ریاض المجالس
گروہ بندی امام حسین(علیہ السلام)
مصنف علامہ حافظ ریاض حسین نجفی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


ریاض المجالس

علامہ حافظ ریاض حسین نجفی کی فکری و علمی مجالس عزا میں خطاب


مجلس اول

بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم

( ایاک نعبد و ایاک نستعین )

حضرات محترم!

انسان اپنے رب کی بارگاہ میں کھڑا ہو کر یہ اقرار کرتا ہے‘ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اے میرے پالنے والے! میری گردن‘ میری سیس‘ میرا سر تیرے سامنے جھکے گا‘ تیری بارگاہ اقدس میں خم ہو گا‘ تیرے سوا کسی اور کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا۔

اتنی بڑی ذات کے دربار میں یہ دعویٰ کرتا ہے اور یہ دعویٰ ایک دفعہ نہیں بلکہ شب و روز میں دس دفعہ کرتا ہے۔ یاللہ! میری گردن تیرے سامنے جھکے گی اور تیرے سوا کسی کے سامنے نہ جھکے گی تو اب خدا یہ کہتا ہے کہ اے میرے بندے تو جس بات کا دعویٰ کر رہا ہے‘ بار بار اقرار کر رہا ہے اب تیرا عمل بھی اس زبانی دعوے اور اقرار باللسان کے عین مطابق ہونا چاہئے‘ یہ نہ ہو کہ تیرا دعویٰ صرف دعویٰ رہ جائے اور عمل اس کی گواہی نہ دے۔

سامعینِ مکرم!

سورئہ فاتحہ آپ اکثر پڑھتے ہیں اور اس میں ایاک نعبد و ایاک نستعینکا ہمیشہ اقرار کرتے ہیں۔ لفظ عبد کے کئی معانی ہیں‘ لیکن قرآن مجید میں یہ تین معنوں میں استعمال ہوا ہے اور تینوں معانی پر مشتمل آیات موجود ہیں۔ عبد کے معنی ہیں غلام دوسرے معنی ہیں اطاعت و فرمانبرداری اور عبد کے تیسرے معنی نعبد یعنی پرستش اور پوجا کرنا ہیں یہ تین معانی قرآن مجید نے بیان کئے ہیں۔ پہلا معنی ہے غلامی‘ جیسے حضرت علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام فرعون کے دربار میں جاتے ہیں اور فرعون کو خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں فرعون کے حامی کہتے ہیں کہ آپ دعوت دے رہے ہیں‘ خدائے وحدہ لاشریک کی! حالانکہ آپ خود بھی ہمارے غلام ہیں اور آپ کی قوم بھی ہماری غلام ہے۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر احسان جتایا کہ اے موسیٰ(علیہ السلام) ! آج تو ہمارے مقابلے میں اٹھ کھڑا ہوا ہے اور ہمیں نادیدہ خدا کی طرف بلا رہا ہے‘ جس کو آج تک کسی نے نہ دیکھا نہ بھالا‘ حالانکہ ہم نے تیری تربیت و پرورش کی ہے۔ مراد یہ تھی کہ تجھے پال پوس کر اتنا بڑا کیا ہے‘ کیا اس احسان کا بدلہ یہی ہے؟ آیت قرآنی ہے:

( قالوا نومن بشرین مثلنا و قومهما لنا عابدون)

یعنی فرعون کے ساتھیوں نے کہا: کیا ہم ان دو آدمیوں کے کہنے پر عمل کر لیں جو ہم جیسے ہیں‘ ہماری طرح کے بشر ہیں‘ ہم میں اور ان میں کیا فرق ہے؟ کیا ہم ان کے کہنے پر عمل کریں قومھما لنا عابدون‘ جن کی قوم ہماری غلام ہے فرعون کے ساتھ رہنے والے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو اپنا غلام کہہ رہے ہیں‘ لیکن جب انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہم نے آپ کی تربیت کی ہے تو حضرت موسیٰ(علیہ السلام)نے جواباً کہا‘ وہ قرآن میں یوں منقول ہے:

"اے فرعون! تیرا یہی العدم ہے مجھ پر جس کا احسان جتلا رہا ہے۔"

عبدت بنی اسرائیل

"کہ تو نے پورے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اور الٹا احسان جتلا رہا ہے کہ میں نے تیری تربیت کی!"

آپ نے غور کیا کہ دونوں آیات میں عبد کے معنی غلام ہی کے ہیں۔ حضرت موسیٰ(علیہ السلام)جب فرعون و آل فرعون کو دعوت توحید دینے گئے تو فرعون کے کارندے بنی اسرائیل کو غلام کہنے لگے۔ حضرت موسیٰ(علیہ السلام) نے کہا کہ تم احسان جتلا رہے ہو مجھ پر کہ ہم نے تمہاری تربیت کی‘ حالانکہ تم نے تو میری پوری قوم کو غلام بنا رکھا ہے۔ گویا اس آیہ مبارکہ میں عبد کے معنی غلام ہوئے۔

حضرات گرامی!

عبد کے دوسرے معنی اطاعت کے ہیں۔ قرآن مجید فرقان حمید میں سورئہ مبارکہ یٰسین میں ارشاد رب العزت ہوتا ہے:

الم عهد الیکم یا بنی آدم الا تعبدوا الشیطن

"اے بنی آدم (علیہ السلام) ! کیا ہم نے تم سے وعدہ نہیں لیا تھا‘ عہد و پیمان نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی اطاعت نہیں کرو گے"

اب ظاہر ہے کہ کوئی شخص یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ وہ شیطان کا غلام ہے یا شیطان کی عبادت کرتا ہے‘ لہٰذا اس آیت میں عبد کے معنی اطاعت و فرمانبرداری کے ہیں۔

اب تیسری آیت جس میں عبد کے معنی تعبد اور پرستش کے ہیں‘ ارشاد ہوتا ہے:

"عبادت کرتے ہیں‘ اللہ کے علاوہ ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو انہیں نہ نفع دے سکتی ہیں‘ نہ نقصان دے سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ چیزیں دربار خداوندی میں ہماری شفاعت کرتی ہیں۔"

گویا اس آیہ مبارکہ میں عبد کے معنی عبادت و پرستش کے ہیں۔

مومنین!

آپ نے دیکھا کہ ان تینوں معنوں میں گہرا ربط پایا جاتا ہے‘ کیونکہ جب کوئی شخص اپنے آپ کو خدا کا غلام سمجھے گا تو پھر یقیناً خدا کی اطاعت کرے گا اور اپنے آپ کو مطلقاً خدا کا غلام خیال کرتے ہوئے احکام خداوندی کے مطابق عمل کرے گا اور اگر اس عمل اطاعت میں کوئی لالچ نہ ہو‘ طمع نہ ہو‘ خوف نہ ہو اور اس قسم کی کوئی دوسری چیز نہ ہو تو یہی پرستش و عبادت ہو گی۔

تو قرآن مجید میں عبد کے یہ تین مربوط معانی مذکور ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جب ہم کہتے ہیں ایاک نعبد‘ خدایا ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے سامنے سر نیاز خم کرتے ہیں تو ان معانی میں سے کون سا معنی مراد ہے؟

جیسے کہ میں نے ابھی عرض کیا ہے کہ ان تینوں معانی میں گہرا ربط پایا جاتا ہے۔ ایک معنی کا دوسرے معنی سے گہرا تعلق ہے یعنی غلامی ہو گی تو اطاعت ہو گی اور اطاعت کا اعلیٰ ترین درجہ تعبد و ترقی ہو گا۔ چنانچہ قرآن مجید کی ایک اور آیہ مبارکہ میں تینوں معنی یکجا نظر آتے ہیں۔ پانچویں پارے میں ارشاد رب العزت ہوتا ہے:

فلا وربک لا یومنون حتی یحکموک فیما شجر بینهم ثم لا یجدون فی انفسهم حرجا مما قضیت و یسلموا تسلیما

"تیرے رب کی قسم! یہ لوگ ہرگز مومن نہیں بنتے‘ ایمان کا دعویٰ ہے کہتے ہیں یا رسواللہ ہم آپ کی ذات پر ایمان لائے ہیں‘ لیکن یہ مومن ہرگز نہیں ہو سکتے جب تک ان کے اندر تین شرطیں نہ پائی جاتی ہوں۔"

پہلی شرط کیا ہے؟

حتی یحکموک فیما شجر بینهم

جب ان کے درمیان کوئی جھگڑا ہو‘ جب ان کے درمیان کوئی اختلاف ہو‘ جب ان کے درمیان کوئی تنازعہ ہو تو کسی اور کے پاس نہ جائیں‘ کسی کے دروازہ پر نہ جائیں‘ طاغوت کے پاس نہ جائیں بلکہ آپ کے دروازے پر آئیں‘ آپ کو حاکم بنائیں‘ آپ کی ذات کو فیصلہ کنندہ بنائیں اور آپ سے فیصلہ کرائیں تو پہلی شرط کیا ہوئی؟

بھئی آپ کی ذات کو فیصلہ کنندہ بنائیں‘ آپ کی ذات کو حاکم سمجھیں تو کیا تب اپنے آپ کو مومن سمجھیں‘ تب اپنے آپ کو مومن کہلائیں؟ کیا حافظ حاکم سمجھنے سے مومن بن جائیں گے؟ نہیں۔

ثم لا یجدوا فی انفسهم حرجا

یہ دوسری شرط صرف یہی نہیں کہ آپ کو حاکم سمجھیں بلکہ جب کوئی فیصلہ کر دیں‘ اپنی طرف سے کوئی حکم کر دیں تو ان کے دل میں یہ وسوسہ پیدا نہ ہو کہ یہ حکم کیسا ہے؟ یہ فیصلہ کیسا ہے؟

اس حکم کے خلاف ان کے دل میں خیال نہ ہو‘ دل سے بھی یہ نہ کہیں کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ٹھیک نہیں۔

تیسری شرط‘ ویسلموا تسلیما‘ سر تسلیم خم کر دیں جس طرح سر تسلیم خم کرنے کا حق ہوتا ہے۔

تو آپ نے دیکھا کہ رسالتمآب کو خدا مخاطب کر کے کہہ رہا ہے‘ تیرے رب کی قسم! اے میرے حبیب۔ خدا نے یہ نہیں فرمایا کہ اپنی قسم کھاتا ہوں‘ حالانکہ قسم اپنی کھائی جا رہی ہے‘ لیکن رسول اللہ کی عظمت کے اظہار کے لئے کہا جا رہا ہے‘ تیرے رب کی قسم! یہ مومن نہیں ہو سکتے‘ یہ مومن نہیں ہو سکتے‘ جب تک تمام معاملات میں تیری غلامی اختیار نہ کریں‘ تمام معاملات میں تیرے سامنے نہ جھکیں‘ پھر جب آپ فیصلہ دے دیں‘ کبھی فیصلے پر اشکال نہ کریں اور سر تسلیم اس طرح خم کریں‘ جس طرح خم کرنے کا حق ہے۔

تو گویا کہ غلامی بھی آ گئی‘ اطاعت بھی آ گئی‘ تعبد و پرستش بھی آ گئی۔ اب اگر کوئی اپنے آپ کو مومن کہلاتا ہے‘ لیکن رسول اللہ کوئی فیصلہ دے دیں تو اس میں کوئی کہہ دے کہ جس طرح آج مجھے نبوت میں شک ہوا ہے‘ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تو ایسا شخص اپنے آپ کو سب کچھ کہلا سکتا ہے‘ لیکن مومن نہیں کہلا سکتا۔

ہم سب اپنے آپ کو خدا کا غلام کہتے ہیں‘ عبودیت کے قائل ہیں۔ ایک واقعہ جس سے ہم سمجھنے کی کوشش کریں‘ آیا واقعی ہم خدا کے عبد ہیں؟

حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا گزر ایک گھر کے باہر سے ہوا‘ کیا سنتے ہیں کہ اس گھر سے گانے بجانے کی آواز آ رہی ہے‘ ناچ گانا ہو رہا ہے‘ دف بج رہی ہے‘ طنبورے بج رہے ہیں۔ حضرت اس گھر کے سامنے سے گزرے تو ایک کنیز باہر آئی۔

امام (علیہ السلام)نے پوچھا:

"اے کنیز خدا! یہ گھر کسی غلام کا ہے؟ جس کے گھر سے گانے بجانے کی آواز آ رہی ہے؟ یہ کسی غلام کا گھر ہے‘ یا آزاد کا؟"

کنیز نے جواب دیا:

"یہ آزاد کا گھر ہے‘ غلام کا نہیں۔"

تو حضرت نے ارشاد فرمایا:

"کہ اگر یہ شخص اپنے آپ کو کسی کا غلام سمجھتا تو اس کے گھر سے گانے بجانے کی آواز نہ آتی۔"

عبودیت کس طرح ہے؟ ہمارے آئمہ ۱ کے نزدیک‘ اگر یہ شخص اپنے آپ کو کسی کا غلام سمجھتا تو اس کے گھر سے گانے بجانے کی آواز نہ آتی‘ یہ کہہ کر حضرت چلے گئے۔

کنیز گھر میں پہنچی‘ مالک نے سوال کیا‘ اس نے بتایا کہ باہر ایک خوبصورت اور نیک سیرت شخص آیا تھا‘ اس نے مجھ سے پوچھا‘ جب میں نے بتایا کہ یہ آزاد کا گھر ہے تو اس نے فرمایا کہ اگر یہ شخص اپنے آپ کو کسی کا غلام سمجھتا تو اس کے گھر سے گانے بجانے کی آواز نہ آتی۔

گویا جس کے گھر سے گانے بجانے کی آواز آئے‘ جو حکم خدا کی نافرمانی کرے‘ جو خدا کے احکام کی نافرمانی کرتا ہے‘ جس کی توجہ خدا کے اوامر کی طرف نہیں ہوتی‘ جس کی توجہ خدا کے نواہی کی طرف نہیں ہوتی‘ جو اپنے آپ کو کسی کا پابند نہیں سمجھتا‘ اپنے آپ آزاد سمجھتا ہے تو اس کے گھر سے ایسی ہی آواز آئے گی۔

تو مولا فرماتے ہیں کہ اگر یہ کسی کا پابند ہوتا‘ کسی کے حکم پر کاربند ہوتا‘ کسی کا غلام ہوتا تو اس کے گھر سے گانے بجانے کی آواز نہ آتی۔ جب کنیز نے یہ بات بتائی تو اس بندئہ خدا نے جوتا تک نہیں پہنا‘ دوڑا ہوا آیا اور امام (علیہ السلام)کے قدموں میں گر گیا اور کہنے لگا:

"یا امام (علیہ السلام) ! آج سے پہلے میں اپنے آپ کو آزاد سمجھتا تھا‘ آج کے بعد میں خود کو آپ کا بھی اور خدا کا بھی غلام سمجھوں گا۔"

یہ ہے امام (علیہ السلام)کے فرمان کی تاثیر کہ اس کے ایمان کی کایا پلٹ گئی۔ آپ کا اور آپ کے جد امجد کا غلام ہوں‘ خدا کا غلام ہوں‘ پھر کبھی مجھ سے ایسی غلطی سرزد نہ ہو گی‘ چونکہ یہ ننگے پاؤں امام (علیہ السلام)کی خدمت میں گیا تھا۔ اس کے بعد اس نے ساری زندگی یہ تہیہ کر لیا کہ ساری زندگی جوتے نہ پہنوں گا اور یہ کہا کرتا تھا کہ

"دیکھو لوگو! تم اپنے گھروں میں فرش بچھاتے ہو‘ جبکہ فرش اتنا قیمتی نہیں‘ جتنی خود زمین قیمتی ہے۔ فرش کی قیمت کم ہو گی‘ زمین کی قیمت سے‘ تو اگر فرش بچھا ہو تو جوتے سمیت اس فرش پر نہیں جاتے ہو‘ یہ زمین خدا کا بچھایا ہوا فرش‘ میں اس فرش زمین پر جوتے کے ساتھ کیسے چلوں؟

کیا میرے پاؤں میں اتنی عظمت پیدا ہو گئی ہے کہ میں زمین پر جوتے کے بغیر نہیں چل سکتا اور ساتھ ہی ساتھ کہتا تھا کہ میری توبہ کا ذریعہ امام (علیہ السلام)بنے ہیں اور اس وقت میں نے توبہ کی تھی جب میں جوتے کے بغیر گیا تھا اور ان کے قدموں میں توبہ کی تھی‘ جب میں ان کے قدموں میں جھکا ہوں‘ اب ساری زندگی جوتا نہ پہنوں گا۔"

اخلاقاً ادھر خدا فرماتا ہے:

"جو میرا بنتا ہے‘ میں اس کا ہو جاتا ہوں۔"

مولا فرماتے ہیں:

"جس کے دل میں خدا کا خوف ہو وہ کسی سے نہیں ڈرتا‘ بلکہ دنیا کی ہر چیز اس سے خوف زدہ ہوتی ہے۔"

چنانچہ اس تائب کے دل میں خوف خدا تھا‘ اس کے دل میں محبت ایمان تھی‘ اس کے دل میں محبت رسول ۱ تھی۔ اس کے دل میں محبت خدا پیدا ہو گئی تو خداوند عالم نے بھی جانوروں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی کہ جس جس گلی سے بشیر حافی کا گزر ہوتا ہے‘ اس اس گلی میں جانور اپنا گوبر نہیں کرتے۔ چنانچہ جہاں سے یہ گزرتا تھا‘ وہاں سے جانور اگر گزرتے تو گوہر نہ کرتے اور جب لوگوں نے اس گلی میں جانوروں کا گوبر دیکھا تو سمجھ گئے کہ بشیر حافی فوت ہو گئے ہیں‘ ورنہ ان گلیوں میں جانوروں کا گوہر نظر نہ آتا۔

یہ ہے عظمت تائب آل محمدکی‘ جو پہلے اپنے آپ کو آزاد سمجھتا تھا‘ اب اپنے آپ کو خدا کا غلام سمجھتا ہے۔ جب سے غلام بنا‘ خدا نے جانوروں کو بھی اس کی عزت کرنے کا حکم دے دیا۔

تو جو خدا کا غلام ہو گا‘ وہ خدا کی اطاعت بھی کرے گا۔ جب اطاعت کرے گا اور یہ اطاعت بے خوف ہو گی‘ بغیر لالچ کے اطاعت ہو گی۔

لہٰذا ایسی اطاعت کو تعبد اور پرستش سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

ہم سب مومن ہیں‘ مولائے کائنات ۱ کے ماننے والے ہیں‘ ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ حکومت خدا کی ہے‘ جو کچھ خدا نے ہمیں دیا ہے‘ یہ ہمارے ہاتھ میں امانت ہے‘ دیا اس نے ہے جب چاہے لے لے۔ ہم سارا دن کوشش کرتے ہیں‘ صبح سے لے کر شام تک کام کرتے ہیں‘ ہمیں کچھ مل جاتا ہے‘ مال و دولت ہمارے پاس اکٹھا ہو جاتا ہے۔ ہم اگر یہ خیال کریں کہ مال و دولت ہمارا ہے تو ساتھ ہی یہ خیال ہونا چاہئے ہم جیسے اور لوگ بھی ہیں جو سارا دن محنت کرتے ہیں‘ لیکن ان کے پاس مال و دولت اکٹھا نہیں ہوتا‘ ہمارے پاس اکٹھا کیوں ہو گیا؟

ظاہر ہے جس کا مال ہے‘ اس کی ملحت ہے کہ اس نے ایک کو دیا ہے اور ایک کو نہیں دیا۔ پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں‘ مال و دولت کسی کے پاس ہوتا ہے‘ وہ زیادہ زحمت کرتا ہے‘ مال و دولت جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے‘ لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے کہ باوجود کوشش بسیار کے یہ خالی ہاتھ ہوتا جاتا ہے۔ اس وقت لوگ کہتے ہیں کہ بیچارہ گر رہا ہے‘ پستی کی طرف جا رہا ہے‘ زوال کی طرف جا رہا ہے‘ تو گویا یہ ہمارے اپنے ہاتھ کی چیز نہیں‘ کسی اور کے قبضے میں ہے‘ وہ چاہے تو دے دے‘ چاہے تو لے لے‘ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ جب ہم دنیا میں آئے تھے تو دونوں ہاتھ خالی آئے تھے‘ حتیٰ کہ کپڑے تک بھی نہ تھے اور جب اس دنیا سے جائیں گے تو خالی ہاتھ جائیں گے‘ کسی نے کپڑے یعنی کفن دے دیا تو ٹھیک ہے ورنہ

حالت یہ ہے تو درمیان کا وقت جو ہمیں مہیا کیا گیا ہے‘ ہمیں چاہئے کہ ہماری توجہ خدا کی طرف ہو۔ رسول اللہ اور امام (علیہ السلام)کی طرف ہو۔ ہماری توجہ ان ذوات مقدسہ کہ جن کے ساتھ محبت کا حکم دیا گیا ہے‘ ان کی طرف ہو‘ ان کے حکم کے مطابق عمل کریں‘ پھر ہماری زندگی کامیاب ہو سکتی ہے۔ جب حکومت خدا کی ہے‘ سلطنت خدا کی ہے تو سلطنت میں فیصلہ بھی حکم خدا کے مطابق ہونا چاہئے۔ ہم اور آپ جب عدالت میں بیٹھتے ہیں‘ فیصلہ کرتے ہیں‘ وہ فیصلہ کبھی صحیح ہوتا ہے اور کبھی غلط‘ لیکن نبی اور امام (علیہ السلام)جو فیصلہ دے دیں‘ وہ کبھی غلط نہیں ہوتا۔ کسی کی سمجھ میں فیصلہ نہ آئے‘ یہ الگ بات ہے‘ ممکن ہے کہ کوئی فیصلہ کو نہ سمجھ سکے‘ لیکن جہاں تک فیصلے کا تعلق ہے وہ حق کو حقیقت تک پہنچاتا ہے‘ حکم خدا کے مطابق ہوتا ہے۔

ایک نبی جن کا نام داؤد علیہ السلام ہے‘ ان کو خداوند عالم کی طرف سے ارشاد ہو رہا ہے:

"اے میرے نبی ۱! اے داؤد! جب فیصلہ کرو تو حق کے مطابق کرو‘ کبھی اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرنا۔"

کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ نبی اپنی خواہشات کی پیروی کرے؟

قطعا نہیں۔ خداوند عالم فرما رہا ہے:

"اے داؤد ۱! ہم نے زمین میں آپ کو خلیفہ بنایا ہے‘ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہشات کی پیروی نہ کرو۔"

فیضل عن سبیل الله

نبی کو کہا جا ر ہاہے کہ اگر اپنی خواہشات کے مطابق چلے تو خدا کے راستے سے بھٹک جاؤ گے‘ اتنا اہم حکم ہے جو داؤد نبی پر آ رہا ہے کہ آپ میرے نبی ہیں۔ نبی غلط فیصلہ نہیں کرتا‘ لیکن خداوند عالم پہلے سے آگاہ کر رہا ہے۔ بعض دفعہ ایسا ہو سکتا ہے کہ فیصلہ ہمارے ذہن میں نہ آئے۔ اسی طرح ہو سکتا ہے‘ نبی فیصلہ کرے اور ہمارے ذہن میں نہ آئے‘ تو پہلے کہا جا رہا ہے کہ آپ نے حق کے ساتھ فیصلہ کرنا ہے‘ خواہ کسی کے ذہن میں آئے یا نہ آئے۔

ایک فیصلہ ہمارے امام جعفر صادق کرتے ہیں۔

ابان بن تغلق‘ امام (علیہ السلام)کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے‘ عرض کرتا ہے:

"مولا فرزند رسول! اگر کوئی آدمی کسی عورت کی ایک انگلی کاٹ دے تو اس کی دیت کیا ہے؟"

امام (علیہ السلام)نے فرمایا:

"دس اونٹ"۔

وہ عرض کرنے لگا:

"اگر دو انگلیاں کاٹ دی جائیں تو؟"

حضرت نے فرمایا:

"بیس اونٹ"۔

پھر عرض کرتا ہے کہ

"مولا ! اگر تین انگلیاں کاٹ دی جائیں تو؟"

امام (علیہ السلام)نے فرمایا:

"تیس اونٹ"۔

پھر کہنے لگا:

"مولا ! اگر چار انگلیاں کاٹ دی جائیں تو؟"

امام (علیہ السلام)نے ارشاد فرمایا:

"بیس اونٹ"۔

توجہ فرمائیں اس بات پر اگر ایک انگلی کٹیں تو دیت دس اونٹ‘ دو انگلیاں کٹیں تو بیس اونٹ‘ اگر تین انگلیاں کٹیں تو تیس اونٹ اور اگر چار انگلیاں کٹیں تو پھر بیس اونٹ۔

ابان حیران و ششدر ہو کر کہتا ہے:

"فرزند رسول! آپ کیا فرما رہے ہیں؟ کہ اگر تین انگلایں کٹیں تو تیس اونٹ اور اگر چار انگلایں ہوں تو حکم چالیس اونٹ کی بجائے بیس اونٹ ہو گیا ہے‘ یہی حکم میں نے اپنے وطن میں سنا تھا‘ کسی نے مجھے بتایا تو میں نے کہا کہ معاذ اللہ یہ کسی اور کا حکم ہے‘ امام (علیہ السلام)کیسے حکم دے سکتے ہیں؟ کہ تین انگلیاں کاٹ دی جائیں تو تیس اونٹ دیت ہو گی اور اگر چار انگلیاں کاٹ دی جائیں تو بیس اونٹ۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ یہ کسی غیر کا حکم ہے۔"

امام (علیہ السلام)نے فرمایا:

"رک جا‘ کیا کہتا ہے؟ یہ اللہ کا حکم ہے‘ اللہ کے رسول ۱ کا حکم ہے‘ ہمارا ۱ حکم ہے۔"

کیسے ذہن میں آتا ہے؟

"مولا ! دو ہوں تو بیس اونٹ‘ تین ہوں تو تیس اونٹ‘ چار ہوں تو بیس اونٹ‘ پھر تو بہتر ہے کہ تیسری انگلی کے بعد چوتھی بھی کاٹ دینی چاہئے۔"

حضرت نے فرمایا:

"اللہ اور اس کے رسول ۱ کا حکم ہے اور ہمارا حکم ہے‘ تو کیسی بات کر رہا ہے۔"

وہ حیران ہو کر کہتا ہے کہ میں تو پریشان ہو رہا تھا کہ یہ غیر امام کا حکم ہے۔

امام (علیہ السلام)نے فرمایا:

"کیا تو نے سنا نہیں کہ عورت اور مرد دیت میں برابر ہوتے ہیں‘ مگر جب معاملہ تہائی ۳/۱ سے آگے بڑھ جائے تو عورت کی دیت آدھی ہو جاتی ہے‘ مرد برابر ہوتا ہے۔ جب معاملہ تہائی سے آگے بڑھ جائے تو عورت کی دیت آدھی ہو جاتی ہے‘ مرد کی دیت دگنی۔

اس لئے کہا ہے کہ ایک انگلی پر دس اونٹ‘ دو انگلیوں پر بیس اونٹ اور تین انگلیوں پر تیس اونٹ اور چار انگلیوں پر‘ تین انگلیوں تک معاملہ تہائی کا ہے اور جب معاملہ تہائی سے بڑھے گا تو میرے جد امجد ۱ کا حکم ہے کہ اب عورت کی دیت نصف ہو جائے گی۔"

تو ظاہر ہے یہ حکم انسان کی سمجھ میں نہیں آتا‘ لیکن یہ حکم خدا اور رسول اور آئمہ کا ہے اور ان کا فیصلہ حق ہوتا ہے۔

اسی طرح کا فیصلہ حضرت داؤد علیہ السلام کا ہے۔

پہلے متوجہ کیا جا رہا ہے کہ اے داؤد! لوگوں کو نہ دیکھنا کہ لوگ اشکال کریں گے‘ بلکہ حق کے ساتھ فیصلہ کرنا‘ کیسا فیصلہ ہو رہا ہے‘ لوگ کیا کہیں گے‘ کبھی اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرنا‘ ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے‘ بھٹک جاؤ گے۔

حضرت داؤد ۱ کے پاس ایک فیصلہ آتا ہے‘ ایک مقدمہ آتا ہے‘ کیا ہے؟

ایک آدمی ایک نوجوان باغ میں داخل ہوا‘ اس نے باغ سے انگور توڑے‘ سیر ہو کر کھائے‘ جب یہ کھا لئے تو اس نے باغ سے اور انگور توڑے‘ اپنی جھولی بھری اور چل پڑا۔ اتفاقاً مالک آ گیا‘ اس نے دیکھا کہ اس نوجوان نے انگور کھائے بھی ہیں اور لے کر جا بھی رہا ہے‘ مالک نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور حضرت داؤد ۱ کے پاس لے گیا اور کہنے لگا کہ اس نے میرے باغ سے انگور کھائے بھی ہیں اور لے کر بھی جا رہا ہے۔ نبی ۱ کے سامنے معاملہ پیش کیا گیا کہ یہ شخص بغیر اجازت باغ میں داخل ہوا۔

اس شخص سے پوچھا گیا کہ بتاؤ کیا معاملہ ہے؟

اس شخص نے کہا کہ یہ بالکل صحیح ہے کہ میں باغ میں آیا ہوں اور انگور توڑ کر کھائے بھی ہیں اور ساتھ بھی لے کر جا رہا ہوں‘ بغیر اجازت کے۔

ظاہر ہے چور اقرار کر رہا ہے‘ اس کو سزا بھی ملنی چاہئے‘ جب وہ خود کہہ رہا ہے تو اس کو سزا ملنی چاہئے ناں۔

جب وجہ پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ بس ہو گیا جو ہونا تھا‘ میں نے ایسا ہی کیا ہے۔

سرکار داؤد ۱ نے جب یہ معاملہ سنا تو پہلے مالک کو دیکھا‘ پھر چور کو دیکھا۔ دیکھنے کے بعد حکم دیا کہ چور کو بری کر دیا جائے‘ مالک کو قتل کر دیا جائے‘ یعنی چور کو سزا ملنی چاہئے تھی لیکن نبی ۱ فرما رہے ہیں کہ اس کو بری کر دو‘ مالک کو سزا دے دو۔ جس کا باغ ہے اس کو سزا کا حکم دے رہے ہیں۔

اب لوگ بڑے حیران ہیں کہ یہ کیسا فیصلہ ہو رہا ہے‘ شریعت کے مطابق چور کے ہاتھ کٹنا چاہئے تھے۔

داؤد علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے ساتھ باغ میں چلیں‘ میں آپ کو بتاتا ہوں۔ باغ میں سب لوگ پہنچے‘ ایک جگہ کی نشان دہی فرمائی اور حکم دیا کہ اس جگہ کو کھودا جائے۔ جب کھودا گیا تو گڑھے میں سے لاش برآمد ہوئی۔ حضرت داؤد ۱ نے اس لاش کو حکم خدا سے زندہ کیا‘ جب اس سے پوچھا تجھے کس نے قتل کیا ہے؟

تو اس نے بتایا کہ میں مالک تھا۔ یہ میرے باپ کا نوکر تھا‘جو اب مالک بنا پھرتا ہے‘ اس نے مجھے قتل بھی کیا اور تیس ہزار درہم بھی لوٹ لئے اور باغ پر بھی قابض ہو گیا۔ یہ شخص جس نے انگور کھائے ہیں‘ یہ میرا بیٹا ہے۔ یہ اس وقت اپنی ماں کے پیش میں تھا‘ ماں اسے لے کر اپنے میکے چلی گئی یہ وہاں پیدا ہوا‘ بڑا ہوا۔ ماں کبھی کبزی ذکر کرتی کہ ہمارا وطن فلاں فلاں جگہ ہے‘ اس کے دل میں خواہش ہوئی کہ اپنے باپ کا وطن دیکھوں‘ سیر کروں‘ لہٰذا یہ باغ میں آیا اور انگور کھائے۔ اسے پتہ نہیں کہ یہ باغ کس کا ہے‘ انگور کھائے بھی ہیں اور ساتھ لے کر بھی جا رہا ہے۔

گویا نبی ۱ نے جو فیصلہ کیا گواہیوں کو نہیں دیکھا بلکہ نبی ۱ نے اپنی نبوت کی آنکھ سے دیکھا‘ نبوت کے علم سے دیکھا‘ نبوت کے اعجاز سے دیکھا کہ یہ شخص مالک ہے جس کو چور بنایا جا رہا ہے اور چور تو یہ ہے کہ جس کو مالک بنایا جا رہا ہے۔

اسی قسم کا فیصلہ ہی مولائے کائنات ۱ کا ہے۔

حلال مشاکل کا گزر ایک جگہ سے ہو رہا تھا‘ دیکھا کہ دو آمی آپس میں گتھم گتھا ہیں‘ لڑ رہے ہیں۔ پوچھا کیوں لڑتے ہو؟

وہ کہنے لگے کہ پیسوں کا معاملہ ہے۔ ایک دمی نے کہا کہ یہ میرے پیسے نہیں دیتا۔ دوسرے نے کہا کہ جتنا اس کا حق بنتا ہے میں اسے دے رہا ہوں‘ یہ لیتا نہیں‘ یہ اپنے حق سے زیادہ طلب کرتا ہے۔

قصہ کچھ یوں تھا کہ ایک آدمی کے پاس پانچ روٹیاں تھیں‘ جب یہ کھانے لگا تو ایک دوسرا شخص جس کے پاس تین روٹیاں تھیں‘ شامل ہو گیا اور دونوں مل کر روٹیاں کھانے لگے تو ایک تیسرا آدمی مہمان آ گیا‘ دونوں نے اسے دعوت دی‘ تینوں نے مل کر روٹیاں کھائیں۔ جب وہ تیسرا آدمی جانے لگا تو اس نے جیب سے آٹھ درہم نکالے اور انہیں دے دیئے اور چلا گیا‘ پہلا شخص کہنے لگا کہ میری پانچ روٹیاں تھیں اور اس کی تین روٹیاں‘ لہٰذا یہ تین درہم لے لے اور میں پانچ درہم لوں گا‘ کیونکہ میری پانچ روٹیاں تھیں۔

مولائے کائنات ۱ دوسرے آدمی سے فرمانے لگے کہ یہ تین درہم لے لے‘ یہ بہتر ہیں‘ لیکن تین والا کہتا ہے کہ نہیں‘ برابر برابر‘ چار درہم یہ لے اور چار درہم مجھے دے کیونکہ روٹیاں سب نے مل کر برابر کھائیں ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ پانچ درہم لے اور مجھے تین درہم دے۔

بہرحال ان میں یہ جھگڑا تھا۔

مولا نے فرمایا‘ تین لے لو‘ بہتر ہے۔

وہ کہنے لگا‘ نہین‘ میں تو حق کے ساتھ فیصلہ چاہتا ہوں‘ جو فیصلہ حق کے ساتھ ہو گا‘ وہ میرے لئے بہتر ہو گا۔

آپ نے فرمایا‘ بندئہ خدا! تیرا حق چار نہیں بنتا تین درہم لے لو فائدہ میں رہے گا۔ کہنے لگا کہ نہیں‘ جو حق بنتا ہے وہی لے دیں۔

مولا نے فرمایا‘ تو سنو میرا فیصلہ:

"پانچ روٹی والے کو سات درہم دے دو اور تین روٹی والے کو ایک درہم دے دو‘ کیونکہ اس کا حق تین درہم نہیں‘ ایک درہم ہے۔"

وہ حیران ہوا‘ عرض کرنے لگا:

"مولا ! وہ کیسے؟"

آپ نے فرمایا‘ تو سنو:

"تیری تھیں تین روٹیاں اور اس کی تھیں پانچ روٹیاں‘ جن کو مل کر تین آدمیوں نے کھایا‘ تو تین ضرب تین برابر نو اور پانچ ضرب تین برابر‘ پندرہ۔ نو اور پندرہ ہوئے چوبیس ٹکڑے جو کہ تم تینوں نے مل کر کھائے۔ ان میں سے آٹھ ٹکڑے تم نے خود کھائے‘ تین روٹیوں کے نو ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا بچا اور اس کے پندرہ ٹکڑوں میں سے آٹھ اس نے خود کھائے اور سات ٹکڑے اس کے آنے والے مہمان نے کھائے۔ اس طرح سات ٹکڑے اس کے تھے‘ اسے سات درہم لیں گے۔ تیرا ایک تکڑا مہمان نے کھایا‘ تجھے ایک درہم ملے گا۔"

امام (علیہ السلام)اور نبی جو بھی فیصلہ کرتے ہیں‘ حق کا فیصلہ ہوتا ہے اور یہ امام (علیہ السلام)تو وہ ہے جس کو نبی نے فرما دیا تھا‘ الحق مع علی و علی مع الحق لہٰذا ان ۱ کے کئے فیصلوں میں کبھی نقص نہیں آ سکتا‘ کیونکہ حق و حقیقت اس سے جدا نہیں اور یہ حق و حقیقت سے جدا نہیں۔

دوسرا کوئی بھی بڑا بن جائے‘ چودھری بن جائے‘ وہ فیصلہ کرے‘ اگرچہ وہ فیصلہ حق کا ہو‘ اس کے باوجود ایسی کوئی رکاوٹ آ جاتی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کروا سکتا۔ جس کے خلاف فیصلہ ہوا ہے وہ اشکال کرتا ہے‘ اعتراض کرتا ہے کہ جو عیب میرے اندر پائے جاتے ہیں وہ عیب آپ میں بھی تو پائے جاتے ہیں۔

ایک مشہور مقدمہ ہے۔

حضرت عمر کے پاس ایک عورت آئی‘ کہنے لگی کہ آپ کے فرزند نے میرے ساتھ زنا کیا تھا اور یہ بچہ پیدا ہوا ہے‘ یہ آپ کا پوتا ہے لہٰذا اسے لے لیجئے۔ اس نے پہلے شراب پی تھی پھر زنا کیا۔ وہی حد جاری کرنے والا واقعہ۔ جس پر سزا لاگو ہونا تھی اس نے اقرار جرم تو کر لیا‘ مگر ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ مجھے سزا وہ دے‘ حد وہ جاری کرے‘ نفاذ شریعت وہ کرے‘ جو خود ان عیبوں سے پاک ہو‘ جس میں یہ عیب نہ ہوں۔

اب سب لوگ کہاں چلے؟

حلال مشاکل کے پاس۔

صلواة

سب لوگ اکٹھے ہو کر مولا کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ گھر آئے‘ مولا گھر میں نہیں ہیں‘ یہودی کے باغ میں پہنچے‘ دیکھا کہ مولا مزدوری کر رہے ہیں۔

کہنے لگے‘ یاعلی (علیہ السلام)ہم پھنس گئے ہیں۔

مولا نے فرمایا:

"بتاؤ کیا مشکل آن پڑی کہ تم پھنس گئے ہو۔"

پورا واقعہ سنا کر عرض کی:

"مولا مجرم کہہ رہا ہے کہ حد وہ جاری کرے جو خود بے عیب ہو۔ اب مجمع میں کوئی زانی ہے‘ کوئی شرابی رہا ہے‘ یہ جرائم تو ہم میں ہر ایک سے کبھی نہ کبھی سرزد ہوا ہے‘ کدھر جائیں۔"

آپ نے ارشاد فرمایا:

"یہ کوئی مشکل نہیں‘ میں حلال مشاکل جو ہوں تمہاری مشکل حل کرنے کیلئے۔ ارے یہ حد تو میرے حسنین ۱ بھی جاری کر سکتے ہیں۔"

صلواة

یہ وہ ذوات مقدمہ ہیں‘ جو طاہر و پاکیزہ ہیں‘ طہارت کی انتہا پر فائز ہیں‘ یہ مجمع طہارت ہیں۔ انسان جو نطفہ گنجیدہ سے پیدا ہوا ہے‘ نجس ہے‘ اب یہ نجس انسان اگر چاہتا ہے کہ اپنے آپ کو جنت کا حقدار ٹھہرائے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو پاک بنائے۔

کس طرح بنائے؟

اس طرح کہ ان ذوات مقدسہ کی طہارت کی شعاعیں اس شخص تک پہنچیں‘ تب یہ پاک ہوا۔ اب اگر اس پر طہارت یا پاکیزگی کی شعاعیں اس پر پڑتی ہیں تو کچھ نہ کچھ طہارت اس میں بھی پیدا ہو جائے گی۔ طہارت کے حصول کے بعد اس قابل ہو گا کہ جنت میں جا سکے۔

ایک دفعہ ایک آدمی دربار میں آیا اور کہنے لگا:

"میں فتنہ کو دوست رکھتا ہوں‘ اس کے ساتھ مجھے محبت ہے‘ جس کو آج تک نہیں دیکھا‘ اس پر ایمان رکھتا ہوں‘ جو چیز آج تک پیدا نہیں ہوئی۔"

اب جو صاحب تھے حیران و پریشان ہو گئے کہ یہ کیا معاملہ ہے کہ میں فتنے کو دوست رکھتا ہوں‘ جس کو نہیں دیکھا اس پر ایمان لایا ہوں‘ حق کو ناپسند کرتا ہوں‘ جو چیز پیدا نہیں ہوئی اس پر ایمان لایا ہوں۔

جب انسان کو جواب نہ آئے تو کہتا ہے‘ زندیق ہے‘ کہہ دیا کر‘ اس کو نکال دو‘ فتوے دہریہ لگائے گئے۔ جب اس کو دربار سے نکالنے لگے تو اس شخص نے کہا کہ عجیب حکومت ہے‘ عجب بادشاہی ہے کہ جب جواب نہ آئے تو اس پر فتوے لگائے جائیں۔

اس نے اسلام پر اشکال کیا‘ یہ نہیں دیکھا کہ سامنے کون بیٹھا ہے‘ اسلام پر اشکال کر رہا ہے‘ حاکم‘ دین اسلام کی حکومت کا ہے کہ جو مسئلہ نہ آتا ہو‘ جس مسئلے کا جواب نہ آئے تو مسئلہ پوچھنے والے کو دھتکار دیا جائے۔

حضرت سلیمان فارسی نے جب یہ ماجرا دیکھا تو پوچھا:

"اے بندگانِ خدا! اس کے مسئلے کا جواب دو‘ اسے کیوں باہر نکال رہے ہو؟"

تو حاکم نے جواب دیا کہ:

"مجھے اس کا جواب نہیں آتا۔"

اب اجتماعی طور پر سب یہودی کے باغ میں پہنچے‘ جہاں مولا مزدوری کر رہے تھے۔ آپ نے فرمایا:

"سب دوزانو ہو کر بیٹھو جیسے شاگرد دوزانو ہو کر بیٹھتا ہے‘ پھر میں جواب دوں گا۔" (کیا کہنا ہے)

سب دوزانو ہو کر بیٹھ گئے۔ حضرت نے بیلچہ ایک طرف رکھا اور فرمانے لگے:

"اے یہودی! اب سوال کر تیرا سوال کیا ہے؟"

یہودی نے وہی سوالات دہرائے۔

مولائے کائنات ۱ نے فرمایا:

"اگرچہ یہ یہودی ہے لیکن سچا ہے سچ کہہ رہا ہے۔"

سب حیران ہو گئے کہ

انما اموالکم و اولاد کم فتنة

مولا نے فرمایا‘ کیا قرآن مجید میں نہیں کہا گیا؟ تمہارا مال اور تمہاری اولاد فتنہ ہے۔ کون ہے جو مال کے ساتھ دوستی اور اولاد کے ساتھ محبت نہیں رکھتا ہے؟

دوسرا سوال کہ حق کو ناپسند کرتا ہوں تو یہ موت کو ناپسند کرتا ہے۔ آپ میں سے کون ہے‘ جو موت کو پسند کرتا ہو؟

وجاعت سکراة الموت بالحق ذلک ماکنت منہ تحید

"موت ہمیشہ حق ہے‘ حق کو کون پسند کرتا ہے‘ آپ سب موت کو ناپسند کرتے ہیں‘ لہٰذا کہہ سکتے ہیں کہ میں حق کو ناپسند کرتا ہوں۔"

تیسرا سوال‘ ایسی چیز تو رسالتمآب ۱ کو اس نے نہیں دیکھا‘ لیکن ان پر ایمان لایا ہے۔

یہ سچ کہتا ہے۔

چوتھا کہ یہ قیامت کا اقرار کرتا ہے کہ جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئی‘ قیامت۔

یہ وہ ذوات مقدسہ ہیں جو ہر سائل کے ہر سوال کا جواب ہر وقت دے سکتے ہیں۔ کبھی تصور نہیں کیا جا سکتا کہ سائل سوال کرے اور یہ جواب نہ دیں۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے چوتھے امام (علیہ السلام)فرمایا کرتے تھے کہ اگر تشہد میں کلمہ "لا" نہ ہوتا‘ جسے لا الہ الا اللہ کہتے ہیں‘ تو کبھی ہماری زبان پر "لا" نہ آتا‘ یعنی تشہد میں اگر کلمہ "لا" نہ ہوتا تو ہم بھی "لا" نہ کہتے۔

ایک دفعہ مولا تشریف لے جا رہے تھے‘ سلیمان ۱ بھی ساتھ ہے۔ دیکھا کہ ایک جگہ چیونٹیاں بکثرت موجود ہیں۔

سلیمان نے عرض کیا:

سبحان من احصی عدد النمل

"پاک ہے وہ ذات جو ان کی ذات کو جانتی ہے۔"

امام (علیہ السلام)نے فرمایا‘ اے سلیمان! ایسے نہ ہو کہ جو ان کی تعداد کو جانتا ہے‘ بلکہ کہو:

سبحان من خلق النمل

"پاک ہے وہ ذات جس نے ان کو پیدا کیا۔"

سلیمان نے پوچھا:

" یا مولا ! کیا خدا کے علاوہ بھی کوئی ہے جو ان چیونٹیوں کی تعداد کو جانتا ہے؟"

حضرت مولا کائنات نے فرمایا:

"تم تعداد کا کہہ رہے ہو‘ میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ ان میں نر کتنے ہیں اور مادہ کتنے۔ اس کی موت کب آئے گی اور یہ بھی جانتا ہوں کہ اس کی موت کس ذریعے سے آئے گی؟"

یہ وہ ذوات مقدسہ ہیں‘ جن کے سامنے کائنات ہے‘ لیکن ان کی یہ حالت ہے کہ جب بھی کوئی کام کیا ہے‘ دین کے لئے کیا ہے۔

مولا ارشاد فرماتے ہیں:

افضل الجهاد من قال کلمة حق عند سلطان جائر

"سب سے بڑا جہاد وہ ہے کہ سچی بات ظالم بادشاہ کے سامنے کہے‘ بادشاہ کے خوف سے رک نہ جائے‘ ڈر نہ جائے‘ تھیلوں کو دیکھ کر لالچ میں نہ آ جائے‘ مذہب کو تبدیل نہ کرے‘ سامنے اولاد اسی طرح کہہ دے۔"

ان ذوات مقدسہ نے کبھی کسی ظالم بادشاہ سے خوف نہیں کھایا‘ ہمیشہ حق کی بات کہی‘ کبھی ڈرے نہیں۔

جب معاویہ دنیا سے چلا گیا‘ یزید کی حکومت آئی‘ اس نے امام (علیہ السلام)کو بلایا۔ یزید کی بیعت کریں۔

کس کو کہا؟

حسین(علیہ السلام)کو کہا جا رہا ہے۔

کیا کہنا حسین(علیہ السلام)ابن فاطمہ ۱ کا۔

فرمایا:

مثلی لا یبایع مثله

"یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ مجھ جیسا شخص یزید جیسے شخص کی بیعت نہیں کرتا۔"

پورے اہل بیت (علیھم السلام)آ گئے‘ اس جملے میں۔

جو بھی یزید جیسا ہو گیا‘ پھر کبھی جرات نہیں کی کہ اہل بیت (علیھم السلام)سے بیعت مانگیں۔

امام (علیہ السلام)نے مدینہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

نیک بی بی سلمیٰ:

"اے میرے بیٹے حسین(علیہ السلام)ہمیں غمگین نہ کریں‘ آپ عراق کی طرف سفر نہ کریں‘ کیونکہ میں نے اپنے نبی سے سنا کہ میرا بیٹا کربلا کی زمین پر تین دن کا بھوکا پیاسا شہید کر دیا جائے گا۔ کسی اور جگہ چلے جانا‘ لیکن عراق میں نہ جایئے۔"

امام (علیہ السلام)نے جواباً فرمایا:

یا اماه انی اعلم

"مجھے علم ہے کہ میں شہید ہو جاؤں گا۔"

انی لا عرف یوم الذی اقتل فیه

"نانی اماں! مجھے تو اس دن کا بھی پتہ ہے جب کہ دسویں محرم کو مجھے ذبح کیا جائے گا‘ مجھے اس جگہ کا بھی پتہ ہے جس جگہ میری شہادت واقع ہو گی۔

نانی اماں! اگر آپ میری مقتل دیکھنا چاہیں تو میری ان انگلیوں میں سے دیکھیں۔"

امِ سلمیٰ نے جو دیکھا کہ ایک گہری جگہ پر ایک یک و تنہا مظلوم ہے‘ جس کا سر سجدہ کی حالت میں ہے‘ کوئی تیر مارتا ہے‘ کوئی پتھر مارتا ہے اور اس سر سے آواز آتی ہے کہ

سبحان ربی الاعلیٰ وبحمده

عرض کی مولا :

"آپ بہنوں کو تو نہ لے جائیں۔"

فرمایا:

"اللہ چاہتا ہے کہ زینب (علیھا السلام)و کلثوم (علیھا السلام)اسیر ہو جائیں‘ میرے بچے مارے جائیں‘ قید ہو جائیں۔"

صرف ایک جملہ‘ امِ سلمیٰ رو رہی ہیں اور امِ سلمیٰ نے بتایا کہ آپ کے نانا نے مجھے ایک مٹی دی تھی۔ امام (علیہ السلام)نے بھی ایک شیشی دے دی۔ ایسا وقت آیا کہ امِ سلمیٰ نے خواب میں رسول ۱ کو دیکھا۔

میری جان قربان ہو۔

رسول کے سر پر خاک ہے‘ گریبان چاک ہے‘ ایک ہاتھ میں خون سے بھری شیشی ہے اور کہہ رہے ہیں:

"امِ سلمیٰ! ابھی ابھی کربلا سے آیا ہوں‘ میرے حسین(علیہ السلام)کو شہید کر دیا گیا۔"

امِ سلمیٰ نے دیکھا شیشی کو‘ دروازے پر گئیں‘ شیشی کو رکھ دیا اور رو رہی ہیں۔ جب ہاشمی عورتیں جمع ہوئیں‘ عورتیں پیٹتی ہیں‘ ماتم کر رہی ہیں کہ اچانک امِ سلمیٰ نے کہا‘ دیکھو حسین(علیہ السلام)کی ایک چھوٹی بچی اس گھر میں رہتی ہے‘ اسے تمہارے گریہ کا علم نہ ہونا چاہئے‘ اسے دیکھ کر گریہ نہ کرنا‘ وہ برداشت نہ کر سکے گی۔

اتنی دیر میں دختر حسین(علیہ السلام)آئی‘ چھوٹا سانس ہے کمر جھکی ہوئی ہے‘ سب نے اپنے آنسو صاف کر لئے‘ نانی کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہتی ہیں:

کیوں رو رہی ہیں‘ نانی اماں؟

میں حسین(علیہ السلام)کی بیٹی ہوں‘ اکبر کی بہن ہوں‘ قاسم کی بہن ہوں۔

بتایئے ناں۔ آپ کیوں رو رہی ہیں اور یہ شیشی خون کی کیوں ہو گئی؟

اب امِ سلمیٰ ۱ کو ساری حقیقت بتانا پڑی۔

جب رسول اللہ قیامت کے دن اٹھیں گے تو حالت کیا ہو گی؟ آستینیں چڑھی ہوں گی‘ آنسو رواں ہوں گے‘ سر کے بال کھلے ہوں گے۔

اس حالت میں رسول کے پیچھے انبیاء(علیہم السلام)بھی ہوں گے‘ روتے ہوئے آئیں گے۔

گویا میں احمد مصطفی (ص)کو دیکھ رہا ہوں‘ کیا کہتے ہیں۔ افسوس ہے کہ تم نے میری اولاد کا خیال نہ کیا۔

اے میری امت! تمہاری تلواروں نے خون حسین(علیہ السلام) نہیں بہایا بلکہ خون محمد بہایا ہے۔

کیا کبھی سوچا ہے کہ یہ خون کس کا ہے؟

کس کی بیٹی تھی جن کو کوفہ و شام کے بازار میں پھرایا ہو گا؟

فرشتے رو رہے ہوں گے‘ انبیاء(علیہم السلام)رو رہے ہوں گے۔ کیا یہ انصاف ہے؟ کہ تمہاری بیٹیاں پردوں میں بیٹھی ہوں اور میری بیٹیاں بازاروں اور درباروں میں پھرائی گئیں۔

جب میں دنیا سے جانے لگا تو میں نے وصیت کی تھی کہ میری اولاد کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔

لیکن جب میری بیٹی فاطمہ ۱ میرے پاس آئی تو اس کا پہلو زخمی تھا‘ اسے تم نے کتنی اذیت دی۔

کس طرح مسلمانوں کے دربار میں کھڑی رہی؟


مجلس دوم

بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم

( ایاک نعبد و ایاک نستعین )

"ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔"

سامعین گرامی!

انسان بارگاہ رب العزت میں طہارت و پاکیزگی کے ساتھ کھڑے ہوئے دن میں بار بار یہ دعویٰ کرتا ہے کہ تیری ذات میری معبود ہے۔ میری گردن تیرے ہی سامنے جھکے گی۔ میرا سر فقط تیرے سامنے خم ہو گا۔ اس انسان نے جب کلمہ پڑھا یعنی کہا لا الہ الا اللّٰہ‘ تیرے سوا کوئی معبود نہیں‘ تیرے علاوہ کسی کو خدا نہیں مانتا۔ اب جب عبادت کر رہا ہے اس کا بدن پاک و پاکیزہ ہے‘ اس کے کپڑے پاک ہیں‘ خشوع و خضوع سے اس کے دربار میں کھڑا ہے‘ اپنے سامنے ذات کردگار کو پاتا ہے۔ اس وقت بھی یہی کہہ رہا ہوتا ہے کہ یااللہ میں تیرے سامنے جھکوں گا‘ تیرے علاوہ کسی کے سامنے نہیں جھکوں گا۔ اتنا بڑا دعویٰ انسان کرتا ہے‘ ظاہر ہے دعویٰ کرتے وقت اس کے ذہن میں یہ چیز ضرور آنی چاہئے کہ میں اتنی بڑی ذات کے سامنے افراد کر رہا ہوں۔ یہ وہ ذات ہے جو کبھی غافل ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی چیز اس سے مخفی ہے‘ جسے کبھی نسیان نہیں ہوتا۔ وہ ذات میرے ہر ہر عمل کو ہر ہر وقت دیکھ رہی ہے۔ یہ وہ ذات ہے کہ جس کے سامنے دعویٰ کر رہا ہوں۔ آیا اس دعویٰ کے مطابق میرا عمل بھی ہوتا ہے یا نہیں۔ اسے یہ سوچنا‘ چاہئے۔ صلواة

انسان مرکب ہے دو چیزوں کا‘ ایک ہے بدن اور دوسری ہے اس کی روح۔ بدن اور روح مل کر انسان مکمل کرتے ہیں‘ جہاں تک بدن کا تعلق ہے جس طرح انسان کا بدن ہے اسی طرح حیوان کا بھی بدن ہے‘ بدن کی وجہ سے انسان ممتاز نہیں ہے حیوان سے اگرچہ اس کا بدن ہڈی اچھی پیدائش سے بنایا گیا ہے۔

کما احسن الله الخالقین

انسان بدن کی وجہ سے ممتاز نہیں ہے بلکہ انسان کی عظمت‘ صفت اس کی روح کی وجہ سے ہے۔ اگر روح بلند ہے‘ انسان بلند ہے‘ اگر روح پست ہے تو انسان پست۔

جتنا اپنے اندر روحانیت کو بلند کرتا جائے اتنا ہی مرتبہ بلند ہو گا۔ جتنا روحانیت سے ہٹتے ہوئے مادیت کی طرف ہو گا‘ اتنا ہی اس کے اندر پستی آتی جائے گی۔ اگر روحانیت کو بلند کرتا جائے اور مادیت کو اپنے پیروں تلے روندتا چلا جائے تو اس وقت انسان میں اتنی طاقت پیدا ہو جائے گی کہ وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتا‘ کسی اور سے نہیں ڈرتا‘ حتیٰ کہ کسی طاقت سے نہیں ڈرتا کیوں؟ اس لئے کہ اس کی توجہ خدائے بزرگ و برتر کی طرف ہے۔ اس کی توجہ ذات اقدس کی طرف ہے‘ اپنے خالق کی طرف ہے۔ اس وقت یہ سمجھتا ہے کہ مجھے نفع و نقصان صرف میرا خالق ہی دے سکتا ہے‘ مجھے تباہی سے میرا خالق ہی بچا سکتا ہے‘ کوئی دوسرا نقصان دے ہی نہیں سکتا‘ یعنی صحت ہے تو خالق کی طرف سے اگر نہیں تب بھی خالق کی طرف سے مال و دولت ہے وہ بھی خالق کی طرف سے۔

اس وقت اس کی روحانیت اتنی بلند ہوتی ہے کہتا ہے کہ یااللہ تجھے دیکھ رہا ہوں‘ تیرے علاوہ کسی کو نہیں دیکھ رہا۔ اس وقت اپنے رب کی عظمت اس کے دل میں اس قدر ہوتی ہے کہ کسی چیز کو خاطر میں نہیں لاتا۔ آپ خود دل میں سوچیں‘ اپنے ضمیر کو ٹٹولیں‘ جب عظمت خدا پیدا ہو جائے‘ پھر دنیا کی جتنی بھی قوتیں ہوں وہ کسی سے نہیں ڈرتا بلکہ اس وقت یہی کہتا ہے خدایا‘ تیری ذات ایسی ہے جو سب کچھ کر سکتی ہے‘ تیرے علاوہ کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ جب یہ حالت پیدا ہو جائے‘ اتنی قوت پیدا ہو جاتی ہے تو اس وقت کہتا ہے‘ کون میرے ساتھ ہے‘ میرا اللہ میرے ساتھ‘ میرا خالق میرے ساتھ ہے‘ میرا معبود میرے ساتھ ہے۔

اس وقت اگر کسی سے ٹکرائے‘ کسی کے ساتھ مقابلہ کرے چونکہ اس کی توجہ خدا کی طرف ہوتی ہے‘ لہٰذا جتنا بڑا ہو‘ اس کے مقابلے میں کبھی نہیں ہو سکتا کہ اس سے مار کھا جائے۔

جب بھی مار کھائے‘ جب بھی ذلیل و خوار ہو‘ جتنی روحانیت بلند ہو گی‘ چاہے اس کے سامنے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو‘ کیا آپ نے دیکھا نہیں؟ کتنی بڑی طاقت تھی امریکہ جس نے اپنی قوت کے بل پر حملہ کیا‘ مقابلے میں کوئی آدمی بھی موجود نہ تھا‘ حملہ کیا اور خود ہی تباہ ہو گیا۔ تباہ ہونے کے بعد ان کے بڑے نے یہ کہا کہ ہم کیا کرتے ہم نے تو سوچ سمجھ کر حملہ کیا تھا‘ ہمیں توقع تھی کہ ہمیں ضرور کامیابی ہو گی لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات ان کے ساتھ تھی۔ دیکھئے کہ عظمت پیدا ہو گئی‘ طاقت پیدا ہو گئی‘ قوت پیدا ہو گئی‘ انسان میں

آپ اپنی طرف دیکھیں‘ ہماری حالت کیا تھی۔ جب ہم میں جذبہ ایمان پیدا ہوا‘ ہماری روحانیت بلند ہوئی‘ جب ہماری توجہ خدا کی طرف ہوئی تو سامنے ایک قوت تھی‘ ایک طاقت تھی جو اپنی فرعونیت میں غرق تھی‘ جس کی گردن اکڑی ہوئی تھی اور وہ یہ کہتا تھا کہ کون ہے جو میری بات کو نہ مانے‘ کون ہے جو میری بات کو ٹالے گا۔ لیکن جب آپ اسلام آباد پہنچے تو سامنے توپیں تھیں‘ سامنے قوت تھی‘ طاقت تھی‘ لیکن چونکہ آپ کی خدا کی طرف توجہ تھی‘ روحانیت تھی‘ نتیجہ کیا نکلا؟ کہ وہ قوتیں روندی چلی گئیں اور ہمیں عزت دی گئی۔

عزیزانِ محترم!

یہ سب کچھ کیسے ہو گیا؟

کیونکہ مادیت فنا ہو گئی‘ روحانیت بلند ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک مطلق آمر اپنی پوری طاقت کے ساتھ مفتی جعفر حسین(علیہ السلام) کے پاس بیٹھ کر بار بار یہ کہتا ہے کہ میں تو علماء کا خادم ہوں‘ آپ حکم کریں‘ میں آپ کا ہر حکم ماننے کو تیار ہوں۔

یہ سب کچھ کیوں؟ اس لئے کہ روحانیت پیدا ہو گئی‘ روحانیت کے ہوتے ہوئے کسی طاقت کا خوف نہیں‘ ڈر نہیں تھا۔ ہمارے امام (علیہ السلام)یہی فرماتے ہیں‘ خدا یہی فرماتا ہے کہ اگر روحانیت پیدا ہو جائے تو پھر دنیا کی کسی طاقت کا ڈر نہیں رہتا۔

صلواة

انسان کی روح‘ انسان کا جسم دو چیزوں کا مرکب ہے‘ بدن اور روح سے اصل روح ہے۔ روح اگر بلند ہو جائے تو انسان بلند ہو جائے۔ روح کا مسئلہ مشکل ہے تھوڑی سی توجہ کی جائے‘ انسان کی زندگی کا دار و مدار اس کی روح پر ہے‘ روح اگر ہمارے اندر ہے تو ہم زندہ ہیں‘ اگر روح چلی جائے‘ طاقتیں ختم ہو جائیں گی‘ قوتیں ختم ہو جائیں گی‘ انسان مردہ ہو جائے گا۔ اس وقت گھر والے‘ خاندان والے یہی کہیں گے کہ جتنی جلدی ہو‘ اسے دفن کریں اور اپنے گھر چلیں۔

انسان کی روح میں تین خصوصیتیں ہیں:

۱ ۔ روح پہلے پیدا کی گئی‘ انسان بعد میں پیدا گیا۔ روح ہزاروں سال پہلے پیدا کی گئی‘ انسان ہزاروں برس بعد پیدا کیا گیا۔

لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ روح ہے پہلے جسم انسان بعد میں پیدا ہوا۔

۲ ۔ روح سارے اعضاء کا علم رکھتی ہے‘ اسے پتہ ہے کہ کس عضو سے میں نے کیا کام لینا ہے‘ کونسا عضو کونسا کام کرے گا۔ انسان کی روح اپنے جسم کی تمام چیزوں کی عالم ہے‘ اسے سارا علم ہے‘ بدن میں جتنی چیزیں پائی جاتی ہیں‘ کوئی چیز اس سے مخفی نہیں‘ چھپی ہوئی نہیں۔

۳ ۔ روح کا کنٹرول ہے بدن پر‘ قبضہ ہے بدن پر‘ جس عوض سے روح جو کام لینا چاہے‘ بدن انکار نہیں کر سکتا۔ حتیٰ کہ اس کا قبضہ‘ اس کا کنٹرول اس قدر ہے کہ روح کو کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ روح کی خواہش ہوتی ہے کہ یہ کام ہو اور وہ کام فوراً شروع ہو جاتا ہے‘ زبان بولنا شروع کر دیتی ہے‘ روح کی خواہش ہوتی ہے‘ ہاتھ حرکت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

گویا کہ روح کی جیسی نیت ہو گی یہ اعضاء سارے کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

اسی طرح پوری کی پوری کائنات پورے کا پورا عالم بمنزلہ ایک بدن کے ہے۔ میں نہیں کہہ رہا‘ آپ کے میرے مولا حل مشاکل امیرالمومنین ۱ کا فرمان ہے کہ

اتزعم انک جرم صغیر فیک الطوی عالم الاکبر

"اے انسان! تو یہ خیال کرتا ہے کہ چھوٹا سا جسم ہے‘ نہیں‘ پورے کا پورا عالم تیرے اندر پوشیدہ ہے‘ عالم اکبر میں جو کچھ پایا جاتا ہے‘ انسان کے اندر پوشیدہ ہے۔"

گویا انسان میں جو کچھ پایا جاتا ہے وہ پوری کائنات میں پایا جاتا ہے جیسے اس انسان کا چھوٹا سا بدن۔ اس میں بدن بھی ہے‘ روح بھی ہے۔ اسی طرح پوری کائنات بمنزلہ ایک بدن کے ہے۔ اس پوری کائنات کی بھی ایک روح ہونی چاہئے‘ اس کی بھی ایک روح ہو گی‘ البتہ فرق یہ ہو گا کہ مارا بدن ایک چھوٹا سا بدن ہے‘ اس کی روح کو فلسفی زبان میں روح کلی کہا جائے گا‘ ایک بدن کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔ عالم چونکہ بہت بڑا ہے‘ عالم کی روح جو ہو گی‘ اس کو روح کلی کہا جائے گا۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جیسے ایک انسان میں ایک روح ہے جس کو روح جزوی کہا جاتا ہے۔ انسان کی زندگی کا دار و مدار اسی روح جزوی پر ہے۔ کائنات کی زندگی کا دار و مدار اس روح کلی پر ہے۔ بعینہ یہ کائنات جو آپ کو نظر آ رہی ہے‘ آسمان‘ زمین‘ سورج‘ چاند ان میں روح کلی موجود ہے‘ تبھی یہ کائنات موجود ہے۔ جیسے انسان کی روح جانے سے انسان مردہ ہو جاتا ہے‘ اسی طرح کائنات کی روح کے ایک سیکنڈ کے لئے بھی جانے سے پورے کا پورا عالم کائنات تباہ و برباد ہو جائے گا۔

صلواة

ظاہر ہے روح کی خصوصیت میری روح بدن سے پہلے پیدا کی گئی۔ آپ کی روح آپ کے بدن سے پہلے پیدا ہوئی۔ تواسی طرح یہ کائنات‘ یہ عالم اس کی روح بھی اس سے پہلے پیدا کی گئی ہو گی اور یہ عالم‘ یہ جہاں بعد میں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس عالم کی روح کلی نہ ہوتی تو عالم کو پیدا نہ کیا جاتا‘ یعنی اس عالم کے وجود کا دار و مدار اس روح کلی پر ہے۔

روح کلی پہلے تھی‘ عالم بعد میں اور یہ روح کلی جب تک رہے گا اس وقت تک عالم رہے گا۔

خداوند عالم حدیث قدسی میں اپنے حبیب ۱ کو مخاطب کر رہا ہے:

اے میرے حبیب!

