مجموعہ تقاریر(حصہ اول)- جلد 1
گروہ بندی امام حسین(علیہ السلام)
مصنف مولانا جان علی شاہ کاظمی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


مجموعہ تقاریر حصہ اول

مصنف: مولانا جان علی شاہ کاظمی


مجلس ۱

بسم الله الر حمن الر حیم

فقد قال الله تبا ر ک و تعالی فی کتا به ا لمجید

( الذین یتبعو ن الرسو ل النبی الامی الذی یجدو نه مکتو با عنده م فی التو را ة و الانجیل )

اگر ہم دنیا کی طر ف نظر اٹھائیں تو مسلما ن مظلو م نظر آ ر ہے ہیں فلسطین میں مسلمین مظلو م ہیں لبنا ن میں مسلمین اور مو منین مظلو م ہیں عرا ق میں مو منین مظلو م ہیں کشمیر اور افغانستا ن میں مسلمین مظلو م ہیں آ ج دنیا کے مظلو م ظلم سے نجا ت چا ہتے ہیں تو مو لا حسین کی فر یا ده ل من نا صر ینصر نا پر لبیک کھیں اس کے علاو ہ کو ئی را ستہ نہیں ہے کہ مسلما ن ظلم کی وا دی سے نجا ت حا صل کر سکیں مگریہ کر بلا مظلومون کے لئے نجا ت کا پیغا م ہے کر بلا دنیا اور آ خر ت میں مسلمین اور مو منین کے لئے نو ر ہد ا یت ہے کر بلا وا لو ں نے ہمیں وہ در س دیا ہے اگر آج بھی دنیا کے مسلمان اس درس پر عمل کریں تو آ ج کے زمانے کے یزید شکست کھا سکتے ہیں آ ج کے زمانے کے فر عو ن نا بو د ہو سکتے ہیں آ ج کے یزید اور فر عو ن مسلما نو ں کو قتل کر رہے ہیں قو م پر ستی کے ذریعے سے انہیں نا بو د کر ر ہے ہیں اور دوسری طر ف اقتصا دیات پر بھی آج کے فر عو نو ں کا قبضہ ہے ورلڈ بینک IMF کے ذریعے سے مصنو عی غربت مصنو عی فقر اسلا می مما لک میں پید ا کر کے اور پھر مسیحی مبلغین کو بھجتے ہیں تا کہ وہ پیسہ کے ذریعے سے فقیر مسلما نو ں کے دین اور ایمان ختم کر یں

اور انہیں عیسا ئی بنائیں جبکہ خو د عیسائیت یو ر پ میں امر یکا میں دم تو ڑ چکی ہے خود وہاں کے عیسا ئی بڑے بڑے پڑھے لکھے لو گ اسلا م کو قبو ل کر ر ہے ہیں جب وہا ں اسلا م سے شکست کھا ئی تو وہ ان غریب مما لک کا ر خ کر تے ہیں.

ایک خبر ہم نے پڑ ھی ہے کہ اپریل سے پا کستا ن میں عیسا ئی مشنر ی والے ایک ریڈیو اسٹیشن کھولنے والے ہیں جس میں تقریبا پاکستان کی سا ری زبانون میں تبلیغ کر یں گے حتی کے بلتی زبا ن میں بھی، جبکہ بلتستا ن میں کو ئی ایک بھی عیسا ئی نہیں ہے اور وہ ریڈیو اتنا پا ور فل ہو گا کہ کو یت سے لیکر پاکستا ن ایران اس پو رے خطہ میں سنا جا ئے گا آپ دیکھ ر ہے ہیں کہ تبلیغ تو ہمیں کر نی چاہئے مسلما نون کو حق پہنچتا ہے کہ مسیحیو ن کو ہد ا یت دے کر مسلما ن بنا ئیں مگر الٹا یہ ہو ر ہا ہے کہ مسیحی مسلما نو ں کے مما لک میں آ کر مسلما نو ں کو عیسائی ا ور کا فر بنا ر ہے ہیں

جب سر کا ر محمد مصطفی ص نے اسلا م کا آ غا ز مکہ اور مد ینہ سے کیا اس زما نے میں عیسا ئی اور یہو دی با اثر تھے اور معجزا ت ما نگنے کے لئے آئے جب منکر ین نبو ت نے معجزے ما نگے تو اللہ کے رسول جب کنکر یا ں ہاتھوں پر لی تو پتھروں سے صد ا آنے لگی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ یہ عیسائی نہین مانیں گے انہو ں نے کہا ہم اس وقت مانیں گے جب آ پ اس در خت کو حکم دین تویہ درخت اپنی جگہ چھو ڑ کر آ پ کی خد مت میں آ جا ئے اللہ کے رسو ل نے اشا رہ کیا در خت نے اپنی جگہ چھو ڑ د یا اور در خت سے بھی وہی صد ا آئی لا الہ الااللہ محمد رسول

اللہ پھر بھی یہ منکر ین نبو ت نہیں مانے کہنے لگے ہم تب ما نیں گے کہ اس در خت کے دو ٹکڑے ہو جا ئیں اللہ کے رسول نے اشا رہ کیا در خت کے دو ٹکڑے ہو گئے پھر بھی نہ ما نیں کہنے لگے ہم تب ما نیں گے کہ یہ دو نوں ٹکڑے آپس میں مل جا ئیں اور وا پس پہلی جگہ پر چلے جا ئیں اللہ کے رسو ل نے اشا رہ کیا درخت کے دو نو ں ٹکڑے مل گئے اور در ختوں کے پتو ں سے آ واز آنے لگی لا الہ لااللہ محمد رسو ل اللہ یہ معجزا ت تھے جو ما ننے والے تھے ایما ن لے آئے یہو دی اور نصر انی انکا ر کر تے رہے

اللہ کے رسول نے منا ظرہ کی دعو ت دی ہم منا طرہ کر ناچاہتے ہیں اللہ کے رسول اپنی نبو ت کو تو ریت اور انجیل سے ثا بت کر نا چا ہتے تھے اور ثا بت کر چکے تھے اور دلا ئل پیش کر ر ہے تھے تین دن گذ ر گئے مگر پھر بھی یہ عیسا ئی اور یہو دی ایما ن نہ لائے اب پر وردگا ر نے حکم دیا میرے محبو ب اب منا ظرہ کی ضرورت نہین ہے

مبا ہلہ کی ضرورت ہے اب منا طر ہ بہت ہو چکا ہے تین دن سے آ پ زحمت کر ر ہے ہیں دلیل پر دلیل لا رہے ہیں مگر یہ ماننے والے نہیں ہیں ان سے کہہ دیں کہ منا ظر ہ کے لئے آؤ اب منا ظر ہ کیا ہے مبا ہلہ کیا ہے مناظر ہ میں آپ بھی دلیل دیتے ہیں سا منے والا بھی د لیل لا تا ہے

آ پ بھی ثبو ت پیش کر تے ہیں سا منے وا لا بھی ثبو ت پیش کرتا ہے جس کے دلائل مضبوط ہوتے ہیں اس کو فتح ملتی ہے اور جس کے دلائل کمزور ہوتے ہیں اس کو شکست ملتی ہے یہ تو ہے منا ظرہ، اب مبا ہلہ کیا ہے مباہلہ یہ ہے کہ اگر منا ظرہ سے نہین ما نتے ہیں تو تم بھی مید ان میں آؤ ہم بھی مید ان میں آئیں گے اور خد ا سے دعا ما نگتے ہیں پر وردگار جو با طل پر ہے اس پر عذا ب ناز ل کر. اب یہا ں ما ننے اور نہ ما ننے کا مسئلہ نہیں ہے اب یہا ن لمبی بحث کی ضرورت نہیں ہے پروردگا ر نے فر ما یا: اے میرے محبو ب ان سے کہدو( فقل تعالوا ندع انبا ئنا و ابنا ئکم ) تم اپنے بیٹو ں کو لیکر آؤ ہم بھی اپنے بیٹوں کو لیکر آئیں گے( وانفسنا وانفسکم ) تم اپنے نفسوں کو لیکر آ ؤ ہم اپنے نفسوں کو لیکر آئیں گے( نسا ئنا و نسائکم ) تم اپنی عورتوں کو لیکر آؤ ہم بھی ا پنی عورتوں کو لیکر آئیں گے

تا ریخ اسلا م گو اہ ہے تا ر یخ انسا نیت گواہ ہے جب پنچتن پا ک مید ان مبا ہلہ میں آ ئے جب ان نصر ا نی علما ء کی نظر حسن اور حسین کے چہر ہ پر پڑی، مولا علی - کے چہر ہ پر پڑی تو یہ کہنے لگے اے عیسائیو ں خبر دا ر مباہلہ نہ کر نا کیو ں کہ ہم ایسے چہروں کو دیکھ رہے ہیں کہ یہ اگر پہا ڑوں کو حکم دیں تو پہا ڑ اپنی جگہ سے ہٹ جا ئیں اگر تم نے مبا ہلہ کیا تو تمہا ر ی نسل ختم ہو جا ئے گی لہذا مباہلہ میں مسیحیو ں نے شکست کھا ئی اور منا ظرہ میں بھی شکست کھا ئی اور آج بھی اس توریت اور انجیل میں اس قدر آ یتیں مو جو د ہیں کہ کسی بھی مو ضو ع پر مسیحی مسلما نو ں کو شکست نہیں دے سکتے ہیں مگر افسوس کی با ت ہے کہ مسلما ن ذرا اس امر کی طر ف متو جہ نہین ہیں، عرض کیا گیا ہے کہ اگر ایک مسلما ن ا یک عیسا ئی کو مسلم بنا ئے تو دنیا کا نقشہ بدل سکتا ہے کیوں کہ اسلا م دین حق ہے اسلا م دین منطق ہے اسلا م کے پا س جو فلسفہ وہ دنیا کے کسی مذہب کے پا س نہیں ہے اسلا م ترقی یا فتہ مذہب ہے خد ا کا مذہب ہے تو ریت سے بھی ثا بت کر سکتے ہیں انجیل سے بھی ثا بت کر سکتے ہیں سا ئنس کو سامنے رکھ کر آ پ اسلا م کی عظمت کو سمجھ سکتے ہیں

ایک شخص افریقا، غانا کا تھا پہلے وہ مسیحی تھا پھر مسلما ن ہوا

پھر الحمد للہ مو من بن گیا اور جن آیتون سے وہ مسلما ن ہوا وہ حضر ت عزیر کے با رے میں تھی نیمیا چپڑ کا نمبر دس کہ حضرت عزیر نے سجدہ کیا اوریہی سجدہ والی آیت سبب بنی جو اس نے تحقیق کی، لیکن یہ ایک آ یت تھی جو عرض کی گئی ہے تو چپٹر کا نام جنیسز چپڑ کا نمبرسترہ ۱۷ اس میں ذ کر حضرت ابر اہیم کا ہے آیت کا نمبر تین t this abrah feel face down an the dust اور جب حضرت ابر ا ہیم نے اپنی پیشا نی کو خاک پر رکھا اور جب حضرت ابر ا ہیم نے اپنی پیشا نی کو خا ک پر رکھی تو اسی و قت خد ا کی طرف سے و حی نا ز ل ہو ئی اے ابر ا ہیم ، تو ہے چپڑ کا نمبر ۰ ۲ ہے آ یت کا نمبر ۶ moses and Aron trun away from the people and wen to the antrans of the trabule makel where they fel face dow n on the ground on thre gloryspresence of the lord apeard to them حضرت مو سی اور حضرت ہا رو ن ذرا لو گو ں سے دو ر ہوئے اور د و نوں نے اپنے پیشانیوں کو سجدہ میں رکھ دیا

جب مو سی اورہا ر ون سجدہ میں گئے انہون نے حا لت سجدہ میں قر ب پروردگار کو حا صل کیا، چپٹر کا نا م جشوعہ نمبر ۵ and this jshoa fell with his face to t he ground حضرت یو شع بن نو ن نے اپنے پیشا نی کو سجدہ میں رکھدیا

انجیل میں آ یا ہے چپٹر کا نمبر متھیو ۲۶ آ یة کا نمبر ۳۹حضرت عیسی کا ذ کر ہے he went on a little farther and fell face down on the ground praying my father if it is posible late this cup of sufring be taken away from me حضرت عیسی نے اپنی پیشا نی کو سجدہ میں ر کھا اور دعا ما نگی اگریہ ممکن ہے تو میری اس دعا کو قبو ل فر ما ئے

اب یہ تو ریت اور انجیل ہے حضرت ابر اہیم بھی سجدہ کر رہے ہیں حضرت مو سی کے سجدہ کا ذ کر ہے حضر ت عزیر کے سجدہ کا ذ کر ہے حضرت ہا ر ون کے سجدہ کا ذ کر ہے حضر ت عیسی کے سجدہ کا ذکر ہے تو ہم عیسا ئیو ں سے سوال کر سکتے ہیں کہ تمھا ر ا کر دا ر سچا ہے یا تو ریت اور انجیل سچی ہے کیو ں کہ تو ریت اور انجیل میں تویہ ہے کہ تمام بزر گ انبیا ء سجدہ کر تے ہو ئے اس د نیا سے گئے ہیں مگر عیسا ئیو ں کی کسی عبا د ت میں سجدہ نہیں ہے لہذا اگر تو ر یت اور انجیل حق ہے تو سجدہ کی عبا د ت بھی حق ہے اور نہ عیسائیوں کے یہا ں یہ عبا دت نظر آ تی ہے اور نہ یہو دیوں کے یہاں یہ عبا د ت نظر آ تی ہے مگر الحمد للہ مسلما ن پا نچ وقت ہر رکعت میں دو سجدہ کرتے ہیں

عزادا ری امام حسین بہتر ین عبا د ت ہے اسلا م میں کو ئی بھی عبا د ت شر ط اور شر ا ئط کے بغیر نہیں ہے اللہ کے رسو ل سر کا ر حضرت محمد مصطفی ص عبادت کے شر ا ئط میں ایک اہم شر ط بتا تے ہیں کو ئی بھی شر ط ہو روزہ ، نماز ، زکا ت ، کو ئی بھی عبا د ت ہویہ روا یت بحا ر الانوار کی آ یت ہے فر ما تے ہیں:العبادة مع الحر ام کالبناء علی الما ء اے عبا د ت کر نے والو! سنو! اے حا جیو! سنو ر سول خدا فر ما تے ہیں اگر کو ئی عبا دت بھی کر ر ہا ہے حرام کا ما ل بھی کھا ر ہا ہے رشو ت کا ما ل بھی کھا رہا ہے ظلم کا ما ل کھا رہا ہے اللہ کے رسو ل فر ما ر ہے ہیں: اس انسان کی مثا ل اس انسان جیسی ہے کہ جو پا نی پر گھر بنا نا چاہ رہا ہے فر ما یا، پا نی سمندر کے اندر گھر نہین بن سکتا ہے ا گر رزق حلا ل نہین ہے تو اس عبا د ت کا کو ئی فا ئدہ تجھے نہین ملتا ہے اس عبا د ت سے آخرت میں کو ئی نجات نہین مل سکتی ہے شر ط عبا دت یہ ہے کہ لقمہ حلا ل ہو نہج البلا غہ میں فر ما یا ہے کہ مو لا علی - اپنے پیا رے صحابی بصرہ کے گورنر، عثمان بن حنیف کو خط لکھتے ہیں اور اس میں فر ما تے ہیں حضرت عثمان بن حنیف بصرہ کے گو ر نر ہیں کچھ تاجر وں نے انہیں دعو ت دی و ہاں پر بڑے لذیذ کھا نے پکا ئے گئے مو لا علی -

-کے گو ر نر نے بڑی لذت سے انہیں کھا یا اوریہ خبر مو لا علی -تک پہنچی مو لا علی -اپنے گو رنر کو خط لکھتے ہیں فر ما یا: اے عثمان بن حنیف یا د رکھ اگر تو علی - کا ما نے والا ہے ا گر تو علی کا چاہنے والا ہے مو لا علی -کیا فر ما ر ہے ہیں : اے عثمان بن حنیف یا د رکھ جب بھی کو ئی لقمہ ان دو دا نتو ں کے در میا ن گذا ر دے تو پہلے یہ خود سوچ لے، تحقیق کر لے کہ یہ حلا ل سے حا صل کیا گیا ہے یا حرا م سے حا صل کیا گیا ہے؟ یہ نہیں کہ جو دعو ت میں بلا ئے چلے جاؤ پہلے تحقیق کرو. ظا ہرا مو من تھے مسلما ن تھے مو لا علی - فر ما تے ہیں تحقیق کرو جنہو ں نے تمہیں بلا یا ہے کیا ان کی کما ئی حلا ل سے ہے یا حرا م سے حا صل شدہ ہے اگر ان کا لقمہ حلا ل سے ہے تو پھر اس لقمہ کو نگلو ا گر شبہ بھی ہو جا ئے کہ اس لقمہ میں حر م شا مل ہے تو اسے پھنک دو

مو لا علی - کا دوسرا جملہ نہج البلا غہ میں فر ما تے ہیں: ”لا ورعہ“ ایسا کو ئی متقی نہیں ہے سب سے بلند تقوی کی تعریف مو لا علی -کی زبا ن سے سنئے ”لا و رعہ کالوقوف عند شبہ “ مو لا علی -نے فر ما یا ہے کہ اس سے بڑھ کر کسی کا تقوا نہیں ہے اس سے بڑھ کرکوئی ایمان نہیں، اس سے بڑھ کر کو ئی پرہیز گا ر نہیں ہے کہ جہا ں تمہیں شبہہ ہو جا ئے کہ یہ حرا م ہے تو اس لقمہ کو پھینک دو مثلا ایک مو من ہے اس کی تنخواہ بیس لا کھ ہے مگر اس کا بنگلا پچا س لا کھ کا ہے اس کی گا ڑی بیس لا کھ کی ہے نہ اس کے یہا ں زمین ہے اور نہ کو ئی ا و ر کا رو با ر ہے لہذا یہاں شبہہ ہے کہ شا ید رشوت لے ر ہا ہو اگر کو ئی انسان شبہہ والی غذا کو چھو ڑ دے تو اس سے بڑھ کر کو ئی پر ہیزگا ری نہیں ہے یہ بڑا تقوا ہے اوریہی جملہ حضرت امام زمانہ عج ا پنی دعا میں فر ما تے ہیں، اے مو منو ن اس طر ح سے دعا ما نگو اس طرح سے زندگی بسر کرو مو لا کس طرح سے مو لا فر ما تے ہیں:و طهر بطو ننا من الحرا م و الشبهه اے میرے ا للہ میرے پیٹ کو حرا م سے بھی بچا اور جس غذا میں شبہہ ہو اس غذا سے بھی بچا ، مو لا علی

- فر ما تے ہیں: سب سے بڑا تقویٰ یہ ہے، امام زما نہ فر ما تے ہیں اس دعا پر عمل کرو شبہہ نا ک غذا کو بھی چھو ڑ دو، مو لا سے سوا ل کیا گیا اس کی کیا وجہ ہے اب مو لا اپنے خاص صحا بی کمیل سے اس کی وجہ بتا تے ہیں ، مو لا علی - فر ما تے ہیںیا کمیل القلب و اللسا ن یقو ما ن با لغذا اگر انسان کا دل نہ ہو تو عبا د ت نہیں ہو سکتی ہے دعا نہیں پڑھ سکتا ہے جب تک زبا ن نہ ہو یا قلبی ذ کر ہے یالسا نی ذ کر ہے، مو لا فر ما تے ہیں اے کمیل دل اور زبا ن سے عبا د ت ہو تی ہے تیری زبان اور قلب غذا سے قو ت لیتی ہے اگر تیری غذا حرام ہے تولم یتقبل الله تسبیحا و شکراً ا گر تو غذائے حر ام سے زبا ن اور دل کو طا قت د ے ر ہا ہے تو اے کمیل سن لے نہ تیری تسبیح قبو ل ہے اور نہ تیری عبا دت قبو ل ہے اگر تیری یہ زبا ن حر ام غذا سے طا قت لے رہی ہے تو نہ تیری تسبیح قبول ہے اور نہ تیری عبا د ت اور نہ تیرا شکر اللہ کی با ر گا ہ میں قبو ل ہے آج کے زما نے کا سب سے بڑا مشکل کام رزق حلال ہے اور رزق حلا ل کھا نا اس زما نے میں سب سے مشکل کا م ہے نا ممکن نہین مگر مشکل ضرور ہے جس طر ح سے مو لا نے فر ما یا: کہ تیری دعا قبو ل نہیں ہے نہ تیری نماز قبو ل ہے کیو ں قبو ل نہیں ہے یہ اس لئے ہے، مثا ل کے طور پر ہم فصل لگا نا چا ہتے ہیں مگر پا نی آ پ نے وہ دے دیا جو زہریلا ہے تو پورے درخت جل جا ئیں گے پھل نہین دیں گے ثمر نہین ملے گا ،مو لا علی - یھی فر ما نا چا ہتے ہیں اگر تیری غذا حلا ل نہیں ہے نہ نماز قبو ل ہے نہ رو زہ قبول ہے نہ کو ئی عزاداری قبو ل ہے ہر عبا د ت کے لئے شر ط ہے کہ لقمہ حلا ل ہو نا چاہئے اگر غذا حر ام ہے تو خدا کسی عبا د ت کو قبو ل نہین کر ے گا

اگر انسان کی نما ز قبو ل نہ ہو رو زہ قبو ل نہ ہو ا گر دیگر عبا د ا ت قبو ل نہ ہو ں تو یہ انسان کس قدر بدبخت ہے ایسے بدنصیبوں کے با ر ے میں قر آن نے فر ما یا، اے انسان جب تم اس پستی کے وا دی میں گرجا ؤکہ تیری عبا د ت قبو ل نہ ہو تیر ی دعا قبو ل نہ ہو( اولا ئک کا لانعا م بل ه م اضل ) اس و قت تو پست ترین حیو ان سے بھی بد تر ہے آ ج کا سب سے بڑا مشکل امر رزق حلال ہے کیوں کہ حر ام اس قدر زیا د ہ ہو چکا ہے کہ شنا خت ختم ہو چکی ہے کہ حلا ل کیا ہے حر ام کیا ہے اس قدر ا س زما نے میں حر ا م خوری عروج پر پہنچ چکی ہے اور اس قدر وہ قلیل مو منین ہیں جو فکر کر تے ہیں کہ بطن میں حرا م لقمہ نہ جائے اس لئے آج مصیبتیں ہیں اسی لئے آج فا سق اور فا جر حکمرا ن آپ پر مسلط ہیں کیو ں کہ دعا قبو ل نہیں ہو تی ہے

کو فہ میں ایسے مو منین بھی ہو ا کر تے تھے کہ جب با دشا ہ کو بد دعا دیتے تھے تو با دشا ہ مر جاتے تھے ایک با دشا ہ آ یا اسے بتا یا گیا کہ یہاں او لیا ء خدا رہتے ہیں جب وہ کسی با دشا ہ کو بد دعا کر تے ہیں تو وہ با دشا ہ مر جا تے ہیں ابن زیا د مر گیا فلا ن مر گیا ایک فہرست ہے اب اس با دشا ہ نے کہا ٹھیک ہے میں ان کا بندوبست کرو لوں گا کیا کیا ان تمام شہر والوں کو بلا یا کہا کہ میری طرف سے آ پ لوگوں کو دعوت ہے اور ان عابد وں کو دعو ت میں بلا کر ان کو حر ام کھلا یا ا ور پھر جب سب لو گ کھا چکے انہیں بتا بھی دیا اب جتنی دعا ئیں میرے خلا ف کر نی ہے کر تے رہو میں ہو ں ظا لم مگرمیں نے ا پنے دفا ع کا بندو بست کر لیا

میں نے تمہیں حرام کھلا دیا ا ب نہ تمہا ر ی دعا قبو ل ہے اور نہ بد دعا قبو ل ہے اوریہ حقیقت ہے ا گر لقمہ حرا م پیٹ میں ہو تو تم لو گو ں کی دعا قبو ل نہیں ہو تی ہے ہم کس نبی کے ما ننے والے ہیں کس مو لا علی - کے ماننے والے ہیں ا للہ کے رسول جب حضرت آئے تو و ہ ز ما نہ کس قدر فقر و فا قہ کا زمانہ تھا جنگوں پر جنگیں ہو رہی تھیں چا ر سو اصحا ب صفہ تھے وہ اس قدر غریب تھے نہ ان کے یہا ں اپنا گھر تھا

اور نہ کھا نے کے لئے پیسہ تھا یہ لو گ مسجد میں رہتے تھے اللہ کے رسو ل جو کچھ جہاں سے بھی مل گیا آ کر انہیں اپنے ہا تھوں سے کھلا تے تھے

اللہ کے رسول کو کچھ کھجو ریں ملیں تو وہ آ کر خود اپنے ہا تھوں سے ان کو تقسیم کی ایک نے کہا اللہ کے رسول مگر ہم میں سے کسی کا پیٹ نہیں بھر ا ہے. اللہ کے رسول نے کہا میرے پا س جو کچھ تھا لیکر آ یا ہوں پھر جہاں سے ملے گا میں آ پ کی خد مت میں حاضر کردوں گاا للہ کے رسو ل ص نے فر ما یا آ ج تم لو گ اس قدر فقیر ہو کہ تم پیٹ بھر کر کجھو رنہیں کھا سکتے ہو ا یک زما نہ آ ئے گا کہ مسلما ن اس قدر پیسہ وا لے ہوجا ئیں گے کہ ان کے گھروں کی دیوا ر یں اس قدر بلند ہو جا ئیں گی کہ وہ خا نہ کعبہ کی د یواروں سے بھی بلند ہو ں گی

اس زما نہ میں یہ تصور نہیں تھا کہ اتنے بڑے بڑے گھر بنا ئے جا ئیں گے اللہ کے رسول ص فر ما ر ہے ہیں کہ ا یک زما نہ میں مسلما ن اتنے امیر ہو جا ئیں گے کہ جب دستر خو ان پر بیٹھیں گے تو ان کے پلیٹوں میں بو ٹیا ں ہی بوٹیاں ہوں گی

وہ بیچا رے اصحا ب جو فقر و فا قہ کے شکا ر تھے کہنے لگے اللہ کے رسول کا ش ہم اس زمانے میں ہوتے، اللہ کے رسول نے فر ما یا: نہیں بہت برا زما نہ ہے یہ مت کہو کہ وہ اچھا زما نہ ہے سارے یہ چار سو فقرا ،اصحا ب حیر ان ہو گئے اللہ کے رسول ابھی تو آپ تعریف کر ر ہے تھے کہ وہ بہت اونچی اونچی عمارتیں بنا ئیں گے

جب دستر خو ان پر بیٹھیں گے تو و ہ ہما ری طر ح بھوکے وپیا سے نہین ر ہیں گے بلکہ گو شت ہی گو شت ان کے پلیٹو ں میں ہو گا مگر آ پ فر ما ر ہے ہیں وہ بہت بر ا زما نہ ہے اللہ کے رسول نے فرما یا وہ بہت بر ا ز ما نہ ہے ہا ن تم فقیر ہو مگر تمھا ر ے شکم میں لقمہ حر ام نہیں ہے مگر وہ زما نہ ہے کہ لو گوں کے پیٹ حرا م غذا سے بھر ے ہو ئے ہیں وا قعاًیہ وہی بر ا زما نہ ہے اللہ کے رسو ل اکثریت کی با ت کر ر ہے ہیں کہ اس زما نے میں اکثر لوگ حرام خور ہوں گے آ ج کتنے مسلما ن ہیں جو سود خو ر بھی بن چکے ہیں اور سود کو اپنے عقلی دلا ئل سے جا ئز ہو نے کے لئے کو شش کر تے ہیں یعنی خود کو خدا سے بھی زیا دہ عالم اور عاقل سمجھتے ہیں آ ج کے زما نے کا مشکل ترین زما نہ رزق حلا ل ہے اگر ہم نے رزق حلال حا صل کر لیا تو ہما ری ہر عبا د ت قبو ل ہے کس نبی کے ہم ما ننے والے ہیں کس مو لا علی - کے ما ننے والے ہیں تا ر یخ میں ملتا ہے کہ مو لا علی - کے پا س معمو لی کھجو ریں تھیں کجھو ر کے ساتھ رو ٹی کھا ر ہے تھے اور وہ کجھو ر کو ا لٹی میں سب سے ادنیٰ کوا لٹی کی کھجو ر یں تھیں پھر تاریخ میں ملتا ہے کہ مو لا علی - پا نی میں ابلا ہو ا کدو جو کی سو کھی رو ٹی کے سا تھ کھا رہے ہیں اور کھا نے کے بعد کہتے ہیں شکر الحمد للہ ہم اس علی - کے ماننے والے ہیں اس کے بعد مو لا فر ما تے ہیں: اے لوگو ں یہ انسان کا پیٹ ہے جو اس سادہ غذا سے بھی بھر جا تا ہے اس کے بعد پیٹ پر ہا تھ رکھ کر فر ما تے ہیں خدا کی لعنت ہو اس پر جو پیٹ کی وجہ سے جہنمی بنے آ خر کھا نے کی لذت کب تک ہے لذیذ سے لذیذ تب تک ہے جب تک کھا نا منہ میں ہے نگلنے کے بعد کو ئی لذت نہیں ہے وہی لذیذ کھا نا آٹھ گھنٹے کے بعد نجس تر ین بد بو دا ر تر ین شکل میں بیت الخلا میں بطن سے خا ر ج ہو جا تا ہے اس غذا کے لئے انسان خدا کی مخا لفت کر ے جو غذا آ ٹھ گھنٹے میں انتھا ئی نجس تر یں شکل وصور ت اور بد بو کے ساتھ بطن سے خا ر ج ہو جا تی ہے اس غذا کے لئے انسان اس قدر بد بخت بن جا ئے کہ نہ عبا د ت قبول، نہ نماز قبو ل، نہ ر و زہ قبو ل، کو ئی بھی عبا د ت قبو ل نہیں ہے حق ہے جو مو لا نے فر ما یا، لعنت ہو اس پر جو اس پیٹ کی وجہ سے جہنمی بنے اگر کو ئی شکم پرست ہے وہ خو د کو خدا پرست نہ کہلا ئے اگر کو ئی لذت پر ست ہے لذت کے سا منے خد ا کی بھی تو ہین کر ر ہا ہے نبی کی بھی تو ہین کر ر ہا ہے انسان شکم پر ست اور ہے خدا پر ست اور ہے خدا پرست کبھی شکم کی وجہ سے دو منٹ کی لذت کی وجہ سے لقمہ حرام کی طر ف ہاتھ نہیں بڑھا تا ہے اگر رزق حلال مل گیا تو سب کچھ مل گیا عبا د ت کے دس اجزا ء ہیں روزہ حج زکا ت یہ تمام عبا د تین جو ہیں اللہ کے رسول فر ما تے ہیں ا یک جز ء میں ہیں مگر عبا د ت کا نو حصہ رزق حلال کما کر رزق حلا ل کھا نے میں ہے نماز نو حصہ عبا دت نہیں ہے روزہ نو حصہ عبا د ت نہیں ہے فر ما یا سا ری عباد تیں ایک جز ء میں شامل ہیں مگر نو حصہ عبا د ت رزق حلا ل کمانے اور رزق حلال کھا نے میں ہے اگر انسان رزق حلا ل نہیں کھا ر ہا ہے تو وہ انسان کتے، خنزیر سے بھی بد تر ہے پیٹ تو کتا بھی اپنا بھر لیتا ہے پیٹ بھر نا کو ئی کما ل نہیں ہے خد ا رزق کا فر کو بھی دیتا ہے خد ا رزق نجس ترین حیو ان کو بھی دیتا ہے کمال یہ ہے کہ جب انسان لقمہ کو منہ میں رکھے اس کے با رے میں سو فیصدی یقین ہو کہ یہ حلال ہے آج کے زما نے میں کچھ لو گ جا نتے ہو ئے حرا م کھاتے ہیں رشو ت لیتے ہیں خیا نت کرتے ہیں کچھ لوگ بیچا ر ے نا د انی میں حرا م کھا تے ہیں کچھ لو گ یا ری دوستی میں حرا م کھا تے ہیں دو ست اس کا ما ل تو حرام ہے ا گر اس کے دعو ت میں نہ جا ئیں تو و ہ نا را ض ہو جا ئے گا مختلف بہانوں سے کسی نہ کسی طر ح سے یہ لقمہ حرا م پیٹ میں چلا جا تا ہے جہاں لقمہ حرام پہنچا وہا ں عبا د ت ضائع ہو جا تی ہے عبا د ت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ہے اللہ کے رسول فر ما تے ہیں: ا گر کو ئی حرام کھا رہا ہے وہ ایسے کا م کر ر ہا ہے کہ جیسے کو ئی احمق اور نا دا ن دریا میں گھر بنا نا چا ہتا ہے پا نی میں گھر نہیں بن سکتا ہے، حرا م کھا نے والا اپنا گھر جنت میں نہیں بنا سکتا ہے

اختتام


مجلس ۲

بسم الله الرحمن الرحیم

فقد قال الله تبارک و تعا لی فی کتابه المجید

( الذین یتبعو ن الرسو ل النبی الامی الذی یجدو نه مکتو با عندهم فی التو را ة و الانجیل )

قر آن کر یم میں پروردگا ر اعلا ن فر ما ر ہا ہے اے مسلما نو ! جس نبی پا ک محمد ص کا تم کلمہ پڑھتے ہوجس نبی کی تم اتباع، پیروی کر تے ہو اے مسلمانوں تمہارے نبی کا مقام اس قدر بلند ہے کہ ہم نے تمہا رے نبی کی ولادت سے پہلے ان کا ذ کر انجیل میں بھی کیا ہے یجدو نہ یعنی قیا مت تک تمہار ے نبی کاتذ کرہ توریت اور انجیل میں باقی ر ہے گا

لہذا مسلما نوں کو تبلیغ کا حق پہنچتا ہے کہ ہم آگے بڑھ کرمسیحیوں کو مسلما ن بنا ئیں کیوں کہ ان کی کتا بوں میں ہما رے نبی کابھی تذ کر ہ ہے اور اسلام کی حقانیت کا بھی تذ کر ہ ہے لیکن کیاو جہ ہے کہ اس کے بجا ئے مسلمان عسا ئیوں کو مسلما ن بنائیں مگرعیسا ئی مسلمان مما لک میں آ کر مسلما نو ں کو عیسا ئی بنا رہے ہیں اس کی کیا وجہ ہے دوبڑے ظا ہر ی اسبا ب نظرآتے ہیں تو اس وقت دنیا میں جو پا ورفل چیزہے وہ ہے میڈ یا یعنی ریڈیو، ٹیلیویزن ، اخبا رات، بڑی آسا نی سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ۹۰ فیصدی جودنیا کی میڈ یا ہے اس پر یا عیسائیوں کا قبضہ ہے یا یہو دیوں کاقبضہ ہے مسلما نوں کے ہاتھ میں کوئی میڈیا نہیں ہے

بین الاقوامی سطح پر کوئی ہمارا میڈیانہیں ہے میڈ یا کے بعدجوسب سے زیادہ طا قتورچیز وہ آج کے زما نے میں اقتصادیات ہیں سو فصدی دنیا کے اقتصادیات پر عیسا ئیوں اوریہو دیوں کاقبضہ ہے عیسا ئی ،یہو د ی جب چا ہیں جس ملک کی کر نسی کوکا غذ بنا سکتے ہیں مثا ل کے طو رپرایک زما نہ تھاکہ آپ ایک ڈا لر خریدنے کے لئے با رہ رو پیہ دیتے تھے آج آپ ایک ڈالر خرید نے کے لئے ساٹھ روپئے خر چ کر رہے ہیں کہاں با رہ کہاں ساٹھ رو پیہ کتنے ز یا دہ پیسوں سے آپ ڈ ا لرخر ید رہے ہیں جبکہ آپ د بئی میں جائیں کہ درہم اور ڈا لر کا رشتہ ایک ہے یہاں بارہ سے ساٹھ کیوں ہو ا ا س سے کتنانقصا ن ہوااور عیسا ئیت کوکیافا ئدہ ملا یعنی اب جو چیز دس سال پہلے دس روپیہ کی تھی عیسائی دس روپیہ دے کر خریدتے تھے آج وہ چا ر آنے میں خر ید رہے ہیں

کیوں کہ ا قتصادپر آج کے فرعو نو ن کاقبضہ ہے لہذاجب وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان ممالک میں اقتصا د ی بحر ان بپا کر تے ہیں مصنوعی فقرپید ا کرتے ہیں جس طرح سے اتھیوپی انہوں نے قحط اور مصنو عی فقر کو پید ا کیاتھا او ر اس کے پیچھے ورلڈبینک کا ہا تھ تھا ا م اف آ ئی mfi کا ہاتھ تھایہ دونوں ادارے جن کے خلا ف اب کئی ممالک میں مظا ہر ے ہونے لگے ہیں لو گ سمجھ چکے ہیں کیسے ڈا کو ہیں یہ راہز ن ہیں یہ لو گ مصنوعی فقر کو ایجادکر تے ہیں عیسا ئی ایک طر ف مصنوعی فقر اور غربت کو پید ا کرتے ہیں

اور جوہمارے ملک میں جب فقر بڑھتا ہے تو مشنریزکوموقعہ ملتا ہے کہ وہ گیہوں لے کرآتے ہیں کپڑے لیکر آتے ہیں تو اس طر ح سے مسیحیت کی پر چار کرتے ہیں اوراس میں ہمارے حکمر ان بھی ڈایرکٹ یاانڈا یرکٹ شریک ہیں چاہے یہ زمانہ ہویاگذ شتہ زما نے ہوں ورلڈبینک کی بالادستی ان غریب ممالک پر قا ئم رہی ہے اور ر ہے گی اورجب تک ان دو اداروں کی بالادستی قا ئم ر ہے گی یہاں غربت بڑھتی رہے گی اور جب غربت بڑ ھے گی تو مسیحیو ں کو تبلیغ کر نے کا مو قعہ ملے گا اور مسیحیت جہاں بھی بڑھی ہے دھوکے اور فریب سے بڑھی ہے اتھوپیا کو ورلڈ بینک نے اس شر ط پرقر ضہ د یا کہ آپ گند م کی فصل نہیں لگائیں گے اور آج بھی نہیں معلو م جس ملک کو ورلڈبینک سے قرضہ ملتا ہے تو ان کے لئے چا لیس پچا س قسم کے شر ا ئط ر کھے جا تے ہیں ا ورانہیں شر ائط کے سا تھ اس ملک کی اقتصا د یا ت کوتبا ہ ا ور بر با د کیاجاتاہے اور نا د ان پیسہ پرست حکمر ان دنیا پر ست حکمر ان اس ظا ہری ڈا لرکی چمک میں آ کر اس فیصلہ پر سا ئن کر دیتے ہیں اورپو رے ملک کوتبا ہ اور بر با د کر د یتے ہیں اتھوپیا میں کیسے غربت بڑھی ا ن کوکہاگیا کہ آپ گند م کی فصل نہیں لگا ئیں گے اس کے بد لہ میں آ پ کپا س کی فصل لگا ئیں تو ہم آپ کو لو ن دیں گے ا ب کپا س کی فصل لگی کپاس کو امریکا سستا لے گیااب جب کپا س چلی گئی تو اسے کیا کھائیں گے مٹی تو نہیں کھا سکتے گند م ہو تی تو وہ کھا تے لہذایہ سا زشی قحط تھا جواتھوپیا میں تھی اس کے بعدکئی سو مشنریزوالے لو گ گند م لیکر پہنچ گئے اورکہا کہ گند م لے لو اور عیسا ئی بن جاؤلہذا ا ب آپ د یکھ ر ہے ہیں ایسے عیسا ئیت بڑ ھی ہے فریب اور دھو کہ سے بڑھ ر ہی ہے نہ لا جک کے ذریعے سے بڑھ ر ہی ہے اورنہ منطق کے ذریعے سے بڑھ ر ہی ہے ہم آ ج بھی اس توریت اور انجیل سے ا سلا م کی حقانیت کو ثا بت کر سکتے ہیں

ہم اسلا م کوفلسفی دلائل سے غیر وں کی کتا بو ں سے اور توریت اور انجیل سے بھی ثا بت کر سکتے ہیں

آ پ نے گذشتہ دروس میں سنا ہوگاکہ حضرت ابراہیم کا سجدہ بھی مو جودہے حضرت مو سی کا سجدہ ثابت ہے ، حضرت عزیر کا سجدہ ثا بت ہے حضرت ہا ر ون کا سجدہ ثا بت ہے حضرت عیسی کا سجدہ ثابت ہے جب تمام بزرگان انبیا ء سجدہ کر تے ہو ئے توریت اور انجیل میں نظر آ تے ہیں توہما را سوال ہے کہ ا ے عیسا ئیو! ا گریہ تو ریت اور انجیل حق ہے توتمہاری کسی عبا د ت میں سجدہ نظر کیوں نہیں آتا ہے مگرہم الحمد للہ مسلما نوں کی نمازسجدہ کے بغیر نہیں ہو سکتی ہے

آ ج کل عیسا ئی اوریہود ی ایک بہت بڑا پروپیکنڈہ اسلا م اور قرآن کے خلاف کر تے ہیں کہتے ہیں کہ اسلا م دین بر بر یت ہے اسلا م کے قوانین و حشی ہیں اسلا م کے قو ا نین میں جہا لت کا عنصر ہے حیو انیت کا عنصر ہے بہت بڑے بڑے پرو پیکنڈے ہو تے ہیں

کبھی یہ بیسیک بھی وائس آف امریکاسے ا کثر اخبا ر وں میں یہ مضامین نظر آتے ہیں ا سلا م دین بربر یت ہے قر آن اور اسلا م میں ہے کہ اگر کو ئی مرد یا عور ت زنا کر ے تو اسے کمرتک دفن کرو اور اسے اتنے پتھر ما رو کہ وہ مر جا ئے یہ قا نو ن بربر یت کا قا نو ن ہے اور افسوس جولو گ وسٹر نائز ہیں و ہ اس پروپیکنڈہ کا شکار ہو جا تے ہیں کہتے ہیں بات تو درست ہے کہ اتناسخت قا نون جس میں کو ئی ر حم کی گنجا ئش نہیں ہے کہ اسے اتنے پتھرما روکہ یہاں تک کہ وہ تڑپ تڑپ کرمر جا ئے سب سے بڑا پرو پکنڈہ ہے جب ا یر ان کا نقلا ب آ یا یہ سز ا ئیں شروع ہو ئیں تو انہوں نے پروپیکنڈہ کر نا شرو ع کیا یا کبھی زانی کو سعودی عرب میں سزا ئیں ملتی ہیں چہ جا ئیکہ و ہاں کا انداز کچھ اورہے پھربھی اسلا م کے خلا ف پروپیکنڈہ ہے کہ ا سلا م کے احکا م و حشیا نہ ہیں ہم تو ریت اور انجیل سے اس مسئلہ کو ثا بت کرنے سے پہلے اس سے عقلی دلیل دینا چاہتے ہیں

خود امریکا کے پلیس کی رپوٹ ہے امریکا جو خو دکوسوپرپا ورکہلا تا ہے امریکی پلیس کی رپور ٹ کے مطابق امریکا میں ہر ایک منٹ میں کسی نہ کسی شہرمیں کسی عور ت پر حملہ ہوتا ہے

اس و حشیا نہ حملہ سے اس عو ر ت کی عز ت کو بر با دکیا جا تا ہے اور اکثرمواقع پر اسے زخمی یا اسے قتل کیاجا تا ہے

تا کہ یہ شکا یت پلیس تک نہ پہونچے ہرایک منٹ میں، توچو بیس گھنٹوں میں کتنے کیسیسز ہوں گے ہز اروں کی تعداد ہے کہ جو خو دکو سوا لائزکہلاتے ہیں پڑھے لکھے کہتے ہیں اس ملک کا یہ حا ل ہے ہر ایک منٹ میں عور ت پر وحشا نہ حملہ کا سلسلہ آج بھی جا ری ہے اور ان خو ا تین سے جب انٹرویو میں سوال کئے جا تے ہیں

