یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


کتاب کا نام : مجالس حافظ کفایت حسین

خطیب علامہ حافظ کفایت حسین مرحوم


مجلس اول :

بسم الله الرحمٰن الرحیم

( أَ فَغَیْرِ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُونَ وَ لَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِيْ السَّمٰوٰتِ وَ الْأَرْضِ طَوْعًا وَ کَرْهًا وَإِلَیْهِِ یُرْجَعُونَ ) ۔ ( آل عمران : ۸۳ )

حضرات آپ کی خدمت میں جو آیت پیش کی ہے ۔ وہ پارہ سوم کے آخری رکوع کی آیت ہے ، جس کا ترجمہ یہ ہے :

لوگ اللہ کے دین کے سوا اور کسی کی خواہش رکھتے ہیں ۔ حالانکہ اللہ کے لیے آسمانوں والے اور زمین کے باشندے سب کے سب اپنی گردن جھکائے ہوئے ہیں ۔ اور اسی خدا کی طرف باز گشت ہوگی ۔

اس عشرے کی ان مجالس میں صرف مجھے دین خدا کے متعلق عرض کرنا ہے ۔ کہ وہ کیا چیز ہے ؟ او رعقل کے نزدیک حقیقی دین کیا ہونا چاہیے ؟یہی موضوع ہے جسے آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں کہ جس چیز کو دین اللہ کہا جاتا ہے ۔ یعنی اللہ کا دین قرآن میں متعددمقامات پر اس کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ یہ اللہ کا دین ہے ۔

آپ کے سامنے کسی قدر تفصیل کے ساتھ عرض کرنا ہے کہ دین کو فطری ہونا چاہیے یا نہیں ؟ اور دین فطرت کے معنی کیا ہیں ؟ جس کا نام اسلام ہے ۔ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کو دوسرے دینوں سے کیا امتیاز حاصل ہے ؟

دین کے معنی لغت کے اعتبار سے متعدد ہیں : اس کے معنی حساب کے بھی ہیں ، ایک مقام پر قرآن پاک میں فرمایا :

مالک یوم الدین ۔ ( سورة الحمد : ۴ )

خدا مالک ہے روز جزا کا

یہاں جزا کے معنی بھی دین کے آئے ہیں ، اس کے معنی حکم کے بھی ہیں اور بدلے کے اور عزت کے معنی بھی ہیں ۔ علاوہ ازیں بہت سے معنی ہیں ۔ایک معنی یہ کہ وہ چیز جس کے ذریعے خدا کی عبادت مطلقاً کی جائے اسے دین کہتے ہیں یعنی وہ طریقہ جس کا پابند ہو کر انسان خدا کی عبادت کرے ۔ارشاد ہوتا ہے :

( إِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْإِسْلَامُ ) ( ال عمران : ۱۹ )

خدا تعالیٰ کے نزدیک دین کیا ہے ؟ اسلام ہے ۔

اسلام کے معنی ہیں :

الإنقعاد لامر لآمر والنهی وبلا امتیاز ۔

یعنی کسی حکم دینے والے کے حکم کی اطاعت کرنا اور منع کرنے پر رک جانا بغیر کسی اعتراض کے یا امتیاز کے اصطلاحی اعتبار سے مسلم حقیقتاً وہ ہے جو پروردگار حقیقی کے اوامر و نواہی کے سامنے بغیر اعتراض کئے اپنی گردن کو جھکا دے ۔

یہ معنی لغت کے اعتبار سے ہیں ۔اس ضمن میں کچھ اور آیات مبارکہ پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ علی ھذا القیاس اس ذیل میں احادیث صحیحہ کو بھی عرض کروں گا ۔

صحیح بخاری میں غالباً اسی لغت کے اعتبار سے اسلام کے لغوی معنی کی تائید ہوتی ہے :

المسلم من سلم المسلمون من لسانه ویده ۔

مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ سے اور اس کی زبان سے تمام مسلمان محفوظ رہیں ۔

یہ حدیث مبارک ابتداء صحیح بخاری میں نقل ہوئی ہے ۔ اسی طرح جنت کا نام ہے دارالسلاماور دارالسلامکے معنی ہیں ” وہ گھر جو عیب و نقص سے پاک ہو بحیثیت گھر ہونے کے “۔اسی طرح پروردگار عالم کا نام السلام قرآن شریف میں یہ نام آتا ہے۔ اس کے معنی ہیں ” وہ ذات پاک جو تمام برائیوں اور نقائص سے پاک اور مبرّا ہے “۔ پس اسی لفظ السلام اور مسلم سے ہی وہ چیز نکلتی ہے جس کا نام اسلام ہے یعنی اسلام کے معنی محفوظ رکھیں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ کون مسلمان ہے ۔ اور کون مسلمان نہیں اور کون کافر ہے اور کافر نہیں ؟ اس طرح آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ حقیقت اسلام کیا ہے ؟ کوئی زمانہ ہو پروردگار حقیقی نے ہر شے کو اس کی فطرت پر پیدا کیا ہے ۔ انسان کی جو فطرت بنائی اس کے دماغ اور دل کے اندر کچھ ایسے خاص لوگوں کی تصویریں محفوظ کردیں جن کی وجہ سے پروردگار کی صحبت پوری ہوتی رہی اور پوری ہورہی ہے ۔ وہی اسلام کے حامل تھے اور وہی مسلم ، وہ ہر طرح سے محفوظ اور سالم ۔ پس ان لوگوں کو چھوڑ دو کہ جن کے ذہن میں نقائص تھے اور وہ محفوظ نہ تھے ۔اس لیے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کون لوگ تھے جو حقیقت میں مسلم تھے ۔ مسلم کے معنی کے اور اسلام کے پابند تھے ۔

عام طور سے انسان گناہ گار ہے کون ہے جو غیب نہ رکھتا ہو ۔ بہر حال کسی کے عیب کا تجسس کرنا صحیح نہیں ۔ اب وہ جو حقیقی مسلمان ہیں او رصحیح طور سے اسلام کے معنی ان میں موجود ہیں ان کو صرف اشارة پیش کرتا ہوں اور آپ کا دل سچ مچ تصدیق کرے گا ۔ابھی تعریف کی گئی ہے کہ جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں وہ ہے مسلم۔میرا کسی سے کوئی تعرض نہیں لیکن یہ آواز بلند عرض کرتا ہوں کہ کیا ہے کوئی دنیا میں جو کہے کہ کبھی اہل بیت کے کسی فرد کے ہاتھ سے کسی کو نقصان پہنچا ہو ۔ یہ وہ دعویٰ ہے کہ جس کا دل اور زبان سے نکلا ہوا جواب یہی ہے کہ کسی شخص کو دنیا میں زبان و دست اہل بیت اطہار علیہم السلام سے کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچا جیسا کہ اسلامی تاریخیں شاہد ہیں۔

یہ ایک مسلم حقیقت ہے چاہے جاہل سے یا عالم سے دریافت کرلیں سب کا نقطہ نظر ایک ہوگاکہ اہل بیت اطہارعلیہم السلام ہی وہ مسلمان ہستیاں ہیں جن کے ہاتھوں سے کسی کو کبھی ضرر نہیں پہنچا اور لوگ ان کی زبان اورہاتھ سے ہمیشہ محفوظ رہے۔

تاریخ ا سی بات پر گواہ ہے اور قیامت تک یہ پردے اٹھاتی رہے گی کہ کون تھا جس کی عادت گالیاں دینے کی تھی اور کس کے ہاتھوں سے بے گناہ لوگوں کی جان خطرے میں پڑی۔

عبرت ناک واقعہ پیش کرتا ہوں جو تاریخ ابن کثیر وغیرہ متعدد تاریخوں میں موجود ہے ( ) ۔ ایک عورت پر اس کے قبیلے کے لوگ اور اس کا شوہر زنا کا الزام لگاتے ہیں اور حاکم وقت سے کہا جاتا ہے کہ چھ ماہ میں اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے۔ اس لیے اس پر حد زنا جاری کی جائے اس کے شوہر اور لوگوں کی گواہی پر عادل وقت نے حکم دیا کہ اس عورت کو لے جاؤ اور سنگسار کردو۔ اس لیے کہ بچہ سالم ہے اس کے اعضاء درست ہیں اور چھ ماہ میں پیدا ہوا ہے۔حاکم وقت نے حکم دیا۔ سنگسار کردو۔ یعنی اس قدر پتھر مارے جائیں کہ وہ وہیں اسی وقت مر جائے۔لوگ عورت کو لے گئے۔ شوہر اور قبیلے والوں کا منشاء بھی یہی تھا۔امیرالمومنین مولا علی علیہ السلام کو اس بات کا پتہ لگا۔ جلدی تشریف لائے حاکم سے پوچھا:”کیا تم نے ایسا حکم دیا ہے؟ “

اس نے عرض کیا : ہاں سوائے اس کے اور کوئی صورت نہ تھی۔

فرمایا : قرآن کی آیتیں تمہیں یاد نہ رہیں؟

کہا : کونسی ؟

فرمایا :آیت :

( وَ الْوَالِدَاتُ یُرْضِعْنَ أَوْلَادَ هُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ ) ۔ ( سورة البقرة : ۲۳۳ )

یہ کہ مائیں دو سال کامل دودھ پلائیں گی

اور دوسرے مقام پہ قرآن میں فرمایا:

( وَ حَمْلُهُ وَ فِصَالُهُ ثَلَاثُوْنَ شَهْرًا ) ( سورة احقاف : ۱۵ )

دودھ پلائی اور حمل کا زمانہ تیس (۳۰) مہینے ہے۔

پس اگر دو سال کی مدت اس مدت سے نکال دی جائے تو باقی چھ ماہ رہیں گے۔ پس کم از کم مدت حمل چھ ماہ ہوئی اور اس اعتبار سے حمل کی چھ ماہ مدت جا ئز مدت ہے۔

حضرات ! قرآن کی آیتیں تو سب پڑھتے ہیں اور رسول کے زمانے میں ان کے پاس بیٹھ کر سنتے تھے۔ وہ خالص عرب کے رہنے والے تھے عربی دان تھے ، عرب میں پلے تھے عربی مادری زبان تھی لیکن جب امیرالمومنین علی علیہ السلام نے مذکورہ آیتیں پڑھ کر سنائیں توسب کے سب آدمی متحیر ہوگئے ۔ گویا کہ کبھی یہ آیتیں پڑھی ہی نہ تھیں حاکم وقت نے فوراً حکم دیا کہ جلدی واپس لاؤ اس عورت کو ۔ مگر آہ ! افسوس! اس حکم کے پہنچنے سے پہلے وہ عورت سنگسار ہوچکی تھی ۔ اور روایت میں ہے کہ جب اس عورت کو کھڑاکیا گیا اس کی بہن چیخ مار کر رونے لگی۔ تو اس عورت نے یعنی سنگسار ہونے والی عورت نے کہا :یا اختي ! لا تحزني ” پیاری بہن ! بالکل نہ گھبرانا ہرگز رنج نہ کرنا جس خدا نے مجھے پیدا کیا اس کی قسم کھا کے کہتی ہوں کہ میں نے ساری عمر آج تک وہ گناہ نہیں کیا جس کے عوض میں آج مجھ بے گناہ کو سنگسار کیا جارہا ہے “۔تو کیا اس حقیقت کے سامنے آجانے کے بعد وہ لوگ حق بجانب تھے یا نہیں جن کو اس عورت سے تعلق تھا یا اس کے رشتہ دار تھے اور ان کو صدمہ پہنچا اور وہ یہ کہیں کہ یہ عورت بے گناہ مار ڈالی گئی۔

یہ ایک معمولی سا واقعہ ہے جو گوش گذار کیا گیا۔آخری فقرہ اس واقعہ کا اور بھی ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام کو جب معلوم ہوچکا کہ یہ عورت سنگسار ہوگئی ہے تو آپ کو اس قدر قلق ہوا کہ برداشت نہ کرسکے اٹھ کھڑے ہوئے اور چلے آئے اور سب لوگ دیکھ رہے تھے کہ یہ کیا ہوگیا۔

پس حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ سالم رہیں ہوں لہذا سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ خون ناحق کس کی گردن پر ہوا؟ اور وہ حقیقی مسلمان ہے؟ حضرت علی علیہ السلام کے اس فیصلہ پر کون گواہی دیتا کیونکہ ان حالات کا کوئی شاہد عینی نہیں ہوتا اس لیے فطرت نے بڑھ کر شہادت دی جب یہ بچہ پیدا ہوا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ اپنے باپ کے بالکل شبیہ تھا اور امیر ا لمومنین کے فیصلے کے بعد وہ پشیمان تھا اور اسے یقین ہوچکا کہ وہ اس کا بیٹا ہے۔ پھر وہ ایسی بیماری میں مبتلا ہوگا کہ فرش پر اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے گرتے جاتے تھے۔

پس امیر المومنین کتنے بڑے عالم تھے اور حقیقی مسلم وہی شخص ہوسکتا ہے جو اتنا بڑا عالم ہو اور اس قدر قرآنی علم کا مالک ہو۔ اس کے فیصلے میں بھی غلطی نہیں ہوسکتی۔پس میرا دعویٰ حقیقت ہے کہ اہل بیت علیہم السلام ہی وہ ہیں جن کی زبان اور ہاتھ سے آج تک کسی کو قول کے مطابق بھی یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ فلان شخص کو کوئی تکلیف پہنچی ہو۔

اس کے ساتھ دوسری حیثیت علم کی ہے‘ ہے کوئی دعویٰ کرنے والا ؟ کہ اہل بیت علیہم السالم سے زیادہ کوئی اور عالم تھا ؟ اوّل عمر سے آخر عمر تک مسلم اس معنی کے اعتبار سے کہ حقیقی مسلمان وہ ہے جس سے مسلمان محفوظ رہے ہوں اہلبیت علیہم السلام ہی ہیں۔ یوں تو آج ہم بھی مسلمان ہیں مگر معلوم نہیں کتنے لوگ ہیں جو اس معیار پر پورے اتریں۔ لیکن ہے کوئی شخص جو پیش کرسکے کہ سوائے اہل بیت کے وہ اس معیار پر پورا اترا ہو!پھر یہ واقعہ خود اس امر کی دلیل ہے اہل بیت سے زیادہ کوئی عالم قرآن نہ تھا۔

قرآن مجید ہر ایک کے گھر میں ہے اس کے یاد کرنیوالے یعنی حافظ لوگ لاکھوں ہوں گے اور ترجمہ یاد کرنے والے بھی لاکھوں ہوں گے لیکن یاد کرنا یا ترجمہ جاننا اور چیز ہے اور حقیقی حیثیت سے قرآن کو سمجھنا اور چیز ہے۔ کیا یہ لوگ جو اصحابِ رسول کہلاتے تھے۔ قرآن نہیں جانتے تھے ؟چونکہ میری زبان سے وہ لفظ نہ نکلے گا جو کسی کو بھی گراں گذرے اس لیے کہتا ہوں کہ یہ لوگ تفسیر ظاہری جانتے تھے باوجودیکہ انہیں صحبت رسول حاصل تھی۔ لیکن صحبت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں عمر گذارنا اور بات ہے اور قرآن کو سمجھنا اور بات ہے۔ یعنی قرآن کے معنی جاننا اور بات ہے اور مقصد حقیقی سمجھنا اور بات ہے۔

تاریخی واقعہ ہے کہ ہارون الرشیدجیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے بہت شراب پیا کرتا تھا چونکہ خلیفہ المسلمین اور امیر المومنین کہلاتا تھا۔ یعنی ایمان والوں کا خلیفہ یعنی ایمان والوں کا حاکم بلکہ خلیفہ رسول کہلاتا تھا۔ چونکہ شراب کی عادت بہت زیادہ تھی۔ اس لیے فکر رہتی تھی کہ کسی صورت سے شراب جائز ہو جائے اگر جائز ہوگئی تو میں برابر شراب پیتا رہوں گا اور لوگ بھی اپنے گھروں میں یہ ذکر نہ کیا کریں گے کہ امیر المومنین شراب پیتے ہیں۔حسب دستور دربار میں بڑے بڑے عالم اور فقیہ جمع تھے سوال پیش کیا کہ قرآن مجید میں شراب کی حرمت کا ذکر کہاں ہے؟ اور اگر حرام نہیں تو پھر پینے میں کیا حرج ہے؟ علماء نے آیت پڑھی :

( إِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْأَنْصَابُ وَ الْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْهُ ) ( سورة المائدة : ۹۰ )

کہ سوائے اس کے نہیں کہ شراب جوا وغیرہ وغیرہ شیطان کے کام ہیں، پلید چیزیں ہیں پس ان سے بچو! ان سے اجتناب کرو۔

ہارون الرشید نے کہا :” اجتناب کی سے بچنے کا حکم تو ہوسکتا ہے اور یہ کراہت کی حیثیت سے بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے کہ مکروہ سے بھی بچنے کا حکم قرآن شریف میں ہے تم قطعی حرمت کا حکم قرآنی سند سے پیش کرو؟ “

فقہاء نے کہا : خدا فرماتا ہے:

( یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ قُلْ فِیْهِمَا إِثْمٌ کَبِیْرٌ وَ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ إِثْمُهُمَا أَکْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا ) (سورة البقرة : ۲۱۹ )

اے رسول! لوگ شراب اور جوئے کے بارے میں سوال کرتے ہیں فرمائیے ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے نفع بھی ہے لیکن ان دونوں کا گناہ ان دونوں کے نفع سے بہت بڑا ہے ۔

پس اس آیت میں گناہ کا ذکر ہے اور شراب کا استعمال گناہ ہے۔ ہارون نے کہا: آیت کریمہ میں گناہ کے ساتھ منفعت کا بھی تو ذکر ہے ‘ لہٰذا زیادہ سے زیادہ شراب میں یہ نسبت نفع کے برائی زیادہ ہے اور وہ حد کراہت تک پہنچ سکتی ہے تم بتاؤ کہ (( شراب حرام ہے )) یہ کس آیت قرآن سے ثابت ہوتا ہے؟ “

ہارون کے اس سوال پر تمام علماء و فقہاء حیران رہ گئے اور مجبوراً ایک ہفتے کی مہلت مانگی چنانچہ مہلت دے دی گئی ۔ علماء نے حافظوں کو بلالیا اور کہا کہ قرآن کو متعدد بار پڑھو تاکہ کسی آیت سے شراب حرام ثابت ہو جائے چھ دن گذر گئے تمام کے تمام عاجز آگئے صرف ایک دن باقی رہ گیا تھا اور دوسرے دن حاضر دربار ہونا تھا سب پریشان ہیں کہ غضب ہوا کل شراب جائز ہوجائیگی اور امیر المومنین کی بھی خواہش یہی ہے اور اس طرح کل لوگوں میں شراب مقبول ہو جائے گی۔ایک شخص نے کہا اگر تم ضرور چاہتے ہو کہ حرمت شراب ثابت ہو جائے تو اس کے لیے صرف ایک دوازہ ہے ہاں تم اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکتے ہو۔سب نے پوچھا وہ کون؟

کہا : وہ جناب امام سیدنا موسیٰ کاظم علیہ السلام کی ذات بابرکات ہے۔

اب امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے در اقدس پر پہنچے ، آنے کی اجازت چاہی۔

فرمایا : کیوں پریشان ہو کہاں سے آئے ہو، کیا مقصد ہے؟

عرض کیا: یا حضرت ! آپ کے نانا کا دین برباد ہونے لگا ۔ ہم عاجز آچکے ہیں ہماری سمجھ میں اس سوال کا کوئی جواب نہیں آیا۔ کیا قرآن مجید کی رو سے شراب قطعی حرام ہے؟

ارشاد فرمایا :کیوں نہیں ! یقیناً قرآن سے ثابت ہے کہ شراب حرام ہے عرض کیا گیا کہ ایک ایک کو بیس بیس مرتبہ پڑھ چکے مگر کوئی پتہ نہ چلا۔

ارشاد فرمایا: اھل البیت ادریٰ بما فی البیت” قرآن ہمارا ہے ہم قرآن کو جانتے ہیں اور جو کچھ اس میں ہے اس کو بہتر جانتے ہیں۔“

سب نے عرض کیا: ارشاد فرمائیے ۔

فرمایا: جس طرح کسی لفظ کے استعمال میں یا معنی کے سمجھنے میں آپ حضرات کو شک ہونے لگے کہ یہ لفظ صحیح ہے یا غلط؟ مذکر ہے یا مونث؟ تو آپ کیا کریں گے ۔

یعنی یہ کہ کسی ایسے ادیب یا شاعر کا شعر تلاش کریں گے جس کی زبان مستند ہو۔(مثلاً انیس مرحوم کے کسی مصرعے سے آج کل ہم لوگ کسی لفظ کے متعلق جب اختلاف ہوتا تھا تو جاہلیت کا کلام پیش کیا کرتے تھے۔ جو خالص زبان میں ہوتا تھا۔ ان کے کلام میں دوسری زبان مخلوط نہ ہوتی تھی اور اسلام کے آنے کے بعد ادھر ادھر کے لوگ اسلام میں داخل ہوئے اور زبان غلط ملط ہونے لگی۔)

پس حضرات امام سیدنا موسیٰ کاظم علیہ السلام نے اس زمانے کے اشعار پڑھے جس کا معنیٰ یہ تھا میں نے اثم کو پیا اور نشہ میں ہوگیا۔

آپ کا اشعار کو پڑھنا تھا سب نے تسلیم کیا کہ اثم کے معنی عربی زبان کے اندر شراب کے آتے ہیں اور خالص عربی شاعر مستند زبان والوں نے اثمکے لفظ کو شراب کے معنی میں استعمال کیا ہے۔

اس کے بعد حضرات امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا :اب سورہ اعراف کو پڑھو:

( قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ ) (سورة الاعراف : ۳۳ )

پس اس آیت کریم کے رو سے صاف واضح ہوگیا کہ خداوندِ کریم فرما رہا ہے :

کہ اے محبوب فرما دیجئے سوائے اس کے نہیں میرے پروردگار نے تمام بے حیائیوں (فحش باتوں) اور تمام گناہوں (اثم) کو حرام کردیا۔ پس چھوڑ دو شراب کو (جو اثم ہے)۔ جو کچھ اس کا ظاہر ہو اسے بھی چھوڑ دو اور جو باطن ہو اسے بھی چھوڑ دو۔“

حضرت امام نے ارشاد فرمایا : تم دیکھتے نہیں کہ اس آیت کریمہ میں پروردگار نے اثمکو حرام کردیا جس کے معنی عرب کے محاورے میں شراب کے ہیں۔ لہٰذا شراب کی حرمت لفظ حرمت کے ساتھ موجود ہے یا نہیں؟

تمام صاحبان علم اچھل پڑے اور اقرار کیا کہ بے شک قرآن میں لفظ حرام کے ساتھ شراب کی حرمت موجود اور ثابت ہے۔ دوسرے دن خوشی خوشی ہارون الرشید کے دربار میں پہنچے اور ثابت کیا کہ شراب قرآن کی رو سے حرام ہے ہارون الرشید حیران ہوگی کہ یہ آیت کہاں سے مل گئی آخر اس نے کہا :کہ یہ سب کچھ تمہارے دماغوں کا نتیجہ نہیں ہے سچ بتاؤ یہ ثبوت کس کے ذریعے ملا؟

سب نے عرض کیا : (( سیدنا امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے درپاک سے )) ۔

ہارون الرشید نے تصدیق کی زبان کھولی کہ ہاں ہاں بے شک قرآن کے جاننے والے وہی ہیں۔

حضرات! میں عرض کر رہا تھا کہ صحیح بخاری میں مسلمان کے معنی ہیں۔جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں اور یہ ناممکن ہے جب تک کہ وہ تمام احکام قرآن سے واقف نہ ہو۔

تاریخ شاہد ہے کہ اس واقفیت کے دعویدار صرف اور صرف اہل بیت تھے۔

یاد کیجئے مولا علی علیہ السلام کا وہ ارشاد فرماتے ہیں:

( سُلُونِي سُلُوْنِيْ قَبْلَ أَنْ تَفْقَدُوْنِيْ )

کہ لوگو ! میں زمین اور آسمان کی تمام باتوں کو جانتا ہوں میری موت کے آنے سے پہلے پوچھ لو جو کچھ پوچھنا ہے ۔ ہم تورات کو بھی جانتے ہیں انجیل کو بھی جانتے ہیں۔ قرآن کو بھی جانتے ہیں۔

آپ نے مزید ارشاد فرمایا:

اگر اہل تورات آئیں گے تو ہم تورات سے فیصلہ کرینگے اہل انجیل آئیں تو انجیل سے فیصلہ کرینگے اور اہل قرآن آئیں تو قرآن سے فیصلہ کریں گے ان سب کتب آسمانی کے مالک ہم ہیں اور سب کے ماہر ہم ہیں۔

دنیا میں پروردگار کی طرف سے یہ فقرہ ہمیشہ موجود رہا اور رہے گا اور آپ لوگ اپنے دل میں اس فقرے کو جگہ دیں کہ پروردگار کی حجت ہمیشہ باقی رہی ، ہر زمانے میں اس کی حجت تمام ہوتی رہی اور ہوتی رہتی ہے ۔ جب تک ہم میں اس کی حجت باقی رہے گی کلام حق ثابت اور باقی رہے گا۔ ہم نماز پڑھتے ہیں تو اس حجت کے ساتھ ہماری نماز کا صحیح ہونا ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی طرح تمام دین کی باتیں اور سارا دین خدا کی حجت کے ساتھ ہی ثابت ہے۔ ہاں وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جہاں دین اسلام پہنچا ہی نہیں۔اس زمانے کے لوگوں سے پہلے زمانے کے لوگ زیادہ منصف تھے۔ وہ لکھ گئے اور صاف لکھ گئے تاکہ پروردگار کی حجت مخفی نہ رہے زمانے میں انقلابات آتے رہتے ہیں مگر ان کے قلموں سے حق بات نکل گئی جس کے سب خدا کی حجت تمام رہی اور رہے گی۔ میں کبھی اس مقدس مقام پر صرف آپ کو خوش کرنے کے لیے کوئی ایسی بات نہ کہوں گا نہ کہتا ہوں جو حقیقت کے خلاف ہو۔ آپ گھروں میں جائیں اور سوچیں کہ پہلے لوگوں کی آوازیں اور کلمات صفحات تاریخ پر جلی طور موجود ہیں۔

لا بیق من اللّٰه

خدا مجھے اس وقت کے لیے زندہ نہ رکھے کہ جب کوئی مشکل مسئلہ در پیش ہو اور علی ( علیہ السلام ) موجود نہ ہوں۔

ا ور کبھی کبھی یہ الفاظ نکلے ہیں۔

میں ایک قصہ عرض کرتا ہوں جو ایک اور وقت میں ہوا مکمل ذمہ داری سے بیان کرتا ہوں آپ چاہیں تو پوچھ سکتے ہیں کہ یہ واقعہ کہاں ہے؟ مذکورہ بالا واقعہ کی طرح ہی ایک واقعہ وقوع پذیر ہوا امیر المومنین مولا علی علیہ السلام عین اس وقت پہنچ گئے جب مجرم کو لوگ لے جارہے تھے۔

آہ ! کتنی جرءت ہے کہ ایک انسان کی جان جس کو اس قدر محترم قرار دیا ہے کہ اگر اس جان کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو تو اس کو بچانے کے لیے حرام چیز کے کھانے کی اجازت دے دی جائیبفرمان و من اضطر غیر باغ ولا عاد فلا اثم علیہ ، ایسی محترم جان کو بچانے کا وسیلہ وہ ذات پاک بنے۔ جس کے متعلق زبان سے نکلے ہوئے الفاظ ابھی آپ نے سنے۔

حضرات! موضوعِ تقریر پر صرف سلام ہے آیت تلاوت کردہ میں فرمایا ہے :

( أَ فَغَیْرِ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُوْنَ ) ( سورة آل عمران : ۸۳ )

کیا لوگ خدا کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں۔

ایسا ہر گز نہ کریں خدا وہ ہے جس کے سامنے آسمان اور زمینوں کی تمام چیزیں سر خم کئے ہوئے ہیں اور دینوں میں سے کون سا ایسا دین ہے کہ اسے دین اسلام کے مقابلے میں قبول کیا جائے پروردگار نے قرآن پاک میں دوسری جگہ پھر ارشاد فرمایا:

( وَ مَنْ یَبْتَغِ غَیْرَ الْإِسْلَامِ دَیْنًا فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْهُ )

( سورة آل عمران : ۸۵ )

کہ جو شخص بھی اسلام کے سوا کسی اور دین کی خواہش کرے گا اس سے وہ دین قبول نہ ہوگا بس خواہش کے قابل صرف اسلام ہے۔

مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات ابھی تک نامعلوم رہی کہ وہ ہے کیا؟ وہ کونسی شئے ہے جو دین اللہ ہے ؟یعنی وہ پروردگار کا دین ہے لیکن میں انشاء اللہ انہی آیتوں سے ثابت کرونگا کہ وہ کیا ہے۔ایک اور مقام پر پروردگار فرماتا ہے:

( شَرَعَ لَکُمْ مِنَ الَّذِیْنَ مَا وَصّٰی بِهِ نُوْحًا وَ الَّذِي أَوْ حَیْنَا إِلَیْکَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهِ مُوْسٰی وَ عِیْسٰی أَنْ أَقِیْمُوْا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ کَبُرَ عَلَی الْمُشْرِکِیْنَ )

کہ تمہارے لیے خدا تعالیٰ نے بیان کردیا وہ جو نوح علیہ السلام کو حکم دیاتھا اور وہ جو میرے اوپر وحی بھیجی اور پروردگار نے بیان کردیں جو ابراہیم اور موسیٰ علیہ السلام کو وصیت فرمائیں تھیں اور ان سب کو یہ حکم ملا تھا۔

ان اقیم الدین و لا تفرقوا

کہ دین کو قائم کئے رہنا اور خبردار تفرقہ نہ ہونے پائے۔

سوال یہ ہے کہ دین کو قائم رکھنا کب سے چلا آرہا ہے۔ ابراہیم ، موسی اور نوح علیہم السلام کو یہی خطاب ہوا۔ پس پروردگار نے فرمایا: میں نے تمہارے لئے نوح ، ابراہیم اور موسیٰ علیہم السلام وغیرہ کی تمام وصیتیں بیان کردی ہیں۔ آج یہ پتہ نہیں کہ ان پیغمبروں کے صحیفوں میں کیا احکام تھے۔ پس عمومی حیثیت سے یہ خطاب عام لوگوں سے نہیں ہے۔ بلکہ اس کے مخاطب مخصوص لوگ ہیں۔ جن کے لیے یہ وصیتیں بیان ہوئیں اور وہ خاص لوگ اہلبیت اطہار علیہم السلام ہیں۔ ان کے لیے ارشاد ہوا :

( فَأَقِمْ وَجْهَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا )

کہ اپنے چہرہ پاک کو مضبوط ترین دین کے لہیے قائم رکھو جو اللہ تعالیٰ کی فطرت ہے جس پر لوگوں کو پیدا کیا اور اس میں کوئی کسی طرح کی تبدیلی نہیں۔

غرض ہرجگہ پروردگار نے فرمایا کہیں اس کو دین کہا کہیں اسلام۔ کہیں ملت ابراہیمی فرمایا:

( إِنِ إتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِیْمَ حَنِیْفًا ) ( سورة النحل : ۱۲۳ )

کہ اے حبیب ! اپنے داد ابراہیم علیہ السلام کی ملت کی پیروی کرتے رہو ۔

اور کہیں ارشاد فرمایا:

( من یرغب عن الملة ابراهیم الا من سفه نفسه )

کہ جو ملت ابراہیمی سے نفرت کریگا وہ کمینہ ہے ذلیل ہے بیوقوف ہے۔

آیئے دیکھئیے ملت ابراہیمی کا مطلب کیا ہے۔

ارشاد ہوتا ہے: و ما کان استغفار ابراھیم لا بیہ الا عن موعدة کہ آپ نے اپنے باب آذر کے ساتھ وعدہ کرلیا تھا کہ میں تیسرے لیے استغفار کرونگا۔ تو انہوں نے استغفار شروع کی۔ یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ مفسرین نے آپ کے باب کا نام آذر لکھا ہے۔ جو بت تراش تھا۔ یہ حقیقتاً آپ کا باپ نہ تھا۔ بلکہ چچا تھا چونکہ آپ نے پرورش اس کے گھر میں پائی تھی۔ اس لیے اس کو مجازی باپ کہتے تھے۔ آپ کے حقیقی باپ کا نام تارخ تھا دیکھئیے ملاحظہ فرمائیے۔ تفسیر کبیر امام رازی

اس باپ کے متعلق قرآن فرماتا ہے کہ جب آپ نے استغفار شروع کیا۔فلما بین له انه عدو الله تبرأ منه ۔ کہ ابراہیم علیہ السلام پر یہ واضح ہوگیا کہ آذر اللہ کا دشمن ہے۔ تو حضور نے اس سے بیزار ہونے کا اعلان فرمایا۔

پس معلوا ہوا ہے کہ مطلب ملت ابراھیم کا یہ ہے کہ جب انسان کو پتہ چل جائے کہ فلان شخص خدا تعالیٰ کا دشمن ہے تو اس سے بیزاری کا اعلان کردیا جائے ورنہ ملت ابراہیم سے نفرت ثابت ہوگی اور جو ملت ابراہیمی سے نفرت کرے گا وہ کمینہ ہے۔ ذلیل ہے بے وقوف ہے۔

پس حضرات! یہ ہی سبب ہے آپ یاد رکھیں اور آپ بہتر جانتے ہیں کہ محبت الہٰی۔ اس وقت تک کامل اور حقیقی نہیں ہوسکتی۔ جب تک اس کے دشمن سے نفرت نہ ہو۔

اور کوئی شخص نہیں جو اس حقیقت سے انکار کرسکے دولت کے دشمن سے نفرت ہی دوست سے محبت کرنے کی دلیل ہے اور محبت غرض خلقت عالم ہے۔ اگر محبت نہیں توغرض خلقت عالم پوری نہ ہوگی اور عرض اگر نہ پوری ہوئی تو انسان کی خلقت عبث ہوگی جو محال ہے۔

پس محبت ہونی چاہیے‘ اگر محبت لے کر اس دنیا سے نہ گیا۔ تو یقیناً ناقص رہا۔

محبت کس کی ہو۔ خدا کی محبت ہو۔ مگر عامة الناس نہ خدا کو دیکھ سکتے ہیں نہ بات کرسکتے ہیں نہ اس کی رضا و غضب کو پہچان سکتے ہیں۔

اس لیے خدا تعالیٰ نے اپنے مخصوص بندے بھیجے اور حکم دیا کہ ان سے محبت کرو۔ ان بندوں میں کوئی عیب نہیں یہ بندے الہٰی صفات جمالی و جلالی کے مظہر ہیں۔ اگر کسی سے یہ خفا ہوگئے تو میں (خدا) خفا ہوا اور اگر وہ کسی سے راضی ہوگئے تو میں (خدا) بھی راضی ہوگیا۔

پس اگر ان خاص بندگان الہٰی سے محبت ہوگئی اور کوئی ان کا دشمن نکل آیا جس سے نفرت نہ کی گئی تو محبت پوری ہوگی کیونکہ یہ محبت کی اہم شرط ہے۔

میرے اس بیان سے کوئی شبہ میں نہ پڑ جائے کہ رسالت مآب صلعم دین ابراھیمی کا اتباع کرتے تھے اور خود آپ کا کوئی دین نہ تھا۔ میرا یہ مطلب نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد ملت ابراھیمی کی مخصوص چیزیں ہیں۔

قرآن مجید میں دوسرے مقام پر آیا ہے۔ جہاں ابراھیم علیہ السلام کے استھ دیگر انبیاء کا ذکر کیا اور فرمایا۔ اولئک الذین ھدی ھو اللہ فبھذاھم اقتدہ کہ یہی لوگ اللہ کے ہدایت یافتگان ہیں ان کی ہدایت کی تم اقتدا کرنا۔ بظاہر اس آیت سے بھی معلوم ہوا کہ تمام نبیوں کی اقتدا کرنا۔

حاشیہ:

اغوث صلعم کو ملت ابراھیمی کے اتباع کا حکم ہوا ہے نہ کہ دین ابراھیمی کا دین اور ہر شریعت اور ہر ملت اور دین ماہیت کلیہ ہے جو کل انبیاء کا ایک ہی ہے۔ اس میں تغیر و تبدل اور نسخ نہیں ہوتا۔ شریعت ہ رنبی کی الگ اور اس میں نسخ اور تغیر و تبدل ہے۔ ملت شے دیگر ہے اس کا مطلب ہے۔ امامت اور خلافت کو ذریت میں قرار دینا۔ پسملت کے اتباع کا حکم ہوا تھا۔ نہ کہ دین یا شریعت کا اتباع کیونکہ شریعت ابراھیمی منسوخ ہوگئی اس لیے اس کا اتباع ناممکن ہے۔ دین تمام انبیاء کا ایک ہی تھا اس میں اتباع بامعنی ہے۔

تحقیق اس امر میں یہ ہے کہ اصول میں تقلید حرام ہے۔ فروعات میں تقلید ناجائز اس لیے اسلام سے پہلے تمام دین منسوخ ہوگئے یعنی ان کے اصول پرعمل حرام ہے اور فروعات اور اصول میں مطلق حیثیت سے تقلید ناجائز ہے۔ تو پھر اقتدار کا حکم اور معنیٰ کیا ہوا۔؟

حقیقت یہ ہے کہ کچھ اصول میں کچھ فروع ہیں ارو کچھ اخلاق ہیں۔ تو یہ اقتدا ان گذشتہ انبیاء کے اخلاق کی ہے۔ ان کے اخلاق کے متعلق حکم ہوا کہ اتباع کر نہ اصول سے یا فروعات سے کوئی تعلق رکھ اس لیے کہ دین اسلام ناسخ ہے اورفروعات سے کوئی تعلق نہیں لہذا شریعت محمد سابقہ شریعتوں کی ناسخ ہے۔

یہ دلیل واضح دلیل ہے۔ کہ تمام انبیاء کرام سے حضرت سرکار دو جہاں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم افضل ہیں۔ ا سلیے جتنی صفات کمالیہ ان میں تھیں تمام ذات پاک جناب محمد مصطفیٰ میں یکجا موجود تھیں۔

مثلاً بعض انبیاء میں جلال تھا کہ جہاد کرتے تھے قوت غضبیہ ان کی بلند ہوتی تھی۔ لیکن بعض انبیاء کو بھیجا۔ تو یہ حکم ملا کہ خبردار تلوار نہ اٹھانا صرف نرمی سے تبلیغ کرنا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان میں قوت غضبیہ تھی ہی نہیں جس کے سبب جلال پیدا ہوتا ہے او رجہاد کیا جاتا ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان قوت غضبیہ ایسی نہیں تھی جیسے موسیٰ علیہ السلام میں تھی۔ کہ ایک کہنے والے نے کسی کی شکایت کی تو آپ نے دوست کے دشمن کو ایک ایسا گھونسا رسید کیا کہ اس کا کام تمام کردیا۔ اس کے برعکس ایک وہ تھے کہ جو یہ کہتے ہوئے آئے کہ اگر کوئی تمہارے ایک رخسار پر کوئی طمانچہ مارے تو تم دوسرا رخسار اس کے آگے کردو۔

تو جناب محمد مصطفیٰ صلی علیہ وآلہ وسلم تمام صفات متضادہ کے جامع ہو کر آئے۔ شجاعت اتنی کہ تمام لوگ جنگ حنین آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ مگر جہاں یہ تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ آپ کے پائے استقلال میں جنبش ہوتی اور یہ کہتے رہے۔ انا نبی لا کذب انا ابن عبد المطلب یعنی میں نبی ہوں کاذب نہیں ہوں میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔ انک لعلی خلق عظیم اس طرح آپ اخلاق کی اعلیٰ مثال تھے جب کہ خدا فرماتا ہے تم خلق عظیم کے مرتبہ پر فائز ہو۔ یہ دلیل ہے۔ فضیلت جناب محمد کی۔

میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ علامہ فخرالدین رازی اپنی تفسیر کبیر میں فبھذا ھم اقتدہ کے ذیل میں پیش فرماتے ہیں۔ کہ اخلاق انبیاء کی پیروی کرو۔ اپنا اخلاقی فریضہ سمجھ کر دینا سے جانے سے پہلے اپنا جانشین اور وصی مقرر فرمایا تاکہ امت گمراہ نہ ہو۔ انصاف کی نطر سے دیکھئیے کہ کس شان کے ساتھ جناب رسالت مآب صلعم ان تمام صفات کمالیہ کے جامع تھے۔ اگر پروردگار عالم کے سچے رسول کسی کو نفس رسول کہہ دیں۔ تو انصاف سے بتائیے کہ وہ بھی ان صفات کا حامل ہوگا یا نہیں۔

امام راضی رحمة اللہ علیہ آیت مباھلہ کے ذیل میں یہ لکھا ہے۔ کہ سوائے قصائص نبوت کے نفس مولا علی مساوی ہے نفس رسول کے۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان کا مزاج تابع ہوتا ہے کہ ان اجزا کے جن سے جس م مرکب ہوتا ہے۔ بعض جانوروں میں حرص ہوتی ہے۔ بعض میں مکر ہوتا ہے۔ ان کے اجزا ہی وہ ہوتے ہیں۔ جن میں یہ صفات مرکب ہوتی ہیں۔

ہر خواش مزاج کے ماتحت ہوتی ہے اور مزاج ماتحت ان اجزاء کے ہوتا ہے جن سے جسم بنا ہوتا ہے اور رسالت مآب صلعم کا جسم جن اجزاء سے بنا فرمان نبوی سے ثابت ہوتا ہے کہ انہی اجزاء سے مولا علی کا جسم بنا تھا۔

ارشاد ہوتا ہے: یا علی لحمک لحمی و دمک دمی کہ اے میرے علی میرا گوشت تیرا گوشت ہے اور میرا خون تیرا خون ہے۔

جیسا جسم ہوتا ہے ویسی ہی روح ہوتی ہے۔ روح ما تحت جسم کے ہوتی ہے اور جسم ماتحت روح کے ہوتا ہے جیسا جسم ویسی روح۔

یہی سبب ہے کہ اسلام نے ہمارے نزدیک آواگون باطل ٹہرایا۔ اس لیے کہ انسان کی روح جانور کے جسم میں نہیں ٹھہر سکتی اور فرمایا جب میرا جسم تیرا جسم میرا گوشت تیرا گوشت۔ میرا خون تیرا خون اور ایک اور فرمان میں روسل پاک نے توضح بھی کردی یا علی روحک روحی کہ اے علی تیری روح میری روح ہے۔ یہ اس لیے فرمایا کہ بعض کو کسی قسم کا شبہ باقی نہ رہے۔

یہ ہیں وہ حضرات جو حقیقی اعتبار سے مسلمان ہیں اور آج کل تمام دنیا کے مسلمان متفق ہیں کہ لفظ حقیقی مسلم جن کے حق میں ثابت ہوسکتا ہے وہ محمد‘ علی اور آل محمد ہیں۔ ان سے مکروہ بات کا ارتکاب تو درکنار مباح امر کا ارتکاب بھی نہ ہوا۔ سوائے اس کے کہ جناب رسالت مآب نے اس بارے میں اجازت دی ہو۔

قرآن مجید میں مزید ارشاد ہوتا ہے۔ وجاھدو فی اللہ حق جھادہ ھو اجتباکم و ما جعل علیکم فی الدین من حرج ملتہ ابیکم ابراھیم ھو سما کم المسلمین یعنی اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ اس طرح جہاد کرو جس طرح جہاد کا حق ہے اور فرمایا کہ اسی نے تجکو اوروں سے چنکر متجنیٰ بنا دیا۔اپنے باپ ابراھیم علیہ السلام کی ملت پر قائم رہو۔ وہی ہیں جنہوں نے تمہارا نام مسلمیں رکھا۔

یہ کون لوگ ہیں جو مسلمین ہیں اور ان سے کہا گیا ہے ؟ جاھدوا فی اللہ حق جہادہ کہ تم راہ خدا میں اس طرح جہاد و مجاہدہ کرو کہ جو اس کے جہاد کا حق ہے پس یہ خاص لفظ حق جہادہ کہنا اور جہاد کا حق کما حقہ ادا کرنا کس سے ہوسکتا ہے۔ سوائے اس شخص کے کہ جو معصوم ہو یقیناً یہ حق سوائے معصوم کے کسی اور سے ادا ہو ہی نہیں سکتا۔

قرآن پاک میں ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے: یا ایھا الذین آمنوا التقوا اللہ و کونو مع الصادقین یعنی اے ایمان لانے والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ یہ ارشاد عام مومنوں کیلئے ہے۔ مگر خاص لوگوں لیے جو ارشاد ہے وہ دوسرے مقام پر اسطرح ہے۔ یا ایھا الذین آمنوا التقوا اللہ حق تقاتہ یہ آیت کریمہ مفسرین لکھتے ہیں جب نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا ایسا ڈرنا جس طرح ڈرنے کا حق ہو ہم سے مقصود نہیں ہوسکتا۔ تو آیت کریمہ نازل ہوئی اور ان کے لیے یہ حکم اس آیت سے منسوخ کیا گیا۔ و التقوا اللہ ما استطعتم کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے اتنا ڈرو جتنا کہ تمہاری استطاعت کے مطابق ہو۔

معلوا ہوا کہ کچھ خاص لوگ ہیں جن کو حکم دیا گیا کہ تم سے تو یہ کہتا ہوں یہ یا ایھا الذین آمنوا التقوا اللہ حق تقاتہ (کہ خدا سے ایمان والو! اس طرح ڈرو جس طرح کہ ڈرنے کا حق ہے) اور دوسروں سے یہ کہتا ہوں کہ کونو مع الصادقیں کہ جس قدر تم سے ہوسکے اتنا ڈرو۔ مگر تمہارے لیے لازمی ہے کہ ہمارے خاص راستباز لوگوں کے ساتھ رہو۔ جو اس شان کے مالک ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ سے اس طرح ڈرتے ہیں جس طرح کہ ڈرنے کا حق ہے۔

تو حق جہاد ادا کرنے والے خاص لوگ ہیں اور وہ وہیں ہیں۔ جن کا ذکر آپ سن چکے ہیں۔ آپ خود بتائیں کہ کیا آپ لوگ رسول اللہ کی طرح جہاد کرسکتے ہیں؟ نہیں پس معلوم ہوا کہ یہ حکم ان لوگوں کو دیا گیا کہ جو اس مقام پر قائم اور ان شرطوں پر فائز ہیں کہ جن کے سامنے حق کی ادائیگی کا کوئی نقطہ باقی نہ رہا اور وہ خاص لوگ حضرت محمد‘ علی‘ آل محدم ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ حق جہاد ادا کرنا کوئی رسول یا معصوم کرسکتا ہے۔ وہ عام اور تمام لوگ نہیں کرسکتے۔ پس معلوم ہوا کہ یہ مخصوص لوگ ہی تھے۔ انہی کو کہا گیا تھا۔ ھو سما کم المسلمین۔ عام لوگوں کو یہ نہیں کہا گیا۔ عام لوگ اگر مسلم بن سکتے ہیں تو صرف ان کے صدقے سے مسلم بن سکتے ہیں جو محمد و آل محمد ہیں۔

زمانہ وہ ہے آپ لوگ جذبات لے کے آتے ہیں۔ غور فرمائیں وہ کون ہیں۔ جن کی رسائی اس جہاد تک ہوسکتی ہو۔ جو جہاد امیر المومنین علی کا تھا۔

ایک علامہ مغزلی کہتے ہیں۔ ”علی سید المجاھدین اور میرے خیال میں علی کے بغیر جہاد کسی نے کیا ہی نہیں علی وہ تھے کہ جتنے بہادر پہلے گذرے علی نے ان سب کا نام مٹا دیا۔ اور جو قیامت تک اویں گے۔

ان میں سے بھی کوئی ایسا نہ ہوگا جو ان کا مقاملہ کرسکے گا۔

یہ فقرہ کہ ویسا جہاد کسی نہ کیا اور علی جیسا بہادر کوئی نہ گذرا اس فقرے میں علامہ مذکور کو دھوکہ لگا۔ ورنہ کربلا کا خیال انہیں آجاتا۔ تو یہ کلمے ان کی زبان قلم سے نہ نکلتے۔ بھلا جس نے چاند دیکھا ہو۔ اس کے دماغ سے خجر شمر کا تصور کیسے بھول سکتا ہے۔

مولا علی نے ایک دن بھوکے رہ کر جہاد کیا لیکن سیدنا امام حسین نے وہ جہاد ایک دن نہیں بلکہ تین دن کی بھوک تھی۔ بے نظیر شان کے ساتھ کیا۔

امیر المومنین نے جہاد کیا۔ تو ان کے تصور میں یہ بات بالکل نہ تھی کہ اگر میں مرگیا تو میرے بچے اسیر ہو جائینگے۔ لیکن سیدنا امام حسین علیہ السلام جس شب کوفے کو جارہے تھے۔ آپ کے ساتھ بچے بی تھے اور عفت مآب مستورات بھی تھیں اور یقین کامل تھا کہ میری شہادت کے بعد یہ لوگ ضرور اسیر بنائے جائیں گے۔

کربل کی رات میں وہ رات ہے جس کی صبح کو آپ میدان میں جارہے ہیں۔ کاش مسلمان تھوڑا سا انصاف کرلیتے امام کے مقام کو سمجھتے۔ آپ کی وہ ذات اور آپ کے جہاد کی وہ شان ہے کہ ا س قدر قابل فخر ہے کہ مسلمان تو در کنار ان کا نام لیتے ہیں غیر مسلم بھی فخر کرتے ہیں۔

مجھے راجواؤوں میں راجوتانے کے اندر جانے کا اتفاق ہوا کہ کوئی ریاست ہندؤں نہ دیکھی جس میں امام حسین کا تعزیہ ہندو لوگ نہ بناتے ہوں۔ ان کا اسلام سے تعلق نہیں مگر سمجھتے ہیں کہ امام حسین کو یاد کرنا انسانیت کے لوازمات میں سے ہے۔ کہ جس نے سوچ سمجھ کر خدا کی راہ میں ایسی قربانیاں پیش کیں۔ جن کی نظیر نہ ہوئی اور نہ ملے گی۔

کون شخص ہے جو ایسے حرم سے محبت نہیں کرتا اور کون ہے جو اپنے ناموس کی حفاظت میں کوئی دقیقہ فرو گذشات کرتا ہو۔

امام حسین علیہ السلام نے اے دیندارو اے خدا کے ماننے والو۔ دین خدا کو حامیو۔ اس قدر دین الہی کی حمایت کی کہ لوگوں نے ان کو خود ”دین“ کہہ دیا اور یوں پکار اٹھے۔

ع شاہ است حسین بادشاہ است حسین

دین است حسین دین پناہ است حسین

پس حسین عین دین ہے۔ جس نے حسین کا دامن پکڑا لیا وہ صاحب دین ہوگیا جس نے حسین کو مان لیا وہ دین دار ہوگیا۔

ہمارا دین کیا ہے کہ رسول خوش ہو جائیں اگر حسین کسی سے خوش ہو جائیں تو کیا رسول اس سے خوش نہ ہوں گے ضرور ہوں گے جناب رسالت مآب پر کوئی وقت نہ گذرتا تھا۔ جبکہ تاکید کرتے تھے کہ حسین سے محبت رکھو۔ میں اس سے محبت رکھتا ہوں۔

مشکواة شریعت میں ایک واقعہ واضح طور پر موجود ہے کہ حضور ایک رات کو جارہے تھے۔ ایک شخص راہ میں حضور کو سلام کیا دیکھا کہ عبا کے نیچے کچھ لیے جارہے ہیں۔ حضور سے عرض کیا ”حضور حاضر ہوں مجھے ارشاد ہو۔ تو اس بوجھ کو میں اٹھا لے جاؤں۔ حضور یہ کیا کچھ ہے؟

ارشاد فرمایا: ”دیکھو گے“!

عرض کیا: ” ضرور“۔

آپ نے عبا مبارک اٹھائی۔ اس میں دیکھا کہ آپ حسن و حسین دنوں کو سینے سے چمٹائیہوئے ہیں۔ اب جب دیکھ لیا۔ اس کو جرءت نہ ہوئی کیونکہ جانتا تھا کہ وہ شہزادے اپنے نانا سے جدا نہ ہوں گے۔

ایک مرتبہ حضور نے آسمان کی طرف منہ کیا اور فرمایا: ”انی احبھ ما فاحب من احب ھما“ الہی مجھے ان دونوں سے بے حدمحبت ہے۔ پس جوان سے محبت رکھے اس سے تو بھی محبت رکھ۔ یہ حدیث مبارک تواتر کو پہنچی ہے۔

حضرات! یہ ایام یا محرم وہ زمانہ ہیں کہ جن میں امام حسین علیہ السلام کے واقعات تازہ ہوتے ہیں۔ اس زمانے کی انتظار رہتی ہے کہ محرم کا چاند کب نکلنے والا ہے۔ جس کی دسویں وہ دن ہے کہ سیدنا امام حسین گھر سے چلے۔

وہ تخیل دراصل لفظوں سے نہیں ادا ہوسکتا۔ کہ جب حضور مکے سے۔ عبد اللہ بن مطیع سے عرض کیا کہ کدھر جارہے ہیں فرمایا کوفے کو عرض کیا کیا غضب کررہے ہیں آپ کو فے جارہے ہیں؟ وہاں تو آپ کے خون لینے کو تلواریں نکل آئی ہیں۔ خدا کے واسطے نہ جاؤ آپ سارے عرب کی عزت ہیں سب عرب کی عزت مٹ جائے گی۔

اس طرح عبد اللہ بن عباس نے روکا۔ محمد بن حنفیہ نے روکا۔

حضرت امام نے فرمایا: بھائی جانا ضرور ہے۔ رات کو نانا پاک کو دیکھا ہے آپ ارشاد فرما رہے کہ بیٹا حسین جلد اپنی قتل گاہ کی طرف چلو۔ وہ زمین تمہاری انتظار کر رہی ہے۔

عرض کیا حضور آپ ان کے ظاہر اور باطن کو جانتے ہیں۔ ان بیبیوں کو تو ساتھ نہ لے چلو۔

ارشاد فرمیا: اگر ایسا نہ کروں تو مقصد پورا نہ ہوگا۔

معلوم ہوا کہ آپ بیبیوں کو باخبر کرچکے ہیں بلکہ انہیں پہلے سے خبر تھی بی بی زینب ابھی چار سال سے زیادہ کی نہ تھی جبکہ امی جان نے فرمایا تھا کہ بچی حسین جب سفر کرنے لگیں تو ان کو اکیلا نہ جانے دینا۔

میں نے ایک کتاب میں پڑھا کہ امیر المومنین نے اپنے حقیقی بھائی کے بیٹیعبد اللہ کو ساتھ جب زینب کا نکاح کرنے لگے تو آپ نے یہ شرط فرمائی کہ جب اس کا بھائی حسین سفر کرنے لگے گا تو اے عبد اللہ بی بی زینب کو ہر گز نہ روکنا۔

جب یزید کا خط پہنچا کہ حسین سے بیت لی جائے۔ یا اس کا سرکاٹ کر حاضر کیا جائے۔ تو جناب زینب نے پوچھا۔ کہ بھائی آج کیا خبر لائے ہو۔ فرمایا: وقت آگیا ہے۔ اب چلنے کا ام سلمہ جو نانی ہیں حضرت امام حسین کی اور جنہوں نے سیدہ فاطمہ کے دور آپ کو حود پرورش کیا جب آپ جانے لگے تو فرمایا: بیٹا جارہے ہو؟ جواب دیا: نانی جان آخری سفر ہے اور جانا ضرور ہے۔ یہ وہی سفر ہے جس کی خبر نانان جان نے دی تھی۔ فرمایا: ”ہاں“ اور آُ نے جگہ بھی بتا دی یہ کہتے ہوئے کہ دیکھو نانی کہ وہ جگہ ہے جہاں گھوڑے سے گروں گا اور وہ وہ مقام ہے۔ جہاں بہنوں کے خیمے ہونگے۔ وہ جگہ ہے جہاں عباس گریں گے۔

تو جنابہ زینب نے عرض کیا بھیا حسین ہرگز نہ گھبرانا میں تمہارا ساتھ کربلا تک دونگی اور تمہارے مقصود کو کامیاب بنانے کے لیے شام تک جاؤں گی۔

حضرات دل میں بڑا درد پیدا ہوتا ہے دینا میں بھائی بہن بہت گذرے ہیں۔ مگر جو محبت ان بھائی بہنوں میں تھی وہ کسی میں نہ ہوگی ان کی محبت عشق کی حد تک تھی۔ جب تک زنیب حسین کو نہ دیکھ لیتی تھیں چین نہ آتا تھا۔ اس طرح حسین جب تک زینب کو دیکھ نہ لیتے تھے چین نہ پاتے تھے۔

واقعہ مشہور ہے۔ کہ ایک صبح نماز پڑھ کر زینب سو گئیں تا آنکہ آفتاب نکل آیا اور حضرت امام کی نظر پڑی کہ سیدہ زینب پر دھوپ آرہی ہے اپنی عبا اٹھائی کھڑے ہوگئے اور جب تک آپ نہ اٹھیں عبا کا سایہ کیے کھڑے رہے۔ آپ جاگیں عرض کیا اتنی تکلیف کیوں کی فرمایا: تکلیف نہیں ہوئی بلکہ راحت ہوئی۔

تو کیا یہ زینب بھول سکتی تھیں آپ کو عمر بھر میں کوئی وقت نہ ملا تھا۔ مگر آج کربلا کا میدان ہے جسم مبارک حضرت امام کا دھوپ میں پڑا ہے سیدہ نے چاہا کہ آج بھائی پر سایہ کردوں مگر اے افسوس کہ بیبیوں کے سروں سے چادریں بھی چھن چکی تھیں۔

اللہ اللہ! ایک وہ زمانہ تھا کہ جب کہ امیر المومنین بادشاہ تھے۔ یہ شہزادیاں وہ تھیں کہ کوفے کے بڑے بڑے خاندانوں کی عورتیں ان کی زیارت کو مشتاق ہوتی تھیں اور اجازت لیے بغیر انہیں نہ مل سکتیں تھیں۔

مدینہ شریف میں جب یہ شہزادیاں نانا پاک کی زیارت کو جانے لگتیں۔ تو راستے بند کردیئے جاتے تھے۔ پہرے لگ جاتے تھے ایک طرف امام حسن اوردوسری طرف حسین ہوتے تھے۔ لیکن کوفے کے بازاروں سے گذرتے ہوئے شام کے بازاروں میں گذر ہو رہا ہے۔ یزید بادشاہ ہے۔ امام کی مظلومی کو چھپانے کی پوری طاقت خرچ کرتا ہے۔ سیدہ زینب نے فرمایا: ”زینب اس وقت تک دم نہ لیگی جب تک امام حسین کی مظلومی کا اعلان دربار یزید میں نہ جائیگا۔ دربار یزید جب آراستہ ہو رہا تھا۔ حکم ہوا کہ قیدیوں کو لاؤ۔ تو بیبیوں نے ایک دوسرے کو دیکھا زینب نے فرمایا کہ او یزید! ہم تمہارے نبی کی بیٹیاں ہیں بازاروں میں پھر چکی ہیں اور دربارمیں نہ لے چلو۔ سیدہ کو ایک بار جلال بھی آگیا۔ تو فرمایا: کہ اگر نہ جاؤں تو کوئی زبردستی لے جاسکتا ہے؟ شمر نے کہا ہاں تم کو جانا پڑیگا۔ فرمایا: ابھی دعا کرتی ہوں سکینہ تم بھی ہاتھ اٹھانا یہ کہنا تھا کہ ایک نظر اچانک سر امام کی طرف جا پڑی دیکھا کہ آنسو بہہ رہے ہیں اور فرما رہے ہیں بہن بھول گئی اپنے وعدے کو؟ جو تو نے دربار یزید میں جاکر کے ایفا کرنے کو کیا تھا۔

حضرات! یزید ملعون کس حال میں تھا۔ کٹا ہوا سر امام کا (بہن بیٹی والو! زینب اپنے بھائی حسین کا سر کٹا ہوا دیکھ رہی ہے) پوچھا جاتا ہے شمر! کون ہیں یہ بیبیاں!

شمر نے کہا وہ ہے حسین کی بیٹی سکینہ وہ ہے فاطمہ کی بیٹی زینب آخری قطار میں بیٹھی ہوئی۔

خدا کا شکر ہے کہ میرے میں فاطمہ کی بیٹی قید ہو کر آئی اور اس کے بیٹے حسین کو میں نے قتل کیا۔

یہ فقرہ سنتے ہی سیدہ کو اس قدر جوش آیا کہ فرمایا: خاموش!