انت المرید و انت المراد

مرید کے معنی پیری مریدی نہیں ہوتی بلکہ اس کے معنی انت المرید یعنی تیری توجہ میری طرف ہوتی ہے‘ تو ہمیشہ میری ذات کو دیکھتا ہے‘ میری مشیت کے مطابق چلتا ہے‘ جس طرح میری مشیت ہو تو‘ توُ اس کے مطابق بولتا ہے‘ جیسے میری مشیت ہو اس کے مطابق کام کرتا ہے‘ تیری توجہ اپنی طرف بھی نہیں ہوتی بلکہ میری طرف ہوتی ہے۔ حالانکہ تو دیکھتا ہے کہ میرا خالق مجھ سے کیا چاہتا ہے‘ حالانکہ تیری توجہ ہوتی ہے کہ میرا مالک مجھ سے کیا چاہتا ہے۔ اگر یہ کلمہ ہوتا یعنی رسالتمآب کی توجہ ہر وقت خدا کی طرف ہوتی ہے۔

رسالتمآب دنیا سے کسی چیز کو نہیں دیکھتے‘ اپنے بدن کی طرف بھی توجہ نہیں فرماتے‘ اپنی ذات کی طرف بھی توجہ نہیں کرتے۔ یہ بہت بڑا کلمہ تھا‘ لیکن اس کے بعد اس سے بھی بڑا کلمہ کہا گیا۔

ارشاد ہوا کہ

انت المرید و انت المراد

"اے میرے حبیب! جس طرح تیری توجہ میری طرف ہوتی ہے‘ اسی طرح میری توجہ تیری طرف ہوتی ہے۔"

صلواة

"جس طرح تیری توجہ میری طرف ہوتی ہے تو دیکھتا ہے کہ میرا مالک کیا چاہتا ہے‘ اسی طرح میری توجہ تیری طرف ہوتی ہے‘ میں دیکھتا ہوں کہ میرا حبیب ۱ کیا چاہتا ہے۔"

ارشاد ہوا کہ

انت سیدی فی خلقی

"پوری کائنات میں سے میں نے تجھی پسند کیا‘ میں نے تجھے چن لیا۔"

اب وہ کلمہ جس کے لئے یہ حدیث قدسی بیان کی۔

ارشاد قدرت ہوا کہ

وعدنی و خلاتی لولاک لما خلقت الا فلاک

"مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم اگر تجھی پیدا نہ کرتا تو کائنات میں سے کچھ نہ بناتا۔"

حضرات گرامی!

آپ نے غور فرمایا کہ جناب رسالتمآب ۱ کی ذات گرامی وہ ذات ہے کہ جس کی وجہ سے یہ کائنات پیدا کی گئی‘ جس کی وجہ سے افلاک پیدا کئے گئے۔ گویا کہ رسالتمآب کا وجود پہلے تھا‘ یہ کائنات بعد میں پیدا ہوئی۔

اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ پوری کی پوری کائنات بمنزلہ ایک جسم کے لئے پوری کی پوری کائنات بمنزلہ ایک بدن کے لئے اس کی روح خیا ہے؟

اس کی روح حقیقت محمدیہ ہے‘ یہ پہلے خلق ہوئی اور بعد میں کائنات۔ تو پوری کائنات کی غرض و غایت حقیقت محمدیہ ہے۔ صرف یہ نہیں بلکہ جب تک روح کلی اس کائنات میں موجود رہے گی‘ حقیقت محمدیہ کا کوئی فرد اس کائنات میں موجود رہے گا‘ اس وقت تک یہ کائنات موجود رہے گی‘ کیونکہ کوئی چیز اس وقت تک زندہ نہیں رہ سکتی جب تک کہ اس کی روح موجود نہ ہو۔ تو یہ حقیقت محمدیہ‘ اس کا کوئی فرد جب تک موجود ہو گا‘ کائنات رہے گی اور اگر موجود نہ ہوتا تو کائنات نہ ہوتی۔

اسی لئے ارشاد ربانی ہوا کہ

لولا الحجة یسخط الارض وما فیها

"اگر حجت خدا زمین میں موجود نہ ہوتی تو یہ کائنات ایک سیکنڈ کے لئے بھی باقی نہ رہتی۔"

تو اس کائنات کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں بارہویں لعل ولایت موجود ہیں‘ جن کی وجہ سے یہ کائنات باقی ہے۔

عزیزان محترم!

عرض کیا ہے کہ عالم کلی کی بھی ایک روح ہوتی ہے اور وہ روح حقیقت محمدیہ ہے‘ اس کو پہلے ہونا چاہئے‘ کائنات کو بعد میں‘ بلکہ حضرت آدم علیہ السلام‘ جنہیں ابوالبشر کہا جاتا ہے‘ ان سے پہلے بھی یہ روح ہونی چاہئے‘ کیونکہ عالم کلی کی روح حقیقت محمدیہ ہے۔ حقیقت محمدیہ کو پہلے ہونا چاہئے‘ آدم (علیہ السلام)کی پیدائش بعد میں ہونی چاہئے۔

اس لئے حقیقت محمدیہ نے یہ ارشاد فرمایا:

کنت بنیاو آدم بین الماء والطین

"میں اس وقت بھی نبی تھا‘ جب کہ حضرت آدم (علیہ السلام)پانی اور مٹی کے درمیان تھے۔"

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا حقیقت محمدیہ پہلے تھی یا اس نور کے جتنے اجزاء ہیں وہ سب کے سب اکٹھے موجود تھے‘ سب کے سب اکٹھے روح عالم کلی کہلاتے ہیں۔

حضور ارشاد فرماتے ہیں۔

امیرالمومنین ۱ کی طرف دیکھ کر ایک کلمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ

"اگر لوگوں کو یہ پتہ چل جاتا کہ امیرالمومنین ۱ کو امیرالمومنین ۱ کا لقب کیوں دیا گیا ہے تو وہ امیرالمومنین ۱ کا کبھی انکار نہ کرتے۔"

وہ امیرالمومنین کب کہا گیا؟

مولائے کائنات ۱ کو امیرالمومنین اس وقت کہا گیا جب حضرت آدم علیہ السلام کا جسم اور روح ابھی اکٹھے نہ ہوئے تھے‘ بلکہ جدا جدا تھے۔

ہاں تو میں یہ عرض کر رہا تھا کہ عالم کلی کی ایک روح ہے‘ وہ حقیقت محمدیہ ہے۔ یہ روح جب تک موجود ہے‘ کائنات موجود ہے۔ حقیقت محمدیہ کو پہلے پیدا کیا گیا اور یہ پوری کائنات بعد میں وجود میں آئی۔ اب روح کی دوسری خصوصیت کہ روح اپنے بدن کی عالم ہوتی ہے‘ روح کو پتہ ہوتا ہے کہ کیسے کام لینا ہے۔ تو جیسے ایک انسان کی روح اس کے بدن کی عالم ہے‘ اسی طرح کائنات عالم کلی کی روح ہو گی‘ اس کو پتہ ہے پوری کائنات کی عالم ہے‘ کوئی چیز اس سے مخفی نہیں‘ حالانکہ وہ کائنات کو دیکھ رہے ہیں‘ ہر وقت دعویٰ کرتے ہیں‘ ہر چیز ان کے سامنے ہے‘ اس کی دلیل ہے‘ روح کو عالم ہونا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ اس روح کلی کے جتنے افراد تھے‘ جتنا جتنا علم دینا چاہئے تھا‘ ان کے زمانے میں ان کو دے دیا گیا۔

اب دیکھئے!

حضرت آدم علیہ السلام کا مقابلہ فرشتوں سے ہو رہا ہے۔ فرشتے کہتے ہیں کہ ہم خدا کی عبادت کرتے ہیں‘ ہم تقدیس کرتے ہیں‘ ہم خدا کی پاکیزگی کو بیان کرتے ہیں‘ لہٰذا منصب ہمیں ملنا چاہئے‘ منصب حضرت آدم (علیہ السلام)کو مل گیا۔ تو سوال یہ پیدا ہوا کہ یہ عہدہ کیوں ملا؟

قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

وعلم آدم الاسماء کلها

حضرت آدم علیہ السلام کو اسماء کا علم کیوں دیا گیا؟ حضرت آدم (علیہ السلام)کیوں ممتاز ہوئے؟ مسجود ملائکہ کیوں ہوئے؟ آپ کو یہ عہدہ کیوں دیا گیا؟ کیونکہ اسماء کا علم فرشتے نہ جانتے تھے۔ حضرت آدم (علیہ السلام)کے پاس یہ علم تھا‘ تو اب آپ نے دیکھا کہ آدم (علیہ السلام)کیوں ممتاز ہوئے؟ عالم کلی کی بد روح کیوں ممتاز ہوئی؟ آدم (علیہ السلام)معمولی شخصیت نہ تھے‘ آدم (علیہ السلام)مسجود و ملائکہ تھے۔ تمام قوتیں جس کے سامنے جھکی ہیں‘ تمام قوتوں نے جس کو سجدہ کیا ہے‘ اس آدم (علیہ السلام)کی فضیلت بیان کی جا رہی ہے کہ ان کو اسماء کا علم تھا۔

اب آدم (علیہ السلام)کے بعد ذرا آگے چلیں۔ آدم (علیہ السلام)کا علم سب سے زیادہ تھا‘ اس کے بعد حضرت نوح علیہ السلام۔ حضرت نوح(علیہ السلام)کا علم حضرت آدم (علیہ السلام)کے علم سے بھی زیادہ تھا۔

حضرت نوح علیہ السلام کی یہ خصوصیت تھی کہ وہ آنے والی نسلوں کی طرف دیکھ رہے تھے‘ ان کی توجہ آنے والی نسلوں کی طرف تھی‘ وہ دیکھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے:

رب لا نذر علی الارض من الکفرین دیارا

"اے میرے پالنے والے! اس زمین پر کافروں کا ایک گھر بھی نہ چھوڑ سب کو تباہ و برباد کر دے۔"

اے اللہ کے نبی ۱ یہ کیوں فرمایا اس لئے کہ ان کے جو بچے پیدا ہوں گے وہ بھی کافر ہوں گے۔ تو نوح(علیہ السلام)کو اس قدر علم دیا گیا کہ وہ آنے والی نسلوں کو دیکھ رہے ہیں۔

ایک واقعہ عرض کرتا چلوں کہ

جنگ صفین میں ایک رات جنگ ہو رہی تھی‘ لیلة الحدیر کے باوجود بھی مولائے کائنات ۱ نے نماز تہجد نہیں چھوڑی‘ میرے مولا نے صفوں کے درمیان نماز تہجد ادا فرمائی۔

ابن عباس کہتے ہیں کہ مولا یہ نماز کا وقت ہے‘ اتنی جنگ ہو رہی ہے

مولا فرماتے ہیں‘ اسی نماز کے لئے ہی تو ہم لڑے ہیں۔

بہرحال اس رات کو مولا نے تین سو ( ۳۰۰) آدمیوں کو فی النار کیا اور آپ کے صحابی خاص ساتھی مالک اشتر نے بھی ۳۰۰ آدمیوں کو فی النار کیا۔ مالک اشتر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا‘ عرض کرتا ہے کہ مولا ! آپ کا غلام ہوں‘ آپ ۱ کا خادم ہوں‘ اس کے باوجود بھی آپ نے بھی ۳۰۰ آدمیوں کو فی النار کیا اور میں نے بھی‘ اس لحاظ سے آقا اور غلام دونوں برابر ہوئے۔

مولا ارشاد فرماتے ہیں:

"اے مالک اشتر! ایک فرق ہے تیری اور میری تلوار میں‘ جو تیرے سامنے آیا تو اس کو گاجر اور مولی کی کاٹ دیتا ہے‘ تیری تلوار یہ نہیں دیکھتی کہ کوئی مومن ہے یا منافق۔ لیکن علی (علیہ السلام)کی تلوار میں یہ فرق ہے کہ میری تلوار یہ دیکھتی ہے کہ آیا اس کی پشتوں میں کوئی مومن پیدا ہونے والا تو نہیں ہے‘ سات پشتوں تک علی (علیہ السلام)کی تلوار دیکھ کر چلتی ہے کہ اس کی نسل سے کوئی مومن پیدا ہونے والا نہیں ہے‘ اس لئے میں نے تین سو آدمیوں کو فی النار کیا۔"

حضرت آدم (علیہ السلام)کو اسماء کا علم عطا کیا گیا۔ حضرت نوح(علیہ السلام)آنے والی نسلوں کو دیکھ رہے ہیں‘ ان کا علم بڑھ گیا تو جب حضرت ابراہیم ۱ کا زمانہ آیا تو قرآن کہہ رہا ہے کہ

کذلک

"ہم نے ابراہیم ۱ کو آسمان اور زمین کے حقائق بتائے۔"

یعنی ان کا علم حضرت نوح(علیہ السلام)سے بڑھ گیا‘ روح خلی کا علم اب اور زیادہ ہو گیا۔ حضرت ابراہیم ۱ حقائق آسمان کو دیکھ رہے ہیں‘ لیکن کیوں

ارشاد ہوا کہ

ولیکون من المومنین

"تاکہ حضرت ابراہیم ۱ کو یقین ہو جائے۔"

اب تمام معاملات حضرت ابراہیم ۱ آسمان اور زمین کے حقائق دیکھ رہے ہیں تاکہ ان کو یقین ہو جائے اور وہ مومنین میں شمار ہو جائیں‘ لیکن اس کے باوجود ایک وقت ایسا آتا ہے‘ حضرت ابراہیم ۱ کہتے ہیں کہ اے رب العزت! تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے اور کس طرح مارتا ہے؟

ارشاد ہوتا ہے کہ

"اے ابراہیم! کیا تم ۱۱ ایمان نہیں رکھتے۔"

حضرت ابراہیم ۱ عرض کرتے ہیں کہ پاک پروردگار اطمینان قلب چاہتا ہوں۔

گویا مطلب ہوا کہ ابھی تک حضرت ابراہیم ۱ کے علم میں کچھ کمی پائی جاتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس کمی کو دور کریں‘ اطمینان قلب‘ وہ چاہتے ہیں۔

اب علم اتنا بلند ہو گیا کہ آسمان و زمین کے حقائق سامنے ہیں‘ لیکن اس کے باوجود کمی پائی جاتی ہے۔

ایک زمانہ ایسا آیا کہ علم اپنے عروج پر تھا‘ وہ کس کا زمانہ؟

حبیب خدا کا زمانہ جن کے لئے یہ ساری کائنات بنائی جاتی ہے۔ اس کا علم اس قدر بڑھا‘ اتنا بلند ہوا کہ انہیں کہنا پڑا:

انا مدینة العلم و علی بابها

"میں ۱ علم کا شہر ہوں اور علی (علیہ السلام)اس کا دروازہ ہے۔"

صلواة

رسول کے بھائی رسول کے شاگرد کے علم کی انتہا کہاں تک پہنچ گئی۔

لیکن یہ ذہن میں رہے حضرت ابراہیم ۱ کے سامنے صرف آسمان اور زمین کے حقائق کھولے گئے تو ابھی اطمینان قلب حاصل نہیں ہوا‘ کمی رہ گئی‘ لیکن رسول اللہ کے بھائی رسول اللہ کے شاگرد علم کی انتہا بیان فرماتے ہیں:

لو کشف الفطا لما ازدرت یقینا

علی (علیہ السلام)کا علم اس حد تک پہنچ گیا کہ اب کوئی پردہ نہیں رہا جس کو ہٹانے کی ضرورت ہو۔ اب کہا جا سکتا ہے کہ علم اب اپنے عروج کو پہنچ گیا کہ پوری کائنات ہر وقت سامنے ہے‘ کوئی چیز مخفی ہے تاکہ علم کی کمی ہو‘ پردہ ہٹانے کی ضرورت ہو۔ اس لئے مولا کا فرمان ہے۔

حضور فرماتے ہیں:

رسول اللہ (ص)کو تکلیف دیتے ہو‘ رسول اللہ (ص)کو اذیت دیتے ہو۔ مومنین سے کہا جا رہا ہے۔

مومنین حیران ہو کر عرض کرتے ہیں کہ مولا ! ہم کیا تکلیف دے سکتے ہیں‘ ہمارے ماں باپ آپ پر قربان‘ ہم کیسے اذیت پہنچا سکتے ہیں؟

حضور ارشاد فرماتے ہیں:

کیا تم نہیں جانتے ہو

ہم اس وقت جو عمل کر رہے ہیں‘ گھر میں جو عمل کرتے ہیں‘ چھپ کر کرتے ہیں‘ تاریکی میں کرتے ہیں‘ اس حالت میں کرتے ہیں کہ کوئی بچہ بھی نہیں دیکھتا‘ بیوی نہیں دیکھ رہی ہوتی‘ لیکن کیا تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے اعمال سے رسول اللہ واقف ہوتے ہیں۔ رسول اللہ ۱ ہمیں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

جب تم کوئی اچھا عمل کرتے ہو تو رسول اللہ خوش ہوتے ہیں اور دعا فرماتے ہیں۔ جب تم کوئی برا عمل کرتے ہو تو رسول اللہ کو اذیت ہوتی ہے۔ ہمارا ہر عمل ذات مقدسہ کے سامنے ہوتا ہے۔ ہم جب کوئی کام کرتے ہیں تو ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہمارا ہر عمل رسول اللہ کے سامنے ہوتا ہے‘ امام (علیہ السلام)کے سامنے ہے۔ آیا ہمارے عمل سے ان کو کوئی اذیت تو نہیں ہو گی‘ آیا دن رات میں کتنی مرتبہ ان کو خوش کرتے ہیں اور کتنی مرتبہ ناراض

اگر ہم ان کو خوش نہیں کرتے تو رسول اللہ کا فرمان صادق آئے گا۔

تم رسول اللہ (ص)کو اذیت کیوں دیتے ہو؟

صلواة

سامعین گرامی!

تو میں عرض کر رہا تھا کہ عالم کلی کی روح پوری کائنات کی عالم ہے‘ جس طرح ایک بدن کی روح اس کے پورے بدن کی عالم ہوتی ہے۔ رسول اللہ نے اپنے بھائی علی (علیہ السلام)کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

من اراد ان ینظر الیٰ آدم فی علمه و الیٰ نوح فی حلمه و الیٰ ابراهیم فی خلة والی یوسف فی جماله والی موسیٰ فی هیبه والی عیسیٰ فی کمله والی یحیی فی زهده فلینظر الی وجهه علی ابن ابی طالب

"اگر آدم (علیہ السلام)کے علم کو دیکھنا چاہو‘ نوح(علیہ السلام)کا حلم دیکھنا چاہو‘ ابراہیم ۱ کی خلت دیکھنا چاہو‘ یوسف ۱ کا جمال دیکھنا چاہو‘ موسیٰ(علیہ السلام)کی ہیبت‘ عیسیٰ کا کمال علی (علیہ السلام)کے چہرئہ مبارک کی طرف دیکھئے‘ تمام کمالات نظر آئیں گے۔"

گویا کہ ان تمام بڑی بڑی شخصیتوں کے کمالات اگر اکٹھے کر دیئے جائیں تو بنتے ہیں اور اگر علی (علیہ السلام)کے کمالات کو پھیلا دیا جائے تو انبیاء(علیہم السلام)بنتے ہیں۔

ذرا غور کے ساتھ سماعت فرمائیں

حضرت نے یہ نہیں کہا کہ اگر حضرت آدم (علیہ السلام)کے علم کو دیکھنا چاہتے ہو تو علی (علیہ السلام)کو دیکھ لو‘ مطلب یہ ہوتا کہ علی (علیہ السلام)کا علم اور آدم (علیہ السلام)کا علم برابر ہے۔ آدم (علیہ السلام)کے علم کو دیکھنا ہے تو علی (علیہ السلام)کے علم کو دیکھو‘ آدم (علیہ السلام)کے علم کا پتہ چل جائے گا۔

حضرت ابراہیم ۱ کی خلت کو دیکھنا چاہتے ہو تو علی (علیہ السلام)کی خلت کو دیکھو۔ موسیٰ(علیہ السلام)کی ہیبت کو دیکھنا ہے تو علی (علیہ السلام)کی ہیبت کو دیکھو۔ یہ نہیں فرمایا گیا‘ بلکہ یہ فرمایا گیا کہ اگر آدم (علیہ السلام)کے علم کو دیکھنا ہے تو علی (علیہ السلام)کے چہرے کو دیکھو۔

یہ نہیں فرمایا گیا کہ آدم (علیہ السلام)کا علم دیکھنا ہے تو علی (علیہ السلام)کو دیکھو‘ اگر علی (علیہ السلام)کو دیکھا جاتا تو آدم (علیہ السلام)اور علی (علیہ السلام)کا علم برابر ہو جاتا۔ کہا کیا جاتا ہے کہ آدم (علیہ السلام)کے علم کو دیکھنا ہے تو علی (علیہ السلام)کے چہرے کو دیکھو۔

کمالات کا مرکز انسان کا باطن ہے‘ کمالات کا منبع انسان کا باطن ہے۔ کمالات انسان کا اپنا باطن ہوتا ہے‘ اس کے اثرات انسان کے چہرے پر ہوتے ہیں‘ اس کے کچھ

مثلاً

فرض کیجئے اگر آپ کسی چیز سے خوذ ہوتے ہیں تو خوشی کا تعلق دل کے ساتھ ہے‘ خوشی کا تعلق باطن کے ساتھ ہے اور خوشی کے آثار انسان کے چہرے پر ظاہر ہوتے ہیں۔

اگر غمی ہے تو غمی کا تعلق باطن کے ساتھ ہے‘ اس کے کچھ آثار انسان کے چہرے پر ظاہر ہوتے ہیں۔ جتنا بھی غم کو چھپانے کی کوشش کرے پھر بھی ظاہر ہو جاتے ہیں‘ جتنا بھی خوشی کو چھپانے کی کوشش کرے پھر بھی آثار ظاہر ہو جاتے ہیں۔ تو جتنی خوشی انسان کے دل میں ہو وہ پوری کی پوری چہرے سے معلوم نہیں ہوتی‘ اس کے فقط نشانات معلوم ہوتے ہیں۔ جتنی غمی دل میں ہو وہ بھی ساری ظاہر نہیں ہوتی‘ بلکہ اس کے کچھ نشانات چہرے سے ظاہر ہوتے ہیں۔

اب آپ غور فرمایئے کہ کہا جا رہا ہے کہ آدم (علیہ السلام)کے علم کو‘ ابراہیم ۱ کی خلت کو‘ نوح(علیہ السلام)کے حلم کو‘ موسیٰ(علیہ السلام)کی ہیبت‘ عیسیٰ کی حکمت دیکھنی ہو تو علی (علیہ السلام)کے چہرے کی طرف دیکھو۔ گویا بتلانا مقصود ہے کہ علی (علیہ السلام)کے علم اور آدم (علیہ السلام)کے علم میں کوئی نسبت نہیں۔ اگر آدم (علیہ السلام)کا علم دیکھنا ہے تو مقابلہ نہیں ہے‘ بلکہ علی (علیہ السلام)کے چہرے کو دیکھ آدم (علیہ السلام)کا علم اتنا ہے‘ جس طرح علی (علیہ السلام)کے علم کے کچھ نہ کچھ نشانات ان کے چہرے میں پائے جاتے ہیں۔

ورنہ علی کا علم کجا اور آدم کا علم کجا۔

تو میں ذکر کر رہا تھا کہ روح پہلے ہے‘ یہ عالم بعد میں پیدا کیا گیا۔ روح عالم کی تمام چیزوں کی عالم ہے‘ یہ روح کلی حقیقت محمدیہ ہے۔ حقیقت محمد و آل محمدکے سامنے عالم کی ہر چیز موجود ہے۔

چونکہ حقیقت محمدیہ روح ہے عالم کے لئے اور عالم اس کا بدن ہے۔ تو اب عالم میں جو کچھ ہو گا اس کے اثرات روح پر پڑیں گے اور روح کو اگر تکلیف ہو گی تو اس کے اثرات عالم پر پڑیں گے۔ جس ذات نے اپنے خالق کے سامنے جھکنا ہے‘ اپنے خالق کے سامنے گردن خم کرنی ہے تو اس کی گردن اس کی روح کی قسم ہو گی۔ بدن میں جب تک روح ہے‘ بدن جھکے گا‘ اگر روح نہ ہو تو بدن جھک نہیں سکتا‘ تو جب روح نے جھکنا ہو تو انسان کے اندر عظمت ربی پائی جائے‘ خوف خدا پایا جائے‘ انسان کی روح میں محبت خدا ہو تو وہ خدا کے سامنے جھکے گا۔ اگر روح میں محبت خدا نہ ہو‘ خوف خدا نہ ہو تو اگر وہ کسی وقت جھک بھی گیا تو یہ ایسے ہے‘ جیسے ڈنڈے کے خوف سے جھکا ہو‘ ادھر ڈنڈا ہٹا ادھر روح جھکنے سے ہٹی

تو حقیقت میں جھکنا تب ہے جب محبت خدا دل میں پائی جائے‘ خوف خدا پایا جائے‘ عظمت خداوندی کا احساس ہو۔ جن ذوات مقدسہ کو ہم عالم کائنات حاکم سمجھتے ہیں‘ صادق کائنات سمجھتے ہیں‘ ان کی توجہ اپنے خالق کی طرف ہوتی ہے۔ اس طرح ہوتی ہے کہ جب وہ عبادت کر رہے ہوتے ہیں‘ ان کی اپنے بدن کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔

مشہور واقعہ ہے کہ

ایک نیزہ حضرت امیر علیہ السلام کے پاؤں میں لگ گیا‘ اس کو نکالنے کی کوشش کرتے تو بڑی تکلیف ہوتی۔ تو جناب رسالتمآب نے فرمایا کہ میرا بھائی علی (علیہ السلام)جب نماز پڑھ رہا ہو اس وقت نیزہ نکال لینا‘ میرے بھائی کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔

کیونکہ ان کی توجہ صرف اور صرف خدا کی طرف ہے۔ تو علی (علیہ السلام)عبادت خدا میں اس قدر غرق ہوتے تھے کہ خدا کے علاوہ ان کی توجہ ان کے اپنے بدن کی طرف بھی نہ ہوتی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ ان سے سوال کیا گیا کہ اے علی (علیہ السلام) ! آپ خدا کی عبادت کرتے ہیں‘ کیا آپ نے خدا کو دیکھا ہے؟

تو علی (علیہ السلام)فرماتے ہیں:

لم اعبد من لم اراه

"علی کبھی ایسے خدا کی عبادت نہیں کرتا جس کو دیکھا نہ ہو۔"

حیران ہوں کہ اللہ قرآن میں فرماتا ہے:

لا تدرکه الابصار ویدرک الابصار

"یہ آنکھیں خدا کو نہیں دیکھتیں بلکہ خدا ان آنکھوں کو دیکھتا ہے۔"

آپ نے فرمایا کہ میں ۱ خدا کو دیکھا‘ تبھی اس کی عبادت کرتا ہوں۔

اس وقت مولا نے فرمایا‘ یہ آنکھیں خدا کو نہیں دیکھتیں بلکہ یں نے اپنے دل کی آنکھوں‘ قلب کی آنکھ سے خدا کو دیکھا ہے۔

تو پوچھا گیا‘ جب آپ نے اپنے دل کی بصیرت‘ قلب کی آنکھ سے خدا کو دیکھا ہے تو کیسا پایا؟

تو حضرت فرماتے ہیں:

میں نے خدا کو ایسا پایا کہ چیز سے پہلے خدا تھا‘ ہر چیز کے بعد بھی خدا ہے اور ہر چیز کے بعد خدا ہی رہے گا۔

یہ عبادت ہے مولا کی‘ ہم اس مولا کے ماننے والے ہیں‘ ہماری توجہ اس مولا کی طرف ہوتی ہے‘ ہم مولا کو حل مشاکل کہتے ہیں‘ مشکل کشا عالم کہتے ہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہماری عبادت مولا کی طرح ہو‘ لیکن مولا فرماتے ہیں کہ کم از کم ہمارے راستے پر چلنے کی کوشش کرو۔

یہ تھا مولا کا فرمان۔

اب آپ کا مولا حسین(علیہ السلام)۔ حسین(علیہ السلام)کی عبادت کس طرح تھی؟ حسین(علیہ السلام)نے بھی یہی فقرہ کہا ہے‘ جو بابا نے کہا تھا‘ لیکن تھوڑا سا تبدیل کر دیا‘ تاکہ باپ بیٹے میں فرق تو ہو جائے۔

بابا نے کیا کلمہ کہا‘ بیٹے ۱ نے کیا کلمہ کہا۔

حسین(علیہ السلام)کہتے ہیں‘ خداوند کو مخاطب کر کے:

خدایا! تو محسن ہے‘ کب غائب ہوا کہ کسی رہبر کی ضرورت پڑے‘ کوئی رہبری کرے۔ خدایا! تو کب دور ہوا کہ تیری طرف پہنچنے کے لئے کسی وسیلے کی ضرورت ہو نہیں‘ نہیں‘ تیری ذات غائب نہیں‘ تیری ذات دور نہیں‘ تیری ذات بہت قریب ہے‘ تیری ذات شہ رگ سے بھی قریب ہے۔"

اس کے بعد حسین(علیہ السلام)نے ایک کلمہ کہا۔

حسین(علیہ السلام)کے بابا نے کہا:

لم اعبدن لم اراه

"میں کبھی ایسے خدا کی عبادت نہیں کرتا‘ جس کو میں نے دیکھا نہ ہو۔"

لیکن حسین(علیہ السلام)نے عجیب کہا:

"خدایا! جو آنکھ تجھے دیکھتی نہیں وہ اندھی ہے۔"

اور یہ کلمہ حسین(علیہ السلام)نے کربلا کے میدان کہا:

ترکت الخلق فی هواک و ایتمت عیالی لکی اراک

"خدایا! تیری محبت میں‘ میں ۱ نے ساری مخلوق کو چھوڑ دیا‘ تیری محبت میں‘ میں ۱ نے بچوں کو چھوڑ دیا‘ تیری محبت میں‘ میں ۱ نے بھتیجوں کو چھوڑ دیا‘ تیری محبت میں‘ میں ۱ نے اصحاب کو چھوڑ دیا‘ خدایا میں ۱ نے اپنے بچوں کو یتیم کیا۔"

یہ ہے حسین(علیہ السلام)کی عبادت۔ علی (علیہ السلام)کہہ رہے ہیں کہ میں ایسے رب کی عبادت نہیں کرتا جس کو دیکھا نہ ہو۔

حسین(علیہ السلام)کہہ رہے ہیں:

"اندھی ہو جائے وہ آنکھ جو خدا کو نہ دیکھے۔"

حسین(علیہ السلام)کی توجہ ہر وقت خدا کی طرف ہوتی تھی۔ حسین(علیہ السلام)کہہ رہے تھے ‘خدایا! میں نے سب چیزوں کو چھوڑا‘ تیری محبت میں بچوں کو یتیم کیا‘ کیوں نہ تیرا دیدار کروں؟ حسین(علیہ السلام)جا رہے ہیں‘ کربلا کو۔

منادی والا منادی کر رہا ہے کہ یہ لوگ موت کی طرف جا رہے ہیں لیکن موت ان کے آگے آگے جا رہی ہے۔

روایت میں ہے کہ حسین(علیہ السلام)کی آنکھوں میں آنسوؤں کی نمی ہے۔ علی اکبر دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں‘ بابا آپ گریہ کر رہے ہیں:

حسین(علیہ السلام)فرماتے ہیں‘ بیٹا! منادی یہ ندا کر رہا ہے کہ یہ لوگ جا رہے ہیں‘ لیکن موت ان کے آگے جا رہی ہے۔

کیا کہنا علی اکبر کا۔

بابا گھبرانے کی کیا ضرورت ہے‘ کیا ہم حق پر نہیں؟

موت ہم پر آ پڑے یا ہم موت پر

لوگو! میں مرنے کے لئے جا رہا ہوں‘ تمام صحابی جمع ہیں‘ تمام اقرباء جمع ہیں۔

دو آدمی دوڑے دوڑے آ رہے ہیں۔ ایک آدمی نے کہا‘ لگتا ہے یہ بنی اسد کے آدمی ہیں۔ مولا نے ان سے پوچھا کوئی خبر ہے؟

انہوں نے کہا‘ مولا خبر ہے‘ لیکن آپ کو تنہائی میں بتائیں گے۔

مولا نے فرمایا‘ میں نے کوئی پردہ نہیں کیا‘ میں نے کوئی چیز چھپائی ہوئی نہیں‘ جو خبر دینی ہو دے دو۔

ان لوگوں نے کہا:

مولا ہم دیکھ کر آئے ہیں‘ مسلم بن عقیل قتل ہو چکے ہیں۔

حضرت نے پوچھا‘ مسلم بن عقیل کو کس طرح قتل کیا گیا؟

انہوں نے عرض کی کہ ہم نے دیکھا جب مسلم زخمی ہو گئے تو مسلم نے پانی مانگا۔

ایک نے کہا‘ یہ انسان ہے اسے پانی دے دو۔

پانی میں خون آ گیا۔

دوبارہ۔

تیسری مرتبہ‘ اب جو مسلم نے پانی کی طرف توجہ کی تو ان کے اگلے دونوں دانت پانی میں گر گئے۔

مسلم نے کہا:

یہ پانی میری قسمت میں نہیں۔

میں عرض کروں گا:

مسلم تو حسین(علیہ السلام)کا سفیر ہے‘ حسین(علیہ السلام)تین دن کا پیاسا کربلا میں شہید ہو گا تو کس طرح پانی پئے گا؟

مسلم کے بدن کو چھت کے اوپر لے جایا گیا اور وہاں سے نیچے پھینک دیا گیا۔

ہم نے دیکھا ہے کہ لوگوں کے ہاتھ میں رسی ہے جو مسلم کی گردن میں بندھی ہوئی ہے اور بازاروں‘ درباروں میں پھیرایا جا رہا ہے۔

اس کے بعد امام حسین(علیہ السلام)نے اپنے صحابہ ساتھیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

میں جان دینے جا رہا ہوں‘ حکومت لینے نہیں جا رہا‘ جس نے میرے ساتھ جانا ہے جائے۔

حضرت اپنے گھر تشریف لائے‘ خاموشی طاری ہے‘ آتے ہی زمین پر بیٹھ گئے۔

بہن نے دیکھا‘ کہنے لگی‘ عجیب بات ہے کیا ہوا؟

فرمانے لگے:

بہن زینب (علیھا السلام)میری دونوں بچیوں کو بلاؤ‘ مسلم کی بچیوں کو بلاؤ۔ مسلم کی بچیاں جب آئیں‘ حسین(علیہ السلام)نے ایک کو دائیں زانو پر بٹھایا اور دوسری کو بائیں زانو پر‘ دونوں کی پیشانی چوم رہے ہیں‘ بال چوم رہے ہیں‘ دونوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیر رہے ہیں‘ جب ہاتھ پھیر رہے تھے تو دونوں بچیاں کہتی ہیں:

مولا لگتا ہے‘ کہیں ہم یتیم تو نہیں ہو گئیں؟

کہیں ہمارا باپ مارا تو نہیں گیا؟

مولا نے کہا‘ یتیموں کے سر پر ایسا شفقت کا ہاتھ پھیرا جاتا ہے۔ میری بچیو! گھبراؤ نہیں‘ میں ۱ تمہارا باپ ہوں‘ اکبر تمہارا بھائی‘ اصغر تمہارا بھائی ہے‘ قاسم تمہارا بھائی ہے‘ روتے روتے عجیب حالت ہو گئی‘ روتے روتے کہنے لگے:

زینب (علیھا السلام)ان بچیوں کا خیال رکھنا‘ اب یہ بچیاں یتیم ہو گئی ہیں۔

حسین(علیہ السلام)کا قافلہ چل رہا ہے‘ حسین(علیہ السلام)گھوڑے پر سوار تھے۔ ایک جگہ پہنچتے ہی حسین(علیہ السلام)کے گھوڑے نے چلنے سے انکار کر دیا‘ دوسرا گھوڑا بدلا‘ اس نے بھی چلنے سے انکار کر دیا‘ تیسرا بدلا اس نے بھی انکار کیا۔

یہ دو روایتیں ہیں:

ایک میں سات گھوڑے بدلے‘ ایک میں ہے کہ چار گھوڑے بدلے‘ بہرحال جب آخری گھوڑے پر آپ کا مولا سوار ہوا‘ دیکھا کہ گھوڑا حرکت نہیں کر رہا۔

فرمایا:

یہ تو بتاؤ اس جگہ کا نام کیا ہے؟

فرمایا:

هل لها اسم آخر؟

"کیا اس کا کوئی اور نام بھی ہے؟"

بتایا گیا کہ اس کو شط فرات بھی کہتے ہیں۔

حضرت نے فرمایا:

کوئی اور نام؟

عرض کیا گیا‘ مولا اسے نینوا بھی کہتے ہیں۔

پھر مولا نے پوچھا:

هل لها اسم آخر؟

"کیا اور نام بھی ہے؟"

بتایا گیا کہ

اسمھا کربلا

جب کربلا کا نام آیا تو امام (علیہ السلام)نے فرمایا:

کہ یہ ہمارے اترنے کی جگہ ہے۔

حضرت اپنے ساتھیوں کو بتا رہے تھے کہ ایسی ہوا آئی کہ

حضرت گھر گئے‘ ایسی حالت ہوئی کہ بہنیں اپنے بھائی کو نہ دیکھ سکیں

حسین(علیہ السلام)ہوا کے بگولے میں گھر گئے‘ جب بگولا ہٹا دونوں بہنیں دوڑ کر آئیں اور بھائی کے گلے سے لپٹ گئیں۔ کلثوم (علیھا السلام)نے کہا‘ بھیا! یہ کیسی ہوا تھی؟ یہ جگہ بڑی خطرناک ہے۔

مولا نے کہا:

یہ وہی جگہ ہے جہاں ہماری شہادت ہو گی‘ جہاں ہم پر پانی بند ہوگا‘ یہ وہی جگہ ہے جہاں اکبر و اصغر شہید کر دیئے جائیں گے‘ یہ وہی جگہ ہے جہاں مجھ غریب کو تیروں‘ تلواروں سے شہید

اتنی دیر میں حسین(علیہ السلام)کے سینے پر سونے والی تین سالہ بچی حسین(علیہ السلام)کے پاس آئی‘ کہنے لگی:

بابا‘ میری خواہش ہے

آپ زمین پر بیٹھ گئے‘ بچی آپ کے زانو پر آ بیٹھی‘ جب بیٹھ چکی تو کہا:

بابا! ذرا اپنا ہاتھ اٹھا کر میرے سر پر شفقت سے پھیریں۔

حسین(علیہ السلام)نے ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا:

بیٹی ایسا کیوں کیا؟

بابا! میں نے منزل زبالہ یہ دیکھا تھا کہ مسلم کی بیٹیوں کے سروں پر آپ نے شفقت کا ہاتھ پھیرا تھا بابا مجھے یقین ہو گیا ہے کہ میں بھی یتیم ہو جاؤں گی۔

حسین(علیہ السلام)نے کہا:

بیٹی در چھن جائیں گے تو صبر کرنا۔

بیٹی طمانچے لگ جائیں تو صبر کرنا۔

بیٹی چادر چھن جائے تو صبر کرنا۔


مجلس سوم

بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم

( ایاک نعبد و ایاک نستعین )

عزیزان گرامی!

انسان بارگاہ رب العزت میں یہ اقرار کر رہا ہے‘ دعویٰ کر رہا ہے‘ اے خدا! میرا سر فقط تیرے سامنے خم ہو گا‘ فقط تیری ہی عبادت کرے گا‘ تیرے علاوہ کسی اور کی عبادت نہیں کرے گا۔ اسی دعویٰ کے بارے میں پارہ نمبر ۱۵ میں ارشاد ہو رہا ہے

وقضی ربک الا تعبد والا ایاه و بالوالدین احسانا

"اٹل فیصلہ ہے کسی اور کے سامنے نہیں جھکے گا انسان"

وقفیٰ خدا کا اٹل فیصلہ ہے کہ عبادت صرف اسی کی ہو سکتی ہے‘ سر تسلیم اس کے سامنے خم ہو گا۔ اس کے علاوہ کسی اور کے سامنے سر نہیں جھکنا چاہئے۔ اسی عبادت کے ساتھ ساتھ ہمیں خدا ایک اور حکم دیتا ہے۔ انسان اس حکم کو دیکھ کر حیران ہوتا ہے کہ کہاں عبادت خدا اور کجا یہ حکم۔

ارشاد ہوتا ہے‘ خدا کا اٹل فیصلہ ہے اس کی عبادت کرو اور خدا کا اٹل فیصلہ ہے کہ

و بالو الدین احسانا

"اپنے والدین کے ساتھ احسان کرو۔"

یعنی اپنی عبادت اور والدین کے ساتھ احسان‘ خدا نے دونوں کو اکٹھا بیان کیا ہے‘ دونوں کے لئے اکٹھا جملہ کہا گیا ہے‘ دونوں کے لئے ایک جملہ ہے کہ اس کی عبادت کرو اور والدین کے ساتھ احسان کرو۔

اس لئے فرمایا کہ دنیا میں رہنے والا جو شخص اپنے محسن کا شکریہ ادا نہیں کرتا‘ حالانکہ ان کے احسان کو دیکھ رہا ہے‘ اس کے باوجود ان کے ساتھ بھلائی‘ اچھائی سے پیش نہیں آتا‘ ان کی عزت نہیں کرتا‘ تعظیم سے پیش نہیں آتا۔

خداوند عالم نے والدین کا درجہ بہت بلند فرمایا ہے کہ اپنی عبادت کے ساتھ والدین کے ساتھ احسان کا حکم دیا ہے۔

اور کہا‘ دیکھو

اما ببلغن عندک الکبر احد هما او کلاهما

"اگر والدین میں سے ایک بوڑھا ہو جائے تو کبھی والدین کے سامنے اُف تک نہ کہو۔"

یعنی کہ والدین کی توہین کرے یا ان کی بات نہ مانے بجائے اس کے کہ خدا فرماتا ہے کہ ان کے سامنے اُف تک نہ کہو اور اس کے ساتھ دلیل یہ دی گئی کہ دیکھو انہوں نے تیری پرورش کی‘ جب تو بچہ تھا تیری تربیت کی‘ رات دن تیرے لئے ایک کیا‘ ہر قسم کا آرام تجھے پہنچایا‘ خود تکلیف برداشت کرتے رہے‘ لیکن تجھے کسی قسم کی تکلیف نہیں دی۔ اب ان کو تیری ضرورت ہے‘ اب ان کو تیری خدمت کی ضرورت ہے‘ جس طرح انہوں نے تیری پرورش‘ تیری تربیت کی ہے‘ اسی طرح تجھے چاہئے کہ بڑھاپے میں ان کی خدمت کرے‘ ان کی اطاعت کرے اگر تو ایسا کرے گا تو یہ معمولی سا ان کی خدمت کا بدلہ ہو گا‘ احسان اتار نہیں سکتا۔

انسان کہہ رہا ہے خدایا! میں تیرے آگے تیرے سامنے جھکوں گا‘ تیرے علاوہ کسی اور کے سامنے نہیں جھکوں گا۔

سامعین گرامی!

دو طرح کی شخصیتیں پائی جاتی ہیں‘ کچھ ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے ساری زندگی ایسی عبادت کی کہ اول زندگی سے لے کر آخر زندگی تک کبھی کسی کے سامنے سر نہیں جھکایا‘ خدا کے علاوہ کبھی کسی کے سامنے سر خم نہیں کیا۔ انہیں مال کی ضرورت تھی‘ نہ دوست احباب کے سامنے جھکے نہ کسی بڑی شخصیت کے سامنے جھکے‘ ان کی توجہ صرف اور صرف خدا کی طرف تھی۔

دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی زندگی میں کافی حصہ خدا کے سامنے نہیں جھکتے‘ بتوں کے سامنے جھکتے رہے اور جب بھی کبھی جھکے تو اپنی خواہشات کی خاطر جھکے‘ کبھی دوست احباب کے پیچھے لگ گئے‘ کوئی مال و دولت کی خواہش میں جھک گئے‘ مختلف چیزوں کے سامنے جھکتے رہے۔ جس طرح خدا کے سامنے جھکنا تھا وہ نہیں جھکے۔

تو اب دو قسم کے لوگ ہیں‘ کچھ لوگ ایسے ہیں جو خدا کے علاوہ کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکتے حتیٰ کہ اپنی خواہشات کے سامنے بھی کبھی نہیں جھکتے اور دوسری قسم کے لوگ وہ لوگ ہیں جو اپنی زندگی کا کافی حصہ بتوں کی پرستش کرتے رہے اور جب بھی خدا کے سامنے جھکے اپنی مطلب براری کیلئے

دوسرے لوگ ایسے ہیں جو خدا کے علاوہ غیر خدا کی پوجا کرتے رہے۔ تو جب یہ دو قسم کے گروہ ہو گئے تو خداوند عالم دونوں کا تذکرہ قرآن میں فرما رہا ہے

افمن یهدی الی الحق احق ان یتبع امن لا یهدی

ایک طرف وہ لوگ ہیں جو حق کی پیروی کرتے ہیں‘ حق کی طرف ہدایت کرتے ہیں‘ حق کی طرف رہبری کرتے ہیں‘ حق کا راستہ دکھاتے ہیں۔ ہمیشہ خود حق کے مطابق چلتے رہے‘ ان کی خواہش ہے کہ تم بھی حق کے مطابق چلو۔ ہمیشہ وہ حق کے پیروکار ہیں‘ وہ چاہتے ہیں‘ تم بھی حق کی پیروی کرو۔ حق کی پیروی سے کبھی انہوں نے انحراف نہیں کیا‘ وہ چاہتے ہیں‘ تم بھی کبھی حق کی پیروی سے انحراف نہ کرو۔ وہ بھی حق کے سامنے جھکتے رہے‘ حق کے علاوہ کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکے‘ وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی حق کے سامنے حق کے علاوہ کسی کے سامنے نہ جھکو۔

اس کے مقابلے میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ جن کو پتہ ہی نہیں کہ حق کیا ہے؟

جو ہدایت یافتہ ہی نہیں‘ خود ہدایت سے دور ہیں‘ جو لوگ خود ہدایت سے دور ہیں‘ وہ تمہیں ہدایت کیا کریں گے؟

جو خود حق سے دور ہیں‘ وہ تم کو حق تک کیسے پہنچائیں گے؟ جو لوگ خود ہدایت یافتہ نہیں‘ وہ رہبری کیا کریں گے؟ یہ لوگ غیر اللہ کے سامنے جھکتے رہے‘ ان کی پرستش کرتے رہے‘ ان کی فرمانبرداری کرتے رہے‘ بتوں کے سامنے جھکتے رہے‘ اپنی خواہشات کے سامنے جھکتے رہے‘ مال و دولت کے سامنے ان کا سر خم ہوتا رہا۔

اب یہ دو قسم کے لوگ ہیں‘ ایک وہ جو فقط حق کے سامنے جھکتے رہے‘ حق کی رہنمائی کرتے رہے۔ ایک وہ جنہیں حق کا علم ہی نہیں جنہیں معرفت ہی نہیں‘ حق کی جنہیں پہچان ہی نہیں

جو ہدایت یافتہ ہیں‘ دوسرے لفطوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک طرف وہ لوگ جو حق کی رہبری کرتے‘ بتوں کے توڑنے والے ہیں۔

دوسری طرف وہ لوگ ہیں‘ جن کو حق کا پتہ نہیں‘ لہٰذا وہ بتوں کے سامنے جھکنے والے ہیں۔ اب یہ دو قسم کے لوگ موجود ہیں۔

خداوند کریم قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے

فما لکم کیف تحکمون

اب بتاؤ تمہارا فیصلہ کیا ہے؟ کیا ان کی پیروی کرو گے؟ جنہوں نے حق کی پیروی نہیں کی‘ حق کی رہبری نہیں کی‘ جو ہدایت یافتہ نہیں اور بتوں کی پرستش کرنے والے ہیں۔ ان کے سامنے جھکو گے جنہیں خود پتہ نہیں کہ حق کیا ہے۔ جنہیں خود پتہ نہیں کہ ہدایت کیا ہے۔ جو خود بے ہدایتے ہیں‘ وہ تمہیں ہدایت کیا دیں گے؟ جو خود بتوں کے آگے جھکنے والے ہیں‘ وہ تمہیں کیا بتائیں گے؟ اب بتاؤ تمہارا فیصلہ کیا ہے؟ آیا ان کی طرف جاؤ گے؟

جو حق کی طرف جھکنے والے ہیں‘ حق کی طرف رہبری کرنے والے ہیں‘ بتوں کو توڑنے والے ہیں یا ان کے سامنے جھکو گے جو بتوں کے سامنے ہاتھ جوڑنے والے ہیں۔

تم بتلاؤ تمہارا فیصلہ کیا ہے؟

خدا اپنی طرف سے فیصلہ نہیں کر رہا‘ پوچھ رہا ہے‘ تم بتاؤ تمہارا فیصلہ کیا ہے؟

کیا ان کی طرف جاؤ گے جو خواہشات کی پیروی کرتے ہیں؟ ہم اگرچہ توحید کے قائل ہیں‘ لیکن اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں‘ خدا کے حکم کی پرواہ کم کرتے ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو خدا کے حکم کی پیروی نہیں کرتے تھے‘ حکم خدا پر نہیں چلتے تھے‘ خدا کی نہیں ان کی توجہ غیر خدا کی طرف ہوتی تھی‘ انہیں کا تذکرہ قرآن مجید میں ہو رہا ہے۔

ارشاد ہوتا ہے

"اے میرے بندے! کبھی ایسے لوگوں کی اطاعت نہ کرنا جو میرے ذکر سے غافل ہیں۔ ان کی توجہ میری یاد کی طرف نہیں‘ ان کی توجہ میرے ذکر کی طرف نہیں‘ وہ مجھ سے غافل ہیں‘ کبھی ان کی اطاعت نہ کرنا۔"

جو میرے ذکر سے غافل ہیں‘ وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں‘ وہ حد سے زیادہ تلاوت کرتے ہیں‘ جو لوگ خود خدا سے غافل ہیں‘ جن کی توجہ خدا کی طرف نہیں‘ ان کی اطاعت نہیں کرنی چاہئے۔ وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور حق کی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں۔

دوسری طرف ارشاد ہوا

من تبع هواه

"جو شخص اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے‘ وہ تباہ ہو جاتا ہے‘ وہ خدا کا بندہ کہلانے کا حق دار نہیں۔"

تیسری جگہ ارشاد ہوتا ہے

"کتنا گمراہ ہے وہ شخص جو اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے۔"

حالانکہ خدا نے اسے اس لئے نہیں بنایا تھا کہ وہ اپنی خواہشات کے مطابق چلے‘ خدا کی یہ ہدایت نہیں تھی کہ اپنی خواہشات کے مطابق چلے۔

یہ کس کی بات ہوئی؟ جو اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے‘ خواہشات کے مطابق چلتا ہے‘ یہ خواہش کے پیچھے چلنا کوئی معمولی چیز نہیں۔

قرآن کے تئیسویں پارہ میں ذکر کیا گیا ہے

"میرے حبیب! ان لوگوں کو نہیں دیکھ رہا کہ انہوں نے خواہش کو خدا بنا لیا ہے۔ کیا اس میں کوئی شک ہے؟ جو یہ کہتے ہیں کہ خواہش میرا خدا ہے۔"

کیا کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ میں خواہش کی پیروی کرتا ہوں‘ خواہش کو خدا سمجھتا ہوں؟ کوئی شخص یہ کہنے کو تیار نہیں۔

انسان کی خواہشات یہ ہیں کہ خواہش کے مطابق عمل ہو۔

خدا کہتا ہے کہ اس کے حکم پر عمل ہو۔

جب انسان احباب اور خدا کے حکم کی تعمیل کا ٹکراؤ ہو جائے‘ انسان کے دوست یہ چاہتے ہیں کہ تم یہ کام کرو۔

خدا چاہتا ہے کہ انسان اس طرح کام کرے‘ جب انسان کے مال و دولت اور خدا کے حکم کے درمیان ٹکراؤ ہو جائے۔

دیکھئے خداکچھ چاہتا ہے۔ معاشرہ‘ دوست‘ احباب‘ انسانی خواہشات کچھ چاہتی ہیں۔ فیصلہ کیسے ہو گا؟ اگر ہم خدا کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں‘ دوست احباب کی خواہشات کو ٹھکرا دیتے ہیں‘ اپنی خواہشات کو ٹھکرا دیتے ہیں‘ جیسے خدا کا حکم ہے اس کے مطابق چلتے ہیں تو

اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم خدا کے عبد ہیں۔

ہم خدا کے غلام ہیں۔

ہم خدا کے بندے ہیں۔

لیکن اگر خدا کے حکم کو ٹھکرا دیا‘ اپنی خواہشات پر عمل کیا‘ خدا کے حکم کو ٹھکرا دیا‘ دوست احباب کے کہنے پر عمل کیا‘ خدا کے حکم کو ٹھکرا دیا۔

زبان سے تو ہم کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بندے ہیں‘ لیکن ہمارا عمل گواہی دے رہا ہے کہ ہم خدا کے بندے نہیں۔

بلکہ اپنی خواہش کے پیرو ہیں۔ صلواة

اسی لئے ارشاد ہو رہا ہے

ارایت من اتخذاله هواه

کیا دیکھ نہیں رہا کہ اپنی خواہش کے مطابق چل رہا ہے‘ اس کا عمل گواہی دے رہا ہے‘ دوستوں کی محفل میں بیٹھا ہے۔

ادھر منادی ندا دے رہا ہے

حی علی الصلوٰة‘ حی علی الفلاح

دوست احباب کہتے ہیں کہ نماز میں ابھی بڑا وقت پڑا ہے‘ پڑھ ہی لیں گے۔ اب دوست احباب کی محفل کو نہیں چھوڑتا۔

کیونکہ دوست احباب کی محفلیں کبھی کبھی ہوتی ہیں‘ نماز پانچ وقت پڑھنی پڑتی ہے۔

اب ٹکراؤ آ گیا دوست احباب کی محبت اور خدا کی محبت میں۔

اگر ہم نے محفل ترک نہ کی‘ نماز نہ پڑھی‘ منادی کی ندا کو نظرانداز کر دیا تو یاد رکھئے زبانی تو ہم کہہ رہے ہیں۔

خدایا! ہم تیرے بندے ہیں‘ لیکن ہمارا عمل اس کی گواہی کی نفی کر رہا ہے۔ ہم تیری عبادت کرتے ہیں‘ ہمارا سر تیرے سامنے ہی جھکے گا‘ لیکن عملی طور پر ہمارا سر تیرے سامنے نہیں جھکا‘ ہمارا سر دوست احباب کے سامنے جھک رہا ہے‘ ہمارا سر معاشرے کے سامنے جھک رہا ہے۔ جس طرح معاشرہ چلتا ہے‘ ہم اسی طرح چلتے ہیں۔

خدا کہتا ہے کہ یہ کام کرو گے تو گنہگار ہو جاؤ گے۔ رسول اللہ کہتے ہیں گناہ ہے‘ امام (علیہ السلام)کہتے ہیں گناہ ہے‘ اہل بیت (علیھم السلام)کہتے ہیں گناہ ہے‘ لیکن ہم پھر بھی اس گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔

انسان کہتا ہے‘ میں نے معاشرے میں رہنا ہے‘ میں معاشرے کی مخالفت کس طرح کروں؟ میری بیوی نہیں مانتی یا میرے بچے نہیں مانتے یا میرے خاندان والے نہیں مانتے‘ میرے سسرال والے نہیں مانتے۔

اب ظاہر ہے ایک طرف معاشرہ ہے جو سب کو مجبور کر رہا ہے‘ دوسری طرف حکم خدا ہے‘ حکم رسول اللہ ہے‘ اہل بیت (علیھم السلام)کا حکم ہے‘ آئمہ معصومین ۱ کا حکم ہے‘ حسین(علیہ السلام) ابن علی (علیہ السلام)کا حکم ہے۔ اب جب ٹکراؤ ہو گا تو فیصلہ ہو گا کہ ہم کس کے بندے ہیں؟ اسی وقت یہ فیصلہ ہو گا کہ ہم کس کے عبد ہیں؟ کس کے غلام ہیں؟

ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ اے اللہ! ہم تیرے سامنے جھکیں گے‘ تیرے علاوہ کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے‘ ہمارا سر فقط تیرے سامنے خم ہو گا‘ کسی اور کے سامنے نہیں۔ اگر اس معاملے میں ہم معاشرے کے سامنے جھک گئے‘ اپنے خاندان کے اسمنے جھک گئے تو خدا کے حکم کو ٹھکرا دیا‘ رسول اللہ کے حکم کو ٹھکرا دیا۔

زبان سے تو ہم اقرار کر رہے ہیں کہ ہم خدا کے بندے ہیں‘ لیکن عملی طور پر ہم معاشرے کے بندے ہیں‘ معاشرے کے غلام ہیں‘ خدا کے غلام نہیں ہیں۔

دوستو!

انسان کو اپنی خواہشات کے مطابق عمل نہیں کرنا چاہئے‘ بلکہ جیسے حخم خدا ہے‘ حخم خدا کے مطابق عمل کرنا چاہئے‘ کیونکہ انسان دعویٰ تو یہی کرتا ہے کہ میں تیرے سامنے جھکوں گا‘ تیرے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکوں گا۔

لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان حکم خدا پر عمل کرے‘ دوسری تمام چیزوں کو چھوڑ دے۔ یہ اس وقت ہی ممکن ہے‘ جب انسان کی روحانیت بلند ہو گی‘ مادیت میں غرق نہ ہو جائے‘ مال و دولت یا دوسری چیزوں کی محبت اتنی نہ ہو جائے کہ محبت خدا کو ٹھکرا دے۔

روحانیت بلند ہو جائے‘ روحانیت کو اپنے سر کا تاج بنائے‘ مادیت کو اپنے پیروں تلے روندے‘ تبھی وہ حکم خدا پر عمل کرے گا‘ خدا کے سامنے جھکے گا‘ خدا کے علاوہ کسی اور کے سامنے نہیں جھکے گا۔

کل بھی عرض کیا تھا کہ انسان کی عظمت کا دار و مدار اس کے بدن پر ہے۔ ہمارا بدن بڑا خوبصورت ہے۔

خدا نے اس بدن کو پیدا کرنے کے بعد فرمایا

تبارک الله احسن الخالقین

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری عظمت بدن کی وجہ سے ہے‘ ہماری عظمت خوراک کھانے کی وجہ سے‘ ہماری عظمت کپڑے پہننے کی وجہ سے ہے۔

ہماری عظمت خوراک کی وجہ سے نہیں‘ اس لئے کہ خوراک تو اندر جاتی ہے۔ جانور حیوانات اور انسان میں کیا فرق رہ گیا؟

انسان کی عظمت اس کی روحانیت کی وجہ سے ہے۔ جتنی اس کی روح بلند ہوتی جائے گی‘ انسان اتنا ہی بلند ہوتا جائے گا۔

اس کی روحانیت جتنی پست ہوتی جائے گی‘ انسان اتنا ہی پست ہوتا جائے گا۔

روحانیت بلند ہو تو اس کا درجہ اتنا بڑا ہو جائے کہ فرشتے اس کی خدمت کرتے ہوئے نظر آئیں۔

روحانیت پست ہو جائے تو درجہ اتنا کم ہو جائے گا کہ انسان کیا جانوروں سے بھی بدتر ہو جائے گا۔

سارا دار و مدار ہے روح پر‘ روح کی خصوصیتیں آپ کے سامنے بیان کی جا رہی ہیں

ذکر کیا گیا تھا کہ انسان کی روح انسان سے پہلے انسان بعد میں پیدا ہوا۔ انسان کی روح کو علم ہے کہ اس کے بدن میں کیا کچھ ہے‘ بدن کے تمام کمالات کا علم ہے‘ تمام اعضاء کا علم ہے۔

تیسری چیز کیا ہے؟

بدن پر روح کا کنٹرول۔

کہ جیسے وہ چاہے بدن کو چلائے۔ ہاتھ کو حکم دے تو ہاتھ چلنا شروع کر دیتے ہیں‘ زبان کو حکم دے زبان بولنا شروع کر دیتی ہے‘ آنکھوں کو حکم دے آنکھیں دیکھنا شروع کر دیتی ہیں‘ بلکہ روح کو کہنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی‘ ادھر کوئی خواہش ہوئی اعضاء خود بخود کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

تو جیسے انسان کی روح انسان سے پہلے ہے‘ انسان کی روح انسان کی عالم ہے‘ انسان کی روح انسان کی حاکم ہے۔

میں نے عرض کیا تھا کہ پوری کی پوری کائنات آسمان و زمین بمنزلہ ایک بدن کے لئے‘ بمنزلہ ایک جسم کے لئے‘ اس کائنات کے لئے بھی ایک روح کی ضرورت ہے اور وہ روح ہے حقیقت محمدیہ۔

روح کی وجہ سے یہ کائنات زندہ ہے‘ روح جس کی بدولت یہ ہر چیز زندہ ہے اور آج ذکر حسین(علیہ السلام)کر رہے ہیں‘ اس روح کو عالم کلی کی روح کہتے ہیں۔ پوری کائنات کی روح‘ روح عالم کلی کہلاتی ہے۔

سامعین گرامی!

پچھلی مجلس میں ذکر کیا تھا کہ روح عالم کلی حقیقت محمدیہ ۱ کا نام ہے۔ انسان کی روح‘ روح جزوی کہلاتی ہے۔

اب صرف ایک چیز رہ گئی جو بیان کرنی ہے۔ جیسے انسان کی روح انسان کے بدن کی حاکم ہے‘ اس روح کو مکمل کنٹرول ہے بدن پر‘ اس طرح اس پوری کائنات کی روح جس کو حقیقت محمدیہ ۱ تعبیر کیا گیا ہے‘ حاکم ہے پوری کائنات پر۔ کائنات کی ہر شے اس کے قبضہ قدرت میں ہے‘ کائنات کی جس چیز سے تصرف چاہے‘ جس وقت چاہے‘ جس حالت میں چاہے ان کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

جیسے میری روح میرے بدن پر حاکم ہے‘ جس طرح چاہے میرے بدن کو چلائے۔

جس طرح آپ کی روح آپ کے بدنوں پر حاکم ہے‘ جس طرح چاہے آپ کے بدنوں کو چلائے۔

اسی طرح تمام کائنات پر حقیقت محمدیہ حاکم ہے‘ زمین پر حاکم ہے‘ زمین پر جتنی چیزیں ہیں ان پر حاکم ہے۔

جیسے ہماری روح کے سامنے بدن کا کوئی جز ایسا نہیں جو انکار کرے‘ اسی طرح پوری دنیا میں پوری کائنات میں حقیقت محمدیہ ۱ جس طرح چاہے کائنات کو چلائے‘ کوئی بھی چیز ان کے حکم کے بغیر نہ چلے۔

صلواة

مثال کے طور پر

زمین پر حقیقت محمدیہ حاکم ہے‘ زمین پر محمد و آل محمدحاکم ہیں‘ زمین کی ہر چیز پر ان کی حکومت ہے۔ زمین کے راستے لوگ طے کرتے ہیں‘ مختلف ذرائع سے‘ لیکن۔

محمد و آل محمدکی یہ خصوصیت یہ ہے کہ سینکڑوں میلوں کا راستہ کسی کو طے کرانا چاہیں تو لمحہ بھر میں کروا سکتے ہیں۔

ایک واقعہ بیان کرتا چلوں جس میں عبرت بھی ہے اور حکمت و دانائی بھی اور واقعہ بھی سچا۔

امام موسیٰ کاظم کے زمانے کی بات ہے کہ علی ابن بفطین‘ حاکم کا وزیراعظم امام (علیہ السلام)کے دربار میں حاضر ہوا۔

غور سے سنیں ایک انسان جسے کوئی عہدہ مل جائے تو وہ بڑا افسر بن جاتا ہے‘ اس کا دماغ خراب ہو جاتا ہے‘ وہ سمجھتا ہے کہ میں بہت بڑا ہو گیا ہوں۔

حکومت کا وزیراعظم!

