صحیفہ امام رضا علیہ السلام
گروہ بندی امام رضا(علیہ السلام)
مصنف علی اصغر رضوانی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


صحیفہ امام رضا علیہ السلام

علی اصغر رضوانی


فصل اوّل

آنحضرت کی دعائیں

پہلا باب

تعریف خداوندی میں آنحضرت کی دعائیں۔

تعریفِ الٰہی میں آنحضرت کی دعائیں

خدا کی تسبیح اور پاکیزگی میں۔

مہینے کی دس اور گیارہ تاریخ کو خدا کی تسبیح اور تقدیس میں۔

خدا کے ساتھ مناجات کرنے کے متعلق۔

خدا تعالیٰ کے ساتھ مناجات کرنے کے متعلق۔

آنحضرت کی دعا خدا کی تسبیح اور پاکیزگی کے متعلق

پاک و پاکیزہ ہے وہ جس نے اپنی مخلوقات کو اپنی قدرت کے ذریعے پیداکیا اور اُن کو اپنی حکمت کے تحت محکم اور مضبوط خلق فرمایا۔ اپنے علم کی بنیاد پر ہرچیز کو اپنے مقام پر قرار دیا۔ پاک و پاکیزہ ہے وہ ذات جو آنکھوں کی خیانت اور جو کچھ دلوں میں ہے، جانتا ہے۔ اُس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔(کتابِ توحید،شیخ صدوق: ۱۳۷ ۔ عیون الاخبار،ج ۱: ص ۱۱۸) ۔

۲ ۔ مہینے کی دس اور گیارہ تاریخ کو خدا کی تسبیح اور تقدیس میں آنحضرت کی دعا

پاک و پاکیزہ ہے نو رکو پیدا کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے تاریکی کو پیدا کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے پانیوں کو خلق کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے آسمانوں کو پیدا کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے زمینوں کو پیدا کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے ہواؤں کو پیدا کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے سبزے کو پیدا کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے زندگی اور موت کو پید اکرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے مٹی اور بیابانوں کو پیدا کرنے والا۔ پاک و پاکیزہ ہے خدا اور تعریف و ثناء اُسی کیلئے ہے(دعوات: ۹۳ ، بحارالانوارج ۹۴ ، ص ۲۰۶) ۔

۳ ۔ خدا کے ساتھ مناجات کرنے کے متعلق آنحضرت کی دعا

اے اللہ! تیری بارگاہ میں کھڑا ہوں اور اپنے ہاتھ تیری طرف بلند کئے ہیں، باوجود اس کے کہ میں جانتا ہوں کہ میں نے تیری عبادت میں سستی کی ہے اورتیری اطاعت میں کوتاہی کی ہے۔ اگر میں حیاء کے راستے پر چلاہوتا تو طلب کرنے اور دعا کرنے سے ڈرتا۔ لیکن اے پروردگار! جب سے میں نے سنا ہے کہ تو نے گناہگاروں کو اپنے دربار میں بلایا ہے اور اُن کو اچھی طرح بخشنے اور ثواب کا وعدہ کیا ہے، تیری ندا پر لبیک کہنے کیلئے آیا ہوں اور مہربانی کرنے والوں کے مہربان کی محبت کی طرف پناہ لئے ہوئے ہوں۔

اور تیرے رسول کے وسیلہ سے جس کو تو نے اہلِ اطاعت پر فضیلت عطا کی ہے، اپنی طرف سے قبولیت اور شفاعت عطا کی ہے، اس کے چنے ہوئے وصی کے وسیلہ سے کہ جو تیرے نزدیک جنت اور جہنم کے تقسیم کرنے والامشہور ہے، عورتوں کی سردار فاطمہ کے صدقہ میں اور ان کی اولاد جو رہنما اور اُن کے جانشین ہیں، کے وسیلہ سے، اُن تمام فرشتوں کے وسیلہ سے کہ جن کے وسیلہ سے تیری طرف جب متوجہ ہوتے ہیں اور تیرے نزدیک شفاعت کیلئے وسیلہ قرار دیتے ہیں، وہ تیرے دربار کے خاص الخاص ہیں، میں تیری طرف متوجہ ہوا ہوں۔

پس ان پر درود بھیج اور مجھے اپنی ملاقات کے خطرات سے محفوظ فرما۔ مجھے اپنے خاص اور دوست بندوں میں سے قرار دے۔ اپنے سوال اور گفتگو میں ،میں نے اُسے مقدم کیا ہے۔جو تیری ملاقات اور دیدار کا سبب بنے اور اگر ان تمام چیزوں کے باوجود میری دعاؤں کو رد کردے گا تو میری اُمیدیں نااُمیدی میں تبدیل ہوجائیں گی۔ اس طرح جیسے ایک مالک اپنے نوکر کے گناہوں کو دیکھے اور اُسے اپنے دربار سے دور کردے۔ ایک مولا اپنے غلام کے عیوب کو ملاحظہ کرے اور اُس کے جواب سے اپنے آپ کو روک لے۔

افسوس ہے مجھ پرکہ ہر طرف پھیلی ہوئی تیری رحمت میرے شامل حال نہ ہو۔ اگر مجھے اپنے دربار سے دور کردے گا تو تیرے دربار کے بعد کس کے دربار کی طرف رجوع کروں گا۔ اگر تو میری دعا کیلئے اپنی قبولیت کے دروازے کھول دے گا اور مجھے اپنی خواہشات کے پانے کے ساتھ خوش کرے تو تو ایسا مالک ہوگا کہ جس نے اپنے لطف و کرم کا آغاز کیا ہے۔ اُس کو انجام تک پہنچانا چاہتا ہے۔ تو ایسا مولاہوگا جس نے اپنے بندے کی کوتاہیوں سے درگزر کیا ہے اور اُس پر رحم فرمایا ہے۔اس حال میں میں نہیں جانتا کہ تیری کونسی نعمت کا شکریہ ادا کروں۔ کیا اُس وقت جب تو اپنے فضل اور بخشش کی وجہ سے مجھ سے راضی ہوگا اور میرے گناہوں کو معاف فرمائے گا، یا اُس وقت جب تو اپنے عفووبخشش میں زیادتی کرتے ہوئے اپنے کرم و احسان کا آغاز کرے گا۔

اے اللہ! میری خواہش و تمنا ایسے مقام ہیں جو ایک فقیر اور نااُمید بندے کا مقام ہے۔ وہ یہ ہے کہ میرے گذشتہ گناہوں کو معاف فرما اور باقی عمر میں مجھے گناہوں سے محفوظ فرما۔ میرے ماں باپ جو گھر اور اہلِ خانہ سے دور مٹی کے نیچے ہیں، اُن کو معاف فرما۔

اُن کی تنہائی کو اپنے احسان کے نور سے دور فرما اور اُن کے خوف کو اپنی بخشش کے آثار کے ساتھ محبت میں تبدیل فرما۔

اُن کے نیک لوگوں کو ہر وقت نعمت اور خوشی عطا فرما۔ اُن کے گناہگاروں کیلئے مغفرت اور رحمت عنایت فرما تاکہ تیری رحمت اور مہربانی کے صدقہ سے قیامت کے خطرات سے محفوظ رہ سکیں۔ اپنی رحمت کے وسیلہ سے اُن کو جنت میں جگہ مرحمت فرما۔ میرے اور اُن کے درمیان اُس عظیم نعمت کے متعلق پہچان اور آشنائی برقرار فرما تاکہ پہلی اور بعد والی تمام خوشیاں میرے شامل حال ہوجائیں۔ اے میرے سردار! اگر میرے اعمال میں ایسی چیز موجود ہے جو اُن کی عزت اور مقام میں اضافہ اور زیادتی کا سبب بن رہی ہے تو اُسے ان کے نامہ اعمال میں شامل فرما اور مجھے اُن کے ساتھ رحمت میں شریک فرما۔ اُن پر رحمت فرما جس طرح انہوں نے بچپنے میں میری تربیت کی۔ (بحار،ج ۸۷ ، ص ۲۸۰ ، مستدرک الوسائل، ج ۴ ، ص ۶۱۵) ۔

۴ ۔ آنحضرت کی دعا مناجات کے متعلق

اے اللہ! تیری قدرت روشن ہوئی۔ تیرے لئے کوئی ہےئت و شکل پیدا نہ ہوئی ۔ لوگوں نے اس لئے تجھے نہ پہچانا اور محدود کردیا اوریہ کام اُن کا تیرے ساتھ اُن کے اعتقاد کا منافی ہے۔

اے اللہ! میں اُن سے برات طلب کرتاہوں جو تجھے ت یری مخلوقات کے ذریعے سے پہچاننا چاہتے ہیں۔ تیری مثل کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ تجھے پا نہ سکیں گے۔ اگر وہ تجھے پہچان لیں تو تیرے عذاب سے جو ظاہر ہے، وہ انہیں تیری طرف بلاتا ہے۔

اے اللہ! تیری مخلوقات میں ہی تیرے تک پہنچنے کا راستہ موجود ہے۔ لیکن انہوں نے

تیری مخلوق کے ساتھ تجھے تشبیہ دی۔اسی وجہ سے انہوں نے تجھے نہیں پہچانا اور تیری نشانیوں کو اپنا خدا بنا لیا۔ ایسی ہی تیری صفت بیان کی۔ اے اللہ! جس چیز کے ساتھ انہوں نے تیری توصیف کی ہے، تو اُس سے بہتر اور بلند ہے۔

اے ہر آوازکو سننے والے اور ہر زوال پذیر ہونے والے سے سبقت لینے والے اور اے ہڈیوں کو بوسیدہ ہونے کے بعد زندہ کرنے والے اور موت کے بعد اُن کو زندہ کرنے والے! محمد وآلِ محمد پر درود بھیج۔ مجھے اور تمام مومن ین کو ہر غم و تکلیف سے رہائی عطا فرما۔ تو ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔(بحارالانوار، ج ۹۴ ، ص ۱۸۱) ۔


دوسرا باب

۲ ۔ آنحضرت کی دعائیں لوگوں کی تعریف یا مذمت میں

اپنے بیٹے حضرت مہدی علیہ السلام کیلئے۔

موسیٰ بن عمر بن بزیع کیلئے۔

دعبل بن خزاعی کیلئے۔

ابن ابی سعید مکاری کیلئے۔

۵ ۔ آنحضرت کی دعا اپنے بیٹے حضرت مہدی کیلئے

یونس بن عبدالرحمٰن امام رضا علیہ السلام سے روایت کرتا ہے کہ آنحضرت نے صاحب الزمان علیہ السلام کیلئے دعا کرنے کا حکم فرمایا ہے اور دعاؤں میں سے اُن کیلئے آنحضرت کی دعا یہ ہے:

اے اللہ! محمد وآلِ محمد پر درود بھیج۔اپنے دوست ، اپنے جانشین اور مخلوق پر حجت اور تیری زبان جو تیری طرف سے تیری پہچان ہے، تیری حکمت کو بیان کرنے والا، تیری مخلوقات میں تیری دیکھنے والی آنکھیں، تیرے بندوں پر گواہ بلند شخص، مجاہد و مجتہد اور تیری طرف تیری پناہ لینے والے اپنے بندے کی حفاظت فرما۔

اے اللہ! اُس کو اُس کے شر سے جس کو تو نے پیدا کیا، ایجاد کیا، ظاہر کیا،تصویربنایا، محفوظ فرما، اُسے آگے سے ، پیچھے سے، دائیں سے، بائیں سے ، اوپر سے، نیچے سے محفوظ فرما، اس لئے کہ جو بھی تیری حفاظت میں آگیا، وہ ضائع نہ ہوگا۔

اس کے وجود میں پیغمبر اور اس کے وصی کو اور اُس کے آباء و اجداد کو اپنے اماموں کو ، اپنے دین کے ارکان کو، ان تمام پر درود ہو، محفوظ فرما۔ اُسے اپنی امان میں رکھ تاکہ کبھی ضائع نہ ہو اور اپنی ہمسائیگی میں کہ کوئی اور موجود نہ ہو۔ اپنی تحویل اور حفاظت میں تاکہ اُس پر ظلم نہ ہوسکے۔

اے اللہ!اُسے اپنی مضبوط ترین حفاظت میں محفوظ رکھ۔ ایسی حفاظت کہ جو کوئی بھی اُس میں آگیا، وہ کبھی شکست نہیں کھا سکتا۔ تو اُسے اپنی رحمت کے سایہ میں قرار دے کہ کوئی اُس پر ظلم نہ کرسکے۔ اُس کی اپنی طاقتور مدد کے ذریعے مدد فرما۔ اُس کی اپنے غالب آنے والے لشکریوں کے ذریعے سے تائید فرما۔ اُسے اپنی قدرت اور طاقت کے ذریعے قوی فرما۔ اپنے فرشتوں کو اُس کیلئے پشت پناہ قرار دے۔

اے اللہ! دوست رکھ اُسے جو اس کو دوست رکھے۔ دشمن رکھ اُسے جو اُس کے مقابلہ میں کھڑا ہو۔ ایک مضبوط زرہ اُس کو پہنا۔ اپنے فرشتوں کو اُس کے چاروں طرف قرار دے۔ اے خدا! اُسے اُس بلندوبالا مقام پر پہنچا دے کہ جس مقام پر تو انبیاء کی اتباع کرنے والے، عدالت کو قائم کرنے والے لوگوں کو پہنچاتا ہے۔اے خدا!اُس کے ذریعے سے شگافوں کو پُر کر۔ جداہوئی چیزوں کو ساتھ ملا اور ظلم کو اُس کے ذریعے سے ختم کردے۔ عدالت کو ظاہر فرما۔ زمین کو اُس کی طولانی عمر کے ذریعے سے زینت عطا فرما۔ اُسے اپنی مدد کے ذریعے تائید اور رعب و دبدبہ کے ذریعے نصرت عطا فرما۔ اپنی جانب سے اُسے آسان ترین فتح عطا فرما۔ اپنے اور اُس کے دشمن پر اُسے غلبہ عطا فرما۔

اے اللہ! اُسے قیام کرنے والااور جس کا انتظار کیاجاتا ہو، ایسا پیشوا قرار دے کہ جس کی تونے مدد فرمائی ہو۔ اُس کی طاقتور قدرت اور نزدیک ترین فتح کے ذریعے سے مدد فرما۔ اُسے مشرق و مغرب کہ جن کو بابرکت کیا ہے، کا وارث بنا۔ اُس کے ذریعے سے اپنے رسول کی سنت زندہ فرما تاکہ کوئی حق مخلوق کے ڈر سے چھپ نہ سکے۔ اُس کے دوستوں کو مضبوط اور دشمنوں کو نابود فرما۔ جو کوئی بھی اُس کے مقابلے میں کھڑا ہو، اُسے ہلاک اور جو کوئی بھی اُس کے ساتھ دھوکہ کرے، اُسے نابود فرما۔

اے اللہ!جابروظالم کافروں کو، اُن کوسہارا دینے والوں کو، اُن کے ستون اور اُن کے مددگاروں کو قتل فرما۔ گمراہی کے سربراہوں، بدعت ایجاد کرنے والوں، سنت توڑنے والوں اور باطل کو مضبوط کرنے والوں کو نیست و نابود فرما۔ ظالم و جابروں کو اُس کے ذریعے سے ذلیل، کافروں ، منافقوں اور ملحدوں کو اُس کے ذریعے سے نابود فرما۔ جس زمانے اور مکان میں ہوں، مشرق و مغرب میں، زمین و خشکی، دریا و صحرا اور پہاڑوں میں کسی ایک شخص کو بھی اُن سے زندہ نہ رکھ اور نشان تک اُن سے باقی نہ رکھ۔

اے خدا! اپنے شہروں کو اُس کے ذریعے سے پاک اور اپنے بندوں کو اُس کے ذریعے سے شفا دے۔ مومن ین کو غالب اور رسولوں کی سنتوں کو اور نبیوں کی حکمت کو اُس کے ذریعے سے زندہ فرما۔ وہ جو تیرے دین کے احکام ختم ہوگئے ہیں اور تیری وہ حکمتیں جو تبدیل ہوچکی ہیں،کی تجدید فرما تاکہ تیرا دین اُس کے ذریعے سے اور اُس کے ہاتھ پر تازہ، جدید، صحیح اور بغیر کسی کمی و زیادتی کے ہوجائے۔ اُس کی عدالت کے ذریعے سے ظلم کی تاریکیاں روشن اور کفر کی آگ خاموش ہو جائے، حق وعدالت کے پوشیدہ مقامات پاک اور احکام کی مشکلات واضح ہوجائیں۔

اے اللہ! وہ تیرا بندہ ہے جس کو تو نے اپنی غیبت پر امین قرار دیا ہے۔ اُسے گناہوں سے پاک فرمایا ہے۔ عیبوں سے منزہ اور نجاست سے پاک اور ہر برائی سے دور رکھا ہے۔ شک و شبہ سے اُسے محفوظ رکھا ہے۔

اے اللہ! قیامت کے دن اور بلاؤں کے واقع ہونے کے دن ہم اُس کیلئے گواہی دیں گے کہ اُس نے گناہ نہیں کیا۔ کسی غلطی سے دوچار نہیں ہوا۔ کسی نافرمانی کا ارتکاب نہیں کیا۔ کسی اطاعت کو ترک نہیں کیا۔ کسی پردہ کو نہیں چیرا۔ کسی واجب کو تبدیل نہیں کیا۔ کسی حکم کو نہیں بدلا۔ وہ ہدایت دینے والا اور ہدایت پانے والا ، پاک و پاکیزہ ، صاحب تقویٰ، وفا کرنے والا اور پسندیدہ امام ہے۔

اے اللہ! اُس پر اور اُس کے آباء و اجداد پر درود بھیج، خود اُس میں اُس کی اولاد، خاندان، نسل، امت اور تمام اُس کے ماننے والوں میں جو اُس کی آنکھ کی روشنی اور خوشی کا سبب بنے، اُسے عطا فرما۔ اُس کی حکومت تمام دورونزدیک مقامات میں۔ہر غالب و ذلیل پر جاری فرماتاکہ اُس کا حکم تمام احکام پر غالب اور ہر باطل کو اُس کے حق کے ذریعے نابود فرما۔

اے اللہ! اُس کے ہاتھ سے ہمیں ایسی راہِ ہدایت کی رہنمائی فرما جو عظیم اور درمیانہ راستہ ہے کہ جلدی جانے والا اُس کی طرف لوٹ کر آتا ہے۔ اُس کے پیچھے چلنے والا اُس کے ساتھ آکر ملحق ہوتا ہے۔

اے اللہ! ہمیں اُس کی پیروی پر طاقتور ارو اُس کی ہمراہی پر ثابت قدم رکھ۔ اُس کی اتباع کرنے پر ہم پر احسان فرما۔ ہمیں اُس کے اُس گروہ میں شامل فرما جو تیرے امر کے ساتھ قیام کرنے والا اور اُس کے ساتھ صبر کرنے والا اور اُس کی خیر خواہی کے ساتھ تیری خوشی کا طالب ہے۔ یہاں تکہ قیامت کے دن ہم کو اُس کی حکومت کے مضبوط کرنے والوں ، اُس کے دوستوں اور مدد کرنے والوں میں محشور فرمانا۔

اے اللہ!محمد و آلِ محمد پر درود نچھاور فرما اور اس چیز کو ہماری طرف سے اپنے لئے قرار دے درآنحالیکہ ہر شک و شبہ، ریاکاری اور شہرت طلبی سے دور ہو تاکہ تیرے غیر پر اعتماد نہ رکھتے ہوں اور سوائے تیرے کسی غیر کا ارادہ نہ ہو۔ ہمیں اُس کے مقام میں داخل فرما اور جنت میں اُس کے ہمراہ قرار دے۔ ہمیں اُس کے کام میں تھکن و سستی اور اختلاف میں مبتلا نہ فرمانا۔ ہمیں اُن لوگوں میں سے قرار دے کہ اُن سے تو نے اپنے دین کیلئے مدد لی ہو اور اپنے ولی کو اُن کے ذریعے عزت و غلبہ عطا کرے۔ ہمارے علاوہ دوسرے گروہ کو اس کام کیلئے منتخب نہ کر، اگرچہ یہ کام تیرے لئے آسان اور ہمارے لئے بہت دشوار ہوگا۔ تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

اے اللہ! اُس کے عہد کے والیوں پر درود بھیج اور اُن کو اُن کی اُمیدوں میں کامیاب فرما۔ اُن کی عمروں کو طولانی اور اُن کی مدد فرما۔ اپنے دین کے امر میں جس کی تو نے اُن کی طرف نسبت دی ہے، اُس کو کامل فرما۔ ہمیں اُن کا مددگار اور اپنے دین کی مدد کرنے والا قرار دے۔ اُس کے پاک و پاکیزہ آباء و اجداد جو کہ ہدایت کرنے والے امام ہیں، پر درود نچھاور فرما۔

اے پروردگار! یہ ہستیاں تیری حکمت کی کانیں، تیرے علم کے خزانے، تیرے امر کے والی، تیرے خالص ترین بندے، تیری مخلوقات میں سے چنے ہوئے، تیرے اولیاء اور اُن کی آل ، تیرے چنے ہوئے اور تیرے چنے ہوؤں کی اولاد ہیں، کہ درود و رحمت اور تیری برکت ان تمام پر ہو۔

اے خدا!اُس کے کام میں اُس کے شرکاء اور تیری اطاعت میں اُس کی مدد کرنے والے، ایسے لوگ جن کو اُس کیلئے پناہ، ہتھیار، ٹھکانہ اور مقامِ محبت قرار دیا ہے، ایسے لوگ جنہوں نے اپنے گھر اور اولاد سے دوری اختیار کرلی ہے۔ اپنے وطن کو ترک کردیا ہے اور بستر پر آرام کو چھوڑ دیا ہے۔ جنہوں نے اپنی تجارت کو ترک کردیا ہے۔ اپنے کسب و معاش میں نقصان اٹھایا ہے۔ اپنے مقامات میں بغیر اس کے کہ کسی سفر پر گئے ہوں، دیکھے نہیں گئے۔ دور رہنے والے ایسے لوگ جو اُن کی اُن کے معاملہ میں مدد کرتے ہیں، اُن کے ساتھ عہدوپیمان کرتے ہیں۔ وہ قریبی افراد جو اُن کی مخالفت کرتے ہیں، اُن کے خلاف ہیں، ایک دوسرے سے دشمنی اور دوری کے بعد متحد ہوجاتے ہیں، ایسے اسباب کو اپنے سے دور کرتے ہیں جو اُن کو دنیا کے قریب اور وابستہ کرتے ہیں۔

اے اللہ! ان کو اپنی حفاظت اور اپنی حمایت کے تحت قرار دے۔ ہر خطرہ جو اُن کے دشمنوں کی طرف سے اُن کی طرف متوجہ ہو، اُسے دور فرما۔ ان کی حفاظت اور نگہبانی میں اور ان کی تائید اور مدد کرنے میں اور جو کوئی بھی تیری اطاعت میں اُن کی مدد کرے، اُن میں اضافہ فرما۔

ان کے حق کے صدقے جو بھی تیرے نور کو مٹانے کی کوشش میں ہیں۔ اُن کونابود فرما۔ محمد و آلِ محمد پر درود بھیج ۔ اُن کے ذریعے تمام آفاق، زمین اور اُس کے تمام حصوں کو عدل و انصاف اور رحمت و فضل سے پُر کردے۔ اپنے کرم و جود کے لحاظ سے اور وہ جو تو اپنے بندوں پر عدالت کے ساتھ احسان کرتا ہے، اُس کے لحاظ سے اُن کی تعریف فرما۔ اپنے ثواب میں جو اُن کے درجات کو بلند کرے، اُن کیلئے ذخیرہ فرما۔ تو جو چاہتا ہے، انجام دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے، حکم دیتا ہے۔ اے عالمین کے رب! دعا کو قبول فرما"۔

ایک دوسری روایت میں نقل ہوا ہے کہ آنحضرت صاحب الامر علیہ السلام کیلئے دعا کرنے میں اس دعا کا حکم فرمایا کرتے تھے:

اے خدا! اپنے ولی، اپنے خلیفہ، تیری مخلوق پر حجت، تیری زبان جو تیری معرفت رکھنے والی ہے، حکمت کو بیان کرنے والی اور تیرے فرمان پر دیکھنے والی آنکھ اور تیرے بندوں پر گواہ، جوانمرد کامل و مجاہد اور تیری طرف پناہ لینے والا، اس بندے کی حفاظت فرما۔

اُس کو اپنی مخلوق کے شر سے اور جس کو ظاہر کیا، اُس کے شر سے اور جس کو ایجاد کیا، اُس کے شر سے اور جس کی تصویر بنائی، اُس کے شر سے محفوظ فرما۔ اُس کی آگے پیچھے، دائیں بائیں اور اوپر نیچے سے حفاظت فرما۔ ایسی حفاظت کہ اگر اُس کے ذریعے سے کسی کی حفاظت کرے تو ضائع نہ ہوگا۔

(اور اُس کے وجود میں) اپنے پیغمبر، اُس کے آباء و اجداد، اُس کے پیشوا اور اپنے دین کے ستونوں کی حفاظت فرما۔ اُس کو اپنی اُس امانت میں قرار دے جو ضائع نہ ہو۔ اپنی ایسی حفاظت میں قرار دے کہ بے یارومددگار نہ ہو۔ اپنی ایسی عزت میں قرار دے کہ اُس پر ظلم نہ کیا جاسکے۔

اُس کو اپنی اُس امان میں رکھ کہ جو کوئی بھی اُس میں محفوظ ہوگیا، وہ کبھی بھی ذلیل و رسوا نہیں ہوگا۔ اُس کو اپنی ایسی رحمت کے سایہ کے تحت قرار دے کہ جو بھی اس کے تحت آگیا، اُس پر کبھی بھی ظلم نہیں کیا جاسکتا۔ اُس کی اپنی مضبوط مدد کے ذریعے سے نصرت اور اپنے کامیاب لشکر کے ذریعے سے تائیدفرما ، اپنی طاقت کے ذریعے سے طاقتور فرما۔ اپنے فرشتوں کو اُس کے پشت سر قرار دے۔اُس کے دوستوں کو دوست رکھ اور اُسے دشمن قرار دے جو اُس کے ساتھ دشمنی رکھے۔ ایک مضبوط ڈھال اُسے پہنا اور اُس کے چاروں طرف اپنے فرشتوں کو قرار دے۔

اے پروردگار! اُسے اُس بلند ترین درجہ پر پہنچا دے جو تیرے پیغمبروں کے ماننے والوں کو عدل و انصاف کے جاری کرنے میں حاصل ہوا تھا۔

اے اللہ! اُس کے ذریعے سے شگافوں کو پُر اور ایک دوسرے سے جدا چیزوں کو ساتھ ملا۔ ظلم کو ختم فرمااو رعدالت کو روشن فرما۔ زمین کو اُس کی طولانی عمر کے ذریعے سے زینت عطا فرما۔ اپنی نصرت کے ذریعے مدد اور اپنے رعب و دبدبہ کے ذریعے اُس کی مدد فرما۔ اُس کے دوستوں کی مدد اور اُس کے دشمنوں کو نااُمید فرما۔ جو بھی اُس کے مقابلہ میں اُٹھے، اُسے ہلاک اور جو بھی اُس کے ساتھ دھوکہ کرے، اُسے برباد کردے۔ ظالم و جابر کافر اور اُن کی حکومت کی بنیاد اور ستونوں کونیست و نابود فرما۔گمراہی کے سربراہوں ، بدعت ایجاد کرنے والوں، سنت توڑنے والوں اور باطل کی حمایت کرنے والوں کو تباہ و برباد فرما۔ جابر و ظالموں کو اُس کے ذریعے سے ذلیل، کافروں اور ملحدوں کو زمین کے مشرق و مغرب میں، دریا اور خشکی میں، صحرا اور پہاڑوں میں ہلاک فرما۔ حتیٰ کہ کوئی بھی اُن میں سے باقی نہ رہے اور اُن کے نشان تک کو مٹادے۔

اے اللہ! اپنے شہروں کو اُس کے جودوکرم کے ذریعے پاک اور اپنے بندوں کو اُس کے ذریعے سے شفا دے۔ مومن ین کو اُس کے ذریعے سے غالب اور پیغمبروں کی سنت کو اور حکمت کو اُس کے ذریعے سے زندہ اور جو کچھ تیرے دین سے مٹ چکا ہے اور تیرے احکام سے تبدیل ہوچکا ہے، اُن کو تازہ فرما تاکہ تیرا دین اُس کے وسیلہ سے اور اُس کے ہاتھ سے تازہ وصحیح اور بغیر کسی کمی و زیادتی اور بدعت کے ہوجائے۔ اُس کے عدل کے ذریعے سے ظلم کی تاریکیاں روشن اور کفر کی آگ کو خاموش اور حق و انصاف کا اصل مقام جو پہچانا نہیں گیا، واضح ہوجائے۔

بے شک وہ تیرا بندہ ہے جس کو تو نے اپنے لئے خاص چنا ہے اور غیبت کیلئے انتخاب کیا ہے۔ گناہوں سے دور اور عیبوں سے پاک رکھا ہے۔ اُس کو ہر نجاست سے پاک اور ہر برائی سے محفوظ کیا ہے۔

اے پروردگار! قیامت کے دن اور بلاؤں کے واقع ہونے کے دن ہم اُس کے حق میں گواہی دیں گے کہ اُس نے کوئی گناہ انجام نہیں دیا اور کوئی غلطی نہیں کی، کسی نافرمانی کا ارتکاب نہیں کیا۔کسی اطاعت کو ضائع نہیں کیا اور کوئی ہتک حرمت نہیں کی۔ کسی واجب کو تبدیل نہیں کیا اور کسی سنت کو ضائع نہیں کیا۔ وہ ہدایت دینے والا ہدایت یافتہ ہے۔ وہ پاک، پرہیزگار اور پسندیدہ ہے۔

اے خدا! خود اُس میں ، اُس کے خاندان میں ، نسل، اُمت اور اُس کے تمام ماننے والوں میں وہ چیز عطافرما جو اُس کی آنکھوں کو روشن اورقلب و جان کو خوش کرسکے۔ تمام مقامات کی حکمرانی ،چاہے وہ نزدیک ہو یا دور، عزیز ہو یا ذلیل، اُسے فراہم فرما تاکہ اُس کے حکم کو تمام احکامات پر غالب اور اُسے تمام باطلوں پر برتری عطا ہوسکے۔

اے خدا! ہم کو اُس کے ہاتھ سے ایسے راستے تک پہنچا دے جو روشن ہو۔ جو بہت بڑا اور درمیانہ راستہ ہو۔ ایسا راستہ کہ جلدی چلنے والا اُس کی طرف آئے اور آہستہ چلنے والا اُس تک اپنے آپ کو پہنچا دے۔ ہمیں اُس کی اطاعت پر مضبوط اور اُس کا ساتھ دینے پر ثابت قدم رکھ۔ اُس کی پیروی کرنے پر ہم پر احسان کر۔ ہمیں اُس کے اُس گروہ میں داخل فرما جو تیرے حکم کو جاری کرنے والا اور اُس کے ساتھ صبر کرنے والا اور اُس کی خیرخواہی کے ساتھ تیری خوشنودی کو تلاش کرنے والا ہے تاکہ قیامت کے دن ہمیں اُن میں سے محشور فرمائے جو اُس کے دوست اور اُس کی حکومت کو مضبوط کرنے والے ہوں۔

اے پروردگار! اس چیز کو ہمارے لئے ہر شک و شبہ، ریاکاری اور شہرت طلبی سے پاک فرما تاکہ تیرے غیر پر اعتماد نہ کریں اور سوائے تیری رضا کے اور کچھ طلب نہ کریں تاکہ ہمیں اُس کے مقام میں داخل فرمائے۔ جنت میں اُس کے ساتھ قرار دے۔ ہمیں بیماری، تھکن اور سستی سے پناہ دے۔ ہمیں اُن میں سے قرار دے کہ جن سے اپنے دین کی مدد کرتا ہے۔ اپنے ولی کی مدد کواُن کے ذریعے سے باعزت کرتا ہے۔ ہمارے علاوہ کسی اور کو ہماری جگہ قرار نہ دے کیونکہ یہ کام تیرے لئے آسان اور ہمارے لئے بڑا بھاری اور سنگین ہے۔

اے اللہ! اُس کے عہد کے والیوں پر اور اُس کے بعد والے رہنماؤں اور اماموں پر درود بھیج اور انہیں اپنی اُمیدوں میں کامیاب فرما۔ اُن کی عمر میں اضافہ فرما۔ اُن کی مدد کو عزیز و گرامی قرار دے۔ اپنے فرمان میں سے جس کو اُن کی طرف نسبت دی ، اس کو کامل اور اُن کی بنیادوں کو مضبوط فرما۔ ہمیں اُن کا حامی اور اپنے دین کا مددگار قرار دے۔

یہ حضرات تیری حکمت کی کانیں، تیرے علم کے خزانے، تیری توحید کے ارکان، تیرے دین کے ستون، تیرے امر کے والی، تیرے بندوں میں سے پاک، تیری مخلوق میں سے چنے ہوئے، تیرے اولیاء اور تیرے اولیاء کی نسل، تیرے پیغمبر کی اولاد میں سے منتخب شدہ ہیں۔ سلام ، رحمت اور خدا کی برکات اُس پر اور اُن سب پر ہوں۔(عیون الاخبار، ج ۱ ، ص ۱۱۷ ، توحید: ۱۲۴ ، امالی: ۴۸۷) ۔

۶ ۔ آنحضرت کی دعا موسیٰ بن عمر بن بزیع کیلئے

خدا ہمیں اور تمہیں اپنی رحمت کے ذریعے سے دنیا اور آخرت میں بہترین عافیت اور سلامتی عطا فرمائے۔(روضة الواعظین: ۳۹) ۔

۷ ۔ آنحضرت کی دعا دعبل بن علی خزاعی کیلئے

دعبل خزاعی مروشہر میں آنحضرت کے پاس آیا اور کہا:اے رسولِ خداکے بیٹے! میں نے آپ کے متعلق قصیدہ لکھا ہے اور میں نے قسم کھائی ہے کہ آپ سے پہلے اس کو کسی کے سامنے نہ پڑھوں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا کہ اُسے پڑھو۔ جب وہ اس شعر تک پہنچا:

"دنیا میں اس دنیا کی تلاش میں خوفزدہ تھا اور اُمید رکھتا تھا کہ مرنے کے بعد امن و آرام میں رہوں گا"۔

امام علیہ السلام نے فرمایا:

"خدا قیامت کے دن تمہیں امن و آرام عطا فرمائے"۔

اور جب اس شعر پر پہنچا:

"ایک قبر بغداد میں ہے جو ایک پاک و پاکیزہ جان کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ اُسے جنت کے مکانات میں سے ایک مکان قرار دے گا"۔

امام علیہ السلام نے یہ فرمایا:" کیا اس جگہ دوشعر تیرے قصیدے میں بڑھا نہ دوں تاکہ اُن کے ذریعے سے اپنے شعر کو مکمل کرسکے"۔

اُس نے کہا:" ہاں اے فرزند رسول! اور ایک قبر طوس میں ہے کہ اُس قبر والا بہت زیادہ مصیبت کو اٹھانے والا ہے۔ یہاں تک کہ انسان کے اندر سے قیامت تک آگ کے شعلے بھڑکتے رہیں گے، یہاں تک کہ خدا قائم کو بھیجے گا اور تمام غم و غصے اور تکالیف دور فرمائے گا۔(بحارالانوار، ج ۴۹ ، ص ۲۳۹) ۔

۸ ۔ آنحضرت کی دعا ابن ابی سعید مکاری کیلئے

روایت ہے کہ ابن ابی سعید مکاری آنحضرت کے پاس آیا اور کہاکہ کیا خدا نے تجھے اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ جس کا تیرا باپ دعویٰ کرتا تھا تاکہ تو بھی اُسی کا دعویٰ کرے۔ آنحضرت نے فرمایا "تجھے کیا ہوگیا ہے؟"

خدا تیرے وجود کے نور کو خاموش کرے اور غربت کو تیرے گھر میں داخل کرے۔

کیا تو نہیں جانتا کہ خدا نے عمران کو وحی کی کہ میں تجھے بیٹا عطاکروں گااور خدا نے اُسے مریم عطا کی اور مریم کو عیسیٰ عطا کیا۔ پس عیسیٰ مریم سے اور مریم عیسیٰ سے تھی۔ عیسیٰ اور مریم حقیقت میں ایک چیزہیں۔ میں اپنے باپ سے اور میرا باپ مجھ سے ہے۔ میں اور وہ ایک ہی حقیقت ہیں۔

یہ شخص وہاں سے نکلا اور فقروغربت نے اُس کو گھیر لیا۔ یہاں تک کہ رات کیلئے کھانے کا بھی محتاج تھا۔(عیون الاخبار : ج ۱ ، ص ۳۰۸) ۔


تیسرا باب

۳ ۔ آنحضرت کی دعائیں نماز اور تعقیباتِ نماز کے متعلق

نمازِ شب کی آٹھ رکعت کے بعد۔

نمازِ وتر کے قنوت میں۔

نمازِ وتر کے قنوت میں۔

اذانِ صبح اور مغرب کے سننے کے وقت۔

اقامت کے بعد اور تکبیرة الاحرام سے پہلے۔

قنوت میں۔

قنوت میں۔

قنوت میں دشمنوں کے شر کو دور کرنے کیلئے۔

نمازِ جمعہ کے قنوت میں۔

نمازِ واجب کے بعد پیغمبرپر سلام کرنے کے متعلق۔

واجب نمازوں کی تعقیب میں۔

نمازِ صبح کی تعقیب میں۔

نمازِ صبح کی تعقیب میں۔

سجدئہ شکر میں۔

سجدئہ شکر میں۔

سجدئہ شکر میں۔

سجدئہ شکر میں۔

نمازِ استسقاء میں۔

۹ ۔ آنحضرت کی دعا نمازِ شب کی آٹھ رکعت کے بعد

اے پروردگار! تجھ سے اُس کے احترام کا سوال کرتاہوں جس نے تجھ سے توبہ کے ذریعے پناہ لی ہے، تیری عزت کی طرف لوٹا ہے اور تیری پناہ میں آگیا ہے، تیری رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیا ہے اور فقط تجھ پر اعتماد کیا ہے۔

اے بہت زیادہ عطا کرنے والے اور قیدیوں کو رہا کرنے والے! اے وہ جس نے اپنے جودوکرم سے اپنا نام بخشنے والا رکھا۔ تجھے میں پکارتا ہوں ، ڈر اور اُمید میں، خوف اور طمع میں، اصرار اور ابرام میں، تضرع اور چاپلوسی میں، کھڑے اور بیٹھے ہوئے، رکوع اور سجدہ میں، کسی چیز پر سوار ہونے کے وقت اور کسی چیز سے اترنے کے وقت، آمدورفت میں اور تمام حالات میں۔

تجھ سے چاہتا ہوں کہ محمد وآلِ محمد پر درود بھیج اور میرے حق میں یہ کام انجام دے۔(مصباح المتہجد: ۱۵۰ ، بحار:ج ۸۷ ، ص ۲۵۷)

۱۰ ۔ نمازِ وتر کی قنوت میں آنحضرت کی دعا

اے اللہ! محمد وآلِ محمد پر درود بھیج۔ اے خدا! مجھے اُن کے ساتھ ہدایت دے جن کو تو نے ہدایت عطا فرمائی ہے۔ اُن کے ساتھ عافیت عطافرما جن کو تو نے عافیت عطا فرمائی ہے۔ جن کی تونے سرپرستی کی ہے، اُن کے ہمراہ سرپرستی عطافرما۔ جو کچھ تو نے عطا کیا ہے، اُس میں برکت عطا فرما۔ اُس شر سے محفوظ فرما جس کو تو مقدر کرچکا ہے۔ بے شک تو حکم کرنے والا ہے اور تجھ پر حکم نہیں کیا جاسکتا۔ جس کی تو سرپرستی کرتا ہے، وہ ذلیل نہیں ہوتا۔ جس کا تو دشمن ہوجائے، وہ کبھی عزیز نہیں ہوسکتا۔ بابرکت ہے ہمارا پروردگار اور بلندوبرتر ہے۔(عیون الاخبار:ج ۲ ، ص ۱۸۰) ۔

