یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے
صحیفہ امام حسن علیہ السلام
فصل اوّل
آنحضرت کی دعائیں تعریفِ الٰہی میں آنحضرت کی دعائیں
خدا کی تسبیح اور پاکیزگی میں۔
مہینے کی دس اور گیارہ تاریخ کو خدا کی تسبیح اور تقدیس میں۔
خدا کے ساتھ مناجات کرنے کے متعلق۔
۱۔ آنحضرت کی دعا خدا کی تسبیح اور پاکیزگی کے متعلق
پاک و پاکیزہ ہے وہ جس نے اپنی مخلوقات کو اپنی قدرت کے ذریعے پیداکیا اور اُن کو اپنی حکمت کے تحت محکم اور مضبوط خلق فرمایا۔ اپنے علم کی بنیاد پر ہرچیز کو اپنے مقام پر قرار دیا۔ پاک و پاکیزہ ہے وہ ذات جو آنکھوں کی خیانت اور جو کچھ دلوں میں ہے، جانتا ہے۔ اُس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔
۲۔ مہینے کی دس اور گیارہ تاریخ کو خدا کی تسبیح اور تقدیس میں آنحضرت کی دعا
پاک و پاکیزہ ہے نو رکو پیدا کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے تاریکی کو پیدا کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے پانیوں کو خلق کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے آسمانوں کو پیدا کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے زمینوں کو پیدا کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے ہواؤں کو پیدا کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے سبزے کو پیدا کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے زندگی اور موت کو پید اکرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے مٹی اور بیابانوں کو پیدا کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے خدا اور تعریف و ثناء اُسی کیلئے ہے۔
۳۔ خدا کے ساتھ مناجات کرنے کے متعلق آنحضرت کی دعا
اے اللہ! تیری بارگاہ میں کھڑا ہوں اور اپنے ہاتھ تیری طرف بلند کئے ہیں، باوجود اس کے کہ میں جانتا ہوں کہ میں نے تیری عبادت میں سستی کی ہے اورتیری اطاعت میں کوتاہی کی ہے۔ اگر میں حیاء کے راستے پر چلاہوتا تو طلب کرنے اور دعا کرنے سے ڈرتا۔ لیکن اے پروردگار! جب سے میں نے سنا ہے کہ تو نے گناہگاروں کو اپنے دربار میں بلایا ہے اور اُن کو اچھی طرح بخشنے اور ثواب کا وعدہ دیا ہے، تیری ندا پر لبیک کہنے کیلئے آیا ہوں اور مہربانی کرنے والوں کے مہربان کی محبت کی طرف پناہ لئے ہوئے ہوں۔
اور تیری رسول کے وسیلہ سے جس کو تو نے اہلِ اطاعت پر فضیلت عطا کی ہے، اپنی طرف سے قبولیت اور شفاعت اُس کو عطا کی ہے، اس کے چنے ہوئے وصی کے وسیلہ سے کہ جو تیرے نزدیک جنت اور جہنم کے تقسیم کرنے والامشہور ہے، عورتوں کی سردار فاطمہ کے صدقہ کے ساتھ اور ان کی اولاد جو رہنما اور اُن کے جانشین ہیں، کے وسیلہ سے، اُن تمام فرشتوں کے وسیلہ سے کہ جن کے وسیلہ سے تیری طرف جب متوجہ ہوتے ہیں اور تیرے نزدیک شفاعت کیلئے وسیلہ قرار دیتے ہیں، وہ تیرے دربار کے خاص الخاص ہیں، میں تیری طرف متوجہ ہوا ہوں۔
پس ان پر درود بھیج اور مجھے اپنی ملاقات کے خطرات سے محفوظ فرما۔ مجھے اپنے خاص اور دوست بندوں میں سے قرار دے۔ اپنے سوال اور گفتگو میں سے میں نے اُس کو مقدم کیا ہے۔
جو تیری ملاقات اور دیدار کا سبب بنے اور اگر ان تمام چیزوں کے باوجود میری دعاؤں کو رد کردے گا تو میری اُمیدیں نااُمیدی میں تبدیل ہوجائیں گی۔ اس طرح جیسے ایک مالک اپنے نوکر کے گناہوں کو دیکھے اور اُسے اپنے دربار سے دور کردے۔ ایک مولا اپنے غلام کے عیوب کا ملاحظہ کرے اور اُس کے جواب سے اپنے آپ کو روک لے۔افسوس ہے مجھ پر
دوسری فصل
امام حسن کے خطبات
۱۔ لوگوں کو جنگِ جمل کی ترغیب دلانے کے متعلق آنحضرت کا خطبہ
تعریف صرف اُس خدا کیلئے ہے جو قہر و غضب والا ہے۔ اس کا کوئی ثانی نہیں ہے، ہمیشہ مسلط رہنے والا ہے۔ بڑا اور بلند ہے۔ اس کیلئے برابر ہے کہ آرام سے بات کرویا بلند آواز سے۔ وہ جو رات کی تاریکی میں پوشیدہ ہے، اور دن کے اجالے میں چلتا ہے، اس کی تعریف کرتاہوں۔اچھے امتحان پر، اور یکے بعد دیگرے نعمتوں پر، اور اس پر جسے میں سختی اور آرام میں سے اچھا جانتا ہوں یا برا، میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ محمد اس کا بندہ اور رسول ہے۔ خدا نے اس کی نبوت کے ذریعے ہم پر احسان کیا ہے، اور اسے اپنی پیغمبری کے ساتھ خاص فرمایا اور اپنی وحی کو اس پر نازل فرمایا، اور اس کو تمام چیزوں پر افضل بنایا۔ اس کو جنوں اور انسانوں کی طرف اس وقت بھیجا جب بتوں کی پوجا ہورہی تھی اور شیطان خدا کی اطاعت سے انکار کر چکے تھے۔ خدا کا درود ان پر اور ان کی آل پر ہو، اور انبیاء کی جزاء سے بہترین جزاء ان کو عطا فرمائے۔
اما بعد! میں اس کے علاوہ جو تم لوگ جانتے ہو، کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ مجھے امیرالمومنین علی ابن ابیطالب علیہ السلام ، جن کی خدا نے ہدایت اور مدد فرمائی ہے،نے آپ کی طرف بھیجا ہے۔ وہ تمہیں اچھے راستے کی طرف کتاب کے ساتھ عمل اور راہِ خدا میں جہاد کرنے کی طرف بلاتا ہے۔ اگرچہ ابھی تک اسے ناپسند کرتے ہو، لیکن اگر خدانے چاہا تو بعد میں اسے پسند کروگے اور عنقریب تمہارا محبوب ہوگا، اور تم جانتے ہو کہ علی نے اکیلے نماز پڑھی ہے، اور اس دن رسولِ خدا کی تصدیق کی ہے جب وہ ابھی دس سال کے تھے، اور تمام جنگوں میں ان کے ساتھ شریک رہے۔ خدا کی خوشنودی اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت اور اسلام کی خوبیوں کو حاصل کرنے میں اس کی کوششوں کو تم جانتے ہو، اور ہمیشہ خدا کا رسول اس سے راضی تھا۔ یہاں تک کہ ان کی آنکھوں کو اپنے ہاتھوں کے ساتھ بند کیا اور اکیلے ان کو غسل دیا، جبکہ فرشتے ان کی مدد کررہے تھے، اور ان کے چچا کا بیٹا فضل پانی لارہا تھا، اور پھر خود ان کو قبر میں داخل کیا، اور پیغمبر خدا نے قرض کو اداکرنے، وعدہ پورا کرنے اور دوسرے معاملات میں جن میں خدا نے ان پر احسان کیاتھا، اس کو وصیت کی ۔ خدا کی قسم! اس وقت تو لوگوں کو نہیں بلایا تھا اپنی طرف بلکہ لوگ خود اس کی طرف ،اس کے اونٹ کی طرف لوٹ آئے تھے۔ جو پانی کے پاس آتے وقت غصے کی حالت میں جلدی آتا ہے۔ انہوں نے اپنی مرضی کے ساتھ اور آزادی کے وقت ان کی بیعت کی تھی۔ اس کے بعد ایک گروہ نے اپنے وعدے کو توڑ دیا جبکہ اس نے کوئی بدعت ایجاد نہ کی تھی، اور خلافِ شرع کوئی کام نہیں کیا تھا بلکہ صرف اس کے ساتھ حسد کی وجہ سے اور اس پر زیادتی کرنے کی خاطر۔
پس اے خدا کے بندو! تم پر واجب و ضروری ہے کہ خدا سے ڈرو اور کوشش اور صبر میں خدا سے مددلو، اور اس طرف جاؤ جدھر امیرالمومنین علیہ السلام تمہیں بلا رہے ہوں۔ خدا اس چیز کے ساتھ ہماری اور تمہاری حفاظت فرمائے جس کے ساتھ اپنے اولیاء کی حفاظت کی تھی، اور ہمیں اور تمہیں اپنے تقویٰ کا انعام کرے، اور ہمیں اور تمہیں اپنے دشمنوں کے ساتھ جہاد میں مدد فرمائے۔ اپنے اور تمہارے لئے خدا سے بخشش طلب کرتاہوں۔(شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج ۴ ، ص ۲۹۸) ۔
۲ ۔ آنحضرت کا جنگِ جمل کیطرف اہل کوفہ کو ترغیب دینے کیلئے خطبہ
روایت میں ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے امام حسن علیہ السلام اور اپنے اصحاب میں سے کچھ دوسرے لوگوں کو خط دے کر کوفہ کی طرف مدد طلب کرنے کیلئے بھیجا۔ جب امام حسن علیہ السلام عمار کے ساتھ کوفہ میں داخل ہوئے تو لوگ ان کے اردگرد جمع ہوگئے۔امام علیہ السلام ان کے درمیان آئے اور خدا کی حمدو ثناء کے بعد فرمایا:"اے لوگو! ہم آئے ہیں تاکہ تمہیں بلائیں اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے پیغمبر کی سنت کی طرف، اور مسلمانوں کی فقیہ ترین شخصیت کی طرف جس کو تم عادل کہتے ہو اور ان میں سے عادل ترین کی طرف اور افضل ترین ان میں سے جن کو تم افضل کہتے ہو اور جن کی تم بیعت کرتے ہو، ان میں سے باوفا ترین کی طرف۔ وہ شخص جس کو قرآن کا سمجھنا عاجز نہیں کرتا اور سنت سے اس پر کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے، اور اس سے کوئی آگے بڑھ نہیں سکتا۔ اس کی طرف بلائیں جس کو خدا نے دوجہت سے اپنے پیغمبر کے نزدیک کیا ہے! دین کے لحاظ سے ، رشتہ داری کے لحاظ سے۔ وہ ایسا شخص ہے جس کے ذریعے خدا نے اپنے پیغمبر کا خیال رکھا جبکہ لوگ اسے رسوا اور ذلیل کرنے کیلئے تلے ہوئے تھے۔ وہ پیغمبر کے قریب ہوا جب لوگ دور تھے، اور اُس نے اُن کے ساتھ نماز پڑھی جب لوگ مشرک تھے۔ پیغمبر کے ساتھ مل کر جنگ کی جب لوگ بھاگ رہے تھے۔ ان کے ساتھ مل کر دشمنوں کا مقابلہ کیا جب لوگ مقابلے سے نظر چُرا رہے تھے۔ اس نے پیغمبر کی تصدیق کی جب لوگ اسے جھٹلا رہے تھے۔ اس کی طرف بلانے آئے ہیں جس نے پرچم کو واپس نہیں پلٹایا اور اس سے کسی نے سبقت نہیں لی۔
وہ تمہیں مدد کیلئے بلا رہا ہے، اور حق کی طرف دعوت دے رہا ہے، اور تم سے چاہتا ہے کہ خدا کی طرف جاؤ تاکہ تم اس کی ان لوگوں کے مقابلے میں مددکرسکو جنہوں نے اس کی بیعت کو توڑدیا، اور ا سکے نیک اصحاب کو قتل کردیا، اور اس کے کارندوں کو ایک طرف کردیا ، اور بیت المال کو لوٹ لیا۔ پس تم اس کی طرف جاؤ ، خدا تمہاری مدد کرے اور تم پر رحمت کرے۔پس نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو، اور خدا کی بارگاہ میں نیک بندوں کی طرح حاضر ہوجاؤ۔(شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج ۲ ، ص ۲۹۲) ۔
۳۔ آنحضرت کا خطبہ جمل میں لوگوں کو جنگ کی ترغیب دلانے کی خاطر
اے لوگو!اپنے امیر کی دعوت کو سنو، اور اپنے بھائیوں کی طرف جاؤ، اور بہت جلد حکومت اس کے ہاتھ میں ہوگی، جس کی طرف تم کوچ کرکے جاؤ گے۔ خدا کی قسم! اگر حکومت دانا اور عقلمند لوگوں کے ہاتھ آجائے تو یہ اس دنیا میں بہتر اور آخرت میں اچھا ہوگا۔ پس ہماری دعوت کو قبول کرو اور ہماری مدد کرو، اس چیز میں جس کے ساتھ ہم اور تم مبتلا ہوئے ہو۔(طبری، ایڈیشن ۲ ، ص ۲۷) ۔
۴۔ اہل کوفہ کو جنگِ جمل کی طرف ترغیب کی خاطر آنحضرت کا خطبہ
اے لوگو! امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں اس راہ کی خاطر بطور ظالم یا بطور مظلوم نکل پڑا ہوں، اور میں خداکو اس شخص کی خاطر یاد کرتا ہوں جو صرف خدا کی خاطر اپنے حق کا قائل ہے، ورنہ وہ چلاجائے۔ اگر میں مظلوم ہوں تومیری مدد کرے۔ اگر میں ظالم ہوں تو میرا حق مجھ سے لے لے۔ خدا کی قسم! طلحہ اور زبیر وہ لوگ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے میری بیعت کی، اور یہی لوگ سب سے پہلے میرے ساتھ دھوکہ کرنے والے ہیں۔ آیا کوئی مال میں نے اٹھا لیا ہے یا کسی حکم کو تبدیل کردیا ہے۔ پس نکلو اور اچھے کام کا حکم اور بُرے کام سے منع کرو۔(طبری، ایڈیشن ۲ ، ص ۳۶) ۔
۵۔ آنحضرت کا خطبہ اہل کوفہ کو جنگِ جمل کی ترغیب دلانے کیلئے
اے لوگو! امیرالمومنین علیہ السلام نے ہر مقام پر پہلے تمہاری مدد کی۔ اب ہم آئے ہیں کہ تمہیں ان کی خاطر بلائیں کیونکہ تم شہروں کے پیشوا اور عربوں کے رئیس ہو۔ تمہیں طلحہ ، زبیر اور عائشہ کے ساتھ مل کر خرو ج اور بیعت کو توڑنے کی اطلاع مل چکی ہے۔ یہ عورتوں کی کمزوری اور عقیدہ کی کمزوری کی وجہ سے ہوا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مرد عورتوں پر فوقیت رکھتے ہیں۔ خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر کوئی بھی اس کی مدد کیلئے نہ آئے تو مہاجرین اور انصار جو اس کی مدد کیلئے آئیں گے، اور خدا پاک انسانوں میں سے جو اس کی مدد کیلئے بھیجے گا، وہ اس کیلئے کافی ہیں۔ خدا کی مددکرو تاکہ وہ تمہاری مدد کرے۔(امالی، شیخ طوسی، ج ۲ ، ص ۸۷) ۔
۶۔ اپنے والد بزرگوار کی مدد کی ترغیب دلانے کی خاطر آنحضرت کا خطبہ
جب حضرت علی علیہ السلام کو اطلاع ملکی کہ ابوموسیٰ اشعری نے لوگوں کو امام کی مدد کرنے سے روکاتو آپ نے امام حسن علیہ السلام ،مالک اشتر اور عمارِیاسر کو ان کی طرف بھیجا۔ جب یہ حضرات مسجد میں داخل ہوئے تو امام حسن علیہ السلام منبر پر گئے اور اس طرح فرمایا:
"اے لوگو! بے شک علی علیہ السلام ہدایت کا دروازہ ہے، جو بھی اس میں داخل ہوا، وہ ہدایت پاگیا، اور جس نے بھی مخالفت کی، وہ ہلاک ہوگیا۔(الجمل شیخ مفید، ص ۲۵۳) ۔
۷۔ اپنے والد گرامی کی مدد کی ترغیب کیلئے آنحضرت کا خطبہ
روایت ہے کہ جب امیرالمومنین علیہ السلام مدینہ سے کوفہ کے شہر کے نزدیک پہنچے تو آپ نے امام حسن علیہ السلام کو عماراور ابن عباس کے ساتھ لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے بھیجا۔ جب یہ حضرات مسجد میں داخل ہوئے تو امام حسن علیہ السلام منبر پر گئے اور خدا کی حمد وثناء کی،اس کے بعد نانا کا نام لیا اور ان پر درود بھیجا، اور اپنے والد کی فضیلت ، اسلام پر ان کی سبقت اور پیغمبر اسلام کے ساتھ ان کی رشتہ داری کو یاد دلایا، اور یہ بھی یاددلایا کہ وہ خلافت کیلئے سب سے زیادہ مستحق اور موزوں ہیں۔ اس کے بعد فرمایا:اے لوگو! طلحہ اور زبیر نے آزادی کے ساتھ اور بغیر کسی مجبوری کے بیعت کی تھی۔ پھر وہ چلے گئے اور بیعت کو توڑ دیا۔ خوشخبری ہے ان لوگوں کیلئے جو بلند پرواز ہوکر ان لوگوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کیلئے ، جو امیرالمومنین علیہ السلام کے ساتھ جنگ کر رہے تھے،جہاد کرتے ہیں، ان کے ساتھ مل کر جہاد کرنا ایسے ہے جیسے پیغمبر اسلام کے ساتھ مل کر جہاد کیا جائے۔(الجمل، شیخ مفید، ص ۲۶۴) ۔
۸۔ آنحضرت کا خطبہ لوگوں کو اپنے والد کی مدد کی طرف ترغیب دلانے کیلئے
جب عبداللہ بن زبیر کی گفتگو(جو اس نے عثمان کے قتل کی نسبت امام کی طرف دینے کے بارے میں کی تھی)حضرت علی علیہ السلام تک پہنچی تو حضرت امام حسن علیہ السلام سے فرمایا کہ اے بیٹے! اٹھو اور خطبہ پڑھو۔امام نے خدا کی حمدوثناء کے بعد فرمایا: اے لوگو! عبداللہ بن زبیر کی گفتگو تم تک پہنچ چکی ہے۔ خدا کی قسم! جب عثمان سے تمام رعایاتنگ ہوچکی تھی تو عبداللہ بن زبیر کا باپ بلاوجہ اس کی طرف گناہوں کی نسبت دے رہا تھا۔ یہاں تک کہ عثمان قتل ہوگیا جبکہ طلحہ عثمان کے زمانے میں اس کے پرچم کو اس کے بیت المال میں رکھے ہوئے تھا۔رہی بات یہ کہ وہ کہتا ہے کہ علی علیہ السلام نے لوگوں کے امورِ زندگی کو بکھیر کے رکھ دیا ہے تو یہ معاملہ اس کے باپ پراس سے بڑھ کر ثابت ہے۔وہ خیال کرتا ہے کہ ہاتھ کے ساتھ بیعت کی ہے، دل کے ساتھ بیعت نہیں کی، حالانکہ اپنی بیعت کا اس نے اقرار کیا ہے اور دوستی کا دعویٰ کیا ہے۔ اپنی بات کیلئے دلیل لائے۔ وہ اس کام پر قدرت نہیں رکھتا۔ رہی بات اس کے تعجب کی کہ اہل کوفہ اہل بصرہ پر غالب آجائیں گے، تو اس میں کون سی تعجب کی بات ہے۔ اہلِ حق اہلِ باطل پر غلبہ حاصل کر لیں گے۔ خدا کی قسم! حساب کا دن وہ ہے جب ہم خدا کے دربار میں ان کو فیصلہ کیلئے لے کر آئیں گے اور خدا حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا، اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔(الجمل، شیخ مفید، ص ۳۲۸) ۔
۹۔ آنحضرت کا اہلبےت کی فضیلت میں خطبہ
روایت ہے کہ جب امام علی علیہ السلام جنگ جمل سے فارغ ہوئے تو بیمار ہوگئے۔ جمعہ کے دن نمازِ جمعہ بجالانے کا وقت آگیا۔اس لئے امام علیہ السلام نے اپنے بیٹے امام حسن سے فرمایا کہ بیٹے !لوگوں کے ساتھ نمازِ جمعہ بجالاؤ۔ امام حسن علیہ السلام مسجد میں گئے، منبر پر خدا کی حمدوثناء کی اور گواہی دی اور رسولِ خداپر درود بھیجا اور فرمایا: اے لوگو! خدا نے ہمیں اپنے لئے چنا ہے، اور اپنے دین کیلئے ہمارے ساتھ راضی ہوا ہے، اور اپنی تمام مخلوق پر ہمیں برتری بخشی ہے۔ کتاب اور اپنی وحی ہم پر نازل فرمائی ہے۔ خدا کی قسم! کوئی شخص بھی ہمارے حق میں سے کوئی چیز کم نہ کرے گا۔مگر یہ کہ خدا اس کے حق کو اس دنیا میں اور آخرت میں کم کردے گا، اور کوئی حکومت بھی ہم پر حکمرانی نہیں کرے گی مگر یہ کہ آخرکار ہمارے فائدہ میں ہوگی، اور عنقریب تمہیں اس کمی کی خبر ہوجائے گی۔ اس کے بعد نمازِ جمعہ پڑھی۔ ان کی گفتگو ان کے والد بزرگوار کے کانوں تک پہنچی۔ جب نماز سے واپس آئے اور والد کی نگاہ ان پر پڑی تو اپنے اوپر قابو نہ پاسکے۔ آنکھیں آنسوؤں سے پُر ہوگئیں۔ انہوں نے اپنے سینے سے لگایا اور آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا: میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوجائیں اور ایسی اولاد کہ جن میں سے بعض دوسرے سے بعض ہیں۔ خدا سننے اور جاننے والا ہے۔(امالی، شیخ طوسی، ج ۳ ، حدیث ۳۰) ۔
۱۰۔ جنگ صفین میں لوگوں کو جنگ کی ترغیب دینے کیلئے آنحضرت کا خطبہ
تعریف صرف اُس خدا کیلئے ہے جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اس کی اس طرح تعریف کرتا ہوں جیسے وہ تعریف کا حقدار ہے۔ یہ کہ اس نے اپنے حق سے تم پر عظمت حاصل کی ہے، اور اپنی نعمتوں کو تم پر پھیلایا ہے، یہ کہ اس کے ذکر کوشمار نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس کاشکر ادا کیا جاسکتا ہے اور نہ کوئی صفت اور نہ کوئی بات اس تک پہنچ سکتی ہے، اور ہم راہِ خدا میں تمہارے لئے غضبناک ہوئے کیونکہ خدا نے ہم پر اس طرح احسان فرمایا جس کا وہ اہل تھا تاکہ اس کی نعمتوں، عطیات اور ہدیوں کا شکر ادا کیا جاسکے۔
ایسی بات کہ جس میں رضاو خوشنودی خدا کی طرف بلند ہوتی ہے، اور جس میں سچائی اور صداقت روشن ہوتی ہے تاکہ ہماری بات کی تصدیق ہوسکے، اور اپنے رب کی طرف سے مزید توفیقات کے حق دار ہوسکیں۔ ایسی بات کہ جو طولانی ہو اورکبھی ختم نہ ہو، ہر ایسا اجتماع جو شیِ واحد پر ہو، اس کی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے، اور ان کے وعدے محکم ہوتے ہیں۔ پس معاویہ اور ان کے سپاہیوں کے ساتھ جنگ کرنے کیلئے تیار ہوجاؤ۔ جو تمہاری طرف آئے ہیں، رسوائی کی طرف نہ جانا کیونکہ رسوائی دل کی رگوں کو کاٹ دیتی ہے، اور جنگ کی طرف بڑھنا بلندی اور شکست و ذلت سے دوری کا سبب بنتا ہے کیونکہ جس قوم نے بھی ذلت و رسوائی سے دوری اختیار کی تو خدا نے تکالیف اور ناکامیاں ان سے دور کردیں، اور ذلت و رسوائی کو ان سے دور کردیتا ہے، اور ان کو حقیقت اور حق کی طرف رہنمائی فرماتاہے۔ اس کے بعد اس شعر کو پڑھا:
صلح سے تم جو چاہتے ہو حاصل کرسکتے ہو لیکن جنگ کے سانسوں میں سے ایک گھونٹ بھی تیرے لئے کافی ہے۔(صفین، منقری، ص ۱۱۴) ۔
۱۱۔ ابوموسیٰ کے فیصلے کے بعد آنحضرت کا صفین میں خطبہ
اے لوگو! تم نے عبداللہ بن قیس اور عمروبن عاص کے انتخاب کے بارے میں بڑی باتیں کیں۔ یہ دو اشخاص اس لئے منتخب ہوئے تھے تاکہ کتاب کے مطابق فیصلہ کریں۔ لیکن انہوں نے اپنی خواہشات کو قرآن پر فوقیت دی، اور جو بھی ایسا کرے وہ حکم نہیں کہلا سکتا بلکہ اسے محکوم علیہ ہونا چاہئے ( یعنی وہ فیصلہ کرنے کے لائق نہیں بلکہ اس کے خلاف فیصلہ ہونا چاہئے)۔ عبداللہ بن قیس نے عبداللہ بن عمر کی خلافت کے معاملہ میں انتخاب میں غلطی کی اور تین چیزوں میں اس نے اشتباہ کیا۔ یہ کہ عبداللہ کے باپ عمر نے اسے خلافت کیلئے مناسب نہ جانا اور معین نہ کیا اور خلیفہ نہ بنایا، اور اس لئے عمر نے عبداللہ کو کسی گورنری پر مقرر نہ کیا، اور اس میں بھی کہ مہاجرین اور انصار عبداللہ بن عمر کیلئے کسی خصوصیت کے قائل نہ تھے، اور جو لوگ فیصلے کیا کرتے تھے وہ اسے کوئی کام سپرد نہ کرتے تھے، اور سوائے اس کے نہیں کہ حکومت تو خدا کی طرف سے واجب ہے۔(یہ کسی آدمی کا کام تو نہیں ہے کہ جس کو چاہے مقرر کرے)۔ پیغمبر اسلام نے سعد بن معاذ کو بنی قریظہ کے معاملے میں حاکم (فیصلہ کرنے والا) مقرر کیا اور اس نے خدا کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا اور پیغمبر اسلام نے اس کے فیصلے کو نافذ فرمایا، اور اگر وہ خدا کے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرتا تو پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسے لاگو نہ کرتے۔(بحار، ج ۳۳ ، ص ۳۹۳) ۔
۱۲۔ آنحضرت کا خطبہ خدا کی تعریف اور اپنے والد کی شان میں
روایت ہے کہ امام علی علیہ السلام نے امام حسن علیہ السلام سے فرمایا کہ اے بیٹے! اٹھو اور خطبہ پڑھو تاکہ تمہاری آواز سنوں۔ آنحضرت اٹھے اور اس طرح گفتگو فرمائی:
تمام تعریفیں اس خدا کیلئے ہیں جو ایک ہے بغیر تشبیہ کے، اور جو ہمیشہ ہے بنے بغیر، جو مضبوط ہے سختی کے بغیر، جو بغیر رنج و تکلیف کے پید اکرنے والا ہے۔ اس کا وصف بیان ہوا ہے بغیر اس کے کہ اس کی کوئی انتہا ہو۔ وہ پہچانا ہوا ہے حد بندی کے بغیر۔ وہ غالب ہے اور یہ چیزیں اس کے ساتھ ازل سے ہیں۔ دل اس کی ہیبت سے پریشان ہیں۔ عقلیں اس کی عزت سے حیران ہیں، اور گردنیں اس کی قدرت سے جھکی ہوئی ہیں۔ اس کی قدرت کی انتہا بشری ذہن میں نہیں آسکتی، اور اس کی عظمت کی حقیقت کو لوگ پا نہیں سکتے۔وصف بیان کرنے والے اس کی عظمت کی انتہا کو بیان کرنے سے عاجزہیں۔ صاحبانِ علم کا علم اس تک پہنچ ہی نہیں سکتا، اور فکر کرنے والوں کی فکریں اس کی تدبیروں میں راستہ تلاش نہیں کر سکتیں۔ زیادہ علم رکھنے والا شخص وہ ہے جو اس کے وصف بیان کرتے وقت انتہائے وصف بیان نہ کرے۔ وہ ہرچیز دیکھتا ہے لیکن آنکھیں اسے نہیں پاسکتیں۔ وہ جاننے والا ہے اور باخبر ہے۔
اما بعد! علی علیہ السلام ایسا دروازہ بنے کہ جو بھی اس میں داخل ہو گیا وہ مومن ہے، اور جو بھی اس سے خارج ہوگیا، وہ کافر ہے۔ میں یہ بات کرتاہوں اور عظیم خدا سے تمہاری بخشش طلب کرتا ہوں۔(تفسیر فرات بن ابراہیم، ص ۱۷) ۔
۱۳۔ آنحضرت کا خطبہ خدا کی تعریف اور اپنے والد گرامی کی شان میں
روایت ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے امام حسن علیہ السلام سے فرمایا کہ اٹھو اور خطبہ پڑھو تاکہ میں تمہاری آواز سنوں۔ آنحضرت اٹھے اور فرمایا:
تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں۔ ایسا خدا جو ہر کہنے والے کی سنتا ہے اور چپ رہنے والے کے دل میں ہرچیز سے واقف ہے۔جو بھی زندہ ہے ،اس کو رزق دینا اسی کا کام ہے۔ ہر مرنے والے کا لوٹنا اسی کی طرف ہے۔
اما بعد! قبریں ہمارا ٹھکانا اور قیامت ہمارے وعد ہ کی جگہ ہیں ، اور خدا ہمارا محاسبہ کرنے والا ہے۔ علی علیہ السلام ایسا دروازہ ہیں کہ جو اس میں داخل ہوگیا وہ مومن اور جو اس سے خارج ہوگیا، وہ کافر ہے۔(کشف الغمہ، اردبیلی، ج ۱ ،ص ۵۷۲) ۔
۱۴۔ آنحضرت کا خطبہ اہلبےت کی فضیلت میں
روایت ہے کہ کوفہ کے لوگوں میں سے ایک گروہ نے امام حسن علیہ السلام کے بارے
میں بُرابھلا کہا،اور طعنہ دیا کہ وہ قدرت نہیں رکھتے گفتگو کرنے میں۔ یہ بات امیرالمومنین علیہ السلام تک پہنچی۔ امام حسن علیہ السلام کو بلایا اور فرمایا کہ اے پیغمبر خدا کے بیٹے! کوفہ کے لوگ تیرے بارے میں ایسی باتیں کررہے ہیں جو مجھے بُری لگی ہیں۔ لوگوں کو اپنے متعلق بتاؤ۔ امام حسن علیہ السلام نے عرض کی کہ جب آپ میرے سامنے ہوتے ہیں تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔آپ نے فرمایا کہ میں ایک طرف چلاجاتا ہوں۔ اعلان کرکے لوگوں کو جمع کیا گیا۔ امام علیہ السلام منبر پر گئے اور ایک چھوٹا سامگر فصیح اور بلیغ خطبہ دیا۔ یہاں تک کہ لوگ رونے لگے۔ تب امام نے فرمایا :اے لوگو! خداکے ا س قول میں غوروفکر کرو جس میں فرمایا ہے کہ خدا نے آدم، نوح اور خاندانِ ابراہیم علیہ السلام اور خاندانِ عمران کو ان تمام کائنات والوں میں سے چن لیا ہے کہ بعض ان میں سے دوسرے کی اولاد ہیں، اور خداسننے والا اور جاننے والا ہے۔ پس ہم آدم کی اولاد ، نوح کے خاندان سے، ابراہیم کی چنی ہوئی اولاد سے، نسلِ اسماعیل اور محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل سے ہیں۔پس ہم تمہارے درمیان بلند آسمان ، بچھی ہوئی زمین، چمکتا ہوا سورج اور زیتون کے درخت کی مثل ہیں کہ جو مشرق کی طرف مائل تھا اور نہ ہی مغرب کی طرف اور اس کے زیتون کو برکت دی گئی ہے۔