لوگ حیران ہوگئے کہ علی کی آواز کہاں سے آپہنچی سیدہ نے فرمایا: یزید! چند روزہ زندگی پر خوش نہ ہو۔ ذلیل ہم نہیں ہوئے ذلیل تو ہوا کہ قید کرکے اپنی نبی کی بیٹیوں کو دربار میں لایا۔ خدا دیکھ رہا ہے۔ کل جب نانا پوچھیں گے کہ میری اہل بیت کے ساتھ تم نے کیا سلوک کیا تو اس وقت کیا جواب دو گے۔

اور دربار والو! جانتے ہو تم کون ہیں ہم! ہم تمہارے نبی کی بیٹیاں ہیں۔

یہ آواز سننی تھی کہ یزید کے پیچھے اندر سے پردہ اٹھا۔ یزید کی بیوی بے اختیار باہر آئی یزید اس کو نہ پہچان سکا پکارا۔ کچھ تو میری عزت کا خیال کر۔ اس نے کہا خدا تحقیر لعنت کرے۔ تیری عزت کا خیال کروں اور عزت والی فاطمہ کی بیٹیوں کا خیال نہ کروں۔ قیامت کے دن کیا جواب دے گا اپنے رسول کو۔

اللهم صل علی سیدنا محمد و علیٰ آل سیدنا محمد و بارک و سلم


مجلس دوم :

بتاریخ دو محرم الحرام ۱۳۷۵

اعوذ بالله من الشیطٰن الرجیم

بسم الله الرحمٰن الرحیم

مختصر خطبہ حمد و ثنا و درود۔

( افغیر دین الله یبغون وله اسلم من فی السموٰت والارض طوعا وکرها والیه ترجعون )

حضرات ! تیسرے پارے کے آحری رکوع میں پروردگار عالم ارشاد فرماتا ہے کہ کیا یہ لوگ دین خدا کے غیر کو چاہتے ہیں حالانکہ خدا کے لئے آسمانوں اور زمینوں کے رہنے والے اپنی گردنیں جھکائے ہوئے ہیں ۔ خوشی لے یا کراہت سے اور اسی طرف سب کی باز گشت ہوگی ۔

یہ ہے ترجمہ اس آیت کریم جو آپ کے سامنے میں نے پڑھی ہے ۔

مجھے ان مجالس محرم الحرام میں صرف دین خدا کے متعلق عرض کرنا ہے ۔ کہ دین اللہ جس شے کو ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ وہ کیا چیز ہے ؟

میں نے گزشتہ رات مقدمات کی حیثیت سے عرض کیا تھا کہ دین اللہ ۔ اسلام ۔ ملت یا ملت اسلامیہ وغیرہ یہ تمام الفاظ ماحصل کے اعتبار سے ایک معنی رکھتے ہیں ۔ اگرچہ لغت کے اعتبار سے ان میں باہمی کچھ فرق ہے لیکن مطلب معنٰی کے اعتبار سے یہ سب ہم معنٰی ہیں ۔

مجھے ان مجالس میں اچھا معلوم ہوا کہ اس سال آپ کی خدمت میں دین اللہ کی تفصیل کردوں اور مجھے یہ امید ہے کہ اگر ان چیزوں کی توجہ سے سماعت فرمایا گیا تو اگرچہ عمل اور چیز ہے لیکن علمی صیئت سے شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے گی ۔

پروردگار عالم کو مکلّف کہا جاتا ہے اور ہم لوگ ہیں مکلّف جس کے معنی ہیں وہ جسے تکلیف کا مطلب یہ ہے حکم دیا گیا کہ اصول دین کو سمجھو اور فروغ دین پر عمل کرو۔ اصول پر اعتقاد رکھو اور فروغ کی پیروی کرو۔

پس اعتقاد اصول کا حکم اور فروغ دین پر عمل کرنے کا نام ہے تکلیف اور اسی اعتبار سے ہم سب مکلف بنائے گئے ہیں

”اس تکلیف “ کی عرض کیا ہے

عرض صرف یہ ہے کہ پروردگار عالم ہم کو کامل کرنا چاہتا ہے ۔ پس عرضِ تکلیف حقیقت میں تکمیل انسان ہے ۔

کسی کو کامل کرنے کے لئے دو چیزوں کی ضرورت ہے یا یوں سمجھیے کہ تکمیل موقوف ہے دو چیزوں پر ( ۱) وہ شے خود ناقص ہو ( ۲) اس لئے قابلیت کمال موجود ہو ۔

اگر شے ناقص نہیں تو کامل کرنے کے معنی کیا اور اگر استعداد قابلیت کمال نہیں تو اس صورت میں بھی تکمیل بہ معنی ہے ۔ پس جہاں ان دو سے ایک یا دونوں نہ پائی جائیں گی وہاں تکمیل نہ ہوسکے گی اور تکمیل جب نہ ہوگی تو تکلیف کا تعلق بھی نہ ہوگا ۔

انسان اپنی ذات کے اعتبار سے ناقص مخلوق ہے ۔ پروردگار عالم یہ چاہتا کہ انسان کو حد کمال تک پہنچا دے اور اسے کامل بنادے یہ حقیقت ہے عرض تخلیق انسان کی اس نے ہم کو وہ ہم کو کامل کرنا چاہتا ہے ۔

یہ شے کہ نفس بھی ہو اور قابلیت کمال بھی ہو یہ منحصر ہے صرف انسان میں جنات میں اور بعض ملائکہ ہیں ۔

اور جن میں نقص نہیں وہ عقول ہیں پروردگار عالم کی مخلوقات میں جو عقول ہیں سب سے اول انکو پیدا کیا گیا ہے انہیں کسی قسم کا شائبہ نقص یا عیب نہ رکھا کیونکہ ان میں نقص نہیں لہٰذا ان کی تکمیل بے معنی ہے۔

بہرحال ان کے علاوہ اور کچھ اقسام ملائکہ ہیں۔ جنات اور انسان تو ظاہر ہیں حیوانات بری ہیں۔ جمادات بے تعلق ہیں۔ کیونکہ انہیں قابلیت کمال ہی ہیں (البتہ حیوانات کو سکھلا دینا اور کسی حد تک پہنچا دینا در حقیقت وہ کمال نہیں جو حقیقی کمال ہو۔ اسی ضمن میں نباتات آجائیں گی۔ ان میں نقص موجود رہے اور استعداد کمال بھی نہیں۔ اس طرح عقول میں نقص نہیں وہ خود کامل ہیں)۔

اس وقت جنات یا ملائکہ سے بحث نہیں بحث ہم سے ہے کہ ہم (انسان) ناقص بھی ہیں اور ہم میں استعداد کمال بھی موجود ہے۔ اب دونوں چیزیں موجود ہیں تو خدا اگر کامل نہ کرنا چاہے۔ باوجود قابلیت موجود ہونے کے تو وہ عاجز ثابت ہوگا۔

اور کہا جائیگا کہ وہ کامل نہیں کرسکتا یا یہ وجہ ہوگی کہ وہ کامل تو کرسکتا ہے مگر بخیل ہے اور یہ دونوں وجوہ اس کی ذات واجب تعالیٰ میں یہ دونوں باتیں ناممکن ہیں۔

لہٰذا فرض ہوگیا کہ کامل کرنے کے لئے خداوند ذرائع بہم پہنچائے اور تکمیل ہو نہیں سکتی جب تک تکلیف نہ دی جائے پس ضروری ہوا کہ وہ ہم کو مکلّف بھی بنائے۔

میں آپ کے سامنے جمادات کی نظیر پیش کرتا ہوں اس مثال سے آپ میرے پہلے قول کی مخالفت نہ سمجِھئیے گا ایک مثال کے طریقے سے عرض کر رہا ہوں کہ لوہے میں اگر نقص نہ ہوتا اور استعداد کمال بھی نہ ہوتی تو وہ کبھی بھی میں نہ جاتا نقص دور کرنے کیلئے اسے پگھلایا جاتا ہے تا کہ وہ دوسرے اجزا سے پا ک کردیا جائے۔

علیٰ ھذا لکڑی میں اگر نقص نہ ہوتا اور قابلیت کمال بھی نہ ہوتی تو آر لے کے سپرد وہ نہ کی جاتی یہ نقص ہی ہے جو لوہے یا لکڑی کو ان تمام ادوار اور مراتب میں لئے پھرتا ہے ۔

اس طرح انسان اگر بیمار نہ ہوتا تو دوا کی ضرورت کیا تھی ؟

پس میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ دونوں چیزیں موجود ہیں

نیز دیکھئے بوٹے کو لگایا جاتا ہے اسے پانی دیا جاتا ہے کوئی اس کی خدمت کرتا ہے محض اس لئے کہ حد کمال کو پہنچ جائے ۔

میں اس کمال کے متعلق یہ عرض کرتا ہوں کہ یہ کمال بے اختیاری ہے جو جمادات کا کمال ہے ۔ ان کے اختیار میں نہیں کہ از خود کامل بن سکیں ۔ لکڑی خود کسی وجہ سے کسی شکل میں آجائے تو اس کی کوئی مدح یا ذم نہیں کی جائے گی اس لئے کہ اس کے اختیار میں نہ تھا ۔ اس طرح لوہے کا بہترین قسم کی شمشیر بن جانا بھی اس کے لیے قابل مدح یا ذم نہیں ہوسکتا لیکن ہمارا (یعنی انسان کا) وہ کمال ہے جس سے اصل بحث ہے اور اس کمال تعلق ہے ہمارے اختیار میں۔

پس اے میرے بزرگو! یہ انسان کیونکہ اس کی مدح یامذمت کی جاتی ہے کہ فلاں کام برا کیا ہے لہذا قابل مذمت فلاں کام اچھا کیا لہذا قابل مدح وہ کام کس نے کیا؟ اس نے خود کیا۔۔۔ لکڑی میں کسی بننے میں لوہے نے شمشیر بننے می حود کام نہ کیا تھا۔ لہذا وہ دونوں قابل مدح نہ قابل ذم۔ انسان چونکہ خود کرنیوالا ہے اپنے اختیار سے افعال کو بچجا لاتا شہے اس لیے پروردگار عالم اس کے لیے سزا یا جزا مرتب کرنے کا پورا مجاز ہے اور اگر انسان مجبور ہوتا۔ تو کبھی قابل ذم نہ ہوتا اور نہ ہی جہنم اس کے لیے تیار کیا جاتا۔

معلوم ہوا کہ ایمان اضطراری قابل قبول نہیں۔ حالت اضطراب میں مجبوری ہوتی ہے اور مجبوری کے وقت کوئی ایمان لے آئے تو وہ قابل قبول نہ ہوگا۔ اسی لیے حالت اضطرار کے افعال کے سبب انسان نہ ممدوح بنتا ہے کہ مذموم ٹھہرتا ہے۔

اس طرف اشارہ کرتے ہوئے پروردگار نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے۔

( فلم بک ینفعهم ایمانهم لما راؤ بایتها ) (پس بالکل نہ نفع دیا ان کے ایمان نے ہمارے عذاب کو آنکھوں سے دیکھے لیا) ایسی حالت میں ایمان کسی طرح مفید نہیں۔ اس لیے کہ یہ اضطراری ایمان ہے۔

پس ثابت ہوگیا کہ فاعل صاحب اختیار ہے اور مجبور نہیں ہے۔

ہدایت کی دو قسمیں ہیں:

۱ ۔ ہدایت تقوینی

۲ ۔ ہدایت تکلیفی

ہدیایت تقوینی کا مقصد یہ ہے کہ پروردگار نے انسان کو ایسا بنایا کہ اس میں آلات ادراک جمع کردیئے اس میں کلیات عقلیہ ودیعت کردیئے کہ کم از کم کلیات کے اعتبار سے وہ اس قابل ہے کہ ہدایت پاسکے۔ اس کی مزید توضیح کرتا ہوں۔

پروردگار نے آنکھیں دیں کان عطا کیے ناک دی علیٰ ھذا اور آلات ادراک مرحمت فرمائے اور ان سب کے بعد قوت عاقلہ بھی عطا فرمائی ان سب چیزوں کے ذریعے سے ہم اشیاء کو محسوس کرتے ہیں اور معلوم کرتے ہیں۔ خداوند تعالیٰ نے ان سب کو باطل نما نہ بنایا بلکہ حق نما بنایا۔

آنکھوں کو حق نما بنایا۔ آپ کے سامنے ایک چیز ہے۔ اگرچہ آنکھیں دو ہیں۔ مگر انکا کام ہے کہ وہ ایک شے کو ایک ہی دیکھیں۔ اس طرح پروردگار عالم نے زبان دی۔ یہ میں جانتا ہوں کہ ذائقہ کی کچھ حقیقت نہیں۔ مگر طبعی حیثیت سے ذائقہ حقیقت رکھتا ہے زبان اگر بیمار نہیں تو کبھی میٹی کو کروا نہ کہے گی۔

اور کروی کو میٹھا نہ کہے گی۔ آنکھ اگر بیمار نہیں تو کبھی سرخ کو سفید نہ بتائے گی اور سفید کو سرخ نہ بتائے گی۔ تو بشرطیکہ ایسی شئے حائل نہ ہو جو کبھی دھوکے میں ڈال دیتی ہے۔ آنکیھں ایک ہی دیکھیں گی۔ سفید کو سفید کہیں گی۔ اس لیے یہ آلہ حق نما ہیں۔

البتہ بعض جگہ جب دھوکہ لگ جائے تو عقل آئے گی۔ اس دھوکے کو سامنے لاکر پیش کریگی اور غلطی دور ہو جائیگی۔ مثلاً حوض کے سامنے پانی میں گزبھر لمبی لکڑی ڈالی جائے تو ایک بالشت معلوم ہوتی ہے۔ یا ڈالی جائے سیدھی تو نظر آتی ہے ٹیڑھی۔ اس کا سبب دوسری چیزیں ہی ں جن کے ملنے سے یہ دکھوکہ پڑگیا ہے پس جو کچھ سامنے ہے اس کے اعتبار سے یہ سب آلات حق نما ہیں۔ اور جب یہ آلے حق نما ہیں۔ تو عقل کیسے باطل نما ہوسکتی ہے۔ پس عقل بھی حق نما بناد ی گئی ہے اور اس کا حق نما بنایا جانا یہ وہ ہدایت ہے جسے ہدایت تکوینی کہتے ہیں۔

اس طرح لوہے کا پیدا کرنا ہدایت تکوینی کی جگہ ہے اور اس کا شمشیر بنا دینا ہدایت تکلیفی کی جگہ ہے ہدایت تکوینی کا تعلق خدا وند سے ہے اور ہدایت تکلیفی کا تعلق کامل بنانے والے بندوں انبیاء اور مرسلین سے پس ضرورت ہوئی کہ ہداتی تکلیفی کے لیے ھادی کو تلاش کیا جائے۔

اور ھادی وہ ہونا چاہیے جو خود ہمہ وجوہ سے کامل اور تندرست ہو نہ یہ کہ خود بیمار یا ناقص ہو اس لیے کہ جو خود ناقص ہوگا وہ دوسرے کو کیا کامل بنا سکے گا۔

پس ہم کو تکلیف اس لیے دی گئی تاکہ کامل بن جائے۔ ارو ایسا کرنا واجب تھا خدا پر کہ ایسے کامل بنانے والے بھیجے جو کسی طرح بھی ناقص نہ ہوں۔

ہمارے نقائص کیا ہیں۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ہدایت تکوینی بھی ہمیں حاصل ہے اس لیے کہ اس نے عقل دی اور آلات ادراک دیئے۔ مگر انسان اس قدر کمزور چیز ہے کہ صرف یہ دونوں ہمارے لیے کافی نہیں ہوسکتے۔

اگر عقل یا آلات ادراک کمال کے لیے کافی ہوتے۔ تو کوئی بھی تو دنیا مں ی حکما سے یا عقلا سے ہوتا جو کامل ہدایت یافتہ ہوتا۔ حکما کو دیکھو۔ انہوں نے جس قدر معرفت اشیاء میں لغزش کھای اور ٹھوکریں کھائیں وہ آپ سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس لیے کہ آپ کو جو کچھ معلوم ہوا ہے وہ انبیاء و مرسلین سے معلوم ہوا ہے جن کی معرفت بالکل صحیح تھی لیکن ان عقل والے کما نے %۹۹ غلطی کھائی پس محض ہدایت تکوینی ان کے لیے کافی نہ ہوسکی۔

ہدایت تکوینی صرف اس واسطے ہے کہ وہ ہدایت تکلیفی کے لیے مددگار بن جائے انہیں فطریات مستقیہ میں شاید میرے الفاظ بعض حضرات کو بوجھل یا سخت معلوم ہورہے ہوں حقیقت یہ ہے کہ میں ناقص ہوں اور اسی نقص کی وجہ سے مجبور ہوں کہ ایسے الفاظ استعمال کرجاؤں۔

پس جب عقل انسانی کلیات کی تشخیص یا جزئیات کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ قدم قدم پر دھوکہ کھاتی ہے۔

کون نہیں سمجھتا یا جانتا کہ اس کا کوئی پیدا کرنے والا یعنی دھرے سے دھریہ بھی یہی سمجھتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی سے پیدا نہیں ہوااس کے عضاء کے جسم کو دیکھئے جو اپنی اپنی جگہ اس طرح رکھے گئے ہیں کہ یہ جگہ انہیں کی تھی جہاں کہ انہیں رکھا گیا۔

مجھے یاد آگیا ایک واقعہ کہ حضرت امام جعفر صادق کی خدمت میں ہندوستان سے ایک طیبیب آیا۔ جسے اپنے فن طب میں بڑا کمال حاصل تھا۔ لوگوں سے آپ کی بڑی تعریف سنی۔ حضرت کو ملنے آیا۔ (یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ وہ آپ کے ملک میں خود آیا تھایا حکومت وقت نے اسے بلایا تھا) ملاقات کے وقت منضور نے یہ کہہ رکھا تھا کہ حضرت امام برائے بلند پایہ عالم اور ماہر علوم ہیں۔ تم طب کے فن میں ماہرہو وہ ہر علم میں کامل ہیں۔

حضرت امام نے فرمایا: ”آیا میں علم طب کے متعلق کچھ ایسے سوال کروں یا آپ مجھ سے کچھ پوچِھو گے؟“

طبیب کو اپنے فن پ ناز تھا کہا ”آپ کو جو کچھ پوچھنا ہے پہلے پوچھ کر دیکھ لیجئے۔“

حضرت امام نے ارشاد فرمایا: ”ذرا یہ تو بتلائیے کہ پیشانی پر بال کس لیے پیدا نہیں کئے گئے اور سر پہ بالوں کو پیدا کیا گیا ہے؟“

”بھوریں پر بال تو بنادیئے گئے مگر ہاتھ کی ہتھیلی کو بالوں سے خالی رکھا۔ آپ بتاسکتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟“

علیٰ ھذا القیاس جو سوال بھی امام کرتے وہ یہی جوب دیتا کہ میں نہیں جانتا۔

امام نے فرمایا:”نک اور منہ کے درمیان مونچھیں پیدا کی گئی ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟“

اس نے کہا: ”میں نہیں جانتا۔“

آپ نے فرمایا: ”آنکھ کے ڈھیلے بادامی شکل کے کیوں پیدا ہوئے؟“

طبیب نے کہا: ”میں نہیں جانتا“

امام نے فرمایا: ”پھر یا جانتا ہے اگر کچھ نہیں جانتا تو پھر مجھ سے کچھ سوال کر جو تجھے کچھ یاد ہے؟“

یہ کوئی پندرہ وہ سواات تھے جو حضرت نے اس پر کئے اور وہ رسالے کی شکل میں موجود ہیں۔

بالآخر امام نے فرمایا: ”جو سوال کرنا چاہتے ہو کرو اور جواب لیتے جوؤ اور پھر جو تمہارے دل میں ہے اس کو بھی پوچِھ لو۔“

طبیب نے جس قدر سوال کرنے تھے کئے اور ہر سوال کاشافی جواب پایا۔ جب کوئی سوال باقی نہ رہا تو عرض کیا کہ اب مجِِھے اپنے دین کا حکم پڑھا دیجئے۔

پس میرے بزرگو! اور عزیزو! یہ ہیں وہ چیزیں جو آج نہیں بلکہ تیرہ سو سال کی چلی آرہی ہیں۔

محض ہدایت تکوینی کمزور رہتی ہے اور ضعیف ہے کہتا ضعف ہے کہ قدرت کی ان تمام چیزوں کے دیکھنے کے باوجود احکام الہیہ پر عمل نہیں کیا جاتا بلکہ بعض ایسے اتصاف ہیں۔ جو انہیں تسلیم بھی نہیں کرتے ہیں۔

پس ضرورت پڑی کہ ہدایت تکوینی کے ساتھ ساتھ ہدایت تکلیفی کو بھی لیا جائے۔

اور ہدایت تکلیفی وہ ہدایت ہے جس کا تعلق اس وجود سے ہوسکتا ہے جس میں نہ تو کمزوری ہو نہ کوئی نقص (کمزوری سے مراد جسمانی ضعف نہیں)۔

اس لیے کہا جاتا ہے کہ رسول دو ہیں ایک رسول ظاہر اور ایک رسول باطن تو عقل ہے اور رسول ظاہر حاکمان کامل۔

میرا مقصد صرف اتنا ہے کہ جو خود بیمار ہو دوسرے کو کیا شفاء دے سکتا ہے جیسے جس کا کان دکھ رہا ہو اور وہ اپنا علاج خود نہ کرسکتا ہو۔ تو اسی سبب اور اسی جہت سے اور کسی اور کا کان دکھتا ہوتا ہوگا۔ تو اس کا وہ کیا علاج کرسکے گا۔

اگر کسی کے دماغ میں کمزوری آگئی اور عقل میں سہو و نسیان ہے جب وہ اپنے دماغ کا علاج نہیں کرسکتا تو اور کسی دماغی مریض کا کیا علاج کرسکے گا۔

پس ہادیان تکلیفی کو ان بیماریوں سے منزا ہونا چاہیے۔ (بیماری کا ملب نزلہ زکام وغیرہ نہیں بلکہ روح کی بیماریاں مراد ہیں) تمام امت بیمار ہے ناقص ہے۔ جب یہ ناقص ہے اس کو کامل کرنا ہے اور چونکہ کمال تک پہنچنے کی قابلیت اس میں موجود ہے اس لیے ضرورت ہے کہ کوئی کامل کرنے والا ہو اور ان لوگوں سے حاص ہو جو ناقص ہیں اور جن کو کامل کرنا ہے اس لیے کہ اگر وہ انہی میں سے ہوگا جو ناقص ہیں تو ان کو کامل کیا بنائے گا پس ہادی تو وہ ہوناچاہیے جو تمام امت سے افضل ہو۔

اس کی تائید پارہ گیارواں نصف کے قریب نویں رکوع میں یہ آیت کرتی ہے۔

قل ھل من شرکائکم من یھدی الی الحق قل اللہ یھدی للحق اس آیت سے زیادہ وضاحت میرے خیال میں ممکن نہیں اگر انسان اجنبی کی حیثیت سے صرف اسی آیت کو پڑھ لے اور سمجھ لے تو یہی ایک آیت کافی ہے۔

ترجمہ: حبیب ان سے کہہ دو کہ ان کے شریکوں میں سے کوئی ہے جو حق کی طرف ہدایت کرے؟ آپ فرما دیجئے اللہ ہی ہے جو حق کی ہدایت کرتا ہے۔

آگے ارشاد ہوتا ہے: افمن یھدی الی الحق احق ان یتبع امن لا یھدی الا ان یھدی ط فما لکم کیف تحکمون

ترجمہ: کیا پس وہ شخص جو حق کی طرف ہدایت کرتاہے زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے؟ یا وہ شخص جو ہدایت ہی نہیں رکھتا مگر یہ کہ وہ ہدایت کیا جاتا ہے پس کیاہوا تمہیں کس طرح کا فیصلہ کرتے ہو تم؟

پس ایک شخص تو وہ ہے جوجب ہدایت کرتا ہے حق کی ہدایت کرتا ہے وہ کبھی ہدایت سے باہر نہیں جاتا او رایک وہ ہے جو ہدایت کر ہی نہیں کستا یا ہدایت رکھتا ہی نہیں جب تک کہ کوِئی اور اس کو ہدایت نہ کرے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان دو میں سے تم کس کی پیروی کرو گے؟

میرے بزرگو! میں اپنے نقص کا اعتراف کرتا ہوں۔ ممکن ہے کہ میرے الفاظ آپ کے ذہن نشین ہوگئے ہوں گے۔ میں پھر عرض کرتا ہوں شاید بعض کے اذھان مبارکہ تک میں مطلب آپ کو نہ سمجھا سکا ہوں بعض تو آپ میں سے وہ ہوں گے جو واقعا مجھ سے بہتر جانتے ہیں اور بعض وہ ہیں جن کے کان میں یہ باتیں نہیں پہنچتی اور وہ سید الشھداء کے صدقے میں انہیں سننے آجاتے ہیں۔

دوبارہ ترجمہ سنیئے۔ کیا وہ شخص جو حق ہی کی طرف ہدایت کرتا ہے جب بھی ہدایت کرتا ہے وہ حق کی طرف ہی ہدایت کرتا ہے یعنی اس کی ہدایت میں غلطی کا کوئی احتمال نہیں اور ایک وہ شخص ہے جو ہدایت یافتہ نہ ہو اور ایک شخص وہ ہے جو خود ہدایت یافتہ نہ ہوتا اگر کوئی ہدایت کرنے والا نہ اسے مل جاتا پس تم ان دونوں سے کس کی پیروی کی جائے گی۔

سبحان اللہ پروردگار عالم خود ہی سوال فرمایا ہے: فما لکم کیف تحکمون گویا سننے والے نے خود ہی جواب دے دیا اب سوال کرتا ہے کہ تمہیں کیا ہوا؟ کیسا جواب دیتے ہیں کہ ایک وہ شخص ہے جس نے جب بھی ہدایت کی حق کی ہدایت کی اور ایک وہ شخص ہے جس کو خود ہدایت ہی نہ ملی پس کس کی پیروی کی جائے؟ تمہیں کیا ہوگیا اس کے خلاف باتیں کررہے ہو۔ جو کہتے ہو عمل اس کے خلاف کررہے ہو۔

پس دونوں قسم کے آدمی زمانہ رسول میں موجود ہیں۔ وہ بھی ہیں کہ جب کبھی اس نے ہدایت کی حق کی ہی ہدایت کی اور وہ بھی جس کو ہدایت نہ ملتی اگر اسے ہادی نہ ملتا۔

پس کس قدر معاملہ سہل اور آسان ہوگیا کہ جس جس کا نام آپ کے سامنے آتا جائے اس معیار پر آپ پرکھتے جائیں۔

ہم آپ مسلمان ہیں۔ مسلمان پیدا ہوئے مسلمان ماں باپ کی گود میں ہے مسلمان مدرسے میں گئے یعنی سارا ماحول اسلام ہی رہا آپ بتائیں کہ اگر ہمیں ہدایت نہ ملتی خواہ استاد سے خواہ ماشباب سے تم ہم محتاج نہ تھے کہ ہدایت پاتے۔

آپ ان لوگوں کے متعلق کی اکہیں گے جن کو آغوش ملی تو کفر کی جوانی آئی تو حالت کفر میں پس ان کو ہادی نہ ملتا تو وہ ہدایت یافتہ ہوئے۔ پس یہ اسی لیے ہدایت یافتہ ہوئے کہ ان کو ہادی مل گیا۔ لہذا ثابت ہوا کہ یہ اس فہرست میں نہیں جو ہادیوں کی فہرست ہے۔

لیکن آیت کہتی ہے کوئی ایسا بھی ہوگا کہ جو اس فہرست میں ہو کہ جب کبھی اس نے ہدایت کی حق کی ہدایت کی۔

بطور مثال میرا نام لیجئے دیکھئے اسے ہدایت مل سکتی تھی اگر ہادی نہ ہوتا ذرا ایک سو سال پیچھے ہٹ کر کسی کا نام لیجئے اور دیکھ ئے کہ اسے ہدایت ہوسکتی تھی اگر ہادی نہ ملتا؟ چلئے او رپیچھے ہٹیے زمانہ رسول تک کوئی ہے جس کا نام لیں اگر اسے ہادی نہ ملتا تو اسے ہدایت ہوتی پس ضروری ہوا کہ کوئی تو ہوگا جو پیدا ہو تو ہادی تھا آپ تلاش کریں گے تو آپ کو ضرور مل جائے گا۔ ممکن ہے کوئی اور بھی ہو ہم کو انکار کی ضرورت نہیںٍ لیکن نبی کی زبان سے جو فیصلہ ہوتا ہے وہ یہ ہے:

علی مع الحق و الحق مع علی

فرمایا رسالت مآب نے کہ علی ہمیشہ حق کے ساتھ رہا اور حق ہمیشہ علی کے ساتھ رہا۔

ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا: اللھم ادر الحق حیث دار علی کہ الھی حق کو وہاں چلا جہاں علی ہے۔

پس آپ کو اگر کوئی ایسا شخص نہ ملے تو کم از کم بروئے فرمان نبوی امیر المومنین علی ابن ابی طالب آپ کو ایسے ملیں گے جو حق پر تھے حق ان کے ساتھ تھا اور جب بھی آپ نے ہدایت کی تو حق کی ہدایت کی۔ فما لکم کیف تحکمون ط اور تم خود دل میں سوچ لو کہ تمہارا فیصلہ کیا ہے۔

الغرض پروردگار عالم نے ہم کو ایک طرف ناقص پیدا کیا دوسری طرف ہمیں استعداد رکھی کہ اگر برے آدمی کی صحبت ملی تو برے ہوگئے اچھے آدمیوں کی صحبت ملی تو قریب قریب ظنی میں بھی بلکہ یقینی طور پر اچھے ہوگئے۔ اگر ہمارا ماحول بگڑ گیا۔ تو ہماری فطری حالت بھی بدل گئی ایسی صورت میں خدا پر واجب ہوگیا کہ ہمارے نقص کودور کرے کامل بنانے والے کو بھیجے اور کامل کردے پس ہمارے پیدا کرنے کا فائدہ یا غرض تکمیل ہے اور تکمیل ہو نہیں سکتی جب تک معرفت کے ساتھ محبت نہ ہو۔

فرعون جانتا تھا کہ خدا خدا ہے وہ جانتا تھا کہ وہ خود اس طرح خدا نہیں بلکہ خدا وہ ہے جس نے اس کو بنایا ہے لیکن محض یہ جاننا اسکے کچھ کام نہ آیا۔

نمرود کا واقعہ آپ نے ضرور سنا ہوگا جناب ابراھیم منجیق پر رکھ کر پھینک دئے گئے نمرود مطمئن ہوگیا کہ آج ابراھیم کی اذیت سے اس کو نجات مل گئی رات کا وقت تھا آگ کے شعلے اس قدر بلند ہو رہے تھے کہ اوپر سے کوئی جانور گذر نہ سکتا تھا اندازہ لگا لیجئے کہ کتنی لکڑی تھیں جو اس میں جلانے کے لیے جمع کی گئی تھیں۔ رات بھر آرام سے سویا کہ بس ابراھیم ختم ہوگئے۔ صبح اٹھا وزیر سے کہا چلئے دیکھیں ابراھیم کا حال کیا ہے۔ دونوں وہاں پہنچے وہ زمین جو کل بالکل ایک بنجر تھی اور ایک تنکا بھی وہاں اگا ہوا نہ تھا۔ دیکھتے ہیں کہ پھولوں سے لدی ہوئی ہے نہ صرف پتے شاخ میں اگے تھے بلکہ معلوم ہو رہا تھا کہ پھول ہی پھول کھلے ہیں یہ ایک نفسیاتی امر ہے ایسے وقت میں کہہ سکتا تھا کہ کیا ہوگیا۔ آگے بڑھا دیکھا کہ ڈھیر ہے بالکل تازہ پھولوں کا۔

اس ڈھیر میں حضرت ابراھیم بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ ایک جوان بھی بیٹھا تھا۔ دونوں مسکرا مسکرا کر باتیں کررہے تھے۔ اب نمرود چھپا نہ سکا اپنے وزیر سے کہا کہ خدا ہو تو ایسا خدا ہو جیسا کہ ابراھیم کا ہے۔

معلوم ہوا کہ نمرود یہ پہلے بہی جانتا تھا لیکن خواہشات انسانی انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہیں۔

ذکر ہے کے ایک شخص کہا کرتا تھا کہ خدا کے لئے معاف کر دو علی تم میں موجود ہیں معاف کردو ان کی موجودگی میں میں اس قابل نہیں۔

ہر شخص جو مدعی ہوتا ہے اگر وہ خلاف حق تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ میں کیا کہتا ہوں۔انسان میں کمزوریاں ہیں ہاں کبھی سوداوی مرض کا غلبہ ہو جائے تو انسان کبھی اپنے آپ کو جانور جانتا ہے کبھی خدا جاننے لگتا ہے۔لہذا ضرورت ہے کہ انسان کے لئے کوئی کامل کرنے والا ہو۔تکلیف دی گئی کہ نماز پڑھو!روزہ رکھو! لیکن ضروری ہو گا کہ جو کامل کرنے والا یا ہم کو بتلانے والا ہو۔ وہ ہم جیسا نہ ہو۔

سیدنا سلمان فارس کا بڑا بلند مقام ہے ان سے اونچا ہونا بہت مشکل ہے جناب رسالت ماب نے ان کے حق میں ارشاد فرمایا ہے: سلمان منا اھل البیت“کہ سلمان ہم اہل بیت سے ہیں حضور نے انکی بڑی تعریف کیٍ۔

چاہتا ہوں کہ عرض کر دوں کہ آئمہ طاہرین کے دوست کیسے تھے؟ اس لئے کہ کسی آدمی کے شناخت کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ اسکے دوستوں کو دیکھا جائے۔ حکماء کا قول ہے کہ کسی کو دیکھنا ہو کہ وہ کیسا ہے تو اسکے ہم نوالے ،ہم پیالہ لوگوں کو دیکھو جو ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کا دعوٰی رکھتے ہیں۔

پس پتہ چل جائیگا کے وہ کس قسم کا آدمی ہے چاہتا ہوں کہ یہ دلیل عرض کر دوں جو انشاء اللّہ سیدھا ہے راستے کو دکھلا دے گی۔ اگرچہ راستے پر نہ چلنا اور بات ہے تاہم راستہ سامنے آجائے گا۔

جس قدر آدمی ہیں ۔ ہدایت کے محتاج ہیں اپنی تمیل میں ان کو غیر کی احتجاج ہے ۔ جو ہدایت کرتے ہیں ۔ محتاج نہ ہو ۔ ورنہ ”کیف یسئل المحتاج “ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی محتاج کسی ایسے شخص کے سامنے اپنا سوال یا حاجت پیش کرے جو خود اس حاجت میں محتاج ہے ۔

عمل ھذا لقیاس ایک شخص جو بے دولت ہے بغیر مال کے ہے ۔ مال کی اسے خود ضرورت ہے کوئی ایسا ہوگا ؟ جو ایسے شخص کی طرف رغبت کرے گا تاکہ وہ اسے مال دار بنا دے ۔

تمام عالم محتاج ہے ۔ آپ بھی محتاج ہیں میں بھی محتاج ہوں ( یاد رکھیں کہ محتاج کے معنی محتاج ہدایت ہے ) آپ مجھے فرض کیجیے بھیک مانگتے ہیں اور میں پہلے ہی ہاتھ بڑھاتے ہوئے ہوں تو کیا یہ ممکن ہوگا کہ آپ مجھ سے مانگیں ؟ بلکہ اس میدان میں اس کی طرف جانا ہوگا جو خود محتاج نہیں ۔

خدا تعالٰی نے جب انسان کو عقل عطا کی استعداد بخشی تو خدا پر فرض ہوگیا کہ ایسے لوگوں کو بھی بھیج دے جو خدا محتاج نہ ہوں بلکہ محتاجوں کی حاجت روا ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ معصوم بھی ہونے چاہیں کہ ان سے غلطیاں بھی نہ ہوں ۔

ایسے لوگ کون ہوتے ہیں ؟ خدا تعالٰی کے بدل تّام ہوتے ہیں ۔

بدل تّام کا مطلب یہ ہے کہ جو احکام ادھر خدا تعالٰی کی طرف منسوب کئے جائیں وہ ان کی طرف منتقل ہوجائیں ان کی معیت خدا کی معیت ہو ان کی اطاعت خدا کی اطاعت ہو ۔ اسی حقیقت کو قرآن مجیدنے ان الفاظ میں بیان فرمایا: ”من یطع الرسول فقد اطاع اللہ“ کہ جس نے رسول خدا کی اطاعت کی بے شک اس نے کی اطاعت کی پس اس کی معصیت خدا کی اطاعت ہے۔ وہ ہم میں پروردگار عالم کا قائم مقام ہوگا۔ وہ اس کی طرف سے آکے وہ کام کریگا۔ جو خدا کا کام ہوگا۔ اس لیے کہ خدا اگر خود کام کرنے کو آجاتا تو خدا نہ رہتا۔

پس اس ہادی کی ہدایت خدا کی ہدایت اس سے محبت خدا سے محبت اس سے لڑائی خدا سے لڑائی اس کو ماننا خدا کو ماننا اور اس کو نہ ماننا خدا کو نہ ماننا۔

پس تکمیل کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے رسول کو بھیجا گیا۔ لیکن آپ خیال فرمائیں کہ رسول کے بعد بھی تکمیل کی ضرورت رہی تھی۔ اگر ان کے بعد بھی تکیل کی ضرورت باقی رہی تو پھر ویسا ہی ”مکمل“ یعنی کامل کرنے والا بھی ضروری ہوا جیسا کہ خو رسول مکمل (کامل بنانے والے) تھے۔

اس مکمل کی شناخت بھی وہی ہوگی جیسا وہ کہے ویسا ہی ہو جائے اس کی شان بھی ویسی ہی ہو جیسی شان رسول کی تھی۔

ممکن ہے آپ کسی اور کے متعلق کہیں کہ وہ بعد از رسول مکمل ہوگا۔ مگر خود فرمان رسول کی رو سے جو مکمل تھا۔ وہ امیر المومنین علی ابن ابی طالب تھے جنکے لیے حضور ارشاد فرماتے ہیں:

۲) ” ایھا الناس انا و علی من نور واحد“

”کہ اے بنی نوع انسان میں اور علی ایک ہی نور سے ہیں۔“

پس ہماری نیاز مندی یا خدمت اس شخص کے لیے ہونی چاہیے جو ہم کو بے نیاز کردے نیاز مندی حقیقت میں ایک عذاب ہے (نیاز مندی کا مطلب وہ نہیں ہے جو ہم آج بولتے ہیں۔ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ محتاجی اصل میں ایک عذاب ہے۔ مثلاً:

آج کپڑوں کی ضرورت ہے کل مکان کی ضرورت ہے پرسوں سواری کی حاجت ہے پھر غذا کی محتاجی ہے۔ پھر دوا کی ضرورت ہے وغیرہ وغیرہ یہ محتاجیاں حقیقت میں ایک عذاب ہیں اگر عذاب نہ ہوتیں تو ان کی احتیاج نہ ہوتی۔

اس لیے خدمت اس کی کرنی چاہیے جو اس احتیاج کو دور کردے اور بے نیاز کردے۔

مزید توضیح اس کی یہ ہے کہ خدمت اس کی کرنی چاہیے کہ جس میں چند صفات ہوں۔

۱) وہ قادر ہو۔ تاکہ وہ خدمت کے مطابق بدلہ دے سکے۔

۲) وہ حکیم ہو۔ جو عین حکمت کے مطابق بدلہ دے۔

۳) وہ عالم ہو کہ بدل وغیرہ کے مطابق سچٍے علم کے مطابق اور صحیح علم کے ساتھ بدلہ دے۔

جب وہ قادر نہ ہوگا تو حق نہیں رکھتا کہ اس کی خدمت کی جائے۔ اگر وہ عالم نہ ہوگا تو اس کی خدمت بے معنی ہوگی۔

خدمت سے مردا اطاعت ہے ہمیں اطاعت پر مامور کیا گیا ہے۔ یہی اطاعت ہماری خدمت ہے۔

مذکورہ صنعتوں کا مالک خدا ہے اس کا قائم مقام اس لیے آتا ہے کہ تم اس کی خدمت کرلو اور بے نیاز ہو جاؤ اور ضروری ہے کہ وہ قائم مقام خود بے نیاز ہو۔ ورنہ وہ ہماری نیاز مندی کیسے دور کرے گا۔

بے نیازی کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ کسی شئے کو کہے کہ ہو جاتو وہ ہو جائے۔ جیسا کہ حدیث قدسی میں ارشاد ہوا: ”یا ابن آدم! اطعنی لاجعلک مثلی“ کہ اے آدم کے بیٹے تو میری اطاعت کرنے والا بن جا میں تجھے اپنے جیسا بنادونگا۔ جن کانوں سے تو سنے گا وہ میرے ہونگے جن آنکھوں سے دیکھے گا وہ میری آنکھیں ہوں گی۔

پس اگر ایسا شخص مل جائے تو اسے اذن اللہ (خدا کا کان) کہ دیں تو ٹھیک ہے۔ اس کو ید اللہ کہ دیں تو ٹھیک ہے۔ اس کی شان یہ ہو تو ٹھیک کہ ”اذا اراد شیأ ان یقول له کن فیکون “کہ ادھر کسی چیز کے ہونے کا ارادہ کیا اور کہا کہ ہو جا۔ تو وہیں وہ چیز ہوگی۔

پس یہ شان و حیثیت رکھنے والا کوئی تو ہوگا۔ آپ سمجھیں اور سوچیں کہ وہ کون ہوسکتا ہے۔ اس قسم کے خطاب خود رسول خدا کی زبان سے سکے مل چکے ہیں۔ کبھی فرمایا ید اللہ کبھی کہا گیا نفس اللہ کبھی کہا گیا اس کا بولنا اپنا بولنا ہی نہیں ”و ما ینطق عن الھوا ان ھو الا وحی یوحیٰ“ وہ اپنی طرف سے نہیں بولتا وہ جو بولتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی وحی ہوتی ہے۔ اس کا بولنا اپنا بولنا نہیں ہوتا بلکہ وحی خدا کا بولنا ہوتا ہے۔

اب اسی کا کام ہے کہ وہ ہمیں محتاجی سے بے نیاز کر دے اور بہشت کی تعریف بھی اسی لیے ہے کہ وہاں کسی قسم کی احتیاج نہ ہوگی ورنہ بہشت میں جاکر بھی احتیاج رہی تو عذاب ساتھ ساتھ رہا۔

کیا خوب کہا کسی نے

آنکہ شریاں را کند دوباہ مزاج

احتیاج است احتیاج است احتیاج

اگر جنت میں بھی احتیاج باقی رہی تو جہنم اور جنت میں فرق کیا رہا۔ پس جنت میں نہ احتیاج ہوتی نہ عذاب ہوگا۔

قرآن پاک میں اسی لیے ارشاد ہوا: ولکم فیھا ماتشتھی انفسکم و لکم فیھا ماتدعون کہ جنت میں تمہارے نفس جو کچھ خواہش کرینگے موجود پاؤ گے اور جو کچھ منہ سے مانگو گے تمہیں دیا جائے گا۔

بلکہ نفس جو خواہش کرے گا وہ خواہش سے ہیلے موجود ہوگی اگر جواہرات کا مکان ضرورت ہے خواہش سے پہلے بنا بنایا موجود۔ اگر ایسے طائر کا گوشت چاہو گے تو خواہش کے ساتھ ہی سامنے موجود ہوگا۔

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:لهم ما یشاؤن فیها و لدینا مزید “ یعنی بہشت میں بہشتی جو کچھ چاہیں گے موجود ہوگا اور اس کے علاوہ مزید بھی سب کچھ ہوگا۔

میرے بزرگو! آپ بتلائیں کہ ایسے لوگ کون ہیں۔ جو ”محتاجی سے بے نیاز کرسکیں“ ”جو کسی شئے کو کہے ہو جا تو وہ ہو جائے“ اگر ہم سے آپ پوچھیں گے تو ہم پھر وہی کہیں گے یہ لوگ حضرات اہل بیت اطہار ہیں جو ارشاد فرماتے ہیں ایک موقع پر

”کہ لوگو سامنے دیوار کو اگر حکم دے دوں اور کہدوں کہ سونا ہو جا۔ تو اسی وقت سونا ہو جائے۔“

کیا آپ جانتے نہیں کہ آپ نے صرف یہ لفظ فرمائے اور ابھی یہ حکم نہیں دیا تھا۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جو چیز محض فرمانے سے ان کے تصور میں آچکی تھی۔ ادھر زبان مبارک سے یہ لفظ نکلے۔ ادھر لوگوں نے دیکھا کہ وہ دیوار سونے کی بن چکی تھی۔

کسی نے حضرت امام جعفر صادق سے دریافت کیا ”کہ بندے کا کیا حق ہے خدا پر“ ارشاد فرمایا حضور نے ”کہ بندے کا حق یہ ہے کہ خدا اسے یہ مرتبہ عطا کردے کہ اگر وہ اس درخت چلنے لگ جائے تو اسی وقت وہ درخت چلنے لگے“

حضرت امام باوجودیکہ درخت کو چلنے کے لیے نہیں فرمایا زبان مبارک سے یہ فرمودہ ختم نہیں ہوا تھا کہ وہ درخت چل پڑا اور وہ شخص دیکھ رہا تھا۔

اور یہ چیزیں وہ ہیں جو حاصل نہیں ہوسکتیں تا وقتیکہ نفس کا تزکیہ اور تصفیہ آخری منزل کمال پر نہ پہنچ چکا ہو۔ اسی منزل پر پہنچنے کے بعد خدا کا کلام ایسے نفس والوں کے حق میں صادق آتا ہے۔

اذا اردت شیأ ان تقول له کن فیکون

اس منزل کے متعلق یہ کہنا کہ فلاں شخص میں ایسی صفائی ہے یا نہیں معلوم نہیں ہوسکتی جب تک خداوند خود تصدیق نہ کرے۔ اسی لیے آیت تطہیر ایسے نفوس کے تزکیہ و طہارت کے بارے میں نازل ہوئی۔ ”انما یرید اللہ لیذھ عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا“ اے اہل بیت کو کامل پاک اور مطہر کرنے کا ارادہ کریں اس میں خدا نے پاکیزگی او رطہارت کی انتہاء کر دی۔

پس اب بھی اگر کسی کو نظر نہ آئے تو آیت تطہیر بھی اس کے لیے نہیں ہوگی۔ خواہ کوئی ہو۔

پس اطاعت کرنی ہے تو اس کی کرتی ہے جو غنی کردے دولت سے نہیں بلکہ غنی کا مطلب یہ ہے احتیاج عذاب نیاز مندی سے غنی کرد ے۔

کیا خوب ارشاد فرمایا: ”انما الغنا لیس باالمال و انما الغنا من الناهیس “ط غنیٰ یہ نہیں کہ مال و دولت سے بے نیازی حاصل ہو جائے بلکہ غنیٰ یہ ہے۔ جو لوگوں سے احتیاج کو ختم کردے۔ اگر ایک شخص فقیر ہے اور کسی کا محتاج نہیں تو وہ غنیٰ ہے۔ ایک شخص مالدار ہے اور وہ محتاج ہے تو وہ فقیر ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ کیا آج تک کسی نے سنا کہ اہل بیت رسول کسی کے دروازے پر اپنی کی ضرورت کو لے کر گئے ہوں؟

اس لیے کہ وہ غنی تھے۔ بلکہ دنیا کو ضرروت تھی کہ جب کسی چیز کی احتیاج ہو تو ان کے دروازے پر حاضر ہوں۔

ہاں! ہاں! اگر کسی حکمت کی بناپر ضرورت پڑگئی تو بے شک انہیں جانا پڑا لیکن مسلمانوں کے دروازے پر وہ کبھی نہ گئے بلکہ یہودی کے دروازے پر گئے جس نے دیکھتے ہی کہا کہ آپ تو غنی ہیں اور چادر لے کر آئے ہیں۔ ارشاد فرمایا ہم نے دنیا میں رہنا ہے۔ اپنے غلاموں کے لیے زندگی کے سارے نمونے پیش کرنے ہیں۔ یہ ہمارا آنا پیروکاروں کے لیے ہے کہ وہ ہمارے نمونے کو سامنے رکھیں۔

ورنہ خدا نے ہمیں یہ طاقت دی ہے کہ اگر اس دیوار کو کہ دیں کہ سونے کی ہو جا تو اسی وقت سونے کی ہو جائے۔

پس میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو ضرورت پڑی تو ان کے دروازے پر حاضر ہوئے مگر یہ کسی کے دروازے پر حاضر نہ ہوئے۔ اگر کسی کو علم کی ضرورت پڑی تو کو نسا دروازہ تھا جسے دنیا جانتی تھی اور وہاں سب پہنچتے تھے؟ البتہ اہل بیت ہی وہ تھے۔ جو کسی کے دروازے پر نہ جاتے تھے۔

دور دور سے لوگ مالداروں کو چھوڑ کر ان کے دروازے پہ آتے تھے اس لیے کہ یہ وہ نفوس پاکیزہ تھے جو کسی کو خالی ہاتھ واپس نہیں کرتے تھے اور ان کو یہ اطمینان بھی ہوتا تھا یہ حضرات دینے کے بعد بھول جائیں گے۔

ایک شخص سیدنا امام حسین کے دروازے پر آیا۔ اپنا مطلب دو شعروں میں لکھا اور کنیز کے ہاتھ رقہ اندربھیجا دیا۔ آپ ضروری سوالات کے جوابات لکھنے میں مصروف تھے کنیز نے اس رقے کے دینے میں کچھ دیر لگائی۔

رقعے میں سائل نے یہ واضح کیا تھا کہ وہ اپنے وطن میں ایک بڑا مالدار تھا۔ دنیا کی ہر شئے ایک اس کے پاس موجود تھی زمانے کا انقلاب آیا تمام اسباب لٹنے لگا اور سوائے ایک شے سب کچھ لٹ گیا ۔ مگر وہ شے جو باقی رہ گئی تھی اس کا خریدار میں نے کسی کو نہ پایا آپ کے در پر میں آیا ہوں کے آپ اسے خرید لیں اور وہ شے کیا ہے ؟ ” میری عزت “ اس لئے کہ کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنا عزت کو بیچنا ہے ۔ بس آپ کے در پر آیا کہ میری اس شے کو خرید لیں ۔

پرچے کے ملنے میں کچھ اور دیر ہوگئی اس نے دو شعر اور لکھے۔ جن کا مفہوم یہ تھا کہ اے فرزند فاطمہ امام حسین! حیراں ہوں تمہارا در چھوڑ کر کہاں جاؤں اب میں کسی کے در پر نہیں جاؤں گا۔ وطن کے لوگ پوچھیں گے کہ امام حسین کے پاس گئے تھے انہو ں نے کیا دیا؟ اگر کہوں گا کچھ دیا ہے تو جھوٹا بنوں گا اور اگر یہ کہوں گا کچھ نہیں دیا تو لوگ کہیں گے تو جھوٹا ہے یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ کوئی حسین کے دروازے پر جائے اور اسے کچھ نے ملے؟ لہذا حیراں ہوں کہ میں کیا کروں۔

اپنے دونوں رقعے پڑھے کنیز پر غصہ فرمایا: وہ بیچاری تڑپنے لگی۔ فرمایا کہ تو نے سائل کو اتنی تکلیف دی اس قدر اس نے انتظار کی زحمت اٹھائی۔ بہرحال گھر میں جو نقدی تھی عورتوں کے پاس جو زیور تھے جمع کئے۔ ایک تھیلی میں سب کچھ ڈالا اور محسوس فرمایا کہ جتنا کچھ دینا چاہیے تھا اتنا نہیں دیا جاسکا۔ دروازہ بند تھا۔ ایک ہی پٹ کھولا اور فرمایا ”بھائی اسی قدر حاضر ہے‘ لے لے“ اور دوشعر اس عذر کے ساتھ لکھے کہ زمانے ہمارے موافق نہیں کہ وہ کچھ دیتے جو دے سکتے تھے۔

سائل نے تھیلی کھولی تو امید سے زیادہ پایا۔ عرض کی حضور دروازہ کھول دیجئے اپنا دیدار تو کرا دیجئے۔ فرمایا مجھے شرم آتی ہے تمہارے سامنے آنے سے اس لیے کہ اتنا کچھ نہیں دے سکا جتنا کہ مجھے دینا چاہیے تھا۔

اہل اسلام کی کتب میں یہ واقعات موجود ہیں کہ انسان درکنار جانور بھپی ضرورت کے وقت ان ہی کے مقدس استانہ پر حاضر ہوتے تھے۔

سیدنا امام زین العابدین مسجد میں تشریف فرماہیں کہ ایک ہرنی دوڑتی ہوئی مسجد میں پہنچ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ آپ قائم مقام رسول ہیں۔

یہ واقعہ حضور رسالت مآب صلعم کے متعلق بھی احادیث میں موجود ہے کہ حضور بیٹھے ہیں کہ سامنے سے اونٹ آتا ہے۔ آپ اس کے قریب ہوتے ہیں وہ کچھ حضور کے کان میں عرض کرتا ہے۔ جب وہ چپ ہو جاتا ہے۔ تو حضور نے حاضرین سے پوچھا کہ فلاں شخص کو کوئی جانتا ہے اس ے بلا لاؤ۔ ایک آدمی اسے بلانے گیا۔ عرض کیا گیا یہ اونٹ آپ سے کیا کہہ رہا تھا؟ ارشاد فرمایا یہ اپنے آقا کی شکایت لے کر آیا ہے او رکہتا ہے کہ ساری عمر میں نے مالک کی خدمت میں گزاری بار برداری کا کام کرتا رہا اب میرا مالک مجھے ذبح کرنا چاہتا ہے۔ یا رسول اللہ! اپنی فاطمہ کے بچوں کی صدقے مجِھے بچا لیجئے۔

اتنے میں اونٹ کا مالک آپہنچا حضور نے ارشاد فرمایا: کیا اسے ذبح کرنے کا ارادہ ہے؟ عرض کیا ہاں یا رسول اللہ! یہ بوڑھا ہوچکا ہے کام کرنے کے لائق نہ رہا اس لیے چاہتا ہوں کہ اسے ذبح کردیا جائے۔

حضور نے فرمایا: ”میری خاطر اسے چھوڑ دے“ اونٹ کے مالک نے جواب دیا: ”کہ بہتر یا رسول اللہ! یہ اونٹ بھی آپکا ہے اور میں بھی آپکا۔

لوگو ں نے دیکھا کہ جب اونٹ کا مالک اسے واپس لے چلا تو اونٹ نے مسجد کے دروازے پر تین مرتبہ آواز دی۔

عرض کیا گیا ”یا رسول اللہ! اونٹ نے کیا کہا۔ ارشاد فرمایا: کہ یہ اونٹ میری فاطمہ کے بچوں کے لیے دعائیں دے رہا ہے۔

پس حضرت امام زین العابدین حضور ہی کے جانشین ہیں۔ آپ نے ہرنی کی فریاد سنی کہ کوئی شخص اس کا بچہ گرفتار کرکے لے آیا ہے حضور اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے گرفتار کرنے والے کے گھر پہنچے اسے باہر بلایا۔

اور فرمایا یہ ہرنی اس بچے کی ماں ہے جو تیرے پاں ہے یہ آئی ہے کہ تو اس کے بچے کو چھوڑ دے۔ اس شخص نے عرض کیا کہ حضور وہ بھاگ جائے گا۔ آپ نے فرمایا: میں ذمہ دار ہوں نہیں بھاگے گا۔

آہ! اس بچے کے واقعہ نے مجھے وہ ننھا بچہ یاد کرا دیا کہ بھوکا پیاسا دنیا سے چل بسا اور اس کی ماں زار زار رو رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ بیٹا کہ تو پیاسا تھا پانی پیئے بغیر زخمی حلقوم کے ساتھ دنیا سے چل پڑا۔

یہ وہ یاد ہے جو رونے والوں کو جس قدر لائے کم ہے۔ تیرہ سو سال گذر گئے لیکن روز بروز رونے والوں میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ رونے سے روکنے والو قدرت کو یہ رونا پسند نہ ہوتا تو اس طرح رونے والوں میں ترقی نہ ہوتی ظاہراً اس ترقی کے کوئی اسباب موجود نہیں ہیں کسی کو کوئی دولت نہیں دی جاتی کوئی لالچ نہیں دیا جاتا اور باوجود اس کے ادھر ماہ محرم کا چاند نظر آیا اور دنیا کا دل کھنچ آیا۔ دنیا کو یتماؤں میں وہ لطف نہ آتا ہوگا جو رونے والوں کو رونے میں مزا آتا ہوگا۔ یہ لوگ ڈھونڈتے ہیں کہ کونسی جگہ رونے کی ملے کہ جہاں ان کے لیے رویا جائے۔ ارے یقین کرلو! یہ خدا ہے جو اس یاد کو اور رونے کے روز بروز ترقی دے رہا ہے۔ یہ کام ہمارا نہیں یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے جو اسے برابر بڑھا رہا ہے اس لیے کہ خدا سیدہ فاطمہ الزہرا سے وعدہ کرچکا ہے۔ فاطمہ تجدید عہد ہوا جنابہ سیدہ نے رسول اللہ سے عرض کیا کہ بابا جی گھٹتا ہے کہ میرا یہ بچہ ذبح کیا جائیگا؟ ارشاد فرمایا: ہاں ہاں یہ تب ہوگا جب نہ تم ہوگی نہ میں ہونگا۔ اور نہ علی ہوں گے۔

تب حضرت سیدہ نے پوچھا: بابا جان! پھر اس پر کون روئے گا۔ آپ نے فرمایا: ”مدینہ کی عورتیں اہل بیت کی عورتوں کے مصائب اور اس کے مرد اہل بیت کے مردوں کے مصائب پر ہر سال رویا کریں گے۔ قیامت کے دن تو ان عورتیں کی اور ان مردوں کی شفاعت کرکے جنت میں داخل کروں گا۔“

یہی وہ چیزیں تھیں کہ امام حیسن کو رسول خدا دیکھتے تو روتے۔ جب سیدہ کے سامنے آتے تو وہ بھی روتیں۔ جب وہ تصور کرتے کہ بیٹے کو تکلیف آنے والی ہے تو ان کے دل میں درد بڑھ جاتا۔ حضرت امام سیدہ کو کبھی فرماتے: اماں جان کیوں روتی ہو؟ میرا وعدہ ہے میں اسے پورا کرکے رہوں گا۔اگر میرے باپ نے وعدہ کیا اس سے زائد کرکے دکھلا دوں گا۔

ایک بار کا ذکرہے کہ حضور ہمہ تن متوجہ تھے۔ سیدنا امام حسین سامنے آگئے اپنے اپنے ساتھی اصحابی سے فرمایا یہ میرے دل کا ٹکڑا ہے۔ جب یہ مدد مانگے مدد کرنا پانی مانے گا پانی دینا۔

مگر آہ افسوس جس اہل بیت نے کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلایا تھا۔ ایک وقت آگیا کہ ایک گھونٹ پانی کے لیے ہاتھ پھیلانا پڑگیا۔ لیکن اپنے لیے نہیں چھ ماہ کے بچے کے لے۔ عمر بھر دنیا پر جنکے احسان ہوتے رہے۔ کیا ان کو پانی نہ ملا ہوگا؟ مگر حقیقت یہی ہے کہ پانی کیا ملنا تھا کہ جواب میں تیر آیا۔ حلقوم نازک چھلنی کرگیا۔

یہی امام مدینے سے نکلنے کے بعد راستے کی منزلیں اور تکلیفیں طے کرتے ہوئے کربلا پہنچے علی اکبر سامنے آیا معلوم ہوتا تھا کہ بیٹے کا جنازہ جارہا ہے بہن سامنے آئی محسوس ہوتا تھا کہ براھنہ سر نظر آرہی ہے۔

یہی سبب تھا مکہ سے آپ نکلے جبکہ لوگ حج کو جارہے تھے۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ کیوں جارہے ہیں۔ ارشاد فرمایا کہ میرے خدا کے گھر کی عزت برباد ہو جائے گے چند در چند منزلیں طے کیں۔ ایک منزل پر نماز صبح کے بعد اصحاب کے ساتھ بیٹھے سرجھکائے ہوئے تھے۔ ہمت نہ ہوتی تھی کسی کی پوچھے کہ آپ غمگین کیوں ہوں۔ خود ہی سر مبارک اٹھایا اور فرمایا وہ ایک شخص کوفے سے آتا نظر آرہا ہے۔ اس کا خیال رکھو اسے میرے پاس لے آؤ۔ راہ گزرنے سمجھا کہ راستہ کاٹ نکلوں۔ آپ کے غلام نے کہا۔ ڈرو نہیں میرے آقا کے پاس چلو انہوں نے کچھ پوچھنا ہے۔

کہا”کون ہے تمہارا آقا“ جواب دیا: ”علی اور فاطمہ کے بیٹے حسین“ کہا: ”بھی چلتا ہوں“ حاضر ہوا سلام کیا: امام نے فرمایا: ”تکلیف دی میں نے آپ کو کوفے سے آرہے ہو پوچھتا ہوں۔ ذرا بتلانا۔ میرے بھائی مسلم وہاں گئے تھے۔ وہ خیریت سے ہیں؟ اس شخص نے عرض کیا۔ حضور ذرا اٹھ کر ایک طرف آئیے۔ فرمایا: ”کیوں“ آپ نے اپنے اصحاب پر نظر ڈالی اور کہا کہ سب اپنے ہی ہیں جو کہنا ہے ان کے سانے کہہ دو۔ اس نے سر سے پگڑی اتاری۔ قدموں پہ رکھی اور فریاد کی۔ کہ حضور کوفے سے جب نکلاہوں مسلم کی لاش تب کوچوں میں پھرائی جارہی تھی۔ رسی پاؤں میں بندھی ہوئی تھی اور کھینچے جارہی تھی۔ آپ نے یہ سنا بے اختیار روئے تمام اصحاب رونے لگے گردن جھکائی پھر اٹھے اور خیمے کی طرف آئے اور ارشاد فرمایا: ”بہن زینب مسلم کی بیٹی رقیہ کو میرے پاس حاضر کرو۔ چار سال کی بچی لائی گئی۔ زانو پر بٹھلایا۔ سرپر ہاتھ پھیرا پھر فرمایا: ”وہ گوشوارے بھی لے آؤ۔“ اپنے ہاتھ سے پہنائے۔ معصوم بچی گھبرا اٹھی اور پکاری ”چچی جان‘ کیا میرے باب مسلم کی خیریت آئی ہے۔ تو ارشاد فرمایا بئی صبر کر اگر مسلم موجود نہیں۔ تو حسین موجود ہے۔ بیٹی نہ گھبرا۔

خداوندا ن آنسوؤں کو قبول کر

برحمتک یا الرحم الرٰحمین


مجلس سوم :

بتاریخ ۳ محرم الحرام ۳۷۰ ھ

بسم الله الرحمٰن الرحیم

( افغیردین الله یبغون وله اسلم من فی السمٰوت والارض طوعا وکرهأوالیه یرجعون )

حضرات!آج اپنا بیان شروع کرنے سے قبل آپ کی خدمت میں التجا ہے اور وہ یہ کہ آپ تمام اصحاب اپنی اس مجلس میں ایک کمی محسوس کر رہے ہونگے۔کہ بانی مجلس جو اس سکون کے ساتھ جس طرح غلام یا نوکر ہوتا ہے۔سیدنا امام حسین کی نوکری کے لیے کھڑے رہا کرتے تھے۔اتفاق سے وہ بیمار ہو گئے ہیں۔صدق دل سے دعا فرما ویں پروردگارعالم ان کی طبیعت صحیح اور درست کر دے کوئی وجہ نہیں کہ آپ لوگوں کی دعا قبول ہو۔ انشاء اللہ خدا وندعالم صحیح سالم ان کو ہم میں لے آئے گا۔

اس آ یت کا ترجمہ آپ برابر سنتے رہے ہیں کہ پروردگار عالم ارشاد فرماتا ہے: لوگ خدا کے دین کے علاوہ کچھ اور چاہتے ہیں۔حالانکہ آسمان اور زمین کے باشندے اس کے سامنے اپنی گردنیں جھکائے ہوئے ہیں۔ خوشی کے ساتھ یا جبروقہر کے ساتھ اور اس کی طرف تمام کی باز گشت ہے۔

بہتر ہو گا کہ میں آپکو یاد دلا دوں کہ کل کیا کچھ آپ بزرگان کے سامنے ہیں عرض کر چکا ہوں کہ پروردگار عالم دین کا نافذ کرنے والاہے۔جس کو دین اللہ کہتے ہیں۔اس دین کا تعلق ایک طرف اصول سے ہے اور دوسری طرف فروع سے ہے۔چونکہ انسان کو مکلف کیا کہ اصول پہ اتقاد رکھے اور فروع پر عمل کرے۔ اس کے حکم دینے کا نام تکلیف اور جسے تکلیف دی گئی اسے مکلف کہتے ہیں اور عرض تکلیف یہ قرار دی کہ انسان کی تکمیل ہو جائے اس لئے انسان کی غرض خلقت ہی یہ ہے کہ وہ مکمل ہو جائے۔

اور تکمیل اس وقت تک ہو نہیں سکتی جب تک رب کی طرف سے ارشاد اور تعلیم نہ ہو بلکہ یہ تکمیل مکمل موقوف ہے ہدایت اور تکلیف پر اور ہادی یا مرشد ہر گز ایسا نہ ہو جو کہ ہم یعنی ہدایت پانے والے۔ہادی کو کامل اور مکمل ہونا ضروری ہے۔

چونکہ ہادی کامل ہوتا ہے۔ وہ خلیفہ خدا ہوتا ہے اور اسی لئے اس کی اطاعت خدا کی اطاعت اور اسکی نافرمانی خدا کی نا فرمانی اس یے اس کے احکام کا رد کرنا بعض اوقات کافر بنا دیتا ہے۔کم از کم گناہ گار ہونا تو لازمی ہوتا ہے اس کے احکام میں کسی طرح کی کمی یا زیادتی کرنے کا کسی کو حق نہیں۔

یہ فقرہ آج اور بڑھا رہا ہوں کہ اس کے احکام میں کمی یا زیادتی جو کرے گا وہ ایسا ہو گا گویا کہ اس نے قولاً نہ سہی تو عملاً خود دعویٰ نبوت کیا۔

جیسے آقا کہے کہ یہ دیوار پانچ گز اونچی بنا دو۔اگر اس کے غلام نے چھ گز بنا دی تو آقا خوش ہو گا؟ُاسکی مرضی کے خلاف ہو گا کہ نہیں؟تو یہ زیادتی بالکل بے ہودہ ہو گی علی ھذا القیاس اب اگر غلام نے چار گز دیوار بنا دی تب بھی حماقت اور نا فرمانی میں شامل ہو گا۔اطاعت صرف اسی میں ہے جتنی کا حکم دیا اتنی ہی بنائی جائے۔

اب سوال یہ سامنے آتا ہے کہ اطاعت کا مطلب کیا ہے جتنی عبادتیں فرض ہیں اتنی ہی فرض رکھی جائیں۔اگر ذمیادتی ہو گی تب بھی نا فرمانی اگر کمی کر دی جائے گی تب بھی نا فرمانی اس طرح جتنی چیزیں ہیں ۔قیامت تک کے لئے تمام مکلفین میں ایک مشترک حیثیت سے رکھتی ہیں یعنی رسالت مآب کے زما نے میں جس چیز کی جو حالت تھی اس کے اعتبار سے جو حکم دیا گیا تھا۔ قیامت تک جاری رہے گا اگر وہی حالت رہے گی تو اس کے متعلق وہی حکم باقی رہے گا جو زمانہ نبوت میں جاری تھا۔ جیسے کسی کو نبی نے کہا کہ تم کھڑے نہیں ہو سکتے بیٹھ کر نماز پڑھو وہ جس زمانے میں ہو گا بیٹھ کر نماز پڑھے گا ا س لیے کہ یہ فیصلہ ہوچکا اور اسیر اتفاق ہو چکا کہ

”حلال و محمد حلال الی یوم القیامه و حرام محمدحرام الی یوم القیامه

کہ جو کچھ حضور محمدالرسول اللہ نے حلال کر دیا وہ قیامت تک کہ لیے حلال ہے اور جسے آپ نے حرام کردیا وہ قیامت تک کے واسطے حرام ہے۔“

پس زانے کی حیئیات کو دیکھ کر نہ حلال سے حرام کی جاسکتی ہے اور نہ حرام ہی حلال کی جاسکتی ہے۔ اگر رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی کو حلال کیا تھا۔ آج بھی وہ حلال ہے۔ سو سال بعد بھی حلال رہے گی۔

اس طرح قیامت تک اور اگر کسی شئے کو حرام کردیا تھا۔ تو آج بھی حرام۔ سو سال کے بعد بھی۔

کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ یہ سمجھے یادعویٰ کرے کہ وہ اتنا علم رکھتا ہے۔ جتنا کہ جناب محمد مصطفیٰ صلعم کا علم تھا اور یہ حقیقت ہے کہ ان تمام حلال کردہ چیزوں کے علم کا عبور ہونے کا دعویٰ ایک عامی جاہل سے جاہل بھی نہیں کرسکتا یا جن چیزوں کو حرام کردیا۔ان تمام کو جان لینے کا دعویٰ کر دینا جاہل سے جاہل آدمی بھی نہیں کر سکتا کہ مجھ کو اتنا علم ہے جس قدر رسالت مآب صلعم کو تھا۔

ہمارے زمانے میں مثال کے طور پر قربانی کرنا عید قربان کے دن دس‘ گیارہ‘ بارہ تاریخ ماہ ذوالحجہ کے تیرہ سو سال سے سنت چلا آرہا ہے۔ جو صاحب حیثیت ہیں۔ ان کے لیے قربانی منت رسول ہے۔ علماء کا عمل بھی برابر چلا آرہا ہے۔ تمام اہل اسلام کا اسیر اتفاق ہے۔ اب ایسی صورت میں اگر کوئی شخص قربانی نہ کرے باوجود صاحب حیثیت ہونے کے یا کوئی شخص اس امر کو سنت سے الگ قرار دیدے تو کہا جائیگا۔ وہ ایسا دعویٰ کر رہا ہے گویا کہ معاذ اللہ اس کا علم جناب رسالت مآب صلعم کے برابر ہے۔

جیسے کے پچھلے دنوں اخبارات میں مضامین نکلے تھے کہ بے فائدہ اس قدر تعداد جانوروں کی ذبح ہوتی ہے اور گوشت ضائع کیا جاتا ہے اتنا روپیہ بچالیا جاتا مستحقین کو دیاجاتا یا قوم کا کسی کام آنا۔ تو معلوم ہوا کہ جو فعل سنت نبوی تھا۔ وہ آج سنت نہ رہی۔ مکروہ ہوگئی یا کم از کم سنت رسول کی مخالفت ہوگئی۔

ان چیزوں کی مخالفت کرنے والا ایک علمت کی وجہ سے مخالفت کرتا ہے جو اس کے مد نظر ہوتی ہے۔

ایک صاحب ہندوستان میں فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے لیے روزے واجب نہیں یہ تو صرف عرب والوں کے لیے واجب تھے اور وہ اس لیے کہ وہ عربی لوگ خرمے کھایا کرتے تھے جس سے کافی خون پیدا ہوتا تھا۔ نیز روغن زیتون بھی بہت استعمال کرتے تھے۔

جس کے سبب ان کے خون میں زیادتی ہو جاتی تھی اور اسی لیے ان کے واسطے روزوں کا حکم ہوا تاکہ ان کی حالت اعتدال پر آجائے۔ لہٰذا آج ہم کو کیا ضرورت ہے کہ روزہ رکھیں یہ تو صرف انہیں پر واجب تھا ہم پر بالکل واجب نہیں۔

لیکن اس قسم کی حماقت کی کوئی حد ہے؟ کہ جو علت ایسے لوگوں نے اپنی نظر کے سامنے رکھی کیا ضروری ہے کہ خدا کی نظر میں بھی وہی علت ہو۔

ایک اور صاحب اٹھتے ہیں او رکہتے ہیں کہ آج نماز کی کوئی ضرورت نہیں اس لیے کہ نماز کا مقصد پابند اوقات بنانا تھا۔ چونکہ انگریز اپنے زمانے حکومت میں یہ پابندی سکھا گیا اور پابندی وقت کی غرض حاصل ہوچکی لہذا نمام کی کیا ضرورت ہے؟

میرے بزرگو اور عزیزو! اس قسم کی تمام علتیں اپنی طرف سے قائم کرلینا خالص حماقت ہی حماقت ہے۔

پچھلے سال ایک اور مسئلہ پوتے کی میراث کا نکل پڑا تھا۔ ارباب حکومت نے بڑی مہربانی کی کہ اس فتنے کو دبا لیا ورنہ جاھلان شریعت نے طے کرالیا تھا کہ لوگوں کے اس معاملے میں ووٹ لے لئے جائیں کہ آیا پوتے کو میراث ملتی ہے یا نہیں؟

مقصد یہ کہ ہمارے لیے جس کو مکمل مقرر کیا اور مرشد بنایا گیا ہے اس کا علم ہم تمام کے مجموعے سے زائد ہونا چاہیے اور جو نقائص ہم تمام میں ہیں۔ وہ سب کے سب اس میں نہیں ہونے چاہیں اور اسی کا مطلب یہ ہے کہ ھادی کو معصوم ہونا چاہیے۔

پس دین اللہ کو بتانے کے لیے معصوم کی ضرورت ہے اور دین اللہ اس وقت تک نہیں آسکتا جبا تک کہ ہادی معصوم نہ ہو۔

میرے بزرگو آج چاہتا ہوں کہ کسی قدر تفصیل کے ساتھ عرض کردوں کہ جب ہم کو معلوم ہوچکا کہ انسان کو تکلیف دی گئی جس کے مختلف درجات ہیں۔ مختلف اعتبارات سے مثلاً علم کے اعتبار سے سب انسان یکساں نہیں۔ صفات معینہ کے اعتبار بھی سب یکساں نہیں بلکہ تمام کے تمام مختلف ہیں۔ تو جب مکلفین میں اس قدر اختلاف ہے۔ تو واضح ہوا کہ تکلیف میں اختلاف ہونا چاہیے۔

اسی سلسلے میں پروردگار عالم نے فرمایا ”لھم درجات عند اللہ“ کہ اسنانوں کے متعدد درجے ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک۔ کوئی اونچا‘ کوئی اس سے اونچا اور کوئی اس سے بھی اونچا۔

