حیات حضرت زھراء پرتحقیقانہ نظر
گروہ بندی فاطمہ زھرا(سلام اللّہ علیھا)
مصنف حجت الاسلام شیخ باقر مقدسی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


حیات حضرت زھراء پرتحقیقانہ نظر

تالیف: محمد باقر مقدسی


انتساب

اپنے شفیق اور مہربان والدین کے نام۔


تقریظ:

بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

الحمد للّٰہ رب العالمین والصلاة والسلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین وآلہ الطاہرین.

اس عظیم اور بیمثال ہستی کو سلام ہو جو ناموسی الہی ہے عصمت اور طہارت کا مرکز ہے .مظہرالعجائب کے ہمتا ۔ اور علم ودانش کے دریا نیز صبر واستقامت کے پیکر ہے ۔

ہمارے مظاہر اسلامی ،معاشر ہ الٰہی اونچے اہداف تک پہنچنے اور مقدس آرمانوں کی تحقیق اور حصول کیلئے اپنے مکتب کے علمی اور عملی مثالی شخصیات کے پیروی کئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔

اس مسیر میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہاپیغمبر اکرم کی اکلوتی بیٹی ہونے اور ائمہ اطہار ٪ کی مادر گرامی ہونے کے حوالے سے نیز مکتب وحی میں تربیت یافتہ خاتون ہونے کے لحاظ سے چاہئے کہ رہبر شناسی اور الگوشناسی کے دفتر کا سرلوحہ قرار پائے، اگر مسلم معاشرے کے تمام افراد مرد اور عورت چھوٹے بڑے سب اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں حضرت زہرا ئے اطہر اور آپ کے فرزندان گرامی کی پیروی کریںگے تو یہ مسلم معاشرہ تمام جوامع انسانی پر برتری حاصل کرسکتا ہے۔

جب کہ دور حاضر میں ایسا نہیں ہے حال اینکہ اسلام کا دعوای ہے ''لیظہرہ علی الدین کلہ'' اور خاتم الادیان کے حوالہ سے اس دین کا قانون قرآن میں مکتوب اور اس کا عملی کردار اہل بیت اطہار ٪ کی ذوات مقدس میں متجلی ہے۔

اہل بیت اطہار ٪ میں حضرت زہرا کو محوری حیثیت ہونا کسی اہل علم ومعرفت سے مخفی نہیں ہے۔


لہٰذا اس عظیم ہستی کی شخصیت اور مقام وعظمت کی کنہ اور انتہا تک رسائی ہونا کسی بھی عام انسان کی بس کی بات نہیں ؟لہٰذا تمام اہل معرفت اس بات کا اعتراف کرتے ہیں ۔

مرحوم شیخ محمد حسین غروی اصفہانی ایک عظیم محقق اور فیلسوف نیز مجتہداتنی عظمت اور شخصیت والی ہستی حضرت زہرا کے بارے میں فرماتے ہیں۔

وہم بہ اوج قدس ناموس الٰہہ کی رسد؟

فہم کی نعت بانوی خلوت کبریا کند؟

کیوں ایسا مقام حاصل ہے؟ کیوں انسانی فکر وخیال آپ کی عظمت درک کرنے سے عاجز ہے؟ اس سوال کے جو اب میں مفکر عظیم یوں کہتا ہے:

فیض نخست وخاتمہ نو ر جہان فاطمہ

چشم دل از نظار در مبداء ومنتہی کند


فلسفہ وعرفان کی اصطلاح میں نخست یا فیض اول سے مراد علت غائی عالم امکان ہے اور اس شعر میں خاتمہ سے مراد کائنات کی انتہا اور انتہا تجلی قدرت وفیاضی باری تعالیٰ ہے۔

دوسرے مصرع میں علامہ کھلے الفاظ میں فرماتے ہیں کہ اگر دل کی آنکھوں سے فکر کے اعماق میں جاکر مبدء ومنتہی جو ذات باری ہے ان کا مطالعہ کریں تو تمام عالم وجود فاطمہ زہرا کے نور سے منور او ر جمال سے مزین نظر آتا ہے ۔

بہر حال یہ مصداق ''ما لا یدرک کلہ لایترک کلہ'' یا دوسری عبارت کے مطابق ''آب دیا ر را اگر نتوان کشید ہمہ بقدر تشنگی باید چشید''

ہمارے محققین اور بزرگان نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی ابعاد شخصیت کو اپنے بساط علمی اور قوانین کے مطابق طالبان حقیقت کے سامنے قلمی شہہ پاروں کی صورت میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے اس عظیم ہستی کے بارے میں اب تک جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں،ان کو اگر جمع کرے تو ایک عظیم الشان لائبریری بن سکتی ہے۔

میں اگرچہ عاصی ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو ذریات رسول اور سادات میں شمار کرنا ان کی شان میں جسارت سمجھتا ہوں لیکن بہرحال اس انتساب کا شرف مجھے حاصل ہونے کے حوالہ سے میرا فرض بنتا ہے کہ فاضل مصنف حضرت حجة الاسلام والمسلمین آقای مقدسی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کروں کہ اس گرانقدر کتاب کو تالیف فرماکر ہماری والدہ گرامی کی خدمت میں خراج عقیدت پیش فرمایا اللہ ان کے قلم اورایمان میں اضافہ فرما۔

اس مجموعہ میں فاضل مصنف نے اپنی مخلصانہ کوشش اس مطلب پر معطوف رکھا ہے کہ مومنین ومومنات کے لئے معتبر روایات اور آیات کی روشنی میں حضرت زہرا کی سیرت کو بیان کریں ۔

اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی مظلومیت نیزان کے گریہ وبکاء کے فلسفہ پر روشنی ڈالیں ۔

واقعاً یہ ایک اہم سوال ہے کہ پیغمبراکرم کی اکلوتی بیٹی اور سیدة النساء العالمین اپنی مختصر حیات میں اتنارویا کہ پانچ مشہور رونے والوں میں شمار ہونے لگیں۔


یہ کیوں ہوا؟!!

مگرپیغمبر اکرم کے کتنی اولاد تھی جو آپ کے بعد امت کے لئے ناقابل تحمل ہوگئیں؟

کیوں حضرت زہرا کو راتوں رات غسل دیا گیا اور رات ہی میںدفن کیا گیا اور آپ کی قبر اب تک کیوں دنیا والوں سے مخفی ہے؟!فاضل محترم نے ان نکات کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔

یہ ایک عظیم معمہ ہے جس پر غور کرنا ہی حضرت زہرا کا مقصد تھا تاکہ اس تفکر اورغور کے نتیجہ میں امت اسلامی کو راہ حق کی طرف ہدایت ہواور حق وباطل میں تمیز ہوجائے۔

اس مختصر تالیف میں فاضل مصنف نے متعدد مقامات پر حضرت زہرا کی شخصیت وسیرت سے متعلق روایات کو نقل کرنے کے ساتھ انھیں ہمارے اسلامی معاشرہ سے مقائسہ کرنے کی کوشش کی ہے، تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ ہم اسلام سے کتنے فاصلہ پر ہیں اسلام ہم سے کیا چاہتا ہے اور ہم کس غربت وفساد میں غرق ہیں۔

بہرحال یہ ایک مخلصانہ کوشش ہے تاکہ حتی المقدور ایک مسلم دین اسلام کی ترویج میں اپنا وظیفہ ادا کرسکے، اور احیاء علوم آل محمد میں قدم اٹھائیں۔

مجھے امید ہے کہ قارئین کرام اس کتاب کا غور سے مطالعہ کرکے حضرت زہرا کی سیرت سے آشنائی حاصل کریں گے۔

خداوندعالم سے دعا ہے کہ فاضل مصنف کے اس عظیم القدر خدمت کو قبول فرماکر انھیں مزید قلمی میدان میں خدمات کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔

آمین یا رب العالمین بحق محمد وآلہ الطاہرین۔

والسلام

مصطفی المو سوی

حوزہ علمیہ قم ایران


مقدمہ

بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

الحمد للّٰه رب العالمین والصلاة والسلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین وآله الطاهرین.

کائنات کا ہر ممکن الوجود واجب باالذات کا خواہاں ہے چاہے عرض ہو یا جوہر تب ہی تو پوری کائنات ممکن الوجود کی حیثیت سے حضرت حق کی تسبیح وتقدیس کرتے ہوئے نظر آتی ہے جمادات ہو یا نباتات ، خاکی ہو یا نوری مجرد ہو یا ماد ی لیکن اللہ تبارک وتعالی نے مخلو قات میں سے صرف انسان کو عقل وشعور جیسے نور سے منور فرماکر باقی تمام موجود ات پر انسان کو فوقیت اور عظمت دی لہٰذاانسان اشرف الموجودات ، اعظم المخلوقات کی شکل میں تکا مل وتر قی کی راہ میں رواں دواں ہے لیکن کائنات کی ہر شئی عقل جیسے نور سے محروم ہو نے کے باوجود رب العزت کے خاضع اور خاکساری کرتی ہوئی نظر آتی ہے جبکہ انسان کے ساتھ عقل جیسا نور خلق کر نے کے علاوہ ان کے راہنما ئی اور کا میا بی کے راستوں کو معین کر نے کی خاطر انبیا ء اور اوصیا ء جیسی ہستیوں کو بھی مبعوث فرمانے کے باوجود نہ صر ف خدا کا خاضع نہیں ہے بلکہ وہم وخیال اور گمان پر مبنی تصورات کے نتیجے میں رب العزت کے منکر ین قائلین کی بہ نسبت کئی گنازیادہ مشا ہدہ میں آتے ہیں ۔

اگر چہ اللہ تبارک وتعالی نے ان کے بارے میں فرما یا ہے جو شہوات اور خواہشات کے تابع ہے وہ حیوانات سے بھی بدتر ہے جو عقل وشعور کا پیروکار ہے وہ فرشتوں سے بھی افضل ہے اسی لئے کا ئنات میں عقل وشعور اور صحیح معنوں میں اسلام کے تابع انبیاء اور چہار دہ معصومین ٪ کو سمجھا جا تا ہے جن کے صدقے میں خدا نے کائنات کو وجود دیا تا کہ انہیں حضرات کے ذریعے انسان ابدی زندگی کو آباد. دنیوی زندگی کو خوشگوار بنا سکے ، لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ ہماری زندگی آباد کر نے کا ملاک اورمعیار حضرت زہرا ( سلام اللہ علیھا ) کی سیرت ہے جس میں سیاسی، سماجی، علمی ، اقتصادی ، اخلاقی ،اعتقادی ، فقہی ...نکات پوشیدہ ہیں جن کو اگر مسلمان صحیح طریقے سے درک کرے تو مسلمانوں کی کا میا بی اور آپس میں یک جہتی کے لیئے یہی کا فی ہے کیو نکہ حضرت زہرا کی سیرت حقیقت میں دیکھا جا ئے تو کتاب وسنت کانچوڑاور خلاصہ ہے۔


لہٰذا آنے والے مطالب میں حضرت زہرا کی کچھ فضیلت کواختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور ان پرڈھائے گئے مظالم کا تذ کر ہ بھی ہواہے جس مجمو عے کا نام ''فاطمہ زہرا کے رونے کا فلسفہ ''رکھا گیا ہے انشاء اللہ قارئین کو حضرت زہرا کی شخصیت پر مختصر آگاہی ہونے کے سا تھ ان کی مظلومیت اور دیگر قوموں کے مظالم اور بیداد گری کا بھی اندازہ کر سکیں نا چیز زحمت کو بہت ہی اختصار کے ساتھ تعصب سے ہٹ کر فریقین کی کتابوں سے سادہ الفاظ میں جمع کیا گیا ہے خدا وند تبارک وتعالی سے سوال ہے کیوں اس صدی میں بھی حضرت زہرا کی شخصیت مجمل اور مبہم ہے ؟ ان پرکئے ہوئے مظالم کی توجیہ کیوں ؟

پالنے والے میں حضرت زہرا (سلام اللہ علیھا ) کے ماننے والے طالب علموں میں سے ایک ہو نے کی حیثیت سے حضرت زہرا ( سلام اللہ علیھا ) کے سامنے شرمندہ ہوں کیوں مجھے حضرت زہرا کی شخصیت اور عظمت بیان کر نے کی قدرت وجرأت نہیں ہو تی شاید یہ معنویت کی کمی کا نتیجہ ہو کیو نکہ قدرت اور جرأت معنویت کا نتیجہ ہے جس سے میں محروم ہوں ، خدایاعاصی کی ا س ناچیز زحمت کو امام زمانہ(علیہ السلام) کے صدقہ میں اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔

المذنب: باقر مقدسی۔

حوزہ علمیہ قم المقدس۔ ایران


پہلی فصل:

ولادت حضرت زہرا

الف :تاریخ ولادت

جس طرح دوسرے معصومین علیہم السلام کی تاریخ ولادت کے بارے میں اختلاف ہے اسی طرح حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کی تاریخ ولادت کے بارے میں بھی اختلاف واقع ہوا ہے لہٰذا علماء اور محققین آپ کی تاریخ تو لد تعین کر نے سے عاجز رہے ہیں کیو نکہ آپ کی تاریخ ولادت کے بارے میں محققین نے کئی نظریات ذکر کئے ہیں کہ ان نظریات میں سے ایک یہ ہے کہ آپ بیس جمادی الثانی روز جمعہ بعثت کے بعد پانچویں سال میں پیدا ہو ئی ہیں کہ یہی نظر یہ تشیع کے علماء متقد مین کے نزدیک معروف اور مشہور ہے اور اس نظریہ کے قائلین افراد ذیل ہیں :


۱۔جناب کلینی نے اصول کا فی کے جلد اول صفحہ ۴۵۸ میں۔

۲۔ جناب طبرسی نے کتاب الا علام میں۔

۳۔ جناب طبری نے اپنی گر ان بہا کتاب دلائل الا مامة کے صفحہ ۱۰ میں ۔

۴۔جناب مجلسی نے بحار الانوار جلد ۴۳میں۔

۵۔ جناب ابن شہر آشوب نے جلد ۳ میں ۔

۶۔جناب محدث قمی نے منتہی الامال کی جلد اول میں۔

۷۔ جناب محمد تقی صاحب ناسخ التواریخ نے ناسخ التواریخ میں۔

۸۔ جناب علی ابن عیسیٰ نے کشف الغمہ کے جلد دوم میں۔

۹۔فیض کا شانی وافی میں ۔

اور دیگر کچھ علماء نے بھی اس نظر یے کو قبول کیا ہے۔(۱)

اور اس نظر یہ پر کئی روایات بھی برہان اوردلیل کے طور پر نقل کی ہیں کہ ان میں سے ایک ابو بصیر کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا بیس (۲۰) جمادی الثا نی کو دنیا میں تشریف لائیں جبکہ اس وقت پیغمبر اکرم کی عمرپیتالیس سال کی تھی اور تولد کے بعد آٹھ سال تک پیغمبر اکرم کے سا تھ مکہ میں رہیں دس سال باپ کے ساتھ مدینہ میں زندگی گزاری باپ کے بعد ۷۵ دن زندہ رہیں اور تین جمادی الثانی سن گیارہ

____________________

(۱) کافی جلد ۱ صفحہ ۴۵۸، دلائل الامامة ص۱۰، منتہی الآمال جلد ۱صفحہ۱۰ وغیرہ


ہجری کو شہادت پائی۔(۱)

نیز دوسری روایت میں حبیب سجستانی نے کہا ہے کہ میں نے امام محمد باقر (ع)سے سنا کہ آپ نے فرمایا کہ جناب فاطمہ بنت رسول ،پیغمبر اکرم کی بعثت کے پانچ سال بعد متولد ہو ئیں اور آپ کی وفات کے وقت آپ کی عمر مبارک اٹھارہ سال ۷۵ دن ہو چکی تھی۔(۲)

اس روایت سے واضح ہو جاتا ہے کہ انکی ولادت بیس جما دی الثا نی کو ہو ئی ہے اور وفات اٹھارہ سال ۷۵ دن کی عمر میں ہو ئی ہے لہٰذا مشہور یہی نظر یہ ہے ۔

دوسرا نظر یہ:

یہ ہے کہ فاطمہ زہرا(س) کی ولادت بعثت سے پانچ سال پہلے ہو ئی ہے لہٰذا آپکی وفات اور رحلت کے وقت آپکی عمر ۲۸ سال یا ۲۹ سال تھی یہ نظر یہ اہل سنت کے یہاں مشہور ومعروف ہے اور اہل تسنن میں سے افراد ذیل اس نظر یہ کو صحیح سمجھا ہے:

۱)جناب طبری ۔

۲)ابو الفرج اصفہانی ۔

۳) احمدبن حنبل۔

۴) ابوطلحہ شافعی ۔

____________________

(۱)بحار الا نوار ج ۴۳صفحہ ۹.

(۲)بحار الا نوار ج ۴۳صفحہ ۹.


اور دیگر کچھ علما ء نے بھی اسی کو قبول کئے ہیں اور جناب مسعودی نے(۱) (جیسے اکثرمورخین شیعہ سمجھتے ہیں )لکھا ہے کہ زہرا سلام اللہ علیہا رحلت کے وقت ۲۹ سال کی جوان خاتون تھیں کہ یہ بات اگر مسعودی شیعہ ہو تو اہل تسنن کے موافق ہے ۔

تیسرا نظر یہ:

یہ ہے کہ آپ کی ولادت اس سال ہو ئی جس سال خانہ کعبہ کی تعمیر اور مرمت ہو ئی تھی اس نظریہ کو جناب اربلی نے کتاب الغمہ میں لکھا ہے کہ حضرت فاطمہ الزہرا بعثت کے پانچ سال بعد پیدا ہو ئیں اور اس سال قریش نے خانہ کعبہ کی تعمیر بھی کی ہے(۲)

اسی طرح جناب محمد بن یو سف حنفی نے اپنی کتاب دار السمطین کے صفحہ ۱۷۵ پر لکھا ہے کہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہااس سال متولد ہو ئی کہ جس سال قریش خانہ کعبہ کی تعمیر میں مشغول تھے نیز ابوالفرج نے لکھا ہے کہ فاطمہ کی ولادت اس سال ہو ئی کہ جس سال خانہ کعبہ کی تعمیر ہوئی تھی کہ اس نظر یہ کو ہمارے زمانے کے محققین

____________________

(۱)تاریخ طبری ج۲ ۔مقاتل الطالبین، مسند احمد.

(۲)کتاب الغمہ ج۱ صفحہ ۴۴۹ و مقاتل الطالبین،دار اسبطینی.


نے اس طرح رد کیا ہے کہ جناب ار بلی کی بات کی بناء پر زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت بعثت کے بعد ہو ئی ہے اور اس سال خانہ کعبہ کی تعمیربھی ہوئی ہے یہ دوبات قابل جمع نہیں کیوں کہ خانہ کعبہ کی تعمیربعثت سے پانچ سال پہلے ہو ئی ہے لہٰذا حضرت آیت اللہ امینی نے اپنی گراں بہا کتاب ''فاطمہ اسلام میں مثالی خاتون'' کے صفحہ ا۲ پر لکھا ہے کہ یہ دو بات قابل جمع نہیں ہے، نیز جناب آقائی محمد قاسم نصیر پور نے اپنی کتاب ''زندگانی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ''کے صفحہ ۲۶ پر لکھا ہے کہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت بعثت کے بعد اس سال ہوئی کہ جس سال قریشی نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی یہ دوبات قابل جمع نہیں ہے کیونکہ خانہ کعبہ کی تعمیر بعثت سے پانچ سال پہلے ہو ئی ہے۔(۱)

چوتھا نظریہ:

ایک روایت میں ہے کہ جناب عبداللہ ابن حسن سے ہشام ابن عبدالملک نے کلبی کے حضور میں پوچھا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عمر کتنے سال تھی عبدا للہ ابن حسن نے جواب میں کہا کہ زہرا (س)کی عمر تیس سال تھی اس وقت ہشام ابن عبدا الملک نے اسی سوال کو کلبی سے پوچھا کہ جو نسب شناسی میں معروف ومشہورتھا کلبی نے جواب میں کہا کہ فاطمہ زہرا کی عمر پنتیس سال تھی ہشام، عبدا اللہ

____________________

(۱)زندگانی حضرت فاطمہ زہرا صفحہ ۲۶، فاطمہ اسلام میں مثالی خاتون ص ۲۱.


کی طرف متوجہ ہو ئے اور کہا کہ کیا آپ نے کلبی کی بات سنی ؟ عبد اللہ نے جواب میں فرمایا اے ہشام میری ماں کی حالت مجھ سے پوچھے اور کلبی کی ماں کی حالت کلبی سے کہ یہ روایت مسعو دی کی نظر کی تائید کر تی جو اہل تسنن کا معروف ومشہور نظریہ ہے لہٰذا حضرت زہرا کی تاریخ ولا دت کو معین کر نا بہت ہی مشکل ہے۔(۱)

لیکن مر حوم کلینی قریب العصر ہونے کے باوجود اورا صول کا فی جیسی دقیق کتاب جو بیس یا پچیس سال کی مدت میں تکمیل ہو ئی ہے حتی بعض اسا تید کا کہنا ہے کہ اصول کافی نواّب اربعہ کے زمانہ میں لکھی گئی ہے اور نواّب اربعہ نے تائید بھی کی ہے ایسے مزایا کے ساتھ ان کے مشہور نظریے کو رد کرنا بہت مشکل ہے اگرچہ کچھ شواہد تاریخی اور قرائن اس کے منافی ہی کیوں نہ ہوں، لہٰذا آپ کی ولادت بیس جمادی الثانی بعثت کے پانچ سال بعد ہوئی ہے اور آپ کی شہادت اٹھارہ سال کی عمر میں ہوئی ہے کیونکہ کچھ فقہاء کا عقیدہ ہے کہ اصول کافی جیسی معتبر کتاب کی روایات پر سند کے حوالہ سے اشکال کرنا لاعلمی اور جہالت کا نتیجہ ہے لہٰذا مرحوم علامہ مجلسی نے بھی مرحوم کلینی کے اسی نظریہ کو قبول کیا ہے۔(۲)

پانچواں نظریہ :

یہ ہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت بیس جمادی الثانی بعثت کے دوسرے سال ہوئی ہے لہٰذا وفات کے وقت آپ کی عمر ۲۳ سال تھی۔

____________________

(۱)بحار الانوار ج ۴۳ صفحہ ۲۱۲. (۲)بحار الا نوار ج ۴۳، اصول کافی ج ۲ صفحہ ۳۸۱


اس نظریہ کو یعقوبی نے ذکر کیا ہے اور یعقوبی کے علاوہ افراد ذیل اس نظریہ کے قائل ہیں جناب شیخ مفید اور شیخ طوسی نے مصباح المتہجد میں کفعمی نے کتاب مصباح میں ذکر کیا ہے۔(۱)

چھٹا نظریہ:

لیکن کچھ سنی علماء کا عقیدہ ہے کہ آپ کی ولادت اس وقت ہوئی کہ جس وقت پیغمبر اکرم کی عمر اکتالیس سال ہوئی تھی او رآپ کی شادی چودہ سال کی عمر میں اور رحلت تیئس سال کی عمر میں ہوئی کہ یہ نظریہ بھی شیخ مفید اور شیخ طوسی کے نظریہ کی تائید کرتا ہے ، لہٰذا ہمارے زمانہ میں کچھ محقیقن نے شیخ طوسی کے نظریہ کو قبول کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہی نظریہ صحیح ہے ۔(۲)

لیکن اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زہرا وفات کے وقت اٹھائیس یا انیس یا اٹھارہ یا تیس سال کی جوان خاتون تھیں جب کہ حضرت زہرا نے اس مختصر زندگی میں ہر قسم کے ظلم وستم کو برداشت کئے ہوئے نظر آتے ہیں،لہٰذا مفکرین اور مورخین بھی اگر جناب زہرا کی تاریخ ولادت کے بارے میں مفاد ذاتی یا مذہبی تعصب کو بالائے طاق رکھ کر تصورات کی جمع بندی کریں تو شاید یہی تصورات اور خیالات کی جمع بندی ہماری نجات کا ذریعہ ہوں۔

____________________

(۱)تاریخ یعقوبی ،،مصباح المتہجد، مصباح، کتاب زندگانی حضرت فاطمہ زہرا

(۲)دلائل النبوة، بیہقی ،مستدرک حاکم.


ب۔ محلّ تولد

ہر مسلمان اور مذہب کے دعوید ار اس بات کے قائل ہیں کہ کائنات میں خدا کی نظر میں کچھ مکانات کی ارزش اور قیمت باقی مکانات اور جگہوں سے زیادہ ہے لہٰذا اگر کوئی غیرمسلم یا کوئی لا اُبالی مسلم ایسے مکانات کی تو ہین کر یں تو مسلمانوں کیلئے قابل تحمل نہیں ہے تب تو اس جگہ کی آزادی اور بحالی کے لئے اپنی جان ومال کو دینا سعا دتمندی کی علامت سمجھتے ہیں۔

نیزجس طرح سارے مسلمانوں کی نظر میں کچھ مکانات کی ارزش ہوا کر تی ہے اسی طرح ہر مذہب اور آئین کے پیروکار بھی کچھ مکانات کو قابل ارزش سمجھتے ہیں اگر چہ دوسرے مسلمانوں کی نظر میں اس جگہ کی ارزش اور قیمت نہ بھی ہو لہٰذا اسکی تو ہین کر نا اس مذہب سے منسلک افراد کیلئے قابل تحمل نہیں ہے انہیں باارزش مکانات میں سے ایک حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت کی جگہ ہے کہ وہ جگہ حضر ت خدیجہ کا گھر تھا جو مکے میں محلہ زفاق العطارین پر واقع ہے کہ اس گھر میں پیغمبر اکر م ہجرت کر نے تک سکونت پذیر تھے کہ یہ گھر اتنا مبارک گھر تھا کہ جس میں خدا نے جبرئیل کے ساتھ قرآن کا ایک حصہ وحی کے طور پر پیغمبر اکر م پر نازل کیا لہٰذا مسلمانوں کی نظر میں یہ جگہ دو وجھوں سے اہمیت کے حامل ہے۔


ایک یہ ہے کہ اس مقام کو اسلام کی تبلیغ اور نزول وحی کا شرف حاصل ہے اور دوسرا یہ ہے کہ اس مقام پر ام الائمہ حضرت فاظمہ زہرا کے تو لد واقع ہوا ہے اور آئمہ معصومین علیہم السلام کے بعد مسلمانوں نے اس جگہ کو مسجد بنا یا ہے اس مطلب کو افراد ذیل نے نقل کیا ہے جناب ابن اثیرنے اپنی کتاب کا مل جلد دوم میں صاحب شفاء الغرام جلد اول میںاور صاحب مرا ت الحرمیں جلد اول میں فرمایا ہے۔(۱)

ج: حضرت زہرا کے وجود میں جنت کی طبیعت

حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اور باقی انسانوں کے مابین تفاوت یہ ہے کہ زہرا ء سلام اللہ علیھا کے جسما نی اور مادی وجود مبارک میں جنت کی طبیعت پوشیدہ ہے یعنی زہرا کا وجود جنت کے میوہ یا پھل سے بناہے جبکہ باقی سارے انسانوں کا وجود دنیوی غذا ور مادی آثارکا نتیجہ ہے لہٰذا حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کے وجود اور باقی انسانوں کے وجود میںبہت بڑا فرق ہے زہرا (س)کے وجود میں جنت کے آثار ہیں جب کہ باقی انسانوں کے وجود، ایسی خصوصیت سے محروم ہے کہ اس مطلب کو مر حوم مجلسی نے اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ ایک دن حضرت پیغمبر اکرم اپنے مسند پر بیٹھے ہو ئے تھے کہ اتنے میں جبرئیل نازل ہو ئے اور کہا کہ خدا نے آپ کو

____________________

(۱)کامل ج۲ صفحہ ۶۰ ، مرات الحرمین ج۱ صفحہ۸۹،شفاء الغرام ج۱ صفحہ ۲۷۵


سلام بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ چالیس دن آپ جناب خدیجہ سے الگ رہا کریں اور عبادت اور تہحد میں مشغول رہیں پیغمبر اکر م خدا کے حکم کے مطابق چالیس دن تک جناب خدیجہ کے گھر جا نا چھو ڑ دیا اور یہ مدت رات کو نماز اور عبا دات میں گزاری جبکہ دن کو روزہ رکھتے تھے آپ نے عمار کے توسط سے جناب خدیجہ کو پیغام بھیجا کہ اے معزز خاتون تو خیال نہ کر نا کہ میرا تم سے کنارہ کشی کر نا کسی دشمنی اور کدورت کی وجہ سے ہے بلکہ یہ علیحدگی اور کنارہ گیری حکم خدا کی وجہ سے ہے کہ جس کی مصلحت سے خدا ہی آگاہ ہے اے خدیجہ تو بزر گوار خواتین میں سے ایک ہو اللہ تعالی تمہارے وجود پر روزانہ کئی مر تبہ فرشتوں سے ناز کرتا ہے لہٰذا رات کو گھر کے دروازے بند کر کے آرام فرما ئے اور میرا انتظار نہ کیجئے۔(۱)

میں خداکی طرف سے دوبارہ دستور آنے کا منتظر ہوں میں اس مدت کو فاطمہ بنت اسد کے گھر میں گزارو ںگا جناب خدیجہ بھی حضرت پیغمبر اکرم کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اس مدت میں اپنے محبوب کی جدائی میں روتی ہوئی گذاری لیکن جب چالیس دن کی مدمت ختم ہو گئی تو اللہ تعالی کی طرف سے فرشتے نازل ہو ئے اور جنت سے غذا لائے اور کہا کہ آج رات اس جنتی غذا کو تناول فرمائیں جناب رسول خدا نے اس روحانی اور بہشتی غذا سے افطار کیا ۔

____________________

(۱)بحار الانوار ج ۱۵ صفحہ ۷۸.


اورجب آپ کھانے کے بعددوبارہ نماز اور عبادت کیلئے کھڑے ہو ئے تو جبرئیل نازل ہو ئے اور کہا ائے خدا کے حبیب آج رات مستحبی نمازوں کو چھوڑدو اور جناب خدیجہ کے پاس تشریف لے جائے کیو نکہ خدا وند کا (اس عبادت اورجنتی غذا کے نتیجے میں ) یہ ا رادہ ہے کہ آپ کے صلب مطہر سے ایک پاکیزہ بچی کا نور کائنات میں طلوع ہو، تاکہ کائنات کی سعادتمندی کا باعث بنے پیغمبر اکر م جو نہی جبرئیل کا یہ دستور سنا فوراً خدیجہ کے گھر کی طرف روانہ ہوئے جناب خدیجہ کابیان ہے کہ میں حسب معمول اس رات کو بھی دروازہ بند کر کے اپنے بستر پر آرام کررہی تھی کہ اتنے میں دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی میں نے کہا کو ن ہے ؟اتنے میں پیغمبر کی دلنشین آواز میر ے کا نو ں میں آئی آپ فرمارہے تھے کہ دروازہ کھولو کہ میں محمد(صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) ہوں میں نے فوراً دروازہ کھولا آپ خندہ پیشانی کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے اورحکم خدا کے مطابق فاطمہ کا نور پیغمبر اکرم کے صلب مطہرسے خدیجہ کے رحم میں منتقل ہوا۔(۱)

اگر چہ کچھ دوسر ی روایات میں اس طرح بیان ہو ا ہے کہ جب پیغمبر اکرم معراج پر تشریف لے گئے تو خدا نے اپنے حبیب کی خدمت میں جبرئیل کے ہاتھوں جنت کا ایک سیب بھیجا اور فرمایا ائے جبرئیل رسول سے کہہ دو کہ آج رات

____________________

(۱) بحار ج ۱۶ص ۷۸ چاپ بیروت


اس سیب کو تناول فرمائیں پھر خدیجہ کے ساتھ سو جائیں آپ نے خدا کے حکم کے مطابق سیب کو تناول فرمایا اور زہرا کا وجود آپ کے صلب سے مادر کے شکم میں منتقل ہوا کہ اس روایت کو علماء شیعہ میں سے صدو ق نے علل الشرائع میں جناب علی ابن ابراہیم نے تفسیر قمی میں نقل کی ہے اور سنی علما ء میں سے بھی افراد ذیل نے نقل کیا ہے مثلاً رشید الدین طبری ، بغدادی ، نیشاپوری، ذہبی(۱)

لہٰذا یہ بات فریقین کے ہال مسلم ہے کہ زہرا سلام اللہ علیھا کا وجود جنت کے سیب یا غذا سے بناہے ۔

د: ماں کے شکم میں زہراسلام اللہ علیہا

خدا نے ہر انسان کے وجود میں کئی مراحل کا طے کر نا لازم قرار دیا ہے کہ ان مراحل میں سے پہلا مر حلہ ماں کے پیٹ میں انسان کا وجود ہے کہ اس وجود کی خصوصیت یہ ہے کہ کسی غذا اور دیگر بیرونی لوازمات کے بغیر قدرتی طور پر ماں کے رحم میں زندہ رہنے کا انتظام مہیا کیا ہے کہ اس مر حلہ میں خارجی لوازمات زندگی کی ضرورت نہ ہو نے کے علاوہ تکلم اور گر یہ جیسی خصوصیت بھی نہیں پائی جاتی لہٰذا اگر کوئی بچہ ماں کے پیٹ میں ماں سے تکلم اور گفتگو کرنے لگے تو تعجب کی نگاہ سے

____________________

(۱) مستدرک حاکم ،ذخائر العقبی، طبری ،تاریخ بغداد، مناقب ،میزان ۱لاعتدال.


دیکھا جاتا ہے لیکن اگر کو ئی ہستی خدا کا مقرب بندہ ہو اور اسکی پوری کوشش دنیا میں آنے کے بعد صرف رضایت الٰہی کا حصول ہو تو ایسا بچہ ماںکے شکم سے آنے سے پہلے اگر ماں سے تکلم اور انس پیدا کرے تو یہ ناممکن نہیں ہے بلکہ یہ انکی شخصیت اور عظمت کی دلیل ہے حضرت زہرا ء سلام اللہ علیہاکے وجود کو صلب پیغمبر سے آنے سے پہلے خدا نے ایک خاص اہتمام فرمایا اور کہا اے حبیب چالس دن تک عبادت میں رہے پھر جنت کی یہ غذا تناول فرمائیں پھر خدیجہ کے رحم میں زہرا کا وجود ٹھر ائیں پھر جب جناب خدیجہ کے حاملہ ہونے کے آثار کا احسا س ہو نے لگا تو تنہائی کے درد ورنج سے اس بچہ کی وجہ سے نجات مل گئی اور آپ اس بچہ سے مأنوس رہنے لگیں ۔

اس مطلب کو امام جعفر صادق علیہ السلام سے یوں نقل کیا گیا ہے کہ جب سے جناب خدیجہ نے جناب رسول خدا سے شادی کی تھی تب سے مکہ مکر مہ کی عورتوں اور آپکی سہیلیوں نے آپ سے رابطہ اور رفت وآمد کا سلسلہ منقطع کر دیا تھا اور ان کی کوشش تھی کہ خدیجہ کے گھر میں کوئی اور عورت وارد نہ ہو، جبکہ حضرت خدیجہ مکہ میں بڑی عظمت کی حامل خاتون تھیں تنہا چھوڑنے کے نتیجہ میں شب وروز اندو ہناک اور غمگین رہتی تھی لیکن جب سے جناب زہرا کا وجود مبارک آپکے شکم میں آیا تب سے آپگی تنہائی اور جدائی کے غم سے نجات مل گئی۔(۱)

____________________

(۱)بحار الانوار ج۴۳.


