یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے
اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ
تالیف: علامہ شریف رضی علیہ رحمہ
اردو ترجمہ و شرح: حجت الاسلام مولانا مفتی جعفر حسین صاحب قبلہ
ناشر: امامیہ کتب خانہ، مغل حویلی،
موچی دروازہ،
لاہور۸ ، پاکستان
۱
فتنہ و فساد میں اس طرح رہو جس طرح اونٹ کا وہ بچہ جس نے ابھی اپنی عمر کے دو سال ختم کئے ہوں کہ نہ تو اس کی پیٹھ پر سواری کی جاسکتی ہے اور نہ اس کے تھنوں سے دودھ دوہا جاسکتا ہے
لبون دودھ دینے والی اونٹنی کو اورابن اللبون اس کے دو سالہ بچے کو کہتے ہیں اور وہ اس عمر میں نہ سوار ی کے قابل ہوتا ہے ,اور نہ اس کے تھن ہی ہوتے ہیں کہ ان سے دودھ دوہا جاسکے .اسے ابن اللبون اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس دو سال کے عرصہ میں اس کی ماں عموماً دوسرا بچہ دے کر دودھ دینے لگتی ہے
مقصد یہ ہے کہ انسان کو فتنہ و فساد کے موقع پر اس طرح رہنا چاہیے کہ لوگ اسے ناکارہ سمجھ کر نظر انداز کردیں اور کسی جماعت میں اس کی شرکت کی ضرورت محسوس نہ ہو .کیونکہ فتنوں اور ہنگاموں میں الگ تھلگ رہنا ہی تباہ کاریوں سے بچا سکتا ہے .البتہ جہاں حق و باطل کا ٹکراؤ ہو وہاں پر غیر جانبداری جائز نہیں اور نہ اسے فتنہ و فساد سے تعبیر کیاہے .بلکہ ایسے موقع پر حق کی حمایت اور باطل کی سرکوبی کے لیے کھڑا ہونا واجب ہے .جیسے جمل و صفین کی جنگوں میں حق کا ساتھ دینا ضروری اور باطل سے نبرد آزما ہو نا لازم تھا
۲
جس نے طمع کو اپنا شعار بنایا ,اس نے اپنے کو سبک کیا اور جس نے اپنی پریشان حالی کا اظہار کیا وہ ذلت پر آمادہ ہوگیا ,اور جس نے اپنی زبان کو قابو میں نہ رکھا ,اس نے خود اپنی بے وقعتی کا سامان کر لیا
۳
بخل ننگ و عار ہے اور بزدلی نقص و عیب ہے اورغربت مرد زیرک و دانا کی زبان کو دلائل کی قوت دکھانے سے عاجز بنا دیتی ہے اور مفلس اپنے شہرمیں رہ کر بھی غریب الوطن ہوتا ہے اور عجز ودرماندگی مصیبت ہے اور صبر شکیبائی شجاعت ہے اور دنیا سے بے تعلقی بڑی دولت ہے اور پرہیز گاری ایک بڑی سپر ہے
۴
تسلیم و رضا بہترین مصاحب اور علم شریف ترین میراث ہے اور علمی و عملی اوصاف خلعت ہیں اور فکر صاف شفاف آئینہ ہے ۵ عقلمند کا سینہ اس کے بھیدوں کا مخزن ہوتا ہے اور کشادہ روئی محبت و دوستی کا پھندا ہے اور تحمل و برد باری عیبوں کا مدفن ہے (یا اس فقرہ کے بجائے حضرت نے یہ فرمایا کہ )صلح صفائی عیبوں کو ڈھانپنے کا ذریعہ ہے
۶
جو شخص اپنے کو بہت پسند کرتا ہے وہ دوسروں کو ناپسند ہوجاتا ہے اور صدقہ کامیاب دوا ہے ,اور دنیا میں بندوں کے جو اعمال ہیں وہ آخرت میں ان کی آنکھوں کے سامنے ہوں گے
یہ ارشاد تین جملوں پر مشتمل ہے ;پہلے جملہ میں خود پسندی سے پیدا ہونے والے نتائج و اثرات کا ذکر کیا ہے کہ اس سے دوسروں کے دلوں میں نفرت و حقارت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے .چنانچہ جو شخص اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے لے بات بات میں اپنی بر تر ی کا مظاہر ہ کرتا ہے وہ کبھی عزت و احترام کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتااور لو گ اس کی تفو ق پسندانہ ذہنیت کو دیکھتے ہوئے اس سے نفر ت کرنے لگتے ہیں اور اسے اتنا بھی سمجھنے کو تیار نہیں ہوتے جتنا کچھ وہ ہے چہ جائیکہ جو کچھ وہ اپنے آپ کو سمجھتا ہے وہی کچھ اسے سمجھ لیں
دوسرا جملہ صدقہ کے متعلق ہے اور اسے ایک “کامیاب دوا” سے تعبیر کیا ہے کیونکہ جب انسان صدقہ وخیرات سے محتاجوں اور ناداروں کی مدد کرتا ہے تو وہ د ل کی گہرایوں سے ا س کے لیے دعائے صحت و عافیت کرتے ہیں جو قبولیت حاصل کرکے اس کی شفایابی کا باعث ہوتی ہے .چنانچہ پیغمبر اکر م کا ارشاد ہے کہ راو و امرضا کم بالصدقہ .اپنے بیماروں کا علا ج صدقہ سے کرو
تیسرا جملہ حشر میں اعمال کے بے نقا ب ہو نے کے متعلق ہے کہ انسان ا س دنیا میں جو اچھے اور برے کام کرتا ہے وہ حجاب عنصری کے حائل ہونے کی وجہ سے ظاہر ی حواس سے ادراک نہیں ہوسکتے .مگر آخرت میں جب مادیت کے پردے اٹھادیئے جائیں گے تو وہ اس طرح آنکھوں کے سامنے عیاں ہوجائیں گے کہ کسی کے لیے گنجائش انکار نہ رہے گی .چنانچہ ارشاد الہی ہے
ا س دن لوگ گروہ گروہ (قبروں سے )اٹھ کھڑے ہو ں گے تاکہ وہ اپنے اعمال کو دیکھیں توجس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا او ر جس نے ذرہ بھر بھی برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا
۷
یہ انسان تعجب کے قابل ہے کہ وہ چربی سے دیکھتا ہے اور گوشت کے لوتھڑے سے بولتا ہے اور ہڈی سے سنتا ہے اور ایک سوراخ سے سانس لیتا ہے.
۸
جب دنیا (اپنی نعمتوں کو لے کر)کسی کی طرف بڑھتی ہے تو دوسروں کی خوبیاں بھی اسے عاریت دے دیتی ہے .اور جب اس سے رخ موڑ لیتی ,تو خود اس کی خوبیاں بھی اس سے چھین لیتی ہے
مقصد یہ ہے کہ جس کابخت یاور اور دنیا اس سے ساز گار ہوتی ہے اور اہل دنیا اس کی کارگزاریوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں اور دوسروں کے کارناموں کا سہرا بھی اس کے سر باندھ دیتے ہیں اور جس کے ہاتھ سے دنیا جاتی رہتی ہے اور نحوست کی گھٹا اس پر چھا جاتی ہے اس کی خوبیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں اور بھولے سے بھی اس کا نام زبان پر لانا گوار انہیں کرتے
دوستند آنکہ راز مانہ نواحت دشمنند آنکہ رازمانہ فگند
۹
لوگوں سے اس طریقہ سے ملو کہ اگر مرجاؤ تو تم پر روئیں اور زند ہ رہو تو تمہارے مشتاق ہوں
جو شخص لوگوں کے ساتھ نرمی اور اخلاق کا برتاؤ کرتا ہے .لوگ اس کی طرف دست تعاون بڑھاتے ا س کی عزت و توقیر کرتے اور اس کے مرنے کے بعد اس کی یاد میں آنسو بہاتے ہیں۔ لہٰذ ا انسان کو چاہیے کہ وہ اس طرح مرنجاں مرنج زندگی گزارے کہ کسی کو اس سے شکایت نہ پیدا ہو اور نہ اس سے کسی کو گزند پہنچے تاکہ اسے زندگی میں دوسروں کی ہمدردی حاصل ہو ,اور مرنے کے بعد بھی اسے اچھے لفظو ں میں یاد کیا جائے
چناں بانیک و بد سرکن کہ بعد از مرونت عرفی مسلمانت بز مزم شویدو کافر بسو زاند
۱۰
دشمن پر قابو پاؤ تو اس قابو پانے کا شکرانہ اس کو معاف کر دینا قرار دو
عفو و درگزر کا محل وہی ہوتا ہے جہاں انتقام پر قدرت ہو ,اور جہاں قدرت ہی نہ ہو وہاں انتقام سے ہاتھ اٹھا لینا ہی مجبوری کا نتیجہ ہوتا جس پر کوئی فضیلت مرتب نہیں ہوتی .البتہ قدرت و اقتدارکے ہوتے ہوئے عفو درگذر سے کام لینا فضیلت انسانی کا جوہر اور اللہ کی اس بخشی ہوئی نعمت کے مقابلہ میں اظہار شکر ہے .کیونکہ شکر کا جذبہ اس کا مقتضی ہو تا ہے کہ انسان اللہ کے سامنے تذلل و انکسارسے جھکے جس سے اس کے دل میں رحم و رافت کے لطیف جذبات پیدا ہوں گے اور غیظ وغضب کے بھڑکتے ہوئے شعلے ٹھنڈے پڑجائیں گے جس کے بعد انتقام کا کوئی داعی ہی نہ رہے گا کہ وہ اس قوت و قدرت کو ٹھیک ٹھیک کام میں لانے کی بجائے اپنے غضب کے فرو کر نے کا ذریعہ قرار دے
۱۱
لوگوں میں بہت درماندہ وہ ہے جو اپنی عمر میں کچھ بھلائی اپنے لیے نہ حاصل کرسکے ,اور اس سے بھی زیادہ درماندہ وہ ہے جو پاکر اسے کھو دے
خوش اخلاقی و خندہ پیشانی سے دوسر وں کو اپنی طرف جذب کرنا اور شیریں کلامی سے غیروں کو اپنانا کوئی دشوار چیز نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے نہ جسمانی مشقت کی ضرورت اور نہ دماغی کد و کاوش کی حاجت ہوتی ہے اور دوست بنانے کے بعد دوستی اور تعلقات کی خوشگواری کو باقی رکھنا تو اس سے بھی زیادہ آسان ہے کیونکہ دوستی پیدا کرنے کے لیے پھر بھی کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے مگر اسے باقی رکھنے کے لیے تو کوئی مہم سرکرنا نہیں پڑتی .لہٰذا جو شخص ایسی چیز کی بھی نگہداشت نہ کر سکے جسے صر ف پیشانی کی سلو ٹیں دور کر کے باقی رکھا جاسکتا ہے اس سے زیادہ عاجز و درماندہ کون ہوسکتا ہے
مقصد یہ ہے کہ انسان کو ہر ایک سے خو ش خلقی و خندہ روئی سے پیش آنا چاہیے تاکہ لوگوں اس سے وابستگی چاہیں اور اس کی دوستی کی طرف ہاتھ بڑھائیں
۱۲
جب تمہیں تھوڑی بہت نعمتیں حاصل ہوں تو ناشکری سے انہیں اپنے تک پہنچنے سے پہلے بھگا نہ دو
۱۳
جسے قریبی چھوڑ دیں اسے بیگانے مل جائیں گے
۱۴
ہر فتنہ میں پڑ جانے والا قابل عتاب نہیں ہوتا
جب سعد ابن ابی وقا ص ,محمد ابن مسلمہ اور عبداللہ ابن عمر نے اصحاب جمل کے مقابلہ میں آپ کا ساتھ دینے سے انکا ر کیا تو اس موقع پر یہ جملہ فرمایا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ مجھ سے ایسے منحرف ہوچکے ہیں کہ ان پر نہ میری بات کا کچھ اثر ہوتا ہے اور نہ ان پرمیری عتاب و سرزنش کار گر ثابت ہوتی ہے
۱۵
سب معا ملے تقدیر کے آگے سر نگوں ہیں یہاں تک کہ کبھی تدبیر کے نتیجہ میں موت ہوجاتی ہے
۱۶
پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے متعلق کہ بڑھاپے کو (خضاب کے ذریعہ)بدل دو .اور یہود سے مشابہت اختیار نہ کرو .آپ علیہ السّلام سے سوال کیاگیا ,تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ اس موقع کے لیے فرمایا تھا .جب کہ دین (والے) کم تھے اور اب جب کہ اس کا دامن پھیل چکا ہے اور سینہ ٹیک کر جم چکا ہے تو ہر شخص کو اختیار ہے
مقصد یہ ہے کہ چونکہ ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی اس لیے ضرورت تھی کہ مسلمانوں کی جماعتی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے انہیں یہودیوں سے ممتاز رکھا جائے .اس لیے آنحضرت سے خضاب کا حکم دیا کہ جو یہودیوں کے ہاں مرسوم نہیں ہے .اس کے علاوہ یہ مقصد بھی تھا کہ وہ دشمن کے مقابلہ میں ضعیف و سن رسیدہ دکھائی نہ دیں
۱۷
ان لوگوں کے بارے میں کہ جو آپ کے ہمراہ ہوکر لڑنے سے کنارہ کش رہے .فرمایا ان لوگوں نے حق کو چھوڑدیا اور باطل کی بھی نصرت نہیں کی
یہ ارشاد ان لوگوں کے متعلق ہے جو اپنے کو غیر جانبدار ظاہر کرتے تھے .جیسے عبداللہ ابن عمر ,سعد ابن ابی وقاص ,ابو موسیٰ اشعری ,احنف ابن قیس اور انس ابن مالک وغیرہ.بیشک ان لوگوں نے کھل کر باطل کی حمایت نہیں کی .مگر حق کی نصر ت سے ہاتھ اٹھا لینا بھی ایک طرح سے باطل کو تقویت پہنچانا ہے.اس لیے ان کا شمار مخالفین حق کے گروہ ہی میں ہو گا
۱۸
جو شخص امید کی راہ میں میں بگ ٹُٹ دوڑتا ہے وہ موت سے ٹھوکر کھاتا ہے
۱۹
بامروت لوگو ں کی لغزشوں سے درگزر کرو .(کیونکہ )ان میں سے جو بھی لغزش کھا کر گرتا ہے تو اللہ اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اسے اوپر اٹھالیتا ہے
۲۰
خوف کا نتیجہ ناکامی اور شرم کانتیجہ محرومی ہے اور فرصت کی گھڑیاں (تیزرو) ابر کی طرح گزر جاتی ہیں .لہٰذا بھلائی کے ملے ہوئے موقعوں کو غنیمت جانو.
عوام میں ایک چیز خواہ کتنی ہی معیوب خیال کی جائے اور تحقیر آمیز نظر وں سے دیکھی جائے اگر اس میں کوئی واقعی عیب نہیں ہے تو اس سے شرمانا سراسر نادانی ہے کیونکہ اس کیوجہ سے اکثر ان چیز وں سے محروم ہونا پڑتا ہے جو دنیا وآخرت کی کامیابیوں اور کامرانیوں کا باعث ہوتی ہیں .جیسے کوئی شخص اس خیال سے کہ لو گ اسے جاہل تصور کریں گے کسی اہم اور ضرور ی بات کے دریافت کرنے میں عار محسوس کرے تو یہ بے موقع و بے محل خودداری اس کے لیے علم ودانش سے محرومی کا سبب بن جائے گی ,اس لیے کوئی ہوشمند انسان سیکھنے اور دریافت کرنے میں عار نہیں محسوس کرے گا .چنانچہ ایک سن رسیدہ شخص سے کہ جو بڑھاپے کے باوجود تحصیل علم کرتا تھا کہا گیا کہما تستحیٌ ان تتعلم علی الکبر ”تمہیں بڑھاپے میں پڑھتے ہوئے شرم نہیں آتی .اس نے جواب میں کہا کہ”انالا استحی من الجهل علی الکبر فکیف استحی من التعلم علی الکبر “جب مجھے بڑھاپے میں جہالت سے شرم نہیں آئی تو اس بڑھاپے میں پڑھنے سے شرم کیسے آسکتی ہے .البتہ جن چیزوں میں واقعی برائی مفسد ہو ان کے ارتکاب سے شرم محسوس کرنا انسانیت اور شرافت کا جوہر ہے جیسے وہ اعمال ناشائستہ کہ جو شروع وعقل اور مذہب و اخلاق کی رو سے مذموم ہیں .بہر حال حیاء کی پہلی قسم قبیح اور دوسر ی قسم حسن ہے .چنانچہ پیغمبر اکرم کا ارشاد ہے
حیا کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو بتقاضائے عقل ہوتی ہے .یہ حیا علم و دانائی ہے .اور ایک وہ جو حماقت کے نتیجہ میں ہوتی ہے یہ سراسر جہل و نادانی ہے
۲۱
ہمارا ایک حق ہے اگر وہ ہمیں دیا گیا تو ہم لے لیں گے .ورنہ ہم اونٹ کے پیچھے والے پٹھوں پر سوار ہوں گے .اگرچہ شب روی طویل ہو
سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ بہت عمدہ اور فصیح کلام ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہمیں ہمارا حق نہ دیاگیا ,تو ہم ذلیل و خوار سمجھے جائیں گے اورمطلب اس طرح نکلتا ہے کہ اونٹ کے پیچھے کے حصہ پر ردیف بن کر غلام اور قیدی یا ا س قسم کے لوگ ہی سوار ہوا کرتے تھے
سید رضی علیہ الرحمتہ کے تحریر کرو معنی کا ماحصل یہ ہے کہ حضر ت فرمانا چاہتے ہیں کہ اگر ہمارے حق کا کہ جوامام مفترض الطاعتہ ہونے کی حیثیت سے دوسروں پر واجب ہے اقرار کرلیا گیا اور ہمیں ظاہری خلافت کا موقع دیاگیا تو بہتر ورنہ ہمیں ہر طرح کی مشقتوں اور خواریوں کو برداشت کرنا پڑے گا ,اور ہم اس تحقیر و تذلیل کی حالت میں زندگی کا ایک طویل عرصہ گزارنے پر مجبور ہوں گے.
بعض شارخین نے اس معنی کے علاوہ اور معنی بھی تحریر کئے ہیں .اور وہ یہ کہ اگر ہمیں ہمارے مرتبہ سے گرا کر اونٹ کے پٹھے پر سوار ہوتا ہے وہ آگے ہوتا ہے اوربعض نے یہ معنی کہے ہیں کہ اگر ہمار ا حق دے دیا گیا تو ہم اسے لے لیں گے ,اور اگرنہ دیا گیا,تو اس سوار کی مانند نہ ہوں گے جو اپنی سواری کی باگ دوسرے کے ہاتھ میں دے دیتا ہے .کہ وہ جدھر اسے لے جانا چاہے لے جائے .بلکہ اپنے مطالبہ حق پر برقرار رہیں گے خواہ مدت دراز کیوں نہ گزر جائے اور کبھی اپنے حق سے دستبردار ہوکر غضب کرنے والوں کے سامنے سر تسلیم خم نہ کریں گے
۲۲
جسے اس کے اعمال پیچھے ہٹا دیں اسے حسب و نسب آگے نہیں بڑھا سکتا
۲۳
کسی مضطرب کی داد فریاد سننا ,اور مصیبت زدہ کو مصیبت سے چھٹکارا دلا نا بڑے بڑے گناہوں کا کفارہ ہے
۲۴
اے آدم علیہ السّلام کے بیٹے جب تو دیکھے کہ اللہ تجھے پے درپے نعمتیں دے رہا ہے اور تو اس کی نافرمانی کررہا ہے تو اس سے ڈرتے رہنا
جب کسی کو گناہوں کے باوجود پے درپے نعمتیں حاصل ہورہی ہوں ,تو وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ اللہ اس سے خوش ہے اور یہ اس کی خوشنودی و نظر کرم کا نتیجہ ہے .حالانکہ نعمتوں میں زیادتی شکر گزاری کی صورت میں ہوتی ہے .اور ناشکری کے نتیجہ میں نعمتوں کا سلسلہ قطع ہوجاتا ہے .جیسا کہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے
اگر تم نے شکر کیا تو میں تمہیں اور زیادہ نعمتیں دوں گا او ر اگر ناشکر ی کی تو پھر یاد رکھو کہ میرا عذاب سخت عذاب ہے
لہٰذا عصیان و ناسپاسی کی صورت میں برابر نعمتو ں کاملنا اللہ کی خوشنود ی و رضا مند ی کا ثمرہ نہیں ہوسکتا اورنہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اللہ نے اس صورت میں اسے نعمتیں دے کر شبہہ میں ڈال دیا ہے کہ وہ نعمتوں کی فراوانی کو اس کی خوشنودی کا ثمرہ سمجھے .کیونکہ جب وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ خطا کار عاصی ہے اور گناہ کو گناہ اور برائی کو برائی سمجھ کر اس کا مرتکب ہو رہا ہے ,تو اشتباہ کی کیا وجہ کہ وہ اللہ کی خوشنودی و رضامندی کا تصور کرے بلکہ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ایک طرح کی آزمائش اور مہلت ہے تاکہ جب اس کی طغیانی و سر کشی انتہا کو پہنچ جائے تو اسے دفعتاً گرفت میں لے لیا جائے .لہٰذا ایسی صورت میں اسے منتظر رہنا چاہیے کہ کب اس پر غضب الہی کا ورود ہو اور یہ نعمتیں اس سے چھین لی جائیں .اور محرومی و نامرادی کی عقوبتوں میں اسے جکڑ لیا جائے
۲۵
جس کسی نے بھی کوئی بات دل میں چھپا کہ رکھنا چاہی وہ اس کی زبان سے بے ساختہ نکلے ہوئے الفاظ اور چہرہ کے آثار سے نمایاں ضرور ہو جاتی ہے
انسان جن باتوں کو دوسروں سے چھپانا چاہتا ہے ,وہ کسی نہ کسی وقت زبان سے نکل ہی جاتی ہےں اور چھپانے کی کو شش ناکام ہو کر رہ جاتی ہے .وجہ یہ ہے کہ عقل مصلحت اندیش اگرچہ انہیں پوشیدہ رکھنا چاہتی ہے .مگر کبھی کسی اور اہم معاملہ میں الجھ کر ادھر سے غافل ہو جاتی ہے اور وہ بے اختیار لفظوں کی صورت میں زبان سے نکل جاتی ہیں اور جب عقل ملتفت ہوتی ہے تو تیر از کمان جستہ واپس پلٹایا نہیں جاسکتا اور اگر یہ صورت نہ بھی پیش آئے اور عقل پورے طور سے متنبہ و ہوشیار رہے,تب بھی وہ پوشیدہ نہیں رہ سکتیں .کیونکہ چہرے کے خط وخال ذہنی تصورات کے غماز اور قلبی کیفیات کے آئینہ دار ہوتے ہیں .چنانچہ چہرے کی سرخی سے شرمندگی کا اور زردی سے خوف کا بخوبی پتہ چل سکتا ہے
۲۶
مرض میں جب تک ہمت ساتھ دے چلتے پھرتے رہو
مقصد یہ ہے کہ جب تک مرض شدت اختیار نہ کر ے اسے اہمیت نہ دینا چاہیے کیونکہ اہمیت دینے سے طبیعت احساس مرض سے متاثر ہوکر اس کے اضافہ کا باعث ہوجایاکر تی ہے .اس لیے چلتے پھرتے رہنا اور اپنے کو صحت مند تصور کرنا تحلیل مرض کے علاوہ طبیعت کی قوت مدافعت کو مضحمل ہونے نہیں دیتا اور اس کی قوت کو معنوی کو برقرار رکھتا ہے اور قوت معنوی چھوٹے موٹے مرض کو خود ہی دبایا کرتی ہے بشرطیکہ مرض کے وہم میں مبتلا ہوکر اسے سپر انداختہ ہونے پر مجبور نہ کردیا جائے
۲۷
بہترین زہد، زہد کا مخفی رکھنا ہے
۲۸
جب تم (دنیا کو ) پیٹھ دکھا رہے ہو .اور موت تمہاری طرف رخ کئے ہوئے بڑھ رہی ہے تو پھر ملاقات میں دیر کیسی ؟
۲۹
ڈرو !ڈرو !اس لیے کہ بخدا اس نے اس حد تک تمہاری پردہ پوشی کی ہے ,کہ گویا تمہیں بخش دیا ہے
۳۰
حضرت علیہ السّلام سے ایمان کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا .ایمان چار ستونوں پر قائم ہے .صبر ,یقین ,عدل اور جہاد پھرصبر کی چار شاخیں ہیں .اشتیاق ,خوف ,دنیا سے بے اعتنائی اور انتظار .اس لیے کہ جو جنت کا مشتاق ہو گا ,وہ خواہشوں کو بھلا دے گا اور جو دوزخ سے خوف کھائے گا وہ محرمات سے کنارہ کشی کرے گا اور جو دنیا سے بے اعتنائی اختیار کر ے گا ,وہ مصیبتوں کو سہل سمجھے گا اور جسے موت کا انتظار ہو گا ,وہ نیک کاموں میں جلدی کرے گا .اور یقین کی بھی چار شاخیں ہیں .روشن نگاہی ,حقیقت رسی ,عبرت اندوزی اور اگلوں کا طور طریقہ .چنانچہ جو دانش و آگہی حاصل کرے گا اس کے سامنے علم و عمل کی راہیں واضح ہو جائیں گی .اور جس کے لیے علم وعمل آشکار ہو جائے گا ,وہ عبرت سے آشنا ہوگا وہ ایسا ہے جیسے وہ پہلے لوگوں میں موجود رہا ہو اور عدل کی بھی چار شاخیں ہیں ,تہوں تک پہنچنے والی فکر اور علمی گہرائی اور فیصلہ کی خوبی اور عقل کی پائیداری .چنانچہ جس نے غور و فکر کیا ,وہ علم کی گہرائیوں میں اترا ,وہ فیصلہ کے سر چشموں سے سیراب ہوکر پلٹا اور جس نے حلم و بردباری اختیار کی .اس نے اپنے معاملات میں کوئی کمی نہیں کی اور لوگوں میں نیک نام رہ کر زندگی بسر کی اورجہاد کی بھی چار شاخیں ہیں .امر بالمعروف ,نہی عن المنکر ,تمام موقعوں پر راست گفتاری اور بدکرداروں سے نفرت .چنانچہ جس نے امر بالمعروف کیا ,اس نے مومنین کی پشت مضبوط کی ,اور جس نے نہی عن المنکر کیا اس نے کافروں کو ذلیل کیا اور جس نے تمام موقعوں پر سچ بولا ,اس نے اپنا فرض اداکردیا اور جس نے فاسقوں کو براسمجھا اور اللہ کے لیے غضبناک ہوا اللہ بھی اس کے لیے دوسروں پر غضبناک ہو گا اور قیامت کے دن اس کی خوشی کا سامان کرے گا.
۳۱
کفر بھی چار ستونوں پر قائم ہے .حد سے بڑھی ہوئی کاوش ,جھگڑا لُو پن ,کج روی اور اختلاف .تو جو بے جا تعمق و کاوش کرتا ہے , وہ حق کی طرف رجوع نہیں ہوتا اور جو جہالت کی وجہ سے آئے دن جھگڑے کرتا ہے , وہ حق سے ہمیشہ اندھا رہتا ہے اور جو حق سے منہ موڑ لیتا ہے .وہ اچھائی کو برائی اور برائی کو اچھائی سمجھنے لگتا ہے اور گمراہی کے نشہ میں مدہوش پڑا رہتا ہے اور جو حق کی خلاف ورزی کرتا ہے , اس کے راستے بہت دشوار اور اس کے معاملات سخت پیچیدہ ہو جاتے ہیں اور بچ نکلنے کی راہ اس کے لیے تنگ ہو جاتی ہے ,شک کی بھی چار شاخیں ہیں ,کٹھ حجتی خوف سرگردانی اور باطل کے آگے جبیں سائی .چنانچہ جس نے لڑائی جھگڑ ے کو شیوہ بنالیا ,اس کی رات کبھی صبح سے ہمکنار نہیں ہو سکتی اور جس کو سامنے کی چیزوں نے ہول میں ڈال دیا ,وہ الٹے پیر پلٹ جاتا ہے اور جو شک و شبہہ میں سر گرداں رہتا ہے .اسے شیاطین اپنے پنجوں سے روند ڈالتے ہیں اور جس نے دنیا و آخرت کی تباہی کے آگے سر تسلیم خم کردیا.وہ دوجہاں میں تباہ و برباد ہوا
سید رضی فرماتے ہیں کہ ہم نے طوالت کے خوف اور اس خیال سے کہ اصل مقصد جو اس بات کا ہے فوت نہ ہو ,بقیہ کلام کو چھوڑ دیا ہے
۳۲
نیک کام کر نے والا خود اس کام سے بہتر اور برائی کا مرتکب ہونے والا خود اس برائی سے بدتر ہے
۳۳
سخاوت کرو ,لیکن فضول خرچی نہ کرو اور جز رسی کرو ,مگر بخل نہیں
۳۴
بہتر ین دولت مند ی یہ ہے کہ تمناؤں کو ترک کرے.
۳۵
جو شخص لوگوں کے بار ے میں جھٹ سے ایسی باتیں کہہ دیتا ہے جو انہیں ناگوار گزریں ,تو پھر وہ اس کے لیے ایسی باتیں کہتے ہیں کہ جنہیں وہ جانتے نہیں
۳۶
جس نے طول طویل امیدیں باندھیں ,اس نے اپنے اعمال بگاڑ لیے
۳۷
امیرالمومنین علیہ السّلام سے شام کی جانب روانہ ہو تے وقت مقام انبار کے زمینداروں کا سامنا ہوا ,تو وہ آپ کو دیکھ کر پیادہ ہو گئے اور آپ کے سامنے دوڑنے لگے .آپ نے فرمایا یہ تم نے کیا کیا ؟انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا عام طریقہ ہے .جس سے ہم اپنے حکمرانوں کی تعظیم بجالا تے ہیں .آپ نے فرمایا .خدا کی قسم اس سے تمہارے حکمرانوں کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچتا البتہ تم اس دنیا میں اپنے کو زحمت و مشقت میں ڈالتے ہو ,اور آخرت میں اس کی وجہ سے بدبختی مول لیتے ہو ,وہ مشقت کتنی گھاٹے والی ہے جس کا نتیجہ سزائے اخروی ہو , اور وہ راحت کتنی فائدہ مند ہے جس کا نتیجہ دوزخ سے امان ہو
۳۸
اپنے فرزند حضرت حسن علیہ السلام سے فرمایا مجھ سے چار, اور پھر چار باتیں یاد رکھو .ان کے ہوتے ہوئے جو کچھ کرو گے ,وہ تمہیں ضرر نہ پہنچائے گا سب سے بڑی ثروت عقل و دانش ہے اور سب سے بڑی ناداری حماقت و بے عقلی ہے اور سب سے بڑی وحشت غرور خود بینی ہے اور سب سے بڑا جوہر ذاتی حسن اخلاق ہے
اے فرزند !بیوقوف سے دوستی نہ کرنا کیونکہ وہ تمہیں فائدہ پہنچانا چاہے گا ,تو نقصان پہنچائے گا .اور بخیل سے دوستی نہ کرنا کیونکہ جب تمہیں اس کی مدد کی انتہائی احتیاج ہوگی ,وہ تم سے دور بھاگے گا .اور بدکردار سے دوستی نہ کرنا ,وہ تمہیں کوڑیوں کے مول بیچ ڈالے گا اور جھوٹے سے دوستی نہ کرنا کیونکہ وہ سراب کے مانند تمہارے لیے دور کی چیزوں کو قریب اور قریب کی چیزوں کو دور کر کے دکھائے گا
۳۹
مستحبات سے قرب الہی نہیں حاصل ہوسکتا ,جب کہ وہ واجبات میں سدراہ ہوں
۴۰
عقل مند کی زبان اس کے دل کے پیچھے ہے اور بے قوف کا دل اس کی زبان کے پیچھے ہے
سید رضی کہتے ہیں کہ یہ جملہ عجیب و پاکیزہ معنی کا حال ہے.مقصد یہ ہے کہ عقلمند اس وقت زبان کھولتا ہے جب دل میں سوچ بچار اور غور و فکر سے نتیجہ اخذ کر لیتا ہے .لیکن بے وقو ف بے سوچے سمجھے جو منہ میں آتا ہے کہہ گذرتا ہے .اس طرح گویا عقلمند کی زبان اس کے تابع ہے اور بے وقوف کا دل اس کی زبان کے تابع ہے
۴۱
یہی مطلب دوسرے لفظوں میں بھی حضرت سے مروی ہے اور وہ یہ کہ “بے وقوف کا دل اس کے منہ میں ہے اور عقلمند کی زبان اس کے دل میں ہے “.بہر حال ان دونوں جملوں کا مقصد ایک ہے
۴۲
اپنے ایک ساتھی سے اس کی بیماری کی حالت میں فرمایا .اللہ نے تمہارے مرض کو تمہارے گناہوں کو دور کرنے کا ذریعہ قرار دیا ہے .کیونکہ خود مرض کا کوئی ثواب نہیں ہے .مگر وہ گناہوں کو مٹاتا ,اور انہیں اس طرح جھاڑ دیتا ہے جس طرح درخت سے پتے جھڑتے ہیں. ہاں ! ثواب اس میں ہوتا ہے کہ کچھ زبان سے کہا جائے اور کچھ ہاتھ پیروں سے کیا جائے ,اورخدا وند عالم اپنے بندوں میں سے نیک نیتی اور پاکدامنی کی وجہ سے جسے چاہتا ہے جنت میں داخل کرتا ہے
سیدرضی فرماتے ہیں کہ حضرت نے سچ فرمایا کہ مرض کا کوئی ثواب نہیں ہے کیونکہ مرض تو اس قسم کی چیزوں میں سے ہے جن میں عوض کا استحقاق ہوتا ہے .اس لیے کہ عوض اللہ کی طرف سے بندے کے ساتھ جو امر عمل میں آئے .جیسے دکھ ,درد ,بیماری وغیر ہ اس کے مقابلہ میں اسے ملتا ہے .اور اجر و ثواب وہ ہے کہ کسی عمل پر اسے کچھ حاصل ہو .لہٰذا عوض اور ہے ,اور اجر اور ہے اس فرق کو امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنے علم روشن اور رائے صائب کے مطابق بیان فرما دیا ہے
۴۳
جناب ابن ارت کے بارے میں فرمایا .خدا خباب ابن ارت پر رحمت اپنی شامل حال فرمائے وہ اپنی رضا مند ی سے اسلام لائے اور بخوشی ہجرت کی اور ضرور ت بھر قناعت کی اور اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی رہے اور مجاہد انہ شان سے زندگی بسر کی
حضرت خباب ابن ارت پیغمبر کے جلیل القدر صحابی اور مہاجرین اولین میں سے تھے .انہوں نے قریش کے ہاتھوں طرح طرح کی مصیبتیں اٹھائیں .چلچلاتی دھوپ میں کھڑے کئے گئے آگ پر لٹائے گئے .مگر کسی طرح پیغمبر اکرم کا دامن چھوڑنا گوارا نہ کیا .بدر اور دوسرے معرکوں میں رسالت مآب کے ہمرکاب رہے .صفین و نہروان میں امیرالمومنین علیہ السّلام کا ساتھ دیا.مدینہ چھوڑ کر کو فہ میں سکو نت اختیار کر لی تھی .چنانچہ یہیں پر ۷۳ برس کی عمر میں ۳۹ ہجری میں انتقال فرمایا .نماز جنازہ امیرالمومنین علیہ السّلام نے پڑھائی اور بیرون کوفہ دفن ہوئے اور حضرت نے یہ کلمات ترحم ان کی قبر پر کھڑے ہو کر فرمائے
۴۴
خوشا نصیب اس کے جس نے آخرت کو یاد رکھا ,حساب و کتاب کے لیے عمل کیا .ضرورت بھر قناعت کی اور اللہ سے راضی و خوشنود رہا
۴۵
اگر میں مومن کی ناک پر تلواریں لگاؤں کہ وہ مجھے دشمن رکھے ,تو جب بھی وہ مجھ سے دشمنی نہ کرے گا .اور اگر تمام متاعِ دنیا کافر کے آگے ڈھیر کر دوں کہ وہ مجھے دوست رکھے تو بھی وہ مجھے دوست نہ رکھے گا اس لیے کہ یہ وہ فیصلہ ہے جو پیغمبر امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے ہو گیا ہے کہ آپ نے فرمایا :
اے علی علیہ السّلام ! کوئی مومن تم سے دشمنی نہ رکھے گا اور کوئی منافق تم سے محبت نہ کرے گا.
۴۶
وہ گناہ جس کا تمہیں رنج ہو اللہ کے نزدیک اس نیکی سے کہیں اچھا ہے جو تمہیں خود پسند بنا دے.
جو شخص ارتکاب گناہ کے بعد ندامت و پشیمانی محسوس کرے اور اللہ کی بارگاہ میں توبہ کر ے وہ گناہ کی عقوبت سے محفوظ اور توبہ کے ثواب کا مستحق ہوتا ہے اور جو نیک عمل بجا لانے کے بعد دوسروں کے مقابلہ میں برتری محسوس کرتا ہے اور اپنی نیکی پر گھمنڈ کرتے ہوئے یہ سمجھتا ہے کہ اب اس کے لیے کوئی کھٹکا نہیں رہا وہ اپنی نیکی کو برباد کردیتا ہے اور حسن عمل کے ثواب سے محروم رہتا ہے .ظاہر ہے کہ جو توبہ سے معصیت کے داغ کو صاف کر چکا ہو وہ اس سے بہتر ہوگا جو اپنے غرور کی وجہ سے اپنے کئے کرائے کو ضائع کرچکا ہو اور توبہ کے ثواب سے بھی اس کا دامن خالی ہو
۴۷
انسان کی جتنی ہمت ہو اتنی ہی اس کی قدر و قیمت ہے اور جتنی مروت اور جوانمردی ہوگی اتنی ہی راست گوئی ہو گی ,اور جتنی حمیت و خودداری ہو گی اتنی ہی شجاعت ہو گی اور جتنی غیرت ہوگی اتنی ہی پاک دامنی ہو گی
۴۸
کامیابی دور اندیشی سے وابستہ ہے اور دور اندیشی فکر و تدبر کو کام میں لانے سے اور تدبر بھیدوں کو چھپاکر رکھنے سے
۴۹
بھوکے شریف اور پیٹ بھرے کمینے کے حملہ سے ڈرتے رہو
مطلب یہ ہے کہ باعزت و باوقار آدمی کبھی ذلت و توہین گوارا نہیں کرتا .اگر اس کی عزت و وقار پر حملہ ہوگا تو وہ بھو کے شیر کی طرح جھپٹے گا اور ذلت کی زنجیروں کو توڑ کر رکھ دے گا اور اگر ذلیل و کم ظرف کو اس کی حیثیت سے بڑھا دیا جائے گا تو اس کا ظرف چھلک اٹھے گا اور وہ اپنے کو بلند مرتبہ خیال کرتے ہوئے دوسروں کے وقار پر حملہ آور ہو گا
۵۰
لوگوں کے دل صحرائی جانور ہیں ,جو کہ ان کو سدھائے گا ,اس کی طرف جھکیں گے
اس قول سے اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے کہ انسانی قلوب اصل فطرت کے لحاظ سے وحشت پسند واقع ہوئے ہیں اور ان میں انس و محبت کا جذبہ ایک اکتسابی جذبہ ہے .چنانچہ جب انس و محبت کے دواعی اسباب پیدا ہوتے ہیں تو وہ مانوس ہو جاتے ہیں اور جب اس کے دواعی ختم ہوجاتے ہیں یا اس کے خلاف نفرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں تو وحشت کی طرف عود کر جاتے ہیں اور پھر بڑ ی مشکل سے محبت کی راہ پر گامز ن ہوتے ہیں
مرنجا ں و لے راکہ ایں مرغ وحشی زبامے کہ برخوست مشکل نشنید
۵۱
جب تک تمہارے نصیب یاور ہیں تمہارے عیب ڈھکے ہوئے ہیں.
