یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


مرج البحرین فی مناقب الحسنین

ڈاکٹر محمد طاہرالقادری


فصل : ۱

تسمية النبي صلي الله عليه وآله وسلم الحسن و الحسين عليهما السلام

(حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے شہزادوں کا نام حسن و حسین علیہما السلام رکھنا)

۱. عن علی رضی الله عنه قال : لما ولد حسن سماه حمزة، فلما ولد حسين سماه بإسم عمه جعفر. قال : فدعاني رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم و قال : إني اُمرت أن أغير إسم هٰذين. فقلت : أﷲ و رسوله أعلم، فسماهما حسنا و حسيناً.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب حسن پیدا ہوا تو اس کا نام حمزہ رکھا اور جب حسین پیدا ہوا تو اس کا نام اس کے چچا کے نام پر جعفر رکھا. (حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلا کر فرمایا : مجھے ان کے یہ نام تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) میں نے عرض کیا : اﷲ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے نام حسن و حسین رکھے۔‘‘

۱. احمد بن حنبل، المسند، ۱ : ۱۵۹

۲. ابو يعلي، المسند، ۱ : ۳۸۴، رقم : ۴۹۸

۳. حاکم، المستدرک، ۴ : ۳۰۸، رقم : ۷۷۳۴

۴. مقدسي، الاحاديث المختاره، ۲ : ۳۵۲، رقم : ۷۳۴

۵. هيثمي، مجمع الزوائد، ۸ : ۵۲

۶. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، ۷ : ۱۱۶

۷. ذهبي، سير أعلام النبلاء، ۳ : ۲۴۷

۸. مزي، تهذيب الکمال، ۶ : ۳۹۹، رقم : ۱۳۲۳

۲. عن سلمان رضي الله عنه قال : قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم : سميتهما يعني الحسن والحسين باسم ابني هارون شبرا و شبيرا.

’’حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے ان دونوں یعنی حسن اور حسین کے نام ہارون (علیہ السلام) کے بیٹوں شبر اور شبیر کے نام پر رکھے ہیں۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۶ : ۲۶۳، رقم : ۶۱۶۸

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۸ : ۵۲

۳. ديلمي، الفردوس، ۲ : ۳۳۹، رقم : ۳۵۳۳

۴. ابن حجر مکي، الصواعق المحرقه، ۲ : ۵۶۳

۳. عن سالم رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم : اني سميت ابني هذين حسن و حسين بأسماء ابني هارون شبر و شبير.

’’حضرت سالم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے ان دونوں بیٹوں حسن اور حسین کے نام ہارون (علیہ السلام) کے بیٹوں شبر اور شبیر کے نام پر رکھے ہیں۔‘‘

۱. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، ۲ : ۷۷۴، رقم : ۱۳۶۷

۲. ابن ابي شيبه، المصنف، ۶ : ۳۷۹، رقم : ۳۲۱۸۵

۳. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۹۷، رقم : ۲۷۷۷

۴. عن عکرمة قال : لما ولدت فاطمة الحسن بن علی جاء ت به الی رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم فسماه حسنا، فلما ولدت حسينا جاء ت به الي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فقالت : يا رسول اﷲ صلي اﷲ عليک وسلم! هذا أحسن من هذا تعني حسينا فشق له من اسمه فسماه حسينا.

’’حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا کے ہاں حسن بن علی علیہما السلام کی ولادت ہوئی تو وہ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لائیں، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام حسن رکھا اور جب حسین کی ولادت ہوئی تو انہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لا کر عرض کیا! یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیک وسلم! یہ (حسین) اس (حسن) سے زیادہ خوبصورت ہے لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے نام سے اخذ کرکے اُس کا نام حسین رکھا.‘‘

۱. عبدالرزاق، المصنف، ۴ : ۳۳۵، رقم : ۷۹۸۱

۲. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، ۱۴ : ۱۱۹

۳. ذهبي، سير أعلام النبلا، ۳ : ۴۸

۴. مزي، تهذيب الکمال، ۶ : ۲۲۴

۵. عن جعفر بن محمد عن ابيه أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم اشتق اسم حسين من حسن و سمي حسنا و حسينا يوم سابعهما.

’’حضرت جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسین کا نام حسن سے اخذ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں کے نام حسن اور حسین علیہما السلام ان کی پیدائش کے ساتویں دن رکھے۔

۱. محب طبري، ذخائر العقبیٰ، ۱ : ۱۱۹

۲. دولابی، الذرية الطاهره، ۱ : ۸۵، رقم : ۱۴۶

۶. عن علی بن ابی طالب رضی الله عنه قال : لما ولدت فاطمة الحسن جاء النبی صلی الله عليه وآله وسلم فقال : أروني ابني ما سميتموه؟ قال : قلت : سميته حربا فقال : بل هو حسن فلما ولدت الحسين جاء رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فقال : أروني ابني ما سميتموه؟ قال : قلت : سميته حربا قال : بل هو حسين ثم لما ولدت الثالث جاء رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال : أروني ابني ما سميتموه؟ قلت : سميته حربا. قال : بل هو محسن. ثم قال : إنما سميتهم بإسم ولد هارون شبر و شبير و مشبر.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب فاطمہ کے ہاں حسن کی ولادت ہوئی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا : مجھے میرا بیٹا دکھاؤ، اس کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں بلکہ وہ حسن ہے پھر جب حسین کی ولادت ہوئی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا : مجھے میرا بیٹا دکھاؤ تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا : میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں بلکہ وہ حسین ہے۔ پھر جب تیسرا بیٹا پیدا ہوا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا : مجھے میرا بیٹا دکھاؤ، تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا : میں نے اس کا نام حرب رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہیں بلکہ اس کا نام محسن ہے۔ پھر ارشاد فرمایا : میں نے ان کے نام ہارون (علیہ السلام) کے بیٹوں شبر، شبیر اور مشبر کے نام پر رکھے ہیں۔‘‘

۱. حاکم، المستدرک، ۳ : ۱۸۰، رقم : ۴۷۷۳

۲. احمد بن حنبل، المسند، ۱ : ۱۱۸، رقم : ۹۳۵

۳. ابن حبان، الصحيح، ۱۵ : ۴۱۰، رقم : ۶۹۸۵

۴. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۹۶، رقم : ۲۷۷۳، ۲۷۷۴

۵. هيثمي، مجمع الزوائد، ۸ : ۵۲

۶. عسقلاني، الاصابه، ۶ : ۲۴۳، رقم : ۸۲۹۶

عسقلانی نے اس کی اسناد کو صحیح قرار دیا ہے۔

۷. بخاری، الادب المفرد، ۱ : ۲۸۶، رقم : ۸۲۳

فصل : ۲

الحسن والحسين من أسماء الجنة حجبهما اﷲ

(حسن اور حسین جنت کے ناموں میں سے دو نام ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ نے حجاب میں رکھا)

۷. عن المفضل قال : إن اﷲ حجب اسم الحسن والحسين حتي سمي بهما النبي صلي الله عليه وآله وسلم ابنيه الحسن والحسين.

’’مفضل سے روایت ہے کہ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے حسن اور حسین کے ناموں کو حجاب میں رکھا یہاں تک کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بیٹوں کا نام حسن اور حسین رکھا۔‘‘

۱. نبهاني، الشرف المؤبد : ۴۲۴

۲. نووي، تهذيب الأسماء، ۱ : ۱۶۲، رقم : ۱۱۸

۳. ابن اثير، اسد الغابه في معرفة الصحابه، ۲ : ۱۳

۸. عن عمران بن سليمان قال : الحسن و الحسين اسمان من أسماء أهل الجنة لم يکونا في الجاهلية.

’’عمران بن سلیمان سے روایت ہے کہ حسن اور حسین اہل جنت کے ناموں میں سے دو نام ہیں جو کہ دورِ جاہلیت میں پہلے کبھی نہیں رکھے گئے تھے۔‘‘

۱. دولابي، الذرية الطاهره، ۱ : ۶۸، رقم : ۹۹

۲. ابن حجر مکي، الصواعق المحرقه : ۱۹۲

۳. ابن اثير، اسد الغابه في معرفة الصحابه، ۲ : ۲۵

۴. مناوي، فيض القدير، ۱ : ۱۰۵

فصل : ۳

قال النبی صلی الله عليه وآله وسلم : الحسن والحسين هما أبناي

(حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حسنین کریمین علیہما السلام میرے بیٹے ہیں)

۹. عن عبداﷲ بن مسعود رضي اﷲ عنهما قال : رأيت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أخذ بيد الحسن والحسين و يقول : هذان أبناي.

’’حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن و حسین علیہما السلام کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : یہ میرے بیٹے ہیں۔‘‘

۱. ذهبي، سير أعلام النبلاء، ۳ : ۲۸۴

۲. ديلمي، الفردوس، ۴ : ۳۳۶، رقم : ۶۹۷۳

۳. ابن جوزي، صفوة الصفوه، ۱ : ۷۶۳

۴. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربیٰ، ۱ : ۱۲۴

۱۰. عن فاطمة سلام اﷲ عليها قالت : أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أتاها يوما. فقال : أين ابناي؟ فقالت : ذهب بهما علي، فتوجه رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فوجدهما يلعبان في مشربة و بين أيدهما فضل من تمر. فقال : يا علیّ! ألا تقلب ابني قبل الحر.

’’سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا فرماتی ہیں کہ ایک روز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور فرمایا : میرے بیٹے کہاں ہیں؟ میں نے عرض کیا : علی رضی اللہ عنہ ان کو ساتھ لے گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی تلاش میں متوجہ ہوئے تو انہیں پانی پینے کی جگہ پر کھیلتے ہوئے پایا اور ان کے سامنے کچھ کھجوریں بچی ہوئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے علی! خیال رکھنا میرے بیٹوں کو گرمی شروع ہونے سے پہلے واپس لے آنا۔‘‘

۱. حاکم، المستدرک، ۳ : ۱۸۰، رقم : ۴۷۷۴

۲. دولابي، الذرية الطاهره، ۱ : ۱۰۴، رقم : ۱۹۳

۱۱. عن المسيب بن نجبة قال : قال علیّ بن أبي طالب : قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم : إن کل نبي اعطي سبعة نجباء أو نقباء، و أعطيت أنا أربعة عشر. قلنا : من هم؟ قال : أنا و أبناي و جعفر و حمزة و أبوبکر و عمر و مصعب بن عمير و بلال و سلمان والمقداد و حذيفة و عمار و عبد اﷲ بن مسعود.

’’مسیب بن نجبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر نبی کو سات نجیب یا نقیب عطا کئے گئے جبکہ مجھے چودہ عطا کئے گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ کون ہیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں، میرے دونوں بیٹے، جعفر، حمزہ، ابوبکر، عمر، مصعب بن عمیر، بلال، سلمان، مقداد، حذیفہ، عمار اور عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنھم۔‘‘

۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۶ : ۱۲۳، کتاب المناقب، رقم : ۳۷۸۵

۲. احمد بن حنبل، المسند، ۱ : ۱۴۲، رقم : ۱۲۰۵

۳. شيباني، الآحاد والمثاني، ۱ : ۱۸۹، رقم : ۲۴۴

۴. طبراني، المعجم الکبير، ۶ : ۲۱۵، رقم : ۶۰۴۷

۵. ابن موسي، معتصر المختصر، ۲ : ۳۱۴

۶. طبري، الرياض النضره في مناقب العشره، ۱ : ۲۲۵، رقم : ۷، ۸

۷. ابن عبدالبر، الاستيعاب في معرفة الاصحاب، ۳ : ۱۱۴۰

۸. حلبي، السيرة الحلبيه، ۳ : ۳۹۰

۹. ابن احمد خطيب، وسيلة الاسلام، ۱ : ۷۷

۱۲. عن علی رضی الله عنه قال : ان اﷲ جعل لکل نبی سبعة نجباء و جعل لنبينا أربعة عشر، منهم : أبوبکر و عمر و علیّ و الحسن والحسين و حمزة و جعفر و أبوذر و عبداﷲ بن مسعود و المقداد و عمار و سلمان و حذيفة و بلال.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اﷲ تعالیٰ نے ہر نبی کے سات نجباء بنائے جبکہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چودہ نجیب عطا کئے۔ ان میں ابوبکر، عمر، علی، حسن، حسین، حمزہ، جعفر، ابوذر، عبداﷲ بن مسعود، مقداد، عمار، سلمان، حذیفہ اور بلال رضی اللہ عنھم شامل ہیں۔‘‘

۱. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، ۱۲ : ۴۸۴، رقم : ۶۹۵۷

۲. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، ۱ : ۲۲۸، رقم : ۲۷۶

۳. دارقطني، العلل، ۳ : ۲۶۲، رقم : ۳۹۵

۴. ابن جوزي، العلل المتناهية، ۱ : ۲۸۲، رقم : ۴۵۵

فصل : ۴

الحسن و الحسين عليهما السلام أهل البيت

(حسنین کریمین علیہما السلام اہل بیت ہیں)

۱۳. عن أم سلمة رضی اﷲ عنها أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم جمع فاطمة و حسنا و حسينا ثم أدخلهم تحت ثوبه ثم قال : اللهم هؤلاء أهل بيتي.

’’ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ سلام اﷲ علیہا اور حسن و حسین علیہما السلام کو جمع فرما کر ان کو اپنی چادر میں لے لیا اور فرمایا : اے اﷲ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۵۳، رقم : ۲۶۶۳

۲. طبراني، المعجم الکبير، ۲۳ : ۳۰۸، رقم : ۶۹۶

۳. ابن موسیٰ، معتصر المختصر، ۲ : ۲۶۶

۴. حاکم، المستدرک، ۳ : ۱۵۸، رقم : ۴۷۰۵

۵. طبري، جامع البيان في تفسير القرآن، ۲۲ : ۸

۶. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۳ : ۴۸۶

۱۴. عن سعد بن ابي وقاص رضی اﷲ عنه قال : لما نزلت هذه الاية (فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَ نَا وَ أَبْنَاءَ کُمْ) دعا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : عليا و فاطمة و حسنا و حسينا فقال : اللهم هؤلاء اهلي.

’’حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب آیتِ مباہلہ ’’آپ فرما دیں آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ‘‘ نازل ہوئی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام کو بلایا، پھر فرمایا : یا اﷲ! یہ میرے اہل (بیت) ہیں۔‘‘

۱. مسلم، الصحيح، ۴ : ۱۸۷۱، کتاب فضائل الصحابه، رقم : ۲۴۰۴

۲. ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۲۲۵، کتاب تفسير القرآن، رقم : ۲۹۹۹

۳. احمد بن حنبل، المسند، ۱ : ۱۸۵، رقم : ۱۶۰۸

۴. حاکم، المستدرک، ۳ : ۱۶۳، رقم : ۴۷۱۹

۵. بيهقي، السنن الکبریٰ، ۷ : ۶۳، رقم : ۱۳۱۷۰

۶. دورقي، مسند سعد، ۱ : ۵۱، رقم : ۱۹

۷. محب طبري، ذخائر العقبی في مناقب ذوي القربیٰ، ۱ : ۲۵

۱۵. عن ابي سعيد الخدري رضی اﷲ عنه في قوله (اِنَّمَا يُرِيْدُ اﷲُ لِيُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ) قال : نزلت في خمسة في رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم و علي و فاطمة والحسن والحسين.

’’حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ اﷲ تعالیٰ کے اس فرمان ’’اے نبی کے گھر والو! اﷲ چاہتا ہے کہ تم سے (ہر طرح کی) آلودگی دور کر دے اور تم کو خوب پاک و صاف کر دے‘‘ کے بارے میں فرماتے ہیں : یہ آیت مبارکہ ان پانچ ہستیوں کے بارے میں نازل ہوئی : حضور نبی اکرم، علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم الصلوۃ والسلام۔‘‘

(۱۵) ۱. طبراني، المعجم الاوسط، ۳ : ۸۰، رقم : ۳۴۵۶

۲. طبراني، المعجم الصغير، ۱ : ۲۳، رقم : ۳۲۵

۳. ابن حيان، طبقات المحدثين، ۳ : ۳۸۴

۴. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، ۱۰ : ۲۷۸

۵. طبري، جامع البيان في تفسير القرآن، ۲۲ : ۶

فائدہ : انہی پانچ ہستیوں کی متذکرہ تخصیص کے باعث عامۃ المسلمین میں ’’پنج تن‘‘ کی اِصطلاح مشہور ہے۔ جو شرعاً درست ہے اس میں کوئی مبالغہ یا اعتقادی غلو ہرگز نہیں۔

فصل : ۵

النبي صلي الله عليه وآله وسلم هو عصبتهما و وليهما و أبوهما

(حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی حسنین کریمین علیہما السلام کا نسب، ولی اور باپ ہیں)

۱۶. عن عمر بن الخطاب رضی اﷲ عنه قال : سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : کل بني انثي فان عصبتهم لأبيهم ما خلا ولد فاطمة، فإني أنا عصبتهم و أنا أبوهم.

’’حضرت عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں : میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ہر عورت کے بیٹوں کی نسبت ان کے باپ کی طرف ہوتی ہے ماسوائے فاطمہ کی اولاد کے، کہ میں ہی ان کا نسب ہوں اور میں ہی ان کا باپ ہوں۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۴۴، رقم : ۲۶۳۱

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۴ : ۲۲۴

۳. شوکاني، نيل الاوطار، ۶ : ۱۳۹

۴. صنعاني، سبل السلام، ۴ : ۹۹

اس روایت میں بشر بن مہران کو ابن حبان نے ’(الثقات، ۸ : ۱۴۰)‘ میں ثقہ شمار کیا ہے

۵. حسيني، البيان والتعريف، ۲ : ۱۴۴، رقم : ۱۳۱۴

۶. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربیٰ، ۱ : ۱۲۱

۱۷. عن عمر بن الخطاب رضی اﷲ عنه قال : سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : کل سبب و نسب منقطع يوم القيامة ما خلا سببي و نسبي کل ولد أب فان عصبتهم لأبيهم ما خلا ولد فاطمه فإني أنا ابوهم و عصبتهم.

’’حضرت عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں : میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : قیامت کے دن میرے حسب و نسب کے سواء ہر سلسلہ نسب منقطع ہو جائے گا. ہر بیٹے کی باپ کی طرف نسبت ہوتی ہے ماسوائے اولادِ فاطمہ کے کہ ان کا باپ بھی میں ہی ہوں اور ان کا نسب بھی میں ہی ہوں۔‘‘

۱. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، ۲ : ۶۲۶، رقم : ۱۰۷۰

۲. حسيني، البيان والتعريف، ۲ : ۱۴۵، رقم : ۱۳۱۶

۳. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربیٰ، ۱ : ۱۶۹

مختصراً ی ہ روایت درج ذیل محدثین ن ے روایت کی ہے :

۴. عبدالرزاق، المصنف، ۶ : ۱۶۴، رقم : ۱۰۳۵۴

۵. بيهقي، السنن الکبریٰ، ۷ : ۶۴، رقم : ۱۳۱۷۲

۶. طبراني، المعجم الاوسط، ۶ : ۳۵۷، رقم : ۶۶۰۹

۷. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۴۴، رقم : ۲۶۳۳

۸. هيثمي، مجمع الزوائد، ۴ : ۲۷۲

۱۸. عن جابر رضی اﷲ عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم لکل بني أم عصبة ينتمون اليهم إلا إبني فاطمة فأنا و ليهما و عصبتهما.

’’حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر ماں کے بیٹوں کا آبائی خاندان ہوتا ہے جس کی طرف وہ منسوب ہوتے ہیں سوائے فاطمہ کے بیٹوں کے، پس میں ہی ان کا ولی ہوں اور میں ہی ان کا نسب ہوں۔‘‘

۱. حاکم، المستدرک، ۳ : ۱۷۹، رقم : ۴۷۷۰

۲. ابو يعلیٰ، المسند، ۲ : ۱۰۹، رقم : ۶۷۴۱

۳. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۴۴، رقم : ۲۶۳۲

۴. سخاوي، استجلاب ارتقاء الغرف بحب اقرباء الرسول و ذوي الشرف : ۱۳۰

۱۹. عن فاطمة الکبري سلام اﷲ عليها قالت : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : لکل بني أنثي عصبة ينتمون إليه إلا ولد فاطمة، فأنا وليهم و أنا عصبتهم.

’’سیدہ فاطمہ الزہراء سلام اﷲ علیہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر عورت کے بیٹوں کا خاندان ہوتا ہے جس کی طرف وہ منسوب ہوتے ہیں ماسوائے فاطمہ کی اولاد کے، پس میں ہی ان کا ولی ہوں اور میں ہی ان کا نسب ہوں۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۲۲ : ۴۲۳، رقم : ۱۰۴۲

۲. ابويعلیٰ، المسند، ۱۲ : ۱۰۹، رقم : ۶۷۴۱

۳. هيثمي، مجمع الزوائد، ۴ : ۲۲۴

۴. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، ۱۱ : ۲۸۵

۵. ديلمي، الفردوس، ۳ : ۲۶۴، رقم : ۴۷۸۷

۶. مزي، تهذيب الکمال، ۱۹ : ۴۸۳

۷. عجلوني، کشف الخفا، ۲ : ۱۵۷، رقم : ۱۹۶۸


فصل : ۶

إن الحسن و الحسين عليهما السلام خير الناس نسباً

(حسنین کریمین علیہما السلام لوگوں میں سے سب سے بہتر نسب والے ہیں)

۲۰. عن ابن عباس رضي اﷲ عنهما قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : أيها الناس! ألا أخبرکم بخير الناس جدا و جدة؟ ألا أخبرکم بخير الناس عما و عمة؟ ألا أخبرکم بخير الناس خالا و خالة؟ ألا أخبرکم بخير الناس أباً و أماً؟ هما الحسن و الحسين، جدهما رسول اﷲ، و جدتهما خديجة بنت خويلد، و أمهما فاطمة بنت رسول اﷲ، و أبوهما علي بن أبي طالب، و عمهما جعفر بن أبي طالب، و عمتهما أم هاني بنت أبي طالب، و خالهما القاسم بن رسول اﷲ، و خالاتهما زينب و رقية و أم کلثوم بنات رسول اﷲ، جدهما في الجنة و أبوهما في الجنة و أمهما في الجنة، و عمهما في الجنة و عمتهما في الجنة، و خالاتهما في الجنة، و هما في الجنة.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو! کیا میں تمہیں ان کے بارے میں خبر نہ دوں جو (اپنے) نانا نانی کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمہیں ان کے بارے نہ بتاؤں جو (اپنے) چچا اور پھوپھی کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمہیں ان کے بارے میں نہ بتاؤں جو (اپنے) ماموں اور خالہ کے اعتبار سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ کیا میں تمہیں ان کے بارے میں خبر نہ دوں جو (اپنے) ماں باپ کے لحاظ سے سب لوگوں سے بہتر ہیں؟ وہ حسن اور حسین ہیں، ان کے نانا اﷲ کے رسول، ان کی نانی خدیجہ بنت خویلد، ان کی والدہ فاطمہ بنت رسول اﷲ، ان کے والد علی بن ابی طالب، ان کے چچا جعفر بن ابی طالب، ان کی پھوپھی ام ہانی بنت ابی طالب، ان کے ماموں قاسم بن رسول اﷲ اور ان کی خالہ رسول اﷲ کی بیٹیاں زینب، رقیہ اور ام کلثوم ہیں۔ ان کے نانا، والد، والدہ، چچا، پھوپھی، ماموں اور خالہ (سب) جنت میں ہوں گے اور وہ دونوں (حسنین کریمین) بھی جنت میں ہوں گے۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۶۶، رقم : ۲۶۸۲

۲. طبراني، المعجم الاوسط، ۶ : ۲۹۸، رقم : ۶۴۶۲

۳. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، ۱۳ : ۲۲۹

۴. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۴

۵. هندي، کنز العمال، ۱۲ : ۱۱۸، رقم : ۳۴۲۷۸

۶. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربیٰ، ۱ : ۱۳۰

فصل : ۷

الحسن و الحسين عليهما السلام هما ريحانتاي من الدنيا

(حسنین کریمین علیہما السلام ہی میرے گلشن دُنیا کے پھول ہیں)

۲۱. عن ابن ابي نعم : سمعت عبداﷲ ابن عمر رضي اﷲ عنهما و سأله عن المحرم، قال شعبة : أحسبه بقتل الذباب، فقال : أهل العراق يسألون عن الذباب و قد قتلوا ابن ابنة رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، و قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم : هما ريحا نتاي من الدنيا.