۱۱ ۔ نمازِ وتر کی قنوت میں آنحضرت کی دعا

اے خدا! تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تجھ سے ستر مرتبہ توبہ کا سوال کرتا ہوں۔

(عیون الاخبار: ج ۲ ، ص ۱۸۰) ۔

۱۲ ۔ اذانِ صبح و مغرب کے سننے کے وقت آنحضرت کی دعا

اے خدا! تجھ سے دن کے آنے کے ذریعے اور رات کے پشت کرنے کے ذریعے اور تیری نمازوں کے وقت اور تجھے پکارنے والوں کی آواز دینے کے وقت، تیرے فرشتوں کی تسبیح کے وقت چاہتا ہوں کہ میری توبہ قبول فرما۔ بے شک تو توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔(عیون الاخبار: ج ۱ ،ص ۲۵۳ ، ثواب الاعمال: ۱۳۸) ۔

۱۳ ۔ اقامت کے بعد اور تکبیرة الاحرام سے پہلے آنحضرت کی دعا

اے اللہ! اے اس دعائے کامل اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو درجہ، وسیلہ، فضل اور فضیلت عطافرما۔ تیرے نام کے ساتھ آغاز اور تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں۔ محمد اور آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے تیری طرف متوجہ ہوں۔اے اللہ!محمد وآلِ محمد پر درود بھیج اور ان کے وسیلہ سے مجھے اپنے نزدیک دنیا اورآخرت میں صاحب عزت قرار دے۔ اپنے قریبیوں میں سے قرار دے۔ (فلاح السائل: ۱۵۵) ۔

۱۴ ۔ قنوت میں آنحضرت کی دعا

پناہ صرف تیری ہی پناہ ہے۔ اے وہ جو تمام پر غالب ہے اور اُمید صرف تیری ہی اُمید ہے۔ اے وہ ذات کہ فخر اور شرف صرف تیرے لئے ہے۔

اے خدا! تو بغیر کسی رنج و سختی کے لوگوں کی باتوں سے آگاہ ہے۔ دلوں کی حرکت کی گھات میں ہے۔ اسرار اور چھپی ہوئی چیزوں کو جاننے والا ہے۔

اے پروردگار! تو دیکھتا ہے کچھ بھی تجھ سے مخفی نہیں ہے۔ لیکن تو نے اپنی بردباری اور حلم کی وجہ سے ظالموں کوجرات د ی ہے ،نافرمانی و سرکشی کے باوجود اور اپنے کاموں میں عناد و دشمنی کے باوجود امن و امان میں رکھا ہوا ہے۔تو دیکھتا ہے کہ تیرے دوست بندے حق کی علامات اور نشانیوں کے مٹ جانے کی وجہ سے کس قدر رنج و غم اٹھاتے ہیں۔ یہ بھی دیکھتا ہے کہ بُرے کاموں میں اضافہ اور ان کاموں پر لگاتار عمل، باطل کا غلبہ، ظلم و ستم کا پھیل جانا، روزمرہ کے معاملات اور کاموں میں ان کو پسند کرنا، اس طرح کہ ظلم و ستم عبادت کی طرح ہوگئے ہیں اور ان کے ساتھ واجبات اور مستحبات کی طرح عمل ہوتا ہے۔

اے خدا! نابود کر اُس کو اگر تو اُس کی مدد کرے تو وہ کامیاب ہوتا ہے۔ اگر اس کی تائید کرے تو وہ بُرا کہنے والوں کے بُرا کہنے سے خوف نہیں کھاتا۔ ظالم شخص کو بُری طرح ہلاک فرما اور اُس کے ساتھ مہربانی اور محبت سے پیش نہ آ۔

اے پروردگار، اے اللہ، اے پروردگار، ان کو نابود فرما۔ اے خدا!جلدی کر ، ان کو مہلت نہ دے۔

اے اللہ! ان کو صبح کے وقت، نصف دن میں، سحری کے وقت، رات کے وقت، حالت نیند میں اور دن کے وقت جب کھیل کود میں لگے ہوئے ہوں، اپنے حیلہ کے ساتھ جبکہ یہ لوگ مکروفریب میں مشغول ہوں، اچانک اس حالت میں کہ اپنے آپ کو امن وامان میں محسوس کریں، ہلاک فرما۔

اے پروردگار! ان کو تتربتر کردے، ان کے دوستوں کو بھی تتر بتر کردے۔ ان کے ساتھیوں کو بھگا دے۔ ان کے لشکریوں کو ایک دوسرے سے جدا جدا کردے۔ ان کی تلوار کی تیزی کو ختم اور ان کے نیزے کی نوکوں کو توڑ دے۔ ان کے ارادوں کو کمزور فرما۔

اے خدا! ان کو ہمارا قیدی اور ان کی زمینوں کو ہمارے تصرف اور اختیار میں کردے۔ ان کی نعمتوں کو زحمتوں میں تبدیل فرما اور ہمیں ان کے ساتھ دشمنی کے بدلے میں ، ان کے ساتھ لڑنے کے بدلہ میں، صحت و سلامتی اور عافیت عطا فرما۔ ان کی بہترین نعمت کوہمارے لئے عام کردے۔

اے پروردگار!ایسا عذاب کہ اگر کسی قوم پر وارد ہو تو اُن کو نابود کردے گا، ان سے دور نہ فرما۔

(مہج الدعوات: ۵۸) ۔

۱۵ ۔ قنوت میں آنحضرت کی دعا

اے اللہ! بخش دے اور رحم کر۔ جس کو تو جانتا ہے، اُس سے درگزر فرما۔ بے شک تو عزیز تر، بلند تر اور بڑے اکرام والا ہے۔(عیون الاخبار:ج ۲ ، ص ۱۸۲) ۔

۱۶ ۔ قنوت میں شرِ شیطان کو دورکرنے کیلئے آنحضرت کی دعا

اے پروردگار! اے ہر طرف پھیلی ہوئی قدرت کے مالک اور وسیع رحمت کے مالک، یکے بعد دیگرے احسانات کے مالک، پے در پے نعمتوں کے مالک، خوبصورت الطاف اور بہت زیادہ بخششوں کے مالک۔

اے وہ ذات جس کا مثال کے ذریعے سے وصف بیان نہیں کیا جاسکتا۔ جس کا کوئی مشابہہ اور نظیر نہیں ہے۔ جو کسی غالب آنے والے سے مغلوب نہیں ہوتا۔

اے وہ ذات جس نے پیدا کیا اور رزق دیا، جس نے الہام کیا اور بات کرنے والا بنایا، بغیر نمونہ کے خلق کیا اور پھر شروع کیا، برتر ہوا اور بلند ہوگیا۔ بہترین تصویربنائی اور مضبوط تصویر کھینچی۔ احتجاج کیا اور ابلاغ فرمایا، نعمت دی اور اُسے ہرطرف پھیلا دیا۔ عطاکیا اور بہت زیادہ عنایت کی۔

ا ے وہ ذات جو عزت میں برترہوا۔ یہاں تک کہ آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔لطف و بخشش میں نزدیک ہوا۔ یہاں تک کہ فکروں سے تجاوز کرگیا۔ اے وہ ذات جو حکمرانی میں یکتا ہوا۔ اسی وجہ سے اُس کی حاکمیت مطلقہ میں اُس کا کوئی شریک نہیں ہے اور عظمت میں اکیلا ہے۔ پس اُس کی قدرت اور عظمت میں اُس کا کوئی مخالف نہیں ہے۔

اے وہ ذات جس کی عظمت کی ہیبت میں وہم و خیالات حیران اور اُس کی عظمت کو پالینے میں آدمیوں کی آنکھیں مایوس ہیں۔ اے وہ ذات جو عالمین کے دلوں کی چیزوں کو جاننے والا ہے۔ اے وہ ذات جو دیکھنے والوں کی آنکھوں کے جھپکنے کو دیکھتا ہے۔

اے وہ ذات جس کی ہیبت سے تمام چہرے خاک میں مل گئے۔ جس کی جلالت و بزرگی اور مقابلہ میں گردنیں جھکی ہوئی ہیں اور اُس کے خوف سے دل کانپتے ہیں۔ اُس کے ڈر سے بدنوں میں کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔

اے ابتداء کرنے والے، اے پیدا کرنے والے، اے طاقتور، اے منع کرنے والے، اے برتر، اے بلند تر، درود بھیج اُس پر جس پر دورد بھیجنے کی وجہ سے نماز میں شرافت پیداہوئی۔ میرے دشمنوں سے اور اُن سے جو مجھے حقیر سمجھتے ہیں ، میرے شیعوں کو میرے دروازے سے واپس لوٹانے والوں سے انتقام لے۔اُسے تلخی و ذلت اور رسوائی کا مزہ چکھا، جس طرح اُس نے مجھے چکھایا ہے۔اُسے گندگیوں اور نجاستوں میں پھینکا ہوا قرار دے۔(عیون الاخبار:ج ۲ ، ص ۱۷۳) ۔

۱۷ ۔نمازِ جمعہ کی قنوت میں آ نحضرت کی دعا

مقاتل بن مقاتل سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا:تم نمازِ جمعہ کے قنوت میں کیا پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: وہ جو عام لوگ (اہلِ سنت) پڑھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اُن کی طرح نہ پڑھو بلکہ کہو:

اے پروردگار! اپنے بندے اور خلیفہ کا کام اُس چیز کے ساتھ درست فرما جس کے ذریعے سے اپنے پیغمبروں اور رسولوں کے کام کو درست کیاہے۔ اپنے فرشتوں کو اُس کے چاروں طرف قرار دے۔ اپنی جانب سے اُس کی روح القدس کے ذریعے تائید فرما۔ اُس کے آگے او رپیچھے سے محافظ قرار دے۔ جو اُس کو ہر برائی سے دور رکھیں۔ اُس کے خوف اور ڈر کو امن و امان میں تبدیل فرما۔ وہ تیری عبادت کرتا ہے اور تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ اپنی مخلوقات میں سے کسی کیلئے بھی اُس پر غلبہ قرار نہ دے۔ اُس کیلئے اپنے اور اُس کے دشمن کیلئے جہاد کی اجازت عطافرما۔ مجھے اُس کے دوستوں میں سے قرار دے اور تو ہر چیز پر قدرت و طاقت رکھنے والاہے۔(مصباحش،شیخ طوسی: ۳۶۷ ، جمال الاسبوع: ۲۵۶) ۔

۱۸ ۔ واجب نمازوں کے بعد پیغمبر پر سلام کے متعلق آنحضرت کی دعا

اے خدا کے رسول! تجھ پر سلام اور خدا کی رحمت و برکات۔ تجھ پر سلام اے محمد ابن عبداللہ۔ اے خدا کے چنے ہوئے تجھ پر سلام۔ اے خدا کے دوست تجھ پر سلام۔ اے خدا کے منتخب کئے ہوئے تجھ پر سلام۔ اے خدا کے امین تجھ پر سلام۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ محمد ابن عبداللہ ہیں،میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اپنی اُمت کے خیر خواہ ہیں، اپنے پروردگار کے راستے میں تلاش و کوشش کرنے والے ہیں۔ آپ نے اُس کی عبادت کی، یہاں تک کہ آپ کی وفات کا وقت قریب آگیا۔ اے خدا کے رسول! خدا آپ کو بہترین جزاء دے ، ایسی جزاء جو کسی پیغمبر کو اُس کی اُمت کے مقابلے میں دی ہے۔

اے خدا! محمد وآلِ محمدپر درود بھیج۔ اُس درود سے افضل درود جو تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر بھیجا ہے ۔ توتعریف کیا ہوا اور عظیم ہے۔(قرب الاسناد: ۱۶۹) ۔

۱۹ ۔ واجب نمازوں کے بعد آنحضرت کی دعا

آنحضرت سے روایت ہوئی ہے کہ ہر واجب نماز کے بعد روزی طلب کرنے کیلئے کہو۔

اے وہ ذات جو سوال کرنے والون کی حاجتوں پر اختیاررکھتا ہے۔ اے وہ ذات کہ جس کی طرف ہر حاجت کیلئے اور سوال کیلئے سننے والا کان اور جواب حاضر ہے۔ ہر چپ کرنے والے کیلئے تیری طرف سے اُس کے باطن پر آگاہی موجود ہے۔

میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ، تیرے سچے وعدوں کے صدقے میں،قابلِ قدر نعمتوں کے سبب، تیری وسیع رحمت، تیری غالب رحمت، تیری ہمیشہ رہنے والی حکومت اور تیری کامل مخلوقات کے صدقہ میں۔

اے وہ ذات کہ اطاعت کرنے والوں کی اطاعت اُسے کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی، گناہ کرنے والے اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔محمد وآلِ محمد پر درود بھیج اور مجھے رزق عطا فرما۔ جس چیز میں تو مجھے رزق عطاکرتا ہے، اُس میں اپنے فضل وکرم سے عافیت عنایت فرما۔ تیری رحمت کے صدقے میں اے رحم کرنے والوں سے بہترین رحم کرنے والے۔(کفعمی، بلدالامین: ۳۰ ، مصباحش: ۱۶۸ ، بحار:ج ۸۶ ،ص ۵۹) ۔

۲۰ ۔ نمازِ صبح کے بعد آنحضرت کی دعا

خدا کے نام کے ساتھ،محمد وآلِ محمد پر خد اکا درود ہو۔ میں نے اپنے کام کو خدا کے سپرد کردیا۔ بے شک وہ اپنے بندوں سے آگاہ ہے۔ پس خدا نے اُسے اُن کے مکروہ مکروحیلہ سے محفوظ رکھا۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔تو پاک و پاکیزہ ہے اور میں گناہگاروں میں سے ہوں۔ پس اُس کی دعا کو ہم نے قبول کرلیا اور اُسے غم سے نجات دیدی۔ ہم اسی طرح ایمان لانے والوں کو نجات دیتے ہیں۔ میرے لئے خدا کافی ہے اور بہترین محافظ ہے۔خد اکے فضل و کرم اور نعمت کے ساتھ وہ ایسے ہوگئے ہیں کہ برائی اُن کو چھو بھی نہیں سکتی۔

جو خدا چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔ قوت و طاقت صرف خدا کے ارادہ کے ساتھ ہے۔ چاہت خدا کیلئے ہے نہ لوگوں کی چاہت۔ چاہت صرف خد اکیلئے ہے، اگرچہ لوگ اُس سے ناخوش ہوں۔ بہت سے خداؤں میں سے میرے لئے ایک خدا کافی ہے۔ خلق کرنے والوں میں سے میرے لئے ایک خدا خلق کرنے والا کافی ہے۔ بہت سے رزق دینے والوں میں ایک خدا رزق دینے والا کافی ہے۔ عالمین کا پروردگار میرے لئے کافی ہے۔

جو سب کے لئے کافی ہے، وہی میرے لئے کافی ہے۔ جو ہمیشہ کے لئے کافی ہے، وہی میرے لئے کافی ہے۔ جو اوّل سے لیکر اب تک کافی تھا، وہی میرے لئے کافی ہے۔ خدا میرے لئے کافی ہے۔ اُس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ اُس پر توکل کرتا ہوں اور وہ عرشِ عظیم کا رب ہے۔(عدة الداعی ۲۶۸ ،محجة البیضاء:ج ۲ ،ص ۳۲۹)

۲۱ ۔ نمازِ صبح کے بعد آنحضرت کی دعا

آنحضرت سے روایت ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا: جوکوئی بھی نمازِ صبح کے بعد سرمرتبہ کہے: شروع کرتا ہوں اللہ کے نام کے ساتھ جو نہایت رحم کرنے والا ہے۔ طاقت و قوت نہیں ہے مگر خداوند علی و عظیم کے ارادہ کے ساتھ۔بہ قول آنکھ کی سیاہی اُس کی سفیدی کے جتنا قریب ہے، اُس سے زیادہ خدا کے اسمِ اعظم کے قریب ہے۔(مہج الدعوات: ۳۱۶) ۔

۲۲ ۔ سجدہِ شکر میں آنحضرت کی دعا

محمد بن اسماعیل بن بزیع اور سلیمان بن جعفر کہتے ہیں کہ ہم آنحضرت کے پاس گئے جبکہ آنحضرت سجدئہ شکر میں تھے اور آنحضرت کا سجدہ ذرا لمبا ہوگیا۔پھر آنحضرت نے سجدہ سے سر اٹھایا۔ ہم نے عرض کی: آپ نے سجدہ کو لمبا کردیا؟ آپ نے فرمایا: جو کوئی بھی سجدئہ شکر میں یہ دعا پڑھے تو اُس شخص کی طرح ہے جس نے رسولِ خدا کے ساتھ جنگ بدر میں تیر اندازی کی ہو۔

اے خدا ! لعنت کر اُن دو اشخاص پر جنہوں نے تیرے دین کو بدلا اور تیری نعمت میں تغییر کیا۔ تیرے پیغمبر پر تہمت لگائی اور تیری شریعت کی مخالفت کی۔ تیر ے راستے سے لوگوں کو روکا۔ تیری نعمتوں کا انکار کیا۔ تیرے کلام کو رد کیااور قبول نہ کیا۔ تیرے رسول کے ساتھ مذاق وتمسخر کیا۔

تیرے رسول کے بیٹے کو قتل کیا ۔ تیری کتاب میں تحریف کی۔ تیری آیات کا انکار کیا اور تیری آیات کا مذاق اڑایا۔ تیری عبادت سے تکبر کیا۔ تیرے اولیاء کو قتل کیا۔ اپنے آپ کو اُس جگہ پر قرار دیا جس کے وہ اہل نہ تھے۔ لوگوں کو آلِ محمدکی مخالفت پر اُکسایا۔

اے خدا! ان دو افراد پر لعنت کر ، ایسی لعنت جو پے در پے ہو اور ختم نہ ہونے والی ہو۔ ان کو اور ان کی اتباع کرنے والوں کو اس حال میں جہنم میں داخل کر کہ اُن کی آنکھیں اندھی ہوں۔ اے پروردگار! ہم ان دونوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت اور تبرا کرنے کے ذریعے سے تیرا قرب چاہتے ہیں۔

اے خدا! امیرالمومن ین علیہ السلام کے قاتلوں اور حسین ابن علی اور فاطمہ علیہم السلام تیرے رسول کی بیٹی کے بیٹے کے قاتلوں پر لعنت کر۔ اے اللہ! ان دوپر پے در پے عذاب، ہمیشہ رہنے والی رسوائی اور ختم نہ ہونے والی ذلت اور پستی کے اوپر پستی مقرر فرما۔

اے خدا! ان دو کو آگ میں ڈال اور اپنے دردناک عذاب میں سرنگوں فرما۔ خداوندا! ان دوکو اور ان کی اتباع کرنے والوں کو اندھی آنکھوں کے ساتھ جہنم میں داخل فرما۔

اے اللہ! ان کے اجتماع کو متفرق اور ان کے کام کو جدا جدا کر۔ ان کے اتفاق میں اختلاف پیدا فرما۔ان کی جماعت کے ٹکڑے ٹکڑے کردے۔ ان کے اماموں پر لعنت اور ان کے پرچم کو سرنگوں فرما۔ان کے درمیان دشمنی پیدا کر اور ان میں سے کسی کو بھی زندہ نہ چھوڑ۔

اے پروردگار! ابوجہل اور ولید پر لعنت کر۔ ایسی لعنت جو پے در پے اور ہمیشہ جاری رہنے والی ہو۔ اے خدا! ان دوپر لعنت فرما۔ ایسی لعنت کہ ان دوپر مقرب فرشتہ، ہر نبیِ مرسل اور ہر ایسا مومن کہ جس کے دل کو ایمان کیلئے آزمایا ہو، ان پر لعنت کرے۔

اے خدا! ان دو پر ایسی لعنت فرما کہ اہل جہنم اُس لعنت سے تیری پناہ مانگیں۔ اے اللہ! ان دو پر ایسی لعنت فرما کہ اُس کا کسی کے ذہن میں تصور بھی نہ آیا ہو۔ ان دوپر باطن اور ظاہر میں لعنت کر۔ان کو بڑا عذاب دے۔ ان کی بیٹیوں، ان کی اتباع کرنے والوں اور ان کے دوستوں کو ان کے ساتھ شریک کر۔ بے شک تو دعا کو سننے والا ہے۔اُس کی تمام آل پر درود بھیج۔(مہج الدعوات: ۲۵۷) ۔

۲۳ ۔ سجدہ شکر میں آنحضرت کی دعا

تمام تعریفیں تیرے لئے ہیں۔ اگر میں نے تیری اطاعت کی، میرے لئے کوئی دلیل و برہان نہیں ہے، اگر میں نے تیری نافرمانی کی۔تیرے احسان اور بخشش میں اور میرے علاوہ کوئی بھی اختیار اور تصرف کا حق نہیں رکھتا۔ اگر میں نے گناہ کیا تو کوئی عذر اور بہانہ میرے پاس نہ ہوگا اور جو کچھ خیر مجھ تک پہنچتی ہے، وہ تیری طرف سے ہے۔ اے کرم کرنے والی ذات مومن مردوں اور مومن عورتوں کو جو زمین کے مشرق و مغرب میں ہیں، معاف فرما۔(عیون الاخبار:ج ۲ ،ص ۲۰۵) ۔

۲۴ ۔ سجدہ شکر میں آنحضرت کی دعا

آنحضرت سے نقل ہے کہ آپ نے فرمایا کہ واجب نماز کے بعدشکر ادا کرنے کیلئے بندہ نمازِ واجب کے بجا لانے میں کامیاب ہوا ہے، سجدئہ شکر بجا لانا چاہئے اور اس سجدئہ شکر میں کم ترین چیز جو کہنی چاہئے، وہ یہ ہے کہ تین مرتبہ کہے:

"شکر صرف اللہ کیلئے ہے، شکر خاص اللہ کیلئے ہے، شکر صرف اللہ کیلئے ہے"۔(عیون الاخبار:ج ۱ ، ص ۲۸۱ ، علل الشرائع:ج ۲ ، ص ۴۹) ۔

۲۵ ۔ سجدہ شکر میں آنحضرت کی دعا

سلیمان بن حفص نقل کرتا ہے کہ آنحضرت نے میری طرف خط لکھا کہ سجدئہ شکر میں سو مرتبہ کہو:

"شکروسپاس، شکروسپاس"۔ اگر چاہو تو یہ کہو:"معافی، معافی"۔(صدوق درفقیہ:ج ۱ ،ص ۳۳۲) ۔

۲۶ ۔ نمازِ استسقاء میں آنحضرت کی دعا

روایت ہوئی ہے کہ جب مامون نے آنحضرت کو ولی عہد مقرر کیا تو کافی مدت تک بارش نہ ہوئی۔ مامون کے کچھ اطراف میں رہنے والوں اور آنحضرت کے ساتھ بغض رکھنے والوں نے کہا کہ سوچو جب سے علی ابن موسیٰ الرضا ہمارے پاس آئے ہیں اور ولی عہد ہوئے ہیں ، اُس وقت سے لیکر اب تک بارش نہیں برسی۔ جہاں تک اس کا قول ہے کہ ہفتہ کے دن آنحضرت دعا برائے باران کیلئے صحرا میں تشریف لائے۔ لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے تھے۔ آنحضرت منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا:

اے اللہ! تو نے ہم اہلِ بیت کے حق کو عظیم قرار دیا ہے ۔ پس جس طرح تو نے لوگوں کو حکم دیا ہے ، ہم سے متوسل ہوئے ہیں، ہمارے صدقہ میں تیرے فضل اور رحمت کے خواہش مند ہیں، احسان اور نعمت کی اُمید رکھتے ہیں۔ پس ایسی بارش نازل فرما جو نفع دینے والی ، ہر طرف پھیلی ہوئی، جو سست نہ ہواور جس کے بعد نقصان نہ ہو۔ بارش کی ابتداء اُس وقت ہوجب سب کے سب اپنے اپنے گھروں اور مکانوں میں پہنچ جائیں۔(عیون الاخبار:ج ۲ ،ص ۱۶۷) ۔


چوتھا باب

۴ ۔ آنحضرت کی دعائیں غموں کے زائل ہونے اور سختیوں کے دور ہونے میں

اہم کاموں کیلئے۔

غم وغصہ کے دور کرنے کیلئے۔

اُس کیلئے جو کسی مشکل میں گرفتار ہو۔

بلا کے دور کرنے کیلئے۔

۲۷ ۔ اہم کاموں کیلئے آنحضرت کی دعا

ابتداء خداوند مہربان اور بخشنے والے کے نام سے ۔ اے خدا! میرے گناہوں نے میرے چہرے کو تیرے نزدیک سیاہ کردیا ہے۔ مجھے تیری رحمت کے شاملِ حال ہونے سے روکا ہے۔ تیری معافی و بخشش سے دور کیا ہے۔

اگر میں نے تیری نعمتوں کے ساتھ تعلق پیدا نہ کیا ہوتا اور تیری دعا کے ساتھ متمسک نہ ہوا ہوتا، وہ جس کی تو نے مجھ جیسے گناہگاروں اور مجھ جیسے خطاکاروں کو بشارت دی ہے، نا اُمیدوں کو اپنے اس قول کے ذریعے وعدہ دیا ہے کہ"اے میرے گناہگار بندو!رحمت خدا سے نااُمید نہ ہوجاؤ، بے شک خدا تمہارے تمام گناہ معاف فرمادے گا اور وہ بخشنے والا اور مہربان ہے"اور نا اُمیدوں کو ڈرایا ہے اور فرمایا ہے" رحمت خدا سے گمراہوں کے علاوہ کوئی نا اُمید نہیں ہوتا"۔

پھر تو نے اپنی مہربانی کے ذریعے سے مجھے بلایا اور فرمایاہے"مجھے پکارو، تمہیں جواب دوں گا۔ بے شک جو لوگ میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں، وہ رسوائی کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے"۔

اے خدا! اگر ایسا نہ ہوتا تو نا اُمیدی مجھ پر مسلط ہوجاتی۔ تیری رحمت سے نا اُمیدی مجھے گھیر لیتی۔ اے خدا! جو تیرے متعلق اچھا گمان رکھتا ہے، اُس کیلئے تونے ثواب کا وعدہ دیاہے۔ جو تیرے متعلق برا گمان رکھتا ہے، اُس کیلئے تو نے عذاب کو تیار کررکھا ہے۔

اے اللہ! تیرے متعلق میرے اچھے گمان نے کہ میں جہنم کی آگ سے بچ جاؤں گااور یہ کہ تو میری غلطیوں سے درگزر کرے گا اور خطاؤں کو معاف کر دیگا، مجھ میں اب تک جان باقی رکھی ہوئی ہے۔

اے خدا! تیرا قول حق ہے۔ کسی قسم کی خلاف ورزی اور تبدیلی اس میں نہیں ہے۔ تو نے فرمایا ہے:"وہ دن جس میں ہم ہر ایک کو اُس کے امام کے ساتھ پکاریں گے" اور وہ دن اٹھائے جانے کا دن ہے۔ اس دن صور پھونکا جائے گا اور جو کچھ قبروں میں ہے، اُسے اٹھایا جائیگا۔

اے اللہ! میں وفادار ہوں۔ گواہی دیتا ہوں اوراقرار کرتا ہوں ، انکار نہیں کرتا اورمنکر نہیں ہوں۔ میں پوشیدہ اور اعلانیہ، ظاہراً اور باطناً کہتا ہوں کہ تو وہ خدا ہے کہ اُس کے علاوہ کوئی پروردگار نہیں ہے۔ تو یکتا ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ محمد تیرے بندے اور رسول ہیں۔ یہ کہ علی مومن وں کے امیر، وصیوں کے سردار، علم انبیاء کے وارث، دین کے علمدار، مشرکوں کو ہلاک کرنے والے، منافقین کو مشخص کرنے والے، دین سے خارج ہونے والوں کے ساتھ جہاد کرنے والے، میرے امام، میری حجت، میری دستاویز، میرے رہبر، میری دلیل اور رہنما ہیں۔ وہ ایسی ذات ہے کہ میں اپنے اعمال اگرچہ کتنے ہی پاکیزہ ہوں، اطمینان نہیں رکھتا اور اس کو نجات دینے والا نہیں جانتا مگر اُس کی ولایت کے ذریعے سے اور اُس کے ساتھ ساتھ اُس کے راستے پر چلنے سے، اُس کے فضائل کا اقرار کرنے سے، اُس کے اٹھانے والوں کو قبول کرنے کیساتھ اور اُس کی روایت کرنے والوں کو تسلیم کرنے کے ساتھ۔ اس کی اولاد سے ، اُس کے جانشینوں کے ساتھ اقرار کرتاہوں کہ وہ میرے امام، میری حجت، دلیلیں اور رہنما، علمدار اور رہبر، مولا اور نیکو کار ہیں۔میں اُن کے پوشیدہ اور روشن، ظاہر اور باطن، غائب اور شاہد، زندہ اور مردہ کے ساتھ ایمان رکھتا ہوں۔

اس میں کوئی شک و ریب نہیں ہے اور اس میں کوئی تبدیلی بھی نہیں ہے۔

اے خدا! قیامت کے دن اور محشر کے دن مجھے ان کی امامت کے ساتھ بلانا، اے میرے مولا! ان کے وسیلہ سے مجھے جہنم کی آگ سے بچانا۔ اگرچہ مجھے جنت کی نعمتیں عطا نہ کرنا، اگر تو نے مجھے جہنم کی آگ سے بچا لیا تو میں کامیاب ہونے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔

اے پروردگار! اس دن سوائے اُن کے جن کو میں نے وسیلہ قرار دیا، کوئی مدد اور اعتماد ، کوئی اُمید، پناہ، ٹھکانہ اور سہارا نہیں ہے۔ میں تیرا قرب حاصل کرتا ہوں، تیرے نبی محمد کے ذریعے سے پھر مومن وں کے امیر علی کے ذریعے سے کائنات کی عورتوں کی سردار زہرا کے ذریعے سے، حسن ،حسین ، علی ، محمد ، جعفر ، موسیٰ، علی ، محمد ، علی ، حسن اور اُس کے ذریعے سے جو ان سب کے بعد ہے اور راستہ کو روشن کرے گا، جو ان کی اولاد میں سے پوشیدہ تھا اور اُمت کی آنکھیں اُس کی اُمید میں ہیں۔

اے خدا! ان ہستیوں کو اس دن اور بعد والے دنوں میں غموں سے پناہ دینے والے اور سختیوں میں میرے لئے سہارا قرار دے۔ ان کے وسیلہ سے مجھے دشمن، ظالم، تجاوز کرنے والے اور فاسق سے نجات عطا فرما۔ اُس کے شر سے بھی جس کو میں جانتا ہوں اور جس کو نہیں جانتا۔ اُس کے شر سے جو پوشیدہ ہے مجھ سے اور جس کو میں دیکھتا ہوں۔ ہرچوپایہ کے شر سے جس کی زندگی تیرے ہاتھ میں ہے۔ بے شک راہِ مستقیم تیرا ہی راستہ ہے۔

اے اللہ! تیری طرف ان کے وسیلہ کے ذریعہ سے اور ان کی محبت کے ذریعے سے تیرا قرب حاصل کرنے کے ساتھ۔ ان کی امامت کے ذریعے سے پناہ لینے کے ساتھ۔ آج کے دن میری روزی میں وسعت عطا فرما۔ اپنی رحمت مجھ پر نچھاور فرما۔ مجھے اپنی مخلوق کے درمیان محبوب ترین قرار دے۔ دشمنوں کی دشمنی سے اور بغض سے محفوظ فرما۔ بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

اے خدا! ہر متوسل کیلئے ثواب ہے اور ہر صاحب شفاعت کیلئے حق ہے۔ پس میں تجھ سے اُس کے حق کے ذریعے سوال کرتا ہوں جس کو میں نے تیری طرف وسیلہ قرار دیا ہے۔ اپنی حاجات سے پہلے اس کا نام لیا ہے کہ اس دن، اس مہینے اور اس سال کی برکت مجھے عطا فرما۔

اے پروردگار! یہ ہستیاں میرے لئے پناہ گاہ اور مددگار ہیں۔ میری سختی اور راحت میں، سلامتی اور مصیبت، نیند اور بیداری میں ، ٹھہرنے اور چلنے میں، مشکلات اور آسانیوں میں ، پوشیدہ اور ظاہر میں،صبح و شام، رکنے اور چلنے میں، اندر اور باہر۔

اے خدا! پس ان ہستیوں کے حق کے صدقے میں مجھے اپنے فیض سے محروم نہ فرما اور اپنی رحمت سے میری اُمید قطع نہ فرما۔ اپنی رحمت سے نا اُمید نہ کر۔ مجھے روزی کے دروازے اور روزی کے راستوں کے بند ہونے کے ساتھ مبتلا نہ کر۔ اپنی طرف سے بہت جلد پہنچنے والی آسانی میرے لئے معین فرما۔ ہر سختی سے رہائی اور ہر آسانی تک پہنچنے کیلئے میرے لئے راستہ کھول دے۔ تو بہت رحم کرنے والا ہے۔ محمد و آلِ محمد پر جو پاک و پاکیزہ ہیں، خدا کا درود ہو۔ اے جہان کے پالنے والے! قبول فرما۔(مہج الدعوات: ۲۵۳ ، بحار:ج ۹۴ ، ص ۳۴۹) ۔

۲۸ ۔ غم و اندوہ میں آنحضرت کی دعا

اے پروردگار! توہر سختی میں محلِ اعتماد، ہر مشکل میں میری اُمید ہے۔ مشکل میں جو مجھ پر وارد ہوتی ہے، میرے لئے سامانِ راہ ہے۔ کتنی ایسی مشکلات ہیں جو دل کو کمزور ، چارہ جوئی کو کم، کاموں کو مشکل، دور کو نزدیک ، سچے کو رسوا، دشمن کو خوش کرنے والی تھیں، میں نے تیرے سامنے پیش کیں۔ اُن کی تجھ سے شکایت کی جبکہ صرف تو ہی ان میں میری اُمید تھا۔ تو نے خوشحالی عطا کی اور میری مشکل کو حل کردیا اور تو نے مجھے کفایت عطا فرمائی۔

پس تو ہر نعمت کو دینے والا، ہر حاجت کو پورا کرنے والااور ہر اُمید کی انتہا ہے۔ پس بہت زیادہ تعریفیں تیری ذات کیلئے ہیں اور بہترین احسان تیری ذات کی طرف سے ہے۔ تیری نعمت کے ذریعے سے نیک کام مکمل ہوتے ہیں۔

اے پہچانا ہوا!اے نیک کاموں کے ساتھ پہچانا ہوا! اور اے وہ ذات جس کا نیک کاموں کے ساتھ وصف بیان کیا جاتا ہے۔ مجھے اپنے نیک کاموں میں سے ایک عطا کرتاکہ تیرے غیر کی نیکی سے غنی ہوجاؤں۔ تیری رحمت کے صدقہ اے بہترین رحمت کرنے والے۔(مفید ، امالی: ۲۷۲) ۔

۲۹ ۔ مشکلات میں گرفتار شخص کیلئے آنحضرت کی دعا

امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:جو کوئی بھی کسی بادشاہ یا حسد کرنے والے دشمن کی طرف سے کسی مشکل میں پڑجائے تو بدھ، جمعرات اور جمعہ کے دن روزہ رکھے۔ جمعہ کے عصر اور ہفتہ کی رات کو دعا کرے اور وہ یہ دعا پڑھے:

اے اللہ! اے مولیٰ، اے مولیٰ ، اے میری اُمید، اے میری آرزو، اے میرے سہارے ، اے میری پناہ، اے مجھے بچانے والے، اے میری حفاظت کرنے والے، اے میرے لئے قابلِ فخر، تیرے ساتھ ایمان لایا ہوں۔ سر تسلیم خم تیری طرف ہے۔ تجھ پر توکل کیا ہے۔ تیرے دروازے کو کھٹکھٹایا ہے۔ تیرے گھر کے پاس آیا ہوں۔ تیری رسی کو مضبوطی سے پکڑا ہے۔ تجھ سے مدد چاہتا ہوں۔

تیری طرف پناہ لی ہے۔ تجھ سے التجا کرتا ہوں۔ تجھ پر بھروسہ کیا ہے۔ تیری ہی طرف آنے والا اور تیر دامن پکڑنے والا،تجھ سے ہی ہر کام میں پناہ لیتا ہوں۔ تو میری پناہ، میرا سہارا، میرا ٹھکانہ اور میری اُمید ہے۔

تو خدا اور میرا پالنے والا ہے۔ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ تو پاک و پاکیزہ ہے ۔ تعریف خاص اُس کیلئے ہے۔ میں نے گناہ کیا ہے۔ اپنے نفس پر ظلم کیا۔ پس محمد و آلِ محمد پر درود بھیج اور مجھے بخش دے۔ مجھ پر اپنی رحمت فرما۔ میرے ہاتھ پکڑلے اور مجھے نجات دے۔ کامیاب فرما اور میری حفاظت فرما۔ دن ، رات، صبح و شام، سفر اور حضر میں میرا خیال رکھ۔

اے سخی،سب سے بڑے سخی ، اے کریموں سے بڑی کریم ذات، اے فیصلہ کرنے والوں میں سے بڑے عادل، اے سب سے پہلے اور سب سے آخری معبود، اے قیامت کے دن کے مالک، اے بہترین رحم کرنے والے، اے زندہ اور قائم، اے وہ زندہ ذات جو کبھی نہیں مرے گی، اے وہ زندہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔

اے اللہ! محمد کے صدقے، اے خدا! علی کے صدقے، اے پروردگار! فاطمہ کے صدقے، اے خدا! حسن کے صدقے، اے اللہ! حسین کے صدقے، اے پروردگار! علی کے صدقے، اے اللہ!محمد کے صدقے۔

حسن بن محبوب کہتا ہے کہ میں نے اس کو امام رضا علیہ السلام کے سامنے پڑھا اور ساتھ اس عبادت کا اضافہ کیا۔

اے اللہ! جعفر کے صدقے، اے خدا! موسیٰ کے صدقے، اے پروردگار! علی کے صدقے۔ اے خدا! محمد کے صدقے، اے اللہ! علی کے صدقے، اے خدا! حسن کے صدقے، اے خدا! تیری حجت اور تیرے شہروں میں تیرے خلیفہ کے صدقے۔

محمد وآلِ محمدپر درود نچھاور فرما۔ جس سے میں خوف و ڈر رکھتا ہوں، اُسے اپنے اختیار میں پکڑ لے(پھر اُس شخص کا نام لے)۔ اُس کی طرف سے میرے لئے سختی کو آسان فرما۔ اُس کوبغیر کسی دشواری کے اختیار میں دیدے۔ اُس کے دل کی نفرت کو مجھ سے دور فرما۔ اُس کے شر کو مجھ سے دور فرما۔

بے شک اے اللہ! تجھ ہی سے پناہ طلب کرتا ہوں۔ تیری ذات کو وسیلہ قرار دیتا ہوں۔ تیری ذات کے ساتھ اطمینان ہے۔ تجھ پر اعتماد ہے۔ پس محمد وآلِ محمد پر درود بھیج اور میرے دشمن کو مجھ سے دور کر۔ بے شک تو فریاد کرنے والوں کی فریاد کو سننے والا ہے۔ پناہ تلاش کرنے والوں کی پناہ گاہ ہے اور بہترین رحم کرنے والا ہے۔(مصباحش، شیخ طوسی: ۴۲۴ ،کفعمی، بلدالامین: ۱۵۴) ۔

۳۰ ۔ بلا کے دور کرنے کیلئے آنحضرت کی دعا

طاقت و توانائی بلند و عظیم اللہ کے ارادہ کے سوا نہیں ہے۔(ثواب الاعمال: ۱۴۷) ۔


پانچواں باب

۵ ۔ حاجتوں کے پورا ہونے اور قرض ادا ہونے میں آنحضرت کی دعائیں

قضاء حوائج کیلئے۔

قرآن کے وسیلہ کے زریعے قضاء حوائج کیلئے۔

اداء دین کیلئے۔

۳۱ ۔ قضاء حوائج کیلئے آنحضرت کی دعا

اے وہ ذات جو میری مشکلات میں میری سرپرست ہے۔ اے میری نعمت کے ولی، اے میرے پروردگار اور اے ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب کے پالنے والے، اے کھیعص، یٰس اور قرآنِ حکیم کے پروردگار۔

میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ۔اے بہترین وہ ذات جس سے سوال کیا جاتا ہے، اے بہترین وہ ذات جس کو پکارا جاتا ہے، اے زیادہ بخشنے والے، عطا کرنے والے ، اے بہترین وہ ذات جس کے ساتھ اُمید وابستہ کی جاتی ہے۔ تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمدو آلِ محمد پر درود بھیج۔(جمال الاسبوع: ۱۶۸ ، بحار:ج ۹۱ ،ص ۱۸۹) ۔

۳۲ ۔ قضاء حوائج میں آنحضرت کی دعا

آنحضرت سے روایت ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا: جو کوئی شخص حاجت رکھتا ہوں اور اُس پر قدرت نہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرے۔ یہاں تک کہ آپ نے فرمایا:

بدھ، جمعرات اور جمعہ کے دن روزہ رکھے اور جمعہ کے دن خطمی بوٹی کے ساتھ سرکودھوئے۔ بہترین لباس پہنے اور خوشبو لگائے۔ اس کے بعد ایک مسلمان آدمی کو جتنی طاقت ہو، صدقہ دے اور آسمان کے نیچے بیٹھ جائے، اس طرح کہ اُس کے اور آسمان کے درمیان کوئی چیز مانع نہ ہو اور قبلہ کی طرف منہ کرکے دورکعت نماز پڑھے۔

پہلی رکعت میں ایک دفعہ سورئہ حمد اور پندرہ مرتبہ سورئہ توحید پڑھے۔ رکوع میں جاکرپندرہ مرتبہ سورئہ توحید، رکوع کے بعد سجدئہ اوّل اور سجدئہ دوم میں بھی پندرہ مرتبہ سورئہ توحید پڑھے۔ دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کرے۔ پھر تشہد پڑھے اور سلام کہے اور پندرہ مرتبہ سورة توحید پڑھے۔

پھر سجدہ میں جائے اور اسی طرح پندرہ مرتبہ سورة توحید پڑھے۔ پھر دائیں رخسار کو زمین پر رکھ کر یہی عمل کرے، پھر بائیں رخسار کو زمین پر رکھ کر یہی عمل کرے، پھر سر کو سجدہ میں رکھ کو روتے ہوئے یہ کہے:

اے بخشنے والے! اے باعظمت ذات، اے ایک ، اے تنہا، اے بے نیاز، اے وہ ذات جو نہ کسی سے جنا ہے اور نہ اُس سے کوئی جنا ہے۔اُس کا کوئی ہمسر نہیں ہے۔ اے وہ ذات جو اس طرح سے تھا اور اُس طرح کا کوئی اور نہیں ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ زمین سے لے کر عرش تک تیرے علاوہ ہر معبود باطل ہے۔

اے ہر ذلیل کو عزت دینے والے اور ہر عزیز کو ذلیل کرنے والے! تو میری مشکل کو جانتا ہے۔ پس محمد وآلِ محمدپر درود بھیج اور میری مشکل کو حل کر۔

پھر دائیں رخسار کو زمین پر رکھ کر یہی دعا کریں اور پھر بائیں رخسار کو زمین پر رکھ کر یہی عمل کریں۔(مصباح المتہجد،شیخ طوسی: ۳۴۲ ، جمال الاسبوع: ۲۱۴) ۔

۳۳ ۔ قضاء حوائج کیلئے آنحضرت کی دعا

مقاتل بن مقاتل سے روایت ہے کہ اُس نے امام علیہ السلام سے گزارش کی کہ آپ پر قربان جاؤں، مجھے قضاء حوائج کیلئے تعلیم فرمائیں۔ آپ نے فرمایا:

جب بھی کوئی اہم ھاجت درپیش ہوتو غسل کرو، بہترین لباس پہن کر کچھ خوشبو لگاؤ، آسمان کے نیچے جاکر دورکعت نماز پڑھو۔نماز کو شروع کرو۔ سورة حمدپڑھو۔ پھر پندرہ مرتبہ سورة توحید کی قرات کرو۔ پھر رکوع م یں جاؤ اور پندرہ مرتبہ یہی سورة پڑھو۔ نمازِ جعفر طیار کی طرح جاری رکھے۔ سوائے اس کے کہ اس نماز میں قرات پندرہ مرتبہ ہے۔ نماز کے بعد سجدے م یں جاکر کہو:

اے پالنے والے! عرش سے لے کر تیری زمین تک تیرے سوا ہر معبود باطل ہے۔ بے شک تو معبودِ حق و روشن ہے۔ میری اس حاجت کو پورا فرما۔ اسی وقت، اسی وقت ،اور اپنے ارادہ میں اصرار کرو۔(کافی:ج ۳ ،ص ۴۷۷) ۔

۳۴ ۔ قرآن کے وسیلہ سے قضاء حوائج کیلئے آنحضرت کی دعا

آنحضرت سے روایت ہے کہ جب بھی کوئی مشکل تجھے عار ض ہوجائے، تو دورکعت نماز پڑھو۔ دو میں سے کسی ایک رکعت میں سورة حمد اور آیة الکرسی پڑھو اور دوسری رکعت میں سورة حمد اور سورة قدر پڑھو، قرآن کو اپنے سر پر رکھو اور کہو:

اے اللہ! اُس کے صدقے میں جس کو تو نے اپنی مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا ۔اُ ن تمام آیات کے صدقے جو اُس میں ہیں۔ اُن کے صدقے میں جن کی تو نے قرآن میں مدح و توصیف کی ہے۔ تیرے حق کے صدقے میں جو اُن پر ہے۔ تیرے سوا کسی اور کو تیرے حق سے معرفت رکھنے والا میں نہیں جانتا۔

اے مولا، اے میرے اللہ دس مرتبہ ،بحق محمد دس مرتبہ، بحق علی دس مرتبہ، بحق فاطمہ دس مرتبہ۔ اس کے بعد امام کے حق کا واسطہ دے ، یہاں تک کہ آخری امام امامِ زمانہ علیہ السلام کے حق کا واسطہ دے۔ تو اپنے جگہ سے نہیں اٹھے گا مگر یہ کہ تیری حاجت پوری ہوجائے گی۔(طبرسی، مکارم الاخلاق:ج ۲ ،ص ۱۱۲) ۔

۳۵ ۔ قضاء ھوائج کیلئے آنحضرت کی دعا

آنحضرت سے روایت ہے کہ دو رکعت نماز پڑھو۔ ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورئہ حمد اور تیرہ مرتبہ سورئہ قدر پڑھو۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد سجدہ میں جاؤ اور یہ کہو:

اے پالنے والے، اے غم کو دور اور زائل کرنے والے، مجبوراور بیچاروں کی دعا کے سننے والے، اے دنیا اور آخرت میں رحم کرنے والے، محمد وآلِ محمد پر درود بھیج اور اپنی رحمت شاملِ حال فرما۔ایسی رحمت جس کے ذریعے سے تیرا غضب اور نافرمانی ختم ہوجائے۔ مجھے تیرے غیر کی رحمت سے بے نیاز کردے۔ پھر دائیں رخسار کو زمین پر رکھے اور کہے:

اے کینہ و ظالم کو ذلیل کرنے والے ، اے ہر ذلیل کو عزیز کرنے والے، تیرے حق کی قسم! اس کام میں میری طاقت ختم ہوچکی ہے۔ پس اس کام میں آسانی عطا فرما۔ پھر بائیں رخسار کو زمین پر رکھے اور اسی طرح کہے۔ پھر سجدہ میں جاکریہی عمل دہرائیں۔ خداتعالیٰ اُس کے غم کو دور اور حاجت کو پورا فرما دے گا۔(طبرسی، مکارم الاخلاق:ج ۲ ، ص ۱۱۶) ۔

۳۶ ۔ اداء دین کے لئے آنحضرت کی دعا

امام جواد علیہ السلام سے روایت ہوئی ہے کہ ایک شخص امام رضا علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا: اے رسولِ خدا کے بیٹے! میری بہت سی اولاد ہے ۔ میری گردن پر قرضہ بھی ہے۔ مشکل میں گرفتار ہوں۔ کوئی ایسی دعا مجھے تعلیم فرمائیے کہ جب بھی خدا سے وہ دعا کروں تو خدا مجھے روزی عطا فرمائے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: اے خدا کے بندے! وضو کرو اور اچھی طرح کرو، پھر دو رکعت نماز بجا لاؤ، اس طرح کہ اس کے رکوع اور سجدہ کو اچھی طرح انجام دو۔ پھر کہو:

اے بخشنے والی عظیم ذات، اے یکتا، اے کریم، تیری طرف تیرے نبی محمد، جو رحمت کا نبی ہے، کے واسطہ سے متوجہ ہوا ہوں۔ اے محمد!،اے اللہ کے رسول! میں تیرے واسطہ سے تیرے رب اور ہر شے کے پالنے والے کی طرف متوجہ ہوا ہوں۔ یہ کہ محمدو آلِ محمد پر درود بھیج۔

تجھ سے تیری رحمت کی نسیم، کامیابی اور تیرے وسیع رزق کا سوال کرتا ہوں،میرے بکھرے ہوئے امور کو یکجا اور میرے قرضوں کو ادا کردے اور اُس کے ذریعے سے میں اپنے خاندان کی مدد کروں۔(شیخ طوسی،تہذیب:ج ۳ ،ص ۳۱۱) ۔


چھٹا باب

۶ ۔ خطرات اور شرِّ شیطان کے دور کرنے کیلئے دعائیں

دشمنوں سے پوشیدہ رہنے کیلئے۔

شروں کے دور کرنے میں۔

دشمنوں کے شر سے محفوظ رہنے کیلئے۔

دشمن کو دور کرنے میں۔ رقعة الحبیب کے نام سے۔

احتراز میں۔

دشمنوں سے بچنے میں۔

دشمن کے دور کرنے میں۔

۳۷ ۔ دشمنوں سے پوشیدہ رہنے کیلئے آنحضرت کی دعا

میرے مولا! میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کردیاہے۔ اپنی جان کو تیرے سپرد کرتاہوں۔ تمام کاموں میں تجھ پر توکل کرتا ہوں ۔میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے دو بندوں کا بیٹا ہوں۔ مجھے اپنی مخلوق کے شر سے، اپنے پردے میں چھپا لے۔ اپنے احسان کے صدقے مجھے ہر اذیت اور بدی سے محفوظ رکھ۔ اپنی قدرت کے ذریعے سے مجھے ہر صاحب شر کے شر سے محفوظ فرما۔

اے اللہ! جو کوئی بھی میرے ساتھ دھوکا وفریب کرنا چاہتاہے، یا بُرا ارادہ رکھتا ہے ، اُسے خود اُسی کی طرف پلٹا دے۔ میں تجھ سے اُس کے مقابلہ میں مدد چاہتا ہوں۔اُس سے تیری قدرت و طاقت کی پناہ چاہتا ہوں۔ اگر میری مدد کرنے والے ہو تو ظالموں کے ہاتھوں کو مجھ سے دور رکھ۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور جہان کے پالنے والے۔

میں تجھ سے مصائب کے ختم ہونے کا سوال کرتا ہوں۔ نیز تجھ سے عافیت اور شفاء اور دشمنوں پر مدد کا سوال کرتا ہوں۔ تجھ سے اُس چیز پر توفیق کا طلبگار ہوں۔ جسے تو دوست رکھتا ہے اور راضی ہے، اے جہان کے پالنے والے! اے آسمانوں اور زمینوں میں حکم چلانے والے ، اے محمد اور اُن کی پاک و پاکیزہ آل کے رب، ان تمام پر درود نچھاور فرما۔(مہج الدعوات: ۳۰۰ ، بحار:ج ۹۴ ،ص ۳۷۶) ۔

۳۸ ۔ شر کے دور کرنے میں آنحضرت کی دعا

ابتداء ہے اُس خدا کے نام سے جو رحمٰن و رحیم ہے۔ وحدہ لاشریک ، خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ اُس نے اپنے وعدہ کو پورا کیا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی۔ اپنے لشکر کو کامیاب کیا۔ دشمنوں کو بھگایا۔ حکمرانی صرف اُسی کیلئے ہے۔ تمام تعریفیں صرف اُسی کیلئے ہیں۔ تمام تعریفیں عالمین کے رب اللہ کیلئے ہیں۔

صبح و شام اللہ تعالیٰ کی حمایت میں ہوں کہ جس کو زوال نہیں آتا۔ اُس کی پناہ میں ہوں کہ جس پر حملہ نہیں ہوسکتا۔ اُس کی عزت میں ہوں کہ جس میں ذلت و رسوائی نہیں ہے۔ اُس کے گروہ میں ہوں کہ جس کو شکست نہیں ہوتی۔ اُس کے فرار نہ ہونے والے لشکر میں ہوں۔ اُس کے مکان میں ہوں کہ جو امن میں واقع ہے۔

اللہ سے پناہ چاہتا ہوں اور اُسی کی یاد میں ہوں۔ اُسی سے مدد طلب کرتا ہوں اور عزت چاہتا ہوں۔ اُس کی طرف پناہ لینے والا ہوں۔ اُس سے مدد چاہتا ہوں اور طاقت طلب کرتا ہوں۔ اُس کی مدد سے دشمنوں پر کامیاب ہوں گا۔ خدا کی کبریائی اور جلالت کے ساتھ اُن پر غالب ہوجاؤں گا۔ اُس کی طاقت و قوت سے اُن کی سرکوبی کروں گا۔ اُس سے اُن کے خلاف مدد طلب کرتا ہوں۔

اپنے امور کو میں نے خدا کے سپرد کردیا ہے۔ وہی میرے لئے کافی ہے۔ وہ بہترین نگہبان ہے۔ تو خیال کرتا ہے کہ وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں ، حالانکہ وہ تمہیں دیکھ نہیں سکتے۔ حکمِ خدا ثابت ہوا۔ خدا کی حجت پارہ پارہ ہوئی۔ اُس کا عذاب خدا کے فاسق دشمنوں پر اور شیطان کے تمام لشکر پر غالب ہوا۔

وہ تمہیں معمولی ضرر کے سوا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔اگر وہ تمہارے ساتھ جنگ کریں گے تو فرار ہوجائیں گے۔ ذلت اور رسوائی اُن کیلئے مقرر ہوگئی ہے۔ جہان بھی پائے گئے، پکڑے جائیں گے اور قتل کردئیے جائیں گے۔ تمہارے ساتھ صرف مضبوط قلعوں یا دیوار کے پیچھے سے لڑائی کریں گے۔ اُن کے اپنے اندر بڑا اختلاف ہے۔ تمہیں وہ ایک نظر آتے ہیں، حالانکہ اُن کے دل مختلف ہیں کیونکہ وہ بے عقل گروہ ہے۔

ایک مضبطوط پناہ گاہ کے ساتھ اپنے آپ کو پناہ دی ہے۔ اس وجہ سے وہ غالب نہیں آسکتے۔ وہ اُس کی نابودی کا راستہ نہیں پاسکتے۔ ایک مضبوط رکن کی طرف پناہ لی ہے۔ ایک بلند جگہ کو ٹھکانا قرار دیا ہے۔ ایک روشن رسی کو مضبوطی سے پکڑا ہے۔ خدا کی محکم ڈھال میں پناہ لی ہے۔ مومن وں کے امیر کی مدد میں ہوں۔ سلیمان بن داؤد کے حرز اور اُس کی انگوٹھی کے ذریعے خدا کی پناہ میں ہوں۔

میں جہاں بھی ہوں، آرام اور سکون سے ہوں اور میرا دشمن سختیوں میں سرگرداں ہے۔ وہ ذلت و خواری میں ہے۔ رنج و بد بختی اُس پر نازل ہوتی ہے۔ خدا کی حفاظت میرے اختیا رمیں ہے۔ اُس کی پناہ میں ہوں اور اُس کا نگہبان میرا محافظ ہے۔ کرامت خدائی کا تاج سر پر رکھا ہے ۔ عزتِ الٰہی کی تلوار کو، جس کی دھار کند نہیں ہوتی، کے ساتھ میں نے اپنے آپ کو وابستہ کرلیا ہے۔ اپنے آپ کو دشمنوں کی نظر سے چھپا لیا ہے۔ اُن کے خیالوں سے دور ہوں اور امن میں ہوں۔ خدا کی جلالت کے سبب دشمنوں سے سالم ہوں۔

اسی وجہ سے وہ میرے سامنے جھکتے ہیں۔ مجھ سے دور بھاگتے ہیں، اس طرح جیسے گدھے شیر سے بھاگتے ہیں۔ اُس خدا کی مدد کے ذریعے جس کے سوا کوئی معبودِ حقیقی نہیں ہے۔ اُن کے ہاتھ مجھ تک نہیں پہنچ سکتے۔ اُن کی آنکھیں مجھے دیکھنے سے اندھی ہیں۔ اُن کی زبانیں میری یاد سے گونگی ہیں۔ اُن کی عقلیں میری معرفت کے درک کرنے سے قاصر ہیں۔ اُن کے دل ڈرتے ہیں۔ اُن کے اعضاء او رجانیں میرے ڈر سے لرزتے ہیں۔

اے خداکہ جس کے علاوہ کوئی معبودِ حقیقی نہیں ہے۔ اُن کے لشکریوں کو بھگا دے اور اُن کی عزت کو نابود فرما۔ اُن کے سر جھکا دے۔ اُن کی آنکھیں اندھی کردے تاکہ میرے سامنے سر جھکائے رکھیں۔ اُن کے لشکری پشت پھیرجائیں۔ یہ گروہ متفرق ہوجائے اور فرار کرجائے بلکہ قیامت ان کے انجام میں ہے اور قیامت کا عذاب بڑا دردناک ہوگا۔ قیامت کا واقع ہونا حتمی ہے اور وہ اچانک آئے گی۔

میں اُس بلندی اور قدرت کے ذریعے سے طاقت طلب کرتا ہوں جس کے ذریعے سے علی علیہ السلام جیسا بہادر اور جنگجو کفر کے پرچموں کو جھکانے والا اور ظالموں کو ہلاک کرنے والا برتری حاصل کرتا تھا۔خدا کے اچھے اچھے ناموں اور بلند کلمات کے ذریعے سے خدا کی پناہ میں ہوں۔ خدا کے حکم اور اُس عظیم طاقت کے ذریعے سے اپنے دشمنوں پر غالب آجاؤں گا۔ اُن کو ذلیل و رسوااور سرنگوں کردوں گا تاکہ میرے مقابلہ میں اُن کی گردنیں جھکی رہیں۔

میرے دشمن نا اُمید اور مخالف تباہ ہوجائیں گے۔ میری مدد ہوگی ۔ کامیاب، غالب اور خوشحال ہوجاؤں گا۔ تقویٰ کی بنیاد پر عمل کرنے والا، اُس کی مضبوط رسی کو پکڑے ہوئے ہوں۔ اسی وجہ سے دھوکا دینے والوں کے دھوکے اور حسد کرنے والوں کا حسد مجھ تک نہیں پہنچتا۔ کوئی مجھے دیکھ نہیں سکتا اور میرے اوپر غالب نہیں آسکتا۔

کہو کہ میں خدا کو پکارتا ہوں اور اُس کے ساتھ کوئی شریک قرار نہیں دیتا۔ اے فضل کرنے والے، تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے نفس اور جان میں امن و سلامتی اور دشمنوں سے نجات عطا فرما۔ میرے اور اُن کے شر کے درمیان اپنے عذاب کے فرشتوں ،جو تیرے فرمان کے تابع ہیں اور خلاف ورزی نہیں کرتے، تیرے حکم کے انتظار میں ہیں، کے ذریعے سے فاصلہ پیدا فرما۔ میری ایک عظیم لشکر اور اپنے دربار کے فرشتوں کے ذریعے سے مدد فرما۔

تاکہ اُن کا روشن دلائل کے ذریعے سے جواب دے سکیں۔ تباہ کردینے والے پتھروں کے ساتھ اُن کو نابود کریں۔ کاٹ دینے والی تلوار کے ساتھ اُن پر حملہ کریں۔آگ کے تیر اُن پر مار سکیں۔ وہ ہر طرف سے موردِ حملہ قرار پائیں اور رسوا کرنے والا ااور دردناک عذاب اُن کی انتظار میں ہے۔

بسم اللہ رحمٰن الرحیم کی برکت کے ذریعے سے طٰہ، یٰسین، والذّٰاریٰات، طواسین اور حٰم کی فضیلت کے ذریعے سے اُن پر حملہ کریں۔نیز کھیعص کی فضیلت کے ذریعے کہ اُس کے کاف کے ذریعے میرے لئے کافی ہو، اُس کے ھا کے ذریعے ہدایت پائیں، اُ س کی یا کے ذریعے سے آسانی مقرر ہو، اُس کی عین کے ذریعے سے بلندی اور برتری حاصل کریں، اُس کی صاد کے ذریعے سے سچائی کے ساتھ کہیں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔

نیز نون اور قلم اور جو کچھ وہ قلم لکھتی ہے، اُس کی فضیلت کی قسم، ستاروں کے مقامات اور کوہِ طور کی قسم اور کھلے کاغذوں میں لکھی ہوئی کتاب کی قسم، تعمیر شدہ گھر اور اُس پر ڈالی ہوئی چھت کی قسم، جوش مارتے ہوئے دریا کی قسم، بیشک خدا کا عذاب آنے والا ہے۔اُس سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

پس فرار کیا اور منہ پھیر گئے۔ اپنے شہروں میں خوف کی حالت میں باقی رہ گئے۔ حق غالب آگیا اور جو کچھ وہ جانتے تھے، باطل ہوگیااور مغلوب ہوگیا۔ ذلیل ہوکر واپس لوٹ آئے۔ جادوگر زمین پر گر گئے۔ خدا نے اُن کے غلط منصوبے کو ختم کردیا اور خاندانِ فرعون پر دردناک عذاب نازل ہوا۔انہوں نے فریب کیا اور خدا نے اُن کے فریب کا جواب دیا۔ وہ مکر کرنے والوں کا بہترین جواب دینے والا ہے۔

وہ حضرات جن کو لوگ کہتے تھے کہ تمام لوگ تمہارے خلاف متحد ہوگئے ہیں، پس تم ڈرو، اُن کا ایمان زیادہ ہوا اور انہوں نے کہا: خدا ہمارے لئے کافی ہے۔ وہ بہترین نگہبان ہے۔

خدا کی نعمت کے ساتھ واپس لوٹے۔ اُس فعل کے ساتھ واپس لوٹے جس میں بدی نہ تھی۔ خدا کی مرضی کے طالب تھے۔ وہ بڑے فضل کا مالک ہے۔

اے پروردگار! شیطان کے وسوسوں اور اُن کے آنے سے میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں۔ اے خدا! اُس کے شر سے جس سے میں خوف و ہراس میں ہوں۔ تیری پناہ مانگتا ہوں۔جو اچھے کام تیرے پاس ہیں، اُن کا طلبگار ہوں۔ پس خدا اُن کیلئے کافی ہے۔ وہ سننے والا اور جاننے والاہے اور طاقت و قدرت اس کے ارادہ کے بغیر نہیں ہے۔

جبرئیل میری دائیں طرف، میکائیل میرے بائیں طرف، حضرت محمد میرے آگے آگے ارو خدا میرا محافظ و نگہبان ہے۔ یہ سب شیطانِ رجیم کو مجھ سے دور کرتے ہیں۔

اے وہ ذات جو دودریاؤں کو ملنے سے روکتا ہے۔ میرے اور میرے دشمنوں کے درمیان بھی رکاوٹ پیدا کردے تاکہ کوئی نقصان مجھے نہ پہنچ سکے۔

میں نے اُن کے اور اپنے درمیان خدا کا وہ پردہ قرار دیا ہے جس کے ذریعے سے فرعونوں کی تکلیف سے پردہ میں رہتے تھے۔ جو کوئی بھی خدا کی حفاظت میں ہوگا، وہ محفوظ رہے گا۔ میرے لئے وہ کافی ہے کہ جو اُن امور میں کفایت رکھتا ہے۔ جن میں کوئی دوسرا کافی نہیں ہوتا۔ میرے آگے سے، میرے پیچھے سے، موانع قرار دے اور مجھے اُن کی آنکھوں سے چھپا دے تاکہ وہ مجھے دیکھ نہ سکیں۔

اے اللہ! مجھ پر اپنی حفاظت کے ایسے پردے ڈال کہ جن کو ہوائیں اُڑا نہ سکیں اور نیز اسے پھاڑ نہ سکیں۔مجھے اُس کے شر سے محفوظ فرما جس سے مجھے ڈر ہے۔ روح القدس کے حق کا واسطہ کہ وہ جس پر بھی آجائے، دیکھنے والوں کی آنکھوں سے محفوظ رہتا ہے۔ لوگوں کے دلوں میں ایک بلند مقام پیدا کرلیتا ہے۔

تیرے اسمائے حسنیٰ کو حق کا واسطہ، تیرے بلند کلمات کے حق کا واسطہ، مجھے اُس چیز میں کامیاب فرما جس کا میں دنیاوآخرت کی بھلائی کیلئے آرزومند ہوں۔ جو میرے فائدے کیلئے ہے۔ ان کے دلوں کے شر کو اور اُس کو جس میں یہ چھپاتے ہیں، اُس خیر کی طرف تبدیل کردے کہ جس پر صرف تو قدرت رکھتا ہے۔

اے خدا! بے شک تو میرا مولیٰ ہے۔ تیری طرف پناہ لی ہے اور تو ہی میری پناہ گاہ ہے۔ اے وہ ذات جس کے مقابلے میں جابروظالم لوگوں کی گردنیں جھک جاتی ہیں۔ میں تیری پناہ حاصل کرتا ہوں۔ پس اے خدا! مجھے اپنی رسوائی سے تیرے راز کو ظاہر کرنے سے تیری یاد کو بھولنے سے اور تیرے شکر سے منہ پھیرنے سے محفوظ فرما۔ میں رات، دن اور سوتے جاگتے تیری حفاظت میں ہوں۔ تیری یاد میرا نعرہ اور تیری ثناء میری زبان کا ورد ہے۔

اے اللہ! میری خوف نے تیری پناہ حاصل کر لی ہے تاکہ تیر ے غضب اور عذاب سے محفوظ رہ سکوں۔ پس اپنی حفاظت میرے لئے قرار دے اور اپنی عنایت میرے نصیب میں فرما اے بہترین رحم کرنے والے۔ اے جہان کے پالنے والے قبول فرما، قبول فرما۔(مہج الدعوات: ۲۴۸ ، بحار:ج ۴۸ ، ص ۱۵۴) ۔

۳۹ ۔ دشمنوں کے شر کو دور کرنے کے متعلق آنحضرت کی دعا

روایت ہے کہ جب امام رضا علیہ السلام شہید ہوئے تو اُن کے لباس میں سے یہ تعویذ ملا۔ اس تعویذ کے آخر میں اس طرح لکھا ہوا تھا کہ آنحضرت کے آباء و اجداد سے روایت ہوئی ہے۔ آپ کے جد بزرگوار حضرت علی علیہ السلام اپنے دشمنوں کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے اس تعویذ کو اپنے پاس رکھتے تھے۔ تلوار کے غلاف میں اسے رکھتے تھے۔ اُس کے آخر میں خدا کے نام ہیں۔ آنحضرت نے اپنی اولاد اور اہلِ خانہ سے شرط کی تھی کہ اس کو کسی پر نہ پڑھیں کیونکہ جو بھی اسے پڑھتا ہے، اُس کی دعا چھپی نہیں رہتی۔

اے خدا! تجھ سے آغاز کیا ہے اور تجھ ہی سے مدد طلب کرتا ہوں۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوں۔ اے پروردگار! اس دشواری اور میری ہر دشواری کو آسان فرما، اس مشکل کو اور میری تمام مشکلات کودور فرما، یہ رنج اور ہر رنج سے مجھے محفوظ فرما۔

اس کی دوستی اور محبت میرے نصیب فرما۔ اس کا نقصان اور غم مجھ سے دور فرما۔تو جس کو چاہتا ہے، مٹا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے۔ ام الکتاب تیرے پاس ہے۔ خبردار بے شک اولیاء خدا پر نہ خوف ہوتا ہے اور نہ غم۔

ہم تیرے خدا کے بھیجے ہوئے ہیں۔وہ تجھ تک نہیں پہنچ سکتے۔ طٓہٓ، حٓمٓ۔ وہ دیکھتے نہیں۔اُن کی گردنوں میں ہم نے زنجیر ڈال دئیے ہیں جو اُن کے کانوں تک آتے ہیں۔ اُن کے آگے سے اوراُن کے پیچھے سے ہم نے رکاوٹیں قرار دے دی ہیں جو اُن کو چھپا دیتی ہیں۔ پس وہ دیکھ نہیں سکتے۔

یہ وہ لوگ ہیں کہ خدا نے ان کے دلوں اور کانوں اور آنکھوں پر مہر لگادی ہے اور یہ غافل ہیں۔ بے شک خدا ان کے اندراور باہر سے واقف ہے۔ بہت جلد ان کے شر سے بچائے گا ۔ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ تو خیال کرتا ہے کہ وہ تیری طرف دیکھتے ہیں حالانکہ وہ دیکھتے نہیں ہیں۔

وہ بہرے ، گونگے اور اندھے ہیں۔ پس وہ واپس نہیں لوٹیں گے۔ طٓسٓمٓ، یہ ایک واضح اور روشن کتاب کی آیات ہیں۔ شاید تو اُن کے ایمان لانے کے لئے اپنی جان ختم کردے گا ۔ ہم چاہیں تو آسمان سے اُن کیلئے ایک آیت ایسی نازل کریں کہ اُس کیلئے اُن کی گردنیں جھک جائیں۔

اے خدا! تجھ سے اُس آنکھ کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جو سوتی نہیں ہے۔ اُس عزت کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں کہ جس کی طرف بُرا ارادہ نہیں کیا جاسکتا۔ اُس حکمرانی کے واسطہ سے جو ظلم نہیں کرتی۔ اُس نور کے واسطہ سے جو ختم نہیں ہوتا۔ اُس چہرے کے واسطہ سے جو پرانا نہیں ہوتا۔ اُس زندہ کے واسطہ سے جو مرے گا نہیں۔ اُس قدرت کے واسطہ سے جو کبھی مغلوب نہیں ہوگی۔ اُس ہمیشگی کے واسطہ سے جو فنا نہیں ہوگی۔ اُس نام کے واسطہ سے جس کو رد نہیں کیا جاتا۔ اُس ربوبیت کے واسطہ سے جو ذلیل نہیں ہوتی۔ محمد وآلِ محمد پر درود بھیج اور اس کام کو میرے لئے انجام دے۔

اور پھر اپنی حاجت کو ذکر کرو، انشاء اللہ انجام پائے گی۔(مہج الدعوات: ۲۴۷) ۔

۴۰ ۔ رفعۃ الحبیب کے نام سے دشمنوں کے شر کو دور کرنے میں آنحضرت کی دعا

یاسر خادم سے روایت ہے کہ جب آنحضرت حمید بن قحطبہ کے محل کی طرف گئے تواپنا لباس اتار کر حمید کو دیا۔ یہاں تک کہ وہ کہتا ہے:

میں نے کہا قربان جاؤں، آپ کے لباس سے ایک کاغذ ملا ہے ، وہ کیا ہے؟

آپ نے فرمایا: وہ تعویذ ہے کہ اُس سے میں جدا نہیں ہوتا۔ میں نے کہا: مجھے اس تعویذ سے شرفیاب فرمائیے۔ آپ نے فرمایا: یہ ایسا تعویذ ہے کہ جوکوئی بھی اس کو اپنے لباس میں رکھے، ہر بلا سے محفوظ رہے گا اور شیطانِ رجیم کے مقابلہ میں اُس کی حفاظت کرے گا۔

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو رحمٰن و رحیم ہے۔ خدا کے نام کے ساتھ۔ میں تجھ سے پناہ چاہتا ہوں خدا کی۔ اگر پرہیزگار تھے یا نہیں تھے۔ میں نے سننے والے اور دیکھنے والے خدا کے ذریعے سے تیری آنکھ اور کان کو پکڑ لیا۔ تو مجھ پرمیرے کان، آنکھ، بال، کھال، گوشت، خون، دماغ، رگ، ہڈیاں، مال اور وہ جس سے خدا مجھے روزی دیتا ہے، پر قدرت نہیں رکھتا۔ میں نے اپنے اور تیرے درمیان وہ پردہ قرار دیا ہے جس کو خدا کے انبیاء ظالموں اور فرعونوں کے حملوں سے بچانے کیلئے پردہ قرار دیا کرتے تھے۔ جبرائیل میرے دائیں طرف، میکائیل میرے بائیں طرف، اسرافیل میرے پیچھے اور حضرت محمد میرے آگے آگے تشریف رکھتے ہیں۔ خدا مجھ سے آگاہ ہے۔ تجھے اور شیطان کو مجھ سے دور کرتا ہے۔

اے اللہ! اُس کی جہالت تیرے صبر پر غالب نہیں آسکتی کہ وہ مجھے دھوکہ دے اور مجھے حقیر خیال کرے۔ اے خدا! میں تیری پناہ میں آیا ہوں، میں تیری پناہ میں آیا ہوں، میں تیری پناہ میں آیا ہوں۔

ایک دوسری روایت میں اس طرح آیا ہے:

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمٰن و رحیم ہے۔ اگر تو نیک ہے تجھ سے خدا رحمٰن کی پناہ مانگتا ہوں۔ دور ہوجا۔ بات نہ کر۔ تیرے کان اور آنکھ کے شر کو خدا کی آنکھ اور کان کے ذریعے سے میں نے دور کیا۔تیری قوت و طاقت کو خدا کی قوت و طاقت کے ذریعے سے میں نے دور کیا تاکہ میرے اور تیرے درمیان مانع پیدا ہوجائے۔ ایسا مانع جس کے ذریعے سے خدا کے پیغمبر اور رسول فرعونوں کے شر اور طاقت سے محفوظ رہتے ہیں۔

جبرائیل میرے دائیں طرف ، میکائیل میرے بائیں طرف اور محمد(اُن پر اور اُن کی آل پر درود ہو) میرے آگے آگے ہیں۔ خدا مجھے اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہے۔ مجھے تیری مصیبت سے محفوظ رکھے گا۔ میرے اور تیرے درمیان اپنی قوت و طاقت کے ذریعے سے مانع قرار دے گا۔ خدا میرے لئے کافی ہے اور وہ بہترین نگہبان ہے۔ خدا جوچاہتا ہے، واقع ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا، واقع نہیں ہوتا۔

اور آیۃ الکرسی کو لکھے اور

" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰه العَلِیِّ الْعَظِیْم "

کو لکھے اور اپنے ساتھ رکھے۔(مہج الدعوات: ۳۳) ۔

۴۱ ۔ حفاظت کے متعلق آنحضرت کی دعا

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اے وہ ذات جس کی نہ کوئی شبیہ ہے اور نہ کوئی مثال۔

تو ایسا خدا ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ تیرے سوا کوئی خالق نہیں ہے۔ مخلوقات کو فانی کردیا ہے اور خود ہمیشہ رہنے والا ہے۔ جو تیری نافرمانی کرتے ہیں، اُن سے درگزر کرتا ہے اور تیری خوشی تیری بخشش میں ہے۔(مہج الدعوات: ۳۵ ،بحار:ج ۹۴ ، ص ۳۴۵) ۔

۴۲ ۔ دشمنوں سے محفوظ رہنے کے متعلق آنحضرت کی دعا

آنحضرت کی اُس وقت کی دعا جب مامون آپ پر غصے میں تھا اور خاموش ہوگیا۔

خدا کے ذریعے سے شروع کرتا ہوں اور اُسی سے مدد طلب کرتا ہوں۔اور محمد(جس پر اور اُن کی آل پر درود) کی طرف متوجہ ہوا ہوں۔ اے پروردگار! تمام کاموں کی سختی کو آسان فرما۔ اُن کے رنج کو برطرف فرما۔ بے شک جس کو تو چاہتا ہے، مٹا دیتا ہے اور باقی رکھتا ہے۔ ام الکتاب تیرے پاس ہے۔(بحار:ج ۹۴ ،ص ۳۱۵) ۔

۴۳ ۔ دشمن کے دور کرنے کیلئے آنحضرت کی دعا

آنحضرت سے روایت ہے کہ تم میں سے جب کوئی چاہے کہ دشمن کے خلاف دعا کرے تو کہے:

اے خدا! اُسے ایسے درد کے ساتھ مبتلا کرکہ جس کی مثال نہ ملتی ہو اور اُس کے احترام کو ختم فرما۔(طبرسی، مکارم الاخلاق:ج ۲ ، ص ۱۴۹) ۔


ساتواں باب

۷ ۔ بیماریوں کے علاج اور ان کے متعلقات کے متعلق آنحضرت کی دعائیں

ہر درد اور خوف کے تعویذ کے متعلق۔

بیماری ثالول کے لئے۔

ہر درد کے لئے تعویذ۔

دردوں کے دور کرنے کیلئے۔

تمام بیماریوں کیلئے۔

بخار کے لئے۔

بخار کے لئے۔

بیماری ثالول کے لئے۔

بیماری ثالول کے لئے۔

خنازیر کی بیماری کے لئے۔

سل کی بیماری کیلئے۔

دردِ شقیقہ کیلئے۔

حاملہ عورتوں کے لئے تعویذ، انسانوں اور دوسری مخلوقات کے مقابلہ میں۔

جادو کے دور کرنے کیلئے۔

بچھو اور سانپ کے دور کرنے کیلئے۔

گمشدہ کو واپس لانے کیلئے۔

۴۴ ۔ ہردرد اور خوف کے دورکرنے میں آنحضرت کی دعا

حسین بن علی بن یقطین کہتا ہے: میں نے اس تعویذ کو امام رضا علیہ السلام سے لیا ہے اور آپ نے فرمایا:یہ تعویذ جامع او رمانع ہے۔ اس میں ہر درد و خوف سے حفاظت اور امان ہے۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ خدا کے نام کے ساتھ اس جگہ پر رہ اور خاموش رہ۔ تجھ سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔ نیک ہو یا نہ ہو۔ خدا کے کان اور آنکھ کے ذریعے سے تیری آنکھ اور کان کو میں نے باندھ لیا ہے۔ تیری طاقت کو میں نے خدا کی قوت کے ذریعے لگام ڈال دی ہے۔ تو فلاں کے بیٹے فلاں پر اور اُس کی اولاد پرقدرت نہیں رکھتا۔ تیرے اور اُس کے درمیان میں نے اپنے آپ کو اُس پردہ کے ذریعے سے چھپا لیا ہے جس کے ذریعے سے انبیاء اپنے آپ کو فرعونوں کے حملوں سے بچاتے تھے۔

جبرائیل تیرے دائیں طرف، میکائیل بائیں طرف اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیرے آگے قرار دیا ہے۔ عظیم خدا تیرا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ خدا اُس کو ، اُس کی اولاد کو، مال اور اُس کے خاندان کو تم سے اور شیاطین سے دور رکھے گا۔ خدا جو چاہتا ہے، وہی ہوتا ہے۔ قوت اور طاقت عظیم و بلند خدا کے ارادہ کے سوا نہیں ہے۔

اے پروردگار! اُس کی بربادی تیرے صبر پر غالب نہیں ہے۔ کوشش اُس کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ میں نے تجھ پر بھروسہ کیا ہے اور تو بہترین مولیٰ اور بہترین مددگار ہے۔

خدا تجھے اور تیری اولاد کو اے فلاں اُس کے ذریعے محفوظ فرمائے جس کے ذریعے سے اپنے اولیاء کی حفاظت کرتا ہے۔ محمد و آلِ محمد پر خدا کا درود ہو۔

آیۃ الکرسی کو (ھوالعلی العظیم تک) لکھے اور پھرلکھے: طاقت اور قدرت سوائے عظیم خدا کے ارادہ کے نہیں ہے۔ خدا سے پناہ صرف اُسی کے ساتھ ہے۔ وہ ہمارے لئے کافی ہے اور بہترین سرپرست ہے، دلسام فی رأس السهباطا لسلسبیلانیها ۔ (طب الآئمہ علیہم السلام: ۴۰) ۔

۴۵ ۔ ہر درد کے تعویذ کے متعلق آنحضرت کی دعا

خالد عیسیٰ کہتا ہے کہ آنحضرت نے یہ تعویذ مجھے سکھایا اور فرمایا کہ اس تعویذ کو اپنے مومن بھائیوں کو یاد کرواؤ کیونکہ یہ ہر درد کیلئے مفید ہے۔