اتنی بڑی حکومت کا وزیراعظم‘ اس وقت مسلمانوں کی ایک ہی حکومت تھی‘ اس کا وزیراعظم امام (علیہ السلام)کے دربار میں حاضر ہونا چاہتا ہے۔ دستک‘ دق الباب کرتا ہے‘ تین دن دق الباب کرتا رہا۔ پریشان ہے کہ کسی طرح امام (علیہ السلام)تک پیغام پہنچ جائے‘ مگر امام (علیہ السلام)فرماتے ہیں‘ اس نے ہمارے ماننے والے کا کام نہیں کیا۔

کہاں ایک اونٹ والا‘ کہاں وزیراعظم۔

لیکن امام (علیہ السلام)کی نظر میں سب برابر ہیں۔

امام (علیہ السلام)نے فرمایا

میرے پاس ابراہیم جمال آیا تھا‘ اس نے تمہاری شکایت کی کہ تم نے اسے ملاقات کا وقت نہیں دیا۔

وزیراعظم کہنے لگا

مولا ! وہ کس طرح یہاں آ سکتا ہے کہ میں اس سے معافی مانگ سکوں‘ سینکڑوں میل دور ہے یا میں اس کے پاس کیسے جا سکتا ہوں؟

امام (علیہ السلام)نے فرمایا

بھیجنا میرا کام ہے‘ معافی لینا تیرا کام۔

فرمایا آنکھیں بند کرو‘ ایک سیکنڈ کے لئے آنکھیں بند کرو‘ اب آنکھیں کھولو‘ جب آنکھیں کھولیں تو سینکڑوں میل کا راستہ ایک سیکنڈ میں طے ہو گیا۔

امام (علیہ السلام)نے اسے پہنچا دیا‘ اس کے دروازے پر پہنچا‘ دق الباب کیا‘ جب اسے پتہ چلا کہ وزیراعظم میرے دروازے پر تو وہ گھبرا گیا۔

وزیراعظم نے کہا‘ گھبراؤ نہیں‘ میں تم سے معافی مانگنے آیا ہوں یہ میری نہیں بلکہ میرے درباریوں کی غلطی ہے کہ تمہیں میرے پاس نہیں آنے دیا۔ میں معافی کا خواستگار ہوں‘ معاف کر دو۔

اس نے کہا میں نے تجھے معاف کیا‘ لیکن کیا کہنا مولائی کا۔

وزیراعظم کہتا ہے‘ میں اس طرح معافی نہیں لوں گا‘ کوئی نشانی دے۔

میں اپنا رخسار زمین پر رکھتا ہوں‘ دوسرے رخسار پر تو اپنا قدم رکھ تاکہ مہر لگ جائے اور امام (علیہ السلام)کو یہ مہر دکھا سکوں کہ میں نے معافی لے لی ہے۔

یہ ہے اتنی بڑی حکومت کا وزیراعظم۔ اس کے دل میں امام (علیہ السلام)کی محبت اس قدر ہے‘ امام (علیہ السلام)کی خوشنودی کے لئے اپنا رخسار زمین پر رکھ کر معافی مانگ رہا ہے تاکہ یہ مہر دیکھ کر امام (علیہ السلام)راضی ہو جائیں۔

ہمارے پاس مال و دولت ہوتا ہے‘ ہمارے پاس کوئی نعمت آ جائے تو ہم حیران ہوتے ہیں کہ اس نعمت کا شکریہ ادا کس طرح کریں۔ جتنی نعمتیں زیادہ ہوتی ہیں‘ اتنی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔

امام (علیہ السلام)کی حکومت زمین پر ہے کہ ایک شخص کو سینکڑوں میل کی مسافت ایک سیکنڈ میں طے کرا دی۔ اسی طرح امام (علیہ السلام)کی حکومت پہاڑوں پر بھی ہوتی ہے۔

امام رضا ‘ امام کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ امام وہ ہوتا ہے جس کو ہر چیز کا علم ہو۔ امام وہ ہے جس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہوتی۔ امام کلمة اللہ ہے‘ امام حجة اللہ ہے۔ امام متقی ہوتا ہے‘ امام پاکیزہ ہوت اہے۔

یہاں تک کہ امام وہ ہوتا ہے جس کو کنٹرول ہو‘ پوری زمین پر۔

امام پہاڑ کو اشارہ کرے‘ پہاڑ چلنا شروع کر دے۔

یہی کلمہ امام جعفر صادق نے فرمایا تھا کہ پہاڑ کا چلنا دیکھنا ہو تو اہل بیت (علیھم السلام)کو دیکھ کر مباہلہ میں دیکھو۔

پانچ تن پاک کی ہستیاں موجود ہیں‘ رسول اللہ موجود ہیں‘ حسن ۱ و حسین(علیہما السلام)موجود ہیں‘ فاطمہ زہرا (علیھا السلام)موجود ہیں‘ مولائے کائنات ۱ موجود ہیں۔ ابھی انہوں نے دعا کے لئے ہاتھ بلند نہیں کئے کہ عیسائیوں کا پادری یہ کہتا ہوا نظر آیا

"قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ پہاڑ کو حکم دیں تو پہاڑ چلنا شروع کر دے۔"

جمادات پر اہل بیت (علیھم السلام)کی حکومت ہے‘ دوسرا نمبر نباتات‘ نباتات پر اہل بیت (علیھم السلام)کی حکومت ہے۔

ایک شخص امام باقر ۱ کی خدمت میں حاضر ہوا‘ عرض کرتا ہے

ہم نے سنا ہے کہ جناب رسالتمآب جس درخت کو حکم دیتے وہ درخت اپنی جگہ چھوڑ دیتا تھا‘ کیا آپ بھی ایسا کر سکتے ہیں؟

آپ نے فرمایا‘ ہاں۔

اس نے کہا کہ آپ ایسا کر کے دکھائیں۔

امام (علیہ السلام)نے درخت کو حکم دیا‘ درخت دو ٹکڑے ہو گیا‘ ایک ٹکڑا امام (علیہ السلام)کے پاس آ گیا‘ دوسرا ٹکڑا اپنی جگہ پر کھڑا رہا۔

امام (علیہ السلام)نے دوسرے ٹکڑے کو حکم دیا‘ وہ پہلے والے حصے کے ساتھ آ کر مل گیا‘ پھر حضرت نے حکم دیا کہ پورا درخت جس جگہ پر پہلے تھا اپنی جگہ پر چلا جائے تو ایسا ہو گیا۔

حیوانات پر اہل بیت (علیھم السلام)کی حکومت ہے۔ مشہور واقعہ ہے کہ امام محمد تقی (علیہ السلام)کی دعوت کی گئی۔ دعوت میں بہت سے لوگ موجود ہیں‘ ابھی کھانے کے لئے ہاتھ نہیں بڑھایا تھا کہ خلیفہ وقت نے کہا کہ

"فرزند رسول! بسم اللہ فرمائیں‘ آپ ابتداء کریں ہم بعد میں کھا لیں گے۔"

فرزند رسول نے روٹی کا ٹکڑا اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ ایک شعبدہ باز نے روٹی کا ٹکڑا اٹھا لیا‘ امام خاموش ہو گئے۔ خلیفہ وقت کہتا ہے‘ آپ گھبرائیں نہیں روٹی بہت ہے اور لے لیں۔ امام (علیہ السلام)نے دوسری دفعہ ٹکڑا اٹؤانا چاہا تو ایک ہندی شعبدہ باز نے اپنے شعبدے کے ذریعے وہ ٹکڑا بھی اٹھا لیا‘ ایسا دوسری مرتبہ ہو رہا ہے۔ امام (علیہ السلام)ابھی تک کچھ نہیں کہہ رہے‘ حجت تب تمام ہوتی ہے جب تیسری دفعہ ایسا ہو‘ تو اب تیسری دفعہ ہاتھ بڑھایا تو اب کی بار بھی روٹی اٹھا لی گئی۔ اب لوگ خوش ہو رہے ہیں‘ مذاق کر رہے ہیں‘ ہنس رہے ہیں کہ فرزند رسول ۱ کی توہین ہو گئی۔ اب اس شعبدہ باز کو غضب دکھایا جاتا ہے‘ امام (علیہ السلام)نے دیکھا کہ قالین پر شیر کی تصویر بنی ہوئی ہے‘ امام (علیہ السلام)نے شیر کی طرف نظر کی‘ شیر کا مجسمہ نہیں تھا‘ جسم نہیں تھا‘ فقط تصویر بنی ہوئی تھی‘ امام (علیہ السلام)نے اس کی طرف اشارہ کر کے فرمایا

کن اسدالله خذ عدو الله

"اللہ کا شیر بن کے اللہ کے دشمن کو کھا جا۔"

امام (علیہ السلام)کی پیشانی پر نور علی (علیہ السلام)موجود تھا‘ نور رسول اللہ موجود تھا۔

جب عبدالمطلب آئیں گے‘ ہماری طاقت کو دیکھ کر گھبرا جائیں گے‘ ہاتھیوں کو انہوں نے آج تک دیکھا نہیں‘ انہیں دیکھ کر ڈر جائیں گے۔

عبدالمطلب آئے خوف زدہ نہیں ہوئے۔ جب ہاتھیوں کے پاس سے گزرے تو ہاتھیوں کے سردار نے جو سب سے بڑا تھا‘ عبدالمطلب کے پاؤں پر اپنا سونڈ رکر بھوسہ لیا اور بتا دیا کہ اگر نور محمد کسی میں موجود ہو تو ہاتھی اس کے پاؤں چومتے ہیں۔

ادھر ابراہہ سوچ رہا تھا کہ میری منت سماجت کریں گے کہ آپ یہاں سے چلے جائیں‘ جب اس نے ہاتھی والا ماجرا دیکھا تو حیران ہو کر کہنے لگا کہ میرے لائق کوئی خدمت ہے تو بتائیں‘ میں آپ کی خدمت کے لئے تیار ہوں۔

عبدالمطلب فرماتے ہیں

میری اونٹنی گم ہو گئی ہے‘ آپ لوگوں نے تو اسے نہیں پکڑا‘ میں نے وہ حاجیوں کے لئے رکھی ہے‘ کیونکہ مکہ والوں کو حکم دیا گیا ہے کہ جب حاجی آئیں تو انہیں لوٹنا نہیں بلکہ انہیں کھانا بھی کھلانا ہے۔

بنی ہاشم کی خصوصیت یہ تھی کہ چاہے ہزاروں کی تعداد میں حاجی آ جائیں‘ کھانا اپنی طرف سے دیتے تھے۔

آج کی حکومت اسلام کے پاسدار‘ اسلام کے ٹھیکدار ہیں‘ سبزی‘ مکان ہر چیز کے پیسے لیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہم اسلام کے ٹھیکیدار ہیں۔

تو میں عرض کر رہا تھا کہ میری اونٹنی تمہارے قافلے والوں نے پکڑ لی ہے‘ وہ چھوڑ دی جائے۔ ابراہہ حیرانی کے ساتھ کہنے لگا‘ میں تو سوچ رہا تھا کہ آپ بہت عقلمند ہیں‘ میں خانہ کعبہ گرانے آیا ہوں اور اس بارے میں بات کریں گے اور آپ کہہ رہے ہیں میری اونٹنی دے دو‘ آپ کو تو چاہئے تھا کہ آپ کہتے کہ خانہ کعبہ کا خیال کرنا‘ اسے کچھ نہ کہنا اور آپ خانہ کعبہ کی بات ہی نہیں کر رہے۔ کیا کہنے عبدالمطلب کے‘ ایمان کی بلندی کے‘ لوگ کہتے ہیں کہ یہ مسلمان ہی نہیں تھے‘ کافر تھے‘ لیکن ایمان کی بلندی دیکھیں‘ جناب عبدالمطلب کہتے ہیں

اے ابراہہ! مجھے میری اونٹنی واپس کر دے‘ خانہ کعبہ کا مالک خدا ہے‘ وہ جانے اور خانہ کعبہ ‘ وہ خود اس کی حفاظت کرے گا۔

اہل بیت (علیھم السلام)کی حکومت کائنات کی ہر چیز پر۔ انسان جو کسی وقت مغرور ہو جاتا ہے‘ تکبر کرتا ہے‘ سمجھتا ہے کہ مجھ پر کسی کی حکومت نہیں‘ خدا کی حکومت کا اسے خیال نہیں رہتا‘ لیکن ایسے مواقع آئے ہیں جہاں معجزہ کے طور پر بتایا گیا کہ اہل بیت (علیھم السلام)کی حکومت انسان پر اس قدر ہے کہ وہ انسان کی ماہیت و حقیقت کو بھی جانتے ہیں‘ انسان کی ماہیت کو تبدیل کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔

جیسے ایک مشہور واقعہ ہے

امام حسن ۱ خطبہ دے رہے ہیں‘ اس خطبہ میں اپنی عظمت بیان کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اے لوگو! تم میرا ساتھ نہیں دے رہے ہو‘ تم میرے ساتھ مل کر معاویہ کے ساتھ لڑنے کو تیار نہیں ہو‘ میں اہل بیت (علیھم السلام)کے ساتھ تعلق رکھتا ہوں‘ رسول کا نواسہ ہوں‘ اگر میں ۱ چاہوں تو خود بھی معاویہ کو تباہ کر سکتا ہوں‘ تمہاری ضرورت نہیں‘ لیکن یہ دنیا محل افترا ہے‘ یہاں جو کام کیا جاتا ہے ظاہری طور پر کیا جاتا ہے‘ اپنے اعجاز کے ذریعے نہیں۔ اگر میں ۱ چاہوں تو عراق شام ہو جائے اور شام عراق دونوں کو اس طرح پلٹ دوں۔ سبحان اللہ!

جن کے غلام جبرائیل ۱‘ ان کے اتنے پر ہیں کہ وہ چاہیں تو پورا شہر اپنے پروں پر اٹھا لیں‘ تو جب غلام میں اتنی طاقت ہے تو یہ تو ان کے مالک ہیں‘ آقا ہیں۔

فرماتے ہیں‘ اگر میں ۱ چاہوں تو شام کو اس طرح پلٹ دوں کہ کوفہ شام ہو جائے اور شام کوفہ۔ ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا کہ مولا آپ اتنا بڑا دعویٰ کیسے کر رہے ہیں؟ حضرت نے اسے کہا کہ تجھے شرم نہیں آتی عورت ہو کر مردوں کے مجمع میں کھڑی ہے۔ جب اس شخض نے اپنے بدن کی طرف نظر کی تو وہ واقعی عورت بن چکا تھا۔

مطلب یہ ہے کہ اہل بیت (علیھم السلام)کی حکومت انسانوں پر بھی اس قدر ہے کہ اگر چاہیں تو ان کی ماہیت بدل دیں۔ صلواة

امام حسین(علیہ السلام)کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہو کر کہتا ہے کہ مولا ! میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے‘ مولا مجھے مال چاہئے۔ اس کے پاس مال کافی تھا جیسے بعض کی عادت ہوتی ہے کہ جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے اسے خرچ نہیں کرتے۔ اس کے پاس بہت مال و دولت تھا‘ وہ مجھے نہ دے سکی اور فوت ہو گئی۔ مجھے علم نہیں کہ اس نے مال و دولت کہاں چھپایا ہوا ہے‘ میں جاننا چاہتا ہوں۔ آپ مہربانی فرما کر بحیثیت امام مجھے بتائیں کہ میری ماں نے مال و دولت کہاں رکھا ہے؟

حضرت نے ارشاد فرمایا کہ

"مجھ سے پوچھنا چاہتا ہے یا اپنی ماں سے۔"

وہ شخص کہنے لگا‘ مولا اگر ماں بتا دے تو کیا بات ہے۔

حضرت نے ارشاد فرمایا کہ

تو قبرستان چلا جا اپنی ماں کی قبر پر کھڑا ہو کر کہنا‘ اے ماں! حسین(علیہ السلام) ابن علی (علیہ السلام)کہہ رہے ہیں کہ زندہ ہو جاؤ۔

حضرت خود تشریف لے جاتے‘ پاؤں کی ٹھوکر مار کر کہتے "قم بازن اللّٰہ" تب مردہ زندہ ہوتا‘ مگر کیا کہنے علی (علیہ السلام)کے بیٹے حسین(علیہ السلام)کے‘ خود نہیں جا رہے‘ اسے بھیج رہے ہیں۔

وہ قبر پر پہنچا‘ اس نے ویسا ہی کیا جیسا امام (علیہ السلام)کا فرمان تھا‘ اس کی ماں زندہ ہو کر کھڑی ہو گئی۔ اس نے پوچھا کہ مال و دولت کہاں ہے؟ اس کی ماں نے بتایا کہ فلاں جگہ پر اور ایک حصہ خود رکھ لینا‘ دوسرا حصہ امام (علیہ السلام)کو دے دینا‘ وہ غریبوں‘ مسکینوں میں تقسیم کر دیں‘ تیسرا حصہ تجھے امام (علیہ السلام)کے ساتھ محبت ہے تو تو لے لے اگر نہیں تو وہ بھی بانٹ دے۔

اہل بیت (علیھم السلام)کی حکومت زمین کی تمام چیزوں پر ہے‘ نباتات پر حکومت‘ جمادات پر حکومت‘ حیوانات پر حکومت‘ انسان پر حکومت۔ صرف زمین پر ہی نہیں‘ آسمان کی چیزوں پر بھی حکومت۔

اہل بیت (علیھم السلام)اگر کبھی سفر پر ہوں‘ دوران سفر پاک رسول علی (علیہ السلام)کے زانو پر سر رکھ کر سو جائیں‘ کافی دیر آرام کرنے کے بعد آئیں‘ رسول اللہ اٹھتے ہیں‘ پوچھتے ہیں‘ اے علی (علیہ السلام)میرا سر تیرے زانو پر تھا‘ تو نے نماز پڑھی ہے یا نہیں؟

تو علی (علیہ السلام)کہتے ہیں‘ یا رسول اللہ میں نے اشارے سے نماز پڑھی ہے۔

میں نے یہ گوارہ نہیں کیا کہ آپ کا سر مبارک اٹھا کر نیچے رکھ دوں اور نماز پڑھوں‘ اس لئے میں نے اشارے سے نماز پڑھ لی۔

اشارے کے ساتھ نماز مجبوری کے ساتھ ہو جاتی ہے‘ لیکن رسول اللہ کیسے برداشت کرتے کہ میرے بھائی کی ایک نماز جس کا درجہ کم ہو‘ کیونکہ اشارے کی نماز کا درجہ کم ہوتا ہے‘ پڑھے۔

فرماتے ہیں‘ خدایا تجھے واسطہ ہے اس کام کا جو علی (علیہ السلام)ابن ابی طالب نے آج کیا ہے‘ تجھے واسطہ ہے اس کام کا‘ سورج کو واپس پلٹا دے تاکہ علی (علیہ السلام)نماز پڑھ لے۔

علی (علیہ السلام)نے فلاں نماز نہیں پڑھی تھی لوگ یہ نہ کہیں۔ یہ نہیں کہا کہ خدایا تجھے ہماری عظمت کا واسطہ‘ یہ نہیں کہا‘ خدایا تجھے میری محبت کا واسطہ‘ بلکہ یہ کہا کہ علی (علیہ السلام)نے جو کام آج کیا ہے اس کا واسطہ‘ اس کام کے صدقے میں سورج کو پلٹا دے۔ سورج پلٹا‘ علی (علیہ السلام)نے نماز پڑھی اور یہ بتا دیا کہ ہماری حکومت سورج پر بھی ہے کہ جب سورج غروب ہو جائے تو ہم اسے واپس پلٹا کر نماز پڑھ سکتے ہیں۔

اسی طرح حکومت چاند پر بھی ہے‘ چاند کو اشارہ کیا‘ چاند دو ٹکڑے ہو گیا۔ ستاروں پر حکومت ہے‘ ستارہ طواف کر رہا ہے‘ مدینے کے لوگ میدان میں کھڑے کہہ رہے ہیں خہ یہ ستارہ کس کے گھر میں اترے گا؟ لیکن کیا دیکھتے ہیں کہ ستارے نے فاطمہ زہرا (علیھا السلام)کے گھر کا طواف کرتے کرتے سلامی لی اور واپس چلا گیا۔ صلواة

کائنات کی تمام چیزوں پر ان کی حکومت ہے‘ آسمان و زمین پر ان کی حکومت۔ آپ نے دیکھا‘ سائنس دانوں نے کتنی ترقی کی کہ ۲۱ کروڑ ۵۰ لاکھ میل کا فاصلہ طے کر کے مریخ تک جا پہنچے‘ جتنے سیارے ہیں مریخ سب سے زیادہ قریب ہے۔ سائنس دان ۲۱ کروڑ ۵۰ لاکھ میل کا فاصلہ طے کر کے یہاں تک پہنچا تو ظاہر ہے اتنا بڑا فاصلہ تو فقط مریخ تک ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں ایسے سیارے پائے جاتے ہیں‘ جن سیاروں کا ہمیں علم تک نہیں‘ تعداد معلوم نہیں۔ لوگ پہلے کہتے تھے کہ سات سیارے ہیں‘ ترقی کر کے اب تعداد زیادہ کر دی‘ ترقی ہو رہی ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں سیارے ہیں‘ جن کا علم تک ہمیں نہیں‘ لہٰذا اگر آدمی کو عرش علیٰ تک جانا ہو تو اسے کتنا فاصلہ طے کرنا پڑے گا؟ جس طرح آج دنیائے انسانی کو مریخ تک جانے کے لئے اتنا لمبا فاصلہ طے کرنا پڑا

لیکن رسول اعظم نے جو اس کائنات کے مالک ہیں‘ جن کی سلطنت ہے پوری کائنات پر‘ خداوند عالم کے دربار میں حاضری کے لئے عرش علیٰ تک جا رہے ہیں۔ رسول اللہ نے عرش علیٰ تک جانے کے لئے کئی گھنٹے نہیں لگائے‘ رسول نے چار دن نہیں لگائے‘ دس گھنٹے نہیں‘ ایک گھنٹہ نہیں بلکہ جناب رسالتمآب گیارہ منٹوں میں عرش پر پہنچ بھی گئے اور واپس بھی آ گئے۔ ابھی بستر کی گرمی برقرار ہے‘ دروازہ کی کنڈی چل رہی ہے‘ وضو کا پانی چل رہا ہے۔ سبحان اللہ! یہ فاصلہ طے کر کے لوگوں کو بتا دیا کہ لوگو! تعجب نہ کرنا کہ ہم نے یہ سفر کیسے کیا۔

رسول اللہ کی معراج کے کیا کہنے! رسول نے معراج کیا‘ عرش علیٰ تک پہنچے اور وہاں تک پہنچے جس کو معراج کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ کے علاوہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی معراج کیا۔ حضرت موسیٰ(علیہ السلام)کا معراج کوہِ طور تک تھا‘ رسول اللہ ۱ کا معراج عرش علیٰ تک تھا۔ حضرت موسیٰ ۱ کوہ طور پر معراج کے لئے گئے تو خداوند عالم نے فرمایا

اپنی نعلین اتار دیں۔

جب رسول اللہ معراج پر تشریف لے گئے تو تاریخ میں یہ نہیں لکھا کہ نعلین اتار دو۔ یہی لکھا ہے کہ لئے نعلین آؤ۔ اے میرے حبیب اور قریب آؤ اور قریب‘ حتیٰ کہ دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا۔ رسول اللہ نے بتا دیا کہ اگر کبھی نسبت قائم کرنی ہو‘ رسول اللہ اور موسیٰ(علیہ السلام)کے درمیان تو سمجھ لو جتنا کوہِ طور اور عرش میں فرق ہے‘ اتنا ہی محمد اور موسیٰ(علیہ السلام)میں۔ سبحان اللہ! صلواة

نہیں‘ نہیں یہ فرق قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اگر حضرت موسیٰ(علیہ السلام)کوہِ طور پر جاتے تو ان کو بھی اسی طرح کہا جاتا‘ موسیٰ(علیہ السلام)اور قریب آ جاؤ اور قریب‘ تو نسبت قائم کی جا سکتی تھی کہ جس طرح وہ کوہِ طور پر گئے‘ اسی طرح رسالتمآب عرش پر گئے‘ لہٰذا کوہِ طور اور عرش علیٰ میں جتنا فرق ہے اتنا محمد و موسیٰ(علیہ السلام)میں فرق ہے‘ لیکن یہاں تو محمد کو پاس بلایا جا رہا ہے اور موسیٰ(علیہ السلام)کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ وادی مقدس میں تو گویا کہا جا سکتا ہے کہ اگر ہم نسبت قائم کرنا چاہیں تو انسان میں طاقت ہی نہیں کہ وہ موسیٰ(علیہ السلام)اور محمد کے درمیان نسبت قائم کر سکے۔

ایک شخص امام محمد باقر ۱ کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ آپ اپنے جد اعلیٰ علی (علیہ السلام)ابن ابی طالب کی عظمت کا ذکر زیادہ کرتے ہیں‘ ان کی اہمیت زیادہ بیان کرتے ہیں‘ آخر کیا وجہ ہے کہ رسالتمآب نے علی (علیہ السلام)کو اپنے دوش پر سوار کیا اور انہوں نے بتوں کو توڑا؟ کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ علی (علیہ السلام)رسول اللہ کو اپنے دوش پر سوار کرتے اور رسول اللہ بتوں کو توڑتے؟

اب رسول اللہ نے علی (علیہ السلام)کو اپنے دوش مبارک پر سوار کیا‘ علی (علیہ السلام)کو معراج حاصل ہوئی‘ دوشِ مبارک پر سوار ہو کر بتوں کو توڑ رہے تھے تو

رسول اللہ نے پوچھا

اے علی (علیہ السلام)اپنے آپ کو کتنا بلند سمجھتے ہو؟

علی (علیہ السلام)نے عرض کی

یا رسول اللہ! میں ۱ اس وقت اپنے آپ کو اتنی بلندی پر سمجھ رہا ہوں کہ اگر عرش اولیٰ کو مس کرنا چاہوں تو کر سکتا ہوں۔

دو بت بڑے مضبوط بنے ہوئے تھے‘ حضرت نے جب اپنا ہاتھ بتوں کی طرف کیا تو وہ ایسے ٹوٹے جس طرح شیشہ ٹوٹتا ہے۔ بتوں کو توڑنے کے بعد علی (علیہ السلام)نیچے آ گئے‘ چھلانگ لگائی اور مسکرا رہے ہیں۔

رسول اللہ پوچھتے ہیں

اے علی (علیہ السلام) ! کس لئے مسکرا رہے ہو‘ کیا بات ہے؟

علی (علیہ السلام)نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یا رسول اللہ! میں ۱ نے اتنی بلندی سے چھلانگ لگائی‘ لیکن مجھے کسی قسم کی چوٹ نہیں آئی‘ کسی قسم کا درد نہیں ہوا۔

حضور نے ارشاد فرمایا

اے علی (علیہ السلام) ! تجھے تکلیف کیسے ہوتی؟ میں محمد نے تجھے اٹھایا ہوا تھا۔ سبحان اللہ!

تو میں ذکر کر رہا تھا کہ اس شخص نے پوچھا کہ علی (علیہ السلام)کی عظمت کا آپ اس طرح ذکر کرتے ہیں‘ یہ کیوں نہ ہوا کہ علی (علیہ السلام)نیچے کھڑے ہوتے اور حضور ان کے دوش پر سوار ہو کر بتوں کو توڑتے؟

تو امام (علیہ السلام)نے فرمایا کہ

اس سوال کے کئی جواب ہیں‘ مثلاً درخت نیچے ہوتا ہے اور میوہ اس کے اوپر۔

عرض کرنے لگا‘ مولا وضاحت فرمائیں۔

حضرت نے ارشاد فرمایا

رسول اللہ درخت ہیں‘ حسن ۱ و حسین(علیہ السلام) ‘ علی و فاطمہ ۱ میوہ ہیں۔

اس نے عرض کی‘ مولا اور وضاحت چاہتا ہوں۔

مولا نے ارشاد فرمایا کہ

کلیہ ہے‘ شمع نیچے جلتی ہے اور اس کی شعاع ہمیشہ اوپر ہوتی ہے۔

رسول اللہ (ص)شمع ہیں‘ علی (علیہ السلام)و فاطمہ ۱‘ حسن ۱ و حسین(علیہ السلام)شعاع۔

وہ شخص کہنے لگا‘ مولا اور وضاحت چاہتا ہوں۔

حضرت نے ارشاد فرمایا

یہ سمجھ لو کہ حضور اکرم ۱ کو معراج ہوئی ‘عرش علیٰ پر تشریف لے گئے‘ کتنی بلندی ہے۔ تو جب رسول اللہ نے علی (علیہ السلام)کو دوش مبارک پر سوار کیا تو جتنے بلند رسول اللہ ہیں‘ علی (علیہ السلام)کتنے بلند ہوں گے۔

اہل سنت کا ایک مولوی‘ ایک بڑا عالم یہ کہتا ہے کہ بڑی عظمت ہے علی (علیہ السلام)کی‘ رسول اللہ نے انہیں اپنے دوش مبارک پر سوار کیا‘ مہر نبوت تھی‘ حضور نے انہیں مہر نبوت پر سوار کیا۔ یہ صاحب کہتے ہیں

جس جس کو آپ نے اپنے شانے پر سوار کیا ہے‘ جب ہم تصور کرتے ہیں‘ روایات تو دیکھیں کہ وہ سب کے سب معصوم ہیں‘ کوئی غیر نہیں۔ جو رسول اللہ کے شانے پر سوار ہوا ہو‘ علی (علیہ السلام)و فاطمہ ۱‘ حسن ۱ و حسین(علیہ السلام)کو سوار کیا‘ علی (علیہ السلام)معصوم‘ حسن ۱ معصوم‘ حسین(علیہ السلام)معصوم‘ زہرا (علیھا السلام)معصوم۔ لیکن حقیقت میں جس طرح کی سواری حسین(علیہ السلام)نے کی ہے‘ ایسی سواری کوئی اور کر ہی نہیں سکتا۔

حسین(علیہ السلام)پشت رسالت پر سوار ہیں‘ حضور سجدے کی حالت میں ہیں‘ سب سے بڑا نمازی رسول رسول سے بڑا نمازی کوئی نہیں ہو سکتا‘ سب سے بڑی مسجد‘ مسجد الحرام‘ اس سے بڑی کوئی مسجد نہیں۔ نماز کا اہم ترین رکن سجدہ۔

رسول اللہ اعلیٰ ترین نمازی‘ مسجد الحرام اعلیٰ ترین مسجد اور پھر نماز باجماعت ہو رہی ہے‘ جماعت کا ثواب اور زیادہ‘ رسول سجدہ کی حالت میں ہیں اور حسین(علیہ السلام)پشت پر سواری کر رہے ہیں۔

روایات میں ہے کہ

ایک میں ہے کہ ۷۱ دفعہ سبحان ربی الا علیٰ و بحمدہ کہا۔

دوسری میں ہے کہ ۷۲ دفعہ سبحان ربی الا علی و بحمدہ کہا۔

اور خدا نے خود کہا کہ اے میرے نبی! جب تک حسین(علیہ السلام)خود نہ اٹھیں‘ سجدے سے سر نہیں اٹھانا‘ رسول ۱ کا سجدہ میں اور حسین(علیہ السلام)کا پشت پر سواری کرنا‘ رسول ۱ کا تسبیح کو لمبا کرنا‘ بار بار دہرانا‘ اس بات کی دلیل ہے کہ خدا بتلانا چاہتا ہے کہ میرے حسین(علیہ السلام)کی عظمت کس قدر ہے کہ رسول جیسا نمازی‘ مسجد الحرام میں اور نماز کے اعلیٰ ترین رکن میں‘ حسین(علیہ السلام)کی سواری بنے‘ بلکہ رسول کو حکم دیا جا رہا ہے کہ میرے رسول اٹھنا نہیں جب تک حسین(علیہ السلام)خود نہ اتر جائیں۔

حسین(علیہ السلام)گھر پہنچے‘ فاطمہ ۱ نے کہا

حسین(علیہ السلام)تو نے میرے بابا کو بڑی اذیت دی‘ اتنی دیر تم بابا کی پشت پر سوار رہے۔

حسین(علیہ السلام)نے کہا

اماں ۱! یاد رکھنا آپ کے بابا نے ۷۲ دفعہ تسبیح پڑھی ہے‘ میں حسین(علیہ السلام)کربلا میں جب دین پر مصیبت آئے گی تو ۷۲ لاشے ہی اٹھاؤں گا۔

حسین(علیہ السلام)کی قسمت ہی ایسی تھی‘ جب پیدا ہوئے تو رسول بیٹی کے پاس آ کر حسین(علیہ السلام)کو اٹھایا‘ پیار کیا اور رونے لگے۔

فاطمہ ۱ کہتی ہیں کہ بابا خدا نے مجھے بیٹا عنایت کیا ہے اور آپ رو رہے ہیں؟

آپ نے فرمایا

بیٹی! ابھی جبرائیل ۱ نے مجھے بتایا ہے کہ تیرے اس حسین(علیہ السلام)پر بڑی مصیبت آئے گی‘ میدان کربلا میں ذبح کیا جائے گا۔

فاطمہ ۱ کہتی ہیں‘ بابا کیا آپ اس وقت نہیں ہوں گے؟

کہا‘ بیٹی! نہیں میں اس وقت نہیں ہوں گا۔

بابا! کیا اس وقت علی (علیہ السلام)نہیں ہوں گے؟

کہا‘ بیٹی! نہیں اس وقت علی (علیہ السلام)نہیں ہوں گے۔

بابا! اس وقت حسن ۱ بھی نہیں ہو گا؟

کہا‘ بیٹی! اس وقت حسن ۱ بھی نہیں ہو گا۔

بابا! اس وقت میں بھی نہیں ہوں گی۔

فرمایا‘ بیٹی! اس وقت تو بھی نہیں ہو گی۔

فاطمہ ۱ رو کے کہتی ہیں کہ بابا میرے حسین(علیہ السلام)کو پھر کون روئے گا؟

فرمایا‘ بیٹی! خدا ایک ایسی قوم پیدا کرے گا‘ جس کے جوان تیرے حسین(علیہ السلام)کے جوانوں کو روئیں گے‘ اس قوم کے بچے حسین(علیہ السلام)کے بچوں کو روئیں گے‘ جس کے بوڑھے حسین(علیہ السلام)کے بوڑھوں کو روئیں گے۔ جب عورتوں کا نام آیا تو

فاطمہ ۱ نے کہا

بابا! عورتوں کا کیا کام ہے؟

کہا‘ بیٹی! تیرے بطن سے ایک زینب (علیھا السلام)پیدا ہو گی‘ ایک کلثوم۔

حسین(علیہ السلام)شہید کر دیا جائے گا‘ زینب (علیھا السلام)و کلثوم (علیھا السلام)کو قیدی کر کے سر ننگے کوفہ و شام کے بازاروں میں پھرایا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ فاطمہ ۱ ہر وقت گریہ کرتی اور روتی رہتی تھیں۔

عزادارو!

جتنے اہل بیت (علیھم السلام)ہیں‘ سب پر مصیبتیں آئیں۔

رسول اللہ (ص)فرماتے ہیں

"جتنی اذیت مجھی دی گئی‘ اتنی کسی اور کو نہیں دی گئی۔"

آپ جناب پر بھی بہت مصیبتیں آئیں مگر رونا نہیں آتا۔

علی (علیہ السلام)ابن ابی طالب مسجد کوفہ میں خطبہ ارشاد فرما رہے ہیں‘ ایک آدمی کھڑا ہو کر کہتا ہے‘ وامصیبتاہ! مجھ پر ہیبت پڑ گئی۔

علی (علیہ السلام)فرماتے ہیں کہ تو صرف ایک مصیبت آنے پر رو رہا ہے‘ علی (علیہ السلام)پر اتنی مصیبتیں آئیں کہ اگر کوئی ریت کے ذروں کو شمار کرنا چاہے تو کر لے‘ پھر بھی ان کو شمار نہیں کر سکتا‘ لیکن علی (علیہ السلام)کا نام سن کر رونا نہیں آتا‘ جب تک مصائب کا تذکرہ نہ کیا جائے۔ فاطمہ زہرا (علیھا السلام)رسول کی اکلوتی بیٹی تھیں‘ اٹھارہ سال کی عمر میں جھک گئیں۔ اتنی مصیبتیں آئیں کہ بار بار کہتی تھیں‘ بابا! مجھے اپنے پاس بلا لیں‘ میں اس دنیا میں رہنا نہیں چاہتی‘ لیکن فاطمہ ۱ کے نام پر رونا نہیں آتا۔

لیکن حسین(علیہ السلام)اور زینب (علیھا السلام)کا نام آتے ہی مومن رونا شروع کر دیتے ہیں‘ اس لئے حسین(علیہ السلام)نے کہا

انا قتیل العبره

عبرت کا مقتول ہوں‘ جب کوئی میرا ۱ نام سنے گا گریہ کرے گا۔

اگر گریہ نہیں کر سکتا تو رونے والی شکل ضرور بنائے گا‘ اگر شکل نہیں بنا سکے گا تو اس کا دل روئے گا۔

حسین(علیہ السلام)تجھ پر اتنی مصیبتیں آئیں کہ تیرا نام گریہ ہو گیا۔ زینب (علیھا السلام)تجھ پر اتنی مصیبتیں آئیں کہ تیرا نام گریہ ہو گیا۔

میں عرض کروں کہ فاطمہ ۱! آپ بھی تو دربار میں گئیں‘ آپ پر بھی بڑی مصیبتیں آئیں مگر سر پر چادر موجود تھی‘ بنی ہاشم کی عورتیں اردگرد تھیں‘ لیکن زینب (علیھا السلام)جب دربار میں گئی تو سر کھلا ہوا تھا‘ ہاتھ بندھے ہوئے تھے‘ فاطمہ ۱! جب آپ دربار میں گئیں تو آپ کے ہاتھ بندھے ہوئے نہیں تھے۔

فاطمہ ۱! آپ نے اکبر کو ذبح ہوتے نہیں دیکھا۔

فاطمہ ۱! آپ نے قاسم کو ذبح ہوتے نہیں دیکھا۔

فاطمہ ۱! آپ نے حسین(علیہ السلام)کو ذبح ہوتے نہیں دیکھا۔

آپ ! نے اصغر کو تیر لگتے نہیں دیکھا۔

زینب (علیھا السلام) ! آپ کی مصیبتوں کا ذکر کس طرح خیا جائے کہ آپ کا نام ہی ام المصائب بن گیا یعنی مصائب کی ماں

زینب (علیھا السلام)پر اتنی مصیبتیں آئیں کہ زین العابدین ۱ تیس سال تک روتے رہے اور کہتے رہے کہ اکبر مارا جاتا میں اتنا نہ روتا حسین(علیہ السلام)مارے جاتے میں اتنا نہ روتا مگر افسوس میری پھوپھیاں قید ہو کر بازاروں میں گئیں‘ درباروں میں پھرائی گئیں۔

کربلا میں حسین(علیہ السلام)کی طرف فوجیں آ رہی ہیں‘ کوئی تین ہزار کا لشکر‘ کوئی چھ ہزار کا لشکر آ رہا ہے‘ زینب (علیھا السلام)اپنے بھائی ۱۱ کے پاس آ کر رو رہی ہیں۔ حسین(علیہ السلام)پوچھ رہے ہیں‘ زینب (علیھا السلام)بہن کیوں رو رہی ہو؟

بھیا!

میں رو رہی ہوں کہ اتنے دشمن ہیں اور ہمارا کوئی نہیں رہا‘ جس کو بلائیں۔ زینب (علیھا السلام)کہتی ہیں‘ بھیا!

آپ کے بچپن کا ساتھی حبیب تھا‘ جس کو نانا کہا کرتے تھے اور اپنے زانو پر بٹھایا کرتے تھے اور اپنے زانو پر بٹھایا کرتے تھے‘ حبیب کو میرے حسین(علیہ السلام)کی محبت ہے۔ میرا دل چاہتا ہے حبیب کو بلا لیں‘ آپ کا دوست ہے‘ آپ کی مدد ضرور کرے گا۔

زینب (علیھا السلام)کے کہنے پر حسین(علیہ السلام)نے خط لکھا

من الحسین ابن فاطمة الزهرا الرجل الفقیه

حسین(علیہ السلام)کی طرف سے خط ہے اس شخص کو جو عالم دین ہے‘ جو فقیہی ہے‘ جس کا نام حبیب ہے۔

اے حبیب! میں دشمنوں میں ۱ اس قدر گھر گیا ہوں‘ اگر تومیری ۱ مدد کرنا چاہتا ہے تو آ جا‘ قیامت کے دن میری ۱ ماں فاطمہ ۱ تیری شفاعت کرے گی۔

روایت میں ہے کہ حبیب بازار سے مہندی خریدنے جا رہا تھا کہ ریش کو خضاب کرے‘ خط کو پڑھ کر چوما‘ کہنے لگا‘ اب میری ریش کو خضاب کی ضرورت نہیں رہی۔ گھر آیا بیوی کو خط سنایا اور بیوی سے کہنے لگا کہ سوچ رہا ہوں جاؤں کہ نہ جاؤں‘ اس کی بیوی نے اپنی چادر اس پر ڈال دی اور کہتی ہے

تو چادر لے کر بیٹھ جا‘ میں خود جاؤں گی‘ حسین(علیہ السلام)کی مدد کے لئے‘ مولا نے تجھے بلایا ہے اور تو سوچ رہا ہے کہ جاؤں یا نہ جاؤں۔

حبیب نے اپنا گھوڑا غلام کو دے کر کہا کہ اسے لے جا‘ میں دوسری طرف سے آتا ہوں‘ تاکہ حکومت کو پتہ نہ چلے۔

حبیب کو آنے میں تھوڑی دیر ہو گئی‘ جب آئے تو کیا دیکھا کہ غلام گھوڑے سے کہہ رہا ہے کہ گھوڑا‘ دانہ کھا لے‘ اگر حبیب نہ آئے تو میں خود چلا جاؤں گا۔ میرا مولا حسین(علیہ السلام)مصیبت میں گرفتار ہے‘ اگر میرا آقا حبیب نہ آیا تو میں خود اپنے مولا حسین(علیہ السلام)کی مدد کے لئے جاؤں گا۔

حبیب کہتا ہے کہ میں نے کیا دیکھا کہ گھوڑے نے دانہ کھانا چھوڑ دیا‘ گھوڑا رونے لگا‘ گھوڑے کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ حبیب رو کے کہتا ہے کہ

میرے مولا تواتنا غریب ہو گیا ہے کہ غلام اور حیوان بھی تجھ پر رو رہے ہیں‘ تجھ پر گریہ کر رہے ہیں۔


مجلس چہارم

بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم

( ایاک نعبد و ایاک نستعین )

صلواة

سامعین گرامی!

ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے علاوہ کسی اور کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرتے۔

انسان بارگاہِ رب العزت میں خشوع و خضوع کے ساتھ کھڑے ہوئے پاک و پاکیزہ بدن کے ساتھ اقرار کرتا ہے کہ ہماری گردن صرف تیرے ہی سامنے جھکے گی‘ تیرے علاوہ کسی اور کے سامنے نہیں جھکے گی۔

ظاہر ہے جب انسان بارگاہ رب العزت میں یہ دعویٰ کر رہا ہے تو ضرورت ہے کہ کوئی ایسی ذات ہو جو بتائے کہ خدا کی عبادت کس طرح کی جاتی ہے؟ خدا کے آگے سر تسلیم کس طرح خم کیا جائے؟ خدا کے سامنے جھکنے کا طریقہ کیا ہے؟ وہ اس لئے کہ خدا تو ہمارے سامنے آیا ہی نہیں کہ اسی سے پوچھ لیں‘ ہم میں اتنی طاقت نہیں کہ اس تک جا سکیں‘ اس سے خود پوچھ لیں کہ بغیر کسی واسطے کے کیسے پوچھیں۔ تو ضرورت ہے کہ کوئی ایسی ذوات مقدسہ ہوں جو خدا سے لیں اور ہمیں دیں یا دے سکیں۔ جن کا خدا کے ساتھ رابطہ ہو‘ جن کے انسانوں کے ساتھ بھی رابطے ہوں۔ ایسی ذوات مقدسہ ہوں جو ہمیں بتائیں کہ عبادت کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ خدا کے حکم پر چلنے کا طریقہ کیا ہے؟

اسی لئے ہم نے دیکھا کہ ایک فرشتہ جس نے کافی مدت تک خدا کی عبادت کی‘ خداوند کے حکم پر عمل کرتا رہا‘ خدا کو سجدہ کرتا رہا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ خدا نے کہا کہ حضرت آدم (علیہ السلام)کو سجدہ کرو۔

اس نے جواب دیا:

خدایا! میں آج تک تیری عبادت کرتا رہا ہوں‘ آج کے بعد بھی تیری عبادت کروں گا‘ زمین کے چپے چپے پہ تیری عبادت کروں گا‘ آسمان کے گوشے گوشے میں تیرے سامنے سر جھکاؤں گا‘ لیکن

آدم کے سامنے سجدہ نہیں کروں گا۔

اب دیکھئے کہ خدا کی عبادت سے اس نے انکار نہیں کیا‘ خدا کے سامنے جھکنے سے انکار نہیں کیا۔ بار بار کہہ رہا ہے‘ تیرے سامنے جھکوں گا‘ تیری عبادت کروں گا۔

بس! آدم کے سامنے سجدہ نہیں کروں گا۔

تو خدا نے ارشاد فرمایاکہ

میں چاہتا ہوں کہ میری عبادت کرو‘ لیکن عبادت اپنی مرضی کی چاہتا ہوں‘ تیری مرضی کی نہیں چاہتا۔

اب ہم اپنی مرضی سے عبادت کریں تو ہو سکتا ہے اسے پسند نہ آئے۔ کیا پتہ وہ ہماری عبادت قبول کرے یا نہ کرے‘ اس لئے پھر ایسی ذوات مقدہ کی ضرورت ہوئی نا جو ہمیں بتائیں عبادت کا طریقہ کیا ہے؟ خدا کے آگے جھکنے کا طریقہ کیا ہے؟ ہمیں بتائیں کہ اس طرح نماز پڑھو‘ جس طرح ہمیں نماز پڑھتے دیکھتے ہو‘ ان کی نماز دیکھ کر ہم بھی درست طریقہ سے نماز پڑھیں‘ ان کی عبادت دیکھ کر ہم بھی عبادت کریں‘ تاکہ یہ عبادت ایسی ہو جیسی خدا چاہتا ہے۔

صلواة

تو ایسی ذوات مقدسہ کو خدا نے پیدا فرمایا‘ جتنا کوئی خدا کے قریب ہو گا‘ اتنی ہی اس کی عظمت زیادہ ہو گی۔

کوئی نبی ہو‘ کوئی ولی ہو‘ کوئی وصی ہو‘ کوئی رسول ہو‘ کوئی پیغمبر ہو ان تمام کا دار و مدار اس پر ہے کہ ان کو خدا کی کس قدر پہچان ہے؟ یہ خدا کے کس قدر نزدیک ہیں؟ ان کا درجہ خدا کے نزدیک کیا ہے؟ جتنا ان کا قرب ہو گا‘ اتنا ہی درجہ بلند ہو گا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ خدا کے نزدیک زیادہ کون مقرب ہے؟

خدا کے قریب ہونے کے چار درجے ہیں‘ پہلا درجہ مخلوق ہونے کے ناطے کون خدا کے زیادہ نزدیک ہے؟ سب سے پہلے خدا نے کس کو پیدا کیا؟ ایسا شخص جس کا خدا اور اس کے درمیان پہلے کوئی واسطہ نہیں‘ خدا نے براہ راست اس کو پیدا فرمایا۔

ظاہر ہے جس کو خدا پہلے پیدا کرے گا‘ وہ مخلوق ہونے کے ناطے سے خدا کے زیادہ قریب ہو گا۔

سب سے پہلے خدا کی عبادت کس نے کی؟ جو سب سے پہلے خدا کے سامنے جھکا‘ ظاہر ہے وہ خدا کے زیادہ نزدیک ہو گا۔

منزلت کے اعتبار سے مرتبہ کے لحاظ سے ظاہری طور پر خدا کے کون زیادہ نزدیک ہے؟

جب خدا قیامت کے دن قبر سے اٹھائے گا تو سب سے پہلے کون شخص ہو گا جس کو اٹھایا جائے گا؟

چار قسم کے شرف جس کو حاصل ہوں‘ اس کا درجہ خدا کے نزدیک بڑا ہو گا‘ وہ ہی ہمارے لئے نمونہ عمل ہو گا‘ وہ ہی ہمارے لئے وعدہ قرار دیا جائے گا۔

تو سب سے پہلی چیز کیا؟

کہ مخلوق ہونے کے ناطے خدا کے قریب کون تھا؟

ایسا ہے کہ جس کو خدا کے بغیر کسی واسطے کے پیدا کیا کہ خدا اور اس کے درمیان کوئی واسطہ نہ تھا۔

بس خدا تھا یا وہ جسے خدا نے پیدا کیا۔

وہ جو بھی ہو گا مخلوق ہونے کے ناطے اس کا درجہ تمام مخلوق سے زیادہ ہو گا۔

صلواة

آپ بڑے سمجھدار لوگ ہیں‘ کوئی علمی چیز بیان کروں تاکہ آپ استفادہ حاصل کر سکیں۔ صلواة

عام طور پر یہ تاثر ہو سکتا ہے کہ کدا کی پہلی مخلوق حضرت آدم (علیہ السلام)ہیں‘ اس لئے کہ ابوالبشر ہیں‘ بشریت کا سلسلہ انہیں ۱ سے چلا ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ زمین بن چکی‘ فرشتے بن چکے تو حضرت آدم (علیہ السلام)کو خلق فرمایا گیا تو حضرت آدم (علیہ السلام)کو مخلوق اول نہیں کہا جا سکتا‘ فرشتے پہلے پیدا ہوئے‘ لیکن فرشے بھی مخلوق اول نہیں کیونکہ ان سے پہلے بھی کسی اور کو خلق کیا گیا۔

اگر کسی اور کو پہلے بنا کے خدا دوسری مخلوق پیدا کرے تو اس مخلوق کے درمیان فاصلہ ہو جائے گا‘ مخلوق اول نہیں ہو گی‘ واسطہ پہلے تھا‘ یہ بعد میں پیدا ہوئی۔ جب واسطہ ہو جائے گا تو مخلوق اول اس واسطہ اور وسیلے کو کہیں گے‘ بعد میں پیدا ہونے والی کو مخلوق اول نہیں کہا جا سکتا۔

ظاہر ہے کوئی ایسی مخلوق ہونی چاہئے کہ ان کے کوئی مادہ نہ ہو ان کا کوئی میٹریل نہ ہو‘ براہ راست خدا نے اپنی قدرت سے اس مخلوق کو پیدا کیا ہو۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ مخلوق تو کسی سے

حضرات محترم!

کوئی کاری گر جب کوئی چیز بناتا ہے‘ جب کوئی صانع چیز بناتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ میں ایسی چیز بناؤں جس میں کسی قسم کا نقص نہ ہو‘ جو کمالات میں چاہتا ہوں وہ سب کے سب اس میں موجود ہوں‘ کوئی کمی نہ ہو تاکہ کل کو کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اس کو اس طرح بناتا تو بہت اچھا ہوتا!

لیکن اس کے باوجود جب بھی کوئی کاریگر کسی چیز کو بناتا ہے تو اس میں کمی رہ جاتی ہے۔ ہوائی جہاز بنایا گیا‘ ہمیں یاد ہے کس قسم کا تھا‘ وہ جہاز بنانے والا اگر آج کے جہاز کو دیکھے تو حیران رہ جائے کہ دنیا کتنی ترقی کر گئی۔ اسی طرح دوسری چیزیں آپ دیکھیں تو ظاہر ہے

کاریگر کی‘ صانع کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ چیز اچھی بنائے‘ لیکن پھر بھی کمی رہ جاتی ہے۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟

ایک تو یہ کہ اس کے پاس اوزار نہیں تھے‘ ایسے آلات نہیں تھے کہ جن سے اس چیز کو کامل بناتا۔ آج کل کا زمانہ ترقی یافتہ ہے‘ بہترین اوزار موجود ہیں‘ بہترین اسباب موجود ہیں‘ جس سے چیز کو ہر طریقے سے بنایا جا سکتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس وقت علم نہیں تھا‘ تو جب علم نہیں تھا تو چیز کو کامل نہیں بنا سکتا تھا۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا اس کے علم میں اضافہ ہو گیا۔ آج دنیا ترقی یافتہ ہے‘ ایک چیز کو اس طرح بنا رہے ہیں تو کل اس میں اور اضافہ ہو جائے گا‘ اس کو اور بہتر بنایا جائے گا۔

توجہ ہے

کسی چیز میں کمی رہ جاتی ہے تو اس کا سبب کیا ہوتا ہے؟ اسباب کی کمی ہوتی ہے یا علم کی‘ کسی وجہ سے کمی رہ گئی۔

مخلوق اول کو پیدا کرنے والا کون ہے؟

خدا

یہاں صانع کون ہے؟ خدا۔ جس نے اپنی کاریگری کا نمونہ دکھایا ہے۔ خدا کے پاس اسباب کی کوئی کمی نہ ہے‘ کیونکہ وہ خود مسب الاسباب ہے‘ خود اسباب کو پیدا کرنے والا ہے‘ اس کے ہاں اسباب کی کیا کمی ہو سکتی ہے۔ خدا کے ہاں علم کی کوئی کمی نہیں‘ خدا تو جلام الغیوب ہے۔

تو جب اسباب کی بھی کمی نہیں‘ علم کی بھی کمی نہیں اور اس کے ساتھ ساتھ خدا ایسی مخلوق کو پیدا کرنا چاہتا ہے جس کے جمال و کمالات کو دیکھ کر خدا کے کمالات کا اندازہ ہو‘ جس کا کمال‘ کمال خداوندی کا آئینہ ہو۔

بہ ایں معنی کہ جب اس مخلوق کو دیکھیں تو دیکھ کر ہم سمجھ جائیں کہ جب یہ ایسے ہیں تو ان کو پیدا کرنے والا کیسا ہو گا‘ تو جب اس قسم کی مخلوق کو خدا نے پیدا کرنا چاہا تو اپنے کمالات سے ایک مخلوق کو پیدا کیا۔

جس مخلوق کے متعلق خدا چاہتا ہے کہ میرے کمالات کا آئینہ ہو‘ اس میں کسی قسم کا نقص نہ ہو‘ کسی قسم کا عیب نہ ہو‘ اس کی ذات کو نمونہ بناؤں‘ اس کی ذات کو نمونہ بناؤں‘ اس ذات کو اسوہ بناؤں اور لوگوں کو بتا دوں اس کو دیکھ لو اور سمجھ لو کہ ہم نے خدا دیکھ لیا۔ جب اس کی صفات کو دیکھ لو تو سمجھ لو ہم نے خدا کی صفات کو دیکھ لیا۔

تو خدا نے اپنی طاقت استعمال کی اور اس مخلوق کو پیدا کیا اور اس مخلوق نے کمالات کو لیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ خدا جب پیدا کر رہا تھا تو اس کو علم تھا کہ اگر اس کو ایسے بنایا گیا تو اس میں کمی رہ جائے گی۔ جب یہ مخلوق پیدا ہو رہی تھی تو اس میں کوئی نقص نہ تھا‘ مخلوق نے پوری کوشش کے ساتھ کمال کو لیا‘ جو کمالات خدا نے اس کو عطا کئے تھے۔

چنانچہ یہ حقیقت محمدیہ ایسی حقیقت ہے کہ نہ اس سے پہلے ایسی مخلوق تھی اور نہ اس کے بعد ایسی مخلوق ہو گی۔

مخلوق اول ہے حقیقت محمدیہ

حقیقت محمدیہ کو خدا نے پیدا کیا‘ لیکن اب ایک اور چیز کی طرف توجہ کریں۔ میں نے ابھی عرض کیا تھا کہ کوئی میٹریل نہیں ہونا چاہئے‘ کوئی مادہ نہیں ہونا چاہئے‘ جس کو پہلے بنایا گیا‘ ان کو بعد میں۔ اگر میٹریل ہوتا‘ کوئی مادہ ہوتا تو وہ پہلے ہوتا‘ یہ بعد میں ہوتے۔ اس طرح ان کو مخلوق اول نہیں کہا جا سکتا۔

تو حقیقت محمدیہ کے متعلق ارشاد ہوتا ہے:

نور عظمت:

خداوند عالم نے حقیقت محمدیہ ۱ کو اپنی عظمت کے نور سے پیدا کیا‘ اپنی عظمت کے نور سے پیدا کیا‘ اس لئے حقیقت محمدیہ یہ کہتی ہوئی نظر آئی:

میں ابراہیم کی دعوت ہوں‘ میں عیسیٰ کی خوشخبری ہوں۔ مجھے اس وقت پیدا کیا گیا جب خدا تھا اس کے علاوہ اور کچھ نہ تھا۔

صلواة

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت فرشتے پیدا ہو چکے تھے کہ نہیں؟ اگر فرشتے پہلے پیدا ہو چکے ہوتے تو حقیقت محمدیہ کو مخلوق اول نہیں کہا جا سکتا‘ کیونکہ فرشتے پہلے پیدا ہوئے۔

بہرحال حقیقت محمدیہ کا ایک حصہ آپ کا مولا حل مشاکل امیرالمومنین ۱ فرماتے ہیں کہ جب خداوند عالم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو پیدا کیا تو بارگاہ رب العزت سے آواز آئی:

اے جبرائیل ۱! میں کون ہوں اور تو کون ہے؟

پوچھنے والا خدا جبرائیل ۱ سے پوچھا جا رہا ہے۔

اب جبرائیل ۱ خاموش ہے‘ جواب نہیں دے رہا‘ بلکہ جبرائیل ۱ نے کہا‘ مجھے نہیں معلوم میں نہیں سمجھتا۔

انا انا و انت انت

"میں اپنی جگہ میں ہوں‘ تیری ذات اپنی جگہ ہے‘ کون ہے؟"

دوبارہ سوال ہوا

من انا و من انت

"تو کون ہے اور میں کون ہوں؟"

جبرائیل ۱ نے پھر وہی جواب دیا۔

تیسری دفعہ سوال ہوا۔

اب بھی جبرائیل ۱ چاہتا تھا کہ پہلے والا جواب دے‘ اسی وقت نور علوی ظاہر ہوا اور جبرائیل ۱ کو بتایا کہ اب یہ جواب نہ دینا۔

انا انا و انت انت

بلکہ کہہ کہ

انت رب جلیل و انا عبدالذلیل

"تو رب جلیل ہے اور میں تیرا ذلیل بندہ۔"

تو گویا حقیقت علویہ پہلے موجود تھی‘ تبھی تو جبرائیل ۱ کو سمجھایا گیا کہ یہ جواب دینا۔ جبرائیل ۱ بعد میں پیدا کیا گیا‘ تو پھر کہا جا سکتا ہے کہ باقی جتنے فرشتے ہیں وہ بعد میں پیدا ہوئے اور حقیقت محمدیہ علویہ پہلے سے موجود تھی۔

اب دوسرا مرحلہ ہے کہ خدا کی عبادت کس طرح کریں؟ کون ہے جو خدا کی عبادت کا سب سے زیادہ حقدار ٹھہرا؟

قرآن مجید میں ان کا تذکرہ ہے کہ جناب رسالتمآب ۱ فرما رہے ہیں:

مجھی ۱ حکم دیا گیا ہے کہ میں پہلا مسلمان بنوں۔

قرآن کہہ رہا ہے:

مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں خدا کا اطاعت گذار بنوں۔ تو گویا حضور ۱ کو حکم دیا جا چکا ہے کہ پہلے پہل عبادت گذار آپ بنیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس حکم پر رسالتمآب نے عمل کیا؟

یقینا کیا ہے۔ اس کی گواہی ایک اور آیت میں ہے‘ ارشاد ہوتا ہے:

"میری نماز‘ میرے روزے‘ میری عبادت‘ میرا حج‘ میرا مرنا‘ میرا جینا اللہ ہی کے لئے ہے۔"

کون کہہ رہا ہے؟

محمد عربی کہہ رہے ہیں۔

انا صلواة میری صلواة‘ ونسکی میری ہر چیز و محی میری زندگی و مجاتی میری موت کس لئے ہے؟

اللہ رب العالمین کے کیلئے ہے۔

وہ رب کون ہے؟

لا شریک له

"اس کا کوئی شریک نہیں۔"

اس کے بعد حضرت ۱ کیا کہتے ہیں:

ومن ذلک امرت

"مجھے اسی کا حکم دیا گیا۔"

کہ میں اللہ کے لئے نماز پڑھوں‘ اللہ کی عبادت کروں۔ میرا جینا‘ میرا مرنا اللہ کے لئے ہے اور میں خداوند عالم کا پہلا مطیع ہوں۔

صلواة

جناب رسالتماب کے جو فضائل ہیں‘ وہ اہل بیت (علیھم السلام) کے فضائل ہوتے ہیں۔

پہلی آیت میں کہا گیا تھا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں پہلا مسلمان بنوں۔ دوسری آیت میں کہا گیا کہ میں پہلا فرمانبردار ہوں‘ پہلا مطیع ہوں‘ پہلا مسلمان ہوں‘ یہ خود رسالتمآب ۱ کہہ رہے ہیں۔

جس کا تذکرہ قرآن کریم میں ہے کہ خدایا میں پہلا فرمانبردار ہوں‘ پہلا مطیع ہوں۔

ان کی عبادت دیکھ کر فرشتوں نے عبادت کی‘ ان کی تسلیل دیکھ کر فرشتوں نے تسلیل کی‘ ان کی تسبیح دیکھ کر فرشتوں نے تسبیح کی۔

صلواة

حضرات گرامی!

خلقت کے لحاظ سے حقیقت محمدیہ سب سے پہلے۔

عبادت کے لحاظ سے حقیقت محمدیہ سب سے پہلے۔

تو اب منزلت کے حساب سے حقیقت محمدیہ کا درجہ سب سے زیادہ ہے۔

جیسے میں نے کل عرض کیا تھا کہ جناب رسالتمآب کو معراج ہوئی عرش علیٰ پر‘ حضرت موسیٰ(علیہ السلام)کو معراج ہوئی کوہ طور پر۔

سدرة المنتہیٰ کے معنی‘ جب سدرة المنتہیٰ تک پہنچا ہے تو کہنے لگا کہ

اے محمد! اب آگے نہیں جا سکتا۔ جبرائیل ۱ کہتا ہے کہ میں اگر ذرہ برابر بھی آگے بڑھوں گا تو جل جاؤں گا۔ سدرة المنتہیٰ کے معنی‘ جہاں جبرائیل ۱ کی معراج ختم ہوتی ہے‘ وہاں سے محمد عربی کی معراج شروع ہوتی ہے۔

تو محمد عربی عرش علیٰ تک پہنچے‘ کوئی بھی نہیں پہنچ سکتا۔

لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ منزلت کے لحاظ سے‘ درجہ کے لحاظ سے‘ مرتبہ کے لحاظ سے جتنا درجہ محمد عربی کا خدا کے نزدیک ہے‘ اتنا کسی اور کا نہیں ہو سکتا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حقیقت محمدیہ جب عرش علیٰ تک پہنچی تو وہاں کوئی اور بھی تھا کہ نہیں تھا۔ اب دو باتیں ہیں کہ جن سے شک ہو سکتا ہے کہ اور بھی ہو۔

روایت میں ملتا ہے کہ جب خدا نے رسالتمآب کے ساتھ کلام کی تو جب حضرت موسیٰ(علیہ السلام)کے ساتھ کلام ہوتی تھی تو درخت سے آواز آتی تھی‘ درخت کے ساتھ کلام کرتے تھے‘ لیکن رسالتمآب کے ساتھ جب کلام ہوئی تو علی (علیہ السلام)کے لہجے میں کلام کی۔

صلواة

گویا وہاں علی (علیہ السلام)کا تذکرہ موجود ہے‘ علی (علیہ السلام)کا لہجہ موجود ہے۔ صرف یہی نہیں‘ بلکہ ایک اور کلمہ ہے‘ حضرت فرماتے ہیں کہ علی (علیہ السلام)اور میری درمیان۔

حضرات گرامی!