’’ابن ابونعم فرماتے ہیں کہ کسی نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے حالت احرام کے متعلق دریافت کیا۔ شعبہ فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں (محرم کے) مکھی مارنے کے بارے میں پوچھا تھا۔ حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنہما نے فرمایا : اہل عراق مکھی مارنے کا حکم پوچھتے ہیں حالانکہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے (حسین) کو شہید کر دیا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے : وہ دونوں (حسن و حسین علیہما السلام) ہی تو میرے گلشن دُنیا کے دو پھول ہیں۔‘‘

۱. بخاري، الصحيح، ۳ : ۱۳۷۱، کتاب فضائل الصحابه، رقم : ۳۵۴۳

۲. احمد بن حنبل، المسند، ۲ : ۸۵، رقم : ۵۵۶۸

۳. ابن حبان، الصحيح، ۱۵ : ۴۲۵، رقم : ۶۹۶۹

۴. طيالسي، المسند، ۱ : ۲۶۰، رقم : ۱۹۲۷

۵. ابونعيم اصبهاني، حلية الاولياء و طبقات الاصفياء، ۵ : ۷۰

۶. ابونعيم اصبهاني، حلية الاولياء و طبقات الاصفياء، ۷ : ۱۶۸

۷. بيهقي، المدخل، ۱ : ۵۴، رقم : ۱۲۹

۲۲. عن عبدالرحمن بن ابی نعم : أن رجلا من أهل العراق سأل ابن عمر رضي اﷲ عنهما عن دم البعوض يصيب الثوب؟ فقال ابن عمر رضي اﷲ عنهما : انظروا إلي هذا يسأل عن دم البعوض و قد قتلوا ابن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، و سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : ان الحسن و الحسين هما ريحانتي من الدنيا.

’’حضرت عبدالرحمن بن ابی نعم سے روایت ہے کہ ایک عراقی نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے پوچھا کہ کپڑے پر مچھر کا خون لگ جائے تو کیا حکم ہے؟ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما نے فرمایا : اس کی طرف دیکھو، مچھر کے خون کا مسئلہ پوچھتا ہے حالانکہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے (حسینں) کو شہید کیا ہے اور میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : حسن اور حسین ہی تو میرے گلشن دُنیا کے دو پھول ہیں۔‘‘

۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۶۵۷، ابواب المناقب، رقم : ۳۷۷۰

۲. بخاري، الصحيح، ۵ : ۲۲۳۴، کتاب الادب، رقم : ۵۶۴۸

۳. نسائي، السنن الکبریٰ، ۵ : ۵۰، رقم : ۸۵۳۰

۴. احمد بن حنبل، المسند، ۲ : ۹۳، رقم : ۵۶۷۵

۵. احمد بن حنبل، المسند، ۲ : ۱۱۴، رقم : ۵۹۴۰

۶. ابو يعلیٰ، المسند، ۱۰ : ۱۰۶، رقم : ۵۷۳۹

۷. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۱۲۷، رقم : ۲۸۸۴

۸. حکمي، معارج القبول، ۳ : ۱۲۰۱

۲۳. عن أبي أيوب الأنصاري رضی اﷲ عنه قال : دخلت علي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم والحسن والحسين عليهما السلام يلعبان بين يديه أو في حجره، فقلت : يا رسول اﷲ صلي اﷲ عليک وسلم أتحبهما؟ فقال : و کيف لا أحبهما وهما ريحانتي من الدنيا أشمهما.

’’حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا تو (دیکھا کہ) حسن و حسین علیہما السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یا گود میں کھیل رہے تھے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیک وسلم : کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے محبت کرتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں ان سے محبت کیوں نہ کروں حالانکہ میرے گلشن دُنیا کے یہی تو دو پھول ہیں جن کی مہک کو سونگھتا رہتا ہوں (اُنہی پھولوں کی خوشبو سے کیف و سرور پاتا ہوں)۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۴ : ۱۵۵، رقم : ۳۹۹۰

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۱

۳. عسقلاني، فتح الباري، ۷ : ۹۹

۴. مبارکپوري، تحفة الأحوذي، ۶ : ۳۲

۵. ذهبي، سير أعلام النبلاء، ۳ : ۲۸۲

فصل : ۸

تأذين النبي صلي الله عليه وآله وسلم في أُذن الحسن والحسين عليهما السلام

(حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسنین کریمین علیہما السلام کے کانوں میں اَذان کہنا)

۲۴. عن أبي رافع رضي الله عنه : أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم أذن في أذن الحسن والحسين عليهما السلام حين ولدا.

’’حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حسن اور حسین پیدا ہوئے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ان کے کانوں میں اذان دی۔‘‘

۱. روياني، المسند، ۱ : ۴۲۹، رقم : ۷۰۸

۲. طبراني، المعجم الکبير، ۱ : ۳۱۳، رقم : ۹۲۶

۳. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۳۱، رقم : ۲۵۷۹

۴. هيثمي، مجمع الزوائد، ۴ : ۶۰

۵. ابن ملقن انصاري، خلاصة البدر المنير، ۲ : ۳۹۲، رقم : ۲۷۱۳

۶. شوکاني، نيل الاوطار، ۵ : ۲۳۰

۷. صنعاني، سبل السلام، ۴ : ۱۰۰

۲۵. عن ابي رافع رضي الله عنه قال : رايت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم اذن في اذن الحسن بن علي حين ولدته فاطمة بالصلاة.

’’حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ کے ہاں حسن بن علی کی ولادت ہونے پر ان کے کانوں میں نماز والی اذان دی۔‘‘

۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۴ : ۹۷، کتاب الاضاحي، رقم : ۱۵۱۴

۲. ابوداؤد، السنن، ۴ : ۳۲۸، کتاب الادب، رقم : ۵۱۰۵

۳. احمد بن حنبل، المسند، ۶ : ۳۹۱

۴. روياني، المسند، ۱ : ۴۵۵، رقم : ۶۸۲

۵. طبراني، المعجم الکبير، ۱ : ۳۱۵، رقم : ۹۳۱

۶. عبدالرزاق، المصنف، ۴ : ۳۳۶، رقم : ۷۹۸۶

۷. بيهقي، السنن الکبریٰ، ۹ : ۳۰۵

۲۶. عن ابي رافع رضي الله عنه قال : رايت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم اذن في اذن الحسين حين ولدته فاطمة. هذا حديث صحيح الاسناد ولم يخرجاه.

’’حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ کے ہاں حسین کی ولادت پر ان کے کانوں میں اذان دی۔‘‘

۱. حاکم، المستدرک، ۳ : ۱۹۷، رقم : ۴۸۲۷

حاکم نے اس روایت کی اسناد کو صحیح قرار دیا ہے جبکہ بخاری و مسلم نے اس کی تخریج نہیں کی

۲. عسقلاني، تلخيص الحبير، ۴ : ۱۴۹، رقم : ۱۹۸۵

۳. ابن ملقن انصاري، خلاصة البدر المنير، ۲ : ۳۹۱، رقم : ۲۷۱۳

۴. شوکاني، نيل الاوطار، ۵ : ۲۲۹

فصل : ۹

عقيقة النبي صلي الله عليه وآله وسلم عن الحسن و الحسين عليهما السلام

(حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسنین کریمین علیہما السلام کی طرف سے عقیقہ کرنا)

۲۷. عن ابن عباس رضي اﷲ عنهما : أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم عق عن الحسن و الحسين کبشاً کبشاً.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسنین کریمین کی طرف سے عقیقے میں ایک ایک دنبہ ذبح کیا۔‘‘

۱. ابوداؤد، السنن، ۳ : ۱۰۷، کتاب الصحايا، رقم : ۲۸۴۱

۲. ابن جارود، المنتقي، ۱ : ۲۲۹، رقم : ۱۲ - ۹۱۱

۳. بيهقي، السنن الکبري، ۹ : ۳۰۲

۴. طبراني، المعجم الکبير، ۱۱ : ۳۱۶، رقم : ۱۱۸۵۶

۵. ابن عبدالبر، التمهيد، ۴ : ۳۱۴

۶. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، ۱۰ : ۱۵۱، رقم : ۵۳۰۲

۷. صنعاني، سبل السلام، ۴ : ۹۷

۸. ابن رشد، بداية المجتهد، ۱ : ۳۳۹

۹. ابن موسیٰ، معتصر المختصر، ۱ : ۲۷۶

۲۸. عن أنس رضي اﷲ عنه : أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم عق عن الحسن و الحسين بکبشين.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسنین کریمین کی طرف سے دو دنبے عقیقہ کے لئے ذبح کئے۔‘‘

۱. ابويعلي، المسند، ۵ : ۳۲۳، رقم : ۲۹۴۵

۲. طبراني، المعجم الاوسط، ۲ : ۲۴۶، رقم : ۱۸۷۸

۳. مقدسي، الاحاديث المختاره، ۷ : ۸۵، رقم : ۲۴۹۰

۴. هيثمي، مجمع الزوائد، ۴ : ۵۷

۵. وادياشي، تحفة المحتاج، ۲ : ۵۳۸، رقم : ۱۷۰۱

۲۹. عن ابن عباس رضي اﷲ عنهما قال : عق رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم عن الحسن و الحسين بکبشين کبشين.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسنین کریمین کی طرف سے عقیقے میں دو دو دنبے ذبح کئے۔‘‘

۱. نسائی، السنن، ۷ : ۱۶۵، کتاب العقيقه، رقم : ۴۲۱۹

۲. نسائي، السنن الکبري، ۳ : ۷۶، رقم : ۴۵۴۵

۳. سيوطي، تنوير الحوالک، ۱ : ۳۳۵، رقم : ۱۰۷۱

۴. زرقاني، شرح الموطا، ۳ : ۱۳۰

۵. شوکاني، نيل الاوطار، ۵ : ۲۲۷

۶. مبارکپوري، تحفة الاحوذی، ۵ : ۸۷

۷. صنعاني، سبل السلام، ۴ : ۹۸

۳۰. عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده : أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم عق عن الحسن و الحسين، عن کل واحد منهما کبشين اثنين مثلين متکافئين.

’’حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن اور حسین میں سے ہر ایک کی طرف سے ایک ہی جیسے دو دو دنبے عقیقہ میں ذبح کئے۔‘‘

حاکم، المستدرک، ۴ : ۲۶۵، رقم : ۷۵۹۰

۳۱. عن عائشة رضي اﷲ عنها أنها قالت : عق رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم عن حسن شاتين و عن حسين شاتين، ذبحهما يوم السابع.

’’ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن اور حسین کی پیدائش کے ساتویں دن ان کی طرف سے دو دو بکریاں عقیقہ میں ذبح کیں۔‘‘

۱. عبدالرزاق، المصنف، ۴ : ۳۳۰، رقم : ۷۹۶۳

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۴ : ۵۸

۳. ابن حبان، الصحيح، ۱۲ : ۱۲۷، رقم : ۵۳۱۱

۴. وادياشي، تحفة المحتاج، ۲ : ۵۳۷، رقم : ۱۷۰۰

۵. هيثمي، موارد الظمآن، ۱ : ۲۶۰، رقم : ۱۰۵۶

۶. دولابي، الذرية الطاهرة، ۱ : ۸۵، رقم : ۱۴۸

۳۲. عن علي رضي الله عنه أن رسول صلي الله عليه وآله وسلم عق عن الحسن و الحسين. (۳۲)

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسنین کریمین کی طرف سے عقیقہ کیا۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۲۹، رقم : ۲۵۷۲

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۴ : ۵۸

فصل : ۱۰

الحسن والحسين عليهما السلام کانا أشبه بالنبي صلي الله عليه وآله وسلم

(حسنین کریمین علیہما السلام . سراپا شبیہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے)

۳۳. عن علي رضي الله عنه قال : الحسن أشبه برسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ما بين الصدر إلي الراس، والحسين أشبه بالنبي صلي الله عليه وآله وسلم ما کان أسفل من ذلک.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حسن سینہ سے سر تک رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل شبیہ تھے اور حسین سینہ سے نیچے تک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل شبیہ تھے۔‘‘

۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۶۶۰، ابواب المناقب، رقم : ۵۷۷۹

۲. احمد بن حنبل، المسند، ۱ : ۹۹، رقم : ۷۷۴

۳. ابن حبان، الصحيح، ۱۵ : ۴۳۰ : رقم : ۶۹۷۴

۴. طيالسي، المسند، ۱ : ۹۱، رقم : ۱۳۰

۵. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، ۲ : ۷۷۴، رقم : ۱۳۶۶

۶. مقدسي، الاحاديث المختارة، ۲ : ۳۹۴، رقم : ۷۸۰، ۷۸۱

۷. هيثمي، مواردالظمآن، ۱ : ۵۵۳، رقم : ۲۲۳۵

۸. ابن جوزي، صفوة الصفوه، ۱ : ۷۶۳

۹. ذهبي، سير أعلام النبلاء، ۳ : ۲۵۰

۳۴. عن علي رضی الله عنه، قال : من سره أن ينظر الي أشبه الناس برسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ما بين عنقه الي وجهه فلينظر إلي الحسن بن علي، و من سره أن ينظر إلي أشبه الناس برسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ما بين عنقه الي کعبه خلقا و لونا فلينظر إلي الحسين بن علي.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ وہ لوگوں میں ایسی ہستی کو دیکھے جو گردن سے چہرے تک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے کامل شبیہ ہو تو وہ حسن بن علی کو دیکھ لے اور جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ وہ لوگوں میں ایسی ہستی کو دیکھے جو گردن سے ٹخنے تک رنگت اور صورت دونوں میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے کامل شبیہ ہو تو وہ حسین بن علی کو دیکھ لے۔‘‘

طبرانی، المعجم الکبير، ۳ : ۹۵، رقم : ۲۷۶۸، ۲۷۵۹

۳۵. عن انس رضی الله عنه قال : کان الحسن و الحسین أشبههم برسول اﷲ صلی الله علیه وآله وسلم .

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حسن و حسین علیہما السلام دونوں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔‘‘

عسقلاني، الاصابه في تمييز الصحابه، ۲ : ۷۷، رقم : ۱۷۲۶

۳۶. عن محمد بن الضحاک الحزامی قال : کان وجه الحسن بن علی یشبه وجه رسول اﷲ صلی الله علیه وآله وسلم و کان جسد الحسین یشبه جسد رسول اﷲ صلی الله علیه وآله وسلم

’’محمد بن ضحاک حزامی روایت کرتے ہیں کہ حسن بن علی علیہما السلام کا چہرہ مبارک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ اقدس کی شبیہ تھا اور حسین کا جسم مبارک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم اقدس کی شبیہ تھا۔‘‘

ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، ۱۴ : ۱۲۷

فصل : ۱۱

يرث الحسن والحسين عليهما السلام أوصاف النبي صلي الله عليه وآله وسلم

(حسنین کریمین علیہما السلام . وارثان اوصافِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )

۳۷. عن فاطمة بنت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : أنها أتت بالحسن والحسين أباها رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم في شکوة التي مات فيها، فقالت : تورثهما يا رسول اﷲ شيئاً. فقال : أما الحسن فله هيبتي و سؤددي و أما الحسين فله جراتي و جودي.

’’سیدہ فاطمہ صلوات اﷲ علیھا سے روایت ہے کہ وہ اپنے بابا حضور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الوصال کے دوران حسن اور حسین کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لائیں اور عرض کیا : یا رسول اﷲ! انہیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حسن میری ہیبت و سرداری کا وارث ہے اور حسین میری جرات و سخاوت کا۔‘‘

۱. شيباني، الآحاد والمثاني، ۱ : ۲۹۹، رقم : ۴۰۸

۲. شيباني، الآحاد والمثاني، ۵ : ۳۷۰، رقم : ۲۹۷۱

۳. طبراني، المعجم الکبير، ۲۲ : ۴۲۳، رقم : ۱۰۴۱

۴. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۵

۵. شوکاني، درالسحابه : ۳۱۰

۶. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربي، ۱ : ۱۲۹

۷. ابن حجر مکي، الصواعق المحرقه، ۲ : ۵۶۰

۳۸. عن أم أيمن رضي اﷲ عنها قالت : جاءَ ت فاطمة بالحسن و الحسين إلي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، فقالت : يا نبي اﷲ صلي اﷲ عليک وسلم! انحلهما؟ فقال : نحلت هذا الکبير المهابة والحلم، و نحلت هذا الصغير المحبة والرضي.

’’حضرت ام ایمن رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا حسنین کریمین علیہما السلام کو ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا : یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیک وسلم! ان دونوں بیٹوں حسن و حسین کو کچھ عطا فرمائیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے اس بڑے بیٹے (حسن) کو ہیبت و بردباری عطا کی اور چھوٹے بیٹے (حسین) کو محبت اور رضا عطا کی۔‘‘

۱. ديلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، ۴ : ۲۸۰، رقم : ۶۸۲۹

۲. هندي، کنز العمال، ۱۳ : ۷۶۰، رقم : ۳۷۷۱۰

۳۹. عن زينب بنت أبي رافع : أتت فاطمة بابنيها إلي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم في شکواه الذي توفي فيه، فقالت لرسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : هذان ابناک فورثهما شيئا. قال : أما حسن فان له هيبتي و سؤددي، و أما حسين فإن له جراتي و جودي.

’’حضرت زینب بنت ابی رافع سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الوصال کے دوران اپنے دونوں بیٹوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں لائیں اور عرض کیا : یہ آپ کے بیٹے ہیں، انہیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حسن کے لئے میری ہیبت و سرداری کی وراثت ہے اور حسین کے لئے میری جرات و سخاوت کی وراثت۔‘‘

۱. عسقلاني، تهذيب التهذيب، ۲ : ۲۹۹، رقم : ۶۱۵

۲. عسقلاني، الاصابه في تمييز الصحابه، ۷ : ۶۷۴، رقم : ۱۱۲۳۲

۳. مزي، تهذيب الکمال، ۶ : ۴۰۰

۴۰. عن أبي رافع رضي الله عنه قال : جاء ت فاطمة بنت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم بحسن و حسين إلي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم في مرضه الذي قبض فيه، فقالت : هذان ابناک فورثهما شيئا. فقال لها : أما حسن فان له ثباتي و سؤددي، و أما حسين فان له حزامتي و جودي.

’’حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الوصال میں اپنے دونوں بیٹوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں لائیں اور عرض پرداز ہوئیں : یہ آپ کے بیٹے ہیں انہیں کچھ وراثت میں عطا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حسن کے لئے میری ثابت قدمی اور سرداری کی وراثت ہے اور حسین کے لئے میری طاقت و سخاوت کی وراثت۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الاوسط، ۶ : ۲۲۲

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۵

فصل : ۱۲

الحسن و الحسين عليهما السلام سيدا شباب أهل الجنة

(حسنین کریمین علیہما السلام تمام جنتی جوانوں کے سردار ہیں)

۴۱. عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : الحسن و الحسين سيدا شباب أهل الجنة.

’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔‘‘

۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۶۵۶، ابواب المناقب، رقم : ۳۷۶۸

۲. نسائي، السنن الکبري، ۵ : ۵۰، رقم : ۸۱۶۹

۳. ابن حبان، الصحيح، ۱۵ : ۴۱۲، رقم : ۶۹۵۹

۴. احمد بن حنبل، المسند، ۳ : ۳، رقم : ۱۱۰۱۲

۵. ابن ابي شيبه، المصنف، ۶ : ۳۷۸، رقم : ۳۲۱۷۶

۶. طبراني، المعجم الاوسط، ۲ : ۳۴۷، رقم : ۲۱۹۰

۷. طبراني، المعجم الاوسط، ۶ : ۱۰، رقم : ۵۶۴۴

۸. حاکم، المستدرک، ۳ : ۱۸۲، رقم : ۴۷۷۸

۹. هيثمي، مواردالظمآن، ۱ : ۵۵۱، رقم : ۲۲۲۸

۱۰. ہیثمی نے ’مجمع الزوائد (۹ : ۲۰۱)‘ میں اس کے رواۃ کو صحیح قرار دیا ہے

۱۱. سيوطي، الدر المنثور في التفسير بالمأثور، ۵ : ۴۸۹

۱۲. نسائي، خصائص علي، ۱ : ۱۴۲، رقم : ۱۲۹

۱۳. حکمي، معارج القبول، ۳ : ۱۲۰۰

۴۲. عن حذيفة رضي الله عنه قال : سألتني أمي : متي عهدک تعني بالنبي صلي الله عليه وآله وسلم فقلت : ما لي به عهد منذ کذا و کذا، فنالت مني، فقلت لها : دعيني آتي النبي صلي الله عليه وآله وسلم فأصلي معه المغرب و أسأله أن يستغفرلي ولک، فأتيت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، فصليت معه المغرب، فصلي حتي صلي العشاء ثم أنفتل فتبعته فسمع صوتي فقال : من هذا؟ حذيفة! قلت : نعم، قال : ما حاجتک؟ غفر اﷲ لک ولأمک. قال : ان هذا ملک لم ينزل الأرض قط قبل هذه الليلة، استأذن ربه أن يسلم علي و يبشرني بأن فاطمة سيدة نساء أهل الجنة و أن الحسن و الحسين سيدا شباب أهل الجنة.