اس طرح کلام الہی میں ارشاد ہوتا ہے:

( والذین امنوا و عملواالصالحات لا تکلف نفسا الا و سعها ) کہ وہ جو ایمان لائے اور اعمال صالح بجا لائے۔اس قدر ہم ہر نفس کو تکلیف دیتے ہیں جس قدر برداشت کرنے کی اس میں وسعت ہوتی ہے۔مثال کے طور پر ہر کسی کو ایک سیر اٹھانے کی طاقت ہے تو اس پر پانچ سیر کا وزن نہیں لادا گیا بلکہ جس قدر طاقت تھی اتنی تکلیف دی گئی اور عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اگر طاقت سے تکلیف دی جائے گی تو وہ ظلم ہو گا اور اگر طاقت سے کم تکلیف دی جائے گی تو بھی ظلم ہو گا اس لئے کہ تکمیل کی کمی رہ گئی اور تکمیل میں کمی رکھنا خدا کے لیے کسی طرح درست نہیں۔

پس جو جیسا ہے علم کے اعتبار سے ذہن و ذکا کے اعتبار سے وغیرہ وغیرہ اسے ویسی ہی تکلیف دی گئی۔اسی وجہ سے جاہلوں کی تکلیف وہ نہیں ہے جو علما کی تکلیف ہے اور علما کی تکلیف وہ نہیں جو انبیاء کی تکلیف ہے ہر ایک کی تکلیف الگ الگ ہے۔

پروردگار ارشاد فرماتا ہے:( انظر کیف فضلنا بعضهم علی بعض ورفعنا فوقهم الدرجات ) “کہ”حبیب دیکھ لیجیئے کس طرح ہم نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرمادی اور ”ہم نے ان کے اوپر اور لوگوں کو درجات میں اونچا کیا۔

معوم ہوا کہ انسان خلقت کے اعتبار سے بھی الگ الگ ہیں۔

اعتراض ہو سکتا تھا کہ جب انسانوں کو مختلف حیئیات سے پیدا کیا گیا ہے تو تکلیف یکساں کیوں دی گئی کیونکہ کلام الہی ہر شے اعتراض سے پاک ہے ثابت ہوا کہ تکلیف میں بھی انسان الگ الگ ہیں جس قدر کسی کا ظرف رکھا گیااور وسعت دی گئی اس قدر اس کے لیئے تکلیف بھی مقرر کی گئی۔

اب آپ اجمالی حیثیت سے انسانوں کے درجات سن لیجیئے۔گھر میں دیکھ لیجیئے سکول یا کالج میں جا کر دیکھ لیجیئے۔ بعض طلبا وہ ملیں گے کہ جس قدر بھی محنت کریں گے پھر بھی فیل ہی رہیں گے۔بعض طلباء کو دیکھیں گے کہ وہ سال بھر کھیلتے رہے اور امتحان سے قبل کچھ دن محنت کی اور پاس ہو گئے۔البتہ میرا اشارہ ان طلبہ کی طرف نہیں جو سفارش سے پاس ہو جاتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہم نے بعض کو دیکھا کہ ساری ساری رات جاگتے رہے اور محنت میں حد کر دی لیکن آخر کار فیل ہو گئے۔

پس ثابت ہوا کہ ذہن کے اعتبار سے انسانوں میں فرق ہے۔ آپ خود اس جلسے کو دیکھ لیجیئے ۔ آپ خود اس جلسے کو دیکھ لیجیئے ۔ آپ حضرات ہی میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو میرے مطلب کو زیادہ سمجھ گئے اور بعض وہ ہیں جو سمجھتے ہی نہیں اور بعض وہ ہیں کہ ان کو کچھ مسائل سمجھ آگئے ۔ مگر فضائل کی ان کو کچھ سمجھ نہ لگی اور بعض باہر نکل کر سنے ہوئے مسائل کو اس طرح بیان کرنے لگے ۔ گویا کہ وہ بالکل خلاف کہ رہے ہیں اس سب کچھ کے کہ جو جہاں کہا گیا۔

اس روشنی میں اب یہ واضح ہو گیا کہ رسول خدا کی روایتوں میں بھی اسی طرح اختلاف ہو گیا تھا کہ رسول خدا نے تو کچھ فرمایا اور سننے والوں نے مجلس سے باہر جا کے بالکل فرمان نبوی کے خلاف بیان کیا۔

سبحان اللّہ:کہ حضور کے پاس بیٹھنے والوں میں ایک وہ بھی تھے کہ انہوں نہ جو کچھ جان یا سیکھا اسے کامل طور پر اور پورے کمال کے ساتھ جانا اور سیکھا۔

جناب محمد مصطفے صلعم کی مجلس والوں میں وہ امیرالمومنین علی ابن ابی طالب ہیں جو ارشاد فرماتے ہیں: ”علمنی رسول الله الف باب من العلم وافتح لی من کلّ باب “یعنی رسول اللہ صلعم نے مجھے علم الہی کے ھزار باب تعلیم فرمائے جن میں سے فضل الہی کے سب ایک ایک باب کے ساتھ ہزار ہزار باب کے علم اور مجھ پر کھل گئے۔“ٰ

کیفیت جناب امیر کی ذہانت کی کہ حضور نے ہزار علم کے سکھائے آپ پر ہر ایک باب سے ہزار ہزار باب مزید کھل گئے۔

اور ایک وہ تھے رسول خدا کی مجلس میں ہی بیٹھنے والے جو حضورسے لفظ ”کلالہ“ کا معنی پوچھتے ہیں آپ سمجھاتے ہیں۔ سات آٹھ دن کے بعد پھر وہ حضرت آبیٹھتے ہیں کہ یا رسول اللہ میں ”کلالہ“ کے معنی بھول گیا۔ آپ نے معنی بتاددیئے چند دن گذرے تھے وہ پھر آئے اور کہا یا رسول اللہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی بالآخر حضور نے فرمایا: ”تم جاؤ گے اور تب بھی تمہیں سمجھ نہ آئے گی“ تو یہ لوگ بھی تھے۔ جن کے ذہن یہ تھے۔

اس طرف کلام الہی میں ارشاد ہوتا ہے:

”و منھم من یستمع الیک۔۔۔ حتی اذا خرجوا من عندک قالوا الذین اوتوا العلم ماذا قال انفاہ“ط کہ آپ کے پاس بیٹھنے والوں میں سے بعض وہ ہیں جو آپ کے فرمانکو نہایت غور سے سنتے ہیں لیکن جب مسجد سے نکل کر باہر ہوتے ہیں تو علم والوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا فرمایا تھا رسول نے

پس آپ حضرات خو داندازہ فرمائیں کہ اب یہ بیچارہ جو رسول الل کی خدمت میں بیٹھا اور اس نے کچھ سن لیا تو وہ باہر جا کے جو روایت کرے گا۔ اس میں اصل کے مقابلے میں کس قدر اختلاف ہوگا۔ اسی وجہ سے روایات والوں نے ایک مستقلعلم اسمأ رجال قائم کردیا ملاحظہ فرمائیے اصول کافی میں۔ حضرت سیدنا امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:

ہمارے دشمن بہت ہیں اور رہیں گے جہاں دلوں پر ظلمتیں ہوں گی وہاں ظلمت کا اقتضا ہوگا کہ وہ خود کے ساتھ دشمنی کرے۔ مگر مصیبت یہ بن گئی کہ جو لوگ درست تھے۔ انہوں نے غفلت کے سبب ہم پر ظلم کردیا۔ اگرچہ وہ گہنہ گار نہیں لیکن ہم پر ظلم ہوگیا۔

کسی نے عرض کیا: ”کیسے“؟

ارشاد فرمایا: ہمارے دشمنوں نے ہمارے خلاف روایتں گھڑیں اور کسی دوسرے مقام پر جاپہنچے اب لوگوں نے انکو مقدس صورت سمجھا جیسا انہوں نے بیان کیا۔ سادہ لوح لوگوں نے جو کچھ ان سے سنا اس پر یقین کرلیا۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ ہمیشہ سے دشمنان اہل بیت رہے ہیں۔ اس طری روایات بنیں اور ان میں اختلاف بڑھتے گئے۔

میرے بزرگو! میں بیان کررہا تھا کہ ہمارے ہادی کو بہرحال کامل و مکمل ہونا چاہیے۔

الحمد اللہ اس سے مجھے ہر علم اور ہر فن کا ایک ایکسپرٹ یعنی قابل ہے۔ کامل کہنے کو تو ڈر لگتا ہے۔ کامل کہنا غلط ہوگا جو محال عقلی نہیں۔ تو مشکل تو ضرور ہے۔ بہرحال قابل اور ماہر آدمی تشریف فرمائیں۔

اور کوئی علم نہیں جس کے ذریعے مقائل شرعی میں کسی نہ کسی طرح روشنی نہ پڑجاتی ہو علم ریاضی۔ علم جبر و ادب وغیرہ کوئی علم بھی ہو۔ ان کی رو سے استدلال کیا جاسکتا ہے۔ کہ مجھے جلسے بستی و ملک وغیرہ کے انتظام کو اس وقت تک قائم نہیں رکھا جاسکتا جب تک کہ ہکوئی ایک کامل شخصیت کے ہاتھ میں اس کا انتظام نہ ہو اور وہ کامل امیر و غریب و فقیر‘ چور شریف وغیرہ کے لیے ایسا کامل قانون مقرر کرے گا۔ جو سب پر بیک وقت ایک ہی جیسا نافذ ہو۔ اگر فقیر چوری کرے تو اس کے لیے بھی وہی سزا ہو۔ جو امیر چور کے لیے۔ اس طرح اس میں بھی فرق نہ ہو کہ یہ عربی ہے۔ اسے زیادہ حقوق ملنے چاہیں اور یہ غیر عربی ہے۔ اسے کم حقوق ملنے چاہیں۔

حضرات جو بات منہ سے نکلتی ہے اس میں سے ایک اور بات سامنے آجاتی ہے عرض کرتا ہوں سنیئے۔

جناب رسالت مآب صلعم مال غنیمت تقسیم کرتے تھے۔ تو آپ نے کبھی یہ نہ دیکھا کہ یہ امیر ہے۔ یہ غریب ہے۔ یہ مہاجر ہے یہ مکہ کا رہنے والا ہے یا اس کے علاوہ کسی گاؤں کا رہنے والا ہے۔ سب کو ایک ہی حیثیت سے آپ تقسیم کرتے تھے۔ لیکن حضور کے اٹھنے کے بعد یہی طریقہ جاری رہا لیکن پھر کچھ زمانے کے بعد یہ طریقہ بدل گیا۔عرب و عجم میں فرق ہونے لگا۔ مہاجر انصار میں فرق کیا جانے لگا اور یہ طریقہ عرصے تک چلتا رہا۔

میرے بزرگو میں ان چیزوں کو ہر گز نہیں کہنا چاہتا جو ثابت شدہ واقعات کے خلاف ہیں یا محض کسی کو خوش کرنے کے لیے کہی جائیں یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ وہ وقت آگیا تھا کہ مال خدا کو جو تقسیم کیاجاتا تھا۔ تو اس میں فرق ہونے لگ گیا۔ مہاجر کو انصار سے زیادہ ملنا چاہیے اور جو کبھی نبی کریم صلعم سے کوئی جنگ کرچکے تھے۔ انکو بعد میں آنے والوں سے زیادہ ملنا چاہیے۔

تا آنکہ امیر المومنین علی کا وقت آگیا عرض کیا گیا کیسے تقسیم کیا جائے؟ فرمایا بالکل مادی حیثیت سے چنانچہ تقسیم کرنے پر ہر ایک کے حصے میں تین تین درھم آئے۔ جو لوگ ہزار ہزار درھم ان کو ملا کرتے تھے۔ وہ کب خوش ہوسکتے تھے۔

عبد اللہ بن عباس جیسے جو لوگوں میں قرآن کے تفسیر ان مشہور ہوئے۔ ان کو آخر عرض کرنا پڑا کہ یا امیر اب لوگ عادی ہوچکے ہیں۔ عادی لوگوں کو زیادہ دین ورنہ فتنے اٹھیں گے۔ فرمایا: ”اگر میرا ذاتی مال ہوتا تو بھی کبھی تفریق نہ کرتا۔ یہ تو خدا کی مال ہے ا س میں کس طرح اور کیسے تفریق کی جاسکتی ہے۔

وقت آج جلدی ہی گذر گیا۔ میں پھر واپس اپنے مطلب پر آتا ہوں اور پیش کرتا ہوں کہ انسانوں کے درجات کمال کی حیثیت سے کتنے ہیں۔

۱ ۔ ایک انسان تو وہ ہوتا ہے جسے ”مجنوں یا دیوانہ“ کہتے ہیں۔ جو سمجھ ہی نہیں رکھتا آپ اسے کبھی نہیں فرمائیں گے کہ بھائی مکتب میں جایا کرو علم حاصل کرو۔ بڑے بن جاؤ وغیرہ وغیرہ۔

۲ ۔ دوسرا درجہ اس کا ہے جس کو قرآن مجید کے الفاظ میں ”سفیہ“ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ دیوانہ یا مجنون تو نہیں بلکہ بے وقوف ہے۔

۳ ۔ ”مستضعف“ جسے ضعیف العقل بھی کہہ سکتے ہیں اور وہ ”سفیہ“ سے ایک درجہ اونچا ہے۔

۴ ۔ عام متوسط لوگوں کا ہے۔ کہ وہ نہ تو اتنے کم درجہ ہوتے ہیں۔ کہ انکو سفیہ یا مستضعفین میں داخل کیا جائے اور نہ اتنے بلند ہوتے ہیں کہ ذھینوں میں ان کا شمار ہو۔

۵ ۔ ”ذھین“ جن کا ذھانت میں اس قدر بلند پایہ ہو۔ یا جو کہ اشیائے عجیبہ کی اختراع کرسکیں۔

۶ ۔ ایک درجہ ان فقھا ء اور علماء کا ہے جو معصوم تو نہیں ہوتے مگر عصمت سے ان کے حالات ملے جلے ہوتے ہیں۔

۷ ۔ ”انبیاء و مرسلین“ کا درجہ ہے جو معصوم ہوتے ہیں اور تمام صفات کمال سے موصوف ہوتے ہیں۔

ان تمام درجات انسانی کے احکام الگ الگ ہیں۔جیسے جیسے درجے ویسی ویسی جو تکلیف ایک درجہ میں ہو گی اس سے بلند درجہ میں تکلیف بھی بلند مرتبہ کی ہو گی۔ایک جاھل درجے کے اعتبار سے کم اسے تکلیف بھی کم اور بالمقابل عالم کا مرتبہ بھی بلند اور اسکے لئے تکلیف کے احکام بھی بڑے اور بلند۔

اس سے یہ نہ سمجھ لینا کے جاھل رہنا اچھا ہے اس لئے کہ اس میں تکلیف کم رہے گی۔

انسان کے لئے پہلا حکم ہی یہی ہے کہ وہ جہالت کو دور کرے اور علم سے اپنے آپ کو معمور کرے۔

البتہ اس میں شک نہیں کے کسی انسان کوشش کی اور پوری کوشش کے بعد بھی جاہل رہا تو وہ اس شخص سے اچھا یعنی بہتر جس نے علم حاصل کیا۔عالم کہلایا ۔لیکن بے عمل رہا۔

تائیدی حکم ہے کہ علم حاصل کرو۔جہالت سے ہمیشہ بچو۔

میرے بزرگو! میں عرض کر رہا تھا کے ہر ایک انسان کے لئے تکلیف کے احکام الگ الگ ہیں بلکہ اعتقاد کے اعتبار سے بھی انسان انسان الگ الگ ہوں گے۔کسی کا کم اعتقاد کسی کا زیادہ اعتقاد اس کا اس سے زیادہ اعتقاد پس بلند اعتقاد والے کے نزدیک وہ جو کمزور اور پست اعتماد والا ہے۔اس کی اعتقاد میں پستی۔جہالت ہو گی یا نہیں؟اور بلند اعتقاد والے کے نزدیک گمراہی ہو گی یا نہیں؟

ایک ذھین، عالم، صاحب معرفت انسان ہے اس کا اعتقاد جاہل کے اعتباد سے کتنا بلند ہو گا اور اس کے نزدیک جاہل کا اعتقاد یقیناً پست ہو گا اور ایک طرح سے جہالت اور گناہ ہوگا ۔یہی وہ حقیقت ہے جو مشہور مقولہ سے بھی واضح ہوتی ہے کہ”حسنٰت الا برار شیئات المقربین“ کہ”ابرار لوگوں کے نزدیک جو چیزیں نیکیاں ہوتی ہیں۔

سبحان اللہ! امام جعفر صادق کے خادم ہیں۔ ایک بار عرض کیا کہ حضور کچھ سیدھے سادھے لوگ آئے تھے یا ابن رسول اللہ!ھم تو ان سے بیزار ہیں۔

حضرت امام نے فرمایا: کیا وہ ہم سے محبت کرتے ہیں؟ خادم نے عرض کیا”ہاں“ارشاد فرمایا: ”پھر کیوں بیزار ہو تم؟“

عرض کیا”حضور ان کے اعتقاد کمزور ہیں“۔

ارشاد فرمایا: ”اگر یہی دلیل ہے بیزاری کی تو چاہیے کے ہم بھی تم سے بیزار ہو جائیں اس لئے کہ جو کچھ ہم جانتے ہیں وہ تم نہیں جاتے اعتقاد کا بلند مرتبہ جو ہمارا ہے وہ تمہارا نہیں اور اسطرح چاھیے کے خدا تعالیٰ ہم سے بیزار ہو جائے اس لئے کہ جو کچھ وہ جانتا ہے وہ ہم نہیں جاتے۔ پس پست اعتقاد انسانوں سے بیزار نہ ہو جاؤ بلکہ انہیں سمجھانے کی کوشش کرو جس قدر ان کے پاس ہے وہ ان کے اعتبار سے ان کے لئے ٹھیک سمجھو ورنہ دنیا میں بیزاری ہی بیزاری ہو جائے گی۔

لہٰذا احکام شریعت میں اتنی ہی تکلیف ہے جتنی کہ برداشت ہو سکے اور یہی وجہ ہے پروردگار عالم نے فرمایا:

( لا یکلف الله نفساً الا وسعها )

کہ ”اللہ تعالیٰ کسی کو ہر گز اتنی تکلیف نہیں دیتے جو اس کی وسعت یا برداشت سے باہر ہو۔

ایک واقعہ یاد آ گیا کہ ایک بڑے نیک صاحب ایمان درویش مسلمان نے ایک یہودی کو مسلمان کر دیا۔آپ نے کہا میاں پہلے غسل کر لو۔پاک کپڑے بھی پہن لو تاکہ ھم کلمہ شہادت پڑھا دیں۔ اس نے ایسا ہی کیا پھر کہا کہ مکمل مسلمان تم تب ہو گے جب تک نماز نہیں پڑھو گے۔اس نے کہا بہتر ٹھیک سویرے سویرے اس کا دروازہ جا کھٹکھایا کہ چلیئے نماز ادا کریں ابھی صحیح کی آذان میں کچھ وقت باقی تھا کہا تھوڑی سی نفل نماز پڑھا لیں پھر دو فرض پڑھنے شروع کئے۔جو نماز پانچ منٹ کی دیر میں ختم ہو سکتی تھی۔انہوں نے پندرہ منٹ لگائے اور خوب ٹھر ٹھر کے پڑھی۔نماز بعد کہا کچھ کلام ہی پڑھ لیں جس پر گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹا صرف ہو گیا۔ پھرکہا کچھ دعائیں بھی مانگ لیں اور دعائیں پڑھتے پڑھتے درس گیارہ بج گئے۔کیونکہ دیر ہو چکی تھی ساتھ ہی لے گئے کہا کھانا کھا لو۔جب کھا چکے تو ارشاد فرمایا اب زوال ہو گیا ہے چلو مسجد میں نماز ہی پڑھ آئیں۔آٹھ رکعت نوافل خود پڑھانے کے بعد نماز ظہر پھر دعائیں اس انداز سے پڑھیں کے عصر کی نماز کا وقت آ گیا۔نماز ختم کرنے کے بعد پھر دعائیں وظائف شروع کئے۔حتیٰ کے مغرب کی نماز بھی وہاں ہی اداکرنی پڑی اور دعا کا سلسلہ اتنا پڑھا کہ عشا کی نماز کا وقت آ گیا جس کے بعد پڑھتے پڑھاتے۔گیارہ بجے کے قریب وقت آ گیا۔اب آپ نے کہا کہ ذرا جائے گھر میں آرام کیجیئے۔

دوسری صبح آپ نے اس نو مسلم یہودی کا دوروازہ کھٹکھٹایا اس نے جواب دیا کے بھائی صاحب مذھب تمہارا تو بہت اچھا ہے لیکن یہ مذہب تمہارا بہت بڑی فراغت چاہتا ہے لہٰذا میں دین اسلام سے باز آیا ایسا دین تمہیں ہی مبارک ہو۔

پس اس نا سمجھ نے وسعت سے زیادہ تکلیف دی اور یہ انجام ہوا۔ اس لئے احکام اس طرح مسلط کر لئے جائیں تو خطرہ پیدا ہو جائے گا کہ کوئی اصل سے ہی نہ پھر جائے۔

پس ثابت ہوا کہ ہر ایک کی تکلیف الگ الگ ہے اس طرح ہر ایک کا ذہن بھی الگ الگ ہے۔ اسی طرح اعتقاد بھی الگ الگ ہے۔کس کا بلند درجہ اعتقاد ہے اور کسی کا پست درجہ۔

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: کہ ایمان کے اعتقاد کے اعتبار سے پچاس درجے ہں کوئی اس کے پہلے درجے میں اور کوئی دوسرے میں کوئی دسویں میں کوئی پندرھویں میں کوئی بیسویں میں۔اب جو دوسرے درجے والا ہے وہ پہلے اعلیٰ ہے پانچویں والا دوسرے سے بہتر ہے اور پندرھویں والا دسویں سے بہتر ہے۔لیکن پندرھویں والے کو ہر گز نہ چاہیے کے وہ پانچویں والے یا دسویں والے کو ذلیل یا حقیر سمجھے۔ اگر بلاشبہ اس کی نظر میں ان پست درجہ والوں کا اعتقاد جہالت ہوگا ۔

آپ درود شریف پڑھیں ۔ میں ایک اور مادی مثال پیش کرتا ہوں ۔

جیسے کوئی چار پانچ سو روپے ماہوار پاتا ہے اور ایک اور محض ہے جو ایک سو ماھوار لیتا ہے کیا پہلے کو چاہیے کہ دوسرے کو ذلیل سمجھے ؟ اگرچہ سو روپے ماھوار والا خود اپنی جگہ راضی ہوگا مگر اس کی جگہ اور مرتبے کو پانچ سو روپے ماہوار والد کبھی پسند نہ کرے گا ۔

میرے بزرگو! میں یہ عرض کررہا تھا کہ دین اللہ میں انسان کی عرض تکلیف تکمیل انسان ہے اور تکمیل انسان کے لئے تکلیف رکھی گئی اور تکلیف میں اسی طرح درجات ہیں جس طرح انسانوں میں درجے ہیں ۔ اعتقاد کے اعتبار سے تو اوپر کے درجے والے کے نزدیک نیچے کے درجے والے کا اعتقاد جہالت ہے۔

اسی لئے رسالت مآب نے ارشاد فرمایا :

لو علم ابوذر ما فی قلب سلیمان الفارسی وکفرته اوقتله “ کہ اگر وہ اعتقاد ابوذر کو معلوم ہوجائے گا جو جناب سلیمان فارسی کو حاصل ہے۔ تو وہ اس کا انکار کردے اس پر کفر کا فتوٰی لگا دے یا اسے قتل کردے ۔ اس لئے کہ سلیمان فارسی کا اتنا بلند درجہ ہے کہ وہ ابوذر کے تصور میں بھی نہیں آسکتا “۔

یہ ابوذر سلیمان فارسی کے اعتبار سے اس قول کی رو سے کتنے کم درجہ ہیں کہ ان کو اگر معلوم ہوجائے کہ سلیمان کے عقیدے میں یہ باتیں شامل ہیں۔ تو وہ اس پر کفر کا فتوٰی دے دیں یا قتل ہی کر ڈالیں ۔

حالانکہ حضرت ابوذر کا اپنی جگہ وہ عظیم الشان درجہ ہے جناب رسالت مآب معلصم نے فرمایا ”ماقتلت …اصدق من ابی ذر “ کہ ” زمین کے اوپر آسمان کے سائے کے نیچے کوئی انسان بھی کہ جس پر آسمان نے اپنا سایہ ڈالا ہو اور وہ بولنے والا ہو اور وہ زیادہ سچا ہو حضرت ابوذر سے “

معلوم فرمایا آپ نے کون تھے یہ ابوذر تمام اہل اسلام کا اتفاق ہے کہ ان کے متعلق حضورکا یہ فرمان ۔

حضرات مجھے یہ واقعہ یاد آیا کہ ایک شخص نے ابوذر کو بلایا ہم لوگ تمہیں اچھا نہیں سمجھتے ۔ تم حکومت وقت کے خلاف لوگوں کو ابھارتے رہتے ہو۔ میرے بزرگو! یہ واقعات ذرا تفصیل طلب ہیں۔ میں تفصیل میں نہیں جاتا۔ صرف دو لفظ میرے مطلب کے ہیں۔ وہ سنیے۔ حضرت ابوذر نے ارباب حکوت کو فرمایا: ”کہ جو مال آرہا ہے وہ خدا کا مال ہے؟ اور وہ فلاں کو کیا نہیں دے دیا گیا؟حکومت وقت نے مال خدا میں سے عطیات دیئے تھے۔درھم دیئے تھے۔دنیار دیئے تھے۔(درھم چاندی کا سکہ ہوتا ہے اور دینار سونے کا) اور وہ عطیات جو دیئے گئے تھے۔اسکی تعداد ۲۰ کروڑ درھم اور ۲۵ لاکھ دینار تھے۔(موجودہ وقت کے اعتبار سے آپ اندازہ لگائیں کہ اس وقت ایک پیسہ کی قیمت آج کے پانچ روپے کے برابر تھی)۔

جناب ابوذر کو یہ بات بری معلوم ہوئی تھی کہ مال خدا وندی میں سے اس قسم کے عطیات دیئے جائیں۔آپ بری بات معلوم فرمانے کے بعد چپ رہ ہی نہیں سکتے تھے۔جہاں خلاف شرع بات دیکھی۔وہاں ابوذر اٹھ کھڑے ہوئے۔

یہی ابوذر فرماتے ہیں عاص کے متعلق کہ میں نے رسول اللہ سے سنا ”کہ عاص جو ہے اسکی اولاد جب تیس آدمیوں تک پہنچ جائے گی تو اپنے دین اسلام کو تباہ کرنے لگے گی“۔ کہا گیا کس کے سامنے یہ الفاظ آپ نے سنے؟ آپ نے تمام نشت گان سے پوچھا کے ”کسی اور نے بھی یہ الفاظ آپ لوگوں میں سے سنے؟“ جب کوئی بھی نہ بولا۔تو ابوذر نے کہا کہ ”علی ابن ابی طالب کو بلایا جائے“۔آپ سے یہی بات پوچھی گئی جناب امیر نے فرمایا”اگرچہ میں نے الفاظ تو نہیں سنے مگر ابوذر جو کچھ کہ رہے ہیں۔وہ اپنے کہنے میں بالکل سچے ہیں۔ اس لیے کہ میں نے یہ الفاظ حضور سے ضرور سنے کہ آپ نے فرمایا کہ:

”زمین کے اوپر اور آسمان کے نیچے کوئی ایسا نہیں ہے۔ جو ابوذر سے زیادہ سچا ہو۔“

تو جب رسول خدا نے گواہی دے دی تو میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ابوذر نے جو کچھ حضور کا ارشاد سنایا ہے کہ اس کے بیان کرنے میں یہ کسی طرح غلط نہیں کہہ سکتے۔

پھر آپ نے حاضرین محفل کو مخاطب فرمایا۔کہ کیا ابوذر کے متعلق رسول اللہ کے یہ الفاظ تم نے نہیں سنے؟جب سنے ہیں۔ تو پھر اب کیسے کہہ سکتے ہو کے ابوذر جھوٹ بول رہے ہیں۔اگر تم ایسا کہو گے تو کیا تکذیب رسول نہ ہو جائے گی۔

پس حضرت ابوذر کا پایہ کتنا بلند ہے اور اس سے آپ یہ بھی اندازہ لگا لیں کہ جناب سلیمان فارسی کا پایہ کتنا بلند ہوگا اور جب سلیمان دروازہ اھل بیت کے ادنیٰ غلام تھے اور یہ پایہ رکھتے تھے تو اندازہ لگائیے کہ وہ درواذہ کتنا بزرگ ہو گا اور اسکا پایہ کتنا بلند ہو گا۔جہاں سلیمان جیسے بزرگ جبہ سائی کیا کرتے تھے۔

حضرات وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے یہ تفصیل میں کل عرض کروں گا انشاء اللہ کہ انسانوں کے مختلف درجے ہیں۔ اعتقاد کے لحاظ سے بھی درجے ہیں عمل کے لحاظ سے انسانوں کے الگ الگ درجے ہیں اور یہ بات واضح اور صاف ہے کہ بڑے درجے والے اپنے سے کم درجے والے کو ایک قسم گمراہی یا جہالت میں دیکھتا ہے اور اتنی بات ضرور سمجھ لو اور انبیاء کے ترک اولیٰ کو یاد رکھو۔

اھل بیت کی منزلت یہ ہے کہ سلمان فارسی جیسے انکی غلامی پر فخر کرتے ہیں اور اپنے آپ کو امیرالمومنین کے ادنیٰ غلام سمجھتے ہیں۔پس جب غلام کا یہ مقام ہو تو آقا کا مقام کہاں ہو گا۔

حکما کے ہاں طریقہ مقرر ہے۔کہ کسی شخص کو جاننے یا سمجھنے اور اس کے اندرونی حالات معلوم کرنے کے لئے بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کے دوستوں کو اور ہم نوالہ ہم پیالہ آدمیوں کو دیکھ لو۔

اگر تم ان کو کسی طرح نہ دیکھ سکو تو ان کودیکھ لو۔ ان کا پتہ لگ جائے گا۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کے دوست سب کے سب شرابی ہوں تو اگرچہ شرابی نہیں۔تو کم از کم اتنا تو ضرور معلوم ہو جائے گا کہ اس کے نزدیک شراب کوئی عجیب نہیں۔

عرض کرنا چاھتا ہوں کہ اھل بیت رسول اللہ کے دوست کون کون تھے اور کیسے کیسے تھے امید ہے مجھے کہ جن بزرگوں کے نام آپ کے سامنے لے رہا ہوں خوامخواہ بلاوجہ کئی یہ نہ کہ دے کہ”میں جھوٹ بول رہا ہوں۔یہ وہ بزرگ ہیں کہ انہیں جان لینے کے بعد ان لوگوں کی آنکھیں کھل جائیں گی۔جن کی نظر میں اھل بیت کی وقعت کم ہے۔ پس میں ان کے غلاموں میں سے ایک غلام اور ان کے مریدوں میں سے ایک مرید کو پیش کرتا ہوں جن کا نام۔”اویس قرنی“ ہے۔

میرے خیال میں کوئی مسلمان ایسا نہ ہوگا جو ان سے واقف نہ ہوگا۔لفظ”قرن“مناظر نجہ میں سے رہنے والوں کی ایک جگہ ہے اگر آپ حج کے لئے جائیں تو جس مقام پر احرام باندھا جاتا ہے اس جگہ ایک گاؤں ہے۔ اس کا نام ”قرن“ ہے اور اسی قرن کے نام سے حضرت اویس۔اویس قرنی مشہور ہو گئے۔

آپ کے کان میں جناب رسالت ماب کا تذکرہ ہو ۔لوگون سے حالات پوچھنے شروع کیے۔کیسے نبی ہیں؟ کہا گیا بڑے عجیب نبی ہیں۔نور الہی ہیں سایہ تک نہیں ہوتا۔ اتنی کثافت بھی نہیں رکھتےٍ۔کہ سایہ ہی نہ ہو۔اتنے پاک اور اپنی خوشبو کے مالک ہیں۔کہ صبح وقت جس کس کوچے سے نکل گئے شام کو گزرنے والے سمجھ جاتے کہ رسول اللہ گزرے ہیں ۔

اس قسم کے حالات سنتے ہی غائبانہ ایمان لے آئے اور اتنی ترقی ہوئی ایمان میں کہ تاریخ کی رو سے زھاد ثمانیہ یعنی آٹھ زاہدوں کے مرتبے کے اعتبار سے سردار مانے گئے ہیں۔

میرے بزرگو! آپ نے عام طور سے لوگوں سے سنا ہو گا کہ جنگ احد میں سرکار رسالت مآب کے جب دانت شہیدہوگئے تو بتلانے والے نے انہیں آکر بتلایا کہ حضور کا دانت کافروں نے شہید کردیا محبت محبوب کے جذبے نے ایسا جوش مارا کہ دانت نکالنے والے کو بلایا اور ایک دانت نکلوا دیا۔

بتانے والے نے یہ نہیں بتایا تھا کہ رسالت مآب کا کونسا دانت شہید ہوا ہے۔ آپ نے ایسے جذبے میں یہ خیال کیا۔ ممکن ہے جو دانت نکلوایا گیا اس کے ساتھ والا دانت حضور کاشہید ہوا ہوگا۔ پس اسے بھی نکلوا دیا حتی کہ اس طرح ایک ایک کرکے ۳۲ کے ۳۲ دانت باہر نکلوا ڈالے۔

محبت کے اس جذبے نے اتنی ترقی کی کہ ملاقات نبوی کا شوق پیدا ہوا آپ کی والدہ ماجدہ زندہ تھیں۔ ان کے نان نفطے کا انتظام شتر بانی کے لیے جو اجرت ملتی تھی ۔ اس سے کرتے تھے۔ایک دن اشتیاق بہت بڑھا ماں سے درخواست کی اجازت دو تاکہ آقا و مولیٰ کی زیارت کرآؤں۔ فرمایا چلے جاؤ مگر میرے پاس کون رہے گا؟ بالآخر اصرار کے بعد ماں نے اجازت دی کہ جائیے لیکن آدھے دن سے زیادہ نہ رہناآپ نے اقرار اور گرتے پڑتے پوچھتے پوچھتے مدینے جا پہنچے۔ اتفاق کی بات یہ ہے رسول خدا صلعم شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ چھ گھنٹے کامل انتظآر کے بعد واپس لوٹنا پڑا تاکہ ماں سے کئے گئے اقرار کے خلاف نہ ہو۔

شام کو جناب رسالت مآب تشریف لائے آتے ہی فرمایا یہ کس کانور ہے جو گھر میں محسوس کررہا ہوں۔ کون اس گھر میں آیا تھا؟

لوگوں نے عرض کیا ایک آدمی آیاتھا جس کا اویس نام تھا۔

فرمایا: اویس ہمارے گھر آیا اور اس کا نور سارے گھر میں پھیل گیا۔

حضرات! اویس قرنی وہ تھے جو ہر ایک فرقے کہ نزدیک مانے گئے ہیں۔ بلکہ کل فرقے ان باکمال ہونے پر اتفاق کرتے ہیں۔

رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان مربی حق پر ارشاد فرمایا: لوگو! تجھ پر ایک شخص کی بشارت دیتا ہوں جو کل میدان حشر میں شفاعت کرے گا پروردگار عالم اس کی شفارت سے اس قدر آدمیوں کی مغفرت فرمائے گا جس قدر قبیلہ مضر اور ربیع کے لوگ ہیں۔ یعنی لاکھوں کی شفاعت فرمائیں گے؟ اور وہ کون ہوں گے؟ جناب ”اویس قرنی“

آپ کی عبادت کی شان یہ تھی کہ جب رات آتی فرماتے یہ رات شب رکوع ہے۔ پھر نیت باندھتے جب رکوع پر جاتے تو ساری رات ایک ہی رکوع پر گذار دیتے۔ بہرحال دوسری رات آتی فرائض کی ادائیگی کے بعد فرماتے آج کی رات ”سجود کی رات“ ہے اور ساری رات سجدہ میں ہی گذار دیتے۔

جناب ”اویس“ ہی کے سلسلے میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ تفوح روائح الجنة من قبل الیمن و اشوقاہ الیک یا اویس قرن کہ جنت کی خوشبوئیں جن کی طرف سے آرہی ہیں اے اویس قرنی! مجھے کس قدر تیرا شوق ہے۔

بزرگو! آخر میں صرف اس قدر کہنا چاہتا ہوں کہ ذرا سی توجہ کے ساتھ آپ سماعت فرمائیں گے تو بعض کی آنکھیں کھل جائیں گی۔

جانتے ہیں آپ کہ ”اویس قرنی“ کی شھادت کب ہوئی؟ جنگ صفین میں۔ امیر المومنین عیلہ السلام کے ساتھ ان کی غلامی میں رہ کر دشمن امیر سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔

امیر المومنین ”جنگ صفین“ میں پہنچے۔ فرماتے ہیں ”کوفے“ سے ۱۰۰ آدمی آئیں گے جو آکر بیعت کریں گے۔ اس تعداد سے نہ کم آئیں گے نہ زیادہ۔ لوگوں نے دیکھا کہ سچ مچ ایک جماعت وقت مقررہ پر آرہی ہے۔ گنتی کی گئی تو ۹۹ آدمی پائے گئے۔ روای کہتا ہے کہ میری کیفیت بہت بری ہوگئی کہ جناب امیرقول مبارک میں ایک شخص کی کمی سے شک پیدا نہ ہو جائے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا خدا کی قسم! نہ میں نے جھوٹ بولا اور نہ جناب آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غلط فرمایا: یقینا ایک اور کو ضرور آنا چاہیے۔

یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ ایک شخص دور سے کمبل میں ملبوس نمودار ہوا بلکہ ٹاٹ کا کرتہ یا عباء پہنے ہوئے تھا وہ ترکش ساتھ تھا جس میں تیر تھے اور کمان ہاتھ میں تھی اور دو تلواریں بھی تھیں۔ سیدھا امیر المومنین کی خدمت میں آیا اور عرض کیا یا امیر! ہاتھ بڑھائیے کہ بیعت کروں۔

کہا گیا کہ یہ کوئی پہلی بیعت ہے؟ عرض کیا پہلی بیعت تو کبھی کی ہوچکی آج یہ بیعت کرنا چاہتا ہوں کہ یا تو مارا جاؤں گا اور شہادت پاؤں گا یا دشمن امیر کوفتح کرلوں گا۔

کیا فرماتے ہیں آپ اس جنگ میں امیر المومنین حق پر تھے یا وہ حق پر تھے جن سے آپ لڑ رہے تھے؟ ان دو صورتوں میں سے ایک صورت ضرور ہے۔

اگر ”اویس“ حق پر فرمان نبوی حق تھا ان کی شہادت حق تھی تو حضرت علی حق پر تھے اور دشمن باطل پر تھے علماء کو ان ہی کو حق میں ماننا پڑے گا کہ آپ حق پر تھے۔ اس لیے کہ ان ہی کے متعلق ارشاد نبوی سن چکے تھے کہ اویس قبیلہ مضر اور ربیعہ افراد جتنوں کی سفارش کریں گے۔ ان کو موت ایمان پر تھی۔ لہذا ثابت ہوگیا یا نہ کہ علی حق پر تھے؟ اور آپ سے لڑنے والا باطل تھا یا نہیں؟

ہمارے آئمہ طاہرین میں سے ایک امام کی روایت میں موجود ہے کہ میدان حشر میں منادی کی جائے گی۔

کہاں ہیں ہو جواری جنہو ں نے عہد کیا تھا میرے رسول سے اور پھر کبھی اس میں خلاف عہد نہ کیا تھا انہوں نے!

اعلان کے بعد ابوذر‘ سلمان‘ مقداد آئیں گے پھر سرکار فرماتے ہیں ”علی“ آئینگے۔ ان کے بعد اویس قرنی آئیں گے۔ پھر اور علی کے حواری باری باری آئیں گے۔

سبحان اللہ! جب ”اویس قرنی“ کا اتنا بلند مرتبہ ہے تو اقا کا مرتبہ کیا ہوگا؟

پھر اس کے بعد حسن مجبتیٰ کے حواری آئیں گے۔ پھر سید الشھداء امام حسین علیہ السلام کے حواری آئیں گے لکھا ہے کہ ۷۲ تن آئیں گے تمام کے تمام آئیں گے جو میدان کربلا میں شہید ہوئے تھے۔

حضرات! میں چاہتا ہوں کہ صرف دو باتیں آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ کہ حواریوں کے ذکر میں سے اویس قرنی کا ذکر آپ سن چکے ۔ جن لوگوں کی نظر میں آپ یہ تھے اور ان کا مرتبہ اس قدر تھا حالانکہ آپ غلام تھے پس سوچنا یہ ہے کہ غلام جب ایسا تھاتو جن کے غلام تھے وہ آقا کس مرتبہ کا ہوگا؟ کہ جس کے ہمرکاب ہو کر اویس شہادت قبول کی۔ پس محکوم کیسا تھا اور حاکم کیسا ہوگا۔

پھر یہ سوچنا ہے کہ میدان حشر میں جب پکارے جائیں گے تو امیر المومنین کے دوستوں میں شامل ہو کر آئیں گے اور یہ کہتے ہوئے آئیں گے کہ ”میں بھی ان کا غلام ہوں“ پھر شہید کربلا امام حسین کے حواری آئیں گے تو آپ کا قافلہ ایک عجیب قسم کا قافلہ ہوگا۔ کوئی ان میں ایک سوسال کا بڈھا ہوگا کوئی ان میں ۱۸ سال کانوجوان ہوگا اور کوئی ان میں سے ۶ ماہ کا بچہ ہوگا۔

ایک روایت میں آیا ہے کہ ”میدان حشر میں جب لوگ اٹھائے جائیں گے تو حکم ہوگا کہ وہ لوگ اٹھائے جائیں اور اپنی فریاد پیش کریں جن پر دنیا میں ناحق ظلم ہوا تھا۔ تو بہرحال اویس بھی امیر المومنین کے دوستوں میں شامل ہو کر آئیں گے۔ ذرا تصور کریں آپ اس میدان کا جب سیدمظلوم کا مظلوم قافلہ حاضرہوگا اور اس دن ہر مظلوم اپنے ہر ظالم سے بدلہ لے جائے گا۔

سبحان اللہ! یہ قافلہ حشر کے دن کس شان سے چلے گاآگے آگے سید الشھداء امام حسین علیہ السلام ہوں گے اور غالباً داہنے طرف ہم شکل رسول علی اکبر ہوں گے اور بائیں طرف آپ کے کٹے بازؤں کے ساتھ جناب عباس پھر سفید داڑھیاں والے حبیب بن مظاہر وغیرہ ہوں گے۔ ذرا دیکھئے و سبھی قافلہ سالار کربلا کے ہمراہ تمام شھید آگئے؟ غور کریں کہ تمام شھید آگئے مگر ہاں ایک شہید نہیں معلوم وہ اتنا کم سن ہے کہ نہ پاؤں سے چل سکتا ہے۔ نہ سوار ہو کر آسکتا ہے اس کا نام اصغر بے شیر ہے۔ ایک مرتبہ قیامت میں زلزلہ آگیا کہ کربلا کا وہ سب سے ننھا شہید وہ آرہا ہے۔ دادی کے ہاتھوں میں وہ فاطمہ کا نور آرہا ہے۔ اس طرح کہ ایک ہاتھ گلے پر اور ایک ہاتھ خدا کے دربار میں ہے کہ پروردگارا میں بے گناہ مارا گیا۔ پروردگارا میرے باپ کے غزہ داروں کو بخش دے کہ ان کی آنکھیں روئی تھیں اس حسین کو روئیں تھیں جس سے زیادہ کوئی مظلوم نہ تھا اور اس سے زیادہ کسی اور پر رونے کا کسی او رکو حق ہی حاصل نہیں۔

ہائے کس کس کو یاد کریں اور کس کس پر کیوں نہ روئیں۔ انصاف کرنے والو علی اکبر کی جوانی یاد کرو۔ اس پر نہ روئیس علی اصغر کی بے زبانی یاد آئے۔ اس پر نہ روئیں دنیا والو اولاد والو! ہم نہ روئیں جب کہ رسول کی بیٹیاں ننگے سر آئیں پا برہنہ آئیں۔ تم ہی انصاف کرو۔ کہ ہم کیوں رو رہے ہیں؟ کیا اسی ظلم کی خاطر رسول اللہ اپنے کندھوں پر حسین کو چڑھاتے تھے۔کہ ان کے ماننے والے نیزے پر سر مار کر شہید کردیں۔ مسلمانو! انصاف کرنا کیا رسول اللہ امت والوں کی خدمت اس خاطر کرتے تھے کہ ان کے گھرانے تباہ کردیاجائے گا۔

بزرگو! آج محھے کچھ اور مسائل بیان کرنے تھے مگر عنان بیان اس طرف آگئی۔ مسلمانوں انصاف کرنا ذرا گھر جا کے سوچنا۔ایک شخص قوم کے لوگوں میں سب سے بڑا مہذب اس کی ساری عمر لوگوں سے اچھا سلوک کرتے ہوئے گذر گئی۔ اچانک اسے موت آگئی اس کی بیماری پر لوگ بیمار پرسی کرنے آئے۔ اگر وہ بھوکا تھا خود نہ کھایا اسے کھلایا۔ بالآخر اس کے مرنے پر سب لوگ آئے اس کا جنازہ اٹھایا جارہا ہے۔

لیکن امت کے والی کا یہ فرزند ہے بھوکا ہے۔ پیاسا ہے۔ عالم غربت میں ہے اور اس کا جنازہ تک اٹھانے والا کوئی نہیں ہے کاش کوئی سمجھ لیتا کہ فرزند رسول پانی مانگ رہا ہے اس ے پانی پلادیا جائے۔

میں کہتا ہوں اسے بھی جانے دیجئے دل پر نشت سا چھبھتا ہے۔ کہ لوگوں نے یہ نہ سمجھا کہ رسول کا نواساقتل کیا جارہا ہے۔ قتل کرنے والے کون ہیں؟ حسین کو یہودی قتل کرتے اتنا رنج نہ ہوتا۔ عیسائی قتل کرتے اتنا غم نہ ہوتا۔ او! یزید امام حسین نبی کا نواسا ہم سے شکایت کررہے ہیں کہ افسوس انہیں ان کے نانا کے کلمے پڑھنے والوں نے مارا ہے۔

افسوس حسین کو نواسہ رسول نہ سمجھتے تو ہم کو رنج نہ ہوتا۔ دل کے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔ حسین کو علی کا جگر گوشہ نہ سمجھتے تو اتنا غم نہ ہوتا۔ مارنے والے ظالموں نے ہمارے امام کو مسلمان نہیں سمجھا۔

کیا یہ کبھی ہوامسلمانوں کے سامنے کسی مسلمان کا جنازہ بے گور و کفن بولتی بنا ہو؟

ہم نے کئی بار دیکھا ہے کہ مسلمانوں کے شہر یا محلہ میں کوئی مسافر آیا۔ مرگیا۔ محلے والے یا گاوں والے اکھٹے ہوگئے۔ آپس میں کہتے ہیں کہ آج کاروبار نہ کریں گے جب تک اس غریب الوطن کو دفن نہ کرلیں گے۔

جب کبھی یہ بات یاد آتی ہے یا حسین دل بجھنے لگتا ہے۔ ایک اور مقام کا ذکر ہے کہ وہاں ایک مسافر آگیا۔ ایک دو مہینے وہاں رہا ایک نیک یا مقدس آدمی تھا تمام گاؤں والے گھروں کو چھوڑ کر آتے ہیں ایک بڑھیا بھی اس کا حال کو دیکھتی ہے اور کہتی ہے کہ اگر یہ مسافر گھر میں ہوتا تو اس کی بہو‘ بیٹی اور ماں اس پر ضرور روتیں آج اس کے اوپر رونے والا کوِئی نہیں چلو ہم ہی اس پر جا کر روئیں۔

مگر افسوس رہے افسوس یہاں زینب کو ہمیں شکایت کبھی نہ ہوتی کہ زینب کو چھوڑ دیا جاتا سکینہ کو اجازت مل جاتی۔ مسلمانو! یہ بچی یہ بہن آنکھوں کے سامنے دیکھ رہی ہیں کہ حسین قتل ہوگئے۔ انکا جنازہ کوئی اٹھانے والا نہیں ہے۔ اور نہ کوئی انہیں دفن کرنے والا ہے۔

حالانکہ رسالت مآب صلعم فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سے کوئی مرجائے تو بہت جلدی بغیر کسی دیر کے دفن کردیا جائے۔ اس لیے کہ جب تک جنازہ پڑا رہے گا۔ بیٹی الگ روئے گی۔ بہن الگ فریا دکرے گی۔ ماں الگ پریشان ہوگی اور کہے گی کہ آج کوئی بھی نہیں۔ جو ہماری اس میت کی طرف متوجہ ہو۔

رسالت مآب نے فریا کہ کوئی تم میں سے مر جائے اور رات آجائے تو مردے کے پاس چراغ جلا دینا کہ مردے کا اندھیرے میں رہنا اس کی توہین ہوگی۔ لیکن یہاں امام حسین اٹھ چکے ہیں۔ رات آگئی ہے یا رسول اللہ! مسلمان امت میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے چراغ جلایا ہو۔ ہاں یہ ضرور کیا کہ مخدرات عصمت پناہ جن خیموں میں پناہ گزیں ہیں ان خیموں میں آگ لگا دی گئی۔ کسی بی بی کا برقعہ جل رہا ہے کسی بچی کے کرتے میں آگ لگی ہے۔

مسلمانو! کافر بھی ہوتا تو اسے بھی کچھ رحم آتا۔ چھوٹے بچوں کو روتا دیکھ لے جن کا باپ سامنے مرا پڑا ہو۔ ان کے سر پر ضرور ہاتھ پھیرے گا۔ مگر یہاں سر پر ہتاھوں کا پھرنا تو کجا رہا۔ گردن کٹی ہوئی لاشیں سامنے پڑی ہیں۔ سکینہ بے اختیار باپ کی کٹی ہوئی گردن پر جا گرتی ہے اور کہہ رہی ہے کہ ”با با خیمے جل گئے۔ بابا کانوں سے گوشوارے اتر گئے۔ زینب ادھر سے گھومتی چلی ہے کہ ادھر شمر ملعون آن پہنچا۔ شمر پہلے پہنچ گیا۔ درہ اس ظالم کے ہاتھ میں ہے۔ بچی کے پاس جا کر ایسا ظلم کیا کہ بیٹی کو لاش چھوڑنی پڑی اور فریا کرتی ہوئی کہہ رہی ہے کہ ”بابا اس شمر پلید سے بچا لیجئے۔“

خداوندا حسین کے رونے والوں کا رونا منظور فرما۔


مجلس چہارم :

بتاریخ ۴محرم الحرام ۱۳۷۵ ھ

( أَ فَغَیْرِ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُونَ وَ لَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِيْ السَّمٰوٰتِ وَ الْأَرْضِ طَوْعًا وَ کَرْهًا وَإِلَیْهِِ یُرْجَعُونَ ) ۔ ( آل عمران : ۸۳ )

حضرات جناب احدیث غراسمہ اپنے کلام بلاغت میں ارشاد فرماتا ہے کہ کیا لوگ اللہ کے دین کے سوا کسی کی خواہش کرتے ہیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے دہنے والے اسی کے لیے اپنی گردنیں خم کئے ہوئے ہیں خوشی سے یا جبر و قھر سے اور آخرکار اسی کی طرف بازگشت ہونے والی ہے۔

چونکہ یہ تقریر مسلسل چلی آرہی ہے اس لیے ضرورت ہے کہ ایک منٹ میں صرف آپ کو یہ بتادوں کہ کل میری تقریر کہاں تک پہنچی تھی اور پھر جو آج کا پروگرام عرض کرنا ہے شروع کیا جائے گا۔

کل یہ عرض کیا گیا تھا کہ اللہ کا دین جس کا وہ اسلام بے تعبیر کرتا ہے اس دین میں کچھ احکام ہیں جو ہمارے لیے نافذ کیے گئے ہیں اور اس میں اس کا فائدہ نہیں بلکہ فائدہ ہمارا ہے اور وہ یہ کہ ان پر عمل کرنے سے ہماری تکمیل ہو جائے۔ ان احکام کے تعلق کا نام ہے ”تکلیف“۔ اور اس بناء پر ہم ہیں ”مکلف“۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم کو اس امر کی تکلیف دی گئی ہے کہ ہم ان احکام پر عمل کریں۔ نیز عرض کیا گیا تھا کہ درجات انسانی مختلف ہیں لہذا ناممکن تھاکہ ہر انسان کو یکساں تکلیف دی جائے۔ ورنہ ظلم ہوتا اگر پروردگار عالم قوت سے زیادہ کسی کو تکلیف دیتا اور چونکہ ظلم سے وہ ذات پاک ہے۔ اس لیے اس نے جیسا کسی کو بتایا ویسا ہی وہ بن گیا‘ قابلیت یا اس قدر کہ اعتبار سے جیسا کسی کو پایا ویسی ہی تکلیف بھی اس کو دی گئی۔ معصوم کو وہ تکلیف نہ دی جو غیر معصوم کو دی گئی۔ ایک جاہل سے متعلق وہ تکلیف نہ رکھی جو عالم سے متعلق رکھی گئی۔

یہاں تک عرض کرنے کے بعداب سلسلہ بیان مرتبط ہوگیا۔ لہذا اب عرض کرنا چاہتا اور آپ آج کی تقریر اس فقرہ سے کرتا ہوں جو شاید پرسوں عرض کیا تھا کہ

جو عراف ہیں ان کی معرفت ایک درجہ خاص یا ایک خاص منزل و مرتبہ پر پہنچی ہوتی ہے ان کے لیے وہ درجات جو اس منزل سے گرے ہوئے ہوتے ہیں جہالت ہوتے ہیں۔

اور نیچے درجے والا اس کو ابھی تصور ہی نہیں کرسکتا کہ اس کے اوپر کیا درجہ اور کیا چیز ہے؟

یہ وہ حقیقت ہے جسے آپ آگے چل کر سماعت فرمائیں گے کہ جو کوئی بھی کسی منزل بلند پر پہنچ چکا ہے اس کے سامنے تمام نیچی کی منزلیں ضلاتیں ہیں یا کم از کم جھالتیں ہیں۔ نیز یہ کہ جو شخص اپنی حیثیت کے موافق جس درجے پر پہنچا ہوا ہے۔ وہ درجہ اس کے لیے باعث خوشی ہے اورسبب راحت ہے اس لیے کہ وہ سمجھتا ہے کہ میں اس درجہ کمال پر پہنچ گیا اور یہی وجہ ہے کہ یہ امر اس کے واسطے باعث سرور ہے۔ لیکن اس کے اوپر کے درجہ والے کے واسطے یہی درجہ باعث رنج ہوتا ہے بلکہ اوپر کے درجہ کے اعتبار سے یہ نچلا درجہ اس کے نزیدک جھالت اور گمراہی قرار پاتا ہے۔

آپ کی خدمت میں توضح کے لیے مثال پیش کرتا ہوں تاکہ آپ کے ذہن میں یہ بات واضح ہوجائے۔

ایک شخص ہے جسے سو روپیہ ماہوار ملتے ہیں۔ اگر اس کے لیے یہی روپیہ چار سو روپیہ ماہوار ہو جائیں تو اس کے واسطے رنج ہوگا۔ لیکن یہی چار سو روپیہ ماہوار اس شخص کے لیے جو تین سو روپیہ ماہوار لینے والا ہے اس کے گھر میں عید ہو جائے گی۔

تو یہ دونو شخص اپنے درجے کے اعتبار سے رنج اور خوشی حاصل کرتے ہیں۔ ایک ہی چیز کے اعتبار سے رنج کا باعث بنتی ہے اور دوسرے اعتبار سے خوشی بن جاتی ہے۔

ٹھیک اس طرح معرفت کے اعتبار سے جو زینہ بلند پر پہنچ چکا ہے اس کے لیے وہ درجہ سبب خوشی ہوتا ہے لیکن نیچے کی منزل کو وہ سمجھتا ہے کہ عین جِھالت ہے۔

بزرگوں کی خدمت میں التماس کرتا ہوں کہ آپ اسے ذہن پر رکھیں اس سے بہت کچھ آپ کی سمجِھ میں آجائے گا۔

پس گذارش کرتا ہوں کہ جس طرح سے ہمارے اعمال بلند ہوتے رہتے ہیں ہماری معرفت کے اعتبار سے ہمارے گناہ بھی بدلتے ہیں۔ ایک شخص کا فعل اس کی حیثیت کے اعتبار سے ثواب ہے لیکن وہی فعل اس سے بلند معرفت والے کے واسطے گناہ بن جائے گا۔

گویا اس اعتبار سے آپ لفظ رنج کو ہٹا کر گناہ کردیجئے۔ وہی شئے مادی اعتبار سے رنج تھی معرفت میں جا کر گناہ بن جائے گی۔ علی ہذا جو شئے مادی طور پر خوشی کہلائے گی معرفت میں ثواب بن جائے گی۔دیکھئے نماز ایک ہی شئے ہے لیکن ایک آدمی نماز ادا کرتا ہے اس کے واسطے ثواب بن جاتی ہے لیکن صاحب معرفت کے واسطے یہ ہی نماز گناہ لکھی جاتی ہے۔ ٹھیک جس طرح کم چیز رنج تھی مثلا ۵ سو روپیہ والے تو ۴ سو روپیہ ملنے لگے تو رنج ہو گا علی ہذا بلند معرفت والے کے لیے کم معرفت والے کا سا فعل گناہ بن جائے گا اور اسی طرح بلند معرفت والے کے لیے اسی نماز کا ستر درجے زیادہ ہوں گے اور اگر اس سے کوئی بلند معرفت والا ہے اس کی ایک نماز پر ہزار نماز کا ثواب مرتب ہوگا۔ اسی طرح جس قدر درجہ بلند ہوگا نماز کے درجہ بھی بڑھتے جائیں گے حتی کہ ایک نماز تمام عالم کی نمازوں کے برابر درجہ پائے گی اور اس سے آگے ایک وہ درجہ آتا ہے کہ دونوں جھانوں کی نمازیں اس نماز سے کم ہو جائیں گے۔

اسی توضیح کی تائید میں جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وہ قول مدنظر رکھیے جو آپ نے جناب امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے حق میں ارشاد فرمایا۔

آپ اس اعتبار سے حضور کا درجہ سامنے رکھیے۔ اگر جکہنے والا کوئی اور ہوتا احتمالات کی بڑی گنجائش تھی۔ لیکن کہنے والا وہ ہے جو اعمال کی حقیقت کا جاننے والا اور اعمال کرنے والے کی حقیقت سے بھی واقف۔ جن کا بولنا خود وحی خدا ہے۔ کہ قرآن پاک ان کے حق میں ارشاد فرمائے:و ما ینطق عن الهویٰ ان هو الا وحی یوحی

اس آیت کے یہ معنی نہیں کہ میرا رسول جب بولتا ہے وحی نازل ہو جاتی ہے۔

بلکہ معنی یہ ہیں کہ میرا رسول اپنے نفس کی خواہش سے کبھی نہیں بولتا بلکہ جب وہ بولتا ہے اُس کا بولنا ہی وحی ہوتا ہے۔

آیت کریمہ کے صرف دو ترجمے ہو سکتے ہیں۔

۱ ۔ حضور کا بولنا خود وحی ہے۔

۲ ۔ حضور کا نطق بھی بولنا جو آیت کریمہ میں بیان فرمایا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ذات محمد مصطفیٰ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی تو سراپا وحی ہے۔

وحی کا مطلب کیا ہے؟ وحی کا مطلب علم صحیح ہے کہ حضور حکم دے دو۔ علم سکھا دو۔ ذات سرکار خود علم ہی علم ہے۔ سراپا علم ہے۔

پس جب وہ ذات علم ہی علم ہے تو کیو ں نہ کہیں کہ ان کا بولنا علم ہے۔ ان کا بولنا وحی ہی وحی ہے۔

میرے بزرگو! یہ قول جو حضور کے سامنے پیش کر رہا ہوں وہ ہمارا قول نہیں ہے بلکہ رسول خدا نے فرمایا ہے اور آج تک کل اہل اسلام بلکہ ساری دنیا اقرار کرتی چلی آئی ہے کہ خندق کی لڑائی میں سرکار سالت مآب نے زبان مبارک سے ارشاد فرمایا: ضربت علی یوم خندق افضل عبادة الثقلین۔ کہ دونو جہان کی عبادت سے بلند درجہ رکھتی ہے علی کی وہ ایک ضربت جو خندق کے دن آپ نے لگائی تھی۔ جیسے ۵۰ نمازیں ایک طرف رکھیں اور صاحب معرفت کی ایک نماز دوسری طرف رکھیں تو اس کی ایک نماز جاھل عامی کو ۵۰ نمازوں سے بہتر ہوگی۔

یہ اصول ہے کہ صفات معنویہ میں ناقصوں کا مجموعہ ناقص ہوتا ہے ۵۰ جاھلوں کی عقل ایک جگہ کردی جائے چونکہ سب ناقص ہیں لہذا مجموعہ بھی ناقص ہوگا اور ایک کامل اگر ان کے سامنے آجائے تو اس کی عقل پر سب غالب اور کامل ہوگی۔

مثال کے طور پر ایک بی۔اے کے مقابلے میٹرک ناقص ہے اگرچہ میٹرک ۱۰۰ جمع ہوجاھیں وہ ایک سب پر غالب ہوگا اور سب کو پڑھائے گا۔

پس ثابت ہوا کہ ناقصوں کا مجموعہ ناقص ہی ہوگا ٹھیک اسی طرح صاحب معرفت کامل کے مقابلے میں ہم سب کی بلند مجموعہ بھی ناقص ہی ہوگا۔ علی ہذا معصوم کے اعتبار سے تو وہ دیکھ لو تو وہ کامل ہے اور اس کے سامنے غیر معصوم وغیرہ سب کہ یہ حقیقت ہوگا۔ مطلب یہ کہ معصوم کی معرفت کے مقابلہ میں سب غیر معصوموں کی معرفت ناقص ٹھہرے گی اسی طرح اس کی عبادت کا ثواب بھی ان سب کے ناقص مجموعہ ثواب کامل ثواب ہوگا۔

پس یہی وہ مقام ہے جو مقام علی ہے۔ یہی وہ منزل ہے جھان علی ہیں کہ تمام ملائکہ تک کی عبادتیں ان کے بالمقابل ناقص اورکم مرتبہ نطر آرہی ہیں اور یہی وجہ تھی کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک ضربت علی کی ثقلین کی عبادت پر غالب اور کامل ہے۔

یہ حدیث نبوی متفق علیہ ہے آیات کریمہ اس کی تائید کرتی ہیں۔

اس حدیث نے ثابت کردیا کہ تمام آدمیوں سے علی کی عبادت افضل ہے بلکہ عالم ناسوت ملکوت سب کی عبادت ان کی عبادت کے سامنے ہیچ ہے۔ پس جب ضربت علی بلند ہوئی تو ملائکہ معرفت میں ناقص ہوئے جب وہ ناقص ہوئے تو وہ کامل ہی تو تھا جو ناقص مجموعہ کو تعلیم دے رہا تھا۔ یہ حقیقت اس قدر واضح ہے کہ اس میں کوئی گنجائش کسی شبہ کی نہ ہونی چاہیے۔

حضرات اس تمام توضیح سے اصل مطلب میرا یہ ہے کہ میں کہنا چاہتا ہوں کہ دو باتیں آپ مد نظر رکھیں۔

۱ ۔ میں نے عرض کیا تھا کہ گناہ بدلتے رہتے ہیں۔ جیسے میرے اعتبار سے کہ میں ناقص ہوں میری نماز میں خیالات آئیں کہ نماز کے بعد فلاں فلاں چیز بازار میں فلاں دکان سے جاکر خریدیں گے وغیرہ تو میرے لیے نماز میں اس خیال کا آنا گناہ نہیں ہے کیونکہ میری نماز ہے۔ لیکن اگر کوئی صاحب معرفت ہو تو اس کی ایسی نماز اس کے منہ پر واپس مار دینے کے قابل ہوگی۔ اس کی نماز ایسی ہونی چاہیے جو ان تخیلات سے پاک ہو اور اگر اس کی نماز میری نماز جیسی ہو تو وہ نماز نہیں ہوگی۔ اسی طرح نماز کے دوران میں کسی فقہ کے مسئلہ کا ہی خیال پیدا ہو جائے تو وہ نماز ہو جائیگی لیکن ایک شخص جو معصوم ہے اس کی نماز میں اگر کسی قسم کا بھی تصور آگیا تو اس کی نماز اسی وقت ٹوٹ جائے گی اور ایسی نماز بالکل نہ ہوگی۔ بلکہ معصوم کی نماز کا حال یہ ہوگا کہ تیر پاؤں کے اندر جا گھسا کسی صورت نہیں نکلتا اور کھینچ کر زبردستی نکالنے سے بڑا درد ہوتا ہے۔ رسالت مآب کو اطلاع ملتی ہے ارشاد فرماتے ہیں: تیر اس وقت نکالاجائے جب کہ حضرت علی بحالت نماز ہوں۔ علی نماز شروع کرتے ہیں دنیا و مافیا سے اس قدر بے خبر ہوتے ہیں کہ تیر نکالا جاچکا تھا اور جناب امیر علیہ اسلام کو کچھ پتہ نہ تھا کہ کس نے تیر کو نکالا ۔

کتاب ” مستمل الاعمال “ میں موجود ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام رات کا وقت ہے ۔ آپ عبادت الٰہی میں مشغول ہیں ۔ گھر میں سے ایک بچہ گر پڑتا ہے ایسی شدید چوٹ لگی کہ ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی ۔ گھر بھر میں ایک شور برپا ہوتا ہے ۔ حسب قاعدہ شور عورتوں اور بچوں کا مشہور ہے ۔ خادم بچے کو طبیب کے پاس لے گیا پٹی باندھی گئی ۔ پھر بھی درد کے مارے بچہ کراہ رہا تھا ۔

امام زین العابدین علیہ السلام اپنی عبادت سے صبح کے وقت کھیر جاکر فارغ ہوئے ۔ بچہ جب آپ کے سامنے پٹی باندھے آیا آپ نے فرمایا: ” ہیں یہ پٹی کیسی ؟“ ۔ کہا گیا حضور رات آپ عبادت میں مصروف تھے اس کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی تمام لوگ جانتے ہیں اسے

حضرت امام علیہ السلام نے فرمایا واللہ مجھے قطعاً کچھ خبر نہیں ہوئی کہ کب شور مچا کب ہڈی ٹوٹی اور کس طرح اسے اپنی طبیب پاس لے گئے۔

یہ تھا وہ عرفان کا مقام خاص جس پر امام علیہ السلام فائز ہیں۔

پس میرے بزرگوٓ جیسا کہ کبھی ایک مرتبہ ضمناً عرض کیا تھا کہ معرفت پر اعتبار سے جتنی معرفت بلند ہوگی نماز بھی بلند ہوگی اور گناہ بھی بدلتے جائیں گے جو ہمارے لئے گناہ ہونگے وہ ہمارے ناقص اعتبار سے ہونگے لیکن بڑے مرتبہ والوں کے ہاں اس قسم کے گناہوں کا تذکرہ ہی چھوڑ دیجئے اس مرتبہ کے گناہ کچھ اور طرح کے ہی ہوتے ہیں ۔