اور آپ اس بچہ سے مانوس ہونے لگیں اور اس سے رازو نیاز کرکے ہمیشہ خوش وخرم رہتی تھی جناب جبرئیل حضرت محمد اور جناب خدیجہ کو بشارت دے رہے تھے کہ یا رسول اللہ جو بچہ حضرت خدیجہ کے شکم میں ہے وہ ایک باعظمت لڑکی ہے جس سے آپکی نسل قائم رہے گی اور وہ سلسلہ نبوت کے ختم ہو نے کے بعد ، تیرے جانشین اورگیارہ اما موں کی ماں ہو گی کہ جناب رسول خدا اس بشارت کو جناب خدیجہ سے بیان کرتے تھے کہ جس سے حضرت خدیجہ بھی خوش ہو جا تی تھیں اور خود بھی خوشنود ہو تے تھے۔(۱)

نیز جناب ابن بابویہ نے سند معتبر کے ساتھ مفضل ابن عمر سے روایت کی ہے کہ میں نے امام جعفر صادق سے حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کی ولادت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ جب سے حضرت خدیجہ پیغمبر اکرم سے شادی کی تھی تب سے مکہ کی عورتیں آپ سے عداوت کر تی تھیں اور آپ تنہا ئی کے عالم میں زندگی گزار رہی تھی جب حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کا وجود آپ کے شکم مبارک میں منتقل ہوا تو جناب زہرا سلام اللہ علیھا ما ں سے گفتگو کرتی تھی جناب خدیجہ اس حالت کو پیغمبر اکرم سے مخفی کر رکھا تھا لیکن جب ایک رات پیغمبر اکرم جناب خدیجہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو جناب خدیجہ کسی سے تکلم کررہی تھیں آپ نے فرمایا:

____________________

(۱)دلائل الا ما مة


اے خدیجہ کس سے تکلم کررہی ہوجناب خدیجہ نے کہا کہ میں اپنی بچی سے گفتگو کررہی ہو ںاس وقت پیغمبر اکر م نے فرما یا اے خدیجہ مجھے جبرئیل نے خبردی ہے کہ وہ ایک باعظمت لڑکی ہے کہ اس کی بر کت سے ہماری نسل کا بقا ء اور اس کی نسل سے میرے بعد میرے گیار ہ جانشین امام آئیںگے(۱)

لہٰذا یہ دو رواتیں صریحا بیان کر تی ہیں کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کا وجود مبارک ما ں کے شکم میں ٹھہرتے ہی ماں نے انس کا احساس کیا اور اندوہناک حالت نجات کا ذریعہ تھا کیوں کہ خدا وند نے کائنات کو ہی حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کے صد قے میں خلق کیا ہے ۔

ز: آپ کے تولد کے مو قع پر غیبی امداد

تاریخ اسلام میں یہ بات مسلم ہے کہ جب حضرت خدیجہ سلام اللہ علیھا نے حضرت رسول خدا سے شادی کی تو مکہ کی عورتیں، آپ کی سہیلیوں نے آپ سے رابطہ منقطع کر رکھا تھا کہ جس کے نتیجہ میں آپ بہت ہی غمگین اور پریشان رہتی تھیں لیکن جب حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کا وجود آپ کے شکم مبارک میں ٹھہرا توتنہا ئی اور جدائی کا احسا س ختم ہو نے لگا اور جوں ہی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا

____________________

(۱) بحار الانوار ج۴۳.


کے تولد کا وقت آپہنچاتو آپ بہت ہی تڑپ رہی تھیں اور سابقہ سہیلیوں اور قریش کی باوقار عورتوں کی طرف پیغام بھیجا کہ اے قریش کی عورتوں تم اس خاتون کی حالت سے آگاہ ہو کہ جس پر وضع حمل کے آثار نمودار ہو جاتے ہیں تو اس وقت اس کو کتنی پریشانی ہو جا تی ہے لہٰذا میرا وضع حمل قریب ہوا ہے میری مدد کو آئو لیکن تھوڑی دیر کے بعد وہ شخص کہ جس کے ساتھ پیغام بھیجا تھا روتے ہو ئے جناب خدیجہ کے پاس واپس آیا اور کہا کہ جس جس گھر کا دروازہ میں نے کھٹکھٹا یا اس نے آپکی خواہش کو رد کر نے کے علاوہ سب نے ایک زبان ہو کر کہا کہ خدیجہ سے کہدو :

تم نے ہماری نصیحتیں قبول نہ کی تھیں اور ہماری رضایت کے خلاف ایک فقیر یتیم سے شادی کی تھی لہٰذا نہ ہم تمہارے گھر آسکتے ہیں نہ تمہاری مدد کر سکتے ہیں ، جب حضرت خدیجہ نے ان کی دشمنی اور کینہ آمیز پیغام کو سنا تو مایوسی کی حالت میں اپنے خالق سے مدد ما نگنے لگیں اس وقت اللہ تعالی کی طرف سے خصوصی فرشتے اور جنت کی حوریں اور آسمانی عورتیں آپ کی مدد کو پہنچے پھر حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا وجود چمکتا ہوا ستارہ کے مانند طلوع کرگیا اور پورا مشرق ومغرب زہرا سلام اللہ علیہا کے وجود سے منورہوا ۔(۱)

اس مطلب کو جناب علامہ مجلسی نے(۲) اور جناب طبری شیعی نے(۳)

____________________

(۱)بحار الانوار ج۴۳، دلائل الامامة وفاطمہ مثالی خاتون.

(۲)بحارالا نوار جلد ۶۳ اور ۱۶ (۳)دلائل الامامہ.


آیة اللہ امینی اپنے کتابچے میں اور دیگر محققین نے اپنے مقالات میں ذکر کیا ہے لہٰذا حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے وجود طلوع ہو نے کے مو قع پر خدا کی طرف سے حضرت خدیجہ کو غائبا نہ امداد آنا قطعی ہے اور شاید قریش کی عور تیں اس مبارک امداد سے محروم ہو نے کی علت یہ ہوکہ زہرا سلام اللہ علیہا کا وجودجنت کے پاکیزہ غذا اور پیغمبراکر م کے چا لیس دن کے راتوں تہجد اور روزہ رکھنے کا نتیجہ تھا لہٰذا قریش کی عورتیں اور جناب خدیجہ کی سابقہ سہیلیوں کی نظر اور ہاتھوں اس پاکیزہ وجود پر لگنے کے لائق نہ تھا اسی لیے خدا نے ان کی برائیوں کو بھی روشن کر دیااور حضرت زہرا کو ان کے ناپاک ہاتھوں اور نظروں سے بھی محفوظ رکھا یہ حضرت خدیجہ اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا خدا کے مقرب ہستی ہونے کی دلیل ہے لہٰذا تاریخ اسلام میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اور حضرت خدیجہ کے مانند سوائے مر یم اور آسیہ کے اور کو ئی خاتون نظر نہیں آتی تب ہی تو حضرت زہرا کو کائنات کے بقاء اورہماری دنیا وآخرت دونوں میں شفاعت کا سبب قرار فرمایا۔


ر: نام گزاری حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا )

جب حضر ت زہرا کا وجود عالم بطن سے عالم دنیا میں منتقل ہو ئے تو جناب خدیجہ اور حضرت پیغمبر اکرم ان کے نام گزاری اور القا ب کی تعیین کر نے میں مصروف ہو ئے جب کہ پیغمبر اکرم وحی کے منتظر تھے لیکن حضرت خدیجہ متعدد اسامی لے کر حضر ت پیغمبر اکرم کی خد مت میں حاضر ہوئیں لہٰذا جب وحی آئی تو پیغمبر اکرم نے اس مبارک نور کا نام اللہ کے حکم سے فاطمہ رکھا اور حضرت خدیجہ بھی نام گزاری میں آپ کے تا بع ہوئیں اور فاطمہ نام رکھنے کی علت کو پیغمبر اکر م نے یوں ارشاد فرمایا ہے کہ ایک دن پیغمبر اکر م نے حضرت زہرا سے پوچھا کیا آپ جا نتی ہیں کہ آپ کا نام فاطمہ کیوں رکھا گیا ہے ؟ اس وقت حضرت علی نے فرمایا:

اے خدا کے حبیب آپ ہی اس کا سبب بیان فرمائیں آنحضرت نے فرمایااس کا سبب یہ ہے کہ روز قیا مت فاطمہ کے ما ننے والوں کو فا طمہ کی برکت سے آتش جہنم سے دور رکھا جا ئے گا لہٰذا آپ کا نام فاطمہ رکھا ہے(۱)

اور زہرا نام رکھنے کی علت کو یو ں نقل کیا گیا ہے جناب جا بر نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہو ئے فرما یا کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ حضرت فاطمہ کا زہرا نام کیوں رکھا گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ جب خدا وند نے اپنی عظمت وبزر گی کے ساتھ زہرا کا نور طلوع فرمایا تو زمین وآسمان آپ کے نور سے منور ہوگئے یہ منظر جب فرشتو ں نے دیکھا تو خدا کے محضر میں کہنے لگے اے مو لا یہ کو ن سا نور ہے جس نے پوری کا ئنا ت کو منور کردیا

____________________

(۱)کتاب فاطمہ زہرا ص ۲۶۱ وبحارالانوار ج ۴۳


ہے خدا نے جواب میں فرمایا یہ نور میرے نور کا ایک ٹکڑ اہے کہ جس کو میں نے پوری کا ئنات کو منور کر نے کی توانائی کے ساتھ پیغمبر وں میں سے صرف ایک پیغمبر کے صلب سے طلوع کیا کہ وہ پیغمبر باقی سارے انبیا ء سے افضل ہے اور اس نور کی نسل سے اس پیغمبر کے جانشین ظہور فرما ئیں گے لہٰذا اس کا نام زہرا رکھا کیا ہے ۔(۱)

نیز بحار الا نوار میں مر حوم علامہ مجلسی نے متعدد روایتوں کو ذکر فرمایا ہے کہ حضرت زہرا کا فاطمہ نام رکھنے کی علت کیا تھی جس کے بارے میں امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ جب حضرت زہرا کا نو ر طلوع ہو ا تو خدا وندعالم نے ایک فرشتے کو مقرر فرمایا اور کہا جائو میرے حبیب کی زبان پر فاطمہ کا لفظ تکرار کرائو ۔(۲)

لہٰذا اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے انھیں چند روایات پر اکتفا کروں گا۔

س۔القاب وکنیت حضرت زہرا علیہا السلام

جب کسی کے ہاں کو ئی بچہ پیدا ہو تا ہے تو طبعی ہے کہ اس کا کو ئی نام معین کرکے معاشرے میں پیش کرے لہٰذا شریعت اسلام میں نام گزاری کے مسئلہ کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے حتی ما ں ، باپ کی ذمہ داریوں میں سے ایک یہی قرار دیا گیا ہے لیکن عرب کی رسومات میں سے ایک رسم یہ بھی تھا کہ بچہ کا کوئی لقب اور

____________________

(۱) بحار الانوار ج۴۳ چاپ بیروت، ۳۶۰ داستان ص۲۳.

(۲)بحار الانوار ج ۴۳ چاپ بیروت.


کنیت بھی منتخب کر یں اور اسلام میں بھی کنیت کے انتخاب کو بہت اہمیت اور فضیلت کے ساتھ ذکر کیا گیاہے لہٰذا جب حضرت زہرا کی ولادت باسعادت ہو گی تو نام گزاری کے بعد پیغمبر اکر م نے آپ کی کنیت کو ام الائمہ یا ام السبطین منتخب فرمایا لیکن ان کے القاب کے بارے میں روایات بہت زیا دہ ہیں اور محققین نے بھی بہت سارے القاب کو فرمایا ہے کہ انہی میں سے ایک محدثہ ہے کہ اس لقب سے یاد کرنے کا فلسفہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے یوں فرمایا کہ حضرت فاطمہ علیہا السلام کو محد ثہ سے اس لئے پکارا جا تاہے کہ آسمان سے فرشتے نازل ہو کر جس طرح حضرت مر یم سے گفتگو کر تے تھے اسی طرح فرشتے حضرت زہرا (س) کی خدمت میں نازل ہوتے تھے اور ان سے گفتگو کیا کر تے تھے لہٰذا ان کا لقب محدثہ رکھا گیا ہے ۔(۱)

(۲) سیدہ (۳) ا نسیہ (۴) نوریہ (۵) عذرا (۶) کریمہ (۷) رحیمہ (۸) شہیدہ (۹) رشیدہ (۱۰) محرمہ (۱۱) شریفہ (۱۲) حبیبہ (۱۳) صابرہ (۱۴) مکرمہ (۱۵) صفیہ (۱۶علمیہ (۱۷) معصومہ (۱۸) مفصوبہ (۱۹) سیداة النسائ(۲۰) منصورہ (۲۱) مظلومہ (۲۲) مطہرہ(۲۳ قرةالعین )کہ ان کے علاوہ بہت سارے القاب حضرت زہرا سے منسوب ہیں لہٰذا م کتابوں سے مزید معلومات کی خاطر مراجعہ ضروری ہے ۔(۲)

____________________

(۱)بحار الانوار ج۴۳ (۲)بحارالانوار ج۴۳ چاپ بیروت،۳۶۰ داستان


دوسری فصل:

حضرت زہرا کے فضائل

الف۔ قرآن کی روشنی میں

حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی فضیلت کو قر آن کریم کی متعدد آیات میں ذکر کیا ہے کہ انہی آیات میں سے ایک سورہ کو ثر ہے جو قرآن مجید کے ۱۱۴ سوروں میں سے کو تاہ ترین سورہ شمار ہو نے کے باوجود جا مع تر ین سورہ کہا جاتا ہے وہ سورہ یہ ہے :

( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ﴿ ۱ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ﴿ ۲ ﴾ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ ﴿ ۳ )

یعنی ( اے رسول ) ہم نے تم کو کوثر عطاکیا تم تو اپنے پر ور گار کی نماز پڑھا کر و اور قربانی دیا کر و بے شک تمہارا دشمن بے اولاد رہے گا ۔


علامہ ابن حجر عسقلانی نے حضرت رسول خدا سے روایت کی ہے کہ آپ نے جناب امیر المومنین سے فرمایا کہ اے علی تم اور تمہارے شیعہ حوض کو ثر پر سیراب اور نورانی صورت میں ہو نگے جب کہ تمہارا دشمن پیاس سے زرد وہاں سے نکالے جائیں گے(۱)

اس روایت کی بناء پر کوثر کا معنی حوض کو ثر ہے نہ حضرت زہرا لیکن با قی تفاسیر میں اس سورہ کے شا ن نزول کو اس طرح بیا ن کیا گیا ہے کہ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ جب پیغمبر کے فرزند جناب قاسم جو نو عمری یا نونہالی میں دنیا سے چل بسے تو پیغمبر پریشان ہوئے اور آپ کے دشمنوں میں سے سر سخت دشمن عاص ابن وائل تھا کہنے لگا حضرت محمد اپنے فر زند قاسم کے مر نے کے بعد بے اولاد اور مقطوع النسل رہیں گے کیو نکہ اس زمانہ میں بیٹیوں کو اولاد اور بقاء نسل شمار نہیں کیا جاتا تھا اس وقت خدا نے مشرکین کے اس طعنے کا جواب سورہ کو ثر کے ذریعے دیا یعنی آپ پر سورہ کو ثر کو نازل کیا اور کہا کہ آپ کی نسل کبھی بھی منقطع نہیں ہو گی بلکہ آپ کے دشمن ہی بے اولاد اور مقطوع انسل ہو نگے اور آپ کی نسل قیامت تک زہرا کے ذریعے باقی رہے گی کہ اسی سے معلوم ہو تا ہے کہ سورة کو ثر حضرت زہرا کی شان میں نازل ہوئی ہے اور جس جگہ میں یہ سورہ نازل ہو ئی ہے وہ مقام آج سعودی عرب میں مسجد کو ثر کے نام سے مشہور ہے او ر حجاج اس مسجد کی زیارت کے لئے تشریف لے جا تے ہیں(۲)

____________________

(۱) صواعق محرقہ (۲) بحار الانوار ج۴۳، زنداگا نی فاطمہ زہرا ص ۱۲۰


نیز کو ثر کے معنی کے بارے میں جناب فخر رازی جو اہل سنت کے مشہور و معروف مفسر ہے ،نے کہا کہ کو ثر سے مراد اولاد پیغمبر ہیں کیو نکہ جب مشر کین نے پیغمبر اکرم سے اولا د ذکور نہ ہونے پر طعنے اور عیب جوئی شروع کی تو اللہ تبارک وتعالی نے ان کے جواب میں اس سورہ کو نازل فرمایا ہے لہٰذا اہل بیت علہیم السلام پر بنی امیہ کی طرف سے ڈھائے گئے بے پناہ مظالم کے باوجود پیغمبر اکرم کی نسل سے (امام ) باقر (امام ) صادق (امام ) کاظم اور( امام) رضا علیہم السلام جیسی ہستیا ں وجود میںآئیں۔(۱)

دوسری آیت:

( فَمَنْ حَاجَّکَ فيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَکَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا وَ أَبْناءَکُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَکُمْ وَ أَنْفُسَنا وَ أَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَي الْکاذِبينَ ) (ا)

پھر جب تمہارے پاس علم ( قرآن ) آچکا اس کے بعد بھی اگر تم سے کوئی ( نصرانی ) عیسی کے بارے میں مجادلہ کرے تو کہو کہ آئو ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں تم اپنے بیٹوںکو اور ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنے عورتوں کو

____________________

(۱)تفسیر کبیر ج۳۲ صفحہ ۱۲۴ (۱)سورة آل عمران آیت ا۶


بلائو اور ہم اپنی جا نوں کو بلائیں اور تم اپنی جانوں کو اس کے بعد ہم سب مل کر ( خدا کی بارگاہ ) میں گڑگڑائیں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت کر یں ۔

تفسیر آیت:

اس آیۂ شریفہ کے بارے میں جناب فرمان علی نجفی اعلی اللہ مقامہ نے یوں تفسیر کی ہے حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں نجران کے نصاریٰ کو حضرت رسول اکرم لاکھ سمجھا یا کہ ان کو خدا کا بیٹا نہ کہو حضرت آدم کی مثال بھی دی مگر ان لوگوں نے ایک بھی نہ سنی آخر آپ نے حکم خدا سے قسما قسمی کی ٹھرائے جسے مباہلہ کہتے ہیں اور یہ قول آپس میں قرار ہوا کہ فلاںجگہ فلاں وقت میں ہم اور تم اپنے اپنے بیٹوں عورتوں اور جانوں کو لے کر جمع ہوں اور ہر ایک دوسرے پر لعنت کر یں اور خدا سے عذاب کا خوا ستگار ہوں جس دن یہ مبا ہلہ ہونے والا تھا اصحاب، ابن سنور کے در دولت پر اس امید میں جمع ہو ئے شاید آپ ہمراہ لے جائیں ۔

مگر آپ نے اول صبح حضرت سلمان کو ایک سرخ کمبل اور چار لکڑیاں دے کر اس میدان میں ایک چھوٹا سا خیمہ نصب کرنے کیلئے روانہ کیا اور خود اس شان سے برآمد ہوئے کہ امام حسین گود میں لیا اور امام حسن کا ہاتھ تھا ما اور جناب سیدہ آپ کے پیچھے اور


حضرت علی پیغمبر اکرم کی صاحبزادی جناب فاطمہ کے پیچھے نکلے گویا اپنے بیٹوں کی جگہ نو اسوں کو اور عورتوں کی جگہ اپنی صاحبزادی جناب زہرا کو اور اپنی جان کی جگہ حضرت علی کو لیا اور دعا کی خدا وندا ہر نبی کے اہل بیت ہوتے ہیں یہ میرے اہل بیت ہیں ان کو ہر برائی سے دور اور پاک وپاکیزہ رکھ جب آپ اس شان سے میدان میں پہنچے تو نصاریٰ کا سر دار عاقب دیکھ کرکہنے لگا کہ خدا کی قسم میں ایسے نورانی چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹ جانے کو کہیں گے تو یقیناً ہٹ جائے گالہٰذا خیر اسی میں ہے کہ مباہلہ سے ہاتھ اٹھائو ورنہ قیامت تک نسل نصاریٰ میں سے ایک بھی نہ بچے گا آخر ان لوگوں نے جزیہ دینا قبول کیا تب آنحضرت نے فرمایا:

واللہ اگر یہ لوگ مباہلہ کرتے تو خدا ان کو بندر اور سور کی صورت میں مسخ کرتا اور یہ میدان آگ بن جاتی اور نجران کا ایک فرد حتی کہ جڑیا تک نہ بچتیں، یہ حضرت علی کی اعلیٰ فضیلت اور حضرت زہر ا سلام اللہ علیہا کی شان میں کافی ہے۔(۱)

اگرچہ انھوں نے تفسیر بیضاوی جلد اول سے اس بات کو نقل کرکے ان کا نظریہ حضرت علی کی فضیلت کے بارے میں ذکر کیا ہے لیکن آیہ شریفہ پورے اہل بیت علیہم السلام کی فضیلت بیان کرتی ہے لہٰذا حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی فضیلت بیان کرنے میں آیہ شریفہ کافی ہے۔

مرحوم علامہ سید عبد الحسین شرف الدین نے لکھا ہے کہ پورے اہل قبلہ حتی

____________________

(۱) تفسیر فرمان علی نجفی ص ۷۸.


خوارج اس بات کے معترف ہیں کہ حضرت پیغمبراکرم نے مباہلہ کے وقت خواتین میں سے صرف جناب سیدہ احباب میں سے صرف آپ کے دو نوںنواسے حسن وحسین علیہما السلام جانوں میں سے صرف حضرت علی علیہ السلام کو لے کر میدان میں گئے تھے کوئی اور شخص اس مباہلہ میں شریک نہ تھا۔(۱)

تیسری آیت:

آپ کی فضیلت بیان کرنے والی آیت میں سے آیت مودة ہے ارشاد ہوتا ہے :

( قُلْ لا أسألُکُم علیهِ أجراً إِلاّ المَوَدَّةَ فیِ القُربی ) (۲)

(اے رسول ) تم کہہ دو کہ میں اس (تبلیغ) رسالت کا اپنی قرابت داروں (اہل بیت) کی محبت کے سوا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا ۔

اس آیت شریفہ کی تفسیر کے بارے میں جناب فرمان علی نجفی اعلی اللہ مقامہ نے فرمایا:انصار اپنے ایک بڑے جلسہ میں اپنا فخر ومباہات کررہے تھے کہ ہم نے یہ کیا اور وہ کیا، جب ان کی باتیں ناز کی حد سے بھی گزری توابن عباس سے نہ رہا گیا اور بے ساختہ بول پڑے کہ تم لوگوں کو فضیلت صحیح، مگر ہم لوگوں پر ترجیح نہیں ہوسکتی،

____________________

(۱) صحیح مسلم ج۷ مسند احمد، سنن ترمذی ۴.

(۲)سورہ شوریٰ آیت ۲۳.


اس مناظرہ کی خبر حضرت رسول اکرم کو پہنچی تو آپ خود ان کے مجمع میں تشریف لائے اور فرمایا:

اے گروہ انصار کیا تم ذلیل نہ تھے کہ خدا وند نے ہماری بدولت تمہیں معزز کیا سب نے عرض کیا بے شک پھر فرمایا کیا تم لوگ گمراہ نہ تھے تو خدا نے میری وجہ سے تمہاری ہدایت کی عرض کیا یقینا پھر فرمایا تو کیا تم لوگ میرے مقابل میں جواب نہیں دیتے وہ بولتے گیا آپ نے فرمایا:

کیا تم یہ نہیں کہتے ہو کہ تمہاری قوم نے جھٹلایا تو ہم نے تصدیق کی تمہاری قوم نے تم کو ذلیل کیا تو ہم نے مدد کی اس قسم کی باتیں فرماتے جاتے تھے یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے زانوں کے بل بیٹھے اور عاجز ی کے ساتھ عرض کرنے لگے ہمارے مال اور جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ سب خدا اور رسول کا ہے یہی باتیں ہور ہی تھی اتنے میں یہ آیت سریفہ نازل ہو ئی اس کے بعد آپ نے فرمایا:

جو شخص آل محمد کی دوستی پر مر جا ئے وہ شہید مرتا ہے جو آل محمد کی دو ستی پر مرے وہ مغفورہے جو آل محمد کی دوستی پر مرے وہ توبہ کرکے مرا جوآل محمد کی دوستی پر مرے وہ کا مل الا یمان مرا جو آل محمد کی دوستی پر مرا اس کو ملک الموت اور منکر و نکیر بہشت کی خوشخبری دیتے ہیں جو آل محمد کی دوستی پر مرا وہ بہشت میں اس طرح بھیجا جا ئے گا جیسے دلہن اپنے شو ہر کے گھر جو آل محمد کی دوستی پر مرا وہ سنت اور جماعت کے طریقہ پر مرا جو آل محمد کی دشمنی پر مرا قیا مت میں اس کی پیشا نی پر لکھا ہوگا کہ یہ خدا کی رحمت سے مایوس ہے جو آل محمد کی دشمنی پر مرا وہ کافر ہے جو آل محمد کی دشمنی پر مرا وہ بہشت کی بو بھی نہیں سونگھے گا۔


اس وقت کسی نے پوچھا یارسول اللہ جن کی محبت کو خدا نے واجب کیا ہے وہ کو ن ؟ ہیں فرمایا علی وفاطمہ اور ان کے بیٹے حسن اور حسین پھر فرمایا جو شخص میرے اہل بیت پر ظلم کر ے اور مجھے میری عترت کے بارے میں اذیت دے اس پر بہشت حرام ہے اسی مطلب کو علامہ زمخشری نے اور صحیح بخاری احمد حنبل نے مسند احمد میںاور صا حب در منثور نے در منثور میں بھی نقل کیا ہے (ا)

چوتھی آیت:

( فَتَلَقَّی آدَمُ مِنْ رَبِّهِ کَلِماتٍ فَتابَ عَلَیْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحیم ) (۲)

پھر آدم نے اپنے پرور گادر سے ( معذرت کے ) چند الفاظ سیکھے پس خدا نے ( ان الفاظ کی برکت سے ) آدم کی تو بہ قبول کر لی بے شک وہ بڑا معاف کر نے والا مہربان ہے ۔

____________________

(ا)تفسیر فرمان علی نجفی ،صحیح بخاری ،در منثور ،مسند احمد.

(۲)سور ةبقرہ آیت ۳۷.


اس آیہ شریفہ کی تفسیر کے بارے میں اہل سنت میں سے جناب ابن مغازلی نے ابن عباس سے روایت کی ہے:

سُئِلَ النبی صلی الله وآله وسلم عَنِ الکلمات التی تلقی آدم من ربه فتاب علیه قال سَئَلَهُ بحق محمّد وعلی وفاطمة والحسن والحسین الا تبت علیّ فتاب علیه (۱)

پیغمبر اکرم سے پو چھا گیا کہ وہ کلمات کہ جن کی برکت سے خدا نے حضرت آدم کی توبہ قبول کی ہے وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ پنجتن پاک ہیں یعنی محمد، علی ، فاطمہ ، وحسن ،حسین کہ حضرت آدم نے ان کی برکت سے توبہ کی تو خدا نے ان کی تو بہ کو قبول فرمایا ۔

پانچویں آیت:

( انَّمَا یُرِیدُ اﷲُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ أهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُم تطهیراً ) (۲)

( اے پیغمبر کے ) اہل البیت خدا بس یہ چا ہتا ہے کہ تم کو ہر طرح کی برائی سے دور رکھے اور جیسا پاک وپاکیزہ رہنے کا حق ہے وسیا پاک وپاکیزہ رکھے ۔

____________________

(۱) در منثور ، ینا بیع المودة، منا قب ابن مفازلی (۲)سورہ احزاب آیت ۳۳.


شا ن نزول:

اہل سنت نے روایات متواترہ کے ساتھ اس آیۂ شریفہ کی شان نزول کے بارے میں اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ یہ آیہ شریفہ جناب ام سلمہ کے گھر نازل ہوئی ہے جس وقت جناب ام سلمہ کے گھر میں حضرت پیغمبر اکرم اور حضرت علی علیہ السلام حضرت فاطمہ زہراعلیہا السلام اور حسن وحسین علیہما السلام کے سا تھ باقی خاندان بھی تشریف فرما تھے لیکن جب پیغمبر اکرم نے اپنی عبا کو گھر کے کسی گو شے میں بچھا یا اور پنجتن پاک کو باقی خاندان سے الگ کر کے فرمایا خدا یا:

'' یہ میرے اہل بیت ہیں ان پر درودو سلام ہو ''

پھر آیہ شریفہ نازل ہوئی لیکن جب حضرت ام سلمہ عبا کے قریب آنے کی خواہش کی تو پیغمبر اکرم نے ان کو منع فرما یا اور کہا اے ام سلمہ تو ایک بہترین خاتون ہو لیکن زیر عبا آنے کی اجازت نہیں ہے۔

اس مطلب کو جناب احمد ابن حنبل نے مسند میں صحیح ترمذی اور خصائص النسائی نے ذکر فرمایا ہے اور آیة تطہیر نازل ہو نے کے بعد چھ ما ہ تک ہر روز جناب پیغمبر اکرم صبح کی نما ز کے وقت در حضرت زہرا پر تشریف لے جا تے تھے اور فرماتے تھے:


'' اے میرے اہل بیت نماز اے میرے اہل بیت نماز کیو نکہ خدا نے ہی ارادہ کیا ہے کہ میرے خاندان میں سے تم کو ہر نا پا کی سے دور رکھے اور ہمیشہ پاک وپاکیزہ قرار دیا ہے''(۱)

چھٹی آیت:

( وَ يُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلي‏ حُبِّهِ مِسْکيناً وَ يَتيماً وَ أَسيراًإِنَّما نُطْعِمُکُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لا نُريدُ مِنْکُمْ جَزاءً وَ لا شُکُوراً ) (۲)

اوروہ اس کی محبت میں محتاج ،یتیم اور اسیروں کو کھانا کھلاتے ہیں ہم نہ تم سے بدلے کے خواستگار ہیں اور نہ شکر گزاری کے۔

جناب زمخشری اہل سنت کے معروف مفسرین میں سے شمار کیا جا تا ہے انہوں نے اپنے تفسیر الکشاف میں اس آیت کی تفسیر کر تے ہو ئے لکھتے ہیں کہ ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت امام حسن وحسین علیہما السلام مریض ہو گئے تھے اتنے میں پیغمبر اکرم چند اصحاب کے ساتھ ان کی عیادت کو تشریف لے گئے اور آپ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا اگر بچوں کی تندرستی اور شفا یابی کے لئے نذر ما نگے تو کتنا بہتر ہے ؟

____________________

(۱) زند گانی حضرت فاطمہ زہرا ص ۲۲۵، مسند احمد، خصائص النسائی

(۲)سورة رہرآیت ۸و۹


اتنے میں حضرت علی اور حضرت زہرا اور ان کی خادمہ فضہ تینوں نے نذر مانگی کہ اگر حسنین کی بیماری بہبود اور ٹھیک ہو پائے، تو ہم تین دن روزہ رکھیں گے جب حسنین ٹھیک ہو گئے تو حضرت علی علیہ السلام اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا وفضہ نے روزہ رکھنا شروع کیا لیکن افطار ی کیلئے کو ئی چیز نہ تھی لہٰذا حضرت علی علیہ السلام نے ایک یہودی سے تین صاع گندم قرض لے کر دو لت سرا میں آئے اور حضرت زہرا کے حوالہ کیا زہرا نے ایک صا ع گندم سے روٹی تیار کی اور افطاری کے لئے دستر خوان پر لا کر رکھی، اتنے میں سائل کی طرف سے ندا آئی:

اے خاندان نبوت درودو سلام آپ پر ہو میں ایک مسکین ہوں میرے پاس کھا نے کی کو ئی چیز نہیں ہے میر ی مدد کرنا خدا آپ کو جنت کی غذا نصیب فرمائے۔

اتنے میں کھا نا مسکین کو دیا حضرت فضہ نے بھی ان کی پیروی کی اور اس دن کھا نے کے بغیر پا نی سے افطار کر کے رات گزاری پھر جب دوسرے دن روزہ رکھا افطار کا وقت آپہنچا حضرت زہرا نے دسترخوان پر روٹی رکھی افطار کے منتظر تھے اتنے میں یتیم کی آواز آئی:

اے اہل بیت پیغمبر میں یتیم ہوں میر ے پاس کھا نے کی کو ئی چیز نہیں ہے میر ی مدد کر یں۔

اس دن کی افطار ی کو یتیم کے حوالہ کر دیا تیسرے دن روزہ رکھا افطا ری کے لئے دسترخوان پر بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں آواز آئی:


میں ایک اسیر ہوں میری مدد کریں افطاری کو اسیر کے حوالہ کر دیا پھر پانی سے افطار کر کے سوئے لیکن جب چو تھے دن کی صبح ہو ئی تو حضرت علی امام حسن وحسین کو لے کر پیغمبر کی خدمت میں پہنچے پیغمبر اکر م ان کی بھوک کی حالت دیکھ کر حیران ہو ئے اور حسنین کو لے کر حضرت زہرا کے دیدار کو آئے دیکھا کہ حضرت زہرا محراب عبادت میں خدا سے راز ونیاز کر رہی ہیں جب کہ بھوک اور گرسنگی کی وجہ سے آپ کی حالت بھی معمول پر نہ تھی لہٰذا پیغمبر اکر م پریشان ہوئے اتنے میں جبرئیل آئے اور کہا اے پیغمبر اکر م تیرے ایسے فدا کار اہل بیت ہو نے کی خاطر خدا نے تجھے سورة ہل اتی کو ہد یہ فرمایا ہے کہ اس کو لے لے لہٰذا حضرت زہرا کی فضیلت ثابت کر نے میں یہی روایت کا فی ہے کہ جو شیعہ معتبر مفسرین میں سے صا حب مجمع البیان صاحب المیزان اور اہل سنت کے معروف تفا سیر میں سے درمنثور وغیرہ میں نقل کیا گیا ہے ۔(۱)

ساتویں آیت:

( مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیَانِ، بَیْنَهُمَا بَرْزَخ لاَیَبْغِیَان ) (۲)

____________________

(۱)مجمع البیان ج۱۰، المیزان ج۳۰، در منثور، کشاف ج۴.

(۲) سورہ رحمان آیت ۱۹،۲۰


خدا نے دو در یا بہا ئے جو با ہم مل جا تے ہیں دونوں کے در میان ایک حد فاصل ہے جس سے تجاوز نہیں کر تے(۱)

اگر چہ اس آیة شریفہ کی تفسیر کے متعلق مفسرین کے ما بین اختلاف ہے لیکن علامہ ابن مردویہ نے ابن عباس اور انس ابن مالک سے روایت کی ہے کہ پیغمبر اکر م نے فرمایا دو در یا سے مراد حضرت علی علیہ السلام اور فاطمہ(س) ہیں جب کہ حد فاصل سے مراد ان کے دو فرزند حسن اور حسین علیہما السلام ہیں۔

اس تفسیر کی بنا پر یہ آیہ شریفہ حضرت زہرا کی فضیلت پر بہترین دلیل ہے۔

آٹھویں آیت:

( وَلَسَوْفَ یُعْطِیکَ رَبُّکَ فَتَرْضَی ) (۲)

اور تمہارا پرور دگار عنقریب اس قدر عطا کرے گا کہ تم خو ش ہو جا ئو ۔

اس آیةشریفہ کے شا ن نزول کو اہل تسنن کے معروف ومشہور محققین میں سے جناب عسکری اور ابن لال وابن تجار اور ابن مردویہ نے جا بر ابن عبداللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ ایک مر تبہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جناب فاطمہ کے گھر تشریف لائے تو دیکھا زہرا چکی چلا رہی ہیں اور ان کے بدن پراونٹ کی کھال سے بنی ہوئی

____________________

(۱) در منثور جلد ۶ تفسیر فرمان علی نجفی. (۲)سورہ ضحی آیت ۵.