تووہ بھی ا یسی ہی کہتی ہیں کہ ا نکوایسی سز ا ئیں ان لو گوں کو دی جا ئے جیسی قرآن نے کہی ہیں ظاہرہے جہاں آگ جلے گی وہا ں احساس ہو گاجس عو ر ت کی زند گی بر با د ہو گی جسکی زندگی بر با د ہو گی و ہی اس فیصلہ کی حما یت کرے گا کہ یقینا اس طرح سے بر با د کیاجا ئے ا ب آئیے اسلا م کی طر ف ا یر ان میں انقلاب اسلا می کے بعد ز انیوں کو سنگسا ر کرنا شروع کیا ، قم میں ا کیس سا ل میں دو یا چا رسے زیا دہ لو گوں کوسنگسا رنہیں کیا گیا پو رے ملک میں اکیس سال میں پو رے ایر ان میں پچاس یا سا ٹھ افر اد ہو ں گے جنہیں سنگسا ر کیا گیا تھالیکن اس کے بعد اس کا فائدہ کیاہوانفسیاتی فائدہ یہ ہواکہ لا کھوں خو اتیں کی عز ت بھی بچ گئی اور اور جا ن بھی محفو ط ہو گئی کیو ں کہ شاہ ا یر ان کے زمانے میں اس زمانے میں تہران میں حملو ں کا ر یشو لنڈ ن اور امریکا کے برابر تھالیکن ا ب مشھد مقدس میں جا ئیں دو بجے تین بجے چا ر بجے تنہاعو ر ت حر م سے آ ر ام سے ا پنے گھرسے جا ر ہی ہے یہ وہی لو گ ہیں یہ ایک نفسیا تی قر آ ن کا فیصلہ ہے کہ ا گر ا یک مجر م کوسزادی جا ئے جو دیگر لو گ جو جرم بھی کر نا چاہیں گے تو نفسیا تی طورپر و ہ جر م سے رک جا ئیں گے اورہزاروں لو گوں کی جان بج جا ئے گی جبکہ امریکا میں ایک سال میں ر یپور ٹ آئی ہے ایسی خو ا تیں جن کو بر با د کرنے کے بعد قتل کیا جا تا ہے ان کی تعدادہزا ر وں میں ہے ا ب تو ریت ا ور انجیل سے اس مسئلہ کو ثا بت کر یں گے کیوں کہ بہت سا رے لو گ جو خودکو وسٹر نا ئز کہلا تے ہیں وہ بھی اس پروپیکنڈہ کے شکا ر ہو تے ہو ئے اور اعتر ا ض کر تے ہیں کہ اسلا م کی سز ائیں وحشیا نہ ہیں

تو چپٹر کا نا م ڈیوٹو رنمی چپٹر کا نمبربا ئس آیت کا نمبر بیس But spouse the man aqusasion are to and her wertnet who not be proved an such cases juje must take the girl to the ter father

یہ تو ریت کا حکم ہے کہ اگر کسی عو ر ت پر الزام ہو کہ اس نے بد کا ری کی ہے اس صورت میں اس عورت کو اس کے با پ کے گھر لے جاؤ

And man of the town will stone her to tha t she has cometed a disgrase full crime

اورجو شہر کا حا کم ہو وہ حکم دے کہ اس بد کا ر عور ت کو اتنے پتھر ما رویہا ن تک کہ اسے مو ت آجائے اب آ پ نے دیکھا کہ سنگسا ر کا حکم فقط قرآن مجید میں نہیں ہے بلکہ تو ریت اور انجیل میں بھی مو جو د ہے کیو ں کہ ان الدین عنداللہ الاسلا م خد ا کے نزد یک دین اسلا م ہے خضر ت آ دم کے زمانے میں بھی دیں اسلا م تھا حضرت نو ح کے زما نے میں بھی دین اسلا م تھا حضرت مو سی کے زما نے میں بھی دین اسلام تھا حضرت عیسی کے زما نے میں بھی دین اسلا م تھا اب اسی طر ح سے انجیل سے اسی طرح کا ایک رفریس نیو ٹسٹامناف جو ن جپٹر کا نام جو ن اور نمبر ۸ حضرت عیسی کولو گو ں نے کہا Teacher اے استا د محتر م They say to jeses this woman was cought in the very act of adelty the low of m oses say the ston her what do you say لو گو ں نے حضرت عیسی سے کہا کے اس عورت کو ہم نے پکڑا ہے ثا بت ہو اہے کہ اس نے بد کا ری کی ہے شریعت مو سی میں حکم ہے کہ اسے پتھر ما ر ما ر کر ختم کردو اے حضرت عیسی آ پ کا کیا حکم ہے so he stodup again and said " all write stone her but let thoses who have never sin throw the first

حضرت عیسی نے فرما یا صحیح ہے اسے پتھر مارو مگر میرا قا نو ن یہ ہے کہ اسے پتھروہ ما ر ے جس نے خودکبھی زنانہ نہ کیا ہو سنگسا ر کا حکم توریت سے ثابت ہے سنگسا ر کر نے کا حکم انجیل سے ثا بت ہے اب وہ عیسا ئی وہ یہو دی جس منھ سے کہتے ہیں کہ یہ احکا م وحشیانہ ہیں یاتو اپنی کتا بو ں سے جا ہل ہیں یا اس حقیقت کوچھپا رہے ہیں

اب ایک آ یت ا نجیل سے ہے نیو ٹسٹا من اف متھیو چپٹر مانمبرپا نچ میتھیو متی کی انجیل آیت کا نمبر ۲۷ حضرت عیسی فر ما تے ہیں you have hurd tha t the lose of m oses say dont cometed adenty but a sa y any one who even loke at woman with lust in his eyes ha s already cometed adenty

حضرت عیسی فر ما ر ہے ہیں حضرت مو سی کا قا نو ن ہے کہ بد کا ری نہ کرو بد کا ری گنا ہ کبیرہ ہے مگر میر ا قا نو ن یہ ہے اگر کو ئی آنکھو ں کے سا تھ کسی عو رت کی طر ف لذت سے دیکھے تو یہ انسان آنکھوں سے بد کا ری کرر ہا ہے اس کے بعد حضرت عیسیٰ فر ما تے ہیں even it is your good eyes cause you so if your eye اگرتمھار ی آنکھیں کتنی بھی اچھی ہوں لیکن اگر یہ آ نکھ تجھ سے گنا ہ کروا رہی ہے so lust got it out and throw it away اس آ نکھ کو نکا ل دواس کو دو ر پھینک دو چاہے وہ تمہا ری ا چھی آنکھ ہے اگرتم نے ا یک آنکھ کو دو رپھینکا فقط تم نے بدن کا عضو ضائع کیا لیکن اگروہ آنکھ باقی رہی اورتم آنکھو ں سے بدکا ری کر تے رہے اورتم آنکھوں سے بدکا ری کر تے رہے تووہ آنکھ سبب بنے گی کہ تمہا را بدن ایک دن جہنم میں جلے گاانجیل کیا کہہ ر ہی ہے حضرت عیسیٰ کیا کہہ رہے ہیں اور عیسائیوں کا عمل آ پ کیا دیکھ رہے ہیں حضرت عیسیٰ فر ما رہے ہیں اگر کسی عورت کو آنکھ سے حرام کی نظر سے دیکھ رہے ہو اس آنکھ کو نکا ل دوکیو ں کہ وہ آنکھ تمہیں جہنمی بنا ئے گی

چند سا ل پہلے امریکا کے ہو م منسٹر انھو ں نے آ کرٹلیویژن پر اعلان کیا ہما رے یہاں فیملی لائف ختم ہو ر ہی ہے اس وقت امریکا میں جو نیو جنریشن ہے وہ پچاس فیصدی سے زیا دہ وہ حرام زا دے ہیں جبکہ انجیل میں یہ کیو ں، آ ج عیسائیو ں کے یہاں شر م ختم ہے کیو ں آج عیسائی ہر ملک میں اقرار کر رہے ہیں کہ حرام زادوں کی تعداد حلال زادوں سے زیادہ ہے اس کی وجہ کیا ہے انجیل میں جبکہ یہ آیت بھی مو جود ہے عیسیٰ کا حکم بھی موجود ہے یہ اس لئے ہے کیوں کہ عیسا ئیوں کے یہا ں امر با لمعروف ختم ہو چکا ہے نہی عن المنکر ختم ہوچکا ہے اے مسلمانو ں امام حسین کا شکر ادا کرو اے مسلما نو! شکرکر بلا کے شہداء کا، اگر امام حسین -کر بلامیں علی اکبر جیسے جو ان قر با ن نہ کر تے اگر امام حسین -کر بلا میں علی اصغرجیسے لال قر بان نہ کر تے

اگر امام حسین -کر بلا میں عباس جیسے دلیر اور شجاع با وفا قر با ن نہ کرتے یاد رکھئے پھر آج مسلما نوں میں بھی نہ غیر ت ہو تی نہ شر م ہو تی اور نہ کو ئی حلا ل زا دہ ہو تا یزیدوہی کچھ کر ناچا ہتے تھے

جوعیسا ئی با دشاہ نے کیا آج امر با لمعروف مسلما نوں میں ہے وہ حسین کے صدقہ سے ہے آ ج نہی عن المنکر شیعہ سنی میں ہے وہ حسین کے صدقے میں ہے آج اگر غیر ت مسلما نوں میں ہے وہ حسین کے صدقے میں ہے ا گر حیااور شرم اور عفت خو اتین میں ہے تو حسین - کے صدقے میں ہے اگر حسین قر با نیا ن نہ دیتے تو آج ہما ری ملت کابھی وہی حشر ہو تاجوآج عیسائیوں کاحشر ہے کہ حلال زادوں کی تعداد کم ہے اور حر ام زادوں کی تعداد زیادہ ہے

زنا،بد کا ری ایسی چیز و ں کوگناہ تک نہیں سمجھا جاتاہے

اب آ پ نے اندا زہ لگا لیا کہ حضرت عیسیٰ کیاپیغا م دے رہے ہیں یہ وہی پیغا م ہے جو اہل بیت کا پیغام ہے حضرت امام جعفر صادق - کی بھی ایک نورا نی رو ایت ہے امام فر ما تے ہیں اے لو گو! اگرانسان متقی نہ ہواگر انسان متو جہ نہ ہوتوانسان کا بد ن کا عضو زناکا ری سے نجس ہو تا ہے مگر وہ جا ہل انسان بے خبر ہے فر ما یا: ا گر کو ئی اپنی آنکھ سے کسی کولذت سے دیکھ ر ہا ہے وہ اسکی یہ آ نکھ زناکے گنا ہ میں مبتلا ہے اگر کو ئی عورت کی خوبصورت آواز سن ر ہا ہے امام فر ما ر ہے ہیں یہ کا ن سے زنا اور بد کا ری کر رہا ہے ا گرکو ئی نا محر م عو ر ت سے ہا تھ ملارہا ہے توامام نے فرمایاہاتھ سے بد کا ری کر رہا ہے ا گر کو ئی فضو ل کلا م نا محر م عورت سے کر ر ہا ہے پیامبر ص کی حد یث ہے مرد اور عورت کے لئے حکم ہے کہ نا محرم سے چا ر جملو ں سے زیادہ با ت نہ کرے اگرکو ئی انسان نا محر م عورت سے گپ شپ لگارہا ہے تو امام فرمارہے ہیں تو یہ زبا ن سے زنا کر ر ہا ہے حدیث ہے کہ شیطا ن ملعون کہتا ہے جب کو ئی مر د نا محرم عو رت کو دیکھتا ہے جب کو ئی نا محر م عورت نا محر م مر د کودیکھتی ہے تو اس وقت شیطا ن کہتا ہے میں ایک تیرچلا تا ہو ں جسکا شیطا نی زہردونوں کے ذ ہنوں میں پھل جا تا ہے اوران کا ایمان تبا ہ ہو جا تا ہے اور مو لاعلی -نے بھی وہی فرما یا، جو انجیل میں حضرت عیسیٰ نے فر ما یا تھا حضرت عیسیٰ فرما تے ہیں

اس آنکھ کو نکال دو جوتمہیں جہنمی بنا ئے مو لا علی - نے کیا فر ما یا: ”ذھا ب النظرخیر من النظر“ ا ندھا ہونابہترہے اس سے کہ وہ آنکھیں تمہیں جہنمی بنا دیں .ابن ملجم انہیں آنکھو ں کی وجہ سے قا تل امام علی - بنا ابن ملجم پہلے مولا علی - کادشمن نہ تھامولاعلی -نے اس کو اس وقت یہ جملہ کہا جب اس نے آنکھوں سے گناہ کی ہے فرمایاانت قاتلی تو میر ا قا تل ہے تو ا س نے سرجھکا یا اور مولاکے ہا تھ میں ا پنی تلو ا ر دی کہا مو لا ، میں مو لاکا دشمن ہو ں تو میر ا سر قلم کر د یجئے مو لاعلی -نے وہ تاریخی جملہ پڑھاکہ مجرم کو جرم سے پہلے سزا دیناعدل علی کے خلا ف ہے

تو نے ابھی تک جر م نہیں کیاکیسے قاتل بنا جو سر کٹو ا نے کے لئے تیا ر تھا آنکھو ں کی گنا ہوں کی وجہ سے ا یسا ہو ا آنکھوں کی گناہوں کوکو ئی معمو لی نہ سمجھے وہ عورت جس کا نام قتا ملہ تھاجوکوفہ کی سب سے حسین ترین عورت تھی کئی با دشا ہ ،گورنرنے اس سے شا دی کر نا چا ہا مگر اس نے انکار کر دیا ابن ملجم نے ان آنکھو ں سے جب اس عورت کو دیکھا اور دیکھا کے یہ ایسی حسین عو رت ہے شاد ی کر نا چاہا تو ا س ملعونہ عورت نے کہا میرے مہر میں ایک شر ط اگرتو علی کو قتل کرے گاتو میں تجھ سے شا دی کروں گی اب آپنے د یکھا کیایہ نگاہ حرام انسان کو مولا علی - کا قاتل بنا سکتی ہے اسی لئے مولا فر ما رہے ہیں کہ اندھا ہو نا بہترہے کیو ن کہ زنا کی ابتدا آنکھو ں سے ہے ا گر کو ئی آنکھوں پر کنٹر ول نہ کر ے تو وہ انسا ن بر با دہو جاتا ہے آ ج قد م قدم پرگنا ہ ہے غیر شا د ی شدہ افراد کے لئے لا زم ہے کہ ا پنی آنکھوں پر کنٹرول ر کھیں تا کہ اس گنا ہ میں مبتلا نہ ہو ں چند منٹ کی حقیرپست لذت کی وجہ سے ا بدی جہنم کی آ گ کو تیا ر نہ کر یں اگر انسان کی رزق حلال غذا نہیں ہے تو آنکھوں پرکنٹر ول کر نابہت مشکل ہے مو لا علی - فر ما تے ہیں اے انسان اگر تیر ا رزق حلال نہیں ہے نہ تیری تسبیح قبول ہے اور نہ تیری استغفا ر قبو ل ہے کیو ں کہ یہ زبا ن تیری اسی سے طا قت لے رہی ہے یہ رز ق سے طا قت لے رہی ہے ا گر ہم ا گرہما ری آنکھ رزق حرام سے طا قت لے ر ہی ہے تو پھر ان آ نکھوں کومتقی بننا بہت مشکل ہے حضر ت محمد ص اللہ کے رسول فرما تے ہیں کہمن اکل لقمة حر ا م ... ا گر انسان ایک لقمہ حرام کا کھالے چا لیس دن تک نہ اس کی دعاقبو ل ہے نہ ا س کی عبا د ت قبو ل ہے اس زمانے میں ہم اطر اف میں نظرڈا لتے ہیں تو ہر طر ف حرام ہی حرام ہے سب سے بڑا جہاد آج کل کالقمہ حلال کھا نا ہے اگر کسی کی چا لیس دن تک عبادت قبو ل نہ ہو تو انسان ا س سے بڑھ کر کیابر با د ہو گا تو ا نسان حیو ان سے بھی بدترہوجا تا ہے

بنی اسر ا ئیل میں سا ت سا ل سے با رش نہ ہوئی مر دا ر نجس ہڈیا ں کھا نے پرمجبو ر ہو گئے عذائیں مانگ مانگ کرتھک گئے بارش کے لئے نماز پڑھ پڑھ کرتھک گئے مگر با رش کا ایک قطرہ نا زل نہیں ہوا

حضر ت مو سیٰ کے پاس آئے اے مو سیٰ ہم سب مر جا ئیں گے فقط اتنا بتلائیے کہ کس گنا ہ کی سز ا ہے حضرت موسیٰ کو ہ طو ر پر گئے خد اکی وحی نا ز ل ہوئی اے موسیٰ کتنا ہی یہ لوگ دعائیں مانگیں ان کی دعا ئیں قبو ل نہیں ہونگی با رش کا ایک قطر ہ نا زل نہیں ہو گا پروردگا ر کس گنا ہ کی وجہ سے،

فر ما یا: اس لئے کہ انکے پیٹ حرام سے بھرے ہوئے ہیں یہ ایک دو سرے کا حق غضب کر ر ہے ہیں ایک دوسرے کوکا ٹ رہے ہیں کسی کا فا ئدہ نہیں ہے پاکستا ن کا حا ل یہی ہے کہ ہر ایک ایک دو سرے کو کاٹ رہا ہے ا گرکو ئی مصالحہ والا ا گر کو ئی ملاو ٹ کر رہا ہے پہلے ا گر اسپیسلسٹ کے پاس لے جائیں تو وہ بھی یہی کر تا ہے دفتروالا بھی یہی کرتا ہے یعنی سب ہم ایک دو سرے کو کا ٹ رہے ہیں ایک دوسرے کو کا ٹ رہے ہیں

ایک دوسرے کا ما ل فریب سے چھین رہے ہیں یہ آج پا کستا ن کا حا ل ہے جب تک حرا م کونہ چھو ر دیں جب تک دعا ئیں قبو ل نہ ہونگی تو مجبو ر ہو گئے اب جس جس نے جس کا بھی ما ل کھا یا تھااس نے آ کر اسے واپس دیا ا ب جو آ کر دعا ما نگی تو خداوند عالم نے ایسی با ر ش نا زل کی کہ دو با رہ پوری فصلیںآ با د ہو گئیں با غ پھر نکلنے لگے آج ہما رے ملک کا بھی یہی حشر ہے کتنے علا قہ ہیں جہاں حیوان مر رہے ہیں یہ ہما رے گناہوں کا سبب ہے دعائیں مستجا ب نہیں ہو ری ہیں بارش کے لئے کتنی مر تبہ نمازیں پڑہیں گئی مگربا ر ش نہیں آرہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آج ہماری و ہی حا لت ہے جو بنی اسر ا ئیل کی تھی کہ ہر ایک بند ہ دو سرے کو کا ٹ رہا ہے

دو سرے کی جیب کا ٹنے کے لئے چکر میں ہی ہے

ا گررزق حلال نہیں تو انسان کی کو ئی عبادت قبو ل نہیں ہے سب سے عظیم عباد ت رزق حلال کھا نا اور کمانا ہے نماز رو زہ حج زکا ت یہ سب ا یک حصہ ہیں اے مو منین کو شش کر یں کہ رزق حلا ل ہما رے پیٹ میں جا ئے تو عبا د ت میں لذت بھی ملے گی ذ کر حسین کی لذت ہزار گنا بڑھ جا ئے گی ایک انسان زیا ر ت عاشور ہ پڑھ رہا ہے مگر رزق حلال کھا نے کے بعدتو اسکو لذت ملنے کا کو ئی مقابلہ کو ئی نہیں کرستکتا ہے جس کے پیٹ میں لقمہ حرام نہیں ہے وہ کہے السلا م علیک یا ابا عبد اللہ تویقینا مو لاحسین کربلاسے ا سے جو اب دیتے ہیں ”و علیک السلا م“ اے میرے عاشق تجھ پر میرا سلام ہو رزق حلال عزت و عظمت ہے ا گررزق حلال کو ترک کر دیاتو انسان حیو ان سے بد تر ہے ایک عابد اور زا ہد کئی سال عبا د ت کر نے کے بعد اللہ اسے و مقام عطا کیا کہ اسے نما ز تہجدمیں مزا آنے لگا اور نماز تہجد کی لذ ت کتنی ہے امام زین العابد ین - فرماتے ہیں خد ا جو دعا اور عباد ت میں لذت رکھی ہے وہ خد ا نے کسی چیز میں نہیں ر کھی ہے نہ وہ لذت کھا نے میں پینے میں نکا ح میں نہیں ہے مگروہ لذت گنہگا ر، حرا م کھا نے پر حرام قر ار دی ہے اچانک یہ لذت ختم ہو گئی یہ رونے لگااے میرے ما لک چالیس سال عبا د ت کرنے کے بعدتو نے مجھے یہ مقام دیا تھا مجھ سے یہ مقام کیو ن چھین لیاوہ لذت عبا دت خشک عباد ت کر تاتھا ا ٹھنا بیٹھنا وہ لذت نہ رہی گر یہ نہ رہا رو نے لگا مجھے فقط یہ بتا دے کس جرم کی سزا ہے کہ ا س لذت کو تونے مجھ سے واپس لے لیا اس نے اب دیکھا خو اب میں فر شتہ کو دیکھافر شتہ نے کہاجو حرام کھاتا ہے خد ا اس پرعباد ت کی لذت کو حرام قر ار دیتا ہے اب وہ خو ا ب سے بیدا ر ہوا اب اسے یا د آ یا کہ وہ ایک دن کھجو ریں خریدنے گیا تھاجس طرح سے ہما ری بھی عا د ت ہے کہ کو ئی چیزخریدنے کے لئے گئے اور بغیر اجا زت کے دوانگو ر یا کھجوریں منہ میں ڈا ل دیا یہ شر عاًحرام ہے کیو ں کہ اس نے اسے تو لا نہیں ہے اس بیچارے سے یھی خطا ہو گئی چکھنے کے لئے بغیر اجا ز ت کے ایک کھجو ر منھ میں رکھ لی

حالانکہ نیت بھی بری نہیں تھی مگر شر عاً حر ام ہے اگر کو ئی ایک کھجو ر کھائے تو خد اس پرعبادت کی لذت حرام کر دیتا ہے اب اس سے اند ا ز ہ لگائیے کہ رزق حر ام انسان کے لئے ز ہرسے بھی خطر ناک ہے غذ ائے حرام سے جو انسان کو نقصا ن ہو تا ہے

کسی اور چیزسے نہیں ملتا ہے آج کل جو مسلما ن پیسہ کما نے کے لئے دکھیت کھا تے ہیں الیگل جا تے ہیں ا گر اسی طر ح سے مسلما ن جس سخت محنت سے پیسہ کمانے کے لئے کو شش کر تے ہیں اسی طرح سے وہی کو شش رزق حلال کما نے کے لئے کی جا ئے تو انسان کارتبہ فر شتوں سے بلند ہو جا ئے گا لیکن آج کل کے زما نے میں لوگوں کی کوشش کیا ہے، یہ ہے کہ پیسہ کما نے کے لئے کوشش کر تے ہیں مگر رزق حلال کما نے کے لئے کوشش نہیں کر تے ہیں ایمان اسلا م کاتقاضا ہے کہ رز ق حلا ل کما نے کی کو شش کر و لیکن ا گررزق حرام دروازہ کے نز دیک مل رہا ہے گھر میں بھی مل ر ہا ہے تو وہ زہر سے بھی خطر نا ک ہے دنیا بھی بر با د آخر ت بھی بر باد ہے

ہم اس سخت زمانے میں بسر کر رہے ہیں جہاں قد م قدم پر گنا ہ ہے بغیرغیبی مددکے ہم بھی اپنے بیٹوں کو حرام سے نہیں بچا سکتے ہیں مگر خد ا ہم پرخا ص لطف کر ے خاص عنا یت ہم پر کر ے، عجیب و غریب حدیث ہم نے پڑھی کہ فر ما یاہے کہ چالیس دن ا گر انسان پو ری کوشش کر ے کہ وہ رزق کھا ئے کہ جس کے بارے میں سو فیصد ی یقین ہو کہ یہ حلال ہے اب ہم کھا تے ہیں کہ آٹا خریدتے ہیں

ہمارے ملک کی بدبختی دیکھیں کہ اکثر کھانے پینے کی چیزوں پر یہودیوں کاقبضہ ہے، لوراند برادریہو دیوں بھی یہو دی ہیں جیسے آپ نے سناکہ حا کم کوفہ نے کہا کہ کوفہ والوں میں کچھ اولیاء خد ا ہیں جوبا د شا ہ آتا ہے ا سے دعاکر تے ہیں و ہ مر جا تا ہے تو اس نے سب سے پہلے سب کو فہ کے نیک لو گوں کو حرام کھلا یا یہو د ی اس حا کم سے بھی بد تر ہیں وہ بھی جا نتے ہیں کہ مو منوں کو مسلما نو ن کوکس طر ح سے بے ا یما ن بنا نا ہے لہذا پاکستا ن کی مشہو رچیزوں پریہو دیوں کا کنٹر ول ہے ابھی ہمیں نہیں معلو م کہ وہ کیا ملا ر ہے ہیں ابھی انٹرنیٹ پرکہ جویہ چائنیز کھا ناکھاتے ہیں اس میں ایک نمک ڈا لاجا تا ہے اس کا نام اجینو مو ٹو ہے اس میں سو ر کی چر بی ڈالی جا تی ہے لو گ بڑے شو ق سے اسے کھا تے ہیں اس و قت ہم چا ر وں طر ف گرے ہو ئے ہیں لہذاعجیب وغریب حدیث ہے اللہ کے رسو ل فر ما تے ہیں چا لیس دن ا گر کو ئی اس طر ح سے غذا کھاکے سو فیصد ی اس پر یقین ہو کہ یہ غذ احلال ہے یا حرا م ہے امام زمانہ عج نے یہ فرما یا: مو من کی نشا نی یہ ہے ”و طھر بطوننامن الحرام والشبھة“ ا ے میرے اللہ میرے بطن کو پیٹ کو حرام اورشبہہ سے بھی بچا اللہ کے رسو ل فر ما تے ہیں ا گر کو ئی چا لیس دن محبت کر ے کو شش کرے ا یک لقمہ حرام اگر اس کے پیٹ میں نہ پہنچے تو وہ بغیرعالم کے یہا ں گئے ،بغیراچھی کتا ب پڑ ھے ، بغیر امام کے د رو ازہ پر گئے ، اگر فقط و ہ شخص چالیس دن رزق حلال کھا ر ہا ہے خود بخودخدا اس کے دل میں ہد ا یت کا درو ا زہ کھول د ے گا اسے قبر یا د آ ئے گی قیا مت یاد آئے گی ہررو زجوہم جنا زہ اٹھانے کے بعدہم قبرکو بھلا دیتے ہیں یہ غذا ئے حرام کا اثر ہے ہو ٹل میں جا کر کھا نا کھالیا کتنے ہو ٹل میں کام کرنے والے ایسے ہیں جو طہار ت کے بغیر کا م کر نے لگتے ہیں لہذ آج کا سب سے بڑامسئلہ رز ق حلال کھا نے کا ہے کیوں بد بختی بڑھ رہی ہے اس لئے کہ آج کل کے زمانے میں رزق حلال کھا نا بہت مشکل ہے اللہ کے رسول ص فرما تے ہیں ، اگریہ کوشش کر وگے تو اللہ خو د بخود دل میں نو ر ہد ا یت ڈا ل دے گ


مجلس ۳

بسم الله الرحمن الرحیم

قا ل الله تبار ک و تعا لی فی کتا به المجید

( ا لذین یتبعون الرسو ل النبی الا می الذی یجدو نه مکتو باً عند ه م فی التوراة و ا لا نجیل )

پر وردگا ر قرآن مجید میں اعلان فر ما ر ہا ہے مسلما نو ں جس نبی حضرت محمد مصطفی ص کی تم اتباع کر تے ہو پیرو ی کر تے ہو تمہا رے نبی کا مقام ا تنا بلند ہے کہ ہم نے ان کے فضا ئل توریت میں بھی بیا ن کئے ہیں ا ور انجیل میں بھی بیا ن کئے ہیں اسلا م دین حق ہے ا سلا م دین فطر ت ہے اور اس وقت اسلام دنیاکا سب سے زیادہ سائنٹفیک ریلجن ہے ہر طرح سے ہم اسلا م کی حقانیت کو ثا بت کر سکتے ہیں یہ مسلما نوں کی ڈ یو ٹی ہے کہ مسلما ن آگے بڑھیں اور کا فر وں کو مو من بنا ئیں مسلما ن بنا ئیں یہی سیر ت ہما رے مو لا علی کی ہے یہی سیر ت ہما رے امام حسن کی ہے یہی سیر ت ہما رے امام حسین کی ہے ہرہما رے امام نے عیسا ئیو ں سے منا ظر ے کئے ہیں اور بے شما ر عیسا ئیو ں کو مو من اور مسلما ن بنا یا ہے

تار یخ میں وہ منا ظر ہ آج بھی موجو د ہے ان سب میں سے زیا دہ مشہور مامون رشید کے دربار کاہے کہ ما مون نے منا فقانہ اندا ز سے امام علی ر ضا ع کو اپنا جا نشین اعلان کیا مگر اس کا مقصد کچھ اور تھا جو انقلابات اٹھ رہے تھے انہیں دبا نا چاہتا تھا ا ور اس سلسلے میں جو ایر ان کی ٹلیویزن نے بہت بڑی مدد کی ہے کہ امام علی ر ضا - کی زندگی کے حا لا ت پر جو انہوں نے فلم بنا ئی ہے جو ہفتہ میں دو مر تبہ ٹیلیویزن پر دکھا ئی جاتی ہے یہ و ا قعاً بہت بڑ ی خد مت ہے کیو ں کہ تاریخ کے بہت سا رے حقایق ہو تے ہیں جو ہز ا ر مرتبہ سنے کے با و جو د انسان بھو ل جا تا ہے خصوصاً بہت سا رے نا م ہو تے ہیں کردا ر ہو تے ہیں لیکن فلم کی شکل میں اگر ہما رے بچے ایک مر تبہ اس حقیقت کو دیکھ لیں تو وہ نا م بھی یا د رہتا ہے اور و ہ اس اسٹو ری کو بھی یا د رکھتا ہے وہ منا ظرہ بھی یا د ر ہتا ہے. ایران کی یہ بہت بڑی خد مت ہے ایک امام علی - پرجو انہو ن نے فلم بنا ئی تقریبا اکیس قسطوں کی تھی اس کے بعد امام حسن مجتبی - پر اٹھارہ قسطوں میں انہو ں نے فلم بنائی اس کے بعد اصحا ب کہف کے با ر ے میں انہوں نے فلم بنا ئی اس اسٹوری کے ذر یعے سے معا د یعنی قیا مت جو مشکل ترین موضوع ہے اس کے دلائل فلم کے ذریعے سے سمجھائے گئے اور ا س کے بعد امام علی رضا - جو فلم ہے اس کا واقعا کو ئی جوا ب بھی نہیں ہے یہ پہلی مر تبہ علما ء کی اجا ز ت سے انہو ں نے امام رضا - کا فقط نو ر دکھایا ہے تاکہ تو جہ بھی باقی رہے جبکہ امام علی - کی فلم امام حسن - کی فلم میں یہ ٹکنیکل چیز استعمال نہیں ہوئی تھی لیکن یہاں امام کا نو ر د کھا تے ہیں اور مومنین کا جو ش اور ولولہ جذبہ د کھا تے ہیں یہ تمام منا ظر واقعاًعجیب اور غریب ہیں

ما مو ن نے منافقت کے طو ر پر امام کو جا نشین بنا یاکیوں کہ ہر جگہ سے مو منین حیدر کرار انقلا ب بپا کر چکے تھے حکو مت کو خطر ہ تھا لہذا دھوکہ دینا چا ہتے تھے لیکن وہ سا ز ش بھی الٹ گئی جب وہ امام کو طوس یا مشھد کی طر ف لے آ ئے تو دن بدن امام کی عظمت بڑھتی چلی گئی لو گ امام کے مزید مولا کے معتقدان کی تعداد بڑھتی چلی گئی ما مو ن کو خطرہ ہو ا کہ میں نے امام کو مدینہ سے اس لئے نکالا تھا کہ وہا ں ا ن کی بہت ز یا دہ عز ت ا ور عظمت تھی مگریہاں میرے تخت کو خطر ہ ہے

کہ امام جہاں بھی ہو تو وہ مثل چاند ہے مثل سو ر ج ہے کیو ں کہ نمائندہ خدا ہے ما مون نے پہلے تو علما ء کو بلا یا اور امام سے منا طرہ کروا ئے دیکھا کہ کو ئی عالم ایسانہیں ہے جو زما نے کے امام کو شکست دے سکے ان مناظروں کی تعداد بھی بہت ز یا دہ ہے کہ مختلف علما ء آئے اور شکست کھا کے چلے گئے اور تسلیم ہو تے چلے گئے آ خر میں سا زش یہ ہو ئی کیو ں کہ امام قرآن کے علم پر بہت ز یا دہ قوت ر کھتے ہیں کو ئی عالم نہیں ہے جو انہیں شکست دے سکے کیونکہ امام وارث قرآن ہیں لو گو ں نے مشورہ دیا کہ آپ کچھ عیسائی اور یہو دی علما ء کو بلا ئیے کیو نکہ امام فقط قرآن جا نتے ہیں تو ریت اور انجیل تونہیں جانتے ہیں وہ جا ہل لو گ کیا جا نتے تھے

کہ امام وہ ہو تا ہے کہ( و کل شیء احصیناه فی امام مبین ) تو با دشاہ نے کہا کے یہ تجویز تو صحیح ہے بڑے سے بڑے منا طرہ کرنے والے یہو دی ا ور عیسا ئی علماء منگو ا ئے گئے

تا کہ امام کی توہین ہو امام تو توریت نہیں جا نتے ، امام تو انجیل نہیں جا نتے ہیں لہذا منا طرہ میں ہار جا ئیں گے اب جب سامنے منا ظرہ ہوا امام ع نے فر ما یا: اے عیسا ئی عا لم اے یہو دی عالم ہما رے نبی حضرت محمد ص کا ذ کر تمہاری کتابو ں میں مو جو د ہے اور یہ حوالہ ہیں فلا ں چپٹر فلا ن آیت ا س کے بعد امام نے فرما یا: اے یہو دیو! ا ن آیتوں کو تم پڑھتے ہو یا ہم تلاوت کر یں اس زما نے میں اس طر ح سے توریت اور ا نجیل عالم نہیں تھی عبر ا نی زبا ن میں تھی عربی زبان میں نہ تھی انہو ن نے کہا قبلہ آپ تلاو ت کیجئے جب امام عبر ا نی زبا ن میں ان آ یتو ن کی تلاوت کر نا شر وع کی تو انہوں نے تسلیم کیا کہ امام ہم سے بہتر اندا ز میں تلا و ت کر رہے ہیں اور ان کے بڑے بڑے عا لم وہیں پر مسلما ن اور مو من ہو گئے

لہذ ا آ پ نے دیکھا کہ یہ سنت ائمہ معصومین ہے تو ریت اور انجیل سے دلا ئل پیش کر کے کافروں کو مسلما ن بنائیں اور کو ئی ایسی چیز اسلا م کی نہیں ہے جس کو ہم اس کتا ب سے ثابت نہ کرسکیں

جس حکم اسلا می پراسلا م کے دشمنو ں کو سب سے زیادہ اعتراض تھا کہ بد کا ر کو سنگسا ر کرنا ایک وحشیانہ حکم ہے خو د ان کی کتاب توریت میں مو جود ہے انجیل میں موجو د ہے

حضرت موسی کی شر یعت میں مو جو د ہے ایک دوسرا اعتراض قتل پر ہے کہ قتل کی سزا غیر انسانی ہے چہ جائے کہ اب آخر میں بہت ساری امریکی ریاستوں میں قتل کی سزا عام ہو چکی ہے انھوں نے دیکھا کہ اس کے علا و ہ کوئی چارہ نہیں ہے جرا ئم پر کنٹر و ل نہیں ہوسکتا ہے ا گر ایک مجر م اور قاتل کو آ ر م سے جیل میں رکھا جائے تو دن بدن قتل و غارت گری بڑھتی چلی جار ہی ہے لیکن پھر بھی ا عتراض ہے کہ اسلا م میں قتل کے بدلہ قتل، کے بار ے میں اسلا م نے سخت حکم دیاہے یہ حکم بھی توریت میں ہے یہ حکم حضرت آ دم کے زما نے سے ہے یہ حکم بھی انجیل میں ہے

توریت اولڈٹسٹا من چپٹر جنیسز چپٹر کا نمبر ۹ ارشا د ہو ر ہا ہے any person who murders must be kiled yes you must execute any one who murders another person for to kill a person

جو بھی قا تل ہے یہ ضرو ری ہے کہ قا تل کو قتل کیا جا ئے اور یہی فیصلہ شریعت حضرت مو سی کا ہے اور یہی فیصلہ شریعت محمد ص کا ہے اسلا م وہی ہے احکام پروردگا ر میں تبدیلی نہیں ہے شریعت حضرت محمد مصطفی ص تمام انبیا کی شریعتوں سے کا مل اور اکمل تر ین شریعت ہے کیو نکہ یہ قیامت تک کے لئے ہے اس کے ا حکام ابد ی ہیں اسلام میں زا نی ا ور بدکار کو سنگسا ر کر نے کا حکم دیا ہے مگر یہاں پر توریت میں چپٹردیوٹورونمی چپٹر کا نمبر `۱۳ ston the guilty onse to death becouse they have tired to drove you away from the lord your god

توریت یہ کہہ ر ہی ہے وہ مجر م جو تمہیں اللہ کے راستہ سے ہٹا دے اسے بھی اتنے پتھر مار و یہا ں تک کہ اسے مو ت آ جا ئے حا لانکہ اسلا م میں صرف زا نی اور بد کا ر کو سنگسا ر کر نے کا حکم دیا ہے مگر تو ریت میں کہا ہے کہ جو اللہ کے راستہ سے ہٹا نے والے ہیں گمر اہ کر نے والے ہیں ان کے لئے سنگسار کی سزا ہے ظاہر ہے ان آیتو ں کے بعد کو ئی عیسا ئی ا وریہو دی کو حق نہیں پہنچتا کہ یہ کہیں، اسلام کی سزا ئیں سخت ہیں قانو ن بنا نے والا خدا ہے خدا انسان کی فطر ت سے آ گاہ ہے وہ ہما ر ا خالق ہے اسے معلوم ہے کہ انسان کو گنا ہ سے کیسے بچا یا جا ئے گا اگر سخت سزا نہ ہو تو وہ انسان گنا ہ پر گنا ہ کر تے چلا جا ئے گا جر م پر جرم ہو تا چلا جا ئے گا امن اور اما ن نیست اور نا بو د ہو جا ئے گااس وقت امریکا خو د کو سوپر پا ور کہلا تا ہے وہاں امن کہاں ہے وہاں قتل اور غا رتگر ی ہے نیویارک و ہاں لکھتے ہیں کہ اس سا ل دو ہزار تین ہزار سا ت ہزا ر لو گ قتل ہو ئے ہیں یہا ں تک کہ شگا گو میں وہا ں پر ایک بہت بڑے عالم ہیں آ یة اللہ جلا لی انہوں نے مجلس کے بعد ان سے خواہش کا اظہا ر کیا کہ ہم مو لا نا سے ملنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ مو لا نا جلا لی صا حب اس جگہ پر رہتے ہیں کہ وہاں اس وقت پلیس بھی نہیں جا سکتی ہے بعض امریکا شکاگومیں ایسے خظر نا ک جگہیں ہیں کہ وہاں پلیس بھی نہیں جا سکتی ہے اب یہ ہے امن کا حا ل یہاں پر جو بد امنی دیکھ رہے ہیں اس میں خود اسلا م کے دشمنو ں کا ہا تھ ہے فرقہ پرستی کے عنواں سے ہو اس کے پیچھے امریکا کا ہا تھ ہے یہودیوں کا ہا تھ ہے وہ نہیں چاہتے کہ اسلا م عظمت کے سا تھ آگے بڑھتا رہے ہمارے یہاں بد امنی مصنو عی ہے یہودیوں کے ایجنٹ ہیں جو فرقہ پر ستی پھیلا رہے ہیں لنڈ ن میں بی بی سی ٹیلیویژن کی ریپو رٹ بی بی سی ٹیلیویژن نے تحقیق کی ک پورے انگلستا ن میں کتنے لو گ چر چ جا تے ہیں جو لو گ باقا ئدگی سے چرچ جا تے ہیں پو رے انگلینڈ میں عیسا ئیوں کی تعداد چھ سا ت کروڑ کے قر یب ہے بی بی سی ٹیلیویژن نے ریپورٹ دی کہ ہم نے پورا ایک سا ل تحقیق کی ہے کہ کتنے لو گ با قائد گی سے ہفتہ میں ا یک بار عبا د ت کر نے جا تے ہیں بی بی سی نے حیرت ا نگیز ریپورٹ یہ سنا ئی ان کے چھ کروڑ میں سے صرف بیس ہزار لو گ چر چ جا تے ہیں

الحمد للہ جیسے جیسے سائنس کی ترقی ہوتی جارہی ہے قرآن کی عظمت آگے آتی چلی جارہی ہے ہمارے یہا ں نمازیوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے ہما رے یہا ں عزاداروں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے حجا ب کر نے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے دا ڑھی رکھنے والو ں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے ایما ن میں بڑھنے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے دشمن دیکھ رہا ہے یہ اس لئے فرقہ پر ستی ہے اور ا س سا ل لنڈ ن میں ا یک اور عجیب چیز نظر آئی ۱۹۸۴ میں ا گر کوئی خا تو ن حجا ب پہن کر نکلتی تو اس قدر لو گوں کا پروپیکنڈہ ہو تا کہ اس خا تو ن کو چھو ٹے چھو ٹے بچہ بھی ٹرورسٹ کہتے تھے مگر اب اگر لنڈن کی کسی سڑ ک سے بھی گذریں تو دو چار خو اتین مکمل حجا ب میں نظر آ تی ہیں اب انگلستا ن میں اسکو لوں میں حجا ب فیشن میں بدل گیا ہے ایک طرف عیسا ئیت ختم ہو رہی ہے دوسری طر ف اسلا م بڑھ رہا ہے ا ب بیس کے قریب جو چرچ تھے وہ ا ب امام با ر گاہ بن چکے ہیں یا مسا جد بن چکے ہیں اور اگر باقا ئدگی سے دیکھا جا ئے تو سو سے زیا د ہ ہوں گے اب اس دفعہ حکو مت بر طانیہ نے جب دیکھا کہ ان کے چر چ بک رہے ہیں اور مسجدیں بن ر ہی ہیں اور یہ ایک اس حکو مت کے لئے ایک طما چہ ہے اس حکو مت جو حکو مت نے پور ی دنیا پر حکو مت کر چکے ہیں تو حکو مت بر طا نیہ نے قانو ن پاس کیا کہ کو ئی چرچ بیچ نہیں سکتا ہے چا ہے اس چر چ میں ایک آدمی بھی نہ آئے اب آپ دیکھ ر ہے ہیں کہ اب لو گ اسلا م سے پریشان ہیں اسلا م کی عطمت سے پریشان ہیں کیو ں کہ عیسا ئی نو جو ا ن دیکھ ر ہے ہیں کہ عیسا ئیت میں کچھ بھی نہیں ہے عیسائیت خلا ف فطر ت ہے خلا ف عقل ہے عیسا ئیوں کے یہاں متقی وہ ہے جو شا دی نہ کر ے کیا یہ ممکن ہے کہ نو جو ا ن قو ت بھی رکھتا ہو طا قت بھی رکھتا ہو اور پھر شا دی کے بغیر زند گی بسر کر ے اب عیسا ئی کہتے ہیں کہ متقی بننا ہے تو شادی نہ کرو لہذا یہ باتین عقل میں آ نے والی نہیں ہیں کو ئی عقلمند انسان قبول نہیں کر تا لہذا عیسا ئیت مر ر ہی ہے اسلام بلند ہو رہا ہے یہی عیسا ئی اسلا م سے خوف رکھتے ہیں مسجد یں ہما ری بڑھ رہی ہیں نماز جمعہ پڑھنے والوں کی تعداد لو گ سڑ کوں پر آ رہے ہیں چاہے پا کستا ن ہو چا ہے مصر ہو پورے انگلستا ن میں عبا د ت کر نے والوں کی تعداد بیس ہز ا ر ہے