پیغمبر اس درخت کی جڑ اور علی اس کا تنا ہیں، اور خدا کی قسم! ہم اس درخت کا پھل ہیں۔ پس جو بھی اس درخت کی شاخ کو پکڑے، وہ نجات پاجائیگا، اور جو بھی اس سے پیچھے رہ گیا، وہ آگ میں گر جائے گا۔۔ اس وقت حضرت علی علیہ السلام مجمع کے آخر سے اٹھے ، اس حال میں کہ ان کی چادر نیچے سے پیچھے لگ رہی تھی۔یہاں تک کہ منبر پر امام حسن علیہ السلام کے پاس آگئے ۔ ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا:اے پیغمبر کے بیٹے! تو نے لوگوں پر اپنی حجت تمام کو ثابت کردیا ہے اور اپنی اطاعت کو واجب کردیا ہے۔ پس ہلاکت ہے اس کیلئے جو تیری مخالفت کرے۔(عددالقویہ، ص ۳۸) ۔
۱۵۔ والد بزرگوار کی شہادت کے بعد فضیلت اہل بیت کے متعلق آنحضرت کا خطبہ
روایت ہے کہ جب امیرالمومنین علیہ السلام کی شہادت ہوئی تو امام حسن علیہ السلام منبر پر گئے اور کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن گریہ ان پر تاری ہوگیا۔ تھوڑی دیر کیلئے بیٹھے اور پھر اٹھے،پھر فرمایا:تمام تعریفیں اس خداوحدہ لاشریک کیلئے ہیں جو اپنی ابتداء میں ایک تھا اور ازل سے خدائی کے ساتھ عظمت والا ہے۔ وہ بلندی اور طاقت کے ساتھ افضل ہے۔ شروع کیا اس کو جس کو اس نے ایجاد کیا اور ظاہر کیا جس کو اس نے پیدا کیا، اس حال میں کہ اس سے پہلے اس کی مثال موجود نہ تھی۔
مہربان خدا نے اپنے خدائی لطف کے ساتھ اور اپنے کثیر علم کے ذریعے موجودات کوظاہر کیا اور اپنی قدرت کے احکام کے ذریعے مخلوقات کو پیدا کیا۔ پس اسی وجہ سے کسی کو حق نہیں ہے کہ اس کی خلقت میں تبدیلی کرسکے، اور اس کی بنائی ہوئی چیزوں میں ردوبدل کرسکے، اور کوئی اس کے سامنے مواخذہ کا حق نہیں رکھتا۔اس کے حکم کو کوئی رد کرنے والا نہیں ہے، اور اس کے بلائے ہوئے کیلئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ تمام موجودات کو پیدا کیا جبکہ اس کی حکومت کو زوال نہ تھا، اور اس کی مدت ختم ہونے والی نہ تھی۔ ہرچیز کے اوپر ہے اور ہرچیز کے قریب ہے۔ ہرچیز کیلئے دیکھے بغیر ظاہر ہے اور وہ بلند و بالا مقام میں اپنے نور کے ساتھ پوشیدہ ہے اور اپنی بلندی میں اونچا ہے۔اسی وجہ سے اپنی مخلوق سے خفیہ ہے۔ اسی لئے ان کی طرف گواہی دینے والے کو بھیجا اور پیغمبروں کو بھیجا اور خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے ہیں تاکہ جو ہلاک ہو اور جو ہدایت پائے، وہ دلیل اور حجت کے ساتھ ہوتاکہ لوگ ایسے خدا کے متعلق ، جس چیز میں جاہل ہیں، اس کو جان لیں، اور انکار کے بعد ان کو پہچان لیں۔ تمام تعریفیں فقط اس خدا کیلئے ہیں جس نے خلافت کو ہمارے لئے اچھا جانااور ہم اپنے بہترین باپ پیغمبر خدا کی مصیبت کو حساب میں لاتے ہیں، اور بیان کرتے ہیں اور امیرالمومنین علیہ السلام کی مصیبت کو خدا کے نزدیک بیان کرتے ہیں۔ مشرق و مغرب ان کی شہادت کی مصیبت میں گرفتار ہے۔
خدا کی قسم! چار سو درہم کے علاوہ جس کے ذریعے وہ اپنے اہلِ خانہ کیلئے ایک کنیز خریدنا چاہتے تھے، کوئی درہم و دینار پیچھے چھوڑ کر نہیں گئے۔
میرے دوست اور میرے نانا نے مجھے خبر دی تھی کہ خلافت اس کے خاندان کے افضل ترین بارہ اماموں کو ملے گے۔ ہم تمام کے تمام یا تو قتل کئے جائیں گے یا زہر دی جائے گی۔
ا س کے بعد آنحضرت منبر سے نیچے آئے اور ابن ملجم کو بلوایا۔لوگ اسے حضرت کے پاس لائے۔ اس نے کہا :اے رسولِ خدا کے بیٹے! مجھے چھوڑ دو۔ تمہارے کام آؤں گا اور تمہارے دشمن کے بارے میں تمہاری شام میں مدد کروں گا۔امام علیہ السلام نے اس پر تلوار ماری ۔ اس نے اپنا ہاتھ آگے کرلیا۔ اس کی انگلیاں کٹ گئیں۔ دوسری ضرب اس پر ماری اور اسے قتل کردیا۔خدا کی لعنت ہو اس ملعون پر۔(کفایت الاثر، ص ۱۶۰) ۔
۱۶۔ اپنی اولاد اور اپنے والد بزرگوار کی شان میں آنحضرت کا خطبہ
روایت ہے کہ آنحضرت اپنے والد بزرگوار کی شہادت کے بعد مسلمانوں کے درمیان آئے اور اپنے والد گرامی کو یاد کیا اور فرمایا: وہ خدا کے اوصیاء میں سے آخری وصی اور آخری پیغمبر خدا کے وصی اور نیک لوگوں، شہداء اور سچے لوگوں کے امیر تھے، پھر فرمایا:
اے لوگو! کل رات تم میں سے وہ شخص گیا ہے جس سے نہ تو پہلے والوں نے سبقت لی ہے اور نہ ہی بعد والے اسے پاسکے۔ پیغمبر ہمیشہ پرچمِ جہاد اس کو دیا کرتے تھے۔جبرائیل اس کے دائیں طرف اور میکائیل اس کے بائیں طرف جنگ کیا کرتے تھے، اور کامیابی کے علاوہ واپس نہیں لوٹتے تھے، اور خدا اس کے ہاتھ پر مسلمانوں کو کامیابی عطا فرماتا تھا۔اس نے شہادت کے وقت سونے اور چاندی میں سے کوئی چیز پیچھے نہیں چھوڑی۔ سوائے اس چیز کے جو اس کے بچوں میں سے ایک کے پاس تھی اور بیت المال میں کوئی چیز نہ چھوڑی، سوائے سات سو درہم کے۔ ان کے عطیات میں سے جس کے ذریعے وہ اپنی بیٹی اُمِ کلثوم کیلئے کنیز خریدنا چاہتے تھے۔ اے لوگو! جو مجھے جانتا ہے، وہ تو جانتا ہے ،جو نہیں جانتا، وہ جان لے کہ میں علی علیہ السلام کا بیٹا حسن ہوں۔
پھر اس آیت کو پڑھا جو حضرت یوسف علیہ السلام کے قول کی حکایت ہے۔ اپنے آباء و اجداد ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی ہے۔ میں بشارت دینے والے، میں ڈرانے والے اور خدا کی طرف بلانے والے کا بیٹا ہوں ۔ میں اس کا بیٹا ہوں جو روشن چراغ ہے اور اس کا بیٹا ہوں جس کو خدا نے سب جہانوں کیلئے رحمت بنا کربھیجا ہے۔ میں اس اہل بیت سے ہوں جس کو خدا نے رجس سے دور رکھا ہے،اور پاک و پاکیزہ کردیا۔ میں اس خاندان سے ہوں کہ جبرائیل جن کے گھر نازل ہوتا تھا، اور ان کے گھر سے آسمان کی طرف جاتا تھا۔ میں اس خاندان سے ہوں کہ جس کی دوستی اور ولایت کو خدا نے واجب کیا ہے، اور جو پیغمبرپر نازل کیا ہے۔ اس میں فرمایا ہے(ان سے کہہ دو کہ میں رسالت کا کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اپنے قریبیوں سے محبت کے۔ اور جوکوئی بھی نیک کام انجام دے تو ہم اس کا بدلہ زیادہ کرکے دیں گے)۔ اور نیکی کرنا ہم اہل بیت کی دوستی ہے۔
ایک روایت میں اس طرح آیا ہے:
اے لوگو! اس رات قرآن نازل ہوا ہے اور اس رات عیسیٰ بن مریم آسمان پر گئے۔ اس رات یوشع بن نون شہید ہوئے ، اور اس رات میرے والد امیرالمومنین علیہ السلام نے رحلت فرمائی۔ خدا کی قسم! خدا کے وصیّوں میں سے کوئی بھی ان سے پہلے جنت میں نہ جائے گا، اور ان کے بعد کوئی بھی ان جیسا نہ ہوگا۔
اگر پیغمبران کو کسی جنگ کیلئے بھیجتے تھے تو جبرائیل ان کے دائیں اور میکائیل ان کے بائیں طرف جنگ کرتے تھے، اور سونے اور چاندی کے سکوں میں سے کوئی پیچھے نہیں چھوڑا، سوائے ان سات سو درہم کے جوان کے حصے کے باقی تھے۔ ان کو جمع کیا تھا تاکہ اپنے اہلِ خانہ کیلئے خدمت گار خریدیں۔(امالی، شیخ طوسی، ص ۱۶۲) ۔
۱۷۔ آنحضرت کا خطبہ جب آپ کے والد گرامی نے وفات پائی
اے لوگو! اللہ سے ڈرو۔ ہم تمہارے امیر اور ولی ہیں، اور ہم وہ اہل بیت ہیں جن کے متعلق خدا نے فرمایا ہے (خدا چاہتا ہے کہ اے اہل بیت تم سے رجس کو دور دکھے اور تمہیں پاک و پاکیزہ کردے)۔(شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ، ص ۲۲)
۱۸۔ آنحضرت کا خطبہ جب آپ کے والد گرامی نے وفات پائی
اے لوگو! دنیا مصیبت اور آزمائش کا گھر ہے، اور جو کچھ بھی اس میں ہے،زائل اور ختم ہونے والا ہے۔ پھر فرمایا:
اور میں تمہارے ساتھ بیعت کرتا ہوں کہ میں جس کے ساتھ جنگ کروں، تم اس کے ساتھ جنگ کرو، اور میں جس کے ساتھ صلح کروں، تم اس کے ساتھ صلح کرو۔
لوگوں نے کہا: ہم نے سنا اور ہم اطاعت کرتے ہیں۔ اے امیرالمومنین ! اپنا حکم صادر فرمائیں۔(مناقب آل ابی طالب ، ابن شہر آشوب، ج ۳ ، ص ۱۹۳) ۔
۱۹۔ آنحضرت کا خطبہ ان کے ساتھ بیعت کرنے کے بعد
ہم خدا کا گروہ ہیں جو غالب ہونے والے ہیں۔ ہم پیغمبر اسلام کے قریبی اور ان کا خاندان ہیں۔ ہم رسولِ خدا کے اہل بیت ہیں، اور ان دووزنی چیزوں میں سے ایک جس کو اپنے بعد چھوڑ گئے، ہم کتابِ خدا کے بعد رسولِ خدا کی نشانی ہیں، کہ جس میں ہر چیز کا بیان ہے، اور باطل نہ آگے سے اورنہ پشت سے اس میں داخل ہوا۔
پس قرآن کی تفسیر ہمارے اختیار میں ہے ، ہم قرآن کے مفاہیم و مطالب کے بیان کرنے میں کبھی غلطی نہیں کرتے بلکہ قرآن کے حقائق کو ہم واضح کرتے ہیں۔ پس ہماری اطاعت کرو کیونکہ ہماری اطاعت واجب ہے کیونکہ ہماری اطاعت خدا اور رسول کی اطاعت کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔
اور خدا فرماتا ہےاے ایمان والو! خدا اور اس کے رسول اور صاحبانِ امر جو تم سے ہیں، ان کی اطاعت کرو۔ اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے خدا اور اس کے رسول کی طرف پلٹا دو) اور(اگر پیغمبر اور تم میں سے صاحبانِ امر کی طرف رجوع کریں تو جو قرآن کی حقیقتوں کا قرآن سے استنباط اور استفادہ کرتے ہیں، وہ انہیں بتادیں گے)۔
تمہیں میں شیطان کی آواز سننے سے ڈراتا ہوں کیونکہ وہ تمہارا واضح دشمن ہے، اور شیطان کے دوست نہ بنو کیونکہ خدا ان کے متعلق فرماتا ہےشیطان نے ان کے عمل کو ان کیلئے زینت بنادیا ہے)اور وہ انہیں کہتا ہے:آج تم پر کوئی کامیاب نہیں ہوسکتا اور میں تمہیں پناہ دوں گا۔ مگر جب دوگروہ آپس میں آمنے سامنے ہوئے تو شیطان پشت کرکے بھاگ نکلا اور کہا کہ میں تم سے بیزار ہوں اور میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے ۔
اب تم اپنی پشتوں کو نیزوں سے سجاؤ گے، اور اپنے بدنوں کو تلواروں اور تیروں کے سامنے کروگے، اور بنیادوں کو توڑوگے۔ پس جو پہلے ایمان نہیں لایا، اب ایمان اسے کوئی فائدہ نہ دے گا اور اس کے کردار سے اچھائی نہ دیکھو گے، اور خدا سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔(امالی، شیخ طوسی، ص ۱۲۱) ۔
۲۰۔ آنحضرت کا خطبہ اپنے اصحاب کو جنگ کی ترغیب دلانے کے متعلق
روایت ہوئی ہے کہ جب معاویہ عراق کی طرف آیا اور پل منبج کے پاس پہنچا تو امام نے اعلان کروایا ، اور سب کو اکٹھا ہونے کو کہا۔ جب لوگ جمع ہوگئے تو امام منبر پر تشریف لے گئے اور خد اکی حمدوثناء کے بعد فرمایا:
اما بعد! خدا نے جہاد لوگوں پر فرض کیا ہے۔ اگرچہ وہ اس سے ناخوش ہوں اور مومن مجاہدین سے فرمایاصبر کرو، خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے)۔اے لوگو! اپنے ارمان اور اپنی خواہشوں کو نہیں پاسکتے مگر یہ کہ ناخوش کرنے والی چیزوں پر صبر کرو۔
مجھے اطلاع ملی ہے کہ معاویہ کو معلوم ہوگیا ہے کہ ہم اس کی طرف چل پڑے ہیں۔ وہ بھی ہماری طرف آیا ہے۔ خدا تمہیں معاف فرمائے۔ تمام کے تمام فوجی چھاؤنی نخیلہ کی طرف چل پڑوتاکہ سوچیں کہ کیا کیا جائے۔
راوی کہتا ہے کہ امام علیہ السلام یہ کلمات فرمارہے تھے اور ساتھ لوگوں سے دھوکہ کی بھی فکر تھی کیونکہ انہوں نے جہاد سے سستی کی تھی۔(شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ، ص ۳۸) ۔
۲۱۔ آنحضرت کا خطبہ اپنے اصحاب کی مذمت میں
خدا کی قسم!ہم نے کبھی بھی شام والوں کے ساتھ جنگ کرنے میں پشیمانی یا شک نہیں کیا۔ اب ہم اپنے دشمن کے ساتھ صبر اور سلامتی کے ساتھ جنگ کریں گے۔ پس سلامتی دشمنی کیساتھ اور صبر مصیبت کے ساتھ مل گئے ہیں، اور جب تم (جنگ صفین میں) ہمارے ساتھ تھے تو اس وقت تمہارا دین تمہاری دنیا کے آگے آگے تھا۔لیکن اب تمہاری دنیا تمہارے دین کو پیچھے چھوڑے جارہی ہے۔ اس وقت تم ہماے اور ہم تمہارے تھے لیکن اب ہمارے دشمن بن گئے ہو۔
قتل ہونے والے دو گروہوں کے برابر کھڑے ہو۔ ایک صفین میں قتل ہونے والے کہ جن پر گریہ کرتے تھے اور ایک نہروان میں قتل ہونے والے کہ جن کے انتقام کیلئے طالب ہو۔گریہ کرنے والا ذلیل اور انتقام لینے والا انتقام کا طالب ہے۔
معاویہ ہمیں اس کام کی طرف بلا رہا ہے جس میں عزت نہیں ہے۔ اب اگر تم موت کیلئے تیار ہو تو اس پر حملہ کردیتے ہیں، اور تلوار کی ضربوں کے ساتھ اس پر حکم چلاتے ہیں، اور اگر زندگی چاہتے ہو تو اس کی دعوت کو قبول کرلیتے ہیں، اور اس کی درخواست پر راضی ہوجاتے ہیں۔
ابھی امام کی گفتگو ختم نہیں ہوئی تھی کہ ہرطرف سے آوازیں آنے لگیں کہ ہم زندہ رہنا چاہتے ہیں، ہم زندہ رہنا چاہتے ہیں۔( i ۔ اعلام الدین، دیلمی۔ ii ۔بحار، ج ۴۴ ، ص ۵۰) ۔
۲۲۔ آنحضرت کا خطبہ آپ کے اصحاب کے دھوکہ دینے کے متعلق
روایت ہے کہ جب امیرالمومنین علیہ السلام شہید ہوگئے تو لوگ آنحضرت کے پاس آئے اور کہا کہ آپ اپنے بابا کے خلیفہ اور جانشین ہیں۔ ہم آپ کے پیروکار اور آپ کی اطاعت کرنے والے ہیں۔ ہمیں اپنے حکم سے آشنا کریں۔ امام نے فرمایا: خدا کی قسم تم جھوٹ کہتے ہو۔ مجھ سے جو بہتر تھا، اس سے وفا نہیں کی تو میرے ساتھ کیا وفا کروگے۔ میں کس طرح تمہارے متعلق مطمئن ہوجاؤں جبکہ مجھے تم پر اعتماد نہیں ہے۔ اگر سچ کہتے ہو تو میری اور تمہاری وعدہ گاہ مدائن کا فوجی کیمپ ہے، وہاں آجاؤ۔
امام سوار ہوئے اور جو کوئی ارادہ رکھتا تھا، امام کے ساتھ سوار ہوگیا اور بہت سے پیچھے رہ گئے، اور اپنے قول سے وفا نہ کی۔ جیسے امیرالمومنین علیہ السلام سے دھوکہ کیا تھا، ایسے ہی امام حسن علیہ السلام کے ساتھ دھوکہ کیا۔ امام اٹھے اور فرمایا:
مجھے تم نے دھوکہ دیا ہے، جیسے مجھ سے پہلے دیا تھا۔ جیسے امیرالمومنین علیہ السلام کو دھوکہ دیا تھا، اسی طرح مجھے بھی دیا۔ میرے بعد کس امام کے ہمراہ جنگ کروگے، کافروظالم امام کے ہمراہ، اور جو خدا اور خدا کے رسول کے ساتھ ایک لحظہ بھی ایمان نہیں لایا، اسلام کو اس نے اور بنی اُمیہ نے قبول نہیں کیا۔
مگر تلواروں کے ڈر سے اگرچہ بنی اُمیہ کی ایک بوڑھی عورت جس کے منہ میں دانت نہ ہوں گے، باقی نہ رہے، یہ لوگ خدا کے دین کو ٹیڑھا کرتے رہے۔ رسولِ خدا نے اسی طرح فرمایا ہے۔
اس کے بعد کندہ قبیلے سے ایک شخص کو چار ہزار سپاہیوں کے ساتھ معاویہ کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ انبار میں جاکر پڑاؤ ڈالو جب تک تیرے پاس حکم نہ آئے،اس وقت تک کوئی کام نہ کرنا۔
اس کے بعد راوی نے ذکر کیا ہے کہ معاویہ نے اس کو طمع و لالچ دے کر اپنی طرف بلالیا۔ یہاں تک کہتا ہے کہ یہ خبرامام تک پہنچی۔ امام اٹھے اورفرمایا: یہ کندی معاویہ کی طرف چلاگیا ہے اور میرے ساتھ خیانت کرگیا ہے۔ میں نے تم کو بار بار خبر دی ہے کہ تم میں وفا نہیں ہے، اور تم دنیا کے بندے ہو، اور میں ایک اور شخص کو بھیجوں گا اور میں جانتا ہوں کہ وہ بھی ایسا ہی کرے گا، اور وہ میرے اور تمہارے متعلق خدا کا بھی خیال نہیں کرے گا۔ پس امام نے قبیلہ مراد سے ایک شخص کو چارہزار کا لشکر دے کر معاویہ کی طرف بھیجا اور لوگوں کے آگے آگے خود آرہے تھے، اور اسے با ربار تاکید فرمارہے تھے ۔ لیکن بڑی قسمیں کھائیں کہ وہ ایسا ہرگز نہیں کرے گا۔ امام نے فرمایا کہ وہ خیانت کرے گا۔ پھر راوی امام کے ساتھ اس کی خیانت کو بیان کرتا ہے۔(خرائج، راوندی ، ج ۲ ، ص ۵۷۶) ۔
۲۳۔ آنحضرت کا خطبہ جب آپ کے اصحاب معاویہ کے ساتھ جاملے
میرے والد کی تم نے مخالفت کی اور وہ تحکیم کے قبول کرنے پر مجبور ہوئے، حالانکہ وہ اس پرراضی نہ تھے۔ پھر اس کے بعد تمہیں شامیوں کے ساتھ مقابلے کیلئے بلایا لیکن تم نے انکارکیا، یہاں تک کہ وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اس کے بعد تم نے میرے ساتھ بیعت کی کہ جس کے ساتھ میں صلح کروں، تم بھی صلح کروگے اور جس کے ساتھ میں جنگ کروں، تم بھی جنگ کرو گے۔ لیکن مجھے اطلاع ملی ہے کہ تمہارے بزرگ معاویہ کے ساتھ جاملے اور اس کے ساتھ بیعت کرلی۔ پس میں نے تم کو پہچان لیا ہے۔ پس مجھے میرے دین اور میری جان کے بارے میں دھوکہ نہ دو۔(شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ،ص ۲۲) ۔
۲۴۔ آنحضرت کا کوفے میں صلح سے پہلے خطبہ
اے لوگو! خدا نے ہمارے بزرگوں کے ساتھ تمہاری ہدایت کی۔ اس چیز کیلئے مدت تھوڑی سی ہے، اور دنیا کسی اور کے ہاتھ میں چلی جائے گی، اور خداا پنے پیغمبر سے فرماتا ہے(اور تم نہیں جانتے کہ یہ چیز شاید تمہارے لئے آزمائش ہو اور معمولی سا فائدہ ہو)۔(طبری، ایڈیشن ۲ ، ص ۱۶۷) ۔
۲۵۔ آنحضرت کا خطبہ جب آپ نے صلح کا ارادہ کیا
روایت ہے کہ جب معاویہ عراق کی طرف گیا تو امام مقابلے کیلئے تیار ہوئے اور لوگوں کو جہاد کیلئے بلایا۔ انہوں نے اس سے نفرت کا اظہار کیا۔ امام چلے اور ساباط پہنچے، اور وہاں رات گزاری ۔ دوسرے دن صبح کے وقت ارادہ کیا کہ اپنے اصحاب کا امتحان لیں، اور اپنے متعلق ان کی فرمانبرداری کو جان لیں تاکہ دوستوں اور دشمنوں کا پتہ چل جائے، اور سوچ سمجھ کر معاویہ کے مقابلے میں آئیں۔ حکم دیا کہ لوگوں کو بلاؤ۔
جب لوگ جمع ہوگئے تو آپ منبر پر تشریف لے گئے اور اس طرح فرمایا: تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں۔ اس وقت جب تعریف کرنے والاتعریف کرتا ہے ، اور گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ جب گواہی دینے والا گواہی دیتا ہے، اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اور ان کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، او ر اپنی وحی پر امین بنایا ہے۔
اما بعد! خدا کی قسم! میں امید رکھتا ہوں اور خدا کی مہربانی اور لطف کے صدقے بہترین نصیحت کرنے والا بنوں۔ کبھی بھی کسی مسلمان کے بارے میں دل میں بغض نہیں رکھتا، اور کسی کے متعلق بھی میرا ارادہ اور نیت بُری نہیں ہے، اور جو تم اتفاق و اتحاد میں بُرا سمجھتے ہو، وہ اس سے بہتر ہے جو تفرقہ میں ہے۔
وہ چیز جو میں تمہارے متعلق جانتا ہوں، اور چاہتا ہوں وہ اس سے بہتر ہے جو تم چاہتے ہو۔ پس میری نافرمانی نہ کرو، اور میرے مشورہ کو حقیر نہ جانو۔ خدا مجھے اور تمہیں بخش دے، اور ہمیں اس کی طرف ہدایت فرمائے جو وہ چاہتا ہے۔
راوی کہتا ہے کہ لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا: اس گفتگو سے ان کی مراد کیا ہے؟ کچھ نے کہا کہ ہمارے خیال میں چاہتے ہیں کہ معاویہ کے ساتھ صلح کر لیں، اور حکومت اس کے سپرد کردیں۔ پس انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم! وہ کافر(نعوذبااللہ) ہوگیا ہے۔ یہ کہہ کران کے خیمے پر حملہ کردیا، اور اسے لوٹ لیا، یہاں تک کہ ان کے بیٹھنے والا فرش بھی نیچے سے کھینچ لیا۔(حدیث کے آخر تک)۔(کشف الغمہ، ج ۱ ، ص ۵۲۹) ۔
۲۶۔ آنحضرت کا خطبہ جب زخم ٹھیک ہوا
اے کوفہ والو! اپنے ہمسائے اور مہمانوں کے متعلق خدا سے ڈرو، اور ا س اہل بیت کے متعلق خدا سے ڈرو کہ جن سے خدا نے رجس کو دور رکھا ہے اور پاک و پاکیزہ کردیا ہے۔( طبری، ایڈیشن ۲ ، ص ۱۶۸) ۔
۲۷۔ معاویہ کے ساتھ صلح کے وقت آنحضرت کا خطبہ
امام سجاد علیہ السلام سے منقول ہے، جب امام حسن علیہ السلام نے معاویہ کے ساتھ صلح
کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے گھر سے نکلے اور اس سے ملاقات کی۔ جب دونوں جمع ہوئے تو معاویہ منبر پر گیا اور حکم دیاکہ امام ایک زینہ اس سے نیچے بیٹھیں۔ پھر معاویہ نے یہ گفتگو کی:
اے لوگو! یہ علی اور فاطمہ کا بیٹا حسن ہے اور یہ ہمیں خلافت کے لائق جانتا ہے، اور اپنے آپ کو اس کے لائق نہیں جانتا، اور آیا ہے تاکہ اپنے اختیار سے صلح کرے۔
پھر کہا : اے حسن ! اٹھو۔ امام اٹھے اور اس طرح گفتگو فرمائی:
تمام تعریفیں اس خد اکیلئے ہیں جو فراوان نعمتوں کی وجہ سے اور بلاؤں اور مصیبتوں کو دورکرنے کی وجہ سے جاننے والاہے، اور نہ جاننے والوں کیلئے قابل تعریف اور لائقِ حمد ہے۔ ایسے بندے جو اس کے وجود کا اعتراف کرتے ہیں، اس وجہ سے کہ وہ اپنی جلالت اور بزرگی کی وجہ سے وہم و گمان سے دور ہے، اور وہم اس تک پہنچ نہیں سکتے۔ اپنی مخلوقات کی فکروں میں آنے سے اور عقل مندوں کے احاطہ سے بلند ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ اپنی خدائی، اپنے وجود اور وحدانیت میں اکیلا ہے، بے نیازہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، ایسا اکیلاہے کہ اُسے مددگار کی ضرورت نہیں ہے۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کا بندہ اور رسول ہے۔ اسے اس نے چنا اور منتخب کیا ہے، اور اس سے راضی ہوا ہے، اور اسے بھیجا تاکہ حق کی طرف بلائے۔جس چیز سے خدا کے بندے ڈرتے ہیں، اس سے ڈرانے والا ہے، اور جس چیز سے گنہگاروں کی اُمید ہے، اس کی خوشخبری دینے والا ہے۔ پس امت کو اس نے نصیحت کی اور اپنے پیغام کو انجام دیا، اور لوگوں کیلئے ان کے عمل و درجات واضح کئے۔ایسی گواہی کہ اسی عقیدہ پر مروں اور زندہ اٹھوں اور اسی کے ساتھ قیامت کے دن نزدیک رہوں اور خوش رہوں، اور میں تنہا ہوں۔
اے خدا کے بندو! اور تم دل اور کان رکھتے ہو، غوروفکر کرو۔ ہم وہ اہل بیت ہیں کہ جن کو خدا نے اسلام کے ساتھ عزت اور احترام دیا، اور ہمیں چنا اور منتخب کیا، اور ہمیں رجس سے دور رکھا اور پاک و پاکیزہ کردیا، اور رجس وہی شک و تردد ہے ۔ ہم کبھی بھی اس خدا اور دین کے بارے میں شک نہیں کرتے اور ہمیں ہر گمراہی اور رجس سے پاک کیا جبکہ ہم آدم سے پہلے، ہم خدا کیلئے خالص تھے، اور یہ خدا کی طرف سے ایک نعمت ہے۔ لوگوں کے درمیان جب بھی دو گروہوں ، جن میں ہم ہوں، تو ان میں خدا ہمیں بہترین قرار دیتا ہے۔
کتنے زمانے اور صدیاں گزرگئیں، یہاں تک کہ خدا نے محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیغمبربناکر بھیجا اور رسالت کیلئے چنا، اور ان پر کتاب نازل فرمائی، اور پھر انہیں حکم دیا کہ لوگوں کو خدا کی طرف بلائیں۔ میرے والد سب سے پہلے وہ شخص تھے جنہوں نے خدا اور اس کے رسول کی بات کو قبو ل کیا اور سب سے پہلے شخص ہیں جو ان کے ساتھ ایمان لائے، اور خدا اور خدا کے رسول کی تصدیق کی۔
اورخدا اس کتاب میں جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی، اس طرح فرماتا ہے(کیا وہ شخص جس کے ساتھ اس کے خدا کی طرف سے نشانی ہو، اور وہ شخص جس کے ساتھ اس کے خدا کی طرف سے شاہد اور گواہی دینے والا ہو)، پس خدا کا رسول وہ ہے جس کے ساتھ خدا کی نشانی ہے، اور میرے والد وہ ہیں کہ جو اس کے ساتھ تھے۔
اور حج کے دوران سورئہ براة کی تلاوت کرے تو فرمایا :اے علی ! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ یہ لکھی ہوئی سورة یا تو میں خود لے کر جاؤں اور یا وہ لے کر جائے جو مجھ سے ہو، اور تو مجھ سے ہے۔ پس علی رسولِ خدا سے ہے اور رسولِ خدا علی سے ہیں۔
اور پیغمبر اسلام نے جب علی اور ان کے بھائی جعفر بن ابی طالب اور ان کے غلام زید بن حارث کے درمیان فیصلہ کیا تو علی کے متعلق فرمایا:اے علی ! بہرحال تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں، اور تم میرے بعد ہر مومن کے سرپرست ہو۔ پس میرے والد پیغمبر اسلام کی تصدیق کرنے والوں میں سے سب سے پہلے تھے، اور ان کی حفاظت اپنی جان کے ساتھ کی۔
پھر رسولِ خدا انہیں ہرجگہ پر ترجیح دیتے تھے، اور ہر مشکل کام کیلئے انہیں بھیجتے تھے کیونکہ ان پر اعتماد اور اطمینان تھا، اور یہ اس لئے تھا کہ وہ خدا اور اس کے رسول کے خیر خواہ تھے۔خدا اور رسول کے نزدیک ترین شخص تھے، اور خدا فرماتا ہے:(آگے جانے والے آگے چلے گئے ہیں اور وہی بارگاہِ خدا میں مقرب ہیں)۔
پس میرے والد خدا اور رسول کی طرف سب سے آگے جانے والے تھے، اور نزدیک ہونے والوں میں نزدیک ترین تھے، اور خدا فرماتا ہے:(کہ برابر نہیں ہیں وہ لوگ جو فتح مکہ سے پہلے خرچ کرتے تھے اور جنگ لڑتے رہے بلکہ وہ بلند درجات کے مالک ہیں)۔ پس میرے والد یہی اسلام لانے والے اور ایمان والے ہیں، اور سب سے پہلے خد اور رسول کی طرف ہجرت انہوں نے کی، اور رسولِخدا کے ساتھ جاکر ملے، اور سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے سرمایہ سے راہِ خدا میں خرچ کیا۔
خدا فرماتا ہے:(اور وہ لوگ جو بعد میں آئے ہیں او ر کہتے ہیں اے خدا! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں، بخش دے،اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے کے متعلق کینہ پید انہ کر، اے خدا! تو بے شک مہربان اور رحم کرنے والا ہے)۔
پس امت کے سارے افراد ان کیلئے بخشش کی دعا کرتے ہیں کیونکہ وہ سب سے پہلے رسولِ خدا کے ساتھ ایمان لانے والے ہیں، اور ان سے پہلے کوئی ایمان نہ لایا، اور خدا فرماتا ہے:(مہاجرین اور انصار میں سب سے سبقت لے جانے والے اور وہ جنہوں نے نیکی کے ساتھ پیروی کی)۔پس علی آگے جانے والوں میں سے سبقت لے جانے والے ہیں، اور پس جس طرح خدا نے آگے جانے والوں کو چھوڑ جانے والوں اور پیچھے رہ جانے والوں پر فضیلت دی ہے۔