اب وہ وقت آگیا کہ آپ کے سامنے بیان کردوں کے علماء نے فرمایا انسانوں کی سات قسمیں کی گئی ہیں گویا انسان کے سات درجے قائم کئے ہیں :

۱) بدن ۲) نفس ۳) قلب ۴) سر ۵) ودح ۶) خفی ۷) اور خفٰی

یہیں سات منزلیں ہر منزل سے ایک خاص علم کا تعلق ہے اور ہر ایک منزل پر پہنچ جانے والے کی نماز الگ نماز ہے ۔

۱)” بدن“ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ رب العٰلمین ارشاد فرماتا ہے ” ان الصلوٰة تنھی عن الفحشآءِ والمنکر “ ، ”کہ بے شک نماز تمام بے حیائیوں اور بری باتوں سے روک دیتی ہے “۔ پہلا درجہ بدن ہے ۔ اس درجے والے نہ بری باتیں اور ہیں جن سے نماز روکے گی ۔ لہٰذا دوسری منزل والوں کے لئے اور قسم کی برائیاں ہوں گی جن سے انہیں نماز روکے گی ۔

آج چاہتا تھا کہ اس مضمون کی تفصیل عرض کرتا ۔ چونکہ چھ اور مجالس باقی رہ گئی ہیں اور آپ بھی الحمدللہ اس وقت جدید الذھن ہیں اور پھر محبتِ اہل بیت کی وجہ سے آپ کی روح کا تعلق ان سے ہے جو مجسم عقل ہیں ۔ اس لئے جس بات کو اور لوگ نہیں سمجھ سکتے آپ سمجھنے کے وقت سے پہلے اسے با برکت ان کے سمجھ لیتے ہیں ۔

میں نے عرض کیا کہ پہلی منزل بدن ہے ۔ اس علم کا ام علم لطیفہ بدنیہ ہے آپ تصور فرمائیں گے کہ ہمارے پیشوا کہاں اور کس مقام پر ہیں اور ان کے مخالف کہاں ہیں ۔ بہر حال اس منزل میں اعمال اور شرائط کی تعلیم دی جاتی ہے کہ عبادت کے لئے اس طرح بیٹھا جائے ۔ اس طرح جاگا جائے اس طرح سویا جائے ۔ ان تمام اعمال و آداب کا تعلق اصلاح معاش سے ہے ۔ پس اس منزل میں اس کا علم کا تعلق اس سے ہے کہ دنیا میں کیسے رہا جائے ۔

یہی منزل ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ رکوع اس طرح کیا جائے ، سجدہ اس طرح ادا کیا جائے اس لحاظ سے یہ مسائل ظاہر شریعت کے ہیں ۔ ان کے اعتبار سے ایسی نماز پڑھی جائے کہ اس کے کسی رکن یا شرط میں غلطی نہ ہو نماز کو سمجھو اور شیطان سے بچایا جائے ۔ یہ بدن کی نماز ہے یہ نماز تمام ظاہری گناہوں سے بچاتی ہے ۔

میں یقین کرتا ہوں کہ آپ کے اذھان مبارکہ میں یہ وضاحت آگئی ہے ۔ ورنہ میرا قصور سمجھے کہ میں زیادہ واضح نہ کرسکا ہوں گا ۔

تو یہ نماز ارکان ظاہری اور مسائل ظاہری کے مطابق ہو گی یہ نماز کون سے گناہوں سے روکے گی ؟ تمام برے گناہوں سے جیسے جھوٹ بولنے سے ، کسی کا مال غصب کرنے سے ، وعدہ سے پھر جانے سے ، خیانت کرنے سے، مکر فریب اور دغا بازی سے میدان غزا سے بھاگ جانے سے وغیرہ سے بچائے گی۔

اگر کسی کی نماز اسے ان گناہوں سے نہ بچائے اور وہ برابر نماز پڑھتا چلا جائے تو کیا یہ نماز نماز ہوگی؟ قرآن پاک تو کہتا ہے ان الصلوة تنھی عن الفحشاء و المنکر کہ نماز ہر قسم کی بے حیائیوں اور برائیوں سے روکتی ہے۔

اگر نماز ہوتی رہے اور لوگوں کا مال بھی غضب ہوتا رہے اور لوگوں کو ان کے مرتبے سے گرانے کی کوشش بھی جاری رکھی جائے تو کہنا پرے گا کہ کلام الہی کی رو سے ایسی نماز نماز نہیں۔

اس منزل کی نماز پڑھنے والے بہت ہیں۔ لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو اس پہلے مرتبہ میں ہی فیل ہیں جب یہ لوگ پہلی منزل میں ہی ایسے رہے تو باقی منزلیں تو علیحدہ اور ایک طرف رہیں۔

۲ ۔ نفس۔ دوسری منزل نفس کی ہے۔ اس کا علم اخلاق اور فضائل سے تعلق رکھنا ہے کہ انسان اپنے نفس میں کون کون سی فضیلتیں پیدا کرے۔

اس منزل میں بنماز ظاہری طور پر تو وہی ہی ہوگی لیکن روح نماز خشوع اور خضوع ہوگی۔ یہ نماز کیا ہے؟ انقیاد لامر اللہ ہے کہ خدا کے اوامر کے سامنے جھک جایا جائے۔ بالفاظ دیگر خوف و رجاء کے درمیان کی حالت پیدا ہونے کے سبب اطمینان حاصل ہوجائے۔ یہ دوسری منزل کی نماز ہے۔

اس درجہ میں نماز کون سے گناہوں سے بچائے گی؟ یہاں اس مکاری یا بے ایمانی کا ذکرنہیں رہا جس سے بچنے کا ذکر پہلے ہوچکا۔ یہ نماز اخلاق رویہ سے بچائے گی۔ نفس میں جس قدر بری عادات یا گندے اخلاق ہوں گے ان سے یہ نماز بچائے گی چاہے عمل کرنے کی نوبت آئے یا نہ آئے۔ مثلاً بزدلی ایک ردی خلق ہے۔ یہ نماز اس سے بچائے گی۔ مثلاً بخل کا ہونا‘ بے وفائی کا مادہ ہونا وغیرہ وہ گناہ ہیں جن سے اس منزل کی نماز بچائے گی۔ یہ دوسرے درجہ کی نماز ہوگی پہلی منزل میں جرم ڈاکہ زنی تھا۔ یہاں یہ نہیں بلکہ ردی عادت سے بچنا ہوگا۔

اب اس دوسری منزل والا دغا بازی‘ لوٹ کھسوٹ وغیرہ کو کیا کیا سمجھے گا۔ ہم ایسوں کی نماز جو پہلے درجہ والوں کی نماز ہے اس درجہ والے کے لیے نماز نہ ہوگی بلکہ گناہ ہوگی۔

۳ ۔ منزل قلب: تیسری منزل قلب ہے اس کا تعلق علم کلی سے ہے یعنی صفات کمالیہ سے یہ منزل متعلق ہوگی۔ اس منزل کی نماز حضور اور مراقبہ ہے۔ جہاں پہنچ کر نمازی یہ نہیں سمجھتا کہ وہ یہاں کھڑا ہے بلکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ عین بارگاہ خدا میں حاضر ہوگیا۔ وہ دیکھ رہا ہوتا ہے یا کم از کم یقین کر رہا ہوتا ہے اسے خدا دیکھ رہا ہے۔

جسے حدیث صحیح میں وارد ہوا ہے کہ ”واعبد ربک کانک ترا وان لم فانہ ھو یراک“ کہ تیری عبادت اس طرح ہو کہ گویا تو اسے آنکھوں سے دیکھ رہا ہے ورنہ یہ جان کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔

مثلاً نمازی نے پڑھنا شروع کیا الحمد اللہ رب العلمین الرحمن الرحیم ملک یوم الدین پہلے غائب کی حیثیت سے خدا تعالیٰ کی صفات بیان کرنے لگا (کہ الہی توکل جھانوں کا پرودگار ہے تو نہایت مھربان اور بخشش کرنے والا ہے تو روز جزا کا حقیقی مالک ہے) اس بیان صفات الہیہ میں اس قدر غرق ہوا کہ یکایک محویت کا عالم طاری ہوگیا‘ غائب کلام خطاب سے بدل گیا اور اب وہ یہی نمازی کہہ رہا ہے ایاک نعبد و ایاک نستعین (کہ خداوندا تیری ہی بندگی کر رہا ہوں اور تجھ سے ہی امداد چاہ رہا ہوں)۔

یہ ہے حضور اور مراقبہ کی منزل۔ تو اس میں پہلی منزلوں کی سی صفات ہوں گی نہ ان جیسے گناہ ہوں گے۔

اس منزل کے گناہ فضول امور اور غفلت ہوں گے ایسی نماز میں کوئی وقت غفلت میں نہ گزرے گا۔ کسی گھڑی وہ غافل نہ رہے گا‘ ذکرمیں پوری طرح شاغل رہے گا۔ اس کی نماز حضور ہی حضور ہوگی۔

ذرہ بھر غفلت اور فضول شئے کی طرف التفات یا خیال کاچلا جانا اس منزل کے گناہ ہوں گے۔

اس منزل والے کے سامنے پہلی منزلیں ایک طرح سے گناہ ہوں گی۔

۴ ۔ منزل ستر: چوتھی منزل‘ منزل ستر ہے اس منزل میں علم حقیقی سے تعلق ہوتا ہے۔ اس منزل کی نماز مناجات اور مکالمہ ہے۔ عربی زبان میں راز و نیاز کی بات کرنے کو مناجات کہتے ہیں۔ جب تک ایک شخص ہو مناجات نہیں ہوتی جب دونوں طرف سے باتیں ہونے لگیں تو وہ مناجات ہوتی ہیں۔

اب وہ درجہ آیا کہ بندے اور خدا میں باتیں شروع ہوئیں۔ بندہ کہتا ہے ایاک نعبد و ایاک نستعین ادھر سے آواز آتی ہے بندے میرےٓ کس بات میں مدد کروں؟ بندہ کی طرف سے عرض ہوتا ہے اھدنا الصراط المستقیم۔ الہی سیدھے راستے پر مدد کر۔ ادھر سے جواب آتا ہے کہ کون سا سیدھا راستہ؟ سیدھے راستے تو سبھی ہیں‘ وہ جو جنت کی طرف جاتا ہے وہ بھی سیدھا جاتا ہے۔ جو جہنم کی طرف وہ بھی سیدھا جہنم کو جاتا ہے‘ جو شیطان کی طرف ہے وہ بھی سیدھا اس تک پہنچتا ہے اور جو تیرے خدا کی طرف ہے وہ بھی سیدھا اس تک جا پہنچتا ہے‘ تجھے کونسا سیدھا راستہ ضرورت ہے؟

بندہ عرض کرتا ہے صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم و لا الضالین‘ الہی مجھے وہ سیدھا راستہ چاہیے جو ان تیرے بندگان خاص کا ہے جن پر تو نے انعامات نازل فرمائے اور ان راستوں سے محفوظ رکھ لے جن پر وہ لوگ چلے جن پر تیرا غضب نازل ہوا یا وہ تیرے سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔

پس یہ منزل نماز کی چوتھی منزل ہے جسے مناجات اور مکالمہ کہتے ہیں۔ تیسری منزل والوں کے لیے یہ منزل عرش معلی ہے لیکن اس منزل والوں کے لیے پہلی منزلیں گناہ متصور ہوں گی اور وہ فرمان صادق آئے گا حسنات الابرار سیئات المقربین کہ ہزار لوگں کی نیکیاں مقربیں کی برائیاں یعنی گناہ شمار ہوتی ہیں۔

پہلی منزل کی نماز میرے لیے نماز تھی لیکن تیسری یا چوتھی منزل والوں کے لیے میری نماز گناہ ہوگی۔

پس اس منزل میں کس قسم کے گناہ ہیں؟ التفات الی الغیر سوائے محبوب معبود برحق کے کسی غیر کی طرف توجہ کا پھرنا اس منزل کا گناہ ہے۔ اس منزل والے کی نماز اسے اس قسم پر گناہ سے بچا لے گی۔

۵ ۔ منزل روح: پانچویں منزل‘ منزل روح ہے اور یہ وہ علم ہے جن کا تعلق مشاھدات سے ہے۔ ابھی تک تو نماز مکالمہ و مناجات تھی جس میں دو تھے جو باتیں کر رہے تھے۔ لیکن اس منزل میں پردے اٹھ جاتے ہیں اب وہ مرتبہ آتا ہے گویا کہ وہ ان چیزوں کو آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔

حاضرینٓ وہ شئے ہے کہ ہمارے تصور سے اس کا معاملہ بلند ہورہا ہے۔ یہ منزل مواصلات مشاہدات سے متعلق ہے اور معائنہ اس منزل والوں کا کام ہے جو امور ہمارے تخیلات سے باہر ہیں وہ ان کا مشاہدہ ہوگا اس منزل میں توجہ الی الغیر ناممکن ہے۔ لہذا اس نماز والے کے لیے گناہ کیا ہوگا؟ روح کو معراج ہورہی ہے اور بلندی کی طرف منازل طے کرتی چلی جارہی ہے۔ روح انسان میں صفات قلبیہ کے ظہور کی وجہ سے طغیانی کیفیت پیدا ہوا کرتی ہے اور اس منزل سے کبِھی بھٹکنے کا احتمال ہوتا ہے پس اس منزل کی نماز اس طغیانی سے روکتی ہے۔

۶ ۔ خفی: چھٹی منزل منزل خفی ہے۔ اس علم کا تعلق وہاں سے ہے جہاں مشاہدہ ختم ہوتا ہے اور اسے منزل مغنات اور ملاطفت کہتے ہیں جیسے کوئی کسی کو لوریاں دیتا ہے کسی پر مہربانیاں کرتا ہے ۔ اب مشاہدات ختم ہونے کے بعد ناز و نیاز کی باتیں شروع ہوتی ہیں محسوس ہورہا ہوتا ہے کہ یہ بچہ ہے جو جھلایا جا رہا ہے۔ اس بچہ کی طرح جسے لوریاں دی جاری ہوں یہ منزل‘ منزل مواصلت ہے۔

یہ وہ منزل ہے جو اس گناہ سے بچائے گی جسے ”اثنینیت“ کہتے ہیں اور جسے ظہور ”انانیت“ کہتے ہیں۔

اس علم کا تعلق اسرار محبت سے ہے۔ یہاں آکر محبت کے روز معلوم ہوتے ہیں۔ ہماری آپ کی محبت مادی امور سے ہوتی ہے یہ نماز تمام غیر محبتوں سے ہر قسم کی ”اثنینیت“ سے بچاتی ہے اور اس کا مطلب حقیقی وہ مقام ہے جسے مقام توحید کہتے ہیں اسی منزل میں مالک کو حقیقی مقام توحید نظر آتا ہے۔ وہ لوگ کیا سمجھیں گے جنہوں نے ایسی نمازیں دیکھی ہی نہیں۔

اور ہم نے جن کو پیشوا مانا ہے ان کی نمازیں ان منزلوں سے آگے کی نماز ہے۔

اسامر کی وضاحت کے لیے ایک دو چار فقرے پیش کرتا ہوں کیونکہ دماغ پر بوجِھ محسوس ہورہا ہے اس لیے کہ یہ بڑی بلند ذکر چیز ہے کہ جسے اس وقت عرض کررہا ہوں۔

کہ ”اثنینیت“ کیا ہے؟ اپنی جہالت کے اعتراف کے ساتھ مثالیں عرض کرتا ہوں جو مجھ ایسے جاھلوں کے لیے مفید مطلب ہوسکیں گے۔ مثلاً اپنے ”اللہ اکبر“ کہا اور یعنی خدا تعالیٰ سب سے بزرگ ہے۔ تو لفظ ”سب“ کیا چیز ہے؟ ”سب“ بھی آگیا اور ”اللہ“ بھی آگیا تو ”توحید“ کہاں رہی؟ اس ی ”توحید“ میں ”سب“ مثال ہوگیا۔

یہ توحید ہم ایسے لوگوں کے لیے نہیں رہتی چہ جائیکہ ان منزلوں پر فائز لوگوں کی توحید کو پانا۔ یہ ہمارے بس کی بات نہیں۔

جسے میں ہوں خدا تعالیٰ کومانتا ہوں کہ وہ وہ ہے۔ فلاں صفتوں سے پاک ہے۔ لیکن میرا تعلق بیٹوں سے بھی ہے ماں باپ سے بھی محبت ہے جب تک محبت میں خالص ”انفرادیت“ نہ آئے گی ”توحید“ خالص نہ ہوگی۔ ماسوی اللہ سے کامل بے تعلقی‘ کسی سے کوئی تعلق یا کسی محبت نہ رہے تو کم از کم ”نفس“ کی محبت رے گی بس دوئی موجود رہے گی‘ ”اثنینیت“ باقی رہے گی اور یہ کب ختم ہوگی؟ جب اپنے سے بھی بے خبر اور غافل ہو جائے یہ وہ مقام آتا ہے جہاں ظہور ”انانیت“ نہیں رہتا اور ”اثنینیت“ ختم ہو جاتی ہے۔

جب تک کوئی مالک ”میں“ کو سمجھتا ہے اس وقت تک اس منزل پر اس کا قدم نہیں پہنچتا۔ اس منزل میں قدم رکھنے کے لیے یہ باقی ہی نہ رہے گا کہ ”میں ہوں“۔ لہذا جب ”میں“ نہ ہوتی تو اور کون رہے گا؟ اب وہ ہی وہ ہوگا۔

اس منزل میں گناہ ”میں“ کا وجود ہے اور یہ وہ گناہ ہے کہ صبح سے شام تک ہم لوگ ”میں“ ، ”میں“ کہتے رہتے ہیں۔

۷ ۔ اخفی: ساتویں منزل وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا ہے؟

اس میں شک نہیں کہ دو چار حضرات کے دماغوں میں الجھن ضرور ہوگی لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ ذرا سے مشکل مضمون پر لوگ سونے لگتے ہیں لیکن ”سید الشھداء“ کی برکت سے ایک بھی وہ نہیں نظر آتا جس کی آنکھوں میں نیند ہو۔

حضرات! تین چیزیں ہوتی ہیں:

۱ ۔ ایک شئے ہوتی ہے سلوک الی اللہ۔

۲ ۔ ایک شئے ہوتی ہے سلوک فی اللہ۔

۳ ۔ ایک شئے ہوتی ہے سلوک من اللہ۔

اگر انساناس میدان معرفت میں چلنے لگا تو مالک ہوا۔ کچھ خدا تعالیٰ کی رحمت شامل حال ہوگئی ہادی بھی آملا تو منزل طے ہونے لگی۔

کتابوں میں مذکور ہے کہ بعض لوگوں کی نماز ایسی تھی بعض کی ایسی تھی۔ آپ نہ سمجھیں کہ غلطی ہوگئی یا زیادتی کر رہا ہوں۔

لیکن ایسے بڑے اور اچھے لوگ بھی تھے کہ عشاء کی نماز پڑھا رہے تھے۔ جب نماز کا سلام پھر چکا‘ نمازیوں کی طرف منہ کیا اور دریافت کیا ”کیا نماز ہوگئی“؟ ”کیا نماز ٹھیک پڑھا دی“؟ سب نے کہا ہو تو گئی لیکن خیر ہے؟ اس بزرگ نے فرمایا کہ جب نماز شروع کی گئی تھی اتفاق سے قافلہ تجارت یمن سے آ رہا تھا۔دیکھتا ہوں کہ مال تجارت آنپہنچا ہے‘ ہم بازار میں کھڑے ہیں اور کہ رہے ہیں یہ چیز لیں وہ مال خرید لیں کہ اتنے ہیں اُدھر مال تجارت ختم ہوگیا اور ادھر نماز ختم ہوگئی۔

میں پھر یقین دلاتا ہوں کہ آپ نہ سمجھائیگا کہ یہ بنا دلیل بات عرض کر رہا ہوں۔بلکہ یہ واقعہ ہے جو کوئی صاحب دیکھنا چاہیں تو کتاب میں دکھایا جا سکتا ہے۔

تو آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ایک وہ نمازی ہیں کہ ادھر نماز؛ شروع کی اور ادھر اللہ اکبر کے بعد سوائے تجارت کاروبار وغیرہ کچھ دیگر خیال ہی نہیں آتا۔

پس ایسی نماز والے کیا جانیں کہ منزل دوم والوں کی نماز کیا ہے؟ اور منزل دوم والے کیا جانیں کہ منزل سوم کی نماز کیا ہے؟ اور منزل سوم والے کیا جانیں کہ منزل چھارم کی نماز کیا ہے؟ اور منزل چھارم والے کیا جانیں کہ منزل پنجم کی نماز کیا ہے؟اور منزل پنجم والے کیا جانیں کہ منزل ششم کی نماز کیا ہے؟اور منزل ششم والے کیا جانیں کہ منزل ہفتم کی نماز کیا ہے؟

الغرض پہلی منز ل والوں کو اگلی منزل والوں کا کیا تصور ہو سکتا ہے؟

اس طرح ساتویں منزل کا آدمی چھٹی میں آ جائے تو اس لئے گناہ ہوگا اور گزر جائے گا اسے اس گناہ سے اتغفار کرتے کرتے اور یہ کہتے کہتے کہ”ربنا ظلمنا انفسنا وان لھم تغفرلنا و ترحمنا لنکونن من الخا سرین“کہ پروردگار ہم اپنے نقسوں پر ظلم کر بیٹھے اگر تو مغفرت نہ کرے گا یا رحمت نہ نازل فرمائے گا تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

یہ منزل کب طے ہوتی ہے؟اس وقت انسان اس منزل کو طہ کرتا ہے جب خدا تعالیٰ کی رحمت شامل حال ہوتی ہے اور اسے حقیقی راہنما مل جاتا ہے‘اس دامن سے لپٹ جاتا ہے۔اس کی بحثت میں مٹتا چلا جاتا ہے اس مقام پر اس ھاری کا نام”صراط مستقیم“ہو جاتا ہے اور یہ ہای وہ سیدھا ارستہ ہے جسج پر پڑ جانے سے پھر بھی پھٹکنے کی صورت پیدا ہو سکتی ہے ؟ کبھی تھیں ۔

غور فرمائیں ایک سیدھی سڑک ہے جو راولپنڈی جا رہی ہے کیا اس پر جانے والے کو کبھی غلطی لگے گی ؟ دوڑ اس میں نہیں ۔ اونچائی نیچائی اس میں نہیں ؟ اگر سچے ھادی تک انسان پہنچ گیا تو یہ ہی ہے وہ ” صراط مستقیم “ جس کے ذریعہ خدا تک ضرور پہنچ گیا ۔

اور یہ ھادی جو ” صراط مستقیم “ ہیں کون ہیں ؟ درحقیقت وہ ہیں جن کا نام نامی محمد مصطفی ہے۔اب جوانن تک پہنچ گیا اس خدا مل گیا۔

اب سوال یہ ہے کہ آیا وہ مل بھی گئے یا نہیں؟کہنے کو تو سبھی کہتے ہیں کہ ہم سبھی کو ملہ گئے۔اگر یہ درست ہے تو رسول اللہ نے کیوں فرمایا تھا کہ میری امت میں میرے فرقے ہو جائیں گے۔پس ضروری ہوا کہ اس شبہ کو دور کرنے کے لئے کوئی شے ہو جس سے معلوم ہو جائے کہ ان فرقوں میں سے ”ناجی“ یا بہشت جانے والا کون سا فرقہ ہوگا؟

آیئے! رسول خدا سے معلوم کریں کہ آپ نے خود تک پہنچے کے لیے راستے میں کون سی منزل یا ذریعہ بتایا جس کے متعلق ارشاد فرمایا: کہ جو اس ذریعہ تک جا پہنچا تو وہ مجھ تک جا پہنچا یا جس کو وہ مل گیا اسے میں مل گیا۔

ممکن ہے کوئی اس ذریعہ کو کسی اور طرح سے بتائے لیکن ارشاد نبوی جو متفق علیہ ہے وہ یہ ہے کہ فرمایا: انا مدینة العلم و علی بابھا کہ میں علم حق کا شہر ہوں اور علی اس شہر کا دروازہ ہیں۔ کہ وہ ذریعہ جناب امیر المومنین علی ہیں۔ جو آدمی اس دروازہ پر آگیا وہ شہر میں آپہنچا۔ جو ان سے مل گیا اسے رسول مل گئے اور جسے رسول مل گئے اسے خدا مل گیا اور اگر رلی نہ ملے تو کہتا ہی رہے گا لیکن اسے نہ رسول ملیں گے نہ خدا ہی مل سکے گا۔

پس یہ ہی ہیں وہ صراط مستقیم اور یہاں سے وہ منزل شروع ہوتی ہے جسے سلوک الی اللہ کہتے ہیں۔

افسوس وقت تھوڑا رہ گیا۔ میں بعض باتیں عرض کرناچاہتا تھا۔ الحمد للہ آپ سید الشھداء کی برکت سے متوجہ بھی ہیں۔

اب گویا وہ منزل ہے کہ مالک خدا کی طرف جا رہا ہے صفات انہیں منعکس ہوتی ہیں ان کا جلوہ ی اپر تو اس پر پڑنے لگتا ہے کہ وہ پہچاننے لگتا ہے کہ اللہ اکبر وہ ایسا حکم ہے غیر خدا ایسا علم ہے۔

پس صراط مستقیم کے بعدیہ علم ہوتا ہے کہ وہ ایسی حکمتوں والا ہے۔ افسوس منزل اس قدر سخت اور کٹھن ہے کہ اس میں میں خودبھی کبھی نہ پہنچا۔ کیا کہوں گا ابھی منزل توحید بہت دور ہے۔ اس لیے کہ جب تک آپ اسے حکیم‘ علیم‘ رب‘ رحمن رحیم وغیرہ کہہ کر جائیں گے تو اس میں صفات کی کثرتیں نظر آئیں گی۔

جب آپ یہ منزل طے کرلیں گے تو پھر اس منزل میں قدم رکھیں گے جس کا نام ہے ”سلوک فی اللہ“ اور یہ وہ مقام ہے جہاں صفات ذات واحد فناہ ہیں۔ اب وہ صرف ذات کو دیکھتا ہے جو کمال ہی کمال ہے جہاں تمام صفات کی نفی ہو جاتی ہے اور توحید کا وہ مرتبہ آتا ہے جسے توحید حقیقی کہنا چاہیے۔

اسی طرف اشارہ فرماتے ہوئے امیر المومنین نے ارشاد فرمایا: ”اول الدین معرفة امیر المومنین

وکمال المعرفة توحید

و کمال توحیده التصدیق به

و کمال التصدیق الاخلاص له

وکمال الاخلاص نفی الصفات له

و شهادة کل صفة انها غیر موصوف

و شهادة کل صفة انه غیر صفة

کہ سب سے پہلا زینہ خدا کی معرفت کا معرفت ہے جناب امیر المومنین کی اور یہی دین کی ابتدا یا اول ہیں اور کمال معرفت توحید ہے اور کمال توحید اس کے ساتھ تصدیق کرنا ہے اورکمال تصدیق یہ ہے کہ اس کے لیے خالص ہو جائے اور کمال اخلاص یہ ہے کہ اسکے لیے صفات کی نفی کرلی جائے اور ہر موصوف کہتا ہے کہ صفت اور ہے اور میں اور ہوں اور وہ چیز جو باقی رہ گئی وہ ذات ہے اس میں کوئی الگ صفت نہیں وہ عین صفت ہے۔

یہ ہے وہ منزل کہ جس کو ساتویں منزل کہا جاتا ہے اس کے بعد مقام تفریق سے مالک نکل کر مقام جمع میں پہنچتا ہے۔

بہرحال اب میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں خدا کے لیے انصاف کے ساتھ مجِھے نہیں بلکہ اپنے دل کو جواب دیں۔ اس لیے کہ میرے سوال کے ساتھ ہی آپ کا دل سوال کرے گا۔

کہ پہلی منزل میں جس طرح استاد کی ضرورت تھی‘ اسی طرح پہلی منزل والے دوسری منزل میں پہنچنے کے لیے ہادی کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اسی طرح دوسری منزل والے کو تیسری منزل پر جانے کے لیے استاد کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اسی طرح چوتھی منزل میں پہنچنے کے لیے تیسری منزل والے کو کسی راہنما کی ضرورت ہے یا نہیں؟

اسی طرح پانچویں منزل میں پہنچنے کے لیے چوتھی منزل والے کو کسی ہادی کی ضرورت ہے یا نہیں؟

اسی طرح چھٹی منزل میں پہنچنے کے لیے پانچویں منزل والے کو کسی مرشد کی ضرورت ہے یا نہیں؟

علی ہذا القیاس اگلی منزل میں پہنچنے کے لیے پہلی منزل والے کو ہدایت کرنے والے کی ضرورت ہے یا نہیں؟

آپ کا دل خود بخود جواب دے گا کہ جب تک ہادی نہ ہوگا پہلی منزل والے کے لیے اگلی منزل میں پہنچنا نا ممکن ہے۔

اب ہادی کون ہوگا؟ ہادی وہ ہوگا جو تمام پہلی اور اگلی منزلوں کو طے کرچکا ہو اور وہ جو پہلی منزل ہی طے نہ کرسکا ہو وہ کیسے اور کس طرح راہنما بن سکتا ہے؟

پھر ہر شخص کی منزلیں ”تکلیف“ کے اعتبار سے مختلف ہوں گی‘ پس ہادی وہ ہوگا جو یہاں آکر منزلیں طے نہ کرے بلکہ ادھر سے تمام منزلیں طے کرکے آیا ہو۔

اور وہ وہی ہوگا جو ان واحد کے لیے بھی خدا تعالیٰ سے کبھی منحرف نہ ہوا ہو اور پیدا ہوتے ہی وہ وحدانیت کا اقرار کر رہا ہو۔ وہ تمام منزلیں گویا شکم مادر سے ہی طے کرکے آیا ہوگا۔ جو پیدا ہوتے ہی رسول اللہ کے ہاتھ میں آیا اور حضور سے عرض کیا کچھ پڑھوں یا رسول اللہ اجازت ہے؟

آنحضرت نے فرمایا: ہاں یا علی؟ پڑھو!

آپ نے تورات پڑھنی شروع کردی۔ پھر انجیل پڑھنی شروع کردی۔ پھر قرآن کی سورہ مومنین پڑھنے لگے۔

آنحضرت نے فرمایا: موسیٰ ہوتے تو کہتے کہ علی نے مجھ سے بہتر تورات پڑھی۔ عیسیٰ ہوتے تو کہتے کہ علی نے مجھ سے بہتر انجیل پڑھی۔

پس واضح ہوا کہ اگر ہم کو (حضور کو) پہنچنا ہے تو تلاش کرو ہادی کو اور وہ کون ہیں جو ملیں گے؟ وہ ہی ہیں جو ”آیت تطھیر“ والے ہیں اور ”آیت تطھیر“ والے وہ ہیں جو فرشتوں کے تصور سے بھی بلند مرتبہ ہیں اس لیے کہ وہ سب کے سب ان کی منزل سے نیچے ہیں۔

اب خداوند عالم انسان کی تربیت کرتاہے تاکہ وہ دین اللہ کو پہنچانے اوراس تک پہنچ جائے۔

پس دین اللہ کی تعلیم کے لیے خدا تعالیٰ کی تربیت کی دو قسمیں ہیں:

۱ ۔ تربیت اضطراری ۲ ۔ تربیت اختیاری۔

۱ ۔ تربیت اضطراری وہ ہے جیسے کسی کو فقیر کو بنادیا‘ اس کا کوئی گناہ نہ تھا جس کے سبب اسے فقیر بنا دیا اور اس نے کوئی احسان نہ کیا تھا خدا پر جس کے سبب اسے مالدار بنا دیا گیا۔

۲ ۔ تربیت اختیاری۔ اس سے مراد اصول دین اور فروع دین کا ماننا اور ان پر عمل کرنا۔

اصول دین کیا ہیں؟ جو حقیقت میں چار ہی ہیںٍ۔ لیکن بچوں کے پڑھانے کے لیے پانچ ہیں۔

۱ ۔ توحید

۲ ۔ نبوت یا رسالت

۳ ۔ امامت

۴ ۔ قیامت

اور پانچواں عدالت کدھر گیا؟ تو عرض یہ ہے کہ بلاشبہ عدل کو شامل کرکے ہم اصول دین کو پانچ ہی کہتے ہیں اور اصل یہ ہے کہ عدل خدا تعالیٰ کی صفت ہے‘ جس طرح وہ عالم ہے۔ اسی طرح وہ عادل ہے‘ تو جب علم کو اصول میں داخل نہیں کیا اسی لیے عدل کو بھی اصول میں داخل نہ کیا۔

اور چونکہ رسول اللہ کے بعد لوگوں نے کہنا شروع کردیا تھا کہ عدل ضروری تھا‘ اس لیے کہ ہوسکتا ہے کہ خدا ایک کمینے‘ ذلیل انسان کو جنت میں بھیج دے اسی طرح یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک نیک نبی کو وہ جہنم میں ڈال دے۔ پس علی و امامیہ نے ”عدل“ کو اصول دین میں شامل کردیا تاکہ انسان بچپن سے ہی سمجھ لے کہ ”عدل“ لازمی ہوگا‘ برے کام کئے تو پکڑا جائے گا اور اچھے عمل کئے تو ضرور نیکی کا بدلہ ملے گا۔

حضرات تفصیل ان اصول کی انشاء اللہ کل آپ کے سامنے پیش کردوں گا۔ آپ خوب سمجھ جائیں گے اب میرے بیان کی آج کے لیے منزل ختم ہوتی ہے تاکہ عرض کروں کہ حضرات اہل بیت کس منزل میں تھے؟

میں نے کہا تھا کہ کسی کاحال معلوم کرنا ہو تو اس کے دوستوں کو دیکھنا چاہیے۔ اگر دوست شراب خوار ہے سمجھ لینا کہ وہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ اگر دوست کوصبح سے شام تک عبادت سے ہی فرصت نہیں ملتی تو یقیناً وہ بھی عبادت گذار ہی ہوگا۔

امیر المومنین کے ایک خاص اصحابی کا ذکر عرض کرتا ہوں جس کا نام اویس قرنی ہے اور کل بھی ان کا ذکر کیا تھا۔ غلام امیر کو ملاحظہ کرلیں اور اس سے اندازہ لگا لیں کہ آقا کس شان اور مرتبہ کا مالک ہوگا۔

اویس قرنی کون تھے؟ ممکن ہے آپ حضرات میں کچھ نئے لوگ آج آئے ہوں اس لیے عرض کرتا ہو ں کہ یہ وہ ہیں جو جنگ صفین میں نصرت علی ابن ابی طالب میں شہید ہوئے۔

کس سے لڑ رہ تھے علی؟ یا درکھو! اس سے لڑ رہے تھے جو قاتل ہے ”اویس قرنی“ کا۔ پس جو ”اویس قرنی“ کا قاتل ہو سوچ سمجِھ کر اس سے محبت کرنا‘ وہ محبت کے لائق نہیں ہے اس لیے کہ مولا علی نے اس سے جنگ کی تھی۔

یہ جنگ ہو رہی تھی کہ ایک شخص حاضر ہوا‘ امیر المومنین کی فوج کی طرف اور آتے ہی سوال کیا ھل فیکم اویس قرن؟

ادھر کے لوگوں نے جواب دیا: ہاں دیکھو وہ موجود ہیں۔

اس آدمی نے کہا بس اب یہاں یہ ٹھہرونگا اور اسی فوج کے ہمراہ لڑوں گا۔

کہا گیا کیا سبب‘ کس لیے ایسا کرے گا؟

کہنے لگا: رسول خدا سے خود اپنے کانوں کے ساتھ سنا‘ میں نے کہ آپ نے فرمایا: کہ اویس قرنی کل میدان محشر میں اتنے لوگوں کی شفاعت کریں گے کہ جس قدر قبیلہ ربیعہ اور مضر کے لوگ ہوں گے۔ پس یہی سبب ہے جو امید لے کر آیا ہوں کہ کل میری شفاعت بھی وہ فرما دیں گے۔

آج آپ حضرات کے سامنے ایک اور اصحابی جناب امیر کو پیش کرتا ہوں جن کا نام ”سلمان فارسی“ ہے۔ یہ وہ نام ہے جس سے دل کے خون میں حرکت تیز ہو جاتی ہے۔

سالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو کچھ جناب سلمان فارسی کے بارے میں فرمایا کہ کم از کم اس قدر آپ ضرور یاد رکھیں کہ

۱ ۔ حضور نے فرمایا السلمان منا اھل البیت کہ سلمان فارسی ہم اہل بیت میں سے ہے۔

۲ ۔ آپ کو مداین میں بھیج دیا گیا تھا۔ جناب امیر مدینے میں تھے ۳۶ ھ میں مداین ہی میں آپ کا انتقال ہوگیا۔ امیر المومنین نے عشاء کی نماز پڑھی اور فرمایا ”سلمان“ کا انتقال ہوگیا۔ کہا گیا ”کفن دفن کون کرے گا؟“

ارشاد فرمایا: سلمان کا کفن میں خود جا کر کروں گا۔

چنانچہ ٹھیک صبح مداین پہنچے‘ غسل دیا۔

اور روایت ہے کہ جناب امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ آپ سلمان فارسی کی اتنی تعریف کرتے ہیں۔ فرمایا ہاں اس کو سلما ن فارسی نہ کہو بلکہ سلمان محمدی کہو۔ سبحان اللہ!

الغرض جناب امیر المومنین علی علیہ السلام نے غسل دیا‘ تو لوگوں نے کفن اٹھا کر دیکھا کہ سلمان مسکرا رہے ہیں۔ تو امیر علیہ السلام نے فرمایا: جب رسول اللہ کی خدمت میں جاؤ گے تو کہ دینا کہ آقا تمہاری امت نے ہمارے ساتھ کس قدر برا سلوک کیا۔

مداین کے لوگ حیران تھے‘ انہوں نے پوچھا کہ سلمان کے جنازہ کی نماز کس نے پڑھائی؟

لوگوں نے کہا ہم نے تو جناب علی علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھی اور وہی تھے جو ان کی نماز جنازہ پڑھا گئے ہیں۔

اب سوالات کی بوچھاڑ ہونے لگی کوئی کہہ رہا تھا کہ علی تو مدینے میں ہیں یہا ں کیسے جنازہ کی نماز پڑھا گئے اور کوئی کہہ رہے تھِے کہ ہم یہ نہیں جانتے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جناب علی علیہ السلام تشریف لائے غسل دیا اور نماز جنازہ بھی پڑھا کہ چلے گئے۔

یہ تھے وہ لوگ جو جناب امیر علیہ السلام کے ساتھی یا اصحابی تھے یا دوسرے الفاظ میں علی کے در کے غلام تھے۔

۳ ۔ رسالت مآب نے ایک او رموقعہ پر ارشاد فرمایا ”سلمان عالم من علم و البلایا“ کہ جناب سلمان موتوں کے علم کے ماہر نہیں اور بلاؤں کے نزول کے علوم کے عالم ہیں۔

سبحان اللہ! غلام علی کا یہ مقام ہے تو آقا ان کے کیسے ہوں گے اور کس مرتبہ والے ہوں گے؟

ایک اور اصحابی جناب امیر کے ابوذر ہیں‘ حاضرین! میں خدا کے وحدہ لا شریک لہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اہل اسلام کی کتابوں می موجود ہے کہ طبقات ابن سعد دیکھ لیجئے۔ وہاں آپ کا قول درج ہے۔

صلیت قبل ان یبعث نبی ثلاث سنین کہ ابھی رسول اللہ مبعوث نہ ہوئے تھے میں آپ کی بعثت سے ۳ سال پہلے بھی نماز پڑھا کرتا تھا۔

حضور کی بعثت سے پہلے دنیا گمراہی میں مبتلا تھی لیکن جناب ابوذر کے تزکیہ نفس کی کیفیت یہ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کے ظہور سے ۳ سال پہلے آپ لا الہ الا اللہ پڑھ چکے تھے۔ لوگوں نے دریافت کیا آپ کدھر منہ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے؟

فرمایا: مجھے یہ پتہ نہیں‘ البتہ جدھر میرا منہ ہوتا تھا ادھر ہی منہ کرکے نماز پڑھ لیتا تھا۔

اگر کوئی معترض معاذ اللہ یہ کہے کہ آپ نے جھوٹ کہا تو ایسا نہیں ہوسکتا کہ ابوذر کو جھوٹا کہا جاسکتے جن کے حق میں سچوں کے آقا رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم خود فیصلہ فرماگئے۔

کہ زمین کے اوپر اور آسمان کے نیچے تمام لوگوں سے زیادہ سچے ابوذر غفاری ہیں۔

اللہ! اللہ! یہی ابوذر تھے جن کو پٹوایا گیا‘ آپ کے جوش ایمان کا یہ حال تھا کہ کسی غیر شرع معاملہ کو دیکھنے کے بعد خاموش رہ تھیں سکتے تھے۔ خواہ حکومت وقت سے ہی وہ معاملہ ظہور پذیر ہوا ہو۔ تاآنکہ حکومت کے حکم سے آپ کو زد وکوب کرایا گیا‘ اسی وقت آپ کو آنت کے اتر جانے کا عارضہ پیدا ہوگیا۔ آخر اسی پر اکتفا نہ کیا گیا۔ دنیا جانتی ہے کہ انہیں حکم پہنچتا ہے کہ اس ملک مدینہ کو چھوڑ دو اور پوچھا گیا کہ کہاں جانا چاہتے ہوں؟

فرمایا: مکے بھیج دو۔

کہا گیا: مکہ نہیں جاسکتے‘ اور بتاؤ؟

فرمایا: پھر مصر بھیج دو۔

کہا گیا: نہیں اور کوئی جگہ بتاؤ؟

فرمایا: پھر بصرے بھیج دو۔

کہا گیا: نہیں‘ بصرے بھی نہیں جاسکتے کوئی اور جگہ بتاؤ؟

فرمایا: پھر جہاں تمہاری مرضی ہو بھیج دو۔

کہا گیا: جاؤ تمہارے لیے شام کی ربضہ جگہ ہے جس کی تمام برائیاں کیا کرتے تھے‘ جہاں تمہار کوئی پرسان حال نہ ہوگا۔

فرمایا: میرے نبی نے بالکل سچ فرمایا۔ میں پہلی ہی سے جانتا تھا۔ آقا نے فرمایا تھا یا اباذر! تحیا وحدة‘ تحوت وحدة و تبعث وحدة کہ ابوذر تو زندہ بھی تنہا رہے گا۔ مرے گا بھی تنہا اور اٹھے گا بھی تنہا۔

کہا گیا: پھر یہ مکہ‘ بصر‘ مصر کس لیے کہتے رہے؟

فرمایا: تاکہ جان لے کہ تم جو کچھ پوچھ رہے تھے غلط پوچھ رہ تھے۔

پس اس پاک ہستی کو ظالموں نے اونٹ پر سوار کیا اور تاکید کردی گئی کہ جو کوئی ابوذر سے بات بھی کرے گا اسے سزا ملے گی۔

دوسرے دن جناب امیر علی علیہ السلام نے امام حسین علیہ السلام سے فرمایا: بیٹا چلو چچا ابوذر کو شہر سے باہر پہنچا آؤ۔

آپ جب باہر پہنچے چیخیں مار مار کر رونے لگے کہ یا مولا آپ کے دیدار اور محبت سے علیحدہ ہو گیا۔

فرمایا: ابوذر غم نہ کرو‘ چند روزہ زندگی ہے‘ گذر جائے گی۔ رسول خدا منع نہ کرتے آج اس طرح نہ نکالے جاتے۔

ربضہ پہنچے‘ بیٹی ساتھ تھی وہاں کی آب و ہوا ناموافق طبع تھی‘ بیمار ہوگئے‘ سب سے تنہا ہیں صرف ایک بیٹی تیمار دار ہے۔ ایک شخص مسافر قریب سے گذرا۔ آکر پہچان لیا عرض کیا: حضور کے آپ اصحابی ابوذر ہیں حکم دیجئے کہ طبیب کو لے آؤں!

ارشاد فرمایا: الطبیب امرفنی کہ طبیب نے ہی تو بیمار کیا ہے۔

بیٹی کی پریشانیاں بڑھ گئیں۔

اولاد والو! غور کرو۔ ابوذر کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ ایک وقت وہ آپہنچا‘ عالم تنہائی اور غربت ہے۔ آپ بستر مرض پر پڑے ہیں۔ بیٹی سر کے پاس بیٹھی ہے۔ باپ کی حالت مایوسانہ نگاہوں کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ جب آنکھیں بند ہوگئیں‘ بیٹی نے رونا شروع کیا۔ گرم آنسو ابوذر کے چہرے پر پڑے آنکھیں کھول دیں فرمایا: بیٹی کیوں رو رہی ہو؟

عرض کیا: ابا جان! اس لیے رو رہی ہوں کہ اکیلی ہوں خدانخواستہ آپ اٹھ گئے تو اکیلی کس طرح سے دفن کروں گی؟ غسل کس طرح کراؤنگی؟ دفن کیسے کروں گی؟

فرمایا: بیٹی! گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ میرے آقا خود فرماگئے ہیں کہ

ابوذر! تیرے آخری وقت ایک قافلہ آئے گا اور تجھے دفن کر دے گا۔

پس بیٹی! جب روح نکل جائے تو جسم پر چادر ڈال دینا اور راستے پر جا کھڑی ہونا۔ سامنے سے قافلہ آئے گا انہیں کہ دینا قافلہ والو! ابوذر دنیا سے اٹھ گئے ان کا انتقال ہوچکا۔

بیٹی رونے لگی۔ ابوذر کی روح نے پرواز ی۔ چادر آپ پر ڈال دی گئی اور بیٹی راستے کے کنارے جا کھڑی ہوئی۔ چادر سے منہ کو چھپائے ایک طرف کھڑی تھی کہ ایک طرف سے گرد اٹھی۔ دیکھا کہ سامنے سے قافلہ آرہا ہے۔ گد بیٹھ چکی تھی۔ قافلہ کا سردار جناب امیر علی علیہ السلام کے حقیقی غلام جناب مالک بن اشتر تھے۔ جن کے لیے جناب امیر علی علیہ السلام فرمایا کرتے تھے:

جیسے میں (یعنی علی) رسول اللہ کے لیے تھا۔ مالک اسی طرح میرے لیے تھے۔

سردار قافلہ جناب مالک کی اچانک نظر اٹھی دیکھا کہ ایک عورت چادر میں لپٹی کھڑی ہے۔ ایک شخص سے کہا آگے جا کر دریافت کرو‘ کیوں کھڑی ہے؟ یہ پردہ دار عورت ہے منہ کو چھپائے ہوِئے ہے۔ ہم سب اس کی امداد کے لیے جائیں گے۔ کوئی حاجت مند معلوم ہوتی ہے پوچِھو اسے کیا حاجت ہے؟

کہا گیا بی بی! کیوں کھڑی ہے؟ کچھ حاجت رکھتی ہے؟

فرمایا: مجھے قافلہ کے سردار سے کام ہے اس قافلہ کا سردار کون ہے؟

کہا گیا مالک اشتر

فرمایا: ان ہی کو بھیج دے۔ ان ہی سے کہوں گی۔ مالک قریب پہنچے۔ کہا کس لیے بلایا ہے؟

ابوذر کی بیٹی نے کہا چچا! مالک! آپ کے بھائی ابوذر دنیا سے اٹھ گئے‘ ان کی لاش بے گور و کفن میدان میں پڑی ہے‘ میں ان کی بیٹی ہوں۔

مالک نے یہ سنا‘ چیخ نکل گئی اور ہوش آنے پر پکارا قافلہ والو! ابوذر اصحابی رسول اللہ کا انتقال ہوگیا ہے۔

لاش کے قریب پہنچے سب نے فریاد کی لاش پر خوب روئے۔ حکم دیا کہ وہ کفن جو اپنے لیے رکھا تھا بھائی ابوذر کے لیے لے آؤ۔

غسل دیا‘ کفن میں لپیٹا! سب قافلے نے ملکر نماز جنازہ ادا کی۔ بڑے انتظام سے ابوذر دفن کئے گئے۔

ابوذر کی بیٹی کو باپ کے مرنے کی تکلیف ضرور ہوئی مگر یہ انتظام اور ہمدردان والد دیکھ کر گونہ تسلی ہوئی۔

لیکن افسوس صد افسوس! ہائے سکینہ! حسین کی بیٹی سکینہ‘ ہائے حسین کی بہن زینب! تہاری تسلی کے لیے تو کوئی انتظام تھا نہ کوئی ہمدرد و غمگسار تھا۔ اگر مہلت مل جاتی تو سکینہ کس جگہ اور کس براستہ پر کھڑی ہو کر پکار کرکہتی۔

لوگو! میرا باپ وفات پاگیا باپ کی لاش تنہا پڑی رہ گئی اور اس کے تمام ساتھیوں اور عزیزوں کی بے گور و کفن لاشیں خون سے لتھڑی رہ گئیں اور کوئی بھی پرسان حال نہیں جو ان لاشوں کو سنبھال سکے۔

عزا دارو! زبان کیا ذکر کرے اور جگر کس طرح برداشت کرسکے! جب ابوذر کی لاش کو مالک دفن کرچکے تو آپ نے کہا یہ قافلہ مدینہ کی طرف جرہا ہے ایک ھورج تیا رکیا جائے اس پر پردے باندھے جائیں۔

ھورج جب تیار ہوچکی مالک نے ابوذر کی بیٹی سے کہا بیٹی! بیٹھ جاؤ۔

بڑے انتظام کے ساتھ لے گئے۔ بحفاظت تمام مولا علی علیہ السلام کی خدمت میں لے آئے اور عرض کیا گیا۔

یا مولا علی! ابوذر کی بیٹی کو لایا ہوں!

مولا علی نے سر پر ہاتھ رکھا اور تسلی دی بیٹی! ہرگز نہ گھبرانا۔ آج اگرچہ ابوذر نہیں لیکن ان کی جگہ علی موجود ہے۔

ساتھ لے گئے‘ گھر میں داخل ہوئے فرمایا اے زینب اورکلثوم! تمہاری بہن آئی ہے۔ ذرا اس کے استقبال کے لیے آؤ۔

اللہ! اللہ! یا مولا علی! یتیموں کے ساتھ آپ سلوک یہ تھا۔ لیکن اس کا بدلہ آپ کو کیا ملا؟ سکینہ کا نہ استقبال کیا گیا او رنہ اس کے سر پر کسی نے دست شفقت پھیرا بلکہ کیا تو یہ کہ اس کے نازنین چہرے پر طمانچے مارے گئے۔ فریاد! فریاد! دوہائی حسین بر غربت آل حسین انا للہ و نان الیہ راجعون۔


مجلس پنجم :

بتاریخ ۵ محرم الحرام ۳۷۰ ھ

( أَ فَغَیْرِ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُونَ وَ لَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِيْ السَّمٰوٰتِ وَ الْأَرْضِ طَوْعًا وَ کَرْهًا وَإِلَیْهِِ یُرْجَعُونَ ) ۔ ( آل عمران : ۸۳ )

ارشاد جناب باری تعالیٰ عزاسمہ ہے کہ لوگ کیا اللہ کے دین کے سوا اور کسی چیز کو چاہیے ہیں؟ حالانکہ اس اللہ کے لیے ہی آسمانوں اور زمین کے باشندے اپنے سروں کو جھکائے ہوئے ہیں‘ خوشی سے یا نا حوشی یعنی جبر و اکراہ سے اور اسی کی طرف باز گشت ہوگی۔

حضرات! کل میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ دین اللہ جو ہے وہ حقیقت میں ایک تربیت ہے خداوند تعالیٰ کی طرف سے انسان کی۔

اوراس تربیت کا فائدہ صرف انسان ہی کو پہنچتا ہے۔ یعنی کہ اپنی حیثیت کے موافق اس کی قابلیت کے اعتبار سے وہ کامل ہوتا ہے اور پروردگار عالم چاہتا ہے کہ جہاں تک انسان اپنے کمال کو پہنچ سکتا ہے وہاں تک اسے پہنچا دیا جائے۔

یہ تربیت جو پروردگار عالم کی طرف سے ہوتی ہے اس کی دو قسمیں ہیں۔ ۱) اضطراری‘ ۲) اختیاری

ایک تربیت تو وہ ہے جس کے ماتحت کسی کو مالدار بناتا ہے کسی کو فقیر بناتا ہے یعنی مفلس کردیتا ہے یا کبھی کسی کو مریض بناتا ہے کسی کو صحیح رکھتا ہے یہ بھی در حقیقت ایک قسم کی تربیت ہوتی ہے جو خداوند عالم فرماتا ہے۔

آپ حکیموں کو دیکھیے۔ کبھی مریض کو اس قسم کی دوائی دی جاتی ہے جو ذہان کو اچھی معلوم نہیں ہوتی یعنی کڑوی ہوتی ہے لیکن اس کا نتیجہ چونکہ اچھا ہوتا ہے لہذا طبیب اس دوائی کو استعمال کراتا ہے ہاں میں یہ نہیں کہتا کہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے البتہ کبھی ایسا ہوتا ہے۔

ٹھیک اسی طرح خداوند تعالیٰ اپنے بندوں کو ایسی چیزوں سے آزماتا ہے کہ جو انسان کو بہ ظاہر اچھی نہیں معلوم ہوتیں۔

چنانچہ ارشاد فرمایا:( و لنبلو نکم بشی من الخوف و الجوع و نقص من الاموال و الانفس و الثمرات و بشر الصبرین الدین اذا اصابتهم مصیبته قالوا انا لله و انا الیه راجعون )

کہ ہم ضرور تمہیں ایمان والو! آزمائیں گے کبھی خوف سے کبھی بھوک سے کبھی مالوں میں نقصان کردینے سے ‘ کبھی جانوں کے نقصان کے ذریعے سے کبھی پھلوں میں نقصان کردینے کے ذریعے سے لیکن جو آزمائش میں صابرین ہوتے ہیں ان کو خوشخبری دیجیئے کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ انا للہ و انا الیہ راجعون کہتے ہیں۔

امیر المومنین علی نے اس آیت کے ذیل میں ارشاد فرمایا:انا لله دلیل علی ملکه تعالیٰ و انا الیه راجعون دلیل علی هلاک الانسان کہ پہلا فقرہ انا للہ دلیل ہے اس امر پر کہ ہم کہتے ہیں کہ الہی تو ہمارا مالک ہے۔

پس ثابت ہوا کہ ہم مملوک ہوئے اور وہ مالک ہوا اور جب ہم ملوک ہوئے تو غلام کے لیے وہ ہی مناسب ہے جو آقا کا منشاء ہو۔ اس لیے وہ کہتا ہے کہ ہم تیرے لیے ہی ہیں۔

اور دوسرے فقرہ میں دلیل اس امر کی ہے کہ انسان اقرار کرتا ہے کہ ہم ہلاک ہونے والے ہیں اور اس کو ان الفاظ سے ادا کرتا ہے کہ ہم تیری ہی طرف لوٹنے والے ہیں۔

پس مصیبت کے وقت یہ دو نوں چیزیں صبر سکھلاتی ہیں۔ اول یہ کہ وہ مالک ہے تو مالک کبھی ظلم نہ کریگا اس لیے کہ وہ حکیم ہے۔ دوم یہ کہ اس کی طرف ہی بازگشت ہے اور جب یہ ہے تو پھر جو کچھ ہو رہا ہے اس کی منشاء کے مطابس ہو رہا ہے لہذا وہ بالکل ٹھیک ہو رہا ہے۔

اسی لیے پروردگار عالم نے فرمایا ولنبلونکم کہ ہم آزمائش کرتے ہیں۔

او رجہاں تک میرے بزرگو! میں سمجھا ہوں یہ آزمائش مومنین کے ساتھ مخصوص ہے یہ مصائب آتے ہیں۔ قسم قسم کی بیماریاں آتی ہیں ان کا کبھی تو کوئی مادی سبب ہوتا ہے لیکن کبھی یہ انتقامی حیثیت سے آتی ہیں مثلاً کسی کو کسی نے ناحق سنایا ہے۔ اس کی فریاد یا دعا باب اجابت تک پہنچ گئی لہذا مظلوم کا دل ٹھنڈا کرنے کے لیے قدرت کے حکم سے اسے ابتلاء میں ڈالا یا تکلیف میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔

اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ امتحان کے لیے اسے متبلا کردیا جاتا ہے۔ پروردگار عالم کسی کا امتحان لیتے ہیں لہذا اسے آزمائش میں ڈالتے ہیں تاکہ اس کی سمجھ میں آجائے کہ جو کچھ انسان سمجھ رہاہے وہ نہیں ہے بلکہ حقیقت اور ہے۔

مثلاً ایک شخص جھاد کے لیے لوگوں کو بلاتا ہے کہ لوگو! گھروں سے نکلو اور میدان جنگ میں آکر جان دے دو۔ گویا وہ سمجھ رہاہوتا ہے۔کہ میں لڑوں گا اور پائے ثبات سے لڑوں گا اور خدائی بارگاہ میں بڑی قدر ہوگی۔ تو پروردگار عالم کہتا ہے اچھا آؤ میدان میں‘ وہاں معلوم ہو جائے گا کہ کون ہے جو ایمان میں کامل ہے اور سچائی کے ساتھ جان دیتا ہے اور کون ہے جو منافق ہے اور جان دینے سے جی چراتا ہے۔

چنانچہ قرآن پاک میں ارشاد فرمایا( و ماصابکم یوم التفی الجمعن فباذن الله و لیعلم الذین نافقوا ) کہ جس دن مسلمانوں اور کافروں کی دونوں جماعت آپس میں بھڑیں تھیں سو حکم الہی سے وہ ملی تھیں اور اس لیے انہیں ملایا گیا تھا کہ پتہ لگ جائے کہ آج مومن کون ہے اور منافق کون ہے؟

بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو وعدہ کرتے ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم لڑیں گے۔ لیکن میدان جنگ کی مصیبتوں کو دیکھ کر ثابت قدم رہنا اور چیز ہے اور محض گھر میں بیٹھ کر خیال کا جمانا اور چیز ہے۔

پس بزرگو! میں یہ عرض کر رہا تھا کہ کبھی امتحان اس اعتبار سے ہوتا ہے۔

آپ آیت سن کر یہ اعتراض نہ کریں کہ وہ تو علیم ہے اور جانتا ہے پھر ضرورت کیا پڑتی ہے کہ معلوم کیا جائے کون منافق ہے او رکون مومن ہے؟ اس سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ ایسا کرنے سے خدا تعالیٰ کو پتہ چل جاتا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کو دھوکہ ہوتا ہے اور وہ دراصل جھوٹے ہوتے ہیں انہیں پتہ چل جاتا ہے کہ کن کا اقرار ایمان کے مطابق صحیح تھا اور کون منافقانہ طور پر وعدہ کررہے تھے پس مصائب میں مبتلا کرنے کی ایک حیثیت امتحان لیناہوتی ہے۔

اور دوسری حیثیت یہ ہے کہ پروردگار عالم چاہتا ہے کہ کسی کے درجات بلند کرے لہذا وہ کسی نہ کسی مصیبت میں ڈالتا ہے تاکہ انسان صبر کرے اور صبر کے سبب اس کے درجات بلند ہو جائیں۔

دربار رسالت میں ایک شخص آیا اور عرض کیا ”یارسول اللہ! میں خدا تعالیٰ کو دوست رکھتا ہوں۔ ارشاد فرمایا: اعد للفقر کہ تب فقیری یعنی محتاجی کے لیے تیار ہو جا۔ اس نے عرض کیا حضور! آپ کو بھی دوست رکھتا ہوں۔ حضور نے ارشاد فرمایا: اعد لبلاء کہ پھر بلاؤں کے لیے یعنی امتحان کے لیے تیار ہو جاؤ۔

میرے بزرگو! میں آپ کے سامنے واضح کررہاہوں کہ دین اللہ کا مطلب کیا ہے؟ ابھی اس کے معانی پیش کرنے باقی ہیں کہ وہ اصولی چیزیں دین اللہ میں کیا ہیں؟ جن کے متعلق پروردگار عالم فرماتا ہے کہ

افغیردین الله یبغون وله اسلم من فی السمٰوت والارض طوعا وکرهأوالیه یرجعون

کہ کیا پس سوائے دین اللہ کے کسی اور کو چاہتے ہیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے باشندے اس کے سامنے اپنے سروں کو جھکائے ہوئے ہیں خوشی سے‘ یا جبرا وکراہ سے اور اسکی طرف سب کی بازگشت ہے۔

پس چاہتاہو ں کہ عرض کردوں کہ وہ دین اللہ کیا ہے؟ اور وہ خدا تعالیٰ کی تربیت ہے جس کے سبب چاہتا ہے کہ انسان کو کامل کردے۔

پروردگار کی تربیت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک اضطراری جو انتقامی یا امتحانی حیثیت رکھتی ہے اور اس کا علاج دواؤں سے نہیں ہوسکتا جب تک کہ انتقام ختم نہ ہو جائے یا وہ تو نہ کرلے ایسی توبہ کہ جو قابل قبول ہو۔ اس وقت تک ہزار دوا کرلو کبھی فائدہ نہ ہوگا جب تک کہ امتحان باقی ہوگا۔

دوائیں صرف ان بیماریوں میں مفید ہیں جو مادی اسباب کے ماتحت آتی ہیں اور چونکہ انسان نہیں چانتا کہ کس مادی سبب سے مرض آتا ے اس لیے علاج کو رسالت مآب نے سنت قرار دیا۔ ورنہ محض صبر کرتے رہنا درست نہیں ہے۔ لیکن بعض مصائب یا بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن کا سبب مادی نہیں ہوتا اور اسی طرف اشارہ فرمایا ہے اس آیت کریمہ میں و لو بسط اللہ الرزق علی عبادہ لبغوا فی الارض کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم لوگوں کو فقیر بنا دیتے ہیں اور اگر تمام بندوں پر خدا تعالیٰ رزق کو فراخ کردیتا تو وہ زمین پر بغاوت اور سرکشی شروع کردیتے۔ اس لیے بعض دفعہ فقیری‘ مصیبت وغیرہ حکم الہی سے اسی پروردگار عالم کی طرف سے واقع ہوتی ہے اور یہ بھی در حقیقت ایک قسم کی تربیت ہوتی ہے اور یہ وہ تربیت ہے جو اختیاری نہیں ہوتی بلکہ اضطراری ہوتی ہے۔

مثلاً ایک شخص اگر مفلس پیدا ہوا ہے تو کیا اس کا کچھ احتیار تھا جو مالدار کے گھر پیدا ہوتا اور مفلس نہ ہوتا؟

دوسری قسم ربوبیت کی وہ ہے جو اختیاری کہلاتی ہے اور یہ وہ ہے کہ پروردگار عالم نے ہم کو بتلا دیا کہ فلاں کام کرو اور فلاں کام نہ کرو۔ اگر یہ تربیت اختیاری نہ ہوتی تو انسان کرنے پر نہ قابل مدح ہوتا اور نہ برا کرنے پر قابل مذمت ہوتا۔ اگر کسی نے چوری کی تو اسی وقت وہ قابل مذمت ہے کہ اس نے اختیار سے چوری کی علی ہذا اس نے اچھاکام کیا تو اس لیے قابل مدح ہے کہ اس نے اختیار سے اس اچھے کام کو کیا۔اس دنیا میں مسلمانوں کے ۷۳ فرقے ہوگئے اس لیے لوگوں کو اصول وضع کرنے پڑے ایک اصول آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ مذہب اہل بیت یہ ہے کہ حسن و قبح ہر شئے کی ذات میں موجود ہے‘ ایک شئے اچھی ہے اس لیے اچھی ہے کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے اچھی ہے۔ اسی طرح جو بری ہے وہ اپنی ذات کے اعتبار سے بری ہے مثلاً جھوٹ بولنا محض اس لیے ہی برا نہیں کہ شریعت نے اسے برا کہا ہے یا سچ کہتا اچھا صرف اسی لیے نہیں ہے کہ شریعت نے کہا ہے کہ سچ اچھی چیز ہے بلکہ جھوٹ در حقیقت برا ہے اور سچ حقیقتا ہی اچھا ہے۔

پس حقیقت ان اشیاء کے حسن و قبح کی عقلی ہے نہ فطری۔

انبیاء کرام صرف اس واسطے آتے ہیں کہ وہ ظاہر کردیتے ہیں کہ کونسی چیز اچھی ہے اور کونسی بری ہے۔

اور بزرگوں کو اصول بنانا پڑا کہ ”کلی حکم به العقل حکم باالشرع و کلی حکم بالشرع حکم بالعقل

کہ جس چیز کا حکم عقلنے جس طرح دیا شرع نے بھی اسی طرح اس کا حکم جاری فرمایا اور جس طرح شرع شریف نے کوئی حکم دیا اسی طرح عقل نے بھی ویسا ہی حکم جاری کیا۔

گویا عقل و شرع ایک ہی ماں کو گود میں پلے ہیں جو اس کا حکم ہے وہی اس کا حکم ہے۔

چونکہ اشیاء کا حسن و قبح عقلی ہے لہذا یہ نہیں کہہ سکتے کہ جھوٹ کے عوض خدا تعالیٰ جنت دے گا اور سچ بولنے کے عوض جھنم میں ڈال دے گا۔

اسی طرح جو کہتے ہیں کہ کسی نا حق کہتے ہیں برائی نہیں یا یہ کہتے ہیں کہ کوئی برائی جیسے جھوٹ اصل میں بری نہیں بلکہ چونکہ شریعت نے اسے برا کہا ہے لہذا جھوٹ برا ہے‘ پس ان لوگوں کو کہنا پڑے گا کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جھوٹا جنت میں چلا جائے گا یا سچا جھنم میں چلا جائے گا۔

حالانکہ ایسا نہی ں ہے۔

میں دوبارہ عرض کرتا ہوں کہ کسی بچے سے بھی آپ پوچھیں کہ جھوٹ بولنا اچھا ہے یا سچ بولنا اچھا ہے؟ تو وہ بچہ بھی کبھی نہ کہے گا کہ جھوٹ بولنا اچھا ہے۔

آپ ایک بچے سے ایک کھلونا جس کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی ہے اچھا ہے یا وہ کھلونا اچھا ہے جو درست ٹانگ والا ہے؟ تو آپ دیکھیں گے کہ بچہ اسی کو اچھا کہے گا جو درست ہوگا۔

الغرض یہ نہایت واضح امر ہے۔

پس کچھ چیزیں اختیاری ہیں انسان کو ان میں اختیار دے دیا گیا اور وہ کون سی چیزیں ہیں؟ وہ چیزیں اصول دین اور فروع دین ہیں۔

دراصل آج کا مضمون اب شروع ہورہا ہے کہ جن باتوں میں پروردگار عالم نے انسان کو اختیار بخشا ہے ان میں کچھ اصول دین ہیں اور کچھ فروع دین ہیں۔

آپ حضرات تھوڑی سی توجہ کے ساتھ سماعت فرمائیں تو مطلب بالکل واضح ہے اگرچہ کبھی مجبور ہوتا ہوں کہ مشکل الفاظ استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ لیکن انشاء اللہ اس مطلب کو آسانی کے ساتھ سمجھ جائیں گے۔

اس کے لیے ایک مختصر سی تقریر کی ضرورت ہے کہ عرض کردوں کہ اصول دین کیا ہیں؟ تھوڑی سی توجہ آپ فرمائیں تو بات بالکل مشکل نہیں ہے۔

کہ علم دو قسم کا ہوتا ہے۔ ۱ ۔ ایک وہ علم جس کا مقصود بالذات خود وہ ہی علم ہو۔ یعنی یہ کہ علم کا کیا مقصد ہے؟ خود اس علم کا حاصل کرنا ہے اور کچھ نہیں۔