ا مام ر ضا - کے حرم میں عا م دنو ن میں جو نماز تہجد پڑھنے والوں کی تعداد پچا س ہز ا ر سے زیا دہ ہے جیسے نو روز کی عید نزدیک آئی توان دنوں میں تہجد پڑھنے والوں کی تعداد ڈیڑ ھ لا کھ سے زیادہ تھی اب آ پ یہ فقط ایک شہر میں دیکھ رہے ہیں اسلا م کی عطمت بڑھ رہی ہے لوگ ا سلا م کی طرف آ رہے ہیں اسلا م دین فطر ت ہے لہذا وہ خوف زدہ ہیں اسی لئے یہا ں پر فرقہ پرستی پیدا کر نا چا ہتے ہیں وہ ان اجتماعات سے حسد کر تے ہیں کیو نکہ ان کے یہاں کو ئی نہیں جا تا ہے وہ تو چرچ کو بیچ رہے ہیں مسلما نوں کی مسجدوں میں جگہ کم ہو رہی ہے لو گ سڑکو ں پر حسین حسین کر رہے ہیں سڑ کوں پر نماز جمعہ ہو رہی ہے اور فقط یہاں پر نہیں ہے واشنگٹن میں بھی یہی حا ل ہے مسا جد چھو ٹی پڑرہی ہیں لو گ سڑ کو ں پر نکل کر آ رہے ہیں

اب آپ جو فر قہ پر ستی کو دیکھ ر ہے ہیں یہ اسی کا کا م ہے یہ مصنوعی ہے یہ ان کے ایجنٹ ہیں اور یہ نہ شیعہ ہیں اور نہ سنی ہیں وہ یہودیو ں کا ایجنٹ ہے جو مسلما نوں پر بم پھینک رہاہے اور ا س کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانو ں کو شعور نہیں دیا گیا ہے کہ رزق حلال کما نے کی کیا فضیلت ہے اوریہ ایجنٹ رزق حرام کی وجہ سے بنتے ہیں اس و قت ہمارے معا شرے میں سب سے زیا دہ جو مصیبت ہے وہ یہ ہے کہ وہ پیسہ چا ہتے ہیں پیسہ کے لئے دین ا یما ن شرا فت ہیر وئن بیچنے والے یہاں پر مسلما ن ہیں کا فر تو نہیں ہیں اوریہ فر قہ پرستی پھیلا نے والے یہاں پر مسلما ن ہیں وہ یہ کا م اس لئے کر تے ہیں کیو ں کہ ان کا دین اور ایمان پیسہ ہے آج کے زما نے میں لو گ پیسہ کما نے کے لئے دو بئی جاتے ہیں امریکا جا تے ہیں اور جو لو گ وہاں پر الیگل پہنچتے ہیں ان سے پو چھا جا ئے کہ وہ یہاں پر کیسے پہونچتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے پاکستا ن میں ایجنٹ کو پیسے دیئے اس نے ہمیں ایر ا ن بھیج دیا وہ ایجنٹ ہم کو نہ پتہ بتاتا ہے اور بہانہ کچھ اوربنا تا ہے اور اس ایجنٹ نے ہم کو تر کی والے ایجنٹ کو بیچ دیا اس نے دوسرے کو بیچ دیا ہم بکتے رہے بکتے رہے اور ہم کیسے پہنچے بسو ں کے اندر سا ما نوں کے سا تھ جہاں کبھی گھٹن ہو تی ہے اور ہمیں خطر ہ ہو تا تھا کہ شاید ہما ر ا دم نکل جا ئے اب لو گ پیسو ں کے لئے اپنی جا ن کو بھی خطر ہ میں ڈا ل دیتے ہیں اور وہ لو گ جو یہاں پر اچھے کھاتے پیتے گھر انہ کے ہیں. آج جو معا شرہ میں کروڑ پتی بنے کا لا کھ پتی بنے کا شوق پید ا ہو گیا ہے اگر یہ شوق شعور میں بد ل جا ئے کہ ہم جتنی کو شش پیسہ کما نے میں کر تے ہیں وہ اگر اتنی کو شش ہم رزق حلال کما نے کے لئے کر یں تو معاشرہ جنت بن جا ئے پھر کو ئی یہودیوں کا ایجنٹ نہیں بنے گا پھر کو ئی فرقہ پرستی نہیں پھیلا ئے گا کیو ں کہ لو گوں کو پیسہ کما نے کا شوق ہے ا ور اس پیسہ کوکہاں لے جاؤ گے کیا اس پیسہ کو قبر میں لے جا ئیں گے کہاں گیا نمر و دکہاں گیا فرعو ن کہاں گیا قا ر ون ا ن کا بھی پیسہ یہا ں رہ گیا وہ چلے گئے مو لا علی - اور رسول خد ا فرما تے ہیں کہ اگر رزق حرام ہے تو نہ تیری نماز قبو ل ہے اور نہ تیری دعا قبو ل ہے انسان کتے سے بد ترہے

اگر اس کی نماز قبو ل نہ ہو دعا بھی قبو ل نہ ہو انسا ن انسان نہیں رہے گ. بلکہ وہ ”اولا ئک کالالنعام“ اگر رزق حلال نہیں تو انسان کی زند گی میں کے ہر ایک پل ہر ایک لمحہ پر خدا کی لعنت ہے اللہ کے رسو ل فر ما تے ہیں ”لا یشم ریح الجنة“ وہ انسان جنت کی خو شبو بھی نہیں پاسکتا ہے ” جسد نبت علی الحرا م“ وہ جسم جنت کی خو شبو نہیں سونگھ سکتا ہے جو جسم حرا م غذا سے پل رہاہے جس کی پرورش رزق حلا ل پر نہیں ہے وہ جنت کی خوشبو نہیں پاسکتا ہے جو عبا د ت کے سا تھ حرا م بھی کھا رہا ہے تو وہ پا نی پر بلڈنگ بنا نا چا ہتا ہے پا نی پر گھر بنا نا چا ہتا ہے

رزق حر ام کے با رے میں ایک مشہور رو ا یت ہیکہ شریک ابن عبد اللہ اپنے زما نے کا ایک بہت بڑا عابد تھا بہت بڑا ز ا ھد تھا بہت بڑا عالم تھا اس زمانے کے ظا لم نے با دشاہ چا ہا کہ میں اسے اپنا قاضی بناؤں اسے بلا یا کہا آپ بہت بڑے عالم ہیں زا ہد ہیں آپ میرے قا ضی بن جائیں قاضی کے معنی یہ ہیں کہ با دشا ہ کے بعد سب سے بڑا عہدہ ہو تا ہے شریک ابن عبد اللہ نے کہا با دشاہ تو ظالم ہے اگرمیں قا ضی بنا تو گو میں تیرے ظلم میں شریک ہو گیا ہوں آج کے زمانے میں انسان چھو ٹی چھوٹی پوسٹو ں کے لئے دین ایما ن سب کچھ بیچ دیتے ہیں با د شا ہ نے کہا ا گر آپ میرے قاضی نہیں بنتے ہیں تو میرے وزیر اعظم بن جا ئیے کہا یہ ا س سے بد تر ہے ا ور آپ کے ظلم میں شر یک ہو جاؤں گا ا س نے کہا تو میرے بچو ں کے استا د بن جائیے کہا با دشا ہ حدیث میں ہے کہ فر ما یا : ظا لم کے قر یب رہنے سے دل میں کثافت پید ا ہو تی ہے باد شاہ نے کہا میں آپ کا بڑا احتر م کرتا ہو ں آ پ نے میری توہین کی میر ا دل توڑ دیا اب چو تھی میری خو اہش کو رد نہ کیجئے با د شاہ نے کہا کہ ایک وقت کا کھانا میرے سا تھ کھا ئیے اب یہاں یہ عابد اس شیطان جال میں پھنس گیا ا س نے کہا میں نے تین دعوتیں ٹھکر ادیا ایک کھا نے کھا نے سے کیا ہو تاہے با د شاہ نے کہا ٹھیک ہے اب بادشا ہ نے دستر خو ان بچھوا یا شریک ابن عبد اللہ نے کھا نا کھا نا شرو ع کیا اب جیسے لقمہ حرام پہنچا اس پر فوراً اثر کیا یہ نہیں کہ خو ن بنے دما غ میں جا ئے حد یث ہے کہ جیسے لقمہ حرام پیٹ میں جا ئے تو فوراً ا ثر کر تا ہے اس لئے زمین کے فرشہ بھی لعنت کر تے ہیں زمین کے فر شتہ بھی اثر کر تے ہیں جیسے حرام پیٹ میں پہنچا تو شیطا ن نے کہا اے عابد تو بڑا بیوقوف ہے اگر تو بادشاہ کے بیٹوں کا استا د بنے گا یہی توبچہ تو وہ کل با دشاہ بننے و الے ہیں تو انہیں متقی بنا سکتا ہے تو وہ عاد ل بادشا ہ بنیں گے اس کا ثو اب تیرے اعما ل نا مہ میں لکھا جا ئے گا اب شیطا ن کا وسوسہ ہوگیا کیو نکہ غذا حرام ہے ا س نے کہا میں اپنا فیصلہ واپس کر نا چاہتا ہوں میں آپ کی ایک آ فر قبو ل کرنا چا ہتا ہو ں آپ کے بچوں کا استا د بن جا ؤ ں گا با د شاہ نے کہا آپ کی بہت مہر بانی اب اور لقمہ حرام پیٹ میں گیا شیطا ن نے کہاکہ قاضی بنے میں کیا برا ہے قا ضی بنو گے تو کتنے بے گنا ہوں کو آزاد کردو گے ا س نے کہا میں قا ضی بنے کے لئے بھی ر اضی ہو ں

ایک ا ور روایت حضرت ایو ب ع کے با رے میں ہے کہ شیطا ن تھک گیا لیکن شیطا ن کا کو ئی حربہ کا میا ب نہیں ہو ا ا س نے کہاکہ کسی طرح سے حضرت ایو ب کو حرام کھلادوں ان کی بیوی ان کے پاس جارہی تھی تو شیطا ن انسان کی شکل میں آ کر ان کی بیو ی سے کہا کیا با ت ہے اس نے کہا میرا شو ہر بیمار ہے شیطا ن نے کہاکیا تکلیف ہے انھوں نے جب شیطا ن کو ایک دو تکلیف بتائی تو شیطان نے کہا یہاں میں ایک بہت بڑا حکیم ہوں اس نے کہا یہ بھی تکلیف ہو گی یہ بھی تکلیف ہوگی ان کی بیوی حیر ان ہو گئی کہ یہ بہت بڑے حکیم ہوں گے کہ مر یض کو دیکھے بغیر ساری خبریں دے رہے ہیں ا ن کی بیو ی نے کہا آپ جیسا حکیم ہمیں نظر نہیں آ ئے گا آپ کو ئی نسخہ بتائیں تاکہ میر ا شوہر اس مر ض سے نجا ت پا ئے. شیطا ن نے کہا ہاں مجھ سے بڑا کو ئی حکیم نہیں ہے اس نے کہا دیکھو ایک بکرہ لے لو اور اس کو اس طرح سے ذبح کر ناکہ جب ذبح کرو گے تو اس پر اللہ کا نا م نہ لینا بیوی آئی حضرت ایو ب سے کہا آج ایسا حکیم ملا ہے کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے ہیں میں نے مر ض کی ایک دو با تین بتا ئیں تو ا س نے سا ری تفصیل بتا دی اس نے نسخہ بھی دیا انشا ء اللہ آج آپ ٹھیک ہو جائیں گے حضرت ایو ب نے کہا کیا نسخہ بتا یا اب بیو ی نے ا س نسخہ کو بتاینا شروع کیا، کہا کہ اس طر ح کا بکرہ ہو مگر جب اسے ذبح کرو تو قبلہ کی طر ف رخ بھی نہ کر نااور اللہ کا نا م بھی نہ لینا جب حضرت ایوب نے یہ سنا توکہا، ”اعوذ با للہ من الشیطا ن اللعین الرجیم“ یہ حکیم نہیں ہے یہ تو شیطا ن ہے

آج کا مشکل مسئلہ رز ق حلال کا ہے ا ب کتنی دکا نیں یہو دیوں کی کھل گئی ہیں اب باہر کی جو کمپنیاں آتی ہیں تو وہ ان کا مقصد حرام کھلا نا ہے ا ب مسلمانون کی بد بختی ہے کہ کھا نے پینے کی چیزوں پربھی یہودیوں کا قبضہ ہے اب آپ نے پڑھا کہ ذبیحہ حرام ہے

ا گر اس پر اللہ کا نا م نہ لیکر ذبح کیا جائے امریکا میں مومنین نے خود تحقیق کی ہے کہ حج پر مر غیا ں دو طرح کی ہوتی ہیں ایک امریکن ہوتی ہیں ایک سعودی کی ہو تی ہیں وہاں یوسٹن کے مو منین نے خود تحقیق کی ہے دیکھا کہ یو ستین میں ذبیحہ کوئی درست نہیں ہے چھری پر لکھدیا ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ مشین چل رہی ہے گردنیں کٹ رہی ہیں ایک بیچا رہ امریکن مومن آئل کمپنی میں کا م کر تا تھا اسے معلو م تھا کہ یہ مرغیاں جو امریکا سے آتی ہیں وہ حلال نہیں ہیں اور وہ کمپنی بھی عیسائی کی ہے وہ بیچارہ احتیاط کر تا تھا جاتا تھا خو د مر غیاں خرید تا تھا ا ور دکاندا ر کے سا منے کھڑا ہو تا تھا تاکہ وہ ذبح کر ے اور وہ سمجھتا تھا کہ میں حلال کھا رہا ہوں ایک دو مہینہ یہ سلسلہ چلا ایک دن وہی نو جو ان جو ذ بح کر تا تھا وہ جو دکاندار تھا اس نے لڑکے کو آواز دی اے رمیش ذرا مرغی ذبح کردو ا س نے کہا رمیش اس نے کہا کہ کیا یہ مسلما ن نہیں ہے اس نے کہا نہیں یہ ہندو ہے اس نے کہا یا اللہ میں امریکا کی مرغی سے بچا تو رمیش کی مر غی میں آکر پھنسا سعودی عرب ایک مسلما ن ملک ہے وہاں پر بہت سارے چاکلیٹوں میں حرام ہے یہاں پر بھی یہی حا ل ہے حا لا نکہ انگلستا ن امریکا یو رپ میں کئی جما عتو ں میں دیکھا کہ لو گوں نے اشتہا ر لگا یا ہے کتا ب چھپی ہے یہ چیز یں حرام ہیں مگر یہاں پاکستا ن میں کو ئی سلسلہ نہیں ہے و ہاں کے لو گ اپنے بچوں کو یاد کروا دیتے ہیں کہ لا رڈحرام ہے، استبلایز حرام ہے، املسیفا ئر حرا م ہے، چھو ٹے بچے دکا نوں میں جا تے ہیں پہلے دیکھتے ہیں کہ ان میں استبلا ئز نہیں ہے یاہے؟ وہی چیز وں کو یہاں پر بھی بچہ سعودی عر ب میں کھا تے ہیں اوریہاں پر بھی کھا تے ہیں چائنیز ڈش میں جو وہ نمک ہے اس کا نا م اجینو مو ٹو اس میں ایک ایسا عنصر ہے جو سور کی چر بی سے نکا لتے ہیں وہی عنصر یہاں مصالحوں میں ڈالا جا رہاہے ایک مو لا انور علی صاحب امریکا میں ہیں انھوں نے تحقیق کی ہے کہ کن کن چیزوں میں حرام ہے اور کن چیز وں میں حرام نہیں ہے حتی کے نو ٹ ، پیسہ بھی جن میں حر ام ہے

ا ور جس میں حرام نہیں ہے صابو ن کس میں حر ام ہے اور کس میں حرا م نہیں ہے حالانکہ صا بو ن دھو نے کے بعد کو ئی مسئلہ نہیں ہے استعما ل کرسکتے ہیں لیکن پوری فہرست و ہاں کے مو منین کے پا س مو جو د ہے

کہ یہ چیز لینی ہے یا یہ چیز نہیں لینی ہے مگر پاکستا ن میں وہ چیزیں مصالحوں میں بھی کھلائی جا تی ہے

پہلے ا نگلینڈ اور امریکا میں حلال دکا نیں نہیں تھیں جب شعور بڑھا تو لو گ کھا نے چھو ڑ دےئے لو گ وہاں پر کوثر گوشت کھاتے تھے جویہو د ی لوگ اسے ذ بح کر تے تھے اور کسی جاہل نے انہیں کہا کہ کو ثر گوشت کھا تے رہو جب شعور بڑھا تو مسلما نوں نے اپنی دکا نیں بنا ئیں اس سے دو فا ئدے ہو ئے ایک تو رزق حلال ملا اوردوسرے ہزاروں مو منین کو کا رو بار مل گیا ا ب حلال گوشت لنڈ ن میں امریکا میں ا س گوشت سے زیا دہ مہنگا ہے ا گر رز ق حلال کما نے کا اگر مو نین کو شعور پید ا ہو گا تو مومنین کو کا رو بار ملے گا لوربازار کا ڈالڈا نہیں خرید ا جا ئے یہ بھی یہودیوں کا ہے اس وقت شعور نہیں ہے کہ رز ق حلال کھا نے کی اہمیت کس قدر زیادہ ہے

ما مون رشید اتنا بڑا ظالم تھا کہ وہ دو لت حکو مت کے لئے اپنے بھا ئی امین کو قتل کیا مگر ہا ر ون کا ایک ا ور بیٹا بڑ ا نیک تھا جسے لو گ نہیں جا نتے ہیں اس کا نا م قا سم تھا یہ قاسم اتنا متقی تھا کہ وہ ا پنے والد کے گھر سے کھا نا نہیں کھاتا تھا مزدو ری کر کے کھانا کھا تا تھا کہتا تھا کہ میرا باپ ظا لم ہے وہ مسلمانو ں کا حق غضب کر تا ہے بیت الما ل مسلما نوں کا حق ہے تاریخ میں ملتا ہے کہ یہ قاسم ہار ون کا بیٹا ایک دن گذ ر ہا تھا اس کے پھٹے ہوئے کپڑے تھے توکچھ گورنر ٹائپ کے لو گ جو تھے وہ اس کا مذ ا ق اڑا نے لگے کہ یہ کو ن پاگل دربار میں آگیا ہے تو لو گوں نے کہا اسے پاگل نہیں کہو یہ ہار ون کا بیٹا ہے تو لو گ حیرا ن ہوگئے کہ یہ با دشاہ کا بیٹا ہے لو گوں نے کہا کہ یہ یہاں سے ایک لقمہ حرا م نہیں کھا تا ہے اب سنئے اسے مو ت کیسی ہو ئی قاسم بصر ہ میں گیا اور وہاں مز د و ری کر تا تھا حلال کماتا تھا وہاں کا ایک بہت بڑا سیٹھ تھا اسے بلا یا اس نے دیکھا کہ یہ جو ان محنتی ہے اس نے ا سے اپنے گھر لے گیا اور اس نے بہت اچھا کام کیا

اور اس کے بعد اسے پھر کا م کی ضرورت پڑی اسی قاسم کی تلاش میں نکلااس نے دیکھا کہ اس نے ایک ٹو ٹا پوٹا کمر ہ کر ایہ پر لے رکھا ہے وہا ں بیمار لیٹا ہو ا ہے اس نے کہا میں آپ سے کا م کر ا نا چاہتا ہوں کہا میں مر نے والا ہو ں میری وصیت سن لو اس نے کہا وصیت کیا ہے اس نے کہامیں ہارون رشید کا بیٹا ہوں وہ شخص ڈ ر گیاکہا یہ ہا ر ون رشید کا بیٹا ہے ا گر ہارون رشید کو معلو م ہو گیا کہ میں نے اس کے بیٹے سے مزدوری کا کا م لیا ہے تو وہ مجھے ما ر دے گا قاسم نے اسے کہا، بہت زور سے نہ چا ہتے ہو ئے بھی میرے والد نے مجھے زبردستی یہ انگوٹھی دی تھی کہ مجھے شک ہے کہ شاید اس میں غریبوں کا حق ہے میری وصیت یہ ہے کہ بغداد میں اسے میرے والد کو واپس کردو اور یہ حق حلال کی کما ئی ہے اس سے میرا کفن بھی کر نا اور اس سے میرا دفن بھی کرن. یہ سر مایہ دار کہتا ہے کہ میں حیرا ن ہو گیا میں کیا سن رہاہوں کیا دیکھ رہا ہو ں ہار ون کے بیٹے نے کہا تھوڑی دیر کے بعد میری روح پرواز ہو جا ئے گی ا تنے میں میں نے دیکھا کہ قاسم اپنی جگہ سے کھڑا ہو نا چاہتا ہے اور کھڑا ہو ا اور کہا السلا م علیک یا علی ابن ابی طا لب اب آ پ نے دیکھا یہ قاسم کو ن ہے یہ ہا ر ون قاتل امام مو سی کا ظم کا بیٹا ہے مگر رزق حلال کی وجہ سے موت کے وقت مو لا علی تشریف لا ئے نہ فقط مو لا علی - تشریف لا ئے بلکہ ا س نے مو لا کو پہچانا اٹھ کر مو لا علی - کو سلا م کیا السلا م علیک یا مو لا یا علی ابن ابی طا لب اور رو ح پرواز ہو گئی ا گر ہم چا ہتے ہیں کہ ہمیں موت کے وقت تکلیف نہ ہو اور مولاعلی - کی زیار ت ہو تو ا س قاسم کی طر ح رزق حلال کھاؤ اگر ا نسان رزق حرا م سے پیٹ بھررہا ہے تو وہ انسان حیو ان سے بد تر ہو جا تا ہے پیٹ بھر نا اصل کا م نہیں ہے کتا بھی پیٹ بھر لیتا ہے اصل انسان کا کما ل یہ ہے کہ رزق حلال پیٹ میں جا ئے مشکل ہے نا ممکن نہیں ہے اور اگر خد ا سے التجا کر یں تو یقینا خدا غیب سے مدد کرے گا اور رزق حلال میسر ہو گ

اختتا م


مجلس ۴

بسم الله الرحمن الرحیم

اما بعد فقد قال الله تبارک وتعالی فی کتابه المجید

( الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونه مکتوباً عنده م فی التورات والانجیل )

رزق حلال کمانا سب سے بڑی عبادت ہے اگر انسان رزق حلال نہیں کھا رہا ہے تو نبی ص بھی کہہ رہے ہیں اور مولی علی - بھی کہہ رہے ہیں کہ نہ اس کی نماز قبول ہے نہ اس کا حج قبول ہے نہ اس کی زکاة قبول ہے نہ اس کی عزاداری قبول ہے. عبادت کے لئے شرط اول یہ ہے کہ رزق حلال ہونا چاہئے قرآن کریم نے بہت بہترین انداز میں ہمیں سمجھایا کہ حضرت فاطمة الزھراءس حسینینع کی ماں نے فقط دس روٹیاں اللہ کی راہ میں خیرات دی تھیں کوئی زیادہ پیسے نہیں تھے کوئی زیادہ کھانانہ تھا حسینین کی ماں نے دس روٹیاں اللہ کی راہ میں دیں تو اللہ نے پوری سورہ دہر کو شان میں نازل کردی. اب لوگ حیران تھے کہ دس روٹیاں اور اس کی شان میں، اس کے مقابلہ میں ایک پوری سورہ لوگ روٹیاں دیکھ رہے تھے خدا روٹیاں پکانے والی کو دیکھ رہاہے کہ یہ روٹیاں کسی عام خاتون نے نہیں بنائیں یہ خاتون جنت نے بنائیں لوگ روٹیاں دیکھ رہے تھے مگر پروردگار دیکھ رہا تھا یہ گندم یا آٹا کن ہاتھوں سے لایا گیا ہے وہ ہاتھ کتنے پاک ہیں کہ رزق کن ہاتھوں سے حاصل کیا گیا ہے اور یہ رزق کتنا پاک ہے اور پکانے والی کی طہارت کی منزل کتنی بلند ہے حالانکہ لوگوں نے چاہا کہ ہماری شان میں بھی کوئی آیت نازل ہو اور بہت خیرات کی مگر آیت ایک بھی نازل نہ ہوئی یعنی خدا زیادہ خیرات کو نہیں دیکھتا خداخیرات دینے والے کی نیت کوبھی دیکھتا ہے اور طہارت کو بھی دیکھتا ہے اور جو رزق دے رہے ہیں اس رزق کی طہارت کو بھی دیکھتا ہے اگر کوئی حرام کے لاکھوں دیدے اس کا کوئی ثواب نہیں اجر نہیں ، اسی لئے رزق حلال کی بڑی قیمت ہے مولائے متقیان حضرت علیع نے سنا کہ ایک شخص نے چوری کے مال سے رزق حرام سے مسجد بنائی ہے اور وہ ناز کر رہا ہے کہ یہ میرے لئے نجات کا سرمایہ ہے اور آج کل یہی ہو رہا ہے لوگ رشوت کھائیں گے ملاوٹ کریں گے بے ایمانی کریں گے ظلم کریں گے لوگوں کا مال غصب کریں گے پھر جب مال آگیا

تو اس پیسہ سے حج پہ چلے جائیں گے جب مال زیادہ آگیا تو اس سے مسجد بنائیں گے وہ بیچارے سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے جو مسجد بنائی تووہ حرام کا مال حاصل کرنے کا گناہ معاف اور یہ فکر پرانی ہے اور مولیٰ علیع نے اس فکر باطل کو مٹانے کے لئے خط لکھا اور وہ خط موجود ہے مولیٰ علیع نے اسے خط لکھا جس نے حرام کے پیسوں سے مسجد بنائی تھی اور کتنا سخت خط ہے فقط اس کے لئے نہیں سب حرام کھانے والوں کے لئے یہ مولی کا خط آج بھی بہترین تازیانہ ہے تاکہ انسان حرام کھانا چھوڑ دے مولیٰ علیع نے کیا لکھا مولیٰ علیع نے فرمایا: اے حرام کے پیسہ سے مسجد بنانے والے ! اے لوگوں کے مال غصب سے مسجد بنانے والے تیری مثال اس زانی عورت جیسی ہے تیری مثال اس فاحشہ زانی عورت جیسی ہے جو زناکے ذریعے سے پیسہ کماتی ہے اور نجات کے ملئے مسجد بناتی ہے. فرمایا، نہ وہ بدکاری کرتی نہ وہ مسجد بناتی. تو سمجھ رہا ہے کہ لوگوں کا مال غصب کر کے اگر میں نے مسجد بنائی تو خدا میرے گناہوں کو معاف کر دے گا خدا نے قرآن میں اعلان کیا ہے ”انما یتقبل اللہ من المتقین“ میں اس کا عمل قبول کرتا ہوں جو متقی ہو میں اس کی عبادت قبول کرتا ہوں جس کا رزق حلال ہو رزق حرام جمع کرنے والے کی نہ عبادت قبول ہے نہ نماز قبول ہے نہ حج قبول ہے

اگرذبیحہ درست نہیں تو بکرہ حرام ہے اور یہ ذبیحہ جو مسلمان کرتے ہیں اس پر چند سال پہلے یورپ میں شورہوا تھا اخباروں میں ریڈیو میں ٹیلیویژن میں آیا کہ یہ ذبیحہ جو مسلمان کرتے ہیں یہ روکا جائے کیوں کہ اب ہر محلہ میں یورپ میں حرام گوشت کی دکانیں موجود ہیں

ایک شور ایک سازش اٹھی تھی کہ یہ ذبیحہ جو مسلمان کر رہے ہیں یہ غیر انسانی کام ہے یہ وحشیانہ عمل ہے کہا کیوں، کہا اس لئے کہ ہم تو جو کافر لوگ حیوان ذبح کرتے ہیں ان کی پوری گردن کٹ جاتی ہے فوراً حیوان مر جاتا ہے مگرذبیحہ میں پوری گردن نہیں کاٹ سکتے بلکہ آپ حیوان کوتڑپنے کا موقعہ دیتے ہیں تاکہ اس کے بدن کا پورا خون نکل جائے تو وہاں پر حیوانات کے حقوق کے بارے میں انھوں نے بڑا شور مچایا کہ بھائی دیکھئے یہ ظلم بیچارے حیوان پر یہ مسلمان تھوڑی سی گردن کاٹتے ہیں پھر اس حیوان کو تڑپاتے ہیں اور تڑپ تڑپ کر نہیں معلوم کب وہ مرتا ہے اور یہ ذبیحہ جو ہے مسلمانوں کا غیر انسانی عمل ہے یہ حیوان پر ظلم ہے ہم حیوان کو ایک چھٹکلے میں مار دیتے ہیں ، اب اس مسئلہ کا جواب بھی توریت سے پیش کرنا چاہتے ہیں ،اور یہ اسلام کی عظمت ہے کہ کتاب ان کی ہے اور دلیل ان کی کتاب سے ہم دے رہے ہیں اسلام کے ہر مسئلہ کا ثبوت توریت سے بھی حاصل کر سکتے ہیں انجیل سے بھی حاصل کر سکتے ہیں سائنس سے بھی حاصل کر سکتے ہیں کیوں کہ ان الدین عند اللہ الاسلام یہ دین خدا کا دین ہے بندوں کا بنایا ہوا دین نہیں ہے پہلا چیپٹر توریت کا اور چیپٹر کا نمبر۹ آیة کا نمبر ۴

but you must naver each animal thay istel have there life bleed in them

ہر گز اس حیوان کو مت کھاو جس کے اندر ابھی اس کا خون ہو

دو سرا حوالہ توریت سے چیپٹر سترہ آیت کا نمبر دس

and I will trun aginst anyone wather an israelly or forner living amoung you or he eat and dring blud in any for I will cut such a parson from the comunty

یہ قانون شریعت موسیٰ ہے فرما رہے ہیں اسرائیلی ہو یا کوئی فارینر ہو اگر کوئی خون پیتا ہے تو خون نجس ہے خون پینے والے کو ہم کمیونٹی سے نکال دیں گے توریت کہہ رہی ہے خون نجس ہے انجیل کہہ رہی ہے خون نجس ہے قرآن کہہ رہا ہے خون نجس ہے جب تک کے حیوان کے اندر خون موجود ہے توریت کا حکم ہے کہ اس کا گوشت مت کھاو اس لئے کے نہ شریعت محمد مصطفی ص میں جائز ہے نہ شریعت موسیٰع میں. وجہ کیا ہے وجہ یہ ہے کہ سائنسی دلیل ہے کہ خون تمام جتنے بھی بیماریوں کے جراثیم ہیں تمام بیکٹریااس کے لئے بہترین غذاہے لہذا اگر حیوان کے بدن میں خون رہے گا تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے خون میں بیماریوں کے جراثیم فوراً داخل ہو جائیں گے اور یورپ والوں نے جو یہ شور مچایا تھا کہ ذبیحہ غیر انسانی ہے ان کے خاموش ہونے کی سائنسٹیفک ریسرچ تھی کہ سائنسدانوں نے تسلیم کیا کہ جب حیوان تڑپتا ہے تو اس کے بدن سے پورا خون نکل جاتا ہے لہذا یہ گوشت بہتر ہے اس گوشت سے جس کے اندر خون ہے لہذا وہاں بیماریوں کے چانسز زیادہ ہیں

تیسرا حوالہ بائبل سے چیپٹر چودہ آیة نمبر اکیس dont eat any think that have daied has nutrer dath کوئی چیز بھی مت کھاو جو خود مر جائے مردار ہو جائے اپنی موت جو بھی مرے اسے مت کھاو اور قرآن نے بھی یہی کہا کہ بغیرذبیحہ کے اگر مرغی مری تو وہ حرام ہے مرادار حرام ہے خون نجس ہے یہ تو توریت کے حوالے تھے

اب امام موسیٰ کاظمع فرماتے ہیں: مردار گوشت مت کھاو مردار گوشت کھانے سے کئی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا امکان ہے کیا بیماریاں مولیٰ فرماتے ہیں سکتہ کی موت مرسکتے ہو سکتہ کی موت ہو سکتی ہے اس کو جو مردار کھائے بغیر ذبیحہ کے کھائے ،دوسرے یہ فرمایا،کہ مردار مت کھاو اگر مردار کھاو گے تو تمہاری نسل نہیں ہوگی تمہاری اولا پیدا نہیں ہوگی اور آج بیماری یورپ میں کثرت سے ہے آج یورپ والوں کے لئے سب سے بڑا پروبلم یہ ہے کہ بوڑھوں کی تعداد زیادہ ہو گئی ہے اور نوجوانوں کی تعداد کم ہو گئی ہے کیوں کہ کچھ لوگوں کو اولاد نہیں ہوتی اور کچھ لوگ اولاد سے بیزار ہیں حوصلہ نہیں اولاد کی پرورش کریں اس قدر نفس پرست ہیں بہر حال اس وقت یورپ میں بڑا پروبلم یہ ہے کہ بوڑھوں کی تعداد زیادہ ہے اور اور جوانوں کی تعداد نہیں کے برابرہے آخر میں کئی لوگوں کو انڈیا سے منگوایا گیا خصوصاً کمپیوٹر جاننے والوں کو خود ان کے اندر نوجوانوں کی تعداد کم ہے

اور یہ بیماری یورپ آمریکا میں کثرت سے ہے کہ لوگوں کو اولاد نہیں ہوتی اور امام سبب بتا رہے ہیں کہ اگر مردار گوشت کھاو گے بغیر ذبیحہ گوشت کھاو گے تو تم اپنی نسل ختم کر رہے ہو پھر اولاد کے لئے تڑپتے رہو گے عظمت اسلام کو سمجھئے اسلام کتنا عظیم الشان مذہب ہے کتنا دین حکمت ہے

کتنا سائنٹیفک ہے اور اس کے بعد معصوم -نے فرمایا: کہ خبردار خون مت پیو خون نجس ہے توریت میں بھی نجس ہے قرآن میں بھی نجس ہے فقہ جعفری میں بھی نجس ہے دیگر مذاہب میں بھی نجس ہے اور ریزن کیا ہیں امام نے فرمایاخون مت پینا اگر تم نے خون پیا تو تمہارا دل اتنا سخت ہو جائے گا تمہارے دل قساوت میں اتنی بڑھ جائے گی کہ خون پینے والے امکان ہے اپنی اولاد کے بھی قاتل بنیں اور اپنے ماں باپ کے بھی قاتل بنیں یہ خون پینے کا نتیجہ ہے اور یورپ میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ اگر ان کی انگلی کٹ جاتی ہے تو وہ مزے سے خون پیتے ہیں وہ سمجھتے ہیں یہ طاقت ہے ضائع ہو جائے گی اصلاً اس قدر جاہل ہیں حالانکہ ان کی کتاب میں بھی ہے کہ حضرت موسیٰ فرماتے ہیں کہ فارینر بھی ہو تو میں اسے کمیونٹی سے نکال دوں گا اگر خون پی رہا ہو اور وہ اپنی کتاب سے بے خبر ہیں اور امر بالمعروف ختم ہو چکا ہے اور وہاں چھوٹا بڑا بوڑھا جو بھی زخمی ہوتا ہے اپنا خون چاٹنے لگتا ہے یہ طاقت ہے میری، اور اس کا نتیجہ بھی امام نے بتایا کہ جو خون پیئے گا خون پینے والے کا دل اتنا سخت ہو جائے گا کہ وہ اپنی اولاد کو بھی قتل کرے گا اور ممکن ہے یہ وہ اپنے ماں باپ کو بھی قتل کرے اور یورپ امریکا میں رپورٹ سنائی دے رہا ہے کہ ہزاروں سے زیادہ ایسے ماں باپ ہیں جو اولاد کے قاتل ہیں اور ہزاروں ایسے بچے ملیں گے جو ماں باپ کے قاتل ہیں اس کا نتیجہ ہے کہ انسانیت ختم ہو جائے گی درندگی آجائے گی اگر تم نے خون پیا ، کچھ لوگ یا جاہل ہیں یایہودیوں کے ایجنٹ ہیں یا مذہب کو بدنام کرنا چاہتے ہیں کہ ۶ محرم کو کھارا در میں بکرے ذبح کرتے ہیں اور چہرے پر خون لگاتے ہیں اگر ان کا قرآن پر ایمان ہے تو قرآن کہہ رہا ہے خون نجس ہے

اگر امام جعفر صادق ع پر ایمان ہے تو امام جعفر صادق فرماتے ہیں خون نجس ہے اگر امام حسینع پر ایمان ہے تو امام حسین فرماتے ہیں خون نجس ہے اگر امام علیع پر ایمان ہے تو امام علیع کہہ رہے ہیں خون نجس ہے مگر اب تو انھوں نے پینا بھی شروع کر دیا یہ وہ گروہ ہے جو خون پیتا ہے وہی گروہ مجلس حسینع کو ڈسٹرپ کرنا چاہتا ہے تاکہ دیکھیں کتنے لوگ مجلس میں ہیں صرف اس وجہ سے، یہ گروہ دیکھتا ہے کہ ممبر حسینع سے امریکا کے خلاف بولا جارہا ہے یہودیوں کے خلاف بولا جا رہا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ یہ آواز بلند ہو لیکن صبر سے کام لیجئے یہودی یہی چاہتے ہیں کہ مجلس نہ ہو عزاداری نہ ہو ان کے ایجنٹ کبھی عزاداری کو عزاداری سے، کبھی مجلس کو مجلس کے ذریعے سے ختم کرنا چاہتے ہیں لہذا کچھ نوجوان گئے بھی تھے وہ سب صبر سے کام لیں کیوں کہ یہودیوں کا مقصد یہی ہے کہ مجلسیں نہ رہیں عزاداریاں نہ رہیں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے سے مجلس کو مجلس کے ذریعے سے ختم کرنا چاہتے ہیں

عزاداری کو عزاداری کے ذریعے سے ختم کرنا چاہتے ہیں یہ خون لگانے والے شریعت اسلام کو بد نام کر رہے ہیں کیوں اس لئے کہ یہودی خوف زدہ ہیں مذہب اہل بیت سے خوف زدہ ہیں وہی یہ فوٹو لے لے کر ان خون لگے ہوئے چہروں کا اپنی ٹیلویژن پر دکھاتے ہیں تاکہ لوگوں کو بتائیں کہ مذہب اسلام دین وحشی ہے یہ نجس خون اپنے چہروں پر لگاتے ہیں یہ حیوانی اور درندگی کے قائل ہیں لہذا چاروں طرف سے سازش میں گھرے ہیں صبر سے حوصلہ سے کام لیں لہذا امر بالمعروف کرنا واجب ہے ایک مومن پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا اسی جرم میں جب اس نے کہا کہ خون مت لگائیے خون نجس ہے اب تو خون پینا بھی شروع ہو گیا یہ خون نعوذباللہ پیجئے شفا پاو گے مقصد کیا امامع نے فرمایا جب خون پیو گے تو تمہارا دل پتھر سے زیادہ سخت ہو جائے گا نہ حسینع کے غم میں روو گے نہ علی اصغر ع کے غم میں رووگے یہ عزاداری کے دشمن ہیں عزاداری کے نام پر مومنوں کو خون پلاو حرام پلاو تاکہ ہدایت کے دروازے بند ہو جائیں

ہدایت کے دروازے بند ہو جاتے ہیں جب انسان حرام کھائے جب انسان خون پئے تو یقیناً اس کے لئے ہدایت کے دروازے بند ہو جائیں گے ، اگر یہ لوگ مجلس کو ڈسٹرپ کرنا چاہتے ہیں تو کل قیامت کے دن جواب حضرت فاطمہس کو دیں گے ہمارا کام ہے امر بالمعروف کرنا کیوں کہ امام حسینع کی قربانی کا سب سے بڑا مقصد امر بالمعروف تھا اگر امربالمعروف ختم ہوجائے ہم ڈر جائیں قاتلانہ حملہ سے کے ہم پر قاتلانہ حملہ ہوگا ان کو امر بالمعروف نہ کریں یہ خون لگائیں کل کوئی اور نجاست لگائیں آج خون قوم کو پلائیں کل کچھ اور پلائیں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ ہماری قوم کا حشر یہ ہو جائے گا جو آج عیسائیوں کا ہے ہماری قوم کا حشر وہ ہو جائے گا جو آج یہودیوں کا حشر ہے لہذا امر بالمعروف واجب ہے عالم پربھی غیر عالم پر بھی. مگر امر بالمعروف کے شرائط ہیں کہ صبر کے ساتھ انسان امر بالمعروف کرے انبیاء نے امربالمعروف کر کے پتھر کھائے ہیں انبیاء نے امر بالمعروف کر کے گالیاں کھائیں ہیں لڑنا لڑانا نہیں ہے کیوں کہ دشمن یہی چاہتا ہے

کہ فتنہ ہو پہلی محرم سے بم پھینک کر عزاداری کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعے سے مجلس کو مجلس کے ذریعے سے ماتم کو ماتم کے ذریعے سے بگاڑنا چاہتے ہیں تاکہ فتنہ ہو لیکن جو واقعی شیعہ ہیں وہ امن سے رہیں اور برائی کا جواب اچھائی سے دیں وہ اپنا کردارپیش کریں آپ مولی علیع کا کردار پیش کریں. کسی نے مولیٰ علیع سے کہا مولیٰ کوئی آپ سے برائی کرے آپ کیا کریں گے مولیٰ نے فرمایا میں اچھائی کروں گا مولیٰ دوبارہ کوئی برائی کرے کیا کریں گے فرمایا دوبارہ اچھائی کروں گا کہا مولیٰ تیسری بار کوئی برائی کرے آپ کیا کریں گے فرمایا تیسری بار اچھائی کروں گا اب پوچھنے والے کون تھے اللہ کے رسول تھے اب جب پوچھا تو مولیٰ علیع کا انداز بدل گیا فرمایا اللہ کے رسول جب تک وہ برائی کرتا رہے گا تب تک میں اچھائی کرتا رہوں گا ، کیوں کس لئے؟ مولیٰ نے جواب دیا اس لئے جب وہ بری عادت چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہے تو میں اچھی عادت کیوں چھوڑدوں

عزاداری امام حسینع کے دو دشمن ہیں ایک بموں سے عزاداری حسینع کو روکنا چاہتے ہیں کچھ عزاداری کی طہارت کو پامال کرنا چاہتے ہیں ایک خون پلا کر اور خون لگاکر عزاداری کی صورت بگاڑنا چاہتے ہیں لہذا دونوں سے ہوشیار رہیں یہ دونوں عزاداری حسینع کے دشمن ہیں کچھ بموں کے ذریعے عزاداری حسینع کو روکنا چاہتے ہیں کوئی طہارت عزاداری کو پامال کرنا چاہتے ہیں قرآن کہہ رہا ہے خون نجس ہے اہل بیتع کہہ رہے ہیں خون نجس ہے قرآن کی آیت ہے کہ جن اہل بیتع کے ہم ماننے والے ہیں ”انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیرا“ً

یہ اہل بیت کا مذہب ہے اور اہل بیت کا مذہب پاک مذہب ہے اور اس میں نجاست کا کوئی گذر نہیں ہے لہذا حرام کی غذا کا اثر ہے دنیا میں بھی آخرت میں بھی عبادت قبول نہیں ہوتی اس وقت سب سے بڑا جہاد ہے رزق حلال کمانا، مشکل ضرور ہے مگر نا ممکن نہیں کیسے ”والذین جاھدو فینا لنھدینھم سبلنا“ قرآن میں خدا کا وعدہ ہے مومن پکا ارادہ کر لے کہ مجھے غذاء حرام سے بچنا ہے تو غیب سے مدد ہوتی ہے کیسے ایک واقعہ ہے ایک مومن تھا جس کا نام تھا حارث اس کا باپ بہت امیر تھا لیکن یہ ہارون الرشید کے بیٹے قاسم کی طرح اتنا نیک اور متقی تھا کہ مزدوری کر کے گذارا کرتا تھامگر اپنے باپ کا پیسہ خرچ نہیں کرتا تھا

