، اگر یہ فاصلہ امام کے ذریعے پرُ نہ ہوتا تو جامعہ اسلامی شدید شکست کھا جاتا، اور جب امام علیہ السلام نے تمام سوالوں کا محکم اور مدلل جواب دیدیا تو وہ خلفاء جو پیغمبر کی جگہ بیٹھے تھے ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور عظیم خوشی کے آثار نظر آئے۔

۴۔ بہت زیادہ ایسے نئے مسائل کا حل پیش کرنا جس کا اسلام میںو جود نہ تھااور اس کے متعلق قرآن مجید اور حدیث پیغمبر موجود نہ تھی یہ امام ـ کی زندگی کا ایک حساس پہلو ہے اور اگر صحابیوں کے درمیان حضرت علی ـ جیسی شخصیت موجود نہ ہوتی ۔ جوپیغمبر اسلام کی تصدیق کے مطابق امت کی سب سے دانا اور قضاوت و فیصلہ کرنے میں سب سے اہم شخصیت تھی تو صدراسلام کے بہت سے ایسے مسائل بغیر جواب کے رہ جاتے اور بہت سی گتھیاں نہ سلجھتیں.


یہی نئے نئے رونما ہونے والے حادثات وواقعات ثابت کرتے ہیں کہ پیغمبر کی رحلت کے بعد ایک آگاہ اور معصوم، مثل پیغمبر کے لوگوں کے درمیان موجود ہو جو اسلام کے تمام اصول وفروغ پر کافی تسلط رکھتا ہو اور اس کا علم وکمال امت کو غیر شرعی اور بے جا عمل اور وہم و گمان سے دور کردے اور یہ تمام عظیم خصوصیتیں پیغمبر کے تمام دوستوں صحابیوں کی تصدیق کی بنیاد پر حضرت علی ـ کے علاوہ کسی اور میں نہ تھیں،

امام ـ کے کچھ فیصلے اور قرآن مجید کی آیتوں سے ان کو ثابت کرنا وغیرہ حدیث وتاریخ کی کتابوں میں تحریر ہیں(۱)

۵۔جب خلافت پر بیٹھنے والے سیاسی مسائل یا مشکلات کی وجہ سے مجبور ولاچار ہوئے تو ان کی نگاہ میں تنہا امام ـ مورد اعتماد تھے جو ان کے سروں پر منڈلاتی ہوئی مشکلات کو حل کرتے اور ان کی راہ ہموار کر تے ان میں سے بعض مشورے نہج البلاغہ اور تاریخ کی کتابوں میں نقل ہوئے ہیں ،

۶۔پاک ضمیر اور پاکیزہ روح رکھنے والوں کی تربیت تاکہ وہ امام ـ کی رہبری اور معنوی تصرف کے زیر نظر معنوی کمالات کی بلندیوں کو فتح کر سکیں اور وہ چیز یں جسے آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے وہ دل کی نورانی آنکھوں اور باطنی آنکھوں سے دیکھ سکیں ۔

۷۔بہت زیادہ بیوہ اور یتیموں کی زندگی کے روز مرہ کے امور کے لئے کوشش وتلاش کرنا یہاں تک کہ امام ـ نے خود اپنے ہا تھوں سے باغ لگایا اور آب پاشی کے لئے نہریں نکال کر اسے خدا کی راہ میں وقف کر دیا۔

یہ تمام فعالیت اور امور کا انجام دینا امام ـ کا وہ کارمانہ تھا جوآپ نے ا س ۲۵۔سالہ دور میں انجام دیا تھا ، لیکن یہ بات نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتی ہے کہ اسلام کے بڑے بڑے تاریخ دانوں نے امام ـ کی زندگی کے ان خدمات کو زیادہ اہمیت نہیں دی ، اور امام ـ کی زنذگی کے اس دور کی خصوصیات و جزئیات کو صحیح

______________________

(۱)۔ محقق عالیقدر جناب شیخ محمد تقی شو ستری نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا ترجمہ فارسی میں بھی ہواہے

طریقے سے نہیں لکھا ہے جب کہ یہی تاریخ داں جب بنی امیہ اور بنی عباس کے سپہ سالاروں کے حالات لکھتے ہیں تو اتنادقیق اور تفصیلی گفتکو کرتے ہیں کہ کوئی بھی چیز باقی نہ رہ جائے ۔


کیا یہ افسوس کا مقام نہیں ہے کہ امامـ کی پچیس سالہ زندگی کے خصوصیات مبہم اور غیرواضح ہوں مگر ظالموں کی تاریخ ،جنایت و بدبخت محققین اور معاویہ ،مروان اور خلفا ء بنی عباس کے بیٹوں کی عیاشی وشرابخوری کی تاریخ بہت ہی دقت و محنت سے لکھی جائے ،اور ان محفلوں میں پڑھے جانے والے اشعار وہ باتیں جو خلفاء اور ناچ ورنگ کی محفل منعقد کرنے والوں کے درمیان ہوئیں اور وہ راز ونیاز جو رات کے اندھیرے میں طے ہوئے تھے وہ تاریخ اسلام، کے نام سے اپنی اپنی کتابوں میں لکھیں ؟ نہ صرف ان کی زندگیوں کا صرف یہ حصہ لکھا بلکہ ان کے حاشیہ نشینوںنوکروں ، اور ان کے علاوہ خادموں اور بکریوں ،اور زیور وآلات ،عورتوں اور محبوبائوں کے آرائش وسنورنے ،اور ان کی زندگی کے خصوصیات تک کو اپنی اپنی کتابوں میں بیان کیا لیکن جب اولیاء خدا اور حق شناس افراد کی بات آتی ہے تو وہی ،اگر ان کی جانثاری اور فدا کار ی نہ ہوتی تو ہرگز یہ نالائق گروہ خلافت وسرداری کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں نہ دیتے گویا ان کی فکریں زنجیروں سے بندھی ہوں ۔اور تاریخ کے ان ابواب سے اتنی تیزی سے گزرنا چاہتے ہیں کہ جلد ازجلد تاریخ کا یہ حصہ ختم ہو جائے ۔

اسلام کا پہلا ورق جدا ہو گیا

اس فصل کا پہلا ورق اس وقت جدا ہو گیاجب پیغمبر اسلام(ص) کا سر امام ـ کے سینے پر تھااور آپ کی روح ،خدا کی بارگاہ میں چلی گئی ،حضرت علی ـ اس واقعہ کو اپنے ایک تاریخی(۱) خطبے میں اس طرح بیان کرتے ہیں:

''پیغمبر کے صحابہ جو آپ کی تاریخی زندگی کے محافظ ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ میں نے ایک لمحہ کے لئے بھی خدا اور اس کے پیغمبر دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنے میں دوری اختیار نہیں کی جب کہ بڑے بڑے طاقتور لوگ بھاگ گئے اور جنگ سے پیچھے ہٹ گئے ،میں نے اپنی جان کو پیغمبر خدا کی راہ میں قربان کرنے سے ذریغ نہ کیا جب رسول خدا کا انتقال ہوا اس وقت ان کا سر میرے سینے پر تھا ، اور میرے ہاتھوں

______________________

(۱)نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ۱۹۲۔''لقد علم المستحفظون من اصحاب محمد ۖ'' .


پر ان کی روح بدن سے جدا ہوئی اور میں نے بطور تبرک اپنے ہاتھوں کو چہرے پر ملا، اس وقت ہم نے ان کے بدن کو غسل دیا اور فرشتوں نے ہماری مددکی، فرشتوں کاایک گروہ زمین پر آتا تھا تودوسرا چلا جاتا تھا اور ان کے ہمہمہ کی آواز جب کہ وہ پیغمبر کے جنازے پر نماز پڑھ رہے تھے میرے کانوں سے ٹکرارہی تھی یہاں تک کہ ہم نے انھیں ان کی قبر میں رکھ دیا۔پیغمبر کی زندگی میں بھی اور ان کی رحلت کے بعد بھی کوئی مجھ سے زیادہ سزاوار نہیں ہے '' پیغمبر کے انتقال کے بعد بعض گروہ نے خاموشی اختیار کرلی اور دوسرا گروہ پوشیدہ طور پر راز ورموزتلاش کرنے میں مصروف ہو گیا۔

پیغمبر کی رحلت کے بعد سب سے پہلا واقعہ جس سے مسلمان روبرو ہوئے وہ عمر کی طرف سے پیغمبر کی وفات کو جھٹلانا تھا۔ اس نے پیغمبر کے گھر کے سامنے شوروغوغا کرنا شروع کردیااور جو لوگ یہ کہتے تھے کہ پیغمبر کا انتقال ہو گیا ہے ان کو دھمکی دیتا تھا،جب کہ عباس اور ابن مکتوم ان آیتوں کی تلاوت کررہے تھے جس کے مفہوم سے واضح ہو رہا تھا کہ پیغمبر کا انتقال ہوگیا ہے مگر اس کا لوگوں پر کوئی اثر نہ پڑا یہاں تک کہ عمر کا دوست ابوبکر جو مدینہ کے باہر تھا وہ آیا، اور جیسے ہی اس حالات سے باخبر ہوا تو اس نے بھی اسی آیت(۱) کو پڑھا کہ جس کودوسروں نے اس سے پہلے پڑھا تھااور عمر کو خاموش کردیا۔

جس و قت حضرت علی ـ پیغمبر کو غسل دے رہے تھے اس وقت اصحاب کا ایک گروہ ان کی مدد کررہا تھا اور غسل وکفن کے ختم ہونے کا انتظار کررہا تھا ،اور خود پیغمبر کی نماز جنازہ پڑھنے کے لئے آمادہ ہورہا تھا اور اکثر افراد سقیفئہ بنی سا عدہ میں پیغمبر کے جانشین کا انتخاب کررہے تھے اگرچہ سقیفہ میں تمام امور کی باگ ڈور انصار کے ہاتھوں میں تھی لیکن جب ابو بکر وعمر اور ابو عبیدہ جو مہاجرین میں سے تھے اس واقعہ سے با خبر ہوئے تو پیغمبر کا جسم اطہر جو غسل کے لئے آمادہ تھا چھوڑ کر سقیفہ میں انصار کے ساتھ شریک ہو گئے ،اور لفظی تکراراور مار پیٹ کے بعد ابو بکر پانچ آدمی کے ووٹ سے رسول خدا(ص) کے خلیفہ منتخب ہوئے ،جب کہ مہاجرین میں ان تین آدمیوں کے علاوہ کوئی بھی اس چیز سے آگاہ نہ تھا۔(۲)

______________________

(۱) سورۂ زمر، آیت ۳۰، (انک میت و انهم میتون )تم مرجاؤ گے اور دوسرے بھی مرجائیں گے۔

(۲)سقیفہ کی تاریخ اور کس طرح ابو بکر ۔۵ ۔ آدمیوں کی رائے سے خلیفہ بنے اگر تفصیل جاننا ہو تو میری کتاب ، رہبری امت اور پیشوائی در اسلام کا مطالعہ کریں چونکہ ہم نے ان دونوں کتاب میں واقعۂ سقیفہ کو تفصیل سے لکھا ہے لہذا یہاں پر مختصر تحریر کیا ہے ۔

ایسے پر آشوب ماحول میں امام علی ـ، پیغمبر کے غسل وکفن میں مشغول تھے اور انجمن سقیفہ اپنے کام میں مشغول تھی ۔ ابو سفیان جو بہت بڑا سیاسی اور سوجھ بوجھ رکھتاتھا مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کر نے کے لئے حضرت علی ـ کے گھر آیا اور آپ سے کہنے لگا اپنا ہاتھ بڑھائے تاکہ میں آپ کی بیعت کروں اورآپ کو مسلمانوں کے خلیفہ کے عنوان سے لوگوں کے سامنے روشناس کرائوں،کیو نکہ اگر میں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی تو عبد مناف کے فرزندوں میں سے کوئی بھی آپ کی مخالفت کے لئے نہیں اٹھے گااور آخر میں پورا عرب آپ کو اپنا حا کم وسردار قبول کرلے گا لیکن حضرت علی ـ نے ابو سفیان کی باتوں پر کوئی توجہ نہ دی کیونکہ اس کی نیت سے آگاہ تھے آپ نے فرمایا فی الحال میں پیغمبر کی تجہیز وتکفین میں مصروف ہوں۔

ابو سفیان کی درخواست کے وقت یا اس کے پہلے عباس نے بھی حضرت علی ـ سے درخواست کی کہ اپنے بھتیجے حضرت علی ـکے ہاتھ پر بیعت کریں لیکن حضرت نے ان کی درخواست کو قبول نہیں کیا۔

تھوڑی دیر گزری تھی کہ تکبیر کی آواز کانوں سے ٹکرائی حضرت علی ـ نے عباس سے اس کا سبب پوچھا عباس نے کہا ۔

میں نے نہیں کہا تھا کہ دوسرے لوگ بیعت لینے میں تم پر سبقت کر رہے ہیں؟.میں نے تم سے نہیں کہا تھاکہ اپنا ہاتھ بڑھائوتاکہ تمھاری بیعت کریں ؟لیکن تم حاضر نہ ہوئے اور دوسروں نے تم پر سبقت حاصل کرلی ۔

کیا عباس اور ابو سفیان کی درخواست عاقلانہ تھی ؟

اگر حضرت علی ـ، عباس کی درخواست قبول کر لیتے اور پیغمبر اسلام کے انتقال کے فوراً بعدبڑی بڑی شخصیتوں کو بیعت کی دعوت دیتے تو یقینا سقیفہ میں لوگ جمع نہیں ہو سکتے تھے یا اصلاً سقیفہ کا وجود ہی نہ ہوتا ، کیونکہ دوسرے افراد کے اندر ہر گزاتنی جرأ ت نہ تھی کہ خلافت اسلامی جیسے اہم مسئلہ پر ایک گروہ کے مختصر سے مجمع میں تبادلئہ خیالات کرتے ،اور ایک شخص کو چند آدمیوں کی رائے سے جانشین کے لئے منتخب کر تے۔

بہر حال ،پیغمبراسلام(ص) کی عمومی دعوت اور چند اہم شخصیتوں کا حضرت علی کے ہاتھوں پر خصوصی بیعت کرنا حقیقت سے دور تھا اور تاریخ نے اس بیعت کے سلسلے میں بھی وہی فیصلہ کیا ہے جو ابوبکر کی بیعت کے بارے میں کیا ہے ، اس لئے کہ حضرت علی ـ کی جانشینی دوحال سے خالی نہیں تھی یا امام ـ ،خدا کی طرف سے ولی وحاکم منصوص تھے یانہیں تھے ؟


پہلی صورت میں ۔ بیعت لینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور خلافت کے لئے رائے لینا اور اس منصب پر قبضہ کرنے کے لئے کسی کو خلیفہ بنانا خدا کی معین کی ہو ئی چیزوں کی توہین کرنا ہے اور خلافت کے موضوع کو جو الہی منصب ہے اور یہ کہ خلیفہ کے لئے ضروری ہے کہ خدا کی طرف سے معین ہو اس قانون کی توہین کرتا ہے اور اُسے ایک انتخابی مقام ومنصب قرار دینا ہے، جب ایک متدین اور حقیقت پسند انسان اپنی شخصیت و منزلت کی حفاظت کے لئے حقیقت اور اصلیت میں تحریف نہیں کرتا، اور حقیقت سے چشم پوشی نہیں کرتا تو کس طرح سے امام معصوم ایسا کر سکتاہے ؟

دوسری صورت میں : ۔خلافت کے لئے حضرت علی ـ کا انتخاب بالکل اسی طرح ہوتا جس طرح سے خلافت کے لئے ابو بکرکا انتخاب ہوا ، اور ابو بکر کے جگری دوست خلیفئہ دوم (عمر) ابو بکر کے انتخاب کے سلسلے میں بہت دنوں تک یہی کہتے رہے ۔

کانت بیعةابی بکر فلتة وقی الله شرها ۔(۱)

یعنی ابوبکر کا خلافت کے لئے منتخب ہونا ایک جلد بازی کاکام تھا اور خدانے اس کے شرکو روک دیا ،ان تمام چیزوں سے اہم بات یہ کہ ابو سفیان اپنی درخواست میں ذرہ برابر بھی حسن نیت نہیں رکھتا تھا اور اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف ،اضطراب اور گروہ بندی پیدا کردے اورعربوں کو پھرسے جاہلیت کے اندھیرے میں ڈال دے اور اسلام کے نئے اور ہرے بھرے درخت کو ہمیشہ کے لئے خشک کردے ۔

وہ حضرت علی ـ کے گھر آیا اور امام ـ کی مدح میں اشعار پڑھا جس کے دو شعر کا ترجمہ یہاں پیش کررہے ہیں ۔

اے ہاشم کے بیٹو،اپنی خاموشی کو ختم کردو تاکہ لوگ خصوصاًقبیلئہ تیم اور قبیلئہ عد ی کے لوگ تمہارے

______________________

(۱)تاریخ طبری ج۳ص۵.۲ سیر ہ ابن ہشام ج۴ ص۸.۳


مسلم حق کو لالچی نگاہوں سے نہ دیکھیں ۔

خلافت کا حق تمھیں ہے اور تمھاری طرف آیا ہے اور اس کے لئے حضرت علی کے علاوہ کوئی شائستگی ولیاقت نہیں رکھتا ہے(۱)

لیکن حضرت علی ـ کنا بتہً اس ناپاک نیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :توایسی فکر میں ہے جس کے اہل ہم نہیں ہیں ۔

طبری لکھتا ہے :

علی ـ نے اس کی ملامت کی اور کہا تیرا ہدف فتنہ وفساد کے علاوہ کچھ نہیں ہے تو ہمیشہ ، اسلام کے لئے کینہ پرور ثابت ہوا ہے مجھے تیرے وعظ ونصیحت کی ضرورت وحاجت نہیں ہے(۲)

ابوسفیان، مسلمانوں کے درمیان پیغمبر کی جانشینی کے اختلافی مسئلے سے بخوبی واقف تھا اور اس سلسلے میں اس نے یہ نظریہ پیش کی۔

میں ایک ایسا طوفان دیکھ رہا ہوں جسے خون کے علاوہ کوئی دوسری چیز خاموش نہیں کرسکتی(۳)

ابوسفیان اپنے نظریہ میں بہت صحیح تھا ،اور اگر خاندان بنی ہاشم کی قربانی اور عفو ودر گذ رنہ ہوتی تو اس اختلافی طوفان کو قتل وغارت گری کے علاوہ کوئی دوسری چیز روک نہیں سکتی تھی۔

______________________

(۱)الد رجات الر فیعہ ص۸۷

بنی هاشم لاتُطمِعُواالناس فیکم

ولاسیماتیم ابن مرّة اوعدی

فما الامرالا فیکم و الیکم

ولیس لها الاابو حسن علٍ

(۲) شرح نہج البلا غہ ابن ابی الحدیدج۲ص۴۵

(۳)''انی لأری عجاجة لایُطفؤُها الاالدم'' شرح نہج البلاغہ ج۲ص۴۴جوہری کی کتاب السقیفہ سے ماخوذ۔


بغض وکینہ رکھنے والا گروہ

جاہل عرب کے بہت سے قبیلے بدلہ لینے اور بغض وکینہ رکھنے میںبہت مشہورتھے ،جب ہم تاریخ جاہلیت عرب کا مطالعہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے حادثے ہمیشہ بڑے بڑے حادثات میں تبدیل ہوتے تھے ،اس کی صرف وجہ یہ تھی کہ ان کے اندر بدلہ لینے کی فکر کبھی ختم نہیں ہوتی تھی یہ بات صحیح ہے کہ وہ لوگ اسلامی تعلیمات کی بناء پر ایک حد تک جاہلیت سے دور ہوئے تھے اور نئی زندگی حاصل کر لی تھی لیکن ایسا نہیں تھا کہ ان کے اس طرح کے احساسات مکمل طور پر ختم ہو گئے تھے ،اور کوئی اثر ان کے اندر باقی نہ تھا ،بلکہ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی کم وبیش بدلہ لینے کی حس ان کے اندر باقی تھی ۔

یہ بات بغیر کسی دلیل کے نہ تھی کہ حباب بن منذرنے جوگروہ انصار کا بہادر شخص اور گروہ انصار کے لئے خلافت کا امید وار تھاسقیفہ میں خلیفہ دوم کی طرف رخ کرکے کہا تھا ۔

ہم تمہاری خلافت و جانشینی کے ہر گز مخالف نہیں ہیں اور نہ اس کام پرحسد کرتے ہیں لیکن ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ حکومت کی باگ ڈور ایسے افراد کے ہاتھ میں چلی جائے کہ ہم نے شرک کو مٹانے اور اسلام کو پھیلانے کے لئے اسلامی جنگوں میں ان کے باپ دادا اوران کے فرزندوں کو قتل کیا ہے کیونکہ مہاجرین کے اعزاء و احباب انصار کے فرزندوں اور نوجوانوں کے ہاتھ قتل ہوئے ہیں. چنانچہ اگر انہی افراد کے ہاتھ میں حکومت آجائے تو ہماری حالت یقینا تبدیل ہو جائے گی۔

ابن ابی الحدید کہتے ہیں:

میں نے کتاب ''سقیفہ'' تالیف احمد بن عبد العزیز جوہری کو ۶۱۰ھ میں استاد ابن ابی زید رئیس بصرہ سے پڑھی، اور جب بحث حباب بن منذر کی گفتگو تک پہونچی تو میرے استاد نے کہا حباب کی پیشنگوئی بہت عاقلانہ تھی اور جس چیز کا اسے خوف تھا وہ یہ کہ مسلم بن عقبہ مدینہ پر حملہ کرے گا اور اس شہر کویزید کے حکم سے محاصرہ میں رکھا جائے گا اورہوا بھی یہی بنی امیہ نے جنگ بدرمیں قتل ہونے والے اپنے تمام افراد کا بدلہ انصار کے بیٹوں سے لے لیا۔

پھر استاد نے ایک اور مطلب کی یاد دہانی کرتے ہوئے کہا:


جس چیز کی حباب نے پیشنگوئی کی تھی پیغمبر نے بھی اس کی پیشنگوئی کی تھی، آپ بعض عربوں کے بغض و کینہ اور اپنے خاندان کے ساتھ بدلہ لینے کے متعلق خوف زدہ تھے کیونکہ آپ جانتے تھے کہ ان کے بہت سے رشتہ داروں کو مختلف جنگوں میں بنی ہاشم کے جوانوںنے قتل کیا تھا اور اس سے بھی آگاہ تھے کہ اگر حکومت کی باگ ڈور دوسروں کے ہاتھ میں چلی گئی تو ممکن ہے خاندان رسالت سے بدلہ لینے کی جرأت ان کے اندر پیدا ہوجائے اسی وجہ سے آپ ہمیشہ حضرت علی کے بارے میں سفارش کرتے تھے اور انھیں اپنا وصی اور امت کے حاکم کے عنوان سے پہچنواتے تھے، تاکہ جو مقام و مرتبہ ا ور منزلت خاندان رسالت کی ہو اس کی وجہ سے علی ـاوران کے اہلبیت کا خون محفوظ رہے، لیکن کوئی کیا کرسکتا ہے تقدیر نے تمام چیزوں کو بدل ڈالا اور حکومت دوسروں کے ہاتھوں میں آگئی اور پیغمبر کی پیشنگوئی شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکی اور جو چیز نہیں ہونی چاہیئے تھی وہ ہوگئی اور ان کے خاندان کا کتنا پاک و پاکیزہ خون بہا دیا گیا۔(۱)

اگرچہ رئیس بصرہ کی بات شیعہ نقطۂ نظر سے صحیح نہیں ہے ، کیونکہ شیعہ عقیدہ کے مطابق، پیغمبر نے خدا کے حکم سے حضرت علی کوامت کی رہبری کے لئے منصوب اور معین کیا او رحضرت علی کو منتخب کرنے کی وجہ ان کے اور ان کے اہلبیت کے خون کی حفاظت کرنا مقصود نہیں تھی بلکہ حضرت علی کے اندر وہ خوبیاں تھیں کہ ایسا بابرکت مقام و منزلت ان کے لئے ہوا۔

لیکن بہرحال اس کی تحلیل بالکل صحیح تھی کیونکہ اگر حکومت کی باگ ڈور حضرت علی کے خاندان کے ہاتھوں میں ہوتی تو کبھی بھی کربلاکا خونین واقعہ نہ ہوتا اور امام کے بچے بنی امیہ اور بنی عباس کے جلادوں کے ہاتھ شہید نہ ہوتے اور خاندان رسالت کا پاکیزہ خون مٹھی بھر مسلمان نما افراد کے ہاتھوں نہ بہتا۔

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲ ص۵۳


بامقصد خاموشی

حقیقت ہے کہ اسلامی معاشرہ اور خاندان رسالت کو عجیب مشکلات سے دوچار کر دیا تھا اور ہر لمحہ اس بات کا ڈر تھا کہ مسلمانوں کے درمیان خلافت کے موضوع پر جنگ چھڑ جائے اور اسلامی معاشرے کا شیرازہ بکھر جائے اور عرب قبیلوں کے تازہ مسلمان، جاہلیت اور بت پرستی کے دور کی طرف پلٹ جائیں ،اسلامی تحریک، ابھی نئی نئی اور جواں سال تحریک تھی اور ابھی اس تحریک نے لوگوں کے دلوں میں جڑ نہیں پکڑی تھی اور ان میں سے اکثریت نے دل کی گہرائیوں سے اس تحریک کو قبول نہیں کیا تھا۔

ابھی حضرت علی او ر پیغمبر کے بہت سے باوفا اصحاب پیغمبر کے غسل و کفن اوردفن سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ اصحاب کے دو گروہ آپس میں خلافت کے مدعی ہوگئے او راس راہ میں بہت زیادہ مشکلات کھڑی کردیں وہ دو گروہ یہ تھے:

۱۔ انصار ، خصوصاً قبیلۂ خزرج جو مہاجرین سے پہلے ایک مقام پر جسے سقیفہ بنی ساعدہ کہتے ہیں جمع ہوگئے تھے اورچاہا تھاکہ تمام امور کی ذمہ داری سعد بن عبادہ رئیس خزرج کے حوالہ کریں اوراسے پیغمبر کا جانشین منتخب کریں. لیکن چونکہ انصار کے قبیلے میں اتحاد و اتفاق نہ تھا اور ابھی بھی پرانے کینے ان کے دلوں میں جڑ پکڑے ہوئے تھے خصوصاً اوس و خزرج کے قبیلے والے اپنے اپنے کینوں کونہیں بھولے تھے. انصار کا گروہ داخلی مخالفت کی وجہ سے ایک دوسرے کے مقابلے میں آگیا اور قبیلۂ اوس کے لوگ سعد کی پیشوائی میں جو کہ خزرج سے تھا مخالفت کی اور نہ صرف یہ کہ انھوں نے اس راہ میں ان کی مدد نہ کی بلکہ خواہش ظاہر کی کہ امت کی باگ ڈور مہاجرین میں سے کسی کے ہاتھ میں ہو۔

۲۔ مہاجرین،اوران سب کے رئیس ابوبکر اور ان کے ہم فکر ہیں کی تعدا د سقیفہ میں بہت کم تھی لیکن اس علت کی بناء پر جس کا اشارہ ہم کرچکے ہیں انہوں نے ابوبکر کے لئے ووٹ جمع کرلیا اور کامیابی کے ساتھ سقیفہ سے باہر آئے او رمسجد تک آتے آتے بہت زیادہ لوگوں کو اپنے ساتھ کرلیا. اور ابوبکر خلیفہ رسول کے عنوان سے منبر رسول خدا پر بیٹھے اور لوگوں کو بیعت و اطاعت کی دعوت دی۔


تیسرا گروہ اور مسئلہ خلافت

ان دو گروہوں کے مقابلے میں ایک گروہ اور بھی موجود تھا جو روحانی اور معنوی طاقت سے سرشار تھا اور اس گروہ میں حضرت علی جیسی شخصیت اور بنی ہاشم کے افراد اور کچھ اسلام کے سچے ماننے والے موجود تھے جو خلافت کو حضرت علی کا حق سمجھتے تھے اور ان کودوسرے افراد کے مقابلے میں خلافت و رہبری کے لئے ہر طرح سے لائق و شائستہ جانتے تھے۔

ان لوگوں نے خود مشاہدہ کیا کہ ابھی پیغمبر کا جنازہ دفن بھی نہ ہوا تھا کہ گروہ مہاجرین و انصار خلافت کے مسئلے پر جنگ و جدال کرنے لگے۔

اس گروہ نے اپنی مخالفت کی آواز کو مہاجرین وانصار بلکہ تمام مسلمانوں تک پہونچانے کے لئے یہ اعلان کردیاکہ ابوبکر کا انتخاب غیر قانونی اورنص پیغمبر اور اصول مشورہ کے خلاف تھا ،اسی وجہ سے وہ لوگ حضرت زہرا کے گھر میں جمع ہوئے اور سقیفہ میں حاضر نہیں ہوئے ،لیکن یہ اجتماع آخر کار ختم ہوا اورخلافت ابوبکر کی مخالفت کرنے والے مجبور ہوکر حضرت زہرا کے گھر سے باہر نکل کر مسجد کی طرف چلے گئے۔

ایسے حالات میں تیسرے گروہ پر بہت اہم ذمہ داری آپڑی، خصوصاً امام علیہ السلام کے لئے کہ آپ نے خود مشاہدہ کیا کہ خلافت و رہبری اپنے اصلی محور سے خارج ہوگئی. جس کے نتیجہ میں بہت سے امور اپنے اصلی محور سے خارج ہو جائیں گے اسی وجہ سے امام نے خاموشی اختیار کرنا مناسب نہ سمجھاک،یونکہ غیر مناسب کام پر خاموش رہنے کی وجہ سے ان کی تائید ہوجاتی، اور امام ـ جیسی عظیم شخصیت کا ایسی صورت حال میں خاموش رہنے کی وجہ سے ممکن تھا کہ ان لوگوں کے لئے حقانیت کی دلیل بن جاتی اور ان کی خلافت ثابت ہو جاتی، لہذا آپ نے خاموشی ختم کردی. اوراپنا سب سے پہلا وظیفہ انجا دیا یعنی خطبہ کے ذریعے حقانیت کو یاد دلایااور مسجد نبوی میں جو آپ سے زبردستی بیعت لینا چاہ رہے تھے اس مہاجرین کے گروہ کو مخاطب کر کے کہا:


اے گروہ مہاجر، اس حکومت کو حضرت محمد مصطفی نے جس اساس و بنیاد پر قائم کیاہے اس سے خارج نہ کرو اور اپنے گھروں میں داخل نہ کرو ،خدا کی قسم پیغمبر کا خاندان اس امر کے لئے زیادہ سزوار ہے کیونکہ ان کے خاندان میں ایسے افراد موجود ہیں جو مفاہیم قرآن اور دین کے اصول و فروع کی مکمل معلومات رکھتے ہیں اور پیغمبر کی سنتوں سے واقف ہیں اور اسلامی معاشرے کو اچھی طرح سے چلا سکتے ہیں اور ظلم و فساد کو روک سکتے ہیں اور مال غنیمت کو برابر برابر تقسیم کرتے ہیں، ایسے افراد کی موجودگی میں یہ منصب دوسروں تک نہیں پہونچ سکتا، ایسا نہ ہو کہ تم خواہشات نفسانی کی پیروی کرو اور صراط مستقیم سے بھٹک کر حقیقت سے دور ہو جاؤ۔(۱)

اس بیان میں امام علیہ السلام نے خلافت کے لئے اپنی لیاقت و شائستگی کو آسمانی کتابوں کا علم رکھنے اور پیغمبر کی سنتوں اور اپنی روحانی طاقت کو معاشرے کی رہبری کے شایان شان جانا ہے اور اگر پیغمبر سے اپنے رشتہ کی طرف بھی اشارہ کرتے تو مہاجرین کی طرح کا ایک استدلال ہو جاتا کہ انھوں نے پیغمبر کی طرف اپنے کو نسبت دی ہے شیعہ روایتوں کے مطابق امیر المومنین بنی ہاشم کے گروہ کے ساتھ ابوبکر کے پاس گئے اور خلافت کے لئے اپنے کو سزاوار بتایا اور اپنے ان تمام فضائل و کمالات یعنی علم کتاب و سنت، اسلام قبول کرنے میں سبقت وغیرہ اور جنگ کے میدان میں ثابت قدم اور فصاحت و بلاغت و غیرہ کو بیان کیا اور فرمایا:

______________________

(۱) الامامة والسیاسة، ج۱، ص ۱۱


''میں پیغمبر کی زندگی میں اور ان کی وفات کے بعد بھی ان کے مقام و منصب کا حقدار ہوں، میں ان کا وزیراور وصی اوراسرار کا گنجینہ اور علوم کے خزانہ کا مخزن ہوں میں ہی صدیق اکبر اور میں ہی فاروق اعظم ہوں میں پہلا وہ شخص ہو ں جو ان پر ایمان لایا میں مشرکوں سے جنگ کرنے میں سب سے زیادہ ثابت قدم، کتاب خدا اور پیغمبر کی سنت کا سب سے زیادہ جاننے والا، دین کے اصول و فروع پر تم سب سے زیادہ نگاہ رکھنے والا، اور گفتگو کرنے میں تم سب سے زیادہ فصیح و بلیغ اور ہر معاملے میں تم سب سے زیادہ مستحکم ہوں.توپھر کیوں اس میراث میں ہمارے مقابلے پر اٹھ کھڑے ہو۔(۱)

امیر المومنین علیہ السلام اپنے ایک خطبہ میں خلافت کو اس شخص کا حق جانتے ہیں جو حکومت کو چلانے میں تمام لوگوں سے زیادہ اہلیت رکھتا ہو اور تمام قوانین الہی وغیرہ پر مکمل تسلط رکھتا ہو جیسا کہ آپ فرماتے ہیں:

''اے لوگو،حکومت کی قیادت کے لئے سب سے اچھا شخص وہ ہے جو تمام الہی قوانین کو جانتا ہو. اگر کسی شخص کے اندر یہ تمام شرائط موجود نہیں ہوں. اور خلافت کی تمنا کرے تو اس سے کہا جائے گا کہ تو اپنے اس عمل اور فکر سے باز آجا، لیکن اگر وہ اپنی ضد پر باقی رہا تو اسے قتل کردیاجائے گا۔(۲)

یہ منطق فقط حضرت علی علیہ السلام ہی کی نہیں ہے بلکہ آپ کے بعض مخالفین کا بھی یہی نظریہ ہے ، اور انہوں نے حضرت علی کے لئے خلافت کا اعتراف کیا ہے اور ان کا یقین وایمان بھی یہی ہے کہ کسی غیر کو ان کے اوپر مقدم کرنا گویا ایک بڑے اور اہم حق کو پامال کرناہے۔جب ابوعبیدۂ جراح کو اس بات کی خبر ملی کہ حضرت علی نے ابوبکر کی بیعت نہیں کی ہے تو امام کی طرف رخ کر کے کہتا ہے:''امت کی باگ ڈور کو ابوبکر کے حوالے کردو اوراگر زندہ رہ گئے اور لمبی عمر نصیب ہوئی تو حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے لئے تم سب سے زیادہ حقدار ہو کیونکہ تمہیں تمام فضائل کا ملکہ حاصل ہے اور مستحکم ایمان اورعالم علم لدنی اور حقیقتوں کا درک کرنا اور اسلام قبول کرنے میں سبقت کرنا اور پیغمبر کا بھائی و داماد ہونا

______________________

(۱) احتجاج طبرسی ج۱ ص ۹۵

(۲) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ۱۶۸ ،''ایها الناس ان احق الناس بهذا الامر اقواهم علیه . .


یہ تمام فضائل و کمالات سب پر واضح و آشکار ہیں۔(۱)

امیر المومنین علیہ السلام نے اپنے حق خلافت کی واپسی کے لئے صرف متوجہ اور متنبہ کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اکثر مؤرخین کی تحریر کے مطابق اکثر رات میں آپ نے پیغمبر کی بیٹی اور اپنے نور چشم حسنینکے ہمراہ انصار کے سرداروں سے ملاقات کی تاکہ خلافت کو اس کے صحیح مقام پر واپس لائیں. لیکن افسوس کہ ان لوگوں نے قابل اطمینان جواب نہیں دیا. اور یہ عذر پیش کیا کہ اگر حضرت علی دوسروں سے پہلے خلافت کی فکر کرتے اور ہم سے بیعت طلب کرتے تو ہم لوگ انہی کے ہاتھ پہ بیعت کرتے اور کبھی بھی دوسروں کی بیعت نہ کرتے۔

امیر المومنین علیہ السلام نے ان کے جواب میں کہا کہ کیا یہ بات درست تھی کہ میں پیغمبر کے جنازے کو بغیر غسل و کفن گھر کے ایک گوشہ میں چھوڑ دیتا اور خلافت کی فکر کرکے لوگوں سے بیعت لیتا؟ پیغمبر اسلام کی بیٹی نے حضرت علی کی بات کی تائید کرتے ہوئے فرمایا: علی ـاپنے وظیفہ میں دوسروں سے بہت زیادہ آشنا تھے وہ گروہ جس نے علی کے حق کو ان سے چھین لیا ہے خدا اس کا حساب لے گا۔(۲)

امام علیہ السلام کااس سلسلے میں یہ پہلا کام تھا جو تجاوز کرنے والے گروہ کے مقابلے میں انجام دیاتھا تاکہ توجہ وتذکراور گروہ انصار کے بزرگوں کی مدد سے اپنے حق کو غاصبوں سے واپس لے لیں، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ اس راہ میں امام کو کوئی نتیجہ نہ ملا، اور آپ کا حق پامال کردیا گیا، اس وقت سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے پرآشوب اور حساس ماحول میں امام کا فریضہ کیا تھا؟ کیا آپ کا فریضہ صرف یہ تھا کہ آپ اپنی نگاہوں سے اس منظر کو دیکھتے رہیں اور خاموش بیٹھ جائیں یا اس کی حفاظت کے لئے قیام کریں؟

______________________

(۱) الامامة والسیاسة ج۱ ص۱۲

(۲) الامامة والسیاسة ج۱ص ۱۲ ،شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲ ص ۴۷ معاویہ کے نامہ سے مأخوذ۔


امام کے لئے صرف ایک راستہ تھا

امام علیہ السلام کا خلافت کے سلسلے میں مسجد پیغمبر میں مہاجرین اور انصار کو متوجہ کرنے کا اثر یہ ہوا کہ لوگوں پر حقیقت آشکار ہوگئی اور آپ نے تمام مسلمانوں پر حجت تمام کردیا، لیکن خلیفہ اور ان کے ہم فکر و خیال افراد منصب خلافت پر اپنا قبضہ جمائے رہے اور دھیرے دھیرے ایک طاقت بن کر ابھرنے لگے اور زمانے کی رفتار کے ساتھ ساتھ لوگوں کے دلوں میں خلافت مستحکم ہونے لگی اور رفتہ رفتہ لوگ اس حکومت کو ''اصل حکومت'' شمار کرنے لگے اور اسی کے پیرو ہوگئے۔

ایسے حساس ماحول میں جب کہ ہر لمحہ خاندان رسالت کو نقصان اور حکومت وقت کو فائدہ ہو رہا تھا حضرت علی جیسی شخصیت کا فریضہ کیا تھا؟ امام کے سامنے صرف دو راستے تھے ایک یہ کہ خاندان رسالت کے مردوں اور اپنے سچے ماننے والوں اور پیروی کرنے والوں کی مدد سے قیام کرتے اور اپنے حق کوان لوگوں سے واپس لے لیتے ، یا یہ کہ مکمل طور پر خاموشی اختیار کرکے تمام عمومی و اجتماعی امور سے کنارہ کشی کرلیتے اور جتنا ممکن ہو تااپنے اخلاقی و فردی فریضے پر عمل کرتے۔

تمام قرائن و شواہد (جو آئندہ بیان ہوں گے) سے واضح ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام اگر ایسے حالات میں قیام کرتے تو اس نئے اسلام اور نئے معاشرۂ اسلامی کو کوئی فائدہ نہیں پہونچتا لہذا امام علیہ السلام کے لئے ضروری تھا کہ دوسرا راستہ اپناتے۔

پیغمبر اسلام امت کے مرتد ہونے سے خوف زدہ تھے

۱۔ قرآن کریم کی آیتیں اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ پیغمبر اسلام اپنی زندگی میں اسلامی معاشرہ کے مستقبل کے لئے بہت فکر مند تھے، اور مسلسل ناخوشگوار واقعات دیکھنے کے بعد اس احتمال نے انھیں زیادہ سوچنے پر مجبور کردیاتھا کہ کہیں کچھ لوگ ہمارے بعد اپنے جاہلیت کے ماحول کو پھر سے اختیار کرلیں اور سنت الہی کو بھول جائیں۔

یہ خیال اس وقت اور محکم ہوگیاجب جنگ احد میں پیغمبر کے مرنے کی خبر پھیلا کر لوگ میدان جنگ سے فرار ہوگئے اور پیغمبر نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اکثر مسلمانوں نے راہ فرار اختیار کرلی. اور پہاڑوں اور دوسرے مقامات پر پناہ لے لی اور بعض افراد نے چاہا کہ منافقوں کے سردار (عبد اللہ ابن ابی) سے بات کرکے ابوسفیان سے امان نامہ لے لیں. اور ان کا ایمان و عقیدہ اتنا پستی کی طرف آگیا کہ خداوند عالم کے متعلق بدگمانی کرنے لگے اورغلط فکریں کرنے لگے. قرآن مجید نے اس راز کا پردہ فاش کردیا (ارشاد قدرت ہے)


( طَائِفَة قَدْ اهَمَّتْهُمْ َنْفُسُهُمْ یَظُنُّونَ بِاﷲِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ یَقُولُونَ هَلْ لَنَا مِنْ الْامْرِ مِنْ شَیْئٍ ) (۱)

اور ایک گروہ جن کو اس وقت بھی (بھاگنے کی شرم سے) جان کے لالے پڑے تھے خدا کے ساتھ (خواہ مخواہ) زمانہ جاہلیت کی ایسی بدگمانیاں کرنے لگے (اور) کہنے لگے بھلا کیا یہ امر (فتح) کچھ بھی ہمارے اختیار میں ہے۔

قرآن کریم نے دوسری آیت میں پیغمبر کی رحلت کے بعد صحابہ کے درمیان اختلاف و کشیدگی کی بھی خبر دی ہے ارشاد قدرت ہوتا ہے:( وَمَا مُحَمَّد ِلاَّ رَسُول قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ َفَایْن مَاتَ َوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی َعْقَابِکُمْ وَمَنْ یَنْقَلِبْ عَلَی عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَضُرَّ اﷲَ شَیْئًا وَسَیَجْزِی اﷲُ الشَّاکِرِینَ ) (۲)

اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تو صرف رسول ہیں ان سے پہلے اور بھی بہت سے پیغمبر گزر چکے ہیں پھر کیا اگر محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی موت سے مرجائیں یا مار ڈالے جائیں تو تم الٹے پاؤں (اپنے کفر کی طرف) پلٹ جاؤ گے اور جو الٹے پاؤں پھرے گا (بھی) تو (سمجھ لو) ہرگز خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑے گا اور عنقریب خدا شکر کرنے والوں کو اچھا بدلہ دے گا۔

یہ آیت پیغمبر کے اصحاب کے دو گروہوں میں تقسیم ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے (ایک ''عصر جاہلیت کی طرف واپس جانا، دوسرے'' ثابت قدم اور شکر گذار ہونا) کہ پیغمبر کی رحلت کے بعد ممکن ہے مسلمان اختلاف اور گروہوں میں تقسیم ہو جائیں۔

۲۔ سقیفۂ بنی ساعدہ میں موجود افراد کا اگر جائز لیا جائے تو بخوبی معلوم ہو جائے گا کہ اس دن کس طرح سے ایک دوسرے کے رازوں کا پردہ فاش ہو رہا تھا اورایک بار پھر قومی اور خونی تعصب اور جاہلیت کی فکریں پیغمبر کے صحابہ کی زبانی زندہ ہوگئیں تھیں، اور یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ ابھی مکمل طور پر اسلامی تربیت ان کے اندر نفود نہیں ہوئی ہے اور اسلام وایمان صرف ان کے جاہلیت کے چہرے پر پڑا ہے۔

اس تاریخی واقعہ کی تحقیق کرنے کے بعد یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے کہ سقیفہ میں جمع

______________________

(۱) سورۂ آل عمران آیت ۱۵۳

(۲) سورۂ آل عمران آیت ۱۴۴


ہونے کا ہدف اور ان تقریروں اور لڑائیوں کا مقصد ذاتی مفاد کے علاوہ کچھ نہ تھا، اور ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ خلافت کے لباس کو خود پہن لے جب کہ حق یہ تھا کہ امت کی بہترین فرد اس خلافت کے لباس کو پہنے ،اور جو چیز اس مجمع یا انجمن سقیفہ میں بیان نہیں ہوئی تھی وہ اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت اور مفاد کا تذکرہ اور خلافت کوایسے شخص کے سپرد کرنا جو اپنی ذہانت و عقلمندی علم و دانش اور بہترین اخلاقی و معنوی روح کے ذریعے اسلام کی کشتی کو نجات کے ساحل تک پہونچاناتھا۔

ایسے حالات میںجب کہ اسلامی عقیدہ لوگوں کے دلوںمیں رسوخ نہیں کیا تھا اور جاہلیت کی رسم و عادت او رپیروی ان کے ذہنوں سے نہیں نکلی تھی اور ہر طرح کی خانہ جنگی، گروہ بندی، معاشرے کو بکھیر دینے اور بہت زیادہ افراد کے بت پرستی اور شرک کی طرف جانے کا امکان تھا۔

۳۔ان تمام چیزوں سے واضح و روشن حضرت علی علیہ السلام کی وہ گفتگو ہے جو آپ نے سقیفہ کے واقع ہونے سے پہلے کی تھی آپ نے اپنی گفتگو میں اتحاد اسلامی کی اہمیت اوراختلاف و تفرقہ کے برے انجام کی طرف اشارہ کیا ہے مثلاً جب ابوسفیان نے چاہا کہ حضرت علی کو بیعت لینے کے لئے راضی کرے اور اس کے ذریعے اپنے بدترین مقاصد کو عملی جامہ پہنائے تواس وقت امام نے مجمع کی طرف رخ کر کے فرمایا:

''فتنہ و فساد کی موجوں کو نجات کی کشتی سے توڑ دو اور تفرقہ و اختلاف سے پرہیز کرو اور فخر و مباہات ، تکبر و غرور کو دل سے نکال دو. اگر میں کچھ کہوں تو لوگ کہیں گے کہ حکومت کے لالچی ہیں اور اگر خاموشی سے بیٹھ جاؤں تو لوگ کہتے ہیں کہ موت سے ڈرتے ہیں. خدا کی قسم ابوطالب کے بیٹے کے نزدیک موت سے مانوس ہونا ماں کے پستان سے مانوس ہونے سے زیادہ بہتر ہے، اگر علم و آگاہی کے بعد خاموشی اختیار کریں تو گویا ہم بھی انھیں میں سے ہوگئے اور اگر تم بھی ہماری طرح ان چیزوںسے باخبرہوتے توتم بھی گہرے کنویںمیںڈالی ہوئی رسی کی طرح پریشان ولرزاں ہوتے۔''(۱)

جس علم و آگاہی کے متعلق آپ گفتگو کر رہے تھے وہ اختلاف و تفرقہ کا وحشتناک نتیجہ تھا آپ جانتے تھے کہ خلافت کے لئے قیام یا خانہ جنگی کا ہوناا سلام کے مٹ جانے اورلوگوں کا جاہلیت کے

______________________

(۱) نہج البلاغہ خطبہ ۵


عقیدے پر واپس ہو جانے کا باعث تھا۔

۴۔ جس وقت پیغمبر کے انتقال کی خبر نو مسلم قبیلوں کے درمیان منتشر ہوئی اسی وقت ایکگروہ اپنے بزرگوں کے مذہب کی طرف واپس جانے کے لئے تیار ہوگیا اور مرکزی حکومت کی مخالفت کے لئے آمادہ ہوگیا اور جزیہ دینے سے انکار کردیا. سب سے پہلے جو کام مرکزی حکومت نے انجام دیا وہ یہ تھا کہ مسلمانوں کا ایک گروہ جو جنگ کے لئے آمادہ تھا ان کو تیار کیا تاکہ دوبارہ مرکزی حکومت کی اطاعت اور اسلامی قوانین سے انکار نہ کیا جا سکے. اور اس کے نتیجہ میں دوسرے قبیلے والوں کے ذہنوں سے اپنے اپنے مذہب کی طرف واپس جانے کا خیال ہمیشہ کے لئے نکل جائے گا۔

بعض قبیلوں کے مذہب اسلام سے پھر جانے کے علاوہ، یمامہ میں ایک اور فتنہ برپا ہوگیا اور وہ نبوت کا دعوی کرنے والے افراد تھے مثلاً مسیلمہ و سجاح و طلیحہ وغیرہ۔

ایسے حالات میں جب مہاجرین و انصار کے درمیان اتحاد کا خاتمہ ہوچکا تھااوراطراف کے قبیلے والے اپنے پرانے مذہب کی طرف جانے پر آمادہ تھے ،نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے نجد، اور یمامہ میں کھڑے ہوگئے ،ایسے ماحول میں امام کے لئے مناسب نہیں تھا کہ آپ بھی ایک اور محاذ قائم کرتے اوراپنے حق کے لئے قیام کرتے، امام اس خط میں جو آپ نے مصر کے لوگوںکے نام لکھا تھا اس نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

خدا کی قسم، میں نے کبھی بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ عرب خلافت کو پیغمبر کے خاندان سے لے لیں گے یاہمیں اس کے لینے سے روک دیں گے مگر ہوا وہی، دیکھتے ہی دیکھتے لوگ فلاں شخص کی بیعت کے لئے ٹوٹ پڑے. یہ دیکھ کر میں نے اپنا ہاتھ روک لیا یہاں تک کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پھرنے والے اسلام سے پھر گئے اورحضرت رسول خدا کے دین کو مٹانا چاہتے ہیں مجھے اس بات کا ڈر ہوا کہ اسلام میں کوئی رخنہ یا خرابی دیکھتے ہوئے بھی اگر ہم نے اسلام اوراہل اسلام کی نصرت نہ کی تو (اس کوتاہی کی وجہ سے) میرے سر پر وہ مصیبت آپڑے گی جو تمہاری حکومت میرے ہاتھ سے نکل جانے (کی مصیبت) سے بھی بڑی ہوگی (وہ حکومت) جو حقیقت میں چند دنوں سے زیادہ نہیں ہے


اور اس کی بودوباش اسی طرح نابود ہوجائے گی جس طرح سراب نابود ہوجاتاہے، یا جیسے بادل چھنٹ جاتا ہے، غرض ان بدعتوں (کے ہجوم) میں ، میں اٹھ کھڑا ہوا یہاں تک کہ باطل کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ نیست و نابود ہوگیا اوردین کو اطمیان نصیب ہوا اور تباہی سے بچ گیا۔(۱)

عثمان کی خلافت کے آغاز میں اس شوریٰ نے جو خلافت کے تعیین کے لئے بنائی گئی تھی جب عثمان کے حق میں رائے دیا اس وقت امام علیہ السلام اس شوریٰ کے عہدہ داروں سے مخاطب ہوئے اور کہا:

''تم خوب جانتے ہو کہ میں منصب خلافت کا تم سب سے زیادہ حقدار ہوں لیکن جب تک مسلمانوں کے امور کا نظم و نسق درست رہے گامیں خلافت سے کنارہ کشی کر سکتا ہوں اگرچہ میرے اوپر ظلم و ستم ہوتا رہے اور اگر میں خاموشی سے کام لوں تو صرف اس بنا پر کہ خدا کے نزدیک میرا اجر و ثواب ملتا رہے گا۔(۲)

ابن ابی الحدید کہتے ہیں:

جب علی ـ کو لوگوں نے خلافت سے معزول کردیاتوآپ نے مکمل خاموشی اختیار کرلی ایک دن آپ کی محترم و باعظمت بیوی فاطمہ زہرا نے انھیں اپنے حق کو واپس لینے کے لئے قیام و تحریک کی خاطر متوجہ کیا تواسی وقت مؤذن کی آواز ''اشہد ان محمداً رسول اللہ'' بلند ہوئی آپ نے حضرت زہرا کی طرف رخ کر کے کہا: کیا تم پسند کرو گی کہ زمین پر سے یہ آواز ہمیشہ کے لئے خاموش ہو جائے؟ فاطمہ (س) نے کہا: ہرگز نہیں امام نے فرمایا: یہی بہترین راستہ ہے جسے میں نے اختیار کیاہے۔(۳)

اس موضوع کی اہمیت کے مد نظر اس سلسلے میں کچھ مزیدبحث کریں گے تاکہ امام کے مسلحانہ قیام کے نتائج کی صحیح سندوں کے ساتھ تحقیق کرسکیں۔

______________________

(۱) نہج البلاغہ عبدہ، نامہ ۶۲

(۲) نہج البلاغہ عبدہ، خطبہ ا۷

(۳) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱۱ ص ۱۱۳


اعلیٰ مقصد کی اہمیت

اجتماعی مسئلوں میں بہت کم ہی مسئلے ایسے ہوتے ہیں جو اہمیت اوردقت کے لحاظ سے مدیریت اور رہبری کے مقام تک پہونچتے ہیں. رہبری کے شرائط اتنے زیادہ دقیق اوراہمیت کے حامل ہیں کہ بڑے اجتماع کے درمیان فقط چند ہی لوگ شرائط پر پورے اتریں گے۔

ہر طرح کی رہبری کے دوران، آسمانی رہبروں کے مراتب دوسرے رہبروں سے بہت سنگین اوران کے فرائض بہت عظیم ہوتے ہیں اور دنیاوی رہبر سماج کے انتخاب کرنے کے بعد ایسے مقام و مرتبہ پر پہونچتے ہیں۔

الہی و معنوی رہبری میں مقصد، مقام و منصب کی حفاظت سے زیادہ بلند و باعظمت ہوتا ہے اور رہبر اس لئے قیام کرتا ہے کہ مقصد کو پایۂ تکمیل تک پہونچائے اور اگر اس کے سامنے دو راستے ہوں اور مجبور ہو کہ ایک کو چھوڑ دے اوردوسرے کو قبول کرے تو مقصد کے اصول و اساس کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ رہبری کو چھوڑ دے اور مقصد کو اپنے مقام و منصب رہبری سے زیادہ مقدس قرار دے۔

پیغمبر اسلام کے انتقال کے بعد حضرت امیر المومنین علیہ السلام بھی ایسے ہی اہم مسئلہ سے دو چار ہوئے، جب کہ رہبری اور حاکمیت سے ان کا مقصد اس پودے کی دیکھ بھال تھی جو پیغمبر اسلام کے ہاتھوں حجاز کی سر زمین پر لگایا گیا تھا اور ضروری تھا کہ زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ وہ ایک تناور اور مضبوط درخت میں تبدیل ہو جائے اور اس کی تمام شاخیں پوری دینا پر چھا جائیں اور لوگ اس کے سائے میں آرام کریں. اور اس کے بابرکت پھلوں سے استفادہ کریں۔


پیغمبر کے ا نتقال کے بعد امام علیہ السلام اس بات سے بخوبی آگاہ ہوگئے کہ ہم ایسے حالات میں زندگی بسر کررہے ہیں کہ اگر حکومت پر قبضہ کرنے اوراپنے حق و مقام کے لئے اصرار کریں توایسے حالات رونما ہوں گے کہ پیغمبر اسلام کی تمام زحمتیں او رجواس مقدس مقصد میں آپ کا خون بہا ہے بے کار ہو جائے گا۔

پرانے کینے اور بغض و حسد

اسلامی معاشرہ ان دنوں بہت زیادہ مشکلات و اختلافات اور تفرقہ کا شکار تھا کہ ایک چھوٹی سی خانہ جنگی یا معمولی سی خوں ریزی مدینہ کے اندر یا باہر ایک زبردست جنگ کا سبب بن جاتی. بہت سے قبیلے والے جو مدینہ یا مدینہ سے باہر زندگی بسر کر رہے تھے ان کو حضرت علی سے کوئی محبت و انسیت نہیں تھی بلکہ ان سے بغض او رحسد و کینہ کواپنے دل میں رکھے تھے کیونکہ حضرت علی ہی تھے جنہوں نے ان قبیلوں کے کفر کے پرچم کو سر نگوں کیا تھا او ران کے پہلوانوں کو ذلت کے ساتھ زمین پر گرایا تھا۔

اگرچہ ان لوگوں نے بعد میں اسلام سے اپنے رشتے کو مضبوط کرلیا تھا اور ظاہراً خدا پرستی اور اسلام کی پیروی کر رہے تھے لیکن اسلام کے جانبازوں سے اپنے دل میں بغض و عداوت کو چھپائے ہوئے تھے۔

ایسے حالات میں اگر امام علیہ السلام اپنی قدرت کاملہ سے اپنا حق لینے کے لئے مسلحانہ قیام کرتے تو اس کے نتیجے میں یہ صورتیں پیش آتیں۔


۱۔ اس جنگ میں امام کے بہت سے عزیز اور ساتھی جو آپ کی امامت و رہبری پر جان و دل سے معتقد تھے شہید ہو جاتے. البتہ جب بھی ان افراد کی قربانیوں کی وجہ سے حق اپنی جگہ واپس آجاتا تو مقصد کے پیش نظر ان کی جانبازی و فداکاری پر اتنا افسوس نہ ہوتا، لیکن جیسا کہ ہم آئندہ بیان کریں گے. ان افراد کے شہید ہوجانے کے بعد بھی حق، صاحب حق کے پاس واپس نہیں آپاتا۔

۲۔ صرف حضرت علی ہی اپنے دوستوں اور ساتھیوں سے نہ بچھڑتے، بلکہ بنی ہاشم او رحضرت علی کے سچے پیرو اور دوستوں کے قیام کی وجہ سے پیغمبر کے بہت زیادہ صحابی جو امام کی خلافت پر راضی نہ تھے ان کا ساتھ نہ دیتے اور قتل ہو جاتے اور نتیجتاً مسلمانوں کی قدرت مرکز میں کمزور ہوجاتی، یہ گروہ اگرچہ رہبری کے مسئلے میں امام کے مقابلے میں کھڑا تھا لیکن دوسرے امور میں امام کے مخالف نہیں تھا اور شرک و بت پرستی، یہودیوں اور عیسائیوں کے مقابلے میں قدرت مند شمار کیا جاتا تھا۔

۳۔ مسلمانوں کی کمزوری کی وجہ سے، دور دراز میں رہنے والے قبیلے جن کی سرزمین پر اسلام کا پودا ابھی قاعدے سے ہرا بھرا نہ ہوا تھا وہ اسلام کے مخالفوں اور دشمنوں سے مل جاتے اورایک طاقت بن کر ابھرتے اور ممکن تھا کہ مخالفوں کی قدرت و طاقت اور مرکز میں صحیح رہبری نہ ہونے کی وجہ سے، توحید کے چراغ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش کردیتے۔

امیر المومنین علیہ السلام نے اس تلخ و دردناک حقیقت کو بہت نزدیک سے محسوس کیا تھا اسی لئے مسلحانہ قیام پر خاموشی کو ترجیح دیا. بہتر ہے کہ اس مطلب کوامام علیہ السلام کی زبان مبارک سے سنیں۔

عبد اللہ بن جنادہ کہتا ہے:

میںعلی ـکی حکومت کے اوائل میں مکہ سے مدینہ آیا میں نے دیکھا کہ تمام لوگ مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے اورامام کی آمد کے منتظرتھے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ علی اپنی تلوار لٹکائے ہوئے گھر سے باہر آئے. تمام لوگوں کی نگاہیں ان کی طرف تھیں یہاں تک کہ آپ مسند خطابت پر جلوہ افروز ہوئے اور خدا کی حمد و ثنا کے بعد اپنی گفتگو کا آغاز اس طرح کیا۔


''اے لوگو، آگاہ رہو! جب پیغمبر اسلام ہمارے درمیان سے اٹھ گئے تو اس وقت ضروری تھا کہ کوئی بھی ہمارے ساتھ حکومت کے سلسلے میں نزاع و اختلاف نہ کرتا اور اسے لالچی نگاہوں سے نہ دیکھتا کیونکہ ہم ان کی عترت کے وارث اوران کے ولی ہیں لیکن توقع کے خلاف ، قریش کے ایک گروہ نے ہمارے حق کی طرف ہاتھ بڑھایا. خلافت کو ہم سے چھین لیا اور اس پر قابض ہوگئے، خدا کی قسم، اگر مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اوراختلاف کا ڈرنہ ہوتا اور پھر ان کے اسلام سے بت پرستی اور کفر کی طرف پلٹ جانے کا خطرہ نہ ہوتا اوراسلام کے مٹ جانے اور ختم ہونے کا ڈر نہ ہوتا تو نقشہ کچھ او رہی ہوتا جس کا تم مشاہدہ کرتے۔(۱)

کلبی کہتا ہے:

جب علی ـ ، طلحہ وزبیر جیسے لوگوں کو بے وفائی اورعہد شکنی پر متنبہ کرنے کے لئے بصرہ کے لئے روانہ ہوئے تو اس وقت آپ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا:

''جس وقت خدا نے اپنے پیغمبر کی روح قبض کیا اس وقت قریش نے اپنے کو محترم سمجھ کر اپنے آپ کو ہم پر مقدم سمجھا اورہمارے حق کو ہم سے چھین لیا، لیکن میں نے صبر و بردباری کو اس کام سے بہتر سمجھا کہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ و اختلاف اور ان کا خون بہہ جائے، کیونکہ لوگوںنے ابھی ابھی اسلام قبول کیا تھا اوردینی بیداری ان کے اندر ابھی ابھی سرایت ہوئی تھی. اور تھوڑی سی غفلت انھیں خراب کردیتی اورایک معمولی شخص بھی انھیں بدل ڈالتا۔(۲)

ابن ابی الحدید جو حضرت علی سے محبت اور خلفاء سے تعصب رکھتا ہے صحابہ کے بعض گروہ جو حضرت علی سے کینۂ و عداوت رکھتے تھے ان کے بارے میں لکھتا ہے :

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱ ص ۳۰۷

(۲) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۸ ص۳۰


تجربہ سے یہ ثابت ہے کہ زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ کینہ اور حسد کی آگ فراموش ہوجاتی ہے اور کینوں سے بھرے ہوئے دل سرد ہو جاتے ہیں اور اسی طرح زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک نسل ختم ہو جاتی ہے تو دوسری نسل اس کی جانشین بن جاتی ہے اورنتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دیرینہ کینہ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہو جاتا ہے ،جس دن حضرت علی مسند خلافت پر بیٹھے پیغمبر کو گزرے ہوئے پچیس سال ہوچکے تھے اور امید یہ تھی کہ اس طولانی مدت میں لوگ اپنے دلوں سے کینہ و عداوت کو بھلا بیٹھے ہوں گے لیکن امید کے برخلاف حضرت علی کے مخالفوں کی روح و مزاج بدلے نہیں تھے اور علی ـ سے کینہ و عداوت جو پیغمبر کے زمانے یا ان کے بعد لئے ہوئے ختم نہیں ہوئے تھے یہاں تک کہ فرزندان قریش، ان کے جوان اور نئی نسلیں جنھوں نے اسلام کے خونین جنگوں، واقعہ کودیکھا بھی نہ تھا اور امام کی شجاعت و بہادری کو جنگ بدر، احد وغیرہ میںقریش کے خلاف مشاہدہ نہیں کیا تھا اپنے بزرگوں کی طرح حضرت علی سے بہت سخت دشمنی و عداوت رکھتے تھے اور ان سے کینے کو اپنے دل میں چھپائے ہوئے تھے۔

چنانچہ امام علیہ السلام ایسے حالات میں پیغمبر کے انتقال کے بعد مسند خلافت پر بیٹھے اور حکومت کی باگ ڈور کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور مخالفین کے دل میں حسد کی آگ بھڑکنے لگی، اور ایسے ایسے حالات رونماہوئے کہ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام مٹنے اور مسلمان نابود ہونے لگے اورجاہلیت اسلامی ملکوں سے ختم نہ ہوئی۔(۱)

امام علیہ السلام اپنی ایک تقریر میں اپنے مسلحانہ قیام کے نتیجہ کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

پیغمبر کے انتقال کے بعد میں نے اپنے کام میں بہت غور و فکر کی او رقریش کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے اپنے اہلبیت کے علاوہ کسی کو اپنا مددگار و ناصر نہ پایا لہذا ان کی موت پر راضی نہ ہوا اور اس آنکھ کو جس میں خس و خاشاک تھے اسے بند کرلیا اور گلے میں جو ہڈی اٹکی تھی اسے نگل گیااور زہرسے زیادہ تلخ حوادث و واقعات پر صبر کیا۔(۲)

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱۱ ص ۱۱۴ خطبہ ۳۱۱

(۲)فَنَظَرْتُ فَاِذَا لَیْسَ لِیْ مُعِیْن الّٰا اَهْلُ بَیْتِیْ فَضَنَنْتُ بِهِمْ عَنِ الْمَوْتِ وَ اغْضَیْتُ عَلٰی الْقَذٰیٰ وَ شَرِبْتُ عَلَی الشّٰجٰی وَ صَبَرْتُ عَلَی اَخْذِ الْکَظَمِ وَ عَلَی اَمرَّ مِنْ طَعْمِ الْعَلْقَمِ، نہج البلاغہ عبدہ، خطبہ ۲۶ اور خطبہ نمبر ۲۱۲میں بھی ایساہی مضمون ہے۔


مسلمانوں کا اتحاد

مسلمانوں کا متحد ہونا امام علیہ السلام کی سب سے بڑی خواہش و آرزو تھی آپ بخوبی جانتے تھے کہ اسی اتحاد نے پیغمبر اسلام کے زمانے میں بڑے بڑے سرکشوں کے دلوں پر اپنا رعب بٹھا رکھا تھا اور بڑی بڑی طاقتوں کو ختم کردیا تھا اور اسلام کا پیغام بہت تیزی سے پھیل رہا تھا لیکن اگر یہی اتحاد و وحدت مسئلہ رہبری کے وقت ختم ہوگیا تو مسلمان بہت سی مصیبتوں اور مشکلات اور اختلاف کا شکار ہوجائیں گے خصوصاً قریش کے بعض گروہ جو اسلام کے دشمن تھے اور بہانہ تلاش کر رہے تھے تاکہ اسلام کے اوپر حملہ کریں۔

مہاجرین کے درمیان بہانہ کی تلاش میں سہیل بن عمرو، حارث بن ہشام، عکرمہ بن ابی جہل وغیرہ تھے جو زمانہ قدیم سے مسلمانوں خصوصا انصار کے دشمن تھے، لیکن کسی علت کی وجہ سے ظاہراً اسلام لائے اور کفر و بت پرستی کو چھوڑ دیا. جب انصار، سقیفہ میں شکست کھانے کے بعد امام کی حمایت میں اٹھے اور لوگوںکو آپ کی پیروی کی دعوت دی تو یہ افراد بہت زیادہ ناراض ہوئے اور اہل خلافت سے کیا کہ انصار سے گروہ خزرج کو بیعت کے لئے بلائیں اور اگر بیعت کرنے سے انکار کریں تو ان سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔

ان تینوں افراد(سہیل بن عمرو، حارث بن ہشام، عکرمہ بن ابوجہل) نے مجمع عام میں تقریریں کیں. ابوسفیان بھی ان کے ساتھ ہولیا. ان لوگوں کے مقابلے میں انصار کاایک خطیب ثابت بن قیس مہاجرین پر تنقید کرنے کے لئے اٹھا اور ان کی تقریروں کا جواب دیا۔مہاجرین وانصار کے درمیان مدتوں بحث و مباحثہ تقاریر اور اشعار کے ذریعے جنگ چلتی رہی اور طرفین کی تقریر و اشعار کو ابن ابی الحدید نے اپنی شرح میں بیان کیا ہے۔(۱)

ان حالات کو مد نظر رکھنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کیوں امام علیہ السلام نے خاموشی کو مسلحانہ قیام پر ترجیح دی اور کس طرح دور اندیشی اورتدبیر سے اسلام کی کشتی کو طوفان کے تھپیڑ وں سے نکال کر ساحل نجات کی طرف رہبری کی. اگر مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق سے الفت نہ ہوتی اور برے انجام واختلاف اور تفرقہ بازی کا ڈر خوف نہ ہوتا تو آپ ہرگز اجازت نہیں دیتے کہ مقام و منصب رہبری آپ کے علاوہ کسی

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۶ ص ۴۵۔ ۲۳


دوسرے کے پاس ہوتا۔

واقعہ سقیفہ ہی کے زمانے میں حضرت علی کے ایک محب نے آپ کی شان میں کچھ اشعار کہے تھے جس کا ترجمہ یہ ہے:

''میں نے ہرگز یہ فکر نہیں کیا تھا کہ امت کی رہبری کو بنی ہاشم کے خاندان اورامام ابوالحسن سے چھین لیں گے''

کیا حضرت علی سب سے پہلے شخص نہیں ہیں جنھوں نے تمہارے قبلہ کی طرف نماز پڑھی؟ اور کیا قرآن اورسنت پیغمبر کا تم سے زیادہ علم نہیں رکھتے؟

کیا وہ پیغمبر کے سب سے قریبی نہ تھے؟ کیا وہ، وہ شخص نہیں ہیں کہ جبرئیل نے جس کی پیغمبر کو غسل و کفن ودفن دیتے وقت مدد کی؟(۱)

جب امام اس کے اشعار سے باخبر ہوئے تو آپ نے ایک قاصد بھیجا کہ اس کو جاکر اشعار پڑھنے سے منع کردے اور آپ نے فرمایا:

''سَلاٰمَةُ الدِّیْنِ اَحَبُّ اِلَیْنٰا مِنْ غَیْرِهِ''

اسلام کا تمام اختلافات سے محفوظ و سالم رہنا ہمارے لئے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہے۔

جنگ صفین میں بنی اسد کے قبیلے کے ایک شخص نے امام سے پوچھا: کس طرح سے قریش نے آپ کو مقام خلافت سے دور کردیا؟ حضرت علی اس کے بے موقع سوال سے ناراض ہوگئے، کیونکہ آپ کے سپاہیوں کے بعض گروہ خلفاء کو مانتے تھے اور اس طرح کے مسائل کی وجہ سے سپاہیوں کے درمیان اختلاف ہو جاتا لہذا امام نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے فرمایا:

اس احترام کا خیال کرتے ہوئے کہ تو پیغمبر پر ایمان لایا اور یہ کہ ہر مسلمان کو سوال کرنے کا حق ہے تمھیں مختصراً اس سوال کا جواب دے رہا ہوں. امت کی رہبری پر میرا حق تھا اور میرے اور پیغمبر کے درمیان جو رشتہ تھا وہ دوسروں سے بہتر تھا لیکن بعض گروہوں نے اس سے بخل کیا اور بعض گروہ نے اس سے

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۶، ص ۲۱


چشم پوشی کرلی اور میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کرنے والا خدا ہے اور سب کواسی کی بارگاہ میں پلٹ کر جانا ہے۔(۱)

یہ تمام مطالب جو بیان ہوئے ہیں وہ سب حضرت علی کی خاموشی کی علتیں تھیں آپ نے اسلام کی حفاظت کے لئے اپنے حق کو چھوڑ دیا اور پچیس سال تک خاموشی کی زندگی بسر کرتے رہے اور زہر سے زیادہ تلخ شربت خاموشی پیتے سے رہے۔

______________________

(۱) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ۱۵۷


دوسری فصل

خلفائے ثلاثہ کی خلافت اور امیر المومنین کا طریقۂ کار

اہلسنت کے محقق و دانشمند ،جنھوں نے نہج البلاغہ شرحیں لکھی ہیں امام کے بیانات کو خلافت کے سلسلے میں اپنی شائستگی کا تجزیہ کیاہے اوران تمام چیزوں سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ امام کا مقصد ان بیانوں سے خلافت کے متعلق اپنی شائستگی دکھانا ہے بغیر اس کے کہ پیغمبر کی طرف سے ان کی خلافت پر نص وارد ہو۔دوسرے لفظوں میں، چونکہ حضرت علی پیغمبر کے سب سے قریبی رشتہ دار اور داماد تھے اورعلم و دانش کے اعتبار سے سب سے بلند تھے اور عدالت کے اجراء کرنے اور سیاست سے باخبر اور حکومت چلانے میں مہارت وغیرہ کی وجہ سے پیغمبر کے تمام صحابہ سے افضل تھے اس لئے بہتر تھا کہ امت آپ کو خلافت کے لئے منتخب کرتی، لیکن چونکہ امت کے سرداروں نے ان کے علاوہ دوسروں کو منتخب کیا تھا اسی لئے امام نے اس طرح شکوہکیا ہے: میں خلافت و ولایت کے لئے دوسروں سے زیادہ سزاوار ہوں۔وہ حق جس کا امام ہمیشہ یاتذکرہ کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جس دن سے پیغمبر کا انتقال ہوا ہے اسی دن سے مجھے لوگوںنے اس حق سے محروم کردیا ہے وہ شرعی حق نہیں تھا جو صاحب شریعت کی طرف سے انھیں دیا گیا تھاکہ دوسروں کوان پر مقدم کرنا شریعت کے قوانین کی مخالفت کرنا تھا. بلکہ یہ حق ایک فطری حق تھا اور ہر شخص پر لازم تھا کہ بہترین فرد کے ہوتے ہوئے دوسروں کو منتخب نہ کریں اور امت کی باگ ڈور کو امت کے سب سے زیادہ علم رکھنے والے صاحب بصیرت اور لیاقت رکھنے والے کے سپرد کرے لیکن اگر کوئی گروہ مصلحت کی وجہ سے اس فطری قانون کی پیروی نہ کرے اور اس کام کواس شخص کے حوالے کردے جو علم، قدرت اور روحی و جسمی اعتبار سے کم مرتبہ رکھتا ہو توایسی صورت میں جو شخص ان تمام امور میں اعلیٰ مراتب پر فائز ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنی زبان سے گلہ و شکوہ کرے اور کہے:

''فَوَ اللّٰهِ مَازِلْتُ مَدْفُوعاً عَنْ حَقِّی مُستأَثَراً عَلیّ مُنْذ أن قَبْض اللّٰهُ نَبِیَّهُ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلهِ وَسَلَّمْ حَتّٰی یَوْمَ النّٰاسِ هٰذَا'' (۱)

______________________

(۱) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ۵


خدا کی قسم ، جس دن خدا نے پیغمبر کی روح کو قبض کیا اس دن سے آج تک میں اپنے حق سے محروم رہا ہوں۔

امام علیہ السلام نے یہ گلہ اس وقت کیا جب طلحہ و زبیر نے آپ سے لڑنے کے لئے پرچم کو بلند کیا تھا اور بصرہ کو اپنا مورچہ بنایا تھا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ شارحین نہج البلاغہ نے جو یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ خلافت کے لئے حضرت علی کی شائستگی ، ذاتی تھی ،یہ ان کی خام خیالی ہے اور امام کی باتوں کو ذاتی شائستگی پر حمل نہیں کر سکتے کیونکہ ذاتی شائستگی خلفاء پر آپ کی سخت تنقید کی مجوز نہیں بن سکتی اس لئے کہ

اولاً: امام نے اپنی تقریر میں بعض موقعوں پر پیغمبر اسلام کی وصیت پر تکیہ کیا ہے ، مثلاً جب آپ خاندان نبوت کا تعارف کراتے ہیں تو فرماتے ہیں:

''هم موضعُ سرِّهُ و ملجأ امرِه و عِیبةُ علمِه و موئِلُ حکمِه و کهوفُ کتبِه و جبالُ دینِه... لایقاسُ بآلِ محمدٍصلی اللّٰه علیه وآله وسلم من هذه الامة احد... هم أساسُ الدینِ و عمادُ الیقینِ الیهم یفیئُ الغالی و بهم یلحقُ التالی. و لهم خصائصُ حقِ الولایة و فیهم الوصیةُ و الوراثة'' (۱)

خاندان نبوت پیغمبر کے رازدار اوران کے فرمان کی پناہ گاہ ، ان کے علم و حکمت کا منبع و مخزن ان کی کتاب کی حفاظت کرنے والے، اور ان کے مذہب کو مستحکم کرنے والے ہیں، امت میں سے کسی شخص کا بھی قیاس ان سے نہیں کرسکتے. وہ دین کی اساس اور ایمان و یقین کے ستون ہیں راہ حق سے بھٹکے ہوئے لوگ ان کی طرف رجوع کرتے ہیں اور پناہ لینے والے ان سے ملحق ہوتے ہیں اور امامت کی خصوصیات (علوم و معارف اور دوسرے تمام شرائط امامت) ان کے پاس ہیں اور پیغمبر کی وصیت ان کے بارے میں ہے اور یہی لوگ پیغمبر کے وارث ہیں۔

اس جملے سے کہ پیغمبر کی وصیت ان لوگوں کے بارے میں ہے امام کی مراد کیاہے؟

لفظ ولایت پر غور کرنے کے بعد''ولهم خصائص الولایة'' واضح ہوتا ہے کہ وصیت سے مراد

______________________

(۱) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ۲


ان لوگوں کے لئے خلافت کی وصیت اور ولایت کی سفارش ہے جو غدیر کے دن اور دوسرے دنوں میں بطور واضح بیان ہوئے ہیں۔

ثانیاً: لیاقت و صلاحیت اور شائستگی ہی صرف حق کو ثابت نہیں کرتی جب تک کہ دوسرے شرائط بھی موجود نہ ہوں. مثلاً لوگوں کا انتخاب کرنا جب کہ امام نے اپنے بیان میں اپنے حق کے متعلق کہا ہے اور کہا کہ پیغمبر کے بعد ان کا حق پامال کیا گیا. دوسرے لفظوں میںیوں کہوں کہ اسلام میں رہبری کی مشکل کا حل اگر مشورہ، مذاکرہ، یا عمومی افکار ہو تو ایسی صورت میں وہ شخص (جو گرچہ تمام جہتوں سے دوسروں پر فضیلت و برتری رکھتا ہے) اگر ایسے مقام و منصب کے لئے منتخب نہ ہو تو اپنے کو صاحب حق نہیں کہہ سکتا تاکہ لوگوں کے تجاوز کو ایک قسم کے ظلم و ستم سے تعبیر کرے اور جواس کی جگہ پر منتخب ہوا ہے اس پر اعتراض کرے. جب کہ تمام خطبوں میں امام علیہ السلام کا لہجہ اس کے برخلاف ہے، وہ اپنے کو اس خلافت کا مکمل حقدار سمجھتے تھے اور اس پر تجاوز کرنے کو اپنے اوپر ایک قسم کے ظلم و ستم سے تعبیر کرتے تھے اور قریش کو اپنے حق کا غاصب بتایا، چنانچہ آپ نے فرمایا: بار الہا! قریش کے مقابلے میں اور جن لوگوں نے ان کی مدد کی ہے ان کے مقابلے میں میری مدد فرما،کیونکہ ان لوگوںنے مجھ سے قطع تعلق کیا ہے اور میرے عظیم منصب کو حقیر سمجھا ہے اور ان لوگوں نے آپس میں یہ طے کیاہے کہ خلافت کے سلسلے میں جو کہ میرا حق ہے جنگ کریں۔(۱)

کیا ایسے تند جملوں کوذاتی شائستگی کے حوالے سے توجیہ کرسکتے ہیں؟ اگر مسئلہ خلافت عمومی افکار اور بزرگ اصحاب سے رجوع کر کے حل کیا جاسکتا تو کس طرح امام علی علیہ السلام فرماتے کہ ''وہ لوگ میرے مسلّم حق کے بارے میں مجھ سے لڑائی و جنگ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے''؟

جس وقت صفین میں حضرت علی اور معاویہ کے درمیان جنگ ہو رہی تھی ایک شخص حضرت علی کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: قریش نے آپ کو کس طرح سے مقام خلافت سے دور کر دیا جب کہ آپ ان تمام لوگوں سے افضل و برتر تھے؟

امام اس کے بے وقت سوال سے ناراض ہوگئے لیکن نرمی اور ملایمت سے اسے جواب دیتے ہوئے فرمایا:

____________________

(۱) نہج البلاغہ عبدہ، خطبہ ۱۶۷،''اللهم انی استعینک علی قریش...''


''ایک گروہ نے بخل سے کام لیا اور ایک گروہ نے چشم پوشی کی اور ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کرنے والا خدا ہے اور سب کو اسی کی بارگاہ میں واپس جانا ہے''(۱)

واقعہ سقیفہ گزرنے کے بعد ایک دن ابوعبیدہ بن جراح نے امام سے کہا: اے ابوطالب کے بیٹے،تم خلافت کو کتنا محبوب رکھتے ہو اوراس کے حریص ہو. امام نے اس کے جواب میں کہا: خدا کی قسم تم ہم سے زیادہ خلافت کے لالچی ہو، جب کہ لیاقت اور شرائط کے اعتبار سے اس سے بہت دور ہو اور میں اس سے بہت نزدیک ہوں میں اپنے حق کو طلب کر رہا ہوں اور تم میرے اور میرے حق کے درمیان مانع ہو رہے ہو. او رمجھے میرے حق سے روک رہے ہو''(۲)

یہ بات بالکل صحیح نہیں ہے کہ خلفاء کی خلافت پراس طرح کی تنقیدوں کو ذاتی لیاقت و شائستگی سے توجیہ کریں. یہ تمام بیانات او رتعبیریں اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ امام ـ خلافت کو اپنا حقیقی حق سمجھتے تھے. اور اپنے سے ہر طرح کے انحراف کو حق سے انحراف جانتے تھے، اور ایسا حق نص اور تعیین الہی کے علاوہ کسی کے لئے ثابت نہیں ہے۔

اس طرح کی تعبیروں کواصلحیت اور اولویت سے بھی تفسیرنہیں کر سکتے ،اور جن لوگوں نے امام کے کلام کی اس طریقے سے تفسیر کی ہے وہ اپنے غلط نظریے کوبھی صحیح سمجھتے ہیں۔

البتہ بعض موقعوں پر امام نے اپنی لیاقت و شائستگی کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور مسئلہ نص کو نظرانداز کیا ہے مثلاً آپ فرماتے ہیں:جب ''پیغمبر کی روح قبض ہوئی تو ان کا سر میرے سینے پر تھا میں نے انھیں غسل دیا. اور فرشتے میری مدد کر رہے تھے گھر کے اطراف سے نالہ و فریاد کی آوازیں بلند تھیں ،فرشتے گروہ بہ گروہ زمین پر آتے تھے اور نماز جنازہ پڑھ کر واپس چلے جاتے تھے اور میں ان کی آوازوں کو سنتا تھاپس کون شخص مجھ سے پیغمبر کی زندگی او رموت میں ان کی جانشینی و خلافت کے لئے مجھ سے زیادہشائستہ ہے؟(۳)

____________________

(۱) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ۱۷۵

(۲) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ۱۶۷

(۳) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ۱۹۲


خطبہ شقشقیہ جو آپ کا مشہور خطبہ ہے حضرت اپنی لیاقت و شائستگی کو لوگوں کے سامنے یوں پیش کرتے ہیں:

''اما واللّهِ لقد تقمصَّها ابنُ ابی قحافه و انه لیعلمُ ان محلی منها محلُ القطبِ من الرّحی ینحدرُ عنی السیلُ و لایرقی الیَّ الطیر...'' (۱)

خدا کی قسم! ابوقحافہ کے بیٹے نے خلافت کو لباس کی طرح سے اپنے بدن پر پہن لیا ہے جب کہ وہ جانتا ہے کہ خلافت کی چکی میرے اردگرد چل رہی ہے ہمارے کوہسار وجود سے بہت سے علوم کے چشمے جاری ہوتے ہیں اور کسی کی فکر بھی ہماری کمترین فکر تک نہیں پہونچ سکتی۔

بعض موقعوں پر آپ قرابت و رشتہ داری کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ''و نحن الاعلون نسباً و الاشدون برسول الله نوطاً'' (۲) ہمارا نسب سب سے بلند ہے اور رسول خدا سے ہم بہت قریب ہیں۔

البتہ امام علیہ السلام نے جو یہاں پر پیغمبر سے رشتہ داری کو بیان کیا ہے وہ صرف اہل سقیفہ کے مقابلے میں ہے چونکہ ان لوگوں نے پیغمبر کے ساتھ اپنی رشتہ داری کو بیان کیا تھا اسی وجہ سے امام علیہ السلام جب ان کے طریقہ کار سے آگاہ ہوئے تو ان کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا:

''اِحْتَجُّوْا بِالشَّجَرَةِ وَ اَضٰاعُوْا الثَّمَرَةِ'' (۳)

(انہوں نے شجرہ سے تو استدلال کیا ہے مگر پھل کو ضایع کردیاہے ۔مترجم)

____________________

(۱) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ۳

(۲) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ۱۵۷

(۳) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ۶۴


تیسری فصل

حضرت علی ـسے بیعت لینے کا طریقہ

یہ باب تاریخ اسلام کا سب سے دردناک اور تلخ ترین باب ہے جس نے بیدار دلوں کو سخت غم و اندوہ میں مبتلا کردیاہے اور ان کے دل سوز غم سے جل رہے ہیں. تاریخ کے اس باب کواہلسنت کے دانشمندوں نے اپنی کتابوں میں مختصر اور بہت کم لکھا ہے لیکن علمائے شیعہ کی کتابوں میں تفصیل سے بیان ہوا ہے، شایدقارئین کرام میں کچھ ایسے بھی افراد ہوںجو خانۂ وحی پر تجاوز و زیادتی کرنے والوں کے واقعات کواہلسنت کے مؤرخین اور محدثین کی زبان سے سننا چاہتے ہوں. اسی وجہ سے اس باب میںہم واقعات کو اہلسنت کے مصادر و مدارک سے تحریر کر رہے ہیںتاکہ شکی اور دیر میں یقین کرنے والے افراد اس تلخ واقعہ پر یقین کرلیں. اس باب میں اس چیز کا ترجمہ پیش کر رہے ہیں جسے مشہور مؤرخ ابن قتیبہ دینوری نے اپنی کتاب ''الامامة و السیاسة'' میں نقل کیا ہے ہم اس باب کا تجزیہ اور تحلیل بعد میں کریں گے، تمام مؤرخین اہلسنت اس بات پر متفق ہیں کہ ابھی سقیفہ کی بیعت کو زیادہ دن نہ گذرے تھے کہ خلافت کے ماننے والوں نے ارادہ کیا کہ حضرت علی ، عباس، زبیر اور تمام بنی ہاشم سے ابوبکر کی بیعت لیں، تاکہ ابوبکر کی خلافت میں اتحاد و اتفاق نظر آئے اور ہر قسم کی رکاوٹ اور مخالفت، خلافت کے راستے سے ختم جائے۔واقعہ سقیفہ کے بعد بنی ہاشم او رمہاجرین کے بعض گروہ اور امام کے ماننے والے بعنوان اعتراض حضرت فاطمہ زہرا (س) کے گھر میں جمع ہوگئے تھے. فاطمہ زہرا (س) کے گھر میں رہنے کی وجہ سے کہ جو پیغمبر کے زمانے میں ایک خاص اہمیت کا حامل تھا اہل خلافت کے لئے مانع ہو رہا تھا کہ وہ فاطمہ کے گھر پر حملہ کریں اور وہاں پر موجود افراد کو زبردستی مسجد میں لے جا کر ان سے بیعت لیں۔مگر آخر میں ہوا وہی، انھوںنے جیسا سوچا تھا ویسا ہی کرڈالا اور اس گھر کو جو وحی الہی کا مرکز تھا نظرانداز کردیا. خلیفہ نے عمر کو ایک گروہ کے ساتھ بھیجا تاکہ جس طرح بھی ممکن ہو پناہندگان کو فاطمہ کے گھر سے نکال کر سب سے بیعت لے لیں، عمر جن لوگوں کے ساتھ آئے ان میں اسید بن حضیر و سلمہ بن سلامہ و ثابت بن قیس اور محمد بن سلمہ بھی تھے۔(۱) حضرت فاطمہ (س)کے گھر کی طرف آئے تاکہ پناہ لینے والوں

______________________

(۱) ابن ابی الحدید نے ان تمام لوگوں کا نام اپنی شرح نہج البلاغہ ج۲ ص ۵۰ پر لکھا ہے۔


کو خلیفہ کی بیعت کرنے کی دعوت دیں اور اگر ان لوگوں نے اب کی درخواست کا صحیح جواب نہیں دیا تو ان کو زبردستی گھر سے نکال کر مسجد کی طرف لے آئیں. عمر نے گھر کے سامنے بلند آواز سے کہا کہ تمام پناہ لینے والے جلد سے جلد گھر سے باہر آجائیں لیکن ان کے کہنے کا کوئی اثر نہ ہوا اور لوگ گھر سے باہر نہ نکلے۔

اس وقت عمر نے لکڑی منگوائی تاکہ گھر میں آگ لگادیں اور گھر کو پناہ لینے والوں پر گرادیں لیکن اسی کے ساتھیوں میں سے ایک شخص آگے بڑھا تاکہ خلیفہ کواس کام سے منع کرے اس نے کہا کہ تم کس طرح اس گھر میں آگ لگاؤ گے جب کہ اس گھر میں پیغمبر کی بیٹی موجود ہیں؟ انہوں نے بڑے اطمینان سے جواب دیا : فاطمہ کا اس گھر میں موجود ہونا میرے کام کے انجام دینے کو روک نہیں سکتا۔

اس وقت حضرت فاطمہ دروازے کے پیچھے آئیں اور کہا:

''میں نے کسی کو بھی ایسا نہ دیکھا کہ جو برے وقت میں تمہاری طرح سے ہوتا تم نے رسول خدا کے جنازے کو ہمارے درمیان چھوڑ دیا اور خود اپنی خواہش سے خلافت کے بارے میں فیصلہ کرلیا کیوں اپنی حکومت کو ہم پر تحمیل کر رہے ہو اور خلافت کو جو کہ ہمارا حق ہے ہمیں واپس نہیں کرتے؟

ابن قتیبہ لکھتا ہے:

عمر نے اس مرتبہ لوگوں کو گھر سے نہیں نکالا اور اپنے ارادے سے باز آگئے اور پھر خلیفہ کے پاس آئے اور تمام حالات سے آگاہ کیا خلیفہ جانتے تھے کہ پناہ لینے والوں سے مخالفت کی وجہ سے کہ جس میں مہاجرین اور بنی ہاشم کی بزرگ شخصیتیں تھیں ان کی حکومت کی ساکھ مستحکم نہیں ہوگی. اس مرتبہ انہوں نے اپنے غلام قنفذ کو حکم دیا کہ جائے اور علی کو مسجد میں لے کر آئے وہ دروازے کے پاس آیا اور علی علیہ السلام کو آواز دی اور کہا: رسول خدا کے خلیفہ کے حکم سے مسجد میں آئیے۔

جب امام نے قنفذ کے منھ سے یہ جملہ سنا، تو کہا:اتنی جلدی رسول خدا پر کیوں جھوٹ کی تہمت لگا رہے ہو؟

پیغمبر نے کب انھیں اپنا جانشین بنایا ،کہ وہ رسول خدا کا خلیفہ ہوں؟


غلام ناامید ہو کر واپس چلا گیا اور خلیفہ کو سارے حالات سے آگاہ کیا۔

خلیفہ کی طرف سے باربار دعوت کے مقابلے میں پناہ لینے والوں کے دفاع اور مقاومت نے خلیفہ کو سخت ناراض اور غصہ میں ڈال دیا. بالآخر عمر دوسری مرتبہ اپنے گروہ کے ساتھ فاطمہ (س) کے گھر آئے جب جناب فاطمہ نے حملہ آوروں کی آواز سنی تو دروازے کے پیچھے سے نالہ و فریاد بلند کیا اور کہا:

''اے بابا! پیغمبر خدا ، آپ کے مرنے کے بعد خطاب کے بیٹے اور قحافہ کے بیٹے نے کتنی مصیبتوں اور پریشانیوں میں گرفتار کردیا ہے۔

حضرت فاطمہ (س) کی نالہ و فریاد جو ابھی اپنے بابا کے سوگ میں بیٹھی تھیں اتنا دردناک تھا کہ عمر کے ساتھ آنے والے افراد زہرا کے گھر پر حملہ کرنے سے باز آگئے اور وہیں سے روتے ہوئے واپس چلیگئے، لیکن عمر اور ایک گروہ جو حضرت علی اور بنی ہاشم سے بیعت لینے کے لئے اصرار کر رہا تھا ان لوگوں کو زور و زبردستی کر کے گھر سے باہر نکالا اور اصرار کیا کہ حتماً ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کریں. امام علیہ السلام نے فرمایا: اگر بیعت نہ کریں تو کیا ہوگا؟ ان سب نے کہا: قتل کردیئے جائیں گے۔

حضرت علی علیہ السلام نے کہا: کس میں جرأت ہے جو خدا کے بندے اور رسول خدا کے بھائی کو قتل کرے ؟

حضرت علی نے جب خلیفہ کے نمائندوں کو سختی سے جواب دیاتو وہ لوگ ان کو ان کے حال پر چھوڑ گئے۔

امام علیہ السلام نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور درد دل کے لئے رسول خدا کی قبر کے پاس گئے اور وہی جملہ جو ہارون نے موسیٰ سے کہا تھا اسے دہرایا اور کہا: اے بھائی! آپ کے مرنے کے بعد اس گروہ نے مجھے مجبور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کردیں۔(۱)

______________________

(۱) الامامة والسیاسة ج۱ ص ۱۳۔ ۱۲


خانۂ وحی پر حملے کے بارے میں تاریخ کا انصاف

سقیفہ کے بعد کے حوادث تاریخ اسلام اور امیر المومنین (ع) کی زندگی کے دردناکترین اور تلخ ترین حوادث میں سے ہیں اس بارے میں حقیقت بیانی اور صاف گوئی ایک ایسے گروہ کی رنجش کا سبب بنے گا جو ان واقعات کے بیان کرنے میں تعصب سے کام لیتے ہیں اور حتی الامکان یہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کے دامن پر کوئی داغ نہ ہو اور ان کی پاکیزگی و قداست محفوظ رہے، کیونکہ حقیقت کو پوشیدہ اور برعکس بیان کرنا تاریخ اور آئندہ آنے والی نسل کے ساتھ ایک خیانت ہے اور ہرگز ایک آزاد مؤرخ اس بدترین خیانت کو اپنے لئے نہیں خریدتا اور دوسروں کی نگاہ میں اچھا بننے کے لئے حقیقت کو پوشیدہ نہیں کرتا۔ابوبکر کے خلیفہ بننے کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ خانۂ وحی اور حضرت زہرا (س) کے گھر پر حملہ ہے اس ارادے سے کہ پناہ لینے والے حضرت زہرا(س) کے گھر کو چھوڑ کر بیعت کرنے کے لئے مسجد میں آئیں اس موضوع کی صحیح تشریح اور نتیجہ گیری کے لئے ضروری ہے کہ قابل اطمینان منابع و مأخذ ہوں،چاہے وہ صحیح نتیجہ دیں یا غلط، اور ضروری ہے کہ ان باتوں کا تجزیہ کریں اور پھر اس واقعہ کے نتیجے کے بارے میں انصاف کریں اور وہ تین باتیں یہ ہیں:

۱۔ کیا یہ صحیح ہے کہ خلیفہ کے سپاہیوں نے ارادہ کیا تھا کہ حضرت فاطمہ (س) کے گھر کو جلادیں؟ اور اس بارے میں انھوں نے کیا کیا؟

۲۔ کیا یہ صحیح ہے کہ امیر المومنین کوبڑی بے دردی اور اذیت کے ساتھ مسجد لے گئے تاکہ ان سے بیعت لیں؟

۳۔ کیا یہ صحیح ہے کہ پیغمبر کی بیٹی اس حملے میں شدید طور پر زخمی ہوئیں اور آپ کے شکم میں موجود بچہ ساقط ہوگیا؟

اس واقعہ کے تین حساس موضوع پر علمائے اہلسنت کی کتابوں پر اعتماد کرتے ہوئے گفتگو کریں گے۔

اسلامی تعلیمات میں سب سے اہم تعلیم یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ کسی کے گھر میں داخل ہو مگر یہ کہ پہلے اجازت لے اور اگر گھر کا مالک مہمان قبول کرنے سے معذور ہو اور عذر خواہی کرے تو اسے قبول کرے اور بغیر اس کے کہ ناراض ہو وہیں سے واپس چلا جائے۔(۱) قرآن مجید نے اس اخلاقی تعلیم کے علاوہ ہر اس گھر کو جس میں خدا کی عبادت ہوتی ہے اور اس کا صبح و شام ذکر ہوتا ہے اسے محترم اور لائق احترام جانا ہے۔

______________________

(۱) سورۂ نور، آیت ۲۸۔ ۲۷،''یا ایها الذین آمنوا لاتدخلوا بیوتا غیر بیوتکم حتی تستانسوا...''

( فِی بُیُوتٍ اذِنَ اﷲُ انْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیهَا اسْمُهُ یُسَبِّحُ لَهُ فِیهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ) (۱)

خداوند عالم نے اس گھر کی تعظیم و تکریم کا حکم دیا ہے کہ جس میں پاک و پاکیزہ افراد صبح و شام خدا کی تسبیح و تقدیس کرتے ہیں ان گھروں کا احترام خدا کی عبادت و پرستش کی وجہ سے ہے کہ جو اس میں انجام دیا جاتا ہے اور یہ ان خدا کے بندوں کی وجہ سے ہے جو اس گھر میں خدا کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہیں ورنہ اینٹ اور مٹی کبھی بھی نہ احترام کے لائق رہے ہیں اور نہ ہوسکتے ہیں۔

مسلمانوں کے تمام گھروں کے درمیان قرآن مجید نے پیغمبر کے گھر کے بارے میں مسلمانوں کو خصوصی حکم دیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے:

( یَاَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ اِلاَّ َانْ یُؤْذَنَ لَکُمْ ) (۲)

اے صاحبان ایمان! پیغمبر کے گھروں میں بغیر اجازت کے داخل نہ ہو۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حضرت فاطمہ کا گھر ان تمام محترم اور باعظمت گھروں میں سے ہے جس میں زہرا او ران کے بچے خدا کی تقدیس (و تسبیح) کرتے تھے اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ عائشہ یا حفصہ کا گھر پیغمبر کا گھر ہے لیکن آپ کی عظیم المرتبت بیٹی جو دنیا و آخرت کی سب سے عظیم بی بی ہیں ان کا گھر پیغمبر کا گھر نہیں ہے ، ان کا گھر یقینا پیغمبر کا گھر ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ خلیفہ کے ماننے والوں نے پیغمبر کے گھر کا کتنا احترام کیا، خلافت کے ابتدائی حالات کی تحقیق و جستجو کرنے کے بعد یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خلیفہ کے مامور کردہ سپاہیوں نے قرآن مجید کی ان تمام آیتوں کو نظر انداز کردیا اور پیغمبر کے گھر کی عزت کا کوئی خیال نہ کیا.اہلسنت کے بہت سے مؤرخین نے پیغمبر کے گھر پر حملہ کو مبہم اور غیر واضح طریقے سے لکھا ہے اور کچھ نے واضح اور روشن طور پر تحریر کیا ہے۔

______________________

(۱)سورۂ نور، آیت ۳۶، (بہت سے مفسرین کا کہنا ہے کہ بیوت سے مراد وہی مساجد ہیں جب کہ مسجد گھر کے مصادیق میں سے ایک ہے نہ یہ کہ فرد پر منحصر ہے۔

(۲) سورۂ احزاب، آیت ۵۳


طبری جو خلفاء سے کے بارے میں بہت متعصب تھا اس نے صرف اتنا لکھا ہے کہ عمر ایک گروہ کے ساتھ زہرا کے گھر کے سامنے آئے اور کہا:خدا کی قسم! اس گھر میں آگ لگادوں گا مگر یہ کہ اس میں پناہ لینے والے بیعت کرنے کے لئے اس گھر کو چھوڑ دیں۔(۱) لیکن ابن قتیبہ دینوری نے اس میں مزید اضافہ کیا ہے وہ کہتا ہے کہ خلیفہ نے صرف یہی جملہ نہیں بلکہ انہوں نے یہ بھی حکم دیا کہ گھر کے چاروں طرف لکڑیاں جمع کرو اور پھر کہا:

اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے یا گھر چھوڑ کر باہر آجائوورنہ اس گھر میں آگ لگا کر سب کو جلا دیں گے۔

جب عمر سے کہا گیا کہ اس گھر میں پیغمبر کی بیٹی حضرت فاطمہ ہیں تو انہوں نے کہا: ہوا کریں۔(۲)

عقد الفرید(۳) کے مؤلف نے اپنی کتاب میں کچھ اور اضافے کے ساتھ تحریر کیا ہے وہ کہتا ہے:

''خلیفہ نے عمر کو حکم دیا کہ پناہ لینے والوں کو گھر سے نکال دو اور اگر باہر نہ آئیں تو ان سے جنگ کرنا اسی وجہ سے عمر نے آگ منگوایا تھا کہ گھر کو جلادیں اس وقت جب فاطمہ کے روبرو ہوے پیغمبر کی بیٹی نے ان سے کہا: اے خطاب کے بیٹے! کیا تو میرا گھر جلانے آیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں. مگر یہ کہ دوسروں کی طرح (علی بھی) خلیفہ کی بیعت کریں''

جب علمائے شیعہ کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس واقعہ کی تفصیل وضاحت کے ساتھ ملتی ہے۔

سلیم بن قیس نے اپنی کتاب میں حضرت زہرا کے گھر پر حملہ کو بڑی تفصیل سے لکھ کر حقیقت کو

______________________

(۱) تاریخ طبری ج۲ ص ۲۰۲، مطبع دائرة المعارف، طبری کی عبارت یہ ہے:

''أتی عمر بن خطاب منزل علی فقال: لاحرقن علیکم او لتخرجن الی البیعة'' ابن ابی الحدیدنے اپنی شرح ج۲ ص۵۶ میں اس جملے کو جوہری کی کتاب ''سقیفہ'' سے بھی نقل کیا ہے۔

(۲)الامامة والسیاسة ج۲ ص ۱۲، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱ ص ۱۳۴، اعلام النساء ج۳ ص ۱۲۰۵

(۳) ابن عبد ربہ اندلسی متوفی ۴۹۵ھ عبارت اس طرح ہے:

''بعث الیهم ابوبکر عمربن خطاب لیخرجهم من بیت فاطمة و قال له ان ابوا فقاتلهم. فاقبل بقبس من النار علی ان یضرم علیهم الدار فلقیته فاطمة فقالت یابن الخطاب أجئت لتحرق دارنا؟ قال: نعم أو تدخلوا فیما دخلت فیه الامة'' عقد الفرید ج۲ ص ۲۶۰، تاریخ ابی الفداء ج۱ ص ۱۵۶، اعلام النساء ج۳ ص ۱۲۰۷


واضح کیا ہے وہ لکھتے ہیں۔

عمر نے آگ جمع کیا پھر دروازے کو دھکہ دیا اور گھر میں داخل ہوگئے لیکن حضرت زہرا کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔(۱)

شیعہ بزرگ عالم دین مرحوم سید مرتضی نے اس واقعہ کے سلسلے میں بڑی تفصیلی گفتگو کی ہے مثلاً آپ نے امام جعفر صادق کی اس حدیث کو نقل کیا ہے کہ امام نے فرمایا کہ حضرت علی نے بیعت نہیں کیا یہاں تک کہ آپ کا گھر دھوئیں میں چھپ گیا۔(۲)

اب ہم یہاں پر واقعے کی اصل وجہ کے بارے میں گفتگو کریں گے اور صحیح فیصلے کے ذریعے زندہ ضمیر اور بیدار قلب کو آگاہ کریں گے اور واقعے کی تفصیلات کو اہلسنت کی کتابوں سے پیش کریں گے۔

حضرت علی کو کس طرح مسجد لے گئے

تاریخ اسلام کا یہ باب بھی گذشتہ باب کی طرح بہت تلخ و دردناک ہے کیونکہ ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ حضرت علی جیسی شخصیت کواس انداز سے مسجد لے جائیں گے کہ معاویہ ۴۰ سال کے بعد اس چیز کو بطورطعنہ پیش کرے وہ امیر المومنین کو خط لکھتے ہوئے آپ کے اس دفاع کی طرف اشارہ کرتا ہے جس سے آپ خلفاء کے زمانے میں روبرو ہوئے تھے۔

یہاں تک کہ خلیفہ تمہاری مہار پکڑے ہوئے ایک نافرمان اونٹ کی طرح بیعت کے لئے مسجد کی طرف کھینچتے ہوئے لائے۔(۳)

امیر المومنین علیہ السلام نے معاویہ کو جواب دیتے ہوئے اشارتاً اصل موضوع کو قبول کرتے ہوئے اسے اپنی مظلومیت بتاتے ہوئے لکھا:

''(اے معاویہ) تو نے لکھا ہے کہ میں ایک نافرمان اونٹ کی طرح بیعت کے لئے مسجد میں لایا گیا. خدا کی قسم تو نے چاہا کہ مجھ پر تنقید کرے لیکن حقیقت میں میری تعریف کی ہے تو نے چاہا کہ مجھے رسوا

______________________

(۱) اصل سلیم ص۷۴ طبع نجف اشرف

(۲)والله ما بایع علی حتی رأی الدخان قد دخل بیته'' تلخیص الشافی ج۳ ص ۷۶

(۳) معاویہ کے خط کی عبارت کو ابن ابی الحدید نے اپنی شرح (ج۱۵ ص ۱۸۶) میں نقل کیا ہے۔


کرے، لیکن خود تم نے اپنے کو رسوا و ذلیل کیا مسلمان اگر مظلوم ہو تو وہ قابل اعتراض نہیں ہے۔(۱) صرف ابن ابی الحدید ہی نے امام علیہ السلام پر ہوئی جسارت کو تحریر نہیں کیا ہے بلکہ اس سے پہلے ابن عبدر بہ نے اپنی کتاب عقد الفرید ج۲ ص ۲۸۵، پر اور ان کے بعد ''صبح الاعشی'' کے مؤلف نے (ج۱، ص ۱۲۸) پر بھی نقل کیا ہے۔قابل تعجب بات یہ ہے کہ ابن ابی الحدید جب امام علیہ السلام کے نہج البلاغہ کے اٹھائیسویں خطبہ کی شرح کرتا ہے تو حضرت علی اور معاویہ کے نامہ کو نقل کرتا ہے اور واقعہ کے صحیح ہونے کے بارے میں ذرا بھی شک نہیں کرتا، لیکن اپنی کتاب کے شروع میں جب وہ ۲۶ ویں خطبہ کی شرح سے فارغ ہوتا ہے تو اصل واقعہ سے انکار کردیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس طرح کے مطالب کو صرف شیعوں نے نقل کیا ہے اور ان کے علاوہ کسی نے نقل نہیں کیا ہے۔(۲)

حضرت زہرا کے ساتھ ناروا سلوک

تیسرا سوال یہ تھا کہ کیا حضرت علی سے بیعت لیتے وقت پیغمبر کی بیٹی کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیاتھا اور ان کو صدمہ پہونچا تھا یا نہیں ؟شیعہ دانشمندوں کی نظر میں اس سوال کا جواب ان گذشتہ دو جوابوں سے زیادہ دردناک ہے کیونکہ جب ان لوگوں نے چاہا کہ حضرت علی کو مسجد لے جائیں اس وقت حضرت زہرا نے ان کا دفاع کیا اور حضرت فاطمہ نے اپنے شوہر کے بچانے میں بہت زیادہ جسمانی اور روحانی تکلیفیں برداشت کیں کہ زبان و قلم جن کے لکھنے اور کہنے سے عاجز ہے۔(۳) لیکن اہلسنت کے دانشمندوں نے خلیفہ کے مقام ومنصب کا دفاع کرتے ہوئے تاریخ اسلام کے اس باب کو لکھنے سے پرہیز کیا ہے یہاں تک کہ ابن ابی الحدید نے بھی اپنی شرح میں ایسے مسائل میں سے جاناہے کہ مسلمانوں کے درمیان صرف شیعوں نے انہیں نقل کیا ہے۔(۴)

______________________

(۱) نہج البلاغہ، نامہ ۲۸

(۲) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲ ص ۶۰

(۳) شیعہ کتابوں میں سلیم بن قیس نے تفصیل کے ساتھ (صفحہ ۷۴ کے بعد) بیان کیا ہے۔

(۴) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲ ص ۶۰


شیعوں کے بزرگ عالم دین مرحوم سید مرتضی کہتے ہیں:

شروع شروع میں محدثین اور مؤرخین نے جو کچھ بھی پیغمبر کی بیٹی کے ساتھ جسارتیںہوئیں اس کو لکھنے سے پرہیز نہیں کیا تھا اور ان کے درمیان یہ بات مشہور تھی کہ خلیفہ کے حکم سے عمر نے حضرت فاطمہ کے پہلو پر دروازہ گرایا اور جو بچہ آپ کے شکم میں تھا وہ ساقط ہوگیا اور قنفذ نے عمر کے حکم سے حضرت زہرا کو تازیانہ مارا تاکہ علی ـکے ہاتھوں کو چھوڑ دیں، لیکن بعد میں جب یہ دیکھا کہ اگر ایسے ہی نقل کرتے رہے تو خلفاء کے اوپر آنچ آئے گی لہذا اسی وقت سے اس واقعے کو تحریر کرنے سے پرہیز کرنے لگے۔(۱)

سید مرتضی کے کلام پر گواہ یہ ہے کہ اہلسنت کے مؤرخین و محدثین نے اس واقعہ کو بہت ہی نظر انداز کیا اورلکھنے سے پرہیز کیا مگر پھربھی ان کی کتابوں میں یہ واقعہ موجود ہے. شہرستانی نے معتزلہ کے رئیس ابراہیم بن سیار مشہور عظام سے نقل کیا ہے، وہ کہتا ہے:

عمر نے بیعت لینے کے وقت دروازہ کو حضرت زہرا کے پہلو پر گرایا اور جو بچہ آپ کے شکم میں تھا وہ ساقط ہوگیا پھر اس نے حکم دیا کہ گھر کوگھر والوں سمت جب کہ گھر میں علی و فاطمہ حسن و حسین کے علاوہ کوئی دوسرا نہ تھا۔(۲)

______________________

(۱) تلخیص الشافی ج۳ ص ۷۶، شافی سید مرتضی کی کتاب ہے جس کو شیخ طوسی نے خلاصہ کیا ہے۔

(۲) ملل و نحل ج۲ ص۹۵


انسانوں کی انسانوں پر حکومت

وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ خلفاء کی خلافت کو ''انسانوں کی انسانوں پر حکومت'' یاقانون ''مشورہ'' کی توجیہ کریں. وہ ان دو گروہ میں سے ایک ہیں:

۱۔ جو لوگ ہمیشہ یہ چاہتے ہیں کہ اسلامی اصول کو آج کی فکروں اورتعلیمات سے تطبیق کریں اور اس کے ذریعے سے مغربی اور مغرب زدہ لوگوں کو اسلام کی طرف متوجہ کردیںاور ان کے ذہنوں میں یہ بات ڈال دیں کہ انسانوں کی لوگوں پر حکومت یہ آج کی نئی فکر نہیں ہے بلکہ چودہ سو سال پہلے اسلام کے اندر ایسی فکر موجود تھی اور پیغمبر کی وفات کے بعد ان کے صحابہ نے خلیفہ منتخب کرتے وقت اس کا سہارا لیا تھا۔

اس گروہ نے اگرچہ اس راہ میں خلوص نیت کے ساتھ قدم اٹھایا لیکن افسوس اسلامی مسائل کی تحقیق نہیں کیا اوراس کے ماہروںکی طرف بھی رجوع نہیں کیا اور ایک بے کار و بے ہودہ اور دھوکہ دینے والے موضوع پر بھروسہ کر رکھا جس کی وجہ سے ادھر ادھر کی باتیں کرتے ہیں۔

۲۔ ایک گروہ جو کسی علت کی بنا پر شیعہ علماء سے گلہ رکھتے ہیں اور کبھی کبھی بعض تحریکوں کی وجہ سے سنیت کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور مختلف قسم کی اخلاقی خرابیوں اور عقیدتی انحرافات سے مقابلہ کرنے کے بجائے مومن نوجوانوں بلکہ سادہ لوح افراد کے لئے وبال جان بن جاتے ہیں اور ان کے شیعی عقیدوں کو کمزور کردیتے ہیں۔


پہلے گروہ کی غلطیوں کا جبران ہوسکتا ہے اور اگر ان کو صحیح اور قابل اعتماد حوالے دیئے جائیں تو وہ اپنی غلطیوں اور بھٹکی ہوئی راہ سے واپس آجائیں گے لہذا ان کے بارے میں ناسزا کہنا درست نہیں ہے بلکہ ان کے ساتھ بہترین خدمت یہ ہے کہ ہمیشہ ان سے رابطہ بنائیں رکھیںاور اپنے فکری اور علمی رابطے کو ان سے منقطع نہ کریں۔

لیکن دوسرے گروہ کی اصلاح اور ہدایت کرنا بہت مشکل ہے ،علاوہ اس کے کہ وہ گلہ رکھتے ہیں دین کے متعلق صحیح اور زیادہ معلومات نہیں رکھتے، لہذا انہیں راہ راست پر لانے کی کوشش کرنا بے فائدہ ہے، سوائے اس کے کہ کوئی ایسا کام کیا جائے کہ سادہ لوح نوجوان اور دینی معلومات سے بے بہرہ افراد ان کے جال میں نہ پھنس جائیں اور اگر پھنس جائے تو کوشش کی جائے کہ ان کے دلوں سے سارے شبھات دور ہو جائیں ۔

کیاعقل اور شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ حاکم کے مامور کئے ہوئے لوگ نیزے کے زور پر کسی کے گھر پر حملہ کریں اور اس گھر میں پناہ لئے ہوئے افراد کو مسجد میں لائیں اور ان سے بیعت لیں؟

کیا ڈیموکریسی کے معنی یہی ہیں کہ حاکم کے گروہ کا سردار بعض گروہوں کو حکم دے کہ مخالف یا حمایت نہ کرنے والے افراد سے جبراً و زبردستی بیعت لیں اور اگر وہ لوگ بیعت نہ کریں تو ان سے جنگ کی جائے ؟

تاریخ شاہد ہے کہ گروہ حاکم کے تمام افراد سے پہلے عمر نے بیعت لینے اور ووٹ حاصل کرنے میں بہت زیادہ اصرار کیا بلکہ جنگ تک کرنے کے لئے آمادہ ہوگئے۔

زبیر بھی حضرت فاطمہ زہرا کے گھر میں پناہ لئے ہوئے تھے اور ابھی خاندان رسالت سے انہوں نے بغاوت نہیں کی تھی جب سپاہیوں نے حضرت فاطمہ کے گھر میں پناہ لینے والوں کو گھر سے نکالنے کے لئے بہت زیادہ کوششیں کیں اس وقت زبیر ننگی تلوارلے کر گھر سے باہر آئے اور کہا ہم ہرگز بیعت نہیں کریں گے نہ صرف یہ کہ بیعت نہیں کریں گے بلکہ سب کے لئے ضروری ہے کہ علی کی بیعت کریں۔


زبیر اسلام کا مشہور پہلوان، بہادر اورتلوار چلانے میں ماہر تھا اور اس کے تلوار کا لگایا ہوا زخم دوسروں کے لگائے ہوئے تلوار کے زخم کے درمیان نمایاں رہتا تھا اس وجہ سے سپاہیوںنے خطرہ محسوس کیا اور سب نے مل کر یکبارگی حملہ کر کے اس کے ہاتھ سے تلوار کو چھین لیا اورایک بہت بڑا قتل عام ہونے سے بچالیا ، آخر عمر جو اتنا اصرار کر رہے تھے اس کی فداکاری کی وجہ کیاتھی؟ کیا حقیقت میں عمر خلوص نیت سے اس واقعہ میں پیش پیش تھے یا یہ کہ ان کے اور ابوبکر کے درمیان کوئی معاہدہ ہوا تھا؟

امیر المومنین علیہ السلام جس وقت خلافت کے نمائندوں کے دبائو میں تھے اور ہمیشہ قتل کی دھمکیوں سے ڈرائے جاتے تھے اس وقت آپ نے عمر سے کہا:

''اے عمر اس (خلافت )کو لے لو کیونکہ وہ تمہارا آدھا مال ہے اور مرکب خلافت کوابوبکر کے لئے محکم باندھ دو تاکہ کل تمہیں واپس کردے۔(۱) اگر ابوبکر کے لئے بیعت کا لینا حقیقت میں ڈیموکریسی کے اصول کے مطابق ہوتا او راس آیت ''امرہم شوری بینہم'' کا مصداق ہوتا، تو اپنی زندگی کے آخری دنوں میں کیوں وہ افسوس کر رہے تھے کہ کاش میں نے یہ تین کام انجام نہ دئیے ہوتے:

۱۔ اے کاش میں نے فاطمہ کے گھر کا احترام اوراس کی حفاظت کیا ہوتا اور حملہ کرنے کا حکم نہ دیا ہوتا یہاں تک کہ اگر انھوں نے سپاہیوں کے لئے دروازہ بند کردیاتھا۔

۲۔ اے کاش سقیفہ کے دن خلافت کی ذمہ داریوں کو اپنے کاندھوں پر نہ لیتا اور اسے عمر اور ابوعبیدہ کے حوالے کردیتا اور خود ان کا وزیر یامعاون ہوتا۔

______________________

(۱) الامامة و السیاسة ج۱ ص ۱۲، خطبہ شقشقیہ میں تقریبا اسی مفہوم کو بیان کیاہے:لشد ما تشطرا ضرعیها...


۳۔ اے کاش ایاس بن عبد اللہ معروف بہ ''الفجاة'' کو نہ جلایا ہوتا۔(۱)

نہایت افسوس کا مقام ہے کہ اس زمانے کے مشہور شاعر محمد حافظ ابراہیم مصری جن کا انتقال ۱۳۵۱ھ میں ہوا اپنے قصیدے ''عمریہ'' میں خلیفہ دوم نے جو حضرت فاطمہ کی شان میں گستاخی اوراہانت کی اس کی ستائش کی ، وہ کہتا ہے۔

و قولةٍ لعلٍّ قالها عمرُ-----اکرمِ بسامعِها اعظم بملقیها

حرقتُ دارَک لا أبُقی علیک بها-----ان لم تبایعُ و بنتُ المصطفی فیها

ماکان غیرُ ابی حفص یفوه بها-----امام فارسِ عدنانٍ و حامیها(۲)

اس بات کو یاد کرو جو عمر نے علی ـسے کہاتھا: سننے والے کا احترام کرو اور کہنے والے کو محترم جانو ۔

عمر نے علی ـ سے کہا: اگر بیعت نہیں کرو گے تو تمہارے گھر کو جلادوں گا اور اس گھر میں رکنے کی اجازت نہیں دوں گا اوراس نے یہ بات اس وقت کہی کہ پیغمبر کی بیٹی گھر میں موجود تھیں۔یہ بات عمر کے علاوہ کوئی نہیں کہہ سکتا وہ بھی عدنان عرب اور اس کے حامیوں کے شہسوار کے مقابلے میں یہ شاعر عقل و خرد سے دور رہ کر وہ ظلم و فساد جس سے عرش الہی لرز جاتا ہے چاہتا ہے کہ خلیفہ کے اس عمل کو مفاخر میں شمار کرے کیا یہ افتخار کی بات ہے کہ پیغمبر کی بیٹی کا عمر کے نزدیک کوئی احترام نہیں تھا اور وہ صرف ابوبکر کی بیعت لینے کے اس خاطر پیغمبر کے گھر اور ان کی بیٹی کو جلادے؟!

اور یہ بات بھی عجیب ہے جسے عقد الفرید نے نقل کیا ہے جس وقت علی کو مسجد میں لائے تو خلیفہ نے ان سے کہا کہ کیا میری خلافت سے آپ ناراض ہیں؟ تو علی ـنے کہا: نہیں ۔ بلکہ میں نے خود عہد کیا تھا کہ رسول خدا کی رحلت کے بعد اپنے دوش پر ردا نہیں ڈالوں گا جب تک کہ قرآن کو جمع نہیں کرلوں گا اور اسی وجہ سے میں دوسروں سے پیچھے رہ گیا. اور پھر خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرلی(۳) جب کہ وہ خود اور دوسرے افراد

______________________

(۱) تاریخ طبری ج۳ ص ۲۳۶، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲ ص ۴۶۳

(۲) دیوان شاعر نیل ج۱ ص ۸۴

(۳) عقد الفرید ج۴ص ۲۶۰


عائشہ سے نقل کرتے ہیں کہ چھ مہینے تک جب تک حضرت فاطمہ زندہ تھیں علی ـنے بیعت نہیں کیا اور ان کی شہادت کے بعد خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔(۱)

لیکن نہ صرف یہ کہ علی ـ نے بیعت نہیں کیا اور نہج البلاغہ کے خطبات آپ کی اس حقانیت پر گواہ ہیں، بلکہ وہ افراد بھی جن کے نام سے واقعہ سقیفہ کی تشریح کرتے وقت ہم آشنا ہوئے ہیں ان لوگوںنے بھی خلیفہ کی بیعت نہ کی، اور جناب سلمان جو حضرت علی کی ولایت کے سب سے بڑے حامی تھے ابوبکر کی خلافت کے بارے میں کہتے ہیں:

''خلافت کو ایسے شخص کے حوالے کیا کہ جو فقط تم سے عمر میں بڑا ہے اور پیغمبر کے اہلبیت کو نظر انداز کردیا حالانکہ اگر خلافت کو اس کے محور سے خارج نہ کرتے تو ہرگز اختلاف نہ ہوتا اور سبھی خلافت کے بہترین میوے (حق) سے بہرہ مند ہوتے۔(۲)

______________________

(۱) عقد الفرید ج۴ص ۲۶۰

(۲) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲ ص ۶۹


چوتھی فصل

حضرت علی علیہ السلام اور فدک

فدک کی اقتصادی اہمیت

سقیفہ کی الجھنیں خلیفہ کے انتخاب کی وجہ سے ختم ہوئیں اور ابوبکر نے خلافت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے لی. حضرت علی اپنے باوفا اصحاب کے ہمراہ حکومت کے جاہ و حشتم سے دور ہوگئے لیکن اپنی نوارنی فکروں اور عام لوگوں کے ذہنوں کی فکر و آگہی کے لئے اتحاد و اتفاق کی برقراری کے لئے حکومت کی مخالفت نہیں کی ، بلکہ قرآن کی تفسیر و تعلیمات اوراعلی مفاہیم ، صحیح فیصلوں اوراہل کتاب کے دانشمندوں کے ساتھ استدلال و احتجاجات وغیرہ اور اجتماعی و فردی خدمات انجام دینے لگے۔

امام تمام مسلمانوں کے درمیان سب سے زیادہ باکمال تھے اور کبھی بھی یہ ممکن نہ تھا کہ آپ کے دشمن آپ سے یہ کمالات چھین سکیں ، آپ پیغمبر کے چچازاد بھائی اور داماد، وصی ٔ بلافصل اور مجاہد نامدار، اور اسلام کے بڑے جانباز اورشہر علم پیغمبر کے دروازہ تھے، کسی بھی شخص میں اتنی ہمت نہیں جو اسلام میں ان کی سبقت اور آپ کے وسیع علم اور قرآن و حدیث، اصول و فروع دین اور آسمانی کتابوں پر تسلط کا انکار کرسکے، یا ان تمام فضائل کوان سے چھین سکے۔

ان فضائل کے علاوہ امام علیہ السلام کے پاس ایک ایسی چیز تھی جس کی وجہ سے ممکن تھا کہ آئندہ، خلفاء اس کی وجہ سے مشکل میں گرفتار ہوتے اور وہ اقتصادی و آمدنی جیسی قدرت تھی جو فدک کے ذریعے آپ کو حاصل ہو رہی تھی۔

اسی وجہ سے خلیفہ نے دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے چاہاکہ اس قدرت کو امام کے ہاتھوں سے لے لے، کیونکہ یہ امتیاز دوسرے امتیازات کی طرح نہ تھا جو امام کے ہاتھوں سے نہ لیا جاسکے(۱)

________________

(۱) اس بحث کی تفصیلات کو باب 'فدک غصب کرنے کا مقصد ''میں پڑھیں گے۔


فدک کا جغرافیہ

بہترین اور آباد سرزمین جو خیبر کے قریب واقع ہے اور مدینے سے فدک کا فاصلہ تقریباً ۱۴۰ کیلو میٹرہے اورقلعہ خیبر کے بعد حجاز کے یہودیوں کے ٹھہرنے کی جگہ کے نام سے مشہور تھا اسی جگہ کو قریۂ ''فدک'' کہتے ہیں۔(۱) پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہودیوں کے لشکر کو ''خیبر'' اور ''وادی القریٰ'' اور ''تیما'' میں شکست دینے کے بعدجب مدینہ کے شمال میں ایک بڑے خلاء کا احساس کیا تو اسے اسلام کے سپاہیوں سے پر کردیا اور اس سرزمین سے یہودیوں کی طاقت و قدرت کو ختم کرنے کے لئے جو کہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے خطرہ کا سبب اور اسلام کی مخالفت شمار ہوتی تھی ایک سفیر جس کا نام ''محیط'' تھااسے فدک کے سردار کے پاس بھیجا یوشع بن نون جو اس دیہات کا رئیس تھا اس نے صلح و آشتی کو جنگ پر ترجیح دیا اور وہاں کے رہنے والے اس بات پر راضی ہوگئے کہ ہر سال کا آدھا غلہ پیغمبر اسلام کو دیں گے اور اسلام کے پرچم تلے زندگی بسر کریں گے اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں نہیں کریں گے۔ اسلامی حکومت نے بھی ان کی حفاظت و سلامتی کی ذمہ داری قبول کرلی اسلامی قانون کے مطابق ہر وہ زمین جو جنگ و جدال کے ذریعے حاصل ہو وہ تمام مسلمانوں کی ملکیت ہوتی ہے ا ور اس کی ذمہ داری اور نظارت حاکم شرع کے ہاتھ میںہوتی ہے لیکن وہ زمینیں جو بغیر کسی حملہ اور جنگ کے مسلمانوں کو حاصل ہوں.وہ پیغمبر یا اس کے بعد کے امام کی ملکیت ہوتی ہیں اور جو قوانین و شرائط اسلام نے معین کئے ہیں الٰہی موارد میںصرف ہوتی ہیں ایک مورد یہ ہے کہ پیغمبراور امام اپنے قریبی افراد کی شرعی حاجتوں کو پورا کرنے اور ان کی عزت و آبرو کو محفوظ رکھنے کے لئے خرچ کریں۔(۲)

فدک، پیغمبراسلام(ص) کی طرف سے حضرت فاطمہ کو ہدیہ تھا

شیعہ محدثین و مورخین اور اہل سنت کے دانشمندوں کا ایک گروہ تحریر کرتا ہے:جب آیت( وآتِ ذَا الْقُرْبیٰ حَقَّه وَ الْمِسْکِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْل ) (۳) نازل ہوئی اس وقت پیغمبر(ص) نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا کو بلایااور فدک کو ان کے

________________

(۱) معجم البلدان و مراصد الاطلاع میں ''مادۂ فدک'' کی طرف رجوع کریں۔

(۲) سورۂ حشر، آیت ۶ و ۷، فقہ کی کتابوںمیں باب جہاد بحث ''فیٔ'' میں اس کو بیان کیا گیا ہے۔

(۳) سورۂ اسرائ، آیت ۲۶، یعنی اپنے رشتہ داروں، مسکینوں، اور مفلسوں کے حق کو ادا کرو۔

حوالے کیا(۱) اور اس مطلب کو پیغمبرکے ایک بزرگ صحابی ابوسعیدخدری نے نقل کیا ہے۔تمام مفسرین شیعہ و سنی کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ آیت پیغمبر کے قریبی رشتہ داروںکی شان میں نازل ہوئی ہے اور آپ کی بیٹی ''ذا القربی'' کی بہترین مصداق ہیں، یہاں تک کہ جب شام کے ایک شخص نے حضرت علی بن الحسین زین العابدین علیہ السلام سے کہا کہ آپ اپنا تعارف کرائیے اس وقت آپ نے شامیوں کے سامنے اپنے کو پہچنوانے کے لئے اسی آیت کی تلاوت کی اور یہ مطلب مسلمانوں کے درمیان اتنا واضح و روشن تھاکہ اس شامی نے تصدیق کے طور پر سر کو ہلاتے ہوئے حضرت سے یہ کہا کہ آپ کی رسول اسلام سے قربت اور خاص رشتہ داری کی وجہ سے ہی خدا نے پیغمبر کو حکم دیا کہ آپ کے حق کو آپ کو دے دیں ''(۲)

خلاصہ یہ کہ یہ آیت حضرت فاطمہ زہرا اور ان کے فرزندوں کی شان میں نازل ہوئی ہے اور اس سلسلے میں تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے لیکن یہ بات کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اس وقت پیغمبر نے فدک کو اپنی بیٹی کو بطور ہدیہ دیاتھا یا نہیں تو اس بارے میں. تمام شیعہ محققین اور کچھ سنی محققین قائل ہیں کہ اس کو آپ نے اپنی بیٹی کو ہدیہ میں دیا تھا

______________________

(۱) مجمع البیان ج۳ ص ۴۱۱ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۱۶ ص ۲۶۸ الدر المنثورج۴ص ۱۷۷

(۲) الدر المنثور ج۴ ص ۱۷۶


پیغمبراسلا م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فدک اپنی بیٹی کو کیوں دیا؟

پیغمبراسلام اور آپ کے خاندان کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ لوگ کبھی بھی دنیا کے دلدادہ نہیں تھے اور جس چیز کی ان کی نظر میں وقعت نہیں رکھتی تھی وہ دنیا کی دولت تھی اس کے باوجودہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر نے فدک اپنی بیٹی کودے دیا اور اسے حضرت علی کے خاندان سے مخصوص کردیااب یہاں پر یہ سوال پیداہوتا ہے کہ آخر کیوں پیغمبر نے فدک فاطمہ زہرا کو دیااس سوال کے جواب کی کئی وجہیں ذکر ہوئی ہیں۔

۱۔ پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد مسلمانوں کی تمام ذمہ داریاں حضرت علی علیہ السلام پر تھیں اور یہ مقام و منصب بہت سنگین اوراسکے لئے زیادہ دولت کی ضروررت تھی حضرت علی خلافت کے تمام امور کی دیکھ بھال فدک سے حاصل ہوئی آمدنی سے اچھے طریقے سے کرسکتے تھے، مگر لگتا ہے کہ خلفاء ،پیغمبر کی اس پیشنگوئی سے آگاہ ہوگئے تھے اسی لئے خلافت کی مسند پر بیٹھتے ہی فدک کو پیغمبر کے خاندان سےچھین لیا ۔

۲۔ خاندان پیغمبر جس میںمظہر کامل آپ کی بیٹی اور آپ کے دو نور چشم حضرت حسن اور حضرت حسین علیھما السلام تھے ضروری تھاکہ پیغمبر کی وفات کے بعد عزت کے ساتھ زندگی بسر کریں اور رسول اسلام کی عزت و شرافت وحیثیت اوران کا خاندان ہر طرح سے محفوظ رہے اسی مقصد کے تحت پیغمبر نے فدک اپنی بیٹی کو دیا تھا۔


۳۔ پیغمبر اسلام یہ جانتے تھے کہ ایک گروہ حضرت علی سے اپنے دل میں کینہ رکھے ہوئے ہے کیونکہ ان کے بہت سے رشتہ دار و احباب مختلف جنگوں میں حضرت علی کی تلوار سے مارے گئے ہیں ان کے دلوں سے کینہ دور کرنے کا ایک راستہ یہ تھا کہ امام مالی امداد کر کے ان کی دلجوئی کریں ،ان کے دلوں کو اپنی طرف مائل کریں، اسی طرح بیواؤں اور مفلسوں اور لاچاروں کی مدد کریں اور اس طرح سے ان تمام موانع کو جو آپ کو خلافت سے قریب ہونے سے روک رہے تھے ان کو دور کریں پیغمبر اسلام (ص) اگرچہ ظاہری طور پر فدک حضرت زہرا کو دیا تھا لیکن اس کی درآمد کا اختیار صاحب ولایت کے ہاتھوں میں تھا. تاکہ اس کے ذریعے سے اپنی زندگی کی ضرورتوں کو پورا کرتے اور اسلام و مسلمین کے فائدے کے لئے خرچ کریں۔

فدک کی آمدنی

تاریخ پر نگاہ کرنے کے بعدیہ تینوں باتیں صحیح معلوم ہوتی ہیں کیونکہ فدک ایک سرسبز و شاداب زمین تھی جو حضرت علی علیہ السلام کے مقصد کی کامیابی کے لئے بہترین معاون ثابت ہوتی۔

مشہور مورخ حلبی اپنی کتاب سیرۂ حلبی میں لکھتے ہیں:

''ابوبکر مائل تھے کہ فدک پیغمبر کی بیٹی کے پاس رہے اور فاطمہ کی ملکیت کوانہوں نے ایک کاغذ پر لکھ دیا لیکن عمر نے فاطمہ کووہ توشہ دینے سے منع کردیا اور ابوبکر کی طرف رخ کر کے کہا : آئندہ تمہیں فدک کی آمدنی کی سخت ضرورت پڑے گی کیونکہ اگر مشرکین عرب مسلمانوں کے خلاف قیام کریں تو جنگ کے تمام اخراجات کو کہاں سے پورا کرو گے؟(۱)

اس جملے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ فدک کی آمدنی اس قدر تھی کہ دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنے

______________________

(۱) سیرۂ حلبی ج۳ص ۴۰۰


میں جو اخراجات ہوتے اس کو پورا کردیتی اسی وجہ سے ضروری تھا کہ پیغمبر اس اقتصادی قدرت کو حضرت علی کے اختیار میں دیدے۔

ابن ابی الحدید کہتے ہیں:

میں نے مذہب امامیہ کے ایک دانشورسے فدک کے بارے میں کہا: فدک کا علاقہ اتنا وسیع نہ تھا اور اتنی کم زمین کہ جس میں چند کھجور کے درخت کے علاوہ کچھ نہ تھا، لہذا مخالفین فاطمہ کے لئے اتنا اہم نہ تھا کہ اس کی لالچ کرتے، تو انھوں نے میرے جواب میں کہا کہ تم غلط کہہ رہے ہو، وہاں پر کھجور کے درخت آج کے درختوں سے کم نہ تھے اور مکمل طریقے سے اس حاصل خیز زمین سے خاندان پیغمبر کو استفاد ہ کرنے سے منع کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ایسا نہ ہو کہ حضرت علی اس کی آمدنی سے خلافت کے خلاف قیام کریں اس لئے نہ صرف فاطمہ کو فدک سے محروم کیا بلکہ تمام بنی ہاشم او رعبد المطلب کے فرزندوں کو ان کے شرعی حقوق (خمس، غنیمت) سے بھی محروم کردیا۔

کیونکہ جو لوگ ہمیشہ اپنی زندگی کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں لگے رہتے ہیںوہ کبھی جنگ و جدال کے خیال کو اپنی ذہن میں نہیں لاتے۔(۱)

امام موسیٰ بن جعفرعلیہ السلام فدک کے حدود و علاقہ کو اس حدیث میں معین کرتے ہیں: ''فدک کا رقبہ ایک سمت سے عدن اور دوسری طرف سے سمر قند اورتیسری طرف سے افریقہ اور چوتھی طرف سے بہت سے دریاؤںاورجزیروں اور جنگلوں سے ملتا ہے'(۲)

حقیقت میں فدک جو کہ خیبر کا جزء تھا اتنا وسیع و عریض نہ تھا بلکہ امام موسٰی کاظم علیہ السلام کا مقصد یہ تھا کہ صرف ہم سے فدک کو غصب نہیں کیا ہے بلکہ تمام اسلامی ممالک کی حکومت کو اتنی مقدار میں جتنی امام نے معین کئے ہیںاہلبیت سے چھین لیا گیا۔ پیغمبر اسلام (ص) نے فدک کو چوبیس ہزار دینار میں کرایہ پر دیدیا بعض حدیثوں میں ۷۰ ہزار دینار نقل ہوا ہے اور یہ فرق سالانہ آمدنی کی وجہ سے ہے۔

_____________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ج۱۶ص ۲۳۶

(۲) بحار الانوار ج۴۸ ص ۱۴۴


قطب الدین راوندی لکھتے ہیں:

جب معاویہ خلافت کی کرسی پر بیٹھا تواس نے فدک کو تین حصوں میں تقسیم کیا ایک تہائی مروان بن حکم اور ایک تہائی عمر بن عثمان اور ایک تہائی اپنے بیٹے یزید کو دیااور جب مروان خلیفہ بنا تو اس نے فدک کو اپنی جاگیر بنالیا(۱) اس طرح کی تقسیم سے واضح ہوتا ہے کہ فدک ایک اہم ترین سرزمین تھی جسے معاویہ نے تین آدمیوں میں تقسم کیا اور تینوں اس کے اہم رشتہ داروں میں سے تھے۔

جس وقت حضرت فاطمہ زہرا نے ابوبکر سے فدک کے سلسلے میں گفتگو کی اور اپنی بات کی صداقت کے لئے گواہوں کو ان کے پاس لے گئیںاس وقت انہوں نے پیغمبر کی بیٹی کے جواب میں کہا: فدک پیغمبر کا مال نہیں تھابلکہ مسلمانوں کا مال تھا جس کی آمدنی سے سپاہیوں کے اخراجات پورے ہوتے تھے اور دشمنوں سے جنگ کے لئے بھیجے جاتے تھے اور خدا کی راہ میں خرچ کرتے تھے۔(۲)

پیغمبر اسلام (ص ) فدک کی آمدنی سے سپاہیوں کو آمادہ کرتے تھے یا اسے بنی ہاشم اور درماندہ لوگوں میں تقسیم کرتے تھے اور یہ زمین خیبر کی ایسی زمینوں میں سے تھی جس کی آمدنی بہت زیادہ تھی جو سپاہیوں کے خرچ کے لئے کافی تھی۔

جب عمر نے چاپاکہ شبہہ جزیرہ کو یہودیوں سے خالی کرائیںتو ان لوگوں کو دھمکی دی کہ اپنی اپنی زمینوں کو اسلامی حکومت کے حوالے کرو اور اس کی قیمت لے لو اور فدک کو خالی کردو۔

پیغمبراسلام(ص) نے ابتدا سے ہی فدک میں رہنے والے افراد سے معاہدہ کیا تھا کہ آدھی زمین ان کے اختیار میں رہے گی اور بقیہ آدھی زمین کو رسول خدا کے حوالے کریںگے اسی وجہ سے خلیفہ نے ابن تیہان ،فروہ، حباب، اور زید بن ثابت کو فدک بھیجا تاکہ جتنی مقدار میں ان لوگوں نے غصب کیا تھا اس کی اجرت و قیمت معین ہونے کے بعد یہودیوں کو جو وہاں ساکن تھے ادا کریں ان لوگوں نے یہودیوں کا حصہ پچاس ہزار درہم معین کیا اور عمر نے اس رقم کو اس مال سے ادا کیا جو عراق سے حاصل ہوا تھا۔(۳)

_____________________

(۱) بحار الانوارج۱۶ص ۲۱۶

(۲) بحار الانوارج ۱۶ص ۲۱۴

(۳) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۱۶ص ۲۱۱


فدک غصب کرنے کا مقصد

پیغمبر اسلام کے دنیا پرست اصحاب کے لئے ابوبکر کی خلافت و جانشینی کامیابی کا پہلا زینہ تھا اور خزرج جو گروہ انصار کے سب سے زیادہ طاقتور افراد تھے دوسرے گروہ سے مخالفت کر کے داخلی جنگ سے پیچھے ہٹ گئے تھے اور بنی ہاشم نے جس کے رئیس حضرت علی علیہ السلام تھے ان علتوں کی بنا پر جس کا ہم نے ذکر کیاہے لوگوں کے سامنے حقیقت آشکار کرنے کے بعد گروہ بندی اور مسلحانہ قیام سے پرہیز کیا۔لیکن مدینہ میں صرف یہی کامیابی خلافت کے لئے کافی نہ تھی بلکہ مکہ کی حمایت بھی ضروری تھی لیکن بنی امیہ جس کا سرپرست ابوسفیان تھا ،جس کے پاس بہت زیادہ افراد تھے اس نے خلیفہ کی خلافت کو رسماً قبول نہیں کیا تھا، وہ لوگ اس بات کے منتظر تھے کہ ابوسفیان خلافت کی تائید کرے گا اور تمام احکامات و قوانین کو معین کرے گا۔

جب مکہ میں پیغمبر کے رحلت کی خبر پہونچی اس وقت مکہ کا حاکم عتاب بن اسید بن العاص تھا جس کی عمر ۲۰ سال تھی اس نے تمام لوگوں کو پیغمبر کے رحلت کی خبر سنائی لیکن خلافت و جانشینی کی خبر کے بارے میں لوگوں سے کچھ نہ کہا جب کہ دونوں واقع ایک ہی ساتھ آئے تھے اور دونوں کی خبر پھیل گئی تھی بہت بعید ہے کہ دونوں میں سے ایک واقعہ کی خبر مکہ پہونچے لیکن دوسرے واقعہ کی خبر مکہ نہ پہونچے مکہ کے اموی حاکم کی خاموشی کی علت صرف یہ تھی کہ وہ اپنے خاندان کے رئیس ابوسفیان کے نظریہ سے باخبر ہو جائے پھر اس کے نظریہ کے مطابق عمل کرے۔ان تمام حقایق کے پیش نظر، خلیفہ یہ بات جانتا تھا کہ اس کی حکومت مخالفین کے مقابلے میں بہت دنوں تک قائم نہیں رہ سکتی. لہذا ضروری تھاکہ مخالفوں کے عقائد و نظریات سے باخبر ہو تاکہ ان سے زیادہ عقائد و نظریات کو پیش کرے جس کی بنا پر ان کے عقائد و غیرہ کا اثر لوگوں کے دلوں پر نہ پڑے کیونکہ ایسی صورت میں حکومت کا بہت دنوں تک قائم رہنا بہت مشکل کام تھا۔

تمام لوگوں میں سے ایک با اثر شخص بنی امیہ کے عزیزوں کا رئیس ابوسفیان تھا اس کا نظریہ معلوم ہوسکتا تھا کیونکہ وہ ابوبکر کی حکومت کا مخالف تھااور جب اس نے سنا کہ ابوبکر نے حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے لی ہے تو اس نے اعتراض کیا ''مجھے ابوفضیل سے کیا مطلب؟'' یہ وہی تھا جو مدینہ میں داخل ہونے کے بعد حضرت علی اور عباس کے گھر گیا اوردونوں کو مسلحانہ قیام کے لئے دعوت دی اور کہا کہ ''میں مدینے کو سواروں اور سپاہیوں سے بھر دوں گا، تم لوگ اٹھو اور حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لو''


ابوبکرنے اس کو خاموش کرنے اور اس کو خریدنے کے لئے جو مال و دولت ابوسفیان لے کر آیاتھا اسی کو دیدیااور ایک دینار تک اس میں سے نہ لیا، بلکہ صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے بیٹے یزید (معاویہ کا بھائی) کو شام کی حکومت کے لئے منتخب کرلیا، جب ابوسفیان کو یہ خبر ملی کہ اس کے بیٹے کو حکومت ملی ہے تو فوراً اس نے کہا: ابوبکر نے صلۂ رحم کیاہے(۱) جب کہ اس سے پہلے ابوسفیان ابوبکر سے کسی بھی طرح کا رشتہ جوڑ نے کا قائل نہیں تھا۔

ابوسفیان کے علاوہ اور دوسرے افراد جن کا عقیدہ خریدا جارہا تھا ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ یہاں پر بیان نہیں ہوسکتاکیونکہ سبھی جانتے ہیں کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں ابوبکر کی بیعت مہاجروں کی غیر موجودگی میں ہوئی تھی اور مہاجرین میں سے صرف تین آدمی موجود تھے خود خلیفہ اور ان کے دو ہمفکرو ہم خیال عمر اور ابوعبیدہ ،ظاہر سی بات ہے کہ اس طرح سے بیعت لینے اور مہاجروں کواپنے گروہ میں شامل کرنے کی وجہ سے دوسرا گروہ ناراض ہو گا اس لئے ضروری تھا کہ خلیفہ ان کی ناراضگی کو دور کرے، اور انن سے رابطہ برقرار کرے اس کے علاوہ انصار خصوصاًقبیلہ خزرج والے جنہوں نے سقیفہ میں ہی ان کی بیعت نہیں کی تھی اور غم و غصہ کے عالم میں سقیفہ چھوڑ کر باہر آگئے تھے ان کو خلیفہ کی طرف سے محبت و الفت ملتی رہے۔

خلیفہ نے نہ صرف لوگوں کے عقائد کا سودا کیا بلکہ مال و دولت کو انصار کی عورتوں میں تقسیم کیا جب زید بن ثابت، بنی عدی کی ایک عورت کا حصہ اس کے گھر لایا تو اس محترم عورت نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ زید نے کہا: یہ تمہارا حصہ ہے اور خلیفہ نے تمام عورتوں کے درمیان تقسیم کیا ہے، عورت نے اپنی ذہانت سے سمجھ لیا یہ پیسہ رشوت دینے کے علاوہ کچھ نہیں ہے لہذا اس سے کہا: میرے دین کو خریدنے کے لئے رشوت دے رہے ہو؟ خدا کی قسم! اس کی طرف سے میں کوئی چیز نہیں لوں گی یہ کہہ کر اسے واپس کردیا۔(۱)

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۱، ص ۱۳۳


حکومت کے لئے مالی بحران

پیغمبر اسلام(ص) نے اپنی بیماری کے دوران ان تمام چیزوں کو جو آپ کے پاس تھا لوگوں میں تقسیم کردیاتھا بیت المال خالی تھاپیغمبر کے نمائندے آپ کی رحلت کے بعد بہت کم مال لے کر مدینہ واپس آئے یا اس کو متدین اور امین شخص کے ہاتھوں بھجوا دیا، لیکن یہ مختصر آمدنی (مال) اس حکومت کے لئے جو مخالفوں کے عقیدوں کا سودا کرنا چاہ رہی تھی بہت کم تھی۔

دوسری طرف اطراف کے قبیلے والے مخالفت کا پرچم اٹھائے تھے اور خلیفہ کے نمائندوں کو زکوٰة دینے سے منع کر رہے تھے اس وجہ سے حکومت اقتصادی مشکلا ت سے دوچار ہو رہی تھی ۔

اسی وجہ سے حاکم کے سامنے کوئی راہ نہ تھی مگر یہ کہ حکومت کے اخراجات کے لئے ادھر ادھر ہاتھ پھیلائے اور مال جمع کرے اور اس وقت فدک سے بہتر کوئی چیز نہ تھی، اور اس سلسلے میں پیغمبر سے حدیث کو نقل کیا جس کا تنہا راوی خود خلیفہ تھا(۱) اور فدک کو حضرت فاطمہ سے چھین لیا اور اس کی بے شمار آمدنی حکومت کو مضبوط کرنے کے لئے خرچ کیا۔

عمر نے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے ابوبکر سے کہا: کل تمہیں فدک کی بہت سخت ضرورت پڑے گی کیونکہ اگر مشرکین عرب مسلمانوں کے خلاف قیام کریں تو تم کہاں سے جنگ کے تمام اخراجات کو لاؤ پورا کرو گے۔(۲)

خلیفہ اور ان کے ہمفکروں کا عمل بھی اسی بات کی گواہی دیتا ہے ،کیونکہ جب حضرت فاطمہ نے ان سے فدک کا مطالبہ کیا تو جواب میں کہا: پیغمبر نے تمہاری زندگی کے اخراجات کا انتظام کردیا ہے اور اس کی بقیہ آمدنی کو مسلمانوں میں تقسیم کیا ہے اس لئے تم یہ سب لے کر کیا کرو گی؟

پیغمبر کی بیٹی نے فرمایا: میں بھی اپنے بابا کے عمل کی پیروی کروں گی اور بقیہ آمدنی کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کروں گی۔

______________________

(۱) وہ جعلی حدیث یہ ہے ''نحن معاشر الانبیاء لانورث'' یعنی ہم گروہ انبیاء میراث نہیں چھوڑتے ۔

(۲) سیرۂ حلبی ج۳ص ۴۰۰


جب حضرت فاطمہ نے خلیفہ کو بے جواب کردیاتوانہوں نے کہا: میں بھی یہی کام انجام دوں گا جو تمہارے بابا نے انجام دیا ہے۔(۱)

اگر خلیفہ کا مقصد فدک کے تصرف و خرچ کرنے میں فقط حکم الہی کا جاری کرنا تھا اور فدک کی آمدنی میں سے پیغمبر کے اخراجات نکال کر مسلمانوں کے امور میں صرف کرنا تھا تو کیا فرق تھاکہ اس کام کو وہ انجام دے یا پیغمبر کی بیٹی یا اس کا شوہر انجام دیں جو نص قرآنی کے مطابق گناہوں اور نافرمانیوں سے پاک و منزہ تھا خلیفہ کا اس بات پر اصرار کرنا کہ فدک کی آمدنی ان کے اختیار میں ہو اس بات پر گواہ ہیں کہ ان کی نگاہیں اس آمدنی پر تھی تاکہ اس کے ذریعے اپنی حکومت کو مضبوط اوردیگر امور میں اسکو خرچ کریں۔

فدک غصب کرنے کی ایک اور وجہ

فدک غصب کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی ہے جیساکہ ہم ذکر کرچکے ہیں کہ امیر المومنین علیہ السلام کی اقتصادی طاقت کا ڈر تھا. امام کے اندر رہبری کے شرائط موجود تھے کیونکہ علم، تقوی، اورتابناک ماضی پیغمبر سے قرابت اور پیغمبر کا ان کے متعلق وصیت کرنا یہ ایسے حقائق ہیں جن سے انکار نہیں کرسکتے، اور جب بھی کوئی شخص ان شرائط کے ساتھ مالی طاقت و قدرت بھی رکھتا ہو اور چاہتاہو کہ خلافت کی ڈگمگاتی کرسی کو سہارا دے تو ایسا شخص بہت بڑے خطرے میں پڑ سکتا ہے ایسی صورت میں اگر حضرت علی کے تمام شرائط و امکانات کو غصب کرنا ممکن نہ ہو اور ان کی ذاتی چیزوں کو لینا ممکن نہ ہوتو بھی مگر حضرت علی کی اقتصادی طاقت کوتو غصب کرسکتے تھے اسی وجہ سے خاندان اور حضرت علی کے حالات کو ضعیف کرنے کے لئے فدک کوا س کے حقیقی مالک سے چھین لیا اور پیغمبر کے خاندان کو خلافت و حکومت کا محتاج بنادیا۔یہ حقیقت عمر او رخلیفہ کی گفتگو سے واضح ہوتی ہے انہوں نے ابوبکر سے کہا:

''لوگ دنیا کے بندے ہیں اور اس کے علاوہ ان کا ہدف بھی کچھ نہیں ہے تم خمس اور مال غنیمت کو علی سے لے لو فدک بھی ان کے ہاتھوں سے چھین لو اور جب لوگ انھیں خالی ہاتھ دیکھیں گے تو انھیں چھوڑ کر تمہاری طرف مائل ہو جائیں گے۔(۲)

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۱۶، ص ۳۱۶

(۲) ناسخ التواریخ جلد مربوط بہ حضرت زہرا(س)، ۱۲۲


اس مطلب پر دوسرا گواہ یہ ہے کہ خلیفہ نے نہ صرف خاندان پیغمبر کو فدک سے محروم کیا بلکہ انھیںجنگ کے مال غنیمت میں سے پانچواںحصہ جو نص قرآن کے اعتبارسے خاندان پیغمبر کا حق تھا(۱) اس سے بھی محروم کردیا۔

اکثرمورخین کا خیال ہے کہ خلیفہ سے حضرت فاطمہ زہرا کا اختلاف صرف فدک کی وجہ سے تھا جب کہ آپ کا خلیفہ سے تین چیزوں کی بناپر اختلاف تھا۔

۱۔ فدک جو پیغمبر نے آپ کو دیا تھا۔

۲۔ وہ میراث جو پیغمبر اسلام نے آپ کے لئے چھوڑی تھی۔

۳۔ ذوی القربیٰ کا حصہ جو نص قرآنی کے مطابق غنائم کے خمس کا تعلق ان سے بھی تھا۔

عمر کا بیان ہے کہ جب فاطمہ نے فدک اورذوی القربیٰ کے حق کا خلیفہ سے مطالبہ کیا تو خلیفہ نے منع کردیا اور انھیں نہیں دیا۔

انس ابن مالک کہتے ہیں:

فاطمہ(س) خلیفہ کے پاس آئیں اور آیت خمس کی تلاوت کی جس میں پیغمبر کے رشتہ داروں کا حصہ معین تھا خلیفہ نے کہا: تم جو قرآن پڑھتی ہو میں بھی وہی قرآن پڑھتا ہوں میں ذو القربیٰ کا حق تمہیں ہرگز نہیں دوں گا بلکہ میںتمہاری کی زندگی کے تمام اخراجات برداشت کروں گا اور بقیہ مال کو مسلمانوں کے امور میں صرف کروں گا۔

فاطمہ (س)نے کہا: یہ حکم خدا نہیں ہے جب آیت خمس نازل ہوئی تو پیغمبر نے فرمایا: خاندان محمد کے تمام افراد کو بشارت ہو کہ خدا نے (اپنے فضل و کرم سے) ان لوگوں کو بے نیاز کردیاہے۔

خلیفہ نے کہا: میں عمر اور ابوعبیدہ سے مشورہ کروں گا اگر تمہارے بارے میں موافقت کی تو میں ذوی القربیٰ کا پورا حصہ تمہیں دیدوں گا۔جب ان دونوں سے سوال ہوا تو ان لوگوں نے خلیفہ کے نظریہ کی تائید کی ،فاطمہ کواس وقت بہت

___________________

(۱) سورۂ انفال، ''واعلموا انما غنمتم من شیئٍ فان لله خمسه و للرسول و لذی القربیٰ''


زیادہ تعجب ہوا اور سمجھ گئیں کہ تینوں آپس میں مشورہ کرچکے ہیں۔(۱)

خلیفہ کا کام صرف نص کے مقابلے میں اجتہاد ہی نہ تھا ، قرآن کریم صراحةً اعلان کر رہاہے کہ مال غنیمت میں سے ایک حصہ پیغمبر کے عزیزوں کا ہے لیکن انہوں نے بہانہ بناتے ہوئے کہ اس سلسلے میں پیغمبر سے کچھ نہیں سنا ہے آیت کی تفسیر کی اور کہا: ''آل محمد کو ان کے خرچ کے برابر دیدو اور بقیہ مال کو اسلام کی راہ میں خرچ کرو''

یہ کوشش صرف اس لئے تھی کہ امام کے ہاتھ میں مال دنیا سے کچھ نہ رہے اورانھیں اپنا محتاج بنائیں تاکہ وہ حکومت کے خلاف اقدام نہ کرسکیں۔

شیعہ فقہ کی نظر میں،جانشین پیغمبر کے ذریعہ پہونچنے والی روایتوں کی رو سے ذوی القربٰی کا حصہ ان کی ذاتی ملکیت نہیں ہے اس لئے کہ قرآن نے ان کا جو حصہ معین کیا ہے وہ اس عنوان سے کہ بعد پیغمبر وہی مسلمانوں کے زعیم اور امام ہیں ،اور خمس کا نصف پہنچنے والا مال ان کے زیر نظر خرچ ہو

خلیفہ اس بات سے باخبر تھا کہ اگر حضرت فاطمہ زہرا ذی القربی کا حق مانگ رہی ہیں تو وہ اپنا حق نہیں مانگ رہی ہیں بلکہ وہ حصہ مانگ رہی ہیں جو شخص ذی القربی کے زمرے میں آتا ہے اسے دریافت کر کے مسلمانوں کے زعیم و رہبر کے عنوان سے مسلمانوں کے دینی موارد میں صرف کرے اور رسول اسلام کے بعد ایسا شخص سوائے حضرت علی کے کوئی اور نہیں ہے اور حضرت علی کو حصہ دینے کا مطلب یہ تھا کہ خلافت کو چھوڑ دینا اورامیر المومنین کی زعامت و رہبری کااعتراف کرنا تھا اسی وجہ سے ابوبکر نے فاطمہ سے مخاطب ہوکر کہا:

ذی القربیٰ کا حصہ تمہیں ہرگز نہیں دوں گا اور تمہاری زندگی کے اخراجات نکالنے کے بعد باقی تمام مال کو اسلام کی راہ میں خرچ کروں گا۔

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱۶ ص ۲۳۱۔ ۲۳۰۔


فدک ہمیشہ مختلف گروہوں اور سیاستوں کا شکار

خلافت کے شروع کے ایام میں پیغمبر کی بیٹی کے باغ فدک کو غصب کرنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ حکومت کے خزانے کو مستحکم اور خلیفہ اصلی کو مال دنیا سے محروم کردیا جائے لیکن اسلامی حکومت کے بننے اور بڑی بڑی جنگوں میں فتح حاصل ہونے کے بعد حکومت کے پاس دولت و ثروت کا ریل پیل ہونے لگااور اب حکومت نے فدک کی آمدنی سے اپنے کو بے نیاز سمجھا دوسری طرف زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ خلفاء کی خلافت اسلامی معاشرہ میں اور محکم ہوگئی اور کسی کو بھی یہ گمان نہ تھا کہ حقیقی خلیفہ حضرت امیر المومنین فدک کی آمدنی سے خلیفہ کی مخالفت کریں گے اور ان کے مقابلے میں صف آرائی کریں گے۔

دوسرے خلفاء کے زمانے میں اگرچہ فدک کے غصب کرنے کی جو علت تھی یعنی خلافت کو مالی اعتبار سے مضبوط کرناوہ ختم ہوگئی تھی لیکن سرزمین فدک اور اس کی آمدنی پھر بھی سیاسی شخصیتوں اور خلیفہ وقت کی ملکیت تھی اور ان کی خاندان پیغمبر سے جیسی وابستگی ہوتی تھی اس لحاظ سے اس کے بارے میں نظریئے قائم کرتے تھے ،اگر ان کا قلبی رابطہ خاندان پیغمبر نہیں ہوتا تھا تو فدک کو حقیقی مالک (اہلبیت ) نہیں کرتے تھے اوراسے مسلمانوں کی اور حکومت کی جائیداد قرار دیتے تھے لیکن جن کو اہلبیت سے محبت ہوتی تھی یا وقت کا تقاضا تھا کہ اولاد فاطمہ کے ساتھ دلجوئی کی جائے وہ فدک کو اولاد فاطمہ کے حوالے کر دیتے تھے ،ایسا سلسلہ وقت تک رہتا تھا جب تک کہ بعد کے خلیفہ کی سیاست نہ بدلے۔اسی وجہ سے فدک کبھی ایک حالت پر نہیں رہا، بلکہ ہمیشہ مختلف گروہوں اور متضاد سیاستوں کا شکار رہا کبھی اپنے حقیقی مالکوں کی طرف واپس آتاتو کبھی بلکہ اکثر غصب کیا جاتا تھا۔

خلفاء کے زمانے سے حضرت علی کے زمانے تک فدک اپنی جگہ پر ثابت رہا اور اس کی آمدنی سے تھوڑا سا خاندان پیغمبر کی زندگی کے اخراجات کے طور پر دیا جاتا تھا اور باقی مال دوسرے عمومی مال کی طرح خلفاء کی نگرانی میں خرچ ہوتا تھا۔

لیکن جب معاویہ کے ہاتھ میں حکومت آئی تو اس نے فدک کو تین حصوں میں تقسیم کیا ، ایک حصہ مروان کو اور ایک حصہ عمر و بن عثمان بن عفان کو اور ایک حصہ اپنے بیٹے یزید کو دیا۔

فدک اسی طرح ایک کے بعد دوسرے کے ہاتھ میں جاتا رہا یہاں تک کہ جب مروان بن حکم کی حکومت آئی تو اس نے اپنی خلافت کے زمانے میں باقی دو حصوں کو ان لوگوں سے خرید لیا اور خود اپنا حصہ بنالیا اور پھر اسے اپنے بیٹے عبد العزیز کو دے دیا. اور اس نے بھی اپنے بیٹے عمر بن عبد العزیز کو دیدیا اس کے لئے بطور میراث چھوڑا۔


جب عمر بن عبد العزیز کی خلافت آئی تو اس نے چاہا کہ بنی امیہ کے تمام بدنما دھبوں کو اسلامی معاشرہ کے دامن سے پاک کردے چنانچہ خاندان پیغمبر سے محبت کی وجہ سے سب سے پہلے جس چیز کو اس نے اس کے حقیقی مالک کو واپس کیا وہ فدک ہی تھا اس نے فدک کو حسن بن علی علیہ السلام کے حوالے کیا اور ایک روایت کے مطابق امام سجاد علیہ السلام کے حوالے کیا۔(۱)

اس نے مدینہ کے گورنر ابوبکر بن عمرو کے نام خط لکھا اور حکم دیا کہ فدک کو حضرت فاطمہ کے بچوں کو واپس کردے دھوکہ بازحاکم نے خط کا جواب دیتے ہوئے خلیفہ کو لکھا:

مدینے میں فاطمہ کی اولاد بہت زیادہ ہے اور ہر شخص اپنے گھر میں زندگی بسر کر رہا ہے میں فدک کو ان میں سے کس کو واپس کروں؟

عبد العزیز کے بیٹے نے جب حاکم کے خط کو پڑھا تو بہت ناراض ہوا اور کہا:

اگر میں تجھے گائے کو قتل کرنے کا حکم دوں تو تم بنی اسرائیل کی طرح کہو گے کہ اس گائے کا رنگ کیسا ہو جیسے ہی میرا خط تجھ تک پہونچے فوراً فدک کو فاطمہ کے ان بچوں میں تقسیم کردے جو علی کی اولاد ہیں۔

خلافت کے ٹکڑوں پر پلنے والے جو سب کے سب بنی امیہ کے ماننے والے تھے خلیفہ کی اس عدالت سے بہت سخت ناراض ہوئے اور کہا: تو نے اپنے اس عمل سے شیخین کو گناہگار ٹھہرایا ،زیادہ دن نہ گذرے تھے کہ عمر بن قیس اپنے لشکر کے ساتھ کوفہ سے شام پہونچا اور خلیفہ کے اس کام پر تنقید کرنے لگا۔

خلیفہ نے ان سب کے جواب میں کہا:

تم لوگ جاہل و نادان ہو جو کچھ مجھے یاد ہے تم لوگوں نے بھی اسے سنا ہے لیکن فراموش کردیاہے ،میرے استاد ابوبکر بن محمد عمر وبن حزم نے اپنے باپ سے اورانہوں نے اپنے جد سے نقل کیا ہے کہ

______________________

(۱) اس دوسرے احتمال کواگرچہ ابن ابی الحدید نے نقل کیا ہے لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کیونکہ عمر بن عبد العزیز ۹۹ھ میں خلیفہ ہوا جبکہ امام سجاد کی وفات ۹۴ھ میں ہو چکی تھی یہ ممکن ہے کہ محمد بن علی بن الحسین رہے ہوں اور لفظ محمد چھوٹ گیا ہو۔


پیغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''فاطمہ میراٹکڑا ہے جس نے اسے غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا اور جس نے اسے خوش کیا اس نے مجھے خوش کیا'' خلفاء کے زمانے میں فدک اموال عمومی اور حکومت کا حصہ تھا پھر وہ مروان تک پہونچا اور انھوں نے میرے باپ عبدالعزیز کے حوالے کیااور اپنے باپ کے انتقال کے بعدمجھے اور میرے بھائیوں کو بطور میراث حاصل ہوااور میرے بھائیوں نے اپنے حصوں کو مجھے بیچ دیا یا مجھے دیدیا اور میں نے حدیث رسول کے حکم سے زہرا کے بچوں کو واپس کردیا۔

عمر بن عبد العزیز کے انتقال کے بعد، آل مروان ایک کے بعد دوسرے حکومت کی باگ ڈور سنبھالتے رہے اور سب نے عمر بن عبد العزیز کے برخلاف قدم اٹھایااور فدک مروان کے بیٹوں کی خلافت کے زمانے تک ان لوگوں کے تصرف میں تھااور پیغمبر کا خاندان اس کی آمدنی سے بالکل محروم تھا، بنی امیہ کی حکومت ختم ہونے کے بعد جب بنی عباس کی حکومت وجود میں آئی تو فدک کی خاص اہمیت تھی، بنی عباس کے پہلے خلیفہ ''سفاح'' نے فدک عبد اللہ بن حسن کو واپس کردیا اس کے بعد جب منصور آیا تو اس نے واپس لے لیا. منصور کے بیٹے مہدی نے اپنے باپ کی پیروی نہیں کی اور فدک کو حضرت زہراکے بچوں کو واپس کردیا مہدی کے انتقال کے بعد اس کے بیٹے موسی اور ہارون جنھوں نے یکے بعد دیگرے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی فدک کو پیغمبر کے خاندان سے چھین لیا اور اپنے تصرف میں لے لیا یہاں تک کہ ہارون کے بیٹے مامون نے حکومت کی باگ ڈور سنبھال لی۔

ایک دن مامون رد مظالم اور لوگوں کی شکایت وغیرہ سننے کے لئے رسماً بیٹھ گیااور جو خطوط مظلوموں نے لکھے تھے اس کی تحقیق کرنے لگا۔

سب سے پہلا خط جو اس کے ہاتھ میں تھا وہ ایسے شخص کا تھا جس نے اپنے کو حضرت فاطمہ کا وکیل و نمائندہ لکھا تھا اس نے خاندان پیغمبر کے لئے فدک واپس کرنے کا مطالبہ کیا تھا خلیفہ خط پڑھ کر رویا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اس نے حکم دیاکہ خط لکھنے والے کو بلایاجائے، کچھ دیر کے بعد خلیفہ کے محل میں ایک بوڑھا شخص لایا گیااور مامون سے فدک کے بارے میں بحث کرنے لگا ، تھوڑی ہی دیر مناظرہ ہوا تھا کہ مامون قانع ہوگیا اور حکم دیا کہ رسمی طور پر مدینے کے حاکم کو خط لکھو کہ فدک کو فاطمہ زہرا کے بچوں کو واپس کردے خط لکھا گیا اور خلیفہ نے اس پر مہر لگائی اور مدینہ بھیج دیا گیا۔خاندان پیغمبر کو فدک مل جانے سے شیعہ بہت خوش ہوئے اور دعبل خزاعی نے اس موقع پر ایک قصیدہ بھی کہا جس کا پہلا شعر یہ تھا:


اصبح وجه الزمان قد ضحکا

برد مامون هاشم فدکا(۱)

زمانے کے چہرے پر خوشیوں کے آثار نظر آنے لگے کیونکہ مامون نے فدک کو بنی ہاشم کے بچوں (جو واقعی مالک تھے) کو واپس کردیا۔

حیرت انگیزوہ خط ہے جو مامون نے ۲۱۰ھ میں فدک کے سلسلے میں مدینہ کے حاکم قیم بن جعفر کو لکھا جسکا خلاصہ یہ ہے:

''امیر المومنین جس کی خدا کے دین اور خلافت اسلامی میں بہت زیادہ اہمیت ہے اور خاندان نبوت سے رشتہ داری کی بنا پر بہترین و شائستہ شخص ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ پیغمبر کی سنتوں کی رعایت کرے اور جو کچھ بھی انھوں نے دوسروں کودیا ہے اس کو ان کے حوالے کردے پیغمبر اسلام نے فدک فاطمہ زہرا کو دیا ہے اور یہ بات اتنی زیادہ واضح و روشن ہے کہ پیغمبر کے بیٹوں میں سے کسی نے بھی اس سلسلے میں اختلاف نہیں کیا ہے اور کسی نے اس سے زیادہ کا بھی دعوی نہیں کیا ہے کہ تصدیق کی ضرورت ہوتی''

اسی بنا پر امیر المومنین مامون نے مصلحت سمجھا کہ خدا کی مرضی حاصل ہونے اور عدالت جاری کرنے اور حق کو حقدار تک پہونچانے کے لئے فدک کو ان کے وارثوں کے حوالے کردے اور اس کے لئے حکم جاری کرے ، اسی لئے اس نے اپنے مشیروں اور کاتبوں کو حکم دیا کہ اس مطلب کو حکومتی رجسٹر میں تحریر کریں پیغمبر کے انتقال کے بعد جب بھی حج کی بجا آوری کے موقع پر یہ اعلان کیا گیا کہ جس شخص کا پیغمبر کے پاس صدقہ یا ہدیہ یا اور کوئی چیز ہو وہ مجھے مطلع کرے تو مسلمانوں نے اس بات کو قبول کرلیا تو پھر پیغمبر کی بیٹی کا کیا مقابلہ، ان کی بات کی تو یقیناتصدیق و تائید ہونا چاہئیے۔

امیر المومنین نے مبارک طبری کو حکم دیاکہ فدک کو تمام حدود و حقوق کے ساتھ فاطمہ کے وارثوں کو واپس کردو اور جو کچھ بھی فدک کے علاقے میں غلام، غلے اور دوسری چیزیں ہیں وہ سب محمد بن یحییٰ بن حسن بن زید بن علی بن الحسین اور محمد بن عبد اللہ بن حسن بن علی بن الحسین کو واپس کردو، تم جان لو یہ وہ فکر و نظر ہے

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۱۶ ص ۲۱۸۔ ۲۱۶۔


جو امیر المومنین نے خدا سے الہام کے ذریعے حاصل کیا ہے اور خدا نے ان کو کامیاب کیا ہے کہ خدا اور پیغمبر سے توسل و تقرب کریں۔

اس مطلب کو جو افراد بھی تمہاری طرف سے کام کر رہے ہیں ان تک پہونچا دو اور فدک کی تعمیر و آبادی میں ترقی کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہو۔(۱)

فدک حضرت زہرا کے بچوں کے ہاتھ میں رہا یہاں تک کہ متوکل کو خلافت کے لئے منتخب کیا گیاوہ خاندان رسالت کا بہت سخت دشمن تھا لہذا فدک کو حضرت زہرا کے بچوں سے چھین لیا اور عبد اللہ بن عمر بازیار کی جاگیر قرار دیا۔

سرزمین فدک پر ۱۱ کھجور کے درخت تھے جنہیں خود پیغمبر اسلام نے اپنے مبارک ہاتھوں سے لگائے تھے لوگ حج کے زمانے میں ان درختوں کی کھجوروں کو بطور تبرک اور مہنگی قیمت پر خریدتے تھے جس سے خاندان نبوت کی شایان شان مدد ہوتی تھی۔

عبداللہ اس مسئلہ سے بہت زیادہ ناراض تھا لہذا ایک شخص کو جس کا نام بشیران تھا اسے مدینہ روانہ کیا تاکہ کھجور کے ان درختوں کو کاٹ دے، اس نے بھی شقاوت قلبی کے ساتھ اس کے حکم پر عمل کیا لیکن جب بصرہ پہونچا تو مفلوج ہو گیا۔

اس دور حکومت کے بعد فدک خاندان پیغمبر سے چھین لیا گیا اور پھرظالم حکومتوں نے وارثان زہرا کو فدک واپس نہیں کیا۔

______________________

(۱) فتوح البلدان ۴۱۔ ۳۹ تاریخ یعقوبی ج۳ ص ۴۸۔


پانچویں فصل

مسئلہ فدک اور افکار عمومی

پیغمبر کی بیٹی کے اعتراض اور فدک کو غصب ہوئے چودہ صدیاں گذر گئیں مگر آج بھی بعض لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ شاید اس واقعہ کا فیصلہ کرنا دشوار ہے ،کیونکہ اتنا عرصہ گذرنے کے بعد اگر قاضی فیصلہ کرنا چاہے تو فدک کے مسئلہ پر مکمل طریقے سے معلومات فراہم نہیں کرسکتا، اور نہ ہی ان تمام معلومات و شواہد کا دقت سے مطالعہ کرسکتا ہے کہ صحیح فیصلہ کرسکے، ممکن ہے اس واقعہ میں تحریف کردی گئی ہو اور اس کے مفہوم کو خلط ملط کردیا گیا ہو لیکن جو چیز اس مشکل چیز کو آسان کرسکتی ہے وہ یہ کہ قرآن مجید اور پیغمبر کی احادیث اور طرفین کے دعوے اور اختلاف کی طرف رجوع کیا جائے اور نئے انداز سے اس مسئلہ کو منظم کیا جائے اور اسی اساس پر اسلام کے بعض قطعی و محکم اور نہ بدلنے والے اصول کے ذریعے فیصلہ کیا جائے ہم یہاں اس کی وضاحت کر رہے ہیں۔

اسلام کے مسلم اصولوں میں سے ایک قانون یہ ہے کہ ہر وہ زمین جو بغیر جنگ اور بغیر فوجیوں کے غلبہ کے مسلمانوں کے ذریعے فتح ہو، وہ حکومت اسلامی کے اختیار میں ہوتی ہے اور عمومی مال میں اس کا شمار ہوتا ہے اور وہ رسول خدا کا حصہ ہوتی ہے۔

اس طرح کی زمینیں پیغمبر کی ذاتی ملکیتیں نہیں ہوتیں، بلکہ اسلامی حکومت سے مخصوص ہوتی ہیں جس کے رئیس پیغمبر اسلام ہوتے ہیں اور پیغمبر کے بعد اس شخص کے اختیار اورتصرف میں ہوںگی جو پیغمبر کی جگہ اور پیغمبر کی طرح مسلمانوں کے تمام امور کی ذمہ داری اپنے ہاتھوں میں لے، قرآن مجید نے اسلام کے اصلی قانون کو سورۂ حشر کی چھٹی اور ساتویں آیت میں بیان کیاہے

( وَمَا اَفَائ اﷲُ عَلَی رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا َوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَلاَرِکَابٍ وَلَکِنَّ اﷲَ یُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَی مَنْ یَشَائُ وَاﷲُ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیر ومَا َفَائَ اﷲُ عَلَی رَسُولِهِ مِنْ اهْلِ الْقُرَی فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِی الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینِ وَابْنِ السَّبِیل )

(تو) جو مال خدا نے اپنے رسول کو ان لوگوں سے بے لڑے دلوادیا اس میں تمہارا حق نہیں کیونکہ تم نے اس کے لئے کچھ دوڑ دھوپ تو کی نہیں ، نہ گھوڑوں سے نہ اونٹوں سے، مگر خدا اپنے پیغمبروں کو جس پر چاہتاہے غلبہ عطا فرماتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے تو جو مال خدا نے اپنے رسول کودیہات والوں سے بے لڑے دلوا دیا ہے وہ خاص خدا اور رسول اور (رسول کے) قرابتداروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پردیسیوں کا ہے۔


جو اموال پیغمبر کے اختیار میں تھے وہ دو طرح کا تھے:

۱۔ خصوصی

وہ اموال جو پیغمبر کے ذاتی تھے تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں ''پیغمبر کے خصوصی اموال'' کے نام سے تفصیل سے درج ہیں(۱) پیغمبر کی حیات طیبہ میں اس کا تصرف خود آپ کے ہاتھ میں تھا اور آپ کے بعد اسلام کے میراث کے مسائل کے مطابق آپ کے وارثوں تک منتقل ہونا چاہئے مگر یہ کہ ثابت ہو جائے کہ پیغمبر کے وارث آپ کے شخصی و ذاتی مال سے محروم تھے کہ اس صورت میں آپ کے مال کو بعنوان صدقہ لوگوں میں تقسیم ہونا چاہیئے یا اسلامی امور میں صرف ہونا چاہیئے آئندہ بحث میں ہم اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کریں گے اور ثابت کریں گے کہ میراث کے قانون کی رو سے پیغمبر کے وارثوں اور دوسروں کے وارثوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور وہ حدیث جو خلیفہ اول نے پیغمبر کی طرف نسبت دے کر پیغمبر کے وارثوں کو میراث سے محروم کیا ہے، اگر فرض کرلیں کہ وہ صحیح ہے تواسکے دوسرے معنی ہیں جس سے خلیفہ اوراراکین خلافت نے غفلت برتی۔

۲۔ خالصہ(۲)

وہ مال او روہ ملکیت جو حکومت اسلامی سے مخصوص ہوتی ہے اور پیغمبر اسلام مسلمانوں اور اسلام کے مفاد و مصلحت میں خرچ کرسکتے ہیںاصطلاح میں اسے ''خالصہ'' کہا جاتا ہے فقہ کی بحث میں ایک باب ''فئی'' کے نام سے ہے جو کتاب جہاد اور کبھی باب ''صدقات'' میں موردبحث قرار پاتا ہے لغت میں فئی کے معنی پلٹنے کے ہیں اور اس سے مراد وہ زمینیں ہیں جو بغیر قتل و غارت گری کے اسلامی حکومت کے تصرف

______________________

(۱) کشف الغمہ ج۲ص ۱۲۲۔

(۲)وہ چیز جو کسی کی جاگیر نہ ہو۔


میں آئے اور اس میں رہنے والے افراد اسلامی قوانین کے مطابق حکومت اسلامی میں زندگی بسر کریں اور اس طرح کی زمینیں جو اسلام کے فوجیوں کی زحمت ومشقت اور ان کے حملے کئے بغیر حاصل ہوں وہ پیغمبر کے اختیار میں ہوتی ہیں اور اسلامی حکومت کا حق قرار پاتی ہیں اور اور مسلمان سپاہیوں کا اس میں حق نہیں ہوتا،ہے پیغمبر اسلام ان کی آمدنی کو مسلمانوں کے امور میں خرچ کرتے تھے اور کبھی مستحق افرادکو دیتے تھے اوراس سے اور زحمت و مشقت کے ذریعے حاصل شدہ مال سے اپنا خرچ چلا تے تھے ،پیغمبر جو ہدیہ وغیرہ دیتے تھے وہ اسی کی آمدنی سے دیتے تھے او رکبھی مال غنیمت سے حاصل شدہ خمس سے بھی دیتے تھے۔

بہتر ہے کہ اس طرح کی زمینوں کے سلسلے میں پیغمبر اسلام کے طور طریقے کاذکر کیا جائے۔

بنی نضیر ،یہودیوں کے تین طائفے سے مل کر بنے تھے، جو مدینے کے قریب میں زندگی بسر کررہے تھے جن کے پاس باغ اور زمینیں تھیں جس وقت پیغمبر نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو اوس و خزرج کے قبیلے والے آپ پر ایمان لائے، لیکن یہ تینوں طائفے اپنے دین پر باقی رہے پیغمبر اسلام نے عقدو پیمان کے ذریعے مدینے اور قرب و جوار میں رہنے والوں کے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کی بہت کوششیں کیں ،نتیجتاً تینوں طائفوںنے پیغمبر سے عہد کیا کہ مسلمانوں پر ہر طرح کے یلغارو حملے سے پرہیز کریں گے اور ان کے خلاف کبھی بھی قدم نہیں اٹھائیں گے ،مگر تینوں طائفوں نے یکے بعد دیگرے ظاہری اور پوشیدہ طور پر عہد شکنی کی اور ہر طرح کی خیانت اور اسلامی حکومت گرانے کی ہر طرح سے کوششیں اور سازشیں کیں یہاں تک کہ پیغمبر کے قتل سے بھی پرہیز نہیں کیا خلاصہ یہ کہ جب پیغمبر اسلام کسی کام کو انجام دینے کے لئے بنی نضیر کے محلہ میں گئے تو ان لوگوں نے پیغمبر کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور چاہا کہ آپ کو قتل کردیں، یہی وجہ تھی کہ پیغمبر نے ان تمام لوگوں کو مجبور کردیا کہ مدینہ چھوڑ کر چلے جائیں اور ان کی تمام زمینوں اور گھروں کو مہاجروں اور انصار کے بعض حاجت مندوں کے درمیان تقسیم کردیا۔(۱)

تاریخ اسلام میں ان لوگوں کا تذکرہ موجود ہے جنہوں نے اس سرزمین سے استفادہ کیاہے اور گھروں میں پناہ لی ہے علی ، ابوبکر ، عبد الرحمن بن عوف اوربلال مہاجرین میں سے او رانصار میں ابودجانہ ،

______________________

(۱)مجمع البیان ج۵ ص ۲۶۰ طبع صیدا اور تمام معتبر تاریخی و سیرت کی کتابیں۔


سہل بن حنیف اور حارث بن صمہ تھے۔(۱)

سرزمین فدک اموال خالصہ میں سے تھی

محدثین و مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فدک اموال خالصہ (جو چیز کسی کی جاگیر نہ ہو) سے تھی، کیونکہ فدک وہ زمین ہے جو جنگ کرنے سے حاصل نہیں ہوئی، بلکہ جس وقت خیبریوں کی شکست کی خبرقریہ فدک میں پہونچی تو وہاں کے لوگ آمادہ ہوئے کہ پیغمبر سے صلح کریں اور فدک کی آدھی زمین پیغمبر کے حوالے کریں اوراس کے بدلے میں اپنے مذہبی امور میں مکمل طور پر آزاد رہیں اور حکومت اسلامی ان کے علاقے کی حفاظت کرے۔(۲)

اس مسئلہ میں علمائے اسلام میں سے کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا ہے اور پیغمبر کی بیٹی اور ابوبکر کے درمیان فدک کے متعلق ہونے والی گفتگو سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ طرفین نے فدک کے خالصہ ہونے کا اعتراف کیا تھا اور ان لوگوں کا اختلاف دوسری چیز میں تھا جس کی وضاحت بعد میں کریں گے۔

___________________

(۱) فتوح البلدان بلاذری ص ۲۷ ۳۱ ۳۴، مجمع البیان ج۵ ص ۲۶۰ سیرۂ ابن ہشام ج۳ ص ۱۹۴۔ ۱۹۳۔

(۲) مغازی واقدی ج۳ ص ۷۰۶سیرۂ ابن ہشام ج۳ ص ۴۰۸ فتح البلدان ۴۴۶۔ ۴۱، احکام القرآن جصاص ج۳ ص ۵۲۸ تاریخ طبری ج۳ ص ۹۷۔ ۹۵ ۔


فدک، پیغمبر اسلام (ص)نے فاطمہ(س) کو دیا تھا

شیعہ علماء اور اہلسنت کے بعض محدثین اس بات پر متفق ہیں کہ جس وقت یہ آیت''و آت ذا القربیٰ حقه و المسکین و ابن السبیل '' نازل ہوئی تو پیغمبر نے فدک فاطمہ زہرا کو دیدیا۔

اور اس حدیث کی سند بزرگ صحابی ابوسعید خدری اور ابن عباس پر ختم ہوتی ہے اور اہلسنت کے بعض محدثین نے اس حدیث کو نقل کیا جس کی تفصیل یہ ہے۔

۱۔ جلال الدین سیوطی، متوفی ۹۱۱ھ اپنی مشہور و معروف تفسیر میں لکھتے ہیں :جب آیت ''و آت ذا القربیٰ ...'' نازل ہوئی تو پیغمبر نے فاطمہ کو بلایا اور انھیں فدک دیدیا۔

نیز لکھتے ہیں کہ اس حدیث کو بزرگ محدثین مثلاً بزاز و ابویعلی ،ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے معروف صحابی ابوسعید خدری سے نقل کیاہے۔


نیز لکھتے ہیں کہ ابن مردویہ نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت پیغمبر نے فدک کو فاطمہ کی ملکیت قرار دیا۔(۱)

۲۔ علاء الدین علی بن حسام مشہور بہ متقی ہندی ، ساکن مکہ متوفی ۹۷۶ھ نے بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے۔(۲)

وہ کہتے ہیں : بزرگ محدثین مثلاً ابن النجار اور حاکم نے ا س حدیث کو اپنی تاریخ میں ابوسعید سے نقل کیا ہے۔

۳۔ ابواسحاق احمد بن محمد بن ابراہیم نیشاپوری مشہور بہ ثعلبی متوفی ۴۲۷ ھ یا ۴۳۷ھ نے اپنی تفسیر ''الکشف و البیان'' میں اس واقعہ کو نقل کیا ہے۔

۴۔ مشہور مورخ بلاذری، متوفی ۲۷۹ھ نے مامون کا خط جو حاکم مدینہ کے نام لکھا تھا اسے نقل کیا ہے اس کا متن یہ ہے:

''و قد کان رسول الله صلی اللّٰه علیه وآله وسلم أعطی فاطمة فدک و تصدق بها علیها و کان ذالک أمراً معروفاً لااختلاف فیه بین آل رسول الله و لم تزل تدعیٰ'' (۳)

پیغمبر خدا نے سرزمین فدک فاطمہ کو دیا، اور یہ بات اتنی واضح و روشن ہے کہ پیغمبر کے قرابتداروں میں کبھی اختلاف نہیں ہوا اور وہ (فاطمہ) زندگی کے آخری لمحہ تک فدک کا دعویٰ کرتی رہیں۔

۵۔ احمد بن عبد العزیزجوہری مولف کتاب ''السقیفہ'' لکھتے ہیں:

جس وقت عمر بن عبد العزیز نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی سب سے پہلے جس غصبی چیز کو ان کے مالکوں کو واپس کیا وہ فدک تھا جس کو حسن بن حسن بن علی کو واپس کیا۔(۴)

_____________________

(۱) الدر المنثور ج۴ ص ۱۷۷، حدیث کا متن یہ ہے''لما نزلت هذه الآیة، و آت ذا القربیٰ حقه دعا رسول اللّه فاطمه و أعطاها فدک''

(۲) کنز العمال، باب صلۂ رحم، ج۲، ص ۱۵۷۔

(۳) فتوح البلدان، ۴۶، معجم البلدان، ج۴، ص ۲۴۰۔

(۴) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۱۶، ص ۲۱۶۔


اس جملے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فدک صرف پیغمبر کی بیٹی کی ملکیت تھی۔

۶۔ ابن ابی الحدید نے فدک سے متعلق میں آیت کے شان نزول کو ابوسعید خدری سے نقل کیا ہے اگرچہ اس کو نقل کرتے وقت سید مرتضی کے کلام کو کتاب شافی سے لیا ہے لیکن اگر سید مرتضی کا کلام اس کے لئے مورد اعتماد نہ ہوتا تو حتماً اس پر تنقید کرتا۔اس کے علاوہ ، اپنی شرح نہج البلاغہ میں جس باب کو اس واقعہ سے مخصوص کیا ہے اور اپنے مدرسہ غربی بغداد کے استاد سے جو گفتگو کی ہے اس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ وہ اس بات کا معتقد تھا کہ پیغمبر نے فدک اپنی بیٹی کو دیا تھا۔(۱)

۷۔ حلبی اپنی کتاب سیرۂ میں فدک کے بارے میں پیغمبر کی بیٹی کے دعوے اور گواہوں کے نام کو بیان کیا ہے ، وہ کہتے ہیں:

خلیفہ وقت نے فدک کی سند زہرا کے نام سے جاری کی لیکن عمر نے اسے لے کر پھاڑ دیا۔(۲)

۸۔ مسعودی اپنی کتاب ''مروج الذہب'' میں لکھتے ہیں: پیغمبر کی بیٹی نے ابوبکر سے فدک کے سلسلے میں گفتگو کی اور ان سے کہا کہ فدک مجھے واپس کردو. اور علی ، حسنین اورام ایمن کو بطور گواہ اپنے ساتھ لے گئیں۔(۳)

۹۔ یاقوت حموی لکھتا ہے:

فاطمہ ابوبکر کے پاس گئیں اور ان سے کہا کہ پیغمبر نے فدک مجھے دیا تھا خلیفہ نے گواہ طلب کیا...

(مزید آگے لکھتا ہے کہ) عمر (ابن عبد العزیز) کی خلافت کے دوران فدک پیغمبر کے وارثوں کو واپس کردیا گیاتھا کیونکہ اس وقت مسلمانوں کی مالی حالت بہت اچھی تھی۔(۴) سمہودی نے اپنی کتاب ''وفاء الوفائ'' میں فاطمہ زہرا کی ابوبکر سے گفتگو کو نقل کیا ہے اور کہاہے: علی او رام ایمن نے فاطمہ کے حق میں گواہی دیا اور دونوں نے کہا : پیغمبر نے اپنی زندگی میں ہی

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۱۶، ص ۲۶۸ اور ص ۲۸۴۔

(۲) سیرۂ حلبی، ج۳، ص ۴۰۰۔ ۳۹۹۔

(۳) مروج الذہب، ج۲، ص ۲۰۰۔

(۴) معجم البلدان، ج۴، ص ۲۳۸، مادۂ فدک۔


فدک فاطمہ زہرا کو دیا تھا۔(۱) عمر بن عبد العزیز نے فدک خاندان زہرا کو واپس کردیاتھا۔(۲)

شام کے ایک شخص نے علی بن الحسین علیھما السلام(امام سجاد) سے ملاقات کی اور کہا کہ اپنا تعارف کرائیے، امام نے فرمایا: کیا تم نے سورۂ بنی اسرائیل میں اس آیت کو نہیں پڑھا ''و آت ذا القربیٰ'' اس شخص نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ رشتہ داری کی وجہ سے خدا نے پیغمبر کو حکم دیا کہ ان کے حق کو واپس کردو۔(۳)

شیعہ دانشوروں کے درمیان بہت سی بزرگ شخصیتیں مثلاً کلینی ، عیاشی اور شیخ صدوق نے اس آیت کے نزول کو پیغمبر کے قرابتداروں کے بارے میں ذکر کیا ہے اور بیان کیاہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد پیغمبر نے فدک اپنی بیٹی فاطمہ کو دیدیا تھا۔اس سلسلے میں محقق عالی قدر مرحوم سید ہاشم بحرینی نے ۱۱ حدیث بہترین اسناد کے ساتھ آئمہ معصومین علیھم السلام مثلاً امیر المومنین، امام زین العابدین، اما م جعفر صادق، امام موسٰی کاظم، اور امام علی رضا علیھم السلام سے نقل کیا ہے۔(۴)

جی ہاں، تقریباً تمام افراد کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ آیت خاندان رسالت کے حق میں نازل ہوئی ہے لیکن یہ بات کہ آیت نازل ہونے کے بعد پیغمبر نے فدک اپنی بیٹی زہرا کو دیا تھا اسے شیعہ محدثین اور بعض بزرگان اہلسنت نے نقل کیا ہے۔

طرفین کی شناخت اور ان کے منصب کی شناخت اور اسی طرح اس مسئلے کی تحقیق و جستجو اوران کی اہمیت کا پہچاننا بہت ضروری ہے۔اس واقعہ میں شکایت اور دعویٰ کرنے والی پیغمبر اسلام کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا ہیں جن کا مقام و منزلت اور طہارت و عصمت سب پر عیاں ہے، اور جس سے شکایت کی جا رہی ہے حکومت کا رئیس، خلیفہ

_____________________

(۱) وفاء الوفاء ج۲ ص ۱۶۰۔

(۲) وفاء الوفاء ج۲ ص ۱۶۰۔

(۳) تفسیر برہان ج۲، ص ۴۱۹، یہ واقعہ تفصیلی ہے۔

(۴ ) تفسیر برہان ج۲، ۴۱۹۔


وقت ابوبکر ہے جنہوںنے پیغمبر کے بعد حکومت اپنے ہاتھوں میں لے لی ،کچھ گروہ خوف کے مار ے اور کچھ حرص و لالچ کی وجہ سے ان کے اردگرد جمع رہتے تھے۔پیغمبر کے انتقال کو دس دن سے زیادہ نہ گذرا تھا کہ حضرت زہرا کو خبر ملی کہ خلیفہ کے سپاہیوں نے ان کے کام کرنے والوں کو سرزمین فدک سے نکال دیا ہے اور تمام کام اپنے اختیار میں لے لیا ہے اسی وجہ سے ہاشم کی عورتوں کے ساتھ اپنا حق لینے کے لئے خلیفہ کے پاس گئیں پھر آپ کے اور ابوبکر کے درمیان اس طرح سے گفتگو کا آغاز ہوا۔

فاطمہ: فدک سے میرے مزدوروں کو کیوں نکالا اور کیوں مجھے میرے حق سے محروم کیا؟

خلیفہ: میں نے آپ کے والدسے سنا ہے کہ انبیاء اپنی چیز کو بطور میراث نہیں چھوڑتے۔

فاطمہ: میرے بابا نے فدک مجھے اپنی زندگی میں دیا تھا اور میں اپنے بابا کی زندگی ہی میں اس کی مالک تھی۔

خلیفہ: کیا اس بات پر آپ کے پاس کوئی گواہ ہے۔

فاطمہ: ہاں میرے پاس گواہ ہیں میرے گواہ علی اور ام ایمن ہیں۔

اور ان لوگوں نے حضرت زہرا کی درخواست پر فدک کی گواہی دی کہ پیغمبر کے زمانے ہی میں حضرت زہرا اس کی مالک تھیں۔

جب کہ بہت سے مورخین نے حضرت فاطمہ کے گواہ کے طور پر علی اور ام ایمن کا نام لیا ہے لیکن بعض حسن و حسین کو بھی شاہد کے طور پرذکر کیا ہے اس بات کو مسعودی(۱) اور حلبی(۲) نے بھی نقل کیا ہے بلکہ فخر رازی(۳) کہتے ہیں:

پیغمبر کے غلاموں میں سے ایک نے بھی حضرت زہرا کی حقانیت پر گواہی دیا لیکن ان کے نام کو نہیں تحریر کیا. لیکن بلاذری(۴) نے اس کے نام کو صراحت کے ساتھ لکھا ہے وہ کہتا ہے کہ پیغمبر کے اس غلام کا

______________________

(۱) مروج الذہب، باب آغاز خلافت عباسی۔

(۲) سیرۂ حلبی ج۳ ص ۴۰۔

(۳) تفسیر سورۂ حشر ، ج۸ ص ۱۲۵، بحار الانوار ج۸ ص ۹۳،منقول از کتاب خرائج سے منقول۔

(۴) فتوح البلدان ص ۴۳۔


نام ''رباح'' تھا۔

تاریخی اعتبار سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دونوںباتیں آپس میں اختلاف نہیں ، کیونکہ مورخین کے نقل کرنے کے مطابق خلیفہ نے ایک مرد اور ایک عورت کی گواہی کو مدعا ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں جانا ہے، (آئندہ اس سلسلہ میں بحث ہوگی)اس وجہ سے ممکن ہے پیغمبر کی بیٹی گواہ مکمل کرنے کے لئے حسنین اور رسول اسلام کے غلام کو لے کر آئی ہوں۔

شیعہ احادیث کے مطابق حضرت فاطمہ نے ان گواہوں کے علاوہ اسماء بنت عمیس کو بھی بطور گواہ پیش کیا، نیز ہماری حدیثوں میں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ پیغمبر اسلام نے اپنے ایک خط میں فدک کو حضرت زہرا کی ملکیت کی تصدیق کی ہے(۱) اور یقینا حضرت فاطمہ نے اس سے استناد کیا ہے۔

امیر المومنین علیہ السلام نے گواہی دینے کے بعد خلیفہ کو ان کی غلطی کی طرف انہیں متوجہ کیا کیونکہ انہوں نے اس سے گواہی طلب کیا جس کے تصرف میںفدک تھا اور مالک سے گواہی طلب کرنا اسلام کے قضاوت کے قانوان کے برخلاف ہے۔

اس لئے آپ نے خلیفہ کی طرف رخ کر کے فرمایا: وہ مال جو مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہے اگر میں اس مال کا ادعا کروں تو تم گواہ کس سے طلب کروگے؟ مجھ سے گواہ مانگو گے کہ میں مدعی ہوں یا دوسرے شخص سے کہ مال اس کے تصرف میں ہے؟ خلیفہ نے کہا اس موقع پر میں تم سے گواہ طلب کروں گا۔

علی علیہ السلام نے فرمایا: کافی عرصے سے فدک ہمارے تصرف اور اختیار میں ہے اور یہ مسلمان جو کہہ رہے ہیں کہ فدک عمومی مال ہے تو وہ گواہ و ثبوت پیش کریں نہ یہ کہ ہم سے ثبوت و گواہ طلب کریں۔ خلیفہ امام کے منطقی جواب کو سن کر خاموش ہوگیا۔(۲)

______________________

(۱) بحار الانوار، ج۸، ص ۹۳ اور ۱۰۵، طبع کمپانی۔

(۲) احتجاج طبرسی، ج۱، ص ۱۲۲، طبع نجف ۔


خلیفہ کے جوابات

خلیفہ نے جو حضرت زہرا کو جوابات دیئے تھے تاریخ نے اسے مختلف انداز سے نقل کیا ہے فدک کے مسئلہ کو مرتبہ حضرت زہرا نے چھیڑا ہے اور خلیفہ نے ہر مرتبہ طرح طرح کے جوابات دیئے ہیں ان کےدیئے ہوئے جوابات کو ہم یہاں ذکر کر رہے ہیں۔:

۱۔ جب جناب زہرا (س)کے گواہوں نے ان کے حق میں گواہی دی توعمر اور ابوعبیدہ نے خلیفہ کے حق میں گواہی دی اور کہا کہ پیغمبر اسلام نے اپنے خاندان کے اخراجات کو نکال کر فدک کی باقی آمدنی کو مسلمانوں کے امور میں خرچ کیاتھا اگر فدک پیغمبر کی بیٹی کا حق تھا تو کیوں پیغمبر نے بقیہ اموال کو دوسرے امور میں خرچ کیا۔گواہوں کے متضاد بیانوں کی وجہ سے خلیفہ اٹھا اور سب کے بیانوں کو صحیح بتایا اور کہا دونوں طرف کے گواہ صحیح اور سچی بات کہہ رہے ہیں اور ہم نے سب کی گواہی کو قبول کیا ،علی اور ام ایمن بھی صحیح کہہ رہے ہیں اور عمر اور ابوعبیدہ بھی، کیونکہ فدک جو زہرا کے قبضہ میں تھا وہ پیغمبر کی ملکیت تھی جس کی آمدنی سے آپ اپنے خاندان کا خرچ چلاتے تھے اور اضافی مال کو مسلمانوں میں تقسیم کرتے تھے اس لئے میں بھی پیغمبر کی روش پر عمل کروں گا۔پیغمبر کی بیٹی نے فرمایا: میں بھی حاضر ہوں کہ باقی اموال کو اسلامی امور میں صرف کروں۔خلیفہ نے کہا: تمہارے بدلے ، میں یہ کام انجام دوں گا۔(۱)

۲۔ خلیفہ نے حضرت فاطمہ کے ان گواہوں کو جو اپنے حق کے ثابت کرنے کے لئے پیش کیا تھا قبول نہیں کیا اورکہا میں ہرگز ایک مرد اور ایک عورت کی گواہی قبول نہیں کروں گا بلکہ ضروری ہے کہ دو مرد یاایک مرد اور دو عورتیں گواہی دیں۔(۲) شیعہ حدیث کے مطابق فاطمہ زہرا کے گواہوں پر تنقید کرنا بڑا دردناک المیہ ہے کیونکہ اس نے علی اور حسنین علیھم السلام کو اس نظر سے کہ فاطمہ کے شوہر اور حسنین ان کے بچے ہیں ان کی گواہی کو قبول نہیں کیا اور ام ایمن کی شہادت کو اس لئے قبول نہیں کیا کہ وہ زہرا کی کنیز تھیں، اور اسماء بنت عمیس کی گواہی کو اس لئے ٹھکرادیا کہ وہ جعفر ابن ابیطالب کی پہلے بیوی تھیں اور فاطمہ کو فدک واپس کرنے سے انکار کردیا۔(۳)

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱۶ ص ۲۱۶۔-------(۲) سیرۂ حلبی ج۲ ص ۴۰۰، فتوح البلدان ج۴۳ معجم البلدان ج۴ مادہ فدک

(۳) بحار الانوار ج۸ ص ۱۰۵۔

۳۔ خلیفہ نے پیغمبر کی بیٹی کے پیش کئے ہوئے گواہوں کی گواہی کو قبول کرلیا اورایک سند ان کے نام تحریر کیا لیکن عمر کے اصرار کرنے پر اسے نظر انداز کر دیا۔

ابراہیم بن سعید ثقفی اپنی کتاب ''الغارات'' میں تحریر کرتے ہیں:

خلیفہ نے گواہی سننے کے بعد چاہا کیا کہ فدک فاطمہ زہرا کو واپس کردے چنانچہ کھال کے ایک ٹکڑے پر فدک کی سند کو حضرت فاطمہ کے نام لکھ دیا فاطمہ اس کے گھر سے باہر آئیں راستے میں عمر ملا اور تمام واقعات سے باخبر ہوا اور فاطمہ زہرا سے سند مانگی اور خلیفہ کے پاس آیا اور اعتراضاً کہا : تم نے فدک فاطمہ کو دیدیا جب کہ علی نے خود اپنے فائدے کے لئے گواہی دیا ہے اورام ایمن ایک عورت کے علاوہ کچھ نہیں ، پھر اس نے سند پر تھوکا اور اسے پھاڑ ڈالا۔(۱) یہ واقعہ خلیفہ کے نفس کی سلامتی کی حکایت کرنے کے بجائے اس کے ضعیف ہونے کی حکایت کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ اس کی قضاوت کتنی حد تک دوسرے کے مزاج کے تابع تھی۔

لیکن حلبی اس واقعہ کو دوسرے انداز سے نقل کرتا ہے وہ کہتا ہے:

خلیفہ نے فاطمہ (س)کی ملکیت کی تصدیق کی ، اچانک عمر وارد ہوا اور کہا: یہ نامہ کیسا ہے؟

اس نے کہا: اس نامہ میں، میں نے فاطمہ کی ملکیت کی تصدیق کیا ہے اس نے کہا: تمہیں فدک کی آمدنی کی ضرورت ہے کیونکہ اگر کل مشرکین عرب مسلمانوں کے خلاف جنگ کا اعلان کریں تو جنگ کے اخراجات کہاں سے پورا کرو گے؟ پھر اس نے نامہ لے کر پھاڑ دیا۔(۲)

فدک کے متعلق تحقیق اب یہاں اختتام کو پہونچی اور جس واقعے کو ہوئے چودہ سو سال گزر گئے اس کو منظم طریقے سے پیش کیا ہے اب یہ دیکھنا ہے کہ اسلام اپنے اصول و سنن کے اعتبار سے کس طرح اس واقعہ کا فیصلہ کرتا ہے۔

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۱۶ ص ۲۷۴۔

(۲) سیرۂ حلبی ج۳ ص ۴۰۰۔


مسئلہ فدک کے بارے میں آخری فیصلہ

فدک کے سلسلے میں آخری فیصلہ اس کے بعد کی فصل میں پیش کیا جائیگا وہاں ہم ثابت کریں گے کہ

پیغمبر کی بیٹی کو فدک نہ دینا سب سے پہلی اور بڑی حق تلفی ہے جو اسلام کی قضاوت کی تاریخ میں درج ہے ہم یہاں چند نکات بیان کر رہے ہیں:

ہم نے پچھلی بحثوںمیں واضح اور روشن دلیلوں سے ثابت کردیاکہ''و آت ذا القربیٰ'' کی آیت نازل ہونے کے بعد پیغمبر نے فدک اپنی بیٹی کو دیدیا تھا اور اس سلسلے میں اہل سنت کے بہت سے دانشوروں کے علاوہ شیعہ علماء نے بھی اس مطلب کو صراحت سے بیان کیا ہے اور بزرگ محدثین مثلاًعیاشی، اربلی، اور سید بحرینی نے اس کے متعلق شیعہ احادیث کواپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے، بطور نمونہ یہاں ایک حدیث نقل کرتے ہیں:

صادق آل محمد حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جب آیت''و آت ذا القربیٰ'' نازل ہوئی تو پیغمبر نے جبرئیل سے پوچھا: ''ذا القربیٰ سے مراد کون ہے؟ جبرئیل نے کہا: آپ کے قرابتدار، اس وقت پیغمبر نے فاطمہ اور ان کے بچوں کو بلایا اور فدک ان کو دیدیا اور فرمایا کہ خداوند عالم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ فدک تم لوگوں کو دیدوں۔(۱)

ایک سوال کا جواب

ممکن ہے کہ کوئی یہ کہے کہ سورۂ اسراء مکی سوروں میں سے ہے اور فدک ۷ھ میں مسلمانوں کے قبضے میں آئی تو جو آیت مکہ میں نازل ہوئی ہے وہ کس طرح اس واقعے کے حکم کو بیان کر رہی ہے جو کئی سال بعد رونما ہوا ہے؟

اس سوال کا جواب بالکل واضح ہے اور وہ یہ کہ مکی او رمدنی سورہ ہونے کا معیار یہ ہے کہ اگر اس سورہ کی اکثر آیتیں مکہ میں نازل ہوئیںتو وہ مکی سورہ ہے اوراگر اس سورہ کی اکثر آیتیں مدینہ میں نازل ہوئیں تو وہ مدنی سورہ ہے مگر کیونکہ بہت سے مکی سوروں میں مدنی آیتیں موجود ہیں

______________________

(۱) تفسیر عیاشی ج۲ ص ۲۸۷۔


اسی طرح بہت سے مدنی سوروں میں مکی آیتیں موجود ہیں، تفسیروں اور آیت کے شان نزول کے مطالعہ کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے۔اس کے علاوہ خود آیت کے مفہوم سے واضح ہے کہ یہ آیت مدینے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ مکہ میں پیغمبر کے پاس اتنے امکانات موجود نہ تھے کہ رشتہ داروں اور غریبوں اور محتاجوں کا حق دیتے، اور مفسرین کے نقل کی بنا پر نہ صرف سورہ اسراء کی ۲۶ویں آیت مدینے میں نازل ہوئی بلکہ ۳۲ ۳۳ ۱۵۷ اور ۷۳ ویں تا ۸۱ ویں آیتیں بھی مدینے میں نازل ہوئیں ہیں(۱) اس لئے سورہ کے مکی ہونے اور آیت کے مدینے میں نازل ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

فدک سے متعلق دیگر باتیں

جب فدک کا مسئلہ بالکل واضح تھا تو پھر کیوں پیغمبر کی بیٹی کے حق میں فیصلہ نہیں ہوا؟گذشتہ فصل میںفدک کے متعلق معتبر حوالوں اور طرفین کی دلیلوں کو بیان کیا ہے اواور اب ضرورت ہے کہ اسکے بارے میں صحیح فیصلہ کیا جائےفدک کے مسئلہ کو جس عدالت میں بھی پیش کیا جائے اور جس منصف مزاج قاضی کی نگاہوں سے گذرے گا اس کا فیصلہ پیغمبر کی بیٹی کے ہی حق میں کرے گا اب ہم اس واقعہ کا تجزیہ کرتے ہیں۔

۱۔ خلیفہ کے ہم خیال افرادکی گفتگو سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان لوگوں کا فدک غصب کرنے کا مقصد اپنی خلافت اور حکومت کی بنیاد کو مخالفین کے مقابلے میں مضبوط کرنا تھا اور یہ بات کہ ''پیغمبر میراث نہیں چھوڑتے'' فقط ایک بہانہ تھا تاکہ فدک کا مسئلہ دینی مسئلہ شمار ہو جائے، اور اس دعوے کی دلیل یہ ہے کہ جب خلیفہ پر جناب فاطمہ کی گواہی اور دلیل اثر انداز ہوئی تو انہوں نے چاہا کہ فدک ان کو واپس کردیں چنانچہ انہوں نے حضرت فاطمہ کے نام سند لکھ دی لیکن اچانک عمر وارد ہوے اور جب اس خبر سے آگاہ ہوے تو انہوں نے خلیفہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اگر کل تمام عرب تمہاری حکومت کے خلاف قیام کریں تو جنگ کے اخراجات کہاں سے پورا کرو گے؟ پھر انہوں نے سند لیا اور پھاڑ ڈالا۔(۲)

______________________

(۱) الدر المنثور ج۴ ص ۱۷۷۔ ۱۷۶۔

(۲) سیرۂ حلبی ج۳ ص ۴۰۰ ،منقول از سبط ابن جوزی ۔


یہ گفتگو فدک کے غصب کرنے کی علت کو واضح و آشکار کرتی ہے اور ہر طرح کے تاریخی خٰالیافیوں کی راہ کو مسدود کرتی ہے۔

۲۔ اسلامی محدثین اور مورخین نقل کرتے ہیں کہ جب یہ آیت ''و آت ذا القربیٰ...'' نازل ہوئی تو پیغمبر خدا (ص) نے فدک فاطمہ زہرا کودیا اور اس حدیث کی سند بزرگ صحابی ابوسعید خدری پر ختم ہوتی ہے ،کیا خلیفہ کے لئے لازم نہیں تھا کہ وہ ابوسعید خدری کو بلاتے اور ان سے اس کی حقیقت دریافت کرتے؟

ابو سعید گمنام آدمی نہیں تھے جنہیں خلیفہ نہیں پہچانتے تھے یا ان کی پاکیزگی کے بارے میں شک و تردید میں تھے۔

ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تاریخ اسلام کے موثق محدثین نے ابوسعید خدری پر جھوٹا الزام لگایا ہوگا کیونکہ اس سے ہٹ کر کہ حدیث کے نقل کرنے والے پاک و پاکیزہ ہیں ان کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جنہیں درو غ پر سازش کرنے کو عقل بعید سمجھتی ہے ۔

ابو سعید خدری ان میں تھے جن کی طرف حدیث کے سلسلے میں رجوع کیا جاتا تھا، اور بہت زیادہ ان سے حدیثیں نقل ہوئی ہیں اور ایک گروہ مثلا ابو ہارون عبدی اور عبد اللہ علقمہ جو خاندان رسالت کے دشمن تھے ،نے جب ابوسعید خدری کی طرف رجوع کیا تو خاندان رسالت سے عداوت سے باز آگئے۔(۱)

۳۔ اسلام اور دنیا کی قضاوت کے قانون کے مطابق اگر کوئی کسی ملکیت میں تصرف کرے تو وہ اس کا مالک شمار ہوگا، مگر یہ کہ ثابت ہو کہ وہ مالک نہیں ہے، اور جب بھی کوئی شخص کسی غیر کی ملکیت میں تصرف نہ رکھنے کے باوجود اسے اپنی ملکیت ہونے کا دعوی کرے اور وہ دوسرے کے تصرف میں ہو تو ضروری ہے کہ دو شاہد عادل اس کے مالک ہونے پر گواہی دیں، ورنہ عدالت تصرف کرنے والے کو اس کا مالک قرار دیتی ہے۔

اور یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ فدک کی سرزمین پیغمبر کی بیٹی کے تصرف میں تھی، جس وقت خلیفہ نے فدک پر قبضہ کرنے کا حکم جاری کیا اس وقت حضرت زہرا کے مزدور اس میں کام کر رہے تھے۔(۲)

______________________

(۱) قاموس الرجال ج۱۰ ص ۸۵۔ ۸۴۔

(۲)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱۶ص۲۱۱


کئی سال تک جناب زہرا کا فدک میں تصرف کرنا اور اس میں مزدوروں کا رکھنا اس بات کی دلیل ہے کہ فدک آپ کی ملکیت تھی اسکے باوجود خلیفہ نے حضرت زہرا کے تصرف اور اصطلاحی طور پر ''ذوا لید'' ہونے کو نظر انداز کردیا تھا اور ان کے مزدوروں کو فدک سے نکال دیا۔

اور اس سے بھی بدتر یہ کہ خلیفہ بجائے تصرف نہ کرنے والوں سے گواہ و شاہد طلب کر نے کے حضرت فاطمہ زہرا سے جو کہ فدک پر تصرف کرتی تھی اور دوسرے کی ملکیت ہونے سے انکار کر رہی تھیں ،گواہ طلب کیا جب کہ اسلام کی قضاوت کا قانون یہ ہے کہ جو زبردستی اور جھوٹا ملکیت کا دعوی کر رہا ہو اس سے گواہ طلب کرے نہ یہ کہ مالک سے۔(۱)

امیر المومنین نے جیساکہ ہم نے پہلے بھی ذکر کیاہے کہ اسی وقت خلیفہ کو اس کی غلطی پر متوجہ کیا تھا۔(۲)

خود تاریخ، حضرت فاطمہ کے فدک میں تصرف کرنے کی گواہی دیتی ہے، امیر المومنین نے اپنے ایک خط میں بصرہ کے حاکم عثمان بن حنیف کو اس طرح لکھا :''ہاں آسمان نے چیزوں پر اپنا سایہ کیا تھاان میں سے صرف فدک ہمارے ہاتھ میں تھا''۔

ایک گروہ نے اسے لینے کی کوشش کی اور ایک گروہ نے (خود امام اور آپ کا خاندان) اس سے چشم پوشی کرلی اور خداوند عالم کتنا بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔(۳)

اب بھی ایک سوال باقی ہے وہ یہ کہ جب پیغمبر کی بیٹی کا اس میں تصرف تھا اور وہ دوسرے کی ملکیت ہونے سے انکار کر رہی تھیں اس وقت صرف آپ کا فریضہ یہ تھا کہ مدعی کے سامنے رسوا کرنے والی قسم کھاتیں ، پس جب خلیفہ نے ان سے گواہ طلب کیا تو کیوں شہزادی چند افراد کو بطور گواہ عدالت میں اپنے ساتھ لے گئیں؟

اور اگر یہ مان لیا جائے کہ شہزادی نے خلیفہ کے گواہ طلب کرنے سے پہلے گواہوں کو جمع کرلیا تھا، تو

______________________

(۱) البینة علی المدعی و الیمین علی المنکر۔

(۲) احتجاج طبرسی، ج۱، ص ۱۲۲۔

(۳) نہج البلاغہ عبدہ، نامہ ۴۰۔


اس کی وجہ یہ تھی کہ فدک مدینہ کے نزدیک کوئی چھوٹی زمین یا چھوٹا علاقہ نہ تھا جو مسلمان اس کے مالک اور وکیل سے باخبر ہوتے، بلکہ مدینہ سے ۱۴۰ کیلو میٹر کے فاصلے پر تھا، شاید یہی وجہ رہی ہو کہ شہزادی کو اطمینان تھا کہ خلیفہ ملکیت اور تصرف ثابت کرنے کے لئے گواہ طلب کرے گا اسی لئے گواہوں کو جمع کرلیا تھا اور پھر عدالت میں پیش کیا۔

۴۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پیغمبر کی بیٹی بہ حکم آیۂ تطہیر(۱) ہر طرح کے گناہ و معصیت سے محفوظ تھیںاور خلیفہ کی بیٹی عائشہ نے آیت کے شان نزول کو خاندان پیغمبر کے بارے میں نقل کیا ہے، اور اہلسنت کے دانشمندوں نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں آیت کے شان نزول کو حضرت فاطمہ(س) ،ان کے شوہر اور ان کے بچوں کے بارے میں نقل کیا ہے اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ آیت الٰہی کی شان میں نازل ہوئی ہے احمد بن حنبل اپنی کتاب ''مسند'' میں نقل کرتے ہیں:

اس آیت کے نازل ہونے کے بعد جب بھی پیغمبر نماز صبح پڑھنے کے لئے اپنے گھر سے نکلتے اور حضرت زہرا کے گھر کے پاس سے گذرتے توکہتے تھے ''الصلاة'' پھر اس آیت کو پڑھتے تھے اور یہ سلسلہ چھ مہینے تک جاری رہا۔(۲)

ان تمام باتوںکے بعد، کیا یہ صحیح تھا کہ خلیفہ، پیغمبر کی بیٹی سے گواہ و شاہد طلب کرے؟ اور وہ بھی ایسی چیز میں جس میں زہرا کے علاوہ کوئی اور مدعی نہ تھا تنہا دعویدار خلیفہ تھا۔

کیا یہ خلیفہ کے لئے سزاوار تھا کہ جناب فاطمہ کی پاکیزگی کے بارے میں قرآن کی تصریح چھوڑ دے اور ان سے گواہ طلب کرے؟

ہم نہیں کہتے کہ قاضی نے اپنے علم کے مطابق عمل کیوں نہیں کیا، کیونکہ یہ درست ہے کہ علم ،گواہ سے زیادہ اہمیت و عظمت کا حامل ہے لیکن علم بھی گواہ کی طرح غلطی و اشتباہ کرتا ہے اگرچہ یقینی غلطی ظن و گمان سے کم ہوتی بلکہ ہمارایہ کہنا ہے کہ کیوں خلیفہ نے قرآن کی اس صراحت کو کہ جناب زہرا گناہوںاور خطائوں سے محفوظ ہیں کو چھوڑ دیا؟ اگر قرآن خصوصی طور پر زہرا کی ملکیت کو صراحت سے بیان کرتا تو کیا خلیفہ پیغمبر کی

______________________

(۱) سورۂ احزاب، آیت ۳۳انَّمَا یُرِیدُ اﷲُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ َهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیرًا

(۲) مسند احمد ج۳ ص ۲۹۵۔


بیٹی سے گواہ طلب کرتا؟ حقیقتاً گواہ طلب نہیں کرتا کیونکہ وحی الہی کے مقابلے کوئی بھی بات سننے کے لائق نہیں ہوتی ہے۔

اسی طرح عدالت کے قاضی کو عصمت زہرا پر قرآنی تصریح ہونے کے بعد، حق نہیں تھا کہ وہ گواہ طلب کرے کیونکہ وہ آیت تطہیر کے اعتبار سے معصوم تھیں اور کبھی بھی جھوٹ نہیں بولتی تھیں۔

ہم ابھی اس سلسلے میں بحث نہیں کریں گے کہ حاکم اپنے ذاتی علم پر عمل کرے یا نہ کرے، کیونکہ یہ ایک وسیع موضوع ہے اور فقہاء اسلام نے اس بارے میں کتاب قضا میں بحث کی ہے۔

اگر خلیفہ چاہتا تو مندرجہ ذیل دو آیتوں کے ذریعے مسئلہ فدک کو ختم کردیتا اور پیغمبر اسلام کی بیٹی کے حق میں رائے دیتا وہ دونوں آیتیں یہ ہیں:

۱۔ '( وَاذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوا بِالْعَدْلِ ) سورۂ نساء آیت ۵۸۔

اور جب لوگوں کے باہمی جھگڑوں کا فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کرو۔

۲۔( وَمِمَّنْ خَلَقْنَا اُمَّة یَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ یَعْدِلُونَ ) سورۂ اعراف آیت ۱۸۱۔

او رہماری مخلوقات ہی سے وہ قوم بھی ہے جو حق کے ساتھ ہدایت کرتی ہے اور حق ہی کے ساتھ انصاف کرتی ہے۔

ان دو آیتوں کے حکم کے مطابق عدالت کے قاضی کے لئے ضروری ہے کہ ہمیشہ حق و عدالت کے ساتھ فیصلہ کرے، اس بنا پر جب پیغمبر کی بیٹی گناہوں سے پاک و منزہ تھیں او رکبھی بھی ان کی زبان پر جھوٹ جاری نہیں ہواتو لہذا ان کا دعوی کرنا عین حقیقت اور واقعی عدل تھا اور عدالت کو چاہیئے تھا کہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کرتی لیکن خلیفہ نے ان دو آیتوں کے بعد جو کہ اسلامی قضاوت کے اصولوں میں سے ہے کیوں فاطمہ زہرا کے حق میں فیصلہ نہیں کیا؟

بعض مفسرین کا احتمال یہ ہے کہ ان دو آیتوں سے مراد یہ ہے کہ قاضی (جج) پر لازم ہے کہ وہ قضاوت کے اصول و قوانین کی رعایت کرتے ہوئے صحیح اور عادلانہ فیصلہ کرے اگرچہ حقیقت میں عدالت کے خلافت ہی کیوں نہ ہو، لیکن یہ تفسیردرست نہیں ہے ،ان دونوں آیتوں سے مراد وہی ہے جسے ہم نے بیان کیا ہے۔


۵۔ خلیفہ کی سوانح حیات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بہت سے مواقع پر لوگوں کے دعووں کو بغیر دلیل کے قبول کیا ہے مثلاً جب علاء حضرمی کی طرف سے کچھ مال بیت المال کے نام پر مدینہ لایا گیا تو ابوبکر نے لوگوں سے کہا اگر پیغمبر کے پاس کسی کا مال ہے یا حضرت نے اس سے کچھ وعدہ کیا ہے تو وہ آئے اور اپنا مال لے جائے۔

جناب جابر خلیفہ کے پاس گئے اور کہا کہ پیغمبر(ص) نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہاری فلاں مقدار میں مدد کروں گا اسی وقت ابوبکر نے انہیں تین ہزار پانچ سو (۳۵۰۰) درہم دیا۔

ابوسعید کہتا ہے جب ابوبکر کی طرف سے یہ اعلان ہوا تو کچھ لوگ ان کے پاس گئے اور ان سے درہم و دینار لئے کہ انھیں میں سے ایک ابوبشر مازنی تھا اس نے خلیفہ سے کہا کہ پیغمبر نے مجھ سے کہا تھا کہ جب بھی میرے پاس کوئی مال لے کر آئے گا تو تم میرے پاس آنا اس وقت ابوبکر نے اسے ایک ہزار چار سو (۱۴۰۰) درہم دیا۔(۱) اب سوال یہ ہے کہ خلیفہ نے کس طرح سے ہر مدعی کے دعوے کو قبول کرلیا اور ان سے گواہی طلب نہیں کیا، لیکن پیغمبر کی بیٹی کے مقابلے اپنی ضد پر اڑے رہے اور اس بہانہ سے کہ چونکہ ان کے پاس دلیل اور گواہ نہیں ہیں لہذاان کی بات کو قبول نہیں کیا؟ جو قاضی عمومی مال کے متعلق اتنا سخی ہے کہ پیغمبر کے احتمالی قرضوں اور وعدوں کا اس پر اتنا اثر ہوتا ہے کہ سائل کو فوراً ادا کردیتا ہے تو پھر جناب فاطمہ کے سلسلے میں اتنا کیوں بخل سے کام لے رہا ہے؟جس چیز نے خلیفہ کو پیغمبر کی بیٹی کی صداقت قبول کرنے پر روک دیا وہ وہی چیز ہے جسے ابن ابی الحدید نے اپنے استاد بزرگ اور بغداد کے مدرس علی بن الفار سے نقل کیا ہے وہ کہتا ہے:

میں نے اپنے استاد سے کہا کیا زہرا اپنے دعوے میں سچی تھیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔

میں نے کہا: کیا خلیفہ جانتا تھا کہ وہ ایک سچی عورت ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔

میں نے کہا : تو پھر خلیفہ نے ان کے پورے حق کو ان کے سپرد کیوں نہیں کیا؟

اس وقت استاد ہنسے اور بڑے اطمینان سے کہا:

______________________

(۱) صحیح بخاری، ج۳ ص ۱۸۰، طبقات ابن سعد ج۴ ص ۱۳۴۔


اگر خلیفہ ان کی بات کو قبول کرلیتایہ سوچ کر کہ وہ ایک سچی عورت ہیں اور بغیر گواہ طلب کئے ہوئے فدک ان کے حوالے کردیتاتو آئندہ اپنی سچائی سے اپنے شوہر کے حق میں استفادہ کرتیں اور کہتیں کہ خلافت حضرت علی کا حق ہے اور اس وقت خلیفہ مجبور ہوتا کہ خلافت کو حضرت علی کے حوالے کرے کیونکہ انہیں (اپنے اس اقدام سے) وہ سچا مانتالہٰذا تقاضے اور مناظرے کا راستہ بند کرنے کے لئے انھیں ان کے مسلم حق سے محروم کر دیا۔(۱)

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۱۶، ص ۲۸۴۔


فدک کے مسئلہ میں کوئی ابہام نہیں تھا

ان تمام واضح اور روشن دلیلوں کے بعد، کیوں اور کس دلیل سے فدک کے بارے میں صحیح فیصلہ نہیں کیا گیا؟ خلیفۂ مسلمین کے لئے ضروری ہے کہ امت کے حقوق کی حفاظت اور ان کے منافع کی حمایت کرے، اگر حقیقت میں فدک عمومی مال میں سے تھا اور پیغمبر نے اسے وقتی طور پر اپنے خاندان کی ایک فرد کو دیا تھا تو ضروری تھا کہ پیغمبر کی رحلت کے بعد مسلمانوں کے رہبر کو دیدیا جاتا، تاکہ اس کے زیر نظر مسلمانوں کے صحیح امور میں خرچ ہوتا، اور یہ ایسی بات ہے جس پر سبھی متفق ہیں لیکن قوم کے حقوق کی حفاظت اور لوگوں کے عمومی منافع کی حمایت کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ کسی شخص کی فردی آزادی اورذاتی ملکیت کو نظر انداز کردیا جائے اور لوگوں کے ذاتی مال کو عمومی مال کے طور پر جمع کیا جائے اور پھر اسے عمومی مال قرار دیا جائے۔

اسلامی قانون جس طرح سے اجتماعی چیزوں کو محترم جانتا ہے اسی طرح کسی کے ذاتی و شخصی مال کو جو شرعی طریقے سے حاصل ہو اسے بھی محترم سمجھتا ہے ،اور خلیفہ جس طرح سے عمومی اموال کی حفاظت میں کوشاں رہتا ہے اسی طرح لوگوں کے ذاتی مال اور حقوق کی جن کا اسلام نے حکم دیاہے ان کی بھی حفاظت کرتا رہے کیونکہ جس طرح عمومی مصالح کی رعایت کے بغیر عمومی مال کو کسی شخص کو دینا لوگوں کے حقوق کے ساتھ ناانصافی ہے ، اسی طرح کسی کی ذاتی ملکیت کو جواسلامی قانون کے اعتبار سے مالک ہے اس سے چھین لینا لوگوں کے حقوق سے نا انصافی ہے اگر پیغمبر کی بیٹی کا اپنی ملکیت فدک کے بارے میں دعوی کرنا

قانون قضاوت کے مطابق تھا اور اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لئے گواہوں کو جمع کیا تھا اور عدالت کے قاضی کی نظر میں مسئلہ فدک میں کوئی نقص نہ تھا تو ایسی صورت میں قاضی کا صحیح نظریہ دینے سے پرہیز کرنا یا حقیقت مسئلہ کے برخلاف نظریہ پیش کرنا لوگوں کی مصلحتوں کے خلاف اقدام کرنا ہے اور یہ ہے ایسا سنگین جرم جس کی اسلامی قانون میں سخت مذمت کی گئی ہے۔

مسئلہ فدک کا بعض حصہ اس بات پر شاہد ہے کہ ا سکے اندر نقص نہ تھا اور اسلام کے قضائی قانون کی بنیاد پر خلیفہ پیغمبر کی بیٹی کے حق میں اپنا نظریہ پیش کرسکتا تھا، کیونکہ :

پہلے یہ کہ، مورخین کے نقل کے مطابق جیسا کہ گذر چکا ہے خلیفہ نے حضرت زہرا کی طرف سے گواہ پیش کرنے کے بعدچاہا کہ فدک کو اس کے حقیقی مالک کو واپس کردے اور اسی وجہ سے انہوں نے ایک کاغذ پر فدک کو حضرت زہرا کی ملکیت قرار دے کر ان کے سپرد کردیا، لیکن جب عمر اس بات سے آگاہ ہوے تو خلیفہ پر غصہ ہوئے اور نامہ لے کر پھاڑ ڈالا۔


اگر حضرت زہرا کے گواہ ،مدعا کو ثابت کرنے کے لئے کافی نہ تھے ،اور فدک کی سند میں کوئی کمی تھی تو خلیفہ کبھی بھی ان کے حق میںرائے نہیں دیتا اور حقیقی طور پر ان کی ملکیت کی تصدیق نہ کرتا۔

دوسرے یہ کہ ، جن لوگوں نے پیغمبر کی بیٹی کی حقانیت پر گواہی دی تھی وہ یہ افراد تھے:

۱۔ حضرت امام امیر المومنین ۔

۲۔ حضرت امام حسن ۔

۳۔ حضرت امام حسین ۔

۴۔ رباح، پیغمبر کا غلام۔

۵۔ ام ایمن۔

۶۔ اسماء بنت عمیس۔

کیا ان افراد کی گواہی حضرت زہرا کے مدعا کو ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں تھی؟

اگر فرض کریں کہ حضرت زہرا اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لئے سوائے حضرت علی اور ام ایمن کے کسی کو عدالت میں نہیں لائیں تو کیا ان دو افراد کی گواہی ان کے مدعا کو ثابت کرنے کے لئے کافی نہ تھی؟

ان دو گواہوں میں سے ا یک گواہ حضرت امیر المومنین ـ ہیں کہ جن کی عصمت و طہارت پر آیت تطہیر کی مہر لگی ہوئی ہے اور پیغمبر کے فرمان کے مطابق ''علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے اور وہ حق کا محور ہیں اور حق انہی کے اردگرد طواف کرتا ہے'' ان تمام چیزوں کے باوجو دخلیفہ نے امام کی گواہی کو یہ بہانہ بنا کر قبول نہیں کیا کہ ضروری ہے کہ دو آدمی یا ایک آدمی اور دو عورتیں گواہی دیں۔

تیسرے یہ کہ، اگر خلیفہ نے حضرت زہرا کی گواہی اس لئے قبول نہیں کیا کہ تعداد معین افراد سے کم تھی تو ایسی صورت میں قضاوت اسلام کا قانون یہ ہے کہ وہ مدعی سے قسم کا مطالبہ کرے کیونکہ اسلامی قوانین میں مال و دولت اور قرض کے مسئلوں میں ایک گواہ کی گواہی کو قسم کے ساتھ قبول کرکے فیصلہ کرسکتے ہیں ،تو پھر خلیفہ نے اس قانون کے جاری کرنے سے کیوں پرہیز کیا اور جھگڑے کو ختم نہیں کیا؟


چوتھے یہ کہ، خلیفہ نے ایک طرف حضرت زہرا کی گفتگو اور ان کے گواہوں (حضرت علی اور ام ایمن) کی تصدیق کی اور دوسری طرف عمر او رابوعبیدہ کی (ان لوگوں نے گواہی دیا تھا کہ پیغمبر نے فدک کی آمدنی کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردیا تھا) تصدیق کی۔ اور پھر فیصلہ کرنے کے لئے اٹھے او رکہا کہ سب کے سب صحیح اور سچے ہیں، کیونکہ فدک عمومی مال میں سے تھا اور پیغمبر اس کی آمدنی سے اپنے خاندان کی زندگی کی ضرورتوں کو پورا کرتے تھے اور باقی اموال کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کرتے تھے جب کہ ضروری تھا کہ خلیفہ عمر او رابوعبیدہ کی گفتگو پر سنجیدگی سے غور کرتے کیونکہ ان دونوں نے یہ گواہی نہیں دی تھی کہ فدک عمومی مال میں سے تھا بلکہ صرف اس بات کی گواہی دی تھی کہ پیغمبر نے بقیہ اموال کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کیا تھا، اور یہ بات حضرت زہرا کے مالک ہونے کے ذرہ برابر بھی مخالف نہ تھی کیونکہ پیغمبر اسلام کواپنی بیٹی کی طرف سے اجازت تھی کہ بقیہ اموال کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردیں۔

خلیفہ کا وقت سے پہلے فیصلہ اورفدک لینے کا اس کا باطنی رجحان سبب بنا کہ خلیفہ ان دونوں کی اس گواہی کے بہانے کہ پیغمبر اسلام بقیہ مال مسلمانوں کے درمیان تقسیم کرتے تھے حضرت زہرا کی ملکیت ہونے سے انکار کردے جب کہ ان دونوں کی گواہی پیغمبر کی بیٹی کے دعوے کے مخالف نہیں تھی۔

اہمبات یہ کہ خلیفہ نے حضرت فاطمہ زہرا(س) سے وعدہ کیا تھا کہ فدک کے سلسلے میں ہمارا طریقہ وہی رہے گا جو پیغمبر کا طریقہ تھا اگر حقیقت میں فدک عمومی مال میں سے تھا تو پھر کیوں انہوں نے حضرت زہرا سے رضایت چاہی؟ اور اگر ذاتی ملکیت تھی یعنی پیغمبر کی بیٹی کی ملکیت تھی تو اس طرح کا وعدہ جب کہ مالک اپنی ملکیت سپردکرنے سے ا نکار کرے اس میں تصرف کے جواز باعث نہیں بن سکتا۔

ان تمام چیزوں کے علاوہ اگر فرض کریں کہ خلیفہ کے پاس یہ اختیارات نہیں تھے مگر وہ مہاجرین اور انصار سے رائے مشورہ اور ان کی رضایت حاصل کرنے کے بعد فدک پیغمبر کی بیٹی کے حوالے کرسکتا تھا، توکیوں انہوں نے یہ کام نہیں کیا اور حضرت زہرا کے شعلہ ور غضب کا اپنے کو مستحق قرار دیا؟


پیغمبر کی زندگی میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیاتھا اور پیغمبر نے مسلمانوں کی رضایت کو حاصل کر کے مشکل کو حل کردیاتھا جنگ بدر میں پیغمبر کا داماد ابو العاص (جو پیغمبر کی پروردہ بیٹی زینب کا شوہر تھا:مترجم) گرفتار ہوا تو مسلمانوں نے اس کے علاوہ اس کے ستر افراد کو بھی گرفتار کرلیا، پیغمبر کی طرف سے اعلان ہوا کہ جن کے رشتہ دار گرفتار ہوئے ہیں وہ کچھ رقم دے کر اپنے اسیروں کو آزاد کرسکتے ہیں۔ ابو العاص ایک شریف انسان اور مکہ کا تاجر تھا او رزمانہ جاہلیت میں اس کی شادی پیغمبر کی پروردہ بیٹی سے ہوئی تھی، لیکن بعثت کے بعد اپنی بیوی کے برخلاف اسلام قبول نہیں کیا اور جنگ بدر میں مسلمانوں کے مقابلے میں شریک ہوااور گرفتار ہوگیا اس کی بیوی ان دنوں مکہ میں تھی زینب نے اپنے شوہر کی رہائی کے لئے اپنے اس ہار کو فدیہ قرار دیا جو آپ کی(پرورش کرنے والی ) ماں خدیجہ نے شادی کی رات دیا تھا جب پیغمبر کی نظر زینب کے ہار پر پڑی تو بہت زیادہ گریہ کیا اور ان کی ماں خدیحہ کی فدا کاری و قربانی یاد آگئی جنھوں نے سخت مشکلات کے زمانے میں آپ کی مدد کی تھی اور اپنی تمام دولت کو اسلام کی کامیابی و ترقی کے لئے خرچ کیا تھا۔

پیغمبر اسلام (ص) عمومی اموال کے احترام کی رعایت کرنے کے لئے اپنے صحابیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: یہ ہار تمہارا ہے اور اس پر تمہارا ہی اختیار ہے اگر دل چاہے تو اس ہار کو واپس کردو اور ابوالعاص کو بغیر فدیہ لئے ہوئے رہا کردو آپ کے صحابیوں نے آپ کی درخواست کو قبول کرلیا۔

ابن ابی الحدید لکھتے ہیں:(۱)

''میں نے زینب کے واقعہ کو اپنے استاد ابوجعفر بصری علوی کے سامنے پڑھا تو انھوں نے اس کی

______________________

شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۱۴، ص ۱۶۱۔


تصدیق کی اور کہا:کیا فاطمہ کی عظمت و منزلت زینب سے زیادہ نہ تھی ؟کیا بہتر نہیں تھا کہ خلیفہ فاطمہ کو فدک واپس کر کے ان کے قلب کو خوشحال کردیتا؟اگرچہ فدک تمام مسلمانوں کا مال تھا۔

ابن ابی الحدید مزید لکھتے ہیں:

میں نے کہا کہ فدک اس روایت کے مطابق کہ ''گروہ انبیاء بطور میراث کچھ نہیں چھوڑتے'' مسلمانوں کا مال تھا تو کس طرح ممکن تھا کہ مسلمانوں کا مال حضرت زہرا کو دیدیتے؟

استاد نے کہا: کیا زینب کا وہ ہار جو اس نے اپنے شوہر ابوالعاص کی رہائی کے لئے بھیجا تھا وہ مسلمانوں کا مال نہ تھا؟ میں نے کہا:

پیغمبر صاحب شریعت تھے اور تمام امور کے نفاذ او راجراء کا حکم ان کے ہاتھوں میںتھا لیکن خلفاء کے پاس یہ اختیار نہیں تھا۔

استاد نے میرے جواب میں کہا: میں یہ نہیں کہتا کہ خلفاء زبردستی مسلمانوں سے فدک چھین لیتے اور فاطمہ کے ہاتھوں میں دیدیتے، بلکہ میراکہنا یہ ہے کہ کیوں حاکم وقت نے فدک دینے کے لئے مسلمانوں کو راضی نہیں کیا؟ کیوں پیغمبر کی طرح نہ اٹھے اوران کے اصحاب کے درمیان نہیں کہا کہ اے لوگو! زہرا تمہارے نبی کی بیٹی ہیں وہ چاہتی ہیں کہ پیغمبر کے زمانے کی طرح فدک کا نخلستان (کھجور کا باغ) ان کے ہاتھ میں رہے کیا تم لوگ خود اپنی مرضی سے راضی ہو کہ فدک فاطمہ کے حوالے کردیا جائے ؟

آخر میں ابن ابی الحدید لکھتے ہیں:

ہمارے پاس استاد کی باتوں کا جواب نہ تھا اور صرف بطور تائید کہا: ابوالحسن عبد الجبار بھی خلفاء کے بارے میں ایساہی اعتراض رکھتا ہے اور کہتا ہے کہ اگرچہ ان کاطور طریقہ شرع کے مطابق تھا لیکن جناب زہرا کا احترام اور ان کی عظمت کا پاس و لحاظ نہیں رکھا گیا ۔


چھٹیں فصل

کیاانبیاء میراث نہیں چھوڑتے؟

اس بارے میں قرآن کا نظریہ

ابوبکر نے پیغمبر کی بیٹی کو میراث نہ دینے کے لئے ایک حدیث کا سہارالیاجس کا مفہوم خلیفہ کی نظر میں یہ تھا کہ پیغمبران خدا بطور میراث کوئی چیز نہیں چھوڑ تے اور ان کی وفات کے بعد ان کی چھوڑی ہوئی چیزیں صدقہ ہوتی ہیں۔ قبل اس کے کہ اس حدیث کے متن کو نقل کریں جس سے خلیفہ نے استناد کیا ہے، ضروری ہے کہ اس مسئلے کو قرآن سے حل کریں کیونکہ قرآن مجید حدیث صحیح کو حدیث باطل سے پہچاننے کا بہترین ذریعہ ہے اور اگر قرآن نے اس موضوع کی تصدیق نہیں کیا تو اس حدیث کو (اگرچہ ابوبکر ناقل ہوں) صحیح حدیث شمار نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے من گھڑت او رباطل حدیث شمار کیاجائے گا۔

قرآن کریم کی نظر میں اور اسلام میں میراث کے احکام کی روسے پیغمبروں کی اولاد یا ان کے وارثوں کو مستثنیٰ کرنا قانون میراث کے مطابق غیر منطقی بات ہے اور جب تک قطعی دلیل ان آیات ارث کو تخصیص نہ دے میراث کے تمام قوانین تمام افراد کو کہ انہی میں پیغمبر کی تمام اولادیں اور وارثین ہی شامل ہیں۔

اس جگہ سوال کرنا چاہیئے کہ کیوں پیغمبر کی اولاد میراث نہیں لے سکتی؟ ان کی رحلت کے بعد ان کا گھر اور تمام زندگی کے اسباب ان سے کیوں لے لیا جائے؟ آخر پیغمبر کے وارث کس گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد تمام لوگ گھر سے باہر نکال دیئے جائیں؟

اگرچہ پیغمبر کے وارثوں کو میراث سے محروم کرنا عقلا بعید ہے لیکن اگر وحی کی طرف سے قطعی اور صحیح دلیل موجود ہو کہ تمام انبیاء کوئی چیز بعنوان میرا ث نہیں چھوڑتے اور ان کا ترکہ عمومی مال شمار ہوتا ہے تو ایسی صورت میں''اٰمَنَّا وَصَدَّقْنَا'' حدیث کو قبول کریں گے اور غلط فہمی کو دور کردیں گے او رمیراث سے مربوط آیتوں کو صحیح حدیث کے ذریعے تخصیص دیں گے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ کیا اس طرح کی حدیثیں پیغمبر سے وارد ہوئی ہیں؟


وہ حدیث جو خلیفہ نے نقل کی ہے اس کو پہچاننے کے لئے بہترین راستہ یہ ہے کہ حدیث کے مفہوم کو قرآن کی آیتوں سے ملائیں اگر قرآن کے مطابق ہو تو قبول کریں گے اور اگر قرآن کے مطابق نہ ہوتو اسے رد کردیں گے۔ جب ہم قرآنی آیتوں کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہمیں ملتا ہے کہ قرآن نے دو جگہوں پر پیغمبر کی اولادکی میراث کا تذکرہ کیاہے اور ان کے میراث لینے کو ایک مسلّم حق بیان کیا ہے وہ آیتیں جو اس مطلب کو بیان کرتی ہیں یہ ہیں:

۱۔ یحییٰ نے زکریا سے میراث پائی

( وَانِّی خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَرَائِی وَکَانَتْ امْرَاتِی عَاقِرًا فَهَبْ لِی مِنْ لَدُنْکَ وَلِیًّا یَرِثُنِی وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا ) (سورۂ مریم، آیت ۵، ۶)

اور میں اپنے (مرنے کے) بعد اپنے وارثوں(چچا زاد بھائیوں) سے ڈرجاتا ہوں(کہ مبادا دین کو برباد کریں) اور میری بی بی (ام کلثوم بنت عمران) بانجھ ہے پس تو مجھ کو اپنی بارگاہ سے ایک جانشین (فرزند) عطا فرما، جو میری او ریعقوب کی نسل کی میراث کا مالک ہو اور اسے میرے پروردگار او را س کو اپنا پسندیدہ بنا۔

اس آیت کو ا گر ہر اس شخص کے سامنے پڑھایا جائے جو لڑائی جھگڑوں سے دور ہو تو وہ یہی کہے گا کہ حضرت زکریا نے خداوند عالم سے ایک بیٹا طلب کیا تھا جو ان کا وارث ہو کیونکہ ان کو اپنے دوسرے وارثوں سے خطرہ اور خوف محسوس ہو رہا تھا اور آپ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کی دولت و ثروت ان لوگوں تک پہونچے، وہ کیوں خوف محسوس کر رہے تھے اس کی وضاحت بعد میں کریں گے۔

آیت میں ''یرثنی'' سے مراد میراث میں سے مال لینا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ لفظ مال کی وراثت کے علاوہ دوسری چیزوں میں استعمال نہیں ہوتا مثلاً نبوت اور علوم کا وارث ہونا، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب تک دوسرے والے معنی کے ساتھ کوئی قرینہ موجود نہ ہو اس وقت تک یہ مال سے میراث لینا مراد ہوگا نہ کہ علم اور نبوت سے میراث لینا۔(۱)

_____________________

(۱) جی ہاں، کبھی کبھی یہی لفظ کسی خاص قرینے کی وجہ سے میراث علم میں استعمال ہوتا ہے مثلا''ثم اورثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبادنا'' (فاطر، آیت ۳۲) یعنی ہم نے اس کتاب کو اس گروہ سے جس کو نے چنا ہے ان کو میراث میں دیا، یہاں پر لفظ ''کتاب'' واضح و روشن قرینہ ہے کہ یہاں مال میں میراث مراد نہیں ہے بلکہ قرآن کے حقائق سے آگاہی کی میراث مراد ہے۔


یہاں ہم ان قرینوں کو پیش کر رہے ہیں جو اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ ''یرثنی و یرث من آل یعقوب'' سے مراد مال میں میراث ہے نہ کہ علم و نبوت میں میراث لینا۔

۱۔ لفظ ''یرثنی'' اور ''یرث'' سے یہ ظاہر ہے کہ اس سے مراد وہی مال میں میراث ہے نہ کہ غیرمیں، اور جب تک اس کے برخلاف کوئی قطعی دلیل نہ ہو جب تک اس کو اس معنی سے خارج نہیں کرسکتے، اگر آپ قرآن میں اس لفظ کے تما م مشتقات کو غور سے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ لفظ پورے قرآن میں (سوائے سورۂ فاطر آیت ۳۲ کے) مال میں وراثت کے متعلق استعمال ہوا ہے اور یہ خود بہترین دلیل ہے کہ ان دو لفظوں کو اس کے اسی معروف و مشہور معنی میں استعمال کریں۔

۲۔ نبوت اور امامت خداوند عالم کا فیض ہے جو مسلسل مجاہدت ، فداکاری اور ایثار کے ذریعے باعظمت انسان کو نصیب ہوتا ہے اور یہ فیض بغیر کسی ملاک کے کسی کو دیا نہیں جاتا اس لئے یہ قابل میراث نہیں ہے بلکہ ایک ایسے باعظمت و مقدس گروہ میں ہے کہ ملاک نہ ہونے کی صورت میں ہرگز کسی کو دیا نہیں جاتا اگرچہ پیغمبر کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔یہی وجہ تھی کہ زکریا نے پروردگار عالم سے بیٹے کی درخواست نہیں کی جو نبوت و رسالت کا وارث ہو اور اس بات کی تائید قرآن مجید میں ہے کہ:

( اَللهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَه ) (۱)

خداوند عالم سب سے زیادہ جانتا ہے کہ اپنی رسالت کو کہاں قرار دے۔

۳۔ حضرت زکریا نے صرف خدا سے بیٹے کی تمنا ہی نہیں کی بلکہ کہا کہ پروردگار اسے میرا پاک و پاکیزہ اور پسندیدہ وارث قرار دے اگر اس سے مراد مال میں میراث ہو تو صحیح ہے کہ حضرت زکریا اس کے حق میں دعا کریں کہ ''و اجعلہ رب رضیاً'' (خدایا) اسے مورد پسند قرار دے ۔کیونکہ ممکن ہے کہ مال کا وارث کوئی غیر سالم شخص ہو، لیکن اگر اس سے مراد نبوت و رسالت کا وارث ہو، تو اس طرح سے دعا کرنا صحیح نہیں ہوگا اور یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ ہم خدا سے دعا کریں کہ خدایا ایک علاقہ کے لئے پیغمبر بھیج دے اور اسے پاک و مورد پسند قرار دے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ

______________________

(۱) سورۂ انعام ، آیت ۱۲۴۔


ایسی دعا پیغمبر کے بارے میں جو خداوند عالم کی جانب سے مقام رسالت و نبوت پر فائز ہو باطل ہو جائے گی۔

۴۔ حضرت زکریا اپنی دعا میں کہتے ہیں کہ ''میں اپنے عزیزوں اور چچازاد بھائیوں سے خوف محسوس کرتا ہوں'' لیکن ابتدا میں زکریا کے ڈرنے کی کیا وجہ تھی؟

کیا انھیں اس بات کا خوف تھا کہ ان کے بعد رسالت و نبوت کا منصب ان نا اہلوں تک پہونچ جائے گا اسی لئے انھوں نے اپنے لئے خدا سے ایک بیٹے کی تمنا کی؟ یہ احتمال بالکل بے جا ہے کیونکہ خداوند عالم نبوت و رسالت کے منصب کو ہرگز نااہلوں کو نہیں دیتا کہ ان کو اس بات کا خوف ہو۔ یا حضرت زکریا کو اس بات کا ڈر تھا کہ ان کے بعد دین اور اس کے قوانین ختم ہو جائیں گے اور ان کی قوم الگ الگ گروہوں میں ہو جائے گی؟ اس طرح کا خوف بھی انھیں نہیں تھا کیونکہ خداوند عالم اپنے بندوں کو ایک لمحہ کے لئے بھی اپنی ہدایت کے فیض سے محروم نہیں کرتا اور مسلسل اپنی حجت ان کی رہبری کے لئے بھیجتا ہے اور ان لوگوں کو بھی بغیر رہبر کے نہیں چھوڑتا۔

اس کے علاوہ اگر مراد یہی تھی تو ایسی صورت میں زکریا کو بیٹے کی دعا نہیں کرنی چاہئیے تھی، بلکہ صرف اتنا ہی کافی تھا کہ دعا کرتے کہ پروردگار ا ان لوگوں کے لئے پیغمبر بھیج دے (چاہے ان کی نسل سے ان کا وارث ہو چاہے دوسرے کی نسل سے) تاکہ ان کو جاہلیت کے دور سے نجات دیدے حالانکہ زکریا نے وارث کے نہ ہونے پر خوف محسوس کیا۔

دو سوالوں کا جواب

مورد بحث آیت کے سلسلے میں دواعتراض ذکر ہوا ہے جس کی طرف اہلسنت کے بعض دانشمندوں نے اشارہ کیا ہے یہاں پر ہم دونوں سوالوں کا جائزہ لے رہے ہیں

الف: حضرت یحییٰ اپنے والد کے زمانے میں منصب نبوت پر فائز ہوئے لیکن ہرگز ان کے مال سے میراث نہیں لی کیونکہ اپنے والد سے پہلے ہی شہید ہوگئے اس لئے ضروری ہے کہ لفظ ''یرثنی'' کو نبوت میں وارث کے عنوان سے تفسیر کریں نہ کہ مال میں وراثت سے۔


جواب:

ہر حالت میں اس اعتراض کا جواب دینا ضروری ہے چاہے اس سے مراد مال کا وارث ہو یا نبوت کا وارث ہو، چونکہ نبوت میں وارث ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے باپ کے بعد منصب نبوت پر فائز ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کی تفسیر میں دونوں نظریوں پر اشکال ہوا ہے اور تفسیر، مال میں وارث ہونے سے مخصوص نہیں ہے لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ یحییٰ کا زکریا سے میراث پانا صرف ان کی دعاؤں کی وجہ سے نہ تھا بلکہ ان کی دعا صرف یہ تھی کہ خداوند عالم انھیں صالح بیٹا عطا کرے اور بیٹے کی تمنا کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ زکریا کا وارث بنے، خدا نے ان کی دعا کو قبول کرلیا اگرچہ حضرت زکریا نے جو اس بیٹے کی تمنا کی اس مقصد (یحییٰ کا ان سے میراث لینا) میں کامیاب نہ ہوئے۔

مورد بحث آیت میں تین جملے استعمال ہوئے ہیں جن کی ہم وضاحت کر رہے ہیں:

( فَهَبْ لِیْ مِنْ لَدُنْکَ وَلِیًّا ) پروردگارا! مجھے ایک بیٹا عطا کر۔

( یَرِثُنِی وَ یَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوْب ) میرا اور یعقوب کے خاندان کا وارث ہو۔

''وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیّاً'' پروردگارا! اسے مورد پسند قرار دے۔ان تین جملوں میں پہلا اور تیسرا جملہ بطور درخواست استعمال ہوا ہے جو حضرت زکریا کی دعا کو بیان کرتاہے یعنی انھوں نے خدا سے یہ دعا کی کہ مجھے لائق و پسندیدہ بیٹا عطا کر، لیکن غرض اور مقصد یا دوسرے لفظوں میں علت غائی، مسئلہ وراثت تھا۔جب کہ مسئلہ وراثت دعا کا جزء نہ تھا اور جس چیز کی جناب زکریا نے خدا سے دراخواست کی تھی وہ پوری ہوگئی اگرچہ ان کی غرض و مقصد پورا نہ ہوا او ران کا بیٹا ان کے بعد موجود نہ رہا کہ ان کے مال یا نبوت کا وراث ہوتا۔(۱) وراثت جزء دعا نہ تھی بلکہ امید تھی جو اس درخواست پر اثر انداز ہوئی، اس بات پر بہترین گواہیہ ہے کہ دعا کی عبارت اور زکریا کی درخواست دوسرے سورہ میں اس طرح وارد ہوئی ہے ،اور وہاں پر اصلاً وراثت کا تذکرہ نہیں ہے۔

______________________

(۱) بعض قاریوں نے '' یرثنی '' کو جزم کے ساتھ پڑھا ہے اور اسے جواب یا '' ھَب ''(کہ جو صیغہ امر ہے) کی جزا جانا ہے یعنی'' ان تهب ولیاً یرثنی '' اگر بیٹا عطا کرے گا تو وہ میرا وارث ہوگا۔


( هُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّهُ قَالَ رَبِّ هَبْ لِی مِنْ لَدُنْکَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً انَّکَ سَمِیعُ الدُّعَاء ) (۱)

اس وقت زکریا نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں دعا کی پروردگارا! مجھے اپنی جانب سے ایک صالح اور پاکیزہ بیٹا عطا فرما اور تو اپنے بندوں کی دعا کو سننے والا ہے۔ اب آپ اس آیت میں ملاحظہ کرسکتے ہیں کہ اس درخواست میں وراثت دعا کا حصہ نہیں ہے بلکہ درخواست میں پاکیزہ نسل کا تذکرہ ہے اور سورۂ مریم میں ''ذریت'' کی جگہ پر لفظ ''ولیاً'' اور ''طیبة'' کی جگہ پر لفظ ''رضیاًّ'' استعمال ہوا ہے۔

ب: مورد بحث آیت میں ضروری ہے کہ زکریا کا فرزند دو آدمیوں سے میراث لے ایک زکریا سے دوسرے یعقوب کے خاندان سے جیسا کہ ارشاد قدرت ہے: ''یرثنی و یرث من آل یعقوب'' یعقوب کے خاندان کی تمام وراثت ، نبوت کی وراثت کا حصہ نہیں بن سکتی۔

جواب: آیت کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ زکریا کا فرزند، خاندان یعقوب کے تمام افراد کا وارث ہو ، بلکہ آیت کا مفہوم لفظ ''مِن'' سے جو کہ تبعیض کا فائدہ دیتی ہے ،یہ ہے کہ اس خاندان کے بعض افراد سے میراث حاصل کرے نہ کہ تمام افراد سے، اور اس بات کے صحیح ہونے کے لئے بس اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنی ماں سے یعقوب کے خاندان کے کسی فرد سے میراث حاصل کریں. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس یعقوب سے مراد کون ہے کیا وہی یعقوب بن اسحاق مراد ہیں یا کوئی دوسرا فی الحال مشخص نہیں ہے۔

۲: سلیمان نے داؤد سے میراث پائی

( وَوَرِثَ سُلَیْمَانُ دَاوُود ) (۲)

سلیمان نے داؤد سے میراث پائی۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ سلیمان نے مال و سلطنت کو حضرت داؤد سے بطور میراث حاصل کیا اور یہ خیال کرنا کہ اس سے مراد علم کا وارث ہونا تھا دولحاظ سے باطل ہے۔

______________________

(۱) سورۂ آل عمران، آیت ۳۸۔------(۲) سورۂ نمل، آیت ۱۶۔


۱۔ اصطلاح میں کلمہ ''ورث'' کے معنی مال سے میراث لینا ہے اور علم کی وراثت مراد لینا تفسیر کے برخلاف ہے جو قرینہ قطعی کے بغیر صحیح نہیں ہوگا۔

۲۔ چونکہ اکتسابی علم استاد سے شاگرد کی طرف منتقل ہوتا ہے اور مجازاً یہ کہنا صحیح ہے کہ '' فلاں شخص اپنے استاد کے علم کا وارث ہے'' لیکن مقام نبوت اور علوم الہی وہبی ہیں اور اکتسابی اور موروثی نہیں ہیں اور خدا جسے چاہتا ہے اسے عطا کرتاہے لہٰذا وراثت کی تفسیر اس طریقے کے علوم و معارف اور مقامات او رمنصبوں سے اس وقت تک صحیح نہیں ہے جب تک قرینہ موجود نہ ہو کیونکہ بعد میں آنے والے پیغمبر نے نبوت اور علم کو خدا سے لیا ہے نہ کہ اپنے والد سے۔

اس کے علاوہ اس آیت سے پہلے والی آیت میں خداوند عالم داؤد اور سلیمان کے بارے میں فرماتا ہے:

( وَلَقَدْ آتَیْنَا دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ عِلْمًا وَقَالاَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی فَضَّلَنَا عَلَی کَثِیرٍ مِنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِینَ ) (۱)

اور اس میں شک نہیں کہ ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا اوردونوں نے (خوش ہو کر) کہا خدا کا شکر جس نے ہم کو اپنے بہتیرے ایماندار بندوں پر فضیلت دی۔

کیا آیت سے یہ ظاہر نہیں ہے کہ خداوند عالم نے دونوں کو علم و دانش عطا کیا او رسلیمان کا علم وہبی تھا نہ کہ موروثی؟

سورۂ نمل اور سورۂ مریم کی آیتوں کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شریعت الہی کا پچھلے پیغمبروں کے بارے میں یہ ارادہ نہیں تھا کہ ان کی اولادیںان کی میراث نہ لیں، بلکہ ان کی اولادیں بھی دوسرں کی اولادوں کی طرح ایک دوسرے سے میراث حاصل کریں۔یہی وجہ ہے کہ صریحی طور پر وہ آیتیں جو یحییٰ اور سلیمان کی اپنے والد سے میراث لینے کے متعلق ہیں انہیں حضرت فاطمہ نے اپنے خطبہ میں جو آپ نے پیغمبر کے بعد مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا تھا بیان کیا اور ان دونوں آیتوں سے استناد کرتے ہوئے اس فکر کے غلط ہونے پر استدلال کیا اور فرمایا:

______________________

(۱) سورۂ نمل، آیت ۱۵۔


''هذا کتاب الله حکماً عدلاً و ناطقاً فصلاً یقول ''یرثنی و یرث من آل یعقوب '' و ورث سلیمان داؤد'' (۱)

یہ کتاب خدا حاکم اور عادل و گویا ہے اور بہترین فیصلہ کرنے والی ہے جس کا بیان یہ ہے کہ (یحییٰ نے) مجھ (زکریاسے) اور یعقوب کے خاندان سے میراث پائی (پھر کہا) سلیمان نے داؤد سے میراث پائی۔

______________________

(۱) احتجاج طبرسی، ج۱، ص ۱۴۵، (مطبوعہ نجف اشرف)


پیغمبر(ص) سے منسوب حدیث

گذشتہ بحث میں قرآن کی آیتوں نے یہ ثابت کردیا کہ پیغمبروں کے وارث ،پیغمبروں سے میراث پاتے تھے اور ان کے بعد ان کی چھوڑی ہوئی چیزیں (میراث) غریبوں اور محتاجوں میں بعنوان صدقہ تقسیم نہیں ہوتی تھیں، اب اس وقت ہم ان روایتوں کی تحقیق کریں گے جنہیں اہلسنت کے علماء نے نقل کیا ہے اور خلیفہ اول کے اس عمل کی توجیہ کی ہے جو انھوں نے حضرت زہرا کو ان کے باپ کی میراث لینے سے محروم کردیاتھا۔

ابتدا میں ہم ان حدیثوں کو نقل کررہے ہیں جو حدیث کی کتابوںمیں وارد ہوئی ہیں پھر ان کے معنٰی کو بیان کریں گے ۔

۱۔'' نَحْنُ مَعَاشِرُا لْاَنْبِیَائِ لَانُوْرِثُ ذَهْبًا وَلَا فِضَّةً وَلَا اَرْضًا وَلَا عِقَاراً وَلَا دَاراً وَلٰکِنَّا نُوَرِّثُ الْاِیْمَانَ وَالْحِکْمَةَ وَالْعِلْمَ وَالسُّنَّةَ''

ہم گروہ انبیاء سونا، چاندی، زمین اور گھر وغیرہ بطور میراث نہیں چھوڑتے، بلکہ ہم ایمان ، حکمت ، علم او رحدیث بعنوان میراث چھوڑتے ہیں۔

۲۔'' اِنَّ الْاَنْبِیَائَ لَایُوْرثون''

بے شک انبیاء کوئی چیز بھی بعنوان میراث نہیں چھوڑتے (یا ان کی چیزیں میراث واقع نہیں ہوتیں)

۳۔'' اِنَّ النَّبِیَّ لَایُوْرثُ''

بے شک پیغمبر کوئی چیز میراث نہیں چھوڑتے (یا میراث واقع نہیں ہوتی)

۴۔'' لَانُوْرث، مَا تَرَکْنَاه صَدْقَةً''

ہم کوئی چیز میراث نہیں چھوڑتے بلکہ جو چیز ہمارے بعد باقی رہتی ہے وہ صدقہ ہے۔


یہ ان تمام حدیثوں کی اصلی عبارتیں ہیں جنھیں اہلسنت نے نقل کیا ہے خلیفہ اول نے حضرت زہرا کو ان کے باپ کی میراث نہ دینے کے لئے چوتھی حدیث کا سہارا لیا، اس سلسلے میں پانچویں حدیث بھی ہے جسے ابوہریرہ نے نقل کیا ہے لیکن چونکہ معلوم ہے کہ ابوہریرہ صاحب نے یہ حدیث گڑھی ہے جیسا کہ (خود ابوبکر جوہری کتاب ''السقیفہ'' کے مولف نے اس حدیث کے متن کی غرابت کا اعتراف کیا ہے)(۱)

اس لئے ہم نے اسے نقل کرنے سے پرہیز کیا ہے اب ہم ان چاروں حدیثوں کا تجزیہ و تحلیل کرتے ہیں۔

پہلی حدیث کے سلسلے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس حدیث سے مراد یہ نہیں ہے کہ انبیاء کوئی چیز میراث میں نہیں چھوڑتے ، بلکہ مراد یہ ہے کہ پیغمبروں کی شان یہ نہیں ہے کہ وہ اپنی عمر کو سونے چاندی ، مال و دولت کے جمع کرنے میں خرچ کریں اور اپنے وارثوں کے لئے مال و دولت چھوڑیں اور ان کی جو یادگاریں باقی ہیں وہ سونا چاندی نہیں ہیں، بلکہ علم و حکمت اور سنت ہیں،اسکا مطلب یہ نہیں کہ اگر پیغمبرنے اپنی پوری زندگی لوگوں کی ہدایت و رہبری میں صرف کی اور تقوی اور زہد کے ساتھ زندگی بسر کی تو ان کے انتقال کے بعد اس حکم کی بناء پر کہ پیغمبر کوئی چیز بطور میراث میں نہیں چھوڑتے، ان کے وارثوں سے فورا ان کا ترکہ لے کر صدقہ دیدیں۔

واضح لفظوں میں اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ پیغمبروں کی امتیں یا ان کے ورثاء ا س بات کے منتظر نہ رہیں کہ وہ اپنے بعد مال ودولت بطور میراث چھوڑیں گے، کیونکہ وہ لوگ اس کا م کے لئے نہیں آئے تھے،بلکہ وہ اس لئے بھیجے گئے تھے کہ لوگوں کے درمیان دین و شریعت، علم و حکمت کو پھیلائیں اور انہی

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۱۶ ص ۲۲۰۔


چیزوں کو اپنی یادگار چھوڑیں، شیعہ دانشمندوں نے اسی مضمون میں ایک حدیث امام صادق سے نقل کی ہے اور یہ اس بات پر گواہ ہے کہ پیغمبر کا مقصد یہی تھا۔

امام جعفر صادق فرماتے ہیں:

''انَّ الْعُلَمَائَ وَرَثَةُ الْاَنْبِیَائِ َوذَالِکَ اَنَّ الْاَنْبِیَائَ لَمْ یُوَرِّثُوْا دِرْهَماً وَلَادِیْنَاراً وَاِنَّمَا وُرِثُوْا اَحٰادِیْثَ مِنْ اَحَادِیْثِهِمْ'' (۱)

علماء انبیاء کے وارث ہیں کیونکہ پیغمبروں نے درہم و دینار ورثہ میں نہیں چھوڑا ہے بلکہ (لوگوں کے لئے) اپنی حدیثوں میں سے حدیث کو یادگار چھوڑا ہے

اس حدیث اور اس سے مشابہ حدیث کامراد یہ ہے کہ پیغمبروں کی شان مال کو جمع کر کے میراث میں چھوڑ نا نہیں ہے ،بلکہ ان کی عظمت و شان کا تقاضا یہ ہے کہ اپنی امت کے لئے علم و ایمان کو بطور میراث چھوڑیں، لہذا یہ تعبیر اس بات کو ثابت نہیں کرتی کہ اگر پیغمبر کوئی چیز میراث میں چھوڑ دیںتو ضروری ہے کہ ان کے وارثوں سے لے لیا جائے۔اس بیان سے یہ با ت واضح ہوتی ہے کہ دوسری اور تیسری حدیثوں کا مقصد بھی یہی ہے اگرچہ مختصر اور غیر واضح نقل ہوئی ہیں۔ حقیقت میں جو پیغمبر نے فرمایا: وہ صرف ایک ہی حدیث ہے جس میں کتر بیونت کر کے مختصرا نقل کیا گیا ہے ۔اب تک ہم نے شروع کی تین حدیثوں کی بالکل صحیح تفسیر کی ہے اوران کے قرآن سے اختلافات کو جو پیغمبروں کی اولادوں کے وارث ہونے بتاتاہے، اسے برطرف کردیا۔

مشکل چوتھی حدیث میں ہے، کیونکہ مذکورہ توجیہ اس میں جاری نہیں ہوگی،کیونکہ حدیث میں صراحتاً موجود ہے کہ پیغمبریا پیغمبروں کا ترکہ صدقہ کے عنوان سے لے لینا چاہئے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس حدیث کا مقصد یہی ہے کہ یہ حکم تمام پیغمبروں کے لئے ہے تو اس صورت میں اس کا مفہوم قرآن کے مخالف ہوگا اور پھر معتبر نہیں ہو گی، اور اگر اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ یہ حکم صرف پیغمبر اسلام کے لئے نافذ ہے اور تمام پیغمبروں کے درمیان صرف وہ اس خصوصیت کے

______________________

(۱)مقدمۂ معالم ص۱ منقول از کلینی ۔


حامل ہیں، تو ایسی صورت میں اگرچہ کلی طور پر قرآن مجید کے مخالف نہیں ہے، لیکن قرآن مجید کی متعدد آیتوں کے مقابلے میں عمل کرنا خصوصاً میراث اور اس کے وارثوں کے درمیان تقسیم کرنا، جو کلی و عمومی ہے پیغمبر اسلام کو بھی شامل کرتی ہے بشرطیکہ یہ حدیث اس قدر صحیح و معتبر ہو کہ ان قرآنی آیتوں کی تخصیص کردے، لیکن افسوس کہ یہ حدیث کہ جس پر خلیفہ اول نے اعتماد کیا ہے اس قدر غیر معتبر ہے جس کوہم یہاںبیان کر رہے ہیں۔

۱۔ پیغمبر کے صحابیوں میں سے کسی نے بھی اس حدیث کو نقل نہیں کیا ہے اور صرف اس کو نقل کرنے میں خلیفہ اول فردفرید ہیں۔

اور ہم نے جو یہ کہا ہے کہ حدیث نقل کرنے میں صرف وہی ہیں تو یہ غلط عبات نہیں ہے بلکہ یہ مطلب تاریخ کے دامن میں تحریر ہے اور مسلمات میں سے ہے چنانچہ ابن حجر نے تنہا اس حدیث کے نقل کرنے کی بنا پر ان کی اعلمیت کا اعتراف کیا ہے۔(۱)

جی ہاں، صرف تاریخ میں جو چیز بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام اور عباس کے درمیان پیغمبر کی میراث کے بارے میں جواختلاف تھا۔(۲) عمر نے دونوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے اسی حدیث کا سہارا لیا جسے خلیفہ اول نے نقل کیا تھا اور اس مجمع میں سے پانچ لوگوںنے اس کے صحیح ہونے پر گواہی دی۔(۳) ابن ابی الحدید لکھتے ہیں:

پیغمبر کی رحلت کے بعد صرف ابوبکر نے اس حدیث کو نقل کیا تھا ،ان کے علاوہ کسی نے اس

حدیث کو نقل نہیں کیا اور کبھی کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ مالک بن اوس نے بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ البتہ، عمر کی خلافت کی زمانے میں بعض مہاجرین نے اس کے صحیح ہونے کی گواہی دی ہے۔(۴)

______________________

(۱) صواعق محرقہ ص ۱۹۔

(۲) حضرت علی علیہ السلام کا عباس سے اختلاف جس طرح سے اہلسنت کی کتابوں میں نقل ہوا ہے وہ محققین شیعہ کی نظر میں غیر قابل قبول ہے۔

(۳) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱۶ ص ۲۲۹، صواعق محرقہ ص ۲۱۔

(۴) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۱۶ ص ۲۲۷۔


ایسی صورت میں کیا یہ صحیح ہے کہ خلیفہ جو کہ خود بھی مدعی ہے ایسی حدیث کو بطور گواہ پیش کرے کہ اس زمانے میں اس کے علاوہ کسی کو بھی اس حدیث کی اطلاع نہ ہو؟

ممکن ہے کہ کوئی یہ کہے کہ قاضی فیصلہ کرتے وقت اپنے علم پر عمل کرسکتا ہے اوراپنے کینہ اپنے علم و آگاہی کی بنیاد پر فیصلہ کرے، اور چونکہ خلیفہ نے اس حدیث کو پیغمبر سے سنا تھا لہٰذااپنے علم کی بنیادپر اولاد کی میراث کے سلسلے میں جو آیتیں ہیں انہیں تخصیص دیدیں،اور پھر اسی اساس پر فیصلہ کریں، لیکن افسوس، خلیفہ کامتضادکردار اور فدک دینے میں کشمکش کا شکار ہونا اور پھر دوبارہ فدک واپس کرنے سے منع کرنا (جس کی تفصیل گذر چکی ہے) اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ انہیں حدیث کے صحیح ہونے پر یقین و اطمینان نہ تھا۔

اس بناء پر ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ خلیفہ نے پیغمبر کی بیٹی کو ان کے باپ کی میراث نہ دینے میں اپنے علم کے مطابق عمل کیا ہے اور قرآن مجیدکی آیتوں کو اس حدیث سے جو پیغمبر سے سنا تھا مخصوص کردیا ہے؟

۲۔اگر خداوند عالم کا پیغمبر کے ترکہ کے بارے یہ حکم تھا کہ ان کا مال عمومی ہے اور مسلمانوں کے امور میں صرف ہو، تو کیوں پیغمبر نے اپنے تنہا وارث سے یہ بات نہیں بتائی؟ کیا یہ بات معقول ہے کہ پیغمبر اپنی بیٹی سے اس حکم الہی کو جو خود ان سے مربوط تھا پوشیدہ رکھیں؟ یا یہ کہ ان کو باخبر کردیں مگر وہ اسے نظر انداز کردیں؟

نہیں ۔ یہ ایساہرگز ممکن نہیں ہے ،کیونکہ پیغمبرکی عصمت اور آپ کی بیٹی کا گناہ سے محفوظ رہنا اس چیز کے لئے مانع ہے کہ اس طرح کا احتمال ان کے بارے میں دیا جائے؛ بلکہ ضروری ہے کہ حضرت فاطمہ کے انکار کواس بات پر گواہ سمجھیں کہ ان چیزوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور یہ حدیث ان لوگوںکی من گھڑت ہے جن لوگوں نے سیاسی طور پر یہ ارادہ کیا کہ پیغمبر کے حقیقی وراث کو ان کے شرعی حق سے محروم کردیں۔

۳۔ وہ حدیث جس کو خلیفہ نے نقل کیا تھا اگر واقعاً وہ صحیح تھی تو پھر کیوں فدک مختلف سیاستوںکا شکار رہااور ہر نئے خلیفہ اپنے دوران حکومت میںمتضاد کردار اداکیا؟ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ فدک خلفاء کے زمانے میں ایک آدمی کے پاس نہ تھا کبھی فدک ان کے حقیقی مالکوں کو واپس کیا گیا تو کبھی حکومت کے قبضے میں رہا، بہرحال ہر زمانے میں فدک ایک حساس مسئلہ اور اسلام کے


پیچیدہ مسائل کے طور پر تھا۔(۱) جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے کہ عمر کی خلافت کے دور میں فدک علی علیہ السلام اور عبا س کو واپس کر دیا گیا تھا(۲) خلافت عثمان کے زمانے میں مروان کی جاگیر تھا معاویہ کے خلافت کے دور میں اور امام حسن بن علی کی شہادت کے بعد فدک تین آدمیوں کے درمیان (مروان، عمر وبن عثمان، یزید بن معاویہ) تقسیم ہوا پھر مروان کی خلافت کے دوران تمام فدک اسی کے اختیار میں تھا اور مروان نے اسے اپنے بیٹے عبد العزیز کو دے دیا، اور خود اس نے بھی اپنے بیٹے عمر کے نام ہبہ کردیا۔عمر بن عبد العزیز نے اپنی حکومت کے زمانے میں حضرت زہرا کی اولادوں کے حوالے کردیا اور جب یزید بن عبدالملک نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تو فدک کو حضرت فاطمہ کے بچوں سے واپس لے لیا اور کافی عرصے تک بنی مروان کے خاندان میں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں جاتارہایہاں تک کہ ان کی حکومت کا زمانہ ختم ہوگیا۔

بنی عباس کی خلافت کے زمانے میں بھی فدک مختلف لوگوں کے پاس رہا، ابو العباس سفاح نے اسے عبد اللہ بن حسن بن علی کے حوالے کردیا، ابو جعفر منصور نے اسے واپس لے لیا ، مہدی عباسی نے اسے اولاد فاطمہ کو واپس کردیا موسی بن مہدی اوراس کے بھائی نے اسے واپس لے لیا یہاں تک خلافت مامون تک پہونچی اور اس نے فدک اس کے حقیقی مالک کو واپس کردیا اور جب متوکل خلیفہ ہوا تواس نے فدک کو اس کے حقیقی مالک سے چھین لیا۔(۳) اگر پیغمبر کے فرزندوں کو پیغمبر کے ترکہ سے محروم کرنے والی حدیث صحیح اور مسلّم ہوتی تو فدک کبھی بھی دربدر کی ٹھوکر نہ کھاتی۔

۴۔ پیغمبر اسلام نے فدک کے علاوہ دوسری چیزیں بھی ورثہ میں چھوڑیں، لیکن خلیفہ اول نے تمام

______________________

(۱) اس سلسلے میں مزید معلومات کے لئے کتاب الغدیر مطبوعہ نجف ج۷ ص ۱۵۶ تا ۱۹۶ ، پڑھ سکتے ہیں۔

(۲) یہ عبارت امام ـ کی اس نامہ سے سازگار نہیں ہے جو آپ نے عثمان بن حنیف کو لکھا تھا آپ وہاں لکھتے ہیں:''کانت فی ایدنا فدک من کل ما اظلته السماء فشحت علیها نفوس قوم و سخت عنها نفوس قوم آخرین و نعم الحکم لله'' یعنی وہ چیز جس پر آسمان نے اپنا سایہ کیا ہے اس میں سے صرف فدک میرے اختیار میں ہے جب کہ بعض گروہ نے اسے لالچ کی نگاہ سے دیکھا اور دوسری گروہ نے اسے نظر انداز کردیاواہ کیاخوب ہے خدا کا فیصلہ۔

(۳) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱۶ ص ۲۱۷۔ ۲۱۶۔


ورثے میں سے صرف فدک کو ہی زبردستی چھین لیا اور باقی تمام مال رسول خدا کی بیویوں کے گھر میں موجود تھا اور بالکل اسی طرح ان کے ہاتھوں میں باقی رہا اور خلیفہ نے کبھی بھی ان کی طرف رخ نہیں کیا اور کسی کو بھی اس کے لئے نہ بھیجا کہ جاکر گھروں کے حالات معلوم کرے کہ کیا وہ خود پیغمبر کی ملکیت ہے یا حضرت نے اپنی زندگی ہی میں اپنی بیویوں کو دیدیا تھا۔

ابوبکر نے نہ یہ کہ اس سلسلے میں تحقیق نہیں کیا بلکہ پیغمبر کے جوار میں دفن ہونے کے لئے اپنی بیٹی عائشہ سے اجازت مانگی ،کیونکہ وہ اپنی بیٹی کو پیغمبر کا وارث مانتے تھے۔

انہوں نے نہ یہ کہ ازدواج پیغمبر کے گھروںکو نہیں لیا بلکہ رسول خدا کی انگوٹھی، عمامہ، تلوار، سواری، لباس وغیرہ جو حضرت علی کے ہاتھ میں تھے توواپس نہیں لیا اورا س سلسلے میں کبھی کوئی گفتگو بھی نہیں کی۔

ابن ابی الحدید معتزلی اس تبعیض کودیکھ کر اتنا مبہوت ہوگئے کہ وہ چاہتے تھے کہ خود اپنی طرف سے اس کی توجیہ کریں لیکن ان کی توجیہ اتنی بے اساس اور غیر معقول ہے کہ وہ نقل اورتنقید کے لائق نہیں ہے(۱)

کیا میراث سے محروم ہونا صرف پیغمبر کی بیٹی سے مخصوص تھا ،یاان میں تمام ورثاء بھی شامل تھے، یا اصلاً محرومیت کی بات ہی نہ تھی صرف سیاسی مسئلہ تھا اور وہ یہ کہ حضرت فاطمہ زہرا کو ان کی میراث سے محروم کردیا جائے؟

۵۔ اگر شریعت اسلامی میں پیغمبر کے وارثوں کا ان کی میراث سے محروم ہونا یقینی امر تھا تو کیوں پیغمبر کی بیٹی نے جن کی عصمت پر آیت تطہیر کا پہرہ ہے اپنے شعلہ ور خطبہ میں اس طرح فرمایا:

''یابن ابی قحافة أفی کتاب الله ان ترث أباک و لاارث ابی؟ لقد جئت شیئاً فریاًّ افعلی عمد ترکتم کتاب الله فنبذتموه وراء ظهورکم و و زعمتم ان لا خطَّ لی و لاارث من ابی و لارحم بیننا؟ افخصّکم الله بآیة اخرج ابی منها ام هل تقولون: ان اهل ملتین لایتوارثان؟ او لست أنا و ابی من اهل ملة واحدة ام أنتم اعلم بخصوص القرآن و عمومه من ابی و ابن عمّی؟ فدونکها مخطومة مرحولة تلقاک یوم حشرک

_____________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱۶ ص۲۶۱۔


فنعم الحکم الله و الزعیم محمد و الموعد القیامة و عند الساعة یخسر المبطلون'' (۱)

اے قحافہ کے بیٹے ! کیا کتاب خدا میں ایسا ہے کہ تو اپنے باپ سے میراث حاصل کرے اور میں اپنے باپ کی میراث سے محروم رہوں؟ تو نے تو عجیب بات کہی ہے کیا تو نے جان بوجھ کر خدا کی کتاب کو چھوڑ دیا ہے اور اسے نظر انداز کردیا ہے اور یہ خیال کیا کہ میں اپنے بابا کی میراث حاصل نہیں کروں گی اورہمارے اور ان کے درمیان خونی رشتہ نہیں ہے؟ کیا خدا نے اس سلسلے میں تمہارے لئے کوئی مخصوص آیت نازل کی ہے اور اس آیت میں میرے بابا کو وراثت کے قانون سے محروم کردیا ہے یا یہ کہو کہ دو مذہب کے ماننے والے ایک دوسرے سے میراث نہیں لیتے؟ کیا ہم اور ہمارے بابا ایک مذہب کے ماننے والے نہیں ہیں؟ کیا تم قرآن کی تمام عام و خاص چیزوں میں میرے بابا اور ان کے چچازاد بھائی (علی ابن ابیطالب )سے زیادہ معلومات رکھتے ہو؟ لے اس مرکب کو جو مہار و زین کے ساتھ ہے جو قیامت کے دن تمہارے روبرو ہوں گے ، واہ کیا خداوند عالم کا فیصلہ ہے اور کیا بہتر محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رہبری ہے میرا اور تمہارا وعدہ قیامت کے دن کے لئے ہے اور قیامت کے دن باطل عقیدے والے خسارے میں ہوں گے۔

کیا یہ صحیح ہے کہ اس شعلہ ور خطبہ کے بعد ہم یہ احتمال دیں کہ وہ حدیث جس کا ہم نے ذکر کیا تھا وہ صحیح اور محکم تھی؟ یہ کیسا قانون ہے کہ جو صرف پیغمبر کی بیٹی اور پیغمبر کے چچازاد بھائی سے مربوط ہو اور وہ اس خبر سے بے خبر ہوں اور ایک غیر معمولی انسان جس کا حدیث سے کوئی رابطہ و واسطہ نہ ہو اس سے باخبر ہو؟!

اس بحث کے آخر میں چندنکتوں ذکر کرنا ضروری ہے۔

الف: حضرت فاطمہ کا حاکم وقت سے چار چیزوں میں اختلاف تھا۔

۱۔ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی میراث۔

۲۔ فدک، جسے پیغمبر نے اپنی زندگی ہی میں فاطمہ کو دیدیا تھا ،اورعربی زبان میں اسے ''نِحلہ'' کہتے ہیں۔

______________________

(۱) احتجاج طبرسی ج ۱ ص۱۳۸مطبوعہ نجف اشرف، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱۶ ص ۲۵۱۔


۳۔ قرابتداروں کا حصہ، جس کا تذکرہ سورۂ انفال کی آیت نمبر ۴۱ میں ہوا ہے۔

۴۔ حکومت اور ولایت ۔

حضرت زہرا(س) کے خطبوں اور احتجاجوں میں ان چاروں امور کی طرف اشارہ ہوا ہے اسی وجہ سے کبھی لفظ میراث اور کبھی لفظ نحلہ استعمال ہوا ہے ۔ابن ابی الحدید نے(شرح نہج البلاغہ ج۱۶، ص ۲۳۰) اس سلسلے میں تفصیلی بحث کی ہے۔

ب بعض شیعہ علماء مثلاً مرحوم سید مرتضی نے حدیث ''لانورث ماترکناہ صدقة'' کی ایسی تفسیر کی ہے جو حضرت فاطمہ کے میراث پانے کے منافی نہیں ہے۔

آپ فرماتے ہیں کہ لفظ ''نورث'' صیغہ معروف ہے اور ''ما'' موصول اس کا مفعول ہے اور لفظ ''صدقہ'' حال یا تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، ایسی صورت میں حدیث کا معنی یہ ہوگا جو چیز بھی صدقہ کے عنوان سے چھوڑی جائے گی اسے میراث نہیں کہیں گے اور یہ بات واضح ہے کہ جو چیز پیغمبر کی زندگی میں صدقہ ہو گی وہ میراث نہیں بن سکتی،اس کا مطلب یہ نہیں ہوا کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہرگز کوئی چیز میراث کے طور پر نہیں چھوڑتے۔

لیکن یہ تفسیر بھی اشکال سے خالی نہیں ہے کیونکہ یہ بات صرف پیغمبر سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر مسلمان جو اپنی زندگی میں کچھ مال وقف یا صدقہ کرے وہ میراث میں شمار نہیں ہوگا اور ہرگز اس کی اولادوں کو نہیں ملے گا چاہے پیغمبر ہو یا کوئی اور شخص ہو۔

ج: پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پارۂ جگر کے تمام کلام چاہے وہ شعلہ ور خطبۂ ہو ، چاہے خلیفہ وقت سے بحث و مباحثہ ہو ، ان سب سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ ان حالات سے بہت سخت ناراض تھیں او راپنے مخالفین پر سخت غضبناک تھیں اور جب تک زندہ رہیں ان سے راضی نہ ہوئیں۔


حضرت فاطمہ زہرا (س) کا غضبناک ہونا

اس سے پہلے ہم بیان کر چکے ہیں کہ پیغمبر کی بیٹی کا ابوبکر سے احتجاج و مناظرہ کرنا بے نتیجہ رہا اور فدک حضرت زہرا کے ہاتھوں سے لے لیا گیا اور آپ دنیا سے بھی رخصت ہوگئیں مگر خلیفہ سے ناراض تھیں اور یہ بات تاریخی اعتبار سے اس قدر واضح و روشن ہے کہ اس کا انکار کرنا ممکن نہیں ہے اہلسنت کے مشہور محدث بخاری کہتے ہیں:جب خلیفہ نے پیغمبر کی طرف حدیث کی نسبت دے کر فاطمہ کو فدک لینے سے روک دیاتو آپ خلیفہ پر غضبناک ہوئیں اور پھر ان سے گفتگو نہیں کیا یہاں تک کہ اس دنیا کوالوداع کہہ دیا۔(۱) ابن قتیبہ اپنی کتاب ''الامامة والسیاسة'' ج۱ ص ۱۴ پر تحریر کرتے ہیں:

''عمر نے ابوبکر سے کہا چلو فاطمہ کے پاس چلیں کیونکہ ہم نے انھیں ناراض کردیا ہے وہ لوگ حضرت زہرا کے گھر آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگی لیکن آپ نے اجازت نہیں دی یہاں تک کہ حضرت علی کے ذریعے سے گھر میں داخل ہوئے لیکن زہرا نے ان دونوں سے منھ پھیر لیا اور سلام کاجواب تک نہ دیا۔انھوں نے بہت منت و سماجت کی اور یہ بھی بیان کیا کہ ہم نے فدک انھیں کیوں نہیں دیا زہرا نے ان کے جواب میں کہا: میں تمہیں خدا کی قسم د ے کر کہتی ہوں کہ کیا تم نے پیغمبر سے نہیں سنا تھا کہ فاطمہ کی رضایت میری رضایت ہے اور اس کو غضبناک کرنا مجھے غضبناک کرنا ہے فاطمہ میری بیٹی ہے جو شخص بھی اُسے دوست رکھے گا گویا اس نے مجھے دوست رکھا اورجس نے اسے راضی کیا گویا اس نے مجھے راضی کیا اور جس نے بھی زہرا کو غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیاہے؟ اس وقت دونوں (عمر اور ابوبکر) نے اس بات کی تصدیق کی کہ ہاں پیغمبر سے ہم نے یہ باتیں سنی تھیں۔

زہرا سلام اللہ علیھافرماتی ہیں: میں خدا اور فرشتوں کو گواہ بنا کر کہتی ہوں کہ تم دونوں نے مجھے غضبناک کیاہے اور مجھے ناراض کیا ہے اور جب ہم پیغمبر سے ملاقات کریں گے تو تم دونوں کی شکایت کریں گے۔

ابوبکر نے کہا: میں تمہارے اور پیغمبر کے غضبناک ہونے پر خدا سے مانگتا ہوں، اس وقت خلیفہ رونے لگے اور کہا کہ خدا کی قسم میں ہر نماز کے بعد تمہارے لئے دعا کروں گا یہ کہنے کے بعد روتے ہوا

______________________

(۱) صحیح بخاری باب فرض الخمس ج۵ ص ۵ و کتاب غزوات باب غزوات خیبر ج۶ ص ۱۹۶ اس باب میں کہتے ہیں: اپنے باپ کے انتقال کے بعد فاطمہ چھ مہینہ زندہ تھیںاور جب آپ کی شہادت ہوگئی تو آپ کے شوہر نے شب کی تاریکی میں دفن کیا اور ابوبکر کو خبر بھی نہ دی۔


حضرت زہرا کے گھر سے باہر نکل گئے لوگ ان کے چاروں طرف جمع ہوگئے انہوں نے کہا:

تم میں سے ہر شخص اپنے اہل و عیال کے ساتھ خوشی سے شب وروز بسر کر رہا ہے اور تم لوگوں نے مجھے ایسے کام میں لگا دیا ہے میں تمہاری بیعت کا محتاج نہیں ہوں مجھے منصب خلافت سے معزول کردو۔(۱)

اسلامی محدثین نے متفقہ طور پر اس حدیث کو پیغمبر اسلام سے نقل کیا ہے:

''فاطمه بضعة منی فمن أغضبها أغضبنی'' (۲)

فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا۔

''فسلام الله علیها یوم ولدت و یوم ماتت و یوم تبعث حیَّةً''

(اللہ کا سلام ہو ان پر جس دن وہ پیدا ہوئیں اور جس دن انہوں نے وفات پائی اور جس دن اس دنیا سے اٹھائی جائیں گی)

______________________

(۱) جاحظ نے اپنے رسائل ص ۳۰۰ پر بہترین کلام اس سلسلے میں ذکر کیا ہے قارئین مزید معلومات کے لئے رجوع کرسکتے ہیں۔

(۲) اس حدیث کے حوالوں کے لئے الغدیر ج۷ ص ۲۳۵۔ ۲۳۲، مطبوعہ نجف کی طرف رجوع کریں۔


ساتویں فصل

حضرت علی علیہ السلام اور شوریٰ

پیغمبر اسلام کے انتقال کے بعد خلفاء ثلاثہ کا انتخاب ایک طریقے سے نہیں ہوا بلکہ خلفاء ثلاثہ میں سے ہر ایک خلیفہ الگ الگ طریقے سے منتخب ہوا، مثلا ابوبکر انصار کے ذریعے چنے گئے جن کی تعدا د سقیفہ بنی ساعدہ میں بہت زیادہ تھی او رمہاجرین سے زبردستی اور اختیاری دونوں صورتوں سے بیعت لی گئی، اور عمر کوابوبکر نے رہبری کے لئے منتخب کیا اور عثمان اس شوریٰ کے ذریعے منتخب ہوئے جس میں کل چھ آدمی تھے اور اس کمیٹی کو دوسرے خلیفہ نے بنایا تھا۔

خلیفہ منتخب کرنے کے یہ مختلف طریقے اس بات پر گواہ ہیں کہ خلافت انتخابی امر نہیں تھا اور پیغمبر کی جانب سے کوئی ایسا حکم جاری نہ ہوا تھا کہ لوگ امام کا انتخاب کرلیں ورنہ پیغمبر کے انتقال کے بعد خلفاء کا مختلف طریقوں سے منتخب ہونا جو آپس میں ایک دوسرے سے مشابہت بھی نہیں رکھتے تھے وہ چن لئے جائیں اور پیغمبر کا حکم نظر انداز کردیا جائے، اور تمام لوگ اپنی زبانوں پر تالے لگالیں اور اس طرح کے انتخابات پر کوئی اعتراض نہ کریں۔

یہ اختلاف اس بات پر گواہ ہے کہ اسلام میں رہبری اور امامت کا مرتبہ خدا کی جانب سے ایک انتصابی منصب ہے لیکن افسوس اس قوم کے بزرگوں نے اس مسئلے میں بھی، دوسرے مسائل کی طرح پیغمبر کی حدیثوں کو نظر انداز کر دیا ہے اور لوگوںکو یہ راہ دکھادی کہ امت کا رہبر خود امت ہی منتخب کرے اور چونکہ لوگوں کے ذریعے رہبر کا انتخاب ایک نئی چیز تھی اور اس روش کے ایجاد کرنے والوں کو کوئی تجربہ نہ تھا لہٰذا رہبر کا مختلف طریقوں سے انتخاب کیا گیا۔


ابوبکر نے حقِ نمک ادا کردیا

ابوبکر کو مسند خلافت پر بیٹھانے کے لئے عمر نے بہت زیادہ کوششیں کیں اور اس کام سے ان کا مقصد یہ تھا کہ ابوبکر کے مرنے کے بعد خلافت ان کے حق میں آئے کیونکہ وہ ابوبکر سے کچھ چھوٹے تھے امام علی علیہ السلام نے ابتدائے میںہی عمر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

''اچھی طرح اس کی مدد کرو کہ تمھیں ہی اس کا فائدہ ملے گا آج اس کے لئے بہترین راہ ہموار کرو تا کہ کل تمہیں واپس مل جائے''۔(۱) ابوبکر نے بھی نمک حرامی نہیں کی، بیماری کے عالم میں جب کہ وہ زندگی کی آخری سانسیں لے رہے تھے عثمان کو بلایا اور انہیں حکم دیا کہ لکھو:''یہ عبد اللہ بن عثمان کا عہد نامہ(۲) مسلمانوں کے لئے ہے جو دنیا کی زندگی کے آخری لمحات اور آخرت کے پہلے گام پر ہے اس وقت میں جب کہ مومن بہترین کام اور نیک چیزوں کی فکر میںہے اور کافر حالت تسلیم میں ہے۔ابھی خلیفہ کا کلام یہیں پر پہونچا تھا کہ بے ہوش ہوگئے، عثمان نے یہ سوچ کر کہ وصیت نامہ مکمل ہونے سے پہلے خلیفہ مرگئے ہیں لہٰذا عہد نامہ کو خود اپنی طرف سے لکھ ڈالا، پھر آگے لکھتے ہیں کہ میں نے اپنے بعد خطّاب کے بیٹے کو جانشین قرار دیا ہے۔

کچھ ہی دیر گذری تھی کہ خلیفہ کو ہوش آگیا اورعثمان نے جو کچھ ا ن کی طرف سے لکھا تھا اس کو پڑھ کر سنایا ابوبکر نے عثمان سے پوچھا: تم نے میری وصیت کو کس طرح لکھا؟ انہوں نے جواب دیا: میں جانتا تھا کہ آپ اس کے علاوہ کچھ اورنہیں لکھیں گے۔اگر یہ واقعہ صرف نمائش کے لئے ہو تب بھی ہم یہی کہیں گے کہ عثمان بھی عمر کے منتخب ہونے میں شامل تھے اور انہوں نے ایک خاص طریقے سے اپنے ارادے کو ظاہر کردیا۔مدتوں بعد وہ وقت آپہونچا کہ عمر نے حق کو پہچانا اور عثمان کو اپنے بعد کے لئے خلیفہ منتخب کردیااور حق نمک ادا کر دیا۔

______________________

(۱) الامامة و السیاسہ ج۱ ص ۱۲، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معنزلی ج۲ ص ۵، اسی مضمون سے ملتے ہوئے مضمون کے متعلق امیر المومنین نے خطبہ شقشقیہ (نہج البلاغہ کا تیسرا خطبہ) میں فرمایا ہے ''لشد ماتشطرا ضرعیہا''

(۲) ابوبکر کا نام ہے ۔ الامامة و السیاسہ ج۱ص ۸۸۔


نژاد پرستی اور طبقاتی نظام

اسلام کااہم افتخار ، جو آج بھی اپنی طرف محروم اور مظلوم ترین افراد کو جذب کررہاہے ہر طرح کی تبعیض اور قوم پرستی سے لوگوںکو دور رکھنا ہے اور اس کا ایک ہی شعار ہے کہ تم میں سب سے عظیم شخص وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔

پیغمبر اسلام کے زمانے میں حکومت کے سپاہیوں اور کام کرنے والوں کی کوئی معقول و معین تنخواہیں نہیں تھیں اور ان کی ضروریات زندگی مال غنیمت سے پوری ہوتی تھیں وہ مال جو مسلمان مشرکوں سے جنگ کر کے حاصل کرتے تھے اس میں سے پانچواں حصہ نکالنے کے بعد سپاہیوں کے درمیان تقسیم ہوتا تھا اور مال غنیمت تقسیم ہوتے وقت تبعیض یا حسب و نسب یا پیغمبر کا رشتہ دار کی رعایت نہیں کی جاتی تھی۔

خلیفہ اول کے زمانے میں بھی یہی طریقہ رائج تھا ،لیکن خلیفہ دوم کے زمانے میں یہ دستور تبدیل ہوگیا ،اسلام کے روزبروز ترقی کرنے کا سبب یہ ہوا کہ خلیفہ وقت نے سپاہیوں اور کام کرنے والوں کی تنخواہوں کے لئے ایک خاص بندوبست کیا ،لیکن افسوس کہ تنخواہ معین کرتے وقت معیار و میزان بجائے یہ کہ تقوی و پرہیزگاری، سیاسی و نظامی آگاہی، سابقہ خدمت وغیرہ ہو یا کم سے کم اسلام کو معیار قرار دیا جائے، حسب و نسب اور نژاد پرستی کو معیار قرار دیا گیا۔

اس اہم موضوع میں عرب کے سپاہی عجم کے سپاہیوں پر، عرب قحطان عرب عدنان پر، عرب مضر عرب ربیعہ پر، قریش غیر قریش پر، اور بنی ہاشم بنی امیہ پر مقدم تھے، اور پہلے گروہ والوں کی تنخواہ دوسرے گروہ والوں سے زیادہ تھی، مشہور مورخین مثلاً ابن اثیر، یعقوبی اورجرجی زیدان، نے اپنی اپنی تاریخ میں حکومت اسلامی کے سپاہیوں اور سرکاری نوکروںکی مختلف تنخواہوں کے اختلاف کو ذکر کیا ہے۔(۱) تنخواہوں کی رقموں کا مختلف ہونا تعجب خیز ہے مشہور و معروف مالدار عباس بن عبد المطلب کا سالانہ وظیفہ ۱۲ ہزار درہم تھا جب کہ ایک مصری سپاہی کا سالانہ وظیفہ۳۰۰ درہم سے زیادہ نہ تھا۔

پیغمبر اسلام کی ہر ایک بیوی کا سالانہ وظیفہ ۶ ہزار درہم تھا جب کہ یمن کے ایک سپاہی کا سالانہ

______________________

(۱) تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۱۰۶، کامل ابن اثیر ج۲ ص ۱۶۸، تاریخ جرجی زیدان ترجمۂ جواہر الکلام ج۱ ص ۱۵۹ کے بعد ۔


وظیفہ ۴۰۰ درہم بھی نہ تھا ، معاویہ اور اس کے باپ ابوسفیان کا سالانہ وظیفہ ۵ ہزار درہم تھا جب کہ مکہ کے ایک عام شخص جس نے ہجرت نہیں کیا تھا اس کا سالانہ وظیفہ ۶ سو درہم تھا خلیفہ نے اس عمل ''نژاد پرستی'' کو جسے قرآن اور رسول اسلام نے ممنوع قرار دیا تھا دوبارہ زندہ کردیا اوراسلامی معاشرے کو اختلاف اور طبقہ بندی میں گرفتار کردیا۔

زیادہ دن نہ گذرے تھے کہ اسلامی معاشرے میں زبردست اختلاف پیدا ہوگیا اور سیم و جواہر کی تلاش و جستجو کرنے والے اور دنیا پرست خلیفہ کی حمایت کے زیر نظر سیم و زر کی تلاش میں نکل پڑے اور محنت و مشقت کرنے والوں اور مزدوروں پر ظلم و زیادتی کا زمانہ شروع ہوگیا۔

خلیفہء وقت نے حاکموں اور دنیا پرستوں مثلا سعد وقاص،عمر و عاص، ابوہریرہ، جیسے مالداروں کا مال پہلے ہی جمع کرلیا تھا اور ہمیشہ اس کوشش میں لگے رہے کہ طبقاتی نظام اس سے زیادہ نہ پھیلے، لیکن افسوس چونکہ ان کا سب سے پہلا اقتصادی قدم غلط اور بے بنیاد اور بے وجہ برتری پر قائم تھا لہذا ان کا مال جمع کرنا سود مند ثابت نہ ہوااور آئندہ کے رہبر کے تعیین کوجو ذاتاً نژاد پرست تھے آسان کردیا اوران کی نژاد پرستی کو اور مضبوط کردیا۔

اس دور کے دولت مند افراد نے مالدار ہونے کی وجہ سے غلاموں کو خریدا اور انھیں کام کرنے میں آزاد کردیا اور مجبور کیا کہ خود اپنی زندگی کی ضروریات کو بھی پورا کریں اور روزانہ یا ہر مہینے اپنے اپنے مالکوں کو کچھ رقم ادا کریں بیچارے غلام، صبح سے شام تک محنت کرتے اور اپنی جان کو گنواتے تھے تاکہ تعیین شدہ رقم مالک کو ادا کرسکیں۔

خلیفہ سے ایک ایرانی کاریگر کی فریاد

فیروز ایرانی، جو ابو لؤلؤ کے نام سے مشہور ہے، مغیرہ بن شعبہ کا غلام تھا، وہ اپنی زندگی کی ضروریات پورا کرنے کے بعد مجبور تھا کہ روزانہ دو درہم مغیرہ کو ادا کرے، ایک دن بازار میں ابو لؤ لؤ کی نگاہ خلیفہء دوم پر پڑی اس نے فریاد کی اور کہا: مغیرہ نے جو چیز مجھ پر معین کی ہے وہ میرے لئے بہت مشکل ہے ، خلیفہ چونکہ اس کے کام سے آگاہ تھے لہٰذاانہوں نے پوچھا: تم کیا کام جانتے ہو؟


اس نے جواب دیا: بڑھئی ، نقاشی اور لوہار کا کام۔

خلیفہ نے بڑی بے توجہی سے کہا، اس کام کے مقابلے میں یہ رقم زیادہ نہیں ہے۔

میں نے سنا ہے کہ تم ایک ایسی چکی بنا سکتے ہو جو ہوا کے ذریعے چلے کیا تم ایسی ہی چکی میرے لئے بنا سکتے ہو؟

فیروز جو خلیفہ کی باتیں سن کر بہت زیادہ غیظ میںتھا اشارتاًانہیں قتل کی دھمکی دی اور اس کا جواب دیا کہ میں تمہارے لئے ایسی چکی بناؤں گا جس کی دنیا میں کوئی مثال نہ ہوگی خلیفہ ایرانی کاریگر کی اس جسارت سے بہت ناراض ہوئے اور جو شخص ان کے ہمراہ تھا اس سے کہا: اس ایرانی غلام نے مجھے قتل کی دھمکی دی ہے۔

وہ اپنی خلافت کے آخری دنوں میں اس بات سے آگاہ تھے کہ اسلامی معاشرے کا مزاج بہت آلودہ ہوگیا ہے اور ظلم و ستم بہت تیزی سے پھیل رہا ہے لہٰذا انہوں نے لوگوں سے وعدہ کیاکہ اگر میں زندہ بچ گیا تو ایک سال لوگوں کے درمیان رہ کر ان کی مشکلات کو حل کروں گا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ بہت سی شکایتیں ان تک نہیں پہونچتی ہیں، ڈاکٹر علی وردی کے نقل کرنے کے مطابق خلیفۂ دوم نے کہا:

''میرا تبعیض اور بعض کو بعض پر مقدم کرنے کا مقصد صرف تالیف قلوب تھا (لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنا یا اسلام کی طرف مائل کرنا) اگر میں آنے والے نئے سال تک زندہ رہا تو تمام لوگوں کے درمیان مساوات قائم کروں گا اور تبعیض کو تمہارے درمیان سے ختم کردوں گا اور کالے ، گورے، عرب، عجم سب کو مساوی قرار دوں گا جیساکہ ابوبکر اور پیغمبر نے کیا تھا''۔(۱)

مگر خلیفہ زندہ نہ رہے اور موت نے ان کے اور ان کی آرزؤں کے درمیان فاصلہ پیدا کردیا اور فیروز کے خنجر نے ان کی زندگی کا خاتمہ کردیا، لیکن خلیفۂ سوم نے ان کے طبقاتی نظام کوکو اور بھی زیادہ کردیا اور اسلامی حکومت کو کینہ پروروں کی آماجگاہ قرار دیدیا۔

فیروز کا خنجرمزدوروںکے غیظ و غضب کی علامت تھا اگر خلیفہ فیروز ایرانی کے ہاتھوں قتل نہ ہوتے تو آنے والے دنوں میں بہت زیادہ خنجر ان کی طرف بڑھتے۔ہمارے مورخین و مقررین یہ تصور کرتے ہیں کہ اسلامی معاشرے میں طبقاتی اختلاف اور نژار پرستی

______________________

(۱) نقش وعاظ در اسلام ص ۸۴۔


کی بنیاد عثمان کی حکومت میں پڑی ہے جب کہ عثمان کے زمانے میں نژاد پرستی عروج پرتھی اور سبب بنی کہ لوگوں نے ہر طرف سے ان کی حکومت کے خلاف قیام کیا ، لیکن اس کی بنیاد یہی خلیفہ دوم کے زمانے میں رکھی گئی۔

جی ہاں، پیغمبر اسلام کے بعد سب سے پہلے جس نے اس آگ کو روشن کیا اور اس کا دھواں خود اس کی اور دوسروں کی آنکھوں میں گیا وہ خلیفۂ دوم تھے وہ ہمیشہ کہتے تھے:

بہت غلط کام ہے کہ عرب ایک دوسرے کو قید کریں جب کہ خداوند عالم نے عجم کی وسیع و عریض سرزمین کو اسیروں کے لئے بنایا ہے۔(۱) اور اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ انہوں نے اسلامی شریعت میںتصرف کیا اور کہا:

عجمیوں کی اولادا سوقت اپنی اپنی میراثیں لے سکتی ہیں جب وہ عرب کی زمین پر پیدا ہوئی ہوں۔(۲)

ان کی نژادپرستی کی علامت یہ ہے کہ انہوں نے عجم کو مدینہ میں رہنے کی اجازت نہیں دی اور اگر فیروز مغیرہ کا غلام مدینے میں زندگی بسر کر رہا تھا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے پہلے سے اجازت لی تھی۔(۳)

یہ تبعیض اور اسی طرح کی دوسری چیزیں سبب بنیں کہ خلیفہ تین ایرانیوں فیروز ، شاہزادہ ہرمزان او ر جفینہ جو ابو لؤلؤ کی بیٹی تھی ،کی سازش سے اپنی جان کھو بیٹھیں ، وہ فیروز کے خنجر سے زخمی ہوئے اور تین دن کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

خٰیال کیا جاتا تھا کہ خلیفہ حق کی راہ سے ہٹنے کا چونکہ تلخ مزہ چکھ ہی لیا ہے لہٰذا اس حساس وقت میں جب کہ ان کی زندگی کا چراغ خاموش ہونے والا ہے صحیح فکر کریں گے اور خطرناک ذمہ داری کو قبول نہیں کریں گے اور مسلمانوں کے لئے بہترین و شائستہ رہبر کا انتخاب کریں گے

لیکن افسوس کہ انہوں نے ایسے حالات میں ایک ایسی کمیٹی تشکیل دی جس کے ذریعے سے اسلامی

______________________

(۱) تاریخ جرجی زیدان ج۴ ص ۳۵۔

(۲) النص والاجتہاد ص ۶۰ ، اجتہاد نص کے مقابلے میں (مترجم) ص ۲۷۵۔

(۳) مروج الذہب ج۱ ص ۴۲۔


معاشرہ کا بہترین و شائستہ رہبرسے محروم ہوجانا یقینی تھااور اس کے ذریعے قوم پرست شخص کا،کہ بقول خلیفہء دوم ، اگر حکومت کی باگ ڈور کواپنے ہاتھوں میں لے لے تو اپنے رشتہ داروں کو لوگوں کے کاندھوں پر سوار کرے گا، منتخب ہونا مسلم تھا۔

ان تمام مسائل سے آگاہی کے بعد ایک کمیٹی بنانے کا حکم دیدیا، وہ شوریٰ (کمیٹی) جس کے متعلق امام علیہ السلام فرماتے ہیں: ''فیا للہ و للشوریٰ'' (خطبۂ شقشقیہ) (بھلا خدا کے لئے مجھے شوریٰ سے کیا واسطہ ،مترجم)

بغیر کسی شوری کے طرف داری کے تمام واقعات کو یہاں نقل کر رہے ہیں اور پھر اس تاریخی واقعہ کے بارے میںجس نے بہت زیادہ تلخی اور ناکامی کو جنم دیا جو سبب بنا کہ بنی امیہ سو سال تک اسلامی حکومت پر قابض رہیں اوراس کے بعد بنی عباس کو بھی اسے اپنی جاگیر بنالیں،فیصلہ کریں گے۔

شوریٰ کاانتخاب

خلیفہء دوم کا آخری وقت تھا اوران کو خود بھی اس بات کا احساس ہو رہا تھا کہ وہ زندگی کے آخری لمحات میں ہیں ۔ہر طرف سے پیغامات آرہے تھے کہ اپنا جانشین منتخب کیجیئے، عائشہ نے حذیفہ کے بیٹے عبداللہ کے ذریعے پیغام بھیجا کہ محمد کی امت کو بغیر چرواہے کے نہ چھوڑو اور جلد سے جلد اپنا جانشین منتخب کرو، کیونکہ میں فتنہ و فساد سے بہت ڈرتی ہوں۔(۱)

عمر کے بیٹے نے بھی اپنے باپ سے یہی باتیں کہیں اور کہا: اگر تم اپنے گلہ کے چرواہے کو بلاؤ تو کیا تم اس بات کو پسند نہیں کروگے کہ وہ واپس جانے تک کسی کو اپنا جانشین قرار دے، تاکہ بکریوں کے جھنڈ کو بھیڑیوں سے محفوظ رکھے؟ اور جو لوگ خلیفہ کی عیادت کرنے آئے تھے ان لوگوں نے بھی اسی بات کو خلیفہ سے کہا، بلکہ بعض نے تو یہاں تک کہا کہ اپنے بیٹے عبد اللہ کو اپنا جانشین بنا دیجیئے، خلیفہ اپنے بیٹے عبداللہ کی بے لیاقتی سے باخبر تھے لہٰذا عذر خواہی کرتے ہوئے کہا کہ خاندان خطاب کے لئے بس یہی کافی ہے کہ ایک آدمی خلافت کی ذمہ داری کو سنبھالے، پھر انہوں نے کہا کہ وہ چھ افراد جن سے پیغمبر اسلام مرتے دم راضی تھے ان کو بلایاجائے، تاکہ مسلمانوں کا خلیفہ منتخب کرنے کی ذمہ داری ان کے حوالے کی جائے، وہ چھ افراد یہ

______________________

(۱) الامامة والسیاسة ج۱ ص ۲۲۔


ہیں: علی ـ ، عثمان، طلحہ، زبیر، سعد وقاص، عبدالرحمن بن عوف۔ جب یہ لوگ خلیفہ کے قریب پہونچے تو خلیفہ نے غصہ کے عالم میں ان کی طرف دیکھا اور کہا تم لوگ ضرور چاہتے ہو کہ میرے بعد اس حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لو، پھر اس نے حضرت علی کے علاوہ ہر ایک سے گفتگو کی اور دلیلوں کا ذکر کرتے ہوئے ان میں سے کسی ایک کو بھی خلافت کے منصب کے لئے شائستہ نہیں جانا، پھر اس وقت انہوں نے حضرت علی کی طرف دیکھا اور حضرت کی پوری زندگی میں اس نے کوئی ضعیف پہلو سوائے اس کے کہ آپ شوخ مزاج ہیں نہیں پایا اور کہا کہ اگر یہ حکومت کی باگ ڈور سنبھالیں تو لوگوں پر حق اور واضح حقیقت کے ساتھ رہبری کریں گے۔

اور آخر میں عثمان سے مخاطب ہوکر کہا کہ گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ قریش نے تمہیں خلافت کے لئے منتخب کرلیاہے اور تم نے بنی امیہ اور بنی ابی معیط کو لوگوں پر مسلط کردیا ہے اور بیت المال کو ان کے لئے مخصوص کردیا ہے اور اس وقت عرب کے مخالف گروہ تم پر حملہ آور ہوں گے اور تمہیں تمہارے گھر کے اندر ہی قتل کردیں گے، پھر مزید کہاکہ اگر یہ واقعہ رونما ہو تو میری بات کو یاد کرنا۔پھر انہوں نے شوریٰ کے اراکین کی طرف دیکھا اور کہا اگر تم لوگ ایک دوسرے کی مدد کرو گے تو خلافت کے درخت کا پھل تم اور تمہارے بچے کھائیں گے، لیکن اگر آپس میں ایک دوسرے سے حسد کیا اورایک دوسرے کی مخالفت کی تو معاویہ اس خلافت کو تم سے چھین لے گا۔

جب عمر کی گفتگو ختم ہوگئی تو انہوں نے محمد بن مسلمہ کو بلایا اور اس سے کہا کہ جب مجھے دفن کر کے واپس آنا تو پچاس مسلح افراد کے ساتھ ان چھ افراد کو خلافت کے لئے دعوت دینا اور سب کو ایک گھر میں جمع کرنا اور مسلح افراد کو دروازے پر حفاظت کے لئے کھڑا کرنا تاکہ یہ آپس میں کسی ایک کو خلافت کے لئے منتخب کرلیں اگر ان میں سے پانچ لوگوں نے موافقت کیا اورایک آدمی نے مخالفت کیا تو اسے قتل کردینا اوراگر چار لوگوں نے موافقت کی اور دو آدمیوںنے مخالفت کی تو ان دونوں کو قتل کردینا اور اگر یہ گروہ دو حصوں میں برابر برابر تقسیم ہوجائے تو فیصلہ اس گروہ کے حق میں ہوگا جس میں عبد الرحمن ہو اس وقت ان تین افراد جو کہ موافق ہیں انھیں خلافت کی دعوت دینا اور اگر موافقت نہ ہوں تو دوسرے گروہ کو قتل کردینا اور اگر تین دن گذر جائے اور شوریٰ کے درمیان صحیح نظریہ حاصل نہ ہو تو ان چھ آدمیوں کو قتل کرنا اور مسلمانوں کو آزادی دیدینا تاکہ آئندہ وہ اپنا رہبر و خلیفہ منتخب کرلیں۔


جب لوگ عمر کو دفن کر کے واپس آئے تو محمد بن مسلمہ نے پچاس سپاہیوں کو جو ہاتھوں میں ننگی تلواریں لئے تھے ان کے ہمراہ شوریٰ کے چھ افراد کو ایک گھر میں جمع کیا اور پھر ان لوگوں کو عمر کے حکم سے باخبر کیا، سب سے پہلے جو چیز سامنے آئی وہ یہ کہ طلحہ جن کا رابطہ مولائے متقیان حضرت علی سے اچھا نہ تھا عثمان کی طرف چلا گیا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ علی علیہ السلام اورعثمان کے ہوتے ہوئے کوئی بھی اسے خلافت کے لئے منتخب نہیں کرے گا، لہذا بہتر ہے کہ عثمان کی موافقت میں اس کی طرف چلا جائے تاکہ علی کی موافقت نہ کرسکے، طلحہ اور حضرت علی کے درمیان مخالفت کی وجہ یہ تھی کہ وہ بھی ابوبکر کی طرح قبیلۂ تیم سے تھا کیونکہ ابوبکر کے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد قبیلہ بنی تیم اور خاندان بنی ہاشم کے درمیان روابط خراب ہو گئے تھے اور یہ اختلاف بہت دنوں تک باقی رہا۔

زبیر حضرت علی کا پھوپھی زاد بھائی اور علی علیہ السلام اس کے ماموں زاد بھائی تھے، چونکہ وہ آپ کا رشتہ دار تھا لہٰذاامام کی طرف آگیا اور سعد وقاص عبد الرحمن کی طرف چلا گیا کیونکہ وہ دونوں قبیلہ زہرہ سے تھے نتیجتاً شوری کے عہدہ داروں میں سے صرف تین آدمی باقی بچے اور ان میں سے ہر ایک کے پاس دو ووٹ تھے اور کامیابی اس کے لئے تھی جس کی طرف ان تینوں میں سے ایک آدمی مائل ہو۔

اس وقت عبد الرحمن، حضرت علی اور عثمان کی طرف متوجہ ہوا اور کہا کہ تم میں سے کون ہے جو اپنا حق دوسرے کودیدے ؟

دونوں خاموش رہے اورکوئی جواب نہ دیا، عبد الرحمن نے پھر کہا میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر اپنے کو خلافت کے اس مسئلہ سے دور کرتا ہوں تاکہ تم میں سے کسی ایک کو خلافت کا حقدار بنائوں۔

پھر حضرت علی کی طرف متوجہ ہو کر کہتا ہے میں تمہاری بیعت کروںگا اور تم خدا کی کتاب اور سنت پیغمبر پر عمل کرنا او رشیخین کی سیرت کی پیروی کرنا۔

حضرت علی نے اس کی آخری شرط کو قبول نہیں کیا اور کہا میں تمہاری بیعت کو قبول کروں گا مگر شرط یہ ہے کہ کتاب خدا اور سنت پیغمبر اور اپنے علم واجتہاد کے مطابق عمل کروں۔

جب عبدالرحمن نے علی کا منفی جواب سنا تو عثمان کو مخاطب کر کے وہی باتیں دہرائیں ، عثمان نے فوراً جواب دیا، ہاں ، میں قبول کرتاہوں۔


اس وقت عبدالرحمن نے اپنا ہاتھ عثمان کے ہاتھ پر رکھا اوراسے امیر المومنین کہہ کر سلام کیا اور اس جلسہ کا نتیجہ مسلمانوں کو جو گھر کے باہر منتظر تھے سنایاگیا۔

شورٰی کے اس جلسہ کانتیجہ ایسا نہ تھا جس سے حضرت ابتدا سے واقف نہ تھے ،یہاں تک کہ ابن عباس نے بھی شوری کے جلسہ کی کاروائی سننے کے بعد حضرت کی خلافت سے محرومی کو تیسری مرتبہ اعلان کیا تھا لہذا جب عوف کے بیٹے نے عثمان کے ہاتھ پر بیعت کر کے بہترین نقش پیش کیا اس وقت حضرت علی نے عبد الرحمن کو مخاطب کر کے کہا :

تم نے اس امید کے ساتھ کہ عثمان آخر وقت میں خلافت تمہارے حوالے کردیں گے اس کو منتخب کیا جس طرح سے عمر نے بھی ابوبکر کو چنا تھا مگر مجھے امید ہے کہ خداوند عالم تم دونوں کے درمیان سخت اختلاف پیدا کردے گا۔

مورخین نے لکھا ہے کہ زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ عوف کے بیٹے اورعثمان کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی اور ایک دوسرے سے رابطہ منقطع ہوگیایہاں تک کہ عبدالرحمن کا انتقال ہوگیا۔(۱)

یہ خلیفہ دوم کی شوریٰ (چھ آدمیوں کی کمیٹی) کے واقعہ کاخلاصہ تھا ،اس کے پہلے کہ ہم تاریخ اسلام کے اس واقعہ پر اپنا نظریہ پیش کریں حضرت علی علیہ السلام کے نظریات کوبیان کرر ہے ہیں امام علی علیہ السلام خطبہ شقشقیہ (نہج البلاغہ کا تیسرا خطبہ) میں ارشاد فرماتے ہیں :

''حتی اذا مضی لسبیله جعلها فی جماعةِ زعمَ انی احدُهم فیا للّه و للشوری! متی اِعترضَ الریبُ فیَّ مع الاولِ منهم حتی صرتُ اقرنُ الی هذهِ النظائرِ، لکنی اسففتُ اِذ اُسفّوا و طرتُ اذ طاروا فصغی رجل منهم لِضِغنِهِ و مالَ الآخرُ لصِهرِهِ مع هن و هن''

جب عمر کا انتقال ہوا توخلافت کو شوری کے حوالے کردیااور یہ خیال کیا کہ میں بھی اسی شوری کا ایک فرد ہوں خدایا اس شوری کے متعلق تجھ سے مدد چاہتا ہوں۔ کب میری حقانیت کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیااس وقت جب میں ابوبکر کے ساتھ تھا یہاں تک کہ آج میں ان لوگوںکی صف میں لاکر کھڑا کردیا گیا

______________________

(۱) شوری کے متعلق تمام معلومات شرح نہج البلاغہ ج۱ ص ۱۸۸۔ ۱۸۵ سے تلخیص کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔


ہوں؟ لیکن مصلحت کی وجہ سے میں نے ان کی موافقت کردی اور شوریٰ میں شریک ہوا، لیکن اسی شوری کے ایک ممبر نے مجھ سے کینہ رکھنے کی وجہ سے میری کھلم کھلا مخالفت کی اور خلیفہ سے رشتہ داری کی وجہ سے اس کے پاس چلا گیا اور دو افراد وہ جن کا نام لینا بھی برا ہے (طلحہ اور زبیر)

نہج البلاغہ میں عمر کی شوری کے متعلق اس سے زیادہ اور مطالب نہیں ہیں مگر قارئین کی معلومات کے لئے ان کے جرائم اور جنایت ظلم و بربریت، ان کی بدترین سازشوں اور خلیفہ کی خود غرضیوں سے لوگوں کو باخبر کرنے کے لئے چند نکتے یہاں بیان کر رہے ہیں۔

عمر کی شورٰی پر ایک نظر

اس تجزیہ میں حساس اوراہم مسئلوں کا ذکر کریں گے اور جزئی او رغیر مہم نکات سے پرہیز کریں گے۔

۱۔ مختلف گروہوں نے خلیفۂ دوم سے جو یہ گذارش کی کہ اپنا جانشین منتخب کیجیئے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمام لوگوں نے فطری طور پر یہ درک کیا کہ مسلمانوں کے خلیفہ کے لئے ضروری ہے کہ اپنی زندگی میں اسلامی معاشرہ کے لئے اپنا جانشین معین کرے ،کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو ممکن ہے پورے معاشرے میں فتنہ و فساد برپا ہو جائے(۱) اور اس راہ میں بہت زیادہ خون بہایا جائے، اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اہل سنت کے دانشمند کس طرح سے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پیغمبر نے اپنی زندگی میں اپنا جانشین معین نہیں کیا؟

۲۔ خلیفہ کا جانشین معین کرنے کے لئے حکم دینا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ پیغمبر اسلام کے انتقال کے بعد شوریٰ کی حکومت تشکیل دینا بے بنیاد تھا اور اس طرح کے کسی حکم کا وجود نہ تھا ورنہ کس طرح ممکن ہے کہ شوریٰ بنانے سے متعلق پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صریحی حکم کے ہوتے ہوئے خلیفہ دوم کے جانشین منتخب کرنے کی پیشنہاد کی جائے؟

______________________

(۱)لاتَدَعْ امةَ محمدٍ بلاراعٍ استخلف علیهم و لاتدعْهم بعدَک هملا فانی اخشی علیهم الفتنة ، الغدیر ج۷ ص ۱۳۳ مطبوعہ بیروت، منقول ازالامامة والسیاسة ج۱ ص ۲۲ ۔


حکومت شوریٰ یا اس سے ہٹ کرکہ امام کا تعین خداوند عالم کی طرف سے بہترین شیوۂ حکومت ہے جس کو انسان منتخب کرسکتا ہے ایک ایسا امر ہے جو آج تمام لوگوں کی زبانوں پر ہے اور اس کے ماننے والے بہت بڑھا چڑھا کر اس کی تعریف کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ثابت کریں کہ اسلام میں حکومت کی اساس یہی ہے (یعنی یہی اصلی حکومت ہے) اور پیغمبر کی یہی حکومت شوری ہے اورتعجب کی بات تو یہ ہے کہ تاریخ اسلام میں اس طرح کی حکومت کا کوئی وجود نہیں ہے۔

کیاہم یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ پیغمبر کے دوست واصحاب سب نے غلطی اور اشتباہ کیا ہے اور پیغمبر کے حکم کو نظر انداز کردیا ہے؟

۳۔ عمر نے لوگوں کی درخواست کا جواب دیتے ہوئے کہا:

''اگر ابوعبیدہ زندہ ہوتا تو اس کو میں اپنا جانشین منتخب کرتا کیونکہ میں نے پیغمبر سے سناہے کہ وہ اس امت کا امین ہے اور اگر سالم، ابوحذیفہ کا مولا زندہ ہوتا تو میں اسے اپنا جانشین بناتا، کیونکہ میں نے پیغمبر سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: وہ خدا کا دوست ہے''۔وہ ایسے وقت میں بجائے اس کے کہ زندوں کی فکر کرتے مردوں کی فکر میں غرق تھاکہ یہ مردہ پرستی کے ساتھ ساتھ ان لوگوں سے بے توجہی کی علامت ہے جو ان کے زمانے میں زندہ تھے۔بہرحال، اگر ابوعبیدہ اور سالم کے انتخاب کا ملاک و معیار یہ تھا کہ پیغمبر نے ان لوگوں کو امت کا امین اور خدا کا دوست کہا تھا،تو پھر عمر نے ابوطالب کے بیٹے کو کیوں یاد نہیں کیا؟ جن کے بارے میں پیغمبر نے فرمایا:

''عَلِیّ مَعَ الْحَقِّ وَالْحَقُّ مَعَ عَلِیٍّ'' (۱) یعنی علی حق کے ساتھ اور حق علی کے ساتھ ہے۔

حضرت علی علیہ السلام کے فضائل و کمالات اوران کے طیب و طاہر مزاج، ان کے بے نظیر فیصلوں اوران کی بہادری ، کتاب و سنت پر ان کا علم وغیرہ سے وہ دوسروں سے زیادہ باخبر تھے پھر کیوں انہوں نے حضرت علی کا نام نہیں لیااور مردوں کو یاد کرنے لگے جن کا مشغلہ دوسروں کے ساتھ کینہ اور بغض و حسد کے علاوہ کچھ اور نہ تھا؟

______________________

(۱) یہ حدیث محدثین اہل سنت سے بطور متواتر نقل ہوئی ہے۔ الغدیر ج۳ ص ۱۵۹۔ ۱۵۶، مطبوعہ نجف اور ص ۱۸۰۔ ۱۷۶، مطبوعہ بیروت کی طرف مراجعہ کریں۔


۴۔ اگر امامت کا مقام اور منصب ایک الہی مقام اور رسالت کے فرائض کو آگے بڑھانا ہے تو امام کو پہچاننے کے لئے نص الہی کا پابند ہونا چاہئے، اور اگر مقام امامت ، مقام اجتماعی ہے تو اس کی پہچان کے لئے ضروری ہے کہ عمومی افکار کی طرف رجوع کیا جائے، لیکن امام کا انتخاب اس شوریٰ کے ذریعے جس کے ممبران خود اپنی طرف سے خلیفہ نے معین کئے ہوں، نہ نص کی پیروی ہے اورنہ ہی افکار عمومی کا احترام اگر ضروری ہے کہ آنے والے خلیفہ کا انتخاب خود موجودہ خلیفہ کرے تو پھر اس کام کو چھ آدمیوں پر مشتمل شوریٰ کے حوالے کیوں کیا۔

اہل سنت کے نظریہ کے مطابق ضروری ہے کہ امام اجتماع امت یااہل حل و عقد کے ذریعے منتخب ہو اور آنے والے خلیفہ کی نظر کی کوئی اہمیت نہیں ہے لیکن نہیں معلوم کیوں وہ لوگ اس کام کو صحیح جانتے ہیں اور چھ نفری شوری کی تائید کو لازم الاجراء سمجھتے ہیں۔

اگر امام کو منتخب کرنا خود امت کاحق اور لوگوں کے اختیار میں ہے تو خلیفہ وقت نے کس دلیل سے اس چیز کو لوگوں سے سلب کرلیا، اور شوریٰ کے حوالے کردیا جس کے ممبران کو خود اس نے معین کیا تھا؟

۵۔ کسی بھی طریقے سے بہ بات واضح نہیں ہے کہ شوریٰ کے ممبران کی تعداد صرف چھ آدمیوں میں کیوں منحصر تھی، اگر ان لوگوں کو منتخب کرنے کی علت یہ تھی کہ رسول خدا(ص) انتقال کے وقت ان لوگوں سے راضی تھے، تو یہی ملاک و معیار عمار ، حذیفہ یمانی، ابوذر ، مقداد، ابیّ بن کعب وغیرہ پر بھی ثابت ہوتا ہے۔

مثلاً پیغمبر (ص)نے عمار کے بارے میں فرمایا:

''عمارُ مع الحقِ والحقُ معه یدور معه اینما دار'' (۱)

عمار حق کے ساتھ ہیں اور حق ان کے ساتھ ہے جہاں بھی وہ جاتے ہیں حق ان کے ساتھ جاتا ہے اور ابوذر کے بارے میں فرماتے ہیں۔

______________________

(۱) الغدیر ج۹ ص ۲۵ مطبوعہ نجف۔


''ما اظلت الخضرائُ و لا اقلت الغبرائُ علی ذی لهجة اصدق من ابی ذر'' (۱)

زمین نے کسی ایسے کا بار نہیں اٹھایا اور آسمان نے کسی ایسے پر سایہ نہیں کیا جو ابوذر سے زیادہ سچا ہو۔

ایسے باصفات حضرات کے وجود کے بعد کیوں عمر نے ان کو شوریٰ کے ممبران میں شامل نہیں کیا، اور ایسے افراد کو منتخب کیا جن میں سے اکثر حضرت علی علیہ السلام کے مخالف تھے ان میں سے صرف ایک شخص حضرت علی علیہ السلام کا چاہنے والا تھا اور وہ زبیر تھے اور باقی چار لوگ امام کے سخت مخالف تھے اگرچہ زبیر بھی آخر میں مولائے کائنات کے لئے مضر ثابت ہوئے، کیونکہ زبیرجو ان دنوں خود کو حضرت علی کا اپناہمعا ومثل نہیں سمجھتے تھے اور آپ کے ساتھ تھے لیکن آخر میں قتل عثمان کے بعد خلافت کا دعوی کرنے لگے۔اگر شوریٰ کے لئے چنے جانے کا معیار جنگ بدر واحد میں شریک ہونااور مہاجر ہونا تھا تو یہ معیار تو دوسروں پر بھی صادق آتا تھا،تو پھر ان کے درمیان سے کیوں اس گروہ کے لئے لوگوں کو منتخب نہیں کیا گیا؟

۶۔ خلیفہ کا یہ دعوی تھا کہ ہم نے ان لوگوں کو شوریٰ کے لئے اس لئے منتخب کیا ہے کہ پیغمبر اسلام انتقال کے وقت ان سے راضی تھے، جب کہ خود انہوں نے شوریٰ کے ممبران کے بارے میں طلحہ کو دوسرے انداز سے پہچنوایا تھا، اور ان سے کہا تھا کہ تم نے آیت حجاب نازل ہوتے وقت ایسی بات کہی تھی کہ پیغمبر تجھ پر غضبناک ہوئے تھے اور وفات کے دن تک تم سے ناراض تھے۔

اب خود فیصلہ کریں کہ ان دونوں نظریوں میں سے کس کو قبول کیا جائے؟

خلیفہ نے شوریٰ کے ممبران کے انتقاد میں ایسی باتیں کہیں کہ جن میں سے اکثر خلافت کیا شوری کا ممبر ہونے کی صلاحیت کے بھی منافی تھی، مثلاً زبیر کے بارے میں کہا کہ تم ایک دن انسان، اور ایک دن شیطان ہو، کیا ممکن ہے کہ ایسا شخص شورائے خلافت میں شریک ہواور مسلمانوں کا خلیفہ قرار پائے؟ اور اگر ایسا ہوتا کہ وہ شوریٰ کے جلسے کے وقت شیطانی نیت رکھ کر جلسہ میں شریک ہوتا تو اس کی شیطانی فکر کا نتیجہ کیا ہوتا؟

اور انہوں(عمر) نے عثمان کے بارے میں کہا: اگر تم خلیفہ بنے تو بنی امیہ کو لوگوں پر مسلط کردو گے و

______________________

(۱) محدثین فریقین نے اس حدیث کو متفقہ طور پر نقل کیا ہے اور ہم نے اپنی کتاب ''شخصیتہائے اسلامی شیعہ'' ص ۲۲۰، میں اس کے حوالے کو نقل کیا ہے۔


.... ایسا شخص جو اس قسم کی طینت رکھتا ہو اور رشتہ داری کی بناء پر حق سے منحرف ہوجائے تو کیا یہ شخص شورائے خلافت کے ممبر بننے کی لیاقت و صلاحیت رکھتا ہے؟ یا امت کے لئے خلیفہ کا تعیین کرے؟

۷۔ خلیفہ کو یہ علم کیسے ہوا کہ عثمان کو خلافت کے لئے چنا جائے گا اور اپنی قوم کو لوگوں پر مسلط کرے گا اور ایک دن وہ آئے گا جب لوگ اس کے خلاف قیام کریں گے؟ (اور پھر ان سے یہ بھی کہا کہ اس موقع پر مجھے یاد کرنا)۔

خلیفہ نے یہ فراست و دانائی یاغیب کی باتوں کو کہاں سے حاصل کیا تھا؟ کیااس کے علاوہ کچھ اورہے کہ انہوں نے خلافت کے لئے شوریٰ کے ممبران کا اس طرح انتخاب کیاتھا کہ عثمان کا خلافت کے لئے منتخب ہوجانااور علی کو حتماً خلافت سے محروم ہو جانا یقینی تھا۔

۸۔ عمر بے شمار کوششوں کے باوجود امام علی علیہ السلام کی زندگی میں کوئی عیب تلاش نہ کرپائے اور ایسی گفتگو کی کہ بعد میںعمرو عاص نے اسے بہانہ بنایااور کہا علی شوخ مزاج تھے۔(۱)

عمر نے حضرت کے کشادہ سینے اور معاف کرنے اورامور مادی کو حضرت کی طرف سے ناچیز شمار کرنے کو شوخ مزاجی سے تعبیر کیا ہے وہ چیز جو ایک رہبر کے پاس ہونا ضروری ہے وہ یہ کہ حق کے اجراء کرنے اور لوگوں کے حقوق کی حفاظت کرنے میں مصمم ارادہ رکھتا ہو اور حضرت علی اس خصوصیت کی اعلیٰ مثال تھے او رخود خلیفہ دوم نے اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تم نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تو لوگوں کی واضح و آشکار حق کے ساتھ رہبری کرو گے۔ ۹۔ عمر نے عبد الرحمن بن عوف کو کیوں معیار قرار دیا اور کہا کہ اگر دونوں کی رائے مساوی ہو تو اس گروہ کو مقدم کرنا جس میں عبد الرحمن بن عوف ہو؟

ممکن ہے یہ کہا جائے کہ خلیفہ کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ مساوی رائے ہونے کی صورت میں ضروری تھا کہ اس مشکل کو حل کیا جائے اور خلیفہ نے عبد الرحمن کو یہ فیصلہ کا حق دے کر اس مشکل کو برطرف کردیا۔

______________________

(۱) امام ـ نے اس تہمت کو عمرو عاص سے نقل کیا ہے اوراس طرح سے جواب دیا ہے.''عجباً لابنِ النابغة یزعُم ُلاهلِ الشامِ ان فیَّ دُعابة و ان امرؤُ تلعابة... لقد قال باطلا و نطق آثما ، نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۸۲۔


اس کا جواب بالکل واضح ہے کیونکہ عبدالرحمن بن عوف کو فیصلہ کرنے کا حق دینا عثمان کی کامیابی کو مستحکم کرنے کے علاوہ کچھ اور نہ تھا کیونکہ عبد الرحمن عثمان کا بہنوئی تھا لہذا فیصلہ کرتے وقت اپنی رشتہ داری کو کبھی فراموش نہیں کرے گا ،یہاں تک کہ اگر فرض بھی کرلیں کہ وہ اچھا انسان تھاتب بھی رشتہ داری کا اثر نہ چاہتے ہوئے بھی پڑ جاتاہے۔

عمر اس مشکل کو برطرف کرنے کے لئے دوسرے گروہ کی رائے کو فیصلہ کن رائے قرار دے سکتے تھے کہہ سکتے تھے کہ اگردونوں گروہ ایک ہی رائے پر متفق ہوں۔ تو آخری رائے ان لوگوں کی ہوگی جس رائے سے پیغمبر کے پاکیزہ اصحاب راضی ہوں، نہ کہ عبدالرحمن کی رائے جو کہ عثمان کا بہنوئی اور سعد وقاص کا عزیزتھا۔

۱۰۔ عمر نے جب کہ وہ درد کی وجہ سے بے حال تھے وہاں پر موجود افراد سے کہا کہ میرے بعد تم لوگ آپس میں اختلاف نہ کرنا اور تفرقہ بازی سے پرہیز کرنا کیونکہ اگر تم نے ایساکیاتو معاویہ خلافت کو لے لیگا اور تم سے حکومت کو چھین لے گا،اسکے باوجود عبدالرحمٰن کی رائے کو فیصلہ کن قرار دیا جو عثمان کا رشتہ دار تھا، عثمان اور معاویہ بنی امیہ کے نجس درخت کے دو پھل ہیں اور عثمان کی خلافت معاویہ کی حکومت کے لئے استحکام کا باعث بنی تھی ۔

اس سے بھی زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ خلیفہ کبھی حاکموں کے اموال کو لے کر ان کو ان کے منصب سے معزول کردیتاتھا مگر کبھی بھی معاویہ کی حکومت میں دخل اندازی نہیں کی اور اسے مال جمع کرنے اور شام میں اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کے لئے آزاد چھوڑ دیاتھا، جب کہ یہ جانتا تھا کہ وہ ایک عام حاکم کی طرح (حاکموں کی روش کے مطابق) اپنے فرائض کوانجام نہیں دیتا ہے اور اس کا دربار، قیصر و کسریٰ کے نمائندوں سے کم نہیں ہے۔

کیا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ایک پلاننگ تھی اور اس کام کا مقصد بنی امیہ کے لئے زمینہ فراہم کرنا تھا جو اسلام آنے سے پہلے سے ہی بنی ہاشم کے خونی دشمن تھے؟ جی ہاں، ان کا مقصد یہ تھا کہ اگر بنی ہاشم مرکز اسلام ''مدینہ'' میں ایک طاقت بن کر ابھرے اور لوگ ان کے ماننے والے ہوگئے تو ایک بیرونی طاقتور حکومت ہمیشہ ان کے لئے مزاحمت کا سبب ہوگی، چنانچہ ایساہوا بھی۔

۱۱۔ عمر نے اپنی عجز و انکساری ظاہر کرتے ہوئے کہا: میرے بیٹے عبداللہ کورائے نہ دینا کیونکہ اس کے اندر اتنی بھی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ اپنی عورت کو طلاق دے سکے، ان تمام چیزوں کے باوجود اسے شوری کا مشاور قرار دیا


اور کہا جب شوریٰ کے ممبران تین مساوی رائے رکھتے ہوں تو طرفین میرے بیٹے عبد اللہ کی بات کو قبول کریں لیکن ہر گز یہ اجازت نہ دی کہ حسن بن علی اورعبد اللہ بن عباس شوریٰ کے ممبر یا اس کے مشاور ہوں، بلکہ اس نے کہا کہ اگر یہ لوگ جلسہ میں آزاد سامعین کی طرح آنا چاہیں تو شرکت کرسکتے ہیں۔(۱)

۱۲۔ اصولی طور پر کیا ہوجاتا اگر عمر، ابوبکر کی طرح علی کو جانشینی کے لئے منتخب کرتے اور اسی طرح بہت سی خرابیوں کو روک سکتے دیتے؟

اس صورت میں بنی امیہ ،معاویہ سے مروان تک نہ سرکشی کی قدرت رکھتے، اور نہ اس کی جرأت اور رکھتے ، جاگیر کا مسئلہ ،بیت المال کو غارت کرنا، لوگوں کے کمزوراوربے بنیاد اعتقاد، حاکم وقت کی کوتاہیاں، اور جاہلیت کے آداب و رسوم کا مستحکم ہونا جس نے اسلام پر ضرب لگائی ،یہ تمام واقعات ہرگز رونما نہ ہوتے۔

امام کی بے مثال عقلی ، جسمی اور اخلاقی قوت اور اس کے علاوہ تمام ہمت و شجاعت، جومنافقوں اورشقیوں سے مقابلہ میں ختم ہوئی یہ سب اسلام کے تمام آسمانی اصولوں، لوگوں کو جذب کرنے، اور مختلف قوم و ملت کے افراد کو اسلام کی دعوت دینے اور اس کی ترویج وغیرہ میں صرف ہوتی اورحقیقت میں دنیا اور آدمی کو ایک نئی سرنوشت اور روشن و تابناک مستقبل حاصل ہوتا۔(۲)

۱۳۔ عمر نے ایک طرف تو عبد الرحمن بن عوف کو مومن یکتا کے خطاب سے نوازا کہ اس کا ایمان زمین پر موجود لوگوں کے آدھے ایمان سے زیادہ سنگین ہے اور دوسری طرف اس مشہور ومعروف مالدار کو ''فرعون امت'' کے لقب سے نوازا ہے(۳) اور حقیقتاً تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ عبدالرحمن بن عوف قریش کا مشہور و معروف مالدار تھا اور مرنے کے بعدبے پناہ دولت میراث میں چھوڑی تھی۔

______________________

(۱) تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۱۱۲، الامامة والسیاسة ج۱ ص ۲۴۔

(۲) ماخوذ از ''مرد نامتناہی'' ص ۱۱۴۔

(۳) الامامة والسیاسة ج۱ ص ۲۴۔


اس کی دولت کا ایک حصہ یہ تھاکہ اس کے پاس ایک ہزار گائے، تین ہزار بکری اور سو گھوڑے تھے اور مدینے کے ''جرف'' علاقے کو بیس گائے کے ذریعہ پانی سے سیراب کرکے کھیتی کرتا تھا۔اس کی چار بیویاں تھیں اور جب اس کا انتقال ہوا تو ہر بیوی کو ۸۰ ہزار دینار میراث کے طور پر ملا اور یہ اس کی دولت میں سے آٹھویں حصہ کا ایک چوتھائی حصہ تھا جو اس کی بیویوں تک پہونچا اور جب اس نے اپنی ایک بیوی کو بیماری کی حالت میں طلاق دیا تو ۸۳ ہزار دینار اسے بطور میراث دیکر اس سے مصالحت کی۔(۱)

کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایسے شخص کا ایمان روئے زمین پر موجود افراد کے آدھے ایمان سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟

۱۴۔ عبد الرحمن نے عثمان کو منتخب کرتے وقت مکر و فریب سے کام لیا اور سب سے پہلے حضرت علی سے پیشنہاد کیا کہ کتاب خدا و سنت پیغمبر اور شیخین کی سیرت کے مطابق عمل کریں، جب کہ وہ جانتا تھا کہ شیخین کا طورو طریقہ، قرآن و سنت سے مطابقت کی صورت میں ایک جداگانہ امر نہیں ہے اور قرآن و سنت کے مطابق نہ ہونے کی صورت میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ان تمام چیزوں کے باوجود اس کا اصرا رتھا کہ علی کی بیعت ان تینوں شرطوں پر ہونی چاہیئے اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ امام علی تیسری شرط کو قبول نہیں کریں گے لہذا جب حضرت نے اس تیسری شرط کو رد کردیا تو عبد الرحمن نے فوراً اس چیز کی خبر اپنے برادر نسبتی عثمان کو دیدی اور انہوں نے فوراً اسے قبول کرلیا۔

۱۵۔ امام کے لئے حکومت وسیلہ تھی نہ کہ ہدف، جب کہ آپ کے مخالف کے لئے ہدف تھی نہ وسیلہ۔

اگر امام خلافت کو اسی نگاہ سے دیکھتے جس سے عثمان دیکھ رہے تھے تو بہت زیادہ آسان تھا کہ ظاہراً عوف کے بیٹے کی شرط کو قبول کرلیتے لیکن عمل کے وقت اسے قبول نہ کرتے، لیکن حضرت نے ایسا نہیں کیا کیونکہ آپ کبھی بھی حق کو باطل کے ذریعے حاصل نہیں کرنا چاہتے تھے۔

۱۶۔ امام ابتدا ء سے ہی خلیفہ دوم کے فریب اور ان کے نمائندوں کی نیت سے باخبر تھے یہی وجہ خلافت سے محروم ہوگئے صرف امام ہی اس نتیجہ سے آگاہ نہ تھے بلکہ عبداللہ بن عباس جیسا نوجوان بھی جب

______________________

(۱) الغدیر ج۸ ص ۲۹۱ مطبوعہ نجف و ص ۲۸۴ مطبوعہ لبنان۔


شوری کے نمائندوں کی فہرست سے باخبرہوا تواس نے کہا کہ عمر چاہتے ہیں کہ عثمان خلیفہ بنیں۔(۱)

۱۷۔ عمر نے محمد بن مسلمہ کو حکم دیا کہ اگر اقلیت نے اکثریت کی موافقت نہ کی تو فوراً ان کوقتل کردینا اور اگر دونوں گروہ مساوی ہوں اور دوسرے گروہ نے اس گروہ کی جس میں عبدالرحمن ہے موافقت نہیں کی تو فوراً انھیں قتل کردینا اوراگر شوریٰ کے ممبران تین دن تک جانشین کا تعین نہ کرسکیں تو سب کو قتل کردینا۔ان دھمکیوں کے مقابلے میں یہ بات کہنا ضروری ہے کہ اس آزادی پر مبارکباد، دنیا کی کس حکومت کا قانون ہے کہ اگر اقلیت اکثریت کے مقابلے میں ہو تو اسے قتل کردیا جائے؟ !

حکومت اسلامی کی باگ ڈور دس سال تک اس سنگدل شخص کے ہاتھوں میں تھی، جو نہ صحیح تدبیر رکھتا تھا نہ مروت اور نہ لوگوں سے محبت رکھتا تھا لہذا لو گ اس کے بارے میں کہتے تھے۔

درّةُ عمر اهیبُ من سیفِ الحجاج

عمر کا تازیانہ حجاج کی تلوار سے زیادہ خطرناک تھا۔عثمان کے خلیفہ منتخب ہونے کی وجہ سے بنی امیہ کو بہت زیادہ ترقی نصیب ہوئی اور اتنی قدرت و جرأت ملی کہ ابو سفیان جو عثمان کے رشتہ داروں میں سے تھا ایک دن وہ احد گیااور اسلام کے بزرگ سردار جناب حمزہ کی قبر پر جو ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں سے جنگ کرتے وقت شہید ہوئے تھے پیرسے ٹھوکر مار کر کہتا ہے : اے ابا یعلی! اٹھو اوردیکھو جس چیز کے لئے ہم نے لڑائی لڑی تھی وہ آج ہمارے ہاتھوں میں ہے۔(۲) عثمان کی خلافت کے ابتدائی دنوں میں ایک دن اس کے تمام رشتہ دار اس کے گھر میں موجود تھے اس وقت اسی بوڑھے ملحد نے سب سے مخاطب ہوکر کہا:''خلافت کو ایک دوسرے کے ہاتھوں میں منتقل کرتے رہو اور اپنے عہدہ داروں کو بنی امیہ میں سے منتخب کرو کیونکہ حاکمیت کے علاوہ کوئی دوسرا ہدف نہیں ہے نہ کوئی جنت ہے اور نہ کوئی دوزخ ۔( ۳)

______________________

(۱) کامل ابن اثیر ج۲ ص ۴۵ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱۳ ص ۹۳۔

(۲) نقش وعاظ در اسلام، ص ۱۵۱۔

(۳) الاستیعاب، ج۲، ص ۲۹۰۔


آٹھویں فصل

خاندان رسالت، حضرت علی ـکی نظر میں

امام علی علیہ السلام کی پچیس سالہ زندگی جو پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد شروع ہوتی ہے اور آپ کی ظاہری خلافت کے شروع ہونے پر ختم ہوتی ہے ایک ایسا حساس اورقابل درس حصہ ہے جس میں سے بعض کو ہم نے پہلے ذکر کیا ہے اور بقیہ حصے کو یہاں پر بیان کر رہے ہیں اس میں سے کچھ حصے حسب ذیل ہیں:

۱۔ خلفاء ثلاثہ کے مقابلے میں امام کا رویہ اور ان کے ساتھ برتاؤ۔

۲۔ مسلمانوں کو احکام اور اسلامی مسائل کی تعلیم دینا۔

۳۔ امام ـ کی اجتماعی خدمات۔

اس کے پہلے کہ امام کی خلفاء کے مقابلے میں آپ کے رویے کو بیان کریں، ضروری ہے کہ خاندان رسالت کے سلسلے میں حضرت کے نظریہ کو بیان کریں یا خود امام ـ کی اصطلاح میں ''آل محمد'' کے حالات کو بیان کریں تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ اسلام کی نشرو اشاعت میں حضرت علی علیہ السلام کا خلفاء کے ساتھ ہمکاری کرنااس وجہ سے نہ تھا کہ امام ان لوگوں کو حق کا محور اور واقعی خلیفہ و حاکم سمجھتے تھے ،بلکہ آنحضرت ان کی ہمکاری اور سیاسی و علمی مشکلات کوحل کرنے کے ساتھ ساتھ خاندان رسالت استادان حق ،صحیح پیشوااور حقیقی حاکم جانتے تھے خودواضح لفظوں فرماتے ہیں:

''لایقاسُ بآلِ محمدٍ صلی اللّٰه علیه وآله وسلم من هذه الامة احدُ و لایساویٰ بهم من جرتْ نعمتهُم علیه ابداً'' (۱)

اس امت میں کسی شخص کا مقابلہ بھی خاندان رسالت سے نہیں ہوسکتا اور جو لوگ ان کی نعمتوں سے مستفیدہوئے ہیں ہرگز ان کے برابر نہیں ہوسکتے۔

دوسرے مقام پر امام ،آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے علمی فضائل کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:''هُم موضعُ سرِّه و ملجأُ امرِه و عَیبةُ عِلمهِ و موئلُ حکمِه و کهوفُ کتبهِ و

______________________

(۱) نہج البلاغہ عبدہ، خطبہ۲۔

جبالُ دینِه، بهم أقامَ انحنائَ ظهرِه و أذهبَ ارتعادَ فرائضه'' (۱)

خاندان پیغمبر کے افراد پیغمبر کے رازوں کے محافظ اوران کے حکم پر عمل کرنے والے، اوران کے علوم کا ذخیرہ، اوران کی کتابوں کے محافظ ہیں۔ وہ لوگ ایسے مضبوط پہاڑ ہیں جو اسلام کی سرزمین کو زلزلہ سے محفوظ رکھتے ہیں، پیغمبر نے ان لوگوں کے وسیلے سے اپنی پشت کو سیدھا کیا اور اپنے کو آرام و سکون بخشا۔حضرت علی علیہ السلام ایک مقام پر ان لوگوں کو دین کی اساس و بنیاد اور ایمان و یقین کے ستون سے تعبیر کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ ان لوگوںکے رفتارو گفتار کو دیکھ کر جو لوگ غلو کرتے ہیں ان کو غلو سے روکا اور جو حق کی راہ میں پیچھے رہ گئے ہیں ان کو واپس منزل پر لایا جا سکتا ہے۔

''هم اساسُ الدین و عمادُ الیقین الیهم یفیئُ الغالی و بهم یلحقُ التالی'' (۲)

ایک اور مقام پر آپ ارشاد فرماتے ہیں :

''انظروا اهلَ بیتِ نبیکم فالزموا سَمْتَهم و اتبعوا أثرَهم فلن یُخرجوکم من هدی و لن یعیدوکم فی ردیً فان لبدوا فالبدوا و ان نهضوا فانهضوا و لا تسبقوهم فتضلوا و لا تتأخروا عنهم فتهلکوا'' (۳)

خاندان رسالت کے بارے میں فکر و تدبر سے کام لو اور ان کے راستے پر چلو کیونکہ ان کی پیروی تمہیں راہ حقیقت سے دور نہیں کرسکتی اور گمراہی کی طرف نہیں لے جائے گی اگر وہ کسی مقام پر رک جائیں تو تم بھی رک جاؤ اور اگر اٹھ جائیں تو تم بھی اٹھ جاؤ کبھی بھی ان پر سبقت نہ کرنا ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے اور ان سے منھ بھی نہ موڑنا ورنہ برباد ہو جاؤ گے۔

امام اہل بیت نبوت کی معرفت و شناخت کو خدا و پیغمبر کی معرفت کے بعد جانتے ہیں۔

''فانه من ماتَ منکم علی فراشِه و هو علی معرفةِ حقِ ربِه و حقِ رسولِه و اهلِ بیتِه مات

______________________

(۱) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ۲۔

(۲) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ۲۔

(۳) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ۹۳۔


شهیداً'' (۱)

تم میں سے جو شخص بھی خود اپنے بستر پر مرجائے اور اپنے پروردگار کے حق اوراپنے پیغمبر کے حق اور خاندان رسالت کے حق کی معرفت رکھتا ہو تو وہ دنیا سے شہید اٹھا ہے۔امام نے اپنے کلام میں کہ خاندان رسالت کے حق کی معرفت، خدا و رسالت کے حق کی معرفت کے ہمراہ ہے اس حدیث کو واضح اور روشن کردیا ہے جسے محدثین نے پیغمبر اسلام سے نقل کیا ہے ۔

من مات ولم یعرفْ امام َزمانِه ماتَ میتة ًجاهلیة

جومرجائے اور اپنے زمانہ کے امام کو نہ پہچانے اس کی موت جاہلیت کی موت ہے

امام ایک مقام پر ہر زمانے میں فیض الہی جاری رہنے کے متعلق اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''الا ان مثلَ آلِ محمدٍ صلی الله علیه و آله و سلم کمثلِ نجومِ السماء اذا خوی نجمُ طلعَ نجم'' (۲)

خاندان رسالت کی مثال آسمان کے ستاروں کی طرح ہے کہ اگر ایک ڈوبتا ہے تو دوسرا نکلتا ہے۔

امام نے خاندان رسالت کے فضائل و کمالات کے متعلق اس سے بہت زیادہ کہا ہے کہ ان سب کو یہاں بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے(۳) نمونہ کے طور پر چند حدیثوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں، حضرت ان کے اسماء مبارک کے سلسلے میں فرماتے ہیں:

''ألا بابی و امی هم من عِدةٍ اسماء هم فی السمائِ معروفة و فی الارضِ مجهولة'' (۴)

میرے ماں باپ قربان ہوں اس گروہ پر جن کے نام آسمانوں پر مشہور اور زمین پر مجہول ہیں۔

امام ـ کی درج ذیل حدیث اگر چہ حق کی پیروی کرنے والوں کے بارے میں ہے لیکن اس کا مصداق کامل خاندان رسالت ہے۔

______________________

(۱) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ۱۸۵۔

(۲) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ۹۶۔

(۳) نہج البلاغہ فیض الاسلام خطبہ نمبر ۹۳ ۹۶ ۱۰۸ ۱۱۹ ۱۴۷ ۱۵۳ ۱۶۰ ۲۲۴ و مکتوب نمبر ۱۷ کلمات قصار ۱۰۱۔

(۴) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ۱۸۲۔


''عقلوا الدینَ عقلَ وعایةٍ و رعایةٍ لا عقلَ سُماعٍ و روایةٍ فان رواةَ العلمِ کثیر و رعاتُه قلیل'' (۱)

دین و اصول اور فروع کی حقیقت کو حد کمال و عقل تک پہچانا ہے اور اس پر عمل کیا ہے نہ یہ کہ صرف سن کر پہچانا ہے کیونکہ علم کے دعوے دار بہت ہیں اور اس پر عمل کرنے والے بہت کم ہیں۔

امام نے اگر چہ ذیل کے کلام میں ان کے باعظمت مقام کو بیان کیا ہے لیکن اپنے دوسرے کلام میں ان کی ولایت و رہبری کی تصریح کی ہے اور ان لوگوں کو اس امت کا ولی و حاکم اور پیغمبر کا جانشین اور ان کے منصبوں کا (سوائے نبوت کے) وارث قرار دیاہے۔

''و لهم خصائصُ حقِ الولایة و فیهم الوصیةُ و الوراثة'' (۲)

ولایت و امامت کی خصوصیتیں (علم اور اعجاز) ان کے پاس ہیں اور پیغمبر کی وصیت ان کے بارے

میں ہے اور یہ لوگ پیغمبر کے وارث ہیں۔

حضرت علی کے بیانات کی روشنی میں جب خاندان رسالت کی عظمت واضح ہو گئی اور خود آپ بھی اسی خاندان کی ایک اہم فرد ہیں۔ تو اب ضروری ہے کہ امام کی خلفاء کے بارے میں امام کے رویے کی اہم تاریخی حوالوں کے ساتھ وضاحت کریں۔

_______________________

(۱) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ۲۳۔

(۲) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ۲۔


امام خلفاء کی فکری اور قضاوتی آماجگاہ تھے

منصب خلافت سے کنارہ کشی کرنے کے بعد امام پچیس سال تک خاموش رہے اور مکمل طور پر خاموش رہنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ آپ امور رہبری میں ہر طرح کی مداخلت سے کنارہ کشی کئے ہوئے تھے، اگرچہ سیاسی رہبری اور منصب خلافت پر دوسروں نے قبضہ کرلیا تھا اور منصوب و معزول کرنا اور اسلامی اموال ان کے ہاتھ میں تھا، اس کے باوجود اس امت کے تنہا معلم اور لوگوں کی فکروں کی آماجگاہ جن کے علم کے مقابلے میں سبھی خاضع تھے وہ علی بن ابی طالب تھے۔ا س زمانے میں امام ـ کی اہم ترین خدمات یہ تھیں کہ نئے اسلام کے قضاوت کی رہبری کرتے تھے ،جب بھی ان کو کوئی مشکل پیش آتی تھی فوراً اس مسئلہ کے حل کے لئے حضرت کی طرف رجوع کرتے تھے اور کبھی کبھی خود امام بغیر اس کے کہ لوگ ان کی طرف رجوع کرتے خلیفہء وقت کی مسئلہ قضاوت میں راہنمائی کرتے تھے اور جو اس کے جاری کردہ حکم میں غلطیاں ہوتی تھیں اس پر متوجہ کرتے اور بہترین اورفیصلوں کے ذریعے پیغمبر کے صحابیوں کے ذہنوں کو جلا بخشتے تھے۔اگرچہ امام ان کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور خود کو پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا وصی و جانشین اور امت کے تمام امور کی رہبری کے لئے بہترین فردجانتے تھے، لیکن جب بھی اسلام اور مسلمانوں کی مصلحتوں پر کوئی وقت آتا تھا تو ہر طرح سے مدد کرتے تھے بلکہ جانبازی اور فداکاری سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے اور ہمیشہ مسکراتے ہوئے چہرے سے تمام مشکلات کا استقبال کرتے تھے۔امام کی منزلت اس سے بالتر اور آپ کی روح اس سے بزرگ تر تھی کہ آپ کے بارے میں بعض یہ خیال کریں کہ چونکہ خلافت کی باگ ڈور ان سے لے لی گئی لہٰذا حکومت کے کسی بھی امور میں مداخلت نہ کریں اور کسی بھی مشکل کو حل نہ کریں، تاکہ اسلامی معاشرہ ناراض ہو جائے اور خلافت غیر مستحکم ہو جائے اور حکومت کا تختہ پلٹ جائے ، نہیں امام ایسے شخص نہ تھے ،وہ اسلام کے پروردہ تھے اور اسلام کی آغوش میں انھوں نے تربیت پائی تھی اور جب پیغمبر اسلام شجر اسلام کی آبیاری کر رہے تھے اس وقت آپ نے بہت زحمتیں برداشت کیں اور اسلام کی راہ میں خون نثار کیا، آپ کا ایمان اور پاکیزہ فکر اس بات کے لئے راضی نہ تھی کہ اسلام کی مشکلات اور مسلمانوں کے دشوار امور کے مقابلے میں مکمل خاموش رہیں اور ہر طرح کی مداخلت سے پرہیز کریں۔امام ـ کا اہم ہدف یہ تھا کہ پوری دنیا میں اسلام پھیل جائے اور مستحکم ہو جائے اور امت کے افراد معارف الٰہی ،دین کے اصول و فروع سے باخبر اور یہودیوں اور نصرانیوں کے دانشمندوں کے نزدیک اسلام کی عظمت محفوظ ہو جائے جو اس نئے مذہب کی طرف گروہ در گروہ تحقیق کے لئے مدینہ آرہے تھے


اور جہاں تک امام کے امکان میں تھا اور حکومت ، مزاحمت ایجاد نہیں کرتی تھی بلکہ کبھی کبھی آپ کے سامنے دست سوال دراز کرتی تھی تو آپ ان کی رہنمائی اور رہبری سے منھ نہیں پھیرتے تھے بلکہ ہمیشہ استقبال کرتے تھے۔امام نے اس خط میں جو مالک اشتر کے ذریعے مصر والوں کے نام لکھا تھا اس میں آپ نے اس حقیقت کی وضاحت اور خلفاء کے ساتھ مدد اور رہنمائی کرنے کی وجہ کوبھی بیان کیا ہے۔

''فامسکتُ یدی حتی رأیتُ راجعةَ الناسِ قدرجعتْ عن الاسلامِ یدعون الی محقِ دینِ محمدٍ فخشیتُ ان لم انصرْ الاسلامَ و اهلَه ان أَری فیه ثلماً او هدماً تکونُ المصیبةُ به علَّ اَعظمَ من فوتِ ولایتِکم التی انما هی متاعُ ایامٍ قلائلٍ یزولُ منها ما کانَ کمایزولُ السراب'' (۱)

میں نے ابتدا میں خلفاء کی مدد کرنے سے پرہیز کیا (اور ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا) یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ ایک گروہ نے اسلام سے منھ پھیر لیا ہے اور لوگوں کو دین محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مٹانے کی دعوت دے رہا ہے مجھے خوف محسوس ہوا کہ اگر اسلام اور مسلمانوں کی مدد کے لئے نہ اٹھوں تو اسلام کے اندر رخنہ یا ویرانی دیکھنا پڑے گی اور یہ مصیبت میرے لئے اس چند روزہ حکومت سے دوری سے زیادہ بڑی ہوگی جو سراب کی طرح زائل ہو ۔امام کا یہ نامہ آپ کی روح کی پاکیزگی اور اس اسلامی معاشرہ کے امور میں مداخلت کی علت کو بیان کر ہا ہے کہ جس کی باگ ڈور ایسے افراد کے ہاتھ میں تھی جنہیں امام تسلیم نہیں کرتے تھے۔

حضرت علی ،رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نظر میں

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے انتقال کے بعد خلفاء اور آپ کے اصحاب نے اپنی مشکلات کے حل کے لئے حضرت علی کی طرف رجوع کیا، اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ان لوگوںنے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے حضرت علی کے علم و فضل و قضاوت کے بارے میں سنا تھا کہ آپ نے فرمایا:

''اعلمُ امتی بالسنةِ و القضائِ علیُّ بنُ ابی طالب'' (۲)

میری امت میں اسلامی سنت اور قضاوت کے احکام کی سب سے زیادہ معلومات رکھنے والے

_______________________

(۱) نہج البلاغہ عبدہ نامہ ۶۲۔

(۲) کفایة الطالب، مطبوعہ نجف، ص ۱۹۰۔

علیبن ابی طالب ہیںِ ان لوگوں نے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا تھا کہ حضرت نے زید بن ثابت اور ابی ابن کعب وغیرہ کی معرفی کرتے وقت حضرت علی کے بارے میں فرمایا: ''اقضاکم علی''(۱) یعنی تم میں سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے علی بن ابی طالب ہیں۔

ابھی پیغمبر کی آواز صحابیوں کے کانوں سے ٹکراہی رہی تھی کہ پیغمبر نے فرمایا:

''انا مدینةُ العلم و علی بابُها فمن اراد المدینةَ فلیاتِها من بابها'' (۲)

میں شہر علم ہوں اورعلی اس کا دروازہ ہیں جو شخص بھی چاہتا ہے کہ شہر میں داخل ہو تو اسے چاہئیے کہ شہر کے دروازے سے داخل ہو۔جی ہاں، خلفاء اور پیغمبر کے اصحاب اپنی مشکلوں کے حل کے لئے کیوں نہ مولائے متقیان حضرت علی کی طرف رجوع کریں اور ان کے بتائے ہوئے مشورے پر عمل کریں؟ اس لئے کہ ان لوگوںنے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھاکہ جب اہل یمن نے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہا : کسی ایسے شخص کو ہماری رہبری کے لئے بھیجئے جو ہمیں دینسکھا سکے اور سنت اسلامی کی ہمیں تعلیم دے سکے اور خدا کی کتاب کے مطابق فیصلہ کرسکے'' اس وقت پیغمبر اسلام نے حضرت علی کی طرف دیکھا اور فرمایا:

''یا علُّى انطلقْ الی اهل الیمن ففقههم فی الدین و علمْهم السننَ و احکم فیهم بکتابِ اللّه... اذهب ان الله سیهدی قلبک و یثبت لسانک'' (۳)

اے علی، یمن جاؤ اور ان لوگوں کو خدا کے دین کی تعلیم دو اور اسلامی سنتوں سے ان کو آشنا کرو اور قرآن مجید کے ذریعے ان کے فیصلے کرو (پھر آپ نے علی کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا) جاؤ خدا تمہارے قلب کو حق کی طرف رہبری کرے گا اور تمہاری زبان کو خطا و غلطیوں سے محفوظ رکھے گا۔پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعا حضرت علی کے بارے میں اس قدر مستجاب ہوئی کہ امام ـ نے فرمایا: اس وقت سے لے کرآج تک کسی بھی مشکل میں گرفتار نہیں ہوا۔

______________________

(۱) کفایة الطالب، مطبوعہ نجف، ص ۱۰۴۔

(۲) مرحوم آیت اللہ میر حامد حسین ہندی نے اپنی کتا ب عبقات الانوار کی ایک جلد میں اس حدیث کی سند کو جمع کیاہے۔

(۳) کنز العمال ج۶ ص ۳۹۲۔


پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں حضرت علی کی قضاوت

امیر المومنین صرف خلفاء کے زمانے میں ہی بہترین قاضی اورامت کے بہترین فیصلہ کرنے والے نہیں تھے بلکہ پیغمبر کے زمانے میں بھی یمن اور مدینے میں لوگوں کے مسلّم قاضی تھے، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے فیصلوں کو سراہا ہے اور اسی لئے اپنے بعد جامعہ اسلامی کے لئے بہترین فیصلہ کرنے والے کے عنوان سے حضرت علی کو لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے یہاں پر ہم آپ کے فیصلوں میں سے دو فیصلے بعنوان نمونہ پیش کر رہے ہیں جو پیغمبر کے زمانے میں کئے تھے اور حضرت نے اس کی تصدیق بھی کی تھی۔

۱۔ جس زمانے میں حضرت علی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم سے یمن میں رہ رہے تھے اس وقت یہ واقعہ پیش آیا تھا۔

ایک گروہ نے شیر کا شکار کر کے ایک گہرے گڈھے میں اسے رکھا اور چاروں طرف سے اس کی محافظت کرنے لگے کہ اچانک ان میں سے ایک کا پیر لڑکھڑا یا اس نے اپنے کو بچانے کے لئے دوسرے کا ہاتھ پکڑااور اس نے تیسرے کا ہاتھ پکڑا اور اس نے چوتھے کا ہاتھ پکڑااورسب کے سب اس گڈھے میں گر پڑے اور شیر نے ان پر حملہ کر دیا اور اور شیر کے حملے کی وجہ سے وہ سب موت کی آغوش میں چلے گئے، ان کے رشتہ داروں کے درمیان اختلاف ہوگیا۔ امام علی اس واقعے سے مطلع ہوئے اور فرمایا: میں تمہارا فیصلہ کروں گا اور اگر میرے فیصلے پر راضی نہ ہو تو اس مسئلہ کو پیغمبر کی خدمت میں پیش کرو تاکہ وہ تمہارا فیصلہ کریں۔ پھر آپ نے فرمایا: جن لوگوں نے اس گڈھے کو کھودا ہے وہ لوگ ان چاروں مرنے والے افراد کا دیہ اس طرح سے ادا کریں۔

پہلے مرنے والے شخص کے وارث کو ایک چوتھائی دیہ ادا کریں اور دوسرے شخص کے وارث کو ایک تہائی دیہ ادا کریں اور تیسرے شخص کے وارث کو آدھا دیہ ادا کریںاور چوتھے شخص کے وارث کو پورا دیہ دیں۔

جب امام سے پوچھا گیا کہ پہلے شخص کے وارث کو کیوں ایک چوتھائی دیہ دیا جائے، حضرت نے جواب میں فرمایا: کیونکہ اس کے بعد تین آدمی مرے ہیں اور اسی ترتیب کودوسرے مقام پر فرماتے ہیں : دوسرے شخص کے وارث کو ایک تہائی حصہ دیں کیونکہ اس کے بعد دو آدمی مرے ہیں، اور تیسرے شخص کے وارث کو آدھا دیہ دیں کیونکہ اس کے بعد ایک آدمی مرا ہے اور چوتھے شخص کے وارث کو پورا دیہ دیں


کیونکہ وہ آخری آدمی ہے جو مرا ہے۔(۱)

جی ہاں، مرنے والوں کے ورثاء نے امام کے فیصلے کو قبول نہیں کیا اور مدینے کے لئے روانہ ہوگئے اور پیغمبر کی خدمت میں اس مسئلہ کو پیش کیا آنحضرت نے فرمایا:

''القضاء کما قضی علی'' (۲)

محدثین شیعہ و اہل سنت دونوں نے امام علی کے اس فیصلے کو بعینہ اسی طرح نقل کیا ہے، لیکن شیعہ محدثین نے اس فیصلے کودوسرے انداز سے بھی نقل کیا ہے، اس نقل کے مطابق ۔

امام نے فرمایا: پہلا شخص شیر کا لقمہ بنا ہے اس لئے اس کا دیہ کسی پر نہیں ہے لیکن پہلے شخص کے وارثوں کو چا ہیئے کہ دوسرے شخص کے ورثاء کوایک تہائی دیہ دیں اور دوسرے شخص کے ورثاء تیسرے شخص کے ورثاء کو آدھا دیہ دیں اور تیسرے شخص کے ورثاء چوتھے شخص کے ورثاء کو پورا دیہ دیںشیعہ دانشمند پہلی حدیث کو معتبر نہیں مانتے ہیں کیونکہ اس حدیث کی سند میں غیر معتبر افراد موجود ہیں لیکن دوسری حدیث کی پر مکمل یقین رکھتے ہیں، اس فیصلے میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ امام نے چوتھے فردکی دیت کو پہلے تینوں افراد کے اولیاء کے درمیان برابر برابر تقسیم کیا ہے اس ترتیب کے ساتھ کہ ایک تہائی دیہ کو پہلے والے کے ورثاء دوسرے والے کے ورثاء کو ادا کریں۔ اور دوسرے والے کے ورثاء اس کا دوتہائی (ایک تہائی اپنا حق جو پہلے والے سے لیا ہے ادا کریں) تیسرے والے کے ورثاء کو ادا کریں اور تیسرے والے پورا دیہ ادا کریں۔ یعنی دوتہائی جو پہلے لیا تھا ایک تہائی لے لیں اور ایک مکمل دیہ چوتھے والے کے ورثاء کو ادا کریں اور اس طرح سے چوتھے شخص کا دیہ پہلے والے تین افراد پر برابر برابر تقسیم ہو جائے گا ۔(کتاب جواہر الکلام ج۶ کتاب دیات، ''بحث تزاحم موجبات''کی طرف رجوع فرمائیں)

۲۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مسلمانوں کے ایک گروہ کے ہمراہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ دو آدمی مسجد میں وارد

ہوئے اور اپنے اختلاف کو بیان کیا جس کا خلاصہ یہ ہے:

_______________________

(۱) ذخائر العقبیٰ مولف: محب طبری ص ۸۴ ،کنز العمال ج۲ ص ۳۹۳، وسائل الشیعہ ج۱۹ ص ۱۷۵۔

(۲) کنز العمال ج۲ ص ۳۹۳، وسائل الشیعہ ج۱۹ ص ۱۷۵ باب۴ موجبات ضمان۔

ایک گائے نے اپنی سینگھ سے کسی کے جانور کو مار ڈالا، تو کیا گائے کا مالک جانور کی قیمت کا ضامن ہے؟

مسلمانوں میں سے ایک شخص فوراً بول اٹھا اور کہا: ''لاضمان علی البہائم'' یعنی غیر مکلف جانور کسی کے مال کا ضامن نہیں ہے۔

شیخ کلینی کے اصول کافی میں نقل کرنے کے مطابق پیغمبر نے ابوبکر اورعمر سے کہا کہ ا س اختلاف کا فیصلہ کریں ان دونوںنے کہا:''بهیمة قتلت بهیمةً ما علیها من شیئ'' (۱) یعنی ایک جانور نے دوسرے جانور کو مارا ہے اور جانور کے لئے کوئی ضمانت نہیں ہے۔ اس وقت پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی سے فرمایا کہ وہ فیصلہ کریں ۔ امام نے کلی قانون، جس سے آج بھی استفادہ کیا جاتا ہے، سے اس مشکل کو حل کردیا اور فرمایا: اس کا نقصان اس شخص کے ذمہ ہے جس نے کوتاہی کیا ہے اور اس نے جانور پالنے کی شرطوں پر عمل نہیں کیا ، ہے اور اگر جانور کے مالک نے اپنے جانور کی صحیح دیکھ بھال اور اس کی حفاظت کی ہے لیکن گائے کے مالک نے اپنے وظیفے سے کوتاہی کی اور اسے آزاد چھوڑ دیا تو گائے کا مالک ضامن ہے اور ضروری ہے کہ اس جانور کا دیہ دے ، لیکن اگر واقعہ اس کے برعکس ہے تو اس پر کوئی ضمانت نہیں ہے ۔

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس عظیم اور کلی فیصلہ سننے کے بعد آسمان کی طرف اپنے ہاتھوں کو بلند کر کے کہا:

''الحمد لله الذی جعل فی امتی من یقضی بقضاء النبیین''

یعنی خداوندعالم کا شکر کہ اس نے ہمارے خاندان میں ایسے شخص کو قرار دیا ہے جس کا فیصلہ پیغمبروں کے فیصلے کی طرح ہے۔(۲)

رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں حضرت علی کے فیصلے صرف انہی دو فیصلوں میں منحصر نہیں ہیں، بلکہ مولائے متقیان نے پیغمبر کے زمانے میں ایسے ایسے حیرت انگیز فیصلے کئے ہیں جو آج بھی تاریخی اور روائی (روایتوں کی) کتابوں میں موجود ہیں۔(۳)

______________________

(۱) اصول کافی ج۷ ص ۳۵۲ حدیث ۶ ۷۔

(۲) صواعق محرقہ، ص ۷۵، مناقب ابن شہر آشوب، ج۱، ص ۴۸۸۔

(۳) مرحوم مجلسی نے بحار الانوار میں کچھ فیصلوں کا تذکرہ کیا ہے، بحار الانوار ج۴ ص ۲۴۰۔ ۲۱۹، کی طرف رجوع فرمائیں۔


نویں فصل

حضرت علی اور خلیفہ اول کی سیاسی مشکلیں

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے صحابیوں اور چاہنے والوں کے درمیان جو حضرت علی کے فضائل بیان کئے اس کی وجہ سے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد علمی اور فکری مسائل میںحضرت علی امت کے عظیم مرجع قرار پائے یہاں تک کہ وہ افراد بھی جنھوں نے حضرت علی کو خلافت سے دور کر دیاتھا اپنی علمی، سیاسی ، عقیدتی مشکلوں میں آپ کی طرف رجوع کرتے تھے اور ان سے مدد طلب کرتے تھے۔

خلفاء کا امام سے مد دطلب کرنا تاریخ اسلام کاایک مسلّم باب ہے اور بہت زیادہ قطعی سندیں اس سلسلے میں موجود ہیں اور کوئی بھی انصاف پسند اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ اور یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ امام ـ قرآن و سنت، اصول و فروع اوراسلام کے سیاسی مصلحتوں میں اعلم تھے صرف کتاب ''الوشیعہ'' کے مولف نے اس تاریخی حقیقت کا کنایةً و اشارتاً انکار کیا ہے اور خلیفۂ دوم کو دسیوں جعلی اور تاریخی سندوںکے ساتھ امت میں سب سے اعلم اور افقہ شمار کیا ہے(۱) ہم فی الحال اس سلسلے میں بحث نہیں کریں گے کیونکہ بہت زیادہ تاریخی شواہد موجودہیں کہ خلیفۂ دوم نے مدد کے لئے حضرت علی کی طرف رجوع کیا تھا اور تاریخ نے اسے اپنے دامن میں محفوظ رکھاہے جوان کی بات کا جواب ہے، لہذا جواب دینے سے بہتر یہ ہے کہ خلفاء میں سے ہر ایک کی علمی اور سیاسی مدد جو انھوںنے امیرالمومنین سے مانگی تھی، اسے پیش کیا جائے۔

______________________

(۱)مقدمہ الوشیعہ ،ص ن


حضرت علی اورابوبکر کی علمی و سیاسی مشکلیں

تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ خلیفۂ اول نے حضرت علی سے سیاسی، فقہی، عقائدی، تفسیر قرآن اور احکام اسلامی جیسے اہم مسئلوں میں مدد لی تھی اور حضرت کی رہنمائیوں سے پورا فائدہ اٹھایا تھا ، یہاں پر چند نمونے ذکر کر رہے ہیں۔

رومیوں کے ساتھ جنگ

اسلامی حکومت کے دشمنوں میں سے بدترین دشمن روم کے بادشاہ تھے جو ہمیشہ شمال کی جانب سے

اسلامی حکومت کو ڈرایا کرتے تھے، پیغمبر اسلام (ص) اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک روم کے خطروں سے غافل نہ تھے۔

۷ ھ میں آپ نے ایک گروہ کو جعفر بن ابی طالب کی سپہ سالاری میں شام کے اطراف میں روانہ کیا، لیکن لشکر اسلام نے اپنے تین سپہ سالاروں کو کھو دینے کے بعد بغیر نتیجہ مدینہ واپس آگئے اس خسارے کی تلاش کرنے کے لئے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۹ ھ میں ایک عظیم لشکر کے ہمراہ تبوک کی جانب عازم ہوئے لیکن دشمن سے مقابلہ کئے بغیر مدینہ واپس آگئے اس سفر میں ایسے اہم اور واضح نتائج سامنے آئے کہ جو تاریخ میں محفوظ ہیں، اس کے باوجود روم کی جانب سے ہونے والے خطرے نے پیغمبر کو متفکر رکھا، اور یہی وجہ ہے کہ آنحضرت نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں جب کہ آپ بیمار تھے مہاجرین اورانصار سے سپاہیوں کا انتخاب کیااورانھیں شام کے ساحل کی طرف روانہ کردیا، لیکن یہ لشکر کسی وجہ سے مدینے سے باہر نہیں گیا اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا انتقال ہوگیا جب کہ لشکر اسلام نے مدینے سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر پناہ لے رکھی تھی۔پیغمبر اسلام (ص)کے انتقال کے بعدمدینہ کی سیاسی فضا جو بحران کا شکار ہوگئی تھی، خاموش ہوگئی اور ابوبکر نے حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے رکھی تھی۔خلیفہ نے پیغمبر (ص)کے اس فرمان کو جو رومیوں سے جنگ کے متعلق آپ نے جاری کیا تھا اس میں دو دلی کا مظاہرہ کیا، لہذا صحابیوں کے کچھ گروہ سے مشورہ کیااور جس نے بھی جو نظریہ پیش کیااس سے یہ قانع اور مطمئن نہیں ہوا آخر میں حضرت علی سے مشورہ کیاامام ـ نے اسے پیغمبر اسلام کے حکم جاری کرنے کی رغبت دلائی اور فرمایا کہ اگر رومیوں سے جنگ کرو گے تو کامیاب رہو گے خلیفہ امام کی اس تشویق اور رغبت سے خوشحال ہوگیااورکہا: تم نے بہترین فال کی طرف اشارہ کیا ہے اور خیر و نیکی کی بشارت دی ہے۔(۱)

______________________

(۱) تاریخ یعقوبی، ج۲، ص ۱۲۳، مطبوعہ نجف۔


یہودیوں کے بزرگ علماء کے ساتھ مناظرہ

پیغمبر اسلام (ص)کے انتقال کے بعد یہودیوں اور نصرانیوں کے بزرگ علماء و دانشوروں نے مسلمانوں کے روح و ذہن کوکمزور کرنے کے لئے اسلام کی طرف قدم بڑھایا اور بہت سے سوالات کئے جن میں سے بعض یہ ہیں:یہودیوں کے علماء کاایک گروہ مدینہ آیا اور خلیفۂ اول سے کہا: اس وقت تم اپنے پیغمبر کے جانشین ہو تو تم میرے سوال کا جواب دو کہ خدا کہاںہے؟ کیاوہ آسمانوں پر ہے یا زمین پر؟

ابوبکر نے جو جواب دیا اس سے وہ لوگ مطمئن نہ ہوئے انہوں نے کہا کہ خدا عرش پر ہے جس پر یہودیوں نے تنقید کی اور کہا کہ ایسی صورت میں زمین کوخدا سے خالی ہونا چاہیئے، ایسے حساس موقع پر حضرت علی علیہ السلام اسلام کی مدد کوپہونچے اور مسلمانوں کی آبروکی آبرو کو بچا لیا کرلیا ، امام نے منطقی جواب دیتے ہوئے کہا:

''ان اللّه این الاین فلا این له، جل أن یحویٰه مکان فهو فی کل مکان بغیر مماسّة و لامجاورة ، یحیط علماً بما فیها و لا یخلوا شیء من تدبیره'' (۱)

تمام جگہوں کو خداوند عالم نے پیدا کیا ہے اور وہ اس سے زیادہ بلند و بالا ہے کہ جگہیں اسے اپنی آغوش میں لیں، وہ ہرجگہ ہے لیکن کسی نے لمس نہیں کیا ہے، اورنہ ہی کسی کا پڑوسی ہے ،تمام چیزیں اس کے علم میں ہیں اور کوئی چیز بھی اس کی تدبیر سے باہر نہیں ہے۔حضرت علی علیہ السلام نے اس جواب میں خدا کے ہر جگہ ہونے پر واضح استدلال کیاہے اوریہودی علماء کو اتنا تعجب میں ڈال دیاکہ وہ مولائے کائنات کے کلام کی حقانیت اورآپ پیغمبر کے اصلی جانشین ہونے کا اعتراف کرنے لگے۔

امام نے اپنے پہلے جملے میں (تمام جگہوں کوخدا نے پیداکیا ہے) دلیل توحید سے استفادہ کیا ہے اوراس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ دنیا میں قدیم بالذات خدا کے سوا کوئی اور نہیں ہے اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ مخلوق ہے، خدا وندعالم کے لئے ہر طرح کے مکان سے نفی کیا ہے، کیونکہ اگر خدا کسی مکان میں ہوتا تو ضروری تھا کہ شروع ہی سے اس کے ساتھ ہوتا، جب کہ جو کچھ بھی اس کائنات میں ہے سب اسی کی مخلوق ہے ۔کہ انہی میں مکان بھی ہے لہٰذا کوئی بھی چیز اس کے ہمراہ نہیں ہو سکتی واضح لفظوں میں یوں کہا جائے کہ اگر خدا کے لئے کوئی جگہ یا مکان فرض کیا جائے تو یہ مکان بھی خدا کی ذات کی طرح یا قدیم ہوگایا مخلوق

______________________

(۱) ارشاد مفید، چاپ قدیم، ص ۱۰۷۔


خدا شمار ہو گا، پہلا فرض برہان توحید کے ساتھ ساز گار نہیں ہے اور یہ کہ کائنات میں خدا کے سوا کوئی قدیم نہیں ہے،سازگار نہیں ہے، اور دوسرافرض اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ فرضی مکان ،مخلوق خدا ہے،اس پر شاہد کہ اس کو مکان کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ خدا تھا اور یہ مکان نہیں تھا بعد میں اس نے خلق کیا۔

امام ـ نے اپنے دوسرے جملے میں(وہ ہر جگہ موجود ہے بغیر اس کے کہ کوئی اسے لمس کرسکے یا اسکا ہمسایہ ہوسکے) خداوند عالم کے صفات میں سے ایک صفت پر اعتماد کیا ہے او روہ یہ کہ اس کا وجود لامتناہی ہے اور لامتناہی ہونے کا لازمہ یہ ہے کہ وہ ہرجگہ ہو اورہر چیز پر قدرت وا حاطہ رکھتاہو، اور یہ کہ خدا جسم نہیں رکھتا یعنی موجودات میں ایک دوسرے سے ملاقات نہیں کرتا اور کسی کی ہمسایگی نہیں کر سکتا۔

کیا یہ مختصر اور پر معنی عبارت حضرت علی علیہ السلام کے وسیع علم اور علم الہی سے معمور ہونے کا پتہ نہیں دیتی؟

البتہ صرف یہ تنہا موردنہیں تھا کہ امام نے، یہودیوں کے علماء اوردانشمندوں کے مقابلے میں خدا کے صفات کے سلسلے میں بحث کی ہے بلکہ دوسرے اور تیسرے خلیفہ کے زمانے میں اور خود اپنی خلافت کے زمانے میں اکثر و بیشتر یہودیوں سے بحث کی ہے۔

ابونعیم اصفہانی نے حضرت علی اور علماء یہود کے چالیس افراد کے درمیان ہوئے مناظرے کو نقل کیا ہے، اور اگر امام ـ کے اس مناظرے کی شرح لکھی جائے تواس کے لئے ایک مستقل کتاب کی ضرورت ہے یہاں پراس کی تفصیل کا مقام نہیں ہے۔(۱)

امام کے بحث کا طریقہ یہ تھا کہ وہ سامنے والے کی علمی سطح دیکھ کر بحث کرتے تھے، کبھی بہت دقیق دلیل پر پیش کرتے تو کبھی واضح او رروشن مثالوں اور تشبیہوں سے بات واضح کرتے تھے۔

______________________

(۱) حلیة الاولیائ، ج۱، ص ۷۲۔


عیسائی دانشمند کواطمینان بخش جواب

سلمان کہتے ہیں:پیغمبر(ص) کے انتقال کے بعد عیسائیوں کا ایک گروہ ایک پادری کی سربراہی میں مدینہ آیا اور خلیفہ کے سامنے سوال کرنا شروع کرکیا، خلیفہ نے ان لوگوں کو حضرت علی کے پاس بھیجا ان لوگوںنے امام سے سوال کیا کہ ''خدا کہاں ہے؟'' امام ـ نے آگ جلائی اور پھر اس سے پوچھا بتاؤ آگ کا رخ کدھر ہے ،عیسائی دانشمند نے جواب دیا چاروںطرف آگ ہے اورآگ کا سامان اور پشت نہیں ہے اور آگ پشت و رخ نہیں رکھتی۔ امام نے فرمایا: اگر آگ جسے خدا نے پیدا کیا ہے اس کا کوئی خاص رخ نہیں ہے تواس کا خالق جو ہرگز اس کے مشابہ نہیں ہے اور اس سے بہت بلند و بالا ہے وہ پشت و رخ رکھتا ہو، مشرق و مغرب کواسی خدا نے پیداکیا ہے اور جس طرف بھی رخ کرو گے اس طرف خدا ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔(۱)

امام نے نہ صرف اسلام اور مسلمانوں کے فکری اور عقائدی مسئلوں میں خلیفہ کی مدد کی بلکہ جب بھی خلیفہ ، قرآن کریم کے کلموں کے معنی کی تفسیر کرنے سے عاجز ہو جاتے تھے تو ان کی مدد کرتے تھے ،چنانچہ جب ایک شخص نے ابوبکر سے اس آیت ''وفاکہة و أبا متاعاً لکم و لانعامکم''(۲) میں لفظ ''أب'' کا معنی پوچھا انہوں نے بہت تعجب سے کہا میں کہاں جاؤں، اگر بغیر علم و آگاہی کے خدا کے کلام کی تفسیر کروں۔جب یہ خبر حضرت علی علیہ السلام کے پاس پہونچی تو آپ نے فرمایا: ''أب'' سے مراد ہری بھری گھاس ہے۔(۳) اور عربی میں کلمۂ ''أب'' کے معنی ہری گھاس کے ہیں تو اس پرخود آیت پر واضح طور پر دلالت کررہی یہ کہ

کیونکہ آیت ''فاکہة و أباً'' کے بعد بغیر کسی فاصلے کے ارشاد قدرت ہوتا ہے: ''متاعاً لکم و لانعامکم'' یعنی یہ دونوں تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے فائدے کے لئے ہیںاور جو کچھ

انسان کے فائدے کے لئے ہے وہ ''میوہ'' ہے اور جو کچھ حیوان کے لئے باعث لذت اور زندگی ہے وہ ''ہری گھاس'' ہے جو یقیناً صحرائی ہری بھری گھاس ہے۔

______________________

(۱) قضاء امیر المومنین مطبوعہ نجف ۱۳۶۹ھ ص ۹۶۔

(۲) سورۂ عبس، آیت ۳۲۔ ۳۱؛ اور میوے اور چارا (یہ سب کچھ) تمہارے اورتمہارے چارپایوں کے فائدے کے لئے بنایا ہے۔

(۳) الدر المنثور ج۶ ص ۳۱۷، ارشاد ص ۱۰۶۔


ایک شرابی کے بارے میں حضرت علی کا فیصلہ

خلیفہ اول نے نہ صرف امام ـ سے قرآن کے مفاہیم سے آگاہی حاصل کی بلکہ، فروع دین اور احکام میں حضرت سے ہمیشہ مدد لیتے رہے۔

حکومت کے سپاہی ایک شرابی کو پکڑ کر خلیفہ کے پاس لائے تاکہ شراب پینے کی وجہ سے اس پر حد جاری کریں۔ وہ اس بات کا دعوی کر رہا تھا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ شراب حرام ہے کیونکہ ہم نے ایسے معاشرے میں پرورش پائی ہے جو آج تک شراب کو حلال سمجھتے ہیں، خلیفہ فیصلہ کرنے سے عاجز آگیا فوراً کسی کو حضرت علی کے پاس بھیجا اور ان سے اس مشکل کا حل دریافت کیا۔ امام نے فرمایا:دو معتبر افراد ا شرابی کا ہاتھ پکڑ کر مہاجرین و انصار کے پاس لے جائیں اور ان لوگوں سے پوچھیں کہ کیا ابھی تک آیت تحریم خمر (شراب کو حرام قرار دینے والی آیت) کو اس مرد کے سامنے پڑھا ہے یا نہیں ؛ اگر ان لوگوں نے گواہی دی کہ ہاں ہم نے آیت حرمت کو اس کے سامنے پڑھا ہے تو ضروری ہے کہ اس پر خدا کی طرف سے معین کردہ حد جاری ہو اور اگر ان لوگوںنے گواہی نہیں دی تو ضروری ہے کہ یہ شخص توبہ کرے کہ آئندہ کبھی بھی اپنے ہونٹ کو شراب سے تر نہیں کرے گا اور پھر اسے چھوڑ دیا جائے۔خلیفہ نے امام کے حکم کی پیروی کی اوراسے آزاد کردیا۔(۱)

یہ بات صحیح ہے کہ امام نے خلفاء کے زمانے میں خاموشی اختیار کی اور کوئی بھی عہدہ نہیں لیا، لیکن کبھی بھی اسلام کے دفاع اوردین مقدس کی حمایت سے غافل نہیں رہے۔تاریخ کے دامن میں یہ واقعہ موجود ہے کہ ''رأس الجالوت'' (یہودیوں کے پیشوا) نے درج ذیل مطالب کے بارے میں ابوبکر سے سوال کیا اوراس کے متعلق قرآن کا نظریہ دریافت کیا۔

۱۔ زندگی اور ہر زندہ موجودات کی بقا کیاہے؟

۲۔ بے جان چیز جس نے کلام کیا ہے وہ کیا ہے؟

۳۔ وہ چیز جو ہمیشہ کم اور زیادہ ہوتی رہتی ہے کیا ہے؟

جب یہ خبر امام ـ کے پاس پہونچی تو آپ نے فرمایا:

______________________

(۱) اصول کافی ج۲ حدیث ۱۶، ارشاد مفید ص ۱۰۶ ،مناقب ابن شہر آشوب ج۱ ص ۴۸۹۔


زندگی کی بقا قرآن کی نظر میں ''پانی'' ہے(۱) وہ بے جان چیز جس نے گفتگو کی وہ زمین و آسمان ہیں جنہوں نے خداکا حکم پاتے ہی اپنی اطاعت کا اظہار کیا(۲) اور جو چیز ہمیشہ کم و زیادہ ہوتی ہے وہ دن اور رات ہیں۔(۳)

جیسا کہ امام کے اس بیان سے واضح و روشن ہوتا ہے امام معمولاً اپنے کلام کو ثابت کرنے کے لئے قرآن کی آیتوں سے استناد کرتے تھے اور یہ ان کے کلام کی حقانیت کو مزید بڑھا دیتاتھا۔(۴)

____________________

(۱)''و جعلنا من الماء کُلَ شیئٍ حی'' سورۂ انبیاء آیت ۳۰؛ یعنی ہم نے پانی سے ہر زندہ موجودات کو پیدا کیا۔

(۲)''فقال لها و للأرض أئتیا طوعاً او کرهًا قالتا أتینا طائعین ؛ سورۂ حم سجدہ ، آیت ۱۱؛ تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں آؤ خوشی سے یا کراہت سے دونوں نے عرض کی ہم خوش خوش حاضر ہیں (اور حکم کے پابند ہیں)

(۳)''یولجُ اللیلَ فی النهارِ و یولجُ النهارَ فی اللیل'' سورۂ لقمان، آیت ۲۹؛ یعنی خدا ہی رات کو ( بڑھا کے) دن میں داخل کردیتا ہے (تو رات بڑھ جاتی ہے) اور دن کو (بڑھا کے) رات میں داخل کردیتا ہے (تو دن بڑھ) جاتا ہے۔

(۴)بحار الانوار ج۴ ص ۲۲۴۔


دسویں فصل

حضرت علی علیہ السلام اور خلیفۂ دوم کوسیاسی مشورے

امام علی علیہ السلام کا سب سے بڑا مقصد اسلام کی نشر و اشاعت اور مسلمانوں کی عزت و آبرو کومحفوظ کرنا تھا۔ اسی بنا پر اگرچہ آپ اپنے کو پیغمبر کا برحق جانشین مانتے تھے اور آپ کی عظمت و برتری دوسروں پر واضح و آشکار تھی، اس کے باوجود جب بھی خلافت مشکل میں گرفتار ہوتی تھی تو آپ بلند ترین افکار اور عالی ترین نظروں سے اسے حل کردیتے تھے، اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ امام نے خلیفہء دوم کے زمانے میں مشورے اور بہت زیادہ سیاسی، اجتماعی اور علمی مشکلوں کو حل کیا ہے ،بہت سی جگہیں جہاں پر عمر نے سیاسی مسئلوں میں حضرت علی کی رہنمائیوں سے استفادہ کیا ہے ان میں سے سے چند چیزوں کو ذکر کر رہے ہیں۔

ایران فتح کرنے کے متعلق مشورہ

۱۴ھ میں قادسیہ کی سرزمین پر اسلام کی فوج او رایرانی فوج کے درمیان زبردست جنگ ہوئی اور مسلمانوں کو کامیابی نصیب ہوئی اورایرانی فوج کا کمانڈر رستم فرّخ زاد، اور اس کے لشکر کے کچھ افراد قتل کردیئے گئے اور پورے عراق پر مسلمانوں کا سیاسی اور فوجی تسلط ہوگیا اور مدائن جو ساسانی بادشاہوں کی حکومت کا مرکز تھا مسلمانوں کے قبضے میں ہوگیا او رایرانی فوج کے سپہ سالار پیچھے ہٹ گئے۔

ایران کے فوجی سپہ سالاروں اور مشیروں کواس بات کا خوف تھا کہ کہیںایسا نہ ہو کہ اسلام کی فوج دھیرے دھیرے بڑھتی رہے اور پورے ملک کو اپنے قبضے میں لے لے، ا س خطرناک حملے کے مقابلے کے لئے پارسی بادشاہ ، یزدگرد (ایرانی بادشاہ)نے فیروزان کی سپہ سالانی میں ایک لاکھ پچاس ہزار سپاہیوں کی فوج بنائی تاکہ ہر طرح کے حملے سے مقابلہ کریں اور اگر حالات سازگار ہوں تو خود حملہ کردیں۔

(عمار یاسر کے بقول) اسلام کی فوج کا سپہ سالار سعد وقاص ، جس کی کوفہ پر حکومت تھی اس نے عمر کو خط لکھا اور اسے حالات سے باخبر کیا کہ کوفہ کی فوج جنگ کرنے کے لئے تیار ہے اور قبل اس کے کہ دشمن ان پر حملہ کریں وہ لوگ دشمن پر رعب و دبدبہ بٹھانے کے لئے جنگ شروع کردیں۔


خلیفہ مسجد میں گئے اور تمام بزرگ صحابیوں کو جمع کیااوران لوگوں کواپنے ارادے سے باخبر کیا کہ میں مدینہ چھوڑ رہا ہوں اور کوفہ اور بصرہ کے درمیان قیام کروں گا تاکہ وہاں رہ کر فوج کی رہبری کروں ۔ اس وقت طلحہ کھڑا ہوا اور خلیفہ کے اس اقدام کی تعریف کی اور ایسی تقریر کی جس کے ایک ایک لفظ سے چاپلوسی کی بو آرہی تھی۔

عثمان بھی اپنی جگہ سے اٹھے اور انہوں نے نہ صرف خلیفہ کے مدینہ چھوڑ نے کی تعریف کی بلکہ خلیفہ سے کہا کہ شام اور یمن کی فوج کے پاس خط لکھو کہ وہ لوگ اس جگہ کو چھوڑ دیں اور تم سے آکر مل جائیں اور تم اتنے زیادہ سپاہیوں کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرسکتے ہو۔ اس وقت حضرت علی علیہ السلام اپنی جگہ سے اٹھے اور دونوں نظریوں پر تنقید کی اور فرمایا: ''وہ سرزمین جو محنت و مشقت اور ابھی ابھی مسلمانوں کے تصرف میں آئی ہے اس کا اسلام کی فوج سے خالی رہنا صحیح نہیں ہے اگر یمن اور شام کے مسلمانوں کو وہاں سے ہٹا دو گے تو ممکن ہے حبشہ کی فوج یمن اور روم کی فوج شام کواپنے قبضے میں کرلیں، اور مسلمانوں کی اولادیں اورعورتیں جو یمن اور شام میں زندگی بسر کر رہی ہیں مصیبتوں میں گرفتار ہو جائیں۔ اور اگر مدینے کو چھوڑ کر چلے گئے تو اطراف و جوانب کے عرب اس موقع سے فائدہ اٹھائیں گے اورایسا فتنہ پیدا کردیں گے جس کا نقصان اس فتنہ سے زیادہ ہوگا جس کے مقابلے کے لئے جارہے ہو۔ اور (امور سلطنت) میں حاکم کی حیثیت وہی ہوتی ہے جو مہروں میں ڈوروں کی۔ جو انھیں ایک جگہ ملا کر رکھتا ہے پس اگر ڈورا ٹوٹ جائے تو سب مہرے بکھر جائیں گے اور پھر کبھی سمٹ نہ سکیں گے اگر تو اسلامی فوج کے سپاہیوں کی کمی کی بنا پر فکر مند ہے تو مسلمان جو ایمان رکھتے ہیں سپرد کردیں ،تیری مثال چکی کی اس لکڑی کی ہے جو بیچ میں رہتی ہے اور جنگ کی چکی کو اسلام کے سپاہیوں کے ذریعے انجام دے، جنگ کے میدان میں تمہارا جانا دشمنوں کی جرأت میں اضافہ کا سبب ہوگا، کیونکہ وہ لوگ یہ فکر کرتے ہیں کہ تم اسلام کے پیشوا و حاکم ہو اور تمہارے علاوہ مسلمانوں کا کوئی رہبر نہیں ہے اور اگر اس کودرمیان سے اٹھالیں تو ان لوگوںکی مشکل حل ہو جائے گی اور یہ فکر، ان کے جنگ کی حرص اور کامیابی حاصل کرنے کا باعث بنے گی۔(۱) خلیفہ امام کی بات سننے کے

______________________

(۱) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ۱۴۴، تاریخ طبری ج۴ ص ۲۳۸۔ ۲۳۷، تاریخ کامل ج۳ ص ۳، تاریخ ابن کثیر ج۷ ص ۱۰۷، بحار الانوارج۹ ص ۵۰۱مطبوعہ کمپانی۔


بعد جنگ پر جانے سے باز آگیا اور کہا یہ رائے و ارادہ علی کا ارادہ ہے اور میں چاہتا ہوں کہ ان کے حکم کی پیروی کروں۔(۱)

بیت المقدس فتح کرنے کے بارے میں مشورہ

بیت المقدس فتح کرنے کے سلسلے میں عمر نے حضرت علی علیہ السلام سے مشورہ کیا اور حضرت کے حکم کی پیروی کی۔

مسلمانوں کو شام فتح کئے ہوئے صرف ایک مہینہ گزرا تھا اوران لوگوں کا ارادہ تھا کہ بیت المقدس کی طرف چڑھائی کریں، اسلامی فوج کے علمبردار ابوعبیدہ جرّاح اور معاذ بن جبل تھے۔

معاذ نے ابوعبیدہ سے کہا: خلیفہ کو خط لکھو اور بیت المقدس کی طرف چڑھائی کے متعلق سوال، کرو ابو عبیدہ نے خط لکھا، خلیفہ نے مسلمانوں کے سامنے خط پڑھااوران لوگوں سے مشورہ طلب کیا۔

امام ـ نے عمر کو شوق و رغبت دلایاکہ اپنے سپہ سالاروں کو خط لکھو کہ بیت المقدس کی طرف بڑھتے رہیں اور بیت المقدس فتح کرنے کے بعد ٹھہر نہ جائیں بلکہ سرزمین قیصر میں داخل ہوں اور اس بات سے مطمئن رہیں کا کامیابی انھیں ہی ملے گی کیونکہ پیغمبر نے اس فتح و کامرانی کی خبر دی ہے۔

خلیفہ نے فوراً قلم و کاغذ منگایا اور ابوعبیدہ کو خط لکھا اوراسے جنگ جاری رکھنے اور بیت المقدس کی طرف بڑھنے کا حکم اور رغبت دلایا اور لکھا کہ پیغمبر کے چچازاد بھائی نے مجھے بشارت دی ہے کہ بیت المقدس تمہارے ہاتھوں سے فتح ہوگا۔(۲)

______________________

(۱) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ۱۴۴، تاریخ طبری ج۴ ص ۲۳۸۔ ۲۳۷، تاریخ کامل ج۳ ص ۳، تاریخ ابن کثیر ج۷ ص ۱۰۷، بحار الانوارج۹ ص ۵۰۱مطبوعہ کمپانی۔

(۲)ثمرة الاوراق، حاشیهٔ المستطرف میں، تحقیق: تقی الدین حموی ج۲ ص ۱۵، مطبوعہ مصر ۱۳۶۸ھ۔


تاریخ اسلام کی ابتدا

ہر قوم کی ایک ابتدائی تاریخ ہوا کرتی ہے جس میں لوگ اپنے تمام واقعات و حادثات کو پرکھتے ہیں، مسیحی قوم کی تاریخ کا آغاز حضرت عیسیٰ کی ولادت سے ہوتا ہے اور اسلام سے پہلے عربوں کی تاریخ ''عام الفیل'' سے شمار ہوتی تھی، بعض قوموں کی تاریخ کاآغاز عمومی ہوتا ہے اور بعض قومیں حادثات وغیرہ سے اپنی تاریخ کو یاد کرتی ہیں مثلاً قحط والا سال، جنگ کا سال، وغیرہ۔

عمر کی خلافت کے تیسرے سال تک مسلمانوں کی کوئی تاریخ نہیں تھی جسے خطوط اور تمام قرارداداورحکومت کے امور اس تاریخ سے مخصوص ہوتے، تو پھر ان خطوط کا کیا کہنا جو فوج کے سپہ سالاروں کے لئے لکھا جاتا تھا اورتمام خطوط میں صرف مہینوں کا نام لکھا جاتا تھا، لیکن تاریخی سال کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا تھا، یہ کام اسلامی نظام میں نقص کے علاوہ خط موصول کرنے والوں کے لئے بھی مشکلیں ایجاد کر رہا تھا کیونکہ ممکن تھا کہ دو مختلف حکم سپہ سالار کے پاس یا حاکم وقت کے پاس پہونچے اور راستے کی دوری اور خطوط میں تاریخ درج نہ ہونے کی وجہ سے وہ نہیں جان پائیں کہ پہلے کون سا خط لکھا گیا ہے۔خلیفہ نے تاریخ اسلام کی ابتدا اور اس کے تعیین کے لئے پیغمبر کے تمام صحابیوں کو جمع کیا لوگوںنے اپنے اپنے حساب سے نظریہ پیش کیا بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ پیغمبر اسلام کی ولادت کی تاریخ سے اسلامی تاریخ کا آغاز ہو اور بعض لوگوں نے کہا کہ عید بعثت (۲۷ رجب معراج پیغمبر) سے تاریخ کی ابتدا ہو ، انھیں انہی نظریوں میں حضرت علی علیہ السلام نے بھی اپنا نظریہ پیش کیا کہ جس دن پیغمبر اسلام نے سرزمین شرک کو چھوڑا اور سرزمین اسلام پر قدم رکھا اسی سے اسلامی تاریخ کا آغاز کیا جائے، عمر نے تمام نظریوں میں سے حضرت علی علیہ السلام کے نظریہ کو پسند کیااور پیغمبر اسلام کی ہجرت کو تاریخ اسلام کی ابتدا قرار دیا اوراسی دن سے تمام خطوط، سندیں، اور حکومت کے دفاتر وغیرہ میں ہجری سال لکھا جانے لگا۔(۱) بے شک یہ بات صحیح ہے کہ ولادت پیغمبر یا پیغمبر کی بعثت ایک بڑا واقعہ ہے لیکن ان دونوں دنوں میں اسلام لوگوں کی آنکھوں کے سامنے اجاگر نہ تھا، پیغمبر کی ولادت کے دن اسلام کا وجود نہیں تھا اور پیغمبر کی بعثت کے دن اسلام کا کوئی قانون و قاعدہ نہ تھا، لیکن ہجرت کے دن کفار کے مقابلے میں مسلمانوں کی طاقت و قدرت اور کامیابی اور اسلامی حکومت کی تشکیل کا دن تھا اور اس دن پیغمبر نے سرزمین شرک کو چھوڑا تھا اور مسلمانوں کے لئے اسلامی وطن بنایا تھا۔

______________________

(۱) تاریخ یعقوبی ج۱ ص ۱۲۳، تاریخ طبری ج۲ ص ۲۵۳، کنز العمال ج۵ص ۲۴۴، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص ۱۱۳ مطبوعہ مصر۔


خلیفۂ دوم کے زمانے میں لوگ صرف حضرت علی کی طرف رجوع کرتے تھے

پیغمبر اسلام(ص) کی رحلت کے بعد مختلف قوم و ملت میں اسلام پھیلنے کی وجہ سے مسلمان نئے مسائل سے روبرو ہوا جس کا حکم قرآن مجید اور پیغمبر کی حدیث میں موجود نہیں تھا، کیونکہ احکام وفروعات سے مربوط آیتیں محدود ہیں، اورتھیں واجبات و محرمات سے متعلق پیغمبر اسلام کی جو حدیثیں امت کے درمیان موجود تھیں ان کی تعداد چار سو سے زیادہ نہیں تھی(۱) یہی وجہ ہے کہ مسلمان بہت سے مسئلوں کے حل کے لئے جس کے بارے میں قرآنی نص اور حدیث پیغمبر وارد نہیں ہوئی ہے مشکلوں میں گرفتار ہوئے۔

ان مشکلوں نے ایک گروہ کو اس بات پر مجبور کردیا کہ وہ ان مسئلوں میں اپنی عقل او رائے پر عمل کریں اورغیر صحیح معیاروں کے ذریعے اس مسئلہ کا حکم معین کریں۔ اس گروہ کو ''اصحاب رائے'' کہتے ہیں، وہ لوگ کتاب و سنت سے قطعی اور شرعی دلیل سے استناد کرنے کے بجائے موضوعات کا مطابق مصالح و مفاسد کے حل نکالتے تھے اور ظن و گمان کے ذریعے خدا کے حکم کو معین کرتے تھے اور اسی کے مطابق فیصلہ دیتے تھے۔

خلیفۂ دوم نے بہت سی جگہوں پر نص کے مقابلے میں خود اپنی رائے پر عمل کیا ہے اور وہ جگہیں آج بھی تاریخ کے صفحات پر درج ہیں لیکن اصحاب کی رائے کے متعلق انداز دوسرا تھا ان کے بارے میں کہتے ہیں۔

''صاحبان رائے'' پیغمبر اسلام کی سنتوں کے دشمن ہیں وہ لوگ پیغمبر کی حدیث کو یاد نہیں کرسکتے تھے اسی لئے اپنی رائے کے مطابق فتوی دیتے تھے ، خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا، آگاہ ہو جاؤ کہ ہم پیروی کرتے ہیں خود سے کوئی کام نہیں کرتے اور ہم تابع ہیں بدعت نہیں کرتے، ہم لوگ پیغمبر کی حدیثوں پر عمل کریں گے اور گمراہ نہیں ہوں گے''

______________________

(۱) رشید رضا، مولف: المنار اپنی کتاب ''الوحی المحمدی'' دوسرا ایڈیشن، ص ۲۲۵، پر لکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کی تمام حدیثیں جو فروع اور احکام سے متعلق ہمارے پاس ہیںان میں سے اگر تکر ار ہوئی حدیث کو حذف کردیا جائے تو چار سو سے زیادہ نہیں ہونگی۔ اور یہ احتمال دینا کہ پیغمبر کی حدیثیں اس سے زیادہ ہیں اور ہم تک نہیں پہونچی ہیں یہ ضعیف ہے لہذا پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد جتنی حدیثیں امت کے پاس موجود ہیںاتنی ہی یا اس سے کچھ زیادہ ہیں۔


جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا کہ عمر نے نص کے مقابلے میں اپنی رائے پر عمل کیا ہے اور بہت سی جگہوں پر دلیل نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے خود اپنی رائے اور نظریہ پر عمل کیا لیکن بہت سے مقامات پر باب علم پیغمبر حضرت امیر المومنین کی طرف رجوع کیا۔ پیغمبر اسلام(ص) کے فرمان کے مطابق حضرت امیر المومنین علیہ السلام پیغمبر کے علوم کا خزانہ اور احکام خداوندی کے وارث تھے اور قیامت تک جن چیزوں کی امت کو ضرورت ہوگی ان تمام چیزوں کے کے جاننے والے تھے اورامت پیغمبر میں ان سے بڑا عالم کوئی نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ سیکڑوں مقام پر جن میں سے کچھ جگہوں کو تاریخ نے اپنے دامن میں جگہ دی خلیفۂ دوم نے امام کے علوم سے استفادہ کیا ہے اور اس کی زبان پر ہمیشہ یہ جملہ یا اس سے مشابہ جملہ ورد رہتا تھا۔

''عجزت النسائُ ان یلدنَ مثلَ علی بن ابی طالب''

عورتیں اس بات سے عاجز ہیں کہ علی جیسی شخصیت کو پیدا کرسکیں۔

''اللهم لا تبقنی لمعضلة لیس لها ابن ابی طالب ''

خداوندا! مجھے ایسی مشکل میں گرفتار نہ کرنا جس کے حل کے لئے علی بن ابی طالب نہ ہوں۔

(وہ جگہیں جہاں پر عمر نے اپنی رائے و نظریہ پر نص کے مقابلے میں عمل کیا ہے) اس میں سے کچھ جگہوں کو بطور نمونہ پیش کر رہے ہیں۔

۱۔ ایک شخص نے عمر سے اپنی بیوی کے بارے میں شکایت کیا کہ شادی کے چھٹے مہینے بعد ہی اسے بچہ ہوا ہے عورت نے بھی اس بات کو قبول کرلیااور کہا کہ شادی سے پہلے میرا کسی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ خلیفہ نے حکم دیدیا کہ اس عورت کو سنگسار کردیاجائے ، لیکن امام نے حد جاری کرنے سے منع کردیا اور فرمایا کہ قرآن کی نظر میںعورت چھ مہینے کے عرصہ میں بچہ پیدا کرسکتی ہے کیونکہ آیت میں حمل اوردودھ پلانے کی کل مدت ۳۰ مہینہ معین ہوئی ہے۔

( .وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا ) (۱)

اور اس کا پیٹ میں رہنا اور اس کے دودھ بڑھائی کی (کل مدت) تیس مہینہ ہے۔

______________________

(۱) سورۂ احقاف، آیت ۱۵۔


قرآن کی دوسری آیت میں صرف دودھ پلانے کی مدت دو سال بیان ہوئی ہے۔

( وَفِصَالُهُ فِیْ عَامَیْنِ ) (۱) اور اس کے دودھ بڑھانے کی مدت دو سال ہے۔

اگر تیس مہینے سے دو سال کم کریں تو حمل کے لئے چھ مہینہ کی مدت باقی رہے گی۔عمر نے ا مام ـ کے منطقی کلام سننے کے بعد کہا:''لولا علی لهلک عمر'' (۲)

۲۔ خلیفۂ دوم کی عدالت میں یہ ثابت ہوا کہ پانچ آدمیوں نے عفت کے منافی عمل انجام دیا ہے خلیفہ نے تمام آدمیوں کے بارے میں ایک ہی فیصلہ کیا ، لیکن امام نے ان کے حکم کو باطل قرار دیدیا اور فرمایا کہ ان لوگوںکے بارے میں تحقیق و جستجو کی جائے اگر ان کے حالا ت مختلف ہوںگے تو کہ خدا کا حکم بھی مختلف ہوگا۔تحقیق و جستجو کے بعد امام نے فرمایا:

ان میں سے ایک کو قتل کرادو، دوسرے کو سنگسار کرادو، تیسرے کو سو کوڑے مارو ، چوتھے کو پچاس کوڑے لگائواور پانچویں کو نصیحت کرو۔

خلیفہ نے جب امام کا مختلف فیصلہ سنا تو بہت تعجب ہوا اور امام سے اس کا سبب دریافت کیا ، تو امام ـ نے فرمایا:

پہلا شخص کافر ذمی ہے اور کافر ذمی کی جان اس وقت تک محترم ہے جب تک احکام ذمی پر عمل کرے، لیکن اگر احکام ذمی کی رعایت نہ کرے تو اس کی سزا قتل ہے اوردوسرے نے عورت شوہر دار سے زنا کیا ہے۔ اور اسلام میں اس کی سزا سنگسار کرنا ہے اور تیسرا شخص کنوارا ہے جس نے اپنے کو گناہوں سے آلودہ کیا ہے اس کی سزا سو تازیانہ ہے چوتھا شخص غلام ہے اور اس کی سزا آزاد شخص کی آدھی سزا کے برابر ہے اور پانچواں شخص پاگل ہے۔(۳)

اس وقت خلیفہ نے کہا:''لاعشتُ فی امةٍ لست فیها یا ابا الحسن!''

میں ایسے لوگوں کے درمیان نہ رہوں جن میں اے ابو الحسن آپ نہ ہوں۔

______________________

(۱) سورۂ لقمان، آیت ۱۴۔

(۲) مناقب شہر ابن آشوب ج۱ ص ۴۹۶، بحار ج۴۰ ص ۳۳۲۔

(۳) شیخ طوسی تہذیب ج۱۰ ص ۵۰احکام زنا حدیث ۱۸۸۔


۳۔ ایک غلام جس کے پیر میں زنجیر بندھی تھی کہیں جارہا تھا، دو آدمیوں کے درمیان ا س کے وزن کے متعلق اختلاف ہوگیا اور ان میں سے ہر ایک یہ کہہ رہا تھا کہ اگر اس کی بات صحیح نہ ہوگی تو اس کی زوجہ کو تین طلاق والی ہو جائیگی ۔ دونوں غلام کے مالک کے پاس آئے اور اس سے کہا کہ زنجیر کو کھول دے، تاکہ اس کو وزن کریں اس نے کہا: میں اس کے وزن سے آگاہ نہیں ہوں اور میں نے نذر بھی کی ہے کہ اس کی زنجیر کو نہیں کھولوں گا مگر یہ کہ اس کے وزن کا صدقہ دوں۔

اس مسئلہ کو خلیفہ کے پاس پیش کیا گیا، انہوں نے حکم دیا کہ اس وقت غلام کا مالک زنجیر کھولنے سے معذور ہے لہذا یہ دونوں اپنی اپنی بیویوں سے جدا ہوجائیں ، ان لوگوںنے خلیفہ سے گذارش کی کہ اس مسئلہ کو حضرت علی کے سامنے پیش کیا جائے، امام نے فرمایا: زنجیر کے وزن سے آگاہی بہت آسان ہے۔ اس وقت آپ نے حکم دیا کہ ایک بڑا طشت لایا جائے او رغلام سے کہا کہ اس کے بیچ میں کھڑا ہو جائے، پھر امام نے زنجیر کو نیچے کردیا اور اس میں ایک دھاگا باندھا اور طشت کو پانی سے بھر دیا۔ پھر زنجیر کو اس تاگے کے ذریعے اوپر کھینچنا شروع کیا یہاں تک کہ پوری زنجیر پانی سے باہر آگئی اس وقت حکم دیا کہ زنجیر کو دھاگے کے ذریعہ اوپر کھینچیں تاکہ وہ پانی سے اوپر آجائے۔ پھر فرمایا کہ طشت کو ٹوٹے پھوٹے لوہوں سے بھر دو تاکہ پانی اپنی اصلی جگہ تک آجائے اور آخر میں فرمایا کہ ان ٹوٹے ہوئے لوہوں کو کھینچیں کیونکہ اس کا وزن وہی زنجیر کا وزن ہے اور اس طریقے سے تینوں افراد کی مشکل حل ہوگئی۔(۱)

۴۔ ایک عورت جنگل میں پیاسی تھی اور تشنگی نے اس پر سخت غلبہ کیا مجبوراً اس نے ایک چرواہے سے پانی مانگا اس نے اس شرط پر پانی دینے کا وعدہ کیا کہ عورت خود کو اس کے حوالے کرے، خلیفۂ دوم نے اس عورت کے حکم کے متعلق امام سے مشورہ کیا حضرت نے فرمایا: کہ عورت اس کو انجام دینے میں مجبور تھی اور مضطر و مجبور پر کوئی حکم نہیں ہے۔(۲)

یہ واقعہ اور اسی طرح کے دوسرے واقعات ، جن میں سے بعض کو بیان کیا ہے یہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ امام اسلام کے مکمل قوانین سے باخبر تھے جو قرآن و حدیث میں بیان ہوئے ہیں اور خلیفہ ان چیزوں سے بے خبر تھے۔

______________________

(۱) شیخ صدوق، من لایحضرہ الفقیہ ج۳ ص ۹۔

(۲) سنن بیہقی ج۸ ص ۲۳۶، ذخائر العقبیٰ ص ۸۱، الغدیر ج۶ص ۱۲۰۔


۵۔ ایک پاگل عورت نے عفت کے خلاف عمل کیا، خلیفہ نے اسے مجرم قراردیا لیکن امام نے اسے پیغمبر اسلام کی ایک حدیث یاد دلاتے ہوئے عورت کو آزاد کردیا اور حدیث یہ ہے تین لوگوں سے حکم اٹھالیا گیا ہے جس میں سے ایک دیوانہ ہے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے۔(۱)

۶۔ایک حاملہ عورت نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا۔ خلیفہ نے حکم دیا کہ اس کواسی حالت میں سنگسار کرد یں امام نے حد جاری کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ تم اس کی جان لینے کا حق رکھتے ہو نہ کہ اس بچے کی جو کہ اس کے پیٹ میں ہے۔(۲)

۷۔ کبھی کبھی امام مشکلوں کو حل کرنے کے لئے نفسیاتی اصولوں سے استفادہ کرتے تھے، ایک دن ایک عورت نے اپنے بیٹے سے بیزاری ظاہر کی اوراس کی ماں ہونے سے انکار کردیا اور اس کا دعویٰ تھا کہ وہ ابھی کنواری ہے جب کہ اس نوجوان کا اصرار تھا کہ یہ میری ماں ہے خلیفہ نے حکم دیا کہ اس کی طرف غلط نسبت دینے کی وجہ سے نوجوان کو تازیانہ مارا جائے۔ جب اس واقعہ کی خبر امام کو ملی تو امام نے اس عورت اور اس کے رشتہ داروں کو بلایا تاکہ اس عورت کی شادی ان میں سے جس سے بھی چاہیں کردیں اور ان لوگوںنے بھی حضرت علی کو اپنا وکیل بنادیا۔ امام نے اسی نوجوان کی طرف رخ کر کے کہا: میں نے اس عورت کا عقد تمہارے ساتھ پڑھا اور اس کی مہر ۴۸۰ درہم ہے پھر ایک تھیلی نکالی جس میں اتنا ہی درہم تھا اور عورت کے حوالے کیا اور اس جوان سے کہا: اس عورت کا ہاتھ پکڑو اور پھر میرے پاس نہ آنا، مگر یہ کہ شادی وغیرہ کے آثار تمہاری شکل و صورت سے ظاہر ہوں۔

عورت نے جب یہ کلام سنا تو چیخ اٹھی اور کہا:''الله ، الله هو النار، هو و الله ابنی!'' یعنی خدا کی پناہ، خدا کی پناہ، اس کا نتیجہ آگ ہے خدا کی قسم یہ میرا بیٹا ہے پھر اس نے انکار کرنے کی وجہ کو تفصیل سے بیان کیا۔(۳)

______________________

(۱) مستدرک حاکم ج۲ ص ۹۵، الغدیر ج۶ ص ۱۰۲۔

(۲) ذخائر العقبیٰ ص ۸۰، الغدیرج۶ ص ۱۱۰۔

(۳) کشف الغمہ ج۱ ص ۳۳، بحار الانوار ج۴۰ ص ۲۷۷۔


گیارہویں فصل

عثمان اور معاویہ کی علمی مشکلات کا حل کرنا

امام کا علمی اور فکری میدان میں مدد کرنا صرف ابوبکر وعمر کی خلافت تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ آپ سرپرست اوردین کے حامی و دلسوز کے عنوان سے اسلام اور مسلمانوں کی خلافت کے مختلف دور میں علمی اور سیاسی مشکلوں کو حل کرتے تھے۔ انہی میں سے تیسرے خلیفہ نے بھی امام کے بلند ترین افکار او ران کی عظیم و آگاہانہ رہنمائیوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔

یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ عثمان نے امام کی رہنمائیوں سے استفادہ کیا تھا بلکہ تعجب کا مقام یہ ہے کہ معاویہ نے بھی امام سے بغض و عداوت رکھنے کے باوجود اپنے علمی اور فکری مشکلوں کے حل کے لئے امام کی طرف دست سوال بڑھایاتھا اور کچھ لوگوں کو خفیہ طور پر امام کے پاس بھیجا تاکہ بعض مسئلوں کا جوا ب امام ـ سے دریافت کریں۔

مثلاً کبھی کبھی روم کا حاکم، معاویہ سے کچھ چیزوں کے بارے میں سوال کرتا تھا اور اس سے جواب طلب کرتا تھا ۔ معاویہ اپنی عزت و آبرو بچانے کے لئے (چونکہ اس نے اپنے کو مسلمانوں کا خلیفہ کہا تھا) کچھ لوگوں کو حضرت علی کے پاس بھیجتا تھا تاکہ وہ کسی بھی صورت سے ان سے ان سوالوں کے جوابات حاصل کر کے معاویہ کے پا س لے آئیں۔

خلیفۂ سوم اور معاویہ نے جو اپنی علمی مشکلات کے رفع کے لئے امام ـ کی طرف رجوع کیا ان کے چند نمونے ہم یہاں ذکر کر رہے ہیں۔

۱۔ اسلام میںعورتوں کے حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ اگر مرد اپنی بیوی کو طلاق دے اورعورت کا عدہ ختم ہونے سے پہلے ہی شوہر مر جائے تو عورت دوسرے وارثوں کی طرح شوہر کی میراث کی حقدار ہے کیونکہ جب تک عدہ ختم نہ ہو اس وقت تک شوہر و بیوی کا رشتہ برقرار ہے۔

عثمان کی خلافت کے زمانے میں ایک شخص کی دو بیویاں تھیں ایک بیوی انصار میں سے تھی اور دوسری بنی ہاشم میں سے ،کسی وجہ سے مرد نے اپنی بیوی کو جوانصار سے تھی طلاق دیدیا اور کچھ دنوں کے بعد اس کا انتقال ہوگیا انصار والی عورت خلیفہ کے پاس گئی اور کہا ابھی میرا عدہ ختم نہیں ہوا ہے


مجھے میری میراث چاہئیے عثمان فیصلہ کرنے سے معذور ہوگئے لہذا اس معاملے کو امام کے پاس بھیجا حضرت نے فرمایا کہ اگر انصار والی عورت یہ قسم کھا کر کہے کہ شوہر کے مرنے کے بعد تین مرتبہ حائض نہیں ہوئی ہے تو وہ اپنے شوہر سے میراث لے سکتی ہے۔

عثمان نے ہاشمی عورت سے کہا: یہ فیصلہ تمھارے پسر عم علی نے کیا ہے۔ اور میں نے اس سلسلے میں کوئی رائے نہیں دی ہے۔

اس نے جواب دیا: میں علی کے فیصلے پر راضی ہوں۔ وہ قسم کھائے اور میراث لے لے۔(۱)

محدثین اہلسنت نے اس واقعے کو دوسرے انداز سے لکھا ہے جن کی عبارتیں شیعہ فقہا کے فتووں سے متفق نہیں ہیں۔(۲)

۲۔ جس شخص نے فریضہ ٔ حج یا عمرہ کے لئے احرام باندھا ہے ا سکو یہ حق نہیں ہے کہ وہ خشکی میں رہنے والے جانور کا شکار کرے ،قرآن کریم کا اس سلسلے میں ارشاد ہے:( وَحُرِّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًاً ) (۳) جب تم احرام کی حالت میں ہو تو خشکی میں رہنے والے جانور کا شکار کرنا تم پر حرام ہے، لیکن اگر وہ شخص جو حالت احرام میں نہ ہو اور خشکی میں رہنے والے جانور کا شکار کرے تو کیا حالت احرام میں رہنے والا شخص اس کا گوشت کھا سکتا ہے؟ یہ وہی مسئلہ ہے جس میں خلیفۂ سوم نے امام کے نظریہ کی پیروی کی ہے، اس کے پہلے خلیفہ کی نظریہ تھی کہ حالت احرام میں رہنے والا غیر محرم کے شکار کئے ہوئے جانور کا گوشت کھا سکتا ہے اتفاق سے وہ خود بھی حالت احرام میں تھے کہ اور کچھ لوگوں اسی طرح کے گوشت سے کھانا تیار کر کے ان کو دعوت دی تھی اور یہ اس میں جانا چاہتے تھے ،جب امام نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا تب ان کا نظریہ بدلا۔

ان سے حضرت علی علیہ السلام نے پیغمبر اسلام(ص) کا ایک واقعہ بیان کیا جس سے وہ مطمئن ہوگئے، واقعہ یہ تھاکہ پیغمبر اسلام (ص)جب حالت احرام میں تھے تو کچھ لوگ ان کے لئے بھی

_______________________

(۱) مستدرک الوسائل ج۳ ص ۱۶۶۔

(۲) کنز العمال ج۳ ص ۱۷۸، ذخائر العقبیٰ ص ۸۰۔

(۳) سورۂ مائدہ آیت ۹۶۔


اسی طرح کی غذا لے کر آئے، حضرت نے فرمایا: میں حالت احرام میں ہوں، یہ کھانا ایسے لوگوں کو دیدو جو حالت احرام میں نہ ہوں۔جس وقت امام نے اس واقعہ کو نقل کیا اس وقت بارہ آدمیوں نے تائید کرتے ہوئے اس کی گواہی دی ، پھر علی علیہ السلام نے فرمایا: رسول اسلام نے نہ صرف ہمیں اس طرح کے گوشت کھانے سے منع کیا ہے بلکہ پرندوں کے انڈے یا شکار ہوئے پرندوں کے گوشت سے بھی منع کیاہے۔(۱)

۳۔ اسلام کے مسلّم عقائد میں سے ہے کہ کافر پر مرنے کے بعد سخت عذاب ہوگا،عثمان کی خلافت کے زمانے میں ایک شخص نے اس اصل اسلامی عقیدہ پر اعتراض کرنے کے لئے ایک کافر کی کھوپڑی نکالی اسے خلیفہ کے پاس لے گیا اور کہا: اگر کافر مرنے کے بعد آگ میں جلے گا تو اس کھوپڑی کو بھی گرم ہونا چاہیئے جب کہ میں اس کے بدن پر ہاتھ مس کرتا ہوں پھر بھی مجھے کوئی حرارت محسوس نہیں ہوتی! خلیفہ اس کا جواب دینے سے عاجز ہوگئے اور امام کی طرف رجوع کیا، امام نے معترض کو جواب دیا اور فرمایا کہ ایک لوہا (جس سے آگ نکالتے ہیں ) اور ایک پتھر (جس سے آگ نکلتی ہے) لایا جائے اور پھر دونوں کو آپس میں ٹکرایا اس سے شعلہ نکلااس وقت آپ نے فرمایا: میں لوہے او رپتھر پر ہاتھ پھیر رہاہوں مگر حرارت کا احساس نہیں ہوتا جب کہ دونوں حرارت رکھتے ہیں اور خاص حالات کی وجہ سے اپنا کام کر تے، یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے کہ قبر میں کافر کا عذاب بھی ایسا ہو۔

خلیفہ امام کا جواب سن کر بہت خوش ہوے اور کہا :''لولا علی لهلک عثمان'' (۲)

وہ مواردجہاں معاویہ نے امام کی طرف رجوع کیا ہے۔

اسلامی تواریخ نے سات مقامات کا ذکر کیا ہے جہاں معاویہ نے حضرت علی علیہ السلام کے سامنے دست سوال پھیلایا ہے اور اپنی شرمندگی اورندامت کو علم امام ـ کے وسیلے سے دور کیاہے۔

اُذینہ کہتے ہیں: ایک شخص نے معاویہ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا، معاویہ نے کہا: اس

موضوع کے متعلق علی سے سوال کرو۔ سائل نے کہا: میں نہیں چاہتاکہ ان سے پوچھوں،میں چاہتا ہوں کہ تم سے سوال کروں۔

______________________

(۱) کنز العمال ج۳ ص ۵۳، مستدرک الوسائل ج۲ ص ۱۱۹۔

(۲) الغدیر ج۸ ص ۲۱۴ منقول از کتاب عاصمیزین الفتی فی شرح سورهٔ هل أتی


اس نے کہا کیوں تم ایسے شخص سے سوال نہیں کرنا چاہتے جس کے بارے میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کہا ہے: ''علی سے میری نسبت ایسی ہی ہے جیسی موسیٰ کی ہارون سے تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہے''، عمر نے اپنی مشکلوں کو امام کے سامنے پیش کرتے تھے۔(۱) جب امام کی شہادت کی خبر معاویہ تک پہونچی تو اس نے کہا: ''فقہ وعلم مرگیا'' معاویہ کے بھائی نے اس سے کہا: تمہاری یہ بات شام کے لوگ تمہاری زبان سے نہ سنیں۔(۲) ان مقامات کی فہرست جہاں پر معاویہ نے حضرت علی سے مدد طلب کی ہے۔(۳)

۱۔ ایسے شخص کے بارے میں حکم معلوم کرنا جو بہت دنوں سے قبروں کو کھود کر کفنوں کو چراتا تھا۔

۲۔ ایسے شخص کے بارے میں حکم معلوم کرنا جس نے کسی کو قتل کردیا اور اس کا دعویٰ تھاکہ میں نے اسے ایسی حالت میں قتل کیا ہے جب کہ وہ میری بیوی کے ساتھ زنا کررہا تھا۔

۳۔ دو آدمیوں کا ایک لباس کے سلسلے میں اختلاف ہوگیا اس میں سے ایک شخص نے دو گواہ پیش کیا کہ یہ مال اس کا ہے او ردوسرے کا دعویٰ تھا کہ اس نے کسی اجنبی سے یہ لباس خریدا ہے۔

۴۔ ایک شخص نے ایک لڑکی سے شادی کی لیکن لڑکی کے باپ نے اس لڑکی کے بجائے دوسری لڑکی کو اس کے حوالے کیا۔

۵۔ حاکم روم نے کچھ سوالات ، کہکشاں، قوس و قزح وغیرہ کے بارے میں معاویہ سے کیا تھا اوراس نے کسی اجنبی کو عراق بھیجا تاکہ ان تمام سوالوں کے جوابات علی سے دریافت کرے۔

۶۔ روم کے حاکم نے دوبارہ اسی طرح کے سوالات معاویہ سے پوچھے اور اپنا جزیہ (ٹیکس) اداکرنے کی یہ شرط رکھی کہ سوالوں کے صحیح جوابات دے۔

۷۔ تیسری مرتبہ پھرروم کی جانب سے کچھ سوالات معاویہ کی طرف پہونچے اور ان کے جوابات طلب کئے عمر و عاص نے کسی نہ کسی بہانے سے ان تمام سوالوں کے جوابات امام سے حاصل کرلئے۔

______________________

(۱) ذخائر العقبیٰ ص ۷۹۔-----(۲) الاستیعاب ج۲ ص ۴۲۶۔-----(۳) علی و الخلفاء ، ص ۳۲۴۔ ۳۱۶۔


بارہویں فصل

حضرت علی علیہ السلام کی سماجی خدمات

خلافت سے حضرت علی علیہ السلام کوکی محرومیت کا زمانہ ،مسلمانوںکے سارے امور سے کنارہ کشی کا زمانہ نہیں تھا،اس دور میں آپ نے بہت زیادہ علمی اور سماجی خدمات انجام دیںجن کی مثال تاریخ کے صفحات پر کسی اور کے لئے نہیں ملتی حضرت علی علیہ السلام ان سے نہیں تھے جو معاشرے کے مسائل اور ضروریات کو صرف ایک نظر اور وہ بھی خلافت کی نظر سے دیکھتے ،اور وہ سوچتے کہ جب خلافت چھن گئی توساری ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جائوں گا ،اس کے باوجود نہ کہ آپ کو سیاسی رہبری سے محروم کر دیا گیا تھابہت ساری ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے تھے اور اس وصیت کی تاسی کرتے ہوئے جس کوجناب یعقوب نے اپنے فرزندوں سے کی تھی(۱) مختلف طریقوں سے سماج کی خدمت کی۔خلفاء ثلاثہ کے زمانے میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی اہم ترین خدمتیں یہ تھیں:

۱۔علماء یہود و نصاری کےعلمی حملےکےمقابلے میں اسلام کے مقدس عقائد اوراصول کی حفاظت اور ان کے شبہات کے جوابات دینا۔

۲۔ خلافت کے مشکل مسائل کی راہنمائی اور صحیح ہدایت کرنا ، خصوصاً قضاوت کے مسائل کا حل کرنا۔

۳۔سماجی خدمات انجام دینا، ان میں کچھ بہت اہم ہیںجن کو ذیل میں ذکر کر رہے ہیں۔

۱۔ فقیروں او ریتیموں کی خبر گیری

اس بارے میں پر صرف اسی آیت کا ذکر کرنا کافی ہے( الَّذِینَ یُنفِقُونَ َمْوَالَهُمْ بِاللَّیْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلاَنِیَةً ً ) (۲) (جو لوگ رات کو، دن کو چھپا کے یا دکھا کے ]خدا کی راہ میں[ خرچ کرتے ہیں)تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے اگرچہ یہ آیت پیغمبر اسلام (ص)کے زمانے میں حضرت علی کی سماجی خدمات کو بیان کرتی ہے

______________________

(۱) قرآن کریم (سورۂ یوسف، آیت ۶۷) کے مطابق حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں سے وصیت کی کہ جب شہر مصر میں داخل ہوں تو ایک دروازے سے داخل نہ ہوں بلکہ مختلف دروازوں سے وارد ہوں۔----(۲) سورۂ بقرہ، آیت ۲۷۴۔


لیکن یہ اس خدمت کا سلسلہ پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد بھی جاری تھا۔ اور حضرت ہمیشہ یتیموں اور فقیروں کی خبر گیری کیا کرتے تھے اور آپ زندگی کے آخری لمحے تک فقیروں پر انفاق کرتے رہے۔ اس سلسلے کے بہت سے شواہدتاریخ کے دامن میں آج بھی موجود ہیں جن کی تفصیل یہاں پر ممکن نہیں ہے۔

۲۔ غلاموں کو آزاد کرنا

اسلام میں مستحب مئوکد ہے کہ غلاموں کو آزاد کیا جائے رسول اسلام (ص)سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:

''من اعتقَ عبداً مومناً اعتقَ اللّهُ العزیزُ الجبارِ بکل عضوٍ عضواً له من النار'' (۱)

اگر کوئی شخص ایک مومن غلام کو آزاد کرے تو خداوند عزیز و جبار اس غلام کے بدن کے ہر حصے کے مقابلے میں آزاد کرنے والے کے بدن کے حصے کو جہنم کی آگ سے آزاد کرے گا۔

حضرت علی علیہ السلام دوسرے تمام فضائل و خدمات کی طرح اس سلسلے میں بھی سب سے آگے تھے اور اپنی مزدوری کی اجرت سے (نہ کہ بیت المال سے) ہزاروں غلاموں کو خریدا اور آزاد کیا۔

امام جعفر صادق نے اس حقیقت کی گواہی دی ہے اور فرمایاہے:

''ان علیاً اعتق الفَ مملوک من کد یده'' (۲)

علی (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھوں سے جمع کی ہوئی رقم سے ہزار غلاموں کو آزاد کیاتھا۔

______________________

(۱) روضۂ کافی ج۲ ص ۱۸۱۔

(۲) فروغ کافی ج۵ ص ۷۴، بحار الانوار ج۴۱ ص ۴۳۔


۳۔ زراعت او ردرخت کاری

پیغمبر اسلام (ص)کے زمانے میں اور ان کے بعد حضرت علی علیہ السلام کا ایک مشغلہ کھیتی باڑی اورپیڑ پودھے لگانا تھا، حضرت نے اس ذریعے سے بہت ہ خدمتیں انجام دی تھیںاور لوگوں پر خرچ کیا تھا، اس کے علاوہ بہت سی جائدادیں جنہیں خود آباد کیا تھا وقف کیا تھا۔امام جعفر صادق اس بارے میں فرماتے ہیں کہ''کان امیر المومنین یضرب بالمرِّ و یستخرج الارضین'' (۱)

حضرت امیر المومنین بیلچہ چلاتے تھے اور زمین کے دل سے چھپی ہوئی نعمتوں کو نکالتے تھے۔

اسی طرح آپ ہی سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: خدا کی نظر میں زراعت سے زیادہ محبوب کوئی کام نہیں ہے۔

(۲) ایک شخص نے حضرت علی کے پاس ایک وسق(۳) خرمے کی گٹھلی دیکھی اس نے پوچھا یاعلی ان خرمے کی گٹھلیوں کوجمع کرنے کا کیا مقصد ہے؟

آپ نے فرمایا: یہ تمام کے تمام خدا کے حکم سے خرمے کے پیڑ میں تبدیل ہو جائیں گے۔راوی کہتا ہے کہ امام نے ان گٹھلیوں کو زمین میں دبا دیا کچھ دنوں کے بعد وہاں کھجور کا باغ تیار ہوگیا اورامام نے اسے وقف کردیا۔(۴)

۴۔ چھوٹی نہریں کھودنا

عرب جیسی تپتی اور سوکھی زمین میں نہریں بنانا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔

امام جعفرصادق فرماتے ہیں: پیغمبر اسلام (ص)نے انفال(۵) میں سے ایک زمین کو حضرت علی کے حوالے کیا اور امام نے وہاں نہر کھودی جس کا پانی اونٹ کی گردن کی طرح فوارہ کے ساتھ نکل رہا تھا۔

______________________

(۱) فروغ کافی، ج۵، ص ۷۴، بحار الانوار، ج۴۱، ص ۴۳۔----(۲) بحار الانوار ج۳۲ ص ۲۰۔

(۳) ایک وسق ساٹھ صاع کے برابر اور ہر صاع ایک من ہے۔ (ایرانی من تین کلو کاہوتاہے ۔رضوی)

(۴) مناقب ابن شہر آشوب ج۱ ص ۳۲۳، بحار الانوار ج۶۱ ص ۳۳۔

(۵) وہ زمینیں جو بغیر جنگ و جدال کے مسلمانوں نے حاصل کی ہوں جس میں کچھ انفال نبوت سے مخصوص ہے اور رسول اسلام(ص) نے اسے اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں خرچ کرتے تھے۔


فرمایا: یہ نہر خانۂ کعبہ کے زائرین اورجو لوگ یہاں سے گزریں گے ان کے لئے وقف ہے ،کسی کو حق نہیں ہے کہ اس کا پانی بیچے اور میرے بچے اسے میراث میں نہیں لیں گے۔(۱)

آج بھی مدینہ سے مکہ جاتے وقت راستے میں ایک علاقہ ہے جسے ''بئر علی'' کہتے ہیں امام نے وہاں پر کنواں کھودا تھا ۔

امام جعفر صادق کے بعض ارشادات سے استفادہ ہوتا ہے کہ امیر المومنین نے مکہ اور کوفہ کے راستوں میں بہت سے کنویں کھودے تھے۔(۲)

۵۔ مسجدوں کی تعمیر کرنا

مسجدوں کی تعمیر اور تاسیس کرنا خدا اور آخرت پر ایمان رکھنے کی علامت ہے ،اور امام نے بہت سی مسجدیں بنائی تھیںجن جس میں سے کچھ مسجدوں کا نام تاریخ نے درج کیا ہے اور وہ یہ ہیں:

مدینہ میں مسجد الفتح ، قبر جناب حمزہ کے پاس، کوفہ، میقات ،بصر ہ میں مسجدیں۔(۳)

۶۔ مکان و جائداد کا وقف کرنا

حدیث و تاریخ کی متعدد کتابوں میں حضرت علی علیہ السلام کے موقوفات کے نام تحریر ہیں ،ان موقوفات کی اہمیت کے لئے یہی کافی ہے کہ معتبرمئورخین کے نقل کرنے کے مطابق ان کی سالانہ آمدنی ۴۰ ہزار دینار تھی جو تمام محتاجوں اور فقیروں پر خرچ ہوتی تھی ۔ تعجب خیز بات یہ ہے کہ اتنی زیادہ آمدنی کے باوجود حضرت امیر اپنے اخراجات کے لئے تلوار بیچنے پر مجبور ہو گئے تھے۔(۴)

جی ہاں، کیوں علی علیہ السلام نے ان موقوفات میں سے کچھ اپنے لئے باقی نہ رکھا؟ کیا پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے نہیں فرمایا ہے ''جو شخص بھی اس دنیا سے اٹھ جائے تو مرنے کے بعد اسے کوئی چیز فائدہ نہیں پہونچاتی مگر یہ کہ اس نے تین چیزیں چھوڑی ہوں، نیک اور صالح اولاد جواس کے لئے استغفار کرے، سنت حسنہ جو

________________

(۱) فروغ کافی، ج۷، ص ۵۴۳، وسائل الشیعہ، ج۱۳، ص ۳۰۳۔

(۲،۳) مناقب ، ج۱، ص ۳۲۳، بحار الانوار، ج۴۱، ص ۳۲۔

(۴) کشف المحجہ ، ص ۱۲۴، بحار الانوار، ج۴۱، ص ۴۳۔


لوگوں کے درمیان رائج ہو، نیک کام جس کا اثر اس کے مرنے کے بعد بھی باقی رہے۔(۱) حضرت علی علیہ السلام کے وقف نامے اسلام میں احکام وقت کے لئے ایک منبع و مدرک ہونے کے علاوہ ، آپ کی سماجی خدمات پر ٹھوس ثبوت ہیں۔ان وقف ناموںسے آگاہی پیدا کرنے کیلئے وسائل الشیعہ، ج۱۳کتاب الوقوف و الصدقات کی طرف رجو ع کیجیئے۔

_____________________

(۱) وسائل الشیعہ ج۱۳ ص ۲۹۲۔


پانچواں حصہ

حضرت علی ـکی خلافت کے زمانے کے واقعات

پہلی فصل

حضرت علی ـکی خلافت کی طرف مسلمانوں کے رجحان کی علت

امام علی علیہ السلام کی زندگی کے چار اہم حصوں کے واقعات کو ہم بیان کرچکے ہیں اس وقت امام علی علیہ السلام کی زندگی کے پانچویں حصے کا ذکر کر رہے ہیں، زندگی کا وہ حصہ جس میں آپ منصب خلافت و رہبری پر فائز ہوئے. اور اس دور ان آپ بہت سے رونما ہونے والے واقعات اور نشیب و فراز سے دوچار ہوئے. ان تمام واقعات کی تشریح و توضیح ہم سے ممکن نہیں ہے، اس لئے ہم مجبور ہیں کہ گذشتہ بحثوں کی طرح ان واقعات بہت زیادہ اہم ہیں صرف انہیں بیان کریں۔

اس فصل میں سب سے پہلی بحث، مہاجرین وانصار کی ہے کہ انھوں نے کس وجہ سے امام کو اپنا رہبر اور خلیفہ مانا، وہ رغبت جو خلفاء ثلاثہ کے سلسلے میں بے مثال تھی اور بعد میں بھی اس جیسی دیکھنے کو نہ ملی ،پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد امام کے دوست بہت اقلیت میں تھے اور مہا جرین و انصار میں سے مومن و صالح افراد کے علاوہ کوئی بھی آپ کی خلافت کا خواہاں نہیں تھا لیکن خلافت اسلامی کے ۲۵سال گذرجانے کے بعد تاریخ نے ایسی کروٹ بدلی کہ تمام لوگوں کی نظریںعلی کے علاوہ کسی پرنہ تھیں ۔ عثمان کے قتل کے بعد تمام مسلمان شور وولولہ اور تیز آواز کے ساتھ امام ـ کے دروازے پر جمع ہو گئے اور بیعت کے لئے بہت زیادہ اصرارکرنے لگے۔

اس رجحان کی وجہ کو خلیفہ سوم کی خلافت کے زمانے کے تلخ واقعات میں معلوم کیا جاسکتا ہے ایسے واقعات جو خود ان کے قتل کا سبب بنا اور مصری اور عراقی انقلابیوں کو اس بات پرمجبور کیا کہ جب تک اسلامی خلیفہ کا کام تمام نہ ہو جائے اپنے وطن واپس نہیں جا ئیں ۔


عثمان کے خلاف قیام کرنے کی علت

عثمان کے خلاف اقدام کرنے کی اصلی وجہ ،عثمان کا اموی خاندان سے خاص لگائو اور الفت تھی ۔ وہ خود اسی خاندان کی ایک فرد تھے ،وہ اس نجس و ناپاک خاندان کی عزت واکرام کے علاوہ کتاب وسنت کی بے حرمتی کرنے میں اپنے پہلے کے دو خلیفوں سے بھی آگے تھے ۔

ان کے اس مزاج اور خاندان امیہ سے لگائو سے ہر ایک واقف تھا،جس وقت خلیفئہ دوم نے شوریٰ کے عہد ہ داروں کا انتخاب کیا عثمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا.