۵۲
معاف کر نا سب سے زیادہ اسے زیب دیتا ہے جو سزادینے پر قادر ہو.
۵۳
سخاوت وہ ہے جو بن مانگے ہو ,اور مانگے سے دینا یا شرم ہے یا بدگوئی سے بچنا
۵۴
عقل سے بڑھ کر کوئی ثروت نہیں اور جہالت سے بڑھ کر کوئی بے مائیگی نہیں .ادب سے بڑھ کر کوئی میراث نہیں اور مشورہ سے زیادہ کوئی چیز معین و مددگار نہیں
۵۵
صبر دو طرح کا ہوتاہے ایک ناگوار باتوں پر صبر اور دوسرے پسندیدہ چیزوں سے صبر.
۵۶
دولت ہو تو پردیس میں بھی دیس ہے اور مفلسی ہو تو دیس میں بھی پردیس
۵۷
قناعت وہ سرمایہ ہے جو ختم نہیں ہو سکتا.
“علامہ رضی فرماتے ہیں کہ یہ کلام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی مروی ہے “.
قناعت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کو جو میسر ہو اس پر خوش و خرم رہے اور کم ملنے پر کبیدہ خاطر و شاکی نہ ہو اور اگر تھوڑے پر مطمئن نہیں ہو گا تو رشوت ,خیانت اور مکر و فریب ایسے محرمات اخلاقی کے ذریعہ اپنے دامن حرص کو بھر نے کی کوشش کرے گا .کیونکہ حرص کا تقاضا ہی یہ ہے جس طرح بن پڑے خواہشات کو پورا کیا جائے اور ان خواہشات کا سلسلہ کہیں پر رکنے نہیں پاتا ,کیونکہ ایک خواہش کا پورا ہونا دوسری خواہش کی تمہید بن جایا کرتا ہے اور جوں جوں انسان کی خواہش کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے اس کی احتیاج بڑھتی ہی جاتی ہے .اس لیے کبھی محتاجی و بے اطمینانی سے نجات حاصل نہیں کر سکتا اگر اس بڑھتی ہوئی خواہش کو روکا جاسکتا ہے تو وہ صرف قناعت سے کہ جو ناگزیر ضرورتوں کے علاوہ ہر ضرورت سے مستغنی بنا دیتی ہے اور لازوال سرمایہ ہے جو ہمیشہ کے لیے فارغ البال کردیتا ہے
۵۸
مال نفسانی خواہشوں کا سر چشمہ ہے
۵۹
جو (برائیوں سے )خوف دلائے وہ تمہارے لیے مژدہ سنانے والے کے مانند ہے
۶۰
زبان ایک ایسا درندہ ہے کہ اگر اسے کھلا چھوڑ دیا جائے تو پھاڑ کھائے
۶۱
عورت ایک ایسا بچھو ہے جس کے لپٹنے میں بھی مزہ آتا ہے
۶۲
جب تم پرسلام کیا جائے تو اس سے اچھے طریقہ سے جواب دو .اور جب تم پر کوئی احسان کرے تو اس سے بڑھ چڑھ کر بدلہ دو ,اگرچہ اس صورت میں بھی فضیلت پہل کرنے والے ہی کی ہوگی
۶۳
سفارش کرنے والا امیدوار کے لیے بمنزلہ پرد بال ہوتا ہے
۶۴
دنیا والے ایسے سواروں کے مانند ہیں جو سو رہے ہیں اور سفر جاری ہے
۶۵
دوستوں کو کھو دینا غریب الوطنی ہے
۶۶
مطلب کا ہاتھ سے چلا جانا اہل کے آگے ہاتھ پھیلانے سے آسان ہے
۶۷
نااہل کے سامنے حاجت پیش کرنے سے جو شرمندگی حاصل ہوتی ہے وہ محرومی کے اندوہ سے کہیں زیادہ روحانی اذیت کا باعث ہوتی ہے .اس لیے کے مقصد سے محرومی کو برداشت کیا جاسکتا ہے .مگر ایک دنی و فر و مایہ کی زیر باری ناقابل برداشت ہوتی ہے .چنانچہ ہر باحمیت انسان نا اہل کے ممنون احسان ہونے سے اپنی حرمان نصیبی کو ترجیح دے گا ,اور کسی پست و دنی کے آگے دست سوال دراز کرنا گوارا نہ کرے گا
۶۷
تھوڑا دینے سے شرماؤ نہیں کیونکہ خالی ہاتھ پھیرنا تو اس سے بھی گری ہوئی بات ہے
۶۸
عفت فقر کا زیور ہے اور شکر دولت مندی کی زینت ہے
۶۹
اگر حسب منشا تمہارا کام نہ بن سکے تو پھر جس حالت میں ہو مگن رہو
۷۰
جاہل کو نہ پاؤ گے مگر یا حد سے آگے بڑھا ہو ,اور یا اس سے بہت پیچھے
۷۱
جب عقل بڑھتی ہے ,تو باتیں کم ہو جاتی ہیں
بسیار گوئی پریشان خیالی کا اور پریشان خیالی عقل کی خامی کا نتیجہ ہوتی ہے .اور جب انسان کی عقل کامل اور فہم پختہ ہوتا ہے تو اس کے ذہن اور خیالا ت میں توازن پید ا ہوجاتا ہے .اور عقل دوسرے قوائے بدنیہ کی طرح زبان پر بھی تسلط و اقتدار حاصل کر لیتی ہے جس کے نتیجہ میں زبان عقل کے تقاضوں سے ہٹ کر اور بے سوچے سمجھے کھلنا گوارا نہیں کرتی اور ظاہر ہے کہ سوچ بچار کے بعد جو کلام ہوگا ,وہ مختصر اور زوائد سے پاک ہوگا
مروچوں عقلس بیفزائد بکا ہددر سخن تانیا بدفرصت گفتار نکشاید ذہن
۷۲
زمانہ جسموں کو کہنہ و بوسیدہ اور آرزوؤں کو دور کرتا ہے .جو زمانہ سے کچھ پا لیتا ہے .وہ بھی رنج سہتا ہے اور جو کھو دیتا ہے وہ تو دکھ جھیلتا ہی ہے
۷۳
جو لوگوں کا پیشوا بنتا ہے تو اسے دوسروں کو تعلیم دینے سے پہلے اپنے کو تعلیم دینا چاہیے اور زبان سے درس اخلا ق دینے سے پہلے اپنی سیرت و کردار سے تعلیم دینا چاہیے .اورجو اپنے نفس کی تعلیم و تادیب کرلے ,وہ دوسروں کی تعلیم و تادیب کرنے والے سے زیادہ احترام کا مستحق ہے
۷۴
انسان کی ہر سانس ایک قدم ہے جو اسے موت کی طرف بڑھائے لیے جارہا ہے.
یعنی جس طرح ایک قدم مٹ کر دوسرے قدم کے لیے جگہ خالی کرتا ہے اور یہ قدم فرسائی منزل کے قرب کا باعث ہوتی ہے , یونہی زندگی کی ہر سانس پہلی سانس کے لیے پیغام فنا بن کر کاروان زندگی کو موت کی طرف بڑھائے لیے جاتی ہے .گویا جس سانس کی آمد کو پیغام حیات سمجھا جاتا ہے ,وہی سانس زندگی کے ایک لمحے کے فنا ہو نے کی علامت اورمنزل موت سے قرب کا باعث ہوتی ہے کیونکہ ایک سانس کی حیات دوسری سانس کے لیے موت ہے اور انہی فنا بردوش سانسوں کے مجموعے کا نا م زندگی ہے #
ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانی
زندگی نام ہے مرمر کے جیے جانے کا
۷۵
جوچیز شمار میں آئے اسے ختم ہونا چاہیے اور جسے آنا چاہیے ,وہ آکر رہے گا
۷۶
جب کسی کام میں اچھے برے کی پہچان نہ رہے توآغاز کو دیکھ کر انجام کو پہچان لینا چاہیے
ایک بیج کو دیکھ کر کاشتکار یہ حکم لگا سکتا ہے کہ اس سے کو ن سا درخت پیدا ہوگا .اس کے پھل پھول اور پتے کیسے ہوں گے ,اس کا پھیلاؤ اور بڑھاؤ کتنا ہو گا .اسی طرح ایک طالب علم سعی و کوشش کو دیکھ کر اس کی کامیابی پر ,اور دوسرے کی آرام طلبی و غفلت کو دیکھ کر اس کی ناکامی پر حکم لگایا جاسکتا ہے ,کیونکہ ادائل اواخر کے اور مقدمات ,نتائج کے آئینہ دار ہوتے ہیں .لہٰذا کسی چیز کا انجام سجھائی نہ دیتا ہو تو اس کی ابتداء کو دیکھا جائے .اگر ابتداء بری ہوگی تو انتہا بھی بری ہو گی اور اگر ابتداء اچھی ہوگی تو انتہا بھی اچھی ہوگی
سالے کہ نکواست ازبہارش پیدا
۷۷
جب ضرار ابن ضمرۃ صنبائی معاویہ کے پاس گئے اور معاویہ نے امیرالمومنین علیہ السّلام کے متعلق ان سے سوال کیا ,تو انہوں نے کہاکہ میں اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ میں نے بعض موقعوں پر آپ کو دیکھا جب کہ رات اپنے دامن ظلمت کو پھیلا چکی تھی .تو آپ محراب عبادت میں استادہ ریش مبارک کو ہاتھوں میں پکڑے ہوئے مار گزیدہ کی طرح تڑپ رہے تھے اورغم رسیدہ کی طرح رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے
اے دنیا ! اے دنیا دور ہو مجھ سے .کیامیرے سامنے اپنے کو لاتی ہے؟ یا میری دلدادہ و فریفتہ بن کر آئی ہے .تیرا وہ وقت نہ آئے (کہ تو مجھے فریب دے سکے)بھلا یہ کیونکر ہو سکتا ہے ,جاکسی اور کو جل دے مجھے تیری خواہش نہیں ہے .میں تو تین بار تجھے طلاق دے چکا ہوں کہ جس کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں .تیری زندگی تھوڑی , تیری اہمیت بہت ہی کم اور تیری آرزو ذلیل و پست ہے افسوس زادِ راہ تھوڑا , راستہ طویل سفر دور دراز اور منزل سخت ہے
اس روایت کا تتمہ یہ ہے کہ جب معاویہ نے ضرار کی زبان سے یہ واقعہ سنا تو ا س کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور کہنے لگا کہ خدا ابو الحسن پر رحم کرے وہ واقعا ًایسے ہی تھے ,پھر ضرار سے مخاطب ہو کر کہا کہ اے ضرار ان کی مفارقت میں تمہارے رنج و اندوہ کی کیا حالت ہے ضرا ر نے کہا کہ بس یہ سمجھ لو کہ میرا غم اتنا ہی ہے جتنا اس ماں کاہوتا ہے جس کی گود میں اس کا اکلوتا بچہ ذبح کر دیا جائے
۷۸
ایک شخص نے امیرالمومنین علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا ہمارا اہل شام سے لڑنے کے لیے جانا قضا و قدر سے تھا؟ تو آپ نے ایک طویل جواب دیا .جس کا ایک منتخب حصہ یہ ہے
خدا تم پر رحم کرے شاید تم نے حتمی و لازمی قضاء و قدر سمجھ لیا ہے (کہ جس کے انجام دینے پر ہم مجبور ہیں )اگر ایسا ہوتا تو پھر نہ ثواب کا کوئی سوال پیدا ہوتا نہ عذاب کا نہ وعدے کے کچھ معنی رہتے نہ وعید کے .خدا وند عالم نے تو بندوں کو خود مختار بناکر مامو ر کیا ہے اور (عذاب سے )ڈراتے ہوئے نہی کی ہے۔ اُس نے سہل و آسان تکلیف دی ہے اور دشواریوں سے بچائے رکھا ہے وہ تھوڑے کئے پر زیادہ اجر دیتا ہے .ا س کی نافرمانی اس لیے نہیں ہوتی کہ وہ دب گیا ہے اور نہ اس کی اطاعت اس لیے کی جاتی ہے کہ اس نے مجبور کر رکھا ہے اس نے پیغمبروں کو بطور تفریح نہیں بھیجا اور بندوں کے لیے کتابیں بے فائدہ نہیں اتاری ہیں اور نہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کو بیکار پیدا کیا ہے .یہ تو ان لوگوں کا خیال ہے .جنہوں نے کفر اختیار کیا آتش جہنم کے عذاب سے
اس روایت کا تتمہ یہ ہے پھر اس شخص نے کہا کہ وہ کون سی قضاء و قدر تھی جس کی وجہ سے ہمیں جانا پڑا آپ نے کہا کہ قضاکے معنی حکم باری کے ہیں جیسا کہ ارشاد ہے .وقضی ربّک الا تعبدوا الا ایاہ اور تمہارے پروردگار نے تو حکم دے دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی پرستش نہ کرنا .یہاں پر قضی بمعنی امر کے ہے
۷۹
حکمت کی بات جہاں کہیں ہو ,اسے حاصل کرو ,کیونکہ حکمت منافق کے سینہ میں بھی ہوتی ہے .لیکن جب تک اس (کی زبان)سے نکل کر مومن کے سینہ میں پہنچ کر دوسر ی حکمتوں کے ساتھ بہل نہیں جاتی تڑپتی رہتی ہے
۸۰
حکمت مومن ہی کی گمشدہ چیز ہے اسے حاصل کرو ,اگرچہ منافق سے لینا پڑے
۸۱
ہرشخص کی قیمت وہ ہنر ہے ,جو اس شخص میں ہے
سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ ایک ایسا انمول جملہ ہے کہ نہ کوئی حکیمانہ بات اس کے ہم وزن ہو سکتی ہے ,اور نہ کوئی جملہ اس کا ہم پایہ ہوسکتا ہے
انسان کی حقیقی قیمت اس کا جوہر علم و کمال ہے .وہ علم و کمال کی جس بلندی پر فائز ہوگا ,اسی کے مطابق اس کی قدر و منزلت ہوگی چنانچہ جوہر شناس نگاہیں شکل و صورت ,بلندی قدو قامت اور ظاہری جاہ و حشمت کو نہیں دیکھتیں بلکہ انسان کے ہنر کو دیکھتی ہیں اور اسی ہنر کے لحاظ سے اس کی قیمت ٹھہراتی ہیں .مقصد یہ ہے کہ انسان کو اکتساب فضائل و تحصیل علم و دانش میں جدوجہد کرنا چاہیے.
۸۲
تمہیں ایسی پانچ باتوں کی ہدایت کی جاتی ہے. کہ اگر انہیں حاصل کرنے کے لیے اونٹوں کو ایڑ لگا کر تیز ہنگاؤ, تو وہ اسی قابل ہوں گی .تم میں سے کوئی شخص اللہ کے سوا کسی سے آس نہ لگائے اور اس کے گناہ کے علاوہ کسی شے سے خو ف نہ کھائے اور اگر تم میں سے کسی سے کوئی ایسی بات پوچھی جائے کہ جسے و ہ نہ جانتا ہو تو یہ کہنے میں نہ شرمائے کہ میں نہیں جانتا اور اگر کوئی شخص کسی بات کو نہیں جانتا تو اس کے سیکھنے میں شرمائے نہیں ,اور صبر و شکیبائی اختیار کرو کیونکہ صبر کو ایمان سے وہی نسبت ہے جو سر کو بدن سے ہوتی ہے.اگر سر نہ ہو تو بدن بیکار ہے ,یونہی ایمان کے ساتھ صبر نہ ہو تو ایمان میں کوئی خوبی نہیں
ہر کر اصبر نیست ایمان نیست
۸۳
ایک شخص نے آپ کی بہت زیادہ تعریف کی حالانکہ وہ آپ سے عقیدت و ارادت نہ رکھتا تھا ,تو آپ نے فرمایا جو تمہاری زبان ہر ہے میں اس سے کم ہوں اور جو تمہارے دل میں ہے اس سے زیادہ ہوں.
۸۴
تلوار سے بچے کھچے لوگ زیادہ باقی رہتے ہیں اور ان کی نسل زیادہ ہوتی ہے
۸۵
جس کی زبان پر کبھی یہ جملہ نہ آئے کہ “میں نہیں جانتا “.تو وہ چوٹ کھانے کی جگہو ں پر چوٹ کھا کر رہتا ہے
۸۶
بوڑھے کی رائے مجھے جوان کی ہمت سے زیادہ پسند ہے (ایک روایت میں یوں ہے کہ بوڑھے کی رائے مجھے جوان کے خطرہ میں ڈٹے رہنے سے زیادہ پسند ہے )
۸۷
اس شخص پر تعجب ہوتا ہے کہ جو توبہ کی گنجائش کے ہوتے ہوئے مایوس ہو جائے
۸۸
ابو جعفر محمد ابن علی الباقر علیہ السلام نے روایت کی ہے کہ امیرالمومنین علیہ السّلام نے فرمایا
دنیا میں عذاب خدا سے دو چیزیں باعث امان تھیں ایک ان میں سے اٹھ گئی ,مگر دوسری تمہارے پاس موجود ہے .لہٰذا اسے مضبوطی سے تھامے رہو .وہ امان جو اٹھالی گئی وہ رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم تھے اور وہ امان جو باقی رہ گئی ہے وہ توبہ و استغفار ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ نے فرمایا.”اللہ لوگوں پر عذاب نہیں کرے گا جب تک تم ان میں موجود ہو “.اللہ ان لوگوں پر عذاب نہیں اتارے گا ,جب کہ یہ لوگ توبہ و استغفار کررہے ہوں گے
سید رضی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں کہ یہ بہترین استخراج اور عمد ہ نکتہ آفرینی ہے
۸۹
جس نے اپنے اور اللہ کے مابین معاملات کو ٹھیک رکھا ,تو اللہ اس کے اور لوگوں کے معاملات سلجھائے رکھے گا اور جس نے اپنی آخرت کو سنوار لیا .تو خدا اس کی دنیا بھی سنوار دے گا اور جو خود اپنے کو وعظ و پند کرلے ,تو اللہ کی طرف سے اس کی حفاظت ہوتی رہے گی.
۹۰
پورا عالم و دانا وہ ہے جو لوگوں کو رحمت خدا سے مایو س او ر اس کی طرف سے حاصل ہونے والی آسائش و راحت سے نا امید نہ کرے ,اور نہ انہیں اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن کر دے
۹۱
یہ دل بھی اسی طرح اکتا جاتے ہیں جس طرح بدن اکتا جاتے ہیں۔لہٰذا (جب ایسا ہوتو)ان کے لیے لطیف حکیمانہ نکات تلاش کرو۔
۹۲
وہ علم بہت بے قدروقیمت ہے جو زبان تک رہ جائے، اور وہ علم بہت بلند مرتبہ ہے جو اعضا و جوارح سے نمودار ہو.
۹۳
تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ “اے اللہ! میں تجھ سے فتنہ و آزمائش سے پناہ چاہتا ہوں اس لیے کہ کوئی شخص ایسا نہیں جو فتنہ کی لپیٹ میں نہ ہو، بلکہ جو پناہ مانگے وہ گمراہ کرنے والے فتنوں سے پناہ مانگے کیونکہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے اور اس بات کو جانے رہو کہ تمہارا مال اور اولاد فتنہ ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ لوگوں کومال اور اولاد کے ذریعے آزماتا ہے تاکہ یہ ظاہر ہو جائے کہ کون اپنی قسمت پر شاکرہے اگرچہ اللہ سبحانہ ان کو اتنا جانتا ہے کہ وہ خود بھی اپنے کو اتنا نہیں جانتے۔لیکن یہ آزمائش اس لیے ہے کہ وہ افعال سامنے آئیں جن سے ثواب و عذاب کا استحقاق پیدا ہوتا ہے کیونکہ بعض اولاد نرینہ کو چاہتے ہیں، اور لڑکیوں سے کبیدہ خاطر ہوتے ہیں اور بعض مال بڑھانے کو پسند کرتے ہیں اور بعض شکستہ حالی کو برا سمجھتے ہیں۔
سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ ان عجیب و غریب باتوں میں سے ہے جو تفسیر کے سلسلہ میں آپ سے وارد ہوئی ہیں۔
۹۴
آپ سے دریافت کیا گیا کہ نیکی کیاچیز ہے توآپ نے فرمایا کہ نیکی یہ نہیں کہ تمہارے مال و اولاد میں فراوانی ہوجائے۔بلکہ خوبی یہ ہے کہ تمہارا علم زیادہ اور حلم بڑا ہو، اور تم اپنے پروردگار کی عباد ت پر ناز کرسکو اب اگر اچھا کام کرو۔تو اللہ کا شکر بجالاؤ، اور اگر کسی برائی کا ارتکاب کرو۔تو توبہ و استغفار کرو، اور دنیا میں صرف دو شخصوں کے لیے بھلائی ہے۔ایک و ہ جو گناہ کرے تو توبہ سے سے اس کی تلافی کرے اور دوسرا وہ جو نیک کام میں تیز گام ہو.
۹۵
جو عمل تقوی ٰ کے ساتھ انجام دیا جائے وہ تھوڑا نہیں سمجھا جاسکتا، اور مقبول ہونے والا عمل تھوڑ اکیونکر ہوسکتا ہے ؟
۹۶
انبیاء سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو ان کی لائی ہوئی چیزوں کازیادہ علم رکھتے ہوں (پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی)ابراہیم سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کی تھی جو ان کے فرمانبردار تھے۔اور اب اس نبی اور ایمان لانے والوں کو خصوصیت ہے۔(پھرفرمایا)حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوست وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کرے اگرچہ ان سے کوئی قرابت نہ رکھتا ہو، اور ان کا دشمن وہ ہے جو اللہ کی نافرمانی کرے، اگرچہ نزدیکی قرابت رکھتا ہو۔
۹۷
ایک خارجی کے متعلق آپ علیہ السّلام نے سنا کہ وہ نماز شب پڑھتا ہے اور قرآن کی تلاوت کرتا ہے توآپ نے فرمایا یقین کی حالت میں سونا شک کی حالت میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔
۹۸
جب کوئی حدیث سنو تو اسے عقل کے معیار پر پرکھ لو,صرف نقل الفاظ پر بس نہ کرو، کیونکہ علم کے نقل کرنے والے تو بہت ہیں اور اس میں غور کرنے والے کم ہیں۔
۹۹
ایک شخص کو انا للہ و انا الیہ راجعون,(ہم اللہ کے ہیں اور اللہ کی طرف پلٹنا ہے )کہتے سنا تو فرمایا کہ ہمارا یہ کہنا کہ “ہم اللہ کے ہیں “.اس کے مالک ہونے کا اعتراف ہے اور یہ کہنا کہ ہمیں اسی کی طرف پلٹنا ہے۔یہ اپنے لیے فنا کا اقرار ہے.
۱۰۰
کچھ لوگوں نے آپ علیہ السّلام کے روبرو آپ علیہ السّلام کی مدح و ستائش کی، تو فرمایا۔اے اللہ! تومجھے مجھ سے بھی زیادہ جانتا ہے، اور ان لوگوں سے زیادہ اپنے نفس کومیں پہچانتا ہوں۔اے خدا جو ان لوگوں کاخیال ہے ہمیں اس سے بہتر قرار دے اور ان (لغزشوں )کو بخش دے جن کا انہیں علم نہیں.
۱۰۱
حاجت روائی تین چیزوں کے بغیر پائدار نہیں ہوتی۔اسے چھوٹا سمجھاجائے تاکہ وہ بڑی قرار پائے اسے چھپایا جائے تاکہ وہ خود بخود ظاہر ہو، اور اس میں جلدی کی جائے تاکہ وہ خوش گوار ہوں۔
۱۰۲
لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جس میں وہی بارگاہوں میں مقرب ہوگا جو لوگوں کے عیوب بیان کرنے والا ہو, اور وہی خوش مذاق سمجھا جائے گا, جو فاسق و فاجر ہو اور انصا ف پسند کو کمزور و ناتواں سمجھا جائے گا صدقہ کو لوگ خسارہ اور صلہ رحمی کو احسان سمجھیں گے اور عبادت لوگوں پر تفو ق جتلانے کے لیے ہوگی۔ایسے زمانہ میں حکومت کا دارومدار عورتوں کے مشورے، نو خیز لڑکوں کی کار فرمائی اور خواجہ سراؤں کی تدبیر و رائے پر ہوگا.
۱۰۳
آپ کے جسم پر ایک بوسیدہ اور پیوند دار جامہ دیکھا گیا تو آپ سے اس کے بارے میں کہاگیا، آپ نے فرمایا !اس سے دل متواضع اور نفس رام ہوتا ہے اور مومن اس کی تاسی کرتے ہیں۔دنیا اورآخرت آپس میں دو ناساز گار دشمن اور دو جدا جدا راستے ہیں۔چنانچہ جو دنیا کو چاہے گا اور اس سے دل لگائے گا۔وہ دونوں بمنزلہ مشرق و مغرب کے ہیں اور ان دونوں سمتوں کے درمیان چلنے والا جب بھی ایک سے قریب ہوگا تو دوسرے سے دور ہونا پڑے گا۔پھر ان دونوں کا رشتہ ایسا ہی ہے جیسا دو سوتوں کاہوتا ہے۔
۱۰۴
نوف ابن فضالہ بکالی کہتے ہیں کہ میں نے ایک شب امیرالمومنین علیہ السلام کو دیکھاکہ وہ فرش خواب سے اٹھے ایک نظر ستاروں پر ڈالی اور پھر فرمایا اے نوف !سوتے ہو یا جاگ رہے ہو ؟میں نے کہا کہ یا امیرالمومنین علیہ السّلام جاگ رہا ہوں۔فرمایا ! اے نوف!
خوشانصیب ان کے کہ جنہوں نے دنیا میں زہد اختیار کیا، اور ہمہ تن آخرت کی طرف متوجہ رہے۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زمین کو فرش، مٹی کو بستر اور پانی کو شربت خوش گوار قرار دیا۔قرآن کو سینے سے لگایا اور دعا کو سپر بنایا. پھر حضرت مسیح کی طرح دامن جھاڑ کر دنیا سے الگ ہوگئے.
اے نوف ! داؤد علیہ السلام رات کے ایسے ہی حصہ میں اٹھے اور فرمایا کہ یہ وہ گھڑی ہے کہ جس میں بندہ جو بھی دعا مانگے مستجاب ہوگی سوا اس شخص کے جو سرکاری ٹیکس وصول کرنے والا، یا لوگوں کی برائیاں کرنے والا، یا ( کسی ظالم حکومت کی) پولیس میں ہو یا سارنگی یا ڈھول تاشہ بجانے والا ہو.
سید رضی کہتے ہیں کہ عرطبہ کے معنی سارنگی اورکوبہ کے معنی ڈھول کے ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ عرطبہ کے معنی ڈھول اور کوبہ کے معنی طنبورہ کے ہیں۔
۱۰۵
اللہ نے چند فرائض تم پرعائد کئے ہیں انہیں ضائع نہ کرو۔اورتمہارے حدود کار مقرر کر دیئے گئے ہیں ان سے تجاوز نہ کرو.اس نے چند چیز وں سے تمہیں منع کیا ہے اس کی خلاف ورزی نہ کرو، اور جن چند چیزوں کا اس نے حکم بیان نہیں کیا، انہیں بھولے سے نہیں چھوڑ دیا.لہٰذا خواہ مخواہ انہیں جاننے کی کوشش نہ کرو.
۱۰۶
جو لوگ اپنی دنیا سنوارنے کے لیے دین سے ہاتھ اٹھالیتے ہیں تو خدا اس دنیاوی فائدہ سے کہیں زیادہ ان کے لیے نقصان کی صورتیں پیدا کردیتا ہے۔
۱۰۷
بہت سے پڑھے لکھوں کو (دین سے) بے خبری تباہ کردیتی ہے اورجوعلم ان کے پاس ہوتا ہے انہیں ذرا بھی فائدہ نہیں پہنچاتا۔
۱۰۸
اس انسان سے بھی زیادہ عجیب وہ گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جو اس کی ایک رگ کے ساتھ آویزاں کردیاگیا ہے اور وہ دل ہے جس میں حکمت و دانائی کے ذخیرے ہیں اور اس کے برخلاف بھی صفتیں پائی جاتی ہیں اگر اسے امید کی جھلک نظر آتی ہے تو طمع اسے ذلت میں مبتلا کر تی ہے اور اگر طمع ابھرتی ہے تو اسے حرص تباہ وبرباد کردیتی ہے۔اگر ناامیدی اس پر چھا جاتی ہے تو حسرت و اندوہ اس کے لیے جان لیوا بن جاتے ہیں اور اگر غضب اس پر طاری ہوتا ہے تو غم و غصہ شدت اختیار کرلیتا ہے اور اگر خوش و خوشنود ہوتا ہے تو حفظ ماتقدم کو بھول جاتاہے اور اگر اچانک اس پر خوف طاری ہوتاہے تو فکر و اندیشہ دوسری قسم کے تصورات سے اسے روک دیتا ہے۔اگر امن امان کا دور دورہ ہوتا ہے تو غفلت اس پر قبضہ کرلیتی ہے اور اگر مال دولتمند ی اسے سرکش بنادیتی ہے اور اگر اس پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو بے تابی و بے قرار ی اسے رسوا کر دیتی ہے۔اور اگر فقر و فاقہ کی تکلیف میں مبتلا ہو۔تو مصیبت و ابتلاء اسے جکڑلیتی ہے اور اگر بھوک اس پر غلبہ کرتی ہے۔ ناتوانی اسے اٹھنے نہیں دیتی اور اگر شکم پری بڑھ جاتی ہے تو یہ شکم پری اس کے لیے کرب و اذیت کا باعث ہوتی ہے کوتاہی اس کے لیے نقصان رساں اور حد سے زیادتی اس کے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔
۱۰۹
ہم (اہلبیت )ہی وہ نقطہ اعتدال ہیں کہ پیچھے رہ جانے والے کو اس سے آکر ملنا ہے اور آگے بڑھ جانے والے کو اس کی طرف پلٹ کر آنا ہے۔
۱۱۰
حکم خدا کا نفاذ وہی کر سکتا ہے جو (حق معاملہ میں) نرمی نہ برتے عجز و کمزوری کا اظہار نہ کرے اور حرص و طمع کے پیچھے نہ لگ جائے۔
۱۱۱
سہل ابن حنیف انصار ی حضرت کو سب لوگو ں میں زیادہ عزیز تھے یہ جب آپ کے ہمراہ صفین سے پلٹ کر کوفہ پہنچے تو انتقال فرماگئے جس پر حضرت نے فرمایا.
اگر پہاڑبھی مجھے دوست رکھے گا تووہ بھی ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔
سید رضی فرماتے ہیں کہ چونکہ اس کی آزمائش کڑی اور سخت ہوتی ہے۔اس لیے مصیبتیں اس کی طرف لپک کر بڑھتی ہیں اور ایسی آزمائش انہی کی ہوتی ہے جو پرہیز گار نیکو کار منتخب و برگزیدہ ہوتے ہیں اور ایسا ہی آپ کا دوسرا ارشاد ہے۔
۱۱۲
جو ہم اہل بیت سے محبت کرے اسے جامہ فقر پہننے کے لیے آمادہ رہناچاہیے۔
سید رضی کہتے ہیں کہ حضرت کے اس ارشا د کے ایک اور معنی بھی کئے گئے ہیں جس کے ذکر کا یہ محل نہیں ہے۔
شاید اس روایت کے دوسرے معنی یہ ہوں کہ جو ہمیں دوست رکھتا ہے اسے دنیاطلبی کے لیے تگ و دو نہ کرنا چاہیے خواہ اس کے نتیجہ میں اسے فقر و افلاس سے دو چار ہونا پڑے بلکہ قناعت اختیار کرتے ہوئے دنیا طلبی سے الگ رہنا چاہیے۔
۱۱۳
عقل سے بڑھ کر کوئی مال سود مند اور خود بینی سے بڑھ کر کوئی تنہائی وحشتناک نہیں اور تدبر سے بڑھ کر کوئی عقل کی بات نہیں اور کوئی بزرگی تقویٰ کے مثل نہیں اور خوش خلقی سے بہتر کوئی ساتھی اور ادب کے مانند کوئی میراث نہیں اور توفیق کے مانند کوئی پیشرو اور اعمال خیر سے بڑھ کر کوئی تجارت نہیں اور ثواب کا ایسا کوئی نفع نہیں اور کوئی پرہیز گاری شبہات میں توقف سے بڑھ کر نہیں اور حرام کی طرف بے رغبتی سے بڑھ کر کوئی زہد اور تفکر اور پیش بینی سے بڑھ کر کوئی علم نہیں اور ادائے فرائض کے مانند کوئی عبادت اور حیا و صبر سے بڑھ کر کوئی ایمان نہیں اور فروتنی سے بڑھ کر کوئی سرفرازی نہیں اور علم کے مانند کوئی بزرگی وشرافت نہیں حلم کے مانند کوئی عزت اور مشورہ سے مضبوط کوئی پشت پناہ نہیں
۱۱۴
جب دنیا اور اہل دنیا میں نیکی کا چلن ہو، اور پھر کوئی شخص کسی ایسے شخص سے کہ جس سے رسوائی کی کوئی بات ظاہر نہیں ہوئی سؤِ ظن رکھے تو اس نے اس پر ظلم و زیادتی کی اور جب دنیا واہل دنیا پر شر و فساد کا غلبہ ہو اور پھر کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے حسن ظن رکھے تو اس نے (خود ہی اپنے کو ) خطرے میں ڈالا.
۱۱۵
امیر المومنین علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ آپ علیہ السّلام کا حال کیسا ہے ؟ تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا کہ ا س کا حال کیا ہوگا جسے زندگی موت کی طرف لیے جارہی ہو، اور جس کی صحت بیماری کا پیش خیمہ ہو اور جسے اپنی پناہ گاہ سے گرفت میں لے لیا جائے۔
۱۱۶
کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہیں نعمتیں دے کر رفتہ رفتہ عذاب کا مستحق بنایا جاتا ہے اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ کی پردہ پوشی سے دھوکا کھائے ہوئے ہیں اور اپنے بارے میں اچھے الفاظ سن کر فریب میں پڑ گئے ہیں اور مہلت دینے سے زیادہ اللہ کی جانب سے کوئی بڑی آزمائش نہیں ہے۔
۱۱۷
میرے بارے میں دو قسم کے لوگ تباہ و برباد ہوئے۔ایک وہ چاہنے والا جو حد سے بڑھ جائے اور ایک وہ دشمنی رکھنے والا جو عداوت رکھے۔
۱۱۸
موقع کو ہاتھ سے جانے دینا رنج و اندوہ کا باعث ہوتا ہے۔
۱۱۹
دنیا کی مثال سانپ کی سی ہے جو چھونے میں نرم معلوم ہوتا ہے مگر اس کے اندر زہر ہلاہل بھرا ہوتا ہے، فریب خوردہ جاہل اس کی طرف کھینچتا ہے اور ہوشمند و دانا اس سے بچ کر رہتا ہے۔
۱۲۰
حضرت سے قریش کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ (قبیلہ)بنی مخزوم قریش کا مہکتا ہوا پھول ہیں، ان کے مردوں سے گفتگو اور ان کی عورتوں سے شادی پسندیدہ ہے اور بنی عبد شمس دور اندیش اور پیٹھ پیچھے کی اوجھل چیزوں کی پوری روک تھا م کرنے والے ہیں لیکن ہم (بنی ہاشم )توجو ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے اسے صرف کر ڈالتے ہیں، اور موت آنے پر جان دیتے ہیں۔ بڑے جوانمرد ہوتے ہیں اور یہ بنی (عبد شمس )گنتی میں زیادہ حیلہ باز اور بدصورت ہوتے ہیں اور ہم خوش گفتار خیر خواہ اور خوب صورت ہوتے ہیں۔
۱۲۱
ان دونوں قسم کے عملوں میں کتنا فرق ہے ایک وہ عمل جس کی لذت مٹ جائے لیکن اس کا وبال رہ جائے اور ایک وہ جس کی سختی ختم ہوجائے لیکن اس کا اجر وثواب باقی رہے
۱۲۲
حضرت ایک جنازہ کے پیچھے جارہے تھے کہ ایک شخص کے ہنسنے کی آواز سنی جس پر آپ نے فرمایا.