اب دو صورتیں ہو سکتی ہیں کہ عرش پر ہوتے ہوئے رسول اللہ اتنے نیچے ہو گئے کہ علی (علیہ السلام)اور ان کے درمیان دو کمانوں کا فاصلہ تھا یا زمین پر ہوتے ہوئے علی (علیہ السلام)اتنے بلند ہو گئے کہ رسول اللہ اور علی (علیہ السلام)کے درمیان دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا۔

صلواة

خلقت کے لحاظ سے حقیقت محمدیہ سب سے پہلے خلق ہوئی۔

عبادت کے لحاظ سے سب سے پہلی عبادت گذار‘ منزلت کے لحاظ سے حقیقت محمدیہ کا درجہ سب سے زیادہ۔ چوتھی یہ کہ اللہ کی طرف رجوع کے لحاظ سے جب قیامت کا دن ہو گا‘ سب سے پہلے یہی اٹھائے جائیں گے‘ ان کے بعد باقی انبیاء(علیہم السلام)۔

لہٰذا رجوع کے لحاظ سے حضرت رسالتمآب اور علی (علیہ السلام)کا درجہ سب سے زیادہ‘ جب مخلوق اول ہونے کے لحاظ سے حقیقت محمدیہ کا درجہ سب سے زیادہ عبادت گذار سب سے پہلے یہی ہیں۔ منزلت کے لحاظ سے سب سے زیادہ‘ اسی طرح رجوع کے لحاظ سے سب سے پہلے ہیں۔

تو کہا جا سکتا ہے کہ خداوند کریم کے قریب ترین وہ ہیں جنہیں خداوند عالم نے ماڈل بنایا ہے‘ نمونہ بنایا ہے‘ جسے اسوہ بنایا ہے۔ ان کے کمالات کو دیکھا تو خدا کے کمالات کو دیکھ لیا‘ ان کو دیکھ لیا گویا خدا کو دیکھ لیا۔ ان کے مجالات کو دیکھ کر یہ سمجھ لو کہ جب یہ ایسے ہیں تو ان کا خدا کیسا ہو گا۔

گویا خدا کے بعد اگر کسی کا درجہ ہے تو وہ حقیقت محمدیہ ہے اور کوئی نہیں۔

صلواة

دیکھئے! خداوند عالم کی فضیلت کا مظہر اہل بیت (علیھم السلام)ہیں۔ خداوند عالم سے اس کائنات کی ابتداء ہے یعنی خداوند عالم ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ کائنات کی ابشاء بھی خدا کی طرف سے ہے یا دوسرے لفظوں میں خدا وحدت حقیقت کا مالک ہے‘ کوئی خدا کا شریک نہیں‘ تو خدا اس کائنات میں وحدت مقاصد کا مالک ہے۔ جب تک وحدت نہ ہو‘ کائنات کا نظام نہیں چل سکتا‘ مثلاً

ایک گھر میں ہر شخص اپنی اپنی جگہ شہنشاہ بنے تو گھر کا نظام نہیں چل سکتا۔ ایک بڑا ملتا ہو گا‘ ایک بڑا ہو گا‘ سب اس کے ماتحت ہوں گے‘ تب گھر چلے گا۔

اسی طرح اگر ایک دکان میں دس آدمی کام کر رہے ہوں اور ہر ایک مختار ہو‘ اپنی مرضی کے مطابق سودا بیچے‘ اپنی مرضی سے قیمت لگائے تو کنٹرول نہیں ہو سکتا۔ ایک شخص کو بڑا بنانا پڑے گا‘ اس دنیا کا نظام وحدت کے بغیر نہیں چل سکتا۔

اب خداوند عالم وحدت حقیقہ کا مالک ہے‘ اس میں کسی قسم کا شک نہیں۔ لیکن جس ذات کو خدا نے اپنی ذات کا مظہر بنایا ہے‘ اپنی صفات اجمل کا آئینہ بنایا ہے‘ اپنے کمالات کا آئینہ بنایا ہے‘ آیا اس میں بھی وحدت پائی جاتی ہے یا نہیں؟

اب کائنات ان کے سامنے ہے‘ کائنات پر ان کو کنٹرول ہے‘ کائنات کی ہر چیز کا تصرف کر سکتے ہیں‘ تو جیسے خدا میں وحدت ہے‘ آیا اپنی وحدت کا مظہر بھی کسی کو بنایا ہے؟

وحدت کا مظہر بھی رسالتمآب کوذات کو بنایا گیا۔ حقیقت محمدیہ کے ساتھ اس حقیقت میں اور کوئی بھی شریک نہیں‘ پنجتن پاک شریک ہیں‘ لیکن ان کا نور جو حقیقت محمدیہ کا جز ہے‘ جدا نہیں ہے‘ بلکہ یہ نور مل کر کامل نور بنتا ہے‘ جسے حقیقت محمدیہ کہا جاتا ہے۔

ایک وحدت حقیقی ہے خدا کی ذات‘ دوسری وحدت خدا نے اس کائنات میں پیدا کی ہے‘ یہ وحدت نمونہ ہے وحدت خدا کی۔ تو اب ایک اور مسئلے کی طرف توجہ فرمائیں کہ کائنات کی ابتداء خدا سے کائنات کی انتہاء خدا سے۔

خداوند عالم فرماتا ہے:

خدا کی طرف ہر چند رجوع کرنے والی ہے۔

ہمیشہ پڑھتے ہیں:

انا لله و انا الیه راجعون

ہم اللہ کے بندے ہیں‘ اس کی طرف سے آئے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے‘ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ کائنات کی ابتداء خدا سے ہر چیز کی انتہاء خدا پر‘ ابتداء بھی خدا سے ہو رہی ہے‘ انتہاء بھی خدا سے ہو رہی ہے۔ لہٰذا اگر دائرہ کھینچا جائے تو یہاں سے ابتداء ہو رہی ہے‘ خدا کی سدرہ کی تہہ تک آ جائے انسان تک پہنچے گا‘ لہٰذا دائرئہ دائرہ قوم ہو گا‘ جس میں کسی قسم کا نقص نہیں ہو گا‘ جس میں کسی قسم کا دھوکہ نہیں ہو گا‘ کسی قسم کی کمی نہیں ہو گی‘ تو جب یہ دائرئہ دائرئہ کامل بنتا ہے‘ وحدت حقیقی خدا کا ابتداء بھی اس سے انتہاء بھی اس سے۔

اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ حقیقت محمدیہ جس کو خدا نے فضیلت عطا کی آیا حقیقت محمدیہ میں بھی دائرہ قائم بنتا ہے یا نہیں۔

صلواة

توجہ ہے نا

حقیقت‘ یعنی جیسے ابتداء خدا سے انتہا خدا پر‘ آیا خدا نے اپنی ان صفات کا نمونہ بھی کسی کو بنایا ہے یا نہیں؟

کسی کو ماڈل بنایا ہے‘ ہم کہہ سکیں کہ خالق ہونے کے ناطق سے ابتداء بھی اسی کی انتہاء بھی اسی سے۔ لیکن اگر مخلوق دیکھیں حقیقت محمدیہ ۱ کہ جس سے ابتداء بھی ہو رہی ہے‘ انتہا بھی ہو رہی ہے۔ اگر یہ نہ ہو گا تو پھر کہا جائے گا کہ اس صفت کا مظہر کوئی نہیں۔ گویا کہ اس صفت کا آئینہ کوئی نہیں‘ اس صفت کا ماڈل کوئی نہیں۔ ظاہر ہے کہ جب تمام صفات کا مظہر خدا نے اہل بیت (علیھم السلام)کو بنایا ہے تو اس صفت کا مظہر کیوں نہیں بنایا۔ تو اب یہ دائرہ کس طرح قائمہ بنے گا کہ ابتداء بھی محمد سے ہو انتہاء بھی محمد سے۔

دیکھئے حضرات!

جیسے میں نے ابھی عرض کیا کہ مخلوق اول حقیقت محمدیہ ہے تو جب مخلوق اول حقیقت محمدیہ ہے تو ابتداء تو محمد سے ہو رہی ہے آیا انتہاء محمد پر ہے کہ نہیں‘ تو مخلوق اول ہے حقیقت محمدیہ ۔ آدم (علیہ السلام) ‘ نوح(علیہ السلام)آئے‘ ابراہیم ۱ نے اپنا کام کیا‘ موسیٰ(علیہ السلام)تشریف لائے‘ حضرت عیسیٰ(علیہ السلام)آئے‘ تمام انبیاء(علیہم السلام)کے بعد خاتم النبین کس کو قرار دیا گیا؟ حضرت محمد کو۔ تو اب کہا جا سکتا ہے کہ حجت خدا کی ابتداء بھی محمد سے ہوئی اور انتہاء بھی محمد پر ہو گی۔

یعنی مخلوق اول بھی محمد ‘ پہلے ان کو نبی ۱ بنایا گیا۔ جب آدم (علیہ السلام) مٹی اور پانی کے درمیان تھے اور ظاہری طور پر بھی نبوت محمد کو دی گئی۔

صلواة

دیکھئے! اس کی مزید وضاحت ہو جائے کہ خداوند عالم کے مختلف منصب ہیں‘ مختلف عہدے ہیں‘ جو خداوند کریم نے انبیاء(علیہم السلام) ‘ اولیاء کو دیئے۔ ایک عہدہ ہے نبوت کا ‘ آیا رسالتمآب کوجب نور کی اہلیت سے پیدا کیا گیا‘ اس وقت نبی تھے یا نہیں‘ ظاہر ہے کوئی جواب تو ہو گا۔ آپ کہیں نبی تھے یا کہیں گے کہ نبی نہیں تھے

تو جناب رسالتمآب ۱ اس وقت بھی نبی تھے‘ اس لئے تو جناب نے فرمایا تھا:

کنت نبیاً و آدم بین الماء والطین

"میں اس وقت بھی نبی تھا‘ جب آدم (علیہ السلام)پانی اور مٹی کے درمیان تھا۔"

تو جب نوری خلقت محمد مصطفی کی ہوئی‘ اس وقت وہ نبی تھے توگویا نبوت کی ابتداء نوری لحاظ سے محمد سے ہوئی‘ عہدے کی ابتداء محمد سے ہوئی اور آخر میں‘ خاتم النبین ۱ کس کو قرار دیا گیا۔ جناب رسالتمآب ۱ کو۔ تو کہا جا سکتا ہے‘ اس نبوت کی ابتداء بھی محمد سے ہوئی اور انتہاء بھی محمد پر ہوئی‘ تو جیسے ہر چیز کا رجوع خدا پر‘ ابتداء بھی خدا پر۔ یہاں نبوت کی ابتداء بھی محمد پر‘ نبوت کی انتہا بھی محمد پر‘ لہٰذا یہ دائرہ دائرہ قائمہ بنے گا‘ اس میں کسی قسم کا نقص نہیں ہو گا۔

اب کہ جا سکتا ہے کہ جیسے ہر چیز کی ابتداء خدا پر‘ انتہاء خدا پر۔ ایسے منصب‘ عہدہ کی ابتداء محمد پر اور انتہاء محمد پر۔

صلواة

کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ منصب کی انتہاء محمد پر نہیں ہوئی۔ اس لئے محمد کے بعد ان کے اولیاء  ہیں‘ علی مرتضی ۱‘ حسن ۱ و حسین(علیہ السلام)ہیں‘ امام زین العابدین ۱ ہیں۔ ظاہر ہے کہ اولیاء  بھی وہی ہیں‘ منصب پر فائز نبی ۱ کے خلیفہ ہیں۔ منصب کی ابتداء تو محمدسے ہوئی‘ لیکن انتہاء محمد پر نہیں ہوئی۔

اس کے دو جواب دیئے جا سکتے ہیں۔

توجہ کے ساتھ سنیں:

پہلا جواب یہ ہے کہ یہ ذوات مقدسہ اگرچہ منصب ولایت پر فائز ہیں‘ مذہب خلافت پر فائز ہیں‘ لیکن یہ ذوات مقدسہ حقیقت محمدیہ کا جز ہیں۔ حقیقت محمدیہ سے جدا نہیں ہیں۔ اس لئے جناب رسالتمآبنے فرمایا:

اولنا محمد اوسطنا محمد کلنا محمد

"ہمارا پہلا بھی محمد ‘ ہمارا درمیانہ بھی محمد ‘ ہمارا آخری بھی محمد ‘ سب کے سب محمد ہیں۔"

صلواة

یہ سب محمد کے نور کے جز ہیں‘ ان کو علیحدہ شمار نہیں کرنا ہے‘ بلکہ محمدمیں شمار کئے جائیں گے۔

لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ خدا کے منصب کی ابتداء محمد سے ہوئی اور منصب کی انتہاء بھی محمد پر ہے‘ لہٰذا یہ دائرہ‘ دائرئہ قائمہ ب نے گا۔

یہیں ایک دوسری صورت بیان کی جا سکتی ہے کہ یہ ذوات مقدسہ محمد عربی کا جز میں‘ ان کے نور کا جز میں نور سے جدا نہیں ہیں‘ لیکن خداوند عالم نے ان ذوات مقدسہ میں کئی ذوات کو محمد قرار دیا۔

علی (علیہ السلام)کے لئے امام حسین(علیہ السلام) ‘ امام حسین(علیہ السلام) ‘ امام زین العابدین ۱ ان کے بعد کون ہے؟ محمد جعفر صادق ‘ موسیٰ کاظم ‘ علی رضا ‘ ان کے بعد محمد تقی (علیہ السلام)تو یہ نور کے لحاظ سے بھی محمد ‘ محمد کا جز اور نام کے لحاظ سے بھی وہی ہیں‘ جو محمد کا نام ہے۔ ان کے بعد علی نقی ۱‘ حسن عسکری آخری ہیں‘ ان کی خصوصیت ہے کہ ان کا نام بھی محمد اور کنیت بھی محمد ابوالقاسم ہے۔

توجہ ہے نا

جناب رسالتمآب ۱ کا فرمان ہے:

کسی شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ میرا نام رکھے اور میری کنیت بھی رکھے۔ یہ حق صرف بارہویں لعل ولایت کو ہے کہ ان ۱ کا نام میرا نام ہے‘ ان ۱ کی کنیت میری کنیت ہے۔

تو اب کہا جا سکتا ہے کہ منصب کی ابتداء محمد سے ہوئی۔ جب وہ عالم نور میں تھے تو اس منصب کی انتہاء بارہویں لعل ولایت پر ہو رہی ہے۔ جو نام کے لحاظ سے محمد ہیں‘ کنیت کے لحاظ سے ابوالقاسم ہیں‘ لہٰذا اول محمد سے کام شروع‘ آخر محمد پر کام

ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم

فقط یہ نہیں کہ سب سے پہلے منصب نبوت پر رسالتمآب کو فائز کیا گیا اور سب سے آخر خاتم النبین بھی وہی ہیں‘ بلکہ جتنے بھی انبیاء(علیہم السلام)گزرے ہیں‘ سب سے ایک عہد لیا گیا تھا‘ تمام انبیاء(علیہم السلام)سے ایک میثاق لیا گیا تھا۔

قرآن کے تیسرے پارے میں ہے کہ خداوند عالم نے تمام انبیاء(علیہم السلام)سے ایک معاہدہ کیا‘ وہ معاہدہ کیا تھا؟

اے انبیاء(علیہم السلام) ! ہم نے تمہیں کتاب دی‘ ہم نے تمہیں حکمت دی‘ یہ سب چیزیں دیں‘ آپ نے ایک کام کرنا ہے‘ وہ یہ کہ تمہارے پاس ایک رسول آنے والا ہے‘ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ اس کی تصدیق کرے گا‘ تمہاری کتابوں کی تصدیق کرے گا‘ متغیر و متبدل ہو چکی ہیں‘ اس میں تبدیلی ہو چکی ہے وہ نبی آ کے بتائے گا‘ یہ کتابیں صحیح ہیں‘ تورات صحیح ہے‘ زبور صحیح ہے‘ انجیل صحیح ہے۔ لوگوں نے تمہارے تذکرے اس طرح کئے ہیں کہ بعض اوقات تم میں نقص دکھایا گیا ہے‘ غلطیاں دکھائی گئی ہیں‘ وہ نبی آئے گا تمہاری عظمت کو ظاہر کرے گا۔

محترم مکرم!

وہ بتائے گا کہ تمام نبی معصوم ہوتے ہیں‘ ان میں کسی قسم کی غلطی نہیں ہوتی‘ وہ کسی قسم کی خطا نہیں کرتے‘ ان میں نسیان نہیں ہوتا‘ ان میں ہذیان نہیں ہوتا۔

گویا کہ بعد میں آنے والا نبی تمہاری نبوتوں کا بھی محافظ‘ تمہاری تبلیغات کا بھی محافظ اور تمہاری عظمتوں کا بھی محافظ‘ جو اشکال تم پر ہو رہی ہیں ان کو دور کرے گا کہ تمہاری عظمت محفوظ رہے‘ تمہاری تبلیغ محفوظ رہے‘ تم پر جو اشکال کئے گئے ہیں ان کا جواب دیا جا سکے۔

لیکن آپ نے کیا کام کرنا ہے جب وہ تمہاری تصدیق کرے گا‘ تمہاری نبوت کی حفاظت کرے گا‘ آپ کی تبلیغ کی حفاظت کرے گا تو آپ نے کیا کرنا ہے‘ تمہیں چاہئے کہ اس پر بھی ایمان لاؤ‘ اس کی مدد کرو۔ معاہدہ کیا جا رہا ہے‘ تمہیں کتاب دی گئی‘ حکمت دی گئی‘ نبوت دی گئی‘ بعد میں ایک نبی آ رہا ہے جو تمہاری عظمت کی حفاظت کرے گا‘ اس کے بدلے میں آپ نے کیا کرنا ہے‘ اس نبی پر ایمان لانا ہے اور اس کی مدد بھی کرنی ہے۔

اب آپ دیکھیں کہ اس معاہدے کی رو سے جتنے بھی انبیاء(علیہم السلام)آئے‘ ان کو نبوت تب ملی جب ان سے اقرار لے لیا گیا۔

تو اب اول میں بھی نبی کی نبوت‘ آخر میں بھی نبی کی نبوت‘ درمیان میں بھی۔ جتنے انبیاء(علیہم السلام)آئے وہ سب کے سب اس نبی کا تذکرہ کرتے آئے‘ چنانچہ اب ایمان کس طرح لائیں‘ کس طرح ان کا تذکرہ کریں؟

اوقات بتاتی ہیں کہ جب رسالتمآب ۱ معراج پر تشریف لے گئے‘ تمام انبیاء(علیہم السلام)کو نماز پڑھائی۔ ابراہیم خلیل اللہ بزرگ نبی تھے‘ حضرت فرمانے لگے

آپ بزرگ ہیں‘ آپ نماز پڑھائیں‘ میں آپ کے پیچھے نماز پڑھوں گا‘ لیکن ابراہیم ۱ نے کہا آپ زیادہ رتبے والے ہیں آپ نماز پڑھائیں ہم آپ کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔

لہٰذا تمام انبیاءنے آپ کے پیچھے نماز پڑھی‘ جب انبیاء(علیہم السلام)نماز پڑھ چکے تو خداوند عالم کا حکم ہوا کہ اے میرے حبیب! ان سے ایک سوال تو کرو‘ وہ سوال تو کرو۔

اے میرے حبیب! آپ سے پہلے جتنے رسول آئے‘ ان سے سوال کرو‘ وہ سوال کیا تھا؟

تمہیں نبی کیوں بنایا گیا؟ تمہیں مبعوث رسالت کیوں کیا گیا؟

توجہ

سب نے جواب دیا‘ جب ہمیں نبی بنایا گیا‘ مبعوث رسالت قرار دیا گیا‘ تو ہمیں کہا گیا کہ دیکھو! تین چیزوں کا اقرار کرنا ہے:

۱ ۔ اللہ کی وحدت کا اقرار بھی کرنا ہے اور اللہ کی واحدانیت کا پرچار بھی کرنا ہے کہ خدا وحدہ لاشریک ہے۔

۲ ۔ "نبوتک یا محمد" کہ محمد کی نبوت کا اقرار بھی کرنا ہے اور پرچار بھی کرنا ہے۔

۳ ۔ "بولاتیک ولی یا محمد" علی (علیہ السلام)کی ولایت کا اقرار بھی کرنا ہے اور علی (علیہ السلام)کی ولایت کا پرچار بھی کرنا ہے۔

تو ہم تمام انبیاء(علیہم السلام)ایمان لائے‘ رسول اللہ ۱ کی نبوت پر‘ علی (علیہ السلام)کی ولایت پر‘ ایمان تو ہو گیا لیکن دوسرے نمبر پر کہا گیا تھا کہ مدد بھی کرنی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نبیوں ۱ نے کیا مدد کی‘ بلکہ آدم (علیہ السلام)کو توبہ کا وسیلہ تلاش کرنا پڑا‘ تو آدم (علیہ السلام)نے کس کی طرف رجوع کیا؟

محمد و آل محمد کی طرف۔

نوح(علیہ السلام)کی کشتی جب بھنور میں آئی تو کس کو وسیلہ تلاش کیا؟

اہل بیت (علیھم السلام)کی طرف رجوع کیا۔

ابراہیم ۱ کو جب آگ میں ڈالا جانے لگا تو انہوں ۱ نے بھی اہل بیت (علیھم السلام)کی طرف رجوع کیا۔

عیسیٰ(علیہ السلام)کو جب صلیب پر چڑھایا گیا تو عیسیٰ(علیہ السلام)نے اہل بیت (علیھم السلام)کی طرف رجوع کیا۔

اس سے ثابت ہوا کہ اہل بیت (علیھم السلام)نے انبیاء(علیہم السلام)کی مدد کی‘ انبیاء(علیہم السلام)نے تو اہل بیت (علیھم السلام)کی کوئی مدد نہ کی۔

لیکن قرآن کہتا ہے:

آپ نے مدد بھی کرنی ہو گی۔

اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ جتنے نبی آئے‘ مدد تو نہ کر سکے لیکن آدم (علیہ السلام)نے کہا‘ اے نوح(علیہ السلام) ! آپ بعد میں آئے ہیں‘ آپ نے مدد کرنا ہے۔ نوح(علیہ السلام)نے کہا‘ اے ابراہیم ۱! آپ بعد میں آئے ہیں‘ آپ نے مدد کرنا ہے۔ ابراہیم ۱ نے موسیٰ(علیہ السلام)سے کہہ دیا‘ موسیٰ(علیہ السلام)نے عیسیٰ(علیہ السلام)سے کہہ دیا۔

اب عیسیٰ(علیہ السلام)تمام نبیوں کے نمائندہ توجہ

اب عیسیٰ(علیہ السلام)نے مدد کرنی ہے رسالتمآب ۱ کی‘ اب عیسیٰ(علیہ السلام)کب مدد کریں گے‘ تاکہ دلیل ہو کہ تمام انبیاء(علیہم السلام)نے مدد کی‘ قرآن کے مطابق لیکن

عیسیٰ(علیہ السلام)بھی رسالتمآب کی مدد تو نہ کر سکے۔ میں کہتا ہوں عیسیٰ(علیہ السلام)نے مدد کی کہ جب بارہویں لعل ولایت تشریف لائیں گے‘ ان کی حکومت ہو گی‘ ان کی بادشاہی ہو گی‘ اس وقت عیسیٰ(علیہ السلام)آئیں گے اور بارہویں لعل ولایت ۱ کی مدد کریں گے‘ ان کی مدد کرنا گویا محمد مصطفی کی مدد کرنا ہے۔

عیسیٰ(علیہ السلام)تشریف لائیں گے‘ بارہویں لعل ولایت ۱ کہیں گے کہ عیسیٰ(علیہ السلام)آپ اللہ کے نبی ہیں‘ اوالعزم پیغمبر ہیں‘ صاحب کتاب ہیں‘ آگے بڑھئے اور نماز پڑھائے۔ اس وقت عیسیٰ(علیہ السلام)کہیں گے کہ میں نبی بھی تھا‘ رسول بھی تھا‘ میں پیغمبر تھا‘ میں صاحب کتاب بھی ہوں‘ چوتھے آسمان پر میرا بسیرا ہے‘ لیکن جہاں تک نماز کا تعلق ہے آپ کا کام ہے‘ نماز پڑھانا میرا کام نہیں‘ میرا کام آپ کے پیچھے نماز پڑھنا ہے۔ تو جہاں بارہویں لعل ولایت کے قدم ہوں گے‘ وہاں عیسیٰ(علیہ السلام)کا سر ہو گا۔

صلواة

تو جب حضرت عیسیٰ(علیہ السلام)بارہویں لعل ولایت کے امام نہ بن سکے تو کیسے کہا جا سکتا ہے کہ کوئی صحابی نماز پڑھائے اور علی (علیہ السلام)اس کے پیچھے نماز پڑھیں۔

نعرئہ حیدری‘ یاعلی (علیہ السلام) !

اب آپ کہیں گے کہ خدایا‘ تیری حکمت کا کیا کہنا ہمیں تو کچھ پتہ نہیں چلتا کہ یہ معاملہ کیا ہے؟ کہ حضرت عیسیٰ(علیہ السلام)تین دن کے تھے کہ انہوں نے نبوت کا اعلان کر دیا‘ کہہ دیا کہ کتاب بھی میرے پاس ہے‘ حکمت بھی میرے پاس ہے‘ میں نماز بھی پڑھتا ہوں‘ زکوٰة بھی دیتا ہوں‘ جب تک زندہ ہوں اپنی ماں کے ساتھ احسان بھی کرتا رہوں گا۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ(علیہ السلام)تین گھنٹے یا تین دن کے تھے کہ نبوت کا اعلان کر دیا‘ لیکن

خدایا! یہ کیا مصلحت تھی کہ رسالتمآب چالیس سال تک انتظار کرتے رہے کہ نبوت کا اعلان کروں؟ جو خاتم النبین ہیں‘ تمام انبیاء(علیہم السلام)کے سردار ہیں‘ ان کو نبوت کب ملی؟ چالیس سال بعد۔ خدایا!

ہمیں پتہ نہیں چلتا کہ اس میں تیری مصلحت کیا ہے؟ تو خدا فرمائے گا:

نہیں‘ نہیں‘ اس میں میری مصلحت نہیں تھی‘ مسلمانوں کی مصلحت تھی‘ میں نے تو نور محمد کو اس وقت نبی قرار دیا تھا‘ جب آدم (علیہ السلام) ‘ مٹی اور پانی کے درمیان موجود تھا۔ یہ مصلحت مسلمانوں کی ہے کہ وہ چالیس سال تک نبی ماننے کو تیار نہیں۔

خدایا!

یہ عجیب مصلحت ہے کہ حضرت عیسیٰ(علیہ السلام)تین گھنٹے یا تین دن کے تھے‘ پاک بھی تھے‘ نبی بھی تھے‘ کتاب بھی ان کو مل گئی‘ حکمت بھی مل گئی‘ ان کو آپریشن کی ضرورت نہیں پڑی۔ لیکن رسالتمآب چالیس سال تک تیری عبادت کرتے رہے‘ صادق اور امین کا لقب بھی پڑھا رکھا ہے‘ لیکن ہوا کیا تیرا فرشتہ آیا اور کہا:

اے محمد! پڑھئے۔

تو محمد کہنے لگے کہ میں تو ان پڑھ ہوں‘ کیسے پڑھوں؟ تو فرشتے نے ایسا دبایا کہ حضرت کے پسینے چھوٹ گئے اور پڑھنا شروع کر دیا‘ عجیب منطق ہے۔

مسلمانوں کو فرشتے نے دبایا تو عالم بن گئے کہ محمد عربی کو دبایا تو وہ عالم بھی ہو گئے اور پسینے بھی چھوٹ گئے‘ تب انہوں نے پڑھنا شروع کر دیا۔ اب اس کے بعد بھی ان کے پسینے میں غلاظت تھی یا غلط خون پیدا ہو گیا تھا کہ ان کا آپریشن بھی کرنا پڑا۔

آپریشن کرنے والا کون تھا؟

جبرائیل ۱ ۔

میرے مولا کا شاگرد۔

لیکن یہاں جبرائیل ۱ محمد کا استاد بنایا گیا ہے اور ان کو پڑھا رہا ہے۔

خدا

یہ کیا مصلحت ہے؟

تو خدا کہنے لگا‘ میں نے تو محمد کو پاک و پاکیزہ پیدا کیا تھا‘ اس وقت جب جبرائیل ۱ بھی پیدا نہیں ہوا تھا۔ یہ مسلمانوں کی مصلحت تھی کہ لوگوں کو اونچا کرنے کے لئے ان کی عظمت بنانے کے لئے‘ محمد کی عظمت کو گھٹایا گیا ورنہ محمد میں کسی قسم کی کمی پائی ہی نہیں جاتی۔

دیکھئے!

اس پوری کائنات میں دو خاندان ایسے ہیں کہ جن کا مقابلہ کسی صورت میں نہیں کیا جا سکتا‘ ان کو خداوند عالم نے عظمت بخشی‘ ان کا درجہ بلند کیا۔ ان دو خاندانوں کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔

ایک خاندان جسے آل ابراہیم کہا جاتا ہے۔

دوسرا خاندان جسے آل عمران کہا جاتا ہے۔

ان دونوں خاندانوں میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔ یہ دونوں ایسے ہیں کہ پوری کائنات میں ان کی نظیر نہیں ملتی۔ ان دونوں خاندانوں میں بیک وقت پانچ‘ پانچ معصوم ہیں‘ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ معصوموں کی تعداد بیک وقت زیادہ ہو۔

توجہ ہے نا!

آل عمران میں بھی بیک وقت پانچ معصوم ہیں۔

آل ابراہیم میں بھی پانچ معصوم ہیں۔

آل ابراہیم میں پانچ معصوم کون تھے؟ حضرت عمران ۱‘ حضرت زکریا ‘ حضرت یحییٰ ‘ حضرت عیسیٰ(علیہ السلام)اور ایک معصوم بی بی جن کا نام مریم طاہرہ ہے‘ تو مرد‘ دو بچے‘ ایک عورت ہے۔

آل عمران میں بھی بیک وقت پانچ معصوم ہیں‘ محمد مصطفی ‘ علی مرتضیٰ ‘ فاطمہ زہر ‘ حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام۔

آل ابراہیم میں ایک تعجب ناک چیز یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) بغیر باپ کے کیسے پیدا ہو گئے؟ اور آل عمران میں ایک تعجب خیز چیز ۲۷۲ ہجری میں امام زمانہ ۱ کی ولادت کیسے ہوئی؟ اور وہ آج تک کیسے موجود ہیں؟ تو ان میں بھی تعجب ہو رہا ہے‘ ان دونوں خاندانوں پر تعجب ہو رہا ہے۔ یہ دونوں خاندان شریف ہیں‘ دونوں خاندان عظیم ہیں‘ لیکن حقیقت کیا ہے؟ کہ ان دو خاندانوں میں عظمت کی مالکہ

آل عمران میں عظمت کی مالکہ فاطمہ زہرا (علیھا السلام)۔

آل ابراہیم میں عظمت کی مالکہ مریم طاہرہ صلواة

یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا‘ بلکہ مریم کا تذکرہ خدا نے کیا ہے۔

اصل میں تذکرہ تو مریم کا کیا‘ مگر ان کے باپ کا بھی تذکرہ ہو گیا۔ اصل میں تذکرہ مریم کا ہے مگر ان کے سفیر حضرت یحییٰ کا بھی ہو گیا۔ اصل میں تذکرہ مریم کا ہے مگر عیسیٰ(علیہ السلام)کا بھی تذکرہ ہو گیا۔

دیکھیں! اصل میں تذکرہ مریم کا کیا ہے؟ دو لفظوں میں۔

اے مریم! خدا نے تجھے مصطفی بنایا ہے‘ خدا نے تجھے مرتضیٰ بنایا ہے۔

اب دوسری طرف آیئے:

اصل میں تذکرہ فاطمہ زہرا (علیھا السلام)کا کیا گیا‘ مگر فاطمہ ۱ کے تذکرے سے فاطمہ ۱ کے بآپ کا بھی تذکرہ ہو گیا‘ فاطمہ ۱ کے شوہر ۱ کا بھی ہو گیا‘ فاطمہ ۱ کے بیٹوں ۱ کا بھی تذکرہ ہو گیا۔ حدیث کساء پڑھتے ہوئے پوچھا جاتا ہے کہ چادر میں کون ہے؟ تو تعارف کس طرح کرایا جاتا ہے؟

یہ فاطمہ ۱ ہے‘ یہ ان کے شوہر ۱‘ فاطمہ ۱ کا بآپ ‘ فاطمہ ۱ کے دو شہزادے ۱ ہیں۔ تو وہاں مریم کا تذکرہ موجود‘ یہاں فاطمہ ۱ کا تذکرہ موجود و مقصود۔

لیکن مریم کے تذکرے میں دو لفظ‘ خدا نے تجھے چن لیا ہے اور خدا نے تجھے پاک بنایا ہے‘ لیکن۔

جب فاطمہ ۱ کا تذکرہ ہوا تو قرآن کہتا ہے:

انما یرید الله لیزهب عنکم

قرآن مجید میں فاطمہ ۱ کو مصطفی کہا گیا ہے۔ قرآن مجید میں فاطمہ ۱ کو مجبتیٰ ۱ کہا گیا ہے۔ قرآن مجید میں طہارت کا تذکرہ ہے‘ تطہیر کا تذکرہ ہے‘ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ مریم کے لئے‘ دو لفظ ہیں قرآن مجید میں‘ مصطفی اور لفظ مرتضیٰ‘ طہارت۔ لیکن فاطمہ زہرا (علیھا السلام)کے لئے اصطفٰی بھی استعمال ہوا‘ ارتضیٰ بھی استعمال ہوا‘ اجتبٰی بھی اور ارادئہ خداوندی بھی استعمال ہوا‘ تطہیر بھی استعمال ہوا‘ اتطہیرا بھی استعمال ہوا تو مریم کے لئے دو لفظ اور فاطمہ ۱ کے لئے سات لفظ۔ اپنی طرف سے نہیں خہہ رہا بلکہ خدا نے ذکر کیا ہے۔

اب دیکھیں! مریم کے لئے دو لفظ اور فاطمہ ۱ کے لئے سات لفظ‘ گویا بتلانا مقصود ہے کہ مریم کے لئے دو لفظ میں تو فاطمہ ۱ کی طہارت کے لئے سات لفظ ہیں۔

صلواة

صرف یہی نہیں بلکہ مریم سے کہا جا سکتا ہے کہ اے مریم! ٹھیک ہے تیرا باپ معصوم تھا‘ تیرا بیٹا معصوم تھا‘ تو خود معصوم ہے‘ لیکن کیا کہنے!

فاطمہ زہرا (علیھا السلام)کا باپ بھی معصوم‘ فاطمہ ۱ کا شوہر ۱ بھی معصوم‘ فاطمہ ۱ کے بیٹے ۱ بھی معصوم‘ فاطمہ ۱ کے گیارہ بیٹے ۱ بھی معصوم۔ تو منزلت کے لحاظ سے فاطمہ ۱ کا درجہ بڑا ہے۔

منزلت کے لحاظ سے فاطمہ ۱ کا تذکرہ قرآن میں کیا گیا ہے کہ کوئی عورت مقابلہ نہیں کر سکتی‘ لیکن۔

کیا کہنے عیسائیوں کے

انہوں نے اپنے نبی کی ماں کی اس قدر عزت کی کہ ان کو بڑھا کر خدا کے ساتھ ملا دیا۔

مسلمانو!

تمہاری عزت کو کیا ہو گیا کہ تم نے اہل بیت (علیھم السلام)کو اس قدر گھٹایا کہ اہل بیت (علیھم السلام) کے لاشے گھوڑوں کی ٹاپوں کے نیچے روندے گئے۔

پھر تم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہو۔

ایک شخص کہتا ہے کہ جب اس نے دیکھا کہ امام حسین(علیہ السلام)کو شہید کر کے سر تن سے جدا کر دیا گیا ہے تو سر ایک نیچی سیڑھی پر رکھا ہوا ہے۔

اس شخص نے پوچھا:

مجھے بتاؤ‘ یہ کون ہے؟

بتایا گیا کہ حسین(علیہ السلام)ابن فاطمہ ۱ ہے۔

اس نے پھر پوچھا کہ فاطمہ ۱ کون ہے؟

بتایا گیا کہ فاطمہ ۱ محمد کی بیٹی ہے۔

جب یہ نام آیا تو اس شخص نے چیخ کر کہا کہ

حضرت داؤد علیہ السلام اس دنیا میں نہیں ہیں‘ مگر ان کا ایک گدھا جس پر وہ سواری کرتے تھے‘ وہ ایک جگہ پر بیٹھا تو ہم نے وہاں زیارت گاہ بنائی اور وہاں جا کر زیارت کرتے ہیں۔

لیکن مسلمانوں تمہاری غیرت کو کیا ہو گیا ہے کہ محمد کی بیٹی فاطمہ ۱ اور فاطمہ ۱ کے بیٹے ۱ کو ذبح کر کے اس کی لاش پر گھوڑے دوڑائے گئے اور پھر کہتے ہو کہ ہم مسلمان ہیں۔

حضرات محترم!

اہل بیت (علیھم السلام)پر اس قدر مصیبتیں آئیں کہ ان کا ذکر کیا جانا بہت مشکل ہے‘ انسان حیران رہ جاتا ہے کہ

دسویں کا دن میدان کربلا ہے‘ ہر شخص اپنی اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے جا رہا ہے‘ آخر میں ایک شخص جاتا ہے اور کہتا ہے:

مولا ! مجھے اجازت دیجئے‘ میں بھی جا کر جنگ کروں۔

ہر کسی کو حسین(علیہ السلام)نے خود بھیجا مگر اسے کیا جواب دیتے ہیں کہ تجھے میں اجازت نہیں دے سکتا‘ اگر اجازت لینی ہے تو زینب (علیھا السلام)کے پاس جاؤ۔

آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ اجازت لینے والا کون تھا۔

اب زینب (علیھا السلام)کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں‘ سر جھکا ہوا ہے‘ آنکھوں میں آنسو ہیں‘ زینب (علیھا السلام)کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتے ہیں کہ شہزادی ۱! اجازت کے لئے آیا ہوں‘ مجھے اجازت دیجئے۔

سامنے زینب (علیھا السلام)کھڑی ہیں‘ دونوں بہن بھائی گریہ کر رہے ہیں۔

تو جناب زینب (علیھا السلام)فرماتی ہیں کہ

بھیا!

تمہیں کیسے اجازت دے دوں تو‘ تو ہمارے لشکر کا سپہ سالار ہے۔

حضرت زینب (علیھا السلام)نے فرمایا کہ بھیا عباس!

زمین پر بیٹھ جاؤ۔

عباس زمین پر بیٹھ گئے اور عباس کے سامنے زینب (علیھا السلام)بیٹھ گئی۔

اب دونوں بہن بھائی بیٹھے ہیں۔

روایت میں ہے کہ زینب (علیھا السلام)کی آنکھوں میں آنسو ہیں اور زمین پر اپنے ہاتھوں سے لکیریں کھینچ رہی ہے اور رو رہی ہے‘ کافی دیر تک زینب (علیھا السلام)روتی رہی‘ عباس بھی رو رہے ہیں۔

اس کے بعد زینب (علیھا السلام)پوچھتی ہے‘ عباس میں نے تمہیں زمین پر کیوں بٹؤایا ہے؟ عباس کہتے ہیں:

شہزادی ۱!

عباس کی زندگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ زینب (علیھا السلام)رو رہی ہے اور لکیریں کھینچ رہی ہے۔

جناب زینب (علیھا السلام)نے کہا:

بھیا!

آج تجھے ایسی بات بتاتی ہوں جو میں نے بھائی حسین(علیہ السلام)کو بھی نہیں بتائی۔ جب ہم کوفہ میں رہتے تھے‘ میرے بابا کی شاہی تھی‘ ایک دن میں گھر میں اکیلی تھی‘ بابا آئے‘ میں اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی‘ بابا نے کہا:

زینب (علیھا السلام)ادھر آؤ۔

میں بابا کے سامنے آ گئی۔

بابا زمین پر بیٹھ گئے اور مجھے بھی زمین پر بٹھا لیا اور کافی دیر تک روتے رہے۔

میں حیران تھی کہ میں نے بابا کو پہلے کبھی روتے نہیں دیکھا‘ میرے بابا اس طرح گریہ تو نہیں کرتے تھے‘ آج ان ۱ کو کیا ہو گیا ہے۔

کون سی ایسی مصیبت آ پڑی کہ میرے بابا رو رہے ہیں۔

میں نے پوچھا:

بابا !

آپ کیوں رو رہے ہیں؟

تو بابا فرمانے لگے کہ بیٹی ۱! تجھے ایک بات بتانا چاہتا ہوں‘ وہ بات میں نے کبھی کسی کو نہیں بتائی۔

وہ بات کیا تھی؟

بیٹی ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ یہی کوفہ ہو گا‘ اسی کوفہ کے بازار میں تیرے دونوں ہاتھ پس پشت بندھے ہوں گے اور تجھے قید کر کے بازاروں اور درباروں میں پھیرایا جائے گا۔

جناب زینب (علیھا السلام)عرض کرتی ہیں:

بابا ! یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟

مجھے کیسے قید کیا جائے گا؟

کیا میرا حسین(علیہ السلام)نہیں ہو گا؟

کیا میرا عباس نہیں ہو گا؟

کیا میرا بیٹا علی اکبر نہیں ہو گا؟

کیا میرا بیٹا قاسم نہیں ہو گا؟

لیکن بابا روتے رہے‘ جواب نہیں دیا۔

بھیا عباس!

جب آپ مجھ سے اجازت لینے آئے تو مجھے یقین ہو گیا کہ میرا پردہ نہیں رہے‘ مجھے قید کر کے کوفہ بھی لے جایا جائے گا‘ وہ وقت آ گیا ہے۔

علی (علیہ السلام)جب بستر مرگ پر پڑے تھے تو آپ نے تمام بیٹوں کو بلایا اور وصیتیں کر رہے ہیں‘ بیٹے حسن ۱ کو وصیت کی کہ

بیٹا! آپ امام ہیں‘ سب کا خیال کرنا‘ پھر

بیٹے حسین(علیہ السلام)کو بلایا‘ روایت بتاتی ہے کہ

حسین(علیہ السلام)کو گلے سے لگایا اور کافی دیر تک روتے رہے۔


مجلس پنجم

بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم

( ایاک نعبد و ایاک نستعین )

حضرات گرامی!

انسان پاک و پاکیزہ لباس کے ساتھ بارگاہ رب العزت میں عرض کرتا ہے کہ پروردگار! ہم تیری ہی عبادت‘ تیرے ہی سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں‘ ہماری گردن صرف تیرے ہی سامنے جھکے گی‘ تیرے علاوہ کسی کے سامنے خم نہیں ہو گی۔

کل ذکر کیا گیا تھا کہ ایسی ذوات مقدسہ کی ضرورت ہے کہ جو ہمیں بتائیں کہ خدا کی عبادت کا طریقہ کار کیا ہے۔

کون سا طریقہ خداوند عالم کے ہاں پسندیدہ ہے؟

خدا کو سلام کس طرح کیا جاتا ہے؟

جب کوئی بتانے والا نہیں ہو گا‘ جب تک ہمارے سامنے کوئی ماڈل‘ نمونہ نہیں ہو گا‘ اس وقت تک ہم خدا کی عبادت اس طرح نہیں کر سکیں گے جس طرح خدا چاہتا ہے۔ صلواة

حضرت انسان کی پیدائش کا ذکرتے ہوئے خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

والله اخر جکم من بطون امها تنکم لا تعلمون شیئا

ارشاد ہو رہا ہے کہ اے انسان! خداوند عالم نے تمہیں پیدا کیا‘ ماؤں کے بطنوں سے کس حالت میں؟

کہ "لایعلمون" تم کچھ نہیں جانتے تھے‘ تمہیں کسی چیز کا علم نہیں تھا‘ بعد میں ذکر کیا گیا:

و جعل لکم السمع

خداوند عالم نے نہیں سننے کی قوت دی اور تجھے دیکھنے کی قوت دی تاکہ اس کے ذریعے معلوم کرو اور خدا تک وسیلہ تلاش کرو۔

حضرت انسان ماں کے پیٹ سے جاہل پیدا ہوا۔

ظاہر ہے کہ جب انسان ماں کے بطن سے جاہل پیدا ہوا‘ اب اگر اسے بتایا جائے کہ خداوند عالم کا علم اس کی ذات کا عین ہوتا ہے تو اس کے لئے سمجھنا مشکل ہو گا‘ کیونکہ جب انسان ماں کے بطن سے پیدا ہوا اسے کسی چیز کا علم نہیں تھا‘ صرف یہ جانتا تھا کہ میں ہوں‘ اس کے علاوہ اس بچے کو کسی چیز کا علم نہیں تھا۔ جب کچھ بڑا ہو گیا تو بعض چیزیں‘ جن کا تعلق دیکھنے کے ساتھ ہے‘ سننے کے ساتھ ہے‘ اسے ان کا علم ہوا۔

جب اس سے بھی ذرا بڑا ہوا تو ایسی چیزیں کہ جو دیکھی تو نہیں جا سکتی‘ محسوس کی جا سکتی ہیں۔ جیسے ماں باپ کی محبت‘ کسی عزیز کی محبت یا کسی کا معذرت کرنا‘ اس کا اسے علم حاصل ہوا۔

جب اس سے ذرا اور بڑا ہوا‘ اسے مکتب میں داخل کروا دیا گیا اور اب وہاں سے علم حاصل کر رہا ہے۔ اب یہ علم اس کی بنیاد بن رہا ہے‘ اب اس کے بعد اس کے اندر ایک قوت پیدا ہو گئی کہ جتنا علم اسے حاصل ہوا‘ اس کی طاقت سے جو چیزیں اسے معلوم نہیں‘ ان کا علم حاصل کر سکے۔

اس لحاظ سے انسان کی عقل کے چار درجے ہیں:

پہلا درجہ

جس سے علم حاصل ہوتا ہے‘ اس علم کو علم درسی کہا جاتا ہے یعنی آنکھ‘ کان وغیرہ سے حاصل ہوا ہے‘ اس کے علاوہ اور کسی چیز کو سمجھ نہیں سکتا۔

دوسرا درجہ

جب کچھ بڑا ہوا‘ اب جو علم اسے حاصل ہوا‘ اس علم کو علم خیال کہتے ہیں۔ مثلاً

محبت کا علم ہو گیا‘ اس کو اپنے پرائے کا علم ہو گیا‘ کون مجھے ڈانٹ رہا ہے‘ جھڑک رہا ہے۔

تیسرا درجہ

اس علم کو علم واہمی کہا جاتا ہے۔

یعنی اس وقت یہ کچھ نہ کچھ معانی و معلومیت معلوم کر لیتا ہے کہ یہ شخص فلاں ہے‘ فلاں سے بڑا ہے‘ فلاں شہر سے ہے‘ یہ شہر چھوٹا ہے۔

فلاں چیز زیادہ ہے‘ فلاں کم۔

چوتھا درجہ

اس کا علم اس حد تک پہنچتا ہے کہ جو کچھ حاصل کر رہا ہے‘ اب اس کے اندر کامل ہے۔ جتنا علم حاصل کرتا جائے گا‘ اتنا ہی علم میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ جب یہ ہماری عقل کے چار درجے ہیں تو جیسا کہ ایک روز پہلے ذکر کیا گیا کہ یہ انسان کی عقل جس کو عقل صغیر کہتے ہیں‘ اس کے مقابلے میں ایک پوری کائنات کی بھی ایک عقل ہے‘ پوری کائنات بمنزلہ ایک جسم کے ہے‘ بمنزلہ ایک روح کے ہے‘ اس کی بھی ایک روح ہے‘ اس کی بھی ایک عقل ہے‘ اس کو عقل کلی کہا جاتا ہے‘ تو جس طرح عقل انسانی کے چار درجے ہیں‘ اسی طرح عقل کلی کے بھی چار درجے ہیں:

پہلا درجہ

حضرت آدم (علیہ السلام)ہیں۔

جنہیں اسماء کا علم دیا گیا‘ ناموں کا علم‘ لیکن وہ علم اس قدر زیادہ تھاکہ فرشتوں سے بڑھ گیا۔

دوسرا درجہ

جب کچھ ترقی ہوئی تو حضرت نوح (علیہ السلام)کو علم عطا فرمایا۔

حضرت نوح (علیہ السلام)کا علم اس قدر تھا کہ آئندہ آنے والی نسلیں کس قسم کی ہوں گی‘ ان کی اولاد کس قسم کی ہو گی؟

تیسرا درجہ

حضرت ابراہیم (علیہ السلام)کا علم وہ علم‘ اس قسم کا علم تھا جن کے متعلق قرآن مجید فرماتا ہے:

یہ تیسرے درجے کا علم تھا۔

چوتھا درجہ

علم کلی وہ اس قدر زیادہ تھا کہ جس کا تذکرہ کرتے ہوئے میرے مولائے کائنات امیرالمومنین (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا کہ

خدا کی قسم! اس خلافت کی قمیض فلاں شخص نے زبردستی پہن لی۔ حالانکہ اس قمیض پہننے والے کو علم ہے کہ میرا محل اس خلافت سے ایسے ہے‘ میرا مرتبہ اس خلافت کے ساتھ ایسا ہے‘ جس طرح چکی کے درمیان اس کلی کا مرتبہ ہوتا ہے‘ جس پر چکی چلتی ہے۔

چکی تو دیکھی ہو گی۔

اگرچہ شہر میں یہ چیزیں کم ہوتی ہیں تو بہرحال۔

چکی میں جیسے کیل ہوتا ہے کہ یہ چکی اس کے گرد گھومتی ہے‘ اسی طرح میرا مرتبہ اس خلافت کے ساتھ ہے۔

یعنی خلافت کی چکی میرے گرد گھوم رہی ہے‘ میرے علاوہ خلافت نہیں چلتی۔ یہی وجہ ہے جب انہیں ضرورت محسوس ہوتی تھی تو علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کے پاس جا کر اپنی مشکل کشائی کرواتے تھے۔

صلواة

مولائے کائنات(علیہ السلام)نے فرمایا:

مجھ سے علم کے سیلاب بہہ رہے ہیں تاکہ توڑا سا علم ہے اور میرے علم کی بلندی اس قدر ہے کہ پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا‘ اس بلندی کو چھو بھی نہیں سکتا۔

صلواة

تو آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ

عقل کلی یعنی حقیقت محمدیہ کے علم کا درجہ اس قدر ہے کہ وہاں علم کے سیلاب بہہ رہے ہیں اور پرندہ بھی اس بلندی تک نہیں پہنچ سکتا‘ تو یہ عقل کا آخری درجہ ہے۔

اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جس قدر علم حقیقت محمدیہ ۱ کو خداوند عالم نے ودیت کیا ہے‘ اتنا علم نہ کسی نبی کے پاس تھا‘ نہ کسی ولی کے پاس تھا۔

صلواة

حضرات محترم!

دیکھئے! اس دنیا میں ہم جتنا علم سیکھتے ہیں‘ علم حاصل کرنے میں کسی استاد کے محتاج ہیں۔

بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو بڑا بھی ہو جائے۔

جب تک استاد نہ ہو علم حاصل نہیں کر سکتا۔

تو گویا ہم جاہل ہیں اور علم حاصل کرنے کے لئے استاد کے محتاج ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ استاد کیسا ہے؟ اس نے علم کہاں سے سیکھا ہے؟ آیا اس کا علم مادر زاد ہے‘ وہ بھی تو جاہل تھا‘ اس نے بھی اپنے استاد سے علم لیا۔ اسی طرح سلسلہ چلتا جائے گا‘ جتنے بھی لوگ ہیں‘ علم حاصل کرتے ہیں‘ اپنے اپنے استاد سے۔ وہ استاد دوسرے سے علم حاصل کرتا ہے‘ وہ تیسرے استاد سے علم حاصل کرتا ہے‘ اس طرح یہ سلسلہ آگے چلتا جائے گا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جتنے لوگ علم حاصل کرنے والے تھے ان کے استاد اسی قسم کے تھے‘ انہوں نے بھی کسی نہ کسی سے علم حاصل کیا۔

اگر سب اسی قسم کے ہیں تو جیسے ہم ناقص ہیں‘ ہمارے استاد بھی ناقص‘ کیونکہ انہوں نے بھی علم کسی اور سے حاصل کیا‘ اسی طرح جتنا سلسلہ آگے چلتا جائے گا‘ سب کے سب استاد ناقص ہوں گے۔

تو جب اسی طرح سب ناقص ہوں گے تو اگر پوری کائنات میں ایسے ہی شاگرد ہوں اور ایسے ہی استاد تو استاد بھی جاہل اور شاگرد بھی جاہل۔ تو استاد و شاگرد سب کے سب اسی قسم کے ہوں تو اس وقت کیا کہا جائے کہ اس کائنات میں جتنے لوگ ہیں

اب تو عربوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔

تو گویا شروع سے لے کر آج تک جب سے کائنات بنی‘ سب کے سب لوگ جاہل تھے‘ ناقص تھ۔ے سب کے سب اسی قسم کے تو نتیجہ کیا نکلے گا کہ یہ پوری کائنات ایسے لوگوں کا مجموعہ ہے‘ جو سب کے سب ناقص ہیں‘ سب کے سب جاہل ہیں۔

تو ہم عرض کریں گے کہ خدایا!

تیری ذات کامل ہے۔

کامل اس کو کہتے ہیں جس میں کمال ہو۔ یہ کہنا کہ تیری ذات میں کمال ہے‘ اس کا مطلب کیا ہو گا؟

کہ تیری ذات اور ہے‘ کمال اور ہے۔

بلکہ تیری ذات خود کمال ہے‘ بلکہ تیری ذات فوق الکمال ہے

ساری کی ساری مخلوق تو نے پیدا کی‘ وہ سب ناقص۔

جب تیری ذات کمال قدرت ہے‘ تیری ذات فوق الکمال ہے‘ تیری ذات کا درجہ کمال سے بھی زیادہ ہے۔

کسی ایسے کو تو پیدا فرمایا ہوتا جو کامل ہوتا۔

جن کو پیدا کیا پوری کائنات میں سب ناقص ہیں۔

تو تیری ذات کمال قدرت سے لوگوں کو پیدا کر رہی ہے‘ وہ سب انسان ناقص ہیں۔ تو گویا انسان بھی تو ہونا چاہئے کہ جس کو کامل کہا جائے‘ وہ تیری صفات کا مظہر ہو‘ تیرے کمالات کا مظہر ہوتا‘ تیرے جمالات کا مظہر ہوتا یعنی جتنے نظر آ رہے ہیں‘ وہ سارے ناقص۔ تو پیدا کرنے والے نے پیدا کیا‘ لیکن جن جن کو پیدا کیا‘ وہ سب کے سب ناقص ہیں۔

اب سب کی بازگشت خالق کی طرف جائے گی‘ خالق! کسی کو تو ایسا بنایا ہوتا کہ وہ ہر لحاظ سے کامل ہوتا‘ تیری ذات کا نمونہ ہوتا۔

صلواة

گویا سب شاگرد اساتذہ کو ناقص کر رہے ہیں کہ جو کسی استاد کے سامنے زانو تلمذ تہہ کرتا ہے‘ ناقص ہے۔

تبھی تو اپنے نقص کو دور کرنے کے لئے کسی کے سامنے بیٹھتا ہے۔

تو جب سب کے سب ناقص ہوئے تو خدایا! عجیب مخلوق ہے تیری‘ تو خود کمال فوق الکمال کمال قدرت سے جن کو پیدا کیا وہ سب ناقص۔

تو ضرورت ہے کہ خداوند عالم ایسی ذوات مقدسہ کو پیدا کرے کہ جو ذوات مقدسہ اپنے علم کے حصول کے لئے کبھی کسی کے سامنے زانو تہہ نہ کرے۔

اگر سبھی کسی نہ کسی سے پڑھنے والے ہوں گے تو سب ناقص ہوں گے‘ تو ضرورت ہے اس بات کی کہ کوئی ایسی ذوات مقدسہ ہوں جن کو جب پیدا کیا گیا‘ وہ اس وقت بھی عالم ہوں۔

تاکہ کہا جا سکے کہ اے انسان! ساری کائنات ناقصوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایسی ذوات مقدسہ بھی موجود ہیں‘ جب وہ پیدا ہوئے علم لے کر آئے‘ کامل بن کر آئے‘ انہیں کسی علم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ صلواة

ایسی ذوات کی ضرورت ہے کہ وہ کبھی کسی کے سامنے نہ بیٹھیں‘ کبھی کسی استاد سے علم حاصل نہ کریں‘ بلکہ وہ خدا سے پڑھ کر آئیں‘ تاکہ یہ نہ کہا جا سکے کہ یہ کائنات ساری ناقصوں کا مجموعہ ہے۔

نہیں‘ نہیں! بلکہ اس کائنات میں ایسی ذوات مقدسہ موجود ہیں جو خدا سے علم لے کر آئی ہیں‘ باقی سب لوگوں نے ان سے علم لینا ہے۔ گویا سب لوگ اپنے استاد سے علم حاصل کریں گے‘ استاد اپنے استاد سے علم حاصل کرے گا‘ یہ سلسلہ ایسے استاد تک پہنچے گا کہ جس استاد نے کبھی کسی استاد سے علم حاصل نہیں بلکہ وہ خدا سے علم لے کر آیا ہو۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون ہیں جو خدا سے علم حاصل کر کے آئے ہیں؟ وہ کون ہیں جنہوں نے علم خدا سے لیا؟

پہلے آپ تھوڑا سا سمجھ لیں۔

دیکھئے!

ہم یہ کہتے ہیں کہ خداوند عالم کا علم اس کی ذات کا عین ہے۔

یعنی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ خدا کی ذات اور ہے اور علم اور ہے۔

تاکہ یہ کہا جا سکے کہ خدا کی ذات علم سے خالی تھی۔

اب ظاہر ہے کہ جب کہا جاتا ہے کہ خدا کا علم اس کی ذات کا عین ہے۔

ہم تو جاہل پیدا ہوئے‘ کچھ نہیں جانتے تھے‘ دو چار کلمے پڑھے تو کچھ نہ کچھ ہمیں یاد ہو گیا‘ پھر بھی ہمارا علم ناقص ہے۔ حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو علم بہت کم ہے اور جہالت بہت زیادہ‘ اتنی جہالت کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

ایک محقق بہت بڑے عالم تھے‘ ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا‘ مسئلہ پوچھا:

انہوں نے کہا‘ اس مسئلے کا مجھے علم نہیں۔

دوسرے مسئلے کا سوال کیا۔

کہنے لگے:

اس مسئلے کا بھی مجھے علم نہیں۔

تین مسئلے پوچھے۔

اس عالم نے کہا:

مجھے علم نہیں۔

حیران ہو کر کہتا ہے:

آپ اتنے بڑے عالم ہیں‘ آپ کو ان مسائل کا بھی علم نہیں‘ تو وہ عالم کہنے لگے کہ

اگر میرے علم کو جسم میں ڈھال دیا جائے تو وہ اس قدر کم ہے کہ چڑیا بھی اسے اٹھا کر لے جائے۔

اور اگر جہالت کو جسم کی صورت میں ڈھال دیا جائے تو وہ اتنی زیادہ ہے کہ ہزاروں مل کر بھی اسے اٹھا نہ سکیں گے۔

تو حقیقت میں انسان میں جہالت زیادہ پائی جاتی ہے۔

ہم تو ہیں ہی جاہل‘ تو کیسے سمجھ سکتے ہیں کہ خداوند عالم کیا ہے اور اس کی ذات کیا؟

ضرورت تھی کہ ایسی ذوات کو خدا پیدا کرے جو خدا سے علم لے کر آئیں۔ یعنی ایک لمحح بھی ایسا نہ ہو‘ ایک سیکنڈ بھی ایسا تصور نہ کیا جائے کہ وہ علم سے خالی ہیں‘ ان کے علم کو دیکھ کر ہم یہ کہہ سکیں کہ جیسے یہ پیدا ہوتے ہیں‘ عالم تھے۔ ان کا علم ان کی ذات پر لازم ہے اور ان کے خالق کا علم کیا ہو گا۔ صلواة

اس کی ذات عین ہے اور وہ کون ذوات ہیں جو خدا سے علم لے کر آئیں۔

ارشادات رب العزت ہوتا ہے۔

الرحمن علم القرآن خلق الانسان علمه البیان

سورئہ رحمن آپ تلاوت کرتے رہتے ہیں۔

الرحمن علم القرآن

رحمن نے کس کو قرآن کی تعلیم دی؟ رحمن نے قرآن کی تعلیم دی‘ تعلیم کے بعد ذکر ہے:

خلق الانسان

"انسان کو خلق کیا۔"

علمه البیان

"خلق کرنے بعد اسے بیان کی تعلیم دی۔"

اب ان آیات کو ملاحظہ فرمائیں کہ

علم قرآن پہلے‘ خلقت انسان بعد میں‘ پھر اس کے بعد علم بیان‘ تو گویا بتانا مقصود ہے کہ ایسی ذوات مقدسہ موجود ہیں کہ جن کو علم قرآن پہلے دیا گیا ہے‘ پیدائش بعد میں کی گئی ہے۔

توجہ ہے نا

بتانا مقصود ہے کہ ایسی ذوات مقدسہ ہیں کہ جب وہ پیدا ہوئیں تو علم لے کر آئیں‘ علم کے لئے وہ کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکیں۔

وہ کون ذوات ہیں؟

دوسری آیت میں ارشادات رب العزت ہوتا ہے:

وحی نازل ہوئی کہ ابھی جبرائیل (علیہ السلام)کا کوئی کلمہ نہیں کہتے کہ حضرت رسالتمآب آگے آگے پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔

تو قرآن کہہ رہا ہے:

اے میرے حبیب۔

جب جبرائیل (علیہ السلام)قرآن سنا رہے ہوں تو خود آگے آگے پڑھنے کی کوشش نہ کرو۔

توجہ فرمائیں۔

گویا اس کا مطلب یہ ہوا کہ نزول قرآن سے پہلے‘ رسول اللہ ۱ کو قرآن کا علم تھا۔

ادھر جبرائیل (علیہ السلام)آیت شروع کرتے تو حضور ۱ آگے آگے پڑھنا شروع کر دیتے تو قرآن کے نزول سے پہلے جب قرآن کا علم ہے تو اس کا مطلب کیا ہوا؟

کہ جب رسالتمآب ۱ کو پیدا کیا گیا تو پیدائش کے ساتھ ان کو علم دیا گیا‘ یہ نہیں کہ پہلے پیدا کیا گیا اور بعد میں علم دیا گیا۔

صلواة

کوشش کرتے ہیں کہ سمجھائیں کہ اہل بیت (علیہم السلام)کو

اس پوری آیت کو پڑھا جائے تو مطالب واضح ہو جاتے ہیں۔

ارشاد رب العزت ہو رہا ہے:

اے میرے حبیب۔

نبوت کے اعلان سے پہلے آپنے کبھی کوئی کتاب نہیں پڑھی‘ نبوت کے اعلان سے پہلے کبھی آپنے لکھا نہیں۔

اس آیت کو سامنے رکھتے ہوئے بعض مذاہب نے یہ کہہ دیا ہے کہ رسول اللہ ان پڑھ تھے۔

جبرائیل (علیہ السلام)آئے اور کہنے لگے کہ اے محمد پڑھئے۔

وہ کہنے لگے میں تو ان پڑھ ہوں‘ کیسے پڑھوں تو جبرائیل (علیہ السلام)نے ایسا دبایا کہ حضرت کے پسینے بھی چھوٹ گئے اور پڑھنا بھی شروع کر دیا۔

تو سامنے اس آیت کو رکھا گیا ہے۔

اس آیت کے الفاظ۔

اے میرے حبیب!

آپ پہلے کتاب بھی نہیں پڑھتے تھے‘ آپ نے کبھی لکھا بھی نہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیوں کہا؟ کیا حضرت ان پڑھ تھے‘ کیا پڑھے لکھے نہیں تھے؟ اس کا جواب خود آیت دے رہی ہے:

اگر آپ پہلے کتابیں پڑھتے ہوتے‘ اگر آپ پہلے لکھتے ہوئے تو باطل پرست لوگ آپ ۱ کی نبوت میں شک کرتے‘ کہتے کہ کتابیں پڑھ پڑھ کے ہم کو بتا رہے ہیں۔

اگر لکھتے ہوتے تو وہ کہتے کہ لوگوں سے اقتباسات لے کر اس کو قرآن بنا کر ہمارے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

تو آپ کو پہلے کبھی نہیں کہا کہ کتابیں پڑھو‘ پہلے کبھی نہیں کہا کہ لکھو‘ تاکہ لوگ اشکال نہ کریں‘ باطل پرست غلط روی کی طرف نہ چلے جائیں۔

اب سوال یہ ہے کہ علم تھا یا نہیں تھا۔ اس سے اگلی آیت ملاحظہ ہو:

قرآن کریم میں ارشاد ہو رہا ہے کہ یہ آیات کے واضحات ہیں‘ یہ ان کے سینے میں موجود ہیں‘ جن کو خداوند عالم نے علم دیا ہے۔

تو مطلب یہ ہوا کہ اے میرے حبیب! تجھی ۱ علم دیا گیا ہے پیدائش کے وقت‘ ان آیات کا‘ لیکن صرف اس لئے کہ لوگ اشکال نہ کریں‘ آپ کو اجازت نہیں تھی کتابیں پڑھنے کی‘ آپ کو اجازت نہیں تھی کتابیں لکھنے کی‘ علم آپ کو پہلے عطا کیا گیا تھا۔

تو ارشاد خداوندی ہوا:

کوئی ظالم ہی ہو گا جو آپ کو ان پڑھ کہے گا۔

ورنہ آپ کو علم پہلے دیا گیا‘ پیدائش بعد میں کی گئی۔

صلواة

سامعین محترم!