میں دیکھ رہا ہوں کہ قریش نے تمہیں اپنا رہبر چن لیا ہے اور تم نے بنی امیہ ۔اور بنی ابی معط ۔ کو لوگوں پر مسلط کر دیا ہے اور بیت المال کو انہی لوگوں سے مخصوص کردیا ہے اس وقت عرب کے خطرناک گروہ تم پر حملہ کریں گے


اور تمہیں گھر کے اندر قتل کردیں گے۔(۱)

بنی امیہ جو عثمان کے مزاج سے واقف تھے انہوں نے شوریٰ کی طرف سے منتخب ہونے کے بعد ان کو اپنے حصار میں لے لیا اور زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ اسلامی منصب اور مقام ان کے درمیان تقسیم ہوگیا اور ان لوگوںکی جرأت اس حدتک بڑھ گئی کہ ابو سفیان قبرستان احد گیااور پیغمبر اسلام کے چچا جناب حمزہ کی قبر پر جو ابو سفیان سے جنگ کرتے وقت شہید ہوئے تھے ،ٹھوکرمار کر کہا'' ابو یعلی ،اٹھو اور دیکھو کہ جس چیز کے لئے تم نے ہم سے جنگ کی تھی اب وہ ہمارے ہاتھوں میں ہے''۔

خلیفہ سوم کی خلافت کے ابتدائی دنوں میں بنی امیہ کے افرادایک جگہ پر جمع ہوئے ابو سفیان ان کی طرف متوجہ ہوا اور کہا:

اس وقت جب کہ خلافت قبیلہ تیم اور عدی ۔کے بعد تمہارے ہاتھوں تک پہونچی ہے ہوشیار رہو کہ خلافت تمہارے خاندان سے باہر نہ جائے ،اور اسے ایک کے بعددوسرے تک پہونچاتے رہو کیونکہ خلافت کا مقصد حکومت اور رہبری کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور جنت و جہنم کا وجود نہیں ہے۔(۲)

ابوسفیان کی اس بات نے خلیفہ کی شخصیت کو سخت مجروح کیا، جو لوگ وہاں پر حاضر تھے انہوں نے

اس کو چھپانے کی پوری کوشش کی لیکن آخر کار حقیقت نے اپنا کام کر دیکھایا۔مسلمانوں کے خلیفہ کے لئے سزاوار یہ تھاکہ وہ ابو سفیان کی خبر لیتے اور مرتد کی حد اس پر جاری کرتے .لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ انہوں نے نہ یہ کہ ایسا نہیں کیا بلکہ اکثر ابو سفیان پر لطف ِ کرم کی بارش کی اور بہت زیادہ مال غنیمت بطور تحفہ بھیجا رہا۔

______________________

(۱)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۱۸۷۱

(۲)الاستیعاب ج۲ص۶۹۰


بغاوت کی علت

خلیفہ دوم نے جس شوریٰ کا انتخاب کیا تھا اس شوری کے ذریعے ۳ محرم ۲۴ھ کو عثمان منصب خلافت کے لئے منتخب ہوگئے اور ۱۲سال حکومت کرنے کے بعد ۱۸ذی الحجہ ۳۵ھ کو مصر اور عراق کے انقلابیوں اورمہاجروانصار کے بعض گروہ کے ہاتھوں قتل ہوے ،اسلام کے معتبر مورخین نے عثمان کے قتل ہونے اور مسلمانوں کے بغاوت کی علت کو اپنی اپنی کتابوں میں تحریر کیا ہے، اگر چہ بعض مئورخین نے، مقام خلافت کے احترام میں ان واقعات کے رونما ہونے کی علت کی وضاحت کرنے سے پرہیز کیاہے، درج ذیل وجہوں کو بغاوت کی بنیاد اور مسلمانوں کے بعض خطرناک گروہوں کے حملہ کرنے کی علت کہا جا سکتا ہے ۔

۱۔حدود الہی کا جاری نہ ہونا

۲۔بنی امیہ کے درمیان بیت ا لمال کا تقسیم ہونا۔

۳۔اموی حکومت کی تشکیل اور اسلامی منصبوں پرغیر شائستہ افراد کا تقرر۔

۴۔پیغمبر اسلام کے بعض صحابہ کو مصیبت و تکلیف دینا جو خلیفہ اور ان کے دوستوں پر تنقید کرتے تھے۔

۵۔پیغمبر کے بعض صحابیوں کوشہربدر کرنا جو خلیفہ کی نظر میں ان کے لئے مضرتھے ۔

پہلی وجہ ۔حدود الہی کا جاری نہ ہونا

۱۔خلیفہ نے اپنے مادری بھائی ولید بن عتبہ کو کوفہ کا گورنر معین کیا وہ ایسا شخص تھا جس کے بارے میں قرآن مجید نے دو جگہوں پر اس کے فسق وفجور اور اسلامی احکام سے سرکشی وبغاوت کا تذکرہ کیاہے۔(۱)

______________________

(۱)شرح ابن ابی الحدید ج۲قدیم ایڈیشن ص۱۰۳،


آیت :( َاَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا ِنْ جَائَکُمْ فَاسِق بِنَبٍَ فَتَبَیَّنُوا ) ( حجرات۶)وآیت( َفَمَنْ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنْ کَانَ فَاسِقًا لاَیَسْتَوُونَ ) (سجدہ۱۸)تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ دونوں آیتیں اسی کے بارے میںنازل ہوئی ہیں.اور دوسری آیت نازل ہونے کے بعد حسان بن ثابت نے یہ اشعار کہا۔

انزل الله فی الکتاب العزیر

فی علی وفی الولید قرآنا

فتبینواالولید اذذاک فاسقاً

وعلی مبوء صدق ایمانا

فا سق کی نگاہ میں جو چیز قابل اہمیت نہیں ہے وہ حدود الہی اور اعلی مقام و منصب کی رعایت نہ کر نا ہے اس زمانے کے حاکم سیاسی امور کی دیکھ بھال کے علاوہ جمعہ وجماعت کی نمازبھی پڑھاتے تھے، یہ نالائق حاکم (ولید) نے نشے کی حالت میںنماز صبح کو چاررکعت پڑھا دیا ،اور محراب تک کو نجس کر دیا وہ نشے میں اتنا مد ہوش تھا کہ لوگوں نے اس کے ہاتھ سے انگو ٹھی اتار لی اور اسے احساس تک نہ ہوا۔

کوفہ کے لوگ شکایت کرنے کے لئے مدینہ روانہ ہوئے اور اس واقعہ کی تفصیل خلیفہ کے سامنے پیش کی لیکن افسوس کہ خلیفہ نے نہ یہ کہ صرف ان کی شکایت نہ سنی بلکہ ان لوگوں کو دھمکی بھی دی اور کہا : کیاتم نے دیکھا ہے کہ میرے بھائی نے شراب پیا ہے ؟ ان لوگوںنے جواب دیا .ہم نے اس کو شراب پیتے ہوئے تو نہیں دیکھا لیکن اسے مستی کے عالم میں دیکھاہے اور اس کے ہاتھوں سے انگوٹھی اتار لی مگر وہ متوجہ نہیں ہوااس واقعہ کے گواہ کچھ مومن وغیور افراد بھی تھے ان لوگوں نے حضرت علی اور عائشہ کو اس واقعہ سے آگاہ کیا ۔ عائشہ جو عثمان سے سخت ناراض تھیں ، انہوں نے کہا عثمان نے خدا کے احکام کو ترک کر دیا ہے اور گواہوں کو دھمکی دی ہے ۔

امیر المومنین نے عثمان سے ملاقات کی اور خلیفہ دوم کی وہ بات جوانہوں نے شوری کے دن ان کے بارے میں کہی تھی انہیں یاد دلایا اور کہا ،بنی امیہ کے بیٹوں کو لوگوں پر مسلط نہ کرو اور تمہارے لئے ضروری ہے کہ ولید کوگورنری کے منصب سے معزول کردو اور اس پر حد الہی جاری کرو،


طلحہ اور زبیرہ نے بھی ولید کے منتخب ہونے پر اعتراض کیا اور خلیفہ سے کہا کہ اس کو تازیانہ لگایا جائے خلیفہ نے تمام لوگوں کی باتوں سے مجبور ہو کر سعیدبن العاص کو جو بنی امیہ کے شجرئہ خبیثہ سے تھا کوفہ کی گورنری کے لئے منتخب کیا ،جب وہ کوفہ میں داخل ہوا تواس نے محراب ومنبر اور دارالامامہ کو پاک کرایا اور ولید کو مدینہ بھیج دیا ۔صرف ولید کو معزول کرنے سے ہی لوگ راضی نہ ہوئے بلکہ لوگوںکایہ کہنا تھا کہ خلیفہ کو چاہئیے کہ جو سزا اسلام نے شراب پینے والے کے لئے معین کی ہے اپنے بھائی پروہ جاری کریں ،عثمان چونکہ اپنے بھائی کو بہت چاہتے تھے لہٰذا اسنہوںنے اُسے قیمتی لباس پہنایا اور اسے ایک کمرے میں بیٹھا دیا تا کہ مسلمانوں میں کوئی ایک شخص اس پر حد الہی جاری کرے ،جو لوگ مائل تھے کہ اس پر حد جاری کریں ولید نے انھیں دھمکی دی تھی بالآخر امام علی نے تازیانہ اپنے ہاتھ میں لیا اور بغیر تاخیر کے اس پر حد جاری کی اور اس کی دھمکی اور ناراضگی کی کوئی پروا ہ نہ کی۔(۱)

۲۔ انسان کی اجتماعی زندگی کا ایک رکن عادلانہ قانون کی حکومت ہے تا کہ معاشرے کے تمام لوگوں کی جان ومال وعزت و آبرو کی حفاظت ہو سکے،اور اس سے بھی زیا دہ اہم قانون کا جاری کرنا ہے اور قانون گزار ، قانون کو جاری کرتے وقت دوست ودشمن اور اپنے اورپرائے کو نہ دیکھے اس صورت میں قانون عملی جامہ پہنے گا اور پورے طور پر عدالت سامنے آئے گی۔

الہی نمائندوں نے خدا کے قوانین کو بغیر کسی ڈرا ورخوف کے جاری کیا اور کبھی بھی انسانی الفت ومحبت ، رشتہ داری ، مادی منفعت سے متأ ثر نہیں ہوئے ،پیغمبر اسلام نے خود اسلامی قانون کوسب سے پہلے جاری کیا،اور اس آیت کے واضح وروشن مصداق تھے( وَلَا یَخَافُوْنَ لَومَةلَائِمٍ ) (۲) فاطمہ مخزومی جس نے چوری کی تھی اسکے بارے میں آپ کا ایک چھوٹا جملہآپ کی اجتماع عدالت پر واضع و روشن دلیل ہے۔فاطمہ مخزومی ایک مشہور ومعروف عورت تھی جس کی چوری پیغمبر کے سامنے ثابت ہو گئی تھی اور یہ طے پایا کہ عدالت کا حکم اس پر جاری ہو ،ایک گروہ نے اس پر قانون نہ جاری کرنے کی کوشش کی اور اسامہ بن زید کو پیغمبر کے پاس بھیجا تا کہ اس مشہور ومعروف عورت کا ہاتھ کا ٹنے سے پیغمبر کو منع کرے ، رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس بات سے بہت سخت ناراض ہوئے اور فرمایا۔

_____________________

(۱)۱۔مسنداحمدج۱ص۱۴۲،سنن بیہقی ج۸ص۳۱۸،اسدالغابہ ج۵ص۹۱،کامل ابن اثیرج۴۲۳۔ الغدیر ج۸ ص۱۷۲ منقول الانساب بلاذری ج۵ص۳۳ سے ماخوذ.

(۲)سورئہ مائدہ،۵۴


خدا کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہ بھی ایسا کرے تو میں حکم خدا کو جاری کروں گا اور حکم خدا کے مقا بلے میں فاطمہ مخدومی اور فاطمہ محمدی دونوں برابر ہیں۔(۱)

پچھلی امتوں کی سب سے بڑی بدبختی یہ تھی کہ جب بھی ان کے درمیان کوئی بڑا شخص چوری کرتا تھا تو اسے معاف کردیتے تھے اور اس کی چوریوں کو نظر انداز کردیتے تھے ،لیکن اگر کوئی عام آدمی چوری کرتا تھا توفوراً اس پرحکم الہی جاری کرتے تھے ۔

پیغمبراسلام(ص) نے امت اسلامی کی اس طرح سے تربیت کی ،لیکن آپ کے انتقال کے بعد دھیرے دھیرے اسلامی معاشرے میں قوانین کے جاری کرنے میں رخنہ پڑ گیا ،خصوصاًخلیفہ دوم کے زمانے میں عرب اور غیر عرب، حسب ونسب، ایک گروہ کا دوسرے گروہ کے مقابلے میں وجود میں آیا لیکن اس حد تک نہیں تھا کہ انقلاب اور شورش برپا ہو ، عثمان کی خلافت کے زمانے میں اسلامی قانون کے اجراء میں تبعیض شباب پر تھی ،اور یہی چیز لوگوں کی نارا ضگی کا سبب بنی اور لوگ خلیفہ اور ان کے اطرافیوں سے متنفر ہو گئے ۔

مثلاً. خلیفہ دوم ایک ایرانی بنام ابو لولو جو مغیرہ بن شعبہ کا غلام تھا کے ہاتھوں مارے گئے تھے قتل کرنے کی علت کیا تھی یہاںپر بیان کرنا مقصود نہیں ہے، ہم نے اس کا تذکرہ '' علی اور شوریٰ ''میں عمر کے قتل ہونے کی علت میںبیان کیا ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ خلیفہ کے قتل کا مسلئہ اسلامی عدالت سے حل کرنا چاہیئے تھا اور اس کے قاتل اور محرک افراد (اگر محرک تھے) کو اسلامی قاعدہ اور قانون کے مطابق سزا دینی چاہیئے تھی لیکن یہ بات صحیح نہیں تھی کہ خلیفہ کے بیٹے یا اس کے رشتہ دار اس کے قاتل کو سزادیں یا اسے قتل کریں چہ جائیکہ کہ قا تل کے رشتہ دار وں اور دوستوں تک کو سزا دیں یا قتل کریں ، بغیر اس کے کہ خلیفہ کے قتل میں شامل ہونا ثابت ہواور بغیر سزا کے انھیں قتل کردیں ،

لیکن افسوس کہ خلیفہ کے قتل کے بعد یا ان کے حالت احتضار ہی میں خلیفہ کے بیٹے عبیداللہ نے دو بے گناہوں (ہرمزان اور ابولولو کی بیٹی جفینہ)کو اس الزام میں کہ اس کے باپ کے قتل کرنے میں شامل تھے قتل کر ڈالا اور اگر صحابیوں سے ایک صحابی نے اس کے ہاتھ سے تلوار نہ لی ہوتی اور اسے نہ روکا

______________________

(۱)۔الاستیعاب ج۴ ۳۷۴


ہوتا تو مدینہ میں جتنے بھی قیدی تھے انھیں قتل کر ڈالتا۔عبید اللہ کے اس جرم نے مدینہ میں تلا طم برپا کردیا ،اور مہاجرین وانصارنے عثمان سے بے حداصرار کیا کہ اسے سزا دیں .اور ابولٔولوکی بیٹی اور بہو کو انکے خون کا بدلہ اس سے لیں۔(۱)

خودحضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے اصرار کیا کہ عبیدا للہ کو سزادو ، اور خلیفہ سے کہا :بے گناہوں کو قتل کرنے کا انتقام عبیداللہ سے لو ،کہ وہ کتنے بڑے گناہ کا مرتکب ہوا ہے اور بے گناہ مسلمانوں کو قتل کیا ہے ،لیکن جب عثمان کی طرف سے مایوس ہو گئے اس وقت آپ نے عبیداللہ کو مخاطب کرکے کہا :اگر کسی دن تو میرے ہاتھو ں میں آگیا تومیں تجھے ہرمزان کے بدلے میں قتل کردوںگا۔(۲)

عبید اللہ کو سزادلانے اور عثمان کی بے توجہی کی وجہ سے اعتراض روز بروز بڑھتا رہا اوراب بھی ابولولو کی بیٹی اور ہرمزان کے ناحق خون بہالوگوں کے درمیان جوش وخروش تھا ،خلیفہ نے جب خطرہ محسوس کیا تو عبیداللہ کو حکم دیا کہ مدینہ سے کوفہ کی طرف چلا جائے اور بہت وسیع زمین اس کے حوالے کر دی اور اس جگہ کا ،کویفة ابن عمر(عمر کے بیٹے کا چھوٹا کوفہ)نام رکھا۔

______________________

(۱)طبقات ابن سعد ج۵ص۱۷(طبع بیروت)۔

(۲)انساب بلاذ ر:ی ج ۵ ص ۲۴۔


بے جاعذر

مسلمان تاریخ لکھنے والوں نے خلیفہ سوم اور ان کے ہم فکروں کے دفاع میں معذوری کوپیش کیا ہے جو بچگانہ معذوری کے مانند ہے ہم یہا ں پر ان میں سے چند کی طرف اشارہ کررہے ہیں ۔

۱۔جب عثمان نے عبیداللہ کے بارے میں عمروعاص سے مشورہ کیا تو عمر و عاص نے کہا کہ ، ہرمزان کاقتل اس وقت ہوا جب مسلمانوں کا حاکم کوئی اور شخص تھا اور مسلمانوں کی ذمہ داری تمہارے ہا تھوں میں نہ تھی اور اس طرح تم پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوگی ،اس عذرکا جواب واضح ہے:

الف:۔مسلمانوں کے ہر حاکم وسرپرست پر لازم ہے کہ مظلوم کا حق ظالم سے دلوائے ،چاہے وہ ظالم اس کی حکومت کے زمانے میں ظلم کرے یا دوسرے شخص کی حکومت کے زمانے میں ظلم کرے ،کیونکہ حق ثابت اور پائیدار ہوتا ہے اورزمانہ کاگزرنا اور حاکم کا بدلنا ہر گز فریضہ کو نہیں بدلنا۔

ب:۔وہ حاکم کہ جن کے زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا خود انہوں نے اس واقعہ کی تفتیش کا حکم دیا تھا،جب خلیفہ کو اس واقعہ کی خبر دی گئی کہ آپ کے بیٹے عبیداللہ نے ہرمزان کو قتل کر ڈالاہے تو انہوں نے اس قتل کی وجہ پوچھی ،لوگوں نے کہا یہ بات مشہور ہے کہ ہرمزان نے ابو لولو کو حکم دیا تھا کہ تمہیں قتل کردے خلیفہ نے کہا :

میرے بیٹے سے پوچھو ،اگر اس کے پاس کوئی گواہ ہے تو میرا خون ہرمزان کے خون کے برابر ہے لیکن اگر اس کے بر عکس ہے


تو اس کو قتل کردیا جائے۔(۱)

کیا بعد میں آنے والے خلیفہ پر واجب نہیں تھا کہ اپنے پہلے کے خلیفہ کے حکم کو جاری کرے؟کیونکہ عمرکے بیٹے کے پاس نہ کوئی گواہ تھا کہ ہرمزان اس کے باپ کے قتل میں شریک، اور نہ ہی ہرمزان نے ابو لولو کو قتل کرنے کاحکم دیا تھا ۔

۲۔یہ بات صحیح ہے کہ ہرمزان اور ابولولوکی چھوٹی بیٹی کا خون ناحق بہایا گیا لیکن اگر مقتول کا کوئی وارث نہ ہو تو اس کے خون کا ولی مسلمانوں کاخلیفہ اور امام ہے، اسی وجہ سے عثمان نے اس مقام ومنصب سے خوب استفادہ کیا اور قاتل کو آزاد چھوڑ دیا اور اس کے گناہوں کو معاف کردیا۔(۲)

اس عذر کی بھی پچھلے عذر کی طرح کوئی اہمیت نہیں ہے ، اس لئے کہ ہرمزان ،قارچ(ککر متاّ) کی طرح نہ تھا جو زمین سے اگاتھااور اس کا کوئی وارث ورشتہ دار نہ تھا۔مورخین نے لکھا ہے کہ وہ ایک زمانے تک شوشتر کا حاکم تھا۔(۳)

اور ایسی شخصیت بغیر وارث کے نہیں ہوسکتی اس بنا پر خلیفہ کا فریضہ یہ تھا کہ اس کے وارث کو تلاش کرتے اور تمام کاموں کی ذرمہ داریاں اس کے سپرد کرتے۔

اس کے علاوہ اگر ہم فرض کر لیں کہ اس کا کو ئی وارث نہیں تھا تو ایسی صورت میں اس کا تمام حق، مال مسلمانوں کا حق تھا اور جب تمام مسلمان اس کے قتل بخش دیتے اس وقت خلیفہ اس کے قصاص کو نظر انداز کردیتے ،لیکن افسوس کہ واقعہ اس کے بر خلاف تھا اورمولف طبقات کے نقل کرنے کے مطابق چند افراد کے علاوہ تمام مسلمان عبیداللہ سے قصاص کا مطالبہ کررہے تھے ۔(۴)

______________________

(۱)۔سنن بیہقی (چاپ آفیست )ج۸ص۶۱۔

(۲)۔سنن بیہقی (چاپ آفست)ج۸ص۶۱۔

(۳) قاموس الرجال ج۹ص۳۰۵۔

(۴)طبقات ابن سعد ج۵ص۱۷۔


امیر المومنین نے بہت سختی سے عثمان سے کہا ،اقد الفاسق فانّه' أتیٰ عظیماًًقتل مسلما ًبل اذنب ۔(۱)

اور جس وقت خلیفہ نے عبیداللہ کو آزادکرنا چاہاتوامام علی نے فوراً اعتراض کیا اور کہا :خلیفہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ جو مسلمان کا حق ہے اسے نظرانداز کردے۔(۲) اس کے علاوہ ، اہل سنت کی فقہ کے مطابق ، امام اور اسی طرح دوسرے اولیاء (مثل باپ اورماں) کویہ حق حاصل ہے کہ قاتل کو قتل کریں یا اس سے دیت لیں ،لیکن ہرگز اسے معاف کرنے کا حق نہیں رکھتے۔(۳)

۳۔ اگر عبیداللہ قتل ہو جاتا تو مسلمانوں کے دشمن خوشحال ہو تے کہ کل ان کاخلیفہ ماراگیا اور آج اس کے بیٹے کو مارڈالاگیا۔(۴)

یہ عذر بھی قرآن و سنت کی نظر میں بے وقعت ہے کیونکہ ایسے اثرورسوخ رکھنے والے شخص کا قصاص مسلمانوں کے افتخار کا باعث تھا اور عملی طور پر یہ ثابت کردیتا کہ ان کاملک ،قانون وعدالت کا ملک ہے، اور خلاف ورزی کرنے والے چاہے جس مقام ومنصب پر ہوں قانون کے حوالے کر دیئے جاتے ہیں اور ان کامقام و منصب عدالت جاری کر تے وقت مانع نہیں ہوتا۔

دشمن اس وقت خوشحال ہوتا جب وہ دیکھتا ہے کہ حاکم ورہبر قوانین الہی کا مذق اڑارہے ہیں ، اور اپنی خواہشات کو حکم الہی پرمقدم کر رہے ہیں ۔

۴۔کہتے ہیں کہ ہر مزان، خلیفہ کو قتل کر نے میں شامل تھا کیونکہ عبدالرحمن بن ابو بکر نے گواہی دی کہ ابو لولو اور ہرمزان اور جفین کو ہم نے آپس میں آہستہ آہستہ بات کرتے ہوئے دیکھا اور جب وہ ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو ایک خنجر زمین پر گر ا جس میں دو نوک تھے ،اور اس کا دستہ بیچ میں تھا ،اور خلیفہ بھی اسی خنجر سے قتل ہوا۔(۵)

______________________

(۱)انساب بلاذری ج۵ص۲۴۔

(۲)قاموس الرجال ج۹ ص۳۰۵منقول از شیخ مفید

(۳)الغدیر ج۸(طبع نجف)(بدائع الصنایع ملک العلماء حنفی سے گفتگو)

(۴)تاریخ طبری ج۵ص۴۱

(۵)تاریخ طبری ج۲ص۴۲


اسلامی عدالت میں اس عذر کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے، کیونکہ اس سے ہٹ کر کہ گواہی دینے والا ایک شخص ہے ایسے لوگوں کاایک جگہ ہونا جو مدتوں سے دوست رہے ہوں اور ان میں سے ایک لڑکی ہو ،خلیفہ کے قتل کرنے پر گواہ نہیں بن سکتا شاید ہرمزان نے اس وقت خلیفہ کو قتل کرنے سے منع کیا ہو کیا صرف وہم وگمان کے ذریعے دوسروں کا خون بہایا جاسکتا ہے ؟ اور کیا اس طرح کی گواہی اور ثبوت کسی بھی عدالت میں قابل قبول ہے ؟جی ہاں تمام بے جا عذر سبب بنے کہ ہرمزان کا قاتل لمبے عر صے تک آزادانہ زندگی گزارے،لیکن امام علی نے اس سے کہا تھا کہ اگر کسی دن تم میرے قبضے میں آگئے تو تم سے ہرمزان کا قصاص ضرور لیں گے۔(۱) جس وقت امام نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی ،عبیداللہ کوفہ سے شام بھاگ گیا، امام نے فرمایا ،اگر آج بھاگ گیا ہے تو ایک نہ ایک دن ضرور ہاتھ آئے گا ،زیا دہ زمانہ نہیں گزرا تھا کہ جنگ صفین میں حضرت علی کے ہاتھوں یا مالک اشتر یا عماریاسر (بہ اختلاف تاریخ ) کے ہاتھوں قتل ہوا۔

دوسری وجہ، بنی امیہ کے درمیان بیت المال کا تقسیم ہونا

پیغمبر اسلام(ص) کی خلافت وجانشینی ایک مقدس واعلیٰ مقام ہے جسے تمام مسلمان نبوت ورسالت کے منصب کے بعد سب سے اہم مقام سمجھتے ہیں ،اور ان لوگوں کا اختلاف صرف مسئلہ خلافت کے بارے میں ہے کہ خلیفہ کا انتخاب خدا کی طرف سے ہونا چاہئیے یا لوگ خود خلیفہ کا انتخاب کریں، ان لوگوں کے درمیان اختلاف یہ نہ تھا کہ مقام خلافت کا رتبہ بڑھ جائے اور اسلامی خلافت کی موقعیت کو اہم شمار کریں .اسی مقام خلافت کے احترام کی وجہ سے امیر المو منین ـ نے لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے خلیفہ سوم سے یہ کہا:

''وانی انشدک االلّه ان لا تکون امام هذه الامةالمقتول،فانه کان یقال یقتل فی هذه الامةامام یفتح علیها القتل والقتال الی یوم القیامة'' (۲)

______________________

(۱)انساب بلاذری ج۵،ص۲۴۔

(۲)نہج البلاغہ عبدہ خطبہ۱۵۹۔


میں تجھے خدا کی قسم دیتاہوں کہ اس امت کے مقتول پیشواکی طرح نہ ہونا،کیونکہ کہا جاتا تھاکہ اس امت کا پیشوا مارا جائے گا جس کے قتل کی وجہ سے قیامت تک کے لئے قتل وغارت گری کا سلسلہ شروع ہوجائے گا ،

مہاجرین و انصار اوردیگر مسلمانوں کے درمیان اسلامی خلافت اور خلیفہ مسلمین کی عظمت ورفعت کے باوجود اسلام کی دوسری بزرگ شخصیتیں مختلف جگہوں سے مدینہ آگئیں ،اور مہاجرین و انصار کی مددسے خلیفہ سوم کو قتل کرکے پھر اپنے اپنے شہر واپس چلی گئیں۔

عثمان کے خلاف شورش وانقلاب کی ایک دو وجہیں نہیں تھیں، انقلاب لانے کی ایک وجہ حدود الہی کا جاری نہ ہوناتھا جس کا تذکرہ ہم مختصر اً کر چکے ہیں اور دوسری وجہ جس پر ہم بحث کر رہے ہیں یعنی خلیفہ کا اپنے رشتہ داروں کو بے حساب بیت المال سے مددکرنا اور ان کا خرچ دینا تھا ،اگر چہ تاریخ نے ان تمام چیزوں کو نہیں لکھا ہے یہاں تک کہ طبری نے بھی کئی مرتبہ اس بات کو صراحت سے کہا ہے ، میں اکثر لوگوں کے تحمل نہ کرنے کی وجہ سے بعض اعتراض کو جومسلمانوں نے خلیفہ کے خلاف کیئے تھے ،تحریر نہیں کیا ہے(۱) لیکن وہی چیز یں جنہیں تاریخ نے لکھا ہے ، بیت المال سے متعلق عثمان کے کردار کوبخوبی واضح وروشن کرتا ہے ۔مسلمانوں کے بیت المال کی ملکیتیں اور دوسرے سامان جو انہوں نے اپنے اعزہ واحباب کو دیئے تھے ،وہ بہت زیادہ تھے جن میں سے بعض کی طرف ہم اشارہ کررہے ہیں۔

عثمان نے فدک کے علاقہ کو جو مدتوں حضرت زہرا اور خلیفہ اول کے درمیان مورد بحث تھا مروان کو دیدیا اور یہ ملکیت ایک کے بعد ایک مروان کی اولادوں میں منتقل ہوتی رہی یہاں تک کہ عمر بن عبدالعزیزنے اسے حضرت زہرا کی اولاد وں کو واپس کردیا۔

پیغمبر اسلام کی بیٹی نے کہا تھاکہ میرے بابا نے فدک مجھے دیا تھا ،لیکن ابو بکر کا یہ دعوی تھا کہ یہ صدقہ ہے اور دیگر صدقوں کی طرح یہ بھی محفوظ رہے اور اس کی آمدنی مسلمانوں کے امور میں خرچ ہو بہر حال کسی بھی صورت سے عثمان کا مروان کوفدک دینا صحیح نہیں تھا ،بہت سے مورخین نے عثمان کی اس حرکت پر ان کو

______________________

(۱)تاریخ طبری ج۵ص۱۰۸و۱۱۳ و۲۳۲۔


آڑے ہاتھ لیا اور سب نے یہی لکھا کہ'' تمام لوگوں نے جو ان پر اعتراض ہوئے یہ ہے کہ انہوں نے فدک کو جو رسول اسلام کا صدقہ تھا مروان کودیدیا ''(۱) اے کاش خلیفہ اسی پر اکتفاء کرتے اور اپنے چچا زاد بھائی اور داماد کو اس کے علاوہ کچھ اور نہ دیتے،لیکن افسوس کہ اموی خاندان کے ساتھ خلیفہ کی الفت و محبت ولگائو کی کوئی حدنہ تھی ،انہوں نے اتنے ہی پر اکتفانہیں کیا بلکہ ۲۷ ہجری میں اسلامی فوج نے افریقہ سے بہت زیادہ مال غنیمت جمع کیا تھا جس کی قیمت تقریباً ڈھائی میلین (۲۵لاکھ ) دینار تھی اس کا پانچواں حصہ (۵لاکھ ) جسے قرآن کریم نے خمس کے چھ موارد میں تقسیم کیا ہے بغیر کسی دلیل کے اپنے داماد مروان کو دیدیا، اور اس طرح سے انہوں نے سب سے مخالفت مول لی ،چنانچہ بعض شعراء نے بعنوان اعتراض یہ شعر کہا(۲)

وأعطیت مروان خمس العبا

د ظلماًلهم وحمیت الحمی(۳)

وہ خمس جو خدا کے بندوں سے مخصوص ہے بغیر کسی دلیل کے مروان کو دیدیا اور اپنے رشتہ داروں کا خیال کیا۔

بیت المال کے بارے میں اسلام کا نظریہ

ہر عمل ایک ونظریہ کی حکایت کرتا ہے، خلیفہ کاعمل اس بات کی حکایت کرتاہے کہ وہ بیت المال کو اپنی ملکیت سمجھتے تھے اور ہدیہ و تحفہ وغیرہ دینے کو صلئہ رحمی اور رشتہ داروں کی خدمت کرنا جانتے تھے۔اب یہ دیکھنا ہے کہ بیت المال چاہے مال غنیمت ہو یازکات کی طرح دوسرے اموال کے بارے میں اسلام کا نظریہ کیا ہے یہاں ہم پیغمبر اسلام(ص) اورامیر المومنین کے چند اقوال کو پیش کررہے ہیں ۔

۱۔پیغمبر اسلام (ص)مال غنیمت کے بارے میں فرماتے ہیں

للّه خمسه واربعة اخماس للجیش (۴)

______________________

(۱)ابن قتیبہ دینوری ،معارف ص۸۴۔---(۲)سورئہ انفال آیت ۴۱۔----(۳)سنن بیہقی ج۶ص۳۲۴۔

(۴)سنن بیہقی ج۶ ص۳۲۴۔


اس میں سے پانچواں خدا کا حصہ اور باقی ۴۵لشکر اسلام کا ہے۔یہ بات واضح ہے کہ خدا س سے بے نیاز ہے کہ وہ اپنے لئے حصہ معین کرے بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ اس ۵/ ۱کو ایسے کاموں میں خرچ کیا جائے جن میں خدا کی مرضی شامل ہو ۔

۲۔جب پیغمبر اسلام نے معاذبن جبل کو یمن روانہ کیا توانہیں حکم دیا کہ لوگوں سے کہنا۔

''ان اللّه قدفرض علیکم صدقة اموالکم نوخذ من اغنیاء کم فتردّالی فقراء کم'' (۱)

خدا وند عالم نے تم پر زکواة واجب کی ہے جو تمہارے مالداروں سے لی جائے گی اور فقیروں کے درمیان تقسیم کی جائے گی۔

۳۔ امیر المومنین نے اپنے مکہ کے حاکم کو لکھا :

جو کچھ خدا کا مال تمہارے پاس جمع ہوا ہے اس کا حساب وکتاب کرو اور اسے کثیر العیال اور بھوکوں کو دیدو ، اور اس بات کا خیال رہے کہ وہ یقینافقیروں اور محتاجوں کو ملے ۔

تاریخ میں ہے کہ دو عورتیں دو نژاد کی ایک عرب اور دوسری آزادکردہ ،مولائے کائنات کے پاس آئیں اور دونوں نے حاجت پیش کی ،امام نے ہر ایک کو ۴۰ درہم کے علاوہ کھانے پینے کا سامان دیا نژادوہ عورت جو عرب سے نہیں تھی اس نے اپنا حصہ لیا اور چلی گئی لیکن عرب عورت نے جاہلیت کی فکر رکھنے کے وجہ سے امام سے کہاکیا آپ مجھے اتنی ہی مقدار میں دیں گے جتنا غیر عرب کو دیا ہے ؟امام ـ نے جواب میں کہا ، میں خد ا کی کتاب قرآن میں اسماعیل کے بیٹوں کی اسحاق کے بیٹوں پر فضیلت وبرتر ی نہیں دیکھتا؟(۲)

ان حدیثوں اور صراحتوں کے ہوتے ہوئے اور یہ کہ خلیفہ اول ودوم کا طریقہ خلیفہ سوم سے علیحدہ تھا اس کے باوجود عثمان نے اپنی پوری خلافت کے درمیان بہت زیا دہ تحفے وہدیہ لوگوں کو دیئے کہ کسی بھی صورت میں اس کی توجیہہ نہیں کی جاسکتی ۔

اگر ان ہدیوں اورکو ان نیک لوگوںکو دیا جاتاجن کی گذشتہ زندگی اسلام کے لئے باعث افتخار تھی ،تو

______________________

(۱)الاموال ص۵۸۰۔

(۲)نہج البلاغہ نامہ ۶۷۔


اتنی ملامت نہیں ہوتی ، لیکن افسوس کہ وہ گروہ لایق فضل وکرم قرار پایا جس کی اسلام میں کوئی فضیلت نہیں تھا۔

مروان بن حکم حضرت امیر المومنین کا سخت ترین دشمن تھا ، جس وقت اس نے حضرت علی سے اپنی بیعت توڑی اور جنگ جمل میں گرفتار ہوا اور امام حسین کی شفاعت کرنے سے آزاد ہوا ،تو امام کے بیٹوں نے امام سے کہا ، مروان دوسری مرتبہ پھر آپ کے ہاتھوں پر بیعت کرے گا ، امام نے فرمایا ۔

مجھے اس کی بیعت کی ضرورت نہیں ہے کیا عثمان کے قتل کے بعد اس نے میرے ہاتھوں پر بیعت نہیں کیا؟ اس کی بیعت یہودیوں کی بیعت کی طرح ہے جو مکروفریب اور بے وفائی میں بہت مشہور ہیں، اگر خود اپنے ہاتھوں پر بیعت کرے تودوسرے دن مکرو فریب کے ساتھ اسے توڑ دے گا اس کے لئے حکومت چھوٹی چیز ہے جیسے کتا خود اپنی ناک چاٹتاہے،وہ چاربچوں کاباپ ہے اور امت مسلمہ کواس سے اور اس کے بچوں سے ایک روز شدید جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔(۱)

______________________

(۱)سنن بیہقی ج۶ص۳۴۸۔


تیسری وجہ، اموی حکومت کی تشکیل

عثمان کے خلاف شورش کی تیسری وجہ ،اسلام کے حساس مر کزوں پر امویوں کی ظالمانہ حکومت تھی وہ بھی ایسی حکومت جو بچے اور بوڑھے کو نہیں جانتی تھی اور خشک وتر کو جلا دیتی تھی ، اصل بات یہ تھی کہ خلیفہ سوم کو بنی امیہ سے بہت ہی زیاوہ الفت ومحبت تھی اور رشتہ دارکی محبت کو ٹ کوٹ کر بھری تھی ، اپنے رشتہ داروں کی اس درخواست کی تکمیل کے لئے کہ ایک اموی حکومت تشکیل دی جائے عقل وخرد ، مسلمانوں کی مصالح و مفاسداور اسلام کے قوانین کی عثمان کی نظر میںکوئی اہمیت نہیں تھی اور بنی امیہ سے بیحد محبت کی وجہ سے بہت زیادہ غلط انجام پاتے تھے ۔

اس بات کی بھی یاددہانی ضروری ہے کہ ان کی محبت سارے مسلمانوں سے نہ تھی بلکہ ان کی محبت کا ربط صرف اپنے رشتہ داروں سے تھا ، اور دوسرے افراد ان کے غیظ وغضب سے امان میں نہیں تھے ،یعنی شجرئہ اموی سے بے شمار محبت کی وجہ سے ابوذر ،عمار ،عبداللہ بن مسعود وغیرہ پر بہت خشمگین رہتے تھے ، جس وقت ابو ذر کو ایسی سرزمین جہاں آب ودانہ نہ تھا یعنی ، ربذہ بھیجا اور اس عظیم مجاہد نے وہاں تڑپ تڑپ کر جان دیدی ،اس وقت ان کی محبت جوش میں نہ آئی جس وقت عمار خلافت کے بکے ہوئے کارمندوںکے لات گھونسوں سے زخمی ہوئے اوراور بے ہوش ہوگئے، خلیفہ پر ذرہ برابربھی اثر نہ ہوا ۔


خلیفہ کا خاندان ،بنی ابی معیط ،کے ساتھ لگائو چھپنے والا نہیں تھا،یہاں تک کہ خلیفہ دوم نے بھی اس بات کا احساس کرلیا تھاتبھی تو انہوں نے ابن عباس سے کہا تھا :

''لوولیها عثمان لحمل بنی ابی معیط علی رقاب الناس ولو فعلها لقتلوه'' (۱)

اگر عثمان خلافت کی با گ ڈور اپنے ہاتھ میں لے گا تو ابی معیط ،کے بیٹوں کو لوگوں پرمسلط کردے گا اور اگر اس نے ایسا کیا تو لوگ اسے قتل کردیں گے۔

جس و قت عمر نے شوری تشکیل دینے کا حکم دیا اور اس میں عثمان کو بھی داخل کیا توان کی طرف رخ کرکے کہا ، اگر خلافت تمہارے ہاتھوں میں آجائے تو اس وقت خدا سے خوف کھانا اور ابی معیط کی آل کولوگوں پرمسلط نہ کرناجب عثمان نے ولید بن عتبہ کو کوفہ کاگورنر بنایا،توامیرالمومنین اور طلحہ وزبیرنے عمر کی بات یاد دلائی اور عثمان سے کہا :

''الم یوصک عمرالا تحمل آل بنی محیط وبنی امیه علی رقاب الناس ؟'' (۲)

کیا عمر نے تم کو نصیحت نہیں کی تھی کہ آل بنی محیط اور بنی امیہ کو لوگوں پر مسلط نہ کرنا؟

لیکن ہوا وہی کے سارے معیار ان کی مکمل محبت و غالب ہو گئی ،اور اسلام کے تمام حساس واہم مرا کز امویوں کے ہاتھوں میں آگئے ،اور ایساہوا کہ ایک گروہ قدرت و حکو مت میں مست اور دوسرا گروہ مال جمع کرنے میں مشغول ہو گیا جب کہ نزدیک اور دورکے علاقے کے مسلمان خلیفہ کے رشتہ داروں کو غرامت دینے والے تھے ۔

حقیقت میں عثمان نے خاندان بنی امیہ کے بوڑھے شخص ،ابو سفیان کی پیروی کی جو عثمان کے خلیفہ منتخب ہونے والے دن ان کے گھر آیا ورجب اس نے دیکھا کہ وہاں سب کے سب بنی امیہ سے ہیں تواس

______________________

(۱) انساب بلاذری ج۵،۱۶۔

(۲)انساب بلاذری ج۵ص۳۰۔


نے کہا کہ خلافت کویکے بعد دیگرے اپنے ہی ہاتھوں میں رکھنا۔(۱)

ابو موسی اشعری یمنی کوفہ کا حاکم تھا، اور یہ چیز خلیفہ کے ساتھیوں کے لئے برداشت کے قابل نہیں تھاکہ ایک غیر اموی شخص اس عہدے پرفائز ہو ،یہی وجہ تھی کہ شبل بن خالد نے ایک خصوصی جلسہ میں جس میں سب کے سب اموی تھے کہا:کیوں اتنی زیادہ زمین ابو موسی اشعری کو دیدیا ہے ؟،خلیفہ نے کہا :تمہاری نظر میں کون بہتر ہے ؟شبل نے عبداللہ بن عامر کی طرف اشارہ کیا ،اس وقت اس کی عمر سولہ سال سے زیادہ نہ تھی ۔(۲)

اسی فکر کا نتیجہ تھا کہ حاکم کوفہ سعید بن عاص اموی نے منبر سے اعلان کیا تھا کہ عراق قریش کے جوانوں کی چراگاہ ہے۔

اگر حکومت عثمان میں کام کرنے والوں کی فہرست کو تاریخ کے اوراق سے نکالا جائے تو اس وقت خلیفہ سوم کی بات کی تصدیق ہو جائے گی کہ نے کہا تھا ۔

''لو ان بیدی مفاتیح الجنّة لاعطیتهابنی امیه حتی ید خلوامن اخرهم'' (۳)

اگر جنت کی کنجی میرے ہاتھوں میں ہوتی تو اسے بنی امیہ کو دیدیتا تاکہ بنی امیہ کی آخری فردبھی جنت میں داخل ہوجائے۔

اسی بے جااور بے حساب محبت کا نتیجہ تھا کہ لوگ خلیفہ کے حاکموں کے ظلم وستم اور حکومت کے سیاسی رہنمائوں کے ظلم و جبر سے عاجز ہو گئے تھے اور خلیفہ کے خلاف ایسی مخالفتیں معاشرے میں پروان چڑھنے لگیں جنہوں نے عثمان کی خلافت اور ان کی زندگی کا خاتمہ کر دیا ۔

عثمان کی خلافت کے زمانے میںگورنروں کے سلسلے میں صرف کوفہ اور مصر میں جو تبدیلیاں دیکھنے کو آئیں وہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ان کی سیاست یہ تھی کہ سارے امور امویوں کے ہاتھوں میں ہوں۔

______________________

(۱)استیعاب ج۲ص۶۹۰۔

(۲) تاریخ طبری ۔کامل ابن اثیر۔ انساب بلاذری ۔

(۳)مسند احمد بن جنل ج۱ص۶۲۔


جس وقت خلیفہ نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی ،مغیرہ بن شعبہ کوکوفہ کی گورنری سے معزول کرکے سعد وقاص کو اس کی جگہ پر منصوب کردیا ،اس مورد میںبظاہر اچھا کام کیاکیونکہ سعد وقاص کا مقام ومر تبہ جو کہ فاتح عراق تھا .مغیرہ بن شعبہ سے جونا زیبا اور غلط کاموں میں مشہور تھابہت بلند تھا بلکہ اس کا ان سے مقابلہ نہیں تھا ،لیکن حقیقت میں سعدوقاص کو منصوب کرنے کا مقصد کچھ دوسرا تھا کیونکہ ایک سال کے بعد انہوں نے سعد وقاص کو ہٹا کر اپنے مادری بھائی ولید بن عتبہ بن ابی معیط کو کوفہ کا گورنر بنا دیا ،۲۷ ہجری میں عمروعاص کو مصر سے جزیہ لینے کی ذمہ داری سے ہٹا کر اپنے رضاعی بھائی عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کو مصر میں جزیہ لینے کے لئے معین کردیا،۳۰ ہجری میں ابو موسی اشعری کو ،جو خلیفہ دوم کے زمانے سے بصرہ کا حاکم تھا ،معزول کر کے اپنے ماموں زاد بھائی عبداللہ بن عامر جو بالکل نوجوان (۱۶سال کا)تھا بصرہ کا حاکم بنا دیا ۔(۱)

یہ تمام موارد جوذ کر ہوئے ہیں اس بات کی علامت ہیں کہ عثمان کی ہمیشہ یہی کو شش تھی کہ ایک اموی حکومت تشکیل پاجائے ۔

چوتھی وجہ، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابہ پر ظلم وستم

عثمان کے خلاف شورش و بغاوت کی چوتھی وجہ پیغمبر کے صحابہ کی بے حرمتی تھی ،جو خود عثمان کی طرف سے یا ان کی طرف سے معین کئے ہوئے شخص کے ہاتھوں انجام ہوتی تھی ، اس سلسلے میں یہاںصرف دو نمونے پیش کر رہا ہوں ۔

۱۔ عبداللہ بن مسعود پر ظلم وستم

عبداللہ بن مسعود پیغمبر اسلام (ص)کے بزرگ صحابی تھے، تاریخ اسلام میں جن کا مقام ومرتبہ بہت بلند ہے اور صحابہ کے بارے میں جو کتابیں جو کتابیں لکھی گئی ہیں ان میں انکے حالات پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ وہ قوی ایمان والے اورقرآن کی تعلیم کے ذریعے معارف اسلامی کی اشاعت میں کوشاں رہتے تھے۔(۲)

______________________

(۱)تاریخ طبری ۔کامل ابن اثیر ،انساب بلاذری۔

(۲)استیعاب ج۱،ص۳۷۳،اصابہ ج۲،۳۶۹،اسد الغابہ۔


وہ سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنی جان کی بازی لگا کر مسجدالحرام میں اور قریش کی انجمن کے سامنے بلند آواز سے قرآن مجید کی تلاوت کی ، تا کہ خدا کے کلام کو قریش کے اندھے دلوں تک پہنچائیں ،جی ہاں دو پہر کے وقت جب قریش کے سردار جمع ہوکر تبا دلہ خیال کررہے تھے ،کہ اچانک عبداللہ نے'' مقام ابراہیم''کے سامنے کھڑے ہو کر بلند آواز میں سورئہ رحمن کی چند آیتوں کی تلاوت کی ، قریش نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا ، ابن ام عبد ، کیا کہہ رہا ہے ؟ ایک نے کہا جو قرآن محمد پر نازل ہواہے اسے ہی پڑھ رہا ہے، اس وقت سب کے سب اٹھے اور عبداللہ پر سب وشتم اور ان کے چہرے پر طمانچہ مارکر ان کی آواز کو خاموش کردیا ، عبد اللہ زخمی چہرے کے ساتھ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آگئے، لوگوں نے ان سے کہا ،تم سے ہمیں اس بات کا خوف تھا ، عبداللہ نے ان کے جواب میں کہا دشمنان خدا آج کی طرح کبھی بھی میری نگاہ میں اتنے ذلیل وحقیر نہ تھے ،اور پھر کہا کہ اگر تم لوگ راضی ہو تو میں کل پھر اسی کام کو دوبارہ کروں! ان لوگوں نے کہا جس چیز کو وہ پسند نہیں کرتے اس کو جتنا انہوں نے سن لیا بس وہ ہی کافی ہے(۲) یہ اس صحابی کے تابناک زندگی کے خوشنمااوراق ہیں جس نے اپنی عمر کو جوانی کی ابتداء سے مسلمانوں کو قرآن سکھانے اور توحید کا درس دینے میں صرف کیا تھااور وہ ا ن چھ افراد میں سے ہے جن کے بارے میں ذیل کی آیت نازل ہوئی ۔(۲)

( وَلاَتَطْرُدْ الَّذِینَ یَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِیِّ یُرِیدُونَ وَجْهَهُ مَا عَلَیْکَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَیْئٍ وَمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْهِمْ مِنْ شَیْئٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَکُونَ مِنْ الظَّالِمِینَ ) (انعام۵۲)

اور (اے رسول) جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار سے اس کی خوشنودی کی تمنا میں دعائیں مانگا کرتے ہیں ان کو اپنے پاس سے نہ دھتکارو، نہ ان کے (حساب و کتاب کی) جوابدہی تمہارے ذمہ ہے اور نہ تمہارے (حساب و کتاب کی) جوابدہی کچھ ان کے ذمہ ہے تاکہ تم انھیں (اس خیال سے) دھتکار بتاؤ تو تم ظالموں (کے شمار) میں ہو جاؤ گے۔

______________________

(۱)سیرئہ ابن ہشام ج۱،ص۳۳۷۔

(۲)تفسیر ی طبری ج۷،ص۱۲۸،مستدرک حاکم نیشا پوری ج۳،ص۳۱۹۔


عبداللہ کی عظمت کے بارے میں اس سے زیادہ تاریخ نے بیان کیا ہے حق تو یہ ہے کہ یہاں تفصیل سے بیان کیا جاتا لیکن جو بات قابل ذکر ہے وہ یہ کہ ایسے مومن اور خدمت گزار صحابی جس کی خطا صرف یہ تھی کہ اس نے کوفہ کے حاکم ولیدبن عتبہ کا ساتھ نہیں دیا تو اس کے ساتھ کیا سلوک ہوا ۔

سعدو قاص کوفہ کا حاکم تھا عثمان نے اسے اس منصب سے ہٹادیا اور اپنے رضاعی بھائی ولید بن عتبہ کو ان کی جگہ معین کردیا ، ولید نے کوفہ میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے بیت المال کو اپنے قبضہ میں لے لیا اسکی کنجی عبداللہ بن مسعود کے پاس تھی ،عبداللہ نے کنجی دینے سے انکار کردیا ولید نے اس کی خبر عثمان کو بھیجی ،عثمان نے عبداللہ بن مسعود کے نام خط لکھا اور ولید کو بیت المال کی کنجی نہ دینے پر ملامت کیا، عبداللہ نے خلیفہ کے خوف وڈر کی وجہ سے کنجی حاکم کی طرف پھینک دی اور کہا:

کیسا دن آگیا کہ سعد وقاص کو ان کے منصب سے دور کر دیا گیا اور ان کی جگہ پر ولید بن عتبہ کو منصوب کردیا گیا ،خدا کا کلام سچا ہے بہترین حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رہنمائی وہدا یت ہے، ان کے لئے بدترین امورانکی نئی باتیں ہیں جن کا اسلام نے حکم نہیں دیا ہے جو چیز بھی شرعی نہ ہو وہ بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا نتیجہ جہنم ہے ۔

عبداللہ نے یہ با تیں کہیں اور چونکہ عثمان نے انھیں مدینہ بلایا تھا لہذا مدینے کی طرف روانہ ہو گئے کوفہ کے لوگ ان کے ارد گرد جمع ہو ے اور مدد کر نے کا وعدہ کیا انہوں نے کہا خلیفہ کی اطاعت مچھ پر فرض ہے اور میں نہیں چاہتا کہ میں وہ پہلا شخص بنوں جو فتنہ وفساد کا دروازہ کھولتا ہے وہ جیسے ہی مدینہ میں داخل ہوے سیدھے مسجد گئے اوروہاں خلیفہ کو منبر پرمصروف گفتگو پایا ۔

بلاذری لکھتے ہیں : جب عثمان کی نگاہ عبداللہ بن مسعود پر پڑی تو وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوے اور کہا ابھی ابھی تمہارے درمیان ایک بد بودار جانور آیا ہے وہ جاندار جو خود اپنی غذا پر چلتا ہے اور اس پر قے کر کے اسے خراب کردیتا ہے۔

عبداللہ نے جیسے ہی یہ سنا جواب دیا ،کہ میں ایسا نہیں ہوں بلکہ میں پیغمبر کا صحابی،جنگ بدر کا سپاہی اور بیعت الرضوان ،میں بیعت کرنے والا ہوں ۔ اس وقت عائشہ نے اپنے کمرے سے فریا د بلند کی ،عثمان ! کیوں پیغمبر کے صحا بی کی توہین کررہے ہو؟چہ می گوئیاں شروع ہو گئیں شروآفت سے بچنے کیلئے عبداللہ کو خلیفہ کے حکم سے مسجد سے باہر نکال دیا گیا۔


ابن زمعہ نے انہیں زمین پر گرادیا،اور کہا جاتا ہے کہ جحوم ،عثمان کے غلام نے انہیں اٹھایا اور پھر بہت تیز ز مین پر اس طرح سے گرایا کہ ان کے دانت ٹوٹ گئے اس وقت حضرت علی نے اعتراض کیا اور کہا :صرف ولید کی شکایت پر تم پیغمبر کے صحابی پر یہ ظلم کررہے ہو؟

با لآخر امام عبداللہ کو اپنے گھر لے گئے لیکن عثمان نے اسے مدینہ سے باہر نکلنے پر پابندی لگادی وہ مدینے ہی میں رہے یہاں تک کہ ۳۲ ھ میں ( عثمان کے قتل ہونے سے ۳ سال پہلے) اس دنیا سے کوچ کر گئے۔(۱)

عبداللہ بن مسعود جب بستر بیماری پر تھے تو ان کے دوست و احباب ان کی عیادت کے لئے آئے ، ایک دن عثمان نے بھی ان کی عیادت کی اور دونوں کے درمیان جو گفتگو ہوئی وہ درج ذیل ہے :

عثمان : کس چیز کی وجہ سے فکرمند ہو ؟

عبداللہ : اپنے گنا ہوںکی وجہ سے۔

عثمان : کیا چاہتے ہو ؟

عبد اللہ : خدا کی وسیع ترین رحمت۔

عثمان: تمہارے لئے طبیب کا انتظام کروں ۔

عبداللہ : حقیقی طبیب نے بیمار کیاہے۔

عثمان: حکم دیدوں کہ تمہاری سابقہ پنشن ادا کردی جائے (۲سال سے ان کی پنشن روک دی گئی تھی)۔

عبداللہ: جس دن مجھے ضرورت تھی اس دن تم نے منع کردیا تھا اور آج جب کہ مجھے ضرورت نہیں ہے دینا چاہتے ہو؟

عثمان : ( یہ مال ) تمہا رے بچوں اور وارثوں تک پہونچے گا۔

عبداللہ : خدا ان لوگوں کو رزق دینے والاہے ۔

______________________

(۱) ۔حلیتہ الاولیاء ج ۱ ص۱۳۸۔


عثمان: خدا سے میرے لئے استغفار کرو۔

عبداللہ: خدا سے یہی چا ہونگا کہ میرا حق تجھ سے لے لے۔

جب عبداللہ نے اپنے کو موت سے قریب پایا تو عماراور ایک روایت کی بنا پر زبیر کو اپنا وصی قرار دیا کہ عثمان کو میرے جنازے پر نماز نہ پڑھنے دینا ،یہی وجہ تھی کہ رات میں نماز جنازہ ہوئی اور دفن کر دیئے گئے،عثمان جب اس واقعہ سے با خبر ہوے توعمار سے پوچھا کہ کیوں عبداللہ کے مرنے کی خبر مجھے نہیں دی ، عمار نے کہا انہوں نے وصیت کیا تھا کہ تم ان کی لاش پر نماز نہ پڑھو، زبیر نے عثمان اور عمار کی گفتگو سننے کے بعد اس شعر کو پڑھا۔

لاعرفنک بعدا لمو ت تندبنی

وفی حیاتی ما زودتنی زادی

میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ میرے مرنے کے بعد مجھ پر رو رہا ہے ، حالانکہ جب میں زندہ تھا تو نے میرا حق ادا نہیں کیا ۔

جناب عبداللہ بن مسعود پیغمبر کے جلیل القدر صحابی اور بزرگ قاریوں میں سے تھے اور جن کے بارے میں حضرت امیرالمومنین نے فرمایا تھا کہ''علم القر آن وعلم السنة ثم انتهی وکفی به علماً'' (۱)

ان پر ایسا ظلم وستم کرنا حقیقت میں بغیر کسی عکس العمل کے نہ تھا ، جب خلافت ایسے برے کام انجام دے تو لوگوں کے درمیان بدبینی اور انتقام لینے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور اگر اس عمل کی تکرار کی وجہ سے لوگوں میں حکومت کے خلاف بغاوت اور انقلاب لانے کی فکر پیدا ہو جائے گی اور جو چیز نہیں ہو نی چاہیئے وہ ہو جاتی ہے ۔

______________________

(۱)یعنی:قرآن و سنت کو سیکھا اور آخر تک پہنچایا یا ان کے لئے یہی کافی ہے،انساب ج۵،ص۳۶۔تاریخ ابن کثیرج۷ص۱۶۳


۲۔عمار یاسر پر ظلم وستم

یہ صرف عبداللہ بن مسعود نہ تھے جو خلیفہ کی بے توجہی کا نشانہ بنے ،بلکہ عمار یاسر بھی ان کے ظلم و ستم کانشانہ بنے ، ان پر ظلم وستم اور اہانت کی وجہ یہ تھی کہ خلیفہ نے بیت المال کے بعض زیورات کو اپنے

اہل وعیال کے لئے مخصوص کردیا تھا ، اور جب لوگ یہ دیکھ کر بہت غصہ ہوئے تو وہ اپنے دفاع اور صفائی کے لئے منبر پر گئے اور کہا: مجھے جس چیز کی بھی ضرورت ہوگی بیت المال سے لونگا ، اور ان لوگوں کو سخت سزا دوں گا (جو اعتراض کریں گے) علی نے خلیفہ کا جواب دیتے ہوئے کہا: تمہیںاس کام سے رو کا جائے گا۔

عمار نے کہا : خدا کی قسم میں وہ پہلا شخص ہوں جسے اس کی وجہ سے سزا دی جائے گی اس وقت عثمان نے تند لہجہ میں کہا ، اے بڑے پیٹ والے میرے سامنے تمہاری یہ ہمت ؟اسے پکڑ لو ، انھیں پکڑ لیا گیا اور اتنا مارا کی حالت غیر ہو گئی عمار کے دوستوں نے انہیں پیغمبر کی بیوی ام سلمہ کے گھر پہونچایا ، جب انہیں ہوش آیا تو کہا .خدا کا شکر یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ مجھ پر ظلم وستم ہوا ہے جب عائشہ کو اس واقعہ کی خبر ملی تو انہوں نے پیغمبر کا بال ،لباس اور نعلین باہر نکالا اور کہا ابھی پیغمبر کا بال ،لباس ، اور نعلین پرانا نہیں ہوا ہے اور عثمان نے ان کی سنت کو نظر انداز کردیا ہے عثمان عائشہ کی باتیں سن کر بہت غصہ ہوے مگر انہیں کوئی جواب نہیں دیا ۔


ام سلمہ نے پیغمبر کے بزرگ ساتھی کی خوب تیما داری کی اور قبیلئہ بنی مخزوم کے افراد جو عمار کے ہم خیال تھے ام سلمہ کے گھر آتے جاتے تھے، یہ بات عثمان کو بہت بری لگی اور انہوں نے اعتراض کیا ، ام سلمہ نے عثمان کو پیغام بھجوایا : تم خود لوگوں کو اس کام پر مجبور کرتے ہو۔(۱)

ابن قتیبہ نے اپنی کتاب'' الا ما مة والسیا سة '' میں عمار پر ظلم و ستم کے واقعہ کو دوسری طرح نقل کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے :پیغمبر کے تمام صحابی ایک جگہ جمع ہوئے اور خلیفہ وقت کے نام خط لکھا اور اس میں ان کے ظلم وستم اور کمزوریوں کے بارے میںیہ تحریر کیا ۔

۱۔خلیفہ نے چندچیزوں میں پیغمبر کی سنت اور شیخین کی مخالفت کی ہے ۔

۲۔ افریقہ سے آئے ہوئے مال غنیمت کو ، جو کہ رسول اور ان کے اہلبیت (ع ) اور یتیموں اور مسکینوں کا حق تھا ، مروان کے سپرد کردیا ۔

۳۔عثمان نے اپنی بیوی نائلہ اور اپنی بیٹی کے لئے مدینے میں سات گھر بنوائے۔

۴۔ مروان نے بیت المال کی رقم سے مدینہ میں بہت سے ''قصر '' بنوائے ۔

۵۔ عثمان نے تمام سیا سی امور امویوںکے سپرد کر دیا تھا اور مسلمانوں کے تمام امور کی دیکھ بھال

______________________

(۱)انساب ج۵ ص۴۸


ایسے نوجوان کے ہاتھ میں دے رکھی تھی جس نے ہر گز رسول خدا کو نہ دیکھا تھا۔

۶۔ کوفہ کے حاکم ولید بن عتبہ نے شراب پی کر مستی کے عالم میں صبح کی نماز چاررکعت پڑھائی اور پھر ما مو مین کو مخاطب کرکے کہاہے کہ اگر تم لوگ راضی ہو تو کچھ اور رکعتوں میں اضافہ کروں ۔

۷۔ ان تمام چیزوں کے باوجود ، عثمان نے ولید پر شراب پینے کی حد جاری نہیں کی ۔

۸۔ مہا جروانصار کو چھوڑ دیا ہے اور ان سے مشورہ وغیرہ نہیں کرتا۔

۹۔بادشاہوں کی طرح مدینے کے اطراف کی تمام زمینوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے ۔

۱۰۔ وہ لوگ جنہوں نے ہر گز پیغمبر کے زمانے کو درک نہیں کیا تھا اور نہ کبھی جنگ میں شرکت کی تھی اور نہ اس وقت ہی دین کا دفاع کررہے ہیں ، انہیں بہت زیادہ مال ودولت دیا اور بہت زیادہ زمین ان کے نام کردی ہے ، اس کے علاوہ بھی بہت سی خلاف ورزیاں ہیں ۔

ایک گروہ جس میں دس آدمی شامل تھے ان کے توسط سے یہ خط لکھا گیا لیکن عکس العمل کی وجہ سے لوگوںنے اس پر دستخط نہیں کیا اوراسے عمار کے حوالے کیا کہ عثمان تک پہونچا دیں، وہ عثمان کے گھر آئے اس وقت مروان اور بنی امیہ کے دوسرے گروہ عثمان کے اردگرد بیٹھے تھے، عمار نے خط عثمان کے حوالے کیا خلیفہ خط پڑھنے کے بعد لکھنے والو ں کے نام سے باخبر ہوگیا لیکن وہ سمجھ گیا کہ ان میں سے کوئی بھی ڈر کے مارے ان کے گھر نہیں آیا ہے یہی وجہ تھی کہ انہوں نے عمار کو مخاطب کر کے کہا: میرے ساتھ تمہاری جرأت بہت بڑھ گئی ہے مروان نے خلیفہ سے کہا: اس کالے غلام نے لوگوں کو تمہارے خلاف بھڑکایا ہے اگر اسے قتل کردیا گویا تم نے اپنا اوردوسروں کا بدلہ لے لیا ہے۔


عثمان نے کہا: اسے مارو۔

سب نے انھیں اتنا مارا کہ بہت زیادہ زخمی ہوگئے اور حالت غیر ہوگئی، پھر اسی حالت میں انھیں گھر سے باہر پھینک دیا گیا۔

ام سلمہ پیغمبر کی بیوی اس واقعہ سے باخبر ہوئیں اور انھیں اپنے گھر لے آئیں ۔ قبیلۂ بنی مغیرہ کے لوگ جوعمار کے ہم فکر و خیال تھے اس واقعہ سے بہت زیادہ ناراض ہوئے۔ جب خلیفہ نماز ظہر پڑھنے کے لئے مسجد میں آئے ا س وقت ہشام بن ولید نے عثمان سے کہا: اگر عمار ان زخموں کی وجہ سے مر گئے تو بنی امیہ کے ایک شخص کو قتل کر ڈالوں گا۔

عثمان نے جواب میںکہا: تم ایسا نہیں کر سکتے۔

اس وقت علی کی طرف متوجہ ہوے دونوں کے درمیان سخت لہجہ میں گفتگو ہوئی۔ یہاں گفتگو طولانی ہونے کی وجہ سے ہم نقل کرنے سے پرہیز کر رہے ہیں۔(۱)

پانچویں وجہ، بزرگ شخصیتوں کو جلا وطن کرنا

پیغمبر اسلام (ص)کے بہت سے صحابی اور دوست جو امت کے درمیان حسن سلوک اور تقوے میں بہت مشہور تھے ان کو عثمان نے کوفہ سے شام اورشام سے ''حمص'' اور مدینہ سے ''ربذہ'' کی طرف جلا وطن کردیا۔

تاریخ اسلام کا یہ باب بہت ہی دردناک باب ہے اور اس کا مطالعہ کرنے والا ایک ظالم و ستمگر حکومت و خلافت کا احساس کرتا ہے اورہم اس باب میں چند کی طرف مختصرا ً اشارہ کریں گے اور چونکہ تقریباً سبھی لوگ ابوذر کی جلا وطنی سے باخبر ہیں(۲) لہذا ان کے حالات نقل نہیں کریں گے اور عثمان کی خلافت کے زمانے میںجودوسرے بزرگ جو جلا وطن ہوئے ہیں ان کے حالا ت قلمبند کر رہے ہیں۔

______________________

(۱) الامامة و السیاسة، ج۱، ص ۲۹۔

(۲) شخصیتہای اسلامی شیعہ، ج۱، ص ۸۔


مالک اشتر اور ان کے ساتھیوں کی جلاوطنی

جیسا کہ بیان ہوچکاہے خلیفۂ سوم نے لوگوں کے دبائو کی بنا پر کوفہ کے بدترین حاکم و لید بن عتبہ کو حاکم کے منصب سے معزول کر کے سعید بن عاص اموی کو کوفہ کا حاکم بنادیا اور اسے حکم دیا کہ قرآن کے قاریوں اور مشہور و معروف افراد کے ساتھ اچھا روابط رکھے، یہی وجہ تھی کہ کوفہ کے نئے حاکم کی مالک اشتر اوران کے دوستوںکے ساتھ اوراسی طرح صوحان کے بیٹے زید اور صعصعہ کے ساتھ نشست و گفتگو ہوتی تھی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کوفہ کے حاکم نے مالک اشتر اوران کے ہمفکروں کو خلیفہ کا مخالف جانااورا س سلسلے میں اس نے خلیفہ سے خفیہ طور پر خط و کتابت کی اور اپنے خط میں لکھا :

مالک اشتر اور ان کے ساتھی قرآن مجید کے قاری ہیں لیکن میں ان کی موجودگی میں اپنا فریضہ انجام نہیں دے سکتا ، خلیفہ نے حاکم کوفہ کو جواب دیا کہ اس گروہ کو جلاوطن کر کے شام بھیج دو، اور اسی کے ساتھ مالک اشتر کو بھی خط لکھا : تم اپنے دل میں کچھ ایسی باتیں چھپائے ہو کہ اگر اس کو ظاہر کیا تو تمھاراخون بہانا حلا ل ہو جائے گا اور مجھے ہرگز اس بات کی امید نہیں ہے کہ تم اس خط کو دیکھنے کے بعد اپنے مشن سے دور ہو جائو گے مگر یہ کہ تم پر سخت بلا و مصیبت نازل ہو، جس کے بعد تمہاری زندگی ختم ہو جائے ، جیسے ہی میرا خط تمہارے پاس پہونچے فوراً شام کی طرف چلے جانا۔

جب خلیفہ کا خط کوفہ کے حاکم کے پاس پہونچا تو اس نے دس آدمیوں پر مشتمل گروہ جس میں کوفہ کے صالح اور متدین افراد تھے ، جلاوطن کر کے شام بھیج دیا جن کے درمیان مالک اشتر کے علاوہ صوحان کے بیٹے زید و صعصعہ اور کمیل بن زیاد نخعی ، حارث عبد اللہ حمدانی وغیرہ جیسی اہم شخصیتیں شامل تھیں۔


قرآن کریم کے قاریوں اور بہادر و توانا خطیبوں اور متقیوں کے اس گروہ نے شام کے حاکم معاویہ کی زندگی کو بھی عذاب بنادیا تھا اور قریب تھا کہ وہاں کے افراد شام کے حاکم او رخلافت عثمان کے خلاف انقلاب برپا کردیں، لہذا معاویہ نے خلیفہ کو خط لکھا کہ اس گروہ کا شام میں موجود رہنا خلافت کے لئے خطرہ کا باعث ہے اس نے اپنے خط میں لکھا :

''تم نے ایسے گروہ کو شام میں جلاوطن کر کے بھیجا ہے کہ جس نے ہمارے شہر و دیار میں ہنگامہ اور جوش و خروش پیدا کردیا ہے، میں ہرگز مطمئن نہیں ہوں کہ شام بھی کوفہ کی طرح مشکلات میں گرفتار نہ ہو، اور شامیوں کی فکر صحیح و سالم اور استحکام کو خطرہ و مشکل نہ ہو ، معاویہ کے خط سے خلیفہ کے اندر خوف پیدا ہو گیا، خلیفہ نے جواب میں لکھا کہ اس گروہ کو حمص (شام کا ایک دوردراز پسماندہ علاقہ) جلاوطن کر کے بھیج دو۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ خلیفہ نے ارادہ کیا کہ اس گروہ کو دوبارہ کوفہ بھیج دے لیکن سعید بن عاص حاکم کوفہ نے خلیفہ کو اس چیز سے منع کردیا اور اسی وجہ سے وہ لوگ حمص جلاوطن ہوئے۔(۱)

جو لوگ خلیفۂ سوم کے نمائندوں کا ساتھ نہ دینے کی وجہ سے ایک شہر سے دوسرے شہر جلا وطن ہوئے

ان کا جرم یہ تھا کہ وہ لوگ حق بات اور خلافت کے نمائندوں پر تنقید کیا کرتے تھے وہ لوگ یہ چاہتے تھے کہ خلیفہ بھی سیرت پیغمبر پر چلے۔

خلیفہ کے شایان شان یہ تھا کہ کوفہ کے حاکم کی بات سننے کے بجائے کچھ امین اور سچے افراد کو کوفہ بھیجتے، تاکہ وہ حقیقت کا پتہ لگاتے اورایسے اہم کام میں صرف ایک نمائندہ کی بات پر اکتفا نہ کرتے۔

______________________

(۱)الانساب ج۵ ص ۴۳۔ ۳۹؛ اس کی تفصیل تاریخ طبری ج۳ ص ۳۶۸۔ ۳۶۰؛ (حادثہ کا سال ۳۳ھ) میں بیان ہوئی ہے۔


جلاوطن ہونے والے افراد کون تھے؟

۱۔ مالک اشتر: اس عظیم شخصیت کا نام ہے جس نے پیغمبر (ص)کے زماکو درک کیا تھا اور کسی ایک مورخ نے ، ان کے خلاف ایک جملہ بھی نہیں لکھا ہے، اور حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے اپنے بیان میں ان کی اس طرح سے تعریف و توصیف کی ہے کہ آج تک کسی کی بھی اس طرح تعریف نہیں کی ۔(۱)

جب مالک اشتر کی وفات کی خبر امام کو ملی بہت زیادہ غمگین ہوئے اور کہا:

''و ما مالک؟ لوکان من جبل لکان فنداً و لو کان من حجر لکان صلداً أما و الله لیهدن موتک عالماً و لیفرحن عالماً علی مثل مالک فلیبک البواکی و هل موجود کمالک''؟ (۲)

کیا تم جانتے ہو کہ مالک کیسا آدمی تھا؟ اگر وہ پہاڑ تھا تو اس کی سب سے بلند چوٹی تھا (کہ اس پر سے پرندے پرواز نہیں کرسکتے) اور اگر وہ پتھر تھا تو بہت سخت پتھر تھا اے مالک تمہاری موت نے ایک دنیا کو غمگین اوردوسری دنیا کو خوشحال کردیا، مالک پر رونے والوں کی طرح گریہ کرو۔ کیا مالک کے جیسا کوئی موجود ہے؟

۲۔ زید بن صوحان: ان کی شخصیت کے بارے میں بس اتنا ہی کافی ہے کہ ابوعمر واپنی کتاب ''استیعاب'' میں لکھتا ہے۔

''یہ اپنے قبیلے کے بہت ہی با فضیلت، بزرگ اور دیندار تھے ،جنگ قادسیہ میں اپنا ایک ہاتھ قربان کرچکے تھے اور جنگ جمل میں امام علی کے رکاب میں جام شہادت نوش کیا۔(۳)

______________________

(۱) نہج البلاغہ، نامہ ۳۸،''فقد بعثت الیکم عبداً من عباد الله لاینام ایام الخوف...''

(۲)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۶ ص۷۷ (۳) استیعاب ج۱ ص ۱۹۷۔


خطیب بغدادی لکھتا ہے: زید راتوں کو عبادت کرتے اوردن کو روزہ رکھتے تھے۔(۱)

۳۔ صعصعہ: زید کے بھائی صعصعہ بھی آپ ہی کی طرح بزرگ و باعظمت اور دیندار تھے۔

۴۔ عمر وبن حمق خزاعی: پیغمبر کے خاص صحابیوں میں سے تھے اور آپ کی بہت سی حدیثیں یاد کئے ہوئے تھے، انھوں نے جب رسول اسلام کو دودھ سے سیراب کیا تھا تو رسول اسلام نے ان کے لئے دعا کی تھی اور فرمایا تھا خداوند ااسے اس کی جوانی سے استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرما۔(۲)

ان افراد کی آشنائی سے ہمیں دوسرے جلاوطن افراد کی شناسائی ہوتی ہے، کیونکہ بحکم ''الانسان علی دین خلیلہ'' یہ سب کے سب ایک ہی فکر و نظر رکھتے تھے اور متحد تھے اور خلیفہ وقت کی غلط روش اور اس کے کارندوں پر ہمیشہ تنقید و اعتراض کیا کرتے تھے ان تمام افراد کی زندگی کے حالات اور ان کے علمی ، سیاسی اور معنوی مقامات کا تذکرہ کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ بحث طولانی ہو جائے گی، لہذا اپنی گفتگو کو مختصر کر رہے ہیں اور دوسرے افراد جو جلاوطن ہوئے ہیں ان کی اہم خصوصیات کو بیان کر رہے ہیں۔

کعب بن عبدہ نے اپنی دستخط کے ساتھ خلیفہ سوم کو خط لکھا اوراس میں کوفہ کے حاکم وقت کے برے کاموں کی شکایت لکھی، اورخط کوابو ربیعہ کے حوالے کیا، جس وقت قاصد نے خط ،عثمان کے سپرد کیا فوراً اسے گرفتار کرلیا گیا۔ عثمان نے کعب کے تمام ہمفکروں کو جنھوںنے (بغیر دستخط کے) اجتماعی طور پر خط لکھا تھا اورابو ربیعہ کودیا تھا اس سے پوچھا لیکن اس نے ان لوگوں کا نام بتانے سے انکار کیا ۔ خلیفہ نے قاصد کو سزا دینے کے لئے کہا: لیکن علی علیہ السلام نے اسے اس کام سے روک دیا ۔ پھر عثمان نے اپنے کوفہ کے حاکم سعد بن العاص کو حکم دیا کہ کعب کو ۲۰ تازیانے مارو جائے اور اسے رے جلاوطن کر کے بھیج دو۔(۳)

عبدالرحمن بن حنبل جمحی، پیغمبر کے صحابی کو مدینہ سے خیبر کی طرف جلاوطن کر دیا گیا ، ان کا جرم یہ تھا کہ خلیفہ کے عمل پر ، یعنی وہ مال غنیمت جوافریقہ سے آیاتھا اوراسے مروان کو دیدیا، اعتراض کیا تھا اوراس سلسلے میں یہ شعر بھی کہا تھا۔

______________________

(۱) معارف ابن قتیبہ ص ۱۷۶۔

(۲) تاریخ بغداد ج۸ ص ۴۳۹۔

(۳) انساب ج۵ ص ۴۳۔ ۴۱؛ تاریخ طبری ج۳ ص ۳۷۳۔ ۳۷۲۔


و اعطیت مروان خمس الغنیمة

آثرته و حمیت الحمیٰ

مال غنیمت کا ۱۵ حصہ مروان کودیدیا اوراسے دوسروں پر مقدم سمجھا اور اپنے رشتہ داروں کی حمایت کی یہ مرد مجاہد جب تک عثمان زندہ رہا خیبر میں جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہا تھا۔(۱)

______________________

(۱) تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۱۵۰۔


دوسری فصل

مقدمہ کا واقعہ اورعثمان کا قتل

پانچ عوامل کا عکس العمل

جو پانچ وجہیں ہم نے بیان کیں ان کی وجہ سے تمام اسلامی مملکتوں سے اعتراضات ہونے لگے اور خلیفہ اور اس کے تمام نمائندوں پر الزامات لگنے لگے ان تمام لوگوں پر یہ الزام لگایا گیا کہ سب کے سب صحیح اسلامی راستے سے منحرف ہوگئے ہیں۔

یہی وجہ تھی کہ صحابیوں اور مسلمانوں نے ہمیشہ خلیفہ سے درخواست کیا کہ اپنی روش کو بدل دیں یا یہ کہ مسند خلافت سے دور ہو جائیں۔

اس مخالفت و اعتراض کی عظمت اس وقت ظاہر ہوگی جب ہم بعض اعتراض کرنے والوں کے نام اور ان کی گفتگو سے آشنا ہوں ۔

۱۔ امیر المومنین علیہ السلام نے عثمان کے طور طریقہ پر بہت زیادہ گفتگو کی ہے، چاہے وہ قتل سے پہلے ہو یا قتل کے بعد ۔ انہی میں سے ایک یہ ہے جو امام کا خلیفہ کے کاموں سے متعلق یہ نظریہ ہے جس دن آپ نے مہاجرین کے فرزندوں کو شامیوں کے ساتھ جنگ کرنے کی دعوت دی، تو آپ نے فرمایا:

''یَا أَبْنَاء الْمُهٰاجِرِیْنَ انفروا علی ائمة الکفر و بقیة الاحزاب و اولیاء الشیطان انفروا الی من یقاتل علی دم حمّال الخطایا فو اللّهِ الذی فلق الحبة و برأ النسمة انه لیحمل خطایا هم الی یوم القیامة لاینقص من اوزارهم شیئاً'' (۱)

اے مہاجرین کے بیٹو! کفر کے سرداروں اور شیطان کے باقی بچے ہوئے دوستوں اور گروہوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ معاویہ سے جنگ کرنے کے لئے اٹھ جاؤ تاکہ اس کو قتل کرسکو جس کی گردن پر بہت سے گناہ ہیں ( یعنی عثمان کو قتل کیا ہے) اس خدا کی قسم کہ جس نے دانہ کو شگافتہ اورانسان کو پیدا کیا وہقیامت تک دوسروں کے گناہوں کو اپنے ذمہ لیتا رہے گا جب کہ دوسروں کے گناہوں سے کچھ بھی کم نہ ہوگا۔

___________________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۲، ص ۱۹۴، (طبع جدید)


امام نے اپنی خلافت کے دوسرے دن ایک تقریر کے دوران فرمایا:

''ألا ان کل قطیع أقطعها عثمان و کل مال أعطاه من مال الله فهو مردود فی بیت المال'' (۱)

ہر وہ زمین جسے عثمان نے دوسروں کو دیدیا ہے اورہر وہ مال جو خدا کے مال میں سے ہے اور وہ کسی کو دیا ہے ضروری ہے کہ وہ بیت المال کو واپس کیا جائے۔

امام کا یہ کلام اوردوسرے کلام خلیفہ کے کاموں کو روشن کرتے ہیں اور اس سے بھی زیادہ واضح و ہ کلمات ہیں جو آپ نے خطبہ شقشقیہ میں بیان کیا ہے۔

''الی ان قام ثالث القوم نافجاً حضنیه، بین نثیله و معتلفه ،و قام معه بنو أبیه یخضمون مال الله خضم الابل نبتة الربیع'' (۲)

(غرض اس قوم کا تیسرا آدمی پیٹ پھیلائے اپنے گوبر اور چارے کے درمیان کھڑا ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ اس کے بھائی بند کھڑے ہوئے جو خدا کا مال اس طرح خوش ہو کرکھارہے تھے جیسے اونٹ موسم بہار کی گھاس خوش ہوہو کر کھاتاہے ، رضوی )

۲۔ پیغمبراسلام کی بیوی ،نے سب سے زیادہ عثمان کے کاموں کو غلط بتاتی تھیں، جب عمار پر عثمان کی طرف سے ظلم و ستم ہوا اور عائشہ کو اس کی خبر ملی تو پیغمبر کے لباس اور نعلین کو باہر لائیں اور کہا کہ ابھی پیغمبر کا لباس اور جوتیاںپرانی نہیں ہوئی ہیں تم نے ان کی سنت کو فراموش کردیاہے۔

ان دنوں جب مصریوں اورکچھ صحابیوںنے عثمان کے گھر کا محاصرہ کیا تھا اس وقت عائشہ مدینہ چھوڑ کر خدا کے گھر کی زیارت کے لئے روانہ ہوگئیں جب کہ مروان بن حکم، زید بن ثابت او رعبد الرحمن بن عتاب نے عائشہ سے درخواست کی تھی کہ اپنا سفر ملتوی کردیں کیونکہ مدینہ میں ان کے رہنے کی وجہ سے ممکن ہے کہ عثمان کے سر سے یہ بلا ٹل جائے۔

______________________

(۱) نہج البلاغہ عبدہ، خطبہ ۱۴۔

(۲) نہج البلاغہ عبدہ، خطبہ ۳۔


عائشہ نے نہ صرف ان کی درخواست کو ٹھکرا دیا، بلکہ کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ کاش تمہارے اور تمہارے دوست جن کی تم مدد کر رہے ہو، کے پیر میں پتھر ہوتا تو تم دونوں کو دریا میں ڈال دیتی، یا اسے ایک بوریہ میں رکھ کردریا میں ڈال دیتی۔(۱)

عثمان کے بارے میں عائشہ کی باتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں جنہیں ہم نے پیش کیا ہے۔بس اتنا کافی ہے کہ جب تک وہ عثمان کے قتل اور علی کی بیعت سے باخبر نہ تھیں مستقل عثمان پر اعتراض و تنقید کر رہی تھیں، لیکن جب حج کے اعمال سے فارغ ہوئیں او رمدینہ کا سفر کیا اوردرمیان راہ ''سرف'' نامی مقام پر عثمان کے قتل او ربیعت علی سے باخبر ہوئیں تو فوراًنظریہ کو بدل دیااور کہا کاش آسمان میرے سر پر گرجاتا، یہ جملہ کہا اور لوگوں سے کہا کہ مجھے مکہ واپس لے چلو کیونکہ خدا کی قسم عثمان مظلوم ماراگیا ہے اور میں اس کا بدلہ لوں گی۔(۲)

۳۔ عبدالرحمن بن عوف بھی عثمان پر اعتراض کرنے والوں میں سے ہیں وہ ایسا شخص ہے کہ چھ آدمیوں پر مشتمل شوریٰ میں عثمان کی کامیابی اسی کے مکرو فریب سے ہوئی تھی۔جس وقت عثمان نے اپنے تعہد کو جو سنت پیغمبر اور شیخین کی روش پر چلنے کے لئے کیا تھا اس کو توڑ ڈالا ،تو لوگوں نے عبد الرحمن پر اعتراض کیا اور کہا یہ سب خرابیاں تمہاری وجہ سے ہیں تو اس نے جواب میں کہا مجھے اس بات کی امید نہ تھی کہ نوبت یہاں تک پہونچ جائے گی، اب میں اس سے کبھی گفتگو نہیں کروں گا اور پھر عبد الرحمن نے اس دن سے آخر دم تک عثمان سے بات نہیں کی، یہاں تک کہ جب عثمان، عبد الرحمن کی حالت بیماری میں عیادت کرنے آئے تو اس وقت عبد الرحمن نے خلیفہ کی طرف سے اپنے چہرے کو موڑ لیا اور ان سے بات نہیں کی ۔(۳)

جی ہاں، وہ افراد جنہوںنے خلیفہ کے خلاف اعتراضات کئے اورا ن کے قتل کے مقدمات فراہم کئے بہتر ہے ان کی تعداد اس سے بہت زیادہ ہے جن کا ذکر کیا ہے دو اہم چیزوں کا ذکر کرنا مناسب ہے وہ یہ کہ طلحہ و زبیر سب سے زیادہ ان پر اعتراض کرتے تھے ، بہرحال ، لوگوں کا نام اور مخالفین کی گفتگو ؤں اور خلیفہ کو ان کے منصب سے گرانے والے افراد کے نام کے لئے تاریخی کتابوں کی طرف رجوع کریں، کیونکہ ہمارا مقصد عثمان کی خلافت کی معزولی کو بیان کرنا نہیں ہے بلکہ ہمارا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ لوگوں نے حضرت علی کے ہاتھ پر کیسے بیعت کی؟

______________________

(۱)الانساب ج۵ ص ۴۸۔----(۲) تاریخ طبری ج۳ ص ۴۷۷۔------(۳) انساب الاشراف، ج۵، ص ۴۸۔


عثمان کے گھر کا محاصرہ

شورش کی پانچوں عوامل نے اپنا کام کر دکھایا او رعثمان کا اپنے نقائص اورخلافت پر اعتراض سے بے توجہی سبب بنی کہ اس وقت کے اسلام کے اہم مراکز، مثلاً کوفہ، بصرہ اور مصر کچھ لوگ امر بالمعروف اورنہی عن المنکر اور خلیفہ کو کتاب الہی اور سنت پیغمبر و سیرت شیخین کی مخالفت سے روکنے کے لئے مدینہ روانہ ہوں کہ مدینے میں رہنے والے اپنے ہمفکروں کے ساتھ کوئی راہ حل تلاش کریں خلیفہ توبہ کریں اور حقیقی اسلام کی طرف پلٹیں، یا مسند خلافت سے دور ہو جائیں۔

بلاذری اپنی کتاب ''انساب الاشراف'' میں لکھتے ہیں:

۳۴ ھ میں خلیفہ کی سیاست سے مخالفت کرنے والے تین شہروں کوفہ ، بصرہ اور مصر سے مسجد الحرام میں جمع ہوئے اور عثمان کے کاموں پر گفتگو کرنے لگے۔ اور سب نے ارادہ کیا کہ خلیفہ کے برے کاموں پر گواہ و شاہد بن کر اپنے اپنے شہر واپس جائیں اور جو لوگ اس سلسلے میں ان کے ہم خیال ہیں ان سے گفتگو کریں ، اور آئندہ سال انہی دنوں میں ملاقات کریں اور خلیفہ کے بار ے میں کوئی فیصلہ کریں۔ اگر وہ اپنے غلط کاموں سے باز آجائیں تو اس کے حال پر چھوڑ دیں، لیکن اگر باز نہ آئے تو اسے اس منصب سے الگ کردیں۔

اسی وجہ سے دوسرے سال (۳۵ ھ) میںمالک اشتر کی سرداری میں کوفہ سے ایک ہزار کا لشکر، حُکیم بن جبلَّہ عبدی کی سرداری میں بصرہ سے ڈیڑھ سو آدمیوں کا لشکر ، کنانہ بن بشر سکونی تجیبی اورعمر اور بدیل خزاعی کی سرپرستی میں مصر سے چار سو یا اس سے زیاد ہ افراد کا لشکر مدینہ میں داخل ہوا۔ اور مہاجر و انصار کے بہت سے افراد جو خلیفہ کے طریقہ کے مخالف تھے وہ بھی ان سے ملحق ہو گئے۔(۱)

______________________

(۱) الغدیر، ج۹، ص ۱۶۸۔


مسعودی لکھتاہے:

چونکہ عبد اللہ بن مسعود، عمار یاسرا ور محمد بن ابی بکر، خلیفہ کی نظر میں بے توجہی کا شکار تھے، قبیلۂ ''بنی زُھر'' عبد اللہ کی حمایت میں اور ''بنی مخزوم'' عمار کی حمایت میں اور تیم، محمد بن ابی بکر کی وجہ سے اور ان تین گروہوں کے علاوہ دوسرے افراد بھی انقلابیوں کے ساتھ مل گئے اور خلیفہ کے گھر کا محاصرہ کرلیا۔

مصریوں نے خلیفہ کو جوخط لکھا اس کا مضمون یہ ہے:

اما بعد: خداوند عالم کسی قوم کی حالت کونہیں بدلتا مگر یہ کہ وہ خود اس کو بدل ڈالیں، خدا کے واسطے، خدا کے لئے، پھر خدا کے واسطے آخرت میں اپنے حصہ کو فراموش نہ کرو ، خدا کی قسم، ہم لوگ خدا کے لئے غضبناک ہوتے ہیں اور خدا ہی کے لئے خوشحال ہوتے ہیں، ہم اپنی اپنی تلواروں کواپنے کاندھوں سے اتار کر زمین پر نہیں رکھیں گے جب تک تمہارے سچے توبہ کی خبر ہم تک نہ پہونچ جائے یہی ہمارا پیغام ہے۔(۱)

______________________

(۱) مروج الذہب ج۳ ص ۸۸ طبع بیروت سال ۱۹۷۰۔


مخالفوں کے سامنے خلیفہ کا تعہد

گھر کا محاصرہ سبب بنا خلیفہ اپنے کاموں پر سنجیدگی سے سوچیںاور محاصرہ ختم کرنے کی سبیل نکالیںلیکن وہ شورش کی تہ سے آگاہ نہیں تھے اور معاشرے کے اچھے لوگوں کو برے لوگوں کے درمیان تشخیص نہیں دے پارہے تھے،انہوں نے گمان کیا کہ شاید مغیرہ بن شعبہ یا عمرو عاص کے وسیلے سے یہ ناگہانی بلا ٹل جائے گی، اس وجہ سے اس نے ان دونوں کو انقلابیوں کی آگ خاموش کرنے کے لئے گھر کے باہر بھیجا، جب انقلابی لوگوں نے ان منحوس چہروں کو دیکھا توان کے خلاف نعرے لگانے لگے ۔ اور مغیرہ سے کہا: اے فاسق و فاجر واپس جا واپس جا ، اور عمرو عاص سے کہا: اے خدا کے دشمن واپس چلا جا کہ تو امین و ایماندار نہیں ہے اس وقت عمر کے بیٹے نے خلیفہ سے حضرت علی کی عظمت کے بار ے میں بتایا اور کہا کہ صرف وہی اس شورش کی آگ کو خاموش کرسکتے ہیںلہٰذا خلیفہ نے حضرت سے درخواست کی کہ اس گروہ کو کتاب خدا اور سنت پیغمبر کی دعوت دیجئے ۔امام نے اس کی درخواست کو اس شرط پر قبول کیا کہ جن چیزوں کی میں ضمانت لوں خلیفہ اس پر عمل کرے، علی علیہ السلام نے ضمانت لی کہ خلیفہ، کتاب خدا اور سنت پیغمبر پر

عمل کریں انقلابیوں نے حضرت علی علیہ السلام کی ضمانت قبول کرلیا اور وہ سب آنحضرت کے ساتھ عثمان کے پاس آئے اور ان کی سخت مذمت کی انہوں نے بھی ان لوگوں کی باتوں کو قبول کرلیا اور یہ طے پایا کہ عثمان تحریری طور پر تعہد دیں۔

چنانچہ تعہد نامہ اس طرح سے لکھا گیا:

''یہ خط خدا کے بندے امیر المومنین عثمان کی طرف سے ان لوگوں کے نام ہے جن لوگوں نے ان پر تنقید کی ہے ، خلیفہ نے یہ عہد کیا ہے کہ خدا کی کتاب اور پیغمبر کی سنت پر عمل کرے گا، محروموں کی مدد کرے گا ڈرے اور سہمے افراد کو امان دیں گے، جلاوطن کئے ہوئے لوگوں کو ان کے وطن واپس بلائے گا، اسلامی لشکر کو دشمنوں کی سرزمین پر نہیں روکے گا، ...علی علیہ السلام مسلمانوں اور مومنوں کے حامی ہیں اور عثمان پر واجب ہے کہ اس تعہد پر عمل کرے''۔


زبیر ، طلحہ، سعد وقاص، عبد اللہ بن عمر، زید بن حارث، سہل بن حنیف، ابو ایوب وغیرہ نے گواہ کے طور پر اس تعہد نامہ کے نیچے دستخط کئے یہ خط ذیقعدہ ۳۵ھ میں لکھا گیا اور ہر گروہ کو اسی مضمون کا خط ملا اوروہ اپنے اپنے شہر واپس چلا گیا اس طرح خلیفہ کے گھر کا محاصرہ ختم ہوگیا اور لوگ آزادانہ طور پر آنے جانے لگے۔(۱)

انقلابیوں کے چلے جانے کے بعد، امام نے دوبارہ خلیفہ سے ملاقات کی اوران سے کہا: تم پر ضروری ہے کہ تم لوگوں سے بات کرو تاکہ وہ لوگ تمہاری باتوں کو سنیں اور تمہارے حق میں گواہی دیں، کیونکہ انقلاب کی آواز تمام اسلامی ملکوں تک پہونچ چکی ہے اور بعید نہیں کہ دوسرے شہروں سے پھر کئی گروہ مدینہ پہونچ جائیں اور پھر دوبارہ تم مجھ سے درخواست کرو کہ میں ان سے بات کروں۔ خلیفہ کوحضرت علی کی صداقت پر پورا بھروسہ تھا لہٰذا گھر سے باہر آئے اوراپنے بے جا کاموں کی وجہ سے شرمندگی کا اظہار کیا۔

امام نے اتحاد مسلمین اور مقام خلافت کی عظمت کے لئے بہت بڑی خدمت انجام دی، اگر عثمان اس کے بعد حضرت علی کی ہدایت و رہنمائی پر عمل کرتے تو کوئی بھی واقعہ ان کے ساتھ پیش نہ آتا، لیکن افسوس خلیفہ ارادے کے ضعیف اور بے جا بولنے والے تھے اور ان کو مشورہ دینے والے حقیقت شناس اور سچے نہ

______________________

(۱) الانساب ج۵ ص ۶۲۔


تھے اور مروان بن حکم جیسے افراد نے ان کی عقل و دور اندیشی کو چھین لیا تھا لہذا مصریوں کے چلے جانے کے بعد خلیفہ نے مروان کے شدید اصرار پر بہت ہی غیر شائستہ فعل انجام دیا، عثمان نے چاہاکہ مصریوں کے ساتھ اپنی ملاقات کودوسرے انداز سے پیش کریں اوراس طرح سے بیان کریںکہ مدینہ سے مصر شکایتیں پہونچی تھیںاور وہ لوگ یہاں تحقیق کرنے کے لئے آئے تھے اور جب ان لوگوں نے دیکھا کہ تمام شکایتیں بے اساس ہیں تو وہ لوگ اپنے وطن واپس چلے گئے۔

جب یہ بات لوگوں نے خلیفہ کی زبان سے سنی تو مخالفین کی طرف سے اعتراض و تنقیدہونے لگی، سب ان سے کہہ رہے تھے کہ خدا سے ڈرو! توبہ کرو! اعتراض اتنا شدید تھا کہ خلیفہ نے دوسری مرتبہ پھر اپنی باتیں واپس لے لیں، اور قبلہ کی طرف دونوں ہاتھ بلند کیا اور کہا:

''پروردگارا! میں پہلا وہ شخص ہوں جو تیرے پاس واپس آؤں گا''(۱)

______________________

(۱) تاریخ طبری ج۳ ص ۳۸۵، طبع اعلمی بیروت۔


انقلابیوں کے سرداروں کو قتل کرنے کا حکم دینا

قریب تھا کہ مصریوں کی آفت جائے کیونکہ وہ لوگ مدینے سے مصر کی طرف روانہ ہوچکے تھے لیکن راستے میں ''ایلہ'' نامی مقام پر لوگوں نے عثمان کے غلام کو دیکھا کہ مصر کی طرف جارہا ہے، ان لوگوں کو شک ہوا کہ شاید وہ عثمان کا خط لے کر مصرکے حاکم عبداللہ بن ابی سرح کے پاس جا رہا ہے اسی وجہ سے اس کے سامان کی تلاشی لینے لگے، اس کے پانی کے برتن میں سے رانگے (قلع) کا ایک پائپ نکلا جس کے اندر خط رکھا تھا ،خط میں حاکم مصر کو خطاب کرتے ہوئے لکھا تھا جیسے ہی عمر و بن بدیل مصر میں داخل ہو اسے قتل کردینا، اور کنانہ ، عروہ، اور ابی عدیس کے ہاتھوں کو کاٹ دینا اور اسی طرح خون میں تڑپتاہوا چھوڑ دینا اور پھر ان لوگوں کو پھانسی پر چڑھا دینا۔ خط دیکھنے کے بعد مصری اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکے، اور سب کے سب آدھے ہی راستے سے مدینہ واپس آگئے۔ اور علی علیہ السلام سے ملاقات کی اور انھیں خط دکھایا ۔ علی علیہ السلام خط لے کر عثمان کے گھر آئے اور اسے دکھایا عثمان نے قسم کھا کر کہا کہ یہ تحریر ان کے کاتب کی اور مہر انہی کی ہے لیکن وہ اس سے بے خبر ہیں، حقیقت میں بات یہی تھی کہ خلیفہ اس خط سے بالکل بے خبر تھے اور ان کے ساتھیوں مثلاً مروان بن حکم کا کام تھا خلیفہ کی مہر حمران بن ابان کے پاس تھی کہ اس کے بصرہ جانے کے بعد مہر مروان کے پا س تھی۔(۱) مصریوں نے خلیفہ کے گھر کا دوبارہ محاصرہ کرلیااور ان سے ملاقات کرنے کو کہا اور جب لوگوں نے عثمان کودیکھا تو اس سے پوچھا: کیا تم نے اس خط کو لکھا ہے؟ عثمان نے خدا کی قسم کھا کر کہا کہ مجھے اس کا کوئی علم نہیں ہے، گروہ کے نمائندہ نے کہا: اگر ایسا خط تمہاری اطلاع کے بغیر لکھا گیا ہے تو تم خلافت اور مسلمانوں کے امور کی ذمہ داری لینے کے لائق نہیں ہو، لہٰذا جتنی جلدی ہو خلافت سے کنارہ کشی اختیار کر لو، خلیفہ نے کہا کہ خدا نے جو لباس میرے بدن پر ڈالا ہے اسے میں ہرگز اتار نہیں سکتا، مصریوں کے انداز گفتگو نے بنی امیہ کو ناراض کردیا ، لیکن بجائے اس کے کہ اصلی علت کو بیان کریں، علی کے علاوہ انھیں کوئی اور نظر نہیں آیا اور مصریوں کی طرف سے مقام خلافت پرہونے والی جسارت کا الزام ان پر لگایا، امام نے ان لوگوں کوتیز ڈانٹا اور کہا کیا تم نہیں جانتے کہ اس وادی میں میرے پاس کوئی اونٹ نہیں ہے یعنی مرا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہے اس وقت کہا:

______________________

(۱) مروج الذہب ج۲ ص ۳۴۴۔


محاصرہ میں خلیفہ کا مختلف لوگوں کو خط بھیجنا

عثمان نے محاصرہ کے ایام میں معاویہ کو خط لکھا کہ مدینے کے لوگ کافر ہوگئے ہیںاور بیعت کو توڑ دیا ہے لہٰذا جتنی جلدی ہوسکے اچھے جنگ کرنے والوں کو مدینہ روانہ کرو، لیکن معاویہ نے عثمان کے خط کو کوئی اہمیت نہ دی، اور کہا کہ میں پیغمبر کے صحابیوں کی مخالفت نہیں کروں گا۔ خلیفہ نے مختلف خط یزید بن اسد بجلی کو شام اور عبد اللہ بن عامر کو بصرہ بھیجا اوراسی طرح حج کے موسم میں تمام حاجیوں کے نام خط لکھا ،اس سال حاجیوں کے سرپرست ابن عباس تھے، لیکن کوئی بھی مؤثر ثابت نہ ہوا، کچھ لوگ خلیفہ کی مدد کے لئے گئے لیکن مدینہ پہونچنے سے پہلے ہی ان کے قتل سے آگاہ ہوگئے۔

عثمان کے قتل میں جلدی،مروان کی غلط تدبیر کا نتیجہ تھا

محاصرہ کرنے والے خلیفہ کے گھر پر حملہ نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ ان لوگوں کی صرف یہ کوشش تھی کہ کھانا پانی گھر میں نہ پہونچے تاکہ خلیفہ اور ان کے ساتھی محاصرہ کرنے والوں کی بات مان لیں ، لیکن مروان کی یہ غلط تدبیر کہ انقلابیوں پر حملہ کر کے ایک شخص یعنی عروہ لیثی کو اپنی تلوار سے قتل کر ڈالنا یہی سبب بنا کہ تمام محاصرین خلیفہ کے گھر میں داخل ہوجائیں ۔ اس اجتماعی ہجوم میں خلیفہ کے تین ساتھی عبد اللہ بن وہب، عبد اللہ عوف اور عبد اللہ بن عبدالرحمن مارے گئے۔ ہجوم کرنے والے عمر و بن حزم انصاری کے گھر سے دار الخلافہ پر چڑھے اور خلیفہ کے آنگن میں اتر گئے، گھر کے اندر عثمان کا غلام ناقل، مالک اشتر اور عمر و بن عبید کے ہاتھوں مارا گیا۔ حملہ اتنا شدید تھا کہ بنی امیہ، جو خلیفہ اور ان کے ساتھیوں کی حفاظت کرنے والے تھے سب کے سب بھاگ گئے اور رسول کی بیوی ام حبیبہ (ابوسفیان کی بیٹی) نے ان لوگوں کو اپنے گھر میں چھپالیا،اسی لئے تاریخ میں یہ حادثہ ''یوم الدار'' کے نام سے مشہور ہے ،خلیفہ کا قتل محمد بن ابی بکر، کنانہ بن بشر تحبیبی، سودان بن حمر ان مرادی ، عمر و بن حمق اورعمیر بن صابی کے ہاتھوں ہوا۔ خلیفہ کے قتل کے وقت ان کی بیوی نائلہ نے اپنے کو اپنے شوہر کے زخمی نیم جان بدن پر گرادیاجس کی وجہ سے ان کی دو انگلیاں کٹ گئیں لیکن انہوں نے عثمان کا سر جدا ہونے سے بچالیا مگر ہجوم کرنے والوں کی تلواروں نے ان کا کام تمام کردیا۔ اور کچھ لمحوں بعد ان کا بے روح جسم گھر کے گوشے میں گراپڑاتھا۔


تیسری فصل

قتل عثمان کے بعد لوگوں کا حضرت علی ـ کی بیعت کرنا

خلیفۂ سوم کا پیغمبر کے صحابیوں کے ساتھ ناروا سلوک اور لوگوں کو بے جا تحفہ و ہدیہ دینا، اور حکومت کے امور کو بنی امیہ کے غیر شائستہ افراد کے ہاتھوں میں دینا وغیرہ یہ سب ان کے قتل کا سبب بنئ۔ ۱۸ ذی الحجہ ۳۵ ھ کو عثمان مصر اور عراق کے انقلابیوں اور پیغمبر کے صحابیوں کے ہاتھوں خود اپنے ہی گھر میں قتل کیا گیااور اس کے اصلی ساتھی اور محافظ انہیں تنہا چھوڑ کر مکہ فرار ہوگئے۔(۱) خلیفۂ سوم کے قتل کی خبر مدینہ اور اس کے اطراف کے مسلمانوں کے لئے بہت تعجب خیز تھی اور ہر شخص آئندہ کی رہبری کے لئے فکرمند تھا اور صحابہ میں سے کچھ لوگ مثلاً طلحہ و زبیر اور سعد وقاص وغیرہ اپنے آپ کو خلیفہ کے لئے نامزد کئے ہوئے تھے اور دوسروں سے زیادہ اپنے آپ کو خلافت کا مستحق سمجھ رہے تھے۔

انقلابیوں کو معلوم تھا کہ عثمان کے قتل کی وجہ سے اسلامی ملکوں کی حالت درہم برہم ہو جائے گی اسی وجہ سے ان لوگوں نے چاہا کہ جتنی جلدممکن ہواس خلاء کو پورا کردیں اور خلیفہ چننے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے پہلے اپنے وطن واپس نہیں جائیں۔ وہ لوگ ایسے شخص کی تلاش میں تھے جو ان پچیس سال میں اسلامی تعلیمات اور سنت پیغمبر کا وفادار رہا ہو اور وہ حضرت علی کے علاوہ کوئی اور نہ تھا، کیونکہ دوسرے لوگ کسی نہ کسی طرح سے اپنے کو حُب دنیا سے آلودہ چکے تھے اور کسی نہ کسی جہت سے عثمان کے کمزور پہلوئوںمیں مشترک تھے، طلحہ و زبیر اور ان کی طرح دوسرے افراد نے خلیفہ سوم کے زمانے میں دنیاوی امور تک پہنچے اور مال و دولت جمع کرنے اوراس شہر میں اور اس شہرمیں قصر حاصل کرنے میں مصروف تھیاور پیغمبر کی سنت بلکہ شیخین کی سنت کو بھی نظر انداز کرچکے تھے۔

باوجودیکہ حضرت علی کا نام سب سے زیادہ لوگوں کی زبان پر تھا اور جب خلیفہ کے گھر کو انقلابیوں نے محاصرہ کر رکھا تھا امیر المومنین پیغام پہونچانے کے لئے دونوں گروہوں کے درمیان مورد اعتماد تھے اور

______________________

(۱) تاریخ طبری ج۵ ص ۱۵۶ طبع بولاق۔


سب سے زیادہ کوشش کر رہے تھے کہ یہ مسئلہ اس طرح حل ہوجائے کہ اور دونوں گروہ راضی ہوں، لیکن جو علت سقیفہ کے ماجرے میں علی کو دور کرنے کی سبب بنی تھی، سب کے سب (غیر از جوانی) اسی حالت پر باقی تھی اور اگر انقلابیوں کا مصمم ارادہ اور لوگوں کا دبائونہ ہوتا تو وہی چیز چوتھی مرتبہ بھی امام کو اس مسئلہ سے جدا کردیتی اور خلافت کسی بزرگ صحابی کو مل جاتی اور معاشرہ کوالہی و حقیقی حکومت سے محروم کر دیتی۔

اگر عثمان کی موت فطری ہوتی اور مدینہ کی فضا اچھی ہوتی تو کبھی بھی بزرگ صحابہ جو عثمان کی خلافت کے زمانے میں بہت زیادہ مال ومقام کے مالک بن گئے تھے ، حکومت علی کی تائید نہیں کرتے اور جو شورٰی بنائی جاتی مل جل کر اس میں رخنہ اندازی کرتے، بلکہ سیاسی کھلاڑی ایسا رول اد کرتے کہ شورٰی بننے کی نوبت نہیں آتی اور خلیفہ وقت کو مجبور کرتے کہ جن کووہ لوگ پسند کرتے ہیں اسے خلیفہ بنائے جس طرح عمرکو ابوبکر نے خلافت کے لئے چنا تھا۔

یہ گروہ جانتا تھا کہ اگر علی علیہ السلام کی حکومت قائم ہوگئی تو ان کے تمام مال کو جمع کرالیں گے اور ان میں سے کسی کو کوئی کام نہیں سونپیں گے، ان لوگوں نے اس حقیقت کو امام کی نورانی پیشانی میں پڑھ لیا تھا اور حضرت کے مزاج سے پوری طرح واقف تھے لہٰذا جب آنحضرت نے طلحہ و زبیر کو کسی کام میں شامل نہیں کیا تو ان دونوں نے فوراً اپنے وعدے کو توڑ دیااور جنگ جمل کا محاذ قائم کردیا

جن وجوہات کی بنا پر امام کوسقیفہ میں حکومت سے دور کیا گیا وہ درج ذیل ہیں:

۱۔ حضرت علی کے ہاتھوں صحابہ کرام کے رشتہ داروں کا قتل۔

۲۔ بنی ہاشم اوردوسرے قبیلے خصوصاً بنی امیہ کے درمیان پرانی دشمنی۔

۳۔ حضرت علی کا سختی سے حدود الٰہی کاجاری کرنا۔

قتل عثمان کے بعد نہ صرف یہ وجوہات اپنی جگہ پر باقی تھیں بلکہ دوسری وجہیں بھی جو قدرت کے اعتبار سے ان سے کم نہ تھیںوہ بھی شامل ہو گئیں اوراس سے بھی اہم یہ تھا کہ پیغمبر کی بیوی عائشہ نے امام کی مخالفت کی تھی۔ عثمان کی حکومت کے زمانے میں عائشہ ایک اہم سیاسی شخصیت کی مالک تھیں۔


انھوں نے لوگوں کو کئی مرتبہ عثمان کو قتل کرنے کے لئے کہا تھا اور شاید اسی وجہ سے وہ کبھی پیغمبر کا لباس صحابہ کو دکھاتیں اور کہتیں تھیں کہ ابھی یہ لباس پرانا نہیں ہوا ہے لیکن ان کے دین میں تبدیلیاں ہوگئی ہیں۔(۱)

مسلمانوں کے درمیان جو عائشہ کا ا حترام تھا اور بہت زیادہ حدیثیں جو پیغمبر سے نقل کی تھیں وہ ان کے سیاسی فائدے ہونے کے لئے کافی تھیںاور اس شخص کے لئے زحمت کا باعث تھیں جو ان کی مخالفت کرتا تھا۔

عائشہ کی مخالفت حضرت علی علیہ السلام سے درج ذیل امور کی بنا پر تھی:

۱۔ علی نے داستان ''افک ''میں عائشہ کے طلاق کے بارے میں اپنی رائے دی تھی۔

۲۔ پیغمبر کی بیٹی اورفاطمہ کو حضرت علی سے کئی فرزند ہوئے لیکن پیغمبر کے ذریعے عائشہ کو کوئی اولاد نہ ہوئی۔

۳۔ عائشہ کو معلوم تھا کہ علی ان کے باپ کی خلافت سے راضی نہیں ہیں اور انھیں خلافت و فدک کا غاصب مانتے ہیں۔

ان کے علاوہ قبیلہ تیم سے طلحہ عائشہ کے پھوپھی زاد بھائی تھے اور زبیر ان کا بہنوئی (اسماء کے شوہر) تھے اور یہ دونوں خلافت پر قبضہ کرنے کے لئے پوری کوشش کر رہے تھے۔

حضرت علی کی حکومت سے عائشہ کی ناراضگی پر یہ درج ذیل داستان جسے طبری نے نقل کیا ہے بہت واضح و روشن ثبوت ہے۔

جب عثمان کا قتل ہوا توعائشہ مکہ میں تھیں اور اعمال حج انجام دینے کے بعد مدینہ روانہ ہوئیں، آدھے راستہ میں ''سرح'' نامی جگہ پر عثمان کے قتل اور مہاجرین و انصار کا علی کے ہاتھوں پر بیعت کرنے کی انہیں خبر ملی اور یہ خبر سن کر وہ اس قدر ناراض ہوئیں کہ موت کی آرزو کرنے لگیں اورکہا: اے کاش آسمان میرے سر پر گرجاتا، پھر وہیں سے مکہ واپس چلی گئیں اور کہا: عثمان مظلوم قتل ہوا ہے خدا کی قسم میں اس کے خون کا بدلہ لینے کے لئے اقدام کروں گی۔

عثمان کے قتل کی خبر دینے والے نے جرأت دکھاتے ہوئے کہا: آپ تو کل تک لوگوں سے کہتی تھیں کہ عثمان کو قتل کردو وہ کافر ہوگیا ہے ،کس طرح آج انہیں مظلوم سمجھ رہی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا:

______________________

(۱) تاریخ ابو الفداء ج۱ ص ۱۷۲۔


بلوائیوں نے پہلے ان سے توبہ کرائی ہے اور پھر انہیں قتل کیا ہے۔(۱)

انقلابیوں کی حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھوں پر بیعت

عوامل مذکور کی بنا پر ممین تھا کہ امام کو چوتھی مرتبہ بھی خلافت سے محروم کردیا جائے، انقلابیوں کی قدرت اور لوگوں کے دبائو نے ان منفی عوامل کو بے اثر کردیا اور پیغمبر اسلام کے صحابہ گروہی شکل میں علی کے گھر آئے اور آنحضرت سی کہا کہ خلافت کے لئے آپ سے بہتر کوئی شخص نہیں ہے۔(۲)

ابو مخنف کتاب ''الجمل'' میں لکھتا ہے:عثمان کے قتل کے بعد مسلمانوں کا ایساعظیم اجتماع مسجد میں ہوا کہ مسجد لوگوں سے بھر گئی ، اس اجتماع کا مقصد خلیفہ کا انتخاب تھا، مہاجرین و انصار کی عظیم شخصیتوں مثلاً عمار یاسر، ابو الھیثم بن یہان، رفاعہ بن رافع، مالک بن عجلان اور ابو ایوب انصاری وغیرہ نے رائے پیش کی کہ علی کے ہاتھوں پر بیعت کی جائے۔ سب سے پہلے عمار نے حضرت علی کے بارے میں جوگفتگو کی وہ یہ تھی ''تم لوگوں نے پچھلے خلیفہ کا حال دیکھ لیا ہے اگر تم نے جلدی نہیں کیا تو ممکن ہے پھر ایسی ہی مشکل میں گرفتار ہو جاؤ اس منصب کے لئے علی سب سے زیادہ شائستہ ہیں۔ اورتم سب ان کے فضائل اور سوابق سے آگاہ ہو، اس وقت پورے مجمع نے ایک آواز ہو کر کہا ہم ان کی ولایت و خلافت پر راضی ہیں اس وقت سب وہاں سے اٹھے اور حضرت علی کے گھر گئے۔(۳)

تمام افراد امام کے گھر جس انداز سے آئے تھے اس کی توصیف امام یوں بیان کرتے ہیں :''فتداکوا علیَّ تداک الابل الهیم یوم وردها و قدارسلها راعیها و خلعت مثانیها حتی ظننت انهم قاتلیَّ او بعضهم قاتل بعض ولد''

ان لوگوں کا اژدحام پیاسے اونٹ کی طرح تھا جسے شتر بان نے رسی کھول کر آزاد کر دیا ہو اسی طرح ہم پر ہجوم لائے کہ میں نے گمان کیا کہ شاید مجھے قتل کردیں یا ان میں سے بعض لوگ میرے سامنے بعض لوگوں کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔(۴)

______________________

(۱) تاریخ طبری ج۵ ص ۷۳، طبع بولاق۔----(۲) تاریخ طبری ج۵ ص ۱۵۲طبع بولاق۔

(۳) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۴ ص ۸۔-----(۴) نہج البلاغہ خطبہ۵۳۔


آنحضرت خطبہ شقشقیہ میں گھر میں داخل ہوتے وقت مہاجرین وانصار کے اژدحام کی اس طرح وضاحت کی ہے۔

''لوگ بجُّو (ایک درندہ جانور ہے) کی گردن کے بال کی طرح میرے اطراف جمع تھے اور ہر طرف سے مجھ پر ہجوم کئے ہوئے تھے ، یہاں تک کہ حسن و حسین بھیڑ میں دب گئے اور میرا لباس اورردا پھٹ گئی اورچاروں طرف سے بکریوں کے گلہ کی طرح مجھے گھیر لیا ، تاکہ میں ان کی بیعت کو قبول کروں۔(۱)

جی ہاں، امام نے ان کی درخواست کا جوا ب دیتے ہوئے فرمایا: تمہارا حاکم بننے سے بہتر یہ ہے کہ تمہارا مشاور بنوں ، ان لوگوں نے قبول نہیں کیا اورکہا، جب تک آپ کے ہاتھوں پر بیعت نہیں کرلیں گے آپ کو جانے نہیں دیں گے، امام نے کہا: جب تم لوگ اتنا اصرار کر رہے ہو تو ضروری ہے کہ بیعت مسجد میں انجام دی جائے، کیونکہ میری بیعت مخفیانہ اور بغیر تمام مسلمانوں کی مرضی کے نہیں ہونی چائیے ۔

مجمع کے آگے آگے چلتے ہوئے امام علی مسجد پہونچے مہاجرین وانصار نے ان کی بیعت کی، پھر دوسرے گروہ بھی مسجد میں پہونچے اور بیعت کی سب سے پہلے جن لوگوں نے امام کی بیعت کی وہ طلحہ و زبیر تھے پھر ان کے بعد ہر ایک نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ، صرف چند لوگوں نے بیعت نہیں کیا۔(۲)

سب کے سب آپ کی خلافت و رہبری پر راضی تھے لوگوں نے ۲۵ ذی الحجہ کو امام کے ہاتھوں پر بیعت کی۔(۳)

______________________

(۱) نہج البلاغہ، خطبہ ۳۔

(۲)وہ لوگ یہ ہیں محمد بن مسلمہ، عبداللہ بن عمر، اسامہ بن زید، سعد وقاص، کعب بن مالک، عبد اللہ بن سلام، طبری کے مطابق یہ سب کے سب عثمانی اور ان کے چاہنے والے تھے (تاریخ طبری، ج۵، ص ۱۵۳؛ اور بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ان لوگوں نے بیعت کیا تھا لیکن جنگ جمل میں شرکت نہیں کیا)

(۳) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۴، ص ۸۹۔


حقیقی بیعت

اسلامی خلافت کی تاریخ میں کوئی بھی خلیفہ حضرت علی کی طرح تمام لوگوں کی رائے سے منتخب نہیں ہوا، ان کا انتخاب مہاجرین و انصار میں سے صحابہ ، قرّائ، صلحائ، فقہا و غیرہ کے ذریعے نہیں ہوا تھا، یہ صرف امام کی واحد شخصیت ہے جو سب کی مرضی سے منتخب ہوئے دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ خلافت و رہبری اس طرح سے حضرت علی تک پہنچی۔

امام اپنے ایک کلام میں بیعت کرنے والوں کے اژدحام اور لوگوں کی طرف سے بہترین استقبال او ربیعت کے متعلق فرماتے ہیں:

''حتی انقطعت النعل و سقط الرّداء ووُطیء الضعیف و بلغ من سرور الناس ببیعتهم ایای ان ابتهج بها الصغیر و هدج الیها الکبیر و تحامل نحوها العلیل و حسرت الیها الکعاب'' (۱)

جوتے کا بند (فیتا) ٹوٹ گیا ، عبا کاندھوں سے گرگئی، او رکمزور لوگ بھیڑ میں دب گئے اور میرے ہاتھوں پر بیعت کرنے کے بعد لوگوں کی خوشی کا عالم یہ تھا کہ بچے خوش ہوئے اور بوڑھے ا ور ناتواں میری بیعت کے لئے آئے اور لڑکیوںنے اس بیعت کا منظر دیکھنے کے لئے اپنے چہروں سے نقابیں پلٹ دیں۔عبد اللہ بن عمر نے امام کی بیعت نہیں کی، اسے کیا معلوم کہ خلافت لینا امام کا ہدف و مقصد نہیں ہے اور کبھی بھی اس کے لئے جنگ و جدال نہیں کیا بلکہ صرف اور صرف حق کے قیام اور عدالت کو جاری کرنے اور مجبوروں اور لاچاروںکے حقوق کی ادئیگی کے لئے منصب خلافت کو قبول کیاہے۔

بیعت کے دوسرے دن یعنی ۲۶ ذی الحجہ ۳۵ ھ کو عبد اللہ امام کے پاس اس ارادے سے آیا کہ شک و وسوسہ کے ذریعہ امام کو خلافت سے دور کردے۔ اس نے کہا: بہتر ہے کہ آپ خلافت چھوڑ دیں اور شوریٰ کے حوالے کردیں کیونکہ تمام لوگ آپ کی خلافت پرراضی نہیں ہیں۔

امام نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا: تجھ پر افسوس، میں نے ان لوگوں سے نہیں کہا تھا کہ میری بیعت کریں ۔ کیا تم نے ان لوگوں کا اژدحام نہیں دیکھا؟ اے نادان اٹھ اور دور ہوجا۔ عمر کے بیٹے نے جب مدینہ کے حالات کو اپنے لئے بہتر نہ پایا تو مکہ چلا گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ مکہ خدا کا حرم اور جائے امن ہے اور امام وہاں کا ہمیشہ احترام کریں گے۔(۲)

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ، عبدہ خطبہ، ۲۲۴۔----(۲) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۴ ص ۱۰۔


صحیح تاریخ اور امام کے اقوال اس بات کی حکایت کرتے ہیں کہ امام ـ کی بیعت کرنے میں لوگوں پر کوئی جبر و زبردستی نہیں تھی اور بیعت کرنے والوں نے اپنی پوری رضایت سے، اگرچہ مختلف اہداف کے تحت، علی کے ہاتھوں پر بعنوان رہبر بیعت کی، خود طلحہ و زبیر، جو اپنے کو حضرت کا مثل سمجھتے تھے، بیعت سے استفادہ کرنے یا لوگوں کی مخالفت کی وجہ سے مہاجر و انصار کے ساتھ امام ـ کے ہاتھوں پر بیعت کی، طبری نے ان دونوں کی بیعت کے سلسلے میں دو طرح کی روایت نقل کی ہے ،لیکن وہ روایتیں کو جو اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ ان لوگوں نے امام کے ہاتھوں پر بیعت اپنی رضایت سے کیا تھا دوسری طرح کی روایت سے زیادہ اور شاید یہی وجہ ہوئی کہ اس عظیم مورخ نے دوسری روایت سے زیادہ پہلی روایت پر اعتماد کیا ہے۔(۱)

امام کا کلام پہلی روایت کو ثابت کرتا ہے جس وقت ان دو آدمیوں نے اپنے عہد و پیمان کو توڑا اور سنگین جرم کے مرتکب ہوئے تو ان دونوں نے لوگوں کے درمیان مشہور کردیا کہ ہم لوگوں نے شوق و رغبت سے بیعت نہیں کی تھی۔ امام نے دونوں کا جواب دیا:''زبیر کی فکر یہ ہے کہ اس نے اپنے ہاتھوں سے بیعت کی ہے نہ کہ اپنے دل سے، ہرگز ایسا نہیں تھا بلکہ اس نے بیعت کا اعتراف کیا اور اپنی رشتہ داری کا دعوی کیا۔ اسے چاہئے کہ جو کچھ اس نے کہا ہے اس پر دلیل پیش کرے، یا یہ کہ جس بیعت کو اس نے توڑ دیا ہے دوبارہ اس بیعت کو انجام دے۔(۲)

امام نے طلحہ و زبیر کے ساتھ گفتگو کر کے اس مسئلہ کو اور بھی واضح کردیا ہے اور لوگوں نے جو بیعت کے لئے اصرار کیا ہے اس کے بارے میں فرمایا :

''واللّه ما کانت لی فی الخلافة رغبة و لا فی الولایة اربة و لکنکم دعوتمونی الیها و حمَّلتمونی علیها'' (۳)

خدا کی قسم مجھے خلافت سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور اس میں میرا کوئی مقصد نہ تھا تم لوگوںنے اس کے لئے دعوت دی۔ اور خلافت لینے کے لئے بہت اصرار کیا۔

______________________

(۱) تاریخ طبری ج۵ ص ۱۵۳۔ ۱۵۲، طبع بولاق، اس مطلب کو تین طریقے سے نقل کیا ہے۔

(۲) شرح نہج البلاغہ عبدہ، خطبہ، ۷۔------(۳) شرح نہج البلاغہ عبدہ، خطبہ ۲۰۰۔


جھوٹی تاریخ

سیف بن عمر ان جھوٹے مئورخوںمیں سے ہے جس نے اپنی روایتوں میں تاریخی چیزوں کو جعلی اور بے اساس مطالب سے بدلنے کی کوشش کی ہے وہ اس سلسلے میں کہتا ہے کہ طلحہ و زبیر نے مالک اشتر کی تلوار سے ڈر کر بیعت کی تھی۔(۱)

یہ مطلب ، طبری کے اس مطلب سے بالکل برعکس ہے جسے اس نے پہلے نقل کیا ہے اور خود امام کے کلام سے مطابقت نہیں رکھتا ،آزادی اور امام علیہ السلام کی حکومت کے بالکل خلاف ہے جن چند لوگوں نے امام کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی تھی امام نے انھیںان کے حال پر چھوڑ دیا، اور ان سے کوئی واسطہ نہ رکھا، یہاں تک کہ جب امام ـ سے کہا گیا کہ کسی کو ان کے پاس بھیجیں تو امام نے جواب دیا۔ مجھے ان کی بیعت کی ضرورت نہیں ہے۔(۲)

تاریخ طبری ''مستند'' ہے اور ان روایتوں کی سندیں مشخص ہیں لہذا جھوٹی اور بے اساس روایت کی شناخت ممکن ہے، اس طرح کی روایتوں کاہیرو سیف بن عمر ہے جس کا مقصد خلفاء ثلاثہ کے لئے فائدہ پہنچانا اور خاندان رسالت کو نقصان پہنچانا ہے ۔

ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب ''تہذیب التہذیب'' میں سیف ابن عمر کے بارے میں لکھا ہے :

''وہ جعلی اور جھوٹی خبریں گڑھنے والا آدمی ہے، دانشمندوں کی نظر میں اس کی بیان کردہ تمام باتیں غیر معتبر اور تمام حدیثیں بے کار ہیں اوراس پر زندیق ہونے کا الزام بھی ہے۔(۱)

لیکن افسوس کہ اس کی جعلی روایتیں تاریخ طبری کے علاوہ تمام تاریخی کتابوں مثلاً تاریخ ابن عساکر، کامل ابن اثیر، البدایہ و النہایہ اورتاریخ ابن خلدون وغیرہ میں موجود ہیںسب نے بغیر تحقیق کے طبری کی پیروی کی ہے ان لوگوںنے خیال کیا ہے کہ جو کچھ طبری نے نقل کیا ہے وہ عین حقیقت ہے۔

______________________

(۱) تاریخ طبری، ج۵، ص ۱۵۷۔

(۲) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۴، ص ۹ ۔

(۳) تہذیب التہذیب ج۴ ص ۲۹۶۔


اختلافات کی جڑ

امام کوعثمان کی تیرہ سالہ حکومت سے جو چیز ملی وہ بہت زیادہ نعمتیں اور مال غنیمت تھے جو مسلمانوںکو مختلف ملکوں سے حاصل ہوتے تھے، علی علیہ السلام کے لئے مال غنیمت اور زیادہ نعمتیں ایسی مشکل نہ تھی کہ امام اسے حل نہیں کر سکتے تھے مبلکہ مشکل یہ تھی کہ انہیں کیسے تقسیم کیا جائے ، کیونکہ خلیفۂ دوم کی حکومت کے آخری زمانے اور عثمان کے دور حکومت میں پیغمبر کی سنت اور خلیفہ اول کے طور و طریقے میں تبدیلی آگئی تھی۔ اور ایک گروہ نے زور زبردستی یا خاندان خلافت سے وابستگی کی بناء پر مال غنیمت کو اپنا مال سمجھ رکھا تھا جس کی وجہ سے شدید طبقاتی اختلاف اور عجیب وناراضگی رونما ہوگئی تھی۔

پیغمبر اسلام کے زمانے اور خلیفہ اول کے زمانے میں ۱۵ھ(۱) یا ۲۰ھ(۲) تک مال غنیمت جمع نہیں کیا جاتا تھا، بلکہ فوراً ہی اسے مسلمانوں کے درمیان مساوی تقسیم کردیا جاتاتھا، لیکن خلیفۂ دوم نے بیت المال تاسیس کیا، اور لوگوں کا حسب مراتب وظیفہ معین کیا اور اس کام کے لئے ایک خاص رجسٹر بنایا گیا ابن ابی الحدید نے مسلمانوں کے حقوق کی مقدار کواس طرح بیان کیا ہے۔

پیغمبر کے چچا حضرت عباس کے لئے ہر سال ۱۲ ہزار ، پیغمبر کی ہر بیوی کے لئے۱۰ہزار اور عائشہ کے لئے ۲ ہزار اضافی، مہاجرین میں سے اصحاب بدر کے لئے ۵ ہزار ، اور انصار کو ۴ہزار اصحاب احد اور حدیبیہ کے لئے ۴ہزار اور حدیبیہ کے بعد کے اصحاب کے لئے ۳ہزار ، اور جن لوگوں نے پیغمبر کے انتقال کے بعد جنگوںمیں شرکت کی تھی رتبے کے اعتبار سے ۲۵۰۰ ۲۰۰۰ ۲۰۰۱۵۰۰ وظیفے معین ہوئے۔(۱)

عمر کا یہ دعویٰ تھا کہ اس طرح سے ہم اشراف کو اسلام کی طرف جذب کریں گے ، لیکن اپنی عمر کے آخری سال میں کہا کہ اگر میں زندہ بچ گیا تو جس طرح سے پیغمبر مال و دولت کو برابر برابر تقسیم کرتے تھے میں بھی اسی طرح مساوی تقسیم کروں گا۔(۲)

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن الحدید طبع مصر ج۳ ص ۱۵۴۔

(۲) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲ ص ۱۴۳۔


عمر کے اس کام سے اسلام میں طبقاتی نظام پیدا ہوگیا اور عثمان کے دور میں یہی نظام بہت زیادہ اوراختلاف بہت عمومی ہوگیا۔

علی علیہ السلام جو ایسے ماحول میں خلیفہ منتخب ہوئے تھے چاہتے تھے کہ لوگوں کو پیغمبر کی روش کی طرف دوبارہ واپس پلٹا دیں اور طبقاتی نظام کو لوگوں کے درمیان سے ختم کردیں اور مال غنیمت کو برابر برابر تقسیم کریں ۔ یقینا آپ کو اس سلسلے میں بہت زیادہ مشکلیںپیش آئیں ، کیونکہ مال غنیمت کو لوگوں کے درمیان برابر برابر تقسیم کرنے سے کچھ لوگوں کے منافع خطرے میں پڑ جاتے۔


چوتھی فصل

حضرت علی علیہ السلام سے مخالفت کے اسباب

امام علی کے انتخاب کے بعد مسلمانوں کے درمیان جو اختلاف و جدائی پیدا ہوئی وہ بالکل الگ تھی اور خلفاء ثلاثہ کے دور اقتدار میں کبھی بھی ایسا اختلاف نہیں تھا، یہ بات حقیقت ہے کہ خلیفۂ اول اختلاف اور جھگڑے کے ذریعے منتخب ہوئے اور انہیں ان لوگوںکے اعتراضات کا سامنا کرنا پڑاجو خلافت کو خدا کی جانب سے انتصابی مقام جانتے تھے لیکن زیادہ دنوں تک یہ سلسلہ باقی نہ رہا اورحالات ٹھیک ہوگئے اور مخالف گروہوں نے اسلام کی عالیترین مصلحتوں کے مد نظر اپنی زبانوں کو بند کر رکھا اور اپنے حقوق کو نظر انداز کردیا۔

خلیفہ اول و دوم کا انتخاب اگرچہ بغیر اختلاف کے نہ تھا مگر کچھ ہی دنوں میں شور و غل ختم ہوگیا اور دونوں خلیفہ نے حالا ت پر قابو پالیا، لیکن حضرت علی علیہ السلام کے خلیفہ بننے کے بعد ایک گروہ کھلم کھلا مخالفت کرنے لگا اور امت کے درمیان سخت ترین شگاف پیدا کردیا۔حضرت علی علیہ السلا م کی حکومت سے مخالفت کی وجہ بہت قدیمی تھی مخالفوں کے رشتہ دار حضرت علی کے ہاتھوں جنگوں میں مارے جاچکے تھے۔ بیعت کے دن ولید بن عتبہ نے علی علیہ السلام سے کہا ، میرے باپ جنگ بدر میں تمہارے ہاتھوں سے قتل ہوئے تھے اور کل تم نے میرے بھائی عثمان کی حمایت نہیں کی اور اسی طرح سعید بن العاص کا باپ بھی جنگ بدر کے دن تمہارے ہاتھوں قتل ہوا ہے اور تم نے مروان کو عثمان کے سامنے بیوقوف اور کم عقل بتایاہے۔لیکن اصل میں جن چیزوں کو مخالفین نے بہانہ بنایا وہ دو مسئلے تھے:

۱۔ بیت المال کے تقسیم کرنے میں تبعیض اورفرق کو ختم کرنا۔

۲۔ خلیفہ سوم کے غیر شائستہ نمائندوں کو معزول کرنا۔

یہی دو موضوع سبب بنے کہ دنیا پرست اور جاہ و مقام پرست گروہ امام ـ کی مخالفت میں اٹھ کھڑا ہوا تاکہ اپنے مال و دولت کو جو ناحق طریقے سے جمع کیا تھا علی کی جمع آوری سے محفوظ کرلیں۔

امام ـ چاہتے تھے کہ اپنے زمانۂ حکومت کو رسول اسلام کے دور حکومت کی طرف پلٹا دیں، اور آپ کی سیرت و رہبری کو مکمل طور پر زندہ کریں۔ لیکن افسوس رسول خدا کے زمانے کا تقویٰ اور پرہیزگاری لوگوں کے درمیان سے ختم ہوچکا تھا ۔ اخلاق عمومی بدل چکا تھا اور لوگ پیغمبر کے طور طریقے کو بھول گئے تھے معاشرے اور لوگوں کے درمیان غیر مناسب تبعیض رسوخ کرچکی تھی اور حکومت کی باگ ڈور ناشائستہ اور غیر صالح افراد کے ہاتھوں میں تھی۔


عمر کی معین کردہ شوریٰ میں قریش کے سرمایہ دار عبد الرحمن بن عوف نے علی علیہ السلام سے درخواست کی کہ اگر خدا کی کتاب او رسنت پیغمبر اور شیخین کی سیرت پر عمل کریں تو میں آپ کی بیعت کروں گا۔ لیکن حضرت علی نے اس شرط کو قبول نہیں کیا اور اس سے کہا: خدا کی کتاب اور سنت پیغمبر اور اپنی تشخیص پر عمل کروںگا نہ کہ سابق کے دونوں خلیفہ کی سیرت پر۔ امام کا عبدالرحمن بن عوف کی پیشنہاد کو نہ ماننا سبب بناکہ حضرت بارہ سال تک حکومت سے محروم رہیں اورعثمان حکومت کی ذمہ داری اپنے ہاتھوں میں لیں۔اب جب کہ حکومت امام ـ کے ہاتھوں میں تھی ، وقت آگیا تھا کہ بیت المال کی تقسیم میں پیغمبر اسلام کی سنت کو زندہ کیا جائے، بیت المال کے سلسلے میں پیغمبر کاطریقہ کار یہ تھاکہ کبھی بھی مال کو ذخیرہ نہیں کرتے تھے بلکہ تمام مال کو برابر مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردیا کرتے تھے اورعجم ، عرب، کالے، گورے میںکوئی فرق نہیں رکھتے تھے۔

بیت المال تقسیم کرنے سے پہلے حضرت علی علیہ السلام کا خطبہ:

حضرت علی علیہ السلام نے بیت المال کو تقسیم کرنے کا حکم دینے سے پہلے خطبہ ارشاد فرمایا :

''اے لوگو! کوئی بھی شخص ماں کے پیٹ سے غلام اور کنیز پیدا نہیں ہوا بلکہ سب کے سب آزادپیدا ہوئے ہیں خداوند عالم نے تم میں سے بعض کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اور جو مشکلوں میں گرفتار ہے اسے چاہئے کہ صبر و تحمل سے کام لے اور صبر و تحمل کے ذریعہ خدا پر احسان نہ کرے، اس وقت بیت المال ہمارے سامنے حاضر ہے اور اسے کالے، گورے، دونوں کے درمیان برابر برابر تقسیم کروں گا''۔(۱)

جب امام ـ کا بیان یہاں تک پہونچا تو مروان نے طلحہ و زبیر سے کہا: علی کے اس کلام سے مراد تم لوگ ہو او رتمہارے اوردوسروں میں کوئی فرق نہ ہوگا۔

______________________

(۱) اصول کافی، ج۸، ص ۶۸۔


اسکافی نے اپنی کتاب ''نقض عثمانیہ'' جو کتاب عثمانیہ (تالیف جاحظ) پر نقد ہے میں امام ـ کے کلام کو مکمل وضاحت کے ساتھ نقل کیا ہے، وہ لکھتا ہے:

علی بیعت کے دوسرے دن یعنی ۱۹ ذی الحجہ ۳۵ ھ بروز شنبہ منبر پر گئے اور ایک مفصل تقریر کرتے ہوئے فرمایا:

''اے لوگو! میں تمہیں پیغمبر کے بہترین راستے پر گامزن کروں گا اور معاشرے میں اپنے قانون کو نافذ کروں گا۔ جو کچھ میں حکم دوں اس پر عمل کرو اور جس سے منع کروں اسے انجام نہ دو (پھر منبر ہی پر سے آپ نے داہنے اور بائیں طرف نگاہ کی اور فرمایا)

اے لوگو! جب بھی میں اس گروہ کو جو دنیا کی محبت میں غرق ہے اور بہت زیادہ مال و دولت، پانی و سواری اور غلاموں اور خوبصورت کنیزوں کا مالک ہے اگر اسے دنیاوی محبت سے نکال کر شرعی حقوق سے آشنا کروں تو وہ لوگ مجھ پر اعتراض نہ کریں اور یہ نہ کہیں کہ ابوطالب کے بیٹے نے ہم لوگوں کو اپنے حقوق سے محروم کردیا ہے جو لوگ یہ فکر کرتے ہیں کہ پیغمبر کی ہمنشینی کی وجہ سے دوسروں پر فضیلت رکھتے ہیں تو انھیں جان لینا چاہیئے کہ ملاک فضیلت کوئی اور چیز ہے صاحب فضیلت وہ شخص ہے جو خدا اور پیغمبر کی آواز پر لبیک کہے اور قوانین اسلام کو قبول کرے ایسی صورت میں تمام لوگ حقوق کے اعتبار سے دوسروں کے برابر ہو جائیں گے تم لوگ خدا کے بندے ہو اور مال، خدا کا مال ہے اور تم لوگوں کے درمیان برابر برابر تقسیم ہوگا ۔ اور کوئی بھی کسی دوسرے پر فضیلت نہیں رکھتا، کل تم لوگوں کے درمیان بیت المال تقسیم ہوگا اس میں عرب و عجم دونوں برابر ہوں گے۔(۱)

بیت المال تقسیم کرنے کا طریقہ

امام ـ نے اپنے کاتب عبید اللہ بن ابی رافع(۲) کو حکم دیا کہ مہاجرین و انصار میں سے ہر ایک کو تین تین دینار دیدو۔

_____________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۷، ص ۳۷۔

(۲) ابو رافع کا گھر اصل شیعہ اور بزرگ خاندان میں سے ہے جو ابتدا سے خاندان رسالت سے محبت کرتا ہے اور ابورافع خود پیغمبر کے صحابیوں میں سے ہے اور علی کا چاہنے والا ہے۔


اس وقت سہل بن حنیف انصاری نے اعتراض کیااور کہا: کیایہ بات مناسب ہے کہ ہم اس کالے آدمی کے برابر و مساوی ہوںجو کل تک ہمارا غلام تھا؟امام ـ نے اس کے جواب میں کہا کہ قرآن کریم میں اسماعیل (عرب) کے فرندوں اور اسحاق کے فرزندوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

گذشتہ حکمرانوں کی معزولی

امام ـ کا اہم ترین سیاسی فیصلہ یہ تھا کہ پچھلے خلیفہ کے معین کردہ حاکموں کو جن میںسر فہرست معاویہ تھا کو معزول کردیں۔ جب سے حضرت علی علیہ السلام نے خلافت کو قبول کیا اسی دن سے سوچ لیا تھا کہ عثمان کے زمانے کے جتنے بھی حکمرانوںنے بیت المال اور دوسری چیزوں کواپنے خاص سیاسی مقصد اور غرض کے لئے استعمال کیا یا اسے اپنے یا اپنے بیٹوں سے مخصوص کردیا تھااور قیصر و کسریٰ کی طرح حکومت قائم کرلی تھی ان سب کو معزول کردیں گے ۔ امام ـ کا عثمان پر یہ اعتراض تھا کہ اس نے معاویہ کو حکومت شام کے لئے باقی رکھا تھا اور لوگوں نے کئی مرتبہ اس اعتراض کو امام ـ سے سنا تھا، امام ـ ۳۶ ھ کے اوائل ہی میں صالح اور متدین افراد کو اسلام کے بزرگ شہروں کے لئے معین کردیا تھا۔ عثمان بن حنیف کوبصرہ ، عمار بن شہاب کو کوفہ ، عبیداللہ بن عباس کو یمن ، قیس بن سعد کو مصراورسہل بن حنیف کو شام کے لئے معین کیا اور سہل بن حنیف جو آدھے راستے سے واپس آگیا اس کے علاوہ سبھی اپنے اپنے علاقوں میں پہنچے اور حکومت کی ذمہ داریوں کو سنبھالا ۔(۱)

گذشتہ حکمرانوں خصوصاً معاویہ کی معزولی کا چرچا اسی زمانے میں اور بعد میںبھی تھا،ناآگاہ افراد اس معزولی کو امام ـ کی سیاسی غلطی سمجھتے ہیں اور کہتے ہیںکہ چونکہ علی سیاسی مکرو فریب سے دور تھے اور جھوٹ او رظاہر سازی کو خداوند عالم کی مرضی کے خلاف سمجھتے تھے ۔ اس لئے انہوں نے معاویہ اوراس جیسوں کو حکومت سے معزول کردیا ، جس کے نتیجے میں تلخ حوادث سے دوچار ہوئے لیکن اگر آپ پچھلے حکمرانوں کو معزول نہ کرتے اور ان کو ایک زمانے تک باقی رکھتے اور پھر انھیں معزول کرتے تو کبھی بھی جمل، صفین نہروان کی جنگ سے سامنا نہیں کرتے، اور اپنی حکومت میں کامیاب ہوتے۔ یہ کوئی نئی بات

______________________

(۱) تاریخ طبری، ج۵، ص ۱۶۱۔


نہیں ہے بلکہ امام ـ کی حکومت کے اوائل ہی میں بعض لوگوں نے حضرت علی علیہ السلام سے یہ درخواست کی تھی لیکن آپ نے ان کی باتوں کو نہیں مانا تھا۔

مغیرہ بن شعبہ جو عرب کے چارسیاسی لوگوں میں سے ایک تھا جب امام ـ کے ارادے سے باخبر ہوا تو امام ـ کے گھر آیا اور آپ سے چپکے سے کہا: مصلحت یہی ہے کہ عثمان کے حکمرانوں کو ایک سال تک ان کے منصب پر باقی رہنے دیں ۔ اور جس وقت لوگوں سے آپ بیعت لیں او رآپ کی حکومت، خاور سے باختر'' تک قائم ہو جائے، اور مکمل طریقے سے حکومت کے حالات پر مسلط ہو جائیں اس وقت جس کو چاہے معزول کردیں اور جس کو چاہیں اس کے مقام پر باقی رکھیں۔

امام ـ نے اس کے جواب میں کہا:''واللّه لا أداهن فی دینی و لا أعطی الدنی فی أمری'' یعنی خدا کی قسم میں دین میں سستی نہیں کروں گا اور حکومت کے امور کو پست افراد کے ہاتھوں نہیں دوں گا۔

مغیرہ نے کہا: اگر آپ اس وقت میری بات عثمان کے تمام حکمرانوں کے متعلق قبول نہیں کرتے تو کم از کم معاویہ کو اس کے حال پر چھوڑ دیجئے تاکہ وہ شام کے افراد سے آپ کی بیعت لے، اور پھر اپنے اطمینان و سکون کی خاطر معاویہ کو اس کے منصب سے معزول کردیجیئے گا امام علیہ السلام نے فرمایا: خدا کی قسم، دودن کے لئے بھی اجازت نہیں دوں گا کہ معاویہ لوگوں کی جان و مال پر مسلط ہو۔


مغیرہ علی کا جواب سن کر مایوس ہوگیا اور آپ کے گھر سے چلا گیا دوسرے دن پھر امام ـ کے گھر آیا اور معاویہ کو معزول کرنے پر آپ کے نظریہ کی تائید کی اور کہا: آپ کے شایان شان یہ نہیں ہے کہ زندگی میں مکرو فریب سے داخل ہوں۔ جتنی جلدی ہو معاویہ کو بھی اس کے منصب سے معزول کردیں۔

ابن عباس کہتے ہیں: میں نے علی علیہ السلام سے کہا کہ اگر مغیرہ نے معاویہ کواس کے منصب پر باقی رہنے کی درخواست کی ہے تو اس کا مقصد صرف اچھائی اور بہترین مصلحت کے علاوہ کچھ نہیں ہے لیکن اپنی دوسری درخواست میں اس کے برخلاف ہدف رکھتا ہے لیکن میری نظر میں مصلحت یہی ہے کہ معاویہ کو اس کے منصب سے دور نہ کریں۔ اورجب تمہاری بیعت کرلے اور شام کے لوگوں سے تمہارے لئے بیعت لے تو میں خود اسے شام سے باہر کردوں گا، لیکن امام ـ نے ان کی درخواست کو بھی قبول نہیں کیا۔(۱)

اب وقت آگیا ہے کہ خلیفہ سابق کے حکمرانوں کی معزولی، خصوصاً معاویہ کی معزولی کو سیاسی،سماجی اسلامی معاشرے کی مصلحت، اسی طرح خود امام ـ کی مصلحتوں کا جائزہ لیں۔

اس سے ہٹ کر کہ غیر صالح سابقہ حکمرانوں کو باقی رکھنااسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کے خلاف تھا کیا سیاسی اصول اور مملکتی امور کی تدبیر حکمرانوں کے باقی رکھنے میں تھی یا یہ کہ یہاں تقویٰ اور سیاست ایک تھی۔ اور اگر امام ـ کے علاوہ کوئی اورمسند خلافت پر بیٹھتا جب بھی سابق حکمرانوں کی معزولی کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا؟ اگر عثمان کے بعد معاویہ خلافت کے لئے منتخب ہوتا، تب بھی سابق حکمرانوں کی معزولی کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوتا؟

______________________

(۱) تاریخ طبری، ج۵، ص ۱۶۰۔


معاویہ کی معزولی میں امام ـ کی عجلت کی وجہ

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بعض لوگ مثلاً معاویہ جیسے افراد کو منصب پر باقی رکھنا تقویٰ اور طہارت و پاکیزگی کے برخلاف تھا اور امام ـ تمام چیزوں سے باخبر تھے لیکن اصل بحث یہ ہے کہ ایسے افراد کا باقی رکھنا سیاست و تدبیر اور دور اندیشی کے مطابق تھا؟ اگر فرد غیر متقی ،امام ـ کی جگہ ہوتا اور اسی گروہ کے ذریعہ منتخب ہوتا جس کے ذریعے امام منتخب ہوئے تو کیاایسے افراد کو اس کے مقام و منصب پر باقی رکھتا؟ یایہ کہ امام ـ کی دور اندیشی اور شخصی مصلحت (تقوی اور اسلام کے عالی مصلحت کے علاوہ) کابھی تقاضا تھا کہ ایسے افراد کو ان کے منصب و مقام سے دور کردیاجائے اور اسلام کے حساس شعبوں کو ایسے افراد کے سپرد کیا جائے جو مسلمانوں اورانقلابیوں کی مرضی کے مطابق ہو؟بعض لوگ پہلے نظریہ کے موافق ہیںان کا کہنا ہے کہ امام ـ کے تقوے کی وجہ سے لوگ اسلامی منصب سے دور ہوئے، ورنہ امام ـ کی شخصی مصلحت کا تقاضا تھا کہ معاویہ کو نہ چھیڑیں اور مدتوں اس کے ساتھ نرم برتاؤ کرتے رہیں تاکہ جنگ صفین و نہروان جیسے حادثوں سے روبرو نہ ہوں۔لیکن دوسرے محققین مثلاً مصر کے عظیم دانشورعباس محمود عقادامؤلف ''کتاب عبقریة الامام علی'' اسی طرح اس دور کے اہل قلم حسن صدر دوسرے نظریہ کی تائید کرتے ہیں اوردلیلوں کے ذریعے ثابت کرتے ہیں کہ اگر امام ـ اس کے علاوہ کوئی صورت اپناتے تو بہت زیادہ مشکلات سے دو چار ہوتے اور معاویہ اور اس کے مانند افراد کی معزولی امام ـ کے تقوے کے مطابق تھی، بلکہ حکومت کی دور اندیشی اور آئندہ نگری اس بات کا تقاضہ کر رہی تھی کہ ایسے فاسد عناصر کو خلافت سے دور کردیں۔یہ بات صحیح ہے کہ معاویہ کو معزول کرنے کے بعد امام ـ شامیوں کی مخالفت کی وجہ سے بہت سی مشکلوں سے روبرو ہوئے لیکن اگر اس کو معزول نہ کرتے تو صرف شامیوں کی ہی مخالفت سے دوچار نہ ہوتے بلکہ مظلوم انقلابیوں کی مخالفت سے امام ـ کو روبرو ہونا پڑتا اور یہی سبب بنتا کہ دن بہ دن مخالفتیں بڑھتی رہتیں اور اسلامی معاشرہ میں اس سے بھی زیادہ اختلاف ہوتا۔یہاں مناسب ہے کہ ان دلیلوں کو بھی پیش کردوں۔

۱۔ امام ـ محروم اور مظلوم انقلابیوں کے ذریعے منصب خلافت پر آئے تھے جو عثمان کے ظلم و بربریت سے تنگ آکر مدینہ میں جمع ہوگئے تھے اورانھیں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا مظلوم انقلابیوں کے غیظ و غضب کا یہ عالم تھا کہ طلحہ و زبیر جیسے افراد کو بھی خاموش کردیاتھا اور حضرت علی کی بیعت کے لئے آمادہ کرلیا تھا۔

اس انقلابی گروہ نے امام ـ کے ہاتھوں پر اس مقصد کے تحت بیعت کی تھی کہ اسلامی ملک میں ہٹ دھرمی ، خود غرضی اور انانیت کا خاتمہ ہو جائے اور فساد و تباہی برپا کرنے والوں حکومت متزلزل ہو جائے۔


اس گروہ کے ساتھ محترم و متدین صحابہ بھی تھے جو پچھلے خلیفہ سے مکمل طور پر ناراض تھے لیکن خاموشی اور کنارہ کشی اختیار کئے ہوئے تھے اور خلیفہ کے قتل ہونے کے بعد امام علی علیہ السلام کے ہاتھوں پر بیعت کیاتھا۔

ادھر معاویہ کا ظلم و جور کسی پر پوشیدہ نہ تھا اگر علی علیہ السلام نے اس سلسلے میں کوتاہی یا بے توجہی کی ہوتی تو آپ کا کام معاویہ کے ساتھ ایک سازش اور انقلابیوں اور متدین صحابہ کے اہداف کی پامالی کے علاوہ کچھ نہ ہوتا، معاویہ جیسے افراد کی وضعیت امام ـ کے مومن فداکاروں کی نظر میں ایک سیاسی مصلحت اور ریاکاری شمار ہوتی اور جتنا زیادہ معاویہ اس کام کو اپنی پاکیزگی کے لئے استفادہ کرتا علی علیہ السلام کو اتنا ہی زیادہ نقصان ہوتا۔ لوگوں کے تند احساسات اور طوفان کو صرف معاویہ کی معزولی ہی ختم کرسکتی تھی اگر امام ـ معاویہ کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرتے تو اپنی حکومت کے آغاز ہی میں اپنے اکثر طرفداروں کو کھو دیتے، اور دوبارہ وہ لوگ گناہوں اور سرکشی کے لئے آمادہ ہو جاتے اور علی علیہ السلام کی مخالفت کے لئے کھڑے ہو جاتے اور بہت ہی کم لوگ وفاداروں میں باقی رہتے جو ہر حال میں امام ـ کے نظریات پر باقی رہتے اور جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ اسلام کی مرکزی حکومت میں اختلاف اور جدائی پیدا ہو جاتی اور وہ گروہ جو امام ـ کی پوشیدہ طور پر مخالفت کر رہاتھا وہ مخالف و موافق گروہوں کی شکل میں ابھر کر سامنے آجاتا اور امام ـ کی حکومت کی عمر کا چراغ پہلے ہی دن خاموش ہو جاتا۔

۲۔ اگر ہم فر ض کرلیں کہ جوشیلے انقلابی امام ـ کی معاویہ کے ساتھ ہمراہی کو قبول کرلیتے اور امام کے لشکر میں اختلاف و جدائی بھی نہیں ہوتی، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ معاویہ امام ـ کی رحمدلی اور دعوت کے مقابلے میں کیساعکس العمل پیش کرتا۔ کیاعلی کی دعوت کو قبول کرتا؟ اور شام کے لوگوں سے ان کی بیعت کراتا، جس کی وجہ سے امام ـ شام کی طرف سے مطمئن ہو جاتے؟ یا یہ کہ معاویہ اپنی چالاکی اور سیاسی چالوں سے یہ سمجھ لیتاکہ یہ ہمراہی اور نیکی چند دنوں سے زیادہ کی نہیں ہے اور علی علیہ السلام حکومت پر مکمل قبضہ پانے کے بعد تمام اسلامی حکومتوں سے اسے دور کردیں گے اور اس کی خود غرضی کو ختم کردیں گے؟

معاویہ کی شیطانی حرکتیں اور دور اندیشی کسی پرپوشیدہ نہیں ہیں وہ حضرت علی کو تمام لوگوں سے زیادہ پہچانتاتھا۔ اور وہ جانتا تھا کہ ان کی حکومت میں خود غرضی اور بیت المال کو اپنی سیاسی غرض میں خرچ نہیں کرسکتا اور اگر امام اس کو ہمکاری کے لئے دعوت د ے رہے ہیں تو صرف وقتی طور پر دوستی اور مصلحت کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہے۔ اور بعد میں اس کے مشن کو قلع و قمع کریں گے اور شام جیسی بزرگ سرزمین پیغمبر کے صحابیوں اور نیک لوگوں کے ہاتھوں میںسپرد کر دیں گے۔


ان باتوں کی روسے معاویہ ہرگز امام علی علیہ السلام کی دعوت کو قبول نہیں کرتا، بلکہ ان سے عثمان کے پیراہن کی طرح، شامیوں کے درمیان اپنی شخصیت کو مستحکم کر نے اور قتل عثمان میں علی کی شرکت کا الزام لگانے کے لئے لوگوں کے ساتھ ہوگیا۔

ابن عباس جانتے تھے کہ امام ـ معاویہ کے ساتھ زیادہ نہیں رہ سکتے تھے بلکہ اس وقت تک کے لئے جب تک حضرت حالات پر قابو پالیتے ، معاویہ خوب جانتا تھا کہ علی کی اس کے ساتھ مصلحت وقتی طور پر ہے لہذا وہ قطعی طور پر امام ـ کی دعوت کو قبول نہ کرتا بلکہ مکروفریب سے کام لیتا۔

بہترین موقع جو چھوٹ جاتا

معاویہ کے پاس جو سب سے بڑا بہانہ اور حربہ تھا وہ عثمان کے خون کا بدلہ تھا اگر وہ ابتدا ہی میں اس موقع سے استفادہ نہ کرتا ، تو اس حربہ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا۔

معاویہ نے عثمان کے خون آلود پیراہن کو عثمان کی بیوی ''نائلہ'' کی انگلیوں کے ساتھ جو شوہر کے دفاع میں کٹ گئیں تھیں شام کے منبر کے اوپر لٹکا دیا تاکہ شامیوں کو عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے آمادہ کرے جس کے لئے معاویہ نے دعویٰ کیا تھا کہ علی کے اشارے پر ہی عثمان کا قتل ہوا ہے اگر وہ ابتدا ہی میں حضرت علی کی دعوت کو قبول کرلیتا تو ہرگز وہ عثمان کے قتل کو امام ـ سے منسوب نہ کرپاتا اور عثمان کی مظلومیت کو امام ـ کے خلاف بیان نہ کرتا، معاویہ کے پاس عثمان کا قتل ایک ایساقوی حربہ تھا جو حضرت علی علیہ السلام کے خلاف استعمال کرتا ، اور اس حربہ کا استعمال اس صورت میں ممکن تھاکہ جب علی کی دعوت کو قبول نہ کرتا کیونکہ امام کی بیعت کرنے کی صورت میں امام ـ کی رہبری کو صحیح ثابت کرتا اورادھر عثمان کا خون بھی خشک ہو جاتا اوراس طرح وہ بہترین موقع گنوا بیٹھتا۔

موروثی حکومت کی برقراری

کئی سال سے معاویہ نے اپنی چالاکی ،اور بے حساب و کتاب تحفے تحائف کے ذریعے، عظیم اور بزرگ شخصیتوں کو جلا وطن کر کے جواس کی حکومت کے خلاف تھے اور بہت زیادہ تبلیغ کر کے اور خلیفہ وقت کی نظر عنایت کو جذب کر کے ایک موروثی سلطنت و حکومت کا مقدمہ فراہم کرلیا تھا اور وہ عثمان کے قتل یا موت کا منتظر تھا کہ اپنی دیرینہ آرزؤں کو عملی جامہ پہنا سکے۔


یہی وجہ ہے کہ جب انقلابیوں نے عثمان کے گھر کا محاصرہ کیا اور معاویہ کو اس کی خبر ملی تو اس نے کوئی مدد نہ کی تاکہ جتنی جلدی ہو عثمان کا سایہ اس کے سر سے دور ہوجائے اور وہ اپنی آرزو تک پہونچ جائے، ایسا شخص کبھی بھی امام ـ کی دعوت کو قبول نہیں کرتا ، بلکہ اس سے اپنے فائدے اور امام ـ کے نقصان کے لئے استفادہ کرتا، تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ خلیفۂ وقت نے معاویہ سے مدد طلب کی مگر اس نے حالات آگاہی کے باوجود بھی ان کی مدد کے لئے قدم نہ بڑھایا۔

امیر المومنین ـ نے اپنے ایک خط میں معاویہ کو لکھا ''تم نے عثمان کی اس وقت مدد کی جب مدد کرنے میں تیرا فائدہ تھا اور اس دن تم نے اسے ذلیل و خوار کردیا کہ جس دن مدد کرنے میں صرف اس کا فائدہ تھا''(۱)

امیر المومنین ـ پھر اپنے ایک خط میں معاویہ کو لکھتے ہیں کہ ''خدا کی قسم ، تمہارے چچا زاد بھائی کو تمہارے علاوہ کسی نے قتل نہیں کیا اور مجھے امیدہے کہ تجھے اس کے گناہوں کی طرح اس سے ملحق کردوں''۔(۲)

ابن عباس اپنے خط میں معاویہ کو لکھتے ہیں ''تمھیں عثمان کے مرنے کا انتظار تھا۔تو اس کی بربادی کا خواہاں تھا۔تونے اس کی مدد کرنے سے لوگوں کو منع کردیا اس کا خط اور مدد کی درخواست اور استغاثہ کی آواز تجھ تک پہونچی لیکن تونے کوئی توجہ نہ دی، جب کہ تو جانتا تھا کہ جب تک لوگ اسے قتل نہ کرلیں نہیں چھوڑیں گے، وہ قتل کردیا گیا اور جب کہ تو بھی یہی چاہتا تھا۔ اگر عثمان مظلوم قتل ہواتو سب سے بڑا ظلم کرنے والا تو تھا۔

کیا ایسی حالت میں جب کہ وہ ہمیشہ عثمان کی موت یا اس کے قتل کا انتظار کر رہا تھا تاکہ اپنی آرزو کو پہونچ جائے، وہ امام ـ کی دعوت کو قبول کرتا؟ اور جو موقع اسے بہت ہی مشکلوں سے حاصل ہوا تھا، اسے گنوا دیتا؟

______________________

(۱) نہج البلاغہ نامہ ۳۷۔

(۲) العقد الفرید، ج۲، ص ۲۲۳۔


پانچویں فصل

خلافت، معاویہ کی دیرینہ آرزو

گذشتہ دلیلوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ معاویہ جیسوں کو خلافت کے امور سے معزول کردینا نہ صرف پرہیزگاری کا تقاضا تھا بلکہ دور اندیشی، مستقبل ، سیاست و درایت اور بہت کم نقصان کے تحمل کا تقاضا تھا اور امام ـ کی راہ صحیح ترین راہ تھی جو ایک واقعے میں سیاستمدار منتخب کرسکتا تھا اور معاویہ کے ساتھ نرمی و مدارا کرنے میں زیادہ نقصان کے سوا کچھ نہ تھا۔

اگر ابن عباس نے امام ـ سے کہا کہ اپنے دیرینہ دشمن کے ساتھ ہمدردی کریں تو ان کایہ مشورہ عاقلانہ نہ تھا اور اگر عرب کا معروف و مشہور سیاستمدار مغیرہ بن شعبہ نے امام ـ کو جو مشورہ دیا کہ معاویہ کو اس کے منصب سے معزول نہ کردیں اور پھر دوسرے دن اس کے برعکس نظریہ پیش کیا اور کہا کہ مصلحت اسی میں ہے کہ اسے اس کے منصب سے معزول کردیں ،تو معلوم نہ ہوسکا کہ مغیرہ ان دونوں نظریوں میں سے کس میں سچا تھا۔

نادان افراد جو یہ سوچتے ہیںکہ معاویہ کو اس کے مقام پر باقی رکھنے میں علی کے لئے فائدہ تھا انہیں معلوم ہونا چاہیئے چونکہ امام ـ ان افراد میں سے تھے جو حق کی پیروی کو ہر چیز پر مقدم رکھتے تھے نتیجے کی فکر کئے بغیر، اور سیاسی اورفوجی نقصان کے محاسبہ کے بغیر معاویہ کو معزول کرنے کا حکم صادر فرمایا ، وہ لوگ معاویہ کے بدترین ارادے اور خلافت تک پہونچنے کی اس کی دیرینہ خواہش جس کی کوشش خلیفہ سوم کے زمانے ہی سے شروع ہو چکی تھی اور عثمان کے قتل کے بعداور امام کی طرف سے معزولی کا حکم پہنچنے سے پہلے تمام جگہوں پر اس کا خط بھیجنا ایسے مسائل ہیں جن سے آگاہ نہیں ہیںاور انھوں نے قضیہ کوسطحی نظر سے دیکھا ہے۔

یہاں کچھ تاریخی ثبوت پیش کر رہے ہیں جواس بات پر شاہد ہیں کہ معاویہ کا مقصدایک ظاہری اسلامی حکومت کے سوا کچھ نہ تھا اور اگر امام ـ شام کی حکومت اس کے سپرد کردیتے تو وہ صرف اسی پر قناعت نہ کرتا بلکہ اس سے سوء استفادہ بھی کرتا۔

۱۔ خلیفہ کے قتل کے بعد، نعمان بن بشیر عثمان کی بیوی کا خط اور اس کا خونی پیراہن لے کر شام کے لئے روانہ ہوا او رمدینہ کے حالات سے باخبر کیا، معاویہ منبر پر گیا اور عثمان کے پیراہن کو ہاتھ میں لے کر لوگوں کو دیکھا یااور عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے لوگوں کو دعوت دی۔ لوگ خلیفہ کے خونی پیراہن کو دیکھ کر رونے لگے اور کہا تم اس کے چچا زاد بھائی اور اس کے شرعی طور پر ولی ہو، ہم لوگ بھی تمہاری ہی طرح اس کے خون کا بدلہ لینا چاہتے ہیں پھر اسے شام کا امیر مان کر اس کے ہاتھوں پر بیعت کر لی۔


معاویہ نے شام میں رہنے والی بزرگ شخصیتوں کے حالات جاننے کے لئے چند لوگوں کو بھیجا اور شہر حمص کے با اثر شخص شرحبیل کندی کے پاس خط لکھااور اس سے درخواست کی کہ شام کے حاکم کے عنوان سے میری بیعت کرے۔ اس نے جواب میں لکھا ''تم بہت بڑی غلطی کت مرتکب ہو رہے ہو تم مجھ سے درخواست کرتے ہو کہ بعنوان حاکم شام تیری بیعت کروں، خلیفہ سابق کے خون کا انتقام صرف وہ لے سکتا ہے جو خلیفہ مسلمین ہو نہ کہ کسی ایک علاقہ کا امیر، اس وجہ سے میںتمہیں خلیفۂ مسلمین سمجھ کر بیعت کر رہا ہوں''۔

جب شرحبیل کا خط معاویہ کے پاس پہونچا تو وہ بہت خوش ہوا، اور تمام لوگوں کے سامنے اس کے خط کو پڑھا اور پھر ان لوگوں سے خلیفۂ مسلمین کے عنوان سے بیعت لی، پھر علی سے خط و کتابت کا سلسلہ شروع کردیا۔(۱)

تاریخ کا یہ حصہ اس بات کی حکایت کرتا ہے کہ خلافت قبول کرنے کے لئے معاویہ کا مزاج اس قدر آمادہ تھا کہ صرف شہر حمص کے اثر و رسوخ رکھنے والے شخص کی بیعت پر اس نے خود کو خلیفۂ مسلمین قرار دیا اور شام میں اپنی خلافت کا اعلان کردیا اور بجائے اس کے کہ انقلابیوں خصوصاً مہاجرین و انصار کی حضرت علی کے ہاتھوں پر بیعت کی فکر کرتا خود اپنی بیعت کرائی۔ گویااس نے کئی سال سے اپنے لئے زمین ہموار کرلی تھی کہ صرف ایک مرتبہ میں بیعت کی بات کر کے لوگوں سے بیعت حاصل کرلی۔

۲۔ جب معاویہ کو اس بات کی خبر ملی کہ مدینہ کے لوگوںنے حضرت علی کے ہاتھ پر بیعت کرلی تو قبل اس کے کہ امام ـ کا خط اس کے پاس پہونچتا اس نے دو خط ، ایک زبیر اور دوسرا طلحہ کے نام لکھا۔ اور دونوں کوعراق کے دو بڑے شہروں یعنی کوفہ اور بصرہ پر قبضہ کرنے کے لئے ترغیب دلائی۔ اس نے زبیر کو اس طرح خط لکھا ''میں نے شام کے لوگوں سے تمہارے لئے بیعت لے لی ہے لہٰذا جتنی جلدی ہو کوفہ اور

______________________

(۱) الامامة والسیاسة، ج۱، ص ۶۹۔ ۱۰۔


بصرہ پر حکومت کرنے کے لئے اپنے کو آمادہ کرلو اور میں نے تمہارے بعد طلحہ کی بیعت لی جتنی جلد ہوسکے عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے قیام کرو اور لوگوں کو اس کام کی دعوت دو''۔

زبیر خط کا مضمون پڑھ کر بہت خوش ہوا اور طلحہ کو اس سے باخبر کیا اوردونوںنے کہ امام ـ کے خلاف قیام کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔

معاویہ نے دوسرا خط طلحہ کے نام لکھا ، جس کا مضمون زبیر کے خط سے بالکل الگ تھا اس نے خط میں لکھا کہ ''میں نے خلافت کو تم دونوں کے لئے ہموار کیاہے تم میں جو بھی چاہے خلافت کو ایک دوسرے کے حوالے کرے اور اس کے مرنے کے بعد دوسرا شخص خلیفئہ مسلمین بن جائے گا۔(۱)

اس میں کوئی شک نہیں کہ طلحہ و زبیر کو خلافت اور کوفہ و بصرہ پر قبضہ کرنے کے لئے برانگیختہ کرنے کا مقصد صرف امام ـ کی حکومت کو ضعیف و کمزور کرنا اور اپنی حکومت کو شام میں مضبوط کرناتھا تاکہ امام ـ کے چاہنے والوں میں اختلاف ہو جائے اور ان دونوں کی مدد سے حکومت کی باگ ڈور کو حضرت علی کے ہاتھوں سے لے لے۔ اور اگر اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیاتو طلحہ و زبیر (پیغمبر کے یہ دو سادہ لوح او ردنیا طلب صحابی) پر کامیابی پانا آسان ہو جائے گا۔

۳۔ معاویہ نے ابتدائے خلافت اور جنگ صفین ختم ہونے سے پہلے امام ـ سے درخواست کی کہ شام اور مصر کی حکومت کو آزادانہ طور پر مجھے سونپ دیں اور ان دو علاقوں کا جزیہ اس کے اختیار میں ہو اور امام کے بعد وہ مسلمانوں کا خلیفہ ہو، اس کی وضاحت و تشریح اس طرح ہے:امام ـ نے اپنی خلافت کے آغاز ہی میں عظیم شخص جریر بجلی کو خط دے کر شام روانہ کیا اس خط میں لکھا تھا :

''وہ گروہ جس نے ابوبکر و عمر وعثمان کی بیعت کی تھی اس نے ہمارے ہاتھوں پر بھی بیعت کی ہے، لہذا مہاجرین و انصار کی میرے ہاتھوں پر بعنوان خلیفہ بیعت کے بعد کسی کو بھی دوسرا خلیفہ منتخب کرنے کا حق نہیں ہے چاہے وہ بیعت کے وقت مدینہ میں موجود ہو یا نہ ہو''۔جریر امام کا خط لیکر شام پہونچے اور خط معاویہ کے سپرد کیا لیکن وہ جواب دینے میںتذبذب میں پڑ گیا

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ، ج۱، ص ۷ ۔


اور عقبہ اور عمر و عاص جیسے افراد کے ساتھ مشورہ کیا اور بالآخر امام ـ کے قاصد سے اپنے دل کی باتیں کہیں کہ اگر علی شام اور مصر کو نظر انداز کردیں اور وہاں کی آمدنی کو اس کے سپردکردیں تو ایسی صورت میں وہ انھیں خلیفہ تسلیم کرلے گا۔

امام ـ کے سفیر نے معاویہ کے نظریہ کو امام ـ کے سامنے پیش کیا امام ـنے اس کے جواب میں کہا کہ معاویہ چاہتا ہے کہ میری بیعت نہ کرے او راپنے مقصد کو پہونچ جائے اور وقت گزارنے اور اپنے مقصد کی کامیابی کے لئے شام اور مصر کی حکومت کو مضبوط کرلے اس بنا پر اگر اس نے بیعت کرلیا تو ٹھیک ہے ورنہ فوراً شام کو چھوڑ دے اور جتنی جلدی ہو میرے پاس آجائے۔(۱)

امام ـ کے اس جواب سے واضح ہوتا ہے کہ اس درخواست سے معاویہ کا مقصد یہ تھا کہ علی کی بیعت اور اطاعت اس پر واجب نہ ہو اور وہ ایک آزاد حاکم کی طرح دو بزرگ و عظیم شہروں پر حکومت کرے اور اس کے حساب و کتاب اور اس کے ساتھیوں کے متعلق امام ـ کوئی مداخلت نہ کریں، خدا جانتاہے کہ اس کے بعد اور ان دونوں شہروں پر مستحکم و مضبوط قبضہ کرنے کے بعد معاویہ امام ـ کی حکومت کو گرانے کے لئے کیا کیا تدبیریں کرتا، اس کے علاوہ یہ وہی دو سر داری ہے جسے عقل و شریعت میں سے کوئی بھی قبول نہیں کرتی اور حکومت اسلامی کے دو ٹکڑوں میں بٹنے کے سوا کوئی اور نتیجہ نہیں نکلتا۔

اس بات پر واضح دلیل کہ معاویہ خلافت کا خواہاں تھا نہ کہ امام ـ کی نمائندگی، مولا کا ایک جملہ ہے جس کو آپ نے اپنے خط میں اس کے لئے تحریر کیا تھا۔

وَ اَعْلَمْ یَا مُعٰاوِیَةَ اِنَّکَ مِنْ الطُّلَقَائِ الَّذِیْنَ لَا تَحِلُّ لَهُمْ الْخِلَافَةَ وَ لَا تُعْهَدُ مَعَهُمُ الْاَمَانَةَ وَ لَا تُعْرضُ فِیْهِم الشُّوْرَیٰ ۔(۲)

اے معاویہ جان لے، تو آزادشدہ لوگوں میں سے ہے اور ان لوگوں کے لئے خلافت جائز نہیں ہے اور ان کے بیعت کرنے سے کسی کی خلافت ثابت نہیں ہوتی اور شوریٰ کی نمائندگی کا بھی حق نہیں رکھتے۔

______________________

(۱) الامامة و السیاسة ، ج۱، ص ۸۷۔

(۲) ''طلقائ'' یا آزادہ شدہ وہ لوگ ہیں جنہیں فتح مکہ کے موقع پر پیغمبر نے معاف کردیا تھا۔


قاتلان عثمان کے نام بہانہ

بہترین دلیل اس بات پر کہ معاویہ خلافت کا متمنی تھایہ ہے کہ اس نے امام ـ کی حکومت کے زمانے میں تمام چیزوں سے زیادہ عثمان کے قاتلوں کے بارے میں گفتگوکی تھی اور علی علیہ السلام سے کہاتھا کہ ان کو ہمارے حوالے کریں تاکہ ثابت ہو جائے کہ امام ان سے مرتبط نہیں تھے۔وہ خوب جانتا تھا کہ عثمان کے قاتلوں میں ایک یا دو شخص شامل نہیں ہیں کہ امام ـ انھیں گرفتار کر کے اس کے حوالے کردیں کیونکہ حملہ کرنے والوں میں مدینے کے لوگ بھی شامل تھے اور بہت زیادہ تعداد میں مصر اور عراق کے افراد شامل تھے جنھوں نے خلیفہ کے گھر کا محاصرہ کیا تھا اور انھیں قتل کیا تھا اور ایسے گروہ کی شناخت بہت مشکل کام ہے خود معاویہ بھی اس مشکل کو سب سے زیادہ جانتا تھااور اس کا مقصد تمام حملہ کرنے والوں کو گرفتار کرنا تھا نہ کہ جن لوگوںنے خلیفہ کو قتل کیا تھا۔اس کے علاوہ اس واقعہ کی چھان مسلمانوں کے خلیفہ کی ذمہ داری ہے نہ کہ خلیفہ کے کئی واسطوں سے چچازاد بھائی کی اور امام ـ کا خلیفہ کے قاتلوں کو معاویہ کے حوالے کرنا خود معاویہ کی خلافت کوقبول کرناتھا۔

امام ـ نے اپنے ایک خط میں معاویہ کو لکھا :

''عثمان کے قاتلوں کے بارے میں بہت زیادہ اصرار کر رہے ہو، اگر تم اپنی بے جا رائے سے باز آجاؤ تو میں تمہارے اور دوسروں کے ساتھ خداکی کتاب کے مطابق پیش آؤں لیکن جو چیز تم چاہتے ہو (شام کو تمہارے حوالے کرنا) اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ بچے کو پستان مادر سے دھوکہ دیا جائے۔امام ـ ایک اور خط میں معاویہ کو لکھتے ہیں :

''جس چیز کو توبڑی خواہش و آرزو سے طلب کر رہا ہے تو جان لے کہ یہ چیز آزاد شدہ لوگوں تک نہیں پہونچے گی کہ وہ مسلمانوں کا رہبر ہو اور اسی طرح ان کو یہ بھی حق نہیں ہے کہ خلافت کی شوری کے ممبر منتخب ہوں''۔عثمان کے خون کا بدلہ اور قاتلوں کو گرفتار کر کے اس کے حوالے کرنا صرف اور صرف ایک بہانہ تھا اور معاویہ اس کی آڑ میں خلافت و زعامت پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ اس مسئلہ پر سب سے واضح و روشن دلیل یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی شہادت ہوگئی اور معاویہ نے حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی جس چیز کے بارے میں اس نے کوئی بحث نہ کی وہ عثمان کے خون کا بدلہ اور اس کے قاتلوں کی گرفتاری تھی۔ یہاں تک کہ جب عثمان کی بیٹی نے معاویہ کا دامن پکڑ کر کہا کہ میرے باپ کے قاتلوں سے ان کے خون کا بدلہ لو تو اس نے کہا : یہ کام میرے بس میں نہیں ہے اور تمہارے لئے یہی بہتر ہے کہ تم خلیفہ مسلمین کی بھتیجی رہو۔


چھٹی فصل

ناکثین سے جنگ (جنگ جمل)

مہاجرین و انصار میں سے پیغمبر کے صحابیوں کا امام ـ کی بیعت کے لئے ہجوم کرنااور حق و عدالت کی حکومت کو واپس لانے کی درخواست کرنا یہ سبب بنا کہ امام ـ امور حکومت کو اپنے ہاتھوں میں لیں تاکہ اسلامی قوانین اور سنت کے مطابق لوگوں کے ساتھ پیش آئیں۔

امام ـ کے بیت المال تقسیم کرنے کی روش دیکھ کر ایک گروہ بہت ناراض ہوا وہ گروہ جو ہمیشہ عدالت اور سنت حسنہ کے احیاء سے ناراض ہو وہ تبعیض اور خواہشات نفسانی اور بے جا آرزؤں اور غیر محدود آرزؤں کے ماننے والے ہوتے ہیں۔

امام ـ اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں تین سرکش گروہوں سے روبرو ہوئے جن کی سرکشی حد سے بڑھی ہوئی تھی اور ان کی آرزو صرف عثمان کی حکومت کی طرح فضا بنانا اور بے جا تحفہ و اخراجات اور اسراف کرنا اور معاویہ اور پچھلی حکومت کے معین کردہ حاکموں کی طرح نالائق افراد کی حکومت کو مضبوط بنانی تھی۔

ان جنگوں میں مسلمانوں کا خون بہایا گیا، پیغمبر کے صحابیوں کا گروہ جو بدرو احدکی جنگوں میں بھی تھا یعنی تاریخ اسلام کے حساس موقعوں پر پیغمبر کی رکاب میں رہ کر تلواریں چلائی تھیں اس مرتبہ وہ لوگ پیغمبر کے اصلی اور سچے جانشین کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئے اور امام ـ کے اہداف کی ترقی کی خاطر اپنی جان کو اسلام کی راہ میں قربان کردیا۔

اس کے علاوہ ، امام ـ کا قیمتی وقت جو لوگوںکی تربیت ،امت کی ہدا یت اور اسلامی معارف و تعلیم میںصرف ہوتا وہ ان تینوں گروہوںکے دفع کرنے میں صرف ہوگیا جو امام ـ کے مقدس ہدف کے خلاف تھا اور بالآخر قبل اس کے کہ امام ـ اپنے مقصد تک پہونچتے یعنی ہمیشہ کے لئے ایک ایسی حکومت قائم کرتے جو اسلام کے اصولوں اور سنتوں پر قائم ہوتی ،آپ کی حکومت کا سورج پانچ سال نوارانی شعاعیں بکھیر نے کے بعد غروب ہوگیا اور آپ کی شہادت کے بعد حکومت اسلامی موروثی سلطنت میں تبدیل ہوگئی اور بنی امیہ اور بنی عباس کی اولادیںایک کے بعد ایک اس پر قابض ہوتی گئیں اور مومنین کے دلوںمیں حکومت اسلامی ایک آرزو بن کر رہ گئی۔

وہ تین گروہ یہ تھے:


۱: ناکثین ''یا عہد و پیمان توڑنے والا گروہ''

اس گروہ کے سردار خصوصاً طلحہ اور زبیرنے جو پیغمبر کی بیوی عائشہ کے احترام کی آڑمیں اور بنی امیہ کی بے انتہا مدد کی وجہ سے صرف اس لئے کہ امام ـ کی حکومت میں ان کے اختیارات بہت کم ہوگئے تھے، بہادر سپاہیوں کا ایک بڑا لشکر کوفہ و بصرہ پر قبضہ جمانے کے لئے تیار کیا اور خود بصرہ پہونچ بصرہ پر قبضہ کر لیا۔ امام ـ بھی اپنا لشکر لے کر گئے اور پھر دونوں گروہوں میں جنگ شروع ہوئی اور طلحہ و زبیر اس جنگ میںمارے گئے اور ان کی فوج بھاگ گئی اور کچھ قیدی بنالئے گئے اور بعد میں امام ـ نے انھیں معاف کردیا۔

۲ : قاسطین ''یا ظالمین اور حقیقت سے دور رہنے والا گروہ''

اس گروہ کا سردار معاویہ تھا جس نے مکر و فریب اوردھوکہ دینے والی باتوں سے دو سال، بلکہ امام ـ کی عمر کے آخری لمحہ تک آپ کو مشکلات سے دوچار کرتا رہا، عراق و شام کے وسط میں امام اور اس کے درمیان جنگ صفین ہوئی جس میں ہزاروں مسلمانوں کا خون بہا لیکن امام ـ اپنے آخری مقصد تک نہ پہونچ سکے اگرچہ معاویہ شام میں نظروں سے گرگیا۔

۳: مارقین ''یا دین سے خارج ہونے والا گروہ''

یہ افراد، گروہ ''خوارج'' میں سے ہیں یہ لوگ جنگ صفین کے آخری مرحلے تک امام ـ کے ہمراہ تھے اور حضرت کی طرف سے جنگ کر رہے تھے ، لیکن معاویہ کے دھوکہ دینے والے کاموں کی وجہ سے یہ لوگ امام کے خلاف شورش کرنے لگے اور ایک تیسرا گروہ بنایا جو معاویہ اور امام دونوںکے خلاف تھا ،اور اسلام ومسلمین اور امام ـ کی حکومت کے لئے دونوں گروہوں سے زیادہ خطرناک تھا ،اس گروہ سے امام ـ کا مقابلہ ''نہروان'' نامی جگہ پر ہوا او رامام نے ان کو مار بھگایااور قریب تھا کہ دوسری مرتبہ شام سے فساد و سرکشی کی جڑ کو ختم کرنے کے لئے خود کوآمادہ کریں کہ خوارج میں سے ایک شخص حملہ آور ہوا اور آپ نے جام شہادت نوش فرمایا اور انسانیت نے پیغمبر کے بعد ایک شریف اور عزیز ترین شخص اور اسلام کی بہترین و شائستہ فرد کو کھو دیا اور اسلامی عدالت کی حکومت کا چاند حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور تک کے لئے بدلی میں چلا گیا۔


امام ـ ان جان لیوا حادثوں کے رونما ہونے کے پہلے ہی سے ان کے بارے میں آگاہ تھے، اسی وجہ سے عثمان کے قتل کے بعدجب انقلابی ،امام ـ کے گھر پر جمع ہوئے اور آپ سے درخواست کی کہ اپنے ہاتھوں کو بڑھائیں تاکہ بیعت کریں تو آپ نے فرمایا:

''دَعَوْنِیْ وَ التَّمَسُّوْا غَیْرِیْ فَاِنَّا مُسْتَقْبِلُوْنَ اَمْرًا لَهُ وُجُوْهٍ وَ اَلْوَانُ لَا تَقُوْمُ لَهُ الْقُلُوبِ وَ لٰا تَثْبُتَ عَلَیْهِ الْعُقُولِ'' (۱) مجھے چھوڑ دو کسی دوسرے کے پاس جاؤ کیونکہ ہمیں مختلف حوادث کا سامنا ہے ایسے حوادث جن سے دل ٹکڑے ہوجائیں گیاور عقلیں انہیں برداشت کرنے سے قاصر ہیں ان حوادث سے آگاہ ہونے کا ایک منبع خود پیغمبر اسلام کا ان چیزوں کے بارے میں خبر دینا تھااسلامی محدثین نے پیغمبر اسلام(ص) کا ایک قول نقل کیا ہے کہ آپ نے علی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا ہے:''یاعلی تقاتل الناکثین و القاسطین والمارقین'' (۲)

اے علی تم عہد و پیمان توڑ نے والوں ، ظالموں اور دین سے منحرف ہونے والوں کے ساتھ جنگ کرو گے۔

یہ حدیث مختلف طریقوں سے حدیث و تاریخ کی کتابوں میں نقل ہوئی ہے مگر سب کا مفہوم ایک ہے،ان جنگوں کی تفصیل پہلے بیان ہو چکی ہے۔

صرف حضرت علی علیہ السلام ہی ان جان لیوااو رتاسف بار حادثوں سے آگاہ نہ تھے بلکہ ناکثین کے سرداروں (جسے تاریخ ''اصحاب جمل'' کے نام سے جانتی ہے) نے بھی حضرت رسول خدا سے اپنے اور حضرت علی کے درمیان جنگ ہونے کے متعلق سنا تھا اور پیغمبر نے زبیر اور عائشہ کواس سلسلے میں بہت سخت تاکیدکی تھی، لیکن افسوس کہ باطل حکومت سے محبت کی وجہ سے یہ مادی اموال پر فریفتہ ہوگیا اور دنیا کی لالچ میں اس طرح ضم ہوگیا کہ واپسی کی کوئی امیدباقی نہ رہی اور وہ راستہ اختیار کیا جس میں گناہ اور خدا کا غضب تھا۔ جنگ جمل کے حادثہ کے بارے میں پیغمبر اسلام کے بیان کو مناسب موقع پر پیش کریں گے ۔

______________________

(۱) تاریخ طبری، ج۳، ص ۱۵۶۔

(۲) مستدرک الوسائل، ج۳، ص ۱۴۰۔


بہت زیادہ تعجب کا مقام ہے کہ اسلام کے پروان چڑھنے کے دوران اور اس وقت جب کہ حق اپنے محور پر واپس آگیا اور حکومت کی باگ ڈور ایسے شخص کے ہاتھوں میں اگئی جسے ابتداء خلقت ہی میں پیشوائی و رہبری کے لئے منتخب کیا گیاتھا اور اس بات کی امید تھی کہ اس زمانے میں اسلامی زندگی میں عظیم معنوی اور مادی ترقی مسلمانوں کو نصیب ہوگی اور اسلامی حکومت مکمل طور پر امام ـ کے ہاتھوں میں دوبارہ واپس آجائے تاکہ آپ کی حکومت آئندہ کے لئے بہترین نمونہ عمل ہوسکے۔ ایک گروہ امام ـ کی مخالفت کے لئے آمادہ ہوا اور علم جنگ امام ـ کے خلاف بلند کیا ۔امام ـ نے اپنے ایک خطبہ میں اس سلوک پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے فرمایا:

''فَلَمَّا نَهَضْتُ بِالْاَمْرِ نَکَثَتْ طَائِفَة وَ مَرَقَتْ أُخْریٰ وَ قَسَطَ آخَرُوْنَ کَأَنَّهُمْ لَمْ یَسْمَعُوا کَلاَم اللّٰه حَیْثُ یَقُولُ: تِلْکَ الدَّارُ الْآَخِرَةِ نَجْعَلُهَا لَلَّذِیْنَ لَایُرِیْدُوْنَ عُلُواً فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِسَاداً وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْن'' ۔(۱)

جب تمام امور کو میں نے اپنے ہاتھوں میں لیااس وقت کچھ لوگوں نے میری بیعت سے منہ موڑ لیا اور کچھ گروہ قوانین الہی سے خارج ہوگئے اور بعض گروہ حق کی راہ سے دور ہوگئے ایسا لگتا ہے کہ ان لوگوں نے خدا کے کلام کو نہیں سنا کہ ارشاد قدرت ہے کہ آخرت ان لوگوں کے لئے ہمیشگی کا گھر ہے جو سرکش نہ ہوں اور زمین پر فساد برپانہ کریں۔ جی ہاں، خدا کی قسم۔ ان لوگوںنے خدا کے کلام کو سنا اور انھیں یاد بھی تھا لیکن ان کی آنکھوں میں دنیا کی چمک دمک سما گئی تھی اور اس کی چمک نے انھیں دھوکہ میں ڈال رکھا۔

_____________________

(۱) نہج البلاغہ، خطبہ ۴۔


بچہ گانہ عذر

عہد و پیمان توڑ نے والا گروہ یعنی طلحہ و زبیر اور ان کے چاہنے والوں نے باوجود اس کے کہ امام ـ کے ہاتھوں پر دن کے اجالے میں بیعت کیا تھا ،اور مہاجرین و انصار اور لوگوں کے ہجوم نے انھیں بیعت کے لئے آمادہ کیا تھا۔ اور جب مخالفت کا پرچم بلند کیا تو اس بات کا دعویٰ کرنے لگے کہ ہم نے زبانی اور ظاہری طور پر بیعت کی تھی اور دل کی گہرائیوں سے علی کی حکومت کو قبول نہیں کیا تھا۔امام ـ اپنی ایک تقریر میں ان کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

''فَقَدْ أَقَرَّ بِالْبَیْعَةِ وَ ادّعَی الْوَلِیْجَةَ فَلْیَأتِ عَلَیْهَا بِأَمْرٍ یُعْرَفُ وَ اِلَّا فَلْیَدْخُل فِیْمَا خَرَجَ مِنْهُ'' ۔(۱)

انھوں نے خود اپنی بیعت کا اعتراف کیا لیکن اب ان کا دعویٰ ہے کہ باطنی طور پر ہم اس کے مخالف تھے وہ لوگ اس بات پر شاہد و گواہ پیش کریں یا یہ کہ اپنی بیعت پر باقی رہیں۔

نفاق و منافقت

طلحہ و زبیر امام ـ کی خدمت میں آئے اور کہا کہ ہم نے آپ کی بیعت اسلئے کی کہ آپ کی رہبری میں شریک رہیں۔ امام نے ان کی شرط کو جھوٹی قرار دیا اور کہا تم لوگوں نے میری بیعت کی تاکہ مشکل کے وقت میری مدد کرو۔(۲) ابن قتیبہ نے اپنی کتاب ''خلفائ'' میں امام ـ اور ان دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کو نقل کیا ہے وہ کہتا ہے کہ ان لوگوں نے حضرت علی کی طرف رخ کر کے کہا کیاآپ جانتے ہیں کہ ہم نے کس بنیاد پر آپ کی بیعت کی ہے؟امام نے فرمایا: ہاں میں جانتا ہوں ، تم نے ہماری اطاعت کی وجہ سے بیعت کی ہے اسی طرح جس طرح تم نے ابوبکر و عمر کی اطاعت کے لئے بیعت کیا تھا۔زبیر کو یہ گمان تھا کہ امام ـ عراق کی حاکمیت کو اس کے حوالے کردیں گے اور اسی طرح طلحہ یہ سوچ رہا تھا کہ یمن کی حکومت اس کے حوالے کردیں گے(۳) لیکن بیت المال تقسیم کرنے کی رو ش اور دوسرے اسلامی شہروں کی رہبری اور مسلمانوں کے امور کے لئے دوسرے افراد کو بھیجنے کی وجہ سے ان کی آرزوئیں خاک میں مل گئیں، لہذا ارادہ کرلیا کہ مدینہ سے بھاگ جائیں اور امام ـ کی مخالفت کرنا شروع کردیں۔مدینہ چھوڑ نے سے پہلے زبیر نے قریش کے عمومی مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کیا ہماری یہی سزا ہے؟

______________________

(۱) نہج البلاغہ کلمات قصار شمارہ ۱۹۸۔----(۲) نہج البلاغہ خطبہ۸۔------(۳) تاریخ خلفاء طبع مصر، ج۱، ص ۴۹۔


ہم نے عثمان کے خلاف قیام کیا اور اس کے قتل کا زمینہ فراہم کیا جب کہ علی گھر میں بیٹھے تھے اور جب حکومت کی ذمہ داری قبول کی تو کام کی ذمہ داری دوسروں کو سونپ دی۔(۱)

______________________

(۱) تاریخ خلفاء طبع مصرج۱ ص ۴۹۔


ناکثین کے قیام کرنے کی علت

جب طلحہ و زبیر امام ـ کی حکومت میں کسی بھی شہر میں منصوب نہ ہوئے اور اس سے مایوس و ناامید ہوئے اور دوسری طرف معاویہ کی جانب سے دونوں کے پاس ایک ہی مضمون کا خط پہونچا جس میں اس نے ان دونوں کو ''امیر المومنین'' کے خطاب سے نوازا تھا اور لکھا تھا کہ شام کے لوگوں سے تم لوگوں کے لئے بیعت لے لی ہے اور تم لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو کوفہ و بصرہ شہر پر قبضہ کرلو، اس سے پہلے کہ ابوطالب کا لال ان دونوں پر مسلط ہو اور ہر جگہ ان لوگوں کا نعرہ یہ ہو کہ ہم لوگ عثمان کے خون کا بدلہ لینا چاہتے ہیں اور لوگوں کو اس کے خون کا بدلہ لینے کے لئے دعوت کردیں۔

یہ دونوں سادہ لوح صحابی معاویہ کا خط پڑھ کر دھوکہ کھا گئے اور چاہا کہ مدینہ سے مکہ جائیں اور وہاں لوگوں کو تربیت دیںاور انہیں جنگ کے لئے آمادہ کریں۔ وہ لوگ معاویہ کے امور کو اجراء کرنے کے لئے امام کے پاس گئے اور کہا: آپ نے عثمان کی ستمگری کو ولایت و حکومت جیسے امور میں مشاہدہ کیا ہے اور آپ نے یہ بھی دیکھا کہ اس کی نگاہ میں بنی امیہ کے علاوہ کسی کی کوئی اہمیت نہ تھی ،اب جب کہ خدا نے آپ کو منصب خلافت پر فائز کیا ہے ہم لوگوں کو کوفہ و بصرہ کا حاکم معین کیجئے۔ امام نے فرمایا: جو کچھ خدا نے تمہیں عطاکیاہے اس پر راضی رہو تاکہ میں اس موضوع کے متعلق فکر کروں ، یہ با ت جان لو کہ میں ان لوگوں کو حکومت کے لئے منتخب کروں گا جن کے دین اور امانت پر مجھے اطمینان اور ان کی طینت سے واقف ہوں گا۔

دونوں یہ کلام سن کر پہلے سے بھی زیادہ مایوس ہوگئے امام ـ نے ان کا امتحان لیا اان دونوں کو معلوم ہو گیا کہ آپ ان دونوں پر اعتماد نہیں رکھتے لہذا ان دونوںنے بات کو بدلتے ہوئے کہا کہ آپ اجازت دیجئے کہ ہم عمرہ کرنے کے لئے مدینہ سے مکہ جائیں ۔ امام ـ نے فرمایا عمرہ کی آڑ میں تمہارا ہدف کچھ اور ہے ان لوگوںنے خدا کی قسم کھا کر کہا کہ عمرہ کے علاوہ ہماراکوئی اور مقصد نہیں ہے۔


امام ـ نے فرمایا: تم لوگ دھوکہ اور بیعت توڑ نے کی فکر میں ہو، ان لوگوں نے پھر قسم کھائی اور دوبارہ امام ـ کی بیعت کی جب وہ دونوں امام ـ کے گھر سے نکلے تو امام نے حاضرین جلسہ سے فرمایا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ دونوں فتنہ کی وجہ سے قتل ہوں گے ان میں سے بعض لوگوں نے کہا انھیں سفر پر جانے سے منع کردیجئے امام نے کہا قسمت کا لکھا اور خدا کا وعدہ پورا ہوکر رہے گا۔

ابن قتیبہ لکھتے ہیں:

دونوںعلی کے گھر سے نکل کر قریش کے پاس آئے اور ان لوگوں سے کہا یہ ہم لوگوں کا اجر تھا جو علی نے ہمیں دیا ہے ہم نے عثمان کے خلاف قیام کیااور اس کے قتل کا زمینہ فراہم کیاجب کہ علی اپنے گھر میں بیٹھے تھے اور اب جب منصب خلافت پر بیٹھ گئے تو دوسروں کو ہم لوگوں پر ترجیح دے رہے ہیں۔

اگرچہ طلحہ و زبیر نے امام ـ کے گھر میں شدیدقسمیں کھائی تھیں لیکن مدینہ سے نکلنے کے بعد مکہ کے راستے میں جس سے بھی ملاقات ہوئی حضرت علی کے ہاتھوں پر بیعت کرنے سے انکارکیا۔(۱)

______________________

(۱)تاریخ طبری ج۳ ص ۱۶۳؛ الامامة و السیاسة ج۱ ص ۴۹؛ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱ ص ۲۳۲۔ ۲۳۱۔


عائشہ کا مدینہ کے نیم راہ سے مکہ واپس جانا

اس کے پہلے ہم بیان کرچکے ہیں کہ جب عراقی اور مصری انقلابیوںکی طرف سے عثمان کے گھر کا محاصرہ ہوا تو عائشہ مدینہ سے حج کرنے مکہ چلی گئیں اور مکہ ہی میں تھیں کہ عثمان کے قتل ہونے کی خبر سنی لیکن اس بات کی خبر نہ ملی کہ عثمان کے قتل کے بعد خلافت کسے ملی، اسی وجہ سے ارادہ کیا کہ مکہ چھوڑ کر مدینہ کا سفر کریں۔ مکہ سے واپس آتے وقت ''سرف'' نامی مقام پر ایک شخص سے جس کا نام ام ابن کلاب تھا ملاقات ہوئی تو اس سے مدینہ کے حالات معلوم کئے اس نے کہا ۸۰ دن تک خلیفہ کا گھر محاصرہ میں تھا اور پھر انھیں قتل کردیا گیاپھر لوگوں نے چند دن کے بعد علی کے ہاتھ پر بیعت کی۔

جب عائشہ نے سنا کہ مہاجرین و انصار دونوں نے علی کے ہاتھ پر بیعت کی ہے توانہیں سخت تعجب ہوا اور کہا: اے کاش آسمان میرے سرپر گر جاتا، پھرانہوں نے حکم دیا کہ میری سواری کو مکہ کی طرف موڑ دو جب کہ عثمان کے متعلق انہوں نے اپنے نظریہ کو بدل دیا تھا انہوں نے کہا خدا کی قسم، عثمان مظلوم قتل کیا گیاہے اور میں اس کے قاتلوں سے ضرور انتقام لوں گی۔

خبر دینے والا شخص عائشہ کی طرف متوجہ ہوا اور کہا کہ آپ وہ پہلی فرد تھیں جس نے لوگوں سے کہا تھا کہ عثمان کافر ہوگیا ہے اور اس کی شکل و صورت یہودی کی طرح ہے اسے ضرور قتل کردیا جائے۔

اب کیا ہوگیا ہے کہ اپنے پہلے نظریہ کو بدل دیا؟ انہوں نے ایسا جواب دیا گویا کوئی تاریکی میں تیر رہا کریں، عثمان کے قاتلوں نے پہلے اس سے توبہ کرائی پھر اسے قتل کیااور عثمان کے بارے میںسبھی نے کچھ نہ کچھ کہا اور ہم نے بھی کہا لیکن میرا یہ آخری کلام میرے پہلے کلام سے بہتر ہے ۔ابن کلاب نے عائشہ کے اس رویہ کو دیکھ کر اشعار کہے جن میں سے کچھ اشعار کا ترجمہ پیش کر رہے ہیں :''تم نے خلیفہ کے قتل کا حکم دیا اور پھر ہم سے کہا کہ وہ خدا کے دین سے خارج ہوگیا ہے، یہ بات حقیقت ہے کہ ہم نے اسے قتل کرنے میں تمہارے حکم کی پیروی کی ہے اس وجہ سے ہمارے نزدیک اس کا قاتل وہ شخص ہے جس نے اس کے قتل کا حکم دیا ہے(گویا قاتل خود عائشہ ہیں)''۔

عائشہ مسجد الحرام کے سامنے اپنی سواری سے اتریں اور حجر اسماعیل کے پاس گئیں اور وہاں ایک پردہ لٹکایا ۔ لوگ ان کے ارد گرد جمع ہوگئے اور انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا کہ اے لوگو عثمان کو ناحق قتل کیاگیا ہے اور میں اس کے خون کا بدلہ لوں گی۔(۱)

______________________

(۱) تاریخ طبری، ج۳، ص ۱۷۲۔


امام ـ کے مخالفوں کا مرکز

عثمان کے قتل اور امام ـ کی بیعت کے بعد مکہ کی سرزمین حضرت علی کے مخالفوں کا مرکز شمار ہونے لگی اور جو لوگ علی کے مخالف تھے وہ ان کے فیصلوں سے بہت خوفزدہ تھے خاص کر عثمان کے معین کردہ حاکم وغیرہ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ امام ان لوگوں کو ان کے مقام سے معزول کر رہے ہیں اور جو ان لوگوںنے خیانتیں کی ہیں ان کی وجہ سے انھیں اپنی عدالت میں طلب کر رہے ہیں۔ سب کے سب حرم کی حرمت کا خیال کرتے ہوئے مکہ میں پناہ لئے ہوئے تھے اور جنگ جمل کا نقشہ تیار کرنے میں مشغول ہو گئے تھے۔

جنگ جمل کے اخراجات

جنگ جمل کے خرچ کو عثمان کے حاکموںنے دیاتھا جسے انھوں نے عثمان کی حکومت کے زمانے میں

بیت المال کو غارت کر کے بہت زیادہ مال و ثروت جمع کرلیا تھا اور ان لوگوںکا ہدف یہ تھا کہ علی کی تازہ اور جوان حکومت کو سرنگوںکردیں تاکہ پھر گذشتہ کی طرح حالات پیدا ہوجائیں۔

جن لوگوں نے جنگ جمل کے سنگین خرچ کو برداشت کیاتھا ان میں سے کچھ لوگوں کے نام یہ ہیں:

۱: عبد اللہ بن ابی ربیعہ، صنعا (یمن کے ایک شہر کا نام) کا حاکم جو عثمان کی طرف سے منصوب تھا، وہ صنعا سے عثمان کی مدد کرنے کے لئے نکلا اور جب آدھے راستے میں اسے عثمان کے قتل کی خبر ملی تو وہ مکہ چلا گیا اور جب اس نے سنا کہ عائشہ عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے لوگوں کو دعوت دے رہی ہیں تو مسجد میں داخل ہوا اورتخت پر بیٹھ گیااور بلند آواز سے کہا جو شخص بھی عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے اس جنگ میں شرکت کرنا چاہتاہے میں اس کے خرچ کو برداشت کروں گا اس طرح اس نے بہت زیادہ لوگوں کو جنگ میں جانے کے لئے جمع کرلیا۔


۲: یعلی بن امیہ ، عثمان کی فوج کاایک سردار، اس نے عبداللہ کی پیروی کرتے ہوئے اس راہ میں بہت زیادہ مال خرچ کیااس نے چھ سو اونٹ خریدے(۱) اور مکہ کے باہر جنگ پر جانے کے لئے آمادہ کیے او رایک گروہ کو اس پر سوار کیا اوردس ہزار دینار ان لوگوںکودیئے۔

جب امام ـ یعلی کے اس خرچ وبخشش سے آگاہ ہوئے تو فرمایا: امیہ کے بیٹے کے پاس دس ہزار دینار کہاں سے آئے؟ سوائے اس کے کہ اس نے بیت المال سے چوری کیاہو؟ خدا کی قسم اگر وہ اور ابی ربیعہ کا بیٹا مجھے مل جائے تو اس کی ساری دولت جمع کر کے بیت المال میں واپس ڈال دوں گا۔(۲)

۳: عبد اللہ بن عامر، بصرہ کا حاکم، بہت زیادہ مال و دولت لے کر بصرہ سے مکہ بھاگ گیا تھا یہ وہی شخص ہے جس نے بصرہ پر قبضہ کرنے کا نقشہ تیار کیا تھا اور طلحہ و زبیر اور عائشہ کو اس شہر پر قبضہ کرنے کی ترغیب دلائی

______________________

(۱) تاریخ طبری، ج۳، ص ۱۶۶۔

(۲) الجمل ص ۱۲۴۔ ۱۲۳؛ بنا ء بر نقل ابن قتیبہ (خلفاء ص ۵۶) اس نے ۶۰ ہزار دینار زبیر اور ۴۰ ہزار دینار طلحہ کو دیا تھا۔


تھی۔(۱)

مکہ میں عثمان کے بھاگے ہوئے تمام گورنر ایک جگہ جمع ہوگئے اور عبداللہ بن عمر اور اس کا بھائی عبید اللہ اور اسی طرح مروان بن حکم اورعثمان کے بیٹے اس کے غلام اور بنی امیہ کے کچھ گروہ بھی ان لوگوں سے ملحق ہوگئے۔(۲)

ان سب باتوںکے باوجود، اس گروہ کی دعوت پر (جب کہ انھیں سبھی پہچانتے تھے) مکہ اور مکہ کے راستوں میں سے کسی نے بھی امام ـ کی مخالفت کا اظہار نہیں کیا۔ اس وجہ سے یہ لوگ مجبور ہو گئے کہ اس فوج کے ساتھ جو عثمان کے دور حکومت کے معزول گورنروں اور بنی امیہ کے خرچ پر بنائی گئی تھی،ایک معنوی سہارا بھی ہو ،لہذا یہی وجہ ہے کہ وہ اعرابی جو اس راستے میں زندگی بسر کر رہے تھے ان کے دینی احساسات کو برانگیختہ کرنے کے لئے عائشہ اور حفصہ کو دعوت دی تاکہ اس گروہ کی معنوی رہبری کی ذمہ داری لیں اور لوگوں کے ساتھ بصرہ کی طرف روانہ ہو جائیں ۔

یہ بات صحیح ہے کہ عائشہ نے مکہ میں قدم رکھتے ہی علی علیہ السلام کے خلاف آواز بلند کی تھی لیکن ہرگز اپنے نظریہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کوئی نقشہ تیار نہیں کیا تھا۔ اور ہرگز ان کے ذہن میں یہ بات نہیں تھی کہ فوج کی رہبری کریں گی اور بصرہ جائیںگا، لہذا جب زبیر نے اپنے بیٹے عبد اللہ کو (جو عائشہ کا بھانجا تھا) عائشہ کے گھر بھیجا تاکہ عائشہ کو جنگ کے لئے اور بصرہ جانے کے لئے آمادہ کرے تو انہوں نے عبد اللہ کا جواب دیتے ہوئے کہا : میں نے ہرگز لوگوں کو جنگ کرنے کا حکم نہیں دیا میں مکہ صرف اس لئے آئی تھی کہ لوگوں کو یہ اطلاع دوں کہ ان لوگوں کا امام کس طرح مارا گیاہے اور ایک گروہ نے خلیفہ سے توبہ کرایاپھر اسے قتل کردیا تاکہ لوگ اس کے خلاف قیام کریں ان لوگوںنے خلیفہ پر حملہ کیا اورانھیں قتل کردیااور بغیر کسی رائے مشورے کے حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے لی ۔عبد اللہ نے کہا: اس وقت جب تمہارا نظریہ علی اور عثمان کے قاتلوں کے بارے میں یہ ہے تو پھرکیوں علی کی مخالفت میں مدد اور کمک کرنے کے

______________________

(۱) الجمل ص ۱۲۱۔

(۲) الامامة والسیاسة، ج۱، ص ۵۵؛ تاریخ طبری، ج۳، ص ۱۶۶۔


لئے یہاں بیٹھی ہو؟ جب کہ مسلمانوں کے بعض گروہوں نے علی کی مخالفت میں جنگ کرنے کا اعلان کردیاہے عائشہ نے جواب دیا:تھوڑی دیر صبر کرو تاکہ میں اس مسئلے میں تھوڑا سا غور و فکر کروں۔ عبداللہ نے ان کی باتوں سے اس کی رضایت کا احساس کیا۔ لہذا جب اپنے گھر واپس آیاتو زبیر اور طلحہ سے کہا کہ ام المومنین نے ہماری درخواست کو قبول کرلیاہے اور اپنی بات کو مستحکم کرنے کے لئے دوسرے دن پھر عائشہ کے پاس گیااور انہیں مکمل اور قطعی طور پر راضی کر کے واپس آگیااور اس بات کے اعلان کے لئے ایک منادی سے مسجد او ربازار میں طلحہ و زبیر کے ساتھ عائشہ کی روانگی کا اعلان کرا دیا۔ اور اس طرح سے علی کی مخالفت میں قیام او ربصرہ پر قبضہ کرنے کا خیال قطعی اور یقینی ہوگیا۔(۱)

طبری نے مکہ سے خارج ہونے والوں کی ندا کی عبارت کو اس طرح نقل کیاہے:

''خبر دار ہو جاؤ کہ ام المومنین (عائشہ) اور طلحہ و زبیر بصرہ کے لئے روانہ ہو رہے ہیں جو شخص بھی چاہتا ہے کہ اسلام کو عزیز رکھے اور ان لوگوں کے ساتھ جنھوںنے مسلمانوں کے خون کو حلال سمجھا ہے جنگ کرے، اور وہ شخص جو یہ چاہتاہے کہ عثمان کے خون کا بدلہ لے وہ اس گروہ کے ساتھ چلنے کو تیار ہو جائے۔ اور جس شخص کے پاس سواری اور سفر کے اخراجات نہیں ہیںتو ان کی سواری اور سفر کا خرچ ہمارے پاس ہے''۔(۲)

سیاست کے کھلاڑی دینی الفت و عطوفت کو برانگیختہ کرنے کے لئے پیغمبر کی دوسری بیوی حفصہ کے پاس گئے، انہوں نے کہا: ہم عائشہ کے پیرو ہیں ۔ جب وہ سفر کے لئے آمادہ ہیں تو میں بھی ان کے ساتھ چلنے کو تیار ہوں، لیکن جب وہ جانے کے لئے تیار ہوئیں تو ان کے بھائی عبد اللہ نے انہیں روک دیااور حفصہ نے عائشہ کے پاس پیغام بھیجا کہ، میرے بھائی نے تمہارے ساتھ جانے سے مجھے روک دیا ہے۔

______________________

(۱) الجمل، ص ۱۲۳۔

(۲) تاریخ طبری، ج۳، ص ۱۶۷۔


ساتویں فصل

ناکثین کی گرفتاری کے لئے امام ـ کا خاکہ

امیر المومنین علیہ السلام نے اپنی حکومت کے ابتدائی دور میں سب سے پہلے جس کا م کو انجام دیا وہ یہ تھا کہ اسلامی معاشرے کو ایسے خود غرض حاکموں سے پاک کردیں جو مسلمانوں کے بیت المال کو اپنی جاگیر سمجھ بیٹھے ہیں بیت المال کے اہم حصہ کو خزانہ کے طور پر اپنے پاس ذخیرہ کرلیاہے اور دوسرے حصہ کو اپنے شخصی امور میں خرچ کرتے ہیں اور ہر شخص اپنے اپنے شہروں اورعلاقوںمیں خود مختار و آزاد حاکم بنا بیٹھا ہے او رغارتگری کرتاہے ان میں سب کا سردار ابوسفیان کا بیٹا معاویہ ہے جو خلیفۂ دوم کے زمانے سے اس بہانہ سے کہ وہ قیصر کا پڑوسی ہے قیصری محلوں میں ناز و نعمت میں غرق تھا او رجو بھی اس کے خلاف کچھ کہتا اسے فوراً جلا وطن یا ختم کردیا جاتاتھا۔

جب شام کے خود غرض حاکم کی سرکشی کی خبر امام ـ کو ملی تو آپ نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ چاہا کہ معاویہ کی سرکشی کا پوری طرح سے جواب دیں،ابھی اسی فکر میں تھے کہ اچانک حارث بن عبد المطلب کی بیٹی ام الفضل کا خط ایک معتبر قاصد کے ہمراہ امام ـ کے پاس پہونچا اور امام ـ کو خبر دی کہ طلحہ و زبیر نے آپ کی بیعت توڑ دی او روہ لوگ بصرہ کی طرف روانہ ہوگئے ہیں۔(۱)

خط ملنے کے بعد امام ـ کا ارادہ بدل گیا اور یہ خط سبب بنا کہ امام ـ جس گروہ کو لیکر شام جانا چاہتے تھے اسے بصرہ لے جائیں تاکہ عہد و پیمان توڑ نے والوں کو درمیان راہ ہی گرفتار کرلیں اور فتنہ کو جڑ سے ختم کردیں ،اس وجہ سے عباس کے ایک بیٹے ''تمام'' کو مدینہ کا حاکم اور دوسرے بیٹے ''قثم'' کو مکہ کا حاکم معین کیا۔(۲) اور سات سو آدمیوں(۳) فداکاروں کو مدینہ سے بصرہ کی طرف روانہ کیا جب ''ربذہ'' پہونچے تو معلوم ہوا کہ عہد و پیما ن تو ڑنے والوںنے پہلے ہی اپنی گرفتاری کا احتمال پیش کیا تھا اور پہچان کے لہذا کچھ

______________________

(۱) تاریخ طبری ج۵ ص ۱۶۷، طبع مصر ۔

(۲) تاریخ طبری ج۵ ص ۱۶۹، طبع مصر ۔

(۳) الامامة والسیاسة، ص ۵۱، بناء بر نقل طبری ، ج۵، ص ۱۶۹ ان کی تعداد ۹ سو افراد پر مشتمل تھی۔


راستہ جاننے والوں کے ساتھ انجان راستوں سے بصرہ کی طرف چلے گئے۔(۱) اگر امام ـ کو ان لوگوں کے بصرہ جانے کی خبر پہلے ملی ہوتی تو درمیان راہ سے ہی انھیں گرفتار کرلیتے اور ان کو گرفتار کرنا بہت آسان تھا اور پھر ان سے مقابلے کی نوبت نہیں آتی، کیونکہ زبیر کا اتحاد طلحہ کے ساتھ ظاہری اتحاد تھاان میں سے ہر ایک کی آرزو یہی تھی کہ حکومت خود سنبھالے، اور دوسرے کو اس سے بے دخل کردے ان دونوں کے اندر اس قدر نفاق تھا کہ مکہ سے روانہ ہوتے وقت دونوں کے درمیان اختلاف ظاہر ہوگیا تھا ۔ یہاں تک کہ بصرہ جاتے وقت نماز کی امامت کے لئے دونوں میں اختلاف ہوا او ردونوں یہی چاہتے تھے کہ امامت کی ذمہ داری خود اس کے ذمے ہو او راسی اختلاف کی وجہ سے عائشہ کے حکم سے دونوں جماعت کی امامت سے محروم ہوگئے اور امامت کی ذمہ داری زبیر کے بیٹے عبداللہ کو مل گئی۔ معاذ کہتے ہیں کہ خداکی قسم اگر یہ دونوں علی پر کامیابی حاصل کرلیتے تو خلافت کے مسئلے میں کبھی بھی متحد نہیں ہوتے۔(۲) امام ـ کے بعض ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ طلحہ و زبیر کا پیچھا نہ کریں لیکن امام ـ نے ان کی باتوں پر توجہ نہ دی ۔ علی علیہ السلام نے اس وقت ایک خطبہ دیا جسے ہم یہاں نقل کر رہے ہیں:

''وَ اللّٰهِ لَا أَکُوْنُ کَالضّبْعِ تَنَامُ عَلٰی طُوْلِ اللَّدَمِ حَتّٰی یَصِلُ اِلَیْهَا طَالِبُهَا وَ یَخْتَلُهَا رَاصِدُهَا. وَ لٰکِنِّی اَضْرِبُ بِالْمُقْبِلِ اِلٰی الْحَقِّ الْمُدْبِرِ عَنْهُ وَ بِالسَّامِعِ الْمُطِیْعِ الْعَاصِیِ الْمُرِیْبِ أبَداً حَتَّی یَأتِیَ عَلَیَّ یَوْمِی'' (۳)

خدا کی قسم، اب میں اس بجو کی طرح (خاموش) نہ بیٹھوں گا جو مسلسل تھپتھپایا جاتا ہے کہ وہ سو جائے تاکہ اس کا طلب گار پہونچ جائے اور دھوکہ دیکر اچانک اس پر قابو پالے، بلکہ میں حق کی طرف بڑھنے والوں اور میری آواز سن کر اطاعت کرنے والوں کو ساتھ لیکر حق سے پیٹھ پھیرنے والے نافرمانوں پر جو شک میں مبتلا ہیں ان پر ہمیشہ اپنی تلوار چلاتا رہوں گا یہاں تک کہ میری موت کا دن آجائے۔علی نے اپنے اس کلام سے اپنے پروگرام کا اعلان کردیا اور سرکشوں باغیوںکے مقابلے میں خاموش نہ رہنے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کی کامیابی کے لئے دوبارہ اپنی فوج بنانے کا سوچنے لگے۔

______________________

(۱) تاریخ طبری، ج۵، ص ۱۶۹۔

(۲) تاریخ طبری، ج۵، ص ۱۶۹۔

(۳) نہج البلاغہ، خطبہ ۶۔


فوج کو دوبارہ جمع کرنا

امام ـ کو جب ناکثین کے فرار ہونے کی خبر ملی تو آپ نے ارادہ کیا کہ بصرہ تک ان کا پیچھا کریں لیکن ،جو گروہ امام کے ہمراہ تھا اس کی تعداد سات سو یا نو سو سے زیادہ نہ تھی اگرچہ اس میں اکثر ربذہ کے مہاجرین و انصار کے بہادر سپاہی تھے جس میں سے بعض نے جنگ بدر میں بھی شرکت کی تھی لیکن یہ تعداد اس گروہ کے مقابلے کے لئے جو جنگ کرنے کے لئے آمادہ کیاگیا تھا اس کے علاوہ اطراف کے قبائل کو بھی ملایا گیا تھا، بہت کم تھی، یہی وجہ تھی کہ امام ـ نے چاہا کہ اپنی فوج کو دوبارہ جمع کریں او روہ قبائل جو اطراف میںرہ رہے تھے اور امام ـ کے مطیع و فرمابردار تھے ان سے مدد لیں۔ اسی لئے عدی بن حاتم خود اپنے قبیلے (طیّ) گئے اور ان لوگوں کو پیمان شکنوں کی نافرمانی اور علی علیہ السلام کی روانگی کی خبر دی اور قبیلے کے سرداروں کی بزم میں یہ کہا :

''اے قبیلۂ طیّ کے بزرگو! تم لوگوں نے پیغمبر کے زمانے میں ان کے ساتھ جنگ کرنے سے پرہیز کیا اور خدا اور اس کے پیغمبر کی واقعہء ''مرتدان'' میں مدد کی ، آگاہ ہو جاؤ کہ علی تمہارے پاس آنے والے ہیں، تم نے جاہلیت کے دور میں دنیاکے لئے جنگ کیااور اب اسلام کے دور میں آخرت کے لئے جنگ کرو، اگر دنیا چاہتے ہو تو خدا کے پاس بہت زیادہ مال غنیمت ہے ،میں تم لوگوںکو دنیا و آخرت کی دعوت دیتا ہوں۔ تھوڑی ہی دیر میں علی علیہ السلام اور اسلام کے بزرگ مجاہدین، مہاجر و انصار جنگ بدر میں شرکت کرنے والے اور شرکت نہ کرنے والے تمہاری طرف والے ہیں، تاخیر نہ کرو جلدی سے اٹھ جاؤ اور امام کے استقبال کے لئے جلدی دوڑپڑو''۔

عدی کی تقریر نے لوگوں میں ایک عجیب شور و ہیجان پیدا کردیا اور ہر طرف سے لبیک لبیک کی صدا بلند ہونے لگی اورسب نے امام ـ کی نصرت و مدد کرنے کے لئے اپنی آمادگی کا اعلان کردیا،جب امام ـ ان کے پاس پہونچنے توایک ضعیف شخص حضرت کے سامنے کھڑا ہوا اور اس نے اس طرح سے آپ کو خوش آمدید کہا:


''مرحبا اے امیر المومنین ! خدا کی قسم۔ اگر ہم آپ کی بیعت نہ بھی کرتے جب بھی آپ کو پیغمبر کا عزیز اور آپ کے روشن و منور ماضی کی وجہ سے آپ کی مدد کرتے ،آپ جنگ کرنے کے لئے نکلیں اور قبیلۂ طی کے تمام افراد آپ کے ہمراہ ہیں اور ان میں سے کوئی بھی شخص آپ کی فوج میں شامل ہونے سے دریغ نہیں کرے گا''۔