اور خدا فرماتا ہے:( کیا تم حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد الحرام کی تعمیر کو خدا اور قیامت کے دن کے ساتھ ایمان لانے والوں اور خدا کے راستے میں جہاد کرنے کو برابر قرار دیتے ہو؟ بے شک وہ راہِ خدا کے مجاہد تھے)۔ یہ آیت ان پر اُتری ہے۔
ان لوگوں میں جنہوں نے رسولِ خدا کی دعوت کو قبول کیا۔ان کے چچا حمزہ اور ان کے چچا کے بیٹے جعفر تھے، اور یہ دونوں بہت سے اصحاب کے درمیان شہید ہوئے۔خدا ان دونوں سے راضی ہے۔
خدا نے ان شہداء میں سے حضرت حمزہ کو سید الشہداء قرار دیا، اور جعفر کیلئے دوپَر پیدا کئے کہ جدھر چاہیں فرشتوں کے ساتھ پرواز کریں۔ یہ ان کا مقام اور مرتبہ ہے، اس قرابت کی خاطر جو رسول کے ساتھ تھی۔
اور پیغمبر اسلام نے باقی شہداء میں سے حضرت حمزہ کیلئے نمازِ جنازہ میں ستر تکبیریں پڑھیں۔
خدا نے اسی طرح رسولِ خدا کی نیک بیویوں کیلئے دو اجر اور بد بیویوں کیلئے دوگنا عذاب قرار دیا ہے، اور یہ سزا اور عذاب میں اضافہ رسولِ خدا کی رشتہ داری کی وجہ سے ہے۔
اور رسولِ خدا کی مسجد میں ایک رکعت نماز پڑھنے کو باقی مساجد میں ہزار رکعت نماز کے برابر قرار دیا ہے۔مکہ میں مسجد الحرام کے علاوہ جو خدا کے خلیل حضرت ابراہیم کی ہے، اور یہ فضیلت صرف اس لئے ہے کہ رسولِ خدا کے نزدیک بڑی عزت ہے۔
اور خدا نے اپنے نبی پر درود پڑھنے کو تمام مومنوں پر واجب کیا ہے،اور مومنوں نے کہا: اے رسولِ خدا! آپ پر درود کس طرح پڑھا جائے تو فرمایا کہ کہو:اے خدا! محمد اور اس کی آل پر درود بھیج۔ پس ہر مسلمان پر واجب ہے کہ خدا کے نبی کے ساتھ ہم پر بھی درود بھیجے۔
اور خدا نے غنیمت کا خمس اپنے نبی پر حلال کیا ہے، اور اپنی کتاب میں اس کو ان کیلئے واجب قرار دیا ہے۔ اس پر صدقہ حرام کیا ہے اور ہم پر بھی حرام ہے۔ پس تمام تعریفیں اس کیلئے ہیں کہ جس چیز میں اپنے نبی کو داخل کیا اور ہمیں بھی داخل کیا، اور جس چیز سے اپنے نبی کو پاک و صاف رکھا، ہمیں بھی پاک و صاف رکھا، اور یہ عزت ہے جو خدا نے ہمیں اپنے نبی کے ساتھ عطا فرمائی ہے، اور ایسی فضیلت ہے کہ ہمیں اس کے ذریعے سے دوسروں پر برتری دی ہے۔
اور جب اہلِ کتاب نے محمد کا انکار کیا اور ان سے استدلال و دلیل کو طلب کیا تو خدا نے فرمایا:(ان سے کہہ دو کہ تم اپنے بیٹے لے آؤ، ہم اپنے بیٹے لے آتے ہیں، تم اپنی عورتوں کو لے آؤاور ہم اپنی عورتوں کو لے آتے ہیں، تم اپنی جانوں کو لے آؤ، ہم اپنی جانوں کو لے آتے ہیں،پھر قسم دے کر مباہلہ کرتے ہیں، اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت کرتے ہیں)۔خدا نے لوگوں میں سے اپنی جان کی جگہ میرے والد علی اور بیٹوں کی جگہ مجھے اور میرے بھائی کو اور عورتوں کی جگہ میری والدہ فاطمہ کو لیا۔پس ہم ان کے کان، خون اور جان ہیں۔ ہم ان سے ہیں اور وہ ہم سے ہیں۔
اور خدا فرماتا ہے:(سوائے اس کے نہیں کہ خدا چاہتا ہے، اے اہل بیت ! تم سے رجس کو دور رکھے اور تمہیں پاک و پاکیزہ رکھے)۔
جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسولِ خدانے میرے بھائی، میری والدہ اور میرے والد کوجمع کیا اور اپنے ساتھ ہم سب کو امِ سلمہ کی عبا میں لیا اور یہ کام امِ سلمہ کے حجرہ میں اس دن ہوا جو دن امِ سلمہ کیلئے مخصوص تھا۔رسولِ خدا نے فرمایا:اے پروردگار! یہ میرے اہل بیت ہیں اور میرا خاندان ہے۔ پس ان سے رجس اور نجاست کو دور رکھ اور انہیں پاک و پاکیزہ رکھ۔
امِ سلمہ نے عرض کی: کیا میں بھی ان کے ساتھ داخل ہوجاؤں یا رسول اللہ؟آپ نے فرمایا کہ خدا تم پر رحمت فرمائے ، تو نیکی کے راستے پر ہے اور نیکی کی طرف جارہی ہے۔ میں تم سے راضی ہوں لیکن یہ بات میرے اور ان کے ساتھ خاص ہے۔
پھر رسولِ خدا اس واقعہ کے بعد جب تک زندہ رہے، ہر روز طلوعِ فجر سے پہلے ہمارے پاس آیاکرتے تھے اور فرماتے تھے کہ خدا تم پر رحمت کرے کہ خدا چاہتا ہے کہ اے اہل بیت ! تم سے رجس و پلیدی کو دور رکھے اور تمہیں پاک و پاکیزہ رکھے۔
اور رسولِ خدا نے حکم فرمایا ہے کہ جو دروازے مسجد کی طرف کھلتے ہیں، ان سب کو بند کردو، سوائے علی کے دروازے کے۔انہوں نے اعتراض کیا ۔آپ نے فرمایا کہ نہ میں نے تمہارے دروازے بند کروائے اور نہ اپنی مرضی سے علی کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ میں تو وحی کا پابند ہوں۔ خدا نے مجھے دروازے بند کرنے کا حکم دیا اور علی کا دروازہ کھلا رکھنے کا حکم دیا۔ اس واقعہ کے بعد کوئی بھی احتلام کی حالت میں مسجد نبوی میں داخل نہ ہوا، اور سوائے رسولِ خدااور میرے والد علی کے کسی کیلئے مسجد میں اولاد پیدا نہیں ہوئی، اور یہ خدا کی طرف سے ہمارے لئے عزت اور فضیلت ہے جس کو اس نے ہمارے ساتھ خاص کیا ہے، اور یہ میرے والد کے گھر کا دروازہ ہے جو رسولِ خدا کے گھر کے دروازے کے ساتھ مسجد میں ملا ہوا ہے۔
اور ہماری منزل رسولِ خدا کی منزلوں کے درمیان واقع ہے اور یہ اس لئے کہ خدا نے اپنے رسول سے فرمایا کہ مسجد بنائے۔
پیغمبر نے اس کے اردگرد دس گھربنائے۔ نو گھر اپنے بچوں اور بیویوں کیلئے اور دسواں گھر جو ان نو کے درمیان تھا، میرے والد علی علیہ السلام کیلئے بنایا، اور وہ اب بھی موجودہے۔پس اس کا گھر پاک و پاکیزہ مسجد ہے، اور وہ(علی ) ،خدا فرماتا ہے کہ اہل بیت سے ہے۔ پس ہم اہل بیت ہیں، اور ہم وہ ہیں جن سے خدا نے رجس کو دور رکھا ہے او رپاک و پاکیزہ بنایاہے۔
اے لوگو! اگر ہم یہاں پر عرصہ دراز تک کھڑے رہیں، اور وہ چیزیں جو خدا نے ہمیں عطا کی ہیں اور اپنی کتاب میں جو فضیلت ہمارے ساتھ خاص کی ہے، اور جو چیزیں اس کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے ہماری شان میں بیان ہوئی ہیں، ذکر کرنا شروع کریں تو ہم گن نہیں سکتے۔ میں خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے اس نبی کا بیٹا ہوں جو روشن چراغ ہے۔ وہ ایسا نبی ہے جس کو خدا نے تمام کائنات کیلئے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور میرے والد مومنوں کے سرپرست اور ہارون کی مثل ہیں۔
معاویہ بن صخر خیال کرتا ہے کہ میں اسے خلافت کے لائق اور اپنے آپ کو اس کے اہل نہیں جانتا۔ پس معاویہ جھوٹ بولتا ہے۔ خدا کی قسم!ہم کتابِ خدا میں اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان میں سب لوگوں سے افضل ہیں۔ مگر یہ کہ ہم اہل بیت ، وفاتِ پیغمبر سے لے کر اب تک حالت خوف و ہراس میں ہیں اور مظلوم ہیں، اور ہمارا حق ضائع ہوا ہے۔
خدا ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے جنہوں نے ہمارے حق کو ضائع کیا اورہم پر مسلط ہوئے، اور لوگوں کو ہمارے خلاف بھڑکایا، اور ہمارا حصہ جو غنیمت اور بغیر جنگ کے مال ملتا تھا،اور جس کا قرآن میں تذکرہ ہے، ہم سے روک دیا، اور ہماری والدہ کی وراثت(جاگیرفدک)ہمارے والد سے لے لی۔
ہم کسی کا نام نہیں لیتے لیکن میں خدا کی مضبوط قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر وہ لوگ خدا ور اس کے رسول کی بات کو غور سے سنتے تو آسمان ان پر بارش برساتا اور زمین ان کو اپنی برکتیں عطا کرتی، اور کبھی دو تلواریں آپس میں نہ ٹکراتیں، اور لو گ آرام و خوشی کے ساتھ زندگی بسر کرتے، اور اس وقت تو بھی اس خلافت کی طمع نہ کرتا۔
لیکن جب لوگوں نے حکمِ خدا کو پیچھے چھوڑ دیا اور اسے جڑ سے اکھیڑ کر پیچھے رکھ دیا تو قریش نے خلافت میں جھگڑا شروع کردیا، اور اسے ایک گیند کی طرح ایک دوسرے کی طرف پھینکنا شروع کردیا، یہاں تک کہ تو اور تیرے بعد تیرے ساتھی اس لالچ و طمع میں پڑگئے۔
اور رسولِ خدانے فرمایا: لوگ کبھی بھی کسی ایسے کو اپنا رہنما نہیں بناتے جس سے بڑھ کر کوئی اور بھی ان میں موجود ہو۔ اگر ایسا کریں گے تو تباہی کی طرف جائیں گے، اور پھر اسی کی طرف آئیں گے جو سب سے بہتر تھا۔ بنی اسرائیل نے جو حضرت موسیٰ کے اصحاب تھے، ہارون جو موسیٰ کے بھائی اور خلیفہ تھے ،کو چھوڑ کر بچھڑے کی پوجا شروع کردی اور سامری کی بات ماننے لگے حالانکہ وہ جانتے تھے کہ ہارون موسیٰ کا خلیفہ ہے۔
اور اس امت نے سنا کہ رسولِ خدا نے میرے والد علی علیہ السلام کے متعلق فرمایا کہ علی کی نسبت میرے ساتھ ایسے ہے جیسے ہارون کی موسیٰ کے ساتھ۔ مگریہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
اور رسولِ خدا کو اس امت نے دیکھا کہ غدیر خم میں ان کوامامت کیلئے منصوب کیااور ان باتوں کو سنا کہ میرے والد کے متعلق انہوں نے ولایت کی بات کی تھی، اور پھر حکم دیا تھا کہ حاضرین پر موجود لوگوں کو یہ پیغام دیں، اور رسولِ خدا قوم کے ڈر سے شہر سے نکلے اور نماز کی طرف چلے گئے۔ جب قوم نے ان کے ساتھ دھوکہ کرنے کا ارادہ کیا تھا، اور یہ اس وقت تھا جب آنحضرت ان کو حق کی طرف بلا رہے تھے لیکن ساتھ موجود نہ تھے۔ اگر ساتھ موجود ہوتے تو ان کے ساتھ جنگ کرتے۔
میرے والد نے بھی جنگ نہ کی اور اپنے اصحاب کو قسم دی اور ان سے مدد طلب کی لیکن کسی نے ان کی مدد نہ کی، اور ان کی فریاد نہ سنی۔ اگر ساتھی اور دوست ہوتے تو کبھی بھی جنگ سے پیچھے نہ ہٹتے۔ خدا نے انہیں آرام و سکون میں رکھا ہوا ہے جیسے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آرام اور سکون میں رکھا ہوا ہے۔
لوگوں نے مجھے رسوا کیا، اس لئے اے حرب کے بیٹے!میں نے تیرے ساتھ صلح کی ہے۔ اگر میرے ساتھ ہوتے جو مجھے تجھ سے بچا سکتے تو میں ہرگز تجھ سے صلح نہ کرتا، اور خدا نے ہارون کو اس وقت سکون و آرام کے ساتھ رکھا جب لوگوں نے اسے کمزور کردیا تھا، اور اس کے دشمن اسی طرح ہیں۔
اور میرے والد بزرگوار خدا کی طرف سے سکون و آرام میں ہیں۔ اس وقت جب لوگوں نے ہمیں چھوڑ دیا اور ایک دوسرے کی بیعت کرلی، اور ہمارے ساتھی موجود نہ تھے، اور یہ طریقہ اور مثالیں ایک دوسرے کے بعد آرہے ہیں۔
اے لوگو!اگر پوری کائنات میں گھوم لو تو تم میرے اور میرے بھائی کے علاوہ کسی اور کو نہیں پاؤ گے جس کا نانا پیغمبر ہو، والد وصی ہو۔ پس خدا سے ڈرو اور مطلب کے بیان کے بعد گمراہ نہ ہوجاؤ۔ تم نے اس طرح کیسے کردیا؟ تم سے اس کی توقع نہ تھی۔ خبردار میں نے اس شخص (معاویہ کی طرف اشارہ کیا) سے صلح کی ہے، شاید یہ تمہارے لئے ایک امتحان ہو، اور تھوڑی مدت کیلئے فائدہ مند ہو۔
اے لوگو! کسی کو اس لئے بُرا نہیں کہاجاتا کہ اس نے اپنا حق کسی کو دیدیا ہے بلکہ بُرا تو اس کو بننا چاہئے جو ظلم کے ساتھ کسی کا حق چھین لے۔ ہر اچھا کام فائدہ دینے والا ہے اور غلط کام کرنے والوں کو وہ نقصان دیتا ہے۔ ایک مسئلہ پیش آیااورسلیمان سمجھ گیا، اور سلیمان کو فائدہ پہنچااور داؤد کو نقصان نہ پہنچا۔
رشتہ داری تو مشرک کو ہی فائدہ دیتی ہے حالانکہ خدا کی قسم! یہ رشتہ داری مومن کو زیادہ فائدہ دیتی ہے۔ رسولِ خدا نے اپنے چچا ابو طالب سے ان کی وفات کے وقت فرمایا کہ کہو خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔تاکہ قیامت کے دن تمہاری شفاعت کروں۔
یہ بات کبھی بھی پیغمبر نہ کہتے اور کبھی بھی شفاعت کا وعدہ ان کے ساتھ نہ کرتے اگر اپنے چچا کی طرف سے از لحاظ مطمئن نہ ہوتے، اور اس طرح کی بات پیغمبر نے ہمارے جد (ابوطالب ) کے علاوہ کسی سے نہ کی۔خدا فرماتا ہے:(ایسے لوگوں کیلئے تو یہ نہیں ہے جو برے کام کرتے رہے اور جب موت کا وقت آیا تو کہتے ہیں کہ اب ہم توبہ کرتے ہیں، اور نہ ان کے لئے توبہ ہے جو کفر کی حالت میں مرجائیں۔ ان کیلئے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے)۔
اے لوگو! سنو اور غورکرو۔ اللہ سے ڈرو اور ہماری طرف رجوع کرو۔ دور کی بات ہے کہ تم حق کی طرف رجوع کروکیونکہ حال یہ ہے کہ گمراہی نے تمہیں زمین پر دے مارا ہے۔ سرکشی اور بغاوت و انکار نے تمہیں گھیر رکھا ہے۔ آیا تمہیں اس پر مجبور کریں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو، سلام ان پر جو ہدایت کی پیروی کرتے ہیں۔(بحار، ج ۱۰ ، ص ۱۳۸) ۔
۲۸۔ آنحضرت کا صلح کرنے کے بعد خطبہ
اے عراق والو! میں تین چیزوں کے بارے میں تمہیں عیب دار ٹھہراتا ہوں۔ تمہارا میرے والد کو قتل کرنا،مجھے زخمی کرنا اور میرے مال کو لوٹنا۔(مناقب آل ابی طالب ، ابن شہر آشوب، ج ۳ ، ص ۱۹۳) ۔
۲۹۔ آنحضرت کا خطبہ معاویہ کے ساتھ صلح کرنے کے سبب کے متعلق
روایت ہے کہ جب صلح انجام پاگئی اور کام مکمل ہوگیا تو معاویہ نے امام حسن علیہ السلام سے درخواست کی کہ لوگوں سے بات کریں او ر بتائیں کہ معاویہ کے ساتھ صلح کرلی ہے، اور حکومت اس کے سپرد کر دی ہے۔
امام علیہ السلام نے معاویہ کی بات کو مان کر تمام جمع شدہ لوگوں کے اجتماع میں خطبہ پڑھا۔ شروع میں خدا کی حمدوثناء کی اور اس کے رسول پر درود بھیجا، اور یہ ان کی گفتگو کا حصہ ہے کہ فرمایا:
اے لوگو! سب سے بڑی عقل مندی تقویٰ ہے، اور سب سے بڑی غلطی اور حماقت گناہ ہے۔ اگر تم پوری کائنات میں ایسا شخص تلاش کرنا چاہو جس کا نانا خدا کا رسول ہو تو میرے اور میرے بھائی حسین علیہ السلام کے علاوہ کسی کو نہیں پاؤ گے، اور تم جانتے ہو کہ خدا نے میرے نانا رسولِ خدا کے ذریعے سے تمہاری ہدایت کی او تمہیں گمراہی سے بچایا، اور جہالت اور بے علمی سے نجات دی، اور ذات اور رسوائی کے بعد تمہیں عزت دی اور تمہاری افرادی کمی کے بعد تمہیں زیادہ کردیا۔
اور معاویہ اس حق کے متعلق میرے ساتھ جھگڑا کررہا ہے جو میرا حق ہے اور میں نے اس اپنے حق کو امت کی مصلحت اور فتنہ و فساد کے ختم کرنے کیلئے چھوڑ دیا ہے، اور تم نے میرے ساتھ بیعت کی تھی کہ میں جس کے ساتھ صلح کروں گا، تم اس کے ساتھ صلح کروگے اور میں جس کے ساتھ جنگ کروں گا، تم اس کے ساتھ جنگ کروگے۔ پس میرا فیصلہ یہ ہے کہ معاویہ کے ساتھ صلح کرلوں اور اپنے اور اس کے درمیان جنگ کی حالت کو ختم کردوں، اور میں نے اس سے صلح کرلی ہے کیونکہ میں نے خونریزی کرنے سے اس سے بچنا بہتر سمجھا ہے، اور اس کام سے میرا ارادہ تمہارا فائدہ اور تمہاری بقاء ہے۔(کشف الغمہ، ج ۱ ، ص ۵۶۶) ۔
۳۰۔ صلح کرنے کے بعد آنحضرت کا اپنے والد گرامی کی فضیلت میں خطبہ
روایت ہے کہ جب امام علیہ السلام نے صلح کرلی تو معاویہ نے امام سے درخواست کی کہ خطبہ پڑھیں۔ امام نے انکار کیا۔ امام کو قسم دی کہ ضرور خطبہ دیں۔ امام کیلئے ایک جگہ تیار کی گئی۔ امام اس کے اوپر گئے اور فرمایا:
تمام تعریفیں اُس خدا کیلئے ہیں جو اپنی مملکت میں ایک ہے، اور خدائی میں تنہا ہے۔ جسے چاہتا ہے بادشاہ بنادیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس سے بادشاہی لے لیتا ہے۔ تمام تعریفیں اُس خدا کیلئے ہیں جس نے ہمارے مومنوں کو عزت بخشی ہماری وجہ سے اور ہماری وجہ سے تمہارے بزرگوں کو شرک سے نکالا، اور تمہارے ایک دوسرے گروہ کے خون بہانے سے حفاظت کی۔ پس ہمارا امتحان پہلے اور اب تمہارے پاس ایک بہترین امتحان ہے۔ چاہے شکرگزار بنو یانافرمان۔
اے لوگو! علی کا خدا علی سے زیادہ جاننے والا ہے۔ جب اس نے علی علیہ السلام کو اپنی طرف بلایا اور اسے اپنی فضیلت کے ساتھ خاص فرمایا کہ تم اس جیسا نہ پاسکوگے اور اس کی مثل دیکھ نہ سکو گے۔
بہت دور ہے ، بہت دور ہے، کتنے کاموں کو تم نے مشکل بنایا ہے، پھر خدا نے تمہیں اس پر کامیاب کیا، حالانکہ وہ تمہارے ساتھ بیٹھتا تھا۔ تمہارے ساتھ بدر میں جنگ لڑی اور مٹی ملا پانی تمہیں پلایا، اور کڑوا پانی تمہیں پلایا، اور تمہیں ذلیل کیا، اور تمہیں غمگین کیا۔ پس اس کے بغض سے تم اپنے آپ کو ملامت نہیں کرتے۔
خدا کی قسم! جب تک پیغمبر خدا کی امت کے رہنما اور رہبر بنی اُمیہ سے ہیں، یہ امت کسی مقام تک نہیں پہنچ سکتی۔ تمہاری طرف ایسا فتنہ اور آزمائش بھیجی گئی ہے کہ اس سے بچ نہ سکو گے۔ یہاں تک کہ تمہیں ظالم لوگوں کی اطاعت کی وجہ سے اور شیطانوں کی طرف سے پناہ لینے کی طرف سے ہلاک کردیا جائے۔پس وہ جو ہوچکا ، وہ جو پست افکار اور بُرے میلان و رغبت کی وجہ سے انجام پائے گا، اور میں اس کے انتظار میں ہوں۔ ان سب کا حساب خدا پر چھوڑتا ہوں۔
پھر فرمایا:
اے اہل کوفہ! کل تم سے وہ جدا ہوا ہے جو خدا کے تیروں میں سے ایک تیر تھا، اور خد اکے دشمنوں کو مارنے والا اور قریش کے بڑے لوگوں کو تباہ اور برباد کرنے والا تھا۔ ہمیشہ اس نے قریش کے بڑے بڑے لوگوں کو اپنے اختیار میں رکھا، اور وہ اس سے خوف و ہراس میں رہتے تھے۔ خدا کے احکام میں اسے کوئی ملامت نہ کرسکا، اور خدا کے مال سے اس نے کوئی چیز چوری نہیں کی ہے، اور خدا کے دشمنوں کے مقابلہ میں جنگ سے کبھی بھاگا نہیں۔ تمام قرآن اس کو دیا گیا۔ اس خدا نے اسے بلایا اور پس اس نے جواب دیا۔ خدا نے اس کی رہنمائی فرمائی، اس نے اتباع کی۔ خدا کے معاملات میں سرزنش اور بُرا بھلا کہنے والوں کی سرزنش سے خوف نہیں کھاتا تھا۔ پس خدا کا درود اور رحمت اُس پر ہو۔(شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید، ج ۱۶ ، ص ۲۸) ۔
۳۱۔ آنحضرت کا اپنی فضیلت کے متعلق خطبہ
روایت ہے کہ جب معاویہ کوفہ آیا تو چند دن وہاں رہا۔ جب بیعت کی رسومات ختم ہوگئیں تو منبر پر گیا اور لوگوں کیلئے خطبہ پڑھا۔ امیرالمومنین علیہ السلام اور امام حسن علیہ السلام کو گالیاں دیں۔ امام حسین علیہ السلام وہاں موجود تھے، اٹھنا چاہا کہ اس کا جواب دیں۔ امام حسن علیہ السلام نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں بٹھا دیا، اور خود کھڑے ہوئے اور فرمایا:
اے علی کا نام لینے والے! میں حسن ہوں اور اس کا بیٹا ہوں ، اور تو معاویہ ہے، تیرا باپ صخر ہے۔میری والدہ فاطمہ ہیں، اور تیری ماں ھندہ ہے، اور میرا نانا رسولِ خدا ہے۔اور تیرا نانا حرب ہے۔ میری نانی خدیجہ ہیں اور تیری نانی نشیلہ ہے۔ خد العنت کرے تجھ پر اور تجھ میں سے اس شخص پر جس کی شہرت کم تر ،حسب پست تر، شر میں پہل کرتا ہو، اور کفر و نفاق میں پرانا ہو۔(کشف الغمہ، ج ۱ ، ص ۵۴۲) ۔
۳۲۔ آنحضرت کا خطبہ اپنی اور اپنے والد کی شان میں
روایت ہے کہ جب معاویہ کوفہ میں وارد ہوا تو اس سے کچھ لوگوں نے کہا کہ امام حسن علیہ السلام لوگوں کے نزدیک بڑا مقام رکھتے ہیں۔ اگر تو حکم دے کہ تم منبر کے نیچے والے زینے پر بیٹھو تو ان کیلئے گفتگو کرنا مشکل ہوجائے گی، اور لوگوں کے دل میں ان کی عزت ختم ہوجائے گی۔ معاویہ نے اس بات سے انکار کیا لیکن لوگوں نے ضد کی تو معاویہ نے ایسا ہی کیا۔ امام حسن معاویہ سے نیچے والے زینے پر کھڑے ہوگئے، اور خدا کی حمدوثناء کے بعد فرمایا:
اما بعد!اے لوگو! اگر مشرق سے مغرب تک تلاش کرو کہ ایسا شخص تمہیں مل جائے جس کا نانا رسولِ خدا ہو تو میرے اور میرے بھائی کے علاوہ کسی کو نہیں پاؤ گے۔ ہم نے اس ظالم شخص کو حکومت دیدی ہے(اور اپنے ہاتھ کے ساتھ منبر کے اوپر کی طرف اشارہ کیا
جہاں معاویہ اس جگہ پر بیٹھا ہوا تھا جو رسولِ خدا کا مقام تھا)، اور ہم نے مسلمانوں کے خون کی حفاظت کو خونریزی سے بہتر سمجھا، اور اس آیت کے ذریعے سے دلیل پیش کی:
(شاید یہ چیز تمہارے لئے امتحان تھی اور تھوڑی دیر کیلئے ان کو فائدہ دے)اور ساتھ ہی اپنے ہاتھ کے ذریعے سے معاویہ کی طرف اشارہ کیا۔
معاویہ نے کہا کہ اس کلام سے تمہارا کیا ارادہ تھا؟ امام نے فرمایا کہ میں نے اس سے وہ قصد کیا ہے جو خدا نے قصد کیا ہے۔ پھر معاویہ اٹھا اور خطبہ پڑھا جس میں علی علیہ السلام کو گالیاں دیں اور ان کا مذاق اڑایا اور توہین کی۔پھر امام حسن علیہ السلام اٹھے ،معاویہ ابھی منبرپر ہی تھا، تو اس سے کہا:
اے جگر کھانے والی عورت کے بیٹے! تجھ پر ہلاکت ہو۔ کیا تو امیرالمومنین علیہ السلام کو گالیاں دیتا ہے اور لعنت دیتا ہے، حالانکہ پیغمبرنے فرمایا ہے کہ جس نے علی کو گالیاں دیں، اس نے مجھ کو گالیاں دیں اور جس نے مجھے گالیاں دیں، اس نے خدا کو گالیاں دیں، اور خدا نے اسے جہنم کی آگ میں داخل کرنا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور ختم نہ ہونے والا عذاب ا س کیلئے ہے۔
اس کے بعد امام حسن علیہ السلام منبر سے نیچے اترے اور گھر کی طرف چلے گئے اور پھر کبھی وہاں پر نماز نہ پڑھی۔(احتجاج طبرسی، ج ۱ ، ص ۲۸۲) ۔
۳۳۔ آنحضرت کا اپنے اور خلیفہ کے اوصاف کے متعلق خطبہ
روایت ہے کہ ایک دن عمر بن عاص نے معاویہ سے کہا کہ حسن بن علی کے پاس کسی کو بلانے کیلئے بھیجو اور ا ن سے کہو کہ منبر پر جائیں اور خطبہ پڑھیں۔ شاید خطبہ نہ دے سکیں تو ہم اس وجہ سے ان کا مذاق ہر محفل اور مجلس میں اڑایا کریں گے۔ معاویہ نے کسی کو بھیجا۔ امام آئے اور منبر پر گئے جبکہ بہت سے لوگ اور شام کے سردار وہاں جمع تھے۔امام نے خدا کی حمدوثناء کے بعد فرمایا:
اے لوگو! جو مجھے جانتا ہے وہ جانتا ہے اور جو نہیں جانتا وہ جان لے کہ میں علی ابن ابی طالب علیہم السلام کا بیٹا ہوں۔ میں رسولِ خدا کا بیٹا ہوں اور میں اس کا بیٹا ہوں جس کیلئے خدا نے زمین کو پاک اور سجدہ گاہ بنادیا ہے۔ میں روشن چراغ اور خوشخبری دینے والے کا بیٹا ہوں، اور ڈرانے والے کا بیٹا ہوں، اور میں خاتم النبیین کا بیٹا ہوں، اور رسولوں کے پیشوا ، پرہیزگاروں کے رہنما، خداوند کائنات کے چنے ہوئے کا بیٹا ہوں۔ میں اس کا بیٹا ہوں جسے دونوں جہانوں کیلئے رحمت بناکربھیجا گیا ۔
جب معاویہ کو امام کی گفتگو پسند نہ آئی تو امام کے کلام کو کاٹ کر کہا : اے ابا محمد! یہ باتیں رہنے دو اور ہمیں کھجور کی خصوصیات کے متعلق بتاؤ۔ معاویہ کا ارادہ تھا کہ امام شرمسار ہوں گے اور گفتگو نہیں فرمائیں گے۔ امام نے فرمایا: کھجور کا درخت ہوا کے ساتھ پھل دیتا ہے، اور سورج کی روشنی اسے پکاتی ہے، اور رات کی ٹھنڈک اسے خوشبودار اور تازہ کرتی ہے۔ پھر امام حسن علیہ السلام اپنی پہلے والی بات پر آگئے اور فرمایا:
میں اس کا بیٹا ہوں کہ جس کی دعا دربارِ خداوندی میں قبول ہوتی ہے۔ میں اس کا بیٹا ہوں کہ جس کی شفاعت قبول ہوگی۔ میں اس کا بیٹا ہوں جسے سب سے پہلے زمین سے اٹھایا جائے گا۔ میں اس کا بیٹا ہوں جو جنت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا اور اس کیلئے دروازہ کھول دیا جائے گااور وہ داخل ہوجائے گا۔ میں اس کا بیٹا ہوں کہ جنگ میں فرشتے اس کی مدد کیلئے چلے آتے تھے۔غنیمت کو اس کے لئے حلال کیا گیا اور خوف کی وجہ سے ایک مہینہ یا اس سے زیادہ مدت کیلئے اُس کی مدد کی گئی۔
امام نے اس طرح کی اور بھی گفتگو کی اور ابھی فرمارہے تھے کہ معاویہ پر دنیا تاریک ہوگئی۔ اہلِ شام اور ان کے علاوہ جو لوگ امام علیہ السلام کو نہیں جانتے تھے، انہوں نے جان لیا۔
معاویہ نے کہا کہ تمہاری خواہش تھی کہ خلیفہ ہوتے لیکن خلیفہ تو نہیں ہو۔امام علیہ السلام نے فرمایا:
خلیفہ وہ ہے جو رسولِ خدا کی سیرت پر چلے اور خدا کی اطاعت میں اپنی گردن جھکائے۔ لیکن جو ظلم کرتا ہو، اور خدا کے احکام کو معطل کرتا ہو، اور دنیا کے ساتھ اپنے ماں باپ کی طرح لگاؤ رکھتا ہو، خدا کے بندوں کو غلام بناتا ہو، اور خدا کے مال کو لوٹتا ہو،
وہ خلیفہ نہیں ہوسکتا۔لیکن ایسا شخص وہ ہوسکتا ہے کہ جس نے حکومت کو زبردستی اپنے ہاتھ میں لیا ہو، اور اس سے تھوڑی سی مدت کیلئے فائدہ اٹھائے اور بہت جلد اُس کا دورِ حکومت ختم ہوجائے، اور لذت ختم ہوچکی ہو۔ لیکن اُس کی سختیاں اُس پر باقی ہوں، اور وہ اس طرح ہو جیسیخدا فرماتا ہے تم نہیں جانتے کہ شاید یہ تمہارے لئے امتحان ہو اور تھوڑی سی مدت کیلئے فائدہ)،(ان کو چند سالوں تک فائدہ اٹھانے دیا پھر جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا تھا(عذابِ خدا) اُس کا وقت آگیا، (اور جو کچھ اس سے فائدہ اتھاتے ہیں، انہیں بے نیاز نہیں کرتا)۔
پھر اپنے ہاتھ کے ذریعے معاویہ کی طرف اشارہ کیا اور منبر سے نیچے اتر آئے۔
ایک روایت میں اس طرح آیا ہے:
معاویہ نے کہا کہ قریش میں سے کوئی ایسا شخص نہ ہوگا جو ہماری نعمتوں اور ہماری عطا کردہ چیزوں سے فائدہ نہ اٹھاتا ہو۔ امام علیہ السلام نے فرمایا:
ہاں۔ وہ کون ہے جس نے ذلت و رسوائی کے بعد تجھے عزت دی ؟ وہ کون ہے جس نے تجھے کم مال سے کثیر مال والا بنا دیا؟
معاویہ نے کہا: اے حسن ! وہ کون ہیں؟ امام نے کہا کہ وہ ہیں جن کو تو جاننا نہیں چاہتا۔
پھر امام نے فرمایا:
میں اُس کا بیٹا ہوں جو قریش کے ہر جوان اور بوڑھے کا سردار تھا۔ میں اُس کابیٹا ہوں جو عزت و اکرام میں تمام لوگوں سے بڑھ کرتھا۔میں اُس کا بیٹا ہوں جو دنیا والوں پر سچ بولنے میں اور معاف کرنے میں آگے تھا۔ جو ایک پھل دار شاخ تھا اور فضیلتوں میں پیش پیش۔ میں اُس کا بیٹا ہوں کہ اُس کی مرضی خدا کی مرضی ہے اور اُس کی ناراضگی خدا کی ناراضگی ہے۔اے معاویہ تیرے لئے مناسب ہے کہ تو ایسے شخص کے متعلق جسارت کرے؟
معاویہ نے کہا کہ نہیں۔ آپ کی بات درست ہے۔ امام نے فرمایا:
حق روشن ہے اور باطل تاریک۔جو حق کا سوار ہوگا وہ پشیمان نہ ہوگا اور جو باطل کا ہوگا ، اُس نے اپنا نقصان کیا، اور حق کو عقل والے ہی پہچانتے ہیں۔
معاویہ منبر سے نیچے آیا اور امام علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ جو بھی آپ کے ساتھ برائی کرے وہ اچھا آدمی نہ ہوگا۔(خرائج راوندی، ج ۱ ، ص ۲۳۷) ۔
۳۴۔ آنحضرت کا خطبہ اپنی فضیلت اور معاویہ کے متعلق
روایت ہے کہ معاویہ مدینہ آیا اور خطبہ پڑھا اور کہا کہ علی ابن ابی طالب علیہم السلام کہاں ہیں؟ امام حسن علیہ السلام اٹھے اور خدا کی حمدوثناء کے بعد فرمایا:
کہ کوئی نبی ایسا نہیں آیا مگر یہ کہ اُس کی اہل بیت سے اُس نبی کا جانشین مقرر کیا گیا،اور کوئی نبی ایسا نہ تھا کہ ظالم لوگ اُس کے ساتھ دشمنی کیلئے موجود تھے، اور علی رسولِ خدا کے بعد اُن کا وصی ہے۔ میں علی کا بیٹااور تو صخر کا بیٹا ہے۔ تیرا ناناحرب اور میرا نانا خدا کا رسول ہے۔ تیری ماں ہندہ اور میری والدہ فاطمہ ہیں۔ میری نانی خدیجہ اور تیری نانی نشیلہ ہے۔ خدا اپنی رحمت سے اُس شخص کو دوررکھے جو میرے اور تجھ میں نسبت کے لحاظ سے پست تر ہو، او رکفر کے لحاظ سے آگے ہو۔ جس کا ایمان کم اور منافقت زیادہ ہو۔
تمام لوگ جو مجمع میں حاضر تھے، کہنے لگے کہ خداوندا قبول فرما۔ معاویہ منبر سے نیچے آگیا اور اپنے خطبے کو ختم کردیا۔(احتجاج طبرسی، ج ۱ ، ص ۲۸۲) ۔
۳۵۔ آنحضرت کا خطبہ اپنی شان میں
روایت ہے کہ معاویہ نے امام حسن علیہ السلام سے درخواست کی وہ منبر پر جائیں اور اپنا نسب بیان کریں۔ امام منبر پر گئے اور خدا کی حمدوثناء کے بعد فرمایا:
اے لوگو! جو مجھے جانتا ہے وہ جانتا ہے اور جو نہیں جانتا بہت جلد میں اُس کیلئے اپنی پہچان کرواتا ہوں۔ میرا شہر مکہ اور منیٰ ہے۔ میں صفاء و مروہ کا بیٹا ہوں۔ میں خدا کی طرف سے چنے ہوئے نبی کا بیٹا ہوں۔ میں اُس کا بیٹا ہوں جو مضبوط پہاڑوں پر بلند ہوا۔ میں اُس کا بیٹا ہوں جو اپنے چہرے کو خوبصورتی کی وجہ سے چھپاتا تھا۔ میں
عورتوں کی سردار فاطمہ کا بیٹا ہوں۔ میں اُن کا بیٹا ہوں جن کے عیوب کم اور دامن پاک ہے۔
اسی وقت موذن نے اذان کہنی شروع کی اور یہ کہنا شروع کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد خدا کا رسول ہے۔
پھر امام نے فرمایا:
اے معاویہ ! محمد تیرا باپ ہے یا میرا باپ ہے؟ اگر کہے کہ میرا باپ نہیں ہے تو تو نے حق کو چھپایا اور اگر کہے ہاں تو اقرار کیا ہے۔
پھر فرمایا:
قریش باقی عربوں پر فخر کرتے ہیں کہ محمد ان میں سے ہیں اور عرب عجم والوں پر فخر کرتے ہیں کہ محمد ہم میں سے ہیں اور عجم والے عرب والوں کا احترام کرتے ہیں کہ محمد ان میں سے ہیں۔ حق ہمیں طلب کرتا ہے لیکن ہمارا حق ہمیں لوٹاتے نہیں ہیں۔(مناقب آل ابی طالب ، ابن شہر آشوب، ج ۳ ، ص ۱۷۸) ۔
۳۶۔ آنحضرت کا خطبہ ان حضرات کی اطاعت کرنے کے متعلق
اے لوگو! منکر برباد ہوگئے اور آثار ختم ہوگئے۔صبروحوصلہ کم ہوگیا۔ شیطانی وسوسوں اور خیانت کرنے والوں کے حکم کو برداشت کرنے کی ہمت نہیں رہی۔ خدا کی قسم! ابھی حق کو ثابت کرنے والی دلیلیں اور خداکی نشانیاں بلند ہوتیں اور مشکلات ظاہر ہوتیں اور ہم ان نشانیوں کی تحقیق اور تاویل کے انتظار میں تھے۔ خدا فرماتا ہےمحمد صرف خدا کا رسول ہے۔ اُس سے پہلے بھی رسول گزرے ہیں ۔ اگر وہ مرجائے یا قتل ہوجائے تو کیا تم اپنے سابقہ دین کی طرف لوٹ جاؤ گے، اور جو بھی اپنے گزشتہ دین کی طرف لوٹ جائے ، خدا کوکوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور خدا شکر کرنے والوں کو اچھی جزا دیتا ہے)۔
خدا کی قسم! میرے نانا رسولِ خدا وفات پاگئے اور میرے والد قتل ہوگئے۔ وسوسہ ڈالنے والے شیطان نے چیخ ماری اور شک دلوں میں پیدا ہوگیا۔ فتنہ و فساد برپا کرنے والے کی ندا ظاہر ہوئی۔ سنت پیغمبر کے ساتھ مخالفت ہوئی۔ پس اندھے ، گونگے اور بہرے کے فتنہ سے ہلاکت ہے کہ بلانے والے کی آواز سنی نہیں جاتی، ندا دینے والے کی ندا کا جواب نہیں دیا جاتا، اور فتنہ کرنے والے کی مخالفت نہیں کی جاتی۔ نفاق ظاہر ہوچکا ہے اور اختلاف ڈالنے والے پرچم حرکت میں آچکے ہیں، اور دین سے خارج ہونے والے سپاہی شام و عراق سے جمع ہورہے ہیں۔ خدا تم پر رحمت فرمائے ، چمکتے ہوئے نور کی روشنی کی طرف آؤ اور طاقتور مرد کے پرچم کی طرف جلدی کرو۔
ایسا نور جو کبھی بجھنے والا نہیں ہے اور ایسا حق جو چھپنے والا نہیں ہے۔اے لوگو!غفلت کی نیند سے اٹھو اور وسیع فرصت سے فائدہ اٹھاؤ، اور زیادہ تاریکی اورراہِ نجات کی کمی سے خودکو بیدار کرو۔ مجھے قسم ہے اُس خدا کی جس نے دانے کو پھاڑا اور انسان کو خلق کیا اور لباسِ عظمت پہنے ہوئے ہے۔ اگر تم میں سے میرے ساتھ ایسا گروہ ہو کہ جن کے دل صاف اور نیتیں سچی ہوں اور اُن نیتوں میں نہ تو منافقت ہو اور نہ ہی تفرقہ پیدا کرنے کا ارادہ ، میں تلوار کے ساتھ قدم بقدم ان کے ساتھ مل کر جنگ کروں گا اور تلواروں اور نیزوں کو ان کی طرف رکھ دوں گا، اور اپنے گھوڑوں کو ان کی طر ف لے چلوں گا۔(ہدایہ حسین بن ہمدان، ص ۲۱۰) ۔
۳۷۔ آنحضرت کا خطبہ صلح کے سبب کے متعلق
روایت ہے کہ جب امام پر زہر آلود خنجر کے ساتھ حملہ کیا گیا تو آپ اُس جگہ کی طرف چلے گئے جس کا نام( بطن جریح) ہے اور اس جگہ مختار کے چچا کی حکومت تھی۔ مختار نے اپنے چچا سے کہا کہ آؤ اور حسن بن علی علیہما السلام کو پکڑ کر معاویہ کے حوالے کردیں۔ جب شیعوں کو مختار کے ارادے کا پتہ چلا تو اُسے قتل کرنا چاہا۔ مختار کے چچا نے کہا کہ اسے معاف کردو تو انہوں نے معاف کردیا۔
امام علیہ السلام نے فرمایا:
تم پر ہلاکت ہو۔ میں قسم کھاتا ہوں کہ معاویہ نے میرے قتل کے بارے میں جو تم سے وعدہ کیا ہے، وہ کبھی پورا نہ کرے گا، اور میں جانتا ہوں کہ اگر اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ میں دے دوں اور اپنے آپ کو اس کے سپرد کردوں تو وہ مجھے اپنے نانا کے دین پر بھی نہیں رہنے دے گا۔
میں تو اکیلا بھی خدا کی عبادت کرسکتا ہوں لیکن مجھے تمہاری اولاد کی فکر ہے کہ جو اُن کے گھروں کے اردگرد جمع ہے اور جو خدا نے ان کو دے رکھا ہے، اُس کے بدلے وہ اُن سے پانی اور کھانے کو مانگ رہے ہیں۔ لیکن وہ ان کو دیتے نہیں ہیں۔ پس دوری اور عذاب ہے اُن لوگوں کیلئے ، اس وجہ سے جو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کیا ہے، اور ظالم لوگ بہت جلد جان لیں گے کہ اُن کا ٹھکانا کیا ہے۔(علل الشرائع، شیخ صدوق ، ج ۱ ، ص ۲۲۰) ۔
۳۸۔ آنحضرت کا خطبہ جب آنحضرت کو بیعت کرنے کی وجہ سے لوگ ملامت کرنے لگے
ہلاکت ہوتم پر ، کیا تم نہیں جانتے کہ میں نے کیا کام کیا ہے؟ خدا کی قسم! میں نے ایسا کام کیا ہے جو ہمارے شیعوں کیلئے اُن تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع و غروب ہوتا ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ میں نصِ پیغمبر کے ساتھ تمہارا امام ہوں اور میری اطاعت تم پر واجب ہے۔
اور جوانانِ جنت کے سرداروں میں سے ایک سردار ہوں۔تمام لوگوں نے کہا کہ ہاں۔ امام نے فرمایا:
کیا تم نہیں جانتے کہ جب حضرت خضر نے کشتی میں سوراخ ، دیوار کو تعمیر اور لڑکے کو قتل کیا تو موسیٰ کو بڑا غصہ آیا کیونکہ ان کاموں کی دلیل اور وجہ اُن کے لئے پوشیدہ تھی۔ لیکن خدا کے نزدیک وہ حکمت کے مطابق اور صحیح تھا؟ کیا تم نہیں جانتے کہ ہم اہل بیت میں سے کوئی فرد بھی ایسا نہیں ہے جس کی گردن پر طاغوت کی طرف سے بیعت موجود ہے سوائے قائم آل محمد کے جن کے پیچھے روح اللہ عیسیٰ ابن مریم نماز پڑھیں گے۔ خدا اُس کی ولادت کو پوشیدہ اور خفیہ رکھے گا، یہاں تک کہ اُس کے ظہور کے وقت کسی کی بیعت اُس کی گردن پر نہ ہوگی۔
وہ میرے بھائی حسین کا نواں بیٹا ہے۔ وہ عورتوں کی سردار کا بیٹا ہے۔ خدا اُس کی غیبت میں اُس کی عمر کو لمباکردے گا۔ پھر قدرتِ خدا اُسے چالیس سال کے جوان کی طرح بنا دے گی اور یہ اس لئے ہے تاکہ وہ جان لیں کہ خداہرچیز پر قادر ہے۔(احتجاج طبرسی، ج ۲ ، ص ۹) ۔
۳۹۔ آنحضرت کا خطبہ صلح کے سبب کے متعلق
خونریزی سے بچنے اور حفاظت کیلئے اور اپنی ، اپنے خاندان اور اپنے مخلص ساتھیوں کی حفاظت کی خاطر میں نے صلح کی ہے۔(تنزیة الانبیا، سید مرتضیٰ،ص ۱۶۹) ۔
۴۰۔ آنحضرت کا خطبہ جب حضرت کے اصحاب نے چاہا کہ بیعت کو توڑدیں
تم ہمارے شیعہ اور دوست ہو۔ اگر میں چاہتا کہ میری کوشش دنیاوی امورمیں ہو اورمیں دنیاوی طاقت کی فکر میں ہوتا تو اس معاملہ میں معاویہ مجھ سے طاقتور اور قوت مند اور ارادہ میں آگے نہ تھا۔ لیکن میرا ارادہ وہ نہیں ہے جو تم سوچ رہے ہو اور جو کام میں نے کیا ہے، وہ خونریزی سے بچنے کیلئے کیا ہے۔
پس خدا کے فیصلہ کے ساتھ راضی ہوجاؤ اور اُس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردو اور اپنے گھروں میں خاموشی کے ساتھ رہو۔ یا امام نے یہ فرمایا کہ اپنے آپ کو روکے رکھو تاکہ نیک آدمی سکون کے ساتھ رہ سکیں یا ظالم شخص سے راحت میں رہیں۔(طبری، ج ۲ ، ص ۱۶۹) ۔
تیسری فصل
آنحضرت کے مناظرے
معاویہ کے نزدیک اپنے والد کی فضیلت میں۔
اپنی شان اور مخالفوں کے عیوب میں۔
فضیلت اہل بیت میں اور اس بارے کہ خلافت کے صرف یہی سزاوار ہیں۔
عمروبن عاص اور ابن زیاد کے ساتھ۔
عبداللہ بن زبیر کے ساتھ۔
مروان بن حکم کے ساتھ۔
عمروبن عاص کے ساتھ۔
عمروبن عاص کے ساتھ۔
عمروبن عاص کے ساتھ۔
معاویہ ابن ابی سفیان کے ساتھ۔
معاویہ ابن ابی سفیان کے ساتھ۔
ولید بن عقبہ کے ساتھ۔
یزید بن معاویہ کے ساتھ۔
حبیب بن مسلمہ فہری کے ساتھ۔
حسن بصری کے ساتھ توحید کے متعلق۔
۱۔ آنحضرت کا مناظرہ معاویہ کے پاس اپنے والد بزرگوار کی شان میں
معاویہ کے پاس عمروبن عثمان بن عفان، عمروبن عاص، عتبہ بن ابی سفیان ، ولید بن عقبہ بن ابی معیط اور مغیرہ بن شعبہ جمع تھے اور سب کا ایک ہی مقصد تھا،(آنحضرت کو کمزور کرنا)۔عمروبن عاص نے معاویہ سے کہا کہ حسن بن علی کے پاس کسی کو کیوں نہیں بھیجتے تاکہ اُس کو بلاؤ کیونکہ اُس نے اپنے والد کی سنت کو زندہ کیا ہوا ہے اور بہت سے لوگ اُس کے اردگرد جمع ہیں۔ وہ حکم دیتا ہے اور اُس کا حکم مانا جاتا ہے۔ وہ بات کرتا ہے اور اُس کی بات قبول کی جاتی ہے۔ یہ دوباتیں اُسے بلند مقام پر لے گئی ہیں۔ اگر تو کسی کو بھیج کر اُسے بلائے تو ہم اُسے اور اُس کے باپ کو کمزور کریں اور اُسے اور اُس کے باپ کو گالیاں دیں اور اُس کی اور اُس کے باپ کی بے عزتی اور توہین کریں تاکہ وہ ہماری بات مان لے۔
معاویہ نے کہا کہ میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں تمہارے گلے میں ایسا ہار نہ پہنا دے جو قبر تک تمہارے لئے شرم کا باعث بنارہے۔ خدا کی قسم! جب بھی اُسے دیکھتا ہوں تو ناپسند کرتا ہوں اور اُس سے مجھے ڈر لگتا ہے، اور اگر کسی کو اُس کے پاس بلانے کیلئے بھیجوں تو تمہارے درمیان انصاف سے پیش آؤں گا۔
پھر آنحضرت کی طرف کسی کو بھیجا۔ جب وہ آدمی حضرت کے پاس آیا تو اُس نے کہا کہ معاویہ نے آپ کو بلایا ہے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا کہ اُس کے پاس کون کون ہیں؟آنے والے نے کہا کہ اُس کے نزدیک فلاں فلاں شخص ہیں اور اُن کے نام لئے۔ امام نے فرمایا کہ انہیں کیا ہوگیا؟ ان کے سروں پر دیوار کیوں نہیں گرتی اور ان کے سروں پر اُس جگہ سے عذابِ خدا کیوں نہیں آتا جہاں سے انہیں گمان تک نہ ہو۔
جب امام علیہ السلام معاویہ کے پاس پہنچے تو اس نے حضرت کا بڑا استقبال کیا، اور اُن کے ساتھ ہاتھ ملایا۔معاویہ نے کہا: اس گروہ نے میری بات نہیں مانی اور آپ کو بلانے کیلئے آدمی کو بھیج دیا تاکہ آپ سے اقرار کروائیں کہ عثمان مظلوم قتل ہوا ہے اور اُسے آپ کے باپ نے قتل کیا ہے۔ ان کی گفتگو سن کو اُس کے مطابق جواب دیں۔ میں آپ کوبات کرنے سے نہیں روکوں گا۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ گھر تیرا گھر ہے اور اس میں اجازت بھی تیری طرف سے ہوگی۔ خدا کی قسم! اگر میں انہیں جواب دوں گا تو تجھے بُرا کہنے سے حیا کروں گا اور اگر یہ لوگ تیرے ارادے پر غالب آگئے تو تیری کمزوری سے مجھے شرم آئے گی۔ کس بات کا اقرار اور کس چیز سے معذرت چاہتے ہو؟ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ اتنے سارے لوگ جمع ہیں تو میں بھی بنی ہاشم سے اتنے جوان اپنے ساتھ لے آتا۔ اگرچہ یہ لوگ مجھ اکیلے سے زیادہ خوف رکھتے ہیں اس سے ، جتنا میں ان سب سے رکھتا ہوں۔ خدا آج اور باقی دنوں میں میرا سرپرست ہوگا۔ ان سے کہو کہ جو کہنا چاہتے ہیں، کہیں، میں سنتا
ہوں اور عظمت و بلندی والے خدا کے علاوہ کسی کی طاقت و قوت نہیں ہے۔پھر اُن سب نے گفتگو کی، اور سب کی گفتگو اور کلام علی علیہ السلام کی برائی بیان کرنے کے متعلق تھی۔ پھر وہ سب خاموش ہوگئے اور امام علیہ السلام نے اپنی گفتگو شروع کی اور فرمایا:
تمام تعریفیں اُس خدا کیلئے ہیں کہ جس نے ہمارے بزرگوں کے ذریعے سے تمہارے بزرگوں کی ہدایت کی اور ہمارے بعد میں آنے والوں کے سبب تمہارے بعد والوں کی ہدایت کی، اور خدا کا درود ہو محمد اور اُن کی اہل بیت پر۔ میری بات سنو اور اُس میں غوروفکر کرو، اور اے معاویہ! میں تجھ سے شروع کرتا ہوں۔ خدا کی قسم! اے معاویہ! ان لوگوں نے مجھے گالیاں نہیں دیں بلکہ تو نے مجھے گالیاں دی ہیں۔ ان لوگوں نے مجھے بُرا بھلا نہیں کہا بلکہ تو نے کہا ہے، اور یہ سب کام تیری طرف سے ہوا ہے، اور یہ اس لئے ہے کہ تو پہلے سے اور اب بھی ہمارے ساتھ اور محمد کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے۔ تیرے دل میں بغض و حسد، ظلم و زیادتی اور برائی ہمارے اور محمد کے متعلق موجود ہے۔
خدا کی قسم! اگر میں اور یہ لوگ مسجد نبوی میں ہوتے اور وہاں مہاجرین اور انصار بھی موجود ہوتے تو ان کی جراءت نہ تھی کہ ایسی باتیں کرتے، اور ایسے مطالب کو بیان کرنے پر ان کی طاقت نہ تھی۔
اے اس جگہ میرے خلاف جمع ہونے والے گروہ کے افراد ! سنو! اور جس حق کو تم جانتے ہو، اُسے چھپانے کی کوشش نہ کرنا۔ اگر میں غلط بات کروں تو اُس کی تصدیق نہ کرنا اور اے معاویہ! میں تجھ سے شروع کرتا ہوں او ر میں کم ہی کہوں گا اُس سے جو تجھ میں ہے۔
تجھے خد اکی قسم دیتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ جس شخص کو تم نے گالیاں دی ہیں، اُس نے دو قبلوں(بیت المقدس، کعبہ) کی طرف نماز پڑھی ہے اور تو نے ان دونوں قبلوں کو اُس وقت دیکھا ہے جب تو کفر کی حالت میں تھا اور گمراہ تھا، اور لات و عزیٰ کی پوجاکرتا تھا، اور اُس نے دودفعہ بیعت کی یعنی بیعت رضوان اور بیعت فتح مکہ، جبکہ تو اے معاویہ! پہلی بیعت کے وقت کافر تھا اور دوسری بیعت کو تونے توڑ دیا۔پھر فرمایا:
تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ کیا جو میں کہہ رہا ہوں ، وہ حق ہے؟ اُس نے تیرے ساتھ اُس وقت ملاقات کی جب وہ پیغمبر کے ساتھ جنگ بدر میں تھا، اور وہ پیغمبر اور مومنون کے پرچم کو اٹھائے ہوئے تھا، اور اے معاویہ! تیرے ساتھ مشرکوں کا پرچم تھا اور تو لات و عزیٰ کی پوجا کرتا تھا، اور تو پیغمبر کے ساتھ جنگ ایک واجب و ضروری کام شمار کرتا تھا، اور اُس نے جنگ اُحد میں اُس وقت سامنا کیا جب اُس کے ساتھ رسولِ خدا کا پرچم تھا، اور اے معاویہ! تیرے ہاتھ میں مشرکین کا پرچم تھا، اور جنگ خندق میں اُس وقت تیرے سامنے آیا جب اُس کے ہاتھ میں رسولِ خدا کا پرچم تھا اور تیرے ہاتھ میں مشرکوں کا جھنڈا تھا۔
یہاں تک کہ خدا نے میرے والد کے دست مبارک سے مسلمانوں کو کامیاب کیا اور اپنی حجت کو واضح و روشن کیا، اور اپنے دین کی مدد کی، اور اُس کی بات کی تصدیق کی، اور ان سب موقعوں پر رسولِ خدا اُس سے راضی تھے، اور تجھ سے ناراض تھے۔
پھر تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسولِ خدا نے بنی قریظہ اور بنی نضیر کا محاصرہ کیا ہوا تھا، اوراُس وقت مہاجرین کا علم عمر بن خطاب کے ہاتھ میں تھااور انصار کا پرچم سعد بن معاذ کے ہاتھ میں تھا۔ ان کو جنگ کیلئے بھیجا۔ سعد بن معاذجنگ کیلئے گیا اور زخمی واپس آیا، اور عمر بھاگ کر واپس آگیا، اور حالت یہ تھی کہ اُس کے ساتھی اُسے ڈرا رہے تھے، اور وہ اپنے ساتھیوں کو ڈرا رہا تھا۔ رسولِ خدا نے فرمایا کہ کل میں اُس کو علم دوں گا جو خدا اور اُس کے رسول کو دوست رکھتا ہے اور خدا اور اُس کا رسول اُسے دوست رکھتے ہیں۔جو بڑھ بڑھ کر حملے کرنے والاہے اور بھاگنے والانہیں ہے۔ وہ اُس وقت تک واپس نہ آئے گا جب تک خدا اُس کے ہاتھ پر فتح عطا نہ کردے۔
ابوبکر اور عمر اور دوسرے مہاجرین اور انصار اپنے آپ کو رسولِ خدا کے سامنے پیش کررہے تھے تاکہ وہ اس فضیلت کیلئے منتخب ہوجائیں۔ علی علیہ السلام اُس دن بیمار تھے۔ اُن کی آنکھوں میں درد تھا۔ رسولِ خدا نے انہیں اپنے پاس بلایا اور اُن کی آنکھوں میں لعابِ دہن لگایا۔ وہ ٹھیک ہوگئے۔ رسولِ خدا نے علَم دیا اور وہ اس وقت تک واپس نہ لوٹے جب تک خدا نے ان کے ہاتھ پر فتح عطا نہ کردی، اور تو اے معاویہ! اُس دن مکہ میں تھا۔
اور خدا و رسول کا دشمن شمار ہوتا تھا۔ کیا وہ شخص جو خدا اور رسولِ خدا کی مدد کرے اور وہ جو خدا کا اور رسولِ خدا کا دشمن ہو، برابر ہیں۔ پھر میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ ابھی بھی تیرا دل ایمان نہیں لایا لیکن تیری زبان ڈرتی ہے۔ اس لئے جو دل میں نہیں ہے ، وہ کہتا ہے۔
تجھے خدا کی قسم دیتا ہوں ، کیا تم نہیں جانتے کہ رسولِ خدا نے اُسے جنگ تبوک میں اپنے جانشنین اور خلیفہ کے طور پر بس ٹھہرایا تھا ، اس حالت میں کہ نہ تو وہ اُسے دشمن رکھتا تھا، اور نہ ہی اُس سے ناراض تھا۔ منافقین نے اس بارے میں بڑی باتیں کیں ، اور اس چیز کو علی کیلئے ایک عیب کے طور پر پیش کیا۔علی علیہ السلام نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے شہر میں پیچھے نہ چھوڑئیے کیونکہ آج تک میں نے کسی جنگ میں بھی آپ کو اکیلا نہیں چھوڑا۔ رسولِ خدا نے فرمایا کہ تم میرے خاندان میں میرے خلیفہ اور میرے وصی ہوجیسے ہارون موسیٰ کیلئے تھے۔ اُس وقت علی کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا:اے لوگو! جو بھی مجھے دوست رکھے گا وہ خدا کو دوست رکھے گا، او ر جو بھی علی کو دوست رکھے گا، وہ مجھے دوست رکھے گا،اور جس نے میری اطاعت کی، اُس نے خدا کی اطاعت کی، اور جس نے بھی علی کی اطاعت کی، اُس نے میری اطاعت کی اور جس نے مجھے دوست رکھا، خدا کو دوست رکھا اور جس نے بھی علی کو دوست رکھا، اُس نے خدا کو دوست رکھا۔
پھر فرمایا:تمہیں خدا کی قسم ، کیا تم جانتے ہو کہ رسولِ خدا نے حجة الوداع کے موقع پر فرمایا:اے لوگو! میں تمہارے درمیان دوچیزیں چھوڑے جارہا ہوں۔ اس کے بعد تم ہرگز گمراہ نہ ہونا، اللہ کی کتاب اور میرے اہل بیت ۔قرآن کے حلال کو حلال جانو اور قرآن کے حرام کو حرام سمجھو۔ اس کے واضح اور روشن احکام پر عمل کرو اور مشتبہ اور غیر واضح احکام پر ایمان لاؤ ، اور کہو کہ جو کچھ خدا نے قرآن میں نازل فرمایا ہے، اس پر ایمان لائے، اور میرے اہل بیت سے محبت کرو۔ جو ان سے محبت کرے گا، وہ مجھ سے محبت کرے گا، اور دشمنوں کے مقابلے میں ان کی مدد کرو، اوریہ دوچیزیں تمہارے درمیان باقی رہیں گی، یہاں تک کہ قیامت کے دن حوضِ کوثر کے پاس مجھ پر وارد ہوں گی۔
پھر جبکہ رسولِ خدا منبر پر تھے، علی کو اپنے پاس بلایا، اور اُسے اپنے ہاتھوں کے ساتھ پکڑ کر فرمایا:اے اللہ! علی سے محبت کرنے والوں سے محبت رکھ، اور علی سے دشمنی رکھنے والے کو دشمن رکھ۔ اے اللہ! جو علی سے دشمنی رکھے، نہ زمین میں اُس کیلئے کوئی ٹھکانا ہو، اورنہ آسمان کی طرف بھاگنے کا کوئی راستہ، اور اُسے آگ کے بدترین درجات میں قرار دے۔
تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں ، کیا تم جانتے ہو کہ رسولِ خدا نے اُسے فرمایا کہ اے علی ! تو قیامت کے دن لوگوں کو حوضِ کوثر سے اس طرح دور کررہے ہوگے جیسے ایک اجنبی
اونٹ کو دوسرے اونٹوں سے دورکرتے ہو۔ تمہیں خداکی قسم ، کیا تم جانتے ہو کہ وہ جب رسولِ خدا کے پاس اُس وقت آیا جب وہ مرض الموت میں تھے تو پیغمبر رونے لگے۔
علی نے عرض کیا، یا رسول اللہ روتے کیوں ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ میری امت کے ایک گروہ کے دلوں میں کینہ موجود ہے۔جب میں اس دنیا سے چلاجاؤں گا تو یہ اُسے ظاہر کریں گے۔
تمہیں خدا کی قسم، کیا تم جانتے ہو کہ جب رسولِ خدا کی وفات کا وقت تھااور تمام اہل بیت اُن کے پاس جمع تھے تو آپ نے فرمایاکہ:اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔ ان کے دوستوں کو دوست رکھ اور ان کے دشمنوں کو دشمن رکھ، اور فرمایا: میرے اہل بیت کی مثال نوح کی کشتی کی مانند ہے، جو بھی اس میں سوار ہوگیا، وہ نجات پاگیا اور جو بھی اس سے پیچھے رہ گیا، وہ ہلاک ہو گیا۔
تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں ، کیا تم جانتے ہو کہ رسولِ خدا کے اصحاب حضرت کے زمانے میں اور حضرت کی زندگی میں ولی اور رہبر کہہ کر سلام کرتے تھے۔
تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ علی اصحابِ پیغمبر میں سے سب سے پہلے شخص ہیں جس نے دنیا کی لذتوں کو اپنے اوپر حرام قرار دیا تھا، اور خدا نے یہ آیت نازل کی اور فرمایا:(اے ایمان والو! پاک چیزیں جو تم پر حلال ہیں ، انہیں اپنے اوپر حرام نہ کرو، اورتجاوز نہ کرو، بے شک خدا تجاوز کرنے والوں کوپسند نہیں کرتا،اور وہ
چیزیں جو خدا نے تم پر نازل کی ہیں، اور حلال و پاک ہیں، انہیں کھاؤ، اور جس خدا کے ساتھ تم ایمان رکھتے ہو، اُس سے ڈرو)، اور علی علیہ السلام کے پاس موت کے اوقات کا علم، احکامِ خدا کا علم، کتابِ خدا کا علم اور قرآن کے راسخ کا علم اور نازل ہونے والے قرآ ن کا علم رہتا تھا، اور ایک گروہ تھا جس کی تعداد تقریباً دس تک تھی، خدا نے خبر دی تھی کہ یہ مومن ہیں، اور تم بھی ایک گروہ ہو جس کی تعداد تقریباً اتنی ہی ہے اور اُن پر زبانِ پیغمبر میں لعنت ہوئی ہے۔ تمہیں گواہ قرار دیتا ہوں اور میں بھی تم پر گواہ ہوں کہ تم سب پر رسولِ خدا کی طرف سے لعنت ہوئی ہے۔
تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں ، کیا تم جانتے ہو کہ جب رسولِ خدا نے تمہارے پاس ایک آدمی کو بھیجا تاکہ بنی خزیمہ کیلئے ایک خط لکھے، یہ اُس وقت کی بات ہے جب خالد بن ولید بنی خزیمہ کے پاس پہنچا تھا۔ آدمی پیغمبر اسلام کے پاس واپس آیا اور کہا کہ وہ کھانا کھارہا ہے۔ تین مرتبہ وہ آدمی تیرے پاس گیا، اور ہر دفعہ واپس آکر کہا کہ وہ کھانا کھا رہا ہے، تو اُس وقت رسولِ خدا نے فرمایا کہ اے اللہ! اس کا پیٹ کبھی پُر نہ ہو۔ خدا کی قسم! یہ بات قیامت تک تیری غذا اور کھانے میں ثابت ہے۔پھر فرمایا:
تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ جو میں کہہ رہا ہوں، حق ہے۔ اے معاویہ! جنگ احزاب کے دن جب تیرا باپ سرخ بالوں والے اونٹ پر بیٹھا ہوا تھا، تو اُسے پیچھے سے اور تیرا بھائی اُسے آگے سے ہانک رہے تھے،اور رسولِ خدانے اُس اونٹ پر بیٹھنے والے اور آگے اور پیچھے سے ہانکنے والے پر لعنت کی تھی، اور تیرا باپ اُس وقت اونٹ پر سوار تھا، اور تو اور تیرا بھائی اُس اونٹ کو آگے اور پیچھے سے ہانک رہے تھے۔
تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں ، کیا تم جانتے ہو کہ رسولِ خدا نے سات مقامات پر ابوسفیان پر لعنت کی ہے۔
۱۔ جب آنحضرت نے مکہ سے مدینہ کی طرف حرکت کی اور ابوسفیان شام سے آگیا اور آنحضرت کو بُرا بھلا کہا، اور آنحضرت کو ڈرایا اور چاہتا تھا کہ آنحضرت کو گرفتار کرلے۔ خدا نے رسولِ خدا کو اُس کے شر سے محفوظ رکھا۔