زمین اور آسمان کے پروردگار کی پناہ میں اپنے آپ کو دیتا ہوں۔ اپنے آپ کو اُس کی پناہ میں دیتا ہوں کہ جس کے نام کے ذریعے سے کوئی اور نقصان نہیں دے سکتا۔ اُس کی پناہ میں ہوں جس کا نام برکت اور شفا ہے۔(طب الآئمہ علیہم السلام: ۴۱) ۔

۴۶ ۔ دردوں کے دور کرنے کیلئے آنحضرت کی دعا

اے پروردگار! اے میرے مولیٰ، محمد و آلِ محمد پر درود بھیج اور ہر دکھ درد مجھ سے دور فرما۔

(طبرسی، مکارم الاخلاق:ج ۲ ، ص ۱۵۸ ، بحار:ج ۹۵ ،ص ۳۳) ۔

۴۷ ۔ تمام بیماریوں کیلئے آنحضرت کی دعا

ذکر یا بن آدم مقری جو آنحضرت کا خادم تھا، کہتا ہے:ایک دن امام علیہ السلام نے مجھے بلایا اور فرمایا:تمام بیماریوں کیلئے کہو۔

اے شفا کے نازل کرنے والے اور درد کو دور کرنے والے، اس بیماری میں مجھے شفا عطا فرما۔

پس خدا کے حکم سے شفا پاؤ گے۔(طب الآئمہ علیہم السلام: ۴۱) ۔

۴۸ ۔ بخار کے درد کیلئے آنحضرت کی دعا

حسن بن علی وشا سے روایت ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا: تیرا چہرہ زرد کیوں ہے؟ میں نے کہا: سخت بخار میں مبتلا ہوں۔ آپ نے کاغذ اور دوات طلب کی اور لکھا:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ابجد ھوّز، حُطّی فلاں بن فلاں سے۔

اس کے بعد آپ نے دھاگا منگوایا۔ دھاگا لایا گیا۔ آپ نے خشک دھاگا طلب کیا۔ خشک دھاگا لیا گیا۔ پھرآپ نے اُسے درمیان سے گرہ دی ۔ دائیں طرف چار گرہیں دیں اور باقی طرف تین گرہیں دیں۔ ہر گرہ پر سورة حمد، سورة الناس، سورة الفلق اور آیة الکرسی پڑھی۔ پھر وہ دھاگا مجھے دیا اور فرمایا: اس کو اپنے دائیں بازو پر باندھ لے، بائیں پر نہ باندھنا۔(مفید، اختصاص: ۱۸ ، بحار:ج ۵۹ ،ص ۱۶ ،مستدرک:ج ۲ ،ص ۹۱) ۔

۴۹ ۔ بخار کے درد کیلئے آنحضرت کی دعا

کفعمی کہتا ہے کہ آنحضرت کے دست مبارک سے لکھا ہوا ملا کہ بخار کیلئے تین ورق پر لکھا جائے۔ پہلے ورق پر لکھا جائے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ خوف نہ کر بے شک تو بلند ہوگا۔

دوسرے کاغذ کے ٹکڑے پر بسم اللہ کے بعد لکھا جائے:

خوف نہ کر، ظلم کرنے والوں سے نجات پائے گا۔

تیسرے کاغذ کے ٹکڑے پر بسم اللہ کے بعد لکھا جائے:

آگاہ رہو امر اور خلق اُس کے لئے ہے۔ بابرکت ہے خدا جو جہان کا پالنے والا ہے۔

اس کے بعد کاغذ کے ہر ٹکڑے پر سورة توحید پڑھے اور بخار والا ہر روز ایک ٹکڑا منہ میں رکھے۔ انشا ء اللہ شفا پائیگا۔(کفعمی، مصباحش: ۱۶۲) ۔

۵۰ ۔ ثالول کی بیماری کیلئے آنحضرت کی دعا۔

(ثالول یعنی بدن پر سرخ داغ بن جانا)

علی بن نعمان کہتا ہے کہ امام علیہ السلام سے عرض کی: میرے بدن پر بہت سے سرخ دھبے پڑ چکے ہیں اور مجھے تکلیف دیتے ہیں۔ آپ سے چاہتا ہوں کہ کوئی ایسی چیز مجھے یاد دلائیں جس سے فائدہ حاصل ہو۔ امام علیہ السلام نے فرمایا:

ہر ثالول کیلئے سات دانے جو کے لے لو۔ ہر جو پر سورة واقعہ کو آیت نمبر ۵ تک پڑھو، پھر یہ آیت پڑھو:"تجھ سے پہاڑوں کے بارے سوال کرتے ہیں ، ان سے کہہ دو میرا رب ان کو قیامت کے دن ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔ پھر زمین کو چٹیل میدان بنا دیگا جس میں کسی طرح کی کجی یا ناہمواری نہ دیکھو گے"۔

پھر جو کے دانوں کو ایک ایک کرکے پکڑو اور ہر دھبے پر مس کرو۔ پس ان کو ایک نئے کپڑے میں رکھو ۔ ایک پتھر اس میں رکھ کر ایک پانی کے گڑھے میں پھینک دو۔(عیون الاخبار:ج ۲ ،ص ۵۰) ۔

۵۱ ۔ آنحضرت کی دعا ثالول کی بیماری کیلئے

آنحضرت سے نقل ہے کہ سب سے پہلا ستارہ جو رات کو نکلے، اُس کی طرف نگاہ کرو۔ لیکن تیز نگاہ نہ کرو اور تھوڑی سی مٹی اٹھاؤ۔ اپنے بدن پر ملتے ہوئے یہ کہو: خدا کے نام کے ساتھ اور اُس کی مدد کے ساتھ۔ مجھے دیکھتے ہو اور تجھے نہیں دیکھتا۔ چشم اندازی بُری چیز ہے۔ خدا تیرے اثر کو مخفی رکھے گا۔میرے ثالول کو اپنے ساتھ نابود کردے۔(طبرسی، مکارم الاخلاق:ج ۲ ، ص ۲۸۱ ، بحار:ج ۹۵ ، ص ۹۹) ۔

۵۲ ۔ خنازیر کیلئے آنحضرت کی دعا(خنازیر یعنی بدن میں غدود کا ہونا)

اے رؤوف، اے مہربان، اے پروردگار، اے مولیٰ!(کافی:ج ۲ ،ص ۵۶۱) ۔

۵۳ ۔ سل کی بیماری کیلئے آنحضرت کی دعا

آنحضرت سے روایت ہے کہ یہ تعویذ ہمارے شیعوں کیلئے ہے۔ سل سے بچنے کیلئے تین بار کہو:

اے خدا، اے رب الارباب، اے آقاؤں کے آقا، اے معبودوں کے معبود۔ اے حکمرانوں کے حکمران، اے زمینوں اور آسمانوں کے پیدا کرنے والے!

مجھے شفا دے اور اس مرض سے عافیت عطا فرما۔ میں تیرا بندہ اور تیرے بندے کا بندہ ہوں۔ میں تیرے قبضہ قدرت میں ہوں۔ میری جان تیرے ہاتھ میں ہے۔(طب الآئمہ علیہم السلام: ۹۸) ۔

۵۴ ۔ دردِ شقیقہ کیلئے آنحضرت کی دعا

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔اے پروردگار! ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد منحرف نہ فرما۔ اپنی رحمت ہمارے شاملِ حال فرما۔بے شک تو بخشنے والا ہے۔ اے پروردگار! تو لوگوں کو اُس دن محشور فرمائے گا جس دن میں کوئی شک نہیں ہے۔ بے شک خدا اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ اور لکھے :

اے خدا! بے شک تو ایسا پروردگار نہیں ہے جس سے بات کرسکوں اور ایسا پروردگار نہیں ہے جس کی یاد ختم ہوجائے۔ تیرا کوئی شریک بھی نہیں ہے جو تیرے ساتھ حکم کرے۔ تجھ سے پہلے کوئی معبود نہیں ہے کہ ہم اُسے پکاریں اور اُس کی پناہ لیں۔ اُس کی بارگاہ میں تضرع کریں اور تجھے چھوڑ دیں۔ کوئی بھی تیری خلقت میں تیری مدد کرنے والا نہیں ہے تاکہ تجھ میں شک کریں۔ تیرے سو اکوئی معبود نہیں ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ فلاں کے بیٹے فلاں کو سلامتی عطا فرما۔ محمد و آلِ محمد پر درود بھیج۔

۵۵ ۔ آنحضرت کی دعا حاملہ عورتوں کیلئے انسانوں اور حیوانوں کے مقابلہ میں

آنحضرت سے روایت ہے کہ یہ تعویذ کاغذ یا چمڑے میں لکھا جائے۔ یہ حاملہ عورتوں کیلئے انسانوں اور حیوانوں کے مقابلہ کیلئے ہے۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اللہ کے نام کے ساتھ۔ اللہ کے نام کے ساتھ۔ اللہ کے نام کے ساتھ۔ ہر سخی کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک ہر سخی کے ساتھ آسانی ہے۔ خدا تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے نہ کہ سختی تاکہ تمہاری عمر مکمل ہو۔ تم خدا کی تکبیر بیان کرو ، اس لئے کہ اُس نے تمہاری ہدایت کی۔ شاید کہ تم شکرگزار ہوجاؤ۔

جب تجھ سے میرے بندے میرے بارے میں سوال کرتے ہیں تو میں قریب ہوں اور ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں۔ پس وہ مجھ سے طلب کریں اور مجھ پر ایمان لائیں۔ شاید راہِ ہدایت پا سکیں۔ تمہارے کاموں میں تمہارے لئے آسانی پیدا کرنا ہے ۔ تمہارے لئے تمہارے کاموں میں راہِ ہدایت پیدا کرنا ہے۔ نیت صرف خدا کیلئے ہونی چاہئے۔ ان میں سے کچھ انحراف کی طرف جانے والے ہیں۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو ہدایت دے تو راہِ ہدایت کو آسان کر دے گا۔

کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے۔ ہم نے ان کو پھاڑا اور تمام چیزوں کو پانی سے ہم نے زندہ کیا۔ وہ ایمان نہیں رکھتے۔ ایک دور مکان کی طرف گئی اور دردِ زہ نے اُسے کھجور کے درخت کی طرف کھینچا۔ اُس نے کہا: اے کاش میں مر گئی ہوتی اور میں بھولی بسری ہوگئی ہوتی۔

پس اُس درخت کے نیچے اُسے آواز دی کہ ڈرو نہیں۔ خدا نے تیرے نیچے چشمہ قرار دیا ہے۔کھجور کے درخت کو ہلا، تازہ کھجوریں نیچے گریں گی۔ پس کھا اور پی۔ تیری آنکھیں روشن ہوں گی۔ پس کسی انسان کو دیکھو تو اُس سے کہو میں نے نذر کی ہے کہ روزہ رکھوں اور آج کسی سے کلام نہ کروں۔

اُس کے رشتہ دار آئے تاکہ اُس کو لے جائیں۔ انہوں نے کہا: اے مریم ! تو نے بہت بُرا کام کیا ہے۔ اے ہارون کی بہن! تیرا باپ بُرا نہ تھا اور تیری ماں زناکار نہ تھی۔ اُس نے اپنے بیٹے کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا: ہم کس طرح اس بچے سے کلام کریں جو ابھی پنگھوڑے میں ہے۔

اُس نے کہا: میں خدا کا بندہ ہوں۔ اُس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔میں جہاں بھی ہوں، برکت میرے ساتھ ہے۔ مجھے مرنے تک نماز روزہ اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے کی سفارش کی ہے۔ مجھے ظالم اور قسی القلب نہیں بنایا۔ مجھ پر سلام اُس دن جب میں پیدا ہوا، جب میں مروں گا، اور جب میں اٹھایا جاؤں گا، یہ عیسیٰ بن مریم ہے۔

خدا تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے بطنوں سے پیدا کرتا ہے۔ اس حال میں کہ تم کوئی چیز نہیں جانتے۔ تمہارے لئے کان ،آنکھیں اور دل بنایا۔ شاید کہ تم شکر گزار ہوجاؤ۔ کے اُن پرندوں کی طرف نہیں دیکھتے جو آسمانوں میں اڑتے پھرتے ہیں کہ سوائے خدا کے ان کو کوئی بھی وہاں نہیں روک سکتا۔ ان چیزوں میں اہلِ ایمان کیلئے نشانیاں ہیں۔ اس طرح اے بچے خدا کے حکم سے صحیح و سالم باہر نکل آ۔

پھر اس کو حاملہ عورت کے ساتھ لٹکا دو اور بچہ جننے کے بعد اس کو اتار لو۔ خیال رکھو کہ آیت کو مکمل لکھو اور اسے ناتمام لکھنے سے بچو۔ مرادیہ آیت ہے:

"اور خدا تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے بطنوں سے پیدا کرتا ہے۔ اس حال میں کہ تم کچھ نہیں جانتے"۔

اگر اس جگہ رک جاؤ گے تو بچہ گونگا پیدا ہوگا اور اگر اس حصہ کو نہ پڑھو:

"اور تمہارے لئے اُس نے کان، آنکھیں اور دل بنایا تاکہ تم شکر گزار ہوجاؤ"

تو بچہ سالم پیدا نہ ہوگا۔(طب الآئمہ علیہم السلام: ۹۸) ۔

۵۶ ۔ جادو کے دور کرنے کیلئے آنحضرت کی دعا

محمد بن عیسیٰ سے روایت ہوئی ہے کہ کہتا ہے: میں نے آنحضرت سے جادو کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایاکہ وہ حق ہے اور خدا کے حکم سے نقصان پہنچاتا ہے۔ جب بھی کوئی جادو تجھ پر ہوجائے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے چہرے تک بلند کرو اور اُن پریہ پڑھو:

عظیم خدا کے نام کے ساتھ۔ پروردگارِ عرشِ عظیم کے نام کے ساتھ۔ سوائے یہ کہ تو جلد جائے او ر نابو دہوجائے۔(طبرسی، مکارم الاخلاق:ج ۲ ،ص ۲۸۶) ۔

۵۷ ۔ بچھو اور سانپ کو دور کرنے کیلئے آنحضرت کی دعا

روایت ہے کہ آنحضرت جب بھی سات ستاروں کے درمیان ایک چھوٹے ستارے جس نام "سھی" ہے، دیکھتے تو فرماتے:

اے اللہ!اے پروردگار ہود بن اُسیہ! مجھے بچھو اور سانپ کے شر سے محفوظ فرمااور فرماتے:جو کوئی بھی اس دعا کو تین مرتبہ اس وقت پڑھے جب اُس ستارہ کی طرف بھی دیکھے توبچھو اور سانپ اُسے نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ (طبرسی، مکارم الاخلاق:ج ۲ ،ص ۴۸ ، بحار:ج ۹۵ ،ص ۱۴۵) ۔

۵۸ ۔ آنحضرت کی دعا گمشدہ کے لوٹانے میں

روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: جب بھی کوئی حیوان یا مال و متاع تمہارا گم ہوجائے تو آیت"وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ " کو پڑھیں۔بقولے "فِی کِتٰابٍ مُبِین " تک پڑھیں۔پھر کہیں:

اے پروردگار! تو گمراہی سے ہدایت کرتاہے اور اندھے پن سے نجات دیتا ہے۔ گمشدہ کو واپس کرتا ہے۔ محمد و آلِ محمد پر درود بھیج اور مجھے بخش دے اور میرے گمشدہ کو واپس لوٹا دے۔(طبرسی ، مکارم الاخلاق:ج ۲ ، ص ۲۳۲ ، بحار:ج ۹۵ ،ص ۱۲۳ ،)۔


آٹھواں باب

۸ ۔ دنوں اور مہینوں کے متعلق آنحضرت کی دعا

شعبان کے مہینے کے آخر میں۔

رمضان کے مہینے کے چاند کے نکلنے کے وقت۔

افطار کے بعد۔

عیدالفطر کے دن۔

عید الفطر اور قربان کے دن۔

نمازِ عید سے پہلے۔

عرفہ کے دن۔

۵۹ ۔ شعبان کے مہینے کے آخر میں آنحضرت کی دعا

عبدالسلام بن صالح ہروی سے نقل ہے ، کہتا ہے کہ میں شعبان کے مہینے کے آخر میں جمعہ کے دن آنحضرت کے پاس پہنچا۔ آپ نے فرمایا: اے ابا صلت! شعبان کا مہینہ زیادہ تر گزر چکا ہے۔ یہ اُس کا آخر ی جمعہ ہے۔ اس مہینے کے باقی دنوں میں اپنی کوتاہیوں کا تدارک کرو، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا:

اس مہینے کے باقی دنوں میں بہت زیادہ کہو:

اے خدا! اگر اس مہینے کے گزرے ہوئے دنوں میں مجھے نہیں بخشاتو اس کے باقی دنوں میں مجھے بخش دے۔(عیون الاخبار:ج ۲ ،ص ۵۱) ۔

۶۰ ۔ رمضان کے مہینے کے چاند کے نکلنے کے وقت آنحضرت کی دعا

آنحضرت سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:

اے میرے شیعو! جب رمضان کے مہینے میں چاند نکلے تو اُس کی طرف ہاتھ کے ساتھ اشارہ نہ کروبلکہ قبلہ کی طرف منہ کرکے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرو۔ چاند کو مخاطب کرکے کہو: ہمارا اور تیرا رب اللہ ہے جو عالمین کا پالنے والا ہے۔ اے اللہ! اس چاندکو ہمارے لئے مبارک چاند قرار دے۔ ہمیں رمضان کے مہینے کے روزے رکھنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں اس مہینے میں آرام و آسائش اور سلامتی عطا فرما۔ گناہوں سے دور فرما۔ اپنی اطاعت کے ساتھ مشغول فرما۔ بے شک تو ہر کام پر قدرت اور طاقت رکھنے والا ہے۔(فضائل الاشہر الثلاثہ: ۹۹) ۔

۶۱ ۔ افطار کے بعد آنحضرت کی دعا

اے اللہ! تیری توفیق کے ساتھ تیرا روزہ رکھا۔ تیرے حکم کے ساتھ اور تیرے رزق کے ساتھ افطار کروں گا۔ اس کو ہم سے قبول فرمااور ہمیں بخش دے۔ بے شک تو بخشنے والا اور مہربان ہے۔(فضائل الاشہر الثلاثہ: ۹۶ و ۱۰۹) ۔

۶۲ ۔ نمازِ عید سے پہلے آنحضرت کی دعا

اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر۔ اس پر کہ اُس نے ہمیں ہدایت دی۔ اللہ اکبر، اس لئے کہ اُس نے ہمیں حیوانوں کے گوشت سے روزی دی ہے اور تعریف خاص اُس کیلئے ہے کہ اُس نے ہمیں آزمایا ہے۔(عیون الاخبار:ج ۲ ،ص ۱۵۰) ۔

۶۳ ۔ عید الفطر کے دن آنحضرت کی دعا

روایت ہے کہ ایک عید کے دن مامون نے کہا کہ آپ نمازِ عید پڑھائیں۔ امام علیہ السلام اس حال میں کہ بدن پر سفید لباس اور سر پر سفید کرباس کا ٹکڑا تھا، نماز کیلئے باہر تشریف لائے۔ اس حال میں کہ آپ نماز کی صفوں کے درمیان چل رہے تھے اور فرمارہے تھے: اے خدا! مجھ پر اور میرے باپ دادا، آدم اور نوح پر درود بھیج۔ اے اللہ! مجھ پر اور میرے باپ دادا ابراہیم اور اسماعیل پر درود بھیج۔ اے خدا! مجھ پر اور میرے باپ دادا محمد اور علی پر درود بھیج۔

ایک اور روایت میں آیا ہے:

میرے باپ دادا آدم اور نوح پر سلام۔ میرے باپ دادا ابراہیم اور اسماعیل پر سلام۔ میرے باپ دادا محمد و علی پر سلام۔ خدا کے نیک بندوں پر سلام۔(کتاب الانباء فی تاریخ الخلفاء: ۶۰ ، عوالم العلوم:ج ۲۲ ،ص ۲۷۲) ۔

۶۴ ۔ فطر اور قربان کے دن آنحضرت کی دعا

روایت ہے کہ آنحضرت نے عیدالفطر کے دن اپنے ایک چاہنے والے کیلئے دعا کی اور فرمایا: اے فلاں! خدا تعالیٰ تجھ سے اور ہم سے قبول فرمائے۔

وہ دن چلا گیا او ر عید قربان کا دن آگیا۔ امام علیہ السلام نے اُس سے فرمایا: اے فلاں ! خداہم سے اور آپ سے قبول فرمائے۔

کہتا ہے کہ میں نے آنحضرت سے عرض کیا کہ اے فرزند رسول! عید الفطر کے دن آپ نے کچھ اور طرح سے فرمایا تھا اور آج اُس کو تبدیل کردیا ہے؟

آپ نے فرمایا: ہاں، عیدالفطر کے دن میں نے اُس سے کہا تھا کہ تجھ سے اور ہم سے قبول فرمائے کیونکہ وہ میری طرح اعمال انجام دے چکا تھا۔ میں اور وہ عمل میں ایک جیسے تھے اور عید قربان کے دن میں نے اُس سے کہا کہ ہم سے اور تجھ سے قبول فرمائے کیونکہ ہم قربانی کرنے پر طاقت رکھتے ہیں اور وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ اس کا اور ہمارا کام فرق رکھتا ہے۔(کافی:ج ۴ ،ص ۱۸۱) ۔

۶۵ ۔ عرفہ کے دن آنحضرت کی دعا

اے خدا! جیسا کہ مجھ پر وہ چیز چھپائی ہے جسے میں نہیں جانتا، اسی طرح میری وہ چیز بخش دے جسے تو جانتا ہے۔ جس طرح تیرا علم مجھے گھیرے ہوئے ہے، اسی طرح اپنی بخشش بھی میرے شاملِ حال فرما۔ جس طرح میرے حق میں احسان کے ساتھ آغاز کیا ہے، اسی طرح اپنی نعمت کا بخشش کے ساتھ اختتام فرما۔جس طرح تو نے اپنی معرفت کے ساتھ مجھے عزت بخشی ہے، اسی طرح اپنی مغفرت کو اس کے ساتھ ملادے۔ جس طرح تو نے اپنی وحدانیت کے ساتھ مجھے آشنا کیا ہے، اسی طرح اپنی طاقت کے ساتھ مجھے عزت عطا فرما۔ جس طرح تو نے مجھے اُس چیز کے دور کرنے کی قدرت عطا فرمائی ہے جس کو سوائے تیرے اور کوئی دور نہیں کر سکتا تھا، اسی طرح دور رکھنے کی قدرت عطا فرما۔ اس چیز کو جس کو تو دور رکھنے پر قادر ہے، اے بخشنے والے، اے کریم، اے جلال اور عزت والے۔(سیددراقبال: ۳۳۹ ،بحار:ج ۹۸ ،ص ۲۱۹) ۔


نواں باب

۹ ۔ آدابِ سفر میں آنحضرت کی دعائیں

گھر سے نکلتے وقت۔

گھر سے نکلتے وقت۔

سواری پر سوار ہوتے وقت۔

خشکی میں سفر اور سواری پر سوار ہوتے وقت۔

کشتی پر سوار ہوتے وقت۔

۶۶ ۔ گھر سے نکلتے و قت آنحضرت کی دعا

خدا کے نام کے ساتھ ۔ خدا پر ایمان لایا ہوں اور اُس پر توکل کرتاہوں۔ طاقت و قوت اُس کے ارادہ کے سوا نہیں ہے۔(قرب الاسناد: ۲۱۹) ۔

۶۷ ۔ گھر سے نکلتے و قت آنحضرت کی دعا

خدا کے نام کے ساتھ باہر نکلا ہوں اور خدا کے نام کے ساتھ داخل ہوں گا ۔اُس پر توکل کرتا ہوں۔ طاقت اور قوت عظیم خدا کے ارادہ کے بغیر نہیں ہے۔(محاسنش: ۱۵۱) ۔

۶۸ ۔ سواری پر سوار ہوتے و قت آنحضرت کی دعا

آنحضرت سے روایت ہے کہ جوکوئی سواری پر سوار ہوتے وقت یہ کہے: خدا کے نام کے ساتھ، خدا کے ارادہ کے سوا طاقت نہیں ہے۔ تعریف ہے اُس خدا کی جس نے اس وسیلہ کو ہمارے لئے مسخر کیا اور ہم اس پر قادر نہ تھے۔

وہ شخص اور اُس کی سواری جب تک اُس سے نیچے نہ اترے گا، حفاظت اور امن میں رہے گا۔(طبرسی، مکارم الاخلاق:ج ۱ ،ص ۵۲۹) ۔

۶۹ ۔ خشکی میں سفر کرنے اور سواری پر سوار ہوتے و قت آنحضرت کی دعا

علی بن سباط سے روایت ہے کہ میں مال و متاع مکہ لے جایا کرتا تھا۔ کسی مشکل میں پھنس گیا۔ اپنے متاع کے ساتھ مدینہ گیا اور آنحضرت کے پاس آیا اور کہاکہ میں نے مال و متاع کو حمل کیا اور مشکل میں پھنس گیا ہوں۔ مصر جانا چاہتا ہوں۔ دریا کے راستے جاؤں یا خشکی کے راستے سے۔ یہاں تک کہ آپ نے فرمایا:پیغمبر کی قبر کے پاس جاؤ ، دو رکعت نماز پڑھو، سو مرتبہ خدا سے خیر کو طلب کرو اور جو تمہارے ذہن میں ارادہ ہو، اُس کو انجام دو۔ اگر خشکی کے راستے سے جاؤ تو کہو:

تعریف ہے اُس خدا کی جس نے اس وسیلہ کو ہمارے لئے مسخر فرمایا۔ ہم اس پر قدرت نہ رکھتے تھے۔ ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ ایک سو ایک مرتبہ خیر کو طلب کرو اور کہو : پاک و پاکیزہ ہے وہ پروردگار جس نے اس وسیلہ کو ہمارے لئے مسخر کیا ہے۔ ہم اس پر قادر نہ تھے۔ ہم اپنے رب کی طرف منہ کرنے والے ہیں۔(کافی:ج ۵ ،ص ۳۵۶) ۔

۷۰ ۔ کشتی پر سوار ہوتے و قت آنحضرت کی دعا

علی بن سباط کی روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا: اگر دریا کا سفر کرو تو جب کشتی پر بیٹھو تو یہ کہو:

خدا کے نام کے ساتھ جو اس کو جاری کرنے والا ہے اور اس کو محکم و مضبوط کرنے والا ہے۔ بے شک خدا بخشنے والا اور مہربان ہے۔

جب دریا میں موجیں حرکت کرنے لگیں تو اپنے بائیں طرف ٹیک لگا کر اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ موجوں کی طرف اشارہ کرکے کہو:

خدا کے سکون کے ساتھ ساکن اور اُس کے آرام کے ساتھ آرام کر۔ عظیم اور بلند تر خدا کے ارادہ کے سوا نہ قوت ہے نہ طاقت۔(کافی:ج ۵ ،ص ۲۵۶) ۔


دسواں باب

۱۰ ۔ مختلف امور کے متعلق آنحضرت کی دعائیں

خدا کی نعمتوں کے شکر میں۔

حلال روزی کے طلب کرنے میں۔

امن او رایمان کے لئے۔

ہدایت اور اُس پر باقی رہنے کے لئے۔

خد اکی تعریف میں اس وجہ سے جو کچھ اُس نے انہیں دیا ہے۔

سلامتی کے طلب کرنے میں۔

مسجد الحرام سے نکلتے وقت۔

مسجد الحرام سے نکلتے وقت۔

ایک گروہ کے ساتھ مناظرہ کرنے کے بعد۔

اپنے بھائیوں کے لئے۔

مذہب شیعہ کی طرف کسی شخص کی ہدایت کیلئے۔

اُس وقت جب مامون نے آپ کو خلافت قبو ل کرنے کیلئے ڈرایا۔

خلافت قبول کرتے وقت۔

اپنی شہادت سے پہلے۔

۷۱ ۔ خدا کی نعمتوں پر شکر کرنے میں آنحضرت کی دعا

آنحضرت سے منقول ہے کہ جب خدا اپنے بندے کو کوئی نعمت عطا فرمائے تو اُس کا شکر یہ ہے کہ کہے:

پاک و پاکیزہ ہے وہ خدا کہ جس نے اس چیز کو ہمارے لئے مسخر کیا ہے ۔ ہم اس پر قادر نہ تھے۔ ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں اور تمام تعریفیں عالمین کے رب کیلئے ہیں۔(شیخ،تہذیب:ج ۲ ،ص ۱۰۹) ۔

۷۲ ۔ رزق حلال طلب کرنے کیلئے آنحضرت کی دعا

احمد بن محمد بن ابی نصر روایت کرتا ہے کہ آنحضرت سے عرض کی کہ میں آپ پر فد اہو جاؤں۔ خدا سے میرے لئے رزقِ حلال طلب فرمائیے۔ یہاں تک کہ اُس نے کہا، امام علیہ السلام نے فرمایا کہو:

تجھ سے وسیع رزق کا طلبگار ہوں۔(کافی:ج ۲ ،ص ۵۵۲)

۷۳ ۔ امن و امان کے طلب کرنے کیلئے آنحضرت کی دعا

یونس سے روایت ہے ، کہتا ہے کہ: میں نے امام علیہ السلام سے عرض کیا کہ کوئی مختصر سی دعا مجھے سکھائیے۔ آپ نے فرمایا: کہو، اے وہ ذات جس نے خود میری رہنمائی کی اور میرے دل کو اپنی تصدیق کیلئے آمادہ کیا۔ تجھ سے دنیا اور آخرت میں امن و ایمان کا طلبگار ہوں۔(کافی:ج ۲ ،ص ۵۷۹) ۔

۷۴ ۔ طلبِ ہدایت اور اُس پر باقی رہنے کے متعلق آنحضرت کی دعا

اے خدا! مجھے ہدایت فرما اور سکون کے ساتھ اُس پر ثابت قدم فرما۔ امن اُس قسم کا جس پر نہ خوف ہے ، نہ حزن ہے اور نہ اضطراب۔ بے شک تو اہلِ تقویٰ اور اہلِ مغفرت ہے۔(قصص الانبیاء: ۳۶۳) ۔

۷۵ ۔ طلبِ سلامتی کیلئے آنحضرت کی دعا

خدایا! اے صاحبِ عافیت اور عافیت کے عطا کرنے والے، نعمت عافیت دینے والے!عافیت کے ساتھ احسان کرنے والے، مجھ پر اور اپنی تمام مخلوق پر عافیت کے ذریعے فضل کرنے والے۔ اے دنیا اور آخرت میں مہربانی کرنے والے، محمد وآلِ محمدپر درود بھیج۔ ہم پر دنیا اور آخرت میں عافیت و سلامتی اور مکمل عافیت اور اُس پر شکر عطا فرما۔ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔(عیون الاخبار:ج ۲ ،ص ۱۶) ۔

۷۶ ۔ نعمت کے شکر میںآ نحضرت کی دعا

تمام تعریفیں اُس خد اکیلئے ہیں جس نے ہمارے لئے وہ محفوظ کیا جس کو لوگوں نے ضائع کردیا۔ ہم سے اُس کو بلند کیا جس کو انہوں نے ترک کردیا تھا۔ یہاں تک کہ اسی( ۸۰) سال تک منبروں پر ہم پر لعنت کی گئی اور ہمارے فضائل کو چھپایا گیا۔ ہم پر جھوٹ باندھنے کیلئے بہت بڑی دولت خرچ کی گئی۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہماری یاد بلند تر اور ہمارے فضائل روشن تر ہوں۔ خدا کی قسم! یہ ہمارے لئے نہیں ہے بلکہ یہ پیغمبر کی عظمت اور اُن کے ساتھ ہماری قرابت کی وجہ سے ہے۔ یہاں تک کہ ہمارا امر اور جو اُس سے روایت کرتے ہیں کہ ہمارے بعد واقع ہوگا، وہ عظیم ترین آیات اور اُس کی نبوت کی نشانیاں ہیں۔(عیون الاخبار:ج ۲ ،ص ۱۶۴) ۔

۷۷ ۔ مسجد الحرام سے نکلتے و قت آنحضرت کی دعا

ابراہیم بن ابی محمود کہتا ہے کہ آنحضرت کو دیکھا کہ آپ خدا کے گھر کو الوداع کر رہے تھے اور جب مسجد کے دروازے سے باہر نکلنے لگے تو سجدہ کیا، پھر قبلہ کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوگئے اور فرمایا: اے اللہ! میں اس عقیدہ کے ساتھ واپس لوٹ رہا ہوں کہ تیرے سواکوئی معبود نہیں ہے۔(عیون الاخبار:ج ۲ ،ص ۱۸) ۔

۷۸ ۔ مسجد الحرام سے نکلتے و قت آنحضرت کی دعا

موسیٰ بن سلام کہتا ہے کہ امام رضا علیہ السلام نے اعمالِ عمرہ کو انجام دیا۔جب خدا کے گھر کا الوداع کیا اور حناطین دروازے پر پہنچے، یہاں تک کہ کہتا ہے کہ جب دروازے کے پاس پہنچے تو فرمایا:

اے اللہ! میں اس عقیدہ کے ساتھ تیرے گھر سے نکل رہا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔

(عیون الاخبار:ج ۲ ،ص ۱۷) ۔

۷۹ ۔ ایک گروہ کے ساتھ مناظرہ کرنے کے بعد آنحضرت کی دعا

روایت ہے کہ مامون نے اہلِ حدیث، علم کلام والے اور دوسرے چند گروہوں کو حکم دیا کہ امام علیہ السلام کے ساتھ مناظرہ کریں۔ یہاں تک کہ ان کی بحثوں کو ذکر کیا ۔ پھر کہا کہ مباحثہ کے بعد امام رضا علیہ السلام نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور ہاتھوں کو بلند کرکے فرمایا:

اے خدا! میں نے ان کی خیر خواہی چاہی ہے۔ اے اللہ! میں نے ان کی رہنمائی کی ہے۔ خدایا! جو کچھ مجھ پر لازم تھا، میں نے ادا کردیا ہے۔ خدایا!میں نے ان کو شک و شبہ میں نہیں رکھا۔ خدایا! میں نے تیرے پیغمبر کے بعد علی علیہ السلام کو مقدم کرنے کے ساتھ تیرا قرب حاصل کیا ہے۔جیسے کہ تیرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں یہی حکم دیا ہے۔(عیون الاخبار:ج ۲ ،ص ۱۸۵) ۔

۸۰ ۔ اپنے بھائیوں کیلئے آنحضرت کی دعا

اے پروردگار! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے ان کی اصلاح اور مصلحت کو چاہا ہے اور ان کے ساتھ نیکی کرنے والا ہوں۔ان کا دوست ہوں۔ تو دن رات ان کے کاموں کی

ترقی میں میری مدد فرما۔ اس کے مقابلہ میں مجھے اجر عطا فرما۔ اگر ان موارد کے علاوہ ہوں اور تو پوشیدہ چیزوں کو جاننے والا ہے۔ جو چیز میرے لائق ہے، مجھے عطا فرما۔ اگر شر ہو تو شر اور اگر خیر ہو تو خیر۔

اے اللہ! ان کی اصلاح فرما اور ان کیلئے خیر و صلاح مقدر فرما۔ ہم سے اور ان سے شر شیطان کو دور فرما۔ اپنی اطاعت پر ان کی مدد فرما۔ اپنی ہدایت کیلئے ان کو کامیاب فرما۔ (کافی:ج ۱ ،ص ۳۱۶) ۔

۸۱ ۔ آنحضرت کی دعا ایک شخص کو مذہبِ شیعہ کی طرف ہدایت کیلئے

یزید بن اسحاق شعر کہتا ہے کہ ایک مرتبہ میرا بھائی جو شیعہ تھا، میرے ساتھ بحث کرنے لگا۔ جب بحث لمبی ہوئی تو میں نے کہا کہ اگر تیرے مولا کا اتنا ہی مقام ہے جس کا توقائل ہے تو اُس سے کہو کہ دعا کرے اور خدا سے چاہے کہ تمہارے دین پر آجاؤں۔

کہتا ہے کہ محمد نے مجھ سے کہا۔ میں امام علیہ السلام کے پاس گیااور کہا کہ آپ پر قربان ہوجاؤں۔ میرا ایک بھائی ہے جس کی عمر مجھ سے زیادہ ہے۔ اُس کا عقیدہ ہے کہ آپ کے والد بزرگوار ابھی تک زندہ ہیں۔ میں نے اُس کے ساتھ بڑی بحث کی ہے۔ ایک دن اُس نے مجھ سے کہا کہ اگر تیرے مولیٰ کا یہی مقام ہے جس کا تو دعویٰ کرتا ہے تو اُس سے کہہ کہ خدا سے دعا کریں کہ تیرے دین کی طرف آجاؤں۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ چیز خدا سے طلب فرمائیں۔

کہتا ہے کہ امام علیہ السلام قبلہ کی طرف ہوئے اور پھر کچھ ذکر کیا اور پھر کہا:

اے اللہ! اُس کے کان، آنکھ اور دل کو اختیار میں لے لے اور اُسے راہِ حق کی طرف لوٹا دے۔

کہتا ہے کہ جب امام علیہ السلام نے اپنا دایاں ہاتھ بلند کیا ہوا تھا تو یہ کہہ رہے تھے۔ یزید کہتا ہے کہ جب میرا بھائی امام علیہ السلام کے پاس سے واپس آیا تو مجھے اس واقعہ سے آگاہ کیا۔ خدا کی قسم! کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ میں مذہب حق(شیعہ) کی طرف آگیا۔(رجالش: ۶۰۵) ۔

۸۲ ۔ آنحضرت کی دعا اُس وقت جب مامون نے آنحضرت کو خلافت کے قبول کرنے پر ڈرایا

اے خدا! تو نے مجھے اس بات سے منع کیا ہے کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالوں اور ولی عہدی کو قبول نہ کروں۔ مامون کی طرف سے دھمکی ملی ہے اور مجبور کیا گیا ہوں تو ایسے ہی یوسف اور دانیال بھی مجبور کئے گئے تھے کیونکہ انہوں نے اپنے زمانے کے طاغوت کی ولایت کو قبول کیا تھا۔

اے اللہ! فقط تیرا عہدوپیمان محکم ہے اور ولایت صرف تیری طرف سے معتبر ہے۔ پس مجھے تیرے دین کو قائم کرنے اور تیرے نبی کی سنت کو محفوظ رکھنے میں موفق فرما۔ بے شک تو مولیٰ اور مدد کرنے والا ہے، تو بہترین مولیٰ اور بہترین مدد کرنے والا ہے۔(عیون الاخبار:ج ۱ ،ص ۱۹) ۔

۸۳ ۔ خلافت کے قبول کرتے و قت آنحضرت کی دعا

یاسر خادم سے روایت ہے کہ جب آنحضرت نے ولی عہدی کو قبول کرلیا تو میں نے اس دعاکو پڑھتے ہوئے سنا، اس حال میں کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کئے ہوئے تھے:

اے پروردگار! تو جانتا ہے کہ میں نے مجبوراً اور کراہت سے اس کو قبول کیا ہے۔پس میرا مو اخذہ نہ کرنا جیسے کہ تیرے بندے اور تیرے پیغمبر یوسف نے ولایت مصر کو قبول کیا اور تو نے اُس کا مو اخذہ نہ کیا۔(صدوق، امالی: ۵۲۵) ۔

۸۴ ۔ شہادت سے پہلے آنحضرت کی دعا

یاسر خادم سے روایت ہے کہ جمعہ کے دن جب امام رضا علیہ السلام مسجد سے واپس لوٹے ، اس حال میں کہ چہرے پر پسینہ اور گردوغبار پڑا ہوا تھا۔ اپنے ہاتھوں کو بلند کرکے یہ فرما رہے تھے:

اے خدا! اگر اس حال سے میرے کام میں آسانی میری موت کے ساتھ آ سکتی ہے تو اسی وقت مجھے موت عطا فرما۔

آنحضرت ہمیشہ مغموم اور ناراحت رہتے تھے، یہاں تک کہ خدا سے ملاقات کی۔(عیون الاخبار،بحار:ج ۴۹ ،ص ۱۴۰) ۔


گیارہواں باب

۱۱ ۔ زیارات میں آنحضرت کی دعائیں

پیغمبر پر سلام میں۔

پیغمبر پر اُن کی قبر کے پاس سلام میں۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور باقی آئمہ علیہم السلام کی زیارت میں۔