گویا اس دنیا میں موت ہمارے علاوہ دوسروں کے لیے لکھی گئی ہے او رگویا یہ حق (موت )دوسروں ہی پر لاز م ہے اور گویا جن مرنے والوں کو ہم دیکھتے ہیں ,وہ مسافر ہیں جو عنقریب ہماری طرف پلٹ آئیں گے .ادھر ہم انہیں قبروں میں اتارتے ہیں ادھر ان کا ترکہ کھانے لگتے ہیں گویا ان کے بعد ہم ہمیشہ رہنے والے ہیں .پھر یہ کہ ہم نے ہر پندو نصیحت کرنے والے کو وہ مرد ہو یا عور ت بھلا دیا ہے اور ہر آفت کا نشانہ بن گئے ہیں
۱۲۳
خوشانصیب اس کے کہ جس نے اپنے مقام پر فروتنی اختیا ر کی جس کی کمائی پاک و پاکیزہ نیت نیک اورخصلت و عادت پسندیدہ رہی جس نے اپنی ضرورت سے بچا ہو امال خداکی راہ میں صرف کیا بے کار باتوں سے اپنی زبان کو روک لیا ,مردم آزادی سے کنارہ کش رہا ,سنت اسے ناگوار نہ ہوئی اور بدعت کی طرف منسوب نہ ہوا
سید رضی کہتے ہیں
کہ کچھ لو گوں نے اس کلام کو اور اس سے پہلے کلام کو رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کیا ہے
۱۲۴
عورت کا غیر ت کر نا کفر ہے ,اور مرد کا غیور ہونا ایمان ہے
مطلب یہ ہے کہ جب مر دکو چار عورتیں تک کر نے کی اجازت ہے تو عورت کا سوت گوارا نہ کر نا حلال خدا سے ناگواری کا اظہار اور ایک طرح سے حلال کو حرام سمجھنا ہے اور یہ کفر کے ہمپایہ ہے ,اور چونکہ عورت کے لیے متعدد شوہر کرنا جائز نہیں ہے ,اس لیے مرد کا اشتراک گوارا نہ کرنا اس کی غیرت کا تقاضا اور حرام خدا کو حرام سمجھنا ہے اور یہ ایمان کے مترادف ہے
مردوعورت میں یہ تفریق اس لیے ہے تاکہ تولید و بقائے نسل انسانی میں کوئی روک پیدا نہ ہو ,کیونکہ یہ مقصد اسی صورت میں بدرجہ اتم حاصل ہوسکتا ہے جب مرد کے لیے تعددازواج کی اجازت ہو ,کیونکہ ایک مرد سے ایک ہی زمانہ میں متعدد اولادیں ہوسکتی ہیں اور عور ت اس سے معذورو قاصر ہے کہ وہ متعدد مردوں کے عقد میں آنے سے متعدد اولادیں پیدا کرسکے .کیونکہ زمانہ حمل میں دوبارہ حمل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا .اس کے علاوہ اس پر ایسے حالات بھی طاری ہوتے رہتے ہیں کہ مرد کو اس سے کنارہ کشی اختیا ر کرنا پڑتی ہے چنانچہ حیض اور رضاعت کا زمانہ ایساہوتاہی ہے جس سے تولید کا سلسلہ رک جاتا ہے اور اگرمتعدد ازواج ہونگی تو سلسلہ تولید جاری رہ سکتا ہے کیونکہ متعدد بیویوں میں سے کوئی نہ کوئی بیوی ان عوارض سے خالی ہوگی جس سے نسل انسانی کی ترقی کا مقصد حاصل ہوتا رہے گا کیونکہ
مرد کے لیے ایسے مواقع پیدا نہیں ہوتے کہ جو سلسلہ تولید میں روک بن سکیں .اس لیے خدا وند عالم نے مردوں کے لیے تعدد ازواج کو جائز قرار دیا ہے ,اور عورتوں کے لیے یہ صورت رکھی کہ وہ بوقت واحد متعدد مردوں کے عقد میں آئیں .کیونکہ ایک عورت کا کئی شوہر کرنا غیرت و شرافت کے بھی منافی ہے اور اس کے علاوہ ایسی صورت میں نسب کی بھی تمیز نہ ہوسکے گی کہ کون کس کی صلب سے ہے چنانچہ امام رضا علیہ السلام سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے کہ مر دایک وقت میں چار بیویا ںتک کر سکتا ہے اور عورت ایک وقت میں ایک مرد سے زیادہ شوہر نہیں کرسکتی
حضرت نے فرمایا کہ مرد جب متعدد عورتوں سے نکاح کر ے گا تو اولاد بہرصورت اسی کی طرف منسوب ہوگی اور اگر عورت کے دو ۲یا دو سے زیادہ شوہر ہوں گے تو یہ معلوم نہ ہوسکے گا کہ کو ن کس کی اولاد اور کس شوہر سے ہے لہٰذا یسی صورت میں نسب مشتبہ ہو کر رہ جائے گا اور صحیح باپ کی تعیین نہ ہوسکے گی .اور امر اس مولود کے مفاد کے بھی خلاف ہوگا .کیونکہ کوئی بھی بحیثیت باپ کے اس کی تربیتکی طرف متوجہ نہ ہوگا جس سے وہ اخلاق و آداب سے بے بہرہ اور تعلیم و تربیت سے محروم ہوکر رہ جائے گا
۱۲۵
میں اسلام کی ایسی صحیح تعریف بیان کر تا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نے بیان نہیں کی .اسلام سر تسلیم خم کر نا ہے اور سر تسلیم جھکانا یقین ہے اور یقین تصدیق ہے اور تصدیق اعتراف فرض کی بجاآوری ہے اور فرض کی بجاآوری عمل ہے
۱۲۶
مجھے تعجب ہوتا ہے بخیل پر کہ وہ جس فقرو ناداری سے بھاگنا چاہتا ہے ,ا س کی طرف تیزی سے بڑھتا ہے اور جس ثروت و خوش حالی کا طالب ہوتا ہے وہی اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے وہ دنیا میں فقیروں کی سی زندگی بسر کرتا ہے اورآخرت میں دولت مندوں کا سا اس سے محاسبہ ہوگا ,اور مجھے تعجب ہوتا ہے .متکبر و مغرور پر کہ جس کل ایک نطفہ تھا ,او ر کل کو مردا ر ہوگا .اور مجھے تعجب ہے اس پر جو اللہ کی پیدا کی ہوئی کائنات کو دیکھتا ہے اورپھر اس کے وجود میں شک کرتا ہے اور تعجب ہے اس پر جو مرنے والوں کو دیکھتا ہے اور پھر موت کو بھولے ہوئے ہے .اور تعجب ہے اس پر کہ جو پہلی پیدائش کو دیکھتا ہے اور پھر دوبارہ اٹھاءے جانے سے انکار کرتاہے اور تعجب ہے ا س پر جو سرائے فانی کو آباد کرتا ہے اور منزل جاودانی کو چھوڑ دیتا ہے
۱۲۷
جو عمل میں کوتاہی کرتا ہے ,وہ رنج و اندوہ میں مبتلا رہتا ہے اور جس کے مال و جان میں اللہ کا کچھ حصہ نہ ہو اللہ کو ایسے کی کوئی ضرورت نہیں
۱۲۸
شروع سردی میں سردی سے احتیاط کرو اور آخر میں اس کاخیر مقدم کر و ,کیونکہ سردی جسموں میں وہی کرتی ہے ,جو وہ درختو ں میں کرتی ہے کہ ابتدائ میں درختوں کو جھلس دیتی ہے ,اور انتہا میں سرسبز و شاداب کرتی ہے.
موسم خزاں میں سردی سے بچاؤاس لیے ضروری ہے کہ موسم کی تبدیلی سے مزاج میں انحراف پیدا ہوجاتا ہے ,اور نزلہ و زکام اور کھانسی وغیرہ کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے .وجہ یہ ہوتی ہے کہ بد ن گرمی کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں کہ ناگا ہ سردی سے دوچار ہونا پڑتا ہے جس سے دماغ کے مسامات سکڑجاتے ہیں ,اور مزاج میں برودت و پیوست بڑھ جاتی ہے چنانچہ گرم پانی سے غسل کرنے کے بعد فورا ًٹھنڈے پانی سے نہانا اسی لیے مضر ہے کہ گرم پانی سے مسامات کھل چکے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ پانی کے اثرات کو فوراًقبول کرلیتے ہیں
اور نتیجہ میں حرارت غریزی کو نقصان پہنچتا ہے البتہ موسم بہار میں سردی سے بچاؤ کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ وہ صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے کیونکہ پہلے ہی سے سردی کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں اس لیے بہار کی معتدل سردی بدن پر ناخوشگوار اثرنہیں ڈالتی ,بلکہ سردی کا زور ٹوٹنے سے بدن میں حرارت و رطوبت بڑھ جاتی ہے جس سے نشوونما میں قوت آتی ہے ,حرارت غزیری ابھرتی ہے اور جسم میں نمو طبیعت میں شگفتگی اور روح میں بالیدگی پیدا ہوتی ہے
اسی طرح عالم نباتا ت پر بھی تبدیلی موسم کا یہی اثر ہوتا ہے چنانچہ موسم خزاں میں برودت و پیوست کے غالب آنے سے پتے مرجھا جاتے ہیں روح نباتاتی افسردہ ہو جاتی ہے ,چمن کی حسن و تازگی مٹ جاتی ہے اور سبزہ زاروں پر موت کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور موسم بہار ان کے لیے زندگی کا پیغام لے کر آتا ہے او ربار آور ہواؤں کے چلنے سے پتے اور شگوفے پھوٹنے لگتے ہیں اور شجر سر سبز و شاداب اور دشت و صحرا سبزہ پوش ہوجاتے ہیں
۱۲۹
اللہ کی عظمت کا احساس تمہاری نظروں میں کائنات کو حقیر و پست کردے.
۱۳۰
صفین سے پلٹتے ہوئے کوفہ سے باہر قبرستان پر نظر پڑی تو فرمایا:
اے وحشت افزا گھروں ,اجڑے مکانوں اور اندھیری قبروں کے رہنے والو!اے خاک نشینو !اے عالم غربت کے ساکنوں اے تنہائی اور الجھن میں بسر کرنے والو !تم تیز رو ہو جو ہم سے آگے بڑھ گئے ہو اور ہم تمہارے نقش قدم پر چل کر تم سے ملا چاہتے ہیں .اب صورت یہ ہے کہ گھروں میں دوسرے بس گئے ہیں بیویوں سے اوروں نے نکاح کر لیے ہیں اور تمہار ا مال و اسباب تقسیم ہوچکا ہے یہ تو ہمارے یہاں کی خبر ہے .اب تمہارے یہاں کی کیا خبر ہے.
(پھر حضرت اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا)اگر انہیں بات کرنے کی اجازت دی جائے .تو یہ تمہیں بتائیں گے کہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے
۱۳۱
ایک شخص کو دنیا کی برائی کرتے ہوئے سنا تو فرمایا !اے دنیا کی برائی کرنے والے اس کے فریب میں مبتلا ہو نے والے !اور غلط سلط باتوں کے دھوکے میں آنے والے !تم اس پر گرویدہ بھی ہوتے ہو ,اور پھر اس کی مذمت بھی کرتے ہو .کیا تم دنیا کو مجرم ٹھہرنے کا حق رکھتے ہو؟یا وہ تمہیں مجرم ٹھہرائے تو حق بجانب ہے ؟دنیا نے کب تمہارے ہوش وحواس سلب کئے اور کس بات سے فریب دیا ؟کیا ہلاکت و کہنگی سے تمہارے باپ دادا کے بے جان ہو کر گر نے سے یا مٹی کے نیچے تمہاری ماؤں کی خواب گاہوں سے ؟کتنی تم نے بیماروں کی دیکھ بھال کی ,اور کتنی دفعہ تو خود تیمار دار ی کی اس صبح کو کہ جب نہ دوا کارگر ہوتی نظر آتی تھی ,اور نہ تمہارا رونا دھونا ان کے لیے کچھ مفید تھا تم ان کے لیے شفا کے خواہشمند تھے اور طبیبوں سے دوا دارو پوچھتے پھرتے تھے ان میں سے کسی ایک کے لیے بھی تمہارا اندیشہ فائدہ مند ثابت نہ ہو سکا اور تمہارا اصل مقصد حاصل نہ ہوا اوراپنی چارہ سازی سے تم موت کو ا س بیمار سے نہ ہٹا سکے تو دنیا نے تو اس کے پردے میں خود تمہار ا انجا م اور اس کے ہلاک ہونے سے خود تمہاری ہلاکت کا نقشہ تمہیں دکھایا دیا بلاشبہ دنیا اس شخص کے لیے جو باور کرے ,سچائی کا گھر ہے اور جو اس کی ان باتوں کو سمجھے اس کے لیے امن و عافیت کی منزل ہے اور اس سے زادراہ حاصل کرلے ,اس کے لیے دولتمندی کی منزل ہے اور جو اس سے نصیحت حاصل کر ے ,اس کے لیے وعظ ونصیحت کا محل ہے .وہ دوستان خدا کے لیے عبادت کی جگہ ,اللہ کے فرشتوں کے لیے نماز پڑھنے کا مقام وحی الہی کی منزل اور اولیاء اللہ کی تجارت گاہ ہے انہوں نے اس میں فضل و رحمت کا سودا کیا اور اس میں رہتے ہوئے جنت کو فائدہ میں حاصل کیا تو اب کون ہے جو دنیا کی برائی کرے ,جب کہ اس نے اپنے جدا ہونے کی اطلاع دے دی ہے چنانچہ اس نے اپنی ابتلاء سے ابتلائ کا پتہ دیا ہے اور اپنی مسرتوں سے آخرت کی مسرتو ں کا شوق دلایا ہے ,وہ رغبت دلانے اور ڈرانے خوفزدہ کرنے اور متنبہ کرنے کے لیے شام کو امن و عافیت کا اور صبح کو درد و اندوہ کا پیغام لے کر آتی ہے توجن لوگوں نے شرمسار ہوکر صبح کی وہ اس کی برائی کرنے لگے .اور دوسرے لوگ قیامت کے دن اس کی تعریف کریں گے کہ دنیا نے ان کو آخرت کی یاد دلائی تو انہو ں نے یاد رکھا اور اس نے انہیں خبر دی تو انہوں نے تصدیق کی اور اس نے انہیں پند و نصیحت کی تو انہوں نے نصیحت حاصل کی
ہر متکلم و خطیب کی زبان منجے ہوئے موضوع پر زور بیان دکھایاکرتی ہے اور اگر سے موضوع سخن بدلنا پڑے تو نہ ذہن کا م کرے گا اور نہ زبان کی گویائی ساتھ دے گی ,مگر جس کے ذہن میں صلاحیت تصرف اور دماغ میں قوت و فکر ہو ,وہ جس طرح چاہے کلام کو گردش دے سکتا ہے اور جس موضوع پر چاہے “قادر الکلامی”کے جو ہر دکھاسکتا ہے .چنانچہ وہ زبان جو ہمیشہ دنیا کی مذمت اور اس کی فریب کار یوں کو بے نقاب کرنے میں کھلتی تھی جب اس کی مدح میں کھلتی ہے تو وہی قدرت کلام و قوت استدلال نظر آتی ہے جو اس زبان کا طرہ امتیاز ہے اور پھر الفاظ کو توصیفی سانچہ میں ڈھالنے سے نظر یہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہو تی اور راہوں کے الگ الگ ہونے کے با وجود منزلگہ مقصود ایک ہی رہتی ہے
۱۳۲
اللہ کا ایک فرشتہ ہر روز یہ ندا کر تا ہے .کہ موت کے لیے اولاد پیدا کرو ,برباد ہونے کے لیے جمع کرو اور تباہ ہونے کے لیے عمارتیں کھڑی کرو
۱۳۳
“دنیا “اصل منز ل قرار کے لیے ایک گزرگاہ ہے .اس میں دو ۲قسم کے لوگ ہیں :ایک وہ جنہوں نے اس میںاپنے نفس کو بیچ کر ہلاک کر دیا اورایک وہ جنہوں نے اپنے نفس کو خریدکرآزاد کردیا.
۱۳۴
دوست اس وقت تک دوست نہیں سمجھا جاسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کی تین موقعوں پر نگہداشت نہ کرے , مصیبت کے موقع پر اس کے پس پشت اور اس کے مرنے کے بعد :.
۱۳۵
جس شخص کو چار چیزیں عطا ہوئی ہیں وہ چار چیزوں سے محروم نہیں رہتا ,جو دعا کرے وہ قبولیت سے محروم نہیں ہوتا جسے توبہ کی توفیق ہو ,وہ مقبولیت سے ناامید نہیں ہوتا جسے استغفار نصیب ہو وہ مغفرت سے محروم نہیں ہوتا .اور جوشکرکرے وہ اضافہ سے محروم نہیں ہوتا اور اس کی تصدیق قرآن مجید سے ہوتی ہے .چنانچہ دعا کے متعلق ارشاد الہی ہے:تم مجھ سے مانگو میں تمہاری دعا قبول کروںگا .اور استغفار کے متعلق ارشاد فرمایا ہے .جو شخص کوئی برا عمل کرے یا اپنے نفس پر ظلم کرے پھر اللہ سے مغفرت کی دعا مانگے تو وہ اللہ کو بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا پائے گا .اور شکر کے بارے میں فرمایا ہے اگر تم شکر کرو گے تو میں تم پر (نعمت میں )اضافہ کروں گا .اور توبہ کے لیے فرمایا ہے .اللہ ان ہی لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے جو جہالت کی بناء پر کوئی بری حرکت نہ کر بیٹھیں پھر جلدی سے توبہ کر لیں تو خدا ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور خدا جاننے والا اور حکمت والاہے
۱۳۶
نماز ہر پرہیز گار کے لیے باعث تقرب ہے اور حج ہر ضعیف و ناتواں کا جہاد ہے .ہر چیز کی زکوٰۃ ہوتی ہے ,اور بدن کی زکوٰۃ روزہ ہے اور دعوت کا جہاد شوہر سے حسن معاشرت ہے
۱۳۷
صدقہ کے ذریعہ روزی طلب کرو
۱۳۸
جسے عوض کے ملنے کا یقین ہو وہ عطیہ دینے میں دریا دلی دکھاتا ہے
۱۳۹
جتنا خرچ ہو .اتنی ہی امداد ملتی ہے
۱۴۰
جو میانہ روی اختیار کرتاہے وہ محتاج نہیں ہوتا
۱۴۱
متعلقین کی کمی دو قسموں میں سے ایک قسم کی آسودگی ہے
۱۴۲
میل محبت پیدا کر نا عقل کا نصف حصہ ہے
۱۴۳
غم آدھا بڑھاپا ہے
۱۴۴
مصیبت کے اندازہ پر اللہ کی طرف صبر کی ہمت حاصل ہوتی ہے .جو شخص مصیبت کے وقت ران پر ہاتھ مارے اس کا عمل اکارت ہوجاتا ہے
۱۴۵
بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں روزوں کا ثمرہ بھوک پیاس کے علاوہ کچھ نہیں ملتا اور بہت سے عابد شب زندہ دار ایسے ہیں جنہیں عبادت کے نتیجہ میں جاگنے اور زحمت اٹھانے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا .زیرک و دانا لوگوں کا سونا اور روزہ نہ رکھنا بھی قابل ستائش ہوتا ہے.
۱۴۶
صدقہ سے اپنے ایمان کی نگہداشت کرو ,او ر دعا سے مصیبت و ابتلائ کی لہروں کو دور کرو
۱۴۷
کمیل ابن زیاد نخعی کہتے ہیں کہ :
امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑا اور قبر ستان کی طرف لے چلے جب آبادی سے باہر نکلے تو ایک لمبی آہ کی .پھر فرمایا:
اے کمیل !یہ دل اسرار و حکم کے ظروف ہیں ان میں سب سے بہتر وہ ہے جو زیادہ نگہداشت کرنے والا ہو .لہٰذا تو جو میں تمہیں بتاؤں اسے یاد رکھنا
دیکھو!تین قسم کے لو گ ہوتے ہیں ایک عالم ربانی دوسرا متعلم کہ جو نجات کی راہ پر برقرار رہے اور تیسرا عوام الناس کا وہ پست گروہ ہے کہ جو ہر پکارنے والے کے پیچھے ہولیتا ہے اور ہر ہو اکے رخ پر مڑ جاتا ہے .نہ انہوں نے نور علم سے کسب ضیا کیا ,نہ کسی مضبوط سہارے کی پناہ لی
اے کمیل !یا د رکھو,کہ علم مال سے بہتر ہے (کیونکہ)علم تمہاری نگہداشت کرتا ہے اورمال کی تمہیں حفاظت کرنا پڑتی ہے اور مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے لیکن علم صرف کرنے سے بڑھتا ہے ,اورمال و دولت کے نتائج و اثرات مال کے فنا ہونے سے فنا ہوجاتے ہیں
اے کمیل !علم کی شناسائی ایک دین ہے کہ جس کی اقتدا کی جاتی ہے اسی سے انسان اپنی زندگی میں دوسروں سے اپنی اطاعت منواتا ہے اور مرنے کے بعد نیک نامی حاصل کرتا ہے .یاد رکھو کہ علم حاکم ہو تا ہے اور مال محکوم
اے کمیل !مال اکٹھا کرنے والے زندہ ہونے کے باوجود مردہ ہوتے ہیں اور علم حاصل کرنے والے رہتی دنیا تک باقی رہتے ہیں , بے شک ان کے اجسام نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں .مگر ان کی صورتیں دلوں میں موجود رہتی ہیں (اس کے بعد حضرت نے اپنے سینہ اقدس کی طر ف اشارہ کیا اورفرمایا)دیکھو!یہاں علم کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے کا ش اس کے اٹھانے والے مجھے مل جاتے ,ہاں ملا ,کوئی تو,یا ایسا جو ذہین تو ہے مگر ناقابل اطمینان ہے اور جودنیا کے لیے دین کو آلہ کا ر بنا نے والاہے اور اللہ کی ان نعمتوں کی وجہ سے اس کے بندوں پر اور اس کی حجتوں کی وجہ سے اس کے دوستوں پر تفوق و برتری جتلانے والا ہے .یا جو ارباب حق و دانش کا مطیع توہے مگر اس کے دل کے گوشوں میں بصیرت کی روشنی نہیں ہے ,بس ادھر ذرا سا شبہہ عارض ہو ا کہ اس کے دل میں شکوک و شبہات کی چنگاریاں بھڑکنے لگیں تو معلوم ہونا چاہیے کہ نہ یہ اس قابل ہے اور نہ وہ اس قابل ہے یا ایسا شخص ملتا ہے کہ جو لذتوں پر مٹا ہوا ہے اور بآسانی خواہش نفسانی کی راہ پر کھنچ جانے والا ہے یا ایسا شخص جو جمع آوری و ذخیر ہ اندوزی پر جان دیئے ہوءے ہے یہ دونوں بھی دین کے کسی امر کی رعایت و پاسداری کرنے والے نہیں ہیں ان دونوں سے انتہائی قریبی شباہت چرنے والے چوپائے رکھتے ہیں .اسی طرح تو علم کے خزینہ داروں کے مرنے سے علم ختم ہوجاتا ہے
ہا ں !مگر زمین ایسے فرد خالی نہیں رہتی کہ جو خد اکی حجت کو برقرا ر رکھتا ہے چاہے وہ ظاہر و مشہور ہو ا یا خائف و پنہاں تاکہ اللہ کی دلیلیں اور نشان مٹنے نہ پائیں اور وہ ہیں ہی کتنے اور کہاں پر ہیں -؟خدا کی قسم وہ تو گنتی میں بہت تھوڑے ہوتے ہیں ,اور اللہ کے نزدیک قدرومنزلت کے لحاظ سے بہت بلند .خدا وند عالم ان کے ذریعہ سے اپنی حجتوںاور نشانیوں کی حفاظت کرتا ہے .یہاں تک کہ وہ ان کو اپنے ایسوں کے سپرد کردیں اور اپنے ایسوں کے دلوں میںانہیں بودیں .علم نے انہیں ایک دم حقیقت و بصیرت کے انکشافات تک پہنچا دیا ہے .وہ یقین و اعتماد کی رو ح سے گھل مل گئے ہیں اور ان چیز وں کو جنہیں آرام پسند لوگوں نے دشوار قرار دے رکھا تھا اپنے لیے سہل و آسان سمجھ لیا ہے اور جن چیزوں سے جاہل بھڑک اٹھتے ہیں ان سے وہ جی لگائے بیٹھے ہیں .وہ ایسے جسموں کے ساتھ دنیامیں رہتے سہتے ہیں کہ جن کی روحیں ملائ اعلیٰ سے وابستہ ہیں یہی لوگ توزمین میں اللہ کے نائب اور اس کے دین کی طرف دعوت دینے والے ہیں .ہائے ان کی دید کے لیے میرے شوق کی فراوانی (پھر حضرت نے کمیل سے فرمایا)اے کمیل !(مجھے جو کچھ کہنا تھا کہہ چکا )اب جس وقت چاہو واپس جاؤ.
کمیل ابن زیاد نخعی رحمتہ اللہ اسرار امامت کے خزینہ دار اور امیرالمومنین کے خواص اصحاب میں سے تھے ,علم و فضل میں بلند مرتبہ اور زہد و درع میں امتیاز خاص کے حامل تھے .حضرت کی طرف سے کچھ عرصہ تک ہیت کے عامل رہے ۸۳ھجری میں ۹۰برس کی عمر میں حجاج ابن یوسف ثقفی کے ہاتھ سے شہید ہوئے اور بیرون کوفہ دفن ہوئے
۱۴۸
انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہو ا ہے
مطلب یہ ہے کہ انسان کی قدرو قیمت کا اندازہ اس کی گفتگو سے ہوجاتا ہے .کیونکہ ہر شخص کی گفتگو اس کی ذہنیواخلاقی حالت کی آئینہ دار ہوتی ہے جس سے اس کے خیالات و جذبات کا بڑی آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے .لہٰذا جب تک وہ خامو ش ہے اس کا عیب و ہنر پوشیدہ ہے اور جب انسان کی زبان کھلتی ہے تو اس کا جوہر نمایا ں ہوجاتا ہے
مرد پنہاں است در زیر زبان خوشیتن قیمت و قدرش نداتی تانیاءد در سخن
۱۴۹
جو شخص اپنی قدرو منزلت کو نہیں پہچانتا وہ ہلاک ہو جاتا ہے
۱۵۰
ایک شخص نے آپ سے پندو موعظت کی درخواست کی ,تو فرمایا!
تم کوان لوگوں میں سے نہ ہونا چاہیے کہ جو عمل کے بغیر حسن انجا م کی امید رکھتے ہیں اور امید یں بڑھاکر تو بہ کو تاخیر میں ڈال دیتے ہیں جو دنیا کے بارے میں زاہدوں کی سی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے اعمال دنیا طلبوں کے سے ہوتے ہیں .اگر دنیا انہیں ملے تو وہ سیر نہیں ہوتے اور اگر نہ ملے تو قناعت نہیں کرتے جو انہیں ملاہے اس پر شکر سے قاصر رہتے ہیں اور جو بچ رہا اس کے اضافہ کے خواہشمند رہتے ہیں دوسروں کو منع کرتے ہیں اور خود باز نہیں آتے اور دوسروں کو حکم دیتے ہیں ایسی باتوں کا جنہیں خود بجانہیں لاتے نیکوں کو دوست رکھتے ہیں مگر ان کے سے اعمال نہیں کرتے اور گنہگاروں سے نفرت و عناد رکھتے ہیں حالانکہ وہ خود انہی میں داخل ہیں اپنے گناہوں کی کثرت کے باعث موت کو برا سمجھتے ہیں مگر جن گناہوںکی وجہ سے موت کو ناپسند کرتے ہیں انہی پر قائم ہیں .اگر بیمار پڑتے ہیں تو پشیمان ہوتے ہیں جب بیماری سے چھٹکارا پاتے ہیں تواترانے لگتے ہیں .اور مبتلا ہوتے ہیں تو ان پر مایوسی چھا جاتی ہے .جب کسی سختی و ابتلا میں پڑتے ہیں تو لاچار و بے بس ہوکر دعائیں مانگتے ہیں اور جب فراخ دستی نصیب ہوتی ہے تو فریب میں مبتلا ہو کر منہ پھیر لیتے ہیں .ان کا نفس خیالی باتوں پر انہیں قابو میں لے آتا ہے اور وہ یقینی باتوں پر اسے نہیں دبالیتے .دوسروں کے لیے گناہ سے زیادہ خطرہ محسوس کرتے ہیں اور اپنے لیے اپنے اعمال سے زیادہ جزا کے متوقع رہتے ہیں .اگر مالدار ہوجاتے ہیں تو اترانے لگتے ہیں اور اگر فقیر ہوجاتے ہیں تو ناامید ہوجاتے ہیں اور سستی کرنے لگتے ہیں .جب عمل کرتے ہیں تو اس میں سستی کرتے ہیں اور جب مانگنے پرآتے ہیں تو اصرار میں حد سے بڑھ جاتے ہیں .اگر ان پر خواہش نفسانی کا غلبہ ہوتا ہے تو گناہ جلد سے جلد کرتے ہیں ,اور توبہ کو تعویق میں ڈالتے رہتے ہیں ,اگر کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو جماعت اسلامی کے خصوصی امتیازات سے الگ ہوجاتے ہیں .عبرت کے واقعات بیان کرتے ہیں مگر خود عبرت حاصل نہیں کرتے اور وعظ و نصیحت میں زور باندھتے ہیں مگر خود اس نصیحت کا اثر نہیں لیتے چنانچہ وہ بات کرنے میں تو اونچے رہتے ہیں .مگر عمل میں کم ہی کم رہتے ہیں .فانی چیزوں میں نفسی نفسی کرتے ہیں اور باقی رہنے والی چیزوں میں سہل انگاری سے کام لیتے ہیں وہ نفع کو نقصان اور نقصا ن کو نفع خیال کرتے ہیں .موت سے ڈرتے ہیں .مگر فرصت کا موقع نکل جانے سے پہلے اعمال میں جلدی نہیں کرتے .دوسرے کے ایسے گناہ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں جس سے بڑے گناہ کو خود اپنے لیے چھوٹا خیال کرتے ہیں .اور اپنی ایسی اطاعت کو زیادہ سمجھتے ہیں جسے دوسرے سے کم سمجھتے ہیں .لہٰذا وہ لوگوں پر معترض ہوتے ہیں اور اپنے نفس کی چکنی چپڑی باتوں سے تعریف کرتے ہیں .دولتمندوں کے ساتھ طرب ونشاط میں مشغول رہنا انہیں غریبوں کے ساتھ محفل ذکر میں شرکت سے زیادہ پسند ہے اپنے حق میں دوسرے کے حق میں اپنے خلاف حکم لگاتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں کرتے کہ دوسرے کے حق میں اپنے خلاف حکم لگائیں .اوروں کو ہدایت کرتے ہیں اور اپنے کو گمراہی کی راہ پر لگا تے ہیں وہ اطاعت لیتے ہیں اور خود نافرمانی کرتے ہیں او رحق پوراپور ا وصول کرلیتے ہیں مگر خود انہیں کرتے .وہ اپنے پروردگا ر کو نظر انداز کر کے مخلوق سے خو ف کھاتے ہیں اور مخلوقات کے بارے میں اپنے پروردگار سے نہیں ڈرتے
سید رضی فرماتے ہیں کہ اگر اس کتاب میں صرف ایک یہی کلام ہوتا تو کامیاب موعظہ اور موثر حکمت اور چشم بینا رکھنے والے کے لیے بصیرت اور نظر و فکر کرنے والے کے لیے عبرت کے اعتبار سے بہت کافی تھا
۱۵۱
ہر شخص کا ایک انجام ہے۔ اب خواہ وہ شیریں ہو یا تلخ۔
۱۵۲
ہر آنے والے کے لیے پلٹنا ہے اور جب پلٹ گیا تو جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔
۱۵۳
صبر کرنے والا ظفرو کامرانی سے محروم نہیں ہوتا، چاہے اس میں طویل زمانہ لگ جائے.
۱۵۴
کسی جماعت کے فعل پر رضا مند ہونے والا ایسا ہے جیسے اس کے کام میں شریک ہو۔ اور غلط کام میں شریک ہو نے والے پر دو گناہ ہیں۔ ایک اس پر عمل کرنے کا اور ایک اس پر رضا مند ہونے کا۔
۱۵۵
عہد و پیمان کی ذمہ داریوں کو ان سے وابستہ کرو جو میخوں کے ایسے (مضبوط) ہوں۔
۱۵۶
تم پر اطاعت بھی لازم ہے ان کی جن سے ناواقف رہنے کی بھی تمہیں معافی نہیں۔
خداوند عالم نے اپنے عدل و رحمت سے جس طرح دین کی طرف رہبری و رہنمائی کر نے کے لیے انبیاء کا سلسلہ جاری کیا اسی طرح سلسلہ نبوت کے ختم ہونے کے بعد دین کو تبدیلی و تحریف سے محفوظ رکھنے کے لیے امامت کا نفاذ کیا تاکہ ہر امام علیہ السّلام اپنے اپنے دور میں تعلیمات الہیہ کو خواہش پرستی کی زد سے بچا کر اسلام کے صحیح احکام کی رہنمائی کرتا رہے اور جس طرح شریعت کے مبلغ کی معرفت واجب اسی طرح شریعت کے محافظ کی بھی معرفت ضروری ہے اور جاہل کو اس میں معذور نہیں قراردیا جاسکتا۔ کیونکہ منصب امامت پر صدہا ایسے دلائل و شواہد موجود ہیں جن سے کسی بابصیرت کے لیے گنجائش انکار نہیں ہوسکتی چنانچہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:
جو شخص اپنے دور حیات کے امام کو نہ پہچانے اور دنیا سے اٹھ جائے، اس کی موت کفر و ضلالت کی موت ہے۔
ابن ابی الحدید نے بھی اس ذات سے کہ جس سے ناواقفیت و جہالت عذر مسمو ع نہیں بن سکتی حضرت کی ذات کو مراد لیا ہے اور ان کی اطاعت کا اعتراف اور منکر امامت کے غیر ناجی ہونے کا اقرار کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ:
جو شخص حضرت علی علیہ السلام کی امامت سے جاہل اور اس کی صحت و لزوم کا منکر ہو وہ ہمارے اصحاب کے نزدیک ہمیشہ کے لیے جہنمی ہے.نہ اسے نماز فائدہ دے سکتی ہے نہ روزہ۔ کیونکہ معرفت امامت ان بنیادی اصولوں میں شمار ہوتی ہے جو دین کے مسلمہ ارکان ہیں۔ البتہ ہم آپ کی امامت کے منکر کو کافر کے نام سے نہیں پکارتے بلکہ اسے فاسق خارجی اور بے دین وغیرہ کے ناموں سے یاد کرتے ہیں اور شیعہ ایسے شخص کو کافر سے تعبیر کرتے ہیں، اور یہی ہمارے اصحاب اور ان میں فر ق ہے۔ مگر صرف لفظی فرق ہے کوئی واقعی اور معنوی فرق نہیں ہے. (شرح ابن ابی الحدید، جلد ۴، صفحہ ۱۳۱۹)
۱۵۷
اگر تم دیکھو، تو تمہیں دکھایا جاچکا ہے اور اگر تم ہدایت حاصل کرو تو تمہیں ہدایت کی جاچکی ہے اور اگر سننا چاہو تو تمہیں سنایا جاچکا ہے۔
۱۵۸
اپنے بھائی کو شرمندہ احسان بنا کر سر زنش کرو اور لطف و کرم کے ذریعہ سے اس کے شر کو دور کرو۔
اگر برائی کا جواب برائی سے اور گالی کا جواب گالی سے دیا جائے، تواس سے دشمنی کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ اور اگر برائی سے پیش آنے والے کے ساتھ نرمی و ملائمت کا رویہ اختیار کیا جائے تو وہ بھی اپنا رویہ بدلنے پر مجبور ہوجائے گا۔ چنانچہ ایک دفعہ امام حسن علیہ السلام بازار مدینہ میں سے گزر رہے تھے کہ ایک شامی نے آپ کی جاذب نظر شخصیت سے متاثر ہوکر لوگوں سے دریافت کیا کہ یہ کو ن ہیں؟ اسے بتایا گیا کہ یہ حسن ابن علی علیہ السلام ہیں۔ یہ سن کر اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور آپ کے قریب آکر انہیں بر ا بھلا کہنا شروع کیا۔ مگر آپ خاموشی سے سنتے رہے جب وہ چپ ہوا توآپ علیہ السّلام نے فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے کہ تم یہاں نووارد ہو؟ اس نے کہا کہ ہاں ایسا ہی ہے۔ فرمایا کہ پھر تم میرے ساتھ چلو میرے گھر میں ٹھہرو، اگر تمہیں کوئی حاجت ہو گی تو میں اسے پورا کروں گا، اور مالی امداد کی ضرورت ہوگی تو مالی امداد بھی دوں گا۔ جب اس نے اپنی سخت و درشت باتوں کے جواب میں یہ نرم روی و خوش اخلاقی دیکھی، تو شرم سے پانی پانی ہو گیا اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتے ہوئے عفو کا طالب ہوا، اورجب آپ سے رخصت ہوا تو روئے زمین پر ان سے زیادہ کسی کی قدر و منزلت ا س کی نگاہ میں نہ تھی۔
اگر مرد ی احسن الی من اساء
۱۵۹
جوشخص بدنامی کی جگہوں پر اپنے کو لے جائے تو پھر اسے برا نہ کہے جو اس سے بدظن ہو.
۱۶۰
جو اقتدار حاصل کرلیتا ہے جانبدار ی کرنے ہی لگتا ہے۔
۱۶۱
جو خود رائی سے کام لے گا، وہ تباہ و برباد ہو گا اور جو دوسروں سے مشورہ لے گا وہ ان کی عقلوں میں شریک ہو جائے گا۔
۱۶۲
جو اپنے راز کو چھپائے رہے گا اسے پورا قابو رہے گا۔
۱۶۳
فقیری سب سے بڑی موت ہے۔
۱۶۴
جو ایسے کا حق ادا کرے کہ جو اس کا حق ادا نہ کرتا ہو، تو وہ اس کی پرستش کرتا ہے۔
۱۶۵
خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے۔
۱۶۶
اگر کوئی شخص اپنے حق میں دیر کرے تو اس پر عیب نہیں لگایا جاسکتا۔ بلکہ عیب کی بات یہ ہے کہ انسان دوسرے کے حق پر چھاپا مارے۔
۱۶۷
خود پسندی ترقی سے مانع ہوتی ہے.