۲۔ جس دن (قریش کے مشرکین کا قافلہ شام سے آیا اور رسولِ خدا اُسے روکنا چاہتے تھے) لیکن ابوسفیان کسی اجنبی راستے سے قافلہ کو مکہ لے گیا تاکہ پیغمبر کے ہاتھ نہ آئیں اور (جنگ بدر واقع ہوئی)۔
۳۔ جنگ اُحد کے دن۔ رسولِ خد انے فرمایا کہ خدامیرا مولا اور تمہارا کوئی مولا و سرپرست نہیں ہے۔ ابوسفیان نے کہا کہ ہمارے پاس عزیٰ ہے، تمہارے پاس عزیٰ نہیں ہے۔ پس اُس وقت خدا، فرشتے ،رسولوں اور تمام مومنوں نے اُس پر لعنت کی۔
۴۔ جنگ حنین کے دن، جب ابوسفیان نے قریش، ہوازن و عیینہ غطفان اور یہودیوں کوجمع کرکے رسولِ خدا کے خلاف تیار کیا۔پس یہ لوگ غصے کے ساتھ واپس چلے گئے اور یہ اچھائی اور خیر نہ پاسکے۔ یہ خدا تعالیٰ کاکلام ہے جو دوسورتوں میں نازل ہوا ہے، اور ابوسفیان اور اُس کے ساتھیوں کوکافر کہا ہے، اور اے معاویہ! تو اُس دن مکہ میں تھا، اور اپنے باپ کے دین یعنی شرک پر تھا اور مشرک تھا، اور اُس دن علی علیہ السلام رسولِ خدا کے ساتھ تھے اور اُن کے دینی عقیدہ پر تھے۔
۵۔ اللہ تعالیٰ کا قول ہے:( اور قربانی کو اُس کے مقام پر پہنچنے سے روکے ہوئے ہیں)، اور اے معاویہ! تو، تیرا باپ اور مشرکین قریش نے رسولِ خداکو روکا تھا۔ پس خدا نے اُن پرلعنت کی۔ ایسی لعنت جو اُس کیلئے اور اُس کی اولاد کیلئے قیامت تک باقی رہے گی۔
۶۔ جنگ خندق کے دن، جس دن ابوسفیان قریش اور عیینہ بن حصین بن بدرغطفان میں جمع ہوئے، رسولِ خدا نے ان کے رہبر، ان کے تابعین اور قیامت تک پیچھے چلنے والوں پر لعنت کی تھی۔ کسی نے کہا یا رسول اللہ! کیا اتباع کرنے والوں میں مومن نہیں ہوں گے ؟ تو آپ نے فرمایاکہ ان کے بعد آنے والے جو مومن ہوں گے، ان پر لعنت شامل نہیں ہوگی۔
بہرحال رہی بات خود ان کی تو ان میں مومن اور جس کی دعا قبول ہوتی ہو اور نجات پانے والا کوئی نہیں ہے۔
۷۔ اُس دن جب بارہ آدمیوں نے رسولِ خد اکے بارے میں برا ارادہ کیا ہوا تھا، اُن بارہ میں سے سات آدمی بنی اُمیہ سے اور پانچ دوسرے تھے۔ پس خدا اور اُس کے رسول نے گھاٹی سے گزرنے والوں پر لعنت کی، سوائے رسولِ خدا اور اُن کے جو حضرت کی سواری کو آگے اور پیچھے سے چلا رہے تھے۔
تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں، کیا تمہیں معلوم ہے کہ جس دن مسجد نبوی میں عثمان کی بیعت ہورہی تھی تو ابوسفیان آیا اور کہا: اے میرے بھائی کے بیٹے! کیا ہمیں کوئی اور دیکھ تو نہیں رہا؟ عثمان نے کہا کہ نہیں۔ ابوسفیان نے کہا کہ بنی اُمیہ کے نوجوانو! خلافت کو اپنے درمیان چکر دیتے رہو، اور خدا کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جنت اور دوزخ کا کوئی وجود نہیں ہے۔
تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ جب عثمان کی بیعت کی جارہی تھی تو ابوسفیان نے حسین بن علی علیہما السلام کا ہاتھ پکڑا اور کہا: اے بھتیجے! میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جنت البقیع(قبرستان) کی طرف لے چل۔ باہر نکلے اور قبروں کے درمیان پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر اپنا ہاتھ کھینچ کر اونچی آواز سے بولا: اے قبروں والو! جس حکومت کے متعلق کل تم ہمارے ساتھ جنگ کر رہے تھے،آج وہ ہمیں مل گئی ہے اور تم مٹی بن چکے ہو۔ امام حسین بن علی علیہما السلام نے فرمایا کہ خدا تیری داڑھی اور تیرے چہرے کو مسخ کردے اور پھر اپنا ہاتھ کھینچ کر اُسے چھوڑدیا، اور اگر نعمان بن بشیر اُسے پکڑ کر مدینہ نہ لاتا تو وہ ہلاک ہوجاتا۔
اے معاویہ یہ تو تھا تیرے لئے۔ کیا ان لعنتوں میں سے کوئی ایک بھی ہماری طرف پلٹائی جاسکتی ہے، اور تیرا باپ ابوسفیان مسلمان ہونا چاہتا تھا ، اور تو نے ایک مشہور ومعروف شعر جو قریش اور دوسرے قبائل کے درمیان مشہور تھا، اُس کے پاس بھیجا تاکہ اُسے مسلمان ہونے سے روکے، اور ایک یہ کہ عمر بن الخطاب نے تجھے شام کا والی بنادیا اور تو نے اُس کے ساتھ بھی خیانت کی، اور عثمان نے تجھے شام کا حاکم بنادیا، اور تو اس کی موت کے انتظار میں تھا۔ ا س سے بڑھ کر یہ کہ تو نے خدا اور اس کے رسول کے متعلق جراءت کی، اس طرح کہ علی علیہ السلام کے ساتھ جنگ کی، حالانکہ تو اُنہیں پہچانتا تھا، اور اُن کے فضل و علم اور سبقت کو بھی پہچانتا ہے، جو اُنہیں خدا کے نزدیک اور لوگوں کے نزدیک حاصل ہے، اور خاص طور پر ان اور (خلافت) میں بھی تجھ سے اور دوسروں سے زیادہ لائق ہیں، یہ بھی تو جانتا ہے اور تو لوگوں کا حاکم بن گیا، اور فریب و مکر اور دھوکے سے بہت سے لوگوں کا خون بہایا، اور یہ کام وہ کرتا ہے جو آخرت پر ایمان نہ رکھتا ہو اور خدا کے عذاب سے نہ ڈرتا ہو۔اور جب موت کا وقت آئے گا تو بد ترین جگہ میں جائے گا، اور علی علیہ السلام سب سے اچھے مکان میں ہوں گے، اور خدا تیری انتظار میں ہے۔ اے معاویہ!یہ فقط تیرے لئے تھا اور جن برائیوں اور عیبوں کو میں نے بیان نہیں کیا، وہ اس لئے تاکہ بات لمبی نہ ہوجائے۔
بہرحال رہی بات تیری اے عمروبن عاص، تو تو احمق ہونے کی وجہ سے جواب دینے کے لائق نہیں ہے۔ ان چیزوں میں غوروفکر کرنا تیرے لئے اُس مکھی کی طرح ہے جو درخت سے کہتی ہے کہ رُک جا، میں تیرے اوپر بیٹھنا چاہتی ہوں، تو درخت اُس سے کہتا ہے کہ میں نے تیرے بیٹھنے کو محسوس ہی نہیں کیا، کس طرح تیرا بیٹھنا میرے لئے دشوار ہوگا۔خدا کی قسم! میرے خیال میں تیری اتنی طاقت نہیں کہ مجھ سے دشمنی رکھے جو میرے لئے دشوار ہو۔ بہرحال میں تجھے جواب دیتا ہوں۔
تو نے جو علی علیہ السلام کو گالیاں دی ہیں ، کیا تیرا یہ کام اُس کے مقام و مرتبہ کو کم کردے گا یا اُنہیں رسولِ خدا سے دور کر دیگا یا اُن کے اسلام میں کئے ہوئے اعمال کو ناپسندیدہ بنا دیگا یا وہ فیصلہ کرنے میں ظلم کے ساتھ متہم ہوجائے گا یا دنیا کی طرف مائل ہونے کیساتھ متہم ہوجائے گا۔ اگر ان چیزوں میں سے ایک بھی کہو تو جھوٹ کے سوا کچھ نہ ہوگا۔
رہی تمہاری یہ بات کہ ہماری طرف سے تم پر اُنیس خون ہیں جو تم نے جنگ بدر میں بنی اُمیہ کے مشرکوں کو قتل کیا تھا، حالانکہ حقیقت میں ان کو خدا اور اُس کے رسول نے قتل کیا تھا۔
مجھے میری جان کی قسم! تم بنی ہاشم میں سے اُنیس آدمی اور اُنیس کے بعد تین آدمیوں کو قتل کروگے۔ پھر اُنیس آدمی اور اُنیس آدمی ایک مکان میں بنی اُمیہ سے قتل کئے جائیں گے۔ اُن کے علاوہ جو بنی اُمیہ سے قتل کئے جائیں گے، اور اُن کی تعداد صرف خدا ہی جانتا ہے۔
رسولِ خدا نے فرمایا کہ جب مینڈک کی اولادتیس آدمیوں تک پہنچ جائے گی تو وہ خداکے مال کو لوٹیں گے۔ لوگوں کو غلام بنائیں گے اور کتابِ خدا کو مکروفریب کے راستے میں قرار دیں گے۔
جب رسولِ خدا یہ گفتگو ارشاد فرمارہے تھے تواسی اثناء میں حکم بن ابی العاص آگیا۔ رسولِ خدا نے فرمایا کہ بات آہستہ کرو کیونکہ مینڈک سن لے گا اور یہ وہ زمانہ تھا جب رسولِ خدا نے خواب میں دیکھا تھا کہ یہ لوگ اور ان کے علاوہ دوسرے لوگ آنحضرت کے بعد اس امت کی رہبری و رہنمائی کو اپنے ہاتھ میں لیں گے اور اس بات نے انہیں غمگین کردیا، اور یہ بات اُن پر بڑی سخت گزری۔
پس خدا نے یہ آیت نازل فرمائی(ہم نے تم کو جو خواب دکھلایا ہے، وہ صرف لوگوں کیلئے امتحان ہے، اور شجرہ ملعونہ ہے قرآن میں)۔اور شجرہ ملعونہ سے مراد بنی اُمیہ ہے ، اور اسی طرح نازل فرمائی(شب قدر ہزار رات سے بہتر ہے)، تمہیں گواہ قرار دیتا ہوں اور میں خود گواہ ہوں کہ علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد تمہاری حکومت ہزار مہینوں سے زیادہ نہ ہوگی جو قرآن میں معین و مقر ر ہے۔
اور بہرحال تو اے عمربن العاص ایک مذاق کرنے والا ملعون ہے جس کی نسل منقطع ہے، اور تو ابتداء ہی سے کتے کی طرح بھونکنے والا ہے، اور تیری ماں زانیہ تھی، اور تو اُس بستر پر پیدا ہواہے جس کے ساتھ چند آدمی تعلق رکھتے تھے، اورقریش کے آدمیوں نے تیرے متعلق اختلاف کیا۔ اختلاف کرنے والوں میں سے ایک ابوسفیان بن حرب ، ولید بن مغیرہ، عثمان بن حارث، نضر بن حارث بن کلدہ اور عاص بن وائل تھے۔ یہ سب کے سب تجھے اپنا بچہ جانتے تھے۔ان میں سے وہ کامیاب ہوا جو حسب کے لحاظ سے پست تر، مقام و مرتبہ کے اعتبار سے گرا ہوا اور زنا کرنے میں سب سے آگے تھا۔
پھر تو کھڑا ہوا اور کہا کہ میں محمد کا مذاق اڑاتا ہوں، اور عاص بن وائل نے کہا کہ محمد وہ آدمی ہے جس کا بیٹا نہیں ہے۔ اُس کی نسل منقطع ہے۔ اگر مرگیا تو اُس کا ذکر ختم ہوجائے گا۔ پس خدا نے یہ آیت نازل کی:( تیرا مذاق اڑانے والے کی نسل منقطع ہے)۔
تیری ماں عبد قیس کے قبیلے کے پاس جاکر زنا کرواتی تھی۔ اس قبیلے والوں کے گھروں میں ان کی مجلسوں اور محفلوں میں اور اُن کی وادیوں میں زنا کروانے کی خاطر اُن کے پیچھے جایا کرتی تھی۔ پھر تو اس مقام پر موجود ہوتا تھا، جہاں رسولِ خدا اپنے دشمنوں کے ساتھ آمنا سامنا کرتے،درآنحالیکہ تو اُن سب سے زیادہ دشمنی کرنے والا اور سب سے زیادہ جھٹلانے والا ہوا کرتا تھا۔
پھر تو اُن لوگوں میں موجود تھا جو کشتی میں تھے، اور نجاشی کے پاس جارہے تھے تاکہ جعفر بن ابی طالب اور اُس کے دوستوں کا خون بہائیں۔ لیکن تیرا فریب تیری ہی طرف لوٹ گیا، اورتیری تمنا ہوا میں اڑ گئی، اور تیری اُمید نااُمیدی میں بدل گئی۔ تیری کوشش ختم ہوئی اور بے نتیجہ رہی، اور خدا کا قول بلند ہوا اور کافروں کی بات پست ہوئی۔
بہر حال تیری بات عثمان کے بارے میں، تو اے کم حیا والے اور بے دین اُس کے خلاف تو نے خود ہی آگ بھڑکائی اور پھر خود فلسطین کی طرف بھاگ گیا، اور وہاں اس انتظار میں تھا کہ عثمان پر کون سی بلائیں اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں۔ جب اُس کے قتل ہونے کی خبر تجھ تک پہنچی تو تو نے اپنے آپ کو معاویہ کے اختیار میں دیدیا۔ پس اے خبیث! تو نے اپنے دین کو دوسروں کی دنیا کے بدلے بیچ دیا اور ہم تمہیں اپنی دشمنی پر ملامت نہیں کرتے، اور نہ اپنی محبت پر تمہیں برا بھلا کہتے ہیں۔ تو تو جاہلیت اور اسلام کے زمانے میں بھی بنی ہاشم کا دشمن تھا، اور رسولِ خدا کے متعلق اُن کا مذاق اڑانے کیلئے تو نے ستر شعر کہے تو رسولِ خدا نے فرمایا: اے اللہ! میں شعر اچھی طرح نہیں جانتا، اور میں شعر کہنا نہیں چاہتا تو عمروبن عاص پر ہر شعر کے بدلے میں ہزار مرتبہ لعنت کر۔
پھر تو نے اے عمرو! اپنے دین پر دنیا کو ترجیح دی اور دوبارہ نجاشی کے پاس جاکر اُسے تحفے اور ہدیے دئیے۔ تیر اپہلی بار والا جانا تجھے دوبارہ جانے سے روک نہ سکا۔ ہر دفعہ نا امید اور شکست کھا کر واپس لوٹے۔ تیرا مقصد جعفر اور اُس کے ساتھیوں کو قتل کرنا تھا، اور جب تیری امید اور آرزو پوری نہ ہوئی تو اپنے معاملہ کو اپنے دوست عمارہ بن ولید کے سپرد کردیا۔
اور رہی بات تیری اے ولید بن عقبہ! خدا کی قسم! علی علیہ السلام کے متلعق تیرے بغض اور کینہ میں تجھے ملامت نہیں کرتا کیونکہ اُنہوں نے تجھے شراب پینے کی وجہ سے اسی کوڑے مارے تھے، اور بدر کے دن تیرے باپ کو قتل کیا تھا اور کیونکر تو انہیں گالیاں نہ دے ، جبکہ خدا نے اُنہیں قرآن کی دس آیات میں مومن اور تجھے فاسق کے نام سے یاد کیا ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ فرماتا ہے:( کیا جو مومن ہے وہ اُس کی طرح ہوسکتا ہے جو فاسق ہے)، اور فرمانِ خدا ہے:( اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اُس کی چھان بین کرلیا کرو تاکہ جہالت کی وجہ سے کسی گروہ کے مقابلے میں کھڑے نہ ہوجاؤ اور اپنے کام کے مقابلے میں شرمندگی نہ اٹھانا پڑے)۔
اور تجھے قریش کے نام سے کیا سروکار؟ تو ایک سیاہ رنگ والے شخص جس کا نام ذکوان اور صفدریہ کے رہنے والے کا بیٹا ہے۔اور رہی یہ بات کہ تمہارا گمان ہے کہ ہم نے عثمان کو قتل کیا ہے، خدا کی قسم! یہ نسبت علی علیہ السلام کی طرف تو طلحہ، زبیر اور عائشہ بھی نہیں دے سکے تو کس طرح یہ نسبت اُس کی طرف دیتا ہے؟
اگر تو اپنی ماں سے سوال کرے کہ تیرا باپ کون ہے کیونکہ اُس نے ذکوان کو چھوڑ کر تجھے عقبہ بن ابی معیط کے ساتھ منسوب کیا اور اس وجہ سے اُسے اپنے نزدیک بہت بڑا مقام ملا، اور ساتھ اس کے کہ خدا نے تیرے باپ اور تیری ماں کیلئے دنیا وآخرت میں ذلت و رسوائی اور پستی تیار کی ہوئی ہے، اور خدا اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
اور اے ولید تو بھی، اللہ اکبر، اپنے باپ کے متعلق سوال کر اُس سے جس کی طرف تو منسوب ہے۔ تو کس طرح علی علیہ السلام کو گالیاں دیتا ہے؟ اگر تو اس بات میں مشغول رہے اور کوشش کرے کہ اپنے نسب کو اپنے اصلی باپ کی طرف ثابت کرے ، نہ کہ اُس کی طرف جس کی طرف تیری نسبت ہے، اور تو نے اپنے آپ کو منسوب کرلیا ہے، اور تیری ماں نے تجھ سے کہا کہ اے بیٹے! خدا کی قسم! تیرا باپ عقبہ سے خبیث تر اور پست تر ہے۔اور اے عتبہ بن ابی سفیان! رہی بات تیری تو خدا کی قسم! تو اتنا علم نہیں رکھتا کہ تیرا جواب دوں اور تو عقل نہیں رکھتا کہ تجھے سرزنش کروں، اور تجھ سے کسی اچھائی کی توقع نہیں کی جاسکتی، اور تو نے جو علی علیہ السلام کو بُرا بھلا کہا، میں اُس بارے تجھے ملامت نہیں کرتا اور بُرابھلا نہیں کہتا کیونکہ تو میرے نزدیک علی علیہ السلام کے غلام اور نوکر کے ہم پلہ بھی نہیں ہے تاکہ میں تیرا جواب دوں اور تجھے ملامت کروں۔ لیکن خدا تیرے بھائی اور تیرے باپ کے انتظار میں ہے، اور تو اپنے اُن آباو اجداد کا بیٹا ہے جن کوخدانے اس طرح یاد کیا ہے:( کام کرنے والی، تکلیف و دکھ دینے والی اور جلانے والی آگ کو چکھیں گے۔ ابلتے ہوئے پانی کے چشمے سے اُن کو پلایا جائے گا، یہاں تک کہ فرماتا ہے، بھوک سے)۔
اور تیری یہ دھمکیاں کہ تو مجھے قتل کر دیاگا تو تو نے اُسے کیوں قتل نہ کیا جس کو تونے دیکھا کہ تیری بیوی کے ساتھ تیرے ہی بستر پر ہم بستری کررہا تھا اور بچے میں تیرے ساتھ وہ شریک ہوگیا۔ یہاں تک کہ بچے کو تیری طرف منسوب کردیا، حالانکہ وہ بچہ تیرا نہ تھا۔ ہلاکت ہے تیرے لئے۔ اگر تو مجھے ڈرانے اور قتل کی دھمکیاں دینے کی بجائے اُس سے اپنی رسوائی کا انتقام لیتا تو تیرے لئے زیادہ مناسب اور بہتر ہوتا۔
اور تو جو علی علیہ السلام کو گالیاں دیتا ہے تو میں تجھے ملامت نہیں کرتا کیونکہ اُنہوں نے جنگ میں تیرے بھائی کو قتل کیا تھا اور تیرے باپ کو اُنہوں نے اور حمزہ نے مل کر قتل کیا تھا۔یہاں تک کہ وہ ان دونوں کے ہاتھوں جہنم واصل ہوئے اور دردناک عذاب کامزہ چکھ رہے ہیں اور تیرا چچا رسولِ خدا کے حکم کے ساتھ شہر سے نکالا گیا۔
اور رہی بات یہ کہ میں خلافت کا آرزو مند ہوں تو خدا کی قسم! میں اس کے لائق بھی ہوں اور تیرے بھائی(معاویہ) جیسا نہیں ہوں اور نہ میں تیرے باپ کا جانشین و خلیفہ ہوں کیونکہ تیرا بھائی خدا کے بارے میں سرکشی میں اور مسلمانوں کا خون بہانے اور اُس چیز کے حاصل کرنے میں کہ جس کا حق نہیں رکھتا، بہت زیادہ لالچی ہے۔ وہ لوگوں کو فریب اور دھوکا دیتا ہے اور خدا بھی مکر کرتا ہے اور اللہ بہترین مکر کرنے والاہے۔
اور تیری یہ بات کہ علی علیہ السلام قبیلہ قریش سے ایک بد ترین قریشی تھا۔ خدا کی قسم! اُس نے نہ تو کسی محترم شخص کی تحقیروتوہین کی اور نہ کسی مظلوم شخص کو قتل کیا۔
اور اے مغیرہ بن شعبہ تو خدا کا دشمن، کتابِ خدا کو ترک کرنے والا اور رسولِ خدا کو جھٹلانے والا ہے۔ تو ایک زانی شخص ہے اور تجھے سنگسار کرنا واجب ہے۔ عادل، پاک اور متقی لوگوں نے تیرے زنا کی گواہی دی ہے۔ لیکن تیری سنگساری کو تاخیر میں ڈال دیا اور حق کو باطل کے ساتھ اور سچ کو جھوٹ کے ذریعے رد کردیا، اور یہ تو اُس کے علاوہ ہے جو دردناک عذاب اور دنیا کی پستی خدا نے تیرے لئے تیار کررکھی ہے، اور آخرت کا عذاب زیادہ رسواوذلیل کرنے والا ہے۔
اور تو وہ شخص ہے جس نے رسولِ خدا کی بیٹی فاطمہ کو مارا، یہاں تک کہ اُن کے جسم سے خون بہنے لگا اور محسن ساقط ہوگیا۔ یہ اس لئے تھا کہ تو رسولِ خدا کو ذلیل و رسوا رکرنا، اُن کے فرمان کی مخالفت کرنا اور اُن کے احترام کو زائل کرنا چاہتا تھا ، حالانکہ رسولِ خدا نے فرمایا تھا کہ" اے فاطمہ! تم جنت کی عورتوں کی سردار ہو"۔خدا تجھے جہنم میں ڈالے گا، اور جو کچھ تو نے کیا ہے، اُس کا وبال تجھ پر ڈالے گا۔
پس تو ان تین چیزوں میں سے کس چیز پر علی علیہ السلام کو گالیاں دیتا ہے۔ کیا اُن کا نسب ناقص ہے؟ یا وہ پیغمبر سے دور ہیں؟ یا اُنہوں نے اسلام میں کوئی براکام انجام دیا ہے؟ یا اپنے فیصلے اور قضاوت میں ظلم و زیادتی کی ہے؟ یا دنیا کی طرف مائل اور رغبت رکھتے تھے؟ اگر ان میں سے کوئی ایک بھی کہو گے تو جھوٹ ہوگا اور لوگ تجھے جھوٹا کہیں گے۔
کیا تیرے خیال میں علی علیہ السلام نے عثمان کو مظلومانہ طو رپر قتل کیا ہے؟ خدا کی قسم! علی اُس شخص سے جو اس بارے میں انہیں سرزنش کرتا ہے، متقی تر اور پاک تر ہے، اور خدا کی قسم! اگر علی نے عثمان کومظلومانہ قتل کیا ہے تو تیر ااس سے کیا سروکار؟تو نے تو اس کی زندگی میں اس کی مدد نہ کی، اور اُس کے مرنے کے بعد بھی اُس کی مدد نہ کی، اور ہمیشہ اپنے طائف والے گھر میں زناکاروں کو پالتے رہے۔ جاہلیت والے کام کو زندہ اور اسلام کومارتے رہے ہو، یہاں تک کہ جو ثابت ہونا تھا، ثابت ہوگیا۔
اور رہا تیرا اعتراض بنی ہاشم اور نبی اُمیہ کے متعلق، تو یہ صرف تیرا دعویٰ ہے۔ معاویہ کے نزدیک اور تیری بات امارت و رہبری کی شان کے متعلق اور تیرے دوستوں کی بات خلافت کے بارے میں جس کو تو نے حاصل کرلیا ہے، تو یہ کوئی شان و فخر کی بات نہیں ہے۔ فرعون بھی چار سوسال تک مصر پر حکومت کرتا رہا،جبکہ موسیٰ اور ہارون جو دو پیغمبر تھے، نے بہت زیادہ مصائب اور تکالیف اٹھائیں۔ یہ خدا کا ملک ہے۔ وہ نیک اور بُرے کو عطا کرتا ہے، اور خدافرماتا ہے:(تم نہیں جانتے تھے کہ یہ تمہارے لئے ایک امتحان و آزمائش اور اُن کیلئے تھوڑا سافائدہ ہو)، (اور جب ہم چاہتے ہیں کسی شہر کو تباہ کریں تو ہم حکم دیتے ہیں کہ سرمایہ دار اور امیر لوگ گناہ کریں تاکہ عذاب کا نازل ہونا ان پر ثابت ہوجائے، پھر ہم ختم کردیں)۔
پھر امام حسن علیہ السلام اٹھے، اپنی قمیص کو جھاڑ رہے تھے اوریہ فرمارہے تھے :(بُری عورتیں بُرے مردوں کیلئے اور بُرے مرد بُری عورتوں کیلئے ہیں)، اور خدا کی قسم! وہ تو اور تیرے دوست ہیں،(اور نیک مرد نیک عورتوں کیلئے ہیں اور وہ اُس سے جو وہ کہتے ہیں، پاک و پاکیزہ ہیں، اور اُن کیلئے بخشش و معافی اور عزت والی روزی ہے)، اور وہ علی ابن ابی طالب علیہما السلام کے اصحاب اور اُس کے شیعہ ہیں۔
پھر امام علیہ السلام باہر چلے گئے جبکہ معاویہ سے یہ کہہ رہے تھے:
کہ جو کچھ تو نے کمایا ہے اور اپنے ہاتھ سے حاصل کیا ہے، اُس کے وبال کو چکھ، اور اُس کو جو خدا نے تیرے اور ان کیلئے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں دردناک عذاب تیار کررکھا ہے۔
معاویہ نے اپنے اصحاب سے کہا کہ تم بھی اپنے اعمال کی سزا چکھو۔ ولید بن عقبہ نے کہا:خدا کی قسم! تو نے ہم سے پہلے چکھ لیا ہے، اور اُس نے صرف تیرے بارے یہ جراءت کی ہے۔
معاویہ نے کہا کہ کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم اُس کے مقام و مرتبہ کو کم نہیں کرسکتے۔ شروع ہی سے میری بات کو کیوں نہ مانا؟ تم نے اُس سے مدد لیناچاہی حالانکہ وہ تمہارا مذاق اڑاگیا ہے۔ خدا کی قسم! وہ نہیں اٹھا مگر یہ کہ گھر میرے لئے اندھیر ہوگیا۔میں اُسے گرفتا ر کرنا چاہتا تھا ۔ آج اور کل تم اُس سے اچھائی اور نیکی کی اُمید اپنے متعلق نہ رکھنا۔
مروان بن حکم نے جب اس واقعہ کو سنا تو اُن کے پاس آیا اور کہا: مجھے کیوں نہیں بلایا؟ خدا کی قسم!اُس کو اور اُس کے خاندان کو میں ایسی گالیاں دیتا کہ کنیزیں اور غلام اپنے رقص میں پڑتے۔ معاویہ نے امام حسن علیہ السلام کے پاس کسی کو بھیجا۔ جب وہ آدمی حضرت کے پاس آیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
یہ ظالم مجھ سے کیا چاہتا ہے؟ خدا کی قسم! اگر وہی باتیں دوبارہ کرے گا تو اُن کے کان ایسے مطالب سے پُر کروں گا کہ ذلت و عیب قیامت تک کیلئے اُن پر باقی رہ جائے گا۔
جب امام حسن علیہ السلام اُن کے پاس پہنچے تو مروان نے کہا: خدا کی قسم! میں تجھے تیرے باپ اور تیرے خاندان کو ایسی گالیاں دوں گا کہ غلام اور کنیزیں اپنے رقص میں پڑھیں گی۔
امام علیہ السلام نے فرمایا:
بہرحال تو اے مروان! میں تجھے اور تیرے باپ کو گالی نہیں دوں گا۔ مگر خدا نے تیرے باپ ، تیرے خاندان اور تیری اولاد پر اور جو بھی قیامت تک تیرے باپ کی صلب سے پیدا ہوگا، لعنت کی ہے۔ خدا کی قسم اے مروان! تو اور ان میں جو بھی رسولِ خدا کے لعنت کرنے کے وقت موجود تھا، تیرے اور تیرے باپ کے متعلق اس بارے میں انکار نہیں کریں گے۔ خدا کے ڈرانے کے مقابلے میں تیری زیادتی اور ظلم بڑھ گیا ہے۔ خدا اور اُس کے رسول نے سچ کہا ہے۔ خدا فرماتا ہے:(اور شجرہ ملعونہ قرآن میں اور ہم اُن کو ڈراتے ہیں لیکن صرف اُن کی زیادتی اور ظلم میں اضافہ ہوتا ہے)۔
اور تو اے مروان اور تیری اولاد قرآن میں شجرہ ملعونہ ہو اور یہ چیز خدا سے جبرائیل اور جبرائیل سے پیغمبر تک پہنچی ہے۔
معاویہ اٹھا اور امام حسن علیہ السلام کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، اور کہا: اے ابومحمد! تو تو اس طرح برا بھلا کہنے والا اور اوچھا تو نہیں تھا۔ امام حسن علیہ السلام نے اپنا لباس جمع کیا، اٹھے اور باہر نکل گئے، اور باقی لوگ غم و غصہ اور دنیا و آخرت میں سیاہ چہرے کے ساتھ اِدھر اُدھر چلے گئے۔(احتجاج طبرسی، ج ۱ ،ص ۲۰۱) ۔
۲۔ آنحضرت کا مناظرہ اپنی تعریف اور مخالفوں کے عیوب کے متعلق
روایت ہے کہ امام حسن علیہ السلام معاویہ کے پاس آئے اور اُس کی مجلس میں تشریف لائے۔ اُس جگہ ایک گروہ معاویہ کے دوستوں میں سے موجود تھا۔ اُن میں سے ہر ایک بنی ہاشم پر فخر کررہا تھا اور اُن کے مرتبہ کو کم کر رہا تھا، اور ایسے مطالب بیان کئے جو امام حسن علیہ السلام پر دشوارگزرے، آپ کوناراحت کردیا۔ اس وقت انہوں نے کلام شروع کیا اور فرمایا:
میں بہترین قبائل سے ہوں اور میرے آباء و اجداد عرب کے بلند مرتبہ خاندان سے ہیں۔ محاسبہ کے وقت فخر و نسب و جوانمردی ہمارے لئے ہے، اور ہم اس بہترین درخت سے ہیں کہ جس کی شاخیں پھل دار اور جس نے پاکیزہ پھل اور قائم و دائم بدنوں کو اگایا ہے۔ اس درخت میں اسلام کی اصل و جڑ اور نبوت کا علم ہے۔ جب فخر کا مقام آیا تو بلند تر ہوا، اور جب ہماری برتری کو روکا گیا تو ہم بلند ہوئے، اور ہم ایسے گہرے سمندر ہیں جن کی تہہ تک کوئی نہیں پہنچ سکتا، اور ہم ایسے مضبوط پہاڑ ہیں جن کو مغلوب نہیں کیا جاسکتا۔اس موقع پر مروان بن حکم اور مغیرہ بن شعبہ نے کچھ باتیں کیں، جن کے ذریعے آپ کو اور آپ کے والد کوکم مرتبہ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ امام حسن علیہ السلام نے گفتگو کی اور فرمایا:
اے مروان ! بزدلی ، رسوائی، کمزوری اور عاجزی کے ساتھ بات کرتا ہے۔کیا تیرے خیال میں میں نے اپنی تعریف کی ہے، حالانکہ میں رسولِ خدا کا بیٹا ہوں اور تیرے خیال میں میں نے اپنے مقام و مرتبہ کو بلند کیا ہے؟ حالانکہ جوانانِ جنت کا سردار ہوں۔ ہلاکت ہو اس پر جو فخر و تکبر کے ذریعے سے اپنے آپ کو بلند ظاہر کرے، اور ہلاکت ہے اُس کیلئے جو اپنے آپ کو بڑا بنانے کی کوشش کرتا ہے، اور گردن لمبی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اور ہم رحمت کا خاندان، عزت و کرامت کی کان، اچھائی ونیکی کا مقام، ایمان کا خزانہ، اسلام کا نیزہ اور دین کی تلوار ہیں۔
تیری ماں تیرے غم میں بیٹھے، خاموش کیوں نہیں ہوتے؟ قبل اس کے کہ میں ہولناک امور تیری طرف بھیجوں اور بیان کروں، اور تجھے ایسی علامتیں بتلاؤں کہ تو اپنے نام سے بے نیاز ہوجائے۔ بہرحال تیرا لوٹ مار کے ساتھ واپس آنا اُس دن تھا جب تو ناداری و غربت کی سرپرستی کرتا تھا، خوفناکی تیری پناہ میں تھی، اور تیری غنیمت تیرا بھاگنا تھا،اور تیرا طلحہ کو دھوکا دینا اُس دن کہ تو نے اُس کے ساتھ مکر کیا اور اُسے قتل کردیا ۱ ، بُرا ہو تیرا چہرہ کس قدر مکروہ اور ناپسندید ہے!