یہ وہ ذوات ہیں جنہوں نے انسانیت کی لاج رکھ لی۔ ان کو علم پہلے دیا گیا‘ کبھی کسی استاد کی ضرورت نہیں پڑی‘ اگر یہ ذوات مقدسہ نہ ہوتیں تو کہا جا سکتا تھا کہ خدا نے جتنے انسانوں کو پیدا کیا وہ سب کے سب ناقص ہیں‘ کسی کو کامل تو بناتا۔

خدا نے ان ذوات مقدسہ کو پیدا کر کے فرمایا:

"لوگو! یہ ذوات تمہارے لئے نمونہ ہیں‘ یہ ذوات تمہارے لئے اسوئہ ہیں‘ یہ ذوات تمہارے لئے ماڈل ہیں‘ یہ سب کچھ خداوند سے لے کر آتے ہیں۔ ان کا کام تمہیں بتانا ہے‘ تو میں نے کمال کو پیدا کیا ہے‘ اس کمال کو دیکھ کر تم بھی اپنی زندگیوں کو کامل بنا سکو۔"

صلواة

خداوند عالم نے ان کے جسموں کو پاک و پاکیزہ بنایا ہے اور ان کی روح کو ظاہر بنایا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا تھا کہ اس کائنات کی خلقت سے پہلے ان کے نور کو خلق کیا گیا تو ان کے جسم بھی پاک ہیں‘ ان کے ارواح بھی پاک۔ یہ طاہر ہیں‘ ان میں کسی قسم کی کمی نہیں پائی جاتی‘ نہ کسی قسم کا نقص پایا جاتا ہے۔ اسی لئے زیارت پڑھتے ہیں تو آپ پڑھتے ہیں۔

صلوت الله علیکم و علی ارواحکم و علی اجسادکم وعلی اجسامکم

کیا کہتے ہیں؟

کہ اللہ کی رحمت ہو کن پر؟ تم پر‘ تمہاری روح پر۔ اللہ کی رحمت ہو تمہارے جسم پر‘ اللہ کی رحمت ہو تمہارے جسد پر‘ اللہ کی رحمت ہو تو رحمت بدن پر بھی ہے‘ جسم پر بھی ہے‘ جسد پر بھی ہے‘ روح پر بھی۔

گویا کہ روح بھی ان کی پاک و پاکیزہ‘ ان کا جسم بھی پاک و پاکیزہ۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ

کیا کبھی ان میں کوئی نقص ہو سکتا ہے؟

کبھی ان کو نسیان ہو سکتا ہے؟

معاذ اللہ‘ کبھی ان سے کوئی غلطی ہو سکتی ہے؟ کہنے والے کہتے ہیں اور کسی نے کہہ دیا:

ان الرجل لا

معاذ اللہ! حضرت کی ذات کوئی غلط بات کہہ رہی ہے‘ اشکال کیا گیا۔ اگر غور و فکر کیا جائے‘ تدبر کیا جائے حدیث کا‘ قرآن مجید کی آیات کا تدبر کیا جائے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ آئمہ اہل بیت (علیہم السلام)سے قطعاً کوئی غلطی‘ کوئی کمزوری نہیں ہو سکتی۔ کمزوری کا مطلب یہ نہیں کہ نقص ہے‘ بیمار ہو سکتے ہیں‘ بخار آ سکتا ہے‘ یعنی پریشانی ہو سکتی ہے۔ یہ ساری چیزیں ہو سکتی ہیں‘ لیکن جہاں تک روحانیت کا تعلق ہے‘ جہاں تک دماغ کا تعلق ہے‘ جہاں تک سر کا تعلق ہے‘ جہاں تک مغز کا تعلق ہے‘ ان میں کبھی کوئی نقص نہیں ہو سکتا‘ بدن میں کمزوری ہو سکتی ہے۔

جیسے آپ حدیث کساء میں پڑھتے ہیں‘ اس میں کہا گیا ہے کہ حضرت رسالتمآب ۱ تشریف لاتے ہیں‘ اپنی بیٹی سیدہ فاطمة الزہرا (علیہا السلام)کے ہاں۔

صلواة

فرماتے ہیں‘ اے میری بیٹی فاطمہ(علیہا السلام) ! میں اپنے بدن میں کمزوری محسوس کر رہا ہوں۔

دیکھئے!

بدن پنجابی زبان میں بھی استعمال ہوتا ہے‘ عربی میں بھی۔ اب دیکھئے کہ بدن کے ساتھ تین لفظ اور استعمال ہوتے ہیں‘ جسم‘ جسد‘ بدن۔ ایک چیز مگر نہیں ان میں بھی فرق ہے۔

جسم‘ پورے جسم کو کہتے ہیں‘ لیکن جہاں تک جسد کا تعلق ہے‘ جسد اس وقت جسم کو کہتے ہیں جب وہ روح سے خالی ہو جائے۔

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد قدرت ہوتا ہے:

وما جعلنهم جسد الا یا کلون الطعام

"اے نبی ۱! ہم نے آپ کا خالی جسد ایسا نہیں بنایا کہ آپ کو نہ طعام یا مزاج کی ضرورت نہ ہو۔"

تو اس وقت کہا جاتا ہے کہ اس کے اندر روح نہ ہو‘ سر سے لے کر پاؤں تک سارے کا سارا کہلاتا ہے جسم۔

یہاں پر نہیں کہا گیا کہ میرے جسم میں کمزوری محسوس ہو رہی ہے‘ کمزوری سر میں بھی ہوتی ہے‘ باقی بدن میں بھی ہوتی ہے۔

حضرت فرما رہے ہیں کہ

انی لاجد فی بدنی ضعفا

جہاں تک بدن کا تعلق ہے‘ سر سے نیچے جتنا بدن ہے‘ بدن کہلاتا ہے۔

آپ کسی افسر کے پاس کسی سفارش کرنے والے کو لے جاتے ہیں کہ یہ میرا کام کروا دے گا لیکن وہ نہیں مانتا۔ اب آپ کوشش کریں گے کہ اس یعنی پہلے والے سفارشی سے کوئی اعلیٰ قسم کا سفارشی لے کر جاؤں تاکہ وہ افسر یہ نہ کہہ سکے کہ میں نے پہلے والی سفارش نہیں مانی‘ لہٰذا اسے بھی نہیں مانتا۔

تو اب ابراہیم خلیل اللہ(علیہ السلام)کی شفاعت کے معنی دربار خداوندی میں پیشگی ہے۔

خدایا!

تجھے واسطہ ہے ابراہیم خلیل اللہ(علیہ السلام)کا ولادت آسان کر دے۔

ولادت آسان نہیں کام نہیں ہوا۔

اب فاطمہ سفارش کر رہی ہیں۔

تو اب معلوم ہوا کہ یہ سفارش پہلی سفارش اعلیٰ ہے۔

تبھی تو دعا قبول ہو رہی ہے۔

خدایا!

تجھے واسطہ ہے میرے اس بیٹے کا جو میرے بطن میں ہے اس کے صدقہ میں ولادت آسان کر دے۔

یہ کہنا تھا کہ دیوار کعبہ شق ہوئی اور فاطمہ بنت اسد اندر چلی گئیں۔

بہرحال میرا مقصود روایتیں بیان کرنا نہیں‘ آج کی مجلس کے ساتھ جن چیزوں کا ذکر ہے‘ وہی بیان کروں گا۔

علی (علیہ السلام) پیدا ہوئے خانہ کعبہ میں۔

جب علی (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو روئے نہیں‘ جس طرح عام لوگ روتے ہیں۔ علی (علیہ السلام) نے اپنی آنکھیں نہیں کھولیں‘ علی (علیہ السلام) نے اپنی ماں کا دودھ نہیں پیا۔ ظاہر ہے بچہ ایسا کرے تو والدین پریشان ہو جاتے ہیں‘ آنکھیں نہ کھولے تو سمجھتے ہیں کہ بچہ نابینا ہے‘ تو جناب فاطمہ بنت اسد اس لحاظ سے پریشان تھیں۔

لیکن جب جناب رسالتمآب ۱ تشریف لائے تو علی (علیہ السلام) نے آنکھیں بھی کھولیں اور ایک کلمہ بھی کہا:

السلام علیکم یا رسول الله

صلواة

سبحان اللہ!

تو رسالتمآب ۱ جواباً فرماتے ہیں:

السلام علیک یا وصی الله

حضرات محترم!

میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ جس وقت علی (علیہ السلام) پیدا ہوئے‘ کیا رسالتمآب اپنی نبوت کا اعلان کر چکے تھے؟

بالکل نہیں‘ ابھی تک نبوت کا اعلان نہیں ہوا‘ اس کے باوجود پیدا ہونے والا بچہ پہلی گفتگو یہی کرتا ہے کہ السلام علیک یا رسول اللہ‘ اسی طرح علی (علیہ السلام) کی ولایت کا اعلان بھی ہو چکا ہے۔

ہرگز نہیں

جب نبی ۱ کی نبوت کا اعلان نہیں ہوا تو علی (علیہ السلام) کی ولایت کا اعلان کیسا؟

تو جواب میں رسول اللہ ۱ فرماتے ہیں:

علیک السلام یا ولی اللہ

تو گویا یہ بتلانا مقصود ہے کہ اعلان نبوت سے پہلے علی (علیہ السلام) جانتے تھے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور اعلان ولایت سے پہلے رسول جانتے تھے کہ علی (علیہ السلام) اللہ کے وصی ہیں۔

صلواة

نعرئہ حیدری سبحان اللہ!

حضرات محترم!

تھوڑی سی توجہ چاہئے۔

آپ مومنین حضرات تشریف فرما ہیں‘ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی مومن نماز نہ پڑھتا ہو‘ بلکہ مومن ہوتا ہی وہی ہے جو نماز کا پابند ہو‘ جس نے کبھی نماز ترک نہ کی ہو۔

کیوں؟

اس لئے کہ نماز کا حکم انسان کو اس طرح دیا گیا ہے کہ اے انسان! ہر روز کھڑے ہو کر نماز پڑھو‘ اگر اتنا کمزور ہے‘ بیمار ہے کہ سہارا لے کر بھی کھڑا نہیں ہو سکتا‘ پھر اجازت ہے کہ بیٹھ کر نماز پڑھ۔ اگر بیٹھ کر بھی نماز نہیں پڑھ سکتا‘ پھر حکم دیا گیا ہے کہ دائیں جانب لیٹ کر نماز پڑھ۔ اگر دائیں جانب نہیں لیٹ سکتا تو حکم ہے کہ بائیں جانب لیٹ کر نماز پڑھ۔ اگر اتنا ہی بیمار ہے کہ بائیں جانب بھی نہیں لیٹ سکتا تو اسے حکم دیا گیا ہے کہ پشت کے بل لیٹ جائے اور اشارے کے ساتھ نماز پڑھے۔ اگر کوئی پشت کے بل بھی نہیں لیٹ سکتا تو اسے حکم دیا گیا ہے کہ سر کے اشارے سے نماز پڑھے۔ تھوڑا سا سر نیچے کرو سمجھ لو کہ رجوع ہو رہا ہے‘ زیادہ نیچے کرو سجدہ ہو رہا ہے۔ اگر کوئی شخص اتنا بیمار ہے کہ سر کے اشارے سے بھی نماز نہیں پڑھ سکتا تو حکم ہے کہ آنکھ کے اشارے سے نماز پڑھے‘ نماز کسی بھی حالت میں معاف نہیں۔ اگر کوئی شخص آنکھ کے اشارے سے بھی نماز نہیں پڑھ سکتا تو دل میں تصور کرے کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں اور اگر کوئی اتنا انتہاء کو پہنچ چکا ہو کہ دل سے قصد بھی نہیں کر سکتا تو گویا اس حالت میں وہ جا چکا ہے۔

جب تک انسان زندہ ہے‘ نماز ضروری ہے اور نماز کی کوئی معافی نہ ہے۔

ماشاء اللہ!

آپ سبھی نمازی ہیں۔

اب نمازی مسجد میں گیا‘ دیکھا کہ مسجد میں نجاست پڑی ہے‘ کسی بچے نے پیشاب کر دیا ہے۔ مسجد تو بہت بڑی جگہ پر بنی ہوئی ہے‘ کیا انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ جہاں نجاست پڑی ہے وہ جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ نماز پڑھ لے؟

حکم دیا گیا ہے کہ

پہلے مسجد کو پاک کرے‘ پھر نماز پڑھے۔

مسجد کا پاک کرنا واجب ہے۔ اگر انسان اکیلا ہے مسجد کو پاک نہیں کر سکتا‘ حکم ہے کہ اور آدمی اکٹھے کرو‘ پہلے مسجد کو پاک و صاف کرو‘ پھر نماز پڑھو۔

تو مسجد کا پاک کرنا کتنا ضروری ہے۔

اگر کوئی آدمی جذب کی حالت میں مسجد میں جائے تو اسے اتنی اجازت دی گئی ہے کہ وہ ایک دروازے سے جائے اور جلدی جلدی دوسرے دروازے سے نکل جائے‘ وہ نہ تو وہاں ٹھہر سکتا ہے اور نہ ہی کوئی چیز رکھ سکتا ہے‘ اگر مسجد الحرام یا مسجد نبوی ہو تو وہاں آدمی قدم تک نہیں رکھ سکتا۔

گویا مطلب یہ ہوا کہ نجس ہو کر مسجد میں جانا ناجائز‘ مسجد کو نجس کرنا ناجائز‘ اگر نجاست پڑی ہوئی ہو تو اس کا پہلے پاک کرنا بعد میں نماز پڑھنا شرط ہے۔

یہ مسئلہ واضح ہو گیا۔

حضرات محترم!

جب فاطمہ بنت اسد خانہ کعبہ میں داخل ہوئیں تو جس طرح ہماری عورتیں زچگی کی حالت میں نجس ہوتی ہیں۔ بچہ پیدا ہوتا ہے‘ وہ بھی نجس‘ بعد میں غسل دے کر اسے پاک کیا جاتا ہے۔

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاذ اللہ! فاطمہ بنت اسد کی حالت بھی اسی طرح تھی‘ جس طرح عام عورتوں کی ہوتی ہے؟ ان کا بچہ بھی اسی طرح تھا‘ جس طرح عام عورتوں کا بچہ ہوتا ہے؟ اگر اس طرح کا بچہ ہو تو اشکال لازم آئے گا۔

اے اللہ!

تو لوگوں کو تو کہتا ہے کہ مسجد کو نجس کرنا ناجائز ہے اور اگر نجاست پڑی ہوئی ہو تو اس کا دور کرنا واجب ہے۔

اور خود

معاذ اللہ! فاطمہ بنت اسد کو بھیج رہا ہے کہ خانہ کعبہ نجس ہو جائے‘ لیکن خداوند عالم ایسا کام نہیں کرتا کہ جس سے دوسروں کو روکے۔ تو فاطمہ بنت اسد کو کعبہ کے اندر بھیجا‘ اس بات کی دلیل ہے کہ جس طرح دوسری عورتیں زچگی کے وقت نجس ہو جاتی ہیں‘ اس طرح فاطمہ بنت اسد نہیں

نہ فاطمہ نجس ہیں‘ نہ بچہ نجس ہے۔ فاطمہ بھی پاک ہے‘ بچہ بھی پاک ہے۔

لہٰذا خانہ کعبہ کے اندر بھیج دیا۔

مسلمانو!

مجھے بتاؤ کہ

کافر ہو اور کافر ہوتے ہوئے بھی پاک ہو؟

کیا کافر بھی کبھی پاک ہو سکتا ہے؟

گویا فاطمہ کا کعبہ کے اندر جانا اور خدا کا خود بھیجنا۔

فاطمہ خود نہیں گئیں‘ خدا نے خود بھیجا ہے۔

دروازے سے نہیں گئیں‘ بلکہ دیوار کعبہ شق ہوئی ہے۔

تو فاطمہ کو کعبہ کے اندر بھیجنا اس بات کی دلیل ہے کہ

فاطمہ نہ صرف مومنہ ہیں‘ بلکہ ایمان کے اعلیٰ درجے پر فائز ہیں‘ تبھی تو خانہ کعبہ میں آئیں۔

صلواة

عجیب بات ہے کہ جب حضرت مریم کی زچگی کا وقت آتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ مریم باہر چلی جاؤ‘ یہ بیت المقدس ہے‘ زچہ خانہ نہیں۔

اب دیکھئے! حضرت مریم خود معصوم‘ حضرت مریم کا بیٹا‘ لیکن پھر بھی یہ کہہ کر نکال دیا جاتا ہے کہ یہ بیت المقدس ہے‘ یہاں پیدائش نہیں ہو سکتی۔ حالانکہ حضرت مریم کی رہائش گاہ ہی بیت المقدس ہے‘ مسجد اقصیٰ میں سکونت پذیر ہیں۔

تو اب ہے ناحیرانی والی بات !

خدایا!

عجیب بات ہے کہ مریم خود معصوم‘ اس کا بیٹا معصوم‘ اسے تو اقصیٰ سے باہر بھیج رہا ہے اور فاطمہ بنت اسد کو جس کو دوسرے مذاہب والے کافر کہتے ہیں۔ معاذاللہ!

دیوار کعبہ شق کر کے اندر بھیج رہا ہے۔

گویا بتانا مقصود ہے کہ اسلام کا پرچار کرنے والی طہارت‘ مریم کی طہارت سے زیادہ ہے‘ جبھی تو خانہ کعبہ میں بھیجا گیا۔

کیا کہنے مولائے کائنات(علیہ السلام)کے! علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) نے جتنی عظمت پیدا کی ہے‘ اتنی عظمت عیسیٰ (علیہ السلام)اور مریم نے پیدا نہیں کی۔

علی (علیہ السلام) کی صرف ایک خصوصیت کا تذکرہ مقصود ہے‘ وقت نہیں کہ تفصیل سے بیان کروں۔

صلواة

جناب رسالتمآب نے اس دنیا میں ۲۳ سال تک تبلیغ احکام خداوندی لوگوں تک پہنچایا‘ پہلے مکہ مکرمہ میں ۱۳ سال اور ۱۰ سال مدینے میں رہے۔ تکلیفیں برداشت کرتے رہے‘ مسلمان جتنی سازشیں کر سکتے تھے‘ کرتے رہے‘ لیکن جناب رسالتمآب نے اپنا مشن ترک نہیں کیا‘ دن رات ایک کر کے ۲۳ سال کی محنت سے احکام خداوندی کو لوگوں تک پہنچایا۔

اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ خداوند عالم اس محنت پر رسالتمآب ۱ کا شکریہ ادا کرتا اور کہتا:

اے میرے حبیب! آپ نے بڑی محنت کی ہے‘ لیکن جب آخری حج کر کے واپس آ رہے ہیں تو کہا جا رہا ہے کہ اے میرے حبیب! ایک کام باقی رہ گیا ہے‘ اس حکم کو لوگوں تک پہنچاؤ۔ اگر اس حکم کو لوگوں تک نہ پہنچایا تو گویا آپ نے رسالت کا کوئی کام ہی نہیں کیا۔

رسول اعظم ۱ کی شخصیت‘ ۲۳ سال محنت کی ہے مگر پھر بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ حکم لوگوں تک نہ پہنچایا تو آپنے رسالت کا کوئی کام نہیں کیا۔ ساری محنت رائیگاں جا رہی ہے۔

اگر یہ روایت کسی آدمی کی ہوتی تو میں کبھی بھی آپ کے گوش گزار نہ کرتا‘ مگر یہ قرآن کہہ رہا ہے۔ اب قرآن حکیم کا انکار تو نہیں کیا جا سکتا۔

ارشاد ہوتا ہے:

یا یها الرسول بلغ ما انزل من

اے میرے رسول!

نبی نہیں کہا گیا‘ حبیب نہیں کہا گیا‘ مزمل‘ مدثر‘ یٰسین نہیں کہا گیا بلکہ جو ان کا منصب تھا اس کا ذکر کیا گیا کہ

اے میرے رسول!

تیری ۱ طرف جو حخم نازل ہوا ہے‘ اس کو لوگوں تک پہنچا دے‘ اگر تو نے یہ کام نہ کیا تو گویا رسالت کا کوئی کام بھی نہیں کیا۔

یہ کہنا مقصود ہے کہ رسالت کی جتنی تبلیغ ہوئی‘ یہ بمنزلہ ایک ڈھانچے کے ہیں‘ بمنزلہ ایک جسد کے ہیں اور جو حکم دیا جا رہا ہے وہ ایک روح کے لئے‘ کہ وہ حکم آ جائے تو اعمال مفید ہوں گے‘ اعمال زندہ ہوں‘ تو اتنا بڑا حکم آ رہا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ حکم ہے کیا؟

کوئی کہتا ہے‘ نماز کا حکم ہو گا‘ کوئی کہتا ہے یہ حکم روزہ کا ہے اور کوئی کہتا کہ حج کا‘ مگر ان کا حکم تو پہلے ہی آ گیا تھا۔ تو پھر یہ ایسا کون سا ہے کہ جس کو روح کہا جا سکے؟ جس سے تمام اعمال زندہ ہوں‘ لوگ بڑی بڑی باتیں کرتے رہے۔

اب اس حکم کو پہنچانا ہے تو تمام اعمال کی روح اس نے بننا ہے۔ وہ روح اگر موجود ہو گی تو رسالت کے احکام بھی زندہ‘ تمام اعمال بھی زندہ‘ ورنہ کچھ بھی زندہ نہ رہے گا۔

اس حکم کو پہنچانے کے لئے جناب رسالتمآب ایک جگہ تشریف لے گئے‘ پلانوں کا ممبر بنایا‘ جیسے مقررین بیان کرتے رہتے ہیں‘ اس کے بعد تبلیغ کی‘ لوگوں کو کہنے لگے:

اے لوگو!

بتاؤ‘ جس طرح تبلیغ کرنے کا حق تھا میں نے کی ہے یا نہیں؟

صحابہ کرام  کا مجمع تھا‘ کہا:

یا رسول اللہ!

آپ نے بہترین تبلیغ کی ہ ے‘ جس طرح تبلیغ کا حق تھا۔

پھر دوسرا سوال کیا کہ

مجھے بتاؤ جب معاملات میرے اور تمہارے درمیان طے ہو جائیں تو تمہارے نفسوں پر میں زیادہ حاکم ہوں یا تم خود؟

سب نے کہا:

یا حضرت! آپ کی ذات زیادہ حاکم ہے۔

یہ سب پوچھنے کے بعد کیا کہا؟

یاعلی (علیہ السلام) ! میرے قریب آؤ۔

اور قریب آ جاؤ یاعلی (علیہ السلام) ۔

علی (علیہ السلام) قریب آئے تو تیسری دفعہ اور قریب کیا پھر علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کو اتنا بلند کیا کہ بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی اور فرمانے لگے:

من کنت مولا فهذا علی مولا

جس جس کا میں مولا ہوں‘ اس اس کا یہ علی (علیہ السلام) مولا ہے۔

یا رسول اللہ!

کیا ضروری تھا علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کو پکڑ کر بلند کرنا‘ ویسے ہی بتا دیتے‘ کون تھا؟ جو علی (علیہ السلام) کو نہ جانتا تھا کہ جس کو علی (علیہ السلام) کی معرفت نہ تھی۔ تو رسول اللہ (ص)فرمائیں گے‘ اصل میں شاگرد تین قسم کے ہوتے ہیں:

بعض شاگرد زیرک قسم کے ہوتے ہیں‘ استاد کچھ کہے‘ کچھ سمجھائے وہ اس سے آگے بھی سمجھ جاتے ہیں۔

بعض شاگرد ایسے ہوتے ہیں متوسط قسم کے‘ استاد کچھ سمجھائے ان کو سمجھ نہیں آتی‘ پھر استاد پوری توجہ دلاتا ہے تو وہ سمجھ جاتے ہیں۔ بعض شاگرد اس قسم کے بھی ہوتے ہیں کہ ان کو بے شک بار بار بھی سمجھایا جائے‘ انہیں کچھ پتہ نہیں چلتا کہ استاد کیا کہہ رہا ہے۔

جناب رسالتمآب کے شاگرد بھی تین طرح کے تھے:

بعض ایسے تھے کہ رسول اللہ نے ایک بار بتایا تو وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ نے تو ایک باب بتایا‘ لیکن ہمارے لئے ہزار باب کھل گئے۔

کچھ ایسے شاگرد تھے کہ رسول اللہ ! ایک دفعہ بتاتے تو وہ سمجھ جاتے تھے۔

کچھ ایسے بھی تھے کہ رسول اللہ (ص)تبلیغ کرتے‘ احکام خداوند عالم بتاتے‘ لیکن جب دربار رسالت سے باہر نکلتے تو ایک دوسرے سے پوچھتے کہ رسول اللہ نے ابھی کیا کہا تھا؟

واذ قال رسول الله

رسول اللہ (ص)ابھی کہہ رہے تھے۔

تو ایسے لوگوں کے لئے ضرورت تھی اس امر کی تاکہ انہیں یقین ہو جائے کہ علی (علیہ السلام) کوئی اور نہیں جس کا تذکرہ ہو رہا ہے‘ بلکہ علی (علیہ السلام) کو پکڑ کر بلند کر کے بتایا ہے کہ یہ وہ علی (علیہ السلام) ہے‘ جس کی ولایت کا تذکرہ ہو رہا ہے۔

صلواة

واقعہ تو آپ سنتے ہی رہتے ہیں۔ اب علی (علیہ السلام) کی ولایت کا اعلان ہو چکا تو قرآن کی آیت اتری:

الیوم…

اے میرے حبیب! آج کے دن کافر تیرے دین سے مایوس ہو گئے ہیں۔

ان کا خیال تھا کہ رسول اللہ چلے جائیں گے‘ بعد میں دین ہمارے ہاتھ میں ہو گا‘ آج کے دن وہ مایوس ہو گئے۔

چونکہ دین کا محافظ تو معین کر دیا گیا۔

کافروں کا ڈر دل میں مت رکھنا۔

اس کے بعد کیا فرمایا:

الیوم اکملت لکم دینکم و اتمت علیکم نعمتی

آج کے دن میں نے دین کو مکمل کر دیا اور اس دن میں نے اپنی نعمت کو پورا کر دیا‘ آج کے دن دین اسلام کو پسندیدہ قرار دیا۔

صلواة

حضرات گرامی!

علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کا اسلام کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ علی (علیہ السلام) کی منزلت اسلام میں کیا ہے؟

آپ غور فرمائیں کہ

رسول اللہ چالیس برس کے ہوئے‘ تب انہوں نے نبوت کا اعلان کیا تو رسول اللہ اپنے گواہ‘ شریعت کے محافظ‘ اسلام کے محافظ کا انتظار کر رہے تھے کہ محافظ آئے اور وہ اپنی نبوت کا اعلان کریں۔

جب تک علی (علیہ السلام) اس دنیا میں نہیں آئے اعلان نبوت نہیں ہوا‘ تو ابتداء اعلان میں بھی علی (علیہ السلام) کی ضرورت تھی‘ اسی لئے علی (علیہ السلام) کا انتظار کیا گیا۔ رسول نے ۲۳ سال تبلیغ اسلام کی لیکن اسلام کا حل نہ ہو سکا۔

آدم (علیہ السلام)نے تبلیغ کی‘ نوح (علیہ السلام)نے تبلیغ کی‘ عیسیٰ (علیہ السلام)تک ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء(علیھم السلام) تبلیغ کرتے رہے‘ اسلام مکمل نہ ہوا۔ حضرت محمد نے ۲۳ سال تبلیغ کی‘ لیکن کمالیت کی سند ابھی نہیں ملی۔ اب کہا جا رہا ہے کہ

علی (علیہ السلام) کی ولایت کا اعلان کرو‘ تب اسلام مکمل ہو گا۔ تو اس سے ثابت ہوا کہ ابتدائے اسلام میں بھی علی (علیہ السلام) کی ضرورت تھی اور انتہائے تبلیغ میں بھی علی (علیہ السلام) کی ضرورت تھی۔ علی (علیہ السلام) آئے تو اسلام مکمل ہوا۔

تو جب ابتداء بھی علی (علیہ السلام) ‘ انتہاء بھی علی (علیہ السلام) ۔ تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ پھر حقیقت میں اسلام وہی ہو گا‘ جس کی ابتداء میں بھی علی (علیہ السلام) ‘ انتہاء میں بھی علی (علیہ السلام) ہو۔ صلواة

جنہوں نے باب مدینة العلم سے علم لیا‘ علی (علیہ السلام) کے اسلام حقیقی کو سمجھا ہے‘ انہوں نے ایک سال کے اندر اپنا آئین بھی اسلامی بنا لیا‘ اپنا دستور بھی اسلامی بنا لیا‘ اپنا قانون بھی اسلامی بنا لیا اور آج پورا ملک اسلامی ہے۔ لیکن جنہوں نے کوشش کی ہے کہ علی (علیہ السلام) کو ایک طرف کر کے اسلام لائیں‘ آج نو سال گزر گئے‘ ہم اسلام چاہتے تھے لیکن اسلام ابھی تک نہیں آ سکا۔ اس لئے کہ جب علی (علیہ السلام) کو ایک طرف کر کے اسلام آئے گا تو وہ نیویارک کا اسلام ہوگا‘ محمد عربی کا اسلام نہیں ہو گا۔

میدان غدیر میں اسلام کی تکمیل کے لئے اسلام کی کمالیت کے محمد عربی نے علی (علیہ السلام) کو اٹھا کے لوگوں کو دکھایا‘ لیکن۔

ایک اور میدان

جس میدان کو کربلا کہتے ہیں‘ وہاں محمد موجود نہیں‘ محمد کا نمائندہ حسین (علیہ السلام) موجود ہے۔ حسین (علیہ السلام) نے دین اسلام کی بقاء کے لئے علی اصغر کو اٹھا کے پیش کیا‘ محمد نے اسلام کو مکمل کرنے کے لئے علی (علیہ السلام) کو اٹھا کے پیش کیا۔

لیکن حسین (علیہ السلام) نے محمد کا کردار ادا کرتے ہوئے کربلا میں علی اصغر کو اٹھا کر مسلمانوں کے سامنے پیش کیا کہ اسلام تب ہی بچ سکتا ہے جب ایک اور علی (علیہ السلام) اپنی جان کا نذرانہ دے۔

کتنا فرق ہے۔

حسین (علیہ السلام) نے میدان کربلا میں استغاثہ بلند کیا۔

کہا!

هل من…

کوئی ہے جو خاندان کی حفاظت کرے؟

اس وقت علی اصغر نے اپنے آپ کو پنگھوڑے سے نیچے گرا لیا اور ماں سے کہا‘ میرا باباغربت کے نعرے بلند کر رہا ہے‘ میں باباکی مدد کے لئے جاؤں گا۔

میں کہتا ہوں

اگر حسین (علیہ السلام) کی فوج سے اصغر کو نکال دیا جائے تو فوج کی عظمت ختم ہو جائے‘ اصغر اور سکینہ ایسے فوجی ہیں جن کو دیکھ کر کفار کے دل بھی دہل جاتے تھے۔ وہ بھی کہتے تھے:

مسلمانو!

تمہیں یا ہو گیا ہے؟ اصغر کو بھی تو نے نہیں چھوڑا اور سکینہ کو بھی طمانچے مارے اور کبھی سکینہ کے در چھینے۔

کربلا میں جب امام(علیہ السلام) کا غم منایا جاتا تو ہر چند کی شبیہ بنائی جاتی اور ہمیشہ شبیہ اکبر کی بناتے‘ قاسم کی بناتے۔ ایک دفعہ ہم بھی وہاں موجود تھے‘ کربلائیوں کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ علی اصغر کی شبیہ بنائی جائے اور اس کو اسی طرح تیر مارا جائے‘ تاکہ لوگ گریہ کریں کہ اس چھوٹے بچے کو تیر مارا جا رہا ہے۔

عزادارو!

جب اصغر کی شبیہ کے لئے ایک یہودی کو پیسے دیئے گئے‘ لیکن یہودی نے جب زمین پر اپنا گھٹنہ زمین پر رکھا اور تیر کو کمان میں جوڑا کہ اس بچے کی شبیہ کو تیر ماروں

لیکن کیا کہنے اپنے آپ کو مسلمان کہلانے والوں کا! میدان کربلا میں ششماہے بچے کا بھی خیال نہ کیا۔

ایک عالم نے بتایا کہ میں گاڑی میں سفر کر رہا تھا‘ میرے ساتھ چند ہندو بھی بیٹھے تھے۔

ایک ہندو مجھ سے مخاطب ہوا‘ کہنے لگا:

اے عالم!

ہمیں یہ بتا کہ کربلا میں کیا ہوا تھا؟

عالم نے جواب میں کہنا شروع کیا کہ

میدان کربلا میں دونوں طرف فوجیں موجود ہیں‘ حسین (علیہ السلام) اپنے جانثاروں کی قربانی دے رہے ہیں‘ جب حبیب گھوڑے سے گرے تو حسین (علیہ السلام) نے کہا:

حبیب! تیری شہادت سے میرا بایاں بازو ٹوٹ گیا۔

جب زہیر گھوڑے سے گرے تو حسین (علیہ السلام) نے کہا:

زہیر! تیری شہادت سے میرا دایاں بازو ٹوٹ گیا اور جب

عباس گھوڑے سے گرے‘ حسین (علیہ السلام) کرسی سے گر گئے اور کہا:

بھیا عباس! تیری شہادت سے میری کمر ٹوٹ گئی اور جب علی اکبر گھوڑے سے گرے تو حسین (علیہ السلام) نے کہا:

اے میرے کڑیل بیٹا! اے میرے ہمشکل پیغمبر بیٹا! یہ دنیا میرے لئے اندھیری ہو گئی ہے‘ مجھے کچھ نظر نہیں آتا۔

عالم نے بتایا کہ حرملا نے گھٹنہ زمین پر رکھا‘ تیر ایسے جوڑا کہ اصغر کی گردن پر مارے‘ یہاں تک پہنچا تھا کہ ایک بوڑھا ہندو کھڑا ہو کر کہنے لگا کہ

بس! بس! اب اس سے زیادہ ہم سن نہیں سکتے کہ کیا ہوا۔

لیکن مسلمانو!

تمہاری غیرت کو کیا ہوا؟ ہندو نہیں سن سکتے‘ لیکن تم نے اس ششماہے بچے کو تیر مارا۔ حسین (علیہ السلام) پر بڑی مصیبتیں آئیں‘ لیکن جتنا دکھ حسین (علیہ السلام) کو اس بچے کی شہادت سے ہوا‘ اتنا دکھ حسین (علیہ السلام) کو کسی اور شہید کی شہادت سے نہیں ہوا۔

ایک دفعہ زیارت کے لئے زائرین گئے‘ کیا دیکھتے ہیں کہ حسین (علیہ السلام) اپنی قبر سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں اور زخموں سے چور چور ہیں‘ بدن پر اتنے زخم ہیں کہ ان زخموں کو شمار نہیں کیا جا سکتا اور حسین (علیہ السلام) کربلا کی مٹی اپنے زخموں پر ڈال رہے ہیں۔ اس بندہ خدا‘ دیکھنے والے نے گریہ کیا اور مومنین کو جا کر بتایا کہ میں نے ایسا خواب دیکھا‘ مومنین نے گریہ کیا۔ دوسری رات پھر حسین (علیہ السلام) کو دیکھا۔


مجلس ششم

بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم

( ایاک نعبد و ایاک نستعین )

حضراتِ محترم!

اگر انسان کے پاس مال و دولت ہو تو لوگ یقیناً ساتھ رہے ہیں اور اگر کچھ بھی پاس نہ ہو اور کسی کو کہا جائے کہ میرا ساتھ دو تمہیں بہت کچھ دوں گا‘ لوگ سوچیں گے کہ اس کے پاس خود کچھ نہیں یہ مجھے کیا دے گا؟

دیکھئے! رسالتمآب ۱ کو حکم ہو رہا ہے:

و انذر عستیر تک الاقربین

اپنے خاندان والوں کو بلائیں‘ انہیں بلا کر سمجھائیں کہ مجھے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے‘ کیونکہ سب سے پہلے گھر والوں کو خاندان والوں کو سمجھایا جاتا ہے‘ گھر والے اگر کسی کو نہیں مانتے تو باہر والے کیا مانیں گے۔

بہرحال خاندان والوں کو بلایا گیا‘ بہت بڑی بہترین دعوت کھلائی گئی‘ لوگ آئے‘ ایک بکرا ذبح کیا گیا‘ لوگوں کی تعداد زیادہ تھی‘ عرب ماشاء اللہ کھاتے بھی زیادہ تھے‘ ان کی خوراک کافی زیادہ ہوتی ہے‘ وہ کھانے کے ماہر ہیں‘ بہرحال ان لوگوں کو دعوت دی گئی اور بکرا ایک۔ کھانے والے ایسے کہ ایک ایک بکرا کھا جاتے تھے‘ لیکن صورت حال یہ ہوتی ہے کہ ایک بکرے کی رانیں نکل رہی ہیں‘ لوگ کھا رہے ہیں‘ پتہ ہی نہیں چل رہا‘ کتنی رانیں نکل گئی ہیں اور کتنی رانیں لوگ کھا رہے ہیں‘ تو جب لوگ کھا پی چکے تو کسی نے شرارت کر دی۔ ابوجہل جیسے لوگ موجود تھے‘ کہنے لگے کہ آج ابو طالب (علیہ السلام) کے بھتیجے نے بڑا جادو کر دیا۔ کس قسم کا جادو؟ کہ بکرا تو ایک تھا اور رانیں اتنی کہ پتہ ہی نہ چلا کتنے لوگ کھا گئے۔

تو ظاہر ہے نبی کے ہاتھ پر اتنا کمال بھی ظاہر نہ ہوتا تو باقی کمال کہاں سے نظر آتے؟ خیر۔

رسول اللہ جو کچھ کہنا چاہتے تھے آج کچھ نہ کہہ سکے۔ اب پھر دوسرے دن علی (علیہ السلام) سے کہا گیا‘ بکرا تلاش کرو‘ ان لوگوں کی پھر دعوت کرو‘ اب دوسرے دن پھر دعوت کی گئی۔ جب دوسرے دن یہ لوگ کھانا کھا چکے تو اسی وقت رسول اللہ نے ایک کلمہ کہا:

کون ہے جو میرا رفیق عمل بنے گا؟ کون ہے جو اس مشن میں میری مدد کرے گا‘ جو اس رسالت میں میرے ساتھ رہے گا‘ جو میرا ساتھ دے گا؟ وہی میرا خلیفہ ہو گا‘ وہی میرا وصی ہو گا‘ وہ میرا جانشین ہوگا‘ وہی میرا وزیر ہو گا۔ اب یہ کس نے کہا؟

رسالتمآب نے کہا۔ کس وقت کہا جا رہا ہے؟ پتہ نہیں کامیابی ہو گی یا نہیں ہوگی۔ حضرت فرما رہے ہیں‘ کون میرا رفیق بنتا ہے؟

کون میرا ساتھ دیتا ہے؟ کون میرے مشن میں میرا ساتھ دیتا ہے؟

کون ہے جو میرے ساتھ مل کر کام کرتا ہے؟

کون ہے جو تکلیف برداشت کرنے کے لئے تیار ہے؟

مجمع میں سناٹا ہے‘ مجمع میں خاموشی ہے‘ اس لئے کہ کامیابی کا پتہ نہیں کہ کامیابی ہو گی کہ نہیں‘ محمد کامیاب ہوں گے کہ نہیں۔

اور پھر اس وقت محمد کے اردگرد دولت کے ڈؤیر بھی نہیں لگے ہوئے‘ مال و دولت بھی پاس نہیں ہے۔

لہٰذا سب کے سب خاموش ہیں‘ منہ پر تالے لگے ہوئے ہیں‘ کوئی بولنے کے لئے تیار نہیں ہو رہا۔

لیکن ایک چھوٹا بچہ جس کا سن زیادہ سے زیادہ دس سال ہے‘ وہ کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے:

انا ناصرک یا نبی اللہ

اے اللہ کے نبی! میں مدد کروں گا۔

دیکھو! علی (علیہ السلام) نے اس وقت اعلان کیا‘ جب رسالتمآب کے پاس ظاہری طور پر کچھ بھی نہ تھا‘ مال و دولت نہیں تھی‘ نبوت تھی لیکن لوگ ماننے کے لئے تیار نہیں تھے اور یہ بھی پتہ نہیں کہ آیا کامیابی ہو گی یا نہیں ہو گی؟

مال غنیمت بھی نہیں ہے‘ دولت بھی نہیں ہے‘ کوئی ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں ہے‘ لیکن ان حالات میں بھی علی (علیہ السلام) کہہ رہے ہیں:

انا ناصرک یا نبی اللہ

اے اللہ کے نبی! میں تیری مدد کروں گا۔

تو ماننا پڑے گا کہ علی (علیہ السلام) نے رسول ۱ کا ساتھاس وقت دیا تھا‘ اس وقت اعلان نصرت کیا تھا‘ جب رسول اللہ کے پاس ظاہراً کچھ بھی نہ تھا‘ کچھ پتہ نہیں تھا‘ کامیابی ہو گی یا نہیں۔

اب رسول اللہ چاہتے تھے‘ علی (علیہ السلام) نے مدد کا اعلان کر دیا‘ اب میں انہیں(علیہ السلام) جانشین بناؤں۔

میں انہیں(علیہ السلام) خلیفہ بناؤں‘ میں انہیں(علیہ السلام) اپنا وزیر بناؤں۔

لہٰذا‘ کیا ہوا؟

اس واقعے کو کہتے ہیں یوم الخمیس‘ یعنی خمیس کا دن‘ یعنی جس دن رسالتمآب چاہتے تھے کہ مسلمانوں سے قلم دوات لے کر کچھ لکھ دوں‘ لیکن کیا کہا گیا کہ ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے۔

حسبنا کتاب الله

ہمیں الل کی کتاب کافی ہے۔

اس دن کا ذکر کرتے ہوئے ابن عباس فرماتے ہیں کہ

ما یوم الخمیس

یوم الخمیس کس وقت مصیب کا دن ہے کہ رسول اللہ فیصلہ کرنے والے تھے‘ اپنا فیصلہ لکھنے والے تھے کہ کون ہے جس نے ہر جگہ پر میری مدد کی؟ کون ہے جو ہر جگہ میرا ۱ معین بنا؟ کوئی ہے جو میرا مددگار رہا ہے؟ پہلے ہی دن جس نے میری ساتھ وعدہ کیا تھا اور میں نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ میری مدد کرے گا؟ وہی میرا جانشین ہو گا۔

اب رسول اللہ چاہتے ہیں کہ قلم و دوات لیں اور لکھ کر دیں کہ میرا جانشین کون ہے‘ میرا وزیر کون ہے۔

بس سمجھنے والے سمجھ گئے۔

اسی لئے انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب ہی کافی ہے‘ اس بے چارے کا تو دماغ خراب ہے۔ نعوذ باللہ!

اگر لکھ لیا جاتا تو پھر کوئی اختلاف نہ ہوتا‘ جھگڑا نہ ہوتا‘ لیکن پھر بھی رسول اللہ نے اپنے وعدے کو پورا کیا۔

جیسے پہلے تذکرہ کیا جا چکا ہے کہ ایک بہت بڑے میدان میں سب کو جمع کر کے‘ جو وہ ابتدائی دنوں میں کہا اس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اور لوگوں کو بتا دیا کہ

لوگو! یاد رکھو‘ جو مجھی مولا سمجھتا ہے‘ اسے پتہ ہونا چاہئے کہ

من کنت مولا فهذا علی مولا

جس جس کا میں مولا ہوں‘ اس اس کا علی (علیہ السلام) مولا ہے۔

ابن عباس کہتے ہیں کہ علی (علیہ السلام) میں چار فضیلتیں ایسی پائی جاتی ہیں کہ کسی کو بھی یہ فضیلتیں حاصل نہیں ہیں۔

چار فضیلتیں حاصل ہیں جو کسی کو میسر نہیں ہو سکیں:

سب سے پہلے فضیلت کہ کوئی ایسی جنگ نہیں کہ جس کو مسلمانوں نے فتح خیا‘ مگر یہ کہ اس جنگ کا علمدار علی (علیہ السلام) نہ ہو‘ اس جنگ کا فاتح علی (علیہ السلام) ‘ سپہ سالار علی (علیہ السلام) ‘ اس جنگ کا بیرو علی (علیہ السلام) بلکہ اس جنگ کا سب کچھ علی (علیہ السلام) نہ ہو۔

دوسری فضیلت کہ کوئی ایسی جنگ نہیں کہ جس جنگ میں رسول اللہ کے ماننے والوں نے پشت نہ پھیری ہو‘ رسول اللہ کے ماننے والے انہیں چھوڑ نہ گئے ہوں۔

لیکن ابن عباس کہتے ہیں کہ

فقط‘ علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کی شخصیت ایسی ذات ہے کہ جس نے رسول اللہ ۱ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔

ایک جنگ میں جب رسول اللہ نے فرمایا:

اے علی (علیہ السلام) ! جب سب چلے گئے تو آپ ۱ کیوں نہیں گئے؟

تو علی (علیہ السلام) نے جواب میں کہا:

اکفر و بعد الایمان

کیا میں ایمان کے بعد کافر ہو جاؤں؟

تیسری فضیلت‘ علی (علیہ السلام) کی کہ تمام لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہے‘ مشغول رہے‘ اگر کسی نے رسول اعظم ۱ کو غسل دیا ہے تو وہ فقط اور فقط علی (علیہ السلام) کی ذات ہے‘ ورنہ مسلمانوں میں کوئی بھی رسول اعظم کے غسل میں شریک نہ تھا۔

چوتھی فضیلت کہ مسلمان تو اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہو گئے‘ اگر کسی نے رسول اللہ ۱ کو دفن کیا ہے تو وہ دفن کرنے والے صرف اور صرف علی (علیہ السلام) تھے۔

سامعین محترم!

اب آپ غور فرمائیں کہ علی (علیہ السلام) نے رسول اللہ (ص)کا ساتھ کس طرح دیا؟

ہر جنگ میں رسول اللہ کے ساتھی‘ مصیبت میں رسول اللہ کے ساتھی۔ رسول اس دنیا سے چلے جاتے ہیں‘ سب اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہو گئے‘ لیکن علی (علیہ السلام) غسل دے رہے ہیں‘ علی (علیہ السلام) دفن کر رہے ہیں‘ علی (علیہ السلام) جنازہ پڑھ رہے ہیں‘ تمام کام کر رہے ہیں‘ تو علی (علیہ السلام) نے تمام کام کر کے گویا جو وعدہ پہلے دن کیا تھا‘ "میں ہر حال میں‘ ہر کام میں رسول اللہ ۱ کی مدد کروں گا"، اس کو پورا کر دکھایا۔

صلواة

چھوٹا سا واقعہ!

افریقہ میں ہمارے کافی سارے مبلغین گئے ہوئے ہیں‘ جو تبلیغ کر رہے ہیں۔ ادھر عیسائی پیسے کے لالچ سے ہمارے افریقیوں کو عیسائی بنا رہے ہیں‘ عیسائیت کا کام بھی بہت ہو رہا ہے‘ لیکن ہمارے آدمی بھی ادھر موجود ہیں۔ اگر ان کی تعداد اتنی نہیں جتنا آٹے میں نمک ہوتا ہے‘ لیکن اپنی جگہ وہ کام کر رہے ہیں۔

وہاں پر ایک بہت بڑا پادری تھا‘ ہمارے ایک عالم نے اس پادری کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کیا‘ تعلقات بنائے۔

عالم دین کے پاس وہ پادری صاحب بیٹھے رہتے اور عالم پادری کے ہاں جاتے رہتے۔

اسی طرح وہ پادری جب کبھی عالم کے ہاں تشریف لاتے تو کئی کئی دن انہی کے ہاں قیام فرماتے‘ بلکہ ایک دفعہ تو وہ پادری عالم دین کے ہاں برابر چھ ماہ رہے اور دوران قیام اس پادری کا اس عالم دین کے ساتھ مباحثہ ہوتا رہا‘ شعوری و لاشعور طر پور ہر طرح سے پادری کو اسلام سمجھایا جاتا رہا۔

نتیجتاً پادری مسلمان ہو گیا۔

جب اس نے اسلام قبول کر لیا تو اپنی سابقہ برادری‘ عیسائی برادری کے پاس آیا‘ جو پادری اس کے ماتحت تھے‘ جو اس کے شاگرد تھے ان سب کو اس نے بلایا‘ ان سب کو جمع کیا اور کہا دیکھو کہ

کیا تم کو مجھ پر اعتماد ہے؟ یا نہیں؟

سب کہنے لگے‘ یقینا! ہمیں آپ پر اعتماد ہے‘ آپ ہمارے استاد ہیں‘ آپ ہمارے بزرگ ہیں‘ آپ نے ہمیں تعلیم دی ہے‘ ہم آپ کے شاگرد ہیں‘ اگر آج ہم عالم بن چکے ہیں تو آپ ہی کے صدق میں ہمیں علم نصیب ہوا ہے۔ پھر اس نو مسلم عالم نے کہا کہ اگر میں خہوں کہ فلاں چیز حق ہے تو کیا تسلیم کر لو گے؟

سب نے کہا کہ ہم تسلیم کر لیں گے۔

تو اس نے کہا:

میں مسلمانوں کے ساتھ رہا ہوں چھ مہینے متواتر‘ میں نے ان کے ساتھ بحث و مباحثہ کیا ہے‘ میں نے اس بحث و تمحیص اور تحقیق کے بعد یہی سمجھا ہے کہ اگر کوئی دین‘ دین برحق ہے تو وہ دین اسلام ہے‘ اسی لئے میں نے اسے قبول کر لیا ہے اور اب آپ لوگوں سے بھی یہی کہتا ہوں کہ آپ بھی اسلام قبول کر لیں۔

دیکھئے!

ستر آدمی کوئی بچے تو نہیں ہوتے۔ ایک آدمی کھڑا ہو گیا‘ وہ عرض کرتا ہے کہ آپ نے اچھا کیا کہ اسلام کو سمجھ لیا ہے‘ ہم آپ کی بات ماننے کو تیار ہیں‘ لیکن یہ تو فرمائیں کہ

مسلمانوں میں ۷۲ فرقے ہیں‘ ہمیں کیا پتہ کہ اس میں کون سا فرقہ حق پر ہے اور کون سا نہیں؟

تو گویا اس نے طعنہ دیا کہ کون سا فرقہ حق ہے اور کون سا باطل؟

لیکن کیا کہنے پادری کے! اس کے ذہن میں بڑی عجیب بات آئی‘ اگرچہ ہے معمولی چیز لیکن جب آپ سنیں گے تو معلوم ہو گا کہ اس چیز نے سب کو مسلمان کر دیا۔

تو جواباً اس نو مسلم عالم نے کہا:

اے شاگردو! اے اپنے مذہب کے عالمو!

اگرچہ وہ تہتر فرقے ہیں‘ لیکن حقیقتاً وہ دو فرقے ہیں‘ بہتر ( ۷۲) ایک طرف اور ایک فرقہ ایک طرف‘ کیونکہ ۷۲ فرقوں میں بنیادی کوئی فرق نہیں ہے‘ تو فرقے کتنے ہو گئے؟ صرف دو۔ ایک ہی عقیدہ رکھنے والے ۷۲ فرقے اور ان سے جدا نظریہ رکھنے والا ایک فرقہ۔

پھر مثال دیتے ہوئے کہنے لگا:

آپ سب میرے شاگرد ہیں‘ فلاں جگہ میرا بہت بڑا باغ ہے‘ اگر ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ میں بیمار ہو جاؤں اور میری بیماری اس حد تک بڑھ جائے کہ یقین ہو جائے کہ اب میں مر جاؤں گا‘ یہ اب گیا کہ اب اور آپ میں سے دو گروہ ہو جائیں‘ ایک کہے کہ ہمیں چاہئے کہ باغ کے درخت شمار کر لیں‘ کیونکہ استاد جی مرنے والے ہیں‘ ان کے انتقال کے بعد کوئی مصیبت نہ کھڑی ہو جائے‘ ہم ابھی سے باغ کے درخت شمار کر لیں‘ تو کچھ لوگ چلے جائیں جا کر درخت شمار کرنے شروع کر دیں اور کچھ لوگ مجھے بیمار سمجھ کر‘ میرے پاس بیٹھ رہیں اور کہیں کہ یہ ہمارا استاد تھا‘ ہمارا بزرگ تھا‘ باغ کی حیثیت کیا ہے‘ بے شک لے جاتے ہیں تو لے جائیں‘ ہم تو اس کے کفن دفن کا انتظام کریں گے‘ ہم تو اسے غسل دیں گے‘ کفن دیں گے‘ دفن کریں گے۔

اب ان دونوں گروہوں کے بارے میں آپ سب فیصلہ دیں۔

تو ان شاگردوں نے کہا:

جناب باغ والے بدنیت ہیں‘ وہ اچھے نہیں ہیں‘ اچھے وہی ہیں جو آپ کے پاس بیٹھے ہیں۔

تو استاد نے کہا کہ

اس سے سمجھ لو کہ ایک فرقے کا سربراہ علی (علیہ السلام) رسول کے پاس بیٹھا رہا تاکہ انہیں سنبھالے‘ ان کی خدمت کرے‘ غسل دے‘ کفن پہنائے‘ دفن کرے اور دوسرا فرقہ

انہوں نے کہا کہ رسول کا باغ ہے‘ رسول ۱ کا وارث بنا لو‘ گلشن جا کر بانٹ لیں گے۔

تو اس نے فیصلہ کر دیا‘ تو نتیجہ یہ ہوا کہ ستر پادری مسلمان ہو گئے اور آج وہں مل کر تبلیغ کر رہے ہیں۔

فیصلہ ہو گیا‘ ایک آیت ہی لے کر بیٹھ جاتا‘ استعجاب ہوتا رہتا کوئی نتیجہ نہ نکلتا۔

بخاری شریف کی ایک اور حدیث:

علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کی عظمت بیان کرنے کے لئے جناب رسالتمآب ۱ کا ایک مشہور کلمہ‘ اس میں چند نکات بیان کرتے ہیں:

رسالتمآب جنگ میں موجود ہیں‘ جنگ ہو رہی ہے‘ کافی دن گزر گئے‘ لیکن جنگ فتح نہیں ہو رہی ہے۔

رسالتمآب نے اس وقت ایک کلمہ کہا:

لا عطین الرایه غدارجلا کرارا غیر فرار یحب الله و رسوله ویحبه الله و رسوله ولم یرجع حتی یفتح الله علی یدیه

کیا ارشاد فرمایا رسول نے؟

اے مسلمانو!

آپ روزانہ جا رہے ہیں‘ جنگ ہو رہی ہے‘ کوئی فیصلہ نہیں ہو رہا‘ جو جاتا ہے واپس آ جاتا ہے۔ ظاہر ہے!

میں تو نہیں کہتا کہ کس انداز میں واپس آتے تھے۔

خیر

جس طرح بھی واپس آتے‘ امن و سلامتی‘ صلح و آشتی سے آ جاتے۔ آخرالاہر رسول نے فرمایا: لاعطین۔ کل میں ۱ علم‘ کل میں اسلامی جھنڈا دوں گا‘ کس کو؟

جو کردار غیر فرار ہو گا‘ جو کراکر ہو گا۔ کرار کے معنی ہیں بڑھ بڑھ کر حملہ کرنے والا‘ غیر فرار‘ جو بھاگنے والا نہ ہو گا۔

اب آپ سمجھتے ہیں کہ جب کرار کہہ دیا‘ بڑھ بڑھ کر حملہ کرنے والا‘ تو غیر فرار کہنے کی ضرورت کیا تھی۔

بہرحال‘ مصلحت تھی‘ جس کو رسول سمجھتے تھے‘ کس کی وجہ سے کلمہ کہا گیا‘ ایک مرد کو علم دوں گا‘ جو بڑھ بڑھ کر حملہ کرنے والا ہے۔

حملہ سے زیادہ یہ تعریف ہے:

یحب الله و رسوله

اس مرد کو خدا کے ساتھ محبت ہو گی اور خدا کے رسول کے ساتھ محبت ہو گی۔ کتنا بڑا تمغہ اس علم والے کو دیا جا رہا ہے کہ اس کو خدا کے ساتھ محبت ہو گی‘ اس کو رسول کے ساتھ محبت ہو گی‘ لیکن اس کے بعد ایک اور تمغہ دیا گیا جو اس سے بھی ارفع ہے:

یحبه الله و رسوله

اور اللہ اور رسول ۱ کو اس سے محبت ہو گی۔

یہ مرد کرار ہو گا‘ بڑھ چڑھ کر حملہ کرنے والا ہو گا‘ اس مرد کو خدا کے ساتھ محبت ہو گی‘ خدا کے رسول کے ساتھ محبت ہو گی اور اسی طرح خدا اور رسول ۱ کو اس کے ساتھ محبت ہو گی تو محبت کا تمغہ دینے کے بعد فرمایا:

ولم یرجع

یہ واپس نہیں آئے گا۔

حتی یفتح الله علی یدیه

حتیٰ کہ اسے خداوند عالم فتح دے گا۔

رسول اللہ ۱ فرما رہے ہیں:

لا عطین الرایه غدا

نام نہیں لیا کہ کون ہے؟ کل میں علم دوں گا‘ کہہ رہے ہیں۔

کیا آج نہیں ہو سکتا؟

اس وقت علم نہیں دیا جا سکتا؟

علم تو موجود ہے‘ لیکن انہیں انتظار دی جا رہی ہے کہ وہ علم کی انتظار کریں‘ انتظار کروائی جا رہی ہے۔

لہٰذا‘ مسلمان ساری رات پریشان رہے۔ ایک کہتا تھا مجھے ملے گا‘ دوسرا کہتا تھا کہ مجھے ملے گا۔

حتیٰ کہ جب صبح ہوئی کہ حضرت نے ارشاد فرمایا:

این این علی ابن ابی طالب

علی (علیہ السلام) کہاں گئے؟ علی (علیہ السلام) کہاں ہیں؟

جب علی (علیہ السلام) کا نام آیا بڑے بڑے مسلمان آگے بڑھے اور کہا:

یا رسول اللہ! آپ علی (علیہ السلام) کو بلا رہے ہیں‘ ان ۱  کی تو آنکھیں دکھ رہی ہیں‘ وہ ۱  تو جنگ کے قابل نہیں ہیں۔

تو حضرت نے علی (علیہ السلام) کو بلایا‘ تب علی (علیہ السلام) تشریف لائے۔

تو روایت بتاتی ہے کہ میدان خیبر میں رسول اللہ زمین پر بیٹھ گئے‘ علی (علیہ السلام) کو لٹایا‘ علی (علیہ السلام) کا سر اٹھا کر اپنے زانو پر رکھ لیا اور لعاب دہن علی (علیہ السلام) کی آنکھوں میں لگایا تو علی (علیہ السلام) کی آنکھیں اس طرح کھل گئیں جس طرح ورق قرآن کھلتا ہے۔

نعرہ حیدری

صلواة

تو علی (علیہ السلام) میدان میں گئے جیسے پہلے لوگ میدان میں جاتے تھے‘ تو اب دیکھنے والوں نے سمجھا کہ اس طرح آئے ہیں۔

تو وہ بہادر حملہ کرنے کے لئے آیا‘ لیکن علی (علیہ السلام) نے اس وقت ایک کلمہ کہا:

انا الذی سمتنی امی حیدر

میں وہ ہوں کہ میری ۱  ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے۔

میں نے کسی جگہ ذکر کیا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت اسد‘ (نعوذ باللہ) کافرہ تھیں‘ ابو طالب (معاذ اللہ) کافر تھے۔

ابو طالب رسول اللہ کی پرورش کرتے رہے۔ قرآن نے جن کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے رسول ۱ کو نیاہ دی ہے‘ رسول کی مدد کی‘ وہ ۱  ایمان کے آخری درجے پر فائز ہیں‘ لیکن پتہ نہیں ان لوگوں کو کیا دکھ ہے کہ انہوں نے کہہ دیا کہ کافر۔

تو آج علی (علیہ السلام) فخر کر رہے ہیں کہ میری ماں نے میرا ۱  نام حیدر رکھا ہے۔ فخر کر کے بتا رہے ہیں کہ میری ماں کتنی عظمت کی مالکہ ہے کہ میں علی (علیہ السلام) فخر کر رہا ہوں کہ میری ۱  ماں نے میرا ۱  نام حیدر رکھا۔

حضرات گرامی!

میں عرض کر رہا تھا کہ علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) گئے‘ جنگ فتح ہوئی۔ جیسے بھی جنگ فتح ہوئی میں اس کا تذکرہ نہیں کرتا۔ آپ سنتے رہتے ہیں کہ مولا امیر ۱  نے در خیبر اکھاڑا‘ در خیبر اتنا بڑا تھا کہ اگر کئی آدمی مل کر کوشش کرتے‘ پوری فوج مل کر کوشش کرتی‘ تب بھی در خیبر کو حرکت نہ دے سکتے تھے‘ لیکن علی (علیہ السلام) نے در خیبر کو اکھاڑا۔

کس طرح؟ دیکھئے!

مولا امیر ۱  فرما رہے ہیں۔

حدیث قدسی میں خدا کا فرمان ہے‘ جناب رسالتمآب نے فرمایا:

عبدی اطعنی اجعلک مثلی

اے میرے بندے! میری اطاعت کرو۔

تو! میرے حکم کے مطابق چل‘ اجعلک مثلیمیں تجھے اپنے جیسا بنا دوں گا۔

یعنی ایک میری صفت تیرے اندر پیدا ہو جائے گی‘ تو اس وقت کہا:

میں اس چیز کو کہتا ہوں ہو جا‘ پس وہ ہو جاتی ہے۔

جب تو میری اطاعت کرے گا‘ جیسے اطاعت کرنے کا حق ہے تو پھر تو جب کسی چیز کو کہے گا ہو جا‘ تو وہ جائے گی۔

اب اس کے ساتھ ایک اور حدیث ہے وہ کیا ہے؟

لا یزال عبدی بتقرب الی بالنوافل

ایک تو ہوتا ہے فرقہ‘ جیسے نماز ہے‘ ایک ڈیوٹی ہے۔

زکوٰة ہے‘ اس کی کوئی فضیلت علیحدہ نہیں ہے۔ یہ تو ادا کرنا ہی ہے‘ جیسے سرکاری ٹیکس ہوتا ہے۔ اس طرح نماز ایک ڈیوٹی ہے‘ جو ہر صورت میں انجام دینا ہے۔

نماز کا ذکر نہیں ہو رہا بلکہ کہا جا رہا ہے:

لا یزال عبدی بقرب الی بالنوافل

میرا بندہ بار بار نفل نماز پڑھتا ہے‘ مستجب نماز پڑھتا ہے‘ پوری دسترس سے میری عبادت کرتا ہے‘ ہر وقت عبادت کرتا رہتا ہے‘ جب میرا بندہ میری عبادت کرے‘ تب میں کیا کرتا ہوں؟

"جب کوئی آدمی میرا تقرب حاصل کرے‘ میرا قرب حاصل کرے‘ نیک کام کر کے مستجاب ادا کر کے نوافل ادا کرے‘ میرا مقرب بن جاتا ہے‘ تو میں خدا اس میں اتنی عظمت پیدا کر دیتا ہوں کہ میں اس کا کان بن جاتا ہوں‘ جس سے وہ سنتا ہے۔"

یعنی مطلب کیا کہ

اس کا سننا میرا سننا۔ میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں‘ جس سے وہ دیکھتا ہے‘ یعنی اس کا دیکھنا میرا دیکھنا۔ میں اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں‘ جس ہاتھ سے وہ کام کرتا ہے‘ گویا اس کا ہاتھ میرا ہاتھ ہے۔

اب بتائیں علی (علیہ السلام) جیسا عبادت گزار‘ جو ہر رات ہزار رکعت نماز پڑھتے تھے‘ خدا کی عبادت کی‘ اس لئے ان کی آنکھ کو عین اللہ کہا گیا‘ علی (علیہ السلام) کے کان کو اذن اللہ کہا گیا‘ علی (علیہ السلام) کے ہاتھ کو ید اسد کہا گیا۔ اس کی طرف علی (علیہ السلام) خود اشارہ کر رہے ہیں‘ کیا فرماتے ہیں:

ما قلعت باب خیبر بقوة جسمانیه بل لقوة ربانیه

اے مسلمانو!

میں ۱  نے خیبر کا قلعہ اپنی جسمانی طاقت سے فتح نہیں کیا بلکہ یہ ربانی قوت سے فتح کیا گیا ہے۔

علی (علیہ السلام) نے خیبر کا قلعہ فتح کیا‘ کس سے؟

قوت ربانیہ سے فتح کیا۔

اب علی (علیہ السلام) آ رہے ہیں۔ روایت یہ بتاتی ہے کہ علی (علیہ السلام) جھوم جھوم کے آ رہے ہیں اور تو کچھ نہیں ہو سکتا تھا‘ لوگوں نے اشکال کیا‘ کہنے لگے:

یا رسول اللہ!