جو شخص جویائے کمال ہوتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ ابھی وہ کمال سے عاری ہے، اس سے منزل کمال پر فائز ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ لیکن جو شخص اس غلط فہمی میں مبتلا ہو کہ وہ تمام و کمال ترقی کے مدارج طے کرچکا ہے وہ حصول کمال کے لیے سعی و طلب کی ضرورت محسوس نہیں کرے گا۔ کیونکہ وہ بزعم خود کمال کی تمام منزلیں ختم کرچکاہے اب اسے کوئی منزل نظرہی نہیں آتی کہ اس کے لیے تگ ودو کرے چنانچہ یہ خود پسند برخود غلط انسان ہمیشہ کمال سے محروم ہی رہے گا۔ اور یہ خود پسند ی اس کے لیے ترقی کی راہیں مسدود کردے گی۔
۱۶۸
آخرت کا مرحلہ قریب اور (دنیا میں) باہمی رفاقت کی مدت کم ہے۔
۱۶۹
آنکھ والے کے لیے صبح روشن ہوچکی ہے۔
۱۷۰
ترک گناہ کی منزل بعد میں مدد مانگنے سے آسان ہے۔
اول مرتبہ میں گناہ سے باز رہنا اتنا مشکل نہیں ہوتا، جتنا گناہ سے مانوس اور اس کی لذت سے آشنا ہونے کے بعد کیونکہ انسان جس چیز کا خو گر ہوجاتا ہے اس کے بجا لانے میں طبیعت پر بار محسوس نہیں کرتا۔ لیکن اسے چھوڑنے میں لوہے لگ جاتے ہیں اور جوں جوں عادت پختہ ہوتی جاتی ہے۔ ضمیر کی آواز کمزور پڑجاتی ہے اور توبہ میں دشواریاں حائل ہوجاتی ہیں۔ لہٰذا یہ کہہ کر دل کو ڈھارس دیتے رہنا کہ “پھر توبہ کر لیں گے “.اکثر بے نتیجہ ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ جب ابتداء میں گناہ سے دستبردار ہونے میں دشواری محسوس ہورہی ہے تو گناہ کی مدت کو بڑھا لے جانے کے بعد توبہ دشوار تر ہوجائے گی۔
۱۷۱
بسا اوقات ایک دفعہ کا کھانا بہت دفعہ کے کھانوں سے مانع ہوجاتا ہے۔
یہ ایک مثل ہے جو ایسے موقعوں پر استعمال ہوتی ہے جہاں کوئی شخص ایک فائدہ کے پیچھے اس طرح کھو جائے کہ اسے دوسرے فائدوں سے ہاتھ اٹھا لینا پڑے جس طرح وہ شخص کہ جو ناموافق طبع یا ضرورت سے زیادہ کھالے تو اسے بہت سے کھانوں سے محروم ہونا پڑتا ہے۔
۱۷۲
لوگ اس چیز کے دشمن ہوتے ہیں جسے نہیں جانتے۔
انسان جس علم وفن سے واقف ہوتا ہے اسے بڑی اہمیت دیتا ہے اور جس علم سے عاری ہوتاہے اسے غیر اہم قرار دے کر اس کی تنقیص و مذمت کرتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ جس محفل میں اس علم و فن پر گفتگو ہوتی ہے۔ اسے ناقابل اعتنا سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے جس سے وہ ایک طرح کی سبکی محسوس کرتا ہے اور یہ سبکی اس کے لیے اذیت کا باعث ہوتی ہے اور انسان جس چیز سے بھی اذیت محسوس کر ے گا اس سے طبعا ًنفرت کرے گا اور اس سے بغض رکھے گا۔ چنانچہ افلاطون سے دریافت کیا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ نہ جاننے والا جاننے والے سے بغض رکھتا ہے مگر جاننے والا نہ جاننے والے سے بغض و عناد نہیں رکھتا ؟اس نے کہا کہ چونکہ نہ جاننے والا اپنے اندر ایک نقص محسوس کرتا ہے اور یہ گمان کرتا ہے کہ جاننے والا اس کی جہالت کی بنا پر اسے حقیر و پست سمجھتا ہوگا جس سے متاثر ہوکر وہ اس سے بغض رکھتا ہے اور جاننے والا اس کی جہالت کے نقص سے بری ہوتا ہے اس لیے وہ یہ تصور نہیں کرتا کہ نہ جاننے والا اسے حقیر سمجھتا ہوگا۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں ہوتی کہ وہ اس سے بغض رکھے۔
۱۷۳
جو شخص مختلف رایوں کا سامنا کرتا ہے وہ خطا و لغزش کے مقاما ت کو پہچان لیتا ہے۔
۱۷۴
جو شخص اللہ کی خاطر سنان غضب تیز کرتا ہے، وہ باطل کے سورماؤں کے قتل پر توانا ہو جاتا ہے۔
جو شخص محض اللہ کی خاطر باطل سے ٹکرانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اسے خداوند عالم کی طرف سے تائید و نصرت حاصل ہوتی ہے اور کمزوری و بے سروسامانی کے باوجود باطل قوتیں اس کے عزم میں تزلزل اور ثبات قدم میں جنبش پیدا نہیں کرسکتیں اور اگر اس کے اقدام میں ذاتی غرض شریک ہو تو اسے بڑی آسانی سے اس کے ارادہ سے باز رکھا جاسکتاہے۔ چنانچہ سید نعمت جز ائری علیہ الرحمہ نے زہرا الربیع میں تحریر کیا ہے کہ ایک شخص نے کچھ لوگوں کو ایک درخت کی پرستش کرتے دیکھا تو اُس نے جذبہ دینی سے متاثر ہوکر اس درخت کو کاٹنے کا ارادہ کیا اور جب تیشہ لے کر آگے بڑھا تو شیطان نے اس کا راستہ روکا اور پوچھا کہ کیا ارادہ ہے؟ اس نے کہا کہ میں اس درخت کو کاٹناچاہتا ہوں تاکہ لوگ مشرکانہ طریق عبادت سے باز رہیں۔ شیطان نے کہا کہ تمہیں اس سے کیا مطلب وہ جانیں اور ا ن کاکام، مگر وہ اپنے ارادہ پر جما رہا جب شیطان نے دیکھا کہ یہ ایسا کرہی گزرے گا، تواس نے کہا کہ اگر تم واپس چلے جاؤ تو میں تمہیں چار درہم ہر روز دیا کروں گا۔ جو تمہیں بستر کے نیچے سے مل جایا کریں گے یہ سن کر اس کی نیت ڈانواں ڈول ہونے لگی اور کہا کہ کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ اس نے کہا کہ تجربہ کرکے دیکھ لو، اگر ایسا نہ ہو ا درخت کے کاٹنے کا موقع پھر بھی تمہیں مل سکتا ہے۔ چنانچہ وہ لالچ میں آکر پلٹ آیا اور دوسرے دن وہ درہم اسے بستر کے نیچے سے مل گئے۔ مگر دو چار روز کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔ اب وہ پھر طیش میں آیا۔ اور تیشہ لے کر درخت کی طرف بڑھا کہ شیطان نے آگے بڑھ کر کہا کہ اب تمہارے بس میں نہیں کہ تم اسے کاٹ سکو، کیونکہ پہلی دفعہ تم صرف اللہ کی رضامند ی حاصل کرنے کے لیے نکلے تھے اور اب چند پیسوں کی خاطر نکلے ہو۔ لہٰذا تم نے ہاتھ اٹھایا تو میں تمہاری گردن توڑ دوں گا۔ چنانچہ وہ بے نیل مرام پلٹ آیا۔
۱۷۵
جب کسی امر سے دہشت محسوس کرو تو اس میں پھاند پڑو، اس لیے کہ کھٹکا لگا رہنا اس ضرر سے کہ جس کا خوف ہے، زیادہ تکلیف دہ چیز ہے۔
۱۷۶
سر برآوردہ ہونے کا ذریعہ سینہ کی وسعت ہے۔
۱۷۷
بد کار کی سر زنش نیک کو اس کا بدلہ دے کر کرو۔
مقصد یہ ہے کہ اچھوں کو ان کی حسن کارکردگی کا پورا پورا صلہ دینا اور ان کے کارناموں کی بنا پر ان کی قدر افزائی کرنا بروں کو بھی اچھائی کی راہ پر لگا تا ہے۔ اور یہ چیز اخلاقی مواعظ اور تنبیہ و سرزنش سے زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے کیونکہ انسان طبعاً ان چیزوں کی طرف راغب ہوتا ہے جن کے نتیجہ میں اسے فوائد حاصل ہوں اور اس کے کانوں میں مدح و تحسین کے ترانے گونجیں۔
۱۷۸
دوسرے کے سینہ سے کینہ و شرکی جڑ اس طرح کاٹو کہ خود اپنے سینہ سے اسے نکال پھینکو.
اس جملہ کے دومعنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اگر تم کسی کی طرف سے دل میں کینہ رکھو گے تو وہ بھی تمہاری طرف سے کینہ رکھے گا۔ لہٰذا اپنے د ل کی کدورتوں کو مٹا کر اس کے دل سے بھی کدورت کو مٹا دو۔ کیونکہ دل دل کا آئینہ ہوتا ہے۔ جب تمہارے آئینہ دل میں کدورت کا زنگ باقی نہ رہے گا، تو اس کے دل سے بھی کدورت جاتی رہے گی اور اسی لیے انسان دوسرے کے دل کی صفائی کااندازہ اپنے دل کی صفائی سے بآسانی کرلیتا ہے۔ چنانچہ ایک شخص نے اپنے ایک دوست سے پوچھا کہ تم مجھے کتنا چاہتے ہو؟ اس نے جواب میں کہا سَل قَلبَکَ اپنے دل سے پوچھو.یعنی جتنا تم مجھے دوست رکھتے ہو اتنا ہی میں تمہیں دوست رکھتا ہوں۔
دوسرے معنی یہ ہیں کہ اگر یہ چاہتے ہو کہ دوسرے کو برائی سے روکو تو پہلے خود اس برائی سے باز آؤ. اس طرح تمہاری نصیحت دوسرے پر اثر انداز ہوسکتی ہے ورنہ بے اثر ہوکر رہ جائے گی۔
۱۷۹
ضد اور ہٹ دھرمی صحیح رائے کو دور کردیتی ہے۔
۱۸۰
لالچ ہمیشہ کی غلامی ہے۔
۱۸۱
کوتاہی کا نتیجہ شرمندگی اوراحتیاط و دور اندیشی کا نتیجہ سلامتی ہے.
۱۸۲
حکیمانہ بات سے خاموشی اختیار کرنے میں بھلائی نہیں جس طرح جہالت کی بات میں کوئی اچھائی نہیں۔
۱۸۳
جب دو مختلف دعوتیں ہوں گی, تو ان میں سے ایک ضرور گمراہی کی دعوت ہوگی۔
۱۸۴
جب سے مجھے حق دکھایا گیا ہے میں نے اس میں کبھی شک نہیں کیا۔
۱۸۵
نہ میں نے جھوٹ کہا ہے نہ مجھے جھوٹی خبر دی گئی ہے نہ میں خود گمراہ ہوا، نہ مجھے گمراہ کیا گیا۔
۱۸۶
ظلم میں پہل کرنے والا کل (مذامت سے) اپنا ہاتھ اپنے دانتوں سے کاٹتا ہوگا۔
۱۸۷
چل چلاؤقریب ہے۔
۱۸۸
جو حق سے منہ موڑ تا ہے، تباہ ہوجاتا ہے۔
۱۸۹
جسے صبر رہائی نہیں دلاتا، اسے بے تابی و بے قرار ی ہلاک کر دیتی ہے۔
۱۹۰
العجب کیا خلافت کا معیار بس صحابیت اور قرابت ہی ہے۔
سید رضی کہتے ہیں کہ اس مضمون کے اشعار بھی حضرت سے مروی ہیں جو یہ ہیں۔ اگر تم شوری کے ذریعہ لوگوں کے سیاہ و سفید کے مالک ہوگئے ہو تو یہ کیسے جب کہ مشورہ دینے کے حقدار افراد غیر حاضر تھے اور اگر قرابت کی وجہ سے تم اپنے حریف پر غالب آئے ہو تو پھر تمہارے علاوہ دوسر ا نبی کا زیادہ حقدار اور ان سے زیادہ قریبی ہے۔
۱۹۱
دنیا میں انسان موت کی تیر اندازی کا ہدف اور مصیبت و ابتلاء کی غارت گری کی جولانگاہ ہے جہاں ہر گھونٹ کے ساتھ اچھو اور ہر لقمہ میں گلو گیر پھندا ہے اور جہاں بندہ ایک نعمت اس وقت تک نہیں پاتا جب تک دوسری نعمت جدا نہ ہو جائے اور اس کی عمر کا ایک دن آتا نہیں جب تک کہ ایک دن اس کی عمر کا کم نہ ہوجائے ہم موت کے مددگار ہیں اور ہماری جانیں ہلاکت کی زد پر ہیں تو اس صورت میں ہم کہاں سے بقا کی امید کر سکتے ہیں جب کہ شب و روز کسی عمارت کو بلند نہیں کرتے مگر یہ کہ حملہ آور ہو کر جو بنایا ہے اسے گراتے اور جو یکجا کیا ہے اسے بکھیر تے ہوتے ہیں۔
۱۹۲
اے فرزند آدم علیہ السّلام! تو نے اپنی غذا سے جو زیادہ کمایا ہے اس میں دوسرے کا خزانچی ہے۔
۱۹۳
دلوں کے لیے رغبت و میلان، آگے بڑھنا اور پیچھے ہٹنا ہوتا ہے۔ لہٰذا ان سے اس وقت کام لو جب ان میں خواہش و میلان ہو، کیونکہ دل کو مجبور کرکے کسی کام پر لگایا جائے تو اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔
۱۹۴
جب غصہ مجھے آئے تو کب اپنے غصہ کو اتاروں کیا اس وقت کہ جب انتقام نہ لے سکوں اور یہ کہا جائے کہ صبر کیجئے۔ یا اس وقت کہ جب انتقام پر قدرت ہو اور کہا جائے کہ بہتر ہے درگزر کیجئے۔
۱۹۵
آپ کا گزر ہوا ایک گھورے کی طر ف سے جس پر غلاظتیں تھیں۔ فرمایا۔ یہ وہ ہے جس کے ساتھ بخل کرنے والوں نے بخل کیا تھا.ایک اور روایت میں ہے کہ اس موقع پر آپ نے فرمایا :یہ وہ ہے جس پر تم لوگ کل ایک دوسرے پر رشک کرتے تھے۔
۱۹۶
تمہار ا وہ مال اکارت نہیں گیا جو تمہارے لیے عبرت و نصیحت کا باعث بن جائے۔
جو شخص مال و دولت کھو کر تجربہ و نصیحت حاصل کرے اسے ضیاع مال کی فکر نہ کر نا چاہیے اور مال کے مقابلہ میں تجربہ کو گراں سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ مال تو یوں بھی ضائع ہوجاتا ہے مگر تجربہ آئندہ کے خطرات سے بچالے جاتا ہے۔ ایک عالم سے جو مالدار ہونے کے بعد فقیر و نادار ہوچکا تھا، پوچھا گیا کہ تمہارا مال کیا ہوا ؟ اس نے کہا کہ میں نے اس سے تجربات خرید لیے ہیں جو میرے لیے مال سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوئے ہیں۔ لہٰذا سب کچھ کھو دینے کے بعد بھی میں نقصان میں نہیں رہا ہوں۔
۱۹۷
یہ دل بھی اسی طرح تھکتے ہیں جس طرح بدن تھکتے ہیں۔ لہٰذا (جب ایسا ہو تو )ان کے لیے لطیف حکیمانہ جملے تلاش کرو
۱۹۸
جب خوار ج کا قول “لاَ حُکمَ اِلاَّ اللّٰہ “(حکم اللہ سے مخصوص ہے )سنا تو فرمایا :یہ جملہ صحیح ہے مگرجو اس سے مراد لیا جاتا ہے وہ غلط ہے۔
۱۹۹
بازاری آدمیوں کی بھیڑ بھاڑ کے بارے میں فرمایا: یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ مجتمع ہوں تو چھا جاتے ہیں۔ جب منتشر ہوں تو پہچانے نہیں جاتے۔ ایک قول یہ ہے کہ آپ نے فرمایا :کہ جب اکٹھا ہوتے ہیں تو باعث ضرر ہوتے ہیں اور جب منتشر ہوجاتے ہیں تو فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں لوگوں نے کہا کہ ہمیں ان کے مجتمع ہونے کا نقصان تو معلوم ہے مگر ان کے منتشر ہونے کا فائدہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ پیشہ ور اپنے اپنے کاروبار کی طرف پلٹ جاتے ہیں تو لوگ ان کے ذریعہ فائدہ اٹھاتے ہیں جیسے معمار اپنی (زیر تعمیر )عمار ت کی طرف جولاہا اپنے کاروبار کی جگہ کی طرف اور نانبائی اپنے تنور کی طرف.
۲۰۰
آپ کے سامنے ایک مجرم لایا گیا جس کے ساتھ تماشائیوں کا ہجوم تھا توآ پ نے فرمایا :ان چہروں پر پھٹکار کہ جو ہر رسوائی کے موقع پر ہی نظر آتے ہیں۔
۲۰۱
ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں اور جب موت کا وقت آتا ہے تو وہ اس کے اور موت کے درمیان سے ہٹ جاتے ہیں اور بے شک انسان کی مقررہ عمر اس کے لیے ایک مضبوط سپر ہے.
۲۰۲
طلحہ وزبیر نے حضرت سے کہا کہ ہم اس شرط پر آپ کی بیعت کرتے ہیں کہ اس حکومت میں آپ کے ساتھ شریک رہیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ تم تقویت پہنچانے اور ہاتھ بٹانے میں شریک اور عاجزی اور سختی کے موقع پر مددگار ہو گے.
۲۰۳
اے لوگو! اللہ سے ڈرو کہ اگر تم کچھ کہو تو وہ سنتا ہے اور دل میں چھپاکر رکھو تو وہ جان لیتا ہے اس موت کی طر ف بڑھنے کا سرو سامان کرو کہ جس سے بھاگے تو وہ تمہیں پالے گی اور اگر ٹھہرے تو وہ تمہیں گرفت میں لے لے گی اور اگر تم اسے بھول بھی جاؤ تو وہ تمہیں یاد رکھے گی۔
۲۰۴
کسی شخص کا تمہارے حسن سلوک پر شکر گزا ر نہ ہونا تمہیں نیکی اور بھلائی سے بددل نہ بنا دے اس لیے کہ بسا اوقات تمہاری اس بھلائی کی وہ قدر کرے گا، جس نے اس سے کچھ فائدہ بھی نہیں اٹھایا اور اس ناشکرے نے جتنا تمہاراحق ضائع کیا ہے، اس سے کہیں زیادہ تم ایک قدردان کی قدر دانی سے حاصل کرلو گے اور خدا نیک کام کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
۲۰۵
ہر ظرف اس سے کہ جو اس میں رکھا جائے تنگ ہوتا جاتا ہے، مگر علم کا ظرف وسیع ہوتا جاتا ہے۔
۲۰۶
بردبار کو اپنی بردباری کا پہلا عوض یہ ملتا ہے۔ کہ لوگ جہالت دکھانے والے کے خلاف اس کے طرفدار ہوجاتے ہیں۔
۲۰۷
اگر تم بردبار نہیں ہو تو بظاہر برد بار بننے کی کوشش کرو، کیونکہ ایسا کم ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی جماعت سے شباہت اختیار کرے اور ان میں سے نہ ہو جائے۔
مطلب یہ ہے کہ اگر انسان طبعاً حلیم و برد بار ہو تو سے برد بار بننے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اس طرح کہ اپنی افتادہ طبیعت کے خلاف حلم و بردباری کا مظاہرہ کرے اگرچہ طبیعت کا رخ موڑنے میں کچھ زحمت محسوس ہوگی مگر اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آہستہ آہستہ حلم طبعی خصلت کی صور ت اختیار کر لے گا اور پھر تکلف کی حاجت نہ رہے گی کیونکہ عادت رفتہ رفتہ طبیعت ثانیہ بن جایا کرتی ہے۔
۲۰۸
جو شخص اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے وہ فائدہ اٹھاتا ہے اور جو غفلت کرتا ہے وہ نقصان میں رہتا ہے جو ڈرتا ہے وہ (عذاب سے )محفوظ ہو جاتا ہے اور جو عبرت حاصل کرتا ہے وہ بینا ہوجاتا ہے اور جو بینا ہوجاتا ہے وہ بافہم ہوجاتا ہے اور جو بافہم ہوتا ہے اسے علم حاصل ہوتا ہے۔
۲۰۹
یہ دنیا منہ زور ی دکھانے کے بعد پھر ہماری طرف جھکے گی جس طرح کاٹنے والی اونٹنی اپنے بچے کی طرف جھکتی ہے۔ اس کے بعد حضرت نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ جو لوگ زمین میں کمزور کردیئے گئے ہیں، ان پر احسان کریں اور ان کو پیشوا بنائیں اور انہی کو اس زمین کا مالک بنائیں۔
یہ ارشاد امام منتظر کے متعلق ہے جو سلسلہ امامت کے آخری فرد ہیں۔ ان کے ظہور کے بعد تمام سلطنتیں اور حکومتیں ختم ہوجائیں گی اور "لیظهره علی الدین کله "کا مکمل نمونہ نگاہوں کے سامنے آجائے گا
ہر کسے رادو لتے از آسمان آید پدید دولت آل علی علیہ السّلام آخر زمان آید پدید
۲۱۰
اللہ سے ڈرو اس شخص کے ڈرنے کے مانند جس نے دنیا کی وابستگیوں کو چھوڑ کر دامن گردان لیا اور دامن گردان کر کوشش میں لگ گیا اور اچھائیوں کے لیے اس وقفہ حیات میں تیز گامی کے ساتھ چلا اور خطروں کے پیش نظر اس نے نیکیوں کی طرف قدم بڑھایا اور اپنی قرار گاہ اور اپنے اعمال کے نتیجہ اور انجام کار کی منزل پر نظر رکھی۔
۲۱۱
سخاوت عزت آبر و کی پاسبان ہے بُرد باری احمق کے منہ کا تسمہ ہے، درگزر کرنا کامیابی کی زکوٰۃ ہے، جو غداری کرے اسے بھول جانا اس کا بدل ہے۔ مشورہ لینا خود صحیح راستہ پا جانا ہے جو شخص رائے پر اعتماد کرکے بے نیاز ہوجاتا ہے وہ اپنے کو خطرہ میں ڈالتا ہے۔ صبر مصائب و حوادث کا مقابلہ کرتا ہے۔ بیتابی و بیقرار ی زمانہ کے مدد گاروں میں سے ہے۔ بہتر ین دولتمندی آرزوؤں سے ہاتھ اٹھا لینا ہے۔ بہت سی غلام عقلیں امیروں کی ہوا و ہوس کے بارے میں دبی ہوئی ہیں۔ تجربہ و آزمائش کی نگہداشت حسن توفیق کا نتیجہ ہے دوستی و محبت اکتسابی قرابت ہے جو تم سے رنجیدہ و دل تنگ ہو اس پر اطمینا ن و اعتماد نہ کرو۔
۲۱۲
انسان کی خود پسندی اس کی عقل کے حریفوں میں سے ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جس طرح حاسد محسود کی کسی خوبی و حسن کو نہیں دیکھ سکتا، اسی طرح خود پسندی عقل کے جوہر کا ابھرنا اور اس کے خصائص کا نمایاں ہونا گوارا نہیں کرتی۔ جس سے مغرور خود بین انسان ان عادات و خصائل سے محروم رہتا ہے، جو عقل کے نزدیک پسندیدہ ہوتے ہیں ۔
۲۱۳
تکلیف سے چشم پوشی کر و۔ ورنہ کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔
ہر شخص میں کوئی نہ کوئی خامی ضرور ہوتی ہے۔ اگر انسان دوسروں کی خامیوں اور کمزوریوں سے متاثر ہوکر ان سے علیحدگی اختیار کرتا جائے، تو رفتہ رفتہ وہ اپنے دوستوں کو کھودے گا، اور دنیا میں تنہا اور بے یارو مددگار ہوکر رہ جائے گا، جس سے اس کی زندگی تلخ اور الجھنیں بڑھ جائیں گی۔ ایسے موقع پر انسان کو یہ سوچنا چاہیے کہ اس معاشرہ میں اسے فرشتے نہیں مل سکتے کہ جن سے اسے کبھی کوئی شکایت پیدا نہ ہو اسے انہی لوگو ں میں رہنا سہنا اور انہی لوگوں میں زندگی گزارنا ہے۔ لہٰذا جہاں تک ہوسکے ان کی کمزوریوں کو نظر انداز کرے اور ان کی ایذا رسانیوں سے چشم پوشی کر تا رہے۔
۲۱۴
جس (درخت) کی لکڑی نرم ہو اس کی شاخیں گھنی ہوتی ہیں۔
جو شخص تند خو اور بدمزاج ہو, وہ کبھی اپنے ماحول کو خوش گوار بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اس کے ملنے والے بھی اس کے ہاتھوں، نالاں اور اس سے بیزار رہیں گے اور جو خوش خلق اور شیریں زبان ہولوگ اس کے قرب کے خواہاں اور اس کی دوستی کے خواہشمند ہوں گے اور وقت پڑنے پر اس کے معاون و مددگار ثابت ہوں گے جس سے وہ اپنی زندگی کو کامیاب بنا لے جاسکتا ہے۔
۲۱۵
مخالفت صحیح رائے کو برباد کردیتی ہے۔
۲۱۶
جو منصب پالیتا ہے دست درازی کرنے لگتا ہے۔
۲۱۷
حالات کے پلٹوں ہی میں مردوں کے جوہر کھلتے ہیں۔
۲۱۸
دوست کا حسد کرنا دوستی کی خامی ہے۔
۲۱۹
اکثر عقلوں کا ٹھوکر کھا کر گرنا طمع و حرص کی بجلیاں چمکنے پرہوتا ہے۔
جب انسان طمع و حرص میں پڑ جاتا ہے تو رشوت، چوری، خیانت، سود خور ی اور اس قبیل کے دوسرے اخلاقی عیوب اس میں پیدا ہوجاتے ہیں اور عقل ان باطل خواہشوں کی جگمگاہٹ سے اس طرح خیر ہ ہوجاتی ہے کہ اسے ان قبیح افعال کے عواقب و نتائج نظر ہی نہیں آتے کہ وہ اسے روکے ٹوکے اور اس خواب غفلت سے جھنجھوڑے البتہ جب دنیا سے رخت سفر باندھنے پر تیار ہوتاہے اور دیکھتا ہے کہ جو کچھ سمیٹا تھا وہ یہیں کے لیے تھا ساتھ نہیں لے جاسکتا، تو اس وقت آنکھیں کھلتی ہیں۔
۲۲۰
یہ انصاف نہیں ہے کہ صرف ظن و گمان پر اعتماد کرتے ہوئے فیصلہ کیا جائے۔
۲۲۱
آخرت کے لیے بہت برا توشہ ہے بندگا ن خدا پر ظلم و تعدی کرنا۔
۲۲۲
بلند انسان کے بہتر ین افعال میں سے یہ ہے کہ وہ ان چیزوں سے چشم پوشی کرے جنہیں وہ نہیں جانتا ہے۔
۲۲۳
جس پر حیا نے اپنا لباس پہنا دیا ہے اس کے عیب لوگوں کی نظروں کے سامنے نہیں آسکتے۔
جو شخص حیا کے جو ہر سے آراستہ ہوتا ہے اس کے لیے حیا ایسے امور کے ارتکاب سے مانع ہوتی ہے جو معیوب سمجھے جاتے ہیں۔ اس لیے اس میں عیب ہوتا ہی نہیں کہ دوسرے دیکھیں اور اگر کسی امر قبیح کا اس سے ارتکاب ہو بھی جاتا ہے تو حیا کی وجہ سے علانیہ مرتکب نہین ہوتا کہ لوگوں کی نگاہیں اس کے عیب پر پڑسکیں۔
۲۲۴
زیادہ خاموشی رعب و ہیبت کا باعث ہوتی ہے۔ اور انصاف سے دوستوں میں اضافہ ہوتا ہے لطف و کرم سے قدر و منزلت بلند ہوتی ہے جھک کر ملنے سے نعمت تمام ہوتی ہے۔ دوسروں کا بوجھ بٹانے سے لازماً سرداری حاصل ہوتی ہے اور خوش رفتاری سے کینہ ور دشمن مغلوب ہوتا ہے اور سر پھر ے آدمی کے مقابلہ میں بردباری کرنے سے اس کے مقابلہ میں اپنے طرفدار زیادہ ہوجاتے ہیں۔
۲۲۵
تعجب ہے کہ حاسد جسمانی تندرستی پر حسد کرنے سے کیوں غافل ہوگئے.
حاسد دوسروں کے مال و جاہ پر تو حسد کرتا ہے۔ مگر ان کی صحت و توانائی پر حسد نہیں کرتا حالانکہ یہ نعمت تمام نعمتوں سے زیادہ گرانقدر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ دولت و ثروت کے اثرات ظاہری طمطراق اور آرام و آسائش کے اسباب سے نگاہوں کے سامنے ہوتے ہیں اور صحت ایک عمومی چیز قرار پاکر نا قدری کا شکار ہوجا تی ہے اور اسے اتنا بے قدر سمجھا جاتا ہے کہ حاسد بھی اسے حسد کے قابل نہیں سمجھتے۔ چنانچہ ایک دولت مند کو دیکھتا ہے تو ا س کے مال ودولت پر اسے حسد ہوتا ہے اور ایک مزدور کو دیکھا کہ جو سر پر بوجھ اٹھائے دن بھر چلتا پھرتا ہے تو وہ اس کی نظر وں میں قابل حسد نہیں ہوتا۔ گویا صحت و توانائی اس کے نزدیک حسد کے لائق چیز نہیں ہے کہ اس پر حسد کرے البتہ جب خود بیمار پڑتا ہے تواسے صحت کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے اور اس موقع پر اسے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ قابل حسد یہی صحت ہے جو اب تک اس کی نظرو ں میں کوئی اہمیت نہ رکھتی تھی.
مقصد یہ ہے کہ صحت کو ایک گرانقدر نعمت سمجھنا چاہیے اور اس کی حفاظت و نگہداشت کی طر ف متوجہ رہنا چاہیے
۲۲۶
طمع کرنے والا ذلت کی زنجیروں میں گرفتار رہتا ہے۔
۲۲۷
آپ سے ایمان کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ ایمان دل سے پہچاننا، زبان سے اقرار کرنا اور اعضا سے عمل کرنا ہے.
۲۲۸
جو دنیا کے لیے اندوہناک ہو وہ قضا و قدر الہی سے ناراض ہے اور جو اس مصیبت پر کہ جس میں مبتلا ہے شکوہ کرے تو وہ اپنے پروردگار کا شاکی ہے اور جو کسی دولت مند کے پاس پہنچ کر اس کی دولتمندی کی وجہ سے جھکے تو اس کا دو تہائی دین جاتا رہتا ہے اور جو شخص قرآن کی تلاوت کرے پھر مر کر دوزخ میں داخل ہو تو ایسے ہی لوگوں میں سے ہوگا، جو اللہ کی آیتوں کا مذاق اڑاتے تھے اور جس کا دل دنیا کی محبت میں وارفتہ ہوجائے تو اس کے دل میں دنیا کی یہ تین چیزیں پیوست ہوجاتی ہیں۔ ایسا غم کہ جو اس سے جدا نہیں ہوتا اور ایسی حرص کہ جو اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی اور ایسی امید کہ جو بر نہیں آتی۔
۲۲۹
قناعت سے بڑھ کر کوئی سلطنت اور خو ش خلقی سے بڑھ کر کوئی عیش و آرام نہیں ہے۔ حضرت سے اس آیت کے متعلق دریافت کیاگیا کہ “ہم اس کو پاک و پاکیزہ زندگی دیں گے “؟ آپ نے فرمایا کہ وہ قناعت ہے۔
حسن خلق کو نعمت سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح نعمت باعث لذت ہوتی ہے اسی طرح انسان خوش اخلاقی و نرمی سے دوسروں کے دلوں کو اپنی مٹھی میں لے کر اپنے ماحول کو خوش گوار بناسکتا ہے۔ اور اپنے لیے لذت و راحت کا سامان کر نے میں کامیاب ہوسکتا ہے اور قناعت کو سرمایہ و جاگیر اس لیے قرار دیا ہے کہ جس طرح ملک و جاگیر احتیاج کو ختم کردیتی ہے اسی طرح جب انسان قناعت اختیار کرلیتا ہے اور اپنے رزق پر خوش رہتا ہے تو وہ خلق سے مستغنی اور احتیاج سے دور ہوتا ہے۔
ہر قانع شد بخشک و تر شہ بحر و برداشت
۲۳۰
جس کی طرف فراخِ روزی کئے ہوئے ہو اس کے ساتھ شرکت کرو، کیونکہ اس میں دولت حاصل کرنے کا زیادہ امکان اور خوش نصیبی کا زیادہ قرینہ ہے۔
۲۳۱
خدا وند عالم کے ارشاد کے مطابق کہ اللہ تمہیں عدل و احسان کا حکم دیتا ہے۔ فرمایا ! عدل انصاف ہے اور احسان لطف و کرم۔
۲۳۲
جو عاجز و قاصر ہاتھ سے دیتا ہے اسے بااقتدار ہاتھ سے ملتا ہے۔
سید رضی کہتے ہیں کہ اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے مال میں سے کچھ خیر و نیکی کی راہ میں خر چ کرتا ہے اگرچہ وہ کم ہو، مگر خداوند عالم اس کا اجر بہت زیادہ قراردیتا ہے اور اس مقام پر دو ہاتھوں سے مراد دو نعمتیں ہیں اور امیرالمومنین علیہ السلام نے بندہ کی نعمت اور پروردگار کی نعمت میں فرق بتایا ہے کہ وہ تو عجز و قصور کی حامل ہے اور و ہ بااقتدار ہے۔ کیونکہ اللہ کی عطاکردہ نعمتیں مخلوق کی دی ہوئی نعمتوں سے ہمیشہ بدر جہا بڑھی چڑھی ہوتی ہیں۔ اس لیے کہ اللہ ہی کی نعمتیں تمام نعمتوں کا سر چشمہ ہیں۔ لہٰذا ہر نعمت انہی نعمتوں کی طرف پلٹتی ہے، اور انہی سے وجود پاتی ہے۔
۲۳۳
اپنے فرزند امام حسن علیہ السّلام سے فرمایا :
کسی کو مقابلہ کے لیے خود نہ للکارو۔ ہاں اگر دوسرا للکارے تو فورا ًجواب دو۔ اس لیے کہ جنگ کی خود سے دعوت دینے والا زیادتی کرنے والا ہے، اور زیادتی کرنے والا تباہ ہوتا ہے۔
مقصد یہ ہے کہ اگر دشمن آمادہ پیکار ہو اور جنگ میں پہل کرے تو اس موقع پر اس کی روک تھا م کے لیے قد م اٹھا نا چاہیے اور از خود حملہ نہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہ سرا سر ظلم و تعدی ہے اور جو ظلم وتعدی کا مرتکب ہوگا، وہ اس کی پاداش میں خاک مذلت پر پچھاڑ دیا جائے گا۔ چنانچہ امیرالمومنین علیہ السّلام ہمیشہ دشمن کے للکارنے پر میدان میں آتے اور خود سے دعوت مقابلہ نہ دیتے تھے۔ چنانچہ ابن الحدید تحریر کرتے ہیں۔
ہمارے سننے میں نہیں آیاکہ حضرت نے کبھی کسی کو مقابلہ کے لیے للکا ر ا ہو بلکہ جب مخصوص طور پر آپ کو دعوت مقابلہ دی جاتی تھی یا عمومی طور پر دشمن للکارتا تھا، تو اس کے مقابلہ میں نکلتے تھے اور سے قتل کردیتے تھے۔ (شرح ابن ابی الحدید، جلد ۴، صفحہ ۳۴۴)
۲۳۴
عورتوں کی بہتر ین خصلتیں وہ ہیں جو مردوں کی بدترین صفتیں ہیں۔ غرور، بزدلی اور کنجوسی اس لیے کہ عورت جب مغرور ہوگی، تو وہ کسی کو اپنے نفس پر قابو نہ دے گی اور کنجوس ہوگی تو اپنے اور شوہر کے مال کی حفاظت کرے گی اور بزدل ہوگی تو وہ ہر اس چیز سے ڈرے گی جو پیش آئے گی۔
۲۳۵
آپ علیہ السّلام سے عرض کیاگیا کہ عقلمند کے اوصاف بیان کیجئے۔ فرمایا! عقلمند وہ ہے جو ہر چیز کو اس کے موقع و محل پر رکھے۔ پھر آپ سے کہا گیا کہ جاہل کا وصف بتایئے تو فرمایا میں بیان کر چکا۔
سید رضی فرماتے ہیں کہ مقصد یہ ہے کہ جاہل وہ ہے جو کسی چیز کو اس کے موقع و محل پر نہ رکھے۔ گویا حضرت کا اسے نہ بیان کر نا ہی بیان کرنا ہے۔ کیونکہ اس کے اوصاف عقلمند کے اوصاف کے برعکس ہیں۔
۲۳۶
خد ا کی قسم تمہاری یہ دنیا میرے نزدیک سور کی انتڑیوں سے بھی زیادہ ذلیل ہے جو کسی کوڑھی کے ہاتھ میں ہوں۔
۲۳۷
ایک جماعت نے اللہ کی عبادت ثواب کی رغبت و خواہش کے پیشِ نظر کی، یہ سودا کرنے والوں کی عبادت ہے اور ایک جماعت نے خوف کی وجہ سے اس کی عبادت کی، اور یہ غلاموں کی عبادت ہے او ر ایک جماعت نے ازروئے شکر و سپاس گزاری اس کی عبادت کی، یہ آزادوں کی عبادت ہے۔
۲۳۸
عورت سراپا برائی ہے اور سب سے بڑی برائی اس میں یہ ہے کہ اس کے بغیر چارہ نہیں۔
۲۳۹
جو شخص سستی و کاہلی کرتاہے وہ اپنے حقوق کو ضائع وبرباد کردیتا ہے اور جو چغل خور کی بات پر اعتماد کر تا ہے، وہ دوست کو اپنے ہاتھ سے کھو دیتا ہے.
۲۴۰
گھر میں ایک غصبی پتھر اس کی ضمانت ہے کہ وہ تباہ و بربا د ہوکر رہے گا۔
سید رضی فرماتے ہیں کہ ایک روایت میں یہ کلام رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہوا ہے اور اس میں تعجب ہی کیا ہے کہ دونوں کے کلام ایک دوسرے کے مثل ہوں کیونکہ دونوں کا سر چشمہ تو ایک ہی ہے.