مروان نے اپنا سرنیچے کرلیا اور مغیرہ پریشان تھا۔ امام علیہ السلام نے مغیرہ کی طرف اپنا رخ کیا اور فرمایا:
اے قبیلہ ثقیف کے اندھے! تیرا کیا تعلق قریش کے ساتھ کہ میں تیری نسبت پر فخر کروں؟ تجھ پر ہلاکت ہو، کیا تو مجھے نہیں پہچانتا؟ میں عورتوں میں سے بہترین عورت اور عورتوں کی سردار کا بیٹا ہوں۔ رسولِ خدا نے مجھے خدا کے علم کی غذا دی، قرآن کی تاویل اور احکام کی مشکل چیزوں کو میں نے سیکھا ہے۔ سب سے بڑی عزت اور سب سے بڑا فخر ہمارے لئے ہے، اور تو اُس قوم و گروہ سے ہے کہ جو زمانہ جاہلیت میں نسبت نہ رکھتے تھے، اور اسلام میں اُن کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ بھاگ جانے والے آدمی کا کیا کام کہ شیروں کے ساتھ پھرے ،بہادروں کا مقابلہ کرے اور فخر کی باتیں کرے؟ ہم سردار اور بلند ترین دفاع کرنے والے ہیں۔ ہم عہدوپیمان کی حمایت کرنے والے ہیں اور عیب و عار کو اپنے سے دور کرتے ہیں اور میں پاک عورتوں کا بیٹا ہوں۔اور تو نے اپنے خیال کے مطابق خیرالانبیاء کے وصی کی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ تیرے عجزوناتوانی کو زیادہ جاننے والے اور تیری کمزوری سے زیادہ واقف و آگاہ تھے، اور تو اپنے باپ کو رد کرنے میں اُ س سے زیادہ لائق ہے۔اُس غصے کی وجہ
۱ ۔ابن اثیر اسدالغابہ میں کہتے ہیں کہ طلحہ کے قتل کا سبب یہ تھا کہ مروان نے طلحہ کو، جو کہ میدانِ جنگ میں کھڑا تھا، تیر کا نشانہ بنایا۔ اگر اس زخم کوباندھا جاتا تو اس کے پاؤں سوج جاتے تھے۔ اگر اسے کھلا چھوڑا جاتا تو اس میں سے خون بہنے لگتا۔ مروان نے کہا کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔ یہ تیر اللہ تعالیٰ نے پھینکا تھا۔ طلحہ اسی سے ہلاک ہوگیا۔اس نے امان بن عثمان کی طرف منہ کرکے کہا: میں نے تیرے باپ کے قاتلوں میں سے بعض کو قتل کردیا۔سے جو تیرے دل میں ہے، اور اُس مکروفریب کی وجہ سے جو تیری آنکھوں سے ظاہر ہے، دور کی بات ہے، وہ گمراہ لوگوں کو اپنا دوست نہیں بناتے تھے ۱ ۔
تیرا خیال ہے کہ اگر تو صفین میں ہوتا تو قیس کی طاقت اور ثقیف کی مہارت سے تو سب سے لائق ترین ہوتا۔ تیری ماں تیرے غم میں بیٹھے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ جبکہ جنگ کے میدانوں میں تیری کمزوری اور مشکل اوقات میں تیرا بھاگنا ثابت ہے۔ خدا کی قسم! اگر امیرالمومنین بہادر لوگوں کا علم تیرے سپرد کردیتے تو مشکلات اُس کو ہلا نہ سکتیں اور تیری دردناک آوازیں نکل رہی ہوتیں۔
رہی بات قیس کی دلیری کی، تو تیراکیا کام قیس کی دلیری اور بہادری کے ساتھ؟ تو تو ایک فرار ہونے والا آدمی ہے، اور کچھ علوم سیکھ لئے جس وجہ سے ثقیف کہلانے لگا، اور اس سبب سے تو نے کوشش کرکے اپنے آپ کو قبیلہ ثقیف سے شمارکرنا شروع کردیا، حالانکہ تو اُس قبیلے کے آدمیوں میں سے نہیں ہے، تو جنگ کرنے سے زیادہ شکار کے آلات بنانے اور بھیڑوں کے باڑے میں داخل ہونے سے زیادہ واقف ہے۔
اور رہی بات مہارت کی تو غلام لوگوں کی مہارت کوئی مہارت نہیں ہوتی۔ پھر تیری خواہش تھی کہ امیرالمومنین علیہ السلام کے ساتھ آمنا سامنا ہوجائے، پس وہ جیسے کہ تو جانتا ہے کہ جنگل کے شیر اور زہر قاتل تھے، جنگ کے موقعہ پر بڑے سورما اور بہادر اُن کا سامنا کرنے کی ہمت نہ رکھتے تھے، او رکہاں گیدڑ اُس کے سامنے آنے کا ارادہ کرسکتے ہیں، اور کہاں لال بیگ(سیاہ چہرے والا آدمی) اُسے پیچھے سے بلا سکتا ہے۔
۱ ۔ عثمان کے قتل کے بعد مغیرہ امیرالمومنین علیہ السلام کے پاس آیا اور بولا: میں آپ کونصیحت کرتا ہوں کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے معاملات صحیح طور پر چلتے رہیں تو طلحہ کو کوفہ، زبیر کو بصرہ اور معاویہ کو شام کا گورنر مقررکردیں۔ جب آپ کی خلافت مستحکم ہوجائے تو جیسے چاہیں ان کے ساتھ سلوک کریں۔امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا:میں گمراہوں میں سے کسی کو اپنے مددگار کے طور پر نہیں لوں گا۔(استیعاب، ج ۳ ، ص ۳۷۱) ،(حاشیہ اصابہ)
بہرحال تیری نسبت نامعلوم اور تیرے رشتہ داروں کاکوئی علم نہیں ہے، اور تیری اس قبیلے کے ساتھ رشتہ داری ایسے ہے جیسے پانی کے حیوانات کی صحرا کے پرندوں کے ساتھ ہے بلکہ تیری رشتہ داری اس سے بھی دور تر ہے۔
مغیرہ اٹھ گیا اور امام حسن علیہ السلام معاویہ سے فرما رہے تھے کہ:
غلاموں کی گفتگو کے بعد اور نوکروں کے فخر کرنے کے بعد ہمیں بنی اُمیہ سے معاف رکھ۔
معاویہ نے کہا: اے مغیرہ !رک جا۔ یہ عبدمناف کے بیٹے ہیں۔ بڑے بڑے بہادر ان کا مقابلہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتے اور بڑے بڑے لوگ ان کے مقابلے میں فخر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ پھر امام حسن علیہ السلام کو قسم دی کہ چُپ ہوجائیں، امام چپ ہوگئے۔(احتجاج طبرسی، ج ۱ ،ص ۴۱۶) ۔
۳۔ آنحضرت کا مناظرہ فضیلت اہل بےت کے متعلق اور اس بارے میں کہ خلافت کے صرف یہی لائق ہیں
سلیم بن قیس کہتا ہے کہ عبداللہ ابن جعفر بن ابی طالب علیہما السلام سے میں نے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ معاویہ نے مجھ سے کہا کہ حسن اور حسین علیہما السلام کا اتنا زیادہ احترام کیوں کرتے ہو؟ وہ تجھ سے اور اُن کا باپ تیرے باپ سے بہتر نہ تھا؟اگر اُن کی ماں فاطمہ رسولِ خدا کی بیٹی نہ ہوں تو میں کہتا کہ اسماء بنت عمیس اُس سے کمتر نہیں ہے۔
وہ کہتا ہے کہ میں اُس کی بات سے بڑا رنجیدہ ہوا اور مجھ میں اپنے اوپر قابو کرنے کی طاقت نہ تھی ، یہاں تک کہ عبداللہ ابن جعفر اور عبداللہ بن عباس کی گفتگو جو امام حسن اور امام حسین علیہماالسلام کی فضیلت میں تھی، اور وہ جو رسولِ خدا سے ان کی فضیلت کے متعلق سن چکے تھے ، کو نقل کرتا ہے۔ یہاں تک کہ کہتا ہے کہ:
معاویہ نے کہا: اے حسن ! تو کیا کہتا ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا:
اے معاویہ!تو نے میری اور ابن عباس کی بات کو سنا۔ اے معاویہ! تجھ سے، تیری بے حیائی سے اور تیری خدا پر جراءت سے تعجب ہے۔ جب تو نے یہ کہا کہ خدا نے تمہارے طاغوت کو قتل کردیا اور خلافت کو اُس کے مقام (معاویہ) تک پہنچادیا۔ اے معاویہ ! کیا تو خلافت کا ٹھکانا ہے، ہم نہیں؟
ہلاکت ہے تیرے لئے اے معاویہ! اور اُن تین کیلئے جنہوں نے تجھے اس مقام پر بٹھایا، اور یہ طریقہ کار تیرے لئے مہیا کیا۔ ایک بات کہتا ہوں کہ تو اس کے لائق تو نہیں ہے لیکن اپنے باپ کی اولاد کیلئے جو یہاں موجود ہیں، اُن کیلئے کہتا ہوں ۔
بہت سے امور ایسے ہیں جن میں لوگ اتفاقِ نظر رکھتے ہیں، اور ان مسائل میں ان کے درمیان اختلاف ، کشمکش اور جدائی نہیں ہے۔ خدا کی وحدانیت اور رسول کی رسالت پر گواہی دیتے ہیں پانچ وقت کی نمازوں میں، واجب زکوٰة میں، رمضان کے مہینے کے روزوں میں، خدا کے گھر کے حج میں اور بہت سی دوسری چیزیں جو واجباتِ الٰہی سے ہیں،جن کو شمار نہیں کیا جاسکتا، صرف خداہی اُن کو شمار کرسکتا ہے۔اسی طرح دوسرے امور پر بھی لوگوں نے اجتماع کیا ہے جیسے زناکی حرمت پر،چوری اور جھوٹ، قطع رحم، خیانت اور بہت سے دوسرے موارد، محرماتِ الٰہی سے جن کو گنا نہیں جاسکتا، اُن کی تعداد صرف خداہی جانتاہے۔
لیکن سنتوں کے متعلق اختلاف کیا اور ان میں آپس میں جنگ کرتے ہیں،ا ور گروہوں میں تقسیم ہو گئے ہیں، یہاں تک کہ ایک گروہ دوسرے پر لعنت کرتا ہے، اور وہ ولایت و سرپرستی ہے، اور خلافت ہے۔ ایک گروہ دوسرے گروہ سے بیزاری چاہتا ہے، اور ایک گروہ دوسرے گروہ کو قتل کرتا ہے تاکہ یہ جتلائے کہ اس ولایت کے ساتھ کون زیادہ حق دارہے۔ سوائے اُس ایک گروہ کے جو خدا کی کتاب اور پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی پیروی کرتے ہیں۔
پس جس شخص نے اُن چیزوں کو پکڑ لیا جن میں مسلمان اختلاف نہیں کرتے اور اختلافی چیزوں کو خدا پر چھوڑ دیا تو وہ نجات پاگیا اور محفوظ رہا، اور جنت میں داخل ہوگا۔
ہر وہ شخص جس کو خدا توفیق عطا فرمائے اور اُس پر احسان کرے اور اُس پر حجت قائم کرے، اس طرح کہ اُس کے دل کو آئمہ میں سے صاحبانِ امر کی معرفت کے ساتھ نورانی کرے، اور یہ معرفت کروائے کہ علم کااصل ٹھکانا اور مقام کہاں ہے، تو وہ نیک ہے اور خدا کا دوست ہے۔ رسولِ خدا نے فرمایا: خدا رحمت کرے اُس شخص پر جس نے ہمارے حق کو جانا اور اُسے بیان کیا۔ پس نیک ہوایا خاموش ہوا تو محفوظ رہا۔
ہم اہل بیت کہتے ہیں کہ آئمہ اور رہنما ہم میں سے ہیں اور خلافت کی لیاقت صرف ہم میں ہے۔خد انے اپنی کتاب میں او ر اُس کے رسول کی سنت میں ہمیں اسکے لائق جانا ہے۔ علم ہم میں ہے اور ہم اہلِ علم ہیں، اور وہ علم ہمارے پاس تمام کا تمام اپنی کلیت کے ساتھ موجود ہے، اور قیامت کے دن تک کوئی بھی ایسا کام ہونے والا نہیں ہے ، حتیٰ کہ کسی کے چہرے پر مارنا، مگر یہ کہ اُسے رسولِ خدا نے لکھوایا اور علی علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے لکھا اور ہمارے حوالے کردیا۔
ایک گروہ خیال کرتا ہے کہ وہ ہم سے زیادہ خلافت کے لائق ہے، حتیٰ کہ تو بھی اے ہند کے بیٹے! یہ دعویٰ کرتا ہے اور گمان کرتا ہے کہ (عمر) نے میرے باپ کے پاس کسی کو
بھیجا ، اس لئے کہ میں چاہتا ہوں کہ قرآن کو ایک جگہ جمع کروں۔ پس جو کچھ قرآن سے تیرے پاس لکھا ہوا ہے، میرے پاس بھیج دو۔ بھیجا ہوا شخص آیا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: خدا کی قسم! قبل اس کے کہ وہ تیرے پاس پہنچے ، تو میری گردن مار ۔ عمر نے کہا کیوں؟ امام نے فرمایا: کیونکہ خدا فرماتا ہے:(وہ جو علم میں راسخ ہیں) ۔ امام نے فرمایا کہ آیت نے میراارادہ کیا ہے ۔ تو اور تیرے ساتھی آیت کے مقصود نہیں ہیں۔عمر کوغصہ آگیا اور کہا کہ ابوطالب کا بیٹا خیال کرتا ہے کہ جو علم اُس کے پاس ہے، کسی اور کے پاس نہیں ہے ۔ جو کوئی بھی قرآن سے کوئی آیت پڑھے تو وہ اُسے میرے پاس لے آئے۔ جب بھی کوئی ایک آیت لاتا اور اُس پر گواہ بھی قائم کرتا تو اُس آیت کو لکھ لیتا، اور اگر گواہ نہ ہوتا تو اُسے نہیں لکھتا تھا۔ پھر انہوں نے کہا کہ قرآن سے بہت سی آیات گم ہوگئی ہیں، حالانکہ یہ جھوٹ بولنے والے ہیں۔ خدا کی قسم! بلکہ قرآن اپنے اہل کے پاس جمع اور محفوظ ہے۔
پھر عمر نے قاضیوں اور شہروں کے گورنروں کو حکم دیا کہ فکر کرو اور اپنے عقائد کو بیان کرو کہ حق کیا ہے۔ عمر اور اُس کے بعض گورنر بہت بڑی مشکل میں پڑگئے اور میرے والد بزرگوار نے انہیں اس مشکل سے نکالا تاکہ اُس کے خلاف اُن پر دلیل وحجت قائم کرسکے۔ کبھی کبھی تو قاضی اپنے خلیفہ کے پاس آتے اور ایک ہی معاملہ کے متعلق اُن سب کا فیصلہ مختلف ہوتا۔ اس کے باوجود عمر اُن سب کے فیصلوں پر دستخط کردیتا کیونکہ خدا نے اُسے دانائی و حکمت و قضاوت کا طریقہ عطا نہیں کیا تھا۔
مسلمانوں میں سے ہمارے مخالفوں کا ہر گروہ یہ خیال کرتا ہے کہ خلافت اور علم ہمارے علاوہ دوسروں کیلئے ہے۔ ہم خدا سے ان لوگوں کے خلاف مدد طلب کرتے ہیں جنہوں نے ہم پر ظلم کیا، ہمارے حق سے انکار کیا۔ لوگوں کو ہم پر مسلط کیا اور لوگوں کیلئے ہمارے خلاف راہ کھولی تاکہ تیرے وسیلہ سے ،اُس کے ذریعے دلیل و حجت لائی جائے۔
لوگ تین طرح کے ہیں، مومن جو ہمارے حق کو پہچانتے ہیں، ہمیں تسلیم کرتے ہیں اور ہماری پیروی کرتے ہیں۔ وہ نجات پانے والے ہیں، ہمارے دوست ہیں اور خدا کے حکم کی اتباع کرتے ہیں۔ ہمارے دشمن جو ہم سے بیزار ہیں، ہم پر لعنت کرتے ہیں اور ہمارے خون بہانے کو حلال جانتے ہیں اور ہمارے حق کا انکار کرتے ہیں۔ہم سے براة اور بیزاری کے ساتھ خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ ایسا شخص کافر، مشرک اور فاسق ہے ، اور جس کا اس کووہم وخیال بھی نہیں ،وہاں سے کافر اور مشرک ہوا ہے۔ جیسے کہ جہالت کی وجہ سے خدا کو گالیاں دیتا ہے، اسی طرح لاعلمی کی وجہ سے خدا کے ساتھ شرک کرتا ہے۔
اور ایک وہ شخص جو اُمت کی اتفاقی چیزوں کو پکڑے ہوئے ہے، اور مشتبہ چیزوں کے علم کو خدا کی طرف پلٹادیتا ہے۔ ساتھ ساتھ ہماری ولایت کو بھی خدا کی طرف پلٹا دیتا ہے۔ وہ ہماری پیروی نہیں کرتا اور ہمارے ساتھ دشمنی بھی نہیں کرتا، اور ہمارے حق کو نہیں پہچانتا۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ خدا اُسے بخش دے گا اور جنت میں داخل کرے گا۔ یہ کمزور مسلمان ہے۔(احتجاج طبرسی، ج ۲ ، ص ۳) ۔
۴۔ آنحضرت کا مناظرہ عمروبن عاص، مروان اور ابن زیاد کے ساتھ
روایت ہے کہ ایک دن معاویہ اپنے رازداروں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور سب ایک دوسرے پر فخر کررہے تھے۔ معاویہ نے ان سب کو ہنسانا چاہا، اس لئے کہا کہ تم نے ایک دوسرے پر بڑا فخر کیا ہے، اگر تمہارے پاس حسن بن علی علیہما السلام اور عبداللہ ابن عباس ہوتے تو تم کبھی بھی ایسا فخر نہ کرتے۔ معاویہ نے امام کے پاس کسی کو بھیجا، پھر اُن کی گفتگو کو راوی ذکر کرتا ہے۔ پھر امام علیہ السلام نے اُن کے جواب میں فرمایا:
اگر کوئی بحث ومباحثہ میں خاموش رہے تو یہ اُس کی کمزوری کی دلیل نہیں ہے۔بلکہ جو
جھوٹ بات کرے اور باطل کو حق کا لباس پہنائے، وہ خیانت کار ہے۔
اے عمرو! تو نے جھوٹ کے ساتھ فخر کیا ہے اور گستاخی میں بے حد آگے نکل چکا ہے۔ میں تیری تباہ کاریوں اور بربادیوں سے ہمیشہ واقف ہوں، اُن میں سے کچھ کو تو میں نے ظاہر کیا اور کچھ سے صرفِ نظر کی۔ تو ہمارے متعلق گمراہی میں پڑاہوا ہے۔ کیا میں تمہیں یاد دلاؤں کہ ہم کون ہیں؟ ہم تاریکی میں روشن چراغ، رہنمائی اور ہدایت کے علم، بہادرودلاور سوار، دشمنوں پر حملہ کرنے والے اور میدانِ جنگ میں پرورش پانے والے ہیں۔ دوستوں کیلئے خوش وخرم بہار ہیں۔ ہم نبوت کی کمان اور علم کے اترنے کی جگہ ہیں۔
تیرے خیال میں تیری نسل ہم سے زیادہ طاقتور ہے لیکن جنگ بدر میں ہماری طاقت سامنے آئی جس دن دلاور و بہادر زمین پر گر گئے۔ مد مقابل مصیبت میں پھنس گئے۔ شجاع مرد شکست کھا گئے۔ جس دن موت کا راج تھا اور وہ میدان کے ہر طرف گھومنے لگی، اور اپنے دانت نکالے ہوئے تھی۔ جنگ کی آگ کے شعلے بھڑکنے لگے۔ ایسا وقت تھا جب ہم نے تمہارے مردوں کو قتل کیا اور رسولِ خدا نے تیری نسل پر احسان کیا۔ میری جان کی قسم! اُس دن تم اولادِ عبدالمطلب سے برتر اور طاقتور نہ تھے۔
اور تو اے مروان! تجھے کیا ہوتا ہے کہ تو قریش کی بڑی باتیں کرتا ہے اور اُن کے ساتھ فخر کرتا ہے۔ تو آزاد کیا ہوا ہے اور تیرا باپ شہر بدر کیا ہوا ہے، اور تو ہرروز پستی سے بدی کی طرف مائل ہے اور ان دو میں گرفتار ہے۔ کیا تو نے وہ دن بھلا دیا ہے جس دن تجھے بندھے ہاتھ امیرالمومنین علیہ السلام کی خدمت میں لایا گیا۔ پس تو نے اُس شیر کو دیکھا جو اپنے پنجوں سے خون چاٹ رہا تھا اور اپنے دانتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ دبا رہا تھا اور اس شعر کے معنی میں فکر کررہے تھے۔ایسا شیر کہ جب دوسرے شیر اُس کی آواز کو سنتے ہیں تو خاموشی سے بھاگ جاتے ہیں اور گوبر گراتے ہیں۔
لیکن امیرالمومنین علیہ السلام نے تجھے معاف کردیا اور موت کے گلا گھونٹنے سے تجھے نجات ملی۔ سانس بند ہونے کی وجہ سے تیرا لعابِ دہن اندر نہیں جارہا تھا۔ اس سے تجھے رہائی ملی، اور تیری حالت ٹھیک ہوئی ۔ لیکن بجائے ہمارا شکرگزار ہونے کے ہماری برائی کرنے لگ گیا ہے، اور جسارت کررہا ہے جبکہ تو جانتا ہے کہ عیب و عار ہمارے دامن پر نہیں بیٹھی، اور ذلت و رسوائی ہماری طرف نہیں آئی۔اور تو اے زیاد! تیرا قریش کے ساتھ کیا کام؟ تجھے کوئی بھی صحیح نسب کے ساتھ نئی اگنے والی شاخ کے طور پر بہت اچھے، بے شک نیک اور بلند مرتبہ نام کے ساتھ نہیں آواز دیتا۔ تیری ماں ایک زانیہ عورت تھی جس کے ساتھ قریش کے مرد اور عرب کے بڑے لوگ رابطہ رکھتے تھے، اور جب تو پیدا ہوا تو تیرے باپ کا علم نہ تھا۔ یہاں تک کہ اس شخص نے (معاویہ کی طرف اشارہ کیا) اپنے باپ کے مرنے کے بعد تجھے اپنا بھائی بنانے کا دعویٰ کردیا۔اس حالت میں کس چیز پر فخر کرتے ہو۔ تیرے لئے تو تیری ماں کی ذلت و رسوائی کافی ہے، اور ہمارے فخر کیلئے اتنا کافی ہے کہ ہمارے نانا رسولِ خدا اور ہمارے والد علی ابن ابی طالب علیہما السلام مومنوں کے سردار ہیں۔جو کبھی بھی جاہلیت کی طرف نہیں گئے، اور ہمارے چچا ایک حمزہ سیدالشہداء اور جعفرطیار ہیں، اور میں اور میرا بھائی جوانانِ جنت کے سردا رہیں۔
پھر امام علیہ السلام نے ابن عباس کی طرف رخ کیا اور فرمایا: اے میرے چچا کے بیٹے! یہ کمزور پرندے ہیں۔ بحث و مباحثہ میں ان کے پروں کو توڑا جاسکتا ہے۔(حیاة الحسن، قرشی، ص ۳۲۱) ۔
۵۔ آنحضرت کا مناظرہ عبداللّٰہ بن زبیر کے ساتھ
روایت ہے کہ چند دن کیلئے امام علیہ السلام دمشق سے چلے گئے۔ پھر دمشق واپس آئے اور معاویہ کے پاس آئے۔ معاویہ کی مجلس میں عبداللہ بن زبیر بھی موجود تھا۔ جب معاویہ نے امام کو دیکھا تو اُن کا استقبال کیا اور جب مجلس آمادہ ہوگئی تو امام سے کہنے لگا کہ اے ابومحمد! میرے خیال میں آپ تھکے ہوئے ہیں، گھر جائیں اور آرام فرمائیں۔
امام اُس کے پاس سے باہر چلے گئے۔ معاویہ نے عبداللہ بن زبیر کی طرف منہ کیا اور کہا:اچھا ہے کہ تو حسن پر فخر کرے کیونکہ تو رسولِ خدا کے قریبیوں میں سے ایک کا بیٹا ہے اور اُس کے چچا کا بیٹا ہے، اور تیرے باپ نے اسلام میں بڑے کام انجام دئیے ہیں۔ یہاں تک کہ راویعبداللہ ابن زبیر کی گفتگو امام کی موجودگی میں ایک دوسری مجلس میں ذکر کرتا ہے۔ پھر امام نے فرمایا:
خدا کی قسم! اگر بنی اُمیہ مجھے گفتگو میں کمزور خیال نہ کرتے تو میں تجھے بات کرنے میں پست شمار کرنے سے اپنی زبان کو روکے رکھتا لیکن اب میں واضح کرتا ہوں کہ میں بے عقل اور بے زبان نہیں ہوں۔ کیا تو میرے عیب پکڑتا ہے اور مجھ پر فخر کرتا ہے؟حالانکہ تیرے دادے کا جاہلیت میں کوئی مشہور خاندان نہ تھا، یہاں تک کہ میری دادی صفیہ عبدالمطلب کی بیٹی کے ساتھ شادی کی، اور عربوں کے درمیان بلند مرتبہ ہوگیا اور میری دادی کی وجہ سے تجھے شرف ملا اور فخرکرنے لگا۔ پس تو اُس پر کس طرح فخر کرتا ہے جو گلے میں گردن بند ہے۔ ہم ہیں بلند ترین اور گرامی ترین لوگ زمین پر اور ہم ہی کامل شرافت اور کامیاب و کامران بزرگی رکھتے ہیں۔
تیرے خیال میں میں نے معاویہ کو تسلیم کرلیا ہے؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ تجھ پر ہلاکت ہو۔ میں بہادر ترین عرب مردوں کا بیٹا ہوں اور میں نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کی گود میں آنکھ کھولی ہے جو کائنات کی عورتوں کی سردار اور خدا کی کنیزوں میں سے بہترین کنیز ہے۔ ہلاکت ہے تیرے لئے، میں نے یہ کام خوف اور کمزوری کی وجہ سے انجام نہیں دیا۔ اصل وجہ یہ تھی کہ میرے اطراف میں تجھ جیسے لوگ تھے جو بیہودہ طور پر میرے طرف دار بن گئے تھے، اور جھوٹا دوستی کا دعویٰ کرتے تھے۔ مجھے اُن پر اعتماد نہ تھا کیونکہ تم دھوکا دینے والا خاندان ہو۔اور اس طرح کیوں نہ ہو؟ تیرے باپ نے امیرالمومنین علیہ السلام کے ساتھ بیعت کی۔ پھر اپنی بیعت کو توڑ دیااور جاہلیت کی طرف لوٹ گیا، اور علی جو وجودِ پیغمبرکاحصہ تھے، کو دھوکا دیا، اور لوگوں کو گمراہ کیا، اور جب جنگ کے معرکہ میں لشکر کے آگے والے دستے کا سامنا ہوا اور جنگجوؤں نے اپنے تیز نیزوں کے ساتھ اُسے پیس کر رکھ دیا تو بلاوجہ جان دے بیٹھا، اور کسی ساتھی و دوست کے بغیر زمین پر گرگیا، اور تجھے گرفتار کرلیا گیا۔ جبکہ تو تھکا ہوا ، زخمی ، پسا ہوا ، گھوڑوں کے سموں سے پامال او رسواروں کے حملے کو نہ روک سکنے والی حالت میں تھا، اور جب مالک اشتر نے تجھے امام کے سامنے پیش کیا تو تیرے منہ کا پانی خشک ہوچکا تھا، اور اپنی ایڑی پر گھوم رہا تھا ، اس طرح جیسے کتا شیروں سے ڈر کر بھاگ رہا ہو۔
ہلاکت ہو تجھ پر ، ہم کائنات کا نور ہیں اور اُمت سلمان ہم پر فخر کرتی ہے۔ ارادہ اور ایمان کی چابیاں ہمارے ہاتھ میں ہیں۔ اب تو ہم پر حملہ کرتا ہے ۔ تو عورتوں کو فریب و دھوکا دینے والا ہے۔ اولادِ انبیا ء پر تو فخر کرتا ہے۔ ہماری باتوں کو لوگ قبول کرتے ہیں، تو اور تیرا باپ رد کرتا ہے۔
لوگوں نے شوق اور مجبوراً میرے نانا کے دین کو قبول کیا او ر بعد میں جب امیرالمومنین علیہ السلام سے بیعت کی تو طلحہ اور زبیر نے درمیان سے بیعت کو توڑ دیا۔ رسولِ خدا کی بیوی کو دھوکا دے کر میرے باپ کے مقابلے میں جنگ کیلئے کھڑاکیا اور خود قتل ہوگئے،
اور تجھے قید کرکے علی علیہ السلام کے پاس لایا گیا۔ انہوں نے تیرے گناہوں کو معاف کردیا۔ تیرے رشتہ داروں کی رعایت کی۔ تجھے قتل نہ کیا او ر معاف کردیا۔ اس لئے تو میرے باپ کا آزاد کیا ہوا ہے اور میں تیرا آقا و مولا اور باپ ہوں۔ اب اپنے گناہوں کی سنگینی کا احساس کر۔عبداللہ بن زبیر شرمسار ہوا۔ امام علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور کہا: اے ابو محمد! معذرت چاہتا ہوں ۔ اس شخص (معاویہ کی طرف اشارہ کیا) نے مجھے آپ کے خلاف بھڑکایا ہے ۔ اب مجھے میری بیوقوفی پر معاف کردو کیونکہ آپ کا خاندان وہ ہے جن کے وجود میں معافی اور مہربانی رچی بسی ہوئی ہے۔
امام علیہ السلام معاویہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:
دیکھ رہے ہو کہ میں کسی کا بھی جواب دینے سے نہیں رکوں گا۔ تجھ پر ہلاکت ہو۔ کیا تو جانتا ہے کہ میں کس پھل دار درخت کی کونپل ہوں۔ ان حرکتوں سے باز آجا، وگرنہ تیرے چہر ے پر ایسا داغ لگاؤں گا کہ شہروں اور صحراؤں کے سوار اُس کے قصے سنائیں گے ۔(المحاسن والاضداد، جاحظ، ص ۹۲) ۔
۶۔ آنحضرت کا مناظرہ مروان بن حکم کے ساتھ
امام علیہ السلام معاویہ کے پاس تشریف لائے ۔ جب اُس نے حضرت کو دیکھا تو کھڑا ہوگیااور آنحضرت کا بڑا احترام کیا۔ یہ چیز مروان کو بُری لگی اور حضرت کے متعلق بدکلامی کی۔ امام نے فرمایا: اے مروان! تجھ پر ہلاکت ہو۔ تو نے ہمیشہ جنگ
کے میدانوں میں اور دشمن کے ساتھ آمنا سامنا کرتے وقت اپنے گلے میں ذلت و رسوائی کا پٹہ پہنا ہے۔تجھ پر عورتیں گریہ کریں۔ یہ ہم ہیں جو اپنے ساتھ روشن دلیلیں رکھتے ہیں اور اگر شکرگزار بنتے تو ہم تم پر ہدایت برساتے۔ ہم تمہیں نجات کی طرف بلاتے ہیں اور تو ہمیں آگ کی طرف بلاتا ہے، اور یہ دومقام ایک دوسرے سے کتنے دور ہیں!