ایک چادر زیب تن ہے تو آپ نے فرمایا اے فاطمہ آخرت کی نعمتوں کے واسطے دنیا کی تلخی چکھو اور جلدی کرو اس وقت خدا نے یہ آیةنازل فرما ئی(۱)

اس روایت کی بنا ء پر آیة شریفہ سے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی فضیلت اور عظمت بخوبی واضح ہو جا تی ہے لہذ ا مذکورہ آیات کی تفسیر شان نزول اور دیگر قرائن وشواہد سے واضح ہو جا تا ہے کہ زہرا سلام اللہ علیہا کا ئنات کی تمام خواتین سے افضل ہیں اگر چہ کچھ روایات منقول ہیں کہ جن سے استفادہ ہو تا ہے کہ تمام خواتین سے افضل چار خواتین ہیں:

۱۔حضرت خدیجہ۔

۲۔حضرت مر یم۔

۳۔حضرت آسیہ۔

۴۔ حضرت زہرا ۔

لیکن آیات سابقہ اور وہ روایات جو زہرا سلام علیہا کی عظمت پر دلالت کر تی ہے ان کی روشنی میں یہ کہہ سکتا ہے کہ حضرت زہرا ان افضل خواتین میںسے بھی افضل ہیں۔

____________________

(۱) در منشور جلد ۶ ،ص ۳۳۳، تفسیر فرمان علی نجفی


ب۔سنت کی روشنی میں

حضر ت زہرا سلام علیہا کی فضیلت کو سنت کی روشنی میں بیان کر نے سے پہلے تو جہ کو ایک نکتہ کی طرف مبذول کر نا ضروری سمجھتا ہو ںوہ نکتہ یہ ہے شیعہ اما میہ کی اصطلاح میں سنت سے مراد پیغمبر اکرم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے اقوال وافعال اورتقریرات کے مجمو عے کو کہا جاتا ہے جبکہ اہل سنت کی اصطلاح میں قول نبی فعل نبی تقریر کے مجمو عے کو کہا جاتا ہے اور تقریر معصو م سے مراد یہ ہے کہ کوئی کام آپ کے سامنے انجام دیا جا ئے اور آپ اس سے نہ روکیں لہٰذا منا سب ہے کہ حضرت زہرا کی فضیلت کو اس ہستی کی زبان سے سنیں کہ جو پورے کا ئنات کی مخلوقات سے افضل ہے ۔

الف: پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نظر میں حضرت زہرا کی فضیلت

احمد ابن حنبل جو مذاہب اربعہ میں سے ایک مذہب کے بانی اور پیشوا سمجھا جا تاہے آپ نے روایت کی ہے:

نظر النبی صلی الله علیه ( وآله ) وسلم الی الحسن والحسین والفاطمة فقال اناحرب لمن حاربکم وسلم لمن سالمکم (ا)

____________________

(ا) مسند احمد ج ۴ ص۴۴۲.


(ترجمہ)پیغمبر اکرم نے جب امام حسن وحسین اور حضرت فاطمہ کی طرف دیکھا تو فرمایا جو تم سے عداوت اور دشمنی سے پیش آ ئے گا میں بھی اس سے دشمنی اور عداوت سے پیش آئوں گا اور جو تمہارے ساتھ صلح وصفا کے ساتھ پیش آئے گا تو میں بھی ان کے ساتھ صلح وصفا کے ساتھ پیش آئوں گا۔

اس حدیث کی ما نند متعدد روایات اہل سنت کی معروف کتابو ں میں مو جود ہیں جن کانتیجہ یہ ہے کہ جو حضرت زہرا(س) اور حضرت امام حسن وحسین سے بغض رکھیں گے پیغمبر اکرم بھی ان سے عداوت اور بغض رکھیں گے جو ان سے دوستی اور محبت کے ساتھ پیش آئیں گے پیغمبر اکرم بھی ان کے ساتھ محبت سے پیش آئیں گے۔

دوسری روایت :

حضرت پیغمبر اکرم نے فرما یا:

ان فاطمة سیدة نساء اهل الجنة وان الحسن والحسین سیداشباب اهل الجنة (ا)

(ترجمہ ) بتحقیق حضرت فاطمہ جنت کی عورتوں کا سردار ہیں اور حسن وحسین جنت کے جوانوں کا سردار ہیں۔

____________________

(ا) مسند احمد و صحیح ترمذی


جناب ذہبی نے اپنی کتاب میزان الا عتدال جلد دئوم میں دیگر دوسرے علماء نے خصائص الکبر ی جلد دئوم کنزالعمال جلد ششم میں پیغمبر اکر م سے یوں روایت کی ہے:

اول شخص ید خل الجنة فاطمة بنت محمد ۔(۱)

سب سے پہلے جنت میں داخل ہو نے والی ہستی فاطمہ دختر محمد ہیں۔

توضیح روایت:

مذ کورہ روایتوں کو اہل سنت کے معروف دا نشمند وں نے اپنی کتابوں میں نقل کیاہیں اس حیثیت سے دو نکتے یہاں قابل ذکر ہیں:

۱۔اگر زہرا جنت کی عورتوں کاسر دارہیں تو پیغمبر اکر م کی وفات ہو تے ہی اصحاب نے ام المؤمنین جناب عائشہ کو حضرت زہرا پر کیوں مقدم کیا جب کہ ان کی شان میں ایسی کوئی روایت نہیں ہے جو ایسے منصب پر دلالت کریں۔

۲۔ ان مذکورہ روایتوں کے پیش نظر یہ کہہ سکتا ہے کہ حق کو ثابت کر نے میں حضرت زہرا حق بجانب تھیں۔

جناب محب الدین طبری نے اپنی سند کے ساتھ پیغمبر اکرم سے ذخائر العقبیٰ

____________________

(۱)میزان الا عتدال ج ۲ کنزا لعمال ج۶


میں روایت کی ہے:

اربع نسوة سیّدات عالمهن مریم بنت عمران وآسیة بنت مزاحم و خدیجة بنت خویلید وفاطمة بنت محمد ( صلی الله علیه وآله ) افضلهن عالما فاطمة( سلام الله علیها) (۱)

( تر جمہ ) چار عورتیں پوری کا ئنات کی عورتوں کا سر دار ہیں مر یم دختر عمران، آسیہ دختر مزاحم، خدیجہ دختر خویلد اورفاطمہ دختر پیغمبر ، ان میں سے بھی افضل فاطمہ زہرا ہیں۔

ب۔ جناب فاطمہ زہرا کی ناراضگی حضرت پیغمبر اکر مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نا راضگی ہے

اگر ہم حضرت زہرا ( سلام اللہ علیہا ) کے بارے میں پیغمبر اکرم کے اقوال کو جمع کرے تو پیغمبر اکر م نے بہت ہی عجیب وغریب اور گہرے نکات کی طرف اشارہ فرمایا ہے انھیں میں سے ایک نکتہ یہ ہے کہ جو شخص حضرت زہرا کو ناراض کریں گے اور انھیں اذیت وآزار پہنچا ئیں گے ان سے پیغمبر اکرم کا نا راض ہو جا نازہرا کی ان سے ناراضگی کا نتیجہ ہے کیو نکہ متعدد روایتوں کے جملوں

____________________

(۱)ذخائر العقبیٰ.


میں حضرت زہرا کی ناراضگی کو شرط کی حیثیت سے اور پیغمبر اکرم کی ناراضگی کو جزا کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔

چنانچہ اس مطلب کو جناب بخاری نے اپنی گراں بہا کتاب میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے یوں روایت کی ہے کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا:

'' فاطمة بضعة منی فمن اغضبها اغضبنی.'' (۱)

یعنی فاطمہ زہرا میر ا ٹکڑہے پس جو اس کو ناراض کرے گا اس نے مجھے ناراض کیا۔

اس روایت سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ جو مسلمان پیغمبر اکر م پر اعتقاد کا دعویداربھی ہو اور ساتھ ساتھ دولت سرائے حضرت زہرا کے درواز ے کو جلا نے،اور پہلو حضرت زہرا کو زخمی کرنے اور فرزند حضرت زہرا حضرت محسن کی شہادت کا با عث بھی ہو خود پیغمبر اکر م کی نظر میں اسکا کیا حشر ہوگا ۔

نیز احمد ابن حنبل نے مسند میں تر مذی نے اپنی کتاب صحیح ترمذی کے جلد دوم میں پیغمبر اکرم سے یوں روایت کی ہے پیغمبر اکرم نے فرمایا:

''انما فاطمة بعضة منی یؤذنی ما اذاها ویغضبنی ما اغضبها'' (۲)

____________________

(۱)بخاری، ج ۵ ص ۳۶. (۲) کنز العمال ، فیض القدیر ، فضائل الصحابہ۔


فاطمہ زہرامیرا ٹکڑا ہے جو اس کو اذیت دے گا اس نے مجھے اذیت دی ہے جو اس کو ناراض کرے گا اس نے مجھے ناراض کیا ہے۔

نیز دوسری کچھ روایات سے بخوبی استفادہ ہوجاتا ہے کہ جن سے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا ناراض ہیں ان سے خدا بھی ناراض ہے جن سے حضرت زہرا خوش ہیں خدا بھی ان سے خوش ہے، چنانچہ اس مطلب کو حاکم نیشاپوری اور باقی کچھ علماء اہل سنت نے یوں ذکر کیا ہے:

''یا فاطمة ان الله یغضب بغضبک ویرضی برضاک'' (۱)

پیغمبر اکرم نے فرمایا: اے فاطمہ (زہرا) خداوند تیری ناراضگی سے ناراض ہوجاتا ہے اور تیری خوشحالی سے خوش ہوجاتا ہے۔

نیز فرات بن ابراہیم نے روایت کی ہے کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا:

''تدخل فاطمة ابنتی وذریتها وشیعتها وذالک قوله تعالیٰ (لایحزنهم الفزع الاکبر وهم فیما اشتهت انفسهم خالدون) هی واﷲ فاطمة وذریتها وشیعتها'' (۲)

میری بیٹی فاطمہ اور ان کے فرزندان اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے

____________________

(۱) مناقب، میزان الاعتدال، ذخائر العقبیٰ ، اسد الغابہ، ج۵

(۲) تفسیر فرات ابن ابراہیم.


جنت میں داخل ہونگے کیونکہ خداوندعالم نے فرمایا کہ روز قیامت کے ہولناک عذاب اور سختی سے وہ لوگ غمگین نہ ہوں گے اور وہ لوگ جو جنت کے مشتاق ہیں وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے ان سے خدا کی قسم فاطمہ اور ان کے فرزند ان اور ان کے پیروکار منظور ہیں۔

توضیح:

حقیقت میں پیغمبر اکرم نے اس روایت میں دو آیات شریفہ کی شان نزول کو بیان فرمایا ہے:

۱۔( لٰایَحْزُنُهُمُ الْفَزْعُ الْاَکْبَرْ ) (۱)

ان کو قیامت کا بڑا خوف بھی دہشت میں نہیں ڈالے گا

( وَهُمْ فِیْمَا اشْتَهَتْ اَنْفُسَهُمْ خَالِدُوْنَ ) (۲)

اور وہ لو گ ہمیشہ اپنی من ما نگی مرادوں میں چین سے رہیںگے ۔

لہٰذا اس روایت کی روشنی میںبخوبی کہا جاسکتا ہے کہ ان دو آیتوں کا مصداق زہرا سلام اللہ علیہا اور ان کے فرزندان کے علاوہ وہ افراد ہیں جو ان کے ماننے والے ہیں لیکن تاریخ گواہ ہے مسلمانوں نے پیغمبر اکر م کی وفات کے

____________________

(۱)سورةانبیاء آیت۱۰۳. (۲)سورہ انبیا ء آیت۱۰۲.


بعد حضرت زہرا کے ساتھ کیا سلوک کیا اور حضرت زہرا کے بعد حضرت زہرا کے لخت جگر ، رسول خدا کے جا نشین ، فرزند بتول حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کس سلوک سے پیش آئے ؟ اور دور حاضر میں زہرا(س) کے پیروکاروں کے ساتھ کس رفتار سے پیش آرہے ہیں ؟ اسی سے بخوبی ان کی حقانیت کا اندازہ کر سکتے ہیں ۔

نیز حا کم نیشاپوری اور ابن مغازلی اور کچھ دیگر اہل سنت کے علما ء نے پیغمبر اکر م سے روایت کی ہے ۔

پیغمبر اکرم نے فرمایا :

اذا کان یو م القیا مة نادی مناد من تحت الحجب یا اهل الجمع غضوا ابصارکم ونکسو ا رؤ سکم فهذه فاطمة بنت محمد (صلی الله علیه واله وسلم )ترید ان تمر علی الصراط (۱)

(ترجمہ)جب قیامت برپا ہو گی تو کو ئی منادی ندا دے گا اے اہل محشر آنکھیں بند کر و اور سروں کو جھکا ئو کیو نکہ یہ پیغمبر اکر م کی بیٹی فاطمہ ہے جوصراط سے گزر نا چا ہتی ہے ۔

____________________

(۱) میزان الا عتدال اسدا لغابہ ، مستدرک الصحیحین


تو ضیح حدیث :

اگر کوئی مفکر اس روایت کا بغور مطالعہ کر ے تو معلوم ہو جا تا ہے کہ جن لوگوں نے زہرا پر حملہ کر کے اپنا تسلط جما نے کی کو شش کی ہے ان کا حشر کیا ہو گا کیونکہ جب خدا کی نظر میں محشر والے زہرا سلام اللہ علیہا کے صراط سے عبور کے وقت آنکھیں کھول کر دیکھنے کی جرأت نہ کر سکتے تو دنیا میں در زہرا پر حملہ کر کے محسن کو شہید کر نے اور زہرا کے پہلو کو شہید کر نے کی جرات کا حکم کہا ں سے آیا ؟ یہ تمام روایات پیغمبر اکر م کی روایات ہیں جو اہل سنت کی معتبر کتابوں سے نقل کی گئی ہے لہٰذا غور کیجئے کہ پیغمبر کی نظر میں حضرت زہرا کی فضیلت اپنی بیٹی اور لخت جگر ہونے کی حیثیت سے نہیں ہے بلکہ حقیقت میں پیغمبر اکرم حضرت زہرا کی حقا نیت کو خدا کی نظر میں بیان کر نا چا ہتے تھے کیو نکہ پیغمبر اکر م وحی کے بغیر کسی کی مد ح وثنا ء بیان کر نا اس آیة شریفہ کے منا فی ہے :

( وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى ) .(۱)

اور وہ اپنی نفسانی خواہش سے کچھ نہیں بو لتے (بلکہ)جو کچھ بو لا جاتا ہے وہ صرف بھیجی ہوئی وحی ہے۔

____________________

(۱)سورہ نجم ،آیات۳و۴.


ج۔ائمہ علیہم السلام کی نظر میں آپ کی فضیلت

اگر کو ئی سارے ائمہ علیہم السلام کی زبانی زہرا سلام اللہ علیہا کی فضیلت بیان کر نا چا ہے تو گفتگو لمبی ہو جا تی ہے لہٰذا اختصار کے پیش نظر صر ف چند ایک روایت کی طرف اشارہ کر نے پر اکتفاء کر یں گے امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا خدا کی قسم اللہ نے فاطمہ کو علم کے ذر یعے فساد اوربرایئوں سے محفو ظ رکھا ہے(ا)

امام جعفرصا دق علیہ السلام نے فرما یا حضرت فاطمہ زہرا کو اللہ تبارک وتعالی نے نو نا موں سے یاد کیا ہے فاطمہ صد یقہ مبارکہ طاہرہ زکیہ راضیہ مر ضیہ محدثہ زہرا ۔

اور فاطمہ سلام اللہ علیہا نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ برائیوں اور فساد سے مبرا ہیں لہٰذا اگرحضرت علی علیہ السلام خلق نہ ہو تے تو حضرت فاطمہ کا کو ئی ہمسر نہ ہو تا(۲)

پس فضیلت زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں مزید روایات سے آگا ہ ہو نے کی خواہش ہے تو کشف الغمہ اور بحارالا نوار جلد ۴۳ کی طرف رجو ع کیجئے .کیونکہ جتنی روایات حضرت زہرا کی فضیلت کے بارے میں منقول ہے کسی اور ہستی کے بارے میں نہیں ہے۔

____________________

(ا) کثف الغمہ جلد ۲ (۲) کشف الغمہ جلد ۲


تیسری فصل:

حضر ت زہراسلام اللہ علیہاکے رونے کا مقصد

اہل تسنن واہل تشیع دونوں مذہب کی معروف کتابوں میں یہ بات مسلم ہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے پیغمبر اکر م کی وفات کے بعد چالیس دن ایک نظریہ کی بناء پر یاپچہتردن دوسرے نظریہ کی بناپریا پچا نوے دن تیسرے نظریہ کی بنا پر زند گی کی لیکن اس مختصر زندگی میں آپ اتنا زیادہ روئیں کہ کتاب خصال میں مرحوم صدوق ایک روایت کی ہے جس میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ۔

البکا ء خمسة آدم ویعقوب ویو سف وفاطمة وسجاد ۔(۱)

یعنی کا ئنات میں سب سے زیا دہ رونے والی پانچ ہستیاںہیں کہ انہیں میں سے ایک حضرت زہرا ہیں جب کہ خدا نے متعدد آیات میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی فضیلت کو واضح الفاظ میں بیان کیا ہے اور خدا کے حبیب حضرت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

____________________

(۱)خصال باب خمسہ


نے متعدد جملوں میں حضرت زہرا کو تمام عالم کی خواتین سے افضل قرار دیا ہے .اور صحا بہ کرام بھی اس حقیقت سے باخبر تھے اس کے باوجود سب سے زیادہ رونے کا ہدف اور مقصد کیا تھا ؟ اس سوال کا ایک جواب یہ ہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا باقی عام انسانوں کی ما نند نہ تھیں لہٰذا موت آنے کے خوف سے اتنا روئیں کہ مدینہ والوں نے آپ سے شکا یت کی ایسا جواب حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت کے ساتھ سازگا ر نہیں ہے کیو نکہ زہرا کی جو سیرت، اہل تشیع اور اہل تسنن کی کتابوں میں مورخین اور محققین نے ذکر کیاہے انشاء اللہ اس کو تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے۔

ثانیاً مو ت کے خوف سے وہ انسان گر یہ کر تا ہے جو صر ف دنیا کے حقائق اور مو ت آنے کو جا نتا ہو لیکن ابدی زندگی سے واقف نہ ہو جبکہ پیغمبر اکر م نے کئی بار حضرت زہرا سے فرمایا تم جنت میں تمام عو رتوںکاسردار ہو تمہارے صدقے میں باقی تمام مخلو قات کو خدا نے عد م سے وجودبخشا ہے اور تمہاری خوشنودی اور رضا ء میں خدا کی رضا اور خوشنودی پوشیدہ ہے لہٰذا ایسی ہستی سے رونے کا فلسفہ اور اس سوال کا جواب مو ت کے خوف کو ذکر کر نا حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت اور فضیلت سے بے خبر ہو نے کے مترادف ہے ۔


دوسرا جواب :

یہ ہے کہ اس لئے اتنا زیادہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا روئیں کہ آپ عمر کے حوالے سے جوان تھی پیغمبر اکر م کی حیات طیبہ میںکو ئی گر می اور نر می اور مشکلات سے دو چار نہ ہو ئیں تھیں باپ کے ساتھ خوشحال زندگی کر نے کی عادی تھی لیکن جب پیغمبر اکر م نے وفات پا ئی اور پیغمبر اکرم نے حضرت زہرا کو فورا مو ت آنے کی خبردی تو زہرا ایسی زندگی سے محروم ہو نے کے خوف سے اتنا روئیں۔

ایسا جواب معاشرہ میں پیش کر نا حقیقت میں حضرت زہرا کی شان میں گستاخی کی مانند ہے کیونکہ حضرت زہرا نے پیغمبر اکرم کی زندگی میں جوسختی اور مشکلات دیکھی ہیں وہ اس جواب کے ساتھ ہم آہنگ نہیںہیں حضرت زہرا نے پیغمبر اکرم کے ساتھ جتنے سال زندگی کی ہے ، اس عرصے میں کبھی بھی آپ نے مادی لو زمات کے حوالہ سے خو شحالی اور عام انسان کی ما نند زندگی نہ کی تھی بلکہ ہمیشہ اس وقت کے فقیر ترین افراد کی ما نند زندگی گزاری ہے لہٰذا خدا نے ہل اتی جیسی سورہ کو آپ اور حضرت علی کی شان میں نازل کر کے فرمایا :

انما نطعمکم لوجه الله .(۱)

یعنی ہم بس جو کھلاتے ہیں وہ صرف خدا کے لئے ہے۔

ثانیاًتاریخ میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے حا لات زندگی کو کم وبیش

____________________

(۱)سورہ ھل اتیٰ ۶.


تحریف کے ساتھ مو رخین نے ذکر کیا ہے ان سے مراجعہ کر یں تو معلوم ہوتا ہے ، کہ حضرت زہرا خالص پانی سے افطار کر کے مسکینوں، یتیموں اور اسیروں کی ضروریات کو پورا فرماتی تھیں اور اپنے گر دن بند یا فدک کی آمدنی کو راہ خدا میں اور دیگر محتاجوں میں خرچ کر تی تھیں یہ سیرت اس جواب کے ساتھ متضاد ہے ۔

تیسرا جواب :

یہ ہے جو راقم الحروف اور دیگر محققین کے نزدیک بھی قابل قبول ہے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا پر پیغمبر اکرم کی وفات کے بعد صحا بہ کرام کی طرف سے ہر قسم کی پابندی عائد ہوئی تھیں جیسے فدک کا غصب کرنا اقتصادی پابندی تھی امامت کا چھیننا سیا سی پابندی تھی گھر پر حملہ کر کے دروازے کا جلانا خاندانی شرافت اور فضیلت کی پائمالی تھی خلاصہ صحابہ کر ام پیغمبر اکرم کے بعد خود کو پیغمبر اکر م کے جا نشین اور قرآن کا محافظ قرار دیئے تھے اور جو بھی اس روئیے کی مخالفت کر تا تھا اسکو زمان جاہلیت کے طور وطریقے کے ساتھ جواب دنیا لازم سمجھتے تھے حضرت زہرا عصمت کی ما لک تھیں پیغمبر اکرم نے یقینا صحابہ کرام سے زیادہ کا ئنات کے حقائق سے حضرت زہرا کو با خبر کر دیا تھا فرشتے اور سچے مومن حضرت زہرا کی خدمت کر نے کو باعث نجات سمجھتے تھے


اسی لئے حضرت زہرا نے پورے پچھتر (۷۵)یا پچا نوے (۹۵) یا چا لیس دن رونے کو اختیار فرمایا تا کہ صحابہ کرام کی طرف سے ڈھا ئے گئے مظالم پوری بشریت کی تاریخ میں قیامت تک ثبت رہے اور صحابہ کرام کی منافقت بے نقاب ہو کر ایک غاصب کی شکل میں قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے نظر آئے لہٰذا ظالم حکمران اور خریدے ہو ئے مورخین بھی حضرت زہرا کی مظلومیت کو بہت ہی احتیاط کے باجود قدرتی طور پر بیان کر نے پر مجبور ہوئے ہیں۔

پس اگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو بخوبی روشن ہو جا تا ہے کہ زہرا نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد شریعت اسلام اور ولایت علی ابن ابیطالب کی حفاظت کر نے کے خاطر کتنی سنجیدہ گی سے کام لیا اگر زہرا کا رونا نہ ہو تا تو آج جس طرح ہم زہرا سلام اللہ علیہا کو ایک مظلومہ کی حیثیت سے پہچا نتے ہیں اس طرح شناخت نہ ہو تی بلکہ آج ہم بھی تاریخ میں زہرا کو اور ان پر ڈھائے گئے مظالم کو ایک جھوٹ اور بہتان کی شکل میں بیان کر تے جس طرح دور حاضر کے اہل قلم نے اپنی کتابوں میں واضح دلیل ہو نے کے باوجود زہرا پر ڈھائے گئے ظلم وستم کو ایک بہتان اور جھوٹ سے تعبیر کر تے ہیں لیکن حضرت زہرا کی عصمت اور ان کے علم ومعرفت نے ان کی بری سازشوں کو بے نقاب کر کے قیامت تک کے لیے پشیمان کر دیا اور قیامت تک کے لیے نور خدا یعنی امامت کی حفاظت فرمائی یہ باتیں صحابہ کرام اورپیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ماننے والے مفسرین اور محد ثین نے متعدد روایات اور آیات کی تفسیر میں اپنی گراں بہا کتابوں میں ذکر کیا ہے۔


الف۔زہرا (سلام اللہ علیہا ) پر پابندی

ہر مسلمان باشعور کا عقیدہ ہے کہ خدا نے ہر انسان کو آزاد اور دوسرے کی پاپندی سے مبرا خلق کیا ہے لہٰذا اگر کو ئی شخص دوسرے شخص پر اپنی قدرت اور تسلط جمانے کی کوشش کر ے تو اس کو قرآن وسنت کی اصطلاح میںظالم کہا جا تا ہے اسی لئے ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ کا ئنات میں ذاتی طور پر مسلط ہو نے کا حق صرف ذات باری تعالی کو ہے لیکن بشرمیں سے انبیاء اور ان کے جانشین کو خدا نے بشر کی ہدایت اور راہ مستقیم کی طرف بلانے کی خاطر حکومت اور تسلط کا حق عطا کیا ہے پس کسی عام عادی انسان کا دوسرے پر پابندی لگا نا عقل اور فطرت کے منافی ہو نے کے علاوہ معاشرہ میں بھی اس کو ظالم کہا جا تا ہے ،لہٰذا حضرت زہرا پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کر نا عقل اور فطرت کی منافی ہو نے کے باوجود ظلم بھی سمجھا جا تا ہے لہٰذا ان پر عائد کی گئی پابند یاں پڑھنے والوں کی عدالت میں پیش کی جارہی ہیں جو درج ذیل ہیں :


(۱) اقتصادی پابندی ۔

ہر جابر اور ظالم حکمران کی سیرت اب تک یہی رہی ہے کہ جب کسی ملک اور شہر پر اپنا قبضہ جمانا چاہتا ہے تو اس نے فورا اس ملک یا شہر کے مر کزی کر دار انجا م دینے والے سر ما یہ داروںپر قابض ہو نے کی کو شش کی ہے لہٰذا تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے بے گناہ افراد کو جا بر اور ظالم حکمرانوں کے دور میں سرما یہ دار ہو نے کے جرم میں ہر طرح کی پابندی عائد کر کے ان کو حکومت سے بے دخل کیا گیا ہے تاکہ ان کی اقتصادی پا لیسیوں میں تر قی نہ ہواور اپنی حکومت اور تسلط کے لئے مانع نہ بن سکے جس بری سیرت میں ہر عام وخاص مبتلا رہے ہیں حتی حضرت پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ما ننے والے بھی آنحضرت کی سیرت طیبہ کو بالا ئے طاق رکھ کر ظالموں کی بری سیرت کو اسلام کے لباس میں اپنی کا میا بی کا ذریعہ قرار دیتے ہو ئے نظر آتے ہیں جس کی بہتر ین مثال وہ رفتار اور سلوک ہے جو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے ساتھ کیا گیا ہے تب ہی تو حضرت زہرا کو اپنے حق سے محروم کر کے فدک جیسے عطیہ کو غصب کر کے ان پر اقتصادی پابندی لگائی تا کہ زہرا حکو مت اور اسلام سے بے دخل رہے۔

چنا نچہ اس حقیقت کو فریقین کے معروف مور خین نے ذکر کیا ہے اگر چہ بعض نے حقائق کو پس پردہ رکھ کر بیان کر نے کی کو شش کی ہے جس کی وجہ بھی صحابہ کرام کی طرف سے پا بندی بتائی جا تی ہے وگر نہ ایک دانشمند ،مورخ ہو نے کی حیثیت سے کمال اس کا یہ ہے کہ حقا ئق کو تحقیق کے ساتھ پیش کر ے اور حقا ئق کو برہان کے بغیر پیش کر نا تحقیقات کے منافی ہے لیکن فدک خود پیغمبر اکر م کے زمانے میں اصحاب کے مابین معروف تھا اس کا خلاصہ یہ ہے


کہ مدینہ منورہ کے نزدیک ایک سو چالیس کلو میڑکے فا صلے پر ایک علاقہ فدک کے نام سے تھا جو قدرتی طور پر سر سبز ہو نے کے باوجود کھیتی باڑی اور دیگر منا فع کے لئے بہت ہی مناسب ہو نے کے علاوہ قدرتی چشمے سے ما لا مال تھا جو دور حاضر میں سعودی عرب میں حائط یا حویط کے نام سے مشہور ہے کہ وہ جگہ یہودیوں کے ہاتھ میں تھی جب اس علاقہ کے مالکوں نے اسلام کی طاقت اور پیشرفتگی کو جنگ خیبر میں مشاہدہ کیا تو ایک شخص حضرت پیغمبر کی خدمت میں روانہ کیاگیا اور آپ سے صلح کی پیشکش کی حضرت پیغمبر نے بھی ان کی پیشکش کو قبول فرمایا اس مطلب کو جناب یحییٰ ابن آدم نے بیان فرما یا ہے(۱)

لیکن پیغمبر اکرم کو یہودیوں نے صلح کر کے پور افدک دیا تھا یا اس کا آدھا اس میں علماء کے مابین اختلاف پایا جا تا ہے جناب واقدی اور بلازری نے فرمایا کہ یہودیوں نے پیغمبر اکرم کو فدک کا آدھا حصہ دیا تھا(۲)

لیکن دوسرے کچھ محققین کا نظر یہ یہ ہے کہ یہودیوں نے پیغمبر اکرم کو پورا فدک دیا ہے اس پر متعدد براہین اور شواہد بھی ذکر کئے ہیں لیکن پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فدک کو یہودیوں سے لینے کے بعد اپنی زندگی ہی میں حضرت زہرا کو عطیہ کیا تھا کیو نکہ تمام مذاہب کا اجماع ہے اگر کو ئی چیز جنگ کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ میں

____________________

(۱) خراج یحیی ابن قریشی

(۲) المغازی جلد ۲، فتوح البلدان، سیرت ابن ہشا م جلد ۲


آجا ئے وہ پیغمبر اکر م کا حصہ ہے اسی لئے پیغمبر کی وفات تک کسی صحا بی یا کسی دوسرے شخص کو حضرت علی اور حضرت زہرا کی اجازت کے بغیر فدک کے در آمد ات میں کسی قسم کے تصرف کی جرأت نہ تھی اور ہمارے برادر اہل سنت سے تعلق رکھنے والے اکثر مفسرین نے اس طرح لکھا ہے کہ حضر ت پیغمبر نے فدک حضرت زہرا کو اس وقت عطیہ کیا جب یہ آیة شریفہ نازل ہو ئی :

( وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ ) (۱)

اے پیغمبر اکرم قریبی رشتہ داروں کو ان کا حق عطا کردیجئے۔

پس اس تفسیر اور آیت کے شان نزول کے مطابق یہ کہہ سکتے ہیں کہ پیغمبر اکرم نے خدا کے حکم سے حضرت زہرا کو فدک دیا تھا نہ ان کو ارث میں ملا تھا لہٰذا پیغمبر اکرم کی وفات کے بعد ان سے چھیننا حقیقت میں صحا بہ کرام کی طرف سے حضرت زہرا پر اقتصا دی پا بندی تھی تا کہ حضرت زہرا سخاوت کے ذریعے بنی سقیفہ کے ما جراء کو بے نقاب نہ کر سکیں اور اپنی حقانیت ثابت کر نے میں نا کام رہیں۔

جناب ابن ابی الحدید نے اس طرح لکھا ہے کہ صحابہ کرام نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

____________________

(۱)سورہ اسرا آیت ۲۶.


کی وفات کے دس دن بعد حضرت زہرا کو فدک پر اعتراض کر تے ہو ئے خلیفہ وقت کی خد مت میں حا ضر کیا(۱)

اس مسئلہ کی شکایت کوحضرت علی علیہ السلام نے اس طرح بیان فرمایا ہے :

بلی کا نت فی اید ینا فدک من کل ما اظلته السماء فشحّت علیها نفوس قوم وسخت عنها نفوس قوم اخرین ونعیم الحکم الله (۲)

ہاں :آسمان تلے مو جود مال دنیا میں سے صرف فدک ''ہمارے ہاتھ میں تھا جسے ایک گروہ کے طمع ولالچ نے (غاصبانہ طور پر ) ہڑپ لیا جب کہ دوسرے گر وہ (ہم اہلبیت )نے سخا وتمند انہ طریقہ پر اس سے چشم پوشی کی اور اللہ تعالی بہترین فیصلہ کر نے والاہے ۔

اور تاریخ گو اہ ہے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا فدک کی در آمدات کو راہ خدا میں خدا کی رضایت حاصل کر نے میںخرچ کر تی تھیں یعنی یتیمو ں اور فقراء و مساکین کے ما بین خرچ کر کے اپنی روز مرہ زندگی کے لوازمات کے لئے بہت ہی کم مقدار رکھا کر تی تھیں لہٰذا گزشتہ مباحث کا خلاصہ یہ ہوا :

____________________

(۱) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۱۶.

(۲)نہج البلاغہ نامہ ۴۵.