عدی کی محنتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ قبیلۂ طی کے افراد امام ـ کی فوج سے ملحق ہوگئے اور آپ کی فوج نے دوبارہ ایک بڑے لشکر کی شکل اختیار کرلی۔

قبیلۂ طیّ کے نزدیک ہی قبیلئہ بنی اسد رہ رہا تھا اس قبیلہ کا ایک سردار جس کا نام ''زفر'' تھا اور مدینہ میں امام ـ کا ملازم تھا اس نے امام ـ سے اجازت لی تاکہ وہ بھی اپنے قبیلے میں جائے اور لوگوں کو امام علیہ السلام کی نصرت کے لئے آمادہ کرے، اس نے اپنے قبیلے کے لوگوں سے گفتگو کی اور کامیاب ہوگیا اور ایک گروہ کوامام ـ کی نصرت کے لئے تیار کرلیا اور اپنے ساتھ امام ـکے لشکرمیں لایا، لیکن زفر کی محنتوں کا نتیجہ کامیابی کے اعتبار سے عدی کی طرح نہ تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ عدی اپنے گھرانے اور اپنے باپ حاتم کے جود و سخاوت کی وجہ سے اپنی قوم میں بہت زیادہ مشہور اور محترم جانا جاتا تھا جب کہ زفر کی شخصیت ایسی نہ تھی ،اس کے علاوہ قبیلۂ طی کے لوگوں نے ''حادثۂ مرتدان'' میں اپنے محکم عقیدے اور اسلامی طور و طریقے کا خوب مظاہرہ کیا تھا۔ اور پیغمبر کی وفات کے بعد ان میں سے ایک بھی آدمی مرتد نہ ہوا ،جب کہ قبیلۂ بنی اسد کے کافی لوگ مرتد ہوگئے تھے اور دوسری مرتبہ قبیلۂ طی کی کوششوں سے وہ اسلام کی طرف واپس آئے تھے۔(۱)

______________________

(۱) الامامة و السیاسة، ص ۵۴۔ ۵۳۔


بصرہ کے راستے میں ناکثین کی سرگذشت

طلحہ و زبیر پیغمبر(ص) کے صحابیوں میں سے تھے لیکن ان کی شخصیت و قدرت اتنی معروف نہ تھی کہ وہ تنہا مرکزی حکومت کے خلاف اقدام کرتے اور مکہ سے بصرہ تک سپاہیوں کی رہبری کرتے اگر رسول خدا کی بیوی (عائشہ) ان کے ہمراہ نہ ہوتیں اور اگر امویوں کی بہت زیادہ دولتیں ان کے پاس نہ ہوتیں تو مکہ ہی میں انکی سازشیںناکام اور ان کے ارادے خاک میں مل جاتے۔

جی ہاں، وہ عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے بہانے مکہ سے بصرہ کے لئے روانہ ہوئے تھے کہ

علی ہی ان کے قاتل ہیں یا قاتلوں کو رغبت دلائی تھی اور راستہ بھر ''یالثارات عثمان'' کا نعرہ لگا رہے تھے لیکن یہ نعرہ اتنا مضحکہ خیز تھا کہ خود عثمان کے قریبی ساتھی بھی سن کر ہنس رہے تھے ذیل کے دو واقعے اس بات پر شاہد و گواہ ہیں:

سعید بن عاص نے ''ذات عرق'' میں ناکثین کے قافلے جس کے سردار طلحہ و زبیر تھے سے ملاقات کیا ۔ سعید جو خود بنی امیہ کی آل سے تھا مروان کی طرف متوجہ ہوا اور کہا کہاں جار ہے ہو؟ مروان نے جواب دیا: ہم عثمان کے خون کا بدلہ لینے جارہے ہیں ۔ سعیدنے کہا: کیوں اتنی دور جارہے ہو، کیونکہ عثمان کے قاتل وہی لوگ ہیں جو تمہارے پیچھے پیچھے آرہے ہیں


(یعنی طلحہ و زبیر)۔(۱)

ابن قتیبہ نے اس واقعہ کو اور بھی زیادہ واضح لفظوں میں لکھا ہے، وہ لکھتا ہے :

جب طلحہ و زبیر اور عائشہ سرزمین ''ابو طاس'' پر خیبر کی طرف سے پہونچے ، تو سعید بن عاص مغیرہ ابن شعبہ کے ساتھ کالے کمان کے ہمراہ عائشہ کے پاس گیااور کہا: کہاں جارہی ہیں؟

انہوں نے کہا: بصرہ۔

سعید نے کہا: وہاں کیاکریں گی؟

اس نے کہا: عثمان کے خون کا بدلہ لوں گی۔

سعید نے کہا: اے ام المومنین ! عثمان کے قاتل آپکی رکاب میںہیں۔ پھر وہ مروان کے پاس گیا اور یہی گفتگو اس سے بھی کی اور کہا کہ عثمان کے قاتل یہی طلحہ او ر زبیر ہیں جو اس کو قتل کر کے حکومت اپنے ہاتھوں میں لینا چاہتے تھے، لیکن چونکہ وہ اپنے مقصد تک نہیں پہونچ سکے ہیں اس لئے چاہتے ہیں کہ خون کو خون سے اور گناہ کو توبہ سے دھو ڈالیں۔

مغیرہ بن شعبہ ،حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد معاویہ کا داہنا بازو سمجھا جاتا تھا(جنگ جمل سے پہلے) ایک دن لوگوں کے مجمع میں گیا اور کہا: اے لوگو! اگر ام المومنین کے ہمراہ باہر نکلے ہو تو ان کے لئے نیک نتیجہ کی دعا کرو اور اگر عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے نکلے ہو تو عثمان کے قاتل یہی تمہارے سردار ہیں ۔ اوراگر علی پر تنقیدو اعتراض کے لئے نکلے ہو تو ان پر تم نے کیا اعتراض کیاہے تم لوگوں کو خدا کا واسطہ ، تم

لوگوں نے جو ایک سال سے دو فتنے (عثمان کا قتل اور علی کے ساتھ جنگ) پیدا کر رکھے ہیں ان سے پرہیز کرو۔ لیکن سعیدو مغیرہ میں سے کسی کا کلام بھی ان پر مؤثر نہ ہوا، لہٰذا سعیدیمن کی طرف اور مغیرہ طائف کی طرف چلا گیا اور دونوں میں سے کسی نے بھی جنگ جمل اور صفین میں شرکت نہیں کی۔

______________________

(۱) تاریخ طبری، ج۳، ص ۴۷۲۔


تیز تیز قدم بڑھانا

طلحہ و زبیر نے امام ـ کی گرفتاری سے بچنے کے لئے مکہ اور بصرہ کے درمیان کے راستے کو بہت تیزی سے طے کرتے تھے اسی وجہ سے تیز رفتار اونٹ کی تلاش میں تھے تاکہ جتنی جلد ہو عائشہ کو بصرہ پہونچا دیں۔ درمیان راہ ''قبیلۂ عرینہ'' کے ایک عرب کودیکھا جو ایک تیز رفتار اونٹ (نر اونٹ) پر سوار ہے اس سے کہا کہ تم اپنا اونٹ بیچ دو اس نے اونٹ کی قیمت ایک ہزار درہم بتائی ۔ خرید نے والے نے اعتراض کیا اور کہا کہ کیا تم پاگل ہوگئے ہو؟ کہاں ایک اونٹ کی قیمت ایک ہزار درہم ہے؟ اونٹ کے مالک نے کہا: تم اس کے کمالات سے باخبر نہیں ہو کوئی بھی اونٹ تیز چلنے میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔ خرید نے والے نے کہا: اگر تم کو یہ معلوم ہو جائے کہ کس کے لئے یہ اونٹ خرید رہے ہیں تو تم بغیر درہم لئے ہی اسے ہدیہ کردو گے اس نے پوچھا: کس کے لئے خرید رہے ہو؟

اس نے کہا: ام المومنین عائشہ کے لئے۔

اونٹ کے مالک نے پیغمبر (ص)کے احترام میں بڑے ہی خلوص کے ساتھ اونٹ کو ہدیہ کردیااور اس کے بدلے میں کوئی چیز نہ لی۔

خریدار اس سے رہنمائی حاصل کرنے کے لئے اسے اس جگہ پر لایا جہاں پر عائشہ کا قافلہ تھا اور اس اونٹ کے بدلے میں اسے ایک مادہ اونٹ اور چار سو یا چھ سو درہم دیااور اس سے درخواست کی کہ اس بیابانی راستہ طے کرنے میں کچھ دور تک ہماری مدد کرے، اس نے ان کی درخواست کو قبول کیا۔

راہنما، جو اس سرزمین کے متعلق سب سے زیادہ معلومات رکھتا تھا وہ کہتا ہے کہ ہم جس آبادی اور کنویں کے پاس سے گزرتے تھے عائشہ اس کا نام پوچھا کرتی تھیں یہاں تک کہ جب ہم سرزمین ''حوأب'' سے گزرے تو کتوں کے بھونکنے کی آواز بلند ہوئی۔ ام المومنین نے عماری سے سر باہر نکالا اور پوچھا یہ کون سی جگہ ہے؟ میں نے کہا: یہ حوأب ہے عائشہ نے جیسے ہی میری زبان سے حوأب کا نام سنا چیخ پڑیں اور فوراً اونٹ کے بازو کو تھپتھپا کر اسے بٹھا دیا اور کہا: خدا کی قسم، میں وہی عورت ہوں جو سرزمین حوأب سے گزر رہی ہے تو اور وہاںکے کتے اس کے اونٹ پر بھونک رہے ہیں، اس جملے کو تین مرتبہ دہرایا اورچیخ کر کہا مجھے واپس لے چلو ۔


عائشہ کے رکنے کی وجہ سے قافلہ بھی ٹھہر گیا اور اونٹ کو بٹھا دیاگیا، لوگ چلنے کے لئے اصرا رکرتے رہے مگر کوئی فائدہ نہ ہوا اور عائشہ دوسرے دن بھی وہیں ٹھہری رہیں ، بالآخر ان کے بھانجے عبد اللہ بن زبیر نے آکر کہا، جتنی جلدی ہو یہاں سے چلئیے کیونکہ علی ہمارا پیچھا کر رہے ہیں اور ممکن ہے کہ ہم لوگ گرفتار ہو جائیں۔(۱)

طبری نے تعصب اور واقعہ پر پردہ ڈالتے ہوئے اس واقعے کودوسرے انداز سے لکھا ہے لیکن ابن قتیبہ جو اس سے پہلے گزرا ہے (وفات ۲۷۶ھ) اس نے لکھا ہے :

''جس وقت ام المومنین سر زمین حوأب کے نام سے باخبر ہوئیں تو طلحہ کے بیٹے سے کہا: میں واپس جانا چاہتی ہوں کیونکہ رسول خدا نے اپنی بیویوں کے درمیان جن میں میں بھی موجود تھی کہا تھا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم میں سے ایک عورت سرزمین حوأب سے گزر رہی ہے اور وہاں کے کتے اس پر بھونک رہے ہیں'' پھر میری طرف رخ کرکے کہا: حمیرا وہ عورت تم نہ ہونا'' اس وقت طلحہ کے بیٹے نے دوبارہ چلنے کے لئے اصرار کیا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا ان کے بھانجے عبد اللہ ابن زبیر نے منافقانہ قسم کھائی کہ ''اس سرزمین کا نام حوأب نہیں ہے اور ہم پہلی ہی رات حوأب سے گزر چکے ہیںاور اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ صحرا میں رہنے والے ایک گروہ کو لائے اور سب نے جھوٹی گواہی دی کہ یہ سرزمین حوأ ب نہیں ہے، اسلام کی تاریخ میں یہ پہلی جھوٹی گواہی ہے پھر قافلہ بصرہ کی جانب چلنے لگا اور پھر بصرہ کے نزدیک اس شہر پر قبضہ کرنے کے لئے روک دیاگیا ، عثمان بن حنیف علی کی طرف سے وہاںکے حاکم تھے۔(۲)

______________________

(۱) تاریخ طبری ج ۳ ص۹۷۵

(۲) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۹، ص ۳۱۲۔


عہد و پیمان توڑ نے والے بصرہ کے قریب:

جب ناکثین کا کاروان بصرہ کے قریب پہونچاتو قبیلۂ تمیم کے ایک شخص نے عائشہ سے درخواست کی کہ بصرہ میں داخل ہونے سے پہلے وہاں کے حاکم کو اپنے ہدف و مقصد سے آگاہ کر دیجئیے ،اس وجہ سے عائشہ نے بصرہ کی اہم شخصیتوں کے نام خط لکھا اور خود ''حفیر'' نامی جگہ پر قیام کیااور اپنے خط کے جواب کا انتظار کیا۔

ابن ابی الحدید، ابو مخنف سے نقل کرتے ہیں کہ طلحہ او رزبیر نے بھی بصرہ کے حاکم عثمان بن حنیف کو خط لکھا اور ان سے درخواست کیا کہ دار الامارہ کو ان کے حوالے کردیں۔ جب ان لوگوں کا خط عثمان بن حنیف کے پاس پہونچا تو انھوںنے احنف بن قیس کو بلایا اور اسے خط کے مضمون سے آگاہ کیا احنف نے بطور مشورہ کہا، ان لوگوں نے عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے اقدام کیا ہے جب کہ خود انہی لوگوں نے عثمان کو قتل کیاہے اور میری رائے تو یہی ہے کہ ان سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ تم حاکم ہو اور لوگ تمہارے حکم کو مانیں گے لہٰذا اس سے پہلے کہ وہ لوگ تمہاری طرف بڑھیں تم خود ان کی طرف جاؤ۔ عثمان نے کہا: میرا بھی نظریہ یہی ہے لیکن میں امام ـ کے حکم کا منتظر ہوں۔


احنف کے جانے کے بعد حکیم بن جبلۂ عبدی آیا عثمان نے طلحہ و زبیر کا خط اس کے سامنے پڑھا اس نے بھی احنف ہی کی بات دہرائی اور کہا مجھے اجازت دیجئے کہ میں ان سے مقابلہ کرنے کے لئے جاؤں ۔ اگر ان لوگوںنے امیر المومنین کی اطاعت کی تو کوئی بات نہیں ، لیکن اگر ایسانہ کیا تو ان سے جنگ کریں گے۔ عثمان نے کہا: اگر ان سے مقابلہ کرنے کی بات ہے تو میں خود اس کام کے لئے سب سے زیادہ سزاوار ہوں۔ حکیم نے کہا: جتنی جلدی ہو اس کام کو کر ڈالیئے کیونکہ اگر ناکثین بصرہ میںداخل ہوگئے تو چونکہ ان کے ہمراہ پیغمبر کی بیوی ہیں، ان کی وجہ سے تمام لوگ ان کی طرف چلے جائیں گے اور آپ کو اس مقام سے معزول کردیں گے۔

انہی حالات میں امام ـ کا خط عثمان بن حنیف کے پاس پہونچا جس میں آپ نے طلحہ و زبیر کے عہد و پیمان توڑ نے اور بصرہ کی طرف سفر کرنے کے متعلق لکھا تھا اور حکم دیا کہ ان لوگوں کو اپنے عہد و پیمان بجالانے کی دعوت دیں اگر ان لوگوںنے قبول کرلیا تو ان لوگوں سے اچھے برتاؤ کریں اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر جنگ کے لئے آمادہ ہوجائیںکہ خدا دونوں کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے امام ـ نے خط ''ربذہ'' سے بھیجا تھااور وہ خط حضرت کے حکم سے آپ کے منشی عبد اللہ نے لکھا تھا۔(۱)

______________________

(۱) الامامة و السیاسة، ج۱، ص ۵۹۔


حاکم بصرہ نے اپنے دوستوں سے مشورہ کیااورامام ـ کا خط ملنے کے بعد فوراً ہی بصرہ کی دو عظیم شخصیتوں ، عمران بن حصین اور ابو الاسود دوئلی(۱) کو بلایا اور ان لوگوں کو ذمہ داری سونپی کہ بصرہ سے باہر جائیں اور جس جگہ ناکثین نے پڑاؤ ڈالا ہے وہاں جاکر طلحہ و زبیر سے ملاقات کریں اور ان سے بصرہ میں لشکر لانے کی وجہ دریافت کریں ،وہ لوگ فوراً ہی ناکثین کے لشکر کی طرف روانہ ہوگئے اور عائشہ ،طلحہ اور زبیر سے ملاقات کی۔

عائشہ نے ان لوگوں کے جواب میں کہا کہ ایک گروہ نے مسلمانوں کے امام کو بغیرکسی غلطی کے قتل کر ڈالا اور محترم و ناحق خون بہا یا اور حرام مال کو برباد کردیا اور محترم مہینے کی حرمت کو پامال کردیا میں یہاں اس لئے آئی ہوں تاکہ اس گروہ کے جرم کا پردہ فاش کروں اور لوگوں سے کہوں کہ اس سلسلے میں کیا کیا جائے۔(۲)

(ایک قول کی بنا پر کہا کہ) میں یہاں اس لئے آئی ہوں تاکہ فوج اور سپاہیوں کو تیار کروں ،اور ان کی مدد سے عثمان کے دشمنوں کو سزا دوں۔یہ دونوں ام المومنین کے پاس سے اٹھے اور طلحہ و زبیر کے پاس گئے اور ان لوگوں سے کہا کس لئے آئے ہو؟ جواب دیا عثمان کے خون کا انتقام لینے کے لئے۔ حاکم بصرہ کے لوگوں نے پوچھا کیا آپ لوگوں نے علی کی بیعت نہیں کی ہے؟ جواب دیا ہم لوگوں نے مالک اشتر کی تلوار کے خوف سے بیعت کی تھی اس کے بعد حاکم کے نمائندے حاکم کے پاس واپس آئے اور انھیں عہد و پیمان توڑنے والوں کے ہدف سے باخبر کیا۔

امام ـ کے گورنر نے اردہ کیا کہ لوگوں کی مدد سے دشمن کوبصرہ میں داخل ہونے سے روکیں، اس وجہ سے شہر اور اطراف میں اعلان کیا گیا کہ تمام لوگ مسجد میں جمع ہو جائیں، حاکم بصرہ کے مقرر نے اپنے آپ کو اجنبی ظاہر کرتے ہوئے کوفہ کے قبیلۂ ''قیس'' کا رہنے والا بتایا اور کہا:

''اگر اس گروہ کا کہنا ہے کہ اپنی جان پجانے کے لئے بصرہ آئیں ہیں تو وہ غلط بیانی سے کام

______________________

(۱) حضرت علی کے خاص شاگرداورعلم نحو کے موجد۔

(۲) تاریخ طبری ج۵ ص ۱۷۴۔


لے رہے ہیں، کیونکہ وہ لوگ حرم الہی (مکہ) میں تھے جہاں فضامیں رہنے والے پرندے بھی امن و امان میں رہتے ہیں اور اگر یہاں عثمان کے خون کا بدلہ لینے آئے ہیں تو عثمان کے قاتل بصرہ میں نہیں ہیں کہ ان سے بدلہ لینے آئے ہیں ۔ اے لوگو! ہم پر واجب ہے کہ ان کے مقابلے کے لئے اقدام کریںاور وہ لوگ جہاں سے آئے ہیں انھیں وہیں واپس کردیں۔

اسی دوران اسود نام کے ایک شخص نے اٹھ کر کہا وہ لوگ ہمیں عثمان کا قاتل نہیں سمجھتے بلکہ وہ لوگ یہاں اس لئے آئے ہیں کہ ہم سے مدد طلب کریں اورعثمان کے خون کا بدلہ لیں۔ اگرچہ اسود کی بات کی اکثر لوگوںنے مخالفت کی مگر یہ بات ثابت ہوگئی کہ بصرہ میں بھی طلحہ وزبیر کے حامی اور چاہنے والے موجود ہیں۔

ناکثین کا قافلہ اپنے پڑائو سے بصرہ کی طرف روانہ ہوگیا اور عثمان بن حنیف بھی اپنا لشکر لے کر چلے تاکہ انھیں بصرہ آنے سے روک دیں اور ''مربد'' نامی جگہ پر دونوں لشکر آمنے سامنے آگئے۔ طلحہ و زبیر کے سپاہی دا ہنی طرف اور عثمان بن حنیف اور ان کے ساتھی بائیں طرف کھڑے ہوگئے ۔ طلحہ وزبیر نے عثمان کی مظلومیت اور اس کے فضائل بیان کئے اور لوگوں کو ان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے دعوت دیا ان کے چاہنے والوں نے ان کی تصدیق کی۔ لیکن عثمان بن حنیف کے ساتھی دونوں کی باتوں کو جھٹلانے کے لئے کھڑے ہوئے اور دونوں کے درمیان جھگڑا ہونے لگا ، لیکن عثمان کے ساتھیوں کے درمیان ذرہ برابر بھی شگاف پیدا نہ ہوا۔

جب عائشہ نے یہ حالات دیکھے توانہوںتقریر میں کہا:

''لوگ ہمیشہ عثمان کے نمائندوںکی شکایت کرتے تھے اور تمام باتیں مجھ سے آکر کہتے تھے لیکن میں نے اس پر کوئی توجہ نہ دی اور اسے ایک متقی و پرہیزگار اور وفادار اور شکایت کرنے والوں کو دھوکہ باز اور جھوٹا پایااور جب اعتراض کرنے والے طاقت ور ہوگئے تو ان کے گھر پر حملہ کردیا اور حرمت کے مہینے میںبے گناہ ان کو قتل کردیا۔آگاہ ہو جاؤ جو کچھ تمہارے لئے شائستہ ہے اور تمہارے غیر کے لئے شائستہ نہیں ہے۔ وہ یہ ہے کہ قاتلوں کو پکڑ لو او ران پر خدا کا حکم جاری کرو (پھر اس آیت کو پڑھا:


( الَمْ تَرَی اِلَی الَّذِینَ ُوتُوا نَصِیبًا مِنْ الْکِتَابِ یُدْعَوْنَ الَی کِتَابِ اﷲِ لِیَحْکُمَ بَیْنَهُم ) (۱)

عائشہ کی تقریر نے حاکم بصرہ کے دوستوں کے درمیانشگاف پیدا کردیا، ایک گروہ عائشہ کی باتوں کی تصدیق تو دوسرا گروہ ان کی باتوں کو جھٹلا رہا تھا خود عثمان بن حنیف کے لشکر نے ایک دوسرے پر اینٹ پتھر پھینکنے شروع کردیئے اس کے بعدعائشہ ''مربد'' سے ''دباغین'' کی طرف چلی گئیں جب کہ عثمان کے ساتھی دو حصوں میں بٹ گئے اور بالآخر اس میں سے ایک گروہ ناکثین سے مل گیا۔

ناکثین کی باز پرس :

جس جگہ عائشہ نے قیام کیا تھا وہاں قبیلۂ بنی سعد کے ایک شخص نے ان سے کہا ''اے ام المومنین! قتل عثمان سے بڑھ کر اس ملعون اونٹ پر بیٹھ کر آپ کا گھر سے نکلنا ہے، خدا کی جانب سے آپ کے لئے حجاب اور احترام تھا مگر آپ نے اس کو چاک اور اپنا احترام کھودیا، اگر آپ اپنی مرضی سے آئی ہیں تو یہیں سے واپس چلی جائیے اور اگر مجبور کر کے آپ کو لایا گیا ہے تواس سلسلے میں لوگوں سے مدد لیجیئے۔اسی قبیلہ کا ایک جوان طلحہ و زبیر کی طرف مخاطب ہوا اور کہا:

اے زبیر ، تم تو پیغمبر کے حواریوں میں سے ہو اور اے طلحہ تم نے خود اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ کو آسیب (دکھ درد) سے بچایا تمہاری ماں(عائشہ) کو تمہارے ہمراہ دیکھ رہا ہوں کیا تم اپنی عورتوں کو بھی ساتھ لائے ہو؟ انھوں نے جواب دیا نہیں ، اس نے کہا:اس وقت میں تم سے الگ ہو رہا ہوں پھر اس کے بعد چند اشعار کہے جس کا پہلا شعر یہ ہے:

صنتمُ حلائلَکم و قُد تُم أمَّکم------هذا لعمرک قِلةَ الانصاف

اپنی بیویوں کو پردہ میں چھپا رکھا ہے لیکن اپنی ماں(عائشہ) کو بازار میں لائے ہو تمہاری جان کی قسم یہ بے انصافی کی علامت ہے۔(۲) اس وقت حکیم بن جبلۂ عبدی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ حاکم بصرہ کی مدد کرنے کے لئے اقدام کیا اور اس کے اور طلحہ و زبیر کی فوج کے درمیان زبردست جنگ ہوئی عائشہ نے دونوں گروہوں کو جدائی کا حکم دیا اور کہاکہ یہاں سے اٹھ کر قبرستان ''بنی مازن'' کی طرف چلے جائیں اور جب وہاں پہونچے تورات کی تاریکی دونوں گروہوں کے درمیان حائل ہو گئی اور حاکم بھی شہر واپس آگئے۔عائشہ کے ساتھی ''دار الرزق'' نامی جگہ پر جمع ہوئے اور اپنے کو جنگ کے لئے آمادہ کیادوسرے دن حکیم بن جبلۂ عبدی نے ان پر حملہ کردیا، شدید جنگ ہوئی دونوں فوج کے درمیان ،دونوں گروہ کے کچھ لوگ قتل اور زخمی ہوئے۔

______________________

(۱) سورۂ آل عمران، آیت ۲۳۔------(۲) تاریخ طبری ج۳ ص ۴۸۲، الکامل بن اثیر، ج۳ ص ۲۱۴۔ ۲۱۳۔


دونوں گروہوں کے درمیان وقتی صلح

اس واقعہ کے مؤرخین نے یہاں تک متفقہ طور پر وہی لکھا ہے جسے ہم نے تحریر کیاہے لیکن اصل گفتگو، بعد کے واقعہ سے متعلق ہے کہ کس طرح ان دو گروہوںنے جنگ روکی اور نتیجے کا انتظار کرنے لگے، یہاں پر طبری اور انہی کی پیروی کرتے ہوئے جزری نے ''کامل'' میں اس واقعہ کو دو طریقے سے لکھا ہے لیکن دوسری صورت حقیقت سے زیادہ قریب لگتی ہے ہم دونوں صورتوں کو تحریر کر رہے ہیں۔

الف: طلحہ و زبیر کی بیعت کے بارے میں استفسار

طبری لکھتا ہے کہ دونوں گروہوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ مدینہ کے لوگوں کے پاس خط لکھا جائے اور طلحہ و زبیر کی حضرت علی کے ہاتھوں پر بیعت کی کیفیت کے بارے میں سوال کیا جائے، اگر مدینہ کے لوگوں نے گواہی دی کہ طلحہ و زبیر کی بیعت آزادانہ اور اختیاری تھی تو لازم ہے کہ یہ دونوں افراد مدینہ واپس جائیں اور عثمان بن حنیف کے لئے مزاحمت ایجاد نہ کریں اور اگر ان لوگوں نے گواہی دی کہ کہ ان دونوں نے خوف و ڈر اور مجبوری کی حالت میں بیعت کیا تھا تو اس صورت میں عثمان بصرہ کو چھوڑ دیں اور دار الامارہ اور بیت المال اور جو بھی چیزیں حکومت سے مربوط ہیں طلحہ و زبیر کے حوالے کردیں۔

طبری نے اپنی کتاب تاریخ طبری میں اس صلح نامہ کو نقل کیا ہے اور لکھا ہے کہ کعب بن سور کو اس کی ذمہ داری سونپی گئی اور وہ مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے ۔ جمعہ کے دن مسجد نبوی میں تمام اہل مدینہ کو اہل بصرہ کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا لیکن اسامہ کے علاوہ کسی نے بھی اس کا جواب نہیں دیا اسامہ نے کہا: ان لوگوں کی بیعت اختیاری نہیں تھی بلکہ خوف و ڈر اور مجبوری کی وجہ سے تھی، اس وقت لوگ بہت سخت ناراض ہوئے اور چاہا کہ اسے قتل کردیں اگر صھیب و محمد ابن مسلمہ وغیرہ اسے نہ بچاتے تو لوگ اسے قتل کر ڈالتے ، کعب نے مسجد نبوی میں جو کچھ بھی دیکھا تھا بصرہ آکر لوگوںکو بتادیا یہ واقعہ سبب بنا کہ طلحہ و زبیر نے عثمان کے پاس پیغام بھیجا کہ دار الامارہ کو چھوڑ دیں کیوں کہ یہ بات ثابت ہوگئی کہ ان دونوں کی بیعت شوق و رغبت کی بنیاد پر نہ تھی۔

اس واقعہ کی بنا پر صلح کا ہونا بہت بعید لگتاہے، یہ واقعہ کی جہات سے حقیقت سے بعید معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ:


۱۔ اس کا نقل کرنے والا سیف بن عمر ہے اور محققین اُسے صالح اور سچا نہیں سمجھتے، لیکن افسوس کہ تاریخ طبری میں (۱۱ہجری سے ۳۶ ہجری تک کے واقعات) اسی کے نقل سے بھرے پڑے ہیں۔

۲۔ بصرہ سے مدینہ اور پھر مدینہ سے بصرہ واپس آنے میں کافی وقت درکار ہوتاہے، اور ناکثین جانتے تھے کہ امام ـ مدینہ سے روانہ ہوچکے ہیں اور ان کے تعاقب میں ہیں، اس بنا پر ہرگز عہد و پیمان توڑ نے والوں کے لئے مصلحت نہ تھی کہ ایسے حساس خطرے کے ماحول میں ایسی شرط قبول کریں اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں اور شہر پر قبضہ کرنے اور حاکم بصرہ کو معزول کرنے سے باز آجائیں اور جواب کا انتظار کریں۔

۳۔ ایسے لوگ ایسی شرطوں کوقبول کرتے ہیں جو مطمئن ہوتے ہیں کہ پیغمبر کے صحابی ان کی بیعت کو خوف و ڈر اور مجبوری کی بیعت قرار دیں گے۔ جب کہ ایسا اطمینان ان کے اندر موجود نہیں تھا ، بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قضیہ برعکس تھا، لہذا سیف بن عمر سے منقول طبری کی روایت کے مطابق صرف ایک آدمی نے وہ بھی امام کی بیعت سے منھ موڑ نے والے نے ان دونوںکے لئے گواہی دی اور خود بقول سیف، دوسرے لوگ خاموش رہے۔

۴۔ سب سے اہم دلیل اس بات پر کہ ان کی بیعت مجبوری کی بنا پر نہ تھی یہ ہے کہ ایک گروہ مثلاً سعد وقاص ، عبد اللہ بن عمر، اسامہ او رحسان وغیرہ نے بیعت کرنے سے انکار کیا تھااور تمام چیزوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی مگر کسی نے بھی ان پر اعتراض نہیں کیا لہذااگر طلحہ و زبیر بھی بیعت نہیں کرنا چاہتے تووہ بھی بیعت نہ کرنے والوں میں شامل ہو جاتے، چنانچہ جب امام ـ اس واقعے سے آگاہ ہوئے تو زبیر کے بارے میں فرمایا:


''زبیرخیال کرتا ہے کہ اس نے ہاتھ پر بیعت کیا ہے لیکن دل سے بیعت کا مخالف تھا بہر حال اس نے اپنی بیعت کا خود اقرار کیا ہے لیکن اس کا دعوی یہ ہے کہ وہ دل میں مخالفت کو چھپائے ہوئے تھا تو ضروری ہے کہ وہ اپنے ا س دعوے پر گواہ پیش کرے اور اگر گواہ نہ لائے تو اس کی بیعت باقی ہے اور اس پر لازم ہے کہ وہ مطیع و فرمانبرداررہے''۔(۱)

عہد و پیمان توڑ نے والوں کے مارے جانے کے بعد امام ـ نے ان دونوں کے بارے میں اس طرح اظہار خیال کیا ہے:

''اَللّٰهُمَّ اِنَّهُمَا قَطَعٰانِیْ وَ ظَلْمٰانِیْ وَ نَکَثٰا بَیْعَتِیْ وَ الَّبا النَّاسَ عَلیَّ فَاحْلُلْ مَا عَقْدًا وَ لَا تَحْکُمْ لَهُمَا مَا أَبْرَمَا وَ أَرِهِمَا الْمَسَائَ ةَ فِیْمَا أمَّلاً وَ عَمْلاً وَ لَقَدْ اِسْتَتْبَتَهُمَا قَبْلَ الْقِتَالِ وَ أَسْتَانَیْتَ بِهِمَا أَمَامَ الْوَقَاعِ فَغَمَطَا النِّعْمَةَ وَ ورَدَّا الْعَافِیَةَ'' ۔(۲)

خداوندا! ان دونوں نے (جان بوجھ کر) مجھ سے قطع رحم کیا اور دونوں نے مجھ پر ظلم کیااور میری بیعت توڑ دی اور لوگوں کو میرے خلاف اکسایا ۔

خداوندا! انھوں نے جو گرہیں لگائی ہیںانھیں کھول دے اور انھوں نے جو کیا ہے اسے مضبوط نہ ہونے دے اور ان کی امیدوں اور کرتوتوں کا برا نتیجہ دکھادے میں نے جنگ چھڑنے سے پہلے ان سے بیعت پر استقلال چاہا اور انھیں موقع دیتا رہا لیکن انھوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی اور عافیت کو ٹھکرا دیا۔

ب: امام ـ سے مسئلہ کا حل دریافت کرنا

صلح کی دوسری صورت یہ لکھی ہے کہ عثمان بن حنیف نے ناکثین سے یہ کہاکہ میں امام ـ کے حکم کا پابند ہوں اور کسی بھی صورت میں ان کی باتوں کو قبول نہیں کروں گا مگر یہ کہ یہ لوگ امام ـ کو خط لکھیں اور ان سے مسئلہ کا حل دریافت کریں۔(۳)

______________________

(۱) نہج البلاغہ عبدہ، خطبہ، ۸۔

(۲) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ۱۳۳۔

(۳) تاریخ طبری ج۳ ص ۴۸۶؛ کامل ج، ص ۲۱۶؛ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۹ ص ۳۱۹؛ ابن الحدید نے صلح کی قرارداد بھی لکھا ہے۔


ابن قتیبہ اپنی کتاب ''الامامة و السیاسة'' میںمزید لکھتا ہے کہ دونوں گروہوں نے آپس میں طے کیا کہ عثمان بن حنیف اپنے منصب پر باقی رہیں اور دار الامارہ اور بیت المال بھی انہی کے اختیار میں رہے اور طلحہ و زبیر جہاں بھی چاہیں رہیں یہاں تک کہ امام ـ کی طرف سے کوئی پیغام آجائے۔ اگر امام ـ سے توافق ہو گیا تو کوئی بات نہیں ، لیکن اگرایسا نہیں ہوا تو ہر شخص آزاد ہے کہ جس راہ کو چاہے انتخاب کرے اس بات پر عہد و پیمان لیا گیااو دونوں طرف سے کچھ لوگوں کو اس پر گواہ بنایا گیا۔(۱)

قتیبہ کا اس طرح سے نقل کرنا صحیح لگتا ہے البتہ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ واقعاً ناکثین نے تہہ دل سے توافق کیاتھا بلکہ وہ لوگ ظاہری طور پرتوافق کرکے دار الامارہ پر اسی رات حملہ کر کے قبضہ کرنا چاہتے تھے تاکہ بصرہ پر عثمان بن حنیف کی حکومت بصرہ کمزور ہو جائے۔چنانچہ تاریخ میں ہے کہ عائشہ نے زید بن صوحان کو خط لکھا اور اس خط میں اسے اپناخاص بیٹا کہا او ردرخواست کیا کہ ان کے لشکر سے ملحق ہو جائے یا کم از کم اپنے گھر میں ہی بیٹھا رہے اور علی کی مدد نہ کرے۔ زید نے ان کے خط کا جواب دیتے ہوئے لکھا خداکی رحمت ام المؤمنین کے شامل حال ہو انھیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے گھر میں بیٹھیں اور ہم لوگوںکو حکم دیا گیا ہے کہ جہاد کریں انہوں نے اپنا فریضہ چھوڑ دیاہے اور ہم لوگوں کو اپنے فریضے (گھر میں بیٹھنے) کو انجام دینے کے لئے دعوت دیتی ہیں اور وہ چیز جو ہم لوگوں پر فرض تھی خود اس پر اقدام کیاہے اور ہم لوگوں کو اپنے وظیفے پر عمل کرنے سے منع کر رہی ہیں۔

ابن ابی الحدید نقل کرتے ہیں کہ ناکثین کے سردار آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ ہماری کمزوریوں کی وجہ سے اگر علی سپاہ لے کر یہاں پہونچ گئے تو ہم سب کا خاتمہ کردیں گے، اسی وجہ سے اطراف کے قبیلوں کے سردار کے پاس خط لکھا اور بعض قبیلوں کی موافقت (مثلاً ازد، ضبّہ اور قیس بن غیلان) حاصل کرلی لیکن بعض قبیلے امام ـ ہی کے وفادار رہے۔(۲)

______________________

(۱) الامامة و السیاسة ج۱ ص ۶۴۔

(۲) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۹ ص ۳۲۱۔ ۳۲۰۔


آٹھویں فصل

خونریز پوزش

ایسے حالات ہوگئے تھے کہ ناکثین کے سردار اپنے کو طاقتور سمجھنے لگے اور ابھی عثمان کے پاس خط بھیجے ہوئے کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایک سردرات میں نماز عشاء کے وقت یاایک قول کی بنا پر نماز صبح کے وقت مسجد اور دار الامارہ پر حملہ کردیا اور مسجد و دار الامارہ اور زندان کے محافظوں کو قتل کر کے (کہ جن کی تعداد میں اختلاف ہے) شہر کے اہم مقامات پر قبضہ کرلیااور پھر لوگوں کواپنا ہمنوا بنانے کے لئے تمام سرداروں نے تقریریں کیں۔

طلحہ نے مقتول خلیفہ کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہا: خلیفہ نے گناہ کیا تھا مگر پھر توبہ کرلیا تھا ہم نے ابتداء میں چاہا تھا کہ ان کو سمجھائیں ، لیکن ہمارے نادان لوگوںنے ہم پر غلبہ پیدا کرکے ان کو قتل کردیا ابھی یہیں تک کہنے پائے تھے کہ لوگوں نے کہا: تم نے جو خطوط خلیفہ کے متعلق لکھے تھے اس کا مضمون اس کے برعکس تھا، تم نے تو ہم لوگوں کو ان کے خلاف اقدام کرنے کی دعوت دی تھی۔

اس وقت زبیر اٹھا اور اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا : میری طرف سے تو کوئی خط تم لوگوں تک نہیں پہونچا اس وقت قبیلۂ ''عبد القیس'' کا ایک شخص کھڑا ہوااور چاروں خلیفہ کی خلافت کی سرگذشت بیان کی اس کی گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ تمام خلفاء کا انتخاب تم لوگوں یعنی مہاجرین و انصار نے کیا اور ہم لوگوں سے مشورہ تک نہیں لیا یہاں تک کہ تم لوگوں نے علی کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور پھر بھی ہم لوگوں سے مشورہ نہیں لیااب کیا بات ہوئی کہ ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہو ؟

کیا انھوں نے مال و دولت دبالیاہے کیاحق کے خلاف عمل کیاہے؟ یا خلاف شرع قدم اٹھایا ہے؟ اگریہ کچھ نہیں ہے تو یہ شور و ہنگامہ کیسا ہے؟


اس کی ٹھوس اور منطقی بات نے دنیا پرستوں کے غصے کو اور زیادہ کردیا اور انہوں نے چاہا کہ اسے قتل کردیں لیکن اس کے قبیلے والوں نے اسے بچالیا لیکن دوسرے دن حملہ کرکے اسے اوراس کے ستر ساتھیوںکو قتل کردیااور حکومتی امور کو یعنی نماز جماعت سے لے کربیت المال تک کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور اپنے مقصد میں کچھ حد تک کامیاب ہوگئے ۔(۱)

حاکم بصرہ کا انجام

حاکم بصرہ کا امام ـ کے بارے میں ثابت قدم رہنا ناکثین کے سخت غصہ کا سبب بنا، لہذا جیسے ہی عثمان کے پاس پہونچے توانہیں مارا پیٹا اور ان کے سر اور داڑھی کے بال اکھیڑ ڈالے ، پھر انکو قتل کرنے کے لئے مشورہ کرنے لگے اورآخرمیں یہ طے کیا کہ انہیں رہا کردیں ، کیونکہ ان لوگوں کو اس بات کا ڈر تھا کہ ان کا بھائی سہیل بن حنیف مدینہ میںسخت انتقام لے گا۔

عثمان بن حنیف مولائے کائنات سے ملنے کے لئے بصرہ سے روانہ ہوئے اور جب امام نے انہیں اس حالت میں دیکھا تو مذاق میں کہا جب تم یہاں سے گئے تھے توبوڑھے تھے اوراب ایک خوبصورت جوان کی طرح واپس ہوئے ہو عثمان نے تمام واقعات سے امام ـ کو باخبر کیا

جو افراد اس خونریز یورش میں قتل ہوئے ان کی تعداد کے بارے میں اختلاف ہے، طبری نے اپنی تاریخ اور جزری نے اپنی کتاب کامل میں مرنے والوں کی تعداد ۴۰ لکھی ہے لیکن ابن ابی الحدید نے ان کی تعداد ۷۰ اور ابو مخنف نے (اپنی کتاب جمل میں) ان کی تعداد ۴۰۰تحریرکی ہے۔(۲)

اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ناکثین کے گروہ نے اس گروہ پر جو مسجد ، دارالامارہ اور قیدخانہ کے محافظ تھے، دھوکہ اور فریب سے حملہ کیا اور تمام لوگوں کو بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا۔

______________________

(۱) تاریخ طبری ج۳ ص ۴۸۵؛ کامل ج۳ ص ۲۱۷؛الامامة والسیاسة ج۱ ص ۶۵۔

(۲) شرح ابن ابی الحدید ج۹ ص ۳۲۱۔


حکیم بن جبلّہ کا اقدام

اسی دوران حکیم بن جبلّہ کو عثمان کے اس دردناک واقعہ اور دار الامارہ کے محافظوں کے دردناک قتل نے سخت رنجیدہ کردیا۔ چنانچہ قبیلہ عبدالقیس کے تین سو افراد کے ساتھ ارادہ کیا کہ (طلحہ و زبیر کے لشکر سے) جنگ کرنا چاہا اسی وجہ سے انہوں نے چار گروہ اپنے تین بھائیوں کی ہمراہی اور ہر گروہ کے لئے ایک کمانڈر (سردار) معین کیا تاکہ ناکثین پر حملہ کریں۔ ناکثین نے حکیم سے مقابلہ کرنے کی تشویق دلانے کے لئے

پہلی مرتبہ رسول خدا کی بیوی کو اونٹ پر بٹھایا اور ان کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کو اپنی طرف جذب کرلیا یہی وجہ ہے کہ حکیم کے قیام کرنے والے دن کو ''جمل کے دن''سے تعبیر کیا ہے اور اس کی اہمیت کے لئے اس جمل کے پہلے مشہور دن کو چھوٹی صفت اور دوسرے جمل کے دن کوبڑی صفت سے منسوب کیا ہے۔

اس جنگ میں حکیم کے تمام تین سو سپاہی اوران کے تینوں بھائی قتل ہوگئے اس طرح سرزمین بصرہ کی حکومت بغیر کسی اختلاف کے طلحہ و زبیر کے ہاتھوں میں آگئی، لیکن ان میں سے ہر ایک حکومت و حاکمیت چاہتا تھا نماز جماعت کی اقتدا کے سلسلے میں بہت سخت اختلاف ہوگیاکیونکہ اس وقت جس کی اقتدا میں نماز ہوتی لوگ اس کی حکومت تصور کرتے ۔جب عائشہ کو ان دونوں کے اختلاف کی خبر ملی تو حکم دیا کہ دونوں اس مسئلہ سے کنارہ کشی اختیار کرلیں اور نماز کی امامت کی ذمہ داری طلحہ و زبیر کے بیٹوں کو سونپ دی۔ لہذا ایک دن عبداللہ بن زبیر اور دوسرے دن محمد بن طلحہ نماز کی امامت کرتے تھے۔


اور جب بیت المال کے دروازے کو کھولا گیااور ان لوگوں کی نگاہیں مسلمانوں کی بے انتہا دولت پر پڑی تو زبیر نے اس آیت کی تلاوت کی:

( وَعَدَکُمْ اﷲُ مَغَانِمَ کَثِیرَةً تَاخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَکُمْ هَذِهِ ) ۔(۱)

خداوند عالم نے بے شمار مال غنیمت کا تم سے وعدہ کیا ہے جسے تم حاصل کر رہے ہو اور اس مال و دولت کو تمہارے سامنے رکھ دیا ہے۔

پھر کہتا ہے : بصرہ کے لوگوں سے زیادہ اس دولت کے ہم سزاوار اور حقدار ہیں اس وقت تمام مال کو ضبط کرلیا۔ اور جب امام ـ نے بصرہ پر قبضہ کرلیا تو تمام مال کو ''بیت المال'' میں واپس کردیا۔(۲)

______________________

(۱) سورۂ فتح ، آیت ۲۰۔

(۲) شرح نہج البلاغہ ج۹ ص ۳۲۲؛ تاریخ طبری ج۳ کامل ،ج۳


حضرت علی علیہ السلام کا اس حملہ سے باخبر ہونا

ربذہ کی سرزمین حادثات و واقعات کی آماجگاہ ہے، امام ـ کو اس علاقہ کے متعلق کافی معلومات تھی خصوصاً اس دن سے جب ربذہ پیغمبر اسلام کے اہم صحابیوں خصوصاً پیغمبر کے عظیم صحابی جناب ابوذر کو جلا وطن کر کے

وہاںبھیجا گیا جن کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ تبعیض اور اسراف وغیرہ کے خلاف بولتے تھے کئی سال بعد خداوند عالم نے مولائے کائنات کو یہ موقع فراہم کیاکہ عہد و پیمان توڑ نے والوں کواس سرزمین پر گرفتار کریں۔

امام ـ اس سرزمین پر موجود تھے کہ عہد و پیمان توڑ نے والوں کے خونی حملہ کی خبر ملی اور یہ بھی پتہ چلا کہ طلحہ و زبیر بصرہ شہر میں داخل ہوگئے ہیں اور مسجد، دار الامارہ اور قیدخانہ کے محافظوں کو قتل کردیا ہے اور سیکڑوں افراد کو قتل کر کے شہر پر قبضہ کرلیا ہے اور امام ـ کے نمائندے کو زخمی کرنے کے بعدان کے سر اور داڑھی کے بال اکھاڑ ڈالا اور انھیں شہر سے باہر نکال دیا اور بے ہودہ خبریں پھیلا کر بصرہ کے قبیلوں سے بعض گروہ کو اپنی طرف جذب کرلیاہے۔

اس سلسلے میں امام ـ کا نظریہ تھا کہ ناکثین کے وجود کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے کوفہ والوں سے مدد لی جائے ، کیونکہ سرزمین عراق پر صرف آپ کا ایک علاقہ باقی تھا اور وہ شہر کوفہ اور اس کے اطراف کے قبیلے والے تھے لیکن اس راہ میں کوفہ کا حاکم ابو موسی اشعری مانع تھا۔ کیونکہ ہر طرح کے قیام کو فتنہ کا نام دیتا اور لوگوںکو امام ـ کی مدد کرنے سے روکتا تھا۔

مہاجرین و انصار کی بیعت سے پہلے ابوموسیٰ اشعری امام ـ کے ساتھ رہتے ہوئے کوفہ کا حاکم تھا اور جب امام ـ کی حکومت آئی تو مالک اشتر کے مشورے سے اسے اس کے منصب پر باقی رکھا ،مالک اشتر کے نظریہ کے علاوہ ابوموسی اشعری کا طریقہ و روش بیت المال میں اسراف اور ناخواہشات کے مطابق خرچ کرنا تھا یہی وجہ تھی جس نے عثمان کے تمام حاکموں سے اسے الگ کر رکھا تھا۔

جی ہاں، امام ـ نے مناسب سمجھا کہ کچھ اہم شخصیتوں کو کوفہ روانہ کریںاور اس سلسلے میں ابو موسی اور کوفہ کے لوگوں کے پاس خط بھیجیں تاکہ اپنے لشکر کے افراد کے لئے زمینہ ہموار کریںاور اگر ایسا نہ ہو تو حاکم کو معزول کر کے اس کی جگہ پر کسی دوسرے کو معین کریں اس سلسلے میں امام ـ نے جو کارنامے انجام دیئے اس کی تفصیل یہ ہے:


۱۔ محمد بن ابوبکر کو کوفہ بھیجنا

امام ـ نے محمد بن ابوبکر اور محمد بن جعفر کو خط دے کر کوفہ روانہ کیا تاکہ ایک عمومی مجمع میں کوفہ کے لوگوں سے امام ـ کی مدد کے لئے لوگوں کو آمادہ کریں، لیکن ابوموسی کی ضد نے ان دونوں آدمیوں کی محنت کو بے نتیجہ کردیا جس وقت لوگوں نے ابوموسی کے پاس رجوع کیا تواس نے کہا:''القعود سبیل الآخرة و الخروج سبیل الدنیا'' (۱) یعنی گھر میں بیٹھنا راہ آخرت ہے اور قیام کرنا راہ دنیا ہے (جس کو تم چاہو انتخاب کرلو) اسی وجہ سے امام ـ کے نمائندے بغیر کسی نتیجہ کے کوفہ سے واپس آگئے اور ''ذی قار'' نامی جگہ پر امام ـ سے ملاقات کیا اور تمام حالات امام ـ سے بیان کئے۔

۲۔ ابن عباس اور مالک اشتر کو کوفہ روانہ کرنا

امام ـ کی دوسرے امور کی طرح اس امر میں بھی یہی کوشش تھی کہ یہ سلسلہ رک نہ جائے اور اس سے زیادہ شدید اقدام نہ کرنا پڑے لہذا مصلحت دیکھی کہ ابو موسی کو روانہ کرنے سے پہلے دو عظیم و مشہور شخصیتوں یعنی ابن عباس اور مالک اشتر کو کوفہ روانہ کریں تاکہ گفتگو کے ذریعے مشکل کا حل نکال لیں ، مالک اشتر سے فرمایا کہ جس کام کو تم نے انجام دیاہے اور اس کا نتیجہ غلط نکلا ہے ضروری ہے کہ اس کی اصلاح کرو اس کے بعد یہ دونوںکوفہ کے لئے روانہ ہوگئے اور ابو موسی سے ملاقات اور گفتگو کی۔

اس مرتبہ ابوموسی نے اپنی گفتگو کا رخ دوسری طرف موڑتے ہوئے ان لوگوں سے کہا:

''هٰذِهِ فِتْنَةُ صَمَّائُ، النَّائِمُ فِیْهٰا خَیْر مِنَ الْیَقْظَانِ وَ الْیَقْظَانُ خَیْر مِنَ الْقَاعِدِ وَ الْقَاعِدُ خَیْر مِنَ الْقَائِمِ وَ الْقائِمُ خَیْر مِنَ الرَّاکِبِ وَالرَّاکِبُ خَیْر مِنَ السَّاعِیْ'' (۲)

یہ فتنہ ہے کہ سوتا ہوا انسان جاگتے ہوئے انسان سے بہتر ہے اور جاگنے والا بیٹھنے والے سے بہتر ہے اور بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہے اور کھڑا ہونے والا سوار سے بہتر اور سوار ساعی (یعنی کوشش کرنے والے یا قوم کے سردار) سے بہتر ہے۔

پھر اس نے کہا: اپنی تلواروں کو میان میں رکھ لو۔اس مرتبہ بھی امام ـ کے نمائندے بہت زیادہ تلاش و کوشش کے باوجود مایوس امام کے پاس لوٹ آئے اور ابوموسی اشعری کی دشمنی اور بغض و حسد سے امام ـ کو باخبر کیا۔

______________________

(۱) تاریخ طبری، ج۳، ص ۳۹۳۔۴۹۶------(۲) تاریخ طبری، ج۳، ص ۴۹۶۔


۳۔ امام حسن ـ اور عمار یاسر کو کوفہ روانہ کرنا

اس مرتبہ امام ـ نے ارادہ کیا کہ اپنا پیغام بھیجنے کے لئے اس سے بھی زیادہ عظیم المرتبت شخصیتوں سے مدد لیں اور سب سے زیادہ شائستہ افراد اس کام کی انجام دہی کے لئے آپ کے عظیم المرتبت فرزند امام حسن مجتبیٰ ـ اور عمار یاسر تھے ،پہلی شخصیت پیغمبر اسلام کی بیٹی فاطمہ زہرا (س) کے فرزند تھے جو ہمیشہ آپ کی محبت و عطوفت کے سائے میں رہتے تھے اور دوسری شخصیت اسلام قبول کرنے والوں میں سبقت کرنے والے کی تھی جس کی تعریف مسلمانوں نے رسول اسلام سے بہت زیادہ سنی تھی۔ یہ دونوں شخصیتیں امام ـ کا خط لے کر کوفہ میں وارد ہوئے سب سے پہلے امام حسن مجتبیٰ ـ نے لوگوں کے سامنے امام ـ کا خط پڑھ کر سنایا جس کا مضمون یہ تھا۔

یہ خط خدا کے بندے امیر المومنین علی کی طرف سے (اہل کوفہ کے نام) ہے۔

اہل کوفہ(۱) جو انصار کا چہرہ مہرہ اور عربوں کی سربلندی کا سہرا ہیں۔ اما بعد: میں تمہیں عثمان کے معاملے (قتل) سے یوں آگاہ کرتا ہوں جیسے تم اس واقعہ کو سن ہی نہیں رہے ہو بلکہ دیکھ بھی رہے ہو حقیقت یہ ہے کہ تمام لوگوںنے انہیں مورد الزام ٹھہرایا باوجود ان تمام حالات کے، مہاجرین میں فقط میںہی ایک واحد مرد تھا جس سے وہ سب سے زیادہ مطمئن اور خوش تھے اور فقط مجھ ہی پر ان کا عتاب سب سے کم تھا حالانکہ طلحہ و زبیر کا ان کی مخالفت میں یہ عالم تھا کہ ان دونوں کی ہلکی سی ہلکی چال بھی ان کے خلاف سر پٹ دوڑ کا حکم رکھتی تھی اور (اس دوڑ میں) ان دونوں کی دھیمی سے دھیمی آواز بھی بانگ درشت سے بازی لے گئی تھی۔ اس پر عائشہ کے غضب کے لاوے نے اچانک پھوٹ کر عثمان کے خلاف جلتی آگ پر تیل کا کام کیا۔ اب کیا تھا (ایک دو تین نہیں ) اچھی خاصی جمعیت ان کے خلاف تیار کر لی گئی چنانچہ اسی جمعیت نے عثمان کو قتل کر ڈالا اور تمام لوگوںنے کسی مجبوری و اکراہ سے نہیں ، بلکہ رضا و رغبت اور پورے اختیار سے میرے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا (یعنی بیعت کی)۔

______________________

(۱) امام ـ کے خط میں یہاں پر لفظ ''جبہة الانصار'' استعمال ہوا ہے اور جبہہ کے معنی پیشانی اور گروہ کے ہیںاورانصار سے مراد یاور و دوست ہیں نہ کہ مہاجر کے مقابلے میں لفظ انصارہے ، کیونکہ امام ـ کا مدینہ سے کوفہ ہجرت کرنے سے پہلے اس شہر کو''مرکز انصار'' کے نام سے نہیں جانا جاتا تھا۔


اے لوگو! دار الہجرت کے مکین و مکان ایک دوسرے کودور پھینک رہے ہیں اور شہر (کا خون) یوں کھول رہا ہے جیسے دیگ جوش کھاتی ہے غرض فتنہ کی چکی کا پاٹ اپنی کیلی سے پیوست ہوچکا ہے (اور چکی چلنے کو تیار ہے) لہذا اپنے امیر کی طرف تیزی سے دوڑ تے ہوئے آؤ اور اپنے دشمن سے جہاد کے لئے آگے بڑھو''۔(۱)

جب امام حسن ـ ،امام کا خط لوگوں کو پڑھ کر سنا چکے تو اب امام ـ کے نمائندوں کی نوبت آئی کہ وہ گفتگو کریں اور لوگوں کے ذہنوں کو بیدار کریں جس وقت امام حسن ـ نے تقریر شروع کی اس وقت سب کی نگاہیںان کی طرف متوجہ تھیں اور تمام سننے والوں کے لبوں پر ان کے لئے دعائیں تھیں اور خدا سے دعا کر رہے تھے کہ ان کے ارادوں کو قائم کردے، حضرت مجتبیٰ ـ نے نیزہ یا عصا پر تکیہ کرتے ہوئے اس طرح سے اپنی گفتگو شروع کی۔

''اے لوگو! ہم لوگ یہاں اس لئے آئیںہیں کہ تم لوگوںکو قرآن مجید اور پیغمبر کی سنت اور سب سے زیادہ دانااورصحیح فیصلہ کرنے والے، اور سب سے شائستہ فرد کی مسلمانوں سے بیعت لیں اور تم لوگوں کو ایسے شخص کی دعوت دیں جس پر قرآن نے اعتراض نہیں کیاہے اور اس کی سنت کا انکار نہیں کیااور ایمان میں جو شخص آپ(پیغمبر) سے دو نسبت رکھتا تھا (ایمان اور رشتہ داری) سب میں سبقت رکھتا تھا اور کبھی بھی انہیں تنہا نہیں چھوڑا جس دن لوگ انہیں اکیلا چھوڑ کر بہت دور چلے گئے تھے تو خدا نے اس کی مدد کو کافی جانا اور وہ پیغمبراسلام(ص) کے ساتھ نماز پڑھتا تھا جب کہ دوسرے افراد مشرک تھے۔

اے لوگو! ایسی شخصیت تم سے مدد مانگ رہی ہے اور تمہیں حق کی طرف بلا رہی ہے اور اس کی آرزو ہے کہ تم اس کی پشتیبانی کرو اور وہ گروہ جس نے تم سے اپنے عہد و پیمان کو توڑ دیا ہے اور اس کے متقی و متدین ساتھیوں کو قتل کردیا ہے اور اس کے بیت المال کو برباد کردیاہے تم لوگ اس کے مقابلے میں قیام کرو۔ اٹھو اور بیدار ہو جاؤ کہ خدا کی رحمت تم پر سایہ فگن ہے تم لوگ اس کی طرف بڑھو اور اچھے کام کا حکم دو اور بری چیزوں سے لوگوں کو منع کرو اور جس چیز کو صالح افراد آمادہ کر رہے ہیں انھیں تم بھی آمادہ کرو۔

______________________

(۱) نہج البلاغہ، نامہ ۱۔


ابن ابی الحدید نے مشہور و معروف مؤرخ ابو مخنف سے امام حسن ـ کی دوتقریریں نقل کی ہیں اور ہم نے صرف ایک کے ترجمہ پر ہی اکتفاء کیا ہے امام حسن مجتبیٰ ـ کی دو نوں تقریریں امام علی علیہ السلام کی شخصیت اوران کے لطف و محبت کی وضاحت کرتی ہیں جو کہ حیرت انگیز ہے۔(۱)

جب امام حسن ـ کی تقریر ختم ہوئی اس وقت عمار یاسر اٹھے او رخدا کی حمد و ثنا اور محمد و آل محمد پر سلام و درود کے بعد لوگوں سے اس طرح مخاطب ہوئے:

اے لوگو! پیغمبر کا بھائی تمہیں خدا کے دین کی مدد کے لئے آواز دے رہا ہے تم پر لازم ہے کہ وہ امام جس نے کبھی بھی شریعت کے خلاف کوئی کام نہیں کیا۔ وہ ایسا دانشمند ہے جسے تعلیم کی ضرورت نہیں ، اور ایسا بہادر جو کسی سے بھی نہیں ڈرتا، اور اسلام کی خدمت کرنے میں اس کا کوئی بھی مقابلہ نہیں کرسکتا، اگر تم لوگ اس کی خدمت میں حاضر ہو تو پوری حقیقت سے تم لوگوں کو آگاہ کردے گا۔

پیغمبر کے فرزند اورعظیم المرتبت صحابی کی تقریروںنے لوگوںکے قلو ب کو بیدار اوران کے ذہنوں کو جلا بخش دی اور وہ کام جسے سادہ لوح حاکم نے روک کر رکھا تھااس سے دور ہوگئے کچھ ہی دیر گزری تھی کہ تمام لوگوں کے اندر جوش و خروش پیدا ہوگیا، خصوصاً اس وقت جب زید بن صوحان نے عائشہ کا خط کوفیوں کو پڑھ کر سنایا اور سب کو حیرت میں ڈال دیا، اس نے زید کے لئے خط میں لکھا تھا کہ اپنے گھر میں بیٹھے رہو اور علی کی مدد نہ کرو، زید نے خط پڑھنے کے بعد بلند آواز سے کہا: اے لوگو! ام المومنین کا فریضہ گھر میں بیٹھناہے اور میرا فریضہ میدان جنگ میں جہاد کرنا ہے اس وقت وہ ہمیں اپنے فریضے کی طرف بلا رہی ہیں اور خود ہمارے فریضے پر عمل کر رہی ہیں۔ان تمام واقعات کی وجہ سے لوگوں نے امام ـ کے حق میں اپنے نظریے کو بدل دیااور بہت سے گروہ نے امام ـ کی مدد کرنے کے لئے اپنی آمادگی کا اعلان کردیا۔ اور تقریباً بارہ ہزار افراد اپنے گھر اور زندگی چھوڑ کر امام ـ کی خدمت میں روانہ ہوگئے۔ابو الطّفیل کہتا ہے: امام ـ نے کوفہ کے اس گروہ کے پہونچنے سے پہلے مجھ سے کہا میرے چاہنے والے جو کوفہ سے میری طرف آرہے ہیںان کی تعداد بارہ ہزار ایک آدمی پر مشتمل ہے جب یہ لوگ امام کے

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱۴ ص ۱۴۔ ۱۱؛ تاریخ طبری ج۳ ص ۵۰۰۔ ۴۹۹۔


پاس پہونچ گئے تو ہم نے شمار کرنا شروع کیا تو کل تعداد بارہ ہزار ایک تھی، نہ ایک آدمی کم تھا نہ ایک آدمی زیادہ۔(۱)

لیکن شیخ مفید نے ان سپاہیوں کی تعداد جو کوفہ سے امام کی طرف آئی تھی کل چھ ہزار چھ سو لکھا ہے اور مزید کہتے ہیں امام ـ نے ابن عباس سے کہا کہ دو دن میں (چھ ہزار چھ سو افراد) لوگ میری طرف آئیںگے اور طلحہ و زبیر کو قتل کردیں گے اور ابن عباس کہتے ہیں کہ جب ہم نے سپاہیوں کو شمار کیا تو ان کی تعداد چھ ہزار چھ سو افراد پر مشتمل تھی۔(۲)

ابوموسیٰ اشعری کی ناکام کوشش

ابوموسیٰ کوفہ کے حالات بدلنے کی وجہ سے بہت سخت ناراض ہوا اورعمار یاسر کو مخاطب کر کے کہا: ''میں نے پیغمبر سے سناہے کہ بہت جلد ہی فتنہ برپا ہوگا جس میں بیٹھنے والے کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوں گے اور یہ دونوں سوار افراد سے بہتر ہوں گے اور خداوند عالم نے ہمارے خون اور مال کوایک دوسرے پر حرام قرار دیا ہے''۔عمار کے دل و دماغ میں ابو موسیٰ اشعری کے خلاف جو نفرت بھری تھی اس بنا پر کہا: ہاں، پیغمبر خدا نے تجھے مراد لیا ہے اور تیرے بارے میں کہا ہے اور تیرا بیٹھنا تیرے قیام سے بہتر ہے نہ کہ دوسرے افرادکا۔(۳) یہاں پر اس حدیث کے سلسلے میں تھوڑا غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔اگر ہم فرض بھی کرلیں کہ پیغمبر نے ایسی حدیث بیان فرمائی ہے لیکن یہ کیسے معلوم کہ پیغمبر کامقصد جمل کا واقعہ ہے؟ کیاایسے گروہ کا مقابلہ کرنا جس نے چار سو لوگوں کے سروں کو بکریوں کی طرح جدا کردیا ہے ایسا فتنہ ہے کہ اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہے؟!

پیغمبر کی وفات کے بعد بہت سارے واقعات رونما ہوئے ، مثلاً سقیفہ سے عثمان کے قتل تک، ممکن ہے پیغمبر کی حدیث اس واقعے کے متعلق ہو؟! اگر تاریخ کے اوراق کا جائزہ لیں اور ۱۱ھ سے ۳۵ ھ تک کے واقعات کونظر میں رکھیں تو معلوم ہوگا کہ بہت سے ایسے واقعات ہیں جو بہت زیادہ افسوس کے لائق ہیں کیامالک بن نویرہ کے تلخ واقعہ کو ایک معمولی واقعہ سمجھ سکتے ہیں؟ خلیفہ سوم کے زمانے کے حادثوں کو اور اسی طرح مومن و متدین افراد پر ظلم و ستم اورانھیں جلا وطن کرنا وغیرہ، کیا انہیں فراموش کیا جاسکتا ہے؟ اور کیوں یہ حدیث معاویہ او رمروان اور عبد الملک کے خلافت کے زمانے سے مخصوص نہ ہو ؟اس کے علاوہ ، اسلام کے پاس ایسے اصول ہیں جنھیںکسی وقت بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اورانھیں میں سے ایک اولی الامر کی اطاعت ہے۔

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱۴،ص ۱۴۔ ۱۱؛ تاریخ طبری ج۳ ص ۵۰۰۔ ۴۹۹۔--(۲) جمل ص ۱۵۷۔---(۳) تاریخ طبری ج۳ ص ۴۹۸۔


خلیفہء منصوص (اللہ کا منتخب کردہ) یا مہاجرین و انصار کی طرف سے منتخب خلیفہ کی اطاعت ایک اسلامی فریضہ ہے جس کی تمام لوگوں نے تائید کی ہے اور ابوموسیٰ اشعری نے بھی امام ـ کو ''ولی امر'' مانا ہے کیونکہ اس نے حضرت کے حکم کو قبول کیا ہے اور کوفہ کی حکومت پر حاکم کے طور پر باقی رہا ہے اور اس کے بعد جو بھی کام انجام دیتا تھا وہ علی کے والی و حاکم کے عنوان سے انجام دیتا تھا۔ ایسی صورت میں حدیث مجمل کواس آیت کریمہ( اطیعو ا اللّه و اطیعو ا الرسول و اولی الامر منکم ) کے مقابلے قرار نہیں دینا چاہئے اور نص قرآنی کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے ۔

ابوموسیٰ اشعری کی معزولی

متعدد نمائندوں کو بھیجنے کے بعد اور تمام کوششوں کے بے اثر ہونے کی وجہ سے امام ـ کے لئے ضروری تھا کہ ابوموسیٰ اشعری کو اس کے منصب سے معزول کردیں۔ امام نے اس کے پہلے بھی کئی خط لکھ کر اس پر اپنی حجت تمام کردی تھی ،آپ نے اسے لکھا تھا کہ ''میں نے ہاشم بن عبتہ کو روانہ کیا ہے کہ وہ تمہاری مدد سے مسلمانوں کو میری طرف روانہ کرے، لہذا تم اس کی مدد کرو اور میں نے تمہیںاس منصب پر باقی رکھا کہ حق کے مددگار رہو۔جب امام ـ خط بھیجنے اور عظیم شخصیتوں کو روانہ کرنے کے بعد حاکم کوفہ کی فکرونظر بدلنے سے مایوس ہوئے تو امام حسن کے ہمراہ ابوموسیٰ اشعری کوایک خط بھی لکھا اورباقاعدہ طور پر اسے ولی عہدی سے معزول کردیا اور قرظہ بن کعب کو اس کی جگہ منصوب کردیا ۔ امام کے خط کی عبارت یہ ہے:'' فقدکنت أریٰ أن تعزبَ عن هذا الامر الذی لم یجعل لک منه نصیباً سیمنعک من ردِّ أمری وقد بعثتُ الحسن بن علیٍ وعمار بن یاسر یستنفران الناس وبعثت قرطة بن کعب والیاً علی المصرفا عتزل عملنا مذموماً مدحوراً '' ''اسی میں مصلحت دیکھتا ہوںکہ تم اپنے منصب سے کنارہ کشی اختیار کر لو اس مقام کے لئے خداوند عالم نے تمہارا کوئی حصہ نہیں رکھا ہے اور خدا نے تمہاری مخالفت سے مجھے روک دیا ہے؟ میں نے حسن بن علی اور عمار یاسر کو بھیجا ہے تاکہ لوگوں کو ہماری مدد کے لئے آمادہ کریں اور قرظہ بن کعب کو والی شہرقرار دیا ہے تم ہمارے امور سے دورہو جاؤ تم سب کی نگاہوں سے گر چکے ہو اورلعنت کےمستحق ہو''امام کے خط کے مضمون سے شہر کے سارے لوگ باخبر ہوگئے اور کچھ ہی دنوں بعد مالک اشتر نےکوفہ جانے کی درخواست کی اور امام نے انھیں کوفہ روانہ کردیا اور دار الامارہ کواپنے قبضے میں لےکرنئے والی شہر کے حوالے کردیا اور ابوموسیٰ کوفہ میں ایک رات رہنے کے بعد شہر سے چلا گیا۔(۱)

______________________

(۱) تاریخ طبری ج۳ ص ۵۰۱۔

نویں فصل

امام ـ کی ''ذی قار'' سے بصرہ کی طرف روانگی

علی علیہ السلام ربذہ میں تھے کہ ناکثین کے خونی حملہ سے باخبر ہوئے اورذی قار میں تھے جب آپ نے مخالفوں کو سزا دینے کا قطعی فیصلہ کیا۔

عظیم شخصیتوں مثلاً امام حسن مجتبیٰ ـ اور عمار یاسر کو کوفہ بھیجنے کا یہ اثر ہوا کہ کوفہ کے لوگوں میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا ہوگئی اور یہی سبب بنا کہ لوگ امام ـ کے لشکر میں شامل ہونے کے لئے ذی قار کی طرف دوڑ پڑے، لہٰذا علی علیہ السلام اپنی فوج کے ساتھ منطقہ ذی قار سے بصرہ کی طرف روانہ ہوگئے۔

امام ـ نے پیغمبر کی طرح جنگ کرنے سے پہلے مخالفوں پر اپنی حجت کو تمام کردیا اگرچہ حقیقت ان لوگوں پر واضح تھی یہی وجہ ہے کہ ناکثین کے سردار یعنی طلحہ و زبیر اور عائشہ کے پاس الگ الگ خط لکھا اور تینوں خط میں ان کے کارناموں کو لکھا اور دار الامارہ اور بصرہ کے محافظوں کے قتل کرنے پر سخت اعتراض کیا اور عثمان بن حنیف پر جو ظلم و ستم کیاتھا اس کی سخت مذمت کی۔ امام نے تینوں خط صعصہ بن صوحان کے ہمراہ روانہ کیا وہ کہتے ہیں :

سب سے پہلے ہم نے طلحہ سے ملاقات کی اور امام ـ کا خط اسے دیا اس نے خط پڑھنے کے بعد کہا: کیا اس وقت جب علی کے خلاف جنگ کی پوری تیاری ہوچکی ہے اس سے منہ موڑ رہے ہیںاور نرمی دکھا رہے ہیں؟ پھر زبیر سے ملاقات کی تواسے طلحہ سے کچھ نرم پایا ۔ پھر عائشہ کو امام کا خط دیا لیکن دوسروں سے زیادہ انہیں فتنہ و فساد اور جنگ کرنے پر آمادہ پایا انہوں نے کہا: میں نے عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے اقدام کیا ہے اور خدا کی قسم اس کام کو میں ضرور انجام دوں گی۔

صعصعہ کہتے ہیں: اس کے پہلے کہ امام ـ بصرہ میں داخل ہوتے ، میں ان کی خدمت میں پہونچ گیا امام ـ نے مجھ سے پوچھا کہ وہاں کے کیا حالات ہیں۔ میں نے کہا: میں نے ایک گروہ کو دیکھا کہ آپ سے جنگ کرنے کے علاوہ ان کا کوئی اور مقصد نہیں ہے امام ـ نے فرمایا:


و الله المستعان (۱)

جب علی علیہ السلام ناکثین کے سرداروں کے قطعی ارادے سے باخبر ہوئے تو آپ نے ابن عباس کو بلایا اور ان سے کہا: ان تینوں آدمیوں سے ملاقات کرو اور میری بیعت کی وجہ سے جو ان پر میرا حق ہے اس کے بارے میں احتجاج کرو۔ جب انھوں نے طلحہ سے ملاقات کیا اور امام ـ کی بیعت اسے یاد دلائی تواس نے ابن عباس کا جوا ب دیا: میں نے بیعت ایسے حالات میں کیاتھا کہ میرے سر پر تلوار تھی۔

ابن عباس نے کہا کہ میں نے خود تمہیںدیکھا کہ تم نے مکمل آزادی کے ساتھ بیعت کی تھی اور اس پہ دلیل پیش کی کہ بیعت کے وقت، علی نے تم سے کہا کہ اگر تم چاہو تو تمہاری بیعت کروں لیکن تم نے کہا نہیں میں آپ کی بیعت کروں گا۔

طلحہ نے کہا: صحیح ہے کہ یہ بات علی نے کہی تھی لیکن اس وقت تمام گروہوں نے بیعت کی تھی اور مخالفت کا امکان نہیں تھا۔

پھر اس نے کہا: ہم عثمان کے خون کا بدلہ چاہتے ہیں اور اگر تمہارے چچازاد بھائی تمام مسلمانوں کے خون کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں تو عثمان کے قاتلوں کو ہمیں سونپ دیں اور خود بھی خلافت کو چھوڑ دیں تاکہ خلافت شوری کے اختیار میں آجائے اور شوری جسے چاہے منتخب کرے اگر ایسا نہ ہوا تو ان کے لئے ہماری تلوار ہدیہ ہے۔

ابن عباس نے موقع غنیمت جانا لہٰذا حقیقت کو اور واضح کرتے ہوئے کہا شایداسی وجہ سے تونے عثمان کے گھر کا دس دن تک محاصرہ کیا اوران کے گھر میں پانی پہونچانے سے منع کیااور جس وقت کہ علی نے تم سے گفتگو کی کہ اجازت دو کہ عثمان کے گھر پانی پہونچایا جائے تو تم نے ان کی موافقت نہ کی اور جب مصریوں نے اتنا زبردست پہرہ دیکھا تو اس کے گھر میں داخل ہوگئے اور اسے قتل کردیا اور اس وقت لوگوں نے اس شخص کے ہاتھوں پر بیعت کی جس کا ماضی تابناک، اس کے فضائل روشن، اور پیغمبر کا سب سے قریبی عزیز تھا او رتم نے اور زبیر نے بغیر کسی مجبوری اور دباؤ کے بیعت کی اور اس وقت اس بیعت کو توڑ دیا۔ کتنے تعجب کی بات ہے کہ تم خلفاء ثلاثہ کی خلافت کے دوران کتنے سکون و آرام سے تھے لیکن جب خلافت علی تک پہونچی تواپنی اوقات سے باہر ہوگئے خدا کی قسم علی تم لوگوں سے کم نہیں ہیں او رجو تمہارا یہ کہناہے کہ علی ان کے قاتلوں کو تمہارے حوالے کریں تو تم اس کے قاتلوں کو اچھی طرح سے پہچانتے ہو اور تمہیں اس کی بھی خبر ہے کہ علی تلوار سے نہیں ڈرتے۔

______________________

(۱) الجمل ص ۱۶۷۔


طلحہ ابن عباس کی منطقی گفتگو سن کر بہت شرمندہ ہوا اورخاموش ہو گیا اس کے بعد گفتگو کو ختم کرنے کے لئے کہا: ابن عباس اس لڑائی سے پیچھے ہٹ جاؤ۔

ابن عباس کہتے ہیں: میں فوراً ہی علی کے پاس گیا اور اپنی گفتگو کا سارا نتیجہ بیان کیا ،حضرت نے مجھے حکم دیا کہ عائشہ سے گفتگو کرو۔ اور ان سے کہو، فوج جمع کرنا عورتوں کی شان نہیں ہے اور تم ہرگز اس کام کے لئے مامور نہیں کی گئی ہو تم نے اس کام کے لئے قدم نکالا ہے اور دوسروں کے ساتھ بصرہ آگئی اور مسلمانوں کو قتل کردیا اور کام کرنے والوں کو نکال دیا اور لوگوں کو راستہ دکھایا اور مسلمانوں کے خون کو مباح سمجھا جب کہ تم خود عثمان کی سب سے بڑی دشمن تھی۔

ابن عباس نے امام ـ کے پیغام کو عائشہ تک پہونچایا انہوں نے جواب دیا : تمہارے چچازاد بھائی کا خیال ہے کہ تمام شہروں پر ان کا قبضہ ہے خدا کی قسم، اگر کوئی چیز اس کے ہاتھ میں ہے تو اس سے زیادہ چیزیں میرے اختیار میں ہیں۔

ابن عباس نے کہا: علی کے لئے فضیلت اور اسلام کے لئے ان کی بہت زیادہ خدمات ہیں اور انھوںنے اس راہ میں بہت زیادہ زحمتیں برداشت کی ہیں انہوں نے کہا: طلحہ نے بھی جنگ احد میں بہت زیادہ رنج و مصیبت برداشت کیا ہے۔

ابن عباس نے کہا: میرے خیال میں پیغمبر کے صحابیوں کے درمیان علی سے زیادہ کسی نے رنج و مصیبت برداشت نہیں کی ہے۔ اس وقت عائشہ نے انصاف کی بات کی اور کہا اس کے علاوہ علی کی دوسری بھی فضیلتیں ہیں ۔

ابن عباس نے موقع غنیمت سمجھ کر فوراً کہا: تمہیںخدا کا واسطہ مسلمانوں کا خون بہانے سے پرہیز کرو انہوں نے جواب دیا: مسلمانوں کا خون اس وقت تک بہایا جائے گا جب تک علی اور ان کے ساتھی خود کو قتل نہیں کرلیں گے۔

ابن عباس کہتے ہیں کہ میں عائشہ کی غیر منطقی باتین سن کر مسکرایا او رکہا علی کے ہمراہ صاحبان بصیرت لوگ ہیں جو اس راہ میں اپنے خون کو بہا دیں گے پھر ان کے پاس سے اٹھ کر واپس چلے آئے۔

ابن عباس کہتے ہیں:علی نے مجھے حکم دیا کہ زبیر سے بھی گفتگو کروں او رحتی الامکان اس سے تنہائی میں ملاقات کروںاور اس کا بیٹا عبداللہ وہاں موجود نہ ہو۔ میں اس خیال سے کہ اس سے تنہائی میں ملاقات کروںدوبارہ اس کے پاس گیا لیکن اسے تنہا نہیں پایاتیسری مرتبہ اسے میں نے تنہا دیکھا، اس نے اپنے غلام ''سرحش'' کو بلایا اور اس سے کہا کہ کسی کو بھی اندر آنے کی اجازت نہ دینا ، میں نے گفتگو کا آغاز کیا،شروع میں اسے بہت غصے میں پایا لیکن دھیرے دھیرے اسے ٹھنڈا کردیا جب اس کے خادم نے میری باتیں سنیں تو فوراً اس نے زبیر کے


بیٹے کو خبر کردی اور جیسے ہی وہ اس جلسہ میں وارد ہوا میں نے اپنی گفتگو قطع کردی، زبیر کے بیٹے نے اپنے باپ کے اقدام کو عثمان کے خون کا بدلہ لینے اورام المومنین کی موافقت سے صحیح ثابت کیا میں نے اس کا جواب دیا خلیفہ کا خون تمہارے باپ کی گردن پر ہے یا تو اسے قتل کیا ہے یا اس کی مدد نہیں کیاہے اور ام المومنین کی موافقت اس کی سچائی کی دلیل نہیں ہے اسے گھر کے باہر لائے جب کہ رسول اکرم نے ان سے کہا تھا عائشہ ممکن ہے ایک دن ایسا آئے کہ تم پر حوأب کے کتے بھونکیں، بالآخر میں نے زبیر سے کہا: خدا کی قسم، میں نے ہمیشہ تمہیں بنی ہاشم میں شمار کیا تم ابوطالب کی بہن صفیہ کے بیٹے اور علی کے پھوپھی زاد بھائی ہو، جب عبد اللہ بڑا ہوگیا تو اپنے رشتہ کو ختم کردیا۔(۱)

لیکن علی علیہ السلام کے کلام (نہج البلاغہ) سے استفادہ ہوتا ہے کہ وہ طلحہ کی طرف سے مکمل طور سے مایوس ہوچکے تھے اسی لئے ابن عباس کو حکم دیا کہ صرف زبیر سے ملاقات کر کے گفتگو کریں اور شاید یہ ابن عباس کو دوسری مرتبہ حکم دیا تھا۔ اس سلسلے میں امام ـ کابلیغ کلام ملاحظہ کیجیئے۔

''لاتلقین طلحة فانک ان تلقہ تجدہ کا لثور عاقصاً قرنہ، یرکب الصعب و یقول ہو الذلول! و لکن الق الزبیر فانہ ألین عریکةً فقل لہ یقول ابن خالک عرفتنی بالحجاز و انکرتنی بالعراق ، فما عدا مما بدا؟(۲)

طلحہ سے ملاقات نہ کرنا اگر اس سے ملو گے تو اسے ایک بیل(۳) کی طرح پاؤ گے جس کی سینگ

ٹیڑھی ہے وہ سرکش سواری پر سوار ہے اور پھر کہتا ہے کہ یہ آرام سے ہے، البتہ زبیر سے ملاقات کرنا کہ وہ نرم مزاج ہے اور اس سے کہنا کہ تمہارے ماموں زاد بھائی نے کہا ہے کہ تم حجاز میں مجھے پہچانتے تھے اور عراق میں آکربھول گئے حقیقت ظاہر ہونے کے بعد کس چیز نے اسے پھیر دیا؟

______________________

(۱) الجمل، ص ۱۷۰ و ۱۶۷۔

(۲) نہج البلاغہ، خطبہ نمبر ۳۱۔

(۳) یعنی جس طرح بیل اپنی نوک دارسینگ سے ہر کسی کو چھیدنے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح تم طلحہ کو فتنہ میں مبتلا پاؤ گے۔ رضوی۔


قعقاع بن عمرو کو روانہ کرنا

پیغمبر اسلام کے معروف و مشہور صحابی قعقاع بن عمرو کوفہ میں رہتے تھے اور اپنے قبیلے میں ایک اہم اور قابل احترام شخصیت کے مالک تھے، انھیں امام ـ کا حکم ملا کہ ناکثین کے سرداروں سے ملاقات کریں۔ ان کے اور ناکثین کے سرداروں کے درمیان جو گفتگو ہوئی اسے طبری نے اپنی تاریخ میں اور جزری نے ''کامل'' میں نقل کیا ہے انہوں نے ایک خاص منطقی طریقے سے ناکثین کے بارے میں فکر کی تاکہ ان لوگوں کو امام ـ سے صلح کرنے کے لئے آمادہ کریں اور جب علی کی پاس واپس ہوئے اور اپنی گفتگو کا نتیجہ امام ـ سے بیان کیا تو امام ـ ان کے نرم رویہ پربہت متعجب ہوئے۔(۱)

اس موقع پر بصرہ کے لوگوں کا ایک گروہ امام ـ کی خدمت میں پہونچاتاکہ آپ کے نظریہ اور ان کوفیوں کے نظریہ سے باخبر ہوں جو امام کے لشکر میں شامل ہوئے تھے۔ اور جب وہ لوگ بصرہ واپس چلے گئے تو امام ـ نے اپنے نمائندوں کے درمیان تقریر کی اور پھر اس منطقہ سے روانہ ہوگئے اور ''زاویہ'' نامی مقام پر قیام کیا۔ طلحہ و زبیر اور عائشہ بھی اپنی جگہ سے روانہ ہوئے اور اس علاقے میں آکر ٹھہرے ،جہاں بعدمیں عبیداللہ ابن زیاد کا محل بنا اور امام ـ کے مقابلے ٹھہر گئے ۔ دونوں لشکر بڑے ہی اطمینان سے تھا امام ـ نے کچھ لوگوں کو بھیجا تاکہ باغیوں کے مسئلہ کو گفتگو کے ذریعے حل کریں۔ یہاں تک کہ پیغام بھی بھیجا کہ جو وعدہ ان لوگوں نے قعقاع سے کیاہے اگر اس پر باقی ہیں تو تبادلہ نظر کریں۔ لیکن حالات ایسے تھے کہ یہ مشکل سیاسی گفتگو سے حل نہیں ہوسکتی تھی اور اس فتنہ کو ختم کرنے کے لئے ضروری تھا کہ اسلحہ اٹھایا جائے۔

______________________

(۱) تاریخ کامل ابن اثیر ج۳ ص ۲۲۹۔


دشمن کی فوج کم کرنے کے لئے امام ـ کی سیاست

احنف بن مالک اپنے قبیلہ کا سردار تھا اس کے علاوہ اپنے اطراف کے قبیلوں میں بھی اہم مقام رکھتا تھا جب

عثمان کے گھرکا لوگوںنے محاصرہ کیا تھا اس وقت وہ مدینے میںتھا اور اس وقت اس نے طلحہ و زبیر سے پوچھا تھا کہ عثمان کے بعد کس کی بیعت کی جائے دونوں افراد نے امام ـ کی بیعت کے لئے کہا تھا ،جس وقت احنف حج کے سفر سے واپس ہوا اور دیکھا کہ عثمان قتل کردیئے گئے ہیں تو اس نے امام ـ کی بیعت کی ۔ اور بصرہ واپس آگیا اور جب طلحہ و زبیر کے متعلق اسے یہ خبر ملی کہ انھوں نے اپنے عہد و پیمان کو توڑ دیا ہے تو بہت تعجب میں پڑ گیا اور جب عائشہ کی طرف سے اسے بلایا گیا کہ ان کی مدد کرے تو اس نے اس درخواست کو رد کردیا اور کہا، میں نے ان دونوں کے کہنے سے علی کی بیعت کی ہے اور میں ہرگز پیغمبر کے چچا زاد بھائی کے ساتھ جنگ نہیں کروں گا مگر ان سب سے دور رہوں گا ۔ اسی وجہ سے وہ امام ـ کی خدمت میں آیا اور کہا ہمارے قبیلے والے کہتے ہیں کہ اگر علی کامیاب ہوگئے تو ہمارے مردوں کو قتل کردیں گے اور عورتوں کو قیدی بنالیں گے ۔ امام ـ نے اس سے کہا: مجھ جیسے شخص سے ہرگز نہ ڈرو جب کہ یہ مسلمانوں کا گروہ ہے۔ احنف نے یہ جملہ سن کر امام ـ سے کہا ان دو کاموں میں سے ایک کام میرے لئے معین فرمائیں یا آپ کے ہمراہ رہ کر جنگ کروں یا دس ہزار تلوار چلانے والوں کے شر کو آپ سے دور کروں۔ امام ـ نے فرمایا: کتنا بہتر ہے کہ جو تم نے بے طرفی کا وعدہ کیا ہے اس پر عمل کرو۔ احنف نے اپنے قبیلے اور اطراف میں رہنے والے قبیلوں کو جنگ میں شرکت کرنے سے روک دیا اور جب علی کا میاب ہوگئے۔ تو تمام لوگوںنے حضرت علی کے ہاتھوں پر بیعت کی اور آپ کے ہمراہ ہوگئے۔


امام ـ کی طلحہ اور زبیر سے ملاقات

جمادی الثانی ۳۶ ھ میں امام ـ نے دو نوں لشکر کے درمیان ناکثین کے سرداروں سے ملاقات کی اوردونوں لشکر والے اتنے نزدیک ہوگئے تھے کہ گھوڑوں کے کان ایک دوسرے سے ملنے لگے تھے۔ امام ـ نے سب سے پہلے طلحہ پھر زبیر سے گفتگو کی جس کی تفصیل یہ ہے:

امام ـ : تم نے اسلحہ اور پیدل اور سوار فوج کو اکٹھا کر لیا ہے اگر اس کام کے لئے تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو پیش کرو اگر ایسا نہیں ہے تو خدا کی مخالفت سے پرہیز کرو اور اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے اپنے دھاگوں کو خراب کردیاہے ۔ کیامیں تمہارا بھائی نہ تھا اور تمہارے خون کو حرام قرار نہیں دیا تھا اور تم نے بھی میرے خون کو محترم نہیں سمجھاتھا؟ کیا میں نے کوئی ایسا کام کیا ہے جواس وقت میرے خون کو حلال سمجھ رہے ہو؟

طلحہ: آپ نے لوگوں کو عثمان کے قتل کرنے پر اکسایا۔

امام ـ: اگر میں نے ایسا کام ہے تو خداوند عالم قیامت کے دن لوگوں کو ان کے اعمال کی سزا تک پہونچائے گا اور اس وقت لوگوں پر حقیقت واضح ہو جائے گی۔ اے طلحہ ! کیاتوعثمان کے خون کا بدلہ طلب کر رہا ہے؟ خداعثمان کے قاتلوں پر لعنت کرے، تم پیغمبر کی بیوی کو لائے ہو کہ اس کے زیرسایہ جنگ کرو جب کہ اپنی بیوی کو گھر میں بٹھا رکھا ہے کیا تم نے میری بیعت نہیں کی تھی؟

طلحہ: میں نے آپ کی بیعت کی اس لئے کہ میرے سر پر تلوار تھی۔

پھر امام ـ زبیرکی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے پوچھا۔ اس نافرمانی کی کیا وجہ ہے؟

زبیر: میں تمہیں اس کام کے لئے اپنے سے زیادہ بہتر نہیں سمجھتا۔


امام ـ : کیامیں اس کام کے لئے سزاوار نہیں ہوں؟ (زبیر نے چھ افراد پر مشتمل شوری میں علی کو خلیفہ معین کرنے کے لئے رائے دی تھی) میں نے تمہیں عبدالمطلب کی اولاد میں شمار کیا لیکن جب تیرا بیٹا عبد اللہ بڑاہوا تو ہم لوگوں کے درمیان جدائی پیداکردی۔ کیا تمہیں وہ دن یاد نہیں جس دن پیغمبر اسلام قبیلۂ بنی غنم سے گزر رہے تھے رسول اسلام اور میں دونوں ہنس رہے تھے، تم نے پیغمبر سے کہا کہ علی مذاق کرنے سے باز نہیں آرہے ہیں اور پیغمبر نے تم سے کہا: خدا کی قسم، اے زبیر تو اس کے ساتھ جنگ کرے گا اور اس وقت تم ستم کرنے والے ہوگے۔

زبیر: یہ بات صحیح ہے اگر یہ واقعہ میرے ذہن میں ہوتا تواس طریقے سے پیش نہ آتا خدا کی قسم میں تم سے جنگ نہیں کروں گا۔

زبیر ، امام ـ کی باتیں سن کر بہت متأثر ہوا اور عائشہ کے پاس گیااور پورا واقعہ بیان کیامگر جب عبداللہ اپنے باپ کے ارادے سے باخبرہوا تو بہت زیادہ ناراض ہوکر کہنے لگا ان دو گروہ کو یہاں جمع کیا ہے اور اس وقت کہ ایک گروہ طاقتور ہوا ہے دوسرے والے گروہ کو چھوڑ کر جا رہے ہو؟ خدا کی قسم! علی نے جو تلوار بلند کی ہے تم اس سے ڈر رہے ہو، کیونکہ تم جانتے ہو کہ ان تلواروں کو بہادر اٹھاتے ہیں ۔

زبیر نے کہا: میں نے قسم کھائی ہے کہ علی سے جنگ نہیں کروں گا اب میں کیا کروں؟

عبد اللہ نے کہا: اس کا حل کفارہ ہے ،بہتر ہے کہ ایک غلام آزاد کرو، اس بناء پرزبیر نے اپنے غلام ''مکحول'' کو آزاد کردیا۔

یہ واقعہ زبیر کی سطحی ذہنیت پر دلالت کرتاہے وہ پیغمبر اسلام کی حدیث کو یاد کرتے ہوئے قسم کھاتا ہے کہ علی کے ساتھ جنگ نہیں کرے گا لیکن اپنے بیٹے کے غلط بہکانے پر پیغمبر کی حدیث کو نظر انداز کردیتا ہے اور اپنی قسم کو کفارہ دے کر بے اہمیت کردیتا ہے۔


حالات سے معلوم ہوگیاہے کہ جنگ کا ہونا یقینی ہے لہذا ناکثین نے ارادہ کیا کہ اپنی فوج کو مزید مضبوط اور منظم کریں۔

ایسے علاقوں میں جہاں لوگ قبیلائی نظام کے طور پر زندگی بسر کرتے ہیں وہاں کے سارے امور قبیلہ کے سردار کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور اسے ہر شخص قبول کرتا ہے ۔بصرہ کے قبیلوں کے اطراف میں ایک شخصیت احنف نام کی بھی ہے، اگر وہ ناکثین کے گروہ میں مل جاتا تو اس کی فوج بہت زیادہ طاقتور ہو جاتی اور چھ ہزار سے بھی زیادہ لوگ ناکثین کے زیر پرچم جمع ہو جاتے اور ان کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا لیکن احنف نے اپنی ہوشیاری اور عقلمندی سے سمجھ لیاکہ ان کا ساتھ دینا خواہشات نفسانی کے علاوہ کچھ نہیں ہے اس نے اپنی ذہانت سے سمجھ لیا کہ عثمان کا خون صرف ایک بہانہ ہے اور اصل حقیقت ، حکومت حاصل کرنا ہے اور علی کو منصب سے دور کرنے اور خلافت پر قبضہ کرنے کے علاوہ کوئی دوسری چیز نہیں ہے، اسی وجہ سے امام ـ کے حکم کے مطابق اس نے کنارہ کشی اختیار کی اور اپنے قبیلے اوراطراف کے قبیلے سے چھ ہزار آدمیوں کو ناکثین کے گروہ میں شامل ہونے سے بچا لیا ۔

احنف کا ایسے وقت میں کنارہ کشی اختیا رکرنا ناکثین کو بہت ناگوار گزرا، اس کے علاوہ ان کی امیدیں بصرہ کے قاضی، کعب بن سور پر تھیں لیکن جب اس کے پاس پیغام بھیجا تو اس نے بھی ناکثین کا ساتھ دینے سے پرہیز کیا اور جب لوگوں کوخبر ملی کہ اس نے بھی ساتھ دینے سے انکار کردیا ہے تو ارادہ کیا کہ اس سے ملاقات کریں او رروبرو اس سے گفتگو کریں لیکن اس نے ملاقات کرنے سے انکار کردیالہذا اب ان کے پاس عائشہ سے توسل کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا تاکہ وہ اس سے ملنے جائیں۔

عائشہ خچر پر سوار ہوئیں اور بصرہ کے لوگوں کا ایک گروہ ان کی سواری کے اطراف میں چلنے لگا وہ قاضی کے گھر گئیں قاضی سب سے بڑا قبیلہ ''ازد'' کا سردارتھا اور یمنی لوگوں کی نگاہ میں اس کا ایک خاص مقام تھا، عائشہ نے گھر میں داخل ہونے کے لئے اجازت طلب کی اور انھیں اجازت ملی، عائشہ نے اس کی معزولی کی وجہ دریافت کی ۔ اس نے جواب دیا۔ لازم نہیں ہے کہ میں اس فتنہ میں شریک رہوں، عائشہ نے کہا: میرے بیٹے اٹھو کیونکہ میں کچھ ایسی چیزیں دیکھ رہی ہوں جسے تم نہیں دیکھ رہے ہو (ان کا مقصد یہ تھا کہ فرشتے مومنین یعنی ناکثین کی حمایت کیلئے آئے تھے!) پھر انہوں نے کہا میں خدا سے خوف محسوس کر رہی ہوں کہ وہ سخت سزا دینے والا ہے اس طرح بصرہ کے قاضی کو ناکثین کا ساتھ دینے کے لئے راضی کرلیا۔


زبیر کے بیٹے کی تقریر اورامام حسن مجتبیٰ ـ کا جواب

زبیر کا بیٹا اپنی فوج کو منظم کرنے کے بعد تقریر کرنے لگا اور اس کی آواز امام ـ کے دوستوں کے درمیان پہونچی اس وقت امام حسن ـ نے خطبے کے ذریعے عبداللہ کی باتوں کا جواب دیاپھر ایک کہنہ مشق شاعر نے امام حسن ـ کی شان میں قصیدہ پڑھا جس نے موجودہ لوگوں کے جذبات کو ابھار دیا امام مجتبیٰ ـ کا نوارنی کلام اور شاعر کا کلام ناکثین کے گروہ میں بہت زیادہ مؤثرثابت ہوا ،کیونکہ پیغمبر اسلام کی بیٹی کے فرزند نے عثمان کے سلسلہ میں طلحہ کے کردارکو آشکار کردیا یہی وجہ ہوئی کہ طلحہ تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوااور وہ قبیلے جو حضرت علی کے پیرو تھے انھیں منافق کہا، طلحہ کی تقریر ان لوگوںکے رشتہ داروں پر جو کہ طلحہ کی فوج میں تھے بہت گراں گزری،اچانک ایک شخص نے اٹھ کر کہا:اے طلحہ تم مضر، ربیعہ اور یمن کے قبیلے والوں کو گالی دے رہے ہو؟ خدا کی قسم، ہم لوگ ان سے اور وہ لوگ ہم سے ہیں زبیر کے پاس موجود لوگوںنے چاہا کہ اسے گرفتار کریں لیکن قبیلہ بنی اسد کے لوگوں نے منع کیا مگر بات یہیں پر ختم نہ ہوئی بلکہ ایک دوسرا شخص اسود بن عوف کھڑا ہوا اور اس نے بھی پہلے والے شخص کی بات کو دہرایا ۔ یہ تمام باتیں اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ طلحہ جنگجو تھا لیکن ایسے حساس موقع پر سیاست کے اصولوں سے باخبر نہ تھا ۔


حضرت علی علیہ السلام کی تقریر

امام ـایسے حالات میں اٹھے اور ایک فصیح و بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں ان چیزوں کو بیان کیا:

''طلحہ اور زبیر بصرہ میں داخل ہوئے جب کہ بصرہ کے لوگ میرے مطیع و فرمانبردار اور میری بیعت میں تھے ان لوگوں نے ان کو میری مخالفت کے لئے اکسایا اور جس نے بھی ان کی مخالفت کی اسے قتل کردیا تم سب لوگ اس بات سے واقف ہو کہ انھوںنے حکیم بن جبلۂ اور بیت المال کے محافظوں کو قتل کر ڈالا اور عثمان بن حنیف کو نا گفتہ بہ صورت میںبصرہ سے نکال دیااب جب ان کی حقیقتوں کا پردہ چاک ہوگیاہے تو جنگ کرنے کے لئے آمادہ ہوگئے ہیں۔

امام ـ کی تقریر کے بعد حکیم بن مناف نے امام ـ کی شان میں اشعار پڑھ کر امام کی فوج میں نئی روح پھونک دی اس کا دو شعر یہ ہے:

أبا حسن أ یقظت من کان نائماً

و ما کل من یدعی الی الحق یسمع

اے ابو الحسن! خواب غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو بیدار کردیا ورنہ ضروری نہیں ہے کہ جس کو حق کی دعوت دی جائے وہ اس کو سنے۔


و أنت امرء أعطیت من کل وجهةٍ

محاسنَها و اللّه یعطی و یمنع

آپ ایسے شخص ہیں کہ ہر بہترین کمال آپ کوعطاہوا ہے اور خدا جسے بھی چاہے عطا کرے یا عطا نہ کرے۔

امام ـ نے ناکثین کو تین دن کی مہلت دی کہ شایدمخالفت کرنے سے باز آجائیں اور آپ کی اطاعت کرنے لگیں لیکن جب ان کے حق کی طرف آنے سے مایوس ہوگئے تو اپنے چاہنے والوں کے درمیان ایک خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں ناکثین کے دردناک واقعات کو بیان کیا جب امام ـ خطبہ دے چکے تو شداد عبدی اٹھا اور مختصر طور پر اہل بیت پیغمبر سے اپنی صحیح شناخت کو ا س طرح بیان کیا :

''جب گناہگارزیادہ ہوگئے اوردشمن مخالفت کرنے لگے اس وقت ہم نے اپنے پیغمبر کے اہلبیت کے پاس پناہ لی۔ اہل بیت وہ ہیں جن کی وجہ سے خدا نے ہم لوگوں کو عزیز و محترم بنایا اور گمراہی سے ہدایت کی طرف راستہ دکھایا۔ اے لوگو! تم پر لازم ہے ان لوگوں کا دامن تھام لو۔ اور جوادھر ادھر بہک گئے ہیں ( اور ان سے منھ موڑ لیاہے) انھیں چھوڑ دو تاکہ وہ ضلالت و گمراہی کے کھنڈر میں چلے جائیں۔(۱)

______________________

(۱) الجمل، ص ۱۷۹۔ ۱۷۸۔


امام ـ کا آخری مرتبہ اتمام حجت کرنا

۱۰ جمادی الاول ۳۶ ھ جمعرات کے دن امام ـ اپنے سپاہیوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور کہا: جلدی نہ کرو میں آخری مرتبہ اس گروہ پر اپنی حجت تمام کردوں ۔ اس وقت ابن عباس کو قرآن دیا اور کہا یہ قرآن لے کر ناکثین کے سرداروں کے پاس جاؤ اوران لوگوں کو اس قرآن کی دعوت دو اور طلحہ و زبیر سے کہو کیا ان لوگوںنے میری بیعت نہیں کی تھی؟ تو پھر کیوں بیعت کو توڑ دیا؟ اور ان سے کہنا کہ یہ خداکی کتا ب ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گی۔

ابن عباس سب سے پہلے زبیر کے پاس گئے اورامام ـ کے پیغام کوان تک پہونچایااس نے امام ـ کا پیغام سن کر جواب دیا۔ میری بیعت اختیاری نہ تھی اور مجھے قرآن کے فیصلے کی ضرورت نہیں ہے، پھر ابن عباس طلحہ کے پاس گئے اور اس سے کہا امیر المومنین نے کہا ہے کہ کیوں تم نے بیعت کو توڑ ڈالا؟ اس نے کہا: میں عثمان کے خون کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔

ابن عباس نے کہا: عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے عثمان کا بیٹا ''آبان'' سب سے زیادہ سزاوار ہے۔

طلحہ نے کہا: وہ کمزور آدمی ہے اور ہم اس سے زیادہ طاقتور ہیں۔ سب سے آخر میں ابن عباس عائشہ کے پاس گئے دیکھا کہ وہ اونٹ کے کجاوہ پر سوار بیٹھی ہیں اور اونٹ کی مہار بصرہ کا قاضی کعب بن سور پکڑے ہوئے ہے اور قبیلہ ازد اور ضبہ کے لوگ اس کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں جب عائشہ کی نظر ابن عباس پر پڑی تو کہا: کس لئے آئے ہو؟ جاؤ اور علی سے کہو کہ ان کے اور ہمارے درمیان تلوار کے علاوہ کوئی دوسری چیز نہیں ہے۔

ابن عباس امام ـ کی خدمت میں آئے اور پورا ماجرا بیان کیاامام ـ نے چاہا کہ دوسری مرتبہ اتمام حجت کریں تاکہ واضح و روشن دلیل کے ساتھ تلوار اٹھائیں لہذاآپ نے اس مرتبہ فرمایا: تم میں سے کون حاضر ہے جواس قرآن کواس گروہ کے پاس لے جائے۔ اور انھیں دعوت دے اور اگر اس کے ہاتھ کو کاٹ دیں تواسے دوسرے ہاتھ میں لے لے۔ اوراگر دونوں ہاتھ کاٹ دیں تو اسے دانتوں سے پکڑ لے؟


ایک جوان نے اٹھ کر کہا: اے امیر المومنین میں اس کام کے لئے حاضر ہوں۔ امام ـ نے پھر اپنے دوستوں کے درمیان آواز دی لیکن اس نوجوان کے علاوہ کسی نے امام ـ کی آواز پر لبیک نہ کہا، لہٰذا امام ـ نے قرآن اسی جوان کو دیا اور کہا قرآن لے کر ان کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ یہ کتاب ابتدا سے انتہا تک ہمارے اور تمہارے درمیان حاکم ہے۔

وہ نوجوان امام ـ کے حکم کے مطابق قرآن لے کر دشمنوں کو پاس گیا دشمنوں نے اس کے دونوں ہاتھوں کو کاٹ دیا اس نے قرآن کو دانتوں سے دبایایہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہوگیا۔(۱)

اس واقعہ نے جنگ کو قطعی او رناکثین کی دشمنی کو واضح کردیا، اس کے باوجود امام ـ نے اپنا لطف و کرم دکھایا اور حملہ کرنے سے پہلے ارشاد فرمایا:

''میں جانتا ہوں کہ طلحہ و زبیر جب تک لوگوں کا خون نہیں بہالیں گے اپنے کام سے باز نہیں آئیں گے لیکن تم لوگ اس وقت تک جنگ شروع نہ کرنا جب تک وہ جنگ شروع نہ کریں ، اگر ان میں سے کوئی بھاگے تو اس کا پیچھا نہ کرنا، زخمیوں کو قتل نہ کرنا، اور دشمنوں کے بدن سے کپڑے نہ اتارنا''۔(۲)

______________________

(۱) تاریخ طبری ج۳ ص ۵۲۰۔

(۲) کامل ابن اثیر ج۳ ص ۲۴۳۔


سویں فصل

حضرت علی ـ کے سپاہیوں کی بہادری

کائنات کے تمام حاکموں میں کوئی بھی حاکم علی جیسا نہیں جو دشمن کو اتنی زیادہ مہلت دے اور عظیم شخصیتوں اور قرآن کو فیصلہ کے لئے بھیجے اور جنگ شروع کرنے میں صبر و تحمل سے کام لے ، یہاں تک کہ دوستوں اور مخلصوں کی طرف سے شکوہ اور اعتراض ہونے لگے، یہی وجہ ہے کہ امام ـ مجبور ہوئے کہ اپنی فوج کو منظم کرکے اپنے سرداروں کو درج ذیل مقامات پر معین کریں:

ابن عباس کواگلے دستے کا سردار اور عمار یاسر کو تمام سواروں کا سردار او رمحمد بن ابی بکر کو پیدل حملہ کرنے والوں کا سردار معین کیا اواس کے بعد مذحج، ہمدان ، کندہ ، قضاعہ، خزاعہ، ازد، بکر، اور عبد القیس کے قبیلے کے سواروں اور پیدل چلنے والوں کے لئے علمبردار معین کیااس دن جتنے افراد چاہے پیدل چاہے سوار، امام ـ کے ہمراہ جنگ کرنے کے لئے آمادہ تھے ان کی تعداد کل سولہ ہزار (۱۶۰۰۰) تھی۔(۱)

______________________

(۱) الجمل ص ۱۷۲۔


ناکثین کی طرف سے جنگ کا آغاز:

ابھی امام ـ اپنی فوج کو منظم اور جنگ کے اسرار و رموز سمجھانے میں مشغول تھے کہ اچانک دشمن کی طرف سے امام کے لشکر پر تیروں کی بارش ہونے لگی جس کی وجہ سے امام کی فوج کے کئی افراد شہید ہوگئے ۔ انہی میں سے ایک تیر عبداللہ بن بدیل کے بیٹے کو لگا اور اسے شہید کردیا۔

عبد اللہ اپنے بیٹے کی لاش لے کر امام کے پاس آئے اور کہا: کیا اب بھی ہم صبر و حوصلے سے کام لیں تاکہ دشمن ہمیں ایک ایک کر کے قتل کر ڈالیں؟ خدا کی قسم اگر مقصداتمام حجت ہے تو آپ نے ان پر اپنی حجت تمام کردی ہے۔

عبد اللہ کی گفتگو سن کر امام ـ جنگ کے لئے آمادہ ہوئے ، آپ نے رسول اسلام کی زرہ پہنی اور رسول اکرم کی سواری پر سوار ہوئے اور اپنی فوج کے درمیان کھڑے ہوئے۔


قیس بن سعد بن عبادہ(۱) جو امام ـ کا بہت مخلص(گہرا) دوست تھا حضرت کی شان اور جو پرچم اٹھائے ہوئے تھا اس کے لئے اشعار پڑھا جس کا دو شعر یہ ہے:

هذا اللواء الذی کنا نحف به

مع النبی و جبرئیل لنا مدداً

ما ضرمن کانت الانصار عیبته

أن لا یکون له من غیرها أحداً

''یہ پرچم جس کو ہم نے احاطہ کیا ہے یہ وہی پرچم ہے جس کے سایہ میں پیغمبر کے زمانے میں جمع ہوئے تھے اوراس دن جبرئیل نے ہماری مدد کی تھی وہ شخص کہ جس کے انصار راز دار ہوں کوئی نقصان نہیں ہے کہ اس کے لئے دوسرے یاور و مددگار نہ ہوں''۔امام ـ کی منظم فوج نے ناکثین کی آنکھوں کو خیرہ کردیااو رعائشہ جس اونٹ پر سوار تھیں اسے میدان جنگ میں لائے اور اس کی مہار کو بصرہ کے قاضی کعب بن سور کے ہاتھوں میں سونپ دی اس نے قرآن اپنی گردن میں لٹکایا اور قبیلہ ازد اور ضبہ کے افراد نے ا ونٹ کو چاروں طرف سے اپنے احاطہ میں لے لیا عبد اللہ بن زبیر عائشہ کے سامنے اور مروان بن حکم اونٹ کے بائیں طرف کھڑے ہوئے فوج کی ذمہ داری زبیر کے ہاتھوں میں تھی اور طلحہ تمام سواروں کا سردار اور محمد بن طلحہ پیدل چلنے والوں کا سردار تھا۔

امام ـ نے جنگ جمل میں محمد بن حنفیہ کو علم لشکر دے کر آداب حرب کی تعلیم دی اور فرمایا:

'' تزول الجبال و لاتزل، عض علی ناجذ ک ، اعر اللہ جمجمتک ، تد فی الارض قدمک، ارم ببصرک أقصی القوم و غض بصرک و اعلم ان النصر من عند اللہ سبحانہ''۔(۲) پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں مگر تم اپنی جگہ سے نہ ہٹنا دانتوں کو بھینچ لینا، اپنا کاسٔہ سر خدا کو عاریةً دیدینا، اپنے قدم زمین میں گاڑ دینا، دشمن کی آخری صف پر نظر رکھنا (دشمن کی ہیبت و کثرت سے) آنکھیں بند رکھنا اور اس بات کا یقین رکھو کہ خدا کی طرف سے مدد ہوتی ہے۔

______________________

(۱) شیخ مفید اپنی کتا ب جمل میں تحریر کرتے ہیں کہ قیس بن سعد واردہوا اور شاید اس سے مراد قیس بن سعد بن عبادہ ہے۔

(۲) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۱۔


امام ـ کے دہن اقدس سے نکلا ہوا ہر جملہ بہترین شعار ہے جو تازگی عطا کرتا ہے یہاں پر اس کی شرح کرنا ممکن نہیں ہے۔

جب لوگوں نے محمد بن حنفیہ سے کہا کہ کیوںامام ـ نے انھیں میدان جنگ میں بھیجا اور حسن و حسین کو اس کام سے روکے رکھا۔ تو انھوںنے جواب دیا، میں اپنے بابا کا ہاتھ ہوں اور وہ ان کی آنکھیں ہیں وہ اپنے ہاتھ سے اپنی آنکھوں کی حفاظت کررہے ہیں۔(۱)

ابن ابی الحدید نے اس واقعہ کو مدائنی او رواقدی جیسے مؤرخین سے اس طرح نقل کیا ہے:

''امام اس گروہ کے ساتھ جسے ''کتیبة الخضرائ'' کہتے ہیں ا ور جس کے افراد مہاجرین و انصار سے تھے اور حسن و حسین اس کے اطراف کا احاطہ کئے ہوئے تھے ، ارادہ کیا کہ دشمن پر حملہ کریں۔ علم لشکر محمد بن حنفیہ کے ہاتھوں میں دیا اور آگے بڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: اتنا آگے بڑھو کہ پرچم کو اونٹ کی آنکھ میں گاڑھ دو امام کے بیٹے نے آگے بڑھنا شروع کیا لیکن تیروں کی بارش نے انھیں آگے بڑھنے سے روک دیا وہ تھوڑی دیر تک ٹھہرے رہے یہاں تک کہ تیروں کی بارشکم ہوجائے ،امام ـ نے اپنے بیٹے کو دوبارہ حملہ کرنے کا حکم دیا لیکن جب آپ نے احساس کیا کہ وہ تاخیر کر رہے ہیں تو ان کے حال پر افسوس کیا اور علم لشکر ان سے لے لیا اور اپنے داہنے ہاتھ میں تلوار اور بائیں ہاتھ میں علم لیا اور خود حملہ کرنا شروع کردیااور قلب لشکر میں داخل ہوگئے۔

چونکہ آپ کی تلوار لڑتے لڑتے کج ہوگئی تھی لہذا اسے سیدھی کرنے کے لئے اپنی فوج میں واپس آگئے، آپ کے ساتھیوں مثلاً عمار یاسر، مالک اشتر اور حسن و حسین نے آپ سے کہا ہم لوگ حملہ کریں گے اور آپ یہیں پر رک جائیں امام نے نہ ان لوگوں کا جواب دیا اور نہ ہی ان کی طرف دیکھا بلکہ شیر کی طرح ڈکاررہے تھے اور آپ کی پوری توجہ دشمن کی طرف تھی کسی کو بھی اپنے پاس نہیں دیکھ رہے تھے پھر آپ نے اپنے بیٹے کو دوبارہ علم دیا اور پھر دوسری مرتبہ حملہ کیا اور قلب لشکر میں داخل ہوگئے اور جو بھی آپ کے سامنے آتا اسے بچھاڑ دیتے دشمن انھیں دیکھ کر بھاگ جاتے اور ادھر ادھر پناہ لیتے تھے۔ اس حملہ میں امام ـ نے اتنے لوگوں کو قتل کیا کہ زمین دشمنوں کے خون سے رنگین ہوگئی، پھر اپنی فوج کی طرف واپس آگئے اور

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۱ ص۲۴۴


آپ کی تلوار پھر ٹیڑھی ہوگئی آپ نے اسے اپنے زانو پر رکھ کر سیدھا کیا، اس وقت آپ کے ساتھیوں نے آپ کو حلقے میں لے لیا اور خدا کی قسم دے کر کہا کہ اب آپ خود حملہ نہ کیجئے کیونکہ آپ کی شہادت کی وجہ سے اسلام ختم ہو جائے گا نیز مزید کہا: اے علی ! ہم آپ کے لئے ہیں ۔

امام ـ نے فرمایا: میں خدا کے لئے جنگ کر رہا ہوں او راس کی رضا کا طالب ہوں ۔ پھر اپنے بیٹے محمد بن حنفیہ سے فرمایا دیکھو اس طرح سے حملہ کیا جاتا ہے ،محمد نے کہا: اے امیر المومنین آ پ کی طرح سے کون حملہ کرسکتا ہے۔

اس وقت امام نے مالک اشتر کو حکم دیا کہ دشمن کے لشکر کے بائیں طرف حملہ کرو جس کا سردار ہلال تھا، ا س حملے میں ہلال مارا گیا اور بصرہ کا قاضی کعب بن سور جس کے ہاتھ میں اونٹ کی مہار تھی اور عمر بن یثربی ضبی جو لشکر جمل کا سب سے بہادر سپاہی تھا اور بہت دنوں تک عثمان کی طرف سے بصرہ کا قاضی تھا مارے گئے ۔ بصرہ کے لشکر والوں کی کوشش یہ تھی کہ عائشہ کا اونٹ کھڑا(صحیح و سالم)رہے کیونکہ وہی ثبات و استقامت کا نشان تھا ،اس وجہ سے امام کے لشکر نے پہاڑ کی طرح جمل پر حملہ کیا اور دشمنوں نے بھی پہاڑ کی طرح حملہ کا دفاع کیا ،اس کی حفاظت کے لئے ناکثین کے ستر لوگوں نے اپنے ہاتھ کٹوا دیئے۔(۱)

اس وقت سر گردنوں سے کٹ کر گر رہے تھے ،ہاتھ جوڑوں سے کٹ رہے تھے ،دل اور انتٹریاں پیٹ سے باہر نکل رہی تھیں، ان سب کے باوجود تمام ناکثین ٹڈیوں کی طرح جمل کے اطراف میں ثابت قدم تھے اس وقت امام ـ نے فریاد بلندکی:

''ویلکم اعقروا الجمل فانہ شیطان ، اعقروہ و الا فنیت العرب لایزال السیف قائماً و راکعاً حتی یہوی ہذا البعیر الی الارض''

وائے ہو تم پر، عائشہ کے اونٹ کو قتل کردو وہ شیطان ہے اس کو قتل کرو عرب ختم ہو جائیں گے اور تلواریں مسلسل اس وقت تک چلتی رہیں گی جب تک یہ اونٹ کھڑا رہے گا۔(۲)

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۱، ص ۲۶۵۔

(۲) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۱، ص ۲۶۷۔ ۲۵۷۔


امام ـ کا اپنی فوج کی حوصلہ افزائی کرنے کا طریقہ

امام ـ اپنے لشکرکی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے یہ نعرہ لگاتے تھے ''یا مَنصُورُ اَمِت'' یا کبھی ''حم لاینصرون'' کہتے تھے اور یہ دونوں نعرہ حضرت رسول اکرم نے لگایا تھا اور مشرکوں سے جنگ کے وقت لگایا جاتا تھا ،ان نعروں کی گونج نے دشمن کی فوج میں عجیب لرزہ طاری کردیاکیونکہ ان لوگوں کو مسلمانوں کا مشرکوں سے جنگ کرنا یاد آگیا یہی وجہ ہے کہ عائشہ نے بھی اپنی فوج کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے نعرہ لگایا''یا بنی الکرة الکرة، اصبروا فانی ضامنة لکم الجنة'' یعنی اے میرے بیٹو برد بار رہو اور حملہ کرو میں تمہاری بہشت کی ضامن ہوں۔

اس نعرے کی وجہ سے لشکر والے ان کے ارد گرد جمع ہوگئے اور اتنا آگے بڑھے کہ امام کا لشکر چند قدم کے فاصلے پر تھا۔

عائشہ نے اپنے چاہنے والوںکے جذبات ابھارنے کے لئے ایک مٹھی مٹی مانگی اور جب انھیں مٹی دی گئی تو انہوں نے امام کے چاہنے والوں کی طرف پھینکا اور کہا: ''شاہت الوجوہ'' یعنی تم لوگوںکا چہرہ کالا ہو جائے ۔انہوں پیغمبر کی تقلید کی کیونکہ حضرت نے بھی جنگ بدر میں ایک مٹھی خاک اٹھائی تھی اور دشمنوں کی طرف پھینکی تھی اور یہی جملہ فرمایا تھا اور خدا نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل کی: ''و ما رمیت اذ رمیت و لکن اللہ رمیٰ''(۱) عائشہ کا یہ عمل دیکھنے کے بعد فوراً ہی امام ـ نے فرمایا: ''و ما رمیت اذ رمیت و لکن الشیطان رمی'' یعنی اگر پیغمبر کے لئے خدا کا ہاتھ پیغمبر کی آستین سے باہر ہوا تو عائشہ کے لئے شیطان کا ہاتھ اس کی آستین سے ظاہر ہواہے۔

اونٹ کا گرنا

عائشہ کا اونٹ ایک بے منھ جانور تھا اور اسے برے مقصد تک پہونچنے کے لئے استعمال کیا گیا تھا اس پر کجاوہ لگا کر بڑے احترام سے عائشہ کو بٹھایا گیا تھا بصرہ کے سپاہی اس کی بڑی شدت سے حفاظت کر رہے تھے اور بہت زیادہ لوگ محافظ تھے جب بھی کوئی ہاتھ کٹتا تو دوسرے ہاتھ میں اونٹ کی مہار چلی جاتی بالآخر اونٹ کی مہار پکڑنے کے لئے کوئی آگے نہ بڑھا، زبیر کے بیٹے نے سبقت دکھائی اور اونٹ کی مہار پکڑ لی لیکن مالک اشتر نے اس پر حملہ کردیااور اسے زمین پر پٹک دیااور اس کی گردن کو پکڑا جب زبیر کے بیٹے کو یہ احساس ہوا کہ وہ مالک اشتر کے ہاتھوں قتل ہو جائے گا تو اس نے فریاد بلند کی اے لوگو! حملہ کرو اور مالک کو قتل کردو اگر چہ


میں بھی قتل ہوجائوں ۔(۱)

مالک اشتر نے اس کے چہرے پر ایک وار کر کے اسے چھوڑ دیا لوگ عائشہ کے اونٹ کے پاس سے دور ہوگئے امام ـ نے اس کے پاؤں کاٹنے کا حکم دیا تاکہ دشمن عائشہ کا اونٹ دیکھ کر دوبارہ اس کی طرف واپس نہ آئیں۔ پیر کٹتے ہی اونٹ زمین پر گر پڑا اور کجاوہ بھی گر گیا اس وقت عائشہ کی ایسی فریاد بلند ہوئی کہ دونوں لشکر کے سپاہیوں نے سنا، امام ـ کے حکم سے محمد بن ابوبکر بہن کے کجاوے کے پاس پہونچے اور اس کی رسیوں کو کھولا۔

اس جنگ میں جو گفتگو بہن اور بھائی کے درمیان ہوئی ہم اسے مختصراً نقل کر رہے ہیں:

عائشہ: تم کون ہو؟

محمد بن ابوبکر: تیرے گھر کا ایک شخص جو تیرا سب سے بڑا دشمن ہے۔

عائشہ: تو اسماء خثعمیہ کا بیٹا ہے؟

محمد بن ابوبکر: ہاں، لیکن وہ تیری ماں سے کم نہ تھی۔

عائشہ: یہ بات صحیح ہے کہ وہ شریف عورت تھی اس سے کیا بحث ، خدا کا شکرکہ تم سالم ہو۔

محمد بن ابوبکر:لیکن تم مجھے سالم دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔

عائشہ: اگر تجھے سالم دیکھنا نہ چاہتی تو ایسی گفتگو نہ کرتی۔

محمد بن ابوبکر:تو اپنی کامیابی چاہتی تھی اگرچہ میں قتل بھی کردیا جاتا۔

عائشہ: میں جس چیز کو چاہتی تھی وہ میرے نصیب میں نہیں میری آرزو تھی کہ تو صحیح و سالم بچ جائے یہ سب باتیں چھوڑو اور لعنت و ملامت نہ کرو ، جس طرح سے کہ تمہارا باپ ایسانہ تھا۔

علی عائشہ کے کجاوے کے پاس پہونچے اور اپنے نیزے سے اس پر مارا اور کہا: اے عائشہ ، کیا رسول اسلام نے تمہیں اس کام کو انجام دینے کا حکم دیا تھا؟

اس نے امام ـ کے جواب میں کہا: اے ابو الحسن اب جب کہ تم کامیاب ہوگئے ہو تو مجھے معاف کردو۔

______________________

(۱) اس نے یہ کہا:اقتلونی و مالکاً، و اقتلوا مالکاً معی ۔


تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ عمار یاسر اور مالک اشتر بھی وہاں پہونچ گئے اوران لوگوں کے درمیان درج ذیل گفتگو ہوئی۔

عمار: اماں! آج اپنے بیٹوں کودیکھا کہ راہ راست پر دین کی راہ میں کس طرح تلواریں چلارہے تھے؟ عائشہ نے ان سنی کردیا اور کوئی جواب نہ دیا کیونکہ عمار پیغمبر اسلام کے جلیل القدر صحابی اور قوم کے بزرگ تھے۔

مالک اشتر: خدا کا شکر کہ اس نے اپنے امام کی مدد کی اور اس کے دشمنوں کو ذلیل و خوار کیا، حق آیا اور باطل مٹ گیا کیونکہ باطل تو مٹنے ہی والا ہے، اے مادر! آپ نے اپنے کام کو کیسا پایا؟

عائشہ: تم کون ہو تمہاری ماں تمہارے غم میں بیٹھے؟!

مالک اشتر: میں آپ کا بیٹا مالک اشتر ہوں۔

عائشہ: تم جھوٹ بول رہے ہو میں تمہاری ماں نہیں ہوں۔

مالک اشتر: آپ میری ماں ہیں اگرچہ آپ قبول نہ کریں۔

عائشہ: تم وہی ہو جو میری بہن اسماء کو ان کے بیٹے (عبد اللہ بن زبیر) کے غم میں بٹھا نا چاہتا تھا؟۔

مالک اشتر: یہ کام میں اس لئے انجام دیتا تاکہ خدا کے سامنے عذر پیش کرسکتا ( یہ خدا کے حکم کی بجآوری کے لئے تھا) ۔

پھر عائشہ (جب کہ سوارہو رہی تھیں) نے کہا: تم نے افتخار حاصل کرلیا اور کامیاب ہوگئے خدا کا کام قابل نتیجہ ہوتا ہے۔

امام ـ نے محمد بن ابوبکر سے فرمایا: کہ اپنی بہن سے پوچھوکوئی تیر تو نہیں لگا؟ کیونکہ عائشہ کا کجاوہ تیر لگنے سے ساہی کے کانٹے کی طرح ہوگیا ہے۔


اس نے اپنے بھائی کے جواب میں کہا صرف ایک تیر میرے سر پر لگا ہے محمد نے اپنی بہن سے کہا خداوند عالم قیامت کے دن تمہارے خلاف فیصلہ کرے گا، کیوں کہ تم نے امام کے خلاف قیام کیا اور لوگوں کو ان کے خلاف اکسایا اور خدا کی کتاب کو نظر انداز کیا ہے عائشہ نے کہا: مجھے چھوڑ دو اور علی سے کہو مجھے مشکلات و پریشانیوں سے بچائیں (میری حفاظت کریں)

محمد بن ابوبکر نے امام ـ کو اپنی بہن کی سلامتی و خیریت سے آگاہ کیا ۔ امام ـ نے فرمایا: وہ ایک عورت ہیں اورعورتیں منطقی نقطۂ نظر سے طاقتور نہیں ہوتیں تم اس کی حفاظت کی ذمہ داری لو اور اسے عبد اللہ بن خلف کے گھر پہونچا دو تاکہ اس کے بارے میں کوئی تدبیر کریں۔

عائشہ پر امام ـ اور ان کے بھائی کا رحم و کرم ہوا مگر عائشہ مسلسل امام ـ کو برا بھلا کہتی رہیں۔ اور جنگ جمل میں قتل ہونے والوں کی بخشش و مغفرت کی دعا میں مشغول رہیں۔(۱)

______________________

(۱) الجمل، ص ۱۹۸۔ ۱۶۶؛ تاریخ طبری، ج۳، ص ۵۳۹۔


طلحہ و زبیر کا انجام

مؤرخین کا کہنا ہے کہ طلحہ کا قتل مروان کے ہاتھوں ہوا کیونکہ جب طلحہ نے اپنے سپاہیوں کو شکست کھاتے ہوئے دیکھا اور اپنی موت کو آنکھوں سے دیکھ لیاتو راہ فرار اختیار کیا اس وقت مروان کی نگاہ اس پر پڑی ا ور اس کے ذہن میں یہ بات آئی کہ عثمان کے قتل کرنے میں سب اہم رول اسی کا تھا لہذا اسے تیر مار کر زخمی کردیا طلحہ کو یہ احساس ہوا کہ یہ تیر خود اس کی فوج نے پھینکا ہے لہذا اس نے اپنے غلام سے کہا کہ اسے جلدی سے یہاں سے دوسری جگہ پر پہونچا دے ، بالآخر طلحہ کے غلام نے اسے ''بنی سعد'' کے کھنڈر میں پہونچا دیا۔ طلحہ کے بدن سے خون بہہ رہا تھا اس نے کہا: کسی بھی بزرگ کا خون ہماری طرح آلودہ نہیں ہوا ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ روح اس کے بدن سے نکل گئی۔

زبیر کا قتل

جنگ جمل کا دوسرے فتنہ پرورزبیرنے جب شکست کا احساس کیا تو مدینہ کی طرف بھاگنے کا ارادہ کیا وہ بھی قبیلہ ''احنف بن قیس'' کے راستے سے اس قبیلہ نے امام ـ کے حق جنگ میں شرکت کرنے سے پرہیز کیا تھا، قبیلہ کا سردار زبیر کی اس نامردی پر بہت غضبناک ہوا، کیونکہ اس نے انسانی اصولوں کے خلاف لوگوں کو اپنے مفاد کے لئے قربان کردیا تھا اور اب چاہتا تھا کہ میدان سے بھاگ جائے۔

احنف کے ساتھیوں میں سے عمرو بن جرموز نے ارادہ کیا کہ جتنے لوگوں کا خون بہا ہے اس کا بدلہ زبیر سے لے، لہٰذا اس کا پیچھا کیا اور جب وہ راستے میں نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا تو پیچھے سے حملہ کیا اور


اسے قتل کر ڈالا اس کا گھوڑا ، انگوٹھی اور اس کی تلوار ضبط کرلیااور جو نوجوان اس کے ساتھ تھا اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا، اس جوان نے زبیر کو ''وادی السباع'' میں سپرد خاک کیا۔(۱)

عمرو بن جرموز احنف کے پاس واپس آیا اور اس نے زبیر کے حالات سے آگاہ کیا اس نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ تم نے نیک کام انجام دیا یا برا، پھر دونوں امام ـ کی خدمت میں آئے جب امام ـ کی نظر زبیر کی تلوار پر پڑی تو آپ نے فرمایا:''طالماً جلی الکرب عن وجه رسول الله'' یعنی، اس تلوار نے کئی مرتبہ پیغمبر کے چہرے سے غم کے غبار کو ہٹایا تھا۔ پھر اس تلوار کو عائشہ کے پاس بھیج دیا۔(۲)

جب حضرت کی نظر زبیر کے چہرے پر پڑی تو آپ نے فرمایا:''لقد کنت برسول الله صحبة و منه قرابةً و لکن دخل الشیطان منخرک فأوردک هذا المورد'' (۳)

یعنی تو مدتوں پیغمبرکے ہمراہ تھا اور ان کا رشتہ دار بھی تھا لیکن شیطان نے تیری عقل پر غلبہ پیدا کر لیا اورتجھے اس انجام تک پہونچا دیا۔

جنگ جمل میں قتل ہونے والوں کی تعداد

تاریخ نے جنگ جمل میں قتل ہونے والوں کی تعداد کو معین نہیں کیا اور اس سلسلے میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے شیخ مفید لکھتے ہیں کہ بعض مؤرخین نے جنگ جمل میں مارے جانے والوں کی تعداد ۲۵ ہزار لکھا ہے جب کہ عبداللہ بن زبیر (اس معرکہ کا فتنہ پرور انسان) نے قتل ہونے والوں کی تعداد ۱۵ ہزار لکھا ہے اور شیخ مفید نے دوسرے والے قول کو ترجیح دیا ہے اور لکھتے ہیں کہ مشہور یہ ہے کہ مارے جانے والوں کی کل تعداد ۱۴ ہزار تھی۔(۴)

طبری نے اپنی کتاب میں مارے جانے والوں کی تعداد ۱۰ ہزار نقل کی ہے جس کی نصف تعداد عائشہ کے لشکر اور نصف تعداد امام ـ کے لشکر کی ہے ۔ پھر دوسرا نظریہ نقل کرتا ہے جس کا نتیجہ جو کچھ ہم

______________________

(۱) الجمل، ص ۲۰۴؛ تاریخ ابن اثیر، ج۳، ص ۲۴۴۔ ۲۴۳۔ ----- (۲) تاریخ طبری، ج۳، ص ۵۴۰؛ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۱، ص ۲۳۵۔

(۳) الجمل، ص ۲۰۹۔-----(۴) الجمل، ص ۲۲۳۔

نے زبیر سے نقل کیا ہے دونوں ایک ہی ہے۔(۱)

جنگ جمل میں قتل ہونے والوں کی تدفین

جنگ جمل کا واقعہ ۱۰ جمادی الثانی ۳۶ ھ کو جمعرات کے دن رونما ہوا اور ابھی سورج غروب نہیں ہوا تھا(۲) کہ عائشہ کے اونٹ گرنے اور کجاوہ کے ٹیڑھے ہونے سے جنگ ختم ہوگئی اور ایک بھی معقول ہدف نہ ہونے کی وجہ سے غالباً ناکثین نے راہ فرار اختیار کرلی، مروان بن حکم نے قبیلۂ ''عنزہ'' کے گھر میں پناہ لی۔

اور نہج البلاغہ میں حضرت علی کے کلام سے استفادہ ہوتا ہے کہ حسنین نے امام ـ سے اس کی حفاظت کی درخواست کی، لیکن سب سے عمدہ بات یہ کہ جب حسنین نے آپ سے عرض کیا کہ مروان آپ کی بیعت کرلے گا تو امام ـ نے فرمایا:

''أولم یبایعنی بعد قتل عثمان؟ لا حاجة لی فی بیعته انها کف یهودیة لو بایعنی بکفه لغدر بسبته اما ان له امرة کلعقة الکلب أنفه، و هو ابو الاکبش الاربعة و ستلقی الامة منه و من ولده یوماً أحمر'' ۔(۳)

کیاعثمان کے قتل کے بعد اس نے میری بیعت نہیں کی تھی اب مجھے اس کی بیعت کی ضرورت نہیں ہے یہ ہاتھ تو یہودی والا (یعنی مکار ہاتھ ہے، اس لئے کہ یہودی اپنی مکر و حیلہ میں ضرب المثل ہیں۔مترجم) ہاتھ ہے اگر یہ ہاتھ سے میری بیعت کرلے گا توذلت کے ساتھ اسے توڑ بھی دے گا یاد رکھو اسے ایسی حکومت ملے گی جس میں کتّا اپنی ناک چاٹتا ہے اور اس کے چار بیٹے بھی بس اتنی ہی دیر کے لئے حکمران ہوں گے اور وہ دن جلد آنے والا ہے جب امت کواس کے اور اس کے بیٹوں کے ذریعے سرخ (خونی) دن دیکھنا نصیب ہوگا۔

عبداللہ ابن زبیر نے ایک ازدی کے گھر میں پناہ لی تھی اور عائشہ کو اس بات کی خبر دے دی تھی عائشہ نے اپنے بھائی محمد بن ابوبکر کو جو امام ـ کے حکم سے عائشہ کی حفاظت کر رہے تھے ، عبد اللہ کے پاس بھیجا جہاں وہ پناہ لئے تھا تاکہ اسے عبد اللہ بن احنف کے گھر پہونچا دے ،کیونکہ عائشہ بھی وہیں تھیں ۔ بالآخر عبد اللہ بن زبیر اور مروان نے بھی وہیں

______________________

(۱) تاریخ طبری، ج۳، ص ۵۴۳۔-----(۲) ابن ابی الحدید نے جنگ ہونے کی مدت دو دن لکھی ہے ، ج۱، ص ۲۶۲۔

(۳) نہج البلاغہ، خطبہ ۷۱۔


پناہ لی۔(۱) پھر دن کے باقی حصے میں امام ـ میدان جنگ میں آئے اور بصرہ کے لوگوں کو بلایاتاکہ اپنے مرنے والوں کو دفن کریں۔ طبری کے نقل کر نے کے مطابق، امام نے ناکثین کے گروہ میں شامل بصرہ اور کوفہ کے لوگوں کی نماز جنازہ پڑھی اور جو آپ کے ساتھی جام شہادت نوش کرچکے تھے ان پر بھی نماز پڑھی اور سب کو ایک بڑی قبر میں دفن کردیا اور پھر حکم دیا کہ لوگوں کے تمام مال و اسباب کو انھیں واپس کردیں ، صرف ان اسلحوں کو واپس نہ کریں جن پر حکومت کی نشانی ہوپھر فرمایا:

''لا یحلُّ لمسلمٍ من المسلم المتوفی شیئ'' (۲)

مردہ مسلمان کی کوئی بھی چیز دوسروں کے لئے حلال نہیں ہوگی۔

امام ـ کے بعض ساتھیوں نے بہت اصرار کیا کہ ناکثین کے ساتھ جنگ گویا مشرکوں کے ساتھ جنگ گرنا ہے یعنی جتنے لوگ گرفتار ہوئے ہیںانھیں غلام بنایاجائے اور ان کا مال تقسیم کردیا جائے

امام ـ نے اس سلسلے میں فرمایا:''أیکم یأخذ ام المومنین فی سهمه'' (۳) یعنی تم میں سے کون حاضر ہے جو عائشہ کو اپنے حصے کے طور پر قبول کرے؟ امام جعفرصادق ـ نے ایک حدیث میں اس گروہ کے متعلق جسے فقہ اسلامی نے ''باغی'' کے نام سے تعبیر کیا ہے، فرمایا ہے:

''ان علیاً علیه السلام قتل اهل البصرة و ترک أموالهم ، فقال ان دار الشرک یحل ما فیها و ان دار الاسلام لایحل ما فیها ان علیا انما من علیهم کما من رسول الله صلی اللّٰه علیه وآله وسلم علی اهل مکة'' ۔(۴)

امام ـ نے اہل بصرہ کو ان کی بغاوت کی وجہ سے قتل کیا تھا لیکن ان کے مال و اسباب کو ہاتھ نہ لگایا کیونکہ مشرک کا حکم اور مسلمان باغی کا حکم برابر نہیں ہے اسلامی فوج کو جو کچھ بھی مشرک و کافر کے علاقہ سے ملے اس کا لے لینا حلال ہے لیکن جو کچھ سرزمین اسلام پر پایا جائے حلال نہیں ہوگا جیسا کہ علی نے ان پر احسان کیا جیسا کہ پیغمبر اسلام نے اہل مکہ پراحسان کیا تھا۔

______________________

(۱)امام علیہ السلام نے اپنے اس کلام میں غیب کی چند خبروں سے آگاہ کیاتھا۔------(۲) تاریخ طبری، ج۲، ص ۵۴۳۔

(۳) وسائل الشیعہ، ج۱۱، باب ۲۵، ابواب جہاد۔------(۴) وسائل الشیعہ، ج۱۱، باب ۲۵، ابواب جہاد، اس سلسلے میں ابن ابی الحدید کا دوسرا نظریہ ہے وہ کہتا ہے کہ امام نے جوکچھ بھی میدان میں تھا سب کو لے لیااور اپنے لشکر کے درمیان تقسیم کردیا۔


حضرت علی ـ کی مقتولین سے گفتگو

جنگ بدر میں پیغمبر اسلام (ص)نے قریش کے لاشوں کو ایک کنویں میں ڈالا اور پھر ان سے گفتگو کرنے لگے اور جب حضرت سے لوگوں نے کہا کہ کیا مردے بھی زندوں کی باتیں سنتے ہیںتو آپ نے فرمایا: تم لوگ ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو۔(۱)

امیر المومنین علیہ السلام میدان جمل میں لاشوں کے درمیان سے گزر رہے تھے کہ عبد اللہ بن خلف خزاعی کو دیکھا جو خوبصورت کپڑے پہنے تھا لوگوں نے کہا وہ ناکثین کے لشکر کا سردار تھا امام ـ نے فرمایا: ایسا نہیں تھا بلکہ وہ ایک شریف اور اچھا انسان تھا پھر آپ کی نظر عبد الرحمن بن عتاب بن اسید پر پڑی تو آپ نے فرمایا: یہ شخص ناکثین کا سردار اور رئیس تھا پھر آپ قتل گاہ میں ٹہلتے رہے یہاں تک کہ قریش کے گروہ کے کچھ لاشوں کو دیکھا اور فرمایا: خدا کی قسم، تمہاری یہ حالت میرے لئے غم کا باعث ہے لیکن میں نے تم پر حجت تمام کردی تھی لیکن تم لوگ نا تجربہ کار نوجوان تھے اور اپنے کام کے نتیجے سے باخبر نہ تھے۔

پھر آپ کی نگاہ بصرہ کے قاضی کعب بن سور پر پڑی جس کی گردن میں قرآن لٹکا ہوا تھا آپ نے حکم دیا کہ اس کی گردن سے قرآن نکال کر کسی پاک جگہ پر رکھ دیا جائے پھر فرمایا: اے کعب! جو کچھ میرے خدا نے وعدہ کیا تھا اسے میں نے صحیح اور استوار پایا۔ اور کیا تو نے بھی جو کچھ تیرے پروردگار نے تجھ سے وعدہ کیا تھا صحیح پایا؟ پھر فرمایا:

''لقد کان لک علم لونفعک ، و لکن الشیطان أضلَّک فأزلک فعجَّلک الی النار'' (۲)

______________________

(۱) سیرۂ ہشام، ج۱، ص ۶۳۹۔

(۲) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۱، ص ۳۴۸۔


تیرے پاس علم تھااے کاش (تیرا وہ علم) تجھے فائدہ پہونچاتا لیکن شیطان نے تجھے گمراہ کیا اور تجھے بہلا پھسلا کر جہنم کی طرف لے گیا۔

اور جب امام ـ نے طلحہ کی لاش کودیکھا تو فرمایا: اسلام میں تیری خدمات تھیں جو تجھے فائدہ پہونچا سکتی تھیں لیکن شیطان نے تجھے گمراہ کردیااور تجھے بہلایا اورتجھے جہنم کی طرف لے گیا۔(۱)

تاریخ کے اس حصے میں امام ـ نے باغیوں کی صرف مذمت کی اور اہل جہنم کی شناخت کرائی اس کے علاوہ دوسری چیزیں بیان نہیں کی ہیں لیکن معتزلہ فرقہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے بعض لوگ اپنی موت سے پہلے اپنے کام پر شرمندہ ہوئے تھے اور توبہ کرلیاتھا۔ ابن ابی الحدیدجو مذہب معتزلہ کا بہت بڑا مدافع ہے لکھتا ہے کہ بزرگوں سے روایت ہے کہ علی نے فرمایا : طلحہ کو بٹھائو اور اس وقت اس سے کہا:

''یعز علی با أبا محمد أن اراک معفراً تحت نجوم السماء و فی بطن هذا الوادی ابعد جهادک فی الله و ذبک عن رسول الله؟''

یہ بات میرے لئے سخت ناگوار ہے کہ تجھے زیر آسمان اور اس بیابان میں خاک آلوددیکھوں کیا سزاوار تھا کہ خدا کی راہ میں جہاد اور پیغمبر خدا سے دفاع کے بعد تم ایسا کام انجام دو؟ اس وقت ایک شخص امام ـ کی خدمت میں پہونچا اور کہا: میں طلحہ کے ساتھ تھا جب اسے اجنبی کی جانب سے تیر لگا تو اس نے مجھ سے مدد مانگی اور پوچھا : تم کون ہو؟

میں نے کہا: میں امیر المومنین کے دوستوں میں سے ہوں۔

اس نے کہا: تم اپنا ہاتھ مجھے دو تاکہ میں تمہارے وسیلے سے امیر المومنین کی بیعت کروں پھر اس نے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر بیعت کی ۔

امام ـ نے اس موقع پر فرمایا: خدا نے چاہا کہ طلحہ نے جس حالت میں میری بیعت کی ہے اسے جنت میں لے جائے۔(۲)

تاریخ کا یہ حصہ افسانہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے، کیا طلحہ امام ـ کے مقام و منزلت اور آپ کی حقانیت

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۱، ص ۳۴۸۔----(۲) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۱، ص ۳۴۸۔


و شخصیت سے واقف نہ تھا؟ اس طرح کی توبہ وہ لوگ کرتے ہیں جو مدتوں جہالت میں زندگی بسر کرتے ہوں اور جب جہالت کا پردہ ان کی آنکھوں سے ہٹ جاتا ہے تو وہ حقیقت کا نظارہ کرتے ہیں ،جب کہ طلحہ شروع سے ہی حق و باطل کے درمیان فرق کو جانتا تھا۔ اس کے علاوہ اگر اس افسانہ کو صحیح مان بھی لیاجائے تو قرآن کریم کی نظر میں طلحہ کے توبہ کی کوئی اہمیت نہیں ہے :

''و لیست التوبة للذین یعملون السیئات حتی اذا حضرَ أحدُهم الموتَ قال انی تُبتُ الآن و لا الذین یموتون و هم کفار اولٰئک أعتد نا لهم عذاباً ألیماً'' (۱)

اوران لوگوں کی توبہ جو لوگ برے کام انجام دیتے ہیںاور پھر موت کے وقت کہتے ہیں کہ میں نے توبہ کرلیا ہے تو وہ قابل قبول نہیں ہے اوران لوگوں کی توبہ ایسی ہے کہ وہ مرتے ہیں جب کہ ان کی موت کفر کی ہوتی ہے اور ان لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے۔

بہرحال، کیا صرف امام ـ کی بیعت کرنے سے اس کے سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے؟اس نے زبیر اور ام المومنین کی مدد و مشورت سے بصرہ کے میدان میں بہت زیادہ لوگوں کا خون بہایا ہے ، یہاں تک کہ ان لوگوں کے حکم سے بہت سے گروہ مثل گوسفند ذبح کئے گئے ہیں لوگ رسول خدا کے صحابیوں کی اس طرح کی بے فائدہ طرفداری کرتے ہیںاور چاہتے ہیں کہ سب کو عادل مانیں۔

______________________

(۱) سورۂ نسائ، آیت ۱۶۔


بصرہ کی شکست، امام ـ کا خطوط لکھنا، اور عائشہ کو مدینہ روانہ کرنا

امام ـ کی فوج اور بصرہ کے بے وفاؤں کے درمیان جنگ کے احتمال کی خبر ، تجارت کرنے والے گروہ جو اس راستے سے عراق، حجاز، شام وغیرہ آتے جاتے تھے، کے ذریعے تمام اسلامی ملکوںتک پہونچ گئی اور مسلمان اور عثمان کے کچھ چاہنے والے اس واقعہ کی خبر سننے کے لئے بے چین تھے اور دونوں گروہوں میں سے ایک کی کامیابی اور دوسرے کی شکست بہت ہی اہمیت کی حامل تھی۔ اسی وجہ سے امام ـ نے مقتولین دفن کرنے کا حکم دیا، اور میدان جنگ کا جائزہ لینے کے بعد، اور بعض قیدیوں کو ان کے خیمہ میں واپس لے جانے کا حکم دینے کے بعد، اپنے کاتب عبد اللہ بن ابی ارفع کو بلایا اور کچھ خطوط املاء کئے (لکھوائے) اور امام کے منشی نے تمام چیزوںکو خط میں لکھا اور خط میں کوفہ اور مدینہ کے مومنین سے مخاطب ہوئے کیونکہ یہی

دو علاقے اس زمانے میں اسلام کے سب سے حساس علاقے تھے، اور اسی کے ساتھ ساتھ آپ نے اپنی بہن ام ہانی بنت ابو طالب کو بھی خط لکھا ۔ امام ـ نے اس طرح کے خطوط لکھ کر اپنے دوستوںکو خوشحال اور مخالفت کرنے والوں کو ناامید کردیا۔


شیخ مفید نے ا ن تمام خطوط کی عبارت کو اپنی کتاب(۱) میں بطور کامل نقل کیا ہے ،لیکن طبری نے تمام خطوط میں سے امام ـ کے صرف اس خط کو بہت مختصر طریقے سے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے جو آپ نے کوفہ کے لوگوں کے نام لکھا تھا،اور چونکہ اس نے اپنی کتاب کے اس حصے کو تحریر کرنے میں سیف بن عمر کی تحریرپر اعتماد و کیا ہے لہذا اس نے حقِّ مطلب ادا نہیں کیا ہے اور حساس مطالب کو فقط سادگی سے نقل کرکے آگے بڑھ گیا ہے۔

امام ـ نے جو خط (طبری کے نقل کرنے کے مطابق) کوفہ کے لوگوںکے نام لکھا ہے اس میں جنگ کی تاریخ ۱۵ جمادی الثانی ۳۶ھ اورجنگ کی جگہ خربیہ لکھی ہے ۔

جی ہاں امام ـ دوشنبہ کے دن ''خربیہ'' سے بصرہ روانہ ہوئے تھے اور جب آپ بصرہ کی مسجد میں پہونچے تو آپ نے وہاں دو رکعت نماز پڑھی اور پھر سیدھے عبداللہ بن خلف خزاعی کے گھر پہونچے جس کا گھر بصرہ میں سب سے بڑا تھا اور عائشہ کو اسی گھر میں رکھا گیا تھا۔

عبد اللہ، عمر کی خلافت کے زمانے میں دیوان بصرہ کا کاتب تھا جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں وہ اور عثمان کے بھائی جنگ جمل میں مارے گئے تھے۔ بعض لوگوں کا کہناہے کہ اس نے پیغمبرکا زمانہ بھی دیکھا تھا(۲) اگرچہ یہ بات صحیح نہیں ہے۔

جب امام ـ عبداللہ کے گھر میں داخل ہوئے اس وقت اس کی بیوی صفیہ بنت حارث بن طلحہ بن ابی طلحہ گریہ و زاری میں مشغول تھی، عبد اللہ کی بیوی نے امام ـ کی توہین کی اور آپ کو ''قاتل الأحبة'' اور ''مفرق الجمع'' کہا۔ لیکن امام ـ نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر عائشہ کے کمرے میں گئے اور انھیں سلام کیااور ان کے پاس بیٹھ گئے اور صفیہ نے جو اہانت کی تھی اسے بیان کیا۔ یہاں تک کہ جب امام ـ

عبد اللہ کے گھر سے نکل رہے تھے اس وقت بھی صفیہ نے دوبارہ توہین کی اس وقت امام ـ کے دوستوںسے برداشت نہ ہوسکا اور عبداللہ کی بیوی کودھمکی دی ۔

امام ـ نے انھیں اس کام سے منع کیااور کہا کوئی بھی خبر مجھے نہ ملے کہ تم لوگوںنے عورتوں کو اذیت دی ہے۔

______________________

(۱) الجمل، ص ۲۱۱و ۲۱۳۔------(۲) اسد الغابہ، ج۲، ص ۱۵۲۔


بصرہ میں امام ـ کی تقریر

امام ـ عبداللہ کے گھر سے نکلنے کے بعد شہر کے مرکزی مقام پر گئے بصرہ کے لوگوںنے مختلف پرچم کے ساتھ امام ـ کے ہاتھوں پر دوبارہ بیعت کی یہاں تک کہ زخمیوںاور وہ لوگ جنھیں امان دی گئی تھی ان لوگوں نے بھی دوبارہ حضرت کی بیعت کی ۔(۱)

امام ـ پر لازم تھا کہ بصرہ کے لوگوں کو ان کے کام کی غلطیوں اور برائیوں سے آگاہ کریں اسی وجہ سے بصرہ کے تمام افراد آپ کی گفتگو سننے کے لئے آمادہ تھے جب کہ عظمت و نورانیت نے آپ کا احاطہ کر رکھا تھا آپ نے اپنی تقریر شروع کی:

''تم لوگ اس عورت اور اونٹ کے سپاہی تھے جب اس نے تمہیں بلایا تو تم نے اس کی آواز پر لبیک کہا اور جب وہ قتل ہوگیا تو تم لوگ بھاگ گئے تمہارا اخلاق پست اور تمہارا عہد و پیمان عذر و دھوکہ اور تمہارا دین منافقت اور تمہارا پانی کھارا ہے او رجو شخص تمہارے شہر میں زندگی بسر کرنا چاہے گا وہ گناہوں میں مبتلاہوگااو رجو شخص تم لوگوں سے دور رہے گا وہ حق کو پالے گا۔ گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ خدا کا عذاب زمین و آسمان سے تمہارے اوپر آرہا ہے اور میرے خیال سے تم سب لوگ غرق ہوگئے ہو سوائے مسجد کے مناروں کے، اور اسی طرح کشتی کا وسطی حصہ (سینہ) پانی کے اوپر نمایاں و ظاہر ہے۔(۲)

پھر آپ نے فرمایا: تمہاری سرزمین پانی سے نزدیک اور آسمان سے دور ہے تمہارے چھوٹوں کی کوئی اہمیت نہیں اور تم لوگوںکی فکریں احمقانہ ہیں تم لوگ (ارادہ میں سستی کی وجہ سے) شکاریوں کا ہدف

______________________

(۱) تاریخ طبری، ج۳، ص ۵۴۵۔

(۲) نہج البلاغہ، خطبہ ۱۳۰۔


او رمفت خوروں کے لئے لقمہ لذیذ او ردرندوں کا شکار ہو۔(۱)

پھر آپ نے فرمایا: اے اہل بصرہ، اس وقت میرے بارے میں تم لوگوں کا کیا نظریہ ہے؟

اس وقت ایک شخص اٹھا او رکہا: ہم لوگ آپ کے لئے نیکی و خیر کے علاوہ کوئی دوسری فکر نہیں رکھتے ، اگر آپ ہمیں سزا دیں تو یہ ہمارا حق ہے کیونکہ ہم لوگ گناہگار ہیں اور اگر آپ ہمیں معاف کردیں گے تو خدا کے نزدیک عفو و درگذر بہترین و محبوب چیز ہے۔

امام ـ نے فرمایا: میں نے سب کو معاف کردیا۔ فتنہ وغیرہ سے دور رہو تم لوگ پہلے وہ افراد ہو جنھوں نے بیعت کو توڑ دیا اور امت کے ستون کو دو حصوں میں کردیا گناہوں کو چھوڑ دو اور خلوص دل سے توبہ کرلو۔(۲)

اچھی نیت عمل کی جانشین ہے

اس وقت امام ـ کے دوستوں میں سے ایک شخص نے کہا: میری خواہش تھی کہ کاش میرا بھائی یہاں ہوتا تاکہ دشمنوں پر آپ کی فتح و کامرانی کو دیکھتااور جہاد کی فضیلت و ثواب میں شریک ہوتا، امام ـ نے اس سے پوچھا: کیا تمہارا بھائی دل اور فکر سے میرے ساتھ تھا؟

اس نے جواب دیا: جی ہاں۔

امام ـ نے فرمایا:''فقد شَهدْنا و لقد شهِدنَا فی عسکرِنا هذا اقوام فی أصلابِ الرجال و ارحامِ النساء سیرعفُ بهم الزمان و یقوی بهم الایمان'' ۔(۳)

تمہارابھائی بھی اس جنگ میں شریک تھا (اور دوسرے شریک ہونے والے سپاہیوں کی طرح اسے بھی اجر و ثواب ملے گا) نہ یہ صرف وہ بلکہ وہ لوگ بھی جوابھی اپنے باپ کے صلب اوراپنی ماؤں کے رحم میںہیں اور زمانہ انھیںان باتوں سے بہت جلدی آشکار کردے گا اور ایمان ان لوگوں کی وجہ سے قوی ہوگا وہ لوگ بھی اس جنگ میں شریک ہیں۔

______________________

(۱) نہج البلاغہ، خطبہ ۵۱۴۔------(۲) الجمل، ص ۲۱۸۔-------(۳) نہج البلاغہ خطبہ ۱۲


امام ـ کا یہ کلام اصل تربیت و اخلاق حسنہ کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ کہ اچھی اور بری نیت جزا اور سزا کے لحاظ سے خود اپنے عمل کی جانشین ہوتی ہے نہج البلاغہ میںدوسرے مقامات پر بھی اس کی طرف اشارہ کیاہے مثلاً آپ فرماتے ہیں :

''ایها الناس انما یجمع الناس الرضا و السخط وانما عقرَ ناقَة ثمودرجل و احد فعمَّهم الله بالعذاب لما عمَّوه بالرضا'' ۔(۱)

اے لوگو! لوگ کبھی ایک عمل سے خوش اور کبھی ایک عمل سے ناخوش ہو کر ایک پرچم کے نیچے جمع ہوتے ہیں۔ ثمود کے ناقہ کوایک آدمی نے ماراتھا لیکن جب عذاب آیاتو سب پر آیاکیونکہ سبھی اس عمل پر راضی تھے۔

بیت المال کی تقسیم

امام ـ کے لشکر کے سپاہی اس جنگ میں کسی بھی چیز کے مالک نہ بنے بلکہ حقیقت میں یہ جنگ سو فیصد الہی جنگ تھی۔ لہذا امام ـ نے دشمن کے اسلحوںکے علاوہ تمام چیزیں خود انہی لوگوںکو واپس کردیں۔ اس وجہ سے ضروری تھا کہ بیت المال ان کے درمیان تقسیم کیاجائے ۔ جب امام ـ کی نگاہیںاس پر پڑیں تو آپ نے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارتے ہوئے کہا: ''غری غیری'' (یعنی جاؤ دوسروںکودھوکہ دو) بیت المال میںکل چھ لاکھ درہم تھے، آپ نے تمام درہموں کواپنے سپاہیوں کے درمیان تقسیم کردیا او ر ہر ایک کو پانچ سو درہم ملے جب امام تقسیم کرچکے تو پانچ سو درہم باقی بچا اسے امام نے اپنے لئے رکھ لیااچانک ایک شخص واردہوا اور اس نے دعویٰ کیاکہ میں بھی اس جنگ میں شریک تھا لیکن اس کا نام فہرست میں لکھنا رہ گیا تھا ۔ امام ـ نے وہ پانچ سو درہم اسے دے دیا، اور فرمایا: خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ اس مال سے میں نے کچھ اپنے لئے حاصل نہیں کیا۔(۲)

______________________

(۱)نہج البلاغہ خطبہ ۲۰۰

(۲) تاریخ طبری ج۳، ص ۵۴۷۔


عائشہ کو مدینہ روانہ کرنا

رسول خدا (ص)سے نسبت رکھنے کی وجہ سے عائشہ کاایک خاص احترام تھا امام ـ نے ان کے مقدمات سفر، مثلاً سواری، راستے کا خرچ ، آمادہ کیااور محمد بن ابوبکر کو حکم دیاکہ اپنی بہن کے ساتھ رہیں

اور انھیں مدینہ پہونچائیں اور آپ کے جتنے بھی دوست مدینہ کے تھے او رمدینہ واپس جاناچاہتے تھے انھیں اجازت دیاکہ عائشہ کے ہمراہ مدینہ جائیں امام ـ نے صرف اتناہی انتظام نہیں کیابلکہ بصرہ کی چالیس عظیم عورتوں کو عائشہ کے ساتھ مدینہ روانہ کیا۔

سفر کی تاریخ پہلی رجب المرجب ۳۶ھ بروز شبنہ معین ہوئی اس مختصر سے قافلے کے روانہ ہوتے وقت اکثر لوگ کچھ دور تک ان کے ساتھ گئے اور خدا حافظی کیا:

عائشہ امام ـ کی بے انتہا محبت دیکھ کر متأثر ہوئیں اور لوگوںسے کہا: اے میرے بیٹو! ہم میں سے بعض لوگ، بعض لوگوں پر ناراض ہوتے ہیں لیکن یہ کام زیادہ نہیں ہونا چاہئے خداکی قسم، میرے اور علی کے درمیان۔ ایک عورت اور اس کے رشتہ داروں کے درمیان جو رابطہ ہوتا ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے اگرچہ وہ میرے غیض و غضب کا شکار ہوئے ہیں۔ مگر وہ نیک اور اچھے لوگوںمیں سے ہیں۔

امام ـ نے عائشہ کی بات سن کر شکریہ اداکیااور فرمایا: لوگو وہ تمہارے پیغمبر کی بیوی ہیں پھرآپ نے کچھ دور تک ان کی ہمراہی کی اور خدا حافظ کہا۔

شیخ مفید لکھتے ہیں:

''چالیس عورتیں جو عائشہ کے ہمراہ مدینہ گئیں ظاہراً انھوںنے مردوں کالباس پہن رکھا تھا تاکہ اجنبی لوگ انہیں مرد سمجھیں اور کسی کے ذہن میں بھی ناروا باتیںان کے متعلق یا پیغمبر کی بیوی کے متعلق خطور نہ کریں اور عائشہ نے بھی یہی سوچا کہ علی نے مردوں کوان کی حفاظت کے لئے بھیجا ہے مستقل اس کام کے لئے شکوہ کر رہی تھیں ۔ جب مدینہ پہونچیں اور دیکھاکہ سب عورتیںہیں جنھوں نے مردوں کالباس پہن رکھا ہے تواپنے اعتراض کے لئے عذر خواہی کی اور کہا: خدا ابوطالب کے بیٹے کو نیک اجر عطا کرے کہ میرے متعلق رسو ل خدا کی حرمت کا خیال رکھا۔(۱)

______________________

(۱) الجمل ، ص ۲۲۱۔


حاکموں کو منصوب کرنا

عثمان کی خلافت کے دور میں مصر کا حاکم عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح تھااو رمصریوںکی خلیفہ کے اوپر حملہ کرنے کی ایک وجہ اس کے برے اور بے ہودہ اعمال تھے یہاں تک کہ جب وہ مصر سے نکالاگیااس وقت

محمد بن ابی حذیفہ مصر میں تھے اور ہمیشہ حاکم مصر اور خلیفہ پر اعتراض کرتے تھے۔ جب مصرکے لوگوں نے خلیفہ پر حملہ کرنے کے لئے مدینہ کا سفر کیا اس وقت مصر کے تمام امور کی ذمہ داری محمد بن حذیفہ کے حوالے کردی اور وہ اس منصب پر باقی تھے یہاں تک کہ امام ـ نے قیس بن سعد بن عبادہ کو مصر کے امور کی انجام دہی کے لئے منصوب کیا۔

طبری کاکہناہے کہ جس سال جنگ جمل ہوئی اسی سال قیس مصر گئے، لیکن بعض مؤرخین مثلاً ابن اثیر(۱) وغیرہ کا کہناہے کہ قیس ماہ صفر میں مصر بھیجے گئے اگر اس صفر سے مراد ، صفر ۳۶ھ ہے تو یقینا قیس واقعۂ جمل سے پہلے گئے اور اگر صفر ۳۷ھ مرادہے تو وہ واقعہ جمل کے چھ مہینے کے بعدگئے جب کہ طبری نے قیس کے جانے کی تاریخ و سال کو ۳۶ ھ ہی لکھا ہے آور یہ واقعۂ جمل کاسال ہے۔

جی ہاں، امام ـ نے خلید بن قرہ یربوعی کوخراسان کا حاکم اور ابن عباس کو بصرہ کا حاکم معین کیااور پھر ارادہ کیا کہ بصرہ سے کوفہ کاسفر کریں۔کوفہ جانے سے پہلے آپ نے جریر بن عبداللہ بجلی کو شام روانہ کیاکہ معاویہ سے گفتگو کریں ، تاکہ وہ مرکزی حکومت کی پیروی کا اعلان کرے جس حکومت کے رئیس امام ـ تھے۔(۲) چونکہ بصرہ کی ایک خاص اہمیت تھی اور شیطان نے وہاں اپنی شیطنت کا بیج بودیا تھا لہذاامام نے ابن عباس کو حاکم بصرہ اور زیاد بن ابیہ کو جزیہ جمع کرنے کی ذمہ داری اور ابو الاسود دوئلی کو ان دونوں کاجانشین و مددگار قراردیا۔(۱)

امام ـ نے ابن عباس کو لوگوں کے سامنے بصرہ کا حاکم بناتے وقت بہترین اور عمدہ تقریر کی جسے شیخ مفید نے اپنی کتاب ''الجمل'' میں نقل کیاہے۔(۳) طبری کہتا ہے کہ امام نے ابن عباس سے کہا: ''اضرب بمن أطاعک من عصاک و ترک أمرک''۔(۴)

______________________

(۱) تاریخ ابن اثیر، ج۳، ص ۲۶۸۔------(۲) تاریخ ابن اثیر، ج۳، ص ۵۶۰۔ ۵۴۶۔-----(۳)،(۲) تاریخ جمل، ص ۳۲۴۔

(۴) تاریخ طبری، ج۳، ص ۵۴۶۔


اطاعت کرنے والوںمیں گناہ کرنے والوں کو او رجو لوگ تمہارے حکم کی پیروی نہ کریں انھیں سخت سزا دینا ۔

جس وقت امام ـ بصرہ سے سفر کر رہے تھے اس وقت خدا سے یہ دعا و مناجات کر رہے تھے،''الحمد للّه الذی أخرجنی من أخبث البلاد'' خداوند عالم کالاکھ لاکھ شکر کہ اس نے ہمیں خبیث ترین شہر سے دور کردیا۔

اس طرح امام ـ کی حکومت سے پہلی مشکل و آفت ختم ہوگئی اور آپ کوفہ کی طرف روانہ ہوگئے تاکہ معاویہ کے فاسدنقشوں اور ارادوں کو پامال کریںاور اسلام کی وسیع ترین سرزمین کو فاسد عناصر اورخودغرض لوگوں سے پاک کریں۔


گیارہویں فصل

کوفہ، حکومت اسلامی کا مرکز

اسلام کا سورج مکہ سے طلوع ہوا اور تیرہ سال گذر جانے کے بعد یثرب (مدینہ) میں ظاہر ہوا اوردس سال اپنی نورانی کرنوں کو بکھیرنے کے بعد غروب ہوگیا جب کہ افق کی تازگی شبہ جزیرہ کے لوگوں کے لئے کھلی اور سرزمین حجاز خصوصاً شہر مدینہ دینی اور سیاسی مرکز کے نام سے مشہور ہوگیا۔

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد مہاجرین و انصار کے ذریعے خلفاء کے انتخاب نے ثابت کردیا کہ مدینہ اسلامی خلافت کا مرکز قرار پائے اور خلفاء اپنے نمائندوں اور حاکموں کو اپنے تمام اطراف و جوانب روانہ کر کے وہاں کے امور کی تدبیر کریں۔ اور ملکوں کو فتح کر کے تمام رکاوٹوں کو دور کر کے اسلام کو پھیلائیں۔

امیر المومنین ـ ،صاحب رسالت کے منصوص و معین کرنے کے علاوہ، مہاجرین و انصار کے ہاتھوں بھی منتخب ہوئے تھے آپ نے بھی خلفاء ثلاثہ کی طرح مدینہ کو اسلامی مرکز قرار دیا اور وہیں سے تمام امور و احکام کی نشر و اشاعت شروع کی ۔ آپ نے اپنی خلافت کے آغاز میں اسی طریقے کو اپنایا اور خطوط بھیجنے، اور عظیم شخصیتوں کو روانہ کر کے، اور دنیا پرستوں کو منصب سے دور کر کے، اور ولولہ انگیز اور تربیتی خطبوں کے ذریعے، اسلامی معاشرے کے تمام امور کو آگے بڑھایا اور اسلامی نظام میں ۲۵ سال یعنی ابوبکر کی خلافت کے ابتدائی دور سے عثمان کے دور تک جو خرابیاں، انحرافات وغیرہ داخل ہوگئے تھے ان کی اصلاح میں مشغول تھے کہ اچانک مسئلہ ناکثین یعنی ان لوگوں کا عہد و پیمان توڑنا جنھوںنے سب سے پہلے آپ کی بیعت کی تھی، پیش آگیا اور بہت خطرناک اور دل دہلا دینے والی خبریں امام ـ کو ملیں اور پتہ چلا کہ ناکثین نے بنی امیہ کی مالی مدد اور پیغمبر کی بیوی کے احترام کی بنا پر عراق کے جنوبی حصہ کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور بصرہ پر قبضہ کر کے امام ـ کے بہت سے نمائندوں اور کارمندوں کو ناحق قتل کردیا ہے۔

یہی چیز سبب بنی کہ امام ـ ناکثین کی تنبیہ اور ان کی مدد کرنے والوں کو سزا دینے کے لئے مدینہ سے بصرہ کی طرف روانہ ہوں او راپنے سپاہیوں کے ہمراہ بصرہ کے نزدیک پڑاؤ ڈالیں ، جنگ کی آگ حقیقی سپاہیوں اور ناکثین کے باطل سپاہیوں کے درمیان پھیل گئی اور بالآخر حقیقی فوج کامیاب ہوگئی اور حملہ و فساد برپاکرنے والوں کے سردار مارے گئے اور ان میں سے کچھ لوگ بھاگ گئے اور بصرہ پھر حکومت اسلامی کی آغوش میں آ گیا اور وہاں کے تمام امور کی ذمہ داری امام ـ کے ساتھیوں کے ہاتھ میں آگئی ، شہر اور لوگوں کے حالات معمول پر آگئے اور مفسر قرآن اور امام کے ممتاز شاگرد ابن عباس بصرہ کے حاکم مقرر ہوئے۔


ظاہری حالات سے یہ بات واضح ہوتی تھی کہ امام ـ جس راستے سے آئے تھے اسی راستے سے مدینہ واپس جائیں اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے روضۂ اطہر کے کنارے اور بعض گروہوں اور صحابیوں کے رائے و مشورہ سے اسلامی معارف کی نشر و اشاعت ، اور معاشرے میں بیمار افراد کی خبر گیری اور حالات دریافت کریں، اور سپاہیوں کو مختلف شہروں میں روانہ کریں، تاکہ اسلامی قدرت نفوذ کرے۔ اور خلافت کے امور کو انجام دیںاور ایک دوسرے سے ہر طرح کے اختلافات سے پرہیز کریں لیکن یہ ظاہرقضیہ تھا ہر شخص امام علیہ السلام کی ظاہری حالت سے یہی سمجھ رہا تھا خصوصاً اس زمانہ میں مدینہ کچھ زیادہ ہی تقویٰ اور قداست کے لئے معروف تھا کیونکہ اسلام کا واقعی مولد ، اور خدا کا پیغام لانے والے کا مدفن ، اور مہاجر ین و انصار میں صحابیوں کا مرکز تھا جن کے ہاتھوں میں خلیفہ کو منتخب کرنا اور معزول کرنا تھا،

۱۔ان تمام حالات کے باوجود امام علیہ السلام نے کوفہ جانے کا ارادہ کیا تا کہ کچھ دن وہاں قیام کریں اور امام علیہ السلام نے جو اپنے دوستوں کے رائے مشورے سے کو فہ کا انتخاب کیا اس کی دو وجہیں تھیں : امام علیہ السلام بہت زیادہ افراد کے ساتھ مدینہ سے چلے تھے اور بعض گروہ درمیان راہ میں آپ کے لشکر میں شامل ہو گئے تھے لیکن آپ کے اکثر سپاہی اور چاہنے والے کوفہ اور اس کے اطراف کے رہنے والے تھے کیونکہ امام علیہ السلام نے نا کثین کو شکست دینے کے لئے پیغمبر کے بزرگ صحابی عمار یاسر اور اپنے عزیز فرزند امام حسن علیہ السلام کے ذریعہ اہل کو فہ سے مدد مانگی تھی اور کوفہ اس وقت عراق کا ایک اہم شہر تھا اور بہت زیادہ گروہ اس علاقے سے امام علیہ السلام کی مدد کیلئے اپنے اپنے نمائندوں کے ہمراہ حاضر ہوئے تھے(۱) ۔

_______________________________

(۱)مسعودی لکھتا ہے کہ اما م علیہ السلام کے لشکر میں جو کوفہ کے افراد شامل ہوئے ان کی تعداد سات ہزا ر (۷۰۰۰) تھی اور ایک اور قول کی بناء پر ۶۵۶۰تھی (مروج الذہب جلد ۲ص۳۶۸) یعقوبی نے بھی ان کی تعداد ۶۰۰۰لکھی ہے (تاریخ یعقوبی ج ۲،ص۱۸۲)ابن عباس کہتے ہیں جب ہم لوگ ذی قار پہنچے تو ہم نے امام علیہ السلام سے کہا کہ کوفہ سے بہت کم لوگ آپ کی مدد کیلئے آئے ہیںامام علیہ السلام نے فرمایا ۶۵۰افراد بغیر کسی کمی زیادتی کے میری مدد کرنے آئیں گے، ابن عباس کہتے ہیں میں نے ان کی تعداد پر تعجب کیا اور ارادہ کیا یقینااسے شمار کروں گا ،۱۵،دن ذی قار میں قیام کیا یہاں تک کہ گھوڑے اور حچروں کی آوازیں آنے لگیں اور کوفہ کا لشکر پہنچ گیا ، میں نے انہیں باقاعدہ شمار کیا تو دیکھابا لکل وہی تعداد ہے جسے امام علیہ السلام نے بتایا تھا میں نے تکبیر کہی۔اللہ اکبر صدق اللہ رسولہ۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ،ج۲،ص۱۸۷۔


اگر چہ بعض گروہ مثلاًابو موسی اشعری اور اسکے ہم فکروں نے امام کی مدد کرنے سے سے پرہیز کیا اور اپنے قول وفعل سے لوگوں کو جہادمیں جانے سے منع کیا اور جب امام علیہ السلام ناکثین سے جنگ کرنے میں کامیاب ہوگئے اور دشمنوں کو بے بس کر دیاتو اب حق یہ تھا کہ ان لوگوں کے گھریلو حالات اور زندگی سے با خبر ہوں ، اور جنگ اور آپ کی آواز پر لبیک کہنے والوں کا شکریہ اور جہاد میں جانے سے منع کرنے والوں کی مذمت کریں ۔

۲۔ امام علیہ السلام بخوبی اس بات سے باخبر تھے کہ عہدو پیمان توڑنے اور شورش کرنے والوں کے گناہ کاسبب معاویہ ہے کیونکہ اسی نے عہدوپیمان توڑنے کی رغبت دلائی تھی اور دھوکہ دے کر غائبانہ طور پر ان کی بیعت لی تھی یہاں تک کہ اس نے زبیر کو جوخط لکھا تھا اس میں شورش کے تمام راستوں کو مکمل بیان کیا تھا اور لکھا تھا کہ شام کے لوگوں سے ہم نے تمہاری بیعت لے لی ہے اور جتنی جلدی ہو کوفہ اور بصرہ پر قبضہ کرلو اور عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے قیام کرو اورکوشش کروکہ ابو طالب کے بیٹے کا قبضہ ان دونوں شہروں پر نہ ہونے پائے ۔

اب جب کہ اس باغی وسر کش کا تیر نشانے پر نہ لگا اور شورشیں ختم ہو گئیں تو ضروری ہوگیاکہ جتنی جلدسے جلداس فسادی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں اور بنی امیہ کے شجرہ ملعونہ کی شاخ کو اسلامی معاشرے کے پیکر سے دور کردیں ، شام سے نزدیک شہر کوفہ ہے اس کے علاوہ ، کوفہ عراق کا سب سے زیادہ لشکر خیز اور امام علیہ السلام کے فدائیوں کا مرکز تھا ،اور امام علیہ السلام دوسری جگہوں سے زیادہ ان لوگوں پر بھروسہ کرتے تھے امام ٭ نے اپنے ایک خطبے میں اس طرف اشارہ کیا ہے آپ فرماتے ہیں :والله ما ا تیتکم اختیارا ولکن جئت الیکم سوتا'' (۱) یعنی خدا قسم میں اپنی خواہش سے تمہاری طرف نہیں آیا بلکہ مجبوری کی وجہ سے آیاہوں ،

یہی دو وجہیں سبب بنیں کہ اما م علیہ السلام نے کوفہ کو اپنا مرکز بنایا ، اور خلافت اسلامی کے مرکز کومدینہ سے عراق منتقل کردیا ، اسی وجہ سے آپ ۱۲،رجب ۳۶ھ دوشنبہ کے دن بصرہ کے بعض بزرگوں کے ہمراہ کوفہ میں داخل ہوئے ، کوفہ کے لوگ اور ان میں سب سے آگے قرآن کے قاریوں اور شہر کی عظیم شخصیتوں نے امام علیہ السلام کااستقبال کیا اور آپ کو خوش آمدید کہا اورامام علیہ السلام کے رہنے کے لئے ''دارالا امارہ ''کا

_______________________________

(۱)نہج البلاغہ خطبہ،۷۰


انتخاب کیا اور اجازت لی کہ امام علیہ السلام کو وہاں لے جائیں اور امام علیہ السلام وہاں قیام کریں ، لیکن امام نے قصر میں داخل ہونے سے منع کیا ، کیونکہ اس کے پہلے وہ ظالموں اور ستمگروں کا مرکز تھا ،آپ نے فرمایا ، قصر تباہی و بربادی کا مرکز ہے ، اور بالآخر امام علیہ السلام نے اپنی پھوپھیری بہن جعدہ بنت ھبیرہ مخزوص کے گھر کو قیام کے لئے چنا(۱) ۔

امام علیہ السلام نے لوگوں سے کہا کہ '' رحبہ '' نامی مقام پر جمع ہوں ، کیونکہ وہ ایک وسیع میدان تھا اور آپ بھی اپنی سواری سے وہیں پر اترے ،

سب سے پہلے آپ نے مسجد میں دورکعت نماز پڑھی اور پھر منبر پر تشریف لائے اور خدا کی حمدو ثنا کی اور پیغمبر اسلام پر درود وسلام بھیجا اور پھر اپنی تقریر اس طرح شروع کی،''اے کوفہ کے لوگو ،اسلام میں تمہارے لئے فضیلتیں ہیں مگر شرط یہ ہے کہ ا سے تبدیل نہ کرنا ،میں نے تم لوگوں کوحق کی دعوت دی اور تم نے اس کا مثبت جواب دیا ، برائی کو شروع کیا لیکن پھر اسے بدل دیا ...تم لوگ ان کے پیشوا ہو جو تمہاری دعوتوں کو قبول کریں اور جس چیز میں تم داخل ہوئے ہو وہ بھی داخل ہوں، سب سے بدترین چیز یںجن پر عذاب سے ڈرتا ہوں وہ دو چیز یں ہیں ایک خواہشات نفس کی پیروی ، دوسرے لمبی لمبی امیدیں ، خواہشات نفس ،پیرویٔ حق سے دور کرتی ہے اور لمبی امیدیں آخرت کو بھلا دیتی ہیں آگاہ ہو جائو کہ دنیا تیزی سے منھ موڑ چکی ہے اور آخرت سامنے آگئی ہے اور ان میں سے ہر ایک کی اولادیں ہیں تم آخرت کی اولاد بن جائو (دنیا کی اولاو نہ بنو)آج عمل کا دن ہے حساب کا نہیں کل حساب کا دن ہوگا عمل کا وقت نہ ہوگا ۔

خدا وند عالم کا لاکھ لاکھ شکر کہ اس نے اپنے ولی کی مدد کی اور دشمن کو ذلیل خوار کیا اور سچے اورایماندار کو عزیز اور عہدو پیمان توڑنے والوں اور اہل باطل کو ذلیل کیا ،تم لوگوں کے لئے لازم ہے کہ تقویٰ وپر ہیز گاری اختیار کرو اور اس شخض کی اطاعت کرو جس نے خاندان پیغمبر خدا کی اطاعت کی ہے ،کیونکہ یہ گروہ اطاعت کے لئے بہتر اور شا ئستہ ہیں بہ نسبت ان لوگوںکے جو خو د کو اسلام اور پیغمبر سے نسبت دیتے ہیں اور خلافت کا دعوی کرتے ہیں اور ہم سے مقابلے کے لئے قیام کرتے ہیں، اور جو فضیلتیں ہم سے ان تک پہنچی

______________________

(۱)وقعئہ صفین،ص۸۔


ہیں ان سے ہم پر اپنی فضیلت ثابت کرتے ہیں اور ہماری عظمت ورفعت کا انکار کرتے ہیں وہ لوگ خود اپنی سزا کو پہو نچیں گے اور بہت ہی جلدی اپنی گمراہی کے نتیجے میں آخرت کے میدان میں کھڑے ہوں گے۔

آگا ہ رہو کہ تم میں سے بعض گروہوں نے ہماری نصرت ومدد کرنے سے انکار کیا میں ان کی سرزنش و مذمت کرتا ہوںتم لوگ ان لوگوں سے اپنا رابطہ ختم کر دو اور جس چیز کو وہ دوست نہیں رکھتے ان چیزوں کو ان کے کانوں تک پہنچادو تاکہ لوگوں کی رضایت حاصل کریں ،اور خدا کا گروہ شیطان کے گروہ سے پہچانا جاسکے ( یعنی دونوں کا فرق واضح ہوجائے(۱)

_______________________________

(۱)وقعة صفین،ص۱۳،نہج البلاغہ عبدہ خطبہ نمبر۲۷و ۴۱،مرحوم مفید کتاب ارشاد ،ص۱۲۴میں اس خطبے کے ابتدائی حصے کو نقل نہیں کیا ہے ۔


حکمرانوں کا عادلانہ تعیین

امام علیہ السلام کا کوفیوں کے ساتھ نرم برتائو کرنا بعض شدت پسند انقلابیوں کو پسند نہیں آیا اسی وجہ سے امام علیہ السلام کی فوج کا سردار مالک بن حبیب یر بوعی اٹھا اور اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ میری نگاہ میں ان لوگوں کو اتنی ہی سزادینا کافی نہیں ہے، خدا کی قسم اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں ان سب کو قتل کردوں ، امام علیہ السلام نے سبحان اللہ کہتے ہوئے اسے سخت تنبیہہ کی اور فرمایا حبیب ، تم نے حد سے زیادہ تجاوز کیا ہے حبیب پھر اٹھا اور کہا حد سے تجاوز اور عمل میں شدت ناگوار حادثوں کو روکنے ، اور دشمنوں

کے ساتھ نرمی اور ملائمیت کرنے سے زیادہ مؤثر ہے

امام علیہ السلام نے اپنے منطقی اور حکیمانہ ارشاد سے اس کی ہدایت کی اور کہا:

خدا نے ایسا حکم نہیں دیا ہے کہ ا نسان ، انسان کے مقابلے میں مارا جائے گا اب ظلم وتجاوز کی کی پھر کہاں جگہ ہوگی؟خدا وند عالم فرماتا ہے ۔

( وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهِ سُلْطَانًا فَلاَیُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ انَّهُ کَانَ مَنصُورًا ) (سورة اسراء آیة۳۳)

اور جو شخص مظلوم قتل کر دیاجائے تو ہم نے اس کے وارث کو حق قصاص دیا ہے مگر قتل میں مقررہ حدود سے تجاوز نہ کرے۔

سیاسی آزادی

جن مخالفین کوفہ نے امام علیہ السلام اور پولیس کے رئیس کے درمیان ہونے والی گفتگو اور علی علیہ السلام کی عدالت کا مشاہدہ کیا اور سیاست کے کھلے ہوئے ماحول کو دیکھا تواپنی مخالفت کی علت کو بیان کیا:


۱۔ مخالفوں میں سے ایک شخص ابو بردہ بن عوف اٹھا اور امام علیہ السلام کے لشکر میں شامل نہ ہونے کی وجہ مقتولین جنگ جمل سے متعلق سوال کے ضمن میں بتائی۔ اس نے امام علیہ السلام سے پوچھا کیا آپ نے طلحہ و زبیر کے اطرافیوں کے کشتہ شدہ اجسام کو دیکھا ہے؟وہ کیوں قتل کیے گئے؟ امام علیہ السلام نے علت بیان کرتے ہوئے سائل کے اعتماد کوجذب کرتے ہوئے فرمایا. ان لوگوں نے ہماری حکو مت کے ماننے والوں اور نمائندوں کو قتل کیا عظیم شخصیت ربیعہ ء عبدی کودوسرے دیگر مسلمانوں کے ساتھ قتل کر دیا مقتولین کا جرم یہ تھا کہ ہجوم لانے والوں کو عہدوپیمان توڑنے والا کہا اور کہا کہ اس طرح وہ اپنے عہدوپیمان کو نہیں توڑیں گے اور اپنے امام کے ساتھ اس طرح مکرو فریب نہیں کریں گے، میں نے ناکثین سے کہا کہ ہمارے نمائندوں کے قاتل کو ہمارے حوالے کریں تا کہ ان سے قصاص لیں ۔ اورہمارے اور ان کے درمیان خدا کی کتاب فیصلہ کرے گی لیکن ان لوگوں نے قاتلین کو ہمارے حوالے نہیں کیا اور ہم سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہوگئے جبکہ وہ لوگ ہمار ی بیعت کر چکے تھے اور ہمارے ہزاروں دوستوں کو قتل کر دیا تھامیں بھی ان قاتلوں کا بدلہ لینے اور ناکثین کی شورشوں کو خاموش کرنے کے لئے جنگ پر آمادہ ہوگیا اور ان کی شورشوں کو ہمیشہ کیلئے خاموش کردیا ،پھر امام علیہ السلام نے فرمایا کیا تمہیں اس سلسلے میں کو ئی شک وشبہہ ہے؟ سائل نے کہا میں آپ کی حقانیت کے بارے میں مشکوک تھا لیکن اس بیان کو سننے کے بعد ان لوگوں کی غیر مناسب روش مجھ پر آشکار ہوگئی اور میں نے سمجھ لیا کہ آپ ہدا یت یافتہ اور باریک بین ہیں۔(۱)

سیاست کا کون سا ماحول اس سے زیادہ آزادہوگا کہ جہاد کی مخالفت کرنے والے ،سردار وں اور امام علیہ السلام کے درمیان اپنی مخالفت کی علت کو، جو حاکم کی حقانیت کے بارے میں مشکوک تھا ، بصورت سوال وجواب بیان کر ے ، اور اس کا جواب طلب کرے ،؟ اس کے با وجود کہ سوال کرنے والا قبل اس کے کہ علوی ہو عثمانی تھا اور بعد میں کئی مرتبہ علی علیہ السلام کے ساتھ جنگ میں شریک رہا لیکن باطن میں معاویہ کا

_______________________________

(۱)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ،ج۳،ص۱۰۴،وقعہ صفین،ص۵۔۱


چاہنے والا اورجاسوس تھا لہٰذا امام علیہ السلام کی شہادت اور معاویہ کا عراق پر قبضہ ہونے کے بعد اپنی خدمتوں کے صلے میں جو اس نے معاویہ کے لئے انجام دی تھی ایک بڑی زمین '' فلوجہ ۔(۱) جیسے منطقہ میں اس کے نام لکھ دی گئی۔(۲)

۲۔ سلیمان بن صرد خزاعی ، جو پیغمبر کے صحابی تھے اور ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے جنگ جمل میں امام علیہ السلام کی حمایت نہیں کی تھی اور مخالفت کی وجہ سے جنگ میں شریک نہیں ہوئے تھے وہ امام علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور علی علیہ السلام نے ان کی ملامت کی اور کہا میری حقانیت کے متعلق تم نے شک کیا اور میرے لشکر میں شامل ہو نے سے انکار کردیا جب کہ میں نے تمہیں بہت اچھا اور بہتر سمجھا تھا کہ تم ہماری خوب نصرت کرو گے ، کس چیز نے تمہیں اہل بیت پیغمبر کی مدد کرنے سے روکا ہے اور ان کی نصرت ومدد کرنے سے تمہیں بے رغبت کر دیا ہے ؟

سلیمان نے احساس شرمندگی کے ساتھ عذر خواہی کی اور کہا ، تمام امور کو پشت پردہ نہ ڈالئیے (اور پچھلی باتوں کو نہ دہرائیے) اور مجھے ان کی وجہ سے شرمندہ اور مذمت نہ کیجئے ، میری محبت ومروت کو اپنی نظر میں رکھئیے میں آپ کی مخلصانہ مدد کروں گا ابھی تمام کام ختم نہیں ہوئے ہیں اور ابھی بہت سے امور باقی ہیں جن میں دوست اور دشمن کو پہچان لیںگے۔

امام علیہ السلام نے سلیمان کی توقع کے خلاف اور عذر خواہی کے مقابلے میں خاموشی اختیار کی اور کوئی جواب نہیں دیا ، سلیمان تھوڑی دیر تک بیٹھے رہے اور پھر اٹھ کر امام مجتبیٰ علیہ السلام کے پاس بیٹھ گئے اور کہا امام علیہ السلام کی تنبہیہ اور ملامت سے آپ کو تعجب نہیں ہورہا؟ امام کے دلبند نے بڑی نوازش کی اور بڑے نرم لہجہ میں فرمایا ان لوگوں کی زیادہ سرزنش کی جاتی ہے جن کی دوستی اور مدد کی امید ہو تی ہے، اس وقت اس عظیم صحابی نے دوسری شورشوں کی بھی خبر دی کہ جو امام علیہ السلام کے خلاف برپا ہوگی اور ان دنوں مخلص وپا کیزہ افرا د مثل سلیمان کی زیادہ ضرورت پڑے گی پھر کہا: ابھی وہ واقعہ باقی ہے کہ جس میں دشمن کے نیزے ہوں گے اور تلواریں میانوں سے باہر ہوجائیں گی ، اس جنگ میں مجھ جیسے افراد کی زیادہ ضرورت ہوگی ، اس

_______________________________

(۱)فلوجہ: عراق کا بہترین اور وسیع ترین علاقہ ہے جو عین التمر کے نزدیک ہے اور کوفہ وبغداد کے درمیان میں واقع ہے ۔

(۲)شرح نہج البلا غہ ابن ابی الحدید ،ج۳،ص۱۰۴۔


کسب رضا میں دھوکہ کا تصور نہ کریں ، امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے فرمایا خدا تجھ پر رحمت نازل کرے ہم ہرگز تم کو مورد الزام نہیں ٹھہرائیں گے۔(۱)

سلیمان بن صرد نے اس کے بعد کبھی بھی اہلبیت پیغمبر کے دفاع سے گریز نہیں کیا انہوں نے امام علی علیہ السلام کے ہمراہ جنگ صفین میں شرکت کی اور میدان جنگ میں شام کے سب سے بڑے پہلوان '' حوشب'' کو قتل کیا ، معاویہ کے مرنے کے بعد انہوں نے امام حسین علیہ السلام کو خط لکھا اور آپ کو عراق آنے کی دعوت دی اگر چہ انہوں نے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی مدد کرنے میں کو تاہی کی ،لیکن اس غلطی کا ازالہ کرنے کے لئے بعنوان'' توابین'' چار ہزرا کا لشکر تیار کرکے امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں سے بدلہ لینے کے لئے قیام کیا اور ۶۵ھ میں'' عین ابو وردہ'' علاقے میں شام کی طرف سے آنے والے عظیم لشکر سے جنگ کی اور شہید ہو ئے ۔(۲)

۳۔ محمد بن مخنف کہتے ہیں : امام علیہ السلام کے کوفہ آنے کے بعد میں اپنے بابا کے ساتھ امام علیہ السلام کی خدمت میں آیا ،وہاں پر عراق کی بہت سی شخصیتیں اور قبیلوں کے سردار موجود تھے ان سب نے ناکثین کے مقابلے میں جنگ کرنے سے مخالفت کی تھی ، امام علیہ السلام نے ان کی مذمت کی اور کہا تم لوگ اپنے قبیلے کے سردار ہو کیوں تم نے جنگ میں شرکت نہیں کی ؟ اگر تم لوگوں کی نیتوں میں کھوٹ تھاتو تم سب نقصان میں ہو اور اگر میری حقانیت اور مدد کے بارے میں مشکوک تھے تو تم سب ہمارے دشمن ہو ،ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ آپ کے دوستوں کے دوست اور دشمنوں کے دشمن ہیں پھر اس وقت سب نے اپنا اپنا عذر پیش کیا مثلاً کسی نے بیماری کا بہانہ بنایا تو کسی نے مسافرت کا بہانہ بنایا ، امام علیہ السلام نے

ان کا عذر سن کر خاموشی اختیار کرلی لیکن میرے بابا کی خدما ت کو سراہا اور ہمارے قبیلے کا شکر یہ ادا کیا اور کہا مخنف بن سلبم اور اس کا قبیلہ ، اس گروہ کی طرح نہیں ہے جس کی قرآن اس طرح سے توصیف کررہا ہے:

( وَانَّ مِنْکُمْ لَمَنْ لَیُبَطِّئَنَّ فَانْ َصَابَتْکُمْ مُصِیبَة قَالَ قَدْ َنْعَمَ اﷲُ عَلَیَّ ِذْ لَمْ َکُنْ مَعَهُمْ شَهِیدًا ) (۷۲)( وَلَئِنْ َصَابَکُمْ فَضْل مِنَ اﷲِ لَیَقُولَنَّ کَانْ لَمْ تَکُنْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَهُ

_______________________________

(۱)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی ج۳ص۱۰۶۔ مراصد الا طلاع۔---(۲)مروج الذہب ج۳ص۱۰۲۔۱۰۱۔


مَوَدَّة یَالَیْتَنِی کُنتُ مَعَهُمْ فَافُوزَ فَوْزًا عَظِیمًا ) (سورہ نساء آیت ۷۲و ۷۳)۔(۱)

اور تم میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو ( جہادسے) پیچھے ہٹیں گے پھر اگر ( اتفاقاً )تم پر کوئی مصیبت آپڑی تو کہنے لگے خدا نے ہم پر بڑافضل کیا کہ ان میں (مسلمانوں ) کے ساتھ موجود نہ ہوا اور اگر تم پر خدا نے فضل کیا (اور دشمن پر غالب آئے ) تو اس طرح اجنبی بن گئے گویا تم میں اور اس میں کبھی کی محبت ہی نہ تھی یوں کہنے لگا کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو میں بھی بڑی کامیابی حاصل کرتا ۔

بالآخر امام علیہ السلام نے ان تمام تحقیق و تفحص اور عذر قبول کرنے یا ان کے مقابلے میں خاموشی اختیار کرنے بعد اعلان کیا کہ اس مرتبہ تم لوگ معاف کردیئے گئے اور تم لوگوں کے عذر کو قبول کر لیا لیکن آئندہ اس قسم کی حر کتیں نہ ہوں ، اگر امام علیہ السلام اتنا زیادہ ملامت وسرزنش نہیں کرتے تو ممکن تھا کہ یہ گروہ آئندہ بھی مخالفتیں کرتا ۔

_______________________________

(۱) ٔوقعئہ صفین ،ص۱۰ ، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ،ج۳،ص۱۰۷۔۰۶ا


کوفہ کی نماز جمعہ میں امام علیہ السلام کا پہلا خطبہ

امام علیہ السلام نے کو فہ میں داخل ہونے کے بعدنماز پڑھانا چاہی اور پوری نماز پڑھی اور جمعہ کے دن نمازجمعہ کوفہ کے لوگوں کے ہمراہ پڑھی اپنے خطبے میں کوفیوں سے مخاطب ہوئے اور خدا کی حمدو ثناء اور پیغمبر اسلام (ص)پر دروروسلام کے بعد فرمایا:میں تم لوگوں کو تقویٰ کی دعوت دیتا ہوں کیونکہ تقویٰ بہترین چیز ہے کہ جس کاخدا وند عالم نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے اور خدا وند عالم کی رضایت اور نیکی حاصل کرنے کا یہ بہترین وسیلہ ہے تم لوگوں کو تقوی کا حکم دیا گیا ہے اورتم لوگ خدا کی نیکی اور اس کی اطاعت کرنے کیلئے پیدا کئے گئے ہو...