اپنی بہن حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت میں۔

تربت امام حسین علیہ السلام کی تسبیح کو ہلاتے وقت۔

۸۵ ۔ پیغمبر پر سلام کے متعلق آنحضرت کی دعا

اے پروردگار! محمد اور اُن کی آل پر اوّلین میں سے درود بھیج۔ محمد وآلِ محمد پرآنے والوں میں سے درود بھیج۔محمد وآلِ محمد پر ملائے اعلیٰ میں درود بھیج۔ محمد وآلِ محمد پر نبیوں اور رسولوں میں درود بھیج۔ اے خدا! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وسیلہ ، شرافت، فضیلت اور بلند درجہ عطا فرما۔

اے خدا! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لایا ہوں، اس حال میں کہ میں نے اُن کو دیکھا نہیں ہے۔پس قیامت کے دن مجھے اُن کی زیارت سے محروم نہ کرنا۔ اُن کی ملاقات میرے نصیب فرما۔ مجھے اُن کے دین پر مارنا۔ اُن کے حوض سے سیراب کر۔ ایسا بہترین پینا نصیب فرما کہ اُس کے بعد مجھے پیاس نہ لگے۔ تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

اے اللہ! جس طرح میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بغیر دیکھے ایمان لایاہوں، جنت میں مجھے اُن کی پہچان کروا۔ اے اللہ! میری طرف سے آنحضرت کی روح پر سلام اور بہت زیادہ درود ارسال فرما۔(شیخ،تہذیب:ج ۳ ،ص ۸۶ ۔سید،اقبال: ۱۷۳) ۔

۸۶ ۔ پیغمبر کی قبر کے پاس آنحضرت کی دعا

اللہ کے رسول پر سلام۔ اے اللہ کے دوست! تجھ پر سلام۔ اے خدا کے چنے ہوئے !تجھ پر سلام۔ اے امینِ الٰہی ! تجھ پر سلام۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اپنی امت کے خیر خواہ تھے۔ راہِ خدا میں کوشش کی اور خلوص کے ساتھ اُس کی عبادت کی، یہاں تک کہ موت کا وقت قریب آگیا۔ پس خدا آپ کو جزاء عطا فرمائے۔ اُس جزاء سے افضل ترین جزاء جو کسی نبی کو اُس کی امت کی طرف سے دی ہے۔ اے خدا! محمد وآلِ محمد پر درود بھیج۔ ابراہیم اور آلِ ابراہیم کے درود سے افضل درود۔ بے شک تو قابلِ تعریف اور عظیم ہے۔(کامل الزیارات: ۱۸ و ۲۰) ۔

۸۷ ۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور دوسرے آئمہ علیہم السلام کی زیارت میں آنحضرت کی دعا

علی بن حسان سے روایت ہے کہ میں نے امام رضا علیہ السلام سے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی قبر کی زیارت کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: آنحضرت کی قبر کے اطراف والی مساجد میں نماز پڑھو۔ تمام مقامات میں یہ زیارت پڑھ سکتے ہو:

خدا کے اولیاء اور اُس کے چنے ہوئے حضرات پر سلام۔ خدا کے امین بندوں اور اُس کے دوستوں پر سلام۔ خدا کے مددگاروں اور اُس کے خلفاء پر سلام۔ معرفت خدا کے مقامات پر سلام۔ ذکر الٰہی کے مکانات پر سلام۔ خداکے امر اور نہی کو ظاہر کرنے والوں پر سلام۔

خدا کی طرف بلانے والوں پر سلام۔ خدا کی مرضی میں باقی رہنے والوں پر سلام۔ اطاعت خدا میں آزمائے ہوئے افراد پر سلام۔خدا کی طرف رہنمائی کرنے والوں پر سلام۔

سلام اُن پر جن کو اگر دوست رکھا جائے تو خدا کو دوست رکھا جاتا ہے۔ جو بھی ان کے ساتھ دشمنی رکھے تو خدا کے ساتھ دشمنی رکھے گا۔ جس نے ان کو پہچان لیا، خدا کو پہچان لیا۔ جو ان سے جاہل رہا، وہ خدا کی پہچان نہ کرسکا۔ جس نے ان کے دامن کو پکڑ لیا، خدا کے دامن کو پکڑ لیا۔ جو ان سے جدا ہوگیا، وہ خدا سے دورہوگیا۔

خدا کو گواہ بناتا ہوں کہ میں تمہارے دوستوں کا دوست اور تمہارے دشمنوں کا دشمن ہوں۔ تمہارے باطن اور ظاہر کے ساتھ ایمان لانے والا ہوں۔ ان تمام امور کو تمہاری طرف لوٹانے والا ہوں۔ اے خدا! آلِ محمد کے دشمنوں سے ، جنوں میں سے اور انسانوں میں سے اپنی رحمت کو دور فرما۔ ان سے خدا کے نزدیک بیزاری چاہتا ہوں ۔ محمد اور اُن کی پاک آل پر درود ہو۔

یہ تمام زیارات میں کافی ہے۔ محمد وآلِ محمد پر بہت زیادہ درود بھیجو اور ایک ایک کا نام لو۔ اُن کے دشمنوں سے بیزاری طلب کرو۔ اپنے لئے اور مومن مرد و عورت کیلئے جو دعا بھی چاہو، انتخاب کرو۔(کامل الزیارات: ۳۱۵) ۔

۸۸ ۔ اُن کی بہن حضرت معصومہ کی زیارت میں آنحضرت کی دعا

سعد بن عبداللہ آنحضرت سے نقل کرتا ہے کہ آپ نے فرمایا: اے سعد! کیا تمہارے پاس ہمارے خاندان میں سے کسی کی قبر ہے؟ میں نے کہا: ہاں حضور۔ آپ پر قربان جاؤں۔امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی بیٹی فاطمہ کی قبر ہے۔آپ نے فرمایا: ہاں۔ جو کوئی بھی اُس کے حق کو پہچانتے ہوئے اُس کی زیارت کرے، جنت اُس کے لئے واجب ہے۔ جب اُن کی قبر کے پاس جاؤ تو قبلہ کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوکر چونتیس مرتبہ اللہ اکبر، تینتیس مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ الحمد للہ کہو، پھر کہو:خدا کے چنے ہوئے آدم پر سلام۔ خدا کے نبی نوح پر سلام۔ خدا کے دوست ابراہیم پر سلام۔ خدا کے ساتھ کلام کرنے والے موسیٰ پر سلام۔ روحِ خدا عیسیٰ پر سلام۔

اے رسولِ خدا ! تجھ پر سلام۔ اے خدا کی مخلوق کے بہترین! تجھ پر سلام۔ اے خدا کے چنے ہوئے! تجھ پر سلام۔ اے خاتم المرسلین محمد ابن عبداللہ! تجھ پر سلام۔

اے امیر المومن ین علی ابن ابی طالب علیہما السلام، اے رسولِ خدا کے وصی! تجھ پر سلام۔ اے کائنات کی عورتوں کی سردار فاطمہ ! تجھ پر سلام۔ اے رسولِ رحمت کے دو بیٹوں اور جوانانِ جنت کے سردارو! تم پر سلام۔

اے علی ابن الحسین علیہما اسلام! تجھ پر سلام۔ اے عبادت کرنے والوں کے سردار اور دیکھنے والوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک، اے نبی کے بعد علم کو پھاڑنے والے محمد ابن علی ! تجھ پر سلام۔

اے سچے نیکوکار امین جعفر ابن محمد ! تجھ پر سلام۔ اے پاک و پاکیزہ مو سیٰ ابن جعفر ! تجھ پر سلام۔ اے علی ابن موسیٰ الرضا ! تجھ پر سلام۔ اے محمد ابن علی ! تجھ پر سلام۔ اے پاکیزہ خیر خواہ امین علی ابن محمد ! تجھ پر سلام۔ اے حسن ابن علی ! تجھ پر سلام۔ اُن کے بعد وصی ! تجھ پر سلام۔

اے خدا! اپنے نور، اپنے روشن چراغ، اپنے ولیوں کے ولی، اپنے جانشینوں کے جانشین اور اپنی مخلوق کیلئے حجت پر درود بھیج۔ اے رسولِ خدا کی بیٹی! تجھ پر سلام۔ اے فاطمہ اور خدیجہ کی بیٹی! تجھ پر سلام، اے امیرالمومن ین کی بیٹی! تجھ پر سلام ،اے حسن اورحسین کی بیٹی! تجھ پر سلام۔

اے ولی خدا کی بیٹی! تجھ پرسلام۔ اے ولی خدا کی بہن! تجھ پر سلام۔ اے ولی خدا کی پھوپھی! تجھ پر سلام۔ اے موسیٰ ابن جعفر کی بیٹی! تجھ پر سلام اور خدا کی رحمت و برکات!تجھ پر سلام۔خدا ہمارے اور تمہارے درمیان جنت میں پہچان پیدا فرمائے۔ ہمیں آپ کے ساتھ محشور فرمائے۔تمہارے نبی کے حوض پر وارد کرے۔ تمہارے دادا علی ابن ابی طالب(صلوات اللہ علیکم) کے دست مبارک کے جام سے ہمیں سیراب فرمائے۔ میں خدا سے سوال کرتا ہوں کہ وہ ہمیں تمہارے درمیان سرور اور کشادگی دکھلائے۔ ہمیں اور تمہیں تمہارے نانا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گروہ کے ساتھ لائے۔ ہم سے تمہاری معرفت اور شناخت کو سلب نہ کرے۔ بے شک وہ ولی اور قدرت والا ہے۔تمہاری محبت کے ذریعے خدا کا قرب حاصل کرتے ہیں۔ تمہارے دشمنوں سے بیزاری چاہتے ہیں۔ خدا کے سامنے تسلیم ہیں اور بغیر انکار اور تکبر کے اُس سے راضی ہیں۔اس کے یقین کے ساتھ جو محمد لائے ہیں، راضی اور خوش ہوں۔ اُس کے ذریعے سے صرف تجھے چاہتے ہیں۔

اے خدا! تیری رضااور خوشی اور تیرا آخرت والا گھر تجھ سے طلب کرتا ہوں۔ اے فاطمہ ! جنت میں ہماری شفاعت فرمائیں۔ بے شک خدا کے نزدیک آپ کی بڑی منزلت اور شان ہے۔

اے اللہ! تجھ سے چاہتے ہیں کہ ہمارا انجام نیک ہو۔ جو کچھ میرے پاس ہے، اُسے سلب نہ کرنا۔ طاقت اور قوت سوائے عظیم و بلند خدا کے نہیں ہے۔

اے پروردگار!اپنے کرم و عزت ورحمت اور عافیت کے صدقے میں ہماری دعا قبول فرما اور جواب عطا فرما۔ محمد اور اُن کی تمام آل پر خدا کا درود ہو۔ اے بہترین رحم

کرنے والے۔(بحار:ج ۱۰۲ ،ص ۲۶۵) ۔

۸۹ ۔ تربت امام حسین علیہ السلام سے بنی تسبیح کو پھیر تے و قت آنحضرت کی دعا

آنحضرت سے نقل ہے کہ جو کوئی امام حسین علیہ السلام کی خاک سے بنی ہوئی تسبیح کو پھیرے اور یہ کہے: پاک ہے خدا اور تمام تعریفیں اللہ کے ساتھ خاص ہیں۔ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ خدا وصف بیان کرنے سے بلند تر ہے، تو خداتعالیٰ تسبیح کے ہر دانے کے بدلے میں چھ ہزار نیکیاں اُس کیلئے لکھے گا اور چھ ہزار گناہ معاف کردے گا۔ چھ ہزار درجے اُس کا مقام بلند ہوگااور یہی مقدار شفاعت اُس کے نصیب ہوگی۔(ابن مشہدی، مزار کبیر: ۵۱۳) ۔


فصل دوم

آنحضرت کے مناظرے

امام کی فضیلت اور اُس کی صفات کے متعلق۔

خاندانِ پیغمبر کی باقی اُمت پر فضیلت کے متعلق۔

اماموں کی خلافت کے غاصبوں کی عدم لیاقت کے بارے میں۔

۱ ۔ امام کی فضیلت اور صفات کے متعلق آنحضرت کا مناظرہ

عبدالعزیز بن مسلم کہتا ہے کہ میں مرو شہر میں امام رضا علیہ السلام کے ساتھ تھا۔ ہم ابھی شہر میں نئے آئے تھے کہ ایک جمعہ کے دن اُس شہر کی جامع مسجد میں ہم اکٹھے تھے۔ موضوعِ امامت کو موردِ بحث قرار دیا اور اس بارے میں لوگوں کے درمیان اختلاف کو ذکر کیا۔ ہم امام کے پاس گئے اور لوگوں کی اس بارے میں گفتگو کو حضرت کے سامنے پیش کیا۔ آنحضرت مسکرائے اور فرمایا:

اے عبدالعزیز! یہ لوگ نہیں سمجھے اور اپنی اصل آراء سے فریب کھا چکے ہیں اور غافل ہیں۔ خدا نے اپنے نبی کو اپنے پاس نہیں بلایا مگر یہ کہ اُس کا دین کامل ہو چکا تھا۔ اُس پر قرآن کو نازل فرمایا جس میں ہر چیز موجود ہے۔ حلال و حرام ، حدود و احکام اور لوگوں کی ضرورت کی تمام چیزوں کو قرآن میں بیان کیا ہے:"ہم نے اس کتاب میں کسی چیز کو ترک نہیں کیا"۔پیغمبر کی عمر کے آخری سال میں حجۃ الوداع کے موقع پر یہ آیت نازل فرمائی :"آج تمہارے دین کو کامل کردیا ہے اور تم پر نعمت کو مکمل کردیا ہے اور دین

اسلام کو تمہارے لئے پسند کیا ہے"۔موضوعِ امامت کمالِ دین میں سے ہے۔ پیغمبر اس وقت تک اس دنیا سے نہیں گئے مگر یہ کہ دین کی نشانیوں کو اپنی امت کیلئے بیان کرکے گئے۔ان کے راستے کو روشن کیا اور اُن کو راہِ حق کی رہنمائی کی۔

حضرت علی علیہ السلام کو پیشوا اور امام کے عنوان سے منصوب کیا۔ اُمت کی تمام ضروریات کو بیان کیا۔ جس کا یہ خیال ہو کہ خدا نے دین کو مکمل نہیں کیا، اُس نے قرآن کو رد کیا۔ جس نے قرآن کو رد کیا ،وہ کافر ہوگیا۔کیا امامت کے مقام اور مرتبہ کو امت کے درمیان جانتے ہیں کہ خود اُس کو منتخب کرنا چاہتے ہیں۔ بے شک قدرِ امامت بلند تر، اس کی شان عظیم تر، اُس کا مقام عالی تر، اس کا مکان قوی تر اور اس کی گہرائی اتنی زیادہ کہ لوگوں کی عقلیں اس میں غوطہ زن نہ ہوسکیں۔ یہ مقام اس سے بلند تر کہ لوگوں کی آراء اس کو پاسکیں یا یہ کہ خود کسی امام کو منسوب کرسکیں۔ مقامِ امامت وہ مقام ہے کہ خدا نے نبوت اور خلت کے مقام کے بعد تیسرے درجے پر ابراہیم کواس کے ساتھ مخصوص کیا۔ اس کے ذریعے سے فضیلت اور برتری عطا کی اور اُن کا مقام بلند اور محکم کیا اور فرمایا:" بے شک میں نے تجھے لوگوں کا امام بنایا ہے"۔ پس خوشی کے ساتھ ابراہیم علیہ السلام نے کہا:"میری اولاد میں سے بھی"۔ خدا نے فرمایا:"میرا عہد ظالموں تک نہیں پہنچے گا"۔ پس اس آیت نے قیامت تک امامت ظالموں کیلئے باطل کر دی ہے اور خاص بندوں کیلئے قرار دیدی ہے۔

پھر خدا نے ابراہیم علیہ السلام کو شرافت عطا کی اور امامت اُن کی اولاد میں سے چنے ہوئے اور پاک وپاکیزہ افراد میں قرار دی۔

(اسحاق و یعقوب کو بطور اضافہ ہم نے اُسے دیا اور تمام کو لائق کیا اور ان کو امام و رہنما بنایا تاکہ ہمارے حکم کے ساتھ رہبری کریں۔ ہم نے اُن کو نیک کاموں کے انجام دینے، نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے کی وحی کی اور وہ ہماری عبادت کرتے تھے)۔

پس امامت ہمیشہ پے در پے زمانوں میں ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں تھی۔ ایک دوسرے سے امامت کو بطور ارث لیتے تھے۔ یہاں تک کہ خدا نے ہمارے پیغمبر کو ارث میں دی اور خود فرماتا ہے:" بے شک ابراہیم کے ساتھ زیادہ حقدار اُس کے اور اس نبی کے پیروکار اور مومن لوگ ہیں اور خدا مومن وں کا سرپرست ہے"۔ پس امامت آنحضرت کے ساتھ خاص ہوگئی۔

اس کے بعد نبی نے خدا کے حکم کے مطابق اور اُس کے مطابق جو خدا نے واجب قرار دیا تھا، اس کو علی علیہ السلام کے سپرد کردیا۔ اس کے بعد اس کے مخصوص بیٹوں میں کہ جن کو خدا نے علم اور ایمان دیا تھا، جاری ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:" وہ لوگ جن کو علم اور ایمان دیا گیا ہے، کہتے ہیں ، کتابِ خدا میں قیامت تک رہے ہو"۔

پس امامت قیامت کے دن تک اولادِ علی علیہ السلام میں باقی رہے گی کیونکہ حضرت محمد کے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہے۔ یہ بیوقوف کہاں سے اور کس دلیل کے ساتھ اپنے لئے امام کا انتخاب کرتے ہیں؟

بے شک امامت مقامِ انبیاء اور میراثِ اوصیاء ہے۔ بے شک امامت خدا کی خلافت اور رسول کی خلافت ہے ، مقامِ امیرالمومن ین ہے۔ حسن و حسین علیہما السلام کی میراث ہے۔ بے شک امامت دین کی لگام ہے۔ نظامِ مسلمین کے استحکام کا سرچشمہ، دنیا کی اصلاح اور مومن ین کی عزت ہے۔ بے شک امامت نشوونما پانے والے اسلام کی جڑ اور اُس کی بلند شاخ ہے۔ نماز، زکوٰة، روزہ، حج، جہاد کامل ہونا، غنیمت کا زیادہ ہونا، صدقات میں اضافہ حدودواحکام کا اجراء اور سرحدوں کی حفاظت امامت کے ذریعے سے ہے۔

امام خدا کے حلال کو حلال اور خدا کے حرام کو حرام کرتا ہے۔ خدا کی حدود کو قائم کرتا ہے اور اُس کے دین کا دفاع کرتا ہے۔ خدا کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت، موعظہ حسنہ اور حق تک پہنچنے والی حجت کے ذریعے دعوت دیتا ہے۔

امام اُس سورج کی طرح ہے جو چمک رہا ہو اور اپنے نور کے ذریعے سے عالم کو روشن کررہا ہو۔ اُس بلند افق پر واقع ہے کہ ہاتھ اور آنکھیں اُس تک نہیں پہنچ سکتیں۔ امام ایک روشن چاند، چمکتا ہواچراغ، درخشندہ نور اور شدتِ تاریکی میں رہنمائی کرنے والا ستارہ، شہروں اور چٹیل میدانوں میں راستہ دکھانے والا اور دریاؤں کے گرداب میں رہنمائی کرنے والا ہے۔

امام پیاس کے وقت ایک شیریں پانی ، ہدایت کی طرف رہبر اور ہلاکت سے نجات دینے والا ہے۔ امام گم ہونے والوں کیلئے رہنمائی کرتا ہوا ایک بلند شعلہ ہے۔ ٹھنڈے ہونے والوں کے لئے گرم ہونے کا وسیلہ ہے۔ ہلاک ہونے والوں کیلئے رہنمائی ہے۔ جو بھی اُس سے جدا ہوگیا، وہ ہلاک ہوگیا۔

امام بارش برسانے والا بادل ہے۔ خوش کرنے والی بارش ہے۔ چمکتا ہوا سورچ ہے۔ سایہ دینے والی چھت ہے۔ پھیلی ہوئی زمین اور ابلنے والا چشمہ ہے ۔ باغیچہ اور گلستان ہے۔

امام ہمدم اور دوست، مہربان باپ، مدد کرنے والا بھائی، اپنے بچے کے ساتھ دل لگی کرنے والی ماں اور سخت گرفتاری میں خدا کے بندوں کی پناہ گاہ ہے۔

اُس کی مخلوق میں امام خدا کا امین ، اُس کے بندوں پر اُس کی حجت اور اُس کے شہروں میں اُس کا خلیفہ ، اُس کی طرف بلانے والا، اُس کے حقوق کا دفاع کرنے والا ہے۔

امام گناہوں سے پاک اور عیبوں سے دور ہے۔ علم کے ساتھ اختصاص رکھتا ہے۔ حلم و بردباری کے ساتھ موسوم ہے۔ استحکامِ دین کا سبب، عزتِ مسلمین، منافقوں کا غصہ اور کافروں کی ہلاکت ہے۔

امام اپنے زمانے کا بے مثال ہوتا ہے ۔ کوئی اُس کے مقام پر نہیں پہنچ سکتا۔ کوئی عالم اُس کی برابری نہیں کر سکتا۔ اُس کے بدلے کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ اُس کی کوئی مثل اور نظیر نہیں ہے۔ تمام فضائل کے ساتھ اختصاص رکھتا ہے۔ بغیر اس کے کہ ان فضائل کو اُس نے طلب کیا یا کسی سے حاصل کیا ہو بلکہ یہ ایک خصوصیت ہے جو خدا نے اپنے فضل و کرم کے ذریعے اُسے عنایت کی ہے۔

کوئی ہے جو امام کی معرفت تک پہنچ سکے یا کس کی طاقت میں ہے کہ امام کا انتخاب کر سکے؟ بہت دور ہے، بہت دور ہے۔ عقلیں اُس جگہ گمراہ ہوجاتی ہیں۔ حلم و بردباری اس مقام پر راہ سے ہٹ جاتی ہے، عقلیں اس جگہ پریشان ہوجاتی ہیں۔ آنکھوں کی بینائی ختم ہوجاتی ہے۔ بڑے چھوٹے محسوس ہوتے ہیں۔ حکیم لوگ حیران نظر آتے ہیں۔ بردبار لوگ کوتاہ نظر لگتے ہیں۔ خطیب بے بس اور صاحبانِ فکر بیوقوف نظر آتے ہیں۔ شعراء بیچارے اور ادیب بے طاقت ہوتے ہیں۔ بات کرنے والے قاصر ہیں اس سے کہ وہ امام کے فضائل میں سے کوئی ایک فضیلت بیان کریں اور تمام کے تمام عاجزی اور ناتوانی کا اعتراف کرتے ہیں۔

کس طرح ممکن ہے کہ اُس کے تمام اوصا ف اور اُس کے وجود کی حقیقت کو بیان کیا جاسکے یا امر امامت میں سے کسی مطلب کو سمجھایا جاسکے یا ایسا اُس کا قائم مقام تلاش کیا جاسکے جو اُس جیسا کام کرسکے۔

ممکن نہیں ہے کس طرح اور کہاں سے یہ ہو سکتا ہے؟ وہ آسمان کے ستاروں کی مانند لوگوں کی دسترس سے اور وصف بیان کرنے والوں کے وصف بیان کرنے سے بلند ہے۔ وہ کہاں اور انتخابِ بشر کہاں، وہ کہاں اور انسانی عقلیں کہاں، وہ کہاں اور اُس جیسا کوئی کہاں سے ملے گا!

کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ امام محمد رسولِ عربی کی آل کے علاوہ مل سکتا ہے؟ خدا کی قسم! ان کے وجدان نے ان سے جھوٹ بولا ہے۔ بیہودہ آرزو کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ ایک اونچی چٹان اور لرزنے والی چٹان کے اوپر چڑھے ہیں جو نیچے گرنے والی ہے۔ وہ اپنی گمراہ اور ناقص عقلوں اور گمراہ کرنے والی آراء کے ذریعے امام کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں۔ سوائے حق سے دوری کا انہیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔

وہ کہاں منحرف ہورہے ہیں۔ ایک سخت کام کے انجام کا ارادہ کئے ہوئے ہیں اور جھوٹ گھڑا ہے۔ چاروں طرف سے گمراہی میں گرے پڑے ہیں۔ حیرت میں پڑے ہوئے ہیں اور دیکھنے والی آنکھ کے ساتھ امام کو چھوڑے جارہے ہیں۔ "شیطان نے ان کے کردار کو ان کی نظروں میں خوبصورت بنادیا ہے۔ ان کو ان کے راستے سے منحرف کردیا ہے حالانکہ اہلِ بصیرت میں سے تھے"۔

خدا، خدا کے رسول اور اُن کی آل کے انتخاب سے منہ پھیر گئے۔ اپنے انتخاب کے گرد جمع ہوگئے حالانکہ قرآن ان کو پکار کر کہتا ہے:

"اور تیرا پروردگار جس کو چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے اور جس کو اچھا جانتا ہے، اس کاانتخاب کرتا ہے۔ اختیار اُن کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ خدا اُس سے پاک ہے جس کو وہ اُس کا شریک قرار دیتے ہیں"۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"مومن مرد اور مومن ہ عورت میں سے کسی کواختیار نہیں ہے۔ جب خدا اور اُس کا رسول کوئی حکم دیں کہ وہ اپنی طرف سے کسی امر کو اختیار کریں"۔

اور فرمایا ہے:" تمہیں کیا ہو گیا ہے ؟ تم کیسے حکم لگاتے ہو؟کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جسے پڑھتے ہو اور جس کا تم انتخاب کرنا چاہتے ہو، اُسے اُس کتاب میں پالو؟ تمہارے لئے قیامت کے دن تک ہمارے اوپر کوئی عہدوپیمان ہے کہ جو بھی تم حکم کرو تمہارے حق میں صحیح ہے۔ ان سے سوال کرو کون ان میں سے اس مطلب کا پابند ہے یا ان کیلئے کوئی شریک ہیں۔ اگر یہ سچ کہتے ہیں تو اپنے شریکوں کو لے آئیں"۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"مگر خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے کہ سمجھتے نہیں ہیں"۔ یا

"کہتے ہیں ہم نے سنا مگر سنتے نہیں ہیں"۔

"کیا وہ غوروفکر نہیں کرتے یا اُن کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں"۔

"خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے، پس وہ سمجھتے نہیں"۔ بے شک خدا کے نزدیک جانوروں میں سے بدترین وہ ہیں جو گونگے، بہرے ہیں ، جو عقل نہیں رکھتے اور اگر خدا ان میں اچھائی پاتا تو ان کو سننے والا بناتا۔ اگر یہ سننے والے بھی ہوتے تو واپس لوٹ جاتے۔ یا"کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی"۔ "امامت کسی سے پڑھی نہیں جاتی"۔

یہ تو فضل خداوندی ہے اور وہ جس کو چاہتا ہے، اُس پر اپنا فضل کرتا ہے اور خدا بڑے فضل و کرم کا مالک ہے۔

پس کس طرح یہ لوگ امام کے انتخاب پر قدرت رکھتے ہیں، حالانکہ امام ایسا عالم ہے جس کے پاس جہالت آتی نہیں ہے اور ایسا سرپرست ہے جو منہ نہیں موڑتا۔

امام تقدس، پاکیزگی، اطاعت، زہد، علم اور عبادت کی کان ہے۔ رسولِ خدا کی دعوت اُس کے ساتھ مخصوص ہے جو پاک بتول فاطمہ کی نسل سے ہے۔

اُس کے نسب میں مقامِ طعنہ اور سرزنش نہیں ہے۔ کوئی صاحبِ حسب اُس کے ہم پلہ نہیں ہے۔ وہ قریش کے خاندان، قبیلہ بنی ہاشم اور اولادِ پیغمبر سے ہے اور خوشنودی خدا کے مقام میں ہے۔ وہ اشراف کی شرافت کا سبب اور عبد مناف کا بیٹا ہے۔اُس کا علم ترقی کرنے والا ، اُس کا حلم مکمل، امامت میں قوی اور سیاست میں صاحب علم ہے۔اُس کی اطاعت واجب ہے۔ وہ خدا کے امر کے ساتھ قیام کرنے والا ہے۔ وہ خدا کے بندوں کا خیر خواہ اور اُس کے دین کا محافظ ہے۔

بے شک خدا نے انبیاء اور آئمہ کو توفیق عطا کی ہے اوران کو اپنے علم اور حکمت سے وہ عطا کیا ہے جو کسی اور کو عطا نہیں کیا۔ اسی وجہ سے ان کا علم اُس کے زمانے کے لوگوں سے افضل ہوتا ہے۔

خدا تعالیٰ فرماتا ہے:"کیا وہ اس لائق ہے کہ اُس کی پیروی کی جائے جو راہِ حق کی طرف ہدایت کرتا ہے یا وہ جو ہدایت نہیں کرتا بلکہ وہ خود ہدایت کے لائق ہے۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ تم کیسے فیصلے کرتے ہو؟"

اللہ تعالیٰ طالوت کے متعلق فرماتا ہے:" خدا نے اُس کو تم پر فضیلت دی اور علم و جسم میں اُس کو برتری دی۔ خدا جس کو چاہتا ہے، اپنا ملک عطا کرتا ہے اور بہت بخشنے والا اور جاننے والا ہے"۔

اپنے رسول سے فرمایا:" خدا نے تجھ پر کتاب اور حکمت نازل کی اور جو تم نہیں جانتے تھے، وہ تمہیں سکھایا اور تجھ پر خدا کا بڑا فضل ہے"۔

اہلِ بیت میں سے آئمہ اور پیغمبر کی آل اور اولاد کے متعلق فرماتا ہے:

"کیا لوگ اس چیز میں اُن کے ساتھ حسد کرتے ہیں جو خدا نے ان کو عطا کیا ہے۔ بے شک ہم نے آلِ ابراہیم کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور ان کو ایک عظیم مملکت عطا کی۔ کوئی اس کے ساتھ ایمان لے آئے اور کسی نے انکار کیا اور منہ پھیر لیا"۔

جہنم کی آگ بڑی روشن ہے۔

جب خدا عزوجل کسی بندے کو اپنے بندوں کی اصلاح کیلئے منتخب کرتا ہے تو اُس کے سینے کو اس کام کیلئے کھول دیتا ہے۔ حکمت و دانائی کے چشمے اُس کے دل میں قرار دیتا ہے۔ اُس کی طرف ایسے علم کا الہام کرتا ہے کہ اس کے بعد کسی جواب میں قاصر نہیں ہوتا اور صحیح راستے سے منحرف نہیں ہوتا۔

پس امام معصوم ہوتا ہے۔ اس کی تائید کی گئی ہوتی ہے۔ توفیق کے ساتھ آراستہ ہوتا ہے۔ ہر گناہ سے، خطاسے اور لغزش سے محفوظ ہوتا ہے۔ خدا نے اُسے ان صفات کے ساتھ ممتاز کیا ہوتا ہے تاکہ اُس کے بندوں پر ایک کامل حجت اور اُس کی مخلوق پر گواہ بن سکے۔ یہ صرف خد اکا کرم اور عطا ہے ، جسے چاہے عطا کرتا ہے اور خدا بہت بڑا کریم ہے۔ کیا لوگوں میں یہ طاقت ہے کہ وہ ایسے جیسے کا انتخاب کرسکیں یا یہ ممکن ہے کہ اُن کا منتخب کیا ہوا اُس جیسا ہو تاکہ اُس کو اپنا رہبر بنا سکیں؟

خدا کے گھر کی قسم! لوگوں نے حق سے تجاوز کیا ہے اور کتابِ خدا کو پس پشت ڈال دیا ہے جیسے کہ جانتے ہی نہیں ہیں، حالانکہ ہدایت اور شفا کتابِ خدا میں ہے۔ انہوں نے کتابِ خدا کو چھوڑ دیا ہے اور اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کو مذمت کی ہے ۔ ان کو دشمن رکھتا ہے اور ان کو ہلاک کردے گا۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:"اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوسکتا ہے جس نے خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی کی ہو۔ بے شک خدا ظلم کرنے والوں کی ہدایت نہیں کرتا"۔اور فرماتا ہے:

"ان پر ہلاکت ہو اور ان کے اعمال نابود ہوجائیں"۔ اور فرماتا ہے:

"خدا اور مومن وں کے نزدیک دشمنی میں بڑا ہے۔ خدا اسی طرح ہر متکبر ظالم کے دل پر مہر لگا دیتا ہے"۔ بہت زیادہ درود ہو خدا کا محمد اور اُن کی پاک آل پر۔ (کافی:ج ۱ ،ص ۱۹۸ تا ۲۰۳) ۔

۲ ۔ آلِ محمد کی دوسری امت پر فضیلت کے متعلق آنحضرت کا مناظرہ

جب امام رضا علیہ السلام مامون کی مجلس میں موجود تھے اور وہاں عراق اور خراسان کے علماء بھی تھے، مامون نے کہا: مجھے اس آیت کے معنی سے آگاہ کرو:"پھر ہم نے اپنے خاص بندوں کو اس کتاب کا وارث بنایا ہے"۔

مجلس میں موجود علماء نے کہا کہ اس سے مراد تمام امت ہے۔

مامون نے کہا: اے ابوالحسن ! آپ کیا کہتے ہیں؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: میں ان کی بات کی تصدیق نہیں کرتا بلکہ میں کہتا ہوں کہ اس سے مرادخدا نے عترتِ طاہرہ کو لیا ہے۔مامون نے کہا: تمام امت کیوں مراد نہیں ہے؟ صرف آل محمد کیوں مراد ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا:اگر تمام امت مراد ہو تو تمام امت جنت میں جائے کیونکہ خدافرماتا ہے:"پس ان میں سے ایک گروہ نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور ایک درمیانہ رو ہے۔ کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی توفیق کے ساتھ نیکیوں میں سبقت لے جاتے ہیں او ریہ ایک بہت بڑا فضل و کرم ہے"۔

پھر ان تمام کو اہلِ بہشت میں سے شمار کرتا ہے اور فرمایا:" ہمیشہ رہنے والے باغات کہ جس میں ہمیشہ رہیں گے"۔ پس وراثت تنہا آلِ محمد کے لئے ہے۔

اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا:" یہ وہ لوگ ہیں کہ خداتعالیٰ قرآن میں ان کی توصیف کرتا ہے اور فرماتا ہے:" خدا نے ارادہ کیا ہے کہ تم اہلِ بیت پیغمبر سے ہر طرح کی زشتی اور پلیدی کو دور کردے اور تمہیں پاک وپاکیزہ کردے"۔اور یہ وہ ہیں کہ پیغمبر فرماتے ہیں:"میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ، کتابِ خدا اور میری اہلِ بیت ۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گی ، یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس آجائیں"۔

تم غور کرو کس طرح میری جانشینی کے حق کو ان میں جاری کر رہے ہو۔ اے لوگو! انہیں سکھانے کی کوشش نہ کرنا کہ یہ تم سے زیادہ جاننے والے ہیں۔

مجلس میں موجود علماء نے کہا: اے ابوالحسن ! کیا عترت آلِ رسول ہے یا غیر آل ہے؟

آپ نے فرمایا:"وہ آلِ رسول ہیں۔

علماء نے کہاکہ خود رسولِ خدا سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: میری امت میری آل ہے۔ اصحاب بھی ایک مستفیض خبرکہ جس میں خدشہ نہیں ہے، کے ذریعے نقل کرتے ہیں کہ آلِ محمد آپ کی امت ہے۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: تم بتاؤ کیا آلِ محمد پر صدقہ حرام ہے ؟

انہوں نے کہا: جی ہاں۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا: کیا اُمت پر بھی حرام ہے؟ انہوں نے کہا:نہیں۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: یہی فرق ہے آلِ رسول اور اُن کی اُمت کے درمیان۔ ہلاکت ہے تم پر کس راستے سے سفر طے کررہے ہو۔ "کیا تم نے یادِ خدا سے منہ پھیر لیا ہے یا تم اسراف کرنے والی قوم ہو؟" کیا تم نہیں جانتے کہ ظاہراً روایت سے مخصوص افراد مراد ہیں ، نہ کہ تمام اُمت۔

علماء نے کہا: اے ابوالحسن ! کس دلیل کے ساتھ یہ بات کررہے ہیں؟

آپ علیہ السلام نے فرمایا: قرآن کی اس آیت کے ساتھ:"ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا۔ رسالت اور کتاب اُن کی اولاد میں قرار دی۔ ایک گروہ ہدایت پاگیا اور ایک گروہ اُن میں سے فاسق ہے"۔

پس کتاب اور نبوت کی وراثت ہدایت پانے والوں سے ہے نہ کہ فاسق لوگوں میں۔ کیا تم جانتے ہو کہ نوح نے خدا سے تقاضا کیا اور کہا:"اے خدا! میرا بیٹا میری آل سے ہے اور تیرا وعدہ حق ہے"۔ کیونکہ خدا نے اُس کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ اُسے اور اُس کی آل کو بچا لے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"وہ تیری آل سے نہیں ہے۔ وہ غیر صالح شخص ہے جس کے متعلق تم جانتے نہیں ہو، سوال نہ کرو۔ میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ جاہلوں میں سے نہ ہوجانا"۔

مامون نے کہا: کیا خدا نے آلِ نبی کو دوسروں پر فضیلت دی ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: خد انے آلِ پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم کو اپنی کتاب میں دوسروں پر فضیلت دی ہے۔

مامون نے کہا: قرآن میں کس مقام پر اس کی طرف اشارہ ہوا ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: اس آیت میں:"خدا نے آدم، نوح، آلِ ابراہیم اور آلِ عمران کو چن لیا ہے، عالمین پر فضیلت دی ہے۔ ایسی اولاد کہ بعض دوسرے بعض سے ہیں"۔ ایک دوسری آیت میں فرمایا:"کیا لوگ اُس کی نسبت حسد کرتے ہیں جو ہم نے اُن کو دیا ہے۔ ہم نے آلِ ابراہیم کو کتاب، دانائی اور بہت بڑی سلطنت عطا کی ہے"۔

پھر اس بحث کے سلسلہ میں باقی مومن وں کو مخاطب کرکے فرماتا ہے:" اے ایمان والو! خدا، اُس کے رسول اور تم میں سے جو صاحبانِ امر ہیں، اُن کی پیروی کرو"۔ یعنی جن کو کتاب اور دانائی دی ہے اور اُس کی نسبت وہ موردِ حسد قرار پائے ہیں۔ اس آیت کی بناء پر :"کیا لوگ اُس چیز کی نسبت جو اُن کو دی گئی ہے، حسد کرتے ہیں۔ ہم نے آلِ ابراہیم کو کتابِ دانائی اور عظیم سلطنت عطا کی ہے"۔ اس جگہ قدرت و سلطنت سے مراد لوگوں کا اُن کی اطاعت کرنا ہے۔

علماء نے کہا: کیا خدا نے اپنی کتاب میں اپنے خاص چنے ہوئے بندوں کی تفسیر کی ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: خدا نے اس چننے کی ظاہر میں نہ باطن میں بارہ مقامات پر تفسیر کی ہے۔

سب سے اوّل مقام یہ ہے:"اپنے خاندان اور اپنے مخلص قریبیوں کو ڈراؤ"۔ ابی بن کعب کی قرات م یں اور عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں ایسے ہی تھا۔ جب عثمان نے زید بن ثابت کو حکم دیا کہ قرآن کو جمع کرو۔ اس آیت کو چھپا دیا۔یہ ایک عظیم مقام، ایک بڑی فضیلت اور ایک بلند شرف ہے کیونکہ خدا نے اپنی مراد صرف آلِ رسول کو لیا ہے۔

یہ پہلا مقام ہے۔

دوسری آیت قرآن میں خاص بندوں کو چننے کے متعلق یہ ہے:"سوائے اس کے نہیں کہ خدا جانتا ہے۔ اے اہلِ بیت تم سے پلیدی کودور کردے اور پاک و پاکیزہ کردے"۔ یہ وہ فضیلت ہے کہ کوئی دشمن اور منکر اس کا انکار نہیں کرتا کیونکہ یہ بہت واضح اور روشن ہے۔