’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری والدہ نے مجھ سے پوچھا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضری کا میرا معمول کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اتنے دنوں سے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکا۔ وہ مجھ سے ناراض ہوئیں۔ میں نے کہا کہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں ابھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں، ان کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھوں گا اور ان سے عرض کروں گا کہ میرے اور آپ کے لئے مغفرت کی دعا فرمائیں۔ پس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور ان کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی۔ پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوافل ادا فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا فرمائی پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر کی طرف روانہ ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چلنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری آواز سنی تو فرمایا یہ کون ہے؟ حذیفہ! میں نے عرض کیا : جی ہاں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا تمہاری کیا حاجت ہے؟ اﷲ تعالیٰ تمہیں اور تمہاری ماں کو بخش دے پھر فرمایا : یہ ایک فرشتہ ہے جو اس سے پہلے دنیا میں کبھی نہیں اترا۔ اس نے اپنے رب سے اجازت چاہی کہ مجھ پر سلام عرض کرے اور مجھے بشارت دے کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہے اور حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔‘‘

۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۶۶۰، ابواب المناقب، رقم : ۳۷۸۱

۲. ابن حبان، الصحيح، ۱۵ : ۴۱۳، رقم : ۶۹۶۰

۳. نسائي، السنن الکبریٰ، ۵ : ۸۰، رقم : ۸۲۹۸

۴. احمد بن حنبل، المسند، ۵ : ۳۹۱، رقم : ۲۳۳۷۷

۵. ابن ابي شيبه، المصنف، ۶ : ۳۷۸، رقم : ۳۲۱۷۷

۶. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۳۷، رقم : ۲۶۰۶

۷. حاکم، المستدرک، ۳ : ۴۳۹، رقم : ۵۶۳۰

۸. هيثمي، موارد الظمآن، ۱ : ۵۵۱، رقم : ۲۲۲۹

۹. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۳

۱۰. ابن حجر مکي، الصواعق المحرقه، ۲ : ۵۶۰

۴۳. عن علي رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : الحسن و الحسين سيدا شباب أهل الجنة.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حسن اور حسین تمام جوانان جنت کے سردار ہیں۔‘‘

۱. ابن ابي شيبه، المصنف، ۶ : ۳۷۸، رقم : ۳۲۱۷۹

۲. بزار، المسند، ۳ : ۱۰۲، رقم : ۸۸۵

۳. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۳۶، رقم : ۳۶۰۱

۴. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۴۱۸۲

۴۴. عن أنس بن مالک رضي الله عنه قال سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : نحن ولد عبدالمطلب سادة أهل الجنة : أنا و حمزة و علي و جعفر والحسن والحسين والمهدي.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم عبدالمطلب کی اولاد اہل جنت کے سردار ہیں جن میں میں، حمزہ، علی، جعفر، حسن، حسین اور مہدی شامل ہیں۔‘‘

۱. ابن ماجه، السنن، ۲ : ۱۳۶۸، کتاب الفتن، رقم : ۴۰۸۷

۲. حاکم، المستدرک، ۳ : ۲۳۳، رقم : ۴۹۴۰

۳. ابن حيان، طبقات المحدثين بأصبهان، ۲ : ۲۹۰، رقم : ۱۷۷

۴. کناني، مصباح الزجاجة، ۴ : ۲۰۴، رقم : ۱۴۵۲

۵. ديلمي، الفردوس، ۱ : ۵۳، رقم : ۱۴۲

۶. عسقلاني، تهذيب التهذيب، ۷ : ۲۸۳، رقم : ۵۴۴

۷. مزي، تهذيب الکمال، ۵ : ۵۳

۴۵. عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة.

’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حسن اور حسین تمام جوانان جنت کے سردار ہیں۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۳۵، رقم : ۲۵۹۸

طبرانی نے ’المعجم الاوسط (۵ : ۲۴۳، رقم : ۵۲۰۸)‘ میں حضرت اُسامہ بن زید سے مروی حدیث بھی بیان کی ہے

۲. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، ۱۴ : ۱۳۲

۳. هثيمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۲

۴۶. عن ابن عمر رضي اﷲ عنهما قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة.

’’حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حسن اور حسین تمام جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔‘‘

۱. ابن ماجه، السنن، ۱ : ۴۴، باب فضائل اصحاب رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۱۱۸

۲. حاکم، المستدرک، ۳ : ۱۸۲، رقم : ۴۷۸۰

۳. ابن عساکر، تاريخِ دمشق الکبير، ۱۴ : ۱۳۳

۴. کناني، مصباح الزجاجه، ۱ : ۲۰، رقم : ۴۸

۵. ذهبي، ميزان الاعتدال، ۶ : ۴۷۴

۴۷. عن الحسين بن علي رضي اﷲ عنهما قال سمعت جدي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : لا تسبوا الحسن والحسين، فانهما سيدا شباب أهل الجنة من الأولين والأخرين.

’’حضرت حسین بن علی رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے اپنے نانا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : حسن اور حسین کو گالی مت دینا کیونکہ وہ پہلی اور پچھلی تمام امتوں کے جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔‘‘

۱. ابن عساکر، تاريخِ دمشق الکبير، ۱۴ : ۱۳۱

۲. ہیثمی نے ’مجمع الزوائد (۹ : ۱۸۴)‘ میں اِسے مختصراً روایت کیا ہے۔

۳. طبراني، المعجم الاوسط، ۱ : ۱۱۸، رقم : ۳۶۶

۴. شوکاني، درالسحابه في مناقب القرابه والصحابه : ۳۰۱

۴۸. عن عبداﷲ بن مسعود رضي اﷲ عنهما قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة.

’’حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حسن اور حسین تمام جوانان جنت کے سردار ہیں۔‘‘

۱. حاکم، المستدرک، ۳ : ۱۸۲، رقم : ۴۷۷۹

۲. ابو نعيم، حلية الاولياء و طبقات الاصفياء، ۵ : ۵۸

۳. ابن عساکر، تاريخِ دمشق الکبير، ۱۴ : ۱۳۳

۴۹. عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال : إن ملکا من السماء لم يکن زارني، فأستأذن اﷲل في زيارتي، فبشرني أن الحسن و الحسين سيدا شباب أهل الجنة.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : آسمان کے ایک فرشتے نے (اس سے پہلے) میری زیارت کبھی نہیں کی تھی، اس نے میری زیارت کے لئے اﷲ تعالیٰ سے اجازت طلب کی اور مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ حسن اور حسین تمام جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۳۶، رقم : ۲۶۰۴

۲. نسائي، السنن الکبري، ۵ : ۱۴۶، رقم : ۸۵۱۵

۳. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۳

۴. مزي، تهذيب الکمال، ۲۶ : ۳۹۱

۵. ذهبي، سير أعلام النبلاء، ۲ : ۱۶۷

۶. ذهبي، ميزان الاعتدال، ۶ : ۳۲۹

۵۰. عن عبداﷲ بن مسعود رضي اﷲ عنهما قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : خير شبابکم الحسن و الحسين.

’’حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے جوانوں میں سے سب سے بہتر (جوان) حسن اور حسین ہیں۔‘‘

۱. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، ۴ : ۳۹۱، رقم : ۲۲۸۰

۲. هندي، کنز العمال، ۱۲ : ۱۰۲، رقم : ۳۴۱۹۱

۳. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، ۱۴ : ۱۶۷


فصل : ۱۳

الحسن و الحسين عليهما السلام طهرهما اﷲ تطهيرا

(اﷲ تعالیٰ نے حسنین کریمین علیہما السلام کو کمالِ تطہیر کی شانِ عظیم سے نواز دیا)

۵۱. عن صفية بنت شيبة قالت : قالت عائشة رضي اﷲ عنها : خرج النبي صلي الله عليه وآله وسلم غداة و عليه مرط مرحل من شعر أسود. فجاء الحسن بن علي فأدخله، ثم جاء الحسين فدخل معه ثم جاء ت فاطمة فأدخلها، ثم جاء علي فأدخله، ثم قال : (إنما يريد اﷲ ليذهب عنکم الرجس أهل البيت و يطهرکم تطهيرا).

’’حضرت صفیہ بنت شیبہ سے روایت ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت باہر تشریف لائے درآں حالیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی جس پر سیاہ اون سے کجاؤوں کے نقش بنے ہوئے تھے۔ حسن بن علی علیہما السلام آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس چادر میں داخل کر لیا پھر حسین آئے اور آپ کے ہمراہ چادر میں داخل ہو گئے، پھر فاطمہ سلام اﷲ علیہا آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس چادر میں داخل کر لیا، پھر علی آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بھی چادر میں لے لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت مبارکہ پڑھی ’’اے اہل بیت! اﷲ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے (ہر طرح کی) آلودگی دور کر دے اور تم کو کمال درجہ طہارت سے نواز دے۔‘‘

۱. مسلم، الصحيح، ۴ : ۱۸۸۳، کتاب فضائل الصحابه، رقم : ۲۴۲۴

۲. ابن ابي شيبه، المصنف، ۶ : ۳۷۰، رقم : ۳۶۱۰۲

۳. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، ۲ : ۶۷۲، رقم : ۱۴۹

۴. ابن راهويه، المسند، ۳ : ۶۷۸، رقم : ۱۲۷۱

۵. حاکم، المستدرک، ۳ : ۱۵۹، رقم : ۴۷۰۵

۶. بيهقي، السنن الکبریٰ، ۲ : ۱۴۹

۷. طبري، جامع البيان في تفسير القرآن، ۲۲ : ۶، ۷

۸. بغوي، معالم التنزيل، ۳ : ۵۲۹

۹. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۳ : ۴۸۵

۱۰. سيوطي، الدرالمنثور في التفسير بالماثور، ۶ : ۶۰۵

۱۱. مبارک پوري، تحفة الأحوذي، ۹ : ۴۹

۵۲. عن ام سلمة رضي اﷲ عنها قالت : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : ألا! لا يحل هذا المسجد لجنب و لا لحائض إلا لرسول اﷲ و علي و فاطمة و الحسن و الحسين. ألا! قد بينت لکم الأسماء أن لا تضلوا.

’’حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خبردار! یہ مسجد کسی جنبی اور حائضہ (عورت) کے لئے حلال نہیں، سوائے رسول اﷲ، علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم الصلوۃ والسلام کے۔ ان برگزیدہ ہستیوں کے علاوہ کسی کے لئے مسجد نبوی میں آنا جائز نہیں، آگاہ ہو جاؤ! میں نے تمہیں نام بتا دیئے ہیں تاکہ تم گمراہ نہ ہو جاؤ۔‘‘

۱. بيهقي، السنن الکبري، ۷ : ۶۵، رقم : ۱۳۱۷۸، ۱۳۱۷۹

۲. هندي، کنز العمال، ۱۲ : ۱۰۱، رقم : ۳۴۱۸۳

۳. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، ۱۴ : ۱۶۶

۴. ابن کثير، فصول من السيرة، ۱ : ۲۷۳

۵. سيوطي، خصائص الکبري، ۲ : ۴۲۴

۵۳. عن عمر بن أبي سلمة ربيب النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : لما نزلت هذه الآية علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم (اِنَّمَا يرِيْدُ اﷲُ لِيُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَکُمْ تَطْهِيْرًا). في بيت أم سلمة، فدعا فاطمة و حسنا و حسينا، فجللهم بکساء، و علي خلف ظهره فجلله بکساء، ثم قال : اللهم! هؤلاء أهل بيتي، فاذهب عنهم الرجس و طهرهم تطهيرا.

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروردہ عمر بن ابی سلمہ فرماتے ہیں کہ جب ام سلمہ کے گھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت ’’اے اہل بیت! اﷲ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے (ہر طرح) کی آلودگی دور کر دے اور تم کو خوب پاک و صاف کر دے‘‘ نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ اور حسنین کریمین سلام اﷲ علیہم کو بلایا اور انہیں ایک کملی میں ڈھانپ لیا۔ علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بھی کملی میں ڈھانپ لیا، پھر فرمایا : اے اﷲ! یہ میرے اہل بیت ہیں، پس ان سے ہر قسم کی آلودگی دور فرما اور انہیں خوب پاک و صاف کر دے۔‘‘

۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۳۵۱، کتاب تفسير القرآن، رقم : ۳۲۰۵

۲. طبري، جامع البيان في تفسير القرآن، ۲۲ : ۸

۳. ابن اثير، اسد الغابه في معرفة الصحابه، ۲ : ۱۷

۴. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربیٰ، ۱ : ۲۱

۵۴. عن ام سلمة رضي اﷲ عنها ان النبي صلي الله عليه وآله وسلم ! جلل علي الحسن و الحسين و علي و فاطمة کساء ثم قال : اللهم هؤلاء اهل بيتي و خاصتي اذهب عنهم الرجس و طهرهم تطهيرا.

’’حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن، حسین، علی اور فاطمہ سلام اﷲ علیہم پر چادر پھیلائی اور فرمایا : اے اﷲ! یہ میرے اہل بیت اور مقرب ہیں، ان سے ہر قسم کی آلودگی دور فرما اور انہیں اچھی طرح پاکیزگی و طہارت سے نواز دے۔‘‘

۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۶۹۹، کتاب المناقب، رقم : ۳۸۷۱

۲. احمد بن حنبل، المسند، ۶ : ۳۰۴، رقم : ۲۶۶۳۹

۳. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۵۴، رقم : ۲۶۶۸

۴. طبري، جامع البيان في تفسير القرآن، ۲۲ : ۸

۵. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۳ : ۴۸۵

۶. عسقلاني، تهذيب التهذيب، ۲ : ۲۹۷

فصل : ۱۴

قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم : من أحبني فليحب هذين

(حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو مجھ سے محبت کرتا ہے اس پر ان دونوں سے محبت کرنا واجب ہے)

۵۵. عن عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنهما قال : قال النبی صلی الله علیه وآله وسلم : من أحبنی فلیحب هذین.

’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے مجھ سے محبت کی، اس پر لازم ہے کہ وہ ان دونوں سے بھی محبت کرے۔‘‘

۱. نسائي، السنن الکبري، ۵ : ۵۰، رقم : ۸۱۷۰

۲. نسائي، فضائل الصحابه، ۱ : ۲۰، رقم : ۶۷

۳. ابن خزيمه، الصحيح، ۲ : ۴۸، رقم : ۸۸۷

۴. بزار، المسند، ۵ : ۲۲۶، رقم : ۱۸۳۴

۵. شاشي، المسند، ۲ : ۱۱۳، رقم : ۶۳۸

۶. ابويعلیٰ، المسند، ۹ : ۲۵۰، رقم : ۵۳۶۸

۷. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۷۹

۸. عسقلاني، الاصابه في تمييز الصحابه، ۲ : ۱۷

۵۶. عن ابن عباس رضي اﷲ عنهما قال : لما نزلت (قُلْ لَا أَسْألُکُمْ عَلَيْهِ أجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِیْ الْقُرْبٰی) قالوا : يا رسول اﷲ صلي اﷲ عليک وسلم! ومن قرابتک هؤلاء الذين و جبت علينا مودتهم؟ قال : علي و فاطمة و أبناهما.

’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ جب آیت مبارکہ ’’فرما دیں میں تم سے اس (تبلیغ حق اور خیرخواہی) کا کچھ صلہ نہیں چاہتا بجز اہل قرابت سے محبت کے‘‘ نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اﷲ علیک وسلم! آپ کے وہ کون سے قرابت دار ہیں جن کی محبت ہم پر واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علی، فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے (حسن و حسین)۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۴۷، رقم : ۲۶۴۱

۲. طبراني، المعجم الکبير، ۱۱ : ۴۴۴، رقم : ۱۲۲۵۹

۳. هيثمي، مجمع الزوائد، ۷ : ۱۰۳

۵۷. عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول في الحسن والحسين : من أحبني فليحب هذين.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حسن اور حسین علیہما السلام کے متعلق فرماتے ہوئے سنا : جو مجھ سے محبت کرتا ہے اس پر ان دونوں سے محبت کرنا واجب ہے۔‘‘

۱. طيالسي، المسند، ۱ : ۳۲۷، رقم : ۲۰۵۲

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۰

۵۸. عن زر بن جيش قال : قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم : من أحبني فليحب هذين.

’’حضرت زر بن جیش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو مجھ سے محبت رکھتا ہے اس پر ان دونوں سے محبت رکھنا واجب ہے۔‘‘

۱. ابن ابي شيبه، المصنف : ۶ : ۳۷۸، رقم : ۳۲۱۷۴

۲. بيهقي، السنن الکبریٰ، ۲ : ۲۶۳، رقم : ۳۲۳۷

فصل : ۱۵

من أحب الحسن والحسين عليهما السلام فقد أحبني

(جس نے حسنین علیہما السلام سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی)

۵۹. عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من أحب الحسن والحسين فقد أحبني.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے حسن اور حسین علیہما السلام سے محبت کی، اس نے درحقیقت مجھ ہی سے محبت کی۔‘‘

۱. ابن ماجه، السنن، باب في فضائل اصحاب رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، ۱ : ۵۱، رقم : ۱۴۳

۲. نسائي، السنن الکبریٰ، ۵ : ۴۹ : رقم : ۸۱۶۸

۳. احمد بن حنبل، المسند، ۲ : ۲۸۸، رقم : ۷۸۶۳

۴. طبراني، المعجم الاوسط، ۵ : ۱۰۲، رقم : ۴۷۹۵

۵. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۴۷، رقم : ۲۶۴۵

۶. ابو يعلي، المسند، ۱۱ : ۷۸، رقم : ۲۶۱۵

۷. ابويعلي، المسند، ۱۱ : ۷۸ : رقم : ۶۲۱۵

۸. ابن راهويه، المسند، ۱ : ۲۴۸، رقم : ۲۱۱

۸. نسائي، فضائل الصحابه، ۱ : ۲۰، رقم : ۶۵

۹. کناني، مصباح الزجاجه، ۱ : ۲۱، رقم : ۵۲

۱۰. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، ۱ : ۱۴۱

۶۰. عن عبد اﷲ بن مسعود رضي اﷲ عنهما أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال للحسن والحسين : من أحبهما فقد أحبني.

’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن و حسین علیہما السلام کے لئے فرمایا : جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ ہی سے محبت کی۔‘‘

۱. بزار، المسند، ۵ : ۲۱۷، رقم : ۱۸۲۰

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۰

۳. ذهبي، سير اعلام النبلاء، ۳ : ۲۵۴، ۲۸۴

۴. ابن جوزي، صفوة الصفوه، ۱ : ۷۶۳

ہیثمی نے اس کی اسناد کو درست قرار دیا ہے۔

۶۱. عن أبی حازم قال : شهدت حسينا حين مات الحسن و هو يدفع في قفا سعيد بن العاص و هو يقول : تقدم، فلولا السنة ما قدمتک، و سعيد امير علي المدينة يومئذ، قال : فلما صلوا عليه قام أبوهريرة فقال : أتنفسون علي ابن نبيکم تربة يدفنونه فيها، ثم قال : سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : من أحبهما فقد أحبني.

’’ابوحازم بیان کرتے ہیں : میں حسن کی شہادت کے وقت حسین کے پاس حاضر تھا وہ سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کو گردن سے پکڑ کر آگے کرتے ہوئے کہہ رہے تھے : (نماز جنازہ پڑھانے کے لئے) آگے بڑھو، اگر سنت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ ہوتی تو میں آپ کو آگے نہ کرتا، اور سعید ان دنوں مدینہ کے امیر تھے۔ جب سب نے نمازِ جنازہ ادا کر لی تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اُنہوں نے فرمایا : تم کس دل سے اپنے نبی کے صاحبزادے کو زمین میں دفنا کر ان پر مٹی ڈالو گے اور ساتھ انہوں نے (غم میں ڈوب کر) یہ بھی کہا کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جس نے ان سے محبت کی اس نے درحقیقت مجھ ہی سے محبت کی۔‘‘

۱. عبدالرزاق، المصنف، ۳ : ۷۱، رقم : ۶۳۶۹

۲. احمد بن حنبل، المسند، ۲ : ۵۳۱

۳. حاکم، المستدرک، ۳ : ۱۸۷، رقم : ۴۷۹۹

۴. بيهقي، السنن الکبري، ۴ : ۲۸، رقم : ۶۶۸۵

۵. ذهبي، سيرأعلام النبلاء، ۳ : ۲۷۶

۶. عسقلاني، تهذيب التهذيب، ۲ : ۲۶۰

۷. مزي، تهذيب الکمال، ۶ : ۲۵۴

فصل : ۱۶

من أحب الحسن و الحسين عليهما السلام فقد أحبه اﷲ

(جس نے حسنین علیہما السلام سے محبت کی اس سے اﷲ نے محبت کی)

۶۲. عن سلمان رضي الله عنه قال : سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : من أحبهما أحبني، ومن أحبني أحبه اﷲ، ومن أحبه اﷲ أدخله الجنة.

’’سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جس نے حسن اور حسین علیہما السلام سے محبت کی، اُس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی اس سے اللہ نے محبت کی، اور جس سے اللہ نے محبت کی اس نے اسے جنت میں داخل کردیا۔‘‘

حاکم، المستدرک، ۳ : ۱۸۱، رقم : ۴۷۷۶

۶۳. عن سلمان رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم للحسن و الحسين : من أحبهما أحببته، ومن أحببته أحبه اﷲ، ومن أحبه اﷲ أدخله جنات النعيم.

’’سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن و حسین علیہما السلام کے لئے فرمایا : جس نے ان سے محبت کی اس سے میں نے محبت کی، اور جس سے میں محبت کروں اس سے اللہ محبت کرتا ہے، اور جس کو اللہ محبوب رکھتا ہے اسے نعمتوں والی جنتوں میں داخل کرتا ہے۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۵۰، رقم : ۲۶۵۵

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۱

۳. شوکاني، در السحابه في مناقب القرابة والصحابه : ۳۰۷

فصل : ۱۷

قال النبی صلی الله عليه وآله وسلم : من أحب هذين کان معي يوم القيامة

(حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے ان دونوں سے محبت کی وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہو گا)

۶۴. عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه : أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أخذ بيد حسن و حسين، فقال : من أحبني و أحب هذين و أباهما و أمهما کان معي في درجتي يوم القيامة.

’’حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن اور حسین علیہما السلام کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : جس نے مجھ سے اور ان دونوں سے محبت کی اور ان کے والد سے اور ان کی والدہ سے محبت کی وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے ہی ٹھکانہ پر ہو گا۔‘‘

۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۶۴۱، ابواب المناقب، رقم : ۳۷۳۳

۲. احمد بن حنبل، المسند، ۱ : ۷۷، رقم : ۵۷۶

۳. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، ۲ : ۶۹۳، رقم : ۱۱۸۵

۴. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۵۰، رقم : ۲۶۵۴

۵. مقدسي، الاحاديث المختاره، ۲ : ۴۵، رقم : ۴۲۱

۶. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، ۱۳ : ۲۸۷، رقم : ۷۲۵۵

۷. دولابي، الذرية الطاهره، ۱ : ۱۲۰، رقم : ۲۳۴

۸. مزي، تهذيب الکمال، ۶ : ۲۲۸

۹. عسقلاني، تهذيب التهذيب، ۲ : ۲۵۸، رقم : ۵۲۸

۶۵. عن علیّ رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : أنا و فاطمة و حسن و حسين مجتمعون، و من أحبنا يوم القيامة نأکل و نشرب حتي يفرق بين العباد.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں، فاطمہ، حسن، حسین اور جو ہم سے محبت کرتے ہیں قیامت کے دن ایک ہی مقام پر جمع ہوں گے، ہمارا کھانا پینا بھی اکٹھا ہو گا تاآنکہ لوگ (حساب و کتاب کے بعد) جدا جدا کر دیئے جائیں گے۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۴۱، رقم : ۲۶۲۳

۲. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، ۱۳ : ۲۲۷

۳. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۷۴

۶۶. عن ابن عباس رضي اﷲ عنهما رفعه : أنا شجرة، و فاطمة حملها، و علی لقاحها، والحسن والحسين ثمرتها، والمحبون أهل البيت ورقها، من الجنة حقاً حقا.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مرفوعاً حدیث مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’میں درخت ہوں، فاطمہ اس کی ٹہنی ہے، علی اس کا شگوفہ اور حسن و حسین اس کا پھل ہیں اور اہل بیت سے محبت کرنے والے اس کے پتے ہیں، یہ سب جنت میں ہوں گے، یہ حق ہے حق ہے۔‘‘

۱. ديلمي، الفرودس بمأ ثور الخطاب، ۱ : ۵۲، رقم : ۱۳۵

۲. سخاوي، استجلاب ارتقاء الغرف بحب اقرباء الرسول صلي الله عليه وآله وسلم و ذوي الشرف : ۹۹

فصل : ۱۸

قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم : اللهم إني أحبهما فأحبهما

(حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اﷲ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر)

۶۷. عن البراء رضي الله عنه قال : أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم أبصر حسنا و حسينا، فقال : اللهم! إني أحبهما فأحبهما.