پس ایک قسم تو وہ علم ہے کہ اس کے حاصل کرنے کا مقصد صرف علم ہوتا ہے۔ جیسے خدا تعالیٰ کی معرفت‘ تو معرفت الہی کا مقصد در حقیقت خود یہی معرفت ہے‘ یعنی اس کا مقصود بالذات معرفت کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ کیونکہ کائنات عالم کی غرض ہی یہی معرفت ہے۔

۲ ۔ دوسری قسم علم کی وہ ہے کہ اس کے حاصل کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس پر عمل کیا جائے۔ مثلاً دیکھیے سکول یا مدرسہ میں پڑھایاسکھایا جاتا ہے کہ نماز اس طرح سے کھڑے ہو کر پڑھی جاتی ہے پھر اس کے بعد رکوع اس طرح کیا جاتا ہے۔ علیٰ ہذا سجدہ اس طرح ادا کیا جاتا ہے۔ پس اس پڑھانے کا اصل مقصد یا غرض عمل ہوتا ہے۔

اور قائدہ سکیموں کا یہ ہے کہ اصل غرض افضل ہوتی ہے اس چیز سے جس کے ذریعہ وہ شئے حاصل کی جاتی ہے۔

مثلاً مجھے کعبہ شریف کے طواف کرنے جانا ہے تو یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا جب تک راستہ طے کرنے کے لیے گھوڑا‘ اونٹ یا کوئی دوسری سواری نہ خریدی یا حاصل کی جائے۔ یہ چیزیں جب خریدی گئیں تو ذریعہ بن گئیں حج کے ادا کرنے کا۔ تو یہ ذریعہ اصل مقصد سے افضل تھیں ہوسکتا یعنی حج سے۔

اور غور فرمائیں کہ میں مکان تیار کرتا ہوں کہ اس میں بال بچے رہیں گے تاکہ گرمی سردی سے بھی حفاظت ہوسکے۔ تو اس ضرورت کے لیے مکان ہے ورنہ اس کی ضرورت ہی نہیں۔ پس ثابت ہوا کہ مکان افضل نہیں بلکہ اس مکان سے وہ لوگ زیادہ افضل ہوں گے جن کے رہنے کے واسطے وہ مکان بنایا گیا ہے۔

پس ذریعہ پست ہوتا ہے اس چیز سے جس کے لیے ذریعہ مقرر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح علم حاصل کیا جاتا ہے عمل کے لیے تو اس عمل کے لیے جو علم وضع کیا جائے گا وہ عمل سے پست ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ اگر عمل نہیں ہے توعلم وبال ہے۔

اس تقریر سے مطلب یہ واضح ہوا کہ ۱ ۔ ایک وہ علم ہے جس کا حاصل کرنا خود متصود بالذات ہو۔ ۲ ۔ دوسرا وہ علم ہے جو عمل کے لیے حاصل کیا جائے۔

مثلاً ہم نے کوٹھے پر جانا ہے سیڑھی کے ذریعہ جانا ہے تو سیڑھی افضل نہ ہوگی بلکہ اصل شئے اوپر جانا ہے اوروہی افضل ہوگا۔

مجِھے یاد آگیا۔ افسوس کہ وقت بڑی جلدی سے گذر جاتا ہے۔ بعض لوگ استدلال کرتے ہیں کہ رسول ہم جیسے ہی ہیں۔ بہلا ان میں اور ہم باہم کیا زیادتی ہے؟ اس لیے کہ ایک شخص ہمارا محبوب ہے وہ پوسٹ مین کے ذریعہ خط بھیجتا ہے تو پوسٹ مین کسی طرح افضل نہیں اس طرح خدا تعالیٰ قرآن حضرت محمد مصطفیٰ کے ذریعہ بٍھیجا۔ تو پوسٹمین کی طرح آپ سے کیا غرض ہے۔ وہ خط پہنچا گئے اور پھر چلے گے۔

لیکن آہ! افسوس! ان لوگوں سے کوئی پوچھے کہ وہ جو تم کو خط بھیجتا ہے کیا وہ ایسی شئے تم کو لکھ کر بھیج سکتا ہے جو تمہاری سمجھ میں نہ آسکے؟ اگر ایسا کرے تووہ بھیجنے والا احمق ہوتا یا عاقل؟

اور اگر کوئی یہ کہے کہ ہم تو اس خط کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ تو پھر کیا یہ کہا جائے گا کہ بھیجنے والے نے یہ سمجھ کر بھیجا ہے کہ پڑھنے والے سمجھ ہی نہ سکیں۔

اور اگر کسی کو یہ دعویٰ ہو کہ ہم خدا کے لکھے خط (قرآن) کو از خود سمجھ سکتے ہیں تو یہ دعویٰ پیش کرنے والوں کو میدان میں آکر ثابت کرنا چاہیے۔

عام طور پر آیت کریم سورہ ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من ذکرہ کو پیش کیا جاتا ہے کہ بروئے قرآن قرآن پاک آسان کتاب ہے۔

لیکن کوئی جاھل صرف عربی کے حروف پہچان لے اور کہے کہ میں قرآن کو سمجھ گیا‘ اور اگر نہ سمجھا تو معاذ اللہ قرآن غلط قرار دیا جائے گا یا یہ کہا جائے گا کہ خداتعالیٰ نے غلطی کی۔ یا کہنے والا دیوانہ سمجھا جائے گا۔

حالانکہ قرآن پاک آسان اس صورت میں ہے جب وہ صاحب قرآن کی زبان سے سمجھا جائے جیسا کہ ارشاد خداوند تعالیٰ ہے انما یسرناہبلسانک کہ قرآن پاک کو ہم نے حضور کی زبان سے آسان کیا ہے۔ یعنی آپ کی زبان سے آسانی ہے آپ سمجھا دو گے تو آسان ورنہ ٹیڑھے دل ہو جائیں گے۔

اسی لیے ارشاد فرمایا:فاما لذین فی قلوبهم زیغ فیتبعون ماتشابه منه ابتغاء الفتنة ۔ تو قرآن پاک آسان ہے لیکن حضور کی زبان کے ذریعہ آسان ہے۔ ورنہ اسی کلام میں متشابھات بھی تو ہیں۔ اگر اہل اسلام اسے نہ سمجھیں گے تو غلطی کریں گے اور کفر تک پہنچ جائیں گے۔

احکام قرآن دو قسم ہیں محکمات و متشابھات۔

سورة العمران میں پہلے رکوع کے اندر ارشاد فرمایا( هو الذی انزل الیک الکتاب منه آیت محکمات هن ام الکتب و اخر متشابهات فاما الذین فی قلوبهم زیغ فیتبعون ماتشابه منه ابتغاء الفتنة وابتغاء تاویله و ما یعلم تأویلة الا الله و الراسخون فی العلم یقولون کل و ما یذکر الا اولواالباب )

ماحصل کلام باری کایہ ہے کہ وہ ہی ذات جس نے تیری طرف کتاب اللہ اتاری جس کی بعض آیات محکم ہیں جو سامنے آتے ہی سمجھ میں آجائیں اور کچھ آیات وہ ہیں جو متشابہ ہیں۔ یعنی وہ کہ آپ کچھ کہیں میں کچھ کہوں۔ محکم تو بالکل واضح ہیں لیکن متشابہ کی وضاحت نہیں۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے‘ متشابہ میں غور کرنے والوں کے دل ٹیڑھے ہوتے ہیں تا آنکہ ایمان پر بھی نہ رہے گا۔

اھل اسلام بلند آواز سے کہتا ہوں‘ سن لو اس اعتبار سے مجھے جواب دو۔ کوئی حدیث جناب رسالت مآب لے آؤ کہ جس سے ثابت ہو جائے کہ آپ فرما دیا کہ قرآن میں فلان آیتیں محکمات ہیں اور فلاں آیتیں متشابھات کوئی صاحب آئے اور ایسی حدیث لے آئے کم از کم میں لکھ دوں گا کہ میں ان صاحب کا شاگرد بن جاؤں گا۔ البتہ یہ نہ مانوں گا کہ فلاں مفسر نے کہا کہ یہ ہوگا حضور کے فرمان سے اور یہ بھی نہ مان لیتا اگر کسی ایک مفسر کا قول ہوتا اس بارے میں سولہ اقوال ہیں۔ کسی مفسر نے اوامر کو محکم کہا ہے باقی تمام آیات کو متشابہ مانا ہے اور پھر اوامر میں بھی اختلاف ہوا حتی کہ آج تک طے نہ ہوسکا کہ کون سی آیت واقعی محکم ہے اور کون سی متشابہ۔

آج کوغیر مسلم پوچھ لے کہ قرآن کہتا ہے کہ کچھ آیات محکم اور کچھ متشابہات اور جن کا دل ٹیڑھا ہوتا ہے وہ متشابہات میں ہیں غور کرتے ہیں لیکن اس قدر تو بتلادیا ہوتا کہ یہ محکم کون سی آیات ہیں اور متشابہات کون سی؟

پس نہ جناب سالت مآب کی حدیث‘ نہ قرآن کی کوئی آیت جو اس مسئلہ کو بتائے‘ کس مصیبت میں ہم پھنس گئے۔ کیا عالم مصیبت ہے جو طاری ہے کہ کون سی آیت محکم اور کون سی متشابہ؟

البتہ ایک بات رہ جاتی ہے کہ آیا یہ مصیبت ہمارے لیے ہی ہے یا رسول کریم کے لیے بھی ہے؟ معاذ اللہ اگر حضور بھی نہ جانتے تھے تو میں ضرور عرض کروں کہ پروردگار عالم کو ان آیتوں کے اتارنے کی ضرورت ہی کیا تھی جو رسول بھی نہ سمجھ سکیں اور بالفرض رسول بھی نہ سمجھے تو اور کون دعویٰ کرسکتا ہے کہ میں سمجھا۔

میں اس موضوع پر بحث نہیں کرنا چاہتا بلکہ صرف یہ عرض کررہا تھا کہ جو لوگ اس امر کے قائل ہیں کہ و ما یعلم تاویلہ الا اللہ کہ متشابہ کی تاویل اللہ کے سوا کوی نہیں جانتا۔ تو رسول اللہ جب نہیں جانتے تو دوسرے بھی نہیں جانتے۔

مصر میں ایک کتاب ”وحی محمدی“ لکھی گئی ہے جو ایک تفسیر کا مقدمہ ہے اس میں لکھا ہے کہ کوئی شخص کسی کو ایسی چیز سکھاتا ہے جس کے متعلق وہ جانتا ہے کہ سیکھنے والا سمجھ نہ سکے گا تو ایسا شخص یقیناً پاگل ہے۔ تو معاذ اللہ جب ایسا لفظ کوئی اپنے لیے استعمال نہیں کرسکتا تو خدا تعالیٰ ایسا کرکے کیسے اپنے آپ کو (معاذاللہ) پاگل کہلا سکے گا۔

پس ماننا پڑے گا کہ رسول اللہ متشابہات کو اچھی طرح جانتے تھیاور جب یہ مان لیا جائے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ علم میں رساخ یعنی بڑے پکے لوگ بھی جانتے تھے جو زمین علم میں پیدا کئے گئے تھے۔

اب سوال یہ سامنے آئے گا کہ پیش کیا جائے کہ کوئی ہے راسخین فی العلم میں سے۔ دوسرے لوگ تو یہ بھی نہ سمجھ سکے کہ ۴ رکعت کون سی آیت سے ثابت ہوتی ہے؟

پس علم بھی دو طرح کے ہیں۔ ۱ ۔ جس کی غرض خود وہ علم ہو۔ ۲ ۔ جس کی غرض عمل ہو اور یہی وہ علم ہے جسے فروع دین کہتے ہیں اور پہلا علم کہ جس کے حاصل کرنا مقصود بالذات ہے۔ وہ اصول دین کہلاتا ہے۔

فروع دین کا تعلق عمل سے ہے اور عمل کرانے کے واسطے یہ علم درکار ہوتا ہے۔

۱ ۔ اور دوسرا علم اصول دین وہ ہے کہ اس کے حاصل کرنا خود اصل غرض اور مقصود ہے اس کی مثال عرض کرتا ہوں جیسے ہم پروردگار عالم کی معرفت حاصل کرتے ہیں کہ وہ موجود ہے۔ اس کی صفات یہ ہیں۔ تو یہ علم محض علم کے لیے ہے علم کے لیے نہیں ہے۔ مثلاً خدا ہے تو بے شک ہے یہ جاننا ہی کافی ہے اس کے ساتھ کسی عمل کی ضرورت نہیں چونکہ معرفت الہی خود کمال ہے تو اس کا جاننا بھی خود ایک مقصد ہے۔

پس ہم نے خدا تعالیٰ کو جاننا ہے کہ وہ پروردگار ہے اور اس نے عقل دے کر انسان کو پیدا کیا خود خدا تو کبھی آکربات نہیں کرتا حتی کہ وہ خواب میں بھی آکر بات نہیں کرتا۔

حضرت امام سے کسی نے کہا کہ ”میں نے خدا تعالیٰ کو خواب میں دیکھا“ حضور نے فرمایا کہ وہ کافر ہے۔ اس لیے کہ وہ قابلیت ہی نہیں رکھتا خواب میں اگر آجائے تو وہ خدا نہیں ہے۔ شیطان ہے‘ اسی طرح کلام الہی کے سننے کے واسطے موسیٰ علیہ السلام کی طرح قابلیت کی ضرورت ہے۔

تو میں آپ کے سامنے واضح کررہا ہوں کہ ہماری پیدائش کی غرض ہے تکمیل۔ اس لیے ضرورت تھی کہ وہ انبیاء کو بھیجے۔

سو یہ معرفت بھی مقصود بالذات ہے۔ اس لیے توحید کے بعد رسات بھی اصول دین میں شامل ہوگئی۔

۲ ۔ انبیاء آئے۔ انہوں نے تعلیم دی۔ احکام سکھائے انہوں نے دین کی عمارت بنائی اور اسے محفوظ رکھنے کے لیے سپرد کردیا۔ ایک عمارت جب بنائی جاتی ہے تو اس کی حفاظت کی بھی ضرورت ہے یا نہیں؟ پس فرض ہوا کہ رسول کے بعد کوئی اس کے دین کا محافظ بھی ہو۔

۳ ۔ اس لیے اصول دین میں ”امام کی معرفت“ یا امامت بھی شامل ہونا لازمی ہوگیا۔

۴ ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہم کو اختیار دیا کہ اچھے کام کریں تو کوئی دن ضرور ہوگا کہ اس میں بدلہ پایا جائے گا اسی کو قیامت کہتے ہیں۔ اس لیے یہ بھی اصول دین میں سے مقرر ہوگیا۔

۵ ۔ اور چونکہ عدل ضروری تھا۔ بعض نے عدل کا انکار کیا تھا اس واسطے ہم نے عدالت کوبھیاصول دین میں داخل کرکے پیش کیا۔

ورنہ اصل مقصود بالذات اصول تین ہی تھے۔ ۱ ۔ معرفت خدا توحید

۲ ۔ معرفت نبی نبوت

۳ ۔ معرفت امام امامت

عمارت دین کی حفاظت ہر شخص نہیں کرسکتا پس جاننا ضروری ہے کہ اس کی حفاظت کون کرسکتا ہے؟ اسی کا نامعرفت امام ہے۔

آپ غور کریں کہ جس گھر میں سب ہی بڑے ہوں تو چند دنوں میں اس کی تباہی ضروری ہے لہذا لازمی ہوا کہ ایک علاقہ کے انتظام کے واسطے ایک چودھری ہو۔ اسی طرح ضلع کے انتظام کے واسطے ضروری ہے کہ اس کے ایک صاحب ضلع ہو۔ ورنہ ڈاکے پڑیں گے چور ڈاکو آرام نہ لینے دیں گے۔

پھر اگر دو چودھری ہوں گے یا دو ضلع کے مالک ہوں گے تب بھی فسادات ہوں گے۔

جھاں کہیں ایک بڑا نہ ہوا وہاں طوائف الملوکی پھیل گئی۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیں عرب کے اندر اسلام کے آنے سے پہلے ایک حاکم نہ تھا‘ ۳‘۳ پشت تک‘ لڑائیاں جاری رہیں اور صرف ایک اونٹ کے سبب پہلی لڑائی جاری ہوئی۔ ایک بسوسی کے کھیت میں کسی کے اونٹ نے قدم جارکھا۔ جس کے نیچے شتر مرغ کے انڈے ٹوٹ گئے محافظ کھیت نے فریادکی کہ میری بے عزتی ہوگئی ایک پناہ گزین نے میری کھیت میں انڈے دیئے تھے اس سے بڑھ کر مییر کیا بے عزتی ہوگی کہ اس کے انڈے اونٹ نے ضائع کر دیئے۔ قبیلہ والے تلواریں لے کر باہر نکل آئے کہ واقعی ایک حیوان پر ظلم ہوگیا۔

حضرات! دعوت فکر دے رہا ہوں آپ اس حیثیت سے سنیں کہ آیا یہ واقعہ صحیح ہے یا نہیں؟

عورت کی ایک شکایت پر قبیلہ والے نکل آئے‘ اونٹ کے پاؤں ہی کاٹ ڈالا‘ اونٹ والا بگڑا جس کے ہاں ٹھہرا جارکر فریادکی۔ اس نے اپنے قبیلہ کے سامنے فریاد کی کہ میرے مہمان کی بے عزتی ہوگئی۔

پس لڑائی ہونے لگی۔ حتی کہ خود قسم کھا کھا کر سروں پر رکھ رہے تھے کہ یہ نہ اتارے جائیں جب تک انتقال نہ لیا جائے گا۔ ایک پشت نے یہ جنگ کی اور گذر گئی۔ دوسری پشت بھی گذر گئی۔ تا آنکہ تیسری پشت میں سے کچھ لوگوں نے یہ جنگ ختم کی۔

آخر اس خونریزی کا کیا سبب تھا؟ سبب یہ تھا کہ ان میں ایک رئیس اعلیٰ نہ تھا پس جہاں ایک رئیس ہوگا وہاں لڑائی نہ ہوگی۔

پس اسی طرح اگر کوئی ملک ہے وہاں بھی رئیس مملکت کی ضرورت ہے اور وہ رئیس مملک تایک ہونا چاہیے ورنہ اگر چند ہوں گے تو ضرور آپس میں لڑیں گے۔

ٹھیک اسی طرح اس تمام نظام عالم کا قیام بھی صرف اسی وقت باقی رہ سکتا ہے کہ جب اس کا ایک ناظم یا بادشاہہو۔

یہی سب ہے کہ آج بادشاہاں آپس میں برسرپیکار ہیں۔ امن و سکون ندارد ہر وقت جنگ کے خطرات کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ اس لیے امن و امان تب قائم ہوگا جب وہ آئے گا کہ تمام عالم اس کے قبضے میں ہوگا اور وہ بملو الارض قسطاً و عدلاً امن و انصاف سے عالم کو بھر دے گا اور آج ساری دنیا کو اس کا انتظار ہے۔

پس میں سمجھانا چاہتا تھا کہ ایک رئیس حکام کی ضرورت ہے جس کی اطاعت فرض ہوگی۔ اگر کئی ہوں گے اور ایک رئیس نے الگ دستور و قانون بنا لیا۔ دوسرے نے علیحدہ ضابطہ اور نظم قائم یا بس اس طرح نظام درھم برھم رہے گا۔

اس لیے نظم تب ہی قائم ہوگا جب خداوند عالم ان کی طرف حقیقی ناظم بھیجے گا۔ یہ ہیں وجود جن کی بناء پر ایک امام کی ضرورت پڑتی ہے۔

ابتداء عالم سے یہ نظم خداوند نے نبی وقت سے سپرد کیا ۔ جب ایک نبی چلا گیا تو دوسرا آیا جو یا اسی نظم پر چلے گا یا زمانہ کے اعتبار سے اور نظم لائے گا۔ یہ سلسلہ رسالت مآب تک پہنچے گا۔

اور جب خاتم رسالت بھی آگئے تو ضروری ہوا کہ وہ ایسا نظم پیش کریں جو اس قدر کامل و مکمل ہو کہ قیامت تک وہ محفوظ رہے۔

اسی لیے یہ اصل ثابت ماننی پڑی کہ ارشاد فرمایاحلال محمد حلا لالی یوم القیامة و حرام محمد حرام الی یوم القیامة ۔ ترجمہ: کہ جو رسالت مآب حلال کرگئے وہ ہی قیامت تک حلال اور جو آپ حرام کہہ گئے وہ قیامت تک حرام ہوگیا۔

پس سور کو آپ نے حرام کہا۔ خواہ کس قدرشوق کے ساتھ کھانے والے نکل آئیں وہ قیامت تک حرام ہی رہے گا شراب آپ نے حرام قرار دی۔ پس قیامت تک وہ حرام ہوگئی۔ خواہ پینے والے کتنے ذوق کے ساتھ اسے پیا کریں۔

پس جو سرکار لائے وہ قیامت تک کے واسطے فرض ہوگیا۔ حضور کا نظم قیامت تک کے لیے ہے اس کا انکارکیا ہی نہیں جاسکتا۔

اب آپ سے ایک بات از روئے غور و فکر پوچھتا ہوں کہ رسالت مآب کے تشریف لے جانے کے بعد مذہب بدل جائے گا یا بعینہ وہی رہے گا جو حضور لائے تھے؟

مسلمان یہی جواب دیں گے کہ بعینہ وہی رہے گا اور کوئی مذہب اس کے سوا نہ آئے گا ایک مسلمان بچہ بھی اس بات کے خلاف نہیں کہہ سکے گا۔

ہاں ثابت ہوا کہ وہی مذہب صحیح اور ٹھیک ہوگا جو بالکل اس مذہب کے مطابق ہو جو حضور پیغمبر خدا لائے تھے۔

دوسرا سوال جو قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ انسانوں میں اس صحیح مذہب کو نافذ کرنے کے لیے یا اس پر عمل کرنے کے لیے یا اسے باقی رکھنے کے لیے ایسے شخص کی ضرورت نہیں جو اسے نافذ کرنے یا عمل کرائے اور وہ اس مذہب کو کامل اور صحیح طور پر جانتا ہو؟ وہ تمام مذہب سے واقفیت تام رکھتا ہو؟

ہر عقل مند اور مسلمان ان سوالوں کا یہی جواب دے گا کہ یقیناً دین اسلام کو قائم رکھِنے کے لیے صرف اس شخص کی ضرورت ہوگی جو ۱۰۰ میں سے ۱۰۰ درجے ہی جانتا ہو اور وہ مذھب کو کلیةً اور جزیةً پوری طرح جانتاہو اور وہ شخص ہرگز مذھب کو قائم نہ رکھ سکے گا جو ۱۰۰ میں پچاس یا کچھ جانتا ہو اور پچاس یا کچھ نہ جانتا ہے۔

مسلمانوں کے نزدیک ممکن ہے اور لوگ بھی ہوں گے لیکن میں وہ شخص آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتاہوں کہ جن کے متعلق نبی نے خود فیصلہ فرما دیا اور وہ ہیں جن کے حق میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اقضی کم علی کہ تم میں سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے (مولا) علی ہیں۔

بھائیو! اور بزرگو! ایک بات خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ رسالت مآب جب دنیا سے تشریف لے گئے لیکن جتنے مسائل تھے وہ سب کے سب مسائل تمام کو نہیں بتلا کر گئے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ سب کچھ کل عالم مبتلا کرگئے ہوں۔

پڑھالکھا آمدی اس حقیقت ناقابل انکار ہیں ذرہ بھر بھی شک نہ لائے گا ۔ ورنہ قیاس پر عمل کرنے کی ضرورت پڑے گی اور قیاس سے کام کسی طرح نہ چلے گا۔

حضرت امام جعفر صداق علیہ السلام کے پاس ایک شخص آیا جو قیاس پر عمل کرتا تھا۔ فرمایا: آپ نے کیا تو ایسا کرتا ہے؟ عرض کیا جی حضور! ارشاد فرمایا: کیا مطلب ہے اس آیت کریمہ سے و من دخلہ کان امنا داخل کہاں ہوا اور بے خوفی کا ہے سے ہوئی؟

اس نے جواب دیا: اس مقام سے مراد کعبہ ہے۔

آپ نے ارشاد فرمایا: اگر مقام امن کعبہ ہوا اور جو وہاں داخل ہوگیا وہ امن میں ہوگیا!

تو کیا یہ ہی کعبہ نہ تھا جہاں کتنے آدمی قتل کردیئے گئے؟ اور اگر بے خوفی سے مراد دنیا کی سزا سے بے خوفی مراد ہے تو یزید کی فوج نے عبد اللہ بن زبیر پر کعبہ میں چڑھائی نہیں کی تھی؟ اور خانہ کعبہ کاپردہ کیا جلایا نہ گیا تھا؟ اور کتنے ہی آدمی وہاں نہ مارے گئے تھے؟

اس نے کہا: حضور اس سے مراد یہ ہے کہ وہ آخرت کے عذاب سے محفوظ ہوگیا۔

امام نے ارشاد فرمایا: اگر کعبہ میں ایک عیسائی چلا جائے تو وہ آخرت کے عذاب سے کیا بے خوف ہو جائے گا؟

بالآخر اس شخص نے عرض کیا: حضور! پھر آپ سمجھا دیں کہ اس گھر سے کیا مراد ہے؟

او وہ کس طرح بے خوف ہوگا؟

ارشاد فرمایا: اس گھر سے مراد اہل بیت محمد ہیں اور اندر داخل ہونے والے لوگ ہیں جو ہم اہل بیت سے تمسک کرنے والے ہیں پس وہ لوگ یقیناً ہر طرح سے عذاب آخرت سے محفوظ اور بے خوف رہیں گے۔

پس سوالاً پِھر عرض کرناچاہتا ہوں کہ آپ خوب غور فرما ویں کہ رسول اللہ تمام لوگوں کو تمام چیزیں بیان کرکے نہ گئے تھے۔ اگر ایسا ہوتا تو آج تک جِھگڑے کبھی نہ ہوتے آج ایسے کئی مسائل ایسے ہیں کہ حدیثیں ان کے بارے میں نہیں ملتیں اور لوگ عقل و سوچ کے ساتھ غور و فکر کرتے ہوئے نکالتے ہیں۔

پس جس رسالت مآب سب چیزوں کو تمام سے جب بیان کرکے نہ گئے تھے تو جو باقی رہ گئے تھے یقیناً انمیرے کوئی ایسا ضرور ہوگا کہ جیسے سب کچھ مکمل طور پر آپ بتا سکھاگئے تھے۔ ورنہ اگر جو کچھ تو جانتا ہو اور کچھ نہ جانتا ہو تو لازم ماننا پڑے گا کہ ایسا آدمی مذھب حق سے بالضرور ناواقف ہوگا۔

پس وہ کون ہے جو تمام تر مذہب سے واقف تھا؟

آپ کو اختیار ہے کہ جسے چاہیں پیش کردیں۔ لیکن اگر ہم سے پوچھیں گے تو ہم ان ہی کو پیش کریں گے جن کے بارے میں رسول اللہ نے فرمایا: انا مدینة العلم و علی بابھا کہ میں علم الہی یا دین الہی کے علم کا شہر ہوں اور جناب امیر علی ابن ابی طالب اس کے دروازے ہیں۔

اس اعتبار سے ایک نیا مقدمہ ہے جسے پیش کرکے آج ختم کرنا چاہتا ہوں‘ جو آپ میرے حاضر ہیں وہ غور سے سنیں کہ صحیح بات پیش کرتا ہوں۔

حضور کیا یہ درست نہیں کہ ہمارے حالات رات و دن‘ صبح و شام بدلتے رہتے ہیں۔ صبح اور تھے شام کو اور ہوتے ہیں۔

پھر جب بیمار ہوگئے تو رنگ طبع اور ہے اور جو اچھے یعنی تندرست ہوگئے تو اور حال ہوتا ہے۔ جب بیمارہوئے تھے کہنے لگے تھے کہ جوا بڑی بری شے ہے اور رات ہوئی تو کرنے لگے توبہ‘ لیکن جب راضی اور تکڑے ہوگئے تو کہنے لگے ”یہاں کاہے کی توبہ آؤ ‘جوا تو اچھی شے ہے ذرا کھیل لو“

آپ اطباء اور ڈاکٹر صاحبان سے معلوم کرلیجئے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص کے مزاج میں بلغم ہو تو اس کی رائے کی کیفیت اور ہوتی ہے اور جب مزاج پر سیودا کا غلبہ ہو تو رائے کی کیفیت اور ہو جاتی ہے۔ پہلے طبیعت اس قدر ٹھنڈی تھی کہ اس پر کوئی بات اثر بھی نہیں کرتی تھی۔ کس نے ہزار گالی دی کوئی جواب ہی نہیں لیکن اگر مزاج پر صغراء کا غلبہ ہوگیا ہے تو فلاں نے ایک گالی دی اور ادھر ایک ہی طمانچہ ایسا رسید کر رہے ہیں کہ گدن توڑ کر رکھ رہتے ہیں۔ کوئی ہے جو بات بات پر لڑنے کو تیار ہے اور کوئی ہے جس کے سر پر جوتے پڑ رہے ہیں اور اسے کوئی خبر تک نہیں۔

منادی نے جہادکے لیے پکارا۔ بعض وہ تھے جو پہلے سے تیار بیٹھے تھے اور ایک وہ تھے کہ آواز سنتے ہی ایسی جگہ جا پہنچے کہ جہاں سے پتہ ہی نہ چل سکے کہ کہاں ہیں۔

آپ سورہ احزاب کو پڑھ لیجئے غزوہ خندق کا ذکر تازہ کرلیجئے‘ قرآن پاک اس کی حالت ان الفاظ میں ظاہر فرماتا ہے۔ فقدابتلی المومنین و زلزلوا زلزالا شدیدا کہ مومنوں کی پکی آزمائش کی گئی ان کی زمین قلب میں زلزلے یہ زلزلہ آئے لگا۔۔ و اذ بقول الذین فی قلوبھم مرض ما وعدنا اللہ ورسولہ الا غرور کہ حضور! وہ وقت یاد کیجئے کہ جب وہ لوگ کہ ان کے دلوں میں بیماری تھی کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے تو ہم سے فریب اور دھوکہ کیا۔

اذ قالت الطائفة… یقولون ان بیوتنا عورة و ماهی بعورة ان یریدون الا فراراه کہ جب ایک گروہ نے ان میں سے یہ کہہ کر حضور سے اجازتیں یعنی شروع کردی تھیں کہ حضور ہمارے گھر بار خالی اور غیر محفوظ پڑے ہیں‘ حالانکہ وہ قطعاً ایسے نہ تھے‘ ایسا کہنے سے ان لوگوں کا مقصد صرف بھاگنے کی راہ نکالنا تھا۔

لیکن ان ہی لوگوں کے مقابلے میں ایک وہ بھی تھے کہ اگر دنیا کے پہاڑ ان پر آ ٹوٹیں تو بھی ان آباء ثبات میں لغزش نہ آئے۔

پس مزاج انسانی خواہشات کے ماتحت ہوتا ہے اور خواہشات اگر بدل گئیں تو میری رائے کچھ ہوگی اور آپ کی رائے کچھ ہوگی۔

ضلع گجرانوالہ میں ایک صاحب تھے جو ہمیشہ رونے کو بدعت کہا کرتے تھے اور اس عمل کو بڑی سخت قسم کی بدعت کہ کر بری طرح سے رد فرمایا کرتے تھے۔

اتفاقاً خداوند تعالیٰ نے ان کو بیٹا عطا فرما دیا۔ جو ان کی تمام ترامیدوں کا مرجع بن گیا تقدیر الہی سے اچانک وہ بیمار پڑگیا‘ بیماری نے طول کھینچی اور وہ بچہ مرگیا‘ اب ان صاحب پر کوئی وقت ایسا نہ گذرتا تھا جس میں وہ رونے سے باز رہتے ہوں۔ بیوی کا حال بھی یہی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہی رونے لگتے ہیں۔ کبھی بچہ کے کپڑوں پر نظر پڑگئی تو رونے لگتے ہیں ‘کبھی بیٹے کا جھولا نظر آگیا تو رونا شروع کردیا۔

اتفاق کے ساتھ ایک درست کے پاس ان کا گذر ہوا۔ مجمع دیکھا۔ پوچھا کیا بات ہے۔ کہا گیا کہ مجلس ہورہی ہے۔ آپ بھی تشریف لے چلئے۔ مجلس میں پہنچے‘ اتفاق سے ذاکر صاحب نے امام اصغر علی علیہ السلام کا واقعہ بیان کرنا شروع کیا۔ لوگوں نے تو خیر رونا ہی تھی لیکن ان صاحب کاحالیہ تھا کہ مجلس ختم بھی ہو چکی ہے تمام لوگ جا بھی چکے ہیں اور یہ ہیں جو برابر روئے جارہے ہیں۔ آج رات ان صاحب کو یقین ہوا کہ اوہو! یہ لوگ جو روتے ہیں یقیناً ان کے رونے کو بدعت کہنا بالکل جھوٹ ہے۔

پس جب انسان کے اوپر پڑتی ہے تو یوں رائے بدلتی رہتی ہیں۔

لہذا حالات مزاج کی تبدیلی کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔

آپ اسی طرح اقلیم اول والوں کا مزاج دیکھیں وہ اور ہوگا اور اقلیم دوم الوں کا اور ہوگا اور سوم و چھارم والوں کا اور ہوگا۔

اسی طرح بچپنے میں اور رائے ہتی ہے جوانی میں اور رائے‘ بڑھاپے میں اور رائے ہوتی ہے۔ وہی جو ایک وقت خود ایک کام کیا کرتے تھے آج بوڑھے ہو کر بچوں کو کہہ رہے ہیں سمجھا رہے ہیں کہ ”یہاں ہم لوگ تجربہ کار ہیں ہم سے سیکھ لو۔ ایسا نہ کرو‘ ایسا غلط ہے“ حالانکہ حضرت جب جوان تھے ایسا ہی کیا کرتے تھے۔

پس انسانوں کی رائیں بدلتی رہتی ہیں جب یہ مقدمہ آپ سمجھ چکے تو اب غور فرمائیے کہ اگر ہم میں سے کسی کے شریعت سپرد کردی جائے تو جس قدر اس کے حالات میں تغیّر آئے گا‘ اس قدر شریعت بھی بدلتی جائے گی۔

اور جب شریعت کسی ایسے انسان کے سپرد ہوئی کہ جس کی جوانی کا زمانہ بچپنے سے الگ نہ ہو اور جس کا بوڑھا یا جوانی سے علیحدہ نہ ہو تو ایسے کا نام ہماری اصطلاح میں ہوتا ہے معصوم۔

پس شریعت کی محافظت کا ذمہ دار صرف معصوم ہوگا اور اس کے سوا کوئی دوسرا نہ ہوگا۔

اس کی ہزاروں مثالیں ہیں۔

ابھی آپ نے سنا مثال میدان جنگ کی دی گئی تھی۔ ایک وہ لوگ تھے جو لڑنے کو جاتے تھے لیکن مزاج بھی ایک چیز ہے جاتے تو لڑنے کے خاال سے تھے لیکن آتے تھے تو بھاگ کر آتے تھے۔

بعض وہ لوگ ہوتے ہیں جو مرغی تک ذبح نہیں کرسکتے۔ بلکہ مرغی کو بذح ہوتے دیکھ نہیں سکتے۔ یہ درست ہے کہ آپ لوگ ایسے نہ ہوں گے لیکن یقیناً ایسے لوگ بھی ضرور ہوتے ہیں۔

قربانی جو عید قربان کے موقع پر کی جاتی ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی تو رکھا گیا ہے کہ قربانیخود ہاتھ سے کی جائے ہاتھ سے چھری کو پھیرا جائے۔ گویا کم سے کم سال بھر میں ایک مرتبہ تو چھری پھیر لیا کرو۔ تا کہ یہ عادت باقی رہے اور اگر ایسا نہ ہوگا تو جب بھی کافر سے لڑنا پڑے گا خون دیکھ ہی بے ہوش ہو جاؤ گے۔ جب ایسے آدمی نے سرکٹنا دیکھا‘ خون کا فوارہ پھوٹتا نظر آنے لگا‘ لاش گرتی دیکھی تو ایک وہ ہوں کہ ان کی راے پہلی نہ رہی جس کے رو سے وہ کہتے تھے کہ لڑنا اچھا ہوتا ہے۔ اب یہاں کہہ رہے ہیں کہ لڑنا اچھا ہی نہ تھا۔

یہ درست ہے کہ سب کے سب اس خیال سے نہیں بھاگتے تھے۔

میں متفقہ طور ثابت شدہ بات عرض کرتا ہوں بلند آواز سے کہہ کر سنانا چاہتا ہوں۔ تمام دنیا کو ہمشیہ سناتا رہا۔ صرف آج ہی نہیں سناتا‘ بلکہ دنیا اسے سنتی رہی اور مانتی رہی‘ البتہ ماننا اور بات ہے اور عمل کرنا اور بات ہے۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو عمل نہیں کرتے لیکن یہ بھی نہ سمجھ لینا کہ مان کر عمل ضرور ہوتا ہے بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو مان لینے کے بعد بھی بے عمل رہتے ہیں۔

ذرا سر اٹھا کر آپ بتادیں کہ کوئی ایسی جماعت بتا دی جائے جو اس جماعت سے بہتر اور اعلی ہو جو سیدنا امام حسین علیہ السلام لے کر آئے تھے کہ جب یزیدی فوج کی تلواریں جسم کو کاٹنے تو ان کی ہمت اور بڑھ رہی تھی۔ کبھی سنا آپ نے کہ ۷۲ تنوں میں سے کسی کا بھاگنا تو در کنار کبھی کسی نے تلوار کی طرف سے منہ بھی پھیرا؟

یہ آدمی امام حسین علیہ السلام کی محنت یا کمائی تھی جو اس قدر جان باز پیدا کرلیے۔ کیا کبھی خدا تعالیٰ کے نام پر خالصتاً جان دینے والے چشم فلک نے اتنے دیکھے جتنے سیدنا امام حسین علیہ السلام کے ساتھ تھے۔

کبھی یہ آیت اتر رہی تھی و یوم حنین اذ اعجبتکم کثرتکم۔ کہ جناب رسالت مآب نے بڑی لڑائیاں کیں مگر سب سے بڑی لڑائی جنگ حنین تھی اور مسلمان قریب قریب برابر تھے۔ اب تک تو کافر زیادہ رہا کرتے تھے۔ لیکن مسلمان اس جنگ میں سمجِھنے لگے کہ آج ضرور فتح ہوگی۔ جب پہلے کئی بار تھوڑے ہوتے ہوئے فتح یاب رہے۔ ارشاد باری: و لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرة و یوم حنین اذ اعجبتکم کثرتکم فلن تغن عنکم شیئا و مناقبت علیھم الارض بارجبت ثم و لیتم مدبرین۔ (پ۔ ۱۰‘ سورہ توبہ نمبر ۴)

کہ بے شک ایمان والو! اللہ نے تمہاری اکثر جگہ مدد کی‘ خاص طور پر حنین کے دن مدد کی۔ جبکہ تمہیں گھمنڈ ہوچکا تھا کہ ہماری آج کثرت ہے آج تو دشمن کو یقیناً شکست ہوے۔ لیکن جب وقت آپہنچا تو کسی شئے نے تم کو کچھ فائدہ نہ دیا۔ زمین باوجود فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی۔

تانکہ آحر کار تم بھاگ ہی گئے اور میرے رسول کو میدان میں چھوڑ کر ہی پھر کر چلے گئے۔

روایات کہتی ہیں کہ بدلے ہزار آدمی تھے اور جو باقی رہ گئے تھے وہ صرف ۹ تھے۔

ا سلیے کہ خدا کے نام پر جان اپنے والے ہمیشہ کی کم ہوتے ہیں۔ اپنی اغراض کے لیے لڑنا اور بات ہے اور خدا کے واسطے جان دینا اور بات ہے۔ گھر سے نکلنا اور بات ہے اور خدا کے نام پر مرنا اور بات ہے۔

تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ اس واقع میں آپ باقی تعداد کو دس سے بیس تک بھی نہ پہنچا سکیں گے اور بعض روایات کی رو سے تو صرف پانچ ہی حضور کے ساتھ رہ گئے تھے۔

حضرات! ایمانداری کے ساتھ فیصلہ کر لیجئے کہ ایسے لوگ لڑنے کے لیے نہیں بلکہ مرنے کے لیے جو گھر سے سیدنا امام حسین کے ساتھ نکلے تھے ان کی تعداد اس اعتبار سے کتنی زیادہ تھی۔

اور اصحاب امام کا کیا کمال تھا کہ ان برے بڈھے الگ نکلے‘ جوان تو جوان بچے بھی ساتھ نکلے۔ ان می ں ایسے بچے بھی تھے کہ جب ان سے کہا گیا کہ ”موت کو تم نے کیسے پایا؟“ تو جواب دیا: چچا موت کو شہد سے زیادہ شیریں پا رہا ہوں اس کے بعد اس نے تلواریں کھائیں اور زخموں سے چور ہوا۔ حتی کہ اتنے زخم کھائے کہ مسکرائے۔

اصحاب امام وہ تھے کہ گھر سے چلتے ہوقت ان سے پوچھا گیا تھا کہ ساتھ کوں چلتے ہو‘ تم اس سفر پر جارہے ہو جس سے واپس نہ آؤگے‘ فرمایا: ہاں! یہی بات ہے کہا گیا تمہارے ساتھ بچے ہیں‘ کیا اب قدم امام کے نہ چھوڑے جائیں گے۔

اور پھر خدا کی قسم بعض وہ بھی تھے کہ حضرت امام حسین نے ان کو بلایا بھی نہ تھا لیکن وہ انتظار میں تھے کہ کب مکہ سے آپ کوفہ کو روانہ ہوتے ہیں تو ساتھ ہو جائیں۔ جب کسی آدمی نے معلوم ہوا کہ امام حسین کہا ں گئے؟ جواب ملا مدینے کی طرف‘ بس بیٹھ گئے‘ لیکن جب پتہ چلا کہ آپ کوفہ کو آرہے ہیں تو بچوں کو سپرد خدا کیا‘ بیویوں سے الوداع ہوئے۔

حبیب ابن مظاھر کو خط لکھا تھا‘ شاید امام ان کو خط نہ لکھتے لیکن بہن کا اصرار تھا‘ کہ آپ نے فرمایا تھا۔ بھائی تم بھی دوستوں کو خط لکھ دو۔

ایک دن رسول کریم نے حبیب ابن مظاھر اور بچوں کو دیکھا کہ کھیل رہے ہیں‘ آپ نے کسی کو طرف توجہ نہ فرمائی صرف حبیب کو گودمیں لیا۔ پیار کیا اور فرمایا ان میں اور اس میں فرق ہے۔

ایک دن میرے حسین کے کام آئے گا۔ تو جب ان کے متعلق نص تھی لہذا وہ کب ٹھہر سکتے تھے۔ امام نے لکھا حبیب تم فقیر‘ عالم ہو تمہاری ضرورت ہے۔ دشمن مخالفت کرہا ہے اور سخت دشمنی پر تلا ہوا ہے۔

ادھر یہ خط ملا۔ ادھر وہ کوفہ کے بازار میں خضاب خرید فرما رہے تھے۔ آپ کے بال سفید ہوچکے تھے ان کے لیے ضرورت تھی جب خرید چکے ادھر خط آپہنچا۔ مسلم بن اوسط سے کہا کہ کوفہ میں تیاریاں ہورہی ہیں کہیں نے لڑائی تو نہیں ہورہی ہے۔ کہا رسول خدا کے خداندان کو لوٹنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ آپ نے کہا کہ بس اب داڑھی خون کے رنگین خضاب سے خضاب کی جائے گی۔ گھر پہنچے بیوی نے دستر خوان بچھایا تھا۔ ہاتھ بڑھایا۔ اچھو لگا ہاتھ اٹھایا اور فرمانے مجھے کوئی یاد کررہا ہے۔ کہ اتنے میں دروازہ کسی نے کھٹکھٹایا اور کہا گیا انا برید الحسین کہ حسین علیہ السلام کا بھیجا ہوا قاصد ہوں۔ اس سے آپ نے خط لیا۔ آنکھوں پہ رکھا بوسہ دیا۔

حضرات! ایک بات کہنی بھول گیا کہ جب امام خط لکھ چلے فرمایا: اب بھیج رہا ہوں۔ بہن زینب نے کہا ذرا مجھے سنادو۔ آپ نے سنایا فرمایا: بھائی جان ایک فقرہ میری طرف سے بھی لکھ دو العجل العجل کہ حبیب آنا ہے تو جلدی آجانا۔ ذرا دیر نہ لگانا۔

جب حبیب نے یہ نچلا فقرہ پڑھا تو اسی وقت منہ لپیٹ لیا کہ ہاے افسوس کس قدر بدقسمت ہوں کہ اس قدر تاکید ہو رہی ہے اور میں جو اب تک ان تک نہیں پہنچ سکا۔

گھر پر بیوی نے دریافت کیا کس کا خط ہے؟ آپ نے ضبط کرتے ہوئے فرمایا: امام حسین کا ہے۔ کہا یا لکھا ہے؟ حبیب نے کہا امام صاحب نے بلایا ہے۔ غرض کیا بیوی نے کہا پھر جاؤ گے؟ فرمایا مصلحت کو سوچ لوں گا۔

بیوی سے ضبط نہ ہوسکا۔ عرض کیا: حبیب ابھی تک سوچتے ہو۔ امام بلا رہے ہوں اور تم ابھی تک مصلحت اندیشی میں مصروف ہو؟ یہ لو میری چادر۔ فاطمہ کا بیٹا بلا رہا ہے اور ابھی تک سوچ رہے ہو؟

یہ سن کر حبیب خوش ہوئے اور پھر ایک بار دل کھول کر روئے اور کہا کہ بی بی! تیرا امتحان لے رہا تھا۔ بھلا میں اور نہ جاؤں؟

بی بی نے دیکھلیا کہ میاں جارہے ہیں۔ دامن تھام لیا اور کہا کہ وعدہ کرکے جاؤ کہ جب آقا کی خدمت میں پہنچو گے تو میری بھی سفارش کردینا۔

حبیب نے ملازم کو بلایا۔ گھوڑا سپرد کیا اور کہا دونوں جگہ جا کرکھڑے ہو جاؤ۔

اور خود دوسری طرف سے گاؤں والوں کے کپڑے پہننے چل پڑے اور ادھر ادھر سے ہوتے ہوئے جگہ مقررہ پر جا پہنچے جہاں غلام کھڑا تھا۔

ادھر کچھ دیر ہونے پر غلام نے گھوڑے کو کہا: آقا نے دیر کردی۔ اگرآپ اب نہ آئے تو خو سوار ہو جاؤں گا اور خدمت امام میں پہنچوں گا۔

سبحان اللہ! آج حسین پر کس قدر مظلومی کا عالم ہے کہ غلام بھی قربان ہو رہا ہے۔

آپ نے آتے ہی غلام کو آزاد کیا۔ عرض کیا میں بیھ ساتھ چلوں گا۔ دونوں کربلا کے قریب پہنچے۔ ابھی نظر کی حد میں نہ پہنچے تھے کہ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: آج ایک دوست آرہا ہے۔ وہ دوست جو بچپنے کا دوست ہے۔

سامنے نظر اٹھائی۔ فرمایا: شاید یہی ہو کہا گیا حضور یہی ہے۔

جب کچھ دور تھے۔ فرمایا علی اکبر! اپنے چچا کے استقبال کو چلو۔ باقی اصحاب بھی بڑھے۔ سب کو دیکھتے ہی گھوڑے سے نیچے کود پڑے اور آقا کے قدموں میں سر رکھ دیا۔ عرض کیا: آقا معاف کیجئے دیر ہوگئی۔

اصحاب امام میں بڑی خوشیاں ہوئیں نعرے بھی بلند ہوئے۔ بی بی زمین نے جنابہ فضہ سے پوچھا: کیا نعرے بلند ہو رہے ہیں۔ عرض کیا: حبیب آپہنچے۔ فرمایا: شہزادی کیا حبیب آگئے۔ جلدی جاؤ اور میری طرف سے حبیب کو سلام کہ دیا۔

حضرات! میں مضمون کو ختم کردیتا۔ لیکن آپ واقف ہوں گے کہ میں اصحابی کی حیثیت سے اصحاب حسین کا ذکر کر رہا ہوں کہ اگر ان کے اصحاب کا ذکر بھول جاؤں تو شاید امام حسین علیہ السلام ناراض نہ ہو جائیں۔

اب تین چار مجلسیں رہ گئی ہیں چاہتا تھا کہ تفصیل سے ذکر کرتا۔ وقت اس قدر باقی نہیں ہے۔ بہرحال اس قدر عرض کرتا ہوں کہ آپ نے اپنے اصحاب کی بڑی بلند شان بیان فرمائی ہے۔ امام کا ارشاد ہے ان کے حق میں ما وجدت اصحابا اوفی من اصحابی۔

کہ میں نے اپنے اصحابیوں سے بڑھ کر کسی اصحاب کو زیادہ و فادار نہ پایا۔

عاشور کا دن ایک ایک بڑھ رہا تھا اور سبقت لے جارہا تھا۔ ایک کہتا تھا مجھے پہلے قربان ہونے دو۔ دوسرا کہتا تھا مجھے جانے دیجئے۔

تیسرا کہتا تھا تم بڑھے ہو مجھے جانے دیجئے یہ تھے امام حسین علیہ السلام کے ساتھی کہ زرہ پہننے کے بجائے دل پہن رکھے تھے۔ مائیں بچوں کو سنوار سنوار کر بھیج رہی تھیں کہ بیٹو! ہم تب خوش ہوں گی جب آقا پہ نثار ہونے کے بعد تمہاری لاش واپس آئے گی۔

ایک بزرگ تھے ”عایس“ جب چند اصحاب شہید ہوچکے تو یہ اٹھے خود سر پر رکھا زرہ جسم پر اوڑھی۔ میدان میں پہنچے۔

آپ مسکرائے خود کو اتار ڈالا۔ زرہ کو اتار پھینکا۔ غلام سے کہا جاؤ آزاد کیا اور بخش دی۔ صرف کرتہ باقی رہ گیا۔ غلام نے عرض کیا یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟

فرمایا: میدان جنگ میں آیا ہوں۔ پھر کرتہ بھی اتار دیا۔ اور کہا یہ سب رکاوٹیں دور کر دیں تاکہ مرنے میں ذرہ دیر نہ لگے۔ اگر خود یا زرہ جسم پر رہیں گے تو جان دینے میں وقفہ آ جائے گا۔

سبحان اللہ! موت سے محبت کرنے والے لوگ ایسے ہوں گے؟

امام حسین علیہ السلام میدان جنگ سے لاش لائے۔ غالباً مسلم بن عوسحہ تھے۔ ان کی وفاداریاں یاد آگئیں۔ رونا آگیا۔

ادھر سے خیمہ کا پرد اٹھا اور ایک ننھا سا بچہ نکلا؟ سر پر چھوٹا سا عمامہ باندھ رکھا ہے۔ تلوار ہاتھ میں ہے جو لمبی ہے اور خط کھینچتی ہوئی زمین پر آرہی ہے جس نے جاتے ہی امام کے قدموں پر اپنے آپ کو گرا دیا۔ پاؤں چوم لیے۔ امام متوجہ ہوئے ننھی سی شکل دیکھی۔ سینے سے لگایا اور فرمایا کیوں آئے؟ دیکھو بیٹا تیر چلے آرہے ہیں۔

عرض کی حضور لڑنے کی اجازت دی جائے۔

فرمایا: تیرا باپ کیا زندہ ہے یا مارا گیا؟ کہا: مر گیا۔ فرمایا: ماں زندہ ہے۔ اپنی کو غم میں مبتلا نہ کر تیرے باپ کا مرنا کیا اس کے لیے کافی غم نہیں ہے؟

اچھا بتا کس کا بیٹا ہے تو؟

بچے نے عرض کیا حضور! یہی لاش جو لارہے ہیں میرے باپ کی لاش ہے۔

امام حسین نے ارشاد فرمایا: بیٹا واپس چلا جا۔ اپنی ماں کو زیادہ غم میں نہ ڈال۔

کہا: آقا! یہ خود عمامہ میری ماں نے ہی باندھا ہے اور اس نے تلوار لگائی ہے۔

اتنے میں خیمہ سے ماں نکل آئی اور عرض کیا۔ آقا! میرے بیٹے کو جانے دیجئے۔ فاطمہ کے دربار میں جا کر سرخروئی حاصل کرونگی۔

سبحان اللہ! یہ لوگ تھے۔ جو موت کی اس قدر آرزو رکھتے تھے۔ جب تک تمام اصحاب شہید نہ ہوچکے امام حسین علیہ السلام کو ایک زخم نہ آنے دیا۔ جب سب کے سب اٹھ گئے امام حسین علیہ السلام ان کی وفائیں یاد کرکے رو رہے تھے۔

حتی کہ وہ وقت آپہنچا۔ کہ ۶ ماہ کے بچے کی لاش پر نماز جنازہ ادا ہو رہی ہے۔ جب نماز ہوچکی تو خیمہ کی طرف آئے اور ارشاد فرمایا:

میری بہنوں! بیٹیو! آخری سلام میری طرف سے قبول کرلو۔ بیوبیوں کو تسلی کہ صبر سے کام لینا۔

لیکن آہ افسوس! مردوں شہید ہوچکے ہیں جن کے بیٹے تھے وہ بھی شہید ہوچکے۔ لاوارث بیویوں سے وداع ہو کر آئے ہیں اور خیمہ سے باہر آکر فرمایا کوئی ہے جو اس وقت گھوڑے کی باگ تھام کر مجھے سوار کردے؟

لیکن اب کوئی بھی نہ تھا جو باگ پکڑ کر سوار کرتا۔

کہ ایک مرتبہ بہن زینب پھر آئی اور کہا بھیاٌ آج اگر کوئی نہیں جو آپ کو گھوڑے پر سوار کرے تو زینب موجود ہے۔ زینب خود آپ کو سوار کرے گی۔ زینب نے سوار کیا اور خدا حافظ کہا۔ امام حسین چلے اور میدان میں پہنچے۔

تاریخ کے الفاظ ہیں۔ نظر عیینا و شمالاً کہ دائیں بائیں دنوں طرف دیکھا جس طرح کوئی مایوس دیکھتا ہے۔ ایک بار پِھر آواز دی ھل من ناصر من ینصرنا؟ کوئی ہے جو کہ اس عالم مظلومی میں امداد کرے؟

اس آواز کا بلند ہونا تھا کہ فوج اعداء سے کوئی جواب واپس نہ آیا۔

جب جواب واپس نہ آیا تو اصحاب کی لاشوں کی طرف منہ کرکے کہا میرے شیرو! میرے بہادرو! تم کہاں پہنچ چکے؟

حالت فرمان امامت سے ایسی ہوئی کہ ان شہیدوں کی لاشیں تڑپ رہی تھیں۔ آواز آئیں کان میں کہ آقا! ہم حاضر ہ یں۔ لیکن موت نے ہم کو مجبور کردیا۔

ادھر خیمے سے پھر بیوبیوں کی رونے کی آواز آئی کہ امام زین العابدین گھٹنوں کے بل رکاب تھامے چلے آرہے ہیں۔ فرمایا: بیٹا کدھر آرہے ہو؟

ام کلثوم سے بھی نہ رہا گیا پکارا بیٹا کہاں جارہے ہو؟ فرمایا: پھوپھی اماں چھوڑ دیئے اپنے باپ کے پاس اس کی مدد کرنے کو جارہا ہوں۔

اللہ اکبر! باپ کے پکارنے پر مدد کرنے کو بیمار عابد جارہے ہیں۔


مجلس ششم :

جو اپنے ۶ محرم الحرام ۳۷۰ ھ کو اندرون بھاٹی گیٹ امام بارگاہ سید مراتب علی شاہ میں رات کے ۸-۱/۲ بجے تا ۱۰-۱/۲ بجے دو گھنٹے میں ارشاد فرمائی۔

بسم الله الرحمٰن الرحیم

( أَ فَغَیْرِ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُونَ وَ لَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِيْ السَّمٰوٰتِ وَ الْأَرْضِ طَوْعًا وَ کَرْهًا وَإِلَیْهِِ یُرْجَعُونَ ) ۔ ( آل عمران : ۸۳ )

یہ الفاظ آپ نے عموماً سنے ہوں گے کہ فلاں دین فطرتی دین ہے یعنی فطرت الہی کے عین مطابق ہے۔

مجھے صرف آپ حضرات کی زحمت کا خیال ہے ورنہ میرے لیے تو کوئی زحمت نہیں ہے۔

آیت کریمہ جس کا ترجمہ روزانہ آپ سنتے آرہے ہیں سن لیجئے۔ عرض کرتا ہوں پروردگار عالم ارشاد فرماتا ہے: لوگ خدا کے دین کے علاوہ کچھ اور چاہتے ہیں۔حالانکہ آسمان اور زمین کے باشندے اس کے سامنے اپنی گردنیں جھکائے ہوئے ہیں۔ خوشی کے ساتھ یا جبروقہر کے ساتھ اور اس کی طرف تمام کی باز گشت ہے۔

حضرات! آپ نے جب سننے کا وعدہ فرمالیا تو اب سویئے نہ ذرا توجہ کے ساتھ بات کو سمجھ لیجئے۔

ارشاد جناب احدیث ہے کہ دین الہی فطرت ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے اقم وجھک للدین حنیفا ط فطرة اللہ اللتی فطر الناس علیھا لا تبدیل لخلق اللہ الاٰیتہ

اے حبیب! تو اپنے چہرہ مبارک کو قائم رکھ اس دین کے لیے جو خالص دین ہے اور وہ کیا ہے؟ اللہ کی فطرت ہے جس پر تمام انسانوں کو اس نے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خلقت میں کسی طرح کی تبدیلی نہیں ہے۔

ترجمہ سنانے کے بعد اب چاہتا ہوں کہ آپ کی خدمت میں چند قواعد پیش کر دوں جو ہر ایک شخص اپنی فطرت میں لے کر آتا ہے۔

پس عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر پروردگار عالم انسان کی فطرت میں وہ چیزیں ودیعت نہ کرتا کہ جس سے انسان کو اچھی چیز کے قبول کرنا آسان ہو جاتا تو دین اسلام یا کوئی اور دین جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے کبھی قبول نہ کیا جاتا۔ اس لیے کہ جب وہ فطرت کے مطابق نہ ہوتا تو اس کی مخالفت کی جاتی۔ پس جس دین کو عقلاً فطرتا قبول کرانا واجب ہو جاتا تھا لازمی ہوگیا کہ وہ فطرت اور عقل کے عین مطابق ہوتا اور یہی وجہ ہوئی کہ جب بھی کسی دین کے فطری ہونے میں کمی واقع ہوئی اس کی مخالفت ہونی شروع ہوگئی اور اسی لیے ممکن نہ تھا کہ ایسا دین باقی رہ جاتا۔

میں آپ کے ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں کہ انسان اپنی فطرت میں کچھ بدیہات لے کر آتا ہے جسے دیکھتے ہی فوراً سمجھتا اور قبول کرلیتا ہے۔ بدیہ اس چیز کو کہتے ہیں جس پر تمام عالم کا اتفاق ہو اور فطرت انسان اس کو بلادلیل تسلیم کرلے۔

جیسے آگ گرم ہے اس پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ آفتاب روشن ہے‘ پانی پینے کی چیز ہے‘ کل ہمیشہ جزء سے بڑا ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب چیزیں بدیہات میں شامل ہیں اور داخل ہیں۔

انسان جب دنیا میں قدم رکھتا ہے تو پروردگار عالم تب ہی سے اس کی فطرت میں ان بدیہات کو رکھ کر بھیجتا ہے کہ اس فطرت کو لے کر جاؤ میرے بعض احکام تیرے پاس آئیں گے الہی قواعد کلیہ کے ماتحت ان احکام پر عمل کرنا تمہارے لیے سہل ہو جائے گا۔

اس لیے ضروری سمجھتا ہوں کہ ان قواعد سے کچھ پیش کردوں کیونکہ تمام قواعد دین بھی ان ہی کے اورپر مبنی ہیں۔ میری بات کسی صاحب کو ممکن ہے اجنبی معلوم ہوتی ہوگی لیکن جب آپ توجہ کے ساتھ سماعت فرمائیں گے تو انشاء اللہ انکار کی گنجائش نہ رہے گی۔ وہ کلیات عرض کئے جائیں گے جن سے کوئی اختلاف ہی نہ کرسکے گا۔

مثلاً ایک کلیّہ ہے اور حکماء نے اسے بنیاد قرار دیا ہے کہ جب تک اشرف چیز موجود ہے اس سے ارذل یا کمتر ایجاد قبول نہیں کی جاسکتی۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ پروردگار عالم نے اس عالم کو بیکار یا عبث نہیں پیدا کیا خداوند عالم کو خود اس سے کوئی غرض یا فائدہ اگرچہ نہیں لیکن بندہ کے لیے ہر ایک شئے کا فائدہ اورغرض ہے۔

سوال کیا جاسکتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کو عالم کے پیدا کرنے سے غرض نہ تھی تو پیدا کرنے کی توجہ کیوں فرمائی؟

پس وہ ذات جس کے افعال معلل بالاغراض نہیں اس سے وہ اپنی ذات کو فائدہ نہیں پہنچانا چاہتا لیکن کسی دوسرے کو فائدہ پہنچانا بھی تو ایک علت ہے۔ لہذا ایک غایت یہ بھی تو ہوسکتی ہے۔ پہلی بات اپنی حد تک ہے لیکن اس کا فرض یہ بھی تھا کہ وہ پیدا کرنے عدم سے وجود میں لانا بہرحال اچھا فعل ہے۔

فرض کیجئے آپ کے سامنے دو چیزیں ہیں ایک میں فائدہ زیادہ ہے اور دوسری میں کم فائدہ ہے‘ تو کون شخص ہے جو کمتر شے کو اعلیٰ اور مفیدتر شئے کے مقابلہ میں اختیار کرے گا؟ اگر کرے گا تو یا وجہ اس کی یہ ہوگی کہ وہ پہلی کے فائدہ سے واقف نہیں اور اگر واقف ہے تو یقیناً فعل عبث کر رہا ہے اور یہ دونوں امر خداوند تعالیٰ کے لیے محال ہیں وہ فعل عبث سے بھی پاک ہے اور ہر شئے سے بخوبی واقف بھی ہے پس ترجیح بلا مرجح ناممکن ہے۔

آپ غور فرمائیں مثال واضح عرص کرتا ہوں۔ ایک کام کے کر نے سے ۵ سو روپیہ کا فائدہ ہے اور دوسرے کام کے کرنے میں دو سو روپیہ کا فائدہ اور کام کرنابھی یکساں حیثیت رکھتا ہو نہ اس میں دشواری ہو اور نہ اس میں آسانی تو آپ بتائیے کہ فائدہ والی چیز کو کون چھوڑے گا؟

یا وہ اس لیے چھوڑے گا کہ جانتا نہ ہوگا کہ اس میں فائدہ یا ہے اور اگر معلوم ہوگا تو زیادہ فائدہ کو چھوڑ دینا احمق پن ہوگا۔

توجہ سے سنئے گا۔ وقت مختصر ہے اور مختصر طریقہ سے ہی پیش کرتا ہوں کہ ترجیح مرجوح کے معنی یہ ہیں کہ ایک شے ہوتی ہے اور راجح اور ایک ہوتی ہے مرجوح۔ فائدہ کے اعتبار سے ایک کا پلّہ بھاری ہوتا ہے اور دوسری کا ہلکا۔ تو راجح کو کوئی بھی کبھی نہ چھوڑے گا‘ انسان تو درکنار حیوان بھی ایسا نہ کرے گا کہ راجح شئے کو چھوڑ کر مرجوح کی طرف جائے۔

جانور بی جانتا ہے کہ اس راستے سے چلے گا تو فائدہ ہوگا اور اس راستے پر چلنے سے نقصان ہوگا تو نقصان والے راستے پر کبھی نہ جائے گا۔

بلی کے سامنے آپ ایک طرف تازہ گوشت رکھیئے اور دوسری طرف بدبو دار گوشت رکھ دیجئے اگرچہ بلی پیٹ بھرنے کے اعتبار سے جب تازہ نہ ملے تو بدبودار سے بھی بھر لے گی۔ لیکن تازہ گوشت کی موجودگی میں کبھی نہیں ہوسکتا کہ وہ بدبودار گوشت کو اختیار کرے۔

توجانور بھی راجح کو چھوڑ کر مرجوع کی طرف نہ جائے گا۔

میں نے کل پرسوں حضرت ابوذر غفاری کا ذکر کیاتھا۔ اگر ان کا بیان نہ کروں تو موضوع کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔

اسلام سے ۳ سال پہلے آپ نے لا الہ الا اللہ کہا۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ جب لا الہ الا اللہ کے داعی ظاہر نہ ہوئے تھے تو انہوں نے کیسے لا الہ الا اللہ کہا تھا؟

شایدیہ صاحب سمجھتے ہوں گے کہ آپ نے غلط کہا یا جھوٹ بولا؟

میں نے حوالہ دیا ہے طبقات ابن سعد کا آپ اس میں حضرت ابوذر کا بیان دیکھ لیجئے۔ اگر یہ قول حضرت ابوذر کا ہے۔ تو یہ کبھی غلط ہوسکتا ہے اور نہ جھوٹ ہوسکتا ہے۔ اس لیے کہ فرمان رسول سے اس امر کی تصدیق ثابت ہے کہ زمین پر آسمان کے نیچے ابوذر صادق القول ہے۔

پھر بھی معترض یہی کہے کہ ابوذر نے پھر کہاں سے کلمہ توحید یعنی لا الہ الا اللہ کہ دیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ حضور رسول اللہ سے پہلے بھی موجود تھا‘ ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے یہ تعلیم رائج تھی بلکہ یہ کلمہ پاک حضرت آدم حنفی اللہ سے چلا آرہا ہے ان کے زمانہ میں لا الہ الا اللہ حنفی اللہ آدم تھا۔ پھر حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں لا الہ الا اللہ نوح نجی اللہ ہو‘ ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں لا الہ الا اللہ ابراہیم خلیل اللہ ہوا۔ تا آنکہ حضرت رسول اللہ کے ظہور پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہوا۔

تو لا الہ الا اللہ جناب آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور قیامت تک چلا جائے گا اور اس میں تغیر و تبدل کبھی نہ ہوگا۔ لا الہ الا اللہ تو حجت کاملہ ہے۔ وہ تو ہر زمانہ میں رہتا ہے۔

آپ اصحاب کہف کا واقعہ آیة کریمہ کے تحت پڑھئے۔ ام حسبت ان اصحب الکھف و الرقیم کانوا من آیتنا عجباً ط۔ چند اشخاص ایک غار میں اکٹھے ہے اتنی مدت میں زمین و آسمان بدل جاتے ہیں‘ ان میں سے ایک کھانا پینا لینے سب کے جاگ اٹھنے کے بعد بازار جاتا ہے‘ حال شہر کا دگر گون دیکھتا ہے نہ وہ گلیاں ہیں نہ وہ کوچے‘ آدمی ہیں تو سب کے سب نئے‘ بعض جگہ دیوار پہ لکھا دیکھا لا الہ الا اللہ عیسیٰ روح اللہ۔

پس ہر زمانہ میں حجت خدا موجود رہتی ہے قول فیصل ہے کہ کوئی زمانہ اس سے خالی نہیں رہتا الجة قبل الخلق مع الخلق و بعد الخلق کہ حجت خداوند خلق سے پہلے‘ خلق کے ساتھ اور خلق کے بعد ہر زمانہ میں رہتی ہے۔

بس یہ نہ سمجھا جائے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیانی زمانہ میں کوئی مسلمان نہ تھا۔