۱۔ فدک پیغمبر کی ملکیت تھی جنگی غنائم میں شامل نہ تھا کیو نکہ یہ جنگ کے بغیر صلح کے نتیجہ میں حاصل ہوا تھا۔

۲۔ اہل سنت کی تفسیر کے مطا بق پیغمبر اکر م نے اپنی زندگی میں فدک حضرت زہرا کو دیا تھا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت زہرا فدک کو اپنا حق سمجھنے میں حق بجانب تھی۔

۳۔پیغمبر اکرم کی وفات کے بعد فدک کو حضر ت زہرا سے چھیننا حقیقت میں حضرت زہرا پر اقتصادی پابندی تھی تا کہ حضرت زہرا کو اسلام اور حق سے بے دخل کر سکیں۔

۴۔ آپ فدک کے در آمد ات کو تین حصوں میں تقسیم کیا کر تی تھی لیکن پیغمبر اکر م کے ماننے والوں نے حضرت زہرا کے ساتھ ایسا سلوک کیا جو آج کل ہمارے زمانے میں اسرائیلی فلسطینیوں کے ساتھ کر رہے ہیں یعنی پہلے مسلما نوں کے اموال پر قابض ہو گئے پھر مسلمانوں سے ہی اپنی حقا نیت پر گواہی ما نگنے لگے لہٰذا آج ہم دنیا کے کسی حصے میں ذلت وخواری کے شکار ہو تے ہو ئے نظر آتے ہیں تو یہ حقیقت میں بی بی دو عالم پر ڈھائے گئے مظالم کا نتیجہ ہے اگر ہم پیغمبر کی وفات کے بعد با بصیرت ہستیوں کا دامن تھام لیتے تو آج امریکا اور اسرائیل کی مانند حکمران کو ہم پر تعدی کی جرأت اور طاقت نہ ہو تی ۔


۲۔ سیاسی پابندی

دوسری پابندی یہ تھی کہ جو اقتصادی پا بندی سے پہلے پیغمبر کی وفات پا تے ہی تجھیز وتکفین سے قبل مسلمانوں کے ہا تھوں بنی سقیفہ کی شکل میں عائد ہو ئی کہ یہ پابندی اقتصادی پا بندی سے کئی گنا حضرت زہرا پر سخت گزری کیونکہ حضرت پیغمبر اکرم حجتہ الوداع سے فارغ ہو نے کے بعد جب غدیر خم میں پہنچے تو :

( یا اَیٌّها الرَّسُولَ بَلِّغْ ما اُنْزِلَ اِلیکَ مِنْ رَبِّکِ وَ اِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ وَ اللَّه یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ )

پر عمل کر تے ہو ئے لاکھوں حجاج کے مجمع میں جانشین مقرر فرما یا اور صحابہ کرام بھی اس واقعہ سے غافل نہ تھے لہٰذا غدیر کا واقعہ آج فریقین کی کتابوں میں بخوبی روشن ہے اس کے باوجود حضرت پیغمبر اکر م کی روح پر واز کر تے ہی ان کی تجہیز وتد فین سے پہلے جا نشین کے تقرر کے لئے سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہو نا حقیقت میں حضرت زہرا اور اہل بیت رسول پر سیاسی پانبدی تھی تاکہ حضرت زہرا اور خاندان اہل بیت علیہم السلام کو اسلام اور حکومت اسلامی سے بے دخل کر سکیں اور یہ فرصت کی تلاش میں رہنے والے حضرات اور بعض صحابہ کرام کے لئے بہترین مو قع تھا کہ جس وقت حضرت زہرا اور اہل بیت پیغمبر ،پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مصیبت میں صاحب عزا تھے اس وقت ان کی تجہیز وتکفین سے پہلے خلا فت جیسے عظیم منصب کے ساتھ آراء اور ووٹوں کے ذریعے کھیل کھیلاجا ئے


اگر چہ ایسے عزائم میں پیغمبر اکر م کی رحلت سے پہلے بھی مشرکین اور کچھ مسلمان مر تکب ہو ئے تھے لیکن خدا کی مشیت اسی میں تھی کہ پیغمبر اکرم کی کا میابی اور ان برے عزائم میں مبتلا ہونے والوں کی نا کا می اور بد نا می ہو لہٰذا وہ لوگ کبھی بھی پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی میں عملی جا مہ پہنا نے میں کا میاب نہ ہو سکے جوں ہی پیغمبراکرم کی رحلت ہو ئی ایسے عزائم کو عملی جا مہ پہنا کر اپنے آپ کو پیغمبر کی جا نشین بنا نا شروع کیا اس فضاء اور حالات میں حضرت زہرا(س) اور حضرت علی نے ایسی سیرت اپنائی کہ جس سے خلافت چھیننے والے مسلما نوں کے حقائق کو قیا مت تک کے بشر کو بیان کر نے کے علاوہ ان کی نااہلی اور سیا ست میں بابصیرت نہ ہو نے کو عقلی اور نقلی براہین کی روشنی میں ثابت کیا جب کہ ان لو گوں نے اپنی حقا نیت اور خلافت کی صلاحیت کو کتاب وسنت اور عقلی برہان سے ہٹ کر بے بنیاد باتوں سے اثبات کر نے کی کو شش کی لہٰذا برسوں پیغمبر اکر م کے پیچھے نمازوں اور محافل اور دیگر سیا سی امو ر میں شریک ہو نے کے باو جود طرح طرح کے جھو ٹ سے متوسل ہو ئے تب ہی تو اجماع قیاس اور استحسان وغیرہ کو قرآن پر مقدم کیا اور مفضول کو افضل پر مقدم ہو نے کے قائل ہو گئے


لہٰذاخلا فت کا ملاک اور معیار لو گوں کی نظر اور انتخابات کو سمجھا اور امت کو خطا کر نے سے معصوم قرار دیا جب کہ انبیاء علیہم السلام کی عصمت کے قائل نہیں ہیں پس جناب ابو بکر حضرت پیغمبر کے جا نشین ہے جب کہ حضرت علی پیغمبر اکر م کو تجہیز وتکفین دینے میں مصروف تھے اس وقت بنی سقیفہ کا یہ ماجرا حضرت علی تک پہنچا تو حضرت علی علیہ السلام نے ابن عباس سے سوال کیا بنی سقیفہ میں بلند ہو نے والی اللہ اکبر کی آواز کیا ہے ؟ ابن عباس نے کہا کہ بنی سقیفہ میں لو گوں نے عمر کی سر پر ستی میں ابو بکر کو پیغمبر اکرم کا جا نشین منتخب کیاہے حالانکہ منصب خلا فت سنبھا لنے کی صلاحیت کو کتاب وسنت اور عقل سے ہٹ کر ان کے مقابلے میں اجماع وقیاس اور ستحسان جیسی تعبیروں سے ثابت کر نا ضعیف الایمان ہو نے کی دلیل کے باوجود خاندان نبوت کے سا تھ کھلم کھلا دشمنی ہے وگر نہ غدیر خم میں صحا بہ کرام نے پیغمبر اکرم کے جا نشین منتخب ہو نے پر مبارک بادد ی تھی وہ جملات آج تک فریقین کی کتابوں میں بخ بخ یا علی کی شکل میں نظر آتے ہیں۔

نیزکئی بارجناب ابو بکر نے حضرت علی کے سامنے مجمع عام میں اقرار کیا کہ حضرت علی علیہ السلام کے ہو تے ہوئے میں اس منصب کے لائق نہیں یہ اعتراف بھی فریقین کی کتابوں میں مو جود ہے لہٰذا نہج البلا غہ میں حضرت علی کا ایک خطبہ شقشقیہ کے نام سے مشہور ہے اس خطبہ میں بنی سقیفہ کی کہانی اور شوریٰ کی تشکیل کی حقیقت اور خود کو باقی انسانوں سے مقا ئسیہ کر نے کے ہدف کو واضح الفاظ میں بیان فر مایا ہے محمود ابن لبید نے کہا حضرت پیغمبر اکر م کی رحلت کے بعد حضرت زہرا سلام اللہ علیہا شہدا احد کے قبور اور روضہ پیغمبر اکرم پر جا تی تھیںاور خدا سے شہدا کی علود رجات کی التجا ء کر نے کے بعد بابا کی جدائی اور امت محمدی کی طرف سے ڈھائے گئے مظالم پر گریہ کر تی تھیں


جب ایک دن میں حضرت حمزہ (رض) کی زیارت کو گیا تو دیکھا کہ حضرت زہرا حضرت حمزہ کی قبر مطہر پر بہت ہی خضوع اور دلسوز ی کے ساتھ گر یہ کر نے میں مشغول تھیں میں حضرت زہرا کا گر یہ ختم ہو نے کا منتظر رہا جب ختم ہوا تو میں نے پوچھا اے زہرا آپ پوری کا ئنات کی عور توں کا سردار ہو نے کے باوجود اتنا گر یہ اور التجا ء کیوں کر تی ہو؟ جب کہ آپ کی حالات دیکھ کر ہمارا دل بھی ٹوٹ جا تا آپ نے فرمایا :

اے عمررونا ہی بہتر ہے کیو نکہ حضرت رسول اکر م کی رحلت اور جدائی کی وجہ سے میں دوبارہ رسول اکرم سے ملنے کی مشتاق ہوں۔

محمود ابن لبید نے لکھا ہے پھر میں نے کچھ دوسرے مو ضو عات کے بارے میں سوال کیا انہیں میں سے ایک یہ تھا کہ اے حضرت زہرا کیا پیغمبر اکرم نے اپنا جا نشین مقرر نہیں کیا تھا ؟ حضرت زہرا نے فرمایا بہت تعجب آور سوال ہے کیا تم نے یوم الغدیر کو بھلا دیا ؟ میں نے کہا اے رسول کی بیٹی وہ تو مجھے یاد ہے لیکن اس کے بارے میں آپ کی زبان سے سننے کا خواہش مند ہوں تو آپ نے فرمایا میں خدا کو گواہ قرار دیتی ہوں کہ پیغمبر اکر م نے فرمایا :

''علی خیر من احلفه فیکم وهو الا مام بعدی وسبطایٔ وتسعة من صلب الحسین الا ئمة'' (۱)

____________________

(۱) بحار جلد ۴۲، داستان.


(ترجمہ) علی بہترین ہستی ہے کہ جس کو میں تمہارے در میان اپنا جا نشین مقررکیا کہ وہ میرے بعد اور ان کے دو فرزند ( حسن وحسین ) اور امام حسین کے صلب سے ان کے نوفرزند تمہارے امام ہیں اگر ان سے متمسک رہیں گے تو راہ ہدایت اور نجات پائیں گے اگر ان کی مخالفت کر یں گے، تو قیامت تک تمہارے درمیان فساد برپا ہو گا ۔

اسی طرح اور بھی روایات متواتر ہ فریقین کی کتابوں میں مو جود ہیں جو خا ندان اہلبیت دوسروں پر مقدم اور دوسروں سے افضل ہو نے کو بخو بی بیان کر تی ہیں لہٰذا عقلی اور نقلی دلیل ان کی افضلیت پر ہو نے کے باوجود پیغمبر اکرم کی تجہیز وتکفین کو چھوڑکر خلا فت کے بارے میں بنی سقیفہ میں جمع ہو نا حقیقت میںحضرت زہرا اور حضرت علی علیہ السلام اور دیگر خاندان رسول کو اسلام سے بے دخل کر نا مقصود تھا لیکن حضرت علی اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے ان کے پورے عزائم کو قیامت تک کے لئے بے نقاب کر دیا ۔اور مادی زندگی کے لالچ میں غرق ہو ئے افراد کی سیا ست کو بے بیصرت سیا ست قرار دئے ۔


۳۔ خا ندانی شخصیت پر پا بندی

آپ پر کی ہوئی سختیوں میں سے سب سے پڑی سختی شخصیت کی پائمالی تھی کیو نکہ سارے اصحاب جا نتے تھے کہ کائنات میں سب سے افضل ہستی حضرت محمد ابن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر حضرت علی علیہ السلام اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہاتھے کہ جس کو نزول وحی کے دوران پیغمبر اکرم نے ہی متعدد آیات کے شان نزول کی شکل میں بیان کیا تھا اور متعدد محافل اور اجتماعات میں بھی ان کی افضلیت سے صحابہ کر ام کو اگا ہ فرما یا تھا کہ اہل بیت کو سفینہ نوح سے تشبیہ دے کر فرمایا جواہل بیت(علیہم السلام) کو ما نیں گے وہ قیامت کے دن نجات پا ئیں گے جو اہل بیت(علیہم السلام) کے مخالف ہوں گے وہ قیامت کے دن جنت سے محروم ہوں گے اور حضرت زہرا اہل بیت کے واضح ترین فرد ہے اس طرح:

'' من اذها فقد اذانی ان الله یغضب لغضبک ویر ضی لرضاک''

کے الفاظ میں بیان فرما یا تھا اور جہا ں کہیں آنحضرت سفر پر جا نے کا عزم فرماتے تھے تو حضرت زہرا سے زیادہ احترام کے ساتھ ملاقات کر تے جب حضرت زہرا آپ کی خدمت میں تشریف فرماتھی تو اس مو قع پر بھی آپ حضرت زہرا کی تعظیم کے لیے اٹھ کھڑے ہوجا تے تھے


یہ تمام ان کی شخصیت اور عظمت پر واضح دلیل ہے جس سے صحابہ کرام بھی غافل نہ تھے لیکن جب پیغمبر اکرم نے دار دنیا سے داربقاء کی طرف ہجرت اور رحلت فرمائی تو صحا بہ کرام نے بہت ہی ہو شیاری کے ساتھ خلافت کا منصب چھین لیا اور بیعت کے بہا نے سے حضرت علی اور زہرا(س) کی شخصیت اور خاندان نبوت کی فضیلت کو پائمال کر نا شروع کر دیا لہٰذا مسلمانوں نے بنی سقیفہ کے ماجریٰ کے فورا بعد جناب عمر کی سر پرستی میں خاندان نبوت سے بیعت کر انے کی کو شش کی تاکہ لوگوں کو یہ بتا سکیں کہ ہماری نظر میں حضرت زہرا(س) او ر حضرت علی اور باقی لوگوں میں شخصیت کے حوالہ سے کوئی فرق نہیں ہے لہٰذا ہم نے ابو بکر کی بیعت کی ہے حضرت زہرا اورحضرت علی کو بھی ان کی بیعت کر نا چا ئیے یہی وجہ تھی کہ جس سے صحابہ کرام آگ اور زنجیر لے کر در زہرا پر دق الباب کر نے کی جرأت ہو ئی اور حضرت زہرا نے فرمایا تم کو ن ہو ؟

کہا میں عمر ہوں خلیفہ وقت کی طرف سے علی سے بیعت لینے کے لئے آیا ہوں دروازہ کھو لو وگر نہ دروازہ جلادوں گا ۔


حضرت زہرا(س) نے فرمایا:

'' اے ابن الخطاب اتنی جرأت کہاں سے آئی کہ در زہرا پر حملہ کر کے علی سے بیعت لیں اتنے میں در حضرت زہرا پر حملہ کیا اور قنفذسے کہا حضرت زہرا کے دروازے کو آگ لگائو قنفذ نے آگ لگا دی اتنے میں حضرت زہرا کے درودیوار کے درمیان آنے کی وجہ سے آواز آنے لگی اے فضہ میری مدد کوآئو میرا محسن اور میرا پہلو شہیدکر دیا ہے یہ حالت صحا بہ کرام نے دیکھی لیکن خلافت کے نشہ میں حضرت زہرا کی اجا زت کے بغیر اندر داخل ہوئے اور حضرت علی کی گردن میں رسی باندھ کر خلیفہ وقت کی بیعت کے لئے لے جا نے کی کو شش کی یہ واقعہ فریقین کی کتابوں میں مو جود ہے لیکن سوال یہ ہے ایسی جرأت جو کتاب وسنت کے مخالف ہونے کے باوجود ایسے حملہ کا مقصد کیا تھا ؟

اگر ہم اس قضیہ کی تحلیل وتفسیر تعصب سے ہٹ کر کر یں تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت علی اور خاندان نبوت کو حکومت اسلامی سے بے دخل کر کے خا ندان نبوت کی فضیلت اور شخصیت کو جو کتاب وسنت میں واضح طور پر بیان ہوئی ہے ۔

اس کو لو گوں کے ذہنوں سے نکا لنا ان کا اہم ترین مقصد تھا اگر چہ ا پنے مقاصد میں سے کسی ایک پر بھی برہان اور دلیل نہ بھی ہو لہٰذا آئندہ اپنی حکو مت اور سر پر ستی کے استحکام کی خاطر خاندان نبوت کی شخصیت کو زیر پا ء قرا ر دیا اسی لئے تاریخ گواہ ہے کہ بنی امیہ کا دور شروع ہو تے ہی خا ندان نبوت کو ہر چیز سے محروم کر دیا حتی خلیفہ دئوم نے کہا:


''حسبنا کتاب اللّٰہ '' لہٰذا احادیث نبوی کی ضروت نہیں ہے اگر کو ئی احادیث نبوی کی نشر اشاعت کی تواس کوسزا دی جائے گی اور بہت سارے راویوں کی زبان پر خاندان نبوت کی فضیلت اور منا قبت پر دلالت کرنے والی روایات جاری ہو نے پر ان کی زبانیں کا ٹی گئیں جب معاویہ کا دور شروع ہوا تو حضرت علی کی تلوار سے نصب کئے ہو ئے ممبروں سے حضرت علی کی شان میں نازیبا اور نا سزا الفاظ کو استعمال کر نا نماز جمعہ کے خطبوں میں مسلمانوں کی سیرت بن گئی ان تمام مطالب کا مقصد یہ تھا کہ حضرت علی علیہ السلام اور حضرت زہراسلام اللہ علیہا کے ہاتھوں اسلام کی جو آبیاری ہوئی تھی اگر اسلام کی آبیاری پیغمبر اکر م کے بعد بھی ان کے ہا تھوں ہو جا تی تو معا شرے میں عدالت اور حکو مت اسلامی کی تقویت ہو تی لہٰذا ما دی مقاصد کے ساتھ زبان پر اسلام کا نعرہ بلند کر نے والوں کو لو گوں پر تسلط جما نے کا موقع نہیں ملتا اسی لئے پیغمبر اکر م کی رحلت کو غنیمت سمجھ کر حضرت علی اور حضرت زہرا کو اسلام سے بے دخل کر کے اپنے آپ کو رسول کا جا نشین منوا یا اور حکو مت اسلامی پر نا اہل قابض ہو گئے جس کا نتیجہ آج اکیسویں صدی میں مسلمان حضرات بہتر جا نتے ہیں کہ سب کا عقیدہ ہے اسلام تمام نظاموں سے بالاتر ہے اس کے باوجود اکیسویں صدی کی آبادی میں صر ف ایک ارب مسلمان بتائے جا تے ہیں جب کہ پانچ ارب آبادی اسلام کے مخالف نظر آتی ہے ۔


چوتھی فصل:

حضرت زہرا کی سیرت

ہر انسان کی فطرت ہے کہ جب کسی دور میں کسی ہستی کی سیرت دنیوی اور اخروی زندگی کی کا میا بی اور سعا دت کے لئے مشعل راہ ہو تو اس کی سیرت پر چلنے کا خوا ہاں ہو تا ہے اسی لئیے شریعت اسلام میں عقلاء کی سیرت کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ اگر عقلاء کی سیرت کے اتصال کا سلسلہ زمان معصوم تک کشف ہو تو اس کو برہان قرار دیا ہے لہٰذا حضرت زہرا کی سیرت ہم سب کے لئے اس دور حا ضر میں بہتر ین نمونہ عمل ہے کیو نکہ حضرت زہرا کی سیرت سے ہٹ کر غور کر یں تو ہمارا زمانہ سوائے گمراہی اور زرق وبرق کے علاوہ کچھ نہیں ہے اگر چہ آپ کی سیرةطیبہ کی تشریح کر نا اس مختصر کتا بچہ کا مقصد نہیں تھا فقط نمونہ کے طور چند پہلو قابل ذکر ہے:


الف۔ ازدواجی کا موں میں آپ کی سیرت

شاید کا ئنات میں انسان کے نام سے کوئی ہستی اذدواج اور شادی کے مخالف نہ ہو، لہٰذا آدم سے لے کر خاتم تک تمام ادیان الٰہی نے ازدو اجی زندگی کو انفرادی زندگی سے افضل قرار دیتے ہو ئے شادی کی ترغیب دی گئی ہے حتی پیغمبر اکرم کا دین جو باقی تمام ادیان الٰہی کا خلاصہ اور نچوڑ سمجھا جا تا ہے اس میں شادی اور ازدوا جی زندگی کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ فرما یا کہ جو ازدواج اور شادی کے مخالف ہے: '' فلیس منی'' لہٰذا ہمارے زمانے کے محققین میں سے کچھ نے شادی کے مسئلہ کو ایک امر طبعی دوسرے کچھ محققین اس کو امر فطری سمجھتے ہیں ۔

اگر چہ جناب افلاطون کے حالات زندگی کا مطالعہ کر نے سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ ازدواج اور شادی کو سلب آزادی کا سبب سمجھتا تھا تب ہی تو انہوں نے آخری عمر تک اسی نظر یہ کی بناء پر ازدواج کا اقدام نہیں کیا لیکن مو ت سے پہلے پھر بھی شادی کر کے دنیا سے رحلت کی اگرچہ کو ئی اولاد اور وارث ان سے وجود میں نہ آیا پس ازدواجی زندگی اور شادی کا مسئلہ ہر دور میں تھا اور قیامت تک رہے گا اگرچہ شادی کی کیفیت اور کمیت کے حوالہ سے ہر انسان کی طبیعت میں تفاوت ہی کیوں نہ ہو، لیکن ہم مسلمان ہو نے کی حیثیت سے ازدواج اور شادی جیسے اہم مسئلہ میںحضرت زہرا سلام اللہ علیہا جیسی ہستی کی سیرت کو نمونہ عمل قرار دینا چا ہئے تاکہ بہت سارے مفاسد اور اخروی عقاب سے نجات مل سکے آپ کی شادی کے بارے میں دو نظریہ مشہورہیں : ۱)روز پنجشنبہ سوم ہجری اکیسویں محرم کی رات کو ہوئی۔(۱)

____________________

(۱) بحارالا نوار جلد ۴۳ ص۹۳


۲)آپ کی شادی جناب محدث قمی اور شیخ طوسی و شیخ مفید کے نقل کے مطابق یکم ذالحجہ چھ ہجری کو ہوئی۔(۱)

آپ کی شب زفاف کو جبرائیل دائیں طرف میکا ئیل بائیں طرف سترہزار فرشتے لے کر صبح تک تقدیس وتسبیح میں رہے(۲)

جعفر ابن نعیم نے احمد ابن ادر یس سے وہ ابن ہاشم سے وہ علی ابن سعید سے وہ حسین ابن خالد سے وہ جناب امام رضا علیہ اسلام سے روایت کی ہے:

قال علی قال لی رسول الله ۔۔۔(۳)

تر جمہ )حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا مجھ سے پیغمبر اکر م نے فرمایا اے علی قر یش کے مردوں نے زہرا سے خواستگار ی کر کے مجھے تھکا دیا اور مجھ سے کہنے لگے کہ آپ زہرا کی شادی ہم میں سے کسی سے نہیں کر نا چاہتے بلکہ علی سے ان کی شادی کر نے کے خواہشمند ہیں میں نے ان سے کہا خدا کی قسم میں نے منع نہیں کیا ہے بلکہ خدا نے منع کیا ہے اور خدا نے ہی زہرا کی شادی علی سے کر ائی ہے اور جبرائیل نازل ہو کر کہا اے حضرت محمد خدا نے فرمایا ہے اگر میں علی کو خلق نہ کر تا تو تیری بیٹی فاطمہ کو روئے زمین پر کوئی شریک حیات نہیں ملتا ۔

____________________

(۱)مفاتیح الجنان

(۲) بحارالا نوار جلد ۴۳ ص۹۳.

(۳) بحارالا نوار جلد ۴۳ ص۹۳.


اگر چہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے ساتھ شادی کر نے کی خاطر خواستگار ی کے پروگرام میں بہت سارے صحابہ شریک ہو کر خیالی پلائو کھا یا تھا لیکن خدا نے ہی ان کے خام خیالی کو خاک میں ملادیا اور بارہا پیغمبر اکر م نے حضرت زہرا سے خواستگار ی کر نے والے صحابہ سے فرمایا حضرت زہرا کی شادی کا مسئلہ خدا کے ہاتھ میں ہے پھر بھی اکثر او قات پیغمبر اکرم صحابہ کرام کی تکرار کے مطابق حضرت زہرا( س) سے پوچھا کر تے تھے کیا آپ فلاں صحابی کے ساتھ اذدواج کر نے پر راضی ہیں ؟

لیکن حقیقت میں پیغمبر اکر م کا اس طرح زہرا(س) سے سوال کر نا ان کی سیاست تھی کیو نکہ اگر پیغمبر قبل ازوقت حقیقت اور واقعیت کو بیان فرما تے تو مزید دشمنی اور عداوت کا باعث تھا لہٰذا پیغمبر اکرم ظاہری طور پرحضرت زہرا(س)سے پوچھتے تھے اور حضرت زہرا(س) اظہار نارضایتی فرما ئی تھی۔

ان مختصر روایات سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ اگر کسی کی بیٹی کے لئے کو ئی دولت مند نام نہاد رشتہ آئے تو فوراً اس کی شہرت اور دولت کی وجہ سے قبول نہ کیجئے بلکہ بیٹی کے لئے ایک ایماندار اور امین شوہر کا انتخاب کر نا والدین کی ذمہ داری ہے کیو نکہ پیغمبر اکرم نے اتنے اصحاب جو دولت اور شہرت کے حوالے سے کسی سے پوشیدہ نہیں تھے جب حضرت زہرا (س) سے رشتہ کے طالب ہوئے تو کسی کو قبول نہیں فرمایا اسی لئے جب اصحاب حضرت زہرا(س) سے خواستگاری کر نے کے بعد نا امید ہو گئے تو وہی اصحاب حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں کہنے لگے اے علی پیغمبر اکر م اپنی بیٹی کی شادی آپ سے کر نا چا ہتے ہیں


آپ پیشکش کیجئے اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو ہم خود بندوست کریں گے حضرت علی نے ان کے مشور ہ کو قبول فرمایا اور پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پیغمبر بھی ایسی ہستی کی پیشکش کے منتظر تھے اسی لئے جب حضرت علی نے خواہش کا اظہار فرمایا تو آنحضرت کا چہرہ منور اور خوشی سے چمک اٹھا اور فرما یا اے علی انتظار کیجئے میں فاطمہ سے اجازت لے لوں پیغمبر اسلام جناب سیدہ کی خدمت میں پہنچے اور فرمایا :

''اے زہرا آپ حضرت علی کی حالت سے واقف ہیں وہ آپ کی خوستگاری کو آئے ہیں کیاآپ ان سے شادی کر نے پر راضی ہیں ؟ جناب سیدہ شرم کی وجہ سے خاموش رہیں اور کچھ نہ بولیں آنحضرت ان کی خاموشی کو رضایت کی علامت قرار دیتے ہوئے حضرت علی کی خدمت میں آئے اور مسکر اتے ہو ئے فرمایا ، اے علی شادی کے لیے آپ کے پاس کیا چیز ہے ؟

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا :اے خدا کے حبیب میرے ما ںباپ آپ پر قربان ہو جا ئیں آپ میری حالت سے بہتر آگاہ ہیں میری پوری دولت ایک تلوار ،ایک ذرہ اور ایک اونٹ ہے(۱)

____________________

(۱)بحارجلد ۴۳ ص۱۳۳.


۱) حضرت علی علیہ السلام شادی کے لیے تیار ہو ئے لیکن مسلمانوں کے لیے اس روایت میں پیغمبر اکرم یہ پیغام دینا چا ہتے ہیں کہ بیٹی کا شوہر باید امین اور ایماندار ہو ۔

۲) بیٹی کا مہر اسلام کے ضوابط اور اصول سے خارج نہ ہو یعنی اگر بیٹی کی زندگی اپنے شوہر کے ساتھ خوشگوار بنا نا چاہتے ہیں تو زہرا کی سیرت پر چلیں کہ زہرا کا مہر اتنی شخصیت اور پوری کا ئنات پر اختیار ہو نے کے باوجود روایت میں درج ذیل ذکر کیا گیا ہے :

ا ۔ایک ذرہ جس کی قیمت چار سو یا چار سو اسی یا پانچ سو درہم تھی۔

۲۔ ایک جوڑا یمنی کتان

۳- ایک گو سفند کی کھال(۱)

اس روایت سے معلوم ہو تا ہے کہ بیٹی کا مہر زیادہ اس کی عزت اور آبرو نہیں ہے بلکہ باایمان شوہر کا منتخب کرنا اس کی عزت ہے، لہٰذا ایک مسلمان عورت کو اپنے لئے حضرت زہرا کی سیرت کو نمونہ عمل قرار نہ دینا پشیمانی کا سبب ہے ، جب حضرت علی علیہ السلام نے حضرت زہرا کا مہر ایک ذرہ قرار دیا تو پیغمبر اکرم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:

''اے علی اس ذرہ کو بازار میں لے کر فروخت کرو تاکہ میں اس کی قیمت

____________________

(۱)وافی کتاب نکاح نقل از کتاب فاطمہ زہرا اسلام کی مثالی خاتون


سے جناب فاطمہ زہرا کا جہیز او رگھر کا سامان مہیا کردو''۔(۱)

چنانچہ حضرت علی علیہ السلام نے ذرہ کو فروخت کردیااور قیمت لے آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے توپیغمبر اکرم نے ابوبکر اور حضرت سلمان فارسی اور جناب بلال کو بلایا اور کچھ درہم ان کے حوالہ فرمایا او رکہا: ان سے حضرت زہرا کے لئے لوازمات زندگی خریدلو اور چند درہم حضرت اسماء بنت عمیس کو دئے اور فرمایا کہ ان سے حضرت زہرا کے لئے عطر اور خوشبو کے لوازمات خرید لو ۔(۲)

اسی لئے روایات میں آپ کے جہیز کو اس طرح بیان فرمایا ہے:

۱۔ایک قمیص۔

۲۔ایک برقعہ ۔

۳۔ایک سیاہ خیبری حلہ۔

۴۔ایک چارپائی۔

۵۔دو عدد توشک (گدّے)

۶۔چار تکیے۔

____________________

(۱)بحار الانوار ج۴۳ص ۱۳۵ (۲)بحار الانوار ج۴۳ص ۱۳۹


۷۔ایک چٹائی۔

۸۔ایک ہاتھ کی چکّی۔

۹۔ایک پیالہ۔

۱۰۔ایک عبا۔

۱۱۔دو عدد کوزے۔

۱۲۔ایک فرش۔

۱۳۔ایک مٹی کا برتن۔

۱۴۔ایک لوٹا۔

۱۵۔ایک پردہ۔

۱۶۔ایک گلاس۔

۱۷۔ایک کپڑے دھونے کا لگن۔

۱۸۔ایک چمڑے کی مشک۔(۱)

اس روایت سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ بیٹی کے ساتھ جہیزکا بھیجناسنت نبوی ہے لیکن افراط وتفریط نہ کرنا بھی سنت نبویصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہے یعنی جہیز کی وجہ سے ان کی

____________________

(۱) مناقب شہر ابن آشوب ج۳، کشف الغمہ جلد اول ص ۲۵۹.بحار الانوار ج۴۳.


زندگی کو تباہ وبرباد کرنا جائز نہیں ہے لہٰذا اگر شہر کے معمول کے مطابق کسی بیٹی کے لئے جہیز نہ آئے تو ان کی تحقیر وتوہین کرنا شرعاممنوع ہے اگرچہ ہمارے زمانے میں بہت سارے واقعیات دیکھنے میں آئے ہیں کہ اگر کوئی لڑکی اپنے ساتھ کافی مقدار میں جہیز نہ لے آئے تو شوہر اور سسرال والے اس کو ذلیل کرتے ہیں اور ہمیشہ برا بھلا کہتے رہتے ہیں ، لیکن یہ سب کچھ جہالت اور ضعف ایمان کی نشانی ہے۔

پھر جب پیغمبر اکرم نے حضرت زہرا کی شادی خدا کے اذن سے حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ کرنے کا فیصلہ کیا اور شادی کی رسومات انجام دینے کی تیاری فرمائی اور جہیز کو معین کرنے کے بعد رخصتی کا جشن منانے کا پروگرام شروع کیا تو فرمایا:

''اے علی شادی کے موقع پر ولیمہ دیاجائے اور میں چاہتا ہوں کہ میری امت بھی شادیوں میں ولیمہ دیا کرے۔''اس وقت سعد اس موقع پر حاضر تھے انھوں نے عرض کیا: یا علی میں آپ کو اس جشن کے لئے ایک گوسفند دیتا ہوں ، اسی طرح دوسرے اصحاب نے بھی حسب استطاعت حضرت علی کی مدد کی، اور پیغمبر اکرم نے جناب بلال سے فرمایا ایک گوسفند لے آئو ، اور حضرت علی کو گوسفند ذبح کرنے کا حکم دیا اور دس درہم بھی دئے اس سے باقی لوازمات خریدیئے ۔


پھر جب یہ انتظام مکمل ہوا تو حضرت علی سے فرمایا : شادی کے ولیمہ میں دعوت دیں، حضرت علی علیہ السلام نے اصحاب کے ایک گروہ کو دعوت دی ، اور جب مہمان پہنچے تو دیکھا کہ مہمانوں کی تعداد زیادہ ہے اور کھانا کم، تو رسول خدا نے حکم دیا کہ مہمانوں کو دس دس گروہ میں تقسیم کردیا جائے ، دوسری طرف جناب عباس ، جناب حمزہ، جناب عقیل اور حضرت علی مہمانوں کی پذیرائی میں مصروف تھے، دسترخوان بچھایا ولیمہ شروع ہوتے ہی فقراء ومساکین حضرت زہرا کے ولیمہ میں شرکت کرکے سیر ہوئے جب کہ اس وقت پیغمبر اکرم نے حضرت علی علیہ السلام اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو دستور دیا کہ آپ دونوں الگ برتن میں کھانا تناول فرمائیں۔(۱)

اس مختصر ورایت سے درج ذیل نتیجہ نکلتا ہے:

۱۔شادی کے موقع پر ولیمہ کھلانا سنت ہے۔

۲۔ شادی کے موقع پر ایک دوسرے کی مدد کرنا اصحاب کی سیرت ہے۔

۳۔ ولیمہ میں افراط وتفریط نہ کرنا اور فقراء ومساکین کو بھی شامل کر نا حضرت علی اور حضرت زہرا(س) کی سیرت ہے لہٰذا حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی اتنی شخصیت اور فضیلت کے باوجود اتنامختصر مہر پر راضی ہو جا نا اور مختصر جہیز کا قبول کر نا آج کل ہما رے زما نے کی بہنوں اور بیٹیو ں کے لئے ایک درس ہے یعنی

____________________

(۱) بحار الانوار ج۴۳.


ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے لئے ایک ایما ندار شوہر تلاش کریں نہ دولت مند اور نام نہاد نہ جہیزمیں افراط وتفریط۔

پس حضرت زہرا کی سیرت پر چلنے والے مردوں اور عورتوں کے لئے شادی کے موقع پر زہراکی سیرت کو بالائے طاق رکھ کرمو جودہ زمانے کے خرافات کو ازدواج اور شادی کی رسم قرار دینا باعث پشیما نی ہے جس کا نتیجہ شا دی کے مو قع پر اتنے شورو شرا بے کے باوجود تھوڑی مد ت گزرنے کے بعد آپس میں جھگڑا اور طلاق کی صورت نکلتی ہیں جس کی وجہ شوہر کے انتخاب میں ماں ، باپ کا کڑی نظر سے غور نہ کرنا یا مہر وجہیز میں افراط وتفریط کر نا نظر آتا ہے لہٰذا روایت میں آیا ہے کہ حضرت زہرا(س) کی ایک ہزار سے زیا دہ لوگوں نے خواستگاری کی تھی لیکن پیغمبر اکر م اور حضرت زہرا نے کسی کو قبول نہیں کیا جب کہ دولت، شہرت اور سرما یہ کے حوالے سے حضرت علی سے مقائسہ ہی بے معنی ہے کیو نکہ علی اس زمانے کے فقیر ترین افراد کی ما نند زندگی گزار رہے تھے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ شوہر کے انتخاب میں ایماندار ی اور امانت داری معیار ہے ۔


ب۔ گھر یلو امور میں آپ کی سیرت

پوری کا ئنات میں حضرت زہراسلام اللہ علیہا سے افضل اور باشرافت نہ کوئی خاتون آئی ہے نہ قیامت تک آئے گی لہٰذا حضرت زہرا کا ہر عمل کردار ورفتار پوری بشریت کے لئے ہر امور میں نمونہ عمل ہے یہ قیامت تک خدا کی طرف سے اٹل فیصلہ ہے اگر کو ئی شخص دنیا میں اپنے محبوب کے ساتھ عشق ومحبت کی زندگی گزار نے کا خواہشمند ہے تو ضرور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی حالات زندگی کا مطالعہ کرے انہوں نے شوہر کے ساتھ اور اولاد کی تربیت اور دیگر گھر یلو امور کے بارے میں جو سیرت پیش کی ہے ان پر چلنا ضروری ہے کیونکہ آپ کی سیرت طیبہ میاں بیوی کے آپس میں محبت کی تقویت کا ذریعہ ہے۔

تب ہی تو پیغمبر اکرم نے حضرت زہرا سے خواستگاری کے موقع پر فرمایا اے بیٹی فاطمہ تم علی علیہ السلام کی حالت سے واقف ہو کہ علی کیا ہیں پھر جب حضرت فاطمہ کی رخصتی ہو گئی یعنی وحی اور رسالت کے گھر سے امامت اور جا نشین کے گھر خدا کے حکم سے منتقل ہو گئیں تو پیغمبر اکرم نے انہیں دنوں ہی میں گھریلو امور کو آپس میں تقسیم کر نے لگے اے علی گھر کے اندر ونی کا م کا ج فاطمہ انجام دیں گیں جب کہ بیرونی امور آپ کے ذمہ قرار دئیے گئے ہیں پیغمبر اکر م نے اس طرح تقسیم بندی کی تو حضرت زہرا نے فرمایا:

'' بابا میں اس تقسیم بندی پر بہت ہی خوش ہو ں''(۱)

اسی لئے حضرت زہرا ہمیشہ گھر کے اندرونی معاملات کو اچھے طریقہ سے

____________________

(ا) بحارالا نوار جلد ۴۳.