’’حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسنین کریمین علیہما السلام کی طرف دیکھ کر فرمایا : اے اﷲ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔‘‘

۱. ترمذی، الجامع الصحيح، ۵ : ۶۶۱، ابواب المناقب، رقم : ۳۷۸۲

۲. ذهبي، سير اعلام النبلاء، ۳ : ۲۵۲

۳. شوکاني، نيل الاوطار، ۶ : ۱۴۰

ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح قرار دیا ہے۔

۶۸. عن أبي هريرة رضي الله عنه قال، قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : اللهم! اني أحبهما فأحبهما.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اﷲ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔‘‘

۱. احمد بن حنبل، المسند، ۲ : ۴۴۶، رقم : ۹۷۵۸

۲. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، ۲ : ۷۷۵، رقم : ۱۳۷۱

۳. ابن ابي شيبة، المصنف، ۶ : ۳۷۸، رقم : ۳۲۱۷۵

۴. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۴۹، رقم : ۶۹۵۱

۵. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۰

۶۹. عن عبداﷲ بن مسعود رضي اﷲ عنهما : أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال للحسن و الحسين : اللهم! اني أحبهما فأحببهما.

’’حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسنین کریمین علیہما السلام کے بارے میں فرمایا : اے اﷲ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔‘‘

۱. بزار، المسند، ۵ : ۲۱۷، رقم : ۱۸۲۰

۲. بزار نے ’المسند (۸ : ۲۵۳، رقم : ۳۳۱۷)‘ میں اسے ابن قرہ سے بھی روایت کیا ہے۔

۳. ہیثمی نے ’مجمع الزوائد (۹ : ۱۸۰)‘ میں بزار کی بیان کردہ دونوں روایات نقل کی ہیں۔

۴. شوکانی ن ے ب ھ ی ’درالسحاب ہ فی مناقب القراب ۃ والصحاب ہ (ص : ۳۰۵، ۳۰۶)‘ میں بزار کی بیان کرد ہ دونوں روایات نقل کی ہ یں ۔

۷۰. عن أسامة بن زيد رضي اﷲ عنهما قال، قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم : اللهم! إني أحبهما فأحبهما و أحب من يحبهما.

’’حضرت اسامہ بن زید رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اﷲ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر اور ان سے محبت کرنے والے سے بھی محبت کر۔‘‘

۱. ترمذی، الجامع الصحيح، ۵ : ۶۵۶، ابواب المناقب، رقم : ۳۷۶۹

۲. ابن حبان، الصحيح، ۱۵ : ۴۲۳، رقم : ۶۹۶۷

۳. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۳۹، رقم : ۲۶۱۸

۴. مقدسي، الاحاديث المختاره، ۴ : ۱۱۳، رقم : ۱۳۲۴

۷۱. عن عبداﷲ بن عثمان بن خثيم يرويه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم اخذ رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يوما حسنا و حسينا فجعل هذا علي هذا الفخذ و هذا علي هذا الفخذ، ثم اقبل علي الحسن فقبله ثم اقبل علي الحسين فقلبه ثم قال : اللهم! اني أحبهما فأحبهما.

’’عبداﷲ بن عثمان بن خثیم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن حسنین کریمین علیہما السلام کو پکڑ کر اپنی رانوں پر بٹھایا پھر حسنں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں بوسہ دیا پھر حسینں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں بوسہ دیا، پھر فرمایا : اے اﷲ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔‘‘

ابن راشد، الجامع، ۱۱ : ۱۴۰

۷۲. عن يعلي بن مرة رضي الله عنه أن حسنا و حسينا أقبلا يمشيان إلي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، فلما جاء أحدهما جعل يده في عنقه، ثم جاء الآخر فجعل يده الأخري في عنقه، فقبّل هذا ثم قبّل هذا، ثم قال : اللهم! إني أحبهما فأحبهما.

’’یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حسنین کریمین علیہما السلام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چل کر آئے، پس ان میں سے جب ایک پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا بازو اس کے گلے میں ڈالا، پھر دوسرا پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دوسرا بازو اس کے گلے میں ڈالا، بعد ازاں ایک کو چوما اور پھر دوسرے کو چوما اور فرمایا : اے اﷲ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۳۲، رقم : ۲۵۸۷

۲. طبراني، المعجم الکبير، ۲۲ : ۲۷۴، رقم : ۷۰۳

۳. قصاعي، مسند الشهاب، ۱ : ۵۰، رقم : ۲۶

۴. ذهبي، سير اعلام النبلاء، ۳ : ۲۵۵

۷۳. عن أنس بن مالک رضي الله عنه يقول : سئل رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : أي أهل بيتک أحب إليک؟ قال : الحسن و الحسين.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا : آپ کو اہل بیت میں سے سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حسن اور حسین۔‘‘

۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۶۵۷، ابواب المناقب، رقم : ۳۷۷۲

۲. ابويعلیٰ، المسند، ۷ : ۲۷۴، رقم : ۴۲۹۴

۳. شوکاني، درالسحابه في مناقب القرابه و الصحابه : ۳۰۱

فصل : ۱۹

من أبغض الحسن و الحسين عليهما السلام فقد أبغضني

(جس نے حسنین کریمین علیہما السلام سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا)

۷۴. عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من أبغضهما فقد أبغضني.

’’ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے حسن اور حسین سے بغض رکھا اس نے مجھ ہی سے بغض رکھا۔‘‘

۱. ابن ماجه، السنن، باب في فضائل اصحاب رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، ۱ : ۵۱، رقم : ۱۴۳

۲. نسائي، السنن الکبري، ۵ : ۴۹ : رقم : ۸۱۶۸

۳. احمد بن حنبل، المسند، ۲ : ۲۸۸، رقم : ۷۸۶۳

۴. طبراني، المعجم الاوسط، ۵ : ۱۰۲، رقم : ۴۷۹۵

۵. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۴۷، رقم : ۲۶۴۵

۶. ابويعلي، المسند، ۱۱ : ۷۸، رقم : ۶۲۱۵

۷. ابن راهويه، المسند، ۱ : ۲۴۸، رقم : ۲۱۱

۸. نسائي، فضائل الصحابه، ۱ : ۲۰، رقم : ۶۵

۹. کناني، مصباح الزجاجه، ۱ : ۲۱، رقم : ۵۲

۱۰. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، ۱ : ۱۴۱

۷۵. عن عبداﷲ بن مسعود رضي اﷲ عنهما قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من أبغضهما فقد أبغضني.

’’حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے حسن اور حسین سے بغض رکھا اس نے مجھ ہی سے بغض رکھا۔‘‘

ذهبي، سير اعلام النبلاء، ۳ : ۲۸۴

۷۶. عن عبداﷲ بن عباس رضي اﷲ عنهما قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من أبغضهما فقد أبغضني.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’جس نے حسن اور حسین سے بغض رکھا اس نے مجھ ہی سے بغض رکھا۔‘‘

ابن عدي، الکامل، ۳ : ۴۳۴


فصل : ۲۰

من أبغض الحسن و الحسين عليهما السلام أبغضه اﷲ

(جس نے حسنین علیہما السلام سے بغض رکھا وہ اﷲ کے ہاں مبغوض ہو گیا)

۷۷. عن سلمان رضي الله عنه قال : سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : من أبغضهما أبغضني، و من أبغضني أبغضه اﷲ، ومن أبغضه اﷲ أدخله النار.

’’سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جس نے حسن و حسین علیہما السلام سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا، اور جس نے مجھ سے بغض رکھا وہ اللہ کے ہاں مبغوض ہو گیا اور جو اﷲ کے ہاں مبغوض ہوا، اُسے اللہ نے آگ میں داخل کر دیا۔‘‘

حاکم، المستدرک، ۳ : ۱۸۱، رقم : ۴۷۷۶

۷۸. عن سلمان ص، قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم للحسن و الحسين من أبغضهما أو بغي عليهما أبغضته، ومن أبغضته أبغضه اﷲ، ومن أبغضه اﷲ أدخله عذاب جهنم وله عذاب مقيم.

’’سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن و حسین علیہما السلام کے بارے میں فرمایا : جس نے ان سے بغض رکھا یا ان سے بغاوت کی وہ میرے ہاں مبغوض ہو گیا اور جو میرے ہاں مبغوض ہو گیا وہ اﷲ کے غضب کا شکار ہو گیا اور جو اﷲ کے ہاں غضب یافتہ ہو گیا تو اﷲ تعالیٰ اسے جہنم کے عذاب میں داخل کرے گا (جہاں) اس کے لئے ہمیشہ کا ٹھکانہ ہو گا۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۵۰، رقم : ۲۶۵۵

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۱

۳. شوکاني، در السحابه في مناقب القرابه والصحابه : ۳۰۷

فصل : ۲۱

قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم : اللهم عاد من عاداهم و وال من والاهم

(حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اﷲ! جو ان سے عداوت رکھے تو اس سے عداوت رکھ اور جو ان کو دوست رکھے تو اسے دوست رکھ)

۷۹. عن أم سلمة رضي اﷲ عنها قالت : جاء ت فاطمة بنت النبي صلي الله عليه وآله وسلم إلي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم متورکة الحسن و الحسين، في يدها برمة للحسن فيها سخين حتي أتت بها النبي صلي الله عليه وآله وسلم فلما وضعتها قدامه، قال لها : أين أبو الحسن؟ قالت : في البيت. فدعاه، فجلس النبي صلي الله عليه وآله وسلم و علي و فاطمة و الحسن و الحسين يأکلون، قالت أم سلمة رضي اﷲ عنها : وما سامني النبي صلي الله عليه وآله وسلم وما أکل طعاما قط إلا و أنا عنده إلا سامنيه قبل ذلک اليوم، تعني سامني دعاني إليه، فلما فرغ التف عليهم بثوبه ثم قال : اللهم عاد من عاداهم و وال من والاهم.

’’اُم المومنین حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا بنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسنین کریمین علیہما السلام کو پہلو میں اٹھائے ہوئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ کے ہاتھ میں پتھر کی ہانڈی تھی جس میں حسن کے لئے گرم سالن تھا۔ سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا نے جب اسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے لا کے رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : ابوالحسن (علی) کہاں ہے تو سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا نے جواب دیا : گھر میں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بلایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت علی، حضرت فاطمہ اور حسنین کریمین سلام اﷲ علیہم بیٹھ کر کھانا تناول فرمانے لگے۔ ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نہ بلایا۔ اس سے پہلے کبھی ایسا نہ ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری موجودگی میں کھانا کھایا ہو اور مجھے نہ بلایا ہو۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو ان سب کو اپنے کپڑے میں لے لیا اور فرمایا : اے اﷲ! جو ان سے عداوت رکھے تو اس سے عداوت رکھ اور جو ان کو دوست رکھے تو اسے دوست رکھ۔‘‘

۱. ابويعلیٰ، المسند، ۱۲ : ۳۸۳، رقم : ۶۹۱۵

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۶۶

۳. حسيني، البيان والتعريف، ۱ : ۱۴۹، رقم : ۳۹۶

فصل : ۲۲

النبي صلي الله عليه وآله وسلم حرب لمن حارب الحسن والحسين عليهما السلام

(جس نے حسن و حسین علیہما السلام سے جنگ کی اس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان جنگ فرما دیا)

۸۰. عن زيد بن أرقم رضي اﷲ عنه، أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال لعلي و فاطمة و الحسن و الحسين رضي اﷲ عنهم : أنا حرب لمن حاربتم، و سلم لمن سالمتم.

’’حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین سلام اﷲ علیہم سے فرمایا : جس سے تم لڑو گے میری بھی اس سے لڑائی ہو گی، اور جس سے تم صلح کرو گے میری بھی اس سے صلح ہو گی۔‘‘

۱. ترمذی، الجامع الصحيح، ۵ : ۶۹۹، ابواب المناقب، رقم : ۳۸۷۰

۲. ابن ماجه، السنن، ۱ : ۵۲، رقم : ۱۴۵

۳. ابن حبان، الصحيح، ۱۵ : ۴۳۴، رقم : ۶۹۷۷

۴. ابن ابي شيبه، المصنف، ۶ : ۳۷۸، رقم : ۳۲۱۸۱

۵. حاکم، المستدرک، ۳ : ۱۶۱، رقم : ۴۷۱۴

۶. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۴۰، رقم : ۲۰ - ۲۶۱۹

۷. طبراني، المعجم الکبير، ۵ : ۱۸۴، رقم : ۳۱ - ۵۰۳۰

۸. طبراني، المعجم الاوسط، ۵ : ۱۸۲، رقم : ۵۰۱۵

۹. هيثمي، موارد الظمآن، ۱ : ۵۵۵، رقم : ۲۲۴۴

۱۰. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربیٰ : ۶۲

۱۱. ذهبی، سیر اعلام النبلاء، ۲ : ۱۲۵

۱۲. مزی، تهذیب الکمال، ۱۳ : ۱۱۲

۸۱. عن زيد بن ارقم رضي الله عنه ان النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال لفاطمة و الحسن و الحسين : أنا حرب لمن حاربکم و سلم لمن سالمکم.

’’حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین سلام اﷲ علیہم (تینوں) سے فرمایا : جو تم سے لڑے گا میں اس سے لڑوں گا اور جو تم سے صلح کرے گا میں اس سے صلح کروں گا۔‘‘

۱. ابن حبان، الصحيح، ۱۵ : ۴۳۴، رقم : ۶۹۷۷

۲. طبراني، المعجم الاوسط، ۳ : ۱۷۹، رقم : ۲۸۵۴

۳. طبراني، المعجم الصغير، ۲ : ۵۳، رقم : ۷۶۷

۴. ہیثمی نے ’مجمع الزوائد (۹ : ۱۶۹)‘ میں کہا ہے کہ اسے طبرانی نے ’الاوسط‘ میں روایت کیا ہے۔

۵. هيثمي، موارد الظمآن : ۵۵۵، رقم : ۲۲۴۴

۶. محاملي، الامالي : ۴۴۷، رقم : ۵۳۲

۷. ابن اثير، اسد الغابه في معرفة الصحابه، ۷ : ۲۲۰

۸۲. عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : نظر النبي صلي الله عليه وآله وسلم إلي علي و فاطمة و الحسن و الحسين، فقال : أنا حرب لمن حاربکم و سلم لمن سالمکم.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین علیہما السلام کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : جو تم سے لڑے گا میں اس سے لڑوں گا، جو تم سے صلح کرے گا میں اس سے صلح کروں گا (یعنی جو تمہارا دشمن ہے وہ میرا دشمن ہے اور جو تمہارا دوست ہے وہ میرا بھی دوست ہے)۔‘‘

۱. احمد بن حنبل، المسند، ۲ : ۴۴۲

۲. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، ۲ : ۷۶۷، رقم : ۱۳۵۰

۳. حاکم نے ’المستدرک (۳ : ۱۶۱، رقم : ۴۷۱۳)‘ میں اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے جبکہ ذہبی نے اس میں کوئی جرح نہیں کی۔

۴. طبرانی، المعجم الکبير، ۳ : ۴۰، رقم : ۲۶۲۱

۵. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، ۷ : ۱۳۷

۶. ذهبي، سير اعلام النبلاء، ۲ : ۱۲۲

۷. ذهبي، سير اعلام النبلاء، ۳ : ۵۸ - ۲۵۷

۸. ہیثمی نے ’مجمع الزوائد (۹ : ۱۶۹)‘ میں کہا ہے کہ اسے احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی تلیدبن سلیمان میں اختلاف ہے جبکہ اس کے بقیہ رجال حدیث صحیح کے رجال ہیں۔

۸۳. عن أبی بکر الصديق رضي الله عنه قال : رأيت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم خيم خيمة و هو متکئ علي قوس عربية و في الخيمة علي و فاطمة والحسن والحسين فقال : معشر المسلمين أنا سلم لمن سالم أهل الخيمة حرب لمن حاربهم ولي لمن والاهم لا يحبهم إلا سعيد الجد طيب المولد ولا يبغضهم إلا شقي الجد ردئ الولادة.

’’حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک خیمہ میں قیام فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک عربی کمان پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور خیمہ میں علی، فاطمہ، حسن اور حسین بھی موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے مسلمانوں کی جماعت جو اہل خیمہ سے صلح کرے گا میری بھی اس سے صلح ہو گی جو ان سے لڑے گا میری بھی اس سے لڑائی ہو گی۔ جو ان کو دوست رکھے گا میری بھی اس سے دوستی ہو گی، ان سے صرف خوش نصیب اور برکت والا ہی دوستی رکھتا ہے اور ان سے صرف بدنصیب اور بدبخت ہی بغض رکھتا ہے۔‘‘

محب طبري، الرياض النضرة في مناقب العشره، ۳ : ۱۵۴

فصل : ۲۳

قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم : بأبي و أمي أنتما

(حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے ماں باپ آپ پر قربان)

۸۴. عن سلمان رضي الله عنه قال : کنا حول النبي صلي الله عليه وآله وسلم فجاء ت ام ايمن فقالت : يا رسول اﷲ صلي اﷲ عليک وسلم! لقد ضل الحسن و الحسين، قال : و ذلک راد النهار يقول ارتفاع النهار. فقال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : ’’قوموا فاطلبوا ابني.‘‘ قال : و اخذ کل رجل تجاه وجهه و اخذت نحو النبي صلي الله عليه وآله وسلم فلم يزل حتي اتي سفح جبل و إذا الحسن و الحسين ملتزق کل واحد منهما صاحبه، و إذا شجاع قائم علي ذنبه يخرج من فيه شه النار، فاسرع اليه رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، فالتفت مخاطبا لرسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، ثم انساب فدخل بعض الأحجرة، ثم اتاهما فافرق بينهما و مسح وجههما و قال : بأبي و أمي أنتما ما أکرمکما علي اﷲ.

’’سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے۔ ام ایمن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا : حسن و حسین علیہما السلام گم ہو گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں دن خوب نکلا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : چلو میرے بیٹوں کو تلاش کرو، راوی کہتا ہے ہر ایک نے اپنا اپنا راستہ لیا اور میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل پڑا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل چلتے رہے حتی کہ پہاڑ کے دامن تک پہنچ گئے (دیکھا کہ) حسن و حسین علیہما السلام ایک دوسرے کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں اور ایک اژدھا اپنی دم پر کھڑا ہے اور اس کے منہ سے آگ کے شعلے نکل رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف تیزی سے بڑھے تو وہ اژدھا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہو کر سکڑ گیا پھر کھسک کر پتھروں میں چھپ گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسنین کریمین علیہما السلام کے پاس تشریف لائے اور دونوں کو الگ الگ کیا اور ان کے چہروں کو پونچھا اور فرمایا : میرے ماں باپ تم پر قربان، تم اﷲ کے ہاں کتنی عزت والے ہو۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۶۵، رقم : ۲۶۷۷

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۲

۳. شوکاني، درالسحابه في مناقب القرابة والصحابه : ۳۰۹

۸۵. عن عبداﷲ بن مسعود رضي اﷲ عنهما قال : کان النبي صلي الله عليه وآله وسلم يصلي و الحسن و الحسين علي ظهره، فباعدهما الناس، و قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم دعوهما بأبي هما و أمي.

’’حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے تو حسن و حسین علیہما السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک پر سوار ہو گئے۔ لوگوں نے ان کو منع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان کو چھوڑ دو، ان پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۴۷، رقم : ۲۶۴۴

۲. ابن حبان، الصحيح، ۱۵ : ۴۲۶، رقم : ۶۹۷۰

۳. ابن ابي شيبه، المصنف، ۶ : ۳۷۸، رقم : ۳۲۱۷۴

۴. هيثمي، مواردالظمآن، ۱ : ۵۵۲، رقم : ۲۲۳۳

فصل : ۲۴

فزع النبي صلي الله عليه وآله وسلم ببکاء الحسن والحسين عليهما السلام

(حسنین کریمین علیہما السلام کے رونے سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پریشان ہو گئے)

۸۶. عن يحيي بن أبي کثير : أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم سمع بکاء الحسن و الحسين، فقام فزعا، فقال : إن الولد لفتنة لقد قمت إليهما و ما أعقل.

’’یحییٰ بن ابی کثیر روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن و حسین علیہما السلام کے رونے کی آواز سنی تو پریشان ہو کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا : بے شک اولاد آزمائش ہے، میں ان کے لئے بغیر غور کئے کھڑا ہو گیا ہوں۔‘‘

ابن ابي شيبه، المصنف، ۶ : ۳۷۹، رقم : ۳۲۱۸۶

۸۷. عن يزيد بن أبي زياد قال : خرج النبي صلي الله عليه وآله وسلم من بيت عائشة فمر علي فاطمة فسمع حسينا يبکي، فقال : ألم تعلمي أن بکاء ه يؤذيني.