۲۴۱
مظلوم کے ظالم پر قابو پانے کا دن اس دن سے کہیں زیادہ ہوگا جس میں ظالم مظلوم کے خلاف اپنی طاقت دکھاتا ہے۔
دنیا میں ظلم سہہ لینا آسان ہے. مگر آخرت میں اس کی سزا بھگتنا آسان نہیں ہے۔ کیونکہ ظلم سہنے کا عرصہ زندگی بھر کیوں نہ ہو پھر بھی محدود ہے۔ اور ظلم کی پاداش جہنم ہے، جس کا سب سے زیادہ ہولنا ک پہلو ہے کہ وہا ں زندگی ختم نہ ہو گی کہ موت دوزخ کے عذاب سے بچا لے جائے چنانچہ ایک ظالم اگر کسی کو قتل کر دیتا ہے تو قتل کے ساتھ ظلم کی حد بھی ختم ہوجائے گی، اور اب اس کی گنجائش نہ ہو گی کہ اس پر مزید ظلم کیا جاسکے مگر اس کی سزا یہ ہے کہ اسے ہمیشہ کے لیے دوزخ میں ڈالا جائے کہ جہاں وہ اپنے کئے کی سزا بھگتتا رہے۔
پنداشت ستمگر کہ جفا برما کرد درگرد ن او بماند ر برما بگذشت
۲۴۲
اللہ سے کچھ تو ڈرو، چاہے وہ کم ہی ہو، اور اپنے اور اللہ کے درمیان کچھ تو پردہ رکھو، چاہے وہ باریک ہی سا ہو۔
۲۴۳
جب (ایک سوال کے لیے) جوابات کی بہتات ہوجائے توصحیح بات چھپ جایا کرتی ہے۔
اگر کسی سوال کے جواب میں ہر گوشہ سے آوازیں بلند ہونے لگیں۔ تو ہر جواب نئے سوال کا تقاضا بن کر بحث و جدل کا دروازہ کھول دے گا اور جوں جوں جوابات کی کثرت ہوگی، اصل حقیقت کی کھوج اور صحیح جواب کی سراغ رسائی مشکل ہوجائے گی۔ کیونکہ ہر شخص اپنے جواب کو صحیح تسلیم کرانے کے لیے ادھر ادھر سے دلائل فراہم کرنے کی کوشش کرے گا جس سے سارا معاملہ الجھاؤ میں پڑجائے گا۔ اور یہ خواب کثرت تعبیر سے خواب پریشان ہو کر رہ جائے گا۔
۲۴۴
بے شک اللہ تعالیٰ کے لیے ہر نعمت میں حق ہے تو جو اس حق کو ادا کرتا ہے، اللہ اس کے لیے نعمت کو اوربڑھاتا ہے۔ اور جو کوتاہی کرتا ہے وہ موجودہ نعمت کو بھی خطرہ میں ڈالتا ہے۔
۲۴۵
جب مقدرت زیادہ ہوجاتی ہے تو خواہش کم ہوجاتی ہے۔
۲۴۶
نعمتوں کے زائل ہونے سے ڈرتے رہو کیونکہ ہر بے قابو ہوکر نکل جانے والی چیز پلٹا نہیں کرتی۔
۲۴۷
جذبہ کرم رابطہ قرابت سے زیادہ لطیف و مہر بانی کا سبب ہوتا ہے۔
۲۴۸
جو تم سے حسن ظن رکھے، اس کے گمان کو سچاثابت کرو۔
۲۴۹
بہترین عمل وہ ہے جس کے بجالانے پر تمہیں اپنے نفس کو مجبور کرنا پڑے۔
۲۵۰
میں نے اللہ سبحانہ کو پہچانا ارادوں کے ٹوٹ جانے,نیتوں کے بدل جانے، اور ہمتوں کے پست ہوجانے سے۔
ارادوں کے ٹوٹنے اور ہمتوں کے پست ہونے سے خداوند عالم کی ہستی پر اس طرح استدلال کیا جاسکتا ہے کہ مثلاً ایک کام کے کرنے کا ارادہ ہوتا ہے، مگر وہ ارادہ فعل سے ہمکنار ہونے سے پہلے ہی بدل جاتا ہے اور اس کی جگہ کوئی اور ارادہ پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ ارادوں کا ادلنا بدلنااور ان میں تغیر و انقلاب کا رونما ہونا اس کی دلیل ہے کہ ہمارے ارادوں پر ایک بالا دست قوت کا ر فرما ہے جو انہیں عدم سے وجود اور وجود سے عدم میں لانے کی قوت و طاقت رکھتی ہے، اور یہ امر انسان کے احاطہ اختیا رسے باہر ہے۔ لہٰذ ا اسے اپنے مافوق ایک طاقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ جو ارادوں میں ردو بدل کرتی رہتی ہے۔
۲۵۱
دنیا کی تلخی آخرت کی خوشگواری ہے اور دنیا کی خوشگواری آخرت کی تلخی ہے۔
۲۵۲
خداوند عالم نے ایمان کا فریضہ عائد کیا شرک کی آلودگیوں سے پاک کرنے کے لیے۔ اور نماز کو فرض کیا رعونت سے بچانے کے لیے اور زکوۃ کو رزق کے اضافہ کا سبب بنانے کے لیے، اور روزہ کو مخلوق کے اخلاص کو آزمانے کے لیے اور حج کو دین کو تقویت پہنچانے کے لیے، اور جہاد کو اسلام کو سرفرازی بخشنے کے لیے، اور امر بالمعروف کو اصلاحِ خلائق کے لیے اور نہی عن المنکر کو سرپھروں کی روک تھام کے لیے اور حقوقِ قرابت کے ادا کرنے کو (یار و انصار کی) گنتی بڑھانے کے لیے اور قصاص کو خونریزی کے انسداد کے لیے اور حدود شرعیہ کے اجراء کو محرمات کی اہمیت قائم کرنے کے لیے اور شراب خوری کے ترک کو عقل کی حفاظت کے لیے اور چوری سے پرہیز کو پاک بازی کا باعث ہونے کے لیے اور زنا سے بچنے کو نسب کے محفوظ رکھنے کے لیے اور اغلام کے ترک کو نسل بڑھانے کے لیے اور گواہی کو انکارِ حقوق کے مقابلہ میں ثبوت مہیا کرنے کے لیے اور جھوٹ سے علحیدگی کو سچائی کا شرف آشکارا کرنے کے لیے اور قیامِ امن کو خطروں سے تحفظ کے لیے اور امانتوں کی حفاظت کو امت کا نظام درست رکھنے کے لیے اور اطاعت کو امامت کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے
۲۵۳
آپ(علیہ السلام ) فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی ظالم سے قسم لینا ہو تو اس سے اس طرح حلف اٹھواؤ کہ وہ اللہ کی قوت و توانائی سے بری ہے؟ کیونکہ جب وہ اس طرح جھوئی قسم کھائے گا تو جلد اس کی سزا پائے گا اور جب یوں قسم کھائے کہ قسم اُس اللہ کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں تو جلد اس کی گرفت نہ ہو گی، کیونکہ اُس نے اللہ کو وحدت و یکتائی کے ساتھ یاد کیا ہے۔
۲۵۴
اے فرزندِ آدم! اپنے مال میں اپنا وصی خود بن اور جو تو چاہتا ہے کہ تیرے بعد تیرے مال میں سے خیر خیرات کی جائے، وہ خود انجام دے دے۔
۲۵۵
غصہ ایک قسم کی دیوانگی ہے کیونکہ غصہ ور بعد میں پشیمان ضرور ہوتا ہے اور اگر پشیمان نہیں ہوتا تو اُس کی دیوانگی پختہ ہے۔
۲۵۶
حسد کی کمی بدن کی تندرستی کا سبب ہے۔
۲۵۷
کمیل ابن زیاد نخعی سے فرمایا: اے کمیل! اپنے عزیز و اقارب کو ہدایت کرو کہ وہ اچھی خصلتوں کو حاصل کرنے کے لیے دن کے وقت نکلیں اور رات کو سو جانے والے کی حاجت روائی کو چل کھڑے ہوں ۔ اُس ذات کی قسم جس کی قوتِ شنوائی تمام آوازوں پر حاوی ہے، جِس کسی نے بھی کسی کے دل کو خوش کیا تو اللہ اُس کے لیے اُس سرور سے ایک لطفِ خاص خلق فرمائے گا کہ جب بھی اُس پر کوئی مصیبت نازل ہو تو وہ نشیب میں بہنے والے پانی کی طرح تیزی سے بڑھے اور اجنبی اونٹوں کو ہنکانے کی طرح اس مصیبت کو ہنکا کر دور کر دے۔
۲۵۸
جب تنگدست ہو جاؤ تو صدقہ کے ذریعے بچو۔
۲۵۹
غداروں سے وفا کرنا اللہ کے نزدیک غداری ہے اور غداروں کے ساتھ غداری کرنا اللہ کے نزدیک عین وفا ہے۔
۲۶۰
کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہیں نعمتیں دے کر رفتہ رفتہ عذاب کا مستحق بنایا جاتا ہے اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں کہ جو اللہ کی پردہ پوشی سے دھوکا کھائے ہوئے ہیں اوراپنے بارے میں اچھے الفاظ سن کر فریب میں پڑ گئے اور مہلت دینے سے زیادہ اللہ کی جانب سے کوئی بڑی آزمائش نہیں ہے۔
سید رضی کہتے ہیں کہ یہ کلام پہلے بھی گذر چکا ہے مگر یہاں اس میں کچھ عمدہ اور مفید اضافہ ہے۔
۲۶۱
جب امیرالمومنین علیہ السلام کو یہ اطلاع ملی کہ معاویہ کے ساتھیوں نے (شہر)انبار پر دھاوا کیا تو آپ بنفس نفیس پیادہ پا چل کھڑے ہوئے۔ یہاں تک کہ نخیلہ تک پہنچ گئے، اتنے میں لوگ بھی آپ کے پاس پہنچ گئے اور کہنے لگے یا امیر المومنین علیہ السّلام ! ہم دشمن سے نپٹ لیں گے۔ آ پ کے تشریف لے جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنے سے تو میرا بچاؤ کر نہیں سکتے دوسروں سے کیا بچاؤ کرو گے۔ مجھ سے پہلے رعایا اپنے حاکموں کے ظلم و جورکی شکایت کیا کرتی تھی مگر میں آج اپنی رعیت کی زیادتیوں کا گلہ کرتا ہوں، گویا کہ میں رعیت ہوں اور وہ حاکم اور میں حلقہ بگوش ہوں اور وہ فرمانروا۔
(سید رضی کہتے ہیں کہ )جب امیرالمومنین علیہ السلام نے ایک طویل کلا م کے ذیل میں کہ جس کا منتخب حصہ ہم خطب میں درج کر چکے ہیں یہ کلمات ارشاد فرمائے توآ پ کے اصحاب میں سے دو شخص اٹھ کھڑے ہوئے اور ان میں سے ایک نے کہا کہ یا امیر المومنین علیہ السّلام مجھے اپنی ذات اور اپنے بھائی کے علاوہ کسی پر اختیا ر نہیں تو آپ ہمیں حکم دیں ہم اسے بجالائیں گے جس پر حضر ت نے فرمایا کہ میں جو چاہتا ہوں وہ تم دوآدمیوں سے کہاں سرانجا م پاسکتا ہے۔
۲۶۲
بیان کیا گیا ہے کہ حارث ابن حوط حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ کیا آپ کے خیال میں اس کا گمان بھی ہوسکتا ہے کہ اصحاب جمل گمراہ تھے؟
حضرت نے فرمایا کہ اے حارث !تم نے نیچے کی طرف دیکھا اوپر کی طر ف نگا ہ نہیں ڈالی، جس کے نتیجہ میں تم حیران و سر گردان ہوگئے ہو، تم حق ہی کو نہیں جانتے کہ حق والوں کو جانو اور باطل ہی کو نہیں پہچانتے کہ باطل کی راہ پر چلنے والوں کو پہچانو۔
حارث نے کہا کہ میں سعد ابن مالک اور عبداللہ ابن عمر کے ساتھ گوشہ گزیں ہوجاؤں گا۔
حضرت نے فرمایا کہ !
سعد اور عبداللہ ابن عمر نے حق کی مدد کی، اور نہ باطل کی نصرت سے ہاتھ اٹھایا۔
سعد ابن مالک (سعد ابن ابی وقا ص)اورعبداللہ ابن عمر ان لوگوں میں سے تھے جو امیر المومنین علیہ السّلام کی رفاقت وہمنوائی سے منہ موڑے ہوئے تھے۔ چنانچہ سعد ابن ابی وقاص تو حضر ت عثمان کے قتل کے بعد ایک صحرا کی طرف منتقل ہوگئے اور وہیں زندگی گزار دی، اور حضرت کی بیعت نہ کرنا تھی نہ کی اور عبداللہ ابن عمر نے اگرچہ بیعت کر لی تھی۔ مگر جنگوں میں حضرت کا ساتھ دینے سے انکا ر کردیا تھا اور اپنا عذر یہ پیش کیا تھا کہ میں عبادت کے لیے گوشہ دینی اختیار کرچکاہوں اب حرب و پیکار سے کوئی سروکار رکھنا نہیں چاہتا۔
عذر ہائے ایں چنین نزد خرد بیشکے عذرے است بدتر از گناہ
۲۶۳
باد شاہ کا ندیم و مصاحب ایسا ہے جیسے شیر پر سوار ہونے والا کہ اس کے مرتبہ پر رشک کیا جاتا ہے وہ اپنے موقف سے خوب واقف ہے۔
مقصد یہ ہے کہ جسے بارگاہ سلطانی میں تقرب حاصل ہوتا ہے لوگ اس کے جاہ و منصب اور عزت و اقبال کو رشک کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں، مگر خود اسے ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں بادشاہ کی نظریں اس سے پھر نہ جائیں، اور وہ ذلت و رسوائی یا موت و تباہی کے گڑھے میں نہ جاپڑے جیسے شیر سوار کہ لوگ اس سے مرعوب ہوتے ہیں اور وہ اس خطرہ میں گھرا ہوتا ہے کہ کہیں شیر اسے پھاڑنہ کھائے یا کسی مہلک گڑھے میں نہ جاگرائے.
۲۶۴
دوسروں کے پسماندگان سے بھلائی کرو۔ تاکہ تمہارے پسماند گان پر بھی نظرشفقت پڑے۔
۲۶۵
جب حکماء کا کلا م صحیح ہو تو وہ دوا ہے اور غلط ہوتو سراسر مرض ہے.
علمائے مصلحین کا طبقہ اصلاح کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے، اور فساد کا بھی کیونکہ عوام ان کے زیر اثر ہوتے ہیں اور ان کے قول و عمل کو صحیح و معیار ی سمجھتے ہوئے اس سے استفادہ کرتے اور اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ اس صورت میں اگر ان کی تعلیم اصلا ح کی حامل ہوگی تو اس کے نتیجہ میں ہزارو ں افراد صلاح و رشد سے آراستہ ہوجائیں گے اور اگر اس میں خرابی ہوگی تو اس کے نتیجہ میں ہزاروں افراد گمراہی و بے راہروی میں مبتلا ہوجائیں گے.اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جب عالم میں فساد رونما ہوتا ہے تو اس فساد کا اثر ایک دنیا پر پڑتا ہے۔
۲۶۶
حضرت سے ایک شخص نے سوال کیا کہ ایمان کی تعریف کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ کل میرے پاس آنا تاکہ میں تمہیں اس موقع پربتاؤں کہ دوسرے لوگ بھی سن سکیں کہ اگر تم بھول جاؤتو دوسرے یاد رکھیں۔ اس لیے کلام بھڑکے ہوئے شکار کے مانند ہوتاہے کہ اگر ایک کی گرفت میں آجاتا ہے اور دوسرے کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔
(سید رضی کہتے ہیں کہ)حضرت نے اس کے بعد جواب دیا وہ آپ کا یہ ارشا د تھا کہ “الایمان علی اربع شعب “( ایمان کی چار قسمیں ہیں )
۲۶۷
اے فرزند آدم علیہ السّلام ! اس دن کی فکر کا بارجو ابھی آیا نہیں، آج کے اپنے دن پر نہ ڈال کہ جو آچکا ہے۔ اس لیے کہ اگرایک دن بھی تیری عمر کا باقی ہوگا، تواللہ تیرا رزق تجھ تک پہنچائے گا۔
۲۶۸
اپنے دوست سے بس ایک حد تک محبت کرو کیونکہ شاید کسی دن وہ تمہارا دشمن ہوجائے اور دشمن کی دشمنی بس ایک حد تک رکھو ہوسکتا ہے کہ کسی دن وہ تمہار ا دوست ہوجائے۔
۲۶۹
دنیا میں کام کرنے والے دو قسم کے ہیں ایک وہ جو دنیا کے لیے سر گرم عمل رہتا ہے اور اسے دنیا نے آخرت سے روک رکھا ہے۔ وہ اپنے پسماندگا ن کے لیے فقر و فاقہ کا خوف کرتا ہے مگر اپنی تنگدستی سے مطمئن ہے تو وہ دوسروں کے فائدہ ہی میں پوری عمر بسر کردیتاہے اور ایک وہ ہے جو دنیا میں رہ کر اس کے لیے عمل کرتا ہے تو اسے تگ ودو کئے بغیر دنیا بھی حاصل ہوجاتی ہے اور اس طرح وہ دونوں حصوں کو سمیٹ لیتا ہے اور دونوں گھر وں کا مالک بن جاتا ہے وہ اللہ کے نزدیک باوقار ہوتا ہے اور اللہ سے کوئی حاجت نہیں مانگتا جو اللہ پوری نہ کرے۔
۲۷۰
بیان کیا گیا ہے کہ عمر ابن خطاب کے سامنے خانہ کعبہ کے زیورات اور ان کی کثرت کا ذکر ہوا تو کچھ لوگوں نے ان سے کہا کہ اگرآپ ان زیورات کو لے لیں اور انہیں مسلمانوں کے لشکر پر صرف کرکے ان کی روانگی کا سامان کریں تو زیادہ باعث اجر ہوگا، خانہ کعبہ کو ان زیورات کی کیا ضرورت ہے۔ چنانچہ عمر نے اس کا ارادہ کر لیا اور امیرالمومنین علیہ السلام سے اس کے بار ے میں مسئلہ پوچھا۔
آپ نے فرمایا کہ جب قرآن مجید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا تو اس وقت چار قسم کے اموال تھے، ایک مسلمانوں کا ذاتی مال تھا اسے آپ نے ان کے وارثوں میں ان کے حصہ کے مطابق تقسیم کرنے کا حکم دیا۔ دوسرا مال غنیمت تھا، اسے اس کے مستحقین پر تقسیم کیا۔ تیسرا مال خمس تھا، اس مال کے اللہ تعالیٰ نے خاص مصارف مقرر کردیئے۔ چوتھے زکوٰۃ و صدقات تھے۔ انہیں اللہ نے وہاں صرف کرنے کاحکم دیا جو ان کامصرف ہے۔ یہ خانہ کعبہ کے زیورات اس زمانہ میں بھی موجود تھے لیکن اللہ نے ان کو ان کے حال پر رہنے دیا اور ایسا بھولے سے تو نہیں ہوا، اور نہ ان کا وجود اس پر پوشیدہ تھا۔ لہٰذا آپ بھی انہیں وہیں رہنے دیجئے جہاں اللہ اور اس کے رسول نے انہیں رکھاہے۔ یہ سن کر عمر نے کہا کہ اگر آپ نہ ہوتے تو ہم رسوا ہوجاتے اور زیورات ان کی حالت پر رہنے دیا۔
۲۷۱
روایت کی گئی ہے کہ حضرت کے سامنے دو آدمیوں کو پیش کیا گیا جنہوں نے بیت المال میں چوری کی تھی ایک تو ان میں غلام اور خود بیت المال کی ملکیت تھا، اور دوسرا لوگوں میں سے کسی کی ملکیت میں تھا۔ آپ نے فرمایا کہ “یہ غلام جو بیت المال کا ہے اس پر حد جاری نہیں ہوسکتی کیونکہ اللہ کا مال اللہ کے مال ہی نے کھایا ہے لیکن دوسرے پر حد جاری ہوگی۔ چنانچہ اس کا ہاتھ قطع کردیا۔
۲۷۲
اگران پھسلنوں سے بچ کر میرے پرجم گئے تومیں بہت سی چیزوں میں تبدیلی کر دوں گا۔
اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پیغمبر اسلام کے بعد دین میں تغیرات رونما ہونا شروع ہوگئے اور کچھ افراد نے قیاس و رائے سے کام لے کر احکا م شریعت میں ترمیم و تنسیخ کی بنیاد ڈال دی۔ حالانکہ حکم شرعی میں تبدیلی کا کسی کو حق نہیں پہنچتا، کہ وہ قرآ ن و سنت کے واضح احکام کو ٹھکر ا کر اپنے قیاسی احکا م کا نفاذ کرے۔ چنانچہ قرآن کریم میں طلاق کی یہ واضح صورت بیان ہوئی ہے کہ “الطلاق مرّتٰن” طلاق ( رجعی کہ جس میں بغیر محلل کے رجوع ہوسکتی ہے )دو مرتبہ ہے مگر حضرت عمر نے بعض مصالح کے پیش نظر ایک ہی نشست میں تین طلاقوں کے واقع ہونے کا حکم دے دیا۔ اسی طرح میراث میں عول کا طریقہ رائج کیا گیا اورنماز جنازہ میں چار تکبیروں کو رواج دیا یونہی حضرت عثمان نے نماز جمعہ میں ایک اذان بڑھا دی اور قصر کے موقع پر پوری نماز کے پڑھنے کا حکم دیا اور نماز عید میں خطبہ کو نماز پر مقدم کر دیا.اور اسی طرح کے بے شمار احکام وضع کرلیے گئے جس سے صحیح احکام بھی غلط احکام کے ساتھ مخلوط ہوکر بے اعتماد بن گئے۔
امیرالمومنین علیہ السلام جو شریعت کے سب سے زیادہ واقف کار تھے وہ ان احکام کے خلاف احتجاج کرتے اور صحابہ کے خلاف اپنی رائے رکھتے تھے چنانچہ ابن ابی الحدید نے تحریر کیا ہے کہ :
ہمارے لیے اس میں شک کی گنجائش نہیں کہ امیرالمومنین علیہ السّلام شرعی احکام و قضایا میں صحابہ کے خلاف رائے رکھتے تھے.
جب حضرت ظاہری خلافت پر متمکن ہوئے تو ابھی آپ کے قد م پوری طرح سے جمنے نہ پائے تھے کہ چاروں طر ف سے فتنے اٹھ کھڑے ہوئے اور ان الجھنوں سے آخر وقت تک چھٹکارا حاصل نہ کرسکے جس کی وجہ سے تبدیل شدہ احکام میں پوری طرح ترمیم نہ ہوسکی، اور مرکز سے دور علاقوں میں بہت غلط سلط احکام رواج پاگئے۔ البتہ وہ طبقہ جو آپ سے وابستہ تھا، وہ آپ سے احکام شریعت کو دریافت کرتا تھا، اور انہیں محفوظ رکھتا جس کی وجہ سے صحیح احکام نابو د اور غلط مسائل ہمہ گیر نہ ہوسکے۔
۲۷۳
پورے یقین کے ساتھ اس امر کو جانے رہو کہ اللہ سبحانہ نے کسی بندے کے لیے چاہے اس کی تدبیریں بہت زبردست اس کی جستجو شدید اور اس کی ترکیبیں طاقت ور ہوں اس سے زائد رزق قرار نہیں دیا جتنا کہ تقدیر الہی میں اس کے لیے مقرر ہوچکا ہے۔ اور کسی بندے کے لیے اس کمزوری و بے چارگی کی وجہ سے لوح محفو ظ میں اس کے مقررہ رزق تک پہنچنے میں رکاوٹ نہیں ہوتی۔ اس حقیقت کو سمجھنے والا اور اس پر عمل کر نے والا سود و منفعت کی راحتوں میں سب لوگوں سے بڑھ چڑھ کر ہے اور اسے نظر انداز کرنے اوراس میں شک و شبہ کرنے والا سب لوگوں سے زیادہ زیاں کاری میں مبتلاہے بہت سے وہ جنہیں نعمتیں ملی ہیں، نعمتوں کی بدولت کم کم عذا ب کے نزدیک کئے جارہے ہیں، اور بہت سوں کے ساتھ فقر فاقہ کے پردہ ہیں اللہ کا لطف وکرم شامل حال ہے لہٰذا اسے سننے والے شکر زیادہ اور جلد بازی کم کر اور جو تیری روزی کی حدہے اس پر ٹھہرا رہ.
۲۷۴
اپنے علم کو اور اپنے یقین کو شک نہ بناؤ جب جان لیا تو عمل کرو، اور جب یقین پیدا ہوگیا تو آگے بڑھو۔
علم و یقین کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے مطابق عمل کیا جائے اور اگراس کے مطابق عمل ظہور میں نہ آئے تواسے علم ویقین سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا چنانچہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مجھے یقین ہے کہ فلاں راستہ میں خطرات ہیں اور وہ بے خطر راستہ کو چھوڑ کر اسی پر خطر راستہ میں راہ پیمائی کرے، تو کون کہہ سکتاہے کہ وہ اس راہ کے خطرات پر یقین رکھتا ہے۔ جبکہ اس یقین کا نتیجہ یہ ہو نا چاہیے کہ وہ اس راستہ ہر چلنے سے احتراز کرتا۔ اسی طرح جو شخص حشرونشراور عذاب و ثواب پر یقین رکھتا ہو وہ دنیا کی غفلتوں سے مغلوب ہو کر آخرت کو نظر انداز نہیں کرسکتا اور نہ عذاب و عقاب کے خوف سے عمل میں کوتاہی کا مرتکب ہوسکتاہے ۔
۲۷۵
طمع گھاٹ پر اتارتی ہے مگر سیراب کئے بغیر پلٹا دیتی ہے۔ ذمہ داری کا بوجھ اٹھاتی ہے مگر اسے پورا نہیں کرتی۔ اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پانی پینے والے کو پینے سے پہلے ہی اچھو ہوجاتا ہے۔ اور جتنی کسی مرغوب و پسندیدہ چیز کی قدر و منزلت زیادہ ہوتی ہے اتنا ہی اسے کھودینے کا رنج زیادہ ہوتا ہے۔ آرزوئیں دیدہ و بصیرت کو اندھا کردیتی ہیں اور جو نصیب میں ہوتا ہے پہنچنے کی کوشش کئے بغیر مل جاتا ہے۔
۲۷۶
اے اللہ !میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ میرا ظاہر لوگوں کی چشمِ ظاہر بین میں بہتر ہو اور جو اپنے باطن میں چھپائے ہوئے ہوں، وہ تیری نظروں میں برا ہو۔ درآں حالیکہ میں لوگوں کے دکھاوے کے لیے اپنے نفس سے ان چیزوں سے نگہداشت کروں۔ جن سب سے تو آگا ہ ہے۔ اس طرح لوگوں کے سامنے تو ظاہر کے اچھا ہونے کی نمائش کروں اور تیرے سامنے اپنی بداعمالیوں کو پیش کر تا رہوں جس کے نتیجہ میں تیرے بندوں سے تقرب حاصل کر ں، اور تیری خوشنودیوں سے دور ہی ہوتا چلاجاؤں۔
۲۷۷
(کسی موقع پرقسم کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا)اس ذات کی قسم جس کی بدولت ہم نے ایسی شبِ تار کے باقی ماندہ حصہ کو بسر کردیا۔ جس کے چھٹتے ہی روز ِدرخشاں ظاہر ہوگا ایسا اور ایسا نہیں ہوا.
۲۷۸
وہ تھوڑ اعمل جو پابندی سے بجالایا جاتا ہے زیادہ فائدہ مند ہے اس کثیر عمل سے کہ جس سے دل اکتا جائے۔
۲۷۹
جب مستحبات فرائض میں سدِ راہ ہوں تو انہیں چھوڑ دو.
۲۸۰
جو سفرکی دوری کو پیش نظر رکھتا ہے وہ کمر بستہ رہتاہے۔
۲۸۱
آنکھوں کا دیکھنا حقیقت میں دیکھنا نہیں کیونکہ آنکھیں کبھی اپنے اشخاص سے غلط بیانی بھی کرجاتی ہیں مگر عقل اس شخص کو جو اس سے نصیحت چاہے کبھی فریب نہیں دیتی۔
۲۸۲
تمہارے اور پند و نصیحت کے درمیان غفلت کا ایک بڑا پردہ حائل ہے۔
۲۸۳
تمہارے جاہل دولت زیادہ پاجاتے ہیں اور عالم آئندہ کے توقعات میں مبتلا رکھے جاتے ہیں۔
۲۸۴
علم کا حاصل ہوجانا، بہانے کرنے والوں کے عذر کو ختم کردیتا ہے۔
۲۸۵
جسے جلدی سے موت آجاتی ہے وہ مہلت کا خواہاں ہوتا ہے اور جسے مہلت زندگی دی گئی ہے وہ ٹال مٹول کرتارہتا ہے۔
۲۸۶
لوگ کسی شے پر “واہ واہ “نہیں کرتے مگر یہ کہ زمانہ اس کے لیے ایک برا دن چھپائے ہوئے ہے۔
۲۸۷
آپ سے قضا و قدر کے متعلق پوچھا گیا تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا ! یہ ایک تاریک راستہ ہے اس میں قدم نہ اٹھاؤ.ایک گہرا سمندر ہے۔ اس میں نہ اترو اللہ کا ایک راز ہے اسے جاننے کی زحمت نہ اٹھاؤ.
۲۸۸
اللہ جس بندے کو ذلیل کرنا چاہتا ہے اسے علم و دانش سے محروم کردیتاہے۔
۲۸۹
عہد ماضی میں میر اایک دینی بھائی تھا اور وہ میری نظروں میں اس وجہ سے باعزت تھا کہ دنیااس کی نظروں میں پست و حقیر تھی۔ اس پر پیٹ کے تقاضے مسلط نہ تھے۔ لہٰذا جوچیز اُسے میسر نہ تھی اس کی خواہش نہ کرتا تھا اور جو چیز میسر تھی اسے ضرورت سے زیادہ صرف میں نہ لاتا تھا۔ وہ اکثر اوقات خاموش رہتا تھا اور اگر بولتا تھا تو بولنے والوں کو چپ کرادیتا تھا اور سوال کرنے والوں کی پیاس بجھا دیتا تھا۔ یوں تو وہ عاجز و کمزور تھا، مگر جہاد کا موقع آجائے تو وہ شیر بیشہ اور وادی کا اژدھا تھا۔ وہ جو دلیل و برہان پیش کرتا تھا، وہ فیصلہ کن ہوتی تھی۔ وہ ان چیزوں میں کہ جن میں عذر کی گنجائش ہوتی تھی، کسی کو سرزنش نہ کرتا تھا جب تک کہ اس کے عذر معذرت کو سن نہ لے وہ کسی تکلیف کا ذکر نہ کرتا تھا، مگر اس وقت کہ جب اس سے چھٹکارا پا لیتا تھا، وہ جو کرتا تھا، وہی کہتا تھا اور جو نہیں کرتا تھا وہ اسے کہتا نہیں تھا.اگر بولنے میں اس پر کبھی غلبہ پا بھی لیا جائے تو خاموشی میں اس پر غلبہ حاصل نہیں کیا جاسکتا تھا.وہ بولنے سے زیادہ سننے کا خواہشمند رہتا تھا اور جب اچانک اس کے سامنے دوچیزیں آجاتی تھیں تو دیکھتا تھا کہ ان دونوں میں سے ہوائے نفس کے زیادہ قریب کون ہے تو وہ اس کی مخالفت کرتا تھا۔ لہٰذا تمہیں ان عادات و خصائل کو حاصل کرنا چاہیے اور ان پر عمل پیرا اور ان کا خواہشمند رہنا چاہیے اگر ان تما م کا حاصل کرنا تمہاری قدرت سے باہر ہو تو اس بات کو جانے رہو کہ تھوڑی سی چیز حاصل کرنا پور ے کے چھوڑ دینے سے بہتر ہے۔
حضرت نے اس کلام میں جس شخص کو بھائی کے لفظ سے یاد کرتے ہوئے اس کے عادات و شمائل کا تذکرہ کیا ہے اس بعض نے حضرت ابو ذر غفار ی، بعض نے عثمان ابن مظعون اور بعض نے مقداد ابن اسود کو مراد لیا ہے مگر بعید نہیں کہ اس سے کوئی فرد خاص مراد نہ ہو کیونکہ عرب کا یہ عام طریقہ کلام ہے کہ وہ اپنے کلام میں اپنے بھائی یا ساتھی کا ذکر کرجاتے تھے، اور کوئی معین شخص ان کے پیش نظر نہیں ہوتا تھا۔
۲۹۰
اگر خداوند عالم نے اپنی معصیت کے عذاب سے نہ ڈرایا ہوتا، جب بھی اس کی نعمتوں پر شکر کا تقاضا یہ تھا کہ اس کی معصیت نہ کی جائے۔
۲۹۱
اشعث ابن قیس کو اس کے بیٹے کا پرسا دیتے ہوئے فرمایا:
اے اشعث !اگرتم اپنے بیٹے پر رنج وملال کرو تو یہ خون کا رشتہ اس کا سزا وار ہے، اور اگرصبر کرو تو اللہ کے نزدیک ہر مصیبت کا عوض ہے۔ اے اشعث !اگرتم نے صبر کیا تو تقدیر الہی نافذ ہوگی اس حال میں کہ تم اجر و ثواب کے حقدار ہو گے اور اگر چیخے چلائے، جب بھی حکم قضا کا جاری ہو کر رہے گا۔ مگر اس حال میں کہ تم پر گناہ کا بوجھ ہوگا۔ تمہارے لیے بیٹا مسرت کا سبب ہوا حالانکہ وہ ایک زحمت و آزمائش تھا اور تمہارے لیے رنج واندوہ کا سبب ہوا حالانکہ وہ (مرنے سے )تمہارے لیے اجر و رحمت کا باعث ہوا ہے۔
۲۹۲
رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم کے دفن کے وقت قبر پر یہ الفاظ کہے۔
صبر عموماًاچھی چیز ہے سوائے آپ کے غم کے اور بیتابی و بے قراری عموما ًبری چیز ہے سوائے آپ کی وفات کے اور بلاشبہ آپ کی موت کا صدمہ عظیم ہے، اور آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آنے والی مصیبت سبک ہے.
۲۹۳
بے وقوف کی ہم نشینی اختیا ر نہ کرو کیونکہ وہ تمہارے سامنے اپنے کاموں کو سجا کر پیش کرے گا اور یہ چاہے گا کہ تم اسی کے ایسے ہوجاؤ.
بے وقوف انسان اپنے طریق کار کو صحیح سمجھتے ہوئے اپنے دوست سے بھی یہی چاہتا ہے کہ وہ اس کا سا طور طریقہ اختیار کرے، اور جیسا وہ خود ہے ویسا ہی وہ ہوجائے.اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ یہ چاہتاہے کہ اس کا دوست بھی اس جیسا بے وقوف ہوجائے۔ کیونکہ وہ اپنے کو بے وقوف ہی کب سمجھتا ہے جو یہ چاہے اوراگر سمجھتا ہوتا تو بے وقو ف ہی کیوں ہوتا۔ بلکہ اپنے کو عقلمند اور اپنے طریقہ کار کو صحیح سمجھتے ہوئے وہ اپنے دوست کو بھی اپنے ہی ایسا “عقلمند”دیکھنا چاہتا ہے۔ اس لیے وہ اپنی رائے کو سجا کر اس کے سامنے پیش کرتا ہے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا اس سے خواہش مند ہوتاہے اور ہوسکتا ہے کہ اس کا دوست اس کی باتوں سے متاثر ہوکر اس کی راہ پرچل پڑے۔ اس لیے اس سے الگ تھلگ رہنا ہی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
۲۹۴
آپ سے دریافت کیا گیا کہ مشرق و مغرب کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟آپ نے فرمایا “سورج کا ایک دن کا راستہ”.
۲۹۵
تین قسم کے تمہارے دوست ہیں اور تین قسم کے دشمن۔ دوست یہ ہیں :تمہارا دوست، تمہارے دوست کا دوست، اور تمہارے دشمن کا دشمن اور دشمن یہ ہیں :تمہار ا دشمن، تمہارے دوست کا دشمن اورتمہارے دشمن کا دوست۔
۲۹۶
حضرت نے ایک ایسے شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے دشمن کو ایسی چیز کے ذریعہ سے نقصان پہنچانے کے درپے ہے جس میں خود اس کو بھی نقصان پہنچے گا، تو آ پ نے فرمایا کہ تم اس شخص کی مانند ہوجو اپنے پیچھے والے سوار کو قتل کرنے کے لیے اپنے سینہ میں نیزہ مارے۔
۲۹۷
نصیحتیں کتنی زیادہ ہیں اور ان سے اثر لینا کتنا کم ہے۔
اگر زمانہ کے حوادث و انقلابات پر نظر کی جائے اور گزشتہ لوگوں کے احوال و واردات کو دیکھا اور ان کی سرگزشتوں کو سناجائے تو ہر گوشہ سے عبرت کی ایک ایسی داستان سنی جاسکتی ہے جو روح کو خواب غفلت سے جھنجھوڑنے پند و نصیحت کرنے اور عبر ت و بصیرت دلانے کا پورا سرو سامان رکھتی ہے۔ چنانچہ دنیا میں ہرچیز کا بننا اور بگڑنا اور پھولوں کا کھلنا اور مرجھانا سبزے کا لہلہانا اور پامال ہونا اور ہر ذرہ کا تغیر وتبدل کی آماجگاہ بننا ایسا درس عبرت ہے جو سیراب زندگی سے جامِ بقا کے حاصل کرنے کے توقعا ت ختم کردیتا ہے۔ بشرطیکہ دیکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کان ان عبرت افزا چیزوں سے بند نہ ہوں۔
کاخ جہاں پراست نہ ذکر گزشتگاں لیکن کسیکہ گوش دہد، ایں مذاکم است;
۲۹۸
جو لڑائی جھگڑے میں حد سے بڑھ جائے وہ گنہگار ہوتا ہے اور جو اس میں کمی کرے، اس پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں اور جو لڑتا جھگڑتا ہے اس کے لیے مشکل ہوتا ہے کہ وہ خوف خدا قائم رکھے۔
۲۹۹
وہ گناہ مجھے اندوہناک نہیں کرتا جس کے بعد مجھے مہلت مل جائے کہ میں دو رکعت نماز پڑھوں اور اللہ سے امن و عافیت کاسوال کروں۔
۳۰۰
امیرالمومنین علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ خداوند عالم اس کثیر التعداد مخلوق کا حساب کیونکر لے گا؟ فرمایا جس طرح اس کی کثرت کے باوجود روزی انہیں پہنچاتا ہے۔ پوچھا وہ کیونکر حساب لے گا جب کہ مخلوق اسے دیکھے گی نہیں؟ فرمایا جس طرح انہیں روزی دیتا ہے اور وہ اسے دیکھتے نہیں۔
۳۰۱
تمہارا قاصد تمہاری عقل کا ترجمان ہے اور تمہاری طرف سے کامیاب ترین ترجمانی کرنے والا تمہارا خط ہے۔
۳۰۲
ایسا شخص جو سختی و مصیبت میں مبتلا ہو۔ جتنا محتاج دعا ہے، اس سے کم وہ خیر وعافیت سے ہے۔ مگر اندیشہ ہے کہ نہ جانے کب مصیبت آجائے۔
۳۰۳
لوگ اسی دنیا کی اولاد ہیں اور کسی شخص کو اپنی ماں کی محبت پر لعنت ملامت نہیں کی جاسکتی۔
۳۰۴
غریب و مسکین اللہ کا فرستادہ ہوتا ہے تو جس نے اس سے اپنا ہاتھ روکا اس نے خدا سے ہاتھ روکا اور جس نے اسے کچھ دیا اس نے خدا کو دیا۔
۳۰۵
غیر ت مند کبھی زنا نہیں کرتا۔
۳۰۶
مدت حیات نگہبانی کے لیے کافی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ لاکھ آسمان کی بجلیا ں کڑکیں، حوادث کے طوفان امڈیں، زمین میں زلزلے آئیں اور پہاڑ آپس میں ٹکرائیں، اگر زندگی باقی ہے تو کوئی حادثہ گزند نہیں پہنچا سکتا اور نہ صرصر موت شمع زندگی کو بجھا سکتی ہے کیونکہ موت کا ایک وقت مقرر ہے اور اس مقررہ وقت تک کوئی چیز سلسلہ حیات کو قطع نہیں کر سکتی، اس لحاظ سے بلا شبہ موت خود زندگی کی محافظ و نگہبان ہے۔
“موت کہتے ہیں جسے ہے پاسبان زندگی “
۳۰۷
اولاد کے مرنے پہ آدمی کو نیند آجاتی ہے مگر مال کے چھن جانے پر اسے نیند نہیں آتی.