باپ اس کا مر گیا سترہزار دینار جو آج کل کے کروڑ روپیہ بنتے ہیں وہ چھوڑ کے مرا اور اب اس کی سب ملکیت تھی اس کا ایک ہی بیٹا تھا اس نے کہا مجھے علم بھی ہے یقین بھی ہے کہ یہ میرے باپ کی رقم جو ہے حلال نہیں ہے بلکہ حرام ہے اور مجھ پر ایک درہم بھی اٹھانا حرام ہے حالانکہ خود ایک درہم کا محتاج جب اتنی بڑی قربانی اس نے دی اب خدا کیسے غیب سے مدد کرتا ہے اس کے بعد جب بھی غذاء حرام اس کے سامنے آجاتی تھی تو اس کے ہاتھ کی ایک رگ کھڑی ہوجاتی تھی اور اس کا ہاتھ رک جاتا تھا آگے نہیں بڑھتا تھا اور وہ سمجھ جاتا تھا کہ یہ رزق حرام ہے ورنہ کیسے سمجھے کہ یہ رزق حرام ہے خدا غیب سے مدد کرتا ہے اور کئی لوگوں نے اس کا امتحان لیا کوشش کی کہ اسے حرام کا کھانا کھلائیں لیکن جیسے ہی حرام کا کھانا اس کے سامنے آگیا اس کے ہاتھ کی رگ کھڑی ہو گئی اور اس کا ہاتھ وہیں رک گیا اور وہ سمجھ گیا کہ یہ کرامت اللہ نے مجھے عطا کی ہے

اس قربانی کی وجہ سے خدا مجھے بتا رہا ہے کہ یہ حرام کا لقمہ ہے اسے چھوڑدیا لہذا ہم سب پر واجب ہے نو حصہ عبادت رزق حلال کھانا ہے رزق حلال کمانا ہے لہذا کوشش کریں جس قدر بھی سخت ہو ورنہ انسان حیوانیت کے درجہ سے بھی گر جاتا ہے اگر فقط شکم پرست ہو صرف لذت پرست ہو اور حلال حرام کا خیال نہ کرے انسان کی انسانیت ختم ہے ،دین ختم ہے ،ایمان ختم ہے ،شیطان اور شیطان کے لشکر ی یہی چاہتے ہیں کہ مومنوں کو حرام کھلا دیں پھر وہ سور کی چربی کی شکل میں ہو یا خون کی شکل میں ہو یہودی اسلام کے دشمن عزاداری کے دشمن مسلمانوں کے دشمن مومنین کے دشمن سازش پہ سازش کر رہے ہیں تاکہ عزاداری کو نقصان ہو مجالس کو نقصان ہو مومنین کے اندر فتنہ فساد ہو مومنین اور مسلمان کے درمیان فتنہ اور فساد ہویہ سازشیں اسی لئے ہیں تاکہ مومنین متحدنہ ہوں. یہودی نہیں چاہتے کہ مسلمان اور مومن متحد رہیں

لہذا کتنی بھی زیادتیاں ہوں مگر صبر سے کام لیں اور اتحاد کو پارہ ہونے نہ دیں مومنین کا اتحاد مسلمین کا اتحاد یہی اسلام کی کامیابی ہے

اور دشمن ان بڑے بڑے اجتماعات سے خوف زدہ ہے عزاداریوں سے خوف زدہ ہے وہ اس عزاداری کومٹانا چاہتا ہے اگر اتحاد نہ رہا فتنہ فساد ہوگا تو کیاہوگا عزاداری نہ ہوگی انہوں نے ہمیں قتل کر کے بھی دیکھا کہ یہ قوم شہید اٹھانے کے بعد بھی نہیں تھکتی کتنے شہداء ہم نے آج تک دیئے ہیں اس عزاداری کے لئے کیا مجمع میں کوئی کمی آئی ہے کیا مجالس میں کوئی کمی آئی ہے کیا ماتم و آہ زاری میں کوئی کمی آئی ہے جب دشمن نے ادھر سے شکست کھائی ہے اب اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہمارے اندر داخل ہوکر فتنہ کرنا چاہتا ہے

آپ کو اور ہم کو صبر سے اتحاد سے کام لینا ہے احترام چاہے سامنے والا کرے یا نہ کرے عزاداری کا احترام کرنا ہے چاہے اگر اس عزاداری کو کوئی پامال کرنا چاہے یہ کس کی مجلس ہے یہ زہراءس کے مظلوم بیٹے حسین کی مجلس ہے یہ حسینع کی مجلس ہے یہ علی اکبر ہم شکل پیمبر کی مجلس ہے یہ عباس علمدار کی مجلس ہے اگر کوئی اس مجلس کو ڈسٹرپ کرنا چاہے تو کل زہراءس کا کیا جواب دے گا ہمیں کچھ نہیں کہنا ہے فیصلہ بی بی پر چھوڑ دیں گے لہذا صبرسے کام لیں اتحا دسے کام لیں اپنا کردار پیش کریں علیع کا کردار پیش کریں حسینع کا کردار پیش کریں امام زین العابدینع کا کردار پیش کریں یزید مجلس زین العابدینع کو مٹانا چاہتا تھا حسینع کا بیٹا مجلس پڑھ رہا تھا یزید نے اذان دینے کا حکم دیا اذان بلند کرو تاکہ سجادع کی مجلس ڈسٹرپ ہو جائے ظلم کے خلاف جو بیمار آواز بلند کر رہے ہیں وہ لوگوں تک آواز نہ پہنچے اذان کے ذریعے سے امام تھوڑی دیر خاموش ہو گئے لیکن جب موذن پہنچا ”اشھد ان محمداً رسول اللہ“ تو پلٹ کر کہا اے یزید بتا محمد رسول ا للہ میرے جدّہیں یا تیرے؟ امام نے صبر سے کام لیا ہمیں بھی صبر سے کام لینا ہے اگر ماتم ہو جلوس ہو کوئی آپ کو دھکا بھی دیدے آپ اسے عبادت سمجھ لیجئے جواب نہ دیجئے اگر گالی بھی دے دے تو صبر، کیوں کہ اس مجلس میں بی بی فاظمہ الزہراءس آ تی ہیں. سامنے والا جو بھی کہے اس کا جواب نہ دیں بی بی کا احترام کریں اس مجلس میں بی بی زینب س آتی ہیں اس جلوس میں امام زمانہع عج آتے ہیں اگر ہم نے جواب دیا اگر کسی کی تھپڑ کا جواب تھپڑ سے دیا تو ہم نے بے احترامی کی بی بی فاطمة الزہراء س کی. لہذا صبر کا درس کربلا والوں نے دیا ہے


مجلس ۵

بسم الله الرحمٰن الرحیم

اما بعد فقد قال الله تبارک وتعالی فی کتابه المجید

( الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونه مکتوباً عنده م فی التورات والانجیل )

قرآن مجید آج بھی ہمارے پیارے نبی محمد مصطفی ص کا زندہ معجزہ ہے قرآن کی ہر آیت معجزہ ہے خدا نے حضرت موسی کو عصا کا معجزہ دیا تھا کہ جب عصا پھینکتے تھے تو اژدھا بن جاتا تھا اور جب عصا زمین پر مارتے تھے توچشمہ بہتا تھا

خدا نے حضر ت عیسیٰ کومعجزہ دیا کہ مردوں کو زندہ کرتے تھے لیکن جیسے حضرت موسیٰ چلے گئے ویسے ان کا معجزہ بھی چلا گیا جیسے حضرت عیسیٰع چلے گئے ویسے ان کا معجزہ بھی چلا گیا مگر ہم اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ قرآن زندہ معجزہ آج بھی موجود ہے تو یہ دلیل ہے

کہ آج بھی کوئی محمدص جیسا موجود ہے ورنہ ہر نبی کے ساتھ اس کا معجزہ چلا گیا آج بھی قرآ ن موجود ہے تو ہمارے نبی ص جیسا ان کا وارث موجود ہے یہ خود نبیص کی حدیث ہے کہ ”اولنا محمد اوسطنا محمد آخرنا محمد و کلنا محمد“ ہمارا پہلا محمد ہے ہمارا درمیانہ بھی محمد ہے ہمارے سب کے سب محمد ہیں ہم سب کے سب محمد ہیں

یہ قرآن کی آیت معجزہ ہے کہ اے مسلمانو! تمہارے نبی کی صداقت کو تمہارے اسلام کی صداقت کو فقط قرآن سے نہیں فقط عقل کی روشنی میں نہیں فقط فلسفہ کی روشنی میں نہیں بلکہ تم توریت سے بھی ثابت کر سکتے ہو انجیل سے بھی ثابت کر سکتے ہوچہ جائے انجیل اور توریت میں عیسائی یہودیوں نے بہت خیانتیں کی ہیں بہت تبدیلیاں کی ہیں مگر قیامت تک پیمبر کا معجزہ ہے یہ قرآن کی آیت کا معجزہ ہے کہ ہر چیز آپ سن رہے ہیں کہ اسلام کی ہر چیز نہ فقط قرآن سے بلکہ ہم توریت سے بھی ثابت کر سکتے ہیں یہ اسلام کی عظمت ہے کہ ”ان الدین عند اللہ الاسلام“ اللہ کے نزدیک دین اسلام ہے دین ایک ہے آدم ع کے زمانہ میں بھی اسلام تھا

ابراھیم کے زمانہ میں بھی اسلام تھا موسیٰع کے زمانے میں بھی اسلام تھا عیسیٰ کے زمانے میں بھی اسلام ہے اور محمد ص کے زمانہ میں بھی اسلام ہے

خون نجس ہے اگر ذبیحہ صحیح نہیں تو اس جانور کا گوشت حرام ہے اور جتنی چیزیں اسلام نے حرام قرار دی ہیں امام کا فرمان ہے کہ یہ نجاست کھاو گے تو یہ بیماری ہوگی یہ نجاست کھاو گے تو وہ بیماری ہوگی اور سائنس نے بھی اسے ثابت کیا ہے جیسے بعض لوگ ہوتے ہیں خود کو ماڈرن کہتے ہیں پڑھے لکھے کہتے ہیں. کہتے ہیں یہ اسلام نے کیا کہا کہ سور مت کھاو جب کہ پورے کافر کھا رہے ہیں پورا آمریکا کھا رہا ہے سور کھانے میں کیا حرج ہے بعض جو بہت ہی ویسٹر نائز ہو جاتے ہیں ایسے سوالات کرتے ہیں تو ایک بہترین کتاب انگریزی میں موجود ہے کہ سور کے گوشت کے اندر کتنے بیکٹریاز ہیں کتنے پیراسائٹ ہیں کتنی بیماریاں ہیں سائنس کے اعتبار سے اور خود ان کی رپورٹ کے مطابق. لیکن سور خنزیر جو حرام ہے

صرف آج حرام نہیں صرف ہمارے نبی کے زمانہ میں حرام نہیں ہوئی ہے بلکہ حضرت آدمع کے زمانہ میں بھی حرام تھی موسیٰع کے زمانہ میں بھی حرام تھی حضرت عیسیٰ کے زمانہ میں بھی حرام تھی کیوں کہ دین ایک ہے ، چیپٹر کا نام لیویٹکس چیپٹر کانمبر۱۱

then the lord said to moses and haron give the following حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰع پر خدا نے وحی نازل کی

کہ کون سی چیزیں حرام ہیں اور کون سی چیزیں حلال ہیں and the hare so they also never be eaten and the pig may not be eaten توریت کہہ رہا ہے کہ خرگوش اور سور حرام ہے اور یہ فقہ جعفری ہے جس میں خرگوش بھی حرام ہے اور سور بھی حرام ہے چیپٹر کا نام deutronomy۱۴:۹ ، as for marine animals سمندر کی مخلوقات میں کون سے حلال ہیں you may eat has both fins and scale

سمندری مچھلیوں میں توریت کہہ رہی ہے ان کو کھانا جن میں چھلکے ہوں اور یہ بھی فقہ جعفری کی صداقت ہے کہ چھلکے والی مچھلی کھاتے ہیں اور بغیر چھلکہ والی مچھلی ہے تو وہ حرام ہے

آج سائنسی ریسرچ بھی ہے کہ سائنسدان بھی منع کرتے ہیں کہ بغیر چھلکے والی مچھلی مت کھاو اس میں جراسیم جلد جاتے ہیں چھلکے جراسیم کو اندر داخل ہونے نہیں دیتے مگر یہ آیت انجیل کی بہت حیران کرنے والی ہے

ephesians ۵:۱۸ ، don"t be drunk with wine , شراب پی کر مدہوش مت ہو جاو because that will ruin your life کیوں کہ شراب تمہاری زندگی کو برباد کردے گا حضرت عیسیٰ کہہ رہے ہیں کہ شراب تمہاری زندگیوں کو برباد کر دے گا مگر عیسائیوں کو توچھوڑیں مگر ان کی عبادت گاہ میں ان کے پادری شراب پیتے ہیں آج سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ کتنی بیماریاں شراب پینے سے ہوتی ہیں آج عیسائیوں کی عبادت گاہ میں شراب پی جاتی ہے کیوں، عیسائی پادریوں نے امر بالمعروف نہیں کیا کیسے امر بالمعروف کرتے جب کہ بادشاہ خود شراب پی رہا تھا اگر کہتے شراب حرام ہے تو بادشاہ جیل میں ڈال دیتا اگر کہتے شراب حرام ہے تو عوام خلاف ہو جاتی انجیل میں آیت موجود ہے بہت سارے عیسائیوں کو معلوم نہیں ہے کہ انجیل میں آیت موجود ہے شراب پی کے مدہوش مت ہو جاو شراب تمہاری زندگیوں کو برباد کردے گااب اگر جس قوم سے امر بالمعروف ختم ہو جائے تو گناہ کبیرہ ان کی عبادت گاہوں میں آجاتا ہے اے مسلمانو! شکریہ ادا کرو امام حسین - کا ، اے کلمہ پڑھنے والو! شکریہ ادا کرو کربلا والوں کا یزید نے یہی کام شروع کیا تھا مسجد دربار میں ہوتی تھی مسجد میں بیٹھ کر سب سے پہلے یزید نے شراب پینا شروع کیا جوا کھیلنا شروع کیا گانا چلانا شروع کیا اگر حسین - نے علی اکبر جیسے جوان قربان نہ کئے ہوتے اگر حسینع کربلا میں علی اصغر جیسے معصوم بچے قربان نہ کرتے اگر زینبس کربلا میں چادر قربان نہ کرتی تو مسلمانو! ہماری مسجدوں میں بھی عیسائیوں کی مسجدوں کی طرح شراب پینا کوئی گناہ نہ سمجھا جاتا جب یہ خبر فرزند علیع فرزند زہراء فرزند رسول خدا ص علیع کے لال کو پہنچی تو حسینع نے کہا چاہے کتنی قربانی دینی پڑے اے یزید تو مسجد میں شراب پیتا ہے میں پورا گھر قربان کردوں گا مگر ایسا امر بالمعروف کا درس دوں گا

تاکہ قیامت تک پھر کسی حاکم کو جراءت نہ ہوگی کہ مسجد میں شراب پئے یہ حسین - کا درس ہے یہ امر بالمعروف کا اثر ہے اگر مولیٰ حسینع امر بالمعروف نہ کرتے تو لوگ گناہ کو گناہ نہ سمجھتے اب کتنی اہم عبادت ہے

ظالموں کو خطرہ، کافروں کو خطرہ، شیاطین کو خطرہ امر بالمعروف سے ہے کربلا میں آکر امام حسینع نے بتایا کہ جو بھی جوا کھیل رہا ہے جو بھی شراب پی رہا ہے وہ امام حسینع کے خلاف جنگ کر رہا ہے اور امام حسینع اس کے خلاف جنگ کر رہے ہیں لہذا اگر کوئی شرابی ہے تو شرابی کا امام، امام حسینع نہیں ہیں شراب پینے والے کا امام ، یزید ہے. نشہ کرنے والے کا امام یزید ہے بھنگ کی شکل میں ہو چرس کی شکل میں ہو ہیروئن کی شکل میں ہو حرام پھر بھی حرام ہے شراب کی شکل میں جو نشہ کر رہا ہے وہ اپنے عمل سے اپنا امام یزید کو بنا رہا ہے اس کا امام حسینع امام نہیں، حسینع اس کا امام نہیں جو شراب پئے امام حسینع اس کا امام نہیں جو رقص وسرور گانے بجانے کی محفلوں میں جائے امام حسینع نے کربلا میں آ کر بتایا کہ قیامت تک کے لئے میں اس کے خلاف جنگ کروں گا جو ان کاموں میں مشغول ہے مولیٰ علی،ع نبی ص اہل بیتع ،کے فرامین بتائے گئے کہ حرام کھانے کے بعد عبادت قبول نہیں ہوتی، جو حرام کھائے چالیس دن نہ اس کی نماز قبول نہیں ہے اس کی دعا قبول نہیں ہے مسلسل مولیٰ علیع فرما رہے ہیں، نبی ص فرمارہے ہیں کہ اے لوگو! اگر حرام سے تمہاری زبان نے طاقت حاصل کی تمہارے دل نے حرام سے طاقت حاصل کی تو اس زبان سے جو بھی تسبیح پڑھو گے استغفار کرو گے اس کا کوئی ثواب نہیں اللہ کے رسول کی حدیث ہے اگر کوئی حرام کھا کر عبادت کر رہا ہے وہ دریا یا سمندر میں گھر بنانا چاہ رہا ہے عبادت وہ قبول ہے جہاں لقمہ حلال ہو شراب پینے والے کے بارے میں بہت حدیثیں ہیں. اللہ کے رسول ص فرماتے ہیں اگر کوئی شراب پیتا ہے تو اس کی عیادت کو مت جاو یہ حکم نبیص ہے اگر کوئی شرابی مر جائے اس کے جنازہ کو کاندھا مت دو اس کی تشیع جنازہ میں مت جاو اگر شرابی تم سے بیٹی کا رشتہ مانگے اسے بیٹی مت دو اگر دیا تو تمہاری بیٹی کی نسل برباد، شرابی کی اولاد مومن بننا مشکل ہے، نسل تباہ ہو گئی ،فرمایا شرابی اگر گواہی دے اس کی گواہی قبول نہیں،

شرابی کے پاس امانت مت رکھو وہ خائن ہے اور اس کا عذاب ، اللہ کے رسول نے دوسری حدیث میں فرمایا اگر کوئی شراب پیتا ہے حرام کھاتا ہے

خدا اس حرام کی وجہ سے اس کے دل کو اتنا سخت بنا دیتا ہے اتنی غلاظت کی نجاست کا پردہ اس کے دل پر آجا تا ہے کہ نہ اس کو عبادت میں لذت ملے گی نہ اسے نماز پڑھنے میں لذت ملے گی نہ اسے قرآن پڑھنے میں لذت ملے گی نہ اسے ذکر خدا میں لذت ملے گی شرابی کے لئے عبادت کی لذت کے دروازے بند ہو جاتے ہیں ، دوسرا عذاب جب کوئی شراب پیتا ہے اللہ کے رسول فرماتے ہیں زمین اور آسمان کے سارے فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں تیسرا جب کوئی شراب پیتا ہے تو حضرت آدم سے لے کر حضرت محمد مصطفی ص تک ایک لاکھ چو بیس ہزار انبیاء اس پر لعنت بھیجتے ہیں فرمایا، شرابی جب مرے گا جہنم کی آگ کے سواء اسے کچھ بھی نہ ملے گاسورہ واقعہ کی تفسیر ہے جب جہنم میں شراب پینے والے، حرام کھانے والے بھوک سے تڑپیں گے اور کہیں گے اے فرشتو اگر کوئی غذا ہو تو ہمیں دو ہم بھوک سے مر رہے ہیں فرشتہ جواب دیں گے تم نے اگر عمل صالح کیا ہوتا تو یہاں تمہارے لئے نورانی غذائیں بنتی تم تو حرام کھانے والے تھے تم تو شراب پینے والے تھے حرام سے جو غذا بنی ہے اس کا نام ہے ذقوم ، ذقوم جہنم کا پہل ہے جہنمی جب بھوک سے تڑپے گا مجبور ہو جائے گا کہ وہ پھل کھائے اب جیسے وہ ذقوم جہنمی پھل کھائے گا جس کے لمبے لمبے کانٹے ہیں یہ کانٹے اس کی گردن میں پھنسیں گے ایک دفعہ فریاد کرے گا پانی پانی فرشتے کہیں گے اگر دنیا میں روزہ رکھتے تو یہاں پانی ملتا اے کم بخت تو نے کبھی روزہ نہیں رکھا تو پانی کہاں سے ملے گا یہاں کا پانی روزہ کی بھوک اور پیاس سے بنتا ہے تو نے جو گناہ کئے اس سے جو پانی بنا اس کا نام حمیم ہے ابلتا ہوا پانی اب یہ لے لے پی لے تفسیر ہے سورہ واقعہ کی جیسے وہ گنہگار اس پانی کو پئے گا اس کا ہونٹ کٹ کے اس کے سینے پر گرے گا ، یہ سزا ہے حرام غذا کی اگر حرام کی غذا ہے تو دنیا اور آخرت کی بربادی ہے لہذا اہل بیت ٪ نے تاکید کی ہے کہ لقمہ حرام سے بچو کوئی عمل قبول نہیں ھدایت کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اگر انسان غذا حرام کھائے حرام کسی کا حق کھا رہا ہے کسی کا مال کھا رہا ہے رشوت کھا رہا ہے ایک نورانی جملہ مولیٰ علی نے فرمایا: میں سخت ترین زہریلے کانٹوں پر سونا پسند کرتا ہوں اور اگر کوئی میرے گلے میں رسی باندھے میرے ہاتھوں میں ہتھکڑی پہنائے میرے پاوں میں رسی باندھے اور مجھے گھسیٹتا ہوا لے جائے میں اسے بھی محبوب رکھتا ہوں مگر میں اسے پسند نہیں کرتا کہ میں قیامت کے دن خدا اور رسول کے سامنے آوں اور میں نے کسی کا حق غصب کیا ہو ،یا کسی پر ظلم کیا ہو ،

سخت کانٹے یعنی سختی دنیا ہر سختی مجھے قبول ہے مگر حرام اور کسی کا حق غصب کرنا مجھے قبول نہیں اور دوسرا نورانی جملہ ارشاد فرمایا: کوئی میرے گلے میں رسی باندھے یعنی دنیا کی جاہ و عزت اس کی مجھے فکر نہیں ہے کہ مجھے حکومت مل جائے مجھے یہ مل جائے مجھے وہ مل جائے نہیں علیع اس کو پسند نہیں کرتا کہ میں کسی کا حق غصب کروں اور کل قیامت کے دن اللہ اور اللہ کے رسولص کے سامنے حاضر ہو جاوں اور اس کے سامنے منھ دیکھانے کے قابل نہ رہوں. تو مولیٰ علیع ہمیں سمجھانے کے لئے بتا رہے ہیں ، فرما رہے ہیں اس جسم کے لئے میں کسی کا حق غصب کروں کسی پر ظلم کروں جو بہت جلد بوڑھا ہو رہا ہے اس جوانی کے لئے میں کسی پر ظلم کروں جوناتوانی میں بدل رہی ہے یہ جوانی جو بڑھاپے میں ڈھل رہی ہے فرما رہے ہیں اس جسم کی راحت کے لئے میں کسی کا حق غصب کروں میں کسی پر ظلم کروں جو مجھے یقین ہے کہ مٹی کے نیچے دبنے والا ہے یہ علیع آپ کو اور مجھے کہہ رہے ہیں

اے انسان اس جسم کے لئے جو مٹی کے منوں کے نیچے دبنے والا ہے کیوں کسی پر ظلم کر رہے ہو کیوں کسی کا حق غصب کر رہے ہو خبردار کسی پر ظلم مت کرو کسی کا حق غصب نہ کرو اگر کوئی آپ سے ضعیف ہے بیوی ضعیف ہے اس پر ظلم نہ کرو نوکر ضعیف ہے اس پر ظلم نہ کرو ، کسی کا حق غصب نہ کرو چاہے تم کتنے بھی طاقتور ہو .فرمان معصوم نور ہے فرمان معصوم پڑھنے اور سننے سے دل میں نور پیدا ہوتا ہے

انسان کو ھدایت ملتی ہے اللہ کے رسولص کی حدیث ہے کہ اگر کوئی اپنے نبیص کی چالیس حدیثیں یاد کرے گا اور اس پر عمل کرے گااس پر خدا جنت کو واجب کر دیتا ہے فرمان امام نور ہے دلوں میں نور پیدا ہوتا ہے مولیٰ نے کس قدرنورانی فرمان سے ہمیں ھدایت دی کہ کسی کا حق غصب نہ کرو رزق حرام میں برکت نہیں ہے بعض لوگ کہتے ہیں فلاں رشوت لیتا ہے اس کے پاس اتنے گھر ہیں اتنی گاڑیاں ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ رزق حرام میں برکت نہیں ہے ہم تو دیکھ رہے ہیں بر کت ہی برکت ہے ہم دنیا دیکھ رہے ہیں

برکت سے مراد کیا ہے یہ دنیا کی زندگی زیادہ سے زیادہ اسی ۸۰ یا سو ۱۰۰ سال سے زیادہ انسان دنیا میں نہیں رہتا اب مرنے کے بعد والی زندگی کتنی ہے کیا سو سال ہے کیا ھزار سال ہے کیا ایک لاکھ سال کیا ایک ملین سال ہے؟ نہیں وہ تو ابدی زندگی ہے وہ کروڑوں سالوں سے بھی زیادہ ہے اب اگر ایک انسان حرام کھا رہا ہے اللہ کے رسول نے کہا برکت نہیں ہے حرام کے مال میں کیوں کہ جو بھی عبادت کر رہا ہے وہ آخرت میں نہیں جا رہی ہے نماز پڑھ رہا ہے وہاں کچھ نہیں ہو رہا ہے روزہ رکھے خیرات دے اس کا کوئی اجر نہیں ہے کیوں کہ رزق حرام ہے اس لئے کہا رزق حرام میں کوئی برکت نہیں اور اگر مال چھوڑ کر مرتا ہے تو اس سے بھی آتش جھنم کے سواء کچھ نہیں ملتا ، مولیٰ علیع نے فرمایا یہ فکر باطل ہے کہ حرام کھا کر مسجد بناو کسی پر ظلم کر کے حج پر چلے جاو عبادت قبول نہیں جاہل عبادت کرنا چاہتا ہے الٹا گناہ کرتا ہے امام جعفر صادق ع کو لوگوں نے بتایا کہ ایک بہت بڑا اللہ والا شہر میں آگیا ہے امام نے کہا چلو ہم بھی اس اللہ والے کو دیکھتے ہیں امام اس اللہ والے کے پیچھے گئے دیکھا ایک دکان کے پیچھے چھپ کے کھڑا ہوگیا ہے دو انار چوری کئے پھر آگئے بڑھا نانوائی کی دکان میں کھڑا ہوا وہاں سے دو روٹیاں چرائیں اور چلا گیا غریب محلہ میں وہاں کچھ بھوکے لوگ تھے جا کے ان کو روٹیاں بھی دیں انار بھی دیئے امام نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا فرمایا تونے یہ کیا کیاوہاں سے دو انار چوری کئے ادھر سے دو روٹیاں چوری کیں اور آکر غریبوں کو دیا وہ بھی حرام. تو امام - سے کہنے لگا آپ قرآن مجید سے جاہل ہیں جاہل خود ہے اپنے زمانہ کے امام سے کہہ رہا ہے آپ قرآن مجید سے جاہل ہیں آپ نے قرآن کی آیت نہیں پڑھی امام نے کہا کون سی آیت کہا قرآن کی آیت کہہ رہی ہے ایک گناہ کرو گے تو اس کی سزا ایک ہے اور ایک نیکی کرو گے تو اس کی جزا دس ہے میں نے دو گناہ کئے اور میں نے نیکیاں کیں، تو بیس تو میری نیکیاں ہو گئیں اور دو گناہ مائنس کرو تو اٹھارہ نیکیاں میری پھر بھی ہیں جہالت یہی ہے کہہ رہا ہے میں نیکی کر رہا ہوں جب کہ عین گناہ کر رہا ہے اور امام سے کہہ رہا ہے آپ جاہل ہیں آپ نے قرآن نہیں پڑھا امام نے کہا اچھا تونے کیا یہ قرآن کی آیت نہیں پڑھی ”انما یتقبل اللہ من المتقین“ خدا اس کے عمل کو قبول کرتا ہے جو متقی ہو تو تو چور ہے تیرا عمل کیسے قبول ہوگا آج معاشرہ میں یہی مشکل ہے دو طرح کے جاہل ہیں ایک جاہل وہ جس کو یہ احساس ہے کہ میں جاہل ہوں ایک جاہل وہ جو ضدی ہے جو جاہل بھی ہے اور زمانہ کے امام کو کہہ رہا ہے آپ جاہل ہیں لیکن جاہل ضدی کے لئے ھدایت کے دروازے بند ہیں یہ خود بھی گمراہ اور دوسروں کوبھی گمراہ کر رہا ہے ہمارے معاشرہ میں امر بالمعروف اگر ختم ہو جائے تو ہمارے یہاں بھی شراب پینا عام ہو جائے گا لوگ شراب پینا گناہ نہیں سمجھیں گے آج عیسائی شراب پینا گناہ نہیں سمجھتے کیوں کہ امر بالمعروف ختم ہو گیا ہے یہ کربلا والوں کا احسان ہے آج اسلام کے خلاف سازش ہو رہی ہے

آج یہودی ایجنٹ سب سے زیادہ خوفزدہ شیعیان حیدرکرار سے ہیں کئی مرتبہ انھوں نے اظہار کیا کہ لبنان میں پوری زمین شیعوں کی نہیں ہے حکومت شیعوں کی نہیں ہے فقط ایک حصہ شیعوں کا ہے بیس بیس سال سے قبضہ اسرائیلیوں کا ہے لیکن شیعیان حیدرکرار نے اپنی زمین سے ایک ایک یہودی کو باہر نکال دیا یہ لوگ خوفزدہ ہیں عزاداری کو ڈسٹرپ کرنا چاہتے ہیں

کہ شیعوں کے پاس جو جراءت ہے شجاعت ہے وہ عزاداری حسینع سے ہے لہذا بیرونی سازشیں کی ہیں اندرونی سازشیں کی ہیں اندر گھس کر بھی کچھ لوگ عزاداری کے مقصد کو ختم کرنا چاہتے ہیں عزاداری حسینع کا مقصد کیا ہے امام حسینع کے دو طرح کے قاتل ہیں صرف شمر قاتل نہیں، شمر امام حسینع کے سر کا قاتل ہے آج بھی امام حسینع کے قاتل موجود ہیں جو امام حسینع کے سر کے نہیں امام حسینع کے مقصد کے قاتل ہیں انہیں پہچانئیے سر کا قاتل اتنا خطرناک نہیں جتنا وہ قاتل ہے جو مقصد حسینع کا قاتل ہے مقصد امام حسینع کیا تھا یہ مقصد نہیں کہ ہم روئیں ماتم کریں نہیں یہ خود ہمارے لئے نجات ہے امام حسینع پر کوئی احسان نہیں امام حسینع کا مقصد یہ نہیں تھا کہ میں شہید ہو جاوں اور قیامت تک لوگ روئیں اور ماتم کرتے رہیں یہ تو اپنی محبت کا اظہار ہے مقصد حسینع کیا تھا کربلا میں آکر مولیٰ حسینع نے بتایا کہ میرا مقصد کتنا عظیم ہے علی اکبر کی جوانی رہے یا نہ رہے لیکن میرا مقصد زندہ رہے علی اصغر کی مسکراہٹ رہے یا نہ رہے مگر میرا مقصد زندہ رہے عباس کے بازو رہیں یا نہ رہیں مگر میرا مقصد زندہ رہے

اور وہی وعدہ سکینہ نے کیا بابا تماچے کھاوں گی لیکن تمہارے مقصد کو ذرہ برابر نقصان نہ ہونے دوں گی اور وہی وعدہ بی بی زینب کا تھا بھیا حسین تازیانے کھاوں گی مگر تیرے مقصد کو نقصان نہ پہنچنے دوں گی آج عزاداری کے نام پر مقصد عزاداری اور مقصد حسینع کو نابود کرنے کی سازش ہے مقصد حسینع کیا ہے ہر زیارت میں ہے ہر ایک امام کی زیارت میں ہے ”اشھد انک قد اقمت الصلواة و اٰتیت الزکاة“ حسینع کا پہلا مقصد یہ تھا کے نماز قائم ہو جائے یہ وارث حسینع نے کہا لوگ پوری رات عزاداری کرتے ہیں لیکن نماز کی مخالفت کرتے ہیں فجر کے وقت سو جاتے ہیں یہ ہیں حسینع کے قاتل نوجوانوں کو بہکا رہے ہیں وارث حسینع کہہ رہا ہے کہ میرے بابا کا مقصد کیا تھا ”اشھد انک قد اقمت الصلواة و اٰتیت الزکاة“ نماز قائم ہو جائے یہاں تک کہ عزاداروں کو گمراہ کیا جا رہا ہے عزاداری کے نام سے کہ نماز کی کوئی ضرورت نہیں ہے بس عزادری کرو جنت میں چلے جاو گے. یہ ہیں مقصد حسینع کے قاتل یہ ہیں قرآن کے خلاف یہ ہیں اپنے امام کے خلاف امام خود کہہ رہے ہیں قرآن کہہ رہا ہے( اقیموا الصلواة و لا تکونوا من المشرکین ) یہ قرآن کی آیت ہے

اگر کوئی نماز نہیں پڑھ رہا ہے تو وہ مشرک ہے تمام علماء کا فیصلہ تمام مجتہدین کا فیصلہ جو منکر نماز ہے وہ نجس ہے اس کے ہاتھ کا کھانا پینا حرام ہے

کیوں کہ جو منکر نماز ہے کیوں کہ نماز کا حکم دینے والا کون ہے اللہ ، اللہ کے بعد نبیص ہیں نبی کے بعد علیع ہیں لہذا منکر نماز منکر نبی ہے نجس ہے مشرک ہے اس کے ہاتھ کا کھانا پینا جائز نہیں ہے عزاداری کے ذریعے سے عزاداری کو بد نام کرنا چاہتے ہیں، سوال کیا گیا کہ بکرا کاٹ کے خون ملنا کس روایت میں ہے تو کہتے ہیں امام حسینع نے علی اصغر کا خون اپنے منھ پہ نہیں ملا تھا استغفراللہ یعنی علی اصغر کو نسبت دے رہے ہیں بکرے کے ساتھ. اس سے بڑھ کے توہین کیا ہوگی کہ علی اصغر معصوم حسینع کے بیٹے کو ایک معمولی سے بکرے سے نسبت دی جا رہی ہے یہ ہیں جاہل جو سمجھ رہے ہیں عبادت کر رہے ہیں یا توہین کر رہے ہیں کہ اس لئے امام حسینع نے خون ملا تھا تو ہم بکرا ذبح کر کے اس کا خون ملتے ہیں اچھا علی اصغر کو تو شمر نے تیر مارا تھا اس بکرے کو کس شمر نے تیر مارا ہے یہ ہیں جاہل جو اپنی ہر مرضی کو دین کا نام دے رہے ہیں نہ آیت ہے نہ دلیل یہ مذھب اہل بیتع ،اسلام ،دین عقل ہے دین فطرت ہے یہ چاہ رہے ہیں دین عقل کو دین جاہل بنائیں اسلام پر ضرب مارنا چاہتے ہیں واجب ہے امر بالمعروف کرنا ورنہ آج بکرہ ذبح کررہے ہیں کل کتا ذبح کریں گے اور یہاں تک بتایا گیا کہ بعض عیسائیوں سے ذبح کرواتے ہیں مسلمان بھی نہیں اور بعض اوقات قبلہ کی طرف رخ بھی نہیں ہوتا اور ذبح کرواتے ہیں بکرہ ، لہذا واجب ہے ہر عالم پر ہر مومن پر ہر بدعت کا مقابلہ کرو ورنہ کل وہی بدعت مانند شراب مسجدوں میں آجائے گی جیسے عیسائیوں کے یہاں ہوگیا جو انسان اپنی ہر مرضی کو دین سمجھے وہ شیطان کی پیروی کر رہا ہے شیطان نے بھی وہی کہا تھا کہ پروردگار میں آگ سے بنا ہوں وہ مٹی سے بنا ہے میں کیوں سجدہ کروں خارجی کون تھے خارجی پہلے علیع کے ماننے والے تھے مگر جب انہوں نے دیکھا کہ مولیٰ علیع ہماری مرضی سے نہیں چلتے تو مولیٰ پر تلوار نکالی مولیٰ کے قاتل خوارج ہیں یہ خود کو عقل کل کہہ رہے تھے مومن وہ ہے جو قرآن کے سامنے تسلیم ہو جائے مومن وہ ہے جو حدیث کے سامنے تسلیم ہو جائے مومن وہ ہے جو امام کے سامنے تسلیم ہو جائے دین میں جو اپنی مرضی چلائے وہ ابن ملجم ہے وہ مومن نہیں وہ خارجی ہے

دین کی شکل بگاڑی جا رہی ہے مذھب کا مذاق اڑایا جا رہا ہے مولیٰ علی رضع کے زمانہ میں بھی ہر زمانہ میں ایسے خارجی لوگ رہے ہیں. امام کے قریبی پانچ لوگ تھے جو ہارون رشید کے جیل میں گئے جہاد کیا مومن تھے لیکن کیسے مومن اپنی مرضی کو دین سمجھنا ، میرا عمل جو ہے وہ صحیح ہے، میں چاہے بکرہ کا خون لگاوں یا کتے کا خون لگاوں میں شریعت بنانے والا ہوں ،

جب مولیٰ رضع نے مامون رشید کی ولی عہدی کو مجبوراً قبول کیا تو یہی لوگ تھے جنھوں نے دو مرتبہ امام پر قاتلانہ حملہ کیا شیعہ تھے کہا امام نے اس ظالم کی ولی عہدی کو کیوں قبول کیا یعنی خود کو امام سے بھی عالم سمجھتے تھے

آج جو مجتہدین کی بات نہیں مانتے قرآن کی بات نہیں مانتے جو خود کو عقل کل کہتے ہیں اور پوری قوم کو گمراہ کرتے ہیں ہم قرآن کو مانتے ہیں شریعت کوبدلنے والا کبھی بھی مومن نہیں ہو سکتا ہم وہاں سر جھکاتے ہیں جہاں آیت قرآن ہو یا فرمان معصوم ہوجو لوگ بکرہ کا خون لگاتے ہیں وہ قرآن کی کوئی آیت یا معصوم کا فرمان دکھائیں لہذا اگر بدعت کی مخالفت نہ کی جائے تو آنے والی نسلیں چھوٹے بچے جب دیکھیں گے امام بارگاہوں میں خون ملا جا رہا ہے کہیں گے یہ بھی کوئی سنت ہے کوئی آیت ہے اور دوسری گمراہی کہ امام حسینع نے علی اصغر کا خون ملا تھا علی اصغر کو بکرہ سے نسبت دینے والا شیعہ نہیں ہو سکتا وہ دشمن عزادار ہے شریعت سے نا واقف ہے کیوں کہ جنگ کے احکام اور ہوتے ہیں سفر کے احکام اور ہوتے ہیں ہر احکام مختلف ہوتے ہیں جو اس طرح سے اسلام کو بگاڑنا چاہتے ہیں عزاداری کو بگاڑنا چاہتے ہیں عزاداری کے نام سے مقصد عزاداری کو بگاڑنا چاہتے ہیں

اس طرح کا گروہ انگلینڈ میں بھی داخل ہوا تھا نوجوانوں کو ہیروئن بھی پلا رہا تھانشہ بھی کروارہا تھا مولیٰ علیع کے نام سے، حالانکہ کفرستان تھا لیکن وہاں کے مومنین نے ہمت کی ایسے گندے افراد کو امام بارگاہوں سے نکال دیا اور تمام مجتہدین کی فتوائیں لائے کہ ان کا شیعوں سے کوئی تعلق نہیں ہے نجس ہیں ان کے ہاتھ کا نذر و نیاز کھانا بھی صحیح نہیں ہے جو منکر نمازہو جو مجتہدین پر لعنت بھیجے جونائب امام پر لعنت بھیج رہا ہے کیا وہ عاقل انسان ہو سکتا ہے اور ان لوگوں کو پہچاننا ہے تو ان کا ایک اصول ہے ان کا گروہ آمریکا کے خلاف ایک آواز بلند کرتے ہوئے نظر نہیں آئے گا ، اسرائیل کے خلاف ایک نعرہ بلند کرتا ہوا نظر نہیں آئے گا اب اس سے خود اندازہ لگائیں کہ مقصد حسینع تو یہ ہے کہ وقت کے یزیدوں کے خلاف آواز بلند کرو کبھی بھی یہ وقت کے یزیدوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہوے نظر نہ آئیں گے تو سمجھ لیں کہ یہ کون لوگ ہیں البتہ وہی سب نہیں، بعض لوگ سمجھتے ہیں عزاداری ہے ان کو کیا پتہ وہ جاہل ہیں نادان ہیں ان سے دور ہو جائیں ان میں چند افراد واقعاً ایجنٹ ہیں مانند خوارج ضدی ہیں مولیٰ علیع نے فرمایا دو افراد نے میری کمر توڑی ہے ایک جاہل ضدی ایک عالم بے عمل جو دیکھ رہا ہو خلاف شریعت عمل ہورہا ہے بدعت ہو رہی ہے مگر اس ڈر سے کہ مجھے گالیاں پڑیں گی مجھ پر حملہ ہو گاسلام اس مومن پر جس نے امر بالمعروف کیا، اور اس پر قاتلانہ انھوں نے حملہ بھی کیا، اخبار میں آچکا ہے. لہذا یہاں خاموش ہونا حرام ہے مقصد حسینع کے خلاف ہے کوئی بدعت اگر عزاداری میں آرہی ہے وہ سازش ہے وہ عزاداری کی شکل کو بگاڑنا چاہتے ہیں اس پاک مذہب کو نجس کرنا چاہتے ہیں لہذا اجازت نہ دیں البتہ امن کے دائرے میں، صبر کے دائرے میں، جو بھی زیادتی کرے ان کا مقصد فتنہ ہوگا فتنہ سے ہاتھ نہ لگائیں یہ لوگ چاہتے ہیں فتنہ ہو لیکن ہمیں صبر سے کام لینا ہے دلیل سے کام لینا ہے فتنہ و فساد وہ کرتا ہے جو جاہل ہو اس کے پاس قرآن کی دلیل نہ ہو اہل بیت کا علم نہ ہو الحمدللہ ہم علیع کے ماننے والے ہیں ہم امام زمانہ عج کے ماننے والے ہیں ہمارے پاس قرآن بھی ہے اور اہل بیت ٪کا فرمان بھی ہے لہذا ان فتنہ کرنے والوں کو اجازت نہ دیں کہ عزاداری کے تقدس کو پامال کریں مجلسوں کا تقدس پامال کریں ”الفتنة اشد من القتل“ فتنہ قتل سے بڑا گناہ ہے عزاداری میں احترام سے چلنا ہے مجلس میں احترام سے آنا ہے اگر کوئی برا بھلا کہے کوئی بات نہیں ، اگر کوئی مجلس میں کسی کو مار دے تو جواب نہ دیں کس کے احترام میں بی بی فاطمہ کے احترام میں