علی (علیہ السلام) میں کس قدر تکبر آ گیا ہے کہ جھو جھوم کر آ رہے ہیں‘ انہیں خشوع و خضوع کا مالک ہونا چاہئے۔

اس وقت رسالتمآب نے ارشاد فرمایا:

علی (علیہ السلام) کے اس جھومنے پر خدا خود جھوم رہا ہے۔

صلواة نعرئہ حیدری!

جھومتے ہوئے علی (علیہ السلام) تشریف لائے‘ ایک ہاتھ میں علم ہے‘ تلوار ہے اور مرحب کا سر ہے۔

یہ سب چیزیں لے کر مولا  خدمت رسالت میں آئے۔ جب وہ پہنچے ہیں تو رسول اللہ نے علم اپنے ہاتھ میں لیا ہے اور بہت زیادہ خوش ہوئے اور فرماتے ہیں:

اے علی (علیہ السلام) ! آج مجھی اس قدر خوشی ہوئی ہے کہ اتنی خوشی کبھی مجھی ۱ کسی چیز سے نہیں ہوئی۔ علم کو دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا کہ

آج مجھے اس لئے خوشی ہوئی کہ قلعہ خیبر فتح ہوا ہے‘ جب کہ ۳۹ دن گزر گئے۔ ایک روایت میں ۱۹ دن اور ایک روایت میں ۳۹ دن ہیں۔

بہرحال دونوں میں سے کسی ایک کا ذکر کے ۱۹ یا ۳۹ دن گزر گئے کہ قلعہ خیبر فتح نہ ہو رہا تھا‘ آج مجھی بڑی خوشی ہوئی۔ اس لئے کہ یہودیوں کا آپ  نے قلع قمع کر دیا اور جب ۱۹۶۱ ء میں اسرائیل نے عربوں پر حملہ کیا‘ اردن کے قبیلہ پر قبضہ کیا‘ مصر کے علاقہ پر بھی قبضہ کر لیا‘ شام کی جولان کی پہاڑیاں بھی قبضہ میں لے لیں تو اس وقت کے اسرائیلی وزیرعاظم نے ایک تقریر کی تھی اور اس میں کہا تھا:

اے مسلمانو!

آج ہم نے قلعہ خیبر کی فتح کا بدلہ لے لیا ہے۔

علی (علیہ السلام) نے اس زمانے میں فتح کیا تھا‘ آج ہم نے فتح کر کے وہ بدلہ لے لیا ہے۔ دنیا تو علی (علیہ السلام) کو بھول گئی تھی‘ انہیں احساس تک نہیں رہا‘ حالانکہ جو اسلام آج آپ کے سامنے موجود ہے۔

لا الہ الا اللہ مسلمان پڑھتے ہیں‘ محمد رسول اللہ کہتے ہیں‘ علی ولی اللہ پڑھتے ہو۔ یہ علی (علیہ السلام) کے تیرزور قرب کا اثر ہے کہ جس نے تمہیں محفوظ رکھا۔ یہ عمل علی (علیہ السلام) نہ ہوتے یا علی (علیہ السلام) اولاد نہ ہوتی‘ اسلام کے لئے قربانی نہ دیتے تو آج کبھی اسلام موجود نہ ہوتا۔ چہ جائیکہ تمہاری نمازیں ہوتیں‘ چہ جائیکہ تم اپنے اسلام پر خوش ہوتے‘ چہ جائیکہ تم اپنے اسلام پر ناز کرتے۔

تو رسالتمآب اس علم پر خوش ہوئے۔ ایک خیبر کی فتح تھی اور دوسری خوشی یہ کہ حضرت جعفر طیار  ۱ حبشہ گئے ہوئے تھے‘ وہاں سے یہاں تشریف لائے۔ اس وقت رسول اللہ نے کہا‘ مجھی دو قسم کی خوشی محسوس ہو رہی ہے‘ ایک فتح کی خوشی اور دوسری جعفر طیار ۱  کی واپسی کی خوشی۔

ریاض القدس میں موجود ہے کہ

یہ کلمہ کہنے کے بعد حضرت تھوڑے سے آبدیدہ ہو گئے۔

لوگ حیران ہوئے۔ کہنے لگے:

یا رسول اللہ! آپ ۱ آبدیدہ کیوں ہوئے؟

تو حضرت نے فرمایا:

جس لمحے علی (علیہ السلام) کے علم کو دیکھ کر میں خوش رہا تھا‘ اس وقت ایک اور علم بھی مجھے یاد آ گیا‘ وہ بھی علی (علیہ السلام) ہی کا علم ہو گا‘ لیکن علی (علیہ السلام) کے بیٹے عباس کے ہاتھ میں ہو گا‘ میدان کربلا میں علی (علیہ السلام) کے بیٹے عباس کے ہاتھوں میں ہو گا اور اس علم کو جب حسین (علیہ السلام) اپنے خیمہ کی طرف لے کر آئیں گے‘ اس وقت حالت یہ ہو گی کہ عباس کا لاشہ فرات کے قریب پڑا ہو گا اور علم کو خالی لے کر حسین (علیہ السلام) اپنے خیمہ کی طرف آئیں گے۔ اب وہ علم حسین (علیہ السلام) کے ہاتھوں میں ہے‘ حسین (علیہ السلام) نے اس علم کو ہاتھوں میں لے کر فوج اشقیاء پر حملہ کیا‘ جب فوج اشقیاء پر حملہ کیا تو روایت میں ہے کہ

حسین (علیہ السلام) جب گئے تو پہلے حسین (علیہ السلام) نے اپنا تعارف کرایا کہ

اے لوگو!

جو مجھے ۱  جانتے ہیں‘ وہ جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے‘ انہیں بتا دوں کہ میں کون ہوں؟

اس کے بعد حسین (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا:

لوگو! اس وقت پوری کائنات میں فقط میں ہوں جو رسول ۱ کا نواسہ ہے۔ میرا نانا رسول ہے‘ اکیلا میں رسول ۱ کا نواسہ ہوں۔

اور فرمایا:

اس وقت میں ۱  اکیلا ہوں‘ جس کا چچا جعفر طیار ہے‘ جس کا چچا حمزہ سیدالشہداء ہے۔

ان تمام کلمات کا ذکر کرنے کے بعد حسین (علیہ السلام) کہنے لگے:

لوگو!

میں ۱  وہ ہوں کہ جس کی ماں فاطمة الزہرا (علیھا السلام)  ہے۔

لوگو! مباہلہ میں‘ میں گیا تھا‘ مباہلہ فتح ہوا تھا۔

لوگو! رسول اللہ مجھے ۱  اپنے اوپر سوار کرتے تھے اور اپنی زلفیں میرے ۱  ہاتھ میں دیتے تھے۔

لوگو! میں ۱  وہ ہوں کہ میرے ۱  اور میرے ۱  بھائی حسین (علیہ السلام) کے متعلق رسول اللہ نے فرمایا تھا:

الحسن و الحسین سیدا شباب اهل الجنة

"حسن ۱  اور حسین (علیہ السلام) جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔"

میں ۱  وہ ہوں کہ اگر کبھی میں ۱  آ رہا ہوتا اور نانا رسول اللہ خطبہ دے رہے ہوتے‘ میں ۱۱  ۱ گر جاتا تو رسول اللہ خطبہ چھوڑ کر پہلے مجھے ۱  اٹھاتے تھے پھر خطبہ دیتے۔

یہ کہنے کے بعد امام(علیہ السلام) نے ایک آخری کلمہ کہا:

لوگو!

بتاؤ کیا میں ۱  نے دین میں کوئی تبدیلی کی ہے؟

کیا میں ۱  نے کوئی غلط کام کیا ہے؟

یا حکم خدا کی نافرمانی کی ہے‘ تو جب میں ۱  نے کوئی نافرمانی نہیں کی‘ مجھے ۱  بتاؤ کہ کیا یہ تمہارا انصاف ہے کہ یہ پانی جو میری ۱  ماں سیدہ فاطمة الزہرا (علیھا السلام)  کا حق مہر تھا‘ اب اس پانی سے جانور تو سیراب ہو رہے ہیں‘ لیکن نبی ۱ کی اولاد پیاسی ہے۔

کیا اس کے بعد تم کہہ سکتے ہو کہ ہم مسلمان ہیں۔

حضرت  نے اپنا تعارف کرانے کے بعد حملہ کیا۔ روایت میں موجود ہے کہ حسین (علیہ السلام) کا یہ حملہ

اندازہ کریں کہ حسین (علیہ السلام) کے بھائی مارے گئے‘ بیٹے مارے گئے‘ حسین (علیہ السلام) کے بھتیجے مارے گئے‘ یار و انصار مارے گئے۔ اب حسین (علیہ السلام) اکیلے اور اکیلا آدمی کتنا پریشان ہوتا ہے‘ لیکن روایت بتاتی ہے کہ

حسین (علیہ السلام) نے جو حملہ کیا‘ وہ حملہ اتنا سخت تھا کہ اشقیاء کی فوجیں کربلا سے دوڑتی ہوئی تک چلی گئیں۔ یہ کوفہ کی چھاؤنی تھی۔ کربلا سے پندرہ میل دور فوجیں دوڑتی ہوئیں تک پہنچ گئیں۔ جب حسین (علیہ السلام) کا حملہ اتنا سخت ہوا تو اس کے بعد حسین (علیہ السلام) ۱ تھوڑی دیر سستا رہے تھے کہ اوپر سے ایک کاغذ آیا اور کہتا ہے:

اے حسین (علیہ السلام) ! تجھے اپنا وعدہ یاد ہے۔

حسین (علیہ السلام) تو جنگ فتح کرنے کے لئے نہیں آیا‘ تو تو خون دینے کے لئے آیا ہے‘ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے آیا ہے تاکہ تیرے نانا کا دین بچ جائے۔ اس پیغام کا آنا تھا کہ حسین (علیہ السلام) نے اپنی تلوار نیام میں ڈالی اور اس کے بعد اپنے خیمے میں آئے‘ اب اس خیمہ میں آخری الوداع کرنے حسین (علیہ السلام) آئے۔ خدا آپ  کو جزائے خیر دے۔

روایت میں موجود ہے:

حسین (علیہ السلام) آئے کہاں پہنچے؟

اپنے بیٹے عابد ۱  بیمار کے پاس۔ اندازہ کریں‘ بوڑھا باپ زخموں سے چور‘ بیمار بیٹا ۱  غشی کی حالت میں پڑا ہوا۔

حسین (علیہ السلام) اپنے بیٹے ۱  کے سرہانے بیٹھ کر کیا کہتے ہیں:

بیٹا سجاد ۱  اٹھو!

مولا  نے آواز دی‘ مگر زین العابدین ۱  نے آنکھیں نہیں کھولیں‘ غشی کی حالت میں تھے۔

دوبارہ کہا‘ میرے ۱  بیٹے میں تجھ ۱  سے وداع کرنے آیا ہوں۔

اٹھو!

ابھی تک سجاد ۱  نے آنکھیں نہیں کھولیں‘ غشی طاری تھی۔

اس کے بعد حسین (علیہ السلام) نے کہا‘ بیٹا! تیرا ۱  مظلوم بآپ  تجھ سے وداع ہونے کے لئے آیا ہے‘ اٹھو! مجھے ۱  وداع کر لو اور اسباب امامت مجھ ۱  سے لے لو اور مجھ ۱  سے وداع کرو۔

اب بھی بیٹے ۱  کی غشی نہیں ٹوٹی‘ لیکن جب

گرم گرم آنسو امام زین العابدین ۱  کے رخسار پر پڑے ہیں تو اس وقت امام سجاد ۱  نے آنکھیں کھولیں اور کیا کہتے ہیں:

میرے ۱  مظلوم بابا !


مجلس ہفتم

بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم

( ایاک نعبد و ایاک نستعین )

حضراتِ محترم!

انسان بارگاہ رب العزت میں پاک و پاکیزہ لباس کے ساتھ یہ اقرار کرتا ہے کہ میرا سر فقط تیرے سامنے جھکے گا‘ میری گردن تیرے علاوہ کسی کے سامنے نہیں جھکے گی۔

یااللہ! ہمارا یہ وعدہ ہے کہ تیری ذات کے علاوہ کبھی کسی کو معبود نہ مانیں گے۔ جن ذوات مقدسہ کو خداوند عالم نے اپنے جمال و کمال کا آئینہ بنایا ہے‘ ان ذوات نے خدا کی عبادت کر کے ہمیں تعلیم دی ہے اور بتایا ہے کہ خدا کے آگے کس طرح جھکنا ہے اور خدا کی عبادت کس طرح کرنی ہے۔

اگر یہ ذوات مقدسہ نہ ہوتیں‘ اگر بارگاہ رب العزت میں یہ ذوات مقدسہ سر تسلیم خم نہ ہوتیں‘ تو ہمیں پتہ ہی نہ چلتا کہ بارگاہ خداوندی میں سلامی کس طرح دینی ہے اور خدا کے سامنے کس طرح جھکنا ہے۔ ان ذوات مقدسہ نے اپنے عمل کے ذریعے ہمیں بتایا کہ خدا کے سامنے جھکنے اور سر تسلیم خم کرنے کا طریقہ یہ ہے۔

مولائے کائنات حلالِ مشاکل(علیہ السلام )نے خداوند کی عبادت اس قدر کی کہ لفظ عبد کے جتنے مصداقات ہیں‘ لفظ عبد کے جتنے معنی نکلتے ہیں ان سب کے سب کا حقدار میرے مولا(علیہ السلام )کی ذات ہے۔ مولائے کائنات(علیہ السلام )عبد بھی ہیں‘ مولائے کائنات(علیہ السلام )معبد بھی ہیں‘ بلکہ ایک لحاظ سے مولائے کائنات(علیہ السلام )کو معبود بھی کہا جاتا ہے۔

عبد یعنی خدا کی عبادت کرنے والا۔ اب اگر یہ عبادت انتہاء تک پہنچ جائے‘ خدا کو خدا سمجھ کر عبادت کی جائے تو انسان کا درجہ اس قدر بلند ہو جاتا ہے کہ عابد عبادت کرنے کے بعد کہلاتا ہے۔

خداوند عالم اپنے عبد کی تعریف کرتا ہے۔

حقیقت خلوص کی انتہاء ہے‘ غلامی کی انتہاء ہے۔ عبادت اتنی کی گئی کہ اس عبد کا ہر ہر عضو عبادت کرتا ہے‘ آنکھیں خدا کی عبادت کر رہی ہیں‘ کان خدا کی عبادت کر رہے ہیں‘ زبان خدا کی عبادت کر رہی ہے‘ دل خدا کی یاد میں مصروف ہے۔ جب یہ تمام اعضاء خدا کی عبادت کر رہے ہوں تو اس وقت اس آدمی کا درجہ اتنا بلند ہو جاتا ہے کہ خداوند عالم اپنے عبد حقیقی سے تعبیر کرتا ہے۔

لفظ عبد خدا کو اس قدر پیارا ہے کہ جس ذات کی عظمت کو خداوند ظاہر کرتا ہے‘ اسے اپنے عبد سے تعبیر کیا ہے۔

ارشاد ہو رہا ہے:

تبارک الذی منزل الفرقان علی عبده

"بابرکت ہے وہ ذات جس نے قرآن اپنے عبد پر نازل کیا۔"

یہ نہیں کہا کہ محمد مصطفی پر نازل کیا‘ نہ یہ کہا کہ اپنے نبی پر نازل کیا‘ یہ نہیں کہا کہ اپنے رسول پر نازل کیا۔ ان تمام مفاصبوں کو چھوڑ کر ان تمام عہدوں کو چھوڑ کر‘ ان تمام عہدوں کو برطرف کرتے ہوئے فرمایا:

تبارک الذی نزل الفرقان علی عبده

"بابرکت ہے وہ ذات جس نے قرآن مجید کو اپنے عبد پر نازل کیا۔"

اور دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:

سبحان الذی اسری بعبده لیلاً من المسجد الحرام

"پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو لے گیا معراج پر۔"

تو عبد بندے کو کہا جاتا ہے۔

معراج پر تو عبد کہا جاتا ہے۔ جب عابد کی عبادت اتنے اعلیٰ درجے کی ہو‘ اس کا ہر ہر عضو خدا کی عبادت کر رہا ہو تو میرے مولا(علیہ السلام )نے بھی خدا کی عبادت کی کہ عبادت کے بعد خداوند عالم نے علی(علیہ السلام )کو اپنے عبد سے تعبیر کیا۔

مولائے کائنات(علیہ السلام )کو عبد کے ساتھ ساتھ معبد بھی کہا جاتا ہے یعنی جائے عبادت۔ تو معبد کیا ہے؟

جائے عبادت‘ مسند عبادت‘ تو گویا مولا علی ابن ابی طالب(علیہ السلام )کے تمام اعضاء نے خدا کی عبادت اس طرح کی کہ اب علی(علیہ السلام )خداوند عالم کی عبادت کا مرکز کہلا رہا ہے۔

یا علی(علیہ السلام )کی ولادت ایسی جگہ پر ہوئی کہ جو جگہ خانہ کعبہ ہے۔

عبادت کی جگہ ہے‘ لوگ اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں‘ تو اس لحاظ سے بھی کہا جاتا ہے کہ جس معبد کی طرف لوگ منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں‘ یہ قبلہ درحقیقت علی(علیہ السلام )کا زچہ خانہ ہے‘ تو اس عنوان سے بھی علی ابن ابی طالب(علیہ السلام )کی ذات کو معبد سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

معبود خدا کی ذات ہے‘ عبادت خدا کی ہو سکتی ہے‘ لیکن ایک عنوان سے مولائے کائنات(علیہ السلام )کو بھی معبود کہا گیا۔

کیا مطلب!

کہ معبود کا ایک معنی ہے‘ مطاع یعنی جس کی اطاعت کی جائے۔ ایک تو کائنات کے اچھے انسان مولائے کائنات(علیہ السلام )کی اطاعت کرے ہیں‘ دوسری ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ مولائے کائنات(علیہ السلام )نے خدا کی محبت میں جتنے عمل سرانجام دیئے‘ جتنے افعال بجا لائے‘ ان اعمال میں‘ ان کردار میں مولا(علیہ السلام )کے اخلاق کی اس قدر عظمت تھی کہ جب بھی کوئی عمل بجا لاتے‘ قرآنی آیات آ کر تصدیق کرتیں۔

تو گویا بات ایک ہوئی کہ علی(علیہ السلام )عمل بجا لاتے‘ قران اس کی تصدیق کرتا۔ تو اس لحاظ سے دیکھا جائے تو آیات قرآنی عمل امیرالمومنین(علیہ السلام )ہے‘ یعنی پہلے عمل ہوتا ہے‘ اس کے مطابق آیات قرآنی کا نزول ہوتا ہے۔

صلواة

اب مولا(علیہ السلام )کا عمل‘ مولا(علیہ السلام )کا کردار‘ مولا(علیہ السلام )کی عظمت اس قدر بلند کہ مولا(علیہ السلام )عمل کرتے جاتے ہیں‘ قرآن اس کی گواہی دیتا جاتا ہے۔

مولا(علیہ السلام )کے پاس چار درہم تھے‘ ایک درہم مولا(علیہ السلام )نے رات کے وقت صدقہ میں دے دیا‘ ایک درہم دن کی روشنی میں بطور صدقہ دیا‘ ایک درہم کسی غریب کے سامنے رکھ دیا‘ ایک درہم کسی مستحق کو عام لوگوں سے چھپا کر دیا اور کسی کو پتہ نہ چل سکا‘ چار درہم دیئے مولا(علیہ السلام )نے۔

رات کو‘ دن میں‘ ایک درہم چھپا کر‘ ایک درہم ظاہر بظاہر‘ اب چار درہم مولا(علیہ السلام )نے عنایت فرمائے۔

قرآن اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہتا ہے:

الذین ینفقون اموالهم باللیل و النهار سراً و علانیة فلهم اجر هم عند ربهم فلا خوف علیهم ولاهم یحزنون

کہ وہ لوگ ینفیقون اموالہم اپنے مال کو خرچ کرتے ہیں‘ رات کے وقت‘ دن کے وقت‘ لوگوں سے چھپا کر اور ظاہر بظاہر۔ ان کا اجر ان کو ان کا خدا دے گا‘ نہ ان کو کسی کا خوف ہو گا‘ نہ ان کو کبھی عم ہو گا‘ مطلب کیا ہوا؟

مولائے کائنات(علیہ السلام )نے فقط چار درہم دیئے‘ اللہ کی بارگاہ میں ان چار درہموں کے بدلے آیت نازل کر کے خدا نے بتا دیا کہ

اے علی(علیہ السلام )! تیرا عمل میرے نزدیک اس قدر پیارا ہے کہ تو نے عمل کیا‘ میں نے قرآن کی آیت بنا دیا۔

آپ کے مولا(علیہ السلام )جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں۔ رسول جیسی عظیم شخصیت نماز پڑھا رہی ہے کہ ایک سائل آ کے سوال کرتا ہے‘ اسے کچھ بھی نہیں دیا جاتا۔ سائل بارگاہ رب العزت میں عرض کرتا ہے کہ

خدایا! میں نے بھری مسجد میں سوال کیا‘ اتنی تعداد میں صحابہ کرام  تھے‘ تیرا رسول نماز پڑھا رہا تھا‘ میں نے سوال کیا مگر کسی نے جواب نہیں دیا‘ اب خالی ہاتھ مسجد سے جا رہا ہوں۔ اس کا یہ کہنا تھا کہ

مولائے کائنات(علیہ السلام )نے انگلی سے اشارہ کیا‘ اس شخص نے انگوٹھی اتار لی‘ تو اس کے بدلے میں قرآن کیا کہتا ہے؟ قرآن مولا(علیہ السلام )کو اس انگوٹھی کے بدلے میں ایسا منصب عطا کر رہا ہے کہ سوائے رسالتمآب کے کسی نبی کو بھی وہ منصب عطا نہیں ہوا:

انما ولیکم الله و رسوله و الذین امنوا الذین یقیمون الصلوة ويوتون الزکوة و هم راکعون

"تمہارا ولی صرف اللہ ہے‘ دوسرا ولی اللہ کا رسول ہے‘ تیسرا ولی کون جو پابندی سے نماز پڑھتا ہے اور حالت رکوع میں زکوٰة بھی دیتا ہے۔"

ظاہر ہے کہ مولا(علیہ السلام )نے حالت رکوع میں زکوٰة دی اور قرآن کی آیت اتری اور اس آیت میں مولا(علیہ السلام )کو تمغہ ولایت عطا فرمایا گیا۔

وہ منصب ولایت جو رسول اللہ کے علاوہ کسی نبی کو بھی نہیں دیا گیا‘ لیکن مسلمانوں کی بدبخدتی ہے کہ جتنا منصب ولایت کو لوگوں نے ذلیل کیا ہے‘ اتنا کسی منصب کو ذلیل نہیں کیا گیا۔ وہ لوگ یہ خیال نہیں کرتے کہ آیا یہ بھی کوئی منصب ہے یا نہیں؟

نشر کرتا ہے‘ جھوٹ بولتا ہے‘ جس کو نہ دین کا پتہ ہے نہ ایمان کا‘ پاگل قسم کا آدمی ہے‘ اس کو لوگ ولی اللہ کہتے ہیں تو لفظ ولی اللہ کی اتنی مٹی پلید کی کہ

ولی اللہ کی عظمت کیا ہے؟

جیسا کہ عرض کیا گیا ہے کہ مختلف نبیوں کو نبی کہا گیا ہے‘ پیغمبر کہا گیا ہے‘ یہ سب کے لئے مشترک ہے۔

تین سو تیرہ رسول آئے‘ ان کے لئے لفظ رسول مشترک ہے۔

نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں اور ان میں سے تین سو تیرہ رسول اور جہاں پر لفظ ولایت کا تعلق ہے تو سمجھئے کہ خدا نے منصب ولایت کو سب سے پہلے اپنے لئے منتخِ کیا‘ یعنی خدا نے اپنے آپ کو پہلے ولی کہا‘ خدا نے اپنے رسول کو بھی ولی کہا۔

توجہ فرمائیں!

کہ خدا نے اپنے آپ کو نبی نہیں کہا‘ اپنے آپ کو رسول نہیں کہا‘ اپنے آپ کو پیغمبر نہیں کہا‘ خدا نے اپنے آپ کو امام نہیں کہا‘ خدا نے اپنے آپ کو خلیفہ نہیں کہا‘ بلکہ خدا نے اپنے آپ کو صرف ولی کہا۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ کہا کہ ولایت میں میرے تک اور کسی کا حق نہیں ہے۔ یہ اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں‘ کوئی اور روایت بھی پیش نہیں کر رہا ہوں کہ جس میں بحث کی گنجائش ہو‘ بلکہ قرآن کہتا ہے:

والله من ولی…

اللہ کے علاوہ کوئی ولی نہیں ہے‘ اللہ ہی ولی ہو سکتا ہے‘ اللہ کے علاوہ کوئی اور ولی نہیں ہو سکتا۔ تو سب سے پہلے خدا نے ولایت کو اپنے ساتھ مختص کیا‘ پھر ایک دوسری آیت میں بھی یہی کہا گیا۔

میرا ولی اللہ ہے‘ اللہ کون ہے جس نے کتاب کو نازل کیا۔ تو یہاں نبی فرما رہے کہ میرا ولی خدا ہے اور پہلی آیت میں خدا خود کہہ رہا ہے کہ اللہ ہی ولی ہے‘ اللہ کے علاوہ کوئی ولی نہیں ہے‘ یہ منصب خدا نے خود اپنے لئے مختص کیا ہے‘ کسی نبی کو نہیں دیا گیا مگر تیسری جگہ پر خدا نے اس منصب میں اپنے ساتھ مصطفی (ص)کو بھی شریک کیا اور مرتضیٰ(علیہ السلام )کو بھی شریک کر لیا۔ پھر کہا انما ولیکم اللّٰہ کہ بس ولی خدا ہے۔ انما کا کلمہ‘ کلمہ حصر ہے۔ جس طرح انما یرید اللہ بھی حصر کا کلمہ ہے‘ اسی طرح یہاں پر بھی حصر ہے کہ بس تمہارا ولی‘ اللہ۔

پتہ نہں چلتا کہ خدا خود کس طرح ولی ہے۔ اس کے بعد کہا گیا‘ اس کا رسول بھی تمہارا ولی ہے‘ اس کے بعد وہ شخص تمہارا ولی ہے جس نے حالت رکوع میں زکوٰة دی۔ حالت رکوع میں زکوٰة دینا خدا کو اتنا پیارا لگا کہ جو منصب خدا نے اپنے لئے مختص کیا ہوا تھا‘ اس منصب کو رسول ۱ کو دے دیا اور علی(علیہ السلام )کو بھی یہ منصب دے دیا۔ یہ کوئی معمولی منصب نہ تھا‘ لوگ حیران کہ علی(علیہ السلام )کو یہ منصب کیسے مل گیا؟ کتنا بڑا منصب مل گیا۔ ایک انگوٹھی دی۔ انگوٹھی کتنی بڑی ہوتی ہے؟

لہٰذا انہوں نے بھی کوشش کی‘ اپنے لوگوں کو بلایا تاکہ ہم بھی اس منصب میں شریک ہو جائیں‘ ہم بھی کوئی ایسا کام کریں کہ ہمارے لئے کوئی آیت نازل ہو جائے۔ لہٰذا انہوں نے اپنے لوگوں کو بلایا اور کہنے لگے کہ علی(علیہ السلام )نے رکوع کی حالت میں انگوٹھی زکوٰة دی‘ ان کے لئے قرآن کی آیت آ گئی‘ ولایت بھی مل گئی۔ ہم بھی اس طرح خرتے ہیں‘ انگوٹھی دیتے ہیں نماز کی حالت میں‘ تاکہ جس طرح علی(علیہ السلام )کے لئے آیت آئی ہے‘ ہمارے لئے بھی آیت آ جائے۔ ایک آدمی سے کہا گیا کہ دیکھو جب ہم نماز پڑھ رہے ہوں‘ جماعت ہو رہی ہو‘ رسول اللہ (ص)نماز پڑھا رہے ہوں‘ لوگ بکثرت موجود ہوں‘ تم آ کے سوال کرنا کہ کون ہے جو مجھے کچھ دیتا ہے؟

میں اسی طرح کروں گا جس طرح علی(علیہ السلام )نے کیا‘ تم انگوٹھی اتار لینا‘ جس طرح علی(علیہ السلام )کے لئے آیت آئی ہے‘ اس طرح ہمارے لئے بھی آیت آئے گی۔

انہوں یہ بھی کہا کہ

اگر آیت آ گئی تو ٹھیک ہے اور اگر آیت نہ آئی تو تم میری انگوٹھی واپس کر دینا۔

تو جب اتنا زبردست جوش ہو‘ تو پھر آیتیں ماشاء اللہ کافی آئیں گی‘ چنانچہ انگوٹھی دے دی لیکن کچھ نہ اترا۔

اب وہ احتجاج کر رہے ہیں۔

رسول اللہ ۱ کی خدمت میں‘ یا رسول اللہ ۱ کیا وجہ ہے کہ علی(علیہ السلام )کوئی چیز دیتے ہیں تو آیت آ جاتی ہے۔ ایک چھوٹی سی انگوٹھی دی اس کے لئے آیت آ گئی۔

ہم چیختے رہے‘ چلاتے رہے‘ انگوٹھی بھی زکوٰة دی‘ لیکن ہمارے لئے آیت نہ آئی‘ ہم اس کو برداشت نہیں کر سکتے۔

اگر یہی حال رہا‘ تو ہم تیری ۱ دین کو چھوڑ دیں گے۔

یہ اپنی طرف سے نہیں

اگر یہی حال رہا اور ہمارے لئے آیت نہ آئی‘ مال و دولت دیتے رہے‘ سارے مال خرچ کرتے رہے‘ انگوٹھی بھی دی‘ اگر ہمارے لئے آیت نہ آئی تو پھر ہم تیری ۱ دین کو چھوڑ دیں گے۔

قرآن مجید نے اس کا ذکر کیا ہے:

تو ان لوگوں نے کہا تھا کہ اگر ہمارے لئے آیت نہیں آئی‘ ہم دین کو چھوڑ دیں گے۔ تو قرآن نے کہا:

"اے ایمان والو! تم میں سے جو مرتد ہونا چاہتا ہے‘ دین سے نکلنا چاہتا ہے‘ بڑی خوشی سے نکل جائے‘ ہمیں ضرورت نہیں۔"

تو خدایا! جب سب لوگ نکل جائیں گے‘ تو پھر کیا ہو گا؟

خدا کہتا ہے:

فسوف یاتی الله بقوم

"خدا کے میں وہ لوگ موجود ہیں کہ خدا ان سے محبت کرتا ہے اور وہ خدا سے محبت کرتے ہیں۔"

کل رات میں نے ذکر کیا تھا‘ رسول اللہنے ارشاد فرمایا تھا کہ

لا عطین ھذہ الرایہ رجلا کرارا غیر فرار یحب اللہ و رسولہ ویحبہ اللہ و رسولہ

"کل علم اس مرد کو دوں گا‘ جو کرار ہو گا‘ غیر فرار ہو گا‘ جس کو خدا اور اس کے رسول سے محبت ہو گی‘ خدا اور رسول ۱ کو اس سے محبت ہو گی۔"

تو اس حدیث اور اس آیت کو دیکھیں‘ جس میں کہا جا رہا ہے:

"آپ بے شک مرتد ہو جائیں‘ دین کو چھوڑ دیں‘ کوئی پرواہ نہیں‘ اس لئے کہ دین میں ایسے لوگ موجود ہیں‘ جن کو خدا سے محبت اور خدا کو ان سے محبت ہے۔"

تو گویا یہ کہا گیا ہے کہ

"دین میں علی(علیہ السلام )جیسی ہستی موجود ہے کہ جن کو خدا سے محبت ہے اور خدا کو ان سے محبت ہے۔"

اس کے بعد آیت میں فرمایا گیا:

اعزه علی المومنین

"مومنین کے سامنے خضوع و خشوع کرنے والے ہیں۔"

اعزه علی الکافرین

"کافروں پر غلبہ حاصل کرنے والے ہیں۔"

یجاهدون فی سبیل الله

"اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔"

کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں ہے۔

تو جب ایسی ذوات مقدسہ اللہ کے دین میں موجود ہیں‘ جو اپنی جان خدا پر قربان کرتے ہیں‘ خدا کو ان سے محبت ہے۔ اگر تم علیحدہ ہونا چاہتے ہو تو بڑی خوشی کے ساتھ ہو جاؤ‘ دین میں تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ذہن سے نہ بھولے ہوں تو میں یہ عرض کر رہا تھا کہ

اگرچہ عبادت کرنے والے لوگ کافی ہیں‘ لیکن علی(علیہ السلام )ایسے عبادت گزار ہیں‘ علی(علیہ السلام )کی عبادت خدا کو ایسی پسند ہے کہ جب بھی وہ کوئی کام کرتے ہیں تو قرآن کی آیت اس کی تصدیق کرتی ہے۔

اب تیسری آیت‘ آپ لوگ اکثر سنتے ہیں کہ علی(علیہ السلام )اور اولاد علی(علیہ السلام )نے تین روٹیاں دی ہیں‘ یتیموں‘ مسکینوں اور فقیروں کو۔

ظاہر ہے کہ دوسرے لوگ بھی راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں لیکن راہ خدا میں کوئی شخص تب کوئی چیز دیتا ہے‘ جب کوئی چیز زیادہ ہوتی ہے۔

آپ دُکان پر بیٹھے ہیں‘ کچھ غریب و مسکین آ جاتے ہیں‘ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو آپ ایک روپیہ دیتے ہیں‘ کچھ ایسے ہوتے ہیں‘ جن کو آپ سو روپے دے دیں گے‘کچھ ایسے ہوں گے جن کو ہزار روپیہ دے دیں گے۔

کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ کے پاس ہزار روپیہ ہو تو آپ وہ اٹھا کر دے دیں؟

سوال ہی پیدا نہیں ہوتا! زیادہ چیز ہو تو اس کے مطابق انسان دیتا ہے۔ فقط یہی چیز اس کے سامنے موجود ہے اور روٹی آدمی کھا رہا ہے‘ اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے اس کے پاس‘ ادھر فقیر آ نکلے کہ بنام خدا کچھ مجھے دے دو‘ تو انسان اس سے معذرت کرے گا‘ اگر وہ ضد کرے تو اس سے لڑ پڑے گا کہ بندئہ خدا! روٹی تو میرے لئے کافی نہیں ہے‘ تمہیں کہاں سے دوں؟

کیا کہنا اہل بیت(علیہ السلام )کا!

آیات قرآنی بلاوجہ نہیں آتی تھیں‘ اہل بیت(علیہ السلام )نے سارا دن روزہ رکھا‘ سارے دن کے بھوکے پیاسے ہیں‘ کچھ کھایا پیا نہیں‘ شام کے وقت بیٹھے ہیں‘ فاطمہ(علیہ السلام )نے آٹا تیار کیا۔ یہودی کے باغ میں روزہ کی حالت میں مولا علی(علیہ السلام )نے مزدوری کی ہے‘ وہاں سے کچھ پیسے جو ملے‘ آٹا تیار ہوا‘ روٹی تیار ہوئی۔ اب حسن مجتبیٰ(علیہ السلام )بھی روزہ دار ہیں‘ حسین(علیہ السلام )پاک بھی روزہ دار ہیں‘ فاطمہ(علیہ السلام )بھی روزہ سے ہیں‘ علی(علیہ السلام )نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا اور فضہ  ۱ بھی روزہ دار‘ البتہ آج اس نعمت میں رسول اللہ ۱ شریک نہیں ہیں۔

ان پانچوں کا روزہ ہے‘ جن میں چار اہل بیت(علیہ السلام )ہیں‘ ایک کنیز ہے‘ وہ کنیز بھی ایسی جس کو لفظ اماں سے تعبیر کیا جاتا ہے‘ انہوں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ ایک آدمی آ جاتا ہے‘ وہ کہتا ہے:

میں یتیم ہوں۔

اس کو کھانا دے دیا جاتا ہے‘ روٹیاں دے دی جاتی ہیں‘ ہر فرد خانہ اپنی اپنی روٹی دے رہا ہے‘ کسی نے بھی اپنے پاس روٹی نہیں رکھی۔

دوسری رات‘ کوئی مسکین آ جاتا ہے۔

پہلی شب کی طرح آج پھر سب نے اپنا اپنا کھانا اٹھا کر دے دیا۔

تیسری رات‘ پھر کوئی سائل آ جاتا ہے کہ اسیر ہوں۔

تو تین روزے اہل بیت(علیہ السلام )نے رکھے اور ہر روز بوقت افطار سائل کو سرفراز فرما دیتے‘ صبح پانی سے روزے رکھے جاتے رہے۔

تین دن کی متواتر بھوک برداشت کی‘ افراد اہل بیت(علیہ السلام )نے۔ لیکن یتیم و مسکین و اسیر کو خالی ہاتھ واپس نہیں کیا۔

اللہ کو یہ ادا ایسی پسند آئی کہ قرآن میں فرمایا:

و یطعمون الطعام علىٰ حبه مسکینا و یتیما و اسیرا

"یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی محبت میں یتیم و مسکین و اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں‘ خود بھوکے رہتے ہیں۔"

انہوں نے کھانا کھلایا‘ ان سائلوں کو‘ مانگنے والوں کو‘ لیکن کیوں دیا؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا سبب تھا؟

تو خداوند عالم خود فرماتا ہے کہ یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے کھانا کیوں دیا؟

انما نطعمکم لوجه الله لا نرید منکم جزآء و لا شکورا

فقط اللہ کی رضا کی ضرورت ہے‘ تقرب الٰہی مقصود ہے‘ اللہ کو خوش کرنے کے لئے کھانا دے رہے ہیں‘ نرید منکم جزاء و لا شکورا۔

اے یتیم‘ اے مسکین‘ اے اسیر! ہم نے اللہ کی راہ میں کھانا دیا ہے‘ ہمیں اس کی ضرورت نہیں کہ آپ کہیں‘ جزاکم۔ نہ اس کی ضرورت ہے کہ آپ لوگ ہمارا شکریہ ادا کریں‘ یہ سب کچھ تو بوجہ اللہ ہوا ہے۔

کہتے ہیں کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں کہ جزا دیں یا شکریہ ادا کریں کہ آپ نے ہمیں نعمت دی ہے۔

لیکن عظمت ربی کا کینا کہ جن کو کھانا دیا ان کے لئے نہیں دیا تھا‘ خدا لئے دیا تھا۔

جب کوئی عمل خدا کے لئے ہو تو خدا کو ہی چاہئے کہ وہ ہی جزا دے۔

خدا نے کیا جزا دی کہ

تین روٹیوں کے بدلے پورا سورئہ دہر نازل کیا‘ بلکہ کہا ہے کہ

"اے میرے ماننے والے! اے میری محبت میں دینے والے! بھوکے رہنے والے! آپ تو کہتے ہیں ہمیں جزا کی ضرورت نہیں‘ آپ کہتے ہیں کہ ہمیں شکریے کی ضرورت نہیں‘ میں جزا میں پورا سورئہ دہر دے رہا ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ سعکم مشکورا‘ تمہاری کوشش کا میں خدا شکریہ ادا کرتا ہوں۔"

یعنی خداوند عالم کو یہ عمل اہل بیت(علیہ السلام )اتنا پسند آیا کہ خود شکریہ ادا کر رہا ہے۔ اس سے بڑی اور کیا نعمت ہوتی ہے؟

فقط ایک آیت کہ علی(علیہ السلام )نے ایک کام کیا‘ خدا نے آیت نازل کر دی۔

ایک جنگ ہوتی ہے‘ جنگ موتہ۔ مشہور جنگ ہے اور یہ واحد جنگ ہے‘ جس میں مولا علی(علیہ السلام )کو شریک نہیں کیا گیا‘ تو جس جنگ میں علی(علیہ السلام )نہیں گئے‘ مسلمان اس جنگ میں مار کھا کر آئے۔

رسالتمآب نے چاہا کہ ایسا نہ ہو کہ میں دنیا سے چلا جاؤں اور آخری جنگ ہو کہ جس میں مسلمانوں کو شکست ہو گئی ہو‘ لہٰذا حضور نے ایک اور جنگ کا حکم دیا‘ اس جنگ کو حنین کہتے ہیں۔ اس جنگ میں بھی سب سے پہلے علی(علیہ السلام )کو نہیں بھیجا گیا‘ تاکہ لوگوں کو کم از کم علم ہو جائے کہ ہماری کیا طاقت ہے۔

پہلے ایک صاحب کو بھیجا گیا‘ وہ صاحب جنگ میں گئے تو مخالفین میں سے پچاس‘ ساٹھ آدمی ان کے پاس آئے‘ انہوں نے انہیں سمجھایا کہ تم کیوں لڑتے ہو؟ ہمارے ساتھ بہت زیادہ لشکر ہے‘ آپ کے پاس تعداد بہت کم ہے‘ مار کھاؤ گے‘ جان کے ساتھ پیار ہے‘ اگر جان کے ساتھ محبت ہے‘ کیوں لڑتے ہو؟ انہوں نے سمجھایا‘ عقلمند آدمی تھے۔ بارہ ہزار کا لشکر معمولی نہیں ہے‘ یہ بارہ ہزار کی تعداد۔

جب انہوں نے سمجھایا تو یہ بزرگوار کہنے لگے‘ ٹھیک ہے‘ میں نہیں لڑتا اور واپس آ گئے۔

اب دوسرے صاحب کو بھیجا گیا۔ عقلمند وہی ہوتا ہے جو اپنی جان کی حفاظت کر سکے۔ یہ دوسرے صاحِ گئے‘ یہ پہلے سے بھی زیادہ عقلمند تھے‘ جب ان کو سمجھایا گیا کہ اے بندئہ خدا! تو ہمار ساتھ کیوں لڑتا ہے؟ کیوں مرتے ہو؟ خواہ مخواہ اپنی جان ضائع کرتے ہو‘ پتہ نہیں بعد میں کچھ تمہیں ملے گا بھی کہ نہیں۔ ہمارے پاس طاقت ہے‘ قوت ہے‘ فوج ہے‘ جنگ میں ہم چوڑیں گے تو نہیں تمہیں۔

انہوں ں ے کہا‘ بس یہی کافی ہے اور میں واپس جا رہا ہوں اور اب تیسری دفعہ روایت میں ہے کہ

عمرو بن العاص کو بھیجا گیا۔ یہ گئے تو بڑے طمطراق سے‘ مگر حسب معمول ان کی باتوں کو سن کر پورے امن و سلامتی سے بخیر و عافیت تشریف لے آئے۔

اب رسول اللہ ۱ کہتے ہیں کہ جس کو بھی بھیجتا ہوں‘ کافر و مشرک اسے سمجھا بجھا کر واپس بھیج دیتے ہیں‘ اب اسے میدان میں بھیجوں گا جو کافروں سے سمجھنے والا نہیں‘ بلکہ انہیں سمجھانے والا ہو گا۔

اور اپنے برادر علی(علیہ السلام )کو بلایا اور فرمایا‘ جاؤ علی(علیہ السلام )جا کر بڑو اور فتح کئے بغیر نہ آنا۔ جب یہ گئے تو کافروں نے حسب عادت سمجھانے کی کوشش کی اور کہا کہ جب تیرے بوڑھے واپس چلے گئے‘ تم جوان ہو‘ تم اپنی جوانی کیوں خراب کرتے ہو؟

حضرت امیر(علیہ السلام )نے فرمایا کہ

"آپ کو پتہ نہیں کہ میں(علیہ السلام )کون ہوں؟ اسلام قبول کر لو نہ لڑوں گا‘ ورنہ جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ‘ ہمارے مسلمان بھائی قتل ہوئے‘ میں ان کا بدلے لئے بغیر نہ جاؤں گا‘ پہلے تین اور تھے اور میں اور ہوں۔"

انہوں نے سوچا کہ جب وہ بھاگ گئے تو یہ جوان کیا کر لے گا‘ لڑنے کو تیار ہوئے۔ اس واقعہ کو قرآن نے ذکر کیا ہے (جس کیلئے میں نے اتنی کوشش کی) تئیسویں پارے میں قرآن ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے:

والعدیات ضبحا فالموریات قدحاً فالمغیرات صبحاً فاثرن به نقعاً فوسطن به جمعاً

اب دیکھئے! جتنی تلاوت آیات کی میں نے کی ہیں‘ ان میں سے پہلی اور دوسری آیت میں علی(علیہ السلام )کی تعریف کی گئی تھی‘ ولایت علی(علیہ السلام )کا تذکرہ تھا۔ تیسری آیت میں اہل بیت(علیہ السلام )کی تعریف کی گئی تھی‘ لیکن اس آیت میں اہل بیت(علیہ السلام )کی تعریف نہیں‘ مولا امیر(علیہ السلام )کی تعریف نہیں‘ بلکہ وہ گھوڑے جس پر علی(علیہ السلام )اور علی(علیہ السلام )کی فوج سوار ہو کے گئے تھے۔

ارشاد ہو رہا ہے:

"مجھے قسم ہے ان گھوڑوں کی! جو تیزی سے دوڑتے ہیں‘ تو ان کے دوڑنے کی آواز آتی ہے۔ قسم ہے ان گھوڑوں کی! جو رات کی تاریکی میں دوڑتے ہیں‘ ان کے قدموں سے ایک چنگاری نکلتی ہے‘ بڑی اچھی لگتی ہے۔ مجھے قسم ہے اس فوج کی! جس نے صبح صبح جا کے حملہ کیا اور وہ فوج کامیاب ہوئی۔"

یہاں گھوڑوں کی قسم کھا کے خدا نے ہمیں متوجہ کر دیا:

اے میرے ماننے والے‘ اے میری توحید کا اقرار کرنے والے! میں فقط اہل بیت(علیہ السلام )کی تعریف ہی نہیں کرتا بلکہ اہل بیت(علیہ السلام )جن سواریوں پر سوار ہو جائیں‘ ان گھوڑوں کی بھی میں قسم کھاتا ہوں (اور اس گھوڑے پر حسین(علیہ السلام )ابن علی(علیہ السلام )سوار ہو کر گئے تھے) اور انہوں نے دین خدا کو بچا لیا۔

تو جب میں خود خدا ان کی قسم کھا رہا ہوں‘ تو اس گھوڑے کی عزت‘ بدعت نہیں ہو گی‘ بلکہ عین دین ہو گی۔

میرا عنوان تھا:

ایاک نعبد و ایاک نستعین

عبادت علی(علیہ السلام )کا تذکرہ ہو رہا تھا۔

اب علی(علیہ السلام )کی عبادت کا اخلاق‘ علی(علیہ السلام )کا کردار‘ علی(علیہ السلام )کے اعمال اس قدر بلند ہیں کہ آیات نازل ہو رہی ہیں۔

اب ظاہر ہے کہ علی(علیہ السلام )میں یہ عظمت کیوں پیدا ہوئی؟ کون سی خصوصیت تھی‘ مولائے کائنات(علیہ السلام )کی کہ آیات پر آیات آ رہی ہیں‘ جب بھی کوئی کام کرتے؟ تین سو آیات مولائے کائنات(علیہ السلام )کی شان میں نازل ہوئیں۔ کوئی کام کرتے ہیں آیت نازل ہوتی ہے۔

کیوں اس کی وجہ کیا ہے؟

اگرچہ مسلمان موجود تھے‘ مومنین کافی تعداد میں موجود تھے‘ لیکن مومنین کی تین قسمیں پائی جاتی تھیں۔ تین قسموں کا میں ذکر کرتا ہوں‘ اب آپ فیصلہ کریں کہ ان تین قسموں میں سب سے اچھی قسم کن مومنوں کی ہے؟ کچھ مومن ایسے ہیں کہ جو ایمان تو لائے‘ لیکن ان کی عمر کا کافی سارا عرصہ بغیر ایمان کے گزرا۔ کافر تھے‘ مشرک تھے‘ بت پرست تھے‘ کسی کو دس سال‘ کسی کو بیس سال اور کسی کو چالیس سال گزرے۔ تو گویا ان کی عمر کا زیادہ حصہ بت پرستی‘ شرک اور کفر میں گزرا‘ جب بوڑھے ہو گئے تو ان کی عمر کا زیادہ حصہ کفر میں گزرا۔ اب ظاہر ہے کہ بڑھاپا بری چیز نہیں ہے‘ لیکن یہ اب تک مسلم ہے کہ بڑھاپے میں کافی چیزیں رہ جاتی ہیں‘ یاد نہیں ہوتیں‘ آدمی کوشش بھی کرتا ہے‘ تب بھی چیز یاد نہیں ہوتی۔

اگر کوئی چیز کسی کو سمجھائی جائے تو نفسیات کے علماء یہی کہتے ہیں کہ یہ سمجھانا ایسا ہو گا کہ جیسے مٹی پر لکیر کھینچنا یا مٹی پر لکھنا‘ لیکن اگر جوانی میں یا بچپن میں کوئی چیز سمجھائی جائے تو وہ ایسے ہوتا ہے جیسے پتھر پر لکیر۔ اب جب پتھر پر لکیر ہو گی‘ وہ نہیں مٹے گی‘ جو مٹی پر لکیر ہو گی وہ ایسے ہو گی کہ ہوا کا ایک جھونکا آیا تو وہ مٹ گئی۔

لہٰذا بوڑھا آدمی‘ کوئی دین یاد بھی کرتا ہے تو تب بھی اس کو وہ چیز یاد جلد نہیں ہوتی‘ بوڑھا آدمی ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں خہ بوڑھا آدمی بڑھاپے میں نماز یاد کر رہا ہے‘ اعمال دین یاد کر رہا ہے۔ اگر اسے یاد نہیں ہو رہے تو وہ یہ خیال کرے کہ وہ قیامت کے دن بخشا جائے گا‘ کیونکہ اس نے یاد کرنے کی کوشش تو کی ہے‘ بلکہ پندرہ سال کا آدمی جب ہو جاتا ہے تو اس پر واجب ہو جاتا ہے کہ یاد کرو۔ ہر چیز یاد کرے‘ اگر وہ روزمرہ کے مسائل یاد نہیں کرتا‘ بڑھاپے میں دین کی طرف لوٹ آیا ہے‘ سب خرابیوں کو چھوڑ کر۔ ابدین دار بن گیا ہے اور اس کے لئے لازم ہے کہ ان چیزوں کو یاد کرے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں‘ اب مجھ سے کوئی چیز یاد نہیں ہو سکتی تو بہرحال اس کا تذکرہ کر رہا تھا کہ ہر شخص کے لئے لازم ہے کہ وہ روزمرہ کے مسائل یاد کرے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں کہ دس سال کا عرصہ گزر گیا‘ ایمان نہیں لا سکے‘ بعد میں ایمان لائے‘ ظاہر ہے کہ یہ مومن نہیں۔

دوسرے نمبر پر ایسے مومن جو ایمان تو لے آئے‘ ایمان تھا‘ لیکن ایمان ڈانواں ڈول تھا۔ جب موقع آیا‘ ایمان دار بن گئے اور جب وقت آیا ایمانداری چھوڑ بیٹھے۔

لہٰذا ہیں نا‘ ایسے لوگ کہ جن کا ایمان ڈانواں ڈول ہوتا ہے۔ جب موقع آیا مومن بن گئے‘ بلکہ رسول اللہکے شیدائی بن گئے‘ رسول کے ساتھی بن گئے‘ لیکن جب دیکھا گڑبڑ ہو رہی ہے‘ اس وقت ایک طرف ہو گئے۔ یہ اپنی طرف سے نہیں قرآن کہتا ہے۔

کچھ لوگ ایسے ہیں جو ایمان لائے پھر کافر ہو گئے‘ پھر ایمان لائے پھر کافر بن گئے‘ لیکن پھر کفر اتنا بڑھ گیا کہ وہ ختم نہیں ہوا۔ کچھ لوگ ایسے تھے‘ موجود ہیں‘ ایمان لائے‘ لیکن جب ضرورت پڑتی تھی ان کا ایمان جدا ہو جاتا تھا‘ ان لوگوں کو آپ بہتر جانتے ہیں‘ باقی میرا کام نہیں ہے۔

تو یہ دو قسم کے مومن ابتدائی زندگی گزاری ایمان نہیں تھا۔

دوسری قسم ایسے لوگوں کی ہے کہ جو ایمان تو لائے لیکن ضرورت پڑی مومن بن گئے اور جب ضرورت پڑی ایمان کو چھوڑ دیا۔

تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو اول سے لے کر آخر تک

ایسے مومن رہے کہ ایک لمحہ کیلئے‘ بلکہ ایک سیکنڈ کے لئے بھی یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ایمان سے فارغ ہوئے ہوں۔ اول زندگی سے آخر زندگی تک ان کا کبھی ایمان نہیں گیا‘ یہ ایک لمحہ‘ ایک سیکنڈ کے لئے بھی ایمان نہیں گیا۔ اب اگر آپ سے فیصلہ لیں کہ ان تینوں میں سے کون افضل ہیں؟ کن کا ایمان بہتر ہے؟ کیا وہ لوگ جن کا ایمان ۴۰ سال بعد تھا یا وہ لوگ جو ایمان لائے لیکن تھا؟ یا وہ لوگ بہتر ہیں جو اول زندگی سے آخر زندگی تک مومن ہیں‘ کبھی ایمان سے خالی نہیں ہوئے؟

لہٰذا آپ کا فیصلہ یہی ہو گا کہ تیسری قسم کے لوگ افضل ہیں‘ جو اول زندگی سے لے کر آخری زندگی تک ایک لمحہ کے لئے بھی ایمان سے خارج نہیں ہوئے۔

صلواة

اب ظاہر ہے کہ آپ پڑھے لکھے لوگ ہیں‘ سمجھ سکتے ہیں کہ تیس چالیس سال بعد کوئی ایمان لا رہا ہے اور کس کا ایمان اول زندگی سے لے کر آخری زندگی تک خارج نہیں ہوا۔

بہرحال مولائے کائنات(علیہ السلام )کی ذات وہ ذات ہے کہ ابتداء سے لے کر انتہاء تک کبھی ایمان سے خرچ نہیں کیا‘ ایک سیکنڈ کے لئے بھی خروج نہیں ہوا‘ لیکن یہ زمین میں آئے کہ اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ مولائے کائنات(علیہ السلام )ایمان لائے‘ تو یہ ان کی تعریف نہیں کی‘ اس میں مولائے کائنات(علیہ السلام )کی عظمت نہیں‘ بلندی نہیں ہے‘ کیوں؟

اس لئے کہ ایمان لاتا ہے جس کے پاس پہلے ایمان نہ ہو۔

ہے نا اسی طرح؟ جو ایمان سے خالی ہو اسے ایمان لانے کی ضرورت پڑتی ہے‘ لیکن جہاں تک مولائے کائنات(علیہ السلام )کا تعلق ہے‘ یہ تو اس وقت مومن تھے‘ ابھی ماں کے بطن میں تھے۔

تذکرہ کیا تھا کہ جب فاطمہ بنت اسد خانہ کعبہ کے قریب گئیں‘ فاطمہ نے کہا کہ خدایا! تجھے واسطہ ہے میرے اس بیٹے(علیہ السلام )کا جو میرے پیٹ میں ہے اور مجھ سے باتیں کرتا ہے۔ ظاہر ہے علی(علیہ السلام )مومن ہیں‘ بلکہ ان کا ایمان ماں کے بطن ابراہیم(علیہ السلام )سے زیادہ تھا۔ اسمائے ابراہیم(علیہ السلام )کے نام کی سفارش قبول نہیں ہوئی‘ بلکہ علی(علیہ السلام )کے نام کی سفارش قبول ہوئی۔

صلواة

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ علی(علیہ السلام )کا ایمان فقط ماں کے بطن میں تھا‘ نہیں نہیں علی(علیہ السلام )اس وقت بھی مومن تھے جب عیسیٰ(علیہ السلام )کو سولی پر لٹکانے لگے تھے‘ علی(علیہ السلام )اس وقت بھی مومن تھے جب نارِ نمرود کو گلزار بنا کر خلیل اللہ(علیہ السلام )کا وسیلہ بنے‘ علی(علیہ السلام )اس وقت بھی مومن تھے جب نوح(علیہ السلام )کی کشتی کو بھنور سے نکالنے کا وسیلہ بنے‘ علی(علیہ السلام )اس وقت بھی مومن تھے جب آدم(علیہ السلام )کی توبہ کا وسیلہ بنے۔

بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر آدم(علیہ السلام )سے بھی پہلے علی(علیہ السلام )کو مومن کہا جائے تو اس سے بھی کوئی بڑی عظمت نہیں۔

اگر آپ کو یاد ہو کہ میں نے پہلی تقریر میں ذکر کیا تھا کہ رسالتمآب نے لوگوں کو مخاطب کر کے یہ بات کہی تھی:

اگر لوگوں کو یہ علم ہو جائے کہ مولائے کائنات(علیہ السلام )کو امیرالمومنین کے لقب سے کب ملقب کیا گیا تو وہ کبھی علی(علیہ السلام )کی فضیلت کا انکار نہ کریں۔

امیرالمومنین(علیہ السلام )کے لقب سے کب پکارا گیا؟ اس کے بعد حضرت نے ارشاد فرمایا کہ

علی(علیہ السلام )کو امیرالمومنین اس وقت کہا گیا‘ جب آدم(علیہ السلام )ابھی مٹی کے اندر تھے اس وقت علی(علیہ السلام )کو امیرالمومنین کہا گیا۔

تو علی(علیہ السلام )فقط مومن ہی نہیں بلکہ آدم کی پیدائش سے پہلے امیرالمومنین(علیہ السلام )تھے‘ امیرالمومنین(علیہ السلام )کو مومن کہنا یہ علی(علیہ السلام )کی عظمت نہیں‘ کیوں؟

مومن اس کو کہتے ہیں کہ جس میں ایمان

ایک آدمی وک عادل کہیں‘ عادل کب بنے گا؟

جب اس میں عدالت ہو۔

منصف کب بنے گا؟

جب اس میں انصاف ہو۔

آدمی کو سچا کب کہا جاتا ہے؟

جب اس میں سچائی ہو۔

فاضل کب کہا جاتا ہے؟

جب اس میں فضیلت ہو۔

عالم کب کہا جائے گا؟

جب اس میں علم ہو۔

تو علم ایک حقیقت ہے‘ فضیلت ایک حقیقت ہے‘ سچائی ایک حقیقت ہے کہ جس میں پائی جائے وہ اس کا حقدار کہلاتا ہے۔

تو اس طرح ایمان بھی ایک حقیقت ہے۔

جس میں ایمان پایا جائے وہ کیا کہلائے جائے گا؟

مومن!

اب ایک آدمی کو آپ عالم کہتے ہیں۔ اس کا مطلب کیا ہے کہ اس میں علم ہے یعنی ذاتی طور پر علم سے خالی تھا علم آ گیا تو عالم بن گیا‘ ذاتی طور پر انصاف سے خالی تھا‘ جب اس میں انصاف آ گیا تو منصف بن گیا‘ سخاوت آ گئی سخی بن گیا ذاتی طور پر سخی نہیں تھا‘ جس کو مومن کہا جاتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایمان سے خالی تھا‘ جب اس میں ایمان آ گیا وہ مومن بن گیا۔

رسول اللہ ۱ کب گوارہ کرتے تھے کہ علی ابن ابی طالب(علیہ السلام )کے متعلق یہ کہا جائے کہ ان میں ایمان نہیں تھا‘ بعد میں ایمان آیا اور رسول اللہ نے ایک جنگ میں علی(علیہ السلام )کو مخاطب کر کے کہا:

الایمان کله الی الکفر کله

"علی(علیہ السلام )کو مومن نہ کہنا‘ بلکہ علی(علیہ السلام )کو کل ایمان کہنا۔"

علی(علیہ السلام )کی سیرت کو دیکھ کر ہم نے اس کے مطابق چلنا ہے۔ جب علی(علیہ السلام )عبادت گزار ہیں‘ تو ایک عبادت ہے ان مومنین کی جن کا ایمان‘ ایمان متزلزل‘ ایک عبادت ہوتی ہے‘ اس کی جو عین ایمان ہے‘ جو کل ایمان ہے۔

ظاہر ہے کہ ان عبادات میں فرق ہو گا‘ اسی واسطے عبادت کی تین قسمیں کی گئی ہیں‘ تاکہ درجہ بندی ہو جائے:

کچھ لوگ عبادت کرتے ہیں جہنم کے ڈر سے کہ اگر ہم نے عبادت نہ کی‘ نماز نہ پڑھی‘ اگر روزے نہ رکھے‘ حج واجب نہ کی۔ یہ آدمی جب مرے گا‘ قیامت کے دن پکڑ ہو گی۔

جہنم میں جائے زکوٰة نہیں دیتا۔

سنا ہے کہ اگر ہم نے یہ کام نہ کئے تو جہنم کی آگ بڑی سخت ہے۔ اتنی سخت ہے کہ اس آگ کو ۷۰ دفعہ دھویا گیا‘ پھر یہ اتنی سخت ہے کہ جہنم کی آگ کہلائی ہے۔ تو ڈر کے مارے ہم عبادت کرتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ہم سب کی عبادت زیادہ تر ڈڑ کے مارے ہوتی ہے۔ اگر پہلے کہہ دیا جائے کہ بندئہ خدا تیری مرضی چاہے عبادت کر‘ تیری مرضی چاہے عبادت نہ کر‘ پھر کون عبادت کرتا؟ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ واجب ادا کرتے ہیں‘ یہ ٹیکس ہے‘ ڈیوٹی ہے‘ زکوٰة۔ لیکن اگر اس کے علاوہ کسی کو کچھ دینا پڑے تو یہ بڑا مشکل ہو جاتا ہے‘ اتنا مشکل ہوتا ہے کہ اگر تھوڑا سا مال بھی کسی چیز پر خرچ کیا جائے تو لوگ کہتے ہیں کہ مال امام(علیہ السلام )لے جاؤ تاکہ اپنا پیسہ خرچ نہ ہو۔

آپ کے کسی امام باڑہ میں نلکا لگایا‘ اس وقت اس نلکے کا خرچ دو ہزار روپے تھا‘ پرانے زمانے کی بات ہے‘ ہماری قوم کے لئے دو ہزار روپیہ ان کے لئے خرچ کرنا مشکل ہو رہا تھا‘ اب تک لاکھوں روپے خرچ کرتے تھے‘ تو وہ اجازت لینے گئے کہ ہمیں اجازت دی جائے کہ دو ہزار روپے سے نلکا لگایا جائے تو انہوں نے کہا کہ بندئہ خدا! سوچو کہ اتنی بڑی قوم ہو‘ کیا دو ہزار روپے اپنے پاس سے خرچ نہیں کر سکتے؟

ایک ڈیوٹی ہے‘ ادا کرتا ہے‘ نماز نہ پڑھی ڈنڈے پڑیں گے‘ نماز نہ پڑھی تو جہنم کی آگ بڑی سخت ہو گی۔

انسان مجبوری کے ساتھ نماز پڑھتا ہے‘ ایسی نماز کو کہا جتا ہے‘ ڈرپوں کی عبادت۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان نے یہ سن رکھا ہے کہ اگر عبادت کی تو جنت ملے گی‘ اس میں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہوں گی‘ بہترین میوے ہوں گے‘ ہر قسم کی نعمتیں موجود ہوں گی۔

تو ظاہر ہے کہ ان چیزوں کو سن کر انسان لالچ میں خدا کی عبادت کرتا ہے۔

تیسری قسم ان لوگوں خی ہے جو خدا کی عبادت کرتے ہیں‘ اس لئے کہ خدا عبادت کے لائق ہے‘ خدا مستحق عبادت ہے۔

اس عبادت کی تین قسمیں ہیں‘ تو جب ہماری عبادت کی تین قسمیں ہیں تو جزا بھی اسی طرح ہو گی۔ ظاہر ہے کہ اگر کوئی عبادت کرتا ہے‘ جہنم کے ڈر سے تو اس کی جزا یہی ہے کہ جہنم سے بچ جائے‘ جنت کا حقدار تو نہیں ناں! خدا کی مرضی اسے جنت میں بھیج دے‘ خدا کی مرضی جہنم سے اسے بچا لے۔ ایک اور جگہ ہے جو جنت سے ذرا نرم ہے وہاں بھیج دے‘ ہو سکتاہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جہنم کے ڈر سے‘ خوف سے انسان عبادت کرتا ہے‘ تو یہ کمزور ترین لوگوں کی عبادت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسان کی موت کا وقت ظاہر ہوتا ہے تو انسان کو پیاس بہت زیادہ لگتی ہے۔

حکم دیا گیا ہے کہ اس کو پانی دو چاہے ڈاکٹرز روکتے بھی رہیں‘ اس لئے کہ پیاسا نہ مر جائے‘ پانی پلا دو‘ پانی دینا چاہئے‘ پانی کی جس قدر ضرورت ہوتی ہے‘ اتنی ہی آدمی کو پیاس لگتی ہے۔ جب کوئی پانی دینے والا اسے پانی نہیں دیتا‘ پھر ابلیس ایک بہت بڑے آدمی کی شکل میں آتا ہے‘ اس کے ہاتھ میں پیالہ ہوتا ہے‘ کہتا ہے مجھ سے سے پانی طلب کر‘ میں پانی دوں گا۔ اسے پانی کی ضرورت ہوتی ہے‘ وہ کہتا ہے کہ آپ مہربانی فرما دیں‘ پانی دے دیں۔

ابلیس کہتا ہے:

میں پانی دینے کو تیار ہوں مگر شرط یہ ہے کہ آدھی عبادت مجھے دے دے۔ وہ کہتا ہے‘ میں آدھی عبادت دے دوں پانی کیلئے۔ لیکن جب یہی پیاسا پیاس سے مجبور ہو جاتا ہے تو کہتا ہے‘ اچھا آدمی عبادت لے لو‘ پانی دو۔ لیکن اتنی دیر کرنے پر شیطان کہتا ہے‘ وہ موقع تم نے ضائع کر دیا‘ اب تو اسی پانی کے بدلے میں پوری عبادت لوں گا‘ جب اس پر راضی ہو جاتا ہے اور عبادت سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے‘ مگر پیاس پھر بھی نہیں بجھتی اور پانی کا مطالبہ کرتا ہے تو شیطان اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہتا ہے کہ میرے سامنے تھوڑا سا سر جھکا دو‘ بس یہی سجدہ سمجھ لوں گا۔

ہوتا کیا ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی کی عبادت دے بیٹھتا ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ اس کے اعمال میں چاشنی نہ تھی اور روحانیت نہ تھی‘ جو انسان کو پختہ کر دیتی ہے۔

لہٰذا ایسا انسان اگر جہنم سے بچ جائے اور جنت کے لالچ میں عبادت کرتا ہے تو اسے جنت مل جائے گی‘ لیکن وہ لوگ جو خدا کی عبادت کو عبادت سمجھ کر سکتے ہیں‘ خدا کو لائق عبادت کہتے ہیں‘ خدا کو مستحق عبادت سمجھ کر عبادت کرتے ہیں‘ جہنم کا خوف ان کے لئے کچھ نہیں‘ جنت کا لالچ ان کے لئے کچھ نہیں‘ دوزخ و جنت کو تو خود تقسیم کرنے والے ہیں۔

اب قابل فکر بات یہ ہے کہ آیا ایسے عابدوں کے لئے بھی کوئی جزا ہے یا نہیں۔

ان کی بھی تو کوئی جزا ہونی چاہئے نا!