اپنے تمام امور کو خدا کے لئے بغیر کسی ریا اور شہرت طلبی کے انجام دو، جو شخص بھی غیر خدا کے لئے امور انجام دے گا خداوند عالم اسے اسی کے حوالے کرے گا جس کے لئے اس نے وہ کام انجام دیا ہے، اور جو شخص خدا کے لئے کام انجام دے گا خدا خود اس کا اجر عطا کرے گا۔ خدا کے عذاب سے ڈرو کہ تم کو بیہودہ اور عبث پیدا نہیں کیا ہے خدا تمہارے تمام کاموں سے آگاہ ہے اور تمہاری زندگی کے ایام کو معین کیا ہے، دنیا کے دھوکے میں نہ آنا کیونکہ دنیا اپنے متوالوں کو دھوکہ دیتی ہے اور مغرور وہ شخص ہے جسے دنیا مغرور کردے ۔

دوسری دنیا حقیقی جگہ ہے اگر لوگ جانتے ہوتے ۔ خدا سے دعا کرتا ہوں کہ شہداء جیسا مقام اور پیغمبر اسلام کی ہمنشینی اور اچھے لوگوں کی طرح زندگی بسر کرنے کی توفیق مرحمت


فرمائے۔(۱)

حاکموں کو روانہ کرنا

امیر المومنین علیہ السلام نے کوفہ میں قیام کرنے کے بعد ان اسلامی سرزمینوں پرجن پر اب تک آپ کی جانب سے کوئی بھی نمائندہ یا حاکم نہیں گیا تھا، صالح و متدین شخص کو وہاں روانہ کیا ،تاریخ نے ان افراد کے نام و خصوصیات اور ان کے محل قیام کو اپنے دامن میں درج کیاہے ۔(۲)

مثلاً خلید بن قرّہ کو خراسان روانہ کیا، جب خلید نیشاپور پہونچے تو انھیں خبر ملی کہ شاہ کسریٰ کے باقی افراد جو اس زمانے میں افغانستان کے شہر کابل میں زندگی بسر کر رہے تھے وہ لوگ فعالیت کر رہے ہیں اور لوگوں کو حکومت اسلامی کے خلاف قیام کرنے کے لئے آمادہ کررہے ہیں، امام علی ـ کے نمائندے نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان کو نیست و نابودکیا اور کچھ لوگوں کو اسیر کر کے کوفہ بھیج دیا۔(۳)

امام ـ نے تمام اسلامی علاقوں میں اپنے اپنے نمائندوں کو بھیجا لیکن شام میں معاویہ کی مخالفت زخم میں ہڈی کی طرح باقی رہی اور ضروری تھا کہ اس سلسلے میں جلد سے جلد کوئی تدبیر کی جاتی۔قبل اس کے کہ امام علی علیہ السلام کی حکومت کے اس تاریخی حصے کو بیان کیا جائے کوفہ میں جو بہترین واقعہ پیش آیا اسے بیان کیا جائے، امام علی ـ نے عراق کے لوگوں سے ملاقات کے بعد ان کے کچھ گروہ کےساتھ روبرو ہوئے جو مدتوں سے خاندان کسری کے زیر نظر تھے، امام ـ نے ان سے پوچھا کہ خاندان کسری کے کتنے لوگوں نے تم پر حکومت کیا ہے ان لوگوں نے جواب دیا ۳۲ بادشاہوں نے ہم پر حکومت کی ہے۔ امام ـ نے ان کی حکومت کرنے کا طور و طریقہ پوچھا ان لوگوںنے جواب دیا، ان سب کی ایک ہی روش تھی لیکن ہرمز کے بیٹے کسری نے ایک خاص روش اختیار کی اس نے ملک کی ساری دولت و ثروت کو اپنے سے مخصوص کرلیا اور ہمارے بزرگوں کی مخالفت کرنے لگا۔ جو چیزیں لوگوں کی ضرورت تھیں انہیں ویران

___________________________

(۱)،(۲) وقعۂ صفین ص ۱۴۔ ۱۵؛ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۳ ص ۱۰۸ تاریخ طبری ج۳ جزء ۵ ص ۲۳۳۔

(۳) وقعۂ صفین، ص ۱۲۔


کردیا اور جو چیز اس کے لئے فائدہ مند تھی اسے آباد کردیا ۔ لوگوں کو حقیر و پست سمجھتا تھا اور فارس کے لوگوں کو ناراض کردیا لوگوں نے اس کے خلاف قیام کیا اور اسے قتل کر ڈالا ان کی عورتیں بیوہ ہوگئیں اور بچے یتیم ہوگئے ،امام ـ نے ان کے نمائندہ''نرسا'' کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:

''ان اللّه عزَّ و جل خلقَ الخلقَ بالحقِ و لایرضی من احدٍ الا بالحقِ و فی سلطان اللّهِ تذکرة مما خوَّل اللّهُ و انها لاتقومُ مملکة الا بتدبیرٍ و لابدَ من امارةٍ،و لایزالُ أمرُنا متماسکاً ما لم یشتم آخرُنا اولَنا، فاذا خالفَ آخرُنا اولَنا و افسدوا هلکوا و اهلکوا''

خداوند عالم نے انسانوں کی تخلیق حق پر کی ہے اور ہر انسان کے صرف حقیقی عمل پر راضی ہے سلطنت الہی میں ذکر کے لائق ہے جو چیز خدا نے عطا کیا ہے اور مملکت بغیر تدبیر کی باقی نہیں رہ سکتی۔ اور حتماً لازم ہے کہ حکومت باقی ہو۔ اور ہمارے کام میں اس طرح اتحاد ہوگا کہ آنے والی نسل اپنے اپنے بزرگوں کو برا بھلا نہیں کہے گی، لہذا جب بھی نئی نسل نے اپنی پر انی نسلوں کو برا بھلا کہا اور نیک روش کے ذریعے لوگوں کی مخالفت کی تو وہ خود بھی نابود ہوگئے اور دوسروں کو بھی نابود کردیا۔اس وقت امام ـ نے ان کے بزرگ ''نرسا'' کو ان لوگوں کا سرپرست و امیر معین کیا۔(۱)

بعض حاکموں کو امام ـ کا خط لکھنا

امام ـ کے کوفہ میں قیام اور مختلف شہروں میں حاکم روانہ کرنے کے بعد معاویہ کی نافرمانی اور سرکشی نے امام ـکو سب سے زیادہ فکر مند کردیا، اور آپ مستقل اسی فکر میں تھے کہ جتنی جلد ممکن ہو اس کینسر کو جامعہ اسلامی کے بدن سے دور کردیں۔ اور دوسری طرف بعض حاکموں کی وضعیت اور محبت کلی طور پر واضح نہ تھی کچھ حاکموں نے اور وہاں کے لوگوں نے امام کی بیعت کا اعلان نہیں کیا تھا۔اسی بنا پر امام ـ نے بعض حاکموں کو جو خلیفہ سوم کی طرف سے حاکم معین تھے۔ خط لکھا اور ان سے کہا کہ اپنی اپنی تکلیف کو ظاہر کریں اور اپنی اور لوگوں کی بیعت کا اعلان کریں۔(۲)

امام ـ کے خطوط میں دو اہم خط تھے، جن میں سے ایک ہمدان کے حاکم جریر بن عبد اللہ بجلی کو لکھاتھا اور دوسرا خط آذربائیجان کے حاکم، اشعث بن قیس کندی کو لکھا، ان دونوں خط کاخلاصہ ہم یہاں تحریر کر رہے ہیں:

_______________________________

(۱) وقعۂ صفین، ص ۱۴۔-----(۲) کامل ابن اثیر، ج۳، ص ۱۴۱۔


امام ـ کا حاکم ہمدان کے نام خط

خداوند عالم کسی بھی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا مگر یہ کہ وہ لوگ خود اپنی روحی زندگی کو تبدیل کردیں میں تمہیں طلحہ و زبیر کے حالات کی خبر دیتا ہوں، جب ان لوگوں نے ہماری بیعت کو توڑ دیا اور میرے معین کردہ حاکم عثمان بن حنیف پر حملہ کیا میں مہاجر و انصار کے ہمراہ مدینے سے باہر آیا اور درمیان راہ یعنی ''عذیب'' نامی جگہ سے اپنے بیٹے حسن، عبد اللہ بن عباس، عمار یاسر او رقیس بن سعد بن عبادہ کو حکم دیا کہ وہ کوفہ جائیں اور لوگوں کو اسلامی فوج میں داخل ہونے کی دعوت دیں تاکہ عہد و پیمان توڑنے والوں کو سبق سکھائیں ، کوفہ کے لوگوں نے میری آواز پر لبیک کہا میں نے بصرہ سے کچھ فاصلے پر قیام کیا اور شورش کرنے والے سرداروں کو اپنی طرف بلایا اور انھیں مجبور سمجھ کر ان کی غلطیوں کو معاف کردیا اور پھر میں نے ان لوگوں سے دوبارہ بیعت کرنے کے لئے کہا لیکن ان لوگوں نے جنگ کے علاوہ کوئی کام نہ کیا، میں نے بھی خدا سے دعا کی اور جنگ کرنے کا ارادہ کرلیا۔ کچھ لوگ جنگ میں مارے گئے کچھ لوگ بصرہ بھاگ گئے اس وقت ان لوگوںنے ایسی چیزوں کی مجھ سے درخواست کی جس کو میں نے جنگ سے پہلے ان سے طلب کیا تھا۔ میں نے بھی ان کی سلامتی اور حفاظت کا انتظام کیا اور جنگ صلح میں تبدیل ہوگئی ، عبد اللہ بن عباس کو بصرہ کا گورنر معین کیا اور پھر میں کوفہ آگیا اور یہ خط میں تمہیں زحر بن قیس کے ہمراہ بھیج رہا ہوں۔ جو کچھ تمھیں معلوم کرنا ہو اس سے پوچھ لینا۔(۱)

اس خط میں اور اسی طرح دوسرے خط میں جو اشعث بن قیس کو لکھا گیا اس میں کوشش یہی تھی کہ قریش کے دو بزرگوں اور صحابیوں (طلحہ و زبیر) کے درمیان جو مقابلہ ہوااس کی وجہ و علت واضح ہو جائے تاکہ امت مسلمہ کو یہ معلوم ہو جائے کہ ان لوگوںنے پہلے ،امام ـ کے ہاتھوں پر بیعت کی اور اپنے عہد و پیمان کو توڑ کر جامعہ کے نظام کو درہم برہم کردیااور شورش و انقلاب برپا کردیا۔

_______________________________

(۱) وقعۂ صفین ص۱۹۔ ۲۰، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص ۷۱۔ ۷۰؛ الامامة و السیاسة ص ۸۲۔


جب امام ـ کا خط ہمدان کے حاکم کے پاس پہونچا تو اس نے لوگوں کو جمع کیا اور کہا:

اے لوگو! یہ امیر المومنین علی بن ابیطالب ـ کا خط ہے اور وہ دین و دنیا دونوں میں معتبر اور با اعتماد شخص ہیں۔ اور ہم دشمن پر ان کی کامیابی کے لئے خدا کا شکر ادا کرتے ہیں، اے لوگو! اسلام پر سبقت کرنے والے مہاجرین و انصار اور تابعین کے گروہ نے ان کی بیعت کی ہے اور اگر مسئلہ خلافت کو تمام مسلمانوں کے درمیان رکھتے اور سب کو خلیفہ منتخب کرنے کا حق دیتے تو وہ اس کام کے لئے سب سے شائستہ فرد تھے، اے لوگو! زندگی گزارنے کے لئے معاشرہ کے ساتھ مل کر رہنا ضروری ہے جدائی و افتراق فنا و موت ہے ، علی ( ـ) جب تک تم لو گ حق پر رہوگے تمہاری رہبری کریں گے اور اگر حق سے منحرف ہوگئے تو تمھیں پھر سیدھے راستے پر لگادیں گے۔

لوگوں نے حاکم وقت کی بات سن کر کہا:ہم نے تمام باتیں سنیں ہم ان کی اطاعت کریں گے اور ہم سب ان کی حکومت پر راضی ہیں اس وقت حاکم نے امام ـ کے پاس ایک خط لکھا جس میں اپنی اطاعت کرنے اور لوگوں کی اطاعت کے متعلق تحریر کیا۔ (یعنی سب لوگ آپ کے مطیع و فرمانبردار ہیں)۔(۱)

امام ـ کاقاصدزحر بن قیس اپنی جگہ سے اٹھا اور ایک فصیح و بلیغ خطبہ دیااور کہا:

اے لوگو! مہاجر وانصارنے ان کمال کی وجہ سے جنھیں حضرت علی کے بارے میں جانتے تھے اور ان اطلاعات کی بنیاد پرجوقرآن میں ان کے بارے میں موجودہے ان کے ہاتھوں پر بیعت کی ہے، لیکن طلحہ اور زبیر نے بغیر کسی وجہ کے اپنے عہد و پیمان کو توڑا اور لوگوں کو بغاوت و شورش کی دعوت دی اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ لوگوں کو جنگ کرنے کے لئے آمادہ کردیا۔(۲)

ہمدان کے حاکم اور غرب کے لوگوں کی بیعت نے امام ـ کی حکومت کو اور بھی مضبوط کردیا۔ کچھ دنوں کے بعد حاکم ہمدان نے امام ـ کی حمایت و اعتماد حاصل کرنے کے لئے کوفہ کا سفر کیا۔ :

_______________________________

(۱) وقعۂ صفین ص ۱۶شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص ۷۱۔ ۷۲۔

(۲) وقعۂ صفین ص ۱۸۔ ۱۷، الامامة و السیاسة ص ۸۳۔ ۸۲۔


آذربائیجان کے گورنراشعث کے نام امام ـ کا خط

اشعث بن قیس کا رابطہ پچھلے خلیفہ کے ساتھ بھی بہت گہرا تھا اور اس کی بیٹی خلیفہ کی بہو(عمرو بن عثمان کی بیوی) تھی۔ امام ـ نے اپنے ایک چاہنے والے ہمدانی(۱) ،زیاد بن مرحب(۲) کے ذریعہ خط اس کے پاس بھیجا جس کی عبارت یہ تھی:

اگر تمھیں کوئی مشکل نہ تھی تو میری بیعت کرنے میں سبقت کرتے اورلوگوں سے بھی میری بیعت لیتے اگر تقوی اختیار کرو گے تو بعض چیزیں تمھیں حق کو ظاہر کرنے کے لئے آمادہ کردیں گی، جیسا کہ تمھیں معلوم ہے کہ لوگوںنے میری بیعت کی ہے اور طلحہ و زبیر نے بیعت کرنے کے بعد عہد و پیمان کو توڑ دیا ہے اور ام المومنین کو ان کے گھر سے بلا کر اپنے ساتھ بصرہ لے گئے۔ میں بھی ان کے پاس گیا اور ان سے کہاکہ اپنی بیعت پر واپس آجاؤ لیکن ان لوگوںنے قبول نہیں کیا میں نے بہت اصرار کیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا...(۳)

پھر امام ـ نے ایک تاریخی کلام اشعث کے گوش گزار کیا:

''و ان عملک لیس لک بطعمة و لکنه امانة و فی یدیک مال من مال الله و انت من خُزَّان الله علیه حتی تسلِّمه الی ...'' (۴)

گورنری تمہارے لئے مرغن غذا کالقمہ نہیں ہے ،بلکہ ایک امانت ہے او رتمہارے پاس جومال ہے وہ خدا کا ہے اور تم اس مال کے لئے خدا کی طرف سے خزانہ دار ہو یہاں تک کہ وہ مجھے واپس کردو، تم جان لو کہ میں تم پر برا حاکم نہیں رہوں گا جب کہ تم سچائی کو اپنا ساتھی بنائے رکھو گے۔

_______________________________

(۱)قبیلۂ ہمدان (میم پر ساکن) یمن کا ایک مشہور قبیلہ ہے اور وہاں کے لوگ سچے اور امام سے گہرا تعلق اور محبت رکھتے تھے۔

(۲) الامامة و السیاس، ص ۳، زیاد بن کعب۔----(۳) الامامة و السیاس ص ۳ وقعۂ صفین ص ۲۱۔ ۲۰۔

(۴) الامامة و السیاسة ص ۸۳ وقعہ صفین، ص ۲۱۔ ۲۰ جو کچھ وقعہ صفین کے مولف نصر بن مزاحم نے لکھاہے، مرحوم سید رضی نے شروع کے کچھ حصے کو حذف کردیا ہے۔ نہج البلاغہ، مکتوب نمبر۵، ابن عبد ربہ عقد الفرید، ج۳، ص ۱۰۴۔ ابن قتیبہ ، الامامة والسیاسة ج۱،ص ۸۳ نے جو کچھ نصر بن مزاحم نے نقل کیا ہے اسے بطور خلاصہ لکھا ہے ،رجوع کریں ، مصادر نہج البلاغہ ج۳، ص۲۰۲ شرح نہج البلاغہ ابن میثم ج۴،ص ۳۵۰


دونوں خط ایک وقت لکھا گیا جب کہ پہلے خط میں الفت و محبت کی چاشنی ہے لیکن دوسرے خط میں الفت و محبت کے ساتھ تندی اور تنبیہ بھی شامل ہے ان دونوں میں فرق کی وجہ دونوں حاکموں کی روحانی کیفیت ہے اشعث لوگوں سے امام ـ کی بیعت اور شناخت امام کے لئے بہت زیادہ مائل نہ تھا لہذا امام ـ کا خط ملنے کے بعد بجائے یہ کہ حاکم ہمدان کی طرح خود اٹھ کر امام ـ کے فضائل سے لوگوں کو آشنا کراتا اور لوگوں سے

آپ کی بیعت کا خواستگار ہوتا۔ اس نے خاموشی اختیار کی، یہی وجہ ہے کہ امام ـ کا قاصد و نمائندہ زیاد بن مرحب اپنی جگہ سے اٹھا اور عثمان کے قتل کی داستان اور طلحہ و زبیر کی بیعت توڑنے کے واقعات کو لوگوں کے سامنے بیان کیا اور کہا:

اے لوگو، وہ شخص جسے مختصر کلام قانع نہ کر سکے اسے طولانی کلام بھی قانع نہیں کرے گا، عثمان کا مسئلہ ایسا نہیں ہے کہ اس کے متعلق گفتگو کر کے تمھیں قانع کیا جا سکے یقیناواقعہ کا سننا دیکھنے کی طرح کبھی نہیں ہوسکتاہے۔

اے لوگو! آگاہ ہو جاؤ کہ عثمان کے قتل کے بعد مہاجرین و انصار نے علی کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان دو آدمیوں (طلحہ و زبیر) نے بغیر کسی وجہ کے اپنی بیعت سے انکار کردیا اور بالآخر خدا نے علی کو زمین کا وارث بنا دیااور نیک اور اچھی عاقبت متقیوں کے لئے


ہے۔(۱)

اس موقع پر اشعث کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہ تھا لہذا مجبوراً اس حاکم کی اطاعت کرنے کی بنا پر جنھیں مہاجر و انصار نے منتخب کیاتھا۔ مختصر طور پر ان کے بارے میں کچھ بیان کرے، لہذا وہ اٹھا اور کہنے لگا:

اے لوگو! عثمان نے اس علاقے (آذربائیجان) کی حاکمیت مجھے دی تھی وہ قتل ہوگئے حکومت میرے ہاتھ میں تھی اور لوگوں نے علی کی بیعت کی ان کی اطاعت ہمارے لئے ایسی ہی ہے جس طرح سے ہماری اطاعت پچھلے والوں کے ساتھ تھی، تم نے طلحہ و زبیر سے متعلق ماجراسنااور جو کچھ ہم سے پوشیدہ ہے ان امور میں علی مورد اعتماد ہیں۔(۲)

حاکم نے اپنی بات ختم کی اور اپنے گھر چلا گیا اور اپنے دوستوں ، چاہنے والوں کو بلایا اور کہا:

علی کے خط نے مجھے وحشت میں ڈال دیاہے وہ آذربائجان کی دولت و ثروت کو ہم سے لے لیں گے، لہذا ہمارے لئے بہتر ہے کہ ہم معاویہ سے ملحق ہو جائیں، مگر حاکم کے مشاوروں نے اس

کی مذمت کی، اور کہا: تمہارے لئے موت اس کام سے بہتر ہے کیا تم اپنے قبیلہ اوردیار کو چھوڑ دو گے اور شامیوں کی طرف جاؤ گے؟ اس نے مشاوروں کی بات کو تسلیم کرلیا، اور اپنے روابط کو مستحکم کرنے کے لئے کوفہ روانہ ہوگیا۔(۳)

_______________________________

(۱) وقعۂ صفین، ص ۲۱، الامامة و السیاسة، ج۱، ص ۸۳۔ (۱) الامامة و السیاسة، ج۱، ص ۸۴۔ ۸۳، وقعۂ صفین، ص ۲۱۔

(۲) الامامة و السیاسة، ج۱، ص ۸۲۔


بارہویں فصل

جنگ صفین کے علل و اسباب

امام ـ کا پیغام معاویہ کے نام

حضرت امیر المومنین ـ کی الہی و حقیقی حکومت قائم ہونے اور متقی و پرہیزگار حاکموں کو منصوب کرنے اور غیر متدین حاکموں کے معزول کرنے کے بعد سب سے اہم کام یہ تھا کہ امام ـ شجرۂ خبیثہ کے ریشہ کو شام کی سرزمین سے اکھاڑ پھینکیں ، اور جامعہ اسلامی سے اس کے شر کو ختم کردیں، یہ ارادہ اس وقت اورقطعی ہوگیاجب ہمدان کے حاکم جریر کوفہ پہونچ گئے اور جب امام ـ کے ارادے سے باخبر ہوئے تو امام سے درخواست کی مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کا پیغام لے جاؤں اس نے کہا: معاویہ سے میری دوستی بہت پرانی ہے میں اس سے کہوں گا کہ آپ کی حقیقی حکومت کو رسمی طور پر پہچانے اور جب تک خدا کی اطاعت کرے گا اس وقت تک شام کا حاکم رہے گا۔

امام ـ نے اس کی آخری شرط کو سن کر خاموشی اختیار کی اور کچھ نہیں کہا کیونکہ آپ جانتے تھے کہ جریر کے اندر اس کام کو انجام دینے کی صلاحیت نہیں ہے مالک اشتر نے امام ـ کی طرف سے نمائندگی اختیار کرنے پر جریر کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ معاویہ کے ساتھ ملا ہوا ہے لیکن امام ـ ان کی رائے کو نظر انداز کر کے جریر کو اس کام کے لئے چنا،(۱) اور آئندہ اس نے حضرت کے انتخاب کوصحیحثابت کردیا، جب امام ـ نے جریر کو روانہ کیا تو اس سے فرمایا، تم نے دیکھا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تمام اصحاب جو سب کے سب متدین ہیں میرے ساتھ ہیں۔ پیغمبر نے تجھے یمن کا ایک بہترین شخص کہا ہے تم میرا خط لے کر معاویہ کے پاس جاؤ اگر ان چیزوں پر جس میں مسلمانوں کا اتفاق ہے داخل ہوا تو بہتر ہے اور اگر اس نے ایسا نہ کیا تو اس سے کہو کہ اب تک جو خاموشی تھی اب وہ خاموشی ختم ہو جائے گی(۲) اور یہ بات اس تک پہونچا دو کہ میں ہرگز اسکے

_______________________________

(۱) تاریخ طبری ج۳ جزء ۵ ص ۲۳۵ تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۱۸۴ (مطبوعہ بیروت) کامل ابن اثیر ج۳ ص ۱۴۱؛ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۳، ص ۷۴۔

(۲) حاکم اسلامی کو چاہئے کہ اعلان جنگ سے پہلے متوجہ کرے کہ جتنی بھی سابقہ امانتیں موجود ہیں وہ ختم ہوگئیں ہیں ، قرآن کریم نے اس مسئلہ کو صراحت سے بیان کیا ہے :''و اما نخافنَّ من قوم خیانة فانبذ الیهم علی سوائ'' سورۂ انفال، آیت ۵۸۔


حاکم ہونے پر راضی نہ تھا۔ اور لوگ بھی اس کی جانشینی پر راضی نہیں ہوںگے۔(۱)

جریر امام ـ کا خط لے کر شام روانہ ہوا، جب معاویہ کے پاس پہونچا تو اس سے کہا: علی کے ہاتھ پر مکہ، مدینہ ، کوفہ، بصرہ ،حجاز، یمن، مصر، عمان، بحرین اور یمامہ کے لوگوں نے بیعت کی ہے اور سوائے اس قلعہ کے کہ جس میں تو ہے کوئی باقی نہیں ہے ،اور اگر وہاں کے بیابانوں سے طوفان جاری ہو اتو سب کو غرق کردے گا میں تمہارے پاس اس لئے آیا ہوں کہ تجھے اس چیز کی دعوت دوں جس میں سچائی ہے اور اس شخص کی بیعت کی رہنمائی کروں۔(۲)

پھر اس نے امام ـ کا خط معاویہ کے حوالے کیا جس میں تحریر تھا:

مدینے میں (مہاجر و انصار کی میرے ہاتھ پر) بیعت نے شام میں تجھ پر حجت کو تمام کردیا ہے

اور تجھے میری اطاعت کرنے پر مجبور کیا ہے جن لوگوںنے ابوبکر ، عمر اور عثمان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی بالکل اسی طرح انہوں نے میری بھی بیعت کی ہے لہذا اس بیعت کے بعدنہ حاضرین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مخالفت کریںنہ ہی غائبین کو حق ہے کہ بیعت کو چھوڑ دیں۔شوریٰ (تمھاری رائے کے مطابق) مہاجرین و انصار کے حقوق میں سے ہے کہ اگر وہ لوگ کسی کی امامت پر متفق ہو جائیں اور اسے امام کا نام دیں تو یہ کام خدا کی مرضی کے مطابق ہے اور اگر کوئی ان کے فرمان و حکم کی مخالفت کرے یا تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کرے، تو اسے اس کی جگہ پر بٹھا دیتے ہیںاور اگر سرکشی کرے گا تو اس سے غیر مومنین کی راہوں کی پیروی کرنے کے جرم میں جنگ کرتے ہیں اور خدا اسے وسط راہ میں چھوڑ دیتا ہے اور قیامت کے دن جہنم میں ڈال دے گا اور واقعاً یہ کیسا مقدر ہے۔(۳)

_______________________________

(۱) وقعۂ صفین ص ۲۸۔ ۲۷ تاریخ طبری ج۵ ص ۲۳۵۔

(۲) الامامة و السیاسة ج۱ ص ۸۴۷ ،شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص ۷۵، وقعۂ صفین ص ۲۸۔

(۳) اس آیت کی طرف اشارہ ہے: ''وَمَنْ یُشَاقِقْ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدَی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیلِ الْمُؤْمِنِینَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّی وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَائَتْ مَصِیرًا ً '' (سورۂ نسائ، آیت ۱۱۵)


طلحہ و زبیر نے میری بیعت کی پھر خود ہی بیعت کو توڑ دیا ،بیعت کو توڑنا بیعت کی مخالفت کرنا ہے (یعنی اے معاویہ تمھاری طرح) یہاں تک کہ حق آگیا اور خدا کا حکم کامیاب ہوا، میرے نزدیک بہترین کام تمھارے لئے سلامتی و عافیت ہے لیکن اگر تو نے خود کو بلا میںگرفتا رکیا تو تجھ سے جنگ کروں گا اور اس راہ میں خدا سے مدد طلب کروں گا، عثمان کے قاتلوں کے بارے تو نے بہت کچھ کہا تم بھی اسی چیز میں داخلہو جاؤ جس میں سارے مسلمان داخل ہوئے ہیںاور اس وقت مجھے کوئی واقعہ نہ سناؤ میں تمام لوگوں کو خدا کی کتاب کا پابند کروں گا (جو تو یہ کہہ رہا ہے کہ میں پہلے عثمان کے قاتلوں کو تمھارے حوالے کروں تاکہ تو میری بیعت کرے) تمہاری یہ درخواست ایسی ہی جیسے بچے کو دودھ کے لئے دھوکہ دیا جائے، میں اپنی جان کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر تم اپنی عقل کو کام میں لاؤ نہ کہ خواہشات نفس کو، تو مجھے عثمان کے خون کے متعلق پاکیزہ فرد پاؤ گے اور یہ بھی جان لو کہ تم اسلام کے قیدی بننے کے بعد طلقاء اور آزادہ شدہ لوگوں میں سے ہو اور ایسے لوگوں کے لئے خلافت حلال نہیں ہے اور شوریٰ کا ممبر بنے کا بھی حق نہیں ہے ،میں نے تمہارے پاس یا جو لوگ تمہاری طرح دوسرے کاموں میں مشغول ہیں۔ ان کی طرف اپنے نمائندے جریر بن عبد اللہ جو کہ مومن و متدین ہیں روانہ کیا ہے تاکہ بیعت کرو اور اپنی وفاداری کا


اعلان کرو۔(۱)

شام میں امام ـ کا نمائندہ

انسان کا نمائندہ اور سفیراس کی شخصیت کو اجاگر کرتا ہے اور اس کا مناسب انتخاب اس کی عقل کا مل کی حکایت کرتا ہے لہذا زمانہ قدیم کے بہت ہی عمیق مفکروں نے کہا ہے:

''حُسنُ الانتخابِ دلیلُ عقلِ المرئِ و مبلغُ رشدِہ''

یعنی اچھی چیز کا انتخاب انسان کی عقلمندی کی دلیل اور اس کے فکر کی میزان ہے۔

امام ـ نے معاویہ کی معزولی کا فرمان بھیجنے کے لئے ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا جو سیاسی اور حکومتی مسائل میں مہارت رکھتا تھا۔ اور معاویہ کو اچھی طرح سے پہچانتا تھا اور خود ایک شعلہ ورخطیب تھا اور یہ شخص جریر بن عبد اللہ بجلی تھا(۲) اس نے امام ـ کا خط معاویہ کو ایک عمومی جگہ پر دیا اور جب وہ خط پڑھ چکا توجریر

_______________________________

(۱) وقعۂ صفین ص ۳۰۔ ۲۹، الامامة و السیاسة ج۱ ص ۸۵۔ ۸۴، عقد الفرید ج۴ ص ۳۲۲، تاریخ طبری ج۳ جزء ۵ ص ۲۳۵ (مطبوعہ لیدن) ۔ ابن عساکر تاریخ دمشق میں معاویہ کے حالات کی شرح کرتے وقت اور مرحوم شریف رضی نے نہج البلاغہ میں اس خط کے ابتدائی حصے کو خذف کردیا ہے۔ نہج البلاغہ، مکتوب نمبر ۶۔

(۲) اگرچہ وہ بعد میں اپنے وظیفے کی انجام دہی میں سستی اور کاہلی کی وجہ سے متہم تھا مگر اسکا جرم ثابت نہ تھا اور ہم اسکے بارے میں گفتگو کریں گے۔


امام ـ کے ترجمان کے طور پر اپنی جگہ سے اٹھا اور ایک بہت ہی عمدہ اور دل کو لبھا دینے والا خطبہ پڑھا اور اس خطبے میں خدا کی حمد وثناء اور محمد و آل محمد پر درود کے بعد کہا:

عثمان کے کام (پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کے ذریعہ عثمان کا قتل ہونا) نے مدینہ میں حاضر رہنے والے لوگوں کو عاجز و ناتوان کردیاہے ان لوگوں کی کیا بات جو واقعہ کے وقت موجودنہ تھے اور لوگوں نے علی کے ہاتھ پر بیعت کی اور طلحہ و زبیر بھی ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی ،لیکن بعد میں بغیر کسی دلیل کے اپنی بیعت کو توڑ دیا ،اسلام کا قانون فتنوں کو برداشت نہیں کرتا عرب کے لوگ تلوار کو برداشت نہیں کرتے ابھی بصرہ میں غم انگیز واقعہ رونما ہوا ہے کہ اگر یہ دوبارہ واقع ہو جائے تو کوئی بھی باقی نہ بچے گا جان لو کہ تمام لوگوں نے علی کی بیعت کی ہے اور اگر خدا نے اس کام کی ذمہ داری ہمارے حوالے کی ہوتی تو ہم بھی ان کے علاوہ کسی کو منتخب نہ کرتے ، اور جو لوگ بھی عمومی انتخاب کی مخالفت کریں گے ان کو متنبہ کیا جائے گا، (کہ وہ بھی لوگوں کے منتخب کردہ حاکم کو قبول کریں)۔

اے معاویہ جس طریقے سے لوگ اسلام میں داخل ہوئے ہیں تو بھی اسی طرح داخل ہو جا، اور علی کو مسلمانوں کا رہبر مان لے، اگر تو یہ کہے کہ عثمان نے مجھے اس منصب و مقام پر معین کیا ہے اور ابھی تک معزول نہیں کیا ہے تو یہ ایسی بات ہے کہ اگر اسے مان لیا جائے تو خدا کے لئے کوئی دین باقی نہیں بچے گا، اور ہر شخص کے ہاتھ میں جو کچھ بھی ہے اسے مضبوطی سے پکڑ لے گا۔(۱)

جب امام ـ کے نمائندے کی تقریر ختم ہوئی تو اس وقت معاویہ نے کہا، صبر کرو تاکہ میں شام

کے لوگوں سے مشورہ کروں اور پھر نتیجے کا اعلان کروں۔(۲)

_______________________________

(۱) الامامة و السیاسة ج۱ ص ۸۵، وقعۂ صفین ص ۳۱۔ ۳۰، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص ۷۷۔ ۷۶۔

(۲) شرح نہج البلاغہ، ج۳، ص ۷۷۔


امام ـ کا بیعت لینے کا مقصد معاویہ کو معزول کرنا تھا

امام ـ نے اپنی حکومت کے ابتدائی دنوں سے ہی کبھی بھی کسی سے بیعت لینے کے لئے اصرار نہیں کیا۔ تو پھر معاویہ سے بیعت لینے کے لئے اتنا اصرار کیوں کیا؟ اس کی علت یہ تھی کہ آپ اس سے بیعت لے کر منصب سے معزول کرنا چاہتے تھے تاکہ مسلمانوں کے مال و حقوق کو اس سے واپس لے لیں؛ کیونکہ جن لوگوں نے حضرت علی ـ کے ہاتھ پر مسلمانوں کے امام کے اعتبار سے بیعت کی تھی ان لوگوں نے شرط رکھی تھی کہ آپ مسلمانوں کی وضعیت کو پیغمبر کے زمانے کی طرح دوبارہ واپس لائیںگے۔ اور ان کی مصلحتوں اور اسلام کو ترقی عطا کرنے میں کوتاہی نہ کریںگے، معاویہ جیسے افراد کی موجودگی ایسے کاموں کے لئے رکاوٹ تھی، اصل میں عثمان کے خلاف انقلاب اسی لئے برپا ہوا تھا کہ پچھلے تمام حاکم اور سردار اپنے منصب سے برطرف ہو جائیں اور دنیا پرست اور مالدار لوگ مظلوموں کا حق لوٹنے سے باز آجائیں۔


معاویہ کی جانب سے شامیوںکو اس قضیہ سے آگاہ کرنا

ایک دن دربار معاویہ کے منادی نے شام کے کچھ گروہوں کو مسجد میں جمع کیا، معاویہ مبنر پر گیا اور خدا کی حمد و ثنا کی اور سر زمین شام کے صفات اس طرح بیان کئے کہ خدا نے اس سرزمین کو پیغمبروں اور خدا کے صالح بندوں کی زمین قرار دیا ہے اور اس زمین پر بسنے والوں کی ہمیشہ مدد کی ہے اس کے بعد کہا:

(اے لوگو) تمھیں معلوم ہے کہ میں امیر المومنین عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان کا نمائندہ

ہوں، میں نے کسی کے ساتھ کوئی ایساکام نہیں کیا کہ میں اس سے شرمندہ ہو ں۔ میں عثمان کا ولی ہوں، جو مظلومیت کے ساتھ مارا گیا ہے اور خدا کہتا ہے کہ ''جو شخص مظلوم قتل ہوگا میں اس کے ولی کو طاقت وقوت عطا کروں گا، لیکن قتل کرنے میں اسراف نہ کرو؛ کیونکہ قتل ہونے والا خدا کی طرف سے مدد پاتا ہے۔(۱)

پھر اس نے کہا کہ میں چاہتا ہوں عثمان کے قتل کے بارے میں تم لوگوں کا نظریہ معلوم کروں۔

اس وقت مسجد میں موجود سبھی لوگ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے، ہم لوگ عثمان کے خون کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔

پھر لوگوں نے اس کام کے لئے اس کے ہاتھ پر بیعت کی اور سب نے ایک آواز ہو کر کہا کہ ہم سب اس راہ میں اپنی جان و مال قربان کردیں گے۔(۲)

معاویہ کی گفتگو کا ایک جائزہ

۱۔ معاویہ نے شام کی سرزمین کو انبیاء کی سرزمین اور شام کے لوگوں کو خدا کی شریعت و دین کا دفاع کرنے

_______________________________

(۱) سورۂ اسرائ، آیت ۳۳۔

(۲) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص ۷۸۔ ۷۷، وقعۂ صفین ص ۳۲۔ ۳۱۔


والا بتایا تاکہ اس کے ذریعے وہ خود کو الہی قانون کا دفاع کرنے والا ثابت کرسکے اور لوگوں کے احساسات و جذبات سے فائدہ اٹھائے اور تمام لوگوں کو آپسی جنگ کے لئے تیار کرے۔

۲۔مقتول خلیفہ کو مظلوم بتایاکہ ان کا خون ظالموں کے گروہ نے بہایا ہے جب کہ ان کا قتل پیغمبر اسلام کے صحابہ اور تابعین کے ہاتھوں ہوا تھااور ان کی نظر میں صحابہ اور تابعین راہ حق کی پیروی کرنے والے اور عادل و انصاف پسند ہیں۔

۳۔ اگرہم فرض کریں کہ عثمان مظلوم قتل کئے گئے لیکن ان کا ولی قاتلوں کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے اور''ولی الدم'' سے مراد مقتول کے مال کا وارث ہے ،توکیا معاویہ ان کے مال کا وارث تھا یا کسی قریبی وارث ہونے کی وجہ سے اس کی نوبت نہیں آتی؟ یہ بات صحیح ہے کہ عثمان عفان کا بیٹا اور وہ ابو العاص بن امیہ کا بیٹا اور معاویہ ابوسفیان کا بیٹا اور وہ حرب بن امیہ کا بیٹا تھا۔ اور سب کا سلسلہ امیہ تک پہونچتا ہے لیکن کیا یہ دوری رشتہ، نزدیکی رشتہ داروں کے باوجود بھی کافی تھا، کہ معاویہ نے اپنے کو عثمان کے خون کا ولی بتایا؟

امیر المومنین ـ اپنے خط میں معاویہ کو لکھتے ہیں:

''انّما انتَ رجل من بنی امیه و بنو عثمان اولی بذالک منک'' (۱)

تم امیہ کی اولاد سے ہو اور عثمان کے بیٹے اپنے باپ کے خون کا بدلہ لینے کے لئے تم سے اولیٰ ہیں۔

یہ سب ایسے سوالات ہیں کہ جن کا جواب ابوسفیان کے بیٹے کے ضمیر کا پردہ فاش کردیں گے، اور یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ عثمان کے خون کا مسئلہ نہ تھا، بلکہ حکومت پر قبضہ کر کے امام کو اس سے دور کرنا تھا کہ جس کے ہاتھوں پر مہاجرین و انصا رنے بالاتفاق بیعت کیا تھا اور سب سے زیادہ تعجب کی بات اس کا لوگوں سے مشورہ کرنا ہے، وہ جب لوگوں سے اس سلسلے میں مشورہ لے رہا تھا اسی وقت عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے اپنی قطعی رائے بھی پیش کی تھی او راس پر بہت سنجیدہ تھااس طرح کی صحنہ سازی کی روایت قدیمی ہے اور زبردستی اپنی بات منوانے کو ''مشورہ'' کانام دیاجاتا ہے ۔

تاریخ لکھتی ہے: اگرچہ معاویہ نے لوگوں کا مثبت جواب سنا،مگر اس کے دل میں خوف طاری

_______________________________

(۱) وقعۂ صفین، ص ۵۸، الامامة والسیاسة، ج۱، ص ۹۲۔ ۹۱۔


تھا اور کچھ اشعاروہ خود بخود پڑھ رہا تھا، جس کا آخری شعر یہ ہے:

و انی لارجوا خیر ما نال نائل

و ما أنا من ملک العراق بائس(۱)

میں ایک بہترین چیز کا امیدوار ہوں ، کہ امید خود اس کی امید وار ہے اور میں ملک عراق سے مایوس نہیں ہوں۔

اس نے اپنے اس مقصد تک پہونچنے کے لئے اپنے لالچی ساتھیوں کو بلایا اور اسی میں سے عتبہ بن ابوسفیان نے اس سے کہا: علی کے ساتھ اگر جنگ کرنا ہے تو اس کے لئے عمرو عاص کو بھی باخبر کرو اور اس کے دین کو خرید لو، کیونکہ وہ ایسا شخص ہے کہ عثمان کی حکومت سے بھی دور رہا، اور طبیعی ہے کہ تمہاری حکومت سے تو بہت دور رہے گا، مگر یہ کہ اسے درہم و دینار دے کر راضی کرلو۔(۲)

_______________________________

(۱)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص ۷۸۔

(۲) وقعۂ صفین ص ۳۳، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص ۷۹۔


تیرہویں فصل

حضرت علی ـ سے مقابلے کے لئے معاویہ کے اقدامات

معاویہ کا خط عمرو عاص کے نام

عمرو عاص جو کہ میدان سیاست کا ایک چالاک بھیڑیا تھا او راس وقت مشہورومعروف فلسطین میںگوشہ نشینی کی زندگی گزار رہا تھا معاویہ نے اس کو اپنی طرف جذب کرنے کے لئے اسے اس مضمون کا خط لکھا:

''علی اور طلحہ و زبیر کا واقعہ تونے سنا ہے ،مروان بن حکم بصرہ کے کچھ لوگوں کے ہمراہ شام آیا ہے اور جریر بن عبد اللہ علی کی طرف سے نمائندہ بن کر بیعت لینے کے لئے شام آچکا ہے میں نے ہر طرح کا فیصلہ کرنے سے پرہیز کیا ہے تاکہ تمہارا نظریہ معلوم کروں جتنی جلدی ہو شام آجاؤ تاکہ اس سلسلے میں رائے و مشورہ کیا جائے۔(۱)

جب یہ خط عمرو کے پاس پہونچا تو اس نے اس خط کے مفہوم کو اپنے دونوں بیٹوں عبد اللہ اور محمد کو بتایا، اور ان سے ان کا نظریہ معلوم کیا اس کا بڑا بیٹا جو تاریخ میں اچھے نام سے مشہور ہے (و اللہ اعلم) اس کا کہنا تھا:

جب تک رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے بعد کے دو خلیفہ زندہ تھے سب کے سب تم سے راضی تھے اور جس دن عثمان کا قتل ہوا اس دن تم مدینہ میں نہ تھے۔ اس وقت کتنا بہتر ہے کہ تم خود اپنے گھر میں بیٹھتے اور بہت کم منافع حاصل کرنے کے لئے معاویہ کی حاشیہ نشینی چھوڑ دیتے، کیوں کہ خلافت تمہیں ہرگز نہیں مل سکتی، اور قریب ہے کہ تمہاری عمر کا سورج غروب ہو جائے اور زندگی کے آخری مرحلے میں بدبخت ہو جاؤ۔

لیکن اس کے دوسرے بیٹے نے اپنے بڑے بھائی کے خلاف نظریہ پیش کیا کہ معاویہ کی دعوت کو قبول کرے اور کہا : تم قریش کے بزرگوں میں سے ہو اور اگر اس امر میں خاموشی اختیار کر کے بیٹھ گئے تو لوگوں کی

_______________________________

(۱) الامامة و السیاسة ص ۸۴، وقعہ صفین ص ۳۴۔


نگاہوں میں تم ایک معمولی شخص رہوگے، اور حق شام کے لوگوں کے ساتھ ہے ان کی مدد کرو اور عثمان کے خون کا بدلہ لو اور ایسی صورت میں بنی امیہ اس کام کے لئے قیام کریں گے۔

عمرو عاص جو ایک ہوشیار و چالاک شخص تھا اس نے عبد اللہ کو مخاطب کر کے کہا کہ تمہارا نظریہ میرے دین کے نفع میں ہے،جب کہ محمد کا نظریہ میرے دنیاوی فائدے کے لئے ہے اس سلسلے میں میں غور و فکر کروں گا، پھر اس نے کچھ اشعار پڑھا اور دونوں بیٹوں کے نظریات کو شعری انداز میں بیان کیا ،اس کے بعد اپنے چھوٹے بیٹے وردان کے سے پوچھا: اس نے کہا کیا آپ چاہتے ہیں کہ جو کچھ آپ کے دل میں ہے اس کے بارے میں خبر دوں؟ عمرو نے کہا: بتاؤ تم کیا جانتے ہو اس نے کہا: دنیا و آخرت نے تمہارے دل پر حملہ کردیا ہے علی کی پیروی آخرت کے لئے سعادت کا باعث ہے جب کہ ان کی پیروی دنیاوی نہیں ہے لیکن آخرت کی زندگی دنیا کی ناکامیوں کے لئے قابل تلافی ہے، جب کہ معاویہ کا ساتھ دینے میں دنیا ملے گی مگر آخرت سے محرومی ہوگی، اوردنیا کی زندگی آخرت کی سعادتوں کے لئے قابل تلافی نہیں ہے اس وقت تم ان دونوں کے درمیان کھڑے ہو اور تمہاری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کس کا انتخاب کرؤ۔

عمرو نے کہا: تم نے بالکل صحیح کہا ہے۔ اب بتاؤ کہ تمہارا نظریہ کیا ہے؟

اس نے کہا: اپنے گھر میں خاموشی سے بیٹھ جاؤ۔ اگر دین کامیاب ہوگیا تو تم اس کے سائے میں زندگی بسر کرنا اور اگر اہل دنیا کامیاب ہوئے تو وہ لوگ تم سے بے نیاز نہیں ہیں۔


عمرو نے کہا: کیا اب اس وقت گھر میں بیٹھوں جب کہ معاویہ کے پاس میرے جانے کی خبر پورے عرب میں پھیل چکی ہے۔(۱)

وہ اندرونی طور پر ایک دنیا پرست انسان تھا ،لہذا معاویہ کا ساتھ دیا لیکن اپنے چھوٹے بیٹے کی گفتگو کو شعری قالب میں ڈھال دیا:

اما علی فدین لیس یشرکه

دنیا و ذاک له دنیا و سلطان

فاخترت من طمعی دنیا علی بصرٍ

و ما معی بالذی اختار برهان(۲)

علی کی پیروی میں دین ہے لیکن دنیا نہیں ہے جب کہ معاویہ کی پیروی کرنے میں دنیا اور قدرت ہے۔

میں نے اپنی لالچ و آرزو کی وجہ سے حقیقت جانتے ہوئے دنیا کو اختیار کیا لیکن اس کے قبول کرنے کے لئے میرے پاس کوئی عذر یا حجت نہیں ہے، پھر وہ شام کی طرف روانہ ہوگیا اور اپنے پرانے اور قدیمی دوست کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے لگا اور امام علی ـ کو صفحہء ہستی سے مٹانے کے لئے ایک نقشہ تیار کیا جسے ہم بعد میں بیان کریں گے۔

_______________________________

(۱) الامامة والسیاسة، ص ۸۷۔

(۲) وقعۂ صفین، ص ۳۶۔


دو کہنہ کار سیاستدانوں کی ہمکاری

بالآخر ''بنی سھم'' کا پرانا اور قدیمی سیاست دان اور اپنے زمانہ کا معروف و مشہور عمرو عاص نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دیا اور فلسطین سے شام کی طرف روانہ ہوگیا تاکہ اس ضعیفی اور بڑھاپے میں دوسری مرتبہ مصر کا حاکم بن جائے۔وہ خوب جانتا تھا کہ معاویہ کو اس کی دور اندیشی اور تدابیر کی ضرورت ہے لہٰذا اس نے سوچاکہ اس کی مددکرنے کے بدلے اس سے زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کرے(۱) اور گفتگو کے دوران مطالب کو وقفہ ، و قفہ سے بیان کیا تاکہ معاویہ کی فکر و نظر کو اپنی طرف جذب کر لے۔

گفتگو کی پہلی نشست میں معاویہ نے تین مشکلیں بیان کیں جن میں ایک یہ تھی کہ علی ـ کی سر زمین شام پر حملہ کرنے کے ارادے نے تمام چیزوں سے زیادہ میرے ذہن کوالجھن میں ڈال دیاہے یہاں ہم بغیر کسی کمی و زیادتی کے ان دونوں کی گفتگو کو نصر بن مزاحم کی ''تاریخ صفین'' سے نقل کر رہے ہیں۔

معاویہ : کافی دنوں سے تین چیزوں نے میرے ذہن و فکر کو اپنی طرف مشغول کر رکھا ہے اور میں مسلسل اس بارے میں سوچ رہا ہوں، تم سے درخواست ہے کہ اس مسئلہ کا کوئی حل پیش کرو۔

عمرو عاص : وہ تینوں مشکلیں کیا ہیں؟

معاویہ: محمد بن ابی حذیفہ نے مصر کا قید خانہ توڑ ڈالا ہے اور وہ دین کے لئے آفت ہے (یعنی حکومت معاویہ کیلئے)

(وضاحت: عثمان کی خلافت کے زمانے میں مصر کے تمام امور کی ذمہ داری عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح پر

_______________________________

(۱)الامامةوالسیاسة،ج۱،ص۸۷۔


تھی اور محمد بن ابی حذیفہ ان لوگوں میں سے تھا جس نے لوگوں کو حاکم مصر کے خلاف بغاوت کے لئے آمادہ کیا تھا عثمان کے قتل کے بعد اس کا حاکم لوگوں کے خوف سے مصر چھوڑ کر چلا گیا اور اپنی جگہ پر اپنے نمائندے کو منصوب کردیا، لیکن ابو حذیفہ کے بیٹے نے حاکم کے نمائندے کے خلاف لوگوں کو تشویق و رغبت دلائی اور بالآخر اسے مصر سے نکال دیا اور خود وہاں کی ذمہ داریوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ حضرت علی ـ کی خلافت کے ابتدائی دور میں مصر کی حاکمیت قیس بن سعد کو دی گئی اور محمد کو

معزول کردیاگیا، جب معاویہ نے مصر پر قبضہ کیا تو محمد کو قید خانے میں ڈال دیا لیکن وہ اور اس کے ساتھی کسی صورت سے قید خانے سے بھاگ گئے،(۱) جی ہاں، محمد بن ابی حذیفہ بہت زیادہ فعال اور حادثہ کا ایجاد کرنے والا تھا، اور وہ معاویہ کا ماموں زاد بھائی تھا)۔

عمرو عاص: اس واقعہ کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے تم ایک گروہ کو بھیج کر اسے قتل کرواسکتے ہو یا وہ لوگ قید کر کے زندہ تیرے حوالے کرسکتے ہیں ، لیکن اگر یہ لوگ اسے گرفتار نہ کرسکے تو وہ اتنا خطرناک نہیں ہے کہ تمہاری حکومت کو تم سے چھین لے۔

معاویہ: قیصر روم، رومیوں کے گروہ کے ساتھ شام کی طرف چلنے والا ہے تاکہ شام کی حکومت ہم سے واپس لے لے۔

عمرو عاص: قیصر روم کی مشکلات کو ہدیہ وغیرہ مثلاً روم کے غلاموں اور کنیزوں اور سونے چاندی کے برتن وغیرہ بھیج کر دور کرو، اور اسے صحت و سلامتی کی زندگی دے کر دعوت کرو کہ عنقریب وہ اس کام میں شریک ہوگا۔

معاویہ: علی نے کوفہ میں قیام کیا ہے اور شام کی طرف بڑھ رہے ہیں اس مشکل کے بارے میں تمہارا کیا نظریہ ہے؟

عمرو عاص: عرب ہرگز تجھے علی جیسا نہیں سمجھتے ، علی جنگ کے تمام رموز و اسرار سے آشنا ہیں اور قریش میں ان کی مثال نہیں ہے، وہ اس حق کی بنا پر صاحب حکومت ہیں جو ان کے ہاتھ میں ہے مگر یہ کہ تم

ان پر ظلم و ستم کرو اور ان کے حق کو سلب کرلو۔

_______________________________

(۱) اسد الغابہ، ج۴، ص ۳۱۶۔ ۳۱۵۔


معاویہ: میں چاہتا ہوں کہ تم اس سے جنگ کرو کہ اس نے خدا کی نافرمانی کی ہے اور خلیفہ کو قتل کردیا ہے اور فتنہ پیدا کردیا اور اتحاد کو درہم برہم کردیا اور رشتہ داری کو توڑ دیا ہے۔

عمرو عاص: خدا کی قسم، تم اور علی ہرگز شرف و فضیلت میں برابر نہیں ہو تم نہ ان کی ہجرت کی فضیلت رکھتے ہو نہ ان کے دیگرسوابق کی فضیلت رکھتے ہو، نہ ان کی طرح تم پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ رہے ہو نہ تم نے ان کی طرح مشرکوں سے جہاد کیا ہے نہ ان کی طرح تمہارے پاس عقل و دانش ہے ، خدا کی قسم علی کی فکر بہت عالی ، ذہن بہت صاف اور وہ ہمیشہ سعی وکوشش میں رہے ہیں، وہ با فضیلت اور سعادت مند اور خدا کے نزدیک کامیاب انسان ہیں، ایسے بافضیلت شخص کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے مجھے کیا قیمت دو گے کہ میں تمہارا ساتھ دوں؟ تمہیں معلوم ہے کہ اس ہمکاری میں کتنے خطرے موجود ہیں۔

معاویہ: تمہیں اختیار ہے، تمہیں کیا چاہئے؟

عمرو عاص: مصر کی حکومت۔

معاویہ: (جب کہ وہ دھوکہ کھا چکا تھا) اس نے مکاری کے طور پر دنیا و آخرت کے مسئلے کو سامنے رکھا، اور کہا: میں نہیں چاہتا کہ عرب تمہارے بارے میں اس طرح کی فکر کریں کہ تم دنیاوی غرض کے لئے ہمارے ساتھ جنگ میں شامل ہوئے ہو، کتنا اچھا ہوگا کہ وہ لوگ یہ کہیں کہ تم نے خدا کی مرضی اور آخرت کی اجرت لینے کے لئے ہمارا ساتھ دیا، اور کبھی بھی دنیا کی معمولی اور چھوٹی چیز آخرت کے اجر کے برابر نہیں ہو سکتی۔

عمرو عاص: ان بے ہودہ باتوں کا ذکر نہ کرو۔(۱)

معاویہ: میں اگر تجھے دھوکہ دینا چاہوں تو دے سکتا ہوں۔ عمرو عاص: مجھ جیسا آدمی دھوکہ نہیں کھا سکتا، میں اس سے بھی زیادہ چالاک ہوں جتنا تم سوچ رہے ہو۔

معاویہ: میرے نزدیک آؤ تاکہ تم سے اصلی راز بیان کروں۔

_______________________________

(۱) ابن ابی الحدید اپنی کتاب شرح نہج البلاغہ، ج۲، ص ۶۵، مطبوعہ مصر، میں لکھتا ہے: میں نے اپنے استاد ابو القاسم بلخی سے کہا کہ یہ عمرو عاص کی گفتگو آخرت پر ایمان نہ رکھنے اور اس کے بے دینی کی وجہ سے نہیں ہے؟ انھوںنے جواب دیا: عمرو عاص نے اصلا ًاسلام قبول ہی نہیں کیا تھا، اور اپنے کفر پر باقی تھا۔


عمرو عاص اس کے قریب گیا اور اپنے کان کو معاویہ کے منھ کے پاس لے گیا تاکہ اس کے اصلی راز کو سنے ،اچانک معاویہ نے اس کے کان کو زور سے دانتوں میں دبا لیا کہا: کیا تم نے دیکھا میں تم کو دھوکہ دے سکتا ہوں، پھر اس نے کہا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ مصر عراق کی طرح ہے اور دونوں بڑے شہروں میں شمار ہوتے ہیں۔

عمرو عاص: ہاں میں جانتا ہوں، لیکن عراق تمہارے قبضے میں اسی وقت ہوگا جس وقت مصر پر میرا قبضہ جب کہ عراق کے لوگوں نے علی کی اطاعت کی ہے اور ان کی رکاب میں رہتے ہوئے جنگ کرنے کے لئے آمادہ ہیں ۔

اس موقع پر جب کہ دو سوداگر بحث و مباحثہ میں غرق تھے معاویہ کا بھائی عتبہ بن ابوسفیان وہاں آ پہونچا اور کہا: عمرو کو مصر کی سرزمین دے کر کیوں نہیں خرید لیتے؟ کاش کہ یہی حکومت شام تمہارے لئے باقی رہے اور کوئی دوسرا اس میں مداخلت نہ کرے۔ اس وقت اس نے کچھ شعر کہا اور اس میں عمرو عاص کی معاویہ کے ساتھ نصرت و مدد کو ظاہر کیاجس کا ایک شعر یہ ہے:

اعط عمرواً ان عمرواً تارک

دینه الیوم لدنیا لم تجز(۱)

جو کچھ عمرو کی خواہش ہے اسے دیدو، اس نے آج اپنے دین کو دنیا کے لئے چھوڑ دیا ہے۔

بالآخر معاویہ نے سوچاکہ جیسے بھی ممکن ہو عمرو کی مدد کو اپنی طرف جذب کرے اور اس کی خواہش کو پورا کرے، لیکن عمرو اس کے مکر و فریب کی وجہ سے مطمئن نہیں تھا۔ اس نے یہ سوچا کہ کہیںایسا نہ ہو کہ معاویہ مجھ سے ایک کامیابی کی سیڑھی کی طرح استفادہ کرے اور کام ختم ہوتے ہی اسے اپنے سے دور کردے، لہذا اس نے معاویہ کو متوجہ کرتے ہوئے کہا ضروری ہے کہ اس تعہد اور معاملے کو کاغذ پہ لکھا جائے اور اس کے متعلق شرائط لکھی جائیں اور دونوں آدمی اپنے اپنے دستخط کریں۔

_______________________________

(۱) رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی تقریر میں ایک شرعی مسئلہ کی طرف یاد دہانی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: لاتبع ما لیس عندک'' یعنی جس چیز کے تم مالک نہیں ہو اسے نہ بیچو، اب اس وقت یہ دیکھنا ہے کہ عمرو نے مصر کی حکومت کے مقابلے میں کیا چیز بیچی ہے اور کس چیز کواپنے ہاتھوں سے گنوا دیا ہے وہ بقولے ابن ابی الحدید ، معاویہ سے معاملہ کرتے وقت بھی بے دین و بے ایمان تھا اور حقیقتاً اس معاملہ کو بھی اس مکر و فریب کے ذریعے انجام دیا تھا ، اور بغیر کسی اجرت کے مصر کی حکومت کو خرید لیاتھا۔


تعہد نامہ لکھا گیا اور دونوںنے اپنے دستخط کیا لیکن دستخط کرنے والوں نے اپنے دستخط اور مہر کے سامنے ایک ایک جملے کا اضافہ کیااور اپنے فریب و نفاق کو ظاہر کردیا۔ معاویہ نے اپنے نام کے پاس لکھا:علیٰ ان لا ینقض شرط طاعةً '' یعنی ، یہ تعہد اس وقت تک معتبرہے جب تک شرط کرنے والااطاعت کو نہ توڑے، عمرو نے بھی اپنے نام اور مہر کے آگے ایک جملے کا اضافہ کیا،علیٰ ان لا تنقض طاعة شرطاً، (۱) یعنی شرط یہ ہے کہ اطاعت کرنے والا شرط کو نہ توڑے۔

ان دونوں نے یہ دو قیدیں لگا کر ایک دوسرے کو دھوکہ دیا اور خلاف ورزی کے راستے کو آشکار کردیا، کیونکہ اس قید کے لگانے سے معاویہ کا مقصد یہ تھا کہ عمرو نے بغیر کسی شرط و قید کے مطلقاً معاویہ کی بیعت کی ہے اور اگر معاویہ اسے مصر کی حکومت نہ دے تو اس کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس وجہ سے کہ معاویہ نے اپنے عہد و شرط کی وفا نہیں کی ہے اس بہانے سے اپنی بیعت توڑ دے، لیکن جب اس کا قدیمی دوست معاویہ کے اس مکر وفریب سے آگاہ ہوا تو اس نے اس راہ ہموار پر روک لگادی اور لکھا کہ میری بیعت اس وقت تک معتبر ہے کہ معاویہ اپنی شرط (مصر کی حکومت) کو نہ توڑے اور معاویہ مصر کو عمرو کے حوالے کرے۔حقیقت میں دونوں سیاست کے میدان میں لومٹری صفت تھے اور کبھی بھی ان کے پاس نہ دینی تقویٰ تھا اور نہ ہی سیاسی تقویٰ تھا۔عمرو اس معاملے کے بعد پھولے نہیں سما رہا تھا، معاویہ کے گھر سے نکلا اور جو لوگ باہر اس کا انتظار کر رہے تھے ان سے ملاقات کی اوران کے درمیان درج ذیل سوالات و جوابات ہوئے:

عمرو کے بیٹے: بابا بالآخر کیا نتیجہ نکلا؟

عمرو: مجھے مصر کی حکومت دی ہے۔

عمر کے بیٹے: ملک عرب کی بہادری و طاقت کے مقابلے میں مصر کی حکومت کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

عمرو: اگر سرزمین مصر سے تم سیر نہیں ہوئے تو خدا تمہیں کسی چیز سے سیر نہ کرے۔(۲)

_______________________________

(۱) وقعۂ صفین ص ۴۰۔

(۲) وقعۂ صفین، ص ۴۰۔ ۳۷، الامامة و السیاسة، ص ۸۸۔ ۸۷۔ (تھوڑے فرق کے ساتھ)


عمرو کا بھتیجہ: کس عنوان سے قریش کے درمیان زندگی بسر کرو گے؟ اپنے دین کو بیچ دیااوردوسرے کی دنیا کا دھوکہ کھا گئے ، کیا مصر کے لوگ ، علی کے ہوتے ہوئے مصر کو معاویہ کے حوالے کریں گے؟ جب کہ یہ لوگ عثمان کے قاتل ہیں۔ اگر ہم فرض بھی کرلیں کہ معاویہ نے اس سرزمین پر قبضہ کر لیا تو کیا تمھیں ا س جملے کی وجہ سے جو کہ تم نے اپنے دستخط کے ساتھ لکھا ہے سرزمین سے دور نہیں کردے گا؟

عمرو کچھ دیر تک فکر کرنے لگا اور کچھ دیر کے بعد ایمان کی وجہ سے نہیں ، بلکہ عربوں کی عادت کی بنا پر کہا: اب سب کچھ خدا کے ہاتھ میں ہے نہ کہ علی اور معاویہ کے ہاتھ میں ، اگر میں علی کے ساتھ ہوتا تو میرا گھر ہی میرے لئے کافی ہوتا، مگر اب تو میں معاویہ کے ساتھ ہوں۔

عمرو کا بھتیجہ: اگر تم معاویہ سے نہ ملتے تومعاویہ بھی تم سے ملاقات نہ کرتا، تم نے دنیاوی لالچ کی وجہ سے اس سے ملاقات کی اور وہ تمہارے دین کا خریدار بنا۔

چچابھتیجے کے ساتھ ہونے والی گفتگو جب معاویہ کے کانوں تک پہونچی تو نے چاہا کہ اسے گرفتار کرے لیکن وہ عراق کی طرف بھاگ گیااور امام علی ـ کے لشکر سے ملحق ہوگیا اور امام ـ سے دو بوڑھے سیاسی مکاروں کے درمیان ہوئی گفتگواور معاملہ کو بیان کیا اور بالآخر امام ـ کے نزدیک اپنا ایک مقام بنالیا۔(۱)

مروان بن حکم بھی جب عمرو عاص او رمعاویہ کے درمیان ہوئے سیاسی معاملے سے آگاہ ہوا تواس نے اعتراض کیا اور کہا: کیوں عمرو کی طرح ہمیں بھی نہیں خریدتے (اور دین اموی کی قیمت کے مقابلے میں اسلامی ملکوںکے بعض حصے کو میرے حوالے کیوں نہیں کرتے؟) جب معاویہ کواس کی باتوں کا علم ہوا تو اسے تسلی دی اور کہا عمرو جیسے افراد تم جیسوں کے لئے خریدے جا رہے ہیں تاکہ اموی حکومت کومستحکم کیاجائے جس کا توبھی ایک حصہ ہے ۔(۲)

_______________________________

(۱) وقعۂ صفین ص ۴۱، الامامة والسیاسة ص ۸۸پر نصر بن مزاحم نے اس جوان کو عمرو کا چچا زاد بھائی لکھا ہے۔

(۲) الامامة والسیاسة، ص ۸۸۔


عمروعاص کا شیطانی حربہ

دو چالاک سیاستدانوں کے معاملات ختم ہوگئے اور اب وقت آ پہونچا کہ معاویہ عمرو کے حربے کو استعمال کرے، عمرو جو محمد بن ابی حذیفہ سے مقابلے اور قیصر روم کے شام پر حملہ کرنے کے اندیشہ کے متعلق جو حربہ و منصوبہ تیار کیا تھا وہ بہت ہی دقیق انداز سے انجام دیا گیا،اور دونوں میں کامیابی ملی، لیکن سب سے بڑی مشکل حضرت علی ـ سے مقابلہ کرنے کی تھی جو شام کی طرف روانہ ہوچکے تھے ۔ وہ مشکل ابھی بھی باقی تھی عمرو نے امام علی ـ سے مقابلہ کرنے کے لئے ایک ایسا پروگرام بنایا جس کی وجہ سے شام کے اکثر افراد اپنی مرضی سے معاویہ کے لشکر میں شامل ہوکر علی ـ سے جنگ کرنے کے لئے آمادہ ہو گئے، اب دیکھنا یہ ہے کہ آخر یہ کیسا منصوبہ تھا جس کی وجہ سے شامیوں جیسے آسودہ اور آرام طلبلوگ مثلاً شام سے باہر جانے کے لئے آمادہ ہوئے اور موت کو آسودہ و آرام طلب زندگی پر ترجیح دی۔

''کہتے ہیں کہ ایک بزرگ صحابی معاویہ کے پاس گئے معاویہ نے ان کا پرتپاک استقبال اوران کا احترام کیا، وہ عمرو عاص اور معاویہ درمیان کے بیٹھ گئے اور کہا: تم جانتے ہو کہ کیوں میں تم لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوں۔ انھوں نے جواب دیا نہیں ۔ انہوں نے کہا: ایک دن تم لوگ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بزم میں بیٹھے تھے اور آپس میں مخفیانہ گفتگو کر رہے تھے ، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ خداوند عالم اس شخص پر رحمت نازل کرے جوان دونوں کو ایک دوسرے سے دور کردے، کیونکہ یہ دونوں خیر پر جمع نہیں ہونگے۔(۱)

سعی وکوشش کیلئے ایمان سے بہتر کوئی عامل نہیں ہے اس کے باوجود مذہبی احساسات اتنے قوی ہوتے ہیں کہ اگر مفاد طلب زمامداروںکے قبضے میں آجائیں تو ان کے تخریبی اقدامات بیان سے باہر ہوجاتے ہیں۔

عمرو عاص کا حربہ امام علی ـ سے مقابلے کے لئے یہ تھا کہ شام کے افراد کے دینی جذبہ کو حضرت کے خلاف کردے،اور امام ـ پر خلیفہ کے قتل کرنے کا الزام لگادے اور اس خبر کو عام کرنے کے لئے معاشرے کے زاہد اور پارسا لوگوں سے استفادہ کرے جو لوگوں کی نظر میں قابل احترام ہیں۔

_______________________________

(۱) ہندوشاہ نخجوانی، تجارب السلف، بہ تصحیح عبا س اقبال ص ۴۶۔


اس کے علاوہ ، معاویہ سے کہا کہ شرحبیل کندی(۱) شام کے لوگوں کی نظر میں محترم شخص ہے اور اپنے علاقے میں علی کے نمائندے جریر کا دشمن بھی ہے ۔ اسے ان تمام واقعات سے

اس طرح باخبر کرو کہ اسے یقین پیدا ہو جائے کہ علی ، عثمان کے قاتل ہیں او رتمہارے اور اس کے مورد اعتمادجو افراد ہیں انھیں یہ ذمہ داریاں سونپ دو، کہ پورے شام میں اس بات کو عام کردیں کیونکہ جو چیز شرحبیل کے دل میں بیٹھ جاتی ہے وہ بہت جلدی نہیں نکلتی۔(۲)

______________________

(۱) کندہ، غبطہ کے وزن پر ہے اور یمن کے ایک قبیلے کا نام ہے جو عربستان کے شبہ جزیرہ کے جنوب میں واقع ہے جہاں یہ لوگ زندگی بسر کرتے تھے پھر وہاں سے بہت زیادہ گروہ شام وغیرہ کی طرف ہجرت کر گئے شرحبیل بھی اسی قبیلے کا رہنے والا تھا اور اس کے اجداد بھی یمن سے شام کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔

(۲) وقعۂ صفین، ص ۴۴، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۲، ص ۷۱۔


معاویہ کاخط شرحبیل کے نام

معاویہ نے شرجیل کو خط لکھا اور اس نے علی ـ کے نمائندہ جریر کے آمد کی خبر دی شرحبیل اس وقت شام کے شہر حمص میں رہتا تھا۔ معاویہ نے اس سے درخواست کی کہ جتتی جلدی ممکن ہو شام آ جاؤ ۔ اور اس وقت اپنے دربار کے تمام نمک خواروں کو، جو سب کے سب یمن قحطان کے رہنے والے تھے اور شرحبیل سے لوگوں کے اچھے تعلقات تھے، ذمہ داری سونپی کہ حمص جائیں اور سب مل جل کر ایک آواز سے یہی کہیں کہ خلیفہ سوم کے علی قاتل ہیں۔ جب معاویہ کا خط شرجیل کو ملا تو اس نے اپنے دوستوں کو بلایا اور معاویہ کی دعوت کو ان کے درمیان میں رکھا ، شام کا سب سے ذہین اور قابل فہم شخص عبد الرحمن بن غنم ازدی اٹھا اور اس نے زاہد و عابد کو اس کام کے برے نتیجے سے آگاہ کیااورکہا:

تم نے جس دن سے کفر سے اسلام کی طرف ہجرت کی ہے ہمیشہ لطف الہی تمہارے شامل حال رہا۔ اور جب تک لوگوں کی طرف سے خدا کا شکر منقطع نہ ہو تو خدا کی طرف سے بھی نعمتوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا، اور ''خداوند عالم ہرگز لوگوں کے حالات کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک لوگ خود اپنے کو بدل نہ ڈالیں'' ہمیں عثمان کے قتل کی خبر حضرت علی ـ ہی کے ذریعے ملی ہے، اگر واقعاً علی نے عثمان کو قتل کیا ہے تو مہاجر و انصار نے ان کی بیعت کیا ہے اور یہ لوگ لوگوں پر حاکم ہیں اور اگر علی نے ان کو قتل نہیں کیا ہے

تو کیوں معاویہ کی تصدیق کر رہے ہو؟ میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہخود اور اپنے عزیزوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اگر تمہیں اس بات کا خوف ہے کہ جریر کسی مقام پر پہونچ جائے گا تو تم بھی علی کے پاس جاؤ اور اپنی قوم اور شام کے لوگوں کے ساتھ ان کی بیعت کرو۔


لیکن اس مرد ازدی کی خیر خواہی مؤثر ثابت نہ ہوسکی اور شرحیل معاویہ کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے شام کی طرف روانہ ہوگیا۔(۱)

معاویہ کا بزرگان قبیلہ اور خشک زاہدوں سے مدد مانگنا

تمام قبایلی نظام میں رئیس قبیلہ کو تصمیم گیری میں مکمل آزادی ہوتی ہے، اور اگر وہ کسی چیز کو مان لے تو قبیلے کے افراد اسے مان لیتے ہیںاور در حقیقت یہ ایک رائے تمام افراد کی رائے کی جانشین ہوتی ہے خصوصاً اگر رئیس قبیلہ ظاہری طور پر تقوے والا ہو۔

معاویہ شام کے لوگوں اور یمنی مہاجرین جو شام میں زندگی بسر کر رہے تھے کو اپنی طرف جذب کرنے کے لئے ایسے ہی لوگوں کی تلاش میں تھا ،اور اس کی دوسری عقل عمرو عاص نے بھی اسے اس کام کے لئے مشورہ دیاتھا۔ ان افراد میں شرحبیل یمنی(۲) کے اندر دونوں شرائط موجود تھے جو شام کے حمص علاقے میں رہتا تھا شرجیل خود مقدس بھی تھا اور یمنی مہاجروں میں بزرگ بھی شمار ہوتاتھا اور اس کی نظر کو جذب کرنے سے امام ـ کے متعلق لوگوںکی فکروں میں تبدیلی لائی جاسکتی تھی۔

اسی وجہ سے معاویہ نے اسے خط لکھا اور شام آنے کی دعوت دی۔(۳)

اور وہ لوگ جو شرحبیل کے معتمد خاص معتمد تھے انھیں حکم دیا کہ مستقل اس سے ملاقات کرتے رہیں اور علی ـ کو عثمان کے قاتل کے طور پر پہچنواتے رہیں اور اس کے ذہن میں یہ بات ڈالتے رہیں تاکہ اس کے ذہن میں ''امام کا قاتل'' ہونا اس طرح رچ بس جائے کہ اس کے علاوہ دوسری چیز اس کے ذہن میں نہ آئے۔

______________________

(۱) وقعۂ صفین ص ۴۵۔ ۴۴، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲ ص ۷۱۔

(۲) ابن ابی حاتم اپنی کتاب ''الجرح و التعدیل'' (ج، ص ۳۳۸) میں اس کا نام لکھتے ہیں اور بخاری نے اپنی تاریخ (ج۲، ص ۲۴۹) میں اس کا حال لکھا ہے۔

(۳) وقعۂ صفین ص ۴۵۔ ۴۴، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲ ص ۷۱، کامل ابن اثیر ج۳ ص ۱۴۳۔


وہ جب حمص سے شام آیا تو تمام لوگوں نے اس کا بہت احترام کیا معاویہ نے اس کے ساتھ ملاقات کی اور شام کے زاہد سے یہ کہا: جریر بن عبد اللہ بجلی عراق سے یہاں آیا ہے اور مجھے علی کی بیعت کرنے کی دعوت دے رہا ہے اور علی بہترین لوگوں میں سے تو ہیں مگر یہ کہ انھوںنے عثمان کو قتل کیا ہے میں نے کسی بھی طرح کا ارادہ کرنے سے پرہیز کیا ہے کیونکہ میں بھی شام کے لوگوں میں سے ایک ہوں اور جس چیز کے بارے میںوہ رائے دے گے گے میں بھی وہی رائے دوں گا اور جس چیز کو وہ لوگ پسند نہیں کریںگے میں بھی اس چیز کو پسند نہیں کروں گا۔

شام کے زاہد نے اپنا نظریہ پیش کرنے سے پرہیز کیا اور کہا میں پہلے تحقیق کروں گا پھر کوئی رائے پیش کروں گا لہذا وہاں سے چلا گیا اور تحقیق کرنے لگا۔(۱)

وہ لوگ جنھیں معاویہ نے پہلے ہی سے اسے ذہنی طور پر بہکانے کے لئے معین کیا تھا ان لوگوں نے مختلف طریقوں سے اسے بہکایا اور امام کے ہاتھوں عثمان کے قتل کی تصدیق کی اور علی ـ کے بارے میں اس کے دل میں شک و شبہہ پیدا کردیا۔

غلط اور جھوٹ پر مبنی باتوں نے اس سادہ لوح زاہد کی فکر کو تبدیل کردیااور اسے اتنا بہکایاکہ اس کے اندر انتقام کی آگ بھڑک اٹھی اور معاویہ سے زیادہ وہ حسد کرنے لگا۔ لہذا جب وہ دوسری مرتبہ معاویہ سے ملا تو اس سے کہا میں نے صرف لوگوں سے یہی سنا کہ علی عثمان کے قاتل ہیں۔ اس لئے تمہیں حق نہیں ہے کہ تم اس کی بیعت کرو اور اگر ایسا کرو گے تو تمہیں شام سے نکال دوں گا یاتجھے قتل کردوں گا۔(۲)

معاویہ اس کی باتیں سن کر مطمئن ہوگیا کہ دین فروشوں نے زاہد سادہ لوح کو خوب دھوکہ دیا ہے ۔ پھر معاویہ نے اس سے کہا: میں شام کا ایک فرد ہوںاو رہرگز تمہاری مخالفت نہیں کروں گا۔ شام کا زاہد وہاں سے اٹھ کر حصین بن نمیر کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ کسی کو امام ـ کے نمائندہ جریر کے پاس بھیجو تاکہ اس سے بھی گفتگو کی جائے۔

_______________________________

(۱) وقعۂ صفین ص ۴۵۔ ۴۴، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲ ص ۷۱، کامل ابن اثیر ج۳ ص ۱۴۳۔

(۲) وقعۂ صفین ص ۴۸۔ ۴۷، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲ ص ۷۳۔


زاہد شام کی نمائندہ امام ـ سے گفتگو

جریر بن عبد اللہ حصین بن نمیر کے ساتھ شرحبیل کے پاس آئے اور تینوں کے درمیان گفتگو ہوئی۔ زاہد شامی نے جریر سے کہا تم صحیح خبر کے ساتھ یہاں نہیں آئے ہو گویا تم چاہتے ہو کہ ہمیں شیر کے منھ میں ڈال دو اور عراق و شام کو آپس میں لڑا دو، علی کی خو ب تعریف کرتے ہو جب کہ انھوں نے عثمان کو قتل کیاہے اور تم قیامت کے دن خدا کے سامنے جواب دہ ہوگے ، جب شرحبیل کی بات ختم ہوئی تو امام کے نمائندے نے اسے یہ جواب دیا:

''میں ہرگز مبہم باتوں کے ساتھ تم لوگوں کے پاس نہیں آیاہوں کس طرح سے علی کی خلافت مبہم ہوگی، جب کہ مہاجرو انصار نے ان کی بیعت کی ہے اور بیعت توڑنے کی وجہ سے طلحہ و زبیر مارے گئے ہیں؟ تم نے خود اپنے کو شیر کے جال میں ڈالاہے، میں نے ایسا ہرگز کام نہیں کیا ہے۔ اگر عراق اور شام حق کی حفاظت کرنے کے لئے متحد ہو جائیں تو ایک امر باطل کے لئے جدا ہونے سے بہتر ہے اور تمہارا جو یہ کہناہے کہ علی نے عثمان کو قتل کیا ہے تو خدا کی قسم یہ الزام تراشی کا ایک ایسا تیر ہے جو دور سے پھینکنے کے علاوہ کچھ نہیں ، تم دنیا کے محبوب ہوگئے ہو اور پہلے بھی سعد وقاص کے زمانے سے کچھ دل میں چھپائے ہو۔(۱)

گفتگو ختم ہوگئی بعدمیں جریر نے ایک قصیدہ اپنے یمنی ہم منصب شرحبیل کے پاس اس پیغام کے ساتھ روانہ کیا۔

''شرحبیل'' اے سمط کے بیٹے، خواہشات نفسانی کی پیروی نہ کرو، کیوں کہ اس دنیا میں دین کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے اور حرب کے بیٹے سے کہو کہ اب تمہارا کوئی احترام نہیں ہے جس چیز کا ارادہ کیاہے اس تک پہونچ جاؤ، لہذا اس کی امید کو خاک میں ملادو۔(۲)

______________________

(۱) جریر کی عبارت یہ ہے:''فوا لله ما فی یدیک فی ذالک الا القذف بالغیب من مکان بعید، اور یه جمله اس آیت کا اقتباس ہے کہ ارشاد قدرت ہے، ''یقذفون بالغیب من مکان بعید '' (سورۂ نسائ، آیت ۵۳) وقعۂ صفین ص ۴۸۔ ۴۷۔

(۲) وقعۂ صفین ص ۴۹۔ ۴۸، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲ ص ۸۱۔ ۸۰۔


جس وقت جریرکا نصیحت آمیز خط بہترین قصیدہ کے ساتھ شرحبیل کے پاس پہونچاتو اسے ایک جھٹکا لگا اور فکر میں ڈوب گیااور کہا: یہ بات میرے لئے دنیا و آخرت میں نصیحت ہے، خدا کی قسم۔ میں اپنے ارادے میں جلد بازی سے کام نہیں لوں گا۔

جب معاویہ کو جریر اور زاہد شامی کے درمیان ہوئی گفتگو اور جریر کے پیغام کی خبر ملی تو اس نے امام کے نمائندے کی مذمت کی اور جریر کے کلام کو بے اثر کرنے کے لئے ایک گروہ معین کیا تاکہ وہ مسلسل شرحبیل سے ملاقات کرتے رہیں اور علی کے ہاتھوں عثمان کے قتل کی خبر کا اسے یقین دلاتے رہیں، اور اس سلسلے میں جھوٹی گواہی دینے سے بھی پرہیز نہ کریں، اور جھوٹے اور جعلی خطوط لکھ کر اس کے حوالے کریں۔اس ضمیر فروش گروہ نے اس قدر اسے بہکایا کہ بیدار ضمیر زاہد کو دوبارہ گمراہ کردیااور وہ سست جھوٹے گواہوں کے دھوکے میں آگیا اور اپنے ارادے کو اور مستحکم کرلیا۔(۱)

جب یمن کے دوسرے قبیلے کے سردار ،شرحبیل کے ارادے اور اس کے دھوکہ کھانے سے باخبر ہوئے تو ان لوگوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اس کے بھانجے کو اس کے پاس بھیجیں تا کہ وہ اس سے گفتگو کرکے اس مسئلے کو واضح کرے، شام میں وہ اکیلا شخص تھا جس نے امام علیہ السلام کے ہاتھوں پر بیعت کی تھی اور شام کے زاہدوں اور عابدوں میں اس کا شمار ہوتا تھا۔

اس نے معاویہ کے فر یب اور دھوکہ کا پردہ فاش کردیااور اس سے کہا کہ یہ گواہی دینے والے افراد اور یہ خطوط وغیرہ صرف ایک دھوکہ ہے اور ان میں سے کسی کا بھی حقیقت سے واسطہ نہیں ہے۔

جب شام کا عابد اس کے شعر کے مفہوم سے آگاہ ہوا تو کہا: یہ شیطان کا بھیجا ہوا ہے خدا کی قسم اسے شام سے باہر نکال دوں گا مگر یہ کہ وہ میرے بس میں نہ ہو۔(۲)

معاویہ جو اپنے نمک خواروں کے ذریعے شرحبیل کی فکر کو بدل چکا تھا جب اسے اپنے ارادے میں مستحکم پایا تو اس کے لئے یہ پیغام بھیجا:''تم نے حق بات پر لبیک کہا اس کا اجر خدا دے گاتم جانتے ہو کہ معاشرے کے تمام صالح افراد

_______________________________

(۱) وقعۂ صفین ص ۴۹، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳، ص ۸۱۔

(۲) وقعۂ صفین، ۵۰۔ ۴۹۔


نے تمہاری باتوں کو قبول کرلیا ہے لیکن اس گروہ کی رضایت و آگاہی صرف علی سے جنگ کرنے کے لئے کافی نہیں ہے بلکہ علی سے جنگ کرنے کے لئے عمومی رضایت کا ہونا ضروری ہے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ شام کے تمام شہروں میں سفر کرو اور اعلان کرو کہ عثمان کو علی نے قتل کیا ہے اور تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ قاتل سے اس کے خون کا بدلہ لیں''۔

اس نے شام کے شہروں کا سفر شروع کردیا سب سے پہلے وہ حمص گیا وہاں اس نے تقریر کرتے ہوئے کہا: اے لوگو! عثمان کو علی نے قتل کیا ہے اور جو گروہ اس واقعہ پر غضبناک ہوا اسے بھی قتل کردیا اور اس وقت علی نے تمام اسلامی ملکوں پر قبضہ کرلیا ہے اور صرف شام باقی ہے انہوں نے تلوار اٹھالی ہے اور لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار ہے ہیں اور تم تک پہونچنے والے ہیں مگر یہ کہ خدا کی طرف سے کوئی نیا واقعہ رونما ہو، اور ان سے مقابلے کے لئے معاویہ سے زیادہ کوئی طاقتور نہیں ہے اٹھو اور آمادہ ہوجاؤ۔

دھوکہ کھائے ہوئے عابد کی باتوں کا بہت زیادہ اثر ہوا، کیونکہ حمص کے علاقے میں لوگ اسے محبوب رکھتے تھے۔ اور سب نے اس کی دعوت پر لبیک کہا صرف وہاںکے زاہد و عابد اس کے بہکانے میں نہیں آئے اور سب نے اس کی مخالفت کی ، پھر شرحبیل نے شام کے دوسرے شہروں کا سفر کیااور لوگوں کو علی کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے لشکر میں شامل ہونے کی دعوت دی اور سب نے اس سے وعدہ بھی کیا۔

شرحبیل تمام شہروں کا دورہ کر کے دمشق واپس آگیا اور اپنی کامیابی پر فخر کرتا ہوا معاویہ کے پاس پہونچا اور اپنی پرانی باتیں تحکمانہ انداز میں دہرائی اور کہا: تم اگر علی اور عثمان کے قاتلوں کے ساتھ جہاد کرو ، تو ہم یا ان سے بدلہ لے لیں گے یااپنے مقصد میں قربان ہو جائیں گے ایسی صورت میں تم اپنی جگہ پر باقی رہو گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو تمہیں اس منصب سے معزول کردیں گے اور کسی دوسرے کو تمہاری جگہ پر معین کردیں گے تاکہ اس کے زیر نظر جہاد کریں، اور عثمان کے خون کا بدلہ علی سے لے لیں، یا قتل ہو جائیں۔(۱)

معاویہ زاہد فریب خوردہ کی تند و تیز باتیں سن کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔

_____________________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص ۸۳۔ ۸۲، وقعۂ صفین ص ۵۲۔ ۵۰۔


جریر کی طرف سے اتمام حجت

جریر اس واقعہ سے کہ جس کی اسے توقع نہ تھی بہت ہی ناراض ہوا، او ردوبارہ اپنے قدیمی دوست او رزاہد قبیلہ کے پاس گیا اور اسے برے نتیجوں اور بے جا ارادوں سے باخبر کیا اور کہا:

خداوند عالم نے امت اسلامی کو خونریزی کرنے سے منع کیا ہے اور اختلاف کو دور کردیا ہے اور ممکن کہ بہت ہی جلد اسلامی حکومتیں سکون و اطمینان کی زندگی بسر کریں، اور تم ان کے درمیان فساد پھیلانا چاہتے ہو، اپنی باتوں کو پوشیدہ رکھو کہیں ایسا نہ ہو کہ اچانک وہ وقت آ پہونچے کہ تم اپنی باتوں کو واپس نہ لے سکو، شرحبیل نے جواب دیا: نہیں میں ہرگز اپنی باتوں کو پوشیدہ نہیں رکھوں گا، پھر وہ وہاں سے اٹھ کر چلا گیا او رایک عمومی جگہ پر تقریر کی، لوگوں نے اس کے پہلے کے حالات کی وجہ سے اس کی باتوں کی تصدیق کردی اس وقت نمائندہ امام ـ کو بہت ناامیدی ہوئی اور اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔(۱)

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص ۸۴، وقعۂ صفین ص ۵۲۔


شام میں نمائندہ امام ـ کی شکست کی وجہ

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امام ـ کا نمائندہ جریر شام میں لوگوں سے بیعت لینے کے لئے گیاتھا اور اپنی ذمہ داری انجام دینے میں وہ ناکام ہوگیا، اس نے کوئی کام نہیں کیا بلکہ امام ـ کو معاویہ کے مصمم ارادے سے اس وقت باخبر کیا جب کچھ نہیں کیا جا سکتا تھا معاویہ نے امام ـ کے خلاف شام کے تمام لوگوں کو جنگ کے لئے آمادہ کر لیا جریر کی کوتاہی یہ تھی کہ جب سے وہ شام میں آیا تھا معاویہ کے آج کل کے بہانے دھوکے کھاتا رہا، اور شام کے معزول حاکم نے اپنے اموی شیطنت کی وجہ سے اپنا نظریہ پیش کرنے سے پرہیز کیا اور امام کے نمائندے کووامیدوناامیدی کے درمیان رکھا جریرنے اس امید میں کہ معاویہ کو بیعت کے لئے آمادہ کرلے اور اختلاف کو ختم کردے ،خاموش رہنے کو ہی بہتر جانا اورہمیشہ معاویہ کے قطعی نظریہ کے جاننے کی امید میں تھا۔

معاویہ کے لئے شروع میں اپنی قطعی رائے پیش کرنا مصلحت کے خلاف تھا۔ البتہ اس کا نظریہ اسی وقت معلوم ہوگیا تھا جب امام کا نمائندہ شام میں پہلی مرتبہ واردہوا تھا، یعنی اس کا ارادہ مرکزی حکومت کی

مخالفت، نافرمانی اورخراب کاری تھا، لیکن ان دنوں اس کو بیان کرنا سبب یہ بنتاکہ امام کانمائندہ کوفہ واپس چلاجائے۔ اور معاویہ کی مخالفت کی ساری روداد کو امام ـ سے بیان کرے جس کی وجہ سے امام ـ مخالفوں کی سرکوبی کرتے اور اپنے لشکر کو ان کے طرف روانہ کرکے فساد کو جڑ سے ختم کردیتے۔

جی ہاں، معاویہ نے امام ـ کے نمائندے کو مختلف بہانوں سے روکے رکھا تاکہ مرکزی حکومت سے جنگ کرنے کے لئے عمرو عاص کو اپنے ساتھ لے سکے اور پھر اس نے پروپیگنڈہ کرنے والوں کو شام کے تمام علاقوں میں روانہ کیا تاکہ لوگوں کے دلوں میں علی کی مخالفت کے شعلے بھڑکا دے۔ اور ان علاقوں سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خلافت و جانشینی کے لئے اپنے حق میں فائدہ اٹھائے اس نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مشہور و معروف زاہد شام شرحبیل جو کہ لوگوں کے درمیان زیادہ مقبول تھا امام کی مخالفت کرنے کے لئے اپنی طرف جذب کر لیا۔ زاہد فریب خوردہ حضرت علی ـ کے مقابلے میں جنگ کرنے کے لئے اس طرح آمادہ ہوگیاکہ اگر اس کام میں معاویہ کوتاہی کرتا تو یہ خود شام کے سادہ لوح لوگوں کو امام ـ سے مقابلے کے لئے آمادہ کرتا۔


یہ شیطانی حربے کی کامیابی معاویہ کے لئے اتنی مفید ثابت ہوئی کہ امام ـ کا نمائندہ جریر اپنی اس مامؤریت میں جواس کے ذمے تھی، معاویہ کی ظاہری چیزوں سے دھوکہ کھا گیااور امام ـ کو اس بات پر آمادہ کیاکہ امام اس فساد کے قلعہ کو نیست و نابود کردیں، اور اس وقت امام ـ کے پاس واپس آیا جب معاویہ نے اسلامی ممالک کی بہت سی اہم جگہوں پرانتقام عثمان کے نام پر امام سے مقابلہ کرنے کے لئے اپنی فوج بٹھا رکھی تھی ۔

معاویہ کا آخری حربہ

آخری لمحوں میںمعاویہ کا سب سے آخری حربہ امام ـ کا امتحان لیناتھا اوروہ یہ کہ وہ معلوم کرے کہ کیا امام اسے اس کے منصب سے واقعاً معزول کرنا چاہتے ہیں، اسی وجہ سے وہ امام کے نمائندے جریر کے گھر گیا اور کہا میرے پاس ایک نئی فکر ہے تم اپنے دوست کے پاس لکھو کہ شام کی حکومت مجھے دیدیںاور مصر سے خراج لینے کی ذمہ داری بھی مجھے سونپ دیںاو رجب ان کا انتقال ہو جائے تو کسی کی بیعت کو میرے اوپر واجب نہ کریں اس صورت میں میں ان کے سپردہو جاؤں گا اور ان کی حکومت کی تحریری طورپر تائیدکروں


گا۔(۱) نمائندہ امام نے اس کا جواب دیا کہ تم خط لکھو او رمیں اس کی تائید کروں گا بالآخر خط لکھا گیا اور قاصد دونوں خط لے کر کوفہ روانہ ہوا۔

معاویہ کے خط کی عبارت عرب کے تمام قبیلوں میں مشہور ہوگئی، معاویہ کے ہم خیال مثلاً ولید عقبہ نے ایساخط لکھنے کی وجہ سے معاویہ پر اعتراض کیا ولید نے اس کے ضمن میں معاویہ کو شعر لکھا:

سألت علیاً فیہ ما لن تنالہ و لو نلتہ لم یبق الا لیالیا۔(۲)

تم نے علی سے وہ چیز مانگی ہے جو تمہیں ہرگز نہیں مل سکتی اور اگر مل بھی گئی تو چند راتوں کے علاوہ تم اس پر مسلط نہیں رہ سکتے۔عقبہ کے بیٹے نے پہلے مصرعہ میں حقانیت سے کام لیا ہے کیونکہ امام علی ـ ہرگز باطل کے ساتھ دوستی اور معاملہ نہیں کرسکتے لیکن اس کے شعر کا دوسرا مصرعہ بالکل غلط ہے کیونکہ برفرض محال اگر مصلحةً امام ـ اس بات کو قبول کرلیتے تو ہرگز اس پر نقض نہیں کرتے، چونکہ امام ـ نے ''حکمین'' کے مسئلے میں اپنے تعہد و پیمان کو بالکل واضح و روشن کردیا تھا۔

معاویہ، علی ـ کو ولید سے زیادہ پہچانتا تھا اور اسے معلوم تھا کہ دونوں صورتوں میں اسی کا فائدہ ہے کیونکہ اگر علی ـ حکومت اس کے حوالے کردیتے تو ایک مستقل حکومت بغیر کسی مشکل کے اس کے نصیب میں آجاتی۔ اور اگر ایسا نہیں کرتے تو معاویہ اپنے مکر و فریب سے لوگوں کا خون بہاتا اور حجاز و عراق کو مستحکم کرلیتا،اس کے علاوہ امام ـ کے نمائندے کو دھوکے میں رکھنا خود معاویہ کے فائدے میں تھا، کیونکہ وہ اپنی طاقت میں اضافہ کرتا اور شام کے لوگوں کو امام ـ سے جنگ کرنے کے لئے زیادہ آمادہ کرتا۔

امام ـ کا اپنے نمائندہ کو جواب

معاویہ کا مقصد یہ ہے کہ اس پر میری بیعت نہ ہو،تا کہ جس کو بھی چاہے منتخب کرلے اور وہ چاہتا ہے کہ تمہیں ایسے ہی معطل رکھے اور شام کے لوگوں کو جنگ کے لئے آزمالے،ابتدائی ایام میں جب میں مدینہ میں تھاتو مغیرہ بن شعبہ نے مجھ سے کہا کہ میں معاویہ کو اس کے مقام پر باقی رہنے دوں،لیکن میں نے

______________________

(۱)،(۲) وقعۂ صفین ص ۵۲، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص ۸۴۔


اس بات کو قبول نہیں کیا، خدا ایسا دن نہ لائے کہ میں گمراہ لوگوں سے مدد طلب کروں، اگر اس نے بیعت کیا (تو کوئی بات نہیں ) او راگر ایسا نہ کرے تو تم میرے پاس واپس آجاؤ۔(۱)

امام ـ نے اس خط میں معاویہ کے ایک مقصد کی طرف اشارہ کیا ہے وہ یہ کہ وہ اس سیاسی چال کے ذریعے وقت گذارنا چاہتا ہے، تاکہ اس عرصے میں خط لکھنے اوراس کا جواب آنے تک اپنی فوج کو جنگ کے لئے اچھی طرح آمادہ کرلے، اور اگر امام ـ کا جواب ''نہیں '' کی صورت میں ہو (کہ ضرور ایسا ہی ہوگا) تو پوری قدرت و توانائی کے ساتھ امام ـ کے سامنے مقابلے کے لئے آجائے۔

جریر پر معاویہ سے دوستی کا الزام

سرزمین شام میں جریر کا زیادہ دن رہنا عراق کے لوگوں کے لئے تشویش کا باعث بنا اسی وجہ سے ان لوگوں نے دشمن کے ساتھ دوستی کرنے کاان پر الزام لگایا۔ جب لوگوں کی باتیں امام ـ نے سنیں تو آپ نے اس کے متعلق فرمایا: میں دوبارہ خط لکھوں گا اور اسے شام سے واپس بلالوں گا۔ اگر اس کے بعد بھی وہ شام میں رہ گیا یا دھوکہ کھا گیا یا میرے حکم کو نظر انداز کردیا اور میری مخالفت کرنے لگاتب تم کچھ کہنا اسی وجہ سے امام ـ نے جریر کو دوبارہ خط لکھا:

...''جیسے ہی میرا خط تمہارے پاس پہونچنے معاویہ کو آخری فیصلے پر آمادہ کرنااور ایک قطعی بات پر راضی کرنا اور (جب وہ آمادہ ہو جائے تو) اس سے کہناکہ دوباتوں میں سے کسی ایک کو اختیار کر لے، گھر سے بے گھر کرنے والی جنگ یا رسوا کرنے والی صلح، پس اگر وہ جنگ کو اختیار کرلے تو صلح کی بات اس کے منھ پر دے مارو، اور اگر صلح کا چناؤ کرے تو بیعت لے لو''۔(۲)

جب جریر کو امام ـ کا خط ملا تو اس نے معاویہ کے سامنے اس خط کو پڑھا اور اس سے کہا: انسان کا دل گناہوں کی وجہ سے بند ہوجاتاہے اور توبہ کرنے سے دل کھل جاتا ہے اور میری نظر میں تیرا دل بند ہے اور اس وقت تو حق و باطل کے درمیان کھڑا ہے اور اس چیز کی فکر میں ہے جو دوسرے کے ہاتھ میں ہے

______________________

(۱) وقعۂ صفین ص ۵۲۔

(۲) نہج البلاغہ مکتوب نمبر۸، وقعۂ صفین ص ۵۵، (خط میں کچھ تبدیلی کے ساتھ)


معاویہ نے اس سے کہا: میں دوسری نشست میں اپنی قطعی رائے اور کا اعلان کروں گا، اس نے اپنی قطعی رائے کا اعلان اس وقت کیا جب شام کے لوگ اس کی بیعت کرچکے تھے اور معاویہ ان لوگوں کو خوب آزما چکا تھا، پھر اس نے امام کے نمائندہ کو شام سے جانے کی اجازت دی کہ وہ امام کے پاس چلا جائے اور امام ـ کے پاس خط لکھا جسے بعض مورخین نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے:

''مہاجرین وانصار نے تمہاری اس وقت بیعت کی جب تم عثمان کے خون سے بریٔ الذمہ تھے اس وقت تمہاری خلافت پچھلے تینوں خلیفہ کی خلافت کی طرح تھی، لیکن تم نے مہاجروں کو عثمان کے قتل کرنے پر آمادہ کیا اور انصار کو اس کی مدد کرنے سے روک دیا نتیجے میں جاہلوں نے تمہاری اطاعت کی اور کمزور لوگ طاقتور ہوگئے شام کے لوگوںنے ارادہ کیا ہے کہ تمہارے ساتھ جنگ کریں، تاکہ عثمان کے قاتلوں کو ان کے حوالے کرو، اگر ایسا کیا تو خلافت کا مسئلہ مسلمانوں کی شوری میں رکھا جائے گا، اپنی جان کی قسم میری حالت طلحہ و زبیر جیسی نہیں ہے کیونکہ ان دونوں نے تمہاری بیعت کی تھی لیکن میں نے تمہاری بیعت نہیں کی ہے او راسی طرح شام کے لوگ بصرہ کے افراد کی طرح نہیں ہیں کہ ان لوگوںنے تمہارے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور تمہارے مطیع و فرمان بردار تھے، جب کہ شام کے لوگوں نے تمہاری خلافت کو قبول نہیں کیا ہے اور تمہارے مطیع و فرمان بردار نہیں ہیں، لیکن اسلام میں تمہارے افتخارات اور تمہاری رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے قرابت اور قریش کے درمیان تمہاری عظمت و رفعت کا میں انکار نہیں کرسکتا۔(۱)

یہ خط جو جھوٹ کی سیاہی سے لکھا گیا تھا معاویہ کی چالاکی و سازش تھی جس نے اپنے مفاد کے لئے اپنے رقیب پر کسی بھی طرح کی تہمت لگانے سے پرہیز نہیں کیا، لیکن امام ـ نے اپنے خطوط میں تمام حقائق سے مدد لیتے ہوئے اپنے حق کے دفاع کے لئے تمام حقیقتوں کو بیان کیا،حضرت اپنے خط میں معاویہ کو مخاطب کرتے ہوئے، اس کی لگائی ہوئی تہمت کے بارے میں لکھتے ہیں:

''میرے پاس ایسے شخص کا خط پہونچا جس کے پاس فکر نہ تھی جو اس کی ہدایت کرتی اور نہ اس کا کوئی پیشوا ہے جو اسے راہ راست پر لاتا، خواہشات نفسانی نے اسے گھیر لیا ہے اور اس نے اسے قبول کر کے اس

_______________________________

(۱) الامامة و السیاسة ج۱ ص ۹۱ کامل مبرد ج۳ ص ۱۸۴، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص ۸۸۔


کی پیروی بھی کی ہے کیا تو نے یہ فکر کیا ہے کہ عثمان کے بارے میں میرے کام نے میری بیعت کو تمہارے لئے باطل کردیا ہے اپنی جان کی قسم، میں بھی مہاجروں کا ایک فرد تھا کہ وہ جہاں بھی جاتے میں بھی ان کے ہمراہ جاتا اور خدا نے ہرگز انھیں گمراہ نہیں کیا اور ان کے آنکھوں پر پردہ نہیں ڈالا اور عثمان کے قتل کے بارے میں نہ تو میں نے کوئی حکم دیا ہے کہ میرے حکم کی غلطی مجھے مورد سوال قرار دے اور نہ میں نے اسے قتل ہی کیا ہے کہ مجھ پر قصاص واجب ہو جائے۔

اور جو تم یہ کہہ رہے ہو کہ شام کے لوگ اہل حجاز پر حاکم ہیں تو تم اہل شام میں سے کسی کو بھی دکھاؤ کہ جو شوریٰ کا ممبر ہو اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جانشینی کے لئے چنا گیاہو اگر تم ایسا تصور کرتے ہو، تو مہاجرین و انصار تمہاری باتوں کو جھٹلا دیں گے۔

اور جو تمہارا یہ کہنا ہے کہ میں عثمان کے قاتلوں کو تمہارے حوالے کروں تو تمہاری یہ بات بالکل بے جا ہے تیرا عثمان سے کیا واسطہ: تم بنی امیہ کی اولاد میں سے ہو اور عثمان کے بیٹے اس کام کے لئے تم سے زیادہ بہتر ہیں اگر تو یہ سوچ رہا ہے کہ ان کے باپ کے خون کا بدلہ لینے کے لئے ان سے زیادہ قوی اور طاقتور ہے تو، تم میری اطاعت کرو، اور اس وقت اس کے قاتلوں سے شکایت کرو میں تمام لوگوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کروں گا، لیکن تمہارا شام و بصرہ اور طلحہ و زبیر کے بارے میں فیصلہ کرنا بے اساس ہے اور سبھی ایک حکم میں شما رہوتے ہیں کیونکہ وہ ایک اجتماعی اور عمومی بیعت تھی اوراس میں کچھ سوچنے سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے اور خیا رفسخ بھی نہیں ہے لیکن تیرا یہ اصرار کرنا کہ میں نے عثمان کو قتل کیا ہے توتم نے بالکل حقیقت سے کام نہیں لیا ہے او راس کے بارے میں تجھ تک خبر نہیں پہونچی ہے، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے میری قرابت اور فضیلت او رقریش کے درمیان میرے شرف کو تم نے قبول کرلیا ہے اپنی جان کی قسم، اگر تم سے ممکن ہوتا تو تم اس کا بھی انکار کردیتے۔(۱)

اس وقت آپ نے اپنے منشی نجاشی کو حکم دیا کہ معاویہ کے خط کو جنگی اشعار کے ساتھ جواب دو اور دونوں کو معاویہ کے پاس بھیج دو۔

______________________

(۱) نہج البلاغہ کے چھٹے او رساتویں مکتوب میں اس کے مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے۔


نمائندہ امام ـ کی شام سے واپسی:

امام کے نمائندہ جریر کی تقریر، عقلمندی ، بردباری ، صبر جو ایک سیاسی نمائندہ میں ہونا چاہئے وہ اس کے اندر موجود تھا اور کسی کو بھی اس میں شک نہیں کہ اس نے بہت کوششیں کیں کہ بغیر خونریزی کے امام ـ کی نظر کو جذب کرے اور معاویہ کو مرکزی حکومت کی اطاعت کرنے پر مجبور کرے (اس کی ان کوششوں کے بارے میں بھی کسی کو شک نہیں ہے) لیکن اس سے ایک غلطی ہوئی اور وہ یہ کہ بنی امیہ کے دو سیاسی مکاروں کے آج کل کی باتوں میں پڑ کر دھوکہ کھا گیا اور معاویہ نے اس سنہرے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شام کے لوگوں کو خوب آزما لیا اور ان لوگوں کو امام ـ کے مقابلے میں جنگ کرنے کے لئے آمادہ کر لیا اور اس نے اس وقت اپنے آخری فیصلے کا اعلان کیا جب شام کے لوگوں سے عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے بیعت کرچکا تھا۔

جریر کی غلطی کا نتیجہ یہ ہوا کہ امام ـ رجب ۳۶ھ کے شروع ایام میں کوفہ آئے اور اس وقت سے کئی مہینہ تک جریر کے انتظار میں رہے تاکہ معاویہ کے قطعی نظریہ سے آگاہ کرے اور اس کے نتیجے میں معاویہ نے اس مدت میں شامیوں کو خوب مسلح کردیا اور تمام لوگوں کو امام ـ سے جنگ کرنے کے

لئے آمادہ کردیااور دشمن کی توجہ سے بے خبر ہوگیا۔ کوئی بھی ایسی قطعی و یقینی دلیل نہیں ہے جو یہ ثابت کرے کہ جریر نے خیانت کی تھی البتہ یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ان سے کوتاہی ہوئی جس نے تاریخ اسلام کا نقشہ بدل دیا اور قاسطین کی منحوس حیات کا استمرار اسی کوتاہی کا مرہون منت تھا۔ اس کی غلطی یا قصور نے تاریخ اسلام کو فائدہ پہونچایا۔ اور قاسطین کی منحوس زندگی کی بقاء ایک حد تک نمائندہ امام کی غلطیوں کی وجہ سے تھی البتہ امام ـ نے کوفہ میں قیام کے دوران بہت سے کام انجام دیئے اور حاکموں اور نمائندوں کو معزول اورنیک و صالح اور خدمت کرنے والوں کو ان کی جگہ پر منصوب کیا لہذا کوفہ میں امام کے قیام کی علت جریر کی تاخیر سے واپسی نہیں تھی،خاص طور سے اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ امام ـ نے کوفہ میں قیام کرنے کے بعد جریر کو ہمدان کی گورنری کے بجائے کوفہ کی اہم گورنری سپرد کی ۔


اس مدت میں امام ـ کی مشکلوں میں سے ایک مشکل یہ تھی کہ نوجوان اور بہادر، دشمن سے جنگ کرنے کے لئے آمادہ تھے اور آپ سے شام سے جنگ کرنے کی درخواست کر رہے تھے۔ لیکن امام ـ خونریزی نہیں چاہتے تھے بلکہ یہ چاہتے تھے کہ بغیر لڑائی کے اس واقعہ کا حل نکل جائے چنانچہ ان نوجوانوں کو جانے سے منع کردیااوران سے فرمایا:

''تم لوگ ہمارے حکم کے منتظر رہو جب کہ میرا نمائندہ جریر شام میں ہے اگر میں جنگ کا حکم دوں گا تو صلح کے دروازے شام والوں پر بند ہو جائیں گے ۔اگر ان لوگوں کی نیت صحیح ہوگی تو ان کے درمیان سے گذرے گا میں نے جریر کو خط لکھا ہے اور اسے وہاں کم رہنے کے لئے کہا اور اگر تاخیر کرے تو یا تو دھوکہ کھایا ہے یااپنے امام کی مخالفت کی ہے میں چاہتا ہوں کہ اس کام میں تھوڑا صبر کروں لیکن یہ کام اس چیز سے مانع نہیں ہے کہ لوگ دھیرے دھیرے آمادہ ہوں جب چلنے کا حکم دیا جائے تو فوراً چلنے کو تیار ہو جائیں۔(۱)

______________________

(۱) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ، ۴۲۔


جریر امام کے حضور میں

جریر بہت دنوں کے بعد ناامید امام کے پاس واپس آگئے مالک اشتر نے امام ـ کے سامنے انہیں پیش کیا اور دونوں کے درمیان تیز و تند گفتگو ہوئی جس کا خلاصہ یہاں بیان کر رہے ہیں:

مالک اشتر:اے امام: اگر اس کی جگہ پر مجھے بھیجتے تو میں کام کو صحیح طور پر انجام دیتا اس شخص نے ہر طرح کی امید کو ناامیدی میں بدل دیا، خاندان امیہ نے اس کے دین کو اسی وقت خرید لیا تھا جب وہ ہمدان کا حاکم تھا اس کو حق نہیں ہے کہ و ہ زمین پر چلے اور اب جب کہ شام سے واپس آیا ہے تو ہمیں ان کی طاقت سے خوف دلاتا ہے، اے امام اگر آپ اجازت دیں تو اس کو اور اس کے ہم خیالوں کو قید کردوں تاکہ واقعیت روشن و واضح ہو جائے اور ظالم نیست و نابود ہو جائیں۔

جریر: اے کاش میری جگہ تم گئے ہوتے تو میری طرح واپس نہیں آتے اور عمرو عاص یا ذی الکلاع اور حوشب تمہیں قتل کر ڈالتے کیونکہ وہ تمہیں عثمان کا قاتل سمجھتے ہیں۔

مالک اشتر: اگر میں جاتا تو ان کا جواب مجھے مجبور نہیں کرتا میں معاویہ کو کسی نہ کسی طرح دعوت دیتا اور اسے فکر کرنے کا بھی موقع نہیں دیتا۔

جریر: جاؤ اب بھی راستہ کھلا ہوا ہے۔


مالک اشتر: اب تو وقت ہاتھ سے نکل گیا ہے اور معاویہ نے سارا فائدہ اٹھا لیاہے۔(۱)

اس میں کوئی شک نہیں کہ مالک اشتر کی گفتگو منطقی تھی او رجریر مالک اشتر کے منطقی اعتراض کا صحیح جواب نہ دے سکا، ایک ایسے سیاسی شخص کے لئے شائستہ تھا کہ وہ اپنی غلطی کااعتراف کرتا او رعذر خواہی کرتا لیکن اس نے مالک اشتر کے اعتراض کا جواب دیا اور دھیرے دھیرے امام ـسے دور ہونے لگا اور ''فرقیسا''(۲) جو کہ فرات کے کنارے تھا وہاں رہنے لگا۔

اگر جریر اس وقت تک جرم کا مرتکب نہ ہوا ہوتا تو اس کی غلطی معافی کے قابل تھی، لیکن اس کے بعد اس کے سارے کام اصول کے خلاف تھے، کیونکہ امام ـ کی دوستی و ہمراہی کا چھوڑنا او ربہت دور زندگی بسر کرنا عملی طور پر امام ـ کی حکومت پر اعتراض تھا، اس کے علاوہ جریر کے کنار کش ہونے کی وجہ سے قبیلے کے تعصب نے اپنا کام کر دکھایا اور جریر کے قبیلے سے بہت مختصر لوگ (صرف ۱۹ آدمی) قسر سے جو بجلیہ قبیلے کے اطراف میں رہتے تھے امام ـ کے ساتھ جنگ صفین کے لئے روانہ ہوئے اگرچہ بجلیہ کے اطراف ''اخمس'' سے سات سو (۷۰۰) لوگوں نے شرکت کی۔

جریر کا عمل ایک قسم کی نافرمانی اور حکومت حقہ کے خلاف خروج تھا اور امام ـ نے اس کام کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے جریر اور اس کے ہمفکر ثویر بن عامر کے گھر کو ویران کردیا تاکہ دوسروں کے لئے درس عبرت ہو۔(۳)

_______________________________

(۱) وقعۂ صفین ص ۶۰، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ص ۱۱۵۔ ۱۱۴۔

(۲) رجعہ علاقے سے کچھ دوری پر واقع ہے اور خابور کے پاس ہے۔

(۳) وقعۂ صفین ص ۶۱۔ ۶۰۔


معاویہ کے خطوط اسلامی شخصیتوں کے نام

معاویہ نے جنگ صفین پر روانہ ہونے سے پہلے عمرو عاص سے کہا میں چاہتا ہوں تین لوگوں کو خط لکھوں او ران لوگوں کو علی کے خلاف برانگیختہ کروں وہ تین آدمی یہ ہیں عبد اللہ بن عمر، سعد بن وقاص ، محمد بن مسلمہ۔

معاویہ کے مشاورنے اس کے نظریہ کو قبول نہیں کیا اور اس سے کہا یہ تینوں افراد تین حالتوں سے

خالی نہیں ہیںیا علی کے چاہنے والے ہیںاس صورت میں تمہارا خط باعث بنے گا کہ راہ علی پر باقی رہنے میں ان لوگوں کا ارادہ ٹھوس ہو جائے یا عثمان کے چاہنے والے ہیں اس صورت میں ان کے استحکام میں اضافہ نہیں ہو گا اور اگر وہ لوگ کسی بھی طرف نہیں ہیں تو ہرگز تم ان لوگوں کی نظر میں علی سے زیادہ مورد اعتماد نہیں ہو۔ اس لئے تمہارے خط کا اثر ان لوگوں پر نہیں


پڑے گا۔(۱)

معاویہ نے اپنے مشاور کے نظریہ کو قبول نہیں کیا اور اپنی اور عمرو عاص کی دستخط کے ساتھ ایک خط عبد اللہ ابن عمر کو لکھا جس کی عبارت یہ تھی:

''حقائق اگر ہم پر پوشیدہ ہوں تو تم پر پوشیدہ نہیں ہیں، عثمان کو علی نے قتل کیا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ ان کے قاتلوں کو امان دی ہے ،ہم عثمان کے خون کا بدلہ لینا چاہتے ہیں تاکہ حکم قرآن کے مطابق انہیں قتل کریں اور اگر علی عثمان کے قاتلوں کو ہمارے حوالے کردیں تو ہم ان سے کوئی مطالبہ نہیں کریں گے اور اس وقت خلافت کے مسئلہ کو عمر بن خطاب کی طرح مسلمانوں کے درمیان شوری میں پیش کریں گے ہم ہرگز نہ خلافت کے طلبگار تھے او رنہ ہیں تم سے بس گذارش یہ ہے کہ قیام کرو او رہماری اس راہ میں مدد کرو، اگر ہم اور تم آپس میں متحد ہوگئے تو علی مرعوب ہو جائیں گے اور پھر اپنے ارادے سے پیچھے ہٹ جائیں گے۔(۲)

عبد اللہ بن عمر کا جواب

اپنی جان کی قسم، تم دونوںنے اپنی بصیرت اور حقیقت شناسی کو اپنے ہاتھوں سے کھودیا ہے اور حوادث کو فقط دور سے دیکھ رہے ہو اور تمہارے خط نے شک کرنے والوں کے شک و تردید میں اضافہ کردیا ہے تم لوگوںکا خلافت سے کیا ربط؟ معاویہ تم طلیق و آزاد شدہ ہو او رعمرو تم ایک متہم شخص او رغیر قابل اعتماد ہو، اس کام سے باز آجاؤ میں تمہاری مدد نہیں کر سکتا۔(۳)

عبد اللہ بن عمر نے جو خط معاویہ کو لکھا اس نے عمرو عاص کی مردم شناسی اور دور اندیشی کو ثابت کردیااور یہ بھی واضح کردیا کہ معاویہ اپنے قدیمی حریف کے کاموں تک نہیں پہونچ سکا ہے اور اگر بعض سیاسی مسئلوں میں برتری رکھتا ہے(مثلاً کشادہ دلی کے ساتھ مخالف کی بات سنتااو راگر اس کے سامنے آتا تو گذشتہ کونظر انداز کردیتا، اور اگر گفتگو ایک طرف ہو جاتی تو فوراً گفتگو کا عنوان بدل دیتا اور بحث کے اصل موضوع کو دوسرے انداز سے شروع کرتا) اس کے باوجود ابھی پورا مردم شناس نہیں ہورہے۔

_______________________________

(۱) الامامة و السیاسة ج۱ ص ۸۹۔ ۸۸۔----(۲) وقعۂ صفین، ص ۶۳، ابن قتیبہ کے نظریہ کے مطابق اس خط کو معاویہ نے اہل مکہ او رمدینہ کے لئے لکھاتھا ۔ الامامة و السیاسة ص ۸۹۔----(۳)وقعة صفین ص۶۳،لیکن ابن قتیبہ نے معاویہ کے جواب میں ایک دوسرے خط کا ذکر کیا ہے،الامامة والسیاسةص۹۰۔۸۹


معاویہ کے خط لکھنے کا مقصد

معاویہ کا مختلف لوگوں کو خط لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ بعض شخصیتوں کو متوجہ کرے جو نہ موافقوں کی صف میں تھے نہ ہی مخالفوں کی صف میں ۔ یہ لوگ مکہ و مدینہ میںلائق احترام اور با اثر شخصیت کے حامل تھے اور ان کی نظر جذب کرنے کی وجہ سے دو شہروں میں مخالفت ایجاد کرنا تھا جو شوریٰ کے مرکزی افراد اور خلیفہ انتخاب کرنے میں ایک اہمیت رکھتے تھے۔

لیکن یہ لوگ ان لوگوں سے زیادہ عقلمند تھے جن لوگوں نے معاویہ سے دھوکہ کھایا اور اس کے ساتھ رہے لہٰذا دوسروں نے بھی، یعنی سعد وقاص اور محمد بن مسلمہ نے بھی عبد اللہ بن عمر کی طرح جواب دیا۔(۱)

نصر بن مزاحم نے کتاب ''وقعہ صفین'' میں معاویہ کا ایک دوسراخط نقل کیا ہے جواس نے عبد اللہ بن عمر کے نام لکھا تھا اور اس پر امام ـ کی مخالفت کرنے کا الزام لگایا ہے اور اس طرح چاہا کہ مخالفت کا بیج اس کے دل میں بودے اور پھر لکھتا ہے کہ میں خلافت کواپنے لئے نہیں چاہتا بلکہ تمہارے لئے چاہتا ہوں اوراگر تم نے بھی قبول نہیں کیا تو ضروری ہے کہ مسئلہ خلافت کو مسلمانوں کی شوریٰ میں بیان کیا جائے ۔

عبد اللہ بن عمر اگر چہ سادگی میں بہت مشہور تھا اس نے معاویہ کا خط پڑھ کر اس کو جواب دیاکہ تم نے لکھاہے کہ میں نے علی کی نکتہ چینی کی ہے اپنی جان کی قسم میں کہاں او رعلی کاسابقہ ایمان، ان کی ہجرت ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک ان کی و رفعت ومنزلت اور مشرکوں کے مقابلے میں ان کی مقاومت کہاں؟ اگر میں نے ان کی موافقت نہیں کی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ اس حادثہ میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے کوئی حدیث نہیں

______________________

(۱) معاویہ کے اصل خط کو جو اس نے سعد بن ابی وقاص اور محمد بن مسلمہ انصاری کے نام لکھا تھا اور ان کے جواب کو ابن قتیبہ نے الامامة و السیاسة ص ۹۱۔ ۹۰۔ پر لکھا ہے۔


آئی تھی لہذا ہم نے دونوں میں سے کسی کی طرف بھی رغبت کرنے سے پرہیز کیا۔(۱)

معاویہ کا خط سعد بن وقاص کے نام

معاویہ نے فاتح سرزمین ایران سعد وقاص کو خط لکھا:

عثمان کی مدد کے لئے بہترین لوگ قریش کی شوریٰ تھی، ان لوگوں نے اسے چنا اور دوسروں پر مقدم کیا، طلحہ و زبیر نے اس کی مدد کرنے میں جلدی کی اور وہ لوگ تمہاری شوری کے ہمراہی اور اسلام میں بھی تمہاری ہی طرح تھے ام المومنین (عائشہ) بھی اس کی مدد کے لئے گئیں تمہارے لئے بہتر نہیں ہے کہ ان لوگوں نے جس چیز کو پسند کیا ہے تم اسے ناپسند کرو اور جس چیز کو ان لوگوں نے اختیار کیا ہے تم اسے چھوڑ دو، ہمیں چاہیئے کہ ہم خلافت کو شوریٰ کے حوالے کردیں۔(۲)

سعد وقاص کا جواب

عمر بن خطاب نے ایسے افراد کو شوریٰ میں شامل کیا جن کے لئے خلافت جائز تھی، ہم سے زیادہ کوئی بھی خلافت کے لئے بہتر نہ تھا، مگر یہ کہ ہم اس کی خلافت پر راضی رہیں اگر ہم بافضیلت ہیں تو علی بھی اہل فضل میں سے ہیںجب کہ علی کے فضائل بہت زیادہ ہیں اور ہمارے فضائل اتنے نہیں ہیں اور اگر طلحہ و زبیر اپنے گھر میں خاموشی سے بیٹھتے تو بہتر تھا، خداوند عالم ام المومنین کو جوانھوں نے کام کیاہے معاف کردے۔(۳)

معاویہ نے کوشش کی تھی کہ شوریٰ کے تمام اراکین سے زیادہ خلیفۂ سوم کی فضیلت کو ثابت کرے، لیکن سعد وقاص نے اسے قبول نہیں کیا اور اس کی حاکمیت او رسب سے آگے بڑھنے کو شوریٰ کے اراکین کی رائے سے توجیہ کیا اور اسی کے ساتھ طلحہ و زبیر پر اعتراض بھی کیا۔

______________________

(۱) وقعۂ صفین ص ۷۳۔ ۷۲۔

(۲) الامامة و السیاسة، ج۱ ص ۹۰ وقعۂ صفین، ص ۷۴۔

(۲) الامامة والسیاسة ج۱ ص ۹۰، وقعۂ صفین ص ۷۷۔ ۷۵۔


معاویہ کا خط محمد بن مسلمہ کے نام

معاویہ نے اس خط میں اسے انصار کے فارس(بہادر) سے تعبیر کیاہے او رخط کے آخر میں لکھتا ہے:

انصار جو تمہاری قوم ہے اس نے خدا کی نافرمانی کی ہے اور عثمان کو ذلیل کیاہے اور خدا تم سے اور ان لوگوں سے قیامت کے دن سوال کرے گا۔(۱)

مسلمہ کے بیٹے نے ایک مقدمہ کے بعد جواب دیا:

تم دنیا کے علاوہ کسی چیز کو نہیں چاہتے اور خواہشات نفسانی کے علاوہ کسی چیز کی پیروی نہیں کرتے، عثمان کی موت کے بعد اس کا دفاع کر رہے ہو لیکن اس کی زندگی میں اسے ذلیل و خوار کیا اور اس کی مدد نہیں کی۔(۲)

______________________

(۱) الامامة والسیاسة ج۱ ص ۹۰، وقعۂ صفین ص ۷۷۔ ۷۵۔

(۲)الامامة والسیاسةج۱ص۹۰،وقعة صفین ص۷۷۔۷۵


(۲) معاویہ کے خط کا مفہوم اور اس کا مقصد

معاویہ کے خط کا مفہوم مکمل طور سے اشتعال انگیز تھا اور معاویہ کی یہ کوشش تھی کہ لوگوں کو امام ـ کی مخالفت کے لئے برانگیختہ کردے، مثلاً عمر کے بیٹے کو خلافت پر قبضہ کرنے کے لئے بلایا کیونکہ وہ شوریٰ کا ناظر تھا، سعد وقاص چونکہ چھ نفری شوریٰ کا ممبر اور طلحہ و زبیر کے مثل تھا لہذا شوریٰ میں اس کے ممبر ہونے کا تذکرہ کیااور اسے طلحہ و زبیر کے راستے پر چلنے کی دعوت دی او رمحمد بن مسلمہ کو انصار کا شہسوار اور مہاجروں کو منظم کرنے والا قرار دیا او ر یاد دلایاکہ ان لوگوںنے عثمان کی مدد نہیں کی لہذا اس کا جبران کرنے کے لئے فوراً اٹھ جائیں اور اس کی مدد کریں۔

ان تمام خطوط سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ معاویہ کا مقصد صرف اسلامی معاشرہ کودرہم برہم کر کے علی ـ کا مخالف بنانے کے علاوہ کچھ نہ تھا اور بنا بر فرض محال اگروہ عثمان کا ولی دم تھا تو یہ بات کوئی عقلمند انسان قبول نہیں کرے گا کہ ایک انسان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے تمام مسلمانوں کی جان جوکھم میں ڈال دے ۔

معاویہ کا اصرار تھا کہ خلیفہ کا انتخاب شوریٰ کے ذریعے ہو اور عمر کی شوریٰ کی تعداد چھ آدمیوں سے زیادہ نہ تھی، اگر شوریٰ کا انتخاب تکلیف دہ تھا تو مہاجرین وانصار کا متحد ہونا بدرجہ اولی الزام آور تھا سب لوگ اس سے باخبر ہیں کہ امام ـ مہاجرین و انصار کے ذریعے اس مقام پر منتخب ہوئے ہیں آپ اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ لوگ جوق درجوق آپ کے پاس آئے اور بہت زیادہ اصرار کر کے آپ کو مسجد میں لے گئے اور پھر آپ کے ہاتھوں پر بیعت کی، اور چند لوگوں کے علاوہ کسی نے بھی آپ کی بیعت کی مخالفت نہیں کی۔


اس کے علاوہ اگر مہاجرین و انصار نے عثمان کی مدد نہیں کی تو خود معاویہ نے بھی تو اس کی مدد نہیں کی جب کہ عثمان کے گھر کا محاصرہ بہت دنوں تک تھا اور وہ اس سے آگاہ بھی تھا اور وہ اپنی فوج کے ساتھ خلیفہ کی مدد کے لئے جاسکتا تھا، لیکن ہرگز اس نے ایسا نہیں کیا اور اس کے خون کو بہتا ہوا دیکھتا رہا۔

اس کے علاوہ خود عثمان نے شام کے لوگوں او روہاں کے حاکم معاویہ کے پاس خط لکھا اور ان سے مدد مانگی تھی یہاں تک کہ اپنے خط کے آخر میں یہ بھی لکھا تھا:

''فیاغوثاه و لا امیرُ علیکم دونی ، فالعجل العجل یا معاویة وادرک ثم ادرک و ما اراک تدرک'' (۱)

ان تمام چیزوں کے باوجود معاویہ نے ان خطوط کو نظر انداز کردیا اور اپنے خلیفہ کی بالکل بھی حمایت نہیں کی لیکن اس کی موت کے بعد اس کے خون کا بدلہ لینے کی فکر ہوگئی۔

مؤرخین نے عثمان کے دو طرح کے محاصروں کو لکھا ہے اور پہلے محاصرہ اوردوسرے محاصرے کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ تھا، بعض نے محاصرہ کی مدت ۴۹ دن بعض نے ۷۰ دن اور بعض نے ۴۰ دن اور بعض نے ۱ مہینے سے زیادہ لکھا ہے اس لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ عثمان کے محاصرے کی خبر معاویہ نے نہ سنی ہو، اور وہ پورے واقعہ سے بے خبر ہو۔

_______________________________

(۱) الامامة و السیاسة ص ۳۸۔


شام کا خطیب

ہر زمانے اورہر جگہ پر ایسے افراد موجود ہوتے ہیں کہ اپنا کھانا روزانہ کی قیمت سے کھاتے ہیں اور چاپلوسی اور جھوٹی تعریف کرنے والے صاحبان قدرت و ثروت کی خوشامد اور اور ان کیتعریفیں کیا کرتے ہیں اور حق کو ناحق، اور باطل کو حق دکھاتے ہیں لیکن تاریخ میں ایسے بھی افراد موجود ہیں جو حق و حقیقت کا کسی بھی چیز سے معاملہ نہیں کرتے اور ان کی زبانوں پر کلمہ حق کے علاوہ کچھ جاری نہیں ہوتا۔

قبیلہ ''طی'' کے لوگ جو مدینہ او رشام کے دو پہاڑوں کے درمیان زندگی بسر کر رہے تھے وہ سب کے سب خصوصاً عدی بن حاتم، علی ـ کے عاشق تھے۔ عدی امام ـ کی خدمت میں آئے اور کہا ہمارے قبیلہ کا ایک شخص ''خفاف'' اپنے چچازاد بھائی ''حابس'' کی ملاقات کے لئے شام جانے والاہے، خفاف بہترین خطیب و مقرر اور عمدہ شاعر ہے اگر آپ کی اجازت ہوتوہم اس سے کہیں کہ معاویہ سے ملاقات کرے اور مدینیاور عراق میں اپ کی جو شان و شوکت ہے اسے بیان کرکے، معاویہ او رشامیوں کا حوصلہ پست کرے، امام ـ نے عدی کی درخواست کو قبول کیا، خفاف شام کی طرف روانہ ہوا، اور اپنے چچازاد بھائی حابس کے پاس گیا اور اس سے کہا میں عثمان کے قتل کے وقت مدینہ میں موجود تھا پھر حضرت علی ـ کے ساتھ مدینہ سے کوفہ آیا ہوں اور تمام حالات سے باخبر ہوں دونوں چچازاد بھائیوں نے طے کیا کہ دوسرے دن معاویہ کے پاس جائیں او راسے تمام واقعات سے آگاہ کریں ، دوسرے دن دونوں بھائی معاویہ کے پاس گئے حابس نے اپنے بھائی کا تعارف کرایا اور کہا کہ وہ حادثہ ''یوم الدار'' اور عثمان کے قتل کے دن موجود تھا اور علی کے ساتھ کوفہ آیا ہے او راپنی بات میں مکمل یقین و اعتماد رکھتا ہے معاویہ نے خفاف سے کہا، عثمان کے واقعات سے مجھے آگاہ کرو، خفاف نے مختصر طور پر عثمان کے قتل کے واقعات کو اس طرح بیان کیا:

''مکشوح نے اس کا محاصرہ کیا اور حکیم نے حملہ کرنے کا حکم دیا، محمد بن ابوبکر او رعمار قتل کرنے میں شریک تھے اور تین آدمی عدی بن حاتم، مالک اشتر نخعی اور عمرو بن الحمق اس کارنامے میں بہت فعال تھے اسی طرح سے طلحہ و زبیر قتل کرنے میں بہت زیادہ کوشش کر رہے تھے، اور اس گروہ سے سب سے جدا رہنے والے علی ـ تھے جو عثمان کے قتل میںکسی طرح بھی شریک نہیں تھے۔


معاویہ نے کہا: پھر اس کے بعد کیا ہوا؟

خفاف نے کہا: لوگ عثمان کے قتل کے بعد جب کہ ابھی اس کا جنازہ ایسے ہی زمین پر پڑا تھا پروانے کی طرح علی کے پاس اس طرح جمع ہوئے کہ جوتے گم ہوگئے اور ردائیں کاندھوں سے گر گئیں، بوڑھے لوگ مجمع میں دب گئے اور سب نے رہبر اور پیشوا کی حیثیت سے علی ـ کی بیعت کی، اور جب طلحہ و زبیر نے اپنی بیعت کو توڑ دیا تو امام ـ سفر کرنے کے لئے آمادہ ہوئے اور مہاجرین وانصار بہت تیزی کے ساتھ آپ کے ہمراہ چلنے کے لئے تیار ہوگئے، اس سفرسے تین لوگ، سعد بن مالک، عبد اللہ بن عمر، محمد بن مسلمہ بہت ناراض ہوئے اور تینوں افراد نے گوشہ نشینی اختیار کرلی، لیکن علی (علیہ السلام) پہلے گروہ کی وجہ سے ان تینوں سے بے نیاز ہوگئے امام ـ کا کاروان سرزمین ''طی'' پہونچااور میرے قبیلہ سے کچھ لوگ امام کے لشکر سے ملحق ہوئے، اور ابھی بصرہ کا آدھا ہی راستہ طے کیا تھا کہ طلحہ و زبیر کے بصرہ جانے کی خبر ملی، ایک گروہ کو کوفہ روانہ کیا اور ان لوگوں نے بھی ان کی دعوت کو قبول کیا او ربصرہ کی طرف روانہ ہوگئے، بصرہ پر حملہ ہوا اور شہر پر ان کا قبضہ ہوگیا پھر کوفہ کی فکر کی، اس شہر میں شور و غل مچ گیا، بچے محل کی طرف دوڑے او ربوڑھے او رنوجوان خوشی خوشی ان کی طرف دوڑ پڑے اس وقت وہ کوفہ میں ہیں اور شام پر قبضہ کرنے کے علاوہ کوئی اور فکر نہیں کر رہے ہیں، جب خفاف کی گفتگو ختم ہوئی تو معاویہ خوف کے مارے تھرتھر کانپنے لگا۔

اس وقت حابس نے معاویہ سے کہا: میرا چچازاد بھائی خفاف بہت اچھا شاعر ہے میری جب اس سے ملاقات ہوئی تھی تو اس نے بہت اچھا شعر پڑھا تھا اورعثمان کے متعلق میری نظر کو بدل ڈالا اور علی کی خوب تعریف کی، معاویہ نے کہا کہ وہ شعر جو تم نے اس کے لئے کہا تھا مجھے سناؤ اس نے وہ اشعار پڑھا، خفاف کا شعر سن کر معاویہ نے سخت لہجہ میں حابس سے کہا: میرے خیال سے یہ شخص علی کاجاسوس ہے جتنی جلدی ممکن ہو اس کو شام سے باہر کردو، لیکن معاویہ نے اسے دوبارہ اپنے پاس بلایا اور کہا: مجھے لوگوں کے کام وغیرہ سے آگاہ کرو، اس نے پھر وہی باتیں دہرائیں ، معاویہ ا س کی عاقلانہ باتیں سن کر حیرت میں ڈوب گیا۔(۱)

_______________________________

(۱) وقعۂ صفین ص ۶۶۔ ۶۴، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص ۱۱۲۔ ۱۱۰۔


صحابہ کے بیٹوں کا سہارا

ابو سفیان کا بیٹااس اما م سے مقابلہ کرنے کی کوشش میں تھا جس کا سبقت ایمان اور مشرکین کے ساتھ جہاد کرنا روشن وواضح تھا لہذا اس نے بعض صحابیوں اور ان کے بیٹوں کو اپنی طرف جذب کرکے اپنی شخصیت بنانی چاہی جب عبیداللہ ابن عمر حضرت علی کی حکومت سے بھاگ کر شام گیاکیونکہ حضرت ھرمزان کے قتل کی بنا پر اس سے قصاص چاہ رہے تھے اور معاویہ کو یہ خبر ملی تو وہ(۱) خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا لہٰذا اپنے مشاور اور عقل (عمروعاص) سے رابطہ کیا اور عبیداللہ کی آمد پر اسے مبارک باد دی اور اسے ملک شام کے اور اپنے پاس رہنے کا وسیلہ سمجھا(۲) پھر دونوں نے ارادہ کیا کہ اس سے درخواست کریں کہ لوگوں کے مجمع میں منبر پر جا کر علی کو برا بھلا کہے، جب عبیداللہ معاویہ کے پاس آیا تو معاویہ نے اس سے کہا اے میرے بھتیجے ،تمہارے باپ کا نام (عمر بن الخطاب) تمہارے اوپر لگا ہواہے خواب غفلت سے بیدار ہوجاؤ اور مکمل آمادگی کے ساتھ گفتگو کرو، کیونکہ تم لوگوں کے درمیان قابل اعتماد ہو، منبر پر جاؤ علی کو برا بھلا کہو، گالی دو اور گواہی دو کہ عثمان کو علی نے قتل کیا ہے۔

زمام حکومت ایسے فتنہ پرور لوگوں کے ہاتھوں میں تھی جنہوںنے خلفاء کے بیٹوں کو برے اور بیہودہ کاموں کی ترغیب کرتے تھے تاکہ اس کے ذریعہ امام علیہ السلام کی عظمت کو گھٹادیں ،لیکن امام علیہ السلام کی رفعت وعظمت اتنی بلند تھی جس کا دشمن بھی منکر نہیں ہوسکتا ۔ عبیداللہ جوامام علیہ السلام کی عدالت کی وجہ سے بھاگ گیا تھا اس نے معاویہ سے کہا ، میں علی کو گالی نہیں دے سکتا اور ناسزا نہیں کہہ سکتا کیونکہ وہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم کے بیٹے ہیں ان کے نسب کے بارے میں میں کیا کہوں؟ ان کی جسمانی اور روحاحی طاقت کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتاہے کہ وہ پچھاڑ دینے والے بہادر ہیں، میں عثمان کے قتل کا الزام ہی صرف ان کی گردن پر ڈال سکتاہوں ۔

عمرو عاص اپنی جگہ سے اٹھا اور کہا:

خدا کی قسم، اس وقت زخم نمایاں ہوں گے(بھیجے باہر نکلیں گے) جب عبیداللہ وہاں سے چلا گیا تو

_______________________________

(۱) تاریخ طبری ج۳،جز۵ ص ۴۲،۴۱۔ کامل ابن اثیر ج ۳ص ۴۰

(۲) الامامة والسیاسة ج۱ ص ۹۲


معاویہ نے عمر وعاص سے کہا ،اگر وہ ہرمزان کو قتل نہ کرتا اور علی کے قصاص سے نہ ڈرتا تو ہماری طرف کبھی بھی نہ آتا کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اس نے علی کی کیسی تعریف کی؟

جی ہاں، عبیداللہ نے تقریر کی اور جب بات علی علیہ السلام تک پہونچی تو اس نے اپنی بات روک دی اور ان کے بارے میں کچھ نہ کہا اور منبر سے اتر گیا۔

معاویہ نے اس کے پاس پیغام بھیجا اورکہا: اے میرے بھتیجے ، علی کے بارے میں تمھاری خاموشی دو علتوں کی بناء پر تھی ناتوانی کی وجہ سے یا خیانت کی وجہ سے۔

اس نے معاویہ کو جواب دیا :میں نہیں چاہتا کہ ایسے شخص کے بارے میں گواہی دوں جو عثمان کے قتل میں شامل نہ تھا اور اگر میں گواہی دیتا تو لوگ ضرور قبول کرلیتے ،معاویہ اس کا جواب سن کر ناراض ہوا اور اسے نکال دیا اور اس کو کوئی مقام ومنصب نہیں دیا۔

عبیداللہ نے اپنے شعر میں کچھ ترمیم کرکے اس طرح بیان کیا کہ ،اگرچہ علی عثمان کے قتل میں شامل نہ تھے لیکن ان کے قاتلوں نے علی کے پاس پناہ لی اور انہوں نے نہ ان کے کام کو برا کہا اور نہ

ہی کہااور میں عثمان کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے توبہ کرلی تھی اور بعد میں قتل ہوئے۔(۱) عمرکے بیٹے کا معاویہ کے ساتھ اتنا ہی محبت سے پیش آنا کافی تھا اور اسی محبت کی وجہ سے اس کا دل جیت لیا اور اسے اپنے مقربین میں شامل کر لیا۔

_______________________________

(۱) واقعہ صفین : ص ۸۴،۸۲


قاتلان عثمان کے کو سپرد کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا

معاویہ نے امام علیہ السلام کے خلاف جو لشکر جمع کیا اس کے لئے سب سے بڑا بہانہ یہ تھا کہ امام علیہ السلام عثمان کے قاتلوں کی حمایت کررہے ہیں۔

عثمان کے قتل کی علتیں تفصیل کے ساتھ بیان ہو چکی ہیں یہاں پر جس چیز کا تذکرہ کرنا ہے وہ یہ ہے کہ ہجوم کرنے والوں کی معاشرے میں شخصیت ایسی تھی کہ خود علی علیہ السلام ان لوگوں کو معاویہ کے حوالے نہیں کرسکتے تھے، یہ بات درست ہے کہ کچھ لوگوں نے عثمان کے گھر کا محاصرہ کیا تھااور کچھ نے انہیں قتل کیا

تھا لیکن خلفاء کے اموی والیوں کے ظلم وستم کی وجہ سے لوگوں کی نظر میں یہ گروہ اتنی اہمیت کا حمل ہوگیا تھا کہ ان کا معاویہ کے حوالے کرنا بہت بڑی مشکل کو دعوت دینا تھا، اس سلسلے میں ذیل کے واقعے پر توجہ فرمائیں۔

علی کے ساتھ جنگ کرنا آسان کام نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ یمن کا زاہد ابو مسلم خولانی جوکہ شام میں سکونت پذیر تھا، کو جب یہ خبر ملی کہ معاویہ علی کے ساتھ جنگ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو قاریوں کے گروہ کے ساتھ معاویہ کے پاس گیا اوراس سے پوچھا ،کیوں علی کے ساتھ جنگ کرنا چاہتے ہو جب کہ کسی بھی زاویہ سے تو ان کے برابر نہیں ہوسکتا؟ نہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ان کی جیسی مصاحبت تجھے نصیب ہے نہ تمہارے پاس سابقہ اسلام ہے، اور نہ ہی ہجرت اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خویشاوندی تمہیں حاصل ہے ، معاویہ نے ان لوگوں کے جواب میں کہامیں ہرگزاس بات کا دعویٰ نہیں کرتا کہ علی کی طرح میرے فضائل ہیں، لیکن میں تم سے پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ عثمان کا قتل بے گناہ ہوا ہے؟ ان لوگوں نے جواب دیا ہاں، پھر اس نے کہا علی عثمان کے قاتلوں کو میرے حوالے کردیں تاکہ میں ان سے عثمان کے خون کا بدلہ لوں ۔ ایسی صورت میں ہم ان سے جنگ نہیں کریں گے۔


ابو مسلم اور اس کے ہمفکروں نے معاویہ سے درخواست کی کہ علی کے نام خط لکھے، معاویہ نے اس سلسلے میں خط لکھا اور ابومسلم کو دیا تاکہ وہ امام تک پہونچا دے ( ہم معاویہ کا خط اور امام علیہ السلام کا جواب بعد میں ذکر کریں گے)۔

ابو مسلم کوفہ میں داخل ہوا اور معاویہ کا خط علی علیہ السلام کے سپردکرکے کہا:

آپ نے ایسا کام اپنے ذمہ لیا ہے کہ خدا کی قسم مجھے ہرگز پسند نہیں کہ وہ آپ کے علاوہ کسی دوسرے کے ذمہ ہو لیکن عثمان جو ایک محترم مسلمان تھے بے گناہ مظلومیت کے ساتھ مارے گئے ان کے قاتلوں کو ہمارے حوالے کردیں آپ میرے پیشوا وحاکم ہیں اگر آپ کی کوئی مخالفت کرے گا تو ہمارے ہاتھ آپ کی مدد کریں گے اور ہماری زبانیں آپ کے لئے گواہی دیں گی اور اس صورت میں آپ پر کوئی ذمہ داری نہ ہوگی۔

امام نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا صرف یہ فرمایا،کہ کل آنا اور اپنے خط کا جواب لے لینا دوسرے دن ابومسلم اپنے خط کا جواب لینے امام علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا تو دیکھا کہ بہت بڑا مجمع مسجد کو فہ میں ہے اور سب کے سب اسلحوں سے مسلح ہیں اور یہ نعرہ لگارہے ہیں ، ہم عثمان کے قاتل ہیں ابومسلم نے یہ منظر دیکھا اور امام علیہ السلام کی خدمت میں جواب کے لئے گیا اور امام سے کہا

میں نے ان لوگوں کو دیکھا کیا یہ آپ کے ساتھ رابطہ رکھتے ہیں ؟ امام نے کہا : تم نے کیا دیکھا؟ ابومسلم نے کہا: ایک گروہ تک یہ خبر پہونچی ہے کہ آپ عثمان کے قاتلوں کو ہمارے حوالے کرنا چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ سب جمع ہوگئے ہیں اور مسلح ہوگئے ہیں اور نعرہ لگارہے ہیں کہ سب کے سب عثمان کے قتل میں شریک ہیں، علی علیہ ا لسلام نے فرمایا:


خدا کی قسم ! میں نے ایک لمحے کے لئے بھی یہ ارادہ نہیں کیا کہ ان لوگوں کوتمہارے حوالے کروں ،میں نے اس سلسلے میں بہت زیادہ تحقیق کی ہے اوراس نتیجے پر پہنچا کہ یہ صحیح نہیں ہے کہ ان لوگوں کو تمہارے یا تمہارے علاوہ کسی کے حوالے کروں۔(۱)

یہ واقعہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ اس زمانے میں عثمان کے قاتلین اہم حیثیت کے مالک تھے اور ان لوگوں کو کسی کے حوالے کرنا ایک عظیم خونی جنگ کو دعوت دینے کے برابر تھا۔

لوگوں کا یہ اجتماع ایک فطری امر تھا ورنہ امام علیہ السلام ابو مسلم خولانی کے سوال کا جواب دینے میں لاعلمی کا اظہا ر نہیں کرتے ، یہ ابومسلم کی سادگی تھی کہ اس نے بھرے مجمع میں اپنے آنے کا سبب بیان کردیا اور یہ خبر دھیرے دھیرے سب تک پہونچ گئی جس کی وجہ سے انقلابی لوگ جو خلیفہ سوم کے حاکموں کے ظلم وستم سے تنگ آگئے تھے اسی وجہ سے انہیں قتل کیا تھا، آپس میں متحد ہوگئے ،اور اگر امام علیہ السلام نے کہا کہ ہم نے اس مسئلے کی تحقیق کی ہے کہ کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ہے کہ ان لوگوں کو شامیوں یا کسی اور کے حوالے کریں تو وہ اسی وجہ سے تھا کہ ان میں سے کسی ایک کے بارے میں فیصلہ کرنا تمام لوگوں کے اندر اشتعال کا باعث بن جاتا ۔

اس کے علاوہ قصاص (خون کا بدلہ ) کی درخواست کرنا مرنے والے کے ولی کا حق ہوتاہے اور وہ عثمان کے بیٹے تھے نہ کہ معاویہ ،جو اس کا بہت دور کا رشتہ دار تھا اس نے عثمان کے قتل کو حکومت تک پہنچنے کا ایک بہانہ بنایا تھا۔

_______________________________

(۱) وقعہ صفین ص۸۵،۸۶، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۵اص ۷۵،۷۴


چودہویں فصل

جنگ صفین کے لئے امام کی فوج کی آمادگی

نخلیہ میں امام کی فوج کی پیش قدمی

ابو سفیان کے بیٹے کی وقت برباد کرنے والی سیاست کا خاتمہ ہوا اور خط اور عظیم شخصیتوں کو روانہ کرکے وہ جس مقصدکو حاصل کرنا چاہتاتھا حاصل کرلیا، اس عرصے میں اس نے اپنی فوج کو خوب مضبوط کرلیااور اپنے جاسوسوں کو چاروں طرف روانہ کردیاتاکہ امام علیہ السلام کے بعض حاکموں کو دھوکہ دیں اور آپ کی فوج کے اندر پھوٹ ڈال دیں ۔امام علیہ السلام ۲۵ ذی الحجہ ۳۵ہجری کو رسول خدا (ص)کی طرف سے منصوص خلافت کے علاوہ ظاہری خلافت پر بھی فائز ہوئے(۱) اور تمام مہاجرین و انصار نے آپ کے ہاتھ پر بعنوان خلیفہ مسلمین بیعت کی، آپ نے اپنی حکومت کے ابتدائی دنوں میں ہی سبرہ جہمی نامی قاصد کے ہمراہ معاویہ کو خط بھیجا کہ وہ مرکزی حکومت کی اطاعت کرے لیکن اس نے سوائے خود خواہی،خود غرضی،ڈرانے دھمکانے، رعب و دبدبہ، خطوط کے روانہ کرنے اور تہمت لگانے اور قاصد کو بھیجنے اور حضرت علی علیہ السلام کو معطل کرنے کے کچھ نہیں کیا اب وہ وقت آچکا تھا کہ امام علیہ السلام ابو مسلم خولانی کے توسط سے آئے ہوئے خط کا جواب دے کر جنگ کریں اوراس شجرۂ خبیثہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں، اسی وجہ سے آپ نے شوال ۳۶ء کے اوائل میں فوج روانہ کرنے کا ارادہ کیااور اس کے پہلے مہاجرین وانصار کو بلایا اور اس آیت کے حکم کے مطابق'' وشاورھم فی الأمر' ' ان کے بزرگوں سے جو آپ کے ساتھ مدینہ سے آئے تھے اور آپ کے ہمراہ تھے اس طرح فرمایا :

''انکم میامین الرّأی، مراجیح الحلم، مقاویل بالحق، مبارکو الفعل والأمرِ، وقدأردنا المسیر اِلیٰ عَدوِّنا وَعدوِّ کم فأ شیروالیناٰ برأیکم'' (۲)

تم لوگ بہترین رائے و مشورہ کرنے والے، بردبار و حلیم، حق کہنے والے،اور ہمارے معاشرے

_______________________________

(۱) تاریخ طبری ج۴ص۴۵۷۔تاریخ یعقوبی.ج۲ص۱۷۸ مطبوعہ بیروت.

(۲)۔ وقعہ صفین ص ۹۲


کے بہترین و صاحب کردار ہو، ہم لوگ اپنے اور تمھارے دشمن کی طرف بڑھناچاہتے ہیں تم لوگ اس سلسلے میں اپنا نظریہ بیان کرو۔

مہاجرین کے گروہ میں سے ہاشم بن عتبہ بن ابی وقّاص اٹھا اور کہنے لگا:

اے امیرالمومنین ، ہم لوگ ابوسفیان کے خاندان کو بہت اچھی طرح پہچانتے ہیں وہ آپ اور آپ کے شیعوں کے دشمن اور دنیا پرستوں کے دوست ہیں، اور حصول دنیا کے لئے اپنی پوری قوت و طاقت کے ساتھ اس سے آپ کے خلاف آپ سے جنگ کریں گے اس سلسلے میں وہ کسی بھی چیز سے دریغ نہیں کریں گے اس کے علاوہ ان کا کوئی اور مقصد نہیں ہے ۔ ان لوگوں نے سیدھے سادھے لوگوں کو بہکانے کے لئے عثمان کے خون کا بہانہ بنایا ہے۔ وہ لوگ جھوٹے ہیں اور اس کے خون کا بدلہ نہیں لینا چاہتے تھے بلکہ وہ دنیا چاہتے تھے ہم لوگوں کو اجازت دیں کہ ان کے مقابلے کے لئے جائیں اور اگر ان لوگوں نے حق کی باتیں مان لیں توکوئی بات نہیں ، لیکن اگر تفرقہ اور جنگ کرنے کے خواہاں ہوئے اور میرا گمان بھی یہی ہے کہ وہ لوگ اس کے علاوہ کچھ اور نہیں چاہتے تو ہمیں چاہیے کہ ان کے ساتھ جنگ کریں۔اس وقت مہاجرین میں سے ایک اور عظیم شخصیت اٹھی جس کے بارے میں پیغمبر نے فرمایا ہے''عمار مع الحقِّ والحقّ مع عّمار یدورمعه حیث مادار'' (۱)

اے امیر المومنین : اگر ممکن ہوتو ایک دن بھی دیر نہ کریں ہم لوگوں کو ان کی طرف روانہ کریںاور قبل اس کے کہ وہ فاسد لوگ جنگ کی آگ روشن کریں اور مقابلہ کرنے کی تیاری اور حق سے جدائی کا ارادہ کریں، ان لوگوں کو جس میں ان کے لئے سعادت ہے ا سکی طرف دعوت دیں اگر ان لوگوں نے قبول کرلیا تو ٹھیک ہے اور اگر مقابلہ کرنے کے لئے آمادہ ہوئے تو ان کے ساتھ جنگ کریں خدا کی قسم ان لوگوں کا خون بہانااور ان لوگوں کے ساتھ جہاد کرنا خداکا قرب اور اس کی طرف سے ہمارے لئے لطف وکرم ہے۔

مہاجرین کے ان دو اہم افراد کی تقریر نے کچھ حد تک زمینہ فراہم کیا۔ اب وقت تھاکہ انصار کی طرف سے بھی عظیم شخصیتیں اس سلسلے میں اپنا نظریہ پیش کریں ۔ اس وقت قیس بن سعد بن عبادہ نے کہا : ہمیں جلد سے جلد دشمن کی طرف روانہ کریں خدا کی قسم، ہمارے لئے ان کے ساتھ جنگ کرنا روم کے

_______________________________

(۱)طبقات ابن سعد ،ج،۳۔ص ۱۸۷ (مطبوعہ لیدن)


ساتھ جہاد کرنے سے بہتر ہے، کیونکہ یہ لوگ اپنے دین میں مکروفریب کررہے ہیں اور خدا کے اولیائ(مہاجرین وانصار ) اور وہ لوگ جوان کے ساتھ نیکی کرتے ہیں انہیں ذلیل و خوار سمجھتے ہیں وہ لوگ ہمارے مال کو حلال اور ہمیں اپنا غلام سمجھتے ہیں ۔

جب قیس کی گفتگو ختم ہوئی تو خزیمہ بن ثابت اور ابو ایوب انصاری اس کے جلد بازی کے فیصلے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بہتر تھا کہ تھوڑا صبر کرتے تاکہ تم سے بزرگ لوگ اپنا نظریہ پیش کرتے ، اس وقت انصار کے سرداروں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا تم لوگ اٹھو اور امام علیہ السلام کے سامنے اپنے نظریہ کا اظہار کرو،

سہل بن حنیف ،جو انصار کی عظیم شخصیت تھی اس نے کہا:اے امیر المومنین : ہم آپ کے اور آپ کے دوستوں کے دوست اور آپ کے دشمنوں کے دشمن ہیں ، ہمارا نظریہ آپ کا نظریہ ہے ہم لوگ آپ کا داہنا بازو ہیں، لیکن ضروری ہے کہ یہ کام کوفہ کے لوگوں کے لئے انجام دیجئے اور ان لوگوں کو جنگ کرنے کی دعوت دیجئیے اور جو فضیلتیں انہیں نصیب ہوئی ہیں ان سے انہیں باخبر کیجئے چاہے وہ لوگ اس سرزمین اوریہاں کے لوگ سمجھے جائیں ، اگر وہ لوگ آپ کی آواز پر لبیک کہیں تو آپ کا مقصد پورا ہوجائے گا، ہم لوگ ذرہ برابر بھی آپ کے نظریہ کے خلاف نہیں ہیں آپ جب بھی ہمیں بلائیں گے ہم حاضر ہوں گے اور جب بھی کوئی حکم دیں گے اس پر عمل کریں گے۔(۱)

سہل کی گفتگو اس کے کامل العقل ہونے کی حکایت کرتی ہے، کیونکہ اگرچہ مہاجرین و انصار امام علیہ السلام کے ہمرکاب تھے اور اسلامی امت کی عظیم شخصیت شمار ہوتے تھے اوران لوگوں کا اتحاد معاشرہ کی بیداری میں بہترین اثر رکھتا تھا لیکن فی الحال امام علیہ السلام کا لشکر عراقی افراد نے تشکیل دیا تھا اور ان کے درمیان قبیلوں کے بزرگ تھے بغیر ان کے اعلان کئے ایک لاکھ کا لشکر جمع کرنا ممکن نہ تھا لیکن امام علیہ السلام نے سب سے پہلے مہاجرین و انصار سے کیوں مشورہ کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ امام علیہ السلام کی حکومت کے بانی اور تمام مسلمانوں کی توجہ کا مرکز تھے اور بغیر ان کو اپنائے ہوئے عراقیوں کو اپنی طرف مائل کرنا ممکن نہ تھا۔

_______________________________

(۱)وقعہ صفین ص ۹۳،۹۲


امام علیہ السلام کی تقریر

امام علیہ السلام نے سہل کے مشورہ کے بعداپنے خصوصی مشاورتی جلسہ کو ایک عظیم اجتماع میں تبدیل کردیا۔ اس عظیم اجتماع میں اکثر افراد شریک تھے منبر پر تشریف لے گئے اور با آواز بلند فرمایا:

''سیروا اِ لیٰ اعدائِ اللّه ، سیروا اِلیٰ اعدائِ السنن والقرآن، سیروا اِلیٰ بقیة الاحزاب، قتلةِ المهاجرین والانصار''

خدا کے دشمنوں کی طرف حرکت کرو ، قرآن اور پیغمبر کی سنتوں کے دشمنوں کی طرف حرکت کرو اور، بقیہ بچے ہوئے (احزاب) اور مہاجرین و انصار کے قاتلوں کی طرف حرکت کرو۔

اس وقت قبیلہ بنی فزار کے اربد نامی شخص نے اٹھ کر کہا:

آپ چاہتے ہیںکہ ہم لوگوں کو شام روانہ کریں تاکہ اپنے بھائیوں کے ساتھ جنگ کریں جس طرح بصرہ بھیجا تھا اور ہم نے اپنے بصری بھائیوں کے ساتھ جنگ کی؟ نہیں ، خدا کی قسم ہم ایسا کام انجام نہیں دیں گے۔

اس وقت مالک اشتر کھڑے ہوئے اور پوچھا یہ کون شخص ہے؟ جیسے ہی مالک اشتر کے منہ سے یہ جملہ نکلا سب کے سب اس کی طرف متوجہ ہوگئے اور وہ لوگوں کے حملہ کے خوف سے فرار ہوگیا اور مال بیچنے والوں کے بازار میں پناہ لے لی اور لوگ طوفان کی طرح اس کا پیچھا کرنے لگے اور اسے تلوار کے غلاف، ہاتھ پیر سے اتنا مارا کہ وہ مرگیا، جب اس کی موت کی خبر امام علیہ السلام کو ملی تو آپ بہت ناراض ہوئے کیونکہ اس کی گستاخی کی سزا یہ نہیں تھی کہ اسے اس طرح قتل کردیا جائے ، اسلامی عدالت کا تقاضا یہ تھا کہ اس کے قاتل کے بارے میں تحقیق وجستجو کی جائے اور اس تحقیق کا نتیجہ یہ معلوم ہوا کہ وہ '' ہمدان'' قبیلہ اور کچھ لوگوں کے ذریعہ قتل ہوا ہے اور اس کا کوئی ایک قاتل نہیں ہے امام علیہ السلام نے فرمایا : یہ اندھا قتل ہے کہ اس کے قاتل کی خبر نہیں ہے لہٰذا اس کی دیت بیت المال سے ادا کی جائے اور آپ نے ایسا ہی کیا۔(۱)

_______________________________

(۱) وقعہ صفین۔ص۹۵،۹۴


مالک اشتر کی تقریر

یہ غیر متوقع واقعہ امام علیہ السلام کی ناراضگی کا سبب بنا اگرچہ آپ نے حکم دیا کہ اس کی دیت بیت المال سے ادا کی جائے مگر آپ کے چہرے پر ناراضگی کے اثرات نمایاں تھے، اسی وجہ سے امام علیہ السلام کے دلعزیز اور چاہنے والے مالک اشتر اٹھے اور خدا کی حمد وثناء کے بعد کہا:

اس واقعہ سے آپ پریشان نہ ہوں، اس بد بخت خیانت کارکی گفتگو آپ کو مدد و نصرت کرنے والوں سے مایوس نہ کرے، یہ سیلاب کی طرح امڈتا ہوا مجمع جو آپ دیکھ رہے ہیں سب کے سب آپ کے پیرو ہیں اور آپ کے علاوہ کسی اور چیز کو نہیں چاہتے اورآپ کے بعد زندہ نہیں رہنا چاہتے اگر ہمیں دشمنوں کی طرف بھیجنا چاہتے ہیں تو بھیج دیجیئے خدا کی قسم اگر کوئی شخص موت سے ڈرتا ہے تو اس سے نجات حاصل نہیں کرسکتا اور جو شخص زندگی چاہتا ہے اسے نہیں دی جائے گی اور ان لوگوں کے ساتھ بدبخت اور شقی شخص کے علاوہ کوئی دوسرا زندگی گزارنا نہیں چاہتا اور ہم لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ کوئی بھی شخص اس وقت تک موت کی آغوش میں نہیں جاسکتا جب تک کہ اس کی موت کا وقت نہ آچکا ہو، کس طرح سے ہم ان لوگوں سے جنگ نہ کریں جنہیں آپ نے خدا اور قرآن اور سنت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دشمن اور مہاجرین وانصار کے قاتل کے طور پر بتایاہے؟ کل انہیں میں سے کچھ لوگوںنے (بصرہ میں ) مسلمانوں کے کچھ گروہ پر حملہ کر کے خدا کو غضبناک کیا تھا اور زمین ان کے برے کاموں کی وجہ سے تاریک ہوگئی تھی ان لوگوں نے اپنے آخرت کے حصے کو اس دنیا کے تھوڑے سے مال ودولت کے لئے بیچ دیا ، امام علیہ السلام مالک اشتر کی تقریر سننے کے بعد لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا:

'' الطریق مشترک والناسُ فی الحقِّ سوائ ومن ِ اجتهدَ رأیُهُ فی نصیحة العامّة ِ فله مانویٰ وقد قضیٰ ما علیه ''

یہ راستہ ، عمومی راستہ ہے او ر لوگ حق کے مقابلے میں برابر ہیں اور وہ شخص جو خود اپنی نظر ورائے سے معاشرے کے لئے اچھائی کرے تو خدا اس کی نیت کے مطابق اسے جزا دے گا اور وہ کام جو '' فزاری'' نے انجام دیا وہ ختم ہوگیا ۔(۱)

آپ اتنا کہہ کر منبر سے نیچے تشریف لائے اور اپنے گھر واپس چلے گئے۔

_______________________________

(۱) وقعہ صفین۔ص۹۵


امام کے لشکر میں معاویہ کے نفوذ کے عوامل

فوجیوں اور لشکریوں کے اندراپنا اثرورسوخ پیدا کرنا،گروہ مخالف کے کمانڈروں کو درہم و دینار کے ذریعے خریدنا، بڑی طاقتوںکی بڑی پرانی روشن رہی ہے ابو سفیان کا بیٹا اس فن میں ایک نابغہ اور ماہر تھا۔

ایک گروہ کی نظر میں سیاست کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی بھی صورت سے چاہے وہ شرعی اعتبار سے ہو یا غیر شرعی لحاظ سے اپنے مقصد تک پہونچ جائے اور ان لوگوں کا فلسفہ یہ ہے کہ مقصد اور ہدف ایک توجیہی وسیلہ ہے سادہ لوح افراد جن لوگوں نے معاویہ کی ظاہری کامیابی کو علی علیہ السلام سے زیادہ سمجھی تھی ان لوگوں نے امام علیہ السلام پر الزام لگایا کہ وہ سیاست کے رموز و اسرار سے واقف نہیں ہیں اور معاویہ ان سے زیادہ سیاسی سوج بوج رکھتا ہے اسی وجہ سے امام علیہ السلام اسلامی سیاست کے تمام اصول و قوانین سے بے بہرہ تنقید کرنے والوں کے سلسلہ میں فرماتے ہیں :

'' واللّهِ ما معاویةُ بأدهیٰ منّی ولکنّه یغدرُ ویفجرُ ولولا کراهیةُ الغدر لکنتُ من أدهیٰ الناس ولکنَّ کلَّ غدرِةٍ فجرة وکلَّ فجرةٍ ضلالة ولکلِ غادِرٍ لوائُ یعرفُ به یوم القیامة'' (۱)

''خدا کی قسم معاویہ مجھ سے زیادہ سیاست مدار نہیں ہے لیکن وہ دھوکہ کرتاہے اور گناہ کرتاہے اور اگر دھوکہ بازی اور حیلہ گری میں کراہت نہ ہوتی تومیں لوگوں میں سب سے زیادہ سیاست مدار ہوتا، لیکن ہر طرح کی چالبازی اور فریب گناہ ہے اور ہرگناہ ایک قسم کا کفر ہے اور قیامت کے دن ہر دھوکہ باز کے ہاتھ میں ایک مخصوص قسم کا پرچم ہوگا جس کے ذریعہ سے وہ پہچان لیا جائے گا''۔

اس بنا پر کہ ہماری گفتگو دلیل یا شاہد سے خالی نہ ہو معاویہ کی چالبازیوں اور مکاریوں کے چند نمونوں کو یہاں پر بیان کررہے ہیں جن کے ذریعہ سے اس نے امام علیہ السلام کی فوج میں نفوذ پیدا کیا تھا ۔

معاویہ کے خلاف جنگ کرنے کے سلسلے میں جو امام علیہ السلام کی تقریر کا اثر ہوا اس کی توصیف ممکن

_______________________________

(۱) نہج البلاغہ عبدہ خطبہ ۱۹۵


نہیں ہے، یہاں تک کہ معاویہ کے عوامل نفوذی میں سے ایک بنام ''اربد'' امام علیہ السلام پر اعتراض کے سبب ، وہ بھی نازک وقت میں لوگوں کے لات وگھونسوں کا نشانہ بنا، اور اس کے قاتل کی پہچان نہ ہوسکی۔(۱)

اس حادثہ کا سبب یہ ہوا کہ دوسرے عوامل نفوذی اپنے امور کو انجام دینے سے باز آجائیں اور امام علیہ السلام کے ارادے کو سست کرنے اور رخنہ اندازی ڈالنے کے لئے کوئی دوسرا طریقہ اپنائیں تاکہ اس کے ذریعے سے امام علیہ السلام کو جنگ سے روک دیں اور یہ معلوم نہیں کہ کس گروہ کو نفع حاصل ہو ان کو ڈرائیں اسی وجہ سے رخنہ اندازی کرنے والوں میں ایک قبیلہ عبس (شایدغطفان کا باشندہ ) اور دوسرا قبیلہ بنی تمیم سے جن کے نام عبداللہ اور حنظلہ تھے ،نے ارادہ کیا کہ امام علیہ السلام کے دوستوں کے درمیان نظریاتی اختلاف پیدا کریں اور خیر خواہی اور نصیحت کا طریقہ اپنائیں لہٰذا دونوں نے اپنے قبیلے والوں کو اپنا ہم خیال بنالیا اور پھر امام علیہ السلام کے پاس آئے پہلے حنظلہ تمیمی نے کہا:

ہم لوگ خیر خواہی اور بھلائی کے لئے آپ کے پاس آئے ہیں امید ہے کہ آپ ہماری باتوں کو قبول کریں گے، ہم لوگ آپ کے اور ان لوگوں کے بارے میں جو آپ کے ساتھ ہیں سوچ رہے ہیں کہ اس مرد (معاویہ) سے خط وکتابت کریں اور شامیوں کے ساتھ جنگ کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لیں ۔ خدا کی قسم کوئی بھی نہیں جانتا کہ دونوں گروہوں کے درمیان مقابلے میں کون گروہ کامیاب ہوگا اور کس گروہ کو شکست ہو گی۔پھر عبید اللہ عبسی اٹھا اور حنظلہ کی طرح اس نے بھی گفتگو کی اور جو لوگ ان دونوں کے ساتھ آئے تھے ان لوگوں نے ان دونوں کی تائید کی ۔

امام علیہ السلام نے خدا کی حمد وثناء کے بعد ان لوگوں کے جواب میں فرمایا:

'' خداوند عالم انسانوں اور، اس سرزمین کا وارث ہے، آسمانوں اور ساتوں زمین کا پروردگار ہے ہم سب کے سب اسی کی بارگاہ میں پلٹ کر جائیں گے وہ جس شخص کو چاہتا ہے سرداری عطا کرتاہے، اور جس شخص سے چاہتاہے سرداری کو روک دیتا ہے، جس شخص کو چاہتا ہے عزت بخشتا ہے اور جس شخص کو چاہتا ہے

_______________________________

(۱) وقعہ صفین ص ۹۴


ذلیل خوار کردیتا ہے دشمن کی طرف پشت کرنا گمراہوں اور گنہگاروں کا کام ہے اگرچہ ظاہری طور پر کامیابی اور غلبہ پاجائیں ۔ خدا کی قسم میں ایسے لوگوں کی باتیں سن رہا ہوں جو ہرگز اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ اچھائیوں کو پہچانیں اور برائیوں سے انکار کریں''(۱) امام علیہ السلام نے اپنے کلام کے ذریعے ان دونوں جاسوسوں کو جو لوگوں سے اپنے کوپوشیدہ رکھے ہوئے تھے اور ان لوگوں کی طرف سے گفتگو کررہے تھے ذلیل ورسوا کردیا اور واضح لفظوں میں فرمایا کہ معاویہ کے ساتھ جنگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ایک حصہ ہے اورکوئی بھی مسلمان اس وجوب سے انکار نہیں کرسکتا اور وہ لوگ جو ان لوگوں کو معاویہ سے جنگ کرنے کے لئے روک رہے ہیں حقیقت میں وہ اسلام کے ان دو اصولوں کو پامال کررہے ہیں ۔

پردے فاش ہونے لگے

امیرالمومنین علیہ السلام کی گفتگو کا اثر یہ ہوا کہ حقیقت سب پر آشکار ہوگئی اور اسی مجمع میں دونوں جاسوس بے نقاب ہوگئے،لہٰذا معقل ریاحی نے اٹھ کر کہا، یہ گروہ خیر خواہی کے لئے آپ کی طرف نہیں آئے ہیں بلکہ آپ کو بہکانے کے لئے آئے ہیں ان سے دور رہئیے کیونکہ یہ لوگ آپ کے قریبی دشمن ہیں۔(۲) اسی طرح مالک نامی شخص اپنی جگہ سے اٹھا اور کہنے لگا: حنظلہ کی معاویہ سے خط وکتابت ہے آپ اجازت دیجیئے کہ جنگ شروع ہونے تک اسے قید کردوں ، قبیلہ عبس کے دوآدمی ، عیاش اور قائد نے کہا: خبر ملی ہے کہ عبداللہ کا معاویہ کے ساتھ رازونیاز ہے اور دونوں کے درمیان خط وکتابت ہوتی ہے آپ اسے قید کر لیجئے یا اجازت دیجیے کہ ہم لوگ اسے جنگ شروع ہونے تک قید رکھیں۔(۳) ان چار افراد کی حقیقت بیانی کا سبب یہ ہوا کہ جاسوس بے سرو پا ہو کر کہنے لگے: یہ اس شخص کی جزا ہے جو آپ کی مدد کے لئے آیا اور اپنے نظریہ کو آپ کے اور آپ کے دشمنوں کے بارے میں بیان کیا؟ امام علیہ السلام نے ان لوگوں کے جواب میں فرمایا : خدا وند عالم ہمارے اور تمہارے درمیان حاکم ہے میں تم لوگوں کو اس کے سپرد کررہاہوں اور اسی سے مدد حاصل کروں گا جو شخص جاناچاہتا ہے چلا جائے امام نے یہ بات کہی اور لوگ منتشر ہوگئے، چند دن بھی نہ گزرے تھے کہ حنظلہ اور قبیلہ تمیم کے بزرگوں کے درمیان ایک

_______________________________

(۱) وقعہ صفین ص۹۶۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۳ ص ۱۷۵

(۲)،(۳) واقعہ صفین ص ۹۴۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۳ ص ۱۷۵


جھڑپ ہوئی جس کی وجہ سے دونوں نفوذی عامل اپنے گروہ کے ساتھ عراق سے شام کی طرف روانہ ہوگئے اور معاویہ سے جاکر مل گئے، امام علیہ السلام نے حنظلہ کی خیانت کی وجہ سے حکم دیا کہ اس کے گھر کو ویران کردیا جائے تاکہ دوسروں کے لئے درس عبرت ہو۔(۱)

_______________________________

(۱)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۳ ص ۱۷۶۔وقعہ صفین ص ۹۷


انتظار یا شام کی طرف روانگی

فوج کے تمام سپہ سالار او ر امام علیہ السلام کے چاہنے والے ابو سفیان کے بیٹے کو نیست ونابود کرنے کیلئے متفق تھے سوائے چند لوگوں کے مثلاً عبداللہ بن مسعود کے اصحاب جو خود اپناخاص نظریہ رکھتے تھے ( ان کے نظریات آئندہ بیان ہوں گے)

لیکن انہی افراد کے درمیان امام علیہ السلام کے مورد وثوق اور مخلص لوگ،مثلاً عدی بن حاتم ، زید بن حسین طائی تاخیر کے خواہاں تھے شاید خط وکتابت اور بحث ومباحثے کے ذریعے مشکل ختم ہوجائے ، لہٰذا عدی نے امام علیہ السلام سے کہا:اے امام! اگر مصلحت ہو تو تھوڑا صبر کیجیے اور ان لوگوں کو کچھ مہلت دیجئے تاکہ ان لوگوں کا جواب آجائے اور آپ کے بھیجے ہوئے افرادان سے گفتگو کریں اگر قبول کرلیا تو ہدایت پا جائیں گے اور دونوں کے لئے صلح بہتر ہے اور اگر اپنی کٹ حجتی پر اڑے رہے تو ہمیں ان سے مقابلے کے لئے لے چلئے۔

لیکن ان لوگوں کے مقابلے میں علی علیہ السلام کے لشکر کے اکثرسپہ سالار شام جانے کے لئے بیتاب تھے ان میں سے یزید بن قیس ارحبی ، زیاد بن نضر ، عبداللہ بن بدیل ، عمرو بن حمق(دوبزرگ صحابی) اورمعروف بابعی حُجر بن عدی بہت زیادہ اصرار کررہے تھے اور اپنا نظریہ بیان کرتے ہوئے ایسے نکات کی یاد دہانی کررہے تھے جو ان کے نظریہ کو صحیح ثابت کررہے تھے۔

مثلاً عبداللہ بن بدیل کا نظریہ یہ تھا :

وہ لوگ ہم سے دو چیزوں کی وجہ سے جنگ کرنا چاہتے ہیں :


۱۔ وہ لوگ مسلمانوں کے درمیان مساوات سے فرار کر رہے ہیں اور مال ودولت اور منصب میں

تبعیض کے قائل ہیں اور جو مقام ومنصب رکھتے ہیں اس میں بخل سے کام لیتے ہیں اور جس دنیا کو حاصل کرچکے ہیں اسے گنوانا نہیں چاہتے۔

۲۔ معاویہ ،علی علیہ السلام کے ہاتھ پر کس طرح بیعت کرے جب کہ امام علیہ السلام نے ایک ہی دن میں اس کے بھائی ،ماموں اور نانا کو جنگِ بدر میں قتل کیا ہے، خدا کی قسم مجھے امید نہیں ہے کہ وہ لوگ تسلیم ہوں گے مگر یہ کہ ان کے سروں پر نیزے ٹوٹیں اور تلواریں ان کے سروں کو پارہ پارہ کردیں اور لوہے کی سلاخیں ان کے سروں پر برس پڑیں۔

عبداللہ کی دلیلوں سے یہ بات واضح وروشن ہوتی ہے کہ شام کی طرف روانہ ہونے میں جتنی بھی تاخیر ہوگی اتنا ہی دشمن کو فائدہ اور امام علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو نقصان پہونچے گا ، لہٰذا امام کے ایک چاہنے والے ، یزید ارجی نے امام علیہ السلام سے کہا:

'' جنگ کرنے والے افراد سستی اور کاہلی سے کام نہیں لیتے اور جو کامیابی انہیں نصیب ہوتی ہے ہرگز اسے اپنے ہاتھوں سے جانے نہیں دیتے اوراس سلسلے میں آج اور کل پر بات نہیں ٹالتے(۱)

_______________________________

(۱)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۳ ص ۱۷۷۔وقعہ صفین ص ۱۰۲۔۹۸


غیظ وغضب میں بردبار ی

اسی اثناء میں امام علیہ السلام کو خبر ملی کہ بزرگ صحابی عمروبن حمق اور حجر بن عدی شام والوں پر

لعنت وطعن کررہے ہیں(۱) امام علیہ السلام نے کسی کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو اس کام سے منع کرے وہ لوگ امام علیہ السلام کا پیغام سن کر امام علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور کہا: کیوں آپ نے ہمیں اس کام سے روکا؟ کیا وہ لوگ اہل باطل سے نہیں ہیں؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: کیوں نہیں لیکن '' مجھے پسند نہیں ہے کہ تم لوگ لعنت کرنے والے او ربراکہنے والے بنو، گالی نہ دو اور نفرت نہ کرو اگر اس کی جگہ ان کی برائیوں کو بیان کرو توبہت زیادہ مؤثر ہوگا اور اگر لعنت اور ان سے بیزاری کرنے کے بجائے کہوکہ ، خدا یا ہمارے خون اور ان کے خون کی حفاظت فرما ۔ ہمارے اور ان کے درمیان صلح قراردے ، ان لوگوں کو گمراہی سے ہدایت عطا کرتاکہ جولوگ ہمارے فضائل وکمالات سے بے خبر ہیں اس سے وہ باخبر وآشنا ہوجائیں تو یہ میرے لئے


خوشی کا باعث اور تمہارے حق میں بہتر ہوگا''(۱)

دونوں افراد نے امام علیہ السلام کی نصیحتوں کو قبول کرلیا اور عمروبن حمق نے امام علیہ السلام سے اپنی الفت ومحبت کو ان الفاظ میں بیان کیا:

'' میں نے رشتہ داری یا مال ومقام کی لالچ کے سبب آپ کے ہاتھوں پر بیعت نہیں کی ہے بلکہ بیعت کرنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ کے اندر ایسی پانچ اہم صفتیں ہیں جن کی وجہ سے میں نے آپ کی محبت کو اپنے اوپر فرض کیا ہے ،آپ پیغمبر (ص)کے چچا زادبھائی ہیں اور آپ ہی سب سے پہلے وہ شخص ہیں جو ان پر ایمان لائے ہیں اور آپ اس امت کی سب سے بہترین اور پاکیزہ عورت کے شوہر ہیں، آپ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذریت ِ طاہرہ کے باپ ہیں اور مہاجرین کے درمیان جہاد کرنے والوںمیں سب سے زیادہ اور عظیم حصہ آپ کا ہے ، خدا کی قسم اگر مجھے حکم دیں کہ بلند پہاڑوں کو اس کی جگہوں سے ہٹادوں اور دریا کے پانی کو ان سے نکالوں اور جہاں تک ممکن ہو آپ کے دوستوں کی مدد کروں اور آپ کے دشمنوں کو نابود کردوں تو بھی جو حق آپ کا میری گردن پر ہے میں اسے ادا نہیں کرسکتا۔

امیر المومنین علیہ السلام نے جب عمرو کے خلوص وجذبہ کا مشاہدہ کیا تو ان کے حق میں یہ دعا فرمائی''اللهم نوّر قلبه بالتقیٰ وأیدهُ الیٰ صراط مستقیم لیت أنَّ فِی جُندی مأةٍ مثلک فقال حُجر اِذاً واللّه یاأمیر المومنین صحّ جُندک و قلَّ من یَغشّیک '' (۲)

خدا اس کے قلب کو نورانی بنادے اور اسے سیدھے راستے کی طرف ہدایت فرما کاش میری فوج میں تمہاری طرح کے سو افراد ہوتے۔حُجر نے کہا: اگر ایسا ہوتا ،توآپ کی فوج اصلاح کو قبول کرتی اور متقلّب (بدلنے والے) افراد اس میں بہت کم ہوتے۔

_______________________________

(۱)وقعہ صفین ص۱۰۳،نہج البلاغہ،خطبہ ۱۹۷، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص ۱۸۱۔ اخبارالطوال ص ۱۵۵ تذکرہ الخواص ابن جوزی ص ۱۵۴ ۔ مصادر نہج البلاغہ ج۳ص۱۰۲

(۲)وقعہ صفین ص ۱۰۴۔۱۰۳


امام علیہ السلام کا آخری فیصلہ

امام علیہ السلام اپنے موافقوں اور مخالفوں کی گفتگوؤں کو سننے کے بعد اس آیت '' وشاورھم فی الأمر فاذا غرمت فتوکل علی اللّہِ '' کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اس نتیجہ پر پہونچے کہ خود کوئی قطعی فیصلہ کریں ۔ لہٰذا ہر کام سے پہلے یہ حکم دیا کہ جتنے بھی ذخیرے یا اضافی مال حاکموں کے پاس ہیں انہیں ایک جگہ جمع کیا جائے تاکہ فوج کو شام روانہ کرتے وقت ان کے اخراجات مہیا ہو سکیں ۔

جہاد اسلامی کے تین اہم رکن

جنگ اور قرآن کے مطابق '' جہاد'' یا ''قتال'' کے لئے بہت سے مقدمات ( چیزوں ) کی ضرورت ہوتی ہے جن میں سب سے اہم تین چیزیں ہیں۔

۱۔ بہترین وطاقتور اور بہادر جانباز وسپاہی ۔

۲۔ لائق اور عمدہ سپہ سالار۔

۳۔ اخراجات کا کافی مقدار میں ہونا۔

مختلف طرح سے آزمانے اور لوگوں کی طرف سے مستقل دعوت ناموں اور بہت زیادہ گروہوں مثلاً عراق کے بہت سے قبیلوں کا امام علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہنے نے ان تینوں اہم رکنوں میں سے پہلے رکن کو تو پورا کردیا ،اس بارے میں امام علیہ السلام کے لئے کوئی فکر کرنے کی ضرورت نہ تھی لیکن ان کو اپنے ارادے پر باقی رکھنے کے لئے عظیم شخصیتوں مثلاً خود آپ کے بیٹوں امام حسن مجتبیٰ وحضرت حسین علیھما السلام اور ان کے باوفا اصحاب اسی طرح عماریاسروغیرہ نے مختلف موقعوں پر تقریریں کیں اور دوسرے رکن کی انجام دہی کے لئے امام علیہ السلام نے محترم اور عظیم شخصیتوں کے پاس خط لکھا اور ان لوگوں کوجنگ میں شریک ہونے کے لئے دعوت دی ، ان افراد کے وجود نے علاوہ اس کے کہ امام علیہ السلام کے لشکر کو معنویت اور جذبہ عطا کیا اورخود جہاد کو باحیثیت اور معنویت سے پُرکردیا لشکر کی طاقت میں بھی اضافہ کردیا ، یہاں پر ہم صرف امام علیہ السلام کے اس خط کا ترجمہ پیش کرنے پر اکتفا کریں گے جو آپ نے اصفہان کے حاکم مخنف بن سلیم کے نام لکھا ، خط کا مضمون یہ ہے:


'' تجھ پر سلام : اس خدا کی حمد وثناء جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اما بعد، اس شخص سے جنگ کرنا عارفوں پر لازم ہے جس نے حق سے منہ موڑ رکھا ہے اور خواب غفلت کی وجہ سے اس کے دل اندھے اور گمراہی کے دلدل میں پھنس گئے ہیں۔

جو لوگ خداوند عالم کی مرضی پر راضی ہیں خدا ان سے راضی ہے اور جو لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں خدا ان پر غضبناک ہوتاہے، ہم نے ارادہ کیاہے کہ اس گروہ کی طرف جائیں جو بندگان خدا کے بارے میں جس چیز کا خداوند عالم نے حکم دیا ہے اس کے خلاف عمل کرتاہے اور بیت المال کو اپنا مال سمجھ بیٹھا ہے اور حق کو پامال کرکے باطل کو ظاہر کردیا ہے اور خدا کی اطاعت نہ کرنے والوں کو اپنا راز دار بنالیا ہے اگر خدا کا کوئی ولی ومطیع ان بدعتوں کو بزرگ شمار کرتا ہے تو وہ لوگ اسے اپنا دشمن تصور کرتے ہیں اسے اس کے گھر اور علاقے سے باہر نکال دیتے ہیں اور اُسے بیت المال سے محروم کردیتے ہیں اوراگر کوئی ظالم ان کے ظلم میں شریک ہوتاہے تو وہ اسے اپنا دوست سمجھتے ہیں اور اُسے اپنا قریبی تصور کرتے ہیں اور اس کی دلجوئی کرتے ہیں، ان لوگوں نے بہت زیادہ ظلم وستم کیئے ہیں اور (شریعت کی ) مخالفت کا ارادہ کرلیا ہے بلکہ بہت دنوں سے اس کام کو انجام دے رہے ہیں تاکہ لوگوں کو حق سے دور کردیں اور ظلم وستم اور گناہوں کے پھیلانے میں ان کی مدد کریں ۔

جس وقت میرا خط تمہارے پاس پہونچے تم اپنے کاموں کو کسی مورد اعتماد شخص کے حوالے کرنا اور جلدی سے ہمارے پاس آنے کی کوشش کرنا شاید ان مکار اور دھوکے باز دشمنوں کا مقابلہ کرنا پڑے اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا پڑے ہم جہاد کے ثواب میں تم سے بے نیاز نہیں ہیں''۔(۱)

جس وقت امام علیہ السلام کے منشی عبداللہ بن ابی رافع کے ہاتھ کا لکھا ہوا خط اصفہان کے حاکم کے پاس پہونچا فوراً ہی اس نے اپنے دو قریبی ساتھیوں کو بلایا اور اصفہان کے تمام امور کو حارث بن ابی الحارث اور ہمدان کے تمام امور کو جو اس زمانے میں سیاسی اعتبار سے اصفہان کے زیر نظر تھا ،سعید بن وہب کے سپرد کیا ، اور امام کی خدمت کے لئے چل پڑا اور اسی طرح سے کہ جیسا کہ امام نے کہا تھا ( کہ ہم جہاد کے اجروثواب میں تم سے بے نیاز نہیں ہیں ) جنگ کے دوران

______________________

(۱)وقعہ صفین ص ۱۰۶۔۱۰۴۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۳ ص ۱۸۳۔۱۸۲


شہادت پر فائز ہوگیا(۱)

یہی تنہا حاکم نہیں تھا جسے امام علیہ السلام نے جنگ کے لئے بلایا تھا بلکہ اسی سلسلے میں ذیقعدہ ۳۷ ھ میں ابن عباس کو خط لکھا کہ باقی بیت المال کو میرے حوالے کر دو لیکن جو لوگ تمہارے اطراف میں ہیں پہلے ان کی ضرورتوں کو پورا کرو اور بقیہ تمام مال کو کوفہ بھیج دو البتہ جنگ کے شرائط کو دیکھتے ہوئے صرف کوفہ کا بیت المال امام علیہ السلام کے لئے کافی نہ تھا جس کی وجہ سے دوسرے شہروں سے بھی مدد حاصل کی ہے(۲)

سپاہیوں کو حوصلہ عطا کرنا

امام علیہ السلام کے پاس سپاہیوں کی کمی نہ تھی، سرزمین اسلام کے بہت سے حصے آپ کے اختیار میں تھے لیکن ، نفوذی عوامل ، بزدل افراد ، مایوسی اور بے یقینی کی وجہ سے راہ حق سے دور ہورہے تھے، اسی وجہ سے امام علیہ السلام اور آپ کے بیٹے امام مجتبیٰ علیہ السلام ،دوسرے بیٹے امام حسین علیہ السلام فوجی چھاونی نخلیہ سے چلتے وقت تک لوگوں کے درمیان تقریریں کرتے رہے اوران کے دلوں کو محکم ومطمئن کرتے رہے ، تاریخ نے ان تقریروں اور خطبوں کی عبارتوں کو اپنے دامن میں محفوظ کررکھا ہے(۳)

اور کبھی عظیم شخصیتیں اور شہادت کے متمنی افراد مثلاً ہاشم بن عتبہ بن وقاص ، سعد وقاص کے بھتیجے نے لوگوں کے مجمع میں تقریر کی اور بہت زیادہ اصرار کیا کہ جلد سے جلد ان لوگوں سے جنگ شروع کریں جن لوگوں نے خدا کی کتاب کی مخالفت کی ہے اور خدا کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کیا ہے ، اس نے اتنا زیادہ جوش وخروش اور دلسوز انداز میں گفتگو کی کہ امام علیہ السلام نے اس کے حق میں دعا کی اور فرمایا:اللهمّ ارزقه الشهادة فی سبیلک والمرافقة لنبیّک صلی الله علیه وآله وسلم '' (۴) ۔یعنی پروردگارا: اسے اپنی راہ میں شہادت کے درجے پر فائز کر اور اسے اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ہم نشین قرار دے۔

ہاشم صفین میں امام علیہ السلام کے لشکر کا علمبردار تھا اورجنگ کے آخری دنوں میں جام شہادت نوش کیا ۔

______________________

(۱)،(۲)وقعہ صفین ص ۱۰۶۔۱۰۴۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۳ ص ۱۸۳۔۱۸۲

(۳) وقعہ صفین ص ۱۱۵۔۱۱۲

(۴)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۳ ص ۱۸۴


راہ کے انتخاب میں آزادی

عبداللہ بن مسعود(۱) کے ماننے والوں کا ایک گروہ امام علیہ السلام کے پاس پہونچا اور کہا : ہم لوگ آپ کے ساتھ چلیں گے اور آپ لوگوں سے دور اپنا پڑاؤ ڈالیں گے تاکہ آپ کے اور آپ کے مخالفوں کے کام پر نظر رکھیں ، جس وقت ہم دیکھیں گے کہ ایک گروہ غیر شرعی کام کررہا ہے یا تجاوز کررہا ہے تو اس کے خلاف جنگ کریں گے۔

امام علیہ السلام کی پوری حیات اور حکومت میں ایسی کوئی بات نہ تھی جوان کے لئے شک و تردید کا سبب بنتی لیکن دشمن کے بہکاوے نے ان کے دلوں میں وسوسے ڈال رکھے تھے اور صالحین کو ابوسفیان سے جنگ کرنے کے سلسلے میں مردّد کر رکھا تھا ، اسی وجہ سے امام علیہ السلام نے ان لوگوں سے فرمایا:'' مرحباً وأهلاً ، هٰذا هوالفقه فی الدین والعلم بالسنة من لم یرض بهذا فهو جائر خائن '' (۲) مبارک ہو تمہیں یہ کلام وہی دین فہمی اور حقیقت سے آشنا ئی اور پیغمبر اسلام

کی سنت سے آگاہی ہے جو شخص بھی اس کام پر راضی نہ ہو وہ ستم گر اور خائن ہے۔

عبداللہ بن مسعود کے دوستوں کا دوسرا گروہ بھی امام کے پاس آیا اور اس نے کہا : ہم آپ کی تمام فضیلتوں کا اعتراف کرتے ہیں لیکن اس جنگ کے شرعی ہونے کے سلسلے میں شک وتردید کررہے ہیں ، اگر بنا ہے کہ ہم لوگ بھی دشمن کے ساتھ جنگ کریں تو ہم لوگوں کو کسی دور مقام پر بھیج دیں تاکہ وہاں سے دین کے دشمنوں سے جہاد کریں ۔ امام علیہ السلام یہ سن کر ناراض نہ ہوئے بلکہ ربیع بن خثیم کی سرپرستی میں ان میں سے چار سو آدمیوں پر مشتمل ایک لشکر '' ری '' کی طرف روانہ کردیا تاکہ وہاں اپنا وظیفہ انجام دیں اور اسلامی جہاد جو خراسان کے اطراف میں رونما ہوا ہے اس میں مدد کریں۔(۳)

_______________________________

(۱) عبداللہ بن مسعود حافظ قرآن اور صدر اسلام کے مسلمانوں میں سے ہے اور عثمان سے اس کی مخالفت کی روداد بہت طویل ہے ۳۲ ہجری میں مدینے میں انتقال ہوا، جنگ صفین کی آمادگی ۳۷ ہجری کے آخر میں ہوئی جس میں اس کا کوئی وجود نہ تھا بلکہ کچھ گروہ جن لوگوں نے اس سے قرآن و احکام سیکھا تھا وہ لوگ باقی تھے۔ طبقات ابن سعد ج۳،ص ۱۶۰ (مطبوعہ بیروت)۔

(۲)وقعہ صفین ص، ۱۱۵۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۳ ص۱۸۶۔

(۳)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۳ ص۱۸۶ ۔


جب یہ گروہ جنگ میں شرکت کرنے کی طرف مائل نہ ہوا تو امام علیہ السلام نے میں قبیلہ باہلہ کے لوگوں کو بھی جن کے امام سے روابط اچھے نہیں تھے اس جنگ میں شرکت کرنے سے منع کردیا اور جو ان کا وظیفہ تھا انہیں دے دیا اور حکم دیا کہ '' دیلم '' کی طرف چلے جائیں اور وہاں اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ مل کر خدمت کریں(۱)

امام علیہ السلام کی فوج کے عظیم سپہ سالار

امام علیہ السلام کے لشکر کے اکثر سپاہی کوفہ وبصرہ اور ان دونوں شہروں کے اطراف میں رہنے والے یمن کے قبیلے تھے۔

امام علیہ السلام ان پانچ قبیلے والوں کو جو ابن عباس کے ہمراہ بصرہ سے نخلیہ ( کوفہ کی فوجی چھاؤنی ) آئے تھے ، ان کے لئے پانچ عظیم سپہ سالار معین کئے:

۱۔ قبیلہ بکر بن وائل کے لئے خالد بن معمر سدوس

۲۔ قبیلہ عبد القیس کے لئے عمروبن مرجوم عبدی

۳۔ قبیلہ ازد کے لئے صبرة بن شیمان ازدی

۴۔ تمیم وضُبّہ ورباب کے لئے احنف بن قیس

۵۔ اہل عالیہ کے لئے شریک بن اعور

یہ تمام سپہ سالار ابن عباس کے ہمراہ بصرہ سے کوفہ آئے اور انہوں نے ابو الاسود دوئلی کو اپنا جانشین قراردیا۔ اور خودسفر میں امام علیہ السلام کے ہمراہ رہے(۲)

اسی طرح امام علیہ السلام نے کوفہ کے سات قبیلوں پر، جن کی شرکت سے کوفہ کی فوجی چھاؤنی چھلک رہی تھی سات سپہ سالارمعین فرمائے ، جن کے نام تاریخ نے اپنے دامن میں محفوظ کررکھا ہے۔(۳)

_______________________________

(۱)وقعہ صفین ص ۱۱۶

(۲)وقعہ صفین ص ۱۱۷۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۳ ص۱۹۴

(۳)وقعہ صفین ص ۱۲۱۔مروج الذھب(ج۲، ص ۳۸۴) میں ابومسعود عقبہ بن عامر کا ذکر ہوا ہے۔


پہلا فوجی دستہ

تمام سپہ سالاروں کا تعیّن اپنے اختتام کو پہونچا، امام علیہ السلام نے عقبہ بن عمرو انصاری کو اپنا جانشین معین فرمایا جو سابق الاسلام تھے اور پیغمبر کے ہاتھوں پر '' عقبہ '' میں بیعت کی تھی ۔ آپ نے حکم دیا کہ جنگ کے لئے آمادہ ہوجائیں ۔ جس وقت کوفہ کی فوجی چھاؤنی سپاہیوں سے چھلک رہی تھی ایک گروہ جو عثمان کی حکومت کے زمانے میں صرف حکومت کوفہ پر اعتراض کرنے کی وجہ سے جلا وطن کیا گیاتھا چاروں طرف سے آگیا اور یہ نعرہ لگایا '' قد آن للذین أخرجوا من دیارھم '' وہ وقت آپہونچا ہے کہ جو لوگ اپنے گھروں سے دور کردیئے گئے تھے وہ دشمن کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے آمادہ ہوجائیں(۱)

شروع میں امام علیہ السلام نے بارہ ہزار افراد پر مشتمل دو طاقتور فوج کو شام کی طرف روانہ کیا اور آٹھ ہزار افراد پر مشتمل فوج کی ذمہ داری زیاد کو سونپی اور دوسری فوج جو چار ہزار جانبازوں پر مشتمل تھی اس کی ذمہ داری ہانی کے سپرد کی اور دونوں کو حکم دیا کہ پورے اتحاد واتفاق کے ساتھ شام کی طرف سفر کریں اور جہاں پر دشمن کا سامنا ہو وہیں پڑاؤ ڈال دیں(۲) ۔

_______________________________

(۱)وقعہ صفین ص۱۲۱

(۲)کامل ابن اثیر ص ۱۱۴، تاریخ طبری ۳ جزء ۴ ص ۲۳۷


پندرہویں فصل

حضرت علی علیہ السلام کی میدان صفین کی طرف روانگی

کوفہ کی فوجی چھاؤنی مجاہدوں سے چھلک رہی تھی اور سب ہی اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھے ہوئے امام علیہ السلام کے ہمراہ چلنے کے لئے آپ کے حکم کے منتظر تھے۔ بالآخر امام علیہ السلام ۵ شوال ۳۶ ہجری بروز بدھ، چھاؤنی میں تشریف لائے اور سپاہیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

'' اس خدا کی حمد وثنا جب بھی رات آتی ہے تو پورے جہان میں تاریکی چھا جاتی ہے، اس خدا کی حمدوثناجس وقت ستارہ نکلے یا پوشیدہ ہوجائے اس خدا کی حمدوثناء کہ جس کی نعمتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں اور اس کی عطا کے مقابلے میں کوئی اجر وثواب اس کے برابر نہیں ہے۔

ہاں اے لوگو، ہم نے اپنی فوج کے کچھ لوگوں کو پہلے روانہ کردیا ہے(۱) اور انہیں حکم دیا ہے کہ فرات کے کنارے اپنا پڑاؤ ڈالیں اور میرے حکم کے منتظر رہیں ، اب وہ وقت آپہونچا ہے کہ ہم دریا کو پار کریں اور ان مسلمانوں کی طرف روانہ ہوں جو دجلہ کے اطراف میں زندگی بسر کررہے ہیں اور ان لوگوں کو تم لوگوں کے ساتھ دشمن کی طرف روانہ کریں تاکہ تمہارے مدد گار رہیں ۔''(۲) ''عقبہ بن خالد ''(۳) کو کوفہ کا حاکم بنایا ہے خود کو اور تم کو میں نے رہا نہیں کیا ہے ( یعنی اپنے

اور تمہارے درمیان میں نے کوئی فرق نہیں رکھا ہے )ایسا نہ ہو کہ کوئی جانے سے رہ جائے ، میں نے مالک بن حبیب یربوعی کو حکم دیا ہے کہ مخالفت کرنے والوں اور پیچھے رہ جانے والوں کو رہا نہ کرے مگر یہ کہ تمام لوگوں کو تمہارے ہمراہ کردے ۔(۴)

اس وقت معقل بن قیس ریاحی ، جو کہ بہت ہی بہترین اور غیور شخص تھا اپنی جگہ سے اٹھا اور کہا:

_______________________________

(۱) امام علیہ السلام نے ۱۲ ہزار سپاہیوں کو زیاد بن نضر وشریح کی سپہ سالاری میں پہلے ہی روانہ کردیا تھا۔

(۲)نہج البلاغہ خطبہ۴۸، وقعہ صفین ص ۱۳۱ ( تھوڑے فرق کے ساتھ) امام علیہ السلام نے اس خطبہ کو کوفہ کی فوجی چھاؤنی ، کوفہ شہر کے باہر ۲۵ ،شوال ۳۷ ہجری کو بیان کیا تھا ۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص ۲۰۱۔

(۳)عقبہ بن عامر ، مروج الذھب ج۲ ص ۳۸۴---(۴)وقعہ صفین ص ۱۳۲


خدا کی قسم ! کوئی بھی خلاف ورزی نہیں کرے گا مگر جو شک کی حالت میں ہو اور کوئی بھی مکر نہیں کرے گا مگر منافق، بہتر ہوتا آپ مالک بن حبیب یر بوعی کو حکم دیتے کہ مخالفت کرنے والے کو قتل کرڈالے۔

امام علیہ السلام نے اس کے جواب میں کہا: جو ضروری حکم تھا وہ میں نے اسے دیدیا ہے اور وہ انشاء اللہ میرے حکم کی خلاف ورزی نہیں کرے گا، اس وقت دوسرے لوگوں نے بھی چاہا کہ گفتگو کریں لیکن امام علیہ السلام نے اجازت نہیں دی اور اپنا گھوڑا طلب کیا اور جب آپ نے اپنا قدم رکاب پر رکھا تو اس وقت کہا '' بسم اللہ '' اور جب زین پر بیٹھے تو کہا( سبحان الذی سخّر لنا هذا وما کنّا له مقرنین وَ انا اِلیٰ ربّنا لمنقلبون ) (۱) وہ خدا (ہر عیب سے ) پاک ہے جس نے اس (سواری )کو ہمارا تابعدار بنایا حالانکہ ہم تو ایسے (طاقتور) نہ تھے کہ اس پر قابو پاتے ، اور ہم کو تو یقینااپنے پروردگا رکی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔ پھرآپ نے فرمایا:

اے خدا ،میں سفرکی پریشانیوں اور زحمتوں اور واپسی کے غم واندوہ کے ساتھ چلنے اور اہل وعیال ومال پر بری نظر رکھنے والوں سے تیری پناہ مانگتاہوں ،خدایا! تو سفر میں ہمارے ہمراہ اور اہل وعیال کے لئے نگہبان ہے اور یہ دونوں چیزیں تیرے علاوہ کسی کے اندر جمع نہیں ہوسکتیں ، کیونکہ جو شخص جانشین ہوگا وہ ساتھ میں نہیں ہوسکتا اور جو شخص ساتھ میں ہوگا وہ جانشین نہیں ہوسکتا۔

پھر آپ نے اپنی سواری کو بڑھایا جب کہ حر بن سہم ربعی آپ کے آگے آگے چل رہا تھا اور رجز پڑھ رہا تھا اس وقت کوفہ میں رہنے والوںکے سردار مالک بن حبیب نے امام علیہ السلام کے گھوڑے کی لگام پکڑی اور بہت ہی غمگین انداز سے کہا: اے میرے آقا! کیا یہ مناسب ہے کہ آپ مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے جائیں اور ان لوگوں کو جہاد کے ثواب سے مالا مال کریں اور مجھے مخالفوں کو جمع کرنے کے لئے چھوڑ جائیں ؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ لوگ جتنا بھی ثواب حاصل کریں گے تم ان کے ساتھ ثواب میں شریک ہوگے اور تمہارا یہاں رہنا ہمارے ساتھ رہنے سے زیادہ ضروری ہے ابن حبیب نے کہا:

_______________________________

(۱)سورہ زخرف، آیت ۱۳


''سمعاًو طاعة یا امیر المومنین'' (۱) (آپ کا جیسا حکم ہو میں تہ دل سے قبول کروں گا)

امام علیہ السلام اپنے سپاہیوں کے ہمراہ کوفہ سے روانہ ہوئے اور جب کوفہ کے پل سے گزرے تو لوگوں کو مخاطب کرکے کہا: اے لوگو تم میں سے جو لوگ رخصت کرنے آئے ہیں یا ان کا قیام یہیں پر ہے وہ یہاں پر پوری نماز پڑھیں گے، لیکن ہم لوگ مسافر ہیں اور جوبھی ہمارے ساتھ سفر پر ہے وہ واجب روزہ نہ رکھے اور اس کی نماز قصر ہے پھر آپ نے ظہر دورکعت پڑھی اور پھر اپنے سفر کو جاری رکھا اور جب آپ ابو موسیٰ کے گھر کے پاس پہونچے جو کوفہ سے دوفرسخ کی دوری پرواقع ہے تو وہاں آپ نے دو رکعت نماز عصر پڑھی اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا:

کتنی بابرکت ہے خدا کی ذات جو صاحب نعمت وبخشش ہے کتنا پاکیزہ ومنزہ ہے خدا جو صاحب قدرت وکرم ہے خدا سے میری یہی دعا ہے کہ مجھے اپنی قضاء قدر پر راضی ، اپنی اطاعت و فرمانبرداری پر کامیاب ، اپنے حکم پر متوجہ کرے کہ وہ دعاؤں کا سننے والا ہے۔(۲) پھر آپ اپنے سفر پر روانہ ہوئے اور '' ثرس '' نامی جگہ پر جوفرات سے نکلی ایک بڑی نہر کے کنارے واقع ہے اور یہ جو فرات سے نکلتی ہے اترے اور نماز مغرب ادا کی اس کے بعد خداکی اس طرح سے تعریف کی:

تمام تعریفیں اس خدا سے مخصوص ہیں جو رات کو دن میں اور دن کو رات میں تبدیل کرتاہے اس خدا کا شکر کہ جس وقت رات کی تاریکی پھیل جاتی ہے، تعریف اس خدا کی جب کہ ستارے نکل آتے ہیں یا ڈوب جاتے ہیں(۳)

آپ نے شب وہیں بسر کی اور نماز صبح پڑھنے کے بعد وہاں سے روانہ ہوئے جس وقت آپ '' قبہ قبین '' نامی جگہ پر پہونچے تو آپ کی نگاہیں لمبے لمبے کھجور کے درختوں پر پڑیں جو نہر کے کنارے لگے تھے اس وقت آپ نے قرآن کریم کی اس آیت کی تلاوت فرمائی( والنخل باسقات لّها طلع نضید ) (۴)

_______________________________

(۱)وقعہ صفین ص ۱۳۴۔۱۳۲

(۲)،(۳)وقعہ صفین ص ۱۳۴۔۱۳۲

(۴)سورہ ق آیت ۱۰


اور لمبی لمبی کھجوریں جس کا بور باہم گُھتا ہوا ہے '' اپنے گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے ہی آپ نے نہر کو پار کیااور یہودیوں کی عبادت گاہ کے پاس آپ نے آرام فرمایا(۱) ۔

سرزمین کربلا سے عبور

امام علیہ السلام جب کوفہ سے صفین کے لئے روانہ ہوئے تو سرزمین کربلاسے بھی گزرے ہرثمہ بن سلیم کہتا ہے:

امام علیہ السلام کربلا کی سرزمین پر اترے اور وہاں ہمارے ساتھ نماز پڑھی، جس وقت آپ نے نمازتمام کی اس وقت تھوڑی سی مٹی اٹھائی اور اسے سونگھا اور کہا ( اے خاک کربلا کتنی خوش نصیب ہے کہ تیرے ساتھ کچھ لوگ محشور ہوں گے اور بغیر حساب وکتاب جنت میں داخل ہوں گے)، پھر آپ نے اپنے ہاتھوں سے کچھ مقامات کی طرف اشارہ کیا اور کہا یہاں اور وہاں ، سعید بن وہب کہتے ہیں : میں نے امام علیہ السلام سے آپ کی اس سے کیا مرادہے ؟ آپ نے فرمایا: ایک عظیم خاندان اس سرزمین پر وارد ہوگا ،تم ہی میں سے ان لوگوں پر لعنت ہو ، ان لوگوں میں سے تم لوگوں پر لعنت ہو، میں نے کہا : آپ کے کہنے کا کیا مقصد ہے ؟ امام نے کہا تم لوگوں میں سے ان لوگوں پر لعنت جو ان لوگوں کوقتل کریں ، لعنت ہو تم لوگوں میں سے ان پر کہ ان کو قتل کرنے کی وجہ سے جہنم میں ڈالے جائیں گے۔(۲) حسن بن کثیر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ امام علیہ السلام کربلا کی سرزمین پر کھڑے ہوئے اور کہا: '' ذات کربٍ و بلائٍ '' ( یہ غم اور بلا کی زمین ہے ) اس وقت آپ نے اپنے ہاتھوں سے ایک خاص جگہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا، یہ ان لوگوں کے قیام کی جگہ اور ان کی سواریوں کے ٹھہرنے کی جگہ ہے پھر ایک اور مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس جگہ پر وہ لوگ قتل کئے جائیں گے۔ پہلا راوی ،ہرثمہ کہتاہے کہ جنگ صفین کا معرکہ ختم ہوا اور میں اپنے گھر واپس آگیا اور اپنی بیوی سے جو کہ امام کی چاہنے والی تھی ان تمام باتوں کا ذکر کیا جو امام نے کربلا کی سرزمین پر بیان کیا تھا اور میں نے اس سے یہ بھی کہا کہ کس طرح سے امام غیب کی باتوں کو جانتے ہیں ؟ میری بیوی نے کہا مجھے چھوڑدو، کیونکہ امام، حق کے

_______________________________

(۱) وقعہ صفین ص ۱۳۵

(۲)وقعہ صفین ص ۱۴۲۔۱۴۰، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص ۱۷۰۔۱۶۹


علاوہ کچھ نہیں کہتے، وقت گذرتا گیاعبیداللہ بن زیاد ایک عظیم لشکر لے کر حسین علیہ السلام کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے روانہ ہوا اور میں بھی اسی لشکر میں تھا جس وقت ہم کربلا کی سرزمین پر پہونچے اس وقت ہمیں امام کی باتیں یاد آئیں اس بات سے میں بہت زیادہ غمگین ہوا میں فوراً تیزی کے ساتھ حسین ( علیہ السلام) کے خیمے کی طرف بڑھا اور ان کی خدمت میں پہونچ کر پورا واقعہ بیان کیا ، حسین (علیہ السلام) نے فرمایا: اچھا تم یہ بتاؤ کہ میرے ساتھ ہو یا میرے مخالف ہو؟ میں نے کہا کسی کے ساتھ نہیں ہوں ، میں نے اپنے اہل وعیال کو کوفہ چھوڑدیا ہے اور ابن زیاد سے ڈرتاہوں۔ آپ نے فرمایا: جتنی جلدی ہو اس سرزمین کو چھوڑ کرچلے جاؤ ، اس خدا کی قسم جس کے قبضے میں محمد(ص) کی جان ہے جو شخص بھی آواز استغاثہ سنے گا اور میری مدد کو نہیں پہونچے گا خداوند عالم اسے جہنم کی آگ میں ڈال دے گا اس وجہ سے میں فوراً کربلا کی سرزمین سے روانہ ہوگیا تاکہ ان کی شہادت کا دن نہ دیکھ سکوں ۔(۱)

امام علیہ السلام ساباط اور مدائن میں

امام علیہ السلام کربلا کے قیام کے بعد ساباط کے لئے روانہ ہوئے اورشہر بہر سیر پہونچے وہاں کسریٰ کے کچھ آثار باقی نہ تھے اس وقت آپ کے چاہنے والوں میں سے ،حربن سہم(۲) نے ابویعفر کایہ شعرتمثل کے طور پر پڑھا:

جَرَتْ ِ الریاحُ علیٰ مکان ِ دیارِهم

فکانّما کانوا اعلیٰ میعادٍ

خزاں کی ہوائیں اس زمین پر چلیں جیسے وہ اپنے وعدہ کی جگہ پہونچ گئے ہیں۔

امام علیہ السلام نے فرمایا : تم نے کیوں اس آیت کی تلاوت نہیں کی؟

( کم ترکوا من جنات وعیون وزروع ومقام کریم ونعمة کانوا فیها فاکهین کذالک واورثنا ها قوماً آخرین فما بکت علیهم السماء والارض وما کانوا منظرین ) ( دخان آیت ۲۵۔۲۹)'' وہ لوگ ( خدا جانے) کتنے باغ اور چشمے اور کھیتیاں اور نفیس مکانات

_______________________________

(۱)وقعہ صفین ص ۱۴۱۔۱۴۰، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص ۱۶۹

(۲)بعض جگہوں پر '' حریز'' لکھاہے ، حاشیہ وقعہ صفین ص ۱۴۲


اور آرام کی چیزیں جس میں وہ عیش وچین کیا کرتے تھے چھوڑگئے یوں ہی ہوا، اور ان تمام چیزوں کا دوسرے لوگوں کو مالک بنادیا تو ان لوگوں پر آسمان وزمین کو بھی رونا نہ آیا اور نہ انہیں مہلت ہی دی گئی ''

اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا : دوسرے لوگ بھی ان کے وارث تھے لیکن وہ لوگ ختم ہوگئے اور پھر دوسرے لوگ اس کے وارث ہوگئے یہ گروہ بھی اگر اس نعمت پر خدا کا شکر بجانہ لائے تو یہ نعمت الٰہی ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان سے سلب ہوجائے گی لہٰذا کفران نعمت سے بچو تاکہ بدبختی میں گرفتار نہ ہو پھر آپ نے حکم دیا کہ تمام سپاہی اس بلندی سے نیچے اتریں ، جس جگہ امام علیہ السلام نے قیام کیا تھا وہ مدائن سے بہت قریب تھی، امام علیہ السلام نے حکم دیا کہ '' حارث اعور''شہر میں یہ اعلان کرے کہ جو شخص بھی جنگ کرنے کی صلاحیت وقدرت رکھتا ہے وہ نماز عصر تک امیر المومنین علیہ السلام کی خدمت میں پہونچ جائے، نماز عصر کا وقت ہوا اور طاقتور افراد امام کی خدمت میں حاضر ہوئے امام نے خدا کا شکر ادا کیا اور فرمایا:

'' میں جہاد میں شرکت سے مخالفت کرنے اور اپنے علاقے کے لوگوں سے جدا ہونے اور ظالم وجابر لوگوں کی زمین پر زندگی بسر کرنے پر بہت حیرت میں ہوں نہ تم لوگ اچھے کام کا حکم دیتے ہو اور نہ لوگوں کو برائیوں سے روکتے ہو''(۱)

مدائن کے کسانوں نے کہا: ہم لوگ آپ کے حکم کے مطابق عمل کریں گے جو مناسب ہو آپ حکم دیں، امام علیہ السلام نے عدی بن حاتم کو حکم دیا کہ وہاں قیام کرے اور ان لوگوں کو لے کر صفین کی طرف روانہ ہو ، عدی نے وہاں تین دن قیام کیا پھر مدائن کے تین سو لوگوں کے ساتھ صفین کی طرف روانہ ہوا ور اپنے بیٹے یزید کو حکم دیا کہ تم یہاں ٹھہر جاؤ اور دوسرے گروہ کے ساتھ امام کے لشکر میں شامل ہونا، وہ چارسو آدمیوں کے ساتھ امام کے لشکر میں شامل ہوگیا(۲) ۔

انبار کے کسانوں نے امام علیہ السلام کا استقبال کیا

امام علیہ السلام مدائن سے '' انبار'' کی طرف روانہ ہوئے، انبار کے لوگوں کو امام علیہ السلام کے سفر اور اس راستے سے گزرنے کے بارے میں معلوم ہوا لہٰذایہ لوگ امام کے استقبال کے لئے بڑھے،

______________________

(۱)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۳ص۲۰۳۔۲۰۲،وقعہ صفین ص۱۴۲

(۲)وقعہ صفین ص۱۴۲۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۳ ص۲۰۳


ا مام علیہ السلام اور ان لوگوں کے درمیان بہت سی باتیں ہوئیں۔ جب یہ لوگ امام کے سامنے پہونچے تو اپنے اپنے گھوڑوں سے اتر ے اور آپ کے سامنے اچھلنے کودنے لگے ۔

امام علیہ السلام نے فرمایا : یہ کیا کر رہے ہو اور ان جانوروں کو کیوں لائے ہو؟ ان لوگوں نے جواب دیا: ( ایرانی بادشاہوں کے زمانے سے)حکمرانوں کی تعظیم وتکریم کے اظہار کا طریقہ ہمارے ہاں یہی ہے اور یہ جانور ہم لوگوں کی طرف سے آپ کے لئے ہدیہ ہیں ہم لوگوں نے آپ اور آپ کے سپاہیوں کے لئے کھانا اور سواریوں اور جانوروں کے لئے چارے کابھی انتظام کیاہے ۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: اپنے بزرگوں کی تعظیم کے لیے جو عمل انجام دیتے ہو خدا کی قسم! اس سے ان لوگوں کو فائدہ نہیں پہونچتااس سے اپنے کو زحمت ومشقت میں ڈالتے ہو ، دوبارہ یہ کام انجام نہ دینا جو جانور تم لوگ اپنے ساتھ لائے ہو اگر تم لوگ راضی ہو تو اس شرط پر قبول کروں گاکہ اس کی قیمت خراج میں محسوب ہواور جو کھانے پینے کی چیزیں ہمارے لئے لائے ہواسے ایک شرط پر قبول کروں گا کہ اس کی قیمت ادا کروں ۔

انبار کے لوگوں نے کہا: آپ قبول کرلیں ہم اس کی قیمت معلوم کریںگے پھر آپ سے لے لیں گے ۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: ایسی صورت میں تم لوگ اصل قیمت سے کم لوگے۔

انبار کے لوگوں نے کہا: اے میرے امام ، عربوں کے درمیان ہمارے دوست واحباب ہیں کیا آپ ہم لوگوں کو ان کو ہدیہ وتحفہ دینے اور ان لوگوں سے ہدیہ وتحفہ قبول کرنے سے منع کررہے ہیں ؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: تمام عرب تم لوگوں کے دوست ہیں لیکن ہر آدمی شائستہ نہیں ہے کہ تمہارے قیمتی وسنگین تحفے کو قبول کرے اور اگر کوئی تم لوگوں سے دشمنی کرے تو مجھے اس سے آگاہ کرو۔

انبار کے لوگوں نے کہا: اے میرے آقا! ہمارے ہدیہ کو قبول فرمائیے ہم لوگوں کی خواہش وآرزو ہے کہ ہمارے ہدیہ کو قبول کرلیجیئے۔

امام علیہ نے فرمایا : تم پر افسو س ہے ہم تم سے زیادہ بے نیاز ہیں ، اتنا کہنے کے بعد امام علیہ السلام اپنے سفر پر روانہ ہوگئے اور ان لوگوں کو عدالت الٰہیہ کا درس دیا جو بہت زیادہ عرصہ سے عجم کے بادشاہوں کے ظلم وستم کا شکا ر تھے اور اس کے حاکموں کے ظلم وستم کو


برداشت کررہے تھے(۱)

امام علیہ السلام جب سفر کرتے کرتے ''الجزائر ''پہونچے تو '' تغلِب اور نمر'' کے قبیلے والوں نے امام علیہ السلام کا شاندار استقبال کیا۔

امام علیہ السلام نے اپنے تمام سپہ سالاروں میں سے صرف '' یزید قیس '' کو اجازت دیا کہ ان لوگوں کی لائی ہوئی غذا کو کھائے، کیونکہ وہ اسی قبیلے کا رہنے والا تھا۔

پھر امام علیہ السلام کا قافلہ '' رقّہ'' پہونچا اور فرات کے کنارے قیام کیا وہاں ایک راہب گوپھا گھر میں رہتا تھا جب اسے امام علیہ السلام کے آمد کی خبر ملی تو وہ آپ کی خدمت میں آیا اور کہا:مجھے اپنے آباؤ اجداد سے ایک صحیفہ وراثت میں ملا ہے جسے جناب عیسیٰ کے اصحاب نے لکھا ہے اور میں اسے اپنے ساتھ لایا ہوں تاکہ آپ کے سامنے اُسے پڑھوں ، پھر اس نے اس صحیفے کو پڑھا ( جس کی عبارت یہ تھی)

'' شروع کرتا ہوں خدا کے نام سے جو رحمٰن ورحیم ہے، وہ خدا جس نے گذشتہ زمانے کے تمام حالات کو معین کررکھا ہے اور لکھا ہے کہ ہم نے امیوں میں سے ایک کو اپنی پیغمبری کے لئے چنا ہے جو ان لوگوں کو قرآن و حکمت کی تعلیم دیتاہے اور سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتاہے اور لوگوں کے درمیان صدائے توحید بلند کرتاہے اور برے کو برائی سے سزا نہیں دیتا بلکہ معاف کردیتا ہے اس کے ماننے والے خدا کے مخلص اور فرماں بردار بندے ہیں جو عظیم منصبوں پر فائز ہونے اور زندگی کے نشیب وفراز پر بھی خدا کا شکر ادا کرتے ہیں ، ہر وقت ان کی زبانوں پر تسبیح وتہلیل کی آواز رہتی ہے ، خدا اسے دشمنوں پر کامیابی عطا کرتاہے جس وقت خدا اسے (پیغمبر)اپنے پاس بلالے گا تو ان کی امت دوگرہوں میں تقسیم ہوجائے گی لیکن دو بارہ پھر متحد ہوجائے گی اور کچھ دنوں تک اسی حالت پر باقی رہے گی لیکن پھر دو گروہوں میں تقسیم ہوجائے گی، اس کی امت سے ایک شخص اس فرات کے کنارے سے گزرے گا وہ ایسا شخص ہے جو نیکیوں اور اچھائیوں کا حکم دیتاہے اور برائیوں سے روکتا ہے صحیح فیصلہ کرتاہے اور فیصلہ کرتے وقت رشوت اور اجرت نہیں لیتا،دنیا

______________________

(۱) نہج البلاغہ باب الحکم ، نمبر ۱۳۶۔وقعہ صفین ص۱۴۴۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص ۲۰۳


اس کی نگاہوں میں اس گرد وغبار سے بھی بدترہے جسے تیز ہوا کے جھونکے اڑاتے ہیں اور موت اس کی نگاہوں میں پیاسے انسان کی پیاس بجھنے سے بھی زیادہ محبوب ہے تنہائی میں وہ خدا سے ڈرتاہے اور ظاہری طور پر خدا کامخلص ہوتاہے خدا کا حکم جاری کرنے میں برا کہنے والوں کی سرزنش سے نہیں ڈرتا ، جو شخص بھی اس علاقہ کا اس پیغمبر سے ملاقات کرے اس پر ایمان لائے اس کی جزا میری مرضی اور بہشت ہے اور جو شخص بھی خدا کے اس صالح بندے کو پالے اور اس کی مدد کرے اور اس کی راہ میں قتل کیا جائے تو اس کی راہ میں قتل ہونے والا شہید ہے...۔

جب راہب اس صحیفے کو پڑھ چکا توکہا، میں آپ کی خدمت میں ہوں اور کبھی بھی آپ سے دور نہیں ہوؤنگا تاکہ جو چیز آپ تک پہونچے وہ مجھ تک بھی پہونچے امام علیہ السلام یہ حالت دیکھ کر رونے لگے اور فرمایا: خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے بھولنے والوں میں قرار نہیں دیا ، اس خدا کی تعریف جس نے مجھے اچھے اور نیک لوگوں کی کتابوں میں یاد کیا۔

راہب اس وقت سے امام علیہ السلام کے ہمراہ تھا اور جنگ صفین میں درجہ شہادت پر فائز ہوگیا امام علیہ السلام نے اس کے جنازے پر نماز پڑھی اور اسے دفن کیااور فرمایا '' ھذا منّا اھل البیت '' (یہ شخص ہمارے خاندان سے ہے ) اور اس کے بعد کئی مرتبہ اس کے لئے طلب مغفرت کیا۔(۱)

امام علیہ السلام کا رقّہ میں قیام

امام علیہ السلام نے مدائن سے روانہ ہونے سے پہلے اپنے تین ہزار فوجیوں کو معقل بن قیس کی سپہ سالاری میں رقّہ کی طرف روانہ کیا(۲) اور اسے حکم دیا کہ موصل پھر اس کے بعد نصیبین کی طرف جائے اور رقّہ کی سرزمین پر قیام کرئے اور وہاں پر امام سے ملاقات کرئے اور خود امام بھی دوسرے راستے سے رقّہ کے لئے روانہ ہوئے گویا اس گروہ کو اس راستے سے بھیجنے کا مقصد اس علاقے میں حاکم کی حکومت اور موقعیت کو ثابت کرنا تھا ، لہٰذا آپ نے لشکر کے سپہ سالاروں کو حکم دیاکہ کسی سے بھی جنگ نہ کریں اور اپنے سفر میں ان

______________________

(۱)وقعہ صفین ص۱۴۸،۱۴۷۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص۲۰۶، ۲۰۵

(۲) کامل ابن اثیر ج۳، ص ۱۴۴۔ تاریخ طبری ج۳، جزء ۵ ص ۲۳۷


علاقوں کے لوگوں کو آرام واطمینان بخشیں اور اس راستے کو صبح اور شام میں طے کریں اور دوپہر اور رات کے پہلے حصے میں آرام کریں ( کیونکہ خداوندعالم نے رات کوآرام کرنے کے لئے پیدا کیا ہے ) خود اور اپنے سپاہیوں اور سواریوں کو راحت و آرام پہونچائیں، لشکر کے سپہ سالارنے امام کے حکم کے مطابق سفر طے کیا اور اس وقت رقّہ پہونچا جب امام علیہ السلام اس سے پہلے رقّہ پہونچ چکے تھے۔(۱)

رقّہ سے معاویہ کے نام خط

امام علیہ السلام کے چاہنے والوں نے امام سے عرض کیا کہ آپ معاویہ کے نام خط لکھیں اور دوبارہ اپنی حجت کو اس پر تمام کریں ، امام علیہ السلام نے ان کی درخواست کو قبول کیا(۲) کیونکہ آپ چاہتے تھے کہ معاویہ کی نافرمانی اور سرکشی بغیر خوں ریزی کے برطرف ہوجائے جب کہ آپ جانتے تھے کہ حکومت وقدرت حاصل کرنے والوں پر نصیحت وموعظہ کا کوئی اثر نہ ہوگا ، جب امام علیہ السلام کا خط معاویہ کے پاس پہونچا تو اس نے جواب میں جنگ کرنے کی دھمکی دی(۳) اس وجہ سے امام علیہ السلام اپنے ارادے میں اورمحکم ہوگئے اور رقّہ سے صفین کی طرف جانے کا حکم دیدیا۔

_______________________________

(۱)وقعہ صفین ص۱۴۸۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص۲۰۸

(۲)(۳)امام کے خط کی عبارت اور جنگ صفین کے متعلق معاویہ کا جواب ص ۱۵۰۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص۲۱۱۔۲۱۰


پل بنا کر فرات سے گزرنا

اس وسیع وعریض فرات کو عبور کرنا امام علیہ السلام کے لئے بغیر کسی پل یا کسی کشتی کے مشکل امر تھا، امام علیہ السلام نے رقّہ کے لوگوں سے کہا کہ کوئی ایسا وسیلہ لائیں جس کے ذریعہ سے خود اور آپ کے تمام سپاہی فرات کو پار کرسکیں ، لیکن اس سرحدی شہر کے لوگ عراقیوں کے برخلاف مولائے کائنات سے کوئی الفت ومحبت نہیں رکھتے تھے لہٰذا پل نہیں بنایا، امام علیہ السلام نے شجاعت وقدرت کے باوجود ان کے انکار کرنے پر کوئی مزاحمت نہیں کی اور ارادہ کیا کہ اپنے سپاہیوں کے ہمراہ اس پل سے گزریں جو وہاں سے کچھ دور ''منبِج'' نامی مقام پر واقع ہے۔

اس وقت مالک اشتر نے بلند آواز میں اس قلعہ کو خراب کرنے کی دھمکی دی جس میں وہ لوگ پناہ

لئے ہوئے تھے، رقّہ کے رہنے والوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا مالک وہ شخص ہے جو اگر کوئی بات کہتا ہے تو اس پر عمل ضرور کرتاہے لہٰذا ان لوگوں نے فوراً پل بنانے کا اعلان کیا اور امام علیہ السلام کا پورا لشکر تمام سازوسامان کے ساتھ اُس پل سے گزرگیا اور سب سے


آخر میں جس نے رقّہ کو چھوڑا وہ مالک اشتر تھے۔(۱)

امام علیہ السلام زمین شام پر

امام علیہ السلام نے فرات پار کرکے عراق کی سرزمین کو چھوڑدیا اور سرزمین شام پر قدم رکھا اور معاویہ کے ہر طرح کے شیطانی اور مزاحمتی حملوں کے مقابلے کے لئے اپنے دو بہترین وبہادر سپہ سالاروں ،زیاد بن نصر و شریح بن ہانی کو بالکل اسی انداز سے جیسے کہ کوفہ میں بھیجا تھا بطور ہر اول معاویہ کے لشکر کی طرف روانہ کیاوہ دونوں '' سور الرّوم '' نامی جگہ پر معاویہ کے سپاہیوں کے لشکر جس کا سپہ سالار ابو الاعور تھا روبرو ہوئے اور ان لوگوں نے کوشش کی کہ کسی بھی صورت سے دشمن کے اس سپہ سالار کو امام کا مطیع وفرمانبردار بنادیں، لیکن ان کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی اور دونوں نے امام علیہ السلام کو فوراً حارث بن جمھان جعفی کے ہمراہ خط روانہ کیا اور امام علیہ السلام کے حکم کے منتظر رہے(۲)

امام علیہ السلام نے خط پڑھنے کے بعد فوراً مالک اشتر کو بلایا اور کہا زیاد اور شریح نے ایسا ایسا لکھا ہے جتنی جلدی ہوسکے اپنے آپ کو ان لوگوں تک پہنچادواور دونوں گرہوں کی ذمہ داری کو قبول کرلواورجب تک دشمن سے ملاقات نہ ہو اور ان کی گفتگو نہ لینا اس وقت تک جنگ شروع نہ کرنا مگر یہ کہ وہ لوگ جنگ کی ابتداء کریں ،دشمن پر تمہارا غصہ دشمن کی طرف آگے بڑھنے میں مانع نہ ہو مگریہ کہ کئی مرتبہ ان کی گفتگو سنو اور اپنی حجت کو ان پر تمام کردو، پھر حکم دیا: زیاد کو میمینہ اور شریح کو اپنے میسرہ سپرد کرنا اور خود قلب لشکر میں رہنا اور ہاں دشمن سے اتنا قریب نہ رہنا کہ وہ خیال کریں کہ جنگ شروع کرنا چاہتے ہو اور نہ دشمنوں سے اتنا دور

______________________

(۱)وقعہ صفین ص۱۵۴۔۱۵۱۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص۲۱۲۔۲۱۱۔ تاریخ طبری ج۳ جزء ۵ ص ۲۳۸

(۲)وقعہ صفین ص۱۵۴۔۱۵۱، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص۲۱۳۔۲۱۱،تاریخ طبری ج۳ جزء ۵ ص ۲۳۸،کامل ابن اثیر ج ۳ ص۱۴۴


رہنا کہ وہ تصور کریں کہ ڈر رہے ہو اسی طریقے پر باقی رہنا یہاں تک کہ میں تم تک پہونچ جاؤں(۱) پھر امام علیہ السلام نے ان دونوں سپہ سالاروں کو یہ جواب لکھا اور مالک اشتر کی اس طرح تعریف کی''امابعد، فانی قدأمرت علیکما مالکاً فاسمعٰاله واطیعاأمره فانّه مِمّن لایخاف رهقه ولاسقاطُه ولابطوُه عن ما الاسراع اِلیه أحزم ولا اسراعه الٰی ماالبط ء عنه امثلُ وقد أمرته بمثل الّذی أمرتکما الّا یبدئُ القوم بقتال حتٰی یلقاهم فید عوهم ویعذر الیهم ان شاء اللّٰه '' (۲)

دونوں سپہ سالاروں کو معلوم ہو کہ میں نے سپہ سالاری مالک اشتر کو سونپ دی ہے، ان کی باتوں کو سنو اور ان کے حکم کی اطاعت کرو ۔ کیونکہ وہ ایسا شخص نہیں کہ اس کی عقل ولغزش سے خوف کھائے اور وہ ایسا بھی نہیں ہے کہ جلد بازی میں سستی کرے یا بردباری کے وقت جلدی کرے اور اسے ان چیزوں کا حکم دیا ہے جن چیزوں کا تمہیں حکم دیا ہے کہ ہرگز دشمن کے ساتھ جنگ نہ کریں بلکہ انہیں حق کی طرف بلائیں اور حجت کو ان پر تمام کریں۔

مالک اشتر نے بہت ہی تیزی کے ساتھ اپنے کو اس مقام پر پہونچایا جہاں پر دونوں فوجیں آمنے سامنے موجود تھیں، فوج کو منظم کیا اس کے بعد اپنی فوج کے دفاع کے علاوہ کوئی اور کام انجام نہیں دیا اور جب شام کے سپہ سالارابو الاعور کی طرف سے حملہ ہوتا تھاتو اس کا دفاع کرتے تھے، سب سے تعجب خیز بات یہ ہے کہ مالک اشتر نے دشمن کی فوج کے سپہ سالار کے ذریعے معاویہ کے پاس پیغام بھیجا کہ اگر جنگ کرنا چاہتا ہے تو خود میدان جنگ میں آئے تاکہ ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کریں اور دوسروں کے خون اور قتل وغارت گری کاسبب نہ بنیں لیکن اس نے اس درخواست کو قبول نہیں کیا، یہاں تک کہ ایک دن آدھی رات کو معاویہ کی فوج بہت تیزی کے ساتھ پیچھے ہٹ گئی اور فرات کے کنارے ایک وسیع وعریض زمین پر پڑاؤ ڈالا اور امام کے سپاہیوں پر پانی بند کردیا۔(۳)

_______________________________

(۱)،(۲)وقعہ صفین ص۱۵۴۔۱۵۱، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص۲۱۳۔۲۱۱،تاریخ طبری ج۳ جزء ۵ ص ۲۳۸،کامل ابن اثیر ج ۳ ص۱۴۴

(۳)وقعہ صفین ص۱۵۴،تاریخ طبری ج۳ جزء ۵ ص ۲۳۸


معاویہ کا صفین میں آنا

معاویہ کو خبر ملی کہ علی علیہ السلام نے سرزمین رقّہ پر موجود فرات کے اوپر پل بنایا اور خود اور اپنے پورے لشکر کو اس دریا سے پار کرایاہے ، معاویہ جس نے شام کے لوگوں کو پہلے ہی اپنا بنالیا تھا ، منبر پر گیا اور امام علی علیہ السلام کی فوج کی آمد کی خبر دی جو کوفیوں اور بصریوں پر مشتمل تھی ،اور ان کو جنگ کرنے اور جان ومال کے دفاع کے لئے بہت زیادہ رغبت دلائی، معاویہ کی تقریر کے بعد پہلے سے بنائے ہوئے منصوبے کے تحت اٹھے اور معاویہ کی تائید کی بالآخر معاویہ ان تمام لوگوںکے ہمراہ جن کے اندر جنگ کرنے کی صلاحیت تھی جنگ کے لئے روانہ ہوا(۱) اور اپنی فوج کے کنارے جس کا سپہ سالار ابوالاعور تھا قیام کیا اور اسی جگہ کو اپنا محاذِ جنگ قرار دیااور ایک قول کی بنا ء پر چالیس ہزار آدمیوں کو فرات پر معین کیا تاکہ امام کے سپاہیوں کو فرات کی طرف آنے سے روک سکیں ۔(۲)

______________________

(۱) ابن مزاحم نے (وقعہ صفین میں ) معاویہ کے سپاہیوں کی تعداد ایک لاکھ تیس ہزار لکھا ہے لیکن مسعودی نے (مروج الذھب، ج۳، ص ۳۸۴میں ) کہا ہے کہ جس قول پر لوگوں کا اتفاق ہے وہ پچاسی ہزار آدمی ہیں اور اسی طرح امام علی علیہ السلام کے سپاہیوں کی تعداد(وقعہ صفین ص ۱۵۷) ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لکھا ہے اور مروج الذھب میں۹۰ ہزار لکھا ہے ۔

(۲) وقعہ صفین ص۱۵۷۔۱۵۶


امام علیہ السلام کا سرزمین صفین پر ورود

زیادہ دن نہ گزرا تھا کہ امام علیہ السلام اپنے عظیم وشجاع سپاہیوں کے ہمراہ صفین پہونچے اور اپنی فوج کہ جس کے سپہ سالار مالک اشتر تھے سے ملحق ہوگئے۔

علی علیہ السلام نے سرزمین صفین پر اس وقت قدم رکھا جب دشمن نے ان کے سپاہیوں اور فرات کے درمیان اپنی عظیم فوج کا پہرہ بٹھا رکھا تھا اور امام کے سپاہیوں کو فرات تک پہونچنے سے روک دیا تھا، عبداللہ بن عوف کہتا ہے امام علیہ السلام کے سپاہیوں کے پاس پانی کا ذخیرہ بہت کم تھا اور ابوالاعور معاویہ کی فوج کے سپہ سالار نے نہر پر جانے کے تمام راستوں کو سواروں اور پیادوں سے بند کردیا تھا اورتیر چلانے والوںکو ان کے سامنے اور ان کے اردگرد نیزہ برداروں اور زرہ پہنے ہوئے لوگوں کو کھڑا کررکھا تھا جس کی

وجہ سے امام علیہ السلام کے لشکر میں پانی کی کمی ہونے لگی اور لوگ امام علیہ السلام کے پاس شکایتیں لے کر


آئے۔(۱)

امام علیہ السلام کا تحمل

ہر معمولی اور عام کمانڈر ایسی حالت میں تحمل وبرد باری کھودیتاہے اور فوراً حملہ کرنے کا حکم دے دیتاہے لیکن امام علیہ السلام جن کا پہلے ہی دن سے یہ مقصد تھا کہ جس طرح سے بھی ممکن ہو بغیر خونریزی کے ہی فیصلہ ہوجائے۔ اس وقت آپ نے اپنے ایک خاص رازدار صعصعہ بن صوحان(۲) کو بلایا اور کہا کہ تم بعنوان سفیر معاویہ کے پاس جاؤ اور اس سے کہو:

'' ہم لوگ اس علاقے میں آگئے ہیں اور ہمیں پسند نہیں کہ اتمام حجت سے پہلے جنگ شروع کریں اور تو پوری قدرت کے ساتھ شام سے باہر آگیا اور اس سے پہلے کہ ہم تجھ سے جنگ کریں تو نے جنگ کا آغاز کردیا میرا نظریہ ہے کہ تو جنگ سے باز آجاتا کہ میری دلیلوں کو غور سے سن سکے، یہ کا کون سابزدلانہ طریقہ ہے کہ تو نے ہمارے اور پانی کے درمیان اختیارکیا ہے، اس پہرے کو ہٹادے تاکہ میرے نظریہ کے بارے میں غورکر، اور اگر تو چاہتا ہے کہ یہی وضعیت رہے اور لوگ پانی کے لئے آپس میں جنگ کریں اور آخر میں کامیاب ہونے والاگروہ اس سے فائدہ اٹھائے تو اب مجھے کچھ نہیں کہنا ہے۔'' صعصعہ ، امام کے سفیر بن کر معاویہ کے خیمے میں داخل ہوئے جو لشکر کے درمیان میں تھا اور امام علیہ السلام کے پیغام کو معاویہ تک پہونچایا ، ولید بن عقبہ جیسے کور دل فرات پر قبضہ باقی رکھنے کے خواہاں تھے تاکہ امام کے لشکر والے پیاس کی شدت سے ہلاک ہوجائیں، لیکن سب سے بڑا سیاسی چالباز ، عمروعاص نے امیہ کے بیٹوں کے برخلاف معاویہ سے کہا فرات پر سے اپنا قبضہ ہٹالے اور جنگ کے دوسرے امور کی طرف غور کر ، اور ایک قول کی بناء پر اس نے کہا، یہ کام اچھا نہیں ہے کہ تو سیراب ہو اور علی پیاسے ہوں جب کہ ان کے پاس ایسے ایسے جانباز سپاہی ہیں جو فرات کی فکر میں ہیں یاتو اس پرقبضہ کرلیں گے یا اس راہ میں مر جائیں گے

______________________

(۱)الامامة والسیاسة ج۱ص ۹۴۔ تاریخ طبری ج۳ جزء ۵ ص ۲۳۹، کامل ابن اثیر ج۳ ص۱۴۵۔ تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۱۸۷

(۲) طبری اور ابن قیتہ کے بقول امام علیہ السلام نے اشعث کو بھیجا تھا ۔ الامامة والسیاسة ج۱،ص ۹۴۔ تاریخ طبری ج۳ جزء ۵ ص۲۴۰


اور تو جانتاہے کہ علی بہت بڑے بہادر ہیں اور عراق اور حجاز کے لوگ ان کے ہمرکاب ہیں ، علی اس مرد کا نام ہے کہ جب لوگوں نے فاطمہ کے گھر پر حملہ کیا تو انہوں نے کہا اگر چالیس افراد میرے ساتھ ہوتے تو حملہ کرنے والوں سے بدلہ لیتا ۔

جب کہ معاویہ امام کے سپاہیوں پر پانی بند کرکے اپنی پہلی کامیابی تصور کررہا تھا ۔ ایک شخص کہ جسے لوگ عابد ہمدانی کے نام سے جانتے تھے اور عمرو عاص کے دوستوں اور بہترین خطیبوں میں سے تھا ، اس نے معاویہ کی طرف رخ کر کے کہا سبحان اللہ ، اگر تم عراق کی فوج سے پہلے اس جگہ پہونچے ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم ان لوگوں پر پانی بند کردو ، خدا کی قسم اگر وہ لوگ تم سے پہلے یہاں آئے ہوتے تو تم پر کبھی پانی بند نہیں کرتے ، سب سے بڑا کام جو تم اس وقت انجام دے رہے ہو وہ یہ ہے کہ وقتی طور پر ان لوگوں کے لئے فرات کا پانی بند کر دیا ہے ،لیکن دوسرے موقع کے لئے آمادہ رہو کہ وہ لوگ اسی طرح سے تمہیں سزا دیں گے، کیا تم نہیں جانتے کہ ان کے درمیان ، غلام ، کنیز ،مزدور ، ضعیف وناتواں اور بے گناہ لوگ ہیں ؟

خدا کی قسم ، تمہارا سب سے پہلا ہی کام ظلم وستم ہے۔ اے معاویہ ، تونے اس غیر انسانی حرکت کی وجہ سے خوفزدہ اور مردد افراد کو جرأت وہمت دیدی اور وہ شخص جو تجھ سے جنگ کرنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا تو نے ان کو جری کردیا(۱)

معاویہ ، ان جگہوں کے برخلاف کہ جہاں پر وہ حلم وبردباری سے کام لیتا تھا اس زاہد ہمدانی پر سخت ناراض ہوا اور عمرو عاص سے اس کی شکایت کی ، اور عاص کے بیٹے نے بھی جو کہ اس کا دوست

تھا اس پر غضبناک ہوا، لیکن سعادت اور خوش بختی نے اس زاہد پر اپنا قبضہ کررکھا تھا اس نے معاویہ کے لشکر کے افق کو تاریکی میں دیکھا اور اسی رات امام علیہ السلام سے ملحق ہوگیا۔

_______________________________

(۱)وقعہ صفین ص ۱۶۰۔تھوڑے فرق کے ساتھ ،الامامة والسیاسة ج۱ص ۹۴۔ تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۱۸۸۔تاریخ طبری ج۳ جزء ۵ ص ۲۴۰


حملہ کرنے اور قبضہ توڑنے کا حکم

پیاس کی شدت نے امام علیہ السلام کے جا نبازوں کونیم جان کردیاتھا جس کی وجہ سے امام علیہ السلام کو غم واندوہ نے اپنے گھیرے میں لے لیاتھاجب ، آپ قبیلہ '' مذ حج'' کی طر ف آئے توایک کو

ایک قصیدہ کے ضمن میں یہ کہتے ہوئے سنا :

أیمنعنا القومُ مائَ الفرات

وفینا الرماحُ وفینا الحُجف(۱)

کیاشام کی قوم ہم لوگوں کو فرات کے پانی سے روک دے گی جب کہ ہم لوگ نیزہ وزرہ سے لیس ہیں ؟ پھر امام علیہ السلام قبیلہ '' کِندہ'' کی طرف گئے تو دیکھا کہ ایک سپاہی اشعث بن قیس کے خیمے کے پاس جو اسی قبیلے کا سپہ سالار تھا کچھ شعر پڑھ رہا ہے جس کے پہلے دو شعر یہ ہیں:

لئِن لم یجلّ الا شعث الیوم کربةً

من الموت فیها للنفوس تعنّت

فنشرب من ماء الفرات بسیفه

فهبنا اناساًقبل کانوا فموّ توا(۲)

اگرآج کے دن اشعث نے سختی واذیت میں ڈوبے ہوئے انسانوں کو موت کے غم واندوہ سے دور نہ کیا تو ہم تلوار کے ذریعے فرات کے پانی سے سیراب ہوں گے، کتنا اچھا ہوتا کہ اے اشعث ایسے لوگوں کو ہمارے حوالے کرتے جو پہلے تھے اور اس وقت موت کی آغوش میں جارہے ہیں۔


امام علیہ السلام نے ان دوسپاہیوں کے اشعار سننے کے بعد جوفوجی چھاؤنی میں بلند آواز سے پڑھ

رہے تھے، اپنے خیمے میں آئے اچانک اشعث امام کے خیمے میں آیا اور کہا : کیا یہ بات صحیح ہے کہ شام کے لوگ ہمیں فرات کے پانی سے محروم رکھیں، جب کہ آپ ہمارے درمیان میں ہیں اور ہماری تلواریں ہمارے ہمراہ ہیں ؟ اجازت دیجیئے! کہ خدا کی قسم یا فرات پرسے قبضہ ہٹادیں یا اس راہ میں اپنی جان گنوادیں اور مالک اشتر کو حکم دیں کہ اپنی فوج کے ساتھ جہاں پر بھی آپ کا حکم ہو وہاں کھڑے ہو جائیں ، امام علیہ السلام نے فرمایا، تم کو اختیار ہے اس وقت آپ نے مالک اشتر کے لئے ایک جگہ معین کی تاکہ وہ وہاں اپنی فوج کے ساتھ موجود رہیں، پھر آپ نے اپنے عظیم لشکر کے درمیان مختصر سا خطبہ پڑھا اور یہ ایک ایسا ولولہ انگیز خطبہ تھا جس سے امام کے لشکر میں ایک ایسا سماں بندھ گیا کہ گویا ایک ہی حملہ میں معاویہ کے لشکر کو پچھاڑ دیں گے اور گھاٹ کو اپنے قبضے میں لے لیں گے، وہ خطبہ یہ ہے:

''قد استطعموکم القتال فأقرّواعلیٰ مذلّةٍ وتاخیر محلّة روّ واالسیوف من الدماء ترووُا من المائ، فالموت فی حیاتکم مقهورین والحیاة فی موتکم قاهرین ألا

______________________

(۱)،(۲) مروج الذھب ج۲ ص ۳۸۵۔ وقعة صفین ص ۱۶۶۔۱۶۴


واِنَّ معاویة قاد لُمةً من الغواة وعمّس علیهمُ الخبر حتٰی جعلوا نحورهم أغراض المنیّةِ'' (۱)

معاویہ کی فوج نے اپنے اس کام (تم لوگوں پر پانی بند کرنے) کی وجہ سے تم لوگوں کو جنگ کی دعوت دی ہے اور اس وقت تم لوگوں کے سامنے دوراستے ہیں یا تو ذلت ورسوائی کے ساتھ اپنی جگہ پر بیٹھے رہو یا تلواروں کو خون سے سیراب کردو تاکہ تم پانی سے سیراب ہوجاؤ ، تمہارا ان سے دب جانا جیتے جی موت ہے اور غالب آکر مرنے میں زندگی ہے، آگاہ رہو کہ معاویہ گمراہوں کا ایک چھوٹا سا لشکر میدان جنگ میں زبردستی گھسیٹ لایا ہے اور حقائق سے انہیں اندھیرے میں رکھا ہے یہاں تک انہوں نے اپنے گلوں کو تیروں اور شمشیروں (موت) کا نشانہ بنایاہے۔

اشعث نے اسی رات اپنے ماتحت سپاہیوں کے درمیان بلند آواز میں کہا جو شخص بھی پانی چاہتاہے یا موت ، اس سے ہمارا وعدہ صبح کے وقت ہے(۲)

پیاس کی شدت ایک طرف اور امام کا شعلہ بیاں خطبہ اور سپاہیوں کے ولولہ انگیز اشعار دوسری طرف ،یہ تمام چیزیں سبب بنیں کہ بارہ ہزار آدمیوں نے فرات پر قبضہ کرنے کے لئے آمادگی کا اعلان کردیا، اشعث اپنی عظیم فوج کے ساتھ اور مالک اشتر اپنے طاقتور اور بہادر سپاہیوں کے ہمراہ جو کہ سوار تھے دشمنوں کے سامنے کھڑے ہوگئے اور بجلی کی طرح ایک ایساحملہ کیا کہ جو فوج رکاوٹ بنی ہوئی تھی اور قدرت وطاقت میں اس سے دوگنی تھی اسے اپنے راستے سے ہٹا ڈالا، اس طرح سے کہ جو فوج گھوڑے پر سوار تھی ان کے گھوڑے کے پیروں کے نشان فرات میں بن گئے تھے، اس حملے میں مالک اشتر کے ہاتھوں ۷ اور اشعث کے ہاتھوں ۵ افراد مارے گئے اور جنگ کا نقشہ امام کے حق میں پلٹ گیا اور عظیم نہر فرات امام اور آپ کے دوستوں کے قبضہ میں آگئی، اس وقت عمر وعاص نے معاویہ کی طرف رخ کرکے کہا ، کیا سوچ رہے ہو اگر علی تمہارے جیسا کام کریں اور تم پر پانی بند کردیں؟

معاویہ، جو امام علیہ السلام کے اخلاقی ، روحانی عظمتوں سے واقف تھا، نے کہا :میں سوچ رہا ہوں

______________________

(۱) نہج البلاغہ خطبہ ۵۱۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص ۲۴۴

(۲) وقعہ صفین ص ۱۶۶۔ الامامة والسیاسة ج۱ ص۹۴


کہ وہ ہم پر پانی بند نہیں کریں گے، کیونکہ وہ دوسرے مقصد کے لئے یہاں آئے ہیں(۱)

آئیے اب دیکھتے ہیں کہ ابو سفیان کے بیٹے کے برے عمل (پانی بند کرنا) کے نتیجے میں امام علیہ السلام کا کیا عکس العمل تھا۔