’’یزید بن ابو زیاد سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کے گھر سے باہر تشریف لائے اور سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا کے گھر کے پاس سے گزرے تو حسینں کو روتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’کیا تجھے معلوم نہیں کہ اس کا رونا مجھے تکلیف دیتا ہے۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۱۱۶، رقم : ۲۸۴۷

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۲۰۱

۳. ذهبي، سير أعلام النبلاء، ۳ : ۲۸۴

فصل : ۲۵

نزل النبی صلی الله عليه وآله وسلم من المنبر للحسن و الحسين عليهما السلام

(حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسنین کریمین علیہما السلام کی خاطر اپنے منبر شریف سے نیچے اتر آئے)

۸۸. عن أبي بريدة رضي الله عنه يقول : کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يخطبنا إذ جاء الحسن و الحسين عليهما السلام، عليهما قميصان أحمران يمشيان و يعثران، فنزل رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من المنبر فحملهما و وضعهما بين يديه، ثم قال : صدق اﷲ : (إِنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَ أَوْلَادُکُمْ فِتْنةٌ) فنظرت إلي هذين الصبيين يمشيان و يعثران، فلم أصبر حتي قطعت حديثي و رفعتهما

’’حضرت ابوبریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اتنے میں حسنین کریمین علیہما السلام تشریف لائے، انہوں نے سرخ رنگ کی قمیصیں پہنی ہوئی تھیں اور وہ (صغرسنی کی وجہ سے) لڑکھڑا کر چل رہے تھے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (انہیں دیکھ کر) منبر سے نیچے تشریف لے آئے، دونوں (شہزادوں) کو اٹھایا اور اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا : اﷲ تعالیٰ کا ارشاد سچ ہے : (بیشک تمہارے اموال اور تمہاری اولاد آزمائش ہی ہیں۔ ) میں نے ان بچوں کو لڑکھڑا کر چلتے دیکھا تو مجھ سے رہا نہ گیا حتی کہ میں نے اپنی بات کاٹ کر انہیں اٹھا لیا۔‘‘

۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۶۵۸، ابواب المناقب، رقم : ۳۷۷۴

۲. نسائي، السنن، ۳ : ۱۹۲، کتاب صلاة العيدين، رقم : ۱۸۸۵

۳. احمد بن حنبل، المسند، ۵ : ۳۴۵

۴. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، ۲ : ۷۷۰، رقم : ۱۳۵۸

۵. ابن حبان، الصحيح، ۱۳ : ۴۰۳، رقم : ۶۰۳۹

۶. بيهقي، السنن الکبري، ۳ : ۲۱۸، رقم : ۵۶۱۰

۷. هيثمي، مواردالظمآن، ۱ : ۵۵۲، رقم : ۲۲۳۰

۸. قرطبي، الجامع لاحکام القرآن، ۱۸ : ۱۴۳

۹. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۴ : ۳۷۷

۱۰. مزي، تهذيب الکمال، ۶ : ۴۰۳

۱۱. ابن جوزي، التحقيق، ۱ : ۵۰۵، رقم : ۸۰۵

فصل : ۲۶

الحسن والحسين عليهما السلام کانا يمصّان لسان النبي صلي الله عليه وآله وسلم

(حسنین کریمین علیہما السلام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک چوستے تھے)

۸۹. عن أبي هريرة رضي الله عنه فقال : أشهد لخرجنا مع رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم حتي إذا کنا ببعض الطريق سمع رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم صوت الحسن و الحسين، و هما يبکيان و هما مع أمهما، فأسرع السير حتي أتاهما، فسمعته يقول لها : ما شأن ابني؟ فقالت : العطش قال : فاخلف رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم الي شنة يبتغي فيها ماء، و کان الماء يومئذ أغدارا، و الناس يريدون الماء، فنادي : هل أحد منکم معه مائ؟ فلم يبق أحد الا أخلف بيده الي کلابه يبتغي الماء في شنة، فلم يجد أحد منهم قطرة، فقال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : ناوليني أحدهما، فناولته اياه من تحت الخدر، فأخذه فضمه الي صدره و هو يطغو ما يکست، فأدلع له لسانه فجعل يمصه حتي هدأ أو سکن، فلم أسمع له بکاء، و الآخر يبکي کما هو ما يسکت فقال : ناوليني الآخر، فناولته اياه ففعل به کذلک، فسکتا فما أسمع لهما صوتا

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (سفر میں) نکلے، ابھی ہم راستے میں ہی تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن و حسین علیہما السلام کی آواز سنی دونوں رو رہے تھے اور دونوں اپنی والدہ ماجدہ (سیدہ فاطمہ) کے پاس ہی تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن کے پاس تیزی سے پہنچے۔ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا سے یہ فرماتے ہوئے سنا : میرے بیٹوں کو کیا ہوا؟ سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا نے بتایا انہیں سخت پیاس لگی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی لینے کے لئے مشکیزے کی طرف بڑھے۔ ان دنوں پانی کی سخت قلت تھی اور لوگوں کو پانی کی شدید ضرورت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو آواز دی : کیا کسی کے پاس پانی ہے؟ ہر ایک نے کجاؤوں سے لٹکتے ہوئے مشکیزوں میں پانی دیکھا مگر ان کو قطرہ تک نہ ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا سے فرمایا : ایک بچہ مجھے دیں اُنہوں نے ایک کو پردے کے نیچے سے دے دیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پکڑ کر اپنے سینے سے لگا لیا مگر وہ سخت پیاس کی وجہ سے مسلسل رو رہا تھا اور خاموش نہیں ہو رہا تھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس کے منہ میں اپنی زبان مبارک ڈال دی وہ اُسے چوسنے لگا حتی کہ سیرابی کی وجہ سے سکون میں آ گیا میں نے دوبارہ اُس کے رونے کی آواز نہ سنی، جب کہ دوسرا بھی اُسی طرح (مسلسل رو رہا تھا) پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دوسرا بھی مجھے دے دیں تو سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا نے دوسرے کو بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے کر دیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بھی وہی معاملہ کیا (یعنی زبان مبارک اس کے منہ میں ڈالی) سو وہ دونوں ایسے خاموش ہوئے کہ میں نے دوبارہ اُن کے رونے کی آواز نہ سنی۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۵۰، رقم : ۲۶۵۶

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۱

ہیثمی نے اس کے راوۃ ثقہ قرار دیئے ہیں۔

۳. مزي، تهذيب الکمال، ۶ : ۲۳۱

۴. ابن عساکر، تاريخِ دمشق، ۱۳ : ۲۲۱

۵. عسقلاني، تهذيب التهذيب، ۲ : ۲۹۸

۶. شوکاني، در السحابه في مناقب القرابه و الصحابه : ۳۰۶

۷. سيوطي، الخصائص الکبریٰ، ۱ : ۱۰۶

فصل : ۲۷

الحسن والحسين عليهما السلام کانا يلعبان علي بطن النبي صلي الله عليه وآله وسلم

(حسنین کریمین علیہما السلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شکم مبارک پر کھیلتے تھے)

۹۰. عن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه قال : دخلت علي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم والحسن والحسين يلعبان علي بطنه، فقلت : يا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ! أتحبهما؟ فقال : و مالي لا أحبهما و هما ريحانتاي.

’’حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو (دیکھا کہ) حسن اور حسین علیہما السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شکم مبارک پر کھیل رہے تھے، تو میں نے عرض کی : یا رسول اﷲ! کیا آپ ان سے محبت کرتے ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں ان سے محبت کیوں نہ کروں حالانکہ وہ دونوں میرے پھول ہیں۔‘‘

۱. بزار، المسند، ۳ : ۲۸۷، رقم : ۱۰۷۹

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۱

۳. شوکاني، درالسحابه : ۳۰۷

ہیثمی نے اس کے رواۃ صحیح قرار دیئے ہیں۔

۹۱. عن انس بن مالک رضي الله عنه قال : دخلت أو ربما دخلت علي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم والحسن والحسين يتقلبان علي بطنه، قال : و يقول : ريحانتي من هذه الأمة.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوتا یا (فرمایا) اکثر اوقات حاضر ہوتا (اور دیکھتا کہ) حسن و حسین علیہما السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شکم مبارک پر لوٹ پوٹ ہو رہے ہوتے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے ہوتے : یہ دونوں ہی تو میری امت کے پھول ہیں۔‘‘

۱. نسائي، السنن الکبریٰ، ۵ : ۴۹، رقم : ۸۱۶۷

۲. نسائي، السنن الکبریٰ، ۵ : ۱۵۰، رقم : ۸۵۲۹

فصل : ۲۸

رکب الحسن والحسين عليهما السلام علي ظهر النبي صلي الله عليه وآله وسلم خلال الصلوة

(حسنین کریمین علیہما السلام دورانِ نماز حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک پر سوار ہو گئے )

۹۲. عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : کنا نصلي مع رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم العشاء، فإذا سجد وثب الحسن و الحسين علي ظهره، فإذا رفع رأسه أخذهما بيده من خلفه اخذاً رفيقا و يضعهما علي الأرض، فإذا عاد، عادا حتي قضي صلاته، أقعدهما علي فخذيه.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نماز عشاء ادا کر رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں گئے تو حسن اور حسین علیہما السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک پر سوار ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدے سے سر اٹھایا تو ان دونوں کو اپنے پیچھے سے نرمی کے ساتھ پکڑ کر زمین پر بٹھا دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوبارہ سجدے میں گئے تو شہزادگان نے دوبارہ ایسے ہی کیا (یہ سلسلہ چلتا رہا) یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل کر لی اس کے بعد دونوں کو اپنی مبارک رانوں پر بٹھا لیا۔‘‘

۱. احمد بن حنبل، المسند، ۲ : ۵۱۳، رقم : ۱۰۶۶۹

۲. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۵۱، رقم : ۲۶۵۹

۳. حاکم، المستدرک، ۳ : ۱۸۳، رقم : ۴۷۸۲

۴. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۱

۵. ابن عدي، الکامل، ۶ : ۸۱، رقم : ۱۶۱۵

۶. ذهبي، سير أعلام النبلاء، ۳ : ۲۵۶

۷. عسقلاني، تهذيب التهذيب، ۲ : ۲۵۸

۸. شوکاني، نيل الاوطار، ۲ : ۱۲۴

۹. سيوطي، الخصائص الکبري، ۲ : ۱۳۶

۱۰. ابن کثير، البدايه والنهايه، ۶ : ۱۵۲

۹۳. عن زر بن جيش رضي الله عنه قال : کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ذات يوم يصلي بالناس فأقبل الحسن و الحسين عليهما السلام و هما غلامان، فجعلا يتوثبان علي ظهره إذا سجد فأقبل الناس عليهما ينحيانهما عن ذلک، قال : دعوهما بأبي و أمي.

’’زر بن جیش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے کہ حسنین کریمین علیہما السلام جو اس وقت بچے تھے آئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں گئے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک پر سوار ہونے لگے، لوگ انہیں روکنے کے لئے آگے بڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں! انہیں چھوڑ دو۔ ۔ ۔ یعنی سوار ہونے دو۔‘‘

بيهقي، السنن الکبریٰ، ۲ : ۲۶۳، رقم : ۳۲۳۷

۹۴. عن عبداﷲ بن مسعود رضي اﷲ عنهما قال : کان النبي صلي الله عليه وآله وسلم يصلي فإذا سجد وثب الحسن و الحسين علي ظهره، فإذا أرادوا أن يمنعوهما أشار إليهم أن دعوهما، فلما صلي وضعهما في حجره.

’’حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ادا فرما رہے تھے، جب سجدے میں گئے تو حسنین کریمین علیہما السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک پر سوار ہو گئے، جب لوگوں نے انہیں روکنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو اشارہ فرمایا کہ انہیں چھوڑ دو. یعنی سوار ہونے دو، پھر جب نماز ادا فرما چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں کو اپنی گود میں لے لیا۔‘‘

۱. نسائي، السنن الکبریٰ، ۵ : ۵۰، رقم : ۸۱۷۰

۲. عسقلاني، الاصابه في تمييز الصحابه، ۲ : ۷۱

۳. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربیٰ، ۱ : ۱۲۲

۹۵. عن البراء بن عازب رضي الله عنه قال : کان النبي صلي الله عليه وآله وسلم يصلي فجاء الحسن و الحسين عليهما السلام (أو أحدهما)، فرکب علي ظهره فکان إذا سجد رفع رأسه أخذ بيده فأمسکه أو أمسکهما، ثم قال : نعم المطية مطيتکما

’’حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھاتے تو حسن و حسین علیہما السلام دونوں میں سے کوئی ایک آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک پر سوار ہو جاتا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں ہوتے، سجدے سے سر اٹھاتے ہوئے اگر ایک ہوتا تو اس کو یا دونوں ہوتے تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو تھام لیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے : تم دو سواروں کے لئے کتنی اچھی سواری ہے۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الاوسط، ۴ : ۲۰۵، رقم : ۳۹۸۷

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۲

۹۶. عن أنس بن مالک رضي الله عنه قال : کتب النبي صلي الله عليه وآله وسلم لرجل عهدا فدخل الرجل يسلم علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يصلي، فرأي الحسن والحسين يرکبان علي عنقه مرة و يرکبان علي ظهره مرة و يمران بين يديه و من خلفه، فلما فرغ الصلاة قال له الرجل : ما يقطعان الصلاة؟ فغضب النبي صلي الله عليه وآله وسلم فقال : ناولني عهدک. فأخذه فمزقه، ثم قال : من لم يرحم صغيرنا و لم يؤقر کبيرنا فليس مناولا أنا منه.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی شخص کو عہدنامہ لکھ کر دیا تو اس شخص نے حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حالت نماز میں سلام عرض کیا، پھر اس نے دیکھا کہ حسن اور حسین علیہما السلام کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن مبارک اور کبھی پشت مبارک پر سوار ہوتے ہیں اور حالت نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے پیچھے سے گزر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نماز سے فارغ ہونے کے بعد اس شخص نے کہا : کیا وہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز نہیں توڑتے؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جلال میں آ کر فرمایا : مجھے اپنا عہد نامہ دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے لے کر پھاڑ دیا اور فرمایا : جو ہمارے چھوٹوں پر رحم اور بڑوں کا ادب نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں اور نہ ہی میں اس سے ہوں۔‘‘

محب طبري، ذخائر العقبیٰ، ۱ : ۱۳۲

۹۷. عن بن عباس رضي اﷲ عنهما قال : صلي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم صلاة العصر، فلما کان في الرابعة أقبل الحسن والحسين حتي رکبا علي ظهر رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، فلما سلم وضعهما بين يديه و أقبل الحسن فحمل رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم الحسن علي عاتقه الأيمن والحسين علي عاتقه الأيسر.

’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عصر ادا کی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چوتھی رکعت میں تھے تو حسن و حسین علیہما السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک پر سوار ہوگئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو ان دونوں کو اپنے سامنے بٹھا لیا حسن رضی اللہ عنہ کے آگے آنے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے دائیں کندھے پر اور حسین رضی اللہ عنہ کو بائیں کندھے پر اُٹھا لیا۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الاوسط، ۶ : ۲۹۸، رقم : ۶۴۶۲

۲. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۶۶، رقم : ۲۶۸۲

۳. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۴

فصل : ۲۹

قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم للحسنين : نعم الراکبان هما

(حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسنین کریمین علیہما السلام سے فرمانا : یہ دونوں کیسے اچھے سوار ہیں)

۹۸. عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : خرج علينا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم و معه حسن و حسين هذا علي عاتقه و هذا علي عاتقه.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک کندھے پر حسنں اور دوسرے کندھے پر حسینں سوار تھے۔‘‘

۱. احمد بن حنبل، المسند، ۲ : ۴۴۰، رقم : ۹۶۷۱

۲. حاکم، المستدرک، ۳ : ۱۸۲، رقم : ۴۷۷۷

حاکم اس کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ اس روایت کی اسناد صحیح ہیں

۳. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، ۲ : ۷۷۷، رقم : ۱۳۷۶

۴. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۷۹

۵. مزي، تهذيب الکمال، ۶ : ۲۲۸

۶. عسقلاني، الاصابه في تمييز الصحابه، ۲ : ۷۱

۷. مناوي، فيض القدير، ۶ : ۳۲

ہیثمی نے اس کے رواۃ کو ثقہ قرار دیا ہے۔

۹۹. عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : رأيت الحسن والحسين عليهما السلام علي عاتقي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، فقلت : نعم الفرس تحتکما قال : و نعم الفارسان هما

’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حسن و حسین علیہما السلام کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں پر (سوار) دیکھا تو حسرت بھرے لہجے میں کہا کہ آپ کے نیچے کتنی اچھی سواری ہے! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا : ذرا یہ بھی تو دیکھو کہ سوار کتنے اچھے ہیں۔‘‘

۱.بزار، المسند، ۱ : ۴۱۸

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۱

ہیثمی نے ابو یعلیٰ کی بیان کردہ روایت کو صحیح قرار دیا ہے

۳. حسيني، البيان والتعريف، ۲ : ۲۶۳، رقم : ۱۶۷۲

۴. شوکاني، در السحابه في مناقب القرابة و الصحابه : ۳۰۸

۵. ابن عدي، الکامل، ۲ : ۳۶۲

۱۰۰. عن سلمان رضي الله عنه قال : کنا حول النبي صلي الله عليه وآله وسلم فجاء ت أم أيمن فقالت : يا رسول اﷲ لقد ضل الحسن و الحسين عليهما السلام قال : و ذلک راد النهار يقول ارتفاع النهار. فقال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : قوموا فاطلبوا ابني. قال : و أخذ کل رجل تجاه وجهه و أخذت نحو النبي صلي الله عليه وآله وسلم فلم يزل حتي أتي سفح جبل و اذا الحسن والحسين عليهما السلام ملتزق کل واحد منهما صاحبه و اذا شجاع قائم علي ذنبه يخرج من فيه شه النار، فأسرع اليه رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فالتفت مخاطبا لرسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ثم انساب فدخل بعض الأحجرة ثم أتاهما فأفرق بينهما و مسح و جههما و قال : بأبي و أمي أنتما ما أکرمکما علي اﷲ ثم حمل أحدهما علي عاتقه الأيمن والآخر علي عاتقه الأيسر فقلت : طوباکما نعم المطية مطيتکما فقال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : و نعم الراکبان هما

’’حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے۔ ام ایمن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا حسن و حسین علیہما السلام گم ہو گئے ہیں راوی کہتے ہیں، دن خوب نکلا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : چلو میرے بیٹوں کو تلاش کرو، راوی کہتا ہے ہر ایک نے اپنا راستہ لیا اور میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل پڑا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل چلتے رہے حتیٰ کہ پہاڑ کے دامن تک پہنچ گئے۔ (دیکھا کہ) حسن و حسین علیہما السلام ایک دوسرے کے ساتھ چمٹے ہوئے کھڑے ہیں اور ایک اژدھا اپنی دم پر کھڑا ہے اور اُس کے منہ سے آگ کے شعلے نکل رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس کی طرف تیزی سے بڑھے تو وہ اژدھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہو کر سکڑ گیا پھر کھسک کر پتھروں میں چھپ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان (حسنین کریمین علیہما السلام) کے پاس تشریف لائے اور دونوں کو الگ الگ کیا اور اُن کے چہروں کو پونچھا اور فرمایا : میرے ماں باپ تم پر قربان، تم اللہ کے ہاں کتنی عزت والے ہو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے ایک کو اپنے دائیں کندھے پر اور دوسرے کو بائیں کندھے پر اُٹھا لیا۔ میں نے عرض کیا : تمہاری سواری کتنی خوب ہے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ بھی تو دیکھو کہ دونوں سوار کتنے خوب ہیں۔‘‘

۱.طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۶۵، رقم : ۲۶۷۷

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۲

۳.شوکاني، در السحابه في مناقب القرابة والصحابه : ۳۰۹

۱۰۱. عن أبي جعفرص قال : مر رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم بالحسن و الحسين عليهما السلام و هو حاملهما علي مجلس من مجالس الأنصار، فقالوا : يا رسول اﷲ صلي اﷲ عليک وسلم! نعمت المطية قال : و نعم الراکبان.

’’حضرت ابو جعفر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسنین کریمین علیہما السلام کو اٹھائے ہوئے انصار کی ایک مجلس سے گزرے تو انہوں نے کہا : یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیک وسلم! کیا خوب سواری ہے! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سوار بھی کیا خوب ہیں۔‘‘

ابن ابي شيبه، المصنف، ۶ : ۳۸۰، رقم : ۳۲۱۸۵

۱۰۲. عن جابر رضي الله عنه قال دخلت علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم و هو يمشي علي أربعة، و علي ظهره الحسن و الحسين عليهما السلام، و هو يقول : نعم الجمل جملکما، و نعم العدلان أنتما

’’حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار (دو ٹانگوں اور دونوں ہاتھوں کے بل) پر چل رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک پر حسنین کریمین علیہما السلام سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے : تمہارا اونٹ کیا خوب ہے اور تم دونوں کیا خوب سوار ہو۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۵۲، رقم : ۲۶۶۱

۲. صيداوي، معجم الشيوخ، ۱ : ۲۶۶، رقم : ۲۲۷

۳. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۲

۴. رامهرمزي، امثال الحديث : ۱۲۸ رقم : ۹۸

۵. ذهبي، سير اعلام النبلاء، ۳ : ۲۵۶

۶. قزويني، التدوين في اخبار قزوين، ۲ : ۱۰۹

۷. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربیٰ، ۱ : ۱۳۲

۱۰۳. عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : وقف رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم علي بيت فاطمة فسلم، فخرج إليه الحسن و الحسين عليهما السلام، فقال له رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : ارق بأبيک أنت عين بقة و أخذ بأصبعيه فرقي علي عاتقه، ثم خرج الآخر الحسن او الحسين مرتفعة احدي عينيه، فقال له رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : مرحبا بک ارق بأبيک أنت عين البقة و أخذ بأصبعيه فاستوي علي عاتقه الآخر.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا کے گھر کے سامنے رکے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمۃ الزھراء کو سلام کیا۔ اتنے میں حسنین کریمین علیہما السلام میں سے ایک شہزادہ گھر سے باہر آ گیا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : اپنے باپ کے کندھے پر سوار ہو جا تو (میری) آنکھ کا تارا ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ہاتھ سے پکڑا پس وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوش مبارک پر سوار ہو گئے۔ پھر دوسرا شہزادہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف تکتا ہوا باہر آگیا تو اسے بھی فرمایا : خوش آمدید، اپنے باپ کے کندھے پر سوار ہو جا تو (میری) آنکھ کا تارا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنی انگلیوں کے ساتھ پکڑا پس وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوسرے دوش مبارک پر سوار ہو گئے۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۴۹، رقم : ۲۶۵۲

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۰


فصل : ۳۰

کان يُطيل النبي صلي الله عليه وآله وسلم السجود للحسن و الحسين عليهما السلام

(حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسنین کریمین علیہما السلام کی خاطر سجدوں کو لمبا کر لیتے تھے)

۱۰۴. عن أنس رضي الله عنه قال : کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يسجد فيجئ الحسن أو الحسين فيرکب علي ظهره فيطيل السجود. فيقال : يا نبي اﷲ! أطلت السجود، فيقول : ارتحلني ابني فکرهت أن أعجله.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں ہوتے تو حسن یا حسین علیہما السلام آتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمر مبارک پر سوار ہو جاتے جس کے باعث آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدوں کو لمبا کر لیتے۔ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا : اے اﷲ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا آپ نے سجدوں کو لمبا کر دیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھ پر میرا بیٹا سوار تھا اس لئے (سجدے سے اُٹھنے میں) جلدی کرنا اچھا نہ لگا۔‘‘

۱. ابو يعلیٰ، المسند، ۶ : ۱۵۰، رقم : ۳۴۲۸

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۱

۱۰۵. عن عبداﷲ بن شداد عن أبيه قال : خرج علينا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم في احدي صلاتي العشاء و هو حامل حسناً أو حسيناً فتقدم رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فوضعه ثم کبر للصلاة فصلي، فسجد بين ظهراني صلاته سجدة أطالها قال أبي : فرفعت رأسي و اذا الصبي علي ظهر رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم وهو ساجد فرجعت الي سجودي، فلما قضي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم الصلاة، قال الناس : يا رسول اﷲ انک سجدت بين ظهراني صلاتک سجدة أطلتها حتي ظننا أنه قد حدث أمر أو أنه يوحي إِليک. قال : ذلک لم يکن ولکن ابني ارتحلني فکرهت أن أعجله حتي يقضي حاجته.

عبداﷲ بن شداد اپنے والد حضرت شداد بن ھاد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز ادا کرنے کے لئے ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسن یا حسین علیہما السلام (میں سے کسی ایک شہزادے) کو اُٹھائے ہوئے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تشریف لا کر اُنہیں زمین پر بٹھا دیا پھر نماز کے لئے تکبیر فرمائی اور نماز پڑھنا شروع کر دی، نماز کے دوران حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طویل سجدہ کیا۔ شداد نے کہا : میں نے سر اُٹھا کر دیکھا کہ شہزادے سجدے کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک پر سوار ہیں۔ میں پھر سجدہ میں چلا گیا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ادا فرما چکے تو لوگوں نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ صلی اﷲ علیک وسلم! آپ نے نماز میں اتنا سجدہ طویل کیا۔ یہانتک کہ ہم نے گمان کیا کہ کوئی امرِ اِلٰہی واقع ہو گیا ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسی کوئی بات نہ تھی مگر یہ کہ مجھ پر میرا بیٹا سوار تھا اس لئے (سجدے سے اُٹھنے میں) جلدی کرنا اچھا نہ لگا جب تک کہ اس کی خواہش پوری نہ ہو۔

۱. نسائي، السنن، ۲ : ۲۲۹، کتاب التطبيق، رقم : ۱۱۴۱

۲. احمد بن حنبل، المسند، ۳ : ۴۹۳

۳. ابن ابي شيبه، المصنف، ۶ : ۳۸۰، رقم : ۳۲۱۹۱

۴. طبراني، المعجم الکبير، ۷ : ۲۷۰، رقم : ۷۱۰۷

۵. شيباني، الآحاد والمثاني، ۲ : ۱۸۸، رقم : ۹۳۴

۶. بيهقي، السنن الکبري، ۲ : ۲۶۳، رقم : ۳۲۳۶

۷. حاکم، المستدرک، ۳ : ۱۸۱، رقم : ۴۷۷۵

۸. ابن موسي، معتصر المختصر، ۱ : ۱۰۲

۹. ابن حزم، المحلي، ۳ : ۹۰

۱۰. عسقلاني، تهذيب التهذيب، ۲ : ۲۹۹

فصل : ۳۱

کان النبي صلي الله عليه وآله وسلم يضمّ الحسن والحسين عليهما السلام إليه تحت ثوبه

(حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں شہزادوں کو چادر کے اندر اپنے جسم اطہر سے چمٹا لیتے تھے)

۱۰۶. عن أسامة بن زيد رضي اﷲ عنهما قال : طرقت النبي صلي الله عليه وآله وسلم ذات ليلة في بعض الحاجة فخرج النبي صلي الله عليه وآله وسلم وهو مشتمل علي شئ لا أدري ما هو فلما فرغت ما حاجتي قلت : ما هذا الذي أنت مشتمل عليه؟ فکشفه فإذا حسن و حسين علي و رکيه فقال : هذان أبناي.