مجلس ۶

بسم الله الرحمن الر حیم

فقد قال الله تبا رک و تعالی فی کتا به المجید

( الذ ین یتبعو ن الرسول النبی الامی الذی یجدو نه مکتو با عنده م فی التوراة و الانجیل )

قر آن کر یم سر کار حضرت محمدص کازندہ معجزہ ہے اورقرآن کی ہرآ یت معجزہ ہے مختلف زمانوں میں مختلف آ یتو ں کے معجزات انسان کے سا منے آئے اور اسلا م جوآ ج انسان کے سامنے نظر آرہا ہے وہ قرآن کی عظمت کی وجہ سے ہے یا ا ہل بیت ٪کی عظمت کی وجہ سے ہے جب بھی اسلا م پر بر اوقت پڑا تو اہل بیت ٪نے قر با نیاں دی ہیں جہا ں جا ن دینے کی قر با نی آ ئی تو اھل بیت ٪میدا ن میں آ ئے جہا ن مباہلہ کی ضرورت پڑی تواہل بیت ہی سامنے آئے اور جہا ں مناطرہ کی ضرورت پڑی تو اہل بیت ٪سامنے آ ئے

تار یخ میں ملتا ہے کہ ایک بہت بڑا عیسا ئی عالم جو منا ظرہ میں بہت خطر نا ک حدتک ما ہرتھا تو اس نے آکرلو گوں کو گمر اہ کر نا شروع کیاوہ لو گو ں سے پوچھتاتھااے مسلما نوں تم کیا حضرت عیسیٰ کو نبی ما نتے ہو تو ظا ہر ہے کون کہے گا کہ حضرت عیسیٰ کو نہیں ما نتا حضرت عیسیٰ اللہ کے نبی ہیں قابل احترام ہیں

تو لو گ کہتے تھے ہا ں ہم عیسیٰ کوما نتے ہیں تو وہ پلٹ کرکہتاتھامگر ہم عیسا ئی تمہا رے نبی کو نہیں ما نتے ہیں کہتاتھااب بتا ؤ کونسا نبی بڑا ہے جس کودو نوں فرقہ مانیں یاجس کو فقط ایک فر قہ مانے تومسلما ن یہاں پرچپ ہوجا تے تھے اب جب لو گوں نے ا س طر ح سے سناتو گمر اہی بڑھ گئی

تو اس زما نے کا با دشا ہ مجبو ر ہواکہ وہ وارث قرآن کے در پر آ کر جھکے اور اس نے کہااے مو لاایک عیسا ئی ہے جو اسکے سو ال کاکوئی جو اب نہیں د ے سکتا ہے آپ تشریف لے آئیے اما م وقت تشریف لے آئے تو عیسا ئی نے ا سی طر ح سے سو ال کیا کہ کیا آ پ حضرت عیسیٰ کو ما نتے ہیں اب عالم لوگ جوتھے وہ علم غیب نہیں رکھتے تھے تو وہ فوراًکہتے تھے ہاں ہم ما نتے ہیں مگر امام وہ ہوتا ہے جو دلوں کے را زکو جا نتا ہے جب اس نے سوال کیاتو امام سمجھ گئے تو امام نے فر ما یا میں اس عیسیٰ کو نبی مانتا ہوں جس نے حضرت محمدمصطفی ص کے آ نے کی خبر دی ہے اگر اس کے علا و ہ کو ئی اور ہے تو میں اس کو نہیں ما نتا ہوں اب فقط ایک ہی حملہ میں با طل کاغرورمٹ گیا ا ور وہ عیسا ئی شکست کھاگی. اس قصہ کا مقصدیہ ہے کہ ہر زما نے میں اھل بیت ٪ نے اسلا م کو بچایا ہے ا ھل بیت ٪کے گھر انہ نے قربا نیاں دیں ہیں اسلا م کی آج جو عظمت ہے وہ قرآن کی وجہ سے ہے

یامحمد اور آل محمدکیوجہ سے ہے اور اسلا م ہر زمانے میں تھآ دم کے زمانے میں بھی اسلام تھاحضرت ابراہیم کے زما نے میں بھی اسلام تھاآپ نے توریت اور انجیل سے پڑھا کہ عیسا ئیوں کونہیں معلو م کہ توریت اور انجیل میں شر اب حرام ہے ، سور توریت میں حرام ہے،

زا نی کو سنگسا رکرناتو ریت میں بھی مو جو د ہے ا ورانجیل میں بھی مو جودہے سجدہ کے بارے میں بھی مو جو د ہے کہ تمام بزر گ انبیا نے سجد ہ کیا ہے مگر عیسا ئیوں کی کسی عبا د ت میں سجدہ مو جو د نہیں ہے عیسائی جوبڑھ رہے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ا ن کا زور میڈیا پر ہے اور دوسرا ان کاکنٹر و ل اقتصادیات پر ہے یور پ ،امریکا میں اسلا م کے خلاف ہنسی مذاق اڑانے کے لئے ایک بہت بڑا موضو ع ہے وہ یہ ہے کہ اسلامنے چارشادیاں کر نے کی اجاز ت دی ہے اوراسلا م نے یہ اجازت دے کر عورتوں پر بہت بڑا ظلم کیاہے

اوریورپ میں ا یک سے زیادہ شادیاں کرناغیرقانو نی ہے خو د امریکی ہو م منسٹر نے کہاکہ جو ہما ر ی نیوجنریشن جوہے وہ ففٹی پرسنٹ سے زیادہ حرام ز ادہ ہیں

مگر پھربھی کہتے ہیں کہ ایک سے زیا دہ شادی کر نا غیر قانونی ہے وہ کہتے ہیں کہ اسلا م میں مر د کواجاز ت د یکے وہ چار شا د یاں کرسکتا ہے مگر عورت کو اجازت نہیں ہے کہ وہ چار شادیاں کر ے اب آئیے اس مسئلہ کی حکمت کو سمجھیں اسلا م دین عقل ہے آپ پوری دنیا میں نظردوڑا ئیں دو ملکوں کے علاوہ ہر ملک میں عو رتوں کی تعداد زیادہ ہے نمبردو جنگو ں میں سب سے زیادہ مرد ما رے جا تے ہیں اور عو رتیں نہیں ماری جاتیں ہیں جب جنگوں میں مر د مار ے جا تے ہیں اور کیوں کہ عورتوں کی پید ا ئش بھی زیا دہ ہے اور جنگوں میں بھی مر د ما ر ے جا تے ہیں تو نتیجہ یہ ہے کہ عورتوں کی جمعیت اور بڑھ جاتی ہے اب آ پ لبنا ن میں مشاہد ہ کیجئے افغانستا ن میں مشاہدہ کیجئے کہ دس بیس سال کی جنگوں کے بعدعورتوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے نمبر تین اکسیڈنٹ میں ڈرائیور مسا فر زیا دہ تر مردہو تے ہیں اکسیڈنٹ میں بھی ز یا د ہ مرد مارے جا تے ہیں نمبرچار کہ ایک بچہ ایک لڑکی ایک سا تھ پید ا ہو ئے لڑکی لڑکے سے دو سال پہلے با لغ ہوجا تی ہے وہ شا دی کے قابل ہے اور لڑکا شادی کے قابل نہیں ہے یہاں پر بھی عورتوں کی جمعیت بڑھ گئی یہ تو عقلی دلائل ہیں مگر تاریخ کو اٹھا کر دیکھیں کہ دوسری جنگ جہانی کے بعدجنگ عظیم دو م کے بعد جب جر منی میں مرد بہت زیادہ مر گئے تو عورتوں نے جلو س نکا لے کہ ہر مردکودو دو تین تین شادیاں کر نی چاہئے ورنہ پورے ملک میں کرپشن پھیل رہا ہے حا لا نکہ ان کاتعلق اسلا م سے نہ تھا اسلا م دین عقل ہے اسلا م دین فطرت ہے اب ہم اس مسئلہ کو توریت سے ثابت کر تے ہیں کہ اسلا م کا کیایہ حکم غلط ہے ؟ اسلام کایہ حکم مردوں کی طرفداری کر تا ہے اورخو ا تیں کے حقوق کو پاما ل کر نا ہے. توریت کا پہلاچپڑ جنیسزچپٹرکا نمبر ۲۵ اس کی پہلی آیت

ow ibrahim maried again qatora was his new wife

جبکہ توریت میں لکھا ہے کہ حضرت ابرا ہیم کے پاس پہلے بیوی تھی جب ایک کا نا م ہاجرہ اور دوسری سا رہ بھی تھی پھر حضرت ابر ا ہیم نے ایک اور شادی کی اس کا نا م قطورہ تھا تو جب تم ابراہیم کو نبی مانتے ہو کہ ابراہیم کی تین بیویاں تھیں توتم نے قانو ن کیسے بنا د یا کہ ایک سے زیا دہ شادی کر ناغیر قانو نی ہے ا ب جو عیسائی ہم پر مذا ق اڑا تے ہیں کہ ہم نے عو رتوں پر زیا د تی کی ہے اور ان کے حقوق پاما ل کئے ہیں ہما رے یہاں تو چا رسے زیادہ شادیا ن کر نا حرام ہے مگر توریت میں لکھا ہے First king chapter ۱۱ میں حضرت سلیمان کا ذکر ہے ارشاد ہوتا ہے yes solyman ansest loving the m any way حضرت سلیما ن کے لئے کہہ رہے ہیں any way he had seven hunderd wives اب یہ کتنا بڑاجھو ٹ ہے کہ حضرت سلیمان کے پا س سا ت سوبیویاں تھیں اے عیسا ئیو! جب تم لو گوں نے لکھا کہ حضرت سلیمان کے پاس سات سوبیویا ں تھیں توتم چار بیو یوں پر کیسے اعتر اض کر تے ہو اب ہم بڑی آسانی سے توریت اور انجیل کے ذریعے سے عیسا ئیوں کو شکست دے سکتے ہیں اور انہیں مسلما ن بنا سکتے ہیں عیسا ئیت میں کچھ بھی نہیں ہے کیو ں کہ عیسا ئیت دین عقل نہیں ہے دین فطر ت نہیں ہے اور اس کتا ب میں کتنی تبدیلیا ں ہو چکی ہیں

مگر قرآ ن کلا م خد ا ہے یہ توریت اور انجیل مثل قرآن نہیں ہیں. عیسا ئیو ں کا دوسرا سب سے بڑااعتر اض حجاب پر ہے کہ عورتوں پر کتناظلم ہے

کہ انہیں حجا ب کرا یاجا تا ہے مگر ایسا نہیں ہے حجاب اسلا م میں اسے ملتا ہے جو صا حب تقدس صا حب مقام ہو آ پ پوری کا ئنا ت میں دیکھیں کہ ”ا ن اول بیت وضع للناس للذی ببکہ مبارک ھدی للعالمین“ قرآن کہہ رہا ہے کہ کعبة اللہ مبارک ہے تو اللہ نے کعبہ کو حجاب میں رکھا ہے حجاب عزت کی دلیل ہے کوئی عام عقلمندانسان بھی اگر با زار میں جاکر دیکھے تواسے معلوم ہو گا کہ جو معمو لی پتھرہو تے ہیں وہ لو گوں کے ٹھوکروں میں آتے ہیں بے حجاب ہوتے ہیں مگرڈائمنڈ کبھی بغیرحجا ب کے نظر نہیں آئے گا جوقیمتی پتھر ہے وہ ہمیشہ محفو ظ حجابو ں میں ہوتے ہیں.جوانسان واقعاًہدایت لینا چاہتا ہے تواسلا م دین ہدا یت ہے حجاب خا تو ن کے لئے بہترین زینت بھی ہے بہترین حفا طت بھی ہے لنڈن سے ایک مو لا نا لو س آنجلس تبلیغ کر نے لئے گئے تھے لوس آنجلس میں ایک مو منہ بچی یو نورسٹی میں پڑھتی تھی اور وہ با حجا ب جا تی تھی اس مو منہ بچی کی ایک عیسائی بچی سہیلی تھی وہ بغیر حجاب کے آتی تھی وہ عیسائی لڑکی کچھ خو بصورت تھی تو بد ما ش لڑ کے اسکو تنگ کر تے تھے وہ بچی تنگ آ گئی اور اس مو منہ سے کہنے لگی میں کیا کروں کس سے لڑوں یہ بد معاش یو نورسٹی کے لڑکے مجھے تنگ کرتے ہیں تو اس نے کہا اس کاحل ہے ا گرتوعمل کرے گی اس نے کہاکیا حل ہے اس نے کہاتو اسلا می لبا س پہن لے تو بدمعاشوں سے بچ جاؤ گئی اس نے کہاڈھیلا ڈھا لا لبا س ہواور سر پر اسکاف ہوو ہ عیسا ئی لڑکی تنگ آگئی تھی اس نے کہاٹھیک ہے میں تجربہ کرتی ہوں اور اس نے اسلا می لبا س پہنا تو بدمعاشوں نے چھیڑ نا چھوڑ دیا اور یہ عیسائی بچی اسلا می لباس سے متا ثرہو ئی کہ ا س نے اسلا م کو قبو ل کرلیا اسلا م دین الھی ہے اسلا م قیا مت تک کے لئے دین ہے یہ شریعت قیا مت تک کے لئے ہے قیا مت تک جتنے پروبلم ہیں اس کے سا لو شن اسلا م میں ہیں حجا ب کے بارے میں توریت میں مو جود ہے مگر وہی بدبخت اپنی کتا ب پر عمل نہیں کر تے ہیں کیو نکہ انکے یہاں امر با لمعروف ختم ہو چکا ہے توریت چپٹر جنیسز چپتر ۴ آ یة ۶۶ حضرت اسحا ق کا ذ کر ہے کہ حضرت اسحاق شا دی کر نے گئے So rabica coverd her face with her vill جب حضرت ربیکا نے دیکھا کہ اسحا ق آ رہے ہیں تو انہوں نے اپنے منھ کو حجا ب کیسا تھ چھپالیا یہ ان عیسا ئیوں کی بد بختی ہے کہ و ہ اپنی کتا ب پر عمل نہیں کر تے ہیں کیو نکہ انکے یہان امر با لمعروف کا نا م و نشان نہیں ہے عیسائی پا در ی وہ با ت کر تا ہے جو پبلک کو پسند ہو اگر سا ری پبلک شر اب پیناپسند کر ے

تو وہ اپنے چرچو ں میں شر اب لیکر آئے. اگرپبلک جو ا کھیلنا پسند کرے تو اب انگلنڈ میں کتنے چرچو ن میں جو ا خانہ کھل گئے ہیں

حالاں کہ جو ا کھیلنا توریت ا ور انجیل میں حر ام ہے ا مربالمعروف اورنہی عن المنکر نہ ہو نے کایہ نتیجہ ہے توریت چپٹر اسا ئیان چپٹر نمبر ۳ Next the lord will judge the woman of jerusalam اللہ جروشلم کی عورتوں کو دیکھا lked around there noses in the air جو ناک چڑھا کرچلتی تھیں with tinkling ornaments on their ankle

, پا ؤں میں زیورات پہنتی تھیں there eyes rowf amomg the craft اور وہ نا محر م مردو ں کودیکھتی تھیں filitring with the mans اور نا محرمو ں کے سا تھ مذا ق کر تی تھیں The lord will saind a plige اللہ نے ان بے حجاب عورتوں پرعذا ب بھیجا on ognoments their head of scabs اللہ نے ان پرجو ؤں کا عذاب بھیجا یعنی توریت کہہ رہا ہے کہ پہلے جوئیں نہیں تھیں

جب عورتیں سر ننگے پھرنے لگی تو اللہ نے ان پر جوؤں کا عذا ب بھیجا

ا for all to see yes the lord will make them bold

اورقیا مت کے دن اللہ ان بے حجاب عورتوں کوگنجا کر دے گا کہ قیا مت کے دن سب انہیں دیکھیں. مو لا علی - کا یہ فرمان یاد رکھئے اور اسلا م کو بھی دیکھیں اور مسیحت کو بھی دیکھیں مو لا علی - فر ما تے ہیں اگرتمام عبادتوں کو ایک طر ف رکھ دیا جا ئے نماز روزہ حج و زکا ت خمس حتی جہاد فی سبیل اللہ یہ سا ری عبا دتوں کو ایک طرف رکھدیا جا ئے اور امربا لمعروف اورنہی عن المنکریعنی نیکی کی طرف بلانا اور برا ئی سے روکنا یہ دوسری طرف رکھدی جا ئیں تویہ ساری عبا د تیں پا نی کے ایک گلا س کے برابر ہیں اور امر با لمعروف چلتے ہو ئے در یا کی طر ح ہے جس قوم میں امر با لمعروف ختم ہو جا ئے تو وہ قو م تباہ ا ور بربا د ہے

ہمارا مذ ہب ہمارادین دین عقل ہے دین قرآن ہے دین اہل بیت ٪ ہے اگرآ پ لو گوں کو کو ئی ایسی نئی رسم نظر آ جا ئے جو عزادا ری کو نقصا ن پہونچانے والی ہو توایک اصو ل یا د رکھئے کہ اس رسم کے با نی سے سوال کیجئے کہ یہ جوتم کا م کررہے ہو تو اس کی دلیل میں قرآن کی آیت دکھاؤ اور معصوم کی رو ا یت دکھاؤ اگرآیت بھی نہیں اور روا یت بھی نہیں ہے

تو ہم اسے تسلیم نہیں کر تے ہیں جوخلا ف قرآن ہے خلاف اہل بیت ٪ہے وہ دین نہیں ہے بلکہ وہ گمر اہی ہے

اللہ کے رسو ل نے فر ما یا، جو حرام کھا کر عباد ت کر ر ہا ہے تو وہ پا نی پر گھربنا رہا ہے مو لا علی - نے فر ما یا، اگرتیری زبا ن ا وردل حرا م غذاسے قو ت لے رہا ہے تو نہ تمہا ری دعا قبو ل ہے اور نہ تیری عزاداری قبو ل ہے اللہ کے ر سول نے فر ما یا، اگرلقمہ حرام پیٹ میں چلا جائے تو چالیس دن نہ تیری دعا قبول ہے اور نہ تیری عباد ت قبول ہے اور حدیث کے الفا ط ہیں جوحرام کھاتا ہے

ا س کے نتیجہ میں وہ ہمیشہ جاہل رہتا ہے جہالت خود عذاب ہے کیو نکہ حدیث کہ الفا ظ ہیں اگرانسان کا پو ر ا د ن گذ ر جا ئے مگر اسکے علم میں اضا فہ نہ ہو تو وہ سب سے بڑی مصیبت ہے لہذا اہل بیت ٪نے فر ما یا، اگر ایک لقمہ حرام پیٹ میں گیاتو جہا لت بڑھے گی بعض افر ا د کہتے ہیں کہ ہمارا بیٹاکنسر کے مر ض میں مبتلا ہے ڈا کٹر نے ا سے لا علاج کر دیا ہے بعض لو گ زندانوں میں ہیں کہتے ہیں کہ ہمارے لئے دعا کیجئے بعض لو گ ا تنے قر ضوں میں مبتلا ہیں انہیں کو ئی سبیل نظر نہیں آ تی کہ وہ اس سے نجا ت حا صل کر سکیں

اور ایسا ہی سوال امام سے کیا گیا اے امام ہم مصیبت میں ہیں دعا ما نگتے ہیں مگر دعا قبول نہیں ہو تی ہے امام نے فر ما یایہ کیسے ممکن ہے خد انے خود قرآن میں فر ما یا ہے ”ادعونی استجب لکم“ اے میرے بندو! تم لوگ دعا کرو میں تم لوگوں کی دعا قبو ل کر وں گا خد ا کبھی وعدہ خلافی نہیں کر تاہے کہا کہ امام ہم جودعاکر رہے ہیں ہماری دعاقبو ل کیوں نہیں ہو رہی ہے تو امام نے فرما یاجوتم دعاکر رہے ہو آ یا ا س کے شر ائط پورے ہیں مثلا ایک انسان نماز بغیررکوع کی پڑھ رہا ہے کیایہ ا س کی نمازکہلا ئے گی ایک انسان نماز بغیر سجد ہ کے پڑھ رہا ہے تو وہ نماز نہیں ہے تو دعاکیا ہے ہم نے سمجھا کہ ہم نے ہا تھ ا ٹھائے پا لنے والے میرے بیٹے کو کینسر کی بیما ری ہے اسے نجا ت دے بس کیا یہ دعا ہے امام نے فرمایانہیں یہ دعا نہیں ہے. ہرعبا دت کی شکل و صو رت ہے ہرعبادت کے شرائط ہیں مو لاکیاشرط ہے

امام نے فرما یا: پہلی شر ط یہ ہے کہ رد مظا لم ادا کرو ر د مظا لم یعنی اگرتو نے کسی پر جا ن بوجھ کر ظلم کیا یاغلطی سے ظلم کیا کسی کاجا ن بوجھکر مال کھا لیا یا غلطی سے ما ل کھا لیا تو اس کو وا پس کر نا واجب ہے رد مظا لم یہ ہے کہ ا گر اسکو ل میں کسی کا قلم توڑ دیاتو اس کا حق واپس کر نا ہے آج کے زما نے میں یہ شعورختم ہو گیا ہے کہ حرام کی غذا کھا نے سے کتنی بربا دی ہے اللہ کے رسول فرماتے ہیں کہ قیا مت کے دن ایک انسان کو کھڑاکر دیا جا ئیگا اس لئے کیو نکہ اس نے ایک قصائی سے گوشت خرید ا تھا لے گیا اس کی بیوی کو پسند نہیں آ یا اس نے واپس کیا اس نے جو گوشت ہاتھ میں یاکپڑے میں لے گیاتھا اب جو اس نے واپس کیا تو اس گوشت کی چربی اس بر تن میں لگ گئی ہا تھ ہے تو ہا تھ میں لگ گئی اب جو اس نے یہ نقصان اس قصا ئی کودیا اس کابھی قیا مت کے دن حساب ہو گا آ ج کے زما نے میں یہ شعور ختم ہوچکا ہے لوگ تو دو سر وں کا پلاٹ کھا جا تے ہیں کروڑں روپیہ کھا جا تے ہیں. اے انسان اگرتو کسی کا مال کھا ر ہا ہے تو نہ تیری نماز قبو ل، نہ تیری کو ئی عبادت قبو ل ہے تو تو اے انسان انسان کہلا نے کا حقدارکہاں ر ہاتو تو حیو ان سے بھی بدتر ہے قرآن کہہ ر ہا ہے( اولائک کالانعا م بل هم أضل ) ا گر کسی انسان کی نہ دعا قبو ل ہو نہ تلا وت قرآن قبول، تووہ انسان کہاں تو وہ انسان سے بدتر ہے معصوم نے کہا کہ رد مظالم واپس کرو ا گر کسی کا بھی حق تمہاری گر د ن پر ہے تو تم اسے واپس کرو. اب ہمیں کیا معلوم پہلے ہم توجاہل تھے


مجلس ۷

بسم الله الرحمن الرحیم

فقد قا ل الله تبارک و تعا لیٰ فی کتابه المجید

( الذین یتبعو ن الرسو ل النبی الامی الذی یجدو نه مکتو با عنده م فی التو را ة و الانجیل )

اللہ کا وعدہ ہے کہ اے مسلما نو! جس پاک نبی محمد مصطفیص کا تم کلمہ پڑھتے ہو اس نبی کے فضا ئل انجیل میں بھی ہیں اور توریت میں بھی ہیں کوئی یہودی کوئی عیسائی فضا ئل سرکار محمد مصطفی ص کو توریت اور انجیل سے نہیں نکا ل سکتا پہلے بھی ہم نے بہت ساری آیتیں بیان کی تھیں کہ کہاں کہاں ہمارے نبی کا ذکر ہے کہاں مولا علی - کا ذکر ہے اور آج بھی وہ آیتیں موجود ہیں کہ انجیل میں کتنی مرتبہ حضرت عیسیٰ نے فرمایا : کہ ایک نبی آئے گا اس کا نام فارقلیط ہے

اور فارقلیط کا ترجمہ اگرعبرانی زبان سے عربی میں کیا جا ئے تو حضرت محمد مصطفی ص بنتا ہے اور اسی طرح انجیل میں حضرت علی - ع کا تذکرہ موجود ہے ایلیا ایلیا ایلیا یہ حضرت عیسیٰ نے مدد کے لئے پکارا ایلی ایلی ایلی لما شبقتنی.

مگر اس سال آپ نے سنا کہ تمام اسلا م کے مسائل اور احکام اور شریعت کو بھی ہم توریت اور انجیل سے ثابت کرسکتے ہیں اور یہ اسلا م کی حقا نیت پر سب سے بڑی دلیل ہے کیا آپ نے پڑھا کہ تمام انبیا ء کا ذکر توریت و انجیل میں موجودہے خنزیز اور سور توریت اور انجیل میں حرام ہیں خون دونوں جگہ نجس ہے اوراسی طر ح سے آپ نے پڑھا ہے

کہ اسلام کے جتنے احکام ہیں وہ توریت اور انجیل سے بڑی آسانی سے ثابت کیئے جا سکتے ہیں لیکن آج کی بحث بہت اہم ہے اور و ہ بحث توحید کے بارے میں ہے کہ عیسائی اس لئے مشرک ہیں کہ ان کا عقیدہ جو ہے وہ ہولی ٹرینٹی کا عقید ہ ہے یہ ہولی ٹرینٹی کیا ہے یعنی خدا اور خدا کا بیٹا اور ہولی گوسٹ یا روح القدس اسی عقید ہ کی وجہ سے عیسا ئی مشرک ہیں تین خدا ؤں کے قا ئل ہیں

ا س سے پہلے کہ انجیل اور توریت سے کچھ عرض کروں معصوم امام ع کا ایک مناظرہ اور اس کی طرف اشارہ آپ نے کچھ باتیں سنیں تھی اب امام نے کہا اے عیسائی ہم حضر ت عیسیٰ کو مانتے ہیں مگر بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ جو ہیں عبادت میں تھوڑا کمزور تھے تو ایک مرتبہ یہ عیسائی غصہ میں آگیا اور ہمارے ا مام سے کہنے لگا کس نے یہ جھوٹ بولا ،کس نے یہ تہمت لگا ئی کہ حضرت عیسیٰ عبا دت میں کمزو رہیں وہ تو پوری پوری رات جاگ کر عبادت کرتے تھے تو امام ع نے کہا اگر خود خدا تھے

تو عبادت کس کی کیا کرتے تھے تو یہ ہولی ٹرینٹی کا جو عقید ہ ہے تثلیث کا جو عقیدہ ہے یہ شرک عقید ہ ہے ہم توحید پرست ہیں ہم لاالٰہ الا اللہ کہنے والے ہیں لیکن یہ عقید ہ بھی جو ہولی ٹرینٹی کا یہ خود مسیحیوں نے بنا یا ہے توریت و انجیل سے توحید ثابت ہے یہ عقیدہ باطل ہے اسی کی وجہ سے مشرک ہیں ہم آج دوبا ئیبلوں کے با رے میں گفتگو کریں گے ایک با ئیبل تو بہت پرانی ہے جو کنگ جیمز نے لکھی ہے اور یہ جو پہلے آپ اس سے آیتیں سنتے تھے یہ نئی با ئبل ہے یہ سب سے لیٹسٹ چھ سات مہینہ پرا ئی ہے

The Living Whater سب سے جدید ترین اور سب سے قدیم ترین اور اب آپ ملاحظہ کیجئے کہ دونوں میں کتنا فرق ہے اور وقت گذرنے کے ساتھ یہ عیسائی کتنی خیانت کرتے ہیں کیوں کہ سب سے قدیم ترین با ئیبل ہے لہذا اس کی انگریزی بھی قدیم ہے یہ نیو ٹیسٹامنٹ یعنی انجیل چیپٹر کا نمبر انیس ۱۹ اور آیت ا ۱۶,۱۷ one came and said an to him ایک شخص آیا اور حضر ت عیسیٰ سے کہا good master اے بہت اچھے ما سٹر اے بہت خوبصورت ما سٹر What good thing shall I do حضرت عیسیٰ کو جب کسی نے کہا اے بڑے اچھے ما سٹر اے بہت خوبصورت ماسٹر and he said an to him تب حضرت عیسیٰ نے اس عیسا ئی سے کہا whycalse thoses me good

تونے مجھے اچھا کیوں کہا تونے مجھے خوبصورت کیوں کہا that is god There is non good but one حضرت عیسیٰ نے فر ما یا کہ کو ئی اچھا نہیں مگر وہ جو ایک ہے وہ میرا خداہے اگر ہم اسکوعر بی میں ترجمہ کر یں توہو گا ”لا جمیل الا اللہ“ یعنی جمیل خوبصورت خدا ہے اب آپ نے دیکھا کہ صاف اس کلمہ کا انداز وہی ہے جو لاالٰہ الا اللہ کاا ندازہے کہ but one tha t is god There is no good کوئی اچھا نہیں کوئی خوبصورت نہیں مگر خدا، لاجمیل الا اللہ اب یہ تو سب سے پرانی با ئیبل ہے

لیکن اب پڑھئے یہاں یہ جو سات مہینے پہلے نیو ورجن آیا ہے انہوں نے کس قدر خیانت کی ہے وہی بات ہے Some one came to Jesus کوئی حضرت عیسیٰ کے پاس آیا اور کہا کہ تم بہت اچھے ہو jeses replied only God is good وہ لاالٰہ جو ہے اس سے جو ملتا جملہ ہے وہ نکا ل دیا کیوں کہ شبا ہت ہے کلمہ توحیدسے There is no good but one وہ بالکل اڑا دیا صرف ایک جملہ کہ only God is good اب سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ اسے پسندنہیں کرتے کہ کوئی مجھے اچھا کہے اور جمیل کہے تو کیسے پسند کریں گے کہ کوئی انہیں خدا کہے لہذا یہ ہولی ٹرینٹی کا عقیدہ خود عیسائی پادریوں کی پیدا وار ہے توریت و انجیل میں بالکل نہیں

اب اسی انجیل کی دوسری آیت یہ نیوٹسٹامنٹ اوف ما رک چیپٹر ۱۲آیت : ۲۹

Jesus replied the most important commandment is this سب سے اہم ترین میرا حکم یہ ہے اب سنیئے حضرت عیسیٰ کا سب سے اہم ترین حکم انجیل میں کیا ہے O" Israel the Lord our God is the one ہمارا خدا ہمارا لورڈ فقط ایک ہے only Lord اور وہی ایک ہی ہمارا لورڈ ہے اب صاف حضرت عیسیٰ حکم دے رہے ہیں The lord over god is

the one ہمارا خدا فقط ایک ہے اور یہ جو تین خدا بنا ئے ہیں یہ خود عیسا ئیوں کی پیدا وا ر ہے لہذا بڑی آسا نی سے اسلام کے حقا ئق کو توریت اور انجیل سے ثابت کرسکتے ہیں مسلمانوں کا کام ہے کہ مسیحیوں کو مسلمان بنا ئیں نہ کہ مسیحی ہمارے ملک میں آکراورپیسہ کے ذریعے سے غربت کو بہانہ بنا کر مسلمانوں کو گمراہ کریں.

سب سے افضل ترین عبادت اسلام میں کون سی ہے تو اللہ کے رسول ص نے فرمایا : سب سے افضل ترین عبادت نو ۹ حصہ جوعبادت ہے وہ رز ق حلا ل کما کے رزق حلال کھا نا باقی سب ایک جزء میں ہیں آج معا شرہ کا سب سے بڑا پرابلم کیا ہے کہ شعور ختم ہوگیا ہے کہ حرام کھا نے سے ہماری یہ زندگی بھی برباد ہے اور آخرت کی زندگی بھی برباد ہے ا س لئے کہ آپ پڑھ رہے ہیں اللہ کے رسول ص کیا فرما رہے ہیں احادیث پڑھ رہے ہیں کہ اہل بیت ع کیا فرمارہے ہیں کہ لقمہ حرام اگر پیٹ میں چلا جا ئے چا لیس دن نہ تیری نماز قبول نہ تیرا روزہ قبول نہ تیری عبادت قبول نہ تیری تلاوت قرآن قبول

،اللہ کے رسول ص فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن مسلمان ابھی ایک قدم نہیں رکھے گا تو سوال ہوگا کہ بتا عمرکیسے گذاری دوسرا سوال ہوگا جوانی کیسے گذاری تیسرا سوال ہوگا رزق کیسے کمایا اور کیسے خرچ کیا آج شعور ختم ہوگیا کہ رزق حرا م سے بدتر کوئی چیز کا ئنات میں نہیں ہے اورمولا علی - ع آپ جا نتے ہیں کہ مولا علی - ع کی جوتیوں میں بھی چپیاں ہوتی تھیں لباس میں بھی چپیاں ہوتی تھی اب ایک مرتبہ بیت المال میں کوئی اچھا کپڑا آیا تو حضرت قنبرنے مولا کے غلام نے وہ کپڑا چھپا کر رکھا اور مولا کی خدمت میں لے آیا کہا مولا اب میں برداشت نہیں کرتا

جو بھی اچھی چیز آتی ہے آپ غریبوں میں دیدیتے ہیں مسکینوں میں دیتے ہیں آخر آپ خلیفة المسلمین ہیں آپ کے لباس میں یہ چپیاں لگی ہوئی ہیں لہذا یہ کپڑا میں نے چھپا کر رکھا تھا آپ کے لئے بس یہ سننا تھا مولا علی - ع نے جلال میں آکر تلوار نکال دی قنبر، قنبر ڈر گئے میں نے کیا جرم کیا مولا جلال میں آکر تلوار نکا لتے ہیں اے قنبر تو میرے گھر کو آگ سے جلانا چاہتا ہے یہ علی - کے جملے ہیں غریب کا حق یتیم کا حق مسکین کا حق حرام کا پیسہ آگ ہے یہ دنیا کا گھر نہیں آخرت کا گھر ابدی گھر جہاں ہمیشہ رہنا ہے قرآن نے بار بارکہا کہ جو حرام کھا رہے ہیں وہ جہنم کی آگ کھا رہے ہیں آج نہیں دیکھ رہے ہیں، مولا نے تلوار نکا ل دی قنبر تو میرے گھر کو آگ سے جلاناچاہتا ہے اس قیمتی کپڑے کے ٹکڑے ٹکڑے کیئے کہا جا و فقراء میں تقسیم کردو یتیموں میں تقسیم کردو اب آپ دیکھ رہے ہیں یہ شعور ختم ہوگیا ہے حرام پہ حرام کھا تے چلے جا رہے ہیں کچھ پرواہ نہیں ، نہیں معلوم کتنا عذاب، انسانیت ختم ہوجا تی ہے اسلام کی رو سے حرام کھا نے والاخنزیر سے بدتر ہوجا تا ہے کیوں کہ اس کی کوئی عبادت قبول نہیں ہے اللہ کے رسول ص فرماتے ہیں لا یشم ریح الجنة جنت کی خوشبو نہیں پاسکے گا حرام کھا نے والا، آج لوگ کروڑوں روپیہ کھا جا تے ہیں کچھ پرواہ نہیں یہ غفلت ہے حضرت عیسیٰ قبر ستان سے گذر رہے تھے ایک قبر پر شدید عذا ب ہورہا تھا اللہ کے نبی ہیں برزخی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں برزخی کان سے سن رہے ہیں کہا صحابیو! ٹھہر جا و تاکہ معلوم کروں اس قبر پر عذاب کیوں ہورہا ہے اصحاب ٹھہر گئے حضرت عیسیٰ نے پوچھا: اے قبر میں سونے والے زندہ ہوجا اور مجھے بتا کہ کیو ں اس عذاب میں مبتلا ہے ایک مرتبہ قبرپھٹتی ہے وہ مردہ قبر سے نکلتا ہے ، پوچھا کس گناہ کی سزا ؟ کہا : اللہ کے رسول میں حمال تھا لوگ سبز ی خریدنے آتے تھے میں ان کی ٹوکریاں سر پر رکھ کران کے گھر تک پہنچاتا تھا اسے کہتے ہیں حمال مزدور ٹوکریاں اٹھانے والا کہا پھر کیا ہوا کہا ایک مرتبہ کسی کی ٹوکری اٹھا کے جا رہا تھا میرے دانت میں کوئی چیز پھنسی ہوئی تھی میں نے بغیر اجازت اس ٹوکری کا ایک تنکا توڑ دیا

اور اس سے میں نے اپنے دانت کو صاف کیا جب سے مرا ہوں اب تک اسی عذاب میں گرفتا رہوں آج شعور ختم ہوگیا کہ حرام کی سزا کیا ہے کیا خدا نے قرآن میں نہیں کہا ”فمن یعمل مثقا ل ذرةخیرا یرہ“ اگر ذرہ برا بر تیرا عمل خیر ہے تو بھی دیکھے گا اگر ذرہ برا بر تیرا عمل شر ہے تو بھی دیکھے گا شہید آیة اللہ دستغیب نے کتاب گناہان کبیرہ میں لکھا اس حدیث کو کہ کچھ لوگ قیامت میں آئیں گے ان کی نمازیں روزہ حج و زکات پہاڑوں کے برابر اس قدر عبادت مگر خدا کا حکم ملے گا ان کو جہنم میں پھینک دو ، فرشتے چیخ اٹھیں گے مالک کس جرم میں یہ تو عابد تھے نیک تھے نمازی تھے حاجی تھے

فرما یا میں بھی جانتا ہوں یہ نمازی تھے مگر جب جہاں پر مال حرام دیکھتے تھے پیسہ دیکھتے تھے جہاں نفع دیکھتے تھے اس وقت نہیں سوچتے تھے کہ یہ حلال کا ہے یا حرام کا ہے یتیم کا ہے بیوہ کا ہے یا امام زمانہعج کا ہے کس کاحق ہے پیسہ کے وقت یہ نہیں فکر کرتے تھے کہ یہ پیسہ حلال ہے یا حرام لہذا ”انما یتقبل اللہ من المتقین“ اللہ حرام کھانے والے کی نماز قبول نہیں کرتا حرام کھا نے والے کی عبادت قبول نہیں کرتا ، عزادار ی قبول نہیں کرتا اللہ اس کے عمل کو قبول کرتا ہے

جو متقی ہو .لہذاآپ نے دیکھا کس قدر سخت منز ل ہے انسان کی زندگی کا مقصد فوت ہوجا تا ہے ” وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون“ قرآن میں خدا کہہ رہاہے کہ اے انسانو! میں نے تمہیں کس لئے خلق کیا صرف مال جمع کرو مال یہاں رہ جا ئے گا تم خا لی ہاتھ قبر میں چلے جا و گے کہاں گیا قارون کہاں گیا یزید کہاں گیا فرعون سب مٹی میں مل گئے جہنم میں جل رہے ہیں مال یہاں رہ جا ئے گا تم تنہا چلے جا و گے، ” وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون“ خلقت کا مقصد ہماری زندگی کا مقصد عبادت ہے لیکن اللہ کے رسول نے فرمایا: ”لاعبادة مع الحرام“ اگر انسان عبادت کررہا ہے لیکن اس کی غذا حرام ہے نہ اس کی نماز قبول ہے نہ اس کا روزہ قبول ہے نہ اس کا حج قبول ہے کچھ بھی قبو ل نہیں یعنی اس کی زندگی برباد ہے مقصدحیات فوت ہوگیا انسان نجس ہوجاتا ہے اس کی نہ دعا قبول نہ تسبیح قبول اس سے بڑھ کر بدبختی کیا ہوگی آج وجہ کیا ہے کہ لوگ حرام کھارہے ہیں شعور ختم ہوگیا اگر شعور پیدا ہوجا ئے کروڑ پتی آدمی ہے مگر حرام خور ہے اگر آج کوئی اس کے دستر خوا ن پر نہ کھا ئے تو کروڑ پتی بھی سوچے گا کہ عزت نہیں ہے کروڑ پتی بنناذلت ہے آج فکر یہ ہے کہ امیر بنناعزت ہے چاہے لوٹ کر چا ہے مار کر چاہے حرام کے ذریعے سے چاہے ظلم ہے ذریعے سے بڑی گاڑی میرسڈیز ہوبڑا بنگلہ ہوتو یہ صاحب عزت ہے اگر کوئی کچے مکان میں رہتا ہے چھوپڑی میں رہتا ہے یہ صاحب عزت نہیں ہے لیکن ایک مرتبہ شعور پیدا ہوجا ئے کہ یہ جو بڑے بنگلہ میں ہے اگر غریب کا حق کھا کر اس نے بنگلہ بنا یا ہے تو یہ قا رون ہے مومن و مسلما ن نہیں اس کے ہاتھ کا کھانا حرام ہے اگر نفرت پیدا ہو جائے غذائے حرام سے تو ایک مرتبہ حرام کھا نے والوں کے ہاتھ رک جا ئے گے کیوں کہ جب معاشرہ میں ما ل حر ام کی عزت نہ رہے گی تو کون کما ئے گا مسئلہ یہ ہے کہ اگر فکر اسلامی ہوجا ئے جو انسان جھونپڑی میں رہتاہے اگر صاحب عزت اسے سمجھا جا ئے جو چھونپڑی میں رہتا ہے رزق حلال کھا تا ہے اگر اسے عزت دی جا ئے کہ جو سخت محنت کرتا ہے

مگر رزق حلال کھاتا ہے تویقینا معا شرہ میں تبدیلی آئے گی آج کروڑ پتی بننے کی دوڑ ہے پیسہ یہودیوں کے پاس بھی ہے کافروں کے پاس بھی ہے اس لئے بعض مسلمانوں نے اللہ کے رسو ل ص سے شکایت کی کہ اللہ کے رسول ہم نمازی ،ہم روزہ دار، ہم حاجی مگر خدا نے ہمیں پیسہ نہیں دیا پیسہ یہودیوں کے پاس زیادہ ہے کیوں ؟ہم جو نماز پرھ رہے ہیں ہمیں اللہ نے زیادہ پیسہ کیوں نہیں دیا ؟ تو اللہ کے رسو ل ص نے فرمایا : یہ فکر باطل ہے اگر خدا کی نظر میں اس پیسہ اور حکومت کی قیمت مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو خدا اپنے دشمن قارون اور فرعون کو نہ دیتا یہ ختم ہونے والی چیز ہے یہ فانی چیز ہے خدا کی نظر میں جس چیز کی قیمت ہے وہ ہدایت ہے وہ نور قبر ہے وہ نورانی چہرہ کے ساتھ قیامت کے دن آنا ہے وہ عزت کے ساتھ جنت میں جا نا ہے وہ محبت خدا ہے وہ محبت قرآن ہے وہ محبت اہل بیت ع ہے .اسی لئے آپ دیکھئے جب حضرت امام مہدی ع عج تشریف لے آئیں گے تو امام کیاکریں گے لوگوں کی فکر کو قرآنی بنائیں گے اسلامی بنا ئیں گے. یہ روایت میں ہے کہ آدمی کوفہ کی گلیوں میں کئی کیلو سونا کتنا پیسہ لے کے پھرتا رہے گا ہے کوئی زکات لینے والاہے کوئی فقیر؟ کوئی لینے والا نہیں ہوگا یعنی فکر بلند ہوجا ئے گی کہ کیوں جھوٹ بولیں جھوٹ بول کر غذا لینا رزق لینا حرام ہے لوگ پیسہ کو آج کیوں عزت دے رہے ہیں اس لئے حرا م میں مبتلا ہیں جب کہ قرآن مجید کی آیت ہے ” ان اکرمکم عنداللہ اتقا کم“ صاحب عزت وہ ہے جو متقی ہے اور رزق حلا ل کمارہا ہے تو اصل فکر کی بات ہے اگر فکر باطل ہو تو انسان رزق حلال اور حرام کا خیال ہر گز نہیں کرتا لیکن ایک مرتبہ فکر نورانی ہوجا ئے تو انسان بھوکا رہنا بھی پسند کر تا ہے مولا علی - ع کا وہ جملہ واقعا سنہرے الفاظ میں لکھنے کے قا بل ہے، کیا فرما یا: کہ علی ع کو زہریلے کانٹوں پر سونا پسند ہے محبوب ہے کہ علی کانٹوں پر سوجا ئے اور علی کے اگر کوئی گلے میں رسی ڈال کر کہیں چل علی - کو یہ بھی محبوب ہے مگرعلی اسے پسند نہیں کرتا کہ کل قیامت کے دن خد ا کے سامنے اس حالت میں آئے کہ کسی کا حق غصب کیا ہو یا کسی پر ظلم کیا ہو اب صرف رزق حرام کھا نا ہی حرام نہیں کسی کو کھلانا اس سے زیادہ حرام ہے