_______________________________

(۱) مروج الذھب ج ۲ ص ۳۸۷۔ ۳۸۶


عظیم قدرت کے باوجودانسانی اصول کی پابندی

امام علیہ السلام کے سپاہیوں نے فرات پر قبضہ کرنے کے لئے فوجی تکنک کا سہارا لیا اور کامیاب ہوگئے اور پوری فرات امام کے سپاہیوں کے قبضے میں آگئی اور معاویہ کے سپاہی فرات سے دور کردیئے گئے اور ایسی جگہ پر پناہ لی جہاں پر کھانے پانی کا انتظام نہ تھا اور شامیوں کے لئے ایسے حالات میں زندگی بسر کرنا ممکن نہ تھا اور بہت ہی جلد ان کے پاس موجود پانی کا ذخیرہ ختم ہوگیااور وہ مجبور تھے کہ تین راستوں میں سے کوئی ایک راستہ اختیار کریں۔

۱۔ امام کے لشکر پر حملہ کریں اور دوبارہ فرات کو اپنے قبضہ میں لے لیں لیکن اپنے اندر اتنی جرأت وطاقت نہیں دیکھ رہے تھے۔

۲۔ پیاس کی شدت سے موت کا جام پی لیں اور صفین کو اپنی قبرستان بنالیں۔

۳۔ میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں اور شام اور اس کے اطراف میں بکھر جائیں۔

لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود فرات پر قبضہ نے شام کی فوج کے سرداروں خصوصاً معاویہ کو وحشت زدہ نہیں کیا کیونکہ وہ لوگ امام علیہ السلام کی جوانمردی، اخلاق اور اسلام اور اس کے اصولوں پر پابندی کے ساتھ عمل کرنے سے خوب واقف تھے اور وہ جانتے تھے کہ امام کبھی بھی اصل کو فرع پر اورہدف کو وسیلہ پر قربان نہیں کریں گے۔

اخلاقی اصولوں اور انسانی اقدار کی رعایت کا سرچشمہ ہر شریف النفس انسان کی ملکوتی روح ہوتی ہے ،ان اصول کا اظہار سارے مواقع پر مستحسن سمجھا جاتا ہے ،جنگ ،صلح تک محدود نہیں ہے بلکہ انسان کا دوسرے انسان کے رابطے سے مربوط ہے۔

اسلام کے سپاہیوں کو روانہ کرتے وقت پیغمبر اسلام (ص) کے پیغامات اور علی علیہ السلام کے جنگ صفین میں دیئے ہوئے پیغامات ، جس میں سے کچھ کا تذکرہ ہم کریں گے ایک حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ کبھی بھی انسانی اصولوں کو اپنے مقصد پر قربان نہیں کرنا چاہیے بلکہ سخت سے سخت موقع پر بھی اخلاقی اصولوں سے غفلت نہیں کرنا چاہیے۔


معاویہ کی فوج کے سرداروں کو امام علیہ السلام کے سپاہیوں کے توسط سے فرات پر قبضہ ہونے پر فکر مند نہ ہونے کی علت کو دو سیاسی چالبازوں ( معاویہ وعمروعاص) کی گفتگو سے جانا جا سکتا ہے۔

عمروعاص، معاویہ کے انسانیت سے گرے ہوئے کاموں کا بالکل مخالف تھا لیکن معاویہ نے برخلاف عقل کام کیا ، یہاں تک کہ امام علیہ السلام کے لشکر کا قبضہ فرات پر ہوگیا اور معاویہ کی فوج فرات سے کئی فرسخ دور ہوگئی، اس وقت یہ دونوں سیاسی و شیطانی نمائندے(معاویہ وعمر وعاص) آپس میں گفتگو کرنے کے لئے ایک جگہ جمع ہوئے، مضمون یہ تھا:

عمروعاص : کیا فکررہے ہو اگر عراقی تجھ پر پانی بند کردیں بالکل اسی طرح جس طرح تو نے ان پر پانی بند کیا؟ تو کیا پانی کو اپنے قبضے میں لینے کے لئے ان سے جنگ کروگے اسی طرح جس طرح وہ لوگ تجھ سے جنگ کرنے کے لئے اٹھے تھے؟

معاویہ : پچھلی باتوںکو چھوڑو، علی کے بارے میں کیا سوچ رہے ہو؟

عمروعاص : میرا خیال ہے جس چیز کو تو نے ان کے بارے میں روا رکھا وہ تمہارے بارے میں روا نہیں رکھیں گے کیونکہ ہرگز وہ فرات پر قبضہ کرنے کے لئے نہیں آئے ہیں۔(۱)

معاویہ نے ایسی بات کہی کہ بوڑھا سیاسی ناراض ہوگیا اور اس نے اس کے جواب میں اشعار کہے اور اسے یاد دلایا کہ افق تاریک ہے اور ممکن ہے طلحہ وزبیر کی طرح مشکلوں میں گرفتار ہوجائیں۔(۲)

لیکن عمرو کا خیال بالکل صحیح تھا، امام علیہ السلام نے فرات پر قبضہ کرنے کے بعد دشمن کے لئے فرات کوآزاد

______________________

(۱) الامامة والسیاسة ج۱ ص۹۴۔ مروج الذھب ج ۲ ص ۳۸۶

(۲) وقعہ صفین ص ۱۸۶


کردیا(۱) اور اس طرح آپ نے ثابت کردیا کہ جنگ کے دوران اپنے بد ترین دشمن کے ساتھ بھی اخلاقی اصولوں کے پابند رہے اور معاویہ کے برخلاف اپنے مقصد کے حصول کے لئے غلط وسیلے کو اختیار نہیں کیا۔

فرات آزاد کرنے کے بعد

دونوں فوجیں تھوڑے سے فاصلہ پر آمنے سامنے تھیں اور اپنے اپنے سردار کے حکم کی منتظر تھیں ،لیکن امام علیہ السلام جنگ نہیں کرنا چاہتے تھے چنانچہ کئی کئی مرتبہ آپ نے اپنے نمائندوں اور خطوط بھیج کر مشکل کو گفتگو کے ذریعے حل کرنا چاہا۔(۲) ربیع الثانی ۳۶ ہجری کے آخری دنوں میں اچانک '' عبید اللہ بن عمر '' مظلوم وبے گناہ ہرمزان کا قاتل امام علیہ السلام کے پاس آیا ، ہرمزان ایک ایرانی تھااور اس کے مسلمان ہونے کو خلیفہ دوم نے تسلیم کرلیا تھا اور اس کے اخراجات کے لئے کچھ رقم معین کررکھی تھی ۔(۳) جب حضرت عمر ابو لؤلو کے خنجر سے زخمی ہوئے اور سپاہیوں کو قاتل کا کوئی سراغ نہ ملا(۴) تو خلیفہ کے ایک بیٹے نے جس کا نام عبیداللہ تھا انسانی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قاتل کی جگہ بے گناہ ہرمزان کو قتل کردیا(۵) امام علیہ السلام نے بہت کوشش کی کہ عثمان کے دور حکومت میں عبیداللہ کو اس کی سزا (قصاص) مل جائے ( مگر سزا نہ ملی ) اور امام علیہ السلام نے اسی وقت خدا سے عہد کیا کہ اگر ہمارا تسلط ہوگیا تو اس کے متعلق خدا کے حکم

______________________

(۱) کامل ابن اثیر ج۳ ص ۱۴۵۔ تاریخ طبری ج۳ جزء ۵ ص۲۴۲۔ تجاب السلف ص ۴۷

(۲) مروج الذھب ج ۲ ص ۳۸۷۔ تاریخ طبری ج۳ جزء ۵ ص۲۴۲

(۳)بلاذری ، فتوح البلدان ص ۴۶۹

(۴)یہ بحث کہ عمر کے قتل کے بعد ابولؤلوپہ کیا گذری مورخین کے درمیان اختلاف ہے بعض کا کہنا ہے کہ اسے گرفتار کرکے قتل کردیاگیا( تاریخ برگزیدہ ص ۱۸۴، تاریخ فخری ص۱۳۱) اور مسعودی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے کو خود اسی خنجر سے قتل کرلیا جس سے عمر کو قتل کیا تھا( مروج الذھب ج۲، ص۳۲۹) لیکن مولف حبیب السیر کا کہنا ہے کہ شیعوں کے نظریہ کے مطابق وہ مدینہ سے بھاگ گیا اور عراق کی طرف چلا گیا اور بالآخر کاشان میں اس کی وفات ہوگئی ( حبیب السیر ج ۱ جزء ۵ ص ۲۴۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳، ص ۶۱۔ ،مروج الذھب ج۲ ص۳۹۵)

(۵)تاریخی یعقوبی ج۲، ص ۱۶۱۔ فتوح البلدان ص ۵۸۳۔ تجارب السلف ص ۲۳


کو جاری کریں گے(۱) عثمان کے قتل کے بعد اور امام علیہ السلام کی خلافت حقہ کے بعد عبیداللہ قصاص(سزا) سے بہت ڈرا ہواتھا اور مدینہ سے شام کی طرف چلا گیا۔(۲)

اسی لئے عبیداللہ جنگ صفین کے موقع پر امام علیہ السلام کے پاس آیا اور طعنہ کے طور پر امام سے کہا خدا کا شکر کہ تمہیں ہرمزان کے خون کا بدلہ لینے اور مجھے عثمان کے خون کا بدلہ لینے والا قراردیا امام علیہ السلام نے فرمایا: خدا مجھے اور تجھے میدان جنگ میں جمع کرے(۳) اتفاقاً جنگ اپنے شباب پر تھی کہ عبیداللہ امام کے سپاہیوں کے ہاتھوں قتل ہوگیا(۴) ۔

______________________

(۱)امام علیہ السلام نے عبیداللہ سے کہا ''یا فاسقُ أما واللّٰه لئِن ظفرتُ بک یوماً من الدهر لأضربنّ عنقک '' انساب الاشراف ج۵، ص ۲۴۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۳ ص ۱۶۱۔ مروج الذھب ج۲ ۳۹۵۔

(۲)مروج الذھب ج۲ ص۳۸۸۔

(۳)الاخبار الطوال ص ۱۶۹ مطبوعہ قاہرہ ۔ وقعہ صفین ص ۱۸۶۔

(۴)مسعودی کہتے ہیں : جنگ صفین میں عبیداللہ کو خود امام علیہ السلام نے قتل کیا تھا وہ مزید کہتے ہیں کہ امام علیہ السلام نے اس پر ایسی ضربت ماری کہ جو زرہ لوہے کی وہ پہنے تھا وہ سب ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی اور تلوار کا وار اس کی ہڈیوں تک پہنچ گیا۔ مروج الذھب ج۲ ص ۳۹۵۔


سولہویں فصل

آخری اتمام حجت

معاویہ کے پاس تین نمائندے بھیجنا

ربیع الثانی ۳۶ ہجری کے آخری ایام تھے، امام علیہ السلام نے تین اسلامی شخصیتوں ، انصاری ، ہمدانی اور تمیمی کو اپنے پاس بلایا اور ان لوگوں سے کہا کہ تم لوگ معاویہ کے پاس جاؤ اور اسے امت اسلامی کی اطاعت اور اس سے ملحق ہونے اور احکام الٰہی کی پیروی کرنے کی دعوت دو، تمیمی نے امام علیہ السلام سے کہا ، اگر وہ بیعت کے لئے آمادہ ہوجائے تو کیا مصلحت ہے کہ اسے انعام ( مثلاً ایک علاقہ کی حکومت) دے دیں ؟

امام علیہ السلام جو کسی بھی صورت میں اصول کی پامالی نہیں کرتے تھے ان لوگوں سے کہا'' أیتوهُ الأن فلا قوه واحتجّوا علیه وانظرومارأیه '' یعنی اس وقت اس کے پاس جاؤ اور اس پر احتجاج کرواور دیکھو کہ اس کا نظریہ کیا ہے؟

وہ تینوں معاویہ کے پاس گئے اور معاویہ اور ان کے درمیان جو گفتگو ہوئی وہ درج ذیل ہے:

انصاری:دنیا تجھ سے چھوٹے گی اور تو دوسری دنیا کی طرف جائے گا وہاں تمہارے اعمال کا محاسبہ ہوگا اور اچھے برے اعمال کا بدلہ ملے گا ،تم کو خدا کا واسطہ کہ تم فتنہ وشر سے باز آجاؤ اور امت میں تفرقہ اور خونریزی مت کرو۔

معاویہ نے انصاری کی بات کاٹتے ہوئے کہا : تم اپنے بزرگ کو کیوں نصیحت نہیں کرتے؟

انصاری: حمد ہے خدا کی میرا بزرگ تمہاری طرح نہیں ہے وہ سابق الاسلام ،پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قریبی رشتہ دار اور عظمت وفضیلت کے تاجدار ہیں۔

معاویہ : تم کیا کہہ رہے ہو اور کیا چاہتے ہو؟


انصاری: میں تجھے علی کی اطاعت کی دعوت دے رہا ہوں اوراس کے قبول کرنے میں تمہارے دین ودنیا کے لئے بھلائی ہے۔

معاویہ : اس صورت میں عثمان کے خون کا بدلہ لینے میں تاخیر ہوگی ، نہیں ، رحمٰن کی قسم! میں ہرگز ایسا نہیں کرسکتا۔

اس وقت ہمدانی نے چاہا کہ کلام کرے لیکن تمیمی نے ان سے پہلے گفتگو شروع کردی اورکہا :

انصاری کو دیئے ہوئے جوابات سے تیرا مقصد معلوم ہوگیا اور تیرے ارادہ سے ہم لوگ بے خبر نہیں ہیں، لوگوں کو دھوکہ دینے اور ان کو اپنی طرف جذب کرنے کے لئے سوائے اس کے کوئی اور بہانہ نہیں ہے کہ تو یہ کہے کہ تمہارا خلیفہ مظلوم قتل ہواہے اور تم لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ ان کے قتل کا بدلہ لو اس آواز پر چند جاہل لوگوں نے تمہاری آواز پر لبیک کہا ہے جب کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ تم نے اپنے مقتول خلیفہ کی مدد کرنے میں تاخیر کی تھی اور اسی مقام کے حصول کے لئے تم نے ان کے قتل کو روا رکھاتھاایسا ہوسکتاہے کہ کچھ لوگ مقام ومنصب کی آرزو رکھتے ہوں مگر خدا ان کی آرزؤں کو پورا نہ کرے، اور تو ایساآرزو مند ہے کہ اپنی جس آرزوتک پہونچ جائے اس میں فلاح وبہبود نہیں ہے اگر تو اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوا تو عرب میں تجھ سے زیادہ کوئی بدبخت نہیں ہے اور اگر مقصد میں کامیاب ہوگیا تو آخرت کی روسیاہی کے سواء کچھ نہیں ہے،اے معاویہ خدا سے ڈر اور ہٹ دھرمی چھوڑ دے اور جو خلافت کا صحیح حقدار ہے اس سے جنگ نہ کر۔امام علیہ السلام کے نمائندوں کی منطقی اور استدلالی گفتگو نے معاویہ کو بوکھلا دیا اور اپنی پرانی روش کے برخلاف تلخ لہجے میں کہا:بیاباں نشین تم میرے پاس سے چلے جاؤاب ہمارے اور تمہارے درمیان تلوار ہی فیصلہ کرے گی۔

تمیمی: کیا تم ہمیں تلوار سے ڈرا رہے ہو ؟ بہت جلد ہی تلوار لے کر تمہاری طرف آرہے ہیں ، پھر تینوں نمائندے امام کی خدمت میں واپس آگئے اور تمام باتوں کے نتیجے سے امام علیہ السلام کو باخبر کیا۔(۱)

_______________________________

(۱) وقعہ صفین ص ۱۸۸،۱۸۷۔ تاریخ طبری ج۳ جزء ۵ ص۲۴۲۔ کامل ابن اثیر ج۳ ص ۱۴۶


عراق وشام کے قاریوں کا اجتماع

صدر اسلام میں قاریان قرآن کا ایک خاص مقام تھا ان کا کسی طرف ہوناتمام مسلمانوں کا ان لوگوں کی طرف متوجہ ہونے کا سبب بنتا تھا،ایسے حالات میں جب کہ صلح وآشتی کی کوئی امید نہ تھی عراق وشام

کے قاری جن کی تعداد ۳۰ ہزار کے قریب تھی ایک خاص جگہ پر جمع ہوئے اور ان کے نمائندے مثلاً عبیدہ سلمانی ، علقمہ بن قیس ،عبداللہ بن عتبہ وعامر بن عبد القیس وغیرہ دونوں فوج کے سرداروں کے پاس کئی مرتبہ آئے گئے سب سے پہلے معاویہ کے پاس گئے اور اس سے گفتگو کی جو درج ذیل ہے :

نمائندے: تم کیا چاہتے ہو؟

معاویہ : عثمان کے خون کا بدلہ چاہتاہوں۔

نمائندے: کس سے بدلہ لو گے؟

معاویہ : علی سے۔

نمائندے : کیا علی نے ان کو قتل کیاہے؟

معاویہ : ہاں علی نے قتل کیاہے اور ان کے قاتلوں کو پناہ دی ہے۔

پھر وہ نمائندے امام علی علیہ السلام کی خدمت میں آئے او ر کہا کہ معاویہ آپ پر عثمان کے قتل کا الزام لگارہا ہے۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: خدا کی قسم وہ جھوٹا ہے میں نے ہرگز اسے قتل نہیں کیا ہے۔

نمائندے پھر معاویہ کے پاس گئے اور امام علیہ السلام کی باتیں اسے بتائیں ۔

معاویہ : براہ راست وہ قتل میں شریک نہ تھے لیکن تھا اور لوگوں کو ان کے قتل پر ابھارا ہے ۔

امام علیہ السلام نے،معاویہ کی باتیںجاننے کے بعددوبارہ خلیفہ کے قتل میںہرطرح کی مداخلت کرنے سے انکار کیا۔

معاویہ نے امام علیہ السلام کے انکار کو دیکھ کر دوسری بات کہی، کہ اگر ایسا ہے تو عثمان کے قاتلوں کو ہمارے حوالے کریں یا ہمیں اجازت دیں کہ ہم خود انہیں گرفتار کریں۔


امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: ایک ایسا قتل ، جو عمداً نہیں تھالہذا اس کا قصاص نہیں ہے کیونکہ ان کے قاتلوں نے قرآن سے ان کے قتل کے جائز ہونے پر دلیلیں پیش کی ہیں اور اس کی تاویل کی ہے اور ان کے اور خلیفہ کے درمیان اختلاف ہوگیا اورخلیفہ تمام قدرت کے باوجود قتل ہوگیا(اور بالفرض کہ یہ عمل صحیح نہیں تھا توبھی ایسا قتل ، قابل قصاص نہیں ہے)۔

جس وقت امام کے نمائندوں نے حضرت کے فقہی استدلال کو ( جوباب قضاء کے اصول میں سے ہے ) معاویہ کے سامنے نقل کیا اور اس نے اپنے کو شکست خوردہ دیکھا تو پھر اپنی گفتگو کو دوسرے طریقے سے شروع کیا اور کہا کیوں علی نے خلافت کو بغیر ہمارے اور جو لوگ یہاں ہیں کے مشورے کے اپنے لئے انتخاب کیا اور ہمیں اس سے محروم کیا؟

امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: لوگ مہاجر وانصار کے پیرو ہیں اور وہ دوسرے شہروں میں رہنے والے مسلمانوں کے ترجمان ہیں، ان لوگوں نے اپنی مرضی و آزادی اور صدق دل سے میری بیعت کی ہے اور میں ہرگز معاویہ جیسے لوگوں کو اجازت نہیں دوںگا کہ وہ امت مسلمہ پر حکومت کرے اور لوگوں پر ہمیشہ مسلط رہے اور ان کی کمر توڑدے(۱)

معاویہ : تمام مہاجر وانصار مدینہ میں نہ تھے بلکہ ان میں سے کچھ شام میں رہتے تھے کیوں ان سے مشورہ نہیں کیا گیا؟

امام : امام کا انتخاب تمام مہاجرین و انصار جو پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں سے مربوط نہیں ہے، ورنہ انتخاب ہوہی نہیں سکتا بلکہ ان میں سے کچھ ہی لوگوں پر منحصر ہے یعنی ان لوگوں پر جنہوں نے صدر اسلام میں اپنی بہادری کا ثبوت پیش کیاہے اور '' بدری (جنگ بدر) '' کے نام سے مشہور ہیں اور ان تمام لوگوں نے میرے ہاتھ پہ بیعت کی ہے پھر آپ نے تمام قاریوں کی طرف رخ کرکے کہا: معاویہ تم لوگوں کو دھوکہ نہ دے اور تمہارے دین وجان کو تباہ نہ کردے۔

وضاحت : پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد حکومت اسلامی کے پھیلنے کی وجہ سے مہاجرین وانصار مختلف اسلامی ملکوں میں سکونت پذیر ہوگئے تھے اور اس زمانے میں کوئی ایسا وسیلہ نہ تھا جس کے ذریعے سب کو جمع کیا جاتا اور سب سے رائے ومشورہ لیا جاتا ، جس کے نتیجے میں حکومت کے نظام میں خلل واقع ہونے کے علاوہ کچھ نہ ہوتا، اسی وجہ سے کوئی اور صورت نہ تھی مگر یہ کہ مہاجرین وانصار کی اکثریت جو مدینہ میں سکونت پزیر تھی ان

_______________________________

(۱)اس سلسلے میں امام علیہ السلام کی بہت عمدہ تعبیر ہے''انماالناس تبع المهاجرین والانصار وهم شهود المسلمین فی البلاد علیٰ ولایتهم وأمردینهم فرضوا بی و بایعونی ولست أستحِلّ أن ادع ضرب معاویة یحکم علیٰ الامة ویرکبهم ویشقّ عصاهم '' وقعہ صفین ص ۱۸۹۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۴ ص ۱۶۔


پر اکتفاء کیا جاتا، اصولی طور پر صحیح نہ تھا کہ صرف مہاجرین وانصار کی رائے نافذ ہو، اور اگر تمام لوگوں سے مشورہ لینا ممکن ہوتاتو ان میں اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دوسرے صحابہ میں جنہوں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دیکھا تھا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پرایمان لائے تھے لیکن ہجرت نہیں کی تھی کوئی فرق نہیں تھا ، تو پھر کس بنیاد پر خلیفہ کا انتخاب صحابہ کے اختیار میں ہوا اور دوسرے مسلمان اس مسئلہ میں اپنا نظریہ پیش کرنے کا حق نہیں رکھتے؟

اصل میں مسئلہ امامت، امام علیہ السلام کی نظر میں ایک تنصیصی ( نصّی ) مسئلہ تھا یعنی ضروری ہے کہ امام بھی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرح خدا کی طرف سے معین ہو لہٰذا اگر اس مسئلہ میں امام علیہ السلام مہاجرین و انصار یا '' اصحاب بدر '' کے انتخاب کرنے کے متعلق کوئی بات کررہے ہیں تو یہ لوگوں کو قانع کرنے کے لئے اپنی حجت تمام کررہے تھے، انتخاب کے ذریعے امامت کو اختیار کرنے کے مسئلے کا جب کبھی تجزیہ کیا جائے گا تو ہرگز اس زمانے کے تمام مہاجرین و انصار یا تمام صحابہ یا تمام مسلمان کی رائے کو مورد بحث قرار نہیں دیا جا سکتاکیونکہ اس زمانہ میں لوگوں کے ایک دوسرے سے رابطے کے ذرائع بہت کم تھے اور مہینوں گزر تے تھے جب قاصد ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں پہونچتا تھا، اسی وجہ سے کوئی اور صورت نہ تھی مگر یہ کہ اسلام کی بزرگ وعظیم شخصیتوں یا امام علیہ السلام کی تعبیر کے مطابق '' اصحاب بدر'' پر اکتفاء کیا جاتا۔

ابتدائی جھڑپیں

ربیع الثانی، جمادی الاول اورجمادی الثانی کے مہینے صرف نمائندے اور پیغامات بھیجنے میں گزر گئے اور اس درمیان بہت سی جھڑپیں ہوئیں ( جن کی تعداد ۸۵ لکھی گئی ہے ) لیکن یہ جھڑپیں جنگ وجدال کا سبب نہیں بنیں، کیونکہ عراق وشام کے قاری اس درمیان میں واسطہ بنے تھے اور لوگوں کو ایک دوسرے سے جدا کررہے تھے(۱)

______________________

(۱)وقعہ صفین ص ۱۹۰۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۴ ص ۱۸۔۱۷


ابو امامہ و ابو الدرداء :

یہ دونوں بزرگ صحابی جنگ وجدال کو روکنے کے لئے معاویہ کے پاس گئے اور اس سے کہا: کیوں علی سے جنگ کررہے ہو؟ معاویہ نے اپنے اسی پرانے جواب کو جو اس نے کئی مرتبہ امام علیہ السلام اور آپ

کے نمائندوں کو دیا تھا دہرایا اور دونوں صحابیوں نے امام کے پاس آکر اس کا جواب سنایا ، امام علیہ السلام نے اس مرتبہ معاویہ کا جواب دوسرے انداز سے دیا اور وہ یہ کہ اپنے سپاہیوں کے درمیان یہ بات نشر کردی کہ معاویہ خلیفہ کے قاتلوں کا طلبگارہے، اچانک ۲۰ ہزار آدمی اسلحے سے لیس ہو کر اور وہ بھی اس طرح کہ ان کی آنکھوں کے علاوہ ان کے بدن کا کوئی حصہ دکھائی نہیں دے رہا تھا باہر آئے اور سب نے یہ کہا کہ ہم خلیفہ کے قاتل ہیں(۱) ۔

جب ان دونوں بوڑھے صحابیوں نے یہ منظر دیکھا تو انہوں نے دونوں گروہوں کو چھوڑ دیا تاکہ جنگ کے عینی شاہد نہ بنیں جب کہ ان لوگوں کے لئے بہتر تھا کہ حق کی تلاش کرتے اور اس کی حمایت کرتے، رجب ۳۶ کا مہینہ آپہونچا اور چھٹ پٹ حملے رک گئے ، معاویہ کو اس بات کو خوف تھا کہ قاریان قرآن جو دونوں فوج کے درمیان پڑاؤ ڈالے تھے علی کے لشکر سے نہ مل جائیں ، لہٰذا امام علیہ السلام کی چھاؤنی کو درہم برہم کرنے کے لئے اس نے چال چلی ، جس کی مثال اسلام کی جنگوں کی تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔

_______________________________

(۱)وقعہ صفین ص ۱۹۰۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۴ ص ۱۸۔۱۷


معاویہ کی طرف سے بند توڑنے کی افواہ

فرات کے گھاٹ پر قبضہ کرنے کے بعد جنگ کا نقشہ امام کے لشکر کے حق میں ہو گیا اسی طرح عراق وشام کے قاریان قرآن جو امام کی خدمت میں تھے ،امام کی منطقی اور عقلی گفتگو سن کر ان میں سے اکثر شامی قاری بھی آپ کی فوج میں داخل ہوگئے اور ان میں سے کچھ نے کنارہ کشی اختیار کرلی ، معاویہ نے اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ امام کا اخلاق سب پر حاوی ہوجائے، ایک چال چلی تاکہ جنگ کواپنے فائدے میں بدل دے۔

امام علیہ السلام کی فوج کی چھاؤنی صفین کے ڈھلان پر تھی اورمعاویہ کی چھاؤنی بلندی پر تھی، میدان کے کنارے ایک بند تھا جس سے فرات کا پانی روکا گیا تھا اچانک امام کے لشکر میں ایک دوسرے سے یہ خبر پھیل گئی کہ معاویہ چاہتا ہے کہ فرات کے بند کو توڑ کرپانی عراقیوں کی کی طرف بہادے، اس خبر کو

پھیلانے کا طریقہ یہ تھا کہ معاویہ کے حکم سے خفیہ طور پر ایک تیر امام کے لشکر کی طرف پھینکاگیا جس میں ایک خط تھا جس میں لکھا گیا تھا کہ ، یہ خط خدا کے ایک نیک بندے کی طرف سے ہے، میری عرض ہے کہ معاویہ چاہتاہے کہ فرات پر بنے ہوئے بند کو توڑ دے تاکہ تم لوگوں کو غرق کردے جتنی جلدی ممکن ہو کوئی فیصلہ کرو احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو۔

یہ خط امام علیہ السلام کے ایک فوجی کے ہاتھ میں پڑا اس سے دوسروں کے ہاتھ میں جاتارہا یہاں تک کہ پوری چھاؤنی میں یہ خبر پھیل گئی اور شاید سب نے اس خط کو صحیح مان لیا اور جس وقت یہ خبر پھیلی اسی وقت عراق کے لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے دوسو آدمیوں کو پھاوڑا ، نیزہ وغیرہ دیکر فرات کے گھاٹ پر بھیجا تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ واقعاً وہ بند توڑنا چاہتاہے۔

امام علیہ السلام، معاویہ کے مکروحیلہ سے واقف تھے لہٰذا اپنی فوج کے سپہ سالاروں سے فرمایا: معاویہ بندتوڑنے کی طاقت نہیں رکھتا، وہ تم لوگوں کو اپنے اس مکر وحیلہ سے مرعوب کرنا چاہتا ہے تاکہ تم لوگ اپنا قبضہ چھوڑ دو اور وہ دوبارہ فرات کو اپنے قبضہ میں لے لے۔


سپہ سالاروں نے کہا: ایسا نہیں ہے بلکہ وہ واقعاً توڑناچاہتاہے اور اس وقت کچھ لوگ بند کو توڑنے میں مصروف ہیں تاکہ پانی کا رخ ہم لوگوں کی طرف کر دیں۔

امام علیہ السلام نے فرمایا:اے عراقیو ، میری مخالفت نہ کرو۔

سپہ سالاروں نے کہا: خدا کی قسم ہم یہاں سے کوچ کریں گے اگر آپ رکنا چاہتے ہیں تو رک جائیں اس وقت سب چھاؤنی چھوڑکر چلے گئے اور ایک بلند جگہ پر پناہ لی ، امام علیہ السلام آخری فرد تھے جنہوں نے مجبوراً چھاؤنی چھوڑی ، لیکن زیادہ دیر نہ ہوئی تھی کہ امام علیہ السلام کی بات صحیح ثابت ہوئی معاویہ نے بجلی کی تیز رفتاری سے امام علیہ السلام کی چھاؤنی پر قبضہ کرلیااور عراقی سپاہیوں کو حیرت میں ڈال دیا۔(۱)

_______________________________

(۱)وقعہ صفین ص۱۹۱۔ ۱۹۰


مخالفت کی تلافی

امام علیہ السلام نے اپنے مخالف سرداروں کو اپنے پاس بلایا اور ان لوگوں کی ملامت کی۔

اشعث بن قیس نے اپنی مخالفت کی عذر خواہی کی اور کہا کہ اس شکست کی تلافی کریں گے چنانچہ مالک اشتر کی مدد سے شدید جنگ کرکے معاویہ کی فوج کو قبضہ کی ہوئی سرزمین سے تین فرسخ دور کردیا اور اس طرح اپنی مخالفت کے ذریعے ہوئی شکست کی تلافی کردی اور میدان پھر امام علیہ السلام کے قبضے میں آگیا اور پھر فرات کے پانی پر امام علیہ السلام کے سپاہیوں کا قبضہ ہوگیا۔

مگر اس وقت امام علیہ السلام نے اپنی کرامت وشجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوراً ہی معاویہ کے پاس پیغام بھیجا :''انا لانکافیک بصنعِک ، هلُمّ الی الماء فنحن وأنتم فیه سوائ '' میں تمہارے جیسا کام ہرگز نہیں کرسکتا ، اس پانی کی طرف آؤ ہم اور تم اس آسمانی نعمت میں برابر ہیں ۔اس وقت اپنی فوج کی طر ف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ہمارا مقصد پانی پر قبضہ کرنے سے زیادہ بزرگ ہے ۔(۱)

ماہ رجب ۳۶ ہجری سے ذی الحجہ تک جنگی جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا اور دونوں فوجوں نے لاشوں کو ایک دوسرے کے حوالے اس خوف سے نہیں کیا کہ کہیں ایسا نہ ہوا کہ فوج حملہ کر بیٹھے لیکن ذی الحجہ میں جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے، امام علیہ السلام نے اس مہینے اپنے سپہ سالاروں مثلاً مالک اشتر، حجر بن عدی ، شبث تمیمی ، خالد دوسی ، زیاد بن نضر ، زیاد بن جعفر، سعید ہمدانی ، معقل بن قیس اور قیس بن سعد کو ان کے دستوں کے ہمراہ میدان میں روانہ کیا(۲) تمام سپہ سالاروں کے درمیان مالک اشتر سب سے نمایاں نظر آرہے تھے کبھی کبھی دن میں دو حملے ہوتے اور دونوں طرف کے لوگ مارے جاتے ، جس وقت محرم ۳۷ ہجری کا چاند فلک پر نمودارہوا دونوں فوجوں نے کہا کہ محرم الحرام کے احترام میں جنگ بند ہونا چاہیے اور نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں طرف سے نمائندے گفتگو کے لئے آنے لگے۔(۳)

_______________________________

(۱)وقعہ صفین ص ۱۶۵

(۲)تاریخ طبری ج۳ جزئ۵ ص ۲۴۳۔ کامل ابن اثیر ج۳ ص۱۴۶

(۳)وقعہ صفین ص ۱۶۵


۳۷ ہجری کے حادثات

محرام الحرام ۳۷ ہجری کا مہینہ ، پیغام اور نمائندے بھیجنے کا مہینہ تھا۔

امام علیہ السلام نے اس مہینے میں اہم شخصیتوں مثلاً عدی بن حاتم ، شِبث بن ربعی، یزید بن

قیس اور زیاد بن حفصہ کو معاویہ کے پاس بھیجا تاکہ شاید اس مدت میں اسے دوبارہ جنگ کرنے کے ارادے سے روک سکیں ، معاویہ اور ان لوگوں کے درمیان ہوئی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے:

عَدی بن حاتم : ہم اس لئے آئے ہیں کہ تمہیں ایسی چیز کی دعوت دیں جس کے ذریعے سے خداوند عالم ہماری امت کو متحد کردے گا اور مسلمانوں کا خون بہنے سے بچ جائے گا اور ہم تجھے اسلام کے فاضل اور اچھے فرد کی طرف دعوت دیتے ہیں ، لوگ اس کے پاس جمع ہوئے اور خداوندعالم نے اس کی ہدایت وراہنمائی کی اور کسی نے بھی اس کی بیعت کرنے سے انکار نہیں کیا مگر صرف تم نے اور جولوگ تمہارے ساتھ ہیں، ہم لوگوں کی تم سے التجا ہے کہ اس نافرمانی اور طغیانی سے بازآجا، اس سے پہلے کہ جنگ جمل جیسے حالات میں مبتلا ہو۔

معاویہ : تم لوگ مجھے دھمکی دینے اور مرعوب کرنے آئے ہو نہ کہ میری اصلاح کرنے! جو تم چاہتے ہو وہ بہت دور ہے میںحرب کا بیٹا ہوں اور کبھی بھی خالی مشکوں کو پیٹنے سے نہیں ڈرتا ( عرب اونٹوں کو بھگانے کے لئے خالی مشکوں کو پیٹتے تھے) خدا کی قسم ! تو ان لوگوں میں سے ہے جس نے عثمان کے قتل کرنے پر لوگوں کو ابھارا تھا اور تو خود ان کے قاتلوں میں سے ہے ، افسوس اے عدی، میں نے اُسے مضبوط ہاتھوں سے پکڑاہے۔


شبث بن ربعی وزیاد بن حفصہ:ہم صلح کرنے کے لئے تمہارے پاس آئے ہیں اور تو(ادب کو بالائے طاق رکھ کر) ہم لوگوں کے لئے قصہ بیان کررہا ہے بیہودہ باتوں کو چھوڑ دے اور ایسی باتیں کر جو ہمارے اور تمہارے دونوں کے لئے مفیدہو ں۔

یزید بن قیس: ہم پیغام پہونچانے اور پیغام لے جانے کے لئے آئے ہیں اور ہرگز موعظہ ونصیحت اور دلیل اور ایسے مسائل جو اتحاد واتفاق کے لئے سرمایہ ہیں چھوڑ نہیں سکتے، تم ہمارے امام کو پہچانتے ہوا ور مسلمان بھی انہیں پہچانتے ہیں کہ وہ کتنے عظیم و برتر ہیںاور یہ بات ہرگز تم سے پوشیدہ نہیں ہے اور متقی وپرہیز گار اور بافضیلت لوگ تجھے علی کے برابر شمار نہیں کرتے ، خدا سے خوف کر اور علی کی مخالفت نہ کر، کہ خدا کی قسم کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جو علی سے زیادہ متقی وپرہیز گارہو اور علی جیسا تمام فضیلتوں کا مظہر ہو۔

معاویہ : تم لوگوںنے مجھے دو چیزوں کی دعوت دی ہے ، علی کی اطاعت اور اتحاد ، میں دوسرے کو قبول کروں گا لیکن ہرگز میں علی کی اطاعت نہیں کرسکتا ،تمہارے رہبر وحاکم نے ہمارے خلیفہ کو قتل کیا اور امت کو دو گروہوں میں تقسیم کردیا اور خلیفہ کے قاتلوں کو پناہ دیا ہے، اگر ان کا کہنا ہے کہ میں نے خلیفہ کو قتل نہیں کیا ہے تو میں بھی ان کی اس بات کو رد نہیں کروں گا لیکن کیا وہ انکار کرسکتے ہیں کہ خلیفہ کے قاتل ان کے دوست نہیں ہیں؟ وہ ان لوگوں کو ہمارے حوالے کردیں تاکہ میں ان سے بدلہ لے سکوں اس وقت میں اطاعت اور وحدت کے بارے میں تمہارا جواب دوں گا۔(۱)

______________________

(۱)تاریخ طبری ج۳ جزئ۵ ص ۳۔۲۔ کامل ابن اثیر ج۳ ص۱۴۷۔وقعہ صفین ص ۱۹۶،۱۹۸۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۴ ص۲۲۔۲۱


معاویہ کے جواب کی وضاحت

معاویہ اپنے احتجاجات میں ایک نظریہ پر قائم نہیں تھا،حالات کو دیکھ کر باتیں کرتا تھا۔کبھی امام علیہ السلام پر قتل کا الزام رکھتااور کسی صورت میں بھی اس سے انکار نہیں کرتالیکن اس گفتگو میں حضرت کو خون عثمان سے بری رکھا مگر یہی مسلسل کہتا رہا کہ امام نے خلیفہ کے قاتلوں کو اپنے پاس رکھا ہے جب کہ وہ اس طرح کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا تھا کیونکہ نہ تو وہ خلیفہ کا وارث تھا اور نہ مسلمانوں کا حاکم ، قاتلوں کو بار بار اپنے اختیار میں لینے کا اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ امام علیہ السلام کی فوج کے درمیان اختلاف پیدا ہوجائے ، وہ جانتاتھا کہ عراق ومصر وحجاز کے انقلابی لوگ خلیفہ کے حاکموں کے ظلم و ستم کا نشانہ بن چکے تھے اور عثمان کے قتل کے بعد بہت زیادہ اصرار کرکے امام کے ہاتھوں پر بیعت کی ۔ یہی لوگ خلیفہ کے قاتل ہیں ( چاہے ان لوگوں نے خودقتل کیا ہے یا کسی کے ذریعے قتل کرایا ہے یا تبلیغ اور اپنی مرضی کے اظہار اور خوشحالی کے لئے اس قتل میں شامل رہے ہیں)ایسے عظیم گروہ کاسپرد کرنا پہلے تو ممکن نہ تھا بلکہ صرف اور صرف نظام حکومت کو ختم کرنے یا شورش برپا کرنے کے علاوہ کچھ نہ تھا۔

معاویہ نے اس گفتگو میں خلیفہ کے قاتلوں کی سپردگی کو مرکزی حکومت کی پیروی کرنے کے لئے

کافی سمجھا ،جب کہ دوسری جگہوں پر اس نے بہت اصرار کیا کہ ضروری ہے کہ حکومت مہاجرین و انصار کی شوریٰ جس کے افراد مختلف شہروں میں رہتے ہیں ان کی رائے ومشورہ سے طے ہو ،اس طرح کی ضدونقیض باتیں کرنا معاویہ کے ابن الوقت ہونے کی نشاندہی ہے۔

اب ہم معاویہ اور علی علیہ السلام کے نمائندوں کے درمیان ہوئی گفتگو کے سلسلہ میں بیان کر رہے ہیں۔

شبث بن ربعی : اے معاویہ ، تجھے خدا کی قسم، اگر عمار یاسر کو تیرے حوالے کریں تو کیا تو انہیں قتل کردے گا؟ ( عمار جس کے بارے میں پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایاہے ، اسے ظالم گروہ قتل کرے گا)

معاویہ : خدا کی قسم، اگر علی سمیہ کے بیٹے کو میرے حوالے کریں تو میں عثمان کے غلام نائل کے بدلے انہیں قتل کردوںگا ۔

شبث بن ربعی :آسمان کے خالق کی قسم ، تو نے عدالت سے کام نہ لیا اس خدا کی قسم جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تم ہرگز سمیہ کے بیٹے کو قتل نہیں کرسکتے مگر یہ کہ سروتن میں جدائی ہوجائے اور زمین اپنی پوری وسعت وکشادگی کے ساتھ تجھ پر تنگ ہوجائے۔


معاویہ : اگر زمین مجھ پر تنگ ہوگی تو مجھ سے زیادہ تجھ پر تنگ ہوگی۔

یہاں امام علیہ السلام کے نمائندوں کی گفتگو ختم ہوگئی اور بغیر کسی نتیجے کے یاابوسفیان کے بیٹے کی فکر وتدبر پر کوئی اثر ہوتا نمائندے واپس آگئے ، معاویہ نے ان لوگوں میں سے زیاد بن حفصہ کو بلایا اور اس سے دوسرے انداز سے گفتگو کرنا چاہی وہ سوچ رہا تھا کہ شاید اس کے نظریہ اور فکر کو تبدیل کردے گا کیونکہ ان میں سے ہر ایک امام علیہ السلام کے چاہنے والوں میں سے بہت سے لوگوں کا نمایندہ تھا معاویہ نے اس سے کہا: علی نے قطع رحم کیاہے اور ہمارے امام کو قتل کرڈالا اور اس کے قاتلوں کو پناہ دیا ہے میں تجھ سے درخواست کرتاہوں کہ اپنے عزیزوں اور قبیلے والوں کے ساتھ میری مدد کرو اور میںتم سے عہد کرتاہوں کہ جنگ فتح کرنے کے بعد ان دو شہروں (کوفہ اور بصرہ) میں سے جس شہر کی حکومت چاہے گا تجھے دے دوں گا۔

زیاد بن حفصہ نے کہا: میں اس دلیل کی بنیاد پر جو خدا کی طرف سے میرے پاس ہے اور وہ نعمتیں جو مجھے نصیب ہوئی ہیں میں کبھی مجرموں کا محافظ ومددگار نہیں بن سکتا،یہ جملہ جو کہ موسیٰ بن عمران(۱) کی گفتگو کا سرچشمہ ہے کہا اور معاویہ کو چھوڑ کر (امام کی خدمت میں) واپس آگیا۔

اس بزم میں عمرو عاص بھی موجود تھا معاویہ نے اس بوڑھے سیاسی سے کہا ہم نے ان میں سے جس سے بھی گفتگو کی سب نے بہترین جواب دیا سب کا دل مثل ایک آدمی کے ہے اور سب کی منطق ایک طرح کی ہے۔(۲)

______________________

(۱)زیاد کے کلام کی عبارت یہ ہے ''اما بعد فانی علیٰ بیّنةٍ مِن رّبّی وبما أنعم علیَّ فلن اکون ظهیراً للمجرمین'' ۔

(۲)تاریخ طبری ج۳ جزئ۵ ص ۳۔ کامل ابن اثیر ج۳ ص۱۴۸۔وقعہ صفین ص ۱۹۹۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۴ ص۲۲۔


معاویہ کے نمائندے امام علیہ السلام کی خدمت میں

امام علیہ السلام کا بزرگ شخصیتوں کے بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ معاویہ اپنے ارادے کو بدل دے اور یہ مشکل گفتگو کے ذریعہ حل ہو جائے جب کہ معاویہ کا مقصد یہ تھا کہ جنگ میں تاخیر اور امام کے لشکر میں اختلاف اور انتشار ہوجائے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ علی (علیہ السلام) ہرگز اس جیسے لوگوںکے سامنے اپنے ارادے میں کوئی تبدیلی نہیں کریں گے۔

اس مرتبہ معاویہ نے تین آدمیوں '' حبیب، شرحبیل اور معن کو امام کے پاس بھیجا اور ان تینوں کی منطق وہی معاویہ کی منطق تھی ، گویا یہ لوگ معاویہ کی زبان تھے جو اس کی باتوں کو بغیر کسی کمی وزیادتی کے بیان کررہے تھے امام علیہ السلام اور ان تینوں کے درمیان جو گفتگو ہوئی وہ درج ذیل ہے۔

حبیب: عثمان ہدایت یافتہ خلیفہ تھااور آپ نے اس پر زیادتی کی اور اسے قتل کردیا اب اس وقت اس کے قاتلوں کو ہمارے حوالے کردیجیئے تاکہ ہم انہیں قتل کردیں اور اگر آپ کا کہنا یہ ہے کہ میں نے اسے قتل نہیں کیا ہے تو حکومت چھوڑدیجیئے اور اسے شوریٰ کے حوالے کردیجیئے تاکہ لوگ جس کو چاہیں منتخب کریں اور وہ حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لے۔

حبیب کی گفتگو بے اساس تھی ، سب سے پہلے بغیر کسی گواہ کے امام علیہ السلام پر قتل کا الزام لگایا اور اپنے کو خلیفہ کے حق کا دفاع کرنے والا ثابت کیا، اور پھر امام علیہ السلام کے انکار کو قبول کررہا ہے اور ان

سے چاہتا ہے کہ وہ حکومت کی ذمہ داری چھوڑ دیں ! یعنی اس پوری گفتگو کا مقصد اس کا آخری جملہ تھا لہٰذا مام علیہ السلام نے سخت انداز میں اس کو جواب دیا: ''وما أنت لااُمّ لَکَ والولایة والعزل والدخول فی هذا الأمر فانّک لستَ هناک ولاٰ بأهل لذالک ''تو حکومت سے دستبرداری کا مطالبہ کرنے والا کون ہوتا ہے ،جب کہ اس معاملہ میں دخل دینے کا تو اہل نہیں ہے۔

حبیب: خدا کی قسم ! جن حالات میں اپنے آپ کو دیکھا پسند نہیں کرتے ان میں اپنے کو ضرور دیکھیں گے۔

امام علیہ السلام : تیری کیا حقیقت ہے ! جا جتنے بھی سوار اور پیادہ ہیں لا، تو کچھ بھی نہیں کر سکتا ۔

شرحبیل: میں بھی وہی بات کہنا چاہتا ہوں جو حبیب نے کہا ہے، کیا وہ جواب جو آپ نے اس کو دیا اس کے علاوہ کوئی جواب ہے جو مجھے دیں گے؟


امام علیہ السلام : کیوں نہیں ، تمہارے لئے اور تمہارے دوست کے لئے دوسرا جواب بھی میرے پاس ہے، خداوند عالم نے پیغمبر کو چنا اور ان کے ذریعے سے لوگوں کو گمراہی سے نجات دی اور پھر انہیں اپنی بارگاہ میں بلالیا جب کہ آپ نے اپنی رسالت کو انجام دیا پھر لوگوں نے ابوبکر کو ان کی جانشینی کے لئے منتخب کیا اور ابوبکر نے بھی عمر کو اپنا جانشین بنایا۔۔ پھر عثمان نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی اور لوگ ان کاموں کی وجہ سے جو انہوں نے انجام دیئے تھے ان سے ناراض ہوئے اور اس کی طرف حملہ آور ہوئے اور انہیں قتل کرڈالا، پھر میرے پاس آئے جب کہ میں ان لوگوں کے کاموں سے دور تھا،ان لوگوں نے بہت زیادہ اصرار کیا کہ میرے ہاتھوں پر بیعت کریں ، میں نے شروع میں قبول نہیں کیا لیکن ان لوگوں نے حد سے زیادہ اصرار کیا اور کہا امت آپ کے علاوہ کسی پرراضی نہیں ہے اور ہمیں خوف ہے کہ اگر آپ کے ہاتھوں پر بیعت نہ کریں تو دوگروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے، تب میں نے ان لوگوں کی بیعت قبول کرلی ، طلحہ وزبیر نے بھی میرے ہاتھوں پر بیعت کی لیکن بعد میں بیعت توڑ دی، پھر معاویہ میری مخالفت میں اٹھا ، وہ ایسا شخص ہے جسے نہ دین میں کوئی سبقت ہے اور نہ صحیح اسلام ہی میں کوئی درجہ حاصل ہے وہ آزاد کردہ اور آزاد کردا کا بیٹا ہے وہ بنی امیہ کے گروہ سے ہے وہ اور اس کے باپ ہمیشہ خدا ورسول کے دشمن رہے ہیں اور مجبوراً اسلام قبول کیاہے مجھے تم پر تعجب ہے کہ تم اس کے لئے فوج اکھٹا کررہے ہو اور اس کی پیروی کررہے ہو اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خاندان کو چھوڑدیا ہے اور اہل بیت رسول کے ہوتے ہوئے تم نے دوسروں کی محبت اپنے دل میں بسالی ہے ۔ میں تمہیں خدا کی کتاب اور رسول خدا (ص) کی سنت اور باطل مردہ اور دین کی تمام نشانیوں کو زندہ کرنے کی دعوت دیتاہوں ، اور اپنے اور تمام مومن مرد، عورت کے لئے طلب


مغفرت کرتا ہوں(۱) ۔

اگر شرحبیل (تمیم کا زاہد نما) خواہشات نفسانی کا اسیر نہ ہوتا اور اسلام کی تاریخ سے کچھ آگاہی رکھتا تو ضرور امام علیہ السلام کی باتوں کو قبول کرتالیکن چونکہ امام علیہ السلام کی عقلی باتوں کے سامنے اس نے اپنے کو عاجز وناتواں سمجھا اور غلط فکر رکھنے والوں کی طرح امام کے قول کو دوسرے طریقے سے سوچا لہذا کہنے لگا: عثمان کے قتل کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کیا آپ گواہی دیں گے کہ وہ مظلوم مارا گیاہے ؟ اس طرح کا سوال ایک پیغام لانے والے کی زمہ داری سے خارج تھا اور جلسہ کو درہم برہم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا ہدف نہ تھا، اس واقعے کے فیصلہ کے لئے عثمان کے قتل کی علتوں کی تحقیق وجستجو کی ضرورت ہے لہٰذا امام علیہ السلام نے اس کی تصدیق نہیں کی اور وہ لوگ بھی اسی بہانہ سے امام کے پاس سے چلے گئے اور کہا: جو بھی عثمان کی مظلومیت کی گواہی نہیں دے گا ہم لوگ اس سے بیزار ہیں ۔

امام علیہ السلام نے ان لوگوں کو اس آیت کا مصداق قرار دیا۔

( انک لاتُسمعُ الموتیٰ ولا تُسمِعُ الصُّمَّ الدّعاء اذا ولّوا مُدْ بِرین وماأنت بِهادی العُمیِ عن ضَلالتهم اِن تُسمعُ الامَنْ یؤمنُ بأیاتنٰافهُم مسلمون ) (نمل ۸۱،۸۰)

'' بے شک نہ تم مردوں کو ( اپنی بات) سنا سکتے ہو اور نہ بہروں کو اپنی آواز سنا سکتے ہو

( خاص کر) جب وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے راہ پر لاسکتے ہو تم تو بس ان ہی لوگوں کو ( اپنی بات) سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں پھر وہی لوگ تو ماننے والے بھی ہیں ''۔

_______________________________

(۱)تاریخ طبری ج۳ جزئ۶ ص ۴۔ کامل ابن اثیر ج۳ ص۱۴۸۱۴۹۔وقعہ صفین ص ۲۰۲،۲۰۰۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۴ ص۲۴،۲۲


سترہویں فصل

جنگ صفین کا انجام

امام علیہ السلام مظہرصبر و استقامت تھے، آپ ابوسفیان کے بیٹے کی مخالفت کے مقابلے میں صلح کی ہر کوشش کی لیکن معاویہ کو ریاست طلبی نے اس طرح جکڑ رکھا تھا کہ نمائندوں ، نصیحت کرنے والوں کے جانے کے بعد بھی بجائے اس کے کہ اس میں لوچ پیدا ہوتازیادہ سخت ہوگیا ، آخر کا ر امام علیہ السلام نے ارادہ کیاکہ مسلسل جنگ کریں اور اس سے زیادہ اپنا قیمتی وقت برباد نہ کریں اور اس کینسر کے جراثیم کو اسلامی معاشرہ سے ختم کریں۔

اسلامی معاشرے میں دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر اسلامی حکومت کسی گروہ کے ساتھ عہد ( بغیر کسی مزاحمت کے ) کرلے تو یہ عہد وپیمان محترم ہوتاہے مگر یہ کہ حاکم اسلامی کسی وجہ سے یہ احساس کرلے کہ ہمارا مقابل عہد وپیمان توڑدے گا اور خیانت کرے گا تو اس صورت میں وہ پہل کرسکتا ہے اور اپنے کئے ہوئے عہد وپیمان کو باطل قرار دے سکتا ہے اور جنگ کا آغاز کرسکتا ہے جیسا کہ قرآن مجید نے اس کی طرف اشارہ بھی کیا ہے، ارشاد قدرت ہے:( واِ مّا تخافَنّ من قومٍ خیانةً فانبذ الیهم علیٰ سوائٍ اِنّ الله لایحبّ الخائنین ) (انفال ۵۸)'' اور اگر تمہیں کسی قوم کی خیانت (عہد شکنی) کا خوف ہو تو تم بھی برابر ان کا عہد ان ہی کی طرف سے پھینک مارو (عہد شکن کے ساتھ عہد شکنی کرو)خداہرگز دغا بازوں کو دوست نہیں رکھتا''۔

اسلام کایہ قانون، اصول اخلاقی اور عدالت کی رعایت کی حکایت کرتا ہے اور اسلام تو یہاں تک اجازت نہیں دیتا کہ بغیر بتائے ہوئے دشمن پر حملہ کیا جائے ، اگرچہ اس کی رفتارو گفتار سے خیانت کی علامتیں ظاہر ہوں۔

امام علیہ السلام نے صفین میں اس سے بھی زیادہ رعایتیں کیں ، جب کہ آپ کے اور معاویہ کے درمیان جنگ نہ کرنے کا عہد وپیمان نہ تھا بلکہ صرف ماہ محرم کا احترام تھا اور یہی سبب بنا کہ طرفین نے جنگ سے ہاتھ روک لیا اور صفین کا میدان چند دنوں تک سکون میں رہا اس کے باوجود صرف اس لئے کہ شام کے لوگ کہیں یہ نہ سوچیں کہ جیسے ہی محرم کا مہینہ ختم ہونے کے بعد پھر جنگ شروع نہیں ہو گی ، آپ نے مرثد بن حارث کو حکم دیا کہ محرم کے آخری دن سورج ڈوبتے وقت شام کی فوج کے سامنے کھڑے ہو کر بلند آواز سے یہ اعلان کرے :


'' اے اہل شام ! امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے تمہیں مہلت دی اور جنگ کا حکم دینے میں صبر سے کام لیا تاکہ حق کی طرف واپس آجاؤ اور تمہارے سامنے قرآن مجید سے دلیل پیش کی اور تم لوگوں کو اس کی طر ف دعوت دی لیکن تم لوگوں نے سرکشی سے دوری اختیار نہیں کی اور حق کو قبول نہیں کیا ایسی صورت میں ہم نے ہر طرح کے امن وامان کو قطع کر دیاہے بے شک خداوند عالم خائنوں کو دوست نہیں رکھتا''۔(۱)

مرثد کے ذریعہ امام علیہ السلام کا پیغام معاویہ کی فوج میں گونج گیا اور دونوں طرف کی فوج جوش میں آگئی اور دونوں گروہ اپنی اپنی فوجیں سنوارنے لگے اور سپہ سالار معین ہونے لگے امام علیہ السلام نے اپنی فوج کواس طرح ترتیب دیا:

سواروں پر عمار یاسر کو اور تمام پیادوں پر عبداللہ بن بدیل خزاعی کو افسر مقرر کیا اور پو رایت جنگ ہاشم بن عتبہ کے سپرد کیا پھر امام علیہ السلام نے فوج کو میمنہ اور میسرہ اور قلب لشکر میں تقسیم کیا یمنیوں کو فوج کی دا ہنی طرف اور ربیعہ قبیلے کے مختلف گروہ کو فوج کے بائیں طرف اور قبیلہ مُضر کے بہادروں کو جو اکثر کوفہ اور بصرہ کے تھے قلب لشکر میں معین کیا اور ان تینوں کوایک ایک کرکے سواروں اور پیادوں میں تقسیم کیا، میمنہ اور میسرہ کے سواروں کے لئے اشعث بن قیس اور عبداللہ بن عباس کو ، اور پیادہ میمنہ اور میسرہ کے لئے سلیمان بن صُرد اور حارث بن مرّہ کو معین فرمایا اور اس وقت ہرقبیلے کے پرچم کو ان کے سرداروں کے سپرد کیا، ابن مزاحم نے اپنی کتاب وقعہ صفین میں ۲۶ پرچم کا ذکر کیا ہے جو ہر قبیلہ کا تھا کہ تمام پرچم اٹھانے والوں اور ان کے قبیلے کا نام اگر تحریر کیا جائے تو بحث طولانی ہوجائے گی لہٰذا اس کے ذکر سے سے پرہیز کررہے ہیں(۲) معاویہ نے بھی اسی ترتیب سے اپنی فوج کو منظم کیا اور سپہ سالاروں اور پرچم اٹھانے والوں کو معین

_______________________________

(۱)وقعہ صفین ص ۲۰۳۔۲۰۲،تاریخ طبری ج۳جزئ۶ ص ۵۔ کامل ابن اثیر ج۳ ص۱۴۹۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۴ ص۲۵۔مروج الذھب ج۲ ص ۳۸۷ ( تھوڑے فرق کے ساتھ)

(۲)وقعہ صفین ص ۲۰۵۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۴ ص۲۶۔۲۴


کیاصبح جب سورج افق پر نظر آیا اور جنگ کا ہونا قطعی ہوگیاتو امام علیہ السلام اپنے سپاہیوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور بلندآواز سے فرمایا:''لا تقاتلوهم حتیٰ یبدؤوکم ، فانکم بحمد اللّٰه علی حجة وتَرکُکُم ایّاهم حتٰی یبدؤوکم حجّةأخری لکم علیهم فاذا قاتلتموهم فهزمتموهم فلاتقتلوا مدبراً ولاتجهروا علٰی جریحٍ ولا تکشفوا عورةً ولاتمثّلوا بقتیلٍ، فاذا وصلتم اِلٰی رِحالِ قومٍ فلاتهتکوا ستراً ولاتدخلوا داراًالّٰا باذنی ولا تأخذ وا شیئًا من اموالهم الا ما وجد تم فی عسکرهم ولاٰ تهبّجوا امراةً بأذیً وان شتمن أعراضکم وتنا ولنَ أمرائَ کُم وصُلحائَ کم فانهنّ ضعاف القویٰ والأنفس والعقولِ ولقد کنّٰا لنؤمِرُ بِالکفِّ عنهنَّ وانّهُنَّ لمشرکاتُ وان کان الرّجلُ لیتناولُ المرأة بالهراوةِ اوالحدیدِ فیعیرُ بِهٰاعقِبُهُ من بعدِهِ'' (۱)

'' جب تک وہ جنگ شروع نہ کریںتم ان سے نہ لڑنا ، خدا کا شکر کہ اس جنگ کے لئے تمہارے پاس حجت و دلیل ہے اور ان کو پہل کرنے کے لئے چھوڑ دینا ان پر دوسری حجت ہوگی اور جب ان لوگوں کو شکست دینا تو جو لوگ جنگ سے منہ موڑ کر بھاگیں ان کو قتل نہ کرنا، زخمیوں کو قتل نہ کرنا اور دشمن کو برہنہ نہ کرنا، ان کی لاشوں کو مُثلہ (ناک کان وغیرہ کاٹنا) نہ کرنا اور جب ان کی چھاؤنی اور قیام کی جگہ پہونچنا تو ان کی پردہ دری نہ کرنا اور کسی کے گھر میں بغیرمیری اجازت کے داخل نہ ہونا اور دشمنوں کے مال میں سے کوئی چیز نہ لینا ، مگر جو چیز تمہیں میدان جنگ میں ملے، عورتوں کو اذیت نہ دینا چاہے تمہیں جتنا بھی برا بھلا کہیں اور تمہارے افسروں کو گالیاں دیں کیونکہ وہ عقل وقدرت کے اعتبار سے کمزور ہیں ، وہ مشرک تھیں تو ہمیں حکم تھا کہ ان کی طرف ہاتھ نہ بڑھائیں اور جاہلیت کے زمانے میں اگر کوئی شخص کسی عورت پر عصا یا لوہے سے حملہ کرتاتھا تو یہ ایک ایسی توہین تھی کہ بعد میں اس کی اولادوں کی مذمت کی جاتی تھی''۔

امیر المومنین علیہ السلام نے جنگ ''جمل'' جنگ '' صفین '' اور جنگ ''نہروان''میں اپنے سپاہیوں کو

______________________

(۱)وقعہ صفین ص ۲۰۴،۲۰۳۔تاریخ طبری ج۳ جزئ۶ ص ۶۔ کامل ابن اثیر ج۳ ص۱۴۹۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۴ ص۲۶ ۔


درج ذیل چیزوں کی سفارش کی :'' عباداللّٰه اتقواللّٰه عزّوجلَّ ، غُضواالابصار وأخفضوا الاصوات وأقلّوأ الکلام و وَطّنوا أنفسکم علی المنازلة والمجادلةِ والمبارزةِ والمعانقةِ والمکاء مةِ واثبتوا واذکروا اللّٰه کثیراً لعلّکم تفلحون ولا تنازعوا فتفشلوا وتذهبَ ریحُکُم وأصبروا ان اللّٰه مع الصابرین'' (۱)

'' اے خدا کے بندو ، خدا کے قوانین کی مخالفت کرنے سے بچو ، اپنی آنکھوں کو نیچے کرو، اور

اپنی آوازوں کو کم کرو اور کم سخن بنو، اور اپنے کو جنگ اور دشمن سے دفاع اور اس سے مقابلہ کرنے کے لئے آمادہ رکھو ثابت قدم اور مستحکم رہو اور خدا کا ذکر کرو تاکہ کامیاب ہوجاؤ ، اختلاف اور تفرقہ سے پرہیز کرو تاکہ سستی تم کو نہ گھیرے اور تمہاری عظمت وجلالت لوگوں کے درمیان سے ختم نہ ہو صبر کرو کیونکہ خداوند عالم صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے''۔

جی ہاں، امام علیہ السلام کی گفتگو ختم ہوئی اور آپ اپنے گیارہ فوجی سرداروں کے ساتھ دشمن کے سامنے کھڑے ہوئے امام علیہ السلام کی فوج کی صفیں اس طرح سے ترتیب دی گئی تھیں کہ قبیلہ کے لوگ جس میں سے کچھ عراق اور کچھ شام کے رہنے والے تھے میدان جنگ میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے، ابتداء میں جنگ کی آگ زیادہ شعلہ ور نہ تھی اور طرفین کو صلح اور جنگ بندی کی امید تھی ، سپاہیوں نے ظہر تک جنگ کی پھر حملہ کرنا چھوڑدیا لیکن پھر جنگ نے شدت پکڑ لی اور صبح سے رات تک بلکہ رات کے کچھ حصہ تک جنگ جاری رہتی(۲) ۔

فوجی صف بندی

۱ / صفر کو امام علیہ السلام کے لشکر سے مالک اشتر اور معاویہ کے لشکر سے حبیب بن مسلمہ اپنے دستے لے کر میدان جنگ میں آئے ، دن کے کچھ حصّوں میں جنگ ہوئی دونوں طرف کے لوگ مارے گئے پھر جنگ رک گئی اور دونوں اپنی اپنی قیامگاہ میں واپس آگئے(۳) ۔

_______________________________

(۱)وقعہ صفین ص ۲۰۴،۲۰۳۔تاریخ طبری ج۳، جزئ۶ ص ۶۔ کامل ابن اثیر ج۳ ص۱۴۹۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۴ ص۲۶

(۲)،(۳)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۴ ص۳۰۔مروج الذھب ج ۲ص ۳۸۸،۳۸۷۔وقعہ صفین ص۲۱۵،۲۱۴۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۴ ص۳۰،۲۷


دوسرے دن امام کے لشکر سے ہاشم بن عتبہ سواروں اور پیادوں کے ساتھ اور معاویہ کے لشکر سے ابوالاعور سلی اپنے سواروں اور پیادوں کے ساتھ میدان میں آئے اور سواروںنے سواروں سے اور پیادوں نے پیادوں سے جنگ کی۔(۱)

تیسرے دن امام کے لشکر سے عمار اور معاویہ کے لشکر سے عمرو عاص اپنے اپنے دستوں کے ساتھ میدان جنگ میں آئے اور دونوں کے درمیان بہت زبردست جنگ ہوئی۔(۲)

عمار نے شام کے لشکر کے سامنے جاکر بلند آواز سے کہا: کیا تم اس شخص کو پہچاننا چاہتے ہو جس نے خدا اور پیغمبر(ص)سے دشمنی اور عداوت کی اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کیا ہے اور مشرکوں کی پشت پناہی کی ہے؟ جب کہ خدا نے چاہا کہ اپنے دین کو ظاہر و آشکار کرے اور اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کرے تو اس نے فوراً ڈر اور خوف کی وجہ سے (نہ اپنی مرضی و خواہش سے) اپنے کو مسلمان ظاہر کیا اور جب پیغمبر اسلام(ص) اس دنیا سے چلے گئے تو وہ مسلمانوں کا دشمن اور ظالموں کا دوست ہوگیا۔ اے لوگو آگاہ ہوجاؤ کہ یہ شخص وہی معاویہ ہے اس پر لعنت بھیجو اور اسکے ساتھ جنگ کرنے کے لئے تیار ہوجاؤ وہ ایسا شخص ہے جو چاہتا ہے کہ خدا کے نور کو خاموش کردے اور خدا کے دشمنوں کی مدد کرے۔(۳)

ایک شخص نے عمار سے کہا کہ رسول اسلام(ص)نے فرمایا ہے کہ لوگوں کے ساتھ جنگ کرو تاکہ لوگ اسلام قبول کریں اور جب لوگ اسلام قبول کرلیں گے تو ان کے جان و مال محفوظ ہوجائیں گے۔

عمار نے اس کلام کی تصدیق کی اور کہا بنی امیہ نے شروع سے ہی اسلام قبول نہیں کیا تھا بلکہ صرف اسلام لانے کا ڈھونگ کررہے تھے، اور اپنے اندر کفر کو چھپائے تھے یہاں تک کہ انکے کفر نے اپنا دوست واحباب بنالیا۔(۴)

عمار نے اتنا کہنے کے بعد اپنے سواروں کے سپہ سالار کو حکم دیا کہ شامیوں کے سوار وںپر حملہ کرے اس نے حملہ کرنے کا حکم دیا لیکن شامی ان کے مقابلے میں جمے رہے اس وقت پیادوں کے افسر کو حملہ کرنے

_______________________________

(۱)،(۲)،(۳) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۴ص۳۰۔ مروج الذہب ج۲ص۳۸۸۔۳۸۷ ۔ وقعہ صفین ص ۲۱۵۔۲۱۴۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۴ص۳۰۔۳۲۷۔

(۴) وقعہ صفین ص ۲۱۶۔۲۱۵ ، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۴ص۳۱ ۔تاریخ طبری جزء ۶ص۷


کا حکم دیا چنانچہ اس نے حملہ کرنے کا دستور دیا اور امام علیہ السلام کے سپاہیوں نے ایک ہی حملے میں دشمن کی صفوں کو تہ بالاکردیا عمروعاص اپنی جگہ چھوڑکر صفوں میں روپوش ہوگیا۔

عمرو عاص ، نے ایسا حربہ استعمال کیا جو عمار استعمال کر چکے تھے، عما ر نے بنی امیہ کی فوج اور ان کے سرداروں کو کافر بتا کر دشمن کی صف میں ہلچل مچا دی تھی، اسی کے مقابلے میں عمر و عاص نے بھی ایک کالا کپڑا نیزے پر بلند کیا اور کہا کہ یہ وہی پرچم ہے جو پیغمبر اسلام نے ایک دن اس کے حوالے کیا تھا، جسے دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں حیرت زدہ ہوگئیں اور سرگوشیاں شروع ہو گئیں، امام علیہ السلام فتنے کو روکنے کے لئے اپنے دوستوں کے پاس گئے اور کہا ! کیا تم لوگ جانتے ہو کہ اس پرچم کی کیا کہانی ہے؟ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک دن اس پرچم کو باہر لائے اور فوج اسلام کی طرف مخاطب ہوکر کہا: کون ہے جو اس کو اٹھائے اور اس کا حق ادا کرے؟عمروعاص نے کہا: کس طرح اس کا حق ادا ہوگا؟ پیغمبر اسلام(ص)نے فرمایا: مسلمانوں سے جنگ نہ کرے اور کافر کے مقابلے سے نہ بھاگے مگر اس کا اس نے یوں حق ادا کیا کہ کافروں سے بھاگا اور آج مسلمانوں کے ساتھ جنگ کررہا ہے۔

اس خدا کی قسم جس نے بیج کو شگافتہ کیا اور انسان کو پیدا کیا اس گروہ نے صدق دل سے اسلام

قبول نہیں کیا ہے بلکہ صرف اسلام کا تظاہر کیا ہے اور اپنے کفر کو چھپالیا ہے اور جب ان کے دوست و احباب مل گئے تو اپنے کفر کو ظاہر کردیا اور اپنی دشمنی پر واپس آگئے ۔اورصرف نماز کو ظاہراً ترک نہیں کیا(۱)

چوتھے دن محمد حنیفہ اپنے لشکر کے ساتھ میدان میں آئے اور معاویہ کی فوج سے عبید اللہ بن عمراپنی فوج لے کر میدان میں آیا جنگ کے شعلے بھڑکے اور پھر دونوں فوجوں کے درمیان زبردست لڑائی ہوئی(۲) عبید اللہ نے محمد حنیفہ کے پاس پیغام بھیجوایا کہ اب ہم دونوں جنگ کرنے کے لئے میدان میں آئیں محمد بن حنفیہ میدان کی طرف بڑھے تاکہ ان کے ایک ایک فرد سے جنگ کریں ، امام علیہ السلام کو اس کی خبر ملی اور فوراً گھوڑے کو اپنے بیٹے کی طرف دوڑایا اور ان کو جنگ کرنے سے منع کیا اورپھر خود عبید اللہ کی طرف بڑھے اور کہاتو آگے بڑھ میں تم سے جنگ کروں گا، عبید اللہ یہ سن کر کانپنے لگا اور کہا: مجھے تمھارے ساتھ جنگ

______________________

(۱) وقعہ صفین ص ۲۱۶۔۲۱۵۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۴ص۱ ۳۔ تاریخ طبری ج ۳ جزئ۶ ص۷

(۲)مروج الذہب ج ۲ ص۳۸۸


کرنے کی ضرورت نہیں ہے پھر اپنے گھوڑے کو موڑ کر میدان جنگ سے چلا گیا اس وقت دونوں فوجیں پیچھے ہٹ گئیں ا ور اپنی اپنی چھاؤنی میں واپس آگئیں۔(۱)

ماہ صفر ۳۸ھ کی پانچویں تاریخ اتوار کے دن دو دستے جن میں عراقیوں کی سرداری ابن عباس اور شامیوں کی سرداری ولید بن عقبہ کر رہے تھے میدان جنگ میں آئے اور دونوں کے درمیان زبردست جنگ ہوئی، ظہر کے وقت دونوں نے جنگ روک دی اور اپنے اپنے لشکر کے پاس واپس آگئے، ولید بن عقبہ نےجب عبدالمطلب کی اولاد کو برا بھلا کہنا شروع کیا تو: ابن عباس نے اسے جنگ کے لئے بلایا لیکن اس نے جنگ کرنے سے گریز کیا اور میدان چھوڑ کر چلا گیا۔(۲)

فوج شام کے افراد اسلامی تاریخ اور واقعات سے بے بہرہ تھے ورنہ ان کی فوج کی سپہ سالاری ایسے شخص کے ہاتھ میں نہ ہوتی جس کو قرآن نے 'فاسق' اور نابکار سے یاد کیا ہے ولید وہی شخص ہے جس کے بارے میں قرآن مجید کا ارشاد ہے''ان جاء کم فاسق بنباء فتبینّوا'' (سورۂ حجرات ۶) یعنی اگر کو ئی فاسق خبر لائے تو اسکی چھان بین کرو۔(۳) یہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں قرآن نے اس طرح توصیف کی ہے''اَفمن کان مومناً کمن کان فاسقاً لایستؤون'' (سورۂ سجدہ ۱۸) یعنی کیا جو شخص مومن ہے وہ اسی طرح ہے جس طرح فاسق ہے؟ ہرگز یہ دونوں برابر نہیں ۔(۴)

اس جنگ میں اگر چہ بہت سے افرادقتل ہوئے لیکن دونوں فوجیں بغیر کسی نتیجے کے اپنی اپنی چھاؤنی میں واپس آگئیں مگر امام علیہ السلام، عمار اور ابن عباس کی تقریروںسے شام کے لوگوں پر حقیقت واضح ہوگئی اور کم و بیش معاویہ کا جھوٹا اور بے بنیاد دعویٰ لوگوں پر ظاہر و روشن ہوگیا، یہی وجہ ہے کہ جنگ کے پانچویں دن شمر بن ابرہہ حمیری شام کے قاریوں کے کچھ گروہ کے ساتھ امام کے لشکر میں شامل ہوگیا ،ان لوگوں کا نور

_______________________________

(۱) وقعہ صفین ص ۲۲۲۔۲۲۱۔ کامل ابن اثیرج۳ص۵۰۔ تاریخ طبری ج ۳، جزئ۶ ص۷ ۔مروج الذہب ج ۲ ص۳۸۸۔

(۲) وقعہ صفین ص ۲۲۲۔۲۲۱۔ کامل ابن اثیرج۳ص۵۰۔ تاریخ طبری ج ۳ جزئ۶ ص۷ ۔مروج الذہب ج ۲ ص۳۸۸۔

( ۳) تما م اسلامی مفسرین نے متفقہ طور پر لکھا ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

(۴)اس آیت کے شان نزو ل کے متعلق، تفسیر الدر المنثورا ور برہان کی طرف رجوع کریں۔


کی طرف آنا تاریکی کی علامت تھی جو شام کی فوج پر چھائی ہوئی تھی اس سے معاویہ کو بہت بڑا دھچکا لگا ،اس کے تکرار سے سخت خوفناک تھا۔

عمرو عاص نے معاویہ سے کہا:تو چاہتا ہے کہ ایسے شخص سے جنگ کرے جو محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا قریبی رشتہ دار ہے ، اسلام میں ثابت قدم اور استوار ہے، فضلیت و معنویت اور جنگ کے اسرار و رموز جاننے میں بے مثال ہے، محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خاص لوگوں میں سے ہے اوربہادر ساتھیوں ، قاریوں اور شریف ترین لوگوں کے ساتھ تم سے جنگ کرنے آیا ہے اور مسلمانوں کے دلوں میں اس کی ہیبت و بزرگی چھائی ہے،تو تجھ پر لازم ہے کہ شامیوں کو اہم جگہوں اور علاقوں میں معین کرو اور اس سے پہلے کہ جنگ کی مدت طولانی ہونے کی وجہ سے وہ افسردگی اور رنجیدگی کا احساس کریں ان لوگوں کولالچ دو اور جو چیز بھی بھولنا چاہو بھول جاؤ مگر یہ نہ بھولنا کہ تم باطل پرہو۔

معاویہ نے بوڑھے مکار سیاسی کی باتوں سے نصیحت لی اور سمجھ گیا کہ شامیوں کو میدان جنگ کی طرف مائل کرنے کا ایک طریقہ دین اور تقوی و پرہیزگاری کا اظہار کرنا بھی ہے اگرچہ ان کے دلوں میں اس کا کچھ اثر نہ ہو،یہی وجہ تھی کہ اس نے حکم دیا کہ ایک منبر بنایا جائے اور شام کے تمام سرداروں کو اپنے پاس بلایا اور منبرپر گیا اورپھر بڑے ہی رنجیدہ دل سے دین و مذہب کے لئے مگرمچھ کی طرح آنسو بہایا اور کہا:

اے لوگو : اپنی جانوں اور سروں کو میرے سپرد کردو ، سست نہ ہونا اور مدد کرنے میں کوتاہی نہ کرناآج کا دن خطرناک دن ہے حقیقت اور اس کی حفاظت کا دن ہے تم لوگ حق پر ہو اور تمھارے پاس دلیل ہے تم لوگ اس سے جنگ کررہے ہو جس نے بیعت کو توڑا ہے اور خون حرام بہایا ہے اور آسمان پر کوئی بھی اس کو معذور نہیں سمجھتا۔

پھر عمر و عاص منبر پر گیا اور معاویہ کی طرح سے تقریر کی اور پھر منبر سے اتر گیا۔(۱)

______________________

۱۔ وقعہ صفین ص ۲۲۲۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۵ص۱۸۰۔


امام علیہ السلام کی تقریر

امام علیہ السلام کو خبر ملی کہ معاویہ اپنے مکر و فریب کے ذریعے دین کا لبادہ پہن کرشامیوں کو جنگ کی

دعوت دے رہا ہے لہذا آپ نے حکم دیا کہ سب کے سب ایک جگہ جمع ہوجائیں ، راوی کہتا ہے کہ میں نے امام کو دیکھا جو اپنی کمان پر ٹیک لگائے ہیں اور پیغمبر(ص)کے دوستوں کو اپنے پاس جمع کیا تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تمام ساتھی ان کے ہمراہ ہیں پھر آپ نے خدا کی حمد و ثناء کی اور کہا:

اے لوگو! میری باتوں کو غور سے سنو اور اسے یاد کرلو۔ خود خواہی سر کشی کی وجہ سے ہے اورکبرو نخوت خود بینی سے اور شیطان تمھاراابھی کا دشمن ہے جو تمھیں باطل کا وعدہ دے رہا ہے ،آگاہ ہوجاؤکہ مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے اسے برا بھلا نہ کہو اس کی مدد کرنے سے گریز نہ کرو، شریعت ودین ایک ہے اور اس کے راستے بھی ہموار ہیں جس نے بھی اس سے تمسک کیا وہ اس سے ملحق ہوگیا اور جس نے اسے ترک کیا وہ اس سے خارج ہوگیا اور جو بھی اس سے جدا ہوگا وہ نابود ہوجائے گااور جو شخص امین کے نام سے مشہور ہو اور خیانت کرے ، وعدہ کرے مگر خلاف ورزی کرے، بات کرے مگر جھوٹ بولے، وہ مسلمان نہیں ہے، ہم خاندان رحمت ہیں ہماری باتیں سچی اور ہمارے کردار سب سے اچھے ہیں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آخر الزمان ہم میں سے ہیں اور اسلام کی رہبری بھی ہمارے ہی پاس ہے،خدا کی کتاب کے قاری ہم ہی ہیں۔میں تمھیں خدا اور رسول(ص)کی طرف اور ان کے دشمنوں سے جہاد کرنے، اور اس کی راہ میںثابت قدم رہنے اور اس کی مرضی حاصل کرنے، نماز قائم کرنے اور زکوٰة ادا کرنے ، اور خدا کے گھر کی زیارت کرنے،اور رمضان المبارک میں روزہ رکھنے ، اور بیت المال کواس کے اہل تک پہونچانے کی دعوت دیتا ہوں۔


یہ بھی دنیا کے لئے تعجب ہے کہ معاویہ اور عمرو عاص دونوں اس لائق ہوگئے کہ لوگوں کو دینداری کی طرف رغبت دلائیں! تم لوگ جانتے ہو کہ میں نے کبھی بھی پیغمبر (ص)کی مخالفت نہیں کی بلکہ وہ مقامات جہا ں پر بڑے بڑے بہادر پیچھے ہٹ گئے اور ان کے بدن خوف کے مارے کانپنے لگے میں نے اپنی جان کوپیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے سپر قرار دیااس خدا کا شکر جس نے ہمیں یہ فضلیت بخشی، پیغمبر (ص)کی روح پرواز کر گئی جب کہ ان کا سر میری آغوش میں تھا ، اور صرف تنہا میں نے ان کو غسل دیا اور مقرب ترین فرشتے آپ کے جسم اطہر کو اِدھر سے ادھر پلٹتے تھے، خدا کی قسم کسی بھی پیغمبر کی امت اس کی رحلت کے بعد اختلاف کا شکار نہ ہوئی مگر یہ کہ اہل باطل حق والوں پر غالب آگئے ۔(۱)

جب امام علیہ السلام کی تقریر یہاں تک پہونچی تو ، بزرگ و باایمان اور وفادار دوست عمارنے لوگوں کی طرف نگا ہ کی اور کہا، امامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تم لوگوں کو آگاہ کردیا ہے کہ امت نے نہ تو شروع ہی میں صحیح راستہ اپنایا اور نہ ہی آخر میں صحیح راستہ اپنایا۔

ابن مزاحم کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام نے ۶،صفر ۳۸ دو شبنہ کے دن شام کے وقت تقریر کی تھی اور آخر کلام میں تما م سپاہیوں سے مطالبہ کیا کہ فساد کو جڑ سے اکھاڑدیں۔ اسی وجہ سے ۷،صفر منگل کے دن تمام سپاہیوں کو ایک بڑے حملے کے لئے آمادہ کیا اور خطبہ ارشاد فرمایا جس میں جنگ کے اسرار و رموز کی تعلیم دی ۔(۲)

_______________________________

(۱)،(۲)وقعہ صفین ص۲۲۴۔۲۲۳۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۵ص۱۸۲۔۱۸۱


اٹھارہویں فصل

اجتماعی حملے کا اغاز

جنگ صفین شروع ہوئے آٹھ دن گزر گئے اور چھٹ پٹ حملے اور بہادر سرداروں کی رفت و آمد سے کوئی نتیجہ نہ نکلا ، امام علیہ السلام اس فکر میں تھے کہ کس طرح سے نقصان کم ہو اور ہم اپنے مقصد تک پہونچ جائیں آپ اس بات سے بھی مطمئن تھے کہ محدود جنگ قتل و غارت گری کے علاوہ کوئی نتیجہ نہیں رکھتی اسی وجہ سے آپ نے ماہ صفر کی آٹھویں رات (شب چہار شنبہ) کو اپنے اصحاب کے درمیان تقریر فرمائی:

''اس خدا کا شکر کہ اگر اس نے کسی چیز کو شکست دی تو اسے مستحکم نہیں کیا اور جس چیز کو مستحکم کر دیا اُسے شکست نہیں ہو سکتی، اگر وہ چاہتا تو اس امت سے دو آدمی یا پوری امت اختلاف نہیں کرتی،اور کوئی شخص بھی کسی بھی امر میں جو اس سے مربوط ہے اختلاف نہیں کرتا ، اور مفضول ،فاضل کے فضل وکرم سے انکار نہیں کرتے، تقدیر نے ہمیں اس گروہ کے سامنے کھڑا کر دیا ہے ۔

سب کے سب خدا کی نگاہوں اور اس کے حضور میں ہیں اگر خدا چاہتا تو عذاب کے نزول میں جلدی کرتا ، تاکہ ستمگروں کو جھٹلا سکے، اور حق کو آشکار کرے اس نے دنیا کو کردار کا گھر اور آخرت کو اجرو ثواب کا گھر قرار دیا تاکہ بدکاروں کو ان کے برے کردار کہ وجہ سے عذاب اور اچھے لوگوں کو ان کے اچھے کردار کی وجہ سے اجر و ثواب دے، آگاہ ہوجاؤ اگر خدانے چاہا تو کل د شمن سے مقابلہ ہوگا لہذا اس رات خوب نماز پڑھو اور بہت زیادہ قرآن پڑھو، اور خدا وند عالم سے ثابت قدمی اور کامیابی کی دعا کرو اور کل دشمنوں سے احتیاط اور پوری بہادری کے ساتھ لڑنا ،اور اپنے کام میں سچے رہو۔امام علیہ السلام نے یہ باتیں کہیں اور وہاں سے چلے گئے پھر امام علیہ السلام کے تمام سپاہی تلوار و نیزہ وتیر کی طرف گئے اور اپنے اپنے اصلحوں کو صحیح کرنے لگے۔(۱) امام علیہ السلام نے آٹھ صفر بدھ کے دن حکم دیاکہ ایک آدمی شام کی فوج کے سامنے کھڑا ہو اور

______________________

(۱)وقعہ صفین ص ۲۲۵۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۵ص۱۸۲۔ تاریخ طبری ج ۳ جزئ۶ ص۸ ۷ ۔ کامل ابن اثیرج۳ص۱۵۰۔


عراق کی فوج کی طرف سے جنگ کا اعلان کرے۔

معاویہ نے بھی امام علیہ السلام کی طرح اپنی فوج کومنظم کیا اور اسے مختلف حصّوں میں تقسیم کردیا،اس کی فوج حمص، اردن اور قنسرین کے لوگوں پر مشتمل تھی اور معاویہ کی جان کی حفاظت کے لئے شام کے لوگوں نے ضحاک بن قیس فہری کی سرپرستی میں ذمہ داری لی اور اس کو اپنے حلقے میں لے لیا ، تاکہ دشمن کو قلب لشکر ، جہاں معاویہ کی جگہ تھی پہونچنے سے روک سکیں۔

معاویہ نے جس انداز سے فوج کو مرتب کیا تھاوہ عمرو عاص کو پسند نہ آئی اور اس نے چاہا کہ معاویہ کی فوج کو منظم کرنے میں مدد کرے لہذااسے وہ وعدہ یاد دلایا جو دونوں نے آپس میں کیا تھا، (یعنی فتح و کامیابی کے بعد مصر کی حکومت اس کی ہوگی)عمرو نے کہا: حمص کی فوج کی سرداری میرے سپر د کرو اور ابوالاعور کو ہٹادو ۔ معاویہ اس کی اس فرمائش پربہت خوش ہوا اور فوراً ایک شخص کو حمصیوں کے پاس بھیجا اور پیغام بھیجوایا کہ عمرو عاص جنگ کے امور میں تجربہ رکھتا ہے جو ہم اور تم نہیں رکھتے ، میں نے اسے سواروں کا سردار بنایا ہے لہذا تم دوسرے علاقے میں جاؤ۔

عمرو عاص نے حکومت مصر کی امید میں اپنے دونوں بیٹوں عبداللہ اور محمد کو بلایااور اپنے تجربہ اور اپنے اعتبار سے فوج کو منظم کیا اور حکم دیاکہ زرہ پہنے ہوئے سپاہی فوج کے آگے اور جو زرہ

نہیں پہنے ہیں وہ فوج کے پیچھے کھڑے ہوں، اور پھر اپنے دونوں بیٹوں(۱) کو حکم دیا کہ فوج کے درمیان معائنہ کریں اور فوج کے نظم و ترتیب کا خاص خیال رکھیں اسی پراکتفاء نہیں کیا بلکہ خود فوج کے درمیان ٹہلنے لگااور اس کے نظم و ترتیب پرنگاہ رکھی اور اسی طرح معاویہ فوج کے درمیان منبر پر بیٹھ گیااور اس کی حفاظت کی ذمہ داری یمن کے لوگوں نے لی اور حکم دیا کہ جو شخص بھی منبر کے نزدیک ہونے کا ارادہ کرے فوراً اسے قتل

______________________

(۱) یہاں اس بات کی یاددہانی کرناہے کہ عمر و عاص کے دونوں بیٹے ظاہری طور پرزاہد نما تھے.جو ابتداء میں باپ کو ابوسفیان کے بیٹے کی حمایت سے روک رہے تھے لیکن اس وقت ان کے سچے اور گہرے دوست ہیں یہ واقعہ ہمیں اس مثال کی یاد دلاتا ہے جوعربی اور فارسی(اور اردو ، رضوی) زبان میں رائج ہے۔(ھل تلد الحیة الاالحیة) یعنی کیا سانپ کا بچہ سانپ کے علاوہ ہو سکتا ہے ۔یافارسی کی مثال، عاقبت گرک زادہ گرک شود۔گرچہ با آدمی بزرگ شود۔ بھیڑیئے کا بچہ بھیڑیا ہوگا اگرچہ وہ آدمی کے ساتھ ہی کیوں نہ بڑاہوا ہو۔


کردینا۔(۱) جب بھی جنگ کا مقصد قدرت اور حاکمیت ہوگا تو اس وقت اپنی حفاظت کے لئے گروہ کا انتظام ہوگا ،لیکن اگر ہدف اور مقصد معنوی ہوگا تو ہدف کی خاطر اگر جان بھی دینی پڑے تو کوئی پرواہ نہیں ہوگی لہذا نہ تو کسی نے امام کی حفاظت کی ذمہ داری لی بلکہ امام علیہ السلام سیاہ رنگ کے گھوڑے پر سوار حکم دیتے تھے اور فوج کی رہبری بھی کر رہے تھے اور اپنے بلند نعروں سے شام کے بہادروں کو لرزہ براندام(تھرتھرانا) کر دیتے تھے اور اپنی تیز تلوار سے لوگوں کو دور کرتے تھے۔

رہبری کے طریقے میں اختلاف، مقصد کے مختلف ہونے کی وجہ سے ہے اور شہادت کا طلب کرنا آخرت پر ایمان اور اس کی حقانیت پر اعتقاد رکھنا ہے، جب کہ موت سے خوف اور دوسروں کو اپنی جان کی حفاظت کے لئے قربان کرنا دنیاوی زندگی سے محبت والفت اور ماوراء مادہ سے انکار کرنا ہے اور حیرت کی بات تویہ ہے کہ عمروعاص کے بیٹے نے ان چیزوں کا اعتراف بھی کیا اور امام علیہ السلام

کی فوج کے بارے میں یہ کہا''فان هوٰلائِ جاؤوا بخطّةٍ بلغت السمائ'' یہ لوگ آسمانی ہدف لے کر میدان میں آئے ہیں اور شہادت سے خوف نہیں رکھتے ۔

عاص کے بیٹے کی معاویہ کے ساتھ خیرخواہی اور مدد اس سے محبت و الفت اور فتح و کامیابی کی بناپر نہ تھی بلکہ وہ ہرطرف سے اپنے فائدے کے لئے اسے کامیابی سے ہمکنار کرانا چاہتا تھااورمعاویہ سے اظہار نظر اور مشورہ کرکے اکثر اسے یاد دلاتا تھا اور جوباتیں ان دونوں کے درمیان ہوئیں وہ اس حقیقت کو بیا ن کرتی ہیں۔

معاویہ:جتنی جلدی ہو فوج کی صفوں کومنظم کرو۔

عمر وعاص:اس شرط کے ساتھ کہ میری حکومت میرے لئے ہو۔

معاویہ،اس خوف سے کہ عمروعاص اما م کے بعد اس کا رقیب نہ ہوجائے فوراً پوچھا کون سی حکومت؟کیا حکومت مصر کے علاوہ دوسری چیز چاہتا ہے؟

عمرو عاص نے جوپرانا سیا ستبازا اور غیر متقی سوداگرتھانے اپنے چہرے پر تقوے کا ماسک لگاکر کہا کیا

______________________

(۱)وقعہ صفین ص ۲۲۶۔ شرح نہیج البلاغہ ابن الحدیدج۵ص۱۸۲۔


مصر، جنت کے عوض ہو سکتا ہے؟ کیا علی کو قتل کرکے عذاب جہنم کی مناسب قیمت جس میںہر گز آرام نہیں ہوگا ،ہوسکتی ہے؟

معاویہ نے اس خوف سے کہ کہیں عمرو کی بات فوج کے درمیان پھیل نہ جائے اس سے کہا ذرا آہستہ آہستہ، تیری گفتگو کوئی اور نہ سن لے۔

جی ہاں،عمروعاص مصر کی حکومت کی آرزو میں شام کے لوگوں کی طرف متوجہ ہوا اورکہا:

اے شام کے سردارو، اپنی صفوں کو مرتب کرو اور اپنے سروں کو اپنے خدا کو ہدیہ کر دو، اور خدا سے مدد طلب کرو اور خدا کے دشمن اور اپنے دشمن سے جنگ کرو ان لوگوں کو قتل کرو تاکہ خدا ان لوگوں کو قتل کرے اور انھیں نابود کردے ۔(۱)

اور اُدھر جیسا کہ گزر چکا ہے اس دن امام علیہ السلام نے ایک گھوڑا طلب کیا لوگ آپ کے لئے(شبرنگی) گھوڑا لائے جو طاقت کی وجہ سے مسلسل کود رہاتھا اور دو لگاموں سے کھینچا جاتا تھا۔ امام علیہ السلام نے اس کی لگام اپنے ہاتھ میں لی اور اس آیت کی تلاوت فرمائی :

( سبحان الذی سخّرلنا هذا وماَ کُنّٰا له مقرنین وانّااِلیٰ ربّنا لمنقلبون ) ''پاک و پاکیزہ ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے لئے آمادہ کیا جسکی ہمارے پاس طاقت و قدرت نہ تھی اور سب کے سب اس کی بارگاہ میں واپس جائیں گے''۔(زخرف ۱۳ )

پھر آپ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھایا اور کہا:

''اللّٰهم اِلیک نُقِلَتِ الاقدامُ وأُ تْعِبَتِ الا بدانُ و أ فضتِ القلوبُ و رفعتِ الأ یدی و شُخِصَتِ الأ بصار.........اللّٰهم انّا نشکُوٰ ألیکَ غیبة نبیّنٰا وکثرةعدوّنا وتشتّت أ هوا ئنٰا.ربنّا افتح بیننٰا وبینَ قومِنٰابالحقِّ وَ اَنتَ خیر الفاتحِینَ (۲)

خدا یا: تیری ہی طرف قدم اٹھتے ہیں اور بدن رنج وغم میں گرفتار ہوتے ہیں اور دل تیری طرف متوجہ

ہوتے ہیںاور ہاتھ بلند ہوتے ہیں اور آنکھیں کھلی رہتی ہیں........خدایا:ہم اپنے پیغمبر کے نہ رہنے کا شکوہ

______________________

(۱)،(۲) وقعہ صفین ص۲۳۱،۲۳۰۔ شرح نہج البلاغہ ابن الحدیدج۵ص۱۷۶


اور دشمنوں کی زیادتی اور اپنی آرزؤوں کے بکھرنے کاتیری بارگاہ میں شکوہ کرتے ہیں خداوندا ہمارے اور اس قوم کے درمیان حقیقی فیصلہ کر کیونکہ تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔بالآخر ۸صفر بدھ کے دن باقاعدہ حملے کا آغاز ہوا اور صبح سویرے سے را ت تک حملے ہوتے رہے اور دونوں فوجیں بغیر کسی کامیابی کے اپنی اپنی چھاؤنی میں واپس آگئیں۔جمعرات کے دن امام علیہ السلام نے نما ز صبح تاریکی میں پڑھی اور پھر دعاپڑھنے کے بعد خود

حملہ شروع کیا ، آپ کے ساتھی بھی چاروں طرف سے جنگ کرنے لگے۔(۱)

حملے سے پہلے اما م علیہ السلام نے جو دعا پڑھی اس کا کچھ حصہ یہ ہے۔

''ان اظهرتنٰا علیٰ عدوّنا فجنبنا الغ و سدِّ دنٰا للحقِّ،واِن اظهر تَهُم علینٰا فَارزُقنا الشّهٰا دَة وَ اعصِم بقیَّةَ أصحابی مِنَ الفتنة'' (۲)

''پروردگار ! اگر ہمیں اپنے دشمنوں پر کامیاب کیا تو ہم سب کو ظلم و ستم سے دور رکھ اور ہمارے قدموں کو حق کے راستے پر چلا، اور اگر وہ سب ہم پر کامیاب ہوئے تو ہم لوگوں کو شہادت نصیب فرمااور جو ہمارے دوست باقی بچیں انہیں فتنہ سے محفوظ رکھ''

امام علیہ السلام کے لشکر کے سرداروں کی شعلہ ور تقریریں

فوج کے بزرگوں اور سرداروں کی تقریریں بہت بڑی تبلیغ کا کام کرتی ہیں بسا اوقات، ایک فوج کی تقریر دشمن کو نابود اور خود اپنے لئے کامیابی کے مقدمات فراہم کر دیتی ہے، اسی وجہ سے ، جمعرات ۹ صفر اجتماعی حملے کے دوسرے دن امام علیہ السلام کی فوج کی بزرگ شخصیتوں نے تقر یریں کیں ، امام کے علاوہ عبد اللہ بن بدیل(۳) سعید بن قیس(۴) (ناصرین کے علاقہ میں) اور مالک اشتر جیسی بزرگ

_______________________________

(۱)تاریخ طبری ۳، جزء ۶ص۸۔ کامل ابن اثیرج ۳ص۱۵۱-----(۲) وقعہ صفین ص۲۳۲

(۳) وقعہ صفین ص۲۳۴۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۵ص۱۸۶

(۴)وقعہ صفین ص۳۴۷۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۵ص۱۸۸


شخصیتوں(۱) نے تقریر کی اور ہر شخص نے ایک خاص طریقے سے امام علیہ السلام کی فوج کو شامی دشمن کی فوج پر حملہ کرنے کی تشویق دلائی، اسی درمیان بہت سے واقعات رونما ہوئے جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

۱۔ کون ہے جو اس قرآن کو اپنے ہاتھ میں لے؟

علی علیہ السلام قبل اس کے کہ جنگ کا آغاز کرتے اتمام حجت کے لئے اپنے سپاہیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: کون ہے جو اس قرآن کو اپنے ہاتھوں میں لے اور ان شامیوں کو اس کی طرف دعوت دے؟ سعید نامی نوجوان اٹھا اور اس نے ذمہ داری لی امام علیہ السلام نے دوسری مرتبہ پھر اپنی بات دہرائی اور پھر و ہی نوجوان اپنی جگہ سے اٹھا اور کہا اے امیرالمومنین میں حاضر ہوں، اس وقت علی علیہ السلام نے قرآن اس کے حوالے کیا وہ معاویہ کی فوج کی طرف روانہ ہوا ان لوگوں کو خدا کی کتاب اور اس پر عمل کرنے کی دعوت دی، تھوڑی دیر بھی نہ گذری تھی کہ دشمن کے ہاتھوں شھید ہوگیا(۲)

_______________________________

(۱)وقعہ صفین ص ۲۴۱۔۲۳۹۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۵ص۱۹۱۔۱۹۰

(۲)وقعہ صفین ص ۲۴۴۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۵ص۱۹۴


۲۔ دوحُجر کی جنگ:

حُجر بن عدی کندی ان شخصیتوں میں سے ہیں جو پیغمبر کی خدمت میں شرفیاب ہوئے اور ان کے ذریعے مسلمان ہوئے اس کے بعد علی علیہ السلام کے مخلصوں اور ان دفاع کرنے والوں کی صف میں تھے بالآخر اسی راہ میں اپنی جان دے دی معاویہ کے ظالم جلادوں کے ہاتھوں امام علیہ السلام کے کچھ مخلصوں کے ہمراہ ''مرج عذرائ'' (جو شام سے ۲۰ کلومیڑ دوری پر واقعہ ہے) میں قتل ہوگئے اور تاریخ نے انھیں ''حُجر الخیر'' کے نام سے یاد کیا جبکہ ان کے چچا حُجر بن یزید کو تاریخ نے ''حُجر الشّر'' کے نام سے یاد کیا ۔

اتفاق سے اس دن یہ دونوں حُجر جو کہ آپس میں قریبی عزیز بھی تھے میدان جنگ میں روبرو

ہوئے، مبارزہ کی دعوت حُجر الشّر کی طرف سے شروع ہوئی اوراس وقت جبکہ یہ دونوں اپنے اپنے نیزوں سے جنگ کرنے میں مصروف تھے معاویہ کی فوج سے ایک شخص خزیمہ، حُجر بن یزید کی مدد کیلئے دوڑا اور حُجر بن عدی پر نیزہ مارا اس موقع پر حُجر کے کچھ ساتھیوں نے خزیمہ پر حملہ کیا اور اسے قتل کر دیا لیکن حجر بن یزید


میدان چھوڑ کربھاگ گیا۔(۱)

۳۔ فوج شام کے میسرہ پر عبداللہ بن بدیل کا حملہ

عبد اللہ بن بدیل خزاعی امام علیہ السلام کے لشکر کے بلند پایہ افسر تھے وہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا جلیل القدر صحابی اور نفس کی پاکیزگی اور بہادری اور زبردست جنگ کرنے والوں میں مالک اشتر کے بعد مشہور تھے۔

میمنہ کی فوج کی ذمہ داری انھی کے ہاتھ میں تھی اور میسرہ کی سرداری عبد اللہ بن عباس کے ذمہ تھی، عراق کے قاری عمار یاسر، قیس بن سعد او رعبداللہ بن بدیل کے بارے میں ہوے(۲)

عبد اللہ ، حملہ شروع کرنے سے پہلے اپنے دوستوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا : معاویہ نے ایسے مقام و منصب کا دعویٰ کیا ہے جس کا وہ اہل نہیں ہے، مقام ومنصب کے حقیقی وارثوں سے لڑائی کے لئے اٹھا ہے اور باطل اور غلط دلیلوں کے ساتھ حق سے لڑنے آیا ہے ،اس نے عربوں(بدو) اور مختلف لوگوں کو ملا کر فوج تشکیل دی ہے اور گمراہی کو خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔یہاں تک کہنے کے بعد کہا:

''وأنتم واللّه علیٰ نورٍ من ربّکم وبرهان مبین، قاتلواالطغاةَ الجفاةَ ولا تخشوهُم وکیفَ تخشَونَهم وفی أید یکم کتاب من ربّکم ظاهر منور وقدقاتلتهُم مع التبیُّ واللّه مٰا هم فی هٰذهِ بأزکیٰ ولاٰ أ تقٰی ولاٰأبَرّ ،قُو مواُ اَلیٰ عدوِّ اللّٰه وعدوِّکم''(۳)

خدا کی قسم تم لوگ خدا کے نور کے سایۂ میں اور روشن دلیل ہو۔ اس جفا کار اور سرکش کے ساتھ جنگ کرو سے خوف نہ کرو، اس سے کیوں ڈرو جب کہ تمھارے ہاتھ میں خدا کی کتاب ہے جو واضح اور سب کی نظر میں مقبول ہے تم نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ اس سے جنگ کی ہے خدا کی قسم ان کا حال ماضی سے بہتر نہیں ہے، اٹھو اور خدا کے دشمن اور اپنے دشمن سے جنگ کرنے کے لئے روانہ ہوجاؤ ۔

_______________________________

(۱)وقعہ صفین ص۲۴۳ ۔ شرح نہج البلاغہ ابن الحدید ج۵ص۱۹۶۔۱۹۵-----(۲)کامل ابن اثیرج ۳ ص ۱۵۱

(۳) وقعہ صفین ص۲۳۴ ۔ تاریخ طبری ج ۳جزء ص۹۔ کامل ابن اثیرج۳ص۱۵۱ (تھوڑے فرق کے ساتھ)


میمنہ کی سرداری عبد اللہ کے حوالے تھی اس کے باوجود انہوں نے دو زرہ پہنی اور دو تلواریں (دونوں ہاتھوںمیں ) لیں اور حملہ شروع کردیا اور پہلے ہی حملہ میں معاویہ کی فوج کو راستے سے ہٹادیا اور حبیب بن مسلمہ جوفوج شام کے میسرہ کا سردار تھا،کے لشکر کو شکست دیدی ،ان کی پوری کوشش یہ تھی کہ خود کو معاویہ کے خیمے تک پہونچا دیں اور اس ام ّالفساد کو درمیان سے ختم کردیں معاویہ کے تمام نگہبان جنہوں نے اپنی جان قربان کرنے کا عہد کیا تھا، پانچ صف کی صورت میںیا بقولے پانچ دیوار کی طرح اس کے اطراف میں محاصرہ کئے ہوئے تھے اور ان کو بڑھنے سے روک رہے تھے لیکن یہ دیواریں بہت بڑی مشکل نہ بنیں، بلکہ ایک کے بعد ایک گرتی رہیں عبدا للہ کا حملہ بہت زبردست تھالیکن اس سے پہلے کہ خود کو معاویہ کے خیمہ تک پہونچاتے قتل کر دئیے گئے۔(۱)

اس سلسلے میں جریر طبری نے اپنی ''تاریخ'' میں ابن مزاحم (مؤلف وقعہ صفین) سے زیادہ تفصیل کے ساتھ لکھا ہے، وہ لکھتا ہے:عبداللہ دشمن کی فوج کے میسرہ کے ساتھ جنگ کرنے میں مشغول تھا اور مالک اشتر بھی میمنہ پر حملہ کر رہے تھے، مالک اشتر جو کہ زرہ پہنے ہوئے تھے اپنے ہاتھ میں ایک یمنی ڈھال نما لوہے کا ٹکڑا لئے ہوئے تھے جب اس کو جھکاتے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ اس سے پانی برس رہا ہے اور جب اسے اونچا کرتے تھے تو اس کی چمک سے آنکھیں خیرہ ہو جاتی تھیں۔انھوں نے اپنے حملے میں میمنہ کو تہ وبالا کردیا اور ایسے مقام پر پہونچے جہاں عبد اللہ بن بدیل قاریوں کے گروہ جن کی تعداد تقریباً تین سو،(۲) کے آس پاس تھی موجود تھے، انہوں نے عبد اللہ کے دوستوں کو میدان میں ڈٹا ہوا پایا مالک اشتر نے ان کے اطراف سے دشمنوں کو دور کیا وہ لوگ مالک اشتر کو دیکھ کر خوش ہوئے اور فوراً امام کے حالات دریافت کئے اور جب ان لوگوں نے جواب میں سنا کہ امام علیہ السلام صحیح و سالم ہیں اور میسرۂ میں اپنی فوج کے ساتھ جنگ کرنے میں مصروف ہیں تو شکرخدابجالائے۔

ایسی حالت میں عبد اللہ نے اپنے کم ساتھیوں کے باوجود بہت زیادہ اصرا ر کیا کہ آگے بڑھیں، معاویہ کے نگہبانوںکو قتل کرنے کے بعد خود معاویہ کو قتل کردیں،لیکن مالک اشتر نے انہیں پیغام دیا کہ آگے

______________________

(۱) وقعہ صفین ص۲۴۸

(۲)ابن مزاحم نے وقعہ صفین میں ان کی تعداد سو آدمی لکھی ہے۔


نہ بڑھیںاور جس جگہ پر ہیں وہیں ٹھہرے رہیں اور اپنا دفاع کریں۔(۱) لیکن ان کا خیال تھا کہ وہ ایک بجلی کی طرح تیز حملے سے نگہبانوں کو ختم کرکے معاویہ تک پہونچ جائیں گے، اسی وجہ سے وہ آگے بڑھتے رہے اور چونکہ دونوں ہاتھوں میں تلوار لئے تھے اپنے دوستوں کے ہمراہ حملہ شروع کردیا اور جو بھی سامنے آتا تھا ایک ہی حملے میں اس کا کام تمام کردیتے تھے اور اس قدر آگے بڑھے کہ معاویہ کو مجبوراً اپنی جگہ بدلنی پڑی۔(۲)

عبد اللہ کے حملے کی خوبی یہ تھی کہ وہ نگہبانوں سے لڑتے وقت یالثارات عثمان،، کا نعرہ بلند کر رہے تھے اس نعرے سے ان کا مقصد ان کا وہ بھائی تھا جو اسی جنگ میںمارا گیا تھا لیکن دشمنوں نے اس سے دوسری چیزسمجھا اور بہت تعجب میں پڑے تھے کہ عبد اللہ کس طرح سے لوگوں کو عثمان کے خون کا بدلہ لینے کی دعوت دے رہے ہیں۔!

بالآخر نوبت یہاں تک پہونچی کہ حقیقت میں معاویہ کو اپنی جان خطرے میں نظر آئی اور کئی مرتبہ اپنی میمنہ کی فوج کے سردار حبیب بن مسلمہ کے پاس پیغام بھیجا کہ مدد کو پہونچے لیکن حبیب کی ساری کوششیں بے کار ہوگئیں۔ اور عبد اللہ کو ان کے مقصد تک پہونچنے سے روک نہ سکا ،معاویہ کے خیمے سے وہ بہت کم فاصلے پر تھے معاویہ نے جب کوئی سبیل نہ دیکھی تو نگہبانوں کو حکم دیا کہ ان کے اوپر پتھر مارو اور ان سے جنگ کرو، اور یہ طریقہ مؤثر واقع ہوااور نگہبانوں نے پتھر مار کر عبد اللہ جن کے ہمراہ بہت کم لوگ تھے زخمی کر دیا اور وہ زخمی ہوکر زمین پر گر پڑے ۔(۳)

جب معاویہ نے اپنی جان کو خطرے سے باہر پایا توخوشی سے پھولے نہیں سمایااورعبداللہ کے سراہنے آیا، ایک شخص جس کا نام عبد اللہ بن عامر تھا اور معاویہ کے قریبی لوگوں میں سے تھا اپنے عمامہ کو عبد اللہ کے چہرے پر ڈال دیا اور اس کے لئے دعائے رحمت کی، معاویہ نے بہت اصرار کیا کہ اس کا چہرہ کھول دے مگر اس نے نہیں کھولا کیونکہ وہ اس کا دوست تھا، معاویہ نے اس سے وعدہ کیا کہ میں اِسے مُثلہ

_______________________________

(۱)کامل ابن اثیرج۳ص۱۵۳

(۲)تاریخ طبری ج ۳جزئ۶ص۱۰۔کامل ابن اثیرج۳ص۱۵۲،۱۵۱۔ شرح نہج البلاغہ ابن الحدید ج۵ص۱۹۶

(۳)وقعہ صفین ص ۲۴۶۔۲۴۵


(جسم کے ٹکڑے کاٹنا) نہیں کروں گا، اس وقت اُسے امام کے بہادر سردار کا چہرہ دیکھنا نصیب ہوا،جیسے ہی معاویہ کی نگاہ عبد اللہ کے چہرے پر پڑی اس نے برجستہ کہا:

''هذاواللّٰه کبشُ القومِ.وربِّ الکعبةِ اللّٰهمّ اَظْفِرْنْیِ بالْاَشْتَرِ النّخعِی والْاَ شْعَتِ الْکِنْدِیْ'' (۱)

''خدا کی قسم ، وہ اس گروہ کا سب سے بڑا ہے خدایا مجھے اور دو بڑے بہادروں، مالک اشتر نخعی اور اشعث کنِدی پر کامیابی عطا فرما''۔

اس وقت عبد اللہ کی بے مثال بہادری و شجاعت پر عدی بن حاتم کا قصیدہ پڑھاجس کا پہلاشعر یہ تھا۔

''أخا الحربِ اِن عضّتْ به الحربُ عضّهٰا.وان شمّرَتْ عن سَا قِهٰا الحربُ شمَّرا'' (۲)

''مرد جنگجو(بہت زیادہ جنگ کرنے ولا)وہ ہے کہ اگر جنگ نے اُسے دانت دکھایا تو وہ بھی اسے دانت دکھائے اور اگر آستین اوپر اٹھائے تو وہ بھی آستین اوپر کرے''۔

جنگ، لیلة الہریر تک

امام علیہ السلام کے چاہنے والوں اور معاویہ کے طرفداروں کے درمیان واقعی جنگ ماہ صفر ۳۸ ھ سے شروع ہوئی اور ۱۳،صفر(۳) کو دوپہر تک جاری رہی، تاریخ لکھنے والوں نے اس ابن جریر طبری نے اپنی کتاب میں صلح کی تاریخ ۱۳ صفر لکھی ہے اور لیلة الہریر کو جمعہ کے دن لکھا ہے۔(ص۲۴) لیکن چونکہ جس دن صفر کا مہینہ شروع ہوا تھا وہ بدھ کا دن تھا اور اس اعتبار سے لیلة الہریر ۱۷ صفر کو ہونا چاہیے(ماہ صفر کی تیسری شب جمعہ) اور اگر مراد دوسری شب جمعہ ہو تو اس صورت میں لیلة الہریر ۱۰صفر کو ہوناچاہیے نہ کہ ۱۳ صفر کو ،مگر یہ کہا جائے لیلةالہریر کے آدھے دن سے صلح نامہ لکھے جانے تک تین دن تک دونوں فوجوں

______________________

(۱)،(۲)، تاریخ طبری ۳ جزء ۶ص۱۶َ،۱۳۔وقعہ صفین ص۲۴۶۔ کامل ابن اثیرج ۳ص۱۵۴۔۱۵۳،شرح نہج البلاغہ ابن الحدیدج۵ص۱۹۷۔ مروج الذہب ج۲ص۳۹۸۔----(۳) تاریخ طبری ج ۳جلد۶ص۳۱۔


میں لڑائی ہوتی رہی اور تیسرے دن صلح نامہ مکمل ہوا لیکن ظاہراً جو ابن مزاحم کی کتاب وقعہ صفین میں تحریر ہے وہ یہ ہے کہ جنگ دسویں دن کے بعد بھی جاری رہی۔

مہینے کی شب پندرہویںکو ''لیلة الہریر'' کے نام سے یا د کیاہے ، عربی لغت میں ''ہریر'' کے معنیٰ کتوں کا تیز اوردردناک آواز میں بھونکنا ہے، کیونکہ معاویہ کی فوج اس رات امام علیہ السلام کی فوج کے حملے سے ایسے ہی چلا رہی تھی جیسے کتے چلاتے ہیں ،عنقریب تھا کہ معاویہ اور امویوں کی حکومت کا تختہ پلٹ جائے کہ اچانک عمروعاص نے دھوکہ اور فریب کے ساتھ اور امام کی فوج کے درمیان تفرقہ پیدا کرکے اس خونی اور سرنوشت ساز جنگ اور اس کو روک دیا بالآخر۱۷،صفر جمعہ کے دن واقعہ ''حَکمیّت''تک پہونچا اور جنگ وقتی طور پر روک دی گئی۔

جنگ صفین کے حادثات لکھنے والے مؤرخین نے دس دن تک حالات کو ترتیب سے لکھا ہے۔(۱) لیکن اس کے بعد کے حالات و حادثات کی ترتیب بدل گئی، تاریخ لکھنے والوں کو چاہیے کہ اپنے ذوق تاریخ شناسی کی روشنی میں واقعات کو ترتیب دیں ہم بھی ان چند دن میں ہوئے واقعات کو لیلة الہریرتک اپنے انداز سے تحریر کر رہے ہیں۔

______________________

(۱) مروج الذہب ج۲ص۳۹۰۔۳۸۷۔


دسویں دن کا حادثہ

دسویں صفر کا سورج طلوع ہوا اور اپنی روشنی کو صفین کے میدان پر ڈالا جو خون کے تالاب کی طرح ہوگیاتھا ،شہادت کے عاشق اور امام علیہ السلام کے چاہنے والے یعنی ربیعہ قبیلے والے امام کے اطراف میں جمع تھے اور امام کا محاصرہ کئے ہوئے تھے، ان کے سرداروں میں سے ایک سردار اٹھا اور کہا ''من یبایعٰ نفسہُ علی الموتِ و یشری نفسہُ للّٰہ؟ کون ہے جو مرنے کے لئے بیعت کرے اور اپنی جان کو خداکے لئے بیچ دے ؟ اس وقت سات ہزار لوگ کھڑے ہوئے اور اپنے سردار کے ہاتھ پر بیعت کی اور کہا ،ہم اتنا آگے بڑھیںکہ معاویہ کے خیمے میں داخل ہوجائیں اور پیچھے پلٹ کر بھی نہ دیکھیں۔

ان کی محبت و الفت کے لئے بس اتنا ہی کافی ہے کہ ان میں سے ایک شخص نے اٹھ کر کہا''لیس لکم عُذرفیِ العربِ اِن اصیب عِلیّ فیکم، ومنکم رجُل حتّیٰ'' ۔یعنی عربوںکے سامنے تم لوگ ذلیل ورسوا ہو جاؤگے اگر تم میں سے ایک آدمی بھی زندہ رہا اور امام علیہ السلام کو کوئی آسیب پہونچا جب معاویہ نے ''ربیعہ'' کی بہادری اور موعظہ و نصیحت کو دیکھا تو برجستہ اس کے منھ سے تعریفی جملے نکل پڑے اور یہ شعر پڑھا۔

اِذَاقُلتَ قد وَلّتْ ربیعةُ أقبلَتْ

کتائبُ منهم کالجِبالِ تجالد

اگر کوئی کہے کہ قبیلۂ ربیعہ نے میدان میں اپنی پشت دکھائی، تو اچانک ان میں سے کچھ گروہ پہاڑ کی طرح جنگ کرنے کیلئے تیار


ہو جائیں گے۔(۱)

میمنہ کی فوج میں ترمیم

ربیعہ کی بہادری کے مقابلے میں قبیلۂ مضر نے بہت زیادہ وفاداری نہیں کی اور امام علیہ السلام کی میمنہ کی فوج اپنے سردار عبد اللہ بن بدیل کے قتل ہونے کی وجہ سے اور قبیلۂ مضَر کے افراد کے میدان سے بھاگنے کی وجہ سے شکست سے دوچار تھی، اس طرح سے کہ اس فوج کے سپاہی قلب لشکر سے جا ملے کہ جس کی سرداری خود امام علیہ السلام کررہے تھے۔ امام علیہ السلام نے میمنہ کی فوج میں بہتری اور سدھارکے لئے سہل بن حنیف کو اس فوج کا سردار بنا یا، لیکن حبیب بن مسلمہ کی سرداری میں شام کی فوج کے ہجوم نے میمنہ کے نئے سردار کو اتنی مہلت نہ دی کہ فوج کو منظم و مرتب کرتا، امام علیہ السلام جب قبیلۂ مضَر کی بد نظمی سے

باخبر ہوئے تو فوراً مالک اشتر کو اپنے پاس بلایا اور انہیں حکم دیا کہ یہ گروہ جس نے اسلامی روش کو بھلادیا ہے اس سے کہو''این فرار کم من الموت الذی لن تعجزوه الیٰ الحیاة الّتی لا تبقیٰ لکم؟'' کیو ں ایسی موت سے بھاگ رہے ہو جس کے مقابلے کی قدرت نہیں رکھتے اور جو زندگی ختم ہونے والی ہے اس کی طرف بھاگ رہے ہو ؟

مالک اشتر، میمنہ میں شکست کھا تے ہوئے لوگوں کے درمیان کھڑے ہوکر امام علیہ السلام کا پیغام پہونچانے کے بعد جوش وولولے والی تقریر میں کہا:''فان الفِرار فیه سلب العزّ والغلبة علیٰ الفَیئِ

______________________

(۱)شرح نہج البلاغہ ابن الحدیدج۵ص۲۴۲،۲۴۱۔ وقعہ صفین ص۳۰۶


وذِلَُّ الحیاة و المماتِ و عار الدنیا والاخرة وسخط اللّٰه وألیم عقابِهِ''

''میدان جہاد سے فرار کرنا اپنی عزت کو برباد کرنا اور بیت المال کوا پنے ہاتھوں سے گنوا دینااور حیات و زندگی میں ذلت، اور دنیا و آخرت میں ننگ و عار، خدا کا قہر و غضب اور اس کا درد ناک عذاب ہے''۔

پھر فرمایا: اپنے دانتوں کو ایک دوسرے پر مضبوطی سے دبا لو اور اپنے سر کے ساتھ دشمن کے استقبال کے لئے بڑھواتنا کہنے کے بعد آپ نے میمنہ کی فوج کو منظم کیا اور خود حملہ شروع کر دیااور میسرۂ میں معاویہ کی فوج جو امام علیہ السلام کی میمنہ فوج کے مقابل تھی ، اسے پیچھے بھگا دیا یہاں تک کہ معاویہ کے قلب لشکر میں پہونچ گئے۔(۱)

شکست کے بعد میمنہ کی فوج کا مرتب ہونا امام علیہ السلام کی خوشحالی کا سبب ہوا، اسی وجہ سے آپ نے ان لوگوں کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا''فألان فاصبر واانزلت علیکم الَسّکینة وثبّتکم اللّٰه بالیقین ولیعلم المنهزم بأنّه مُسخِط لِرَبّهِ و مُوْبقنفسه، وَفی الْفِرارِ مُوجَدَة اللّٰهِ عَلَیْهِ والذّلّ اللازمُ أوِالعارُالباقی، (۲)

''اس وقت صبر و سکون سے رہو کیونکہ ثبات اور آرام تمھارے لئے خداکی طر ف سے آیا اور تمھیں یقین کے ساتھ قائم رکھا اور جو لوگ شکست کھاچکے ہیں (میدان جنگ میںثابت قدم نہ رہے )وہ جا ن لیں کہ انہوں نے خود کو خدا کے غیظ و غضب اور بلاؤں میں گرفتار کیا ہے اور میدان جنگ سے بھاگنے والے پر خدا کا قہر اور ذلت ہوگی''۔

_______________________________

(۱)شرح نہج البلاغہ ابن الحدیدج۵ص۱۹۸،۱۹۷۔ وقعہ صفین ص۲۵۰۔ تاریخ طبری ۳، جزء ۶،ص۱۲

(۲)۔ تاریخ طبری ۳، جزء ۶ص۱۴


قاتل کا گریہ

مأرب ایک شہر ہے جو شمال میں شرق صنعا کے پاس ہے وہ اس عظیم نہر جو ۵۴۲سے ۵۷۰ کے درمیان منہدم ہوئے بہت مشہور ہے، یمن کے قبیلے والوں نے اسی نہر کی برکت سے کافی ترقی کی اوروہ بہت اچھی کھیتی کرتے تھے ، مشہور طوفان،''عرم'' کے اثر سے نہر منہدم ہوئی جس کے بعد لوگ وہاں سےجزیرہ کے اِدھر اُدھر چلے گئے اور اس میں سے اکثر لوگ شام ،اردن ،فلسطین چلے گئے ،لیکن اپناقبیلہ چھوڑنے کے باوجود لوگ اپنے کو اسی قبیلے سے منتسب کرتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ قبیلہ ازد، مضَر، کنِدہ، قضاعہ اور ربیعہ کے لوگ عراق میں اور اسی قبیلے کے کچھ لوگ شام ،اردن اور فلسطین میں زندگی بسر کررہے ہیں۔

فوج کو منظم کرتے وقت امام علیہ السلام کی سیاست یہ تھی کہ جس قبیلے کے لوگ بھی عراق میں زندگی بسر کررہے تھے تو دوسرے افراد کے سامنے وہی قبیلے کے لوگ کھڑے ہوں ، جو عراق کے علاوہ دوسری جگہوں پر زندگی بسر کر رہے تھے کیونکہ ممکن ہے کہ یہ آمنے سامنے کا مقابلہ بہتر ثابت ہو اور شدید خونریزی نہ ہو۔(۱)

ایک دن ''خثعم'' کے عبد اللہ نامی شامی سردارنے خثعم عراق کے رئیس سے ملاقات کرنےکی خواہش ظاہر کی، اور تھوڑے وقفہ کے بعد اس سے ملاقات ہوئی، شامی نے عرض کیا کہ خثعم قبیلے کے دونوں گروہ جنگ نہ کریں ، اور آئندہ کے لئے فکر کریں، دونوں فوجوں میں سے جو بھی کامیاب ہوئی ہم اس کی پیروی کریں ،لیکن ان دونوں سرداروں کی باتوں کا کوئی فائدہ نہ ہوا کیونکہ عراقیوں میں سے کسی نے بھی اس کی باتوں پر توجہ نہیں دی،اور کوئی بھی راضی نہیں ہوا کہ امام علیہ السلام سے اپنی بیعت اٹھا لے،لہٰذا دونوں گروہوںمیں آمنے سامنے سے ایک ایک کر کے جنگ شروع ہوگئی ، وہب بن مسعود خثعمی عراقی، نے اپنے برابر کے شخص کو شامیوں میں سے قتل کر ڈالا اور اسی کے مقابلے میں خثعم شام کے ایک شخص نے عراق کے خثعمی پر حملہ کر دیا اور ابوکعب کو قتل کر دیا لیکن قتل کرنے کے فوراً بعد مقتول پر رونا شروع کردیا اور کہا میں نے معاویہ کی پیروی کرنے کی وجہ سے تجھے قتل کیا ہے جب کہ تو میرا قریبی عزیز تھا اور لوگوں سے زیادہ میں تم کو چاہتا تھا خدا کی قسم میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیا کروں، سوائے یہ کہ شیطان نے ہم لوگوں کو گمراہ کردیااور قریش نے ہمیں اپنا آلٰہ قرار دیدیا ہے اور ایک ہی قبیلے کے دوگروہوں کی آپسی جنگ میں ۸۰ لوگ دونوں طرف کے مارے گئے اور جنگ تمام ہوگئی۔(۲)

______________________

( ۱)معجم البلدان ج۵ص۳۵،۳۴------(۲) وقعہ صفین ص۲۵۸،۲۵۷۔ شرح نہج البلاغہ ابن الحدیدج۵ص۲۰۵،۲۰۴۔


تاریخ دہراتی ہے

یہ واقعہ بذات خود بے مثال نہیں ہے بلکہ جنگ صفین میں کم وبیش اس طرح کا واقعہ ہوا ہے جس میں بعض کی طرف ہم اشارہ کررہے ہیں۔

۱۔ نعیم بن صہیب بَجلی عراقی قتل ہوا اس کاچچازاد بھائی نعیم بن حارث بَجلی جو شام کی فوج میں تھا ، اس نے معاویہ سے اصرار کیا کہ اپنے چچازاد بھائی کی لاش کو کپڑے سے چھپادے، لیکن اس

نے اجازت نہیں دی اور بہانہ بنایا کہ اسی گروہ کے خوف سے عثمان کو رات میں دفن کیا گیا لیکن بَجلی شامی نے کہا یا تو یہ کام انجام پائے گایا تجھے چھوڑ دوں گا اور علی کے لشکر میں شامل ہوجاؤں گاآخرکار معاویہ نے اسے اجازت دی کہ اپنے چچا زاد بھائی کے جناز ے کو دفن کردے۔(۱)

۲۔ قبیلۂ ازد کے دو گروہ آمنے سامنے تھے ان دونوں قبیلوں میں سے ایک قبیلے کے سردار نے کہا سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ ایک ہی قبیلہ کے دو گروہ ایک دوسرے سے مقابلے کے لئے آمادہ ہیں۔ خدا کی قسم، ہم اس جنگ میں اپنے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ پیر کاٹنے کے علاوہ کچھ اور نہیں کر سکتے اور اگر یہ کام انجام نہ دیا تو ہم نے اپنے رہبر اور قبیلے کی مدد نہیں کی، اور اگر انجام دیں تو اپنی عزت کو برباد اور اپنی زندگی کی لو کو خاموش کردیا ہے۔( ۲)

۳۔ شامیوں میں سے ایک نے میدان ِ میں قدم رکھا اور جنگ کی دعوت دی ،عراق کا ایک شخص اس سے مقابلہ کرنے کے لئے مید ان میں آیا اور دونوںنے زبردست حملے کئے بالآخر عراقی نے شامی کی گردن پکڑی اور اسے زور سے زمین پرپٹک دیا اور اس کے سینے پر بیٹھ گیا جس وقت اس نے خودشامی کے چہرے سے نقاب اور سر سے ٹوپی اتاری تو دیکھا کہ اس کا اپنا بھائی ہے! اس نے امام علیہ السلام کے دوستوں سے کہا کہ امام علیہ السلام سے کہو کہ اس مشکل کو حل کریں۔ امام علیہ السلام نے حکم دیا کہ اُسے آزاد کردو لہٰذا اس نے آزاد کردیا اس کے باوجود وہ دوبارہ معاویہ کی فوج میں شامل ہوگیا۔(۳)

_______________________________

(۱)وقعہ صفین ص۲۵۹۔ شرح نہج البلاغہ ابن الحدیدج۵ص۲۰۷۔ تاریخ طبری ج ۳جزئ۶، ص۱۴،کامل ابن اثیرج ۳ص۱۵۴۔---(۲) وقعہ صفین ص۲۶۲۔ تاریخ طبری ج ۳،جزئ۶، ص۱۵۔شرح نہج البلاغہ ابن الحدیدج۵،ص۲۰۹۔---(۳)وقعہ صفین ص۲۷۲۔ شرح نہج البلاغہ ابن الحدیدج۵ص۲۱۵۔


۴۔ معاویہ کی فوج سے ایک شخص بنام ''سوید'' میدان میں آیا اور مقابلے کے لئے للکارا امام علیہ السلام کی فوج سے قیس میدان میں آئے، جب دونوں نزدیک ہوئے تو ایک دوسرے کو پہچان گئے اور دونوں نے ایک دوسرے کو اپنے رہبر و پیشوا کی طرف آنے کی دعوت دی، قیس نے امام علیہ السلام سے اپنی محبت و ایمان کو اپنے چچازاد بھائی سے بیان کیااور کہا،وہ خدا کہ جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اگر ممکن ہوتا تو اس تلوار سے اس سفید خیمے(معاویہ کا خیمہ) پر اتنا زبردست حملہ کرتا کہ صاحب خیمہ کا کوئی آثار باقی نہ رہتا۔(۱)

شمر بن ذی الجوشن امام علیہ السلام کی رکاب میں

تعجب کی بات (ایسی حیرت و تعجب جس کی کوئی انتہاء نہیں ہے) یہ ہے کہ شمر جنگ صفین میں امام علیہ السلام کے ہمراہ تھا، اور میدان جنگ میں''ادھم''نام کے ایک شامی نے اس کی پیشانی پر سخت ضربت لگائی جس سے اس کی ہڈی ٹوٹ گئی،وہ بھی بدلہ لینے کے لئے اٹھا اور شامی پر تلوار سے زبردست حملہ کیا، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا، شمر اپنی توانائی واپس کرنے کے لئے اپنے خیمے میں پانی پیا اور ہاتھ میں نیزہ لے لیا پھر میدان میں آگیا اس نے دیکھا کہ شامی اسی طریقے سے اپنی جگہ پر کھڑا ہے، اس نے شامی کو مہلت نہ دی اور اپنا نیزہ اس کے اوپر اس طرح مارا کہ وہ گھوڑے سے زمین پر گر گیا اور اگر فوج شام سے لوگ اسکی مدد کو نہ پہونچتے تو اسے قتل کردیتا اس وقت شمر نے کہا یہ نیزہ کی مار اس حملہ کے مقابلے میں ہے۔(۲)

______________________

(۱)وقعہ صفین ص۲۶۸۔ شرح نہج البلاغہ ابن الحدیدج۵ص۲۱۳۔

(۲)تاریخ طبری ج ۳جزئ۶، ص۱۸۔شرح نہج البلاغہ ابن الحدیدج۵ص۲۱۳۔


شہادت پر فخر و مباہات

شہادت اور اللہ تعالیٰ سے عشق و محبت پر مومنین اور قیامت پر ایمان و اعتقاد رکھنے والے ہی افتخار کرتے ہیں اورمقد س مقصد کے تحت جنگ کرتے ہیں اور یہ افتخار اور فخرو مباہات ایک ایسی ثقافت ہے جو دوسری قوموں میں نہیں ، شہادت سے عشق و محبت قیام و جہاد کے لئے ایک بہترین محرّک اور علت ہے، شہید اپنی چند روزہ زندگی کو ابدی زندگی سے اسی عقیدے کی بنا پر تبدیل کرتا ہے اور پھر وہ اپنے مقصد کے پیش نظر کسی کو نہیں پہچانتا ہے۔

جنگ صفین کے زمانے میں ایک دن فوج شام کے قبیلۂ بنی اسد کا ایک بہادر سپاہی میدان میں آیا اور جنگ کے لئے بلایا عراقی فوجی اس بہادر کو دیکھ کر پیچھے ہٹنے لگے اچانک ایک ضعیف شخص بنام''مقطّع عامری'' اٹھا تاکہ بنی اسد کے اس شخص سے لڑنے کے لئے میدان میںجائے،لیکن جب امام علیہ السلام متوجہ ہوئے تو اسے میدان جنگ میں جانے سے منع کردیا، ادھر اس شامی بہادر کیهَلْ مِنْ مبارز کی بلند آواز نے لوگوں کے کانوں کوبہرا کر دیا تھا۔ ادھر ہر مرتبہ و ہ ضعیف جو شہادت کا عاشق تھا اپنی جگہ سے مقابلے کے لئے اٹھتا تھا لیکن امام اُسے منع کردیتے تھے، اس ضعیف نے عرض کیا اے میرے مولا، اجازت دیجیے کہ اس جنگ میں شرکت کروں تا کہ شہید ہو جاؤں اور بہشت کی طرف جاؤں یا اسے قتل کردوںاور اس کے شرّ سے آپ کو امان دوں ، امام علیہ السلام نے اس مرتبہ اسے اجازت دی اور اس کے حق میں دعا کی۔


اس دلیر اور بہادر کے عاشقانہ حملے نے اس بہادر شامی کے دل میں ایسا رعب پیدا کر دیا کہ اسے بھاگنے کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہ آیا۔ اور اتنا دور ہوگیا کہ خود کو معاویہ کے خیمے کے پاس پہونچا دیا لیکن اس بوڑھے مجاہد نے اس کا وہاں تک پیچھا کیا اور جب اس کو نہ پایا تو اپنی جگہ پر وآپس آگیا۔ اور جب علی علیہ السلام کی شہادت ہوگئی اور لوگوں نے معاویہ کے ہاتھ پر بیعت کی تو معاویہ نے مقطّع عامری کو تلاش کرایا اور اسے اپنے پاس بلایا،مقطّع جب کہ پیری اور ضعیفی کی زندگی بسر کر رہے تھے معاویہ کے پاس آئے۔

معاویہ:بھائی ، اگر تم ایسی حالت میں(بہت بڑھاپا اور ضعیفی میں ) میرے پاس نہ آئے ہوتے تو ہرگز میرے ہاتھ سے نہ بچتے (یعنی قتل کردیتا)

عامری:میں تجھے خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ مجھے قتل کردے اور ایسی ذلت کی زندگی سے مجھے نجات دیدے اور خدا کی ملاقات سے نزدیک کردے۔

معاویہ: میں ہرگز تمھیں قتل نہیں کروں گا بلکہ مجھے تمہاری ضرورت ہے۔

عامری: تیری حاجت کیا ہے؟

معاویہ: میری حاجت ہے کہ میں تمھارا بھائی بنوں۔

عامری: میں خدا کے لئے تجھ سے پہلے ہی جدا ہوچکا ہوں اور اسی حالت پر باقی ہوں تاکہ خدا وند عالم قیامت کے دن ہم لوگوں کو اپنے پاس بلائے اور ہمارے اور تمھارے درمیان فیصلہ کرے۔

معاویہ: اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کردو۔

عامری: میں نے اس سے آسان درخواست کو ٹھکرادیا تو پھر یہ درخواست کہا ں (قبول کرسکتا ہوں)

معاویہ: مجھ سے کچھ مال لے لو۔


عامری: مجھے تمھارے مال کی ضرورت نہیں ہے۔(۱)

ایک فوجی حکمت عملی

دسویں دن یا اس کے بعد جب کہ عراقیوں اور شامیوں کی سواروںکے درمیان گھمسان کی

جنگ ہو رہی تھی، امام علیہ السلام کی فوج کے ایک ہزار آدمیوں کا شامیوں نے محاصرہ کر لیا اور ان لوگوں کا رابطہ آپ سے منقطع ہوگیا اس وقت امام علیہ السلام نے بلند آواز سے فرمایا، کیا کوئی نہیں ہے جو خدا کی رضاخریدے اور اپنی دنیا کو آخرت کے بدلے بیچ دے؟ عبدالعزیز کا لے گھوڑے پر سوار اور زرہ پہنے ہوئے آنکھ کے علاوہ بدن کا کوئی حصّہ نظر نہیں آرہا تھا امام علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا آپ جو بھی حکم دیں گے اسے انجام دوںگا، امام علیہ السلام نے اس کے لئے دعا کی اور کہا: فوج شام پر حملہ کرو اور خود کو گھیرے ہوئے لوگوں تک پہونچا دو اور جب ان کے پاس پہونچنا تو کہنا کہ امیر المومنین نے تمھیںسلام کہا ہے اور کہا ہے کہ تم لوگ اس طرف سے تکبیر کہو اور ہم اس طرف سے تکبیر کہتے ہیں اور تم لوگ اس طرف سے اور ہم اس طرف سے حملہ کریں تاکہ محاصرہ کو ختم کردیںاور تم لوگوں کو آزادی مل جائے۔

امام علیہ السلام کے بہادر سپاہی نے فوج شام پرزبردست حملہ کیا اور اپنے کو محاصرہ ہوئے لوگوں تک پہونچایااور امام علیہ السلام کا پیغام پہونچایا، لوگ امام علیہ السلام کا پیغام سن کر بہت خوش ہوئے اور اس وقت تکبیر و تہلیل کی آوازاور دونوں طرف سے جنگ شروع ہوگئی اور محاصرہ ختم ہوگیا اور محاصرہ ہوئے لوگ امام علیہ السلام کے لشکرسے مل گئے۔ شامیوں کے آٹھ سو لوگ مارے گئے اورجو بچے وہ پیچھے ہٹ گئے اور جنگ وقتی طور پر رک گئی۔(۲)

_______________________________

(۱)۔ شرح نہج البلاغہ ابن الحدیدج۵ص۲۲۴،۲۲۳۔ وقعہ صفین ص ۲۷۸۔

(۲) شرح نہج البلاغہ ابن الحدیدج۵ص۲۴۳۔ وقعہ ٔ صفین ص ۳۰۸۔


شدیدجنگ کے دوران سیاسی ہتھکنڈے

امور جنگ کے ماہرین نے امام علی علیہ السلام کی فوج کے اجتماعی حملے کو ابتدأ ہی میں دیکھ کر یہ

سمجھ گئے تھے کہ جنگ میں اما م کے لشکر کو کامیابی ملے گی، کیونکہ وہ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ ہر دن جنگ کے حالات امام علیہ السلام کے حق میں جارہے ہیں اور معاویہ کی فوج نابودی اور موت کی طرف جا رہی ہے۔ یہ کامیابی ان علتوں کی بنأ پر تھی جس میں سے بعض کی طرف ہم اشارہ کر رہے ہیں:

۱۔ سب سے بڑے سردار کی شائستہ اور مدّبرانہ رہبری ،یعنی حضرت علی علیہ السلام ،اور اسی صحیح نظام ِ رہبری کی وجہ سے معاویہ کی فوج تقریباً اما م کے لشکر سے دوگنی تھی، قتل ہوئی (جنگ صفین کے واقعات نقل کرنے کے بعد دونوں فوج کے مرنے والوں کی تعداد تحریر کی جائے گی)

۲۔ امام علیہ السلام کی بے مثال شجاعت و بہادری کہ دنیا نے آج تک ایسا بہادر نہیں دیکھا، ایک دشمن کے قول کے مطابق، علی علیہ السلالم نے کسی بھی بہادر سے مقابلہ نہیں کیا مگر یہ کہ زمین کو اس کے خون سے سیراب کردیااس سور ما کی بنا پر عراقیوں کے سامنے سے بڑے بڑے شر ہٹا لئے گئے اور دشمنوں کے دل میں زبردست رعب بیٹھ گیا اور میدان جنگ میں ٹھہرنے کے بجائے بھاگنے کو ترجیح دیا۔

۳۔ امام علیہ السلام کی فوج کا آنحضرت کی فضیلت،خلافت،تقویٰ اور امامت برحق پر ایمان وعقیدہ رکھنا، جن لوگوں نے نص الہٰی کو رہبری کا ملاک سمجھااور جنہوں نے انصارو مہاجرین کے انتخاب کو معیار خلافت جانا، وہ سب کے سب امام علیہ السلام کے پرچم تلے حق و عدالت کے ساتھ باطل و سرکش سے جنگ کرنے آئے تھے، جب کہ معاویہ کی فوج کی حالت کچھ اورہی تھی،اگرچہ کچھ خلیفہ کے خون کا بدلہ لینے کے لئے معاویہ کے ساتھ آئے تھے اور ان کے لئے تلوار چلا رہے تھے مگر بہت زیادہ لوگ مادیت کی لالچ اور دنیا طلبی کے لئے اس کے ہمراہ آئے تھے اور ان میں سے بعض گروہ امام علیہ السلام سے دیر ینہ بغض وعداوت کی وجہ سے یہاں آئے تھے اور یہ حقیقت کسی بھی مؤرخ سے پوشیدہ نہیں ہے۔

۴۔ امام علیہ السلام کی فوج میں مشہور و معروف اور امت اسلامیہ کی محبوب شخصیتوں کا موجود ہونا، وہ عظیم شخصیتیں جنہوں نے پیغمبر اسلام (ص)کے ہمرکاب ہو کر بدر، اُحد ،حنین میں جنگیں کی تھیں اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کی سچائی اور پاکیزگی پر گواہی دی تھی،


ان لوگوں میں چند کا نام قابل ذکر ہے مثلاً عمار یاسر، ابوایوب انصاری،قیس بن سعد، حُجر بن عدی اور عبد اللہ بن بدیل ، جنہوں نے معاویہ کی فوج کے بہت سے خود غرض لیکن سادہ لوح سپاہیوں کے دل میں شک و تردید پیدا کر دی تھی، یہ علتیں اور دوسری چیزیں سبب بنیں کہ معاویہ اور اس کی دوسری عقل عمرو عاص نے اپنی شکست کو قطعی سمجھااور اس سے بچنے کے لئے سیاسی حربے چلنے لگا تاکہ امام علیہ السلام کی فوج کی کامیابی کو کسی بھی صورت سے روک سکے، اور وہ سیاسی حربہ، علی علیہ السلام کی فوج کے سرداروں سے خط و کتابت اور ان لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنے اور امام کی فوج میں تفرقہ و اختلاف کرنے کا تھا۔

۱۔ جنگ صفین میں امام علیہ السلام کی فوج میںسب سے وفادار ربیعہ والے تھے اگرچہ قبیلۂ مُضَر والے اپنی جگہ سے ہٹ گئے لیکن قبیلہ ربیعہ والے پہاڑ کی طرح اپنی جگہ پر موجو د رہے. جب امام علیہ السلام کی نظر ان کے پرچموں پر پڑی تو آپ نے پوچھا کہ یہ پرچم کس کے ہیں لوگوں نے کہا یہ پرچم ربیعہ کے ہیں اس وقت آپ نے فرمایا:''هِیَ رایات عَصَمَ اللّٰه أهلهاو صبَّر هم و ثبّتَ اَقْدامهم'' (۱)

''یعنی یہ سب خدا کے پرچم ہیں خدا ان کے مالکوں کی حفاظت کرے اور انہیں صبر عطا کرے اور یہ ثا بت قدم رہیں''

امام علیہ السلام کو خبر ملی کہ اسی قبیلے کا ایک سردار خالد بن معمّر، معاویہ سے قریب ہوگیا ہے اور اس کے اور معاویہ کے درمیان ایک خط یا متعد د خطوط لکھے جاچکے ہیں تو امام علیہ السلام نے فوراً اس کواور قبیلہ ربیعہ کے بزرگوں کو طلب کیا اور ان سے فرمایا:اے قبیلہ ربیعہ کے لوگو ،تم لوگ میرے چاہنے والے اور میری آواز پر لبیک کہنے والے ہو، مجھے خبر ملی ہے کہ تمھارے سرداروں میں سے کسی ایک نے معاویہ کے ساتھ خط و کتابت کی ہے اور پھر خالد کی طرف نگاہ کی اور کہا : اگر تمھارے متعلق جو باتیں ہم تک پہونچی ہیں اگر وہ سچی ہیں تو میں تمھیں بخش دوں گا اور امان دوں گا لیکن شرط یہ ہے کہ عراق اور حجاز یا ہر وہ جگہ جہاںپر معاویہ کی حکومت و قدرت نہیں ہے وہاں جا کر زندگی بسر کرو اور اگر وہ چیزیں جو تمھارے متعلق ہم تک پہونچی ہیں جھوٹی ہیں تو ہمارے دھڑکتے ہوئے دل کواپنی مطمٔن قسم کے ذریعے آرام پہونچاؤ،اس نے اسی وقت سب

______________________

(۱)تاریخ طبری ج ۳جزء ۶ ص۱۹،۸۱۔ شرح نہج البلاغہ ابن الحدیدج۵ص۲۲۶،۲۲۵۔


کے سامنے قسم کھائی کہ ہرگز ایسا نہیں ہے اس کے دوستوں نے کہا اگر یہ بات سچی ہوگی تو اسے قتل کردیں گے اور انہیں میں سے ایک شخص زید بن حفصہ نے امام علیہ السلام سے کہا خالد کی قسم پر آپ کوئی چیز بطور ضمانت رکھئے تاکہ آپکے ساتھ خیانت نہ کرے(۱)

تمام قرأین سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امام علیہ السلام کی فوج میں وہ معاویہ کی طرف سے خصوصی نمائندہ تھا اور کامیابی کے وقت یہاں تک کہ اس موقع پر کہ عنقریب تھا کہ لوگ معاویہ تک پہونچیں اور اس کے خیمے میں اسے گرفتار کرلیں ،خالد نے فوج کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا اور پھر اپنے کام کی توجیہ پیش کرنے لگا اس سلسلے میں چند باتوں کی طرف اشارہ کررہے ہیں ۔

امام علیہ السلام نے میسرہ قبیلہ ربیعہ کے سپرد کیا تھا اور اس کی سرداری عبداللہ ابن عباس کے ہاتھوں میں تھی، امام علیہ السلام کا میسرہ معاویہ کے میمنہ کے مقابلے میں تھا اور اس کی ذمہ داری شام کی مشہور ترین شخصیتیں ذوالکلاع حمیری اورعبیداللہ بن عمر کے ہاتھوں میں تھی قبیلہ حمیر، ذوالکلاع کی سرداری میں اور عبید اللہ نے سواروں اور پیادوں کے ساتھ امام علیہ السلام کے میسرہ پر شدید حملہ کیا لیکن زیادہ مؤثر ثابت نہ ہوا دوسرے حملے میں عبیداللہ بن عمر فوج کے بالکل آگے کھڑا ہوا اور شامیوں سے کہا عراق کے اس گروہ نے عثمان کو قتل کیا ہے اگر ان لوگوں کو شکست دیدیا تو تم نے انتقام لے لیا اور علی کو نابود کردیا ۔ اس حملے میں بھی ربیعہ کے لوگوں نے ثابت قدم رہتے ہوئے اپنا دفاع کیا اور کمزوروناتواں لوگوں کے علاوہ کوئی بھی پیچھے نہ ہٹا۔

امام علیہ السلام کی فوج کے تیز بین لوگوں نے بتا دیاکہ جس وقت خالد نے امام علیہ السلام کی فوج کے کچھ لوگوں کو پیچھے ہوتے دیکھا تو وہ بھی ان کے ساتھ پیچھے ہونے لگا اور چاہا کہ اپنے اس عمل سے امام کی فوج کے ثابت قدم سپاہیوں کو پیچھے ہٹنے کے لئے آمادہ کرے لیکن جب اس نے ان لوگوں کی ثابت قدمی دیکھی تو فوراً ان لوگوں کی طرف واپس چلا گیا اور اپنے فعل کی توجیہ کرنے لگا اور کہا: میرے پیچھے ہٹنے کا مطلب یہ تھا کہ جو لوگ بھاگ رہے تھے ان کو تم لوگوں کی طرف واپس پلٹا دوں۔(۲)

______________________

(۱) تاریخ طبری ج ۳جزء ۶ ص۱۹،۸۱۔ شرح نہج البلاغہ ابن الحدیدج۵ص۲۲۶،۲۲۵۔

(۲)تاریخ طبری ج ۳ جز ۶ ص ۱۹۔ کامل ابن اثیر ج۳ ص ۱۵۶


ابن ابی الحدید لکھتے ہیں :

اسلامی مؤرخین مثلاً کلبی اور واقدیمی کا نظریہ ہے کہ خالد نے جان بوجھ کر دوسرے حملے میں پیچھے ہٹنے کا حکم دیا تھا تاکہ میسرہ میں امام کی فوج شکست کھاجائے کیونکہ معاویہ نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اگر امام کی فوج پر اس نے کامیابی حاصل کرلی تو جب تک خالد زندہ رہے گا خراسان کی گورنری اسے دے دے گا۔(۱)

ابن مزاحم لکھتے ہیں :

معاویہ نے خالد سے وعدہ کیا تھا کہ اگر اس جنگ میں کامیابی ملی تو خراسان کی گورنری اس کے ہاتھ میں ہوگی، خالد معاویہ کے دھوکہ میں آگیا مگراس کی آرزو پوری نہ ہوسکی کیونکہ جب معاویہ نے حکومت کی ذمہ داری سنبھالی تو اسے خراسان کاگورنر تو بنادیا لیکن اس سے پہلے کہ معین شدہ جگہ پر پہونچتا آدھے ہی راستے میں ہلاک ہوگیا۔(۲)

شام کی فوج عبید اللہ ابن عمر کے وجود پر افتخار کرتی تھی اور کہتی تھی کہ پاکیزہ کا بیٹا ہمارے ساتھ ہے اور عراقی محمد بن ابو بکرپرافتخار کرتے تھے اور اسے طیب بن طیب(اچھا اور اچھے کا بیٹا) کہتے تھے۔

جی ہاں، بالآخرشام کی فوج حمیرا اور امام کی فوج ربیعہ کے درمیان زبردست جنگ کی وجہ سے دونوں طرف کے بہت زیادہ افراد مارے گئے اور سب سے کم نقصان یہ تھا کہ امام علیہ السلام کی فوج سے پانچ سو سپاہی جب کہ وہ سر سے پیر تک اسلحوں سے لیس تھے اور ان کی آنکھوں کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا میدان جنگ میں آئے اور تقریباً اتنی ہی تعداد میں معاویہ کی فوج کے سپاہی ان سے مقابلے کے لئے میدان میں آئے پھر دونو ں گروہوں کے درمیان زبردست جنگ ہوئی اور دونوں فوجوں میں سے کوئی ایک بھی اپنی چھاؤنی میں واپس نہیں گیا اور سب کے سب مارئے گئے۔

دونوں فوجوں کے دور ہوتے وقت سروں کے ٹیلوں میں سے ایک سر نیچے گرا جسے''تل الجماجم'' کہتے ہیں، اور اسی جنگ میں ذوالکلاع جو معاویہ کا سب سے بڑا محا فظ تھا اور قبیلۂ حمیر کو معاویہ

_______________________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۵ ص ۲۲۸

(۲) وقعہ صفین ص ۳۰۶


کی جان کی حفاظت کے لئے آمادہ کرتا تھا خندف نامی شخص کے ہاتھوں ماراگیا اور حمیریان کے درمیان عجیب خوف وہراس پیدا ہوگیا۔(۱)

۲۔ عبید اللہ بن عمر نے جنگ کے شدید ترین لمحات میں شیطنت اور تفرقہ ایجاد کرنے کے لئے کسی کو امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا اور ان سے ملاقات کرنے کی درخواست کی امام حسن علیہ السلام نے امام کے حکم سے اس سے ملاقات کی، گفتگو کے دوران عبید اللہ نے امام حسن علیہ السلام سے کہا ، تمھارے باپ نے پہلے بھی اور اس وقت بھی قریش کا خون بہایا ہے کیا تم اس بات کے لئے آمادہ ہو کہ ان کے جانشین بنو، اور تمھیں مسلمانوں کے خلیفہ کے عنوان سے پہچنوائیں؟امام علیہ السلام نے بہت تیز اس کے سینہ پر ہاتھ مارا اور اس وقت علم امامت کے ذریعے عبید اللہ کے ذلت سے مارے جانے کی اُسے خبر دی اور کہا آج یا کل تو مارا جائے گا۔ آگاہ ہوجا کہ شیطان نے تیرے بُرے کام کو تیری نظر میں خوبصورت بنا کر دکھایا ہے، راوی کہتا ہے کہ وہ اسی دن یا دوسرے دن چار ہزار سبز پوش سپاہیوں کے ساتھ میدان میں آیا اور اسی دن قبیلہ ہمدان سے تعلق رکھنے والے ہانی بن خطاب کے ہاتھوں مارا گیا۔(۲)

۳۔معاویہ نے اپنے بھائی عتبہ بن سفیان کوجو فصیح وبلیغ تقریر کرنے والا تھا اپنے پاس بلایا اور کہاکہ اشعث بن قیس کے ساتھ ملاقات کرو، اور اسے صلح اور سازش کے لئے دعوت دو، وہ امام علیہ السلام کی فوج میں آیا اور بلند آواز سے پکارا ، لوگو اشعث کو خبرکردو کہ معاویہ کی فوج کا ایک شخص تم سے ملاقات کرنا چاہتا ہے، اس نے کہاکہ اس کا نام پوچھو اور جب سے خبر دی کہ وہ عتبہ بن سفیان ہے تو کہا وہ جو ان خوش کلام ہے اس سے ملاقات کرنا چاہیے عتبہ نے جب اشعث سے ملاقات کی تو اس سے کہا:اگر معاویہ علی کے علاوہ کسی اور سے ملاقات کرتاتو تم سے کرتاکیونکہ تم عراقیوں اوریمنیوں میں سب سے بزرگ ہو اور عثمان کے داماد اور اس کے زمانے میں حاکم تھے تم اپنے کو علی کی فوج کے دوسرے سپہ سالاروں سے برابری نہ کرو، کیونکہ اشتر وہ ہے جس نے عثمان کو قتل کیا اور عدی حاتم وہ ہے جس نے لوگوں کو قتل عثمان پر ورغلایا اور سعید بن قیس وہی ہے جس کی دیت ،امام علی نے اپنے ذمہ لی ہے اور شریح اور زحربن قیس خواہشات نفس کے علاوہ کوئی دوسری چیز

______________________

(۱) وقعہ صفین ص ۳۰۶-------(۲) وقعہ صفین ص ۲۹۷ ۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۵ ص ۲۳۳ ۔


کی فکر نہیں کرتے تم نے نمک حلالی کرتے ہوئے عراق والوں کا دفاع کیا اور تعصب کی وجہ سے شامیوں سے جنگ کیا ، خدا کی قسم ،کیا تم جانتے ہو کہ ہمارا اور تمھارا کام کہا ں تک پہونچ چکا ہے ، میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ علی کو چھوڑ دو اور معاویہ کی مدد کرو، میں تجھے اس راہ کو اختیار کرنے کی دعوت دے رہا ہوں جس میں میرا اور تمھار ا دونوں کا فائدہ ہے۔

تاریخ کابیان ہے کہ اشعث، خفیہ طور پر معاویہ سے رابطہ رکھے تھا اور موقع کی تلاش میں تھا کہ جیسے بھی ممکن ہو جنگ کی کامیابی کو معاویہ کی طرف موڑ دے، اس نے پہلے تو اپنے جواب میں امام علیہ السلام کی تعریف کی اور عتبہ کی گفتگو کو ایک ایک کرکے رد کیا، لیکن آخر میں جنگ کو ختم کرنے کے لئے اشارة موافقت کر لی اور کہا تم لوگ مجھ سے زیادہ زند گی گزارنے اور باقی رہنے میں محتاج نہیں ہو میں اس سلسلے میں فکر کروں گا اور خدا نے چاہا تو اپنے نظریہ کا اعلان کروں گا۔

جب عتبہ معاویہ کے پاس واپس پہونچا اور اس سے پورا ماجرا بیان کیا تو معاویہ بہت خوش ہواور کہا اس نے اپنی نظر میں صلح کا اعلان کردیاہے۔(۱)

۴۔ معاویہ نے عمر و عاص سے کہا، علی کے بعد سب سے مشہور و معروف شخضیت ابن عباس کی ہے اگر وہ کوئی بات کہے تو علی اس کی مخالفت نہیں کریں گے، ، جتنی جلدی ہو کوئی تدبیرکروکیونکہ یہ جنگ ہم لوگوں کو ختم کردیگی، ہم ہرگز عراق نہیں پہونچ سکتے مگر یہ کہ شام کے لوگ نابود ہوجائیں ۔

عمر و عاص نے کہا: ابن عباس دھوکہ نہیں کھا سکتے اگر اس کو دھوکہ دے دیا تو علی کو بھی دھوکہ دے سکتے ہو، معاویہ کے بے حد اصرار پر عمر و عاص نے ابن عباس کو خط لکھا اور خط کے آخر میں کچھ شعر بھی

لکھا، جب عمروعاص نے اپنا خط اور اپنا کہا ہواشعر معاویہ کو دکھایا تو معاویہ نے کہا''لاٰ أریٰ کتابک علیٰ رقّةِ شعرِک'' یعنی تیراخط تیرے شعر کے پائے کا نہیں ہے!

دھوکہ بازوں کے سردار نے اس خط اور اشعار میں ابن عباس اور ان کے خاندان کی تعریف اور مالک اشتر کی برائی کی تھی اور آخر میں یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر جنگ ختم ہوگئی تو ابن عباس شوریٰ کے ایک ممبر ہوگے جس کے ذریعے سے امیر اور خلیفہ معین ہوگا، جب یہ خط ابن عباس کو ملا تو انہوں نے امام علیہ السلام کو

______________________

( ۱)وقعہ صفین ص۴۰۸ ۔


دکھایا اس وقت امام نے فرمایا۔ خدا وند عالم عاص کے بیٹے کو موت دے، کیسا دھوکہ دینے والا خط ہے جتنی جلدی ہو اس کاجواب لکھو اور اس کے شعر کے جواب کے لئے اپنے بھائی سے شعر لکھواؤ کیونکہ وہ شعر کہنے میں ماہرہے۔

ابن عباس نے خط کے جواب میں لکھا:

میں نے عربوں کے درمیان تجھ جیسا بے حیا نہیں دیکھا اپنے دین کو بہت کم قیمت میں بیچ دیا اور دنیا کو گناہگاروں کی طرح بہت بڑی سمجھا، اور ریاکاری کے ذریعے تقویٰ نمایاںکرتا ہے، اگر تو چاہتا ہے کہ خدا کو راضی کرے ،تو سب سے پہلے مصر کی حکومت کی ہوس اپنے دل سے نکال دے اور اپنے گھر واپس چلاجا، علی اور معاویہ ایک جیسے نہیں ہیں جس طرح سے عراق اور شام کے لوگ برابر نہیں ہیں، میں نے خدا کی مرضی چاہی ہے اور تو نے مصر کی حکومت ، اور پھر ان اشعار کو جو ان کے بھائی فضل نے عمر وعاص کے اشعار کے وزن پر کہے تھے اس خط میں لکھا اور امام علیہ السلام کو خط دکھا یا ۔ امام علیہ السلام نے کہا اگر وہ عقلمند ہوگاتو تمھارے خط کا جواب نہیں دے گا۔

جب عمرو عاص کو خط ملا تو اس نے معاویہ کو دکھایا اور کہا تو نے مجھے خط کی دعوت دی لیکن نہ تجھے کوئی فائدہ ہوا اور نہ مجھے فائدہ ہوا، معاویہ نے کہا: علی اور ابن عباس کا دل ایک ہی جیسا ہے اوردونوں عبدالمطلب کے بیٹے ہیں۔(۱)

۵۔ جب معاویہ نے احساس کیا کہ علی کے سپاہی پہلے سے کچھ زیادہ آمادہ ہوگئے ہیں اور محاصرہ تنگ ہوگیا ہے اورقریب ہے کہ،شکست کھا جائیں تو اس نے خود براہ راست ابن عباس کو خط لکھا اور یا د دلایا کہ یہ جنگ بنی ہاشم اور بنی امیہ کے درمیان بغض وعداوت کی بھڑکتی ہوئی چنگاری ہے اور انہیں اس کام کے انجام سے ڈرایا، اس خط میں اس نے ابن عباس کو لالچ دلائی اور کہا : اگر لوگ تمھارے ہاتھ پر بیعت کریں تو ہم بھی تمھار ی بیعت کرنے کے لئے تیار ہیں۔

جب ابن عباس کو خط ملا تو آپ نے ٹھوس او ر دندان شکن جواب معاویہ کو لکھا ، ایسا جواب کہ معاویہ اپنے

_______________________________

(۱) وقعہ صفین ص۴۱۴۔۴۱۰ (تھوڑے فرق کے ساتھ اور دونوں خطوط کے اشعارکے بغیر)۔ الامامة السیاسةج۱ص۹۹۔۹۸


خط لکھنے پربہت شرمندہ ہوا اور کہا یہ خود میر ے کام کا نتیجہ ہے اب ایک سال تک اُسے خط نہیں لکھوں گا۔(۱)

عمار اور باغی گروہ

یاسر کا گھرانہ اسلام کے عظیم گھرانے میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے آغاز اسلام میں ہی پیغمبر اسلام (ص)کی دعوت پر لبیک کہا اور اس راہ میں زبردست مصائب و آلام برداشت کیایہاں تک کہ یاسر اور ان کی بیوی سمیہ نے خدا کی راہ میں ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے ظلم و ستم سے اپنی جان دیدی۔

ان دونوں کے جوان بیٹے عمار مکہ کے جوانوں کی سفارش اور نئے قوانین سے ظاہری اظہار بیزاری کرنے سے نجات پاگئے خداوند عالم نے عمار کے اس فعل کو اس آیت میںقرار دیا ہے:

( اِلّٰا مَنْ اُکرِ ه و قلبُه مطمئن بالایمان ) (سورۂ نحل آیت ۱۰۶)

مگر وہ شخص کہ جو (کفر کہنے پر) مجبور ہوجائے جب کہ اس کا قلب ایمان سے مطمئن ہے۔

جس وقت عمار کے واقعات اور ان کے کفر ظاہر کرنے کی خبر پیغمبر (ص)کو ملی تو آپ نے فرمایا: ہرگزنہیں بلکہ عمار کا پورا وجود ایمان سے سرشار ہے اور توحید ان کے گوشت و خون میں رچ بس گئی ہے اسی وقت عمار وہاں پہونچ گئے جب کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے آنسوؤں کو صاف کیااور کہا کہ اگر دوبارہ ایسی مشکل پیش آئے تو اظہار برائت کرنا۔(۲) صرف یہی ایک آیت نہیں ہے جو اس بزرگ صحابی کی شان میں نازل ہوئی بلکہ مفسرین نے دواور آیتوں کو لکھا ہے جو ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے(۱) وہ پیغمبر اسلام کے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد آپ کے ہم رکاب رہے اور تمام غزوات اور بعض سریوں میں شرکت کی اور پیغمبر(ص)کے انتقال کے بعد، اگرچہ خلافت ِوقت سے راضی نہ تھے مگر خلافت کی مدد کرنے میں اگر اسلام کا فائدہ ہوتا تو مدد کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے۔پیغمبر اسلام (ص)نے مدینہ آنے کے بعد سب سے پہلے جو کام انجام دیا وہ مسجد کی تعمیر تھی، عمار

_______________________________

(۱)آیتیںاَمّنْ هو ٰقانتٔ آنأ اللیل ساجد اوقائماً یحذرالآخرة (زمر، ۹)ولا تطرد الذین ید عون ربّهم بالغداوة والعشی ۔ اس سلسلے میں تفسیر قرطبی۔کشاف۔درالمنثور۔تفسیررازی کی طرف رجوع کریں۔----(۲)وقعہ صفین ص۲۱۶۔۲۱۴ ۔ الامامة السیاسة ج۱ص۱۰۰


نے مسجد بنانے میں سب سے زیادہ زحمت برداشت کی اکیلے کئی لوگوں کا کام انجام دیتے تھے ، اسلام سے عشق سبب بناکہ لوگ انہیں ان کی طاقت سے زیادہ کام لیں، ایک دن عمار نے ان لوگوں کی پیغمبر سے شکایت کی اور کہا ان لوگوںنے مجھے مار ڈالا ہے، پیغمبر اسلام(ص)نے اپنا تاریخی بیان دیا جو تمام حاضرین کے دل میں اتر گیا، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:''انک لن تموتَ حتیٰ تقتُلک الفئة الباغیةُ النّٰا کِبَةُعنِ الحقّ یکونُ آخِر زادِک من الدّنیٰا شَر بةُلَبن'' (۱)

''تمھیں اس وقت تک موت نہیں آئے گی جب تک تجھے باغی اور حق سے منحرف گروہ قتل نہ کرے دنیا میں تمہارا آخری رزق ایک پیالہ دودھ ہے''۔

یہ بات پیغمبر (ص)کے تما م صحابیوں میں پھیل گئی اور پھر ایک سے دوسروں تک منتقل ہو گئی، اسی دن تمام مسلمانوں کی نظر میں عمار ایک خاص مقام کے حامل ہوگئے پیغمبر اسلام (ص)نے مختلف مواقع پر بھی آپ کی تعریف کی، جنگ صفین میں امام علیہ السلام کی فوج میں عمار کے شامل ہونے کی خبر نے معاویہ کی دھوکہ کھائی ہوئی فوج کے دلوں کو لرزا دیا، اور بعض لوگ اس بات کی تحقیق کرنے لگے۔

______________________

(۱)یہ حدیث جس میں پیغمبر(ص)نے غیب کی خبر دی ہے محدثین اور مؤرخین نے اسے نقل کیا ہے اور سیوطی نے اپنی کتاب خصائص میں اس کے تو اتر کی تصریح کی ہے ،اور مرحوم علامہ امینی نے الغدیر(ج۹ص۲۲،۲۱) میں اس کی سندوں کو ذکر کیا ہے ۔ تاریخ طبری ج ۳ جزء ۶ص۲۱۔ کامل ابن اثیرج ۳، ص۱۵۷ کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔


عمار کی تقریر

جب عمار نے چاہا کہ میدان جنگ میں جائیں تو امام علیہ السلام کے دوستوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اسطرح سے گفتگو شروع کی:اے خدا کے بندو ، ایسی قوم سے جنگ کرنے کے لئے اٹھو ، جو ایسے شخص کے خون کا بدلہ لینا چاہتی ہے جس نے خود اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور خدا کی کتاب کے خلاف حکم دیا اور اسے صالح گروہ ، نہی عن المنکر اور امر با لمعروف کرنے والوں نے قتل کیا ہے لیکن وہ گروہ جس کی دنیا اس کے قتل کی وجہ سے خطرے میں پڑگئی تھی، ان لوگوں نے اعتراض کیا اور کہا کہ کیوں اسے قتل کر دیاتو اس کا جواب دیاگیا کہ وہ اپنے برے کاموں کی وجہ سے مارا گیاہے، ان لوگوں نے کہا عثمان نے کوئی برا کام نہیں کیا ہے جی ہاں! ان لوگوں کی نظر میں عثمان نے براکام انجام نہیں دیا ، تمام دینار ان کے ہاتھ میں تھے وہ سب کھا گئے اور ہضم کرگئے ، وہ عثمان کے خون کا بدلہ لینا نہیں چاہتے بلکہ وہ دنیا کی لذتوں سے آشنا ہیں اور اسے دوست رکھتے ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ اگر ہمارے ہاتھوں گرفتار ہوئے تو دنیا کی وہ لذ ت و آرام و آسایش سے محروم ہوجائیں گے۔

بنی امیہ کا خاندان اسلام قبول کرنے میں آگے نہ تھا کہ وہ رہبری کے لایق ہوتا، انہوں نے لوگوں کو دھوکہ دیا اور ''ہمارا ا مام مظلوم مارا گیا'' کا نعرۂ لگایا تا کہ لوگوںپر ظلم و ستم کے ساتھ حکومت و سلطنت کرے، یہ ایک ایسا بہانہ ہے جو ان لوگوں کی طرف سے ہواہے جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں اور اگر ایسا دھوکہ اور فریب انجام نہ دیتے تو دو آدمی بھی ان کی بیعت نہ کرتے اور ان کی


مددکے لئے نہ اٹھتے۔(۱)

عمار تقریر ختم کرنے کے بعد میدان میں آئے اور ان کے ساتھی بھی انکے پیچھے پیچھے تھے، جب عمر و عاص کے خیمے پر نگاہ پڑی تو بلند آوا ز سے کہا تو نے اپنے دین کو مصر کی حکومت کے بدلے بیچ دیا ،لعنت ہو تجھ پر یہ پہلی مرتبہ تو نے اسلام پر وار نہیں کیاہے، اور جب آپ کی نگاہ عبید اللہ بن عمر کے خیمے پر پڑی تو پکار کر کہا: خدا تجھے نابو د کرے تو نے اپنے دین کو خدا اور اسلام کے دشمن کی دنیا کے بدلے بیچ دیا ہے، اس نے جواب دیا میں شہید مظلوم کے خون کا بدلہ لینا چاہتا ہوں عمار نے کہا تو جھوٹ بول رہا ہے خدا کی قسم میں جانتا ہوں کہ تو ہرگز خدا کی مرضی نہیں چاہتا اگر تو آج مارا نہ گیا تو کل ضرور مارا جائے گا، سوچ لے کہ اگر خدا وند عالم اپنے بند وں کو ان کی نیت کے مطابق جزاء و سزا دے تو تیری نیت کیاہے(۲)

اس وقت جب کہ ان کے چاروں طرف علی علیہ السلام کے دوست جمع تھے، کہا خدا وندا تو جانتا ہے کہ اگر مجھے معلوم ہو کہ تیری مرضی اس میں ہے کہ اس دریا میں کود جاؤ ںتو کود جاؤنگا اگر مجھے معلوم ہو کہ تیر ی مرضی اس میں ہے کہ تلوار کی نوک کو اپنے سینہ پر رکھوں اور اتنا جھکوں کہ پشت کے پار ہو جائے تو میں اس سے بھی دریغ نہیں کرونگا، خدا یا میں جانتا ہو ں اور مجھے آگا ہ بھی کیا ہے کہ آج کے دن وہ کام جس سے تو سب سے زیادہ راضی ہوگا وہ اس گروہ کے ساتھ جہاد کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور اگر مجھے معلوم ہو تا کہ

_______________________________

(۱) کامل ابن اثیرج ۳ ص۱۵۷ ۔ وقعہ صفین ص۳۱۹۔ تاریخ طبری ج ۳ جزء ۶ص۲۱

(۲) وقعہ صفین ص۳۳۶۔ اعیان الشیعہ ج۱ ص۴۹۶ مطبوعہ بیروت لبنان۔


اس عمل کے علاوہ کوئی اور کام ہے تو اس کو ضرور انجام دیتا۔(۱)

_______________________________

( ۱) تاریخ طبری ج ۳ جزء ۶،ص۲۱ ۔ کامل ابن اثیرج ۳ ص۱۵۷ ۔ وقعہ صفین ص۳۲۰۔


امام کی فوج میں عمار کے ہونے کا اثر

عمار کی شخصیت اور اسلام میں ان کی خدمات ایسی چیز نہ تھی جو اہل شام سے پوشیدہ ہوتی۔ ان کے بارے میں پیغمبر اسلام کی حدیث شہرت پاچکی تھی اور جو چیز شام کے لوگوں سے کچھ پوشیدہ تھی وہ اما م علیہ السلام کی فوج میں عمار کا شریک ہونا تھا، جب عمار کی امام علیہ السلام کی فوج میں احتمالاً شرکت کی خبر معاویہ کے فوج میں پھیلی تو جو لوگ معاویہ کی جھوٹی اور مسموم تبلیغ کی وجہ سے اس کی فوج میں داخل ہوئے تھے وہ چھان بین کرنے لگے ، انھی میں سے ایک یمن کی مشہور و معروف شخصیت ذوالکلاع کی تھی جس نے حمیر ی قبیلے کے بہت سے آدمیوں کو معاویہ کے لشکر میں شامل کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی، اب اس کے دل میں حقانیت کا نور چمک گیا وہ چاہتا تھا کہ حقیقت کو پالے، لہٰذا اس نے ارادہ کیا کہ ابونوح کے ساتھ ، جو کہ حمیر قبیلے کا سردار تھااور کوفہ میں رہتا تھا اور اس وقت امام علیہ السلام کی فوج میں شامل تھا اس سے ملاقات کرے، اسی لئے ذوالکلاع نے معاویہ کی فوج میں سب سے آگے کھڑے ہوکر بلند آواز میں کہا :میں ابو نوح حمیری جو کلاع قبیلے کا ہے سے بات کرناچاہتا ہوں ۔

ابونوح یہ آواز سن کر اس کے سامنے آیا اور کہا،تم کون ہوں،اپنا تعارف کراؤ؟

ذوالکلاع : میں ذوالکلاع ہوں میر ی التجا ہے کہ میر ے پاس آؤ۔

ابونوح :میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں جو تنہا تمھارے پاس آؤں ،مگر اپنے گروہ کے ہمراہ جو میرے اختیا ر میں ہے ۔

ذوالکلاع : تم خدا اور اس کے رسول اور ذوالکلاع کی پنا ہ میں ہو، میں چاہتا ہوں کہ تم سے ایک موضوع کے سلسلے میںگفتگو کرو ں،لہٰذا تم اکیلے میرے پاس آؤ،اور میں بھی تنہا تمھار ے پاس آؤنگا اور دونوں صفوں کے درمیان گفتگو کریں ، دونوں اپنی اپنی صف سے نکلے اور صفوں کے درمیان گفتگو کا سلسلہ جاری ہوا۔

ذوالکلاع : میں نے تمھیں اس لئے بلایا ہے کہ میں نے پہلے (عمربن خطاب کے زمانے میں)

عمرو عاص سے ایک حدیث سنی ہے ۔

ابونوح : وہ حدیث کیا ہے؟

ذوالکلاع : عمروعاص نے کہا کہ رسول ِ خدا (ص)نے فرمایا ہے کہ ! اہل عراق اور اہل شام ایک دوسرے کے مقابلے میں جمع ہونگے، حق اور ہدایت کرنے والا ایک طرف ہے اور عمار بھی اسی طرف ہوگا۔


ابونوح : خدا کی قسم عمار ہمارے ساتھ ہیں۔

ذوالکلاع : کیا ہم سے جنگ کا مکمل ارادہ ہے

ابونوح : ہاں کعبہ کے رب کی قسم ! کہ وہ تمھارے ساتھ جنگ کے لئے ہم سے زیادہ مصر ہیں اور خود میرا ارادہ یہ ہے کہ کاش تم سب لوگ ایک آدمی ہوتے اور میں سب کا سر کاٹ دیتا اور سب سے پہلے میں تمھارا سر قلم کرتا جب کہ تو میرا چچا زاد بھائی ہے۔

ذوالکلاع : کیوں ایسی آرزو تمھار ے دل میں ہے جب کہ میں نے اپنی رشتہ داری کو ختم نہیں کیا اورتمہیں اپنی قوم کا سب سے قریبی شخص جانااور میں نہیں چاہتا کہ تمھیں قتل کروں۔

ابونوح : خدا نے اسلام کی وجہ سے ایک رشتہ ختم کردیا ہے اور جو افراد دور تھے ان کو قریبی عزیز بنا دیا تم نے اور تمھارے دوستوں نے ہمارے سا تھ معنوی رشتہ کو ختم کر دیا ہے ہم حق پر ہیںاور تم باطل پر ہو سردارِکفر اور اور اس کے لشکر کی مدد کر رہے ہو۔

ذوالکلاع : کیا تم شام کی فوج کے درمیان میرے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہو؟ میں تمھیں امان دے رہا ہوں کہ اس راہ میں قتل نہیں کئے جاؤ گے او ر نہ تجھ سے کوئی چیز لی جائے گی۔ اور نہ بیعت کے لئے مجبور ہوگے بلکہ مقصد یہ ہے کہ عمروعاص کو آگاہ کردو کہ عمار، امام علی علیہ السلام کے لشکر میں موجود ہیں۔شاید خداوند عالم دونوں لشکروں کے درمیان صلح و آشتی کا ماحول پیدا کردے۔

ابونوح :میں تمھارے اور تمھارے دوستوں کے مکر و فریب سے خوف محسوس کر رہا ہوں۔

ذواکلاع :میں اپنی بات کا ضامن ہوں۔

ابونوح نے آسمان کی طرف رخ کرکے کہا ، خدا یا تو بہتر جانتا ہے کہ ذوالکلاع نے مجھے امان دیا ہے اور جو کچھ میرے دل میں ہے تو اس سے باخبر ہے ، میر ی حفا ظت فرما، اتنا کہنے کے بعد ذوالکلاع کے ساتھ معاویہ کی فوج کی طرف گئے اور جب عمروعاص اور معاویہ کے خیمے کے پاس پہونچے تو دیکھا کہ دونوں ،لوگوں کو جنگ کے لئے تیار کر رہے ہیں۔

ذوالکلاع نے عمرو عاص کو متوجہ کر تے ہوئے کہا کیا تو ایک سچے اور عقلمند انسان سے عمار یاسر کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتا ہے؟


عمروعاص : یہ کون آدمی ہے؟

ذوالکلاع نے ابونوح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ میرا چچا زادبھائی اورکوفہ کا رہنے والا ہے، عمرو عاص نے ابونوح سے کہا میں تمھارے چہرے پر ابوتراب کی نشانیاں دیکھ رہا ہوں۔

ابونوح : میرے چہرے پرمحمد (ص)اور ان کے دوستوں کی نشانیاں ہیں اور تیرے چہرے پر ابوجہل و فرعون کی نشانیاں ہیں۔ اس وقت معاویہ کی فوج کا ایک سردار ابوالاعور اٹھا اور اپنی تلوار کھینچ کر کہاکہ اس جھوٹے کے چہرے پر ابوتراب کی نشانیاں ہیں میں اس کو قتل کروں گا، اس میںکیسے اتنی جرأت پیدا ہو گئی کہ ہمارے درمیان ہوتے ہوئے بھی ہمیں گالی دے رہا ہے۔

ذوالکلاع نے کہا: خدا کی قسم ، اگر تم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو میں تجھے تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا۔ یہ میرا چچازاد بھائی ہے اور میری امان میں وہ اس صف میں داخل ہوا ہے، میں اسے اس لئے لایا ہوںکہ تم لوگ عمار کے بارے میں سوال کرو کہ جس کے متعلق مستقل جنگ و جدال کررہے ہو۔

عمر وعاص : میں تمھیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ سچ بولنا کیاعمار یا سر تمھاری فوج میں ہیں۔

ابونوح : میں جواب نہیں دوں گا مگر یہ کہ اس سوال کی وجہ سے آگاہ ہو جاؤں ، جب کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بہت دوست ہمارے ساتھ ہیںاور سب کے سب تمھارے ساتھ جنگ کرنے کے لئے آمادہ ہیں۔

عمرو عاص :میں نے پیغمبر (ص)سے سنا ہے کہ عمار کو ظالم وستمگر گروہ قتل کرے گا اور عمار کے لئے سزاوار نہیں ہے کہ حق سے دور ہو ں جہنم کی آگ ان پرحرام ہے۔

ابونوح :اس خدا کی قسم جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں و اللہ وہ ہمارے ساتھ اور وہ تم لوگوں سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہیں۔

عمر وعاص : وہ ہم سے جنگ کرنے کے لئے آمادہ ہیں؟!


ابونوح : ہاں ، قسم اس خدا کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں انہوں نے جنگ جمل میں مجھ سے کہا کہ ہم اصحاب جمل پرکامیاب ہوں گے اور کل تجھ سے کہا کہ اگر شامی ہمارے اوپر حملہ کریں گے اور ہمیں سرزمین''ہجر'' پر دوڑائیں گے تب بھی ہم جنگ سے باز نہیں آئیں گے۔ کیو نکہ ہم جا نتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں اور وہ باطل پر ہیں اور ہمارے قتل ہونے والے جنت اور ان کی فوج سے قتل ہونے والے جہنم میں ہوں گے۔

عمروعاص: کیا تم ایسا کر سکتے ہوکہ میں عمار سے ملاقات کرسکوں؟

ابونوح : میں نہیں جانتا ، لیکن میں کوشش کروں گا کہ ملاقات ہوجائے اس کے بعدان لوگوںسے جدا ہوئے اور امام علیہ السلام کے لشکر میں جہاں عمار یاسر تھے وہاں پہونچے اور اپنی پوری داستان شروع سے آخر تک انہیں سنائی اور کہا کہ بارہ آدمیوں پر مشتمل ایک گروہ جس میں عمروعاص بھی ہے آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہے۔

عمار، ملاقات کرنے کے لئے تیار ہوگئے، اور پھر ایک گروہ جس میں سب کے سب سوار تھے امام علیہ السلام کی فوج سے روانہ ہوئے اور عوف بن بشر عمار سے رخصت ہوئے اور خود کو فوجِ شام کے پاس پہونچایا اور بلند آواز سے کہاعمر وعاص کہاںہے؟ لوگوں نے کہا یہاں ہے، عوف نے عمار کی جگہ بتائی، عمرو عاص نے درخواست کی کہ عمار شام کی طرف روانہ ہوں، عوف نے کہا کہ تمھارے مکروفریب سے وہ مطمئن نہیں ہیں، پھر یہ طے پایا کہ دونوں آدمی فوجوں کے تھوڑے فاصلے پر گفتگوکریں،اور دونوں کی فوج حمایت کرے، دونوں گروہ معین جگہ کے لئے روانہ ہوئے لیکن احتیاط کو مد نظر رکھا اور وہاں اترتے وقت اپنے ہاتھوں کو تلواروں پررکھا، عمرو نے عمار کو دیکھتے ہی بلند آواز سے کلمہ شہادتین سے گفتگو شروع کیا تاکہ اسلام سے اپنی الفت و محبت کا اظہار کرے لیکن عمار اس کے دھوکہ میں نہیں آئے اور سخت لہجہ میں کہا، خاموش ہوجاتونے پیغمبر کی زندگی اور ان کے مرنے کے بعد بھی اسے (اسلام کو)چھوڑدیا اور اس وقت نعرہ بلند کررہاہے؟ عمر و عاص نے بے حیا ئی سے کہا، عمار ہم ان باتوں کے لئے نہیں آئے ہیں میں نے اس فوج میں تمھیں سب سے زیادہ مخلص پایا ہے اور میں نے سوچا کہ تم سے معلوم کروں کہ ہم سے جنگ کیوںکررہے ہو جب کہ خدا، کتاب اور قبلہ دونوں کا ایک ہی ہے، عمار نے مختصر گفتگو کے بعد کہا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہمیں خبر دی ہے کہ عہد و پیمان(جمل) توڑنے اور حق سے منحرف ہونے والوں سے جنگ کروں گا اور میں نے عہدو پیمان توڑ نے والے سے جنگ کی اور تم وہی حق سے دور ہونے والے ہو۔


لیکن میں نہیں جانتا دین سے خارج ہونے(نہروان) والوں کو درک کر سکوں گایا نہیں پھر عمر و کی طرف رخ کرکے کہا، اے عقیم !تو جانتا ہے کہ پیغمبر نے علی کے بارے میں کہا ہے :''مَنْ کُنْتُ مولاَ ه فَعِلیّ مولاَ ه اللّٰهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاهُ وعٰادِ مَن عَادَاهُ'' (جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کے یہ علی مولا ہیں پرودگار ان کے دوست کو دوست اور ان کے دشمن کو دشمن رکھ) دونوں کی گفتگو عثمان کے قتل کی گفتگو کے بعد ختم ہوگئی اور دونوںایک دوسرے سے جدا ہو کر اپنے اپنے قیام کی جگہ واپس آگئے۔(ا)

اس ملاقات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جو چیز عمر وعاص نہیں چاہتا تھا وہ عمار کا امام علیہ السلام کی فوج میںشریک ہوناتھا ۔ کیونکہ وہ علی علیہ السلام کی فوج کے سرداروں کو بہت اچھی طرح پہچانتا تھا،لہٰذا عمار کی منطقی و عقلی باتوں کے مقابلے میں جنگ و جدال و اختلاف کی باتیں کرنے لگا اور عثمان کے قتل کی باتیںکرنے لگا تاکہ ان سے اقرار کرالے کہ خلیفہ کے قتل میں شامل تھے، اور اس طرح سے بے خبر شامیوں کو حملہ و شورش کے لئے آمادہ کرے، البتہ معاویہ او ر عمر وعاص کے لئے بہتر ہوا کہ ذوالکلاع عمار سے پہلے قتل ہوگیا ،کیونکہ اگر وہ عمار یاسر کی شہادت کے بعد زندہ ہوتا تو عمرو عاص اپنی بے ہودہ گفتگو کی بنیاد پر اسے دھوکہ نہیں دے سکتا تھا اور خود وہ شام کی فوج کے درمیان اور معاویہ و عمرو عاص کے لئے بہت بڑی مشکل بن جاتا۔ لہٰذا ذوالکلاع کے قتل ہونے اور عما ر یاسر کی شہادت کے بعد عمرو عاص نے معاویہ سے کہا میں نہیں جانتا کہ دونوں میں سے کس کے قتل پر خوشی مناؤں ،ذوالکلاع کے قتل پر یاعمار یاسر کی شہادت پر؟ خدا کی قسم اگر ذوالکلاع، عمار یاسر کے قتل کے بعد زندہ ہوتا تو تمام شامیوں کو علی علیہ السلام کی فوج میں داخل کردیتا۔(۲)

______________________

( ۱) دقعہ صفین ص۳۳۶،۳۳۲۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ،ج۸ص۲۲۔۱۶۔

(۲) کامل ابن ثیرج۳ص۱۵۷۔


جنگ صفین میں امام علیہ السلام کی بہادری

امام علیہ السلام پوری فوج کے سردارتھے،آپ ، معاویہ اور عمر وعاص جیسے سرداروں کی طرح نہ تھے

کہ سب سے امن کی جگہ ، اور فوج کے بڑے بڑے طاقتوروں کی حفاظت میں رہتے اور خطرے کے وقت بھاگ جاتے ، بلکہ آپ نے اپنی سرداری کو فوج کے مختلف علاقوں میںگھوم کر نبھایا اور مشکل سے مشکل لمحوں میں بھی اپنے سپاہیوں سے آگے آگے جنگ اور زبردست حملوں میں کامیابی آپ کے مبارک اور طاقتور ہاتھوں سے ہوتی تھی۔اب ہم امام علیہ السلام کی بہادری کے چند نمونے یہاں ذکر رہے ہیں:ان واقعات کی تفصیلات ابن مزاحم کی کتاب وقعہ صفین اور تاریخ طبری میں موجود ہے دلچسپی رکھنے والے قارئین ان کتابوں کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔

امام علیہ السلام تیروں کی بارش میں

امام علیہ السلام کی فوج کین میمنہ کا نظام عبد اللہ بن بدیل کے مارے جانے کی وجہ سے درہم برہم ہو گیا، معاویہ نے حبیب بن مسلمہ کو بچی ہوئی فوج کی سر کوبی کے لئے میمنہ پر معین کردیا ادھر اما م علیہ السلام کے میمنہ کی فوج کی سرداری سہیل بن حنیف کو ملی لیکن یہ نئی سرداری بھی بے نتیجہ ثابت ہوئی میمنہ کے حیران و پریشان فوجی قلب لشکر سے ملحق ہوگئے جس کی رہبری خود امام علیہ السلام کررہے تھے، اس مقام پر تاریخ نے قبیلۂ ربیعہ کی تعریف اور قبیلۂ مضر کے بھاگنے اور ان کے خوف وہراس کے متعلق تذکرہ کیا ہے، امام علیہ السلام نے ایسے حالات میں قدم آگے بڑھایا اور خود میدان جنگ میں آئے۔

جنگ صفین کے خبر نگار زید بن وہب کا کہنا ہے کہ میں نے خود امام علیہ السلام کو تیروں کی بارش میں دیکھا کہ دشمن کے تیر آپ کی گردن اور شانے سے گزر رہے تھے، امام علیہ السلام کے بیٹوں کو خوف محسوس ہوا کہ امام علیہ السلام دشمن کے شدید باراں میں زخمی نہ ہوجائیں لہٰذا امام علیہ السلام کی مرضی کے بر خلاف سپر کے طور پر ان کے اطراف کھڑے ہوگئے لیکن امام علیہ السلام ان لوگوں کی خواہش کے بر خلاف آگے بڑھتے ہی رہے اور دشمن کو پچھاڑتے رہے اچانک امام کے بالکل سامنے آپ کے غلام کیسان اور ابوسفیان کا غلام احمر لڑتے لڑتے آگئے اور بالآخر کیسان قتل ہوگئے۔ ابو سفیان کا غلام اپنی کامیابی پر غرور کرتے ہوئے برہنہ تلوار کے ساتھ امام کی طرف آیا لیکن امام علیہ السلام نے پہلے ہی حملے


میں اس کی زرہ کے دستہ پر ہاتھ ڈالا اور اسے اپنی طرف کھینچا اور پھر اٹھایا اور پوری طاقت سے اُسے زمین پر اسطرح پٹکا کہ اسکا شانہ اور بازوٹوٹ گیااور پھر اسے چھوڑ دیا اس وقت امام حسین علیہ السلام اور محمد حنیفہ نے اپنی تلوار سے اس کی زندگی کا خاتمہ کردیا اور امام کے پاس واپس گئے ، امام نے اپنے بیٹے امام حسن علیہ السلام سے کہا، اپنے بھائیوں کی طرح اس کے قتل میں کیوں شریک نہ ہوئے۔امام نے جواب دیا''کَفیانی یٰا امیر المومنین'' یعنی وہ دونوں بھائی کافی تھے،

زید بن وہب کہتے ہیں ، امام علیہ السلام جتنا شام کے لشکر سے قریب ہوتے تھے اپنی رفتار کو بڑھاتے تھے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے اس خوف سے کہ کہیں معاویہ کی فوج امام علیہ السلام کا محاصرہ نہ کر لے اور آپ کی زندگی خطرے میں نہ پڑ جائے ، حضرت سے کہا تھوڑا سا ٹھہر جائیں تو آپ کے وفادار ، ثابت قدم قبیلہ ربیعہ کے ساتھی آپ تک پہونچ جائیں۔ امام علیہ السلام نے اپنے بیٹے کے جواب میں فرمایا:''ان لا بیک یوماً لَنْ یَعْدوه ولاٰ یُبطِیُٔ بَهِ عنه السّعُ ولاٰ یُعجلُ به اِالیه المش اَنّ اباکَ واللّٰهِ لاٰ یُبالِی وَقَعَ عَلیَ الموتِ اَوْوُقِعَ الموتُ علیه'' (۱)

''تمھارے باپ کی موت کے لئے ایک دن معین ہے جو آگے نہیں بڑھے گا،توقف سے نہ تو پیچھے ہٹے گا ، تمھارے باپ کو یہ خوف نہیں ہے کہ وہ موت کا استقبال کریں یا موت خود ان کا استقبال کرے''۔

ابو اسحاق کہتے ہیں:اما م علیہ السلام جنگ صفین کے دوران اپنی فوج کے سردار سعید بن قیس کے پاس سے گزرے جب کہ امام علیہ السلام کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا نیزہ تھا، اس نے امام علیہ السلام سے کہا کہ آپ کو ڈر نہیں لگتا کہ دشمن سے اتنا قریب ہونے کی وجہ سے اچانک ان کے ہاتھوں قتل ہوجائیں ؟ امام علیہ السلام نے اس کے جواب فرمایا،''انّه لیس من احدٍ الاّٰ عَلَیْهِ مَن اللّٰهِ حَفِظَة یحفظونِه مِنْ ان یَتَرَدّیٰ فی قَلیِبٍ أویَخِرَّ علیه حائط اَوْ تصیبه آفة، فاذا جَأ الْقَدر خَلوْ بینَه و بَینَه'' (۲)

''کوئی شخص نہیں ہے مگر یہ کہ خدا کی طرف سے اس پر محافظ ہے کہ اگر وہ کنویںمیں گر جائے یا دیوار کے نیچے دب جائے یا اس پر آفت آجائے تو وہ اس کی حفاظت کرے گا اور جب قدرت کا لکھا ہوا وقت

پہونچ جائے گا تو وہ خود اپنی سر نوشت کو پہونچ جائے گا''۔

______________________

(۱) وقعہ صفین ص ۲۵۰،۲۴۸۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۵ ص ۲۰۰،۱۹۸، تاریخ طبری ج ۳ جز ۶ ص۱۱،۰ ۱ ۔ کامل ابن اثیر ج۳ ص ۱۵۲،۱۵۱۔------(۲) وقعہ صفین ص ۲۵۰۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۵ ص ۱۹۹۔


معاویہ کے غلام حریث کا قتل

شام کی فوج میں سب سے بڑا بہادر معاویہ کا غلام حریث تھا ، وہ کبھی کبھی معاویہ کا کپڑا پہن کر جنگ کرتا تھا اور جو لوگ اِ سے نہیں پہچانتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ معاویہ جنگ کررہا ہے۔

ایک دن معاویہ نے اسے بلایا اور کہا علی سے جنگ نہ کرو اور اپنے نیزے سے جس کو چاہو مارو، وہ عمرو عاص کے پا س گیا اور اس سے معاویہ کی بات بتائی، عمروعاص (چاہے اس کی جو بھی نیت رہی ہو) نے معاویہ کی بات کو غلط بتایا اور کہا اگر تو قرشی ہوتا تو معاویہ کی خواہش و آرزو یہی ہوتی کہ تو علی کو قتل کردے کیونکہ وہ نہیں چا ہتا کہ یہ افتخار کسی غیر قرشی کو نصیب ہو لہٰذا اگر تجھے موقع ملے تو علی پر بھی حملہ کر،اتفاقاً امام علیہ السلام اسی دن اپنے سوار لشکر کے سامنے میدان میں آئے ، حریث نے عمر و عاص کی گفتگو پر عمل کرتے ہوئے امام علیہ السلام کو جنگ کی دعوت دی، امام علیہ السلام رجز پڑھنے کے بعد آگے بڑھے اور جنگ شروع کی اسی وقت ایک ضربت اس پر لگائی اور اسے دو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا،جب معاویہ کے پاس خبر پہونچی تو وہ بہت زیادہ متاثر ہوا اور عمرو عاص کی مذمت میں کہ اسے دھوکہ دیا ہے بہت سے شعر کہے جس کے دوشعر یہ ہیں :

حریث الم تعلم وجهلک ضائر

بان علیاً للفوارس قاهر

وان علیاً لم یبارزه فارس

من الناس الا اقصدته الاّٰ ظافِرُ

حریث(اے میرے شکست کھائے ہوئے بہادر) کیا تو نہیں جانتا تھا کہ علی تمام بہادروں سے زیادہ بہادر اور کامیاب ہیں علی سے کوئی بھی بہادر جنگ کے لئے نہیں اٹھا مگر یہ کہ ان کے حملے غلط نہ ہوئے اور اسے ختم کردیا،حریث کے قتل ہونے کی وجہ سے معاویہ کی فوج میں خوف پھیل گیا ایک دوسرا بہادر بنام عمر و بن الحصین میدان جنگ میں آیا تاکہ امام علیہ السلام سے اسکا بدلہ لے، لیکن ابھی حضرت کے سامنے بھی نہ آیا تھا کہ امام علیہ السلام کی فوج کے ایک سردار بنام سعید بن قیس کے ہاتھوں مارا گیا۔(۱)

_______________________________

(۱) وقعہ صفین ص ۲۷۳،۲۷۲۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۵ ص ۲۱۶،۲۱۵۔ الاخبار الطول ص ۱۷۶۔


امام علیہ السلام نے معاویہ کو جنگ کی دعوت دی

ایک دن امام علیہ السلام میدان میں آئے اور دونوں صفوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور چاہا کہ آخری مرتبہ معاویہ پر حجت تمام کریں۔

امام علیہ السلام:معاویہ.معاویہ.معاویہ.!

معاویہ نے اپنے مخصوص محافظوں سے کہا جاؤ اور مجھے ان کے مقصد سے آگاہ کرو

محافظ:اے ابو طالب کے بیٹے کیا کہہ رہے ہیں؟

امام علیہ السلام: میں چاہتا ہوں کہ اس سے بات کروں،

محافظ:محافظوں نے معاویہ سے کہا علی تم سے بات کرنا چاہتے ہیں، اس وقت معاویہ، عمروعاص کے ساتھ میدان میں آیا اور امام کے سامنے کھڑا ہوگیا،امام علیہ السلام نے عمر وعاص کو نظر انداز کرتے ہوئے معاویہ کی طرف رخ کرکے کہا تجھ پرلعنت ہو کیوں ہمارے درمیان لوگ ایک دوسرے کو قتل کریں؟ اس سے بہتر ہے کہ تو میدان میں آ،تاکہ ایک دوسرے سے جنگ کریں اور ہم میں سے جوبھی کامیاب ہو، وہ لوگوں کے امور کی ذمہ داری سنبھالے۔

معاویہ: عمر وعاص اس بارے میں تیرا کیا نظریہ ہے؟

عمروعاص: علی نے انصاف کے بات کہی ہے اگر تو نے منھ پھیر لیا تو تیرے خاندان کے دامن پر ایسا داغ لگے گاکہ جب تک عر ب اس دنیا میں زندہ رہیں گے اس وقت تک نہیں دھلاجاسکے گا۔

معاویہ: عمرو میرے جیسا ہرگز تیرے دھوکہ میں نہیں آئے گا کیونکہ کوئی بھی بہادر و شجاع علی سے جنگ کرنے نہ اٹھا مگر یہ کہ زمین اس کے خون سے سیراب ہوگئی یہ جملہ کہنے کے بعد دونوں اپنی فوج کی طرف واپس چلے گئے،

امام علیہ السلام بھی مسکرائے اور اپنی فوج کی طرف واپس آگئے،معاویہ نے عمرو کی طرف رخ کرکے کہا، تو کتنا نادان اور بھولا ہے اور پھر کہا کہ مجھے گمان ہے کہ تیری یہ درخواست واقعی نہ تھی بلکہ تو مذاق


کر رہا تھا(۱)

شہید کے بیٹے کی بہادری

ہاشم مِر قال، امام علیہ السلام کی فوج کے بہادر اور طاقتور سردار تھے اور اسلام کی عظیم جنگوں میں ان کی روشن اور عمدہ کارکردگی کسی سے پوشیدہ نہیں تھی، ممکن تھا کہ ان کی شہادت کی وجہ سے امام علیہ السلام کے لشکر میں بے ادبی پیدا ہوجائے، لیکن ان کے بیٹے کے شعلہ ور خطبے نے حالات کو تبدیل کردیا اور ا س کی راہ پر چلنے والوں نے اسے اور بھی مصمم بنا دیا، اس نے اپنے باپ کے پرچم کو ہاتھ میں لیا(۲) اور راہ حق و حقیقت کے جانبازوں کی طرف رخ کرکے کہا:''ہاشم خدا کے بندوں میں سے ایک بندہ تھا جس کے لئے ایک دن معین تھااور اس کے کارنامے الہی دفتر میں محفوظ ہیں، اس کی موت آگئی اور وہ خدا کہ جس کی مخالفت نہیں کرسکتے اس نے اسے اپنی طرف بلالیااور اس نے بھی موت کا جام پی لیا اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس چچازاد بھائی کی راہ میںجہاد کیا جو آپ پر سب سے پہلے ایمان لایا اور خدا کے قوانین لوگوں سے زیادہ خبر رکھنے والا، اور خدا کے دشمنوں کا سخت مخالف ہے ، وہ دشمنان خدا جنہوںنے خدا کے حرام کو حلال بناتے ہیں اور لوگوں کے درمیان ظلم و ستم کے ساتھ حکومت کرتے ہیں او ر شیطان ان لوگوں پر کامیاب ہوگیا اور ان کے برے کاموں کو انکی نظر میں خوبصورت بنا کر دکھایا ہے۔

تم پر ان لوگوں سے جہاد کرنا واجب ہے جنہوں نے پیغمبر کی سنت کی مخالفت کی ہے اورحدودالہی(سزاؤں) کو جاری نہیں کیا اور خدا کے دوستوں کی مخالفت کے لئے اٹھ گئے ہیں، اس دنیا میں اپنی پاکیزہ جانوں کو خدا کی راہ میں قربان کرو تاکہ آخرت میں بلند ترین مقام پر فائز ہو( اس کے بعد کہا)''فَلوْلم یکن ثواب ولا عقاب ولا جنّة ولاٰ نار لکان القتال مع عل أفضل مِنَ الْقتَال مَعَ معاویةَ بن آکِلَةِ الا کباٰدِ وَکیف وأنتم ترجُونَ مٰا ترجُونَ' (۳) اگر بالفرض، ثواب و عذاب نہ ہو،

______________________

(۱) وقعہ صفین ص ۲۷۵،۲۷۴۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۵ ص ۲۱۷،۲۱۷۔ الاخبار الطول ص ۱۷۷،۱۷۶، تاریخ طبری ج۳ جزء ۶ ص ۲۳ ۔ کامل ابن اثیرج ۳ص۱۵۸ (تھوڑے فرق کے ساتھ)---- (۲) الاخبار الطول ص ۱۷۴۔مروج الذہب ج۲ص۳۹۳۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۸ ص ۲۹۔

(۳) وقعہ صفین ص ۳۵۶۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۸ص۲۹۔


جنت و جہنم نہ ہو، تو کیا علی کے رکاب میں رہ کر معاویہ جگر خوار کے بیٹے کے ساتھ جنگ کرنا بہتر نہیں ہے اور کیوں ایسا نہ ہو کیونکہ تم لوگ امید وار ہو اس چیز کے جس کی امید رکھتے ہو۔

ابھی شہید کے بیٹے کی شعلہ ور گفتگو ختم نہ ہوئی تھی کہ ابو طفیل صحابی جو امام علیہ السلام کے مخلص شیعوں میں سے تھا ہاشم کے متعلق اشعار کہے جس کا صرف پہلا شعر یہاں نقل کررہے ہیں:

یَا هاشمَ الخیرِ جزیتَ الجنّة

قَاتلْتَ فی اللّٰه عدوَّ السنّة(۱)

(خدا کے بہترین بندے ہاشم تیری جزا جنت ہے اور تم نے اللہ کی راہ میں سنت الہی کے دشمنوں سے جہاد کیا۔رضوی)

لومڑی، شیر کے پنجے میں

جنگ کی شدت نے معاویہ کی فوج کے لئے زمین تنگ کر دی تھی اور جنگ چھیڑنے والوں نے لوگوں کی زبان کو بند کرنے کے لئے مجبور ہوئے کہ خود بھی میدان میں جائیں ، عمرو عاص کا ایک دشمن حارث بن نضرَ تھا اگر چہ دونوں ایک ہی مزاج کے تھے لیکن ایک دوسرے کے مخالف تھے حارث نے اپنے شعر میں عمر وپر اعتراض کیا کہ وہ کیوں خود علی کے ساتھ جنگ میں شرکت نہیں کرتا فقط دوسروں کو میدان میں روانہ کرتا ہے، اس کے اشعار شام کی فوج کے درمیان منتشر ہو گئے عمر و مجبور ہوا کہ ایک ہی بار صحیح میدان جنگ میں امام علیہ السلام کے روبروہوا، لیکن میدان سیاست کی لومڑی نے میدان جنگ میں بھی مکر وفریب سے کام لیا جب امام علیہ السلام کے مقابلے میں آیا تو حضرت نے اسے مہلت نہیں دی اور نیزے کے زور سے اسے زمین پر گرادیا عمر و نے جو امام کی جواں مردی سے آگاہ تھا فوراًبرہنہ ہوکر اپنی جان بچائی امام نے اپنی آنکھوں کو بند کرلیا اور اس کی طرف سے منھ پھیر لیا۔(۲)

_______________________________

(۱) وقعہ صفین ص ۳۵۹۔

(۲) وقعہ صفین ص۴۲۳۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۶ ص۳۱۳۔ اعیان الشیعہ ج۱ص۵۰۱ ۔


عمروعاص اور مالک اشتر آمنے سامنے

میدان جنگ میں مالک اشتر کی بہادری نے معاویہ کی آنکھوں میںنیند حرام کردی تھی، لہٰذامروان بن حکم کو حکم دیا کہ کچھ لوگوں کی مدد سے مالک اشتر کو قتل کردے مگر مروان نے اس ذمہ داری کو قبول نہیں کیا اور

کہا: تمھارا سب سے قریبی ساتھی عمروعاص ہے کہ جس سے تو نے مصر کی حکومت کا وعدہ کیا ہے بہتر ہوتا کہ اس ذمہ داری کو اس کے کاندھوں پر ڈالتا، وہ تمھارا رازدار ہے نہ کہ میں، اس پر تونے اپنا لطف وکرم کیا ہے اور مجھے محروموں کے خیمے میں جگہ دی ہے، معاویہ نے مجبور ہو کر عمر و عاص کو یہ ذمہ داری سونپی کہ کچھ لوگوں

کے ساتھ مالک اشتر سے جنگ کرے، کیونکہ ان کی بے مثال بہادری اور جنگی تدبیروں نے شامیوں کی فوج کی صفوں کو درہم برہم کردیا تھا،عمروعاص جو مروان کی باتوں سے باخبر تھا مجبوراً ذمہ داری کو قبول کیا لیکن مگس کہاں اور سمیرغ (بہت بڑا پرندہ)کی عظمت کہاں؟عمروعاص جب مالک اشتر کے سامنے آیا تو اس کا بدن لرزرہا تھا لیکن میدان سے بھاگنے کی بد نامی کوبھی قبول نہیں کیا، دونوں طرف سے رجزکا سلسلہ ختم ہوا، اوردونوں نے ایک دوسرے پر حملہ کیا، عمرو پر جب مالک اشتر نے حملہ کیاتو پیچھے ہٹ گیا اور مالک اشتر کے نیزے سے اس کے چہرے پر خراش پڑگئی، عمرونے اپنی جان کے خوف سے اپنے چہرے کے زخم کابہانہ بنایا اور ایک ہاتھ سے گھوڑے کی لگام اور دوسرے ہاتھ سے اپنے چہرے کو پکڑا اور بہت تیزی سے اپنی فوج کی طرف بھاگ گیا اس کے میدان سے بھاگنے کی وجہ سے معاویہ کے سپاہیوں نے اعتراض کرناشروع کردیا کہ کیوں ایسے ڈرپوک اور بے غیرت انسان کو ہمارا امیر بنایا ہے۔(۱)

_______________________________

(۱) وقعہ صفین ص۴۴۰۴۴۱۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۸ ص۷۹۔


پرہیز گار نوجوان اور دنیا طلب بوڑھا

جنگ کے دنوں میں ایک دن مالک اشتر نے عراقیوں کے درمیان بلند آواز سے کہا، کیا تمھارے درمیان میں کوئی ایسا ہے جو اپنی جان کو خدا کی مرضی کے بدلے بیچ دے ؟ایک نوجوان اثال بن حجل میدان میں گیا، معاویہ نے ایک بوڑھے کو جس کا نام بھی حجل تھا میدان جنگ میں اس کے مقابلے کے لئے بھیجا دونوں ایک دوسرے پر نیزے سے حملہ کررہے تھے اور اسی حالت میں اپنا حسب و نسب بھی بیان کررہے تھے اچانک انہیں معلوم ہوا کہ وہ باپ اوربیٹے ہیں اس لئے وہ دونوں گھوڑے سے اترے اور ایک دوسرے کے گلے لگ گئے باپ نے بیٹے سے کہا اے میرے لال دنیا کی طرف آجا! بیٹے نے کہا اے بابا آپ آخرت کی طرف آجائیے یہی آپ کے لئے بہتر ہے اگر میں دنیا کو طلب کروں اور شامیوں کی طرف جاؤں تو آپ مجھے اس کام سے روکیںآپ علی اور ان مومن اور صالح دوستوں کے بارے میں کیا کہتے


ہیں؟ بالآخر یہ طے ہوا کہ دونوں اپنی اپنی جگہ واپس چلے جائیں۔(۱) وہ جنگ جس کی بنیاد عقیدہ سے دفاع ہو اس میں ہرطرح کا رشتہ ، سوائے دینی رشتہ کے، سب بیکار ہے۔

شام کے سپاہیوں کی بزدلی

ابرہہ معاویہ کی فوج کا ایک سردار تھا ، جو معاویہ کی زیادہ فوج کے مارے جانے کی وجہ سے بہت غمگین تھا، اس نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ شامی معاویہ کی خواہشات نفسانی کا شکار ہوئے ہیں اور غصبی حکومت کی حفاظت کرنے کے لئے ایسی و حشتناک جنگ کر رہے ہیں، اسی وجہ سے شام میں رہنے والے یمنی لوگوں کے درمیان اس نے بلند آواز میں کہا: افسوس ہے تم لوگوں پر۔ اے یمن کے لوگو، اے لوگو جو خود کو فنا کرنا چاہتے ہو، ان دونوں آدمیوں (علی ور معاویہ) کو ان کے حال پر چھوڑ دو تاکہ آپس میں جنگ کریں اور ان میں سے جو بھی کامیاب ہو، ہم اس کی پیروی کریں، جب ابرہہ کی باتیں امام علیہ السلام تک پہونچی تو آپ نے فرمایا: بہت اچھی بات کہی ہے جب سے میں شام کی سرزمین پر آیا ہوں ایسی بات نہیں سنی ہے، اس خبر کے پھیلنے کی وجہ سے معاویہ بہت خوف زدہ ہوااور خود فوج کی آخری صف میں گیا اور اپنے اردگرد رہنے والوں سے کہا ابرہہ کی عقل زائل ہو گئی ہے جبکہ یمن کے تمام لوگوں نے مل جل کر کہا ابرہہ عقلمندی ، دینداری اور بہادری میں سب لوگوں سے اچھاہے۔

ٰایسے حالات میں شام کی فوج کو حوصلہ دینے کے لئے عروۂ دمشقی میدان جنگ میں گیا اور پکار کر کہا: اگر معاویہ نے علی سے جنگ کرنے سے منھ موڑا ہے تو اے علی میرے ساتھ جنگ کرنے کے لئے تیار ہوجاؤ۔ امام علیہ السلام کے دوستوں نے چاہا کہ اس کو اس مقابلے(اس کے کمینہ پن کی وجہ سے) سے روکیں، لیکن اما م علی علیہ السلام نے قبول نہیں کیا اور فرمایا، معاویہ اور عروہ دونوں میری نظر میں برابر ہیں، اتنا کہنے کے بعد اس پر حملہ کیا اور سے ایک ہی وار میں دو ٹکڑوں میں اس طرح تقسیم کردیا کہ دونوں ٹکڑے ادھر اُدھر گر گئے دونوںفوجیں امام علی علیہ السلام کے اس زبردست وار سے لرز اٹھیں، اس وقت امام علیہ السلام نے لاش کے دونوں ٹکڑوں سے کہا: اس خدا کی قسم جس نے پیغمبر اسلام (ص)کو پیغمبری کے لئے چنا، آگ کو دیکھا اورپشیمان ہوگئے،اس وقت عروہ کا چچا زاد بھائی اس کا انتقام لینے کیلئے میدان میں آیا اور امام علی علیہ السلام

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۸ ص۸۲۔ وقعہ صفین ص۴۴۳۔


سے جنگ کرنے کا خواہا ںہوا ، اور وہ بھی امام کی تلوار کے وار سے عروہ کے پاس پہونچ گیا۔(۱)

_______________________________

(۱) وقعہ صفین ص۴۵۵۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۸ ص۹۴۔


تاریخ اپنے کو دہراتی ہے

امام علیہ السلام کی بے مثال بہادری کے سامنے فوج شام کا دل بیٹھنے لگا، معاویہ جو پہاڑ کی چوٹی سے تمام حالات کا مشاہدہ کر رہا تھا ، بے اختیار شام کے لوگوں کی مذمت کرنے لگا اورکہا:برباد ہوجاؤ، کیا تمھارے درمیان کوئی ایسا نہیں ہے جو ابو الحسن کو جنگ کے وقت یا حملہ کرکے یاجب دونوں فوجیں ایک دوسرے سے مل جاتی ہیں اور گرد و غبار انہیں چھپا دیتا ہے، ایسے وقت قتل کردے؟ ولید بن عتبہ جو معاویہ کے پاس کھڑا تھا اس نے معاویہ سے کہا، تو اس کام کو انجام دینے میں سب سے زیادہ بہتر ہے ، معاویہ نے کہا،علی نے مجھے ایک با رجنگ کی دعوت دی لیکن میں ہرگز ان کے مقابلہ میں میدان میں نہیں جاؤں گا کیونکہ فوج سردار کی حفاظت کے لئے ہے، آخر اس نے بُسر بن ارطاة کو امام علیہ السلام سے مقابلے کرنے کی تشویق و ترغیب دلائی اور کہا ، اس سے جب گرد و غبار ہو اس وقت جنگ کرو، بُسر کا چچازاد بھائی جو ابھی ابھی حجاز سے شام آیا تھا اس نے بُسر کو اس کام سے روکا لیکن چونکہ بُسر نے معاویہ سے وعدہ کر لیا تھا اس لئے میدان جنگ کی طرف روانہ ہوگیا، جب کہ اس کا پورا بدن لوہے سے چھپا ہوا تھا، اس نے علی علیہ السلام کو جنگ کی دعوت دی امام علیہ السلام کے نیزے کے وارنے اسے زمین پر گرادیا اور اس نے بھی عمر و عاص کی طرح اپنی شرمگاہ سے لباس ہٹا دیا اسی وجہ سے امام علیہ السلام نے اس کا پیچھا نہیں کیا۔

صلح کے لئے معاویہ کا اصرار

صفین میں جنگ کے طولانی ہونے اور فوج شام سے بہت زیادہ سپاہی مارے جانے کی وجہ سے معاویہ نے ارادہ کیا کہ جس طرح سے بھی ممکن ہو،امام علیہ السلام کو صلح ودوستی اور جنگ ختم کرنے اور دونوں فوجوں کو ان کے اصلی مرکز پر واپس جانے کے لئے تیار کرے اور اس کام کو ایک خاص طریقے سے شروع کیا کہ جس میں سے تین اہم راستے یہ تھے۔

ا۔ اشعث بن قیس سے گفتگو

۲۔ قیس بن سعد سے گفتگو

۳۔ اما م علیہ السلام کو خط لکھنا


لیکن امام علیہ السلام کی فوج کے مستحکم ایمان و عقیدہ کی بنا پر اس کا یہ پروگرام بے نتیجہ ثابت ہوا یہاں تک کے مسئلہ ''لیلة الہریر'' پیش آگیا اور قریب تھا کی معاویہ کی پوری فوج معدوم ہوجائے لیکن معاویہ کا فریب و دھوکا اور عراقیوں کا سادہ لوح ہونا شام کے جاسوسوں کا امام علیہ السلام کی فوج میں کام کرنا،حالات کو شام کی فوج کے حق میں لے گیاہم یہاں معاویہ کی ملاقاتوں اور گفتگوؤں کو ذکر کر رہے ہیں:

ا۔معاویہ نے اپنے بھائی عتبہ بن ابو سفیان کو جو بہتر ین خطیب تھا اپنے پاس بلایا اور یہ ذمہ داری سونپی کہ اشعث بن قیس جو امام کی فوج میں کافی نفوذ رکھتا تھا، سے ملاقات کرے اور اس سے درخواست کرے کہ طرفین سے جو باقی ہیں ان پر رحم کرے،عتبہ فوج کے بالکل سامنے آیااور وہیں سے اس نے اپنا تعارف کرایا پھر اشعث کو بلایا تاکہ معاویہ کا پیغام اس تک پہونچائے اشعث نے اسے پہچان لیا اور کہا کہ وہ فضول آدمی ہے اس سے ملاقات کرنا چاہیے عتبہ کے پیام کا خلاصہ یہ تھا کہ اگربنا یہ ہوتی کہ معاویہ، علی کے علاوہ کسی اور سے ملاقات کرتا تو صرف تجھ سے ملاقات کرتا کیونکہ تو عراق کے لوگو ں کا سردار اور اہل یمن کے بزرگوں میں سے ہے اور عثمان کا داماد اور اس کا کارمند تھا تیرا مسئلہ مالک اشتر اور عدی بن حاتم سے جدا ہے، اشتر عثما ن کا قاتل اور عدی اس کام کی طرف رغبت دلانے والا ہے میں یہ نہیں کہتا کہ علی کو چھوڑ دو اور معاویہ کی مدد کو پہونچو بلکہ تجھے جوافراد باقی بچے ہیں ان کہ حفاظت کے لئے بلا رہا ہوں اس میں تمھارے اور میرے لئے مصلحت ہے۔

اشعث نے اس کے جواب میں امام علیہ اسلام کی بہت زیادہ تعریف و تکریم کی اور کہا عراق اور یمن میں سب سے بزرگ علی ہیں لیکن اپنے کلام کے آخر میں ایک سیاسی کے مثل اس نے صلح کی درخواست قبول کر لی اور کہا کہ تمھاری ضرورت باقی بچے لوگوں کی حفاظت کے لئے ہم سے زیادہ نہیں ہے جب عتبہ نے اشعث کی باتوں سے معا ویہ کو باخبر کیا تو اس نے کہا''قَدْ جَنَحَ لِلسَّلمِ'' صلح کے لئے آمادگی ظاہرکی ہے۔(۱)

______________________

(۱)وقعہ صفین ص۴۰۸۔ شرح نہج البلاغہ ابن اابی الحدید ج۸ص۶۱۔ الا مامة و السیاسة ج ۱ ص۱۰۲۔ اعیان الشیعہ ج ۱ ص۵۰۳۔


۲۔ پیغمبر اسلام (ص)کے اصحاب جو مہاجرین اور انصار میں سے تھے امام علیہ السلام کے اطراف میں جمع تھے، انصار میں سے صرف افراد نعمان بن بشیر اور مسلمہ بن مخلّد نے معا ویہ کا ساتھ دیا، معاویہ نے نعمان بن بشیر سے کہا کہ امام علیہ السلام کے بہادر سردار قیس بن سعد سے ملاقات کرو اور اس کو اپنی طرف راغب کرکے صلح کے مقدمات کو فراہم کرو اس نے جب قیس سے ملاقات کی تو دونوں فوجوں کوجو نقصا ن پہونچے تھے اس کو بیان کیا اور کہا:''أخذتِ الحربُ مِنّٰا و منکم مارأ یتم فاتّقُو االلّٰه فِیْ البقیّةِ'' جنگ نے ہم سے اور تم سے وہ چیزیں لے لی ہیں جوتم دیکھ رہے ہو، لہٰذاجو باقی بچے ہیں ان کے لئے خدا سے ڈرو(اور ان کے بارے میں کچھ فکر کرو)۔

قیس نے نعمان کے جواب میں معاویہ اور علی علیہ السلام کے ساتھیوں کے حالات بیا ن کیے اور کہا ہم نے پیغمبر (ص)کے زمانے میں خوش و خرم ہو کر دشمن کے نیزہ وتلوار کاجواب دیا اور حق کامیاب ہوگیا اگر چہ کافر اس کام سے ناراض تھے ۔ اے نعمان یہ لوگ جو معاویہ کہ مدد کر رہے ہیں وہ تھوڑے سے آزاد کئے ہوئے اور بیابانوں میں رہنے والے اور یمنی لوگ ہیں جو معاویہ کا دھوکہ کھائے ہوئے ہیں علی کی طرف دیکھو کہ ان کے اطراف میں تمام مہاجرین و انصار اور تابعین جمع ہیں اور ان سب سے خدا راضی ہے لیکن معاویہ کے اطراف میں تمھار ے اور تمھارے دوست (مسلمہ بن مخلّد) کے علاوہ کوئی نہیں ہے اور تم میں سے کوئی ایک بھی نہ جنگ بدر میں تھا اور نہ ہی احد میں اور نہ ہی اسلام کے لئے تم لوگوں کی خدمات ہیں اور نہ ہی تم لوگوں کے بارے میں کوئی آیت نازل ہوئی اگر ان چیزو ں کے برخلاف تم نے قدم بڑھایا تو اس کے پہلے تمھارے باپ نے بھی یہی کام کیا تھا۔(۱)

۳۔ ان سب ملاقاتوں کا مقصد صرف اور صرف صلحا ور سازش تھی لیکن معاویہ کا مقصد پورا نہ ہوا اس وجہ سے وہ مجبو ر ہوا کہ امام علیہ السلام کو خط لکھے اور اس میں ایسی چیز کی درخواست کرے جس کی اس نے سرکشی و نافرمانی کے پہلے ہی دن درخواست کیا تھا یعنی شام کی حکومت اسے دیدیں بغیر اس کے کہ اطاعت

______________________

(۱) اس سے مراد سقیفہ کا واقعہ ہے جس میں نعمان کے باپ بشیر نے صرف اس وجہ سے کہ اس کے چچا زاد بھائی قیس کے باپ یعنی سعد بن عبادة تک خلافت نہ پہونچے اٹھا اور ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کی اور انصار کے اتحاد کو توڑدیا،شرح نہج البلاغہ ابن اابی الحدید ج۸ص۸۷،وقعہ صفین ص۴۴۸،الا مامة و السیاسة ج ۱ ص۹۷۔


اور بیعت اس کی گردن پر ہو اور اس وقت کہا ہم سب عبد مناف کے بیٹے ہیں اور ہم میں کوئی بھی ایک دوسرے پر فضلیت نہیں رکھتا مگر وہ شخص جو عزیز کو خوار و ذلیل اور آزاد کو غلام نہ کرے ۔

امام علیہ السلام نے اپنے منشی ابن ابی رافع کو بلا یا اورا سے حکم دیا کہ اس کا جواب اس طرح لکھوجیسے کہ میں لکھوارہا ہوں،امام علیہ السلام کے خط کی عبارت نہج البلاغہ مکتوب نمبر ۱۷ کے ضمن میں تحریر ہے۔(۱)

______________________

(۱) اس خط کی عبارت جو کہ نہج البلاغہ میں تحریر ہے اور یہ عبارت جو کہ اخبار الطوال ص۱۸۷،اور الا مامة و السیاسة ج ۱ ص۱۰۴،۱۰۳۔ اور وقعہ صفین ص۴۷۱۔ میں ہے فرق ہے۔


انیسویں فصل

جنگ صفین میں تبدیلی اور تاریخ اسلام

امام علیہ اسلام نے ۱۰ ربیع الاوّل ۳۸ھ منگل کے دن ہنگام فجر جبکہ ابھی اندھیرا چھایہ ہوا تھا، نمازِ صبح اپنے دوستوں کے ساتھ پڑھی آپ فوج ِ شام کی ناتوانی اور خستگی سے مکمل طور پر آگا ہ تھے اور جانتے تھے کہ دشمن آخری مورچے تک پیچھے چلا گیا ہے اور ایک زبردست حملے سے معاویہ کے خیمہ تک پہونچا جا سکتا ہے، اسی وجہ سے آپ نے مالک اشتر کو حکم دیا کہ فوج کو منظم کریں جب کہ مالک اشتر لوہے کا پورا لباس پہنے تھے فوج کے پاس آئے اور اپنے نیزے پر ٹیک لگایا اور بلند آواز سے پکارا''سَوُّوْاصُفُوفَکُمْ رَحِمَکُمُ الله'' اپنی صفوں کو مرتب کرو تھوڑی دیر نہ گزر ی تھی کہ حملہ شروع ہوگیا اور ابتدا سے ہی دشمن کی شکست ان کے بھاگنے کی وجہ سے ظاہر ہوگئی تھی۔

اس موقع پر ایک شام کا آدمی باہر آیا اور امام علیہ السلام سے با ت کرنے کی پیشکش کی امام علیہ السلام نے دونوں صفوں کے درمیان اس سے گفتگو کی اس نے فرمائش کی کہ دونوں فوجیں اپنی پہلی جگہ پر واپس چلی جائیں اور امام، شام کومعاویہ کے حوالے کر دیں، امام علیہ السلام نے اس کی فرمائش کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اس موضو ع کے بارے میں مدتوں فکر کیا ہے اور اس میں دو راستوں کے علاوہ میں نے کوئی راستہ نہیں دیکھایا نا فرمانوں سے جنگ کروںیا کافر ہو جائوں اور جو چیز پیغمبر پر نازل ہوئی ہے اس سے انکار کردوں اور خدا اس سے بالکل راضی نہیں ہے کہ اس کی مملکت میں گنا ہ و نافرمانی ہو اور دوسرے لوگ اس کے مقابلے میں خاموش رہیں ،اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر سے منہ پھیر لیں ،اسی وجہ سے ہم نے نافرمانوں سے میل جول کے بجائے جنگ کرنا بہتر جانا ہے۔

وہ شخص امام علیہ السلام کی رضامندی حاصل کرنے سے مایوس ہو گیا جب کہ اسکی زبان پر''اِنَّالِلّٰهِ وَانّٰا اِلَیْهِ رَاجِعُونَ'' کی آیت جاری تھی وہ سیاہ شام کی طرف واپس چلا گیا۔(۱)

دونوں فوجو ں کے درمیان گھمسان کی جنگ دوبارہ شروع ہوگئی اور اس جنگ میں جتنے بھی وسائل

______________________

(۱) الاخبار الطوال ص۱۸۷ ۔ وقعہ صفین ص۴۷۴۔ اعیان الشیعہ ج ۱، ص۵۱۰۔


ممکن تھے اسے استعمال کیا گیا تیر و پتھر، نیزہ و تلوار اور لوہے سلاخیں جو دونوں طرف کے فوجیوں کے سر پر مثل پہاڑ کے گر رہے تھے استعمال ہوئے جنگ بد ھ کو صبح تک جاری رہی معاویہ کی فوج کے لوگ زخمی اور قتل ہوئے، لوگ اس رات میں کتوں کی طرح چیخ رہے تھے اور اسی لئے بدھ کی اس رات کو تاریخ نے ''لیلة الہریر'' کے نا م سے یاد کیا۔

مالک اشتر اپنے سپاہیوںکے درمیان ٹہل رہے تھے اور لوگوں سے کہہ رہے تھے: لوگو فتح و کامرانی میں ایک کمان سے زیادہ کا فاصلہ نہیں بچا ہے اور بلند آواز سے کہا''الاٰ من یشری نفسه لِلّٰهِ ویقاتل مع ألاشتر حتٰی یَظْهَرَ اَوْ یَلْحَقَ باِللّٰهِ'' ؟ یعنی کیا کوئی ایسا شخص ہے جو اپنی جان کو خدا کے لئے بیچ دے اور اس راہ میں اشتر کے ساتھ جنگ کرے تاکہ فتح پائے یا خدا سے ملحق ہو جائے ؟(۱)

امام علیہ السلام نے ایسے حسّاس موقع پر اپنے سرداروں اور فوج کے بااثر افراد کے سامنے تقریر کی اور فرمایا:''اے لوگو ، تم لوگ دیکھ رہے ہو کہ تمھار ا اور دشمن کا اقدام کہاں تک پہونچ چکا ہے اور دشمن کے پاس آخری سانس کے سوا کچھ باقی نہیں ہے کام کی آغاز کو انجام کے ساتھ میں حساب کیا جاتاہے میں صبح کے وقت ان لوگوں کو محکمہ الہی میں لے جاؤں گا اور ان کی ذلت بھری زندگی کو ختم کر دونگا۔(۲) معاویہ امام علیہ السلام کی تقر یر سے باخبر ہو ا لہٰذا عمروعاص سے کہا یہ وہی را ت ہے کہ علی کل جنگ کو یک طرفہ کردینگے اس وقت ضروری ہے کہ کچھ فکر کرو؟

عمر و عاص نے کہا: نہ تمھارے سپاہی ان کے سپاہی کی طرح ہیںاور نہ تو ہی ان کی طرح ہے وہ دینی جذبے کے تحت جنگ کررہے ہیں اور تو دوسرے مقصد کی خاطہر ،تو زندگی کی تمنا کر رہا ہے اور وہ شہادت کے طلبگار ہیں، عراق کی فوج تمھاری فتح سے خوف زدہ ہیں، جب کہ شام کی فوج علی کی فتح سے خوف زدہ نہیں ہے ۔

معاویہ:اس وقت کیا کرنا چاہئے؟

عمروعاص: اس وقت ایسی دعوت دینی چاہیے کہ اگر قبول کریں تو اختلاف کا شکار ہوجائیں اوراگر

______________________

(۱) تاریخ طبری ج ۳جزئ۶ص۲۶۔ واقعہ صفین ص۴۷۵۔ کامل ابن اثیرج ۳ص۱۶۰۔

(۲) واقعہ صفین ص ۴۷۶۔ الاخبار الطوال ص۱۸۸۔ الا مامة و السیاسة ج ۱ص۸۔


قبول نہیں کریں تو دوگروہ ہوجائیں گے ان لوگوں کو خدا کی کتاب کی طرف دعوت دو تاکہ خدا کی کتاب تمھارے اور ان کے درمیان حاکم ہے اس طرح سے تو اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائے گا ،یہ بات بہت دنوں سے ہمارے ذہن میں تھی لیکن اس کو ظاہر کرنے سے میں نے پرہیز کیا تاکہ اس کا وقت پہونچ جائے ،معاویہ نے اپنے قدیمی طرین ساتھی کا شکریہ ادا کیااور اس نقشے کو عملی صورت دینے کی کوشش میں لگ گیا۔

۱۳ ربیع الاوّل جمعرات کے دن صبح سویرے یاایک قول کی بناء پر ۱۳ صفر کو امام علیہ السلام کی فوج بالکل نئے دھوکے سے روبرو ہوگئی ،اس کی وجہ سے عمر و عاص نے شام کے سر کشوں کی جوخدمت کی امیہ کے گروہ کو دوبارہ زندگی کے حق میں اور وہ معاشرے میں منہ دیکھانے کے لائق ہوے،شام کی فوج نے عمرو کے دستور کے مطابق قرآن کو نوک ِ نیزہ پر اٹھایا اورصف میں کھڑی ہوگئی ، دمشق کا سب سے بڑا قرآن دس آدمی کی مدد سے نوک ِ نیزہ پر اٹھایا گیا اور اس وقت سب نے ایک آواز ہوکر نعرہ بلند کیا ''ہمارے اور تمھارے درمیان خدا کی کتاب حاکم ہے''

عراقیوں کے کان میں یہ آواز پہونچی اور ان کی آنکھیں نوک نیزہ پر پڑیں شام کی فوج سے نعروں اور رحم و کرم کی فریادوں کے علاوہ کوئی دوسری چیز سنائی نہیں دے رہی تھی سب ایک آواز ہوکر کہہ رہے تھے :

''اے عرب کے لوگو اپنی عورتوں اور لڑکیوں کے لئے خدا کو نظر میں رکھو''!