’’حضرت اسامہ بن زید رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا : میں ایک رات کسی کام کے لئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی شے کو اپنے جسم سے چمٹائے ہوئے تھے جسے میں نہ جان سکا جب میں اپنے کام سے فارغ ہوا تو عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے کیا چیز اپنے جسم سے چمٹا رکھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑا ہٹایا تو دیکھا کہ حسن و حسین علیہما السلام دونوں رانوں تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چمٹے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ میرے دونوں بیٹے ہیں۔‘‘

۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۶۵۶، ابواب المناقب، رقم : ۳۷۶۹

۲. نسائي، السنن الکبریٰ، ۵ : ۱۴۹، رقم : ۸۵۲۴

۳. ابن حبان، الصحيح، ۱۵ : ۴۲۳، رقم : ۶۹۶۷

۴. بزار، المسند، ۷ : ۳۱، رقم : ۲۵۸۰

۵. ابن ابي شيبه، المصنف، ۶ : ۳۷۸، رقم : ۳۲۱۸۲

۶. مقدسي، الاحاديث المختارة، ۴ : ۹۴، رقم : ۱۳۰۷

۷. هيثمي، مواردالظمآن، ۱ : ۵۵۲، رقم : ۲۲۳۴

۸. ابن حجر مکي، الصواعق المحرقه، ۲ : ۴۰۴

۱۰۷. عن أنس بن مالک رضي الله عنه يقول : کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول لفاطمة : أدعي أبني فيشمهما و يضمهما إليه.

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا سے فرمایا کرتے : میرے دونوں بیٹوں کو بلاؤ پھر آپ ان دونوں (پھولوں) کو سونگھتے اور اپنے سینہ اقدس کے ساتھ چپکا لیتے۔‘‘

۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۶۵۷، ابواب المناقب، رقم : ۳۷۷۲

۲. ابويعلیٰ، المسند، ۷ : ۲۷۴، رقم : ۴۲۹۴

۳. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربیٰ، ۱ : ۱۲۱

فصل : ۳۲

أوّل من يدخل الجنة مع النبي صلي الله عليه وآله وسلم هو الحسن والحسين عليهما السلام

(حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جو جنت میں سب سے پہلے داخل ہوں گے وہ حسنین کریمین علیہما السلام ہیں)

۱۰۸. عن علي رضي الله عنه قال : أخبرني رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : ان أول من يدخل الجنة أنا و فاطمة و الحسن و الحسين. قلت : يا رسول اﷲ صلي اﷲ عليک وسلم! فمحبونا؟ قال : من ورائکم.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا کہ سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والوں میں، میں (یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ خود)، فاطمہ، حسن اور حسین ہیں۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیک وسلم! ہم سے محبت کرنے والے کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہارے پیچھے۔‘‘

۱. حاکم، المستدرک، ۳ : ۱۶۴، رقم : ۴۷۲۳

۲. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، ۱۴ : ۱۷۳

۳. هندي، کنز العمال، ۱۲ : ۹۸، رقم : ۳۴۱۶۶

۴. ابن حجر مکی نے ’الصواعق المحرقہ (۲ : ۴۴۸)‘ میں کہا ہے کہ اسے ابن سعد نے بھی روایت کیا ہے

۵. محب طبری، ذخائر العقبیٰ فی مناقب ذوی القربیٰ ۱ : ۱۲۳

۱۰۹. عن علیّ بن أبي طالب رضي الله عنه قال : شکوت الي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم حسد الناس اياي، فقال : أما ترضي أن تکون رابع أربعة أول من يدخل الجنة : أنا و أنت و الحسن و الحسين.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی کہ لوگ مجھ سے حسد کرتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے چار مردوں میں چوتھے تم ہو (وہ چار) میں، تم، حسن اور حسین ہیں۔‘‘

۱. احمد بن حنبل، المسند، ۲ : ۶۲۴

۲. طبراني، المعجم الکبير، ۱ : ۳۱۹، رقم : ۹۵۰

۳. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۴۱، ۲۶۲۴

۴. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۳۱، ۱۷۴

۵. قرطبي، الجامع لاحکام القرآن، ۱۶ : ۲۲

۶. محب طبري، ذخائر العقبیٰ فی مناقب ذوی القربیٰ، ۱ : ۹۰

۷. ابن حجر مکی، الصواعق المحرقه، ۲ : ۴۶۶

فصل : ۳۳

تزيين اﷲ عزوجل الجنة بالحسن و الحسين عليهما السلام

(اﷲ تعالیٰ کاحسنین کریمین علیہما السلام کی موجودگی کے ذریعے جنت کو آراستہ کرنا)

۱۱۰. عن عقبة بن عامررضي الله عنه، أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال : الحسن و الحسين شنفا العرش و ليسا بمعلقين، و إن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : إذا استقر أهل الجنة في الجنة، قالت الجنة : يا رب! وعدتني أن تزينني برکنين من أرکانک! قال : أولم أزينک بالحسن و الحسين؟

’’عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حسن اور حسین عرش کے دو ستون ہیں لیکن وہ لٹکے ہوئے نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب اہل جنت، جنت میں مقیم ہو جائیں گے تو جنت عرض کرے گی : اے پروردگار! تو نے مجھے اپنے ستونوں میں سے دو ستونوں سے مزین کرنے کا وعدہ فرمایا تھا۔ اﷲ تعالیٰ فرمائے گا : کیا میں نے تجھے حسن اور حسین کی موجودگی کے ذریعے مزین نہیں کر دیا؟ (یہی تو میرے دو ستون ہیں)۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الاوسط، ۱ : ۱۰۸، رقم : ۳۳۷

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۴

۳. ذهبي، ميزان الاعتدال، ۱ : ۲۷۸

۴. عسقلاني، لسان الميزان، ۱ : ۲۵۷، رقم : ۸۰۴

۵. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، ۲ : ۲۳۹، رقم : ۶۹۷

۶. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، ۱۳ : ۲۲۸

۷. مناوي، فيض القدير، ۳ : ۴۱۵

۸. ابن حجر مکي، الصواعق المحرقه، ۲ : ۵۶۲

۱۱۱. عن أنس رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : فخرت الجنة علي النار فقالت : أنا خير منک، فقالت النار : بل أنا خير منک، فقالت لها الجنة إستفهاما : و ممه؟ قالت : لأن في الجبابرة و نمرود و فرعون فأسکتت، فأوحي اﷲ اليها : لا تخضعين، لأزينن رکنيک بالحسن و الحسين، فماست کما تميس العروس في خدرها.

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایک مرتبہ جنت نے دوزخ پر فخر کیا اور کہا میں تم سے بہتر ہوں، دوزخ نے کہا : میں تم سے بہتر ہوں۔ جنت نے دوزخ سے پوچھا کس وجہ سے؟ دوزخ نے کہا : اس لئے کہ مجھ میں بڑے بڑے جابر حکمران فرعون اور نمرود ہیں۔ اس پر جنت خاموش ہو گئی، اﷲ تعالیٰ نے جنت کی طرف وحی کی اور فرمایا : تو عاجز و لاجواب نہ ہو، میں تیرے دو ستونوں کو حسن اور حسین کے ذریعے مزین کر دوں گا۔ پس جنت خوشی اور سرور سے ایسے شرما گئی جیسے دلہن شرماتی ہے۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الاوسط، ۷ : ۱۴۸، رقم : ۷۱۲۰

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۴

اس حدیث کے ایک راوی ’’عباد بن صہیب‘‘ پر بعض محدثین نے کلام کیا ہے مگر امام احمد بن حنبل، ابوداؤد، عبدان اھوازی نے اس کو صادق قرار دیا اور یحییٰ بن معین نے ابو عاصم النبیل سے اس کی روایت ثابت کی ہے۔

۱. ابن شاهين، تاريخ اسماء الثقات، ۱ : ۱۷۱

۲. ذهبي، المغني في الضعفاء، ۱ : ۳۲۶

۳. ابن عدي، الکامل، ۴ : ۳۴۷

۱۱۲. عن العباس بن زريع الأزدي عن أبيه مرفوعا، قال : قالت الجنة : يا رب! حسنتني فحسن أرکاني، قال : قد حسنت أرکانک بالحسن و الحسين.

’’حضرت عباس بن زریع ازدی اپنے والد سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ جنت نے (اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں) عرض کیا : اے میرے پروردگار! تو نے مجھے حسین و جمیل بنایا ہے تو میرے ستونوں کو بھی حسین بنا۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے تیرے ستونوں کوحسن اور حسین علیہما السلام کے ذریعے حسین و جمیل بنا دیا ہے۔‘‘

۱. عسقلاني، لسان الميزان، ۶ : ۲۴۱، رقم : ۸۴۸

۲. ذهبي، ميزان الاعتدال، ۷ : ۱۵۷، رقم : ۹۴۵۸

۳. عسقلاني، الاصابه في تمييز الصحابه، ۱ : ۲۸۷

فصل : ۳۴

يکون الحسن و الحسين عليهما السلام في قبة تحت العرش يوم القيامة

(حسنین کریمین علیہما السلام قیامت کے دن عرش الہٰی کے گنبد کے نیچے ہوں گے)

۱۱۳. عن أبي موسي الأشعري رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : أنا و علیّ و فاطمة و الحسن و الحسين يوم القيامة في قبة تحت العرش.

’’حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں، علی، فاطمہ، حسن اور حسین قیامت کے دن عرش کے گنبد کے نیچے ہوں گے۔‘‘

۱. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۷۴

۲. هندي، کنز العمال، ۱۲ : ۱۰۰، رقم : ۳۴۱۷۷

۳. عسقلاني، لسان الميزان، ۲ : ۹۴

۴. زرقاني، شرح الموطا، ۴ : ۴۴۳

۱۱۴. عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه، قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : إن فاطمة و عليا و الحسن و الحسين في حظيرة القدس في قبة بيضاء سقفها عرش الرحمن.

’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک فاطمہ، علی، حسن اور حسین جنت الفردوس میں سفید گنبد میں مقیم ہوں گے جس کی چھت عرش خداوندی ہو گا۔‘‘

۱. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، ۱۴ : ۶۱

۲. هندي، کنز العمال، ۱۲ : ۹۸، رقم : ۳۴۱۶۷

۱۱۵. عن علیّ رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : في الجنة درجة تدعي الوسلية؟ فإذا سألتم اﷲ فسلوا لي الوسيلة؟ قالوا : يا رسول اﷲ! من يسکن معک؟ قال : علي و فاطمة و الحسن و الحسين.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جنت میں ایک مقام ہے جسے وسیلہ کہتے ہیں، پس جب تم اﷲ سے سوال کرو تو میرے لئے وسیلہ کا سوال کیا کرو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیک و آلک وسلم! (وہاں) آپ کے ساتھ کون رہے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علی، فاطمہ اور حسین و حسین (وہاں پر میرے ساتھ رہیں گے)۔‘‘

۱. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۲ : ۴۵

۲. هندي، کنز العمال، ۱۲ : ۱۰۳، رقم : ۳۴۱۹۵

فصل : ۳۵

يکون الحسن و الحسين عليهما السلام مع رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يوم القيامة

(حسنین کریمین علیہما السلام قیامت کے دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہیں گے)

۱۱۶. عن علي رضي الله عنه قال : دخل علي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم و انا نائم علي المنامة فاستسقي الحسن او الحسين قال فقام النبي صلي الله عليه وآله وسلم الي شاة لنا بکي فحلبها فدرت فجاء ه الحسن فنحاه النبي صلي الله عليه وآله وسلم فقالت فاطمة : يا رسول اﷲ صلي اﷲ عليک وسلم! کانه احبهما اليک قال : لا ولکنه استسقي قبله، ثم قال : إني و اياک و هذين و هذا الراقد في مکان واحد يوم القيامة.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں اپنے بستر پر سویا ہوا تھا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے حسن یا حسین علیہما السلام (میں سے کسی ایک) نے پانی مانگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری بکری کے پاس آئے جو بہت کم دودھ والی تھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا دودھ نکالا تو اس نے بہت زیادہ دودھ دیا، پس حسنں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا نے فرمایا : یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لگتا ہے یہ آپ کو ان دونوں میں زیادہ پیارا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ اس نے پہلے پانی مانگا تھا پھر فرمایا : میں، آپ، یہ دونوں اور یہ سونے والا (حضرت علی رضی اللہ عنہ کیونکہ وہ ابھی سو کر اٹھے ہی تھے) قیامت کے دن ایک ہی جگہ پر ہوں گے۔‘‘

۱. احمد بن حنبل، المسند، ۱ : ۱۰۱، رقم : ۷۹۲

۲. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، ۱۳ : ۲۲۸

۳. شيباني، السنة، ۲ : ۵۹۸، رقم : ۱۳۲۲

۴. بزار، المسند، ۳ : ۳۰، رقم : ۷۷۹

۵. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۷۰

۶. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، ۲ : ۶۹۲، رقم : ۱۱۸۳

۷. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربیٰ، ۱ : ۲۵

۱۱۷. عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال : ان النبي صلي الله عليه وآله وسلم دخل علي فاطمة رضي اﷲ عنها فقال : أني و اياک و هذا النائم. . يعني عليا. . و هما. . يعني الحسن و الحسين. . لفي مکان واحد يوم القيامة.

’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا کے گھر تشریف لائے اور فرمایا : میں، تم اور یہ سونے والا (یعنی علی وہ ابھی سو کر اٹھے ہی تھے) اور یہ دونوں یعنی حسن اور حسین علیہما السلام قیامت کے دن ایک ہی جگہ ہوں گے۔‘‘

۱. حاکم، المستدرک، ۳ : ۱۴۷، رقم : ۴۶۶۴

۲. طبراني، المعجم الکبير، ۲۲ : ۴۰۵، رقم : ۱۰۱۶

۳. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۷۱

حاکم نے اس روایت کی اسناد کو صحیح قرار دیا ہے ۔

۱۱۸. عن أبي فاختة رضي الله عنه قال : کان النبي صلي الله عليه وآله وسلم و علي و فاطمة و الحسن و الحسين في بيت فاستسقي الحسن، فقام رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم في جوف الليل، فسقاه، فسأله الحسين فأبي أن يسقيه، فقيل : يا رسول اﷲ صلي اﷲ عليک وسلم! کأن حسنا أحب اليک من حسين؟ قال : لا ولکنه استسقاني قبله، ثم قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم : يا فاطمة! أنا و انت و هذين و هذا الراقد (لعلي) في مقام واحد يوم القيامة.

’’حضرت ابو فاختہ (سعید بن علاقہ) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، علی، فاطمہ، اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم گھر پر تھے کہ حسن نے پانی مانگا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدھی رات کو اُٹھ کر اسے پانی پلایا۔ (اسی دوران جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت حسنں کو پانی پلانے ہی والے تھے) کہ حضرت حسین نے وہی پانی طلب کیا، جسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے دینے سے انکار فرمایا (کیونکہ حسین ان سے قبل پانی مانگ چکے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی ترتیب سے دینا چاہتے تھے یہ بغرض تعلیم و تربیت تھا)۔ عرض کیا گیا : یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیک وسلم! لگتا ہے کہ آپ کو حسین سے زیادہ حسن محبوب ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ وجہ نہیں بلکہ حسن نے حسین سے پہلے مانگا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے فاطمہ! میں، تم، یہ دونوں (حسن و حسین) اور یہ سونے والا (یعنی علی) قیامت کے دن ایک ہی جگہ پر ہوں گے۔‘‘

ابن عساکر، تاريخ دمشق، ۱۳ : ۲۲۷، رقم : ۳۲۰۴

فصل : ۳۶

إستعاذة النبي صلي الله عليه وآله وسلم للحسن و الحسين عليهما السلام

(حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسنین کریمین علیہما السلام کے لئے خصوصی دم فرمانا )

۱۱۹. عن ابن عباس رضي اﷲ عنهما قال : کان النبي صلي الله عليه وآله وسلم يعوذ الحسن و الحسين، و يقول : إن أباکما کان يعوذ بها إسماعيل و إسحاق : أعوذ بکلمات اﷲ التامة من کل شيطان وهامة و من کل عين لامة.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسن و حسین علیہما السلام کے لئے (خصوصی طور پر) کلمات تعوذ کے ساتھ دم فرماتے تھے اور ارشاد فرماتے کہ تمہارے جد امجد (ابراہیم علیہ السلام بھی) اپنے دونوں صاحبزادوں اسماعیل و اسحاق (علیھما السلام) کے لئے ان کلمات کے ساتھ تعوذ کرتے تھے ’’میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات کے ذریعے ہر (وسوسہ اندازی کرنے والے) شیطان اور بلا سے اور ہر نظر بد سے پناہ مانگتا ہوں۔‘‘

۱. بخاري، الصحيح، ۳ : ۱۲۳۳، کتاب الانبياء، رقم : ۳۱۹۱

۲. ابن ماجه، السنن، ۲ : ۱۱۶۴، کتاب الطب، رقم : ۳۵۲۵

۱۲۰. عن علي رضي الله عنه قال : کان النبي صلي الله عليه وآله وسلم يعوذ حسنا و حسينا، فيقول : أعيذکما بکلمات اﷲ التامات من کل شيطان و هامة و من کل عين لامة. قال : و قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم : عوذوا بها أبنائکم، فإن إبراهيم کان يعوذ بها ابنيه إسماعيل و إسحاق.

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسن و حسین علیہما السلام کو دم کرتے ہوئے فرماتے تھے : میں تمہارے لئے اﷲ کے کلمات تامہ کے ذریعے ہر وسوسہ انداز شیطان و بلا اور ہر نظر بد سے پناہ مانگتا ہوں، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (امت کیلئے بھی) فرمایا : تم اپنے بیٹوں کو انہی الفاظ کے ساتھ دم کیا کرو کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بیٹوں اسماعیل اور اسحاق (علیھما السلام) کو ان کلمات سے دم کیا کرتے تھے۔‘‘

۱. عبدالرزاق، المصنف، ۴ : ۳۳۶، رقم : ۷۹۸۷

۲. طبراني، المعجم الاوسط، ۹ : ۷۹

۳. هيثمي، مجمع الزوائد، ۵ : ۱۱۳

۱۲۱. عن ابن عباس رضي اﷲ عنهما، قال کان النبي صلي الله عليه وآله وسلم يعوذ الحسن و الحسين : أعيذکما بکلمات اﷲ التامة من کل شيطان و هامة و من کل عين لامة. ثم يقول : کان أبوکم يعوذ بهما إسماعيل و إسحاق.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسن و حسین علیہما السلام کو (ان کلمات کے ساتھ) دم کیا کرتے تھے : میں تمہیں اﷲ کے کلمات تامہ کے ذریعے ہر وسوسہ انداز شیطان و بلا سے اور ہر نظر بد سے اﷲ کی پناہ میں دیتا ہوں، پھر ارشاد فرماتے : تمہارے جد امجد (ابراہیم علیہ السلام بھی) انہی کلمات کے ساتھ اپنے بیٹوں اسماعیل و اسحاق (علیھما السلام) کو دم کیا کرتے تھے۔‘‘

۱. ابوداؤ، السنن، ۴ : ۲۳۵، کتاب السنة، رقم : ۴۷۳۷

۲. نسائي، السنن الکبریٰ، ۶ : ۲۵۰، رقم : ۱۰۸۴۵

۳. احمد بن حنبل، المسند، ۱ : ۲۳۶، رقم : ۲۱۱۲

۴. ابن حبان، الصحيح، ۳ : ۲۹۱، رقم : ۱۰۱۲

۵. حاکم، المستدرک، ۳ : ۱۸۳، رقم : ۴۷۸۱

۶. ابن ابي شيبه، المصنف، ۵ : ۴۷، رقم : ۲۳۵۷۷

۷. ابن راهويه، المسند، ۱ : ۳۶، رقم : ۴

۸. طبراني، المعجم الاوسط، ۵ : ۱۰۱، رقم : ۴۷۹۳

۹. طبراني، المعجم الصغير، ۲ : ۳۱، رقم : ۷۲۷

۱۰. بخاري، خلق افعال العباد، ۱ : ۹۷

۱۱. ابن جوزي، تلبيس ابليس، ۱ : ۴۸

۱۲۲. عن عبداﷲ بن مسعود رضي اﷲ عنهما قال : کنا جلوسا مع رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إذ مر به الحسن و الحسين و هما صبيان، فقال : هاتوا ابني أعوذ هما بما عوذ به إبراهيم إبنيه إسماعيل و إسحاق، قال : أعيذکما بکلمات اﷲ التامة من کل عين لامة و من کل شيطان و هامة.

’’حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حسن و حسین علیہما السلام جو کہ ابھی بچے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میرے دونوں بیٹوں کو لاؤ، میں انہیں دم کر دوں جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) اپنے دونوں بیٹوں اسماعیل و اسحاق (علیہم السلام) کو دم کیا کرتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’میں تمہیں اﷲ تعالیٰ کے کلمات تامہ کے ذریعے ہر نظر بد سے، ہر وسوسہ انداز شیطان و بلا سے اﷲ کی پناہ میں دیتا ہوں۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۱۰ : ۷۲، رقم : ۹۹۸۴

۲. بزار، المسند، ۴ : ۳۰۴، رقم : ۱۴۸۳

۳. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، ۱۳ : ۲۲۴

۴. هيثمي، مجمع الزوائد، ۵ : ۱۱۳

۵. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۸۷

۱۲۳. عن زيد بن أرقم رضي الله عنه قال : إني سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : اللهم! أستودعکهما و صالح المؤمنين يعني الحسن و الحسين.