چنانچہ حلال مشاکل(علیہ السلام )اپنی عبادت کی وجہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

الهی ما عبدتک خوفا من نارک ولا طمعاً فی جنتک و لکن جدتک اهلا للعبادة

"اے اللہ! میں(علیہ السلام )نے تیرے جہنم کے خوف سے تیری عبادت نہیں کی‘ میں(علیہ السلام )نے تیری جنت کے لالچ میں تیری عبادت نہیں کی‘ نہ مجھے(علیہ السلام )جہنم کا خوف ہے‘ نہ مجھے(علیہ السلام )جنت کا لالچ ہے۔"

اور

قیم النار و الجنه

"پھر عبادت کیوں کر رہے ہیں۔"

آپ(علیہ السلام )نے فرمایا ہے کہ

"اس لئے تیری ذات لائق عبادت ہے‘ اگر تیری ذات لائق عبادت نہ ہوتی تو علی(علیہ السلام )کا سر کبھی بھی تیرے سامنے نہ جھکتا۔"

اب جنت کے اصول کے لئے عبادت کرنے والوں کو جنت ملے گی‘ دوزخ سے ڈر کر عبادت کرنے والوں کو دوزخ سے نجات ملے گی اور جو ہستی اس ذات کو لائق عبادت سمجھ کر عبادت کر رہی ہے‘ اس کے لئے بھی کوئی جزا ہے یا نہیں؟

قرآن مجید کا ارشاد ہے:

و رضوان من الله اکبر زلک هوالفوزالعظیم

عربی زبان میں تنوین قلت کے اظہار کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ رضوان من اللہ کا معنی ہو گا‘ اللہ کی تھوڑی سی رضا جنت سے بڑھ کر ہے اور جن کو اللہ کی تھوڑی سی رضا مل گئی‘ اس جنت سے بڑھ کر دیا گیا ہے۔

رضائے خدا پانے والوں کو یہ بڑی کامیابی ہے‘ شاید اسی لئے ۱۹ رمضان المبارک زخمی ہوتے ہوئے میرے مولا(علیہ السلام )نے فرمایا تھا:

فزت برب الکعبه

"رب کعبہ کی قسم! میں(علیہ السلام )کامیاب ہو گیا۔"

اب جس کو رضائے خداوندی دیا جائے‘ وہ کیا ہوتا ہے؟ کامیاب! اور علی(علیہ السلام )کیا کہتے ہیں کہ میری(علیہ السلام )زندگی کامیابی سے گزری ہے‘ ناکامی کبھی میرا مقدر نہیں بنی۔ اب رضوان کے معنی ہیں‘ کچھ رضا‘ تھوڑی سی رضا‘ علی(علیہ السلام )کو بھی تھوڑی سی رضائے خدا ملی۔

حالانکہ ہے تھوڑی سی رضا بھی جنت سے بڑھ کر‘ ان کا درجہ بھی جنت سے زیادہ ہے‘ تو اب

ارشاد قدرت ہو رہا ہے کہ ان کے لئے جس ہستی نے لائق عبادت سمجھ کر عبادت کی:

چمن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ واللہ و رووف بالعباد

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں‘ جو خدا کو اپنی جان دیتے ہیں‘ کہتے ہیں میری جان کا مالک تو خدا ہے‘ جس طرح تیرا حکم ہو گا‘ اسی طرح میرا سر حاضر ہے۔ ان کو ملتا کیا ہے؟

جو لوگ اپنی جان کا نذرانہ دربار خداوندی میں پیش کر دیتے ہیں‘ انہیں اپنی رضا میں دے رہا ہوں‘ اگر کوئی خدا کو راضی کرنا چاہتا ہے تو دروازئہ علی(علیہ السلام )پر سر جھکائے‘ اگر علی(علیہ السلام )راضی ہو گئے تو خدا راضی ہو گیا‘جس سے علی(علیہ السلام )ناراض ہوں وہ کبھی خدا کو راضی نہیں کر سکتا۔

ہاں تو! تو عرض کیا جا رہا تھا کہ علی(علیہ السلام )ایسے عبادت گزار کہ ہر رات کو علی(علیہ السلام )ہزار رکعت نماز پڑھا کرتے۔

چنانچہ شب ضربت میرے مولا(علیہ السلام )نے ایک کلمہ اور اسی جملے میں علی(علیہ السلام )کی پوری زندگی نظر آئے گی۔

مولا امیر(علیہ السلام )نے آسمان کے ستاروں کو مخاطب کر کے کہا:

"اے آسمان کے ستارو! گواہ رہنا‘ میں(علیہ السلام )نے تمہیں طلوع ہوتے دیکھا ہے‘ تم نے علی(علیہ السلام )کو کبھی سوتے ہوئے نہیں دیکھا۔"

کتنی بڑی عظمت ہے‘ میرے مولا(علیہ السلام )ہر رات ہزار رکعت نماز پڑھا کرتے تھے‘ سوتے نہ تھے خدا کی عبادت کیا کرتے تھے‘ فقط ایک رات ایسی ہے جس میں علی(علیہ السلام )بستر رسول پر سوئے۔

اب ظاہر ہے کہ جو کبھی نہیں سویا‘ اگر اسے کہہ دیا جائے کہ تم سو جاؤ تو اس کو کبھی نیند نہیں آئے گی۔

مثلاً کوئی آدمی روز رات گیارہ بجے سونے کا عادی ہے اور اسے کہہ دیا جائے کہ شام سات بجے ہی سو جاؤ‘ صبح جلدی اٹھ کر کام کرنا ہے تو اس آدمی کو کبھی نیند نہیں آئے گی۔ جیسے عادت بن جائے‘ ویسے ہی نیند آتی ہے‘ آدمی اپنی عادت کے مطابق اٹھتا ہے‘ اب

وہ علی(علیہ السلام )جو کبھی نہ سوتے تھے‘ انہیں آج نیند نہیں آنا چاہئے تھی‘ مگر جب علی(علیہ السلام )سے پوچھا جاتا ہے کہ شب ہجرت بستر رسول پر کیونکر سوئے؟ تو فرماتے ہیں کہ

ایک ہی رات تو مجھے سونے کے لئے ملی تھی‘ اس رات کو میں ایسا سویا کہ کروٹ تک نہیں بدلی۔

دیکھیں! وہ علی(علیہ السلام )جو ہر رات ہزار رکعت نماز پڑھا کرتے تھے‘ خدا کے دربار میں جھکتے تھے‘ عبادت کرتے تھے‘ آج اس علی(علیہ السلام )سے کہہ دیا گیا کہ اے علی(علیہ السلام )! آج تم نے نماز نہیں پڑھی۔ آج آپ(علیہ السلام )کی عبادت سے بہتر بستر رسول پر سونا ہے‘ تو علی(علیہ السلام )نے ویسے ہی عبادت کی جیسا خدا نے چاہا اور چین کی نیند سو کر ساری رات کروٹ نہ بدل کر لوگوں کو بتایا:

لوگو! اگر عبادت کرو تو ایسی عبادت کرو جیسے خدا کی مرضی ہے‘ ہم اس کے حکم کے پابند ہیں‘ وہ کہے کھڑے ہو جاؤ تو ہم کھڑے ہو جاتے ہیں‘ وہ کہے بھوکے رہو اور ہم بھوکے رہتے ہیں‘ وہ کہے سو جاؤ تو ہم سو جاتے ہیں اور ایسا سوتے ہیں کہ کروٹ تک نہیں بدلتے۔

صرف ایک مسئلہ!

دیکھئے! قاعدہ ہے کہ جب بھی کوئی کام کیا جاتا ہے‘ کسی مقصد کو پیش نظر رکھ کر کیا جاتا ہے اور اگر کام کرانے والا خدا ہو اور کام کرنے والے رسول ہوں تو بغیر مصلحت و مقصد کے قطعاً کام نہ ہو گا۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب رسول ۱ عظیم گھر سے نکلے تو تھوڑی سی مٹی اٹھائی‘ اس طرح اٹھا کر بکھیری کہ حضور ۱ کو گھر سے نکلتے وقت کفار تک نہ دیکھ سکے۔ تو یہ نہیں ہو سکتا کہ اگر رسول ۱‘ علی(علیہ السلام )کو ساتھ لے کر جائیں‘ جیسے اکیلے رسول ۱ کو کافر نہ دیکھ سکتے تھے‘ ایسے ہی علی(علیہ السلام )کو بھی کافر نہ دیکھ سکتے تھے۔ اگر ایسے موقع پر جب رسول ۱ ہجرت کر رہے تھے‘ اپنے ساتھ علی(علیہ السلام )کو بھی لے جاتے‘ تو کتنا فائدہ ہوتا‘ علی(علیہ السلام )نہ تنہا سوتے‘ نہ کافروں کی تلواروں کے سایہ میں اکیلے رہنا پڑتا۔ ممکن ہے کہ کوئی یہ جواب دے کہ اگر علی(علیہ السلام )بھی رسول کے ساتھ چلے جاتے تو شہزادیوں اور پردہ داروں کو لے کر کون جاتا؟ تو جواباً کہا جا سکتا ہے کہ کئی اور بھی اس خاندان کے افراد تھے جن کے ذمہ یہ بات لگائی جا سکتی تھی کہ جب تم آؤ‘ حضرت فاطمہ بنت اسد اور حضرت فاطمة الزہرا(علیہ السلام )کو ساتھ لیتے آنا۔

اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ ہر کوئی کام ایسا کام نہ تھا‘ جس کی وجہ سے صرف علی(علیہ السلام )کو بستر رسول پر سلایا گیا۔

وہ کون سی وجہ تھی جس کی بناء پر علی(علیہ السلام )کا بستر رسول پر سونا ضروری تھا؟ وہ کون سا مقصد تھا کہ اگر بستر رسول پر نہ سوتے تو وہ مقصد فوت ہو جاتا؟ حکم شریعت پورا نہ ہو سکتا؟

روایات بتلاتی ہیں کہ اصل مقصد یہ تھا کہ لوگ اپنی اپنی امانتیں حضرت رسالتمآب کے پاس رکھتے تھے‘ اگر آج رسالتمآب چلے جاتے اور امانتیں ساتھ لے جاتے۔ اگر کوئی یہاں یہ بھی کہہ دے کہ امانتیں بعد میں بھی ادا ہو سکتی تھیں‘ ان کافروں کو بتایا جا سکتا تھا کہ امانتوں کا فکر نہ کرنا عنقریب تمہارا مال تمہیں مل جائے گا‘ مگر اس طرح کافروں کو یہ سوچنے اور کہنے کا موقع تو مل سکتا تھا کہ عجیب ہیں جو دعویٰ رسالت بھی کرتے ہیں اور امانتیں بھی لے گئے‘ ہمارا سونا کھا گئے‘ ہمارا مال و دولت ہضم کر گئے۔

انہیں کون نبی مانے گا؟

اگر رسول ۱ علی(علیہ السلام )کو ساتھ لے جاتے تو نبی ۱ کی جان بھی محفوظ‘ علی(علیہ السلام )کی جان بھی محفوظ‘ کوئی خطرہ نہ تھا۔ ادھر لوگ ساری رات خانہ رسول کے گرد جھانکتے رہے‘ کھڑے رہے اور علی(علیہ السلام )ساری رات خطرے میں رہے‘ اگر علی(علیہ السلام )ساتھ جاتے تو خطرے سے بچ تو سکتے تھے‘ علی(علیہ السلام )نے سو کر بتا دیا کہ اگر میں چلا جاؤں تو نبوت محفوظ نہیں رہ سکتی۔ یوں کیوں نہ کہوں کہ علی(علیہ السلام )نے بستر رسول پر سو کر نبوت کو محفوظ کر دیا۔

ایک صورت یہ بھی ہو سکتی تھی کہ رسول اپنی امانتیں کسی اور کے سپرد کر جاتے‘ اب بھی یہ کام ہو سکتا تھا‘ مگر اس پر بھی اشکال ہو سکتا تھا کہ خود تو چلے گئے‘ جس کے سپرد کر گئے‘ اس کا امانتوں سے کیا واسطہ؟ کیا تعلق؟

علی(علیہ السلام )کا ان امانتوں کا امین بن کر رہ جانا اور نبی ۱ کا چلے جانا اس بات کی دلیل بنتی ہے کہ اگرچہ وہ لوگ کافر تھے‘ مشرک تھے‘ منکرین دین تھے‘ مگر پھر بھی کہتے تھے کہ علی(علیہ السلام )و نبی ۱ ایک ہیں‘ علی(علیہ السلام )و نبی میں کوئی فرق نہیں ہے اور اگر غیر کے سپرد امانتیں ہو جاتیں تو کافر زیادہ کا مطالبہ کرتے تو وہ کیا کرتا؟ اس کے پاس کوئی ثبوت تو تھا نہیں‘ یا جان چھڑاتا کہ یہ ہے امانتوں کا مال‘ اس سے زیادہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ کافر پھر کہہ سکتے تھے کہ ہمارا مال تو تمہارا رسول لے کر چلا گیا۔

اب ضرورت تھی ایسی ہستی کی جو امانتوں کو اسی طرح واپس کرے‘ جس طرح امانتیں سپرد کی گئی تھیں‘ تو کافر ان دونوں بھائیوں میں کوئی فرق نہ سمجھتے تھے۔ اس لئے کوئی روایت نہیں ملتی‘ کوئی روایت نہیں بتلاتی کہ انہوں نے علی(علیہ السلام )سے پوچھا ہو کہ رسول تمہیں امانتیں دے گئے ہیں یا نہیں؟

بلکہ کہتے ہیں کہ اے علی(علیہ السلام )! ہماری امانتیں واپس کر دو۔ ان کا اپنی امانتوں کا مطالبہ علی(علیہ السلام )سے کرنا واضح کرتا ہے کہ ان کی نگاہوں میں ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔

محمد کی امانتیں علی(علیہ السلام )کی امانتیں ہیں‘ رسول ۱ کا دینا علی کا دینا ہے۔

اس لئے رسول اللہ نے بھی اس کو امانت دار بنایا‘ جو امانتوں کو کماحقہ ادا کر سکتا تھا۔ جب امانتوں کے حصول کے لئے اخلاقی پستی کا اظہار کرتے ہوئے کافروں نے کہا:

ہمارا اتنا تو مال نہ تھا‘ زیادہ تھا۔

مثلاً جس نے پچاس رکھے تھے اس نے سو کا مطالبہ کیا‘ جس کا ایک تولہ سونا تھا وہ کہتا ہے کہ میرا تو دس تولے سونا دینا تھا‘ اب امانتیں کم تھیں‘ مطالبہ زیادہ کا تھا۔

اب دیکھئے!

یہاں پر معاملہ دو حال سے خالی نہیں ہے‘ یا تو کہہ دیں کہ میرے پاس تو یہی مال ہے اور زیادہ کا مجھے علم نہیں ہے‘ اگر یہ کہہ دیں تو پھر لوگ کہیں گے کہ ہم نے تو امانتیں رسول ۱ کو دی تھیں(معاذاللہ) وہ ہماری امانتیں کھا گئے۔

یا پھر علی(علیہ السلام )اعجاز دکھا کر جتنا جتنا وہ مانگ رہے تھے‘ اتنا اتنا دیتے جاتے‘ اس طرح تقسیم کر دیتے۔ ایک کی جگہ پر دس دیتے تو اس صورت میں بھی لوگ کہتے کہ یہ کیسا خاندان ہے؟ بھولا ہے‘ اس طرح بھی اشکال ہوتا‘ دانائی پر حرف آتا‘ حکمت اہل بیت(علیہ السلام )پر حرف آتا۔

اب میرے مولا(علیہ السلام )نے وہ راستہ اختیار کیا کہ کوئی اعتراض بھی نہ کر سکے اور اشکال بھی وارد نہ ہو‘ کسی کا حق بھی نہ مارا جائے‘ جس جس کا جتنا مال تھا اس کے مطابق دے دیا جائے۔

آپ(علیہ السلام )نے فرمایا:

لوگوں کے دعوے زیادہ ہیں اور امانتیں کم‘ امانتوں کی مقدار کم ہے۔

تو حضرت(علیہ السلام )نے ارشاد فرمایا:

اب ایک ہی صورت ہو سکتی ہے کہ مہر امانت سے پوچھوں کہ تو کس کی ہے؟ اور کتنی مقدار میں اس کی ہے؟

بس مولا(علیہ السلام )بے جان غیر متحرک اشیاء سے پوچھ پوچھ کر اس کے مالک کے حوالے کرتے گئے۔


مجلس ہشتم

بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم

( ایاک نعبد و ایاک نستعین )

سامعینِ گرامی!

بارگاہِ رب العزت میں عبادت گزار عرض کرتا ہے:

یااللہ! ہم تیری عبادت کرتے ہیں‘ تیرے سامنے سر جھکے گا‘ تیرے علاوہ کسی کو معبود نہ مانیں گے۔

ایک ہے عبد‘ دوسری طرف ہے معبود۔

عبد: جس نے عبادت کرنی ہے۔

معبود: وہ جس کی عبادت کی جا رہی ہے۔

اب اس معبود نے کچھ فرائض انسان کے ذمے لگائے ہیں‘ ان فرائض کی ادائیگی عبادت ہے‘ معبود یہی چاہتا ہے کہ میرے احکام پر عمل کیا جائے‘ میرے فرمائے ہوئے فرائض پر عمل کیا جائے۔

اگر کوئی انسان فرائض پر عمل کرتا ہے‘ جو خدا کے بتائے ہوئے ہوں تو اسے عبادت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

خداوند عالم معبودِ مطلق ہے‘ دو چیزیں انسان سے چاہتا ہے‘ ایک یہ کہ اس خدا کی حمد و ثناء کی جائے۔

دوسرا یہ کہ خدا کے حکم پر عمل کیا جائے‘ جہاں تک توصیف کا تعلق ہے‘ خدا کے اوصاف بیان کرنے کا تعلق ہے۔ ہر وقت انسان خدا کا تذکرہ کرتا رہتا ہے‘ خدا کی تعریف کرتا ہے‘ عظمت ربی کا احساس کرتا ہے‘ دوسروں کو احساس دلاتا ہے‘ لیکن جہاں تک عمل کا تعلق ہے‘ اس معاملہ میں انسان ذرا سست ہے‘ تعریف کرتا ہے‘ اہل بیت(علیہ السلام )کی تعریف کرتا ہے۔

جناب رسالتمآب ۱ کی تعریف کرتا ہے‘ خداوند عالم کی ثناء کرتا ہے‘ لیکن عمل کے معاملے میں تھوڑا سا نقص ہے اور خدا چاہتا ہے دونوں کام ساتھ ساتھ ہوں‘ میری تعریف بھی کی جائے اور حمد و ثناء کی جائے‘ جو کچھ میں فرماتا ہوں‘ اس کے مطابق عمل کیا جائے۔

سب سے پہلا شخص جس نے خداوند عالم کی ذات کو تسلیم کیا‘ خداوند کی بار بار تعریف تو کی‘ لیکن اللہ کے حکم پر عمل نہیں کیا۔

وہ ابلیس تھا۔

ابلیس بار بار خدا کا تذکرہ کرتا تھا۔

قرآن مجید کی آیات کا آپ تدبر کریں‘ جب بھی کوئی چیز ابلیس بارگاہِ خدا میں عرض کر رہا ہے کہتا ہے:

رب‘ رب‘ رب !

اے میرے پالنے والے‘ اے میرے پالنے والے‘ اے میرے پالنے والے!

لیکن حکم پر عمل نہیں کرتا۔

تو اس وقت اس نے ایک ایسی چیز ایجاد کی کہ دنیا کی اکثریت اب اسی کے ساتھ چل رہی ہے کہ ہم تعریف تو کر رہے ہیں‘ خدا کی تعریف ہو گی‘ اہل بیت(علیہ السلام )کی تعریف ہو گی‘ لیکن جہاں تک عمل کا تعلق ہے‘ اس میں بہرحال نقص پایا جاتا ہے۔

مگر خدا دونوں چیزیں چاہتا ہے کہ اس کی تعریف بھی کی جائے اور اس کے حکم کے مطابق عمل بھی کیا جائے۔

جب تمام فرشتوں کو حکم دیا گیا‘ تو جتنے فرشتے تھے انہوں نے اس کے حکم کے مطابق عمل کیا‘ لیکن ابلیس کے متعلق ہے:

الی واستکبر و کان من الکافرین

"ابلیس نے آدم(علیہ السلام )کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا‘ اپنے تکبر کی بدولت کافرین کی صف میں شامل ہو گیا۔"

لیکن یہ ذہن میں رہے کہ ابلیس اگرچہ کافرین کی صف میں شامل ہو گیا‘ لیکن اس نے منافقت نہیں کی۔

ابلیس یہ کر سکتا تھا کہ سجدہ کر لیتا اور دل سے نہ مانتا۔ (ایسا کر سکتا تھا ناں)

خدا کے حکم پر ظاہری طور پر عمل کر لیتا‘ حضرت آدم(علیہ السلام )کو سجدہ کر لیتا‘ مگر دل سے تسلیم نہ کرتا‘ انہیں سجدہ بھی کر لیتا‘ ہدیہ تبریک بھی بھیج دیتا کہ مبارک ہو‘ ساری دنیا تمہارے سامنے جھک رہی ہے‘ لیکن دل سے عمل نہ کرتا‘ لیکن یہ منافق نہیں بنا‘ کافر ضرور بن گیا۔

منافقین کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے:

اذا جاء ک المنافقون قالو الشهدانک لرسول الله

"جب منافق آتے ہیں رسول اللہ کے پاس تو کہتے ہیں تشہد ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ میں خدا بھی جانتا ہوں کہ آپ میرے رسول ہیں۔"

لیکن بعد میں خدا فرماتا ہے‘ میں جانتا ہوں کہ

والله و یشهد ان المنافقین لکاذبون

اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹ بول رہے ہیں‘ سچ نہیں کہہ رہے۔ تو آپ نے دیکھا کہ منافق رسول اللہ (ص)کی رسالت کی گواہی دے رہے ہیں‘ لیکن منافق اس قدر جھوٹا ہوتا ہے کہ اس کے سچ کو قرآن جھوٹا کہتا ہے۔ تو جب اس کا سچ جھوٹ ہے‘ اگر وہ جھوٹ بولے تو اس کا جھوٹ کرنا بڑا ہو گا؟ لیکن بایں طور بھی ابلیس کافر بنا ہے‘ اس نے اپنے آپ کو منافقین کی صف میں شامل نہیں کیا ہے۔

الی و ستکبر و کان من الکافرین

"ابلیس نے انکار کیا اور وہ کافرین کی صف میں شامل ہو گیا۔"

اب کان عربی کا لفظ ہے۔ پڑھے لکھے لوگ جانتے ہیں کہ کان کے بہت سے معنی کئے گئے ہیں۔ کان کا حقیقی معنی "تھا" تھا‘ لیکن کان کا ایک مجازی معنی کیا جاتا ہے کہ بعض دفعہ یہ کان صاڑ کے معنی میں ہوتا ہے‘ اس وقت کان کے معنی ہو گا "ہو گیا"۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب یہاں پر کان کا معنی "تھا" کریں یا "ہو گیا" کریں۔ اب اگر معنی لیں مجازی تو پھر آیت کا ترجمہ یوں گا کہ ابلیس نے انکار کیا‘ تکبر کیا اور وہ کافروں میں سے ہو گیا یعنی ابلیس پہلے کافر نہیں تھا‘ پہلے کافروں کی صف میں شامل نہیں تھا‘ لیکن جب اس نے تکبر کیا اور سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تو کافرین کی صف میں شامل ہو گیا۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر ایک لفظ کا حقیقی معنی ہو سکتا ہو تو مجاز کی طرف نہیں جانا چاہئے‘ خصوصاً قرآن مجید میں مجاز کا معنی نہیں کرنا چاہئے۔

تو اگر اس کا حقیقی معنی کیا جائے تو معنی ہو گا کہ ابلیس کافروں میں سے تھا۔

تو پہلی عبادت کے مطابق ابلیس کافروں میں سے ہو گیا۔ پہلے کافر نہیں تھا‘ اب کافر ہو گیا۔ نیک تھا‘ متقی تھا‘ پرہیزگار تھا‘ اب حکم خداوندی پر عمل نہیں‘ کافروں کی صف میں شامل ہو گیا۔ لیکن اگر دوسرا معنی لیا جائے‘ حقیقی معنی کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے انکار کیا‘ تکبر کیا اور ابلیس پہلے ہی کافروں کی صف میں شامل تھا۔

کیا مطلب!

یعنی ابلیس اپنی عبادت کی سنگینی‘ اپنی عبادت کی بہتات کی وجہ سے اس نے اپنے کفر کو چھپا رکھا تھا‘ لیکن حقیقتاً کافر تھا‘ جب منزل امتحان آئی تو کافر ثابت ہوا‘ اب اس کا کفر ظاہر ہو گیا۔

سوال یہ ہے کہ یااللہ!

ابلیس کا واقعہ ہمیں کیوں سنایا جا رہا ہے؟

کیوں بتایا جا رہا ہے کہ ابلیس کافر تھا؟

تو اس طرف سے اشارہ ہو گیا کہ قرآن مجید میں جتنے واقعات ہیں‘ وہ ہر زمانے میں لاگو ہو سکتے ہیں‘ قرآن مجید کا کوئی واقعہ ہر زمانے میں چل سکتا ہے‘ تو جیسے ابلیس کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

ابلیس واقعتا کافر تھا‘ لیکن اپنی عبادت کی سنگینی کی وجہ سے اس نے اپنی عبادت کو کفر میں چھپا رکھا تھا۔

آپ دیکھتے ہیں کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے‘ رسول اللہ ۱ کا کلمہ پڑھ لیتا ہے‘ توحید کا کلمہ پڑھ لیتا ہے۔ واقعہ ابلیس بتاتا ہے کہ ہر کلمہ پڑھنے والے کو مسلمان نہ سمجھنا‘ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ دل سے کافر ہوتا ہے‘ لیکن بعض مفادات کی وجہ سے۔ اسلام ظاہر کرتا ہے بہت سارے لوگ ایسے تھے کہ جن کو خبر دی گئی کہ گر آپ اسلام لے آئیں تو آپ کو فائدہ ہو سکتا ہے‘ کل آپ ترقی کر سکتے ہیں‘ تو وہ ظاہراً اسلام تو لائے‘ لیکن اندر کفر چھپا ہوا تھا۔

جیسے ابلیس عبادت گزار تھا‘ اس کے باوجود اس کا کفر چھپا ہوا جب اس کا امتحان لیا گیا تو اس کا کفر ظاہر ہو گیا۔

دیکھئے! ابلیس بارگاہِ رب العزت میں موجود ہے‘ فرمان خدا پر عمل نہیں کیا تو خدا اس سے پوچھ رہا ہے:

مامنعک ان لا تسجد اذا مرتک

"اے ابلیس! میں نے جب تجھے حکم دیا ہے سجدہ کرنے کا‘ تو کونسا مانع آ گیا‘ جس کی وجہ سے تو نے سجدہ نہیں کیا؟"

عزیزانِ محترم!

توجہ ہے ناں!

خدا پوچھ رہا ہے سجدہ نہ کرنے کی تیری دلیل کیا ہے؟ تو اس نے جواباً کہا:

ا اسجد لمن خلقت طیناً

"جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا‘ اس کو میں سجدہ کروں۔"

دلائل دے رہا ہے‘ اپنے سجدہ نہ کرنے کے۔

جس کو تو نے مٹی سے بنایا ہے ‘ میں اسے سجدہ کروں۔ ایک دوسری آیات میں تشریح بھی ہے کہ ابلیس کہتا ہے:

انا خیر منه

"میں آدم(علیہ السلام )سے بہتر ہوں۔"

خلقتنی من نار و خلقته من طین

"تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اس کو مٹی سے پیدا کیا۔"

آگ ہمیشہ اوپر کو جاتی ہے‘ آگ بلندی چاہتی ہے‘ اس میں لطافت پائی جاتی ہے‘ مٹی جتنی بھی اوپر جائے تب بھی نیچے آتی ہے۔

تو میری خلقت ہے آگ سے‘ آدم(علیہ السلام )کی خلقت ہے مٹی سے‘ اس لحاظ سے میں آدم(علیہ السلام )سے بہتر ہوں۔

کبھی بہتر غیر بہتر کے سامنے نہیں جھک سکتا تو چونکہ میں آدم(علیہ السلام )سے افضل ہوں‘ اس واسطے میں نے آدم(علیہ السلام )کو سجدہ نہیں کیا۔ اگر اب مٹی اور اس کی تشریح کی جائے تو پہلی چیز یہ ہے کہ آدم(علیہ السلام )کے جسم کو سجدہ نہیں ہو رہا تھا‘ آدم(علیہ السلام )کی روح کو سجدہ ہو رہا ہے۔

کیا کہا گیا تھا کہ جب میں روح پھونک دوں‘ تب سجدہ کرنا‘ تو روح میں لطافت اس قدر زیادہ ہے کہ کسی اور چیز کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔

روح بلندی کی طرف جاتی ہے‘ پستی کی طرف نہیں جاتی۔ یہ نہیں دیکھنا کہ آدم(علیہ السلام )کی پیدائش کس چیز سے ہوئی؟ بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ سجدہ کیا جا رہا ہے آدم(علیہ السلام )کی روح کو۔ روح پستی کی طرف نہیں بلکہ بلندی کی طرف جاتی ہے‘ لیکن اس دلیل کے ہونے کے باوجود خداوند عالم نے اس کا جواب ہی نہیں دیا۔ خدا نے یہ بھی نہیں کہا کہ اے ابلیس! تو غلط کہہ رہا ہے‘ تیرے یہ دلائل کہ آدم(علیہ السلام )سے بہتر ہوں‘ ٹھیک نہیں ہیں۔

قابل توجہ ہے یہ بات کہ جب سوال و جواب ہو رہا ہے۔ ابلیس سے پوچھا گیا کہ کیوں سجدہ نہیں کیا؟ اور ابلیس نے دلائل بھی دے دیئے‘ تو چاہئے تھا کہ خدا جواباً فرماتا کہ اے ابلیس! تو آدم(علیہ السلام )سے بہتر نہیں‘ تیرا درجہ آدم(علیہ السلام )سے کم ہے‘ مگر خدا نے اس کی دلیل کا جواب نہیں دیا‘ بلکہ فرمایا‘ دفعہ ہو جاؤ‘ نکل جاؤ یہاں سے۔

غور فرمائیں! ابلیس دلیلیں دیتا ہے‘ یااللہ!

ابلیس دلیل دے رہا ہے اور اس نام والے سے تو نے خود ہی تو پوچھا ہے کہ تو نے سجدہ کیوں نہیں کیا۔ جب اس نے دلیل کے ساتھ جواب دے دیا تو اس کی دلیل کو ٹھکرایا جاتا‘ اس کی دلیل کا جواب دیا جاتا‘ مگر خدا تو دلیل نہیں دے رہا‘ اس کو نکالا جا رہا ہے اور نکالتا وہ ہے جس کے پاس دلیل نہ ہو‘ جس کے پاس حقیقت نہ ہو‘ اسے غصہ آ جاتا ہے کہ چلے جاؤ یہاں سے‘ میں تم سے بات نہیں کرتا۔

خدایا! تیری ذات عظیم ہے۔

چاہئے تو یہ تھا کہ اس کی دلیل کا جواب دلیل سے دیا جاتا‘ لیکن کون سی مصلحت ہے کہ اس کی دلیل کا جواب تو نہیں دیا‘ البتہ اس کو دربار سے نکال دیا۔

دیکھئے!

مصلحت کے لئے آپ کی خاص توجہ کی ضرورت ہے‘ جب کوئی انسان غلطی کرتا ہے تو بعض اوقات اس کی غلطی کو شرعاً خطاء اجتہادی سے تعبیر کیا جاتا ہے‘ کسی نے سمجھانے کی کوشش کی لیکن نہیں سمجھ سکا۔

خطاء اجتہادی معاف ہو گئی ہے‘ مگر یہ خطاء وہاں معاف ہوتی ہے جہاں اس کے مقابلے میں کوئی واضح دلیل ہو‘ اگر قرآن مجید کی کوئی واضح آیت یا واضح روایت موجود ہو‘ اس کے باوجود آدمی اپنی طرف سے کوئی چیز بنا لے تو اگر یہ اس کا نام خطاء اجتہادی رکھ لیا جائے‘ مگر شریعت اس خطاء کو تسلیم نہیں رکتی۔

ایک طرف امام جعفر صادق(علیہ السلام )موجود ہیں‘ قرآنی آیات کی تلاوت فرما رہے ہیں‘ دوسری طرف ایک اور صاحب موجود ہے‘ جن کی کوشش ہے کہ امام جعفر صادق(علیہ السلام )کی ہر حال میں مخالفت کی جائے۔ جو فرمائیں گے‘ جو حکم کریں گے‘ اس کی مخالفت کرنا میرا کام ہے اور نوبت بایں جا رسید کہ اس نے کہہ دیا کہ مجھے آج تک یہ پتہ نہ چل سکا کہ آیا امام جعفر صادق(علیہ السلام )سجدے میں آنکھیں بند رکھتے ہیں یا کھلی۔ مقصد یہ ہے کہ اگر وہ آنکھیں بند رکھتے ہیں تو میں آنکھیں کھلی رکھنے کا حکم دے دوں‘ اگر ان کا حکم آنکھیں کھلی رکھنے کا ہے تو اسے بند رکھنے کا حکم جاری کر دوں۔

جیسا کہ مشہور ہے کہ اہل بیت(علیہ السلام )ہمیشہ ہی فرماتے ہیں کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم نماز میں بالضرور پڑھو‘ ان کے مقابلے میں ان لوگوں کی یہ کوشش رہی یا تو بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا چھوڑ دیا یا پھر پڑھو بھی تو بالکل آہستہ۔

چنانچہ روایت ہے کہ امیر شام معاویہ نے ایک دفعہ نماز پڑھائی اور اس نے بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں پڑھی‘ پہلے ٹھیک ٹھاک پڑھتا تھا‘ چونکہ اب مخالفت مراد تھی‘ لہٰذا اس نے بسم اللہ الرحمن الرحیم ترک کر دی۔ لوگوں نے بعد میں پوچھا کہ اے معاویہ! تم بھول گئے تھے یا نماز میں چوری کر لی‘ تو معاویہ کو یہ کہنا پڑا کہ اس نے دل میں تسمیہ پڑھ لیا تھا کیونکہ علی(علیہ السلام )ہمیشہ فرماتے تھے کہ بلند آواز سے پڑھا کرو تو ان کا مقصد یہ تھا کہ ہم نے اہل بیت(علیہ السلام )کی مخالفت کرنی ہے(دین رہے یا چلا جائے)۔

اب اگر مخالفت واضح نص کے مطابق نہ ہو تو وہ خطاء اجتہادی نہیں ہے‘ سامنے نص موجود ہے‘ واضح نفرت موجود ہے‘ جس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ہے‘ اس وقت اگر مخالفت کی جائے تو پھر خطاء اجتہادی ہے‘ لیکن شریعت یہی خطاء اجتہادی تسلیم نہیں کرتی۔

توجہ ہے ناں!

یہ اس لئے بار بار تذکرہ کر رہا ہوں تاکہ اصل مقصد سمجھ میں آ جائے۔

اب معاویہ کی حضرت علی(علیہ السلام )سے جنگ ہوئی۔

معاویہ کی فوج ایک لاکھ بیس ہزار اور میرے مولا امیر(علیہ السلام )کی فوج اکتیس تھی‘ دو لاکھ آدمی قتل ہوئے اور لوگ آج کہتے ہیں کہ معاویہ بھی حق پر ہے‘ میرے مولا علی(علیہ السلام )بھی حق پر ہیں‘ زیادہ سے زیادہ معاویہ کی غلطی تسلیم کریں تو کہہ دیتے ہیں کہ معاویہ کی خطاء اجتہادی تھی۔

اب ایک طرف امام زمانہ(علیہ السلام )موجود ہیں‘ امام(علیہ السلام )حقیقی موجود ہیں اور معاویہ بھی جانتا ہے کہ یہی امام حق(علیہ السلام )ہیں‘ امام زمانہ(علیہ السلام )ہیں۔

جو اس کا مقابلہ کر رہے ہیں‘ دو لاکھ آدمی مارا جا رہا ہے‘ پھر اس کی خطا خطائے اجتہادی ہے؟

ایسی خطائے اجتہادی کو کون قبول کرتا ہے؟

خطائے اجتہادی ہی قبول کی جاتی ہے‘ جس کے مقابلے میں حقیقی نص موجود ہو۔

جب یہ واضح ہو گیا تو اب آیئے توجہ کریں‘ خدا کے حکم کی طرف۔

صلواة

اس کے ساتھ ساتھ ایک اور چیز کی وضاحت ہو جائے۔

خداوند عالم کا حکم تھا‘ ابلیس نے خدا کے حکم کے مطابق عمل نہیں کیا۔ اس سے دلیل بھی پوچھی گئی‘ لیکن خدا نے اس کو جواب نہیں دیا۔ رسول اعظم ایک محفل میں تشریف فرما ہیں‘ لوگوں سے کہہ رہے ہیں‘ مجھے قلم دوات دے دو۔ رسول خدا خود موجود ہیں‘ اب یہاں سب کچھ ہو گا۔ کوئی راوی نہیں کہہ رہا کہ رسول خدا نے قلم دوات مانگی۔ اگر کوئی راوی کہتا‘ تب ہم کہتے کہ پتہ نہیں روایت صحیح ہے یا غلط۔

صحابہ کرام  موجود ہیں‘ رسول اللہ (ص)کا کلمہ پڑھنے والے موجود ہیں۔ رسول اللہ خود فرما رہے ہیں‘ قلم اور دوات مجھی دو۔

تو واضہ حکم اور نص واضح کے مقابلے میں کبھی خطائے اجتہادی تسلیم نہ کی جائے گی۔

جب یہ چیزیں واضح ہو گئیں تو اب آئیں کہ خداوند عالم نے ابلیس سے یہ سوال تو ضرور کیا کہ

تو نے سجدہ کیوں نہ کیا؟

اس نے جواب دیا کہ

میں بہتر ہوں۔

اس کا یہ جواب غلط تھا۔

اس لئے خدا کے سامنے ابلیس بھی تھا‘ فرشتے بھی تھے اور حضرت آدم(علیہ السلام ) بھی تھے۔ خداند عالم آدم(علیہ السلام )کا بھی خالق ہے‘ خدا فرشتوں کا بھی خالق ہے‘ خدا ابلیس کا بھی خالق ہے۔ ہر ایک کو خدا جانتا ہے‘ خدا سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے‘ خدا جانتا ہے کہ کون بہتر ہے اور کون بدتر۔ خدا جانتا ہے کہ کون عالم ہے اور کون جاہل۔

فرشتوں کا مناظرہ بھی ہوا‘ یہ سب چیزیں سامنے آ گئیں۔

تو اب جبکہ خداوند عالم نے ایک واضح حکم دیا تھا کہ جب میں آدم(علیہ السلام )میں روح پھونک دوں تو سب کے سب سجدے میں گر جائیں۔

اس واضح حکم کے سامنے کسی کو حق نہیں تھا کہ مخالفت کرے۔

اب اگر اس کو کوئی خطاء اجتہادی سے تعبیر کرتا ہے تو خداوند عالم اس کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔

کیوں؟

اس لئے کہ خدا جانتا ہے کہ اگر خطائے اجتہادی کے جوابات دیئے جائیں‘ یعنی اگر میں حکم دوں ماننے والے کہہ دیں کہ یہ خطائے اجتہادی ہے‘ نہ ماننا‘ تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

رسول ۱ حکم دے گا‘ لوگ نہ مانیں تو یہ خطائے اجتہادی ہو گی۔ نہیں مانتے تو کیا فرق پڑتا ہے۔

لاکھوں آدمی مارے گئے‘ لوگ بتلائیں گے کہ خطائے اجتہادی ہے۔ تو خطائے اجتہادی نص کے مقابلے میں بھی ہو سکتی ہے۔ اس خطائے اجتہادی کے چکر کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے اللہ نے شیطان کی خطائے اجتہادی کی پرواہ نہیں اور فرما دیا:

"نکل جا! میرے دربار سے‘ تو اس قابل نہیں ہے کہ میرے دربار میں رہے۔"

چنانچہ کس چیز کو دیکھتے ہو؟ جب رسول اللہ نے فرمایا کہ

قلم اور دوات دو‘ تو لوگوں نے کہا:

حسبنا کتاب الله

خداوند عالم نے یہی چاہا کہ خطائے اجتہادی کے چکر کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے تاکہ کل کوئی بہانہ بنا کر میرے رسول یا میرے بنائے ہوئے آئمہ(علیہ السلام )کی مخالفت نہ کرتا پھرے۔

تو جس طرح کدا نے اس ابلیس کی دلیل کے جواب میں کہہ دیا کہ تو ذلیل ہے میرے دربار سے نکل جا‘ اسی طرح حضور نے قلم دوات مانگی۔ بجائے اس کے کہ لوگ قلم دوات دیتے‘ سب نے "حسبنا کتاب اللّٰہ" کا نعرہ لگایا۔ اس کو وہ خطائے اجتہادی سمجھ سکتے تھے۔

لہٰذا جس طرح خدا نے اس خطاء کو قبول نہیں کیا‘ اس طرح رسول نے بھی اس خطاء کو قبول نہیں فرمایا۔

چنانچہ تقریباً ایک جیسے الفاظ میں ابلیس کو کہا گیا:

"نکل جاؤ! تو ذلیل ہے۔"

تو رسول نے بھی فرمایا:

"نکل جاؤ تم اس قابل نہیں ہو۔"

اب خدا ابلیس کو اپنے دربار سے نکال رہا ہے۔

کون ہے جو خدا سے سوال کر سکے؟ کہ خدایا! تو نے کیوں نکالا؟

سب اس کے قبضہ قدرت میں ہے‘ تو آیا رسول اللہ کے اختیار میں بھی یہ بات ہے کہ جو "حسبنا اللّٰہ" کا نعرہ بلند کرے‘ اسے نکال دیں یا دربار سے اٹھوا دیں یا نہیں۔ تو قرآن کی ایک آیت ہے جس میں رسول ۱ کی تکلیف کو بیان کیا گیا ہے:

"اے میرے حبیب! جو لوگ رات دن خدا کا تذکرہ کرتے ہیں‘ اب آپ کو حق نہیں ہے کہ ان کو اپنی بارگاہ سے اٹھا دیں۔"

یہ آیت قرآنی ہے‘ ساتواں پارہ ہے۔

توجہ ہے ناں!

ان کا مقصد خدا کی ذات ہے کیونکہ آپنے کوئی حساب نہیں کرنا‘ ان کا حساب میری ذات پر ہے۔

رسالتمآب ۱ کو فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے‘ رات دن خدا کا تذکرہ کرتے رہے‘ صرف اللہ ہی کو چاہتے ہیں‘ اب آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا ان کو دربار سے اٹھانے کا۔

اگر آپ نے ان کو اپنے دربار سے اٹھا دیا تو آپ ظالم بن جائیں گے۔

جو لوگ مومن ہیں ان کی توجہ خدا کی طرف ہے۔ آپ انہیں ہرگز اپنے دربار سے نہ اٹھائیں‘ اگر اٹھا دیا تو ظالموں میں سے ہو جائیں گے۔

یہ کون کہہ رہا ہے؟

خدا!

(توجہ چاہئے)

ادھر رسول نے اپنے دربار سے اس وقت ان لوگوں کو اٹھایا جب یہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔

کوئی کہہ رہا تھا کہ رسول خدا نے قلم دوات طلب کی‘ قلم دوات دے دینا چاہئے‘ دوسرا کہتا ہے‘ اللہ کی کتاب کافی ہے یا (معاذ اللہ) ہذیان کہہ رہا ہے۔

جب اس قسم کی باتیں ہو رہی تھیں تو رسول خدا نے فرمایا:

اٹھ جاؤ! میرے دربار سے۔

تو اب معاملہ دو حال سے خالی نہیں ہے کہ خدایا! تو نے تو فرمایا تھا کہ جو مومن ہیں انہیں اٹھانے کا حق نہیں ہے‘ اگر اٹھایا گیا تو (معاذاللہ) رسول ظالم ہو جائیں گے۔

(اب معاملہ دو حال سے خالی نہیں)

تو یہ مومن تھے‘ رسول! ان کو اٹھانا ٹھیک نہیں ہے۔

ظاہر ہے رسول تو معصوم ہیں‘ ان کا اٹھانا ٹھیک ہے‘ تو رسول اللہ ۱ کا ان کو اٹھا دینا یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہ لوگ سب کچھ تھے‘ مگر ایمان ان کے اندر نہ تھا۔

صلواة

توجہ!

ادھر ابلیس نے خطائے اجتہادی کی‘ ادھر ان لوگوں نے خطائے اجتہادی کی۔ ابلیس کو خدا نے نکال دیا اور کہا کہ

انک من الصاغرین

"تو ذلیل ہے۔"

انہیں رسول اللہ نے نکالا‘ ایک جیسے لفظ۔ اس نے بھی خطا کی‘ انہوں نے بھی خطاء کی۔ ابلیس کو خدا نے اٹھایا‘ ان کو رسول نے اٹھایا۔ خدا کا یہ عمل ابلیس کے لئے‘ رسول خدا کا عمل ان لوگوں کے لئے۔ خدا و رسول دونوں کا عمل ایک جیسا۔

لہٰذا ماننا پڑے گا کہ دین کے لحاظ سے بھی یہ سب ایک جیسے ہیں‘ انہیں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں ہے۔

صلواة

حضراتِ گرامی!

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عجیب بات شروع ہو گئی کہ آدم(علیہ السلام )بہتر ہیں یا ابلیس؟

ابلیس کہتا ہے‘ میں بہتر ہوں‘ حالانکہ حضرت آدم(علیہ السلام )یقیناً بہتر ہیں۔

اب اگر یہ تعریف کی جائے کہ آدم(علیہ السلام )ابلیس سے بہتر ہیں تو کیا یہ حضرت آدم(علیہ السلام )کی تعریف ہو گی؟

بلکہ کسی مومن یا مولائی یا کسی اچھے آدمی کی آپ تعریف کریں کہ فلاں مومن شیطان سے بہتر ہے‘ تو اس کو تعریف کہیں گے یا بدتعریفی؟

یہ قطعاً تعریف نہیں ہے۔

بھائیو!

جب کسی کی کسی کے مقابلے میں تعریف کی جائے تو ان میں کچھ نہ کچھ تو مناسبت ہونی چاہئے‘ مناسبت کے بغیر کوئی تقابل نہیں ہوتا۔

اسی مناسبت کو واضح کرنے کے لئے ایک واقعہ:

متوکل کا دربار ہے‘ متوکل کے دو بیٹے ہیں‘ متوکل کے بیٹوں کا استاد ابن سُکیت بھی موجود ہے۔ متوکل کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ابن سُکیت میرے بیٹوں کو کافی م دت سے پڑھا رہا ہے‘ میں اس سے پوچھوں تو سہی اس کو میرے بیٹوں کے ساتھ محبت بھی ہے یا نہیں؟

تو متوکل اس سے پوچھتا ہے‘ اے ابن سُکیت!

یہ بتا کہ میرے بیٹوں سے تجھے زیادہ محبت ہے یا حسن(علیہ السلام )و حسین(علیہ السلام )سے زیادہ محبت ہے؟

متوکل سوال کر رہا ہے‘ کوئی عام آدمی نہیں ہے‘ متوکل سوال کر رہا ہے۔ بنی عباس میں متوکل جیسا ظالم کوئی پیدا نہیں ہوا‘ یہ سوال کر رہا ہے کہ میرے بیٹے بہتر ہیں یا حسنین شریفین(علیہ السلام )؟ کس کے ساتھ تجھے زیادہ محبت ہے؟ ابن سُکیت خاموش ہے‘ سوچ رہا ہے‘ ایک طرف مال و دولت کے ڈھیر ہیں‘ بادشاہ کی وجاہت ہے‘ جاہ و حشمت ہے‘ بادشاہ کا رعب و دبدبہ ہے اور تخت بادشاہ کے دائیں ہاتھ بیٹھا ہے۔

دوسری طرف حق ہے‘ سچ ہے‘ اگر یہ کہتا ہوں کہ حسنین(علیہ السلام )سے زیادہ محبت ہے تو پھر تلوار ہو گی اور میرا سر ہو گا۔ حیران و پریشان ہے‘ سوچ رہا ہے کہ کیا کرے؟

محب علی(علیہ السلام )کے ایمان کا جذبہ بھڑک اٹھا‘ محبت علی(علیہ السلام )دنیا کے طمع پر چھا گئی۔

اس وقت اس نے جواب دیا‘ اس نے یہ کہا کہ حسن(علیہ السلام )و حسین(علیہ السلام )زیادہ بہتر ہیں۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ متوکل کے بیٹوں اور امامنین شریفین(علیہ السلام )کا مقابلہ کیسا؟

اگر حسنین(علیہ السلام )اس کے بچوں سے بہتر ہو جائیں تو اماموں کی کونسی فضیلت ہے؟ ان کا درجہ تو انبیاء(علیہ السلام )سے بلند ہے‘ اسی لئے ابن سُکیت نے متوکل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فرمایا:

ان قنبر خادما امیرالمومنین احب الی منک و من انبیک

آپ تو حسنین(علیہ السلام )اور اپنے بیٹوں کا تقابل کر کے پوچھ رہے ہیں کہ ان میں سے کون بہتر ہے؟

سنو!

قنبر جو میرے مولا علی(علیہ السلام )کا غلام تھا‘ وہ تجھ سے اور تیرے بیٹوں سے افضل ہے۔

ابلیس نے خدا کے حکم پر عمل نہ کیا‘ اس کی سزا اسے ملی۔

ان علیک لعنتی الی یوم الدین

"میری لعنت تجھ پر ہو گی۔"

ابلیس کو کیا ملا؟ لعنت۔ لعنت کوئی گالی نہیں ہے‘ لعنت ایک تحفہ ہے‘ کس کو دیا جاتا ہے؟ اس کو دیا جاتا ہے جو حکم خدا و رسول ۱ کا مخالف ہو‘ لعنت ہے۔

اظهار نفرة شدیده

اپنی سخت ترین نفرت کا اظہار لعنت کہلاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں ہے۔ صلواة‘ صلواة ایک بہت بڑا ہدیہ ہے۔

اس کا مطلب کی ہے؟

اظهار محبتة شدیده

کہ شدید ترین محبت کا اظہار۔

تو اب اگر محبت کا اظہار ہو تو اس کے لئے ہے‘ صلواة۔

اگر شدید نفرت کا اظہار ہو تو اس کے لئے ہے‘ لعنت۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لعنت خود خدا کرتا ہے‘ یہ لوگ جن کے سامنے کوئی چیز ظاہر ہو جائے نفرت کی‘ تو وہ لوگ لعنت بھی کرتے ہیں (اگر آپ کی توجہ ہو تو چند قرآنی آیات آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں)۔

ارشاد رب العزت ہوتا ہے کہ

اس سے پہلے سمجھ لیجئے کہ جب قیامت کا دن ہو گا‘ کچھ لوگ جائیں گے‘ کچھ لوگوں کے سامنے بہت سے لوگ ہوں گے‘ اربوں کی تعداد میں ہوں گے‘ انہیں کہیں گے‘ دیکھو ہم آپ کے ساتھ تھے‘ تمہارے ساتھ جمعیت تھی‘ ہم بھی تمہارے پیچھے چلتے رہے‘ تمہاری خاطر لڑتے رہے‘ دوسرے لوگوں پر بلاوجہ اشکال کرتے رہے‘ فلاں فلاں کی مخالفت کرتے رہے۔

اب بتاؤ! قیامت کا دربار لگ گیا ہے‘ اللہ کی بارگاہ ہے‘ سخت ترین منزل ہے‘ اب بتاؤ اس مشکل گھڑی میں تم ہماری کیا مدد کرو گے؟ تو جواب میں یہ لوگ کہیں گے کہ ہم تو آپ کو جانتے نہیں‘ آپ کہاں سے آ گئے؟ ہمارا تمہارے ساتھ کیا تعلق؟

وہ کہیں گے کہ دنیا میں ساری زندگی آپ کے ساتھ رہے‘ آپ کی خاطر لڑتے رہے‘ حق والوں کی مخالفت کرتے رہے‘ وہ کہیں گے کہ ہم تو آپ کو جانتے نہیں‘ جاؤ جہاں سے آؤ ہو‘ ہمارا آپ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔

یہ قرآن مجید کے دوسرے پارے میں واقعہ نقل ہوا ہے‘ اپنی طرف سے نہیں‘ بلکہ قرآن مجید کہہ رہا ہے۔

اذتبرء الذین اتبعو من الذین اتبعو ---- و العذاب و تقطعت بهم الاسباب

عذاب سامنے ہو گا‘ اسباب کا سلسلہ منقطع ہو گا‘ کچھ لوگ جائیں گے‘ وہ کہیں گے کہ ہم تو آپ کے ہیں‘ آپ کے پیچھے چلتے رہے‘ سب کچھ کرتے رہے تو وہ رہبر کیا کہیں گے؟

ہمارا آپ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے‘ جائیں ہم آپ کو کچھ نہیں سمجھتے‘ تو جب یہ حالت ہو گی

اب جن لوگوں نے پیروی کی ہو گی‘ وہ لوگ کہیں گے ان کو جو ان کے پاس جائیں گے‘ اے خدا! ایک دفعہ پھر ہمیں دنیا میں بھیج دے‘ جیسے یہ لوگ ہم سے برات کر رہے ہیں۔ لفظ برات کا استعمال کرنا کہ ہم بھی ان سے بری ہو جائیں گے‘ ہمارا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔

تو اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ کوئی ہے ایسا رہبر‘ ایسا رہنما کہ جس سے لوگ برات کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔

ان کی خدمت میں کون پہنچتے ہیں اور رہبر کیا کہتے ہیں؟ کہ ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے‘ کوئی واسطہ نہیں ہے‘ ہم ان سے بری ہیں‘ گویا کہ ہم ان سے علیحدہ ہو جاتے ہیں اور وہ لوگ کہیں گے:

خدایا! ہمیں دنیا میں بھیج دے‘ ہم بھی ان سے اسی طرح بری ہو جائیں‘ جس طرح یہ ہم سے بری ہوئے ہیں۔

تو گویا یہ لوگ رہبروں پر تبرہّ کریں گے اور وہ رہبر ان مریدوں پر تبرہّ کریں گے۔ اس لئے برات کا لفظ میں نے کہا تھا‘ اظہار برات۔ میں نے کہا تھا ایک دوسرے سے نفرت کا اظہار کرنا۔

تبرهّ تبرء الذین اتبعوا

ایک دوسرے پر تبرہّ کریں گے۔

سمجھ میں آ جائے گی یہ بات کہ یہ دونوں گروہ ایک دوسرے سے جھگڑ رہے ہیں۔ یہ میدان قیامت ہے‘ ایک دوسرے سے لڑنا نہیں چاہئے‘ اللہ کی بارگاہ ہے‘ آپس میں لڑنا شروع ہو گئے۔

دنیا میں تو ہم یونین بنا لیتے ہیں‘ اکٹھے ہو جاتے ہیں‘ اتفاق کر لیتے ہیں‘ اتحاد کر لیتے ہیں اور سارے کا سارا الزام ( Blame )کسی دوسرے پر لگا دیتے ہیں‘ اس کی شرارت ہے‘ ہمارا تو کوئی تعلق نہیں ہے۔

(توجہ ہے ناں!)

یہ کچھ رہبر ہوں گے‘ رہنما ہوں گے‘ لوگ ان کی خدمت میں جائیں گے‘ وہ کہیں گے‘ ہمارا آپ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔

یہ لوگ کہیں گے‘ خدایا! ہمیں بھیج دے‘ ہم بھی دنیا میں ان سے کوئی تعلق نہ رکھیں گے۔ جب یہ دونوں لیڈر و پیروکار دنیا میں آئیں گے تو کہیں گے کہ لڑیں نہیں‘ جھگڑیں نہیں‘ ہم آپس میں اتفاق و اتحاد کر لیں اور اتحاد کر کے کہیں گے:

خدایا!

نہ ہمارے لیڈروں کا کوئی قصور ہے نہ ہمارا‘ اصل میں سارے کا سارا قصور شیطان کا ہے۔

اب ظاہر ہے کہ وہاں خدا کی بارگاہ ہے‘ وہاں پر تو نقد سودا ہو گا۔ شیطان کو بلایا جائے گا۔

اے شیطان!

یہ لوگ کہتے ہیں کہ سارا قصور تیرا ہے‘ رہبر بھی تیرا قصور بتاتے ہیں‘ پیچھے چلنے والے بھی تیرا قصور گردانتے ہیں‘ تو بتا کس کا قصور ہے؟

(پوری تفصیل تو بیان نہیں ہو سکتی)

قرآن مجید کی آیت ہے کہ شیطان کہے گا:

یااللہ! میں نے ان کو کوئی مجبور تو نہیں کیا تھا‘ میں نے ان کی رہبری میں ان کی رہنمائی میں ان کی گردن تو نہیں پکڑی تھی۔(یہ قرآن مجید کے لفظ ہیں)

کہ میرے سامنے جھک جاؤ۔ صرف بات اتنی تھی کہ تو ان کو اپنی طرف بلاتا تھا‘ میں انہیں اپنی طرف بلاتا تھا‘ ان کا جھکاؤ‘ ان کا ووٹ میری طرف چلا جاتا تھا۔

اس میں میرا تو کوئی قصور نہیں ہے ناں!

اس کے بعد شیطان ان کو مخاطب کر کے کہے گا:

اے لوگو!

تم بھی دربار خداوندی میں ہو‘ میں بھی دربار خداوندی میں ہوں‘ کیا تمہیں علم نہیں تھا کہ میں شیطان ہوں؟

اور خدا نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میں خدا کا دشمن ہوں‘ میں مومن کا دشمن ہوں‘ میرے خلاف تم اب کیوں باتیں کرتے ہو؟ کوئی بھی میرے خلاف بات نہ کرے‘ میں آپ لوگوں کے خلاف بات نہیں کرتا‘ آپ اپنا جواب کنٹرول کریں‘ میں اپنا سوال و جواب پورا کرتا ہوں۔

جب یہ حالت ہو گی تو کہیں گے‘ یہاں پر تو کچھ ہو نہیں سکتا‘ تو اس وقت کہیں گے:

ایسا کریں کہ رہبران اور پوری قوم مل کر چلیں مشکل کشاء(علیہ السلام )کے پاس‘ کیونکہ م دنیا میں بھی تو سب کچھ بن گئے تھے اور اس وقت بھی جب کبھی ہمیں ضرورت پڑتی تھی تو باغِ یہودی میں مشکل کشاء(علیہ السلام )مزدوری کر رہے ہوتے تھے تو ہم ان(علیہ السلام )کی خدمت میں وہاں بھی پہنچ جایا کرتے تھے اور حلال مشاکل(علیہ السلام )ہماری مشکل حل کر دیا کرتے تھے‘ اب ہمیں لڑنا نہیں چاہئے۔

تو جب یہ سب مشکل کشاء(علیہ السلام )کی بارگاہ میں جائیں گے‘ کہیں گے کہ

مولا(علیہ السلام )! دنیا میں بھی آپ(علیہ السلام )ہماری مشکل کشائی کرتے تھے‘ آج بھی ہماری مشکل کشائی کریں‘ ہمیں جنت میں لے جائیں۔

بے شک ہم غلط کام کرتے رہے‘ لیکن آپ(علیہ السلام )مشکل کشاء ہیں‘ ہماری مشکل حل فرما دیں۔

تو مولا(علیہ السلام )اس وقت فرمائیں گے:

دنیا میں(علیہ السلام )میں مشکل کشاء تھا بغیر قیمت کے‘ تم مجھے اذیتیں دیتے رہے‘ گالیاں دیتے رہے‘ میری مخالفت کرتے رہے‘ پھر بھی میں مشکل کشائی کرتا رہا‘ لیکن دنیا دارالعمل تھی‘ وہاں پر میں مشکل کشائی کرتا تھا‘ اب یہ ہے دارالجزاء یہاں تو قیمت لگے گی‘ اگر آپ کے دل میں ولائے علی ابن ابی طالب(علیہ السلام )ہے تو مشکل کشائی ہو گی‘ ورنہ جاؤ یہاں سے۔

صلواة

اب تو ٹکٹ لینی ہے ناں تم نے؟

ٹکٹ بغیر قیمت نہیں ملتی اور اس ٹکٹ کی قیمت ہے‘ ولائے علی(علیہ السلام )۔

اگر ہے تو جنت میں جا سکتے ہو‘ ورنہ نہیں‘ بوئے جنت بھی نہیں سونگھ سکتے۔

جب یہ لوگ ہر طرف سے مایوس ہو جائیں گے‘ پیر کام نہ آئے‘ لیڈر کام نہ آئے‘ شیطان نے جواب دے دیا‘ مولا(علیہ السلام )نے انکار کر دیا تو پھر آپس میں جھگڑیں گے۔ اس وقت کہیں گے:

بیسواں پارہ اٹھا کر دیکھیں۔

یقولون یا لیتنا اطعنا الله و اطعنا الرسول

"اے کاش! ہم دنیا میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے‘ ان کا کہا مانتے‘ ان بدبختوں کے پیچھے نہ چلتے۔"

اس کے بعد کیا کہیں گے؟

قالوا اربنا

خدایا! دنیا میں ہم سے غلطی ہو گئی‘ اپنے اپنے من گھڑت سرداروں کی اطاعت کی‘ جن کو ہم نے بڑا سمجھا تھا‘ ان کی اطاعت کی‘ ان کے پیچھے ہم چلتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ خود بھی گمراہ ہوئے اور ہمیں بھی گمراہ کر دیا۔ اس کے بعد جو چیز بیان کر رہا تھا‘ وہ کہیں گے:

خدا! ان لوگوں نے ہمیں دھوکہ دیا ہے‘ ہم بے چارے تھے‘ ہم جاہل تھے‘ ہمیں کسی چیز کا قدر نہ تھا‘ ان لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا۔

لہٰذا ان کو دگنا عذاب دے‘ ایک یہ خود غلط کام کرتے رہے‘ دوسرا ہمیں گمراہ کیا۔

لعنت کو ان کے پیچھے لگا دے‘ جہاں جائیں‘ جدھر جائیں‘ لعنت ان کے پیچھے لگی رہے۔(کچھ چیزیں بیان کرنا چاہتا تھا لیکن وقت کی کمی ہے)

بہرحال سمجھ لیجئے کہ میرے مولا(علیہ السلام )کا ہر کام خدا کے حکم کے مطابق ہے ناں!