سید رضی فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اولاد کے مرنے پر صبر کر لیتا ہے مگر مال کے جانے پر صبر نہیں کرتا۔
۳۰۸
باپوں کی باہمی محبت اولاد کے درمیان ایک قرابت ہواکرتی ہے اور محبت کوقرابت کی اتنی ضرورت نہیں جتنی قرابت کو محبت کی۔
۳۰۹
اہل ایمان کے گمان سے ڈرتے رہو، کیونکہ خداوند عالم نے حق کو ان کی زبانوں پر قرار دیا ہے.
۳۱۰
کسی بندے کا ایمان اس وقت تک سچا نہیں ہوتا جب تک اپنے ہاتھ میں موجود ہونے والے مال سے اس پر زیادہ اطمینان نہ ہو جو قدرت کے ہاتھ میں ہے۔
۳۱۱
جب حضرت بصرہ میں وارد ہوئے تو انس بن مالک کو طلحہ و زبیر کے پاس بھیجا تھا کہ ان دونوں کو کچھ وہ اقوال یاد دلائیں جو آپ علیہ السّلام کے بارے میں انہوں نے خود پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے ہیں۔ مگر انہوں نے اس سے پہلوتہی کی، اور جب پلٹ کر آئے تو کہا کہ وہ بات مجھے یاد نہیں رہی اس پر حضرت نے فرمایا اگر تم جھو ٹ بول رہے ہو تو اس کی پاداش میں خداوند عالم ایسے چمکدار داغ میں تمہیں مبتلا کرے، کہ جسے دستار بھی نہ چھپا سکے۔
(سید رضی فرماتے ہیں کہ) سفید داغ سے مراد برص ہے چنانچہ انس مر ض میں مبتلا ہوگئے جس کی وجہ سے ہمیشہ نقاب پوش دکھائی دیتے تھے.
علامہ رضی نے اس کلام کے جس مورد و عمل کی طرف اشارہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ جب حضرت نے جنگ جمل کے موقع پر انس ابن مالک کو طلحہ وزبیر کے پاس اس مقصد سے بھیجا کہ وہ انہیں پیغمبر کا قول انکما استقاتلان علیا و انتھالہ ظالمان (تم عنقریب علی علیہ السّلام سے جنگ کر و گے اور تم ان کے حق میں ظلم و زیادتی کرنے والے ہوگے )یاد دلائیں، تو انہوں نے پلٹ کر یہ ظاہر کیا کہ وہ اس کا تذکر ہ بھو ل گئے تو حضرت نے ان کے لیے یہ کلمات کہے۔ مگر مشہور یہ ہے کہ حضرت نے یہ جملہ اس موقع پر فرمایا جب آپ پیغمبر صلعم کے اس ارشاد کی تصدیق چاہی کہ:
“جس کا میں مولا ہوں اس کے علی بھی مولا ہیں۔ اے اللہ جو علی کو دوست رکھے تو بھی اسے دوست رکھ اور جو انہیں دشمن رکھے تو بھی اسے دشمن رکھ۔”
چنانچہ متعدد لوگو ں نے اس کی گواہی دی۔ مگر انس بن مالک خاموش رہے جس پر حضرت نے ان سے فرمایا کہ تم بھی تو غدیر خم کے موقع پر موجود تھے پھر اس خاموشی کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا یا امیرالمومنین علیہ السّلام میں بوڑھا ہوچکا ہوں اب میری یاد داشت کا م نہیں کرتی جس پر حضرت نے ان کے لیے بددعا فرمائی۔ چنانچہ ابن قیتبہ تحریر کرتے ہیں کہ:
“لوگوں نے بیان کیا ہے کہ امیرالمومنین علیہ السّلام نے انس ابن مالک سے رسول اللہ کے ارشاد اے اللہ جو علی کو دوست رکھے تو بھی اسے دوست رکھ اور جو انہیں دشمن رکھے تو بھی اسے دشمن رکھ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور اسے بھول چکا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم جھوٹ کہتے ہو تو خدا تمہیں ایسے بر ص میں مبتلا کرے جسے عمامہ بھی نہ چھپا سکے۔”
ابن ابی الحدید نے بھی اسی قول کی تائید کی ہے اور سید رضی کے تحریر کردہ واقعہ کی تردید کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ:
سید رضی نے جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے حضرت نے انس کو طلحہ و زبیر کی طرف روانہ کیا تھا ایک غیر معروف واقعہ ہے اگر حضرت نے اس کلام کی یاد دہانی کے لیے انہیں بھیجا ہوتا کہ جو پیغمبر نے ان دونوں کے بارے میں فرمایا تھا تو یہ بعید ہے کہ وہ پلٹ کر یہ کہیں کہ میں بھول گیا تھا۔ کیونکہ جب وہ حضرت سے الگ ہوکر روانہ ہوئے تھے تو اس وقت یہ اقرار کیا تھا کہ پیغمبر کا یہ ارشاد میرے علم میں ہے اور مجھے یاد ہے پھر کس طرح یہ ہوسکتا ہے کہ وہ ایک گھڑی یا ایک دن کے بعد یہ کہیں کہ میں بھول گیا تھا، اور اقرار کے بعد انکا ر کریں۔ یہ ایک نہ ہونے والی بات ہے۔(شرح ابن ابی الحدید، جلد ۴، صفحہ ۳۸۸)
۳۱۲
دل کبھی مائل ہوتے ہیں اور کبھی اچاٹ ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا جب مائل ہوں، اس وقت انہیں مستحبات کی بجا آوری پرآمادہ کرو۔ اور جب اچاٹ ہوں تو واجبات پر اکتفا کرو۔
۳۱۳
قرآن میں تم سے پہلے کی خبر میں تمہارے بعد کے واقعات اور تمہارے درمیانی حالات کے لیے احکام ہیں۔
۳۱۴
جدھر سے پتھر آئے اسے ادھر ہی پلٹا دو کیونکہ سختی کا دفیعہ سختی ہی سے ہوسکتا ہے۔
۳۱۵
اپنے منشی عبیداللہ ابن ابی رافع سے فرمایا :
دوات میں صو ف ڈالا کر و، اور قلم کی زبان لانبی رکھا کرو۔ سطروں کے درمیان فاصلہ زیادہ چھوڑا کرو اور حروف کو ساتھ ملا کر لکھا کرو کہ یہ خط کی دیدہ زیبی کے لیے منا سب ہے۔
۳۱۶
میں اہل ایمان کا یعسوب ہوں اور بدکرداروں کا یعسوب مال ہے۔
(سید رضی فرماتے ہیں کہ )اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان والے میری پیروی کرتے ہیں اور بدکردار مال و دولت کا اسی طرح اتباع کرتے ہیں جس طرح شہد کی مکھیا ں یعسوب کی اقتدا کرتی ہیں اور یعسوب اس مکھی کو کہتے ہیں جو ان کی سردار ہوتی ہے۔
۳۱۷
ایک یہودی نے آپ سے کہا کہ ابھی تم لوگوں نے اپنے نبی کودفن نہیں کیا تھا کہ ان کے بارے میں اختلاف شروع کردیا۔ حضرت نے فرمایا ہم نے ان کے بارے میں اختلا ف نہیں کیا۔ بلکہ ان کے بعد جانشینی کے سلسلہ میں اختلاف ہوا مگر تم تو وہ ہوکہ ابھی دریائے نیل سے نکل کر تمہارے پیر خشک بھی نہ ہوئے تھے کہ اپنے نبی سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی ایک ایسا خدا بنا دیجئے جیسے ان لوگوں کے خدا ہیں۔ توموسیٰ علیہ السّلام نے کہا کہ بیشک تم ایک جاہل قوم ہو.
اس یہودی کی نکتہ چینی کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کے باہمی اختلاف کو پیش کر کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کو ایک اختلافی امر ثابت کرلے، مگر حضرت نے یہ لفظ فیہ کے بجائے لفظ عنہ فرماکر اختلاف کا مورد واضح کر دیا کہ وہ اختلاف رسول کی نبو ت کے بارے میں نہ تھا بلکہ ان کی نیابت و جانشینی کے سلسلہ میں تھا۔ اور پھر یہودیوں کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جو آج پیغمبر کے بعد مسلمانوں کے باہمی اختلاف پر نقدکر رہے ہیں خود ان کی حالت یہ تھی کہ حضرت موسیٰ کی زندگی ہی میں عقیدہ توحید میں متزلزل ہوگئے تھے چنانچہ جب وہ اہل مصر کی غلامی سے چھٹکارا پاکر دریا کے پار اتر ے تو سینا کے بت خانہ میں بچھڑے کی ایک مورتی دیکھ کر حضرت موسیٰ سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی ایک ایسی مورتی بنا دیجئے۔ جس پر حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے کہا کہ تم اب بھی ویسے ہی جاہل ہو, جیسے مصر میں تھے تو جس قوم میں توحید کی تعلیم پانے کے بعد بھی بت پرستی کا جذبہ اتنا ہو کہ وہ ایک بت کو دیکھ کر تڑپنے لگے اور یہ چاہے کہ اس کے لیے بھی ایک بت خانہ بنا دیا جائے اس کو مسلمانوں کے کسی اختلاف پر تبصرہ کرنے کا کیا حق پہنچتا ہے۔
۳۱۸
حضرت سے کہا گیا کہ آپ کس وجہ سے اپنے حریفوں پرغالب آتے رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ میں جس شخص کا بھی مقابلہ کر تا تھا وہ اپنے خلاف میری مدد کرتا تھا۔
(سید رضی فرماتے ہیں کہ )حضرت نے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آپ کی ہیبت دلو ں پر چھا جاتی تھی۔
جو شخص اپنے حریفوں سے مرعوب ہو جائے، اس کا پسپا ہونا ضروری سا ہوجاتا ہے کیونکہ مقابلہ میں صرف جسمانی طاقت کا ہونا ہی کافی نہیں ہوتا۔ بلکہ دل کا ٹھہراؤ اورحوصلہ کی مضبوطی بھی ضروری ہے۔ اور جب وہ ہمت ہار دے گا اور یہ خیال دل میں جما لے گا کہ مجھے مغلوب ہی ہونا ہے تو مغلوب ہو کر رہے گا۔ یہی صورت امیر المومنین علیہ السّلام کے حریف کی ہوتی تھی کہ و ہ ان کی مسلمہ شجاعت سے اس طرح متاثر ہوتا تھا کہ اسے موت کا یقین ہو جاتا تھا۔ جس کے نتیجہ میں اس کی قوت معنوی و خود اعتمادی ختم ہوجاتی تھی اورآخر یہ ذہنی تاثر اسے موت کی راہ پر لا کھڑا کرتا تھا۔
۳۱۹
اپنے فرزند محمد ابن حنفیہ سے فرمایا ! اے فرزند ! میں تمہارے لیے فقر و تنگدستی سے ڈرتا ہوں لہٰذا فقر و ناداری سے اللہ کی پناہ مانگو۔ کیونکہ یہ دین کے نقص، عقل کی پریشانی اور لوگوں کی نفرت کا باعث ہے۔
۳۲۰
ایک شخص نے ایک مشکل مسئلہ آپ سے دریافت کیا، تو آپ نے فرمایا۔ سمجھنے کے لیے پوچھو، الجھنے کے لیے نہ پوچھو۔ کیونکہ وہ جاہل جو سیکھنا چاہتا ہے مثل عالم کے ہے اور وہ عالم جو الجھنا چاہتا ہے وہ مثل جاہل کے ہے۔
۳۲۱
عبد اللہ ابن عباس نے ایک امر میں آپ کو مشورہ دیا جو آپ کے نظر یہ کے خلاف تھا۔ تو آپ نے ان سے فرمایا۔ تمہارا یہ کام ہے کہ مجھے رائے دو۔ اس کے بعد مجھے مصلحت دیکھنا ہے۔ اور اگر میں تمہاری رائے کو نہ مانوں، تو تمہیں میری اطاعت لازم ہے۔
عبداللہ ابن عباس نے امیر المومنین علیہ السّلام کو یہ مشورہ دیا تھا کہ طلحہ و زبیر کو کوفہ کی حکومت کا پروانہ لکھ دیجئے اور معاویہ کو شام کی ولایت پر برقرار رہنے دیجئے، یہاں تک کہ آپ کے قد م مضبوطی سے جم جائیں اور حکومت کو استحکام حاصل ہوجائے جس کے جواب میں حضرت نے فرمایا کہ میں دوسروں کی دنیا کی خاطر اپنے دین کو خطرہ میں نہیں ڈال سکتا لہٰذا تم اپنی بات منوانے کے بجائے میری بات کو سنو اور میری اطاعت کرو۔
۳۲۲
وارد ہوا ہے کہ جب حضرت صفین سے پلٹتے ہوئے کوفہ پہنچے تو قبیلہ شبام کی آبادی سے ہوکر گزرے۔ جہاں صفین کے کشتوں پر رونے کی آواز آپ کے کانوں میں پڑی اتنے میں حرب ابن شرجیل شبامی جو اپنی قوم کے سربرآوردہ لوگوں میں سے تھے، حضرت کے پاس آئے تو آپ نے اس سے فرمایا ! کیاتمہارا ان عورتوں پر بس نہیں چلتا جو میں رونے کی آوازیں سن رہا ہوں اس رونے چلانے سے تم انہیں منع نہیں کرتے؟ حرب آگے بڑھ کر حضرت کے ہمرکاب ہو لیے درآں حالیکہ حضرت سوار تھے تو آپ نے فرمایا ! پلٹ جاؤ تم۔ ایسے آدمی کا مجھ ایسے کے ساتھ پیادہ چلنا والی کے لیے فتنہ اور مومن کے لیے ذلت ہے۔
۳۲۳
نہروان کے دن خوارج کے کشتوں کی طرف ہو کر گزرے تو فرمایا ! تمہارے لیے ہلاکت و تباہی ہو جس نے تمہیں ورغلایا، اس نے تمہیں فریب دیا۔ کہاگیاکہ یا امیر المومنین علیہ السّلام کس نے انہیں ورغلایا تھا؟فرمایا کہ گمراہ کرنے والے شیطان اور برائی پر ابھارنے والے نفس نے کہ جس نے انہیں امیدوں کے فریب میں ڈالا اور گناہوں کا راستہ ان کے لیے کھول دیا۔ فتح و کامرانی کے ان سے وعدے کئے اور اس طرح انہیں دوزخ میں جھونک دیا۔
۳۲۴
تنہائیوں میں اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرنے سے ڈرو۔ کیونکہ جو گواہ ہے وہی حاکم ہے.
۳۲۵
جب آپ کو محمد ابن ابی بکر رحمتہ اللہ علیہ کے شہید ہونے کی خبر پہنچی توآپ نے فرمایا ہمیں ان کے مر نے کا اتنا ہی رنج و قلق ہے جتنی دشمنوں کو اس کی خوشی ہے۔ بلاشبہ ان کا ایک دشمن کم ہوا۔ اور ہم نے ایک دوست کو کھو دیا۔
۳۲۶
وہ عمر کہ جس کے بعد اللہ تعالیٰ آدمی کے عذر کو قبول نہیں کرتا، ساٹھ برس کی ہے۔
۳۲۷
جس پر گناہ قابو پا لے، وہ کامران نہیں اور شرکے ذریعہ غلبہ پانے والا حقیقتاً مغلوب ہے۔
۳۲۸
خدا وند عالم نے دولتمندوں کے مال میں فقیروں کا رزق مقرر کیا ہے لہٰذا اگر کوئی فقیر بھوکا رہتا ہے تو اس لیے کہ دولت مند نے دولت کو سمیٹ لیا ہے اور خدائے بزرگ و برتر ان سے اس کا مواخذہ کرنے والا ہے۔
۳۲۹
سچاعذر پیش کرنے سے یہ زیادہ دقیع ہے کہ عذر کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنے فرائض پر اس طرح کار بند ہونا چاہیے کہ اسے معذرت پیش کرنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ کیونکہ معذرت میں ایک گونہ کوتاہی کی جھلک اور ذلت کی نمود ہوتی ہے، اگرچہ وہ صحیح و درست ہی کیوں نہ ہو۔
۳۳۰
اللہ کا کم سے کم حق جو تم پر عائد ہوتا ہے یہ ہے کہ اس کی نعمتوں سے گناہوں میں مدد نہ لو.
کفران نعمت وناسپاسی کے چنددرجے ہیں۔ پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان نعمت ہی کی تشخیص نہ کرسکے، جیسے آنکھوں کی روشنی، زبان کی گویائی، کانوں کی شنوائی اور ہاتھ پیروں کی حرکت کو سن اللہ کی بخشی ہوئی نعمتیں ہیں۔ مگر بہت سے لوگوں کو ان کے نعمت ہونے کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان میں شکر گزاری کا جذبہ پیدا ہو. دوسرا درجہ یہ ہے کہ نعمت کو دیکھے اور سمجھے۔ مگر اس کے مقابلہ میں شکر بجا نہ لائے. تیسرادرجہ یہ ہے کہ نعمت بخشنے والے کی مخالفت و نافرمانی کرے۔ چوتھا درجہ یہ ہے کہ اسی کی دی ہوئی نعمتوں کو اطاعت و بندگی میں صرف کر نے کے بجائے اس کی معصیت و نافرمانی میں صرف کرے یہ کفران نعمت کا سب سے بڑا درجہ ہے۔
۳۳۱
جب کاہل اور ناکارہ افراد عمل میں کوتاہی کرتے ہیں تو اللہ کی طرف سے یہ عقلمند وں کے لیے ادائے فرض کا ایک بہترین موقع ہوتا ہے۔
۳۳۲
حکام اللہ کی سر زمین میں اس کے پاسبان ہیں۔
۳۳۳
مومن کے متعلق فرمایا! مومن کے چہرے پر بشاشت اور دل میں غم و اندوہ ہوتا ہے۔ ہمت اس کی بلند ہے اور اپنے دل میں وہ اپنے کو ذلیل سمجھتا ہے سر بلندی کو برا سمجھتا ہے اور شہرت سے نفرت کرتا ہے اس کا غم بے پایاں اور ہمت بلند ہوتی ہے۔ بہت خاموش ہمہ وقت مشغو ل، شاکر، صابر، فکر میں غرق, دست طلب بڑھانے میں بخیل، خوش خلق اور نرم طبیعت ہوتا ہے اور اس کا نفس پتھر سے زیادہ سخت اور خود غلام سے زیادہ متواضع ہوتا ہے۔
۳۳۴
اگر کوئی بندہ مدت حیات اور اس کے انجا م کو دیکھے تو امیدوں اور ان کے فریب سے نفرت کرنے لگے۔
۳۳۵
ہر شخص کے مال میں دو حصہ دار ہوتے ہیں۔ ایک وارث اور دوسرے حوادث.
۳۳۶
جس سے مانگا جائے وہ اس وقت تک آزاد ہے، جب تک وعدہ نہ کرے۔
۳۳۷
جو عمل نہیں کرتا اور دعا مانگتا ہے وہ ایسا ہے جیسے بغیر حلیہ کمان کے تیر چلانے والا.
۳۳۸
علم دو طرح کا ہوتا ہے، ایک وہ جو نفس میں بس جائے اور ایک وہ جو صرف سن لیا گیاہو اور سناسنایا فائدہ نہیں دیتا جب تک وہ دل میں راسخ نہ ہو۔
۳۳۹
اصابتِ رائے اقبال و دولت سے وابستہ ہے اگر یہ ہے تو وہ بھی ہوتی ہے اور اگر یہ نہیں تو وہ بھی نہیں ہوتی.
جب کسی کا بخت یاور اور اقبال اوج و عروج پر ہوتا ہے تو اس کے قدم خود بخود منزل مقصود کی طر ف بڑھنے لگتے ہیں۔ اور ذہن و فکر کو صحیح طریق کار کے طے کرنے میں کوئی الجھن نہیں ہوتی اور جس کا اقبال ختم ہونے پر آتا ہے وہ روشنی میں بھی ٹھوکریں کھاتا ہے اور ذہن وفکر کی قوتیں معطل ہوکر رہ جاتی ہیں۔ چنانچہ جب بنی برمک کا زوال شروع ہوا تو ان میں سے دس آدمی ایک امر میں مشورہ کرنے کے لیے جمع ہوگئے مگر پوری رد و کد کے بعد بھی کسی صحیح نتیجہ تک نہ پہنچ سکے۔ یہ دیکھ کر یحییٰ نے کہا کہ خدا کی قسم یہ ہمارے زوال کا پیش خیمہ اور ہمارے ادبار کی علامت ہے کہ ہم دس آدمی بھی کوئی فیصلہ نہ کر سکیں۔ ورنہ جب ہمارا نیر و اقبال بام عروج پر تھا تو ہمارا ایک آدمی ایسی دس دس گتھیوں کو بڑی آسانی سے سلجھا لیتا تھا۔
۳۴۰
فقر کی زینت پاکدامنی اور تونگری کی زینت شکر ہے۔
۳۴۱
ظالم کے لیے انصاف کا دن اس سے زیادہ سخت ہوگا، جتنا مظلوم پر ظلم کا دن۔
۳۴۲
سب سے بڑی دولت مندی یہ ہے کہ دوسروں کے ہاتھ میں جو ہے اس کی آس نہ رکھی جائے۔
۳۴۳
گفتگوئیں محفوظ ہیں اور دلوں کے بھید جانچے جانے والے ہیں۔ ہر شخص اپنے اعمال کے ہاتھوں میں گروی ہے اور لوگوں کے جسموں میں نقص اور عقلوں میں فتور آنے والا ہے مگر وہ کہ جسے اللہ بچائے رکھے۔ ان میں پوچھنے والا الجھانا چاہتا ہے اور جواب دینے والا (بے جانے بوجھے جواب کی)زحمت اٹھاتا ہے جو ان میں درست رائے رکھتا ہے۔ اکثر خوشنودی و ناراضگی کے تصورات اسے صحیح رائے سے موڑ دیتے ہیں اور جو ان میں عقل کے لحاظ سے پختہ ہوتا ہے بہت ممکن ہے کہ ایک نگا ہ اس کے دل پر اثر کردے اور ایک کلمہ اس میں انقلاب پیدا کردے۔
۳۴۴
اے گروہ مردم! اللہ سے ڈرتے رہو کیونکہ کتنے ہی ایسی باتوں کی امید باندھنے والے ہیں جن تک پہنچتے نہیں اور ایسے گھر تعمیر کرنے والے ہیں جن میں رہنا نصیب نہیں ہوتا اور ایسا مال جمع کرنے والے ہیں جسے چھوڑجاتے ہیں حالانکہ ہوسکتا ہے کہ اسے غلط طریقہ سے جمع کیا ہو یا کسی کا حق دبا کر حاصل کیا ہو۔ اس طرح اسے بطور حرام پایا ہو اور اس کی وجہ سے گناہ کا بوجھ اٹھایا ہو، تو اس کا وبال لے کر پلٹے اور اپنے پروردگار کے حضور رنج و افسوس کرتے ہوئے جا پہنچے دنیا و آخرت دونوں میں گھاٹا اٹھایا۔ یہی تو کھلم کھلا گھاٹا ہے۔
۳۴۵
گناہ تک رسائی کا نہ ہوتا بھی ایک صورت پاکدامنی کی ہے۔
۳۴۶
تمہاری آبرو قائم ہے جسے دست سوال دراز کرنا بہا دیتا ہے۔ لہٰذا یہ خیال رہے کہ کس کے آگے اپنی آبرو ریزی کر رہے ہو۔
۳۴۷
کسی کو اس کے حق سے زیادہ سراہنا چاپلوسی ہے اور حق میں کمی کرنا کوتاہ بیانی ہے یا حسد.
۳۴۸
سب سے بھاری گناہ وہ ہے کہ جس کا ارتکاب کرنے والا اسے سبک سمجھے۔
چھوٹے گناہوں میں بے باکی و بے اعتنائی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان گناہ کے معاملہ میں بے پرواہ سا ہوجاتا ہے اور رفتہ رفتہ یہ عادات اسے بڑے بڑے گناہوں کی جرات دلا دیتی ہے اور پھر وہ بغیر کسی جھجک کے ان کا مرتکب ہونے لگتا ہے۔ لہٰذا چھوٹے گناہوں کو بڑے گناہوں کا پیش خیمہ سمجھتے ہوئے ان سے احتراز کر نا چاہیے تاکہ بڑے گناہوں کے مرتکب ہونے کی نوبت ہی نہ آئے۔
۳۴۹
جو شخص اپنے عیوب پر نظر رکھے گا وہ دوسروں کی عیب جوئی سے باز رہے گا۔ اور جو اللہ کے دیئے ہوئے رزق پر خوش رہے گا، وہ نہ ملنے والی چیز پر رنجیدہ نہیں ہو گا۔ جو ظلم کی تلوار کھینچتا ہے وہ اسی سے قتل ہوتا ہے جو اہم امور کو زبردستی انجام دینا چاہتا ہے۔ وہ تباہ و بر باد ہوتا ہے، جو اٹھتی ہوئی موجوں میں پھاندتا ہے، وہ ڈوبتا ہے، جو بدنامی کی جگہوں پر جائے گا، وہ بدنام ہوگا، جو زیادہ بولے گا، وہ زیادہ لغزشیں کرے گا اور جس میں حیا کم ہو اس میں تقویٰ کم ہوگا اور جس میں تقویٰ کم ہوگا اس کا دل مردہ ہوجائے گا۔ اور جس کا دل مردہ ہوگیا وہ دوزخ میں جا پڑا۔ جو شخص لوگوں کے عیوب کو دیکھ کر نا ک بھول چڑھائے اور پھر انہیں اپنے لیے چاہے اور سرا سرا حمق ہے قناعت ایسا سرمایہ ہے جو ختم نہیں ہوتا۔ جو موت کو زیادہ یاد رکھتا ہے وہ تھوڑی سی دنیا پر بھی خوش ہو رہتا ہے۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ اس کاقول بھی عمل کا ایک جز ہے، وہ مطلب کی بات کے علاوہ کلام نہیں کرتا۔
۳۵۰
لوگوں میں جو ظالم ہو اس کی تین علامتیں ہیں :وہ ظلم کرتا ہے اپنے سے بالا ہستی کی خلاف ورزی سے، اور اپنے سے پست لوگوں پر قہر و تسلط سے اور ظالموں کی کمک و امداد کرتا ہے۔
۳۵۱
جب سختی انتہا کوپہنچ جائے تو کشائش و فراخی ہوگی اور جب ابتلاء ومصیبت کی کڑیاں تنگ ہوجائیں تو راحت و آسائش حاصل ہوتی ہے۔
۳۵۲
اپنے اصحاب میں سے ایک سے فرمایا زن و فرزند کی زیادہ فکر میں نہ رہو، اس لیے کہ اگر وہ دوستان خدا ہیں تو خدا اپنے دوستوں کو برباد نہ ہونے دے گا اور اگر دشمنان خدا ہیں تو تمہیں دشمنان خدا کی فکروں اور دھندوں میں پڑنے سے مطلب ہی کیا۔
۳۵۳
سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ اس عیب کو بر ا کہو، جس کے مانند خود تمہارے اندر موجود ہے۔
اس سے بڑھ کر اور عیب کیا ہوسکتا ہے کہ انسان دوسروں کے ان عیوب پر نکتہ چینی کرے جو خود اس کے اندر بھی پائے جاتے ہوں، تقاضائے عدل تو یہ ہے کہ وہ دوسروں کے عیوب پر نظر کرنے سے پہلے اپنے عیوب پر نظرکرے اور سوچے کہ عیب، عیب ہے وہ دوسرے کے اند ر پایا جائے یا اپنے اندر
ہمہ عیب خلق دیدن نہ مروت است و مروی نگہے بخویشین کن کہ ہمہ گنا ہ داری
۳۵۴
حضرت کے سامنے ایک نے دوسرے شخص کو فرزند کے پید ا ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ “شہسوار مبارک ہو”.جس پر حضرت نے فرمایا کہ یہ نہ کہو کہ تم بخشنے والے (خدا) کے شکر گزار ہوئے یہ بخشی ہوئی نعمت تمہیں مبارک ہو، یہ اپنے کمال کو پہنچے اور اس کی نیکی و سعادت تمہیں نصیب ہو۔
۳۵۵
حضرت کے عمال میں سے ایک شخص نے ایک بلند عمار ت تعمیر کی جس پر آپ نے فرمایا۔ چاندی کے سکوں نے سر نکالا ہے۔ بلاشبہ یہ عمار ت تمہاری ثروت کی غمازی کرتی ہے.
۳۵۶
حضرت سے کہا گیا کہ اگر کسی شخص کو گھر میں چھوڑ کر اس کا دروازہ بند کردیا جائے تو اس کی روزی کدھر سے آئے گی؟ فرمایا:
جدھر سے اس کی موت آئے گی۔
اگر خداوند عالم کی مصلحت اس امر کی مقتضی ہو کہ وہ کسی ایسے شخص کو زندہ رکھے جسے کسی بند جگہ میں محصور کردیاگیا ہو، تو وہ اس لیے سروسامان زندگی مہیا کرکے اسے زندہ رکھنے پر قادر ہے اور جس طرح بند دروازے موت کو نہیں روک سکتے، اسی طرح رزق سے بھی مانع نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ اس قادر مطلق کی قدرت دونوں پر یکساں کار فرما ہے.
مقصد یہ ہے کہ انسان کو رزق کے معاملہ میں قانع ہونا چاہیے کیونکہ جو اس کے مقدر میں ہے وہ جہا ں کہیں بھی ہوگا، اسے بہر صورت ملے گا
می رسد در خانہ در بستہ روزی چوں اجل حرص داردایں چنیں آشفتہ خاطر خلق را
۳۵۷
حضرت نے ایک جماعت کو ان کے مرنے والے کی تعزیت کرتے ہوئے فرمایا کہ “موت کی ابتداء تم سے نہیں ہوئی ہے اور نہ اس کی انتہا تم پر ہے یہ تمہارا ساتھی مصروف سفر رہتا تھا۔ اب بھی یہی سمجھو کہ وہ اپنے کسی سفرمیں ہے اگر وہ آگیا تو بہتر، ورنہ تم خود اس کے پاس پہنچ جاؤگے”۔
۳۵۸
اے لوگو! چاہیے کہ اللہ تم کو نعمت و آسائش کے موقع پر بھی اسی طرح خائف و ترساں دیکھے جس طرح تمہیں عذاب سے ہراساں دیکھتا ہے۔ بیشک جسے فراخ دستی حاصل ہو، اور وہ اسے کم کم عذاب کی طرف بڑھنے کا سبب نہ سمجھے تو اس نے خوفناک چیز سے اپنے کو مطمئن سمجھ لیا اور جو تنگدست ہو اور وہ اسے آزمائش نہ سمجھے تو اس نے اس ثواب کو ضائع کردیا۔ کہ جس کی امید وآرزو کی جاتی ہے.
۳۵۹
اے حرص و طمع کے اسیرو! باز آؤ کیونکہ دنیا پر ٹوٹنے والوں کو حوادث زمانہ کے دانت پیسنے ہی کا اندیشہ کرنا چاہیے۔
اے لوگو! خود ہی اپنی اصلاح کا ذمہ لو, اور اپنی عادتوں کے تقاضوں سے منہ موڑلو۔
۳۶۰
کسی کے منہ سے نکلنے والی بات میں اگر اچھائی کاپہلو نکل سکتا ہو، تو اس کے بارے میں بدگمانی نہ کرو۔
۳۶۱
جب اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت طلب کرو، تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو، پھر اپنی حاجت مانگو، کیونکہ خداوند عالم اس سے بلند تر ہے کہ اس سے دوحاجتیں طلب کی جائیں اور وہ ایک پوری کردے اور ایک روک لے۔
۳۶۲
جسے اپنی آبرو عزیز ہو، وہ لڑائی جھگڑے سے کنارہ کش رہے۔
۳۶۳
امکان پیداہونے سے پہلے کسی کام میں جلد بازی کرنا اور موقع آنے پر دیر کرنا دونوں حماقت میں داخل ہیں۔
۳۶۴
جو بات نہ ہونے والی ہو اس کے متعلق سوال نہ کرو۔ اس لیے کہ جو ہے، وہی تمہارے لیے کافی ہے۔
۳۶۵
فکر ایک روشن آئینہ ہے، عبر ت اندوزی ایک خیر خواہ متنبہ کرنے والی چیز ہے، نفس کی اصلاح کے لیے یہی کافی ہے کہ جن چیزوں کو دوسروں کے لیے برا سمجھتے ہو ان سے بچ کر رہو۔
۳۶۶
علم عمل سے وابستہ ہے۔ لہٰذا جو جانتا ہے وہ عمل بھی کرتا ہے اور علم عمل کو پکارتا ہے۔ اگروہ لبیک کہتا ہے تو بہتر، ورنہ وہ بھی اس سے رخصت ہوجاتا ہے۔
۳۶۷
اے لوگو! دنیا کا سازوسامان سوکھا سڑا بھوسا ہے جو وبا پید ا کرنے والاہے۔ لہٰذ ا اس چراگاہ سے دور رہو کہ جس سے چل چلاؤ باطمینان منزل کرنے سے زیادہ فائدہ مند ہے اورصرف بقدر کفاف لے لینا اس دولت و ثروت سے زیادہ برکت والا ہے اس کے دولت مندوں کے لیے فقر طے ہوچکا ہے اور اس سے بے نیاز رہنے والوں کو راحت کا سہارا دیا گیا ہے۔ جس کو اس کی سج دھج لبھا لیتی ہے، وہ انجام کار اس کی دونوں آنکھوں کو اندھا کردیتی ہے اور جو اس کی چاہت کو اپنا شعار بنا لیتا ہے وہ اس کے دل کو ایسے غموں سے بھر دیتی ہے جو دل کی گہرائیوں میں تلاطم برپا کر تے ہیں یوں کہ کبھی کوئی فکر اسے گھیرے رہتی ہے، اور کبھی کوئی اندیشہ اسے رنجیدہ بنائے رہتا ہے۔ وہ اسی حالت میں ہوتا ہے کہ اس کا گلاگھوٹاجانے لگتا ہے اور وہ بیابان میں ڈال دیا جاتا ہے اس عالم میں کہ اس کے دل کی دونوں رگیں ٹوٹ چکی ہوتی ہیں۔ اللہ کو اس کا فنا کرنا سہل اور اس کے بھائی بندوں کا اسے قبر میں اتارنا آسان ہوجاتا ہے.مومن دنیا کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتاہے اور اس سے اتنی ہی غذا حاصل کرتا ہے۔ جتنی پیٹ کی ضرورت مجبور کرتی ہے اور اس کے بارے میں ہر بات کو بغض و عناد کے کانوں سے سنتا ہے اگر کسی کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مال دار ہو گیا ہے تو پھر یہ بھی کہنے میں آتا ہے کہ نادار ہو گیا ہے اگر زندگی پر خوشی کی جاتی ہے تو مرنے پرغم بھی ہوتا ہے۔ یہ حالت ہے حالانکہ ابھی وہ دن نہیں آیا کہ جس میں پوری مایوسی چھا جائے گی۔
۳۶۸
اللہ سبحانہ نے اپنی اطاعت پرثواب اور اپنی معصیت پر سزا اس لیے رکھی ہے کہ اپنے بندوں کوعذاب سے دور کرے اور جنت کی طرف گھیرکرلے جائے.
۳۶۹
لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا جب ان میں صرف قرآن کے نقوش اور اسلام کا صر ف نام باقی رہ جائے گا، اس وقت مسجدیں تعمیر و زینت کے لحا ظ سے آباد اور ہدایت کے اعتبار سے ویران ہوں گی۔ ان میں ٹھہرنے والے اور انہیں آباد کرنے والے تمام اہل زمین میں سب سے بدتر ہوں گے، وہ فتنوں کا سرچشمہ اور گناہوں کا مرکز ہو ں گے جو ان فتنوں سے منہ موڑ ے گا، انہیں انہی فتنوں کی طرف پلٹائیں گے اور جوقدم پیچھے ہٹائے گا، انہیں دھکیل کر ان کی طرف لائیں گے۔ ارشاد الہی ہے کہ “مجھے اپنی ذات کی قسم میں ان لوگوں پر ایسا فتنہ نازل کروں گا جس میں حلیم و بردبار کو حیران و سر گردان چھوڑ دوں گا “.