’’حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اﷲ! میں ان دونوں حسن و حسین کو اور نیک مومنین کو تیری حفاظت خاص میں دیتا ہوں۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۵ : ۸۵، رقم : ۵۰۳۷

۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۹۴

۳. هندي، کنز العمال، ۱۲ : ۱۱۹، رقم : ۳۴۲۸۱

فصل : ۳۷

ضوء الطريق للحسن و الحسين عليهما السلام ببرقة

(آسمانی بجلی کا حسنین کریمین علیہما السلام کے لئے راستہ روشن کرنا)

۱۲۴. عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : کنا نصلي مع رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم العشاء، فإذا سجد وثب الحسن و الحسين علي ظهره، فإذا رفع رأسه أخذهما بيده من خلفه اخذاً رفيقاً و يضعهما علي الأرض، فإذا عاد، عادا حتي قضي صلا ته، أقعدهما علي فخذيه، قال : فقمت إليه، فقلت : يا رسول اﷲ ! أردهما فبرقت برقة، فقال : لهما : الحقا بأمکما، قال : فمکث ضوئها حتي دخلا.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ نمازِ عشاء ادا کر رہے تھے، جب آپ سجدے میں گئے تو حضرت حسن اور حسین علیہما السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک پر سوار ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدے سے سر اٹھایا تو ان دونوں کو اپنے پیچھے سے نرمی سے پکڑ کر زمین پر بٹھا دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوبارہ سجدے میں گئے تو حسن اور حسین علیہما السلام نے دوبارہ ایسے ہی کیا حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل کرنے کے بعد دونوں کو اپنی (مبارک) رانوں پر بٹھا لیا۔ میں نے کھڑے ہو کر عرض کیا : یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیک و آلک وسلم! میں انہیں واپس چھوڑ آتا ہوں۔ پس اچانک آسمانی بجلی چمکی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (حسنین کریمین علیہما السلام) کو فرمایا کہ اپنی والدہ کے پاس چلے جاؤ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے گھر میں داخل ہونے تک وہ روشنی برقرار رہی۔‘‘

۱. احمد بن حنبل، المسند، ۲ : ۵۱۳، رقم : ۱۰۶۶۹

۲. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۵۱، رقم : ۲۶۵۹

۳. حاکم، المستدرک، ۳ : ۱۸۳، رقم : ۴۷۸۲

۴. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۸۱

۵. ابن عدي، الکامل، ۶ : ۸۱، رقم : ۱۶۱۵

۶. ذهبي، سير اعلام النبلاء، ۳ : ۲۵۶

۷. عسقلاني، تهذيب التهذيب، ۲ : ۲۵۸

۸. شوکاني، نيل الاوطار، ۲ : ۱۲۴

فصل : ۳۸

تشجيع النبي صلي الله عليه وآله وسلم و جبريل عليه السلام للحسنين عليهما السلام علي المصارعة

(حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جبرئیلں کا حسنین کریمین علیہما السلام کو داد دینا)

۱۲۵. عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : کان الحسن و الحسين عليهما السلام يصطرعان بين يدي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، فکان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : هي حسن. فقالت فاطمة سلام اﷲ عليها : يا رسول اﷲ صلي اﷲ عليک وسلم! لم تقول هي حسن؟ فقال : إن جبريل يقول : هي حسين.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے حسنین کریمین علیہما السلام کشتی لڑ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے : حسن جلدی کرو. سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا نے کہا : یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیک وسلم! آپ صرف حسن کو ہی ایسا کیوں فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا : کیونکہ جبرئیل امین حسین کو جلدی کرنے کا کہہ کر داد دے رہے تھے۔‘‘

۱. ابويعلیٰ، المعجم، ۱ : ۱۷۱، رقم : ۱۹۶

۲. عسقلاني، الاصابه، ۲ : ۷۷، رقم : ۱۷۲۶

۳. ابن اثير، اسد الغابه في معرفة الصحابه، ۲ : ۲۶

۴. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربیٰ، ۱ : ۱۳۴

۵. ابن عدي، الکامل، ۵ : ۱۸، رقم : ۱۱۹۱

۱۲۶. عن محمد بن علي رضي اﷲ عنهما قال : اصطرع الحسن و الحسين رضي اﷲ عنهما عند رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، فجعل رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : هي حسن. قالت له فاطمة : يا رسول اﷲ صلي اﷲ عليک وسلم! تعين الحسن کانه أحب إليک من الحسين؟ قال : إن جبريل يعين الحسين و أنا أحب أن أعين الحسن.

’’محمد بن علی رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے حسنین کریمین علیہما السلام کشتی لڑ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے : حسن جلدی کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیدہ فاطمہ نے عرض کیا : یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیک وسلم! آپ حسن کی مدد فرما رہے ہیں لگتا ہے وہ آپ کو حسین سے زیادہ پیارا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (نہیں) جبرئیل حسین کی مدد کر رہے تھے اسلئے میں نے چاہا کہ حسن کی مدد کروں۔‘‘

۱. هيثمي، مسند الحارث، ۲ : ۹۱۰، رقم ۹۹۲

۲. سيوطي، الخصائص الکبري، ۲ : ۴۶۵

۳. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربي، ۱ : ۱۳۴

۱۲۷. عن بن عباس رضي اﷲ عنهما قال : اتخذ الحسن والحسين عند رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، فجعل يقول : هي يا حسن! خذ يا حسن! فقالت عائشة : تعين الکبير علي الصغير. فقال : إن جبريل يقول : خذ يا حسين.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں حسن و حسین علیہما السلام ایک دوسرے کو پکڑنے میں کوشاں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے حسن جلدی کرو! حسن پکڑ لو تو اُم المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ چھوٹے کے مقابلے میں بڑے کی مدد فرما رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (اس لئے کہ) جبرئیل امین (پہلے سے ہی) حسین کو حوصلہ دلاتے ہوئے پکڑلو، پکڑلو کہہ رہے تھے۔‘‘

ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، ۱۳ : ۲۲۳

فصل : ۳۹

کان النبي صلي الله عليه وآله وسلم يقبل الحسن و الحسين عليهما السلام

(حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسنین کریمین علیہما السلام کا بوسہ لیتے تھے)

۱۲۸. عن ابی هريره رضي الله عنه قال : خرج علينا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم و معه حسن و حسين، هذا علي عاتقه و هذا علي عاتقه، وهو يلثم هذا مرة و يلثم هذا مرة.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حسنین کریمین علیہما السلام تھے ایک (شہزادہ) ایک کندھے پر سوار تھا اور دوسرا دوسرے کندھے پرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں کو باری باری چوم رہے تھے۔‘‘

۱. احمد بن حنبل، المسند، ۲ : ۴۰۰، رقم : ۹۶۷۱

۲. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، ۲ : ۷۷۷، رقم : ۱۳۷۶

۳. حاکم، المستدرک، ۳ : ۱۸۲، رقم : ۴۷۷۷

۴. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۷۹

۵. مزي، تهذيب الکمال، ۶ : ۲۲۸

۶. عسقلاني، الاصابه في تمييز الصحابه، ۲ : ۷۱

۷. مناوي، فيض القدير، ۶ : ۳۲

۱۲۹. عن أبي المعدل عطية الطفاوي عن أبيه أن أم سلمة حدثته قالت : بينما رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم في بيتي يوما اذ قالت الخادم أن عليا و فاطمة بالسدة، قالت : فقال لي : قومي فتنحي لي عن أهل بيتي، قالت : فقمت فتنحيت في البيت قريبا، فدخل علیّ و فاطمة و معهما الحسن و الحسين و هما صبيان صغيران، فأخذ الصبيين فوضعهما في حجره فقبلهما.

’’ابو معدل عطیہ طفاوی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہیں ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا نے بیان کیا کہ ایک دن جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر تشریف فرما تھے خادم نے عرض کیا : دروازے پر علی اور فاطمہ علیہما السلام آئے ہیں۔ ام سلمہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا : ایک طرف ہو جاؤ اور مجھے اپنے اہل بیت سے ملنے دو۔ ام سلمہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں : میں پاس ہی گھر میں ایک طرف ہٹ کر کھڑی ہو گئی، پس علی، فاطمہ اور حسنین کریمین علیہم السلام داخل ہوئے اس وقت وہ کم سن تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں بچوں کو پکڑ کر گود میں بٹھا لیا اور دونوں کو چومنے لگے۔‘‘

۱. احمد بن حنبل، المسند، ۶ : ۲۹۶، رقم : ۲۶۵۸۲

۲. ابن کثير، تفسيرالقرآن العظيم، ۳ : ۴۸۵

۳. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۱۶۶

۴. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربیٰ، ۱ : ۲۲

۱۳۰. عن يعلي بن مرة رضي الله عنه قال : إن حسنا و حسينا أقبلا يمشيان إلي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، فلما جاء احدهما جعل يده في عنقه، ثم جاء الآخر فجعل يده الأخري في عنقه، فقبّل هذا، ثم قبّل هذا.

’’حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حسن و حسین علیہما السلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلتے ہوئے آئے، جب ان میں سے ایک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک بازو سے اسے گلے لگا لیا، پھر جب دوسرا پہنچا تو دوسرے بازو سے اسے گلے لگا لیا، پھر دونوں کو باری باری چومنے لگے۔‘‘

۱. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۳۲، رقم : ۲۵۸۷

۲. طبراني، المعجم الکبير، ۲۲ : ۲۷۴، رقم : ۷۰۳

۳. قضاعي، مسند الشهاب، ۱ : ۵۰، رقم : ۲۶

۴. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربیٰ، ۱ : ۱۲۲

۱۳۱. عن عتبة بن غزوان رضي الله عنه قال : بينما رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم جالس إذ جاء الحسن و الحسين فرکبا ظهره، فوضعهما في حجره فجعل يقبل هذا مرة و هذا مرة.

’’عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے کہ حسن و حسین علیہما السلام آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک پر سوار ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو اپنی گود میں بٹھا لیا اور باری باری دونوں کو چومنے لگے۔‘‘

ابن قانع، معجم الصحابة، ۲ : ۲۶۵، رقم : ۷۸۶

فصل : ۴۰

ذهب النبي صلي الله عليه وآله وسلم للمباهلة و معه الحسن والحسين عليهما السلام

(حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مباھلہ کے وقت حسنین کریمین علیہما السلام کو اپنے ساتھ لے گئے)

۱۳۲. عن الشعبي رضي الله عنه قال : لما أراد رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أن يلا عن أهل نجران، أخذ بيد الحسن والحسين و کانت فاطمة تمشي خلفه.

’’حضرت شعبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل نجران کے ساتھ مباھلہ کا ارادہ فرمایا تو حسنین کریمین علیہما السلام کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے لیا اور سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل رہی تھیں۔‘‘

۱. ابن ابي شيبه، المصنف، ۶ : ۳۸۹، رقم : ۳۶۱۸۴

۲. ابن ابي شيبه، المصنف، ۷ : ۴۲۶، رقم : ۳۷۰۱۴

۳. عسقلاني، فتح الباري، ۸ : ۹۴، رقم : ۴۱۱۹

۱۳۳. عن ابن زيد قال : قيل لرسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : لو لاعنت القوم بمن کنت تأتي حين قلت : ابناء نا و ابناء کم قال : حسن و حسين.

’’ابن زید سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عیسائی قوم کے ساتھ مباھلہ ہو جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے قول ’ہمارے بیٹے اور تمہارے بیٹے‘ کے مصداق کن کو اپنے ساتھ لاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حسن اور حسین کو۔‘‘

طبري، جامع البيان في تفسير القرآن، ۳ : ۳۰۱

۱۳۴. عن علباء بن احمر اليشکري قال : لما نزلت هذه الأية (فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَ نَا وَ أَبْنَاءَ کُمْ وَ نِسَاءَ نَا وَ نِسَاءَ کُمْ. . ) أرسل رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم الي علي و فاطمة و ابنيهما الحسن والحسين.

’’علباء بن احمر یشکری سے روایت ہے کہ جب یہ آیت. . اے حبیب فرما دیجئے! آؤ بلاتے ہیں ہم اپنے بیٹوں کو اور تم اپنے بیٹوں کو اور ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو. . نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی، سیدہ فاطمہ اور ان کے بیٹوں حسن و حسین علیہم السلام کو بلا بھیجا۔‘‘

۱. طبري، جامع البيان في تفسير القرآن، ۱۳ : ۳۰۱

۲. سيوطي، الدر المنثور، ۲ : ۲۳۳

۱۳۵. عن جابر رضي الله عنه أن وفد نجران اتوا النبي صلي الله عليه وآله وسلم فقالوا : ما تقول في عيسي بن مريم؟ فقال : هو روح اﷲ و کلمته و عبد اﷲ و رسوله. قالوا له : هل لک أن نلاعنک؟ إنه ليس کذلک. قال : و ذاک أحب إليکم؟ قالوا : نعم. قال : فإذا شئتم فجاء النبي صلي الله عليه وآله وسلم و جمع ولده والحسن والحسين.

’’حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ نجران کا ایک وفد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا کہ آپ کی عیسیٰ بن مریم کے بارے میں کیا رائے ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ روح اﷲ، کلمۃ اﷲ، اﷲ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس وفد نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا : کیا آپ ہمارے ساتھ مباھلہ کرتے ہیں کہ عیسیٰ ایسے نہ تھے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم یہی چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا : ہاں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جیسے تمہاری مرضی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لائے اور اپنے بیٹوں حسن و حسین علیہما السلام کو ساتھ لے جانے کے لئے جمع کیا۔‘‘

۱. حاکم، المستدرک، ۲ : ۶۴۹، رقم : ۴۱۵۷

۲. سيوطي، الدر المنثور، ۲ : ۲۳۱


مآخذ و مراجع

۱۔ القرآن الحکیم

۲۔ ابن ابی شیبہ، ابو بکر عبداﷲ بن محمد بن ابراہیم بن عثمانی کوفی (۱۵۹۔ ۲۳۵ھ / ۷۷۶۔ ۸۴۹ء)۔ المصنف۔ ریاض، سعودی عرب : مکتبۃ الرشد، ۱۴۰۹ھ۔

۳۔ ابن اثیر، ابو الحسن علی بن محمد بن عبدالکریم بن عبدالواحد شیبانی جزری (۵۵۵۔ ۶۳۰ھ / ۱۱۶۰۔ ۱۲۳۳ھ)۔ اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ۔ بیروت، لبنان : دارالکتب العلمیہ۔

۴۔ ابن احمد خطیب، ابوالعباس احمد بن احمد (م۔ ۸۱۰ھ)۔ وسیلۃ الاسلام بالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ بیروت، لبنان : دارالغرب الاسلامی، ۱۹۸۴ء

۵۔ ابن جارود، ابو محمد عبداﷲ بن علی النیشاپوری (م : ۳۰۷ھ)۔ المنتقیٰ۔ بیروت، لبنان : موسسۃ الکتاب الثقافیہ، ۱۴۰۸ھ / ۱۹۸۸ء۔

۶۔ ابن جوزی، ابو الفرج عبدالرحمٰن بن علی بن محمد بن علی بن عبید اﷲ (۵۱۰۔ ۵۷۹ھ / ۱۱۱۶۔ ۱۲۰۱ء)۔ صفوۃ الصفوہ۔ بیروت، لبنان : دارالکتب العلمیہ، ۱۴۰۹ھ / ۱۹۸۹ء۔

۷۔ ابن جوزی، ابو الفرج عبدالرحمٰن بن علی بن محمد بن علی بن عبید اﷲ (۵۱۰۔ ۵۷۹ھ / ۱۱۱۶۔ ۱۲۰۱ء)۔ العلل المتناھیہ۔ بیروت، لبنان : دارالکتب العلمیہ، ۱۴۰۳ھ۔

۸۔ ابن جوزی، ابو الفرج عبدالرحمٰن بن علی بن محمد بن علی بن عبید اﷲ (۵۱۰۔ ۵۷۹ھ / ۱۱۱۶۔ ۱۲۰۱ء)۔ التحقیق فی احادیث الخلاف۔ بیروت، لبنان : دارالکتب العلمیہ، ۱۴۱۵ھ۔

۹۔ ابن جوزی، ابو الفرج عبدالرحمٰن بن علی بن محمد بن علی بن عبید اﷲ (۵۱۰۔ ۵۷۹ھ / ۱۱۱۶۔ ۱۲۰۱ء)۔ تلبیس ابلیس۔ بیروت، لبنان : دارالکتاب العربی، ۱۴۰۵ھ / ۱۹۸۵ء

۱۰۔ ابن حبان، ابو حاتم محمد بن حبان بن احمد بن حبان (۲۷۰۔ ۳۵۴ھ / ۸۸۴۔ ۹۶۵ء)۔ الصحیح۔ بیروت، لبنان : مؤسسۃ الرسالہ، ۱۴۱۴ھ / ۱۹۹۳ء۔

۱۱۔ ابن حبان، ابو حاتم محمد بن حبان بن احمد بن حبان (۲۷۰۔ ۳۵۴ھ / ۸۸۴۔ ۹۶۵ء)۔ الثقات۔ بیروت، لبنان : دار الفکر، ۱۳۹۵ھ / ۱۹۷۵ء۔

۱۲۔ ابن حجر مکی، ابو العباس احمد بن محمد بن محمد بن علی ہیتمی (م ۹۷۳ھ)۔ الصواعق المحرقۃ علی اھل الرفض والضلال والنزندقۃ۔ بیروت، لبنان : مؤسسۃ الرسالۃ، ۱۹۹۷ء۔

۱۳۔ ابن حزم، علی بن احمد بن سعید بن حزم اندلسی (۳۸۴۔ ۴۵۶ھ / ۹۹۴۔ ۱۰۶۴ء)۔ المحلی۔ بیروت، لبنان : دار الآفاق الجدیدہ۔

۱۴۔ ابن حیان، ابو محمد عبداﷲ بن محمد بن جعفر الانصاری (۲۷۴۔ ۳۶۹ھ)۔ طبقات المحدثین باصبھان۔ بیروت، لبنان : مؤسسۃ الرسالہ، ۱۴۱۲ھ / ۱۹۹۲ء۔

۱۵۔ ابن خزیمہ، ابو بکر محمد بن اسحاق (۲۲۳۔ ۳۱۱ھ / ۸۳۸۔ ۹۲۴ء)۔ الصحیح۔ بیروت، لبنان : المکتب الاسلامی، ۱۳۹۰ھ / ۱۹۷۰ء۔

۱۶۔ ابن راہویہ، ابو یعقوب اسحاق بن ابراہیم بن مخلد بن ابراہیم بن عبداﷲ (۱۶۱۔ ۲۳۷ھ / ۷۷۸۔ ۸۵۱ء)۔ المسند۔ مدینہ منورہ، سعودی عرب : مکتبۃ الایمان، ۱۴۱۲ھ / ۱۹۹۱ء۔

۱۷۔ ابن راشد، معمر ازدی (م۔ ۱۵۱ھ)۔ الجامع۔ بیروت، لبنان : مکتبۃ الایمان، ۱۹۹۵ء۔

۱۸۔ ابن رشد، ابو الولید محمد بن احمد بن محمد (م۔ ۵۵۹ھ)۔ بدایۃ المجتھد۔ بیروت، لبنان : دارالفکر۔

۱۹۔ ابن شاہین، ابو حفص عمر بن احمد الواعظ (۲۹۷۔ ۳۸۵ھ)۔ تاریخ اسماء الثقات۔ کویت : الدارالسلفیہ، ۱۴۰۴ھ۔

۲۰۔ ابن عبدالبر، ابو عمر یوسف بن عبداﷲ بن محمد (۳۶۸۔ ۴۷۳ھ / ۹۷۹۔ ۱۰۷۱ء)۔ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب۔ بیروت، لبنان : دارالجیل، ۱۴۱۲ھ۔

۲۱۔ ابن عبد البر، ابو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد (۳۶۸۔ ۴۶۳ھ / ۹۷۹۔ ۱۰۷۱ء)۔ التمہید۔ مغرب (مراکش) : وزات عموم الاوقاف و الشؤون الاسلامیہ، ۱۳۸۷ھ۔

۲۲۔ ابن عدی، ابو احمد عبداﷲ جرجانی (۲۷۷۔ ۳۶۵ھ)۔ الکامل فی ضعفاء الرجال۔ بیروت، لبنان : دارالفکر، ۱۴۰۹ھ / ۱۹۸۸ء۔

۲۳۔ ابن عساکر، ابو قاسم علی بن حسن بن ہبۃ اﷲ بن عبداﷲ بن حسین دمشقی (۴۹۹۔ ۵۷۱ھ / ۱۱۰۵۔ ۱۱۷۶ء)۔ تاریخ دمشق الکبیر (تاریخ ابن عساکر)۔ بیروت، لبنان : دار احیاء التراث العربی، ۱۴۲۱ھ / ۲۰۰۱ء۔

۲۴۔ ابن قانع، ابو الحسین عبدالباقی بن قانع (۲۶۵۔ ۳۵۱ھ)۔ معجم الصحابۃ۔ المدینہ المنورہ، سعودی عرب : مکتبۃ الغرباء الاثریہ، ۱۴۱۸ھ۔

۲۵۔ ابن کثیر، ابو الفداء اسماعیل بن عمر (۷۰۱۔ ۷۷۴ھ / ۱۳۰۱۔ ۱۳۷۳ء)۔ البدایہ والنہایہ۔ بیروت، لبنان : دارالفکر، ۱۴۱۹ھ / ۱۹۹۸ء۔

۲۶۔ ابن کثیر، ابو الفداء اسماعیل بن عمر (۷۰۱۔ ۷۷۴ھ / ۱۳۰۱۔ ۱۳۷۳ء)۔ تفسیر القرآن العظیم۔ بیروت، لبنان : دارالمعرفہ، ۱۴۰۰ھ / ۱۹۸۰ء۔

۲۷۔ ابن کثیر، ابو الفداء اسماعیل بن عمر (۷۰۱۔ ۷۷۴ھ / ۱۳۰۱۔ ۱۳۷۳ء)۔ فصول من السیرۃ۔ بیروت، لبنان : مؤسسۃ علوم القرآن، دار القلم، ۱۳۹۹ھ۔

۲۸۔ ابن ماجہ، ابو عبداﷲ محمد بن یزید قزوینی (۲۰۹۔ ۲۷۳ھ / ۸۲۴۔ ۸۸۷ء)۔ السنن۔ بیروت، لبنان : دارالکتب العلمیہ، ۱۴۱۹ھ / ۱۹۹۸ء۔

۲۹۔ ابن ملقن انصاری، عمر بن علی (۷۷۳۔ ۸۰۴ھ)۔ خلاصۃ البدر المنیر۔ ریاض، سعودی عرب : مکتبہ الرشد، ۱۴۱۰ھ۔

۳۰۔ ابن موسیٰ، ابو المحاسن یوسف الحنفی۔ المعتصرمن المختصر من مشکل الآثار۔ بیروت، لبنان : عالم الکتب۔

۳۱۔ ابو داؤد، سلیمان بن اشعث سجستانی (۲۰۲۔ ۲۷۵ھ / ۸۱۷۔ ۸۸۹ء)۔ السنن۔ بیروت، لبنان : دارالفکر، ۱۴۱۴۔

۳۲۔ ابو نعیم، احمد بن عبداﷲ بن احمد بن اسحاق بن موسیٰ بن مہران اصبہانی (۳۳۶۔ ۴۳۰ھ / ۹۴۸۔ ۱۰۳۸ء)۔ حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء۔ بیروت، لبنان : دار الکتاب العربی، ۱۴۰۰ھ / ۱۹۸۰ء۔

۳۳۔ ابو یعلیٰ، احمد بن علی بن مثنی بن یحیی بن عیسیٰ بن ہلال موصلی تمیمی (۲۱۰۔ ۳۰۷ھ / ۸۲۵۔ ۹۱۹ء)۔ المسند۔ دمشق، شام : دارالمامون للتراث، ۱۴۰۴ھ / ۱۹۸۴ء۔

۳۴۔ ابویعلی، احمد بن علی بن مثنی بن یحیی بن عیسیٰ بن ہلال موصلی تمیمی (۲۱۰۔ ۳۰۷ھ / ۸۲۵۔ ۹۱۹ء)۔ المعجم۔ فیصل آباد، پاکستان : ادارۃ العلوم و الاثریہ، ۱۴۰۷ھ۔

۳۵۔ احمد بن حنبل، ابو عبداﷲ بن محمد (۱۶۴۔ ۲۴۱ھ / ۷۸۰۔ ۸۵۵ء)۔ فضائل الصحابہ۔ بیروت، لبنان : مؤسسۃ الرسالہ۔

۳۶۔ احمد بن حنبل، ابو عبداﷲ بن محمد (۱۶۴۔ ۲۴۱ھ / ۷۸۰۔ ۸۵۵ء)۔ المسند۔ بیروت، لبنان : المکتب الاسلامی، ۱۳۹۸ھ / ۱۹۷۸ء۔

۳۷۔ بخاری، ابو عبداﷲ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ (۱۹۴۔ ۲۵۶ھ / ۸۱۰۔ ۸۷۰ء)۔ الادب المفرد۔ بیروت، لبنان : دارالبشائر الاسلامیہ، ۱۴۰۹ھ / ۱۹۸۹ء۔

۳۸۔ بخاری، ابو عبداﷲ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ (۱۹۴۔ ۲۵۶ھ / ۸۱۰۔ ۸۷۰ء)۔ الصحیح۔ بیروت، لبنان + دمشق، شام : دارالقلم، ۱۴۰۱ھ / ۱۹۸۱ء۔