تیسری آیت اس مقام پر ہے جہاں خدا نے اپنے پاک بندوں کو دوسرے لوگوں سے جدا کیا اور آیت مباہلہ میں اپنے رسول کو حکم دیا۔ پس فرمایا:" اے محمد! کہہ دو۔

ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں، تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ۔ ہم اپنی عورتوں کو، تم اپنی عورتوں کو، ہم اپنے نفسوں کو، تم اپنے نفسوں کو بلاؤ اور پھر مباہلہ کرتے ہیں اور جو جھوٹ کہتا ہے، اُن پر خدا کی لعنت کرتے ہیں"۔

رسولِ خدا ، حضرت علی، حسن و حسین اور فاطمہ علیہم السلام کو باہر لے آئے اور ان کو اپنا قریبی کہا۔ کیا تمہیں اپنے خدا کے اس قول "ہم اپنوں، نفسوں اور تم اپنے نفسوں کو" کا معنی معلوم ہے؟

علماء نے کہا کہ خود اپنا نفس مراد لیا ہے۔

امام رضا علیہ السلام نے فرمایا کہ تم نے اشتباہ کیا ہے۔ اس سے مراد علی علیہ السلام کو لیا ہے۔ اس کی دلیل پیغمبر اسلام کا یہ قو ل ہے کہ آپ نے فرمایا کہ قبیلہ بنی ولیعہ یا تو اپنی حرکتوں سے رک جائے یا میں اُن کی طرف ایسا شخص بھیجوں گا جو میری طرح ہو اور اس سے مراد علی علیہ السلام کو لیا۔

یہ ایک ایسی خصوصیت ہے کہ اُن سے پہلے کسی کو میسر نہیں ہوئی۔ یہ ایک ایسی فضیلت ہے کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں کرتا۔ ایک ایسی شرافت ہے کہ کوئی بھی اس سے آگے نہیں جاسکتا کیونکہ علی علیہ السلام کو اپنے جیسا قرار دیا اور یہ تیسری دلیل تھی۔

چوتھی دلیل۔ جب رسولِ خدا نے تمام لوگوں کو مسجد سے نکال دیا ، فقط اپنی آل کو خارج نہ کیا۔

لوگ اس بارے میں باتیں کرنے لگے۔ عباس نے کہا: اے رسولِ خدا! آپ نے علی علیہ السلام کو باقی رہنے دیا اور سب کو نکال دیا تو رسولِ خدا نے فرمایا: میں نے اُس کو باقی نہیں رکھا اور تمہیں خارج نہیں کیا۔ یہ تو خدا نے خود اُسے باقی رکھا ہے اور تمہیں نکالا ہے۔ اسی بارے رسولِ خدا کا یہ قول ہے کہ آپ نے فرمایا: "تیری نسبت میرے ساتھ ایسے ہے جیسے ہارون کی موسیٰ کے ساتھ"۔

علماء نے کہا: یہ مطلب قرآن میں کس مقام پر آیا ہے؟

آپ علیہ السلام نے فرمایا: خدا فرماتا ہے:" ہم نے موسیٰ اور اُس کے بھائی کو وحی کی کہ اپنی قوم کو مصر میں جاکر ٹھہراؤ اور اپنے گھروں کو اپنا قبلہ قرار دو"۔ اس آیت میں ہارون کی نسبت موسیٰ کے ساتھ اور علی علیہ السلام کی نسبت پیغمبر کے ساتھ روشن ہے۔

ان تمام دلیلوں کے ساتھ ایک اور دلیل موجود ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم نے فرمایا کہ یہ مسجدمجنب اور حائض پر حلال نہیں ہے مگر محمد اور آلِ محمد پر۔

علماء نے کہا: یہ مطلب اور تشریح فقط تم اہلِ بیت رسول کے نزدیک ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: ہمارے لئے ان مقامات کا کون انکار کرنے والا ہے حالانکہ رسولِ خداکا فرمان ہے کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اُس کا دروازہ ہے۔ جو بھی علم کے شہر میں داخل ہونا چاہتا ہے، وہ دروازے سے اس میں داخل ہو۔ اس فضل و شرف، مرتبہ و مقام اور پاکیزگی ، جس کی ہم نے تشریح کی ہے، سوائے دشمن کے کون انکارکرسکتا ہے اور تمام تعریفیں خدا کیلئے ہیں۔ یہ چوتھا مقام تھا۔

پانچواں مقام۔ خدا کا قول ہے کہ فرماتا ہے:" اپنے قریبیوں کا حق اُن کو دے دو"۔ یہ وہ خصوصیت ہے کہ خدا نے ان کو عطا کی ہے اور امت پر ان کو ترجیح دی ہے۔

جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسولِ خدا نے فرمایا کہ فاطمہ سے کہو آئے۔جنابِ فاطمہ کو بلایا گیا۔ آپ نے فرمایا: اے فاطمہ ! کہا: جی رسولِ خدا۔ آپ نے فرمایا: زمین کا ایک حصہ جس کا نام فدک ہے، فقط لشکر کشی کے ساتھ حاصل کیا گیا ہے۔ وہ فقط میرے لئے ہے۔ مسلمانوں کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔اسے میں نے تیرے لئے قرار دیا ہے کیونکہ خدا نے مجھے یہی حکم فرمایا ہے۔ پس اس کو اپنے اور اپنی اولاد کیلئے قرار دے ۔ یہ پانچواں مقام ہے۔

چھٹا مقام۔ یہ خدا کا قول ہے کہ وہ فرماتا ہے:"ان سے کہہ دو کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اپنی اہلِ بیت کے ساتھ دوستی کے"۔ یہ خصوصیت انبیاء میں سے صرف پیغمبر اسلام کے ساتھ خاص ہے۔ صرف آنحضرت کی آل اس سے مراد لی گئی ہے۔

خدا جب نوح سے حکایت کرتا ہے تو فرماتا ہے:"کہ تم سے کوئی مال طلب نہیں کرتا ۔ میرا اجر خدا پر ہے اور میں ایمان لانے والوں کو اپنے سے دور نہیں کرتا۔وہ اپنے پروردگار کے ساتھ ملاقات کریں گے لیکن میں تمہیں جاہل قوم خیال کرتا ہوں"۔

ہود سے اس طرح حکایت کی ہے:"میں اپنے کاموں پر کوئی اجر طلب نہیں کرتا ۔ میرا اجر فقط اس کے ساتھ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ کیا تم غور و فکر نہیں کرتے"۔

اپنے نبی سے خدا فرماتا ہے:" ان سے کہہ دو کہ میں اپنے کاموں پر تم سے اجر طلب نہیں کرتا مگر اپنے اہلِ بیت کے ساتھ دوستی"۔خدا نے ان کی دوستی کو واجب نہیں کیا

مگر وہ جانتا تھا کہ وہ ہرگز مرتد نہیں ہوں گے اور ہرگز گمراہ نہیں ہوں گے۔دوسری دلیل یہ ہے کہ جب بھی کوئی کسی کا دوست ہو، لیکن اُس کے دل میں اُس دوست کے کسی رشتہ دار قریبی کے متعلق دل میں بغض و کینہ ہو تو دل اُسے قبول نہیں کرے گا۔ خدا چاہتا تھا کہ پیغمبر کے دل میں مومن وں کے متعلق کوئی چیز نہ ہو(اور سب لوگ اہلِ بیت کے دوست ہوں تاکہ ان کے متعلق پیغمبر کے دل میں کسی قسم کا بغض نہ ہو) ۔ اسی وجہ سے خدا نے آلِ محمد کی محبت کو واجب قرا ردیا۔

پس جس نے بھی اس کام کو انجام دیا ہو اور آلِ رسول کو دوست رکھا ہو، پیغمبر اس کو کبھی بھی دشمن نہیں رکھ سکتے اور جس نے بھی اُس کو چھوڑ دیا ہو اور اس کام کو انجام نہ دیا ہو اور آلِ محمدکو دشمن رکھتا ہو تو پیغمبر پر واجب ہے کہ اس کو دشمن رکھیں کیونکہ اُس نے خدا کے واجبات میں سے ایک واجب کو ترک کیا ہے۔ اس فضیلت سے بڑھ کر اور کونسی فضیلت ہے!

یہ آیہ کریمہ جب پیغمبر پر نازل ہوئی:"ان سے کہہ دو میں ان کاموں پر کوئی اجر نہیں چاہتا، سوائے اپنی اہلِ بیت کی محبت کے")۔پیغمبر اپنے اصحاب کے درمیان کھڑے ہوئے اور خد اکی حمدوثناء کے بعد فرمایا:"اے لوگو! خدا نے تم پر ایک چیز واجب کی ہے، کیا تم اُسے انجام دو گے؟ پس کسی نے بھی کوئی جواب نہ دیا۔ دوسرے دن پھر اٹھ کر یہی بات دہرائی لیکن کسی نے جواب نہ دیا۔تیسرے دن بھی اسی بات کو دوبارہ بیان کیا اور فرمایا: اے لوگو! خدا نے تم پر ایک چیز واجب کی ہے۔ کیا تم اس کو بجا لاؤ گے؟ لیکن پھر بھی کسی نے جواب نہ دیا۔ آپ نے فرمایا: اے لوگو! وہ بات سونے چاندی اور کھانے پینے کے متعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کیا ہے؟آپ نے اس آیت کو ان کیلئے تلاوت فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ اس کو ہم قبول کریں گے لیکن اکثر نے اس کو قبول نہ کیا۔

اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: میرے والد نے اپنے آباء و اجداد سے امام حسن علیہ السلام سے ایک روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا: مہاجرین اور انصار پیغمبر اسلام کے پاس آئے او رکہا: اے رسولِ خدا! آپ کے پاس جو لوگ باہر سے آتے ہیں، اُن کیلئے خروج و مخار ج کی ضرورت ہے۔ یہ ہمارے مال اور ہماری جانیں آپ کے اختیار میں ہیں ، ان کے متعلق جیسے چاہتے ہیں، عمل کریں۔ بغیر کسی مشکل کے جو چاہتے ہیں، وہ دیدیں اور جسے چاہتے ہیں، اپنے پاس رکھیں۔

خدا نے جبرائیل کو نازل کیا جس نے کہا: اے محمد! کہہ دو کہ میں رسالت پر تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا ۔ سوائے اپنی اہلِ بیت کے ساتھ محبت کے۔ میرے بعد ان کو تکلیف نہ دینا۔ لوگ چلے گئے ۔ اُن میں سے ایک گروہ نے کہا:وہ چیز جس نے پیغمبر کو ہمارے بات کے قبول نہ کرنے پر آمادہ کیا، وہ یہ تھی کہ اپنی وفات کے بعد اپنی اہلِ بیت کے متعلق ترغیب و تشویق دے۔ اس مجلس میں یہ ایک تہمت اور جھوٹ کہا گیا ہے اور یہ ایک بہت بڑی بات ہے۔

پس خدا نے یہ آیت نازل فرمائی:"کیا وہ کہتے ہیں کہ اُس نے یہ بات جھوٹ کہی ہے۔ ان سے کہہ دو کہ اگر میں نے جھوٹ بولا ہو تو تم مجھ پر کسی چیز کی طاقت نہیں رکھتے اور جو کچھ تم نظر میں رکھتے ہو، وہ اُس کو بہتر جانتا ہے۔ وہ ہمارے اور تمہارے درمیان بطور گواہ کافی ہے اور وہ بخشنے والا اور مہربان ہے"۔

رسولِ خدا نے کسی کو ان کے پاس بھیجا اور کہا : کوئی مسئلہ درپیش ہے؟ انہوں نے کہا: اے رسولِ خدا! خدا کی قسم ، ہاں۔ ہم میں سے بعض نے ایک بڑی بات کی ہے کہ ہم اس کو ناپسند کرتے ہیں۔ پیغمبر نے آیت کو پڑھا ۔ بہت سے لوگ روئے ۔ خدا نے یہ آیت نازل کی:" اور وہ وہ ہے کہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ہماری خطاؤں سے درگزر کرتا ہے اور ہم جو کچھ کرتے ہیں، وہ جانتا ہے"۔ یہ چھٹا مقام ہے۔

بہرحال ساتواں مقام۔ خدا فرماتا ہے:" بے شک خدا اور اُس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی درود بھیجو جس طرح درود بھیجنے کا حق ہے"۔

دشمن جانتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو کہا گیا: اے پیغمبر! آپ پر سلام کو تو ہم جانتے ہیں۔ آپ پر درود کس طرح بھیجا جا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: کہو، اے اللہ! محمدو آلِ محمد پر درود بھیج، جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر درود بھیجا ہے۔ بے شک تو تعریف شدہ اور بلند ہے"۔

اے لوگو کیا اس بارے میں تمہارے درمیان کوئی اختلاف ہے۔ انہوں نے کہا :نہیں۔

مامون نے کہا: یہ اُن موارد میں سے ہے کہ جن میں اختلاف نہیں ہے اور اس پر تمام کا اتفا ق ہے۔ کیا اہلِ بیت رسول کے متعلق اس سے واضح تر اور روشن تر کسی دلیل کے متعلق آپ جانتے ہیں؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: اس آیت کے متعلق مجھے بتاؤ:"یٰس، قرآنِ حکیم کی قسم! تو رسولوں میں سے ہے اور تو صراطِ مستقیم پر ہے"۔ یٰس سے کیا مراد ہے؟

علماء نے کہا: یٰس سے مراد رسولِ خدا ہیں اور اس میں شک کی گنجائش نہیں ہے۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: خدا نے رسول اور اُن کی آل کو اس مقام پر وہ فضیلت عطا

کی ہے کہ کوئی صاحبِ عقل اس کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا کیونکہ خدا نے سوائے رسولوں کے کسی پر درود نہیں بھیجا۔

وہ فرماتا ہے:دو جہانوں میں نوح پر سلام۔ ابراہیم پر سلام ،موسیٰ اور ہارون پر سلام۔ اور یہ نہیں فرماتا کہ آلِ نوح پر سلام، آلِ ابراہیم پر سلام اور یہ نہیں فرماتا کہ آلِ موسیٰ اور ہارون پر سلام۔

وہ فرماتا ہے : آلِ یٰسین پر سلام یعنی آلِ رسول یعنی آلِ محمد پر سلام۔

مامون نے کہا: ہم جانتے ہیں کہ آپ کے نزدیک اس کی یہ تشریح اور مطلب ہے۔ یہ ساتواں مقام تھا۔

آٹھواں مقام۔ خدا فرماتا ہے:" آگاہ رہو۔ جو کچھ تم حاصل کرتے ہو، اُس کا خمس خدا، رسول اور اُس کی آل کیلئے ہے"۔ خدا نے آلِ رسول کے حصہ کو اپنے اور اپنے رسول کے حصہ کے ساتھ رکھا ہے۔

اور یہ وہ نقطہ ہے جس کے ذریعے سے آلِ رسولاورامت کے درمیان فاصلہ ہو جاتا ہے کیونکہ خدا نے آلِ رسول کو ایک مقام میں اور لوگوں کو دوسرے مقام میں رکھا ہے۔ آلِ رسول کے لئے وہ پسند کیاجو اپنے لئے پسند کیا۔ ا س مقام میں اُن کو خاص مقام عنایت فرمایا ہے۔ پہلے اپنا نام لیا ، پھر اپنے رسول کا اور پھر آلِ رسول کا نام لیا۔ غنائم مادی میں سے اور باقی مادی فوائد میں سے جو اپنے لئے پسند کئے، وہی اُن کیلئے پسند کئے۔ وہ فرماتا ہے:"جان لو جو کچھ تم غنائم میں سے حاصل کرتے ہو، اُس میں پانچواں حصہ(خمس) خدا، اُس کے رسول اور آلِ رسول کے لئے ہے"۔

یہ ایک مضبوط تاکید اور قرآن میں ہمیشہ رہنے والی چیز ہے اور قیامت تک موجود ہے۔ایسا قرآن کہ"جس کے آگے اور پیچھے باطل نہیں ہے اور خداوند حکیم کی جانب سے اور پسندیدہ نازل ہوا ہے"۔

رہا خدا کا یہ قول:" اور یتیم او رمساکین"، یتیم جب یتیمی سے نکل جائے گا تو اُس کا حصہ ختم اور مسکین، جب اُس کی مسکینی ختم ہوجائے گی تو اُس کا حصہ بھی ختم ہو جائے گا اور وہ خمس سے حصہ نہیں لے سکتا۔ اُس کیلئے جائز نہیں ہے کہ وہ خمس سے حصہ لے سکے۔ لیکن آلِ رسول کا حصہ قیامت تک غنی اور فقیر کیلئے باقی ہے کیونکہ خد ااور اُس کے رسول سے بڑھ کر کوئی بے نیاز نہیں ہے۔ اس کے باوجود اپنے لئے اور اپنے رسول کے لئے خمس میں سے حصہ قرار دیا ہے اور جوکچھ اپنے لئے قرار دیا ہے، اپنے پیغمبر کے لئے راضی ہوا ہے، آلِ رسول کے لئے بھی وہی مقرر کیا ہے۔

اسی طرح غنائم میں سے جو اپنے اور اپنے رسول کے لئے قرار دیا، وہی آلِ رسول کے لئے قرار دیا۔ پہلے اپنا نام لیا، پھر اپنے رسول کا، اس کے بعد ذوی القربیٰ کا نام لیا۔ اُن کے حصے کو اپنے حصہ کے ساتھ قرار دیاہے۔

اسی طرح اطاعت میں کیا ہے۔ خدا فرماتا ہے:"اے ایمان والو! خدا اور اُس کے رسول اور تم میں سے جو صاحبانِ امر ہیں، اُن کی اطاعت کرو"۔ پہلے اپنا نام ، پھر اپنے رسول کا نام اور اس کے بعد اہلِ بیت کا ذکر کیا ہے۔

اس طرح ولایت کی آیت میں ہے:" بے شک تمہارا ولی خدا ہے اور اُس کا رسول ہے اور وہ جو ایمان لائے ہیں"۔ اہلِ بیت کی اطاعت کو پیغمبر اور اپنی اطاعت کے ہمراہ قرار دیا ہے۔ جیسے کہ جنگی غنائم میں اور دوسرے مادی فوائد میں اپنے اور اپنے رسول کے حصہ کے ساتھ اُن کے حصہ کو قرار دیا ہے۔

پس بابرکت ہے وہ اللہ کہ جس کی کتنی زیادہ نعمتیں ہیں اس اہلِ بیت پر۔

جب صدقہ کا قصہ پیش آیا تو خدا نے خود کو، رسول اور آلِ رسول کو اس سے پاک رکھا اور فرمایا:"صدقات فقراء، مساکین، عاملین،غیر مسلموں کے دلوں کو مائل کرنے کیلئے ہیں۔ غلاموں کو آزاد کروانے کیلئے، مقروضوں کے لئے،راہِ خدا میں، مسافروں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے واجب ہے"۔

کیا تم اس صدقہ میں پاتے ہو کہ خدا نے اپنے رسول کے لئے اور آلِ رسول کے لئے حصہ قرار دیا ہو۔ خدا نے جب ان کو صدقہ سے پاک رکھا تو خود کو اور اپنے رسول کو بھی پاک رکھا بلکہ اسے ان پر حرام کردیا کیونکہ صدقہ پیغمبر اور آلِ پیغمبر پر حرام ہے۔ یہ لوگوں کے ہاتھوں کی میل کی طرح ہے ۔ یہ اُن کے لئے حلال نہیں ہے کیونکہ وہ ہر بُری چیز اور پلید چیز سے پاک ہیں۔ جب اُن کو پاک کیا اور اُن کو چن لیا تو اُن کیلئے وہ پسند کیا جو اپنے لئے پسند کیا اور اُن کیلئے وہ ناپسند کیا جو اپنے لئے ناپسند کیا۔

نواں مقام۔ ہم وہ اہلِ ذکر ہیں جن کے متعلق خدا قرآن میں فرماتا ہے:"اگر تم نہیں جانتے ہو تواہلِ ذکر سے سوال کرو"۔

علماء نے کہا: آیت کا مقصود یہودونصاریٰ ہیں۔

امام علیہ السلام نے فرمایا:کیا مطلب درست ہے ۔ پس اس حالت میں تو وہ ہمیں اپنے دین کی طرف بلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ دین اسلام سے بہتر ہے۔

مامون نے کہا:کیا آپ اس بارے میں علماء کے نظریہ کے خلاف کچھ فرمائیں گے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا:ہاں۔ اہلِ ذکر رسولِ خدا اور ہم ہیں۔ اس مطلب کو خدا نے قرآنِ کریم میں سورة طلاق میں اس طرح بیان کیا ہے، خدا فرماتا ہے:"اے صاحبانِ عقل جو ایمان لائے ہیں، خدا نے تمہاری طرف ذکر جو رسول ہے، کو نازل کیا ہے جو خدا کی واضح آیات کو تمہارے لئے تلاوت کرتا ہے"۔ پس اہلِ ذکر پیغمبر اور ہم ہیں۔

دسواں مقام۔ سورة تحریم میں خداکا یہ قول ہے، وہ فرماتا ہے:" تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں تم پر حرام ہیں"۔ آخر آیت تک مجھے یہ بتاؤ کہ اگر رسولِ خدا زندہ ہوتے تو کیا میری بیٹی، میری بیٹی کی بیٹی یا آگے میری اولاد میں سے کسی کے ساتھ وہ شادی کرسکتے تھے؟

سب نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا: میں کہتا ہوں کہ مجھے بتاؤ کیا تمہاری بیٹیوں میں سے کسی کے ساتھ رسولِ خدا کا شادی کرنا درست ہے یا نہیں؟ سب نے کہا: ہاں درست ہے۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا: یہ مطلب واضح کرتا ہے کہ ہم اُس کی آل سے ہیں اور تم اُس کی آل سے نہیں ہو۔ اگر تم اُس کی آل سے ہوتے تو تمہاری بیٹیاں اُن پر حرام ہوتیں ۔ جیسا کہ میری بیٹی اُن پر حرام ہے کیونکہ ہم اُن کی آل سے ہیں اور تم اُن کی امت سے ہو۔ یہ فرق ہے آل اور امت کے درمیان کیونکہ آل ان سے ہے اور امت جب اُن کی آل سے نہیں ہے، پس اُن سے نہیں ہے۔ یہ دسواں مقام تھا۔

گیارہواں مقام۔ سورة مومن میں خدا فرماتا ہے ۔ ایک شخص قول کو اس طرح نقل کرتا ہے:"ایک مومن شخص آلِ فرعون میں سے جس نے اپنے ایمان کو چھپا رکھا تھا، نے کہا: کیا تم اُس شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو فقط یہ کہتا ہے کہ میرا رب خدا ہے، حالانکہ وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانیاں لے کر آیا ہے"، آیت کے آخر تک، اور یہ شخص فرعون کے ماموں کا بیٹا تھا۔ اس وجہ سے اُس کی طرف نسبت دی ہے لیکن اُس کو دین میں فرعون کے ساتھ منسوب نہیں کیا۔

اسی طرح ہم آلِ رسول کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں کیونکہ ہم اُس سے پیدا ہوئے ہیں اور ہم نے اُن کے دین کو لوگوں میں پھیلایا ہے۔ یہ فرق ہے آل اور امت کے درمیان۔ یہ گیارہواں مقام تھا۔

بارہواں مقام۔ خدا کا یہ قول ہے:"اپنی اہلِ بیت کونماز کا حکم کرو اور اس کے صبر سے صبر کرو"۔ اور ہمیں اس چیز کے ساتھ خاص کیا کیونکہ باوجودیکہ نماز کے متعلق حکم دے چکا تھا ، دوبارہ ہمیں اس کا حکم فرمایا ہے۔ دوبارہ صرف ہمیں حکم دیا ہے اور رسولِ خدا اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نو ماہ تک علی اور فاطمہ علیہما السلام کے گھر کے پاس ہر نماز کے وقت آکر فرماتے تھے: خدا تم پر رحمت کرے نماز کا وقت ہے اور خدا نے رسولوں کی اولاد میں سے کسی ایک کو بھی یہ عزت نہیں بخشی جو ہمیں عزت عطا کی ہے۔ رسولوں کی اولاد میں سے صرف ہمیں اس خصوصیت کے ساتھ ممتاز کیا ہے۔

یہ فرق ہے آلِ رسول اور امت کے درمیان۔ تمام تعریفیں عالمین کے رب کے لئے ہیں اور خداکا درود ہو محمد، خدا کے نبی پر۔(عیون الاخبار:ج ۱ ،ص ۲۲۸ تا ۲۴۰) ۔

۳ ۔ آنحضرت کا مناظرہ آئمہ کی خلافت کو غصب کرنے والوں کی عدم لیاقت میں

روایت ہے کہ ایک گروہ کو آنحضرت کے ساتھ امر امامت کے متعلق مناظرہ کرنے کی دعوت دی گئی۔ اُنہوں نے یحییٰ بن ضحاک سمرقندی کو منتخب کیا۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: یحییٰ !سوال کرو۔ یحییٰ نے کہا: اے رسولِ خدا کے بیٹے! آپ سوال کریں تاکہ اس کے ساتھ ہمیں شرافت حاصل ہوسکے۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: اے یحییٰ ! تو اُس شخص کے متعلق کیا کہتا ہے جو اپنے سچا ہونے کا دعویدار ہے اور سچوں کو جھٹلاتا ہے۔ کیا وہ شخص اپنی بات میں سچا اور اپنے دین میں حق پر ہے یا جھوٹ کہتا ہے؟ یحییٰ جواب دینے سے عاجز رہا۔

مامون نے یحییٰ سے کہا کہ جواب دو۔ اُس نے کہا؟ اے امیرالمومن ین! میں جواب سے عاجز ہوں۔ مامون نے امام علیہ السلام کی طرف رخ کیا اور کہا: جس مسئلہ کے جواب دینے سے عاجز ہے، آپ جواب دیں۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: اگر یحییٰ کا خیال ہے کہ اُس نے سچوں کی تصدیق کی ہے تو جو اپنی کمزوری کی گواہی دے، وہ کس طرح امامت کی لیاقت رکھ سکتا ہے۔ اس نے منبرکے اوپر کہا کہ میں تمہارا سرپرست ہوں لیکن تم سے بہتر نہیں ہوں حالانکہ حکمران اپنی رعایا سے افضل ہوتا ہے۔

اگر یحییٰ کا خیال ہے اُس نے سچوں کی تصدیق کی ہے ، جو شخص منبر پیغمبر پر خود اپنے خلاف اعتراف کرے اور کہے کہ میرے پاس ایک شیطان ہے جو مجھ پر عارض ہوجاتا ہے تو وہ اس لائق نہیں ہے کہ امام بن سکے کیونکہ امام میں شیطان نہیں ہو سکتا۔

اگر یحییٰ خیال کرتا ہے کہ اُس نے سچوں کی تصدیق کی ہے ، پس جو اپنے ساتھی کے خلاف اقرار کرے اور کہے ابوبکر کی امامت ایک ناگہانی معاملہ تھا، خدا نے اُس کے شر کو زائل کردیا ، جو کوئی بھی اُس کی طرح دعویٰ کرے، اُسے قتل کردو ، کیا وہ امامت کے لائق ہے؟

مامون چیخا، لوگ اِدھر اُدھر چلے گئے۔ پھر بنی ہاشم کی طرف دیکھا اور کہا: میں نے نہیں کہا تھا کہ اس کے ساتھ بحث نہ کرو اور اُس کے خلاف کوئی اقدام نہ کرو۔ اس گروہ کا علم ان کے پیغمبرکی طرف سے ہے۔(ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب :ج ۴ ،ص ۳۵۱) ۔


فصل سوم

توحید کے متعلق آنحضرت کا کلام

کلیات توحید میں۔

کلیات توحید میں۔

کلیات توحید میں۔

خدا اور انسان کے مشترک ناموں کے معانی کے درمیان فرق کے متعلق۔

اسمائے الٰہی کی حدیث میں۔

جہان کے حادث ہونے اور اُس کے بنانے والے کے اثبات کے متعلق۔

جہان کے حادث ہونے کی دلیل کے متعلق۔

کون و مکان کے متعلق۔

خدا کی رو ی ت کے ابطال کے متعلق۔

رو ی ت خدا کی نفی کے متعلق۔

خدا کیلئے جسم قرار دینے کی نہی کے متعلق۔

خدا کی اُس کے غیر کے ساتھ توصیف کرنے کی نہی میں جس کے ساتھ خود خدا نے توصیف کی ہے۔

مشیت و ارادہ کے متعلق۔

مشیت و ارادہ کے متعلق۔

قدرت اور ارادہ کے متعلق۔

اس بارے میں کہ خداجس کو چاہتا ہے، آگے پیچھے کرسکتا ہے۔

اُس کے متعلق جو خدا کی مخلوق خدا کے ساتھ تشبیہ دیتا ہے۔

خدا کی معرفت کے کم ترین مرتبہ کے بارے میں۔

انسان کے اپنے اعمال میں اختیار رکھنے کی کیفیت کے بیان میں۔

انسان کے اپنے اعمال میں اختیار رکھنے کی کیفیت کے بیان میں۔

انسان کے اپنے اعمال میں اختیار رکھنے کی کیفیت کے بیان میں۔

انسان کے اپنے اعمال میں اختیار رکھنے کی کیفیت کے بیان میں۔

انسان کے اپنے اعمال میں اختیار رکھنے کی کیفیت کے بیان میں۔

انسان کے اپنے اعمال میں اختیار رکھنے کی کیفیت کے بیان میں۔

اُس کسی کے متعلق جو جبر کا قائل ہے۔

سورة توحید کی فضیلت میں۔

اس کلامِ پیغمبر کے متعلق: خدا نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔

تناسخ کے ابطال میں۔

۱ ۔ کلیات توحید کے متعلق آنحضرت کا کلام

روایت ہے کہ جب مامون نے ارادہ کیا کہ امام رضا علیہ السلام کو ولی عہدی کیلئے منصوب کیا جائے تو بنی ہاشم کو جمع کیااور کہا: میں چاہتا ہوں کہ خلافت کو اپنے بعد امام رضا علیہ السلام کے سپرد کردوں۔ بنی ہاشم نے امام علیہ السلام کے ساتھ حسد کیا اور کہا: تم چاہتے ہو کہ اُس شخص کو خلافت دو جو اس بارے میں بالکل بے خبر ہے۔

اگر تو چاہتا ہے کہ اُن کی لاعلمی تجھ پر ظاہر ہو تو کسی کو بھیج کو بلا تاکہ وہ آئیں ۔ مامون نے آنحضرت کی طرف کسی کو بھیجا۔ امام علیہ السلام تشریف لائے۔ بنی ہاشم نے عرض کیا: اے اباالحسن ! منبر پر جائیں اور خدا کی توصیف کریں ، اس طرح کہ ہم اس پر اُس کی عبادت کرسکیں۔

امام علیہ السلام منبر پر گئے۔ تھوڑی دیر کیلئے بیٹھے اور غور کیا۔ کھڑے ہوئے۔ خداکی حمدوثناء کے بعد پیغمبر اور آلِ پیغمبر پر درود بھیجنے کے بعد اس طرح گفتگو کی:

سب سے پہلے خدا کی عبادت اُس کی معرفت ہے اور خدا کی اصل معرفت اُس کی توحید ہے۔ اُس کی توحید کا کمال اس میں ہے کہ صفات(زائد بر ذات) کی نفی کی جائے کیونکہ عقلیں گواہیں دیتی ہیں کہ ہر صفت اور ہر موصوف اُس کی مخلوق ہے۔ ہر موصوف گواہی دیتا ہے کہ اُس کا کوئی خالق ہے۔ جو اس طرح کی صفت نہیں رکھتا۔ اس طرح کی صفت کے ساتھ موصوف نہیں ہے۔ ہر صفت و موصوف ایک دوسرے کے ساتھ ارتباط کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ ارتباط گواہی دیتا ہے اُس کے حدوث کے متعلق اور حدوث کسی کے ازلی نہ ہونے کی گواہی دیتا ہے کیونکہ کسی حادث شے کا ازلی ہونا محال ہے۔پس جس نے خد اکو تشبیہ کے ساتھ جاننے کی کوشش کی تو اُس نے کچھ نہ جانا۔ جو خدا کو اُس کی حقیقت کے ساتھ جاننا چاہے، اُس نے خدا کو ایک نہیں جانا۔ جو کوئی خدا کیلئے مثال پیش کرے، وہ خدا کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔ جو اُس کی عنایت کا تصور کرے، اُس نے اُس کی تصدیق نہیں کی۔ جس نے اُس کی طرف اشارہ کیا، اُس نے اُس کا ارادہ نہیں کیا۔ جس نے اُس کی کسی چیز کے ساتھ تشبیہ کی، اُس نے اُس کا قصد نہیں کیا۔ جو کوئی اُس کی جزیت کا قائل ہوا، وہ اُس کیلئے ذلیل و خوار نہ ہوا۔جو کوئی اُس کو وہم وخیال میں لائے، اُس نے اُس کا ارادہ نہیں کیا۔ جو خود بخود پہچانا جائے، وہ مصنوع ہے اور بنا ہوا ہے۔ جو کسی دوسرے کی وجہ سے قائم ہو ، وہ معلول ہے۔ اُس کے وجود اور خلقت کیلئے دلیل لائی جائے۔ عقل کے ذریعے اُس کی معرفت کیلئے راہ تلاش کی جائے اور حجت خدا ہر ایک کی فطرت میں موجود ہے۔

خدا کا اپنی مخلوق کو پیدا کرنا اُس کے اور مخلوق کے درمیان ایک پردہ ہے۔ خدا کا اپنی مخلوق سے مختلف ہونا خدا اور اُس کی مخلوق کے ساتھ جدائی ہے۔ خدا کا خلق کرنے میں ابتداء کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ خدا کیلئے ابتداء نہیں ہے کیونکہ جس کیلئے ابتداء ہو، وہ اس سے عاجز ہوتا ہے کہ کسی کی ابتدء کرسکے۔خدا کا مخلوق کو آلات و اسباب دینا اس بات کی دلیل ہے کہ خدا کے اسباب وآلات نہیں ہیں کیونکہ آلات و اسباب مادی چیزوں کی محتاجی پر دلیل ہوتے ہیں۔

خدا کے نام اُس سے تعبیر ہیں(نہ کہ عین ذات) اور خدا کے افعال اُس کی معرفت کا ذریعہ ہیں۔ اُس کی ذات اُس کی عین حقیقت ہے۔ اُس کی حقیقت اُس کے اور اُس کی مخلوق کے درمیان جدائی ہے۔ اس کی غیریت اُس کے غیر کو محدود کرنے والی ہے۔ جیسا کہ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ اُس کا غیر محدود ہے۔

جس نے خدا کا وصف بیان کیا، وہ خدا سے جاہل رہااوراُس نے خدا پر تجاوز کیا جس نے خدا کے ساتھ کسی چیز کو شامل کیا۔اس نے غلطی کی جس نے اُس کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کی۔جو یہ کہتا ہے کہ خدا کیسا ہے، اُس نے تشبیہ دی اور جو یہ کہتا ہے کہ خدا اس طرح کا ہے، وہ اس کیلئے علت و وجہ ڈھونڈنے کے درپے ہوگیا۔ جو یہ کہے کہ خدا کس زمانے میں وجود میں آیا، اُس نے اُسے زمانے کے ساتھ محدود کردیا۔ جو یہ کہتا ہے کہ خدا کس میں ہے، اُس نے اُسے کسی چیز کے اندر فرض کیا۔ جو یہ کہتا ہے کہ خدا کس وقت تک ہے، اُس نے اُس کیلئے نہایت فرض کی۔

جو یہ کہتا ہے کہ وہ کس وقت تک ہے، اُس نے اُسے وقت کے ساتھ محدود کردیا اور اُس کے لئے نہایت فرض کی۔ وہ اس کیلئے مدت کا قائل ہوا۔جو اُس کے لئے مدت کا قائل ہے، اُس نے اُس کا تجزیہ کیا ہے اور جس نے اُس کا تجزیہ کیا ، اُس نے اُس کا وصف بیان کیا ۔ جس نے اُس کی توصیف کرنے کی کوشش کی اور چیزوں کی مانند قرار دیا، جس نے ایسا کیا وہ حق کے راستہ سے منحرف ہوا اور کافر ہوگیا۔

مخلوق کی تبدیلی کے ساتھ خدا میں تبدیلی نہیں آتی۔ کسی محدود کی تحدید کے ساتھ خدا محدود نہیں ہوتا۔ خدا ایک ہے۔ نہ تو کسی مقام میں شمار کرنے سے وہ ظاہر ہے اور نہ اُسے آنکھ کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ اُس کے ساتھ ملاقات کی جاسکتی ہے ۔ خدا تجلی اور ظہور رکھتا ہے۔ نہ ایسے کہ دیکھا جا سکے ، نہ ایسے کہ ظاہر سے باطن کی طرف منتقل ہو۔ مخلوق سے جدا اور سباین سے نہ مسافت کے ساتھ۔ اپنی مخلوق کے نزدیک ہے، نہ جہت مکان کے لحاظ سے۔

وہ لطیف ہے نہ جسمانیت کے ساتھ۔ وہ موجود ہے نہ اس طرح کہ اُس کا وجود عدم کے بعد ہو۔ امور کو انجام دینے والا ہے نہ جبر و ظلم کے ساتھ۔بغیر فکر کے امور کی اندازہ گیری کرتا ہے۔ بغیر کسی حرکت کے امور کی تدبیر کرتا ہے۔ بغیر اس کے کہ ذہن میں لائے، ارادہ کرتا ہے۔ درک کرنے والا ہے بغیر اس کے کہ کوشش کرے ،سننے والا ہے بغیر آلہ و اسباب کے، دیکھتا ہے دیکھنے والی چیز کے بغیر۔

زمانے کے ساتھ مربوط نہیں ہے۔ مکان اُس کو اپنے اندر نہیں لے سکتے۔ نیند اور اونگھ اُسے نہیںآ تی۔ اوصاف اُس کو محدود نہیں کرتا۔ آلات و اسباب اُسے کوئی نفع نہیں دیتے۔

اُس کا وجود زمانے سے پہلے ہے۔ اُس کا وجود عدم سے سبقت رکھتا ہے۔ اُس کا ازلی ہونا ہر ابتداء پر مقدم ہے۔ جب اُس نے آدمی کے شعور کو درک کرنے کی قدرت دی تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس کے لئے آلاتِ شعور نہیں ہیں کیونکہ اُس نے چیزوں کے جوہر اور ماہیت کو پیدا کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ اُس کیلئے ممکنات کی طرح ماہیت نہیں ہے کیونکہ اُس نے چیزوں کے درمیان ضدیں پیدا کی ہیں۔ معلوم ہوا کہ اُس کیلئے کوئی ضد نہیں ہے کیونکہ اُس نے امور کے درمیان مقارفت قرار دی ہے۔ معلوم ہوا کہ اُس کے لئے کوئی قرین اور ساتھی نہیں ہے۔ اُس نے روشنی کو تاریکی کی ضد ،ظاہر کو پوشیدہ کی ضد، خشک کو تر کی ضد اور سردی کو گرمی کی ضد قرار دیا ہے۔

خدا نے اُن چیزوں کے درمیان الفت اور محبت پیدا کی جن کے درمیان کوئی تعلق نہ تھا۔ جو چیزیں آپس میں نزدیک تھیں، اُن کے درمیان جدائی قرار دی۔ یہ جدائی دلالت کرتی ہے کہ کوئی جدائی ڈالنے والا موجود ہے اور یہ دوستی دلیل ہے کہ اس پر کہ اس دوستی کے پیدا کرنے والا کوئی ہے اور یہ ہے اللہ تعالیٰ کا قول:

"ہم نے ہر چیز کو جوڑا جوڑاپیدا کیا تاکہ تم تذکر حاصل کرو"۔

معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے قبل و بعد نہیں ہے۔ غرائض کا پیدا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان غرائض کے ایجاد کرنے والے کیلئے کوئی غرض نہیں ہے کیونکہ اُس نے چیزوں کے درمیان تفاوت اور فرق پیدا کیا ہے۔معلوم ہوا کہ ان کے پیدا کرنے والے کیلئے تفاوت اور فرق نہیں ہے کیونکہ اس نے ہر چیز کیلئے زمانہ بنایا ہے۔ معلوم ہوا کہ خدا کیلئے زمانہ نہیں ہے۔ بعض چیزیں دوسری بعض چیزوں سے پردے میں ہیں۔ معلوم ہوا کہ خدا اور چیزوں کے درمیان کوئی حجاب اور پردہ نہیں ہے۔