انجام دیتی تھیں اور حضرت علی علیہ السلام بھی ہمیشہ سر اہا کرتے تھے کیو نکہ آپ گھر میں ہمیشہ کندھے پر مشک اٹھاکر پا نی لا تی تھیں چکی پیس کر آپ کے ہاتھوں میں چھا لے پڑگئے تھے لہٰذا خواتین وحضرات حضرت زہرا کے گھر یلو امور کا خلاصہ یہ ہے:

۱۔ آپ ہمیشہ کھا نا تیار کرتی تھیں۔

۲۔ گھر کی صفائی خود انجام دینی تھیں۔

۳۔ بچوں کی تر بیت کے لئے شب وروز زحمت اٹھا تی تھیں۔

پس اگر شوہر کے ساتھ اپنی زندگی کو شاداب اور خوشگوار بنا نا چا ہتی ہیں تو ہمیشہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت پر چلنے کی کو شش کریں کیو نکہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا بے مثال خاتو ن ہو نے کے علاوہ فرشتے بھی آپ کی خدمت کر نے پر فخر کرتے تھے اس کے باوجود خود گھر کے امور کو انجام دینا اس بات کی دلیل ہے کہ ہماری خوبی اور سعاد تمندی زحمت اٹھا نے میں ہی پوشیدہ ہے ۔

لہٰذا آج کل کے زما نے میں گھر یلو امور کو انجام دینے کی خاطر بچوں کی تربیت دینے کے لئے نوکر رکھنا ہماری بد بختی اور نا کا می کی علامت ہے اگر چہ جناب فضہ آپ کی خادمہ سے موسوم ہے اور دوسری کچھ روایات میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ حضرت زہرا نے اپنی خدمت کے لئے پیغمبر اکرم سے لونڈی کا تقاضا کیا لیکن پیغمبر اکرم نے گریہ کر تے ہوئے فرما یا یا زہرا خدا کی قسم


چار سو افراد فقیر ہیں جو اس وقت مسجد میں رو رہے ہیں کہ جن کے پاس نہ لباس نہ خوراک اور نہ دیگر لوازمات زندگی ہیں اگر آپ کے پاس لونڈی ہو تو گھر میں جتنا کام کرنے کا ثواب ہے اس سے آپ محروم رہیں گیں ۔

تذکر:

اگر دور حاضر کی عور تیں اس طرح اعتراض کریں کہ اگر ہم حضرت زہرا کی سیرت پر چلیں گے تو ہم علمی، تحقیقا تی ، سیا سی ، سما جی امور میں مردوں کی ما نند کا م کر نے سے محروم رہ جائیں گے۔

حقیقت میں اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ ہمارے زمانے کی خواتین حضرت زہرا سے زیادہ پڑھی لکھی یقینا نہیں ہو سکتی کیونکہ حضرت زہرا کے ساتھ جبرائیل امین گفتگو کر تے تھے پیغمبر اکر م جیسے نبی کی زیر نظر تربیت پائی تھی حضرت علی جیسے شوہر کے ساتھ زندگی گزاری تھی نیز حضرت زہرا تحقیقاتی اور سیاسی وسما جی امور میں ساری کائنات کی خواتین سے آگے تھیں، لیکن آپ نے عملی میدان میں دونوں کا موں کو انجام دیا لہٰذا گھریلو امور کو انجام دینے کے بعد علمی تحقیقاتی اور دیگر امور میں خدمت انجام دینے کا مو قع ملا تو انجام دیجئے وگر نہ گھر یلو امور چھوڑکر ایسے امور میں مدا خلت کر نا ظلم کے مترادف اور خلاف طبیعت ہے کیو نکہ خدا نے مردوں کی طبیعت اور عورتوں کی طبیعت میں فرق رکھا ہے یعنی مردوں کی طبیعت میں سر پرستی اور عورتوںکی طبیعت میں قبولیت وجا ذبیت رکھی ہے ۔


ج ۔شوہر کی خدمت میں آپ کی سیرت

زندگی کے تمام مراحل میں ازدواجی زندگی کو خوشگوار اور بہتر زندگی سمجھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر مر د اور عورت کی خواہش یہی ہو تی ہے کہ ازدواجی زندگی کا آغاز جوانی کے آغاز کے ساتھ ہو تاکہ کسی بری عادتوں کے شکار نہ بنے لہٰذا تعلیمات اسلامی تاکید کے ساتھ جوانی کے آغاز میں شادی کر نے کا حکم دیتی ہیں اور حضرت زہرا(س) کی سیرت بھی یہی ہے یعنی آپ نے جوانی کے آغاز میں شادی کر کے زہرا کی سیرت پر چلنے والی عور توں کے لئے نمونۂ عمل بن گئیں تھیں اگر چہ ہمار ے زما نے میں ایسی شادی کو نا کام شادی سمجھا جا تاہے لیکن ایسا خیال حقیقت میں جہالت اور مغربی تہذیب وتمدن پر چلنے کا نتیجہ ہے وگر نہ ازدوا جی زندگی میںاور دیگر تمام امور کا ملاک اور معیار حضرت زہرا ہیں کیو نکہ حضرت زہراکو قیامت تک کی تمام خواتین کے لئے بے مثال نمو نہ قرار دیا گیا ہے لہٰذا آپ ہمیشہ شوہر کی خدمت کر نے میں کوشاں رہتی تھیں تب ہی تو حضرت علی علیہ السلام نے بہتر(۷۲) جنگوں میں شرکت کر کے اسلام اور پیغمبر اکرم کی حفا ظت کی لیکن جب بھی میدان جنگ سے تھکاوٹ ،بھوک اور پیا س کی حالت میں واپس آتے تھے تو حضرت زہرا(س) آپ کو تسلی دے کر بھوک اور پیاس کی حالت کو دور فرما تی تھیں اور دوبارہ جنگ کے لئے تیار کرتی تھیں اسی لئے اسلام نے شو ہروں کی خدمت انجا م دینے کو جہاد فی سبیل اللہ کے برابر قرار دیا ہے اور حضرت زہرا(س) اسلام کی حقانیت سے بخوبی آگاہ تھیں ۔


لہٰذا کبھی بھی شوہر کے حقوق کو ادا ء کر نے میں کوتاہی نہیں فرمائی نیز گھر کی تمام ذمہ داری کو انجا م دینے کے علاوہ خارجی امور جو حضرت علی کے ذمہ تھے ان میں بھی حضرت علی کی مدد فرماتی تھیں پس حضرت زہرا کی سیرت یہ ہے کہ آپ ہمیشہ حضرت علی کو خوش رکھا کر تی تھیں یہی وجہ ہے کہ حضرت علی نے حضرت زہرا کے آخر ی وقت میں فرمایا اے رسول خدا کی بیٹی تم نے کبھی بھی گھر میں برا سلوک نہیں کیا تمہاری خدا کی معرفت اور پر ہیز گاری اور نیکو کاری اس حدتک تھی کہ جس پر اعتراض کی گنجائش ہی نہیں تھی لہٰذا مجھ پر تمہاری جدا ئی اورمفارقت بہت ہی سنگین اور سخت ہے لیکن ہر نفس کو مو ت کا ذائقہ چکھنا ہے پس اس سے بھا گنے کی گنجائش نہیں ہے(۱)

پس خواتین حضرات شوہر کے لئے زینت ان سے محبت وعشق کے ساتھ گفتگو کرنا ہر وقت شوہر کی مدد میں جدو جہد کرنا ،ان کے سامنے نازیبا الفاظ، ناپسندیدہ حر کتوں سے اجتناب کر نا زہرا کی سیرت اور اولین فرائض میں سے شمار کیا جاتا

____________________

(۱) بحارالا نوار جلد ۴۳


ہے جس کا نتیجہ عو ر توں کو ہی ازدواجی زندگی میں نمایاں حالت میں نظر آئے گا لہٰذا دنیوی زندگی کی لذتوں سے بہرہ مند اورابدی زندگی میں نجات کے خواہاں ہیںتو شوہر کی خدمت کرنا فراموش نہ کیجئے اگرچہ ہمارے زمانے میں کچھ خواتین پڑھی لکھی ہونے کا دعوی کرنے کے ساتھ نہ صرف حضرت زہرا کی سیرت پر نہیں چلتی بلکہ شریعت اسلام میں مر دوں کے ذمہ مقرر شدہ تکالیف کواپنے کا ندھوں پر اٹھا نے کی کو شش کر تی ہوئی نظر آتی ہیں اور اسی کو اپنی کا میابی سمجھ کر دوسری عور توں پر ناز کرنے کا ذریعہ بھی سمجھتی ہیں جب کہ گھر یلو امور کو انجام دینا اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتی بلکہ اس کو مرد کے ذمہ قرار دیتی ہیں یہی وجہ ہے بیوی اتنی خوبصورت اور ہر لائن میں صلاحیت کے مالک ہو نے کے باوجود مر د اس عورت کے ساتھ زندگی کرنے پر جدا ئی اور طلاق دینے کو تر جیح دیتا ہے اسی لئے اسلام میں عورتوں کی رفتار کو پیغمبر اکرم نے اس طرح بیان فرمایا ہے اگر خدا کے علاوہ کسی بشر کو سجدہ کر نا جا ئز ہو تا تو میںسب سے پہلے عور توں کو حکم دیتا کہ تم اپنے شوہروں کو سجدہ کرو(۱)

یعنی مر د اور شوہر کا احترام بہت زیادہ ہے نیز آنحضرت نے فرمایا بیوی پر شوہر کا حق یہ ہے جب بھی شوہر اس کو چا ہے تو مخا لفت نہ کر یں اور اس کو کوئی حکم دے تو اس پر عمل کر ے ۔(۲)

____________________

(ا)فروع کا فی جلد ۵ (۲) مستدرک جلد ۱۴.


تیسری روایت میں فرمایا کوئی بیوی شوہر کی اجا زت کے بغیر مستجی روزہ نہیں رکھ سکتی اگر شوہر کی اجا زت کے بغیر رکھا تو گنہگار وں میں سے ہو گی(۱)

چوتھی روایت میں آپ نے فرمایا بیوی شوہر کی اجا زت کے بغیر شوہر کے اموال میں سے کو ئی چیز صدقہ نہیں دے سکتی اگر اجا زت کے بغیر صدقہ دیا تو خدا نہ صرف اس کو صدقہ کا ثواب نہیں دیتا بلکہ اس کو گنہگاروں میں شمار کیا جا تا ہے(۲)

بس ان مذ کورہ روایات کو خواتین حضرات دقت سے غور کریں تو معلوم ہو جا تا ہے کہ شوہر کے ساتھ گزاری جا نے والی زندگی کتنی اہمیت کی حا مل ہے اس زندگی کو آباد اور خو شگوار گزارنا کتنا مشکل ہے لہٰذا پیغمبر اکرم نے ایک خا تون کے سوال کے جواب میں فرمایا خاتون نے پو چھا یا رسو ل اللہ عورتوںپر مردوں کاکیاحق ہے ،آپ نے فرمایابیویاں ہمیشہ شوہروں کی چا ہت کو پورا کر یں اگر چہ وہ کسی گھوڑے پر سوار ہی کیوں نہ ہو ں شوہر کی اجا زت کے بغیر کسی کو کوئی چیز نہ دے اگر بیویوں نے شوہر کی اجا زت کے بغیر کو ئی چیز دی تو اس کا ثواب نہ ملنے کے علاوہ وہ گنہگار بھی ہو گی(۳)

نیز آپ نے فرمایا :

____________________

(۱)مستدرک جلد ۱۴. (۳) مستدرک جلد۱۴

(۲)و مسائل جلد ۱۴


''اے لو گو! عورتوں کے کچھ حقوق تمہارے ذمہ ہیں اور تمہارے کچھ حقوق عور توں کے ذمہ ہیں لیکن جو حقوق عور توں کے ذمہ ہیں وہ یہ ہیں کہ مر د کی اجا زت کے بغیر کسی کو گھر میں آنے کی اجازت نہیں دینا۔(۱)

پس خواتین حضرات راقم الحروف سو فیصد آپ کا حا می ہے لیکن مذکورہ روایات کوذکر کرنے پو مجبور ہوں کیونکہ دور حا ضر میں میا ں بیوں کے آپس میں انس ومحبت کے تعلقات کے باو جود کتنے ظلم وستم رونما ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم کے نورانی کلام سے استفادہ کر نے کے بجا ئے ڈائجسٹ جیسی کہا نیوں پر لکھی ہو ئی کتابیں پڑھی جا تی ہیں اور گھر وں میں مغربی تہذیب وتمدن کو اپنی زندگی کا ملاک قرار دیتے ہیں جب کہ حضرت زہرا سلا م اللہ علیہا کی سیرت طیبہ سے ہم جاہل ہیں ۔

د۔بچوں کی تر بیت کر نے میں آپ کی سیرت

اکیسو یں صدی میں روز مرہ زندگی کے اہم ترین مسائل میں سے ایک بچے کی تر بیت ہے لیکن ہمارے زمانے میں ہر دانشمنداور مربی نے تر بیت کے لئیے جو فارمولے بیان کئیے ہیں ان کا اثر حتمی ہے اگرچہ ما ں باپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ

____________________

(۱)بحارالانوار جلد ۷۲


ان فار مولوں کو حضرت زہرا (س)اور حضرت علی علیہ السلام کی سیرت سے مقائیسہ کر کے نفی اور اثبات کا فیصلہ کریں تا کہ آیند ہ بچوں کی زندگی سنور سکے ورنہ ماں، باپ ،مسلمان ، صوم وصلوة کے پابند ہو نے کے باوجود اولاد غیر مسلم اور تارک الصوم وصلوة بھی ہو سکتی ہے کیو نکہ کا ئنات میں بچوں کی ما نند زود اثر اور تیز ہو ش کوئی ہستی نہیں ہے۔

لہٰذا جو سیرت والدین بچوں کے ذہن میں منقش کریں گے اسی کے مطا بق ان کی زندگی ہو گی اسی لئے کہا جا سکتا ہے کہ بچے کی تقدیر کا میابی ،نا کامی ، سعادتمندی ،شقا وتمندی ، سیا سی ،بہادر ی وغیرہ کا ہو نا ماں ،باپ کے ہا تھ میں ہے لہٰذا والدین کو چا ہیئے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اور حضرت علی علیہ السلام نے جس طرز اور کیفیت پر بچوں کو تر بیت دی ہے اسی کو مشعل راہ قرار دے کیونکہ حضرت علی علیہ السلام کا ئنات میںماہر ترین مر بی ہیں ان کی سیرت کو دنیا وآخرت دونوں میں سعادتمندی کا ذریعہ سمجھیں اس لئے کہ انہوں نے پیغمبر جیسے اشرف المخلوقات کے زیر نظرتر بیت پائی ہے ۔

لہٰذا جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ذمہ داریوں میں سے دشوار ترین ذمہ داری بچوں کی تربیت تھی آپ پانچ فرزند کی مربی تھیں امام حسن امام حسین، جناب زینب کبری ، ام کلثوم پانچواں فرزند جس کا نام پیدائش سے پہلے رسول اکرم نے محسن رکھا تھا جو دشمنوں کے ظلم وستم کے نتیجہ میں سقط ہو کر شہید ہو گیا حضرت پیغمبر اکرم آپ کی اولاد کے بارے میں فرمایا کرتے تھے میں اور


باقی انبیاء علیہم السلام کے ما بین فرق یہ ہے کہ میری نسل کا سلسلہ علی علیہ السلام کے صلب سے مقرر ہوا ہے میں فاطمہ کی اولادکا باپ ہوں جب کہ دوسرے پیغمبر وں کی ذریت ان کے اپنے صلب سے ہیں(۱)

خدا نے بھی اپنے دین کا پیشوا اور رسول کے جا نشین حضرت علی علیہ السلام کے بعد حضرت علی اور حضرت زہرا کی پاک نسل سے منتخب فرمائے ہیں لہٰذا حضرت زہرا کے وظائف میں سے سخت ترین وظیفہ بچوں کی تربیت تھا حضرت زہرا سلام اللہ علیہاکو معلوم تھا کہ امام حسن علیہ السلام کے سا تھ مقابلے میں معاویہ ،امام حسین کے مقابلے یزید زینب کبری وام کلثوم کے سامنے کو فہ وشام کی اسیری ہے تب ہی تو حضرت زہرا نے اسلام کی ضرورت کے پیش نظراپنے عزیزوں کی اس طرح تربیت کی کبھی کسی نے ظلم اور دشمنوں سے مبارزے کے وقت قربانی دینے اور شجرئہ طیبہ کی سیرابی خون کے ذریعے کرنے سے انکار نہیں کئے لہٰذا امام حسن وامام حسین اور دیگر مخدرات اہل بیت نے بنی امیہ کی بیدادگر ی اور ظلم سے اس طرح مقابلہ کیا کہ قیامت تک کے لئے ان کو شکست ہوئی پس بچوں کی شخصیت بنانا فکر و تدبر سکھا نا ،خدمت وایثار ،صلح وصفا، مہر ومحبت استقامت کے میدان میں کا میاب

____________________

(۱)منا قب ابن شہر آشوب ص۲۸۷


بنا نا ماں،باپ کی ذمہ داری ہے جس کا ضابطہ اور قانون حضرت زہرا کی سیرت ہے لہٰذا تکلم کے وقت مہرو محبت ،کھا نے کے مو قع پر صفائی ،ناجائز چیزوں سے اجتناب ، نیک اور کار خیر میں شرکت کی عادت ،اور دیگرہنروں سے ہمکنار کرنا حضرت زہرا(س) کی سیرت ہے تاکہ بچے اسے دیکھ کرتربیت حاصل کریں۔

ز۔ علم میں آپ کی سیرت

دور حاضر علم ودانش کے حوالے سے پیشر فتہ ترین دور ہے پھر بھی کا ئنات اور دنیا کی چھوٹی بڑی تمام چیزوں کی حقیقت سے آگاہ حضرت پیغمبر اکرم اور ان کے جا نشین واہل بیت رسول کے سواء کوئی اور بشر نہیں ہو سکتا ہے کیو نکہ سوائے اللہ تعالی کے کوئی بھی انسان با لذات علم و دانش کی صفت سے متصف نہیں ہے لہٰذاخدا نے انسانو ں میں سے انبیاء اوراہل بیت رسول کو علم ودانش کے لئے منتخب فرمایا اسی لئے انبیا ء علیہم السلام اوران کے جا نشین کا علم باقی انسانوں کے علم سے زیادہ اور وہم وخیال ،ظن وغیرہ سے مبرا علم سمجھا جا تا ہے جب کہ باقی انسانوں کا علم وہم وخیال اور ظن کا مجمو عہ سمجھا جاتا ہے لہٰذا حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے علم ودانش کے بارے میں یوں روایت کی گئی ہے حضرت عمار نے کہا ایک دن حضرت علی علیہ السلام دولت سرا میں داخل ہو ئے


تو جناب فاطمہ زہرا نے فرمایا اے علی آپ میرے قریب تشریف لائیں تاکہ میں آنے والے حالات، گذشتہ رونما ہوئے وقائع آپ، کی خدمت میں بیان کروں، حضرت علی حضرت زہرا س کی گفتگو سن کر حیرت میں پڑگئے اور پیغمبر اکرم کی خدمت میں شرف یاب ہو کر سلام کے بعد آپ کے نزدیک بیٹھنے لگے اتنے میں پیغمبر نے فرمایا اے علی آپ گفتگو کو شروع کریں گے یا میں شروع کروں علی نے فرمایا اے خدا کے حبیب میں آپ کی ذرین باتوں سے مستفیظ ہو نے کا خواہاں ہوں پیغمبر اکرم نے فرمایا آپ میرے پاس اس لئے آئے ہیں کہ جوبات حضرت فاطمہ نے آپ سے کہی ہے اس کا حل مل جا ئے حضرت علی نے عرض کیا اے خدا کے رسول کیا فاطمہ کا نور بھی ہمارے نورسے ہے؟

پیغمبر اکرم نے فرمایا اے علی کیا یہ بات آپ نہیں جانتے تھے؟

حضرت علی یہ بات سن کر سجدہ کرنے لگے اوراللہ تعالی کا شکر ادا کیا پھر جناب فاطمہ کی خدمت میں واپس آئے حضرت فاطمہ کی جیسے ہی حضرت علی پر نظر پڑی تو فرمایا یا علی آپ میرے بابا کے پاس گئے تھے حضرت علی نے فرمایا جی ہاں حضرت فاطمہ نے فرمایا اے ابوالحسن خدا نے جب میرے نور کوخلق کیا اس وقت وہ اللہ تعالی کی تسبیح کر تا تھا(۱)

نیز امام حسن العسکری علیہ السلام نے فرمایا ایک دن ایک خاتون حضرت فاطمہ کی خدمت میں آئی اور عرض کی میری ما ں عام عادی حالت میں نما ز انجام

____________________

(۱) بحارجلد ۴۳ص۲۴.


دینے سے عاجز ہے لہٰذا ان کودرپیش کچھ مسائل آپ سے سوال کر نا چا ہتی ہوں اس عورت نے دو مسئلوں کے بارے میں سوال کیا آپ نے ان کا جواب فرمایا۔(۱)

پس مذکورہ روایات اور ان کے علاوہ باقی اخبار سے بخوبی استفادہ ہو جا تا ہے کہ کائنات میں حضرت زہرا کی مانند کوئی پڑھی لکھی خا تون نہ آئی ہے نہ آئے گی اس کے باوجود آپ نے کبھی مردوں کے مخصوصاامور میں نہ صرف مد اخلت نہیں کی بلکہ ہمیشہ عورتوں کے زمرے میں رہ کر گھر کو سجایا شوہر کی خدمت امامت کی حفاظت رسالت کی مددگار رہی ہیں پس اگر سیرت حضرت زہرا کو صحیح معنوی میں سمجھے تومعلوم ہوگا کہ آپ نے کبھی پڑھی لکھی ہو نے کا دعوا نہیں کیا لہٰذ ہمارے زما نے میں خواتین وحضرات کا ذاکرہ اہل بیت یا مسئلہ گو کی حیثیت سے ممبر رسول پر تشریف لے جا نے میں بنیادی شرط حضرت زہرا کی سیرت ہے اس سے باخبرنہ ہو نے کا نتیجہ اسلامی تہذیب وتمدن سے دوری کی علامت ہے نیز حضرت زینب سلام اللہ علیہا واقعہ کر بلا کے بعد شام سے دوبارہ مدینہ منورہ لونٹے تک پورے اسراء آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سر پرست ہو نے کے باوجود امامت کے محا فظ رہی ہے لیکن اس عرصے میں جو سیرت آپنے چھوڑی ہے وہ ہمارے زمانے کے ذاکرہ حضرات کے لئے ممبر کے وضائف اور اسلام کی خدمت انجام دینے میں بہترین راہ ہے ۔

____________________

(۱)بحار الانوارج۳ص۴۲.


ر۔عبادت میں آپ کی سیرت

مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ جو تاکید کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ کسی فعل وقول اور عبادت میں افراط وتفریط نہ کریں لہٰذا قرآن کا ئنات میں دو قسم کے انسانوں کی مذمت کر تے ہو ئے نظر آتاہے ۔

۱۔خدا کی بالکل عبادت نہ کرنے والے افراد۔

۲۔ خدا کی عبادت میں اصول وضوابط کے بغیر کثرت سے انجام دینے والے افراد۔

یہ دونوں گروپ حقیقت میں سیرت چہاردہ معصومین علیہم السلام کو اپنی زندگی کے لئیے مشعل راہ قرار نہ دینے کا نتیجہ ہیں پس اگر انسان حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے ہر عمل اور رفتار کا کڑی نظر سے مطالعہ کر ے تو واضح ہو جا تا ہے کہ حضرت زہرا نے ہمارے لئے خدا کی عبادت انجام دینے میں کیا نقش اور سیرت چھوڑی ہے تا کہ خواتین عبادت کی انجام دہی میں افراط وتفریط کا شکار نہ ہو جا ئیں کیو نکہ آپ کی پوری زندگی اگر چہ مختصر صحیح لیکن بچوں کی تربیت ،خدا کی عبادت پیغمبر اکرم اور حضرت علی کی تھکاوٹوں کودور کرنے بھوک و پیاس بجھانے دوبارہ میدان جنگ میں بھیجنے کی تیاری کے کاموں میں مصروف رہی ہیں لہٰذا آپ نے کھبی کسی کام کو انجام دینے میں افراط و تفریط اور کوتاہی نہیں فرمائی تب ہی تو حضرت زہرا حق و باطل نجات و عذاب جنت و جہنم کا معیار بنیں ہیں چنانچہ پیغمبر اکرم کا ارشاد ہے :


''قال بعث رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم سلمان الی فاطمة قال فوقفت بالباب وقفة حتی سلمت فسمعت فاطمة تقراالقرآن من جو والرحی تدو رمن بر وما عند ها انیس (وقال فی اخر الخیر )فتبسم رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم فقال یا سلمان ان ابنی فاطمة ملاالله قلبها وجوار حها ایمانا الی مشاشها تفرغت لطاعت الله فبعث الله ملکا اسمه ذو قابل وفی خبر اخر جبرائیل فادار لها الرحی وکفی هاالله مؤنة الدنیا مع مؤنةالاخرة (۱)

(ترجمہ )ایک دن پیغمبر اکرم نے جناب سلمان کوحضرت فاطمہ کے دولت سری بھیجا تو حضرت سلمان نے کہا جب میں زہرا کے گھر کے دروازہ پر پہنچا تو تھوڑی دیر رک گیا تاکہ (اجازت لے لوں )اور سلام کہوں اتنے میں اندر سے حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کی تلاوت قرآن پاک کی آواز سنی جبکہ کنارے پر چکی کسی پیسنے والے کے بغیر گندم پیس رہی تھی اس حالت کو پیغمبر کی خدمت میں بیان کیا تو آپ نے تبسم کے ساتھ فرمایا اے سلمان خدا نے میری بیٹی فاطمہ کے دل کی

____________________

(۱)بحارالانوارجلد ۴۳ص۴۶.


گہرائیوں اور روح کو ایمان سے پر کردیا ہے جب وہ اللہ کی عبادت کے لئے کھڑی ہوجاتی ہے تو خدا وند ایک فرشتہ کو جس کا نام ذوقابل یا دوسری روایت کے بناء پر جبرائیل کو نازل کرتا ہے وہ ان کی چکی چلاتا ہے اور خدا نے حضرت فاطمہ زہرا کو دنیا و آخرت میں بے نیاز کردیا ہے دوسری روایت جو بہت ہی لمبی اور دلچسپ روایت ہے لیکن اختصار کے پیش نظر صرف ایک حصہ کو نقل کرتے ہیں:

'' فقیل یارسول الله اهی سیدة نساء عالمها فقال صلی الله علیه وآله وسلم ذاک لمریم بنت عمران فاما ابنتی فاطمة فهی سیدة نساء العالمین من الا ولین و الاخرین وانها تقوم فی محرابها فیسلم علیها سبعو ن الف ملک من الملائکة المقربین وینادونها بما نادت به الملائکةمریم فیقولون یافاطمة ان الله الصطفاک وطهرک والصطفاک علی نساء العامین '' (۱)

(ترجمہ )جب آپ سے پوچھا گیا اے خدا کے رسول کیا حضرت فاطمہ عالم کی عورتوں کی سردار ہیں؟

آپ نے فرمایا عالم کی عوتوںکا سردار مریم ہیں لیکن میری بیٹی فاطمہ پورے اولین و آخرین کی عورتوں کا سردار ہیں اور حضرت فاطمہ جب اپنے مصلی پر محراب

____________________

(۱)بحارالانوار جلد ص۴۳.


عبادت میں کھڑی ہوجاتی ہے تو اس پر خدا کے فرشتوں میں سے ایک ہزار فرشتے سلام کرتے اور وہ فرشتے جو حضرت مریم کو ندا دیتے تھے وہی حضرت زہرا کو بھی ندا دیتے ہیں اور فرماتے ہیں اے فاطمہ خدا نے آپ کو منتخب کیا ہے اور پاک و پاکیزہ قرار دیا ہے اور تمام عالم کی خواتین پر آپ کو سردار قرار دیا ہے نیز امام حسن علیہ السلام نے فرمایا :

''رایت امی فاطمة قامت فی محرابها لیلة جمعتها فلم تزل'' (۱)

(ترجمہ )میں نے شب جمعہ اپنی والدہ گرامی فاطمہ زہرا کو اس حالت میں دیکھا کہ آپ صبح تک اللہ تعالی کی عبادت میں مشغول ہوتی تھیں اور نام لے لے کر لوگوں کے لئے دعا فرمارہی تھی لیکن ہمارے حق میں دعا نہیں کرتی تھی میں نے عرض کیا مادر گرامی کچھ اپنے بارے میں بھی دعا فرمائیں آپ نے فرمایا بیٹا پہلے ہمسایہ پھر خانوادہ۔

اسی طرح امام حسین علیہ السلام نے فرمایا حضرت فاطمہ زہرا تمام لوگوں سے زیادہ عبادت کرنے والی خاتون تھیں خدا کی عبادت میں اتنا کھڑی رہتی تھیں کہ ان کے پائوں میں ورم آجاتا تھا نیز پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

____________________

(۱)بحارالانوار جلد۴۳ص۸۱


''اما ابنتی فاطمة فانها سیدة نساء العالمین من الاولین والاخرین وهی بضعة منی وهی نورعینی وهی ثمرة فوادی وهی روحی التی بین جنبی وهی الحوار ء الانسیة متی قامت فی محرابها بین یدی ربهاجل جلاله ظهرنور ها لملائکة السماء کما یظهر نور الکواکب لاهل الارض ویقول الله عزو جل لملائکته یاملائکتی انظر واالی امتی فاطمة سیدة امائی قائمة بین ید ی ترتعد فرائضها من خیفتی وقد اقبلت بقلبها علی عبادتی اشهد کم انی قد امنت شعتیها من النار.'' (۱)

(ترجمہ )پیغمبر اکرم نے فرمایا میری بیٹی فاطمہ پورے عالم کے اولین و آخرین کی عورتوں کا سردار ہے وہ میرا ٹکڑا ہے میری آنکھوں کا نور دل کی دھڑکن اور میری روح رواں ہے انسان کی شکل میں وہ حور ہے جب عبادت کے لئے محراب میں کھڑی ہوجاتی ہے تو آپ کا نور فرشتوں کو چمکتا ہوا نظر آتا ہے لہٰذا خدا نے ملائکوں سے خطاب کیا تم میری کنیز کی طرف دیکھو جو میری عبادت کے لئے محراب میں کھڑی ہے ان کے اعضاوجوارح میرے خوف سے لرزرہے ہیں ،تمام اعضاء وجوارح میری عبادت میں مشغول ہیں اے فرشتو! گواہ رہنا فاطمہ اور فاطمہ کے پیروکاروں کو جہنم کی آگ سے نجات دینے کی ضمانت دیتا ہوں۔

____________________

(۱)بحارالانوار جلد ۴۳.


پس مذکورہ روایات کا نتیجہ یہ ہو تا ہے حضرت زہرا کی عبادت ساری خواتین کی عبادت سے زیادہ ہے لیکن کبھی آپ نے عبادت کر نے میں افراط وتفریط سے کام نہیں لیا پس حضرت زہرا کی عبادت ہماری عبادت کے لئے بہتر ین نمونۂ عمل ہے ۔

س۔زہد وتقویٰ میں آپ کی سیرت

اگر زہدوتقویٰ کے نام سے کوئی چیز باقی ہے توحضرت زہراسلام اللہ علیہا اور حضرت علی علیہ السلام کی سیرت ہے وگرنہ پیغمبر اکرم کے بعد تاریخ گواہ ہے لوگوں کے ایمان اور حکومت کر نے کا طریقہ ، لو گوں کے آپس میں بیت المال تقسیم کر نے کی حالت ،مساجد ومرا کز علمیہ آباد کر نے کا طور وطریقہ کیا رہا ہے ،لہٰذا حضرت علی اور حضرت زہرا(س) کی سیرت سے ہٹ کر دیکھا جا ئے تو زہد وتقویٰ بے معنی ہے اسی لئے آپ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے خوف خدا کا اندازہ اس روایت کے ذریعے کر سکتے ہیں جب پیغمبر اکرم پر( وَ إنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أجْمَعِينَ * لَها سَبْعَةُ أبْوابٍ لِكُلِّ بابٍ مِنْهُمْ جُزْءٌ مَقْسُومٌ ) (۱) نازل ہو ئی جس سے آپ بہت مغموم ہوئے اور رونے

____________________

(۱)(ترجمہ) اور ان سب کے واسطے (آخری ) وعدہ بس جہنم ہے جس کے سات دروازے ہوں گے ہر دروازے میں جا نے کے لئے ان گمراہوں کے الگ الگ ٹولیاں ہوں گی) (سورةحجرآیت ۴۳،۴۴)


لگے جس کے نتیجہ میں آنحضرت کے اصحاب بھی گریہ کر نے لگے لیکن اصحاب نہیں جانتے تھے پیغمبر پرکو ن سی آیت شریفہ نازل ہوئی ہے پیغمبر اکرم کی اس کیفت میں کسی کو جرأت نہیں ہو ئی کہ رونے کا راز پوچھے لیکن جب اس حالت میں حضرت زہرا کو نظر آئے تو آپ خوش ہوگئے یہ حالت دیکھ کر کچھ صحا بہ حضرت زہرا کے پیچھے جا نے لگے جب اصحاب حضرت زہراکے پاس پہنچے تو دیکھا کہ حضرت زہرا چکی چلاتی ہوئی فرمارہی ہے کہ جو کچھ خدا کے پاس ہے وہ تمام چیزوں سے برتر اور ہمیشہ رہنے والی چیز ہے اصحاب نے حضرت زہرا کو سلام کیا اور پیغمبر اکرم کی پریشانی کی حالت کو سنا یا تو حضرت زہرادوڑتی ہوئی پیغمبر کی خدمت میں آئیں اور پوچھا بابا جا ن میں آپ پر فدا ہو جائوں آپ کے رونے کا راز کیا ہے؟

آنحضرت نے مذ کورہ آیت کی تلاوت کی جو جبرائیل لے کر آئے تھے جب حضرت زہرا نے آیت سنی تو بے اختیار رونے لگیں اور گر پڑی اور فرما یا افسو س ہوا ن لوگوں پر جو جہنم میں جائیں گے۔(۱)

سلمان فارسی نے کہا کہ ایک دن میں نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو پرانی پٹی لگی ہو ئی چادر پہن کر دیکھا میں نے تعجب سے کہا اے فاطمہ روم اور ایران کے بادشاہو ں کی بیٹیاں بٹھینے کے لئے سو نے کی کر سی جسم پر بہت ہی خوبصورت

____________________

(۱)بحار الانوار ج۴۳ ص ۲۸.


اور قیمتی کپڑا پہن کر رہتی ہے لیکن خدا کے رسول کی بیٹی کی چادرپرانی جسم پر کوئی معمولی کپڑا کیوں ؟ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے فرمایا:

'' اے سلمان ! اللہ نے ہماری زینتی لباس اور سونے کی کرسیاں قیامت کے لئے ذخیرہ کررکھا ہے۔''(۱)

پس اگر زہد سیکھنا چاہے تو حضرت زہرا کے نقش قدم پر چلیں کیونکہ حضرت زہرا کی تربیت پیغمبر اکرم اور جبرائیل کے زیر نظر ہو ئی ہے لہٰذہ ہر زمانے میں ہر انسان کے لئے حضرت زہرانمونہ عمل ہیں ایک دن ایک شخص نے مسجد نبوی میں لوگوں سے مدد کر نے کی درخواست کی تو پیغمبر اکرم نے اصحاب سے فرمایا :

''کون اس نیاز مند کی مدد کرے گا جناب سلمان اٹھ کھڑے ہو ئے اور کہا میں اس کی ضرورت کو پورا کروں گا یہ کہہ کر لو گوں سے انکی مدد کر نے کو کہا لیکن کہیں سے کو ئی مدد کر نے والا نہیں ملا نا امید ی کی حالت میں مسجد نبوی کی طرف آرہے تھے اتنے میں یا دآیا کہ حضرت زہرا کا گھر ہمیشہ نیکیوں کا سر چشمہ رہا ہے یہ کہہ کر قریب پہنچے دروازہ کھٹکٹھا یا سلام کے بعد سائل کی حالت کو سنایا توحضرت زہرا نے فرمایا اے سلمان اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمد کو مبعوث کیا کہ ہم نے بھی کو ئی غذا تناول نہیں کی ہے جس کے نتیجہ میں میرے دوفرزند حسن وحسین

____________________

(۱) تفسیر نور الثقلین ج۵صفحہ ۱۱۴.