تو بنی اُمیہ پر فخر کرتا ہے اور تیرے خیال میں یہ لوگ میدانِ جنگ میں ثابت قدم ہیں اور بہادرشیروں کی طرح ہیں۔ تیری ماں تیرے ماتم میں بیٹھے، مگر کیا تو ہمیں جانتا ہے کہ عبدالمطلب کا خاندان بڑاپہلوان خاندان ہے۔ دوستوں کے محافظ، مہربان و کریم اور بلند مرتبہ مرد ہیں۔
خدا کی قسم! تو اس خاندان کے ہر شخص کو جانتا ہے اور دیکھا ہے کہ مشکلات اور خطرات نے ان کو خوفزدہ نہیں کیا، اور بہادرمیدان سے بھاگتے نہیں ہیں، اور یہ غضبناک شیر کی طرح حملہ آور ہوتے ہیں، اور یہ تو تھا جو میدان سے بھاگ کھڑا ہوا اور قیدی بنالیا گیا، اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اور اپنی قوم کے ساتھ ذلت و رسوائی میں پڑگئے۔
تو خیال کرتا ہے کہ تو مجھے قتل کردے گا، اگر بڑے بہادر ہو تو اُن کا خون کیوں نہ بہایا جنہوں نے عثمان پر حملہ کیا تھا ، یہاں تک کہ اونٹ کی طرح عثمان کا سرکاٹ دیا اورتو اُس وقت بھیڑوں کی طرح چیخ رہے تھے اور کمینی عورتوں کی طرح آہ و بکا کررہے تھے۔ تو نے عثمان کا دفاع کیوں نہ کیا اور اُس کے قاتل کی طرف ایک تیر کیوں نہ مارا بلکہ اُس وقت تیرے بدن کے جوڑجوڑ کانپ رہے تھے، اور اپنی آنکھوں کو سخت خوف و وحشت کی وجہ سے بند کررہے تھے ، اور ڈر کی وجہ سے میری پناہ لے رہے تھے،جیسے غلام اپنے آقا کو چمٹتا ہے، اور میں نے تجھے موت سے بچایا اور اب معاویہ کو میرے قتل کیلئے بھڑکاتا ہے، اور اگر اُس دن معاویہ تیرے ساتھ ہوتا تو وہ بھی عثمان کی طرح قتل ہوجاتا۔ اس وقت بھی تو اور معاویہ یہ طاقت و قوت نہیں رکھتے کہ میرے ساتھ گستاخی کرسکو۔
اس وقت تمہارا خیال ہے کہ میں معاویہ کی مہربانی سے زندہ ہوں؟ خدا کی قسم!معاویہ اپنے کو باقی سب سے بہتر جانتا ہے اور ہم نے جو اُسے حکومت دیدی ہے تو وہ شکرگزار ہے اور اس وقت تیرا وجود اُس کی طرح ہے جس کی آنکھ میں کانٹا لگاہو اور اپنی آنکھ کو بند نہ کرسکتاہو ، اور اگر میں چاہوں تو شام والوں پر ایک ایسا لشکر حملہ کرنے کیلئے بھیجوں کہ دنیا اُن پر تنگ ہو جائے، اور سواروں کے رستے تنگ ہوجائیں، اور اُس وقت بھاگنا، دھوکا دینا اور تیری شاعری تجھے کوئی فائدہ نہ دے گی۔
ہم وہ نہیں ہیں جن کے بلند مرتبہ آباء و اجداد اور نیک اولاد کی پہچان نہ ہو۔ اگر تو سچا ہے تو جا ،تو آزاد ہے۔ معاویہ نے مروان کو آواز دی اور کہا: میں نے کہا ہے کہ اس شخص کے ساتھ گستاخی نہ کر لیکن تو نے میری بات نہ مانی اور اب اس ذلت و رسوائی میں گرفتار ہو۔ آخر کار تو اُس کی طرح نہیں ہے ۔ تیرا باپ اُس کے باپ تک نہیں پہنچ سکتا۔ تو شہر بدر کئے ہوئے کا بیٹا ہے۔ لیکن اُس کے باپ رسولِ خدا ہیں جو کریم ہیں ، اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو اپنے پاؤں سے قبرستان کی طرف جاتے ہیں ، خود اپنی قبر کو کھودتے ہیں۔(المحاسن والمساوی، بیہقی، ج ۱ ، ص ۶۳) ۔
۷۔ آنحضرت کا مناظرہ عمروبن عاص کے ساتھ
ایک دن عمروبن عاص نے امام حسن علیہ السلام کو طواف کرتے ہوئے دیکھا، اور کہا کہ اے حسن ! تیرے خیال میں دین صرف تیرے اور تیرے باپ کی وجہ سے باقی اور قائم ہے۔ تو نے دیکھا کہ خدا نے معاویہ کو اتنی بڑی کمزوری کے بعد قوی اور پوشیدہ ہونے کے بعد ظاہر کیا۔ کیا خداعثمان کے قتل سے راضی ہے؟ کیا یہ مناسب ہے کہ خدا کے گھر کے اردگرد ایسے طواف کررہے ہو جیسے کوئی اونٹ چکی کے گرد گھومتا ہے؟ اور خوبصورت لباس پہنا ہوا ہے، حالانکہ توعثمان کا قاتل ہے۔ خدا کی قسم! امت کو اختلاف سے بچانے کیلئے مناسب ہے کہ معاویہ تجھے بھی تیرے باپ کی طرح قتل کردے۔
امام علیہ السلام نے فرمایا:
جہنمیوں کی نشانیاں ہیں جو اُن نشانیوں کے ساتھ پہچانے جاتے ہیں۔ خدا کے اولیاء کا انکار اور خدا کے دشمنوں سے دوستی۔ خدا کی قسم! تو جانتا ہے کہ علی علیہ السلام نے ایک لحظہ اور آنکھ کے جھپکنے کے برابر بھی دین میں شک نہیں کیا، اور خدا کے متعلق متردد نہیں ہوئے، اور خدا کی قسم! اے عمرو کے بیٹے! تو خود دورہوتا ہے یا تلوار سے تیز تر کلمات کے ذریعے سے تجھے دور کروں؟مجھ پر حملہ کرنے سے بچ،کیونکہ تو جانتا ہے کہ میں کون ہوں؟ میں کمزوروناتواں، بے قیمت اور شکم پرست نہیں ہوں۔ میں قریش کے درمیان گلے کے ہار کا درمیان والا دھاگا ہوں۔ میرا خاندان جانا پہچانا ہے، اور میرے ماں باپ کے علاوہ کسی کی طرف بھی منسوب نہیں ہے، اور تو وہ ہے کہ تو خود بھی جانتا ہے، اور لوگ بھی اس سے واقف ہیں۔ قریش کے آدمی تیرے بیٹے ہونے کے بارے میں اختلاف رکھتے تھے( اس کی ماں کے چند آدمیوں کے ساتھ زنا کروانے کی وجہ سے)، اور وہ کامیاب ہوا جس کا نسب پست تر اور بدترین تھا باقیوں کی نسبت، اور تو اس کا بیٹا مشہور ہوگیا۔ پس مجھ سے دور رہو کیونکہ تو نجس اور ہم پاک و پاکیزہ خاندان ہیں۔ خدا نے رجس کو ہم سے دور رکھا ہے، اور پاک و پاکیزہ کردیا ہے۔
عمرو نے جب اس جواب کو سنا تو اُس میں جواب دینے کی طاقت نہ رہی اور غصے کی حالت میں واپس لوٹ گیا۔(شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید، ج ۶ ،ص ۲۷) ۔
۸۔ آنحضرت کا مناظرہ عمروبن عاص کے ساتھ
روایت ہے کہ جب امام حسن علیہ السلام معاویہ کے پاس تشریف لائے تو حضرت کی ہیبت و وقار اور عزت کو دیکھ کر غصے میں آگیا اورحسد و بغض سے بھر گیا، اور کہا کہ
بیوقوف اور کمزور شخص تمہارے پاس آیا ہے جس کی عقل اُس کی داڑھی کے درمیان ہے۔ عبداللہ بن جعفر وہاں موجود تھے۔ وہ اس بات کو برداشت نہ کرسکے اور اُسے آواز دی۔ پھر راوی عبداللہ ابن جعفر کی بات کو نقل کرتا ہے، اور کہتا ہے کہ امام نے اُن کی باتوں کو سنا اور فرمایا:
اے معاویہ!ہمیشہ تیرے پاس ایسے آدمی رہتے ہیں جو لوگوں کے گوشت میں اپنے دانت داخل کرتے رہتے ہیں۔ خدا کی قسم! اگر چاہوں تو ایسا کام کروں کہ تو مشکلات اور پریشانیوں میں گھر جائے اور تیرا سانس حلق میں تنگ ہوجائے۔
پھر امام علیہ السلام نے ان اشعار کو پڑھا:
اے معاویہ! کیا اس عبد سہم کو حکم دیتے ہو کہ لوگوں کے درمیان مجھے بُرا بھلا کہے، جب قریش مجالس برپاکرتے ہیں تو توجانتا ہے کہ اُن کا کیا ارادہ ہوتا ہے؟ تو بیوقوفی کی وجہ سے مجھے برا بھلا کہتا ہے۔ اُس بغض و کینہ کی وجہ سے جو ہمیشہ سے ہمارے بارے میں دل میں رکھتا ہے۔
کیا تیرا بھی میرے باپ کی طرح باپ ہے کہ اس پر فخر کرسکے ؟ یا مکروفریب کررہا ہے۔ اے حرب کے بیٹے! تیرا نانا میرے نانا کی طرح نہیں ہے جو خدا کے رسول ہیں۔ اگر چاہے تو اپنے اجداد کو یاد کر۔
میری والدہ کی طرح قریش میں کوئی ماں نہیں ہے کہ جس سے باکمال بچے پیدا ہوں۔
اے حرب کے بیٹے! کون ہے جو میری طرح اشعار پڑھے اور کوئی شخص بھی میری طرح کسی کو سرزنش کرنے کے لائق نہیں ہے۔
چپ رہو اور ایسا کام مت کرو جس کے خوف سے بچے بوڑھے ہو جائیں۔(المحاسن والاضداد، جاحظ، ص ۹۵) ۔
۹۔ آنحضرت کا مناظرہ عمروبن عاص کے ساتھ
امام علیہ السلام معاویہ کے پاس آئے اور فرمایا:
تمام قریش والے جانتے ہیں کہ میں غالب اور مہربان ہوں اور میں نے کبھی بھی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا، اور تاریکی میں نہیں پڑا کیونکہ میری پہچان واضح اور میرے والد بلند مرتبہ اور اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔
امام کی اس گفتگو نے عمروبن عاص کو غمگین کیا اور امام علیہ السلام کے متعلق نازیبا باتیں کرنے لگا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا:
خدا کی قسم! اگر تو اپنے نسب کو یادکرے اور اپنے غلط عقیدے پر عمل کرے گا تو کبھی بھی کسی نیک مقصد تک نہیں پہنچ پائے گا، اور عزت و کامیابی تیرے ہاتھ نہیں آسکتی۔ خدا کی قسم! اگر معاویہ میری بات مان لے تو تجھے ایک فریب کار اور دھوکا باز دشمن قرار دے کیونکہ کنجوسی تیری پرانی عادت ہے۔ اپنے بغض و کینہ کو چھپاتی ہو، اور بلند و بالا مقام کی طمع و لالچ کرتے ہو، حالانکہ تو درخت کی ایسی شاخ ہے جو سرسبز ہونے اور پھل دینے سے قاصر ہے، اور تیرے وجود کی چراگاہ ایسے سبزہ کی لیاقت نہیں رکھتی۔
لیکن خدا کی قسم! یہ چیز قریب ہے کہ قریش کے شیروں کے تیز دانتوں کے درمیان نظر آؤ۔ ایسے شیر جو طاقتور ، بہادر اور قوی سوار ہیں، اور تجھے چکی کے دانے کی طرح پیس کررکھ دیں گے، اور جب وہ تیرے سامنے آئیں گے تو تیری فریب کاری تجھے فائدہ نہ دے گی۔(المحاسن والمساوی، بیہقی، ج ۱ ، ص ۶۵) ۔
۱۰۔ آنحضرت کا مناظرہ معاویہ بن سفیان کے ساتھ
روایت ہے کہ ایک دن معاویہ نے امام علیہ السلام کے مقابلے میں فخر کیا اور کہا: میں بطحا اور مکہ کا بیٹا ہوں۔ میں اُس کا بیٹا ہوں جو زیادہ معاف کرنے والا اور بلند عزت والا ہے۔ میں اُس کا بیٹا ہوں جس نے قریش کو جوانی اور بڑھاپے میں بلند مقام بخشا۔امام حسن علیہ السلام نے فرمایا:
اے معاویہ! میرے مقابلے میں فخر کرتے ہو؟ میں اُس کا بیٹا ہوں جو زمین کی رگوں میں اور تہہ میں موجود ہے۔ میں تقویٰ کے ٹھکانے کا بیٹا ہوں۔ میں اُس کا بیٹا ہوں جو ہدایت کو ساتھ لایا۔ میں اُس کا بیٹا ہوں جس کی لازوال فضیلتوں اور بلند وبالا مقام اوررتبے نے لوگوں کو سرداری کے مقام تک پہنچادیا۔ میں اُس کا بیٹا ہوں جس کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے، اور جس کی نافرمانی خدا کی نافرمانی ہے۔ کیا تیرا باپ میرے والد کی طرح ہے کہ تو اُس پر فخر کرسکے؟ کیا تیرے نانا میرے نانا کی طرح ہے کہ تو میرے نانا سے اُس کا مقابلہ کر سکے؟ کہہ ہاں یا نہ!معاویہ نے کہا کہ میں کہتا ہوں "نہ"، اور آپ کی بات کی تصدیق ہے۔امام علیہ السلام نے فرمایا:
حق چمکنے والا ہے اور وہ بدلتا نہیں ہے، اور حق کو صرف عقل والے ہی پہچانتے ہیں۔(مناقب آل ابی طالب، ج ۴ ، ص ۲۲) ۔
۱۱۔ آنحضرت کا مناظرہ معاویہ بن سفیان کے ساتھ
روایت ہے کہ ایک دن معاویہ نے امام علیہ السلام کے مقابلے میں فخر کیا اور کہا کہ اے حسن ! میں تجھ سے بہتر ہوں ۔ امام نے فرمایا: اے ہند کے بیٹے! یہ چیز کیسے ممکن ہے کیونکہ لوگ ہمارے اردگرد جمع ہیں، نہ کہ تیرے اردگرد۔
دور ہے ، دور ہے اے جگر کھانے والی ہند کے بیٹے! غلط اور بُرے راستے سے اپنے لئے مقام و مرتبہ کو حاصل کیا ہے۔ جن لوگوں نے تیری حکومت کو قبول کیا ہے، وہ دو طرح کے گروہ ہیں، یا آزادی کے ساتھ قبول کیا ہے یا مجبوراً۔ جس نے تیری اطاعت کی ہے، اُس نے خدا کی نافرمانی کی ہے اور جو مجبور ہیں ، وہ کتابِ خدا کے حکم کے مطابق عذر رکھتے ہیں۔
میں کبھی بھی یہ نہ کہتا کہ میں تجھ سے بہتر ہوں کیونکہ تیرے اندر کوئی اچھائی ہے ہی نہیں لیکن جس طرح خدا نے مجھے پستیوں سے دور رکھا تو اسی طرح تجھے بھی فضیلتوں سے دور رکھا۔(بحار، ج ۴۴ ،ص ۱۰۴) ۔
۱۲۔ آنحضرت کا مناظرہ ولید بن عقبہ کے ساتھ
امام علیہ السلام نے اُس سے فرمایا: تجھے علی علیہ السلام کو گالیاں دینے میں برابھلا نہیں کہتا کیونکہ انہوں نے شراب پینے کیوجہ سے تجھے اسی کوڑے لگائے تھے، اور تیرے باپ کو جنگ بدر میں رسولِ خدا کے حکم سے قتل کیا تھا، اور خدا تعالیٰ نے ایک سے زیادہ آیات میں علی کو مومن اور تجھے فاسق کے نام سے یاد کیا ہے۔ شاعر نے تیرے اور علی علیہ السلام کے بارے میں کہا ہے:
خدا نے اپنی کتاب میں علی علیہ السلام اور ولید کے متعلق آیت نازل کی ہے۔
ولید کا مقام و ٹھکانا کفر ہے اور علی علیہ السلام خدا کے ساتھ ایمان رکھنے والے کے مقام پرہیں۔ جو کوئی خدا کی عبادت کرتا ہے ، وہ فاسق اور جھوٹے کی طرح نہیں ہوسکتا۔
بہت جلد ولید اور علی علیہ السلام قیامت کے دن بدلہ لینے کیلئے بلائے جائیں گے۔ علی اُس جگہ بہشت کو پائیں گے اور ولید ذلت و پستی کو حاصل کرے گا۔(امالی، صدوق ،ص ۳۹۶) ۔
۱۳۔ آنحضرت کا مناظرہ یزید بن معاویہ کے ساتھ
امام حسن علیہ السلام اور یزید بن معاویہ بیٹھے کھجوریں کھا رہے تھے۔ یزید نے کہا کہ اے حسن ! میں تم سے دشمنی رکھتا ہوں۔
امام علیہ السلام نے فرمایا:
اے یزید! تجھے معلوم ہونا چاہئے کہ تیرے نطفہ کے ٹھہرنے کے وقت شیطان تیرے باپ کے ساتھ شریک تھا۔اس وجہ سے تیرے اندر میرے متعلق دشمنی پائی جاتی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:(اور مال و اولاد میں اُن کے ساتھ شریک ہوتا ہے)، اور شیطان صخر کے نطفہ کے ٹھہرنے کے وقت تیرے دادا کے ساتھ شریک تھا۔ اسی وجہ سے وہ میرے نانا رسولِ خدا کے ساتھ دشمنی رکھتا تھا۔(مناقب آل ابی طالب، ج ۳ ، ص ۱۸۶) ۔
۱۴۔ آنحضرت کا مناظرہ حبیب بن مسلمہ فھری کے ساتھ
امام علیہ السلام نے حبیب بن مسلمہ فہری سے فرمایا: بہت سی تیری حرکتیں راہِ خدا سے ہٹ کر ہیں۔ اُس نے کہا لیکن میری حرکت تیرے والد کی طرف اس طرح نہ تھی۔ امام نے فرمایا:
ہاں! لیکن معاویہ کی تونے تھوڑی سی دنیا کے بدلے میں اطاعت کی ہے۔ اگر وہ تیرے دنیا کے کام انجام دیتا ہے تو آخرت میں تجھے اکیلا چھوڑ دے گا۔ اگر برا کام انجام دیتے ہو تو کہتے ہو کہ اچھا کام بھی انجام دیا ہے، جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:( نیک اور برے کام کو آپس میں ملا دیتے ہیں)۔ لیکن تیرا کام اس آیت کے مطابق ہے کہ خدا فرماتا ہے:( اُن کے بُرے اعمال نے اُن کے دلوں کو زنگ آلود کردیا ہے)۔(مناقب آل ابی طالب، ج ۳ ، ص ۱۸۸) ۔
۱۵۔ آنحضرت کی گفتگو توحید کے متعلق حسن بصری کے ساتھ
حسن بصری نے امام علیہ السلام کو خط لکھا۔ اما بعد! آپ اہل بیت نبوت اور حکمت کی کان ہیں۔ خدا نے آپ کو ایسی کشتی قرار دیا ہیجو ڈرادینے والی موجوں میں حرکت کرتی ہے۔ آپ کی طرف پناہ لینے والا پناہ پاگیا ، اور غلو کرنے والاآپ کی رسی کو چونچیں مارتا ہے۔ جس نے بھی آپ کی پیروی کی، وہ ہدایت پاگیا اور نجات پاگیا، اور جو بھی پیچھے رہ گیا، وہ ہلاک ہوگیا اور گمراہ ہوگیا۔ قضاوقدر کے متعلق امت کی حیرت اور اختلاف کے زمانے میں آپ کی طرف خط لکھ رہا ہوں ۔ جو کچھ خدا نے آپ اہل بیت کے پاس نازل فرمایا ہے ، وہ ہماری طرف ارسال فرمائیے تاکہ ہم اُسے پکڑ سکیں۔امام علیہ السلام نے جواب میں لکھا:
اما بعد! پس جیسے تو نے کہا ہے کہ ہم خدا اور اُس کے اولیاء کے نزدیک اہل بیت ہیں۔ لیکن تیرے اور تیرے ساتھیوں کے نزدیک ایسے ہی ہوتے جیسا تو نے کہا ہے تو ہم پر کسی اور کو مقدم نہ کرتے اور ہمارے علاوہ کسی اور کا دامن نہ پکڑتے۔
میری جان کی قسم! آپ جیسے لوگوں کے متعلق خدا مثال دیتا ہے اور فرماتا ہے:(کیا تم تبدیل کرتے ہو اُس کو جو پست تر ہے، اُس کے ساتھ جو نیکی میں برتر ہے؟)۔ یہ تمہارے ساتھیوں کے لئے ہے، اس چیز میں جس کاتونے سوال کیا ہے اور تمہارے لئے ہے جو تم نے پیش کی ہے۔
اور اگر میرا ارادہ تجھ پر اور تیرے ساتھیوں پر حجت اور دلیل قائم کرنے کا نہ ہوتا تو میں تیرے خط کا جواب نہ دیتا، اور جو کچھ ہمارے پاس ہے، اُس سے آگاہ نہ کرتا۔ اگر میرا جوابی خط تیرے پاس پہنچ جائے تو سمجھ لینا کہ یہ تیرے اور تیرے دوستوں کے خلاف ایک تاکیدی دلیل کے طور پر ہے کیونکہ خدا فرماتا ہے:(کیا وہ جو حق کی طرف دعوت دیتا ہے،وہ اس لائق ہے کہ اُس کی پیروی کی جائے یاوہ جو خود ہدایت یافتہ نہیں ہے، مگر یہ کہ اُس کو ہدایت دی جائے، تمہیں کیا ہوگیا ہے، تم کیسا حکم کرتے ہو)۔
وہ جو کچھ میں قضا و قدر کے لئے لکھوں، اُس کی پیروی کرو کیونکہ جو کوئی بھی خیروشر کے متعلق قضا و قدر کے ساتھ ایمان نہ رکھتا ہو، وہ کافر ہوگیا، اور جو کوئی بھی گناہوں کی نسبت خدا کی طرف دے، وہ غلطی پر ہے۔
بے شک خدا کی اطاعت اجباراً نہیں کی جاتی ، اور اگر کوئی گناہ کرتا ہے تو وہ اُس پر غالب نہیں آگیا ہوتا، اور اُس نے اپنے بندوں کو بیکار اور ایسے ہی بیہودہ بھی نہیں چھوڑ رکھا بلکہ جو اُس نے اپنے بندوں کو دے رکھا ہے، اُس کا وہ مالک ہے، اور جس کی قدرت اُن کو دی ہوئی ہے، اُس پر وہ قدرت رکھتا ہے۔ اگر اُس کی اطاعت کریں تو وہ اُن کے لئے مانع اور سدراہ نہیں بنتا، اور اگر اُس کی نافرمانی کریں تو اگر وہ چاہے کہ گناہ کے انجام دینے میں کوئی رکاوٹ حائل ہوجائے تو ایسا کردیتا ہے، اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اُس نے ان کو گناہ کرنے پر نہیں اکسایا، اور اُن کو اس گناہ کے انجام دینے پر مجبور نہیں کیا بلکہ اُس نے ان کو اس گناہ کے انجام دینے اور گناہ سے بچنے پر قدرت دی ہے اور ان کیلئے گناہ کرنے اور گناہ سے رکنے کا راستہ کھول دیا ہے۔
پس جس چیز کا حکم فرمایا ہے اُس کی پیروی کرنے کیلئے اور جس چیز سے منع فرمایا ہے، اُس کو ترک کرنے کیلئے اُس نے ان لوگوں کے لئے راستہ قرار دیا ہے، اور تکلیف کو (یعنی احکام پر عمل کرنا) اُن لوگوں سے جو کم عقل یا بیمار ہیں، اٹھا لیا ہے۔(کنزالفوائد، جراجکی، ص ۱۷۰) ۔
چوتھی فصل
آنحضرت کے منتخب اقوال
تقویٰ کی فضیلت میں۔
تقویٰ کی صفت بیان کرنے میں۔
خدا پر توکل کے متعلق۔
عقل کے اوصاف میں۔
جوانمردی کے معنی میں۔
خاموش رہنے کے مطلب میں۔
خدا کے ارادہ کے ساتھ خوش ہونے کے متعلق۔
ادب، حیاء اور جوانمردی کے بارے میں۔
پاکدامنی اور قناعت کے متعلق۔
معذرت قبول کرنے کی فضیلت میں۔
معاف کرنے اور بخشنے کے بارے میں۔
اچھے اخلاق کی فضیلت میں۔
غنا اور فقر کے متعلق۔
حلم اور مہربانی کے متعلق۔
عطا کرنے کے متعلق۔
تکبر ، لالچ اور حسد کی مذمت کے متعلق۔
بخل کے وصف کے بارے میں۔
حسد کی مذمت میں۔
لالچ و طمع کی مذمت میں۔
۱۔ آنحضرت کا قول فضیلتِ تقویٰ میں
جو کوئی بھی اللہ سے ڈرتا ہے اور تقویٰ اختیا رکرتا ہے، خدا تعالیٰ اُس کیلئے فتنوں سے نکلنے کیلئے راستہ کھول دیتا ہے، اور اُس کے کاموں میں اُس کی تائید کرتا ہے۔ ہدایت کا راستہ اُس کیلئے آمادہ رکھتا ہے اور اُس کی حجت اور دلیل کو غالب کرتا ہے۔ اُس کے چہرے کو نورانی اور اُس کی اُمیدوں کو پورا کرتاہے، اور یہ شخص ایسے لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر خدانے اپنی نعمتیں کی ہیں اور وہ نبیوں میں سے ، سچوں میں سے، شہداء میں سے اور نیک لوگوں میں سے ہیں، اور یہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔( ۱ ۔تحف العقول، ص ۲۳۳ ۔ ۲ ۔بحارالانوار، ج ۷۸ ،ص ۱۱۰) ۔
۲۔ آنحضرت کا قول تقویٰ کے وصف میں
تقویٰ توبہ کا دروازہ ، حکمت و دانائی کا آغاز اور ہر عمل کی شرافت ہے۔( ۱ ۔تحف العقول، ص ۲۳۲ ۔ ۲ ۔بحارالانوار، ج ۷۸ ،ص ۱۱۰) ۔
۳۔ آنحضرت کا فرمان خدا پر توکل کے متعلق
جو کوئی بھی خدا کے اختیار کئے ہوئے اچھے کام میں توکل کرتا ہے تو وہ کبھی بھی یہ نہیں چاہتا کہ جو حالت خدا نے اُس کیلئے اختیار کی ہے، اُس کے علاوہ کوئی اور حالت پیدا ہوجائے۔( ۱ ۔تحف العقول، ص ۲۳۴ ۔ ۲ ۔بحارالانوار، ج ۷۸ ،ص ۱۰۶) ۔
۴۔ آنحضرت کا قول وصفِ عقل میں
لوگوں کے ساتھ اچھا میل جول رکھنا عقل کی ابتداء اور بہت اچھی سوچ ہے۔ عقل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت ہاتھ میں آتی ہے۔ جو کوئی بھی عقل سے محروم ہوا تو وہ دونوں جہانوں سے محروم ہوا۔( ۱ ۔کشف الغمہ، ج ۱ ، ص ۵۷۲ ۔ ۲ ۔بحار، ج ۷۸ ، ص ۱۱۱) ۔