ایک غریب آدمی تھا سو دو سو روپیہ سے کھیر بنا کے بیچتا تھا اب ظاہر ہے کہ اس بیچارہ کی یہی پونجی تھی ایک سو دوسو روپیہ کھیر دود ھ سے بناکے اور گلی میں بیچتا تھا مگر نیک اور متقی تھا اب ایک مرتبہ کیا ہوا کہ وہ بنا رہا تھا تواس میں دیکھا کہ جوکھیر کا چاول اس نے استعمال کیا ہے غلطی سے اس میں چوہے کا فضلہ غلاظت پڑی ہوئی ہے

اب غریب ہے سو دوسو روپیہ سے اپنا کاروبار چلا رہا ہے لیکن دیکھا کہ یہ تو حرا م ہے اگر میں نے مسلمانوں کوحرام کھلادیا تو قیامت کے دن میں کس کس کا حساب دوں گا اب دیکھئیے یہ تقویٰ ہے اس غریب کی پونجی یہی ہے سو دوسو روپیہ اسی سے پیٹ پالتا ہے لیکن جب دیکھا کہ غلطی سے اس میں حرام گرگیا

وہ پوری کھیر اس نے بہادی اور اپنا دوسو تین سو جو بھی نقصان کرنا تھا وہ کرلیا مگر مسلمانوں کو حرام نہیں کھلایا یعنی اگر کسی مسلمان کو ہم حرام کھلاتے ہیں یہ اس سے بھی بڑا گناہ ہے حرام خود کھا نا بھی حرام اور کسی مسلمان کو کھلانا اس سے زیادہ حرام ہے لہذا حضرت مو سیٰ ع پر پروردگارنے وحی نازل کی موسیٰ سب سے بہترین وسیلہ مجھ تک پہنچنے کا رزق حلال کھانا ہے اور اپنے گناہوں پہ گریہ کرنا ہے اگر کوئی مجھ تک پہنچنا چاہتا ہے تو سب سے بہترین وسیلہ یہ ہے کہ رزق حلال کھائیں اور اپنے گناہوں پہ روئیں تو وہ خدا سے زیادہ نزدیک ہوسکتے ہیں کیوں کہ خدا نے خود قرآن مجید میں فرما یا: ” ان اللہ یحب التوابین“ خدا رونے والوں کو پسند کرتا ہے

رونے والے خدا کے محبوب ہیں اللہ اکبروہ اتنا قریب ہے کہ کتنا بھی گنہگار ہو لیکن اگر پشیمان ہوکرآنسو بہاتا ہے تو خدا کہتا ہے نہ گھبرا اللہ کی رحمت سے ما یو س ہو نا سب سے بڑا گناہ ہے ” لاتقنطوا من رحمة اللہ“ اے مومنو! کبھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا چاہے تمہارے گناہ زمین اور آسمان کے برابر ہو ں یا زمین اورآسمان سے بھی زیادہ ہو ں لیکن کسی حالت میں مومن کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیئے کیوں کہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں ہے اس لئے خود کشی کرنے کے بعد انسان یقینا جہنمی ہے اس لئے خود کشی کرنے والا اللہ کی رحمت سے مایوس ہوجا تا ہے اوردوسرا خود کشی کرنے والا خود اپنے عمل سے توبہ کا دروازہ بند کردیتا ہے خد ا توبہ کا دروازہ کسی کے لئے بند نہیں کرتا لیکن جو انسان خود کشی کرتا ہے اب جب مرگیا مرنے کے بعد تو توبہ نہیں ہے لہذا اس لئے خودکشی کرنے والا انسان جہنمی ہے ایک تو اللہ کی رحمت سے مایوس ہوگیا اور دوسرے اس نے اپنے لئے توبہ کا درواز ہ بند کردیا .لہذا یہ اسلام کے نورانی پیغامات ہیں جو قرآن میں بھی موجو د ہیں اور اہل بیتع کے فرامین میں بھی موجو د ہیں اگر ان پر عمل کیا یقینا صحیح معنوں میں ہم حسین ع کے عزدار کھلائیں گے حسین ع کا مقصد کیا ہے مقصد حسین ع اتنا عظیم الشان ہے کہ امام حسین ع نے ہرشئی اپنے مقصد پہ قربان کردی بہتر ۷۲ کوکربلا میں قربان کردیا علی - اصغر کو کربلا میں قربان کردیایہاں تک کہ بیبیوں نے اپنے ہاتھوں میں رسیاں بندھنا منظور کیا

اور قید جانا بھی قبول کیا لیکن حسین ع کے مقصدسے وفا کرتے چلے گئے مقصد حسین ع کیا ہے معصوم ع نے فرمایا وارث حسین ع نے فرما یا ہرامام نے بتایا ”اشہد انک قد اقمت الصلاة وآتیت الزکوة و امرت بالمعروف ونہیت عن المنکر“ یہ ہے مقصد امام حسین ع ، مقصد حسین ع کیا ہے ؟ نماز قائم رہے زکوةقا ئم رہے امر با لمعروف قا ئم رہے نہی عن المنکر قا ئم رہے یہ ہے مقصد امام حسین ع اگر مجلس امام حسین ع میں امر بالمعروف نہ ہونہی عن المنکر نہ ہو تو ہم نے اور اس منبر پر آنے والوں نے امام حسین ع سے خیا نت کی ہے امام حسین ع نے کیوں قربانیاں دیں جب چلے تھے مدینہ سے تو کیا فرما یا کہ میں اس لئے نہیں جا رہا کہ مجھے تخت چا ہیئے یا حکومت چاہیے اگر حکومت اور تخت کے لئے جا تا تو علی - اصغر کو ساتھ نہ لے جاتا میں لڑنے کے لئے نہیں جا رہا کیوں جارہے ہیں مولا حسین ع مدینہ کو کیوں چھوڑ رہے ہیں تو فرما یا : لاصلاح امة جدی رسول اللہ ، اس لئے جا رہا ہوں کہ نانا کی امت کی اصلاح ہوجا ئے یزید اسلام کی شکل و صورت کو بگاڑنا چاہتا ہے اگر میں فرزند رسول خاموش رہا تو اسلام کی شکل وصورت بگڑ جا ئے گی اور لوگ گمراہ ہوجا ئیں گے جو یزید کررہا ہے اس کو دین سمجھیں گے گناہ کوگناہ نہیں سمجھاجائے گا یہ مقصد حسین ع آج اسلام مظلوم ہے آج بھی ہزاروں مسلمان فلسطین میں شہید ہوچکے ا ب تک خود پاکستان میں شہداء کی تعداد ہزاروں کے قریب ہے اور دیکھئے خدا کیسے حق کو ظاہرکررہاہے یہ امام زمانہ عج کامعجزہ ہے کہ لوگ جو ہمارے خلاف سازشیں کررہے ہیں امام زین العابدین ع کی دعا ہے خدا ظالم کو ظالم سے لڑا دے تاکہ مظلوم کی تو حفاظت کرے یہ رپورٹ ہے جس کا ذکر میں نے کل کیا تھا یہ کتاب امریکاسے چھپی ہے

A Plan to devid and distroyed the thelog

امریکی سی آئی اَے کا چیف باب وڈورس اس نے شیعوں کے خلاف جسے بوش نے مقرر کیا تھا اس کا نام ہے ڈاکٹر ما ئیکل برائٹ اس کے ذمہ تھا کہ شیعوں کودنیا سے ختم کرنا ہے اور اس کے لئے نوسو ملین ڈالر کا بجٹ پاس ہوا ہے نوسو ملین ڈالر اب پاکستان نے کتنے ڈلر قرضہ لیا ہے حال ہی میں جو قرضہ لیا ہے اور نوسو ملین ڈالرامریکی سی آئی اَے نے یہ رقم مخصوص کی کہ شیعوں کو دنیا میں کیسے قتل کیا جا ئے اور اس رقم میں خوردوبرد ا ورغبن ہوا اوراس ما ئیکل کو عہدہ سے ہٹایا گیا تو غصہ میں آکر اس نے یہ کتاب لکھی ہے اور اس حقیقت سے پردہ ہٹائے ہیں جس کا جا ننا ہر مسلمان کے لئے لازم ہے خصوصاً مومنین کے لئے ،غور سے اس سازش کو سنیں اور ہر ایک تک یہ پیغام پہنچائیں یہ ایک پمفلیٹ ہے زیادہ نہیں ہے کوشش کریں جتنی اخباریں ہیں پاکستان کی کسی طریقہ سے یہ رپورٹ اس کتا ب کی اس میں آجا ئے بہت ضروری ہے اس سازش سے پردہ ہٹانا ہر مومن کے لئے لازم ہے جتنی رقم ہے اس کے پمفلیٹ چھپوا کر مومنین اور مسلمین میں تقسیم کریں یہ معجزہ ہے خدا کاکہ خدا نے ظا لم کو ظالم سے لڑایا ہے

اور ہمارے خلاف جو سازش ہے اس وقت ہمارے ہاتھ میں ہے ، مائیکل برائٹ جو چیف تھا صدر تھا اس شعبہ کا کہ دنیا میں شیعوں کو کیسے ختم کیا جا ئے یہ لکھتا ہے اپنی کتاب میں کہ پوری دنیا پر غرب کا ثقافت اور کلچر کے اعتبار سے قبضہ تھا لوگ ظاہراً آزاد ہوگئے لیکن ان کا اٹھنا بیٹھنا انگریزوں جیسا ان کی فکر انگریزوں جیسی تھی لیکن جب ایران کا اسلامی انقلاب آیا تو اس نے مسلمانوں کی فکر کو بدل دیا اور یہ مغربی تہذیب سے نفرت کرنے لگے لہذا پہلے توہم نے یہ سمجھا تھا کہ ایران کا انقلاب شاہ کے ظلم کے خلاف ہے لیکن جب ہم نے شیعہ مذہب کا مطا لعہ کیا تو ہم نے دیکھا کہ شیعہ مذہب ایک خزانہ ہے اس کے پیچھے فلسفہ ہے اس کے پیچھے لاجک ہے ا س کے پیچھے بہت علمی حقا ئق ہیں لہذا ہم نے انیس سو ستر ا سی ۸۰/۱۹۷۰ میں ایک میٹنگ کی جس میں لنڈن کی برطا نوی سکریٹ سرویس ایم آئی ایس جو برطانوی ادارہ ہے کیوں کہ انہیں مسلمانوں کا زیادہ تجربہ ہے ان کی خدمات بھی حاصل کی گئیں اور ہم نے انیس سو سترا سی میں میٹنگ کی امریکامیں شیعت کوکیسے ختم کیا جا ئے وہاں پر فیصلہ ہوا کہ لبنان میں امریکی فوجیں بھی تھیں فرانس کی فوجیں بھی تھیں اسرائیل کی فوجیں بھی تھیں مگر شیعہ حزب اللہ کی وجہ سے سب فوجوں کو وہاں سے بھاگنا پڑا یہ رپورٹ ہے کیوں اس رپورٹ میں یہ ڈاکٹر برائیٹ کہتا ہے کہ ہم نے فیصلہ کیاکہ شیعوں سے ڈائیریکٹ لڑنے میں ہمیں نقصان کے سواء کچھ نہیں ملے گا کیوں اس لئے امام خمینی کا قول ہے کہ جو قوم مرناسیکھ لے اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں مارسکتی یہ امریکی سی آئی اَے کے چیف کے نائب ڈائرکٹر برائیٹ کی رپورٹ ہے کہ ہم نے فیصلہ کیاکہ شیعہ موت سے نہیں ڈرتے مرنا ان کے لئے کوئی بڑا مسئلہ نہیں وہ اسے شہادت سمجھتے ہیں افتخار سمجھتے ہیں لہذا شیعوں سے ڈائریکٹ لڑنا اس سے ہمیں کچھ فا ئدہ نہیں ملے گا ایسے لوگوں کو تیار کیا جا ئے ایک ایسا ٹولہ تیار کیا جائے جو شیعوں کو کافر کافر کہے اور اسے اسلحہ دیا جا ئے اسے پیسہ دیا جا ئے

اور اس کی حمایت کی جا ئے تاکہ شیعوں کا قتل عام ہویہ بات اس میٹنگ میں کہی جو ۸۰/۱۹۷۰ میں ہوئی ڈاکٹر برائیٹ کہتا ہے کہ پہلا مرحلہ شیعوں کے بارے میں ابھی تک ہماری معلومات ناقص ہیں پوری معلومات حاصل کرنا ، دوسرا مرحلہ جو پروگرام ہے وہ ہے شیعہ اور سنیوں کو آپس میں لڑانا ایک ٹولہ بنانا

جو شیعوں کو کافر کافر کہے تاکہ شیعہ اس سے الٹ جا ئیں اور امریکا کوبھول جائیں یہ مقصد اور اس کے بعد اسکالرس کو بھیجا جائے کہ شیعیت پر تحقیق کرے اس کتاب میں ہے کہ چھ اسکالرز پاکستان میں آئے جنہوں نے عزاداری پہ پی ایچ ڈی کی ان کے نام بھی موجود ہیں ڈاکٹر شوم ویل جورضیہ سوسائیٹی میں رہتا رہا اس نے کراچی یونیورسٹی سے عزداری پر پی ایچ ڈی کی ، ایک عورت ایک جاپانی عورت جس نے تمام کوئٹہ کے علماء سے انٹرویو لیئے وہ بھی شیعیت پر پی ایچ ڈی کرنے کے لئے آئی تھی اس کا نام نیکوما وہ بھی اس کتاب میں موجود ہے اکثر مجالس میںآ تی تھی وہ ، چھ لوگوں کا نام ہے جو پاکستان میں عزدار ی اور شیعیت پر ریسرچ کرنے کے لئے آئے کیا مقصد تھا اب یہ اس رپورٹ میں لکھتا ہے کہ شیعہ دیگر مسلمانوں سے ہمارے لئے بہت خطرناک ہیں

کوئی اورفرقہ انقلاب کیوں نہیں لاسکا مصر میں تحریک چل رہی ہے مگر انقلاب نہ آسکا اور جگہوں پر تحریکیں چل رہی ہیں مگر انقلاب نہ آسکا شیعہ انقلاب لانے میں کیوں کامیاب ہوئے پہلی وجہ کہتے ہیں ان کے یہاں تقلید ہے اور مرجعیت ہے ان کے یہاں نائب امام ہیں ایک مرکزہے چہ جا ئے کہ دنیا میں تیس کروڑ ہیں دیگر مسلمان ستر کروڑ مگر ان کا مرکز ایک ہے لہذایہ مرجیعت جو ہے انہیں میں ان کی طاقت کا راز ہے لہذا ایسے دین فروش دنیا پرست ضمیر فروش لوگوں کو تلاش کیا جا ئے جو ہو شیعہ مگر مرجعیت کے خلاف باتیں کریں مراجع کو نائب امام کو گالیاں دیں علما ء کو گا لیاں دیں پروپگنڈہ کریں

تاکہ خود شیعہ اپنے علما ء سے نفرت کرنے لگیں جب تک مرجعیت ہے اور پھر اس میں ریفرینس دیا کیوں کہ مرجع آیة اللہ شیرازی نے ایران میں جب تنباکو کو حرام قرار دیا تو برطانیہ کو وہاں سے بھاگنا پڑا شیعوں کی طاقت ان کے مرجع ہیں ان کے مجتہد ہیں بے دین ٹولے کو تیار کیا جا ئے جو مرجع کو نائب امام کو مجتہدین کو گا لیاں دیں تاکہ خود لوگ اپنے علماء سے نفرت کریں تو یہ ختم ہوسکتے ہیں اور آپ جا نتے ہیں کہ انقلاب سے پہلے کوئی شیعہ اپنے مجتہد کو برا بھلا کہنے کو سوچتا بھی نہیں تھا مگر جیسے انقلاب ہوا ایک فاسد امریکی یہودی ٹولہ پید ا ہوگیا جو مرجع، نائب امام مجتہدین پر لعنت تک بھیجنے لگا مگر وہی ٹولہ نہ کبھی اسرائیل کو مردہ باد کہے گا نہ آمریکا کو کیوں کہ وہی نمک لیتے ہیں انہیں کے نمک حلال ہیں یہ اس رپورٹ میں ہے دوسری چیز یہ کہ شیعوں کی طاقت عزاداری ہے عزاداری کے لئے لکھتا ہے کہ ایک شخص منبر پر آکے مجلس پڑھتا ہے کربلا کے واقعات پڑھتا ہے اور جب مجمع کربلا کے واقعات سنتا ہے تو ان کے دل میں جذبہ شہادت پیدا ہوتا ہے اسی لئے شیعہ دوسروں سے مختلف ہیں کہ ان مجا لس سے ان کے دل و دماغ میں یہ تصور یہ نیت پیدا ہوتی ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں مانند کربلا، کربلا والوں کی طرح شہید ہوجا ئیں لہذا شیعوں کی پہلی طاقت ان کے علما ء تقلید او ر مرجعیت ہے مرکز ایک ہے اگر مرجع کوئی کہہ دے ان کا کہ امریکی چیزیں کھا نا حرام ہے

امریکا کے پروڈکس چیزیں مت خریدو تو اگر تیس کروڑ شیعہ ہیں تو ایک دن میں تیس کروڑ ڈالر کا نقصان امریکا کو ہوسکتا ہے ، ان کے یہاں مرجعیت کی طاقت کو ختم ہونا چا ہیئے نمبر دو عزاداری جس سے یہ جذبہ شہادت حاصل کرتے ہیں عزاداری کو ضمیر فروش دنیا پرست بے دین افراد کے ذریعہ سے اس کی شکل ایسی بگا ڑدی جا ئے کہ جو عزاداری خود شیعہ کے بنیادی عقا ئد کے خلاف ہو یہ رپورٹ ہے ڈاکٹر برائٹ کہتا ہے کہ ایسے بے دین ذاکروں کوخریدا جا ئے جو دنیا پرست ہیں یاا ثر لوگوں کو خریدا جا ئے جو امام بارگاہوں کے ٹرسٹی یا چلا نے والے ہیں اور بے دین ہیں دنیا پرست ہیں ان کو خریدا جا ئے کہ وہ عزاداری کی شکل اس طرح سے بگاڑدیں کہ دیکھنے والا عزاداری سے نفرت کرے یا عزادارکو مشرک کہے یا عزادار کو جا ہل کہے تا کہ شیعیت کے پیچھے جو علمی فلسفہ ہے وہ دب جائے اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس پر بھی کئی سالوں سے عمل ہورہا ہے کہ عزاداری کی شکل کو عزاداری کو خود مقصد عزاداری کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے کہ بکروں کا نجس خون لگا و اور نعوذ باللہ اس نجس خون کو او ر اس حیوان پست کو علی اصغر ع سے نسبت دے کر اور اس خو ن کو لگا و بھی او ر اس خون کو پیو بھی یہ پہلے نہیں تھا یہ وہی نمک خوار ہیں امریکا کے جو ہمارے مذہب کو بدنام کرنا چاہتے ہیں عزاداری کو بدنام کرنا چاہتے ہیں

کہا ایسی عزاداری ہوکہ دیگر مسلمانوں کو اس سے نفرت ہو یہ بھی پہلے نہیں تھا کہ ذوالجناح کے سا منے کوئی سجدہ کرے پھر سجدہ گروپ بھی پیدا ہوگیا تاکہ دیگر مسلمان ان شیعوں سے نفرت کرنے لگیں اور ایک مخصوص ٹولہ جن کو رقم دی جا ئے تا کہ شیعوں کو کافر کافر کہیں تا کہ شیعہ ان سے الٹ جا ئیں اور امریکا کو بھول جا ئیں یہ کتاب ہمفر کے اعترافات سے بھی زیادہ اہم ہے اگر آپ لوگوں نے پڑھی ہو وہ کتاب برطا نیہ کے جاجوس نے لکھی ہے اس سے بھی یہ کتاب زیادہ اہم ہے کیوں کہ اس وقت ہم اسی سازش سے گذر رہے ہیں ہزاروں مومنین پاکستان میں شہید ہوگئے مگر تعجب یہ ہے کہ جو عزاداری کے نام پر عزاداری کی صور ت کو مٹا رہے ہیں خون لگا کر بکرے کا عزاداری کو بدنا م کررہے ہیں خون پی کر وہ شیعیت کو بدنام کررہے ہیں کہ شیعہ ایک وحشی مذہب ہے کہ بکرے کا خون پیتے ہیں ہندووں کی طرح جو ذوالجناح کو سجدہ کرکے اور شیعوں کو بدنا م کررہے ہیں پورے پاکستان میں آپ دیکھیں کہ سپاہ صحابہ نے ان کے ایک آدمی کو شہید نہیں کیا کیوں کہ وہ سب ایک ہیں جتنے شہداء دیکھے اس وقت ساٹھ سے زیادہ علما ء شہید ہیں اس کے بعد تحریک جعفریہ کے لوگ شہید ہیں اس کے بعد آئی سی او آئی کے لوگ شہداء کی فہرست میں ہیں مگر یہ جو غننڈا گردی کرتے ہیں مذہب کو بدنا م کرتے ہیں حیرت بھی ہے اور اس رپورٹ کے بعداب یقین بھی ہے کہ ان کا بھی مقصد وہی ہے جو سپاہ صحابہ کا مقصد ہے

امریکا کو ہی مردہ باد کہیں اور بتا ئیں کہ آپ جتنے بھی سپاہ بنائیں مگر ہم آپ کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے ہم امام زمانہ کے انتظار میں ہیں. اے آمریکیوں سن لو تم قاتل ہو ہزاروں شیعوں کے لبنان میں تم قا تل ہو ہزاروں عزاداروں کے پا کستان میں تم قا تل ہوپچاس ہزار مومنین کے افغانستان میں ، انشاء اللہ ہم بھی انتظار کررہے ہیں

تم بھی انتظار کرو جب فرزند زہرا ع آئے گا تو تمہار ا خون وائیٹ ہاؤس میں بہا یا جا ئے گا سپاہ صحابہ کہتے ہیں کہ ہم صحابہ کے دشمنو ں کو قتل کرتے ہیں صحا بہ کو گالیاں دینے والا یہی گروہ ہے جو خون ملتا ہے اہل بیت ع کے سچے ماننے والے کبھی صحابی کو گالی نہیں دے سکتے کیوں ؟ اس لئے کہ اہل بیت ع نے منع کیا ہے مولا علی - ع نے منع کیا ہے اور قرآن نے منع کیا ہے کہ کسی کے جھوٹے خدا کوجھوٹا مت کہو کہیں کوئی تمہارے سچے کو نہ کہے مگر ہمار ا سوال ہے خود ان لوگو ں سے جو امام بارگاہ میں تبرئہ بازی کرتے ہیں یہ یہی گروہ ہے کہ ہمارے اہل سنت کے بھا ئیوں کو تکلیف ہوتی ہے یہ تبرئہ باز ی کرنے والے یہی لوگ ہیں جو گالی گلوچ تک حتیٰ کہ پتلے بنا تے ہیں جو اہل بیت ع نے اجازت نہیں دی ہے یہ دشمن کی سازش ہے کہ اسی طرح سے کسی کی توہین کی جا ئے. مگر تعجب یہ ہے کہ پورے پاکستان میں اگر کوئی جا نتا ہے تو مجھے بتائے یہ گروہ جو مجتہدین کو گالیاں دیتا ہے جو نائب امام کی توہین کرتا ہے کبھی امریکا کے خلاف کوئی لفظ نہیں کہتا پوری رات عزاداری کے نام سے لوگوں کو نماز کا مخالف بناتا ہے اور نجس خون لوگو ں کو پلاتا ہے اور چہرے پہ ملتا ہے پورے پاکستان میں سپاہ صحابہ نے ان کے ایک آدمی کو بھی قتل کیوں نہیں کیا لہذا اس رپورٹ سے پتہ چلا کہ یہ جو ہمارے اندر داخل ہوکر اور عزاداری کو شرک اور ہندوایزم بنانا چاہتے ہیں یہ بھی اتنے دشمن ہیں البتہ جو پہلے بے خبر ہیں ان کے لئے راستہ کھلا ہوا ہے کہ ان سے بیزاری کرکے آجائیں مو منین میں شامل ہوجا ئیں اور یہاں تک کہ ایک پمفلیٹ چھپا اس میں یہی گروہ نے حضرت علی - ع کو خدا کہا رب المشرقین والمغربین ، اب ظاہر ہے کہ اگر کوئی پمفلیٹ دیکھ لے تو کیا کہے گا مولا علی - ع خود فرماتے ہیں اس نصیری کو جس نے حضرت علی - ع کو خدا کہاعلی ع نے کہا تو مشرک ہے تو کافر ہے وہ علی - ع کی تلوار سے مارا گیا دشمن ہے وہ علی - ع کا جو علی - ع کو خدا کہے، شرک ہے نصیریت کی مذہب شیعہ میں کوئی اجازت نہیں ہمارے اہل بیت ٪ نے ان پر لعنت بھیجی ہے تو یہ فرقہ ایک طرح سے عزاداری کو برباد کررہا ہے شیعیت کے چہرے کو مسخ کرنا چاہتا ہے تا کہ عام مسلمان شیعوں سے نفرت کریں اور ادھر سے نو جوانوں کے عقا ئدکو بگا ڑ رہا ہے یہ پیغام ہر ایک تک پہنچائیں.

تمام شد


مجلس ۸

بسم الله الرحمن الرحیم

اما بعد فقد قا ل الله تبارک و تعا لیٰ فی کتابه المجید

( ا لذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونه مکتوباً عند ه م فی التوراة و الانجیل )

اسلام کی صداقت اسلام کی عظمت یہ ہے کہ اسلام فقط قرآن سے ثابت نہیں بلکہ عیسائیوں کی کتاب انجیل سے بھی ثابت ہے اور یہودیو ں کی کتاب توریت سے بھی ثابت ہے اگر آج اسلام کے اصولوں کو سائنس کی روشنی میں دیکھا جا ئے تو اسلام دنیا کا سب سے زیاد ہ سائینٹیفک رلیجن ہے اور اسی طرح سے اسلام ایک دین کامل ہے ایساکوئی مسئلہ نہیں جو پروردگار نے اسلا م میں بیان نہ کیا ہو اسی کتاب قرآن میں اللہ کہہ رہا ہے ”یجدونہ مکتوباًعندہم فی التوراة والانجیل“ اے مسلمانو! توریت میں تمہارے نبی کے فضا ئل موجود ہیں انجیل میں تمہارے نبی کے فضا ئل موجود ہیں ہم نے ا ن آیتوں کا اس لئے ذ کر نہیں کیاہے کہ ان کوبیاں کیا گیا ہے کہ فارقلیط کا ترجمہ حضرت محمد مصطفیص ہے

اور حضرت موسیٰ نے بھی کہا ایک عظیم الشا ن نبی آنے والا ہے خدا نے بھی قرآن میں کہا وہ نبی مثل موسیٰ ہیں حضرت عیسیٰ نے بھی کہا ایک نبی آئے گا جس کی نبوت پوری کائنات کے لئے ہے انجیل میں مولا علی - ع کے فضا ئل بھی موجود ہیں ایلیا کا ذکر بھی موجود ہے اور مولا ع نے جنگ خیبر میں یہودیوں سے کہا(انا ایلیا فی الانجیل) میرا نام انجیل میں ایلیا ہے یا حضرت عیسیٰ نے پھا نسی کے تختہ پر فریاد کی ایلی ایلی ایلی لما شبقتنی ، اے ایلی میری مدد کے لئے آئے

یہ تمام فضا ئل توریت اور انجیل میں موجو د ہیں مگر ہماری بحث یہ تھی کہ اسلام کے تمام احکام توریت و انجیل سے ثابت ہیں اگر سو ر خنزیز نجس و حرام ہیں تو فقط قرآن میں نہیں بلکہ توریت میں بھی نجس ہے انجیل میں بھی نجس ہے زانی کے لئے سنگسار کا حکم قرآن میں ہے تو یہ حکم وحشیانہ نہیں ہے غیر انسانی نہیں ہے یہ حکم توریت میں بھی موجود ہے انجیل میں بھی موجود ہے نما ز جو بہترین عبادت ہے مگر یہ فضیلت مسلمانو ں کو حاصل ہے کہ مسلمان نماز جیسی عبادت میں مشغول رہتے ہیں عیسائیوں کے پاس ایسی کوئی عبادت نہیں جس میں سجدہ ہو مگر توریت و انجیل سے ثابت ہے کہ حضرت موسیٰ نے سجدہ کیا

حضرت عیسیٰ نے سجدہ کیاحضرت ابراہیم نے سجدہ کیا حضرت عزیرنے سجدہ کیا تمام بزرگ انبیاء انہوں نے سجدہ کرکے پروردگار کی عبادت کی. ہم نے بحث شروع کی ہے وہ بہت اہم ہے اصل عیسائیوں کو مشرک مسلمان اس لئے کہتے ہیں کہ ہولی ٹرینٹی کو مانتے ہیں ہولی ٹرینٹی یعنی خدا ،خدا کا بیٹاہولی گوڈس یا روح القدس اسلام دین توحید ہے اور انجیل سے آپ نے آیتیں پڑ ھیں ہیں کہ حضرت عیسیٰ بھی ہماری طرح لاالٰہ الا اللہ کے قا ئل ہیں کہ جب کسی نے حضرت عیسیٰ کی تعریف کی تو کہا میری تعریف مت کرومجھے خوبصورت مت کہو بالکل اسی طرح سے جملہ ہے جیسے لاالٰہ الا اللہ ہے ویسے ہی یہ جملہ بھی ہے کہ لا جمیل الا اللہ خدا کے سوا کو ئی جمیل نہیں ، لیکن اب عیسا ئی کس بنیا د پہ حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں ؟ کہتے ہیں اس لئے کہ انجیل میں حضرت عیسیٰ نے خدا کو فادر کہا ہے باپ کہا ہے یا انجیل میں حضرت عیسیٰ کے لئے son کا ورڈ آیا ہے بیٹا ، جب کہ اس توریت میں اللہ کے ہزاروں بیٹے یہودیوں نے بنا ئے ہیں

اور عیسائیوں نے ، ایک حضرت عیسیٰ بیٹا نہیں جینیسیز پہلا چیپٹر ۶ اس کا چیپٹر جینیسز کا اور ابتدائی آیتیں The sons of God یہ دوسری آیت ہے جینیسز ۶ ورس ۲ ، The sons of god یعنی اللہ کے بیٹے اللہ کا بیٹا بائیبل میں فقط حضرت عیسیٰ نہیں ہیں بلکہ بہت سار ے اور بھی بیٹے ہیں دوسرا چیپٹر ترتیب کے اعتبار سے ایک سو دس ہے ،

ایک سودس چیپٹر ۵ آیت ۴۲ ، israea is my first born son says Then you will tell him this is what the lord

یعنی اللہ کے کتنے بیٹے ہیں ان کی کوئی تعداد ہی نہیں اوریہاں ایک سو دس آیت کہہ رہی ہے کہ اسرائیل جو ہے وہ اللہ کا پہلا بیٹا ہے جب اسرائیل اللہ کا پہلابیٹا ہے تو وہ حضرت عیسیٰ سے بھی افضل ہوگیا تو تم حضرت عیسیٰ کو خداکا بیٹا کیسے مانتے ہوتوریت و انجیل میں تو ہر ایک اللہ کا بیٹا ہے وہ اسلام ہے جو توحید کا درس دیتا ہے( بسم الله الرحمن الرحیم قله و الله احد ) کرشنٹی میں توحید کا تصور ہی نہیں ،( الله الصمد لم یلد ولم یولد ) نہ کوئی اس کا بیٹا نہ کوئی اس کا باپ ہے( لم یلد ولم یولد ) نہ وہ کسی کا باپ ہے ”ولم یکن لہ کفواً احد“ یہ قرآن ہے جس نے صحیح توحید ہمیں بتا ئی ہے اور صحیح معرفت پروردگار بتا ئی ہے لہذا با ئبل میں خد اکے ہزاروں بیٹے ہیں. نہیں کیوں کہ حضرت عیسیٰ کاباپ نہیں ہے اسی لئے حضرت عیسیٰ ہی خدا کے بیٹے ہیں ، اچھا حضرت عیسیٰ کا باپ نہیں اسی لئے حضرت عیسیٰ خدا کے بیٹے ہیں تو حضرت آدم کی تو ماں بھی نہیں باپ بھی نہیں تو اس کا زیادہ حق پہنچتا ہے

لہذا اس کتاب کے ذریعے سے آپ اسلام کی حقا نیت کو دنیا میں پھیلا سکتے ہیں تبلیغ اسلام کرسکتے ہیں ہزاروں مسیحیوں کو مسلمان بنا سکتے ہیں مگر ا فسوس کہ مسلمان یہ کام نہیں کررہے ہیں الٹے مسیحی آکر ہمارے ملک میں مسلمانوں کو عیسائی بنا رہے ہیں یہاں واقعاً ا فسوس کا مقام ہے کہ اتنی آیتیں آپ نے سنیں اور یہ تمام آیتیں آج ایک پمفلیٹ کی شکل میں موجود ہیں ہر مومن ایک پمفلیٹ اپنے پاس رکھ لے تاکہ کسی بھی عیسائی سے منا ظرہ ہو تو آرام سے اسے مسلمان بنا سکتے ہیں

سرحد میں انہیں مجالس میں سے چند آیتیں انتخاب کرکے ایک ملیٹری کا آدمی تھا وہ جا کے ایک عیسائی دوست سے ڈسکیشن کی اور دوسر ے دن وہ میرے پآس لیکر آئے اس نے کلمہ ”لاالٰه الا الله محمد رسول الله علی ولی الله “ کا اعلا ن کیا اصلاً کوئی مشکل کام نہیں عیسائیوں کو مسلمان بنانا بہت آسان ہے یہ سارے ریفرینسز موجود ہیں پمفلیٹ کی شکل میں جو آپ اپنی جیب میں رکھ لیں اس سے زیاد ہ بیان نہیں کیئے ہیں وہ بھی موجود ہیں بڑی آسانی سے آپ عیسائیوں کو مسلمان بنا سکتے ہیں مگر جو عیسائیت پھیل رہی ہے اس کا ریزن اس کا سبب کیا ہے وہ دو چیزیں ہیں اس پر جب تک مسلمانوں نے قبضہ نہیں کیا تو ہم صحیح تبلیغ نہیں کرسکتے ایک ہے میڈیا ، ریڈیو ، ٹیلیویزن ، اب اس مہینے سے عیسائیوں نے پاکستان میں ایک ریڈیو ایسا شروع کیا جس کا شاید مرکز کویت ہو یا یہاں ہو.پورے اس ایریا میں کئی زبانوں میں پانچ دس زبانوں میں حتی کہ بلتی زبان ، حالانکہ بلتستان میں ایک بھی عیسائی نہیں ہے وہ تبلیغ شرو ع کرنا چاہ رہے ہیں شاید کربھی چکے ہوں مقصد یہ ہے کہ میڈیا پر ان کا کنٹرول ہے اور دوسرا اقتصادیا ت ، اقتصادیات کو معمولی نہ سمجھں اقتصادی بہانے سے ہی افریقہ میں انہوں نے مسلمانوں کوعیسائی بنا یا ہمارا اقتصاد آزاد نہیں ہے یہودیوں کا کنٹرول ہے جب یہودی چاہیں ہماری کرنسی کو کاغذ بنا سکتے ہیں

جب یہودیوں کا ایجنٹ شاہ ایران میں بادشاہ تھا تو سات تومان میں ایک ڈالرتھا اور جب انقلاب آیا تو اب کیا ہواسات سو توما ن کاایک ڈالر، تومان کاغذ بن گیای. کیوں کہ ہمارا جب تک اقتصادی نظام درست نہیں ہوگا تب تک ہم مسلمان آزاد ہیں ہیں آپ بیوپاریوں سے پوچھیں ایک بیوپاری ہمارا دبئی سے چیز منگانا چاہتا ہے اب دبئی اور پاکستان کے درمیان ٹریڈ ہے مگر جب ایلسی کھلے گی وہ ڈالر پہلے نیویارک امریکہ جا ئیں گے یہ سارا نظام جو ہے اس پر دشمنان اسلام کا قبضہ ہے اور پاکستان اتنابڑا ہے کروڑوں لوگ رہتے ہیں مگر آپ کو سن کے بھی تعجب ہو گا گذشتہ سال اکنو مس میں جیسی پی ایچ ڈی ہونی چاہیئے ، پاکستان میں نہیں ہورہی ہے. ہمارے ایک دوست مومن لنڈن انگلینڈمیں پی ایچ ڈی کے لئے آئے خود اکنومس تھے ان کا موضوع تھا کہ یہ ورلڈبینک وغیرہ جو لون دیتے ہیں

اس سے آیا غربت ختم ہوتی ہے یا غربت بڑھتی ہے اسی یونیورسٹی میں ایک انگریز پی ایچ ڈی پہلے کررکھا تھا یہ لون کا تھا وہ تھا ا یڈ کہ ورلڈ بینک میں چالیس ممالک کو ایڈ دی تو جب ایڈ دیتے ہیں تو کم سے کم پچاس شرائط لگا تے ہیں اور جب ایڈ انہوں نے لی تو وہ اور ڈوب گئے اور غربت بڑھ گئی فقر اور بڑھ گیا یعنی یہ جو اف ام آئی یا ورلڈ بینک اس وقت یہ یہودیوں کے ایجنٹ ہیں یہ لٹیرے ہیں یہ خون پی رہے ہیں پہلی شرط ان کی یہ ہوتی ہے کہ آپ کرنسی کو کاغذ بنائیں لہذا اس وقت واقعاً مسلمان غلام ہیں آزاد نہیں ہیں جب تک ہمارا کوئی اقتصادی نظام نہ ہو تو ہم کیسے آزاد ہوسکتے ہیں یہودی عیسائی جب چاہیں آپ کے روپیہ کو کاغذ بنا دیں اس وقت ساٹھ روپیہ میں ایک ڈالر ہے کبھی بارہ روپیہ میں ایک ڈالرملتا تھا ممکن ہے دشمنان اسلام اس پیسے کو اور گرا دیں دشمنا ن اسلام سب سے بڑے یہ حکمران ہیں جو ہر حکمران آکے لون لیتاہے بینظیر کو بھی لون چاہیئے ، نواز شریف کو بھی لون چاہیئے، اور جنرل صاحب کو بھی لو ن چاہئیے اور وہ مصیبت عوام دیکھے گی کرنسی جب گرے گی کاغذبنے گی مہنگائی بڑھے گی ہماری چیز دس روپیہ کی ایک روپیہ میں لے جا ئیں گے اور ہمیں ایک روپیہ کی چیز دس روپیہ میں لینی پڑے گی دونوں طرف سے مار کھا ئیں گے اور یہ حکمران لون اس لئے لیتے ہیں تا کہ اس سے پیسہ کاٹ کر اپنے بینکوں میں دنیامیں باہر بھیج دیں

لہذا اس وقت مشکل یہ ہے کہ اقتصادیات میں ہمارے نوجوانوں کو آگے بڑھنا چاہئیے دوتین افراد آئے بھی ان سے کہا گیا آ پ لو گ اس پر پی ایچ ڈی کیوں نہیں کرتے کہ کرنسی پر اس وقت جو یہودیوں کا کنٹرول ہے اس سے مسلمان کیسے آزاد ہوں انھوں نے کہا ہم کرہی نہیں سکتے ، ہم نے کہا کیوں ؟ اولاً تو ہمیں کسی بینک نے بھیجا ہے اور یہاں پر جو ٹاپک سلیکشن کا مسئلہ ہے اس میں بھی ہم آزاد نہیں ہیں یعنی واقعا یہودیوں نے اس وقت اقتصادیات دنیا کی اور دنیا کی یونیورسٹیوں پرکنٹرول کررکھا ہے کہ پاکستان جیسا ملک ہے مگر اسے صحیح معنو ں میں یہاں اکنومس میں پی ایچ ڈی نہیں ہورہی لہذا ناممکن نہیں ہے کہ ان کی سازش سے ان کے جال سے ہم آزاد نہ ہوں ضرورت ہے کہ ہمارے نوجوان آگے بڑھیں کچھ مخیر حضرات آگے بڑھیں اور واقعاً اس سبجیکٹ پر پی ایچ ڈی ہونی چاہئیے کہ کیسے مسلمان اقتصادی غلامی سے آزاد ہوں

اقتصادیات کے بعد جتنی عیسائیت پھیلی ہے اسی فراڈ کے ذریعے سے مصنوعی غربت پیدا کرکے انہوں نے لوگوں کو عیسائی بنایا اور دوسرا ا مسئلہ آپ نے پڑھا جو کہ میڈیا کا ہے ہمارے نوجوانوں کو چاہیئے کہ کمپیوٹر میں پروگرامنگ اپنے اوپر واجب کرلیں نذر کرلیں اگر آپ پروگرامر ہوگئے تو آج ہرروز چھوٹے چھوٹے بچے اسرائیل میں مارے جا رہے ہیں ہم سن رہے ہیں کوئی ری ایکشن نہیں کررہے ہیں حا لانکہ حدیث ہےمن اصبح ولم یه تم بامور المسلمین فلیس بمسلم پورا دن گذر جا ئے اور فقط اپنے پیٹ کی فکر ہومگر کسی مسلما ن کی کوئی مدد نہ کرے اللہ کے رسول ص فرمارہے ہیں وہ مسلمان نہیں ہے

آج ہرروز فلسطینیوں کی لاشیں گررہی ہیں کتنے مہینے ہوگئے دنیا تو تماشائی ہے مگر مسلمان بھی خاموش ہیں چھوٹے چھوٹے بچے وہ بیچارے پتھر مارتے ہیں وہ ادھر سے راکٹ اور گولیاں مارتے ہیں کوئی انصاف ہے کوئی عدل ہے دنیا تماشا دیکھ رہی ہے لیکن اگر آپ پروگرامر ہوتے یا انشا ء اللہ بنیں توکم سے کم انٹر نیٹ کے ذریعے سے جیسے کہا گیا کہ آپ ان کے سرورپر اٹیک کرسکتے ہیں آپ ان کے فوجی نظام کو بگاڑ سکتے ہیں سب کچھ کرسکتے ہیں

لہذا اس فیلڈ میں بے انتہا ضرورت ہے اور کچھ پاکستان اور باہر کے ممالک کے پروگرامرس کا نیٹ ورک بھی بن چکا ہے جنہوں نے مدد بھی کی ہے اور بہت سارے پروگرام سی ڈی کے ذریعے سے موجود ہیں اے ایس پی انٹرنیٹ کا پروگرام ہے ایسٹی ایمیل ، ڈی ایس ٹی ایمیل اور بہت سارے پروگرام موجود ہیں اور جو پروگرامرس ہو اس میں واقعاً بڑھ چڑھ کے حصہ لے یہ آئندہ کی جنگ اسی کی ہے وہ قوم غلام بن جائے گی جس کی اقتصادیات آج آزاد نہیں ، اور وہ قوم غلام بن جائے گی جو کمپیوٹر فیلڈ میں کمپیوٹرٹیکنولیجی میں جاہل ہے اس وقت ہندوستا ن ہم سے بہت آگے ہے جو مقام افسوس ہے کہ مسلمان ملک مگر اس ٹیکنولیجی میں ہم پیچھے ہیں اس وقت آمریکا کے فوجی کمانڈر کا انٹرویو آپ نے سنا کہ خوفزدہ ہیں ہندوستان کے پروگرامر سے آئندہ کی جنگ اس فیلڈ میں ہیں

اس سلسلہ میں ایک تجربہ ہوا دوتین سال الحمدللہ یورپ میں انگلینڈ میں اس وقت مومنین کے مدارس جوچھوٹے بچوں کے مدارس ہیں