بھوک وپیاس کی شدت سے بے قراری کے عالم میں خواب سے محروم ہوئے ہیں لیکن ہم نے کبھی کسی نیازمند کی ضرورت کو پورا کئے بغیر واپس نہیں کیا ہے لہٰذا میرا یہ پیراہن لیجئے اس کو دکاندار شمعون کے پاس گروی رکھ کر کچھ خرما اور کھا نے کی چیزیں قرضہ لے کر ہماری طرف سے نیاز مند کو دے دیں، جناب سلمان نے پیراہن لے کر دکاندارکے پاس گروی رکھ کر کچھ خرما اور روٹی لے کر زہرا کے پاس آئے اور کہا اے دختر پیغمبر اس خرما اور روٹی میں سے کچھ حسنین کے لئے لے لیجئے حضرت زہرا نے فرمایا اے سلمان میں نے نیازمند کو بخاطر خدا دیا ہے اس سے ہم استفادہ نہیں کر سکتے(۱)

ایک دن پیغمبر اکر م حضرت زہرا کے پاس پہنچے تو حضرت زہرا سے پوچھا آپ کی حالت کیسی ہے ؟ زہرا نے فرمایا بابا جان میری حالت یہ ہے کہ ٹوٹل گھر میں ایک بڑی چا در ہے جس کو آدھی فرش کے طور پر بچھا تی ہوں آوھی کمبل کے طور پر اوڑہتی ہوں(۲)

ایک دن لو گ مسجد نبوی میں نماز عشا ء کے لئے جمع ہو ئے تھے نماز عشا ء جماعت کے ساتھ پڑھنے کے بعد جما عت کی صف ابھی باقی تھی اتنے میں ایک نمازی نے اٹھ کر کہا اے مؤمنو ! میں غریب اور تنگدست ہو ں میرے پاس کھا نے

____________________

(۱)احقاق الحق جلد ۱۰ کتاب داستان (۲)بحارالا نوار جلد ۴۳ ص ۸۸.


کے لئے کو ئی چیز نہیں ہے میری مدد فرمائیں جب اس کی بات پیغمبر اکرم نے سنی تو فرمایا اے لوگو تنگدستی اور غربت کی بات نہ کیجئے کیو نکہ غربت اور تنگد ستی کی خبر سن کر میرا سانس رک جا تا ہے کیونکہ کا ئنا ت میں چار چیز یں بہت ہی غریب ہیں:

۱) وہ مسجد جو کسی قبیلہ یا محلہ میں ہو لیکن نماز پڑھنے والانہ ہو۔

۲)وہ قرآن جو مسلمانوں کے پاس ہو لیکن تلاوت نہ ہو تی ہو۔

۳) وہ عالم جو کسی شہر یا ملک میں ہو لیکن کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔

۴) وہ مسلمان جو کسی کا فر اور ملحد کے ہا تھوں اسیر ہوا ہو۔

یہ چیزیں غریب ہیں پھر پیغمبر اکرم نے اصحاب کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کو ن ہے جو اس سائل کی مہمان نوازی کرے تا کہ اللہ اس کے بدلے میں جنت الفردوس کی نعمت سے بہرہ مند کر سکے؟

اتنے میں حضرت علی علیہ السلام اٹھ کھڑ ے ہو ئے اور مہمان نواری کر نے کا اظہار فرمایا پیغمبر اکرم نے فقیرکو حضرت علی علیہ السلام کے حوالہ کیا حضرت علی فقیر کو لے کر دولت سرا کی طرف روانہ ہو ئے جب حضرت علی فقیر کو لے کر گھر میں پہنچے تو حضرت فاطمہ زہرا کو حالت سنائی اور حضرت زہرا سے فقیر کے لئے کھا نا طلب کیا حضرت زہرا نے فرمایا یا علی صرف ایک بندہ کا کھانا ہے جب کہ خود حضرت علی نے روزہ بھی رکھا ہوا تھا


کھانا حضرت علی کی خدمت میں حاضر کیا حضرت علی نے کھا نے کی طرف نگا ہ کی تو دیکھا کھا نا بہت کم ہے حضرت علی نے خود سے کہا اگر میں مہمان کے ساتھ کھا نے میں شریک ہو جا ئوں تو مہمان کی بھوک ختم نہیں ہو گی حضرت علی نے آہستہ حضرت زہرا سے کہا چراغ بجھا دو، حضرت زہرا نے چراغ کو خاموش کر دیا دو بارہ روشن کر نے میں تا خیر کی تاکہ مہمان سیر ہو جا ئے جب کہ تاریکی میں حضرت علی علیہ السلام نے مہمان کی خدمت میں لب مبارک کو غذا کے بغیر حر کت دیتے رہے تا کہ فقیر یہ نہ سمجھے کہ حضرت علی علیہ السلام میرے ساتھ کھا نا نہیں کھا رہے ہیں اسی طرح مہمان نے کھانا کھا یا اور علی کے کنارے پر بیٹھنے لگا تو دیکھا غذا کھا نے کے بعد بھی با قی ہے حضرت علی کے گھر والے بھی بھو کے تھے اس باقی ما ندہ کھا نے کو کھا نا شرو ع کر دیا اسی سے سب سیر ہو ئے جب صبح ہو ئی تو حضرت علی نماز صبح کے لئے مسجد گئے تو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پو چھا اے علی مہمان کے لئے کھا نے کی کو ئی چیز تھی ؟

حضرت علی نے فرمایا خدا کا شکر ہے مہمان کے سا تھ مہمان نوازی اچھی گزری پیغمبر اکرم نے حضرت علی سے فرمایا اے علی خدا نے آپ کی مہمان نوازی کی خا طر اور چراغ خاموش کر کے مہمان کے ساتھ غذا تنا ول نہ کر نے پر تعجب کر تے ہوئے جبرائیل کے ساتھ یہ آیہ شریفہ آپ کی شان میں نازل کی ہے :

( وَیُؤْثِرُونَ عَلَی انْفُسِهِمْ وَلَوْ کَانَ بِهِمْ خَصَاصَة ) (۱)

____________________

(۱) سورہ حشر آیت ۹.


(تر جمہ ) اور وہ لو گ دوسروں کو اپنے نفس پر تر جیح دیتے ہیں اگر چہ اپنے اوپر تنگی ہی کیوں نہ ہوں ۔(۱)

ان مذکر رہ روایات سے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے تقوی وزہد کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ آپ حقیقی تقوی اور زہد کی مالک تھیں لہٰذا خلوص نیت کے ساتھ رضائے الہی کی خاطر خود اپنی بھوک اور پیاس پر دوسروں کو مقدم کر تی تھی۔

جناب ہروی نے جناب حسین ابن روح سے سوال کیا کیوں حضرت زہرا افضل ہیں ؟ حسین ابن روح نے کہا حضرت زہراکے افضل ہو نے کی دو وجہ ہے

۱) پیغمبر اکرم کی حقیقی وارث تھیں

۲) پیغمبر اکر م کی نسل کے بقا کا سلسلہ حضرت زہرا کی نسل سے ہے کہ یہ خصوصیت پیغمبر اکرم نے حضرت زہرا کوعطا فرما ئی ہے ۔(۲)

____________________

(۱) کتاب داستان ،مجمع البیان ج۱۰، المیزان ج۲۰

(۲) زندگانی حضرت زہرا (س).


پا نچویں فصل

کراما ت حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا )

۱) آپ کے معجز ات اور کراما ت میں سے ایک یہ ہے کہ جب پیغمبر اکرم رسالت پر مبعوث ہو ئے تو کفار مکہ کو ایمان اور وحد انیت کی دعوت دی انہوں نے پیغمبر کی سچائی پر شق القمر کرنے کو کہا اس وقت حضرت خدیجہ بہت ہی پریشان ہونے لگیں جبکہ حضرت زہرا آپ کے شکم میں تھیں حضرت خدیجہ کے شکم ہی سے حضرت زہرا نے کہا: مادرگرامی کفار مکہ کی تکذیب رسول کرنے پر آپ نہ ڈریں کیونکہ خدا میرے پدر بزرگوار کے ساتھ ہے تب ہی تو حضرت زہرا کی ولادت ہوتے ہی دنیا نور سے منور کردیا۔(۱)

۲) نیز قریش کی عورتیں جب حضرت خدیجہ کو تنہا چھوڑی تھیں تو حضرت زہرا شکم مادر سے حضرت خدیجہ کی پریشانی کو دور فرماتی تھیں، لہٰذا ایک دن پیغمبر

____________________

(۱)بحار الانوار ج ۴۳.


اکرم نے حضرت خدیجہ سے سوال کیا آپ کس سے تکلم کرتی ہیں جناب خدیجہ نے فرمایا:

''الجنین الذی فی بطنی یحدثنی ویونسنی ویخبرنی انها انثی'' (۱)

اے پیغمبر اکرم میں اس فرزند سے گفتگو کرتی ہوں جو میرے شکم میں ہے وہ مجھ سے گفتگو کرتی ہے او رمیرا مونس ہے جبرئیل نے مجھے خبردی ہے کہ وہ ایک بیٹی ہے۔

اگرچہ اکیسویں صدی کے مفکرین اور ماہرین ماں کے شکم سے بچہ جنم کرنے سے پہلے تکلم کرنے کو محال سمجھتے ہیں لیکن خدا کی قدرت اور نظام ہمیشہ اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ رہا ہے لہٰذا حضرت زہرا ماں کے شکم سے تکلم کرنا جناب خدیجہ کی پریشانی کو دور ہونے کا ذریعہ ہونے کے علاوہ اعجاز سمجھا جاتا ہے۔

۳) امام علی علیہ السلام نے فرمایا: ایک دن میں نے بازار سے ایک درہم کا گوشت اور ایک درہم کے گندم خریدلیا اور حضرت زہرا کے پاس آیا اور کھانا بنانے کے لئے حضرت زہرا کے حوالہ کیا حضرت زہرا نے کھانا تیار کرنے کے بعد فرمایا:

____________________

(۱)سیمائے فاطمہ.


اے علی کیا میرے پدر بزرگوار کو دعوت نہیں دیںگے؟

یہ سن کر حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اکرم کو بلانے گئے پیغمبر اکرام زوجات کے ساتھ تشریف لائے سب نے مل کروہ کھانا تناول فرمایا لیکن کھانا پھر بھی بچ گیا۔(۱)

۴) جناب سیدہ کونین کے معجزات میں سے چوتھا معجزہ یہ ہے:

ان علی استقرض من یهودی شعیرا فاسترهنه شیئا فدفع الیه ملاء ة فاطمة رهناً وکانت من الصوف فادخلها الیهودی الی دار ووضعها فی بیت فلما کانت اللیل دخلت زوجته البیت الذی فیه الملاء ة بشغل فرأت نورا ساطعا فی البیت اضاء به کله فانصرفت الی زوجها فاخبرته بانها رأت فی ذالک البیت ضوء ا عظیما فتعجب الیهودی زوجها وقد نسی ان فی بیته ملاء ة فاطمة فنهض مسرعا ودخل ....(۲)

ایک دن حضرت علی علیہ السلام نے ایک یہودی سے کچھ مقدار جوکا قرض مانگے یہودی نے گروی مانگا جس کے بدلے میں آپ نے حضرت زہرا کی اُون سے بنی ہوئی چادر کو گروی رکھا یہودی نے اس چادر کو لے کر گھر کے کسی کمرے میں

____________________

(۱) بحار الانوار ج۴۳. (۲)بحارا لانوار ج۴۳ ص ۳۰.


رکھا تھا، جب رات ہوئی تو یہودی کی بیوی اس کمرہ میں جانے کا اتفاق ہوا تو دیکھا کمرہ نور سے روشن ہے واپس شوہر کے پاس آئی اور کہا کمرے میں بہت روشنی نظر آرہی ہے شوہر تعجب سے دوڑتا ہوا کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ حضرت زہرا کی چادر چاند کی مانند منور ہے جس نے گھر کو منور کردیا ہے یہودی کو معلوم ہوا کہ یہ نور اسی چادر کی برکت سے ہے لہٰذا میاں بیوی دونوں اپنی قوم اور قبیلہ والو ں کو اس معجزہ سے آگاہ کیا جس کے نتیجہ میں اسی ہزرا یہودی دیکھنے کو آئے سب نے اس معجزہ کو دیکھا اور مسلمان ہوگئے۔

جناب ابوذر فرماتے ہیں:

۵)بعثنی رسول الله ادع علیاً فاتیت ببیته فنادیته فلم یجبنی احد والرحی تطحن ولیس معها احد فنادیته فخرج واصف الیه رسول الله (۱)

ایک دین پیغمبر اکرم نے مجھے حضرت علی کو بلانے کے لئے بھیجا میں حضرت علی علیہ السلام کے دروازے پر پہنچا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن جواب نہ ملا جبکہ چکی چل رہی تھی پھر دوبارہ دروازہ کھٹکھٹایا تو حضرت علی علیہ السلام نے دروازہ کھولا، پیغمبراکرم کا پیغام میں حضرت علی علیہ السلام کو دیا اور حضرت علی علیہ

____________________

(۱) بحار الانوار ج۴۳.


السلام فوراً پیغمبر اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے، پیغمبر اکرم نے ان سے کچھ فرمایا، لیکن میری سمجھ میں نہ آیا میں نے پیغمبر اکرم کی خدمت میں گھر کے عجیب حالات کوبیان کیا تو پیغمبر اکرم نے فرمایا خدا نے میری بیٹی فاطمہ کے دل اور تمام اعضاء وجوارح کو ایمان سے مالا مال فرمایا ہے اور ان کی نازک حالت سے باخبر ہے لہٰذا مشکلات کے وقت خدا ان کی مدد کے لئے فرشتے نازل فرماتا ہے۔

ان تمام معجزات او رکرامات سے بخوبی باشعور ہستی کے لئے واضح ہوجاتا ہے کہ حضرت زہرا کی شخصیت اور مقام ومنزلت خدا کی نظر میں کیا ہے؟

خدا نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو ہماری نجات او رکامیابی کا وسیلہ بناکر خلق فرمایا ہے لیکن ہم ہی پیغمبر اکرم کی وفات کے بعد ان کی تجہیز وتکفین سے پہلے حضرت زہرا کے ساتھ کس سلوک سے پیش آئے ان کی شخصیت کو کیسے پامال کیا ان کا ہدف کیا تھا نتیجہ کیا ہوا؟ اس پر غور کرنا انسانیت کا تقاضا ہے کیونکہ حضرت زہرا ہماری کامیابی اورسعادتمندی کا ذریعہ ہیں ، حضرت زہرا اور علی کے علاوہ کائنات کا مطالعہ کریں تو سوائے تاریکی اور گمراہی کے کوئی چیز نظر نہیں آتی ۔


۶) نیز آپ کے کرامات میں سے ایک یہ ہے کہ،ایک دن نجران کے نصاری میں سے ایک گروہ پیغمبر کی خدمت میں آیا جن میں ان کے بزر گواروں میں سے بڑی بڑی شخصیت کے مالک عاقب ،محسن اور اسقف بھی شامل تھے اور پیغمبر سے پوچھا اے ابوالقاسم حضرت موسی کے باپ کا نام کیا تھا؟ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا عمران پھر پوچھاحضرت یوسف کے باپ کا نام کیا تھا ؟ فرمایا حضرت یعقوب پھر سوال کیا میرے ماںباپ آپ پر قربان ہوجائیں آپ کے والد گرامی کا نام کیا تھا ؟ فرمایا عبداللہ بن عبدالمطلب پھراسقف نے پوچھا حضرت عیسی کے پدر کون تھے ؟ پیغمبر اکرم خاموش رہے اتنے میں حضرت جبرائیل نازل ہو کر کہا اے پیغمبران سے کہہ دیجئے کہ حضرت عیسی خدا کی روح کا ٹکڑا اور کلمہ ہیں اسقف نے پھرپوچھا کیا روح باپ کے بغیر منتقل ہو سکتی ہے ؟پیغمبر اکرم خاموش رہے اتنے میں جبرائیل نازل ہو ئے اور اس آیت شریفہ کو سنایا :

( انَّ مَثَلَ عِیسَی عِنْدَ اﷲِ کَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ کُنْ فَیَکُونُ ) (۱)

بے شک خدا کے نزدیک عیسی کی حالت ویسے ہی ہے جو حضرت أدم کی حالت تھی ان کو مٹی کا پتلا بنا کر کہا ہو جائوپس (فوراہی) وہ (انسان) ہوگیا ۔

جب پیغمبر اکرم نے اس آیت شریفہ کی تلاوت کی تو اسقف اپنی

____________________

(۱)سورةال عمران آیت ۵۹.


جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا کیونکہ ان کی نظر میں حضرت عیسی کی خلقت مٹی سے نہ تھی لہٰذا کھڑے ہو کر کہا یا محمد ہم نے تورات ،انجیل اور زبور میں ایسا مطلب نہیں دیکھا ہے یہ صرف آپ فرماتے ہیں یہ آپس میں گفتگو ہو نے کے بعد اللہ تبارک وتعالی نے وحی بھیجی اور فرمایا

( فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ) (۱)

اے پیغمبر خداان سے کہدوکہ تم اپنے فرزندوں کو لے آئیں ہم اپنے فرزندان کولے کر آئیں گے اور تم اپنی عورتوں کو اور ہم اپنی عورتوں کو بلائیں اورتم اپنی جانوں کو ہم اپنی جانوں کو بلائیں اس کے بعد سب مل کر گڑ گڑائیں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں۔

جب پیغمبر اکرم نے یہ بات کی تواسقف اور انکے ساتھیوں نے کہا اے ابو القاسم آپ نے انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا لہٰذا مباہلہ کا وقت بھی مقرر کیجئے پیغمبر اکرم نے فرمایا ہم کل صبح کے وقت مباہلہ کریں گے جب صبح ہوئی تو

____________________

(۱)آل عمران ۶۱.


پیغمبر اکرم نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضرت علی کے دست مبارک کو اپنے دست مبارک میں تھام کر اور زہراسلام اللہ علیہا آپ کے پیچھے امام حسن آپ کے دائیں طرف ،امام حسین آپ کے بائیں طرف رکھ کر فرمایا (اے میرے اہل بیت )میں دعا کر تا ہوں آپ لوگ لبیک اور آمین کہیں۔آنحضرت زانوے مبارک زمین پررکھ کر بیٹھنے لگے اتنے میں نصاری کی نظران پر پڑی تو دیکھا کہ یہ پانچ ہستیاں یہاں جمع ہیں پشیمان ہو کر آپس میں مشورہ کر نے لگے اور کہا اگر ہم آنحضرت سے مباہلہ کریں گے تو یقینا خدا ان کی دعا مستجاب کرے گا اور ہم سب کی ذلت وہلاکت کے سویٰ کچھ نہیں ہے چونکہ آنحضرت جب کسی شی سے نفرت کر تے ہیں تو وہ ہلاکت اور نابودی سے نجات نہیں پا سکتی لہٰذا بہتر یہ ہے کہ ہم مباہلہ نہ کریں بلکہ پیغمبر اکرم کے ساتھ صلح کرلیں۔(۱)

۷)تاریخ چہاردہ معصوم نامی کتاب کے صفحہ۱۷۶ میں ایک روایت مرحوم قطب الدین راوندی نے جناب جابر ابن عبداللہ انصاری سے سند معتبر کے ساتھ نقل کی ہے جس کا ترجمہ قابل ذکرہے ایک وقت پیغمبر پر اس طرح گزرا کہ آپ نے کئی دنوں سے کوئی چیز تناول نہیں فرمائی تھی جس سے آپ پر بھوک اور پیاس کا غلبہ ہوا آپ زوجات کے گھروں میں تشریف لے گئے اور کھانا طلب فرمایا لیکن

____________________

(۱)فاطمہ زہرا درکلام اہل سنت


ازواج کہنے لگیں یا رسول اللہ ہمارے پاس کھانے کی کوئی چیز نہیں ہے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جناب سیدةفاطمہ زہرا کی خدمت میں پہنچے اور فرمایا اے میرا ٹکڑا اور میری بیٹی کیا آپ کے پاس کھا نے کی کوئی چیزہوگی ؟ میں کئی دنوں سے بھوکا اور پیاساہوں حضرت فاطمہ زہرا نے فرمایا:

بابا جان میں آپ پر فدا ہو جائوں خدا کی قسم میرے پاس کو ئی طعام نہیں ہے آنحضرت فاطمہ کی دولت سرا سے باہر نکلے تو اتنے میں حضرت فاطمہ زہرا کی ایک کنیز روٹی کے دو ٹکڑے گوشت کی کچھ بوٹیاں ساتھ لے کر آئی اور حضرت فاطمہ کی خدمت میں ہدیہ کیا حضرت فاطمہ زہرا نے کنیزکے ہاتھ سے کھا نے کو لیا اور پاک وپاکیزہ دستر خوان میں رکھکر کہا خدا کی قسم یہ کھا نا میں اپنے پدر بزرگوار کی بھوک اور پیاس بجھانے کے لئے رکھوںگی اگر چہ میری اولاد اور ہم سب بھی بھوک میں مبتلا ہیں حضرت زہرا نے حسنین علیہمالسلام کو پیغمبر کی تلاش میںروانہ کیا تھوڑی دیر کے بعد حسنین پیغمبر اکرم کو لے کر حضرت زہرا کی خد مت میں حاضر ہوئے تو کہا یا ابتاہ جب آپ میرے دولت سرا سے باہر نکلے تھے اتنے میں اللہ تعالی نے مجھے روٹی اور گوشت کا کچھ ٹکڑا عطا کیا جس کو میں نے آپ کے لیئے مخفی رکھا ہے پیغمبر اکرم نے فرمایا بیٹی فاطمہ وہ کھا نا لے کر آئیے جب کھانا پیغمبر کی خدمت میں پیش کیا تو دیکھا کہ برتن روٹیوں اور گو شت کے ٹکڑوں سے بھرا ہوا ہے حضرت فاطمہ کو تعجب ہوااور کہا :


اے اللہ اتنا کھا نا کہاں سے آیا جب میں نے کنیز سے لیا تھا اس وقت اتنا نہیں تھا کھا نے کو پیغمبر کی خدمت میں تقدیم کر نے کے بعد خدا کا حمد وثنا اور پیغمبر اکرم پر درود بھیجنا شروع کیا ،لیکن جب پیغمبر اکرم کی نظر کھا نے پر پڑی تو خدا کا شکر ادا کر تے ہو ئے پیغمبر اکرم نے فرمایا .اے بیٹی فاطمہ زہرا یہ کھا نا کیسے فراہم کیا حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے کہا یا رسول اللہ خدا نے ہی بھیجا ہے کیونکہ کوئی بھی شخص جب خدا سے مانگتا ہے تو خدا ہی بے انتہامقدار کے ساتھ عطا فرماتا ہے پیغمبر نے حضرت علی بچوں اور ازواج کو طلب کیا پھر سب نے مل کر کھا نا تناول فرمایا بھوک کا غلبہ ختم ہوا لیکن کھا نے میں کو ئی کمی نہیں آئی لہٰذا آپ نے فرمایا اس بابرکت کھا نے سے ہمسائیوں کو بھی سیراب فرما ئیں۔

اسی طرح اور بھی متعدد واقعات اور روایتیں آپ کے معجزات وکرامات کو بیان کر تی ہیں کیونکہ حضرت زہرا جیسی خاتون آدم سے لے کر اب تک نہ آئی ہے نہ قیامت تک آئے گی لہٰذا اللہ نے کا ئنات کو وجود اور بقاء زہرا کے صدقہ میں عطاء کیا ہے کہ جس سے ساری مخلوقات فیضیاب ہو رہی ہیں اسی لئیے بہت سارے لوگوں نے حضرت زہرا کوہو نے والی غائبانہ امداد کو پیغمبر اکرم کے زمانے میں مشاہدہ کر کے اس کا راز بھی پوچھا تو آپ نے فرمایا :'' ان الله یعلم....'' یعنی اللہ تبارک وتعالی زہرا کی کمزوری اور نا توانی کو جا نتا تھا کیو نکہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا خدا کی عبادت میں مشغول رہتی تھیں اللہ نے زہرا کی رضایت اور خوشنودی کی خاطر فرشتے کو نازل کر تے تھے ۔


''انها علیها السلام ربما اشتغلت بصلاتها وعبادتها فربما بکا ولدها فرأی المهد یتحرک وکان ملک یحرکه '' (۱)

بے شک حضرت زہرا سلام اللہ علیہا جب نماز اور عبادت الہی میں مشغول ہو تی تھیں تو کبھی کھبارآپ کا فرزند گر یہ کر تا تھا اس وقت اللہ تعالی بچے کے گہوارے کو ہلانے کے لئے ایک فرشتہ کو مقرر کرتا تھا کہ وہ فرشتہ ہمیشہ بچے کا گہوارہ ہلاتے ہوئے نظر آتا تھا۔

نیز دوسری روایت میں پیغمبر اکرم نے فرمایا:

یا اباذر لاتعجب فان لله ملائکة سیا حون فی الارض موکلون بمعونة آل محمد صلی الله علیه و اله وسلم (۲)

اے ابوذرتوزہرا کی کرامت پر تعجب نہ کر کیونکہ خدا نے روئے زمین پر کچھ ایسے فرشتوں کو معین کیا ہے جو ال محمد کی ہمشہ مدد کے لئے تیار رہتے ہیں۔

۸) نیز حضرت زہرا کے معجزات میں سے ایک اور یہ ہے ایک دن عائشہ جناب سیدہ کو نین کی خدمت میں آئیں تو دیکھا کہ حضرت زہرا حسنین کے لئے

____________________

(۱) بحارالانوار جلد ۴۳ ص۴۵. (۲)بحارالانوار جلد ۴۳ ص۴۵.


کھانا پکا رہی ہیں کھا نا چو لھے پر بہت ہی جو ش کے ساتھ ابل رہا تھا حضرت زہرا نے اسی حالت میں کھا نے میں اپنے دست مبارک کو ڈالا اور دیکھا کہ کھا نا تیار ہوا ہے یا نہیں یہ حالت عائشہ نے دیکھی تو بہت ہی پریشانی کی حالت میںابو بکر کے پاس آکر کہا اے بابا مجھے آج ایک تعجب آور منظر نظر آیا ابو بکر نے کہا کیا نظر آیا ؟ عائشہ کہنے لگی جب میں حضرت زہرا کی خدمت میں پہنچی تو حضرت زہرا کھا نا پکارہی تھیں اور کھا نا جو ش کے ساتھ ابل رہا تھا زہرا نے اسی حا لت میں ہاتھ لگا کر دیکھا لیکن ہاتھ کو کچھ نہیں ہوا ابو بکر نے عائشہ سے کہا اے بیٹی اس بات سے کسی کو باخبر نہ کر نا۔

جب یہ خبر پیغمبر تک پہنچی تو پیغمبر اکرم نے لوگوں کو جمع فرمایا ممبر پر تشریف لا کر حمدو ثنا انجام دینے کے بعد فرمایا: لو گو! تم آگا ہ ہو کہ حضرت زہرا کا ہاتھ اس ابلتے ہوئے کھانے میں نہ جلنے پر کچھ لوگ تعجب کر تے ہیں خدا کی قسم جس نے مجھ نبوت اور رسالت پر مبعوث کیا ہے اسی نے ہی حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو اتنی فضیلت دی ہے کہ زہرا کے گوشت اور اعضاء وجوارح کو جلانے کی طاقت آگ میں نہیں رکھی۔


لہٰذا خدا نے حضرت زہرا اور حضرت زہرا کے فرزندان ، ان کے پیروکاروں سے جہنم کی آگ کو دور کیا ہے پس ان لوگوں پر افسوس ہو جو حضرت زہرا کی فضیلت اور بر تری میں شک کر تے ہیں اور خدا کی لعنت اس شخص پر جو ان کے شوہر حضرت علی ابن ابی طالب کے ساتھ بغض اور ان کے خلیفہ بلا فصل ہو نے میں تردید،ان کے بعد ان کے گیارہ فرزندان کی امامت پر راضی نہیں ہیں لہٰذا حضرت فاطمہ زہرا وہ ہستی ہیں جن کو خدا کی نظر میں جو مقام ومنزلت اور ان کے فرندان وپیروکاروں کو جو فضیلت اور مقام حاصل ہے کسی اور نبی کی امت کو حاصل نہیں ہے حضرت فاطمہ زہرا وہ خاتون ہے جو امت کی نجات اور فلاح وبہبود کی خاطر مجھ سے زیادہ دعا مانگتی ہیں اگر وہ اپنے دشمنوں کے بارے میں بھی سفارش کریں تو اللہ تبارک وتعالی قبول فرماتاہے(۱)

اس روایت کا خلاصہ درج ذیل ہے:

۱)ابو بکر نے جان بوجھ کر حضرت زہرا کی کرامت اور معجزہ کو چھپانے کی کوشش کی تھی لیکن پیغمبر نے اس کو بے نقاب کردیا۔

۲)عائشہ حضرت زہرا کی فضیلت اور کرامت پرہمیشہ پریشان رہتی تھیں۔

۳) جو لوگ علی اور باقی گیارہ ہستیوں کی امامت کے قائل نہیں ہیں ان پر خدا کی لعنت ہے

۹)نیز آپ کے معجزات میں سے ایک یہ ہے زمنحشری نے اس آیت

____________________

(۱) کتاب فاطمہ زہرا نقل از داستان (۱)کشف جلد اص ۳۷


شریفہ( کلما دخل علیها ذکریا ) (۱) کی تفسیر میں پیغمبر اکرم سے یوں روایت کی ہے:

'' عن النبی صلی الله علیه وآله وسلم انه جاع فی زمن قحط فاهدت له فاطمة رضی الله عنها.''

ایک وقت خشک سالی اور قحط کی وجہ سے پورا مدینہ منورہ بے تاب تھا جس کی زدمیں پیغمبر اکرم پر بھی پیاس اور بھوک کا غلبہ ہوا اس بے تابی کی حالت میں حضرت زہرا نے پیغمبر اکرم کو سیراب فرمایا اسی روایت کو نقل کرنے کے بعد زمخشری اور صاحب در منثور نے کہا کہ یہ آیت شریفہ حضرت مریم کی شان میں نازل ہوئی ہے لیکن اس روایت کی بناء پر جتنی فضیلت خدا نے حضرت مر یم کو عطا کی ہے اتنی فضیلت حضرت زہرا کو بھی حاصل ہے۔

۱۰) ابن عباس سے روایت ہے ایک دن پیغمبر اکرم کی خدمت میں حضرت علی ، حضرت فاطمہ زہرا (س)،اور حسنین بیٹھے ہو ئے تھے اتنے میں آسمان سے ایک سیب لے کر جبرائیل پیغمبر اکرم کی خدمت میں نازل ہوئے جبرائیل نے مبارکبادی کے ساتھ سیب کو پیغمبر کے حوالہ کیا پیغمبر نے اس سیب کو حضرت علی کی خدمت میں ہد یہ فرمایا:

____________________

(۱) سورئہ ال عمران آیت ۳۷


حضرت علی نے اس کو بوسہ دے کر پیغمبر اکرم کا شکر یہ ادا کر تے ہوئے واپس کیا پیغمبر اکرم نے امام حسن کو ہدیہ کیا آپ نے بھی واپس کیاپھر امام حسین کو ہدیہ کیا امام حسین نے بھی بوسہ کر کے واپس کیا پھر جناب سیدہ کو ہد یہ کیا حضرت زہرا نے بھی واپس کیا پیغمبراکرم نے دوبارہ حضرت علی کو ہدیہ کیا حضرت علی نے جوں ہی پیغمبر اکرم کے دست مبارک سے اٹھا یا وہ گر کر دو ٹکڑے ہو گیا جس سے ایک نور آسمان کی طرف طلوع ہوا میں نے اس سیب کے ٹکڑوں پر لکھا ہوا دیکھا یہ سیب خدا کی طرف سے پنچتن پاک کے لئے تحفہ تھا یہی پیغمبر اکر م کے اہل بیت ہیں انہیں کے پیروکاروں کو روز قیامت جہنم کی آگ سے نجات ملے گی(۱)

(۱۱)سلمان فارسی نے کہا پیغمبر کی وفات کے بعد میں زہرا کی احوال پر سی کے لئے گیا تھا تو زہرا نے فرمایا اے سلمان فارسی تھوڑی دیر تشریف رکھیں سلمان نے کہا میں حضرت زہرا کے قریب تھوڑی دیر تک بیٹھا تو آپ نے فرمایا اے سلمان پیغمبر کی وفات کے بعد اس گھر میں فرشتوں کی رفت وآمد کا سلسلہ منقطع ہو نے پر میں پریشان رہتی ہوں اور میں ہمیشہ اسی فکر میں مشغول رہتی ہو ں لیکن کل اس گھر میں جنت کی حوروں میں سے چارحوریں داخل ہوئیں جب کہ گھر کا دروازہ بند

____________________

(۱) مقتل الحسین خوارزمی ص۹۵.


تھا اور کہنے لگی اے دختر رسول ہم جنت کے دارالسلام کی حوروں میں سے ہیں اللہ نے ہمیں آپکی طرف بھیجا ہے ہم شدت سے آپکے مشتاق ہیں حضرت زہرا نے فرمایا اے سلمان فارسی جب میں نے ان حوروں میں سے جو زیادہ جوان خوبصورت تھیں ان سے پوچھا آپکا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا میرا نام مقدورہ ہے خدا نے مجھے مقداد ابن اسود کے لئے خلق کیا ہے پھر دوسرے سے پو چھاآپ کا نام کیا ہے ؟

اس نے کہا میرا نام ذرہ ہے اللہ نے مجھے جنت میں ابوذر کی خدمت کے لئے خلق کیا ہے پھر تیسرے سے پو چھا آپ کا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا میرا نام سلمی ہے خدا نے مجھے سلمان کی خاطر خلق کیا ہے، جناب سیدہ کے ساتھ سلمان کی گفتگو چل رہی تھی اتنے میں وہ حوریں جنت کے خرموں سے بھرا ہوا ایک طبق لے کر حضرت زہرا کی خدمت میں آئیں ایسے خرمے تھے جو برف سے زیادہ سفید مشک وعنبر سے زیادہ خوشبو دار تھے حضرت زہرا نے سلمان سے کہا یہ آپ کا حصہ ہے اس سے افطار کر کے اس کی گٹھلی مجھے واپس کر یں جناب سلمان کہتے ہیں میں نے حضرت زہرا سے خرماء لے کر اس سے افطار کیا لیکن اس میں گھٹلی نہیں تھی سلمان جناب سیدہ کی خدمت میں آئے اور عرض کی یا حضرت زہرا اس خرما میں گٹھلی نہیں تھی۔


آپ نے فرمایا اے سلمان یہ جنت کے ایک مخصوص باغ کا خرما ہے جو پیغمبر نے میرے لئے بو یا تھا لہٰذا اس کی خوشبورنگ اور کیفیت باقی خرموں سے الگ ہے(۱)

(۱۲)روی ان ام ایمن لما توفیت فاطمة حلفت ان لا تکون بالمدینة اذ لاینطق ان تنظر الی مواضع کانت بها فخرجت الی مکة فلما کانت فی بعض الطریق عطشت عطشا شدیدا فرفعت یدیها قالت یا رب انا خادمة فاطمة تقتلنی عطشا فانزل اﷲ علیها دلواً من السماء فشربت فلم تحتج الی الطعام والشراب سبع سنین وکان الناس یعیشونها فی الیوم الشدید الحر فما یصبها عطش (۲)

روایت کی گئی ہے جب حضرت زہرا کی شہادت ہوئی تو جناب ام ایمن نے پھرمدینہ منورمیں نہ رہنے کی قسم کھا ئی چو نکہ جناب ام ایمن کو ان جگہوں کا نظر آنا قابل براشت نہ تھا جس میںحضرت زہرا کے ساتھ رہتی تھیں لہٰذا مکہ کی طرف روانہ ہو ئیں لیکن راستے میں پیاس کی شدت کی وجہ سے چل نہ سکی اتنے میں دونوں ہاتھوں کو بلند کر کے خدا سے التجاء کی اے پالنے والے میں زہرا کی خادمہ ہوں کیا مجھے پیاس کے ذریعے ہلاک کر نا چا ہتے ہیں ؟ اتنے میں آسمان سے آفتابہ نازل ہوا ام ایمن نے اس پانی سے پیاس کی حرارت کو بجھایا پھر سات سال تک بھوک

____________________

(۱)اعجاز معصومین ص۳۹۳. (۲)بحارالانوار جلد ۴۳ ص۲۸.