خدا کے واسطے خدا کے واسطے دین کے واسطے میں !

شام کے لوگوں کے بعد کون شام کی سرحدوں کی حفاظت کرینگے اور عراق کے لوگوں کے بعد کون عراق کی سرحدوں کی حفاظت کریںگے؟کون لوگ روم و ترک اور دوسرے کافروں کے ساتھ جہاد کرنے کے لئے باقی رہیں گے؟(۱)

قرآن اور ان کے محبت آمیز نعروں کے دلنشین منظر نے اما م علیہ السلام کی فوج کے بہت سے سپاہیوں کے عقل و ہوش اڑا دیئے تھے ،جنگ کرنے والے بہادر جو کچھ دیر پہلے فخر و مباہات کر رہے تھے اور کامیا بی کے

______________________

(۱) واقعہ صفین ص۴۸۱۔ الاخبارا لطوال۱۸۸۔ مروج الذہب ج ۲ص۴۰۰۔ تاریخ طبری ج ۳جزئ۶ص۲۶۔ کامل ابن اثیرج ۳ص۱۶۰۔


ایک قدم فاصلے پر تھے افسو س اور تأسف میں اپنی جگہ پر گڑکر رہ گئے لیکن عدی بن حاتم ، مالک اشتر،اور عمروبن الحمق جیسے شجاع و بہادر ان کے فریبی حربہ سے با خبر تھے اور جانتے تھے کہ چونکہ دشمن کے اندر مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے اور نابود ہونے کی منزل میں ہیں لہذا وہ اپنے کو اس طریقے سے نجا ت دینا چاہتے ہیں ورنہ یہ لوگ کبھی بھی قرآن کو نہ اٹھاتے اور نہ کبھی اٹھائیں گے اسی وجہ سے عدی بن حاتم نے امام علیہ السلا م سے کہا:کبھی بھی باطل کی فوج حق سے مقابلہ نہیں کرسکتی دونوں طرف لوگ زخمی یا قتل ہوئے ہیں اور وہ لوگ جو ہمارے ساتھ باقی بچے ہیں ان لوگوں سے طاقت ور ہیں شامیوں کے نعروں پر دھیان نہ دیجیے اور ہم سب آپ کے مطیع اور فرما نبردار ہیں ۔

مالک اشتر نے کہا: معا ویہ کا کوئی جانشین نہیں ہے لیکن آپ کا جانشین موجو د اس کے پاس فوجی ہیں لیکن آپ کے فوجی کی طرح صبر و تحمل نہیں رکھتے، لوہے کو لوہے سے کاٹئیے اور خدا سے مدد طلب کیجیے۔

تیسرے(عمرو بن الحمق)نے کہا: اے مولا ہم نے جانبداری کی وجہ سے پر آ پ کی حمایت نہیں کی ہے بلکہ خدا کی مرضی کے لئے آپ کی دعوت پرلبیک کہا ہے اس وقت حق آخری نقطے پر پہونچ گیا ہے اور ہم لوگوں کو آپ کے وجود کے علاوہ کوئی فکر نہیں ہے ۔(۱) لیکن اشعث بن قیس جس نے اپنے کو امام علیہ السلام کے خیمے کے محافظوں میں شامل کر لیا تھا جس کے حرکات و سکنات پہلے ہی دن سے مشکوک تھے اور معا ویہ سے اس کا رابطہ تقریباً آشکار ہوچکا تھا، نے امام علیہ السلام سے کہا : اس قوم کی دعوت کا جواب دیجیۓ کیونکہ انکی درخواست کا جواب آپ سے بہتر کوئی نہیں دے سکتا اور لوگ زندگی کے خواہاں ہیں اور جنگ سے خوش نہیں ہیں،امام علیہ السلام اس کی ناپاک نیت سے آگا ہ تھے فرمایا اس مسئلے میں فکر کرنے کی ضرورت ہے،(۲)

معاویہ نے امام کی فوج کے احساسات کو ابھارنے کے لئے عمروعاص کے بیٹے عبد اللہ کو جو اس زمانے میں مقدس نما بنا تھا ،حکم دیا کہ دونوں صفوں کے درمیان کھڑا ہو کر ان لوگوں کو قرآن مجید کے طرف فیصلہ کی دعوت دے، وہ دونوں صفوں کے درمیان کھڑا ہوا اور کہا: اے لوگو اگر ہماری جنگ دین کے لئے تھی تو دونوں گروہ نے اپنے اپنے مخالف پرحجت تمام کردی ہے اور اگر ہماری جنگ دنیا کے لئے

______________________

(۱ )،(۲) وقعہ صفین ص۴۸۲۔ الامامة والسیاسة ج۱ص ۱۰۸۔ مروج الذہب ج ۲ص۴۰۱۔


تھی تو دونوں گروہ نے حد سے تجاوز کیا ہے ہم تم لوگوں کو کتابِ خدا کی حکومت کی دعوت دیتے ہیں اگر تم لوگوں نے دعوت دی ہوتی تو ہم ضرور قبو ل کرتے اس فرصت کو غنیمت جانو۔

دشمنوں کے اس فریبی نعروںنے عراق کے سادہ لوح لوگوں کو دھوکے میں ڈال دیا اور لوگ کمزوری و ناتوانائی کی حالت میں امام کے پاس آئے اور کہا ان کی دعوت کو قبول کر لیجیئے،امام علیہ السلام نے اس حسّاس موقع پر دھوکہ کھائے لوگوں کے ذہنوں کو واضح و روشن کرنے کے لئے ان سے کہا: ''اے خدا کے بندو!میں ہر شخص کی دعوت کو بحکم قرآن قبول کرنے میں تم لوگوں سے زیادہ شائستہ ہوں لیکن معاویہ ،عمروعاص ، ابن ابی معیط،حبیب بن مسلمہ اور ابن ابی سرح اہل دین اور قرآن نہیں ہیں، میں تم لوگو ں سے بہتر ان کو پہچانتا ہوں میں نے ان لوگوں کے ساتھ بچپن سے آج تک زندگی گزاری ہے، وہ لوگ ہر زمانے میں بدترین بچے اور بدترین مرد تھے خدا کی قسم ان لوگوں نے قرآن کو اس لئے بلند نہیں کیا کہ وہ قرآن کو پہچانتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس پر عمل کریں ان کا یہ کا م مکر و فریب کے علاوہ کچھ نہیں ہے

اے خدا کے بندو اپنے سروں اور بازوؤں کو کچھ لمحوں کے لئے مجھے عاریةً دے دو،کیونکہ حق قطعی نتیجہ پر پہونچ گیا اور ستمگروں کی جڑ کو کاٹنے میں کوئی چیز باقی نہیں رہ گئی ہے۔

مخلص افراد نے امام علیہ السلام کے نظریہ کی طرفداری کی مگر اچانک عراق کی فوج کے( ۲۰) بیس ہزار آدمی جبکہ وہ آہنی لباس پہنے تھے اور ان کی پیشانیوں پر سجدوں کے نشانات تھے اور کندھوں پر تلواریں لٹکی تھیں،(۱) میدان جنگ چھوڑ کر سردار کے خیمے کے پاس آگئے اس گروہ کی رہبری مسعر بن فدکی،زید بن حصین اور عراق کے بعض قاری کر رہے تھے اور بعد میں یہی لوگ خوارج کے سردار بن گئے یہ لوگ اما م علیہ السلام کی قیام گاہ کے سامنے کھڑے ہوئے اور آپ کو یا امیرالمومنین کے بجائے یاعلی کہہ کر خطاب کیا اور بے ادبی سے کہا اس قوم کی دعوت کو قبول کر لو ورنہ تمھیں قتل کردیںگے جس طریقے سے عثمان بن عفان کو قتل کیا ہے خدا کی قسم اگر ان لوگوں کی دعوت قبول نہیں کی تو تمھیں قتل کردینگے ۔وہ سردارجس کی کل تک مکمل اطاعت ہو رہی تھی آج ایسے موڑ پر کھڑاتھا کہ اسے زبردستی تسلیم ہونے اور صلح قبول کرنے کا حکم دیا جا رہا تھا امام علیہ السلام نے ان لوگوں کے جواب میں کہا:

______________________

(۱) واقعہ صفین ص۴۸۹۔ تاریخ طبری ج ۳جزئ۶ص۲۷۔مروج الذہب ج ۲ص۴۰۱۔ کامل ابن اثیرج ۳ص۱۶۱۔


''میں پہلا وہ شخص ہوںجس نے خدا کی کتاب کی طرف لوگوں کو بلایا اور پہلا شخص ہوںجس نے خدا کی کتاب کی دعوت کو قبول کیا میرے لئے جائز نہیں ہے کہ میں تم لوگوں کو غیر کتاب ِخداکی طرف دعوت دوں، میں ان لوگوں کے ساتھ جنگ کروں گا کیونکہ وہ لوگ قرآن کے حکم پر عمل نہیں کرتے ان لوگوں نے خدا کی نافرمانی کی اور اس کے عہد و پیمان کوتوڑ ڈالا اور اس کی کتاب کو چھوڑ دیا ہے، میں تم لوگوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کے ان لوگوں نے تمھیں دھوکہ دیا ہے وہ لوگ قرآن پر عمل کرنے کے خواہش مند نہیں ہیں ۔

امام علیہ السلام کی منطقی اور استدلالی گفتگو کا ان لوگوں پر اثر نہ ہوا کچھ دنوں کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ یہ لوگ تندمزاج اور حقیقت کو سمجھنے اور درک کرنے سے غافل تھے شامیوں کے بیہودہ نعروں سے متاثر ہوگئے تھے اور امام علیہ السلام ان کو جتنی بھی نصیحت کرتے وہ اتنے ہی زیادہ شیطان صفت ہوجاتے اور کہتے کہ اما م حکم دیں کہ مالک اشتر جنگ کرنے سے باز آجائیں۔

ایک فوج کے لئے جنگ کے دوران سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ اختلاف کی وجہ سے فوج دو حصوں میں تقسیم ہوجائے اور اس سے بدترسادہ لوح گروہ کا فتنہ و فساد کرنا اور اپنے عاقل و دانہ سردار کے متعلق سیاسی مسائل سے دور ہونا ہے، امام علیہ السلام اپنے کو کامیابی کی راہ پر دیکھ رہے تھے اور دشمن کی پیش کش کی واقعیت سے باخبر تھے لیکن کیا کرتے کہ آپسی اختلاف نے فوج کے اتحاد و اتفاق کو ختم کردیا تھا ۔

امام علیہ السلام نے( ۲۰) بیس ہزار مسلح اور مقدس نما جن کی پیشانیوں پر سجدوں کے نشان تھے، سے مقابلہ کرنے میں مصلحت نہیں دیکھا اور اپنے ایک قریبی چاہنے والے یزید بن ہانی کو بلایا اور اس سے کہا:تم جتنی جلدی ہو جہاںمالک اشتر جنگ میں مشغول ہو وہاں پہونچو اور اشتر سے کہو کہ امام علیہ السلام نے حکم دیا ہے کہ جنگ سے ہاتھ روک لواور میری طرف واپس آجائو۔

یزید بن ھان نے اپنے کو مورچہ تک پہونچایا اور مالک اشتر سے کہا جنگ روک دو اور امام ـکے چلو

مالک اشتر: امام کی خدمت میں میرا سلام پہونچا دو اور کہہ دو کہ ابھی وہ وقت نہیں ہے کہ مجھے میدان سے بلائیں امید ہے کہ بہت جلد ہی فتح وکامرانی کی خوشبو پرچم اسلام سے اٹھے۔

قاصد نے واپس آکر کہا کہ اشتر واپس آنے میں مصلحت نہیں سمجھتے اور کہا ہے کہ میں کامیابی کے بالکل قریب ہوں ۔فتنہ فساد کرنے والوں نے امام سے کہا، اشتر کا واپس آنے سے منع کرنا تمھارا حکم ہے تم نے پیغام دیا کہ میدان جنگ میں مقابلہ کریں۔


علی علیہ السلام نے باکمال سنجیدگی فرمایا: میں نے اپنے قاصد سے ہرگز محرمانہ گفتگو نہیں کی ہے بلکہ جو کچھ بھی میں نے کہا ہے تم لوگوں نے سنا ہے تم لوگ کیوں ایسی چیز پر جس کو میں نے واضح و آشکار کہا ہے الزام لگا رہے ہو؟

باغیوں نے کہا جلد سے جلد مالک اشتر کو حکم دو کہ واپس آ جائیں ورنہ جس طرح ہم لوگوں نے عثمان کو قتل کیا ہے تمہیں بھی قتل کر دیں گے یا معاویہ کے حوالے کر دیں گے

امام علیہ السلام نے یزید بن ہانی سے کہا جو کچھ تم نے دیکھا ہے وہ مالک اشتر تک پہونچا دو۔

مالک اشتر امام علیہ السلام کے پیغام سے باخبر ہوئے اور قاصد سے کہا کہ یہ فتنہ قرآن کو نیزے پر بلند کرکے پیدا کیا گیا ہے اور یہ عمروعاص کا کیا ہوا ہے پھر بڑے افسردہ انداز سے کہا کیا تم فتح کو نہیں دیکھ رہے ہو؟ اور خدا کی نشانیوں کو نہیں دیکھ رہے ہو؟ کیا یہ بات صحیح ہے کہ ایسی حالت میں جنگ کے معرکہ کو چھوڑدیا جائے؟

قاصد: کیا یہ بات صحیح ہے کہ تم یہاں رہو اور امیر المومنین قتل کردیئے جائیں یا دشمن کے سپر د کر دیے جائیں ؟ مالک اشتر یہ باتیں سن کر لرزنے لگے اور فوراً جنگ سے ہاتھ روک لیا اور خود امام علیہ السلام کی خدمت میں پہونچ گئے اور جب آپ کی نگاہ فتنہ و فساد کرنے والوں پر پڑی جو ذلت و رسوائی کے طلب گار تھے تو ان سے کہا اس وقت جب تم نے دشمن پر غلبہ پید ا کر لیاہے اور کامیابی کے مرحلے تک پہونچ گئے ہو،ان کے دھوکے میں آگئے ؟ خدا کی قسم ان لوگوں نے خدا کے حکم کو چھوڑ دیا ہے اور پیغمبر کی سنت کو بھی ترک کر دیا ہے ہرگز ان کی درخواست کو قبو ل نہ کرو اور مجھے کچھ مہلت دو تاکہ کام کو یک طرفہ کردوں ۔

فتنہ و فساد کرنے والے : تمھاری موافقت کرنا تمھار ی خطاؤں میں شریک ہونا ہے ۔

مالک اشتر: ہائے افسوس کے تمھارے بہترین لوگ قتل ہوگئے اور تمھارے مجبور و عاجز لوگ باقی بچے ہیں، مجھے بتاؤ کہ تم لوگ کس زمانے میں حقّ پر تھے؟کیا اس زمانے میں جس وقت تم نے جنگ کی اس وقت حق پر تھے اور اس وقت جب کہ جنگ سے باز آگئے ہوباطل پر ہو؟ یا اس وقت کہ جب تم نے جنگ کی باطل پر تھے اور اس وقت حق پر ہو ؟اگر ایسا گمان رکھتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کے تمھارے جتنے بھی افراد قتل ہوئے ہیں اور ان کے ایمان ، تقویٰ اور اخلاص کے تم معترف ہو، وہ لوگ جہنم میں ہوںگے۔


فتنہ کرنے والے: ہم نے خدا کی راہ میں جنگ کی اور خدا کے لئے جنگ سے ہاتھ اٹھا لیا اور ہم لوگ تمھاری پیروی نہیں کریں گے ہم سے دور ہوجاؤ۔

مالک اشتر: تم لوگوں نے دھوکہ کھایا ہے اور اس وجہ سے جنگ چھوڑنے کے لئے دعوت دی گئی ہے پیشانیوں پر سجدوں کے نشان رکھنے والو، میں تمھاری نمازوں کو دنیا سے سرخرو جانے اور شہادت کے شوق میں سمجھ رہا تھا لیکن اب یہ ثابت ہو گیا ہے کہ تمھارا ہدف موت سے فرار اور دنیا کی طرف رغبت ہے تم پرتف ہو اے فضلہ خوار جانوروں ، ہرگز تمھیں عزت نصیب نہیں ہوگی دور ہوجاؤ جس طرح سے ظالم و ستمگر دور ہوگئے اس وقت فتنہ و فسا د پیدا کرنے والے ایک طرف اور مالک اشتر دوسری طرف،ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہے تھے اور ایک دوسروں کے گھوڑوں پر تازیانہ سے حملہ کر رہے تھے امام علیہ السلام کے سامنے یہ ناگوار منظر اتنا درد ناک تھا کہ آپ نے فریاد بلند کی کہ ایک دوسرے سے دور ہوجاؤ۔

ایسے حالات میں فتنہ و فساد اور فرصت طلب افراد نے امام علیہ السلام کی آنکھوں کے سامنے فریاد بلند کی کہ قرآن کے فیصلے سے راضی ہوجائیں تا کہ امام کو بنائے ہوئے منصوبے کے سامنے تسلیم کریں۔ امام علیہ السلام خاموش تھے اور کچھ نہیں کہہ رہے تھے اور فکر کے دریا میں غرق تھے۔(۱)

______________________

(۱) واقعہ صفین ص۴۹۲،۴۸۹۔ شرح نہج البلاغہ ابن اابی الحدید ج۲ص۲۱۹،۲۱۶۔


بیسویں فصل

مسئلہ تحکیم

عمرو عاص نے معاویہ کو جو مشورہ دیا تھاکہ اما م علیہ السلام کی فوج کو قرآن کی حاکمیت کی دعوت دو یا وہ قبول کریں یا نہ کریں آپس میں اختلاف کا شکار ہوجائیں گے ، مکمل طو ر سے کارگر ثابت ہوااور امام علیہ السلام کی فوج میں عجیب اختلاف پیدا ہوا جس نے فوج کودوگروہ میںتقسیم کردیا، لیکن اس میں اکثر سادہ لوح تھے جو جنگ سے تھک جانے کی وجہ سے معاویہ کے ظاہری فریب کا شکار ہوگئے تھے اور امام علیہ السلام کی اجازت کے بغیر نعرہ لگایا کہ ''علی نے حکمیت قرآن کی اجازت دیدی ہے '' جب کہ حضرت بالکل خاموش بیٹھے تھے اور اسلام کے مستقبل کے بارے میں فکر کر رہے تھے،(۱)

معاویہ کا خط امام ـ کے نام

ایسے پُر آشوب حالات میں معاویہ نے امام علیہ السلام کو یہ خط لکھا:

''ہمارے درمیان لڑائی ہوتے ہوئے بہت وقت ہوگیا ہے اور ہم میں سے ہر ایک جو چیز مقابل سے حاصل کرنا چاہتا ہے اسے حق سمجھتا ہے، جب کہ دونوں میں کوئی بھی ایک دوسرے کی اطاعت نہیں کرتاچاہتا اور دونوں طرف سے بہت زیادہ لوگ قتل ہو گئے ہیں اور مجھے خوف ہے کہ آئندہ، گزشتہ سے بدتر ہو اور ہم لوگ اس جنگ کے ذمہ دار ہیںاور میرے اور تمھار ے علاوہ اس کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے لہذا میرا ایک مشورہ ہے جس کے اند ر زندگی ،امت کی صلاح اور ان کی جان و مال کی حفاظت اور دین سے محبت اور کینہ کا دور ہونا ہے اور وہ یہ ہے کہ دوآدمی، یعنی ایک ہمارے دوستوں میں سے اور دوسرا تمھارے اصحاب سے جو مورد رضایت ہو، ہمارے درمیان قرآن کے مطابق فیصلہ کرے یہی میرے او ر تمھارے لئے اور فتنہ کو دور کرنے کے لئے بہتر راستہ ہے، اس مسئلہ میں خدا سے ڈرواور قرآن کے حکم کے مطابق راضی رہو اگر اس کے اہل ہو''۔(۲)

______________________

(۱) الامامة والسیاسة ج ۱ ص۱۰۴۔

(۲) الاخبارالطوال ص۱۹۱۔ وقعہ صفین ص۴۹۳۔


نیزہ پر قرآن کا بلند کرنا صرف ایک جھوٹی اور بیہودہ تبلیغ اور اختلاف کرنا تھا یہ قرآن سے فیصلہ بالکل نہیں چاہتے تھے لیکن معاویہ نے اس خط میں اس ابہام کو با لکل دور کر دیا اور دونو ں طرف سے آدمیوں کے انتخاب کو تحریر کیا اور خط کے آخر میں امام علیہ السلام کو تقویٰ اور قرآن کی پیروی کرنے کی دعوت دی۔

امام علیہ السلام کا جواب معاویہ کے نام

جھوٹ اور ظلم وستم ، انسان کے دین اور دنیا دونوں کو تباہ کردیتا ہے اور اس کی لغزش کو عیب نکالنے والوں کے سامنے ظاہر کردیتا ہے ،تو جانتا ہے کہ جو تو نے اس سے پہلے انجام دیا ہے اس کو پورا نہیں کرسکتا ایک گروہ نے بغیر حق کے عہدو پیمان توڑ دیا اور خلافت کا دعویٰ کردیا اور خدا وند عالم کے صریحی حکم کی تاؤیل کردی اور خدا وند عالم نے ان کے جھوٹ کو ظاہر کردیا، اس دن سے ڈرو کہ جس دن کا م کی تعریف ہوگی تو وہ خوشحال ہوگا، اور جس شخص نے اپنی رہبری کو شیطان کے ہاتھوں میںسپرد کردیا ہے اور اس سے جنگ کے لئے نہیں اٹھا،شر مندہ و پشیمان ہوگا۔دنیا نے اسے دھوکہ دیا ہے اور اس سے دل لگایا ہے ،مجھے حکم قرآن کی دعوت دی ہے جب کہ تو خود ایسا نہیں ہے میں نے تجھے جواب نہیں دیا ہے لیکن قرآن کے فیصلے کو قبول کیا ہے۔(۱)

اشعث بن قیس جو پہلے ہی دن سے معاویہ کا جاسوس سمجھا جاتا تھا اور جنگ کے دوران بھی اکثر یہ چیزیں دیکھنے کو ملیں، اس مرتبہ اس نے اصرا ر کیا کہ معاویہ کے پاس جائے اور نیزہ پر قرآن بلند کرنے کی وجہ اس سے دریافت کرے،(۲)

اشعث کی دوستی امام علیہ السلام سے سچی نہ تھی، اس کے ذہن میں صلح کا خیال معاویہ کے بھائی عتبہ سے گفتگو کرنے کے بعد ہی آیاتھا۔ لیلة الہریر میں جنگ جاری رکھنے کو اس نے دونوں طرف کی تباہی سے تعبیر کیا اور'' رفع المصاحف'' (قرآن کو نیزے پر بلند کرنے کا واقعہ)فتنہ کے واقع ہونے کے وقت اس

______________________

(۱)دونوںخط کوابن مزاحم منقری نے ''وقعہ صفین ''ص۴۹۴،۴۹۳ اور ابن اعثم کوفی نے کتاب ''الفتوح'' (ج۳،ص۳۲۲) میں نقل کیا ہے امام علیہ السلام کا خط تھوڑ ے فرق کے ساتھ نہج البلاغہ(مکتوب نمبر۴۸) میں بھی آیا اور نہج البلاغہ سے بھی مختصر دینوری نے اخبار الطوال ص ۹۱ میں ذکر کیا ہے۔

(۲) تاریخ طبری ج۳جزء ۶ص۲۸۔ کامل ابن اثیرج ۳ص۱۶۱


نے بہت اصرار کیا کہ علی علیہ السلام فوج ِشام کی دعوت کا جواب دیں، وہ فوج کی خستگی سے متعل بات کہتا تھا، اس مرتبہ اس نے اجازت مانگی کہ معاویہ سے ملاقات کرے اور صلح کے متعلق آخری حکم کومعلوم کرے، اور اسی بحث میں ہم انشأاللہ ذکر کریں گے ، کہ اس نے امام علیہ السلام سے نمائندہ معین کرنے کی قدرت کو سلب کر لیا اور حضرت کے مورد نظر نمائندے کوبہانہ سے پیچھے کردیا، اور اپنے مورد ِنظر شخص کو معین کرایا جو عراقی فوج کے لئے نقصان دہ تھا،جی ہاں اشعث نے معاویہ سے ملاقات کے بعد کوئی نئی بات نہیں بتائی اور معاویہ کے خط کے موضوع کو دہرایا۔

مسلّح گروہ کے اصرار نے امام علیہ السلام کو مجبور کردیاکہ قرآن کے فیصلہ کو قبول کریں ، اسی وجہ سے دونوں فوج کے قاری فوج کے درمیان آئے اور قرآن کو دیکھا اور ارادہ کیا کہ قرآن کے حکم کوزندہ کریں پھر اپنی اپنی جگہ واپس چلے گئے اور دونوں طرف سے آواز بلند ہوئی کہ ہم لوگ قرآن کے حکم اور فیصلہ پر راضی ہیں۔(۱)

حکمین کا انتخاب

اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن بولتا نہیں بلکہ ضروری ہے کہ قرآن پر عبور رکھنے والے اسے بلوائیں اور اس میں غور و فکر کریں اور خدا کے حکم کو تلاش کریں تاکہ کینہ و دشمنی سے دوری اختیار کریں، اس ہدف تک پہونچنے کے لئے یہ طے پایا کہ شامیوں میں سے اور عراقیوں میں سے کچھ لوگ معین ہوں ،شام کے لوگ بغیر کسی قید و شرط کے معاویہ کے پیرو تھے کہ وہ جس کو بھی منتخب کرتا اسے قبول کرتے اور سبھی جانتے تھے کہ وہ فتنہ و فساد کا موجد عمروعاص کے علاوہ کسی کو منتخب نہیں کرے گا، مشہورمثل کے مطابق کہ شام کے لوگ مخلوق کے سب سے زیادہ فرماں برداراور خدا کے سب سے نا فرمان افراد تھے۔

لیکن جب امام علیہ السلام کی باری آئی تودباؤڈالنے والوںنے (جنہوں نے بعد میں اپنا نام خوارج رکھا اور حکمیت کے مسئلے کو گناہ کبیرہ سمجھا اور خو د اسے قبول کرنے سے توبہ کی اور علی علیہ السلام سے بھی کیا کہ توبہ کریں)دوچیز کے لئے حضرت پر دباؤ ڈالا۔

_______________________________

(۱ ) تاریخ طبری ج۳جزء ۶ص۲۸۔ کامل ابن اثیرج ۳ص۱۶۱


۱۔ حکمیت کو قبول کریں۔

۲۔ اپنے اعتبار سے حکم کا انتخاب ، نہ کہ امام علیہ السلام کی نظر کے مطابق،تاریخ اسلام کے اس حصہ کوجو واقعا درس عبرت ہے،ہم اسے تحریر کر رہے ہیں۔

دباؤ ڈالنے والے: ہم ابو موسیٰ اشعری کو حکمیت کے لئے منتخب کر رہے ہیں۔

امام علیہ السلام : میں ہر گز اس کام پر راضی نہیں ہوں اور ہرگز اسے یہ حق نہیں دوں گا۔

دباؤ ڈالنے والے: ہم بھی اس کے علاوہ کسی کو منتخب نہیں کریں گے یہ وہی ہے جس نے ابتداء سے ہی ہم لوگوں کواس جنگ سے منع کیا اور اسے فتنہ قرار دیا۔

امام علیہ السلام : ابو موسیٰ وہ شخص ہے جو خلافت کے پہلے ہی دن مجھ سے جدا ہوگیا اور لوگوں کو میری مدد کرنے سے منع کیا اور اپنی برائی کی وجہ سے بھاگ گیا یہاں تک کہ اسے امان دیا اور پھر میر ی طرف واپس آگیا، میں ابن عباس کو حاکم کے طور پر منتخب کر رہا ہوں۔

دباؤ ڈالنے والے: ہمارے لئے تمھارے اور ابن عباس میں کوئی فرق نہیں ہے، ایسے شخص کو منتخب کروتمھارے اور معاویہ کے لئے مساوی ہو۔

امام علیہ السلام : مالک اشتر کو اس کام کے لئے منتخب کروں گا۔

دباؤ ڈالنے والے: اشتر نے جنگ کی آگ کو بھڑکایا ہے اور اس وقت ہم لوگ ان کی نظر میں مرم ہیں۔

امام علیہ السلام : اشتر کا کیا حکم ہے؟

دباؤ ڈالنے والے: وہ چاہتا ہے کہ لوگوں کی جان چلی جائے تاکہ اپنی اور تمھاری آرزو پوری ہو جائے ۔

امام علیہ السلام: اگر معاویہ حاکم کے انتخاب میں ہر طرح سے آزاد ہے تو قرشی (عمروعاص) کے مقابلے سوائے قرشی (ابن عباس) کے کوئی اور منا سب نہیں ہے تم لوگ بھی اس کے مقابلے میں عبد اللہ بن عباس کو منتخب کرو، کیونکہ عاص کا بیٹا کوئی گرہ نہیں باندھتا مگر یہ کہ ابن عباس اسے کھول دیتے ہیںیا گرہ کو نہیں کھولتا مگر یہ کہ اسے باندھ دیتے ہیں کسی چیز کو وہ مضبوط و محکم نہیں کرتا مگر یہ کہ ابن عباس اسے اور کمزور کر دیتے ہیں اور کسی کام کو کمزور نہیں کرتا مگر یہ کہ اسے محکم کردیتے ہیں۔


اشعث : عمر وعاص اور عبد اللہ بن عباس دونوں قبیلہ مضَر سے ہیں اور دومضَری ایک ساتھ فیصلے کے لئے مناسب نہیں ہیں کہ بیٹھیں، اگر ایک مضَری ہو(مثلاً عمرو عاص) تو ضروری ہے کہ حتماً دوسرا یمنی (ابو موسیٰ اشعری) ہو۔ کسی نے اس شخص (اشعث) سے نہ پوچھا کہ اس قانون پر تمھارے پا س کیا دلیل ہے)

امام علیہ السلام :مجھے اس با ت کا ڈر ہے کہ تمھار ا یمنی دھوکہ نہ کھا جائے کیونکہ عمروعاص ایسا شخص ہے جو اپنے مقصد کو پورا کرنے میں کسی کام سے بھی نہیں ہچکچاتا۔

اشعث: خدا کی قسم جب بھی ان دو حکم میں سے ایک یمنی ہوگا تو یہ میرے لئے بہترہے اگر چہ وہ ہماری خواہش کے مطابق فیصلہ نہ کرے اورجب بھی دونوں مضَری ہوں تو ہمارے لئے نقصان دہ ثابت ہوں گے اگرچہ وہ ہمارے اعتبار سے فیصلہ کریں۔

امام علیہ السلام : اس وقت تم لوگ ابو موسیٰ اشعری کے لئے اصرار کررہے ہو تو تم خود ذمہ دار ہو، جو تمھارا دل چلے چاہے کرو۔(۱)

ابوموسیٰ اشعری جس وقت کوفہ کا سردار تھا اس وقت اس نے لوگوں کو امام کی ہمراہی میں جنگ جمل کے فتنہ میں جانے سے روک دیا تھا اور اس نے پیغمبر کی حدیث کو بہانہ بنایا تھا کہ پیغمبر نے فرمایا کہ ''جب بھی میری امت میں فتنہ و فساد پیدا ہو تو کنارہ کشی اختیار کرو'' اس وقت ایسا شخص چاہتا ہے کہ حکمیت کے مسئلے میں امام کی نمائندگی کرے، اس کی گزشتہ سادگی میں کوئی شک نہیں ، کیونکہ طبعاً امام کا مخالف تھا اور ہر گز وہ امام کے حق میں رائے نہیں دیتا۔

امام علیہ السلام نے دباؤ ڈالنے والے گروہ کوباطل اور نقصان دہ نظریہ سے واپس لانے کی دوبارہ کوشش نہیں کی۔اس وجہ سے اپنے تمام سرداروں کو ایک جگہ جمع کیا اور تمام مطالب کو مجمع عام میں اس طرح بیان کیا۔

''آگاہ رہو کہ شامیوں نے تو اپنے نزدیک ترین فرد کا انتخاب کر لیا ہے اور تم نے حکمیت کے لئے

______________________

(۱) الاخبار الطوال ص۱۹۲۔الامامةولسیاسة ج۱،ص۱۱۳۔ تاریخ یعقوبی ج ۲ص۱۸۹۔ وقعہ صفین ص۴۹۹۔


ایسے نزدیک تریک فرد کو لوگوں کے درمیان سے منتخب کیا ہے (ابو موسی) جس سے تم راضی نہیں ہو : تمھارا واسطہ عبداللہ بن قیس(۱) سے ہے، یہ وہی شخص ہے جو کل تک کہتا پھرتا تھاکہ''کہ جنگ، فتنہ ہے کمانوں کے چلّے توڑ ڈالو، اور اپنی تلواروں کو نیاموں میں رکھ لو''۔

تو اگر وہ اپنے اس قول میں سچھاتھا تو تمھارے ساتھ جنگ میں زبردستی کیوں شامل ہوا اور اگر جھوٹا تھا تو اس پر (نفاق کی)تہمت لازم ہے (پھر اس پر اعتماد کیسا؟) عمروعاص کے سینے کا راز توڑنے کے لئے عبد اللہ ابن عباس کو منتخب کرو، اور اس موقع کوہاتھ سے نہ جانے دو اور اسلامی سرحدوں کو نہ چھوڑو، کیا تم نہیں دیکھتے کہ تمھارے شہروں پر حملے ہورہے ہیں اور تمھاری سرزمین پر تیر اندازی کی جارہی ہے۔(۲)

اما م علیہ السلام کی باتوں کا سرداروں پر صرف ملاقات کے علاوہ کچھ اثر نہ ہوا، اس وجہ سے احنف بن قیس نے امام علیہ السلام سے کہا: میں نے ابو مو سیٰ کو آزمایا ہے اور اسے معمولی عقل والا پایا ہے یہ وہ ہے جس نے اسلام کے آغاز میں ان لوگوں سے مقابلہ کیا اگر آپ راضی ہوں تو مجھے حکمیت کے لئے چن لیجیۓ اور اگر مصلحت نہ ہوتو مجھے دوسرا یا تیسرا قرار دیجئے تاکہ آپ دیکھ لیجیۓ کہ عمرو عاص گرہ نہیں باندھ سکتا مگر یہ کہ میں اسے کھول دوں گا اور گرہ کو نہیں کھولے گامگر یہ کہ میں اسے باند ھ دوں گا،امام علیہ السلام نے احنف کی نمائندگی کو فوج کے سامنے پیش کیا لیکن وہ لوگ اتنے گمراہ اور جھگڑالو تھے کہ ابو موسیٰ کی نمائندگی کے علاوہ کسی کو رائے نہیں دیااور یہ انتخاب اس قدر نقصان دہ ہواکہ شام کے ایک شاعر نے اپنے شعر میں اس حقیقت کو واضح کیا ہے وہ کہتا ہے:''اگر عراق کے لوگوں کے پاس صحیح رائے ہوتی تو ان لوگوں کو گمراہی سے محفوظ رکھتی اور ابن عباس کو لوگ منتخب کرتے لیکن یمن کے بوڑھے کو منتخب کیا جو شش و پنج میں گرفتار ہے علی تک اس شخص کی بات پہونچا دو جو حق بات کہنے میں کسی کی پرواہ نہیں کرتا ابو موسیٰ اشعری امانتدار نہیں ہے۔(۳)

______________________

(۱) ابو موسیٰ اشعری کا نام ہے۔

(۲)نہج البلاغہ عبدہ خطبہ۲۳۳۔ عقدالفرید ۴،ص۳۰۹۔کامل مبّرد،ج۱،ص۱۱۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۱۳، ص۳۰۹۔

(۳) وقعہ صفین ص۵۰۲۔ الاخبار الطوال ص۱۹۳۔


ہم آئندہ ذکر کریں گے کہ یہی لوگ جنہوں نے امام علیہ السلام پر معاویہ سے صلح کرنے کے لئے دباؤ ڈالا تھا اور حَکَم انتخاب کرنے میں آپ کے نظریہ کو رد کردیا تھا وہی پہلے لوگ ہیں جنہوں نے حکمیت کے موضوع کو بہت بڑا گناہ سمجھا اور صلح نا مہ لکھنے کے بعد امام علیہ السلام سے اس کے توڑنے پر اصرار کر نے لگے لیکن افسوس کہ امام عہد و پیمان کو کیسے توڑیں اور دوبارہ مقدس نما کم عقلوں کی بات پر عمل کریں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ حکمیت کی عبارت کس طرح لکھی گئی اور کیا تیسری مرتبہ بھی امام علیہ السلام دباؤ ڈالنے والوں کے دبائو میں رہے۔

تحمیل عہد حَکمیت

سر زمین صفین پر واقعۂ حکمیت تاریخ ِ اسلام کابے نظیر واقعہ شمار ہوتا ہے امیر المومنین علیہ السلام جو فتح و کامیابی سے دو قدم کے فاصلے پر تھے اور اگر آپ کے بے خبر اور نادان ساتھی آپ کی حمایت سے منہ نہ موڑتے یاکم سے کم ان کے لئے زحمت کا باعث نہ بنتے ، تو فتنہ کی آنکھ کو اس کے ڈھیلے سے نکال لیتے اور بنی امیہ کی خبیث حکومت جو بعد میں ۸۰ سال یا اس سے کچھ زیادہ طولانی ہوئی اسے ختم کردیتے اور تاریخ اسلام اور مسلمانوں کے تمدن کو تبدیل کردیتے ، اور عمر وعاص کی چالاکی اور بعض لوگوں کے دھوکہ کھانے ، اور اپنے نادان سپاہیوں کی ہٹ دھرمی کو جنگ جاری رکھنے اور کامیابی تک پہونچنے کے لئے مانع ہوئے۔

ان نادان دوستوں نے جو دانا دشمنوں سے زیادہ ضرر رساں تھے چار چیزوں کے بارے میں امام علیہ السلام پر دباؤ ڈالاکہ جس کا دھواںپہلے ان کی آنکھوں میں پھر تمام مسلمانوں کی آنکھوں میں گیا اور یہ ہیں۔

۱۔ جنگ بندی کو قبول کرنا اور قرآن و سنت پیغمبر کی حکمیت قبول کرنا۔

۲۔ ابو موسیٰ اشعری کو امام علیہ السلام کے نمائندہ کے طور پر چُننا۔

۳۔ حکمیت کے عہد و پیمان کی تحریر سے لقب ''امیر المومنین''کاخدف کرنا۔

۴۔ حکمیت کے عہد و پیمان کو دستخط کے بعد اس کوتوڑنے پر اصرار۔

گزشتہ بحثوں میں پہلے اور دوسرے دباؤ کے طریقے کو واضح کیا ہے اب تیسرے اور چوتھے دباؤ کے طریقے اور صلح نامہ کی عبارت کو پیش کر رہا ہوں۔


قرآن کو نیزے پر بلند کرنے کی سیاست کے بعد جنگ اور بحث و مباحثہ ختم ہو گیا اور یہ طے پایا کہ دونوں فوج کے سردار حکمیت کے عہد و پیمان کو تنظیم کر دیں ایک طرف امام اور آپ کے ساتھی ، دوسری طرف معاویہ اور اس کی دوسری عقل یعنی عمر و عاص اور اس کی حفاظت کرنے والوں میں سے کچھ لوگ معین ہوئے۔ عہد نامہ کے لئے دو زرد ورق جس کے شروع اور آخر میں امام علیہ السلام کی مہر جس پر''محمد رسول اللہ(ص)''کندہ تھا اسی طرح معاویہ کی مہر جس پر یہی ''محمد رسول اللہ(ص)''لکھا تھا مہر لگا کر تیار کیا گیا اما م علیہ السلام نے صلح نامہ کی عبارت لکھوائی اور آپ کے کاتب عبید اللہ بن رافع نے لکھنے کی ذمہ داری سنبھالی امام علیہ السلام نے اپنی گفتگو کا آغاز اس طرح کیا:

''بسم اللّه الرحمن الرحیم هٰذا ماتقاضٰا علیه علی امیر المومنین و معاویة ابن ابی سفیان وشیعتهما فیماتراضیٰا به من الحکم بکتاب اللّه وسنّة نبیهِ(ص)''

امیر المومنین علی اور معاویہ اور دونوں کی پیروی کرنے والوں نے یہ فیصلہ کیاہے کہ کتاب خدا اور پیغمبر کی سنت کے مطابق حکم کو مانیں گے۔

اس وقت معاویہ اپنی جگہ سے اچھل پڑا اور کہنے لگا: وہ بہت برا آدمی ہے جو کسی کو''امیر المومنین'' کے عنوان سے قبول کرے اور پھر اس سے جنگ کرے ، عمرو عاص نے فوراً امام علیہ السلام کے کاتب سے کہا علی اور ان کے باپ کا نام لکھو وہ تمھارا امیر ہے نہ کہ ہمارا ، احنف امام علیہ السلام کے بہادرسردار نے امام سے کہا آپ اپنے نام کے ساتھ اپنے لقب امیر المومنین کو حذف نہ کیجیۓ میں ڈر رہا ہوں کہ دوبارہ یہ لقب آپ تک نہ پہونچ سکے اس کی طرف زیاوہ دھیان نہ دیجیۓ چاہے جنگ و جدال ہی کیوں نہ ہو ،گفتگو طولانی ہوگئی اور دن کاکچھ حصہ اسی گفتگو میں گزر گیا اور امام علیہ السلام اپنے نام کے ساتھ امیر المومنین حذف کرنے کیلئے راضی نہ ہوئے، اشعث بن قیس ، جو پہلے ہی دن سے دوستی کا لباس پہن کر اما م علیہ السلام کے خلاف کام کر رہا تھا، اور معاویہ سے مخفیانہ رابطہ رکھے تھا اس نے بہت اصرار کیا کہ لقب حذف کردیا جائے،اس کشمکش میں امام علیہ السلام نے ''صلح حدیبیہ''جیسے تلغ واقعۂ کو بیان کیا اور فرمایا: میں حدیبیہ کی سر زمین پر پیغمبر اسلام (ص)کا کاتب تھا ایک طرف خدا کا پیغمبراور دوسری طرف سہیل بن عمرو تھے میں نے صلح نامہ کو اس طرح سے منظم کیا '' ھذا ماتصالح علیہ محمد رسول اللّہ(ص)صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم و سھیل بن عمرو'' لیکن مشرکین کے نمائندے نے پیغمبر سے کہا، میں ہرگز ایسے خط پردستخط نہیں کروں گا جس میں تم اپنے کو ''خدا کا پیغمبر '' لکھو گے،


اگر میں مانتا کہ تم خدا کے نبی ہو تو ہرگز تم سے جنگ نہیں کرتا، میر ا ظالم و ستمگر میں شمار ہو کہ تمھیں خدا کے گھر کے طواف سے روک دوں جب کہ تم خدا کے پیغمبر رہو تم یہ لکھو،''محمد بن عبد اللہ'' تاکہ میں اسے قبول کرلوں۔

اس وقت پیغمبر نے مجھ سے فرمایا علی، میں خدا کا نبی ہوں جس طرح سے کہ عبد اللہ کا بیٹا ہوں ہرگزمیری رسالت عنوان''رسول اللہ(ص)'' میرے نام سے حذف ہونے سے ختم نہیں ہوگی ، لکھو، محمد بن عبداللہ ہاں۔اس دن مشرکوں نے مجھ پربہت زیادہ دباؤ ڈالا کہ ''رسول اللہ(ص)'' کا لقب حضرت کے نام کے آگے سے ہٹا دوں۔ اگر اس دن پیغمبر اسلام نے صلح نامہ مشرکوں کے لئے لکھا تو آج میں ان کے فرزندوں کے لئے لکھ رہا ہوں میر ا اور پیغمبر ِخدا کا طور طریقہ ایک ہی ہے۔

عمر و عاص نے علی علیہ السلام سے کہا سبحان اللہ ہم لوگوں کو کافروں سے شبیہ دے رہے ہیں جب کہ ہم لوگ مومن ہیں ،امام علی السلام نے فرما یا کونسا ایسا دن تھا کہ تو کافروں کا حامی اور مسلمانوں کا دشمن نہ تھا،تو اپنی ما ں کی طرح ہے جس نے تم کو پیدا کیا ہے یہ سننے کے بعد عمروعاص وہاں سے اٹھ کے چلا اور کہا خدا کی قسم آج کے بعد کبھی بھی تمھارے ساتھ ایک جگہ نہیں بیٹھوں گا۔

امام علیہ السلام کے دوست نما لوگوں کے اس اصرار نے کہ امیر المومنین لقب کو اپنے نام کے ساتھ نہ لکھیں ،امام علیہ السلام کی مظلومیت کو اور بڑھا دیا۔(۱) لیکن امام علیہ السلام کے کچھ سچے اور حقیقی ساتھی تلواریں کھینچے ہوئے امام علیہ السلام کے پاس آئے اور کہا حکم دیجیۓ تا کہ ہم اس پر عمل کریں عثمان بن حنیف نے ان لوگوں کو نصیحت کی اور کہا میں صلح حدیبیہ میں موجو د تھا اور ہم فی الحال پیغمبر اسلام(ص)کے راستے پر چلیں گے۔(۲)

______________________

(۱) وقعہ صفین (دوسرا ایڈیشن )ص ۵۰۹،۵۰۸۔ الاخبار الطوال ص۱۹۴۔الامامةولسیاسة ج۱ص۱۱۴۔ تاریخ طبری ج۳جزئ۶ص۲۹ کامل بن اثیرج ۳،ص۱۶۲۔ تاریخ یعقوبی ج ۲ص۱۸۹۔ (تھوڑے فرق کے ساتھ) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۲ص۲۳۲۔

(۲) الامامة و السیاسة ج۱ص۱۱۲۔


اما م علیہ السلام نے فرمایا: پیغمبر اسلام (ص)نے حدیبیہ میں اس واقعہ کی مجھے خبر دی تھی یہاں تک کہ فرمایا:اِنَّ لَکَ مثلهٰا سَتُعطِیْهٰا وانت مضطهد'' ایک دن تمہیں بھی ایسا واقع پیش آئے گا اور تم بے بس و مجبور ہو گے

صلح نامہ کی عبارت

اس سلسلے میں دونوں طرف کا اختلاف امام علیہ السلام کے سکوت کرنے اور پیغمبر اسلام کے طریقے پر عمل کرنے سے ختم ہوا، اور علی علیہ السلام نے اجازت دی کہ ان کا نام بغیر لقب امیر المومنین کے لکھا جائے اور صلح نامہ لکھا جانے لگا جس کے اہم دفعات یہ ہیں:

۱۔ دونوں گروہ کے َحکمَ اس بات پر راضی ہوئے کہ قرآن کی رو سے فیصلے کریں اور اس کے حکم کی خلاف ورزی نہ کریں

۲۔ علی اور ان کی پیروی کرنے والوں نے عبداللہ بن قیس ( ابوموسیٰ اشعری) کو ناظر وحاکم کے عنوان سے چنا ہے اور معاویہ اور اس کی پیروی کرنے والوںنے عمروعاص کو اس کام کے لئے منتخب کیا ۔

۳۔دونوں آدمی خدا کی کتاب کو اپنا پیشوا قرار دیں اور اگر اس نے فیصلہ کردیا تواس سے آگے نہ بڑھیں اور جہاں وہ فیصلہ نہ کرسکے وہاں پیغمبر (ص) کی سیرت وسنت کی طرف رجوع کریں اور اختلاف سے پرہیز کریں اور خواہشات کی پیروی نہ کریں اور مشتبہ کاموں کو انجام نہ دیں ۔

۴۔ عبداللہ بن قیس اور عمروعاص میں سے ہر ایک نے اپنے پیشوا ورہبر سے الٰہی عہد لیا کہ یہ دونوں قرآن اور سنت کی بنیاد پرجو بھی فیصلہ ہو گا اس پر راضی رہیں گے اور اسے توڑیںگے نہیں اور نہ ان کے علاوہ کسی کو چنیںگے اور ان لوگوں کی جان ومال و عزت و آبرو اگر حق سے تجاوز نہ کریں تو محترم ہے۔

۵۔ اگر دونوں حاکموں میں سے کوئی ایک حاکم اپنے وظیفے کو انجام دینے سے پہلے مرجائے تو اس گروہ کا امام ایک عادل شخص کو اس کی جگہ پر معین کرے گا انھیں شرائط کے ساتھ جس طرح سے اس کو معین کیا گیا تھا اور اگر دونوں پیشوا ورہبر میں سے کوئی ایک فیصلہ کرنے سے پہلے مرجائے تو اس کے ماننے والے کسی کو اس جگہ پر معین کرسکتے ہیں ۔


۶۔ حاکمین سے یہ عہد لیا گیاکہ تلاش وکوشش میں غفلت نہ برتیں اور غلط فیصلہ نہ کریں اور اگر اپنے تعہد پر عمل نہ کریں تو اس عہد نامہ پرامت والوں کے لئے عمل ضروری نہیں ہوگا۔ اس عہد نامہ پر امیر اور امت اور حاکم کے لئیعمل کرنا لازم وواجب ہے اور اس کے بعد سے اس عہد نامہ کی مدت ختم ہونے تک لوگوں کی جان ومال وعزت وآبرو سب محفوظ ہے اور تمام اسلحے رکھ دیئے جائیںگے اور امن وامان کا ماحول پیدا کیا جائے گا اور اس سلسلے میں اس واقعہ میں حاضر رہنے والوں اور غائب رہنے والوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

۷۔ حاکمین پر لازم ہے کہ عراق وشام کے درمیان اجتماع ہو اور وہاں ان کے دوست واحباب کے علاوہ کوئی اور نہ جائے اور ان کو ماہ رمضان المبارک کے آخرتک فیصلہ کر دینا چاہیئے اور اگر چاہیں تو اس سے پہلے بھی فیصلہ کرسکتے ہیں اور اسی طرح اگر وہ لوگ چاہیں تو فیصلہ موسم تمام ہونے تک کرسکتے ہیں ۔

۸۔ اگر دونوں حاکم قرآن وسنت کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو مسلمان اپنی جنگ کو جاری رکھیں گے اور پھر دونوں فوجوں کے درمیان کوئی عہد وپیمان نہ ہوگا اور امت اسلامی کے لئے ضروری ہے کہ جو چیز اس میں تحریر ہے اس پر عمل کریں اوراگر کوئی زبردستی کرنا چاہے یا اس صلح کو توڑنے کا ارادہ کرے تو امت مسلمہ کو اور متحد ہونا چاہیے۔(۱) طبری کے نقل کے مطابق اس وقت دونوں طرف سے دس لوگوں نے پیمان حکمیت کے شاہد کے عنوان سے اپنے دستخط کئے، امام علیہ السلام کی طرف سے دستخط کرنے والوںمیں عبداللہ بن عباس، اشعث بن قیس ، مالک اشتر، سعید بن قیس ہمدانی ، خیّاب بن ارّت،سہل بن حنیف، عمرو بن الحمق الخزاعی اور امام علیہ السلام کے بیٹے امام حسن اور امام حسین تھے(۲) صلح نامہ ۱۷ صفر ۳۷ ہجری بروز بدھ عصر کے وقت لکھا گیا تھا اور دونوں طرف کے لوگوں نے دستخط کئے تھے(۳) حکمین نے چاہا کہ سرزمین '' اذرح '' ( شام وحجاز کے درمیان کی سرحدی جگہ ) میں جمع ہوں اور وہاں پر فیصلہ کریں اور دونوں طرف سے چار سو لوگ ناظر کے عنوان سے گئے تاکہ فیصلہ پر نگاہ رکھیں ۔

______________________

(۱)مروج الذھب ج۲ ص ۴۰۳۔ تاریخ طبری ج۳ جزئ۶ ص ۲۹۔ الاخبار الطوال ص ۱۹۵

(۲)تاریخ طبری ج، ۳ جزئ۶ ص ۳۰۔ وقعہ صفین ص ۵۱۰۔ کامل ابن اثیرج۳، ص۱۶۲

(۳)کامل ابن اثیر ج۳، ص ۱۶۳


تحکیم کے خلاف خوارج کا رد عمل

صلح نامہ لکھے جانے کے بعد طے پایا کہ شام اور عراق کے لوگ اس گفتگو کے نتیجہ سے باخبر ہوں ، اس وجہ سے اشعث نے عراقیوں اور شامیوں کے درمیان حکمیت کے صلح نامہ کو پڑھ کر سنایا پہلی مرتبہ کسی نے بھی کوئی مخالفت نہیں کی جب کہ بعض عراقی '' عنزہ'' وغیرہ نے مخالفت کی اور پہلی مرتبہ دو عنزی نوجوان معدان اور جعد کے منھ سے یہ نعرہ نکلا '' لا حکم الا للّٰہ ''اور دونوں جوانوں نے تلواریں کھینچیں اور معاویہ کی فوج پر حملہ کردیا اور معاویہ کے خیمے کے پاس مارے گئے اور جب اس صلح نامہ کو قبیلہ مراد کے سامنے پڑھا گیا تو اس قبیلے کے رئیس '' صالح بن شفیق '' نے ان جوانوں کے نعرے کو دھہرایا اور کہا '' لا حکم الااللّٰہ ولوکرہ المشرکون''پھر اس شعر کو پڑھا:

مالعلی فی الدماء قد حکم

لوقاتل الاحزاب یوماً ما ظلم

کیا ہوا کہ علی نے اتنے لوگوں کی شہادت کے بعد حکمیت کو قبول کرلیا حالانکہ اگر فوج ( معاویہ اور اس کے ہم فکروں) سے جنگ کرتے تو ان کے کام میں نقص نہ ہوتا۔

اشعث نے اپنا کام جاری رکھا اور جب وہ قبیلہ بن تمیم کے پرچم کے روبرو ہوا تو حکمیت کے صلح نامہ کو ان کے سامنے پڑھا تو ان کے درمیان سے یہ نعرہ بلند ہوا''لا حکم الا للّٰه یقضی بالحق وهو خیر الفاصلین''اور عروہ تمیمی نے کہا''أتحکّمون الرجال فی أمراللّٰه؟ لاحکم الّا للّٰه، أین قتلانایاأشعث ''(۱) یعنی کیا لوگوں کو دین خدا میں حَکَم قراردے لیا ہے؟حکم اور فیصلہ خدا کے لئے ہے اے اشعث ہمارے لوگ کیوںقتل کئے گئے ؟ ( کیا وہ لوگ حق کی راہ میں قتل ہوئے ہیں یا باطل کی راہ میں؟)پھر اپنی تلوار سے اشعث پر حملہ کیا لیکن وار اس کے گھوڑے پر لگا اور اشعث کو زمین پر گرادیا اور اگر دوسرے افراد مدد نہ کرتے تو اشعث عروہ تمیمی کے ہاتھوں قتل ہوجاتا۔

______________________

(۱) عروہ کا خیال یہ تھا کہ اس صلح نامہ سے پہلے عراقی فوج کے تمام کام غلط تھے لہٰذا سب کے سب جہنم میں جائیں گے ،وقعہ صفین ص ۵۱۲۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲ ص ۲۳۷۔ الاخبار الطوال ص۱۹۷۔ کامل ابن اثیر ج۳ ص ۱۶۳۔ مروج الذھب ج۲ ص ۴۰۳


اشعث نے عراقی فوج پھر امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور ایسے باتیں کرنے لگا جیسے امام علیہ السلام کے اکثر حامی حکمیت کے صلح نامہ پر راضی ہوں اور علاوہ ایک دوگروہ کے کوئی مخالف نہیں ہے لیکن زیادہ وقت نہ گزراتھا کہ چاروں طرف سے''لا حکم الا للّٰه ، والحکم للّٰه یا علیُّ لاٰ لکَ'' کا نعرہ بلند ہوگیا اور لوگ فریادبلند کرنے لگے ہم ہرگز اجازت نہیں دیں گے کہ دین خدا میں لوگ حاکم ہوں ( اور حکم خدا کو بدل ڈالیں ) خدا نے حکم دیاہے کہ معاویہ اور اس کے ساتھی قتل ہوجائیں یا ہمارے حکم کے تابع ہوجائیں حکمیت کا واقعہ ایک لغزش تھی جو ہم سے ہوگئی اور ہم لوگ اس سے پھر گئے اور توبہ کرلیا تم بھی اس سے منھ موڑ لو اور توبہ کرلو اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو ہم تم سے بھی بیزار رہیں گے۔(۱)

چوتھا دباؤ

امام علیہ السلام کے نادان اور بے وقوف ساتھی اس مرتبہ چوتھا دباؤ ڈال رہے تھے اور وہ یہ کہ امام علیہ السلام کے لئے ضروری تھا کہ اسی دن حکمیت کے صلح نامہ کو نظر انداز کردیتے اور اسے معتبر نہ جانتے ، لیکن اس مرتبہ امام علیہ السلام نے زبردست مقابلہ کیا اور ان لوگوں کے سامنے فریاد بلند کی ۔

( ویحکم،ابعد الرضا والعهد نرجع؟ ألیس اللّٰه تعالیٰ قد قال، اوفوا بالعقود ) (۲) ( وقال ، وأوفو ا بعهد اللّٰه اذا عاهدٰ تم ولا تنقضوا الایمان بعد توکیدها وقد جعلتم اللّٰه علیکم کفیلاً ان اللّٰه یَعلَم ما تفعلون ) (۳) ،(۴)

'' لعنت ہو تم پر ،اس وقت اب یہ باتیں کررہے ہو ؟ جب کہ راضی ہوگئے ہیں اور عہد کرلیا ہے تو دوسری مرتبہ جنگ کی طرف واپس آجائیں ؟ کیا خدا کا فرمان نہیں ہے کہ '' اپنے وعدوں کو وفا کرو'' او ر پھر خدا کہتاہے ، خدا کے عہد وپیمان پر جب کہ تم نے عہد کرلیا ہے تو وفا کرو اور قسم کھانے کے بعد اسے توڑو نہیں اور جب کہ اپنے کاموں پر خدا کو ضامن قرار دیا ہے اور خدا جو کچھ انجام دیتا ہے اس سے باخبرہے۔

_______________________________

(۱)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲ ص ۲۳۷۔ وقعہ صفین ص۵۱۳۔

(۲)سورہ مائدہ آیت ۱----(۳)سورہ نحل آیت ۹۱----(۴)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲، ص ۲۳۸


لیکن امام علیہ السلام کا کلام ان لوگوں پر اثر انداز نہ ہوا اور امام علیہ السلام کی پیروی سے منھ پھیر لیا اور حکمیت کے مسئلے کو گمراہی قراردیا اور امام علیہ السلام سے بیزاری کیا اور تاریخ میں '' خوارج '' یا ''محکمہ''کے نام سے مشہور ہوگئے اور اسلامی گروہوں میں سب سے زیادہ خطرناک گروہ بنایا۔

ان لوگوں نے کبھی بھی کسی حکومت سے تعلقات نہیں رکھا اور اپنے لئے خاص نظریہ اور روش اختیار کی ہم ''مارقین'' کی بحث میں تفصیلی طور پر ان لوگوں کی فکری غلطیوں کے بارے میں بحث کریں گے اور یہ بھی ذکر کریں گے کہ مسئلہ حکمیت ، دین میں لوگوں کو حکم قرار نہیں دینا تھا بلکہ دو گروہ کے درمیان اختلاف کے وقت قرآن و سنت پیغمبر کو حکم قرار دینا تھا اور یہ بہترین راستہ تھا ، گرچہ عمرو عاص نے یہ حربہ ،حلیہ و مکر سے اختیار کیا تھا۔

امام علیہ السلام اس سلسلے میں فرماتے ہیں :'' انا لم نحکّم الرجالُ وانما حکمنا القرآن وهذا القرآن انما هو خط مسطور بین الدفتین لاینطق بلسان ولا بد من ترجمان وانما ینطق عنه الرجال ، ولما دعانا القوم الیٰ ان نحکم بیننا القرآن لم نکن الفریق المتولی عن کتاب اللّٰه وقد قال سبحانه ( فان تنازعتم فی شئی فردّو ه الی الله والرسول) فرده الیٰ الله أن نحکم بکتابه ورده الی الرسول أن ناخذ بسنته (۱) '' ہم نے لوگو ں کو نہیں بلکہ قرآن کو حکم مقرر کیا اور یہ دفتیوں کے درمیان لکھی ہوئی کتاب ہے جو زبان سے نہیں بولتی اس کے لئے ترجمان ضروری ہے اور وہ ترجمان آدمی ہی ہوتے ہیں جو قرآن کی روشنی میں کلام کرتے ہیں ، جس قوم (اہل شام)نے ہم سے خواہش کی ہم اپنے اور ان کے درمیان قرآن مجید کو حکم قرار دیں تو ہم ایسے لوگ نہ تھے کہ اللہ کی کتاب سے منحرف ہوجاتے ، حالانکہ خداوند عالم فرماتا ہے کہ اگر تم کسی بات میں اختلاف کرنے لگو تو خدا اور رسول کی طرف اسے پھیر دو ، خدا کی طرف رجوع کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ہم اس کتاب کو حَکم مانیں اور رسول کی طرف رجوع کرنے کے معنی ہیں کہ ہم ان کی سنت ( طریقے) پر چلیں ''

______________________

(۱)نہج البلاغہ خطبہ ۱۲۵۔طبری نے اپنی تاریخ (ج، ۳ جزئ۶ ص۳۷)میں ۳۷ ہجری کے واقعات میں ا ور ابن اثیر نے اپنی کتاب کامل ( ج ۳، ص ۱۶۶) میں اس بات کو نہج البلاغہ سے مختصر طریقے سے لکھا ہے ۔ سبط ابن جوزی نے کتاب تذکرہ (ص۱۰۰) میں ہشام کلبی سے ،شیخ مفید نے ارشاد میں (ص، ۱۲۹) ۔طبرسی نے احتجاج (ج۱، ص ۲۷۵) میں اس خطبہ کو نقل کیا ہے ۔


امام علیہ السلام کا اس خطبہ کے ساتھ ایک اور جملہ بھی ہے جو توجہ کے لائق ہے امام فرماتے ہیں :

'' فاذا حکم بالصدق فی کتاب اللّه فنحن أحسن الناس به وان حکم بسنة رسول اللّٰه فنحن أولاهم به''

اگر سچائی کے ساتھ کتاب خدا سے حکم حاصل کیا جائے تو اس کی رو سے سب سے زیادہ ہم حق دار ہیں اور اگر سنت رسول کے مطابق فیصلہ کیا جائے تو ہم سب سے زیادہ اس کے اہل ہیں ۔

جی ہاں ! بالآخر جنگ صفین میں کئی مہینے تک امام علیہ السلام کا قیمتی وقت ضائع و برباد ہوا اور عراق کی فوج کے ۲۰ سے ۲۵ ہزار تک لوگ شہید ہوئے اور ۴۵ ہزار اور ایک قول کی بنیاد پر ۹۰ ہزار افراد فوج شام سے مارے گئے اور دونوں فوج ایک دوسرے سے دور ہوگئی اورلوگ اپنے اپنے شہروں کو واپس چلے گئے(۱)

قیدیوں کی رہائی

جب صلح نامہ لکھ گیا اور اس پر دستخط ہوگئے اور دونوں طرف بھیج دئے گئے تو اس وقت امیر المومنین نے دشمن کی فوج کے تمام قیدیوں کورہا کردیا ، ان قیدیوں کی رہائی سے پہلے ہی عمرو عاص اصرار کررہا تھاکہ معاویہ امام علیہ السلام کی فوج کے قیدیوں کو پھانسی دیدے جب معاویہ نے امام علیہ السلام کے اس عظیم کام کو دیکھا تو کانپنے لگا اور عاص کے بیٹے سے کہا ، اگر ہم لوگ قیدیوںکو قتل کردیتے تو دوستوں اور دشمنوں کے درمیان رسوا ہوجاتے۔

جنگ کے وقت دشمن کے قیدیوں کے ساتھ امام علیہ السلام کا طریقہ دوسرا تھا اگر کوئی قید ہوتا تو اسے آزاد کردیتے مگر یہ کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو،تو اس صورت میں قصاص ( جان کا بدلہ جان) کے طور پر قتل کردیا جاتاتھا اور اگر آزاد ہونے والا قیدی دوبارہ گرفتار ہوتا تھا تو بغیر کسی چوں چراں کے اسے پھانسی دیدی جاتی تھی کیونکہ دشمن کی فوج میں اس کا واپس جانا اس کی پلیدی وبری نیت کی عکاسی کرتاہے ۔(۲)

______________________

(۱)جنگ صفین ۱۷ صفر ۳۷ ہجری کو ختم ہوئی اور ۱۱۰ دن تک جاری رہی اور اس مدت مین ۹۰ مرتبہ حملہ ہوا۔ مسعودی نے التنبیہ والاشراف ،ص۲۵۶ مطبوعہ قاہرہ ۔ اور مروج الذھب (ج۲، ص۳۰۵) میں قتل ہونے والوں کی تعدادایک لاکھ دس ہزار لکھا ہے ( ۲۵ ہزار امام علیہ السلام کے فوجی اور ۹۰ ہزار معاویہ کے فوجی ) اور ایک قول کی بناء پر ۷۰ ہزار آدمی ( ۲۵ ہزار امام علیہ السلام کی طرف سے اور ۴۵ ہزار معاویہ کے فوجی) نقل ہو اہے ۔

(۲) وقعہ صفین ص ۵۱۸۔


حکمیت پر امام ـ کی نظارت

امام علیہ السلام صفین سے کوفہ جاتے وقت حکمیت کے واقعہ سے غافل نہ تھے اور ہمیشہ ضروری نکتوں کی طرف ابن عباس ( جو ۴۰۰ لوگ اس علاقے میں بھیجے گئے تھے) کو توجہ دلاتے رہے، معاویہ بھی حکمین کے کام سے غافل نہ تھا اور اس نے بھی ۴۰۰ لوگوں کو اس علاقے میں بھیجا امام علیہ السلام کے دوستوں اور معاویہ کے دوستوں میں فرق یہ تھا کہ شامی افراد آنکھ ، کان بند کئے ہوئے اپنے سرپرست کے مطیع وفرماں بردار تھے اور جب بھی معاویہ کی طرف سے کوئی خط پہونچتا تو کوئی بھی نہیں پوچھتا کہ معاویہ نے کیا لکھا ہے ، جبکہ جب بھی امام علیہ السلام کا خط ابن عباس کے پاس آتا اس وقت سب کی نگاہیں ابن عباس پر ہوتیں کہ امام علیہ السلام نے اسے کیا حکم دیا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ ابن عباس نے ان لوگوں کی مذمت کی اور کہا جب بھی امام علیہ السلام کی طرف سے کوئی پیغام آتاہے توتم لوگ پوچھتے ہو کہ کیا حکم آیا ہے اگر اسے نہ بتاؤں تو تم لوگ کہو گے کہ کیوں چھپادیا اور اگر اسے بیان کردوں تو یہ راز سب پر ظاہر ہوجائے گا اور پھر ہمارے لئے کوئی راز، راز نہیں رہ جائے گا۔(۱)

______________________

(۱) وقعہ صفین ص ۵۳۳۔ تاریخ طبری ج، ۳ جزئ۶ ص ۳۷۔کامل ابن اثیرج۳، ص۱۶۷۔ الاخبارالطوال ص ۱۹۸


اکیسویں فصل

امام ـ کی صفین سے کوفہ کی طرف روانگی

حکمیت کا مسئلہ ایک ایسا امر ہے جسے امام علیہ السلام نے زور وزبردستی اور تمام راستے بند ہوجانے کی صورت میں قبول کیا کیونکہ اگر اس کا مقابلہ کرتے تو خود اپنی فوج کے مخالفین ،معاویہ کی فوج کی مدد سے امام علیہ السلام سے جنگ کرنے کے لئے اٹھ جاتے جس کا انجام آپ اور آپ کے وفادار ساتھیوں کی بربادی کے علاوہ کچھ نہ ہوتا یہی وجہ ہے کہ جب حکمیت کے تعیین کا مسئلہ ختم ہوا تو امام علیہ السلام اپنے نمائندوں کو اعزام اور فیصلہ اور مشکلات کے رفع ،دفع کرنے اور اس پر ناظر وغیرہ معین کرنے کے لئے کوفہ واپس آگئے اور وہاں سے روانہ ہوتے وقت اس دعا کو پڑھا جو پیغمبر اسلام (ص) سے نقل ہوئی ہے : '' بارالٰہا سفر کی مشکلات اور غم سے نجات عطا کر اور اہل وعیال اور مال پر بری نظر ڈالنے والوں سے پناہ مانگتاہوں ۔

امام علیہ السلام نے اس دعا کو پڑھا اور فرات کے کنارے سے کوفہ کی طرف روانہ ہوگئے اور جب '' صندودائ''(۱) شہر کے پاس پہونچے تو قبیلہ بن سعید کے لوگ آپ کے استقبال کے لئے آئے اور خواہش ظاہر کی کہ ہمارے قبیلے میں تشریف لائیے اور ہمیں رونق بخشیں لیکن امام علیہ السلام نے ان کی دعوت قبول نہیں کیا(۲) آپ جب کوفہ کے نخلستان ( کھجور کے باغ) میں پہونچے تو ایک ضعیف شخص سے ملاقات ہوئی جو ایک گھر کے سائے میں بیٹھا تھا اور اس کے چہرے سے بیماری کے آثار نمایا ں تھے امام اور اس کے درمیان جو باتیں ہوئیں وہ یہ ہیں :امام علیہ السلام:تیرے چہرے کا رنگ کیوں اڑا ہے؟ کیا بیمار ہے؟

ضعیف :جی ہاں۔

امام علیہ السلام : بیماری کو اچھا نہیں سمجھتے؟

ضعیف : نہیں ، میں نہیں چاہتا کہ بیمار پڑوں۔

_______________________________

(۱) صندودائ، عراق وشام کے درمیان کا شہر ، معجم البلدان،یاقوت حموی

(۲) وقعہ صفین ص۵۲۸۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۲، ص ۸۶


امام علیہ السلام:کیا اس طرح کی بیماریاں خدا کے سامنے '' بہترین نیکی'' شمار نہیں ہوتیں؟

ضعیف : کیوں نہیں ؟

امام علیہ السلام : مبارک ہو خدا کی رحمت نے تمہارا احاطہ کیا ہے اور تمہارے گناہوں کو بخش دیا ہے ، تمہارا کیا نام ہے؟

ضعیف : میرا نام صالح بن سلیم ہے اور سلامان بن طیّ اور اس کے وفادار سلیم بن منصور قبیلے سے ہوں ۔

آپ نے خوش ہوکر فرمایا: تمہارا اور تمہارے باپ اور تمہارے وفاداروں کا نام کتنا بہترین ہے کیا ہماری جنگوں میں تم نے شرکت کی ہے؟

ضعیف:نہیں ، میں جنگ میں شریک نہیں ہوسکا لیکن اس کی طرف مائل تھا جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ جسم کی کمزوری نے جو بخار کی وجہ سے ہے مجھے ان کاموں سے روک دیا ہے۔

امام علیہ السلام: خدا کے کلام کو غور سے سنو وہ فرماتاہے:( لیس علی الضعفاء ولا علی المرضی ولا علی الذین لایجدون ماینفقون حرج اذا نَصحُوالله ورسوله ماعلی المحسنین من سبیل والله غفور رحیم ) (توبہ : ۹۱)( اے رسول جہاد میں نہ جانے کا ) نہ توکمزوروں پر کچھ گناہ ہے نہ بیماروں پراورنہ ان لوگوں پر جو کچھ نہیں پاتے کہ خرچ کریں بشرطیکہ یہ لوگ خدا اور اس کے رسول کی خیر خواہی کریں ، نیکی کرنے والوں پر (الزام) کوئی سبیل نہیں ہے اورخدا بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے۔

امام علیہ السلام : شامیوں کے ساتھ ہمارے کام کے متعلق لوگ کیا کہتے ہیں؟

ضعیف:آپ کے دشمن اس کام سے خوش ہیں لیکن آپ کے حقیقی دوست ناراض اور افسوس کرتے ہیں ۔

امام علیہ السلام : تم سچ کہتے ہو خدا تمہاری بیماریوں کو تمہارے گناہوں کی بخشش کا سہارا قرار دے اگرچہ بیماری کا کوئی اجر نہیں ہے مگر یہ کہ گناہ بخش دئے جاتے ہیں ، اجر و ثواب ، انسان کے کردار وگفتار پر منحصر ہے لیکن کبھی بھی حسن نیت (اچھی نیت) سے غفلت نہیں برتنا چاہیے کیونکہ خداوندعالم بہت زیادہ گروہوں کو ان کی بہترین نیت کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا امام علیہ السلام اتنا کہنے کے بعد


اپنے سفر پر روانہ ہوگئے۔(۱)

ابھی امام علیہ السلام نے تھوڑا ہی راستہ طے کیا تھا کہ عبداللہ بن ودیعہ انصاری سے ملاقات ہوئی آپ نے چاہا کہ معاویہ کے ساتھ صلح کے متعلق لوگوں کے نظریہ سے آگاہی پیدا کریں لہٰذا اس کے ساتھ کچھ دیر گفتگو ہوئی جسے ہم یہاں نقل کرتے ہیں۔

امام علیہ السلام : ہمارے کاموں کے بارے میں لوگوں کا کیا نظریہ ہے؟

انصاری : آپ کے متعلق لوگوں کے دو نظریے ہیں بعض لوگوں نے اسے پسند کیا ہے اور بعض لوگ اس سے ناراض ہیں اور ( قرآن کی تعبیر کے مطابق''ولا یزالون مختلفین '')ہمیشہ اختلاف کے خواہاں ہیں ۔

امام علیہ السلام: عقلمندوں کا کیا نظریہ ہے؟

انصاری: ان لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھ گروہ علی کے ساتھ تھے لیکن علی نے انہیں دور کردیا بہترین قلعہ تھا لیکن اسے ویران کردیا اب علی کب ان لوگوں کو اپنے پاس بلائیں گے جنہیں دور کردیا ہے اور جس قلعہ کو ویران کیا ہے اسے کب آباد کریں گے؟ اگر وہ اسی گروہ کے ساتھ جو ان کے تابع تھے جنگ کو جاری رکھتے تو یا تو کامیاب ہوجاتے یا ختم ہوجاتے انہوں نے عقلمندی اور بہترین سیاست سے کام انجام دیا تھا۔

امام علیہ السلام : میں نے ویران کیا ہے یا ان لوگوں (خوارج) نے؟ میں نے ان لوگوں کو دور کردیا یا ان لوگوں نے اختلاف اور تفرقہ ایجاد کیا؟ اور جو یہ کہتے ہو کہ حسن تدبیر یہ تھی کہ جس وقت کچھ لوگوں نے میرے خلاف بغاوت کیا تھا تو میں اپنے وفاداروں کے ساتھ جنگ جاری رکھتا یہ ایک ایسا نظریہ نہ تھاکہ میں اس سے غافل ہوتا، میں اس بات پر حاضر تھا کہ اپنی جان کو قربان کر دیتا او رموت کو خندہ پیشانی کے ساتھ گلے لگا تا لیکن حسن وحسین پر نہیں رویا اور دیکھا کہ وہ مجھ سے پہلے شہید ہونا چاہتے ہیں لہذا میں نے اس بات کا خوف محسوس کیا کہ ان دونوں کے مرنے سے پیغمبر اسلام (ص) کی نسل نہ منقطع ہوجائے لہٰذا اس کام کو نہیں پسند کیا خدا کی قسم اگر اس مرتبہ شامیوں سے مقابلہ ہواتو اس راہ کو انتخاب کروں گا اور ہرگز وہ دونوں

______________________

(۱) وقعہ صفین ص ۵۲۸۔ تاریخ طبری ج، ۳ جزئ۶ ص ۳۲


( حسن و حسین) میرے ساتھ نہ ہوں گے۔(۱)

امام علیہ السلام کے ساتھ انصاری کی صاف صاف باتیں دو مطلب کو واضح کرتی ہیں :

۱۔وہ ماحول جس میں امام علیہ السلام زندگی بسر کررہے تھے وہ آزاد ماحول تھا اور لوگوں کو یہ حق حاصل تھاکہ وہ حکومت وقت کے بارے میں اپنے افکار و نظریات کو پیش کرسکیں اور امام علیہ السلام کی نظر میں اپنے نظریہ کو ظاہر کرنے میں مخالف وموافق برابر تھے اور جب تک کہ مخالف اسلحہ نہیں اٹھاتااور حملہ نہیں کرتا مکمل آزاد رہتا تھا۔

۲۔پیغمبر اسلام (ص) کی نسل کی حفاظت کہ جسے قرآن کریم نے لفظ '' کوثر'' سے تعبیر کیا ہے اسلام کے واجبات سے اہم ہے اور اگر امام علیہ السلام معاویہ اور اپنے مخالفوں سے جنگ جاری رکھتے کہ جن کی تعداد کم نہ تھی تو خود امام علیہ السلام اور حسنین علیھم السلام شہید ہوجاتے اور پیغمبر اسلام (ص) کی نسل ختم ہوجاتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ خود '' امامت'' ہی ختم ہوجاتی ، جب کہ پروردگار عالم کا ارادہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ معصومین علیھم السلام کی نسل ظہور امام زمان علیہ السلام تک باقی رہے اسی لئے امام علیہ السلام نے حکمیت کو قبول کرلیا، اور تمام علتوں میں سے ایک یہ بھی علت تھی جس کی وجہ سے امام علیہ السلام نے اسے قبول کیا۔

______________________

(۱) تاریخ طبری ج، ۳ جزئ۶ ص ۳۸ ۔ کامل ابن اثیر ج۳، ص ۱۶۴،وقعہ صفین ص ۵۳۰،۵۲۹۔


امام ـ خباب بن ارت کی قبر پر

امام علیہ السلام چلتے چلتے بنی عوف کے گھروں کے پاس پہونچے راستے کے داہنی طرف ایک اونچی جگہ پر آپ نے سات یا آٹھ قبروں کو دیکھا امام علیہ السلام نے ان قبروں میں دفن کے نام پوچھے ، قدامہ بن عجلان ازدی نے جواب دیا ، آپ کے صفین جانے کے بعد خباب بن ارت کا انتقال ہوگیا اور اس نے خواہش ظاہر کی تھی کہ اسے بلند جگہ پر دفن کیا جائے یہاں پر اس کے دفن ہونے کی وجہ سے لوگوں نے اپنے مردوں کو بھی اس کے اطراف میں دفن کرنا شروع کردیا ، امام علیہ السلام نے خباب کے لئے رحمت ومغفرت طلب کرنے کے بعد اس کے متعلق کہا اس نے صدق دل سے اسلام قبول کیا اور اپنی مرضی سے ہجرت کیا تھا اور پوری عمر جہاد کیا اور پھر اس کا جسم کمزور ہوگیا خداوند عالم اچھے لوگوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا اور پھر وہاں پر دفن ہوئے تمام لوگوں کے بارے میں فرمایا:

'' اے خوفناک زمین اور بے آب وگیاہ محلہ میں رہنے والو! تم پر درود وسلام ہو اے مؤمن اور مومنات ، تم نے ہم پر سبقت حاصل کی ہم بھی تمہارے پیچھے آ رہے ہیں اور کچھ ہی دیر میں تم لوگوں سے ملحق ہوجائیں گے خدایا ہمیں اور ان لوگوں کو بخش دے اور ان کی اور ہماری غلطیوں کو معاف کردے۔ (پھرفرمایا)اس خدا کا شکر جس نے زمین کو مردوں اور زندوں کے جمع ہونے کی جگہ بنائی ، شکر اس خدا کا جس نے ہمیں پیدا کیا اور پھر ہم اسی کی طرف پلٹ کر جائیں گے اور اس کے سامنے حاضر ہوں گے کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو قیامت کو یاد کرتے ہیں اور حساب وکتاب کے دن کے لئے صحیح امور انجام دیتے ہیں


اور اپنے امور میں قناعت کرتے ہیں۔(۱)

پھر امام علیہ السلام نے اپنے سفر کو جاری کیا اور قبیلہ ہمدان کے گھروں کے پاس سے گزر رہے تھے کہ آپ نے عورتوں کے رونے کی آواز سنی ، جو جنگ صفین میں قتل ہونے والے اپنے رشتہ داروں پر رورہی تھیں۔

امام علیہ السلام نے شرحبیل کو بلایا اور کہا: کہ اپنی عورتوں سے کہو کہ صبر کریں اور چیخ و فریاد نہ کریں اس نے امام علیہ السلام کے جواب میں کہا: اگر بات صرف چند گھروں کی ہوتی تو اس درخواست پر عمل کرنا ممکن تھا لیکن تنہا صرف اس علاقے سے ۱۸۰ آدمی قتل ہوئے ہیں اور کوئی بھی ایسا گھر نہیں ہے جہاں گریہ وزاری نہ ہو لیکن ہم سب مرد ہرگز نہیں روتے بلکہ ہم لوگ ان کی شہادت پر بہت خوش ہیں ، امام علیہ السلام نے ان کے مرنے والوں پر رحمت کی دعا دی، امام علیہ السلام چونکہ گھوڑے پر سوار تھے اور شرحبیل نے چاہا کہ آپ کو کچھ دور جا کر خداحافظ کرے لہذا اس سے فرمایا: ارجع فان مشی مثلک فتنة لِلوالی ومذ لة للمومنین(۲) یعنی واپس چلے جاؤ کہ اس طرح سے مشایعت کرنا( کسی کو رخصت کرنے کے لئے تھوڑی دور جانا) حاکم کے غرور ارو مومنین کی ذلت کا سبب ہے۔

جب آپ کوفہ پہونچے تو چار سو لوگوں کو حکمین کے کاموں پر بعنوان ناظر معین کیا اور شریح کو فوج کا سردار اور ابن عباس کو مذہبی پیشوا معین کیا اور پھر وہ وقت آیا کہ اپنے زبردستی منتخب ہونے والے نمائندے

______________________

(۱) تاریخ طبری ج، ۳ جزئ۶ ص ۳۴ ۔ کامل ابن اثیر ج۳، ص ۱۶۴۔وقعہ صفین ص ۵۳۰،۵۲۹

(۲)وقعہ صفین ص ۵۳۱۔ تاریخ طبری ج، ۳ جزئ۶ ص ۳۵ ۔ کامل ابن اثیر ج۳، ص ۱۶۴


یعنی ابوموسیٰ اشعری کوبھیجیں(۱)

امام علیہ السلام اپنے دور خلافت کے آغا ز ہی سے اپنی خلافت ورہبری میں اس کی بے پرواہی سے باخبر تھے اور لوگ بھی اس کی سادگی اور بے وقوفی سے آگاہ تھے یہی وجہ ہے کہ اس کو بھیجنے کے وقت امام علیہ السلام اور لوگوں نے اس سے گفتگو کی اس میں سے بعض باتوں کو ہم یہاں نقل کررہے ہیں ۔

امام علیہ السلام اور ابو موسیٰ اشعری کے درمیان گفتگو

ابو موسیٰ اشعری کی بیوقوفی اور کم عقلی کودوست ودشمن سبھی جانتے تھے اور اسے (بغیر دھار اور قبضے کی چھری)اور کم ظرف کہتے تھے لیکن علی علیہ السلام کیا کرسکتے تھے؟ ان کے سادہ اور کم ظرف دوستوں نے جو ابوموسیٰ اشعری ہی کی صفت کے تھے امام کو دو چیزوں پر مجبور کردیا تھا۔کہ خود حکمیت کو قبول کریں اور حکم کے عنوان سے ابو موسی اشعری ہی ہو امام علیہ السلام نے ابو موسیٰ کو '' دومة الجندل'' بھیجتے وقت اس سے اور اپنے کاتب عبیداللہ بن ابی رافع سے اس طرح گفتگو کی:

امام علیہ السلام نے ابو موسیٰ سے کہا '' احکم بکتاب اللہ ولا تجاوزہ '' یعنی خدا کی کتاب کے مطابق فیصلہ کرنا اور اس سے تجاوز نہ کرنا۔

جب ابو موسیٰ روانہ ہوا تو امام علیہ السلام نے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس واقعہ میں ضرور دھوکہ کھائے گا۔

عبیداللہ : اگر واقعا ایسا ہے اور وہ دھوکہ کھائے گا تو پھر اسے کیوں بھیج رہے ہیں ؟

امام علیہ السلام :''لوعمِلَ اللّهُ فی خَلقِهِ بعلمه مااحتج علیهم بالرسل '' (۲) یعنی اگر خداوند عالم اپنے علم کے مطابق اپنے بندوں سے محاسبہ کرتاتو وہ پیغمبروں کو نہ بھیجتا اور ان کے ذریعے سے ان لوگوں پر اپنی دلیلیں قائم نہیں کرتا۔

______________________

(۱)وقعہ صفین ص۵۳۳،۔تاریخ طبری ج، ۳ جزئ۶ ص ۳۷ ۔مروج الذھب ج۲، ص ۴۰۶

(۲) مناقب ابن شہر آشوب ج۲، ص ۲۶۱


فوج کے سردار اور ابوموسیٰ اشعری کے درمیان گفتگو

سردار شریح بن ہانی جسے امام علیہ السلام نے چار سو آدمیوں پر مشتمل ایک گروہ کے ساتھ دومة الجندل بھیجا تھا اس نے ابو موسیٰ کا ہاتھ پکڑ کر کہا ، تمہارے کاندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے ایسا کام نہ کرنا کہ جس کی تعمیر ممکن نہ ہو، جان لو کہ اگر معاویہ نے عراق پر قبضہ کرلیا تو پھر عراق باقی نہ رہے گا لیکن اگر علی نے شا م پر قبضہ کرلیا تو شامیوں پر کوئی آفت ومشکل نہیں آئے گی تم نے امام علیہ السلام کی حکومت کے اوائل میں خاموشی اختیار کی ، اگرتم نے پھر ایسا کیا توجان لو کہ گمان یقین میں اور امید، نا امیدی میں بدل جائے گی۔

ابو موسیٰ اشعری نے اس کے جواب میں کہا : وہ گروہ جو ہم پر الزام لگارہا ہے اس کے لئے بہتر نہیں ہے کہ مجھے قاضی کے طور پر معین کریکہ باطل کو ان لوگوں سے دور اور حق کو ان لوگوں سے قریب کروں(۱) امام علیہ السلام کی فوج کے مشہور شاعر اور ابوموسیٰ کے دوست نجاشی نے اس کے لئے اشعار کہے جس میں اسے حق اور عدالت کی رعایت کرنے کی تاکید کی اور جب وہ اشعار ابوموسیٰ کو سنایا گیا تو اس نے کہا ، میری خدا سے دعا ہے کہ میرا نصیب چمک اٹھے اور خدا کی مرضی کے مطابق اپنے فریضہ کو انجام دوں ۔(۲)

______________________

(۱) الامامة والسیاسة ج۱، ص ۱۱۵۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۲، ص ۲۴۵

(۲) وقعہ صفین ص۵۳۴۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۲، ص ۲۴۷


ابو موسیٰ اشعری اور احنف کے درمیان گفتگو

سب سے آخر میں جس نے ابو موسیٰ اشعری کو خدا حافظ کیا وہ احنف تھا، اس نے ابو موسیٰ کا ہاتھ پکڑا اور اس سے یہ کہا اس کام کی عظمت کی قدر کرو اور جان لو کہ یہ کام جاری رہے گا اگر عراق کوبربادکیا تو پھر عراق ختم ہوجائے گا ، خدا کی مخالفت کرنے سے پرہیز کرو ، خدا دنیا وآخرت کو تمہارے لئے ذخیرہ کرے گا اگر آئندہ عمروعاص سے تمہاری ملاقات ہو تو تم پہلے سلام مت کرنا اگر چہ پہلے سلام کرنا مستحب ہے لیکن وہ سلام کے لائق نہیں ہے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں نہ دینا کیونکہ تیرا ہاتھ امت کی امانت ہے ممکن ہے کہ تجھے مجمع میں صدر جگہ پر بٹھائے تو جان لو کہ اس کام میں دھوکہ وفریب ہے اور اگر تم سے اکیلے میں بات کرنا چاہے تو اس سے پرہیز کرنا کیونکہ ممکن ہے وہاں کچھ لوگوں کو گواہ کے طور پر چھپائے رہے تاکہ بعد میں وہ لوگ تمہارے خلاف گواہی دیں۔

پھر احنف نے ابو موسیٰ کو آزمانے کے لئے کہ امام علیہ السلام سے اسے کتنا خلوص ہے اس سے یہ درخواست کی کہ ، اگر عمرو کے ساتھ امام علیہ السلام کے بارے میں توافق نہ ہوسکے تو اس سے درخواست کرنا کہ عراقی لوگ شام میں رہنے والے قرشیوں میں سے کسی کو بھی خلیفہ چن سکتے ہیں اور اگر اسے قبول نہ کیا تو دوسری درخواست کرنا اور وہ یہ کہ شامی لوگ عراقیوں میں سے کسی ایک کو بھی خلیفہ منتخب کرسکتے ہیں(۱)

ابو موسیٰ نے اس بات کو ، جس میں امام علیہ السلام کا خلافت سے معزول ہونا اور دوسرے خلیفہ کا انتخاب تھا، سنا لیکن اس نے کوئی عکس العمل نہ دکھایا۔

احنف فوراً امام علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور پورا واقعہ آپ سے بیان کیا اور کہا کہ ہم ایسے شخص کو اپنے حق کے ثابت کرنے کے لئے بھیج رہے ہیں جو آپ کے عزل اور دور ہونے کی پرواہ نہیں کرتا۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: '' ان اللّٰہ غالب علیٰ امرہ''احنف نے کہا یہ کام ہم لوگوں کی ناراضگی کا سبب ہے۔(۲)

______________________

(۱) الامامة والسیاسة ج۱، ص ۱۱۶۔وقعہ صفین ص۵۳۶۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۲، ص ۲۴۹

(۲) وقعہ صفین ص۵۳۷


سعد وقاص اور اس کا بیٹا عمر

سعد وقاص ان لوگوں میں سے تھاجس نے امام علیہ السلام کے ہاتھوں پر بیعت نہیں کیا تھا لیکن خود کو قضیے میں داخل نہیں کیا تھا اور جنگ صفین کی آگ بھڑکنے کے بعد وہ سرزمین بنی سلیم چلا گیا اور مستقل دونوں فوجوں کی خبروںسے آگاہ ہورہاتھا ، اسی فکر میں غرق تھا کہ ایک دن دور سے اسے سواری نظر آئی جو اسی کی طرف آرہی تھی لیکن جب نزدیک پہونچی تو معلوم ہوا کہ وہ اس کا بیٹا عمر ہے ( یہ وہی شخص ہے جس نے کربلا میں امام حسین اور آپ کے باوفا ساتھیوں کو قتل کیا تھا) باپ نے اس سے حالات معلوم کئے اور عمر نے جبری حکمیت اور دومة الجندل میں حکمین کے اجتماع کی خبر دی اور اپنے باپ سے کہا کہ اسلام کی آپ نے بہت خدمتیں کی ہیں لہٰذا آپ اس علاقے میں ضرور جائیں ،شاید کہ خلافت اسلامی پر آپ کا قبضہ ہوجائے ، باپ نے کہا، بیٹا خاموش رہو میں نے پیغمبر سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا


ہے کہ میرے بعد فتنہ برپا ہوگا اور بہترین شخص وہ ہے جو اس سے بچا رہے اور اس سے دور رہے ، خلافت کا مسئلہ ایک ایسا امر ہے کہ میں نے پہلے ہی دن سے اس میں دخالت نہیں کی اورآئندہ بھی داخل نہیں ہوؤں گا اور اگر بنا یہ ہو کہ میں اس میں دخالت کروں تو علی کا ساتھ دوں گا لوگوں نے تلوار سے مجھے ڈرایالیکن میں نے اسے آگ پر مقدم کیا۔(۱)

سعد وقاص نے دونوں طرف سے کسی ایک کی مدد کرنے کو فتنہ وفساد سمجھا اور اس کے نتیجہ واختتام کو آگ تصورکیا لیکن اس کے باوجود اس نے علی علیہ السلام کی شخصیت کو معاویہ پر ترجیح دیا اور اسی رات جو اس نے اشعار کہے تھے اس میں علی علیہ السلام کی تعریف اور معاویہ کی مذمت کی تھی اور کہا تھا:

ولو کنت یوماً لا محالة وافداً

تبعت علیاً والهویٰ حیث یُجعلُ

اگربنا ہو کہ کسی دن اس کام کے لئے اقدام کروں تو علی کی پیروی کروں گا یہاں تک کہ وہ راضی ہوں ، اس کے اندھے دل کے لئے بس اتنا ہی کافی ہے کہ امام علیہ السلام کی پیروی اور اطاعت جو غدیر خم میں سب پر واضح اور روشن ہوگئی اور عثمان کے قتل کے بعد تمام مہاجرین وانصار نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ، کو فتنہ میں داخل کرتاہے جب کہ ایسے امام سے منھ موڑنے والے کا انجام جہنم میں داخل ہونا ہے(۲)

______________________

(۱)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۲، ص ۲۴۹

(۲) وقعہ صفین ص۵۳۹


معاویہ کا حالات سے پریشان ہونا

بعض صحابہ اور ان کے بیٹے ،جنہوں نے علی علیہ السلام سے دور رہنے کے بعد بھی معاویہ کا ساتھ نہیں دیا تھا اور جنگ تمام ہونے کے بعد معاویہ کے کہنے پر شام آگئے تھے مثلا ً عبداللہ بن زبیر ، عبداللہ بن عمر، مغیرہ بن شعبہ '' معاویہ نے مغیرہ سے التجا کی کہ وہ اس کام میں اس کی مدد کرے اور اسے حکمین کی فکروں سے آگاہ کرے مغیرہ نے یہ ذمہ داری قبول کرلی اور دومة الجندل کے لئے روانہ ہوگیا اور حکمین کے نظریات معلوم کرنے کے لئے ہر ایک سے الگ الگ ملاقات کی ، سب سے پہلے اس نے ابو موسیٰ سے ملاقات کی اور کہا اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا نظریہ ہے جس نے اس اضطرابی کیفیت سے پرہیز اور قتل وخوں ریزی سے دوری اختیار کی ہے ؟ ابو موسیٰ نے کہا ، وہ لوگ نیک اور اچھے افراد ہیں ! ان کی پیٹھ خون کے بوجھ سے ہلکی اور ان کے پیٹ حرام مال سے خالی ہیں ۔

پھر اس نے عمرو سے ملاقات کی اور یہی سوال اس سے بھی کیا اس نے جواب دیاکہ کنارہ کشی کرنے والے بدترین لوگ ہیں نہ ان لوگوں نے حق کو پہچانا ہے اور نہ باطل کا انکار کیاہے ۔ مغیرہ شام واپس آگیا اور معاویہ سے کہا میں نے دونوں حکم کا امتحان لیا ، ابو موسیٰ ،علی کو خلافت سے دور کردے گا اور عبداللہ بن عمر جو اس واقعہ میں شریک نہیں ہوا تھا اسے خلافت دیدے گا لیکن عمرو عاص تمہارا قدیمی ساتھی ہے لوگوں کا کہنا ہے وہ خلافت خود لینا چاہتا ہے اور تجھے اپنے سے بہتر نہیں جانتا۔(۱)

______________________

(۱)وقعہ صفین ص ۵۳۹۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۲، ص ۲۵۱۔ کامل ابن اثیر ج۳، ص ۱۶۷۔


فتنہ حکمیت کا خاتمہ

وہ مسائل جن کے لئے ضروری تھا کہ دونوں طرف کے نمائندے اس موضوع پر گفتگو کریں اور اس کے حکم کو کتاب وسنت سے نکالیں اور امام علیہ السلام اور معاویہ کے ساتھیوں کو اس کی خبر کردیں وہ موضوع یہ ہیں :

۱۔ عثمان کے قتل کی تحقیق ۔

۲۔ امام علیہ السلام کی حکومت کا قانونی ہونا۔

۳۔ امام علیہ السلام کی قانونی حکومت سے معاویہ کی مخالفت اور اس کا صحیح ہونا۔

۴۔ وہ چیز جو ایسے حالات میں صلح کی ضامن بنے۔

لیکن افسوس کہ حکمین نے جس موضوع پر بحث وگفتگو نہیں کی وہ یہی چار موضوع تھے کیونکہ

ان میں سے ہر ایک خاص سابقہ ،تجربہ کے ساتھ حکمیت کے میدان میں وارد ہوا اور اپنی ہی خواہش کے مطابق حکم چلانا چاہا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان موضوعات کاحکمین سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔

حکمین اور نظارت کرنے والوں کے بہت دنوں تک دومة الجندل میں رہنے کی وجہ سے اسلامی معاشرے کے اندر تشویش اور خوف کا سماں بن گیا اور ہر آدمی طرح طرح کی باتیں سوچ رہا تھا عجلت کرنے والے ، اسی طرح کم عقل لوگ کچھ اور فکر میں تھے تو دور اندیش اور دانشمند کچھ اور فکر کررہے تھے۔ سب سے پہلے جس موضوع پر بحث ہونی تھی وہ یہ تھی کہ خلیفہ سوم اور اس کے حاکم کے عمدہ امور جس پر اعتراضات ہوئے ہیں انہیں صحیح سندوں کے ساتھ پیش کیا جائے اور پھر جن لوگوں نے خلیفہ کو قتل کیا ہے چاہے عراقی ہوں یا مصری یا صحابی ، انہیں دعوت دی جائے اور ا س مسئلہ کی دقیق تحقیق و جستجو کی جائے اور قاتلوں کے اس دعوے کو کہ خلیفہ نے اسلامی اصولوں کو نظر انداز کردیا تھا اور رسول خدا (ص) کی سیرت حتیٰ شیخین سے بھی منحرف ہوگیاتھا ، منصفانہ تحقیق کی جائے لیکن اس سلسلے میں دقت سے کام نہیں لیا گیا


اور صرف عمروعاص نے اپنے مقصد کے حصول( امام کو خلافت سے دور کرکے اس جگہ پر معاویہ یا اپنے بیٹے عبداللہ کو مسند خلافت پر بٹھائے )کے لئے ابو موسیٰ سے کہا: کیا تو اس بات کو قبول کرتاہے کہ عثمان مظلوم قتل ہواہے؟ اس نے بھی ایک طرح سے تصدیق کردی(۱) اور کہا، خلیفہ کے قاتلوں نے انہیں تو بہ کرایا پھر قتل کردیا جب کہ مجرم توبہ کرلے تو اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔

اور اسی طرح وہ موضوع جو اصلاً زیر بحث نہ رہا وہ امام علیہ السلام کی حکومت کا قانونی ہونا تھا ، وہ حکومت جو مہاجرین وانصار کے اتحاد واتفاق سے علی علیہ السلام کو ملی اور خودآپ ابتداء میں اسے قبول نہیں کررہے تھے اور جب مہاجرین وانصار کے مجمع کو دیکھا کہ سب کے سب اصرار کررہے ہیں کہ ان کے علاوہ کسی کے ہاتھ پر بیعت نہیں کریں گے اس وقت آپ نے اپنی ذمہ داری کا احساس کیا اور حکومت قبول کی ، اگر سقیفہ میں خلیفہ اول کی خلافت چند آدمیوں کی بیعت سے قانونی ہوگئی اور خلیفہ دوم کی خلافت ابوبکر کے نصب کرنے سے قانونی ہوگئی تو امام علیہ السلام کی خلافت تمام مہاجرین وانصار ( علاوہ پانچ لوگوں ) کی بیعت کی وجہ سے قطعاً حقیقی اور قانونی تھی اور اس کے بارے میں ہرگز شک وتردد نہیں کرنا چاہیے۔

اور تیسرے مرحلے میںبھی مثل دوسرے مرحلے کے اصلاً گفتگو نہ ہوئی کیونکہ دونوںحَکم جانتے تھے کہ معاویہ کے مخالفت کرنے کی صرف وجہ یہ تھی کہ امام علیہ السلام کو منصب خلافت سے ہٹا کر خلافت پر قبضہ کرلے ، معاویہ کی پوری زندگی ، اس کے رفتار وکردار چاہے عثمان کے قتل سے پہلے چاہے اس کے بعد سب پر واضح ہے کہ وہ بہت دنوں سے خلافت کو بنی امیہ میں لے جانا چاہتاہے تاکہ خلافت اسلامی کے نام پر قیصر وکسریٰ کی سلطنت کو زندہ کرے اور '' خلیفہ کے خون کا بدلہ اور قاتلوں کو سزا وقصاص دینا'' یہ سب قانون

______________________

(۱)الاخبار الطوال ص۱۹۹


توڑنے اور مخالفت کی توجیہ کرنے کے لئے ایک بہانہ تھا اگر وہ حقیقت میں اپنے کوعثمان کے خون کا ولی سمجھتا تو ضروری تھا کہ تمام مسلمانوں کی طرح امام علیہ السلام کی قانونی حکومت کی پیروی کرتا اور ا س وقت خلیفہ وقت سے کہتا کہ عثمان کے قاتلوں کے قصاص کے بارے میں اقدام کریں ۔

امام علیہ السلام نے معاویہ کی مخالفت کے اوائل ہی میں کئی مرتبہ خلیفہ کے مخالفوں کی مخالفت میں دلیل وغیرہ قائم کر کے دکھایا اور کہا کہ میرا سب سے پہلا فریضہ یہ ہے کہ میں لوگوں کو متحد کروں اور مہاجرین وانصار کی شوریٰ (انجمن) کا احترام کروں اور پھر دعوے اور قصاص وغیرہ کے مسئلہ کو حل کروں اور جب تک وہ حکومت کو صحیح تصور نہیں کرتا تو وہ کسی بھی مسئلہ کو بیان کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

چوتھے مرحلے میں ، ابوموسیٰ نے بجائے اس کے کہ معاویہ کی سرکشی کی اس حکومت پر جو مہاجرین وانصار کے توسط سے بنی تھی مذمت کرتا ،یا خود اپنے کو امام علیہ السلام کی خلافت کے اوائل میں بیعت نہ کرنے کی وجہ سے مقصر سمجھتا ، اس نے دونوں طرف کے لوگوں کو قصور وار ٹھہرایا اور چاہا کہ ایسے شخص کوخلافت کے لئے منصوب کرے کہ جس کے افتخار کے لئے یہی کافی تھا کہ وہ خلیفہ دوم کا بیٹا ہے اور ان تمام چیزوں سے دورتھا جب کہ عبداللہ بن عمر کام وغیرہ کرنے میں اتنا ضعیف تھا کہ اس کے باپ نے اس کے بارے میں کہا تھا کہ میرا بیٹا اس قدر سست ہے کہ اپنی عورت کو طلاق دینے سے بھی عاجزہے(۱)

جب کہ حکمین کا فریضہ یہ تھا کہ ان چاروں موضوع پر منصفانہ بحث وگفتگو کرتے اور شاید امام علیہ السلام کی حکومت کا قانونی ہونا اور مرکزی حکومت معاویہ کی سرکشی پر توجہ دینا ہی کافی تھا کہ دوسرے مواردمیں صحیح رائے ومشورہ لیا جاتا ،لیکن افسوس امام علیہ السلام کے نادان دوستوں نے آپ پر ایسے نمائندہ کو تحمیل کردیا تھا کہ جو فیصلہ اور دلیل قائم کرنے میں ایسے ذرات کی طرح تھا جسے ہوا کے جھونکے ادھر سے ادھر کرتے ہیں ۔

عمروعاص نے دومة الجندل میں قدم رکھتے ہی ابوموسیٰ اشعری کا پیغمبر کا صحابی اور اپنے سے بزرگ ہونے کی حیثیت سے اس کا احترام کرنے لگا اور گفتگو کرتے وقت ہمیشہ اسے مقدم کرتاتھا اور جس وقت یہ طے پایا کہ دونوں حَکم علی اور معاویہ کو معزول کریں اس وقت بھی عمروعاص نے اپنا نظریہ ظاہر کرنے اور اپنے پیشوا کو

______________________

(۱) طبقات ابن سعد ج۳، ص ۳۴۳ مطبوعہ بیروت


معزول کرنے میں بھی اسی کو مقدم رکھا ، کیونکہ دنوں کے دومة الجندل میں دونوں کی روش یہی تھی ، اسی وجہ سے پہلے ابو موسیٰ نے امام علیہ السلام کو خلافت سے دور کیا اور چلتے وقت تمام دوستوں نے جو سفارشیں کی تھیں اسے نظر اندازکردیالیکن عمرو عاص نے فوراً ہی معاویہ کو مسند خلافت پر بٹھا دیا ! یہاں بھی دونوں کے درمیان ہوئی باتوں کو نقل کررہے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ حکمیت کا کھیل کس طریقے سے ختم ہوا اور امام علیہ السلام کے سادہ لوح اور ضدی ساتھیوں نے اسلام کو کیا نقصان پہونچایا :

عمروعاص: کیا تم جانتے ہو کہ ، عثمان مظلوم قتل ہوئے ہیں ؟

ابوموسیٰ : ہاں ۔

عمروعاص: اے لوگو تم لوگ گواہ رہنا علی کے نمائندے نے عثمان کے مظلوم ہونے کا اعتراف کرلیا ہے، اس وقت ابو موسیٰ کی طرف متوجہ ہوکر کہا ،کیوں معاویہ سے کہ جو عثمان کا ولی ہے اپنا منھ پھیرے ہو جب کہ وہ بھی قرشی ہے؟ اور اگر لوگوں کے اعتراض کرنے کی وجہ سے ڈر رہے ہو کہ لوگ کہیں گے کہ ایسے شخص کو خلافت کے لئے چنا ہے جس کا اسلام میں کوئی سابقہ، خدمات نہیں ہے توتم یہ جواب دے سکتے ہو کہ معاویہ خلیفہ مظلوم کا ولی ہے اور خلیفہ کے خون کا بدلہ لینے کی قدرت رکھتا ہے اور تدبیر وسیاست کے لحاظ سے ممتاز ہے اور پیغمبر سے نسبت کے اعتبار سے پیغمبر کی بیوی ( ام حبیبہ) کا بھائی ہے اس کے علاوہ اگر خلافت کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں ہوگی تو سب سے زیادہ تمہارا احترام کرے گا۔

ابوموسیٰ : خدا سے ڈر ،خلافت ان لوگوں کے لئے ہے جو اہل دین وفضیلت ہیں اور اگر خلافت کے لئے خاندانی شرافت معیار ہے تو قریش میں سب سے شریف علی ہیں ، میں نے ہرگز پہلے مہاجرین کو نظر انداز نہیں کیا ، معاویہ کو خلافت کے لئے منتخب نہیں کروں گا، یہاں تک اگر معاویہ میرے لئے خلافت سے دور ہوجائے پھر بھی میں اس کی خلافت کے لئے رائے نہیں دوں گا اگر تو چاہے تو عمر بن خطاب کا نام زندہ کریں اور عبداللہ بن عمر کو خلافت کے لئے منتخب کریں۔

عمرو عاص : اگر تو عبداللہ بن عمر کی خلافت چاہتا ہے تو کیوں میرے بیٹے عبداللہ کی تائید نہیں کرتاکہ وہ ہرگز اس سے کم نہیں ہے اور اس کی سچائی اور فضیلت سب پر واضح ہے؟

ابوموسیٰ: وہ بھی اپنے باپ کی طرح اس فتنے میں شریک ہے اور خلافت کے لائق نہیں ہے ۔


عمروعاص: خلافت اس کے لئے قطعی ہے جو خود بھی کھائے اور دوسرے کوبھی کھلائے اور عمر کے بیٹے میں یہ چیز موجود نہیں ہے۔

ابھی تک ہم لوگ کسی فرد پر متفق نہیں ہوئے کوئی دوسرا مشورہ دو شاید اس پر توافق ہو جائے اس کے بعد دونوں نے خفیہ طور پر جلسہ منعقد کیا جس چیز پر دونوں نے توافق کیا وہ حسب ذیل ہیں:

ابوموسیٰ : میرا نظریہ ہے کہ دونوں (علی اور معاویہ )کو خلافت سے معزول کر دیں اور خلافت کا فیصلہ مسلمانوں کی شوریٰ کے حوالے کردیں ، تاکہ وہ لوگ جس کو بھی چاہیں خلیفہ منتخب کریں۔

عمروعاص: میں اس نظریہ سے موافق ہوں اور ضروری ہے کہ اپنے نظریہ کو باقاعدہ طور پر اعلان کروں، ناظر اور دوسرے افراد جو حکمین کے فیصلے کے منتظر تھے سب کے سب جمع ہوگئے تاکہ ان دونوں کی گفتگو سنیں ، اس وقت عمرو نے ابوموسیٰ کی بیوقوفی اور کم عقلی سے فائدہ اٹھایا اور اسے مقدم کیا کہ گفتگو کا آغاز کرے اور اپنے نظریہ کو بیان کرے ، ابوموسیٰ ان تمام چیزوں سے غافل تھا کہ ممکن ہے کہ عمروعاص میری گفتگو کے بعد اس نظریہ کی جس پر دونوں نے موافقت کی تھی تائید نہ کرے لہٰذا اس نے اپنی گفتگو شروع کی اور کہا:

'' میں اور عمروعاص ایک نظریہ پر متحد ہیں اور امید ہے کہ اس میں مسلمانوں کی کامیابی اور مصلحت ہو گی ۔

عمروعاص: بالکل صحیح ہے اپنی گفتگو کو جاری رکھئے۔

اس موقع پر ابن عباس ابوموسیٰ کے پاس پہونچے اور اسے متنبہ کیا اور کہا کہ اگر تم لوگ ایک ہی نظریہ پر متحد ہوتو اجازت دو کہ پہلے عمروعاص گفتگو کرے اور پھرتم اپنے نظریہ کو بیان کرو، کیونکہ اس سے کوئی بعید نہیں ہے کہ وہ جس چیز پر متحد ہے اس کے برخلاف بیان کرے ، لیکن ابوموسیٰ نے ابن عباس کے منع کرنے کے باوجود اس پر کوئی توجہ نہیں دی اور کہا، چھوڑدو ، ہم دونوں نے ایک ہی نظریہ پر موافقت کی ہے اور پھر اٹھا اور کہا:

ہم لوگوں نے امت کے حالات کا جائزہ لیا اور اختلاف ختم کرنے اور پھر سے متحد ہونے کے لئے اس سے بہتر کوئی راستہ نہیں دیکھا کہ علی اور معاویہ کو خلافت سے معزول کردیں اور خلافت کے مسئلے کو مسلمانوں کی شوریٰ کے حوالے کردیں تاکہ وہ لوگ جس کو چاہیں بہ عنوان خلیفہ منتخب کرلیں ، اس بنیاد پر ، میں نے علی اور معاویہ کو خلافت سے معزول کردیا۔


یہ جملے کہنے کے بعد وہ بیٹھ گیا پھر عمروعاص ابوموسیٰ کی جگہ پر کھڑا ہوا اور خداکی حمد وثناء کے بعد کہا '' اے لوگو ، تم نے ابوموسیٰ کی گفتگو سنی اس نے اپنے امام کو معزول کردیا اور میں اس سلسلے میں اس کا موافق ہوں اور انہیں خلافت سے معزول کررہا ہوں لیکن اس کے برخلاف ،میں نے معاویہ کو خلافت پر باقی رکھا ہے وہ عثمان کا ولی اور اس کے خون کا بدلہ لینے والا ہے اورخلافت کے لئے بہترین شخص ہے''۔

ابوموسیٰ نے غصہ میں آکر عمروعاص سے کہا : تو کامیاب نہیں ہوگا جوتو نے مکروفریب اور گناہ کیا ہے تیری مثال اس کتے کی ہے کہ اگراس پر حملہ کیا جائے تو اپنا منھ کھولتا ہے اور اپنی زبان کو باہر نکالتاہے اور اگر اسے چھوڑدیا جب بھی وہ ویسا ہی ہے(۱)

عمروعاص: تیری بھی حالت گدھے کی طرح ہے اگرچہ اس کی پیٹھ پر بہت کتابیں ہوں(۲)

اس وقت عمرو کا مکروفریب سب پر ظاہر ہوگیا اور لوگ منتشر ہوگئے(۳)

شریح بن ہانی اپنی جگہ سے اٹھے اور زبردست تازیانہ عمرو کے سر پر مارا ، عمروعاص کا بیٹا اپنے باپ کی مدد کے لئے دوڑا اور شریح پر تازیانہ مارا اور لوگ دونوں کے درمیان میں آگئے ۔ شریح بن ہانی بعد میں یہی کہتے تھے کہ ، میں بہت پشیمان ہوں کہ کیوں تازیانہ کہ جگہ پر میں نے اس کے سر پر تلوار نہیں ماری ۔(۴)

ابن عباس : خدا ابوموسیٰ کے چہرے کو برباد کردے میں نے اسے عمروعاص کے دھوکہ وفریب سے آگاہ کیا تھا لیکن اس نے کوئی توجہ نہ دی۔

______________________

(۱) یہ اس آیت کریمہ کا مفہوم ہے کہ جو لوگ خد ا کی نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں انہیں کتے سے شباہت دی جاتی ہے خدا فرماتاہے'' فمثله کمثل الکلب ان تحمل علیه یلهث او تترکه یلهث ذالک مثل القوم الذین کذبوا بأیاتنا'' (سورہ اعراف ۱۷۶)

(۲) قرآن مجید کی اس آیت سے اقتباس ''کمثل الحمار یحمل اسفاراً ''سورہ جمعہ آیت ۵

(۳)الاخبارا لطوال ص۱۹۹ ۔ الامامة والسیاسة ج۱، ص ۱۱۸۔تاریخ طبری ج۳، جزء ۶، ص ۳۸۔ کامل ابن اثیر ج۳، ص ۱۶۷۔ تجارب السلف ص ۴۸۔ مروج الذھب ج۲، ص ۴۰۸

(۴) تاریخ طبری ج۳، جزء ۶، ص ۴۰۔ کامل ابن اثیر ص۱۶۸، وقعہ صفین ص ۵۴۶


ابوموسیٰ : یہ صحیح ہے کہ ابن عباس نے مجھے اس فاسق کے دھوکہ وفریب سے آگاہ کیا تھا لیکن میں نے اس پر یقین واطمینان کرلیا اور کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ میری خیر خواہی کے علاوہ میرے بارے میں کچھ کہے گا۔(۱)

سعیدبن قیس نے دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اگر تم لوگ سچائی پرمتفق ہوجاتے توبھی ہم لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہونچتا چہ جائیکہ تم لوگوں نے گمراہی اور ضلالت پر اتفاق واتحاد کیا ، اور تم لوگوں کا نظریہ ہم حجت نہیں ہے آج بھی اسی حالت میں ہیں جیسے پہلے تھے اور سرکشوں کے ساتھ جنگ جاری رہے گی(۲) ۔

اس واقعہ میں سب سے زیادہ ابوموسیٰ اشعری اور اشعث بن قیس ( مسئلہ حکمیت کا کھلاڑی )

لعنت وملامت کے مستحق قرار پائے ، ابوموسیٰ مسلسل عمروعاص کو برا بھلا کہتا رہا اور اشعث کی زبان بند ہوگئی تھی وہ بالکل خاموش تھا ،آخر کار عمروعاص اور معاویہ کے ساتھیوں نے اپنا بوریا بستر باندھا اور شام کی طرف روانہ ہوگئے اور پورا واقعہ معاویہ کو تفصیل سے سنایا اور اسے خلیفہ مسلمین کے عنوان سے سلام کیا ۔ ابن عباس اور شریح بن ہانی بھی کوفہ کی طرف روانہ ہوگئے اور پورا ماجرا بیان کیا ، لیکن ابوموسیٰ اپنی غلطیوں کی وجہ سے جو اس نے انجام دی تھیں مکہ کی طرف روانہ ہوگیا اور وہیں رہنے لگا۔(۳)

بالآخر جنگ صفین اور حاکمیت کا واقعہ ۴۵ ہزار لوگوں یا ایک قول کی بناء پر ۹۰ ہزار شامی اور ۲۰ یا ۲۵ ہزار عراقیوں کے قتل(۴) کے بعد شعبان ۳۷ ہجری کو ختم ہوگیا(۵) اور حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی حکومت اور اسلامی خلافت کے لئے مختلف مشکلیں پیدا ہوگئیں جس میں سے اکثر ختم نہ ہوسکیں ۔

______________________

(۱) تاریخ طبری ج۳، جزء ۶، ص ۴۰۔ کامل ابن اثیر ص۱۶۸، وقعہ صفین ص ۵۴۶

(۲)وقعہ صفین ص ۵۴۷

(۳)الاخبارا لطوال ص۲۰۰ ۔کامل ابن اثیر ج۳، ص ۱۶۸۔ تجارب السلف ص۴۹۔ الامامة والسیاسة ج۱، ص ۱۱۸

(۴)مروج الذھب ج۲، ص۴۰۴

(۵) تاریخ طبری ج۳، جزء ۶، ص ۴۰۔ طبری نے اس قول کو واقدی سے نقل کیا ہے اور مسعودی نے مروج الذھب ( ج۲، ص ۴۰۲) اور التنبیہ الاشراف ( ص،۲۶۵) نے بھی اسی قول کو نقل کیا ہے لیکن سب سے صحیح قول ماہ صفر ۳۷ ہجری ۔ تجارب السلف ص ۵۰


بائیسویں فصل

جنگ نہروان یا قرآن کو نیزہ پر بلند کرنے کا نتیجہ

ابوسفیان کے بیٹے کی غلط سیاست اور اس کی دوسری عقل عمروعاص کی وجہ سے بہت زیادہ تلخ اور غم انگیز واقعات رونماہوئے ، اس کی پلاننگ بنانے والا پہلے ہی دن سے اس کے برے آثار سے آگاہ تھااور اپنی کامیابی کے لئے حکمیت کے مسئلہ پر اسے مکمل اطمینان تھا اس سیاست کو سمجھنے کے لئے بس اتنا ہی کافی ہے کہ اس بدترین سیاست کی وجہ سے دشمن نے اپنی آرزو حاصل کی ، جو نتیجہ اس سلسلہ میں نکلا ہے اس میں سے درج ذیل چیزوں کا نام لے سکتے ہیں :

۱۔ شام پر معاویہ کا قبضہ ہوگیا اور اس کے تمام سردار اور اس علاقہ میں اس کے نمائندے صدق دل سے اس کے مطیع وفرماں بردار ہوگئے اور اگر کسی وجہ یا غرض کی بنا پر حضرت علی علیہ السلام سے دل لگائے ہوئے تھے تو ان کو چھوڑ کر معاویہ سے ملحق ہوگئے۔

۲۔ امام علیہ السلام جو کامیابی کی آخری منزل پر تھے اس سے بہت دور ہوگئے اور پھر کامیابی حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا ، کیونکہ امام علیہ السلام کی فوج میں جہاد کرنے کا جذبہ ختم ہو گیا تھا اور اب لوگوں کے اندر شہادت کا جوش و جذبہ نہیں تھا۔


۳۔معاویہ کی برباد ہوتی ہوئی فوج دوبارہ زندہ ہوگئی ،اور وہ پھر سے جوان ہوگئی اور عراق کے لوگوں کی روح کو کمزور کرنے کے لئے اس نے لوٹ مار اور غارت گری شروع کردی تاکہ اس علاقے کا امن وچین ختم ہوجائے اور مرکزی حکومت کو کمزور اعلان کردے،

۴۔ ان تمام چیزوں سے بدتریہ کہ عراق کے لوگ دو گروہ میں بٹ گئے ایک گروہ نے حکمیت کو قبول کیااور دوسرے نے اسے کفر اور گناہ سے تعبیر کیا اور امام علیہ السلام کے لئے ضروری سمجھا کہ وہ اس کام سے توبہ کریں ورنہ اطاعت کی ریسمان گردن سے کھول دیں گے اور ان سے معاویہ کی طرح جنگ کے لئے آمادہ ہوجائیں گے۔

۵۔ایسی فکر رکھنے کے باوجود ، حکمیت کے مخالفین جو ایک وقت امام کے طرفدار اورچاہنے والے تھے اور امام علیہ السلام نے اس گروہ کے دباؤ کی وجہ سے اپنی مرضی اور اپنے نظریے کے برخلاف حکمیت کو قبول کیا تھا حضرت کے کوفہ میں آنے کے بعدہی ان لوگوں نے حکومت وقت کی مخالفت کرنے والوں کے عنوان سے شہر چھوڑدیا اور کوفہ سے دومیل کی دوری پر پڑاؤ ڈالا، ابھی جنگ صفین کے برے اثرات ختم نہ ہوئے تھے کہ ایک بدترین جنگ بنام '' نہروان'' رونما ہوگئی اور یہ سرکش گروہ اگرچہ ظاہری طور پر نابود ہو گیا لیکن اس گروہ کے باقی لوگ اطراف وجوانب میں لوگوں کو آمادہ کرنے لگے جس کی وجہ سے ۱۹ رمضان ۴۰ ہجری کو علی علیہ السلام خوارج کی اسی سازش کی بنا پر اور محراب عبادت میں شہید ہوگئے۔


جی ہاں ، امام علیہ السلام نے اپنی حکومت کے زمانے میں تین بہت سخت جنگوں کا سامنا کیا جو تاریخ اسلام میں بے مثال ہیں:

پہلی جنگ میں عہد وپیمان توڑنے والے طلحہ وزبیر نے ام المومنین کی شخصیت سے جو کہ رسول اسلام کی شخصیت کی طرح تھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خونین جنگ کھڑی کی مگر شکست کھانی پڑی.

دوسری جنگ میں مد مقابل ابوسفیان کا بیٹا معاویہ تھا جس نے عثمان کے خون کا بدلہ لینے کا بہانہ بنایا اور سرکشی کے ذریعے مرکزی حکومت اور امام منصوص اور مہاجرین و انصار کے ذریعے چنے گئے خلیفہ کی مخالفت کی اور حق وعدالت کے راستے سے منحرف ہوگیا۔

تیسری جنگ میں جنگ کرنے والے امام علیہ السلام کے قدیمی ساتھی تھے جن کی پیشانیوں پر عبادتوں کی کثرت سے سجدوں کے نشان تھے اور ان کی تلاوتوں کی آواز ہر طرف گونج رہی تھی اس گروہ سے جنگ پہلی دوجنگوں سے زیادہ مشکل تھی ،مگر امام علیہ السلام نے کئی مہینہ صبر تحمل ، تقریروں اور بااثر شخصیتوں کے بھیجنے کے بعد بھی جب ان کی اصلاح سے مایوس ہوگئے اور جب وہ لوگ اسلحوں کے ساتھ میدان جنگ میں آئے تو ان کے ساتھ جنگ کی اور خود آپ کی تعبیر کے مطابق '' فتنہ کی آنکھ کو جڑ سے نکال دیا'' امام علیہ السلام کے علاوہ کسی کے اندر اتنی ہمت نہ تھی کہ ان مقدس نما افراد کے ساتھ جنگ کرتا لیکن حضرت علی علیہ السلام کا اسلام کے ساتھ سابقہ اور پیغمبر اسلام (ص) کے زمانے میں جنگ کے میدان میں آپ کی ہجرت اور ایثار اور پوری زندگی میں زہد و تقویٰ اور مناظرہ کے میدان میں علم ودانش سے سرشار اور بہترین منطقی دلیل وغیرہ جیسی صلاحیتوں نے آپ کو وہ قدرت عطا کی تھی کہ جس کے ذریعے آپ نے فساد کو جڑ سے اکھاڑدیا۔

تاریخ اسلام میں یہ تینوں گروہ ناکثین ( عہد وپیمان توڑنے والے ) اور قاسطین ( ظالم و ستمگر اور حق سے دور ہونے والے ) اور مارقین ( گمراہ اور دین سے خارج ہونے والے افراد) کے نام سے مشہور ہیں ۔یہ تینوں نام پیغمبر کے زمانے میں رکھے گئے تھے خود رسول اسلام (ص) نے ان تینوں گروہوں کے اس طرح سے صفات بیان کئے تھے اور علی علیہ السلام اور دوسرے لوگوں سے کہا تھا کہ علی ان تینوں گروہ سے جنگ کریں گے ، پیغمبر اسلام (ص) کا یہ کام خونی جنگ اور غیب کی خبر دیتاہے جسے اسلامی محدثین نے حدیث کی کتابوں میں مختلف مناسبتوں سے یاد کیا ہے نمونہ کے طورپر یہاں ان میں سے ایک کو ذکر کررہے ہیں علی علیہ السلام فرماتے ہیں :


'' أمرنی رسول اللّٰه (ص) بقتال الناکثین والقاسطین و المارقین'' (۱)

پیغمبر اسلام (ص) نے مجھے حکم دیا کہ ناکثین ، قاسطین اور مارقین کے ساتھ جنگ کروں۔

ابن کثیر متوفی ۷۷۴ ہجری نے اپنی تاریخ میں اس حدیث کے کچھ حصے کو نقل کیا ہے وہ لکھتاہے کہ پیغمبر اسلام (ص) ام سلمہ کے گھر میں داخل ہوئے اور کچھ دیر بعد علی ـ بھی آگئے پیغمبر (ص)نے اپنی بیوی کی طرف رخ کرکے کہا:

'' یا امَّة َ سلمة هذا واللّٰه قاتلُ النّاکثین والقاسطین والمارقین من بعدی '' (۲) یعنی ،اے ام سلمہ، یہ علی ، ناکثین ، قاسطین اور مارقین سے میرے بعد جنگ کرے گا۔

تاریخ اور حدیث کی کتابوں سے رجوع کرنے پر یہ حدیث صحیح اور محکم ثابت ہوئی ہے اسی وجہ سے یہاں پر مختصر کررہے ہیں اور یاد دلاتے ہیں کہ محقق بزرگوار علامہ امینی نے اپنی کتاب '' الغدیر'' میں اس حدیث کے متعلق بیان کیا ہے اور اس کی سند اور حوالے وغیرہ کو جمع کیا ہے(۳) ۔

مارقین کی تاریخ شاہد ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ اپنے زمانے کی حکومتوں سے لڑتے تھے اور کسی کی حکومت کو قبول نہیں کیانہ حاکم کو رسمی طور پر پہچانتے تھے اور نہ حکومت ہی سے کوئی واسطہ رکھتے تھے حاکم عادل اور

حاکم منحرف، مثل علی علیہ السلام اور معاویہ ان کی نظروں میں برابر تھے اور ان لوگوں کا یزید ومروان کے ساتھ رویہ اور عمربن عبد العزیز کے ساتھ رویہ برابر تھا۔

______________________

(۱) تاریخ بغدادی ج۸، ص ۳۴۰

(۲) البدایہ والنھایہ جزئ۷، ج ۴، ص ۳۰۵

(۳) الغدیر ج۳، ص ۱۹۵۔ ۱۸۸، نقد کتاب منہاج السنة


خوارج کی بنیاد

خوارج کا وجود پیغمبر اسلام (ص) کے زمانے سے مرتبط ہے یہ گروہ پیغمبر کے زمانے میں اپنی فکر اور نظریہ پیش کرتا تھا اور ایسی باتیں کرتا تھا کہ وجدان اسے تسلیم نہیں کرسکتا اور لڑائی جھگڑا ان سے ظاہر ہوتاتھا درج ذیل موارد اسی موضوع سے متعلق ہیں :

پیغمبر اسلام (ص) نے جنگ '' حنین '' سے حاصل ہوئے مال غنیمت کو مصلحت کی بنا پر تقسیم کردیا اور مشرکوں میں سے جو نئے مسلمان ہوئے تھے ان کے دلوں کو اسلام کی طرف کرنے کے لئے جو بہت سالوں سے اسلام سے جنگ کررہے تھے زیادہ مال غنیمت دیا،اس وقت حرقوص بن زہیر نے اعتراض کیااور غیر مہذب طور سے پیغمبر سے کہا، عدالت سے کام لیجیئے۔

اس کی غیر مہذب گفتگو نے پیغمبر اسلام (ص) کو ناراض کردیا اور اس کا جواب دیا ، لعنت ہو تجھ پر اگر عدالت ہمارے پاس نہ ہوگی تو پھر کہاں ہوگی ؟ عمر نے اس وقت درخواست کی کہ اسے قتل کردیں ، لیکن پیغمبر نے اس کی درخواست قبول نہیں کی اور ان کے بھیانک نتیجے کے بارے میں کہا ، اسے چھوڑدو کیونکہ اس کی پیروی کرنے والے ایسے ہوں گے جو دینی امور میں حد سے زیادہ تحقیق وجستجو کرنے والے ہوں گے اور بالکل اسی طرح کہ جس طرح سے تیر کمان سے خارج ہوتا ہے وہ دین سے خارج ہوجائیں گے۔(۱)

بخاری نے اپنی کتاب '' مولفة القلوب''میں اس واقعہ کو تفصیل سے لکھا ہے وہ لکھتے ہیں :

پیغمبر نے اس کے اور اس کے دوستوں کے بارے میں یہ کہا ہے ''یمرقون من الدین ما یمرقُ السَّهمُ من الرّمیَّةِ ''(۲)

پیغمبر نے لفظ '' مرق'' استعمال کیا ہے جس کے معنی پھینکنے کے ہیں کیونکہ یہ گروہ دین کے سمجھنے میں اس قدر ٹیڑھی راہوں پر چلے گئے کہ دین کی حقیقت سے دور ہوگئے اور مسلمانوں کے درمیان

______________________

(۱) سیرہ ابن ہشام ج۲، ص ۴۹۷

(۲) صحیح بخاری


مارقین '' کے نام سے مشہور ہوگئے۔(۱)

اعتراض کرنے والاحرقوص کے لئے سزاوار یہ تھا کہ شیخین کی خلافت کے زمانے میں خاموشی کو ختم کردیتا اور ان دونوں خلیفہ کے چنے جانے اور ان کی سیرت پر اعتراض کرتا، لیکن تاریخ نے اس سلسلے میں اس کا کوئی رد عمل نقل نہیں کیا ہے ،صرف ابن اثیر نے '' کامل '' میں تحریر کیاہے کہ اہواز کی فتح کے بعد حرقوص خلیفہ کی طرف سے اسلامی فوج کا سردار معین تھا اور عمر نے اہواز اورورق کے بعد جو اسے خط لکھا اس کی عبارت بھی ذکر کی ہے(۲) طبری نقل کرتے ہیں کہ ۳۵ ہجری میں حرقوص بصریوں پر حملہ کرکے ، عثمان کی حکومت میں مدینہ آگیا اور مصر اور کوفہ کے لوگوں کے ساتھ خلیفہ کے خلاف سازشیں کرنے لگا۔(۳)

اس کے بعد سے تاریخ میں اس کے نام ونشان کا پتہ نہیں ملتا اور اس وقت جب حضرت علی ـ نے چاہا کہ ابوموسیٰ کو فیصلہ کرنے کے لئے بھیجیں ،تو اس وقت اچانک حرقوص زرعہ بن نوح طائی کے ساتھ امام کے پاس آیا اور دونوں کے درمیان سخت بحث ومباحثہ ہوا جسے ہم ذکر کررہے ہیں ۔قوص:وہ غلطیاں جو تم نے انجام دی ہیں اس کے لئے توبہ کرو اور حکمین کو قبول نہ کرو اور ہمیں دشمن سے جنگ کرنے کے لئے میدان میں روانہ کرو تاکہ ان کے ساتھ جنگ کریں اور شہید ہوجائیں ۔

امام علیہ السلام: جب حکمین کا مسئلہ طے ہورہا تھا اس وقت میں نے اس کے بارے میں تم کو بتایا تھا لیکن تم نے میری مخالفت کی اور اب جب کہ ہم نے عہد وپیمان کرلیا ہے تو مجھ سے واپس جانے کی درخواست کررہے ہو؟ خداوند عالم فرماتاہے( وَأوفو بعهد اللّٰه اذاعا هدتم ولا تنقضوا الایمان بعد توکیدها وقد جعلتم الله علیکم کفیلاً انّ اللّٰه یعلم ماتفعلون ) (نحل ۹۱) یعنی خدا کے عہدوپیمان ، جب تم نے وعدہ کرلیا ہے تو اس کو وفا کرو اور جو تم نے قسمیں کھائی ہیں ان کو نہ توڑو،جب کہ تم نے اپنی قسموں پر خدا کو ضامن قراردیا ہے اور جوکچھ بھی تم کرتے ہو خدا اس سے باخبرہے۔

______________________

(۱) التنبیہ والرد۔ ملطی ص ۵۰

(۲) کامل ج۲، ص ۵۴۵۔ مطبوعہ دارصادر

(۳)تاریخ طبری ج۳، ص ۳۸۶ مطبوعہ الاعلمی


حرقوص: یہ ایسا گناہ ہے کہ ضروری ہے کہ اس سے توبہ کرو۔

امام علیہ السلام : یہ گناہ نہیں ہے بلکہ فکروعمل میں ایک قسم کی سستی ہے کہ تم لوگوں کی وجہ سے مجھ پر آپڑی ہے اور میں نے اسی وقت تم کو اس کی طرف متوجہ کیا تھا اور اس سے روکا تھا۔

زرعہ بن نوح طائی : اگر حکمیت سے باز نہیں آئے تو خد ااور اس کی مرضی حاصل کرنے کیلئے تم سے جنگ کریں گے!

علی علیہ السلام : بے چارہ بدبخت، تمہارے مردہ جسم کو میدان جنگ میں دیکھ رہا ہوں گا کہ ہوا اس پر مٹی ڈال رہی ہے،

زرعہ : میں چاہتا ہوں کہ ایسا ہی ہو۔

علی علیہ السلام :شیطان نے تم دونوں کو گمراہ کردیا ہے ۔

پیغمبر اسلام (ص) اور امیر المومنین علیہ السلام سے حرقوص کی غیر مہذب اور احمقانہ باتیں اس کے برخلاف ہیں کہ اسے ایک معمولی مسلمان سمجھیں ، جب کہ وہ مفسرین اسلامی(۱) کی نظر میں منافقوں میں سے ہے اور یہ آیت اس کی شان میں نازل ہوئی ہے :

( ومنهم من لم یلمزْکَ فی الصّدقاتِ فان أعطوامنهارضواوان لم یعطوا منهااذاهم یسخطون ) ( توبہ ۵۸)، منافقون میں سے بعض غنیمت تقسیم کرنے کے بارے میں تم پر اعتراض کرتے ہیں اگر ان کو کچھ حصہ دیدیا جائے تو وہ راضی ہوجائیں گے اور اگر محروم ہوجائیں تو اچانک غصہ ہوجائیں گے۔

______________________

(۱)مجمع البیان ج۳، ص ۴۰


خوارج کی دوسری اہم فرد

خوارج کی ایک ذوالثدیہ کی ہے اور رجال کی کتابوں میں اس کا نام '' نافع'' ذکر ہوا ہے اکثر محدثین کا خیال یہ ہے کہ حرقوص جو ذوالخویصرہ کے نام سے مشہور ہے وہی ذوالثدیہ ہے لیکن شہرستانی نے اپنی کتاب ملل ونحل میں اس کے برخلاف نظریہ پیش کیا ہے وہ کہتے ہیںاَوَّلُهم ذوالخویصره وآخرُهم ذوالثدیه (۱) جب کے پیغمبر پر دونوں کے اعتراض کا طریقہ ایک ہی تھا اور دونوں نے مال غنیمت بانٹنے پر پیغمبر سے کہا تھا '' عدالت کرو'' اور آپ نے دونوں کو ایک جواب دیا تھا(۲) غالباً تصور یہ ہے کہ یہ دونام ایک ہی شخص کے ہیں لیکن تاریخ میں ذوالثدیہ کی جو صفت بیان کی گئی ہے اور جو پیغمبر کی زبان پر آیا ہے ہرگز اس طرح ذوالخویصرہ کے بارے میں وارد نہیں ہو اہے ۔

ابن کثیر جس نے مارقین سے متعلق تمام آیتوں اور روایتوں کو جمع کیا ہے اس کے بارے میں کہتاہے ،پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا:

کچھ گروہ دین سے اس طرح خارج ہوں گے جس طرح تیر کمان سے نکلتا ہے اور دوبارہ واپس نہیں آتے اور اس گروہ کی نشانی یہ ہے کہ ان لوگوں کے درمیان کالے رنگ کے آدمی جس کے ہاتھ ناقص ہوں گے اس کے آخر میں گوشت کا ٹکڑا عورت کے پستان کی طرح اور جاذب ہوگا پرکشش(۳) ۔امام ـ نے جنگ نہروان سے فارغ ہونے کے بعد حکم دیا کہ ذوالثدیہ کی لاش کو قتل ہوئے لوگوں میں تلاش کریں اور اس کے کٹے ہوئے ہاتھ کے بارے میں تحقیق کریں جس وقت اس کی لاش لے کر آئے تو اس کا ہاتھ اسی طرح تھا جیسا کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا تھا۔

______________________

(۱) الملل والنحل ج۱، ص ۱۱۶ ۔ لیکن اس نے اسی کتاب کے ص ۱۱۵ پر دونوں کو ایک شمار کیا ہے اور کہتاہے کہ حرقوص بن زہیر مشہور ''به بذی الثدیه ''

(۲) کامل مبرد ج۳، ص ۹۱۹مطبوعہ حلبی ۔

(۳) سیرت ابن ہشام ج۲، ص ۴۹۶


خوارج کے درمیان مختلف اعتقادی فرقے

خوارج نے سب سے پہلے حکمیت کے مسئلہ پر امام علیہ السلام کی مخالفت کی اور اسے قرآن مجید کے خلاف شمار کیا اس سلسلے میں کوئی دوسری علت نہ تھی لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہی واقعہ ایک عقیدتی مذہب کی صورت میں ابھر کر سامنے آگیا اور اس کے اندر مختلف شعبے اور فرقے وجود میں آگئے اور ''محکّمہ'' کے علاوہ بہت سے دوسرے فرقے وجود میں آگئے مثلاً ، ازارقہ ، نجدات ، بیہسیہ ، عجاردہ، ثعالبہ ، اباضیّہ اور صفریّہ .یہ تمام گروہ زمانے کے ساتھ ختم ہوگئے لیکن صرف فرقہ اباضیّہ ( عبداللہ بن اباض کا پیرو جس نے

مروانیوں کی حکومت کے آخر میں خروج کیا)باقی بچا ہے جو خوارج کے معتدل لوگوں میں شمار ہوتا ہے اور عمّان ، خلیج فارس اور مغرب مثلاً الجزایر وغیرہ میں منتشر ہوہے ۔

خوارج کی تاریخ، جنگ نہروان کے علاوہ بھی تمام اسلامی مؤرخین کے نزدیک قابل توجہ رہی ہے اور اس سلسلے میں طبری نے اپنی ''تاریخ ''میں مبرد نے '' کامل ''میں اور بلاذری نے '' انساب'' میں اور. . خوارج کے سلسلے میں تمام واقعات کو نقل کیاہے اور ان واقعات نقلی تاریخ کی صورت میں ذکر کیاہے۔ آخری زمانے کے مورخین نے چاہے وہ اسلامی ہوں یا غیر اسلامی ، اس سلسلے میں متعدد تنقیدی و تجزیاتی کتابیں لکھی ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں:

۱۔ تلخیص تاریخ الخوارج : مؤلف محمد شریف سلیم ، ۱۳۴۲ ہجری ، قاہرہ سے شائع ہوئی ۔

۲۔ الخوارج فی الاسلام : مؤلف عمر ابو النصر ، ۱۹۴۹ عیسوی ، بیروت سے شائع ہوئی ۔

۳۔وقعۂ النہروان : مؤلف خطیب ہاشمی ، ۱۳۷۲ ہجری ، تہران سے شائع ہوئی ۔

۴۔ الخوارج فی العصر الاموی : مؤلف ڈاکٹر نایف محمود جو دو مرتبہ بیروت سے شائع ہوئی ۔دوسری مرتبہ کی تاریخ ۱۴۰۱ ہجری ہے ۔

مستشرقین میں سے بھی کچھ لوگوں نے اس موضوع کی طرف توجہ دی ہے اور مختصر کتابیں تحریر کی ہیں .مثلاً:


۵۔ الخوارج والشیعہ :جرمنی مؤلف فلوزن نے ۱۹۰۲ء میں جرمنی زبان میں لکھا ہے عبدالرحمٰن بدوی نے اس کا عربی میں ترجمہ کیا ہے ۔

۶۔ ادب الخوارج: یہ زہیر قلماوی کے ۱۹۳۰ ء سے ۱۹۴۰ئ ایم اے کی تحقیق (تھیسیس) تک ہے قلماوی نے اس تحقیق میں خوارج کے بہت سے شاعروں کا تذکرہ کیا ہے مثلاً عمران بن حطان یہ کتاب ۱۹۴۰ ء میں شائع ہوئی ہے ۔

میں نے( اس کتاب کے مؤلف نے) خوارج کے واقعات کی تحقیق و تنقید میں اسلام کی اصل کتابوں سے رجوع کیاہے اور ایک خاص طریقے سے جیسا کہ اسلامی تاریخ میں تحقیق و تنقید کا رواج ہے موضوعات کو تحریر کیا ہے خود کو ان کتابوں کی طرف رجوع کرنے سے بے نیاز نہیں سمجھتا.

خوارج کا بدترین مظاہرہ

لفظ خوارج بہت زیادہ استعمال ہونے والے لفظوں میں سے ہے اور علم تاریخ اور علم کلام کی بحثوں میں بہت زیادہ استعمال ہوا ہے اور عربی لغت میں یہ لفظ حکومت پر شورش وحملہ کرنے والوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اور خوارج ایسے گروہ کو کہتے ہیں جو حکومت وقت پر کے خلاف ھنگامہ کھڑا کرے اور اسے قانونی نہ جانے ، لیکن علم کلام اور تاریخ کے علماء کی اصطلاح میں امام علیہ السلام کے سپاہیوں میں سے نکلے ہوئے گروہ کو کہتے ہیں جنہوں نے ابوموسیٰ اشعری اور عمرو عاص کی حکمیت کو قبول کرنے کی وجہ سے اپنے کو امام علیہ السلام سے جدا کرلیا اور اس جملے سے اپنا نعرہ قرار دیا ''ان الحکم الا للّٰه ''اوریہ نعرہ ان کے درمیان باقی رہا اور اسی نعرہ کی وجہ سے علم ملل ونحل میں انہیں '' محکمہ '' کے نام سے یاد کیا گیاہے۔

امام علیہ السلام نے حکمیت قبول کرنے کے بعد مصلحت سمجھی کہ میدان صفین کو چھوڑدیں اور کوفہ واپس چلے جائیں اور ابوموسیٰ اور عمروعاص کے فیصلے کا انتظار کریں ، حضرت جس وقت کوفہ پہونچے تو اپنی فوج کے کئی باغی گروہ سے روبرو ہوئے ، آپ اور آپ کے جانبازوں نے مشاہدہ کیا کہ بہت سے سپاہیوں نے جن کی تعداد بارہ ہزار لوگوں پر مشتمل تھی کوفہ میں آنے سے پرہیز کیا اور حکمیت کے قبول کرنے کی وجہ سے بعنوان اعتراض کوفہ میں آنے کے بجائے '' حرورائ'' نامی دیہات کی طرف چلے گئے اور ان میں سے بعض لوگوں نے'' نخیلہ '' کی چھاؤنی میں پڑاؤ ڈالا۔


حکمیت ، جسے خوارج نے عثمان کا پیراہن بنا کر امام علیہ السلام کے سامنے لٹکایا تھا ، وہی موضوع تھا کہ ان لوگوں نے خود اس دن ، جس دن قرآن کو نیزہ پر بلند کیا گیا تھا ، امام علیہ السلام پر اسے قبول کرنے کے لئے بہت زیادہ دباؤ ڈالا تھا یہاں تک کہ قبول نہ کرنے کی صورت میں آپ کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد اپنی شیطانی فکروں اور اعتراضی مزاج کی وجہ سے اپنے عقیدے سے پلٹ گئے اور اسے گناہ اور خلاف شرع بلکہ شرک اور دین سے خارج جانا اور خود توبہ کیا اور امام علیہ السلام سے کہا کہ وہ بھی اپنے گناہ کا اقرار کرکے توبہ کریں اور حکمیت کے نتیجے کے اعلان سے پہلے فوج کو تیار کریں اور معاویہ کے ساتھ جنگ کو جاری رکھیں ۔

لیکن علی علیہ السلام ایسے نہ تھے کہ جو گناہ انجام دیتے اور غیر شرعی چیزوں کو قبول کرتے اور جو عہد وپیمان باندھا ہے اسے نظر انداز کردیتے امام علیہ السلام نے اس گروہ پر کوئی توجہ نہیں دی اور کوفہ پہونچنے کے بعد پھر اپنی زندگی بسر کرنے لگے ، لیکن شرپسند خوارج نے اپنے برے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے مختلف کام کیے جن میں بعض یہ ہیں :

۱۔ امام علیہ السلام سے خصوصی ملاقاتیں کرنا تاکہ انہیں عہد وپیمان توڑنے پر آمادہ کریں ۔

۲ ۔ نمازجماعت میں حاضر نہ ہونا۔

۳۔ مسجد میں علی علیہ السلام کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگانا۔

۴۔ علی علیہ السلام اور جو لوگ صفین کے عہد وپیمان کو مانتے تھے انہیں کافر کہنا۔

۵۔ عظیم شخصیتوں کو قتل کرکے عراق میں بد امنی پیدا کرنا۔

۶۔ امام علیہ السلام کی حکومت کے مقابلے میں مسلّحانہ قیام۔

اس کے مقابلے میں امام علیہ السلام نے جو کام خوارج کے فتنے کو ختم کرنے کے لئے انجام دیا ان امور کو بطور خلاصہ پیش کررہے ہیں :

۱۔صفین میں حکمیت کے مسئلہ پر اپنے مؤقف کو واضح کرنا اور یہ بتانا کہ آپ نے ابتداء سے ہی اس چیز کی مخالفت کی اوراس پر دستخط کرانے کے لئے زوروزبردستی اور دباؤ سے کام لیا گیا ہے۔

۲۔ خوارج کے تمام سوالوں اور اعتراضوں کا جواب اپنی گفتگو اور تقریروں میں بڑی متانت و خوش اسلوبی سے دینا۔


۳۔اچھی شخصیتوں کو مثلاً ابن عباس کو ان لوگوں کے ذہنوں کی اصلاح اور ہدایت کے لئے بھیجنا۔

۴۔ تمام خوارج کو خوشخبری دینا کہ خاموشی اختیار کریں اگرچہ ان کی فکر ونظر تبدیل نہ ہوںتو دوسرے مسلمانوں اور ان میں کوئی فرق نہیں ہوگا اور اسی وجہ سے بیت المال سے ان کا حصہ دیا گیا اور ان کے وظیفوں کو ختم نہیں کیا۔

۵۔ مجرم خوارج جنہوں نے خباب اور ان کی حاملہ بیوی کو قتل کیا تھا ، ان کا تعاقب کرنا۔

۶۔ ان کے مسلّحانہ قیام کا مقابلہ کرکے فتنہ وفساد کو جڑ سے ختم کرنا۔

یہ تمام عنوان اس حصے میں ہماری بحث کا موضوع ہیں اور خوش بختی یہ ہے کہ تاریخ نے ان تمام واقعوںکے وقوع کے وقت کو دقیق طور پر نقل کیا ہے اور ہم تمام واقعات کو طبیعی محاسبہ کے اعتبار سے بیان کریں گے۔

۱۔ خصوصی ملاقاتیں

ایک دن خوارج کے دو سردار زرعہ طائی اور حرقوص امام علیہ السلام کی خدمت میں پہونچے اور بہت سخت تکرارو گفتگو جسے ہم نقل کررہے ہیں ۔

زرعہ وحرقوص:''لا حُکْمَ اِلاّٰ لِلّٰهِ''

امام علیہ السلام :میں بھی کہتا ہوں :''لا حُکْمَ اِلاّٰ لِلّٰهِ''

حرقوص: اپنی غلطی کی توبہ کرو اور حکمیت کے مسئلے سے بازآجاؤ اور ہم لوگوں کو معاویہ کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے روانہ کرو، تاکہ اس کے ساتھ جنگ کریں اور خدا کی بارگاہ میں شہادت پاجائیں ۔


امام علیہ السلام : میں نے یہی کام کرنا چاہا تھا لیکن تم لوگوں نے صفین میں مجھ سے زورو زبردستی کی اور حکمیت کے مسئلہ کو مجھ پر تحمیل کردیا اور اس وقت ہمارے اور ان کے درمیان عہدوپیمان ہوا ہے اور ہم نے اس پر دستخط بھی کئے ہیں اور کچھ شرائط کو قبول کیا ہے اور ان لوگوں کو وعدہ دیا ہے اور خدا وند عالم فرماتاہے :

( وَاوْفُوا بِعَهْدِ اﷲِ ِذَا عَاهَدْتُمْ وَلاَتَنقُضُوا الْایْمَانَ بَعْدَ تَوْکِیدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمْ اﷲَ عَلَیْکُمْ کَفِیلاً انَّ اﷲَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ ) (نحل ۹۱)

اور جب کوئی عہد کرو تو اللہ کے عہد کو پورا کرو اور اپنی قسموں کو ان کے استحکام کے بعد ہر گز نہ توڑو جب کہ تم اللہ کو کفیل اور نگراں بنا چکے ہو کہ یقینا اللہ تمہارے افعال کو خوب جانتا ہے ۔

حرقوص: یہ کام گناہ ہے اور ضروری ہے کہ آپ توبہ کریں ۔

امام علیہ السلام : یہ کام گناہ نہیں ہے بلکہ میںتم کمزور فکر و رائے تھے ( جس کا باعث خود تم لوگ تھے) اور میں نے تم لوگوں کو اس سلسلے میں پہلے ہی بتایا تھا اور اس کے انجام سے منع کیاتھا ۔

زرعہ : خدا کی قسم اگر مردوں کی حاکمیت کو خدا کی کتاب(۱) میں (قرآن کے مطابق )ترک نہیں کیا تو خدا کی مرضی کے لئے ہم تم سے جنگ کریں گے۔

______________________

(۱) تاریخ طبری میں عبارت '' کتاب اللہ '' ہے لیکن ظاہراً دین اللہ صحیح ہے۔


امام علیہ السلام(غیظ وغضب کے عالم میں ): اے بدبخت تو کتنا برا آدمی ہے بہت ہی جلد تجھے ہلاک شدہ دیکھوں گااور ہوائیں تیرے لاشے پر چل رہی ہوں گی۔

زرعہ : میری آرزو ہے کہ ایسا ہی ہو۔

امام علیہ السلام : شیطان نے تم دونوں کی عقل چھین لیا ہے خدا کے عذاب سے ڈرو، اس دنیامیں جس چیز کے لئے جنگ کرنا چاہتے ہو اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔

اس وقت دونوںلَا حُکْمَ الِّٰا للّٰهِ کا نعرہ لگاتے ہوئے امام کے پاس سے اٹھ کرچلے گئے(۱) ۔

۲۔ حکومت کی مخالفت میں نمازجماعت سے دوری

جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ایک مستحب عمل ہے اور اس کی مخالفت گناہ نہیں ہے لیکن اسلام کے آغاز میں دوسرے حالات تھے اور جماعت میں مسلسل شرکت نہ کرنے کی صورت میں لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہ حکومت وقت پر معترض اور منافق ہے ، اسی وجہ سے اسلامی روایتوں میں نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے کہ فی الحال یہاں پر بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے(۲) ۔

خوارج نے مسجد میں حاضری نہ دے کر اور نماز جماعت میں شریک نہ ہوکراپنی مخالفت کو ظاہر کردیا بلکہ جب نماز جماعت ہوتی تھی تو اشتعال انگیز نعرے لگاتے تھے۔

ایک دن امام علیہ السلام نماز پڑھ رہے تھے کہ خوارج کے ایک سردار '' ابن کوّائ'' نے اعتراض کے طور پر یہ آیت پڑھی :( ولقد أوحِیَ الیک والی الّذین من قبلک لئن اشرکت لیحبطَنَّ عملک ولتکوننَّ من الخاسرین ) (سورہ زمر ۶۵)

اور (اے رسول )تمہاری طرف اور ان (پیغمبروں ) کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں یقینا یہ وحی بھیجی جاچکی ہے کہ اگر ( کہیں ) شرک کیا تو یقینا تمہارے سارے اعمال برباد ہوجائیں گے اور تم ضرور گھاٹے میں ہوگے.

______________________

(۱) تاریخ طبری: ج۴ ص۵۳

(۲) رجوع کیجئے ، وسائل الشیعہ: ج۵، باب نماز جماعت ، باب ۱ ،ص۳۷۰.


امام علیہ السلام نے پوری سنجیدگی اور قرآن کے حکم کے مطابق( وَاذَاقُرِیَ القرآنُ فَاستَمِعُو اله وأنصِتُوا لعلّکم تُرحَمون ) (۱) (سورہ اعراف ،۲۰۴) ، خاموش رہے تاکہ ابن کوّاء آیت کو تمام کردے ، پھر آپ نے نماز پڑھی لیکن اس نے پھر آیت پڑھی اور امام پھر خاموش رہے، ابن کوّاء نے کئی مرتبہ یہی کام کیا اور امام علیہ السلام صبروضبط کے ساتھ خاموش رہے ، بالآخر امام علیہ السلام نے درج ذیل آیت کی تلاوت فرماکر اس کا جواب اس طرح دیا کہ نماز پر بھی کوئی اثرنہ پڑا اور اسے خاموش و سرکوب کردیا، آیت یہ ہے:( فَا صبِر اِنَّ وَعَد اللّٰه حقّ ولا یَستَخِفَّنَّکَ الّذین لایُومنون ) (روم، ۶۰)، ( اے رسول )تم صبر کرو بے شک خدا کا وعدہ سچا ہے اور (کہیں ) ایسا نہ ہوکہ جو لوگ ایمان نہیں رکھتے تمہیں ہلکا بنادیں۔(۲)

ابن کوّاء نے اس آیت کی تلاوت کرکے بڑی بے حیائی و بے شرمی سے پیغمبر اسلام کے بعد سب سے پہلے مومن کومشرک قرار دیا تھاکیونکہ غیر خدا کو حکمیت کے مسئلہ میں شریک قراردیا تھا .ہم بعد میں الہی حاکمیت کے بارے میں تفصیل سے بحث کریں گے۔

______________________

(۱)ترجمہ:(لوگوں)جب قرآن پڑھا جائے تو غورسے سنو اور خاموش رہو تاکہ ( اسی بہانے) تم پر رحم کیا جائے۔

(۲) تاریخ طبری: ج۴، ص۵۴۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید: ج۲، ص ۲۲۹۔


۳۔ لاحکمَ الا للّٰہ کا نعرہ لگانا

خوارج اپنی موجودگی کا اعلان اور امام علیہ السلام کی حکومت سے مخالفت ظاہر کرنے کے لئے مسلسل مسجد اور غیر مسجد میں لاحکم الا للّٰہ کا نعرہ لگاتے تھے اور یہ نعرہ قرآن سے لیا تھا اور یہ درج ذیل جگہوں پر استعمال ہوا ہے :

۱۔( انْ الْحُکْمُ ِلاَّ لِلَّهِ یَقُصُّ الْحَقَّ وَهُوَ خَیْرُ الْفَاصِلِینَ ) (سورہ انعام :۵۷)

حکم خدا سے مخصوص ہے اور وہ حق کا حکم دیتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

۲۔( الاَلَهُ الْحُکْمُ وَهُوَ َاسْرَعُ الْحَاسِبِینَ ) (سورہ انعام :۶۲)

آگاہ ہوجاؤ کہ حکم صرف اسی کے لئے ہے اور وہ بہت جلد حساب کرنے والا ہے۔

۳۔( اِن الْحُکْمُ الا للّٰه اَمَرَ ألَّا تَعْبُدُوا اِلَّا ایّٰاهُ ) (سورہ یوسف: ۴۰)

حکم صرف خدا سے مخصو ص ہے اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو۔

۴۔( انْ الْحُکْمُ ِلاَّ لِلَّهِ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَعَلَیْهِ فَلْیَتَوَکَّلْ الْمُتَوَکِّلُونَ ) سورہ یوسف:۶۸)

حکم خدا سے مخصوص ہے اسی پر بھروسہ کرو اور بھروسہ کرنے والے بھی اسی پر بھروسہ کئے ہیں ۔

۵۔( لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاولَی وَالْآخِرَةِ وَلَهُ الْحُکْمُ وَالَیْهِ تُرْجَعُونَ ) (سورہ قصص: ۷۰)

دنیا وآخرت میں تعریف اسی سے مخصوص ہے اور حکم بھی اسی کا ہے اور اسی کی بارگاہ میں واپس جاناہے۔

۶۔( انْ یُشْرَکْ بِهِ تُؤْمِنُوا فَالْحُکْمُ لِلَّهِ الْعَلِیِّ الْکَبِیر ) (سورہ غافر :۱۲)

اگر اس کے لئے شریک قرار دیا تو تم فورا مان لیتے ہو تو اب حکم بھی اسی بزرگ واعلیٰ خدا سے مخصوص ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان تمام آیتوں میں '' حکم '' خدا سے مخصوص ہے اور حکم کو خدا کے علاوہ کسی دوسرے سے منسوب کرنا شرک ہے لیکن دوسری آیت میں بیان ہوا ہے کہ بنی اسرائیل کو کتاب ، حکم اور نبوت دیا ہے:( وَلَقَدْ آتَیْنَا بَنِی ِسْرَائِیلَ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّةَ ) (سورہ جاثیہ: ۱۶)

ایک دوسری جگہ خدا وند عالم نے پیغمبر (ص) کو حکم دیا کہ حق کا حکم کریں۔


( فَاحْکُمْ بَیْنَهُمْ بِمَا َنزَلَ اﷲُ وَلاَتَتَّبِعْ اهْوَائَهُمْ ) (سورہ مائدہ: ۴۸)

آپ ان لوگوں کے درمیان تنزیل خدا کے مطابق فیصلہ کریں اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔

ایک جگہ پر حضرت داؤد کو حکم دیا کہ لوگوں کے درمیان کے ساتھ فیصلہ کریں ۔

( فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلاَتَتَّبِعْ الْهَوَی ) (سورہ ص: ۲۶)

کتنے رنج وافسوس کی بات ہے کہ امام علیہ السلام ایسے مٹھی بھر جاہل اور نادان گروہ سے دوچارہوئے جو ظاہر آیات کو اپنی دستاویز قرار دیتے تھے اور معاشرے کو گمراہ اور برباد کرتے تھے۔

گروہ خوارج قرآن کا حافظ وقاری تھالیکن پیغمبر کے فرمان کے مطابق ، قرآن ان کے حلق اور سینہ سے نیچے نہیں اترا تھا ، اور ان کی فکر اور سمجھ سے بہت دور تھا۔

وہ سب اس فکر میں نہ تھے کہ امام علیہ السلام اور قرآن کے واقعی مفسر یا ان کے تربیت یافتہ حضرات کی خدمت میں پہونچیں ، تاکہ ان لوگوں کو قرآن کی آیتوں کے معانی و مفاہیم کے مطابق ان کی رہبری کریں اور ان لوگوں کو سمجھائیں کہ حکم کس معنی میں خدا سے مخصوص ہے کیونکہ جیسا گذر چکا ہے ، حکم کے کئی معنی ہیں یا اصطلاحاً یہ کہیں کہ اس کے بہت سے ایسے موارد ہیں بطور خلاصہ ہم تحریر کررہے ہیں :

۱۔عالم خلقت کی تدبیر اور خدا کے ارادے کا نفوذ،( یوسف: ۶۰)

۲۔ قانون سازی اور تشریع ( انعام: ۵۷)

۳۔ لوگوں پر حکومت اور تسلط ایک اصل حق کے طور پر ( یوسف :۴۰)

۴۔ الٰہی اصول وقوانین کے اعتبار سے لوگوںکے درمیان ہوئے اختلاف کا فیصلہ وانصاف (مائدہ:۴۹ )

۵۔ لوگوں کی سرپرستی،رہبری اور پیشوائی، الٰہی امانت دارکے عنوان سے ( جاثیہ ۱۶)


اب جبکہ ہمیں معلوم ہوا کہ حکم کے بہت سے مفاہیم ہیں یا بہ عبارت صحیح، مختلف مواردمقامات ہیں تو کس طرح ممکن ہے کہ ایک آیت کے ظاہری معنی پر عمل کیا جائے اور صفین میں حکمین کا کی طرف رجوع کرنے اس کے مخالف قرار دیا جائے ؟

اب اس وقت یہ دیکھنا ہے کہ کون سا حکم خدا سے مخصوص ہے پھر امام علیہ السلام کے عمل کی تحقیق ہو اور اس کی موافقت یا مخالفت کو دیکھا جائے اور یہ ایسا کام ہے جس میں صبر ، ضبط ، تدبیر اور فکر کا ہونا ضروری ہے اور یہ کبھی بھی نعروں اور شوروغوغا سے حل نہیں ہوسکتا۔

امام علیہ السلام نے اپنے مخصوص صبروضبط کے ساتھ اپنے بعض احتجاجات میں ان لوگوں کو آیتوں کے مقصد اورمفہوم سے روشناس کرایا ، اسی وجہ سے ان لوگوں کو تسلیم ہونا پڑا لیکن ضد ، ہٹ دھرمی اور دشمنی کا کوئی علاج نہیں ہے اور تمام انبیاء اور مصلحین اس کے علاج سے عاجز وناتواں رہے ہیں ۔

ہم گذشتہ آیتوں کے معانی و مفاہیم تحقیق کرنے سے پہلے خوارج کی بعض اشتعال انگیز اور تندسخت مقابلوں کو یہاں نقل کررہے ہیں تاکہ اس گروہ کی سرکشی اور ہٹ دھرمی بخوبی واضح ہوجائے۔

امام ـکی بلند ہمتی اور خوش اخلاقی

ہرصاحب قدرت ایسے بے ادب اور بے غیرت جسورلوگوں کو جو ملک کے حاکم کو کافر اور مشرک کہتے تھے، ضرور سزا دیتا لیکن امام علیہ السلام نے تمام حاکموں کے طریقے کے برخلاف بڑی ہی بلند ہمتی اور کشادہ دلی کے ساتھ ان سب کے ساتھ روبرو ہوئے۔

ایک دن امام علیہ السلام خطبہ دے رہے تھے اور لوگوں کو موعظہ ونصیحت کرنے میں مصروف تھے کہ اچانک خوارج میں سے ایک شخص مسجد کے گوشہ سے اٹھا اور بلند آواز سے کہا :لَاحُکْمَ اِلّٰا لِلّٰهِ جب وہ نعرہ لگا چکا تو دوسرا شخص اٹھا اوروہی نعرہ لگایا اس کے بعد ایک گروہ اٹھا اور وہی نعرہ لگا نا شرو ع کردیا۔


امام علیہ السلام نے ان کے جواب میں فرمایا : ان لوگوں کا کلام ظاہر میںتو حق ہے لیکن وہ لوگ باطل کو مراد لے رہے ہیں پھر فرمایا ''أما انَّ لکم عندنا ثلاثاً فَا صبَحتمو نا ''یعنی جب تک تم لوگ ہمارے ساتھ ہو تین حق سے بہرہ مند رہو گے ( اور تمہاری جسارتیں اور بے ادبیاں اس سے مانع نہیں ہوں گی کہ ہم تمہیں ان حقوق سے محروم کردیں۔)

۱۔''لٰا نَمْنَعُکُمُ مَسٰاجِدَ اللّٰهِ أنْ تَذْکُروْا فِیْهٰا اِ سْمَهُ '' تم کو مسجد میں داخل ہونے سے محروم نہیں کریں گے تاکہ تم وہاں نماز پڑھو۔

۲۔''لٰا نَمْنَعُکُمْ مِنَ الْفَئِی مَادَامَتْ اَیْدِیْکُمْ مَعَ أَیْدِیْنٰا ''تم کو بیت المال سے محروم نہیں کریں گے جب تک کہ تم ہماری مصاحبت میں ہو ( اور دشمن سے نہیں ملے ہو)۔

۳۔''لا نُقٰاتِلُکُم حَتّٰی تَبْدَ ؤُوْنا '' جب تک تم جنگ نہیں کرو گے ہم بھی تمہارے ساتھ جنگ نہیں کریں گے(۱) ۔

ایک دوسرے دن بھی جب امام علیہ السلام مسجد میں تقریر فرمارہے تھے کہ خوارج میں سے ایک شخص نے نعرہ لگایا اور لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف کرلیا۔

امام علیہ السلام نے فرمایا:''اَللّهُ اَکْبَرُ، کَلِمةُ حَقًّ یُرادُ بِها الْبَاطِلِ '' یعنی بات تو حق ہے لیکن اس سے باطل معنی مراد لیا جا رہا ہے ۔پھر فرمایا:اگر یہ لوگ خاموش رہیں تو دوسروں کی طرح ان سے بھی پیش

______________________

(۱) تاریخ طبری ج۴، ص۵۳۔


آؤں گا اور اگر بات کریں تو جواب دوں گا اور اگر فتنہ وفساد برپا کریں گے تو ان سے جنگ کروں گا ۔ اس وقت خوارج میں سے ایک دوسرا شخص یزید بن عاصم محاربی اٹھا اور خدا کی حمدوثناء کے بعد کہا : خدا کے دین میں ذلت قبول کرنے سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں ، خدا کے کام میں یہ ایک ایسا دھوکہ اور ذلت ہے کہ اس کا انجام دینے والا خدا کے غضب کا شکار ہوتا ہے ، علی مجھے قتل سے ڈراتے ہو؟امام علیہ السلام نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا (اس لئے کہ جواب جاہلان باشد خموشی)اور آئندہ کے حادثوں کا انتظار کرنے لگے ۔(۱)

امام ـ کی ہدایت

امام علیہ السلام کی فوج کا ایک حصہ جو آپ کا مستحکم بازو شمارہوتا تھا اس کے فتنہ وفساد نے امام کے لئے مشکلات کھڑی کردیں اور یہ فتنہ دوبار اٹھا ایک مرتبہ صفین میں ، فتنہ وفساد کرنے والوں کی وہاں مانگ یہ تھی کہ جنگ روک دیں اور حکمین کے فیصلے کو قبول کریں ورنہ آپ کو قتل کردیں گے۔ دوسری مرتبہ یہ فتنہ اس وقت اٹھا کہ جب عہد وپیمان ہوگیا اور حکمیت کو اسی گروہ کی وجہ سے مان لیاجو کہ اس مرتبہ پہلے مطالبہ سے بالکل برعکس مطالبہ کر رہے تھے اور عہد وپیمان کو توڑنے اور اسے نظر انداز کرنے کے خواہاں تھے۔ان کی پہلی خواہش نے اگرچہ امام علیہ السلام کی جیت اورفتح کو ختم کر دیالیکن صلح کرنا ایسے حالات میں کہ امام علیہ السلام کے سادہ لوح سپاہی نہ صرف جنگ کرنے کے لئے حاضر نہ تھے بلکہ یہاںتک آمادہ تھے کہ حضرت کو قتل کردیں ، غیر شرعی کام اور عقل کے اصول وقوانین کے خلاف نہ تھا؟ اور خود امام علیہ السلام کی تعبیر کے مطابق ،(جیسا کہ) آپ نے خوارج کے سرداروں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: '' حکمین کے فیصلے کا قبول کرنا اپنے فوجیوں کے دباؤ کی وجہ سے تھا جو تدبیر میں ناتوان اور انجام کارمیں کمزور تھے انہیں لوگوں کی وجہ سے مجھے قبول کرنا پڑا ''(۲) جب کہ ان کی دوسری خواہش قرآن کے صریحاً برخلاف تھی کیونکہ قرآن تمام لوگوں کو اپنے عہدو میثاق اور پیمان کو پورا کرنے کی دعوت دیتاہے۔اس صورت میں امام علیہ السلام کے پاس صرف ایک ہی راستہ تھا کہ آپ ثابت واستوار رہیں اور

______________________

(۱) تاریخ طبری ج۴، ص۵۳۔

(۲)''ما هو ذنب لکنّه' عَجز فی الرّأی وضعف فی الفِعل''ِ ، تاریخ طبری ج۴ ص۵۳۔


فریب خوردہ افراد کو ہدایت ونصیحت کریں اور ان کو منتشر اور متفرق کرنے کی کوشش کریں، اسی وجہ سے آپ نے پہلے ہدایت کرناشروع کیا اور جب یہ چیز مؤثر ثابت نہ ہوئی تو حالات کے مطابق دوسرے طریقے استعمال کئے مثلاً آپ نے اپنے فاضل وعالم اصحاب جوکہ مسلمانوں کے درمیان کتاب وسنت کی تعلیم کی آگاہی میں مشہور ومعروف تھے اور انہیں خوارج کی قیام گاہ بھیجا۔

ابن عباس کی دلیل اور خوارج

ابن عباس امام علیہ السلام کے حکم سے خوارج کی قیام گاہ( چھاؤنی ) گئے اور ان سے گفتگو کی جسے ہم نقل کررہے ہیں :

ابن عباس: تمہاراکیا کہناہے اورا میر المومنین علیہ السلام پر تمہارا کیا اعتراض ہے؟

خوارج: وہ امیر المومنین تھے لیکن جب حکمیت قبول کی تو کافر ہوگئے ،انہیں چاہیے کہ اپنے کفر کا اعتراف کرکے توبہ کریں تاکہ ہم لوگ ان کے پاس واپس چلے جائیں ۔

ابن عباس: ہرگز مومن کے شایان شان نہیں ہے کہ جب تک اس کا یقین اصول اسلامی میں شک سے آلودہ نہ ہو اپنے کفر کا اقرار کرے۔

خوارج : ان کے کفر کی علت یہ ہے کہ انہوں نے حکمیت کو قبول کیا۔

ابن عباس : حکمیت قبول کرنا ایک قرآنی مسئلہ ہے کہ خدا نے کئی جگہ پر اس کا تذکرہ کیا ہے، خدا فرماتاہے :( وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْکُمْ مُتَعَمِّدًا فَجَزَائ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنْ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْکُمْ' ) (سورہ مائدہ: ۹۵)

( اے ایمان لانے والو شکار کو حالت احرام میں قتل نہ کرو) اور تم میں سے جو بھی اسے عمداً قتل کرے تو اسے چاہیے کہ اسی طرح کا کفارہ چوپایوںسے دے ، ایسا کفارہ کہ تم میں سے دو عادل شخص اسی جانور کی طرح کے کفارے کی تصدیق کریں۔

اگرخداوند عالم حالت احرام میں شکار کرنے کے مسئلہ میں کہ جس میں کم مشکلات ہیں ،تحکیم کا حکم دے تو وہ امامت کے مسئلہ میں کیوں نہ حکم دے اور وہ بھی اس وقت جب مسلمانوں کے لئے مشکل پیش آئے اس وقت یہ حکم قابل اجراء نہ ہو؟

خوارج: فیصلہ کرنے والوں نے ان کے نظریہ کے خلاف فیصلہ کیا ہے لیکن انہوں نے قبول نہیں کیا ہے۔


ابن عباس : فیصلہ کرنے والوںکا مرتبہ امام علیہ السلام کے مرتبہ وعظمت سے بلند نہیں ہے۔ جب بھی مسلمانوں کا امام غیر شرعی کام کرے تو امت کو چاہیے کہ اس کی مخالفت کرے ، تو پھر اس قاضی کی کیا حیثیت جو حق کے خلاف حکم کرے؟

اس وقت خوارج لاجواب ہوگئے اور انہوں نے شکست تو کوردل کافروں کی طرح دشمنی اور ہٹ دھرمی پر اتر آئے اور ابن عباس پر اعتراض کیا اور کہا: تم اسی قریش کے قبیلے سے ہو جس کے بارے میں خدا نے کہا ہے: ''بَل هُم قوم خصِمُون '' (زخرف: ۵۸) یعنی قریش جھگڑالوگروہ ہے۔ اورنیز خدا نے کہا ہے: ''وتُنذر به قوماً لدّاً '' (مریم :۹۷) قرآن کے ذریعے جھگڑالوگروہ کو ڈراؤ۔(۱)

اگر وہ لوگ حق کے طلبگار ہوتے اورکوردلی ، اکٹر اور ہٹ دھرمی ان پر مسلط نہ ہو تو ابن عباس کی محکم و مدلل معقول باتوں کو ضرور قبول کرلیتے اور اسلحہ زمین پر رکھ کر امام علیہ السلام سے مل جاتے اور اپنے حقیقی دشمن سے جنگ کرتے ، لیکن نہایت ہی افسوس ہے کہ امام علیہ السلام کے ابن عم کے جواب میں ایسی آیتوں کی تلاوت کی جو مشرکین قریش سے مربوط ہیں نہ کہ قریش کے مومنین سے۔

حَکَم کی طرف رجوع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن نے ان لوگوں کو چھوٹے چھوٹے جھگڑوں میں بھی مثلاً گھریلو اختلاف کو حل کرنے کے لئے جائز قرار دیا ہے اور اس کے نتیجے کو دونوں طر ف کے حسن نیت کو نیک شمار کیا ہے ،جیسا کہ ارشادہواہے :( وان خِفتُم شقاق بینهما فابعثوا حکماً من اهله و حکماً من أهلِها ان یریدا اصلاحاً یوفِقُ اللّٰهُ بینهما ان اللّٰه کان علیماً خبیراً ) (سورہ نساء : ۳۵)'' اور اگر تمہیں میاں بیوی کی نااتفاقی کا خوف ہو تو مرد کے کنبہ سے ایک حکم اور زوجہ کے کنبہ سے ایک حکم بھیجواگر یہ دونوں میں میل کرانا چاہیں گے تو خدا ان کے درمیان اس کا موافقت پیدا کردے گا، خدا تو بے شک واقف وبا خبر ہے''۔

______________________

(۱)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲، ص ۲۷۳۔بحوالہ کامل مبرد ( ص ۵۸۲ مطبوعہ یورپ)۔


یہ ہر گز نہیں کہا جا سکتا کہ امت کا اختلاف تین مہینے کی شدید جنگ کے بعد میاں اور بیوی کے اختلاف سے کم ہے لہذا یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ اگر امت دونوں طرف سے دو آدمیوں کے فیصلے کو قرآن وسنت کی روشنی میں چاہے تو کام انجام دیا ہے اور کفر اختیار کیا ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ توبہ کرے(۱)

ان آیتوں پر توجہ کرنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خوارج کا مسئلۂ حکمین کو غلط کہنا سوائے ہٹ دھرمی ، دشمنی اور انانیت کے کچھ نہ تھا۔ ابن عباس نے صرف ایک ہی مرتبہ احتجاج نہیں کیا بلکہ دوسری مرتبہ بھی امام علی السلام نے ان لوگوں کی ہدایت کے لئے ابن عباس کو بھیجا اور اس پر گواہ یہ ہے کہ انہوں نے پچھلے مناظرہ میں قرآنی آیتوں سے دلیلیں پیش کی تھیں، جب کہ امام علیہ السلام نے اپنی ایک گفتگو میں انہیں حکم دیا تھا کہ خوارج کے ساتھ پیغمبر کی سنت سے مناظرہ کریں ، کیونکہ قرآن کی آیتوں میں بہت زیادہ احتمال اور مختلف توجیہیں کی جا سکتی ہیں اور ممکن ہے خوارج ایسے احتمال کو لیں جو ان کے لئے مفید ہو، جیسا کہ حضرت فرماتے ہیں: ''لا تخاصِمهم بالقرآن ، فان القرآن حمّال ذو وجوهٍ تقول ویقولون ولکن حاججهُم بالسُّنة فانّهُم لن یجدوا عنها محیصاً ''(۲) خوارج کے ساتھ قرآن کی آیتوں سے مناظرہ نہ کرو کیونکہ قرآن کی آیتوں میں بہت سے وجوہ و احتمالات پائے جاتے ہیں اس صورت میں تم کچھ کہو گے اور وہ کچھ کہیں گے ( اور کوئی فائدہ نہ ہوگا) لیکن سنت کے ذریعے ان پر دلیل قائم کرو تو قبول کرنے کے علاوہ کوئی راستہ ان کے پاس نہ ہوگا۔

خود امام علیہ السلام کا خوارج کی چھاؤنی پر جانا

جب امام علیہ السلام عظیم اور بزرگ شخصیتوں مثلاً صعصعہ بن صوحان عبدی ، زیاد بن النضر اور ابن عباس وغیرہ کو ان کے پاس ہدایت وراہنمائی کے لئے بھیجا مگر مایوس ہوئے تو خود آپ نے ارادہ کیا ان کے پاس جائیں تاکہ پوری تشریح ، وضاحت کے ساتھ حکمین کے قبول کرنے کے مقدمات اورعوامل و اسباب کو ان کے سامنے بیان کریں اور یہ بتائیں کہوہ لوگ خود اس کام کے باعث بنے ہیں( مجبور کیا تھا)، شاید اس کے ذریعے تمام خوارج یا ان میں سے کچھ لوگوں کو فتنہ وفساد سے روک دیں ۔

______________________

(۱) میاں اور بیوی کے اختلاف سے مربوط یہ آیت امام علیہ السلام کی دلیلوں میں بیان کی جائے گی ۔

(۲)شرح نہج البلاغہ مکتوب نمبر ۷۷۔


امام نے روانہ ہوتے وقت صعصعہ سے پوچھا: فتنہ وفساد کرنے والے خوارج کون سے سردار کے زیر نظر ہیں؟ انہوں نے کہا: یزید بن قیس ارحبی(۱) لہذا امام علیہ السلام اپنے مرکب پر سوار ہوئے اور اپنی چھاؤنی سے نکل گئے اور یزید بن قیس ارحبی کے خیمے کے سامنے پہونچے اور دورکعت نماز پڑھی پھر اپنی کمان پر ٹیک لگائی اور خوارج کی طرف رخ کر کے اپنی گفتگو کا آغاز کیا:

کیا تم سب لوگ صفین میں حاضر تھے؟ انہوں نے کہا :نہیں ۔آپ نے فرمایا: تم لوگ دوگروہوں میں تقسیم ہوجاؤ تاکہ ہر گروہ سے اس کے مطابق گفتگو کروں ۔ پھر آپ نے بلند آواز سے فرمایا: ''خاموش رہو شور وغل نہ کرو اور میری باتوں کو غور سے سنو، اپنے دل کو میری طرف متوجہ کرو اور جس سے بھی میں گواہی طلب کروں وہ اپنے علم وآگاہی کے اعتبار سے گواہی دے '' اس وقت اس سے پہلے کہ آپ ان لوگوں سے گفتگو کرتے اپنے دل کو پروردگارکی طرف متوجہ کیا اور پھر تمام لوگوں کو خدا کی طرف متوجہ کیا اور کہا:'' خدایا یہ ایسی جگہ ہے کہ جو بھی اس میں کامیاب ہوا وہ قیامت کے دن بھی کامیاب ہوگا اور جو بھی اس میں محکوم مذموم ہوگا وہ اس دوسری دنیا میں بھی نابینا اور گمراہ ہوگا''۔

''کیا تم لوگوں نے قرآن کودھوکہ اور فریب کے ساتھ نیزہ پر بلند کرتے وقت یہ نہیں کہا تھا کہ وہ لوگ ہمارے بھائی اور ہمارے ساتھ کے مسلمان ہیں اور اپنے گزشتہ کاموں کوچھوڑدیا ہے اور پشیمان ہوگئے ہیں اور خدا کی کتاب کے سایہ میں پناہ لئے ہوئے ہیں ہمارے لئے ضروری ہے کہ ان کی بات کو قبول کریں اور ان کے غم واندوہ کو دور کردیں ؟اور میں نے تمہارے جواب میں کہاتھا: یہ ایک ایسی درخواست ہے کہ جس کا ظاہر ایمان اورباطن دشمنی ،بغض وحسداورکینہ ہے اس کی ابتدا رحمت اور راحت اور اس کا انجام پشیمانی اور ندامت ہے۔لہذا اپنے کام پر باقی رہو اپنے راستہ سے نہ ہٹو، اور دشمن سے جہاد کرنے پر دانتوں کو بھینچے رہو اور کسی بھی نعرہ باز کی طرف توجہ نہ دو ، کیونکہ اگر اس سے موافقت کروگے تو گمراہ ہوجائوگے اور اگر اسے اس کے حال پر چھوڑ دوگے تو وہ ذلیل وخوار ہوجائے گا۔بہرحال یہ کام (مسئلۂ تحکیم) میری تاکید کے برخلاف انجام پایا اور میں نے دیکھا کہ ایسا موقع تم نے دشمن کو دیدیا ہے(۲) ۔

______________________

(۱) خوارج کا ایک سردار ، قبیلہ یشکر بن بکر بن وائل سے۔

(۲)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲ ص ۲۸۰۔


ابن ابی الحدید ۳۶ ویں خطبہ کی شرح میں کہتا ہے :خوارج نے کہا: جو کچھ بھی تم نے کہا ہے وہ سب حق ہے اور بجا ہے لیکن ہم کیا کریں ہم سے تو بہت بڑا گناہ ہوگیا ہے اور ہم نے توبہ کرلیا ہے اور تم بھی توبہ کرو ، امام علیہ السلام نے بغیر اس کے کہ کسی خاص گناہ کی طرف اشارہ کریں، بطور کلی کہا: ''اَستغفِر اللّٰه من کلّ ذنبٍ '' اس وقت چھ ہزار لوگ خوارج کی چھاؤنی سے نکل آئے اور امام علیہ السلام کے انصار میں شامل ہوگئے اور ان پر ایمان لے آئے ۔

ابن ابی الحدید اس استغفار کی توضیح میں کہتا ہے : امام علیہ السلام کی توبہ ایک قسم کا توریہ اور ''الحرب خُد عة '' کے مصادیق میں سے ہے۔آپ نے ایک ایسی مجمل بات کہی جو تمام پیغمبرکہتے ہیں اور دشمن بھی اس پر راضی ہوگئے ، اس کے بغیرکہ امام علیہ السلام نے گناہ کا اقرار کیا ہو۔(۱)

______________________

(۱)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲ ص ۲۸۰۔


دوست نما دشمن کی شرارت

جب خوارج اپنی چھاؤنی سے کوفہ واپس آئے تو انہوں نے لوگوں کے درمیان یہ خبر پھیلادی کہ امام نے حکمیت قبول کرنے سے انکار کردیا ہے، اسے ضلالت وگمراہی سمجھا ہے اور ایسے وسائل آمادہ کررہے ہیں کہ لوگوں کو حکمین کی رائے کے اعلان سے پہلے معاویہ کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے روانہ کریں ۔

اسی دوران اشعث بن قیس جس کی زندگی اور امام علیہ السلام کے ساتھ رہنے کی روش مکمل طور پر نفاق آمیز تھی، ظاہرمیں دوستانہ طور پر لیکن باطن میں معاویہ کے نفع کے لئے اس نے کام کرنا شروع کیا اور کہا : لوگ کہتے ہیں کہ امیر المومنین نے اپنے عہد وپیمان کو توڑدیا ہے اور مسئلہ حکمیت کو کفر و گمراہی سے تعبیر کیا ہے اور مدت ختم ہونے کے انتظار کو خلاف جاناہے۔

اشعث کی گفتگو نے امام علیہ السلام کوایسی مصیبت میں قرار دیا کہ ناچار امام علیہ السلام نے حقیقت بیان کردی اور کہا: جو شخص یہ فکر کررہا ہے کہ میں نے تحکیم کے عہد وپیمان کو توڑ دیا ہے وہ جھوٹ بول رہاہے اور جو شخص بھی اس کو گمراہی وضلالت سے تعبیر کررہا ہے وہ خود گمراہ ہے۔

حقیقت بیان کرنا خوارج کے لئے اتنا سخت ہوا کہ لاحکم الاّ للّٰہ کا نعرہ لگاتے ہوئے مسجد سے

باہر چلے گئے اور دوبارہ اپنی چھاؤنی میں واپس چلے گئے۔

ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ امام علیہ السلام کی حکومت میں ہر طرح کا رخنہ وفساد اشعث کی وجہ سے تھا کیونکہ اگر وہ اس مسئلہ کو نہ چھیڑتا تو امام علیہ السلام حقیقت کو بیان نہ کرتے ، اور خوارج جو استغفار کلی پر قناعت کئے ہوئے تھے امام علیہ السلام کی خدمت میں رہ کر معاویہ سے جنگ کرتے،لیکن وہی (اشعث) سبب بنا کہ امام علیہ السلام توریہ کے پردہ کو چاک کرکے حقیقت کو واضح وآشکار کردیں۔


خوارج کی ہدایت کی دوبارہ کوشش

مبرّد اپنی کتاب '' کامل '' میں امام علیہ السلام کا دوسرا مناظرہ نقل کرتے ہیں جو پہلے والے مناظرہ سے بالکل الگ ہے اور احتمال یہ ہے کہ یہ دوسرا مناظرہ ہے جو امام علیہ السلام نے خوارج سے کیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے:

امام علیہ السلام : کیا تمہیں یاد ہے جس وقت لوگوں نے قرآن کو نیزے پر بلند کیا اس وقت میں نے کہا تھا کہ یہ کام دھوکہ اورفریب ہے ، اگر وہ لوگ قرآن سے فیصلہ چاہتے تو میرے پاس آتے اور مجھ سے فیصلے کے لئے کہتے ؟ کیا تمہاری نگاہ میں کوئی ایسا ہے جو ان دونوں آدمیوں کے مسئلۂ حکمیت کو میرے اتنا برا اور خراب کہتا؟

خوارج : نہیں ۔

امام علیہ السلام : کیا تم لوگ اس بات کی تصدیق کرتے ہو کہ تم لوگوں نے مجھے اس کام مجبور کیا جبکہ میں اسے ہر گز نہیں چاہ رہا تھا اور میں نے مجبور ہوکر تمہاری درخواست کو قبول کیا اور یہ شرط رکھی کہ قاضیوں کا حکم اس وقت قابل قبول ہوگا جب خدا کے حکم کے مطابق فیصلہ کریں ؟ اور تم سب جانتے ہو کہ خدا کا حکم مجھ سے تجاوز نہیں کرے گا ( اور میں امام برحق اور مہاجرین و انصار کا چنا ہوا خلیفہ ہوں )۔

عبداللہ بن کوّائ: یہ بات صحیح ہے کہ ہم لوگوں کے اصرار پرآپ نے ان دونوں آدمیوں کو دین خدا کے لئے َحکمَ قرار دیا لیکن ہم اقرار کرتے ہیں کہ اس عمل کی وجہ سے ہم کافر ہوگئے اور اب اس سے توبہ کررہے ہیں اورآپ بھی ہم لوگوں کی طرح اپنے کفرکا اقرار کیجئے اور اس سے توبہ کیجئے اور پھر ہم سب کو معاویہ سے جنگ کرنے کے لئے روانہ کیجئے۔

امام علیہ السلام : کیا تم جانتے ہو کہ خدا نے میاں بیوی کے اختلاف کے بارے میں حکم دیا ہے کہ دو آدمیوں کی طرف رجوع کریں ، جیسا کہ فرمایا ہے:کہ ''فابعثوا حکماً من أهلهِ وحکماً من اَهلِها ؟ ''اور اسی طرح حالت احرام میں شکار کے قتل کا کفارہ معین کرنے کے بارے میں حکم دیا ہے کہ حَکَم (فیصلہ کرنے والے) کے عنوان سے دد عادلوں کی طرف رجوع کریں جیسا کہ فرمایا ہے: ''یحکم بهِ ذوا عَدل ٍ مِنکُم ؟ ''


ابن کوّائ:آپ نے اپنے نام سے '' امیر المومنین '' کا لقب مٹاکر اپنے کو حکومت سے خلع اور برکنار کر دیا۔

امام علیہ السلام : پیغمبرا سلام (ص) ہمارے لئے نمونہ ہیں۔ جنگ حدیبیہ میں جس وقت پیغمبر اور قریش کے درمیان صلح نامہ اس طریقے سے لکھا گیا :''هذا کتاب کتبه محمّد رسولُ اللّٰه وسُهیلُ بن عَمر '' اس وقت قریش کے نمائندے نے اعتراض کیا اور کہا: ، اگر آپ کی رسالت کا مجھے اقرار ہوتا تو آپ کی مخالفت نہ کرتا، لہٰذا اپنے نام سے ''رسول اللہ ''کا لقب مٹادیجیے، اور پیغمبر نے مجھ سے فرمایا: اے علی! میرے نام کے آگے سے '' رسول اللہ '' کا لقب مٹادو، میں نے کہا: اے پیغمبر خدا(ص)! میرا دل راضی نہیں ہے کہ میں یہ کام کروں ، اس وقت پیغمبر نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنا لقب مٹادیا اور مجھ سے مسکرا کر فرمایا: اے علی !تم بھی میری ہی طرح ایسی سرنوشت سے دوچار ہو گے۔

جب اما م علیہ السلام کی گفتگو ختم ہوئی اس وقت دو ہزار آدمی جو '' حروراء '' میں جمع ہوئے تھے وہ حضرت کی طرف واپس آگئے ۔اور چونکہ وہ لوگ(خوارج) اس جگہ پر جمع ہوئے تھے اس لئے انہیں '' حروریّہ '' کہتے ہیں(۱) ۔

______________________

(۱)کامل مبرّد: ص ۴۵۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲، ص ۲۷۵،۲۷۴۔


دوسرا مناظرہ

خوارج کے سلسلے میں امام علیہ السلام کی سیاست یہ تھی کہ جب تک خون ریزی نہ کریں اور لوگوں کے مال کو برباد نہ کریں اس وقت تک کوفہ اور اس کے اطراف میں آزاد زندگی بسر کرسکتے ہیں ، اگرچہ روزانہ رات دن ان کے انکار کے نعرے مسجد میں گونجتے رہیں اور امام کے خلاف نعرے لگاتے ہیںاس وجہ سے امام علیہ السلام نے ابن عباس کو دوبارہ '' حروراء '' دیہات روانہ کیا ، انہوں نے ان لوگوں سے کہا: تم لوگ کیا

چاہتے ہو ؟ ان لوگوں نے کہا : جتنے لوگ صفین میں موجود تھے اور حکمیت کی موافقت کی ہے وہ کوفہ سے نکل جائیں اور سب لوگ صفین چلیں اور وہاں تین دن ٹھہریں اور جو کچھ انجام دیا ہے اس کے لئے توبہ کریں اور پھر معاویہ سے جنگ کرنے کے لئے شام روانہ ہوں۔

اس درخواست میں ضد، ہٹ دھرمی اور بیوقوفی صاف واضح ہے کیونکہ اگر حکمیت کا مسئلہ برا اور گناہ ہو تو ضروری نہیں ہے کہ توبہ اسی جگہ کی جائے جہاں گناہ کیا ہے اور وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ وہاں تین دن تک قیام کیا جائے ! بلکہ توبہ تو صرف ایک لمحہ بھر ہی واقعی شرمندگی اور کلمہ استغفار کے ذریعہ ہوجاتی ہے ۔

امام علیہ السلام نے ان کے جواب میں فرمایا : کیوں اس وقت ایسی باتیں کررہے ہو جب کہ دو حَکَم معین کر کے بھیج دیئے گئے ہیں اور دونوں طرف کے لوگوں نے ایک دوسرے سے عہد وپیمان کرلیا ہے ؟

ان لوگوں نے کہا: اس وقت جنگ طولانی ہوگئی تھی ، بہت زیادہ سختی و شدت بڑھ گئی تھی ، بہت زیادہ زخمی ہوگئے تھے اور ہم نے بہت زیادہ اسلحے اور سواریاں گنوادی تھیں ، اس لئے حکمیت کو قبول کیا تھا۔

امام علیہ السلام نے فرمایا : کیا جس د ن شدت اور سختی بہت زیادہ بڑھ گئی تھی اس دن تم نے قبول کیا ہے ؟ پیغمبراسلام (ص) نے مشرکوں کے ساتھ عہد وپیمان کیا تھا ، اس کا احترام کیا لیکن تم لوگ مجھ سے کہتے ہو کہ اپنے عہدوپیمان کو ختم توڑ دو!


خوارج نے اپنے اندر احساس ندامت کیا لیکن اپنے عقیدہ کے تعصب کی بنا پرایک کے بعد ایک وارد ہوتے گئے اور نعرہ لگاتے رہے :''لاحکم الّا للّٰه ولو کَرِه المشرکون ''۔

ایک دن خوارج کا ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور وہی نعرہ لگایا (جسے ابھی ہم نے ذکر کیا ہے) ، لوگ اس کے پاس جمع ہوگئے اور اس نے پھر وہی نعرہ لگایا اور ا س مرتبہ کہا: ''لاٰ حُکمَ الّا للّٰه وَ لوکرِه ابوالحسنِ ''۔امام علیہ السلام نے اس کا جواب دیا: ، میں ہرگز خدا کی حکومت (اور اس کے حکم )کو مکروہ تصور نہیں کرتا، لیکن تمہارے بارے میں خدا کے حکم کا منتظر ہوں ۔ لوگوں نے امام علیہ السلام سے کہا: کیوں آپ نے ان لوگوں کو اتنی مہلت اور آزادی دی ہے ؟ کیوں ان کو جڑ سے ختم نہیں کردیتے ؟ آپ نے فرمایا:

''لاٰ یفنُون انّهُم لفِی اصلاب ِ الرّجال وأرحام ِ النّساء الیٰ یومِ القیامةِ '' (ا) وہ لوگ ختم نہیں ہوں گے ان لوگوں کا ایک گروہ ان کے باپوں کے صلب اور ماؤں کے رحم میں باقی ہے اوریہ اسی طرح قیامت کے دن تک رہیں گے۔

______________________

(۱) شرح حدیدی ج۲، ص ۳۱۱،۳۱۰۔


تیئیسویں فصل

خوارج کی مخالفت کی وجہ اور اس کی وضاحت

امام علیہ السلام سے خوارج کی مخالفت کی وجہ اور معاویہ کی مخالفت کی وجہ میں بہت فرق تھا، معاویہ نے عمر کی خلافت کے وقت سے ہی شام کی حکومت کی خود مختاری کے لئے مقدمات فراہم کرتے تھے اور خودکوشام کامطلق العنان حاکم (ڈکیٹیٹر) سمجھتا تھا۔ عثمان کے قتل کے بعد جب اسے خبر ملی کہ امام علیہ السلام شام کی حکومت سے اس کو بر طرف کرنا چاہتے ہیں تو وہ مخالفت کرنے کے لئے اٹھ گیا پہلے تو طلحہ وزبیر کو ورغلایا پھر جنگ صفین برپاکر کے امام علیہ السلام کے مقابلے میں آگیا اور پھرمنحوس سیاست کے ذریعہ قرآن کو نیزہ پر بلند کر کے امام علیہ السلام کے لشکر میں اختلاف وتفرقہ پیدا کر دیا اور بالآخر امام علیہ السلام اسی اختلاف کی وجہ سے قربان ہوگئے۔

لیکن خوارج ظاہر بین تھے اور آج کی اصطلاح میں خشک مقدس تھے اور اپنی جہالت ونادانی اور سطحی فکر ونظر اور اسلام کے اصول و مبانی سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے امام علیہ السلام کی مخالفت کرنے لگے، اورکھوکھلے اور بے بنیاد علل و اسباب گڑھ کر خدا کے چراغ ہدایت کے مقابلہ میں آگئے اور اس الٰہی چراغ کوخاموش کرنے کے لئے ہزاروں پاپڑ بیلے یہاں تک کہ خود کو ہلاک کرنے کے لئے بھی تیار ہو گئے۔


معاویہ اور خوارج کے درمیان اسی فرق کی وجہ سے امام علیہ السلام نے ان پرفتح وکامیابی حاصل کرنے کے بعد فرمایا: ''لاٰ تقاتلوا الخوارجَ بعدی، فلیسَ مَن طَلبَ الحقَّ فأخطاٰ ه کَمَن طلب الباطل فادرکَه ''' (ا)، خبردار میرے بعد خوارج کو قتل نہ کرنا کیونکہ جو حق کا طالب ہے اور اسے حاصل کرنے میں کسی وجہ سے اس سے غلطی ہوجائے وہ اس شخص کے مثل نہیں ہے جس نے باطل کو چاہا اور اسے پابھی لیا۔( یعنی معاویہ اور اس کے اصحاب)

خوارج کی مخالفت کے تمام عوامل و اسباب کی تحقیق اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ یہ لوگ ، شامیوں کے برخلاف ہرگز جاہ ومنصب اور حکومت کے طلبگار نہ تھے بلکہ ایک خاص کج فکری اور ذہنی پستی

______________________

نہج البلاغہ خطبہ ۵۸ (عبدہ)۔


ان پرمسلط تھی ۔ یہاں ہم خوارج کے اہم ترین اعتراضات نقل کررہے ہیں۔

۱۔دین پر لوگوں کی حکومت

وہ لوگ ہمیشہ یہ اعتراض کررہے تھے کہ کس طرح سے ممکن ہے کہ دومخالف گروہ کے دو آدمی اپنے اپنے سلیقے کے اعتبار سے مسلمانوں کی تقدیر کو اپنے ہاتھ میں لیں اور اپنی رائے کو مسلمانوں کے معین شدہ رہبر کی رائے پر مقدم کریں ، دین اور مسلمانوں کا مقدر اس سے بلند وبرتر ہے کہ لوگ اپنی ناقص عقلوں سے ان کے اوپر حکومت کریں ۔وہ لوگ مستقل کہہ رہے تھے: '' حکم الرجال فی دین اللّٰہ '' یعنی علی نے لوگوں کو دین خدا پر حاکم قرار دیاہے۔

یہ اعتراض اس بات کی حکایت کرتاہے کہ وہ لوگ حکمین کے فیصلے کے قبول کرنے کے شرائط سے باخبر نہ تھے اور ان لوگوں نے خیال کیا کہ امام علیہ السلام نے ان دونوں کو مسلمانوں کی قسمت معین کرنے کے لئے آزاد چھوڑدیا ہے کہ جس طرح چاہیں ان کے لئے حکم معین کریں۔ امام علیہ السلام نے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا:''اِنا لم نحکّم الرجالُ وانّما حکّمنٰا القرآنَ، هذا القرآن انّما هو خطّ مستور بین الدَّفتین لا ینطقُ بلسانٍ ولابدَّله من ترجمان ، وانما ینطق عنه الرجالُ ، ولمّٰا دَعانَا القَومُ اِلیٰ ان نُحکَّم بیننَا القرآن لم نَکُنِ الفریقَ المتولّ عن کتاب اللّٰه سبحانه وتعالیٰ ، وقد قال اللّٰه سبحانه: '' فان تنازعتم فی شیئٍ فَردَّ وهُ اِلَی اللّٰه والرّسول ِ ''فرُدُّهُ اِ لٰی اللّٰه أن نَحکُمَ بکتابِهِ ، وردّهُ اِلَی الرّسول اَن ناخذ بسنّتِهِ ، فاذا حُکِمَ بالصّدق فی کتابِ اللّٰه فنحن أحقُّ الناس بهِ وان ُحکِمَ بسنةِ رسول اللّٰه (ص) فنحن أحقُّ الناس وَ اَولاَ هُم بِها ۔(۱)

ہم نے لوگوں کو نہیں بلکہ قرآن کو حَکَم مقرر کیا ہیاور یہ قرآن دودفتیوں کے درمیان لکھی ہوئی کتاب ہے جو زبان سے نہیں بولتی اس کے لئے ترجمان ضروری ہے اور وہ ترجمان آدمی ہی ہوتے ہیں جو قرآن کی روشنی میں کلام کرتے ہیں جب قوم (اہل شام ) نے ہم سے خواہش کی کہ ہم اپنے اور ان کے درمیان قرآن مجید کو حکم قرار دیں تو ہم ایسے لوگ نہ تھے کہ اللہ کی کتاب سے منحرف ہوں حالانکہ خداوند عالم فرماتا ہے: ''اگر

______________________

(۱)نہج البلاغہ: خطبہ ۱۲۱.


تم کسی بات میں اختلاف کرو تو خدااور رسول کی طرف اسے پھیر دو'' ۔خدا کی طرف رجوع کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ہم اس کی کتاب کو حَکَم مانیں اور رسول کی طرف رجوع کرنے کے یہ معنی ہیں کہ ہم ان کی سنت کو اختیار کریں ، پس اگر سچائی کے ساتھ کتاب خدا سے حکم حاصل کیا جائے تو اس کی رو سے لوگوں میں سب سے زیادہ ہم اس کے حق دار ہیں اور اگر سنت رسول کے مطابق فیصلہ کیا جائے تو ہم سب سے زیادہ اس کے اہل ہیں ۔

امام علیہ السلام ایک دوسرے خطبہ میں اسی جواب کو دوسری عبارت میں بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں : '' دونوں حَکم کو اس لئے مقرر کیا گیا تھا کہ وہ انہیں چیزوں کو زندہ کریں جنہیں قرآن نے زندہ کیا ہے اور جن چیزوں کو قرآن نے ختم کیا ہے انہیں یہ بھی ختم کر دیں (حق کو زندہ اور باطل کو نابود کردیں) اور قرآن کا زندہ کرنا اس پر اتفاق کرناہے اور اسے ہلاک کرنا اس سے دوری اختیار کرنا ہے پس قرآن اگر ہمیں ان (شامیوں )کی طرف کھینچ لے جائے تو ہم ان کی پیروی کریں گے اور اگر وہ انہیں ہماری طرف کھینچ لائے تو انہیں ہماری پیروی کرنی چاہیے ، تمہارا برا ہو، میں نے اس بات میں کوئی غلط کام تو نہیں کیا نہ تمہیں دھوکہ دیا ہے اور نہ کسی بات کو شبہہ میں رکھا ہے ۔(۱)

______________________

(۱)نہج البلاغہ خطبہ ۱۲۳،۱۷.


۲۔ وقت کا تعیین

خوارج کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ کیوں فیصلہ کرنے والوں کے لئے وقت معین ہوا ہے اور یہ طے پایا ہے کہ دونوں (عمروعاص اورابوموسیٰ )غیر جانب دار علاقہ (دومة الجندل) میں ماہ رمضان ختم ہونے تک اختلاف کے بارے میں اپنی اپنی رائے پیش کردیں اور یہ کام میدان صفین ہی میں اس دن کیوں نہیں انجام دیا گیا جس دن قرآن کو نیزہ بر بلند کیا گیا تھا؟!