روایات میں موجود ہے کہ حضور کے پاس ایک عورت ابو سلمہ آئی۔ حضور نے تعظیم کی اور فرمایا یہ نبی کی بیٹی ہے۔

پس حجت جاری تھی اس زمانہ میں بھی جب ابھی آنحضرت نے ظہور نہ فرمایا تھا۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ جناب رسالت مآب سے پہلے بھی کوئی زمانہ ایسا نہیں گذرا کہ جب موحد کامل موجود نہ تھا اور قیامت تک بھی اس کے بغیر کوئی زمانہ خالی نہ رہے گا۔

پس جب حضور سے پہلے بھی موحد کامل موجود تھے تو اسی قسم کے لوگوں سے حضرت ابوذر غفاری کی ملاقات ہوئی ہوگی اور آپ نے اس سے سن کر لا الہ الا اللہ کہا ہوگا۔

طبقات ابن سعد میں صاف طور پر موجود ہے کہ آنحضرت کی بعثت سے ۳ سال پہلے آپ نے (یعنی حضرت ابوذر نے) نماز پڑھی تھی۔ اب یہ سوال کہ کیسی پڑھی تھی اور کدھر کو منہ کرکے پڑھی تھی؟

تو میں ایک قاعدہ آپ کے سامنے عرض کرتا ہوں اگر آپ اسے سامنے رکھیں تو معلوم ہو جائے گا کہ اسلام دنیا کے ساتھ ساتھ چلنے کا حکم دیتا ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہم نے دینی مہمات عظیمہ کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔ ہم ان قواعد کو دنیوی ضرورتوں کے لیے تو استعمال کرتے ہیں لیکن دینی ضرورتوں کے لیے استعمال نہیں کرتے۔

جسے سمجھ نہ آئے بلا تکلف پوچھ سکتا ہے۔

کہ انسان تو انسان جانور بھی یہ فطرت لے کر آیا ہے کہ اس کے سامنے اور چیزیں رکھ دیں تو اسی کو اختیار کے گا جو بہتر ہوگی۔

ہے کسی کو اس مسئلہ سے اختلاف؟ کہ بازار آپ روٹیاں خریدنے جائیں۔ ایک آدمی جلی ہوئی سیاہ بدنما روٹی بیچ رہا ہے دوسرا اچھی حالت میں دے رہا ہے تو کیا وہ جلی ہوئی روٹی آپ کو دینا چاہے تو آپ اسے پاگل نہ بنائیں گے۔

کسی آدمی کو سفر پر جانا ہے تو کیا ہوسکتا ہے کہ وہ تیز رفتار‘ صحیح قسم گھوڑے کو چھوڑ دے اور لنگڑے بیمار گھوڑے پر سوار ہو جائے تاکہ اس کا سفر صحیح سلامت طے ہوجائے؟ خریدتے وقت یقیناً وہ صحیح و سالم اعلیٰ گھوڑے کو لے گا ورنہ دیوانہ یا پاگل کہلائے گا۔

بلکہ یہ وہ اصول ہے کہ ایک مگس یعنی مکھی اور پشہ بھی اس کے خلاف نہیں کرسکتا چہ جائیکہ انسان اس شئے کو اختیار کرے جو عیبدار ہو اس لیے کہ ترجیح بلا مرجح محال ہے۔

یہ وہ واضح اصول ہے جسے خود انساناپنی فطرت میں سمجھ کر آیا ہے‘ اسے کسی سکول کالج یا مدرسہ میں جا کرپڑھنے کی ضرورت نہیں۔

ایک درزی ہے جو دس روپیہ بہترین سلائی کا کام کرتا ہے اور ایک اسی رقم میں ردی کا کام کرکے دینے والا ہے تو آپ کس کے پاس جائیں گے؟ صرف اسی کے پاس جو اعلیٰ درجہ کا کاریگر ہے اوراسی اجرت میں اعلیٰ کا کرکے دیتا ہے۔

آپ ۲ پیسے کا کوزہ خریدنے جایئے۔ ایک کوزہ صحیح وسالم ہے اور ایک کا کنارہ ٹوٹا ہوا ہے اب کون ہوگا جو بے عیب کوزہ چھوڑ کر عیبدار کو خریدلے گا؟ افضل کے ہوتے ہوئے غیر افضل کو احتیار کرنا عقل اور فطرت کے خلاف ہے۔ ہے جو اس کے خلاف کرے؟

بڑوں کو چھوڑ دیجئے‘ بچوں کو لیجئے۔ ایک بچہ جو ایک سال کا ہے اس کے سامنے دو کھلونے رکھ دیں۔ ایک کی ٹانگ صحیح ہے اور دوسرے کی لنگڑی ہے۔ تو وہ بچہ بھی اسی کھلونے کو پسند کرے گا اور اختیار کرے گا جو بے عیب ہوگا اور اشارہ سے کہے گا چاہے زبان سے بول بھی نہ سکتا ہو کہ اسے لنگڑے کی ضرورت نہیں۔

پس خداوند نے ہر ذی روح کی فطرت میں ڈال رکھی ہے یہ بات کہ وہ بہتر کو لے اور کمتر کو چھوڑ دے۔

مجھے شاہدرہ جانا ہے تو اس کا ایک صحیح راستہ مقرر ہے۔ جو سیدھا چلا جاتا ہے اور دوسرا راستہ وہ ہے جو لابر سے منٹگری اور وہاں سے گوجرانوالہ اور پھر شاہدرہ۔ تو کیا جو سیدھا راستہ چھوڑ کر اس قدر لبے اور ٹیڑھے راستے کو اختیار کرے اور وہ احمق نہ ہوگا؟ اس لیے کہ بہتر راستہ وہ تھا جو قریب تر اور سیدھا ہو اور اس کی موجودگی میں لمبا اور ٹیڑھا اختیار کرنے والا پاگل ہوگا یا نہ؟

پس یہ ایک اصل اصول ہے اور ایسا قاعدہ ہے جو بدیہی حیثیت رکھتا ہے‘ واضح ہے اور ہر انسان کی فطرت میں یہ بات رکھ دی گئی ہے۔

آپ نے لڑے یا لڑکی کی شادی کرنی ہے تو پوری کوشش کی جاتی ہے کہ کہیں سے اچھا برمل جائے اور جہاں تک عقل کام کرتی ہے بڑا اور ناقابل


مجلس ھفتم :

بتاریخ ۷محرم الحرام ۱۳۷۵ ھ

بسم الله الرحمٰن الرحیم

( أَ فَغَیْرِ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُونَ وَ لَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِيْ السَّمٰوٰتِ وَ الْأَرْضِ طَوْعًا وَ کَرْهًا وَإِلَیْهِِ یُرْجَعُونَ ) ۔ ( آل عمران : ۸۳ )

جناب احدیث اپنے کلام بلاغت میں ارشاد فرماتا ہے کہ کیا لوگ اللہ کے دین کے سوا کسی کی خواہش کرتے ہیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے دہنے والے اسی کے لیے اپنی گردنیں خم کئے ہوئے ہیں خوشی سے یا جبر و اکراہ سے اور آخرکار اسی کی طرف بازگشت ہونے والی ہے۔

حضرات! یہ ہے آیت کریمہ کا ترجمہ جسے آپ سنا کرتے ہیں۔اس میں پروردگار عالم نے اس دین کے متعلق جس کا نام اسلام رکھا گیا اور جس کو دین خدا بھی کہا جاتا ہے اور دین رسول بھی اسے کہتے ہیں ارشاد فرماتا ہے: کہ یہ دین میری طرف سے ہے جو انبیاء اکرام کے ذریعے اور آخری بارکامل صورت میں جناب محمد مصطفیٰ کا ذریعہ تم تک پہنچا گیا ہے فطری دین ہے۔

کل اس امر کی تشریح کی جارہی تھی آج چاہتا ہوں کہ عرض کردوں کہ وہ قواعد فطریہ کون سے آپ جن کے اوپر کسی فطری دین کی بنیاد ہوتی ہے آپ نہایت توجہ کے ساتھ سماعت فرمائیں۔ تشریف لانے والے حضرات پرسکون اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جائیں گے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے( فاقم وجهک للذین خیرفا فطرت الله اللی فطر الناس علیهاء لا تبدیل لخلق الله ذلک الدین القیم و لکن اکثر الناس لا یعلمون ) (الروم نمبر ۴‘ پ۔ ۲۱)

کہ حبیب اپنے چھرہ یا منہ کو دین حنیف کے لیے سیدھا کرلو‘ اس دین اللہ کے لیے ہم تن متوجہ ہو جاؤ۔ حنیفا کا مطلب ج وبالکل سیدھا ہے۔ تمام دوسرے باطل دین سیدھا خدا تعالیٰ تک نہیں پہنچتے اور یہ ہی دین خدا ہے جس پر خدا تعالیٰ نے تمام لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ البتہ خدا تعالیٰ کی خلقت میں جس پر اس نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا ہے کوئی تبدیلی نہیں۔ یہی تو مستحکم اور بالکل سیدھا دین ہے۔ لیکن اکثر انسان سمجھتے نہیں ہیں۔

آج کی تقریر میں حرف اس موضوع پر عرض کرنا چاہتا ہوں کہ دین اللہ‘ فطری دین ہے‘ انشاء اللہ وہ بات پیش کی جائے گی جو ہر ایک شخص آپ میں سے سمجھ جائے گا کہ حقیقت میں فطرت کے مطابق کون سا دین ہو سکتا ہے؟ اور کل انشاء اللہ تعالیٰ تمام ان تقاریر کا نتیجہ اور ماحصل عرض کروں گا۔

میں آپ کو اپنی تقریر کا وہ فقرہ پھر یاد کراتا ہوں کہ پروردگار عالم نے انسان کی فطرت میں کچھ ایسے واضح اور صاف قاعدہ یا اصول پیدا کیے ہیں جن کو پڑھے لکھے لوگ ”بدیہات“ کہتے ہیں۔ یعنی ان چیزوں کو انسانی فطرت میں ڈال دیا گیا ہے۔ پس ان ہی چیزوں کے مطابق مذہب کی بنیاد بھی رکھ دی پس جو مذھب ان کے مطابق ہوگا وہ صحیح اور جس مذھب کی بنیاد ان فطری اصولوں کے خلاف ہوگی وہ غلط ہوگی۔

اب مذھب میں دو چیزیں ہیں ایک وہ جن کو اصول کہتے ہیں‘ دوم وہ جسے فروع کہتے ہیں۔

اگر اصول دین ان قواعد فطریہ کے مطابق ٹھیک ہوگئے تو فروع دین کو پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں کہ وہ کیا ہیں؟

مثلاً جب معلوم ہو جائے کہ محمد الرسول اللہ خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نبی ہیں تو پھر یہ پوچھنے کے متعلق ضرورت نہ رہے گی کہ صبح کی نماز کی دو رکعت کیوں ہیں؟ اس لیے کہ جب اعتقاد کرلیا کہ حضور خدا تعالیٰ کے نیچے رسول ہیں اور دن سے مان لیا کہ آپ برحق نبی ہیں تو پھر جو کچھ وہ کہتے ہیں یا کرتے ہیں وہ سب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔

اسی لیے یہ قواعد فطرت اصول دین کے لیے ہیں۔ یہ فروع دین کے لیے۔

نیز یہ بھی یاد رکھنے کی چیز ہے کہ نجات کا دار مدار یعنی بخشے جانے یا انحصار اصول کی صحت پر ہے۔ اگر اصول ہی غلط ہوگئے تو پھر نجات ناممکن اور فروع تو خواہ مخواہ غلط ہی ہوں جائیں گے اور اگر اصول صحیح ہوگئے تو پھر نجات میں کوئی شبہ نہیں اور فروع میں جو غلطی یا سستی یا کوتاہی ہوگی اس کی سزا مل جائے گی اور نجات اپنی جگہ یقینی اور قائم ہے۔

پس اب صرف اس قواعد کو بیان کرنا ہے۔ جو انسان اپنی فطرت میں اپنے لیے لے کر آتا ہے۔

ایک قاعدہ فطری یہ ہے کہ جب تک کسی اشرف‘ اعلی ترین‘ نافع ترشئے کی ایجاد ممکن ہے اس وقت تک اس سے پست‘ اولی چیزکی ایجاد ناممکن ہے۔

پہلی مجلس میں عرض کیا جاچکا ہے کہ دماغ متوجہ ہو اور طبیعت تازہ اور صحیح ہو اور علماء اس قاعدہ کو ملحوظ خاطر رکھیں تو اسی نسبت سے کئی مسائل حل ہوجاتے ہیں اور بہت سی چیزیں بالکل واضح اور صاف ہو جاتی ہیں۔

پروردگار عالم نے تمام عالم کو جو اس نے بتایا ہے تین چیزوں پر منحصر فرمایا ہے۔

۱ ۔ روح بے جسم‘ وہ روح کہ جس کا جسم سے کوئی تعلق نہیں۔

۲ ۔ روح با جسم‘ وہ روح جس کا جسم کے ساتھ تعلق ہو۔

۳ ۔ جسم بے روح‘ وہ اجسام جن کا روح کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو۔

اگر پروردگار عالم اس عالم جیسے دس کروڑ عالم بھی بنادیں تب بھی وہ عالم ان ہی مذکورہ اقسام بالا میں منحصر ہوں گے۔یعنی کوئی شئے یا مجرد ہوگی یا غیر مجرد ہوگی یا بین بین ہوگی۔

جب دلیل اثبات میں ہو کر طے ہوجائے عقلاً اس کی نفی کرنا محال ہوجائے گی۔

یہ سامنے لاؤڈ سپیکر ہے یہ سفید ہے یا نہیں۔ تو جو چیز ثابت ہو جائے وہی ہوگی دوسری نہ ہوگی اور یا دونوں صنعتیں نہ ہوں گی۔ اگر یہ سفید ہے تو پھر سیاہ نہیں ہوسکتی یا برعکس یعنی یہ تو ممکن ہوسکتا ہے کہ ضدین دونوں نہ ہوں مگر دونوں کا بیک وقت موجود ہونا ناممکن ہے ۔ دنوں چیزوں کا سفید ہونا یا سیاہ ہوناایک ہی وقت میں محال ہے۔ نقیضین کا جمع ہونا ممکن نہیں ہے البتہ ان کا اٹھ جانا ممکن ہوسکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں سے ایک صحیح ہوگی ایک غلط ہوگی یا دونوں ہی نہ ہوں گی۔

سامنے ستون ہے یا آدمی ہے۔ اب ان دونوں چیزوں میں سے ایک ہوگی دوسری نہ ہوگی یا یہ کہ وہ شئے نہ ستون ہوگی نہ آدمی ہوگی لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ آدمی بھی ہو اور ستون بھی ہو‘ اس لیے کہ دونوں چیزیں آپس میں نقیضین ہیں اور دونوں بیک وقت موجود ہونا ممکن نہیں ہوسکتیں۔

ٹھیک اسی طرح کائنات کی کوئی شئے یا مجرد ہے یا نہیں ہے‘ پس ایک قسم بن گئی مجرد اور دوسری قسم بن گئی غیر مجرد‘ یعنی یہ کہ مجرد نہیں ہے۔ اس نہیں میں آجائے گا یا وہ اور اس کے لوازمات۔

پس یہ حصر عقلی ہے کہ عالم یا مجرد ہے اپنی حقیقت کے اعتبار سے‘ جس کا تعلق کسی جسم یا مادہ سے نہیں اور یا عالم کوئی اور شئے ہے جو مجرد نہیں ہے اور اس کا تعلق جسم سے یا مادہ سے ہوگا۔

اس دوسری صورت کی دوقسمیں ہیں۔ الف۔ وہ روح جس کا تعلق جسم کے ساتھ ہے۔ ب۔ وہ جسم جس کا تعلق روح کے ساتھ نہ ہو۔

پس کل عالم کا انحصار ان تین چیزوں یا قسموں میں پایا جاتا ہے۔

۱ ۔ روح بے جسم

۲ ۔ روح جسم کے ساتھ

۳ ۔ جسم بغیر روح کے

مکرر عرض کرتا ہوں کہ اگر دس کروڑ عالم اور بھی بن جائیں تو ان ۳ اقسام سے باہر نہ ہوں گے۔

حضرات توجہ فرمائیں۔ اگر کچھ دیر ہو جائے تو معاف فرمایا جائے۔ اپنے خیال میں نہایت مفید اور ضرور چیز پیش کرنا چاہتا ہوں۔

الف۔ پس وہ قسم جسے روح بے جسم کیا گیا ہے اسے عقول کہا جاتا ہے۔

عقول کا یہ دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ پھیلتا چلا جارہا ہے۔ اس سے آگے اور بے شمار چیزیں آتی ہیں اور اس کے بے انتہا درجات ہیں۔

ب۔ دوسری قسم جسے روح یا جسم کہا گیا ہے اس میں ملائکہ آتے ہیں۔ انسان داخل ہوتے ہیں۔ حیوان بھی اسی میں داخل ہوتے ہیں اور درختوں میں بھی یہ روح پائی جاتی ہے۔

ج۔ تیسری قسم جسم خالص بے روح ہے۔

ان سب میں افضل کون سی قسم ہے؟

پہلی قسم جو ”روح بے جسم“ یا بے مادہ بتائی گئی ہے اسے مجرد کہا گیا ہے۔ یہ مجرد قسم مادہ یا جسم سے مبرا اور پاک ہے۔

پس مخلوقات کی منزل کی ابتداء روح بے جسم سے ہوتی ہے، پھر جسم با روح، پھر جسمِ بے روح پر جاکر ختم ہوجاتی ہے

حضرات! میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ بنانے والے کے سامنے دو چیزیں ہیں ۔ ایک اشرف یا افضل۔ دوم پست یا ارذل ۔ اشرف کے ہوتے ہوئے پست کو افضل نہ بنایا جائے گا ۔ اشرف اسی وقت تک اشرف ہے جب تک اس کے مقابلہ میں ارذل رکھا جائے گا ۔ اب اگر کوئی اشرف کی موجودگی میں پست کو بنانا چاہے گا اور اس فائدہ کا لحاظ نہ رکھے گا ۔ تو یہ غلط اصول خدا تعالٰی کے لئے نا ممکن ہوگا اس لئے کہ اگر خدا تعالٰی کے نزدیک ایسا ممکن ہوا تو معاذاللہ

یا وہ جاہل ہوگا ۔ جو خدا تعالٰی کے لئے نا ممکن ہے ۔

اور یا وہ لغو فعل کرنے والا ہوگا اور یہ بات بھی خدا تعالٰی کے لئے ناممکن ہوگی ۔

اور یا وہ عاجز آگیا، اس بات سے بھی اس کی ذات پاک اور یہ اس کے لئے ناممکن ۔

تو سب سے اشرف شے افضل بنے گی ۔ روح کے لاکھوں درجے ہیں پس جو افضل تر ہیں یا اعلٰی تر شے ہوگی وہ پہلی روح ہوگی ۔ سب کمالات اس میں ہوں گے اور جو کمالات تمام مخلوق کو ملیں گے وہ اسی سے ملیں گے ۔

اور یہ روح وہ حقیقت ہے جس کو ارشاد نبوی میں اس طرح واضح کیا گیا ۔ ” اوّل ما خلق اللہ نوری “ کہ سب سے اوّل جسے خدا تعالٰی نے پیدا فرمایا وہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نور یعنی نور محمدی ہے ۔ پس نور محمدی تمام کائنات سے افضل ثابت ہوا اس قاعدہ فطری کے اعتبار سے جس کا بیان آپ کے سامنے کیا گیا ۔

پس اس مسلمہ کے اعتبار سے پروردگار عالم نے جس شے کو سب سے اشرف بنایا وہ ” روح بے جسم “ ہوگی ۔ پھر درجہ روح با جسم ہوگا پھر جسم بے روح ہوگا ۔

یہ خط ہے جو کمان کی شکل میں ہے درمیان میں سے بڑھتا چلا جائے گا کناروں پر کم ہوتا چلا جائے گا ۔ جہاں جسم یا مادہ بے محض ۔یہ نزولی قوس ہے ۔

یہاں سے دوسری قوس چلی جائے گی ۔

ان تمام چیزوں کے تاثر کے بعد، نشونما پھر ” حس “ پیدا ہوگی۔ پھر ” عقل “ آئے گی ۔ اس سے آگے بڑھ کر ” عصمت “ آئے گی ۔ آگے جاکر وہاں پہنچے گی جہاں سے ابتداء ہوئی تھی ۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے مقام معراج کی حقیقت کہا گیا ہے ۔

اور اسی کی طرف ” قرآن مجید “ میں اشارہ کیا گیا ہے اس آیت میں مکان تاب قوسین او ادنی ۔ دونوں کمانیں اونچی ہوئیں اور وہاں جا ملیں جہاں سے شروع ہوئی تھیں تا آنکہ خدا تعالٰی کی ذات باقی رہ گئی ۔ یہاں کمال عروجی یا طولی ختم ہوگیا جس طرح درخت کمال ارض میں بڑھنا شروع کرتا ہے اور بڑھتے بڑھتے حد کمال تک جا پہنچتا ہے جہاں اس کا کمال طولی ختم ہوجاتا ہے ۔

اسی طرح شب معراج حضور کا کمال انتہاء پر پہنچا اور وہ نور کا ٹکڑا موجود ہے، جو اس دنیا کو سنبھالے یا قائم کئے ہوئے ہے ۔

دوسرا قاعدہ فطری یہ ہے کہ ایک عرض و غایت یا مقدمہ ہوتا ہے اور ایک ذوالمقدمہ یا ذریعہ ہوتا ہے ۔ جسے وضو مقدمہ ہے نماز کا تو ذوالمقدمہ یا نماز افضل ہوتی ہے وضو سے، اسی طرح ذریعہ سے غرض و غایت ہمیشہ افضل ہوتی ہے۔

مثلاً کرسی بیٹھنے کے لئے ہوتی ہے تو کرسی تو بیٹھنے سے افضل نہیں کہہ سکتے بلکہ بیٹھنا افضل ہوگا کرسی سے ۔

مکان بنایا جاتا ہے رہنے کے لئے پس رہنا افضل ہے مکان سے ۔ اگر رہنا نہ ہوتا تو مکان بنانے کی ضرورت ہی نہ تھی ۔

یہ دو چیزیں ایسی ہیں جو فطری چیزیں ہیں ۔ ایسی بد یہی ہیں کہ ان کو کوئی اشکال نہیں ہوسکتا ۔

ایک فطری قاعدہ پہلی مجالس میں عرض کرچکا تھا کہ ترجیح بلا مرجح محال ہے ۔

انسان کے سامنے دو چیزیں ہیں ان میں سے ایک چیز کی اسے ضرورت ہے تو ان میں سے جونسی چیز بہتر ہوگی انسان اسی کو اختیار کرے گا ۔ یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ انسان اشرف یا بہتر چیز کو چھوڑے اور کم تر یا بد تر چیز کو قبول کرلے ۔

ان قواعد فطریہ کو سامنے رکھ کر امور دینی میں فطری اصولوں کو اختیار کیجیے ۔

خدا تعالیٰ کلام الٰہی میں ارشاد فرماتا ہے کہ( افغیر دین الله یبغون وله اسلم من فی السموات والارض طوعا و کرها و الیه یرجعون ) کہ دین اللہ کے سوا اور کسی کو نہ اختیار کرو ۔ دوسری جگہ فرماتا ہے ۔( قم وجهک للدین حنیفا فطرة الله التی فطر الناس علیها لا تبدیل لخلق الله ذالک الدین القیّم )

کہ خدا تعالٰی کے سیدھے دین پر قائم رہو وہ جو اللہ تعالٰی کی فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا فرمایا ہے۔

پس مومنوں کو خدا تعالیٰ واضح طور پر کہتا ہے کہ اس کا دین فطری ہے جس نے اسے بالائے طاق رکھ دیا وہ دیندار نہ رہے گا، وہ بے دین ہو جائیگا۔ جس طرح کسی اچِھی اور بہتر شے کے ہوتے ہوئے بری اور کم تر کو اختیار کرنا فطرت انسانی کے خلاف ہے اسی طرح فطرت کے خلاف کرنا دین اللہ یا اسلام کے خلاف کرنا ہو گا ایک قاعدہ فطری اور ہے جسے آپ توجہ کے ساتھ سماعت فرمائیں۔ ایک چیز نقضِ عرض ہوتی ہے۔ اس کا ارتکاب، ابکال ناجائز ارمحال ہوتا ہے

مثلاً باغ لگایا گیا ہے اس کی حفاظت کے لئے چار دیواری بنائی جاتی ہے تاکہ جانوروں،چوروں وغیرہ سے حفاظت ہو یا اِدھر اُدھر کے گزرنے والے اندر نہ جا سکیں ۔ لیکن اسی چار دیواری میں اپنے خود اندر جانے کے لئے بھی ایک چیز بنائی ہوتی ہے اُسے دروازہ کہتے ہیں ۔ پس اگر دروازہ نہ بنے گا تو وہ غرض فوت ہو جائیگی جس کے لئے باغ بنایا گیا تھا۔

ہم نے خدا تعالیٰ کی ذات تک پہنچنا، تو لازماً ایسے ذریعہ کی ضرورت کی جو وہاں تک پہنچا سکے پس انسانوں میں سے کوئی آدمی ضرور ہونا چاہیے جو خدا تعالیٰ تک ہم کو پہنچا دے۔

لیکن کسی کو اگر یہ ذریعہ مل جائے یا پتہ مل جائے کہ فلاں آدمی وہاں تک پہنچا دے گا اور عقل سلیم اسے تسلیم کرے پھر بھی کوئی آدمی اسے اختیار نہ کرے تو یہ نقضِ عرض ہے اونقضِ عرض خلافِ فطرت ہے۔ لہٰذا ضروری ہوا اور فطرت کے اصول کا تقاضا یہ ہوا کہ نقضِ غرض نہ کیا جائے اور دین اللہ میں قاعدہ فطری یہ ثابت ہوا کہ اس کامل ذریعے کو قبول کیا جائے جو خدا تعالیٰ کی ذات تک پہنچا سکتا ہو۔ ایسا نہ کرنا خلاف فطرت ہوگا اور جو خلاف فطرت کرتا ہے وہ بد فطرت کہلاتا ہے۔

اب چاہتا ہوں کہ ایک ضروری بات عرض کر دوں۔ توجّہ فرما کر سنیئے۔

آپ نے لاوڈ سپیکر لگانا ہے جسے دو آدمی ٹھیک کرنا جانتے ہیں۔ ایک آدمی تو وہ ہے جو درست لاوڈ سپیکر کو تو لگانا جانتا ہے لیکن اگر لاوڈ سپیکر بگر جائے تو پھر اسے سنبھال نہیں سکتا۔اس کے خلاف ایک دوسرا آدمی ہے جو اگر لاوڈ سپیکر بگڑ جائے تو اس کو سنبھال سکتا ہے اور حسب دستور درست کر سکتا ہے تو آپ فرمائیے ان دونوں میں سے کس آدمی کو اپنے جلسے کے لئے آپ بلائینگے یا اس کو بلائیں گے جو بگڑے ہوئے کو سنبھال نہیں سکتا؟ یقیناً آپ اسی کو بلائینگے گے جو بہتر ہو گا اس لئے کہ ترجیح مرجوح باطل اور محال ہے۔

آپ کپڑا خریدنے جاتے ہیں تو ایسا اٹھا لاتے ہیں جس پر نمبر لکھے ہوتے ہیں اور اعلیٰ قسم پسند کر کے لاتے ہیں۔

اسے جانے دیجئے آپ دھلانے میں اس دھوبی سے کپڑے دھلائینگے جو بہتر اور اچھے کپڑے دھونے والا ہو گا۔

الغرض فطرت کہتی ہے کہ جب اچھی چیز مل سکتی ہے تو اس کی موجودگی یا دستیابی کے ہوتے ہوئے بری یا خراب شے کو قبول کرنا بری چیز ہے۔

جب لوگ دنیا کے معاملے میں فطرت کے ان اصولوں کی پابندی کرتے ہیں تو ضروری ہوا کہ دین کے معاملے میں بھی فطرت کے ان اصولوں کی پیروی کریں۔ جب دین کو بہتر درجہ کا سمجھانے والا مل سکتا ہے اس کے مقابلے میں وہ شخص جو کہتا ہو کہ میں تو جانتا ہی نہیں اختیار کرنا فطرت کے خلاف اور دین اسلام جو دین اللہ ہے کے خلاف ہے۔

جس قدر انبیاء کرام تشریف لائے ان ہی فطری اصولوں کے ساتھ تشریف لائے۔

ابھی عرض کیا گیا تھا کہ اجتماع ضدّین یااجتماع نقیضیں باطل اور محال ہے۔

حضرات انبیاء، اور آئمہ دین نے جب انسانوں کی اصلاح فرمائی ان ہی فطری اصولوں کے ذریعے اصلاح فرمائی۔

ایک مثال پیش کرتا ہوں۔سبحان اللہ۔

سیدنا امام جعفر صادق کے پاس ایک عیسائی مناظرہ کرنے پہنچا کہ حضرت عیسیٰ ابن اللہ تھے۔یعنی حضرت عیسیٰ خدا کے بیٹے تھے۔آپ نے مزاج پرسی فرمائی کہا مناظرہ کرنا چاہتا ہوں۔ارشاد فرمایا”مناظرہ کی کیا ضرورت ہے ہم تو حضرت عیسیٰ کو پیغمبر اور واجب الاحترام مانتے ہیں۔صرف ذرا ذرا سا گلہ ہے“

عیسائی مناظر نے عرض کیا”وہ کیا؟“

ارشاد فرمایا”عبادت کم کرتے تھے۔“

عیسائی بگڑا اور کہا۔”بالکل غلط۔وہ تو رات دن عبادت کرتے تھے۔“

امام صادق نے فرمایا”جب وہ رات دن عبادت کرتے تھے تو معلوم ہوا کہ کسی کی عبادت کرتے تھے‘ تم خود ہی بتاؤ کس کی عبادت کرتے تھے۔

کہا:”خدا اللہ کی“

ارشاد فرمایا:پس معلوم ہوا کہ وہ معبود نہ تھے بلکہ عبد تھے اور جب عبد ثابت ہو گئے تو خدا نہ رہے اور جب خدا نہ رہے تو مناظرہ ختم ہو گیا۔

تو یہ فطری اصول پیش کیا۔ مناظر فوراً سمجھ گیا۔

امیرالمومنین حضرت علی کی خدمت میں ایک دھریہ منکر خدا حاضر ہوا او رکہا کہ خدا کوئی نہیں۔

آپ نے ارشاد فرمایا”سبحان اللہ!تم کہتے ہو کوئی خدا نہیں اور ہم کہتے ہیں کہ خدا ہے۔

لھذا اسے معبود مان کر کچھ نماز پڑھتے ہیں کچھ روزے رکھتے ہیں بہت کچھ خیرات کرتے ہیں کچھ اور نیک اعمال بجا لاتے ہیں اور تم جو کہتے ہو کہ خدا کوئی نہیں ان اعمال صالحہ میں سے کچھ نہیں کرتے۔اگر تمہارے قول کے مطابق مانا جائے تو ہم تم مرنے کے بعد برابر ہوئے اور اگر ہمارا قول صحیح نکلا تو دنیا میں اگرچہ کچھ تکلیف ضرور اٹھائی لیکن میرے کے بعد ہمیشہ کے مزے میں ہم آئینگے اور تم ہمیشہ کے عذاب اور سب سزا میں مبتلا ہو گے۔

دھریہ یہ سن چکا تھا تو ہوش بگڑ گئے حیران ہو گیا۔بالآخر تسلیم کیا اور مزید دلیل کی وضاحت پوچھی۔

ارشاد فرمایا کہ تم مادہ کو خدا کہتے ہو جو نہ قدیم ہے نہ ازلی ہے۔تو جب مادہ قدیم نہ ہوا تو یقیناً تمہاری مدد نہ کر سکے گا۔

اور ہمارا خدا قدیم ابدی سرمدی ہے لہٰذا وہ ہر وقت اور ہر زمانہ میں خواہ یہ آسمان و زمین اورما فیھا باقی ہے وہ ہمارا مددگار ہوگا۔

اسی طرح ائمہ طاہرین کی محبت سے فیض یافتہ حضرت بہلول دانا تھا۔آپ کو فطرت کے اصولوں سے سمجھانے پر خاص ملکہ حاصل تھا۔

آپکے پاس سے ایک منکر اہل بیت یہ پراپگینڈا کرتا ہوا گزرا تھا کہ امام جعفر صادق کے ماننے والوں کے کس قدر غلط اعتقاد ہیں جو سمجھ میں ہی نہیں اتر سکے کہ وہ کہتے ہیں۔

(ا)خدا تعالیٰ ہے لیکن دیکھا نہیں جاتا۔بھلا یہ کس قدر غلط خیال ہے کہ ایک چیز ہو بھی اور پھر نظر بھی نہ آئے۔؟

(ب)شیطان جہنم میں ڈالا جائے گا حالانکہ شیطان آگ سے پیدا ہوا‘ تو آگ کو آگ میں ڈال دینا بھی کوئی عقیدہ ہوا؟

(ج)وہ کہتے ہیں کہ انسان فعل مختار ہے۔ اس لیے نیکی بدی کے افعال میں وہ جواب دہ ہوگا۔ نیکی کی جزاء پائے گا اور بدی کی سزا پائے گا۔ حالانکہ انسان کو کچھ احتیار حاصل نہیں محض مجبور شئے ہے۔ نہ اپنی مرضی سے آتا ہے نہ اپنی مرضی سے جاتا ہے۔

جناب بہلول نے اس کی تینوں باتیں سننے کے بعد دیوانہ اور مٹی کے ڈیلے لیے اورسیدھے بے دھڑک اس کے سرپر رسید کردیئے‘ سخت چوٹ آئی‘ خون بہا۔لوگوں نے آپ کو پکڑلیا۔ بادشاہ کے دربار میں پکڑ کر پیش کردیئے گئے۔

آپ نے ارشاد فرمایا حرج کیا ہوا جومیں نے چند ڈیلے اس کے مار دیئے؟

اس نے کہا حرج نہیں نہوا‘ میرا سر مارے درد کے پھٹ رہا ہے۔

آپ نے رفمایا کہاں درد ہورہا ہے ذرا دکھاؤ تو سہی۔ اگر ہو رہا ہے؟

کہا بھائی سچ مچ درد ہے اور ہو رہا ہے لیکن درد کوئی ایسی چیز ہے جو دکھائی بھی جاسکتی ہو؟

آپ نے فرمایا تم تو کہتے تھے کہ امام جعفر غلط فرما رہے تھے کہ خدا ہے لیکن دکھائی نہیں دیتا اور اب خود یہی غلطی کر رہے ہو؟

تم کہتے ہو ڈیلے کی چوٹ سے تکلیف ہو رہی ہے۔ حالانکہ تم بھی خاک کے اورڈیلا بھی خاک کا۔ خاک خاک پہ لگی درد کیسے ہوا اور تکلیف کیسے پہنچی۔ کیا تم ہی نہ کہہ رہے تھے کہ شیطان بھی آگ ہے اور جہنم بھی آگ‘ تو آگ کا آگ میں پڑنے سے کوئی تکلیف پیدا نہیں کرسکتا؟ اگر واقعی خاک سے خاک کو تکلیف پہنچ سکتی ہے جیسا کہ تم بتلا رہے ہو تو امام جعفر صادق علیہ السلام کو کیوں نہیں سچا مانتے جنہوں نے فرمایا کہ شیطان کو جہنم کی آگ میں پھینکا جائے گا تا کہ اسے تکلیف ہو اور اس کی شیطنت کی سزا ملے۔

پھر تو دعویٰ کرتے ہو کہ انسان مجبور محض ہے۔ تو میں بے قصور نہیں؟ میں نے جو کچھ کیا ہے بے اختیاری کے عالم میں کیا ہے اس لیے کسی سزا کا حقدار نہیں ہوسکتا۔

آپ کے ان فطری دلائل کو بادشاہ اور تمام لوگوں نے اس منکر سمیت تسلیم کیا اور آپ سے معافی مانگی گئی۔

توجاہلوں کے سامنے علمی دلائل اس قدر کام نہیں آتے جس قدر فطری دلائل مسائل کو ان کے ذہن میں اتار دیتے ہیں۔

اسی طرح ایک مشہور واقع ہے کہ ایک بڑے عالم کے پاس ایک محب اہل بیت حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرا بھائی محبت بہت تنگ کرتا رہتا ہے آپ کوئی ایسی دلیل سمجھا دیجئے جس سے ثابت ہو جائے کہ مولا علی کا مرتبہ اور لوگوں سے کم تھا؟

عالم صاحب نے سوچ کر کہا کہ اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے کہ رسول اللہ نے دوسروں کو تو اپنے پاس سلایا ہوا ہے اورحضرت علی کو اپنے قرب سے دور رکھا۔

تو محبت نے ایک فطری دلیل سے عالم صاحب کو لا جواب کردیا۔ کہا اگر دوسرے رسول اللہ سے اجازت لے کر پاس جا سوئے ہیں تو نقل سے ثابت کردو اور اگر بلا اجازت ہی وہاں جا لیٹے ہو تو بات اور بھی بگڑ گئی اور بجائے درجہ کے کم رتبہ ہونا ثابت ہوچکا۔

عالم صاحب نے کہا التبہ اجازت ثابت تو نہ ہو لیکن وہ حجرہ تو ان کی بیٹی کا تھا اس لیے اجازت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

محب نے جوب دیا کہ کیا دوسروں کی بیٹی کو تو زمین ورثہ میں مل گئی اور اس کے سبب وہ لوگ افضل ثابت ہوتے ہیں تو کیا حضور رسول اللہ کی بیٹی کا ورثہ نہ تھا جو بیوی کے ۱/۴ مقاملہ میں ۱/۲ کی مالک ہوتی ہے پس اس حساب سے تو علی کی فضیلت او رواضخ ہوجاتی ہے۔

عالم صاحب نے حب اس فطری دلیل کا خواب نہ پایا تو یہ کہہ کر اس محب کو اپنے پاس سے نکلوا دیا کہ معلوم ہوتا ہے کہ تو رافضی ہے میرے دربار سے چلو نکل جاؤ۔

پس معلوم ہوا کہ فطری دلائل ایسے پکے اور محکم ہوتے ہیں کہ وہ بہت جلد فطرت انسانی کے لئے قابل قبول ہوتے ہیں ۔

اسے بھی چھوڑ دیجئے ۔ قرآن میں دیکھ لیجئے ۔ مجھے اس وقت دو حصے یاد آگئے جو پروردگار عالم نے خود قرآن میں بیان کئے ہیں ۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام سے نمرود نے جھگڑا کیا ۔ جسے باین الفاظ قرآن پیش کرتا ہے ۔

( الم تر الی الذی حآجّ ابراهیم فی ربه ان الله الملک اذ قال ابراهیم ربی الذی یحیی ویمیت واذ قال انا اخی و امیت قال ابراهیم فان الله یاٰتی بالشمس من المشرق فأت بها من المغرب فبهت الذی کفر والله لا یهدی القوم الظٰلمین ) ( پ ۳ رکوع ۲ )

کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے نمرود کے جھگڑے کو محبوب آپ نے نہیں دیکھا ؟ جو اس نے آپ کے رب کے بارے میں کیا ۔ حالانکہ اسے پروردگار عالم نے بادشاہی عطا فرمائی تھی ۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے ۔

اس نے ایک بے گناہ کو مار ڈالا اور کہا ” دیکھو میں بھی مارتا ہوں “ اور پھر ایک واجب القتل کو زندہ چھوڑ دیا ۔ اور کہا ”دیکھو میں بھی زندہ کرتا ہوں ۔“

حضرت ابراھیم علیہ السلام نے جب دیکھا کہ یہ شخص جھگڑے سے باز نہیں آتا اور اسے فطری دلیل سے قائل کرنا چاہیے ۔

آپ نے فرمایا ” میرا رب سورج کو مشرق سے چڑھاتا ہے تو بھی اگر رب یا خدا ہے تو پھر سورج کو مغرب کی طرف سے چڑھا کر دکھا دے “

اب اس دلیل کے سامنے وہ منکر جھگڑالو لاجواب اور بے زبان ہو کر رہ گیا اور بے شک ظالم لوگوں کو خدا تعالٰی کبھی ہدایت نہیں دیتا ۔

پس فطری دلائل وہ ہیں جب جو انسان اپنی پیدائش سے ساتھ لاتا ہے ۔ بلکہ یہ فطرت ایسی محکم اور وسیع ہے کہ حیوان اور جمادات تک اس کے احکام سے خبردار ہیں ۔

نمرود کے مناظرہ یا جھگڑہ کو حضرت ابرہیم کے فطریانہ دلائل نے مبہوت اور پریشان کردیا ۔ اس لئے کہ اس کی فطرت تسلیم کررہی تھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام عین فطرت کے مطابق فرمارہے ہیں ۔

ایک چیونٹی بھی ان مسائل سے اس قدر واقف ہے کہ احکام فطرت کے خلاف ذرہ برابر نہیں چلتی ۔ وہ گندم کا دانہ اپنے سوراخ میں لے جاتی تو اس میں سوراخ کردیتی ہے ۔

یہ کس لئے اس لئے کہ اگر اس پر کوئی ایسا زمانہ آپڑے کہ وہ باہر نکلنے سے محروم کردی جائے تو وہ دانہ اسکے لئے غزا بن سکے گا اور سوراخ اس لئے کر دیتی ہے کہ اگر دانہ باقی رہ گیا تو اس کی فطرت اگنا ہے۔ یہ اس میں سوراخ کر دیتی ہے جو فطرتِ ارضی کی رُو سے سوراخ بر جانے کے بعد بیکار ہو جاتا ہے لہٰذا زمین کی فطرت ایسے سوراخ دار دانے کو اگاتی نہیں ہے اور اس طرح وہ دانہ صرف چیونٹی کی غذا کے ہی کام آتا ہے۔

پس زمین اور چیونٹی فطرت کے مندرجہ بالا بیان کردہ اصول سے واقف ہیں کہ سوراخ ہو جانے سے دانہ بے کار ہو جاتا ہے اور غرض پیدائش باطل ہو جاتی ہے۔ اس واسطے نقضِ غرض جب باطل کر دی گئی تو اس کا فائدہ بھی باطل ہو گیا۔

ایک اور عجیب امر یہ ہے کہ دھنیا کے دانہ کی تاثیر یہ ہے کہ اگر اس کے دو ٹکڑے ہو جائیں تو بھی زمین اسے اگا دیتی ہے۔ لیکن حیوان چیونٹی دانہ اور زمین کی فطرت اور اس کے اصول سے اس قدر باخبر واقع ہوئی ہے کہ وہ دھنیے کے دانے کے مزید دو ٹکڑے یعنی ایک دانے کے چار ٹکڑے کر دیتی ہے اور اس طرح سے وہ زمین میں اگنے کے لائق نہیں رہتا اور اس کے خوراک کے کام میں حسبِ ضرورت باقاعدہ آتا ہے۔

پس یہ وہ قواعد فطریہ ہیں کہ انسان تو درکنار جانوروں کی فطرت میں موجود ہیں لہٰذا اگر انسان باوجود انسان ہونے کے فطری قواعد کو چھوڑتا ہوا خلاف فطرت جانے لگے تو وہ انسانیت کے درجے سے اسقدر گر جاتا ہے کہ وہ جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔

میرے بزرگو اور بھائیو! ایک بات پر غور کرو،کہ آپ اپنے بچوں کے لئے ٹیوٹر،ماسٹر رکھتے ہو تو کیسا رکھتے ہو؟ بالفرض ماسٹر اچھا نہ پڑھاتا ہو تو پھر اسے نکال دیتے ہو یا نہیں؟ اور اس کے عوض میں وہی لاتے ہو نہ جو قابل ہوتا ہے؟ کیا یہ ٹھیک ہے نہ،یا غلط ہے؟

پس میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب بچوں کے پڑھانے کے لئے تو آپ کی طرف سے اسقدر اہتمام کیا جاتا ہے۔ تو کیا اپنے پڑھانے کے واسطے کوئی اہتمام نہیں؟آپ دین حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے معلّم کی کوئی ضرورت نہیں؟ بے شک ضرورت ہے اور رہے گی۔

وہ معلّم دین کون ہیں؟ وہ وہی ہیں جن کے سامنے کوئی سوال آتا تھا، جس معاملے میں بھی وہ سوال ہوتا تھا، تو اسی وقت وہ حل کر کے رکھ دیتے تھے۔ پھر رسول اللہ کی پیش گوئیاں اور سچی گواہیاں جن کے حق میں موجود ہیں۔ ایسی کہ آفتاب بدل سکتا ہے مگر وہ اپنی جگہ سے بدل نہیں سکتیں۔

حیٰوةُ الحیوان میں ایک واقع لکھا ہے ایک دن ہارون الرشید نے اپنے بیٹوں کو بلایا۔ اس کے دو بیٹے مامون اور امین تھے۔ مامون کنیز لیلی سے اور امین زبیدہ سے تھا۔ شہزادے جب آپہنچے، علماء وقت سے کہا کہ حرف، نحو ، معانی وغیرہ علوم میں ان سے سوالات کئے جائیں۔ آخر امیر المومنین کے بیٹے تھے، جواب دے رہے تھے۔ مگر یہ برابر رو رہا تھا، کہا گیا یہ وقت رونے کا کس طرح ہو سکتا ہے؟ یہ تو خوشی کا موقع ہے خدا نے اس قدر لائق بیٹے آپ کو عطا فرمائے۔

کہا” کیا بتاوں۔ ان بیٹوں کا انجام یاد آرہا ہے، اگرچہ علوم میں لائق ہیں لیکن ان کا انجام بد مجھے رلا رہا ہے۔“

کہا گیا” کیا کسی نجومی سے آپ نے سنا ہے؟ یہ چیز تو خلاف اسلام ہے۔“

بادشاہ ہارون نے کہا، نجومی سے نہیں سنا بلکہ علم خدا میں لوح محفوظ پر لکھا جا چکا ہے کہ یہ دونوں بھائی آپس میں بری طرح سے لڑینگے اور یہ جنگ میرے مرنے کے بعد ہو کر رہے گا۔ سورج اپنی جاء طلوع مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع کر سکتا ہے لیکن یہ بات اپنی جگہ سے بدل نہیں سکتی۔ اس لئے کہ یہ خبر لوح محفوظ سے زبان جبریل پر، اور وہاں سے سینہ انبیاء تک، اور وہاں سے قلوب اولیاء تک پہنچی ہے اور جو کچھ کہ دیا گیا ہے وہ ہو کر رہے گا۔ امام موسیٰ کاظم کی زبان سے یہ بات میں نے سنی ہے کہ ان بیٹوں کا انجام یہ ہو گا۔“

ظالم نے موسیٰ کاظم کو چند دن جیل میں بھی رکھا۔ زہر بھی دیا اور آپ شہید بھی ہو چکے۔ لیکن اعتقاد بادشاہ کا یہی تھا کہ وہی ہو کر رہے گا جو امام کہ گئے ہیں۔

پس معلّم دین وہ امیر ہیں جن کا کہنا فطرت کا کہنا تھا۔ جو ان سے ہٹ گیا وہ فطرت سے پھر گیا۔

سُبحان اللہ! ایک مسئلہ اور سامنے آگیا، بات سے بات نکل آتی ہے چونکہ بعض کے ذہن میں یہ سوال آسکتا ہے اس لئے حل کر دینا چاہتا ہوں۔

ارشاد رسالتمآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے کلّ مولود یولد علی الفطرہ الاسلام والداہ یھودانہ او ینصّرانہ او یمجسانہ کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ اسلام کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لیکن بعد میں اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا ڈالتے ہیں یا عیسائی کر لیتے ہیں یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔

سوال یہ کیا جاتا ہے کہ فرمان نبوی سے ثابت ہوتا ہے کہ بچہ اصل میں مسلمان پیدا ہوتا ہے تو اس کا کیا مطلب ہے۔ اس کی پیشانی پر تو لکھا ہوتا نہیں کہ یہ مسلمان ہے؟

اس کے جواب کے لئے ذرا تمہید کی ضرورت ہے اور نہایت ہی مختصر عرض کرتا ہوں کہ بعض تعلیم یافتہ حضرات جو کبھی کبھی قرآن پڑھا کرتے ہیں کہا کرتے ہیں کہ کسی نبی نے ایک بات گناہ کی کی اور کہ یہ دیا کہ شیطان نے پھسلا دیا تھا۔

یعنی حضرت موسیٰ کا واقعہ جو قرآن پاک میں مذکور ہے کہ موسیٰ گھر سے باہر نکلے۔ دیکھا کہ دو آدمیوں میں جھگڑا ہو رہا ہے۔ ایک آدمی فرعون کے طرفداروں میں سے تھا اور ایک موسیٰ کی قوم سے تھا۔ آپکی عمر ۳۰ سال کی تھی۔ جوانی کا عالم تھا۔ آپکے طرفدار نے فریاد کی، مدد کو بلایا فوکزہٰ موسیٰ فقضیٰ علیہ۔” آپ نے ایک گھونسا جو قطبیٰ کے رسید کیا، وہیں اس کا کام تمام کر دیا۔“قال ھذا من عمل الشیطان انّہ عدوّ مبین فرمایا” یہ شیطان کے عمل سے تھا بے شک وہ کھلا دشمن ہے۔“

بعض اس آیت کے معنی یہ کرتے ہیں یہ جو دونوں جو لڑ رہے تھے اس کی طرف آپ نے اشارہ فرمایا کہ یہ لڑنا شیطان کا عمل تھا اور بعض نے یہ معنی کہا کہ آپ نے اپنے فعل کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے یہ الفاظ ارشاد فرمائے ۔

قرآن کے الفاظ ان لڑنے والوں کے لئے یہ بیان ہوئے ہیں کہ ھذا من شیعة وھذا من عدوہ ۔ کہ یہ جو آپ کے شیعوں میں سے بھی گروہ سب سے تھا مارہا جارہا تھا اور دوسرا جو ان کے دشمن کے گروہ سب سے تھا اسے مارہا تھا ۔ تو آپ کو طیش آگیا ۔ آپ نے اس عمل کو شیطان کی طرف منصوب فرمایا ۔

بات بالکل واضح ہے ۔ جہاں تک قرآن پاک نے اسے بیان فرمایا ہے۔

قاعدہ کلیہ ہے لکل وحدةٍ کثرةً ولکل کثرة وجدة، کہ ہر وحدت کے لئے کثرت ہے اور ہر کثرت کے لئے وحدت ہے ۔

اگر کثرت اور وحدت تک نہ جائے گی تو انتظام یکسر خراب ہوجائے گا اور وحدت اگر کثرت کی طرف جائے گی ضعیف ہوجائے گی ۔

یہ بلب آپ کے سامنے روشن ہے وہ جگہ جہاں شعلہ روشن ہے روشنی پھیل رہی ہے اور جوں جوں پھیل رہی ہے کمزور ہوتی جارہی ہے اور جب کثیر شعاعیں کثرت سے وحدت یعنی مرکز کی طرف آئیں گی قوی ہوتی چلی جائیں گی ۔

ہر فرع کے لئے وصل ہے، ہر خبری کے لئے کلی ہے ۔ ہر شاخ کے لئے جڑ ہے ۔ ہر امت کے لئے نبی ہے اور ہر ملک کے لئے بادشاہ ہے ۔ ہر گھر کے لئے بزرگ ہے ۔ پس ہر کثرت کے لئے کسی نہ کسی وحدت کی ضرورت ہے جس پر جاکر وہ کثرت ختم ہوجائے ورنہ ان کا نظام ٹال اور درہم برہم ہوجائے گا ۔

یہ جو عالم میں فساد رونما ہے اس وجہ سے ہے کہ بعض کثرتیں بن تو جاتی ہیں لیکن وہ کسی وحدت پر جا کر مل نہیں سکتیں لہذا فساد بپا ہو جاتا ہے۔

دیکھتے نہیں آپ؟ ضلع کے افراد کو امن میں رکھنے کے واسطے ایک حاکم ہوتا ہے اسی طرح چند حاکموں پر ایک بڑا حاکم ہوتا ہے اسی طرح چند حاکموں پر ایک بڑا حاکم ہوتا ہے جیسے چند ڈی سیوں پر ایک کمشنر ہوتا ہے اورکئی کمشنروں پر گورنر اور کئی گورنروں پر بادشاہ ہوتا ہے۔ پس اس طرح تمام کثرتیں ایک وحدت پر جا پہنچتی ہیں جسے یہ وحدت مل جاتی ہے نظام درست ہو جاتا ہے۔

اسی طرح یہ جو کئی بادشاہ ہوگئے اور کثرت میں ہوگئے ان کو بھی وحدت کی ضرورت ہے تاکہ فساد بپا نہ ہو اور اس وقت تک فساد مٹ ہی نہیں سکتا‘ کل جہاں جو روستم کاشکار ہی رہے گا جب تک ان کی رسائی اس وحدت تک نہ ہو جائے جو کل روئے زمین کو عدل و انصاف‘ امن و سکون سے بھروں گا اور وہ جناب امام زمان مہدی آخر ا لزمان علیہ السلام کا وجود باجود ہے۔

الغرض جب مان لیا کہ بہ کثرت کے لیے ایک وحدت ہوتی ہے تو اب نہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔ تمام دنیا میں اعمال خیر کی بھی کثرت ہے‘ اعمال شر کی بھی کثرت ہے۔ بہت سے اعمال ہیں جن کی انتہاء کسی نہ کسی وحدت پر ہوتی ہے۔ پس اعمال خیر کی بھی ایک جڑ اور اعمال شر کی بھی ایک جڑ یا اصل ہونی ضروری ہے۔

بدی کرنے والے کو آپ علیحدہ رکھیں لیکن بدی کی کوئی جڑ ضرور ہے۔ اسی طرح نیکوں کی بھی ایک جڑہے اور وہ جڑ مخلوق اول ہے جو ہمہ تن خیر ہے اور وہ بہمہ وجوہ خوب ہی خوب ہے۔

اور یہی مطلب ہے اس فرمان نبوی کا کہ آپ نے فرمایا ان ذکر الخیر کنت ادلة و اخرة جب کبھی خیر ‘ نیکی‘ خوبی بھلائی کا ذکر ہوگا اس کی اصل حضور ہوں گے۔

ٹھیک اسی طرح بدی اور شر‘ لڑائی اور فساد فتنے اور جنگ کی بھی اصل ہے اور وہ شیطان ہے۔ پس شر کی جڑ شیطان یعنی ہے۔

یہ ہی وجہ ہوئی کہ جب کسی نبی یا ولی سے ترک اولیٰ ہوا‘ اس نے اسے برا سمجھا اور چونکہ برائی کی اصل شیطان ہے۔ اس واسطے اس نے کہا کہ یہ شیطان کی طرف سے ہوئی۔

دوسرا قصہ قرآن مجید نے جو بیان فرمایا اور اس کی روشنی میں دین فطری کے قواعد کو خوب سمجھا جاسکتا ہے۔ آپ توجہ کے ساتھ سماعت فرمائیں آپ کو سمجھ آجائے گی۔

یہ واقعہ ۱۵ ویں سپارے کے آخری رکوع اور سولھویں پارے کے شروع رکوع میں مذکور ہوا ہے۔

موسیٰ علیہ سے سوال کیا گیا کہ آپ سے بڑھ کر کوئی اور بھی عالم موجود ہوگا آپ نے دل میں خیال فرمایامجِھ سا کوئی عالم موجود نہ ہوگا۔ خدا تعالیٰ نے مجھے وقت کا پیغمبر بنایا ہے۔

اسی وقت حکم الہی آپہنچا کہ آپ اس طرح اپنے ساتھی سمیت چل پڑیں اور جہاں دونوں دریا ملتے ہیں وہاں ہمارا بندہ ملے گا۔ کچھ مدت اس کی محبت میں رہو اور اس کی شاگردی کرو۔

قرآن پاک اس واقعہ کو اس طرح فرماتا ہے و اذ قال موسیٰ لفتہ لا ابرح حتی ابلغ مجمع البحرین او امضی حقباہ کہ اپنے اپنے جوان سے فرمایا جب تک دونوں دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ آئے ہم چلتے رہیں گے۔

حکم تھا کہ آپ ایک مچھلی بھنی ہوئی بھی لے لیجئے۔ آپ کا ساتھی جس مقام پر مچھلی کو کھو دے گا وہاں ہی سے راستہ مل جائے گا۔ وہاں ایک شخص آپ کو ملے گا جس کا مصلی پانی پر بچھا ہوگا پورا تذکرہ قرآن مجید میں موجود ہے۔ دونوں چلے۔ آپ نے ناشتہ مانگا بڑے تھک چکے تھے ساتھی نے افسوس کے ساتھ کہا کہ میں آپ سے بیان کرنا بھول گیا وہ مچھلی کو عجیب طریق سے فلاں جگہ دریا میں گر گئی اور زندہ ہو کر چل پڑی اور راستہ بناتی چلی گئی۔

آپ نے فرمایا: اسی جگہ کی تو تلاش ہمیں تھی واپس پہنچے اور نشانات پر چلنا شروع کیا تا آن کہ وہ بندہ مل گیا۔ جس کے حق میں حکم ہوا تھا کہ عبد من عبادنا اتینہ رحمة من عندنا و علمنہ من لدنا علماہ ط خدا تعالیٰ کے خاص بندوں میں سے ہوتھا جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص علم عطا ہوا تھا اور اس پر خاص رحمت خداوندی ہوچکی تھی۔ آپ نے دیکھا وہ نماز پڑھ رہے ہیں۔ بعد فراغت نماز آپ نے سلام کیا انہوں نے سوال فرمایا: کس لیے آئے؟ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ جو علم آپ کو اللہ تعالیٰ نے سکھلایا اس میں سے سیکھنے کے واسطے حاضر ہوا ہوں۔

سبحان اللہ! یہ وحی خدا سے جبریل سے ہیں اور تعلیم کے لیے یہ الفاظ قرآن میں آئے ہیں ان میں بڑی بھاری ہدایت ہے کہ انسان کو بڑے سے بڑے بلند مرتبہ پرپہنچنے کے بعد یہ کبھی خٰال نہ کرنا چاہیے کہ اس سے بڑا اور کوئی نہ ہوگا۔

وہ حضرت خضر تھے۔ انہوں نے فرمایا و کیف تصبر علی مالم تحط بہ خبراہ کہ یا حضرت! موسیٰ! آپ میں صبر کی گنجائش‘ بااستطاعت کیسے ہوگی جو میرے علم کو برداشت کر سکیں گے۔ یہ ڈانٹ کی قسم تھی۔

آپ نے جواب دیا ستجدنی انشاء اللہ صابرا و لااعصی لک امراہ کہ مجھے حکم ایسا ہی ہوا ہے۔ انشاء اللہ صبر کروں گا اور آپ کے حکم سے سر نہ پھیروں گا۔ مجھے بہ حکم خدا ہوچکا۔

حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا فان اتبعتنی فلا تستنی عن شیء آپ اگر میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو پھر کسی بارے میں جو میں کروں آپ یہ نہ پوچھنا کہ یہ کیوں ہو رہی ہے؟

آپ نے وعدہ فرمایا: توچل پڑے سامنے دریا آیا‘ کشتی چل رہی تھی۔ اس میں بیٹھ گئے۔ جب ساحل قریب آیا۔ حضرت خضر نے کشتی میں سوراخ کردیا۔ موسیٰ علیہ اللسام کو اس کی تاب نہ رہی شریعت ظاہری پر مامور تھے۔ فوراً بولے ”کہ آپ نے کیا ظلم کردیا۔ کشتی میں سوراخ کے سبب پانی بھر آیا۔ کیا آپ نے سب کو مارنے کے لیے سامان کردیا؟“

حضرت خضر نے فرمایا: آپ کیا وعدہ بھول گئے میں نے پہلے ہی نہ کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صابر نہ رہ سکیں گے۔

حضرت موسیٰ نے اپنی بھول پر عذر خواہی کرتے فرمایا: آئندہ خیال رکھوں گا۔

آگے چلے ساحل سے اتر کر شہر میں داخل ہوئے۔ حضرت خضر نے ایک لڑکا دیکھا چھری نکالی۔ حملہ کے ساتھ اس کی گردن کاٹ ڈالی اور چل دیئے۔

جناب موسیٰ سے رہا نہ گیا۔ ارشاد فرمایا: کہ آپ بے گناہ ایک جان کو مار دیا؟

حضرت خضر نے فرمایا: آپ نے پھر وعدہ خلافی کی اور وہی بات کی جس سے آپ کو منع کیا گیا تھا؟

جناب موسیٰ علیہ السلام نے اب کے پھر معافی چاہی اور وعدہ کیا کہ اب ایسا نہ ہوگا۔ ورنہ آپ مجھے اپنے ساتھ رہنے نہ دیجئے گا۔

آگے بڑھے۔ گاؤں میں پہنچے۔ بھوکے تھے جس کے دروازے پر پہنچتے۔ صاف جواب ملتا تھا کہ اس گاؤں میں کھانا دینے کا رواج ہی نہیں۔ گاؤں سے باہر نکلنے کو تھے کہ ایک دیوار گرنے والی تھی۔ حضرت خضر نے اپنی پیٹھ دیوار سے لگائی زور لگایا اور اسے سیدھا کردیا۔

جناب موسیٰ علیہ السلام پھر بول اٹھے لو شئت لتخذت علیہ اجراہ کہ آپ چاہتے تو ان سے مزدوری لے لیتے۔

حضرت خضر نے فرمایاهذا فراق بینی و بینک سأنبئک بتأویل ما لم تستطع علیه صبرا بس اب آپ میں اور مجھ میں جدائی ہوچکی۔ بہرحال جن باتوں پر آپ صابر نہ کرسکے تھے باوجود وعدہ کرنے کے ان کی علتیں آپ کو بتاتا ہوں۔

ارشاد فرمایا پہلا واقعہ کشتی کا پیش آیا تھا۔ اس کی علت یہ تھی کیفکانت لمسکین یعلمون فی البحر فاردت ان اعیبها و کان ورآء هم ملک یأخذ کل سفینة غصا کہ یہ کشی مسکینوں کا مال تھا۔ کشتی ایسے ساحل کی طرف جاری تھی جس کا مالک ایک ظالم بادشاہ تھا جو صحیح و سالم کشتیوں کو غضب کرلیتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ان بیچارے مسکینوں ککی روزی بند ہو جائے گی اس لیے اسے عیبدار کردیا تاکہ وہ چھوڑ دے اور یہ پھر اس کی مرمت کرلیں۔

رہا لڑکے والا معاملہفکان ابواه مومنین فخصیانا ان یرهقهما طغیانا و کفرا فاردنا ان یبدلهما ربهما خیرامنه زکوٰة و اقرب رحما ۔ اس بچے کی علت قتل یہ تھی کہ وہ نابالغ بچہ ابھی ہاتھ پاؤں نکال رہا تھا اس کی آزادی اور سرکشی بڑھتی جارہی تھی اس ماں باپ دونوں ایماندار آدمی تھے اگر یہی حالت رہتی تو وہ اپنے افعال سے قریب تھا کہ دونو کو کفر کی طرف مائل کردیتا پس ہمارا ارادہ یہ ہوا کہ اسے مار کر اس کے عوض میں اس بچہ سے بہتر اولاد دے دی جائے جو ان کے لیے تزکیہ اور ہمارے قرب کا ذریعہ بن جائے۔

اور دیوار کا قصہ یہ ہے کہمکان لغلمین یتیمین فی المدینة وکان تحته‘ کنز لهما وکان ابوهما صلحا فاراد ربک ان یبلغا اشدهما و یستخرجا کنزهمارحمة من ربک و ما افعلته عن امری ط ذاک تأویل ما لم تستطع علیه صبرا ۔

کہ اس دیوار کے نیچے خزانہ تھا۔ خزانہ والے کے بچے یتیم رہ گئے تھے۔ اگر دیوار خود بخود گر جاتی لوگ ان کا مال لوٹ کر لے جاتے اور وہ ضائع ہو جاتا۔ خدا تعالیٰ نے چاہا کہ یہ دیوار اس وقت تک قائم رہے جب تک بچے بالغ نہ ہو جائیں۔ پس پروردگار عالم نے چاہا کہ وہ جوان ہو کر خود ہی اپنی چیز نکال لیں اور کسی غیر کے ہاتھ میں نہ جاسکے۔

قرآن کریم نے اس واقعہ کو جس فصیح و بلیغ الفاظ اور انداز میں بیان فرمایا ہے وہ بے نظیر اور بے مثال ہے۔ جو لوگ عربی قواعد سے واقف ہیں اس امر کو خوب جانتے ہیں۔

نیز اس واقعہ میں حضرت خضر نے خوبی اور عیب کے تذکرہ میں عیب کو اپنی طرف اور خوبی کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب فرما کر ادب کی اعلیٰ تعلیم فرما دی ہے۔

الف: کشتی میں جو عیب آپ نے کردیا تھا حالانکہ دراصل وہ عیب نہ تھا۔ اسے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب نہ کیا بلکہ اپنی طرف اس عبارت کے ساتھ کیا فاردت ان اعیبھا کہ میں نے ارادہ کیا کہ اسے عیب دار کردوں۔

ب: دوسرے واقعہ قتل میں دو باتیں تھیں ایک بات تھی قتل کی۔ دوسری بات تھی لڑکے کے بدلے میں بہتر اور نیک اولاد دینے کی۔ تو قرآن نے قتل کی نسبت تو حضرت خضر کی طرف کی اور عطا اور بدلہ دینے کو حضرت عب العزت کی طرف منسوب کردیا۔

ج: تیسرا واقعہ خزانہ کا تھا۔ اس میں چونکہ کوئی عیب ہی نہ تھا خیر ہی خیر تھا۔ اس لیے اس میں اپنے اپنے آپ کو الگ کردیا اور فاراد ربک کہہ کر اس خیر کی نسبت رب تعالیٰ کی طرف کردی کہ اصل خیر وہی ہے اور بری چیزوں کی نسبت اسی لیے شیطان کی طرف ہو جاتی ہے۔

درود شریف پڑھ لیجئے۔ تاکہ مضمون کو آپ کی خدمت میں پیش کردوں۔

میں عرض کرنا چاہتا تھا کہ تمام کثرتیں وحدت کی طرف لوٹتی ہیں۔ یہ کائنات جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں عالم کبیر کہتے ہیں۔ جو کچھ اس میں اس میں موجود ہے اس میں کچھ جامع نسیمہ انسان ہے جسے عالم صغیر بھی کہتے ہیں عالم کبیر میں زیادہ اور تفصیل کے ساتھ ہے۔ وہ سب انسان میں بھی موجود ہے لیکن نمونہ کے طور پر وہاں زیادہ ہے یہاں کم ہے۔

مثلاً وہاں پانی ہے یہاں بھی پانی ہے وہاں ہوا ہے یہاں بھی ہوا ہے۔ اس میں پہاڑ ہیں اس میں ہڈیاں ہیں۔ الغرض جو کچھ اس عالم کبیر میں ہے اس انسان میں بھی موجود ہے اس نے سبحان اللہ بعض نے انسان کو جو بظاہر عالم صغیر ہے در حقیقت عالم کبیر کہا ہے۔

امیر المومنین کا فرمان ہے اتزعم انک جسم صغیر و فبک انطوی عالم اکبر کہ تم اس انسان کو جسم صغیر کہتا ہے حالانکہ تجھ میں بہت بڑا عالم پایا جاتا ہے۔ اس دلیل کا نام دلیل تقابل رکھا گیا ہے۔ وہاں آفتاب اور ستارے ہیں یہاں قوتیں ہیں جو کام کررہی ہیں۔ وہاں ملائکہ ہیں یہاں عقل اسی طرح وہاں شیطان ہے یہاں اس کی جگہ قوت واھمہ ہے‘ جب قوت واھمہ تم میں موجود ہے تو شیطان کا انکار کرنا غلط ہوگیا۔ اس لیے کہ تم پر عالم اکبر موجود ہے۔ پس شیطان بھی عالم میں موجود ہے۔