چنانچہ وہ ایسا ہی کرے گا، ہم اللہ سے غفلت کی ٹھوکروں سے عفو کے خواستگار ہیں۔
۳۷۰
جب بھی آپ منبر پر رونق افروز ہوتے تو ایسا اتفاق کم ہوتا تھا کہ خطبہ سے پہلے یہ کلما ت نہ فرمائیں۔
اے لوگو! اللہ سے ڈرو,کیونکہ کوئی شخص بے کار پیدا نہیں کیاگیا کہ وہ کھیل کود میں پڑ جائے، اور نہ اسے بے قید و بند چھوڑ دیا گیا ہےکہ بیہودگیا ں کرنے لگے اور دنیا جو اس کے لیے آراستہ و پیراستہ ہے اس آخرت کا عوض نہیں ہوسکتی جس کو اس کی غلط نگاہ نے بری صورت میں پیش کیا ہے وہ فریب خوردہ جو اپنی بلند ہمتی سے دنیا حاصل کرنے میں کامیاب ہو اس دوسرے شخص کے مانند نہیں ہوسکتا جس نے تھوڑا بہت آخرت کا حصہ حاصل کرلیا ہو۔
۳۷۱
کوئی شرف اسلام سے بلند تر نہیں کوئی بزرگی تقویٰ سے زیادہ با وقار نہیں، کوئی پناہ گاہ پرہیز گاری سے بہتر نہیں، کوئی سفارش کرنے والا توبہ سے بڑھ کر کامیاب نہیں، کوئی خزانہ قناعت سے زیادہ بے نیاز کرنے والا نہیں کوئی مال بقدر کفاف پر رضا مند رہنے سے بڑھ کرفقر و احتیاج کا دور کرنے والا نہیں۔ جوشخص قدر حاجت پر اکتفا کرلیتا ہے وہ آسائش و راحت پالیتا ہے۔ اورآرام و آسودگی میں منزل بنا لیتا ہے۔ خواہش و رغبت، رنج و تکلیف کی کلید اور مشقت و اندو ہ کی سوار ی ہے.حرص تکبر اور حسد گناہوں میں پھاند پڑنے کے محرکا ت ہیں اور بدکرداری تمام برے عیوب کو حاوی ہے۔
۳۷۲
جابر ابن عبداللہ انصار ی سے فرمایا اے جابر! چارقسم کے آدمیوں سے دین و دنیا کا قیام ہے عالم جو اپنے علم کو کام میں لاتا ہو,جاہل جو علم کے حاصل کرنے میں عار نہ کرتا ہو,سخی جو داد و دہش میں بخل نہ کرتا ہو، اور فقیر جو آخرت کو دنیا کے عوض نہ بیچتا ہو۔ تو جب عالم اپنے علم کو برباد کرے گا، توجاہل اس کے سیکھنے میں عار سمجھے گا اور جب دولت مند نیکی و احسان میں بخل کرے گا تو فقیر اپنی آخرت دنیا کے بدلے بیچ ڈالے گا۔
اے جابر ! جس پراللہ کی نعمتیں زیادہ ہوں گی لوگوں کی حاجتیں بھی اس کے دامن سے زیادہ وابستہ ہوں گی لہٰذا جوشخص ان نعمتوں پرعائد ہونے والے حقوق کو اللہ کی خاطر ادا کرے گا، وہ ان کے لیے دوام و ہمیشگی کا سامان کرے گا اور جو ان واجب حقوق کے ادا کرنے کے لیے کھڑا نہیں ہو گا وہ انہیں فنا و بربادی کی زد پر لے آئے گا۔
۳۷۳
ابن جریر طبری نے اپنی تاریخ میں عبدالرحمٰن ابن ابی لیلیٰ فقیہ سے روایت کی ہے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو ابن اشعث کے ساتھ حجا ج سے لڑنے کے لیے نکلے تھے کہ وہ لوگوں کو جہاد پر ابھارنے کے لیے کہتے تھے کہ جب اہل شام سے لڑنے کے لیے بڑھے تو میں نے علی علیہ السلام کو فرماتے سنا۔
اے اہل ایمان ! جو شخص دیکھے کہ ظلم و عدوان پر عمل ہو رہا ہے اور برائی کی طرف دعوت دی جارہی ہے اور وہ دل سے اسے برا سمجھے، تو وہ (عذاب سے )محفوظ اور (گناہ سے) بری ہو گیا، اور جوزبان سے اسے برا کہے وہ ماجور ہے صرف دل سے بر اسمجھنے والے سے افضل ہے اور جو شخص شمشیر بکف ہو کر اس برائی کے خلاف کھڑا ہوتا کہ اللہ کا بول بالا ہو، اور ظالموں کی بات گر جائے تو یہی وہ شخص ہے جس نے ہدایت کی راہ کو پالیا اور سیدھے راستے پر ہولیا اور اس کے دل میں یقین نے روشنی پھیلا دی۔
۳۷۴
اسی انداز پرحضرت کا ایک یہ کلام ہے لوگوں میں سے ایک وہ ہے جو برائی کو ہاتھ، زبان اور دل سے برا سمجھتا ہے۔ چنانچہ اس نے اچھی خصلتوں کو پورے طور پر حاصل کر لیا ہے اور ایک وہ ہے جو زبان اور دل سے براسمجھتا ہے لیکن ہاتھ سے اسے نہیں مٹاتا تو اس نے اچھی خصلتوں میں سے دوخصلتوں سے ربط رکھا اور ایک خصلت کو رائیگاں کر دیا اور ایک وہ ہے جو دل سے بر ا سمجھتا ہے لیکن اسے مٹانے کے لیے ہاتھ اور زبان کسی سے کام نہیں لیتا اس نے تین خصلتوں میں سے دوعمدہ خصلتوں کو ضائع کردیا، اور صرف ایک سے وابستہ رہا اور ایک وہ ہے جو نہ زبان سے، نہ ہاتھ سے اور نہ دل سے برائی کی روک تھام کرتا ہے، یہ زندوں میں (چلتی پھرتی ہوئی )لاش ہے۔
تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمام اعمالِ خیر اور جہاد فی سبیل اللہ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مقابلہ میں ایسے ہیں، جیسے گہرے دریا میں لعاب دہن کے ریزے ہوں یہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ایسا نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے موت قبل از وقت آجائے، یا رزق معین میں کمی ہوجائے اور ان سب سے بہتر وہ حق بات ہے جو کسی جابر حکمرا ن کے سامنے کہی جائے۔
۳۷۵
ابو حجیفہ سے روایت ہے کہ انہوں نے امیر المومنین علیہ السّلام کو فرماتے سنا کہ !
پہلا جہاد کہ جس سے تم مغلوب ہو جاؤگے، ہاتھ کا جہاد ہے۔ پھر زبان کا، پھر دل کا جس نے د ل سے بھلائی کو اچھائی اور برائی کو بر ا نہ سمجھا، اسے الٹ پلٹ کر دیا جائے گا۔ اس طرح کہ اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر کردیا جائے گا۔
۳۷۶
حق گراں، مگر خوش گوار ہوتا ہے اور باطل ہلکا,مگر وبا پیداکرنے والا ہوتا ہے۔
۳۷۷
اس امت کے بہترین شخص کے بارے میں بھی اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن نہ ہو جاؤ.کیونکہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ “گھاٹا اٹھانے والے لوگ ہی اللہ کے عذاب سے مطمئن ہوبیٹھے ہیں “.اور اس امت کے بدترین آدمی کے بارے میں بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ کیونکہ ارشاد الہی ہے کہ “خداکی رحمت سے کافروں کے علاوہ کوئی اورناامید نہیں ہوتا “.
۳۷۸
بخل تمام برے عیوب کا مجموعہ ہے اور ایسی مہار ہے جس سے ہربرائی کی طرف کھنچ کر جایاجا سکتا ہے۔
۳۷۹
رزق دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جس کی تلا ش میں تم ہو، اور ایک وہ جوتمہاری جستجو میں ہے۔ اگر تم اس تک نہ پہنچ سکو گے، تو وہ تم تک پہنچ کررہے گا۔ لہٰذ ا اپنے ایک دن کی فکر پر سال بھر کی فکریں نہ لادو۔ جو ہر دن کارزق ہے وہ تمہارے لیے کافی ہے، تو اللہ ہر نئے دن جو روزی اس نے تمہارے لیے مقرر کر رکھی ہے وہ تمہیں دے گا اور تمہاری عمر کا کوئی سال باقی نہیں ہے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی طلبگارتمہارے رزق کی طرف تم سے آگے بڑھ نہیں سکتا اور نہ کوئی غلبہ پانے والا اس میں تم پر غالب آسکتا ہے اور جو تمہارے لیے مقدر ہوچکا ہے اس کے ملنے میں کبھی تاخیر نہ ہوگی.
(سید رضی فرماتے ہیں کہ) یہ کلام اسی باب میں پہلے بھی درج ہوچکا ہے۔ مگر یہاں کچھ زیادہ وضاحت و تشریح کے ساتھ تھا,اس لیے ہم نے اس کا اعادہ کیا ہے اس قاعدہ کی بناء پر جو کتا ب کے دیباچہ میں گزر چکا ہے۔
۳۸۰
بہت سے لوگ ایسے دن کا سامنا کرتے ہیں جس سے انہیں پیٹھ پھرانا نہیں ہوتا۔ اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں کہ رات کے پہلے حصہ میں ان پر رشک کیا جاتا ہے اورآخر ی حصہ میں ان پر رونے والیوں کا کہرام بپاہوتا ہے.
۳۸۱
کلام تمہارے قید وبند میں ہے جب تک تم نے اسے کہا نہیں ہے اور جب کہہ دیا، تو تم اس کی قید و بند میں ہو۔ لہٰذا اپنی زبان کی اسی طرح حفاظت کرو جس طرح اپنے سونے چاندی کی کرتے ہو کیونکہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی بڑی نعمت کو چھین لیتی اور مصیبت کو نازل کردیتی ہیں۔
۳۸۲
جو نہیں جانتے اسے نہ کہو، بلکہ جوجانتے ہو، وہ بھی سب کاسب نہ کہو۔ کیونکہ اللہ سبحانہ نے تمہارے تمام اعضا پر کچھ فرائض عائد کئے ہیں جن کے ذریعہ قیامت کے دن تم پر حجت لائے گا۔
۳۸۳
اس بات سے ڈرتے رہو کہ اللہ تمہیں اپنی معصیت کے وقت موجود اور اپنی اطاعت کے وقت غیر حاضر پائے تو تمہارا شمار گھاٹا اٹھانے والوں میں ہو گا.جب قوی ودانا ثابت ہونا ہو تو اللہ کی اطاعت پر اپنی قو ت دکھاؤاور کمزور بننا ہو تواس کی معصیت سے کمزوری دکھاؤ.
۳۸۴
دنیا کی حالت دیکھتے ہوئے اس کی طرف جھکنا جہالت ہے اور حسن عمل کے ثواب کا یقین رکھتے ہوئے اس میں کوتاہی کرنا گھاٹا اٹھانا ہے۔ اور پرکھے بغیر ہر ایک پر بھروسا کرلینا عجز و کمزور ی ہے۔
۳۸۵
اللہ کے نزدیک دنیا کی حقارت کے لیے یہی بہت ہے کہ اللہ کی معصیت ہوتی ہے تو اس میں اور اس کے یہاں کی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں تو اسے چھوڑنے سے۔
۳۸۶
جو شخص کسی چیز کو طلب کرے تو اسے یا اس کے بعض حصہ کو پالے گا۔ (جونیدہ یا بندہ )
۳۸۷
وہ بھلائی بھلائی نہیں جس کے بعد دوزخ کی آگ ہو۔ اور وہ برائی برائی نہیں جس کے بعد جنت ہو۔ جنت کے سامنے ہر نعمت حقیر، اور دوزخ کے مقابلہ میں ہر مصیبت راحت ہے۔
۳۸۸
اس بات کو جانے رہو کہ فقر و فاقہ ایک مصیبت ہے، اور فقر سے زیادہ سخت جسمانی امراض ہیں اور جسمانی امراض سے زیادہ سخت دل کا روگ ہے۔ یاد رکھو کہ مال کی فراوانی ایک نعمت ہے اور مال کی فراوانی سے بہتر صحت بدن ہے، اور صحت بد ن سے بہتر دل کی پرہیز گاری ہے۔
۳۸۹
جسے عمل پیچھے ہٹائے، اسے نسب آگے نہیں بڑھا سکتا (ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے )جسے ذاتی شرف و منزلت حاصل نہ ہو اسے آباؤ اجداد کی منزلت کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔
۳۹۰
مومن کے اوقات تین ساعتوں پر منقسم ہوتے ہیں ایک وہ کہ جس میں اپنے پروردگار سے رازو نیاز کی باتیں کرتا ہے۔ اور ایک وہ جس میں اپنے معاش کا سروسامان کرتا ہے اور وہ کہ جس میں حلال و پاکیزہ لذتوں میں اپنے نفس کو آزاد چھوڑ دیتا ہے۔ عقلمند آدمی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ گھر سے دور ہو، مگر تین چیزوں کے لیے “معاش”کے بندوبست کے لیے یا امر آخرت کی طرف قدم اٹھانے کے لیے یا ایسی لذت اندوزی کے لیے کہ جو حرام نہ ہو.
۳۹۱
دنیا سے بے تعلق رہو ,تاکہ اللہ تم میں دنیا کی برائیوں کا احساس پیدا کرے .اور غافل نہ ہو اس لیے کہ تمہاری طرف سے غافل نہیں ہوا جائے گا
۳۹۲
بات کرو ,تاکہ پہچانے جاؤکیونکہ آدمی اپنی زبا ن کے نیچے پوشیدہ ہے
۳۹۳
جو دنیا سے تمہیں حاصل ہوا اسے لے لو اور جو چیز رخ پھیر لے اس سے منہ موڑ ے رہو .اور اگر ایسا نہ کر سکو تو پھر تحصیل و طلب میں میانہ روی اختیار کرو
۳۹۴
بہت سے کلمے حملہ سے زیادہ اثر ونفوذ رکھتے ہیں
۳۹۵
جس چیز پر قناعت کر لی جائے و ہ کافی ہے
۳۹۶
موت ہو اور ذلت نہ ہو .کم ملے اور دوسروں کو وسیلہ بنانا نہ ہو ,جسے بیٹھے بٹھائے نہیں ملتا اسے اٹھنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا زمانہ دو۲ دنوں پر منقسم ہے ایک دن تمہارے موافق اور ایک تمہارے مخالف .جب موافق ہوتو اتراؤ نہیں اور جب مخالف ہو تو صبر کرو
۳۹۷
بہترین خوشبو مشک ہے جس کا ظرف ہلکا اورمہک عطر بار ہے
۳۹۸
فخر و سر بلندی کو چھوڑ دو ,تکبر و غرو ر کو مٹاؤ اور قبر کو یاد رکھو
۳۹۹
ایک حق فرزند کا باپ پر ہوتا ہے اور ایک حق باپ کا فرزند پر ہوتا ہے .باپ کا فرزند پر یہ حق ہے کہ وہ سوائے اللہ کی معصیت کے ہر با ت میں اس کی اطاعت کرے اور فرزند کا باپ پر یہ حق ہے کہ اس کا نام اچھا تجویز کرے ,اچھے اخلاق و آداب سے آراستہ کرے اور قرآن کی اسے تعلیم دے
۴۰۰
چشم بد ,افسوس ,سحر اورفال نیک ان سب میں واقعیت ہے .البتہ فال بد اور ایک بیماری کا دوسرے کو لگ جانا غلط ہے خوشبو سونگھنا ,شہد کھانا,سواری کرنا اور سبزے پر نظرکرنا غم و اندوہ اور قلق و اضطراب کو دور کرتا ہے
طیرہ کے معنی فال بد اور تفا ل کے معنی فال نیک کے ہوتے ہیں .شرعی لحاظ سے کسی چیز سے برا شگون لینا کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور یہ صرف توہمات کا کر شمہ ہے اس بد شگوفی کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ کیومرث کےبیٹوں نے رات کے پہلے حصہ میں مرغ کی اذان سنی اور اتفاق سے اسی رات کو کیومرث کا انتقال ہوگیا جس سے انہیں یہ تو ہم ہو ا کہ مرغ کا بے وقت اذان دینا کسی خبر غم کا پیش خیمہ ہوتاہے چنانچہ انہوں نے اس مرغ کو ذبح کر دیا ,اور بعد میں مختلف حادثوں کا مختلف چیزوں سے خصوصی تعلق قائم کرلیاگیا.
البتہ فال نیک لینے میں کوئی مضائقہ نہیں .چنانچہ جب ہجرت پیغمبر کے بعد قریش نے یہ اعلان کیا کہ جو آنحضرت کو گرفتار کرے گا ,تو اسے سو اونٹ انعام میں دیئے جائیں گے تو ابو بریدہ اسلمی اپنے قبیلہ کے ستر آدمیوں کے ہمراہ آپ کے تعاقب میں روانہ ہوا اور جب ایک منزل پرآمنا سامنا ہوا توآنحضرت نے پوچھا تم کون ہو اس نے کہا کہ بریدہ ابن خصیب۔ حضرت نے یہ نام سنا تو فرمایا برادمرنا ہمار امعاملہ خوشگوار ہوگیا .پھر پوچھا کہ کس قبیلہ سے ہو ؟اس نے کہا کہ اسلم سے .تو فرمایا کہ سلمنا ہم نے سلامتی پائی .پھر دریافت کیا کہ کس شاخ سے ہواس نے کہا کہ بنی سہم سے .تو فرمایا کہ خرج سھمک تمہارا تیر نکل گیا .بریدہ اس انداز سے گفتگو اور حسن گفتار سے بہت متاثر ہوا .اور پوچھا کہ آپ کون ہیں فرمایا کہ محمّد ابن عبداللہ یہ سن کر بے ساختہ اس کی زبان سے نکلا .اشھد انّک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )اور قریش کے انعام سے دستبردار ہوکر دولت ایمان سے مالا مال ہوگیا
۴۰۱
لوگوں سے ان کے اخلاق و اطوار میں ہمرنگ ہونا ان کے شر سے محفوظ ہوجاناہے
۴۰۲
ایک ہم کلام ہونے والے سے کہ جس نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر ایک بات کہی تھی ,فرمایا تم پر نکلتے ہی اڑنے لگے اور جوان ہونے سے پہلے بلبلانے لگے
(سید رضی فرماتے ہیں کہ )اس فقرہ میں شکیر سے مراد وہ پر ہیں جوپہلے پہل نکلتے ہیں اور ابھی مضبوط و مستحکم نہیں ہونے پاتے , اور سقب اونٹ کے بچے کوکہتے ہیں اور وہ اس وقت بلبلاتاہے .جب جوان ہوتا ہے.
۴۰۳
جو شخص مختلف چیز وں کا طلب گار ہوتا ہے اس کی ساری تدبیریں ناکا م ہوجاتی ہیں .”طلب الکل فوت الکل “.
۴۰۴
حضرت سے لاحول ولا قوۃ الا باللہ (قوت وتوانائی نہیں مگر اللہ کے سبب سے )کے معنی دریافت کئے گئے تو آپ نے فرمایا کہ ہم خدا کے ساتھ کسی چیز کے مالک نہیں اس نے جن چیزوں کا ہمیں مالک بنایا ہے بس ہم انہیں پر اختیار رکھتے ہیں .تو جب اس نے ہمیں ایسی چیز کا مالک بنا یا جس پر وہ ہم سے زیاد ہ اختیا ر رکھتا ہے تو ہم پر شرعی ذمہ داریاں عائد کیں .اور جب اس چیز کو واپس لے گا تو ہم سے اس ذمہ داری کو بھی بر طرف کردے گا
مطلب یہ ہے کہ انسان کو کسی شے پر مستقلاً تملک و اختیار حاصل نہیں بلکہ یہ حق ملکیت و قوت تصرف قدرت کا بخشا ہوا ایک عطیہ ہے اور جب تک یہ تملک و اختیار باقی رہتا ہے .تکلیف شرعی بر قرار رہتی ہے اور اسے سلب کرلیا جاتا ہے تو تکلیف بھی برطرف ہوجاتی ہے .کیونکہ ایسی صورت میں تکلیف کا عائد کرنا تکلیف مالایطاق ہے جو کسی حکیم و دانا کی طرف سے عائد نہیں ہوسکتی .چنانچہ اللہ سبحانہنے اعضا و جوارح میں اعمال کے بجالانے کی قوت و دیعت فرمانے کے بعد ان سے تکلیف متعلق کی .لہٰذاجب تک یہ قوت باقی رہے گی ان سے تکلیف کا تعلق رہے گا .اور اس قوت کے سلب کرلینے کے بعد تکلیف بھی برطرف ہوجائے گی ,جیسے زکوٰۃ کا فریضہ اسی وقت عائد ہوتا ہے جب دولت ہو ,اور جب دولت چھین لے گا .تو اس کے نتیجہ میں زکوٰۃ کا وجوب بھی ساقط کر دے گا .کیونکہ ایسی صور ت میں تکلیف کا عائد کرنا عقلاًقبیح ہے
۴۰۵
عمار بن یاسر کو جب مغیر ہ ابن شعبہ سے سوال وجواب کرتے سنا تو ان سے فرمایا !اے عمار اسے چھوڑ دو اس نے دین سے بس وہ لیا ہے جو اسے دنیا سے قریب کر ے اور اس نے جان بوجھ کراپنے کو اشتباہ میں ڈال رکھا ہے تاکہ ان شبہات کو اپنی لغزشوں کے لیے بہانہ قرار دے سکے
۴۰۶
اللہ کے یہاں اجر کے لیے دولتمندوں کا فقیروں سے عجز و انکساری برتنا کتنا اچھا ہے اور اس سے اچھا فقرا کا اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے دولتمندوں کے مقابلہ میں غرور سے پیش آنا ہے
۴۰۷
اللہ نے کسی شخص کو عقل ودیعت نہیں کی ہے مگر یہ کہ وہ کسی دن اس کے ذریعہ سے اسے تباہی سے بچائے گا
۴۰۸
جو حق سے ٹکرائے گا,حق اسے پچھاڑ دے گا
۴۰۹
دل آنکھوں کا صحیفہ ہے
۴۱۰
تقویٰ تمام خصلتوں کا سرتاج ہے
۴۱۱
جس ذات نے تمہیں بولنا سکھایا ہے اسی کے خلاف اپنی زبان کی تیزی صرف نہ کرو .اور جس نے تمہیں راہ پر لگا یا ہے اس کے مقابلہ میں فصاحت ُگفتار کا مظاہرہ نہ کرو
۴۱۲
تمہارے نفس کی آراستگی کے لیے یہی کافی ہے کہ جس چیز کو اوروں کے لیے ناپسند کرتے ہو ,اس سے خود بھی پرہیز کرو
۴۱۳
جو انمردوں کی طرح صبر کرے ,نہیں تو سادہ لوحوں کی طرح بھو ل بھال کر چپ ہوگا
۴۱۴
ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے اشعث ابن قیس کو تعزیت دیتے ہوئے فرمایا :اگر بزرگوں کی طرح تم نے صبر کیا تو خیر !ورنہ چوپاؤں کی طرح ایک دن بھول جاؤگے
۴۱۵
دنیا کے متعلق فرمایا!
دنیا دھوکے باز ,نقصان رساں اور رواں دواں ہے .اللہ نے اپنے دوستوں کے لیے اسے بطور ثواب پسند نہیں کیا ,اور نہ دشمنوں کے لیے اسے بطور سزا پسند کیا.اہل دنیا سواروں کے مانند ہیں کہ ابھی انہوں نے منزل کی ہی تھی کہ ہنکانے والے نے انہیں للکارا ,اور چل دیئے
۴۱۶
اپنے فرزند حسن علیہ السلام سے فرمایا :اے فرزند دنیا کی کوئی چیز اپنے پیچھے نہ چھوڑ و .اس لیے کہ تم دو۲ میں سے ایک کے لیے چھوڑ و گے .ایک وہ جو اس مال کو خدا کی اطاعت میں صرف کرے گا تو جو مال تمہارے لیے بدبختی کا سبب بنا وہ اس کے لیے راحت وآرام کا باعث ہوگا.یاوہ ہوگا جو اسے خدا کی معصیت میں صرف کرے ,تو وہ تمہارے جمع کر دہ مال کی وجہ سے بد بخت ہوگا اور اس صورت میں تم خدا کی معصیت میںاس کے معین و مدد گار ہوگے ,اور ان دونوں میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں کہ اسے اپنے نفس پر ترجیح دو
سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ کلا م ایک دوسری صورت میں بھی روایت کیا گیا ہے جو یہ ہے
جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے تم سے پہلے اس کے مالک دوسرے تھے .اور یہ تمہاربعد دوسروں کی طرف پلٹ جائے گا اور تم میں سے دو میں سے ایک کے لیے جمع کرنے والے ہو .ایک وہ جو تمہارے جمع کئے ہوئے مال کو خد اکی اطاعت میں صرف کرے گا .تو جو مال تمہارے لیے بدبختیکا سبب ہوا وہ اس کے لیے سعادت و نیک بختی کا سبب ہوگا وہ جو اس مال سے اللہ کی معصیت کرے تو جو تم نے اس کے لیے جمع کیا وہ تمہارے لیے بد بختیکا سبب ہوگا اور ان دونوں میں سے ایک بھی اس قابل نہیں کہ اسے اپنی پشت کو گرانبار کرو ,جو گزر گیا اس کے لیے اللہ کی رحمت اور جو باقی رہ گیا ہے اس کے لیے رزق الہی کے امیدوارر ہو
۴۱۷
ایک کہنے والے نے آپ کے سامنے استغفراللہ کہا.تو آپ نے اس سے فرمایا
تمہاری ماں تمہارا سوگ منائے کچھ معلوم بھی ہے کہ استغفار کیاہے ؟استغفار بلند منزلت لوگوں کامقام ہے اور یہ ایک ایسا لفظ ہے جو چھ باتوں پر حاوی ہے .پہلے کہ جو ہوچکااس پر نادم ہو ,دوسرے ہمیشہ کے لیے اس کے مرتکب نہ ہونے کاتہیا کرنا ,تیسرے یہ کہ مخلوق کے حقوق ادا کرنا یہاں تک کہ اللہ کے حضور میں اس حالت میں پہنچو کہ تمہارا دامن پاک و صاف اورتم پر کوئی مواخذہ نہ ہو.چوتھے یہ کہ جو فرائض تم پر عائد کئے ہوئے تھے ,اور تم نے انہیں ضائع کردیاتھا .انہیں اب پورے طور پر بجالاؤ .پانچویں یہ کہ جو گوشت (کل )حرام سے نشونما پاتا رہا ہے ,اس کو غم و اندوہ سے پگھلاؤیہاں تک کے کھال کو ہڈیوں سے ملادو کہ پھرسے ان دونوں کے درمیان نیا گوشت پیدا ہو,چھٹے یہ کہ اپنے جسم کو اطاعت کے رنج سے آشنا کرو .جس طرح اسے گناہ کی شیرینی سے لذت اندوز کیا ہے .تو اب کہو “استغفراللہ “.
۴۱۸
حلم و تحمل ایک پورا قبیلہ ہے
۴۱۹
بیچارہ آدمی کتنا بے بس ہے موت اس سے نہاں ,بیماریاں اس سے پوشیدہ اور اس کے اعمال محفوظ ہیں .مچھر کے کاٹنے سے چیخ اٹھتاہے ,اچھو لگنے سے مرجاتا ہے اور پسینہ اس میں بدبو پیدا کر دیتا ہے
۴۲۰
وارد ہوا ہے کہ حضرت اپنے اصحاب کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے ,کہ ان کے سامنے سے ایک حسین عورت کا گزر ہوا جسے انہوں نے دیکھنا شروع کیا جس پر حضرت نے فرمایا:
ان مردوں کی آنکھیں تاکنے والی ہیں اور یہ نظر باز ی ان کی خواہشات کو برانگیختہ کرنے کاسبب ہے لہٰذا تم میں سے کسی کی نظر ایسی عورت پر پڑے کہ جو اسے اچھی معلوم ہوتو اسے اپنی زوجہ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے کیونکہ یہ عورت بھی اس عورت کے مانند ہے .یہ سن کر ایک خارجی نے کہا کہ خدااس کافرکو قتل کر ے یہ کتنا برا فقیہ ہے .یہ سن کر لوگ اسے قتل کرنے اٹھے.حضرت نے فرمایا کہ ٹھہرو !زیادہ سے زیادہ گالی کا بدلہ گالی ہوسکتا ہے ,یااس کے گناہ ہی سے درگزر کرو
۴۲۱
اتنی عقل تمہارے لیے کافی ہے کہ جو گمراہی کی راہوں کو ہدایت کے راستوں سے الگ کر کے تمہیں دکھا دے۔
۴۲۲
اچھے کا م کر و اور تھوڑی سی بھلائی کو بھی حقیر نہ سمجھو۔ کیونکہ چھوٹی سی نیکی بھی بڑی اور تھوڑی سی بھلائی بھی بہت ہے۔ تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ اچھے کام کے کرنے میں کوئی دوسرا مجھ سے زیادہ سزاوار ہے۔ ورنہ خدا کی قسم ایسا ہی ہوکر رہے گا۔ کچھ نیکی والے ہوتے ہیں اور کچھ برائی والے۔ جب تم نیکی یا بدی کسی ایک کو چھوڑ دو گے، تو تمہارے بجائے اس کے اہل اسے انجام دے کر رہیں گے
۴۲۳
جو اپنے اندرونی حالات کو درست رکھتا ہے خدا اس کے ظاہر کو بھی درست کر دیتا ہے۔ اور جو دین کے لیے سرگرم عمل ہوتا ہے، اللہ اس کے دنیا کے کاموں کو پوراکر دیتا ہے اور جو اپنے اور اللہ کے درمیان خوش معاملگی رکھتا ہے۔ خدا اس کے اور بندوں کے درمیان کے معاملات ٹھیک کردیتا ہے.
۴۲۴
حلم وتحمل ڈھانکنے والا پردہ اور عقل کاٹنے والی تلوار ہے۔ لہٰذا اپنے اخلاق کے کمزور پہلو کو حلم وبردباری سے چھپاؤ, اور اپنی عقل سے خواہش نفسانی کا مقابلہ کرو۔
۴۲۵
بندوں کی منفعت رسائی کے لیے اللہ کچھ بندگان خدا کو نعمتوں سے مخصوص کرلیتا ہے۔ لہٰذا جب تک وہ دیتے دلاتے رہتے ہیں، اللہ ان نعمتوں کو ان کے ہاتھوں میں برقرار رکھتا ہے اور جب ان نعمتوں کو روک لیتے ہیں تو اللہ ان سے چھین کر دوسروں کی طرف منتقل کردیتا ہے۔
۴۲۶
کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ وہ دو چیزوں پر بھروسا کرے۔ ایک صحت اور دوسرے دولت کیونکہ ابھی تم کسی کو تندرست دیکھ رہے تھے، کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے بیمار پڑجاتاہے، اور ابھی تم اسے دولتمند دیکھ رہے تھے کہ فقیر و نادار ہوجاتاہے۔
۴۲۷
جو شخص اپنی حاجت کا گلہ کسی مرد مومن سے کرتا ہے۔ گویا اس نے اللہ کے سامنے اپنی شکایت پیش کی۔ اور جو کافر کے سامنے گلہ کرتا ہے گویا اس نے اپنے اللہ کی شکایت کی۔
۴۲۸
ایک عید کے موقع پر فرمایا :
عید صرف اس کے لیے ہے جس کے روزوں کو اللہ نے قبول کیا ہو، اور اس کے قیام (نماز )کو قدر کی نگاہ سے دیکھتاہو، اور ہروہ دن کہ جس میں اللہ کی معصیت نہ کی جائے عید کا دن ہے.
اگر حس و ضمیر زندہ ہوتو گناہ کی تکلیف دہ یاد سے اطمینا ن قلب جاتا رہتا ہے۔ کیونکہ طمانیت و مسرت اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب روح گناہ کے بوجھ سے ہلکی اور دامن معصیت کی آلائش سے پاک ہو اور سچی خوشی زمانہ اور وقت کی پابند نہیں ہوتی بلکہ انسان جس دن چاہے گناہ سے بچ کر اس مسرت سے کیف اندوز ہوسکتا ہے اور یہی مسرت حقیقی مسرت اور عید کا پیغام ہوگی۔
ہر شب شب قدر است اگر قدر بدانی!
۴۲۹
قیامت کے دن سب سے بڑی حسرت اس شخص کی ہوگی جس نے اللہ کی نافرمانی کرکے مال حاصل کیاہو، اور اس کا وارث وہ شخص ہوا ہو جس نے اسے اللہ کی اطاعت میں صرف کیا ہو کہ یہ تو اس مال کی وجہ سے جنت میں داخل ہوا، اور پہلا اس کی وجہ سے جہنم میں گیا.
۴۳۰
لین دین میں سب سے زیادہ گھاٹا اٹھا نے والا اور دوڑ دھوپ میں سب سے زیادہ ناکام ہونے والا وہ شخص ہے جس نے مال کی طلب میں اپنے بدن کو بوسیدہ کر ڈالا ہو۔ مگر تقدیر نے اس کے ارادوں میں اس کا ساتھ نہ دیا ہو۔ لہٰذا وہ دنیا سے بھی حسرت لیے ہوئے گیا اور آخرت میں بھی اس کی پاداش کاسامنا کیا۔
۴۳۱
رزق دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ جو خود ڈھونڈتا ہے اور ایک وہ جسے ڈھونڈا جاتا ہے چنانچہ جو دنیا کا طلبگار ہوتا ہے، موت اس کو ڈھونڈتی ہے۔ یہاں تک کہ دنیا سے اسے نکال باہر کرتی ہے اور جو شخص آخرت کاخواستگار ہوتا ہے، دنیا خود اسے تلاش کرتی ہے یہاں تک کہ وہ اس سے تمام و کمال اپنی روزی حاصل کر لیتا ہے.
۴۳۲
دوستان خدا وہ ہیں کہ جب لوگ دنیا کے ظاہر کو دیکھتے ہیں تو وہ اس کے باطن پر نظر کرتے ہیں اور جب لوگ اس کی جلد میسر آجانے والی نعمتوں میں کھو جاتے ہیں، تو وہ آخرت میں حاصل ہونے چیزوں میں منہمک رہتے ہیں اور جن چیزوں کے متعلق انہیں یہ کھٹکا تھا کہ وہ انہیں تباہ کریں گی، انہیں تباہ کرکے رکھ دیا اور جن چیزوں کے متعلق انہوں نے جان لیا کہ وہ انہیں چھوڑ دینے والی ہیں انہیں انہوں نے خود چھوڑ دیا اور دوسروں کے دنیا زیادہ سمیٹنے کوکم خیال کیا، اور اسے حاصل کرنے کو کھو نے کے برابر جانا۔ وہ ان چیزوں کے دشمن ہیں جن سے دوسروں کی دوستی ہے اور ان چیزوں کے دوست ہیں جن سے اوروں کو دشمنی ہے ان کے ذریعہ سے قرآن کا علم حاصل ہوا قرآن کے ذریعہ سے ا ن کا علم ہوا اور ان کے ذریعہ سے کتاب خدا محفوظ اور وہ اس کے ذریعہ سے برقرار رہیں۔ وہ جس چیز کی امید رکھتے ہیں اس سے کسی چیز کو بلند نہیں سمجھتے اور جس چیز سے خائف ہیں اس سے زیادہ کسی شے کو خوفناک نہیں جانتے.
۴۳۳
لذتوں کے ختم ہونے اور پاداشوں کے باقی رہنے کو یاد رکھو۔
۴۳۴
آز ماؤ تاکہ اس سے نفرت کرو۔
سید رضی فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے اس فقرے کی جناب رسالت مآب سے روایت کی ہے، مگر اس کے کلام امیرالمومنین علیہ السّلام ہونے کے مویدات میں سے ہے وہ جسے ثعلب نے بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابن اعرابی نے بیان کیا کہ ماموں نے کہاکہ اگر حضرت علی علیہ السلام نے یہ نہ کہا ہوتا کہ “آزماؤ تاکہ اس سے نفرت کرو “.تو میں یوں کہتا کہ دشمنی کرواس سے تاکہ آزماؤ.
۴۳۵
ایسا نہیں کہ اللہ کسی بندے کے لیے شکر کا دروازہ کھولے اور (نعمتوں کی) افزائش کا دروازہ بند کر دے اور کسی بندے کے لیے دعا کا دروازہ کھولے اور درقبولیت کو اس کے لیے بند رکھے اور کسی بندے کے لیے تو بہ کا دروازہ کھولے اور مغفرت کا دروازہ اس کے لیے بندکردے۔
۴۳۶
لوگوں میں سب سے زیادہ کرم و بخشش کا وہ اہل ہے جس کا رشتہ اشراف سے ملتا ہو۔
۴۳۷
آپ سے دریافت کیا گیا کہ عدل بہتر ہے یا سخاوت؟ فرمایا عدل تمام امور کو ان کے موقع و محل پر رکھتا ہے، اور سخاوت ان کو ان کی حدوں سے باہر کردیتی ہے عدل سب کی نگہداشت کر تا ہے، اور سخاوت اسی سے مخصوص ہوگی۔ جسے دیا جائے۔ لہٰذا عدل سخاوت سے بہتر و برتر ہے۔
۴۳۸
لوگ جس چیز کونہیں جانتے اس کے دشمن ہوجاتے ہیں۔
۴۳۹
(زہد کی مکمل تعریف قرآ ن کے دو جملوں میں ہے ) ارشاد الہی ہے۔ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے اس پر رنج و نہ کرو، اور جو چیز خدا تمہیں دے اس پر اتراؤ نہیں لہٰذا جو شخص جانے والی چیز پر افسوس نہیں کرتا اور آنے والی چیز پر اتراتا نہیں، اس نے زہد کو دونوں سمتوں سے سمیٹ لیا۔
۴۴۰
نیند دن کی مہموں میں بڑ ی کمزوری پیدا کر نے والی ہے۔
۴۴۱
حکومت لوگوں کے لیے آزمائش کا میدان ہے.
۴۴۲
تمہارے لیے ایک شہر دوسرے شہر سے زیادہ حقدار نہیں (بلکہ )بہتر ین شہر وہ ہے جو تمہارا بوجھ اٹھائے۔
۴۴۳
جب مالک اشتر رحمتہ اللہ کی خبر شہادت آئی، تو فرمایا:
مالک! اور مالک کیا شخص تھا۔ خدا کی قسم اگر وہ پہاڑ ہوتا تو ایک کوہ بلند ہوتا، اور اگر وہ پتھر ہوتا تو ایک سنگ گراں ہوتا کہ نہ تو اس کی بلندیوں تک کوئی سم پہنچ سکتا اور نہ کوئی پرندہ وہاں تک پر مار سکتا۔
سید رضی کہتے ہیں کہ فنداس پہاڑ کو کہتے ہیں، جو دوسرے پہاڑوں سے الگ ہو.
۴۴۴
وہ تھوڑا عمل جس میں ہمیشگی ہو اس سے زیادہ ہے، جو دل تنگی کا باعث ہو.