اور پیاس کا احساس نہیں ہوا جب کہ اس وقت لوگ بھوک اور پیاس کی وجہ سے مررہے تھے لیکن جناب ام ایمن پر کبھی پیاس لاحق نہیں ہو ئی۔

اگر ہم بھی دل سے حضرت زہرا کے خادم یا خادمہ بنیں تو یقینا خدا ہماری پیاس اور بھوک کی شدت بھی حضرت زہرا کی برکت سے بجھا دے گا کیونکہ آپ کے کرامات اور معجزات سے خود پیغمبر اکرم جو تمام مخلوقات سے افضل ہونے کے باوجود مستفیظ ہو تے ہو ئے نظر آتے ہیں۔

(۱۳) نیز آپ کے کرامات میں سے ایک یہ ہے جو آج سے کئی سالوں پہلے کرمان میں ایک عالم باعمل متعہد باتقوی آیت اللہ کرمانی کے نام سے معروف تھے آپ نے ۱۳۲۸ھ شمسی میں وفات پائی جب آپ نے اس وقت کے طاغوت اور استعماری حالات کو دیکھا تو احساس ذمہ داری کی کہ کرمان کے معاشرے کو دوبارہ قرآن وسنت اور اہل بیت علیہم السلام کے نورانی کلام سے آبیاری کروں لہٰذا اس دور میں ایک تو انا خطیب سید یحییٰ واعظ یزدی کے نام سے مشہور تھا اس کو کرمان آنے کی دعوت دی تاکہ دونوں مل کر معا شرے کی دوبارہ آبیاری کر سکیں واعظ یزدی مر حوم آیت اللہ کرمانی کی د عوت کو قبول کر کے کرمان پہنچے۔


سیدیحییٰ واعظ یزدی نے آیت اللہ کے حکم سے تبلیغ شروع کی تو استعمار کے ایجنڈوں کو پتہ چلا انہوں نے سید یحیی واعظ یزدی کو قتل کر نے کی سازش کی اور آپس میں کہنے لگے اگر اس واعظ یزدی پر کنڑول نہیں کیا تو معاشرہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔

لہٰذا استعمار کے ایجنڈوںمیں سے ایک سید یحییٰ کے پاس آکر کہا ہم فلان شخص کے گھر میں جمع ہو جاتے ہیں آپ خطاب کیلئے تشریف لائیں سید یحییٰ نے قبول کیا استعمار کا ایک گروپ احترام کے ساتھ سید یحییٰ کو خطیب زمان کی حیثیت سے استعمار کی مخفی گا ہ کی طرف لے جا نے لگا سید یحییٰ مرحوم کو راستے میں معلوم ہوا یہ لوگ مجھے شہر سے باہر کہیں لے جارہے ہیں آہستہ آہستہ یقین ہوا کہ یہ لوگ مجھے قتل کریں گے لیکن جب آپ مخفی گا ہ میں پہنچے تو استعماری ایجنڈوں نے کہا تم خطابت کی اجرت لینے کو تیار ہو جائو اس وقت آپ نے اپنی جدہ بزرگوار سے متوسل ہو کر کہا:

'' یا مولا تی یا فاطمة اغیثنی''

یہ جملہ تکرار کر تے رہے قاتل نے تلوار لے کر کہا کہ تم کو اسی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کروں گا اسی کشمکش کی حالت میں تھے کہ اتنے میں پورے مخفی گاہ کے ارد گرد سے اللہ اکبر کی آواز بلند ہوئی لوگ مخفی گاہ کے تمام اطراف سے اندر آنے لگے اور قاتلوں کے ہاتھ سے سیدیحییٰ واعظ یزدی کو نجات ملی لوگوں نے ان کو احترام کے ساتھ آیت اللہ محمد رضا کرمانی کے پاس پہنچا دیا سید یحییٰ واعظ یزدی نے آیت اللہ کرما نی سے پوچھا آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ مجھ پر ایسی حالت پیش آئی ہے


آیت اللہ کرمانی نے کہا اے سید یحیی جب قاتلوں نے آپ کو قتل کر نے کی تیاری کی تواس وقت مجھے حضرت زہرا خواب میں نظر آئیں اور سیدہ نے مجھ سے فرمایا اے محمد رضا فوراً میرے بیٹے سیدیحییٰ کو نجات دینے کے لئے جائو اگر تاخیر کی تو اس کو قتل کر دیا جائے گا(۱)

(۱۴)اسی طرح آپ کی کرامات میں سے ایک دلچسپ کرامت یہ ہے کسی شخص کے دو فرزند تھے ایک نیک اور اچھے رفتار کا مالک دوسرا برے کردار کا مالک تھا برے کردار میں مرتکب ہو نے والا فرزند ہمیشہ لوگوں کو اذیتیں ،طرح طرح کے ظلم وستم پہنچا تا تھا .لوگ اس کے نیک کر دار کے عادی بھا ئی سے ان کی شکایت کر تے تھے ایک دن نیک کردار کے عادی فرزند نے کسی قافلہ کے ساتھ امام رضا علیہ السلام کی زیارت کو جا نے کا عزم کیا لیکن بری رفتار کا عادی بھائی بھی ان کے ساتھ زائرین کے قافلہ میں شریک ہو کر مشہد کی طرف جا نے لگا راستے میں زواروں پر ہر قسم کی اذیت ،ظلم وستم پہنچا یا لیکن اچا نک مشہد پہنچنے سے پہلے وہ مریض ہو کر دنیا سے چل پڑا زائرین نے اس کی مو ت پر اظہار خوشی کے ساتھ خدا کا شکر ادا کیا اور کہا پالنے والے تو نے ہی ہمیں اس ظالم سے نجات دی لیکن اس کے بھا ئی کی غیرت اور رشتہ داری کے رابطہ نے اس کو راستے میں دفن کرنے کی اجازت نہیں دی،لہٰذا اس کو تجہیز وتکفین کر کے تابوت میں رکھ کر مشہد امام رضا علیہ السلام پر پہنچا دیا ضریح

____________________

(۱)داستاندوستان جلد۲ ص۱۹۳


مقدس کا طواف کرانے کے بعد اس کو دفن کیا لیکن جب رات ہو ئی تواس کے بھا ئی کو وہ عالم خواب میں نظر آیا کہ وہ جنت کے سر سبز بہت ہی مجلل باغ میں استبرق کے لباس سے مزین ہو کر خوشی کے ساتھ رہ رہا ہے بھا ئی نے عالم خواب میں اس سے پوچھا تم تو دنیا میں برے اعما ل کے عادی تھا ایسا مقام تمہیں کیسے ملا ہے اس نے کہا اے میرے بھائی جب میرا احتضار کا وقت شروع ہوا تو مجھے بہت اذیت ہو ئی غسل کا پانی جب میرے بدن پر ڈالاگیا تو آگ سے زیادہ گرمی کا احساس ہو ا جب کفن پہنا یا گیا تو کفن کے ٹکڑوں کو میرے بدن پر آگ کے ٹکڑوں کی مانند گرمی کا احساس ہوا اور دو فرشتے مسلسل جنازہ کے ساتھ مجھے عذاب اور آتش جہنم کے ذریعے اذیت دیتے رہے۔

لیکن جب میر ا جنازہ امام ہشتم کے روضہ کے قریب صحن میں پہنچا تو وہ دو فرشتے جو مجھے عذاب دینے کے لئے معین تھے مجھ سے جدا ہو ئے اور جب میرے جنازہ کو حرم امام رضاعلیہ السلام میں داخل کیا گیا تو امام رضاعلیہ السلام زوّاروں کے استقبال کے لئے ایک بلند جگہ پر تشریف فرما تھے میں نے حضرت سے گنا ہوں کو معاف کر نے کی درخواست کی لیکن امام نے نہیں ما نی جب جنازہ امام رضا علیہ السلام کے بالائے سر پر پہنچا تو مجھے ایک نورانی عمر رسیدہ ہستی نظر آئی اس نے مجھ سے فرمایا اے گنا ہگار امام رضا سے شفاعت ما نگووگر نہ حرم سے نکلنے کے بعد وہی عذاب دو بارہ کیا جا ئے گا جو پہلے کیا تھا میں نے کہا اے عمر رسیدہ ہستی میں نے امام رضا سے شفاعت ما نگی تھی


لیکن حضرت نے قبول نہیں فرمایا عمر رسیدہ ہستی نے کہا تو امام کے پاس جائو اور جناب سیدہ فاطمہ سے متوسل ہو کر امام سے شفاعت کی در خواست کرو جب میں حضر ت زہرا کے متوسل ہوکر امام سے شفاعت مانگی تو آپ نے میری شفاعت فرمائی اور میرے جنازہ کے ساتھ عذاب دینے والے جو دو فرشتے آئے تھے وہ امام کی شفاعت کے بعد چلے گئے ان کے بدلے میں اور دو فرشتے رحمت بن کر میری نگہبانی کو آئے ہیں انہوں نے یہ مقام مجھے دیا ہے(۱)

(۱۵)لہٰذا اگر ہم بحارالانوار جیسی مفصل کتاب کا بغور مطالعہ کریں تو واضح ہو جا تاہے کہ حضرت زہرا کی فضیلت ،مقام ومنزلت خدا کی نظر میں کتنا زیادہ ہے جس کے تو سل اور کراما ت کی طرف حتی امام معصوم علیہ السلام بھی محتاج ہیں چنانچہ امام محمد باقر علیہ السلام کے بارے میں ایک روایت ہے آپ کبھی کبھاربخار جیسے مرض کا شکار ہو تے تھے جس کے نتیجہ میں آپ کی توانائی کھوجاتی تھی اس وقت آپ بخار کی تکلیف کو برطرف کرنے اور اس بیماری سے نجات کی خاطر یازہرا بنت رسول اللہ کی آواز بلند کر تے تھے جس سے آپ کو شفا ملتا تھا(۲)

نیز امام جواد علیہ السلام کے بارے میں روایت کی گئی ہے کہ امام جواد ہر روز ظہر کے قریب مسجد نبوی میں تشریف لے جا تے تھے پھر پیغمبر اکرم پر درود

____________________

(۱) سیمائے فاطمہ زہرا ص۳۹ (۲) سفینة البحارجلد ۲ ص۷۴.


وسلام بھیجنے کے بعد خا نہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا میں داخل ہو جا تے تھے اور بہت ہی گریہ وزاری کے ساتھ دعا کرتے تھے(۱)

یہ چیزیں حقیقت میں ہمارے لیئے دلیل ہیں حضرت زہرا جس جگہ زندگی گزاری ہے اس جگہ جا کر مشکلات کے حل کو چاہنا ان سے متوسل ہو کر خدا سے دعا کر نا ایک مر غوب عمل ہے ۔

(۱۶)مرحوم آیت اللہ سید محمد ہادی میلانی کے زمانے میں جرمن سے ایک خاتون ایک مرد جو آپس میں میاں ،بیوی تھی ایک نوجوان بیٹی لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے آیت اللہ میلانی سے کہنے لگے ہمیں قوانین اسلام سے باخبر کریں ہم مسلمان ہو جائیں گے آیت اللہ نے اس کا راز پوچھا تو انہوں نے کہا ہماری یہ بیٹی ایک حادثہ میں گر گئی تھی اس کے پہلو اور کچھ اعضاء کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں تھی جس کے علاج کے لئے دنیا کے ما ہر ترین ڈاکٹروں سے ہم نے مراجعہ کیا کا فی خرچہ کر نے کے علاوہ وافر مقدار میں ان کوٹھیک کر نے پر سونے اور چاندی کا انعام بھی رکھا تھا لیکن تمام ڈاکڑوں نے بالا تفاق کہا بچی کی بیماری ٹھیک نہیں ہو سکتی ہم لوگ مایوسی کے عالم میں بچی کو لے کر ہمیشہ مغموم رہتے تھے لیکن ہمارے گھر کی خادمہ ایرانی تھی ہم اس کو بی بی سے یاد کر تے تھے ایک دن ہماری بیٹی نے پوری

____________________

(۱)ریاحین شریعہ جلد ۱ ص۵۸.


داستان بی بی کو سنائی اور کہا ہم پوری دولت دینے پر راضی تھے لیکن میری صحت اور تندرستی واپس نہیں آسکی کا ش کو ئی تندرستی کو واپس لانے والا ہو تا بی بی نے بیٹی سے کہا اگر تو راضی ہے تو مجھے ایک طبیب کا پتہ ہے شاید وہ تمہاری بیماری کو ٹھیک کر سکے کیا تم ان سے علاج کر نے پر راضی ہو بچی نے کہا ہم ساری دولت تجھے دیں گے اگر ٹھیک کیا بی بی نے کہا اے بیٹی میں علوی سادات سے تعلق رکھتی ہوں میری جدہ حضرت زہرا کا پہلو بھی دشمنوں نے ظلم وستم کر کے شہید کر دیا تھا تو دل سے حضرت زہرا سے متوسل ہو کر یہ جملہ کہو یا اللہ مجھے حضرت زہرا کے صدقہ میں شفادے بیٹی نے بی بی کی بات پر عمل کر کے دل شکستہ ہو کر یہ جملہ شروع کیا خود بی بی نے بھی حضرت زہرا سے درخواست کی یا حضرت زہرا ہماری ابرو کا مسئلہ ہے اگر آپ اس مریض کی بیماری کو شفانہ دیں اتنے میں وہ لڑکی ٹھیک ہو نے لگی اور کہا:

'' بابا مجھے حضرت زہرا نے شفادی ہے ما ما مجھے حضرت زہرا نے ٹھیک کر دیا ہے ''

یہ حالت جب دیکھی تو ہمیں یقین آیا کہ اسلام دین حق ہے ہم بیٹی کو لے کر آپ کی خدمت میں قوانین اسلام سے با خبر ہو نے کو آئے ہیں یہ سن کر حضرت آیت اللہ میلانی کو تعجب کے ساتھ خوشی ہو ئی اور ان کو اصول وفروع کے احکام سے نوازا وہ خاندان مسلمان ہو گئے(۱)

____________________

(۱)کتاب فضائل الزہرا ص ۱۰۹


(۱۷)نیز ہندوستان کی ایک جگہ کا نام عباس آباد ہے جس میں ایام محرم میں معمول تھا کہ شبیہ حضرت عباس بنائے کہ ایک دن لوگوں میں سے جو شخص رشید،تنومند اور طاقتوار ہو اس کو حضرت عباس بنایا تھا جس کا باپ اہل بیت کا دشمن تھا وہ جوان مراسم انجام دینے کی وجہ سے گھر میں دیر سے پہنچا باپ نے اس سے پوچھا تم کہاں تھے کیوں دیر سے آئے ہو ؟ بیٹے نے کہا لوگوں نے مجھے شبیہ حضرت عباس بنایا اور مراسم عاشورا انجام دے رہے تھے اس وجہ سے تاخیر ہوئی یہ سن کر باپ غصہ کی حالت میں کہنے لگے کیا تم حضرت عباس سے محبت رکھتے ہو ؟

بیٹے نے کہا جی ہاں میری جان ان پر فدا ہو باپ نے کہا اگر تم ان سے محبت رکھتے ہو تو جس طرح کربلا میں حضرت عباس کے ہاتھوں کو بدن سے جدا کیا گیا ہے اسی طرح میں بھی تمہا رے ہاتھوں کو بدن سے جدا کروں گا یہ کہہ کر بیٹے کے ہاتھوں کو اس شقی نے الگ کر دیا یہ حالت ان کی والدہ نے دیکھی تو شوہر سے کہنے لگی اے شقی القلب کیا تو حضرت زہرا سے شرمندہ نہیں ہو تا ؟ جب بیوی نے حضرت زہرا کا نام لیا تو اس نے بیوی کی زبان کو کا ٹ دیا بیوی اور بیٹے دونوں کو گھر سے نکال دیا اور کہا جائو حضرت عباس سے ہماری شکایت کرو ما ں ،بیٹا دونوں نے عباس آباد کی مسجد میں رات گزاری۔


وہ خاتون نقل کر تی ہے جب رات کی تاریکی میں میں اور میرا فرزند بیہوشی کی حالت میں تھے رات کاکچھ حصے گزرنے کے بعد ایک حسین خاتون میرے پاس آئیں اور میری زبان کو ٹھیک کر نے لگیں یہ حالت جب میں نے دیکھی تو میں نے ان سے درخواست کی میرے جوان فرزند کے ہاتھوں کو بھی ٹھیک فرمائیں آپ نے فرمایا ان کے ہاتھوں کو بھی ٹھیک کریں گے میں نے پوچھا آپ کون ہیں فرمایا میں امام حسین کی والدہ گرامی فاطمہ زہرا ہوں یہ کہہ کر میری نظروں سے غائب ہو گئیں میں اپنے فرزند کے پاس آئی تو دیکھا ان کے دونوں ہاتھ بالکل ٹھیک ہو چکے ہیں میں نے پو چھا تمہارے دونوں ہاتھ کیسے ٹھیک ہوئے ؟ اس نے کہا میں بیہوشی کی حالت میں سویا ہوا تھا اتنے میں ایک جوان میرے پاس آیا اور میرے ہاتھوں کو ٹھیک کیا میں نے پوچھا آپ کو ن ہیں ؟فرمایا میں عباس ہوں یہ کہہ کر وہ میری نظروں سے غائب ہو گئے(۱)

(۱۸)نیز زہرا سلام اللہ علیہا کے معجزات میں سے ایک یہ ہے جو کچھ عرصہ پہلے حوزہ علمیہ قم کے کسی عالم دین کے لیے رونما ہوا تھا جب اس کو کوئی مشکل پیش آنے کی وجہ سے اساتذہ اور بڑے بڑے اثررسوخ والوں سے متوسل ہوئے لیکن بر طرف نہیں ہوئی عالم دین نے مشکل کی برطرفی کی خاطر حضرت امام رضا علیہ السلام کی زیارت کو جا نے کا عزم کیا راستے میں جناب علامہ طبا طبائی سے ہم سفر ہوئے عالم دین نے علامہ سے کہا اے استاد بزرگوار مجھے کو ئی ایسی دعا تعلیم فرمائیں

____________________

(۱)کتاب کنارعلقمہ ص۶۲


تا کہ میں امام رضا کے روضے پر اس دعا کے ذریعے اپنے راز ونیاز اورحوائج بیان کر سکوں علامہ نے فرمایا جب امام کے روضے پر پہنچیں تو امام سے حضرت زہرا سے متوسل ہو کر دعا کریں انشاء اللہ آپ کی حاجت روا ہو گی کیونکہ امام رضا علیہ السلام حضرت زہراسلام اللہ علیہا سے اتنی محبت اور دوستی کے خواہاں ہیں کہ جو بھی گنہگار امام رضاسے کسی مشکل کا حل حضرت زہرا کے تو سل سے چا ہتا ہے تو وہ ضرور امام قبول فرماتے ہیں عالم دین نے حضرت علامہ طباطبائی کی نصیحت پر عمل کر تے ہوئے اللہ تبارک وتعالی سے امام رضا کے روضے پر حضرت زہرا سے متوسل ہو کر دعا کی خدانے ان کی دعا کو قبول فرمایا(۱)

(۱۹)جناب شیخ عبدالنبی حوزہ علمیہ قم کے فضلاء میں سے ایک ہیں وہ فرماتے تھے کہ میں کچھ سال پہلے سردرد کی بیماری میں مبتلا ہو ا ایران کے ماہرین ڈاکٹروں میں سے ما ہر تر ڈاکڑ سے علاج کرایا ہر قسم کے ٹیکے اور دوائیوں سے استفادہ کیا لیکن کو ئی اثر ظاہر نہیں ہوا بہت ہی مایوسی کی حالت میں ایک دن حضرت آیت اللہ بہجت دام عزہ کی نماز جماعت میں شرکت کی بیماری کی وجہ سے میری حالت ابتر تھی ساتھ والے ہم صف کو میری حالت کا پتہ چلا تو پوچھا اے آقا آپ کی حالت خراب نظر آتی ہے کیا آپ مریض تو نہیں ہے ؟ میں نے کہا کئی سالوں سے

____________________

(۱)کتاب چشمہ در بشر ص۳۵۵.


سردرد کی بیماری میں مبتلا ہوں ڈاکڑوں سے علاج کر ایا لیکن ٹھیک نہیں ہو سکا اس نے مجھ سے کہا حضرت زہرا سے متوسل ہو کر دعا کیجئے انشاء اللہ تندرست ہو جا ئیں گے ان کی نصیحت نے مجھے بہت متاثر کیا میں نے حضرت زہرا سے متوسل ہو کر دعا کی تو اللہ تبارک وتعالی نے میری دعا کو مستجاب فرمایا لہٰذا میں نے دوستوں کو جمع کر کے حضرت زہرا کے نام سے گھر میں ہر ہفتہ مجلس کرنے کا عزم کیا ہے اور ہر ہفتے میں ایک دفعہ غریب خانہ میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے نام پر مجلس ہو تی ہے(۱)

پس حضرت زہرا کی اتنی عظمت اور شرافت ہو نے کے باوجودحضرت زہرا سے انکار کر نا ہماری بد بختی ہے اور حضرت زہرا کی کرامات اور معجزات انہی مذکورہ معجزات وکرامات میں منحصر نہیں ہیں بلکہ معجزات حضرت زہرا کے موضوع پر کئی کتابیں لکھی گئی ہے رجوع کیجئے ۔

____________________

(۱) داستانہای شگفتہ ص ۳۲


چھٹی فصل:

شہادت حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا )

الف۔ تاریخ شہادت

حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی تاریخ شہادت کے بارے میں کئی نظر ئے پائے جا تے ہیں:

۱۔ کچھ سنی اور شیعہ علما کا نظر یہ یہ ہے کہ آپ کی شہادت گیارہ ہجری تیرہ(۱۳) جمادی الاول کو ہوئی جن کو ہمارے علما ء میں سے مر حوم کلینی صاحب الامامةوالسیاسة جناب طبری شیعی صاحب کشف الغمہ وغیرہ نے فرمایا ہیں۔(۱)

اس نظر یے کی بناء پر حضرت زہرا نے پیغمبر اکرم کے بعد صرف پچہتر دن زندگی گذاری کیونکہ پیغمبر اکرم کی وفات ۲۸ صفر گیارہ ہجری کو ہو ئی تھی ۔

____________________

(۱) کافی ج۱ ص۴۵۸ الامامة و السیاسة ج۱ ص۲۰ دلائل الامامة کشف الغمہ.


۲۔یہ نظریہ ہمارے علماء میںسے جناب کفعمی(۱) سید ابن طاووس(۲) علامہ مجلسی(۳) صاحب منتخب التواریخ ،صاحب منتہی الا مال وغیرہ نے فرمایا کہ جناب سیدہ کو نین کی شہادت تین جمادی الثانی گیارہ ہجری کو ہو ئی جس کی بناء پر حضرت زہرا نے پیغمبر گرامی کی وفات کے بعد پچا نوے دن زندگی گذاری۔(۱)

قارئین کرام ! اس اختلاف کی دو وجہ ہوسکتی ہے:

۱۔ قدیم زمانے میں اکثر اسلامی مطالب اور تو اریخ خط کو فی میں لکھا جا تا تھا خط کو فی کی خصوصیت یہ تھی کہ نقطے کے بغیر لکھا جاتا تھا لہٰذا پڑھنے اور لکھنے میں لوگ اشتباہ کا شکار ہو جاتے تھے جیسے ۷۵دن حمسہ وسعون اور ۹۵ دن حمسہ وسعون کی شکل میں لکھا کر تے تھے لہٰذا نقطہ گزاری کے بعد اشتباہ ہوا ہے کیا خمسہ وسبعون تھا تا کہ ۷۵ دن والا نظر یہ صحیح ہو جا ئے یا خمسہ و تسعون صحیح ہے تاکہ ۹۵ والا نظریہ صحیح ہوجائے۔

۲۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ائمہ معصومین سے دو قسم کی روایات منقول ہیں ایک دستہ روایات سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت زہرا نے پیغمبر اکرم کے بعد پچھتر دن زندگی گزاری ہے دوسرا دستہ روایات سے معلوم ہو تا ہے کہ پیغمبر کی وفات کے ۹۵دن بعد آپ نے جام شہادت نوش فرمایا اگر چہ تاریخ شہادت حضرت زہرا

____________________

(۱) مصباح کفعمی ص۵۱۱ (۲) اقبال الاعمال ص ۶۲۳.(۳)بحارجلد ۴۳ ص۱۷۰ منتخب التواریخ منتہی الامال


کے بارے میں اور بھی نظریات ہیں لیکن معروف اور مشہور یہی مذکو رہ دونظر ئے ہیں لہٰذا باقی اقوال اور نظر یات ذکر کر نے کی ضرورت نہیں ہے اور اسلامی جمہوری ایران میں ہمارے پیشوا مجتہدین کے مابین بھی اختلاف ہے کچھ حضرات ۱۳ جمادی الاول اور دوسرے کچھ مجتہدین ۳ جمادی الثانی کو حضرت زہرا کی شہارت مناتے ہیں لہٰذا حو زہ علمیہ قم میں ایام فاطمیہ کے نام سے دونوں مہینوں میں کچھ دنوں کے درس وبحث کو حضرت زہرا کے غم میں تعطیل کر تے ہیں۔

ب۔ سبب شہادت حضرت زہرا

تاریخ اسلام میں دو قسم کے خائن کسی سے مخفی نہیں ہیں:

۱) عداوت اور دشمنی کی وجہ سے حقائق اور حوادث کو تحریف کے ساتھ نقل کر نے والے۔

۲) عداوت اور دشمنی کی بنا ء پر تاریخ اور حوادث کی تحریف کر نے کی کو شش تو نہیں کی ہے۔

لیکن اگر تاریخ اور حقائق نقل کریں تو اپنا عقیدہ زیر سوال اور مذہب بے نقاب ہو جا تا ہے لہٰذا حضرت زہرا، اسلام میں مثالی خاتون ہو نے کے باوجود حضرت محمد کی لخت جگر ہو نے کے علاوہ صحابہ کرام نے پیغمبر کی وفات کے فورا بعد حضرت زہرا کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟اگر تاریخ اور روایات کا مطالعہ کریں تو فریقین کی کتابوں میں حضرت زہرا پر ڈھائے گئے مظالم کم وبیش موجود ہیں اور


اکسیویں صدی کے مفکر اور محقق تعصب سے ہٹ کر غور کریں تو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کا سبب بخوبی واضح ہو جا تا ہے امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا حضرت زہرا کے وفات پانے کی علت کیا تھی ؟ آپ نے فرمایا عمر نے اپنے قنفذ نا می غلام کوحکم دیا کہ اے غلام حضرت زہرا پر تلوار کا اشارہ کر جب قنفذ کی تلوار کی ضربت آپ کے نازک جسم پر لگی تو محسن سقط ہو ئے جس کی وجہ سے آپ بہت علیل ہوئیں اور دنیا سے چل بسیں(۱)

سلیم ابن قیس سے نقل کیا گیا ہے کہ عمر ابن خطاب کے دور خلافت میں ایک سال تمام ملازمین کے حقوق کا آدھا حصہ کم کردیاتھا صرف قنفذ کے حقوق کو حسب سابق پورا دیا اورسلیم نے کہا میں جب اس وقت مسجد نبوی میں داخل ہو ا تو دیکھا کہ مسجد کے ایک گو شہ میں حضرت علی کے ساتھ بنی ہا شم کی ایک جماعت سلمان ،ابوذر مقداد محمد ابن ابو بکر ،عمرابن ابی سلمہ ،قیس ابن سعد بیٹھے ہو ئے تھے، اتنے میں جناب عباس نے حضرت علی سے پوچھا اے مولا ا س سال عمر نے تمام مولازمین کے حقوق کو کم کردیا ہے لیکن قنفذ کے حقوق کو کم نہیں کیا جس کی وجہ کیا ہے؟

____________________

(۱)برخانہ زہرا چہ گذشت ص۵۰ بحار الا نوار ج۴۳.


حضرت نے چاروں اطراف نظر دوڑائی اور آنسوبہاتے ہو ئے فرمایا:

'' شکر له ضربة ضربها فاطمة بالسوّط فماتت وفی عضدها اثره کانه الدملج '' (۱)

عمر نے قنفذ کے حقوق کو اس لئے کم نہیں کیاکیونکہ اس نے جو تازیانہ حضرت زہرا کے بازو پر اشارہ کیا تھا جس کا عوض یہی حقوق کا کم نہ کر نا تھا حضرت زہرا جب دنیا سے رخصت کر گیئں تو اس ضربت کا نشان آپ کے بازوئے مبارک پر بازوبند کی طر ح نمایاں تھا لہٰذا حضرت زہرا نے قنفذ کی ضربت کی وجہ سے جام شہادت نوش فرمایا:

''قال النظام ان عمر ضرب بطن الفاطمة یوم البیعة حتی القت المحسن من بطنها'' (۲)

نظام نے کہا بتحقیق عمر نے حضرت فاطمہ زہرا کے شکم مبارک پر بیعت کے دن ایک ایسی ضربت لگا ئی جس سے ان کا بچہ محسن سقط کر گیا۔

چنانچہ صاحب میزان الا عتدال نے کہا :

''ان عمر رفص فاطمة حتی اسقطت بمحسن '' (۳)

____________________

(۱)کتاب بیت الا حزان ص۱۴۳ (۲)الوافی بالوافیات جلد ۶ص ۱۷.

(۳) میزان الاعتدال جلد۱ ص۱۳۹


بتحقیق عمرنے حضرت زہرا پر ایک ضربت لگا ئی جس سے محسن سقط ہوئے ۔

نیز جناب ابراہیم ابن محمد الحدید جو الجوینی کے نام سے معروف ہیں جن کے بارے میں جناب ذہبی نے یوں تعریف کی ہے (ہو امام محدث فرید فخرالا سلام صدر الدین) انھوںنے اپنی قابل قدر گراں بہا کتاب فرائد السمطین میں ایک لمبی روایت کو ابن عباس سے نقل کیا ہے جس کا ترجمہ قابل ذکر ہے۔

ایک دن پیغمبر اکرم بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں حضرت امام حسن تشریف لائے جب پیغمبر کی نظر امام پر پڑی تو گریہ کر نے لگے پھر فرمایا اے میرے فرزند میرے قریب تشریف لائیں امام پیغمبر کے قریب آئے تو پیغمبر نے ان کو اپنی دائیں ران پہ بٹھایا پھر امام حسین آئے جب پیغمبر کی نظر آپ پر پڑی تو روتے ہوئے فرمایا اے میرے فرزند میرے قریب تشریف لائیں امام آنحضرت کے قریب آئے تو آنحضرت نے آپ کو اپنی بائیں ران پہ بٹھا یا اتنے میں جناب سیدہ فاطمہ زہرا تشریف لائیں تو ان کے نظر آتے ہی آپ رونے لگے اور فرمایا اے میری بیٹی فاطمہ میرے قریب تشریف لائیں انحضرت نے حضرت فاطمہ کو اپنے قریب بٹھا یا پھر جناب امام علی تشریف لائے جب پیغمبر اکرم کو حضرت علی نظر آئے تو گریہ کر تے ہو ئے فرمایا اے میرے بھا ئی میرے قریب تشریف لائیں پیغمبر نے حضرت علی کو اپنے دائیں طرف بٹھا یا اور حضرت زہرا کی فضیلت بیان کر نے کے بعد آنحضرت نے حضرت زہرا(س)کے بارے میں رونے کا سبب اس طرح بیان فرمایا :


''وانی لماراتیها ذکرت مایصنع بها بعدی کانی بها وقد دخل الذل بیتها وانتهکت حرمتها وغصب حقها ومنعت ارثها وکسر جنبها واسقطت جنینها وهی تنادی یا محمداه فلاتجاب وتسغیث فلا تغاث '' (۱)

بتحقیق جو سلوک میری رحلت کے بعد حضرت زہرا کے ساتھ کیا جائے گا وہ مجھے یاد آنے سے جب بھی حضرت زہرا نظر آتی ہیں بے ا ختیار آنسو آجاتے ہیں کہ میرے مرنے کے بعد ان کی حرمت پائمال اور ان کے گھر پر ذلت وخواری کا حملہ ان کے حقوق دینے سے انکار ان کا ارث دینے سے منع کر کے ان کا پہلو شہید کیا جائے گا اور ان کا بچہ سقط ہوگا اور وہ فریاد کرتی ہو ئی یا محمد اہ کی آواز بلند کریں گی لیکن کو ئی جواب دینے والا نہیں ہو گا وہ استغاثہ کریں گی لیکن ان کے استغاثہ پر لبیک کہنے والا کو ئی نہیں ہوگا۔

ان مذکورہ روایات سے بخوبی روشن ہو جاتا ہے کہ حضرت زہرا کے پیغمبر اکرم کی رحلت کے فورا بعد شہید ہونے کا سبب صحابہ کرام کی طرف سے

____________________

(۱) فرائد السمطین ( نقل از کتاب الحجتہ الغرّا )


ڈھائے گئے مظالم ہیں جن کا تحمل زمین اور آسما ن کو نہ ہو نے کا اعتراف خود حضرت زہرا نے کیا ہے:

صبت علی مصائب لوانها

صبت علی الا یام صرن لیا لیا(۱)

ترجمہ : مجھ پر ایسی مصیبتیں اور مشقتیں ڈھائی گئیں اگر دنوں پرڈھائی جا تی تو دن اور رات بھی برداشت نہ کر تے ۔

پس خود اہل سنت کے معروف مورخین اور مئولفین کی کتابوں کا مطالعہ کر نے سے درج ذیل مطالب روشن ہو جاتے ہیں :

۱) پیغمبر اکرم کی رحلت کے نو دن بعد فدک کوغصب کیا گیا۔

۲) پیغمبر اکرم کی تجہیز وتکفین سے پہلے امامت اور خلافت کے ساتھ بازی کی گئی(۳) زہرا کے دولت سرا پر حملہ کر کے ان کی شخصیت کو پا ئمال کردیا گیا ان کے دروازے کو آگ لگا ئی گئی حضرت زہرا پر لگی ہو ئی ضربت نے حضرت زہرا کو مظلومیت کے ساتھ شہید کیا(۲)

____________________

(۱) وفاء الوفاء جلد ۲ ص۴۴۴

(۲)نقل از کتاب الحتہ الغرا


لہٰذا وصیت میں حضرت زہرا نے فرمایا مجھے رات کو تجہیز وتکفین کر نا جس کا فلسفہ یہ تھا کہ زہرا دنیا کو یہ بتا نا چا ہتی تھیں کہ میں ان پر راضی نہیں ہو ںچو نکہ ان کے ہاتھوں ڈھائے گئے مظالم قابل عفوودرگزر نہیں ہے ۔

(ج) وصیت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا )

جب حضرت زہرا سلا م اللہ علیہاکی علالت شدت کر گئی تو حضرت زہرا نے حضرت علی سے کہا یا ابن عم مجھے یقین ہے اب عنقریب میں اپنے والد گرامی سے ملاقات کرونگی لہٰذا میں وصیت کر نا چا ہتی ہوں حضرت علی حضرت زہرا کے قریب آبیٹھے اور فرمایا اے پیغمبر کی بیٹی آپ میرے پاس امانت تھی جو آپ کا دل چاہتا ہے وصیت کیجئے میں آپ کی وصیت کے مطابق عمل کر نے کا عہد کرتا ہوں ا س وقت حضرت علی کی نظر جناب سیدہ کونین کے افسردہ چہرے پر پڑ ی تو رونے لگے حضرت زہرا نے پلٹ کر حضرت علی کی طرف دیکھتے ہو ئے فرمایا یا ابن عم اب تک میں نے آپ کے گھر میں کبھی نہ چھوٹ نہ خیانت کی ہے بلکہ ہمیشہ آپ کے احکامات ور دستورات پر عمل کر نے کی کو شش کی ہے پھر بھی میری کو تا ہیوں کو معاف کیجئے۔


حضرت علی نے فرمایا اے پیغمبر کی دختر آپ کو اللہ تعالی کی اتنی شنا خت اور معرفت تھی تب ہی تو کسی قسم کی کوتاہی کا احتمال تک نہیں دے سکتا خدا کی قسم آپ کی جدائی اور فراق مجھ پر بہت سخت اور سنگین ہے کیونکہ پیغمبر اکرم جب دنیا سے رخصت کر گئے تو آپ نے ہی میری مدد کی لیکن آپ کے بعد میری مدد کون کرے گا مگر موت بر حق ہے اس کے سامنے کوئی چارہ نہیں ہے خدا کی قسم آپ کی مو ت نے میری مصیبتیں تازہ کردی ہیں آپ کی اس جوانی میں موت کا آنا میرے لئے بہت ہی درد ناک حادثہ ہے (انا لله وانا الله راجعون ) خدا کی قسم اس عظم حادثہ کو کبھی میں فراموش نہیں کروں گا(۱)

جناب سیدہ اپنی زندگی کی صداقت اور شوہر کی اطاعت کو بیان کرنے کے بعد حضرت فاطمہ اور حضرت علی علیہ السلام باہم رونے لگے جناب سیدہ کے رونے پر قابو پا نے کے بعد حضرت علی علیہ لسلام نے جناب سیدہ سلام اللہ علیہا سے فرمایا یا حضرت زہرا سر مبارک کو میرے دامن میں رکھیں جناب سیدہ نے سرمبارک کو حضرت علی کے دامن میں رکھا اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا آپ وصیت کیجئے حضرت زہرا نے وصیتیں شروع کیں:

۱) یا ابن عم مرد عورت کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتا ،لہٰذا آپ میرے مرنے کے بعد امامہ سے ازدواج کیجئے چونکہ امامہ باقی عورتوں کی بہ نسبت میرے بچوں پر زیادہ مہربان ہے(۲)

____________________

(۱) بحارالا نوار جلد ۴۳ (۲) مناقب شہرآشوب جلد ۳ ص۳۶۲، دلائل الا ما مة.