پھر تمام کے تمام آلات ادراک دیئے گئے ہیں‘ ہر عضو کو الگ الگ ملے ہیں‘ آنکھ دیکھنے کے لیے‘ زبان چھکنے اور بولنے کے لیے‘ کان الگ سننے کا کام کر رہے ہیں۔ آپ آنکھ بند کرکے اس سے سننے کا کام نہیں لے سکتے غرض عقل سے لے کر ”حسّ“ تک تمام آلاتِ ادراک موجود ہیں اور جس قدر آلات ہیں سب کے سب حق نما ہیں۔

سامنے ایک چیز جس رنگ کی ہے دونوں آنکھیں اگر صحیح ہیں اسے ایک ہی بتائیں گے اور جو رنگ ہے اسی کو بتائیں گی یہ نہیں ہوسکتا کہ سیاہ کو سفید بتا دیں یا دو کو ایک دکھا دیں۔

زبان کڑوی شئے کو پٹھانہ کہے گی اگر بیمار نہ ہو۔ حق کو حق بتادے گی۔

پس حق کو حق جاننا ہی اسلام ہے۔ یہ آلات حق نما دے کر بھی تو فطرت اسلام پر پیدا کیا ہے اور جب فطر اسلامیہ پر پیدا کیا گیا ہے تو پھر فطرت سے کس وجہ سے ہٹ جاتا ہے؟ شیطان کے بہکانے سے فطرت کے خلاف کرنے لگتا ہے اور خلاف سمجھنے لگتا ہے۔ شیطان جب پیچھے لگ جاتا ہے بیڑا غرق کردیتا ہے۔

اور پھر کبھی صحبت بد کے سبب فطرت سے انسان ہٹ جاتا ہے۔ کبھی مجلس بد میں شیطان جا پھنستا ہے کلام الہی میں اس کے متعلق فرمایا ہے کہ اس نے قسم کھائی ہے کہ تم انسانوں کا یہ صریح دشمن ہے: فیعزتک لاعوینھم اجمعین جب اسے راندہ درگاہ کیا گیا اس نے خدا تعالیٰ کے سامنے قسم کھائی کہ تیری عزت کی قسم ہے میں ان سب کو راہ حق (جو فطرت کی راہ ہے) سے ہٹا دوں گا۔

اور دوسری جگہ اس کا قول قرآن میں یہ فرمایا گیا و لا ربھم الخ کہ ضرور ان کو حکم خداوندی یعنی حق کے خلاف حکم دوں گا اور فرمایا: فلیغیرن خلق اللہ کہ خلق خدا میں تغیرات پیدا کردے گا۔ فطرت کوبگاڑ کر رکھ دے گا اور جب ان کی فطرت بدل جائے گی پھر وہ شیطان کی اطاعت کرنے لگ جائیں گے ولا تجدن اکثرھم شاکرین اور اے خدا تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔

کس قدر جبری مخلوق ہے جو خدا تعالیٰ کے سامنے آزادانہ بول رہا ہے۔

انسان کو اکثر مقامات پر فطرت کی شئے نظر آئے گی۔ جانتا ہوگا کہ یہ بہتر ہے لیکن مانے گا نہیں۔ اسی طرح اس نے اپنے گروہ میں انسان کو شامل کرلیا۔ جنات میں سے جنوں کو تو اس سے بہکایا تھا۔ لیکن انسانوں کو بھی بہکا کر شیطان بنالیا اور شیطین الانس ان ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

پس یزید انسان نما شیطان تھا‘ جس کے کل افعال شیطانی تھے۔ علامہ ابن حجر مکی نے صاف طور پر لکھا ہے کہ بندروں کے ساتھ کھیلتا تھا۔ کتوں کی گردنوں میں زنجیر ڈالے شکار میں مصروف رہتا تھا۔ محرمات ابدی کو حلال جانتا تھا۔

شیطان اس کے ذریعہ چاہتا تھا کہ عالم انسانیت کی فطرت کو بدل کر رکھ دے۔

امام حسین علیہ السلام دیکھ رہے تھے کہ جاہ و ریاست پر قابض ہے شیطان سیرت ساتھیوں نے اسے بادشاہ بنا لیا ہے۔ نانا کی ساری کمائی ضائع ہوجائے گی۔ لہذا حق کو باقی رکھنے کے واسطے آپ سامنے آئے۔ پہلے مقاتلہ نہ کیا اول مرتبہ وعظ و پند سے‘ نرمی اور خلق سے ہدایت فرمائی۔ اس لیے کہ الفتنة اشد من القتل۔ لیکن وہ کسی طرح باز نہ آیا‘ اس نے مخلوق کو مسلمان بن جانے کے بعد خرات راستے پر چلا رکھا تھا۔ آپ نے ضرورت محسوس کی تنہا نہ جاؤں گا۔ بیویوں اور بچوں کو ساتھ لے کر نکلوں گا۔اس لیے کہ بیماری حد سے بڑھ چکی تھی۔ جن بیویوں کو ساتھ لائے تھے انہوں نے کہاں یہ تکالیف دیکھی تھیں۔ بچوں میں سے ۵ ماہ تک کا بچہ تک ساتھ تھا۔ جس نے ۶ ماہ کا ہو کر تیر جفا حلق پر لیا اور جان دے گیا‘ ۵ تا ۱۴ دن کے بچے کو اور اس کی ماں کو غریب آدمی بھی نکلنے نہیں دیتے۔ لیکن یہاں دین اسلام کا معاملہ تھا اور امام حسین علیہ السلام کی نظر میں کس قدر اہم تھا کہ چاہے بچے شہید ہو جائیں سارا کنبہ تباہ و برباد ہو جائے لیکن نانا کا دین کسی طرح بچ جائے۔

اس لیے کہ وہ جو دین کو اسلام کے نام سے رکھتے تھے ان کا سردار یزید شراب خواری میں شب و روز مصروف رہتا تھا اور لوگ تھے کہ آنکھوں پر پٹی باندھے ہوئے تھے‘ جب تمسخر اڑایا جاتا تھا دین اسلام کے ماننے والے بڑے بڑے لوگ سن کر چپ ہو رہتے تھے۔ یزید کو کسری حکومت حاصل تھی‘ دولت اس کے پاس تھی لالچ دے کر سب کو قبضے میں کئے ہوئے تھا کوئی نہ کہہ سکتا کہ غلط کر رہا ہے۔ حتی کہ خلیفہ ثانی کے بیٹے عبد اللہ بن عمر جیسوں نے یزید کی بیعت کرلی ہوئی تھی ہر ایک کا کام حکومت سے مقابلہ پہ آنا نہ ہو سکتا تھا۔ کوئی غرضوں کے لیے چپ تھا کوئی زمین‘ جاگیر کے لیے خوشامد کر رہا تھا لیکن صرف دین اللہ کے واسئے برسر میدان نکنا صرف اللہ والوں کا ہی کام ہوسکتا تھا۔

کائنات ایک طرف تھی۔ جب امام حسین علیہ السلام نکلے۔ اس شان کے سات نکلے کہ آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک کوئی اس شان کے ساتھ نہ نکلا تھا۔

اولاد والو! جو حکومتوں کے مقابلہ میں حق کو قائم اور ثابت کرنے کے واسطے گھر سے نکلا کرتے ہیں اور یقین کامل ہے کہ میدان میں جا کر جان دے دیتی ہے کیا وہ بچوں اور بیویوں کو ساتھ ے کر جایا کرتے ہیں۔ لوگ میدان جنگ میں ادھر ادھر کے آدمیوں کو ساتھ لیتے ہیں لیکن آپ بھائیوں کو‘ قریبی عزیزیوں کو ساتھ لے جاتے ہیں‘ عورتوں کو ساتھ لے جاتے ہیں کہ خیموں کو آگ لگ جانے کی فکر سے بے نیاز ہو کر لے جاتے ہیں کہ یہ سب کچھ پاک مقصد کے لیے ہو رہا ہے۔ ۶۴ بیویاں قیدی بناکر دشمن لے جارہا ہے چھوٹی بچیاں ان کے علاوہ ہیں۔ کوفہ کے بازاروں‘ قید خانہ‘ جیل خانہ کی مصیبت برداشت کرتی ہوئی کس استقلال کے ساتھ یہ مقدس بیویاں جارہی ہیں‘ قطعاً کوئی شکایت نہ کی کہ ہم کو تکلیف پہنچ رہی ہے‘ اے بیویو! امت پر کس قدر تمہارا احسان ہے۔ کوچوں بازاروں سے گذریں۔ اونٹوں پر راستہ طے کیا۔ دشمن قافلہ پہنچا۔ دربار یزید میں لے جائی گئیں۔ خیال ہوتا تھا کہ یہ کون قیدی عورتیں جارہی ہیں! فاطمہ زہرا کی بیٹیاں اور قیدی ہو کرڈ دربار آراستہ ہو رہا ہے اور جب ہوچکتا ہے قیدیوں سے کہا جاتا ہے ”چلو“۔ جان نثار غلاموں کی بیویاں آگے ہو جاتی ہیں اور شہزادی زینب کو پیچھے کرلیتی ہیں کہ پہلی نظر ان پر نہ پڑے۔ کہیں عورتوں نے اس شان کی قربانی اور جان نثاری کی نظیر پیش کی؟

عورتوں کی جان نثاری ایک طرف‘ مردوں کا قربان ہونا اس شان کے ساتھ کسی نے دیکھا ہوگا؟ ”علی اکبر“ کا سا جوان‘ فرزند‘ صبح فلک نے اس سا کوئی اور جواں دیکھا ہوگا؟ جو سر سے پاؤں تک تصویر رسول ہو؟

پوچھتا ہوں۔ دوست داران اہل بیت! دوسرے بھی جانتے ہی ہوں گے! کہ عباس سا جمیل اور حسین دنیا میں چشم فلک نے دیکھا تھا؟

حجازمیں شریف ترین قبیلہ بنی ہاشم تھا۔ جو تمام قبائل میں سب سے زیادہ حسین اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ اس قبیلہ میں عباس کا لقب قمر بنی ہاشم تھا۔ اللہ اکبر! کیسی صورتیں کربلا کی خاک میں چھپ گئیں۔

چاہتا ہوں کہ نوجوان! عباس کے متعلق کچھ عرض کروں۔ ۳۲ سال کی عمر تھی آپ کی۔ لکھا ہے کہ فرس متہم ایک گھوڑا ہے جو سوار کے بیٹھنے کے بعد گردن بلند کرتا ہے تو سوار پیچھے چھپ جاتا ہے۔ لیکن عباس جب سوار ہوچکے گھوڑے سے گردن بلند کی تو آپ کی گردن سامنے نظر آرہی تھی اور رکاب پاؤں کا بوسلہ لے رہی تھی۔

آج ۸ ویں رات ہوگئی۔ ان می ہی فرات کے اوپر پہرے بیٹھ گئے تھے اورحکم ہوچکا تھا کہ جانور آئیں‘ پرند آئیں پانی منع نہ کیا جائے لیکن رسول اللہ کی اولاد کا ہاتھ یا منہ پانی تک نہ پہنچنے پائے۔

جناب امیر علیہ السلام نے حضرت عقیل کو بلایا‘ جو عرب کے لوگوں کی نسل سے واقف تھے۔ فرمایا: بھائی اس لیے بلایا ہے کہ خاتون سے عقد کرنا چاہتاہوں جو شریف‘ اور غیرت مند قبیلہ سے ہو‘ تاکہ خدا تعالیٰ اس خاتون کو ایسا لڑکا دے جو میرے ”حسین“ کے لیے کل کام آئے۔ جناب عقیل نے دو دن کے بعد اطلاع دی کہ ام البنین قبیلہ بنی کلاب میں سے ہیں اور تمام صفات ان میں موجود ہیں آپ گھر میں آئیں۔ داخل ہوئیں‘ آداب بجا لائیں۔ حضرت امیر کی چوکھٹ کو بوسہ دیا۔ گھ رمیں جاکر شہزادی کا پیار سے طواف کرنے لگی اور کہنے گی کہ کنیز ہو کر آئی ہوں ان کی خدمت بجا لاؤں گی۔ سیدنا امام حسین علیہ السلام کی وہ خدمت کی کہ جنابہ سیدہ فاطمہ زہرا نے اتنی خدمت نہ کی تھی۔

آپ کے بطن سے جناب عباس پیدا ہوئے امیر المومنین کو اطلاع دی گئی کہ خداوند نے فرزند دیا ہے۔ کپڑوں میں لپٹا ہوا بچہ ہاتھوں میں لیا‘ شکل دیکھی آنکھوں کے بوسے لیے‘ پیشانی کو چوما۔ کپڑا کھولا۔ بازؤں کو چومنا شروع کردیا اور رونا شروع کردیا۔ ام البنین نے عرض کیا کیا بازؤں میں کوئی عیب دیکھا ہے؟ فرمایا: نہیں بلکہ یہ بازو ایک وقت کاٹے جائیں گے اور یہ میرے حیسن کی خاطر کاٹے جائیں گے۔

عقیل جانتے تھے کہ اس لیے یہ عقد کیا گیا تھا۔ حسنین کو معلوم نہ تھا۔ کتنی محبت ہوگی سیدنا امام حسین علیہ السلام سے ان کو جب رونے لگتے تھے رسول خود گہوارہ میں ڈال کر جھلاتے تھے‘ حضور لوریاں دیتے تھے۔ عباس لیٹے ہوئے تھے حسین پاس ہوتے تو رو پڑتے۔ آپ ہاتھوں پر اٹھا کر لاتے جب کوئی پاس نہ ہوتا تو ادھر ادھر سے بازؤں کو چومتے۔

پرورش جب اس طرح ہوچکی۔ کچھ بڑے ہوئے بات چیت کرنے لگے۔ حتی کہ باتیں سمجھنے کے قابل ہوئے۔ ام البنین نے سمجھانا شروع کیا بیٹا عباس! تم بھی علی کے بیٹے اور حسین بھی علی کے بیٹے‘ مگر کبھی یہ خیال نہ کرکے برابری کا تصور نہ کر بیٹھنا‘ ذرا ماں کا امتیاز سامنے رکھنا۔ ان کی ماں سیدہ زھرا‘ خاتون جنت اور تمہاری ماں حسین کی ماں کی لونڈی‘ کبھی نہ سمجھنا کہ یہ صرف بھائی ہیں بلکہ ہمیشہ اپنے کو ان کا غلام جاننا۔ یہ تھیں و وصیتیں جو ماں نے عباس کو کیں۔

خدا تعالیٰ نے جناب عباس کو ۳ بھائی اور بھی دیئے۔ آخر وقت آپہنچا۔ جب یہ قافلہ مدینہ سے چلا۔ زوجہ مطھرہ ام سلمہ نے حضور سے کہا بیٹا حسین یہی وہ سفر ہیکہ جس کی خبر نانا نے دی تھی۔ آپ نے فرمایا: ہاں یہ وہی سفر ہے۔

جب ام البنین کو معلوم ہوا۔ بڑا بیٹا ۳۲ سال کی عمر میں‘ چھوٹا بیٹا ۲۲ سال کی عمر‘ عرب کی جوانی‘ بنی ہاشم کی اولاد‘ اللہ اکبر کیا جوانی ہوگی۔ بیٹوں کو بلایا اپنی خدمت کے لیے کسی نہ رکھا اور کہا بیٹو! میں نے تم کو اسی دن کے لیے پالا تھا۔ آپ نے آقا حسین کی خدمت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھنا۔ قافلہ روانہ ہوا۔ آواز دی بیٹا عباس! ماں کی بات کو یاد رکھنا۔ میری عزت کا خیال رکھنا۔ فاطمہ کی بارگاہ میں شرمندہ نہ ہونے پاؤں۔

حضرت عباس کا ایک بچہ بھی تھا۔ جس کا نام محمد تھا۔ متعدد علماء نے ریاض القدس میں سے حوالہ دے کر لکھا ہے کہ غالباً ۱۵ سال کی عمر تھی۔

روز عاشور آگیا۔ اصحاب قتل ہوچکے عزیزوں میں سے جو تھے مارے گئے۔ عباس کے ۳ بیٹوں میں سے ایک یہ ساتھ تھا۔ بیٹے کو بلایا کہا مولا سے جا کر اجازت لو کہ میدان جنگ می تمہیں جانے دیں۔ چاہتا ہوں کہ اپنی آنکھوں کے سامنے تیرا تماشہ دیکھتا جاؤں۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: بھیا عباس! کیا کر رہے ہو؟

عباس نے عرض کیا: میرے آقا! انہیں قبول کرلو ورنہ میری روح کو شرمندگی ہوگی۔ آخرکار مان گئے۔ جوان بیٹے کی لاش باپ کے سامنے آئی۔ جناب عباس نے چھوٹے بھائی سے کہا کہ تم جاؤ اور قربان ہو جاؤ۔ تینوں بھائی شہید ہوگئے۔ لاشے سامنے آچکے۔ حضرت کو خیال تھاکہ جب پہلے مرجاؤں گا تو ایسا نہ ہو کہ بھائی زندہ رہ جائیں اس لیے سامنے ان کو نثار کیا۔ پھر بیٹے کی لاش پر نظر پڑی ان کی اطاعت اور فرمانبرداری یاد آئی۔ پھر سیدنا امام حسین علیہ السلام سے عرض کیا حضور! مجھے مرنے کی اجازت دیجئے۔

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: تم تو میرے لشکر کے علمدار ہو۔ تم نہ رہو گے تو لشکر کی عزت کہاں رہے گی۔

آخرکار لشکر سب کا سب ختم کردیا۔ حضرت عباس نے اجازت مانگی۔ سیدنا حسین چپ ہوگئے کہ ادھر خیمہ سے آواز آئی سکینہ کہہ رہیں ہیں۔ العطش‘ العطش۔

حضرت عباس اٹھے۔ کہا سکینہ! مشکیزہ ادھر لاؤ‘ ذرا صبر کرو۔ پانی لینے جارہا ہوں۔ پھر امام سے عرض کیا: آقا! بچے پیاس کے مارے ہلاک ہورہے ہیں۔ اجازت دی جائے کہ پانی لے آؤں۔ آپ نے فرمایا: عباس! تجھے اچھا بہانہ جانے کے لیے مل گیا۔ اچھا جاؤ۔ یہ کہا اور حسین کمر پکڑ کر زمین پر وہیں بیٹھ گئے۔

دشمن کا لشکر فرات کو اطراف سے گھیرے ہوئے تھے۔ جناب عباس نے اول لشکر کو نصیحت کی۔ جب کوئی نہ سمجھا تو گھوڑا بڑھایا۔ اس شان کے ساتھ چلے کہ چند منٹ میں گھاٹ کا گھاٹ خالی ہوگیا۔ عباس نے گھوڑا پانی میں ڈالا۔ ٹھنڈی ہوا آئی۔ ایک مرتبہ چلُّو میں پانی لیا‘ منہ کے قریب لے جاکر پھینک دیا‘ اگر پینا ہوتا تو قبضہ میں پانی موجود تھا۔ لیکن یاد آگیا کہ سیکنہ پیاس کے سبب تڑپ رہی ہے۔ پہلے وہ پیئے گی۔ پھر میں بھی پی لوں گا۔

مشکیزہ خشک تھا۔ تر کرنے میں دیر لگ گئی۔ پانی سے بھری۔ کاندھے پر رکھی اور چلنے لگے۔

ادھر ابن سعد نے آواز دی پانی چلا گیا تو لڑای طول پکڑ جائے گی‘ پیاسے لڑ رہے تھے اگر سیراب ہوگئے تو سب کو ختم کر ڈالیں گے۔

بس کیا تھا۔ لڑائی شروع ہوگئی۔ عباس لڑ رہے تھے۔ خیال مشکیزہ میں بندھا تھا کہ کسی طرح محفوظ پہنچ جائے۔ ایک ظالم نے کمین گاہ سے بامو کا نشانہ باندھ کر ایسی ضرب لگائی کہ بازو کاٹ کر رکھ دیا۔ آپ نے گرنے سے بچایا‘ دوسرے ہاتھ میں پکڑا‘ ظالم نے دوسرے بازو کو بھی کاٹ کر رکھ دیا۔ آپ نے فوراً دانتوں میں مشکیزہ پکڑ لیا پھر یا تھا سینکڑوں خبیثوں نے گھوڑے کو گھیر کیا۔ آپ نے اس کی پیٹھ پر مشکیزہ رکھ کر اپنے آپ کو اوپر گرادیا۔ کہ کسی طرح مشکیزہ پانی سمیت خیمہ تک پہنچ جائے کہ اتنے میں ایک تیر آیا۔ مشک میں سوراخ ہوا‘ پانی سارے کا سارا بہہ نکلا آپ گھوڑے سے گرنے لگے‘ آج تک کبھی بھائی کہہ کر نہ پکارا تھا۔ لیکن آج پکارے بھیّا حسین! عباس دنیا سے رخصت ہو رہا ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

امام نے آواز سن لی۔ بیٹھے سے کھڑے ہوگئے سیدھے نہ ہوسکتے تھے۔ کمر کو پکڑا اور فرمایا بھیا عباس! کمر ٹوٹ گئی۔ لیکن تقدیر کے سانے کوئی چارہ نہیں رضینا قسمة الجبار فینا صدائے حال پکارتے ہوئے بھائی کو جالیا۔

جب تمام قافلہ لٹ چکا۔ یزید کو اطلاع ملی۔ تو اس نے حاکم مدینہ کو خط لکھا کہ اعلان کردو کہ حسین کے ساتھی مارے گئے لوگوں نے روتے ہوئے امالبنین کے پاس جاکر یہ خبر پہنچائی۔ آپ نے کہا کہ عباس کا کیا حال ہے؟

اولاد والو! غور کا مقام ہے ذرا شان بلند اس بی بی کی جذبہ کا ملاحظہ ہو کہ قاصد دروازہ پہ پہنچا۔ بیوی ام البنین نے پوچھا: کیا خبر لائے؟ کہا حسین قتل ہوگئے پوچھا: عباس کا کیا ہوا؟ قاصد نے عرض کیا: اپنے تینوں بھائیوں اور بیٹے سمیت مارے گئے۔

بیوی نے فرمایا: درست ہے؟ جواب ملا۔ بالکل درت ہے۔ آپ سجدہ میں جھک گئیں اور عرض کیا:

الہی تیرا شکر ادا کرتی ہوں۔ امید برآئی‘ عزت رہ گئی۔

جنت البقیع میں جاتی تھیں‘ تصور عباس کو یاد کرتے ہوئے کہتی تھیں۔ عباس! بیٹا تیرے بازو کٹ گئے۔ اگر نہ کٹتے تو میرا حسین کبھی نہ مارا جاتا۔ پھر عالم تصور میں انگلی سے قبر کا نشان بنایا اور کہا یہ عباس کی قبر ہے۔ دوسرا نشان بنایا اور کہا یہ دوسرے بیٹے کی قبر ہے۔ حتی کہ چار نشان لگائے۔ پانچواں نشان بنایا اور کہا کہ یہ میرے حسین کی قبر ہے۔ عباس! تجھے نہ روؤں گی۔ تیری ماں تو زندہ ہے۔ لیکن حسین! تجھے روؤں گی اس لیے کہ تیری ماں زندہ موجود نہیں۔

انا للہ و انا الیہ راجعون


مجلس ھشتم :

بتاریخ ۸ محرم الحرام ۱۳۷۵ ھ

بسم الله الرحمٰن الرحیم

( أَ فَغَیْرِ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُونَ وَ لَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِيْ السَّمٰوٰتِ وَ الْأَرْضِ طَوْعًا وَ کَرْهًا وَإِلَیْهِِ یُرْجَعُونَ ) ۔ ( آل عمران : ۸۳ )

حضرات ! جناب حدیث باری تعالٰی عزّاسمہ اپنے کلام بلاغت نظام میں ارشاد فرماتا ہے:

کیا لوگ اللہ کے دین کے سوا اور کسی کی خواہش رکھتے ہیں، حالانکہ اس اللہ کے لئے نام زمینوں اور آسمانوں کے باشندے اپنی گردنیں خم کیے ہوئے ہیں، خوشی سے یا اکراہ جبر سے اور اسی کی طرف بازگشت ہے ۔

حضرات! اب تک آپ کی خدمت میں میں نے جو کچھ عرض کیا ہے اس میں زیادہ تر حصہ اس چیز کے متعلق تھا کہ حکم الٰہی یہ ہے کہ دین اللہ وہ ہی ہے جو فطرت کے مطابق ہو یہی وجہ ہے کہ اسلام کو دین فطرت یا فطری دین کہا جاتا ہے۔

اس آیة ھدایہ میں پروردگار عالم نے اس دین کو دین اللہ فرمایا ہے یعنی اللہ کا دین ۔

آج چونکہ اس مضمون کو ختم کردینا چاہتا ہوں ، کل تک پہلے فقرہ ” یعنی افغیر دین اللہ یبغون “ تک بیان ہوچکا، آج دوسرا فقرہ ” ولہ اسلم من فی السموٰت والارض طوعا وکرھا والیہ یرجعون “کے متعلق عرض کیا جائے گا ۔ جس کا ترجمہ یہ ہے :

کہ اسی کے لئے تمام آسمانوں اور زمینوں کے باشندے اپنے سرجھکائے ہوئے ہیں۔ اپنی خوشی کے ساتھ، خواہ یہ جبر و اکراہ اور اسی کی طرف تمام کی بازگشت ہے ۔

چونکہ صرف کل کی ایک مجلس باقی رہ گئی ہے ۔ اس لئے آپ کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ پروردگار عالم نے انسان کی فطرت میں کچھ بدیہیات ودیعت فرمائی ہیں ۔ اگر ان کو دین کے معاملہ میں استعمال کیا جائے جیسا کہ انہیں دنیا کے بارے میں ہمیشہ استعمال کیا جاتا رہا ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ انسان کو صراط مستقیم نظر نہ آجائے ۔

یہ تفصیل دوسرے مقامات میں ارشاد فرمائی ہے کہ دین الٰہی درحقیقت فطری ہے ۔ انسان کوچاہیے کہ ان کلیات یا اصول کو استعمال کرے جو اس کی فطرت میں ودیعت کی گئی یا رکھی گئی ہیں اور اگر ان کلیات یا قواعد فطری کی تشخیص و تحقحیق میں دھوکا ہو جائے تو وہ لوگ جو فطری حیثیت سے قابل افتداء ہونگے ان کی افتداء دھوکہ سے نکال دے گی۔

عرض کرتا ہوں کے اس دین میں جو اشارہ کیا گیا ہے، کہ کیا سوائے دین اللہ کے کوئی اور دین تلاش کرتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ وہ دین اللہ ہے کیا؟ پھر اس کے بعد اصل مطلب اور نتیجہ تمام تقاریر کا پیش کردونگا (انشاء اللہ)۔

اس آیت کریم سے پہلے جو آیت موجود ہے وہ یہ ہے:( و اذ اخذ الله میثاق النبیین کما اتینکم من کتاب و حکمة ثم جائکم رسول مصدقا لما یعکم ط لتومنن به و لتنفرنه ط قال اء قررتم و اخذت، علی ذلکم اصری ط قالوا اقررنا ط قال فاشهدوا و انا معکم من الشهدین فمن تولی بعد ذلک فاولئک هم الفاسقون )

اس کے بعد وہ آتی جو آپ پر روز سن رہے ہیں آتی ہے کہافغیردین الله یبغون وله اسلم من فی السمٰوت والارض طوعا وکرهأوالیه یرجعون

اس آیة کا ماحصل یہ ہے کہ پروردگار عالم ارشاد فرماتا ہے کہ محبوب وہ وقت یاد فرمائیں جب ہم نے تمام نبیوں سے عھد لیا تھا کہ اے نبیو! جس وقت تم کو کتاب و حکمت عفا ہو چکے گی، پھر دیکھنا کہ اس کے بعد ایک رسول آئے گا جو تم سب کی تصدیق کرنے والا ہو گا۔ تم سب خیال رکھنا کہ تم نے اس پر ایمان لانا ہو گا اور اس کی امداد بھی کرنا ہوگی۔

حضرات! ذرا صلوات پڑھئے اور توجہ کے ساتھ سماعت فرمائیے میں دوبارہ ماحصل کو عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اس آیت کو آیت میثاق کہا جاتا ہے۔فرماتے یہ ہیں۔

کہ”تم نے کبھی سب انبیاء سے عہد لیا تھا کہ تم کو کتاب و حکمت دے کر بھیجیں گے۔پھر ایک رسول آئے گا جو تم تمام پیغمبروں کی تصدیق کرنے والا ہو گا اس کی جو سب انبیاء کے پاس ہو گا۔پھر تم سب کا فرض ہوگا کہ اس رسول پر ایمان لانا اور اس کی مدد بھی کرنا“۔

پھر اس جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ ”ربّ تعالیٰ نے ان سب سے مزید اقرار لیا کہ اسے گروہ انبیاء کیا تم نے یہ اقرار کر لیا اور مضبوطی کے ساتھ منظور کر لیا؟“سب نے کہا: ”بے شک ہم اقرار کرتے ہیں کہ اس عہد کو پورا کریں گے “۔

اس پر ارشاد باری ہوا کہ ”تم سب کے سب پکے قول و اقرار پر گواہ رہنا اور میں خود بھی تمہارے ساتھ گواہ رہوں گا۔

اس کلام کو مزید جاری رکھا اور ارشاد فرمایا: ”کہ جماعت انبیاء ذرا دیکھو، اگر اس عہد سے کوئی پھر جائے گا تو وہ فاسق ہو جائے گا۔“

حضرات! اس آیت کے ضمن میں کچھ تفسیر یا تفصیل نہیں عرض کروں گا۔صرف دو باتیں عرض کرنی ہیں۔

کہ پروردگار عالم نے عالم ارواح یا عالم مثال میں تمام پیغمبروں سے یہ عھد لیا بہر حال جو کچھ عہد لیا اس آیت میں درج ہے تفاسیر میں آتا ہے اس عھد میں مفصل طور پر جو کچھ ہے وہ سب کا سب اس عھد میں شامل تھا اور مجملاً اس کا تذکرہ اس قدر کیا کہ ۱ ۔ ایمان لانا۔

۲ ۔ اور رسول آخر الزمان کی نصرت کرنا۔

ان چیزوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے رسول سے مراد جس کے باریمیں یہ عہد لیا گیا‘ وہ ذات با برکات ہے جناب محمد مصطفیٰ صلی علیہ و آلہ وسلم کی۔ کہ جب وہ آجائیں تو تم ایمان بھی لانا اور ان کی نصرت بھی کرنا۔

میں عرض کرچکاہوں کہ زیادہ تفصیل پیش نہیں کرنا چاہتا ہوں۔ صرف یہ بتانا ہے کہ جو عھد تمام انبیاء سے لیا جاچکا تو اس کے بعد وہ رسول اور کوئی بھی نہ تھا سوائے حضور رسول اللہ کے جو سب نے آخری نمبر آئے‘ تو پھر تمام پچھلوں نے کس طرح اس بعد والے پر ایمان لا کر کس طرح اس کی امداد یا نصرت بھی کی؟

تو اس کی صورت یہ ہوئی کہ جب ایک نبی آیا اور جانے کا وقت آیات و وہ اپنے بعد کے نبی کو اپنی امت کے ذریعہ وصیّت کرتا گیا کہ وہ خاص رسول اگر تمہارے زمانہ میں آگیا تو ہماری طرف سے اس پر ایمان انا اور اس کی نصرت بھی کرنا۔

چونکہ جناب عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کے بعد کسی اور اولواالعزم نبی نے نہ آنا تھا جسے وہ وصیّت کرتے‘ اس لیے خدا تعالیٰ نے ان کو زندہ رکھا تا کہ کُل کے عھد کی تکمیل ہوجائے اور چونکہ حضور کے زمانہ حیات میں یہ تکمیل عھد نہیں ہواّ اس لیے اس امر کو موخر رکھ دیا کہ کل دنیا کو پتہ لگ جائے کہ کہ اجزاء محمد اس قدر ہیں کہ قیامت تک ان کا ظہور ہوتا رہے گا اور متفق علیہ ہے یہ مسئلہ کہ آخری جزء محمد رسول اللہ کون ہوں گے؟ وہ ہوں گے جن کو مھدی آخر الزمان امام مھدی علیہ السلام کہتے ہیں‘ وہ جب ظاہر ہوں گے تب حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے ان پر ایمان لائیں گے اور ان کی نُصرت فرمائیں گے۔ یہ ایمان اور نُصرت تمام سابقہ انبیاء کی طرف سے بھی ہوگا۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اُترنے کا وقت کب آئے گا؟ جب آخری زمانہ ہوگا۔ جس کے بعد پھر زمانہ ختم ہو کر قیامت آنے کو ہوگی تب پیغمبرآخر الزمان کا آخری جزء ظھور فرمائے گا جو زمانہ نبوی سے لے کر اپنے زمانہ تک تمام اوصیاء کا خاتم اور آخری وصی ہوگا یعنی مھدی آخر الزمان حضرت امام مھدی علیہ السلام پس آیت کریمہ نے کل انبیاء اور ان کی امتوں سے قیامت تک یہ عہد لے لیا کہ کوئی بھی اس عھد ایمان و نصرت سے نہ پھریاور جو ان اوصیاء امت سے اور بالآخر وصی آخر الزمان سے پھر جائے گا وہ ”فاسق“ شمار ہوں گے اور فسق کی سزا ہونی چاہیے اس کے لیے قیامت کا دن بپا کیا جائے گا۔

پس رسول کی تمام چیزوں کو آیت میں بیان کردیا گیا کہ ایمان والو! دین خداوندی یہ ہے کہ جسے دین اللہ فرما دیا۔

اور جب دین اللہ یہ ہے تو پھر اس کے علاوہ کسی اور شئے کی تلاش کیا ضررت ہے؟

پس دین حقیقی حضرت محمد الرسول اللہ اور اس کے اجزاء تا قیامت ہیں ان پر صدق دل سے ایمان لایا جائے اور ان کی نصرت کی جائے اب عرض کرتا ہوں کہ چونکہ دین حقیقی یہی ہے تو اس کے اصول ہیں جن پر حقیقتاً نجات کا دار مدار ہے۔ اگر یہ اصول دین ہیں تو نجات ہے ورنہ کوئی نجات نہیں۔

ابھی آپ حضرت کی طبیعتیں بالکل یکسو نہیں ہیں اس لیے التجا ہے کہ یکسوئی کے ساتھ توجہ فرمائیں کہ ”نتیجہ“ عرض کرنا چاہتا ہوں۔

کہ جو آیت عنوان قرار دی گئی اس سے پہلے دین اور اصول دین کی تفصیل بیان ہوچکی جب دین بیان ہوچکا تو پوچھتا ہے کل عالم کا پروردگار افغیر دین اللہ یبغون؟ کہ کیا لوگ سوائے اس دین کے کسی اور کو ڈھونڈھتے یا اختیار کرتے ہیں؟

یہ دین کیا ہے؟ سنیئے اور توجہ کامل کے سات سنیئے! یہ دین جسے دین الہ قرار دیا گیا ہے‘ خدا تم کے بعد حضرت محمد اور آل محمد پر ایمان لانا اور ان کی نصرت کرنا ہے اور قیامت کا اعتراف کرنا ہے۔

اب جب دین کی توضیح کردی گئی تو فوری طور پر عرض کرناچاہتا ہوں کہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی چیز میں اگر کوئی ایسا جزء ہے جس کے بغیر وہ چیز چیز نہیں رہتی تو اس چیز کا نام اس جزء کے نام پر رکھ دیا جاتا ہے۔

جیسے ”گردن“ ایسی شئے ہے کہ اگر یہ نہ رہے تو انسان ہی نہیں رہتا پس ”انسان“ کا نام کلام عرب میں ”گردن“ اور گردن کا نام اسی کلام میں انسان استعمال ہونے لگ گیا۔ آپ میں سے سب یا اکثر قرآن کو جانتے ہیں۔ اس میں آتا ہے ”فک رقبة“ کہ اگر روزہ عمداً ٹوٹ جائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ ”گردن آزاد کردو“ کیا مطلب ہو ا کہ گردن کو کاٹ دو؟ نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایک غلام کو آزاد کردو۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ”گردن“ کو ”انسان“ کے قائم مقام کس واسطے استعمال کیا؟

اس لیے کہ ”گردن“ وہ جُزء انسان ہے جس کے بغیر انسان انسان نہیں رہتا‘ پس جزء بیان کردہ کل کو مراد لیا۔ یعنی لفظ گردن استعمال کیا اور مراد اس سے انسان کو لیا۔

تو جزو اعظم مجازاً اصل کے لیے مراد لیا جاتا ہے۔ ٹھیک جس طرح انسان کے لیے گردن کا لفظ استعمال کیا گیا کہ یہ جزء اعلیٰ ہے بس اسی طرح ”اھل بیت محمدی“ کے حق میں ارشاد فرمایا: ”نحن دین اللہ“ کہ در حقیت اللہ تعالیٰ کا دین کون اور کیا ہے؟ ”ہم اھل بیت رسول اللہ اللہ تعالیٰ کا دین ہیں۔“

پس حاضرین! اگر جناب محمد مصطفیٰ اور آل محمد مصطفیٰ کو نہ مانا جائے گا تو کیا دین رہے گا؟ ہرگز نہیں۔ آیت قرآن یہی فرما رہی ہے کہ نہیں۔ لہذا جب محمد و آل محمد خود دین بنے تو اُن کے بغیر کوئی اور شئے قابل قبول نہیں یا تلاش کے لائق ہوگی؟ اس لیے فرمایا: افغیر دین اللہ یبغون۔

اب حضور والا! ذرا آگے عرض کرنا چاہتا ہوں۔ کیوں حضور توجہ کے ساتھ سماعت فرمائے گا!

قرآن پاک کے چھٹے پارے میں آیت آتی ہے۔ و من یکفر بالایمان فقد حبط عملہ کہ جو شخص ایمان کے ساتھ کفر کرے گا اس کے تمام اعمال برباد اور ضائع کردیئے جائیں گے۔

مطلب کیا ہے؟ کفر اور ایمان دو حقیقی ہیں۔ جن کا تعلق ہمیشہ الگ الگ شئے سے ہوتا ہے۔ مثلاً ”اللہ کے ساتھ کفر کرنا“ اور حقیقت ہے اور ”اللہ پر ایمان لانا“ اور حقیقت ہے اور ”اللہ“ خود تیسری حقیقت ہے جو ”کفر“ سے متعلق ہوگی یا ”ایمان“ سے متعلق ہوگی۔

پس ایمان کے ساتھ کفر کرنا کیا ہوا؟

مثال عرض کرتا ہوں کہ زید کو اللہ سے محبت ہے اور عمرو کو اللہ کے ساتھ دشمنی ہے۔ چونکہ محبت اور عداوت دو حقیقتیں ہیں ان کا متعلق کوئی تیسرا ہونا چاہیے۔ جیسے اللہ کے ساتھ محبت یا اس کے ساتھ دشمنی تو کبھی عداوت متعلق ہوگی یا کبھی محبت متعلق ہوگی۔ اسی طرح سے تیسری چیز چاہے کوئی ہو اور تعلق کے لیے کوئی چیزیں ہوں۔

پس کیا مطلب ہوا ایمان کے ساتھ کفر کرنے کا یا کفرکے ساتھ ایمان لانے کا؟

ایمان سے مراد صفت نہیں بلکہ کوئی ذات مراد ہے جو اس قدر ایمان رکھتی ہے کہ سراپا‘ مجسمہ ایمان ہی ایمان ہے سر تا پا ایمان ہی ایمان ہے اس کے ساتھ کوئی کفر کرے گا اس کے سب کے سب اعمال ضائع اور برباد ہوجائیں گے۔

تو ”ایمان“ کون ذات ہوئی؟ آیئے یہ سوا ل حضور رسول اللہ سے دریافت کیجئے کہ آپ ایمان سے کون ذات مراد لیتے ہیں؟

پہلوان عرب کا عمرو بن عبدو کے بالمقابل رسالت مآب فرماتے ہیں کوئی ہے جو اس کے مقابلے میں جائے؟

یہ شخص عمرو بن عبدو رسالت مآب اور ان کے دین کا بدترین دشمن تھا غزوہ خندق میں اپنی فوج سے باہر نکلا تو ایک چھلانگ سے پار جا کر حملہ کردوں ایک جگہ مل گئی گھوڑے کو ایڑ لگائی اور دوسری طرف جا پہنچا۔ حضور مع ساتھیوں کے بیٹھے ہوئے تھے اور نیزہ نکال کر خیمہ نبوی پر جا مارا۔

ایمان والو! بیٹھے لوگوں پر حملہ کرنا کیا بزدل پن نہ تھا؟ ضرور تھا۔

لہذا اس پہلوان نے پکارا اگر بیٹھے لوگوں پر حملہ کرنا بزدلی نہ ہوتا اس وقت تم سب کو قتل کردیتا۔ لیکن یہ بزدلی پسند نہیں کرتا جب تک حجت تمام نہ ہوجائے اس وقت تک کسی کو قتل نہ کروں گا۔ لہذا کوئی ہے تم سب سے جو مقابلہ کو آئے؟

مہربان بزرگو! یہ تمام بناوٹی کہانی نہیں بلکہ واقعات ہیں۔ ”روضہ الصفا“ دیکھےئے گا تفصیلی حالات کا پتہ چلے گا۔

گھر میں بیٹھ کر کہنے والے مسلمان خیال فرما دیں جو کہتے ہیں کہ ایک مسلمان لاکھ کے مقابلہ میں آتاتھا۔ لیکن یہاں سب مسلمان بیٹھے ہیں لیکن ایک سامنے نہیں آتا۔

جناب رسالت مآب صلی علیہ و آلہ وسلم کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ نے فرمایا ”من لھذا الکب؟‘ کہ ”اس کتے کے مقابلے کے لیے کون ہے؟“

آپ اندازہ لگایئے کہ قلب محمدی پر کس قدر چوٹ لگی تھی کہ اس قدر سخت الفاظ اس دشمن حملہ آور کافر کے حق میں آپ نے فرمائے؟

قبلہ عالم‘ اسی مقام اور اسی قسم کے موقعہ پر وہ فرمان نبوی میں آتا ہے کانھم علی روئسھم طیر کہ وہ لوگ اس طری بیٹھے ہوئے تھے کہ گویا سر پر پرندے بیٹھے ہیں۔ اس قدر ڈڑ کے مارے یا کسی ذکر میں ڈوبے ہوئے‘ سر جھکائے بیٹھے ہیں۔

یہ محاورہ عرب والے استعمال کرتے ہیں کہکانهعلی رأسه ظیر ۔ یہ ایک جانور ہوتا ہے کہ جب مگرچھ دریا کی مچھلیاں وغیرہ کھا لیتا ہے تو اس کے ادنتوں میں گوشت کے اجزاء باقی رہ جاتے ہیں اور اس کی گندگی اس کے منہ میں کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں جو اس کی بڑی سخت تکلیف پہنچاتے ہیں تو وہ منہ کھول کر دریا کے کنارے پڑ جاتا ہے تو اس ملک میں وہ پرندہ بڑی تیز اور لمبی چونچ کے ساتھ آتا ہے اس کے منہ میں چلا جاتا ہے اور تمام کیڑے ختم کرنا شروع کردیتا ہے جب تمام کیڑے ختم ہو جاتے ہیں تو مگرمچھ اپنا منہ بند کردیتا ہے تو اس پرندہ کی تیز شاخ اس کے تالو پر لگتی ہے تو و بے اختیار منہ کھول دیتا ہے اور وہ پرندہ اس طرح اڑ کر باہر چلا جاتا ہے۔

اسی طرح اونٹوں کے سر پر جانور آکر بیٹھا کرتا ہے اور اس کی چونٹیاں‘ کیڑے جوئیں وغیرہ چننے لگتا ہے‘ وہ آرام محسوس کرتا ہے وہ پرندہ سر پر بیٹھا رہتا ہے۔

تو اس جانور کے نام پر ضرب المثل مشہور ہوگئی کہ وہ اس طرح بیٹھا ہے گویا اس کے سر پر پرندہ بیٹھا ہے۔

الغرض حضور نے فرمایا کہ ”اس کتے کے مقابلے میں کون جائے گا؟ سب سر کو جھکائے بیٹھے ہیں۔ گویا کہ حس و حرکت باقی نہ رہی تھی۔

تب حضور رسالت مآب نے ارشاد فرمایا:

من یبارزہ فیکون ولی و وصی و خلیفتی من بعدی کہ جو اس کے مقابلہ میں جائے گا وہ میرا ولی‘ میرا وصی اور میرے بعد میرا خلیفہ ہوگا۔

سب کے سب سن رہے تھے‘ کسی شخص کی جرءت نہ پڑتی تھی کہ اس کے مقابلہ میں جائے۔ جانا تو درکنار سر کو کوئی نہ اٹھا رہا تھا۔

تاریخ میں اس طرح سے موجو دہے۔

تو اسی وقت امیر المومنین کھڑے ہوگئے‘ عرض کیا ”انا لھذا یا رسو اللہ!“

آپ نے فرمایا: ”علی بیٹھ جا“

آپ بیٹھ گئے۔ توئی نہ کھڑا ہوا۔ پھر فرمایا علی کھڑے ہوگئے آپ نے بٹھا دیا۔ پھر تیسری بار ارشاد فرمایا کوئی نہ کھڑا ہوا۔ امیر المومنین ہی تیسری مرتبہ کھڑے ہوئے۔

فرمایا: ”علی! جاؤ یہ میرا عمامہ ہے‘ سرپر باندھ لو۔ جاؤ۔ آگے آگے نصرت خدا ہے اور پیچِِھے پیچھے میری دعائیں ہیں۔

انسان کا دماغ جب کسی وحشت ناک شئے سے متاثر ہو جاتا ہے تو اس کی سمجھ جواب دے بیٹھتی ہے۔

اصل میں حضور اپنے الفاظ مذکورہ بالا کے ساتھ زندہ رہنے کی پیشن گوئی فرما رہے تھے۔ کہ جو تم میں سے اس دشمن دین کے مقابلہ میں جائے گا۔ میرا خلیفہ ہوگا۔ گویا کہہ رہے تھے کہ وہ خلیفہ ہوگا تو تب ہی نہ کہ زندہ رہو گے۔

مگر کسی کی سمجھ میں یہ بات نہ آتی تھی۔ امیر المومنین نے فرمایا: میں جاؤں گا یا رسول اللہ! اس کتے کا واسطے آپ کا یہ غلام ”علی“ حاضر ہے۔

جناب رسالت مآب صلی علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”علی اس کے مقابلے میں جاؤ۔“

علی مقابلہ میں گئے۔ عمرو نے کہا ”علی جانتے ہو کس کے مقابلے میں آرہے ہو؟ عیدو پہلوان کا بیٹا عمرو مقابلے میں ہے۔“

آپ نے جواب دیا ”جانتا ہے تو بٍھی؟ کہ علی کس کا بیٹا ہے؟ سن میں اس کا بیٹا ہوں جس کا نام ابی طالب ہے۔“

اس خیمہ میں ایک شخص نے کہ دیا تھا کہ یا رسول اللہ میں اس عمرو کو جانتا ہوں کہ ایک ہزار آدمی نے اس اکیلے پر حملہ کیا تھا اور یہ تمام کو اکیلا ختم کر گیا تھا اور اس طرح سے کہ یہ شخص اٹھا تھا اندھوں کی طرح ہاتھ مار رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں صرف اونٹ کی ایک ہڈی آگئی تھی۔ اور اس ایک ہڈی کے ساتھ اس نے سب کو بھگا دیا تھا۔

اب حاضرین! بتلایئے یہ نصرت دین تھی یا کیاتھی؟

اول تو کوئی جائے نہیں۔ اگر کوئی جائے تو اس طرح حوصلہ پست کردیا جائے۔

لیکن نصرت دین وہ تھے جن کے آگے آگے بروئے فرمان نبوی ”نصرت خدا آگے آگے جارہی تھی اور نبی کی دعائیں پیچھے پیچِھے جارہی تھیں۔“

بہرحال علی میدان میں مقابلے کونکلے۔ رسول خدا ان کے ساتھ ساتھ باہر نکلے اور فرمایا: ”علی جاؤ حفاظت خدا تمہارے ساتھ ساتھ ہے۔“

اُدھر وہ کافر کفر کا مجسمہ نکلا تھا۔ اِدھر سے علی نکلے۔ رسالت مآب نے مسلمانوں کو فرمایا:

”برز الایمان کلہ، للکفر کلہ“ کہ کل کے کل کفر کے مقابلے میں کل کا کل ایمان نکل آیا ہے۔

اور ”روضہ الصفا“ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”برزالاسلام کلہ‘ للکفر کلہ“ کہ کل کے کل کفر کے مقابلے میں کل کے کلر اسلام نکل آیا ہے۔

تو گویا رسالت مآب کبھی فرما رہے تھے پورے کا پورا ایمان پورے کفر کے مقابل جارہا ہے اور کبھی فرما رہے تھے کہ پورے کا پورا اسلام پورے کفر کے مقابلے میں جارہا ہے۔

اب حضرات! ذہن میں لائے آیت قرآنی فمن یکفر بالایمان فقد حبط علمہ‘ کہ جو بھی ایمان کے ساتھ ساتھ کفر کرے گا۔ بے شک اُس کے تمام اعمال برباد اور اکارت چلے جائیں گے۔

پس ثابت ہوا کہ یہاں ایمان سے مراد کوئی شخصیت ہے۔

چنانچہ غزوہ خندق میں آواز آرہی تھی کہ یہ ہے مجسم ایمان‘ سراپا ایمان جو جارہا ہے اور یہ ہے مجسم اسلام‘ سراپا اسلام جو سراپا کفر کے مقابلے میں جارہا ہے۔

پس یہ ہے وہ ”ایمان“ اگر اس کے ساتھ کوئی ایمان نہ لائے گا تو اس کے سارے اعمال ضائع ہو جائیں گے۔

تو معلوم ہوا کہ ”دین اللہ“ اور ”ایمان“ ایک ہی چیز ہیں۔ ورنہ فرق بتا دیجئے؟ لہذا حضور نے جو فرمایا تھا ”نحن اھل البیت دین اللہ‘ تو ٹھیک ہوا یا نہ؟“

اب آیت یاد فرمایئے افغیر دین اللہ یبغون؟ کہ کیا لوگ سوائے ”دین اللہ کے‘ کسی اور کو تلاش کرتے ہیں؟ معلوم کیا آپ لوگوں نے کہ دین اللہ کون ہیں اور اس سے کیا مراد ہے؟ صلوات پڑھ لیجیئے۔

اب سوال یہ سامنے آتا ہے کہ حب محمد و آل محمد دین اللہ ہیں تو ان کے دین اللہ ہونے سے مراد کیا ہے۔

سو ”محمد دین اللہ“ سے مراد رسول خدا سے محبت ہے اور آل محمد دین اللہ ہے سے مراد آل محمد سے محبت ہے۔

اب ذرا منطقی طریق سے اسے خیال فرمائیے اور پھر قیاس کرتے ہوئے نتیجہ کو نکال لیجئے کہ ”رسول دین ہے“ سے مراد یہ ہے کہ رسول سے محبت دین اللہ ہے اور اسی طرح”آل محمد دین ہے“ سے بھی مراد یہ ہے کہ آل محمد سے محبت دین اللہ ہے۔

چونکہ محبت اہل بیت‘ محبت رسول ہے اور محبت رسول ”دین اللہ‘ ہے تو نتیجہ منطقی یہ نکلا کہ محبت اہل بیت ہی دین خدا ہے۔

اب پھر آپ ارشاد خداوندی کو سامنے رکھیں کہ افغیر دین اللہ یبغون سے مطلب نکلا؟ کہ دین اللہ کے علاوہ لوگ کسی اور کو ڈھونڈھتے ہیں۔ یعنی ”اہل بیت کی محبت کے علاوہ کسی اور کی محبت لوگ ڈھونڈھتے ہیں؟

ایک آیت دوسرے مقام پر آتی ہے اُسے بھی غور فرمائیں( ان الدین عند الله الاسلام فمن یبتع غیر الاسلام دنیا فلن یقبل منه و هو فی الآخرة لمن الخسرین ) جس کا ترجمہ یہ ہے:

کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین کیا ہے؟ فرمایا: اسلام ہے اور جو کوئی اس اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو تلاش کرے گا یا اختیار کرے گا ہرگز وہ قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں مرنے کے بعد ایسے لوگ جو اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو اختیار کریں گے وہ یقیناً نقصان میں رہیں گے۔

اور قرآن کی تفسیر یعنی فرمان رسول سے ابھی آپ کے سامنے بیان ہوا تھا کہ پورا اسلام کیا ہے جو پورے کفر کے مقابے میں نکلا تھا؟ فرمایا تھابرز الاسلام کله‘ لکفر کله اور یہ کلہ مولا علی کے لیے فرمایا تھا۔ پس وہ ”علی“ ہوئے یا نہیں؟

تو دوسری آیت مذکورہ میں ارشاد الہی یہ ہوا کہ بے شک خدا تعالیٰ کے نزدیک دین علی ہیں اورجو کوئی علی کے علاوہ کسی اور کو تلاش کریں گے وہ خدا تعالیٰ کے حضور ہرگز قبول نہ ہوگا اور علی کو چھوڑ کر اور کسی کو قبول کرنے والے آخرت میں یقیناً نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔

پس مطلب یہ ہوا کہ اگر ان سے کوئی پھر گیا وہ دین سے پھر گیا۔ بلکہ یہ وہ دین ہیں کہ ان کی ذات خود دین بن گئی۔ چنانچہ خواجہ اجمیری رحمة اللہ علیہ نے اس خوبی اور شان کے ساتھ ابن علی امام حسین کو واضح کیا کہ انہوں نے اتنا دین کا کام کیا کہ وہ مجسم دین بن گئے۔ آپ کا ارشاد یہ ہے جو آج بھی زبان زد خلق ہے۔

شاہ است حسین‘ شہنشاہ است حسین

دین است حسین‘ دین پناہ است حسین

جان داد و نداد دست درد دست یزید

حقا کہ بناء لا اللہ است‘ حسین

کہ سیدنا امام حسین مجسم دین ہیں اور دین کامل طور پر ان کی پناہ میں ہے اور حق تو یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول کی بنیاد ہی حسین ہیں اور جب حسین دین ہیں تو ان کے باپ تو بدرجہ اولیٰ دین ہوئے۔

ایک چیز ہوتی ہے جس کو کہتے ہیں علت تامہ کا جزء آخر‘ یا جزء متمم‘ جو کسی علت تامہ کو کامل کردیتا ہے اُسے جزء متمم یعنی ختم کرنے والا جزء کہتے ہیں۔

مثلاً آپ غور فرمائیں۔ ایک گارڈر لوہے کاپڑا ہے جسے یک آدمی نہیں اٹھا سکتا‘ دو بھی نہیں اٹھا سکتے تین بھی نہیں اٹھا سکتے چار بھی نہیں اٹھا سکتے لیکن پانچ آدمی مل کر اٹھائیں تو وہ اٹھ جاتا ہے۔

ایک سے کیوں نہیں اٹھا؟ اسی طرح دو سے یا تین سے یا چار سے کیوں نہیں اٹھا؟ جب تک چار محنت کر رہے تھے نہیں اٹھ رہا تھا۔ پانچواں مل گیا تو اٹھ گیا۔ تو کیا پانچویں نے اٹھایا؟ بلکہ کہا جائے گا کہ جب تک پانچواں نہ تھا سب بے کار تھے جب یہ شریک ہوگیا سب کار آمد بن گئے۔

ایک مشین ہے۔ اس کا آخری پرزہ نہ لگایئے تو مشین موجود ہے لیکن مشین بے کار پڑی ہے جب آخری پرزہ لگ گیا سب پرزے کام کرنے لگ گئے اور جب تک آخری پرزہ نہ تھا سب پرزے بے کار تھے۔

پس ”جزء متمم“ وہ ہے جو نہ لگے سب بے کار رہیں اور جب وہ لگ جائے تو سب کا م کرنے لگ پڑیں۔

بس بتائیے کہ ایک آدمی خدا کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا تو توحید بے کار ہے یا نہیں؟

یہی سبب ہوا کہ اصول دین میں نبی کا ماننا فرض ٹھہرایا گیا۔ اس لی یکہ وہ بانی شریعت ہیں اور اسی طرح حافظ شریعت کا ماننا بھی اصول دین سے ہے اس لیے کہ جس طرح توحید کا جزء متمم نبی ہیں‘ اسی طرح شریعت نبوی کے جزء متمم حافظ شریعت ہیں۔ پس جو اس جزء متمم کو نہ مانے گا‘ اس کے مانے بغیر کام رسات اور تمام توحید بے کار ہوگی۔

ایک آسان سی بات ہے جو آپ سے کہہ رہا ہوں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں بڑے فرقے ہو جائیں گے حتی کہ ۷۳ فرقے ہوں گے ان میں سے ایک تو جنت کو جائے گا اور باقی سب جہنم میں جائیں گے۔

میں کہتا ہوں کہ وہ ہم ہیں‘ دوسرا کہتا ہے کہ وہ ہم ہیں پس جس طرح ہم دوسروں کے کہنے کا برا نہیں مانتے کہ وہ خود کو جنتی کہتے ہیں اور ماسوا کو جھنمی‘ تو اس طرح جب ہم یہ کہیں تو دنیا کو برا نہ ماننا چاہیے۔

اس سے پہلے یہ تفصیل آپ سن چکے ہیں کہ نجات کا دار و مدار کس کے اوپر ہے؟ طے ہوا تھا کہ نجات کا دار و مدار اصو کے اوپر ہے۔ پس اگر اصول ٹھیک ہیں تو خواہ مرپیٹ کر ہی سھی‘ آخرکار ضرور بالضرور جنت میں جائے گا کسی گناہ کی وجہ سے ممکن ہے عالم برزخ یعنی قبر میں یا حشر میں یا جھنم میں کچھ دن سزا بھگت لے لیکن بالآخر جنت میں جائے گا۔

یہ سزا بھی اصلاح کے لیے اور پاک کرنے کے لیے بدلتی ہے۔ ذرا ایک دن بخار آجاتا ہے تو خدا یاد آجاتا ہے۔ خدانخواستہ کسی کو اگر درد تولنج ہوجائے تو معلوم نہیں ہوتا کہ زمین میں ہے یا آسمان پر ہے۔ لیکن سرکشی ساری خود پر جاتی ہے۔

پس اصول کا ٹھیک یا صحیح ہونا نہایت ضروری ہے۔ اگر اصول صحیح ہیں تو ضرور آخر کار جنتی ہے۔

اب دین اسلام کے اصول کتنے ہیں؟

دین اسلام میں ۳ اصول ہیں۔ ۱ ۔ توحید‘ ۲ ۔ نبوت یا رسالت‘ ۳ ۔ قیامت۔

یعنی خدا تعالیٰ کو ایک ماننا‘ نبی کی ضرورت کا اقرار کرنا اور قیامت کا ماننا۔ اگر ان پر سہ پر اعتقاد کرلے تو جنتی۔

اب میں پوچھتا ہوں کہ اسلام کا کوئی فرقہ نکال لاؤ جو توحید کا قائل نہ ہو ہر ایک فرقہ کے نزدیک یہ اصول مسلم ہے۔

اسی طرح کوئی فرقہ ایسا نہ ملے گا جو نبوت کا قائل نہہو۔ اس لیے کہ جب علت مان لی گئی تو معلول کا پایا جانا ضروری ہوگیا۔

لیکن اصول تو سارے فرقوں میں پائے جاتے ہیں اس لیے سب کا جنت میں جانا ضروری ہوا۔ مگر اس حدیث کا کیا جائے گا جس کی رو سے صرف ایک تو جنتی فرقہ ثابت ہوتا ہے باقی سب جھنمی ثابت ہوتے ہیں۔

لہذا کہنا پڑے گا کہ کوئی اصول رہ گیا ہے یا کوئی جزء متمم باقی رہ گیا ہے۔ جس طرح نافذ کرنے والا شریعت کا ضروری ے اسی طرح محافظ دین کا ہونا بھی ضروری ہے۔

پس تیسرا اصول ”امامت“ بھی اصول دین میں شامل ہوا۔ اس لیے کہ دوسرے اصول کا جزء متمم یہی ہے۔ جب امامت آگئی پہلے دو اصول رسالت اور توحید بھی کام کرنے لگ گئے۔ حتی کہ اقرار قیامت کا اصول بھی کام کرنے لگ گیا۔

اصل غرض خلقت کیا ہے؟ توجہ فرما کر سماعت فرمائیے۔ بہت سے آدمی آپ میں سے سوچ رہے ہوں گے اس لیے کہ ان کی نظر میں آیت کریمہ و ما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون ہوگی میں کہتا ہوں بالکل ٹھیک ہے۔ لیک عبادت کیا آخری غرض ہے یا اس کے بعد بھی کوئی غرض ہے؟

ظاہر ہے کہ عبادت آخری غرض نہیں ہو سکتی۔ اس لیے کہ عبادت تو تکمیل حکم ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا ”عبادت کرو“ تو کیا اس تعمیل حکم کی بھی کوئی غرض یا مقصد ہے کہ نہیں؟ پس اس کا جو مقصد ہوگا وہی آخری غرض ہوگی۔

مثلاً آپ نے بچے کو حکم دیا ”سکول جاؤ“ تو اصل میں سکول جانے کی بھی کوئی غرض نہیں ہے‘ پس وہ جو آخری غرض ہوگی وہ اصل غرض ہوگی۔

اب سوچیئے عبادت کا فائدہ کیا ہے؟

وہ فائدہ محبت ہے۔ میں بآواز بلند کہتا ہوں کہ اصل غرض و غایت ”عبادت“ کی محبت خدا ہے۔

لاکھوں برس عبادت کرے عبادت فضول اور بے کار‘ جیسے شیطان نے لاکھوں برس عبادت کی۔ خدا کو وہ جانتا تھا کہ ایک ہے مگر خدا نے جب اسے کہا کہ اس آدم کو سجدہ کرو۔ تو کہنے لگا: کیا اس کو سجدہ کروں؟ پس یہ جو کیوں کہ دیا‘ معلوم ہوا کہ محبت نہیں ا س لیے کہ محبت میں چون و چرا کہنا حرام ہے پس جب محبت نہ تھی کہہ دیا گیا نکال دو اس کو۔

نتیجہ یہ نکلا کہ اصل شئے محبت ہوئی‘ سو اس نے کچھ لوگوں کو بھیج کر حکم دے دیا کہ ان سے محبت کرو۔ تو وہ میری محبت ہو جائے گی۔

تو اصل دین محبت ثابت ہوئی اگر محبت صحیح موجود ہے تو اہل دین‘ ورنہ بے دین نیز محبوب کے دوست سے دوستی ہوگی اور محبوب کے دشمن سے دشمنی ہوگی۔

اخلاق جلالی آپ نے پڑھی ہوگی اس میں دین اور محبت کا رشتہ اس طرح سے بیان کیا گیا ہے۔ انک تو جھک۔۔۔ ان الحب دین و ایمان۔۔۔ کہ میرا دین تو دین محبت ہے‘ اس محبت کی اونٹنیاں جس طرف چلتی ہیں اسی طرف میرا دین اور ایمان بھی جاتا ہے اور جب یہی محبت حقیقی میرا دین ہوچکی۔

لہذا دین ہے حقیقی محبت۔ کس کی محبت؟

امام محمد باقر علیہ السلام سے ایک شخص نے دریافت کیا ”یا ابن رسول اللہ ھل الحب من الایمان“ کہ آیا محبت ایمان کا کوئی جزو ہے؟ و ھل ایمان سوی الحب؟ کہ کیا سوائے محبت کے ایمان ہوسکتا ہے؟

ارشاد فرمایا: الایمان ھو الحب و الحب ھو الایمان کہ صحیح محبت عین ایمان ہے اور ایمان ہی عین محبت ہے۔

جب کسی سے محبت ہوگی تو اس کے اقوال بھی محبوب ہوں گے‘ اس کے افعال بھی محبوب ہوں گے۔

پس ایسے محبوب کو ڈھونڈھنا ہوگا کہ اس سے نہ کبھی غلطی ہواور نہ اس کا کوئی قول غلط ہو نہ کوئی فعل غلط ہوا ہو۔ پس ضروری ہوا کہ محبت اس سے کی جائے جو معصوم ہو۔

آپ میری طرفداری نہ بھی کیجیئے توجہ فرمایئے کہ میں علامہ محمد سلیمان حنفی کی کتاب مودت میں یہ حدیث موجود ہے کہ فرمایا:

لو اجتمع الناس علی حب علی لما خلق اللہ ا لنار۔ کہ اگر سب کے سب انسان علی کی محبت پر جمع ہو جاتے تو دوزخ کو پیدا کرنے کی ضرورت ہی نہ رہتی۔

معلوم ہوا کہ جھنم ان کے لیے پیدا ہوئی ہے جن کے دل میں کچھ نہ کچھ دشمنی حضرت علی کی ہے۔

ایک دوسرے موقع پر فرمایا:یا علی حبک حبی‘ بغضک بغضی ۔ کہ علی تیری محبت عین میری محبت ہے اور تجھ سے بغض عین مجھ س بغض ہے۔

آپ دیکھیں کہ محبت رسول عین محبت خدا ہے کہ نہیں؟ پس جب محبت رسول خدا کی محبت ہے تو منطقی نتیجہ نکالیے کہ علی کی محبت رسول کی محبت ہے اور رسول کی محبت خدا تعایٰ کی محبت ہے پس نتیجہ یہ نکلا کہ علی کی محبت خداتعالیٰ کی محبت ہے۔

آپ وہ فقرہ یاد کیجئے کہ دین کی اصل غرض حقیقی محبت ہے۔ تو معلوم ہوا کہ دین اللہ کیاہوا علی کی محبت‘ اب آیت کریمہ پڑھیے کہ پروردگار عالم ارشاد فرماتا ہےافغیردین الله یبغون وله اسلم من فی السمٰوت والارض طوعا وکرهأوالیه یرجعون کہ کیا سوائے دین اللہ یعنی محبت علی کہ کسی اور کی محبت تلاش کرتے ہیں لوگ ؟ حالانکہ آسمان زمین کے باشندے اسی کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہیں۔ خوشی یا قھر سے اور اسی کی طرف سب کی بازگشت ہے۔

تو کیا یہ بات قبول نہ کی جائے گی کہ ان کی محبت حقیقتاً دین اسلام کی محبت اور ان سے ترک محبت یا دشمنی رکھنی خلاف دین اسلام ہے۔

کیا دشمنان رسول دشمنان خدا ہیں یا نہیں؟ اور جو خدا کے دشمن ہیں وہ دین دار ہوسکتے ہیں؟ جب رسول کی دشمنی خدا تعالیٰ کی دشمنی ہے تو ماننا پڑے گی یہ بات کہ رسول نے کہا ہے بغضک بغضی کہ علی تیری دشمنی میری دشمنی ہے اور رسول کے ساتھ دشمنی خدا تعالیٰ کے ساتھ دشمنی ہے اور خدا تعالیٰ سے دشمنی یا برعکس علی کے ساتھ دشمنی دین سے دشمنی ہے اور کم از کم یہ کہ بے دینی تو ضرور ہے۔

ایک بات علی سبیل التنزل یعنی ذرا نیچے اتر کر کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے کئی جگہ فرمایا ہے کم من قریة اھلکنھا کہ کتنے گاؤں کو ہم نے ھلاک کرڈالا۔