ان کی تعداد تقریباًسو کے قریب ہے اور بچے بہت زیادہ ہوگئے ہیں اور ان علما ء کو جو یورپ میں ہیں ہیلپر س کی ضرورت ہے ایسے نوجوان جن کی انگلش بھی اچھی ہو اور دینی معلومات بھی اچھی ہوبے پناہ ضرورت محسوس کررہے ہیں کیونکہ بچے بہت زیاد ہ ہورہے ہیں تو کچھ سال پہلے کچھ ڈاکٹر ز جو ایم بی بی ایس تھے اور اے فارسی ایس کرنے کے لئے گئے کچھ ہم نے کچھ دوسرے دوستوں نے ان کو ان مدرسو ں میں رکھا اور یہ تجربہ بہت کامیاب رہا کیونکہ ڈاکٹر کرنے اسپیلائیزیشن ، یا اے فارسی ایس کرنے کے لئے جا تے ہیں تو مہینے میں صرف وہا ں ہیٹنگ کا خرچہ گھر کا کرایہ پا نچ سو پاونڈ سے کم نہیں ، پا نچ سو پاونڈ یعنی تقریباًپچاس ہزار صرف رہنے کاخرچہ کھانا علاوہ تو اکثر بیچارے ڈاکٹر ایک اٹین میں تو پاس نہیں ہوتے دو تین اٹین ، تین چار اٹین کیونکہ لینگویج کے امتحان میں فیل ہوگئے تو پھردوبارہ دونوں دینے پڑتے ہیں میڈیسن بھی اور لینگویج بھی تو تین چار اٹین کے بعد جا کے پاس کرتے ہیں تو دوسال بھی لگ جا تے ہیں تین سال بھی اور بعض افوٹ نہیں کرسکتے بعض متدین افراد کو ان علماء کے ساتھ اٹیج کردیاگیا تو ایک ان کا فائدہ یہ ہوا کہ خرچہ بچ گیا رہنے کا کھانے کا پینے کا اوربلکہ الٹا اس مدرسہ سے انہیں سو دوسو پاونڈبھی ملنے لگا اور الحمد للہ اس وقت انہوں نے اسپیشل لائیزینشن بھی کرلیا ، اے فارسی ایس بھی کرلیا تو اگر یہ تمام نیٹ ورک ہمارے درمیان اگر پیدا ہوجائیں تو واقعا ہم ایک دوسرے کی مدد بھی کرسکتے ہیں اور اسلام کی خدمت بھی کرسکتے ہیں. جیسے آپ نے پڑھا کہ آمریکا نے نو سو ملین ڈالر شیعوں کو ختم کرنے کے لئے مخصوص کر رکھا ہے اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہرروز ہم لاشیں اٹھا رہے ہیں اگر ہم لوگ اس ٹیکنو لیجی میں آگے نہ بڑھے تو ہم دشمن کا مقا بلہ نہیں کرسکتے اور لازم ہے نوجوانوں کے لئے یہ اس وقت کاجہاد ہے کسی زمانہ میں تلوار جا ننا ضروری تھاکسی زمانہ میں بندوق چلانا ، اس وقت کمپیوٹر میں ماہر ہوکر اور امریکی فوجی نظام کو تہس نہس کرنا یہ مومنین کے لئے بے انتہا ضروری ہے

سب سے افضل ترین عبادت جو ہے وہ رزق حلال کھا نا اور کمانا ہے آج یہ شعور ختم ہوتا چلا جا رہا ہے آپ سن رہے ہیں احادیث سے کہ اگر رزق حلال نہیں ، تو نہ انسان کی دعا قبول نہ نماز قبول نہ تلاوت قرآن قبول نہ عزاداری قبول انسان درجہ انسانیت سے گرجاتا ہے مقصد حیات ختم ہوگیا( وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ) پروردگار نے ہمیں عبادتکے لئے خلق کیا ہے پیسہ کمانے کے لئے نہیں خلق کیا، پیسہ یہیں رہ جا ئے گا بلکہ حرام کھا نے کی وجہ سے دنیا بھی برباد ہوتی ہے آخرت بھی. وہ کیسے یہ ہم بھی دیکھ رہے ہیں آپ بھی مشاہدہ کررہے ہونگے حرام کھا نے والے لوگ ان کا حشر کیا ہوتا ہے ان کی اولاد بہت مشکل سے صالح اور نیک بنتی ہے بلکہ حرام کی غذا کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کی اولاد غیرصالح ہوتی ہے ممکن ہے پیسہ کی لالچ میں زندگی میں باپ کی چاپلوسی کریں مگر باپ کے مرنے کے بعد، مرگیا مردود نہ فاتحہ نہ درود، ایسے کئی واقعا ت ان گنہگار آنکھوں نے دیکھا ہے کہ باپ کی لاش ، میت پر آنا بھی بعض لوگوں کے لئے مشکل تھا یہاں کی بات نہیں یورپ کی بات کررہا ہوں ہم نے کہا بھئی باپ کے غسل میں شریک ہوجا و ،

ایک زمانہ میں ہم لنڈن میں تھے مولانا امیر حسین نقوی صاحب مرحوم خدا درجات بلند کرے ڈاکٹر محمد علی شہید کے والدکے بعد ریزیڈٹ عالم وہ پاکستا ن چلے گئے تھے انھو ں نے مجھے ادارہ جعفریہ لنڈن میں یہ فریضہ انجام دینے پر مامور کیا تو ایک میت ہوگئی میں اکیلا تھا اکثر وہاں ایک دو ڈاکٹر تھے بیچارے وہ ساتھ دینے کے لئے آجا تے تھے اب ایک اور میت ہوگئی بیٹے سے کہہ رہا ہوں کہ بھئی میں اکیلا کیسے غسل دوں گا آجا و میری مدد کرو تو وہ ناراض ہورہاہے کہ جناب میں پھرغسل دوں یعنی باپ کو غسل دینا بے عزتی سمجھ رہا تھا ایسی ہزاروں مثالیں ہیں رزق حرام اگر آپ نے اولاد کو کھلادیا توزندگی میں ممکن ہے صالح رہیں مگر اصل صالح کون ہیں

اللہ کے رسول ص فرماتے ہیں دوطرح سے اولاد عاق ہوجا تی ہے ایک وہ جو زندگی میں گستاخی کرے باپ کو ماں کو اذیت دے دوسر ے وہ جو مرنے کے بعد نہ ماں،نہ باپ کسی کے حقوق ادا نہیں کرے ، نہ ان کی قضا نمازپڑھے اور نہ پڑھائیں نہ ان کے قضا روزے رکھیں نہ رکھوائیں یہ بھی عاق ہوجا تے ہیں یعنی باپ کا حق مرنے کے بعد بھی ہے ان کی نمازیں ہیں ان کے روزے ہیں ان کے حج ہیں اگر قضا ہیں تو یہ رزق حرام کا نتیجہ ہے کہ اولاد برباد ہوجا تی ہے اولاد برباد ہوگئی آخرت برباد ہوگئی پیسہ تو یہاں رہ جا ئے گا اور حدیث نے کہا کہ جتنا حرام کا پیسہ چھوڑکر مروگے اتنی جہنم کی آگ اور بڑھتی رہے گی

ایک شخص نے اللہ کے رسول ص سے کہا میں تاجر ہوں شراب بیجتا ہوں اب میں چاہ رہا ہوں کہ جو پیسہ میں نے کما یا ہے اس سے حج کروں غریبوں کو دو ں یتیموں کو دوں یتیم خا نہ بناوں مسجدیں بنا وں اس طرح کے خیر کے کام کروں مگر میرا کاروبار شراب بیچنا ہے اللہ کے رسو ل نے کہا سن اور دوسرے مسلما ن بھی سن لیں تو ساری رقم اللہ کی راہ میں لٹا لے جو کرنا ہے کرلے مگر خدا تجھے مچھر کے پرکے برابر بھی ثواب نہیں دے گا تیرا رزق حرام ہے آپ نے پڑھا کہ تنکااگر کسی کی ٹوکری کابغیر اجازت کے توڑدیاجا ئے تو نہیں معلوم کتنے سالوں تک انسان جہنم میں جلتا ہے

وہاں ذرہ ذرہ کا حساب ہے آج لوگ ما ل ہڑ پ کر کھا جاتے ہیں پتہ بھی نہیں چلتا ،

واقعا اگر خدا کرم نہ کرے اگرخدا ستار نہ ہوتا تو حرام کھا نے کی وجہ سے آج ہماری شکلیں بگڑچکی ہوتیں کتنی قوموں پر عذاب آیا یہ تو سرکارمحمد مصطفیص ہمارے نبی سے خدانے وعدہ کیا تھا کہ تمہاری امت کی شکلوں کو نہیں بدلوں گا ”وما ارسلناک الا رحمة للعالمین“ اولاد آخرت کے لئے بھی سرمایہ ہے بہترین انویسٹ مینٹ ہے کہ حدیث ہے مرنے کے بعد تمہارے اعمال نامہ کی کتاب بند ہوجائے گی

اب نہ روزہ، نہ نماز نہ حج نہ عزادار ی ، لیکن تین کام کرکے مرو تو تمہارا اعمال نامہ قیامت تک بند نہیں ہوگا ان میں پہلا کام اولاد صالح ہے اگر اولاد صالح ہے تم مرگئے تو وہ تمہاری نماز پڑھتا رہے گا تمہار ی طرف سے حج کرتارہے گا تمہاری طرف سے زیارت کرتا رہے گا ہرروز تمہیں جزء قرآن بخشتا رہے گا ہرروز تمہارے لئے دعا ئے کمیل پڑھتا رہے گا اس قدر اولاد صالح کا اجر و ثواب ہے مگر اولاد صالح رزق حرام کھانے سے بن سکتی ہے ناممکن ہے غذا کا اثرہے دوسری چیز جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے وہ اچھی کتاب ہے تیسری مسجد، مدرسہ ، ہسپتال یہ چیزیں ایک واقعہ سنیے تاکہ ہم عبرت حاصل کریں کہ اصل مومنین کون تھے نام سنا ہوگا یقیناہمارے علماء میں بے انتہا صاحب کرامت ایک شخصیت گذری ہے حضرت آیة اللہ العظمیٰ مقدس اردبیلی ان کی کتاب اردو میں بھی ہے یہ وہ شخصیت ہیں اور حضرت آیة اللہ سیدبن طاووس کہ ایک بہت بڑے عالم گذرے ہیں صاحب تفسیر المیز ان کے بھا ئی وہ علماء کی روحو ں کو بلاتے تھے یہ بھی علم ہے بہرحال لیکن یہ کہتے ہیں کہ جب میں نے کوشش کی کہ مقدس اردبیلی کی روح کو بلاو ں کوئی مسئلہ پوچھو ں یاسید ابن طاوس کی روح کو بلاوں کہا میں نے سارے علماء کی روحوں کو بلایا علامہ مجلسی ، شیخ انصار ی ،سب سے میں نے مسئلے پوچھے آپ کی کتاب کا یہ مسئلہ مجھے سمجھ میں نہیں آتا انہوں نے بتایا اس سے مراد یہ ہے کہا مگر دو علما ء کو میں نہیں بلاسکا ایک آیة العظمیٰ مقدس اردبیلی اور ایک حضرت آیة اللہ العظمیٰ سید ابن طاووس پوچھا کیوں کہا جب بھی میں ان کو بلانا چاہا تو فرشتوں نے حکم دیا ہمیں طاقت نہیں ہمیں مجال نہیں کہ ان بزرگوں کو ہم آپ کی خدمت میں لے آئیں کیوں کہ یہ دونوں ہمیشہ مولا علی - ع کے ساتھ ہوتے ہیں ایک دائیں ہوتا ہے ایک بائیں ہوتاہے یہ ہے عظیم شخصیت اصلاً ایسے دوعلماء تاریخ میں نہیں ملتے امام خمینی بھی آیة العظمیٰ سید ابن طاووس کے عاشق تھے دونوں کا بہت بڑا مقا م ہے

مقدس اردبیلی کیسے مقدس اردبیلی بنے کہ آدھی رات کو جب نجف میں مولا علی - ع کے روضہ پر جا کے کہتے تھے السلام علیک یا مولا ، تو دروازے کھل جا تے تھے ضریح سے آواز آتی تھی و علیک السلام یہ مقام ہے اتنابڑا مقام کیسے ملا ا ن کے با پ کون تھے اور ان کی ماں کون تھیں آپ سن کے حیران ہوگئے مقدس اردبیلی کے با پ عالم نہیں تھے پانی بھر کر بیچنے والا ایک بہشتی تھا اب کیوں اتنا بڑا عالم خدا نے دیا ؟ مقدس اردبیلی کا باپ بہشتی تھاپانی بھر کر بیچتا تھا دریا پہ گیا پانی لینے ادھر سے پانی کے ساتھ ایک سیب آرہا تھا بہتا ہوا اب سیب اٹھا یا متوجہ نہ رہا اس وقت سیب کھا لیا پھر سوچا ارے کس کا سیب تھا بغیر اجازت کے میں نے سیب کھا لیا کل قیامت کے دن کیسے حساب دوں گا اب پانی بھرنا بھول گیا اب جہاں سے پانی آرہا ہے پیچھے پیچھے دریا کے جا رہا ہے نہیں معلوم ایک دو میل ، کہا مجھ سے کیو ں غلطی ہوگئی میں نے سیب کیوں کھا یا میرا تو نہیں تھا آخر پہنچے دیکھا ایک با غ ہے وہاں سے باغبان سیب صاف کررہا ہے وہیں سے سیب گرگیا ہوگا کہا بھا ئی سلام علیکم وعلیکم السلام کہا مجھ سے بہت خطا ہوگئی کیا ہوگیا،

کہا آپ یہاں سیب توڑ رہے ہیں غلطی سے آپ کا سیب بہتا ہوا آگے چلا گیا اورمیں نے کھا لیا لہذا رقم لینی ہے تو لے لیں یا معاف کرنا ہے تومعاف کرلیں کہا نہیں رقم نہیں لیں گے مگر معا ف بھی نہیں کریں گے کہا کیوں پھر مجھے قیامت میں حساب دینا ہوگامیرے ذمہ ہے میں اداکرنا چاہتا ہوں اگر آپ رقم نہیں تو جتنی مزدوری مجھے کرانی ہے میںآ پ کے باغ میں مزدور ی کروں کہا نہیں پھر بھی معاف نہیں کروں گامقدس اردبیلی کے والد نے کہا جوبھی کہلے مگر مجھ سے بس ایک حرام ہوگیا

اللہ کے واسطے مجھے بخش دے سب کروں گا کہا ایک شرط پر معاف کروں گاکہا کیا شرط ہے کہامیری ایک بیٹی ہے اندھی بھی ہے گونگی بھی ہے گنجی بھی ہے لولی بھی ہے اس سے شاد ی کرو تو پھر معاف کروں گا اب جوان ہے مقدس اردبیلی کا باپ تمام تصور کروباپ کہہ رہا ہے گنجی ہے اندھی ہے لولی ہے اورگونگی ہے اگر اس سے شادی کرلے تو معاف کردوں گااب مقدس اردبیلی کے باپ نے سر جھکا دیا کہ پروردگار خطا ہوگئی اب اگر یہ معاف نہیں کرے گا توتو بھی معاف نہیں کرے گاتو عادل ہے مال اس کا ہے اب جو خطا ہوگئی نبھاناپڑے گا کہا مجھے منظور ہے اس کے علاوہ اگر آپ کوئی چیزکہتے، میں ہرچیزکو انجام دینے والا ہوں کہا نہیں فقط اس شرط ہے معاف کروں گااب بتا ئیے کس قدر یہ انسان متقی ہے اندازہ لگا ئیے یہ نہیں کہ عالم ہواصل خدا نیت دیکھتا ہے طہارت دیکھتا ہے عا لم ہو یا غیر عالم اس قدر تقویٰ کہ خدا مجھے عذاب نہ کر ے میں نے ایک حرام کام کرلیا بغیر اجازت کے سیب کھا لیا لہذا اندھی سے شادی کرنے کے لئے تیار گونگی بھی سرکی گنجی لولی لنگڑی اب نکاح ہوگیا مقدس اردبیلی کے باپ جو دلہن کے پاس گئے تو دیکھا خوبصورت بال ہیں آنکھیں بھی ہیں بات بھی کررہی ہے لولی بھی نہیں ہے تو کہا غلطی سے یہ کوئی اور جگہ ہے واپس چلا گیاسسر سے کہا بھا ئی آپ نے کہا میری بیٹی گنجی تھی اس کے توبال ہیں کہا اس لئے کہا تھا کہ گنجی ہے کہ اس کا سر کبھی نامحر م نے نہیں دیکھا ایسے نہیں بنتا مقدس اردبیلی سارے حرام کام کرتے رہے سرننگے پھرے اور بیٹا مقدس بنے کہا میری بیٹی کے کبھی با ل کسی نا محرم نے نہیں دیکھے کہا گونگی نہیں ہے کہا ہاں اس لئے کہا تھا گونگی کہ کبھی کسی نامحر م سے بات نہیں کی ہے یہ ہے تقویٰ کہا آپ نے کہا کہ وہ لولی ہے کہا ہاں کبھی گھر سے باہر اس نے قدم رکھا ہی نہیں ہے جب تقویٰ کا یہ عالم ہوتو یقینا مقدس اردبیلی بنتے ہیں

کیوں کہا کہ شرابی کو اپنی بیٹی نہ دو تمہاری نسل ختم ہوجا ئے گی باپ کی بدمعاشی بیوی کی بدمعاشی، باپ کی ، ماں کی شرافتیں منتقل ہوتی ہیں یہ رزق حلال کا اثر ہے جو مقدس اردبیلی بنا دیتا ہے. رزق حرام اس کے بھی اثرات ہیں لہذا اگر کوئی رزق حرام کھا رہاہے وہ اپنی دنیا کو برباد کررہا ہے اور اپنی آخرت کو بھی بربادکررہا ہے .خدا سے دعا کر یں کہ اے میرے مالک ہمیں بھی توفیق عطا فرماکہ جیسے مولا علی - ع مقدس سے محبت کرتے تھے اے کاش ہمیں بھی وہ تقوی مل جا ئے کہ ہم بھی کردار کے اعتبار سے رفتار کے اعتبار سے مولا کے نور نظر بن جا ئیں تو یقینا ہماری دنیا اورآخرت بدل جا ئے گی ، پروردگار ہمیں رزق حرام کھا نے سے بچا ، پروردگار ہمیں یہ تقوی عطا فرما آخراس بدن کے لئے ہم حرام کریں حرام کھا ئیں یہ مٹی کے منوں کے نیچے دب جا ئے گا پیسہ یہاں رہ جائے گا ہمیں اعمال لیکر جا نے ہیں ،

اختتا م


مجلس ۹

بسم الله الرحمن الرحیم

فقد قال الله تبارک و تعالی فی کتابه الحمید و فر قانه المجید

( یاایها الذین آمنوا اتقوا الله و لتنذر نفس ما قدمت لغد و اتقواالله ان الله خبیراً بما تعلمو ن )

قر آن زندہ معجزہ ہے اور قرآ ن نور خدا ہے اور عالم کفر کے لئے آج بھی چیلنیج ہے قرآن کی آیتیں آج بھی عالم کفر کے لئے معجزہ ہیں اور مسلما نو ں کے لئے بھی معجزہ ہیں لیکن ہما ری بد قسمتی ہے ہم نے قرآن کا انتظا م خود ہی مسلمانون کے خلاف کیا

اور اس قرآن کے ذریعے سے ہم نے غیر مسلمانوں کو مسلمان بننے کی کو شش تو بہت کم کی ہے لیکن مسلمانوں کو کا فر اور منا فق ثابت کر نے میں اور تفرقہ بازی پیدا کر نے کی ہم نے بہت کو شش کی ہے یہ ایک گہر ی چال تھی جسے مسلما ن نہ سمجھ سکے

امام خمینی رہ کی وصیت ہے اس با ت کو دلائل کے سا تھ سمجھایا گیا ہے ان کا وصیت نامہ آپ لے سکتے ہیں درد بھر ا وصیت نا مہ جو حقائق پر مبنی ہے ایک مصائب کی کہانی ہے کس طرح مسلما نوں کو حقیقی قرآن کے مقاصد سے دور رکھا گیا ہے قرآن ہر زما نہ میں معجزہ ہے

دو معجزے ہر دو ر میں رہے ہیں( ان کنتم فی ریب ممانزلنا علی عبدنا فاتوا بسورة من مثله ) یہ معجزہ تو قیامت تک کے لئے ہے

اے کا فرو! اے اسلا م کے دشمنو! اگر تمہیں شک ہے کہ یہ اللہ کی کتا ب نہیں ہے تو تم اس قرآن جیسی ایک سو رہ بنا کر کیو ں نہیں دکھاتے ہو اگریہ انسان کا بنا ہوا قرآن ہوتا تو تم سب انسان مل کر فقط اس قر آن جیسا ایک سو رہ بنا کر دکھاؤ

مگرآ ج تک کسی کو طا قت نہیں اور نہ قیا مت تک کو ئی اس کا جواب لا سکتا ہے یہ معجزہ تو مسلسل ہے لیکن کچھ اور معجزے ہیں اور وہ یہ ہے کہ یہ قرآن کی ایک ایک آ یت معجزہ ہے قر آ ن نے کس طرح سے اس ریشین سائنٹس کے با رے میں ہمیں چودہ سو سال پہلے بتا یا تھا جو خلا میں گیا تھا اور قرآن نے یہ بھی بتا یا کہ جب پہلا انسان وہاں پہنچے گا تو وہ کیا کر ے گا اس کے با رے میں بھی قرآن نے بتایا ہے آج ہم آ پ کو ایک آیت کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ آ یت اس زما نے کا سا دہ معجزہ ہے اس زما نے کے بہت بڑے داکٹر، پر وفیسر جو عیسائی ہیں انھوں نے تسلیم کیا کہ یہ قرآن کا معجزہ ہے اس قرآن کی آیت میں ارشاد ہو تا ہے

( ثم خلقنا النطفة علقة فخلقنا العلقة مضغة فخلقنا المضغة عظاما فکسونا العظام لحما فتبارک الله احسن الخا لقین ) اس آ یت میں بتایا گیا کہ ہم نے انسان کو کس طرح سے خلق کیا ہے ارشا دہوا کہ ہم نے نطفہ سے خو ن بنا یا اور ہم نے خو ن سے لو تھڑا بنایا اور پھر ہم نے خون کے لو تھڑے سے ہم نے ہڈیا ں بنا ئی اور پھر ہم نے ہڈیوں پر گو شت چڑھا یا اورآ خر میں ہم نے ایک انسان کوبہترین شکل میں پیدا کیا اور اللہ سب سے بہترین خا لق ہے یہ آج معجزہ ہے جسے بہت بڑے ڈا کٹر نے تسلیم کیا ہے یہ اس وقت قرآن کا سب سے بڑا معجزہ ہے یہ ڈاکٹر کتمو ر کنیڈا کے شہر ٹورنٹو میں انبرو ملاجی ڈپارمنٹ کا ہے لیکن اس نے چھوٹی سی کتاب بھی ان آیتوں کے سلسلہ میں نکا لی ہے یہ ا یک عیسا ئی کہتا ہے یہ ”امرو لا جی“ کا پرو فیسر ہے

اس نے کئی کتا بیں ا س پرلکھی ہیں اس نے ”امرولا جی“ پر کتابیں بھی لکھی ہیں کہ بچہ کس طرح سے ماں کے پیٹ میں پرورش پاتا ہے یہ پروفیسر اس زما نے کا سب سے بڑا ما نا ہوا پروفیسر ہے یہ پروفیسر کسی مسلم ملک میں گیا تھا وہاں پر کسی نے اسے قرآن کاایک نسخہ دیا تھا عجیب بات یہ ہے کہ جب اس کی اس آیت پر نظر پڑی تو وہ حیر ان ہو گیا اور وہ اس اپنی کتا ب میں لکھتا ہے کہ واقعا یہ قر آن کی آ یت مجھ کو ہلا نے کے لئے کافی تھی کہ میں ایک عیسا ئی پروفیسر ہوں مسلمان نہیں ہوں لیکن اس آ یت کو میں دیکھ کر حیرا ن ہو گیا ا ب پروفیسر کتمو ر یہ کہتا ہے

کہ انیس چالیس سے پہلے اس زمانے میں مایکروسکو پ بنایا نہیں گیا تھا کہ تما م میڈیکل والے میڈیکل سائنس ”امبر و لا جی“ والے یعنی وہ لو گ جو بچہ کے متعلق خا ص علم ر کھتے ہیں وہ کہتا ہے

کہ ہم ”امبرو لا جی“ والے جاہل تھے کہ ماں کے پیٹ کے اندر میں بچہ کی پرورش کیسے ہوتی ہے کسی ڈاکٹر کو پہلے معلوم نہیں تھا

کہ انسان کس طر ح سے اور کن کن مرا حل سے گذر تا ہے کہ انسان کیسے اپنے ماں کے پیٹ کے اندر بنتاہے جب تک ما یکروسکوپ کی مشین نہیں بنی تھی تب تک سائنس بھی جہالت میں تھی غفلت میں تھی اور یہ تصور میں بھی نہیں تھا کہ قرآن ہمیں تصور دے رہا ہے کہ سب سے پہلے نطفہ بنا نطفہ سے خون بنا خون سے گو شت کا لوتھڑا بنا اور گوشت کے لو تھڑے سے ہڈیاں بنیں اور ہڈیو ں پر ہم نے گو شت چڑھا یا

یعنی سائنس کے پاس اس اسٹیج کے بارے میں کو ئی تصورنہیں تھا جب تک مایکروسکو پ کی ایجادنہیں ہو ئی تھی تب تک بڑی بڑی مشنریا ں ہمارے پاس نہیں آئیں لیکن کہتا ہے کہ جب مجھے یہ معلو م ہوا کہ یہ مسلمانوں کا کتاب ہے اورچو د ہ سو سا ل پہلے ان کے نبی پر نا زل ہوا تھا جس وقت نہ میڈ کل سا ئنس کی ترقی تھی اور نہ اس وقت اتنی ریسر چ ہو ئی تھی

لیکن میں واقعاً حیر ان ہو گیا کہ انیس و چالیس دن ریسرچ کے بعد ہمیں معلوم ہو ا کہ وا قعا انسان اسی طرح اسٹیج سے گذر تا ہے وہی چیز قرآن نے چودہ سو سال پہلے بتائی ہے. یہ خود اس سائنسدا ن نے خود اپنی کتا ب میں لکھا ہے یہ میرے لئے حیر ان کن ہے کہ ہم انیس و چا لیس سے پہلے سوچ ہی نہیں سکتے کہ کو ئی ایسی کتا ب جوآ ج سے چو د ہ سو سال پہلے لکھی جائے ا ور ا س میں وہ سا ئنس کے مسئلے حل ہو ں جو انیس و چالیس دن تک ریسرچ ہو ئی ہے ا س کے بعد جاکر سمجھنے میں آ ئے. اس نے آیت کوسمجھنے کی کو شش نہیں کی بلکہ وہ حیر ان ہو گیا ایک اور آیت میں ار شا د ہوا ” یخلق فی بطون امھاتکم“ اے انسان ہم نے تمہیں تمہا رے ما ؤ ں کے پیٹوں میں کس طرح خلق کیا تمہارے ماؤ ں کے پیٹوں میں ہم نے کسطرح سے حفاظت کی ہے ” یخلق فی بطون امھاتکم“ ہم نے کس طرح سے تمہا رے ما ؤں کے پیٹوں کے اندر اس طرح سے محفوظ رکھا ”خلق من بعد خلقہ“ ایک اسٹیج سے نکا ل کر ہم نے تمہیں دوسرے اسٹیج تک پہنچایا اب ایک حیرتنا ک جملہ ”فی ظلمات ثلاث“ ہم نے تمہیں تین اندھیرے پر دوں میں محفو ط ر کھا ہم نے بچہ کی حفا ظت ماں کے پیٹ میں ثلا ثہ ہم نے تین حجا بوں میں تین اندھیرے پردوں میں انسان کی حفا طت کی ہے یہ قرآن نے چودہ سو سال پہلے بتایا تھاآ پ میڈیکل کی کتا بوں کواٹھا کر دیکھئے کہ جب بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں ہو تاہے تو وہ تین حجا ب تین پردوے اس کی حفا ظت کر تے ہیں پہلا وہ پردہ جو پیٹ کی کھال ہے، انگلش میں wall کہلاتا ہے اور د وسر ا وہ پر دہ جو انگلش میں utral wall کہلا تا ہے اور تیسرا وہ پردہ کہلاتاہے یعنی آج چودہ سو سال کے بعد ریسرچ کر کے جہاں پر آج کی سائنس پہنچی ہے

کہ انسان تین حجا بو ں میں محفو ظ ہو تا ہے قرآن نے چودہ سو سال پہلے بتایا اے ا نسان ہم نے تیری تین حجا بو ں میں حفا ظت کی ہے اگر یہ قرآن انسان کا کلام ہو تاتو ممکن نہ تھا کہ آپ کو چودہ سو سال پہلے اس علم میڈیکل کے بارے میں خبر دے یہ چندمجالس ہیں کہ قرآن معجزہ ہے اگر ہم اس معجزہ کو لیکر کافر وں کے سامنے پیش کر یں توانہیں مسلما ن بنا نا کو ئی مشکل کا م نہیں ہے لیکن ہم مشہور ہوگئے ہیں کہ ہم مسلما ن آپس میں ایک دوسرے کو لڑاتے ہیں. ان کا فروں نے ہماری اس فکر کو کس طرح سے بدل دیا ہے مسلما ن کی اس فکر کو کس طرح سے بدلا گیا

عالم کفر نے مل کریہ ساز ش کی کہ مسلمان رہے مگر اس کی فکر قرآن کی فکر کے مطا بق نہ ہو تو ان پر حکو مت کر نا آسان ہے

ا ن کا خو ن پینا آسا ن ہے ان کو غلا م بنا نا آسا ن ہے ان کے مما لک میں ا پنے ایجنٹو ں کے ذریعے سے حکو مت کر نا آسان ہے حا لا نکہ اما م خمینی رح کا یہ جملہ ہے کہ جتنا امام حسین - مطلوم ہیں اتنا قرآن مظلو م ہے جتنے اہل بیت ٪ مظلو م ہیں

اتنا قرآن بھی مظلوم ہے کیو ں کہ پیغمبر اکرم ص نے یہ فر ما یاانی تارک فیکم الثلقین کتاب الله وعترتی اهل بیتی...) اے مسلما نو! میں تمہارے در میا ن دو چیزیں چھوڑ کر جارہا ہو ں ایک اللہ کی کتا ب ہے اور دو سرے اہل بیت ہیں او رلن یفترقا حتی یردا علی حوض یہ جملہ اس با ت پر دلالت کرتا ہے کہ جو ظلم قرآن پر ہو گا وہ ظلم اہل بیت ٪ پرہوگا جو ظلم اہل بیت ٪پر ہو گیا وہ ظلم قرآ ن پرہوگا کیوں کہ پیغمبر اکرم ص فر ما تے ہیں کہ یہ دو نو ں ایک دو سرے سے الگ نہیں ہوں گے یہاں تک کہ یہ دونوں حو ض کوثر پر میرے پاس آجائیں قرآن اور اہل بیت ٪ الگ نہیں ہو سکتے ہیں آپ نے دیکھا کہ مو لا حسین کے سر کوجب کا ٹاگیا تو مو لا حسین قرآن سے الگ نہ ہوسکے جو جسم تھا وہ کربلا میں قرآ ن پڑھ رہا تھااور جو سر ہے وہ نوک نیزہ پر قرآن پڑھ رہا ہے یعنی قرآن کبھی اہل بیت ٪ سے الگ نہیں ہو تا

اہل بیت ٪کبھی قر آن سے الگ نہیں ہوتے تواب جو تیر علی اصغر کے گلے پر لگ رہا ہے وہی تیر قرآن کے گلے میں لگا ہے جو ظلم قرآن پر ہوا وہی ظلم اہل بیت ٪ پر ہوا اور جو ظلم اہل بیت ٪پر ہوا وہی ظلم قرآن پر ہوا قرآن پر جا ن کر غیر وں نے بھی ظلم کیا اور اپنو ں نے نا دا نی سے ظلم کیا اب نادا نوں نے اپنے دوست نا دا نوں پر ظلم کیا اور غیر وں نے بھی ظلم کیا قرآن جو وہ نور الھی ہے اس پر کیا ظلم ہوا قرآن کیو ں نازل ہوا ؟ قرآن میں ارشاد ہوا: اے انسانو! یہ قر آن اللہ کی کتاب اس لئے نازل کی گئی ہے کہ ان کے ذریعے سے خدا تجھے زندگی دینا چا ہتا ہے زندگی کا نو ر دینا چاہتا ہے قرآن کے نا زل کر نے کا مقصد کیا ہے

قرآن ہمیں حیات دینا چا ہتا ہے اور کائنات کا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جو قرآن میں مو جودنہیں ہوتمہیں اگر حکو مت چلانی ہے تو اس کا مسئلہ قرآن میں موجود ہے ا گرتمہیں اقتصا دی مسائل چاہیں تواس کے بارے میں قرآن میں مو جود ہے( لا رطب ولا یابس الا فی کتا ب مبین ) اس قرآن میں ہر خشک و تر کا ذ کر ہے و ہ قرآن جو ہمیں حیات د ینے کے لئے آیا ہے وہ اہل بیت ٪ جو ہمیں زندگی دینے کے لئے آ ئے ا ن پر ہم نے ظلم کیا اب بتائیے قرآن پر کیا ظلم ہوا قرآن اس لئے نا ز ل ہوا تھا کہ ہماری زندگی قرآن کے مطا بق ہو ہم آ پ سے سوال کر تے ہیں. کیاآ پ کے شہر میں کیا آپ کے شہر کے کالجو ں میں قرآ ن کی حکو مت ہے ؟ کیا قرآن اس لئے نازل ہوا تھا کہ قرآن پر ظلم کیا جائے؟

قرآن زندگی کے ہر شعبہ میں ر ہے قرآن تمہا ری زندگی ہے قر آ ن تمہیں زندگی دے گا قرآن تمہیں ز ندہ کر ے گا قرآن تمہیں ہر ظلم سے نجات دے گا قرآن وہ نسخہ ہے جو ہر مظلوم کو ظالم سے نجات دلانے کے لئے نازل ہوا ہے. کہ فقط قرآن کی قسم اٹھا ئی جا ئے بلکہ قرآن خودکہہ رہا ہے کہ قرآن اس لئے نازل ہوا کہ کوئی ظالم کسی مظلو م کا حق نہ چھین سکے ، کو ئی کسی پرظلم نہ کرسکے. لیکن وہ قرآن خود آج کتنا مظلوم ہے اس قرآن کو ہم نے اپنے کا لجوں سے نکا ل دیاآج کے بچے ، جوان کالجو ں میں پڑھتے ہیں ان پر قرآن کا کو ئی اثر نہیں ہے مغربی تمدن کا اثر ہے یو رپ کا اثر ہے مگر قرآن کا کو ئی اثر نہیں ہے اگر قرآن کی حکو مت یونیورسٹی میں ہو تی تو گو لیاں نہیں چلتی ،اگر قرآن ہوتا تو بھا ئی بھائی کو گو لی نہ ما ر تا، رشو ت نہ ہو تی، اگر قرآ ن ہو تا تو انصا ف نہ بکتا، پیسہ والا چاہے توغریب کا حق کھالے، پیسہ والا انسان جو چاہے و ہ کرلے، اگر قتل بھی کردے تو پیسہ دے کر خود کو آ زا د کر الے ہم نے اپنے دفتر وں سے قرآن کو نکا ل دیا کورٹوں میں بھی قرآن نہیں ہے یہ ہماری بدبختی ہے یہ نظام ہما را یہو دیوں کا عیسا ئیوں کاہے جو انگریز نے ہمیں نظام دیا ہے اب بھی وہی نظام چل ر ہا ہے یعنی پاکستان بنا نام کا، مگر نظام وہی ہے جو انگریز نے دی. کیا ہما ری فوج کی تربیت قرآن کے مطابق نہیں کی جاسکتی ہے ان کی تربیت و ہی کی جا تی ہے جوپہلے ہو ئی تھی جس طرح سے انگریز نے کہا جوتمہارا آفیسر ہو جنرل ہو جوتمہیں حکم دے ا س کا حکم ماننا ہے چاہے وہ حکم قرآن کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اگر یہ سکھاتے کہ حکم قرآن کے مطا بق ہو مگر یہ نہیں سکھایا

اگریہ سکھا یا جا تا تو سپاہی برطانیا کے خلا ف ہی گولی چلا ت. تو ہماری ملٹری ٹریننگ میں اصول وہی ہے جو انگریز نے بنا کر گیاکہ جنر ل جو بھی کہے چاہے وہ ظلم کا حکم بھی دے. مگر قرآن کہہ رہا ہے نہیں ظالم کا حکم مسلما ن نہیں ماں سکتا چاہے وہ جنر ل ہو اگر وہ ظلم کا حکم دے رہا ہے تو اس کے بارے میں قرآن فر ما رہا ہے نہیں یہ حق نہیں ہے کہ تو بے گنا ہ کسی پر گولی چلا ئے اب آپ نے دیکھا کے ہما رے پلیس کی تربیت اسی طرح سے ہو تی ہے جس طرح سے انگریز کے زمانے میں تھی کہ پلیس والے کو پانچ سو روپیہ تنخواہ دے دیا مگر اس کو گھر با ر کا خرچہ نہیں ہے مگر اس کے پاس پا ور انتا ہے کہ کسی بھی عزتدار آدمی کو پکڑ کر جیل میں ڈا ل سکتا ہے اب یقیناً ہا تھ میں بندوق تھمادی اور پانچ سو روپیہ دیئے یعنی کہ لوگوں کو رشوت لینے پر مجبو ر کیا جا ر ہا ہے اب یہ جو بھی سسٹم ہے اس کو رشوت پرمجبور کیا جا رہا ہے کہ آپ نے دیکھا کہ قرآن کی حکومت کے مطا بق نہیں ہے آج کو رٹوں سے قرآن کو ہم نے نکا ل دیا قر آن کا نظام اس کے نظا م کے مطا بق اگر فیصلہ ہو تا تو مقدمہ میں ہزارہا رو پہ دینے نہیں پڑتے اگر کو ئی ایک لا کھ رو پیہ رکھتا ہے تو بڑے و کیل کا انتخاب کرے گا تو وہ مقدمہ جیت جا ئے گا جس کے پا س پیسہ نہیں ہیں وہ ہا ر جا ئے گا آج یہ قرآن کتنا مظلو م ہے

ہرجگہ سے ہم مسلمانوں نے قرآن کو نکا ل دیا حکومت جس کے مطا بق ہو گی وہ قرآن کے مطابق نہیں چلے گی جو حکم امریکی سفیر کا ہو گا وہی پاکستا ن میں نافذہو گا کسی شرا بی کا حکم چلے گا مگر قرآن کا ھکم نہیں چلے گا حکومت سے ہم نے قرآن کو نکا ل دیا اس سے بڑھ کر قرآن پر کیاظلم ہو گاکہ ہم نے قر آ ن کوکہاں بھیج دیا قبرستانوں میں جو مر جا ئے اس پر قرآن پڑھیں گے یہ قرآن جو ہر انسا نوں کے لئے مر کز اتحا د ہے کہ جو بھی انسان ہے وہ قرآن کے نا م پر متحد ہو جا ئیں وہ قرآن جو خصوصا مسلمانوں کوکہہ ر ہا ہے ”( و اعتصموا بحبل الله جمیعاً و لا تفرقوا ) “ دیکھو اے مسلما نو! متحد ہو جاؤ آ پس میں تفرقہ نہ ڈا لوآج اسی قرآن کو تفرقہ بازی کے لئے استعما ل کیا جاتا ہے آج شیعہ سنی کے خلاف پڑھتا ہے تو قرآن سے پڑھتا ہے سنی اگر شیعہ پر پڑھتا ہے تو قر آن سے پڑھتا ہے الٹا کام ہو ر ہا ہے قرآن ہے زندوں کے لئے ہے. ہم نے اس قر آ ن کو مر دوں کے لئے حوا لہ کردیا قرآن امام بارگاہوں میں تو نظر آتا ہے مگر بزنس مین کے دفتر میں قرآن کہیں نظر نہیں آتا ہماری پا لیسی بھی باطل ہے تو اب اس سے بڑھ کر قرآن پر کیا ظلم ہو گا امام خمینی ا پنی و صیت میں کہتے ہیں کہ جو ظلم قر آن پر ہوا جو ظلم اہل بیت ٪پر ہو. یہ ظلم قرآن اور اہل بیت ٪ پرنہیں ہوا بلکہ یہ ظلم دینا کے مظلو لوموں پر ہو ر ہا ہے آج جو کسی کا حق چھینا جا ر ہا ہے اس لئے کہ قرآن مظلوم ہے ا گرقرآن کی حکومت ہو تی توآج پاکستا ن میں بھا ئی بھا ئی پر گو لیاں نہیں چلا تا کیا اگرآج ہماری حکو مت قرآن کے مطا بق ہوتی توقوم پرستی نہیں ہو تی. کیا اسلا م نے ہمیں قوم پر ستی کا درس دیا ہے؟ اسلا م نے ہمیں خد ا پرستی کا در س دیا ہے

مو لا علی - فر ما تے ہیں اس نفس کی بیماری کی وجہ سے انسان خدا سے دور ہوجاتا ہے غافل ہو جا تا ہے ہا ں غفلت بہت بڑی بیماری ہے یہ غفلت ہے جو ہم قرآن سے دور ہو جا تے ہیں مو ت سے ہم غافل ہو گئے ہیں اگر ہم مو ت سے غافل نہ ہوتے تو قرآن سے غافل نہ ہوتے ، اگر موت سے غافل نہ ہوتے تو اہل بیت ٪سے بھی غافل نہ ہو تے. مو لا علی - فر ما تے ہیں: اے انسانو ! یہ مہلت ہے ابھی تمہا را اعما ل نا مہ کھلا ہوا ہے اے انسان جلدی سے اپنے گنا ہوں کو مٹادے تمہیں کیا معلو م کہ تمہیں مو ت کب آئے گی یہ شیطا ن کا دھوکہ ہے یہ شیطان کا حملہ بہت بڑا حملہ ہے اب سنئے حضرت لقما ن اللہ کے نبی ہیں ان کا ذکر قر آن میں مو جو دہے ان سے ارشاد ہوا کیو ں کہ حضرت لقما ن سا دہ زندگی بسر کر رہے تھے حضرت لقما ن ایک زمیدا ر کے پاس کا م کر تے تھے ایک دن یہ ہوا کہ وہ زمیندار کے گھر جا کر سو گئے اب نمازتہجد کا وقت آ یا حضرت لقمان نمازتہجد کے لئے اٹھے پیغمبر خدا ص نے تین مرتبہ اپنی وصیت میں کہا ، مولا علی سے و صیت تھی مگر وہ وصیت فقط علی سے نہیں کر ر ہے تھے بلکہ وہ پورے کائنا ت کے مسلما نوں سے وصیت کررہے تھے، کیا فر ما یا، تین مرتبہ فرمایا:علیک بصلا ة اللیل اے علی نمازتہجد کا پیغا م ہر مسلما ن کو سنا دینا کہ نماز تہجد ضرور پڑہنا