۵۔ آنحضرت کا قول جوانمردی کے متعلق
جوانمردی یہ ہے کہ دین کی حفاظت کرنا ، اپنے آپ کو باوقار بنانا، مہربان ہونا، کام اچھے طریقے سے انجام دینا اور حقوق ادا کرنا۔( ۱ ۔نزہۃ الناظر، ص ۷۹ ۔ ۲ ۔مقصد الراغب، ص ۱۲۸) ۔
۶۔ آنحضرت کا فرمان جوانمردی کے معنی میں
جوانمردی انسان کا اپنے دین میں طمع رکھنا، اپنے مال کی اصلاح کرنا(حرام سے پرہیز، حلال کمانا، خمس دینا) اور حقوق ادا کرنے کیلئے قیام کرنا ہے۔( ۱ ۔تحف العقول، ص ۲۳۵ ۔ ۲ ۔بحار، ج ۷۸ ،ص ۱۰۹) ۔
۷۔ خاموشی اختیار کرنے کے متعلق آنحضرت کا ارشاد
خاموش رہنا اُن چیزوں کے لئے لباس ہے جو معلوم نہ ہوں۔ عزت و آبرو کی زینت ہے۔ جو شخص خاموش رہتا ہے، آرام پاتا ہے ، اور اُس کے ساتھ بیٹھنے والا اُس سے محفوظ ہے۔(کشف الغمہ، ج ۱ ، ص ۵۷۲ ۔ ۲ ۔بحار، ج ۷۸ ، ص ۱۱۱) ۔
۸۔ آنحضرت کا فرمان قضائے الٰہی کے ساتھ راضی ہونے کے متعلق
وہ مومن کیسا مومن ہے جو اس حال میں ہے کہ خدا کی تقسیم سے ناراض ہے، اور خدا کے مقام و مرتبہ کو پست شمار کرتا ہے، حالانکہ خدا ہی اُس پر حکم کرنے والا ہے، اور میں ایسے شخص کی ضمانت دیتا ہوں جو اپنے دل میں خدا کی مرضی کے علاوہ اور کچھ نہیں رکھتا، اور خدا ایسے شخص کی دعا قبول کرتا ہے۔( ۱ ۔کافی، ج ۲ ،ص ۶۲ ۔ ۲ ۔بحار، ج ۳۴ ،ص ۳۵۱) ۔
۹۔ ادب، حیاء اور جوانمردی کے متعلق آنحضرت کا فرمان
جو بے عقل ہے، وہ بے ادب ہے، اور جو ہمت نہیں رکھتا، وہ جوانمردی نہیں رکھتا اور جو بے دین ہے، وہ بے حیا ء ہے۔(کشف الغمہ، ج ۱ ،ص ۵۷۲،۲ ۔بحار، ج ۷۸ ،ص ۱۱۱) ۔
۱۰۔ آنحضرت کا ارشاد پاکدامنی اور قناعت کے متعلق
اے آدم کے بیٹے! خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچوتاکہ عبادت گزار بن سکو، اور جو کچھ خدا نے تجھے دیا ہے، اُس سے راضی ہوجا تاکہ بے نیاز ہوجائے۔ اپنے ہمسایوں کے ساتھ نیکی کر اور مسلمان بن جا۔( ۱ ۔کشف الغمہ، ج ۱ ، ص ۵۷۲ ۔ ۲ ۔بحار، ج ۷۸ ، ص ۱۱۲) ۔
۱۱۔ آنحضرت کا ارشاد معافی قبول کرنے کی فضیلت کے متعلق
کسی کی غلطی پر سزا دینے میں جلدی نہ کرو بلکہ غلطی اور سزا کے درمیان معذرت خواہی کو قرار دو۔( ۱ ۔عددالقوید، ص ۳۷ ۔ ۲ ۔نزہة الناظر، ص ۷۲) ۔
۱۲۔ آنحضرت کا فرمان معاف کرنے کے متعلق
جس وقت گناہ گار شخص پر معذرت کرنا سخت مشکل ہوتا ہے ، اُس وقت ایک مہربان اور کریم شخص کا معاف کرنا دیگر مواقع کی نسبت زیادہ اہم ہوتا ہے۔( ۱ ۔اعلام الدین،ص ۲۷۹ ۔ ۲ ۔نزہة الناظر، ص ۷۸) ۔
۱۳۔ آنحضرت کا قول اچھے اخلاق کی فضیلت کے متعلق
بہترین حسن اچھا اخلاق ہے۔( ۱ ۔خصال، ص ۱۷ ۔ ۲ ۔بحار،ج ۷۱ ، ص ۳۸۶) ۔
۱۴۔ آنحضرت کا فرمان غنا اور فقر کے بارے میں
بہترین بے نیازی قناعت اور بدترین فقر کسی کے آگے جھکنا ہے۔
( ۱ ۔عددالقویة،ص ۳۸ ۔ ۲ ۔ بحار، ج ۷۸ ، ص ۱۱۳) ۔
۱۵۔ آنحضرت کا فرمان حلم و بردباری کے متعلق
حلم و بردباری غصے کو پی جانا اور اپنے نفس پر کنٹرول کا نام ہے۔(بحار،ج ۷۸ ، ص ۱۰۲) ۔
۱۶۔ آنحضرت کا فرمان عطا کرنے کے بارے میں
عطا کرنا اور راہِ خدا میں دینا حقیقتاً وہی ہے جو خوشحالی اور تنگدستی کی حالت میں ہو۔(بحار، ج ۷۸ ، ص ۱۱۴) ۔
۱۷۔ آنحضرت کا قول تکبر، لالچ اور حسد کی مذمت میں
تین چیزوں میں لوگوں کی ہلاکت ہے: تکبر و حرص و لالچ۔ تکبر دین کو تباہ کرنے والا ہے اور اسی تکبر کی وجہ سے ابلیس ملعون ٹھہرا۔ لالچ انسان کی دشمن ہے ، اسی وجہ سے آدم جنت سے نکلا اور حسد برائی کا رہنما ہے اور اسی وجہ سے قابیل نے ہابیل کو قتل کیا۔( ۱ ۔کشف الغمہ، ج ۱ ، ص ۵۷۲ ۔ ۲ ۔بحار، ج ۷۸ ،ص ۱۱۱) ۔
۱۸۔ آنحضرت کا فرمان بخل و کنجوسی کے متعلق
بخل یہ ہے کہ جو انسان نے خرچ کیا ہے، اُسے ضائع سمجھے اور جو ذخیرہ کیا ہے، اُسے عزت و شرف جانے۔( ۱ ۔عدد القویہ، ص ۳۷ ۔ ۲ ۔بحار، ج ۷۴ ، ص ۴۱۷ ، ج ۷۸ ، ص ۱۱۳) ۔
۱۹۔ آنحضرت کا فرمان حسد کی مذمت میں
حسد کرنے والے شخص کے علاوہ کسی ظالم کو مظلوم کے ساتھ زیادہ شباہت رکھنے والا نہیں دیکھا۔( ۱ ۔کشف الغمہ، ج ۱ ، ص ۵۷۲ ۔ ۲ ۔بحار، ج ۷۸ ، ص ۱۱۱) ۔
۲۰۔ آنحضرت کا فرمان لالچ و طمع کی مذمت کے متعلق
دنیا کی ایسی چیز کہ جس کے حصول کا تو طلبگار تھا، لیکن حاصل نہ کرسکا، اُسے ایسے سمجھ جیسے تو نے اُس کے متعلق کبھی سوچا بھی نہ تھا۔
( ۱ ۔کشف الغمہ،ج ۱ ،ص ۵۷۲ ۔ ۲ ۔بحار، ج ۷۸ ، ص ۱۱۱) ۔
چوتھی فصل ( ۲)
آنحضرت کے منتخب اقوال
تعلیم و تعلم کی فضیلت میں۔
اپنے خاندان کے بچوں کیلئے تعلیم و تعلم کی فضیلت میں۔
مشورہ کی فضیلت میں۔
فکر کرنے کی فضیلت میں۔
کسی کیلئے نیک بھائی ہونے کے وصف میں۔
قیامت کے دن کیلئے سامان مہیا کرنے کے متعلق۔
بعض نصیحتوں کے متعلق۔
بہترین آنکھیں، کان اور دل کے متعلق۔
لوگوں کے ساتھ میل جول کے متعلق۔
بھائی چارے کے وصف میں۔
واجبات کی اہمیت کے متعلق۔
بارگاہِ خداوندی میں کھڑا ہونے کے متعلق۔
خدا کی نعمتوں کے بارے میں۔
مختصر طور پر طلب روزی کے متعلق۔
فرصت کی اہمیت کے متعلق۔
ہنسنے کی مذمت میں۔
نزدیک اور دورکے انسان کے متعلق۔
ایسی اچھائی کے بارے میں جس میں شر نہ ہو۔
خدا کی نعمتوں پر شکر کرنے اور اُن کا انکار کرنے کے متعلق۔
۲۱۔ آنحضرت کا قول تعلیم و تعلم کی فضیلت میں
اپنا علم لوگوں کو سکھاؤ اور دوسروں کے علم سے فائدہ حاصل کرو تاکہ تمہارا علم مستحکم و مضبوط ہو اور جس کا علم نہ ہو، وہ سیکھ لے۔( ۱ ۔کشف الغمہ، ج ۱ ،ص ۵۷۲ ۔ ۲ ۔بحار، ج ۷۸ ، ص ۱۱۱) ۔
۲۲۔ آنحضرت کا فرمان بچوں کو علم سکھانے کی اہمیت کے متعلق
بے شک تم اس خاندان کے بچے ہو ، اور بہت جلد ایک دوسرے خاندان کے بزرگ بن جاؤ گے، علم سیکھو۔ تم میں سے جو مطالب کو حفظ کرنے پر طاقت نہیں رکھتا۔ وہ لکھ کر اپنے گھر رکھ لے۔(بحار،ج ۲۲ ، ص ۱۱۰) ۔
۲۳۔ آنحضرت کا قول مشورہ کے متعلق
کسی گروہ نے بھی مشورہ نہیں کیا مگر یہ کہ اُس مشورہ کی وجہ سے اپنے ہدایت کے راستے کی رہنمائی حاصل کرلی۔( ۱ ۔تحف العقول، ص ۲۳۳ ۔ ۲ ۔بحار، ج ۷۸ ، ص ۱۰۵) ۔
۲۴۔ آنحضرت کا قول حصولِ علم کے مرکز میں فکر کرنے کے متعلق
میں تعجب کرتا ہوں ایسے شخص سے جو اپنی کھانے کی چیزوں کے متعلق تو فکر کرتا ہے لیکن جن علوم کو وہ سیکھتا ہے، اُن میں فکر نہیں کرتا تاکہ اپنے پیٹ کو تکلیف دینے والی غذاؤں سے بچا سکے، اور اپنے سینہ کو ہلاک کرنے والی چیزوں سے دور رکھ سکے۔(سفینة البحار، ج ۱ ، ص ۸۴) ۔
۲۵۔ آنحضرت کا فرمان فکر کرنے کی فضیلت میں
تم پر فکر کرنا واجب ہے کیونکہ فکر عقلمند انسان کے دل کی زندگی ہے اور دانائی و حکمت کے دروازوں کی چابی ہے۔( ۱ ۔اعلام الدین، ص ۲۹۷ ۔ ۲ ۔بحار، ج ۷۸ ، ص ۱۱۵) ۔
۲۶۔ آنحضرت کا فرمان اُن کے نیک و صالح بھائی کے متعلق
وہ میری نگاہ میں لوگوں سے بلند تر تھا۔ اُس کی آنکھوں میں دنیا بے وقعت تھی۔ وہ جہالت اور بے علمی کی اطاعت کرنے سے باہر تھا۔ کسی چیز کی طرف ہاتھ نہ بڑھاتا تھا مگر یہ کہ اُس کو اعتماد ہوتا تھا کہ اس میں عظیم فائدہ ہے۔ روزمرہ زندگی کے واقعات و حادثات کی شکایت نہ کرتا تھا۔ نہ غصے میں آتا تھا اور نہ ہی پریشان ہوتا تھا۔ زیادہ تر چپ رہتا تھا اور جب کبھی زبان کھولتا تو بولنے والوں پر غالب آجاتا تھا۔
ایک کمزور اور ضعیف انسان خیال کیا جاتا تھا لیکن جب کوشش اور کام کا وقت آتا تو ایک دہاڑتے ہوئے شیر کی طرح پھرتا تھا، اور جب کبھی صاحبانِ علم کے مجمع میں ہوتا توزیادہ تر گفتگو سننے کی لالچ ہوتی، کلام اور گفتگو کا مغلوب ہوجاتا لیکن خاموشی کا مغلوب نہ ہوتا تھا۔
جو کرتا نہیں تھا ، وہ کہتا نہیں تھا اور جو کہتا تھا ، وہ کرتا تھا۔اگر دو چیزیں اُس کے سامنے ہوتیں اور وہ نہ جانتا کہ ان دو میں سے کون سی چیزمیں خدا کی مرضی ہے تو جو چیز اپنے نفس کی خواہش کے قریب پاتا، اُسے ترک کردیتا تھا۔ ایسے کام میں جس میں معذرت کرنا ضروری ہوتا، کسی کو ملامت نہ کرتا اور بُرا بھلا نہ کہتا۔( ۱ ۔تحف العقول، ص ۲۳۴ ۔ ۲ ۔بحار، ج ۷۸ ، ص ۱۰۴) ۔
۲۷۔ آنحضرت کا فرمان قیامت کے دن کیلئے سامان مہیا کرنے کے متعلق
اے آدم کے بیٹے! جب سے تو اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے، اُس وقت سے تیری عمر ختم ہورہی ہے۔جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے، اُسے آخرت کیلئے بچا کر رکھ۔ مومن آخرت کیلئے بچاتا ہے اور کافردنیا ہی میں فائدہ حاصل کرلیتا ہے۔( ۱ ۔اعلام الدین، ص ۲۹۷ ۔ ۲ ۔بحار، ج ۷۸ ، ص ۱۰۶) ۔
۲۸۔ آنحضرت کا قول بعض نصیحتوں کے متعلق
خدا نے کسی شخص پر سوال کرنے کا دروازہ نہیں کھولا مگر یہ کہ جواب دینے کا دروازہ اُس کیلئے ذخیرہ کرلیا گیا، اور بندے نے عمل کرنے کا دروازہ نہیں کھولا مگر یہ کہ قبول کرنے کا دروازہ اُس کیلئے جمع کرلیا گیا، اور شکر کرنے کا دروازہ بندے پر نہیں کھولاگیا مگر یہ کہ نعمت کی زیادتی اُس کیلئے ذخیرہ کرلی جاتی ہے۔(بحار، ج ۷۸ ، ص ۱۱۳) ۔
۲۹۔ آنحضرت کا قول بہترین آنکھوں، کان اور دل کے متعلق
تیز ترین آنکھیں وہ ہیں جو نیکی اور اچھائی میں کھلی ہوں۔ زیادہ سننے والا کان وہ ہے جو نصیحت سنے اور اس سے فائدہ حاصل کرے۔ محفوظ ترین اور سالم ترین دل وہ ہیں جو شبہ سے پاک ہوں۔( ۱ ۔تحف العقول، ص ۲۳۵ ۔ ۲ ۔بحار،ج ۷۸ ، ص ۱۰۹) ۔
۳۰۔ آنحضرت کا فرمان لوگوں کے ساتھ میل جول کے بارے میں
لوگوں کے ساتھ اس طرح زندگی گزارو اور میل جول رکھو جس طرح تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ میل جول رکھیں۔( ۱ ۔نزہة الناظر، ص ۷۹ ۔ ۲ ۔بحار،ج ۷۸ ، ص ۱۱۶) ۔
۳۱۔ آنحضرت کا فرمان بھائی چارہ کے وصف میں
بھائی چارہ یہ ہے کہ مشکل اور آسانی میں وفا کی جائے۔(بحار، ج ۷۸ ، ص ۱۰۳،۱۱۴) ۔
۳۲۔ آنحضرت کا قول واجبات کی اہمیت کے متعلق
جو نوافل واجبات کو نقصان پہنچائیں تو نوافل کو ترک کردو۔( ۱ ۔تحف العقول، ص ۲۳۴ ۔ ۲ ۔بحار، ج ۷۸ ، ص ۱۰۹) ۔
۳۳۔ آنحضرت کا فرمان اُس کے متعلق جو دربارِ خداوندی میں کھڑا ہوتا ہے
جو شخص دربارِ خداوندی میں کھڑا ہوتا ہے، اُسے چاہئے کہ اُس کا چہرہ زرد ہو اور جسم کے اعضاء کانپ رہے ہوں۔( ۱ ۔مناقب آل ابی طالب ، ج ۳ ، ص ۸۰۲ ۔بحار،ج ۴۳ ، ص ۲۳۹) ۔
۳۴۔ آنحضرت کا فرمان خدا کی نعمتوں کی فضیلت میں
جب تک خدا کی نعمتیں موجود ہوتی ہیں، پہچانی نہیں جاتیں اور جب یہ نعمتیں منہ موڑ لیتی ہیں تو تب معلوم ہوتی ہیں۔( ۱ ۔اعلام الدین، ص ۲۹۷ ۔ ۲ ۔بحار، ج ۷۸ ، ص ۱۱۵) ۔
۳۵۔ آنحضرت کا قول طلبِ رزق میں اختصار کے متعلق
رزق کے طلب کرنے میں زیادہ کوشش کرنیو الے کی طرح کوشش نہ کر اور خدا کی قضاء و قدر پر کمزورانسان کی طرح بھروسہ و اعتماد نہ کر۔ رزق کے پیچھے جانا خدا کی سنت اور رزق کے طلب کرنے میں اختصار کرنا پاکدامنی ہے۔ پاکدامنی رزق کیلئے رکاوٹ نہیں ہے۔ طمع و لالچ کو قریب کرنے والی نہیں ہے۔ رزق تقسیم ہوچکا ہے اور لالچی ہونا گناہ کا سبب ہے۔( ۱ ۔تحف العقول، ص ۲۳۳ ۔ ۲ ۔بحار، ج ۷۸ ،ص ۱۰۶) ۔
۳۶۔ آنحضرت کا قول فرصت کی اہمیت کے متعلق
فرصت بہت جلد ہاتھوں سے نکل جاتی ہے اور آہستہ آہستہ واپس لوٹتی ہے۔( ۱ ۔عددالقویہ،ص ۳۷ ۔ ۲ ۔بحار، ج ۷۸ ، ص ۱۰۳) ۔
۳۷۔ آنحضرت کا فرمان ہنسنے کی مذمت میں
ہنسنا انسان کے رعب و دبدبہ کو ختم کردیتا ہے۔ جو چپ رہتا ہے، وہ سب سے زیادہ رعبدار ہوتا ہے۔( ۱ ۔عددالقویہ،ص ۳۷ ۔ ۲ ۔بحار، ج ۷۸ ، ص ۱۲۳) ۔
۳۸۔ آنحضرت کا قول قریب اور دورکے انسان کے متعلق
نزدیک وہ شخص ہے جس کو دوستی قریب کرے، اگرچہ رشتہ داری دور کی ہو اور دور وہ شخص ہوتا ہے جس کو دوستی دور کرے، اگرچہ رشتہ داری نزدیک کی رکھتا ہو۔( ۱ ۔تحف العقول، ص ۲۳۴ ۔ ۲ ۔بحار، ج ۷۸ ، ص ۱۰۶) ۔
۳۹۔ آنحضرت کا قول اُس اچھائی کے متعلق جس میں برائی نہ ہو
ایسی اچھائی اور نیکی جس میں شر اور برائی نہ ہو، نعمت کے ساتھ شکر کرنا اور مشکلات میں صبر کرنا ہے۔( ۱ ۔تحف العقول، ص ۲۳۴ ۔ ۲ ۔بحار، ج ۷۸ ، ص ۱۰۶) ۔
۴۰۔ آنحضرت کا فرمان خدا کی نعمتوں پر شکر کرنے اور اُن کا انکار کرنے کے متعلق
خدا تعالیٰ کی نعمتیں امتحان کا وسیلہ ہیں۔ اگر ان پر شکر کرو تو نعمتیں ہیں اور اگر انکار کرو تو بجائے نعمت کے عذاب ہوں گی۔( ۱ ۔عددالقویہ، ص ۳۷ ۔ ۲ ۔بحار، ج ۷۸ ، ص ۱۱۳)
فہرست
فصل اوّل ۴
آنحضرت کی دعائیں تعریفِ الٰہی میں آنحضرت کی دعائیں ۴
۱۔ آنحضرت کی دعا خدا کی تسبیح اور پاکیزگی کے متعلق ۴
۲۔ مہینے کی دس اور گیارہ تاریخ کو خدا کی تسبیح اور تقدیس میں آنحضرت کی دعا ۴
۳۔ خدا کے ساتھ مناجات کرنے کے متعلق آنحضرت کی دعا ۴
دوسری فصل ۶
امام حسن کے خطبات ۶
۱۔ لوگوں کو جنگِ جمل کی ترغیب دلانے کے متعلق آنحضرت کا خطبہ ۶
۲ ۔ آنحضرت کا جنگِ جمل کیطرف اہل کوفہ کو ترغیب دینے کیلئے خطبہ ۷
۳۔ آنحضرت کا خطبہ جمل میں لوگوں کو جنگ کی ترغیب دلانے کی خاطر ۸
۴۔ اہل کوفہ کو جنگِ جمل کی طرف ترغیب کی خاطر آنحضرت کا خطبہ ۸
۵۔ آنحضرت کا خطبہ اہل کوفہ کو جنگِ جمل کی ترغیب دلانے کیلئے ۸
۶۔ اپنے والد بزرگوار کی مدد کی ترغیب دلانے کی خاطر آنحضرت کا خطبہ ۹
۷۔ اپنے والد گرامی کی مدد کی ترغیب کیلئے آنحضرت کا خطبہ ۹
۸۔ آنحضرت کا خطبہ لوگوں کو اپنے والد کی مدد کی طرف ترغیب دلانے کیلئے ۱۰
۹۔ آنحضرت کا اہلبےت کی فضیلت میں خطبہ ۱۰
۱۰۔ جنگ صفین میں لوگوں کو جنگ کی ترغیب دینے کیلئے آنحضرت کا خطبہ ۱۱
۱۱۔ ابوموسیٰ کے فیصلے کے بعد آنحضرت کا صفین میں خطبہ ۱۲
۱۲۔ آنحضرت کا خطبہ خدا کی تعریف اور اپنے والد کی شان میں ۱۲
۱۳۔ آنحضرت کا خطبہ خدا کی تعریف اور اپنے والد گرامی کی شان میں ۱۳
۱۴۔ آنحضرت کا خطبہ اہلبےت کی فضیلت میں ۱۳
۱۵۔ والد بزرگوار کی شہادت کے بعد فضیلت اہل بیت کے متعلق آنحضرت کا خطبہ ۱۴
۱۶۔ اپنی اولاد اور اپنے والد بزرگوار کی شان میں آنحضرت کا خطبہ ۱۵
۱۷۔ آنحضرت کا خطبہ جب آپ کے والد گرامی نے وفات پائی ۱۶
۱۸۔ آنحضرت کا خطبہ جب آپ کے والد گرامی نے وفات پائی ۱۷
۱۹۔ آنحضرت کا خطبہ ان کے ساتھ بیعت کرنے کے بعد ۱۷
۲۰۔ آنحضرت کا خطبہ اپنے اصحاب کو جنگ کی ترغیب دلانے کے متعلق ۱۸
۲۱۔ آنحضرت کا خطبہ اپنے اصحاب کی مذمت میں ۱۸
۲۲۔ آنحضرت کا خطبہ آپ کے اصحاب کے دھوکہ دینے کے متعلق ۱۹
۲۳۔ آنحضرت کا خطبہ جب آپ کے اصحاب معاویہ کے ساتھ جاملے ۲۰
۲۴۔ آنحضرت کا کوفے میں صلح سے پہلے خطبہ ۲۰
۲۵۔ آنحضرت کا خطبہ جب آپ نے صلح کا ارادہ کیا ۲۱
۲۶۔ آنحضرت کا خطبہ جب زخم ٹھیک ہوا ۲۱
۲۷۔ معاویہ کے ساتھ صلح کے وقت آنحضرت کا خطبہ ۲۲
۲۸۔ آنحضرت کا صلح کرنے کے بعد خطبہ ۲۸
۲۹۔ آنحضرت کا خطبہ معاویہ کے ساتھ صلح کرنے کے سبب کے متعلق ۲۹
۳۰۔ صلح کرنے کے بعد آنحضرت کا اپنے والد گرامی کی فضیلت میں خطبہ ۲۹
۳۱۔ آنحضرت کا اپنی فضیلت کے متعلق خطبہ ۳۰
۳۲۔ آنحضرت کا خطبہ اپنی اور اپنے والد کی شان میں ۳۱
۳۳۔ آنحضرت کا اپنے اور خلیفہ کے اوصاف کے متعلق خطبہ ۳۲
۳۴۔ آنحضرت کا خطبہ اپنی فضیلت اور معاویہ کے متعلق ۳۴
۳۵۔ آنحضرت کا خطبہ اپنی شان میں ۳۵
۳۶۔ آنحضرت کا خطبہ ان حضرات کی اطاعت کرنے کے متعلق ۳۵
۳۷۔ آنحضرت کا خطبہ صلح کے سبب کے متعلق ۳۶
۳۸۔ آنحضرت کا خطبہ جب آنحضرت کو بیعت کرنے کی وجہ سے لوگ ملامت کرنے لگے ۳۷
۳۹۔ آنحضرت کا خطبہ صلح کے سبب کے متعلق ۳۸
۴۰۔ آنحضرت کا خطبہ جب حضرت کے اصحاب نے چاہا کہ بیعت کو توڑدیں ۳۸
تیسری فصل ۳۹
آنحضرت کے مناظرے ۳۹
۱۔ آنحضرت کا مناظرہ معاویہ کے پاس اپنے والد بزرگوار کی شان میں ۴۰
۲۔ آنحضرت کا مناظرہ اپنی تعریف اور مخالفوں کے عیوب کے متعلق ۵۳
۳۔ آنحضرت کا مناظرہ فضیلت اہل بےت کے متعلق اور اس بارے میں کہ خلافت کے صرف یہی لائق ہیں ۵۵
۴۔ آنحضرت کا مناظرہ عمروبن عاص، مروان اور ابن زیاد کے ساتھ ۵۸
۵۔ آنحضرت کا مناظرہ عبداللّٰہ بن زبیر کے ساتھ ۶۰
۶۔ آنحضرت کا مناظرہ مروان بن حکم کے ساتھ ۶۲
۷۔ آنحضرت کا مناظرہ عمروبن عاص کے ساتھ ۶۳
۸۔ آنحضرت کا مناظرہ عمروبن عاص کے ساتھ ۶۴
۹۔ آنحضرت کا مناظرہ عمروبن عاص کے ساتھ ۶۵
۱۰۔ آنحضرت کا مناظرہ معاویہ بن سفیان کے ساتھ ۶۶
۱۱۔ آنحضرت کا مناظرہ معاویہ بن سفیان کے ساتھ ۶۶
۱۲۔ آنحضرت کا مناظرہ ولید بن عقبہ کے ساتھ ۶۷
۱۳۔ آنحضرت کا مناظرہ یزید بن معاویہ کے ساتھ ۶۷
۱۴۔ آنحضرت کا مناظرہ حبیب بن مسلمہ فھری کے ساتھ ۶۸
۱۵۔ آنحضرت کی گفتگو توحید کے متعلق حسن بصری کے ساتھ ۶۸
چوتھی فصل ۷۰
آنحضرت کے منتخب اقوال ۷۰
۱۔ آنحضرت کا قول فضیلتِ تقویٰ میں ۷۱
۲۔ آنحضرت کا قول تقویٰ کے وصف میں ۷۱
۳۔ آنحضرت کا فرمان خدا پر توکل کے متعلق ۷۱
۴۔ آنحضرت کا قول وصفِ عقل میں ۷۱
۵۔ آنحضرت کا قول جوانمردی کے متعلق ۷۲
۶۔ آنحضرت کا فرمان جوانمردی کے معنی میں ۷۲
۷۔ خاموشی اختیار کرنے کے متعلق آنحضرت کا ارشاد ۷۲
۸۔ آنحضرت کا فرمان قضائے الٰہی کے ساتھ راضی ہونے کے متعلق ۷۲
۹۔ ادب، حیاء اور جوانمردی کے متعلق آنحضرت کا فرمان ۷۲
۱۰۔ آنحضرت کا ارشاد پاکدامنی اور قناعت کے متعلق ۷۳
۱۱۔ آنحضرت کا ارشاد معافی قبول کرنے کی فضیلت کے متعلق ۷۳
۱۲۔ آنحضرت کا فرمان معاف کرنے کے متعلق ۷۳
۱۳۔ آنحضرت کا قول اچھے اخلاق کی فضیلت کے متعلق ۷۳
۱۴۔ آنحضرت کا فرمان غنا اور فقر کے بارے میں ۷۳
۱۵۔ آنحضرت کا فرمان حلم و بردباری کے متعلق ۷۴
۱۶۔ آنحضرت کا فرمان عطا کرنے کے بارے میں ۷۴
۱۷۔ آنحضرت کا قول تکبر، لالچ اور حسد کی مذمت میں ۷۴
۱۸۔ آنحضرت کا فرمان بخل و کنجوسی کے متعلق ۷۴
۱۹۔ آنحضرت کا فرمان حسد کی مذمت میں ۷۴
۲۰۔ آنحضرت کا فرمان لالچ و طمع کی مذمت کے متعلق ۷۵
چوتھی فصل ( ۲) ۷۶
آنحضرت کے منتخب اقوال ۷۶
۲۱۔ آنحضرت کا قول تعلیم و تعلم کی فضیلت میں ۷۷
۲۲۔ آنحضرت کا فرمان بچوں کو علم سکھانے کی اہمیت کے متعلق ۷۷
۲۳۔ آنحضرت کا قول مشورہ کے متعلق ۷۷
۲۴۔ آنحضرت کا قول حصولِ علم کے مرکز میں فکر کرنے کے متعلق ۷۷
۲۵۔ آنحضرت کا فرمان فکر کرنے کی فضیلت میں ۷۸
۲۶۔ آنحضرت کا فرمان اُن کے نیک و صالح بھائی کے متعلق ۷۸
۲۷۔ آنحضرت کا فرمان قیامت کے دن کیلئے سامان مہیا کرنے کے متعلق ۷۹
۲۸۔ آنحضرت کا قول بعض نصیحتوں کے متعلق ۷۹
۲۹۔ آنحضرت کا قول بہترین آنکھوں، کان اور دل کے متعلق ۷۹
۳۰۔ آنحضرت کا فرمان لوگوں کے ساتھ میل جول کے بارے میں ۷۹
۳۱۔ آنحضرت کا فرمان بھائی چارہ کے وصف میں ۷۹
۳۲۔ آنحضرت کا قول واجبات کی اہمیت کے متعلق ۸۰
۳۳۔ آنحضرت کا فرمان اُس کے متعلق جو دربارِ خداوندی میں کھڑا ہوتا ہے ۸۰
۳۴۔ آنحضرت کا فرمان خدا کی نعمتوں کی فضیلت میں ۸۰
۳۵۔ آنحضرت کا قول طلبِ رزق میں اختصار کے متعلق ۸۰
۳۶۔ آنحضرت کا قول فرصت کی اہمیت کے متعلق ۸۰
۳۷۔ آنحضرت کا فرمان ہنسنے کی مذمت میں ۸۱
۳۸۔ آنحضرت کا قول قریب اور دورکے انسان کے متعلق ۸۱
۳۹۔ آنحضرت کا قول اُس اچھائی کے متعلق جس میں برائی نہ ہو ۸۱
۴۰۔ آنحضرت کا فرمان خدا کی نعمتوں پر شکر کرنے اور اُن کا انکار کرنے کے متعلق ۸۱