وہ اُس وقت بھی رب تھا جب کوئی پرورش پانے والا نہیں تھا اور وہ اُس وقت بھی معبود تھا جب کوئی اُس کی عبادت کرنے والا نہ تھا۔ وہ اُس وقت بھی عالم اور دانا تھا جب کوئی معلوم چیز اور جانی ہوئی نہ تھی۔ وہ اُس وقت بھی خالق تھا جب کوئی مخلوق نہ تھی۔ وہ اُس وقت بھی حقیقت خالقیت رکھتا تھا جب کسی چیز کو ابھی اُس نے خلق نہیں کیا تھا۔

وہ کس طرح ایسا نہ ہو جبکہ وہ کسی چیز سے غائب نہ تھا۔ کوئی تبدیلی اُس میں واقع نہیں ہوتی۔ اُمید اور خواہش اُس میں موجود نہیں ہے۔ وہ کسی زمانے کے ساتھ محدود نہیں ہے۔ وہ کسی چیز کا ساتھی نہیں ہے۔ چیزوں کو آلات و اسباب محدود کردیتے ہیں اور ضرورت اور محتاجی کو ثابت کرتے ہیں۔ اسباب و آلات اپنے کی مثل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ چیزوں کا قدیم ہونا اُن کے حدوث کی نفی کرتا ہے اور ازلی ہونے سے روکتا ہے اور اس میں کوئی کمال نہیں ہے۔

اُس نے چیزوں کے درمیان جدائی ڈالی تاکہ اس بات پر دلالت کرے کہ کوئی جدائی ڈالنے والا ہے۔ چیزوں کے درمیان دوری پیدا کی تاکہ دوری پیدا کرنے والا پر دلالت کرے۔ چیزوں کے خالق نے عقلوں کیلئے تجلی پیدا کی اور ان کے ذریعے سے آنکھوں کے ذریعے دیکھنے سے پردے میں چلا گیا۔اُن کے ذریعے اوہام کو متوجہ کیا اور ان میں خدا کے غیر کو ثابت کرنے لگے۔ انہیں سے دلیلیں لی گئیں اور اُن سے اقرار لیا گیا۔ عقلوں کے ذریعے خدا کے ساتھ اعتقاد مضبوط ہوتا ہے۔ افراد کے ذریعے ایمان کامل ہوتا ہے۔ دینداری معرفت کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ معرفت اخلاص کے بغیر میسر نہیں ہوتی۔ خدا کو کسی چیز کے ساتھ مشابہہ قرار دینے سے اخلاص حاصل نہیں ہوتا۔ اگر خدا کیلئے مخلوق کے اوصاف کو ثابت کیا جائے تو تشبیہ کی نفی نہیں کی جاسکتی۔

پس جو کچھ مخلوقات میں تھا، وہ خالق میں نہ تھا اور جو کچھ مخلوقات میں ممکن ہے، وہ خالق میں نہیں ہے۔ خدا میں سکون کا کوئی وجود نہیں ہے۔ یہ سب چیزیں خدا میں کس طرح ممکن ہیں جبکہ یہ سب چیزیں اُس نے جاری کی ہیںَ تمام چیزیں اُس کی طرف لوٹتی ہیں۔ اگر وہ اس طرح ہو تو اُس کی ذات میں تغیر و تبدل واقع ہوجائے گا۔ اُس کی حقیقت مرکب ہوجائے گی۔ ترکیب ازلی ہونے سے مانع ہے اور اُس میں خالقیت کا معنی تصور نہیں ہوسکتا۔اگر اُس کیلئے ہم انتہا کے قائل ہوجائیں تو اُس کے لئے آغاز ضرور ہوگا۔ اگر اُس کیلئے یہ تصور کیا جائے کہ وہ مکمل ہے تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ اُس کے وجود میں کوئی کمی بھی ہے۔

وہ کس طرح ازلیت کے لائق ہو سکتا ہے جو تبدیلی سے پاک نہ ہو۔ وہ کس طرح چیزوں کو ایجاد کرسکتا ہے جو خود ایجاد ہونے سے کوئی مانع نہیں رکھتا۔ جب بھی ایسا ہوگا تو اُس میں مصنوعیت کی علامات موجود ہوں گی اور یہ چیز اُس کی خالقیت پر دلیل کی بجائے اُس کے موجود ہونے پر دلیل ہوگی۔

اس وجہ سے مقام گفتگو میں اُس کی خالقیت پر دلیل نہیں ہے اور اس بارے میں پیش آنے والے سوالات کا کوئی جواب نہ ہوگا۔ اُس کیلئے حقیقت میں کوئی تعظیم نہ ہوگی۔ مخلوق کے درمیان اُس کا ظاہر ہونا ظلم نہ ہوگا مگر یہ کہ ازلی ہونا اس چیز سے مانع ہے کہ اُس کے لئے دو ہوناتصور کیا جائے اور یہ کہ جس کیلئے ابتداء نہیں ہے، اُس کیلئے ابتداء پیدا کی جائے۔ عظیم و بلند خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔

وہ جھوٹ کہتے ہیں جو خدا کیلئے شریک کے قائل ہیں۔ وہ گمراہ ہوگئے اور حق سے دور ہوگئے اور بہت بڑی گمراہی میں پڑگئے۔ محمد و آلِ محمد پر ، جو پاک ہیں، درود ہو۔(عیون الاخبار:ج ۱ ،ص ۱۶۹ ۔توحید: ۳۴) ۔

۲ ۔ کلیات توحید میں آنحضرت کا کلام

تمام تعریفیں اُس اللہ کیلئے جس نے اپنی حمد کا الہام اپنی مخلوق کی طرف کیا اور اپنی ربوبیت کی معرفت اُن کی فطرت میں رکھی۔ اپنے خلق کرنے سے اپنے وجود پردلالت کی اور اپنی مخلوق کے پیدا کرنے کے ذریعے اپنی ازلیت پر رہنمائی کی۔ اپنی مخلوق کے ہم مثل رکھنے کے ساتھ اپنی بے مثلی پر دلالت کی۔اپنی نشانیوں کو اپنی قدرت پر گواہ بنایا۔ اُس کی ذات صفات کو قبول نہیں کرتی(کیونکہ تمام صفات اُس کی عین ذات کے کمال ہیں)۔آنکھیں اُس کو دیکھنے سے اور وہم اُس کے احاطہ کرنے سے قاصر ہیں۔

اُس کے وجود کیلئے کوئی ابتداء نہیں ہے اور اُس کی بقاء کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ آلات و اسباب اُس کا ادراک نہیں کر سکتے ۔ پردے اُس کو چھپا نہیں سکتے۔ اُس کے اور اُس کی مخلوقات کے درمیان پردہ خود اُس کی مخلوق ہے کیونکہ جو چیز اُس کی مخلوق کیلئے امکان رکھتی ہے، وہ اُس کیلئے منع ہے اور جو چیز اُس کے لئے ممنوع ہے، وہ مخلوق کے لائق ہے۔اس کے علاوہ بنانے والے اور بننے والے کا فرق بھی موجود ہے۔ اسی طرح پالنے والے اور پالے ہوئے ،محدود کرنے والے اور محدود کئے ہوئے کے درمیان فرق ہے۔

وہ ایک ہے نہ کہ عددی معنی کے لحاظ سے(یعنی مرکب نہیں ہے)۔ وہ پیدا کرنے والا ہے، نہ اعضاء کی حرکت کے ساتھ(یعنی جس طرح ہر بنانے والا اپنے اعضاء کو حرکت دیتا ہے) ۔ وہ بغیر اسباب کے دیکھتا ہے۔ بغیر آلات کے سنتا ہے۔ جسم کے محسوس ہوئے بغیر وہ حاضر ہے۔ وہ ایک طرف ہے ، نہ اس معنی کے ساتھ کہ مسافت کی دوری رکھتا ہو۔ وہ باطن ہے، نہ اس معنی کے ساتھ کہ وہ کسی پردہ کے نیچے ہے۔ وہ ظاہر ہے، نہ

اس معنی کے ساتھ کہ وہ کسی چیز کے سامنے ہے۔ وہ ایسی ذات ہے کہ اُس کی حقیقت نے تیز دیکھنے والی آنکھوں کومایوس کردیا ہے۔ اُس کے وجود نے خاطراتِ ذہنی کو جڑوں سے اکھیڑ کر رکھ دیا ہے۔

دین کی ابتداء اُس کی معرفت کے ساتھ ہے اور معرفت کا کمال اُس کو ایک ماننے میں ہے۔ ایک ماننے کا کمال تمام صفات(زائد بر ذات) کی اُس کی ذات سے نفی کرنا ہے کیونکہ ہر صفت گواہی دیتی ہے کہ وہ اُس کی غیر ہے۔ ہر موصوف گواہی دیتا ہے کہ وہ صفت کا غیر ہے۔ ان دو کی گواہی کہ یہ دو چیزیں ہیں ، کہ ان میں ازلیت نہیں ہے( یعنی اگر ہم قائل ہوجائیں کہ اُس کی صفات غیر ذات ہیں اور ذات پر زائد ہیں تو ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ اُس کی ذات میں ترکیب ہے اور قدیم سے تعددہے اوریہ ایک دوسرے کے محتاج ہیں)۔ جو بھی خدا کی توصیف کرتا ہے، وہ خدا کو محدود کرتا ہے اور جو اُسے محدود کرتا ہے، وہ اُسے معدود کرتا ہے اور جوکوئی اُسے گننے میں لائے، اُس نے اُس کی ازلیت کو باطل کردیا۔ جو کہے کہ وہ کس طرح کا ہے، وہ اُس کے وصف کو طلب کرتا ہے۔ جو کہے کہ وہ کس میں ہے، اُس نے اُس کو کسی چیز میں ڈالا ہے۔ جو کہے کہ وہ کس پر ہے، اُس نے اُسے پہچانا ہی نہیں۔ جو کہے کہ وہ کہاں ہے، اُس نے جگہ کو اُس سے خالی جانا۔ جو یہ کہے کہ اُس کی ذات کیا ہے، اُس نے اُس کی تعریف کی اور جو یہ کہے کہ وہ کب تک ہے، اُس نے اُس کو متناہی(نہایت والا) جانا۔

وہ اُس وقت سے عالم ہے جب کوئی معلوم نہ تھا، وہ اس وقت سے خالق ہے، جب کوئی مخلوق نہ تھی(پس وہ ہمیشہ پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے)۔ وہ اُس وقت بھی پروردگار تھا، جب کوئی پلنے والا نہ تھا، ہمارے رب کی اسی طرح توصیف کی جاتی ہے ،وہ وصف بیان کرنے والوں کے وصف سے بلند تر ہے۔(توحید: ۵۶)

۳ ۔ کلیات توحید میں آنحضرت کا کلام

تمام تعریفیں اُس خداکے لئے جو اس جہان کی ابتداء اور اس جہان کا خالق ہے۔ قوت و طاقت والا ہے۔جو اپنے بندوں کا رکھوالا ہے۔ اپنے بندوں پر تسلط رکھتا ہے۔ اس کی حکمرانی کے سامنے ہر چیز سرجھکائے ہوئے ہے۔ اُس کی عزت کے سامنے ہر چیز ذلیل ہے۔ ہر چیز اُس کی قدرت کو تسلیم کئے ہوئے ہے۔ اُس کی سلطنت اور عظمت کے سامنے ہر چیز جھکتی ہے۔ اُس کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ وہ ہر چیز کی تعداد کو جانتا ہے۔ بڑے بڑے کام اُس کو تھکاتے نہیں ہیں اور چھوٹی چیزیں اُس کی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتیں۔

دیکھنے والوں کی آنکھیں اُس کو درک نہیں کر سکتیں۔ وصف بیان کرنے والوں کی توصیف اُس کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ خلق اور حکم اُسی کیلئے ہے۔ آسمانوں اور زمینوں میں بلند مثال اُسی کیلئے ہے۔ وہ عزت والا، جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ (بحار:ج ۴ ،ص ۲۴۳) ۔

۴ ۔ آنحضرت کا کلام خدا اور انسانوں کے مشترک ناموں کے درمیان فرق کے متعلق

یاد رکھو! خدا خیر اور نیکی کا تجھے علم دے۔ خدا تعالیٰ قدیم ہے اور قدیم ہونا اُس کیلئے ایک صفت ہے جو عقل مند کی رہنمائی کرتی ہے کہ اُس کے پہلے کوئی نہ تھا۔ اُس کے ہمیشہ رہنے میں اُس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ پس صاحبانِ عقل کے اس اعتراف کے بعد کہ وہ اس صفت کو درک نہیں کر سکتے، ہمارے لئے روشن ہوگیا کہ خدا کے پہلے کوئی چیز نہ تھی۔ اُس کے ہمیشہ باقی رہنے میں اُس کے ساتھ کوئی نہیں ہے۔

پس جو یہ کہتا ہے کہ اُس سے پہلے یا اُس کے ساتھ کوئی چیز تھی، اُس کی بات باطل ثابت ہوئی کیونکہ اگرکوئی چیز ہمیشہ اُس کے ساتھ ہو تو وہ اُس کا خالق نہ ہوگا کیونکہ وہ ہمیشہ خدا کے ساتھ تھی۔ خدا اُس کا خالق کس طرح ہو سکتا ہے جو ہمیشہ اُس کے ساتھ ہو۔ اگر کوئی چیز اُس سے پہلے ہو تو وہ اوّل ہو گی نہ یہ او ر جو اوّل ہوگا وہ اس لائق ہے کہ وہ خالق ہو نہ دوسرا۔

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ناموں کے ساتھ اپنے اوصاف بیان کئے ہیں۔مخلوقات کو پیدا کیا۔ اُن کی عبادت اور امتحان کو طلب کیا۔ اُن سے کہا کہ مجھے ان ناموں کے ساتھ پکارو۔ پس اپنے آپ کو سننے والا، دیکھنے والا، طاقتور ،قائم، بولنے والا، ظاہر، باطن، لطیف، آگاہ، قوی، عزیز ، حکیم و دانا اور اس طرح کے دوسرے نام دئیے۔

پس جب غلط قسم کے لوگوں نے اور جھٹلانے والوں نے ان ناموں کو دیکھا اور دوسری طرف سے ہم جیسے افراد سے سن چکے تھے کہ ہم خدا کے متعلق خدا سے خبر دیتے تھے کہ اُس جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور کوئی مخلوق بھی اُس کی طرح نہیں ہے تو کہنے لگے کہ تمہارا تو عقیدہ مثل و نظیر نہیں رکھتا۔

پس کس طرح خدا کے ناموں میں تم اپنے آپ کو شریک کرتے ہو اور اپنے آپ کو اس کا ہمنام کرتے ہو؟ پس یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ تم خدا کے تمام یا بعض حالات میں شریک ہو کیونکہ اچھے اچھے ناموں کو تم نے اپنے لئے بھی جمع کررکھا ہے۔

ہمارا جواب ایسے لوگوں کیلئے یہ ہے : بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنے ناموں میں سے معانی کے اختلاف کے ساتھ نام دئیے ہیں جیسا کہ ایک نام دو مختلف معانی رکھتا ہے۔اس مطلب پر دلیل لوگوں کا یہ کہنا ہے جو ان کے نزدیک قبول شدہ اور مشہور ہے اور خدا نے بھی اپنی مخلوق کو اس کے ذریعے خطاب کیا ہے۔ جس چیز کو وہ سمجھتے ہیں، اُس کے ساتھ خطاب کیا ہے تاکہ جو وہ ضائع کرچکے ہیں، اُس کی نسبت اُن پر حجت قائم ہوسکے۔ کبھی کسی مرد کو کتا، گدھا، گائے، شیر کہا جاتا ہے؟ یہ تمام مرد کے حالات کے خلاف ہوتا ہے ۔ یہ نام جن معنی کے ساتھ ان کیلئے استعمال ہوتے ہیں، اس کیلئے استعمال نہیں کئے گئے کیونکہ انسان شیر اور کتا نہیں ہے۔خدا تجھ پر رحمت کرے ، اس کو سمجھ لے۔

اللہ تعالیٰ کو عالم کہا جاتا ہے۔ یہ نام علم حادث کی وجہ سے نہیں ہے کہ اُس کے ذریعے سے چیزوں کو جانتا ہے۔ آئندہ کے معاملات کی حفاظت کرتا ہے اور پیدا کرنے اور تباہ کرنے میں غوروفکر کرتا ہے۔ جو کچھ اپنی مخلوق میں سے ختم کیا ہے، اُس میں اُسی کے ذریعے مدد طلب کرے کہ اگر وہ علم اُس کے نزدیک حاضر نہ ہوگا اور اُس سے غائب ہوگا تو وہ کچھ نہیں جانتا ہوگا، کمزور ہوگا۔ جیسا کہ مخلوقات میں سے صاحبانِ علم حاضرات کو دیکھتے ہیں کہ اُن میں علم کے پیدا ہونے کی وجہ سے اُن کو عالم کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے قبل وہ جاہل تھے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ علم ان سے دور ہوجاتا ہے اور اُن کو جہالت کی طرف لے جاتا ہے۔ خدا کو عالم کہتے ہیں کیونکہ وہ کسی چیز سے نادان نہیں ہے۔ جاہل نہیں ہے۔

پس خالق اور مخلوق اسم عالم میں شریک ہیں اور معنی میں مختلف ہیں جیسا کہ تم جان چکے ہو۔ہمارے پروردگار کو سمیع(سننے والا) کہا جاتا ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ وہ کان کا سوراخ رکھتا ہے اور اُس کے ذریعے سے وہ سنتا ہے۔ اُس کے ذریعے سے وہ کوئی چیز نہیں دیکھتا۔ہمارے کان کے سوراخ کی طرح کہ ہم اُس کے ذریعے سے سنتے ہیں۔ لیکن اُس کے ذریعے سے دیکھ نہیں سکتے۔ لیکن خدا خود خبر دیتا ہے کہ کوئی آواز اُس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ ایسے نہیں ہے جیسے ہم نام لیتے ہیں ۔ پس وہ سمیع(سننے والا) کے نام میں ہمارے ساتھ شریک ہے لیکن معنی مختلف ہے۔

اسی طرح اُس کا دیکھنا آنکھ کے سوراخ کے ساتھ نہیں ہے جیسا کہ ہم اپنی آنکھ کے سوراخ کے ساتھ دیکھتے ہیں اور اُس سے کوئی اور فائدہ نہیں لیتے۔ لیکن خدا دیکھنے والا ہے اور جس چیز کی طرف بھی دیکھا جا سکتا ہے، وہ اُس سے لا علم نہیں ہے۔ پس وہ دیکھنے والے نام میں ہمارے ساتھ شریک ہے لیکن معنی میں مختلف ہے۔

وہ قائم ہے، نہ اس معنی کے ساتھ کہ وہ سیدھا کھڑا ہے اور اپنا وزن پنڈلی پر ڈالے ہوئے ہے۔ جیسا کہ دوسری چیزیں اس طرح کھڑی ہوئی ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ محافظ اور نگہداری کرنے والا ہے۔ جیسا کہ کوئی کہتا ہے کہ فلاں ہمارے امر کے ساتھ قائم ہے۔ خدا ہر جان پر اُس کی نسبت جو اُس نے انجام دیا ہے، قائم اور مسلط ہے۔ لوگوں کی زبان میں قائم باقی کے معنی میں بھی ہے اور سرپرستی کا معنی بھی دیتا ہے۔ جیسا کہ تم کسی کو کہتے ہو کہ فلاں شخص کی اولاد کے معاملہ میں قیام کرو، یعنی اُن کی سرپرستی کرو۔ ہم میں سے قائم اُسی کو کہتے ہیں جو پاؤں پر سیدھا کھڑا ہو۔ پس نام میں اُس کے ساتھ شریک ہوگئے اور معنی میں شریک نہ ہوئے۔ لطیف کا مطلب کمی، باریکی یا چھوٹا ہونا نہیں ہے بلکہ چیزوں میں نفوذ کرجانا اور (احاطہ علمی رکھنا ) اور دیکھا نہ جانا مراد ہے ، جیسا کہ تم کسی شخص کو کہتے ہو کہ یہ کام مجھ سے لطیف ہوا۔ فلاں شخص کردار اور گفتگو میں لطیف ہے۔ تم اُسے بتلا رہے ہو کہ اس معاملہ میں میری عقل جواب دے گئی ہے اور دسترس اس کام میں ممکن نہیں ہے۔ یہ کام اتنا باریک اور گہرا ہوچکا ہے کہ فکر اس کو درک نہیں کر سکتی۔ اسی طرح خدا کا لطیف ہونا اس نظر سے ہے کہ وہ کسی حدووصف کے ذریعے سے درک نہیں ہو سکتا۔ ہماری لطافت کمی اور چھوٹا ہونے کے لحاظ سے ہے۔ پس ہم اُسی کے نام میں شریک ہوگئے لیکن معنی مختلف ہے۔

خبیر اُسے کہتے ہیں کہ کوئی چیز اُس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ کوئی چیز اُس کے ہاتھ سے دور نہیں ہے۔ خداکا خبیر ہونا چیزوں کے آزمانے اور تعبیر کرنے کے لحاظ سے نہیں ہے۔ اگر تجربہ اور تعبیر کرنا ہے تو وہ جانتا ہے اور اگرتجربہ اور تعبیر نہیں ہے تو وہ نہیں جانتا کیونکہ جو ایسا ہو وہ جاہل ہوتا ہے۔ ہمیشہ اپنی مخلوق کے متعلق علم رکھنے والا ہے۔ لیکن لوگوں کے درمیان جاننے والا اُسے کہتے ہیں کہ جہالت کے ساتھ کسی صاحبِ علم کے پاس علم سیکھے( کہ وہ جہالت کے بعد صاحبِ علم ہوا ہو) ۔پس اُسی کے نام میں شریک ہیں اور معنی مختلف ہے۔

بہرحال خدا کا ظاہر ہونا اس لحاظ سے نہیں ہے کہ وہ چیزوں کے سامنے ظاہر ہوا ہے اور سوار ہوگیا ہے اور اُن پر بیٹھ گیا ہے، اوپر آگیا ہے بلکہ غلبہ ، تسلط اور قدرت کے ذریعے چیزوں کے اوپر ہے جیسا کہ کوئی شخص کہتا ہے کہ میں نے دشمنوں پر غلبہ حاصل کرلیا۔

خدا نے مجھے دشمنوں پر غالب کیا ہے۔ وہ کامیابی اور غلبہ کے متعلق خبر دیتا ہے۔ اسی طرح ہے خدا کا غلبہ چیزوں پر۔

ظاہر ہونے کا دوسرا معنی یہ ہے کہ جو کوئی بھی اُسے طلب کرتا ہے، اُ س کیلئے ظاہر ہے(اور خدا کے لئے تمام چیزیں ظاہر ہیں) ۔کوئی چیز اُس سے پوشیدہ نہیں ہے اور جو کچھ اُس نے پیدا کیا ہے، اُس کی تدبیر کرنے والا ہے۔ کون سا ظاہر اللہ تبارک و تعالیٰ سے ظاہر تر اور روشن تر ہے کیونکہ جس طرف بھی تم نظر کرو، اُس کی صنف موجود ہے۔ خود تیرے وجود میں اُس کے بہت سارے آثار موجود ہیں۔ ہم میں سے ظاہر وہ ہے جو خود آشکار، محدود اور معین ہو۔ پس نام میں شریک ہیں اور معنی میں مختلف ہیں۔

خدا کے باطن ہونے سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ چیزوں کے اندر ہے بلکہ باطن ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اُس کا علم، نگہداری اور تدبیر چیزوں کے اندر تک جاسکتی ہے۔ جیسا کہ کوئی کہتا ہے کہ میں اچھی طرح باخبر ہوگیا ہوں اور اُس کے پوشیدہ راز کو جانتاہوں۔ ہمارے درمیان باطن وہ ہے جو چیزوں کے درمیان گم ہوگیا ہو اور چھپ گیا ہو۔ پس ہم نام میں شریک ہیں اور معنی میں مختلف ہیں۔

خدا کے قاہر ہونے سے مراد رنج و زحمت، چارہ جوئی، پیارومحبت اور فریب و دھوکا نہیں ہے۔ جیسا کہ بعض بندوں میں سے دوسرے بعض پر غلبہ حاصل کرتے ہیں اور مغلوب غالب آجاتا ہے اور غالب مغلوب ہوجاتا ہے۔ لیکن خداکا قاہر ہونا یہ ہے کہ اُس کی تمام مخلوق اُس کے مقابلے میں ذلت اور خواری کا لباس پہنے ہوئے ہے۔ان کے بارے میں خدا جس چیز کا ارادہ کرتا ہے، وہ اس سے انکار نہیں کر سکتے۔ آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اُس کی حکومت سے ،جو یہ کہتا ہے کہ ہوجا، بس وہ ہوجاتا ہے۔ خارج نہیں ہیں۔ ہمارے درمیان قاہر اس طرح کا ہوتا ہے جیسے میں نے بیان کیا اور اُس کا وصف کیا۔ پس ہم نام میں شریک ہیں اور معنی میں مختلف ہیں۔

خدا کے تمام نام اسی طرح ہیں اور ہم نے اگر تمام ناموں کو بیان نہیں کیا تو اس لئے کہ جتنے نام ہم نے لئے ہیں، نصیحت اور فکر کرنے کیلئے کافی ہیں۔

تیرا خدا ہدایت اور ہماری توفیق میں ہمارا اور تمہارا مددگار ہو۔(کافی:ج ۱ ،ص ۱۲۰) ۔

۵ ۔ اسمائے الٰہی کے حدوث میں آنحضرت کا کلام

ابن سنان سے روایت ہے ، وہ کہتا ہے: میں نے امام علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا خدا مخلوق کوخلق کرنے سے پہلے اپنی ذات کو پہچانتا تھا؟

آپ نے فرمایا: ہاں۔

میں نے کہا:وہ اُسے دیکھتا تھا اور سنتا تھا؟ آپ نے فرمایا:

اسے اس کی ضرورت نہ تھی کیونکہ نہ اُس سے کوئی سوال رکھتا تھا اور نہ کوئی خواہش ، وہ صرف خود ہی خود تھا۔ اُس کی قدرت نافذ تھی۔ پس اُسے ضرورت نہ تھی کہ اپنی ذات کو کوئی نام دے۔ لیکن اُس نے اپنے لئے کچھ نام چنے تاکہ دوسرے اُن کے ساتھ اُسے بلائیں کیونکہ اگر وہ اپنے نام کے ساتھ پکارا نہ جاتا تھا تو پکارا نہ جاتا۔

سب سے پہلے جس نام کا انتخاب کیا، وہ علی عظیم تھا کیونکہ وہ تمام چیزوں سے افضل ہے۔ اُس کا نام(اُس کی ذات کے اعتبار سے) اللہ ہے اور (صفات کے اعتبار سے) علی عظیم ہے۔ جو سب ناموں سے اُس کا پہلا نام ہے اور ہر چیز سے بلند تر ہے۔(کافی:ج ۱ ،ص ۱۱۳) ۔

۶ ۔ آنحضرت کا کلام جہان کے حادث ہونے میں اور اسکے پیدا کرنے والے کے ثابت ہونے میں

ایک زندیق شخص آنحضرت کے پاس آیا ۔آپ کے پاس کچھ لوگ بیٹھے تھے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: مجھے بتاؤ کہ اگر تمہاری بات حق ہو جبکہ ایسا نہیں ہے، مگر ہم اور تم برابر بھی نہیں ہیں۔ وہ جو ہم نے نمازپڑھی، روزہ رکھا، زکوٰة دی اور ایمان لائے، ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ وہ مرد خاموش رہا۔

پھر امام علیہ السلام نے فرمایا: اگر حق بات ہماری بات ہو کہ یہ درست ہے، کیا ایسا نہیں ہے کہ تم ہلاک ہوئے اور ہم نجات پاگئے؟

اُس مرد نے کہا: خدا آپ پر رحمت کرے ۔ مجھے سمجھائیں کہ خدا کس طرح کا ہے اور کہاں ہے؟

آپ علیہ السلام نے فرمایا: تجھ پر ہلاکت ہو۔ جس راستے پر تو گیا ، وہ غلط ہے۔ اُس نے مکان کو بنایا بغیر اس کے کہ اُس کیلئے مکان ہو۔ اُس نے کس طرح کو کس طرح بنایا،بغیر اس کے کہ خود اُس کے لئے کیفیت اور کوئی حالت وجود رکھتی ہو۔ پس خدا کسی کیفیت اور مکان میں آنے سے نہیں پہچانا جاتا اور کسی حس کے ساتھ درک نہیں ہوتا۔ کسی چیز کے ساتھ اُس کا قیاس نہیں کیا جاسکتا۔

اُس شخص نے کہا: پس جب وہ کسی حس کے ساتھ درک نہیں ہوتا تو وہ کوئی چیز نہ ہوا۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: تجھ پر ہلاکت ہو۔ جب تیرے حواس اُس کو درک کرنے سے عاجز ہوئے تو اُس کی ربوبیت کے منکر ہوگئے۔ لیکن جب ہمارے حواس اُس کو درک کرنے سے عاجز ہوئے تو ہم نے یقین کرلیا کہ وہ ہمارا پروردگار ہے جو تمام چیزوں کے برخلا ف ہے۔ اُس مرد نے کہا: پس آپ بتائیں خدا کس زمانے سے ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: تو مجھے یہ بتاؤ کہ کون سا زمانہ تھا کہ وہ نہ تھا تاکہ میں بتاسکوں کہ وہ کس زمانے سے تھا؟

اُس مرد نے کہا: اُس کے وجود پر دلیل کیا ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: جب میں نے اپنے بدن کو دیکھا اور غور کیاکہ اس کے طول و عرض میں نہ تو میں کوئی کمی کرسکتا ہوں اور نہ زیادتی، نہ کسی نقصان و بدی کو اپنے سے دور کرسکتا ہوں اور نہ کسی فائدہ اور خوبی کو اس تک پہنچا سکتا ہوں تو میں نے یقین کر لیا کہ اس عمارت کو بنانے والا کوئی ہے اور میں نے اُس کے وجود کا اعتراف کرلیا۔ اس کے علاوہ میں دیکھتا ہوں کہ فلک کی حرکت اس کی قدرت سے ہے۔ بادلوں کا پیدا ہونا، ہواؤں کا چلنا، سورج، چاند اور ستاروں کا چلنا، اس کے علاوہ دوسری حیرت انگیز اور واضح نشانیاں جب دیکھیں تو میں جان گیا کہ ان تمام چیزوں کیلئے کوئی بنانے والا اور ایجاد کرنے والا ہے۔

اُس مرد نے کہا: پس آنکھیں اُس کو دیکھ کیوں نہیں سکتیں؟

امام علیہ السلام نے فرمایا:اس وجہ سے جو اُس کے اور اُس کی مخلوقات، انسان سے لے

کر دوسری موجودات تک فرق موجود ہے کہ انہیں آنکھوں کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کہ وہ اس سے برتر ہے کہ آنکھ کے ساتھ دیکھا جاسکے یا وہم اُس کا احاطہ کرسکے یا کوئی عقل اُس کو پاسکے۔

اُس مرد نے کہا:اُس کی حدود کو میرے لئے بیان کیجئے۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: اُس کیلئے کوئی حد نہیں ہے۔

اُس نے کہا: وہ اس طرح کیوں ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: کیونکہ ہرچیز متناہی ہے اور جہاں بھی محدودیت کا احتمال دیا جائے وہاں بہت زیادہ احتمالات پیدا ہوتے ہیں۔ جہاں زیادہ احتمالات کا وجود ہو، وہاں احتمال کا کم ہونا بھی وجود رکھتا ہے۔ پس وہ نا محدود ہے، بڑھنے کے قابل نہیں ہے۔ وہ کمی کے بغیر ہے اور قابلِ ترکیب نہیں ہے۔ وہم اُس تک نہیں پہنچ سکتے۔(کافی:ج ۱ ،ص ۷۸) ۔

۷ ۔ آنحضرت کا کلام اس جہان کے حادث ہونے کی دلیل میں

ایک مرد آپ علیہ السلام کے پاس آیااور کہا: اے فرزند رسول!اس جہان کے حادث ہونے پر کیا دلیل ہے؟

آپ علیہ السلام نے فرمایا: تو نہ تھا اور ہوگیا اور یہ بھی تو جانتا ہے کہ تو نے خود اپنے آپ کو پیدا نہیں کیا۔ جو تیری طرح ہیں، انہوں نے بھی تجھے پیدا نہیں کیا۔(عیون الاخبار:ج ۱ ،ص ۱۳۴) ۔

۸ ۔ آنحضرت کا کلام کون و مکان میں

ایک مرد آنحضرت کے پاس آیا اور سوال کیا: میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں۔ اگرجو کچھ میں جانتا ہوں اُس کا جواب دو تو میں آپ کی امامت کا معتقد ہوجاؤں گا۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: جو چاہتے ہو، پوچھو۔

اُس نے کہا: مجھے بتائیے، پروردگار کب سے ہے اور کہاں تھا اور کیسا تھااو رکس چیز پر اعتماد کئے ہوئے ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: خدا نے مکان کو مکان بنایا ، بغیر اس کے کہ خود کوئی مکان رکھتا ہو اور کیفیت کو کیفیت بنایا ، بغیر اس کے کہ خود کیفیت رکھتا ہو ۔ وہ اپنی ذات پر اعتماد رکھتا ہے۔(کافی:ج ۱ ،ص ۸۸) ۔

۹ ۔ آنحضرت کا کلام رو یت خدا کے ابطال میں

ابی ہاشم جعفری سے روایت ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میں نے امام علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا خدا کی توصیف کی جاسکتی ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا ہے؟ میں نے کہا: ہاں پڑھا ہے۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا خدا کا یہ قول نہیں پڑھا کہ فرماتا ہے:"آنکھیں اُس کو درک نہیں کر سکتیں اور وہ اُن کو درک کرسکتا ہے"۔ میں نے کہا: ہاں۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ ابصار کیا ہے؟ میں نے کہا: آنکھوں کا دیکھنا۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: دلوں کے اوہام آنکھوں کے دیکھنے سے قوی تر ہیں۔ خاطرات اُس کو درک نہیں کرسکتے۔ وہ دلوں کے اوہام کو درک کر سکتا ہے۔(کافی:ج ۱ ،ص ۹۸) ۔

۱۰ ۔ آنحضرت کا کلام رو یت خدا کی نفی میں

ذوالہ یاستین کہتا ہے کہ میں نے امام علیہ السلام سے عرض کیا: آپ پر فداہوجاؤں، خدا کے دیکھنے کے متعلق لوگوں کے درمیان کوئی اختلاف ہے تو اس کے بارے میں مجھے بتائیں۔ایک گروہ کہتا ہے کہ خدا دیکھا نہیں جائے گا۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: اے ابوالعباس!جوکوئی بھی خدا کی اس کے علاوہ توصیف کرے جو خود اُس نے اپنی توصیف کی ہے تو اس نے خدا پر ایک بہت بڑی تہمت لگائی ہے۔ خدا فرماتا ہے:"ابصاراُس کو دیکھ نہیں سکتیں، وہ ابصار کو دیکھ سکتا ہے، وہ عالم اور باخبر ہے"۔ ابصار سے مراد ظاہری آنکھیں نہیں ہیں بلکہ وہ آنکھیں مراد ہیں جو دل میں پائی جاتی ہیں۔ انسانی وہم وخیال اُس تک نہیں پہنچ سکتے اور اُسے درک نہیں کرسکتے۔ یہ ظاہری آنکھیں اُسے کیسے درک کرسکتی ہیں؟(بحار:ج ۴ ،ص ۵۳) ۔

۱۱ ۔ آنحضرت کا کلام خدا کے جسم کی نفی کے متعلق

محمد بن زید سے روایت ہے کہ وہ کہتا ہے: میں امام علیہ السلا م کے پاس آیا اور امام سے توحید کے بارے میں سوال کیا۔ آپ نے ان مطالب کو مجھ پر بیان کیا تاکہ لکھ سکوں۔

تعریف ہے اُس خدا کی جس نے تمام چیزوں کو نقشہ اور مقدمات کے بغیر پیدا کیا۔ اپنی قدرت و حکمت کے ذریعے سے ان کو پیدا کیا۔ چیزوں کو کسی چیز سے پیدا نہیں کیا کہ اختراع صادق نہ آئے۔ علت اور سبب درمیان میں نہیں تھا کہ نئے سرے سے پیدا کرنا صادق نہ آئے۔ جس کو چاہا، جس طرح چاہا، اپنی توحید کے ساتھ، اپنی حکمت اورربوبیت کی حقیقت کے اظہار کے لئے پیدا کیا۔ عقلیں اُس کا احاطہ نہیں کرسکتیں۔ وہم اُس تک نہیں پہنچ سکتے۔ افکار اس کا ادراک نہیں رکھتے اور وہ اندازہ میں نہیں آسکتا۔

عبارتیں اُس کی توصیف نہیں کر سکتیں۔ فکریں اُس کے درک سے عاجز ہیں۔ ہر قسم کی تعریف اس کے مقام تک نہیں پہنچ سکتی۔ بغیر پردہ کے چھپا ہو اہے اور بغیرچھپانے والی چیز کے وہ پوشیدہ ہے۔ بغیر دیکھنے کے وہ پہچانا گیا۔ تصور کے بغیر اُس کی تعریف کی گئی۔ بغیر جسم کے اُس کا وصف بیان کیا گیا۔ کوئی معبود نہیں ہے سوائے اللہ کے جو بہت بڑا اور بلند تر ہے۔(کافی:ج ۱ ،ص ۱۰۵) ۔

۱۲ ۔ آنحضرت کا کلام اس چیز کی نہی میں کہخدا کی تعریف کی جائے اُس کے علاوہ جو خود اُس نے کی ہے

اے اللہ! تو پاک و پاکیزہ ہے۔ تجھے انہوں نے نہیں پہچانا اور تیری وحدانیت کونہیں جانا۔ اس وجہ سے انہوں نے تیرے لئے کچھ صفات کو چن لیا ہے۔ تو پاک و پاکیزہ ہے۔ اگر انہوں نے تجھے پہچانا ہوتا تو تیری اُس طرح توصیف کرتا جیسے خود تو نے کی ہے۔ تو پاک و پاکیزہ ہے۔ انہوں نے کس طرح خود کو اجازت دی ہے کہ تجھے دوسرے کے ساتھ تشبیہ دیں۔

اے اللہ! میں تیری اُس کے علاوہ تعریف نہیں کرتا جس کے ساتھ تو خود تعریف کرتا ہے۔ تجھے تیری مخلوق کی طرح قرار نہیں دیتا۔ تو ہراچھائی کے لائق ہے۔ پس مجھے ظالموں میں سے قرار نہ دے ۔ جو کچھ تمہارے ذہن میں آتا ہے، خدا کو اُس کے علاوہ قرار دو۔

ہم آلِ محمددرمیانہ راستہ ہیں کہ حد سے بڑھ جانے والا ہم تک نہیں پہنچ سکتا اور پیچھے رہنے والا ہم سے آگے نہیں نکل سکتا۔(کافی:ج ۱ ،ص ۱۰۰) ۔

۱۳ ۔ آنحضرت کا کلام مشیت اور ارادہ میں

مشیت اس طرح ہے جیسے کسی کام کے انجام دینے میں اہتمام کیا جاتا ہے اور ارادہ اُس کام کے تمام کرنے کو کہتے ہیں۔(عددالقویۃ: ۲۹۹ ،بحار:ج ۷۸ ،ص ۳۵۵) ۔