حقیقتاً اس طرح کے اعتراضات کیا ان کی جہالت پر دلالت نہیں کرتے ؟ کیا ایسا عظیم فیصلہ ، اوروہ بھی اس وقت دونوں گروہ کا ہاتھ کہنی تک ایک دوسرے کے خون میں ڈوبا ہواتھا، کوئی آسان کام تھا کہ ایک دو دن کے اندر فیصلہ ہوجاتا اور دونوں گروہ اُسے قبول کرلیتے؟ یا اس کے لئے صبر وضبط کی ضرورت تھی تاکہ جاہل کی بیداری اور عالم کے استحکام کا امکان زیادہ پیدا ہو جائے اور امت کے درمیان صلح کا ذریعہ اور زیادہ فراہم ہوجائے۔

امام علیہ السلام اس جواب کے اعتراض میں فرماتے ہیں : ''وَاماقَو لکم:لم جعلت بینکم و بهینم أجلاً فی التحیکم؟فانما فَعَلتُ ذالک لِیتبیّنَ الجَاهِلُ ویتثبّتَ العالم ولَعلَّ اللّٰه اَن یصلحَ فی هذهِ الهُدنَةِ أمرهذه الامةِ ''(۱) اب تمہارا یہ کہنا کہ آپ نے اپنے اور ان کے درمیان تحکیم کی مہلت کیوں دی تو میں نے یہ موقع اس لئے دیا کہ جاہل تحقیق کرے اور عالم ثابت قدم ہوجائے ، اور شاید خداوند عالم اس مہلت کے ذریعے اس امت کے حالات کی اصلاح فرمادے۔

______________________

(۱) نہج البلاغہ خطبہ ۱۲۱


۳۔ حاکمیت انسان اور حاکمیت خدا کے انحصار سے تارض

خوارج نے امام علیہ السلام سے مخالفت کے زمانے میں ایة ''لاحکم الّا لِلّٰه '' کا سہارا لیا اورحضرت کے کام کو نص قرآن کے خلاف شمار کیا اور یہ نعرہ لگایا:''لاحکم الّا لِلّٰه لا لَکَ و لا لِاَصحابک یا علُّ ''یعنی حاکمیت خدا سے مخصوص ہے نہ کہ تم سے اور نہ تمہارے ساتھیوں سے اور یہ نعرہ جیسا کہ بیان کیا گیا ہے قرآن سے اقتباس ہے جو سورہ یوسف آیت نمبر ۴۰ اور ۶۷ میں وارد ہوا ہے اور اس کا مفہوم توحید کے اصول میں شمار ہوتاہے اور اس بات کی حکایت کرتاہے کہ حاکمیت اور فرمانروائی ایک حقیقی اور اصل حق ہے جو خدا سے مخصوص ہے اور کوئی بھی انسان اس طرح کا حق دوسرے انسان پر نہیں رکھتا۔ لیکن خدا میں حاکمیت کا منحصر ہونا اس چیز کے منافی نہیں کہ کوئی گروہ ایک خاص ضوابط کے ساتھ جن میں سب سے اہم خداکی اجازت ہے دنیا پر حکومت کرے ، اورخدا کی حاکمیت کی تجلی گاہ ہوجائے اور کوئی بھی عقلمند انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ اجتماعی زندگی، بغیر حکومت کے ممکن ہے ، کیونکہ وظائف و فرائض کاانجام دینا، اختلافات کا حل ہونا اور لڑائی جھگڑے کا ختم ہوناوغیرہ یہ تمام چیزیں ایک حکومت کے سایہ میں انجام پاسکتی ہیں ۔

اما م علیہ السلام نے جب ان کے نعرہ کو سنا تو فرمایا ، ہاں یہ بات صحیح ہے کہ حکومت کاحق صرف خدا کو ہے لیکن اس حق کی بات سے باطل مراد لیا جا رہا ہے: ''کلمة حقٍ یراد بها الباطل، نعم انّه' لاحکم الّٰا لِلّٰه ولکن هولائِ یقولون لا امراة الا لِلّٰه وانَّه لابُدَّ لِلنَّاسِ مِن اَمیرٍ بّرٍ او فاجر یعمل فی


امرته المومن ویستمتع فیها الکافر '' (۱)

''بات حق ہے مگر اس سے مراد باطل لیا جارہاہے ہاں بے شک حکم خدا ہی کے لئے ہے لیکن یہ لوگ تو کہتے ہیں کہ امیر (حاکم) بھی اس کے سوا کوئی نہیں ہے حالانکہ لوگوں کے لئے ایک نہ ایک امیر (حاکم ) کا ہونا لازم ہے نیکو کار ہویا فاسق وفاجر ، تاکہ اس حکومت میں مومن عمل (خیر ) کرے اور کافر اس میں اپنے پورے پورے حقوق حاصل کرے ''۔

اگر حکومت نہ ہوتو امن اور چین نہیں ہوگا اور ایسی صورت میں نہ مومن اپنے کار خیر میں کامیاب ہوسکے گا اور نہ کافر دنیاکی زندگی سے فیضیاب ہوسکے گا اور اگر حقیقت میں مقصد، حکومت کا تشکیل نہیں دینا ہے تو اس صورت میں پیغمبراسلام(ص) اور شیخین کی حکومت کی کس طرح توجیہ کریں گے؟

خوارج اپنے عقیدہ و عمل میں ہمیشہ کشمکش میں مبتلا تھے ، ایک طرف سمجھتے تھے کہ اجتماعی زندگی ایک با اثر مدیر اور رہبر کے بغیر ممن نہیں ہے اور دوسری طرف اپنی کج فہمی کے زیر اثر ہر طرح کی حکومت کی تشکیل کو حاکمیت خدا کے انحصار کے خلاف سمجھتے تھے ۔اس سے بھی تعجب خیز بات یہ ہے کہ یہ کہ خوارج نے خود اپنے کام کے آغاز میں اپنے گروہ کے لئے حاکم کا انتخاب کیا ! طبری لکھتاہے : ماہ شوال ۳۸ ہجری میں خوارج کے کچھ گروہ عبداللہ بن وہب راسبی کے گھر جمع ہوئے اور عبداللہ نے اپنی تقریر میں کہا: یہ بات شائستہ نہیں ہے کہ لوگ خدا پر ایمان لائیں اور حکم قرآن کو تسلیم کریں اور دنیا کی زندگی ان لوگوں کی نظر میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے زیادہ باعث مشقت ہو ، پھر اس کے بعدحرقوص بن زہیر اور حمزہ بن سنان نے بھی گفتگو کی، اور تیسرے نے اپنے کلام کے آخر میں کہا :فولوا أمرکم رجلاً فانه لابد لکم من عمادٍ وسنادٍ ورایة تحفون بها وترجعون الیها ۔(۲)

تم کسی شخص کو اپنا امیر اور حاکم بنائو اس لئے کہ تمہارے لئے ایک ستون ، معتمد اور جھنڈا ضروری ہے جس کے پاس آئو اور رجوع کرو۔

______________________

(۱)نہج البلاغہ خطبہ ۴۰

(۲) تاریخ طبری ج۶، ص ۵۵


حکمیت، آخری امید

مسلمانوںکے درمیان ،جنگ صفین سے پہلے اور اس کے بعد بہت سے ایسے بنیادی مسائل تھے کہ جن کے حل کا ایک طریقہ ایسے فیصلہ کرنے والوں کا انتخاب کرنا تھا جوحقیقت بینی کے ساتھ مسائل کی دقیق اور بہترین تحقیق کریں اور پھر ان کے بارے میں اپنا نظریہ پیش کریں۔ وہ مسائل یہ تھے:

۱۔ عثمان کا قتل ۔

۲۔ امام کے دوستوں پر خلیفہ کے قتل کا الزام ۔

۳۔ معاویہ کا دعویٰ کہ وہ عثمان کے خون کا ولی ہے ۔

بنیادی طور پر یہی مسائل تھے جس کی بنا پرجنگ صفین ہوئی اور ان مشکلوں کے حل کے لئے دو راستے تھے: پہلاراستہ یہ کہ دونوں فریق اپنے اختلافی مسائل کو مہاجرین اور انصار کے ذریعہ چنے ہوئے امام کے پاس پیش کریں اور وہ ایک آزاد شرعی عدالت میں خداکے حکم کو ان کے بارے میں جاری کریں اور یہ وہی راہ تھی جس کے بارے میں امام علیہ السلام نے صفین سے پہلے تاکید کی تھی اور اپنے خط میں معاویہ کو لکھا تھا: ''قد اکثرت فی قتلة عثمان فادخل فیمادخلَ فیه النّاسُ ثمّ حاکمَ القومَ الیّ أن احملک وایّا هم علی کتابِ اللّٰه ''(۱) اور تم نے عثمان کے قاتلوں کا باربار ذکر کیا ہے اور جس دائرہ اطاعت میں لوگ داخل ہوچکے ہیں تم بھی (بیعت کرکے) داخل ہوجاؤ پھر میری عدالت میں ان لوگوں کا مقدمہ پیش کرو تاکہ میں کتاب خدا کے مطابق تمہارے اور ان کے درمیان فیصلہ کروں۔دوسراراستہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو ایک صلح پسند عدالت میں بھیج دیا جائے تاکہ وہاں منصف مزاج اورحقیقت پسند قاضی مشکل کا حل تلاش کریں اور فیصلہ کرتے وقت اسلام اور مسلمانوں کی حقیقی اور واقعی مصلحتوں سے چشم پوشی نہ کریں اور عمروعاص جیسے لوگوں کی ہر طرح کی بن الوقتی اور مفاد پرستی سیاور ابو موسیٰ جیسے لوگوں کے کینہ وبغض سے دو رہوں ، ایسی عدالت میں امام علیہ السلام اپنے حقیقی مقصد تک پہونچ سکتے تھے اور مشکلات کا حل وفیصلہ کرسکتے تھے۔خلیفہ کا قتل بہت پیچیدہ مسئلہ نہ تھا ۔ اس کے عوامل و اسباب کئی سالوں پہلے سے وجود میں آ چکے تھے

______________________

(۱)نہج البلاغہ مکتوب نمبر۶۴


اور روز بروز بڑھتے ہی جا رہے تھے یہاں تک کہ دبائو اور گھٹن کی شدت صالحین پر ظلم وستم اورمصلحین پر سختی و شکنجہ دھماکے (قت ) کا سبب بن گیا یہ ایسا دھماکاتھا جسے علی علیہ السلام بھی روک نہیں سکے اور خلیفہ کو قتل سے بچانہیں سکے۔

معاویہ اورمقتول خلیفہ کے ہواخواہوں کے دعوے کے لئے ضروری تھا کہ اُسے شرعی عدالت میں

پیش کیا جاتا اورحق وباطل میں تمیز پیدا کی جاتی ۔ دنیا کی کسی بھی جگہ مقتول کے خون کا بدلہ لینے کے لئے لشکر کشی جائز نہیں سمجھی جاتی،تو پھر تقریباً ۶۵ ہزار انسانوں کے قتل کا جواز کیے ہو سکتا ہے ؟

'' دومة الجندل '' کی عدالت میں اگرصحیح طریقہ سے فیصلہ ہوتا تو ان تمام مسائل کی صحیح چھان بین ہوتی اور مسلمانوں کا وظیفہ ان واقعات کے بارے میں واضح ہوجاتا. مگر افسوس ، اس عدالت میں جس چیز کے بارے میں بحث نہیں ہوئی وہ اختلاف کی جڑیں اور بنیادیں تھیں۔ عمروعاص اپنے رقیب ( ابوموسیٰ) کی عقل و رائے کو سلب کرنے کی فکر میں تھا تاکہ امام علیہ السلام کو خلافت سے معزول کرنے کے لئے اس کو راضی کرلے اورمعاویہ کی خلافت نافذ کر دے اور ابوموسیٰ اس فکر میں تھا کہ اپنے ہمفکروہم خیال عبداللہ بن عمر کو خلافت تک پہونچادے کیونکہ اس کا ہاتھ دونوں طرف میں سے کسی ایک کے خون سے آلودہ نہ ہوا تھا ۔ جب عدالت کے نظریہ کا اعلان ہوا تو علی علیہ السلام نے اسے قانونی و اصولی طور پر قبول نہ کیا اورفرمایا: فیصلہ کرنے والوں نے اپنے عہد وپیمان کے خلاف عمل کیا ہے اور ارادہ کیا کہ اپنی فوج کو منظم کر کے معاویہ سے جنگ کنے کو روانہ ہوںلیکن خوارج کے حادثہ نے معاویہ کا پیچھا کرنے سے روک دیا۔

فساد کو جڑ سے ختم کرنا

خوارج کے ساتھ امام علیہ السلام کا برتائو بہت ہی نرم اورلطف و مہربانی سے پُر تھا اور آپ جب بھی ان کو خطاب کرتے تھے تو صرف محبت ، نصیحت اور ہدایت وراہنمائی کرتے تھے اس کے علاوہ کوئی دوسری چیز آپ سے نہیں سنی گئی ، حضرت نے بالکل اس باپ کے مثل جو چاہتا ہے کہ اپنے عاق اور سرکش بیٹے کوصحیح راستے پر لائے ان لوگوں سے برتائو کرتے تھے،ان کے حقوق کوبیت المال سے ادا کرتے تھے ، مسجد اور اس کے اطراف میں ان کے ظلم وستم اورشوروغل کرتے تھے،


پرواہ نہ کی اور آپ کی پوری کوشش یہ تھی کہ اس گروہ کو مسخّر اور قابو میں کر کے معاشرے میں اتحاد کوواپس لے آئیں اور شام کے سرطانی غدّہ کو جڑ سے ختم کردیںکیونکہ خوارج بھی اسی کی پیداوار تھے ، اور صفین کا عہد وپیمان بھی امام علیہ السلام کو یہ حق دے رہا تھا کیونکہ عہدنامہ کی عبارت میں یہ بات لکھی گئی تھی کہ اگر حکمین نے قرآن وسنت کے برخلاف فیصلہ کیا تو امام علیہ السلام اپنے پہلے اصل منصب پر باقی رہیں گے(۱) ۔

اما م علیہ السلام نے لوگوں کو یہ بات واضح کرنے کے لئے بہت سی تقریر یں کیں کہ معاویہ سے دوبارہ جنگ صفین کے عہد نامہ کی خلاف ورزی نہیں ہے بلکہ اس کے مطابق تو جنگ دوبارہ ہونا چاہیے تاکہ دشمن کا خاتمہ ہوجائے ۔ آپ اپنی ایک تقریر میں فرماتے ہیں :''وقد سبق استثناؤنا علیهما فی الحکم بالعدل والعمل بالحقّ سوء رأیهماوجور حکمهما ، والثّقةُ فی ایدینا بانفسنا حین خالفا سبیل الحق وآتیٰا بما لایعرف من معکوس الحکمِ ''(۲) ،ہم نے تو ان کی غلط رائے اور ناروا فیصلوں سے پہلے ہی ان سے شرط کرلی تھی کہ وہ عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے اور حق پر قائم رہنے میں بدنیتی اور ناانصافی کو دخل نہ دیں گے ، اب جب کہ انہوں نے راہ حق سے انحراف کیاہے اور طے شدہ قرار داد کے برعکس حکم لگایا ہے تو ہمارے ہاتھ میں ان کا فیصلہ ٹھکرادینے کے لئے ایک مستحکم دلیل اور معقول وجہ موجود ہے۔

امام علیہ السلام اور آپ کے ساتھیوں کی نظر میں شجرہ خبیثہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور فساد کے غدہ کو نکال باہر کرنے کے علاوہ کچھ نہ تھا او ر ان لوگوں کی پوری سعی وکوشش یہی تھی لیکن اچانک تاریخ نے ورق پلٹا اور یہ واقعہ اس فکرونظر کے برخلاف ہوگیا اور معاویہ سے جنگ کے بجائے، خوارج سے جنگ ایک قطعی مسئلہ کی صورت میں چھڑ گئی، اب اس وقت دیکھنا یہ ہے کہ آخر کون سی چیز سبب بنی کہ امام علیہالسلام کے صبروتحمل کا جام لبریز ہوگیا اورآپ کو ان لوگوں سے جنگ کرنے پر مجبور کردیا۔ اس مسئلہ کی علت کو دومندرجہ ذیل باتوں سے معلوم کرسکتے ہیں :

______________________

(۱)عہد نامہ کی عبارت یہ تھی :وان کتاب اللّٰه سبحانه وتعالیٰ بیننا عن فاتحته الیٰ خاتمته ، نحیی ما احیی القرآن ونمیت ماأمات القرآن فان وجد الحکمان ذالک فی کتاب اللّٰه اتبعناه وان لم یجداه اخذا بالسنة العادلة وغیر المفرقة ۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲ص۲۳۴

(۲)نہج البلاغہ (عبدہ) خطبہ ۱۷۲


۱۔ خبر ملی کی خوارج عبداللہ بن وہب راسبی کے گھر جمع ہوئے ہیں اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے عنوان سے جنگ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اسی مقصد کے لئے بصرہ میں موجود اپنے ہمفکروں کو خط لکھا ہے اور ان لوگوں کو دعوت دی ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو خوارج کی چھاؤنی '' خیبر'' کے پاس نہروان پہونچ جائیں ، بصرہ کے خوارج نے بھی اپنی آمادگی کا اعلان کردیاہے۔(۱)

۲۔دومة الجندل کے قاضیوں کے فیصلے نے ، کہ جس میںنہایت بے حیائی سے امام علیہ السلام کو ان کے منصب سے معزول اور معاویہ کو ان کی جگہ پر منصوب کیا گیا تھا، امام علیہ السلام کوعمومی افکار کے واضح کرنے پر مجبورکیا۔ یہی وجہ ہے کہ امام علیہ السلام کوفہ کے منبر پر تشریف لائے اور خدا کی حمدو ثنا کے بعد فرمایا:'' نیک، خیرخواہ اورصاحب علم وبصیرت شخص کی مخالفت حسرت وشرمندگی کاسبب ہے ، میں مسئلہ حکمیت اور ان دونوں آدمیوں کی قضاوت کے بارے میں منفی نظریہ رکھتا تھا لیکن تم لوگوں نے میرے نظریہ کو قبول نہیں کیا اور ان دونوں کو حاکمیت کے لئے معین کر دیا اور ان لوگوں نے اپنے عہد وپیمان کے برخلاف جس چیز کو قرآن نے مردہ کیا تھا اسے زندہ کردیا اور جس چیز کو قرآن نے زندہ کیا تھا اسے مردہ کردیا اور اپنے خواہشات نفس کی پیروی کی اور بغیر دلیل اور حجت کے حکم جاری کردیا ، اسی وجہ سے خدا وپیغمبر اور مومنین ان دونوں قاضیوں سے بری ء الذمہ ہیں ،جہاد کے لئے آمادہ اور شام چلنے کے لئے تیار ہوجاؤ ، اور دوشنبہ کے دن نخیلہ کی چھاؤنی کے پاس جمع ہوجاؤ، خدا کی قسم ! میں اس گروہ (شامیوں ) سے جنگ کروں گا ، اگرچہ ہمارے لشکر میں میرے علاوہ کوئی بھی باقی نہ رہے''۔

۳۔ امام علیہ السلام نے سوچا کہ جتنی جلدی ممکن ہو کوفہ چھوڑ کر صفین پہونچ جائیں ، آپ کے بعض دوستوں نے آپ سے کہا کہ بہتر ہے کہ خوارج جو ہمارے راستے سے دور ہوگئے ہیں انہیں بھی جنگ میں شریک ہونے کے لئے دعوت دیں ، اس وجہ سے امام علیہ السلام نے خوارج کے سرداروں کے پاس خط لکھا اور یاد دہانی کی کہ عمروعاص اورابوموسیٰ نے گناہ کیا ہے اور کتاب خدا کی مخالفت کی ہے اور اپنے خواہشات کی پیروی کی ہے نہ سنت پر عمل کیا ہے اور نہ ہی قرآن پر ، خدا اور اس کا رسول اور مومنین ان کے کرتوت سے بری ء الذمہ ہیں ، جب میرا خط تمہارے پاس پہونچے تو میری طرف آنے میں جلدی کرو تاکہ مشترک دشمن

سے جنگ کرنے کے لئے ایک ساتھ چلیں ۔

_______________________________

(۱) الامامة والسیاسة ج۱، ص ۱۳۲


۴۔ امام علیہ السلام کا خط خوارج کے لئے ذرہ برابر بھی مؤثر ثابت نہ ہواان لوگوں نے حضرت کی درخواست کو رد کردیا۔ اس وجہ سے امام علیہ السلام ان لوگوں سے مایوس ہوگئے اور ارادہ کیا کہ ان لوگوں کا انتظار نہ کریں اور جتنے سپاہی موجود ہیں یا آنے والے ہیں ان کے ساتھ صفین کی طرف جائیں، پھر آپ نے بصرہ کے حاکم ابن عباس کے پاس خط لکھا اور ان سے مدد طلب کی، جب امام علیہ السلام کا خط بصرہ کے حاکم کے پاس پہونچا تو انہوں نے لوگوں کے درمیان اس خط کو پڑھ کر سنایا مگر افسوس کہ صرف پندرہ سو آدمیوں نے اخنف بن قیس کی سرداری میں امام علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہی۔ ابن عباس فوج کی اقلیت پر بہت رنجیدہ ہوئے اور لوگوں کے مجمع میں بہترین تقریر کی اور کہا: '' امیر المومنین علیہ السلام کا خط میرے پاس آیا ہے اور اس میں مجھے حکم دیا ہے کہ لوگوں کو میرے پاس جنگ میں شرکت کرنے کے لئے روانہ کرو لیکن صرف پندرہ سو (۱۵۰۰) لوگ جہاد کے لئے آمادہ ہیں جب کہ سرکاری رجسٹر میں ساٹھ ہزار آدمی کا نام درج ہے ۔جلدسے جلد روانہ ہوجاؤ اور عذر اور بہانہ سے پرہیز کرو اور جو شخص بھی اپنے امام کی دعوت کی مخالفت کرے گا بہت زیادہ شرمندہ ہوگا ۔ میں نے ابوالاسود کو حکم دیا ہے کہ تم لوگوں کی روانگی کا پروگرام ترتیب دیں۔

ابوالاسود اور دوسرے افراد کی تمام تر کوششوں کے باوجود صرف اٹھارہ سو (۱۸۰۰) لوگ پہلے گروہ سے ملحق ہوئے اور بالآخر تین ہزار دوسو (۳۳۰۰) افراد پر مشتمل ایک لشکر کوفہ کے لئے روانہ ہوا ، امام علیہ السلام بصرہ کی فوج کی کمی پر بے حد رنجیدہ ہوئے اور کوفہ کے لوگوں کے درمیان آپ تقریر کرنے کے لئے اٹھے اور ان لوگوں کو مخاطب کرکے کہا:اے کوفہ کے لوگو! تم لوگ حق کے امور میں میرے بھائی اور میرے دوست ہو میں تم لوگوں کی مدد سے ،جوحق سے منھ موڑے گا اسے سرنگوں کردوں گا۔ مجھے امید ہے کہ تم لوگ اس راہ میں حق کے پاسدار اور ثابت قدم رہو گے ، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ بصرہ سے صرف تین ہزار دوسو لوگ ہمارے پاس آئے ہیں۔ تم لوگوں پر لازم ہے کہ خلوص کے ساتھ اوردھوکہ ، فریب و خیانت سے دور رہ کر میری مدد کرو، اور قبیلے کے بزرگ اور سردار اپنے رشتہ داروں اور خاندان والوں کو خط لکھیںاور ان سے کہیں کہ جو لوگ جنگ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں وہ اس جنگ میں شرکت کریں ۔


بڑی شخصیتیں مثلاً سعد بن قیس ہمدانی ، عدی بن حاتم ، حجر بن عدی اور قبیلوں کے بزرگ افراد نے امام کے فرمان کو دل وجان سے قبول کیا اور اپنے اپنے قبیلوں کو خط لکھا ، اور اس طرح چالیس ہزار (۰۰۰،۴۰) بہادر جنگجو اور سترہ ہزار (۱۷۰۰۰) نوجوان اور آٹھ ہزار (۸۰۰۰) غلام کوفہ میں داخل ہوئے اور بصرہ کا لشکر بھی اسی میں شامل ہوگیا اور ایک قابل دید اور دشمن شکن لشکر امام علیہ السلام کے پرچم تلے جمع ہوگیا۔

کچھ لوگوں نے امام علیہ السلام سے بہت زیادہ اصرار کیا کہ معاویہ سے جنگ کرنے سے پہلے خوارج کے معاملے کو ختم کردیں ، لیکن امام علیہ السلام نے ان کی درخواست پر توجہ نہ دی اور فرمایا: ان لوگوں کو چھوڑ دو اورایسے گروہ کی طرف چلو جو چاہتے ہیں کہ زمین پر ستمگروں کے بادشاہ رہیں ، اور مومنین کو اپنا غلام بنائیں ، اس وقت فوج کے ہر گوشہ سے آواز بلند ہوئی اور لوگوں نے امام سے کہا :آپ جہاں بھی مصلحت سمجھیں ہمیں بھیج دیں کیونکہ ہم سب کا دل ایک آدمی کے دل کی طرح ہے اور آپ کی نصرت و مدد کے لئے تڑپ رہا ہے۔

۵۔ایسے حساس حالات میں خبر پہونچی کہ خوارج نے عبداللہ بن خباب کو نہر کے کنارے بھیڑ کی طرح ذبح کردیا ہے اور صرف اتنے ہی پر اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ ان کی بیوی کوبھی قتل کردیا ہے اور ان کے شکم سے بچہ نکال کر اسے بھی ذبح کردیا ہے۔

ابن قتیبہ '' الامامة والسیاسة '' میں اس بارے میں لکھتے ہیں :جب خوارج عبداللہ کے سامنے آئے تو ان سے کہا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا خدا کا مومن بندہ ہوں۔ ان لوگوں نے کہا: علی کے بارے میں تمہارا کیا نظریہ ہے ؟ انہوں نے کہا: وہ امیرالمومنین اور خدا اوراس کے رسول پر سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں ۔ ان لوگوں نے کہا: تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے کہا ، عبداللہ بن خباب بن الارّت ۔ ان لوگوں نے کہا: تمہارا باپ پیغمبر کا صحابی ہے ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ ان لوگوں نے کہا: ہم نے تمہیں ناراض کیا ہے ؟ کہا : ہاں ان لوگوں نے کہا۔ وہ حدیث جو کہ تم نے اپنے باپ سے اور انہوں نے پیغمبر سے سنی ہے ہمارے لئے نقل کرو ۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایاہے:'' میرے بعد ایسا فتنہ برپا ہوگا کہ مومن کا دل اس میں مرجائے گا ، رات کو باایمان سوئے گا اور دن میں کافر ہوجائے گا ''۔


ان لوگوں نے کہا :ہم لوگوں کا مقصد یہ تھا کہ یہ حدیث تم سے سنیں قسم ہے تمہیں اس طرح قتل کریں گے کہ آج تک اس طرح کسی کو قتل نہیں کیا ہے اور پھر فوراً ہی ان کے ہاتھ پیر باندھ دیئے اورانہیں ان کی حاملہ بیوی کے ساتھ کھجور کے درخت کے پاس لائے ۔اس وقت ایک کھجور پیڑ سے گری اور خوارج میں سے ایک شخص نے اُسے منھ میں رکھ لیا فوراً ہی اس کے ہم خیالوں نے اعتراض کیاکہ لوگوں کے مال کو بغیر اجازت یا بغیر قیمت دیئے ہوئے کھارہے ہو؟ اس نے فوراً کھجور منھ سے نکال دی اور پھینک دیا! اور اسی طرح ایک عیسائی کا سور وہاں سے گزررہا تھا جو کسی خوارج کے تیر سے اس وقت دوسروں نے اعتراض کیا کہ تمہار ایہ کام زمین پر فساد کرنا ہے لہٰذا اس کے مالک سے لوگوںنے رضایت طلب کی ۔پھر عبداللہ کو جنہیں باندھ رکھا تھا نہر کے کنارے لائے اور بھیڑ کی طرح ذبح کردیا اور صرف اسی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ ان کی بیوی کوبھی قتل کردیا اور ان کے شکم کو چاک کرکے بچے کے سر کو بھی کاٹ دیا ، اور پھر بھی اتنے ہی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ تین اور دوسری عورتوں کو بھی قتل کردیا جن میں سے ایک صحابیہ تھیں جن کا نام ام ّ سنان تھا(۱) ۔

خباب بن الارّت ، عبداللہ کے والد ، اسلام کے سابقین میں سے تھے اور قریش کے شکنجوں کے نشانات ان کے بدن پرآخر وقت تک موجودتھے۔ وہ امام علیہ السلام کے صفین سے کوفہ پہونچنے سے پہلے ہی انتقال کرگئے اورامام علیہ السلام صفین سے آنے کے بعد ان کی قبر پر گئے اور ان کے رحمت کی اور تعریف کی۔

مبرّدنے اپنی کتاب '' کامل '' میں عبداللہ کے دردناک قتل کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب قاتل نے انہیں پکڑا تو عبداللہ نے کہا : میں تم سے درخواست کرتاہوں کہ جس چیز کو قرآن نے زندہ کیا ہے اسے زندہ کرو اور جس چیز کو مردہ کیاہے اسے ماردو، پھر عبداللہ کی روایت ان کے والد کے واسطے پیغمبر سے نقل کرنے کے بعدمبرد لکھتے ہیں:خوارج نے کھجور کے مالک سے درخواست کی کہ اس کی قیمت لے لے، اس نے کہا کہ میں نے اس پیڑ کی کھجور کے استعمال کو تم لوگوں کے لئے بخش دیاہے لیکن ان لوگوں نے قبول نہیں کیا اورکہا کہ تم کو اس کی قیمت لینا پڑے گی ، اس وقت ایک عیسائی نے فریاد بلند کی کہ تم لوگ ایک مسلمان کا خون بہانے سے نہیں ڈرتے لیکن ایک پھل کھانے سے پرہیز کرتے ہو جب کہ اس کے مالک

______________________

(۱) الامامة والسیاسة: ص۱۳۶۔


نے رضایت بھی دیدی ہے ؟!(۱)

۶۔ امیرالمومنین علیہ السلام جب عبداللہ کے قتل سے باخبر ہوئے تو حارث بن مرّہ کو خوارج کی چھاؤنی بھیجا تاکہ واقعہ کی حقیقت معلوم کریں جب حارث ان کے پاس پہونچے تاکہ واقعہ کا صحیح پتہ لگائیں تو ان لوگوں نے تمام اسلامی اورانسانی اصولوں کے برخلاف انہیں قتل کردیا۔ امام علیہ السلام پر سفیر کے قتل ہونے کی وجہ سے بہت اثرہوا ۔اس موقع پر کچھ لوگ امام علیہ السلام کے پاس پہونچے اور کہا : کیا یہ صحیح ہے کہ ایسے خطروں کے باوجود ہم شام جائیں اور اپنے بچوں اور عورتوں کو ان کے پاس چھوڑدیں؟

______________________

(۱) الکامل: ص ۵۶۰، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید:ج۲، ص۲۸۲۔


عبداللہ کے قاتلوں کی تنبیہ

عبداللہ کے قتل سے جو وحشت اور رعب پیدا ہوا اس نے امام علیہ السلام کو آمادہ کیا کہ جہالت اور بدبختی کو جڑ سے ختم کردیں ، اسی وجہ سے آپ نے ارادہ کیا کہ حروراء یا نہروان جائیں جب امام روانہ ہونے لگے تو اس وقت آپ کے دوستوں میں سے ایک شخص نے جو علم نجوم میں ماہر تھا ، علی علیہ السلام کو اس وقت سفر کرنے سے منع کیا اور کہا: اگر اس وقت آپ نے سفر کیا تو بہت سخت مشکل میں گرفتار ہوں گے امام علیہ السلام نے اس کی بات پر توجہ نہیں دی اور ان مسائل میں علم نجوم سے استفادہ کرنے کے سلسلہ میں تنقید کرتے ہوئے فرمایا: نجوم کو جنگل کی تاریکیوں اور دریاؤں میں راہنمائی کے لئے استعمال کرو ، قضاء الہی سے امام علیہ السلام کو عظیم کامیابی ملی۔ امام علیہ السلام کوفہ سے کچھ ہی دور ہوئے تھے کہ آپ کے ساتھیوں میں سے ایک شخص دوڑا دوڑا آیا اور کہااے امیرالمومنین !بشارت دیجئے کہ خوارج کا گروہ آپ کے سفر سے آگاہ ہوگیا اور بھاگ گیا اور نہر عبور کرچکا ہے ۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم نے اپنی آنکھوں سے لوگوں کو نہر عبور کرتے دیکھا ہے ؟ اس نے کہا: ہاں ، امام نے اُسے تین مرتبہ قسم دی اور اس نے تینوں مرتبہ قسم کھا کر کہا: میں نے خوارج کو پانی اور پل پر سے گزرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ امام علیہ السلام نے فرمایا:


''واللّٰه ما عبروه ولن یعبروه وانّ مصارِعَهم دون النّطفة والذی خلق الحبّة وبرئَ النسمة لن یبلغوا الا ثلاث ولا قصربوازِن ''(۱) خدا کی قسم ان لوگوں نے دریا کو عبور نہیں کیا ہے اور عبور کربھی نہیں کرسکتے ، ان کا مقتل دریا کے کنارے ہے۔ اس خدا کی قسم جس نے دانوں کو چاک کیا اور انسانوں کو پیدا کیا وہ لوگ '' اثلاث '' اور'' قصربوازن'' بھی نہیں پہونچ پائیں گے۔

اس شخص کی دو آدمیوں نے اور بھی تائید کی لیکن امام علیہ السلام نے ان کی باتوں کو قبول نہیں کیا اور امام کس طرح سے قبول کرتے کیونکہ پیغمبر معصوم (ص) نے آپ کو خبر دی تھی کہ تین گروہ سے تمہاری جنگ ہوگی ؟ دوگروہوں سے جنگ ہوچکی تھی اور تیسرا گروہ پیغمبر کے قول میں ذکر شدہ نشانیوں کے مطابق یہی گروہ تھا ۔ اس وقت ایک جوان شک وشبہ میں پڑ گیا اور سوچنے لگاکہ عینی شاہدوں کی بات مانے یا امام علیہ السلام کی غیبی باتوں کو صحیح مانے ، آخر اس نے فیصلہ کیا کہ اگر امام علیہ السلام کی بات کے برخلاف ثابت ہوا تو ان کے دشمن سے مل جائے گا۔

امام علیہ السلام گھوڑے پر سوار ہوئے اور آپ کی فوج بھی پیچھے پیچھے چلی، جب خوارج کی چھاؤنی پر پہونچے تو پتہ چلا کہ ان لوگوں نے نیام کو توڑ ڈالا ہے اور گھوڑوں کو چھوڑدیا ہیاور جنگ کے لئے تیار ہیں اس وقت وہ سادہ لوح نوجوان امام علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور اپنے برے خیال کے متعلق امام سے معافی مانگی۔

تاریخ بیان کرتی ہے کہ امام علیہ السلام مدائن سے گزر کر نہروان پہونچے اور انہیں پیغام دیا کہ عبداللہ اور اس کی بیوی بچے کے قاتل کو ہمارے حوالے کریں تاکہ ان کا قصاص لیں۔ خوارج نے جواب دیا ہم سب نے مل کر انہیں قتل کیا ہے اور ان کے خون کو حلال سمجھا ہے۔ امام علیہ السلام ان کے نزدیک پہونچے اور فرمایا:

'' اے (سرکش)گروہ میں تم کو متنبّہ کررہا ہوں کہ ایسا نہ ہوکہ کل امت اسلامی تم کو لعنت کامستحق قراردے اور بغیر کسی واضح دلیل کے دریا کے کنارے قتل کردیئے جاؤ۔

میں نے تم لوگوں کو مسئلہ حکمیت قبول کرنے سے منع کیا اور میں نے کہا تھا کہ بنی امیہ کو نہ دین

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۲، ص۲۷۲''مضارعهم دون النطفةواللّٰه لایفلت منهم عشرةولا یهلک منکم عشرة'' خطبہ ،۵۸


سے محبت ہے اور نہ قرآن ہی چاہتے ہیں۔ میں ان لوگوں کو بچپن سے لے کر اس وقت تک کہ وہ بڑے ہوئے ہیں خوب پہچانتاہوں ، وہ لوگ بد ترین بچے اور بدترین لوگ ہیں ۔لیکن تم لوگوں نے میری بات غور سے نہیں سنی اور میری مخالفت کی اور میں نے ایسے ہی دن کے لئے دونوں قاضیوں سے عہد وپیمان لیا کہ جو کچھ قرآن نے زندہ کیاہے اُسے زندہ کریں اور جس چیز کو ختم کیا ہے اسے ختم کر دیں اب جبکہ دونوں نے قرآن و سنت کے برخلاف حکم کر دیا ہے ہم اپنے پہلے ہی قول اور طریقے پر باقی ہیں(۱)

'' خوارج کے پاس امام علیہ السلام کی معقول اور محکم گفتگو کے جواب میں بے ہودہ باتوں کی تکرار کے علاوہ کچھ نہیں تھااور اصرار کررہے تھے کہ مسئلہ حکمیت قبول کرنے کی وجہ سے ہم سب کافر ہوگئے ہیں اور ہم نے توبہ کی ہے آپ بھی اپنے کفر کا اعتراف کیجیے اور توبہ کیجئے، اس صورت میں ہم آپ کے ہمراہ ہیں اور اگر ایسا نہیں کیا تو ہم کوچھوڑ دیجیے اور اگر جنگ کرنا چاہتے ہیں تو ہم جنگ کے لئے تیار ہیں ''۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا رسول اسلام پر ایمان اور ان کی رکاب میںجہاد کرنے کے بعد اپنے کفر پر گواہی دوں ؟ کیا مسئلہ حکمیت قبول کرنے کی وجہ سے تم لوگوں نے اپنی تلواروں کو کاندھوں پر رکھا ہے اور انھیں لوگوں کے سروں پر مارنا چاہتے ہو اور لوگوں کا خون بہانا چاہتے ہو ؟یہ تو کھلا ہوا گھاٹاہے۔

______________________

(۱) شرح نہج البلاغہ خطبہ نمر ۳۶ کی طرف رجوع کریں


آخری اتمام حجت

امام علیہ السلام ان کے ساتھ گفتگو کرنے سے مایوس ہوگئے اور اپنی فوج منظم کرنے لگے فوج کے میمنہ کا سردار حجر بن عدی کواور میسرہ کا سردار شبث بن ربعی کو بنایا اور ابو ایوب انصاری کوسواروں کاسردار اور ابو قتادہ کو پیادہ چلنے والوں کا سردار بنایا ۔اس جنگ میں امام علیہ السلام کے ساتھ آٹھ سو صحابی شریک تھے اسی وجہ سے آپ نے ان لوگوں کا سردار قیس بن سعد بن عبادہ کو بنایا اور خود میںتھے پھر سوار لوچگوں میں ایک پرچم بلند کیا اور ابو ایوب انصاری کو حکم دیا کہ بلند آواز سے کہیں کہ واپسی کا راستہ کھلا ہواہے اور جو لوگ اس پرچم کے سایہ میں آجائیں گے ان کی توبہ قبول ہوجائے گی اور جو شخص بھی کوفہ چلا جائے یا اس گروہ سے الگ ہوجائے وہ امن وامان میں رہے گا ، ہم تم لوگوں کا خون بہانا نہیں چاہتے اس وقت ایک گروہ پرچم کے نیچے


آگیا اور امام علیہ السلام نے ان کی توبہ قبول کرلی ۔(ا) بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ خوارج میں سے ایک ہزار لوگوں نے واپسی کا راستہ اختیار کر لیا اور پرچم کے سایہ میں آگئے ۔خوارج کے بعض سردار جو امام علیہ السلام کی طرف آگئے ان کے نام یہ ہیں ، مسعر بن فدکی ، عبداللہ طائی ، ابومریم سعدی، اشرس بن عوف اور سالم بن ربیعہ۔ حقیقت میں صرف عبداللہ بن وہب راسبی کے علاوہ ان کے ساتھ کوئی بھی سردار نہ بچا(۲) ۔

طبری لکھتے ہیں کہ امام علیہ السلام کی فوج میں اس گروہ کے شامل ہونے کے بعد خوارج کی فوج میں کل دو ہزار آٹھ سو (۲۸۰۰) سپاہی بچے،(۳) اور ابن اثیر نے ان کی تعداد ایک ہزار آٹھ سو (۱۸۰۰)لکھی ہے ۔

امام علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ جب تک دشمن جنگ شروع نہ کرے تم لوگ جنگ شروع نہ کرنا۔ اسی وقت خوارج میں سے ایک شخص بڑھا اور امام علیہ السلام کے ساتھیوں پر حملہ کیا اور تین آدمیوں کو قتل کردیا ، اب امام علیہ السلام نے اپنے حملہ سے جنگ شروع کی اور اپنے پہلے ہی حملے میں اس شخص کو قتل کردیا اور پھر اپنے فوجیوں کو حملہ کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: خدا کی قسم تم لوگوں میں دس آدمی کے علاوہ کوئی قتل نہیں ہوگا اور ان میں سے صرف دس آدمی کے علاوہ کوئی زندہ نہیں رہے گا(۴) ۔اس وقت عبداللہ بن وہب راسبی میدان میں آیا اور کہا : اے ابوطالب کے بیٹے !تم سے اس وقت تک جنگ کروں گا جب تک تمہیں قتل نہیں کردو یا تم مجھے قتل کر دو ۔ امام علیہ السلام نے اس کا جواب دیا: خدا اسے قتل کرے کتنا بے حیا شخص ہے وہ جانتاہے کہ میں تلوار اور نیزہ کا دوست ہوں۔ اور فرمایا کہ وہ اپنی زندگی سے مایوس ہوگیا ہے اور جھوٹی امید میرے خلاف باندھے ہے۔ پھر ایک ہی حملہ میں اسے قتل کرکے اس کے دوستوں سے ملحق کردیا(۵) ۔اس جنگ میں بہت کم وقت میں امام علیہ السلام کو کامیابی مل گئی، امام علیہ السلام کے بہادر سپاہیوں

______________________

(۱)الاخبار الطوال ص۲۱۰۔----(۲)مقالات اسلامیین ج۱، ص ۲۱۰۔----(۳)کامل ابن اثیر ج۳،ص ۳۴۶۔ تاریخ طبری ج۴،ص ۶۴ ۔

(۴) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۲، ص۲۷۳،۲۸۲

(۵)الامامة والسیاسة ص۱۳۸


نے داہنے بائیں سے اور خود امام علیہ السلام نے قلب لشکر سے اپنے بدترین وذلیل دشمن پر حملہ کیااورکچھ ہی دیر میں خوارج کے بے جان جسم زمین پر پڑئے ہوئے نظر آئے ۔اس جنگ میں تمام خوارج قتل ہوگئے ، صرف نو آدمی باقی بچے تھے جن میں دو شخص خراسان میں، دو شخص عمّان میں، دو شخص یمن میں، دو شخص جزیرہ عراق میں اورایک شخص نے '' تلّ موزن '' میں پناہ لی ، اور وہیں زندگی بسر کرنے لگے اور خوارج کی نسل کو باقی رکھا(۱) ۔

امام علیہ السلام جنگ کے بعد ان کے مردہ جسموں کے درمیان کھڑے ہوئے اور بہت ہی افسوس کرتے ہوئے فرمایا:''بؤساً لکم ، لقد ضرَّ کم من غرَّکم ، فقیل له' من غرّهم یا امیرالمومنین ؟ فقال: الشیطانُ المضلُّ والا نفسُ الامّارة بالسُّوئِ غرّتهم بالامانیّ وفسحت لهم بالمعاصی ووعدتهم الا ظهار فأ فتحمت بهم النّار ''(۲) تمہارے لئے بدبختی ہو ، جس نے تم لوگوں کو دھوکہ دیا اس نے تمہیں بہت بڑا نقصان پہونچایا۔ لوگوں نے پوچھا :کس نے انہیں دھوکہ دیاہے ؟ آپ نے فرمایا:گمراہ کن شیطان اور سر کش نفسوں نے ان لوگوں کو لالچ دے کر دھوکہ دیا اور نافرمانی کی راہوں کو ان کے لئے کھول فیا اور انہیں کامیابی کا وعدہ دیا اور بالآخر ان لوگوں کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا۔

امام علیہ السلام کے دوستوں نے سمجھا کہ خوارج کی نسل ختم ہوگئی ہے لیکن امام علیہ السلام نے ان کے جواب میں فرمایا:''کلّا ، واللّٰه انّهم نطففی اصلاب الرجال وقرارات النساء ، کلّما نَجَمَ منهم قرن قُطِعَ حتٰی یکون آخرهم لصوصاً سلّابین ''(۳) نہیں ایسا ہرگزنہیں ہے ، خدا واہ ہے کہ وہ لوگ بصورت نطفہ مردوں کے صلب میں اور عورتوں کے رحم میں موجود ہیں اور جب بھی ان میں سے کوئی سرنکالے گا (حکومتوں کی طرف سے اسے) کاٹ دیا جائے گا ( اور دوسرا سروہیں پر نکل آئے گا) یہاں تک کہ آخر میں صرف چور اور لٹیرے ہو کر رہ جائیں گے ۔

______________________

(۱) کلمات قصار نمبر ۳۱۵۔

(۲) کشف الغمہ ج۱، ص ۲۶۷۔

(۳) نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۵۹۔


پھر آپ نے فرمایا: میرے بعد تم لوگ خوارج سے جنگ نہ کرنا کیونکہ تمہارا اصلی دشمن معاویہ ہے اور میں نے امن وامان کی حفاظت کے لئے ان لوگوں سے جنگ کی ہے ان میں سے بہت کم لوگ بچے ہیں اوروہ جنگ کرنے کے لائق نہیں ہیں ۔

امام علیہ السلام نے جنگی غنائم میں سے اسلحہ اور چوپایوں کو اپنے فوجیوں کے درمیان تقسیم کردیا اور ان کے سامان زندگی، کنیزوں اور غلاموں کو ان کے وارثوں کو واپس کردیا ۔ پھر اپنی ہماری تلواریں ٹوٹ گئی ہیں اور تیر ختم ہوگئے ہیں ، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ کوفہ واپس چلیں اپنی قوت میں اضافہ کریں پھر آگے بڑھیںفو ج میں آئے اور فوجیوں کی جواں مردی کی تعریفیں کیں اور فرمایا اسی وقت صفین کی طرف بڑھنا ہے تاکہ فتنہ کو جڑ سے ختم کر دیا جائے مگر فوجیوں نے کہا ہم تھک گئے ہیں ان لوگوں نے واپس جانے پر اتنا زیادہ اصرار کیاکہ امام علیہ السلام کو افسوس ہوا اور مجبوراً آپ ان لوگوں کے ساتھ نخیلہ کوفہ کی چھاؤنی پر واپس آگئے ۔ وہ لوگ دھیرے دھیرے کوفہ چلے جاتے تھے اور اپنی بیوی بچوں سے ملتے تھے اور زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ چھاؤنی پر کچھ ہی لوگ باقی بچے ۔ اتنے کم سپاہیوں کے ساتھ شامیوں سے جنگ کرنا ممکن نہ تھا۔

فتنۂ خوارج کے خاتمہ کی تاریخ

سرزمین صفین پر امام علیہ السلام کے اوپر خروج کرنے کی فکر ماہ صفر ۳۸ ہجری میں پیدا ہوئی اور زمانے کے ساتھ ساتھ کتاب خدا کے حکم کی مخالفت شدید ہوتی گئی ، کوفہ کے خوارج ماہ شوال ۳۸ کو عبداللہ بن وہب راسبی کے گھر جمع ہوئے اور اس کے ہاتھ پر بیعت کی اورکوفہ چھوڑنے کا ارادہ کیا اوروہاں سے'' حروراء ''اور پھر '' نہروان '' چلے گئے ۔ امام علیہ السلام نے اپنے شام کے پروگرام کو مجبوراً بدل کر خوارج سے جنگ کرنے کا ارادہ کیا اور مؤرخین کے نقل کرنے کے مطابق ۹ صفر ۳۸ ہجری کو فساد کو جڑ سے اکھاڑ دیا۔(۱)

______________________

(۱) تاریخ طبری ج۳، س۹۸ ۔والخوارج


چھٹاباب

جنگ نہروان کے بعد کے واقعات اورحضرت علی علیہ السلام کی شہادت

پہلی فصل

لوٹ مار، بدامنی اور دردناک قتل عام

جنگ نہروان کی ناگہانی آفت وبلا امام علیہ السلام کے استقلال اور آپ کے باوفا ساتھیوں کی ہمت سے ختم ہوئی اور اب وہ وقت آگیا کہ امام علیہ السلام سرکشوں سے اپنی فوج کی پاکسازی کے لئے دوسری مرتبہ اسلامی سرزمین پرامن اورراحت کوزندہ کریں ، اور معاویہ اورفریب خوردہ شامیوں کی خود غرضی کو ختم کردیں کیونکہ تمام فتنہ وفساد کی جڑ ابوسفیان کا بیٹا تھا۔

معاویہ نے عراق میں اپنے جاسوس معین کئے تھے تاکہ مسلسل ساتھ تمام واقعوں کی خبر اسے دیتے رہیں ، ان میں سے بعض جاسوس علی علیہ السلام سے پرانا کینہ اور بغض وحسد رکھتے تھے مثلاً ولید بن عقبہ بھائی عمارة بن عقبہ ، یہ دونوں بھائی جو بنی امیہ کے شجرۂ خبیثہ کی شاخوں میں سے تھے، ، چونکہ امام علیہ السلام نے اس خبیث خاندان کے بہت سے افراد پر زبردست اور کاری ضربیں لگائی تھیں اس لئے یہ لوگ امام علیہ السلام کی دشمنی کو اپنے دل میں چھپائے ہوئے تھے خصوصاً ولید کا باپ جنگ بدر میں علی علیہ السلام کے ہاتھوں قتل ہوا تھا ، ولید وہی شخص ہے جس کو قرآن نے سورہ حجرات کی چھٹی آیت میں فاسق کہا ہے اورعثمان کی حکومت کے زمانے میں امام علیہ السلام نے اسے تازیانہ مارا اور شراب پینے کی وجہ سے اس پر حد جاری کی ، اس بنا پر کوئی تعجب نہیں ہے کہ اس کابھائی عمارہ کوفہ میں معاویہ کا جاسوس ہواور خود ولیدامام علیہ السلام کی تمام جنگوں میں معاویہ کو تشویق اور ترغیب دلانے والاہو۔عمارہ نے معاویہ کو خط لکھا جس میں علی ـ کے ساتھیوں کے درمیان تفرقہ واختلاف اور نہروان کے واقعہ کو تحریر کیا اور لکھا کہ بہت سے قاریان قرآن اس جنگ میں علی اور ان کے دوستوں کے ہاتھوں قتل ہوئے ہیں، اس وجہ سے ان کے درمیان اختلاف اور نااتفاقی بڑھ گئی ہے۔ اس نے ایک مسافر کے ذریعہ خط کو شام روانہ کیا۔ معاویہ نے خط پڑھا اور دونوں بھائیوں کا شکریہ ادا کیا جن میں ایک موجود تھا اور دوسرا غائب تھا(۱) ۔

_______________________________

(۱)شرح نہج البلاغۂ ابن ابی الحدید :ج۲ ص۱۱۴،۱۱۵ بحوالہ تاریخ۔


معاویہ نے بدامنی پھیلانے ، لوٹ مار کرنے اور امام علیہ السلام کے شیعوں کے قتل کے لئے مناسب موقع دیکھا ،اسی وجہ سے اس نے چند گروہ حجاز، یمن اور عراق کے علاقوں میں بھیج کر ذہنی و نفسیاتی جنگ کا آغاز کردیا وہ دھوکہ ،فریب ، بے گناہ افراد کا قتل ، عورتوں اور محتاجوں کا مال غارت وبرباد کرکے نہ صرف امام علیہ السلام کے ذہن سے شام کو شکست دینے کا خیال نکالنا چاہ رہا تھا دیا بلکہ عملی طور پر یہ ثابت کرنا چاہ رہا تھا کہ مرکزی حکومت اپنی سرحدوں کی حفاظت نہیں کرسکتی ہے۔

یہ سیاست جو حقیقت میں شیطانی سیاست تھی اس نے اپنا اثر دکھایا، معاویہ نے حضرت علی ـ حکومت کے حدود میں بہت سے سنگدلوں کو بھیج کر امام علی علیہ السلام کی حکومت کے ایک ہزار آدمیوں کو قتل کرادیااور ان سرکش و نافرمان حملہ کرنے والوں نے بچوں اور عورتوں پر بھی رحم نہیں کیا اور جیسا کہ آئندہ بیان ہوگا ان لوگوں نے عبیداللہ بن عباس کے دو بچوں کا سر لوگوں کے سامنے قلم کردیا۔

امام علیہ السلام کی حکومت کا یہ دورتاریخ کا بہت غمگین اور درد ناک دور تھا البتہ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ امام علیہ السلام کے پاس دشمن کو نابود وبرباد کرنے کے لئے کوئی سیاسی تدبیر یا دوسرا طریقہ نہ تھا بلکہ جو چیز مشکل تھی وہ صرف مٹھی بھر فضول اور بہانے باز ، آرام طلب اور اس سے بھی بدتر وہ لوگ تھے ایسے سادہ لوح تھے کہ ہر کسی کی بات سن کر مان لیتے تھے، یہی وجہ تھی کہ امام علیہ السلام اپنے بلند وعالی ترین مقصد تک نہیں پہونچ سکے، تاریخ نے ان وحشیانہ حملوں کو بہت ہی دقیق ذکر کیاہے اورہم یہاں پر اسین حملوں کی ایک واضح تصویر پیش کررہے ہیں تاکہ معاویہ کا عہد وپیمان ،اسلامی اور انسانی اصولوں کی نسبت سے واضح ہوجائے۔


۱۔ضحّاک بن قیس کی لوٹ مار

معاویہ کو خبر ملی کہ امیر المومنین شام کی طرف روانہ ہونے والے ہیں تاکہ دوبارہ جنگ کا آغاز کریں ، معاویہ نے اس سلسلے میں خطوط لکھے اور اپنے نمائندوں کو شام کے تمام علاقوں میں بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو خط کے مضمون سے آگاہ کریں، شام کا ایک گروہ عراق کی طرف جانے کے لئے تیار ہوگیا۔ حبیب بن مسلمہ نے ان لوگوں سے کہا : صفین سے آگے نہ بڑھنا کیونکہ ہم نے اسی جگہ پر دشمن غلبہ حاصل کیا تھا اور کامیاب ہوئے تھے لیکن عمروعاص نے رائے دی کہ معاویہ اپنی فوج کے ساتھ عراق کی سرزمین کے اندر تک گھس جائے کیونکہ یہ کام شام کے فوجیوں کو حوصلہ اور قوت عطا کرے گا اور اہل عراق کے لئے ذلت کا باعث ہو گا معاویہ نے اس کی بات مان لی مگر کہا: شام کے لوگ صفین سے آگے بڑھنا نہیں چاہتے ۔ ابھی اس موضوع پر گفتگو ہورہی تھی کہ فوج کہاں قیام کرے کہ اچانک خبر ملی کہ امام علیہ السلام اور خوارج کے درمیان بہت زبردست جنگ ہوئی ہے اور وہ اپنی فوج کے سرکشوں پر کامیاب ہوگئے ہیں اور لوگوں سے کہا ہے کہ شام کی طرف روانہ ہوں لیکن ان لوگوں نے مہلت طلب کی ہے ۔ پھر عمارة بن عقبہ بن ابی معیط کا خط پہونچا جس میں اس نے لکھا کہ علی علیہ السلام کے دوستوں میں تفرقہ واختلاف اور فوج کے قاریوں اور عابدوں نے ان کے خلاف فساد برپا کر رکھا ہے اور ان کے درمیان شدید جنگ اور ان کی سرکوبی کے باوجود اختلاف ابھی بھی باقی ہے۔

ایسے حالات میں معاویہ نے ضحّاک بن قیس فہری کی سرداری میں تین سے چار ہزار لوگوںکو چنا اور حکم دیا کہ کوفہ جائیں اور جن قبیلوں کے لوگ امام کے مطیع وفرماں بردار ہیں انہیں غارت و برباد کردیں اور یہ کام بہت تیزی کے ساتھ انجام دیں اس طرح سے کہ اگر کسی شہر میں بالکل صبح سویرے داخل ہوں تو اسی دن شام کو دوسرے شہر میں رہیں اور کہیں پر بھی قیام نہ کریں کہ اپنے مقابلے والوں سے جنگ کرنی پڑے بلکہ جنگ و گریز اور لوٹ مارکرتے ہوئے اپنے کام کو جاری رکھیں۔


ضحّاک چلتے چلتے '' ثعلبیہ '' دیہات پہونچا جو عراقیوں کے مکہ جانے کا راستہ تھا اس نے حاجیوں کے مال و سامان کو لوٹا اور پھر اپنا سفر جاری رکھا اور پھر عمروبن عمیس عبداللہ بن مسعود کے بھتیجے کے روبرو ہوا اور انہیں اور ان کے ساتھ بہت سے لوگوں کو قتل کردیا۔جب حضرت علی علیہ السلام کو ضحّاک کی لوٹ مار اور قتل وغارت گری کی خبر ملی تو امام علیہ السلام منبر پر گئے اور کہا: ''اے لوگو! ، بندہ صالح عمرو بن عمیس کی طرف جلدی جاؤ، اپنے دوستوں کی مدد کے لئے اٹھو جو دشمن کے حملے سے زخمی ہوئے ہیں ، روانہ ہو جائواور اپنے دشمن سے جنگ کرو اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کرو تاکہ دشمن اسے عبور نہ کرسکے ، ان لوگوں نے امام علیہ السلام کی تقریر کے مقابلے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی ،جب امام نے ان کی سستی اور ناتوانی کو مشاہدہ کیا تو فرمایا: ''خدا کی قسم !میں حاضر ہوں کہ تم لوگوں میں سے دس آدمیوں کو معاویہ کے ایک آدمی سے بدل لوں ، لعنت ہو تم پر کہ میرے ساتھ میدان میں آؤ اور مجھے بیچ میدان میں چھوڑدو اور بھاگ جاؤ ، خدا کی قسم میں بابصیرت موت سے ناخوش نہیں ہوں اور اس میں میرے لئے بہت بڑی آسائش ہے کہ تم سے


اور تمہاری سختیوں سے نجات پاجائوں گا'' ۔(۱)

امام علیہ السلام منبر سے اترے اور روانہ ہوگئے یہاں تک کہ آپ سرزمین '' غریبین'' پہونچے اور پھر حجر بن عدی کو چار ہزار فوج کا سردار بنایا اور ان کے لئے علم باندھا ، حجر روانہ ہوئے اور سرزمین '' سماوہ'' پہونچے اور مستقل ضحاک کی تلاش میں تھے یہاں تک کہ '' تدمر'' کے علاقہ میں اس کو پالیا۔ دونوں گروہوں کے درمیان جنگ شروع ہوگئی اور دشمن کی فوج کے ۱۹ آدمی اور علی علیہ السلام کے دو آدمی مارے گئے ، ضحاک نے رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھایا اور بھاگ گیا اور صبح تک اس کا کوئی پتہ نہ تھا۔ ضحاک عراق سے بھاگنے کے بعد پیاس کی شدت سے جاں بلب ہوا ، کیونکہ جس اونٹ پر اس نے پانی رکھا تھا وہ راستے میں غائب ہوگیا لیکن بالآخر اس نے اطراف میں رہنے والوں سے پانی طلب کیا اور اپنی پیاس بجھائی ۔

امام علیہ السلام نے ضحاک کی لوٹ مار اورغارتگری پر ایک خطبہ دیا جس کا خلاصہ یہاں تحریر کررہے ہیں:''ایها الناس، المجتمعةُ أبد انُهُم المختلفةُ أهوا ؤهُم کلَا مُکم یوهِی الصُّمَّ الصِّلابَ وفِعلکم یُطمِعُ فیکُم الاعداء َ تقولونَ فی المجالسِ: کَیتَ وکَیتَ فاذا جَائَ القتالُ قُلتُم حیدِی حیادٍ '' ،اے وہ لوگو! جن کے جسم یکجا اور خواہشیں مختلف ہیں تمہاری باتیں سخت پتھروں کو نرم کردیتی ہیں مگر تمہارا عمل تمہارے بارے میں دشمنوں کو لالچ دلاتا ہے اپنی مجلس میں بیٹھ کر کہتے ہو کہ یہ کرینگے وہ کرینگے اور جب جنگ کا وقت آجائے تو کہتے ہو ائے جنگ دور ہو، دور ہو ۔

''۔۔۔أیّ دارٍ بعد دارِکم تمنعون؟ ومع ای اِمام بعدِی تقاتلون؟ المغرور واللّٰه من أ غررتموه و من فاز بکم فقد فاز واللّٰه بالسَّهم الاخیبِ ومن رمیٰ بکم فقد رمیٰ بأفوق ناصِل '' ، '' اپنا گھر چھن جانے کے بعد کس کے گھر کی حفاظت کروگے؟ اور میرے بعد کس امام کے ساتھ رہ کرجہاد کروگے؟، خدا کی قسم جسے تم اپنے فریب میں مبتلا کرلو وہ دھوکہ میں ہے اور جو تمہارے ذریعہ کامیاب ہونا چاہے اس کے حصّے میں ناکام تیر آئے گا ( جس کا کوئی انعام نہ ہو) اور جس نے تمہارے ذریعہ تیر چلایا گا اس نے (گویا) شکستہ پیکان سے نشانہ لگایا''۔

_______________________________

(۱) نہج البلاغہ خطبہ نمبر۷ ۹


خطبہ کے آخر میں فرماتے ہیں : ''القوم رجال أمثالُکم، أقولاً بغیرعلم ٍ ؟وغفلَة ً من غیرورعٍ ؟ وطمعاً فی غیرحقٍّ ''؟(۱) '' (دشمن )لوگ (شامی) بھی تمہارے ہی جیسے مرد ہیں ، کیا عقیدہ کے بغیر باتیں صحیح ہیں ؟تقوی کے بغیر غفلت صحیح ہے؟ کیا نا حق چیز میں طمع صحیح ہے ؟

امام علیہ السلام کے بھائی عقیل کو ضحاک کے حملہ کی خبر ملی اور مکہ سے آپ کے پاس ہمدردی کے طور پر خط لکھا اور خط کے آخر میں لکھا کہ اگر اجازت دیں تو اپنے بچوں کے ساتھ عراق آجاؤں اور اپنے بھائی کی خوشی اور غم میں شریک رہوں کیونکہ میں اس بات پر راضی نہیں ہوں کہ حضرت کے بعد زندہ رہوں ، امام علیہ السلام نے اپنے بھائی کو جواب لکھا جوکہ آپ کا تاریخی خط ہے اور اس میں قریش کے حالات اور ان کے ظلم وستم کو اس انداز سے لکھا:

''الا وان العرب قد اجمعت علیٰ حربِ اخیک الیوم اجماعَها عَلیٰ حربِ رسول اللّٰه قبل الیوم فاصبحوا قد جهِلوا حقّه' وجَحدوا فضله وبادروه العداوةونصبوا له الحرب وجهدو ا علیه کلَّ الجحد وجرّوا اِلیه جیش الاحزاب ''(۲) ، '' آج عرب نے تمہارے بھائی کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے عہد کر لیا ہے جیسا کہ اس سے پہلے پیغمبر سے جنگ کرنے کے لئے عہد وپیمان باندھا تھا۔ ان لوگوں نے تمہارے بھائی کے حق سے انکار کردیا ہے اور اس کی فضیلت کو نظر انداز کردیاہے اور دشمنی کرنے میں بہت جلدی کی اور پیغمبر کے زمانے میں اس کی سخت ترین محنت وں وکوششوں سے چشم پوشی کرلی ہے اور بالآخر احزاب کی فوج لے کر اس کے سامنے آگئے ہیں''۔امام ـ کایہ کلام اس بات کی حکایت کرتاہے کہ آپ معاویہ کے ساتھ جنگ کو پیغمبر کی ابوسفیان کے ساتھ جنگ کا سلسلہ سمجھتے ہیں۔ حقیقتاً جنگ احزاب عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے بہانے سے صفین میں دوبارہ برپا کی گئی۔

_______________________________

(۱) نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۲۹۔ الغارات ثقفی: ج۲، ص ۴۱۶۔ تاریخ طبری: ج۴، ص ۱۰۴۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید: ج۲ ص ۱۱۱تا۱۲۵

(۲)الغارات ج۲، ص ۴۳۱


۲۔ بُسر کو حجاز ویمن بھیجنا

امام علیہ السلام نے یمن کے ایک حصے کا والی عبیداللہ بن عباس کو بنایا تھا اور ایک دوسرے حصّے جند(۱) کا والی سعید بن نمران کو بنایا تھا۔ یمن کے مرکزی علاقہ میں کچھ ایسے گروہ تھے جو عثمان اور عثمانیوں پیروی کرتے تھے اور حضرت علی علیہ السلام کی حکومت سے کوئی رغبت نہیں رکھتے تھے بلکہ ہمیشہ دھوکہ ،فریب اور فتنہ وفساد کی فکر میںرہتے تھے جب ان لوگوں کو خوارج کے حادثہ اور امام کی فوج میں اختلاف کی خبر ملی تو مخالفت کرنے لگے یہاں تک کہ سعید بن نمران کو جند کے علاقہ سے باہر نکال دیا، ایک گروہ جو فکر کے اعتبار سے عثمانی نہ تھا وہ بھی مالیات (ٹیکس) ادا نہ کرنے کی وجہ سے فسادیوں کے ساتھ مل گیا ۔

سعید بن نمران اور عبیداللہ ابن عباس نے مخالفین کے تما م حالات امام علیہ السلام کو دی۔ امام علیہ السلام نے کوفہ میں یمن کی ایک عظیم شخصیت یزید بن قیس ارحبی سے مشورہ کیا اور آخر میں یہ طے ہوا کہ فتنہ وفساد برپاکرنے والوں کو خط لکھیں اور ان لوگوں کو نصیحت کریں اور پھر دوبارہ مرکزی حکومت کی اطاعت وپیروی کے لئے دعوت دیں۔

امام علیہ السلام نے خط کو یمن کے ایک آدمی کے ہمراہ جو قبیلہ ہمدان سے تھا ان لوگوں کے پاس بھیجا، امام علیہ السلام کے قاصد نے آپ کا خط ایک بہت بڑے اجتماع میں لوگوں کو سنایا، خط کامضمون بہت تربیتی اور مؤثر تھا، لیکن مخالفین نے اطاعت وپیروی کو اس شرط پر قبول کرنے کا وعدہ کیا کہ امام عبیداللہ اور سعید کوبر طرف کر دیں۔

ادھر فساد کرنے والوں نے فرصت کو غنیمت جانا اور معاویہ کوچند اشعار پر مشتمل ایک خط لکھا اور اس سے درخواست کی کہ اپنا نمائندہ صنعاء اور جند روانہ کرے تاکہ اس کے ہاتھ پر بیعت کریں اور اگر اس کام میں تاخیر کی تو ہم لوگ علی علیہ السلام اور ان کے مشاور یزید ارحبی کی بیعت کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

جب فتنہ وفساد کرنے والوں کا خط معاویہ کو ملا تو اس نے طے کہ یمن اور حجاز میں قتل وغارت گری،

_______________________________

(۱) یمن اس وقت تین حصوں میں تھا ایک حصّہ حجاز پڑوس'' حضرموت'' اور مرکزی حصہ''، صنعاء '' اور سب سے دور کا علاقہ ''


جندَ '' کے نام سے مشہور تھا ۔ مراصد الاطلاع، مادہ جند۔

بدامنی اور فساد کامزید ماحول پیدا کرے، اسی وجہ سے اپنی فوج کے سب سے سنگدل سردار بُسربن ارطاة کو اپنے پاس بلایا اور اس سے کہا کہ تین ہزار کا لشکر لے کر حجاز اور مدینہ جاؤ اور راستے میں جہاں بھی پہونچنا وہ اگر علی کے ماننے والے ہوں تو اانہیں خوب گالی گلوج دینا،سب کو میری بیعت کے لئے دعوت دینا ، بیعت کرنے والوں کو آزاد چھوڑدینا اور جو لوگ بیعت نہ کریں انہیں قتل کردینا اور جہاں بھی علی کے چاہنے والے ملیں انہیں قتل کردینا۔

معاویہ نے یہ خاص طریقہ استعمال کیا جب کہ وہ خود شام میں تھا اور علی علیہ السلام سے روبرو ہوکر جنگ نہیں کی لیکن اسی مقابلے کی جنگ کا نتیجہ حاصل کیا اور ولید بن عقبہ جیسے لوگ کہ جنہوں نے معاویہ کو امام علیہ السلام سے روبرو ہوکر جنگ کرنے کے لئے کہا تھا اسے بیوقوف اور احمق کہا اور وہ جانتا تھا کہ یہ لوگ سیاسی تجربہ میں ماہر نہیں ہیں ۔

ابن ابی الحدید نے اس سلسلے میں بہت عمدہ تبصرہ کیا ہے، وہ لکھتاہے :ولید امام علیہ السلام پر بہت غضبناک تھا کیونکہ جنگ بدر میں اس کے باپ کو مولائے کائنات نے قتل کیا تھا اور عثمان کی حکومت کے زمانے میں خود وہ امام کا تازیانہ کھا چکا تھا چونکہ اس نے بہت دنوں تک کوفہ پر حکومت کی تھی ، اورآمنے سامنے ہو کر اس وقت اپنی میراث کو حضرت علی کے ہاتھوں میں دیکھ رہا تھا لہذا علی علیہ السلام سے مقابلہ کرنے کے علاوہ کسی اور فکر میں نہ تھا۔ لیکن معاویہ ولید کے برخلاف دوراندیش تھا کیونکہ اس نے صفین میں امام علیہ السلام سے جنگ کرکے تجربہ کرلیا تھااور سمجھ گیا تھا کہ اگر اس جنگ میں قرآن کو نیزے پر بلند کرنے کا فریب نہ کیا ہوتا توعلی علیہ السلام کے ہاتھوں اپنی جان نہیں بچا سکتاتھا اور اگر دوبارہ ان سے جنگ کرتا تو ممکن تھا جنگ کے شعلوں میں جل کر راکھ ہوجائے ، اسی وجہ سے اس نے مصلحت سمجھی کہ بدامنی ، خوف و وحشت اور فساد بر پا کرکے حضرت علی کی حکومت کو کمزور کرے اور امام علیہ السلام کو مجبور اور ناتواں اسلامی ملک کی رہبری کے لئے ثابت کرے(ا)۔

_______________________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید:ج۲ ص۸


بُسر کا سفر

بُسر تین ہزار لوگوں کے ساتھ شام سے روانہ ہوا اور جب دیر مردو کے پاس پہونچا تو اس میں سے چار سو لوگ بیماری کی وجہ سے مر گئے اور وہ ۲۶۰۰ آدمیوں کے ساتھ حجاز کی طرف روانہ ہوگیا۔ وہ جس آبادی سے بھی گزرتا لوگوں کے اونٹ کو زبردستی ان سے چھین لیتا ، اور خود اور اس کے فوجی اس پر سوار ہوتے تاکہ دوسری آبادی میں پہونچ جائیں پھر وہاں ان اونٹوں کو چھوڑ دیتے تھے اور اس دوسری آبادی کے اونٹوں کو لے لیتے تھے ۔ اسی طرح سے اپنا طولانی سفر طے کیا یہاں تک کہ مدینہ پہونچابُسر نے مدینے میں قدم رکھتے ہی وہاں کے لوگوں کو برا بھلا کہنا شروع کردیا اور عثمان کے قتل کا واقعہ چھیڑدیا اور کہا: تم سب عثمان کے قتل میں شریک ہو یا ان کی طرف سے بے توجہی اختیار کرکے انھیں ذلیل و خوار کئے ہو۔ خدا کی قسم ایسا کام کروں گا کہ عثمان کا پورا خاندان قلبی سکون محسوس کرے گا۔

پھر دھمکیاں دینا شروع کردیں اور لوگوں نے اس کے خوف کی وجہ سے حویطب بن عبد العزّی کے گھر میں پناہ لی جوکہ اس کی ماں کے شوہر(سوتیلے باپ) کا گھر تھا اور اس کے سمجھانے کی وجہ سے بُسر کا غصہ ٹھنڈا ہوا ۔ اس وقت سب کو معاویہ کی بیعت کی دعوت دی کچھ لوگوں نے اس کی بیعت کی لیکن اس نے صرف اس گروہ کی بیعت پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مدینہ کے اہم افراد کو جو فکری اعتبار سے معاویہ کے مخالف تھے یا عراق میں علی علیہ السلام کے بہت زیادہ نزدیک تھے ان کے گھروں میں آگ لگادی زرارہ بن حرون، رفاعہ بن رافع اور ابو ایوب انصاری کا گھر جل کر راکھ ہوگیا ۔ پھر بنی مسلمہ کے سرداروں کو بلایا اور ان سے پوچھا : جابر بن عبداللہ کہاں ہے ؟ یااسے حاضر کرو یا قتل ہونے کے لئے تیار ہوجاؤ،اس وقت جابر نے پیغمبرا سلام (ص)کی بیوی ام سلمہ کے گھر میں پناہ لی تھی اور جب ام سلمہ نے پوچھا کہ کیا سوچ رہے ہو تو انھوں نے جواب دیا کہ اگر بیعت نہیں کروں گا تو قتل ہوجاؤں گا اور اگر بیعت کروں تو ضلالت وگمراہی میں مبتلا ہو جاؤں گا لیکن '' الغارات'' کے نقل کرنے کے مطابق جابر نے ام سلمہ کے مشورہ کے مطابق بیعت کرلی ۔


جب بُسر اپنی خرابکاریوں کو مدینہ میں انجام دے چکا تو پھر مکہ کی طرف روانہ ہوا تعجب یہ ہے کہ ابوہریرہ کو مدینہ میں اپنا جانشین بنایا ، اس نے مدینہ سے مکہ جانے میں بہت سے گروہوں کوقتل کیا ان کے مال واسباب کو لوٹ لیا اور جب مکہ کے قریب پہونچا تو امام علیہ السلام کے سردار قُثم بن عباس مکہ سے باہر چلے گئے ، بُسر نے مکہ میں قدم رکھتے ہی اپنے پروگرام کو جاری رکھا اور لوگوں کو گالی اور فحش دینے لگا اور سب سے معاویہ کی بیعت لی اور ان لوگوں کو معاویہ کی مخالفت کرنے سے ڈرایاکیا اور کہا: اگر معاویہ سے تم لوگوں کی مخالفت کی خبر مجھ تک پہونچی تو تمہاری نسلوں کو ختم کردوں گا اور تمہارے مال کو برباد کردوں گا اور تمہارے گھروں کو ویران کردوں گا۔

بُسر کچھ دن مکہ میں رہنے کے بعد طائف چلا گیا اور اپنی طرف سے ایک شخص کو ''تبالہ '' روانہ کیا کیونکہ وہ جانتاتھا کہ وہاں حضرت علی علیہ السلام کے شیعہ رہتے ہیں اور حکم دیا کہ بغیر کسی بات اور سوال وجواب کے سب کو قتل کردینا۔

بُسر کا نمائندہ '' تبالہ '' پہونچا اور اس نے سب کو باندھ دیا ، منیع نے اس سے درخواست کی کہ بُسر سے اس کے لئے امان نامہ لے آئے ، اس نے منیع کی درخواست قبول کرلی، قاصد طائف روانہ ہوا اور بُسر سے ملاقات کی اور اس سے امان نامہ مانگالیکن بُسر نے امان نامہ دینے میں اس قدر وقت لگایا کہ جب تک امان نامہ سرزمین تبالہ پہونچے سب کے سب قتل ہوجائیں۔ بالآخر منیع امان نامہ لے کر اپنی سرزمین پر اس وقت پہونچا جب کہ تمام لوگوں کوقتل کرنے کے لئے شہر کے باہر لاچکے تھے ۔ایک شخص کو وہاں آگے بڑھائے ہوئے تھے کہ اس کو قتل کریں لیکن جلاد کی تلوار ٹوٹ گئی ، سپاہیوں نے ایک دوسرے سے کہا : اپنی تلواروں کو نیام سے نکالو تاکہ سورج کی گرمی سے نرم ہوجائے اور اسے ہوا میں لہراؤ ،قاصد نے دور سے تلواروں کو چمکتے ہوئے دیکھا اور اپنے لباس کو ہلا کر اشارہ کیا کہ اپنا ہاتھ روک لیں شامیوں نے کہا: یہ شخص اپنے ساتھ خوشخبری لے کر آرہا ہے لہٰذا اپنا ہاتھ روک لو، قاصد پہونچ گیا اور امان نامہ کو سردار کے حوالے کیا اور اس طرح سے سب کی جان بچائی سب سے عمدہ بات یہ ہے کہ جس شخص کو قتل کے لئے حاضر کیا تھا اور تلوار ٹوٹنے کی وجہ سے اس کے قتل میں تاخیر ہوئی وہ شخص اس کا بھائی تھا۔

بُسر نے اپنا کام انجام دینے کے بعد طائف کو چھوڑدیا او رعرب کے مشہور سیاست باز مغیرہ بن شعبہ نے اُسے کچھ دور آکر رخصت کیا ، وہ یمن جاتے ہوئے راستے میں سرزمین '' بنی کنانہ '' پہونچا ۔ اسے خبر ملی کہ ''صنعاء میں امام علیہ السلام کے والی عبیداللہ بن عباس نے اپنے دو چھوٹے بچوں کوان کی ماں کے ساتھ وہاں چھوڑدیا ہے ، عبیداللہ نے اپنے بچوں کو بنی کنانہ کے ایک شخص کے سپر د کیا تھا ۔


وہ شخص ننگی تلوا رلے کر شامیوں کے پاس آیا ، بُسر نے اس سے کہا: تمہاری ماں تمہارے غم میں بیٹھے ، میں تمہیں قتل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ میں عبیداللہ کے بچوں کو مانگ رہا ہوں ، اس نے بُسر کو جواب دیا: میں ان لوگوں کی راہ میں جو میری حمایت میںہیں قتل ہونے کے لئے تیار ہوں ، یہ جملہ کہنے کے بعد شامیوں پر حملہ کیا اور بالآخر قتل ہوگیا، عبیداللہ کے چھوٹے بچوں کو قتل کرنے کے لئے لائے اور بہت ہی قساوت قلبی سے دونوں کو قتل کردیا ۔ بنی کنانہ کی ایک عورت نے فریاد بلند کی ، تم لوگ مردوں کو قتل کررہے ہو ، بچوں نے کیا غلطی کی ہے؟ خدا کی قسم چھوٹے بچوں کو نہ جاہلیت اور نہ ہی اسلام کے زمانے میں قتل کیا گیا ، خدا کی قسم وہ حکومت جو اپنی طاقت وقدرت بوڑھوں اور بچوں کو قتل کرکے ثابت کرتی ہے اور ناکارہ حکو مت ہے ، بُسر نے کہا: خدا کی قسم ہمارا ارادہ تھا کہ عورتوں کو بھی قتل کریں۔ اس عورت نے کہا: میں خدا سے دعا کرتی ہوں تو اس کام کو ضرور انجام دے۔

بُسر سرزمین کنانہ سے اور اپنے سفر کے درمیان نجران میں عبیداللہ بن عباس کے داماد عبداللہ بن عبد المدان کو قتل کردیا اور کہا: اے نجران کے لوگو اے عیسائیو! ، خدا کی قسم اگر تم لوگوں نے ایسا کام کیا جس سے میں خوش نہ ہو تو میں واپس آجاؤں گااور ایسا کام کروں گا کہ تمہاری نسلیں ختم ہوجائیں گی، تمہاری کھیتیاں برباد اور تمہارے گھر ویران ہو جائیں گے۔

پھر اپنے سفر پر روانہ ہوگیا اور راستے میں ابوکرب جو امام علیہ السلام کے شیعوں اور ہمدان کے بزرگوں میں سے تھے ان کو قتل کردیا اور بالآخر سرزمین صنعاء پہونچا۔ امام علیہ السلام کے والی عبیداللہ بن عباس اور سعید بن نمران نے شہر کو چھوڑدیا اور عمر و ثقفی کو اپنا جانشین بنادیا تھا۔ عبیداللہ کے جانشین نے کچھ دیر تک مقابلہ کیالیکن آخر کارقتل ہوگیا خونریز بُسر شہر میں داخل ہوگیا اور بہت سے لوگوں کو قتل کرڈالا یہاں تک کہ وہ گروہ جو ''مآرب'' سے وہاں آیاتھا صر ف ایک آدمی کے علاوہ سب کو قتل کردیا۔ وہ نجات یافتہ شخص مآرب واپس چلا گیا اور کہا: میں ضعیفوں اور جوانوں کو باخبر کررہا ہوںکہ سرخ موت تمہارا تعاقب کررہی ہے۔

بُسر ،صنعاء سے ''جیشان '' نامی علاقے کی طرف گیا ۔اس علاقے کے سبھی لوگ امام علیہ السلام کے شیعہ تھے۔ بُسر اور ان کے درمیان جنگ شروع ہوئی اور بالآخر بہت زیادہ تلفات کے بعد مغلوب اور اسیر ہوگئے اور بہت ہی درد ناک طریقے سے شھید ہوئے ۔ وہ دوبارہ صنعاء واپس گیا اور سو آدمیوں کوپھر اس جرم میں قتل کیا کہ ان میں سے ایک عورت نے عبیداللہ بن عباس کے بچوں کو پناہ دی تھی ۔


یہ بُسر بن ارطاة کے ظلم وستم کا بدترین سیاہ ورق تھا جسے تاریخ نے ضبط کیا ہے ۔

جب بُسر کے ظلم وستم کی خبر حضرت علی علیہ السلام کو ملی تو آپ نے اپنے عظیم سردار جاریہ بن قدامہ کو دو ہزار کا لشکر دے کر بُسر کے ظلم وستم سے مقابلہ کرنے کے لئے حجاز روانہ کیا، وہ بصرہ کی طرف سے حجاز گئے اور یمن پہونچے اور بُسر کا پیچھا کررہے تھے یہاں تک کہ خبر ملی کہ وہ سرزمین '' بنی تمیم'' پر ہے۔ جب بُسر جاریہ کی آمد سے باخبر ہوا تو وہ ثمامہ کی طرف چلا گیا۔ جب لوگوں کو جاریہ کی آمد کی خبرہوئی تو بُسر کے راستے میں مشکلات کھڑی کردیں۔ لیکن وہ کسی طرح سے اپنی جان بچا کر شام پہونچ گیا اور اپنے سفر کی مکمل روداد معاویہ سے بیان کی ۔ '' اس نے کہا: کہ میں نے سفر کی آمد ورفت میں تمہارے دشمنوں کو قتل کیا ہے ، معاویہ نے کہا: تونے یہ کام نہیں کیاہے بلکہ خدانے کیا ہے !۔

تاریخ نے لکھا ہے کہ بُسر نے اس سفر میں ۳۰ ہزار لوگوں کو قتل کیا اور کچھ لوگوں کو آگ میں جلا دیا ۔ امیرالمومنین علیہ السلام ہمیشہ اس پر لعنت، ملامت کرتے تھے اورکہتے تھے: خدایا! اُسے موت نہ دینا جب تک اس کی عقل اس سے چھین نہ لینا ، خدایا !بُسر ،عمروعاص اور معاویہ پر لعنت کر، اور اپنے غیض وغضب کو ان پر نازل کر۔ امام علیہ السلام کی بددعا قبول ہوئی اور زیادہ دن نہ گذرا تھا کہ بُسر دیوانہ ہوگیا اور ہمیشہ کہتاتھا: مجھے ایک تلوار دیدو تاکہ میں لوگوں کو قتل کروں ، اس کے محافظین کو کچھ سمجھ میں نہ آیا تولکڑی کی ایک تلوار اس کے ہاتھ میں دے دی اور وہ مسلسل اس تلوار سے در و دیوار پر مارتا تھا یہاں تک کہ ہلاک ہوگیا۔

بُسر کا کام مسلم بن عقبہ کی طرح تھا جو اس نے یزید کے حکم سے مدینہ میں حرّہ نامی جگہ پر انجام دیا تھا ، حقیقت میں یہ باپ بیٹے ( معاویہ اور یزید) نہ صرف مزاج و ذہنیت کے اعتبار سے ایک تھے بلکہ ان عاملین بھی قساوت قلبی ، سنگدلی میں انھیں جیسے تھے اور ابن ابی الحدید کی تعبیر کے مطابق ''وَمَن اَشبَهَ اَبَاهُ فَمَا ظَلَمَ ''(۱) ۔

اس حصّہ کے آخر میں امام علیہ السلام کاوہ خطبہ جو آپ نے بُسر کے بارے میں دیا، بیان کررہے ہیں '' بس کوفہ ہی میرے تصرف میں رہ گیا ہے اسی کے قبض وبسط کا اختیارمیرے ہاتھ میں ہے اور اے کوفہ !

_______________________________

(۱)الغارات: ج۲ص ۶۲۸تا۵۹۱، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید:ج۲، ص۳۔۱۸، تاریخ طبری ج۳، ص ۱۰۶۔۱۰۸، تاریخ یعقوبی :ج۱، ص ۱۸۶۔۱۸۹، کامل ابن اثیر: ج۳، ص ۳۸۳۔ ۳۸۵


اگر توایسا اور تجھ میں بھی مخالفت کی آندھیاں چلتی رہیں تو خدا تیرا برا کرے گا۔ مجھے خبر ملی ہے کہ بُسر یمن پہونچ گیا ہے اور مجھے خدا کی قسم یہ اندیشہ ہے کہ لوگ تم پر قابض ہوجائیں گے اور تم پر حکم چلائیں گے اس لئے کہ لوگ باطل پر ہوتے ہوئے بھی متحد ہیں اور تم اپنے حق پر منظم نہیں ہو(بلکہ ) تم حق باتوں میں اپنے امام کی مخالفت و نافرمانی کرتے ہو اور وہ باطل میں اپنے امیر کی اطاعت کرتے ہیں وہ اپنے ساتھی (معاویہ) کے ساتھ امانت داری کا حق ادا کرتے ہیں اور تم اپنے امام کی امانت میں خیانت کرتے ہو وہ اپنے شہروں میں امن وامان رکھتے ہیں اور تم شورش و فسادکرتے رہتے ہو ، اگر میں تم میں سے کسی کو لکڑی کے ایک پیالہ کا امین بنادوں تو ڈرتا ہوں کہ اسے دستہ سمیت لے کر بھاگ جائے گا، اے اللہ! کوفہ کے لوگوں سے میرا دل تنگ ہوگیا ہے اوران کا بھی دل مجھ سے تنگ ہو گیا ہوں۔ میں ان سے اُکتاگیا ہوں ،اور یہ مجھ سے اکتا چکے ہیں۔ تو اب ان کے بدلے میں ان سے بہتر لوگ مجھے عطا کردے اور میرے بدلے میں کوئی برا حاکم انہیں دیدے۔خدایا! ان کے دلوں کو ( اپنے غضب سے ) اس طرح پگھلادے جیسے پانی میں نمک گھولا جاتاہے ۔خدا کی قسم، میرا دل تو یہ چاہتاہے کہ کاش مجھے تمہارے عوض بنی فراس بنی غنم کے ایک ہزار سوار مل جائیں ''(۱) ۔

_______________________________

(۱) نہج البلاغہ: خطبہ ۲۵۔


۳۔ سفیان بن عوف کی لوٹ مار

سفیان بن عوف غامدی کو معاویہ کی طرف سے حکم ملا کہ ایک لشکر کے ساتھ فرات کی طرف جائے تاکہ '' ہیت '' نامی شہر جائے جو '' انبار'' شہر کے پاس ہے اور پھر وہاں سے انبار جائے ۔ اگر راستے میں کوئی مقابلہ کرے تو اس پر حملہ کرے اور انہیں غارت کردے اور اگر راستے میں کسی نے مزاحمت نہ کی تولوٹ مار کرتا ہوا شہر انبار تک جاتے اور اگر وہاں پر بھی کوئی لشکر وغیرہ نہ ہو تو مدائن تک جاتے اور پھر وہاں سے شام واپس آجاتے اورہر گز ایک لمحہ کے لئے بھی کوفہ کے قریب نہ جاتے،پھر معاویہ نے اس سے کہا : اگر تم نے انبار اور مدائن کو برباد کردیا تو گویا تم نے کوفہ کوبرباد کردیا ہے اور تمہارا یہ عمل عراق کے لوگوں کو مرعوب کردے گا اور ہمارے چاہنے والوں کو خوش کردے گا اور جو لوگ ہماری مدد کرنے سے خوف زدہ ہیں وہ ہماری طرف آجائیں گے۔ سفر کے راستہ میں اگر تمہارا کوئی موافق نہ ہوتو اسے قتل کردینا اور دیہاتوں کو ویران کردینا

اور ان کے مال واسباب کو مال غنیمت سمجھنا کیونکہ ان لوگوں سے مال غنیمت لینا ان لوگوں کو قتل کرنے کی طرح ہے اور یہ کام دلوں کو جلا کر راکھ کردے گا ۔

سفیان کہتا ہے: میں شام کی چھاؤنی میں گیا ، معاویہ نے تقریر کی اور لوگوں کو میررے ساتھ جانے کے لئے دعوت دی کچھ ہی دیر میں چھ ہزار لوگ ہمارے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہوگئے میں فرات کی طرف روانہ ہوگیا اور ہیت نامی جگہ پر پہونچا ۔وہاں کے لوگ میری آمد سے باخبر ہوگئے اور فرات کو عبور کرگئے اور میں نے بھی فرات کو عبور کیا لیکن کسی سے ملاقات نہ ہوئی ۔پھر میں '' صندودائ'' پہونچا وہاں کے لوگ بھی مجھے دیکھ کر بھاگ گئے تو میں نے ارادہ کیا کہ انبار کی طرف جاؤں وہاں کے دوآدمیوں کو میں نے قید کرلیا اوران لوگوں سے پوچھا کہ علی کے لشکر میں کتنے فوجی ہیں؟انہوں نے جواب دیا: وہ لوگ پانچ سو آدمی تھے لیکن ان میں سے کچھ لوگ کوفہ گئے ہیں اور ہمیں نہیں معلوم کہ کتنے لوگ باقی بچے ہیں شاید تقریبادوسو لوگ باقی بچے ہوں۔ میں نے اپنے فوجیوں کوگروہ گروہ کیا اور انہیں تھوڑی تھوڑی دیر بعد انبار بھیجا تاکہ شہر میں ایک ایک آدمیوں سے جنگ کریں لیکن جب میں نے دیکھا کہ یہ کام زیادہ مؤثر نہیں ہے تو دوسو فوجیوں کو پیادہ روانہ کیا اور ان لوگوںسوار فوجیوںسے مدد کی ۔ اس طرح امام کی فوج کے تمام افراد منتشر ہوگئے اور اس کا سردار ۳۰ لوگوں کے ساتھ قتل ہوگیا ۔پھر میں نے جو کچھ انبار میں تھا اسے برباد کردیا اور شام واپس آگیا ۔ جب معاویہ کے پاس پہونچا تو پورا ماجرا بیان کیا ، اس نے کہا: میں نے تمہارے بارے میں یہی گمان کیا تھا ۔ زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ عراق کے لوگ خوفزدہ ہوگئے اور گروہ گروہ شام کی طرف


ہجرت کرنے لگے۔(۱) علی علیہ السلام کو خبر ملی کہ سفیان انبار میں داخل ہو گیا ہے اور آپ کے والی حسان بن حسان کو قتل کردیا ہے ۔حضرت غصّے کے عالم میں گھر سے باہر آئے اور نخیلہ چھاؤنی گئے اور لوگ بھی آپ کے پیچھے پیچھے آئے، امام علیہ السلام ایک بلند جگہ پر گئے خدا کی حمدو ثناکی اور پیغمبر پر درود بھیجا پھر آپ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا:'' اے لوگو! جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جسے خدا نے اپنے خاص دوستوں کے لئے کھولا ہے اور یہ پرہیز گاری کا لباس اللہ کی مستحکم زرہ اور دشمنوں سے بچنے کے لئے مضبوط سپر ہے اور جو شخص متنفّر ہوکر اسے چھوڑدیتا ہے خدا اسے ذلت وخواری کا لباس پہنا دیتاہے اور امتحان کی ردا اُڑھا دیتاہے اور بدنامیوں اور رسوائیوں کے ساتھ اسے ٹھکرادیا جاتاہے اور اس کے دل پر بے عقلی کا پردہ ڈال دیا جاتاہے اور جہاد کے شرف وفضیلت کو ضائع کرنے کی وجہ سے اس کا حق اس سے پھیر لیا جاتاہے اُسے ذلت میں کر دیا کیا جاتا ہے اور انصاف سے محروم کردیا جاتاہے دیکھو !بنی غامد کے آدمی (سفیان بن عوف ) کی فوج انبار میں داخل ہو گئی ہے اور حسان بن حسان بکری کو قتل کر دیا ہے اور تمہارے فوجیوں چھاؤنی سے نکال دیاہے۔مجھے خبر ملی ہے کہ اس فوج کا کوئی شخص مسلمان اور ذمّی عورت کے گھر گھس گیا اور اس کی پازیب ، کنگن ، گلے کا ہار اور گوشوارے اتارلئے اور ان کے پاس اس سے حفاظت کا کوئی ذریعہ نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ انا للہ پڑھیں اور رحم و کرم کی درخواست کریں ، پھر یہ لوگ لوٹ کا مال لے کر شام چلے گئے ان میں سے نہ تو کئی زخمی ہوا اور نہ کسی کا خون بہا۔ اب اگر اس کے بعد کوئی مسلمان اس غم میں مر جائے تو اسیکی ملامت نہیں کی جاسکتی ہے بلکہ میرے نزدیک وہ اس کا حقدار ہے پس کس قدر حیرت ہے کہ خدا کی قسم ان لوگوںکا اپنے باطل پر اتفاق کرلینا اور تمہارا حق سے منتشر ہوجانا ،یہ(تمہارا کرتوت) دل کو مردہ کر دیتا ہے اوررنج و غم کو بڑھادیتا ہے ، تمہارا برا ہو، اور حزن وغم میں مبتلا رہو جب میں گرمی کے موسم میں ان کی طرف بڑھنے کے لئے حکم دیتاہوں تو تم کہتے ہو بہت سخت گرمی ہے اتنی مہلت دیجئے کہ گرمی کی شدت کم ہوجائے اور جب میں سردی کے موسم میں ان کی طرف بڑھنے کے لئے کہتا ہوں تو تم کہتے ہو ابھی شدید ٹھنڈک پڑ رہی ہے اتنی مہلت دیجئے کہ سردی ختم ہو جائے یہ سب سردی اور گرمی (جنگ سے) بھاگنے کے بہانے ہیں جب تم سردی اور گرمی سے بھاگتے ہو تو تلوار کودیکھ کر پہلے ہی بھاگ کھڑے ہوگے، اے مردوں کی شکل وصورت والے نامردو، تمہاری فکریں بچوں جیسی اور عقلیں پردہ نشین دلہن کی طرح ہیں ، کاش میں نے نہ تمہیں دیکھا ہوتا اور نہ پہچانتا ہوتا''(۲)

_______________________________

(۱)الغارات: ج۲ ص ۴۶۴سے ۴۷۴تک ۔ تاریخ طبری: ج۴، ص ۱۰۳-------(۲)نہج البلاغہ جطبہ ۲۷


عراق کے لوگوں کے دل میں خوف و وحشت پیدا کرنے کے لئے معاویہ نے صرف ان تینوں کو ہی نہیں بھیجا تھا بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی ایسی کارستانیوں کے لئے بھیجا تھا ، مثلاً نعمان بن بشیر انصاری کو حکم دیا

کہ '' عین التّمر'' پر ،جو شہر فرات کے غرب میں واقع ہے حملہ کرے اور اسے برباد کردے۔(۱) اور یزید بن شجرہ رہاوی کو حکم دیا کہ مکہ جائے اور وہاں کے لوگوں کے مال واسباب کو برباد کردے۔(۲) بالآخر یہ سازشیں اپنے نتیجہ پر پہونچ گئیں اور عراقیوں کے دل میں زبردست خوف وہراس بیٹھ گیا۔ البتہ یہ تمام غم انگیز واقعات جنگ نہروان کے بعد رونما ہوئے کہ ایک طرف سے داخلی مشکلات نے اور دوسری طرف سے خارجی مشکلات نے عراق کے لوگوںکو خصوصاً امام کے چاہنے والوں کو سخت مشکل میں ڈال دیا تھا۔ اے کاش یہ ناگوار حادثے یہیں ختم ہوجاتے لیکن دوسرے حادثوں نے بھی علی علیہ السلام کو سخت رنجیدہ کردیا اور آپ کے دل کو ملول کردیا۔اب انھیں واقعات کو تحریر کررہے ہیں ۔

_______________________________

(۱)الغارات ج۲، ص ۴۴۵

(۲)الغارات ج۲، ص۰۴ ۵


دوسری فصل

مصر کی فتح اور محمد بن ابی بکر کی شہادت

عثمان کے قتل کے بعد شام کے علاوہ تمام اسلامی علاقے حضرت علی علیہ السلام کی حکومت میں شامل تھے ،امام علیہ السلام نے ۳۶ہجری اپنی حکومت کے پہلے سال قیس بن سعد بن عبادہ کو مصر کا حاکم مقرر کیا اور مصر روانہ کیا،(۱) لیکن کچھ دنوں بعد امام علیہ السلام نے کسی وجہ سے انھیں اس منصب سے معزول کر کے اسی سال جنگ جمل کے بعد محمد ابن ابی بکر کو مصر کا حاکم معین کیا، اس سلسلے میں تاریخ نے امام علیہ السلام کے دوخط کا تذکرہ کیا ہے ایک خط حکومتی اعلان کے طورپر لکھا اور اُسے محمد بن ابی بکر کے ہاتھ میں دیا اور دوسرا جب آپ مصر میںمستقر ہوگئے تب روانہ کیا۔ دونوں خط کو مولف''تحف العقول'' نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے(۲) اسی طرح ابو اسحاق نے اپنی کتاب ''الغارات'' میں ان دونوں خطوط کو نقل کیا ہے اور تحریر کیا ہے کہ پہلا خط یکم رمضان المبارک ۳۶ہجری کو لکھاگیاہے۔ دوسرا خط کتاب کے آخر میں تفصیل سے نقل ہوا ہے۔ امام علیہ السلام نے اس میں اسلام کے بہت سے احکام بیان کئے ہیں ۔ہم آئندہ دوسرے خط کے متعلق تفصیل سے بحث کریں گے اور یہ بھی بیان کرینگے کہ آخر کس طرح سے یہ خط معاویہ کے ہاتھ میں پہونچا اور پھر اس کے خاندان میں ہر شخص تک دست بہ دست یکے بعد دیگرے پھرتا رہا۔

امام علیہ السلام کے پہلے خط کا ترجمہ یہ ہے:

''خدا وند عالم کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے ،یہ فرمان خدا کے بندے علی امیر المومنین کی طرف سے محمد بن ابی بکر کے نام جب کہ انھیں مصر کی حکومت کی ذمہ داری سونپی ، میرا حکم ہے کہ تقوائے الھی اختیار کرو ، اس کی اطاعت خلوت و جلوت میںکرتے رہو،ظاہر و باطن میں اس سے ڈرو، مسلمانوں سے نرم مہربان اور بد کاروں سے سختی اور غصے سے پیش آئو ، اہل ذمہ کے ساتھ عدالت و مظلوموں کا حق دلواؤ اور ظالموں پر سختی کرو اور لوگوں کے ساتھ جتنا ممکن ہو عفو ودر گزر اور اچھائی سے پیش آئوکیونکہ خدا نیک لوگوں کو

_______________________________

( ۱)تاریخ طبری ج۳،ص۴۶۲۔

( ۲) تحف العقول ص۱۷۶،۱۷۷۔


دوست رکھتا ہے اور برے لوگوں کو سزا دیتا ہے ۔

میں حکم دیتا ہو کہ محمد بن ابی بکر لوگوں کو مرکزی حکومت کی اطاعت و پیروی اور مسلمانوں اتحاد کی دعوت دیں کیو نکہ اس کام میں ان لوگوں کے لئے بہت زیادہ اجر و ثواب اور عافیت ہے جس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا اور نہ اسکی حقیقت و اصل کو پہچانا جاسکتا ہے۔

میں حکم دیتا ہوں کہ جس طرح سے زمین کا خراج (ٹیکس )پہلے لوگوں سے لیا جا تا تھا اسی طرح وصول کریں۔نہ اس میں کچھ کم کریں نہ اس میںکچھ زیادہ کریں اور پھر اسے مستحقین کے درمیان جیسے پہلے تقسیم ہوتا تھا تقسیم کریں ۔

میں حاکم کو حکم دیتا ہوں کہ لوگوں کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آؤ اور ان کے جلسوں میں سب کو ایک نظر سے دیکھو اور اپنوں اور پیرایوں میں حق کے لحاظ سے کوئی فرق نہ کرو ۔

میں اسے حکم دیتا ہو ں کہ لوگوں کے امور میں حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور عدالت کوقائم کرو، خواہشات نفسانی کی پیروی نہ کرو اور خدا کی راہ میں ملامتگروں کی ملامت سے نہ ڈرو کیونکہ خدا ان لوگوںکے ساتھ ہے جو متقی ہیںاور تمام لوگوں کی اطاعت پر اس کی اطاعت کو مقدم کریں،والسلام۔

یہ خط عبید اللہ بن ابی رافع کے ہاتھوں، جسے رسول خدا (ص)نے آزاد کیا تھا ،۱رمضان المبارک ۳۶ ہجری کو لکھا گیا۔(۱)

اس خط کی تاریخ جو قیس بن عبادہ کی معزولی سے قریب ہے اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ قیس کی حکومت بہت کم دنوں تک تھی کیونکہ امیر المومنین علیہ السلام ۳۵ ہجری کے آخر میں خلیفة المسلمین کے عنوان سے منتخب ہوئے اور یہ خط آپ کی حکومت کے آٹھ مہینے گزر جانے کے بعد لکھا گیا،جب یہ خط محمد بن ابی بکر کے ہاتھ میں پہونچا تو وہ مصر کے لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور تقریر کی اور امام علیہ السلام کا خط پڑھ کر لوگوںکو سنایا۔

محمد بن ابی بکر نے مصر سے اما م علیہ السلام کو خط لکھااور اس میں حرا م و حلال اور اسلامی سنتوں کے بارے میں سوال کیا اور حضر ت سے رہنمائی کی درخواست کی ۔انہوں نے اپنے خط میں امام علیہ السلام کو لکھا :

_______________________________

(۱) الغارات ج ۱،ص۲۲۴۔


''محمد بن ابی بکر کی طرف سے خدا کے بندے امیر المومنین علیہ السلام کے نام ،آپ پر درود و سلام ہو،وہ خدا کہ جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اس کا شکرگزار ہوں۔ اگر امیرالمومنین علیہ السلام مصلحت سمجھیں تو مجھے ایک ایسا خط لکھیں جس میں واجبات کا تذکرہ کریں اور اسلام کے قضاوتی احکام کو لکھیں کیونکہ کچھ جیسے میںلوگ اس مسئلے میں مبتلا ہیں ،خدا وند عالم امیر المومنین علیہ السلام کے اجر میں اضافہ کرے۔

امام علیہ السلام نے ان کے خط کے جواب میں قضاوت کے احکام ،احکام وضو، نماز کے(۱) اوقات،امربالمعروف و نہی عن المنکر ، روزہ ،اعتکاف کے مسائل کے متعلق بہت سے مطالب کو تحریر کیا اور پھر نصیحت کے طورپر موت ،حساب اور جنت و جہنم کی خصوصیات کے متعلق مسائل تحریر کئے۔

مولف ِکتاب''الغارت'' نے امام علیہ السلام کے خط کی مکمل عبارت کواپنی کتاب میں تحریر کیاہے(۲) ۔

ابواسحاق ثقفی لکھتے ہیں:

جب امام کا خط محمد بن ابی بکر کے پاس پہونچا تو ہمیشہ اس کو دیکھتے تھے اور اس کے مطابق فیصلہ کرتے تھے جس وقت عمر و عاص کے حملے میں محمد قتل ہوگئے تو وہتمامخطوط عمر وعاص کے ہاتھ میں پہ لگ گئے ، اس نے سب کو جمع کیا اور معاویہ کے پاس بھیج دیا۔ تمام خطوط کے درمیان اس خط نے معاویہ کو اپنی طرف زیادہ متوجہ کیا اور وہ اس میں بہت زیادہ غور و فکر کرنے لگا ،ولید بن عقبہ نے جب دیکھا کہ معاویہ بہت متعجب ہے تو اس نے کہا :حکم دو کہ اس خط کو جلا دیاجائے ،معاویہ نے کہا: خاموش رہ، اس کے بارے میں اپنا نظریہ پیش نہ کر، ولید نے معاویہ کے جواب میں کہا ،تو بھی اپنا نظریہ پیش کرنے کا حق نہیں رکھتا ،کیا یہ صحیح ہے کہ لوگ یہ سمجھ جائیں کہ ابوتراب کی حدیثیں تیرے پاس ہیں اور تو ان سیے درس حاصل کرتا ہے اور انھیں پڑھ کر فیصلہ کرتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر کیوں علی سے جنگ کر رہے ہو؟ معاویہ نے کہا: لعنت ہو تجھ ، پر مجھے حکم د ے رہا کہ ایسے علم کے خزانے کو جلا دوں ؟ خدا کی قسم اس سے زیادہ جامع، محکم ، واضح اور حقیقت پر مبنی علم میں نے آج تک نہیں سنا ہے۔ ولید نے اپنی بات دہرائی اور کہا:اگر علی کے علم اور قضاوت سے تجھے تعجب ہے تو کیوں اس سے جنگ کر رہے ہو؟ معاویہ نے کہا: اگر ابوتراب نے عثمان کو قتل نہ کیا ہوتا اور مسند

_______________________________

(ا)،(۲) الغارات ج ۱، ص۲۲۴تا۲۵۰


علم پر بیٹھتے تو میں ان سے علم حاصل کرتا۔ پھر تھوڑی دیر خاموش رہا اور اپنے ساتھیوں پر نگاہ کی اور کہا: ہم ہرگز یہ نہیں کہیں گے کہ یہ خطوط علی کے ہیں، ہم تو یہ کہتے ہیں کہ یہ خطوط ابو بکر صدیق کے ہیں جو محمد کو وراثت میں ملے ہیں اور ہم اسی کے اعتبار سے فیصلہ کریں گے ۔اور فتوی دیں گے جی ہاں، امام علیہ السلام کے خطوط ہمیشہ بنو امیہ کے خزانوں میں تھے یہاں تک کہ حکومت عمر بن عبد العزیز کے ہاتھ میں آئی اور اس نے اعلان کیا کہ یہ خطوط علی ابن ابیطالب علیہ السلام کی حدیثیں ہیں ۔

جب علی علیہ السلام کو مصر کی فتح اور محمد کے قتل ہوجانے کے بعد خبر ملی کہ یہ خط معاویہ تک پہونچ گیا ہے تو بہت زیادہ افسوس کیا۔عبد اللہ بن سلمہ کہتا ہے :امام علیہ السلام نے ہم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہم نے آپ کے چہرے پر افسردگی کے آثار دیکھے ۔آپ ایسا شعرپڑھ رہے تھے جس میںگزشتہ باتوں پر افسوس تھا۔ہم نے امام سے پوچھا: اس سے آپ کا کیا مقصد ہے؟ امام نے فرمایا :میں نے محمد بن ابی بکر کو مصر کے لئے حاکم بنایا، اس نے مجھے خط لکھا کہ میں پیغمبر کی سنت سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتا لہذامیں نے اسے ایک ایسا خط لکھا جس میں رسولِ خدا کی سنت کی تشریح و وضاحت کی ،مگر وہ شھید ہوگیا اور خط دشمن کے ہاتھ لگ گیا۔

امام ـ کا والی اوربے طرف لوگ

مصر کے معزول محمد بن قیس کے زمانے میں کچھ لوگوں نے ان کی حکومت سے کنارہ کشی اختیارکرلی اور اپنے کو بے طرف تعارف کرایا(یعنی کسی بھی گروہ کے ساتھ نہیں ہیں) ۔جب محمد بن ابی بکر کی حکومت کو امہینہ گزرگیا تو انہوں نے بے طرف لوگوں کو دوکاموں میں اختیار دیا کہ یا تو حکومت کے ساتھ رہیں اور اس کی پیروی کرنے کا اعلان کریں، یا مصر کو چھوڑ کرچلے جائیں، ان لوگوں نے حاکم مصر سے کہا کہ ہمیں مہلت دیجئے تاکہ ہم اس کے بارے میں فکر کریں، لیکن حاکم نے ان کی باتوں کو قبول نہیں کیا ،وہ لوگ بھی اپنی بات پر اڑے رہے اور اپنا دفاع کرنے کے لئے تیار ہوگئے۔


حالات میں جنگ صفین شروع ہوگئی اور جب خبر ملی کہ امام علیہ السلام اور معاویہ کے درمیان حکمین قرار دئے گئے ہیں اور دونوں فوجوں نے جنگ روک دی ہے تو اس گروہ کی جرأت حاکم پر اور زیادہ ہوگئی اور بے طرفی کی حالت سے نکل کر کھلم کھلا حکومت کی مخالفت کرنے لگے ۔حاکم نے مجبورہو کر دوآدمیوں بنام حارث بن جمہان اور یزید بن حارث کنانی کو بھیجا تاکہ ان لوگوں کو موعظہ و نصیحت کریں، لیکن یہ دونوں اپنا وظیفہ انجام دیتے ہوئے مخالفین کے ہاتھوں قتل ہوگئے،محمد بن ابی بکر نے تیسرے آدمی کو بھیجا اور وہ بھی اس راہ میں قتل ہوگیا۔

ان لوگوں کے قتل ہونے کی وجہ سے بعض لوگ بہت جری ہوگئے اور ارادہ کیاکہ شامیوں کی طرح ہم بھی عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لئے لوگوں کو دعوت دیں اور چونکہ مخالفت کا ماحول پہلے سے بنا ہوا تھالہذا دوسرے افراد بھی ان کے ساتھ ہوگئے نتیجہ یہ ہوا کہ سرزمین مصر ظلم وفساد کا شکار ہوگئی اور جوان حاکم، مصر کی حکومت پر صحیح طور پر قابو نہ پاسکا۔ امیر المومنین علیہ السلام مصر کے حالات سے باخبر ہوئے اور فرمایا صرف دو آدمی ہیں جو مصر میں امن و امان بحال کرسکتے ہیں ایک قیس بن سعد جو اس سے پہلے مصر کے حاکم تھے اور دوسرے مالک اشتر آپ نے یہ بات اس وقت کہی جب مالک اشتر کو سرزمین ''جزیرہ'' کا حاکم مقرر کرچکے تھے، قیس بن سعد ہمیشہ امام علیہ السلام کے ساتھ ساتھ رہتے تھے اور لیکن عراق میں جو فوج موجود تھی اس فوج میں اس کا رہنا ضروری تھا، اس لئے امام علیہ السلام نے مالک اشترکو خط لکھا وہ اس وقت عراق کی وسیع ترین سر زمین''نصیبین'' میں موجود تھے جو عراق اور شام کے درمیان واقع ہے ۔اس خط میں امام علیہ السلام نے اپنے اور مصر کے حالات کے بارے میں لکھا :''امابعد،تم ان لوگوں میں سے ہو جن کی مددو نصرت سے ہم دین کو مستحکم کرتے ہیں اور نافرمانوں کے تکبرکا قلع و قمع کرتے ہیں اور وحشناک راستوں کو صحیح کرتے ہیں ، نے محمد ابن ابی بکر کا مصر کو حاکم مقرر کیا تھا ، مگر کچھ لوگوں نے اس کی پیروی کرنے کے بجائے مخالفت کی اور وہ جوانی اور تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے ان پر کامیاب نہ ہوسکا ، جتنی جلدی ہو میرے پاس پہونچ جاؤ تاکہ جو کچھ انجا م دینا ہے اس کے بارے میں تحقیق کریں، اور کسی معتبر اور قابل اعتماد شخص کو اپنا جانشین معین کردو''۔

جب امام علیہ السلام کا خط مالک اشتر کو ملا تو انھوں نے شبیب بن عامر کو اپنا جانشین مقر ر کرکے امام علیہ السلام کی خدمت میں آگئے اور مصر کے ناگوار حالات سے آگاہ ہوئے۔ امام نے ان سے فرما یا جتنی جلد ی ممکن ہومصر جاؤ کیونکہ تمھار ے علاو ہ کسی کو اس کام کا اہل نہیں سمجھتا ۔میں تمھارے اند ر جو عقل اور درایت دیکھ رہا ہوں اس کی وجہ سے مجھے کسی چیز کی تاکید کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔


اہم کاموں کی انجام دہی کے لئے خدا سے مدد طلب کرو اور سختی کو نرمی کے ساتھ استعمال کرو اور جتنا ممکن ہو خوش اخلاقی سے پیش آؤ اور جہاں پر صرف خشونت و سختی کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو وہاں اپنی طاقت کا استعمال کرو ۔

جب معاویہ کو خبر ملی کہ امام علیہ السلام نے مالک اشتر کو مصر کا حاکم بنایا ہے تو وہ گھبرا گیا کیونکہ وہ مصر کی حکومت پر قبضہ کرنا چاہتا تھا ۔ وہ جانتا تھا کہ اگر مصر کی حکومت مالک کے ہاتھوں میں آگئی تو وہاں کے حالات محمد بن ابی بکر کے زمانے سے اس کے لئے اور بھی بدتر ہوجائیں گے۔ اس وجہ سے اس نے ایک طریقہ اپنایا اور خراج دینے والوں میں سے ایک شخصسے خراج کو معاف کرنے کا وعدہ کیا اور اس کے ذریعے سے مالک اشترکے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔مصر کے لوگوں نے اما م علیہ السلام سے درخواست کی کہ جتنی جلدی ہوسکے ایک دوسرا حاکم معین فرمائیں ۔امام علیہ السلام نے ان کے جواب میں لکھا:''خدا کے بندے علی امیر المومنین کی طرف سے مصر کے مسلمانوں کے نام، تم لوگوں پر سلام ، اس خدا کی تعریف جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ۔ میں نے ایسے شخص کو تمھاری طرف بھیجاہے جس کی آنکھوں میں خوف و ہراس کے دن بھی نیند نہیں ، وحشت کے وقت ہرگز دشمن سے نہیں ڈر تا اور کفاروں کے لئے آگ سے زیادہ سخت ہے وہ مالک اشتر ،حارث کا بیٹا اور قبیلہ مذحج سے ہے، اس کی باتوں کو سنو اور اس کے فرمان کی جب تک حق باتیں کہے پیروی کرو، وہ خدا کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جو کند نہیں ہوتی اور اس کی ضربت خطأ نہیں کرتی ،وہ اگر دشمن کی طرف جانے کا حکم دے تو فوراً روانہ ہوجاؤ اور اگر ٹھہرنے کا حکم دے تو ٹھہرجاؤ ، اس لئے کہ اس کا حکم میرا حکم ہے میں نے اسے تمھارے پاس بھیج کر تمھارے مفاد کو اپنے مفاد پر ترجیح دی ہے اس لئے کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں اور تمہارے دشمن کا سخت دشمن ہوں ۔(۱) امام علیہ السلام کا نیا نمائندہ اور حاکم لازمی ساز و سامان کے ساتھ مصر کے لئے روانہ ہوا اور جب ''قلزم''(۲) نامی علاقے میں پہونچے جو فسطاط'' کی دو منزل کے فاصلہ پر ہے(۳) وہاں ایک شخص کے گھر میں قیام کیا اس شخص نے ان کی بڑی آؤ بھکت اور خاطر مدارات کی جس کی وجہ اس نے مالک اشتر کو

_______________________________

(۱)نہج البلاغہ مکتوب نمبر ۳۸۔ الغارت ج۱ ص۲۶۰۔

(۲) مصر کی طرف سے دریائے یمن کے کنارے ایک شہر ہے، قافلے وہاں سے مصر تک تین دن میں مسافت طے کرتے ہیں۔ (مراصد الاطلاع)۔

(۳) اسکندر یہ کے پاس ایک شہر ہے،(مراصد الاطلاع)۔


اپنے اعتماد میں لے لیا اور پھر شہد میں زہر ملا کر شربت بنایا اور مالک اشترکو پلادیا اسطرح سے خدا کی یہ تیز تلوار ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نیام میں چلی گئی اور اپنی جان کو خدا کے حوالے کردیا ۔وہ ۳۸ ہجری میں سرزمین قلزم پر شہید ہوئے اور وہیں پر دفن ہوئے۔

یہ بات مسلم ہے کہ یہ میزبان کوئی معمولی شخص نہ تھا بلکہ پہچانا ہوا شخص تھا اسی وجہ سے مالک اشتر نے اس کے گھر میں قیام کیا،اسے مالک کے دشمن معاویہ نے پہلے ہی خرید لیا تھا۔(۱)

بعض مؤرخین نے مالک اشتر کی شہادت کو تفصیل سے دوسرے طریقے سے لکھا ہے ،

جب معاو یہ کو یہ خبر ملی کہ امام نے مالک اشتر کو مصر کا حاکم معین کیا ہے تو اس نے ''قلزم'' کے ایک با رسوخ کسان سے کہا کہ جس طرح سے بھی ممکن ہو مالک کو قتل کردے اور جب مصر پر میرا قبضہ ہوجائیگا تو اس کے بدلے اسے مالیات (خراج)ادا کرنے سے معاف کردیگا معاویہ نے صرف اسی کام پر اکتفانہیں کیا بلکہ لوگوں کے جذبات کو قوت عطا کرنے اور یہ دکھانے کے لئے کہ وہ اور اس کے تمام پیر و خدا کی راہ میں قدم اٹھاتے ہیں شام کے لوگوں سے اس نے کہا کہ مسلسل مالک اشتر پر لعنت کریں اور خدا سے دعا کر یں کہ مالک کو نابود کردے کیونکہ اگر مالک قتل ہوگئے تو شام کے لوگوں کے لئے خوشی کا سبب ہوگا اور یہ سبب ہوگا کہ وہ لوگ اپنے رہبر پر زیاوہ اعتماد کریںگے۔

جب مالک اشتر ''قلزم'' پہونچے تو معاویہ کے خریدے ہوے خبیث نے مالک سے کہا کہ میرے گھر میں آرام کریں اور اپنے اعتماد کو مستحکم کرنے کے لئے کہا کہ تمام اخراجات کواپنے مالیات سے حساب کروں گا ،میزبان نے مالک کے گھر میں آنے کے بعد امام علیہ السلام سے اپنی دوستی و محبت کا اظہار کیا یہاں تک کہ اس نے مالک کے اعتماد کو حاصل کرلیا۔ اس نے مالک کے لئے دسترخوان بچھایا اور اس پر شہد کا شربت رکھا ۔ اس شربت میں اتنا زیادہ زہر ملا تھا کہ تھوڑی دیر بھی نہ گزری تھی کہ مالک اشتر شہید ہوگئے۔

بہر حال جب معاویہ کو مالک اشتر کے قتل کی خبر ملی تو وہ منبرپرگیا اور کہا: اے لوگو ابوطالب کے بیٹے کے پاس دو مضبوط ہاتھ تھے جن میں سے ایک ہاتھ(عمار یاسر) جنگ صفین میں کاٹ دیا گیا اور دوسرا ہاتھ (مالک اشتر)آج کاٹ دیا گیا(۲) ۔

_______________________________

(۱)تاریخ ابن کثیر ج۷،ص۳۱۳ (۲)۔ الغارت ج۱، ص ۲۶۴ ، تاریخ طبری ج۷۲،۔ کامل ابن اثیرج ۳،ص۳۵۲۔


وہ موت جس نے بعض کو ہنسایا اور بعض کو رلایا

مالک اشتر کی شہادت پر شامیوں نے خوشی منائی کیونکہ وہ لوگ جنگ صفین کے سے ہی مالک اشتر سے کینہ رکھتے تھے لیکن جب انکی شہادت کی خبر امام علیہ السلام کو ملی تو آپ بے ساختہ بلند آواز سے رونے لگے اور فرمایا:''علیٰ مثلِکَ فَلْیَبْکِیْنَّ الْبَوا کِیْ یاٰ مالِکُ'' یعنی تمھارے جیسوں کے لئے عورتوں کو نوحہ و بکا کرنا چاہیئے ۔پھر فرمایا:''أین مثلُ مالک؟ یعنی مالک جیسا کوئی کہا ں ہے؟

پھر آپ منبر پر تشریف لے گئے اور تقریر فرمائی:

''ہم خدا کی طرف سے آئے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں واپس جائیں گے تمام حمدو ثناخدا ہی کے لئے ہے کہ وہ اس دنیا کا پروردگار ہے۔ خدا یا! میں مالک کی مصیبت کا اجر تجھی سے چاہتا ہوں کیونکہ اس کی موت زمانہ کی سب سے بڑی مصیبت ہے ۔مالک پر خدا کی رحمتیں ہوں، اس نے اپنے عہدکو وفا کیا اور اپنی عمر کو ختم کیا اور اپنے رب سے ملاقات کی، ہم نے پیغمبر کے بعد باوجودیکہ اپنے کو آمادہ کر لیا تھا کہ ہر مصیبت پر صبر کریں گے ، اس حالت میں بھی یہی کہتے ہیں کہ مالک کی شہادت ایک بہت بڑی مصیبت ہے،(۱)

فضیل کہتے ہیں:''جب مالک کی خبر شہادت حضرت علی علیہ السلام کو ملی تو میں آپ کی خدمت میں گیا ، دیکھا کہ بے حد اظہار افسوس کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں: خدایا! مالک کو بہترین درجہ عطا کر، واقعاً مالک کتنی اچھی شخصیت کے مالک تھے، اگر وہ پہاڑ تھے تو ایسا پہاڑ جس کی مثال نہیں اور اگر پتھر تھے تو بہت سخت پتھر ، خدا کی قسم ،اے مالک تمھاری موت نے ایک دنیا کو لرزہ براندام کردیا اور دوسری دنیا کو شاد و مسرور کردیا۔ مالک جیسوں کی شہادت پر عورتوں کونوحہ و بکا کرنا پڑھنا چاہیے، کیا کوئی مالک جیسا ہے؟پھر آگے کہتے ہیں: علی علیہ السلام مسلسل اظہار افسوس کررہے تھے اور بہت دنوں تک آپ کے چہرۂ انور پر غم کے اثرات نمایاں تھے۔

_______________________________

(۱) الغارت: ج۱ ص ۲۶۴۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید: ج۶،ص۷۷۔


امام علیہ السلام کا خط محمد بن ابی بکر کے نام

امام علیہ السلام نے جب مصر کی حکومت کی ذمہ داری محمد بن ابی بکر سے لیکر مالک اشتر کو سونپی تو محمد

کچھ ملول تھے جب محمد کے ملال کی خبر امام علیہ السلام کو ملی تو آپ نے محمد کو خط لکھا جس میں مالک اشتر کی شہادت کی خبر کے بعد ان کی دلجوئی فرمائی اورلکھا:''مجھے خبر ملی ہے کہ مالک اشتر کو مصر اعزام کرنے کی وجہ سے تم رنجیدہ ہوگئے ہو لیکن میں نے اس کام کو اس لئے انجام نہیں دیا تھا کہ تم نے اپنی ذمہ داریوں میں غفلت یا کوتاہی کی ہے اور اگر میں نے تمھیں مصر کی حکومت سے معزول کیا ہے تو اسکے بدلے میں تمھیں کسی دوسری جگہ کا والی و حاکم قرار دوںگا جس کا چلانا کچھ مشکل اور سخت نہ ہوگا اور وہاں کی حکومت تمھارے لئے بہتر ہوگی،جس شخص کو میں نے مصر کی سرداری کیلئے چنا تھا وہ ہم لوگوں کے لئے خیر خواہ اور دشمنوں کے لئے بہت سخت تھا، خدا اس پر رحم کرے کہ اس نے اپنی زندگی بڑے آرام سے گذاری اور موت سے ملاقات کی جب کہ ہم اس سے راضی تھے، خدا بھی اس سے راضی ہواور اسے دوہرا ثواب عطا کرے ۔ اب اس وقت تم پر لازم ہے کہ دشمن سے جنگ کرنے کے لئے اپنی فوج کو شہر سے باہر بھیج دو اور وہیں پر پڑاؤ ڈال دواور عقل و خرد سے امور انجام دو اور جنگ کے لئے آمادہ ہوجاؤ، لوگوں کو خدا کی طرف آنے کی دعوت دو اور خدا سے مدد طلب کرو کہ وہ تمھارے اہم کاموں میں کافی ہے اور مصیبت کے وقت تمھارا مددگار ہے''۔(۱)

محمد بن ابی بکر کا خط امام علیہ السلام کے نام

جب امام علیہ السلام کا خط محمد کو ملا تو انہوں نے امام علیہ السلام کو یہ خط لکھا:

''امیر المومنین علیہ السلام کاخط مجھے ملا اور اس کے مضمون سے آگاہ ہوا کوئی بھی شخص امیر المومنین کے دشمن پر مجھ سے زیادہ سخت اور ان کے دوستوں پر مجھ سے زیادہ مہربان نہیں ہے۔ میں نے شہر کے باہر پڑاؤ ڈالا ہے اور تمام لوگوں کو امان دیا ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ہم سے جنگ کرنے پر آمادہ ہیں اور ہم سے دشمنی کو ظاہر کررہے ہیں ۔ہر حال میں ،میں امیرالمومنین علیہ السلام کامطیع و فرماں بردار ہوں۔(۲)

_______________________________

( ا) الغارات ج۱، ص۲۶۸۔----(۲)الغارات ج۱، ص ۲۶۹۔


عمر و عاص کو مصر بھیجنا

معاویہ نے جنگ صفین ختم ہونے اور امیر المومنین علیہ السلام کی فوج میںخوارج کے ذریعہ اختلاف و تفرقہ ڈالنے کے بعد موقع غنیمت دیکھا کہ عمر وعاص کی سرداری میں اپنی فوج کو مصر روانہ کرے تاکہ مصر کو امیر المومنین علیہ السلام کے قبضے سے چھین لے ، اس نے یہ پُر خطر کا م انجام دینے کے لئے اپنی فوج کے بہت سے سرداروں کو دعوت دی اور ان میں عمروعاص ، حبیب بن مسلمہ فہری،بُسربن ارطاة عامری، ضحاک بن قیس اور عبد الرحمان بن خالد وغیرہ شامل تھے اور قریش کے علاوہ دوسرے افراد کو بھی مشورے کے لئے بلایا اور پھر اس نے مجمع کی طرف مخاطب ہوکر کہا :کیا تم جانتے ہو کہ میں نے تمھیں کیوں یہاں جمع کیا ہے؟

عمر و عاص نے اس کے راز کا پردہ فاش کرتے ہوئے کہا: تونے ہم لوگوں کو مصر فتح کرنے کے لئے بلایا ہے کیونکہ دہاں کی سرزمین بہت زرخیز ہے اور وہاں پر مالیات (خراج)بہت زیادہ ہے اور مصر کے فتح ہونے میں تمھاری اور تمھارے دوستوں کی عزت ہے۔

معاویہ، عمرو عاص کی تصدیق کرنے کے لئے اٹھا اور یاد دلایا کہ اس نے ابتدا میں عمر و عاص سے وعدہ کیا تھا کہ اگر علی پر میں نے فتح حاصل کر لی تو مصر کی حکومت اسے بخش دے گا، اس جلسہ میں بہت زیادہ گفتگو ہوئی اور بالآخر یہ طے پایا کہ مصر کے لوگوں کو، چاہے دوست ہوںیا دشمن بہت زیادہ خطوط لکھے جائیں دوستوں کو ثابت قدم رہنے اور مقابلے کا حکم دیا جائے اور دشمنوں کو صلح وخاموشی کا حکم دیا جائے یاجنگ کی دھمکی دی جائے، اس لئے معاویہ نے علی علیہ السلام کے دومخالفوں ، مسلمہ اور معاویہ کِندی کے نام خط لکھااور پھر عمروعاص کو ایک بڑی فوج کے ہمراہ مصر روانہ کیا۔ جب عمر و عاص مصرکی سرحد پر پہونچا تو عثمان کے چاہنے والوں نے اس کا استقبال کیا اور اس سے ملحق ہوگئے عمر وعاص نے وہیں سے مصر کے حاکم کے نام خط لکھا ''میں نہیں چاہتا کہ تم سے جنگ کروںاور تمھار ا خون بہاؤں،مصر کے لوگ تمھاری مخالفت پر متفق ہیں اور تمھاری پیروی کرنے سے پشیمان ہیں''۔

عمر و عاص نے اپنے اور معاویہ کے خط کو محمد کے پاس بھیجا ۔مصر کے حاکم نے دونوں خط پڑھنے کے بعد امام علیہ السلام کے پاس بھیج دیا اپنے خط میں شام کی فوج کے مصر کی سرحد پر پہونچنے کی خبر دی اور لکھا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ مصر کی حکومت آپ کے ہاتھ میں رہے تو میری مالی اور فوجی مدد کیجیے۔

امام علیہ السلام نے مصر کے حاکم کو مقابلہ کرنے کی تاکید کی


پھر محمد بن ابی بکر نے عمر و عاص اور معاویہ کے خط کا جواب دیا اور بالآخر مجبور ہوئے کہ لوگوں کو اکٹھا کر کے لشکر ترتیب دیں اور عمرو عاص کی فوج کے مقابلہ کے لئے جائیں۔

ان کی فوج کے اگلے دستہ میں دو ہزار آدمی تھے جس کی سرداری کنانہ بن بُشر کر رہے تھے اور خود بھی اس کے بعد دوہزار کی فوج لے کر اس کے پیچھے پیچھے روانہ ہوئے۔ جب مصر کی فوج کے اگلے دستہ نے شام کی فوج کا سامنا کیا شام کی فوج کو درہم برہم کردیا لیکن فوج کی کمی کی وجہ سے کمزور پڑگیا، کنانہ اپنے گھوڑے سے اترآئے اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک ایک کر کے دشمنوں سے جنگ کرنے لگے اور اس آیت کی تلاوت کرتے شہید ہوگئے:

( وما کان لنفسٍ أن تموت الاّٰ بِاذنِ اللّٰه کتاباً مؤ جَّلاً ومَنْ یردْ ثوابَ الدُّ نیا نُؤ تِهِ منها ومنْ یُردْ ثواب الا خِرة نُؤتِهِ مِنها و سَنجِزی الشا کرِین ) (آل عمران :۱۴۵)

''اور بغیر حکم خدا کے تو کوئی شخص مرہی نہیں سکتا وقت معین ہر ایک کی موت لکھی ہوئی ہے اور جو شخص (اپنے کئے کا) بد لہ دنیا میں چاہے تو ہم اس کو اس میں سے دیدیتے ہیں اور جو شخص آخرت میںبد لہ چاہے اسے اسی میں سے دینگے اور (نعمت ایمان کے) شکر کرنے والوں کو بہت جلد ہم جزائے خیر دیں گے''۔

محمد بن ابی بکر کی شہادت

کنانہ بن بشر کی شہادت کی وجہ سے شام کی فوج میں جرأت پید ا ہوگئی اور سب نے یہ طے کیا کہ آگے بڑھتے رہیں اور محمد بن ابی بکر کی چھائونی کی طرف جائیں ،جب ان کی چھائونی پر پہونچے تو دیکھا کہ محمد کے ساتھی مختلف جگہوں پر منتشر ہو گئے ہیں ، محمد خود مضطرت اور سرگرداںہیں یہاں تک کہ ایک کھنڈر میں پناہ حاصل کی، معاویہ بن حدیج محمد کی جگہ سے با خبر ہوا اور انہیں گرفتار کر لیا وہاں سے باہر لایا اور ''فسطاط'' نامی جگہ پر جہاں عمر و عاص کے فوجی تھے پہونچا دیا جب کہ عنقریب تھا کہ پیاس کی شدت سے مرجائیں۔

عبد الرحمن بن ابی بکر، محمد کا بھائی عمرو کی فوج میں تھا، اس نے فریاد بلند کی میں اس بات سے راضی نہیں ہوں کہ میر ے بھائی کو اس طرح قتل کرو اور عمر وعاص سے کہا کہ اپنی فوج کے سردارمعاویہ بن حدیج کو حکم دو کہ اس کے قتل کرنے سے باز آجائے، عمروعاص نے اپنے نمائندے


کو ابن حدیج کی طرف بھیجا کہ محمد کو زندہ حوالے کرے لیکن معاویہ بن حدیج نے کہا: کنانہ بن بشر جو میرا چچا زاد بھائی تھا قتل ہوگیا محمد کو بھی ، زندہ نہیں رہنا چاہیے ،محمد جو اپنی قسمت دیکھ رہے تھے ،درخواست کی کہ مجھے پانی پلادو لیکن معاویہ بن حدیج نے بہانہ بنایا کہ عثمان بھی پیاسے قتل ہوئے تھے لہذا پانی نہیں دیا۔

اس وقت ابن حدیج نے محمد کو بہت برُی باتیں کہیں جنھیں تحریر کرنے سے پرہیز کررہے ہیں اور آخرمیں اس نے کہا: میں تمھاری لاش کو اس مردہ گدھے کی کھال میں رکھوں گا اور پھر جلادوں گا۔محمد نے جواب دیا :تم خدا کے دشمنوں نے اولیاء خدا کے ساتھ بار ہا ایسا معاملہ انجام دیا ہے، مجھے امید ہے کہ خدا ا س آگ کو میر ے لئے ایسے ویسی ہی اور باعافیت کردے گا جیسے ابراہیم کے لئے کیا تھا، اور اسے تمھارے اور تمھارے دوستوں کے لئے وبال بنادے گا اورخدا تجھے اور تیرے پیشوا معاویہ بن ابو سفیان اور عمر وعاص کو ایسی آگ میں جلائے گاکہ جب بھی چاہیں کہ خاموش ہو وہ اورشعلہ ور ہوجائے گا، بالآخر معاویہ بن حدیج کو غصّہ آیا اور اس نے محمد کی گردن اڑا دی اور ان کے جسم کو مردہ گدھے کے پیٹ میں ڈالدیا اور جلادیا۔

محمد بن ابی بکر کی شہادت نے دوآمیوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا، ایک ان کی بہن عائشہ تھیں جو ان کے حالات پر بہت روئیں، وہ ہر نماز کے آخر میں معاویہ ابن سفیان ،عمر و عاص اور معاویہ بن حدیج پربد دعا کرتی تھیں، عائشہ نے اپنے بھائی کے اہل و عیال کی کفالت کی ذمہ داری خود لے لی۔ اور محمد ابن ابی بکر کے بیٹے قاسم انہیں کی پرورش و کفالت میں پروان چڑھے اور دوسرے اسمأ بنت عمیس جو بہت دنوں تک جعفر ابن ابی طالب کی زوجہ تھیں اور جعفر کی شہادت کے بعد ابوبکر سے شادی ہوگئی اور انہیں سے محمد بن ابی بکر پیدا ہوئے اور ابو بکر کے انتقال کے بعد علی علیہ السلام سے شادی کی اور ان سے ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام یحییٰ تھا،یہ ماں جب اپنے بیٹے کی قسمت و شہادت سے باخبر ہوئی تو بہت زیادہ متاثر ہوئی لیکن اپنے غیظ و غضب کو قابو میں رکھا اور مصلائے نماز پر گئیں اور ان کے قاتلوں پر لعنت و ملامت کی ۔

عمر وعاص نے معاویہ کو خط کے ذریعے ان دونوں آدمیوں کی شہادت کے بارے میںخبر دی اور دوسرے سیاست بازوں کی طرح جھوٹ بولا اور اپنے کو بر حق ظاہر کیا اور کہا :ہم نے ان لوگوں کو کتاب و سنت کی طرف بلایا مگر ان لوگوں نے حق کی مخالفت کی اور اپنی گمراہی پر باقی رہے۔ با لآخر ان کے اور ہمارے درمیان جنگ ہوئی۔ ہم نے خدا سے مدد طلب کی اور خدا نے ان کے چہروں اور پشتوں پر ضرب لگائی اور ان سب لوگوں کو ہمارے سپرد کر دیا۔


حضرت علی علیہ السلام اور خبر شہادت محمد بن ابی بکر

عبد اللہ بن قعید روتا ہوا کوفہ میں داخل ہوا اور حضرت علی علیہ السلام کو محمد کی دردناک شہادت سے آگاہ کیا ۔امام نے حکم دیا کہ تمام لوگ اس کی بات سننے کے لئے جمع ہوں، اس وقت لوگوں سے فرمایا:''یہ نالہ و فریاد محمد اور تمھارے بھائیوں کا جو مصر میں تھے ۔ خدا کااور تمھارا دشمن عمر و عاص ان لوگوں کی طرف گیا اور ان پر غالب ہوگیا اور میں ہرگز یہ امید نہیں رکھتاکہ گمراہوں کا تعلق باطل سے اور ان کاسرکش حاکموں پر اس سے زیادہ ہو جتنا اعتماد تم لوگوں کا اعتقاد حق پر ہے ، گویا ان لوگوں نے مصر پر حملہ کرکے تم لوگوں کو پر حملہ کیاہے جتنی جلدی ممکن ہو ان کی مدد کے لئے جاؤ، اے خدا کے بندو! مصر خیر و برکت کے اعتبار سے شام سے بہتر اور مصر کے لوگ شام کے افراد سے بہتر ہیں ، مصر کو اپنے قبضے سے نہ جانے دو، اگر مصرتم لوگوں کے ہاتھ میں ہوگا تو تم لوگوں کے لئے عزت کا سبب ہوگا، اور دشمنوں کے لئے ذلت کا سبب ہوگا،جتنی جلدی ممکن ہو'' جرعہ''کی چھاؤنی پہونچ جاؤ تاکہ کل ایک دوسرے تک پہونچ جائیں۔

کچھ دن گزرنے کے بعد اور عراق کے سرداروں کے اما م علیہ السلام کے پاس آنے جانے کے بعد بالآخر مالک بن کعب کی سرداری میں دو ہزار فوج مصر کے لئے روانہ ہوئی۔(۱)

امام علیہ السلام نے ابن عباس کو اپنے خط میں اس واقعہ کی خبر ان الفاظ میں دی:

''اما بعد، مصر پر دشمن کا قبضہ ہوگیا ہے اور محمد بن ابی بکر''(خدا ان پر رحمت کرے) شہید ہوگئے ،اس مصیبت کا اجر ہم اللہ سے مانگتے ہیں کتنا خیر خواہ فرزند،اور محنت کش عامل تھا (جونہ رہا)کیاسیف قاطع ، اور کیسا دفاعی ستون تھا(جوچل بسا) میں نے لوگوں کی بہت تشویق کی تھی کہ اس کی مدد کے لئے جائیں ، میں نے لوگوں کو در پردہ اور بر ملا ایک بار نہیں ،بلکہ بار بار حکم دیا کہ جنگ سے پہلے ان سے مدد کو پہنچ جائیں لیکن اکچھ لوگوں نے با دل نخواستہ آماد گی ظاہر کی اور کچھ لوگ جھوٹے بہانے بنانے لگے اور کچھ لوگ تو چپ چاپ بیٹھے ہی رہے اور مدد کے لئے نہ اٹھے، چنانچہ میں خدا سے یہی دعا کرتا ہوں کہ اے خدا!مجھے جلد از جلد ان

_______________________________

(۱) الغارات ج ۱، ص۲۸۲تا ۲۹۴۔


لوگوں سے نجات دیدے۔(۱)

محمد بن ابی بکر کی شہادت حضرت علی علیہ السلام کے لئے بہت بڑا غم تھا، حضرت نے باچشم گریہ فرمایا:

''وہ میر ا بیٹا اور میرے بیٹوں اور میرے بھتیجوں کے لئے بھائی تھا۔(۲)

اور یہ بھی فرما یا:'' وہ مجھے عزیز و پسند تھا اور خود میں نے اپنی آغوش میں اس کی پرورش کی تھی''(۳)

جنگ صفین کے بعد اس طرح کے حادثات پے در پے ہوتے رہے اور عقلمند اور دور اندیش لوگ امام علی ـ کی حکومت کے زوال کی ،ان کے نادان ساتھیوں کی وجہ سے پیشین گوئی کرسکتے تھے۔اس وقت اما م علیہ السلام ایسے حالات سے گزررہے تھے کہ معاویہ کا شام پر قبضہ تھا اور مصر پر عمر وعاص نے قبضہ کر لیا تھا اور معاویہ کی طرف سے مرکزی حکومت کو ضعیف و کمزور کرنے کے لئے قاتل اور فسادی گروہ طرف سے قتل و غارت گری کررہے تھے ، تاکہ امن و سکون کو جڑ سے ختم کردیں، لیکن امام علیہ السلام کی تدبیر ایسے افسوسناک حالات پر قابو پانے کے لئے کیاتھی؟ اور آپ نے کس طرح سے مردہ دل عراقیوں سے فسادات کو ختم کرنے کے لئے مدد طلب کی؟ تاریخ کا کہنا ہے کہ امام علیہ السلام نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میںبہت ہی ولولہ انگیز تقریرفرمائی ، جس نے عراقیوں کے مردہ دلوں کو زندہ کردیا۔

_______________________________

(۱) نہج البلاغہ مکتوب ۳۵۔

(۲) تاریخ یعقوبی ج۲، ص۱۹۴۔

(۳) نہج البلاغہ مکتوب ۶۵ (مطبوعہ عبدہ)۔


امام علیہ السلام کا آخری خطبہ

نوفل بن فضالہ کہتے ہیں :امام علیہ السلام کی زندگی کے آخری دنوں میں ، جعدہ مخزومی نے پتھر کا ایک بلند چبوترہ امام علیہ السلام کے لئے بنایا، اور امام علیہ السلام اس پر تشریف لائے، آپ کا پیراہن اون کا بنا ہواتھا، اور نیام اورنعلین کجھور کی چھال کی بنی تھی اور کثرت ِ سجود کی وجہ سے پیشانی کا نشان یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے اونٹ کے گھٹنے کا گھٹا، اور پھر آپ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا :'' الحمدُ لِلّٰه الذّی اِلیهِ مَصَائر الخلقِ و عواقِبُ الْامْرِ ، نَحمدُهُ عَلیٰ عِظیم اِحْسٰانِه ونیِّربُرهٰا نِهِ و نَوامِیْ فَضْلِهِ وا مْتِنٰا نِهِ

اَیّها النّاسُ: اِنّی قد بثثتُ لکم الموا عِظَ الّتی وَعَظَ الا نبیائُ بها أ مَمَهُمْ وَادّیتُ اِلَیْکم ادت الا و صیائُ اِلیٰ مَنْ بعدَهُمْ وَ اَ دَّ بْتُکمْ بِسَوطِیْ فلَمْ تَسْتَقیمواوَحَدوتکم، بالزّ واجِرِ فلمْ تَسْتَو سِقُوْا. للّٰه أ نتُمْ! اَتتَوقّعُونَ اماماً غَیْرِیْ یطأُ بِکم الطّرِیقَ و یرُشِدُ کُمُ السّبیل؟

… مٰا ضرّ اِخوانُنا الَّذینَ سُفِکت دِمائُ هُم وَهُمْ بصفیّنَ الاّٰ یکونواُ الیومَ أحیائً ؟ یُسیغون الغصَصَ ویَشربونَ الرَّ نقَ ! قد.واللّٰه .لقو ا اللّٰه فَوَفَا هُمْ اجورَهُمْ وَاَحَلَّهم دَارَ الْاَ من بَعْد خو فهِمْ.أین اخوانی الّذِینَ رَکبوُا الطریقَ و مَضَوا عَلیَ الحقَّ؟ اَینَ عمّار وایْنَ ابْنُ التیهان؟ واَینَ ذو الشّهادتین؟ واین نْظَر ائُ هُمْ من اِخوا نِهِمُ الَّذِ یْنَ تَعاقَدواعَلیَ المَنِیَّةِ؟''

''تمام حمد اس خدا کے لئے ہے جس کی طرف تمام مخلوق کی باز گشت ہے اور ہر امر کی انتہا ہے، ہم اس کے عظیم احسان اور روشن برہان اور بڑھتے ہوئے فضل وکرم پر اس کی حمد کرتے ہیں۔

اے لوگو ، میں نے تمھیں اس طرح نصیحتیں کی ہیں جیسی انبیا اپنی امتوں کو کرتے رہے ہیں اور وہی باتیں تم تک پہونچائی ہیں جو اوصیا بعد والوں تک پہونچاتے رہے ہیں، میں نے اپنے تازیانہ سے تمہاری تادیب کی مگر تم سیدھے نہ ہوئے اور زجر و توبیخ سے تمھیں ہنکایا مگر تم لوگ یکجااور متحد نہ ہوئے ،خدا ہی تمہیں سمجھے، کیا تم میرے بعد کسی اور امام کے امیدوار ہو جو تمھیں سیدھی راہ پر چلائے اور صحیح راستہ دکھائے؟

ہمارے جن ساتھیوں کا خون جنگ صفین میں بہایا گیا انہیں کیا نقصان پہونچا وہ اگر آج زندہ نہیں ہیں کہ دنیا کے مصائب کے تلخ گھونٹ نوش کریں اور اس طرح کی ناگوار زندگی کا گندہ پانی پیئیخدا کی قسم انہوں نے اللہ سے ملاقات کی تواس نے انہیں پوری جزادی اور خوف و ہراس کے بعد انہیں امن و سلامتی کے گھر میں اتاردیا۔


میرے وہ بھائی کہاں ہیں جو سیدھی راہ پر چلتے رہے (اور اس دنیا سے )حق پر گزر گئے ، کہاں ہیں عمار؟ کہاں ہیں ابن تیہان ؟ کہاں ہیں ذوالشہادتین؟ اور کہاں ہیں ان کے ایسے دوسرے بھائی جو مرنے کا عہد کرچکے تھے؟

نوفل کہتے ہیں: اس کے بعد حضرت نے اپنا ہاتھ داڑھی پر پھیرااور بہت دیر تک زارو قطار روتے رہے اور پھر فرمایا:

''أوّهِ عَلیٰ اِخْوانِی الّذِین تَلو ا القرآنَ فاحکُموهُ وتَدَبِّروا الفَرضَ فا قٰا مُوُه ،اَحْیُوا السُنَّةَ و أ ما تو البد عة. دُعُواْ لِلْجِهادِ فَا جَابُوْاوَ وثَقُوْا بالقَائِدِ فاتبعُوْهُ''

''آہ! میرے وہ بھائی جنہوں نے قرآن پڑھا (تو اپنے عمل سے) اسے مضبوط کیا ،اپنے فرض کو سوچا سمجھا اور اسے ادا کیا ، سنت کو زندہ کیا اور بدعت کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ جب انہیں بلایا گیاتو انہوں نے لبیک کہی ،اپنے رہبر پر اعتماد رکھا تو اس کی پیروی کی۔

پھر آپ نے بلند آواز سے پکار کر فرمایا:''اَلْجهادَالجهادَ عبادَ اللّٰه! ألاَ وَ اِ نّی مُعَسِْکر فِیْ یومی هٰذا فَمَنْ أ رَادَ الرّ واحَ الیَ اللَّه فَلیخْرُجْ'' جہاد جہاد، اے خد ا کے بندو! آگاہ رہو کہ میں آج لشکر کو ترتیب دے رہا ہوں جو خدا کی طرف جانا چاہتا ہے وہ نکل کھڑا ہو۔(ا)

امام علیہ السلام کے اس ہیجان انگیز اور پر جوش کلام نے عراقیوں کے مردہ دلوں کو اس طرح زندہ کر دیا کہ تھوڑی ہی دیر میں چالیس ہزار (۰۰۰،۴۰) لوگ خدا کی راہ میں جہاد کرنے اور میدان ِ صفین میں جنگ کرنے کے لئے تیار ہوگئے ،امام علیہ السلام نے اپنے بیٹے امام حسین علیہ السلام اور قیس بن سعد اور ابو ایوب انصاری کے لئے پرچم تیار کیا اور ہر ایک کو دس دس ہزار کی فوج دے کر تیار ہونے کے لئے کہا اور دوسرے لوگو ں کو بھی مختلف تعدا د کے دستوں پر امیر مقرر فرما کر پرچم کے ساتھ تیار کیا لیکن افسو س کہ ایک ہفتہ نہ گزرنے پایا تھا کہ عبد الرحمن بن ملجم کی تلوار سے آپ شہید ہو گئے ۔

جب کوفہ کے باہر رہنے والے سپاہیوں کو اما م کی شہاد ت کی خبر ملی تو سب کے سب کوفہ واپس آگئے اور سب ہی کی حالت ان بھیڑ بکریوںکی طرح ہوگئی،جو اپنے محافظ سے محروم ہوگئی ہوں اور بھیڑئیے انہیں ہر طرف سے اچک لے جارہے ہوں۔

اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہم امام علیہ السلام کی زندگی کے آخر ی ورق یعنی شہادت کا ماجرا بیان کریں۔

_______________________________

(۱) نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۷ (مطبوعہ عبدہ)۔


تیسری فصل

امام علیہ السلام کی زندگی کا آخری ورق محرابِ عبادت میں آپ کی شہادت

جنگ نہروان ختم ہوگئی اور علی علیہ السلام کوفہ واپس آگئے مگر خوارج میں سے کچھ لوگ جنہوں نے نہروان میںتوبہ کیا تھا دوبارہ مخالفت کرنے لگے اور فتنا و فساد بر پا کرنے لگے۔

علی علیہ السلام نے ان کے پاس پیغام بھیجااور ان لوگوں کو صلح و خاموشی رہنے کی دعوت دی اور حکومت کی مخالفت کرنے سے منع کیا لیکن جب ان کے راہ راست پر آنے سے مایوس ہوگئے تو اپنی قدرت و طاقت سے اس سر کش، نافرمان اور فتنہ پرداز گروہ پر حملہ کرکے اسے نابود کردیا ،اس میں سے کچھ لوگ قتل ہوئے تو کچھ لوگ زخمی ہوگئے اور کچھ فرار کرگئے اور انھیں بھاگنے والوں میں سے عبد الرحمن بن ملجم تھا جو قبیلہ مراد کا رہنے والا تھا یہ مکہ بھاگ گیاتھا۔

بھاگے ہوئے خوارج نے مکہ کومرکز بنایا اور ان میں سے تین لوگ عبد الرحمن ابن ملجم مرادی، برک بن عبد اللہ تمیمی(۱) اور عمرو بن بکر تمیمی(۲) ایک رات جمع ہوئے اوروقت کے حالات اور داخلی جنگ اور خون ریزیوں پر بحث کی اور نہروان اور اپنے مقتولین کویاد کیا اور یہ نتیجہ نکالا کہ اس خون ریزی اور آپسی جنگ کا سبب علی علیہ السلام،معاویہ اور عمر وعاص ہیں اور اگر یہ تینوں آدمی ختم ہوجائیں تو مسلمان اپنی اپنی ذمہ داریوں کو خود جان لینگے اور اپنی خواہش اورمن پسند خلیفہ چن لینگے ۔پھر ان تینوں نے آپس میں عہد کیا اور اسے قسم کے ذریعے مزید مستحکم کیا کہ ان میں سے ہر ایک، ان تینو ں میں سے ایک ایک کو قتل کرے گا ۔

ابن ملجم نے علی علیہ السلام کو قتل کرنے کا عہد کیا، عمر وبن بکر نے عمرو عاص کو مارنے کا ذمہ لیا اور

_______________________________

(۱) ،( ۲) دینوری نے الاخبار الطوال میں ص۲۱۳ پر برک بن عبد اللہ کا نام نزال بن عامر اور عمرو بن بکر کو عبد اللہ بن مالک صیداوی لکھا ہے اور مسعودی نے مروج الذہب (ج۲،ص۴۲۳) میں برک بن عبد اللہ کو حجاج بن عبد اللہ صریمی ملقب بہ برک اور عمرو بن بکر کو زادیہ لکھا ہے۔


برک بن عبد اللہ نے معاویہ کو قتل کرنے کا عہد کیا۔(۱) اس سازش کا نقشہ خفیہ طور پر مکہ میں بنا یا گیا اور تینوں آدمی اپنے مقصد کو ایک ہی دن انجام دیں اس لئے رمضان المبا رک کی انیسویں رات معین ہوئی ہر شخص اپنا کام انجام دینے کے لئے اپنے اپنے مورد نظر شہر چلا گیا عمرو بن بکر ،عمرو عاص کو قتل کرنے کے لئے مصر گیا اور برک بن عبد اللہ معاویہ کو قتل کرنے کے لئے شام گیا اور ابن ملجم بھی کوفہ کی طرف روانہ ہوا۔(۲) برک بن عبد اللہ شام پہونچا ، اور معین شدہ رات میں مسجد گیا اور پہلی صف میں نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا ، اور جب معاویہ سجدے میں گیا تو اس نے تلوار سے حملہ کیا لیکن خوف و ہراس کی وجہ سے نشانہ چوک گیااور تلوار خطا کرگئی، اور سر کے بجائے معاویہ کی ران پر لگی اور معاویہ شدید زخمی ہوگیا ،اسے فوراً گھر میں لائے اور بستر پر لٹایا،جب حملہ کرنے والے کو اس کے سامنے حاضر کیا تو معاویہ نے اس سے پوچھا : تمھیں اس کا م کے انجام دینے کی جرأت کیسے ہوئی ؟ اس نے کہا: اگر امیر مجھے معاف کریں تو ایک خوشخبری دوں ، معاویہ نے کہا :تیری خوشخبری کیا ہے؟ برک نے کہا: علی کو آج ہی ہمارے ایک ساتھی نے قتل کیا ہے اور اگر یقین نہ ہوتو مجھے قید کردیں یہاں تک کہ صحیح خبر آپ تک پہونچ جائے، اگر علی قتل نہ ہوئے تو میں عہد کرتاہوں کہ میں وہاں جا کر انھیں قتل کروںگا اور پھرآپ کے پاس واپس آجاؤںگا، معا ویہ نے اسے علی کے قتل کی خبر آنے تک اپنے پاس روکے رکھا اور جب خبر کی تصدیق ہوگئی تو اسے آزاد کردیا او ر ایک دوسرے قول کے مطابق اسی وقت اسے قتل کرادیا۔(۳) جب طبیبوں نے معاویہ کے زخم کا معاینہ کیا تو کہا کہ اگر امیر اولاد کی خواہش نہ رکھتے ہوں تو دواکے ذریعے علاج ہوسکتا ہے ورنہ پھر زخم کو آگ داغنا پڑے گا۔ معاویہ داغنے سے ڈرااور نسل کے منقطع ہونے پر راضی ہوگیا اور کہا: یزید اور عبد اللہ میر ے لئے کافی ہیں۔(۴) عمر وبن بکر بھی اسی رات مصر کی مسجد میں گیا، اور پہلی صف میں نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا مگر اس دن عمرو عاص کو زبر دست بخار آگیا اور کمزوری اور سستی کی وجہ سے مسجد میں نہیں آسکالہذا

_______________________________

(۱) مقاتل الطابینص ۲۹۔ الامامة و السیاسة ج۱،ص۱۳۷۔

(۲) تاریخ طبری ج ۶،ص ۳۸ کامل ابن اثیرج ۳، ص ۱۹۵۔ روضة الواغطین ج۱،ص۱۶۱۔

(۳) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۶،ص۱۱۴ (۴) مقاتل االطالبین ص ۳۰ ۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۶ص۱۱۳۔


خارجہ بنحنیفہ(حذافہ)(۱) کو نماز پڑھانے کے لئے مسجد بھیجا اور عمرو بن بکر نے عمر وعاص کے بجائے اسے قتل کردیا اور جب حقیقت معلوم ہوئی تو کہا:أردتُ عمراً واَرادَ الله خاَرِجَة ''(۲)

یعنی میں نے عمر وعاص کو قتل کرنا چاہا اور خدا نے خارجہ کو قتل کرانا چاہا۔

لیکن عبد الرحمن بن ملجم مرادی ۲۰ شعبان ۴۰ہجری کوکو فہ آیا اور جب علی علیہ السلام کو اس کے آنے کی خبر ملی تو آپ نے فرمایا: ''وہ آگیا؟'' اب اس چیز کے علاوہ مجھ پر کوئی چیز باقی نہیں ہے اور اب اس کا وقت بھی آگیا ہے۔

ابن ملجم اشعث بن قیس کے گھر میں اترا ہو اور ایک مہینہ اس کے گھر میں رہا اور روزانہ اپنی تلوار کو تیز کر کے اپنے کو آمادہ کرتا تھا۔(۳) اور وہاں ایک لڑکی قطامہ جو خود خوارج میں سے تھی اس سے ملا اور اس کا عاشق ہوگیامسعودی کے نقل کرنے کے مطابق قطامہ ،ابن ملجم کی چچازاد بہن تھی اور اس کے باپ اور بھائی جنگ نہروان میں قتل ہوئے تھے۔ قطامہ کوفہ کی ایک خوبصورت ترین لڑکی تھی ، جب ابن ملجم نے اسے دیکھا تو تمام چیزوں کو بھول گیا اور اس سے شادی کی خواہش ظاہر کی(۴) قطامہ نے کہا: میں پوری رغبت و خواہش سے تمھیں اپنا شوہر قبول کروں گی مگر شرط یہ ہے کہ میر ا مہر میری خواہش کے اعتبار سے قراردو۔ عبدالرحمن نے کہا : بتاؤ تمھارا مقصد کیا ہے؟

قطامہ نے جب عاشق کو سراپا تسلیم دیکھا تو مہر کو اور بھی سنگین کر دیا اور کہا: تین ہزار درہم ، ایک غلام، ایک کنیز اور علی ابن ابیطالب کا قتل۔ابن ملجم :میں تصور نہیں کرسکتا کہ تم مجھے چاہو اور پھر مجھ سے علی کے قتل کرنے کی درخواست کرو۔

قطام:تم ان پر اچانک غافلانہ حملہ کرنے کی کوشش کرو اس صورت میں اگر تم نے انہیں قتل کردیا تو ہم دونوں ان سے اپنا بد لہ لے لیں گے اور پھر ہنسی خوشی زندگی بسر کریںگے اور اگر اس راہ میں تو مارا گیا تو خدا نے آخرت کے لئے جو ثواب تیرے لئے ذخیرہ کیا ہے وہ اس دنیا کی نعمتوں سے بہت زیادہ بہتر اور پایدار ہے۔

_______________________________

(۱)، تاریخ یعقوبی ج ۲،ص ۲۱۲۔

(۲)،(۳) تاریخ یعقوبی ج ۲،ص ۳۱۲۔

(۴) مروج الذہب ج ۲، ص ۴۲۳


ابن ملجم: تمھیں معلوم ہو کہ میں صرف اسی کام کے لئے کوفہ آیا ہوں۔(۱)

کسی شاعر نے قطامہ کے مہر کے سلسلے میں اشعار کہے ہیں:

فَلَمْ أرَ مَهْراً سا قه ذُوْ سَما حَة

کَمَهْرِ قطام من فصیح و أعْجَم

ثلاثة ألا فٍ وعبد وقِیْنةً

وقَتْلُ عَلِیٍّ بالِحسٰام المصَمَّم

فَلاَ مَهْرَ اَ عْلیٰ منْ علی واِن عَلاٰ

ولاٰ قَتْلَ اِلاّٰ دُوْنَ قَتْلِ ابن مُلْجَم(۲)

میں نے آج ایسا مہر تک نہیں دیکھا جسے کوئی اہل کرم ادا کرے چاہے وہ عرب ہو یا عجم مثل مہرقطام کے تین ہزار درہم ،ایک غلام ، ایک کنیز اور تیز تلوار سے علی بن ابی طالب کا قتل اور کوئی بھی مہر علی علیہ السلام سے زیادہ قیمتی نہیں ہے اگرچہ کتنا ہی قیمتی کیوں نہ ہو اور کوئی بھی جرم ابن ملجم کے جرم سے زیادہ بدتر نہ ہوگا۔ قطامہ نے کہا: میں اپنے قبیلے سے کچھ لوگوں کو تیر ے ہمراہ کروں گی تاکہ اس کام میں تیری مدد کریں اور پھر اس نے یہی کا م کیا اور کوفہ کے خارجیوں میں ایک شخص کو جس کا نام وردان بن مجالد تھا اسی ''تیم الرباب'' قبیلے کا رہنے والا تھا اس کے ہمراہ کردیا۔ابن ملجم جس کا ارادہ حضر ت علی علیہ السلام کو قتل کرنے کا تھا اس نے خوارج میں شبیب بن بجرہ سے جو اشبحع قبیلہ کا تھا ملاقات کی اور اس سے کہا کہ کیا دنیا اور آخرت کا شرف چاہتے ہو؟ اس نے پوچھا :تمھارا مقصد کیا ہے؟ اس نے کہا: علی بن ابیطالب کے قتل کرنے میں میر ی مدد کرو۔ شبیب نے کہا: تیری ماںتیرے غم میں بیٹھے، کیا تو پیغمبر کے زمانے میں علی کی خدمتوں اور ان کی فداکاریوں سے بے خبر ہے؟ابن ملجم نے کہا: تجھ پر وائے ہو ، کیا تو نہیں جانتا کہ علی ـخدا کے کلام میں لوگوں کی حکمیت کے قائل ہوئے ہیں اور ہمارے نمازی بھائیوں کو قتل کردیاہے؟ اس لئے اپنے دینی بھائیوں کا انتقام لینے کے لئے ہم انہیں ضرور قتل کریں گے(۳) ۔شبیب نے قبول کر لیا اور ابن ملجم نے تلوار آمادہ کی اور اسے مہلک زہر میں بجھایا اور پھر وعدہ کے مطابق وقت معین پر مسجد کو فہ آیا۔ان دونوں نے ۱۳رمضان جمعہ کے دن قطام

_______________________________

(۱)الاخبار الطوال ص۲۱۴۔----(۲)کشف الغمہ ج۱،ص۵۸۲۔ مقاتل الطالبین ص۳۷، مسعودی نے مروج الذہب(ج۲،ص۴۲۴ ) میں آخری دوشعر کو ابن ملجم سے نسبت دیا ہے۔-----(۳) کشف الغمہ ج۱، ص ۵۷۱۔


سے ملاقات کی جب کہ وہ حالت اعتکاف میں تھی اس نے دونوں سے کہا کہ مجاشع بن وردان بن علقمہ بھی چاہتا ہے کہ تم لوگوں کی مدد کرے ۔ جب کام کے انجام دینے کا وقت آیا تو قطامہ نے ان کے سروں کو ریشمی رومال سے باندھا اور تینوں نے اپنی اپنی تلواریں ہاتھ میں لیں اور رات کو جو لوگ مسجد میں تھے انہیں کے ساتھ بسر کی اور مسجد کے ایک دروازے کے سامنے بیٹھ گئے جو باب السدہ کے نام سے مشہور ہے۔(۱)

شب شہادت امام علیہ السلام

امام علیہ السلام اس سا ل ماہ رمضان میں مسلسل اپنی شہادت کی خبر دے رہے تھے۔ یہاں تک کہ ماہ رمضان کے وسط میں جب آپ منبر پر تشریف فرما تھے تو آپ نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: شقی ترین شخص ان بالوں کو میر ے سر کے خون سے رنگین کرے گا ۔اسی طرح آپ نے فرمایا:

ماہ رمضا ن آگیا ہے ، یہ تمام مہینوں کا سردار ہے۔ اس مہینے میں حکومت کے حالات بد ل جائیں گے،آگا ہ ہوجاؤ کہ تم اس سال ایک ہی صف میں (بغیرامیرکے) حج کروگے اور اس کی علامت یہ ہے کہ میں تم لوگوں کے درمیان نہیں رہوں گا(۲) ۔

آپ کے اصحاب کہہ رہے تھے: وہ اس کلام کے ذریعے اپنی موت کی خبر دے رہے ہیں لیکن ہم نہیں سمجھ پا رہے ہیں(۳)

اسی وجہ سے حضرت اپنی عمر کے آخر ی دنوں میں روزانہ رات کو اپنی اولاد میں سے کسی ایک کے گھر جاتے تھے،کسی رات امام حسن علیہ السلام کے پاس تو کسی رات امام حسین علیہ السلا م کے گھر اور کسی رات اپنے داماد عبد اللہ بن جعفر ،جناب ِ زینب کے شوہرکے گھر افطار کرتے تھے اورتین لقموں سے زیادہ کھانا نہیں کھاتے تھے۔ آپ کے بیٹوں میں سے ایک بیٹے نے کم کھانے کا سبب پوچھا تو امام نے فرمایا: خدا کا

_______________________________

(۱) مروج الذہب ج ۲، ص ۴۲۴۔ تاریخ طبری ۶، ص۸۳ ۔ شرح نہج البلا غہ ابن ابی لحدید ج۶،ص۱۱۵ ۔ کامل ابن اثیرج ۳،ص۱۹۵۔ مقا تل اطالبین ص۲۳۔ البدایة والنھایةج۷،ص۳۲۵۔ الا ستیعاب ج ۲،ص۲۸۲۔ روضة الواعظین ج۱، ص۱۶۱۔

(۲)،(۳) ارشاد مفید ص۱۵۱ (مطبوعہ اسلامیہ)۔ روضة الواعظین ج۱،ص۱۶۳۔


فرمان آرہا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میر ا پیٹ خالی، ہوایک یاد و رات سے زیادہ باقی نہیں اسی رات آپ کے سر پر ضربت لگی۔(۱) شہادت کی رات آپ افطار کے لیے اپنی بیٹی ام ِ کلثوم کے مہمان تھے ،افطار کے وقت آپ نے تین لقمہ غذا تناول فرمائی اور پھر عباد ت میں مشغول ہوگئے اور شا م سے صبح تک بہت ہی مضطرب اور بے چین تھے ۔کبھی آسمان کی طرف دیکھتے اور ستاروں کی گردش کو دیکھتے ،اور طلوع فجر جتنا نزدیک ہوتا اضطراب اور بے چینی میں اتنا ہی اضافہ ہوتا تھا اور فرماتے تھے: خدا کی قسم ، نہ میں جھوٹ بول رہا ہوں اور نہ جس نے مجھے خبر دی ہے اس نے جھوٹ کہا ہے یہی وہ رات ہے کہ جس میں مجھے شہادت کا وعدہ دیا گیا ہے۔(۲)

یہ وعدہ پیغمبر نے آپ کو دیا تھا۔ علی علیہ السلام خود نقل کرتے ہیں کہ پیغمبرنے رمضان المبارک کی اہمیت و فضلیت کے بارے میں جوخطبہ ارشاد فرمایا اور پھر آخر ی خطبہ میںرونے لگے میں نے عرض کیا یا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم !آپ کیوں رو رہے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اس مہینے میں جو تمھارے ساتھ پیش آئے گااسی کے بارے میں رو رہا ہوں :

''کأنِّیِ بِکَ وأنتَ تُصَلّی لرَ بَّکَ وَقد انبَعثَ اَشقَی الاولین والا خرِینَ شقیقُ عٰاقِرناقَةِ ثَموُدَفَضَربَکَ ضَربَةً عَلیٰ فَرْ قِکَ فَخضَّبَ منِه ا لْحیتَکَ (۳)

یعنی گویامیں دیکھ رہا ہوں کہ تم نماز میںمشغو ل ہو اور دنیا کا سب سے شقی اور بد بخت ترین آدمی ناقہ ٔ ثمود کے مارنے کی طرح کھڑا ہوگا اور تمہارے سر پر ضربت مارے گا اور تمھاری داڑھی کو خون سے رنگین کرے گا ۔

بالآخر کرب اور بے چینی کی رات ختم ہوئی اور علی علیہ السلام سحر کی تاریکی میں نماز صبح ادا کرنے کے لئے مسجد کی طرف گئے چلے ،گھر میں جو مرغابیاں پلی تھیں انہوں نے راستہ روکا اور لبا س سے لپٹ گئیں۔

_______________________________

(۱) ارشاد: ص ۱۵۱۔ روضة الواعظین: ج۱ ص۱۶۴۔ کشف لغم:ہ ج ۱، ص۵۸۱۔

(۲) روضہ الواغطین: ج۱، ص۱۶۴۔

(۳) عیون اخبار الرضا: ج۱ص۲۹۷(مطبوعہ قم)۔


بعض لوگوں نے چاہا کہ ان سب کو دور کر دیں مگر آ پ نے فرمایا:''دَعُوْ هُنَّ فَاِ نَّهُنَّ صَوایحُٔ ا تَتْبَعُهٰا نَوایِحُ '' یعنی انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو کہ وہ فریا د کر رہی ہیں اور اس کے بعد مسلسل نوحہ و بکا کریں گی۔(۱) امام حسن علیہ السلام نے کہا: بابا: یہ کیسا فال ِ بد بیان کر رہے ہیں؟ فرما یا: اے بیٹا! یہ فالِ بد نہیں کہہ رہا ہوں میرا دل کہہ رہا ہے کہ میں قتل کیا جاؤںگا(۲) ام کلثوم امام علیہ السلام کی گفتگو سن کر مضطرب ہوگئیں اور عرض کیا کہ حکم دے دیجیۓ کہ جعدہ مسجد میں جائیں اور نماز جماعت پڑھا ئیں ۔

حضرت نے فرمایا: قضائے الہی سے بھاگا نہیں جاسکتا پھر آپ نے کمر کے پٹکے کو مضبوطی سے باندھا، اور یہ دو شعر پڑھتے ہوئے مسجد کی طرف روانہ ہوگئے:

اُشْدُدْ حَیازِ یْمِکَ لِلْموَتِ

فَانَّ الْموَتَ لاٰ قِیْکاٰ

وَ لاٰ تَجزَع مِن َ الموتِ

اذِاَ حَلَّ بِوَادِیْکاٰ(۳)

اپنی کمر کو مو ت کے لئے محکم باندھ لو کیو نکہ موت تم سے ضرور ملاقات کرے گی اور جب موت تمھار ے قریب آئے تو اس سے فریاد و چیخ و پکار نہ کرو۔امام علیہ السلام مسجدمیں داخل ہوئے اور نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور تکبیر ة الاحرام اور پھر قرأت کے بعد سجدے میں گئے ۔اس وقت ابن ملجم نے زہر میں بجھی ہوئی تلوار آپ کے سرِ مبارک پر ماری اس حال میں کہ بلند آواز سے کہہ رہا تھا:''للّٰهِ الحکم لاٰ لَکَ یا علی'' ۔ اتفاق سے یہ ضربت بھی اسی جگہ لگی جہاں پہلے عمر وبن عبدود نے تلوار ماری تھی،(۴) آ پ کا سرِمبارک پیشانی تک پارہ ہوگیا ۔مرحوم شیخ طوسی نے اپنی کتاب امالی میں ایک حدیث امام رضا علیہ السلام سے اور آپ نے اپنے

_______________________________

(۱) تاریخ یعقوبی: ج ۲، ص۲۱۲۔ ارشاد: ص ۶۵۲ ۔ روضة الوعظین: ج۱، ص۱۶۵۔ مروج الذہب ج۲، ص۴۲۵۔

(۲) کشف الغمہ: ج۱،ص۵۸۴۔-----(۳)۔ مروج الذہب: ج۲،ص۴۲۹۔ مقاتل الطالبین ص۳۱۔

(۴) کشف الغمہ ج۱، ص ۵۸۴۔


والد گرامی سے انہوں نے اپنے آباء طاہرین سے اورانہوں نے امام زین العابدین ـ سے نقل کیا ہے:

جب امام علیہ السلام سجدے میں تھے تو ابن ملجم نے آپ کے سرا قدس پر تلوار سے ضربت لگائی(۱) شیعوں کے مشہور و معروف مفسر ابو الفتوح رازی اپنی تفسیر میں نقل کرتے ہیں کہ جب ابن ملجم نے ضربت ماری اس وقت حضرت علی علیہ السلام پہلی رکعت میں تھے اور آپ نے سورہ انبیاء کی ۱۱ آیتیں تلاوت کی تھیں۔(۲)

اہل سنت کے مشہور عالم سبط ابن جوزی لکھتے ہیں جس وقت اما م علیہ السلام محراب ِعبادت میں آئے تو چندلوگوں نے ان پر حملہ کیا اور ابن ملجم نے آپ کے سر پر ضربت ماری(۳) فوراً اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھاگ گیا۔

علی علیہ السلام کے سر سے محراب میں خون جاری ہوگیا اورآپ کی داڑھی کو رنگین کر دیا۔ اس وقت حضرت نے فرمایا:''فُزتُ وربِّ الکعبةَ'' رب ِ کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا۔ پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی۔''مِنْهٰا خَلَقْنٰاکُم و فِیهٰا نُعِیْدُ کمْ و مِنْهٰا نُخْرِجُکُمْ تَارَةً اُخْری ''۔(۴)

جب علی علیہ السلام کے سر پر ضربت لگی توفریاد بلند کی: اسے پکڑ لو ،لوگ ابن ملجم کو پکڑنے کے لئے دوڑے اور کوئی بھی اس کے قریب نہیں جاتا تھا مگر یہ کہ اس کو اپنی تلوار سے مارتاتھا پھرقثم بن عباس آگے بڑھے اور اسے اپنی اٹھاکر زمین پر پٹخ دیا

جب اسے علی علیہ السلام کے پا س لے کر آئے تو حضرت نے کہا ابن ملجم ؟ اس نے کہا ،ہاں۔ جب حضرت نے اپنے قاتل کوپہچانا اپنے فرزند وقت امام حسن علیہ السلام سے فرمایا :

''اپنے دشمن کا خیا ل رکھے، اس کاشکم سیر کرو اور اسکی رسیوںکو مضبوط باند ھ دو، اگر میں مر گیا تو

_______________________________

(۱) بحار الانوارج۹ص۶۵۰بحوالہ امالی(مطبوعہ قدیم)

(۲) تفسیر ابو الفتوح رازی ج۴، ص۴۲۵۔

(۳) تذکرة الخواص: ص۱۷۷(مطبوعہ نجف)۔

(۴) سورة طٰہٰ آیت ۵۵۔ہم نے تم لوگوں کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر اسی میں واپس کردیں گے اور پھر دوبارہ اسی میں سے تم کو اٹھائیں گے۔


اسے میرے پاس بھیج دینا تاکہ خدا کے پاس اس سے احتجاج کروں اور اگر زندہ بچ گیا تو اسے بخش دونگا یااپنا قصاص لوںگا۔(۱)

حسنین نے بنی ہاشم کے ہمراہ علی علیہ السلام کوکمبل میں رکھا اور گھر لے گئے ۔پھر دوبارہ ابن ملجم کو آپ کے پاس لائے، اما م علیہ السلام نے اسے دیکھا اور فرمایا: اگر میں مر گیا تو اسے قتل کردینا جس طرح اس نے مجھے قتل کیا ہے اور اگر میں بچ گیا تو پھر میں دیکھوں گا کہ اس کے بارے میں میرا کیا نظریہ ہے، ابن ملجم نے کہا: میں نے اس تلوار کو ایک ہزار درہم میں خریدا ہے اور ایک ہزار درہم کے زہر میں اسے بجھایا ہے اس نے میرے ساتھ خیانت کی تو خدا اسے نابود کر دے۔(۲)

ام کلثوم نے اس سے کہا: اے دشمنِ خدا تونے امیر المومنین کو قتل کردیا؟ اس ملعون نے کہا :امیر المومنین کو قتل نہیں کیاہے بلکہ تمھارے باپ کو قتل کیا ہے ۔

امِ کلثوم نے کہا: امید ہے کہ انشاء اللہ حضرت کو اس زخم سے شفا ملے گی ۔ابن ملجم نے بے حیائی سے کہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ تم ان پر رؤگی واللہ میں نے ایسی ضربت ماری ہے کہ اگر اسے اہل زمین پر تقسیم کریں تو سب ہلاک ہوجائیں گے ۔(۳) ۔

حضرت کے لئے تھوڑا سا دودھ لایا گیا آپ نے تھوڑا سا دودھ پیا اور فرمایا اپنے قیدی کو بھی اس دودھ سے تھوڑا سا دے دواور اسے اذیت نہ دو۔

جس وقت امام علیہ السلام کو ضربت لگی اس وقت کوفہ کے تمام طبیب آپ کے پاس جمع ہوگئے ۔ ان لوگوں کے درمیان سب سے ماہر اثیر بن عمرو تھا جو زخموں کا علاج کرتا تھا۔ جب اس نے زخم دیکھا تو حکم دیا کہ گوسفند کا پھیپھڑا جو ابھی گرم ہو (تازہ ہو) لایا جائے اور پھر اس نے پھیپھڑے میں سے ایک رگ نکالی اور زخم پر رکھا اور جب اسے باہر نکالا تو کہا :یا علی! اپنی وصیتیں بیان کیجیۓ ،کیونکہ ضربت کا زخم دماغ تک

_______________________________

(۱) تاریخ یعقوبی ج۲،ص۲۱۲۔

(۲) کشف الغمہ ج۱،ص۵۸۶۔ تاریخ یعقوبی :ج۶، ص۱۸۵۔

(۴) مقاتل الطالبین :ص ۳۶۔ الاخبارالطوال :ص ۲۱۴۔ طبقات ابن سعد: ج۲، ص۲۴۔ کامل ابن اثیر:ج ۳، ص۱۶۹ تاریخ طبری: ج،۶ص۸۵ ۔ عقد الفرید: ج۴، ص ۳۵۹۔ کشف الغمہ: ج۱، ص۵۸۶۔


پہونچ گیا ہے علاج سے کوئی فائدہ نہیں ہے اس وقت اما م علیہ السلام نے کاغذ اور دوات منگایا اور اپنی وصیت میں اپنے دونوں بیٹوں حسن و حسین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا یہ وصیت اگرچہ حسنین سے کی ہے مگر حقیقت میں یہ تمام انسانو ں کے لئے رہتی دنیا تک ہے۔ اس وصیت کو بعض محدثین اور مورخین نے جو سید رضی سے پہلے اور ان کے بعد میں گزرے ہیں سند کے ساتھ نقل کیاہے۔(۱) لیکن اصل وصیت اس سے زیادہ ہے جسے مرحوم سید رضی نے نہج البلاغہ میںتحریر کیا ہے۔ اس میں سے کچھ حصہ تحریر کررہے ہیں:

''اُو صیکما بتقوی َ الله واَن لاٰ تبغیا الدُّنْیٰا وانِ بَغتْکَمٰا ولاٰ تأ سفا عَلیٰ شیئٍ مِنْهاَ زُویَ عَنْکُماٰ و قُوْلاٰ بِا لحقِّ وَاعْملاٰ للأجرِ وکُو نٰا لِلظَّا لم خَصْما و للمظلومِ عَوْناً ۔''

'' میں تم دونوں کو وصیت کرتا ہوں کہ تقوائے الہی اختیار کئے رہنا اور دنیا تمھاری کتنی ہی طلب گار ہو تم دنیا کے طلب گار نہ بننا اور دنیا کی جس چیز سے تمھیں محروم کردیا جائے اس کا غم نہ کھانا،جو کہو حق کی حمایت میں کہواور جوعمل کرو اجر الہی کیلئے کرو ،ظالم کے مخالف او ر مظلوم کے مدد گار رہو''۔

اُ وْصیکمٰا و جَمیعَ وَلَدِیْ وَ اهْلِی وَمَنْ بلغه کتا بی بتقویَ اللّٰهِ ونَظْمِ اَمْرِ کُمْ وَ صَلاحِ ذاتِ بَیْنِکُمْ، فاِنّی سَمِعْتُ جَدَّ کُمْ صلی اللّٰه علیه وآله وسلم یَقَوْلَ'' صَلاحُ ذاتِ البَین اَفْضلُ مِنْ عَا مَّةِ الصَّلاة و الصِّیام'' ۔

''میں تم دونوں کو اور اپنی تمام اولاد کو اور اپنے کنبہ کواور جس کے پاس بھی یہ میری تحریر پہونچے وصیت کرتا ہوں کہ اللہ کا تقوی اختیار کریں ، اپنے ہر کام میں نظم (وضبط) کا خیال رکھیں اور باہمی تعلقات درست رکھیںکیونکہ میں نے تمھارے نانا حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں کے درمیان اصلاح کرنا ایک سال نماز روزے سے افضل ہے''۔

''اللّٰه اللّٰه فیِ الا یتَام فَلاَ تَغِبُّواأفواهَهُمْ ولاٰ یضیْعوُا بحَضْرَ تِکُم.ْ واللّٰه اللّٰه فِیْ جِیْرانِکُمْ فَانِّهم وَصِیَّةُ نَبِیِّکُمْ. مَا زَاَل َیوصِیْ بِهِمْ حَتّٰی ظَنَنّٰا أ نَّه سَیُوَرِّ ثُهُمْ''

_______________________________

(۱)ابو حاتم سجستانی ،المعمرون و الوصایا : ص۱۴۹ ۔تاریخ طبری :ج۶ ص۸۵ ۔تحف العقول:ص۱۹۷۔من لا یحضرہ الفقیہ :ج۴ ص۱۴۱۔کافی :ج۷ :۵۱۔مروج الذھب (ج۲ ص۴۲۵ میں اس کا کچھ حصہ نقل کیا گیا ہے ۔مقابل الطالبین :ص۳۸


''دیکھو !یتیموں کے بارے میں اللہ کو یاد رکھو ایسا نہ ہو کہ انہیں فاقہ کرنا پڑیاور نہ ایسا ہونے پائے کہ وہ تمھارے سامنے (کسمپری کی حالت میں ) ضا ئع ہوجائیں اور خدا سے ڈرتے ہوئے اپنے پڑوسیوں (کے حقوق)کا خیال رکھنا،کیونکہ وہ تمھارے نبی کی وصیت (کے مصداق) ہیں ،آپ برابر ان کے بارے میں وصیت و نصیحت فرماتے رہے یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ آپ انھیں حق وراثت بھی عطا کرنے والے ہیں''۔

''وَاللّٰه اللّٰه فِیْ الْقُرانِ لاٰ یَسبقُکُمْ با لْعَمَل به غَیْرُ کُمْ.وَاللّٰه اللّٰه فِیْ الصَّلاةِ فَانَّها عَمُوْدُ دِیْنِکُمْوَاللّٰه اللّٰه فِیْ بیْتِ رَبِّکُمْ لاٰ تَخَلُّوْهُ مٰا بَقیِتُمْ فَاِنَّه اِن تُرِکَ لَمْ تُناظَرُوْا'' ۔

''اور دیکھو قرآن کے بارے میں خدا کو نہ بھولنا ،ایسا نہ ہوکہ اور لوگ اس (کے احکام) پر عمل کرنے میں تم سے آگے نکل جائیں۔ نماز کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو کیو نکہ یہ تمھارے دین کا ستون ہے ۔ اور خدا را اپنے پرودگار کے گھر کو جب تک جیتے رہو خالی نہ چھوڑنا کیو نکہ اگر اسے چھوڑ دیا گیا توتمہیں مھلت نہیں ملے گی اور بلا میں گرفتار ہو جائو گے''۔

''وَاللّٰه اللّٰه فِی الجهادِ بأ مْوَ الکُم وَانفسِکُم وَالسنتکم فی سَبیلِ اللّٰه وعَلَیکُم بالتّواصُل والتبٰاذُلِ وَایّاکُم وَالتّدابُرو التَّقاطُع، لاٰ تَتْرُکُوا الأمْرَ بِالمعُروفِ والنِّهی عَنِ المنکر فَیُوَ لیّٰ عَلَیْکُمْ شِرَارُ کُمْ ثمَّ تَدْعُوْنَ فَلاٰیُستجٰابُ لَکُمْ''

''اور خدا کی راہ میں مال، جان اور زبان سے جہاد کرنے کے بارے میں خدا کو یاد رکھنا۔ باہمی تعلقات کو استوار رکھنا اور آپس کی داد و دہش میں فرق نہ آنے دینا اور خبر دار نہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنا، نہ ایک دوسرے سے الگ رہنا ۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک نہ کرنا ورنہ بد کردار لوگ تم پر مسلط کر دئیے جائیںگے پھر دعائیں بھی مانگو گے تو قبول نہ ہونگی۔

پھر ارشاد فرمایا:

اے اولادِعبد المطلب! خبردار ایسا ہرگز نہ ہونے پائے کہ(میر ے قتل کا بدلہ لینے کے لئے )تم مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے لگو '' امیر المومنین قتل کر دئے گئے ''


''ألاٰ لاٰ تَقتُلُنَّ بَیْ اِ لا قَا تِلیْ، اُنْظُرُوْ اِذَا أنَامِتُّ مِنْ ضَربَتِهِ هٰذهِ فَا ضْرِبُوْهُ ضَرْبَةً بِضَرْبة، وَلاٰ تُمَثّلُوْا بِالرّجُلٍ فَاِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآله وسلم ، یَقْولُ''اِیاکُمْ و المُثلَةَ وَ لَوْ بِالْکلْبِ الْعَقُوْرِ'' ۔(۱)

''یاد رہے کہ میرے قصاص کے طور پر صرف میرے قاتل کو ہی قتل کرنا ، اس کی ضربت سے اگر میری موت واقع ہوجائے تو قاتل کو ایک ضربت کے بدلے ایک ہی ضربت لگانا اور (دیکھو) اس شخص کی لاش مثلہ نہ کی جائے(ناک ،کان اور اس کے دوسرے اعضاء نہ کاٹے جائیں) کیونکہ میں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوفرماتے ہوئے سنا ہے کہ ''خبردار کسی کی لاش کو مثلہ نہ کرنا اگر چہ کاٹنے والا کتا ہی کیوں نہ ہو''

امام علیہ السلام کے بیٹے خاموش بیٹھے ہوئے تھے ، اس حال میں بابا کا غم ان کے پورے وجود پر چھایا ہوا اور حضرت کی دلکش اور روح پرور گفتگو کو سن رہے تھے،امام علیہ السلام پروصیت کرتے کرتے غشی طاری ہو گئی اور جب دوبارہ آنکھ کھولی تو فرمایا: اے حسن!میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں، آج کی رات میری عمر کی آخری رات ہے، جب میرا انتقال ہوجائے تو مجھے اپنے ہاتھوں سے غسل دینا او ر کفن پہنانا اور تم خود میرے کفن و دفن کا انتظام کرنا اور میری نماز جنازہ پڑھانا اور رات کی تاریکی میں شہر کو فہ سے دور پوشیدہ طور پرمجھے دفن کرنا تا کہ کسی کو اس کی خبر نہ ہونے پائے۔

علی علیہ السلام دو دن زندہ تھے اور۲۱ رمضان شب جمعہ کو ( ۴۰ ہجری کے ماہ رمضان کی اکیسویں تاریخ کی شب میں)۶۳ سال کی عمر میں شہید ہوگئے۔ آپ کے فرزند امام حسن علیہ السلام نے آپ کو اپنے ہاتھ سے غسل دیااور نماز جنازہ پڑھائی اور نماز میں سات تکبیریں کہیں او ر پھر فرمایا''اماانّها لاٰ تُکَبّرُ علیٰ احدٍ بعده'' یعنی جان لو کہ علی علیہ السلام کے جنازہ کے بعد کسی بھی شخص کے جنازے پر سات تکبیریں نہیں کہی جائیں گی، علی علیہ السلام کو فہ میں ''غری'' (موجودہ نجف اشرف) نامی جگہ دفن ہوئے، آپ کی خلافت کا زمانہ چار سال اور دس مہینے تھا۔(۲)

_______________________________

(۱) نہج البلاغہ مکتوب نمبر ۴۷۔

(۲) مناقب آل ابی طالب :ج۳، ص۳۱۳۔ تذکرة الخواص: ص۱۱۲ ۔ تاریخ یعقوبی: ج ۲،ص۲۱۳۔


حضرت علی علیہ السلام کا غم

امام علیہ السلام کی شہادت کے بعد حسن بن علی علیہ السلام نے خطبہ ارشاد فرمایا اورخدا کی حمد و ثنا اورپیغمبر خدا (ص)پر دورد بھیجنے کے بعد فرمایا:''ألاٰ انّه قد مضیٰ فی هٰذهِ اللیلة رجل لم یدرکْه الأولون ولن یری مثله الآ خرون. من کان یقاتل وجبرئیل عن یمینه و میکائیل عن شمٰاله والله لقد تُو فّی فی اللیله الّتی قبض فیها موسی بن عمران و رفع فیها عیسی بن مریم وانزل القرآن. الا وانّه مٰا خلف صفراء ولاٰ بیضاء الاسبعما ئة درهمٍ فضّلت من عطائه أراد ان یبتاع بهٰا خادماً لا هله'' (۱)

آج کی رات وہ شخص (اس دنیا سے)گزر گیا جس کی حقیقت تک پہلے والے بھی نہ پہونچے تھے اور آئندہ آنے والے بھی ہرگز اس کے جیسا نہیں دیکھ پائیں گے ، یہ وہ شخص تھا کہ جب بھی جنگ کرتاتھا تو اس کے داہنی طرف جبرئیل اور بائیں طرف میکائیل رہتے تھے ۔خدا کی قسم''اسی رات آپ کی شہادت ہوئی جس رات میں موسیٰ بن عمران کی وفات ہوئی تھی اور عیسیٰ بن مریم آسمان پر اٹھائے گئے تھے اور قرآن نازل ہوا تھا اور جان لو کہ اس نے زر و سیم(مال) نہیں چھوڑے ہیں مگر سات سودرہم جو ان کے حساب میں بچا ہواتھا اور اس سے آپ اپنے گھر کے لئے ایک خادم خریدنا چاہے تھے۔پھر قعقاع بن زرارہ اٹھے اور کہا:''رضوانُ اللّه ِعلیک یا امیر المومنین. فوالله لقد کانت حیاتُک مفتاح خیر، ولو انَّ الناس قبلوک لا کلو امن فِو قهم و من تحت ارجلهم وَلکِنَّهُم غمطوا النّعمةو آثروا الد نیا علی الآخرة'' ۔(۲)

''اے میر المومنین آپ پر خدا کی رحمتیں اور برکتیں ہوں، خدا کی قسم آپ کی زندگی ہر اچھا ئی کی کنجی تھی اگر لوگ آپ کو مانتے تو اپنے سروں کے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے کھاتے اور خدا کی نعمتیں ان کے شامل حال ہوتیں ، لیکن ان لوگوں نے نعمت کی ناشکری کی اوردنیا کو آخرت پر ترجیح دی۔ابو الاسود دوئلی نے حضرت علی علیہ السلام کی شہادت یہ مرثیہ کہا ہے:

ألا ابلغ معاویة بن حربٍ

فلا قرّت عیون الشامتیٰنا

أفی شهر الصّیامِ فجعتمونا

بخیرٍ الناس طرّا اجمعینٰا؟

_______________________________

(۱) تاریخ یعقوبی ج ۲، ص۲۱۳۔-----(۲) تاریخ یعقوبی: ج۲،ص۲۱۳۔


قتلتم خیر من رکب المطایا

وذلّلهٰا ومن رکب السّفینٰا

ومن لبس النّعال من حذاها

ومن قرء المثانی و المبینٰا

اذاستقبلت وجه ابی حسین

رایت النّور فوق النّاظرینا

لقد علمت قریش حیث کانت

بانّک خیر هم حسباًو دیناً(۱)

معاویہ بن حرب سے کہوکہ شماتت کرنے والوں کی آنکھیں روشن نہ ہوں ، تم نے رمضان کے مقدس مہینے میں ہمیں تمام لوگوں سے افضل شخص کے سوگ میں بٹھا دیا؟ تم ایسے بہترین انسان کو قتل کردیا، توجو سواریوں پر سوار ہوا اور انہیں مسخر کیا،وہ بہترین شخص جس نے پیر میں نعلین پہنی اور بہترین شخص جس نے آیات مثانیٰ اور قرآن کو پڑھا، اگر تم حسین کے بابا کے چہرے کو دیکھو تو اس کی روشنی و نورانیت کا مشاہدہ کرو گے جو تما م دیکھنے والوں کے اوپر پرتوا فگن ہے، اے علی! قریش جہاں بھی ہوں انہیں اس بات کا علم ہے کہ آپ حسب و نسب اور دین میں ان لوگوں سے بہتر ہیں۔جن جن لوگوں نے اما م کی شان میں مرثیہ کہا انھیں میں سے صعصعہ بن صوحان بھی ہیں جو بلاغت اور حاضر جوابی میں مشہور تھے۔ انہوں نے امیر المومنین علیہ السلام کے غم میں کہا :اے امیر المومنین میر ے ماں باپ آپ پر قربان اور آپ کو مبارک ہوں (الہی کرامتیں)طاہر الولادة ، صابراور مجاہد تھے ، جوتمنا رکھتے تھے آپ نے اسے حاصل کرلیا اور خدا سے بہترین معاملہ کیا اور اس کی بارگاہ میں چلے گئے اور اس نے آپ کو خوشی سے قبول کیا اور آپ پر ملائکہ نازل ہوئے اورحضرت پیغمبر (ص) کے جوار میں سکونت اختیار کی اور خدا وند عالم نے آپ کو ان کا جوار عطا کیا اور آپ کو اس منزل پر فائز کیا جس پر پیغمبر(ص) فائز تھے اور اپنے جام سے سیراب کیا۔اپنے خدا سے (کہ جس نے آپ کی پیروی کرنے کا ہم پر احسان کیا او ر توفیق عطا کی کہ آپ کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کریں اورآپ کے دوستوں کے دوست رہیں اور آپ کے دشمنوں کے دشمن رہیں) دعا کرتے ہیں

_______________________________

(۱) مروج الذہب: ج۲، ص۴۲۸۔ تاریخ طبری: ج ۴، ص۱۱۶۔ کامل ابن اثیر:ج ۳، ص۳۹۴۔ اغانی :ج ۱۱،ص۱۲۲۔


کہ ہم لوگوں کو آپ کے ساتھ محشور کرے کیونکہ آپ اس منزل پر پہونچے ہیں کہ آپ مقاتل الطالبین :ص۴۳۔ میں ابولفرج اصفہانی نے ان اشعار کی جو ۲۱ بیت کا مرثیہ ہے الھیثم بنت الاسود کی طرف نسبت دی ہے۔

سے پہلے کوئی اس منزل پر نہیں پہونچا اور ایسا مرتبہ آپ کو ملا ہے کہ آپ سے پہلے یہ مرتبہ کسی کو نہیں ملا ،آپ نے خدا کی راہ میں پیغمبر( ص) کے ہمراہ بہترین صورت سے جہادکیا اور دین خدا کو مستحکم کیا اور سنت پیغمبر کو استحکام بخشا اور فتنہ و فسا د کو ختم کر دیا اور آپ کی وجہ سے اسلام پایدار (ذی مرتبہ) ہوگیا اور دین آپ کی وجہ سے منظم ہوگیا اور ایسے فضائل آپ کو ملے جو آپ کے علاوہ کسی کو نہ ملے، سب سے پہلے پیغمبر( ص) کی دعوت کو قبو ل کیا اور ان کی اطاعت و پیروی کو ہر چیز پر مقدم کیا اور ان کی مدد کرنے میں سب سے آگے رہے اور اپنی جان پر کھیل کر خدا کی راہ میں جہاد کیااور اپنی تلوار کو انکی مدد کرنے کے لئے نیام سے باہر نکالا اور بڑے سے بڑے ستمگر کو آپ نے شکست دیدی اور ہر کافر آپ کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوا، کفر و شرک اور ظلم کو آپ نے جڑ سے اُکھاڑ دیا اور گمراہوں اور نافرمانوں کوہلاک کر دیا۔ پس مبارک ہو آپ کو اے امیر المومنین کہ خدا نے آپ کو ایسے فضائل و کمالات نصیب کئے۔ آپ پیغمبر( ص) کے سب سے زیادہ قریب تھے اور سب سے پہلے ایمان لائے اور علم و فہم میں سب سے اعلیٰ اور یقین میں کامل تر اور تمام لوگوں سے زیادہ بہادر اور دلیر اور اسلام میں اپ کے کارنامے تمام لوگوں سے زیادہ ہیں۔


خدا وند عالم ہم لوگوںکو آپ کے اجر سے محروم نہ کرے، کیونکہ آپ خیر و خیرات کی کنجی تھے برائیوں لیکن آپ کی شہادت کی وجہ سے برائیوں کے دروازے ہماری طرف کھل گئے اور نیکیوں کے دورازے بند ہوگئے ۔اگر لوگ آپکی باتوں کو سنتے تو نیکیاں ان کے سروں کے اوپر سے اور ان کے پاؤوں کے نیچے سے جاری ہوتیں لیکن افسو س کہ لوگوں نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی ۔

خوارج اوردوسرے دشمنان اسلام، ابن ملجم کے اس ہولناک ستم پر بہت خوش ہوئے اور اس کے کام کی تعریف و تمجید کی۔ خوارج میں سے ایک شخص عمران بن حطان و قاشی نے ابن قثم کے بارے میں کہا:

یا ضربة من تقی ما اردَ بها

الا لیبلغ من ذی العرش رضوانا

انی لاذکره یوماً فأحسبه

اوفی البریة عنداللّٰه میزاناً

ایک پرہیزگار کی کتنی بہترین ضربت ہے کہ جس کا مقصد رضوان الہی تک پہونچنے کے علاوہ کچھ نہ تھا، میں جب اس کو یاد کر تا ہوں توخیال کرتا ہو ںکہ خدا کے نزدیک اس کے ترازو کا پلہ تمام چیزوں سے زیادہ بھاری ہے ۔

قاضی ابو طیب طاہر بن عبداللہ شافعی نے اس کے جواب میں یہ اشعار کہے:


یا ضربة من شقی ما آرادبها

انی لا ذکره یوماً فالعنه

علیه ثم علیه الدّهر متصلاً

فانتما من کلاب النّار جاء به

الا لیهدم للاسلام ارکانا

والعن عمراناوحطانا

لعائن اللّٰه اسراراً واعلاناً

نص الشّریعة برهانا وتبیانا(۱)

''اس شقی کی کیسی تباہ کن ضربت تھی کہ جس کا دین کے ستونوں کو ڈھا نے کے علاوہ کوئی مقصد نہ تھا ، میںجس دن اس کو یاد کرتا ہوں تواس پر اور عمران و حطان پر ایک دنیا لعنت بھیجتا ہوں۔اس پر خدا وند عالم کی پوشید ہ اور ظاہری طور پربے شمار لعنتیں ہوں اور تم دونو دوزخ کے کتے ہوکہ اس پر شریعت کی نص شاہد و گواہ''۔

اس طرح سے ایک عظیم المرتبت انسان کی نوارنی اور معنوی زندگی جس کی ولادت کعبہ میں اور شہادت مسجد میں ہوئی،ختم ہوگئی۔ وہ انسان کہ پیغمبراسلام( ص) کے بعد جس کی مثال نہ دنیا نے دیکھی اور نہ دیکھ پائے گی۔ نہ جہاد اور ایثار میں اس کا کوئی نظیر تھا نہ اس کائنات کے اسرار و رموز اور علم میں اس کی کوئی مثال تھی اور نہ دوسرے ہی فضائل میں کوئی آپ جیسا تھا یہاں تک کہ آپ کا وجود شریف ،ایسے متضاد فضائل کا مجموعہ تھا کہ کسی بھی شخص کے اند روہ تمام تمام فضائل جمع نہیں ہو سکتے:

جمعت فی صفاتک الاضداد

فلهذا عزت لک الانداد

زاهد حاکم حلیم شجاع

فاتک ناسک فقیر جواد

_______________________________

(۱)مروج الذھب : ج۲ ص۴۲۷ ۔ عمران بن حطان کے ان دونوں شعروں کے جواب میں بہت سے دوسرے اشعار بھی کہے گئے ہیں ،مسعودی نے اپنی کتاب میں جن کا ذکر کیا ہے ۔


تمام متضاد اور مختلف صفات آپ کے اند ر جمع تھے اسی وجہ سے آپ کا کوئینظیر نہ مل سکا ۔آپ زاہد ، حاکم حلیم و بردباد ، بہادر ،عابد ،جری ،خالی ہاتھ ،سخی اور جواد (ایثار کرنے والے) تھے

مولف اسی جگہ پر اپنی بات کو نہایت شرمندگی کے ساتھ ختم کر رہا ہے یہ بھی جانتا ہے کہ مولائے متقیان حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے ملکوتی فضائل و کمالات کی ایک جھلک بھی نہیں پیش کر سکا ہے لیکن اس بات پر خوش ہے کہ اس نے اپنے وظیفے پر عمل کیا ہے اور ایک معمولی اور بے وقعت دھاگہ اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے یوسف کے خریدداروں کی فہرست میں شامل ہوگیاہے ۔ شاید یہ ایک دن اس کی شفاعت کا ذریعہ ہوجائے۔

بحمداللہ الشکر بحق چہاردہ معصومین علیہم السلام ۲۱ رمضان المبارک ۱۴۲۶ ہجری قمری مطابق ۲۶ اکتوبر۲۰۰۵ ء بروز چہار شنبہ ترجمہ مکمل ہوا۔

والسلام

سید حسین اختر رضوی عفی عنہ

'' دربار حسینی ، نوئیڈا''

روز شہادت حضرت علی


منابع مصادر

ا

المراجعات

الدرجات الرفعیة

النقض علی العثمانیة

السیرة النبویّة

التنبیہ والاشراف

الولایة فی طریق حدیث الغدیر

انجیل

السقیفہ

الامامة والسیاسة

اعلام النسائ

اصل سلیم

الخوارج فی العصر الاموی

الخوارج فی الاسلام

التنبیہ والرد

الفتوح

اسباب النزول

انساب الاشراف

الجرح والتعدیل


ب

بحارالأنوار (بحار)

بررسی مسند احمد

بدایع الصنایع

ت،ث

تاریخ طبری

تاریخ کامل

تفسیر طبری

تفسیر برھان

تفسیر آلاء الرحمن

تھذیب الأحکام

تفسیر قمّی

تفسیر ابو الفتوح رازی

تاریخ الخمیس

تورات

تاریخ ابی الفدائ

تلخیص الشافی


س، ش، ص،ط

سیرہ ابن ہشام

سیرہ حلبی

سیرة نبویّہ

سیرہ پیامبر اکرم (ص)

سنن ابن ماجہ

سنن بیھقی

شرح الشفائ

شرح قصیدہ عبدالباقی افندی

شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید

شرح شفای قاضی عیاض

شافی

شخصیتھای اسلامی در شیعہ

شرح نھج البلاغہ عبدہ

شرح حدیدی

صحاح ]ستّہ[

صحیح بخاری

صحیح مسلم

صبح الأعشی


صواعق

طبقات کبریٰ

ع ، غ ، ف ، ق

عقد الفرید

عبقات الأنوار

علیّ والخلفائ

عبقریّة الامام علی

عیون أخبار الرضا

غزوات

فرحة الغری

فھرس نجاشی

فتوح البلدان

فروغ ابدیّت

قرآن مجید (قرآن/قرآن کریم)

قاموس الرجال

قضاء امیر المومنین


ن

نھج البلاغہ عبدہ

نھج البلاغہ فیض الاسلام

نہج البلاغہ ابن میثم

نھج البلاغہ ابن ابی الحدید

نقض العثمانیہ

ناسخ التوریخ

نقش وعّاظ در اسلام

و

وفیات الأعیان

وفاء الوفائ

وسائل الشیعہ

وقعہ صفّین

وقعہ النھروان


استاد الشعراء ڈاکٹر شعور اعظمی (ممبئی)

فروغ ولایت

ہے فروغ ولایت ایسی کتاب

خوش ہو دل عارف پیمبر کا

دشمن نفس مصطفےٰ کے لئے

مثلِ نشتر قلم ہے جعفر کا

یہ زبان و بیان کی خوبی

لفظوں پر ہو گمان گوہر کا

حال ابتر ہو جس کو پڑھتے ہی

روسیہ ،دشمنان حیدر کا

نکتے روشن ہیں مثل نجم شعور

ہے گماں کہکشاں کے دفتر کا

کیوں نہ قلب عدو سے نکلے '' آہ''

ترجمہ ہے حسین اختر کا


فہرست

حرف اول ۶

مقدمہ ۸

اس کتاب کے بارے میں : ۱۱

دوباتیں : ۱۲

پہلا باب ۱۳

بعثت پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پہلے حضرت علی ـ کی زندگی ۱۳

عظیم افراد اوران کے دوست اور دشمن ۱۳

حضرت علی ـ کی شخصیت کے تین پہلو: ۱۶

حضرت علی ـ کی خاندانی شخصیت : ۱۷

حضرت علی ـ کی ماں کی شخصیت : ۱۸

پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آغوش میں: ۱۹

پیغمبر ا سلام حضرت علی علیہ السلام کو اپنے گھر لے گئے ۲۱

حضرت علی علیہ السلام غار حرا میں ۲۱

دوسرا باب ۲۴

بعثت پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد اور ہجرت سے پہلے حضرت علی ـ کی زندگی ۲۴

پہلی فصل : ۲۴

پہلا مسلمان ۲۴

علی ـ سے پہلے کسی نے اسلام قبول نہیں کیا ۲۵

عفیف کندی کا بیان : ۲۷

اسحاق سے مامون کا مناظرہ : ۲۸


دوسری فصل ۳۲

حضرت علی ـ کے فضائل و کمالات بیان کرنے پر پابندی ۳۲

پہلا مددگار ۳۶

اس تاریخی واقعہ کے مدارک: ۳۹

تاریخی حقایق کاکتمان: ۴۰

اسکافی کا بیان ۴۲

تیسری فصل ۴۴

بے مثال فداکاری ۴۴

خانۂ وحی پر حملہ ۴۸

بنی امیہ کے زمانے کے مجرم ۴۹

ناروا تعصب ۵۲

جواب ۵۳

آئیے اب تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں ۵۴

امام ـ کی فداکاری پر دو معتبر گواہ ۵۷

تیسرا باب ۵۹

بعدِہجرت اور پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پہلے حضرت علی ـ کی زندگی ۵۹

پہلی فصل ۵۹

اس زمانے پر ایک نظر ۵۹

۱۔ میدان جنگ میں آپ کی فداکاری اور جانبازی ۵۹

۲۔ وحی (قرآن) کا لکھنا ۶۰

امام ـ نے کس طرح ہجرت کی ۶۱


قریش نے حضرت علی ـ کا تعاقب کیا ۶۳

دوسری فصل ۶۵

دو بڑی فضیلتیں ۶۵

اتحاد اور اخوت ۶۸

حضرت علی ـ پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھائی تھے : ۶۹

امام ـ کی ایک اور فضیلت ۷۰

تیسری فصل ۷۲

جنگ بدر کا بے نظیر بہادر ۷۲

حقیقت کوچھپانا : ۷۶

حق و باطل کا مقابلہ ۷۶

چوتھی فصل ۷۹

حضرت علی ـ رسول اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے داماد ہیں ۷۹

حضرت زہرا سے شادی کے خواہشمندافراد ۷۹

روحی ، فکری اوراخلاقی اعتبار سے برابر ہونا ۸۲

شادی کے اخراجات : ۸۳

حضرت زہرا کا جہیز : ۸۳

حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) کا مہر : ۸۵

پانچویں فصل ۸۷

جنگ احد میں امیر المومنین ـ کی جاں نثاری ۸۷

جانثاری مقصد وہدف پر ایمان کی علامت ہے ۹۰

امام ـ کی جانثاری پر ایک نظر: ۹۱


چھٹیں فصل ۹۴

اسلام کی شرک پر کامیابی ۹۴

اس جانثاری کی اہمیت ۹۸

ساتویں فصل ۱۰۰

جنگ خیبر اوراس کے تین اہم امتیازات ۱۰۰

خیبر میں اسلام کی تابناک کامیابی ۱۰۴

امیر المومنین ـ کی رسول اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نسبت ۱۰۵

آٹھویں فصل ۱۰۸

دشمنوں کے ساتھ انصاف سے پیش آنا ۱۰۸

نویں فصل ۱۱۳

پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مخصوص نمائندہ و سفیر ۱۱۳

بے جا تعصب ۱۱۶

دسویں فصل ۱۱۸

مسلمانوں کے لئے آئندہ کا لائحہ عمل ۱۱۸

امامت کے بارے میں دو نظریے ۱۲۰

واقعۂ ِ غدیر خم ۱۲۶

واقعہ غدیر کی تشریح : ۱۲۹

غدیر کا واقعہ کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا ۱۳۲

چوتھا باب ۱۳۶

پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد اور خلافت سے پہلے حضرت علی ـ کی زندگی ۱۳۶

پہلی فصل ۱۳۶


حضرت علی کی پچیس سالہ خاموشی ۱۳۶

اسلام کا پہلا ورق جدا ہو گیا ۱۳۹

کیا عباس اور ابو سفیان کی درخواست عاقلانہ تھی ؟ ۱۴۱

بغض وکینہ رکھنے والا گروہ ۱۴۴

بامقصد خاموشی ۱۴۶

تیسرا گروہ اور مسئلہ خلافت ۱۴۷

امام کے لئے صرف ایک راستہ تھا ۱۵۱

پیغمبر اسلام امت کے مرتد ہونے سے خوف زدہ تھے ۱۵۱

اعلیٰ مقصد کی اہمیت ۱۵۶

پرانے کینے اور بغض و حسد ۱۵۷

مسلمانوں کا اتحاد ۱۶۱

دوسری فصل ۱۶۴

خلفائے ثلاثہ کی خلافت اور امیر المومنین کا طریقۂ کار ۱۶۴

تیسری فصل ۱۶۹

حضرت علی ـسے بیعت لینے کا طریقہ ۱۶۹

خانۂ وحی پر حملے کے بارے میں تاریخ کا انصاف ۱۷۲

حضرت علی کو کس طرح مسجد لے گئے ۱۷۵

حضرت زہرا کے ساتھ ناروا سلوک ۱۷۶

انسانوں کی انسانوں پر حکومت ۱۷۸

چوتھی فصل ۱۸۳

حضرت علی علیہ السلام اور فدک ۱۸۳


فدک کی اقتصادی اہمیت ۱۸۳

فدک کا جغرافیہ ۱۸۴

فدک، پیغمبراسلام(ص) کی طرف سے حضرت فاطمہ کو ہدیہ تھا ۱۸۴

پیغمبراسلا م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فدک اپنی بیٹی کو کیوں دیا؟ ۱۸۶

فدک کی آمدنی ۱۸۷

فدک غصب کرنے کا مقصد ۱۹۰

حکومت کے لئے مالی بحران ۱۹۲

فدک غصب کرنے کی ایک اور وجہ ۱۹۳

فدک ہمیشہ مختلف گروہوں اور سیاستوں کا شکار ۱۹۶

پانچویں فصل ۲۰۱

مسئلہ فدک اور افکار عمومی ۲۰۱

۱۔ خصوصی ۲۰۲

۲۔ خالصہ(۲) ۲۰۲

سرزمین فدک اموال خالصہ میں سے تھی ۲۰۴

فدک، پیغمبر اسلام (ص)نے فاطمہ(س) کو دیا تھا ۲۰۵

خلیفہ کے جوابات ۲۱۱

مسئلہ فدک کے بارے میں آخری فیصلہ ۲۱۳

ایک سوال کا جواب ۲۱۳

فدک سے متعلق دیگر باتیں ۲۱۴

فدک کے مسئلہ میں کوئی ابہام نہیں تھا ۲۲۱

چھٹیں فصل ۲۲۶


کیاانبیاء میراث نہیں چھوڑتے؟ ۲۲۶

اس بارے میں قرآن کا نظریہ ۲۲۶

۱۔ یحییٰ نے زکریا سے میراث پائی ۲۲۷

دو سوالوں کا جواب ۲۲۹

جواب: ۲۳۰

۲: سلیمان نے داؤد سے میراث پائی ۲۳۱

پیغمبر(ص) سے منسوب حدیث ۲۳۴

حضرت فاطمہ زہرا (س) کا غضبناک ہونا ۲۴۳

ساتویں فصل ۲۴۵

حضرت علی علیہ السلام اور شوریٰ ۲۴۵

ابوبکر نے حقِ نمک ادا کردیا ۲۴۶

نژاد پرستی اور طبقاتی نظام ۲۴۷

خلیفہ سے ایک ایرانی کاریگر کی فریاد ۲۴۸

شوریٰ کاانتخاب ۲۵۱

عمر کی شورٰی پر ایک نظر ۲۵۵

آٹھویں فصل ۲۶۴

خاندان رسالت، حضرت علی ـکی نظر میں ۲۶۴

امام خلفاء کی فکری اور قضاوتی آماجگاہ تھے ۲۶۸

حضرت علی ،رسول اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نظر میں ۲۶۹

پیغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں حضرت علی کی قضاوت ۲۷۱

نویں فصل ۲۷۴


حضرت علی اور خلیفہ اول کی سیاسی مشکلیں ۲۷۴

حضرت علی اورابوبکر کی علمی و سیاسی مشکلیں ۲۷۵

رومیوں کے ساتھ جنگ ۲۷۵

یہودیوں کے بزرگ علماء کے ساتھ مناظرہ ۲۷۶

عیسائی دانشمند کواطمینان بخش جواب ۲۷۸

ایک شرابی کے بارے میں حضرت علی کا فیصلہ ۲۷۹

دسویں فصل ۲۸۱

حضرت علی علیہ السلام اور خلیفۂ دوم کوسیاسی مشورے ۲۸۱

ایران فتح کرنے کے متعلق مشورہ ۲۸۱

بیت المقدس فتح کرنے کے بارے میں مشورہ ۲۸۳

تاریخ اسلام کی ابتدا ۲۸۴

خلیفۂ دوم کے زمانے میں لوگ صرف حضرت علی کی طرف رجوع کرتے تھے ۲۸۵

گیارہویں فصل ۲۹۰

عثمان اور معاویہ کی علمی مشکلات کا حل کرنا ۲۹۰

بارہویں فصل ۲۹۴

حضرت علی علیہ السلام کی سماجی خدمات ۲۹۴

۱۔ فقیروں او ریتیموں کی خبر گیری ۲۹۴

۲۔ غلاموں کو آزاد کرنا ۲۹۵

۳۔ زراعت او ردرخت کاری ۲۹۶

۴۔ چھوٹی نہریں کھودنا ۲۹۶

۵۔ مسجدوں کی تعمیر کرنا ۲۹۷


۶۔ مکان و جائداد کا وقف کرنا ۲۹۷

پانچواں حصہ ۲۹۹

حضرت علی ـکی خلافت کے زمانے کے واقعات ۲۹۹

پہلی فصل ۲۹۹

حضرت علی ـکی خلافت کی طرف مسلمانوں کے رجحان کی علت ۲۹۹

عثمان کے خلاف قیام کرنے کی علت ۳۰۰

بغاوت کی علت ۳۰۲

پہلی وجہ ۔حدود الہی کا جاری نہ ہونا ۳۰۲

بے جاعذر ۳۰۷

دوسری وجہ، بنی امیہ کے درمیان بیت المال کا تقسیم ہونا ۳۱۰

بیت المال کے بارے میں اسلام کا نظریہ ۳۱۲

تیسری وجہ، اموی حکومت کی تشکیل ۳۱۵

چوتھی وجہ، پیغمبر اسلام صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابہ پر ظلم وستم ۳۱۸

۱۔ عبداللہ بن مسعود پر ظلم وستم ۳۱۸

۲۔عمار یاسر پر ظلم وستم ۳۲۳

پانچویں وجہ، بزرگ شخصیتوں کو جلا وطن کرنا ۳۲۶

مالک اشتر اور ان کے ساتھیوں کی جلاوطنی ۳۲۷

جلاوطن ہونے والے افراد کون تھے؟ ۳۲۹

دوسری فصل ۳۳۲

مقدمہ کا واقعہ اورعثمان کا قتل ۳۳۲

پانچ عوامل کا عکس العمل ۳۳۲


عثمان کے گھر کا محاصرہ ۳۳۵

مخالفوں کے سامنے خلیفہ کا تعہد ۳۳۷

انقلابیوں کے سرداروں کو قتل کرنے کا حکم دینا ۳۴۰

محاصرہ میں خلیفہ کا مختلف لوگوں کو خط بھیجنا ۳۴۱

عثمان کے قتل میں جلدی،مروان کی غلط تدبیر کا نتیجہ تھا ۳۴۱

تیسری فصل ۳۴۲

قتل عثمان کے بعد لوگوں کا حضرت علی ـ کی بیعت کرنا ۳۴۲

انقلابیوں کی حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھوں پر بیعت ۳۴۵

حقیقی بیعت ۳۴۷

جھوٹی تاریخ ۳۴۹

اختلافات کی جڑ ۳۵۰

چوتھی فصل ۳۵۲

حضرت علی علیہ السلام سے مخالفت کے اسباب ۳۵۲

بیت المال تقسیم کرنے سے پہلے حضرت علی علیہ السلام کا خطبہ: ۳۵۳

بیت المال تقسیم کرنے کا طریقہ ۳۵۴

گذشتہ حکمرانوں کی معزولی ۳۵۵

معاویہ کی معزولی میں امام ـ کی عجلت کی وجہ ۳۵۸

بہترین موقع جو چھوٹ جاتا ۳۶۰

موروثی حکومت کی برقراری ۳۶۰

پانچویں فصل ۳۶۲

خلافت، معاویہ کی دیرینہ آرزو ۳۶۲


قاتلان عثمان کے نام بہانہ ۳۶۶

چھٹی فصل ۳۶۷

ناکثین سے جنگ (جنگ جمل) ۳۶۷

۱: ناکثین ''یا عہد و پیمان توڑنے والا گروہ'' ۳۶۸

۲ : قاسطین ''یا ظالمین اور حقیقت سے دور رہنے والا گروہ'' ۳۶۸

۳: مارقین ''یا دین سے خارج ہونے والا گروہ'' ۳۶۸

بچہ گانہ عذر ۳۷۱

نفاق و منافقت ۳۷۱

ناکثین کے قیام کرنے کی علت ۳۷۳

عائشہ کا مدینہ کے نیم راہ سے مکہ واپس جانا ۳۷۵

امام ـ کے مخالفوں کا مرکز ۳۷۶

جنگ جمل کے اخراجات ۳۷۶

ساتویں فصل ۳۸۰

ناکثین کی گرفتاری کے لئے امام ـ کا خاکہ ۳۸۰

فوج کو دوبارہ جمع کرنا ۳۸۲

بصرہ کے راستے میں ناکثین کی سرگذشت ۳۸۴

تیز تیز قدم بڑھانا ۳۸۶

عہد و پیمان توڑ نے والے بصرہ کے قریب: ۳۸۸

ناکثین کی باز پرس : ۳۹۲

دونوں گروہوں کے درمیان وقتی صلح ۳۹۳

الف: طلحہ و زبیر کی بیعت کے بارے میں استفسار ۳۹۳


ب: امام ـ سے مسئلہ کا حل دریافت کرنا ۳۹۵

آٹھویں فصل ۳۹۷

خونریز پوزش ۳۹۷

حاکم بصرہ کا انجام ۳۹۸

حکیم بن جبلّہ کا اقدام ۳۹۹

حضرت علی علیہ السلام کا اس حملہ سے باخبر ہونا ۴۰۱

۱۔ محمد بن ابوبکر کو کوفہ بھیجنا ۴۰۲

۲۔ ابن عباس اور مالک اشتر کو کوفہ روانہ کرنا ۴۰۲

۳۔ امام حسن ـ اور عمار یاسر کو کوفہ روانہ کرنا ۴۰۳

ابوموسیٰ اشعری کی ناکام کوشش ۴۰۶

ابوموسیٰ اشعری کی معزولی ۴۰۷

نویں فصل ۴۰۸

امام ـ کی ''ذی قار'' سے بصرہ کی طرف روانگی ۴۰۸

قعقاع بن عمرو کو روانہ کرنا ۴۱۲

دشمن کی فوج کم کرنے کے لئے امام ـ کی سیاست ۴۱۳

امام ـ کی طلحہ اور زبیر سے ملاقات ۴۱۴

زبیر کے بیٹے کی تقریر اورامام حسن مجتبیٰ ـ کا جواب ۴۱۷

حضرت علی علیہ السلام کی تقریر ۴۱۸

امام ـ کا آخری مرتبہ اتمام حجت کرنا ۴۲۰

سویں فصل ۴۲۲

حضرت علی ـ کے سپاہیوں کی بہادری ۴۲۲


ناکثین کی طرف سے جنگ کا آغاز: ۴۲۳

امام ـ کا اپنی فوج کی حوصلہ افزائی کرنے کا طریقہ ۴۲۷

اونٹ کا گرنا ۴۲۷

طلحہ و زبیر کا انجام ۴۳۱

زبیر کا قتل ۴۳۱

جنگ جمل میں قتل ہونے والوں کی تعداد ۴۳۲

جنگ جمل میں قتل ہونے والوں کی تدفین ۴۳۳

حضرت علی ـ کی مقتولین سے گفتگو ۴۳۵

بصرہ کی شکست، امام ـ کا خطوط لکھنا، اور عائشہ کو مدینہ روانہ کرنا ۴۳۸

بصرہ میں امام ـ کی تقریر ۴۴۰

اچھی نیت عمل کی جانشین ہے ۴۴۱

بیت المال کی تقسیم ۴۴۲

عائشہ کو مدینہ روانہ کرنا ۴۴۳

حاکموں کو منصوب کرنا ۴۴۴

گیارہویں فصل ۴۴۶

کوفہ، حکومت اسلامی کا مرکز ۴۴۶

حکمرانوں کا عادلانہ تعیین ۴۵۱

سیاسی آزادی ۴۵۱

کوفہ کی نماز جمعہ میں امام علیہ السلام کا پہلا خطبہ ۴۵۶

حاکموں کو روانہ کرنا ۴۵۷

بعض حاکموں کو امام ـ کا خط لکھنا ۴۵۸


امام ـ کا حاکم ہمدان کے نام خط ۴۵۹

آذربائیجان کے گورنراشعث کے نام امام ـ کا خط ۴۶۱

بارہویں فصل ۴۶۴

جنگ صفین کے علل و اسباب ۴۶۴

امام ـ کا پیغام معاویہ کے نام ۴۶۴

شام میں امام ـ کا نمائندہ ۴۶۷

امام ـ کا بیعت لینے کا مقصد معاویہ کو معزول کرنا تھا ۴۶۹

معاویہ کی جانب سے شامیوںکو اس قضیہ سے آگاہ کرنا ۴۷۰

معاویہ کی گفتگو کا ایک جائزہ ۴۷۰

تیرہویں فصل ۴۷۳

حضرت علی ـ سے مقابلے کے لئے معاویہ کے اقدامات ۴۷۳

معاویہ کا خط عمرو عاص کے نام ۴۷۳

دو کہنہ کار سیاستدانوں کی ہمکاری ۴۷۶

عمروعاص کا شیطانی حربہ ۴۸۲

معاویہ کاخط شرحبیل کے نام ۴۸۴

معاویہ کا بزرگان قبیلہ اور خشک زاہدوں سے مدد مانگنا ۴۸۵

زاہد شام کی نمائندہ امام ـ سے گفتگو ۴۸۷

جریر کی طرف سے اتمام حجت ۴۹۰

شام میں نمائندہ امام ـ کی شکست کی وجہ ۴۹۱

معاویہ کا آخری حربہ ۴۹۲

امام ـ کا اپنے نمائندہ کو جواب ۴۹۳


جریر پر معاویہ سے دوستی کا الزام ۴۹۴

نمائندہ امام ـ کی شام سے واپسی: ۴۹۷

جریر امام کے حضور میں ۴۹۹

معاویہ کے خطوط اسلامی شخصیتوں کے نام ۵۰۱

عبد اللہ بن عمر کا جواب ۵۰۲

معاویہ کے خط لکھنے کا مقصد ۵۰۳

معاویہ کا خط سعد بن وقاص کے نام ۵۰۴

سعد وقاص کا جواب ۵۰۴

معاویہ کا خط محمد بن مسلمہ کے نام ۵۰۵

(۲) معاویہ کے خط کا مفہوم اور اس کا مقصد ۵۰۶

شام کا خطیب ۵۰۸

صحابہ کے بیٹوں کا سہارا ۵۱۰

قاتلان عثمان کے کو سپرد کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا ۵۱۲

چودہویں فصل ۵۱۵

جنگ صفین کے لئے امام کی فوج کی آمادگی ۵۱۵

نخلیہ میں امام کی فوج کی پیش قدمی ۵۱۵

امام علیہ السلام کی تقریر ۵۱۸

مالک اشتر کی تقریر ۵۱۹

امام کے لشکر میں معاویہ کے نفوذ کے عوامل ۵۲۰

پردے فاش ہونے لگے ۵۲۲

انتظار یا شام کی طرف روانگی ۵۲۴


غیظ وغضب میں بردبار ی ۵۲۶

امام علیہ السلام کا آخری فیصلہ ۵۲۸

جہاد اسلامی کے تین اہم رکن ۵۲۸

سپاہیوں کو حوصلہ عطا کرنا ۵۳۰

راہ کے انتخاب میں آزادی ۵۳۱

امام علیہ السلام کی فوج کے عظیم سپہ سالار ۵۳۲

پہلا فوجی دستہ ۵۳۳

پندرہویں فصل ۵۳۴

حضرت علی علیہ السلام کی میدان صفین کی طرف روانگی ۵۳۴

سرزمین کربلا سے عبور ۵۳۷

امام علیہ السلام ساباط اور مدائن میں ۵۳۸

انبار کے کسانوں نے امام علیہ السلام کا استقبال کیا ۵۳۹

امام علیہ السلام کا رقّہ میں قیام ۵۴۲

رقّہ سے معاویہ کے نام خط ۵۴۳

پل بنا کر فرات سے گزرنا ۵۴۴

امام علیہ السلام زمین شام پر ۵۴۵

معاویہ کا صفین میں آنا ۵۴۷

امام علیہ السلام کا سرزمین صفین پر ورود ۵۴۸

امام علیہ السلام کا تحمل ۵۴۹

حملہ کرنے اور قبضہ توڑنے کا حکم ۵۵۱

عظیم قدرت کے باوجودانسانی اصول کی پابندی ۵۵۵


فرات آزاد کرنے کے بعد ۵۵۷

سولہویں فصل ۵۵۹

آخری اتمام حجت ۵۵۹

معاویہ کے پاس تین نمائندے بھیجنا ۵۵۹

عراق وشام کے قاریوں کا اجتماع ۵۶۱

ابتدائی جھڑپیں ۵۶۳

ابو امامہ و ابو الدرداء : ۵۶۴

معاویہ کی طرف سے بند توڑنے کی افواہ ۵۶۵

مخالفت کی تلافی ۵۶۷

۳۷ ہجری کے حادثات ۵۶۸

معاویہ کے جواب کی وضاحت ۵۷۰

معاویہ کے نمائندے امام علیہ السلام کی خدمت میں ۵۷۲

سترہویں فصل ۵۷۵

جنگ صفین کا انجام ۵۷۵

فوجی صف بندی ۵۷۸

امام علیہ السلام کی تقریر ۵۸۳

اٹھارہویں فصل ۵۸۵

اجتماعی حملے کا اغاز ۵۸۵

امام علیہ السلام کے لشکر کے سرداروں کی شعلہ ور تقریریں ۵۸۹

۱۔ کون ہے جو اس قرآن کو اپنے ہاتھ میں لے؟ ۵۹۰

۲۔ دوحُجر کی جنگ: ۵۹۱


۳۔ فوج شام کے میسرہ پر عبداللہ بن بدیل کا حملہ ۵۹۲

جنگ، لیلة الہریر تک ۵۹۵

دسویں دن کا حادثہ ۵۹۷

میمنہ کی فوج میں ترمیم ۵۹۸

قاتل کا گریہ ۶۰۰

تاریخ دہراتی ہے ۶۰۱

شمر بن ذی الجوشن امام علیہ السلام کی رکاب میں ۶۰۲

شہادت پر فخر و مباہات ۶۰۳

ایک فوجی حکمت عملی ۶۰۵

شدیدجنگ کے دوران سیاسی ہتھکنڈے ۶۰۶

عمار اور باغی گروہ ۶۱۳

عمار کی تقریر ۶۱۵

امام کی فوج میں عمار کے ہونے کا اثر ۶۱۸

جنگ صفین میں امام علیہ السلام کی بہادری ۶۲۳

امام علیہ السلام تیروں کی بارش میں ۶۲۳

معاویہ کے غلام حریث کا قتل ۶۲۵

امام علیہ السلام نے معاویہ کو جنگ کی دعوت دی ۶۲۶

شہید کے بیٹے کی بہادری ۶۲۷

لومڑی، شیر کے پنجے میں ۶۲۸

عمروعاص اور مالک اشتر آمنے سامنے ۶۲۹

پرہیز گار نوجوان اور دنیا طلب بوڑھا ۶۳۰


شام کے سپاہیوں کی بزدلی ۶۳۱

تاریخ اپنے کو دہراتی ہے ۶۳۳

صلح کے لئے معاویہ کا اصرار ۶۳۳

انیسویں فصل ۶۳۷

جنگ صفین میں تبدیلی اور تاریخ اسلام ۶۳۷

بیسویں فصل ۶۴۵

مسئلہ تحکیم ۶۴۵

معاویہ کا خط امام ـ کے نام ۶۴۵

امام علیہ السلام کا جواب معاویہ کے نام ۶۴۶

حکمین کا انتخاب ۶۴۷

تحمیل عہد حَکمیت ۶۵۱

صلح نامہ کی عبارت ۶۵۴

تحکیم کے خلاف خوارج کا رد عمل ۶۵۶

چوتھا دباؤ ۶۵۷

قیدیوں کی رہائی ۶۵۹

حکمیت پر امام ـ کی نظارت ۶۶۰

اکیسویں فصل ۶۶۱

امام ـ کی صفین سے کوفہ کی طرف روانگی ۶۶۱

امام ـ خباب بن ارت کی قبر پر ۶۶۵

امام علیہ السلام اور ابو موسیٰ اشعری کے درمیان گفتگو ۶۶۷

فوج کے سردار اور ابوموسیٰ اشعری کے درمیان گفتگو ۶۶۸


ابو موسیٰ اشعری اور احنف کے درمیان گفتگو ۶۶۹

سعد وقاص اور اس کا بیٹا عمر ۶۷۰

معاویہ کا حالات سے پریشان ہونا ۶۷۲

فتنہ حکمیت کا خاتمہ ۶۷۳

بائیسویں فصل ۶۸۰

جنگ نہروان یا قرآن کو نیزہ پر بلند کرنے کا نتیجہ ۶۸۰

خوارج کی بنیاد ۶۸۴

خوارج کی دوسری اہم فرد ۶۸۷

خوارج کے درمیان مختلف اعتقادی فرقے ۶۸۸

خوارج کا بدترین مظاہرہ ۶۸۹

۱۔ خصوصی ملاقاتیں ۶۹۱

۲۔ حکومت کی مخالفت میں نمازجماعت سے دوری ۶۹۳

۳۔ لاحکمَ الا للّٰہ کا نعرہ لگانا ۶۹۵

امام ـکی بلند ہمتی اور خوش اخلاقی ۶۹۷

امام ـ کی ہدایت ۶۹۹

ابن عباس کی دلیل اور خوارج ۷۰۰

خود امام علیہ السلام کا خوارج کی چھاؤنی پر جانا ۷۰۲

دوست نما دشمن کی شرارت ۷۰۵

خوارج کی ہدایت کی دوبارہ کوشش ۷۰۶

دوسرا مناظرہ ۷۰۸

تیئیسویں فصل ۷۱۰


خوارج کی مخالفت کی وجہ اور اس کی وضاحت ۷۱۰

۱۔دین پر لوگوں کی حکومت ۷۱۲

۲۔ وقت کا تعیین ۷۱۴

۳۔ حاکمیت انسان اور حاکمیت خدا کے انحصار سے تارض ۷۱۵

حکمیت، آخری امید ۷۱۷

فساد کو جڑ سے ختم کرنا ۷۱۸

عبداللہ کے قاتلوں کی تنبیہ ۷۲۵

آخری اتمام حجت ۷۲۸

فتنۂ خوارج کے خاتمہ کی تاریخ ۷۳۱

چھٹاباب ۷۳۲

جنگ نہروان کے بعد کے واقعات اورحضرت علی علیہ السلام کی شہادت ۷۳۲

پہلی فصل ۷۳۲

لوٹ مار، بدامنی اور دردناک قتل عام ۷۳۲

۱۔ضحّاک بن قیس کی لوٹ مار ۷۳۴

۲۔ بُسر کو حجاز ویمن بھیجنا ۷۳۸

بُسر کا سفر ۷۴۰

۳۔ سفیان بن عوف کی لوٹ مار ۷۴۵

دوسری فصل ۷۴۸

مصر کی فتح اور محمد بن ابی بکر کی شہادت ۷۴۸

امام ـ کا والی اوربے طرف لوگ ۷۵۱

وہ موت جس نے بعض کو ہنسایا اور بعض کو رلایا ۷۵۵


امام علیہ السلام کا خط محمد بن ابی بکر کے نام ۷۵۶

محمد بن ابی بکر کا خط امام علیہ السلام کے نام ۷۵۶

عمر و عاص کو مصر بھیجنا ۷۵۷

محمد بن ابی بکر کی شہادت ۷۵۸

حضرت علی علیہ السلام اور خبر شہادت محمد بن ابی بکر ۷۶۰

امام علیہ السلام کا آخری خطبہ ۷۶۲

تیسری فصل ۷۶۴

امام علیہ السلام کی زندگی کا آخری ورق محرابِ عبادت میں آپ کی شہادت ۷۶۴

شب شہادت امام علیہ السلام ۷۶۸

حضرت علی علیہ السلام کا غم ۷۷۶

منابع مصادر ۷۸۲

استاد الشعراء ڈاکٹر شعور اعظمی (ممبئی) ۷۸۷

فروغ ولایت ۷۸۷