ایک دن مو لاعلی - کا مانے والا آیا اس سے مو لا نے فر ما یا تو نما زتہجد کیوں نہیں پڑھتا ہے اس نے کہا مولا بہت دل چاہتا ہے کہ میں نماز تہجد پڑھوں آپ نے نمازتہجد کے بارے میں اتنی فضیلت بتائی ہے جو نمازتہجد پڑھے گا اس کی قبر رو شن ہو جا ئے گی قبر میں اسے کو ئی تکلیف نہیں ہوگی نمازتہجد قبر کا نور ہے نمازتہجد آ خرت کا سر ما یہ ہے مولا میرا دل بہت چاہتاہے کہ میں نمازتہجد پڑھوں مگر مجھے نماز کے لئے اٹھا نہیں جاتا ہے اب کیا کر وں میرا دل بہت چاہتا ہے اب مولا اس کا جوا ب دیتے ہیں، مولا فر ما تے ہیں ،با ت یہ ہے کہ وہ میرا شیعہ نہیں ہے جو نماز تہجد نہ پڑھے، علی کے شیعہ وہ ہیں جو علی کی با ت ما نیں تو میرا شیعہ نہیں ہے تواپنے کو میرا شیعہ کہلوا تا ہے مولا نے اس سے فر ما یا: بات یہ نہیں ہے کہ تجھ سے اٹھانہیں جا تا ہے با ت یہ ہے کہ تو شیطان کے قیدخانہ میں بند ہے تو شیطان کا قیدی ہے کیوں مو لا نے فر ما یا جب تونماز تہجد کے لئے اٹھنا چاہتا ہے تو شیطا ن تیرے گلے میں طو ق ڈالتا ہے تیرے پاؤں میں زنجیر ڈالتا ہے اور تجھے اٹھنے ہی نہیں دیتاہے مولا یہ زنجیر کیسے ،مو لا فر ما تے ہیں : یہ صبح سے لیکر پورے دن بھر جو تو گنا ہ کر تا ہے آنکھ سے گنا ہ کر تا ہے زبا ن سے گنا ہ کر تا ہے نامحر م کو گنا ہ کی نظر سے دکھتا ہے یہ جو تو سا تو ں اعضا سے گنا ہ کر تا ہے وہ تیرے لئے زنجیر بن جا تے ہیں تجھے اٹھنے نہیں دیتے ہیں اگر تو ما ل حر ام کھاتا ہے تو تجھے نمازتہجد میں لذت نہیں ملتی ہے

مو لا امام جعفر صادق -اپنی وصیت میں فر ما تے ہیں کہ میرے نصیب دو رکعت نمازتہجد پو ری کا ئنات سے اور جو کچھ کائنات کے اندر ہے اس سے افضل ہے دنیا دار انسان کو یہ سمجھ میں نہیں آئے گا کہ مو لا نے کیا فر ما یا: کہ دو رکعت نماز تہجد مو لا فر ما تے ہیں کہ کو ئی مجھے یہ کہے کہ دو رکعت نماز تہجد نہ پڑھو تو پھر پورے کائنات کی حکومت ملے گی مو لا فر ما تے ہیں میرے نزدیک دو رکعت نماز تہجد کا پڑھنا پوری کائنات اور جو کچھ اس کائنات میں ہے اس سے افضل ہے یہ جملہ ہمیں سمجھ میں نہیں آئے گا، مولا فر ما تے ہیں کسی دنیا پرست کے سمجھنے میں نہیں آئے گا قرآن نے اس کے بارے میں خود فر ما یا، ہاں میرے محبوب یہ جملہ اسے سمجھ میں آئے گایہاں دنیا میں دنیا پرست لو گ اس جملہ کو نہیں سمجھ سکتے انھیں سمجھ میں نہیں آئے گا مگر ایک دن وہ اس جملہ کو سمجھیں گے کب قرآن نے فرما یا: ”الھاکم التکاثرحتی زرتم المقابر“ ا ے دنیا پرست انسان تجھے یہ با ت سمجھ میں نہیں آئے گی کہ دو رکعت نماز تہجد پڑھنا اللہ سے عشق کرنا اللہ سے محبت کی باتیں کر نا پو ری کائنات کے مال اور دو لت سے کیسے افضل ہے یہ بات سمجھ میں نہیں آئے گی مالک ہم کب سمجھیں گے اللہ نے فرما یا: ”الھاکم التکاثرحتی زرتم المقابر“ جب تیری پیٹھ قبر کے ساتھ لگے گی یہاں تو دنیا میں وزیر تھا جب تیرے پیٹھ قبر میں لگیں گے ا ب تو ہو ش میں آئے گا میں دنیا میں ارب پتی تھا وہ ارب پتی ہونا قبر میں میرے لئے خالی کے برابر ہے اے انسان تو نے شہرت اپنا مقصد سمجھا ، انسان شہرت کو کمال سمجھنے والے انسان ، سن ا گر کسی نے دو رکعت نمازتہجد پوری کا ئنات سے افضل ہے اوریہ کب سمجھے گا جب اس کی پیٹھ قبر سے لگے گی تو دنیا میں ارب پتی تھا بادشاہ تھایہ اب قبر میں سب کچھ خاک کی ما نند ہے لیکن ایک سجدہ رب العالمین کے لئے کائنات سے افضل ہے اگر تو نے ایک آنسوبہا یا یہ افضل ہے اگر تو ذکر حسین میں آ یا اور اپنی اصلا ح کی تویہ افضل ہے کیو ں کہ یہ دنیا فانی ہے یہ دنیا کا ما ل فانی ہے

اللہ سبحانہ و تعالی حدیث قدسی میں فر ما تا ہے : کہ کچھ لو گ دنیا کے بڑے پاپلر انسان ہیں منسٹر ہیں مشہور ہیں مگر فر ما یا کچھ لو گ دنیا میں بہت مشہور ہیں مگر آسمانوں میں انھیں کو ئی نہیں جا نتا ہے حدیث قدسی میں فر ما یا: کچھ لوگ دنیا میں مشہور نہیں ہیں کو ئی انھیں نہیں جا نتا ہے لیکن آسمانوں میں رہنے والوں یعنی فرشتو ں میں بہت مشہور ہیں اللہ کے رسول سے پوچھا گیا اللہ کے رسول یہ کون لو گ ہیں کہ انھیں دنیا میں کو ئی نہیں جانتا لیکن آ سمان میں رہنے وا لے فرشتے انھیں جا نتے ہیں اللہ کے رسول نے فر ما یا: فقط انہیں جانتے نہیں بلکہ ان سے محبت کر تے ہیں تو اللہ کے رسول فر ما تے ہیں جو مو من آدھی رات کو اٹھ کر نمازتہجد پڑھتا ہے کہ جن گھروں میں آدھی رات کو نماز تہجد پڑھی جا تی ہے وہ گھر آ سمان والوں کے لئے اس طرح سے چمک تا ہے جس طرح سے تمہارے لئے چاند، ستارے چمکتے ہیں آسمان والے فرشتے ان سے نور لیتے ہیں ان سے روشنی لیتے ہیں پھر پیغمبر ص فرماتے ہیں جو مومنہ یا مومن نماز تہجد کے لئے اٹھتا ہے تو اس کے پیچھے سات صفیں نوارنی فرشتوں کی کھڑی ہوجاتی ہے یعنی اس دنیا سے لیکر دنیا کے دوسرے کونے تک یعنی شمال سے لیکر جنوب تک صف ہوتی ہے اور جب وہ نماز ختم کرتا ہے تو یہ تمام اس کے لئے توبہ کرتے ہیں کہ اے مالک اسے بخش دے مالک اسے گناہوں سے معاف کردے. اب آپ نے دیکھا کہ نماز تہجد پڑھنے والے کا کیا مقام ہے کہ جہاں اس کے قدم ہوتے ہیں وہاں نورانی فرشتوں کے سر ہوتے ہیں. اے انسان تجھے یہ فانی دنیا کیا دے گی کچھ بھی نہیں دے سکتی. لیکن وہ ایک سجدہ جس میں اپنی گناہوں پر گریہ ہو وہ پوری کائنات سے افضل ہے.

رسول خدا ص نے فرمایا: اے گناہگارو! اپنے گناہوں کو قبر میں مت لیجانا یہ جو گناہوں کا بوجھ تمہارے پیٹھ پر ہے انھیں قبر میں مت لیجانا عبادتوں کو لیجانا جو آنسو مولا حسین - کے غم میں بہیں انھیں لیجانا مگر خدا کے واسطے اپنے گناہوں کو قبر میں مت لیجانا کیوں کہ یہ گناہ بچھو بن کر تم پر عذاب کریں گے. اللہ کے رسول ص سے پؤچھا گیا ہم گنہگار ہیں گناہ کرچکے ہیں ان گناہوں کو کس طرح سے جان چھڑائیں تو فرمایا، دیکھو چوبیس گھنٹوں میں لمبا سجدہ کیا کرو معصوم فرماتے ہیں ان چوبیس گھنٹوں میں ایک سجدہ ایسا کیا کرو کہ وہ بہت ہی طولانی ہو اور سجدہ میں جاکر وہ ذکر کرو جو حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں کیا تھا کہ حضرت یونس کو رہائی ملی تھی تو ہم بھی شیطان کے قید میں پھنسے ہوئے ہیں ہم کو بھی رہائی چاہئے تو وہ ذکر کرنا پڑے گا جو حضرت یونس نے کیا تھا اور وہ ذکر یہ ہے ”لا اله الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین “ اے میرے مالک تیری ذات پاک و پاکیزہ ہے لیکن میں بڑا ظالم ہوں میں بڑا گنہگار ہوں مگر مالک تو مجھے معاف کردے پیغمبر اکرم ص فرماتے ہیں ایک ایک گناہ کو یاد کرو اور یہ جملہ کہو ”لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین“ اللہ کے رسول نے فرمایا: اپنے بچپن کے گناہوں کو یاد کرو، جوانی کے گناہوں کو یاد کرو، خدا مومن کو اس لئے گناہ یاد دلاتا ہے اگر انسان مومن ان گناہوں سے معافی مانگ لے تو ان گناہوں کو خدا بخش دیتا ہے اور جو تمہارے پیٹھ پر جو گناہوں کا بوجھ ہے لمبا سجدہ کیا کرو تاکہ یہ بوجھ ہلکا ہو جائے جب معصوم سے پوچھا گیا کہ انسان سب سے زیادہ اللہ کے نزدیک کس حالت میں ہوتا ہے تو فرمایا جب وہ بندہ سجدہ میں ہو اور اس کے آنکھوں میں آنسو ہو اس حالت میں بندہ اللہ کے نزدیک تر ہے اور حالت سجدہ اللہ کو پسند ہے حالت سجدہ میں رونا بڑی عبادت ہے یعنی یہ علماء کا سلسلہ تاکید ہے

امام خمینی کے استاد آیة اللہ ملکی تبریزی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ مومنوں کو چاہئے کہ کم سے کم چار سو مرتبہ چوبیس گھنٹوں میں یہ ذکر کریں ”لا اله الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین “ اے میرے مالک ہم گنہگار ہیں تو ہمیں بخش دے. اپنی گناہوں سے معافی مانگنے کا یہ بہترین طریقہ ہے کیوں کہ پیغمبر اکرم ص فرماتے ہیں: ”حاسبوا قبل ان تحاسبوا“ اے انسان اپنے گناہوں کا اللہ کے حساب و کتاب سے پہلے خود اپنا حساب و کتاب کر لے اگر آج تو نے ان گناہوں کو یاد کر کے ایک آنسو بہانا کروڑوں سے افضل ہے. رسول خدا ص فرماتے ہیں: قیامت کا میدان ہوگا ایک گنہگار کے بارے حکم ملے گا کہ اسے جہنم میں پھینک دو اس گنہگار کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا اس کا جسم آگ سے جلنے لگے گا اتنے میں ایک نورانی جوان آئے گا اور کہے گا اسے جہنم سے نکال دے گا اور اسے کنارے پر رکھ دے گا اس کے جسم پر ہاتھ پھیرے گا اس کا پورا جسم جو آگ سے جل رہا تھا وہ ٹھیک ہو جائے گا اصحاب نے پوچھا کہ اللہ کے رسول وہ نورانی نوجوان کون ہوگا جو اس گنہگار کو اس عذاب سے نجات دے گا تو اللہ کے رسول فرماتے ہیں کہ وہ اس کے آنکھ سے بہنے والا آنسو ہوگ. جب مولا حسین کی مجلس میں آنسو بہتا ہے وہ بھی سبب بنتا ہے کہ ہم اپنے مالک کی طرف متوجہ ہو جائیں مالک میں بہت بدکار ہوں گنہگار ہوں مالک اگر تو مجھے بخش نہیں دے گا تو میں برباد ہوجاؤں گا اے میرے مالک میں نمک حرام ہوں میں نے تیرے ساتھ نمک حرامی کی ہے اگر انسان سوچے تو انسان خدا سے غافل ہے، موت سے غافل ہے کہ خدا ہم سے کتنی محبت کرتا ہے اور ہم اس سے کتنا دور بھاگتے ہیں خدا ماں باپ سے زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے مگر ہم غافل ہیں کہ خدا کتنا اپنے بندوں کو چاہتا ہے

روایتوں میں ہے کہ جب خدا نے حضرت ابراہیم کو علم دیا تو حضرت ابراہیم پوری کائنات کو دیکھنے لگے ایک گنہگار کو دیکھا اس کو بدعا کی وہ گنہگار وہیں مرگیا دوسرے گنہگار کو دیکھا بد دعا کی وہ بھی مرگیا اتنے میں قدرت کی آواز آئی اے ابراہیم کیا کر رہے ہو میرے سارے بندوں کو مار ڈالوگے میں تو گنہگار کو ہزار بار مہلت دیتا ہوں گناہ کرتا رہتا ہے میں اسے مہلت دیتا رہتا ہوں شاید ٹھیک ہو جائے شاید غفلت سے نکل آئے. خدانے قارون جیسے ظالم کو بھی مہلت دی جب حضرت موسی نے قارون کو بددعا دی کہ اے زمین قارون کو کھا جا تو قارون زمین کے اندر چلا گیا

مگر پورا زمین کے اندر نہیں گیا پھر موسی نے کہا اے زمین قارون کو نگل لے پھر گھٹنے تک اندر گیا پھر حضرت موسی نے کہا اے زمین قارون کو نگل لے اب کمر تک اندر گیا پھر حضرت موسی کو زمین سے کہنا پڑا ، قارون کو نگل لے اب قارون سینہ تک زمین کے اندر چلا گیا پھر موسی نے کہا اے زمین قارون کو نگل جا اب قارون گردن تک زمین کے اندر چلا گیا اب بھی وہ اللہ کی طرف متوجہ نہیں ہوا اللہ کی طرف سے قارون کو مہلت تھی علماء کہتے ہیں ، اگر خدا چاہتا تو زمین ایک مرتبہ میں نگل جاتی کیوں کہ حضرت موسی نے زمین کو حکم دیا تھا کہ قارون کو نگل لے مگر زمین نے پورا نہیں نگل. پہلے پاؤں تک زمین کے اندر گیا پھر گھٹنے تک. یعنی خدا نے قارون جیسے انسان کو بھی مہلت دی اب بھی موقعہ ہے توبہ کر لے مگر وہ بدبخت اس موقعہ سے فائدہ نہیں اٹھا سک. اب بھی یہ دنیا کی محبت اس کو مردود بنا رہی ہے قارون کیا کہتا ہے کہتا ہے اے موسی میں جانتا ہوں تو مجھے کیوں مارنا چاہتا ہے کیوں کہ تو میرے سونے پر قبضہ کرنا چاہتا ہے یعنی وہ آخر وقت تک اس سونے مال دولت کو شیطان نے اس کے سامنے ایسا بت بنا کر رکھا کہ وہ اس مہلت کی طرف متوجہ نہیں ہوا جب موسی نے فرمایا: کی تو یہ سمجھتا ہے. تو موسی نے زمین کو حکم دیا اے زمین اس سونے کے پہاڑ کو نگل لے زمین نے فورا حکم مانا اور پورا سونا نگل گئی جب کہ سونا قارون کے بدن سے سو گنا زیادہ تھا مگر پہلے قارون کے پاؤں نگلے پھر گھٹنے نگلے یعنی خدا قارون کو بھی مہلت دینا چاہتا ہے خدا ہر انسان کو مہلت دیتا ہے مگر یہ ہم ہیں جو اس زندگی سے فائدہ نہیں اٹھاتے، ہم اس عظیم نعمت سے کما حقہ استفادہ نہیں کرتے، بلکہ اسے برباد کر دیتے ہیں

حضرت موسی کوہ طور پر گئے قدرت کی آواز آئی اے موسیٰ یہ قارون تجھے کہہ رہا تھا کہ تجھے واسطہ ہے میری رشتہ داری یا میرے شہر کا یا دوستی کا تجھے یہ واسطے یہ دے رہا تھا یہ قارون اگر میری طرف متوجہ ہو جاتا تو اے موسی میں اس کی ساری خطاؤں کو معاف کر دیت. خدا ہر ایک کو بخشنے کے لئے تیار ہے مگر یہ انسان ہے جو اپنے رب کریم سے غافل ہے

دعائے افتتاح میں یہ معصوم کے جملے ہیں: ”فلم ار مولا کریما“ اے میرے مالک میں نے تجھ جیسا کریم مالک آج تک نہیں دیکھا ہے خدا کی کیا صفت ہے ”اصبر علی عبد ...“ اے میرے مالک تو گنہگار پر جتنا صبر کرتا ہے کہ وہ گناہ کرتا چلا جاتا ہے اور تو دیکھتا چلا جاتا ہے تو صبر کرتا ہے اسے مہلت دیتا ہے کہ اگر ہم کو گناہ کرنے کی حالت میں موت آجاتی تو وہ موت کفر پر ہوتی اگر انسان گناہان کبیرہ جس طرح سے جوا کھیل رہا ہو گندی فلمیں دیکھ رہا ہو اگر وہیں خدا اسے موت دیدے تو اس کی یہ موت اسلام پر نہیں ہوگی بلکہ یہ موت کفر پر ہوگی کہ خدا نے ہمیں مہلت دی کہ اب بھی آجائیں اب توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے وہ خدا کتنا کریم ہے ہم گناہ پر گناہ کرتے چلے جاتے ہیں وہ خدا معافی پر معافی دیتا چلا جاتا ہے

حضرت ابراہیم بڑے مہمان نواز تھے بغیر مہمان کے کبھی کھانا نہیں کھاتے تھے ایک مرتبہ ایک مہمان مل نہیں رہا تھا تو گھر سے باہر جاکر راستہ میں کھڑے ہوگئے ایک ستر برس کا بوڑھا ملا کہا آؤ میرے مہمان بن جاؤ

بوڑھا ابراہیم کے گھر آیا اب جب دسترخوان پر کھانا لگا تو حضرت ابراہیم نے اس بوڑھے سے کہا اللہ کا نام لیکر کھالو یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کھالو اس بوڑھے نے کہا میں تیرے خدا کو نہیں جانتا ہوں اور نہ مانتا ہوں تو حضرت ابراہیم بہت ناراض ہوئے، فرمایا: ایسا مہمان مجھے نہیں چاہیئے جو نہ میرے رب کو جانتا ہو اور اسے مانتا ہو اب یہ کہا تو وہ بوڑھا سمجھ گیا اور اس نے کھانا نہیں کھایا اور اٹھ کر گھر سے چلا گیا بس بوڑھا گھر سے نکلا تو وہاں سے جبرئیل نازل ہوئے، پروردگار کا حکم لائے، پروردگار نے فرمایا: اے ابراہیم ستر برس تک میں نے اس بندہ کو رزق دیا میں نے آج ایک دن کا رزق تیرے حوالہ کردیا تو تو نے میرے بندہ کو ناراض کردیا اے بندہ تو اس رب سے غافل ہے مولا علی اس غفلت کے بارے میں فرماتے ہیں یہ غفلت شراب کے نشہ سے بدتر ہے اے ابراہیم میں نے ستر برس تک اسے رزق دیا ایک دن میں نے اس کا رزق تیرے حوالہ کردیا تو تونے میرے بندہ کو نکال دیا میں تیرے اس عمل سے راضی نہیں ہوں حضرت ابراہیم یہ سن کر کھانا کھائے بغیر اس بوڑھے کی تلاش میں نکلے حضرت ابراہیم کو وہ بوڑھا کافر بڑا مشکل سے ملا اس سے کہا چلو میرے ساتھ کھانا کھالو بوڑھے نے کہا اب نہیں کھاؤں گا آپ نے خود مجھے نکال دیا اب میں نہیں کھاؤں گا اب حضرت ابراہیم اس سے منت سماجت کر رہے ہیں اس کہا میں نہیں کھاؤں گا اس نے کہا پھلے آپ نے مجھے نکالا کیوں؟ اور اب منتیں کیوں کر رہے ہیں ابراہیم نے کہا کیا کروں میرے مالک کا حکم ہے میرے مالک نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنے بندہ کو ستر برس سے رزق دے رہا ہوں اور آج ایک دن کا رزق تیرے حوالہ کردیا تو تونے بندہ کو گھر سے نکال دیا اب جو اس بوڑھے نے یہ سنا تو وہ کافر بھی رونے لگا کہا اچھا میرا مالک ایسا ہے ارے ایسے مالک سے میں غافل ہوں کہ وہ اتنا بھی برداشت نہیں کرتا کہ ایک دن میرا رزق بند ہو جائے. مولا علی - فرماتے ہیں: ”الغفلة و الغرور اشد سفرا من الشروب“ یہ غفلت شراب کے نشہ سے بدتر ہے اور غرور شیطان کا دھوکہ ہے

حضرت لقمان زمین پر کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے اب جب نماز تہجد کا وقت آیا حضرت لقمان نے اس زمیندار کو جو بڑا غریب تھا اسے نماز تہجد کے لئے اٹھایا ، اٹھو وہ وقت آگیا کہ اپنی قبر کو آباد کرو قبر کو نورانی بناؤ اٹھو نماز تہجد پڑھو اللہ کا نور حاصل کرو اس نے کیا کہا جو ہم کہتے ہیں ارے بھئی چھوڑو سونے دو. اللہ بڑا رحمان ہے حضرت لقمان نے خود نماز تہجد پڑھی اب جب نماز فجر کا وقت آیا نماز فجر کی اذان ہوئی تو حضرت لقمان نے پھر جاکر اسے اٹھایااگر نماز مستحب نہیں پڑھتے تو نماز واجب تو پڑھ لو اگر نماز واجب نہیں پڑھی تو عذاب ہوگا اس شخص نے پھر بھی وہی جواب دیا کہ آپ میری نیند خراب کر رہے ہیں خدا بڑا بخشنے والا ہے پھر سو گیا اب حضرت لقمان نے سمجھا کہ شیطان کے دھوکے میں ہے اس نے اللہ کی رحمت کو غلط سمجھا ہے صبح ہوئی اس زمیندار نے حضرت لقمان کو بیج دیا کہا یہ گندم کا بیج ہے جاؤ اور اسے زمین میں بوؤ. حضرت لقمان گندم کو لیکر چلے حضرت لقمان نے گندم نہیں بویا بلکہ گھانس کا بیج لیکر اور اسے تقسیم کردیا

اب بڑی دیر کے بعد وہ آئے رئیس صاحب چودھری صاحب نے کہا کیا ہو رہا ہے سب کے ہاتھوں میں دیکھا کہ وہ گھانس کا بیج لگا رہے ہیں لقمان سے کہا ہم نے آپ کو گندم کا بیج دیا تھا کہ یہاں گندم کا بیج لگائیں. حضرت لقمان نے جواب دیا کہ گندم کا بیج بہت مہنگا تھا ہم نے سوچا کہ یہ گھانس کا بیج بہت سستا ہے ہم گھانس کا بیج لگائیں گے مگر اللہ بڑا رحیم ہے ہم گھانس کا بیج لگائیں گے اور گندم زمین سے نکلے گ. زمیندار نے کہا کیا فرمارہے ہو کیا آپ مجھے بیوقوف سمجھ رہے ہو کہ لگاؤ گے گھانس اور گندم نکلے گا حضرت لقمان نے کہا خدا تو رحیم ہے کہا صاحب یہ کیسے ہوگا جو بیج ہم لگائیں گے وہی زمین سے نکلے گا تو حضرت لقمان نے کہا تو دنیا کے مسئلہ میں خدا کو رحیم نہیں سمجھتے لیکن جہاں آخرت کی بات آجاتی ہے قبر کی بات آتی ہے قیامت کی بات آتی ہے کہتے ہو ارے تو بہت ڈراتا ہے خدا بہت رحیم ہے بیشک خدا بڑا رحیم ہے یہ خدا کا رحم ہے کہ تو ابھی تک زندہ ہے تیرے کتنے ہم عمر مر گئے تم سے کم سن مرگئے. امام نے فرمایا اگر کوئی قبرستان میں جاکر ان قبروں میں رہنے والوں سے پوچھے کہ تمہاری کیا خواہش ہے سب کی ایک خواہش ہوگی کہ خدا پھر سے زندگی دیدے گناہوں سے معافی مانگیں آنسو بہائیں اللہ کی عبادت کریں ، خمس و زکات نہیں دیا تھا اسے ادا کریں، ہمیں مہلت ملے لیکن آج اے انسان تیرے پاس یہ مہلت ہے روایتوں میں ہے کہ جب شب جمعہ ہوتی ہے تو تمہارے گھروں کے اوپر تمہاری ماں کی روح آتی ہے تمہارے باپ کی روح آتی ہے اور آکر فریاد کرتی ہے اے میرے بچے اے میری بچی ہم بھی تمہاری طرح اس دنیا کے نشہ میں غافل تھے شیطان کے دھوکے میں تھے دیکھو تم اس کے دھوکے میں نہ آنا یہ دنیا فانی ہے ایک دن تجھے چھوڑنا پڑے گی دیکھو ہم نے نقصان اٹھایا تو نقصان نہ اٹھانا

دوسری فریاد وہ ماں کیا کرتی ہے کہتی ہے اے میرے لال اے میری بچی میں نے کس پیار سے تجھے پالا تھا دیکھو آج ہمارے ہاتھ باندھ دیئے گئے ہیں اب ہم دعا نہیں کرسکتے ہیں مگر تمہارے ہاتھ ابھی کفن میں نہیں بندھے ہیں تمہارے ہاتھ کھلے ہوئے ہیں کچھ ہمارے لئے دعا کرو دیکھو ہماری زبانیں ہمارے اختیار میں نہیں ہیں تمہاری زبانیں کھلی ہوئی ہیں تمہارے اختیار میں ہیں کچھ اللہ کا صدقہ ہمارے نام پر دو کہ کچھ ہمیں ثواب ملے یہ ماں باپ کی روحیں ہماری ہدایت کے لئے آتی ہیں لیکن کچھ صالح بچے ہوتے ہیں کہ کچھ بھیجتے ہیں لیکن پوری رات ماں باپ کی روح فریاد کر کے چلی جاتی ہے پھر یہی بد دعا ملتی ہے کہ دیکھ اگر تو ہم پر احسان کرتا تو کوئی تجھ پر احسان کرتا مگر تو نے ماں باپ پر احسان نہیں کیا تیرے ماں باپ آج فقیر بن کر تیرے در پر آئے تھے دونوں کو واپس کردیا آج یہ رحمت ہے. ”الدنیا مزرعة الآخرة“ دنیا آخرت کی کھیتی ہے جو بیج لگاؤ گے وہی وہاں پاؤ گے اگر تونے گھانس کا بیج لگایا ہے

تو یہ مت سمجھو کہ اللہ کی رحمت سے گندم نکل آئے گا اگر تم نے گناہ کا بیج لگایا تو یہ مت سمجھو کہ ثواب کا درخت نکلے گا اگر گناہ کیا ہے تو یہ درخت کو ہم جہنم میں لگارہے ہیں غفلت کی بھی قسمیں ہیں کچھ لوگ آخرت سے غفلت، موت سے غفلت، قبر سے غفلت میں رہتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے مالک سے غافل رہتے ہیں وہ خدا جس کے دسترخوان پر بیسوں سال سے رزق کھاتے رہتے ہیں لیکن اس سے کتنے غافل رہتے ہیں وہ اللہ کتنا کریم ہے ہم گناہ کرتے چلے جاتے ہیں لیکن کبھی اس نے ہمارا رزق بند نہیں کیا مالک تو کتنا کریم ہے بلکہ اور نعمت بڑھاتا ہے کہ شاید اس کو حیا آئے. اے انسان تو گناہ کیسے کرتا ہے امام جعفر صادق - کا یہ جملہ باربار سنئے امام - فرماتے ہیں تو گناہ کرتا کیسے ہے تجھے جراءت کیسے ہوتی ہے کہ تو گناہ کرے جب بھی تو گناہ کرتا ہے کیا تجھے خدا نہیں دیکھتا ہے جہاں بھی تو گناہ کرے، کمرے میں چھپ کر کرے پھر بھی خدا دیکھتا ہے کہیں بھی تو گناہ کرے گا تو خدا تجھے دیکھتا ہے. امام - فرماتے ہیں اے گنہگار اگر تو یہ سمجھ کر گناہ کرے کہ خدا تجھے نہیں دیکھتا ہے پھر تو کافر ہے مسلمان نہیں ہے اور اگر تیری والدہ یا تیرا والد تجھے گناہ کرتے ہوئے دیکھے کیا تو گناہ کرسکے گا یا جن کا تو احترام کرتا ہے یا جو تیرا احترام کرتے ہیں اگر وہ تجھے دیکھیں تو پھر گناہ کرے گا راوی نے کہا مولا نہیں کروں گا تو مولا نے فرمایا: اگر تیرے ماں باپ دیکھیں تو تو گناہ نہیں کرسکتا ہے جو تیرا احترام کرتے ہیں ان کے سامنے تو گناہ نہیں کرسکتا ہے. جب تو گناہ کرتا ہے تو کیا تیرے دل میں انسان سے کمتر اللہ کا احترام ہوتا ہے تو اتنا مردود بن جاتا ہے اس لئے گناہ کرتا ہے اگر تیرے دل میں اللہ کا احترام ہو اگر ایک عام انسان جیسا بھی احترام ہو تو کبھی وہ گناہ نہیں کرسکت ا

امام خمینی نے نورانی جملہ کہا کہ جس جملہ کی بنیاد پر یہ انقلاب عظیم برپا ہوا، فرمایا: ”دنیا محضر خدا است در محضر خدا معصیت نہ کنید“ یہ دنیا خدا کے سامنے حاضر ہے پس خدا کے سامنے گناہ نہ کرو. اعضا خدا نے دیئے اگر تو نے اس آنکھ کو کسی کی ماں بہن کو گندی نظر سے دیکھ رہا ہے تو یہ آنکھ تجھ کو کس نے دی ہے ذرا سوچ اگر یہ آنکھ تیرے پاس نہیں ہوتی اگر نابینا ہوتا تو دردر کی تھوکریں کھاتا ایک سڑک پار کرنے کے لئے بھی محتاج ہوتا اس عظیم نعمت سے آج تو گناہ کر رہا ہے. امام زین العابدین - یہی نورانی جملہ کہتے ہیں کہ اے بندے تیرے اوپر افسوس ہو تو اللہ کی دی ہوئی نعمت کے ذریعے سے گناہ کر رہا ہے زبان کتنی بڑی نعمت ہے ہم اس سے گناہ کرتے ہیں انسان اگر کسی ظالم کی حمایت کرتا ہے یہ چار پیسہ کی خاطر اس ظالم کی حمایت کرتا ہے اگر یہ امت غفلت سے نکل آئے اور قرآن کے نورانی اصولوں پر عمل کرے تو کبھی بھی ممکن نہیں کہ اس سرزمین پر اس پاک سرزمین پر کوئی ظالم حکومت کرے. یہ امریکہ ہے جو لوگوں کو لڑا رہا ہے آپ نے دیکھا نہیں کہ یہودی ہمیشہ مسلمانوں کے دشمن رہے ہیں رسول خدا ص کی یہ حدیث مبارک سنئے کہ رسول خدا ص آج سے چودہ سو سال پہلے ٹھنڈی سانس لیکر افسوس کرتے ہیں سارے اصحاب پریشان ہو جاتے ہیں پوچھا اللہ کے رسول ص آپ کیوں غمگین ہیں فرمایا: کہ میں آخری زمانے دیکھ رہا ہوں اور آخری زمانہ کے مسلمانوں پر رو رہا ہوں پوچھا گیا مولا آپ آخری زمانے کے مسلمانوں پر کیوں رو رہے ہیں؟

فرمایا: ایک زمانہ آئے گا کہ مسلمانوں کی یہ حالت ہوگی کہ یہ یہودی یہ عیسائی مسلمانوں کو گوشت کے ٹکڑے کی طرح کاٹ کر تقسیم کریں گے کہ یہ حصہ تو سنبھال یہ حصہ اسرائیل کے حوالہ یہ حصہ امریکہ کے حوالہ یہ حصہ برطانیہ کے حوالہ یہ اس کے حوالے، رسول خدا ص نے چودہ سو سال پہلے فرمایا کہ میں وہ وقت دیکھ رہا ہوں کہ مسلمان ایسے ذلیل ہو جائیں گے کہ یہودی اور نصرانی ان پر قابض ہو جائیں گے یہ سن کر سارے اصحاب پریشان ہوگئے کہا گیا مولا کیا اس وقت مسلمان اتنے کم ہو جائیں گے. فرمایا: نہیں تم سے لاکھوں کی تعداد میں زیادہ ہوں گے.

کہا کم نہیں ہوں گے پھر یہ ذلت کیوں ہوگی کہ نصرانی ان پر حاکم ہوں گے.

رسول خدا ص نے یہ بات چودہ سو سال پہلے فرمایا کہ یہ ذلت اس لئے ہوگی کہ ان کا عمل ایک طرف ہوگا قرآن کا حکم دوسری طرف ہوگا جو قرآن کا حکم ہوگا اس کے خلاف ان کا عمل ہوگا جو قرآن کی فکر ہوگی اس کے خلاف ان کی فکر ہوگی. آپ نے دیکھا کہ یہودیوں نے عیسائیوں نے کیا کیا انھوں نے کس طرح سارے عربوں کو بیوقوف بنایا جب عثمانیہ حکومت تمام عرب ممالک پر تھی لیکن کیا ہوا اس عثمانی حکومت سے ناانصافی ہوئی عربوں پر ظلم ہوا جب بھی ظلم ہوگا جب بھی حق مارا جائے گا

تو پھر ظالم کو بہت آسانی ہوگی کہ وہ قوم پرستی پیدا کریں کہیں گے کہ تیرا حق چھینا جارہا ہے یہ کرسی تیرا حق ہے یہ تیرے حق کو پامال کر رہے ہیں عربوں میں انگریزوں نے قوم پرستی پیدا کی جس کے نتیجہ میں وہاں قوم پرستی بڑھتی چلی گئی اور یہ قوم پرستی اتنی بڑھی کہ عربوں نے ترکی مسلمانوں کے خلاف جنگ کی کہ ہم آزادی چاہتے ہیں کیوں کہ پہلا قصور ترکی کا تھا کیونکہ صالح حکمران نہیں تھے اب عرب اور ترک لڑے اور برطانیہ نے فرانس میں یہودیوں اور عیسائیوں نے مسلمانوں کو یہ فکر دی کہ آپس میں لڑو اور آزادی حاصل کرو تو تم عظیم عربستان بناؤ گے نتیجہ میں کیا ہوا کیا عظیم عربستان بنا؟

نہیں ادھر سے جنگ ختم ہوئی دونوں آپس میں لڑے اور مسلمان ضعیف ہوئے نتیجہ یہ ہوا کہ پورے عربستان کو دو حصے میں تقسیم کر دیا گیا ایک حصہ فرانس کے اختیار میں چلا گیا اور دوسرا برطانیہ کے حصہ میں چلا گیا اور اسی وقت اسرائیل بنا اور اسی وقت بیت المقدس ہاتھ سے چلا گیا آپ نے دیکھا کہ یہ قوم پرستی مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ یہ قوم پرستی غلامی کی زنجیر ہے بنگلادیش کیوں بنا؟ کیوں کہ یہاں کے فاسق و فاجر حکمرانوں نے بنگالیوں کے حقوق کو مارا لیکن کیا آج ان کو ان کے حقوق مل گئے؟

کیا آج ظلم نہیں ہے؟ کیا ان پر پلیس گولی نہیں چلاتی ہے اب بھی وہ مرتے رہتے ہیں پہلے ان پر غیر بنگالی ظلم کر رہا تھا اور آج ان پر خود بنگالی ظلم کر رہے ہیں. یہ قوم پرستی کہاں سے چلی ہے یہ یہودیت کی ایک خطرناک سازش ہے جو مسلمانوں کے اندر قوم پرستی پیدا کر رہے ہیں. ہم ملت مسلمہ سے پوچھتے ہیں کہ یزید بھی عرب تھا اور جن پر ظلم کر رہا تھا وہ بھی عرب تھے تو یاد رکھئے کہ ظالم کی قوم ایک ہوتی ہے ظالم چاہے عرب ہو چاہے ایرانی ہو چاہے افغانی ہو. خدا قرآن میں کہتا ہے ”لعنة اللہ علی القوم الظالمین“ ظلم ایک قوم ہے اور مظلوم بھی ایک قوم ہے اور حقوق قوم پرستی سے نہیں ملتے ہیں بلکہ اس سے غلامی کی زنجیر ملتی ہے اب وہی یہودی وہی انگریز اس ملک کو توڑنا چاہتے ہیں حسین اس کے خلاف ہمیں حکم دے رہے ہیں. کنبہ پرستی اور ہے خدا پرستی اور ہے. قوم پرستی یہ ہے کہ جب عربوں کے اندر یہ خبیث صفت آئی تو کہا ہمیں عرب حکمران چاہئے، چاہے وہ شرابی ہو چاہے زانی ہو بس عرب ہو. تو ہمیں منظور ہے اگر عرب نہیں ہے تو ہمیں منظور نہیں ہے. اگر خوف خدا رکھنے والا ہو متقی ہو ہمیں منظور نہیں ہے یعنی یہ قوم پرستی انسان کو اتنا عدالت سے ہٹا دیتی ہے کہ شرابی منظور ہے

لیکن نمازی منظور نہیں! اس وقت شام عراق یہ دونوں مسلمان ملک ہیں لیکن ان دونوں کے اندر قوم پرستی ہے ان دونوں کے اندر بعث پارٹی کی حکومت ہے بعث پارٹی کا چیئرمین کون ہے؟ عیسائی ہے ان دونوں کے اندر قوم پرستی ہے یعنی صدام ان کا سکریٹری ہے اور وہاں حافظ الاسد سکریٹری ہے. بعث پارٹی یہاں بھی ہے ان دونوں مسلمان ملکوں کا چیئرمین ایک عیسائی ہے خدا کی نظر میں عیسائی پیغمبر اکرم ص کا دشمن ہے نجس ہے جب انسان کے اندر قوم پرستی آتی ہے تو ایک عیسائی اور یہودی بھی منظور ہے اگر اس کے قوم سے ہے اور اگر کوئی متقی انسان ہے مگر اس کی قوم سے نہیں ہے تو وہ منظور نہیں ہے

کیا یہ قوم پرستی حق پرستی ہے ہرگز نہیں حق پرستی تو یہ ہے کہ اس کی حمایت کی جائے جو خدا پرست ہوں اب جب ہم نعرے لگاتے ہیں کہ جے مہاجر جے سندھی، تو ان نعروں میں کیا چھپا ہوا ہے کوئی یہ نہیں کہتا ہے کہ جے مسلمان ، کسی نے نعرہ لگایا جے پنجابی یعنی پنجابی شرابی بھی ہو اس کو اس نعرے میں شریک کرلو، شرابی پنجابی بھی زندہ باد ہے مگر اگر کوئی غیر پنجابی نمازی ہے اس کے لئے زندہ باد نہیں کہا گیا یعنی اب قوم پرستی میں سارے ظالم بچ جاتے ہیں اور مظلوموں کی گردنیں کٹی جاتی ہیں یہی حشر امریکی لوگوں نے بنگلادیش کا کیا

اب اس مسلمان مملکت کو بھی توڑنا چاہتے ہیں اب یہ مملکت نہیں بچ سکے گی جب تک کہ سارے علماء متحد نہ ہو جائیں سب سے بڑا قصور علماء کا ہے علماء نے ایک دوسرے کی مسجدیں جلوائیں

لوگ مجبور ہوگئے کہ قوم پرستی کریں یہ مسجدیں جلیں یہ کس نے جلوائیں ان علماء سوء نے جو علمائے سوء ہیں

شیعوں کے اندر بھی ہیں سنیوں کے اندر بھی ہیں مولا علی - سے سوال کیا گیا مولا شیطان کے بعد بدترین مخلوق کون ہے مولا نے جواب دیا کہ شیطان کے بعد بدترین مخلوق علماء ہیں. پھر پوچھا ائمہ معصومین ٪ کے بعد بہترین مخلوق کون سی ہے. فرمایا: وہ بھی علماء ہیں. آج اس پورے ماحول کو دیکھئے اور حضرت علی - کے جملہ کو سمجھنے کی کوشش کیجئے مولا علی - فرماتے ہیں انبیاء کے بعد ائمہ کے بعد بہترین مخلوق علماء ہیں وہ علماء جو تمہیں فسق و فجور و ظلم سے نکال کر نور ہدایت تک پہونچا دیں. جیسے امام خمینی نے پوری قوم کو گناہ سے نکال کر نور کی طرف ہدایت دی. فرمایا ، شیطان کے بعد بدترین مخلوق کون سی؟ فرمایا: وہ بھی علماء ہیں اور وہ علماء ہیں جو اپنی ذاتی مفاد کے لئے مسلمانوں کے گھر جلواتے ہیں اگر ہم یہاں کوئی ایسا جملہ کسی مسلمان کے خلاف کہیں گے تو سب لوگ نعرہ لگوائیں گے مگر کسی اور مسلمان کا دل دکھے گا تو یہ قرآن پر بھی ظلم ہوگا اور اہل بیت ٪ پر بھی ظلم ہوگا قرآن نے کیا فرمایا:( و اعتصموا بحبل الله جمیعاً و لاتفرقوا ) مسلمانو! آپس میں تفرقہ نہیں کرو اگر آج علماء متفق ہو جائیں تو یہاں اس ملک میں قرآنی نظام آنے میں دیر نہیں لگے گی ہمارے ملک میں رشوت نہیں ہوگی تو یہ علماء کی گردن پر ہے تو وہ علماء چاہیں شیعہ ہوں یا سنی ہوں ماحول میں جو خون خرابہ ہو رہا ہے وہ سب ان سنی اور شیعہ علماء کے متفق نہ ہونے کی وجہ سے ہو رہا ہے وہ سب قصور علماء کا ہے اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ ملک جنت بن جائے تو آپ اپں ے سنی بھائیوں کے ساتھ نماز پڑھئے تمام مجتہدین کا فیصلہ ہے کہ ساتھ میں نماز پڑھ سکتے ہیں وہ بھی آئیں ایک دوسرے کے ساتھ جلسہ رکھیں ویسے ہم ساتھ ہوتے ہیں مگر نماز پڑھنے کے وقت ہم ساتھ نہیں ہوتے ہیں مولا علی - کا درد بھرا جملہ نہج البلاغہ میں موجود ہے. فرماتے ہیں: دیکھو اے شیعوں میرا حق چھینا گیا مگر میں نے صبر کیا اتحاد مسلمین کے لئے میں نے ایک لفظ نہیں کہا جو مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ کردے اگر یہاں پھوٹ پڑ گئی تو یہاں یہودی حملہ کے لئے تیار ہیں اس زمانے کے عیسائی بھی اسلام کو نابود کرنے کے لئے تیار ہیں

مولا علی - نہج البلاغہ میں فرما رہے ہیں: اے شیعو! میں نے اس وقت صبر کیا جب میرے آنکھوں میں گویا کانٹے چبھے ہوئے تھے

اور میرے حلق میں ہڈی پھنسی تھی مولا اتنی تکلیف میں مبتلا تھے مگر اتحاد کو پارہ نہ ہونے دی

اختتام


فہرست

مجلس ۱ ۴

مجلس ۲ ۱۳

مجلس ۳ ۲۳

مجلس ۴ ۳۳

مجلس ۵ ۴۱

مجلس ۶ ۵۱

مجلس ۷ ۵۷

مجلس ۸ ۶۹

مجلس ۹ ۷۸