گاؤں کو ھلاک کرنے سے کیا فائدہ تھا؟ معلوم ہوا کہ گاؤں والے ھلاک کئے تھے جو حد سے بڑھ چکے تھے۔

مجازات کی بہت سی قسمیں ہیں تو یہاں قریہ کا لفظ استعمال کرکے قریہ والے مراد لیے ہیں تجاوزات کی کوئی ۲۷ قسمیں ہیں۔

کھیر وہ لفظ ”بیعت“ استعمال کرتا ہے اور مراد اھل البیت لی جاتی ہے اسی طرح کبھی قرآن لفظ ”دین“ کہتاہے اور ”اھل البیت“ مراد لی جاتی ہے یعنی وہ خاص لوگ جو سر سے پاؤں تک مجسم دین ہوتے ہیں۔

سبحان اللہ! یہ دین کس کا ہے؟

اللہ کا دین ہے تو کیا رسول کا دین نہیں؟ ہے تو دین رسول دین خدا ہے اور علی کے لیے بھی فرمایا کہ وہ نفس رسول ہیں۔ تو نفس رسول کا دین خود دین رسول نہ ہوگا اور اس طرح وہ دین خدا نہ ہوگا؟ ضرور ہوگا۔

اب آیت پڑھیے( و ما امرو الا لیعبدوا الله مخلصین له الدین حنفاء و یقیموا الصلوٰة ویوتوا الزکوة و ذلک دین القیمة )

ترجمہ: تمام لوگوں کو بس یہی حکم دیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں۔ خلوص کے ساتھ اور نماز پڑھیں اور زکوٰة دیں اور یہی جو حکم دیا گیا ”الدین القیمة“ ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ ”الدین القیمة “ موصوف صفت ہے؟ یا مضاف مضاف الیہ ہے؟

موصوف صفت ہوا تو معنی ہونگے مضبوط اور مستحکم دین اوراگر مضاف مضاف الیہ ہو تو معنی ہونگے ”قیمہ کا دین“ تو اس صورت میں قیمہ بھی کوئی ہونا چاہیے یا نہیں؟ قیم ہے مذکر اور قیمة ہے مونث‘ تو یہ دین قیمہ کا ہے۔ جیسے ”رسول کا دین“ کو آپ کہیے ”دین الرسول“

اور اگر آپ موصوف صفت استعمال کریں گے تو موصو پر ال موجود ہے اور موصوف پر الف لام ہے تو صفت پر بھی الف لام آئے گا۔ لیکن یہاں صرف ذلک ”دین القیمة “ آیا ہے یعنی الف لام دینپر نہیں صرف قیمة پر ہے۔ پس معلوم ہوا کہ یہ موصوف صفت کی ترکیب نہی ں ہے بلکہ مضاف مضاف الیہ کی ترکیب ہے۔

اور قیم کہتے ہیں حاکم کو اور قیمة کہتے ہیں حاکمہ یعنی سردار عورت کو اور چونکہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حاکم ہیں اس لیے کہ وہ سید الانبیاء ہیں اور سب کے حاکم ہیں تو پھر قیمة سے سردار عورت کون مراد ہوئی؟

وہ ہوئی سیدہ فاطمہ آ کی جگر گوشہ تو کبھی فرمایا: دین اسلام رسول کا دین ہے اور کبھی فرمایا کہ یہ قیمة یعنی جنابہ سیدہ فاطمہ زہرا کا دین ہے۔

پس حقیقی دین اسلام کیا ہوا؟ محبت اہل بیت ہوا۔

حضور کا ارشاد ہوتا ہے یا علی سرک بشری و حبک حبی کہ علی میرا بھید تیرا بھیدا ہے۔ اور میری محبت تیری محبت ہے اور چونکہ میری محبت عین محبت الہی ہے پس تیری محبت عین محبت الہی ہے۔

انہو ں نے اتنا کام کیا دین کا کہ سر سے لے کر پاؤں تک دین ہوگئے۔ اتناصبر کیا کہ سر تا پا صبر ہوگئے۔ پس اگر ن کی محبت نہیں تو دین ہی نہیں۔

ایک شئے اور عرض کرتاہوں اور پھر مضمون کو ختم کرتا ہوں۔

مولوی عبد اللہ صاحب امرتسری کی جوہر المطالب میں ارشاد ہے کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

لو عبد عبد الله یا تام نوح فی قومه و یحج الف حجة علی قدمه و کان صام الدهر و قائم اللیل و قتل مظلوما بین الصفاء و المروة‘ و لم یوال علیا لم یشم رائحة الجنة

کہ اگر کوئی شخص اس قدر خدا تعالیٰ کی بندگی کرے جس قدر حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم میں تبلیغ فرمائی تھی (یعنی ۹-۱/۲ سو سال) اور ایک ہزار حج یا پیادہ کرے اور ہمیشہ صائم الدھر اور قائم اللیل رہا ہو (دن کو روزہ اور رات بھر کھڑے رہ کر بندی کرتا رہا ہو) حتی کہ صفا و مروہ کے مابین مظلوم قتل بھی ہوگیا ہو لیکن حضرت مولا علی سے دوستی نہ رکھتا ہوگا تو وہ بھشت کی خوشبوتک بھی نہ پائے گا۔

پس دین اللہ کا جزء متمم حضرت مولا علی کا وجود باجود اور آپ کی محبت صادقہ ہے۔ اس لیے ان کی ذات کو حقیقت میں دین بنا دیا اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرمانا پڑا کہ

علی پورے کا پورا ایمان جارہا ہے اور علی پورے کا پورا اسلام جارہا ہے۔

اور یہی وجہ ہے کہ کربلا میں ابن علی حسین قتل نہیں ہوئے بلکہ دین اللہ قتل ہوا ان کی گردن پر چھری نہیں چلی تھی بلکہ دین الہی کی گردن پر چھری چلی تھی۔ یعنی فرزند رسول جن کے لیے شاہ احمد بن سلطان سید معین الدین احمدی کو فرمانا پڑا تھا

شاہ است حسین‘ شہنشاہ است حسین

دین است حسین‘ دین پناہ است حسین

پس ان کے دشمن کیا دین اسلام کے دشمن نہ ہوں گے؟ان کی محبت اگر دل میں آگئی تو دین کی محبت آگئی اور ان سے اگر بغض ہوگیا تو دین اللہ سے بغض ہوگیا۔ اس لیے کہ وہ مجسم دین ‘ دین پناہ تھے۔

اسی لیے ۱۸ سال کا جوان بچہ‘ ۱۳ سال کا بھتیجہ کے متعلق پسند کیا کہ وہ قربان ہو جائیں لیکن دین کسی طرح سے باقی اور قائم رہ جائے اہل بیت میں سے کسی نے کبھی گلہ کیا نہ شکایت کی۔

جس کے گھر میں آگ لگ جاتی ہے اسے پوچھیے اس پر کیا بنتی ہے۔ گھر کا دھواں دیکھ کر لوگ اکھٹے ہوتے ہیں لیکن جس کا گھر جل رہا ہوتا ہے اسے پتہہوتا ہے اس درد کا۔

تولوگ بھی اسی طرح دین میں داخل ہوگئے تھے لیکن آپ اپنی اہل بیت کو لے کر آگے بڑھے کہ دین کے گھر کو جلانے کے لیے جو دشمن نے آگ جلا رکھی ہے یہ پانی سے نہ بجھے گی بلکہ ان معصوموں سے بجھے گی۔

امام نے احسان یا تمام مسلمانوں پر حسین اگر قربانی نہ دے جاتے تو آج دنیا میں آپ کے نانا کا دین نہ ہوتا بلکہ یزید کا دین ہوتا۔

آج عاشور کا دن ہے خنجر سے عصر کے وقت آپ کا خون بہایا گیا۔ حضور نے پا مردی کے ساتھ مقابلہ کیا او روہ نشان قائم کردیا کہ جس کا ظہور یہ کیا کم ہے کہ ہر سال آپ کے ماننے والے کروڑوں کی تعداد میں یاد کو قائم رکھتے ہیں۔

امام حسین علیہ السلام کی بہنیں‘ کون ان کے رسول کی نواسیاں ایک مرتبہ پہلے بھی جبکہ اسلام کی ابتداء کا وقت تھا اپنی دل کے ساتھ وہ وقت دیکھ چکی تھیں جو دین پر آگیا تھا۔ میدان مباھلہ میں دین اسلام مقابلہ عیسائیوں کے ساتھ ہوچکا تھا۔

زینب دیکھ چکی تھیں کہ ماں نے کس طرح عمل کیا تھا‘ پردہ کا سبق سکھانے والی نے جب دین پر وقت آپہنچا تھا تو چادر اوڑھی تھی اور ابا کے ساتھ دین کو بچایا تھا۔ لہذا آج وہ دین کی ضرورت اور اس پر آئے وقت کو محسوس کر رہی تھیں اور تیار تھیں کہ دین کی خاطر چادر اتر بھی جائے گی تب بی وہ باہر نکل کر دین کو بچا لے گی۔

آج کس کس شہید کا ذکر کروں‘ جسے دیکھ جان الم نظر آتا ہے۔ جس پر نگاہ ڈالو روح غم نظر آتا ہے۔ چشم فلک نے ایسے دین دار کھبی نہ دیکھے ہوں گے۔

امام حسین علیہ السلام کو چھوڑیئے ان کو دیکھو جنہیں ساتھ لے کر آئے تھے وہ اس شان کے مالک تھے کہ ان کی نظیر کسی نے نہ دیکھی ان کی عورتیں ساتھ آئیں‘ ایسی عورتیں جنہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے بچوں کو سنوار کر قربان ہونے کو بھیجا۔

حضرت ہاجرہ نے بھی اپنا فرزند ذبح کرنے کو روانہ کیا تھا لیکن ان کو ابتداء خبر نہ دی گئی تھی کہ بچے کو ذبح کردینے کے لیے جارہا ہوں اور جب خبر ہوگھی تو فریاد کرتے کرتے تیسرے دن وفات پاگئیں۔

لیکن میدان کربلا میں امام ان عورتوں کو ساتھ لائے تو یہ کہ کر لائے کہ چلو‘ تمہارے بچوں کو قربان ہونے کے لیے پیش کرنا ہے۔

مادر وھب اور ا س کا شوہر ‘ امیر المومنین کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے تھے۔ نہ معلوم کیا کچھ علوم ان کو بتا دیئے تھے اور کیا کیا راز بتا دیئے تھے۔ اس مومنہ کا شوہر مرچکا تھااوربیٹے کی شادی کرنے کے لیے گئی تھی اور دلہن کو گھر لائی تھی کہ راستہ میں نظر آیا کہ کوئی قافلہ جارہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امیر المومنین سب کچھ بتلا گئے تھے۔ بیٹے سے کہنے لگی ”بیٹا ذرا دیکھو یہ کون سا قافلہ جارہا ہے؟“ بیٹا گھوڑے پر گیا۔ واپس آیا اور عرض کی اماں جان! آقا حسین کا قافلہ جارہا ہے۔

کہنے لگیں اچھا! مولا علی کے فرزند کا قافلہ جارہا ہے۔ بیٹا اب دیر نہ لگاؤ۔ چلو اسی طرح سے ان کے ساتھ ہو جاؤ۔

یہ قافلہ کربلا میں پہنچا۔ عاشورہ کا دن آگیا لڑائی شروع ہوگئی۔ لاشیں آنے لگیں‘ چند ایک مرتبہ خیمہ کا پردہ اٹھتا ہے ایک عورت تیزی کے ساتھ نکلتی ہے اور کہتی ہے۔ وھب! میرا بیٹا وھب کہاں ہے؟

جواب ملتا ہے: ماں حاضر ہوں۔

کہتی ہے کہ کیا حاضر ہے تو؟ کیا اس لیے تجھے ساتھ لائی تھی کہ لاشوں کا تماشہ دیکھتا رہے گا تو؟

اولاد والو! یہ کون کہہ رہا ہے؟

ایک بڈھی ماں ہے جس کا سہارا صرف ایک بیٹا ہے کہتی ہے بیٹا وھب؟ جب تک تیری لاش نہیں آئے گی تجھ سے خوش نہ ہوں گی۔

وھب نے کہا: ماں! اطمینان رکھ۔ ضرور میدان میں جاؤں گا اور شہید ہوں گا۔ کیا یہاں ہی کھڑی رہو گی؟

کہا: یہاں ہی کھڑی رہوں گی‘ جب لاش آئے گی تو زینب کے سامنے جاؤں گی۔

یہ سن کر بیٹے نے کہا چلا ماں۔ ابھی تعمیل حکم کرتا ہوں۔ یہ کہ کر چلا اور خیمہ کی طرف رخ کیا۔

کہا کدھر جا رہا ہے تو؟

بولا: بیوی سے کہ دوں ذرا‘ کہ میدان جنگ میں جا رہا ہوں۔

بولی: نہ جا عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں کہیں روک نہ دے۔

کہا: اطمینان رکھیئے

پردہ جب اٹھایا تو بیوی پردہ کے ساتھ کھڑی تھی۔ بیوی نے خاوند کو دیکھا تو کہا: وھب! ابھی تک زندہ ہے تو؟

اس نے کہا: تجھے میرے مرنے کی خواہش کیوں ہے؟

بولی: ”زینب کی بے قراری دیکھ نہیں سکتی۔

تو حضور والا۔ یہ تھی شان ان لوگوں کی جو حسین کے ساتھ والے تھے۔ پروردگار عالم آپ لوگوں سے راضی ہو اور تم کو کوئی غم نہ دے سوائے غم حسین کے۔

بس اب آج چاہتا ہوں کہ کہ دو یا تین منٹ میں اس شہید کا ذکر کروں جو میدان جنگ میں نہ پاؤں سے جاسکتا تھا اور نہ سوار ہو کر جاسکتا تھا۔ ابھی تک یہ شہید ہونے والا گھٹنوں بھی نہ چلنے پایا تھا‘ جس کے نام حسین کے بے شیر اصغر تھا۔

مولا تو معاف کردے۔ امام مظلوم نے اپنی مظلومی پر آخری مہر لگائی۔ علی اصغر کے گلے کا خون ابھی میدان کربلا میں بہا نہ تھا آپ نے دو تین مرتبہ آواز استغاثہ بلند کی کہ ”ہے کوئی جو اس عالم کس مپرسی میں میری مدد کو آئے؟“

ہر ذرہ میں سے آواز آرہی تھی ”لبیک“، ”لبیک“ صرف فوج یزید کی طرف سے خاموشی تھی۔

امام کی آواز بلند ہوئی ”کوئی ہے جو حرم رسول پر بلا کو دفع کردے“ ”ھل من مغیث یغیث لنا“

ادھر سے خیموں میں بیویوں کی رونے کی آواز سنائی دی۔ معلوم ہوا کہ قیامت برپا ہوگئی ہے۔

امام خیمہ آئے اور فرمایا: ”بہن زینب! ابھی تک تو میں زندہ ہوں‘ تمہاری آواز سن کر دشمن خوش نہیں ہو رہے؟ کیوں یہ آوازیں بلند ہوئی ہیں؟

زینب نے کہا: بھیا! قیامت آگئی آپ کی استغاثہ کی آواز جو سنی تو یہ ننھا اصغر تڑپنے لگا۔ اس قدر تڑپا کہ جھولے میں سے نیچے جا پڑا اور اس کے گرنے پر بیویوں نے بے اختیار اپنی آوازیں بلند کی ہیں۔

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: بہن! میرے بچے کو میرے پاس لاؤ۔

جنابہ زینب علی اصغر کولائیں۔

اولاد والو! چھ مینہ کا بچہ‘ ماں کے ہاتھوں سے باپ کے ہاتھوں پر آیا۔ اس کی مسکراہٹ نے باپ کی دل کو قوت بڑھا دیا۔

آپ نے کیا دیکھا کہ ننھے ہونٹ خشک ہیں‘ آنکھوں میں گڑھے پڑچکے ہیں۔ آپ نے آنکھوں کو بوسہ دیا۔ پیشانی کو چوما اور فرمایا: بیٹا! مطلب سمجھ گیا۔ آپ نے بہن سے فرمایا: اسے لیے جارہا ہوں۔ پانی مانگوں گا۔

جناب اصغر کی ماں خاموش دیکھ رہی تھیں امام حسین لے کر چلے۔ کہ جنابہ رباب نے راستہ روک لیا اور کہا: میرے والی! میرے وارث! ذرا بچے کو دے دیجئے۔ امام حسین علیہ السلام نے بچہ کو ماں کی گود میں دے دیا۔ ماں بچے کو خیمہ میں لے گئی۔ بیویاں سمجھیں ہوں شاید لے گئی ہے پیار کرے گی۔ مگر بی بی نے علی اصغر کا کرتہ اتارا۔ دوسرا کرتہ بدلا۔ جلدی جلدی سے آنکھوں میں سرمہ ڈالا۔ بالوں میں کنگھی کی اور کہا: بیٹا میری طرف سے اجازت ہے اور امام لے کر چلنے لگے فرمایا: بیٹا علی اصغر! جانتی ہو ں کہ تم جا رہے ہو اور واپس نہ آؤ گے۔ اگر تیر لگ جائے تو رونا مت۔ ورنہ لوگ کہیں گے کہ باپ کا بیٹا رونے لگا ہے۔

چنانچہ میدان میں باپ بیٹا پہنچے دشمن کا تیر آیا۔ حلق میں لگا۔ علی اصغر مسکرائے اور بصدائے حال پکارا بابا جان! ماں کو سلام کہنا او رکہ دینا کہ علی اصغر نہیں رویا اور نہ تڑپا۔ بلکہ خاموش جان مالک کے سپرد کردی۔

انا الله و انا الیه راجعون


مجلس نہم :

اعوذ بالله من الشیطٰن الرجیم

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الحمد لله رب العٰلمین والعاقبة للمتقین والجنة للمطیعین والنار للملحدین والصلوة والسلام علی رسوله سید الاولین والاخرین شفیع المذبنین ابی القاسم سیدنا محمد واله والطیبین الطاهرین معصومین الغر المحجلین اما بعد قال الله تبارک و تعالٰی فی کتابه المبین

( أَ فَغَیْرِ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُونَ وَ لَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِيْ السَّمٰوٰتِ وَ الْأَرْضِ طَوْعًا وَ کَرْهًا وَإِلَیْهِِ یُرْجَعُونَ ) ۔ ( آل عمران : ۸۳ )

حضرات ! جناب ! خدا تعالٰی اپنے کلام معجز نظام میں ارشاد فرماتا ہے کہ کیا لوگ اللہ کے دین کے سوا اور کسی کی خواہش رکھتے ہیں ۔ حالانکہ اس خدا کے لئے آسمانوں اور زمین کی رہنی والی مخلوقات اپنی گردنیں جھکائے ہوئے ہیں، خوشی سے یا جبر سے، اور اسی کی طرف سب کی باز گشت ہے ۔

اب چونکہ آج کی ہی مجلس رہ گئی ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں ہے کہ عزاداران اہل بیت کے دل رو رہے ہیں ۔

میں نے آیت کریم کے پہلے فقرہ پر اس سے پہلے عرض کیا ہے ۔ آج دوسرے فقرہ ولہ اسلم من فی السموات والارض طوعا و کرھا والیہ یرجعون ۔ کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں ۔ توجہ کے ساتھ سنیے اور ایک مرتبہ درود و صلوات پڑھ لیجئے ۔ اللھم صل علی محمد وال محمد

کل میں نے گزارش کی تھی کہ پروردگار عالم نے قرآن مجید اس قسم کے کئی مجزات کا استعمال کیا ہے کہ لفظ بیت استعمال کیا اور مراد اس سے اہل بیت کی ۔ لفظ قریة استعمال کیا اورمراد اس سے اہل قریة کو لیا اسی طرح لفظ دین استعمال کیا اور اس سے اہل دین مراد لئے ۔ جب قریة سے اہل قریة مراد ہوسکتے ہیں تو دین سے اگر اہل دین مراد لی جائے تو کون سا مانع ہے جس کی بناء پر یہ مراد نہیں لی جاسکتی ۔

مجاز سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اسکی نوع کا لحاظ کرنے میں فعد کا لحاط نہیں ہوتا کہ سماعی ہونی چاہئے ۔ نوع کے جتنے افراد زبان پر استعمال ہوتے ہیں حق ہے کہ کسی فرد کو استعمال میں لایا جائے ۔

کل عرض کیا تھا کہ بعض حضرات دین اس لئے کہلایا کہ ان کی وجہ سے دین قائم ہوا ہے اور جب دین خراب ہونے لگا تھا ۔ تب بھی انہوں نے اسے درست کردیا ۔ چونکہ وہ ہمہ تن دین بن گئے تھے اس لئے ان کو دین کہا گیا ۔ یہ ایک ایسی شے ہے جو نہایت واضح ہے ۔

آیت کا حصہوله اسلم من فی السموات والارض طوعا و کرها والیه یرجعون ۔ کہ آسمانوں اور زمین کے تمام باشندے اس کے سامنے گردن جھکائے ہوئے ہیں طوعا و کرھا میں واو جو ہے جغبی او ہے یعنی کوئی خوشی کے شاتھ گردن جھکائے ہوئے ہے اور کوئی نا خوشی سے گردن جھکائے ہوئے ہے ۔

آج زمانہ بہت ترقی کرچکا ہے ۔ لیکن سن رہا ہوں کہ چند روز پہلے کچھ الحاد کی طرف مائل تھا اور آج پھر کچھ خدا کی طرف جھک رہا ہے سائنس دان ایسی ایسی کتابیں لکھ رہے ہیں کہ پروردگار عالم کے وجود پر دلائل موجود ہیں ۔ خیر کوئی لکھے یا نہ لکھے، تب بھی سب کی گردن جھکی ہوئی ہے تمام کا زمانہ قدرت کی ترقیاں اس کے کسی کام میں ذرہ بھر فرق نہیں لا سکیں ۔

دیکھئے گرمی کو کئی شخص برداشت نہیں کرنا چاہتا ۔ لیکن تمام عالم کے لوگوں کی یہ خواہش بے کار پڑ جاتی ہے اور کوئی طاقت گرمی کو پڑنے سے نہیں روک سکتی اور جس قدر گرمی پڑتی ہے پڑ کر رہتی ہے ۔

آپ کسی شخص کی صورت یا شکل کو دیکھ لیجئے ۔ حسین سے حسین کو دیکھ لیں آپ محسوس کریں گے کہ اس میں فلاں جگہ فلاں شے کی کمی ہے ۔ اگر اس میں فلاں اور شے ہوتی تو وہ مکمل حسین ہوجاتی ۔

دنیا بھر کی چیزوں کے متعلق کہہ سکتا ہوں کہ کسی کی اگر شکل اچھی ہے تو قد اتنا ہے کہ اس کے حسن کا قصور سمجھا جاتا ہے، یا طول صحیح ہے تو رفتار اچھی نہیں‘ چہرہ اچھا ہے تو کسی اور عضو میں کمی رہ گئی ہے۔

اس تصور کے ساتھ نظرڈالئے‘ کہ آیا کہا جاسکتا ہے کہ جو بہمہ وجوہ حسین ہے اس میں کچھ کمی نہیں ہے؟

آپ کوئی مثال بھی لے لیں کسی بڑے سے بڑے کو لیجئے وہ اپنے اندر کچھ نہ کچھ کمی محسوس کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے فلاں شئے حاصل نہیں ہے۔ کوئی کہتا ہے فلاں آدمی کے بھنویں (ابرو) کے نیچے ہوتی تو چہرہ بہت درست ہوتا۔ لیکن اس کمی کو پورا کرنے والی کوئی طاقت نہیں۔

ہر حال میں یہ بات دلالت کرتی ہے کہ اس کمی کی موجودگی میں ان کے علاوہ کوئی ایسا کامل موجود ہے یہ تو سب ناقص اور نامکمل ہیں مگر وہ کامل اور مکمل ہے۔

معاف کیجئے گا ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں۔ جو لوگ حکم شریعت کے موافق داڑھی رکھتے ہیں کوئی ایسی تدبیر ہوتی کہ اس کے درست کرانے پر ۱/۲ گھنٹہ کم از کم صرف نہ وہتا۔ ان لوگوں کا تو ذکرہی کیا جو سرے سے داڑھیاں رکھتے ہی نہیں وہ تو روزانہ کی مصیبت میں گرفتار ہیں الغرض دونوں چاہتے ہیں کہ اس مصیبت سے کسی طرح ان کو نجات حاصل ہو جائے لیکن کسی کی خواہش پوری نہی ہوتی بس کوئی زبردست طاقت ایسی موجود ہے جہاں تمام خواہشات ختم ہر کر رہ جاتی ہیں۔

دنیا کی جس قدر چیزیں ہیں وہ کسی نہ کسی کے سامنے جھکی ہوتی ہیں ایک آدمی کسی مشین کے متعلق یہ سمجھتا ہے کہ یہ سال بھر چلے گی لیکن وہ دوسرے دن ہی خراب ہو جاتی ہے بڑے سے بڑے جھاز بنتے ہیں کہ یہ نہ گریں گے بری مضبوط مشینری والے ہیں۔ پہلی مرتبہ ہی ڈالا گیا تھا کہ ہوائی تار آتا ہے کہ ڈوبنے سے بچالو۔

تو کوئی کامل صاحب اختیار ہے جس کے قبضہ میں سب کچھ ہے اور وہ جس کو جتنا چاہتا ہے دیتا ہے جسے چاہتاہے گردش میں ڈال دیتا ہے چوبکہ ہمارا کام اس عالم اسباب میں یہ ہے کہ کسی سبب کو اختیار کریں لیکن سچ کہتا ہوں کہ اگر کسی شے کا سبب معلوم بھی ہوتا ہے تو اسی وقت اس سبب کا سبب نامعلوم ہوتا ہے علی ہذا اس نامعلوم سبب کا سبب اثر لاپتہ ہے۔ یہ ایسا سلسلہ ہے کہ انسان کو جہالت سے نکلنے نہیں دیتا اور اقرار کرنا پڑتا ہے انسان کو کہ ”میں فلاں معاملے میں جاہل ہوں“۔

سبحان اللہ! بیماریوں وغیرہ کے علاج کے واسطے طبیب و ڈاکٹر لوگ ایک بیماری کا سبب دریافت کرتے ہیں کہ یہ بیماری کیوں پیدا ہوئی؟ کہنے لگے کہ یہ فلاں قسم کے جراثیم سے پیدا ہوگئی۔ اس پر سوال ہوا کہ وہ جراثیم کیوں ہوئے؟

پھر اسی طرح علتوں کا سلسلہ بڑھتا جائے گا تا آنکہ انسان کو اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ جاہل ہے اور نہیں جانتا کہ اس علت کی علت کیا ہے اور جب یہ اپنے یہاں کی چیزوں پر قدرت نہیں رکھتا تو اسمانوں پر اسے کیسے قدرت حاصل ہوسکے گی۔ معلوم ہوا کہ انسان سے ایک ایک وہ ہستی یا جس کے اختیار میں سب کچھ ہے اور سب کی گردنیں وہاں جھکی ہوئی ہیں۔

البتہ یہ سوال رہ جاتا ہے کہ کافروں کی گردن کیسے اس کے حضور جھکی ہوئی ہے؟ قرآن پاک فرما رہا ہے یسبح لہ ما فی السموات و الارض و ھو العزیز الحکیم۔ کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے سب کا سب اس کی تسبیح کرتا ہے اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔

میں کہوں گا کہ بے شک کافروں کے دل بھی اس کے حضور جِھکے ہوئے ہیں جب وہ کہتا ہے مرجاؤ۔ تو ہے کوئی جو کہہ سکے کہ نہیں میں نہیں مرتا۔

حکم الہی ہوتا ہے کہ فلاں شخص پر فلاں مصیبت آجپڑے‘ فلاں مرض میں فلاں گرفتار ہو جائے۔ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ وہ کسی مصیبت یا مرض میں گرفتار ہو لیکن جب وہ وقت کوئی ہے تو وہ گرفتار ہو ہی جاتا ہے اور موت کے وقت بالآخر مرجاتا ہے تو کیا ان سب کی گردنیں اس کے سامنے جھکی ہوئی نہیں ہیں؟ بے شک ہیں۔

اب میں کہنا چاہتا ہوں کہ آپ حضرات اہل فہم اور صاحبان ادراک ہیں‘ کہ بلاشک آپ ان بلند ذکر باتوں کو جلدی سے سمجھ لیتے ہیں‘ آپ غور فرمائیں کہ وہ جو رارشاد فرماتا ہے:

افغیر دین الله یبغون وله اسلم فی السموات ولارض طوعا و کرها والیه یرجعون ۔ کہ کیا لوگ اللہ کے دین کے سوا اور کسی کی خواہش رکھتے ہیں ۔ حالانکہ اس خدا کے لئے آسمانوں اور زمین کے باشندے اس کے لیے جھکے ہوئے ہیں۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیا دلیل ہوئی؟ جو بھی خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں سب ہی جانتے ہیں کہ بے شک سب اس کے سامنے جٍکھے ہوئے ہیں۔

ذرا دقیق سی چیز تو ہے اور میں جانتا ہوں کہ شاید ایسے الفاظ میں پیش نہ کرسکوں جو ذہن میں اتر جائیں لیکن یہ یقین ضرور رکھتا ہوں کہ آپ کے اذھان مافیہ ایسے ہیں کہ ضرور بالضرور آپ لو جتنا کہ مجھے معلوم ہے اس سے زیادہ معلوم کرلیں گے۔

سنیئے! خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ کے دین کو اختیار کرو! کیوں؟ اس لیے کہ کل عالم کی چیزیں اس کے سامنے گردن خم کی ہوئی ہیں۔

تو دین کو اختیار کرنے کی علت کیا بات ہوئی؟ یہ ہوئی کہ سب کی گردنیں ا سکے سامنے جھکی ہوئی ہیں اور اگر وہ جھکی نہ ہوتیں تو دین کو ماننے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ چونکے جِھکی ہوئی ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کا دین قابل پسندیدگی ہے سوائے چند انگلیوں پر گنے جانے والے دھریوں کے باقی تمام لوگ وہ ہیں جو اسے مانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مخلوقات عالم سب کے سب اس کے سامنے جھکی ہوئی ہیں۔ تو جو اللہ تعالیٰ کو مانے اور پھر یہ کہے کہ زمین اور آسمان کی چیزیں اس کے مطیع نہیں‘ ایسا کوئی مذھب ہے جویہ نہ مانے؟ یقیناً سب کے سب اس امر کومانتے اور جانتے ہیں۔

اب پھر سوال یہ باقی رہ جاتا ہے کہ اللہ کا کون سا دین ہے جسے ہم مانیں؟

یہ تو سارے آدمی ہی کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ کو مانتے ہیں کہ سب اس کے سامنے جھکے ہوئے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس علت معلوم میں باہمی تلازم کہاں سے آیا؟ لیکن اگر ہم سمجھنا چاہیں تو کیا سمجھ میں آجائے گا مگر مجازات کا ایسا استعمال کرنا پڑے گا کہ اس کا ماننا طبیعت پر بار ہوگا اور وہ یہ کہ

اگر دین اللہ سے ہم ایک شخص یا ذات کو مراد لے لیں تو بات صارف واضح ہو جائے گی۔

میرا خیال ہے کہ یہ بات سمجھ نہ آئے گی جب تک کہ کل کی بات نہ دھرا دوں۔ یہ اس لیے کہا کہ آپ یہ نہ کہہ دیں کہ کل کی بات ہے۔

شاہ اجمیری نے کیا کہا تھا

شاہ است حسین بادشاہ است حسین

دین است حسین دین پناہ است حسین

صاف ماناکہ حسین کی ذات خود دین ہے‘ تو جوان سے بھی افضل ہیں ہو کیوں نہ مومن ہوں گے۔ وہ کون ہیں؟ وہ حسین کے والد امیر المومنین علی ابن ابی طالب ہیں۔ جن کی شان میں الفاظ رسالت مآب کے وارد ہوئے برز الایمان کلہ‘ برز الاسلام کلہ جو غزوہ خندق کے موقعہ پر سرکار نے ارشاد فرماتے ہیں۔

جو انسان ہے وہ کبھی انکارنہیں کرے گا جب تک کہ دیوانہ نہ ہو جائے‘ دیوانگی میں انکار تو ہوسکتا ہے لیکن باہوش ہوتے ہوئے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ

رسول نے کل ایمان کہا تو علی کو اور کل اسلام کہا تو علی کو اور ایمان و اسلام ہی دین ہے۔ لیکن قرآن نے کہا دین کیا ہے اسلام ہے پس نتیجہ یہ نکلا کہ دین ہے تو وہ علی ہیں۔

پس جب ثابت ہوگیا کہ دین اللہ‘ علی ہیں تو اب آیت کریمہ مندرجہ بالا کا ترجمہ کریں کہ فرما رہے ہیں کہ

کیا علی (جو دین اللہ ہیں) کے سوا کسی اور کو پسند کرنا چاہتے ہیں لوگ؟

اب دوسرا حصہ آیت لیجئے ممکن ہے کہ کوئی کیسے کہ یہ تو علی کے لیے مناسب نہیں کہ ان کے سامنے آسمان و زمین کی تمام چیزیں جھکی ہوئی ہوں۔

لیکن اگر ثابت کردیا جائے کہ یہ سب چیزیں بلاشبہ ان کے سامنے جھکی ہوئی ہیں تو آیت کریمہ کا مفہوم صاف ہو جائے گا کہ نہ؟

جناب انہی کے لیے تو یہ چیزیں بے شک جھکی ہوئی ہیں لیکن اگر ان کے لیے بھی ثابت ہو جائے تو آیت میں لہ میں ضمیر مولاعلی کی طرف نہ پھرے گی؟

اب آپ ذرہ توجہ فرمائے اور معلوم کیجئے کہ لہ کی ضمیر دونوں طرفوں میں سے کس طرف پھرے گی، اللہ کی طرف، یا دین اللہ کی طرف پھرے گی؟ اس لئے کہ پہلے فقرہ میں افغیر دین اللہ آیا ہے یا افغیر اللہ آیا ہے؟ یعنی ضروری ہے کہ ضمیر کو یا اللہ کی طرف راجع کرو یا دین کی طرف راجع کرو۔

اگر ضمیر اللہ کی طرف پیشگی تو معنی ہوں گے کہ آسمان زمین کے باشندوں کی گردنیں اللہ کے سامنے جھکی ہوئی ہیں اور اگر دین کی طرف ضمیر ہو پیشگی تو یہ سب چیزیں دین کے سامنے جھکی ہوئی ثابت ہوں گی اور اس صورت میں دین سے مراد کوئی شخص ہوگا ۔

اب بتائیے آسمانوں میں کیا ہے؟ ملائکہ ہیں، اسی طرح خداوند کا پیدا کردہ ارواح ہیں حتی کہ سب فرشتے جو بھی خدا تعالٰی نے پیدا کئے ہیں سب معہ ان کے سردار جبریل کے جن کی شان میں قرآن مجید کہتا ہے ذی قوة عند ذی العرش مکین رفاع ثم امین ( ترجمہ : کہ وہ بڑی قوت والے، عرش والے کے پاس رہنے والے، فرشتوں کے مطاع کہ جس کی اطاعت کی جاتی ہے، پھر امانت دار ہیں، تمام عالم کے سردار فرشتے جبریل میکائیل، اسرائیل اور عزرائیل ہیں اور ان سب میں بلند مرتبہ حضرت جبریل ہیں ۔

سنا ہے آپ نے کہ کل ملائکہ کا سردار جبریل کس کے گھر میں آکر گنوارہ جیسانی کیا کرتا تھا؟ تو کیا جھکا ہوا تھا کہ نہیں ؟

جب تمام فرشتوں کا سردار، اس ہستی کی سامنے جھکا ہوا ہے تو جو اس مکاع کا سردار کے سامنے مطیع ہیں کیا وہ سب کے سب اس ہستی کے سامنے جھکے ہوئے ثابت ہوگئے کہ نہ ؟

جب سردار جھکے ہوئے ہیں تو ماتحت فرشتے تو بدرجہ اولٰی خود بخود جھکے ہوئے ہیں ۔

ایک آدھ واقعہ اگرچہ واقعات بہت ہیں سناتا ہوں۔

علامہ واعظ کاشفی اپنی کتاب روضة الشہداء میں لکھتے ہیں کہ جناب سیدہ فاطمہ الزھرا تھک جاتی تھیں تو پروردگار عالم جبریل و میکائیل کو بھیج دیتے تھے کہ سیدہ حسین کا جھولا جھلاتے ہوئے تھک گئی ہیں تم دونوں جاؤ اور یہ کام کرنے لگ جاؤ۔آپ آرام فرماتی تھیں اور یہ دونوں فرشتے جھولا جھلاتے رہتے تھے اور اگر امام حسین جاگ پڑتے تو یہ لوریاں دینے لگ جاتے تھے۔

میکائیل ایک طرف سے کہا کرتے تھے

انّ فی الجنة نهرین لعسل ولبن‘ لعلی و الزهرا والحسین والحسن

اور اگر پھر بھی چپ نہ ہوتے تھے تو دوسری طرف سے جبریل لوری دینے لگتے تھے کہ

ولمن کان حبالهم،دخل الجنة بغیرالمحن

تو اس قسم کے واقعات گہوار جنبانی کے کتابوں میں بہت کچھ لکھے ہوئے ہیں۔

(حضرت علامہ تقریر فرما رہے تھے کسی شخص نے موضوع سے ہٹ کر کوئی اعتراض پیش کرنا چاہا تو آپ نے فرمایا)

میں یہ ہمیشہ عرض کرتا رہتا ہوں کہ جس موضوع پر تقریر ہو رہی ہے اس متعلق آپ لوگ بصد شوق دریافت کر سکتے ہیں۔لیکن ادھر اُدھر کے سوالات کا ذمہ دار میں نہیں ہوں۔

مہربانی کرکے خیال فرمائیں کہ اس قسم کے حضرات ذوق صحیح رکھتے والے نصیب ہوتے جو یوں بھی پرچے دے دیتے ہیں، بات کیا ہو رہی ہے کہ پرچہ آتا ہے کہ علی کی دختروں کے متعلق بیان کر دو۔صرف اس قدر خواہش کرتا ہوں کہ اتنے دماغوں کو موضوع سے دور لے جا کر پریشان کر دوں بہتر نہیں ہے، میں اتنی دیر سے اپنی بھی اور آپ کی بھی دماغ سوزی کر رہا تھا تاکہ اصل مسئلہ واضح ہو جائے۔

تو ملائکہ میں سب سے بلند مقام جو رکھتے ہیں وہ جبریل ہیں۔ جو ہمارے علی کے شہزادوں کی گہوارہ جنبانی کرتے ہیں اتنا جھکتے ہیں کہ عرش سے فرش پر آتے ہیں اور پھر واپس جا کر فخر کرتے ہیں کہ میں ایک علی کا گہواہ جنباں ہوں۔

پھر آپ سن چکے ہوگے کہ آفتاب کہ جس کی روشنی اور فوائد پر کائنات کے کاروبار کا دارمدار ہے کیا ڈوبے کے بعد چڑھا لیا تھا کہ نہ؟ تو آفتاب کیا جھکا ہوا تھا یا نہیں؟ جس طرح چاند کے دو ٹکڑے رسالت مآب کا اشارے سے ہوگیا تھا‘ تو کیا جِھکا ہوا نہ تھا؟

اب دیکھا یہ ہے کہ جب آسمان کی کل چیزیں جِھکی ہوئی تھیں تو زمین کے لیے کیا کہیں گے؟

نہر فرات میں طغیانی آجاتی ہے باقی کوفہ کی گلیوں تک جاپہنچا ہے اندیشہ ہے کہ لوگ غرق نہ ہوجائیں ایسے وقت مولائے علی کی ضرورت پڑتی ہے۔

جب کوئی مشکل مکہ میں پڑجاتی تیھ اور حل نہ ہوتی تھی تب علی کا دروازہ ہوتا تھا جس پر مشکل کشائی ہوتی تھی کہ یا علی! اس وقت محتاج ہیں‘ ہماری مشکل حل کردیجئے۔

آپ فرماتے ہیں یا ماء انقص باذن اللہ کہ پانی کم ہو جااذن خداوندی سے۔ یہ الفاظ زبان سے نکلنے کی دیر تھی کہ شاید موسیٰ علیہ السلام کے عصاء نے دیر لگائی ہوگی کہ دریا کی مچھلیاں خشکی پر نظر آرہی تھی لیکن یہاں دیر نہ لگی اور پانی نے کم ہونا شروع کردیا۔

زمین پر زلزلہ آگیا تھا علی نے پاوں سے ٹھوکر ماری اور کہا ”مالک یا ارض“ اے زمین تجھے کیا ہوگیا؟ زلزلہ اسی وقت بندہوگا۔

علی ہذا القیاس جانوروں کی مثالیں بہت سی ہیں۔

دراصل انسانوں میں دو قسم کے آدمی ہیں‘ کہنے والے اور نہ ماننے والے۔ تمام ماننے والوں کی گردن تو جھکی ہوئی تھی ہی کہ نہ ماننے والے بھی گردن جھکے ہوئے تھے میں کہتا ہوں کہ ان کو اگر کسی کتے کی ضرورت ہوتو مجِے پروردگار عالم ان کے لیے کتا بنا دے تو محبت کرنے والوں کی یوں بھی گردن جھکی ہوئی ہے۔

نیز اگ مشرک نہیں جھکے ہوئے اس لیے کہ وہ علی کو نہیں مانتے تو کیا وہ خدا کو مانتے ہیں؟ اور ماننے کے لحاظ سے کیا ان کی گردنیں خدا کے سامنے جھکی ہوئی ہیں؟ سوائے اس کے قہراً‘ جبراً وہ سب جھکے ہوئے ہیں اور آیت میں اسی لیے یہ الفاظ آئے طوعا و کرھا۔ کہ مخلوقات دو طرح سے گردن خم کئے ہوئے ہیں ایک خوشی سے اور ایک جبر و اکراہ سے۔ بس اسی طرح ان کے حضور بعض تو خوشی سے گردن خم کئے ہیں اور بعض ناخوش‘ جبر وقہر سے ان کے سامنے جھکے ہوئے ہیں۔

عام واقعہ بیان کرتا ہوں۔ جسیعلامہسلیمان حنفی سے عیون المودت اپنی تصنیف میں ہارون الرشید کے بارے میں نقل کیا ہے۔ اس نے سوال کیا کہ کس قدر احادیث علی کی فضیلت میں ہیں؟ کسی نے کہا ۱۵ ہزار کسی نے کہا ۱۴ ہزار۔

ہارون نے کہا کہ میرے پاس ایک حدیث ایسی ہے جو سب پر غالب ہے کل ایک شخص علی کو برا کہہ رہا تھا‘ مجھے غصہ آگیا۔ میں نے اسے جیل کی کوٹھری میں بند کرا دیا۔ رات کو حضور رسالت مآب خواب میں تشریف لائے امیر المومنین علی بھی ساتھ تھے کہ حضرت یہ شخص آپ کو برا کہتا تھا۔ اس شخص نے نفی کی مگر حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا او کتے دور ہو جاؤ‘ چنانچہ وہ عالم خواب میں ہی کتا ہوگیا۔ میں سخت حیرا تھا‘ میں نے آدمی کو بھیجا کہ فلاں آدمی کو بلالاؤ۔ وہ جب گیا دیکھا کہ آدمی نہیں کتا بن چکا ہے۔

میں نے دیکھا کہ وہ ایسی حرکتیں کر رہا ہے کہ جن سے وہ پشیمانی کا اظہار کر رہا ہے بس زنجیروں سے باندھ کر دربار میں لایا گیا۔ دوبارہ بڑے عالم نے کہا بد بخت! اپنی سزا دنیا میں ہی دیکھ لی تو نے؟ ایک عالم نے کہا اس ملعون کو نکال دو کہیں عذاب الہی یہاں ہی نازل نہ ہو جائے۔ چنانچہ اسے لے گئے دروازہ پر پہنچا تو اس کی ایک چیخ نکلی اور ایک بجلی آسمان سے گری اور اسے ختم کردیا۔

اب تو یہ کوئی نہ کہے ا کہ ایسا محال عقلی ہے سائنس نے محال عقلی کو ختم کردیا۔

امام حسین علیہ السلام مسجد میں بیٹھے ہیں ایک شخں امیر المومنین کو برا کہہ رہا تھا۔ آپ ضبط کئے جارہے تھے۔اور ضبط جب حد سے تجاوز ہو چکا تو فرمایا ”نہ مانے گا؟“ ا سنے کہا میں ٹھیک طور پر برا کہتا ہوں آپ کو جلال آیا اور فرمایا او کتے کیوں نہیں اس مجلس سے اٹھتے؟ لوگوں نے دیکھا تو اسی وقت اس کی قلب حقیقت ہوچکی تھی۔

تو سب اشیاء ان کے سامنے جِھکی ہوئی ہیں۔ کوئی خوشی بلا اکراہ اور کوئی نا خوشی بہ جبر و قہر سے۔

جب بروئے حدیث قدوسی خود پروردگار عالم نے فرمایا تو کوئی ایسا نہ ہوگا جو اس منزل پر پہنچا ہو؟ بے شک ہوگا اور وہ وہ ہی ہیں۔

حدیث یہ ہے کہ حضور رب العزت فرماتے ہیں اطعنی یابن آدم لا جعلک متلی اذا ارت شیئا ان نقول لہ کن فیکون کہ اے ابن آدم میری اطاعت کرتا کہ تجھے اپنی مثل کردوں کہ جب تو بھی ارادہ کرے کسی شئے کا اور کہے کہ ”ہوجا“ وہیں وہ ہو جائے گی۔

حضرات! آپ ان کے علاوہ کسی اور کا نام بتا دو۔ کہ جن کے لیے اس طرح سے قلب ماہیت ہوا ہو۔ کہا اسی لیے رسول اللہ نے ان کو ید اللہ نہ فرمایا تھا؟

بہرحال حضرات وقت اس تمہید میں زیادہ گذر چکا۔

علی کی اطاعت اور ان کی عبادت کی حد یہ ہے کہ آپ کے تیر لگ گیا بہتیرا زور لگایا کیا تیر نہ نکلا۔ حضور رسالت مآب نے فرمایا علی جب عبادت میں ہوں تب اسے نکالا جائے۔

علی محرب عبادت میں گئے۔ تیر نکال لیا گیا آپ کو نماز کے بعد پوچھا گیا۔ فرمایا اللہ کی قسم مجھے خبر نہیں ہوئی۔

اب صرف اس قدر کہتا ہوں کہ یہ حد فضیلت نہیں ہے۔ یہ تو ان کے غلاموں کی حد ہے۔

تو یہ ہیں وہ لوگ جو دین اللہ ہیں ہم لوگ اگرچہ برے ہں ی لیکن ان کا دامن تھامے ہیں جو نہایت پاک‘ عبادت میں کامل و اکمل ہیں۔

حد ہے کہ امام گھوڑے سے گررہے ہیں ساتھی کہتے ہیں آقا زوال کا وقت ہوگیا ہے جی چاہتا ہے کہ آپ کے پیچِھے نماز ادا ہ وجائے۔

کہا چشم فلک نے ایسی نماز کبھی دیکھی تھی؟ ادھر سے اطرفا میں سے تیر آرہے ہیں ان کے سینے چھلنی ہیں تمام تر تصور میں امام حیسن کی طرف متوجہ ہیں۔ اس قدر غرق ہوئے کہ جب امام علیہ السلام کی السلام علیکم و رحمة اللہ ختم ہوئی ادھر وہ بھی ختم ہوگئے انا للہ و انا الیہ راجعون بس یہ تو حد ان کے غلاموں کی تھی۔

سبحان اللہ! غلام جب یہاں ہیں تو آپ اندازہ لگاھیں کہ آقا کہاں ہوں گے۔ اس سے آگے نہیں کہنا چاہتا۔ اب اس منزل پر آگیا کہ عرض کروں۔

کہ آج شب عاشورا ہے کہ ہمارے مظلوم آقا کی زندگی کی آخری رات ہے۔ اس کے بعد جو رات آئے گی وہ امام کی لاش دیکھے گی اور ان کا سرمبارک کٹ چکا ہوگا۔

اب اتنی تعداد میں یہ حضرات جمع ہوئے ہیں کونسی چیز ہے جس نے اس گرمی ان کو لا کر بٹھایا ہے اور کسی کو کھڑا کیا ہے وہ چیز یہی ہے کہ چلو فاطمہ کے بیٹے پر چند آنسو بہالیں۔ تاکہ ان آنسوں کے نکلنے سے کچھ حق ہی ادا ہو جائے۔

یہ تمام بوجھ امام حسین علیہ السلام نے کس بات کے لیے اٹھایا تھا‘ مسلمانوں تمہاری خاطر اٹھایا تھا۔

معاذ اللہ اگر بیعت کرلیتے‘ یا حکومت یزید کو چھوڑ کر‘ باہر کہیں چلے جاتے تو یہ اسلام نہ ہوتا جو آج آپ کے پاس ہے بلکہ وہ اسلام ہوتا جو یزید کا ہوتا۔

امام حسین علیہ السلام نے یہ آخری رات مانگی ہے جیسے کوئی بھیک مانگتا ہے کہ آج جی بھر کر مولا کی بندگی کرلیں۔

ادھر ابن زیاد کا حکم ابن سعد کے نام آتا ہے کہ جب خط پہنچے حملہ کردینا ورنہ سب باگ ڈور فو کی شمر کے حوالہ کردی جائے خود حملہ کیا اس نے گھوڑیں کی باگیں اٹھیں اوراس وقت ۴-۱/۲ یا ۵ بجے کا وقت ہوگا کہ امام حسین علیہ السلام نماز پڑھ کر اپنی بہن کے سامنے دروازہ کے ساتھ کرسی ڈال کر بیٹھ گئے ہیں اور کچھ سوچ رہے ہیں غنودگی کا عالم طاری ہوگیا ہے ادھر وہ فوج بڑھتی ہے۔

چنانچہ زینب جیسی بہن دنیا نے کبھی نہ دیکھی ہوگی اور نہ حسین جیسا بھائی دیکھا ہوگا بازو سے پکڑ کر ہلایا کہ بھیا فوجیں آگئی ہیں۔ آپ نے عباس کو آواز دی کہ کیا ارادہ ہے تمہارا؟ ذرا ان سے پوچھو تو۔

عباس کے ہمراہ مسلم بن موسجہ‘ حبیب ابن مظاہر نے کہا ٹھہر جاؤ کدھر کا خیال ہے؟

کہا گیا کہ ابن سعد نے حکم دیا ہے کہ ابھی جنگ ہو۔

عباس نے فرمایا: ذرا رک جاؤ‘ ابھی جنگ ہو جائے گی۔ امام حسین علیہ السلام کے پاس آئے کہ دشمن لڑائی کی خاطر آگے بڑھ رہا ہے۔

فرمایا: اسے جا کر کہ دو کہ بھاگ نہ جاؤں گا کہیں! ایک رات کی مہلت اور دو کہ اپنے خدا کو دل بھر کر یاد کرلوں۔

وہاں مختلف باتیں ہورہی تھیں۔ آخر ایک نے کہا: کہ کافر بھی اگر مہلت مانگتے تو دی جاتی۔ یہ رسول کے نواسے ہیں بالآخر مہلت مل گئی۔ فوج بیٹھی رہی شام آگئی یہ رات بس باقی رہی تھی۔

حضرات! تو یہ آخری شب ہے اس کے بعد آپ کو پھر تکلیف نہ ہوگی۔ امام حسین علیہ السلام مصلی عبادت پر بیٹھ گئے تسبیح و تہلیل میں مصروف ہیں۔

تاریخوں کا متواتر فقرہ ہے کہ آپ پڑھ رہے تھے اور لھم دری کدری نحل کہ تسبیح کی آوازیں اس طرح گونج پیدا کررہی تیں جسے شہد کی مکھیوں کی آواز ہوتی ہے صحرائے کربلا گونج رہا تھا تسبیح اور یاد خدا سے۔ ادھر بیویاں خیموں میں مصروف ذکر الہی تھیں۔

بعض حضرات نے کہا ہے کہ کل کی تیاریوں میں مصروف رہے کہ جنابہ زینب نے اپنی کنیز فضہ سے کہا کہ جاکر م یرے ماں جائے حسین کو بلالا۔ دروازہ پر فضہ آئیں۔ عرض کیا آقا! عالم کی شہزادی یاد کررہی ہے۔ امام حسین علیہ السلام تسبیح پڑھ رہے تھے۔ گردن جھکائی‘ جب داخل ہوئے‘ جنابہ زینب کو خبر نہ ہوئی۔ دیکھا کہ زینب گردن کو جھکائے بیٹھی ہیں۔ امام حسین نے آواز دی بہن میں آگیا۔ کیوں بلایا تھا؟

ایک مرتبہ آواز سنی‘ اپنے ہاتھ کھڑے ہو کر بھائی کے گلے میں ڈالدیئے اور چیخ نکل گئی اور منہ سے نکلا بھیا حسین!

امام حسین نے فرمایا: بہن کیوں گھبرا گئی؟ اتنی پریشان کس لیے ہوگئی‘ ابھی تو منزل دور ہے ابھی تو کل نہیں آیا۔ اس وقت تمہاری حالت یہ ہے تو کل کیا ہوگا؟

عرض کیا بھیا! ذرا بیٹھ جایئے‘ امام حسین بیٹھ گئے۔ رو کر عرض کی بھیا! جب سے مدینہ چھوٹا ہے دل کی بے قراری کبھی کم نہ ہوئی مگر ضبط کرتی رہی کسی سے نہ کہا جب تک مکہ چھوٹا بے چینی اور بڑھ گئی کسی سے نہ کہا۔ جب اس زمین پر پہنچی تو بے قراری کی حد ہوگئی لیکن اپنے دل کے درد کو چھپائے رکھا تاکہ بھائی حسین کو پریشانی نہ ہو۔ لیکن بھائی حسین کیسی رات آگئی کہ دل کسی طرح نہیں ٹھہرتا۔

فرمایا: بہن صاف بات ہے‘ میرے قتل کی رات ہے لیکن ابھی تو قتل نہیں ہوا۔ اگر تمہاری حالت یہی رہی تو اصحاب کی بیویاں کس کے سپرد ہوں گی۔ یہ چھوٹے بچے کس کے سپرد ہوں گے کون ان کی خبر گیری کرے گا؟

زینب نے فرمایا: میں جانتی ہوں‘ سب کچھ پتہ رکھتی ہوں لیکن جس شئے نے دل کو بے قابو کردیا ہے وہ بتلا دو؟

فرمایا: وہ کونسی بات ہے جو اس قدر گھبراتی ہو۔

عرض کیا: یہ کون بی بی ہے جو کبھی ادھر پِھر رہی ہے کبھی ادھر پھر رہی ہے کیا تم اس آواز کو نہیں جانتی۔ فاطمہ آئی ہوئی ہیں‘ میرے قتل پر آئی ہیں دیکھنے کے لیے کہ بیٹا کیسے جان سپرد جان آفرین کرے گا۔

ایک واقعہ اور اس رات کا سن لیجئے یہ روایت خود امام زین العابدین علیہ السلام سے ہے کہ جنابہ سیکنہ کہتی ہیں کہ امام نے آج ہی کی شب میں بڑے خیمہ پر سب اصحاب کو جمع کیا اور خطبہ ارشاد فرمایا: جس میں پروردگار عالم کی حمد و ثناء اس شان کے ساتھ ادا کی کہ ہر ہر کلمے پر فصاحت و بلاغت قربان ہو رہی تھی۔

اس وقت سکینہ فرماتی ہیں کہ میں پیاس کے سبب بہت بے چین تھی‘ پھوپھی زینب سے کہا کہ پیاس کے مارے مرجاؤں گی۔ تو وہ خیمہ میں لے گئیں وہاں کے بچے پیاس پیاس کررہے ہیں دوسرے خیمہ میں گئی وہاں کے بچے کوزے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں حتی کہ وہاں پہنچے کہ جہاں امام نے تما م اصحاب کو خیمہ میں جمع کردیا تھا‘ حمد و ثناء توصیف جناب رسالت مآب کے بعد فرمایا: بھائیو! تم دیکھ رہے ہو۔ اب بغیر موت کے کوئی چارہ کار نہیں تم یقین کر رکھو کہ یہ لوگ صرف میرا سر چاہتے ہیں تم سے ان کو کوئی غرض نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ تم بہترین اصحاب ہو‘ لیکن یہ میرے قتل پر بس کردیں گے۔ میں نے تمہاری گردنوں سے اپنی بیعت کو اٹھا دیا۔ اگر تمہارا خیال یہ کہ نانا جان تم سے کہیں پوچھیں گے کہ حسین کو کیوں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ تو میں ذمہ لیتا ہوں کہ مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ اور میرے کہنے سے ایسا کردو۔

اس کے بعد اپنے چراغ کو گل کر دیا تاکہ جانے والے چلے جائیں اور ان کو کوئی شرم محسوس نہ ہو۔

سکینہ کہتی ہیں کہ خیمہ سے لوگ نکلنے لگے کچھ چلے گئے۔ میں نے پھوپھی سے کہا کہ میرے باپ کو چھوڑ کر سب کے سب چلے جائیں گے؟

امام نے ایک مرتبہ پھر کہا بھائیو! چلے جاؤ تم سے میں خوش‘ میرا خدا خوش! میرا نانا خوش‘ اجازت دیتا ہوں کہ چلے جاؤ۔ آپ نے پھر دوسری مرتبہ کہا۔

کہ یکدم ایک آواز گونجی۔ معلوم ہوا کہ شیر کی آواز ہے آقا ! کیا فرما رہے ہیں ہم اور آپ کو چھوڑ کر چلے جائیں گے۔

یہ جناب ابو الفضل بن عباس کی آواز تھی‘ آقا مرنے کی قسم کھائی ہوئی ہے جب تک ہم زندہ ہیں کوئی انگی آپ کی طرف نہ اٹھ سکے گی۔

پھر اس کے بعد اور عزیزوں نے تقریریں کیں پھر سب اصحاب نے تقریریں کیں ظھیر قیس کی آواز بلند ہوئی کہ اگر ۷ مرتبہ قتل کیا جاؤں پھر زندہ ہو جاؤں پھر آٹھویں مرتبہ جلا دیا جاؤں توراکھ کے ذرے بھی امام کے قدموں پر نثار ہوں گے۔

ایک طرف سے آواز آئی ہم کو صحرا کے درندے کھا جائیں اگر آپ کو چھوڑنے کا خیال بھی دل میں لائیں۔ حبیب بن مظاھر کی آواز الگ آرہی تھی۔

چراغ جلا دیا گیا۔ دیکھا کہ کسی نے تلوار کا قبضہ پکڑا ہوا ہے کسی کے تیوری پر بل چڑھے ہوئے ہیں۔

امام حسین علیہ السلام نے سب کو دعا دی۔

ایک شخص کو دیکھا کہ اس کا بیٹا حکومت روم نے پکڑ لیا تھا اس کو فرمایا: تو تو چلا جا۔ اس نے کہا مولا! میں نے ہی خاص کیا گناہ کیا ہے کہ مجھے فرما رہے ہیں چلا جا۔ فرمایا: تیرا جوان بیٹا گرفتار ہے۔ وہ لوگ جو بدلہ مانگتے مجھ سے لے جاؤ اور اسے آزاد کرالاؤ۔

اس شخص نے کہامولی! یہ ایک بیٹا ہے۔ اگر ستر بیٹے ہوتے تو ان سامنے قتل ہوتا آنکھوں سے دیکھتا اور سب سے آخر خود قربان ہوتا۔خیر رات گذر گئی۔ دن چڑھ گیا رات عبادت میں گذری تھی مائیں بیٹوں کو سمجھاتی تھیں بیٹا کل قربانی کا دن ہے اگر تلوار پڑے گی تو منہ نہ پھیرنا۔ ورنہ کوئی کہہ دے گا کہ فلاں کے بیٹے نے پیٹھ پھیر دی۔

نماز صبح کا وقت ہوا۔ حسین نے آسمان کو دیکھا‘ اٹھے آپ کی فوج کے حجاج بن مسروق موذن تھے۔ انہوں نے اذان دینی تھی۔

آپ نے فرمایا: کوئی ہے جو میرے فرزند نوجوان کو بلا لائے‘ علی اکبر کو رات بھر ماں نے سامنے بٹھایا تھا کہ جی بھر کر دیکھ لے‘ کل یہ تصویر رسول خاک و خون میں ملے گی۔ آپ آئے۔

امام نے فرمایا: بیٹا علی اکبر! ادھر آؤ۔

عرض کیا: کیا حکم ہے حاضر ہوں۔

فرمایا: بیٹا آج تم اذان دو گے۔

ان سے اذان دلانے کی غرض یہ تھی کہ آپ چاہتے تھے کہ ان لوگوں کو آخری مرتبہ رسول کی آواز سنا دیں یا بیویوں نے فرمائش کی ہوگی کہ آج علی اکبر اذان دیں۔

اذان دی جارہی تھی۔ معلوم ہورہا تھا کہ کل عالم کا ذرہ ذرہ ہمہ تن گوش ہے اور اذان کو سن رہا ہے۔

صبح کی شروع ہوگئی۔

حضرات! مجھ میں اس قدر دم نہیں کہ پورے واقعات بیان کرسکوں۔ نہ آپ کے پاس وقت ہے۔

وہ وقت آپہنچا‘ کہ لڑائی شروع ہوگئی‘ لاشیں آنے لگیں‘ کوئی کہتا ہے اقا ایک مرتبہ زیارت کرادو۔ اس آواز کے ساتھ کوئی گرتا ہے۔ آپ پہنچے۔ دیکھا کے ایک غلام ہے آپ نے اس کا سرزانو پر رکھا لیا اور رخسار ہے رخسار رکھا۔ اس نے آنکھ کھول دی۔ اس نے کہا: میرے مولا! ذرا صبر کریں رسول خدا آئے ہوئے ہیں۔

جب اصحاب قتل ہوچکے‘ عزیزوں کی باری آئی۔ جنابہ زینب کے دونوں فرزندوں کی لاشیں آگئیں۔

امام حسن کے بچے شہید ہوئے‘ حسین پہنچے لاش لینے کو۔

ہائے میں کیا کروں! دل کو کس قدر ملامت کرتا ہوں کہ اور شہیدوں کا تو نے ذکر کیا لیکن حسن کے یتموں کا ذکر نہ کرسکا۔

دو فقرہ‘ اس یتیم حسن کے متعلق بھی سن لیجئے ۱۳ سال کی عمر ہے‘ امام حسن دنیا سے جا رہے تھے تو اس بچے کی عمر ۳ سال کی تھی‘ آپ نے فرمایا میرے قاسم کو ذرا جلدی بلا لاؤ۔ کوئی قاسم کو لے آیا۔ امام حسن نے سینے سے لگایا‘ پیشانی اور چھرے کو بوسے لیے کہا بیٹا قاسم کم سن بچے ہو بھول جاؤ گے۔ یہ تعویز باندھ دیتا ہوں۔ اس ساتھ رکھنا۔ جب کبھی سخت ترین وقت آجائے گا اسے کھول کر دیکھ لینا تو جب بھائیوں کی لاشوں کے ڈھیر لگ چکے ہوں گے بیٹا یہ دن عاشور کا ہوگا اگر میں ہوتا اپنے بھائی حسین پر جان دیتا‘ میں نہ ہوں گا۔ بیٹا قاسم اس وقت جان قربان کرکے میری عزت رکھنا میری عزت اب تمہارے ہاتھ میں ہے۔

آج سامنے آئے‘ دیکھِتے ہی امام حسن یاد آگئے امام حسین علیہ السلام نے بھتیجے کو گلے سے لگایا۔ اتنے روئے بھائی کی یاد میں کہ قاسم بھی بے ہوش ہوگئے۔

ہوش آنے پر قاسم نے کہا آقا! اجازت دیجئے‘ اجازت ملی۔ قاسم میدان میں گئے‘ گرتے وقت آواز دی‘ چچا جان! اب جارہا ہوں! امام حسین علیہ السلام دوڑے۔ لاش پر پہنچے دشمنوں کو دور ہٹایا۔ لاش کی کیفیت دیکھی۔ خدا کسی چچا کو بھتیجے کی ایسی حالت نہ دکھائے۔ لاش قاسم کی اس شان کے ساتھ لا رہے ہیں کہ منہ کے اوپر منہ رکھا ہوا تھا سینہ سے سینہ ملا ہوا تھا۔ مگر قاسم کے پاؤں زمین پر لگتے آرہے تھے۔ عزہ دارو! سوچو‘ ۱۳ سال کے اندر یہ لاش اتنی بڑھ چکی تھی۔ ان پر صلوات پڑھو‘الهم صلی علی سیدنا محمد و آل محمد و بارک و سلم علیهم‘ انا لله و انا الیه راجعون ۔

لاش جب ماں نے دیکھی ہوگی‘ اس پر کیا کچھ گزری ہوگی۔ حسین جب لاش سمیت خیمہ میں داخل ہوئے‘ ماں خیمہ کے پاس کھڑی تھی‘ تمام بیبیاں جمع ہو کر رونے لگیں مگر ماں نے ایک ہی مرتبہ کہا ہائے قاسم!

لگتا تھا وہ وقت آپہنچا تھا کہ کوئی باقی نہ بچا تھا علی اصغر تک شہید ہوچکے تھے۔

عزہ دارو! ختم کرنا چاہتا ہوں صرف اس قدر عرض کروں گا۔ کہ امام خیمہ میں آئے اور رخصت حاصل کی‘ میدان میں پہنچے اور وہ گھڑی آگئی‘ کہ زخموں سے چور ہیں‘ گھوڑے پر سے نیچے گرے‘ آپ کا زمین پر گرنا تھا کہ ایک مرتبہ زمین ہلی۔ خیمہ میں صرف حسن کا ایک کم سن بچہ ۱-۱/۲ سال عمر کا عبد اللہ بن حسین نام تھا یکدم خیمہ سے باہر نکلا دیکھا کہ دشمنوں نے امام کو اطراف سے گھیرا ہوا ہے۔ جنابہ زینب نے پیچھے سے کرتا پکڑ کر کھینچا‘ کہا پھوپھی چھوڑ دیئے‘ چچا گھوڑے سے گر گئے ہیں دامن کو چھوڑ دو بالآخر دامن کو چھڑا کر چلا‘ ایسے وقت حسین کے پاس پہنچا کہ ایک شخص تلوار مارنے کو تھا آپ نے کہا ملعون چچا نے کیا قصور کیا؟ ظالم نے تلوار کا ہاتھ اس کے ہاتھوں پر مارا‘ دونوں ہاتھ کٹ گئے‘ امام علیہ السلام نے ہاتھ بڑھا کر بچے کو سینہ سے لگا لیا۔انا لله و انا الیه راجعون


فہرست

مجلس اول : ۴

حاشیہ: ۱۵

مجلس دوم : ۲۳

بتاریخ دو محرم الحرام ۱۳۷۵ ۲۳

مجلس سوم : ۴۲

بتاریخ ۳ محرم الحرام ۳۷۰ ھ ۴۲

مجلس چہارم : ۶۰

بتاریخ ۴محرم الحرام ۱۳۷۵ ھ ۶۰

مجلس پنجم : ۸۱

بتاریخ ۵ محرم الحرام ۳۷۰ ھ ۸۱

مجلس ششم : ۱۰۳

مجلس ھفتم : ۱۰۹

بتاریخ ۷محرم الحرام ۱۳۷۵ ھ ۱۰۹

مجلس ھشتم : ۱۳۴

بتاریخ ۸ محرم الحرام ۱۳۷۵ ھ ۱۳۴

مجلس نہم : ۱۵۴