۳۹۔ بخاری، ابو عبداﷲ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ (۱۹۴۔ ۲۵۶ھ / ۸۱۰۔ ۸۷۰ء)۔ خلق افعال العباد۔ ریاض، سعودی عرب : دارالمعارف السعودیہ، ۱۳۹۸ھ / ۱۹۷۸ء۔

۴۰۔ بزار، ابو بکر احمد بن عمرو بن عبدالخالق بصری (۲۱۰۔ ۲۹۲ھ / ۸۲۵۔ ۹۰۵ء)۔ المسند۔ بیروت، لبنان : ۱۴۰۹ھ۔

۴۱۔ بغوی، ابو محمد حسین بن مسعود بن محمد (۴۳۶۔ ۵۱۶ھ / ۱۰۴۴۔ ۱۱۲۲ء)۔ معالم التنزیل۔ بیروت، لبنان : دارالمعرفہ، ۱۴۰۷ھ / ۱۹۸۷ء۔

۴۲۔ بیہقی، ابو بکر احمد بن حسین بن علی بن عبداﷲ بن موسیٰ (۳۸۴۔ ۴۵۸ھ / ۹۹۴۔ ۱۰۶۶ء)۔ السنن الکبریٰ۔ مکہ مکرمہ، سعودی عرب : مکتبہ دارالباز، ۱۴۱۴ھ / ۱۹۹۴ء۔

۴۳۔ بیہقی، ابو بکر احمد بن حسین بن علی بن عبداﷲ بن موسیٰ (۳۸۴۔ ۴۵۸ھ / ۹۹۴۔ ۱۰۶۶ء)۔ المدخل الی السنن الکبریٰ۔ کویت : دار الخلفاء للکتاب الاسلامی، ۱۴۰۴ھ / ۱۹۸۴ء۔

۴۴۔ ترمذی، ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورہ بن موسی بن ضحاک سلمی، (۲۱۰۔ ۲۷۹ھ / ۸۲۵۔ ۸۹۲ء)۔ الجامع الصحیح۔ بیروت، لبنان : داراحیاء التراث العربی۔

۴۵۔ حاکم، ابو عبداﷲ محمد بن عبداﷲ بن محمد (۳۲۱۔ ۴۰۵ھ / ۹۳۳۔ ۱۰۱۴ء)۔ المستدرک علی الصحیحین۔ بیروت۔ لبنان : دارالکتب العلمیہ، ۱۴۱۱ھ / ۱۹۹۰ء۔

۴۶۔ حسینی، ابراہیم بن محمد (۱۰۵۴۔ ۱۱۲۰ھ)۔ البیان والتعریف۔ بیروت، لبنان : دارالکتاب العربی، ۱۴۰۱ھ۔

۴۷۔ حکمی، حافظ بن احمد (۱۳۴۲۔ ۱۳۷۷ھ)۔ معارج القبول بشرح سلم الوصول الی علم الاصول۔ دمام : دار ابن قیم، ۱۴۱۰ھ / ۱۹۹۰ء۔

۴۸۔ حلبی، علی بن برہان الدین (۱۴۰۴ھ)۔ السیرۃ الحلبیۃ / انسان العیون۔ بیروت، لبنان، دارالمعرفہ، ۱۴۰۰ھ۔

۴۹۔ خطیب بغدادی، ابو بکر احمد بن علی بن ثابت بن احمد بن مہدی بن ثابت (۳۹۲۔ ۴۶۳ھ / ۱۰۰۲۔ ۱۰۷۱ء)۔ تاریخ بغداد۔ بیروت، لبنان : دارالکتب العلمیہ۔

۵۰۔ دارقطنی، ابو الحسن علی بن عمر بن احمد بن مہدی بن مسعود بن نعمان (۳۰۶۔ ۳۸۵ / ۹۱۸۔ ۹۹۵ء)۔ علل۔ ریاض، سعودی عرب : دار طیبہ، ۱۴۰۵ھ / ۱۹۸۵ء

۵۱۔ دورقی، ابوعبداﷲ احمد بن ابراہیم بن کثیر (۱۶۸۔ ۲۴۶ھ)۔ مسند سعد بن ابی وقاص۔ بیروت، لبنان : دارالبشائر الاسلامیہ، ۱۴۰۷ھ۔

۵۲۔ دولابی، الامام الحافظ ابو بشر محمد بن احمد بن محمد بن حماد (۲۲۴۔ ۳۱۰ھ)۔ الذریۃ الطاہرہ النبویہ۔ کویت : الدارالسلفیہ، ۱۴۰۷ھ۔

۵۳۔ دیلمی، ابو شجاع شیرویہ بن شہردار بن شیرویہ بن فناخسرو ہمذانی (۴۴۵۔ ۵۰۹ھ / ۱۰۵۳۔ ۱۱۱۵ء)۔ الفردوس بماثور الخطاب۔ بیروت، لبنان : دارالکتب العلمیہ، ۱۹۸۶ء۔

۵۴۔ ذہبی، شمس الدین محمد بن احمد (۶۷۳۔ ۷۴۸ھ)۔ سیر اعلام النبلاء۔ بیروت، لبنان : مؤسسۃ الرسالۃ، ۱۴۱۳ھ۔

۵۵۔ ذہبی، شمس الدین محمد بن احمد (۶۷۳۔ ۷۴۸ھ)۔ میزان الاعتدال فی نقد الرجال۔ بیروت۔ لبنان : دارالکتب العلمیہ، ۱۹۹۵ء۔

۵۶۔ ذہبی، شمس الدین محمد بن احمد (۶۷۳۔ ۷۴۸ھ)۔ المغنی فی الضعفاء۔

۵۷۔ رامہرمزی، ابوالحسن بن عبدالرحمٰن بن خلاد (م۔ ۵۷۶ھ)۔ امثال الحدیث۔ بیروت، لبنان : مؤسسۃ الکتب الثقافیہ، ۱۴۰۹ھ۔

۵۸۔ رویانی، ابوبکر محمد بن ہارون (م ۳۰۷ھ)۔ المسند۔ قاہرہ، مصر : مؤسسۃ قرطبہ، ۱۴۱۶ھ۔

۵۹۔ زرقانی، ابو عبداﷲ محمد بن عبدالباقی بن یوسف بن احمد بن علوان مصری ازہری مالکی (۱۰۵۵۔ ۱۱۲۲ھ / ۱۶۴۵۔ ۱۷۱۰ء)۔ شرح الموطا۔ بیروت، لبنان : دارالکتب العلمیہ، ۱۴۱۱ھ۔

۶۰۔ سخاوی، شمس الدین محمد بن عبدالرحمٰن (۸۳۱ھ / ۹۰۲ء)۔ اِستجلاب اِرتقاء الغرف بحب اَقرباء الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وذَوِی الشرف۔ بیروت، لبنان : دارالمدینہ، ۱۴۲۱ھ / ۲۰۰۱ء۔

۶۱۔ سیوطی، جلال الدین ابو الفضل عبدالرحمٰن بن ابی بکر بن محمد بن ابی بکر بن عثمان (۸۴۹۔ ۹۱۱ھ / ۱۴۴۵۔ ۱۵۰۵ء)۔ الخصائص الکبریٰ۔ فیصل آباد، پاکستان : مکتبہ نوریہ رضویہ۔

۶۲۔ سیوطی، جلال الدین ابوالفضل عبدالرحمٰن بن ابی بکر بن محمد بن ابی بکر بن عثمان (۸۴۹۔ ۹۱۱ھ / ۱۴۴۵۔ ۱۵۰۵ء)۔ الدرالمنثور فی التفسیر بالماثور۔ بیروت، لبنان : دار المعرفہ۔

۶۳۔ سیوطی، جلال الدین ابو الفضل عبدالرحمٰن بن ابی بکر بن محمد بن ابی بکر بن عثمان (۸۴۹۔ ۹۱۱ھ / ۱۴۴۵۔ ۱۵۰۵ء)۔ تنویر الحوالک شرح موطا مالک۔ مصر : مکتبہ التجاریہ الکبریٰ، ۱۳۸۹ھ / ۱۹۶۹ء۔

۶۴۔ شاشی، ابو سعید ہیثم بن کلیب بن شریح (م ۳۳۵ھ / ۹۴۶ء)۔ المسند۔ مدینہ منورہ، سعودی عرب : مکتبۃ العلوم و الحکم، ۱۴۱۰ھ۔

۶۵۔ شوکانی، محمد بن علی بن محمد (۱۱۷۳۔ ۱۲۵۰ھ / ۱۷۶۰۔ ۱۸۳۴ء)۔ نیل الاوطار شرح منتقی الاخبار۔ بیروت، لبنان : دارالفکر، ۱۴۰۲ھ / ۱۹۸۲ء۔

۶۶۔ شوکانی، محمد بن علی بن محمد (۱۱۷۳۔ ۱۲۵۰ھ / ۱۷۶۰۔ ۱۸۳۴ء)۔ درالسحابہ فی مناقب القرابہ والصحابہ۔ دمشق، شام : دارالفکر، ۱۴۹۴ھ / ۱۹۸۴ء۔

۶۷۔ شیبانی، ابوبکر احمد بن عمرو بن ضحاک بن مخلد (۲۰۶۔ ۲۸۷ھ / ۸۲۲۔ ۹۰۰ء)۔ الآحاد و المثانی۔ ریاض، سعودی عرب : دار الرایہ، ۱۴۱۱ھ / ۱۹۹۱ء۔

۶۸۔ شیبانی، ابوبکر بن عمرو بن ضحاک بن مخلد شیبانی (۲۰۶۔ ۲۸۷ھ / ۸۲۲۔ ۹۰۰ء)۔ السنہ۔ بیروت، لبنان : المکتب الاسلامی، ۱۴۰۰ھ۔

۶۹۔ صنعانی، محمد بن اسماعیل (۷۷۳۔ ۸۵۲ھ)۔ سبل السلام شرح بلوغ المرام۔ بیروت، لبنان : داراحیاء التراث العربی، ۱۳۷۹ھ۔

۷۰۔ صیداوی، محمد بن احمد بن جمیع، ابوالحسین (۳۰۵۔ ۴۰۲ھ)۔ معجم الشیوخ۔ بیروت، لبنان : مؤسسۃ الرسالۃ، ۱۴۰۵ھ۔

۷۱۔ طبرانی، سلیمان بن احمد (۲۶۰۔ ۳۶۰ھ / ۸۷۳۔ ۹۷۱ء)۔ المعجم الاوسط۔ ریاض، سعودی عرب : مکتبۃ المعارف، ۱۴۰۵ھ / ۱۹۸۵ء۔

۷۲۔ طبرانی، سلیمان بن احمد (۲۶۰۔ ۳۶۰ھ / ۸۷۳۔ ۹۷۱ء)۔ المعجم الصغیر۔ بیروت، لبنان : دارالکتب العلمیہ، ۱۴۰۳ھ / ۱۹۸۳ء۔

۷۳۔ طبرانی، سلیمان بن احمد (۲۶۰۔ ۳۶۰ھ / ۸۷۳۔ ۹۷۱ء)۔ المعجم الکبیر۔ موصل، عراق : مطبعۃ الزہراء الحدیثہ۔

۷۴۔ طبرانی، سلیمان بن احمد (۲۶۰۔ ۳۶۰ھ / ۸۷۳۔ ۹۷۱ء)۔ المعجم الکبیر۔ قاہرہ، مصر : مکتبہ ابن تیمیہ۔

۷۵۔ طبری، ابو جعفر محمد بن جریر بن یزید (۲۲۴۔ ۳۱۰ھ / ۸۳۹۔ ۹۲۳ء)۔ جامع البیان فی تفسیر القرآن۔ بیروت، لبنان : دارالمعرفہ، ۱۴۰۰ھ / ۱۹۸۰ء۔

۷۶۔ طیالسی، ابو داؤد سلیمان بن داؤد جارود (۱۳۳۔ ۲۰۴ھ / ۷۵۱۔ ۸۱۹ء)۔ المسند۔ بیروت، لبنان : دارالمعرفہ۔

۷۷۔ عبدالرزاق، ابو بکر بن ہمام بن نافع صنعانی (۱۲۶۔ ۲۱۱ھ / ۷۴۴۔ ۸۲۶ء)۔ المصنف۔ بیروت، لبنان : المکتب الاسلامی، ۱۴۰۳ھ۔

۷۸۔ عجلونی، ابو الفداء اسماعیل بن محمد بن عبدالہادی بن عبدالغنی جراحی (۱۰۸۷۔ ۱۱۶۲ھ / ۱۶۷۶۔ ۱۷۴۹ء)۔ کشف الخفاء و مزیل الالباس۔ بیروت، لبنان : مؤسسۃ الرسالہ، ۱۴۰۵ھ۔

۷۹۔ عسقلانی، احمد بن علی بن محمد بن محمد بن علی بن احمد کنانی (۷۷۳۔ ۸۵۲ھ / ۱۳۷۲۔ ۱۴۴۹ء)۔ الاصابہ فی تمییز الصحابہ۔ بیروت، لبنان : دارالجیل، ۱۴۱۲ھ / ۱۹۹۲ء۔

۸۰۔ عسقلانی، احمد بن علی بن محمد بن محمد بن علی بن احمد کنانی (۷۷۳۔ ۸۵۲ھ / ۱۳۷۲۔ ۱۴۴۹ء)۔ تلخیص الحبیر۔ مدینہ منورہ، سعودی عرب : ۱۴۸۴ھ / ۱۹۶۴ء۔

۸۱۔ عسقلانی، احمد بن علی بن محمد بن محمد بن علی بن احمد کنانی (۷۷۳۔ ۸۵۲ھ / ۱۳۷۲۔ ۱۴۴۹ء)۔ تہذیب التہذیب۔ بیروت، لبنان، دارالفکر، ۱۴۰۴ھ / ۱۹۸۴ء۔

۸۲۔ عسقلانی، احمد بن علی بن محمد بن محمد بن علی بن احمد کنانی (۷۷۳۔ ۸۵۲ھ / ۱۳۷۲۔ ۱۴۴۹ء)۔ لسان المیزان۔ بیروت، لبنان، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، ۱۴۰۶ھ / ۱۹۸۶ء۔

۸۳۔ عسقلانی، احمد بن علی بن محمد بن محمد بن علی بن احمد کنانی (۷۷۳۔ ۸۵۲ھ / ۱۳۷۲۔ ۱۴۴۹ء)۔ فتح الباری۔ لاہور، پاکستان : دارنشر الکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۱ھ / ۱۹۸۱ء۔

۸۴۔ قرطبی، ابو عبداﷲ محمد بن احمد بن محمد بن یحییٰ اُموی (۲۸۴۔ ۳۸۰ھ / ۸۹۷۔ ۹۹۰ء)۔ الجامع لاحکام القرآن۔ بیروت، لبنان : داراحیاء التراث العربی۔

۸۵۔ قزوینی، عبدالکریم بن محمد الرافعی۔ التدوین فی اَخبار قزوین۔ بیروت، لبنان : دارالکتب العلمیہ، ۱۹۸۷ء۔

۸۶۔ قضاعی، ابو عبد اللہ محمد بن سلامہ بن جعفر بن علی بن حکمون بن ابراہیم بن محمد بن مسلم قضاعی (م ۴۵۴ھ / ۱۰۶۲ء)۔ مسند الشہاب۔ بیروت، لبنان : مؤسسۃ الرسالہ، ۱۴۰۷ھ / ۱۹۸۶ء۔

۸۷۔ کنانی، احمد بن ابی بکر بن اسماعیل (۷۶۲۔ ۸۴۰ھ)۔ مصباح الزجاجۃ فی زوائد ابن ماجہ۔ بیروت، لبنان : دارالعربیۃ، ۱۴۰۳ھ۔

۸۸۔ مبارک پوری، ابو علا محمد عبدالرحمٰن بن عبد الرحیم (۱۲۸۳۔ ۱۳۵۳ھ)۔ تحفۃ الاحوذی۔ بیروت، لبنان : دار الکتب العلمیہ۔

۸۹۔ محاملی، ابو عبداﷲ حسین بن اسماعیل بن محمد بن اسماعیل بن سعید بن ابان ضبی (۲۳۵۔ ۳۳۰ھ / ۸۴۹۔ ۹۴۱ء)۔ الامالی۔ عمان + اُردن + الدمام : المکتبۃ الاسلامیہ + دار ابن القیم، ۱۴۱۲ھ۔

۹۰۔ محب طبری، ابو جعفر احمد بن عبداﷲ بن محمد بن ابی بکر بن محمد بن ابراہیم (۶۱۵۔ ۶۹۴ھ / ۱۲۱۸۔ ۱۲۹۵ء)۔ ذخائر العقبیٰ فی مناقب ذَوِی القربیٰ۔ جدہ، سعودی عرب : مکتبۃ الصحابہ، ۱۴۱۵ھ / ۱۹۹۵ء۔

۹۱۔ محب طبری، ابو جعفر احمد بن عبد اللہ بن محمد بن ابی بکر بن محمد بن ابراہیم (۶۱۵۔ ۶۹۴ھ / ۱۲۱۸۔ ۱۲۹۵ء)۔ الریاض النضرہ فی مناقب العشرہ۔ بیروت، لبنان : دار الغرب الاسلامی، ۱۹۹۶ء۔

۹۲۔ مزی، ابو الحجاج یوسف بن زکی عبدالرحمٰن بن یوسف بن عبدالملک بن یوسف بن علی (۶۵۴۔ ۷۴۲ھ / ۱۲۵۶۔ ۱۳۴۱ء)۔ تہذیب الکمال۔ بیروت، لبنان : مؤسسۃ الرسالہ، ۱۴۰۰ھ / ۱۹۸۰ء۔

۹۳۔ مسلم، ابن الحجاج قشیری (۲۰۶۔ ۲۶۱ھ / ۸۲۱۔ ۸۷۵ء)۔ الصحیح۔ بیروت، لبنان : دار احیاء التراث العربی۔

۹۴۔ مقدسی، محمد بن عبد الواحد حنبلی (م ۶۴۳ھ)۔ الاحادیث المختارہ۔ مکہ مکرمہ، سعودی عرب : مکتبۃ النہضۃ الحدیثیہ، ۱۴۱۰ھ / ۱۹۹۰ء۔

۹۵۔ مناوی، عبدالرؤف بن تاج العارفین بن علی بن زین العابدین (۹۵۲۔ ۱۰۳۱ھ / ۱۵۴۵۔ ۱۶۲۱ء)۔ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر۔ مصر : مکتبہ تجاریہ کبریٰ، ۱۳۵۶ھ۔

۹۶۔ نبہانی، یوسف بن اسماعیل بن یوسف (۱۲۶۵۔ ۱۳۵۰ھ)۔ الشرف المؤبد لآل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ فیصل آباد، پاکستان : چشتی کتب خانہ، ۱۹۸۶ء۔

۹۷۔ نسائی، احمد بن شعیب (۲۱۵۔ ۳۰۳ھ / ۸۳۰۔ ۹۱۵ء)۔ السنن۔ حلب، شام : مکتب المطبوعات الاسلامیہ، ۱۴۰۶ھ / ۱۹۸۶ء۔

۹۸۔ نسائی، احمد بن شعیب (۲۱۵۔ ۳۰۳ھ / ۸۳۰۔ ۹۱۵ء)۔ السنن الکبریٰ۔ بیروت، لبنان : دارالکتب العلمیہ، ۱۴۱۱ھ / ۱۹۹۱ء۔

۹۹۔ نسائی، احمد بن شعیب (۲۱۵۔ ۳۰۳ھ / ۸۳۰۔ ۹۱۵ء)۔ فضائل الصحابہ۔ بیروت، لبنان : دارالکتب العلمیہ، ۱۴۰۵ھ۔

۱۰۰۔ نسائی، احمد بن شعیب (۲۱۵۔ ۳۰۳ھ / ۸۳۰۔ ۹۱۵ء)۔ خصائص علی۔ کویت : مکتبہ المعلا، ۱۴۰۶ھ۔

۱۰۱۔ نووی، ابو زکریا، یحییٰ بن شرف بن مری بن حسن بن حسین بن محمد بن جمعہ بن حزام (۶۳۱۔ ۶۷۷ھ / ۱۲۳۳۔ ۱۲۷۸ء)۔ تہذیب الاسماء واللغات۔ بیروت، لبنان : دار الکتب العلمیہ۔

۱۰۲۔ وادیاشی، عمر بن علی بن احمد اندلسی (۷۲۳۔ ۸۰۴ھ)۔ تحفۃ المحتاج الیٰ ادلۃ المحتاج۔ مکہ مکرمہ، سعودی عرب : دار حراء، ۱۴۰۶ھ۔

۱۰۳۔ ہندی، علاؤ الدین علی المتقی بن حسام الدین (م۔ ۹۷۵ھ)۔ کنز العمال فی سنن الافعال والاقوال۔ بیروت، لبنان : مؤسسۃ الرسالہ، ۱۳۹۹ھ / ۱۹۷۹ء۔

۱۰۴۔ ہیثمی، نور الدین ابو الحسن علی بن ابی بکر بن سلیمان (۷۳۵۔ ۸۰۷ھ / ۱۳۳۵۔ ۱۴۰۵ء)۔ مجمع الزوائد۔ قاہرہ، مصر : دارالریان للتراث + بیروت، لبنان : دارالکتاب العربی، ۱۴۰۷ھ / ۱۹۸۷ء۔

۱۰۵۔ ہیثمی، نور الدین ابو الحسن علی بن ابی بکر بن سلیمان (۷۳۵۔ ۸۰۷ھ / ۱۳۳۵۔ ۱۴۰۵ء)۔ موارد الظمآن اِلی زوائد ابن حبان۔ بیروت، لبنان : دارالکتب العلمیہ۔

۱۰۶۔ ہیثمی، نور الدین ابو الحسن علی بن ابی بکر بن سلیمان (۷۳۵۔ ۸۰۷ھ / ۱۳۳۵۔ ۱۴۰۵ء)۔ مسند الحارث (زوائد الہیثمی)۔ المدینہ المنورۃ، سعودی عرب : مرکز خدمۃ السنۃ و السیرۃ النبویۃ، ۱۴۱۳ھ / ۱۹۹۲ء۔


فہرست

فصل : ۱ ۴

فصل : ۲ ۷

فصل : ۳ ۸

فصل : ۴ ۱۰

فصل : ۵ ۱۲

فصل : ۶ ۱۵

فصل : ۷ ۱۶

فصل : ۸ ۱۸

فصل : ۹ ۱۹

فصل : ۱۰ ۲۲

فصل : ۱۱ ۲۴

فصل : ۱۲ ۲۶

فصل : ۱۳ ۳۲

فصل : ۱۴ ۳۴

فصل : ۱۵ ۳۶

فصل : ۱۶ ۳۸

فصل : ۱۷ ۳۹

فصل : ۱۸ ۴۱

فصل : ۱۹ ۴۴

فصل : ۲۰ ۴۶


فصل : ۲۱ ۴۷

فصل : ۲۲ ۴۸

فصل : ۲۳ ۵۰

فصل : ۲۴ ۵۲

فصل : ۲۵ ۵۳

فصل : ۲۶ ۵۴

فصل : ۲۷ ۵۵

فصل : ۲۸ ۵۶

فصل : ۲۹ ۶۰

فصل : ۳۰ ۶۴

فصل : ۳۱ ۶۵

فصل : ۳۲ ۶۷

فصل : ۳۳ ۶۸

فصل : ۳۴ ۷۰

فصل : ۳۵ ۷۱

فصل : ۳۶ ۷۳

فصل : ۳۷ ۷۶

فصل : ۳۸ ۷۷

فصل : ۳۹ ۷۹

فصل : ۴۰ ۸۱

مآخذ و مراجع ۸۴