مولائے کائنات(علیہ السلام )کی ہر مشیت خدا کے حکم کے مطابق‘ ہر عمل خدا کے حکم کے مطابق‘ ہر فعل خدا کے حکم کے مطابق۔

تو جب سب کچھ خدا کے حکم کے مطابق‘ تو اب مولا(علیہ السلام )ہم سے کیا چاہتے ہیں؟

دیکھو! تم میری طرح کام نہیں کر سکتے‘ جس طرح میں عبادت کرتا ہوں‘ اتنی عبادت تم سے نہیں ہو سکتی۔

چنانچہ مولا(علیہ السلام )کا گورنر تھا‘ کوفہ کا ‘بصرہ کا‘عثمان ابن حنیف۔ پبلک میں سے کسی نے اپنے ہاں مدعو کیا اور یہ دعوت کھانے چلے گئے تو مولا(علیہ السلام )نے اسے سرزنش کی۔ نہج البلاغہ میں یہ واقعہ موجود ہے۔

مولا(علیہ السلام )فرماتے ہیں:

اے ابن حنیف! تو دعوت میں چلا گیا‘ کبھی سوچا کہ تمہارے سامنے قسم ہا قسم کے کھانے تھے‘ تو نے غرباء کو ایک طرف دھکیل دیا۔

فرماتے ہیں کہ جس دعوت میں غرباء نے نہ ہوں وہ دعوت اللہ کو ناپسند ہوتی ہے‘ لہٰذا ایسی دعوت میں تو نے کیوں شرکت کی؟ آج تو ان لوگوں نے تجھے دعوت دی‘ کیونکہ تو گورنر تھا‘ جب تو گورنر نہ تھا اس وقت بھی کبھی انہوں نے تمہیں مدعو کیا؟ اور فرمایا کہ جب تو کھانا کھا رہا تھا‘ اس وقت تو نے سوچا تھا کہ یہ کھانا حلال سے ہے یا حرام سے۔

اس کے بعد فرمایا‘ ہر شخص کا کوئی ایمان ہوتا ہے‘ انسان کو چاہئے کہ اس امام کے حکم کے مطابق عمل کرے اور میں تمہارا امام(علیہ السلام )ہوں۔ میری(علیہ السلام )زندگی کو دیکھو‘ دو پھٹی پرانی چادریں میرے(علیہ السلام )پاس ہیں‘ میں(علیہ السلام )نے کبھی ان کو تبدیل کرنے کی کوشس نہیں کی۔ میں(علیہ السلام )اگر چاہوں تو بہترین کھانے کھا سکتا ہوں‘ چاہوں تو بہترین لباس پہن سکتا ہوں‘ چاہوں تو بہترین رہائش اختیار کر سکتا ہوں‘ کیا میں(علیہ السلام )صرف اس بات پر خوش ہو جاؤں گا کہ مجھے امیرالمومنینکہا جاتا ہے اور لوگوں کی تکلیف میں شریک نہ ہوں گا؟

نہیں‘ نہیں‘ مجھے(علیہ السلام )اس طرح زندگی بسر کرنا ہو گی کہ خدا کہہ دے کہ میری پسندیدہ سیرت علی(علیہ السلام )کی زندگی ہے۔

اس کے بعد مولا(علیہ السلام )فرماتے ہیں:

میں(علیہ السلام )یہ تمہیں کہتا ہوں کہ میری(علیہ السلام )طرح زندگی بسر کرو‘ لیکن کم از کم یہ تو کوشش کرو‘ جس طرح تمہارا امام(علیہ السلام )چاہ رہا ہے۔ جس طرح علی(علیہ السلام )جا رہا ہے‘ تم بھی اس کے پیچھے ہو‘ ایسا نہ ہو کہ علی(علیہ السلام )کعبہ کو جا رہا ہو اور تم مشرق کی طرف جا رہے ہو۔

ایک شخص مولا(علیہ السلام )کا مہمان ہوا‘ روزہ دار تھا۔ مولا(علیہ السلام )نے فرمایا:

روزہ افطار کرنا چاہتے ہو؟ کہنے لگا‘ جی مولا(علیہ السلام )۔ تو مولا(علیہ السلام )نے اس کو روٹی کا ایک ٹکڑا جو ’جو‘ کا تھا اور تھیلی میں بند تھا اور وہ تھیلی مہر شدہ تھی۔ اس شخص نے بڑی کوشش کی‘ لیکن وہ روٹی کا ٹکڑا نہ توڑ سکا۔ وہ ٹکڑا تھا بھی اتنا سخت کہ توڑا نہیں جا سکتا تھا اور خود مولا(علیہ السلام )کے متعلق ہے کہ مولا(علیہ السلام )جب روٹی توڑنا چاہتے تھے تو گھٹنوں پر رکھ کر توڑا کرتے تھے۔ یہ شخص بڑا پریشان ہوا‘ حیران ہوا‘ کہنے لگا‘ یا حضرت(علیہ السلام )! میں تو یہ روٹی نہیں کھا سکتا اور امیر(علیہ السلام )نے ارشاد فرمایا:

محلہ بنی ہاشم میں چلے جاؤ‘ کسی نے دعوت دی ہوئی ہے‘ وہاں جا کر روزہ افطار کر لو۔

وہ محلہ بنی ہاشم گیا‘ وہاں بہترین دعوت کا انتظام تھا‘ سب لوگ کھانا کھا رہے تھے‘ اس مہمان روزہ دار کو بھی بٹھا دیا گیا‘ یہ بھی کھانا کھانے لگا۔

لیکن یہ عجیب کام کرنے لگا کہ ایک لقمہ خود کھاتا تھا اور ایک لقمہ اپنی آستین میں ڈالتا گیا‘ تو انتظامیہ میں سے کسی نے دیکھ کر اس شخص سے پوچھا یہ کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ اگر گھر کے لئے کھانے کی ضرورت ہے‘ جتنا چاہے لے جانا ہم آپ کو دے دیں گے‘ خود سیر ہو کر کھانا کھا لو۔

اس نے جواب دیا کہ گھر کے لئے نہیں ڈال رہا‘ دراصل بات یہ ہے کہ مسجد میں گیا تھا وہاں ایک بوڑھا آدمی دیکھا‘ اس کے پاس ’جو‘ کی ایک خشک روٹی تھی‘ اس قدر سخت تھی کہ وہ اسے کھا نہ سکتا تھا‘ میں یہ چاہتا ہوں کہ کھانا خود بھی کھا لوں اور اس بوڑھے کے لئے بھی کھانا لے جاؤں۔

یہ سننا تھا کہ اس شخصیت نے فرمایا:

جانتے ہو وہ بوڑھا کون ہے؟ اس کا نام علی(علیہ السلام )ہے اور یہ دسترخوان اس(علیہ السلام )اس کے بیٹے کا بچھا ہوا ہے جس کا نام حسن مجتبیٰ(علیہ السلام )ہے۔

ہر کسی کی مدد کرنے والے‘ غریب و غرباء کی مدد کرنے والے‘ عطیات دینے والے جب اس دنیا سے چلے جاتے تھے‘ تب فقراء کو معلوم ہوتا تھا کہ ہمارا ناصر کون تھا؟ جو ہماری مدد کیا کرتا تھا۔ وہ کون تھا؟ جو پشت پر ہمارے لئے کھانا لاد لایا کرتا تھا۔

جب امام حسین(علیہ السلام )دنیا سے چلے گئے‘ تب غرباء کو پتہ چلا کہ یہ دسترخوان حسن(علیہ السلام )کا تھا‘ جو وہاں بھی کھاتے تھے اور ہمارے گھروں میں بھی پہنچ جاتا تھا۔

امام حسن(علیہ السلام )کی شہادت کا جب وقت آیا تو اس حالت کیا تھی؟ زہر دی گئی اور زہر کی وجہ سے امام حسن(علیہ السلام )کے جگر کے ٹکڑے جناب زینب(علیہ السلام )نے طشت میں لئے۔ امام حسن(علیہ السلام )سے پوچھا گیا کہ کس نے زہر دی؟ لیکن امام(علیہ السلام )نے نہیں بتایا۔ جب امام حسن(علیہ السلام )کی اس حالت کو امام حسین(علیہ السلام )نے دیکھا‘ حسین(علیہ السلام )آئے اور بھائی کے گلے سے لپٹ گئے اور کافی دیر تک گریہ کیا‘ اتنا گریہ کیا کہ ملائکہ میں کہرام برپا ہو گیا کہ کوئی رو رہے ہیں‘ جو اس قدر گریہ کر رہے ہیں۔ امام حسن(علیہ السلام )مصیبت میں تھے‘ پھر بھی کہتے تھے‘ بھیا حسین(علیہ السلام )! صبرو کرو۔

حسین(علیہ السلام )کہتے‘ بھائی کیسے صبر کروں؟ جگر کے ٹکڑے طشت میں دیکھ رہا ہوں۔

اس وقت امام حسن(علیہ السلام )نے فرمایا:

حسین(علیہ السلام )تیری مصیبت اتنی بڑی ہو گی کہ جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔

روایت میں موجود ہے کہ حضرت حسن(علیہ السلام )کی شہادت کے بعد امام حسن(علیہ السلام )کے بیٹا حضرت قاسم جناب زینب(علیہ السلام )کے دروازے پر گئے‘ جب زینب(علیہ السلام )کے دروازے پر پہنچے تو دہلیز پر بیٹھ گئے‘ گھر میں قدم نہیں رکھا‘ تھوڑی دیر بعد جب زینب(علیہ السلام )کا باہر آنا ہوا تو کیا دیکھتی ہیں کہ بھتیجا دہلیز پاک پر بیٹھا ہوا ہے۔

تو زینب(علیہ السلام )نے کہا بیٹا قاسم! پہلے تو آپ کبھی اس طرح نہیں کرتے تھے‘ جب آئے سیدھے گھر میں چلے آئے‘ میرے پاس آ جاتے‘ میرے بچوں کے پاس آ جاتے‘ اپنے بہن بھائیوں کے پاس آ جاتے‘ آج کیا دم ہے کہ دروازے پر بیٹھ گئے؟ چوکھٹ پر بیٹھ گئے؟ لیکن میرے گھر میں نہیں آئے؟

سنو گے قاسم نے کیا جواب دیا؟

قاسم کہتے ہیں:

پھوپھی اماں! اب میں یتیم ہو گیا ہوں‘ یتیم کا حال اس طرح نہیں ہوتا‘ جس طرح ماں باپ والوں کا ہوتا ہے‘ میں یتیم ہو گیا ہوں اس لئے بغیر اجازت اندر قدم نہیں رکھا‘ ہو سکتا ہے کہ کوئی کہہ دے میرے گھر میں کیوں آئے ہو؟

عزادارو!

یہی قاسم میدان کربلا میں چچا کے پاس آیا۔

روایت میں موجود ہے‘ دور سے جب امام حسین(علیہ السلام )نے جب اس یتیم کو دیکھا۔ ملاحظہ کیا‘ دیکھا کہ آنکھوں میں گڑھے پڑے ہوئے ہیں‘ ہونٹ خشک ہیں‘ حسین(علیہ السلام )نے اپنی کرسی چھوڑ دی‘ اپنے یتیم کو گلے سے لگایا اور کافی دیر تک روتے رہے‘ سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرتے رہے۔

ریاض المقدس میں ہے کہ دروازے سے سکینہ اور رقیہ دیکھ رہی تھیں۔ سکینہ نے دیکھا کہ قاسم کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیر رہے ہیں‘ رونا شروع کر دیا۔

حسین(علیہ السلام )فرماتے ہیں کہ

تم کیوں رو رہی ہو؟

کہا کہ ہمیں اپنی یتیمی یاد آ گئی‘ کون ہو گا جو ہمارے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرے گا؟ بہرحال بڑی مشکل کے ساتھ قاسم کو جنگ کی اجازت ملی۔

صرف دو جملے‘ روایت میں ہے کہ قاسم کو حسین(علیہ السلام )نے جنگ کی اجازت دی اور قاسم بیٹھے ہیں‘ اپنے گھٹنوں میں سر رکھا ہوا ہے اور رو رہے ہیں‘ گریہ کر رہے ہیں‘ قاسم(علیہ السلام )کی ماں آئی اور کہتی ہے:

بیٹا! آج تیرا باپ(علیہ السلام )تو تجھے حسین(علیہ السلام )پر قربان کرتا‘ لیکن حسین(علیہ السلام )تجھے اجازت نہیں دے رہے۔ بازو پر ایک تعویز دیکھا‘ چچا ۱( علیہ السلام )کی خدمت میں گئے‘ جب پڑھا تو اس میں لکھا ہوا تھا‘ اے میرے فرزند قاسم!

جب تیرا چچا ۱( علیہ السلام )دشمنوں میں گھر جائے تو اس کی مدد کرنا‘ کبھی بھی مدد کرنا۔

روایت میں موجود ہے کہ قاسم ایک بھتیجا تھا‘ حسین(علیہ السلام )نے کفن پہنا کے بھتیجے کو بھیجا‘ اکبر کو کفن نہیں پہنایا‘ دوسرے لوگوں کو حسین(علیہ السلام )نے کفن نہیں پہنایا‘ لیکن بھتیجے کو کفن پہنا کے بھیج اہے۔ جب یہ بھتیجا گیا ہے‘ ایک ظالم آیا‘ قاسم نے اسے فی النار کیا کہ جب چھ ظالم مارے جا چکے۔ اب ان کا باپ تغلق آیا ہے‘ جو سب سے بڑا بہادر تھا‘ اس وقت کیا حالت ہے؟ زینب(علیہ السلام )کی نظر فضہ پر ہے اور فضہ کی نظر حسین(علیہ السلام )پر ہے۔ فضہ نے بتایا‘ اے زینب(علیہ السلام )! میری شہزادی زینب(علیہ السلام )حسین(علیہ السلام )پریشان ہو گئے ہیں‘ پتہ نہیں کیا بات ہو گی؟ خدا کرے قاسم خیر سے ہو۔ اس وقت جناب فضہ نے پوچھا:

مولا(علیہ السلام )کیوں پریشان ہو؟ اس وقت حسین(علیہ السلام )نے فرمایا:

اُمّ فروہ سے کہو کہ زمین پر بیٹھ جائے‘ اپنے بال کھول لے اور دعا کرے کہ قاسم خیریت سے ہو‘ یہ ظالم بڑا بہادر ہے‘ قاسم خیریت سے ہو۔

روایت میں‘ میں نے دیکھا ہے:

اُمّ فروہ زمین پر بیٹھ گئی ہیں‘ سر کے بال کھول دیئے اور کلمہ کہا:

الهی بغربت ابی عبدالله

"خدایا! تجھے حسین(علیہ السلام )کی غربت کا واسطہ‘ الٰہی ابی عبداللہ‘ الٰہی تجھے حسین(علیہ السلام )کی پیاس کا واسطہ میرا بیٹا میرے پاس آ جائے۔"

روایت میں موجود ہے:

تغلق کو فی النار کیا اور قاسم اپنے چچا کے پاس پہنچے۔ کیا کہتے ہیں؟ مجھے پیاس لگی ہے‘ پانی نہیں ہے‘ میرے ہونٹ خشک ہو گئے ہیں‘ زبان خشک ہو گئی یہ‘ تھوڑا سا پانی ہے تو دے دیں اور تو کچھ نہیں تھا ایک انگوٹھی دی کہ بیٹا اسے اپنے منہ میں رکھو اور فرمایا:

اس ماں کے پاس چلے جاؤ‘ وہ بڑی پریشان ہے۔

روایت میں موجود ہے کہ جب قاسم خیمہ میں آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ اُمّ فروہ کبھی اس طرف جاتی ہیں‘ کبھی اس طرف جاتی ہیں اور کہہ رہی ہیں‘ اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک! تم کہاں ہو؟

بہرحال قاسم جنگ کے لئے گئے‘ جب پہنچے ہیں‘ دشمن حملہ کرتے رہے اور عمر سعد نے حکم دیا:

یہ حسن(علیہ السلام )کا بیٹا ہے‘ علی(علیہ السلام )کا پوتا ہے اور جعفر کا پوتا ہے‘ اس پر پتھر برساؤ ورنہ مقابلہ نہ کر سکو گے۔

روایت میں موجود ہے کہ چار ایسے شہید تھے جن پر پتھر برسائے گئے‘ ایک حُر تھا‘ دوسرا عباس ابن شبیب شاکری‘ تیسرے حسن(علیہ السلام )کے یتیم قاسم‘ چوتھے مولا مظلوم حسین(علیہ السلام )جن پر پتھر برسائے گئے۔ اب پتھر بھی برسائے گئے‘ تیروں خی بھی بارش ہو رہی تھی‘ تلواروں کی بارش بھی ہو رہی تھی۔

حضرت قاسم اس قدر زخمی ہو گئے کہ اپنے آپ کو گھوڑے کے اوپر لٹا دیا‘ گھوڑا کبھی دائیں جانب جاتا‘ کبھی بائیں جانب‘ تلواروں کے حملے ہو رہے ہیں‘ تیروں کی برسات ہو رہی ہے‘ قاسم کی لاش کے ٹکڑے ہو گئے۔ جب قاسم گھوڑے سے گرے تو آواز دی:

چچا ۱( علیہ السلام )! مدد کو پہنچئے۔

حسین(علیہ السلام )اس طرح آئے کہ جیسے شکاری اپنے شکار پر آتا ہے‘ آئے اور قاسم کو اٹھایا۔ آپ کے امام زمانہ(علیہ السلام ) قاسم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

میری جان قربان ہو جائے اس شہزادے قاسم پر‘ جس کی دائیں پسلیاں بائیں چلی گئیں اور بائیں پسلیاں دائیں چلی گئیں۔

مولا(علیہ السلام )نے جب اٹھایا تو روایت میں ہے کہ قاسم کی ایڑیاں زمین پر رگڑ رہی تھیں۔ یتیم بھتیجے کو اٹھایا اور گٹھڑی بنا کر لائے‘ جب خیمہ میں آئے تو بیبیاں رو رہی تھیں اور جب شہزادہ علی اکبر بھی شہید ہو گئے اور قاسم بھی شہید ہو گئے تو حسین(علیہ السلام )کو کتنا صدمہ ہوا؟

حسین(علیہ السلام )نے کیا کیا؟ ایک طرف لاشہ علی اکبر کو رکھا اور ایک طرف لاشہ قاسم کو رکھا‘ درمیان میں دو زانو ہو کر اس طرح بیٹھے جیسے نمازی مصلحے پر بیٹھتا ہے‘ ایک ہاتھ اکبر کی لاش پر رکھا اور ایک ہاتھ قاسم کی لاش پر رکھا۔

اور فرمایا: "واعز تباہ" اے میری غربت!

ظالموں نے میرے بیٹوں کو کس طرح شہید کر دیا۔


مجلس نہم

بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم

( ایاک نعبد و ایاک نستعین )

حضراتِ گرامی!

انسان بارگاہِ رب العزت میں عرض کرتا ہے:

یااللہ! فقط ہم تیرے سامنے جھکتے ہیں‘ وہ دین جس دین کے مطابق انسان اپنی زندگی بسر کرنے کا اقدا کر رہا ہے‘ یہ دین حق ہے‘ یہ دین‘ دین حقیقت ہے‘ دین شفقت ہے‘ یہ دین ہمیں درس دیتا ہے ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و شفقت کے ساتھ پیش آئیں۔

چنانچہ اس دین کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے حضرت امام محمد باقر(علیہ السلام )فرماتے ہیں:

دین اسلام کیا ؟

اطاعت مخلوق‘ اطاعت الخالق و شفقت المخلوق ہے۔

دین ہے خالق کی اطاعت اور مخلوق کے ساتھ شفقت سے پیش آنا‘ یہ دونوں کام اگر آدمی کرتا ہے تووہ سمجھتا ہے کہ ہم اس دین کے مطابق چل رہے ہیں۔ یہ کہ اپنے خالق کی اطاعت کرے‘ فرمانبرداری کرے‘ خالق کے حکم کے مطابق چلے اور دوسرا مخلوق کے ساتھ نہایت رحمت اور شفقت سے پیش آئے‘ کبھی ان پر ظلم و تعدی نہ کرے۔

دین کا سلسلہ اگرچہ حضرت آدم(علیہ السلام )سے چلا‘ لیکن جتنی دین کی ضرورت تھ‘ اتنی آتی رہی۔

دین کی کمالیت کب ہوئی؟

جتنے احکام کی اس کائنات کو احتیاج تھی‘ جتنے قوانین کی یہ کائنات محتاج تھی‘ اتنے قوانین اگر اس میں آ جائیں‘ تو گویا دین کامل۔ چونکہ اس دین نے قیامت تک کے لئے جانا ہے۔

لہٰذا قیامت تک کے لئے جتنے قوانین ہیں‘ جب تک وہ قوانین رسول اللہ کے زمانے میں مکمل نہیں ہوئے‘ اس وقت تک دین کو کمالیت کی سند نہیں ملی‘ وہ قوانین مکمل ہوئے‘ کامل ہو گئے۔

لہٰذا یہ دین‘ دین کامل ہو گیا۔

اب اس کے بعد نبوت کا کسی منصب کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

چنانچہ کہا گیا ہے:

وما کان محمد ابا حد من رجا لکم و لکن رسول الله و خاتم النبیین

دیکھئے! رسالتمآب ۱ آپ میں سے کسی کے والد نہیں‘ آپ میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ ولکن رسول اللّٰہ کے رسول ہیں اور انبیاء(علیہ السلام )کے خاتم ۱ ہیں۔

تو انبیاء(علیہ السلام )کے خاتم ۱۱ کیوں قرار دیئے گئے؟ کہ جتنے قوانین کی ضرورت تھی‘ وہ سارے آ گئے۔ کائنات کو جن جن قوانین کی احتیاج تھی‘ قیامت تک کے لئے جن جن قوانین کی ضرورت تھی‘ وہ قوانین آ گئے ہیں۔

لہٰذا اس کے بعد کسی قانون کی ضرورت نہیں ہے۔ تو یہ نبی عالمین کے لئے رحمت‘ اس کا قرآن عالمین کے لئے ہے‘ عالمین کے لئے یہ نبی آیا‘ آخری نبی بن کر کیوں؟

اس لئے کہ جن قوانین کی ضرورت تھی وہ سارے کے سارے قوانین چونکہ آ چکے ہیں‘ آپ کے بعد کسی ایسے شخص کی ضرورت نہیں ہے جو آئے اور ہمارے سامنے نئے قوانین کو پیش کرے۔

ظاہر ہے کہ ایک لحاظ سے آخری مجلس ہے۔ چاہتا ہوں کہ میں کچھ چیزیں‘ جن کا ذکر کیا گیا ہے‘ ان کا سارا نچوڑ‘ سارا نتیجہ عرض کر دیا جائے کہ دین رحمت ہے‘ دین‘ دین شفقت ہے۔

اس سے پہلے یہودیت گزر چکی تھی‘ نصرانیت آ چکی تھی‘ یہودیوں کی توجہ ہمیشہ مال و دولت کی طرف رہی۔

یہودیت یہی سمجھتی کہ جتنا ہو سکے مال و دولت جمع کرو‘ مال و دولت کے خزانے ہمارے پاس ہوں تاکہ یہ زندگی اچھے طریقے سے گزر سکے‘ لیکن جب اس کے مقابلے میں نصرانیت آئی تو نصرانیوں نے روحانیت کی طرف توجہ کی‘ مال و دولت کی طرف نصرانیوں کی توجہ نہ تھی۔ ٹھیک ہے مال و دولت کے خزانے ان کے پاس بن گئے‘ ورنہ عیسائیت کی توجہ روحانیت کی طرف تھی۔ عیسائیت روحانیت کا درس دیتی تھی‘ عیسائیت یہ کہتی تھی کہ گھروں میں بیٹھ جاؤ‘ خدا کی عبادت کرو‘ دنیا کا کوئی کام نہ کرو‘ نہ کسی کے ساتھ تعلق قائم کرو‘ کسی کے ہاں آنا جانا نہ کرو‘ آپ خدا کی عبادت کرتے رہے۔

چنانچہ ان کی روحانیت اس درجہ تک پہنچ گئی کہ کہتے تھے‘ کسی کا دل نہ دکھاؤ‘ کسی کو کچھ نہ کرو‘ جنگ کرنا ٹھیک نہیں۔ اگر ایک آدمی کسی انسان کو تھپڑ مارتا ہے تو اسے چاہئے کہ اپنا دوسرا رخسار اس کے سامنے پیش کر دے اور کہے کہ اس پر بھی طمانچے مارو۔

تو اب آپ نے دیکھا کہ یہ دونوں دین آپس میں متحارب تھے۔

یہودیت کی توجہ مادیت کی طرف اور عیسائیت کی توجہ روحانیت کی طرف‘ لیکن جہاں تک حضرت انسان کا تعلق ہے‘ یہ فقط مادی بھی نہیں‘ فقط روحانی بھی نہیں۔ اس کا بدن بھی موجود ہے‘ جسم بھی موجود ہے‘ روح بھی‘ لہٰذا اس کو مادیت کے لئے کچھ چیزوں کی ضرورت ہے تاکہ مادی زندگی بسر کر سکے۔ روحانیت کے لئے بھی کسی کی ضرورت ہے تاکہ اس کا روح تعلق کر سکے۔

تو یہ دونوں دین‘ دونوں مذاہب چونکہ ایک ایک چیز کے لئے اپنے آپ کو کافی سمجھتے تھے‘ یہ کہ یہودیت کا تعلق فقط مادیت کے ساتھ‘ روحانیت کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔ لیکن دین اسلام چونکہ اس نے قیامت تک جانا ہے اور یہ کامل دین ہے‘ اس میں کسی قسم کی تعریف نہیں ہے‘ اس میں کسی قسم کا تغیر و تبدل نہیں ہوا۔

لہٰذا یہ دین دین معتبر ہے۔

نہ اس میں افراط‘ نہ اس میں تفریح‘ نہ یہ دین ہمیں کہتا ہے کہ صرف دنیادار بن جاؤ‘ روحانیت کو پس پشت ڈال دو اور نہ یہ دین ہمیں کہتا ہے کہ راہب بن جاؤ‘ گھروں میں جا کر بیٹھ جاؤ‘ ہر وقت اللہ اللہ کرو‘ ہر وقت خدا کی عبادت کرو‘ ہر وقت اپنا سر جھکائے رہو اور مال و دنیا کا کوئی کام نہ کرو‘ دنیا کی کمائی نہ کرو‘ نہیں

بلکہ یہ دین ہمیں یہ درس دیتا ہے‘ جیسے کہ رسالتمآب نے فرمایا ہے کہ

لیس منا من ترک الاخیره الادنیا

وہ شخص ہمارا نہیں جو آخرت کو دنیا کے لئے خراب کرے۔

بس دنیا میں ہی مگن رہے‘ آخرت کی پرواہ نہ کرے اور دوسرے کلمے میں ارشاد ہے:

و لیس منا من ترک الدنیا للاخیره

وہ بھی ہم میں سے نہیں جو دنیا کو چھوڑ دے اور فقط آخرت کار ہو جائے۔

بلکہ انسان کو دنیاوی راستے اختیار کرنے چاہئیں‘ دنیا میں اس طرح کام کرنا چاہئے کہ وہ سمجھے کہ میں نے ہمیشہ دنیا میں رہنا ہے‘ لیکن خدائی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے آخرت کے لئے اس طرح کام کرے کہ وہ سمجھے ہو سکتا ہے میری کل میں موت واقعہ ہو جائے‘ اس وقت مجھے دربارِ خداوندی میں حاضر ہونا ہے۔

لہٰذا یہ کام اس طرح کرنا چاہئے کہ اگر اسی وقت موت واقع ہو جائے تب بھی میں تیار ہوں‘ خدا کے دربار میں حاضر ہو سکتا ہوں اور وہاں جا کر اپنا حساب و کتاب ابھی دے سکتا ہوں تو دونوں چیزوں کو سامنے رکھے گا۔

تو یہ دین‘ دین معتبر ہے۔

تو اب اگر کوئی شخص فقط دنیا کو لے لے‘ خدائی قوانین کو چھوڑ دے۔

قوانین الٰہی کی طرف توجہ نہیں‘ دنیا کی کمائیوں کے لئے حلال و حرام کی توجہ نہیں‘ تو یہ شخص حقیقی مسلم نہ ہو گا۔

اب اس کا تعلق یہودیوں کے ساتھ ہو سکتا ہے‘ اگر کوئی شخص آخرت کو لے لے‘ راہب بن جائے‘ راہبانہ زندگی بسر کرنا شروع کر دے تو ہو سکتا ہے کہ یہ اسلام اس کا اپنی جگہ رہے‘ لیکن زیادہ تر اس کی بازگشت عیسائیت کی طرف ہو گی۔ معتبر دین اختیار کرو‘ نہ فقط مادی بن جاؤ‘ نہ فقط روحانی۔

تمہارا جسم مرکب ہے‘ دو چیزوں سے:

بدن اور روح۔

بدن کے لئے دنیا کی ضرورت ہے‘ روح کے لئے آخرت کی ضرورت ہے‘ لہٰذا اگر دونوں کو اس طرح اکٹؤے کر کے رکھو تو تب تمہاری زندگی کامیاب ہو گی‘ اگر ہم نے ایک کو لے لیا تو تمہاری زندگی کامیاب نہ ہو گی۔

ابھی پرسوں تذکرہ کیا تھا‘ عثمان بن حنیف کا‘ جو گورنر ہے۔ اس نے آپ کے مولا(علیہ السلام )کی خدمت میں عرض کی کہ مولا(علیہ السلام )! تنخواہ کم ہے‘ میرا شہریہ کم ہے‘ اس میں اضافہ کیا جائے تاکہ میرا وقت اچھا گزر سکے۔ فرمایا:

تمہیں تو معقول تنخواہ دی جاتی ہے‘ اس میں اضافے کی ضرورت کیوں پڑ گئی‘ اتنی تنخواہ دی جاتی ہے جو آپ کی ضرورت زندگی کے لئے کافی ہے۔

اگرچہ حکومتیں موجود ہیں جو اپنے آپ کو اسلامی کہلاتی ہیں‘ لیکن اسلامی حکومت کے لئے ضروری ہے کہ ہر شخص کو کوئی ایسا کام دے‘ جس کی وجہ سے وہ اپنی زندگی عزت سے بسر کر سکے‘ ملازمت میں‘ کاروبار میں اس کی مدد کرے۔ اگر کسی کو حکومت اسلامی کوئی کام نہیں دیتی‘ روزگار فراہم نہیں کرتی تو حکومت اسلامی کے لئے ضروری ہے کہ اس کے اخراجات لازم پورے کرے‘ کیونکہ اسے کام نہیں دیا جا رہا۔

آج یورپ میں دیکھیں تو وہ اس حکم پر عمل کر رہے ہیں‘ لیکن ہمارے حکمران اپنے پیٹ سے فارغ نہیں ہوتے‘ ان کی توجہ قوم کی طرف ہو اور قوم کے لئے کچھ کر سکیں۔

ہاں تو عرض کر رہا تھا کہ اس گورنر نے مولا(علیہ السلام )کی خدمت میں تنخواہ میں اضافے کا معاملہ پیش کیا۔

امیر(علیہ السلام )نے فرمایا‘ تیری تنخواہ معقول ہے‘ اس میں اضافہ کیوں کیا جائے؟

عرض کیا‘ مولا(علیہ السلام )! یہ تنخواہ میرے لئے تو کافی ہے‘ مگر بڑے بھائی کے بال بچے ہیں جن کے اخراجات مجھے دینے پڑتے ہیں‘ اس لئے چونکہ دو گھرانوں کے اخراجات میرے ذمے ہیں‘ لہٰذا تنخواہ کافی نہیں ہے۔

مولا(علیہ السلام )نے پوچھا:

تیرا بھائی کیا کرتا ہے؟

کہا کہ بس اللہ اللہ کرتا ہے‘ رات دن نمازیں پڑھتا ہے‘ کوئی کام نہیں کرتا۔

آپ(علیہ السلام )نے اس کے بھائی کو بلا کر فرمایا:

راہب یہ دن رات نمازیں کیوں پڑھتے رہتے ہو؟

کہنے لگا‘ مولا(علیہ السلام )!

آپ(علیہ السلام )کی سنت پر عمل کرتا ہوں۔

مولا(علیہ السلام )! آپ کیا کرتے ہیں؟ ایک ہزار رکعت نماز رات پڑھتے ہیں۔ میرے اندر اتنی طاقت نہیں کہ ہر رات کو ہزار رکعت نماز پڑھ سکوں‘ لہٰذا دین رات لگا رہتا ہوں‘ چوبیس گھنٹے لگا رہتا ہوں‘ تب جا کے میں اپنی نمازیں پوری کر سکتا ہوں‘ میں بھی آپ(علیہ السلام )کی سنت پر عمل کرتا ہوں۔ تو حضرت(علیہ السلام )نے فرمایا:

ہزار رکعت نماز پڑھنا ہمارے لئے ہے‘ جہاں تک تیرا تعلق ہے کہ تم صرف واجبات ادا کرو‘ جو فریضہ ہے اسے پورا کرو‘ اس کے بعد اپنا کام کرو‘ بچوں کے لئے روزی کماؤ‘ اپنی روزی کا بندوبست کرو‘ اس کام کے دوران وقت ملے تو نوافل و مستحاب ادا کرو‘ ورنہ نوافل کی ضرورت نہیں ہے۔ اس نے دیکھا کہ مولا(علیہ السلام )خود روک رہے ہیں‘ اس لئے تمہاری توجہ اس طرف ہونی چاہئے کہ ہم نے بچوں کے لئے روزی کمانا ہے‘ رزق کے لئے کوشاں ہونا ہے‘ لیکن یہ مسئلہ ذہن میں رہے کہ رزق حلال طریقے سے کمایا جائے‘ لیکن اگر حرام طریقے سے کمایا جائے تو خواہ وہ بچوں کے لئے ہو‘ جائز نہیں۔

مولا(علیہ السلام )ہمیں یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ اسلام‘ یہ دین اسلام معتبر ہے‘ یہ دین معقول ہے‘ اس میں افتراق نہیں‘ تفرق نہیں‘ نہ وہ تمہیں صرف دنیادار بناتا ہے‘ نہ تمہیں نماز میں رہنے والا بناتا ہے‘ بلکہ یہ دین تمہیں کہتا ہے کہ دنیا کے لئے اس طرح بن جاؤ کہ اسی میں رہنا ہے اور آخرت کے لئے اس طرح کام کرو کہ گویا آج ہمارا آخری دن ہے‘ آج ہم نے چلے جانا ہے۔

لیکن دین ہے کیا؟

ظاہر ہے کہ اس وقت میں پوری تفصیل عرض کرنا مشکل ہے۔

البتہ چند چیزیں بنیادی ہیں‘ عرض کر دیتا ہوں۔

سب سے پہلی چیز یہ کہ یہ دین ہمیں انسانیت کا درس دیتا ہے۔ اسلام انسانیت کو بلند کرنے کے لئے ہے‘ دین اسلام انسانیت کو عروج تک پہنچانے کے لئے آیا ہے‘ انسانیت کو کمال تک پہنچانے کے لئے آیا ہے۔

لہٰذا ہمیں اجازت نہیں دی گئی کہ ہم انسانیت کو پس پشت کریں‘ ہمیں یہ اجازت نہیں دی گئی کہ کسی کی خودداری کو ٹھیس پہنچائیں‘ ہمیں یہ حق نہیں ہے کہ شخص کو ذلیل کیا جائے کہ اپنی انسانیت کو بھول جائیں‘ اپنے آپ کو ذلیل سمجھنا شروع کر دے‘ لہٰذا اگر ذلیل کیا جائے‘ کسی کو اتنا بے عزت کیا جائے‘ کسی سے اتنی بے رخی سے برتاؤ کیا جائے کہ وہ سمجھے کہ میں انسان نہیں ہوں‘ انسان تو وہ ہیں جو کرسی پر بیٹھے ہیں‘ مجھے تو یہ چاہئے کہ زمین پر بیٹھ جاؤں‘ اگر کسی کی انسانیت کو ہم نے مردہ کر دیا تو یہ فعل ایسے ہی ہے جیسے قتل۔

اگر کسی کی انسانیت کو زندہ کر دیا تو ایسے ہے جیسے کسی کو زندگی بخش دی۔

تو آپ سمجھتے ہیں کہ زندگی رکھنا کتنا بڑا کارنامہ ہے اور کسی کو قتل کرنا کتنا بڑا گناہ ہے۔

اس کی وضاحت کے لئے تھوڑی سی زحمت دوں گا۔

امراء بیٹھے ہیں‘ اعلیٰ لوگوں کا طبقہ بیٹھا ہے‘ دولت مند موجود ہیں‘ ان کے سامنے ایک آدمی آتا ہے‘ آدمی مومن ہے‘ مولائی ہے‘ محب اہل بیت(علیہ السلام )ہے‘ لیکن ہے بے چارہ غریب و فقیر‘ نماز کا پابند ہے‘ تہجد گزار ہے۔ جب یہ شخص امراء کے طبقے کے پاس آ کر سلام کرتا ہے تو وہ اس کے سلام کا جواب دینا پسند نہیں کرتے۔

خاموشی سے بیٹھ جاؤ‘ کہتے ہیں۔

اسے کرسی پیش نہیں کی جاتی‘ اس کی عزت کے لئے کچھ خرچ نہیں ہوتا‘ مگر پھر بھی اسے کوئی کچھ نہیں سمجھتا‘ کوئی سلام کرنا تو درکنار‘ جواب و سلام نہیں دیتا‘ بے توجہی بڑھتی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ آدمی پریشان ہو جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ یہ بھی علی(علیہ السلام )کے ماننے والے ہیں‘ میں بھی علی(علیہ السلام )کا ماننے والا ہوں‘ میں نماز بھی پڑھتا ہوں‘ تہجد پڑھنے کی کوشش بھی کرتا ہوں۔

عبادت بھی ان سے زیادہ کرتا ہوں‘ لیکن کیا وجہ ہے کہ میری عزت نہیں کرتے؟ کیا وجہ ہے کہ مجھے اٹھ کر نہیں ملتے؟ یہ کھڑے ہو کر میرا استقبال نہیں کرتے‘ میرے ساتھ بات چیت نہیں کرتے؟

ظاہر ہے کہ جب محسوس کرے گا‘ تو کہے گا کہ یہ لوگ اچھے نہیں ہیں‘ اگر اچھے ہوتے تو میری عزت کرتے۔ اب دوسری دفعہ کبھی ان کے پاس پھر آیا‘ کسی نے عزت نہیں کی‘ پھر تیسری دفعہ‘ چوتھی دفعہ‘ پانچویں بار ان امراء کے پاس آیا‘ مگر کسی نے ایک دفعہ بھی عزت نہیں کی‘ تو ایک منزل ایسی آئے گی کہ وہ یقین کرے گا کہ یہ لوگ ہیں معززین‘ یہ امراء ہیں‘ بڑی بڑی شخصیت کے مالک ہیں‘ بڑی عزت والے ہیں‘ میں اس قابل نہیں ہوں کہ ان کے برابر کرسی پر بیٹھوں‘ چاہئے کہ میں نیچے زمین پر بیٹھوں اور ان کے حقے بھرتا رہوں اور یہ لوگ کرسی پر بیٹھیں۔

یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ وہ شخص باوجود کہ خدا کی عبادت کر رہا ہے‘ مگر اپنی انسانیت کو بھول گیا ہے‘ اس کی انسانیت مردہ ہو گئی ہے‘ اس کی انسانیت پست ہو گئی ہے‘ وہ اپنی انسانیت کو سمجھتا ہی نہیں ہے‘ وہ یہ ماننے لگ جاتا ہے کہ یہ معززین کا طبقہ ہے‘ یہ بڑی شخصیتیں ہیں اور ہمارا کام ہے‘ ایک نوکر کی طرح کام کرنا‘ ہمارا کام ہے ان کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر سلام کرنا‘ ان کے لئے اٹھ کر تعظیم کرنا۔ یہ تو بڑے آدمی ہیں‘ بڑی شخصیتیں ہیں‘ یہ وہ منزل ہے کہ غریب آدمی بے چارہ اپنی انسانیت کو بھول جاتا ہے‘ اسے احساس تک نہیں رہتا کہ میں بھی انسان ہوں‘ یہ بھی خالق کی مخلوق ہے‘ وہ بھی یہ بھی علی(علیہ السلام )کے ماننے والے ہیں اور وہ بھی علی(علیہ السلام )کے ماننے والے‘ فقط فرق رہے گا ان کے پاس چند کوڑی سکے ہیں اور اس غریب کے پاس مال و دولت نہیں ہے‘ اس لئے یہ اپنی انسانیت کو مردہ کر چکا ہے۔

بس جو کوئی بھی اس غریب کی انسانیت کو مار رہا ہے‘ وہ یہ سمجھے کہ میں اسے زندہ درگور کر رہا ہوں‘ اپنی موت مار رہا ہوں‘ یہ چلتی پھرتی لاش ہے‘ اس لئے کہ اس کو اپنی انسانیت کا پتہ نہیں ہے‘ لیکن وہی غریب انسان پسماندہ انسان اگر ایسے معززین کی محفل میں آئے اور امراء طبقہ اسے دیکھ کر کھڑے ہو جائیں‘ اس کا استقبال کریں‘ ایک دفعہ تو یہ غریب حیران ہو جائے گا ناں سوچتا ہے کہ پڑھے لکھے لوگ‘ یہ معزز لوگ‘ میں غریب آدمی‘ زمین پر بیٹھنے والا‘ یہ بڑی شخصیتیں‘ میں حقیر انسان‘ مگر میرے لئے کھڑے ہو گئے۔ لیکن اگر یہی امراء ہر دفعہ اس کے آنے پر اسی طرح کھڑے ہوتے رہے تو آہستہ آہستہ اس کی حیرانی ختم ہو جائے گی اور اس کی انسانیت بیدار ہوتی جائے گی اور وہ سوچے گا‘ یہ بھی انسان‘ میں بھی انسان‘ میں ان کی تعظیم کرتا ہوں‘ یہ میری تعظیم کرتے ہیں‘ جب وہ ایسی منزل پر پہنچتا ہے تو قرآن ان کے بارے میں کہتا ہے:

من احیاها فکا نما احیاء الناس جمیعا

"جو شخص ایک انسان کی شخصیت کو زندہ کرتا ہے‘ وہ سمجھے کہ میں نے پورے انسان کو زندہ کیا۔"

جہاں مال و دولت کو دیکھا جاتا ہے‘ وہاں متقی و پرہیزگاری کو نہیں دیکھا جاتا۔ حالت یہ ہو گئی ہے کہ غریب آدمی انتہائی پاک ذہن کے آدمی کے لئے کوئی کھڑا نہیں ہوتا‘ لیکن اگر کوئی ایسا آ جائے جس کے پاس چند کوڑیاں موجود ہوں تو لوگ اس کا استقبال کریں گے‘ یہ پتہ نہیں کہ اس کا کاروبار حرام مال سے بنا یا حلال مال سے

زمینیں ہیں لیکن حرام مال سے‘ سب کچھ حرام مال سے‘ لیکن آدمی اس کی تعظیم کے لئے کھڑا ہو گیا۔ اس غریب کے لئے کھڑا نہ ہونا اور جس شخص کا کاروبار مال حرام سے ہے‘ اس کے لئے کھڑا ہونا۔ گویا یہ بتاتا ہے کہ خدا کے احکام کا ہمیں پاس نہیں‘ ہمیں انسانیت کا لحاظ نہیں‘ ہمیں تو مال و دولت کا لحاظ حے‘ جس کے پاس مال ہو گا‘ اس سے ہمیں قرب حاصل ہو گا۔

ہم انسان کے لحاظ سے پستی کی طرف ہیں‘ جس کا پاس نہ ہو گا وہ ہمارے لحاظ سے پست ہو گا‘ ورنہ عبادت کے لحاظ سے کئی گنا بہتر ہو گا۔

اسلام ہمیں انسانیت کا درس دیتا ہے‘ انسانیت کی عظمت کا درس دیتا ہے‘ انسان کے عروج و ارتقاء کا درس دیتا ہے۔

دوسرا اسلام مساوات کا درس دیتا ہے۔ مساوات کیا؟

مساوات یہ نہیں کہ تمام لوگ ایک جیسے ہو جائیں‘ سب غریب ہو جائیں‘ سب فقیر ہو جائیں یا سب امیر ہو جائیں۔

ایسی مساوات قائم ہو سکتی ہے‘ مساوات سے مراد مساوات‘ جیسے مولائے کائنات(علیہ السلام )کا فرمان ہے‘ کسی انسان کو اپنے سے ذلیل نہ سمجھنا‘ اگر ایک انسان غلط کار آدمی ہے‘ ہو سکتا ہے اس میں ایسی کوئی نیکی پائی جائے جو اس کے اندر موجود ہو تو کسی کو ذلیل نہ سمجھو۔

چنانچہ اس لئے مولا(علیہ السلام )فرماتے ہیں:

جتنا انسان دنیا میں موجود ہے وہ میرا بھائی ہے یا دوسرے لفظوں میں اگر وہ تیری طرح مومن ہے‘ تیری طرح مسلمان ہے تو وہ بھائی ہو گا۔ اگر ایک مومن دوسرے مومن کا بھائی ہوتا ہے‘ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو اذیت نہیں دے سکتا‘ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا مال نہیں لوٹ سکتا‘ اسے زخمی نہیں کر سکتا‘ اسے کسی قسم کی تکلیف نہیں دے سکتا‘ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو تکلیف نہیں دیتا بلکہ مسلمان ہوتا ہی وہ ہے جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے‘ جس کی زبان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔

اب اگر کوئی شخص مومن ہے‘ مسلمان ہے تو میرا بھائی‘ ایک مومن دوسرے مومن کا بھائی ہوتا ہے‘ لیکن اگر کوئی شخص ایسا ہے کہ غیر مسلم ہے‘ کافر ہے‘ یہودی ہے‘ نصرانی ہے‘ وہ تیرا بھائی تو نہیں ہو سکتا‘ اسے بھائی نہ سمجھنا‘ وہ تیری طرح کی مخلوق ہے‘ جیسے تجھے اس خالق نے پیدا کیا‘ ویسے ہی اسے خالق نے اسے بھی پیدا کیا ہے۔

لہٰذا جتنے انسان بھی ہین‘ وہ مجھ سے بڑے ہوں گے یا میرے ہم عمر ہوں گے یا مجھ سے چھوٹے ہوں گے اور تو کوئی صورت نہیں۔

اگر کوئی تجھ سے چھوٹا ہے‘ اس کی بھی عزت کر‘ شفقت سے پیش آ۔ کیوں یہ خیال کرتے ہوئے‘ یہ مجھ سے چھوٹا ہے‘ اس کے گناہ مجھ سے کم ہوں گے؟ چونکہ مجھ سے چھوٹا ہے لہٰذا اس کے گناہ مجھ سے کم ہوں گے۔ اگر ایک شخص آپ سے بڑا ہے تو اس کی بھی عزت کی جائے‘ اس لحاظ سے کہ کیونکہ یہ شخص مجھ سے بڑا ہے‘ اس کی نیکیاں مجھ سے زیادہ ہوں گی۔ کون سی برائی ایسی ہے جو کسی انسان میں نہیں ہوتی؟ لیکن نیکیاں تو انسان میں ہوتی ہیں‘ تو چھوٹے کے لحاظ سے بھی یہ خیال کرے کہ اس کے گناہ مجھ سے کم ہیں‘ بلکہ بڑے‘ اس کی نیکیاں مجھ سے زیادہ ہوں اور جو اپنا ہم عمر ہے اس کے متعلق یہ خیال کر لے کہ میں تو اپنی غلطیوں کو جانتا ہوں‘ اپنے گناہوں کو جانتا ہوں‘ اپنی خطاؤں کو جانتا ہوں‘ لیکن مجھے حقیقی طور پر پتہ نہیں‘ اس کی خطاؤں کا۔

لہٰذا ہو سکتا ہے اس کی کوئی ادا مجھ کو پسند آ جائے‘ میری کوئی ادا اسے پسند نہ ہو۔

اس لحاظ سے ہر انسان کو چاہئے کہ وہ ہر شخص کی عزت کرے یا اس کا بھائی یا اس جیسی مخلوق ہے۔ چھوٹا ہے شفقت سے پیش آئے‘ بڑا ہے عزت کرے‘ اگر ہم عمر ہے تب بھی اس کی عزت کرے‘ اگر اس طرح کرے گا‘ گویا اس نے انسانیت کی عزت کی‘ انسانیت کو چار چاند لگا دیئے اور اس قدر بلندی پا لی۔

اسلام ایک اور چیز جس کی طرف زیادہ توجہ دے رہا ہے‘ پورا عشرہ آپ کی خدمت میں پڑھا ہے۔

آپ دیکھتے ہیں‘ اس میں فضائل و برکات بیان کئے گئے ہیں یہ جو کچھ بیان کر رہا ہوں‘ یہ مولا(علیہ السلام )کے فرامین یعنی یہ مولائے کائنات(علیہ السلام )کے فرامین‘ اس مولائے کائنات(علیہ السلام )کے فرامین ہیں جو ہماری زندگی کے لئے‘ ہماری تربیت کے لئے‘ ہماری خود سازی کے لئے خدائی ہے‘ لہٰذا ان کا تذکرہ کیا جائے۔

صلواة

اسلام ایک اور چیز جس کی طرف زیادہ توجہ دیتا ہے‘ وہ ہے عدالت۔

آج کل ہمارے ملک میں حقیقی خرابیاں پائی جاتی ہیں‘ ان کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہر شخص اپنی جگہ پر پریشان ہے‘ اسے یہ پتہ نہیں چل رہا کہ اب مجھے کہیں سے انصاف بھی مل سکتا ہے یا نہیں۔

کوئی مارا جاتا ہے تب انصاف نہیں ملتا‘ کسی کا مال لوٹ لیا جائے تب بھی انصاف نہیں ملتا‘ چوری کر لی جائے انصاف نہیں ملتا‘ اگر کوئی گھر لوٹ کر لے جائے تب ہر شخص کو توقع یہی ہوتی ہے کہ مجھے کچھ نہیں ملے گا۔

پولیس کے پاس جاؤں گا تو مجھے دیکھیں گے میں پیچھے رہ جاؤں گا۔ پولیس والے جب آئیں گے تو خرچہ ہو گا‘ پیسے لیں گے اور کہیں گے کہ جب تک قائداعظم کا پرچم بلند ہے اس وقت تک کام نہیں ہو سکتا۔

اب ظاہر ہے کہ کوئی ایسا ملک کہ جس ملک میں انصاف مہیا نہیں ہو رہا‘ وہاں کے لوگ پریشان ہوں گے۔ نتیجہ کیا ہے کہ پاکستان کا ہر شخص اپنی اپنی جگہ پریشان ہے‘ امراء اپنے آپ کو بڑا کہنے والے‘ اپنے آپ کو معزز کہنے والے وہ اپنے پیٹ سے فارغ نہیں ہیں کہ قوم کے لئے کچھ کر سکیں‘ لیکن جہاں تک اسلام کا تعلق ہے‘ اسلا م نے عدالت کا معیار اتنا بلند کیا ہے کہ اسلام کی عدالت کو دیکھ کر غیر مسلم اسی وقت مسلمان ہو گئے کہ اسلام کی عدالت اتنی بلند ہے کہ ہماری عدالتیں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔

ایک طرف حلال مشاکل(علیہ السلام )اور دوسری طرف یہودی ہیں۔

یہودی کہتا ہے کہ یہ تلوار میری ہے۔

مولا(علیہ السلام )نے فرمایا:

تلوار میری ہے۔

جب مولا(علیہ السلام )پنچائیت کے سامنے پیش ہوئے‘ اس وقت میرے مولا(علیہ السلام )امام ہونے کے ساتھ ساتھ سربراہ مملکت بھی ہیں‘ خلیفہ وقت بھی ہیں‘ حکومت کی باگ ڈور بھی ان کے ہاتھ میں ہے اور سامنے ان کا معین کردہ قاضی ہے۔

آج کل حاکم بھی بڑے پکے مسلمان ہیں‘ انہیں بھی چاہئے کہ اپنے آپ کو اسی طرح عدالتوں میں پیش کیا کریں‘ عدالت و قاضی کو اپنے سامنے پیش نہ کریں۔

ہاں تو عرض کر رہا تھا کہ قاضی مولا(علیہ السلام )کا اپنا متعین کردہ ہے‘ جب اس کی عدالت میں آئے تو قاض تعظیماً کھڑا ہو گیا۔

مولائے کائنات(علیہ السلام )نے فرمایا:

اے قاضی!

تیری یہ پہلی ناانصافی ہے کہ اگرچہ میرے(علیہ السلام )مقابلے میں یہودی ہی ہے‘ مگر عدالت میں دونوں فریقوں سے مساوی سلوک ہونا چاہئے‘ تو میرے(علیہ السلام )لئے تو کھڑا ہو گیا‘ اس کے لئے کھڑا نہیں ہوا۔

جب معاملہ پیش ہوا اور دونوں اطراف سے گواہ پیش ہوئے تو بات قسم پر آ گئی۔

امیر(علیہ السلام )نے فرمایا:

تلوار کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کے لئے قسم اٹھائی جائے‘ نتیجتاً تلوار یہودی کو دے دی گئی۔

تو اب یہودی نے دیکھا کہ یہ(علیہ السلام )مولائے کائنات(علیہ السلام )بھی ہیں‘ سربراہ مملکت بھی ہیں‘ بادشاہِ حکومت بھی ہیں‘ حکومت کے مالک بھی ہیں‘ دوسری طرف انہی(علیہ السلام )کا متعین کردہ قاضی بھی ہے‘ پھر مولائے کائنات(علیہ السلام )خود فرما رہے ہیں کہ تیری یہ ناانصافی ہے کہ تو اس کے لئے کھڑا نہیں ہوا۔

اگر چاہتے تو آپ(علیہ السلام )اپنے پاس تلوار رکھ سکتے تھے اور خدا کی قسم بھی نہیں اٹھائی کہ اللہ کا نام بہت بڑا ہے‘ اس کے لئے قسم نہیں اٹھائی جا سکتی۔

اس یہودی نے کسی حاکم کے دربار میں ایسا منظر کبھی نہ دیکھا تھا۔ وہ سوچتا جا رہا ہے‘ چند قدم چلنے کے بعد وہ واپس لوٹ آیا۔ امام(علیہ السلام )کے قدموں پر گر گیا اور کہنے لگا:

مولا(علیہ السلام )! آپ(علیہ السلام )کا عدل مجھے مجبور کر رہا ہے کہ میں کلمہ پڑھوں۔

جب مولا(علیہ السلام )نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تو ایک اعلان فرمایا:

عدالتوں کا معیار بلند کرنے کے لئے جو بھی غلط کار ہو گا‘ تخریب کار ہو گا‘ غلطی میں پکڑا جائے گا اس کو سزا دی جائے گی۔

(ہمارے ہاں بڑے آدمی سزا سے بچ جاتے ہیں۔ گورنر‘ وزیر‘ مالدار کے لئے حکومتوں میں حکم ہے کہ ان کو سزا نہ دی جائے اور اگر کوئی بے چارہ پکڑا جائے تو اس کو جوٹے پڑیں گے‘ اس سے مال الگ کمایا جائے گا‘ کیونکہ یہ اسلامی حکومت نہیں ہے۔ اگر اسلام ہوتا تو اسلام میں چھوٹے بڑے میں فرق نہیں ہے‘ کوئی بڑا آدمی غلطی کرنے والا ہو یا چھوٹا‘ قید دونوں کے لئے ایک جیسی‘ جیل دونوں کے لئے ایک جیسی۔ آپ کہیں بھی نہیں دیکھیں گے کہ کوئی آدمی کسی کو قتل کر دے تو اسے سزا مل رہی ہو‘ بلکہ یہاں تو اسے معاف کر دیا جاتا ہے‘ اس لئے کہ بڑا آدمی ہے‘ یہ گورنر ہے‘ یہ جنرل ہے‘ یہ ڈاکٹر ہے اور اس پر ہزاروں روپے کا خرچہ ہوا ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ اس کو مار دیا جائے‘ بظاہر یہ ڈاکو ہے‘ قاتل ہے‘ اچکا ہے اگر اس کو مار دیا جائے تو سوچا جا رہا ہے کہ کتنا نقصان ہو گا‘ انہیں خزانوں کی ضرورت ہے‘ انسانوں کی نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انصاف نہیں ملتا)۔

لیکن علی(علیہ السلام )کیا کہہ رہے ہیں؟

جو شخص اپنے آپ کو طاقت ور سمجھتا ہے اور کسی کا حق چھینتا ہے‘ جب تک کمزور کا حق میں اس سے لے نہیں لوں گا‘ اس وقت تک وہ میرے لئے ذلیل ہو گا۔

جو اپنے آپ کو کمزور سمجھتا ہے‘ جب تک اس کا حق دے نہیں دوں گا‘ اس وقت میرے نزدیک طاقت ور ہو گا۔

مولا(علیہ السلام )کی مخالفت کیوں ہوئی؟

کیونکہ جتنے بڑے گروہ تھے‘ ان سب کو مولا(علیہ السلام )نے پکڑ لیا اور سب سے کہا کہ لوٹا ہوا مال بیت المال میں واپس جمع کراؤ۔ لوگ تمہیں دیتے رہے اور تم مالک بنتے رہے‘ جتنا مال بھی بیت المال سے غلط طریقے سے لیا گیا ہے‘ وہ سارے کا سارا مال واپس لوں گا‘ یہاں تک فرمایا:

اگر کوئی لونڈی غلط طریقے پر دی گئی ہے اور اس کے بچے بھی پیدا ہو گئے ہیں‘ تب بھی وہ لونڈی لے کر واپس اصل مالک کو پہنچاؤں گا‘ اس آدمی کو حق نہیں ہے کہ وہ اسے اپنے پاس رکھے۔

چنانچہ جن افراد کے مفادات پر ضرب پڑتی تھی‘ جن کے مفادات ضائع ہوتے تھے‘ انہوں نے مخالفت شروع کر دی‘ لیکن مولا(علیہ السلام )نے کسی مخالف کی مخالفت کی پرواہ نہیں کی اور ان مخالفتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

جس دین کی بقاء امام حسین(علیہ السلام )کی وجہ سے ہو رہی ہے‘ اس دین کی خاطر امام مظلوم(علیہ السلام )قربانی دے رہے ہیں‘ جس دین کو بچانے کے لئے سب کچھ امام(علیہ السلام )نے دے دیا۔ اب ظاہر ہے یہ چیزیں جو دین کی بلندی کا موجب بنتی ہیں‘ جس کی وجہ سے دین اتنی عظمت رکھتا ہے کہ حسین(علیہ السلام )جیسی ذات اپنی جان قربان کر رہی ہے۔

انسانیت کی عظمت کا نگہبان یہ دین ہے‘ عدالت اور عدالت کو انتہاء تک پہنچانے والا یہی دین اسلام ہے۔ مساوات کا درس دینے والا کہ تمام مخلوق کی عزت کرو‘ یہی دین ہے‘ اس کے ساتھ ساتھ یہ دین ہمیں آزادی اور عبدیت کا بھی درس دیتا ہے۔

جیسے ہمارے مولاحلال مشاکل امیرالمومنین(علیہ السلام )فرماتے ہیں:

لا تکن عبد غیرک…

اگر ہم اسی کو اصول بنا لیں۔ مولا(علیہ السلام )کے اسی فرمان پر عمل کریں‘ اسی ارشادِ مولا(علیہ السلام )پر چلنا شروع کر دیں‘ اپنی زندگی کا طور طریقہ اسی فرمان کے مطابق بنا لیں تو ہمارے لئے یہی کافی ہے۔

مولا(علیہ السلام )کیا فرماتے ہیں:

لا تکن عبد غیرک

غیر کا غلام نہ بن کہ خدا نے تجھے آزاد پیدا کیا ہے۔

تو غیر کے سامنے کیوں جھکتا ہے؟ مال و دولت کے سامنے کیوں جھکتا ہے؟ افسری‘ گورنری کے سامنے کیوں جھکتا ہے؟ اپنے نفس کے سامنے کیوں جھکتا ہے؟ اپنے ہاتھ سے کمائے ہوئے مال کے سامنے کیوں جھکتا ہے؟

یہ دولت‘ یہ مالِ دنیا‘ یہ جاگیر تیرے ہاتھ کی میل کچیل ہے‘ یہ آفیسر تیرا کیا بگاڑ سکتا ہے؟ گورنر تیرا کیا کر سکتا ہے؟ جب خدا تیرے حق میں ہے‘ خدا چاہے تو سب کچھ ہو سکتا ہے‘ خدا نہ چاہے تو کچھ نہیں ہو سکتا‘پھر ان سے کیوں ڈرتا ہے؟ ان کا خوف تیرے دل میں کیوں ہے؟

خدا کے سامنے جھک جا۔

"اے انسان! میرا تیرے ساتھ یہ معاہدہ ہے کہ جو انسان میرے سامنے اس طرح جھک جائے‘ جس طرح جھکنے کا حق ہے تو میں علی کل شی قدیر اس کے سامنے پوری کائنات جھکا دوں۔"

دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ کیا وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اجتماعی طور پر کمزور ہے؟ ہماری حکومتیں کمزور ہوتی ہیں۔ ہمارے دل میں یہ چیز راسخ ہو گئی ہے کہ جب تک ہم کسی بڑی سلطنت کا سہارا نہیں لیں گے‘ ان کے سامنے جھکیں گے نہیں‘ ان کی حمایت حاصل نہ کریں گے‘ ہماری سیاست ان کے تابع نہ ہو گی‘ اس وقت تک ہم زندہ نہیں رہیں گے۔

پاکستان اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا

نتیجتاً ہم انسانیت کے لحاظ سے مردہ ہو چکے ہیں‘ ہم زندگی کے لحاظ سے مردہ ہو چکے ہیں‘ تہذیب کے لحاظ سے مردہ ہو چکے ہیں‘ تمدن کے لحاظ سے تباہ ہو چکے ہیں‘ ثقافت کے لحاظ سے برباد ہو چکے ہیں‘ ہمارے پاس غیروں کا لباس ہے‘ ہمارا اٹھنا بیٹھنا غیروں کی طرح ہے‘ جس طرح وہ کھاتے ہیں‘ اسی طرح ہم کھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

گویا کہ غیروں کی حکومت ہمارے اندر اس طرح راسخ ہو گئی ہے کہ ہم ہر حال میں ان کے غلام نظر آتے ہیں۔

ہمارے ملک پر ہمارا ہی بھروسہ نہ ہے‘ اپنے ملک کے مال و دولت پر بھروسہ نہیں ہے‘ بلکہ ہم ادھر کو جاتے ہیں‘ جہاں سے کچھ مل جائے اور جہاں سے کچھ نہیں ملتا ہے‘ ہم ادھر سے خاموش ہو جاتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری مدد کیوں کریں گے۔ امریکہ جو چاہے کر لے‘ جس طرح چاہتا ہے ہمیں دباتا ہے‘ جو چاہتا ہے ہم سے منوا لیتا ہے‘ ہم تو بے چارے ہیں‘ نہ ہمارا کوئی خدا ہے‘ نہ ہمارا کوئی رسول ہے‘ نہ ہمارا کوئی علی(علیہ السلام )ہے‘ جو ہماری مدد کریں۔ بس! آس ہے‘ مسلم ممالک کو صرف اس سپر طاقت کی۔ سب مسلم ممالک امریکہ کے قبضے میں آ گئے ہیں‘ الا ماشاء اللہ ہم اس طرح غلامی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور مظلوم کب تک ان امریکیوں اور یہودیوں کے دست نگر رہیں۔

حد یہ کہ ان کے سامنے ان کے نزدیک رسول اللہ ۱ کا نام نامی اسم گرامی مدد کے لئے لیں تو بدعت‘ شرک‘ کفر

جب یا رسول اللہ ۱ کا نام لینا بدعت ہے‘ تو یاعلی(علیہ السلام )مدد کہنا تو بالکل کفر ہو گا‘ ان کے نزدیک۔

بلکہ گناہ کبیرہ ہے ان کے نزدیک‘ لیکن یاعلی(علیہ السلام )مدد پر کفر کا فتویٰ لگانے والوں پر ان یارسول اللہ کہنے پر شرک کا فتویٰ لگانے والوں پر خود مصیبت آ جائے‘ مشکل گھڑی آ جائے تو "یا امریکہ مدد" کہہ دیتے ہیں۔

رسول تو ان کی مدد نہیں کر سکتے‘ خدا تو ان کی مدد نہیں کر سکتا‘ لیکن عیسائی ان کی مدد کرتے ہیں‘ عیسائی انہیں بچا سکتے ہیں۔

یہ کیوں ہوا؟

کیونکہ ہم دین سے بیزار‘ اسلام کے اصولوں سے ناواقف۔

اگر ہم دین دار بن جائیں‘ اسلامی اصولوں کو سامنے رکھیں‘ جو ہمیں انسانیت کا درس دیتا ہے‘ ہمیں آزادی کا درس دیتا ہے اور جن لوگوں نے اسلامی اصولوں کو سامنے رکھا ہے‘ وہ کہتا ہے کہ امریکہ رو سے بدتر ہے اور روس امریکہ سے بدتر ہے‘ نہ ہمیں امریکہ کا خوف ہے‘ نہ ہمیں روس کا ڈر ہے‘ کیوں؟ اس لئے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ خدا ہو‘ اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔


فہرست

مجلس اول ۴

مجلس دوم ۲۳

مجلس سوم ۴۳

مجلس چہارم ۶۶

مجلس پنجم ۹۰

مجلس ششم ۱۱۵

مجلس ہفتم ۱۳۱

مجلس ہشتم ۱۵۵

مجلس نہم ۱۷۸