۲) میرے بچوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئیے گا کبھی ان کو سخت لہجہ سے نہ پکاریئے گا۔

۳) میرے جنازہ کو رکھنے کے لئے ایک تابوت مہیا کیجئے گا ۔

۴) مجھے رات کو غسل اور تجہیز وتکفین کرکے دفن کیجئے گا اور ان افراد کو میری تجہیز وتدفین میں آنے کی اجازت نہ دیجے گا (ابوبکر ،عمروغیرہ )(۱)

۵) رسول اکرم کی بیویوں میں سے ہر ایک کو میری طرف سے مدد کیجئے گا۔(۲)

اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے ایک وصیت نامہ لکھوا یا حضرت علی علیہ السلام وصیت نامے کے کاتب تھے اور جناب مقداد اور زبیر اس کے گواہ تھے اس وصیت نامے کوجناب آیتہ اللہ امینی نے اپنی کتاب میں اس طرح ذکر فرمایا ہے:

بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

''یہ وصیت نامہ فاطمہ پیغمبر اکرم کی دختر کا ہے میں خدا کی وحدانیت کی گواہی دیتی ہوں اور گواہی دیتی ہوں کہ محمد خدا کے رسول ہیں بہشت اور

____________________

(۱)بحارالانوار جلد ۴۳ (۲)دلائل الاما مة.


دوزخ برحق ہے قیامت کے واقع ہونے میں شک نہیں ہے خدا مردوں کو زندہ فرمائیںگا یا علی خدانے مجھے آپ کا ہمسر قرار دیا ہے تا کہ دنیا اور اخرت میں اکٹھے رہیں میرا اختیار آپ کے ہاتوں میں ہے اے علی مجھے رات کو غسل وکفن دیجئے گا اور حنوط کر کے کسی کو خبر دیئے بغیر دفن کر دیجئے گا اب میں آپ سے وداع کر تی ہوں میرا سلام میری تمام اولاد کو پہنچا دیجئے گا(۱)

ان وصیتوں کو بیان کر نے کے بعد امام حسن وامام حسین علیہما السلام والدہ گرامی کی یہ حالت دیکھ کر رونے لگے اسماء بنت عمیس آپ کی خادمہ آپ کی حالت دیکھ کر حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے جدا نہیں ہو تی تھی حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہم حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی روح پروازکرتے وقت آپ کے کنارے بیٹھے ہو ئے تھے اتنے میں جناب سیدہ نے آنکھیں کھولیں اور نگاہ اطراف پر ڈالی اور فرمایا السلام علیک یارسول اللہ ۔

نیز حضرت علی نے فرمایا جناب سیدہ نے وفات کی رات مجھ سے فرمایا یا ابن عم جبرائیل ابھی مجھے سلام کر نے کے لئیے حاضر ہو ئے تھے اور خدا کے سلام کو عرض کرنے کے بعد کہا کہ خدا نے خبردی ہے کہ آپ عنقریب بہشت میں اپنے والد گرامی سے ملاقات کریں گیں اس کے بعد حضرت زہرا نے مجھ سے فرمایا یاابن

____________________

(۱)بحارالانوار جلد ۴۳ نقل از کتاب فاطمہ زہرا مثالی خاتون


عم میکائیل ابھی نازل ہوئے تھے اور اللہ کی طرف سے پیغام لائے یا ابن عم خدا کی قسم عزرائیل میری روح کو قبض کرنے کے لئے میرے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں اتنے میں آپ کی روح بدن سے پرواز کرگئی علی اور آل علی ماتم برپا کرنے لگے۔

(راقم الحروف )خدا یا تو ہی اعدل العادلین ہے حضرت زہرا کے نازنین جسم پر ضربت لگا نے والے افراد کو کیفر کردار تک پہنچا دینا حضرت زہرا کے صدقے میں دنیا اور آخرت میں ہمیں کامیابی عطافرماعالم بے عمل کو ہدایت فرما۔(آمین)

د۔قبر حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کہاں ہے ؟

جناب سیدہ کی وصیت کے مطابق حضرت علیہ السلام نے ابوبکر اور عمر کو حضرت زہرا کے شہید ہونے کی خبر نہیں دی اور رات کو تجہیز وتکفین انجام دئیے لہٰذا جب حضرت زہرا کی شہادت کی خبر ان تک پہنچی تو حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور کہا کہ حضرت زہراسلام اللہ علیہا کو کہا ں دفن کیا گیا ہے ؟ حضرت علی علیہ السلام نے واقعیت کو چھپا یا تو انہوں نے نبش قبر کرنے کی دہمکی دی لیکن علی نے فرمایا اگر حضرت زہرا کی تلاش میں نبش قبر کی تو میں تحمل نہیں کروں گا اور حضرت علی نے ان کو معلوم نہ ہو نے کی خاطر بقیع میں چالیس جگہوں پر قبر کی علامت بنائی تاکہ کسی بھی ظالم کو حضرت زہرا کی قبر کا پتہ نہ چلے(۱)

____________________

(۱)بحارجلد ۴۳


اور جناب طبری نے دلائل الامامتہ میں لکھا ہے کہ حضرت زہرا کی وفات کی صبح ان لوگوں نے(ابوبکر وغیرہ) عورتوں کو جمع کیا اور حضرت علی سے کہا ہم نبش قبر کر کے حضرت زہرا پر نماز جنازہ اور ان کی تشییع جنازہ کریںگے۔

لیکن حضرت علی کی تہدید اور دھمکی کی وجہ سے نبش قبر کرنے سے منصرف ہوئے۔(۱)

قارئین محترم! حضرت علی علیہ السلا م کی اما نتداری کا اندازہ اسی سے کر سکتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس سے منقول ہے کہ میں حضرت علی کے ساتھ حضرت زہرا کو غسل دیتے وقت مدد کررہی تھی اتنے میں ایک دفعہ حضرت علی علیہ السلام بے اختیار اٹھ کھڑے ہو ئے اور دیوار سے ٹیک لگا کر اتنا روئے کہ آپ کے مبارک چہرے سے آنسو بہنا شروع ہوگئے میں نے حضرت علی سے کہا یا وصی مصطفی اگر زہرا کی رحلت کا آپ کو تحمل نہ ہو تو باقی انسانوں کی حالت کیا ہو گی آپ نے فرمایا اے اسماء بنت عمیس میں زہرا کی مو ت اور جدائی کی وجہ سے نہیں روتا بلکہ قنفذ کی جو ضربت آپ کی پہلوپرلگی تھی اس کی نشانی نظر آنے کی وجہ سے آنسو بہاتا ہوں جب کہ حضرت زہرا نے یہ نشانی مجھ سے پوشیدہ رکھی تھی اس حالت میں حضرت علی علیہ السلام نے حضرت زہراسلام اللہ علیہا کے غسل وکفن اور تدفین انجام دیئے اور

____________________

(۱)دلائل الامامةص۴۶.


دشمنوں کو نماز جنازہ اور ان کی تجہیز وتکفین میں شرکت کرنے سے محروم کر کے قیامت تک کے لئے بے نقاب کیا لہٰذا شاعرنے کیا خوب کہا:

ولای الامورتدفن سرا

بضعة المصطفی ویعضی ثراها

کیوں پیغمبر اکرم کے ٹکڑے کو مخفی دفن کیا گیا اور انکی قبر کو پوشیدہ رکھا گیا۔

اسی لئے آپ کی قبر کے بارے میں چار نظرئے پائے جاتے ہیں:

۱) جناب سید مرتضی عیون المعجزات میں جناب اربلی کشف الغمہ میں اور اہل تسنن کے معروف علماء کا نظر یہ بھی یہی ہے کہ حضرت زہرا کی قبر مبارک بقیع میں ہے ۔(۱)

۲) ابن سعد اور ابن جوزی نے کہا حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو جناب عقیل کے گھر میں دفن کیا گیا ہے(۲)

۳) کچھ محققین اورعلما ء نے حضرت زہرا کی قبر مبارک روضہ پیغمبر اکرم میں ہو نے کو بیان کیا ہے۔

____________________

(۱)عیون المعجزات کشف الغمہ. (۲) طبقات جلد ۸ وتذکرة الخواص


۴)ہمارے علماء میں سے کچھ کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت زہرا جوار پیغمبر میں ہی مدفون ہے یعنی خود حضرت زہراکے گھر میں ہی دفن کیا گیا ہے اس نظریہ کی دلیل یہ ہے کہ خانہ حضرت زہرا جوار پیغمبر اکرم تھا وہ باقی جگہوں سے زیادہ بافضیلت جگہ تھی۔

لہٰذا حضرت زہرا کو اس جگہ میں دفن کئے بغیر بقیع میں لے جا نا بعید ہے تب ہی تو ابوبکر اور عمر پر جب موت آئی تو انہوں نے بھی جوار پیغمبر اکرم میں دفن کر نے کی وصیت کی تھی اسی طرح جب امام حسن مجتبیٰ کو شہید کیا گیا تو آپ نے وصیت کی تھی کہ مجھے جوار پیغمبر اکرم میں دفن کیا جائے لیکن خلیفہ وقت نے وصیت کے مطابق دفن کرنے کی اجازت نہیں دی اسی لیئے متاخرین علماء اور محققین کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت زہرا جوارپیغمبر میں مدفون ہیں لیکن جوقبرحضرت فاطمہ کے نام سے بقیع میں معروف ہے وہ حضرت علی علیہالسلام کی والدہ گرامی فاطمہ بنت اسد کی ہے اسی نظریہ پرروایت میں بھی اشارہ ملتا ہے چنانچہ حضرت علی علیہ السلام نے جب حضرت زہراکودفن کیا تو فرمایا:'' السلام علیک یارسول الله عنی وعن ابنتک النازلة فی جوارک'' (۱)

اے خدا کے رسول آپ پر آپ کی بیٹی اور میری طرف سے سلام ہوایسی بیٹی جو آپ کے جوارمیں مد فون ہے۔( یا طبق نقل شیخ کلینی رحمة اللہ :)

____________________

(۱)بحار الانوار ج۴۳.


'' السلام علیک عنی وعن ابنتک وزائرتک والبائنة ۔(۱)

اے خدا کے رسول میری طرف سے اور آپ کی بیٹی کی طرف سے آپ پر سلام ہو جو آپ کے دیدار کو آپ کے جوار میں آئی ہوئی ہیں ۔

اور جناب صدوق نے فرمایا مجھ ثابت ہوا ہے کہ جناب سیدہ کی قبران کے گھر میں ہی ہے اگر چہ ان کا گھر مسجدنبوی کو توسعہ دینے کے نتیجہ میں مسجد کے اندر داخل ہے مرحوم علامہ حلی اور علامہ مجلسی نے بھی کہا ہے کہ حضرت زہرا کو ان کے گھر میں ہی دفن کیا گیا ہے لیکن جناب شیخ طوسی نے فرمایا زہرا کی قبر یا پیغمبر کے روضے میں یا خود زہرا کے گھر میں ہے (راقم)پالنے والے تو ہی زہرا کی وصیت سے آ گاہ ہے مجھے زہرا کی قبر کی شناخت کرنے کی تو فیق دے تاکہ عاصی اپنے چہرہ کو ان کی قبر کی خاک سے مس کر کے جہنم کی آگ سے نجات حاصل کرو پالنے والے اس مظلومہ کی قبر کو مخفی رکھنے میں کیا راز ہے ؟

ز۔کیا ابوبکر اور عمر کو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے معاف کیا تھا؟

دور حاضر میں کچھ مادہ پر ست حضرات دلیل اور تحقیق کے بغیر اور اپنی مؤثق کتابوں اور معتبر مورخین کی طرف مرا جعہ کئے بغیر اس مسئلہ کو اس طرح ذکر کرتے

____________________

(۱)اصول کافی ج۲.


ہیں کہ حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا ) کے شہید ہونے سے پہلے ابوبکر اور عمر آپ کی عیادت کو آئے اور ان پر کئے ہو ئے مظالم کی معذرت خواہی کی اور حضرت زہرا نے بھی ان کو معاف کردیا لیکن اگر ہم تعصب اور عناد سے ہٹ کر ایک دانشمند کی حیثیت سے اہل تسنن کی معتبر کتابوں کی طرف مراجعہ کریں گے تو نتیجہ اس کا پر عکس نکلتا ہے یعنی جناب سیدہ کو نین پر پیغمبر اکرم کی وفات کے بعد ہر قسم کے مظالم اور ستم ڈھائے گئے ان پر آپ مرنے تک راضی نہیں تھیں چنانچہ تاریخ میں لکھا ہے:

''ان فاطمة هجرت ابابکر ولم تکلمه الی ان ماتت''

بتحقیق حضرت زہرا نے ابو بکر سے قطع رابطہ کیا اور مرنے تک ان سے گفتگو نہ کی ۔ صحیح بخاری بحث خمس میں جناب امام بخاری نے اس طرح روایت کی ہے:

''فغضبت فاطمة بنت رسول الله فهجرت ابابکرفلم تزل مها جرته حتی توفیت'' (۱)

پس خدا کے رسول کی بیٹی (ان کی طرف سے ڈھائے گئے مظالم پر ) غضب ناک ہوئیں اور ابوبکر سے قطع رابطہ کیا وفات پانے تک ان سے کبھی رابطہ نہیں کیا نیز جناب بخاری نے لکھا ہے:

'' فهجر ته فاطمة فلم تکلمه حتی ماتت ۔(۲)

____________________

(۱)صحیح بخاری جلد ۴ ص ۴۲ چاپ بیروت (۲)بخاری جلد ۸ بحث فرئض ص۳۰


پس فاطمہ نے ان سے رابطہ قطع کیا اور مرنے تک ان سے بات نہ کی ۔جناب مغازلی نے اپنی کتاب بحث جنگ خیبر میں فرمایا

''فوجدت فاطمة علی ابی بکر فهجر ته فلم تکلمه حتی توفیت'' (۱)

پس جناب فاطمہ زہرا ابو بکر کے پاس پہنچی لیکن ابوبکر سے رابطہ منقطع کیا اور ان سے وفات پانے تک بات نہ کی لہٰذا کیا یہ بات معقول ہے ؟ کہ امام بخاری کی بات اور منقول روایات کو باب صوم وصلوة میں قبول کرکے ان کی تمام روایات کو صحیح سمجھیں لیکن جناب سیدہ کے بارے میں نقل کی ہوئی روایات کو نہ مانیں اسی لئے ہمارے زمانے میں ایسے متضاد رویہ کی وجہ سے اور بد نام نہ ہو نے کی خاطر جدید چھپنے والے کتابوں سے حقیقت کی عکا سی کرنے والی روایات اور قرائن کو حذف کرکے چھاپنے کی کو شش کی ہے لیکن ایک دو کتابوں سے ایسے قرائن اور براہین حذف کرنے سے حقانیت نہیں مٹ سکتی بلکہ بر عکس اپنا عقیدہ سست اور مذہب کی توہین کا سبب بن جا تاہے ۔

جناب ابن قتیبہ دینوری نے اس طرح لکھا ہے.کہ عمرنے ابو بکر سے کہاآئو ہم حضرت زہرا (س)کی عیادت کے لئے چلتے ہیں کیونکہ ہم نے ان کو ناراض کیا

____________________

(۱)کتاب مغازلی.


تھا اس وقت دونوں ساتھ حضرت زہرا کی دولت سرا کی طرف نکلے اور جناب زہرا سے اجازت مانگی لیکن حضرت زہرا نے اجازت نہیں دی پھر وہ حضرت علی کے پاس گئے اور علی سے درخواست کی کہ یا علی حضرت زہرا(س) سے اجازت ما نگیں حضرت علی نے حضرت زہرا سے اجازت لی پھر وہ دونوں داخل ہوئے لیکن جب وہ بیٹھنے لگے تو حضرت زہرا نے اپنا رخ دیوار کی طرف کرلیا انہوں نے حضرت زہرا کو سلام کیا لیکن لکھا گیا ہے حضرت زہرا نے ان کے سلام کا جواب بھی نہیں دیا(۱) اور ابو بکر نے گفتگو شروع کی اور کہا اے رسول کی بیٹی ،پیغمبر اکرم کے ذریّے اور احباب میرے اپنے ذریےّ اور احباب سے عزیز ترہیں اور آپ میر ی بیٹی عا ئشہ سے زیادہ محبوب ہیں۔

اے کاش جس دن پیغمبر اکرم دنیا سے رخصت ہوئے تھے اس دن ان کے بجائے ہم مر جا تے اور زندہ نہ رہتے ہم آپ کی فضیلت اور شرافت کو خوب جانتے ہیں لیکن ہم نے آپ کو ارث اس لئے نہیں دیا کہ ہم نے پیغمبر اکرم سے سنا تھا کہ میں نے کسی کیلئے کو ئی ارث نہیں چھوڑاہے میرے مرنے کے بعد تمام چیزیں صدقہ ہیں اس وقت جناب سیدہ نے فرمایا کیا تم لوگ پیغمبر اکرم سے سنی ہوئی حدیث پر عمل کرتے ہو ، انہوں نے کہا جی ہاں جناب سیدہ نے فرمایا خدا

____________________

(۱)اگر چہ سلام کا جواب نہ دینا بعید ہے راقم الحروف


کی قسم اگر تم حدیث نبوی پر عمل کرتے ہو تو کیا تم نے پیغمبر سے یہ حدیث نہیں سنی تھی کہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی خوشنودی اور رضایت میر ی خوشنودی اور رضایت ہے ان کی ناراضگی میر ی ناراضگی ہے جو بھی میری بیٹی فاطمہ سے محبت رکھتا ہے اور ان کو ناراض ہو نے نہیں دیتا اس نے مجھ سے محبت اور مجھے خوش کیا ہے جوان کو اذیت پہنچا تا ہے اس نے مجھ کو اذیت پہنچائی ہے، پھر حضرت فاطمہ زہرا نے فرمایا اے اللہ تو اور تیرے فرشتے گواہ ہو ں کہ ان لوگوں نے مجھے ناراض کیا ہے میں کبھی بھی ان سے راضی نہیں ہوں اگر میں پیغمبر اکرم سے ملاقات کروں تو میں پیغمبر اکرم سے شکا یت کروں گی پھر جناب ابو بکر نے کہا اے حضرت زہرا میں خدا کے حضور آپ کی ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں یہ کہہ کر رونے لگا بہت زیادہ چیخ ماری اور حضرت فاطمہ سے معافی کی درخواست کی ہرنماز میں حضرت زہرا کے حق میںدعا کرنے کا وعدہ کیا لیکن پھر بھی حضرت زہرا نے معاف نہیں کیا پھرابوبکر حضرت زہرا کے دولت سرا سے نکلا جب کہ وہ رو رہے تھے۔(۱)

پس مذکورہ روایات اہل تسنن کی معتبر کتابو ں میں مو جود ہیں اگر تعصب اور عناد سے ہٹ کر ایک مفکر کی حیثیت سے تحقیق کرنا چاہیں تو رجوع کر سکتے ہیں اگر جناب سیدہ کو نین ان پر موت سے پہلے راضی ہوئیں ہیں تو رات کو تجہیز وتکفین

____________________

(۱) الامامتہ والسیاستہ جلد ۱ ص ۲۰ و زندگانی فاطمہ زہرا


کرنے کی وصیت نہ فرما تیں مولا علی ان کی تشیع جنازہ ،نماز جنازہ ،قبر وغیرہ کو مخفی انجام نہ دیتے لہٰذا ان شواہد وقرائن کافلسفہ یہ ہے کہ آپ ان پر راضی نہ تھیں اگر ایک دانشمند کی حیثیت سے خود حضرت زہرا کے خطبے اور ان کے احتجاجات کا مطالعہ کریں تو اس مسئلہ کی حقانیت روشن ہو جاتی ہے لہٰذا برہان اور دلیل کے بغیر کسی مذہب کو بد نام کرنا ان سے تہمت اور افتراء باند ھنا تمام مذاہب کی نظر میں نص قرآن کے خلاف ہے اور ہر معا شرے میں اس کو قانونی طور پر مجرم کہا جاتا ہے تب ہی تو زہرا نے فرمایا:

'' ایهاالمسلمون أ أ غلب علی ارثه یا ابن ابی قحافة أفی کتاب اﷲ ان ترث اباک ولاارث ابی لقد جئت شیئا فریا''

اے مسلمانو ںکیا میں اپنے باپ کے ارث سے محروم ہوں ؟اے قحافہ کے فرزند کیا خدا کی کتاب میں اس طرح ہے کہ تم اپنے باپ سے ارث لے سکتے ہو لیکن میں اپنے باپ سے ارث نہیں لے سکتی ؟بتحقیق تم نے عجیب وغریب سلوک کیا۔


پھر حضرت زہرا نے فرمایا اے لوگو! تم جانتے ہو میں فاطمہ زہرا حضرت پیغمبر اکرم کی بیٹی ہوں۔

''مااقول غلطا،ولاافعل ماافعل شططا''

میں غلط بیان نہیں کرتی اور میں کبھی ظلم وستم انجام نہیں دیتی نیز فاطمہ زہرا نے فرمایا:

''اوصیک ان لا یشهد احد جنازتی من هولاء الذین ظلمونی واخذوا حقی فانهم عدوی وعدو رسول اﷲ (صلی اﷲ علیه وآله وسلم) ولاتترک ان تصلی علی احد منهم ولا من اتباعهم وادفنی فی اللیل اذا هدت العیون ونامت الابصار ثم توفیت '' (۱)

یاعلی آپ سے وصیت کرتی ہوں جن لوگوں نے مجھ پر ظلم کیا ہے ان میں سے کسی کو میری تجہیز وتکفین ،نماز جنازہ اور تشیع میں آنے کا مو قع نہ دیجئے مجھے رات کے اس وقت دفنایا جائے کہ جس وقت سب خواب اور نیند میں غرق ہوجا تے ہیں۔

انہیں جملات کے بعد آپ کی روح پر واز کر گئی نیز جناب امیرالمومنین نے حضرت زہرا کو قبر میں رکھنے کے بعد روضہ رسول کی طرف رخ کرکے فرمایا :

''والمختارا ﷲ لها سرعة لحاق بک''

اور خدا کی مشیت یہ تھی کہ زہرا جلد ازجلدآپ سے ملاقات کریں ۔

____________________

(ا) الحجة الغراء (آیت اللہ سبحانی دام ظلہ )


قداسترجعت الودیعة وستنبئک ابنتک بتظافر امتک علی هضمها فاحفها السوال والستخبرها الحال فکم من غلیل معتلج بصدر ها لم تجد الی بثّه سبیلا ومشغول ویحکم اﷲ وهو خیر الحاکمین (۱)

بتحقیق امانتداری کے ساتھ آپ کی امانت واپس لوٹاتاہوں اور عنقریب آپ کی بیٹی ، آپ کو خبر دے گی کہ آپ کی امت نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے اورآپ کی امت نے ان کے دل کو کتنا دکھ پہنچا یا ہے ان سے پوچھیں جس کو برطرف کرنے کی کو ئی راہ سوائے موت نہ تھی وہ تمام حالات اور مظالم کی خبرآپ کو فراہم کرے گی اور خدا ہی فیصلہ کرے گا وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ان تمام شواہد اور قرائن سے خلیفہ اول ودوم سے حضرت زہرا کے راضی ہو نے اور نہ ہو نے کا فیصلہ بخوبی کر سکتے ہیں اگر بابصیرت ہو۔

____________________

(۱)بحارالانوار جلد ۴۳ ص ۱۹۳.


خاتمہ:

بہت ہی مصروفیات کی وجہ سے جناب سیدہ کونین کے حق میں ایک طالب علم کی حیثیت سے تحقیقانہ آپ کی حالات زندگی بیان نہ کرسکنے پرحضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے ہی معافی مانگتا ہوں اور رب العزت سے زہرا کے صدقے میں درخواست ہے ناچیز کی زحمت کو قبول کرکے قارئین محترم کو مستفیظ عاصی کے لئے سعادت کا ذریعہ قرار دے عاصی کی کوشش اس مختصر تصورات کی جمع بندی میں یہ تھی کہ سادہ الفاظ اور عام الفہم طریقے کے ساتھ بیان کرکے حضرت زہرا جیسی مثالی خاتون کی فضیلت اور ان پر ڈھائے گئے مظالم کا اجمالی خاکہ پیش کروں تاکہ قیامت کے ہولناک عذاب اور حساب وکتاب کے وقت حضرت زہرا کی شفاعت نصیب ہو کیونکہ کائنات کا حدوث وبقاء زہراکے صدقے میں ہی ہے لہٰذا روایت ہے کہ معصومین کی فضیلت لکھنا ،پڑھنا ،سننا ،ان کے بارے میں غور وخوض کرنا عبادت ہے اسی لئے اس مختصر جمع بندی میں اہل تسنن کی مؤثق کتابوں سے اور ہمارے قدماء اور متاخرین کے نظریات کو بطور اجمال روایات کی روشنی میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے اگر چہ روایات سند کے حوالے سے ضعیف ہی کیوں نہ ہو کیونکہ تاریخی مطالب ثابت کرنے میں روایات صحیح السند کا ہو نا ضروری نہیں ہے بلکہ مختصر شواہد اور قرائن کا فی ہے پالنے والے زہرا کے صدقے میں تشیع کی حفاظت دشمن اہل بیت کی نابودی ،اسلام کی آبیاری ،تو فیقات میں اضافہ ، ایمان وخلوص میں ترقی عطا فرما۔

والحمد ﷲرب العالمین

الاحقرباقر مقدسی ہلال آبادی

۱۸ شوال ۱۴۲۳ بوقت ۱۱ شب

حوزہ علمیہ قم المقدس جمہوری اسلامی ایران


فہرست منابع

قرآن کریم

الف

اصول الکافی ج۱ محمد بن یعقوب کلینی

المغازلی ج۲ مغازلی

الحجةالغراء آیت اللہ سبحانی

اسدالغا بةج۵ ابن اثیر

المیزان ج ۳و۳۰ علامہ طباطبائی

الامامةوالساسةج اص۲۰ ابن قیتبہ

اقبال ص ۶۲۳ ابن طاووس

السیرةالحلیہ علی بن برہان

اعجاز معصومین ص۳۹۳

الاعلام طبرسی

ب

بحارالانوار ج۷۲ و۴۳ و۶ ۱ مجلسی مرحوم

بیت الاحزان ص ۱۴۳ محدث قمی

برخانہ زہراچہ گذشت ص ۵۰


ت

تاریخ طبری طبری

تاریخ بغداد ی خطیب بغدادی

تاریخ یعقوبی یعقوبی

تفسیرفرمان علی نجفی فرمان علی

تفسیر کشاف ج اص ۳۷ زمخشری

تفسیر کبیر ج ۳۲ ص ۱۲۴ فخرالدین رازی

تفسیر نور الثقلین ج ۵ شیخ عبد علی بن جمعہ

تذکرة الخواص جوزی

تفسیر فرات ابن ابراہیم

خ

خصائص البکری ج ۲

خراج یحی بن قریشی یحی بن قریش

خصائص النسانی نسانی


د

دلائل النبوة البیہقی

۶۳۰ داستان ص۲۳ عباس عزیزی

داستان ودوستان ج ۲و۳ آقای محمدی اشتہاردی

دلائل الامامة ص۱۰ طبری شیعی

درالمنشور ج۶ سیوطی

داستان وماجری عبداللھیاری

ذ

ذخائر ا العقبیٰ محب الدین طبری

ر

ریا ض الشریعہ ج ۲ ۳۹۴

ز

زندگانی فاطمہ زہرا ص ۲۲ محمد قاسم نصیرپورں

س

سیرت ابن ہشام ج۲ ابن ہشام

سفینة البحار ج۲ص ۳۹

سنن ترمذی ج۲ ترمذی

سمیائی فاطمہ


ش

شہرابن اشوب ج ۲و۳ ابن آشوب

شفاء الغرام احمدبن علی

شرح نہج البلاغة ج ۱۶ ابن ابی الحدید

ص

صواعق المحرقہ ابن حجر

صحیح مسلم ج ۷ امام مسلم

صحیح بخاری ج ۴ و۸ امام بخاری

ط

طبقات ج ۸ ابن سعد

ع

عین المعجزات سید مرتضیٰ

ف

فرائد السمطین ص۱۷۵ جوینی

فاطمہ زہرا درکلام اہل السنت

فیض القدیر

فضائل الزہراء ص۱۰۹

فضائل الصحابہ عبدالرحمن

فاطمہ زہرا مثالی خاتون آیة اللہ امینی

فروع کافی ج ۱۰ کلینی


م

مسند احمد ج ۴ ص ۴۴۲ احمد بن حنبل

مصباح المتہجد طوسی

مستدرک حاکم حاکم نیشاپوری

مراة الحرمین ج اص۱۵۹ ابراہیم رفعت

مناقب مغازی

مطالب السوال ابو طلحہ شافعی

میزان الا عتدال ج ۲ وا ذہبی

مقتل الحسین ص۵ ۹ خورزی

مستدرک ج ۱۴ نوری

مجمع البیان ج ۵ طبرسی

مناقب ج ۳ ابن اشوب

مصباح کفعمی ص ۵۱۱ کفعمی

منتخب التواریخ محمد ہاشم

مقاتل الطالبین ابو الفرج اضفہانی

منتہی الامال ج ۱ محدث قمی


ک

کنار علقمہ ۶۲

کنزالعمال ج ۶ متقی ہندی

کثف الغمہ ج او۲ علی بن عسٰی

و

وسائل الشیعہ ج ۱۴ شیخ حرآملی

وافی ج ۱۰ فیض کاشانی

وفاء الوفاء ج ص۴۲ علی بن احمد

ن

نہج البلاغہ نامہ ۴۵

ناسخ اتو اریخ ج۲ محمد تقی

ی

ینابیع المودة شیخ سلیمان بلیخی


فہرست

انتساب ۴

تقریظ: ۵

یہ کیوں ہوا؟!! ۸

مقدمہ ۹

پہلی فصل: ۱۱

ولادت حضرت زہرا ۱۱

الف :تاریخ ولادت ۱۱

دوسرا نظر یہ: ۱۳

تیسرا نظر یہ: ۱۴

چوتھا نظریہ: ۱۵

پانچواں نظریہ : ۱۶

چھٹا نظریہ: ۱۷

ب۔ محلّ تولد ۱۸

ج: حضرت زہرا کے وجود میں جنت کی طبیعت ۱۹

د: ماں کے شکم میں زہراسلام اللہ علیہا ۲۲

ز: آپ کے تولد کے مو قع پر غیبی امداد ۲۵

ر: نام گزاری حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا ) ۲۸

دوسری فصل: ۳۱

حضرت زہرا کے فضائل ۳۱

الف۔ قرآن کی روشنی میں ۳۱


دوسری آیت: ۳۳

تفسیر آیت: ۳۴

تیسری آیت: ۳۶

چوتھی آیت: ۳۸

پانچویں آیت: ۳۹

شا ن نزول: ۴۰

چھٹی آیت: ۴۱

ساتویں آیت: ۴۳

آٹھویں آیت: ۴۴

ب۔سنت کی روشنی میں ۴۶

الف: پیغمبر اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نظر میں حضرت زہرا کی فضیلت ۴۶

دوسری روایت : ۴۷

توضیح روایت: ۴۸

ب۔ جناب فاطمہ زہرا کی ناراضگی حضرت پیغمبر اکر م صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نا راضگی ہے ۴۹

توضیح: ۵۲

تو ضیح حدیث : ۵۴

ج۔ائمہ علیہم السلام کی نظر میں آپ کی فضیلت ۵۵

تیسری فصل: ۵۶

حضر ت زہراسلام اللہ علیہاکے رونے کا مقصد ۵۶

دوسرا جواب : ۵۸

تیسرا جواب : ۵۹


الف۔زہرا (سلام اللہ علیہا ) پر پابندی ۶۱

(۱) اقتصادی پابندی ۔ ۶۲

۲۔ سیاسی پابندی ۶۷

۳۔ خا ندانی شخصیت پر پا بندی ۷۲

چوتھی فصل: ۷۶

حضرت زہرا کی سیرت ۷۶

الف۔ ازدواجی کا موں میں آپ کی سیرت ۷۷

ب۔ گھر یلو امور میں آپ کی سیرت ۸۷

تذکر: ۸۹

ج ۔شوہر کی خدمت میں آپ کی سیرت ۹۰

د۔بچوں کی تر بیت کر نے میں آپ کی سیرت ۹۴

ز۔ علم میں آپ کی سیرت ۹۷

ر۔عبادت میں آپ کی سیرت ۱۰۰

س۔زہد وتقویٰ میں آپ کی سیرت ۱۰۵

پا نچویں فصل ۱۱۲

کراما ت حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا ) ۱۱۲

چھٹی فصل: ۱۴۰

شہادت حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا ) ۱۴۰

الف۔ تاریخ شہادت ۱۴۰

ب۔ سبب شہادت حضرت زہرا ۱۴۲

(ج) وصیت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا ) ۱۴۸


د۔قبر حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کہاں ہے ؟ ۱۵۲

ز۔کیا ابوبکر اور عمر کو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے معاف کیا تھا؟ ۱۵۶

خاتمہ: ۱۶۴

فہرست منابع ۱۶۵