۴۴۵
اگر کسی آدمی میں عمدہ و پاکیزہ خصلت ہو تو ویسی ہی دوسری خصلتوں کے متوقع رہو۔
انسان میں جو بھی اچھی یا بری خصلت پائی جاتی ہے، وہ اس کی افتادہ و طبیعت کی وجہ سے وجود میں آتی ہے اور اگر طبیعت ایک خصلت کی مقتضی ہے، تو اس خصلت سے ملتے جلتے ہوئے دوسرے خصائل کی بھی مقتضی ہوگی۔ اس لیے کہ طبیعت کے تقاضے دونوں جگہ پر یکساں کار فرما ہوتے ہیں، چنانچہ ایک شخص اگر زکوٰۃ و خمس ادا کرتا ہے، تواس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی طبیعت ممسک و بخیل نہیں۔ لہٰذا اس سے یہ توقع بھی کی جاسکتی ہے کہ وہ دوسرے امور خیر میں بھی خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔ اسی طرح اگر کوئی جھوٹ بولتا ہے تو اس سے یہ امید بھی کی جاسکتی ہے، کہ وہ غیبت بھی کرے گا۔ کیونکہ یہ دونوں عادتیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔
۴۴۶
فرزوق کے باپ غالب ابن صعصعہ سے باہمی گفتگو کے دوران فرمایا:
وہ تمہارے بہت سے اونٹ کیا ہوئے؟ کہا کہ حقوق کی ادائیگی نے انہیں منتشر کردیا۔ فرمایا کہ :یہ تو ان کا انتہائی اچھا مصرف ہوا۔
۴۴۷
جو شخص احکام فقہ کے جانے بغیر تجارت کرے گا، وہ ربا میں مبتلا ہوجائے گا۔
۴۴۸
جو شخص ذرا سی مصیبت کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ اللہ اسے بڑی مصیبتوں میں مبتلا کردیتا ہے۔
۴۴۹
جس کی نظر میں خود اپنے نفس کی عزت ہوگی وہ اپنی نفسانی خواہشوں کو بے وقعت سمجھے گا۔
۴۵۰
کوئی شخص کسی دفعہ ہنسی مذاق نہیں کرتا مگر یہ کہ وہ اپنی عقل کا ایک حصہ اپنے سے الگ کر دیتا ہے۔
۴۵۱
جو تمہاری طر ف جھکے اس سے بے اعتنائی برتنا اپنے خط ونصیب میں خسارہ کرنا ہے، اور جوتم سے بے رخی اختیار کرے، اس کی طرف جھکنا نفس کی ذلت ہے۔
۴۵۲
اصل فقر و غنا (قیامت میں )اللہ کے سامنے پیش ہونے کے بعد ہوگا۔
۴۵۳
زبیر ہمیشہ ہمارے گھر کا آدمی رہا یہاں تک کہ اس کا بدبخت بیٹا عبداللہ نمودار ہوا۔
۴۵۴
فرزند آدم کو فخر ومباہات سے کیا ربط، جب کہ اس کی ابتدائ نطفہ اور انتہا مردار ہے، وہ نہ اپنے لیے روز ی کاسامان کر سکتا ہے، نہ موت کو اپنے سے ہٹا سکتا ہے۔
اگر انسان اپنی تخلیق کی ابتدائی صورت اور جسمانی شکست و ریخت کے بعد کی حالت کا تصور کرے، تو وہ فخر وغرور کے بجائے اپنی حقارت و پستی کا اعتراف کر نے پر مجبور ہوگا۔ کیونکہ وہ دیکھے گا کہ ایک وقت تھا، کہ صفحہ ہستی پر ا س کا نام ونشان بھی نہ تھا کہ خدا وند عالم نے نطفہ کے ایک حقیر قطرہ سے اس کے وجود کی بنیاد رکھی جو شکم مادر میں ایک لوتھڑے کی صورت میں رونما ہوا۔ اور غلیظ خون سے پلتا اور نشونما پاتا رہا اور جب جسمانی تکمیل کے بعد زمین پر قدم رکھا تو اتنا بے بس اور لاچار کہ نہ بھوک پیاس پر اختیار، نہ مرض و صحت پر قابو، نہ نفع نقصان ہاتھ میں، اور نہ موت و حیات بس میں، نہ معلوم کب ہاتھ پیروں کی حرکت جواب دے جائے حس و شعور کی قوتیں ساتھ چھوڑ جائیں، آنکھوں کا نور چھن جائے اور کانوں کی سماعت سلب ہوجائے، او رکب موت روح کوجسم سے الگ کرے,اور اسے گلنے سڑنے کے لیے چھوڑجائے، تاکہ چیل، گدھیں اسے نوچیں، یاقبر میں اسے کیڑے کھائیں۔
مابال من اوله نطفة وجیفة اٰخر ه یفخر ;
۴۵۵
حضر ت سے پوچھا گیا کہ سب سے بڑا شاعر کون ہے ؟فرمایا کہ شعرا کی دوڑ ایک روش پر نہ تھی کہ گوئی سبقت لے جانے سے ان کی آخری حد کو پہچانا جائے، اور اگر ایک کو ترجیح دینا ہی ہے تو پھر ملک ضلیل (گمراہ بادشاہ)ہے۔
مطلب یہ ہے کہ شعراء میں موازنہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے، جب ان کے توسن فکر ایک ہی میدان سخن میں جولانیاں دکھائیں اور جب کہ ایک روش دوسرے کی روش سے جدا اور ایک کا اسلوب کلام دوسر ے اسلوب کلام سے مختلف ہے، تو یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ کو ن میدان ہار گیا اور کون سبقت لے گیا۔ چنانچہ مختلف اعتبارات سے ایک دوسرے پر ترجیح دی جاتی ہے، اور اگر کوئی کسی لحاظ سے اور کوئی کسی لحاظ سے شعرا سمجھا جاتا رہا ہے جیسا کہ مشہور مقولہ ہے کہ :
عرب کا سب سے بڑا شاعر امرئالقیس ہے جب وہ سوار ہوا اور اعشی جب وہ کسی چیز کا خواہشمند ہواور نابغہ جب اسے خو ف و ہراس ہو.
لیکن اس تقیید کے باوجود امراء القیس حسن تخییل و لطف ومحا کات اور ان چھوتی تشبیہات اور نادر استعارات کے لحاظ سے طبقہ اولیٰ کے شعراء میں سب سے اونچی سطح پر سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کے اکثر اشعا ر عام معیار اخلاق سے گرئے ہوئے اور فحش مضامین پر مشتمل ہیں، مگر اس فحش نگار ی کے باوجود اس کی فنی عظمت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے کہ فن کار صرف فنی زاویہ نگار سے شعر کے حسن و قبیح کو دیکھتا ہے اور دوسری حیثیات کو جوفن میں دخیل نہیں ہوتیں، نظر انداز کردیتا ہے۔
بہرحال امر اء القیس عرب کانامور شاعر تھا، اور اس کا باپ حجر کندی سلاطین کندہ کے آخری فرد اورصاحب علم و سپاہ تھا اور بنی تغلب کے مشہور شاعر وسخن ران کلیباور مہلہل اس کے ماموں ہوتے تھے اس لیے فطری رجحان کے علاوہ یہ اپنے ننھیال کی طرف سے بھی شعر وسخن کا ورثہ دار تھا اور سرزمین نجد کی آزاد فضا اور عیش و تغم کے گہوارے میں تربیت پانے کی وجہ سے شورہ پستی و سرمستی اس کے ضمیر میں رچ بس گئی تھی۔ چنانچہ حسن وعشق اور نغمہء و شعر کی کیف آور فضاؤں میں پوری طرح کھو گیا۔ باپ نے باز رکھنا چاہا، مگراس کا کوئی نصیحت کار گر نہ ہوئی۔ آخر اس نے مجبو ر ہوکر اسے الگ کردیا الگ ہونے کے بعد اس کے لیے کوئی روک ٹوک نہ تھی۔ پوری طرح عیش و عشرت دینے پر اتر آیا۔ اور جب اپنے باپ کے مارے جانے کی اسے خبر ہوئی تواس کے قصاص کے لیے کمر بستہ ہو ا او رمختلف قبیلوں کے چکر لگائے تاکہ ان سے مدد حاصل کرے اور جب کہیں سے امداد حاصل نہ ہوئی، تو قیصر روم کے ہاں جاپہنچا اور اس سے مدد کا طالب ہوا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ وہاں بھی اس نے ایک ناشائستہ حرکت کی جس سے قیصر روم نے اسے ٹھکانے لگانے کے لیے ایک زہرآلودہ پیراہن دیا۔ جس کے پہنتے ہی زہر کا اثر اس کے جسم میں سرایت کر گیا اور اسی زہر کے نتیجہ میں اس کی موت واقع ہوئی اور نقرہ میں دفن ہوا۔
۴۵۶
کیا کوئی جوانمرد ہے جو اس چبائے ہوئے لقمہ (دنیا) کو اس کے اہل کے لیے چھوڑدے تمہارے نفسوں کی قیمت صرف جنت ہے۔ لہٰذاجنت کے علاوہ او ر کسی قیمت پر انہیں نہ بیچو.
۴۵۷
دو ایسے خواہشمند ہیں جو سیر نہیں ہوتے طالب علم اور طلبگار دنیا۔
۴۵۸
ایمان کی علامت یہ ہے کہ جہاں تمہارے لیے سچائی باعث نقصان ہو، اسے جھو ٹ پر ترجیح دو,خواہ وہ تمہارے فائدہ کا باعث ہو رہا ہو، اور تمہاری باتیں، تمہارے عمل سے زیادہ نہ ہوں اور دوسرے کے متعلق بات کرنے میں اللہ کا خوف کرتے رہو۔
۴۵۹
تقدیر ٹھہرائے ہوئے انداز ے پر غالب آجاتی ہے۔ یہاں تک کہ چارہ سازی ہی تباہی و آفت بن جاتی ہے۔
سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ مطلب اس سے مختلف لفظوں میں پہلے بھی گزر چکا ہے.
۴۶۰
برد باری اور صبردونوں کا ہمیشہ ہمیشہ کا ساتھ ہے اور یہ دونوں بلند ہمتی کا نتیجہ ہیں۔
۴۶۱
کمزور کا یہی زور چلتا ہے کہ وہ پیٹھ پیچھے برائی کرے۔
۴۶۲
بہت سے لوگ اس وجہ سے فتنہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ ان کے بارے میں اچھے خیالات کا اظہار کیاجاتاہے۔
۴۶۳
دنیا ایک دوسری منزل کے لیے پیدا کی گئی ہے نہ اپنے (بقاودوام کے) لیے۔
۴۶۴
بنی امیہ کے لیے ایک مرودارواد (مہلت کا میدان )ہے جس میں وہ دوڑ لگا رہے ہیں جب ان میں باہمی اختلاف رونما ہو تو پھر بجو بھی ان پر حملہ کریں تو ان پر غالب آجائیں گے۔
(سید رضی فرماتے ہیں کہ)مرودار واد مفعل کے وزن پر ہے اور اس کے معنی مہلت و فرصت دینے کے ہیں اور یہ بہت فصیح اور عجیب و غریب کلام ہے گویا آپ علیہ السّلام نے ان کے زمانہ مہلت کو ایک میدان سے تشبیہہ دی ہے جس میں انتہا کی حد تک پہنچنے کے لیے دوڑے جائیں گے تو ان کا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔
یہ پیشن گوئی بنی امیہ کی سلطنت کے زوال کے متعلق ہے جو حر ف بحرف پوری ہوئی۔ اس سلطنت کی بنیاد معاویہ ابن ابی سفیان نے رکھی اور نوے برس گیارہ مہینے اور تیرہ دن کے بعد ۱۳۲ ہجری میں مروان الحمار پر ختم ہوگئی بنی امیہ کا دور ظلم و ستم اور قہر و استبداد کے لحاظ سے آپ اپنی نظیر تھا۔ اس عہد کے مطلق العنان حکمرانوں نے ایسے ایسے مظالم کئے کہ جن سے اسلام کا دامن داغدار، تاریخ کے اوراق سیاہ اور روح انسانیت مجروح نظر آتی ہے۔ انہوں نے اپنے شخصی اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے ہر تباہی و بربادی کو جائز قرار دے لیا تھا مکہ پر فوجوں کی یلغار خانہ کعبہ پر آگ برسائی، مدینہ کو اپنی بیہمانہ خواہشوں کا مرکز بنایا اور مسلمانوں کے قتل عام سے خون کی ندیاں بہا دیں۔ آخر ان سفاکیوں اور خونریزیوں کے نتیجہ میں ہر طرف بغاوتیں اور سازشیں اٹھ کھڑی ہوئیں اور ان کے اندرونی خلفشار اور باہمی رزم آرائی نے ان کی بربادی کا راستہ ہموار کردیا۔ اگرچہ سیاسی اضطراب ان میں سے پہلے ہی سے شروع ہوچکا تھا مگر ولید ابن یزید کے دور میں کھلم کھلا نزاع کا دروازہ کھل گیا اور ادھر چپکے چپکے بنی عباس نے بھی پر پرزے نکالنا شروع کئے اور مروان الحمار کے دور میں خلافت الہیہ کے نام سے ایک تحریک شروع کردی اور اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے انہیں ابو مسلم خراسانی ایسا امیر سپاہ مل گیا جو سیاسی حالات و واقعات کا جائزہ لینے کے علاوہ فنون حرب میں بھی پوری مہارت رکھتا تھا۔ چنانچہ اس نےخراسان کو مرکز قرار دے کر امو یوں کے خلاف ایک جال بچھادیا اور عباسیوں کو برسر اقتدار لانے میں کامیاب ہوگیا۔
یہ شخص ابتد اء میں گمنام اور غیر معروف تھا.چنانچہ اسی گمنامی و پستی کی بنا پر حضرت نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو بجو سے تعبیر کیا ہے کہ جو ادنیٰ لوگوں کے لیے بطور استعارہ استعمال ہوتا ہے۔
۴۶۵
انصار کی مدح و توصیف میں فرمایا خدا کی قسم انہوں نے اپنی خوش حالی سے اسلام کی اس طرح تربیت کی، جس طرح یکسالہ بچھڑے کو پالا پوسا جاتا ہے۔ اپنے کریم ہاتھو ں اور زبانوں کے ساتھ۔
۴۶۶
آنکھ عقب کے لیے تسمہ ہے۔
سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ کلام عجیب و غریب استعارات میں سے ہے گویا آپ نے عقب کو ظرف سے اور آنکھ کو تسمہ سے تشبیہہ دی ہے اور تسمہ کھول دیا جائے تو برتن میں جو کچھ ہوتا ہے۔ رک نہیں سکتا مشہور واضح ہے کہ یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے۔ مگر کچھ لوگوں نے اسے امیر المومنین علیہ السلام سے بھی روایت کیا ہے چنانچہ مبرد نے اس کا اپنی کتاب “المقتضب”باب اللفظ بالحروف میں ذکر کیا ہے اور ہم نے اپنی کتاب “مجازات الآثار النبویہ”میں اس استعار ہ کے متعلق بحث کی ہے
۴۶۷
ایک کلام کے ضمن آپ نے فرمایا:
لوگوں کے امور کا ایک حاکم و فرماں روا ذمہ دار ہوا جو سیدھے پر چلا اور دوسروں کو اس راہ پر لگایا۔ یہاں تک کہ دین نے اپنا سینہ ٹیک دیا.
۴۶۸
لوگوں پر ایک ایسا گزند پہنچانے والا دور آئے گا، جس میں مالدار اپنے مال میں بخل کرے گا حالانکہ اسے یہ حکم نہیں۔ چنانچہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ “آپس میں حسن سلوک کو فراموش نہ کرو “اس زمانہ میں شریر لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور نیکو کار ذلیل خوار سمجھے جائیں گے اور مجبور اور بے بس لوگوں سے خرید و فروخت کی جائے گی.حالانکہ رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم نے مجبور و مضطر لوگوں سے (اونے پونے )خریدنے کومنع کیا ہے۔
مجبور و مضطر لوگوں سے معاملہ عموما ًاس طرح ہوتا ہے کہ ان کی احتیاج و ضرور ت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ان سے سستے داموں چیزیں خرید لی جاتی ہیں، اور مہنگے داموں ان کے ہاتھ فروخت کی جاتی ہیں۔ اس پریشان حالی میں ان کی مجبوری و بے بسی سے فائدہ اٹھانے کی کوئی مذہب اجازت نہیں دیتا اورنہ آئین اخلاق میں اس کی کوئی گنجائش ہے کہ دوسرے کی اضطراری کیفیت سے نفع اندوزی کی راہیں نکالی جائیں۔
۴۶۹
میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاکت میں مبتلا ہوں گے۔ ایک محبت میں حد سے بڑھ جانے والا اور دوسرا جھوٹ و افترا باندھنے والا۔
سید رضی کہتے ہیں کہ حضر ت کایہ قول اس ارشاد کے مانند ہے کہ میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاک ہوئے ایک محبت میں غلو کرنے والا، اور دوسرا دشمنی و عناد رکھنے والا۔
۴۷۰
حضرت سے توحید و عدل کے متعلق سوال کیاگیا توآپ نے فرمایا:
توحید یہ ہے کہ اسے اپنے وہم و تصور کا پابند نہ بناؤ اور یہ عدل ہے کہ اس پر الزامات نہ لگاؤ.
عقیدہ توحید اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک اس میں تنزیہ کی آمیزش نہ ہو۔ یعنی اسے جسم وصورت اور مکان و زمان کے حدود سے بالا ترسمجھتے ہوئے اپنے اوہام و ظنون کا پابند نہ بنایا جائے کیونکہ جسے اوہام و ظنون کا پابند بنایا جائے گا، وہ خدا نہیں ہوگا بلکہ ذہن انسانی کی پیداوار ہوگا اور ذہنی قوتیں دیکھی بھالی ہوئی چیزوں ہی میں محدود رہتی ہیں۔ لہٰذا انسان جتنا گڑھی ہوئی تمثیلوں اور قوت و اہمہ کی خیال آرائیوں سے اسے سمجھنے کی کوشش کرے گا، اتنا ہی حقیقت سے دور ہوتا جائے گا۔ چنانچہ امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے،
جب بھی تم اسے اپنے تصور و وہم کا پابند بناؤگے وہ خدا نہیں رہے گا بلکہ تمہاری طرح کی مخلوق اور تمہاری ہی طر ف پلٹنے والی کوئی چیز ہوگی۔
اور عدل یہ ہے کہ ظلم و فبح کی جتنی صورتیں ہوسکتی ہیں ان کی ذات باری سے نفی کی جائے اور اسے ان چیزوں سے متہم نہ کیا جائے کہ جو بری اور بے فائدہ ہیں اورجنہیں عقل اس کے لیے کسی طرح تجویز نہیں کرسکتی۔ چنانچہ قدرت کا ارشاد ہے۔
تمہارے پروردگار کی بات سچائی اور عدل کے ساتھ پوری ہوئی۔ کوئی چیز اس کی باتوں میں تبدیلی پیدا نہیں کرسکتی۔
۴۷۱
حکمت کی بات سے خاموشی اختیار کرنا کوئی خوبی نہیں جس طرح جہالت کے ساتھ بات کرنے میں کوئی بھلائی نہیں۔
۴۷۲
طلب باراں کی ایک دعا میں فرمایا: بارِ الہٰا! ہمیں فرمانبردار ابروں سے سیراب کر، نہ اُن ابروں سے جو سرکش اور منہ زور ہوں
سید رضی کہتے ہیں کہ یہ کلام عجیب و غریب فصاحت پر مشتمل ہے ۔ اس طرح کہ امیر المومنین علیہ السلام نے کڑک، چمک، ہوا اور بجلی والے بادلوں کو اُن اونٹوں سے تشبیہ دی ہے کہ جو اپنی منہ زوری سے زمین پر پیر مار کر پالان پھینک دیتے ہوں اور اپنے سواروں کو گرا دیتے ہوں ۔ اور ان خوفناک چیزوں سے خالی ابر کو ان اونٹنیوں سے تشبیہ دی ہے جو دوہنے میں مطیع ہوں اور سواری کرنے میں سوار کی مرضی کے مطابق چلیں ۔
۴۷۳
حضرت(علیہ السلام ) سےکہا گیا کہ اگر آپ سفید بالوں کو (خضاب سے) بدل دیتے تو بہتر ہوتا۔ اس پر حضرت(علیہ السلام ) نے فرمایا کہ خضاب زینت ہے اور ہم لوگ سوگوار ہیں ۔
سید رضی کہتے ہیں کہ حضرت نے اس سے وفاتِ پیغمبر ﷺ مراد لی ہے۔
۴۷۴
وہ مجاہد جو خدا کی راہ میں شہید ہو، اُس شخص سے زیادہ اجر کا مستحق نہیں ہے جو قدرت و اختیار رکھتے ہوئے پاک دامن رہے۔ کیا بعید ہے کہ پاکدامن فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہو جائے۔
۴۷۵
قناعت ایسا سرمایہ ہے جو ختم ہونے میں نہیں آتا۔
سید رضی کہتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اس کلام کو پیغمبر ﷺ سے روایت کیا ہے۔
۴۷۶
جب زیاد ابن ابیہ کو عبد اللہ ابن عباس کی قائم مقامی میں فارس اور اس کے ملحقہ علاقوں پر عامل مقرر کیا تو ایک باہمی گفتگو کے دوران میں کہ جس میں اسے پیشگی مالگزاری کے وصول کرنے سے روکنا چاہا یہ کہا:
عدل کی روش پر چلو۔ بے راہ روی اور ظلم سے کنارہ کشہ کرو کیونکہ بے راہ روی کا نتیجہ یہ ہو گا کہ انہیں گھر بار چھوڑنا پڑے گا اور ظلم انہیں تلوار اٹھانے کی دعوت دے گا۔
۴۷۷
سب سے بھاری گناہ وہ ہے جسے مرتکب ہونے وال سُبک سمجھے
۴۷۸
اللہ نے جاہلوں سے اس وقت تک سیکھنے کا عہد نہیں لیا جب تک جاننے والوں سے یہ عہد نہیں لیا کہ وہ سکھانے میں دریغ نہ کریں ۔
۴۷۹
بدترین بھائی وہ ہے جس کے لیے زحمت اٹھانا پڑے۔
سید رضی کہتے ہیں کہ یہ اس لیےکہ مقدور سے زیادہ تکلیف، رنج و مشقت کا سبب ہوتی ہے اور جس بھائی کے لیے تکلف کیا جائے، اُس سے لازمی طور پر زحمت پہنچے گی۔ لہذا وہ بُرا بھائی ہوا۔
۴۸۰
جب کوئی مومن اپنے کسی بھائی کا احتشام کرے تو یہ اُس سے جدائی کا سبب ہو گا۔
سید رضی کہتے ہیں کہ حشم واحشام کے معنی ہیں غضبناک کرنا، اور ایک معنی ہیں شرمندہ کرنا۔ اور احتشام کے معنی ہیں "اس سے غصہ یا خجالت کا طالب ہونا اور ایسا کرنے سے جدائی کا امکان غالب ہوتا ہے۔
اختتام
سید رضی اس کتاب کے اختتام پر لکھتے ہیں :
اب یہ ہمارا پایانِ کار کی منزل ہے کہ ہم امیر المومنین(علیہ السلام ) کے منتخب کلام کا سلسلہ ختم کریں ۔ ہم اللہ سبحانہ کی بارگاہ میں شکر گزار ہیں کہ اُس نے ہم پر یہ احسان کیا کہ ہمیں توفیق دی کہ ہم حضرت کے منتشر کلام کو یک جا کریں اور دور دست کلام کو قریب لائیں ۔ ہمارا ارادہ ہے جیسا کہ پہلے طے کر چکے ہیں کہ ان ابواب میں سے ہر باب کے آخر میں کچھ سادہ ورق چھوڑ دیں تاکہ جو کلام اب تک ہاتھ نہیں لگا اُسے قابو میں لا سکیں اور جو ملے اُسے درج کر دیں ۔ شاید ایسا کلام جو اس وقت ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔ بعد میں ہمارے لیے ظاہر ہو اور دور ہونے کے بعد ہمارے دامن میں سمٹ آئے۔ ہمیں توفیق حاصل ہے تو اللہ سے اور اسی پر ہمارا بھروسا ہے اور وہی ہمارے لیے کافی اور اچھا کارساز ہے۔
یہ کتاب ماہ رجب سن ۴۰۰ ہجری میں اختتام کو پہنچی
وصلی الله علی سیدنا محمد خاتم الرسل، والهادی الی خیر السبل واله الطاهرین، و اصحابه نجوم الیقین
فہرست
۱ ۴
۲ ۴
۳ ۴
۴ ۴
۶ ۵
۷ ۵
۸ ۵
۹ ۶
۱۰ ۶
۱۱ ۶
۱۲ ۷
۱۳ ۷
۱۴ ۷
۱۵ ۷
۱۶ ۷
۱۷ ۸
۱۸ ۸
۱۹ ۸
۲۰ ۸
۲۱ ۹
۲۲ ۹
۲۳ ۹
۲۴ ۹
۲۵ ۱۰
۲۶ ۱۰
۲۷ ۱۱
۲۸ ۱۱
۲۹ ۱۱
۳۰ ۱۱
۳۱ ۱۳
۳۲ ۱۳
۳۳ ۱۳
۳۴ ۱۳
۳۵ ۱۳
۳۶ ۱۴
۳۷ ۱۴
۳۸ ۱۴
۳۹ ۱۴
۴۰ ۱۴
۴۱ ۱۵
۴۲ ۱۵
۴۳ ۱۵
۴۴ ۱۶
۴۵ ۱۶
۴۶ ۱۶
۴۷ ۱۶
۴۸ ۱۶
۴۹ ۱۷
۵۰ ۱۷
۵۱ ۱۷
۵۲ ۱۷
۵۳ ۱۷
۵۴ ۱۷
۵۵ ۱۸
۵۶ ۱۸
۵۷ ۱۸
۵۸ ۱۸
۵۹ ۱۸
۶۰ ۱۹
۶۱ ۲۰
۶۲ ۲۰
۶۳ ۲۰
۶۴ ۲۰
۶۵ ۲۰
۶۶ ۲۰
۶۷ ۲۰
۶۷ ۲۱
۶۸ ۲۱
۶۹ ۲۱
۷۰ ۲۱
۷۱ ۲۱
۷۲ ۲۱
۷۳ ۲۲
۷۴ ۲۲
۷۵ ۲۲
۷۶ ۲۲
۷۷ ۲۳
۷۸ ۲۳
۷۹ ۲۴
۸۰ ۲۴
۸۱ ۲۴
۸۲ ۲۴
۸۳ ۲۵
۸۴ ۲۵
۸۵ ۲۵
۸۶ ۲۵
۸۷ ۲۵
۸۸ ۲۵
۸۹ ۲۶
۹۰ ۲۶
۹۱ ۲۷
۹۲ ۲۷
۹۳ ۲۷
۹۴ ۲۷
۹۵ ۲۷
۹۶ ۲۸
۹۷ ۲۸
۹۸ ۲۸
۹۹ ۲۸
۱۰۰ ۲۸
۱۰۱ ۲۹
۱۰۲ ۲۹
۱۰۳ ۲۹
۱۰۴ ۲۹
۱۰۵ ۳۰
۱۰۶ ۳۰
۱۰۷ ۳۰
۱۰۸ ۳۰
۱۰۹ ۳۱
۱۱۰ ۳۱
۱۱۱ ۳۱
۱۱۲ ۳۱
۱۱۳ ۳۲
۱۱۴ ۳۲
۱۱۵ ۳۲
۱۱۶ ۳۲
۱۱۷ ۳۳
۱۱۸ ۳۳
۱۱۹ ۳۳
۱۲۰ ۳۳
۱۲۱ ۳۴
۱۲۲ ۳۴
۱۲۳ ۳۴
۱۲۴ ۳۴
۱۲۵ ۳۵
۱۲۶ ۳۵
۱۲۷ ۳۶
۱۲۸ ۳۶
۱۲۹ ۳۶
۱۳۰ ۳۶
۱۳۱ ۳۷
۱۳۲ ۳۸
۱۳۳ ۳۸
۱۳۴ ۳۸
۱۳۵ ۳۸
۱۳۶ ۳۹
۱۳۷ ۳۹
۱۳۸ ۳۹
۱۳۹ ۳۹
۱۴۰ ۳۹
۱۴۱ ۴۰
۱۴۲ ۴۰
۱۴۳ ۴۰
۱۴۴ ۴۰
۱۴۵ ۴۰
۱۴۶ ۴۰
۱۴۷ ۴۰
۱۴۸ ۴۲
۱۴۹ ۴۲
۱۵۰ ۴۳
۱۵۱ ۴۵
۱۵۲ ۴۵
۱۵۳ ۴۵
۱۵۴ ۴۵
۱۵۵ ۴۵
۱۵۶ ۴۵
۱۵۷ ۴۶
۱۵۸ ۴۶
۱۵۹ ۴۶
۱۶۰ ۴۶
۱۶۱ ۴۷
۱۶۲ ۴۷
۱۶۳ ۴۷
۱۶۴ ۴۷
۱۶۵ ۴۷
۱۶۶ ۴۷
۱۶۷ ۴۷
۱۶۸ ۴۸
۱۶۹ ۴۸
۱۷۰ ۴۸
۱۷۱ ۴۸
۱۷۲ ۴۸
۱۷۳ ۴۹
۱۷۴ ۴۹
۱۷۵ ۴۹
۱۷۶ ۵۰
۱۷۷ ۵۰
۱۷۸ ۵۰
۱۷۹ ۵۰
۱۸۰ ۵۰
۱۸۱ ۵۱
۱۸۲ ۵۱
۱۸۳ ۵۱
۱۸۴ ۵۱
۱۸۵ ۵۱
۱۸۶ ۵۱
۱۸۷ ۵۱
۱۸۸ ۵۱
۱۸۹ ۵۲
۱۹۰ ۵۲
۱۹۱ ۵۲
۱۹۲ ۵۲
۱۹۳ ۵۲
۱۹۴ ۵۲
۱۹۵ ۵۳
۱۹۶ ۵۳
۱۹۷ ۵۳
۱۹۸ ۵۳
۱۹۹ ۵۳
۲۰۰ ۵۴
۲۰۱ ۵۴
۲۰۲ ۵۴
۲۰۳ ۵۴
۲۰۴ ۵۴
۲۰۵ ۵۵
۲۰۶ ۵۵
۲۰۷ ۵۵
۲۰۸ ۵۵
۲۰۹ ۵۵
۲۱۰ ۵۶
۲۱۱ ۵۷
۲۱۲ ۵۷
۲۱۳ ۵۷
۲۱۴ ۵۷
۲۱۵ ۵۷
۲۱۶ ۵۸
۲۱۷ ۵۸
۲۱۸ ۵۸
۲۱۹ ۵۸
۲۲۰ ۵۸
۲۲۱ ۵۸
۲۲۲ ۵۸
۲۲۳ ۵۹
۲۲۴ ۵۹
۲۲۵ ۵۹
۲۲۶ ۵۹
۲۲۷ ۵۹
۲۲۸ ۶۰
۲۲۹ ۶۰
۲۳۰ ۶۰
۲۳۱ ۶۰
۲۳۲ ۶۱
۲۳۳ ۶۱
۲۳۴ ۶۱
۲۳۵ ۶۱
۲۳۶ ۶۲
۲۳۷ ۶۲
۲۳۸ ۶۲
۲۳۹ ۶۲
۲۴۰ ۶۲
۲۴۱ ۶۴
۲۴۲ ۶۴
۲۴۳ ۶۴
۲۴۴ ۶۴
۲۴۵ ۶۴
۲۴۶ ۶۵
۲۴۷ ۶۵
۲۴۸ ۶۵
۲۴۹ ۶۵
۲۵۰ ۶۵
۲۵۱ ۶۵
۲۵۲ ۶۵
۲۵۳ ۶۶
۲۵۴ ۶۶
۲۵۵ ۶۶
۲۵۶ ۶۷
۲۵۷ ۶۷
۲۵۸ ۶۷
۲۵۹ ۶۷
۲۶۰ ۶۷
۲۶۱ ۶۷
۲۶۲ ۶۸
۲۶۳ ۶۹
۲۶۴ ۶۹
۲۶۵ ۶۹
۲۶۶ ۶۹
۲۶۷ ۶۹
۲۶۸ ۷۰
۲۶۹ ۷۰
۲۷۰ ۷۰
۲۷۱ ۷۲
۲۷۲ ۷۲
۲۷۳ ۷۲
۲۷۴ ۷۳
۲۷۵ ۷۳
۲۷۶ ۷۳
۲۷۷ ۷۴
۲۷۸ ۷۴
۲۷۹ ۷۴
۲۸۰ ۷۴
۲۸۱ ۷۴
۲۸۲ ۷۴
۲۸۳ ۷۵
۲۸۴ ۷۵
۲۸۵ ۷۵
۲۸۶ ۷۵
۲۸۷ ۷۵
۲۸۸ ۷۵
۲۸۹ ۷۵
۲۹۰ ۷۶
۲۹۱ ۷۶
۲۹۲ ۷۷
۲۹۳ ۷۷
۲۹۴ ۷۷
۲۹۵ ۷۷
۲۹۶ ۷۸
۲۹۷ ۷۸
۲۹۸ ۷۸
۲۹۹ ۷۸
۳۰۰ ۷۸
۳۰۱ ۸۰
۳۰۲ ۸۰
۳۰۳ ۸۰
۳۰۴ ۸۰
۳۰۵ ۸۰
۳۰۶ ۸۰
۳۰۷ ۸۱
۳۰۸ ۸۱
۳۰۹ ۸۱
۳۱۰ ۸۱
۳۱۱ ۸۱
۳۱۲ ۸۲
۳۱۳ ۸۲
۳۱۴ ۸۲
۳۱۵ ۸۳
۳۱۶ ۸۳
۳۱۷ ۸۳
۳۱۸ ۸۳
۳۱۹ ۸۴
۳۲۰ ۸۴
۳۲۱ ۸۴
۳۲۲ ۸۴
۳۲۳ ۸۵
۳۲۴ ۸۵
۳۲۵ ۸۵
۳۲۶ ۸۵
۳۲۷ ۸۵
۳۲۸ ۸۶
۳۲۹ ۸۶
۳۳۰ ۸۶
۳۳۱ ۸۷
۳۳۲ ۸۷
۳۳۳ ۸۷
۳۳۴ ۸۷
۳۳۵ ۸۷
۳۳۶ ۸۷
۳۳۷ ۸۷
۳۳۸ ۸۸
۳۳۹ ۸۸
۳۴۰ ۸۸
۳۴۱ ۸۸
۳۴۲ ۸۸
۳۴۳ ۸۸
۳۴۴ ۸۹
۳۴۵ ۸۹
۳۴۶ ۸۹
۳۴۷ ۸۹
۳۴۸ ۸۹
۳۴۹ ۹۰
۳۵۰ ۹۰
۳۵۱ ۹۰
۳۵۲ ۹۰
۳۵۳ ۹۱
۳۵۴ ۹۱
۳۵۵ ۹۱
۳۵۶ ۹۱
۳۵۷ ۹۲
۳۵۸ ۹۲
۳۵۹ ۹۲
۳۶۰ ۹۲
۳۶۱ ۹۴
۳۶۲ ۹۴
۳۶۳ ۹۴
۳۶۴ ۹۴
۳۶۵ ۹۴
۳۶۶ ۹۴
۳۶۷ ۹۴
۳۶۸ ۹۵
۳۶۹ ۹۵
۳۷۰ ۹۶
۳۷۱ ۹۶
۳۷۲ ۹۶
۳۷۳ ۹۷
۳۷۴ ۹۷
۳۷۵ ۹۸
۳۷۶ ۹۸
۳۷۷ ۹۸
۳۷۸ ۹۸
۳۷۹ ۹۸
۳۸۰ ۹۹
۳۸۱ ۹۹
۳۸۲ ۹۹
۳۸۳ ۹۹
۳۸۴ ۱۰۰
۳۸۵ ۱۰۰
۳۸۶ ۱۰۰
۳۸۷ ۱۰۰
۳۸۸ ۱۰۰
۳۸۹ ۱۰۰
۳۹۰ ۱۰۱
۳۹۱ ۱۰۲
۳۹۲ ۱۰۲
۳۹۳ ۱۰۲
۳۹۴ ۱۰۲
۳۹۵ ۱۰۲
۳۹۶ ۱۰۲
۳۹۷ ۱۰۲
۳۹۸ ۱۰۳
۳۹۹ ۱۰۳
۴۰۰ ۱۰۳
۴۰۱ ۱۰۳
۴۰۲ ۱۰۴
۴۰۳ ۱۰۴
۴۰۴ ۱۰۴
۴۰۵ ۱۰۴
۴۰۶ ۱۰۵
۴۰۷ ۱۰۵
۴۰۸ ۱۰۵
۴۰۹ ۱۰۵
۴۱۰ ۱۰۵
۴۱۱ ۱۰۵
۴۱۲ ۱۰۶
۴۱۳ ۱۰۶
۴۱۴ ۱۰۶
۴۱۵ ۱۰۶
۴۱۶ ۱۰۶
۴۱۷ ۱۰۷
۴۱۸ ۱۰۷
۴۱۹ ۱۰۷
۴۲۰ ۱۰۷
۴۲۱ ۱۰۹
۴۲۲ ۱۰۹
۴۲۳ ۱۰۹
۴۲۴ ۱۰۹
۴۲۵ ۱۰۹
۴۲۶ ۱۱۰
۴۲۷ ۱۱۰
۴۲۸ ۱۱۰
۴۲۹ ۱۱۰
۴۳۰ ۱۱۱
۴۳۱ ۱۱۱
۴۳۲ ۱۱۱
۴۳۳ ۱۱۱
۴۳۴ ۱۱۲
۴۳۵ ۱۱۲
۴۳۶ ۱۱۲
۴۳۷ ۱۱۲
۴۳۸ ۱۱۲
۴۳۹ ۱۱۳
۴۴۰ ۱۱۳
۴۴۱ ۱۱۳
۴۴۲ ۱۱۳
۴۴۳ ۱۱۳
۴۴۴ ۱۱۳
۴۴۵ ۱۱۴
۴۴۶ ۱۱۴
۴۴۷ ۱۱۴
۴۴۸ ۱۱۴
۴۴۹ ۱۱۴
۴۵۰ ۱۱۴
۴۵۱ ۱۱۵
۴۵۲ ۱۱۵
۴۵۳ ۱۱۵
۴۵۴ ۱۱۵
۴۵۵ ۱۱۶
۴۵۶ ۱۱۶
۴۵۷ ۱۱۶
۴۵۸ ۱۱۷
۴۵۹ ۱۱۷
۴۶۰ ۱۱۷
۴۶۱ ۱۱۷
۴۶۲ ۱۱۷
۴۶۳ ۱۱۷
۴۶۴ ۱۱۷
۴۶۵ ۱۱۸
۴۶۶ ۱۱۸
۴۶۷ ۱۱۹
۴۶۸ ۱۱۹
۴۶۹ ۱۱۹
۴۷۰ ۱۱۹
۴۷۱ ۱۲۰
۴۷۲ ۱۲۰
۴۷۳ ۱۲۰
۴۷۴ ۱۲۰
۴۷۵ ۱۲۱
۴۷۶ ۱۲۱
۴۷۷ ۱۲۱
۴۷۸ ۱۲۱
۴۷۹ ۱۲۱
۴۸۰ ۱۲۱
اختتام ۱۲۲