۱۴ ۔ آنحضرت کا کلام مشیت اور ارادہ کے متعلق

آنحضرت سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایاکہ خدا فرماتا ہے: اے آدم کے بیٹے! میری چاہت کے ساتھ جو تو اپنے لئے چاہتا ہے، اُس پر قادر ہے اور میری طاقت کے ساتھ تو میرے واجبات کو انجام دیتا ہے۔یہ میری نعمت ہے کہ تو میری نافرمانی پر طاقت رکھتا ہے۔ میں نے تجھے سننے والا، دیکھنے والا اور طاقتور قرار دیا ہے۔ جو نیکی بھی تجھ تک پہنچتی ہے، وہ میری طرف سے ہے اور جو بدی بھی تجھ تک پہنچتی ہے، وہ خود تیری طرف سے ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ میں تیرے اچھے کاموں میں تجھ سے زیادہ لائق ہوں(کیونکہ یہ خدا کی نعمتیں تھیں) اور تو اپنے بُرے کاموں میں مجھ سے زیادہ لائق ہے(کیونکہ وہ راہِ حق سے منحرف ہوگیا ہے) ۔ میں جو کرتا ہوں، اُس کے متعلق مجھ سے پوچھا نہیں جائے گا (کیونکہ جو کچھ بھی کیا، خیر اور احسان تھا)۔ لیکن لوگوں سے پوچھا جائے گا(کیونکہ ان نعمتوں کا استعمال یا خدا کی مرضی میں ہے یا راہِ حق سے انحراف میں ہے)۔(کافی:ج ۱ ،ص ۱۵۲) ۔

۱۵ ۔ آنحضرت کا کلام قدرت اور ارادہ کے متعلق

مشیت خدا کے فعل کی صفات میں سے ہے۔جو یہ خیال کرے کہ خدا ہمیشہ سے (ازل سے) ارادہ کرنے والا ہے۔ تو وہ توحید کا قائل نہیں ہے۔(بحار:ج ۴ ،ص ۱۴۵) ۔

۱۶ ۔ آنحضرت کا کلام اس میں کہ خدا جسے چاہے مقدم اور مو خر کرسکتا ہے

سلمان مروزی کی حدیث میں ہے کہ اُس نے کہا کہ امام علیہ السلام سے عرض کیا کہ کیا آپ مجھے اس آیت"ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا"، کے متعلق نہیں بتلائیں گے کہ کس بارے میں نازل ہوئی ہے؟

آپ علیہ السلام نے فرمایا:اے سلمان! خدا شب قدرمیں جو کچھ آئندہ سال تک انجام پانا ہوتا ہے، زندگی، موت، خیر و شر اور روزی میں سے مقدر کرتا ہے اور جو اس شب میں مقدر ہوتا ہے، وہ حتمی ہوتا ہے۔

سلمان کہتا ہے:اب معلوم ہوا۔ میں آپ پر قربان جاؤں۔ کچھ زیادہ وضاحت فرمائیں۔

آپ نے فرمایا: کچھ معاملات خدا کے نزدیک ایسے ہیں جو خدا کے نزدیک موجود اور موقوف ہیں۔ ان میں سے جس کو وہ چاہتا ہے، مقدم قرار دے یا مو خر۔ اے سلمان! حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:علم دو طرح کے ہیں۔ ایک علم وہ ہے جو خدا نے اپنے فرشتوں اور رسولوں کو دیا ہے۔ جو علم ان کو دیا ہے، وہ برخلاف نہیں ہوگا۔ وہ ہوکر رہے گا اور خدا اپنے ساتھ، فرشتوں کے ساتھ اور رسولوں کے ساتھ جھوٹ نہیں بولتا۔ایک علم وہ ہے جو خدا کے نزدیک خزانہ ہے۔ کوئی بھی اس کی خبر نہیں رکھتا۔ اس علم میں سے جس کو چاہتا ہے، مقدم و مو خر کرتا ہے اور مٹا دیتا ہے اور ثابت رکھتا ہے۔(بحار:ج ۴ ،ص ۹۵) ۔

۱۷ ۔ آنحضرت کا کلام اس کے متعلق جو خدا کو کسی مخلوق کے ساتھ تشبیہ دیتا ہے

جو کوئی بھی خدا کو اُس کی مخلوق کے ساتھ تشبیہ دے، وہ مشرک ہے۔ جو کوئی خدا کی طرف اُن چیزوں کی نسبت دے، جن سے روکا ہے، وہ کافر ہے۔ (عیون الاخبار:ج ۱ ،ص ۱۱۴) ۔

۱۸ ۔ آنحضرت کا کلام خدا کی معرفت کے کم ترین مرتبہ میں

فتح بن یزید کہتا ہے: امام علیہ السلام سے خدا کی معرفت کے کم ترین مرتبہ کے متعلق سوال کیا۔

امام علیہ السلام نے فرمایا:

یہ اقرار کرنا کہ اُس کے سواکوئی معبو دنہیں ہے۔ وہ شبیہ نہیں رکھتا۔ اُس کی ہم مثل کوئی نہیں ہے اور یہ کہ وہ ازلی تھا اور ہمیشہ وجود رکھے گا۔ اُس کی طرح کوئی چیز نہیں ہے۔(عیون الاخبار:ج ۱ ،ص ۱۱۴) ۔

۱۹ ۔ آنحضرت کا کلام انسان کے اپنے اعمال کے اختیار رکھنے کی کیفیت کے بیان میں

امام علیہ السلام نے اُس شخص سے فرمایا جو یہ کہتا تھا کہ خدا نے بندوں کے اعمال خود بندوں کے سپرد کردئیے ہیں۔

لوگ اس بارے میں ضعیف تر اور کم تر ہیں کہ اس کام کی قابلیت رکھتے ہوں۔

اُس نے کہا: کیا اُس نے لوگوں کو مجبور بنایا ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: وہ عادل تر اور بلند تر ہے اس سے کہ وہ اس طرح کرے۔

اُس نے کہا: یہ کس طرح ممکن ہے؟

آپ علیہ السلام نے فرمایا: خدا نے ان کو امر اور نہی کی ہے۔ جس کے متعلق امرونہی کی ہے، اُس پر ان کو قدرت دی ہے۔(عددالقویۃ: ۲۹۸) ۔

۲۰ ۔ آنحضرت کا کلام انسان کے اعمالمیں اختیار کی کیفیت کے بیان میں

فضل بن حسن بن سہل نے آنحضرت سے پوچھا: کیا لوگ مجبور ہیں؟

آپ نے فرمایا: خدا اس سے عادل تر ہے کہ وہ لوگوں کو مجبور کرے اور انہیں عذاب دے۔اُس نے کہا: کیا لوگ اپنے اعمال میں آزاد ہیں؟

آپ علیہ السلام نے فرمایا:اللہ تعالیٰ اس سے حاکم تر ہے کہ اپنے بندے کو آزاد کردے اور اُسے خوداُس کے سہارے پر چھوڑ دے۔(عددالقویۃ: ۲۹۹ ،بحار:ج ۷۸ ،ص ۳۵۴) ۔

۲۱ ۔ آنحضرت کا کلام انسان کے اپنے اعمال میں اختیار کی کیفیت میں

وشاء سے روایت ہے ، وہ کہتا ہے: امام علیہ السلام سے سوال کیا اور کہا: کیا خدا نے کام اپنے بندوں کے سپرد کردیا ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: خدا اس سے قادر تر ہے۔

میں نے کہا: پس کیا ان کو گناہ پر مجبور کردیا ہے؟

آپ علیہ السلام نے فرمایا:اللہ تعالیٰ اس سے عادل تر اور دانا تر ہے۔

پس پھر فرمایا: خدا فرماتا ہے: اے آدم کے بیٹے! میں تیرے نیک کاموں میں تجھ سے لائق تر ہوں اور تو اپنے بُرے کاموں میں مجھ سے زیادہ لائق ہے۔تو اُس طاقت کی وجہ سے گناہ کا ارتکاب کرنا جو میں نے تیرے وجود میں رکھی ہے۔(عیون الاخبار:ج ۱ ،ص ۱۴۳) ۔

۲۲ ۔ آنحضرت کا کلام انسان کے اعمال میں اُسکے اختیار کی کیفیت کے بیان میں

یزید بن عمیر شامی کہتا ہے کہ میں شہر مرو میں امام کے پاس گیا اور عرض کیا:

اے فرزند رسول! امام صادق علیہ السلام سے ہمارے لئے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: جبر اور تفویض باطل ہے۔ معاملہ دو چیزوں کے درمیان درست ہے۔ اس جملہ کا کیا معنی ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا:جو یہ گمان کرتا ہے کہ ہمارے اعمال خدا انجام دیتا ہے اور پھر اس کے سبب سے ہمیں عذاب کرے گا تو وہ جبر کا قائل ہوا اور جویہ گمان کرتا ہے کہ خدا نے موجودات اور روزی کا اختیار اماموں کے سپرد کردیا ہے۔ وہ تفویض کا قائل ہوا ہے۔ جو جبر کا قائل ہو ، وہ کافر ہے اور جو تفویض کا قائل ہو، وہ مشرک ہے۔

میں نے عرض کیا: اے فرزند رسول!معاملہ دو کے درمیان ہے ، اس کا کیا معنی ہے؟

آپ نے فرمایا: اس سے مراد انسان کی آزادی ہے۔ اُس کے انجام دینے کے لحاظ سے جس کا حکم ہوا ہے اور اُس کے ترک کرنے کے لحاظ سے جس کے متعلق نہی ہوئی ہے۔

میں نے عرض کیا: کیا اس مقام پر خدا کا ارادہ اور خواہش بھی مطرح ہے۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا:خدا کی خواہش اور ارادہ اطاعت کے مقام میں وہی خدا کا حکم ہے۔ اطاعت کے متعلق اُس کی خوشنودی اور اُس کی ہر مدد ہے۔ گناہوں میں خدا کی خواہش اور ارادہ یہ ہے کہ وہ اس میں نہی کرتا ہے۔ اس کے انجام دینے میں غضبناک ہوتا اور ان گناہوں کے انجام دینے پر عتاب و عذاب کرتا ہے۔میں نے کہا: کیا اس مقام پر خدا کوئی حکم بھی رکھتا ہے؟

آپ علیہ السلام نے فرمایا: ہاں۔ ہر کام اچھا ہو یا بُرا، جو بندے انجام دیتے ہیں، خدااس کے متعلق حکم رکھتا ہے۔

میں نے کہا: خدا کے حکم کا معنی کیا ہے؟

آپ علیہ السلام نے فرمایا: خدا کا حکم ان پر یہ ہے کہ وہ ثواب اور عتاب میں سے ، جس کے وہ مستحق ہیں، دنیا وآخرت میں ان کو دے گا۔(عیون الاخبار:ج ۱ ،ص ۱۲۴) ۔

۲۳ ۔ آنحضرت کا کلام انسان کے اعمال میں اختیار کی کیفیت کے بیان میں

روایت ہے کہ آنحضرت کے نزدیک جبر اور تفویض کے متعلق بات ہوئی۔ امام نے فرمایا:خدا کی مجبوری کے ساتھ اطاعت نہیں کی گئی۔غلبہ کے ساتھ اُس کی نافرمانی نہیں کی گئی۔ بندوں کے کاموں کو مہمل نہیں چھوڑا۔ اُس نے بندوں کو جو چیزیں دی ہیں، اُن کا وہ مالک ہے۔ جس پر اُن کو طاقت دی ہے، قدرت رکھتا ہے۔ اگر بندے اُس کی اطاعت کریں تو خدا نے اُن کو اس کام سے منع نہیں کیا اور اُن کو روکتا نہیں ہے۔ اگر نافرمانی کا ارادہ کرتے ہیں تو خدا اگر چاہے کہ ان کو گناہ سے روکے تو خدا ان کے اور گناہ کے درمیان مانع پیدا کردیتا ہے۔ اگر وہ ان کے اور گناہ کے درمیان مانع پیدا نہ کرے اور وہ گناہ کو انجام دیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو گناہوں میں نہیں ڈالا۔(عیون الاخبار:ج ۱ ،ص ۱۴۴) ۔

۲۴ ۔ آنحضرت کا کلام انسان کے اعمال میں اختیار کی کیفیت کے متعلق

بعض اصحاب نے امام علیہ السلام سے عرض کی کہ امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:

جبر اور تفویض باطل ہیں اور معاملہ ان دو کے درمیان درست ہے۔ اس قول کا کیا معنی ہے؟

آپ علیہ السلام نے فرمایا: جو یہ خیال کرتا ہے کہ خدا نے اپنی خلقت اور روزی کا معاملہ اپنے بندوں کے سپرد کردیا ہے تو وہ تفویض کا قائل ہے۔

میں نے کہا: اے فرزند رسول!کیا تفویض کا قائل مشرک ہے؟

آپ علیہ السلام نے فرمایا: ہاں۔ جو بھی اس کا قائل ہو کہ بندے مجبور ہیں ، اُس نے خداپر ظلم کیا ہے۔

میں نے عرض کی: اے فرزند رسول!معاملہ دو کے درمیان ہے، کیا مطلب ہے؟

آپ علیہ السلام نے فرمایا: جس کا حکم ہوا ہے، اُس کو بجا لانے اور جس کی نہی ہوئی ہے، اُس کے ترک کرنے پر طاقت مراد ہے۔(عددالقویۃ: ۲۹۸) ۔

۲۵ ۔ آنحضرت کا کلام اُس کے متعلق جو جبر کا قائل ہے

جو بھی جبر کا قائل ہے، اُسے زکوٰة نہ دو، اُس کی گواہی کو قبول نہ کرو۔ خدا لوگوں کی طاقت کے اندازہ کے مطابق اُن کو تکلیف دیتا ہے اور طاقت سے زیادہ اُن پر بوجھ نہیں ڈالتا۔ جو کوئی بھی کسی کام کو انجام دے گا، اُس کا نتیجہ اُسے مل کر رہے گا۔ کوئی دوسرے کے بوجھ کو نہیں اٹھائے گا۔(عیون الاخبار:ج ۱ ،ص ۱۳۴) ۔

۲۶ ۔ آنحضرت کا کلام سورة توحید کی فضیلت میں

عبدالعزیز بن مہتدی سے روایت ہے ،وہ کہتا ہے کہ امام سے توحید کے متعلق سوال کیا۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا:جو کوئی بھی سورة توحید کو پڑھے اور اُس پر ایمان لائے تو اُس نے توحید کو پہچان لیا۔میں نے کہا: اسے کس طرح پڑھیں؟

آپ علیہ السلام نے فرمایا: جیسے لوگ پڑھتے ہیں اور پڑھنے کے بعد اضافہ فرمایا کہ دو مرتبہ پڑھو۔ ایسا ہی ہے میرا پروردگار۔(کافی:ج ۱ ،ص ۹۱) ۔

۲۷ ۔ آنحضرت کا کلام رسولِ خدا کے اس قول کے متعلق

کہ"خدا نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے"

حسین بن خالد روایت کرتا ہے کہ امام رضا علیہ السلام سے عرض کیا:اے فرزند رسول!لوگ روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کواپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔

امام علیہ السلام نے فرمایا:

خدا اُن کو قتل کرے۔ انہوں نے حدیث کے اوّل حصے کو حذف کردیا ہے۔ رسولِ خدا دو ایسے آدمیوں کے پاس سے گزرے جو ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے تھے۔ ایک دوسرے کو کہہ رہا تھا کہ خدا تیرے چہرے کو اور جس کا چہرہ تیری طرح ہے، اُس کے چہرے کو بُرا کرے۔رسولِ خدا نے فرمایا: اے بندئہ خدا! اپنے بھائی کو ایسی بات نہ کہہ۔ خدا نے حضرت آدم کے چہرے کو اُس کی صورت کی طرح پیدا کیا ہے۔(عیون الاخبار:ج ۱ ،ص ۱۱۹) ۔

۲۸ ۔ آنحضرت کا کلام تناسخ کے ابطال میں

جو کوئی بھی تناسخ کا قائل ہے (یعنی روح کا منتقل ہونا ایک شخص سے دوسرے شخص کی طرف)اُس نے خدا کے ساتھ کفر کیا ہے اور جنت و دوزخ کو جھٹلایا ہے۔(عیون الاخبار۔بحار:ج ۴ ،ص ۳۲۰) ۔


فصل چہارم( ۱)

آنحضرت کے منتخب اقوال

ارکانِ ایمان میں

مراتب ایمان میں

درجاتِ ایمان میں

اُس کے متعلق جو حقیقت ایمان رکھتا ہے

مومن افراد کی صفات میں

مومن افراد کی صفات میں

بعض مکارمِ اخلاق کے متعلق

بہترین بندوں کی تعریف میں

بہترین اخلاق کی توصیف میں

توکل کے درجات میں

توکل کی حد میں

فکرکرنے کی فضیلت میں

سکوت(خاموشی) کی فضیلت میں

معافی کی فضیلت میں

خدا کے متعلق اچھا گمان رکھنے کے متعلق

دین میں بصیرت کی علامات کے متعلق

اُس کی صفات کے متعلق جس کی عقل کامل ہو

سخی اور کنجوس کی صفات میں

صلہ رحم کی فضیلت میں

لوگوں کے ساتھ دوستی کرنے کے متعلق

آنحضرت کا کلام ایمان کے ارکان کے متعلق

ایمان کے چار ارکان ہیں خداپر توکل، قضائے الٰہی کے ساتھ راضی ہونا، خدا کے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کرنا، تمام امور اُس کے سپرد کردینا (تحف العقول: ۴۴۵ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۸)

ایمان کے مراتب کے متعلق آنحضرت کا کلام

ایمان اسلام سے ایک درجہ بلند تر ہے ،تقویٰ ایمان سے ایک درجہ بلند تر ہے، یقین تقویٰ سے ایک درجہ بلند تر ہے یقین سے بڑھ کرکوئی چیز بھی لوگوں کے درمیان تقسیم نہیں ہوئی(تحف العقول: ۴۴۵ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۸ ،عددالقویة: ۲۹۹)

آنحضرت کا فرمان ایمان کے درجات میں

خدا جسے چاہتا ہے، ایمان دیدیتا ہے بعض لوگوں میں ایمان ثابت و مستقر تھا ایک گروہ میں ایمان کے طور پر قرار دیا جاتا ہے ایمان مستقر اور ثابت کبھی بھی دل سے زائل نہیں ہوتا اور جو ایمان امانت قرار دیا گیا ہوتا ہے، وہ آدمی سے دور چلاجاتا ہے(تحف العقول: ۴۴۴ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۷)

آنحضرت کا فرمان اُس کے متعلق جو حقیقت ایمان رکھتا ہے

کسی شخص کے ایمان کی حقیقت مکمل نہیں ہوتی جب تک اُس میں تین خصلتیں نہ پائی جائیں:

دین میں آگاہی رکھتا ہو، زندگی میں میانہ روی اختیار کرنے والا ہو،مصائب میں صبر کرنے والا ہو(تحف العقول: ۴۴۶ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۹)

آنحضرت کا فرمان مومن افراد کی صفات میں

کسی مومن میں ایمان کی حقیقت پیدا نہیں ہوسکتی جب تک اُس میں تین اوصاف نہ ہوں: خدا کی سنت، رسول کی سنت اور اُس کے امام کی سنت خدا کی جو سنت اُس میں ہونی چاہئے، وہ رازداری ہے اُس کے رسول کی سنت لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آنا اور اُس کے امام کی سنت یہ ہے کہ مصائب اور تکالیف میں صبر رکھتا ہو(تحف العقول: ۴۴۲ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۴)

آنحضرت کا فرمان مومن افراد کی صفات میں

مومن جب غصے میں آتا ہے، غصہ اُس کو راہِ حق سے خارج نہیں کرتا جب وہ خوش ہوتا ہے تو خوشی اُس کو باطل میں داخل نہیں کرتی اور جب طاقت و قدرت ہوتی ہے تو اپنے حق سے زیادہ طلب نہیں کرتا(عددالقویة: ۳۰۰ ،بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۵۲)

بعض مکارمِ اخلاق کے متعلق آنحضرت کا فرمان

جس شخص میں پانچ چیزیں نہ ہوں تو دنیا اور آخرت کے کاموں میں اُس سے اچھے کام کی اُمیدنہیں رکھنی چاہئے: خاندانی شرافت، اچھے اخلاق، اخلاق میں ثابت قدمی، طبیعت میں کرم، اپنے خدا سے خوف

(تحف العقول: ۴۴۶ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۹)

آنحضرت کا فرمان اچھے بندوں کی توصیف میں

(بہترین بندے) وہ ہیں جو اچھے کام کرنے کے وقت خوش ہوتے ہیں اور غلط کام کرنے کے وقت خدا سے معافی طلب کرتے ہیں جب کوئی چیز اُن کو دی جائے تو شکر گزار ہوتے ہیں اور جب کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو صبر کرتے ہیں غصے کے وقت معاف کردیتے ہیں (تحف العقول: ۴۴۵ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۸)

امام علیہ السلام کا فرمان بہترین اخلاق کے وصف میں

بہترین اور قابلِ قدر اخلاق، اچھے کام انجام دینا، کمزور شخص کا ہاتھ پکڑنا، کسی خواہش مند کی خواہش کو انجام دینا اور کسی اُمیدوار کی اُمید کوپورا کرنا

(عددالقویة: ۲۹۹ ،اعلام الدین: ۳۰۸ ،بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۵۵ و ۳۵۷)

توکل کے درجات کے متعلق آنحضرت کا فرمان

توکل چند درجات رکھتا ہے ایک مرتبہ یہ ہے کہ اُس کے بارے جو بھی خدا انجام دے، اُس پر اعتماد رکھتا ہو اُس کے لحاظ سے خوش ہواور تجھے معلوم ہونا چاہئے کہ تیری خیر خواہی میں اُس نے کوئی کوتاہی نہیں کی یہ بھی تجھے معلوم ہونا چاہئے کہ اس بارے میں حکم اُسی کی طرف سے ہے تمام امور کو اُس کے سپرد کرنے کے ساتھ اُس پر توکل کر اس کے بعد والا مرتبہ غیب کے ساتھ علم رکھنا ہے جسے تو نہیں جانتاتو اپنے علم کو اُس کے اور اُس کے امینوں کے سپرد کردے ان میں اور ان کے غیر میں اُس پر

توکل کر(تحف العقول: ۴۴۳ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۶)

آنحضرت کا فرمان توکل کی حد میں

حد توکل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی سے نہ ڈرو(تحف العقول: ۴۴۵ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۸)

آنحضرت کا فرمان فکر کرنے کی فضیلت میں

خدا کی عبادت اور بندگی زیادہ نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے میں نہیں ہے بلکہ خدا کی خلقت کے امر میں زیادہ غوروفکر کرنے میں ہے(تحف العقول: ۴۴۲ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۵)

امام کا فرمان خاموش رہنے کی فضیلت میں

خاموشی حکمت و دانائی کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے خاموشی محبت کو جذب کرتی ہے اور ہر نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے(تحف العقول: ۴۴۲ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۵ و ۳۳۸)

امام کا فرمان معاف کرنے کی فضیلت میں

کوئی دوگروہ آپس میں جھگڑا نہیں کرتے مگر کامیاب وہ گروہ ہوتا ہے جو معاف کردے(تحف العقول: ۴۴۶ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۹)

آنحضرت کا فرمان خدا کے متعلق اچھا گمان رکھنے میں

خدا کے متعلق اچھا گمان رکھو جو یہ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے ساتھ ویسی رفتار رکھتا ہوں جیسا وہ میرے بارے میں گمان کرتا ہےاگر وہ میرے متعلق اچھا گمان رکھتا ہے تو میں بھی اُس کے ساتھ اچھا پیش آتا ہوں اور اگر بُرا گمان رکھتا ہو تو میں اُس کے مطابق عمل کرتاہوں(مشکاة الانوار: ۳۹)

امام کا فرمان دین میں آ گاہی کی علامات کے متعلق

دین میں آگاہی رکھنے کی علامات بردباری اور علم ہے(تحف العقول: ۴۴۵ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۸)

امام کا فرمان اُس کی صفات میں جس کی عقل کامل ہو

مسلمان کی عقل کامل نہیں ہوتی مگر یہ کہ دس صفات پائی جائیں اُس سے اچھے کام کی توقع ہو، شر اُس سے صادر نہ ہو، دوسرے کے تھوڑے سے نیک کام کو زیادہ شمار کرے، اپنے زیادہ نیک کام کو تھوڑا شمار کرے، لوگ اگر اپنی حاجات اُس سے طلب کریں تو بُرا محسوس نہ کرے، اپنی پوری زندگی میں علم سیکھنے سے نہ تھکے، راہِ خدا میں فقر اُس کے نزدیک غنا سے محبوب تر ہو، اُس کی راہ میں ذلت اُس عزت سے عزیز تر ہو جو دشمنِ خداکی راہ میں ہو، مشہور نہ ہونا اُس کے نزدیک مشہور ہونے سے بہتر ہو، کسی شخص کو نہ دیکھتا ہو مگر یہ کہ اُسے اپنے سے بہتر جانتا ہو (تحف العقول: ۴۴۳ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۶)

سخی اور بخیل کی توصیف میں آنحضرت کا فرمان

سخی وہ شخص ہے جو لوگوں کی غذا سے فائدہ اٹھاتا ہو تاکہ لوگ اُس کے کھانے سے فائدہ اٹھائیں بخیل وہ شخص ہے جو لوگوں کی غذا سے فائدہ حاصل نہ کرتا کہ کہیں لوگ اُس کی غذا سے فائدہ نہ اٹھائیں(تحف العقول: ۴۴۶ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۹)

امام کا فرمان صلہ رحم کی فضیلت میں

صلہ رحمی کرو اگرچہ پانی کے ایک گھونٹ کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو بہترین چیز جس کے ذریعے سے صلہ رحمی واقع ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ اُس کو تکلیف نہ پہنچائی جائے(تحف العقول: ۴۴۵ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۸)

قولِ امام لوگوں کے ساتھ دوستی کے متعلق

لوگوں کے ساتھ دوستی کرنا نصف عقل ہے(تحف العقول: ۴۴۳ ، بحارالانوار:ج ۷۸


فصل چہارم( ۲)

آنحضرت کے منتخب اقوال

کمزور افرا د کی مدد کرنے کے متعلق۔

بعض بُری صفات کے متعلق۔

خود پسندی کے بارے میں۔

بعض غلط صفات کے بارے میں۔

بخیل، حسد کرنے والے اور جھوٹ بولنے والے کی صفات میں۔

ہر کسی کے دوست و دشمن کے متعلق۔

بہترین مال اور عقل کے متعلق۔

دل کے حالات کے متعلق۔

نفس کا محاسبہ کرنے کی فضیلت میں۔

نفس کا محاسبہ کرنے کی فضیلت میں۔

لوگوں کی اقسام میں۔

اچھے تعلقات رکھنے کے متعلق۔

اُس شخص کے بارے میں جو رزقِ حلال پر راضی ہو۔

اُس کے بارے میں جو تھوڑی سی روزی کے ساتھ راضی ہو۔

اُس شخص کے متعلق جو حلال روزی کمانے کی کوشش کرتا ہے۔

اہلِ خانہ کو خوشحال اور وسعت میں رکھنے کے متعلق۔

شادی کے وقت دعوت کرنے کے متعلق۔

خدا کی نعمتوں کے ساتھ سلوک کرنے کے متعلق۔

بعض افراد کے ساتھ سلوک کرنے کی کیفیت میں۔

وعدہ کی اہمیت۔

کمزور افراد کی مدد کرنے کے متعلق امام کا فرمان

کمزور فراد کی مدد کرنا خدا کی راہ میں صدقہ دینے سے بہتر ہے۔

(تحف العقول: ۴۴۶ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۹) ۔

آنحضرت کا فرمان بعض بُری صفات کے متعلق

سات چیزیں دیگر سات چیزوں کے بغیر مذاق بن جاتی ہیں۔ جوکوئی بھی زبان کے ذریعے خدا سے معافی مانگے اور دل میں شرمسار نہ ہو، جوکوئی بھی خداسے توفیق طلب کرے لیکن سعی و کوشش نہ کرے، جو کوئی دور اندیش ہو لیکن خود نہ ڈرے، جو کوئی بھی خدا سے جنت طلب کرے اور مشکلات میں صبروشکر نہ کرے، جو کوئی بھی خدا سے جہنم کی پناہ مانگے لیکن دنیا کی شہوات کو ترک نہ کرے، جو کوئی بھی خدا کا نام زبان پر لائے لیکن خدا کی ملاقات کا مشتاق نہ ہو۔ اس طرح کے لوگ اپنے عمل کے ساتھ اپنے اوپر مذاق اڑاتے ہیں۔(بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۵۶) ۔

آنحضرت کا فرمان خود پسندی کے درجات میں

خود پسندی کے درجات ہیں۔ ایک یہ ہے کہ کسی شخص کی نظر میں اُس کا بُرا عمل اچھا لگے۔ وہ عمل اُس کو تعجب میں ڈالے اور وہ خیال کرے کہ اچھا کام انجام دیا ہے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ بندہ خدا پر ایمان لائے اور خدا پر احسان جتلائے حالانکہ خدا کو اس پر احسان جتلانا چاہئے۔(تحف العقول: ۴۴۴ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۶) ۔

بعض بُری صفات کے متعلق امام کا قول

خدا بے جا لڑائی جھگڑا کرنے، مال تباہ کرنے اور بہت زیادہ سوال کرنے کو پسند نہیں فرماتا۔(تحف العقول: ۴۴۳ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۵) ۔

بخیل، حسود اور جھوٹے شخص کی صفات میں آنحضرت کا قول

بخیل کیلئے آرام نہیں ہوتا۔ حسد کرنے والا اپنی زندگی سے لذت حاصل نہیں کرتا۔ بادشاہوں میں وفا نہیں ہوتی اور جھوٹا شخص جوانمرد نہیں ہوتا۔(تحف العقول: ۴۵۰ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۵۲) ۔

آنحضرت کا قول ہر شخص کے دوست اور دشمن کے متعلق

ہر شخص کا حقیقی دوست اُس کی عقل اور اُس کا دشمن جہالت ہے۔

(تحف العقول: ۴۴۳ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۶ ،عددالقویۃ: ۳۰۰) ۔

آنحضرت کا فرمان بہترین مال اور عقل کے متعلق

بہترین مال وہ ہے جو انسان کی آبرو کی حفاظت کرے اور بہترین عقل انسان کا اپنے نفس کی معرفت حاصل کرنا ہے۔(عددالقویة: ۳۰۰ ،بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۵۲) ۔

امام علیہ السلام کا فرمان دل کے حالات کے متعلق

بے شک کبھی دلوں کیلئے سامنا کرناہے اور کبھی پشت ،کبھی خوش ہوتے ہیں اور کبھی سست۔ جب دل سامنا کرتے ہیں ، اُس وقت دیکھتے ہو اور سمجھتے ہو۔ جب پشت کئے ہوئے ہوتے ہیں، اُس وقت سست اور ملول خاطر ہوتے ہو اور سمجھنے سے دور ہوتے ہو۔ پس دلوں کے سامنا کرنے کے وقت ان سے فائدہ حاصل کرو اور سستی کے اوقات میں ان کو چھوڑ دو۔ (نزہۃ الناظر: ۱۲۹ ،بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۵۳ و ۳۵۷ ،اعلام الدین: ۳۰۷) ۔

قولِ امام محاسبہ نفس کے بارے میں

جو کوئی ہر روز اپنے نفس کا محاسبہ نہ کرے، وہ ہم سے نہیں ہے۔(کافی: ۲ ،ص ۲۵۵) ۔

قولِ معصوم محاسبہ نفس کی فضیلت کے متعلق

جو کوئی بھی اپنے اعمال کا محاسبہ کرے، اُس نے زندگی سے فائدہ اٹھایا اور جو اس سے غافل رہا، اُس نے نقصان اٹھایا۔(بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۵۵) ۔

آنحضرت کا قول لوگوں کی اقسام کے متعلق

لوگوں کے دو گروہ ہیں، ایک گروہ اپنی آرزو کو پانے کے باوجود اُس کے ساتھ قانع نہیں ہے اور دوسرا گروہ طلب کرنے والا ہے اور وہ پاتا نہیں ہے۔ (کشف الغمہ:ج ۳ ،ص ۱۰۰ ،بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۴۹ ،عددالقویة: ۲۹۷) ۔

آنحضرت کا قول اچھے سلوک کے بارے میں

چھوٹے اور بڑے کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔(مستدرک الوسائل:ج ۲ ،ص ۶۷) ۔

امام کا فرمان اُس شخص کے بارے میں جو رزقِ حلال کے ساتھ راضی ہو

جو کوئی بھی اپنی تھوڑی سی حلال کی روزی کے ساتھ راضی ہو، اُس کی مشکل کم ہوجاتی ہے ، اُس کے اہلِ خانہ خوشحال رہتے ہیں۔ خدا اُسے دنیا کے عیب اور اُن کے دور کرنے کا طریقہ سکھاتا ہے۔ اُسے سلامتی کے ساتھ جنت میں جگہ قرار دیتا ہے۔ (تحف العقول: ۴۴۹ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۴۳) ۔

قولِ امام اس کے متعلق جو اپنی تھوڑی سی روزی پر راضی ہو

جو کوئی بھی خدا کی طرف سے دی ہوئی تھوڑی سی روزی پر راضی ہو، خدا اُس کے تھوڑے سے عمل کو قبول کرلیتا ہے۔(کشف الغمہ ۳:۱۰۰ ،نزہۃ الناظر: ۱۲۷ ،عددالقویۃ: ۲۹۶ ،تحف العقول: ۴۴۹ ،اعلام الدین: ۳۰۷ ،بحارالانوار ۷۸،۳۴۳ و ۳۴۹) ۔

آنحضرت کا فرمان اس کے متعلق جو رزق کے حصول میں کوشش کرتا ہے

جو کوئی بھی رزق کے حصول میں کوشش کرتا ہے تاکہ اپنی زندگی کے اخراجات کو حاصل کرسکے تو اُس کا اجر خدا کے راستے میں جہاد کرنے والے سے زیادہ ہے۔(تحف العقول: ۴۴۵ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۹) ۔

آنحضرت کا فرمان اہلِ خانہ پر خرچ و اخراجات میں وسعت دینے کے متعلق

وہ لوگ جو مالی لحاظ سے طاقتور ہیں، اُن کو چاہئے کہ اپنی بیوی اور اپنی اولاد کیلئے خوشحالی اور وسعت پیدا کریں۔(تحف العقول: ۴۴۲ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۵) ۔

آنحضرت کا فرمان شادی کے وقت کھانا کھلانے کے بارے میں

شادی کے وقت کھانا کھلانا پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔(تحف العقول: ۴۴۵)

امام کا فرمان خدسا کی نعمتوں کے ساتھ معاملہ کرنے کی کیفیت میں

خدا کی جو نعمتیں تمہارے اختیار میں ہوں، اُن کا احترام کرو کیونکہ یہ بھاگنے والی ہیں ۔ جن سے دور ہوجائیں، پھر اُن کے پاس واپس نہیں آتیں۔(تحف العقول: ۴۴۸) ۔

امام کا فرمان لوگوں کے ساتھ زندگی گزارنے کے طریقہ کے متعلق

بادشاہوں کے ساتھ احتیاط کے ساتھ، دوستوں کے ساتھ اپنے آپ کو جھکاتے ہوئے، دشمنوں کے ساتھ دور رہ کر اور عام لوگوں کے ساتھ خوش ہوکر زندگی گزارو۔(عددالقویة: ۲۹۹ ،بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۵۵ و ۳۵۶) ۔

امام کا فرمان وعدہ کی اہمیت کے متعلق

ہم اہلِ بیت اپنے وعدوں کو اپنے اوپر فرض کے طور پر خیال کرتے ہیں۔ رسولِ خدا بھی ایسے ہی تھے۔(تحف العقول: ۴۴۶ ، بحارالانوار:ج ۷۸ ،ص ۳۳۹) ۔


فہرست

فصل اوّل ۴

آنحضرت کی دعائیں ۴

پہلا باب ۴

تعریف خداوندی میں آنحضرت کی دعائیں۔ ۴

آنحضرت کی دعا خدا کی تسبیح اور پاکیزگی کے متعلق ۴

۲ ۔ مہینے کی دس اور گیارہ تاریخ کو خدا کی تسبیح اور تقدیس میں آنحضرت کی دعا ۴

۳ ۔ خدا کے ساتھ مناجات کرنے کے متعلق آنحضرت کی دعا ۵

۴ ۔ آنحضرت کی دعا مناجات کے متعلق ۶

دوسرا باب ۸

۲ ۔ آنحضرت کی دعائیں لوگوں کی تعریف یا مذمت میں ۸

۵ ۔ آنحضرت کی دعا اپنے بیٹے حضرت مہدی کیلئے ۸

۶ ۔ آنحضرت کی دعا موسیٰ بن عمر بن بزیع کیلئے ۱۴

۷ ۔ آنحضرت کی دعا دعبل بن علی خزاعی کیلئے ۱۴

۸ ۔ آنحضرت کی دعا ابن ابی سعید مکاری کیلئے ۱۵

تیسرا باب ۱۶

۳ ۔ آنحضرت کی دعائیں نماز اور تعقیباتِ نماز کے متعلق ۱۶

۹ ۔ آنحضرت کی دعا نمازِ شب کی آٹھ رکعت کے بعد ۱۷

۱۰ ۔ نمازِ وتر کی قنوت میں آنحضرت کی دعا ۱۷

۱۱ ۔ نمازِ وتر کی قنوت میں آنحضرت کی دعا ۱۷

۱۳ ۔ اقامت کے بعد اور تکبیرة الاحرام سے پہلے آنحضرت کی دعا ۱۸


۱۴ ۔ قنوت میں آنحضرت کی دعا ۱۸

۱۵ ۔ قنوت میں آنحضرت کی دعا ۱۹

۱۶ ۔ قنوت میں شرِ شیطان کو دورکرنے کیلئے آنحضرت کی دعا ۱۹

۱۷ ۔نمازِ جمعہ کی قنوت میں آ نحضرت کی دعا ۲۰

۱۸ ۔ واجب نمازوں کے بعد پیغمبر پر سلام کے متعلق آنحضرت کی دعا ۲۱

۱۹ ۔ واجب نمازوں کے بعد آنحضرت کی دعا ۲۱

۲۰ ۔ نمازِ صبح کے بعد آنحضرت کی دعا ۲۲

۲۱ ۔ نمازِ صبح کے بعد آنحضرت کی دعا ۲۳

۲۲ ۔ سجدہِ شکر میں آنحضرت کی دعا ۲۳

۲۳ ۔ سجدہ شکر میں آنحضرت کی دعا ۲۴

۲۴ ۔ سجدہ شکر میں آنحضرت کی دعا ۲۵

۲۵ ۔ سجدہ شکر میں آنحضرت کی دعا ۲۵

۲۶ ۔ نمازِ استسقاء میں آنحضرت کی دعا ۲۵

چوتھا باب ۲۶

۴ ۔ آنحضرت کی دعائیں غموں کے زائل ہونے اور سختیوں کے دور ہونے میں ۲۶

۲۷ ۔ اہم کاموں کیلئے آنحضرت کی دعا ۲۶

۲۸ ۔ غم و اندوہ میں آنحضرت کی دعا ۲۸

۲۹ ۔ مشکلات میں گرفتار شخص کیلئے آنحضرت کی دعا ۲۹

۳۰ ۔ بلا کے دور کرنے کیلئے آنحضرت کی دعا ۳۰

پانچواں باب ۳۱

۵ ۔ حاجتوں کے پورا ہونے اور قرض ادا ہونے میں آنحضرت کی دعائیں ۳۱


۳۱ ۔ قضاء حوائج کیلئے آنحضرت کی دعا ۳۱

۳۲ ۔ قضاء حوائج میں آنحضرت کی دعا ۳۱

۳۳ ۔ قضاء حوائج کیلئے آنحضرت کی دعا ۳۲

۳۴ ۔ قرآن کے وسیلہ سے قضاء حوائج کیلئے آنحضرت کی دعا ۳۳

۳۵ ۔ قضاء ھوائج کیلئے آنحضرت کی دعا ۳۳

۳۶ ۔ اداء دین کے لئے آنحضرت کی دعا ۳۴

چھٹا باب ۳۵

۶ ۔ خطرات اور شرِّ شیطان کے دور کرنے کیلئے دعائیں ۳۵

۳۷ ۔ دشمنوں سے پوشیدہ رہنے کیلئے آنحضرت کی دعا ۳۵

۳۸ ۔ شر کے دور کرنے میں آنحضرت کی دعا ۳۶

۳۹ ۔ دشمنوں کے شر کو دور کرنے کے متعلق آنحضرت کی دعا ۴۰

۴۰ ۔ رفعۃ الحبیب کے نام سے دشمنوں کے شر کو دور کرنے میں آنحضرت کی دعا ۴۱

۴۱ ۔ حفاظت کے متعلق آنحضرت کی دعا ۴۳

۴۲ ۔ دشمنوں سے محفوظ رہنے کے متعلق آنحضرت کی دعا ۴۳

۴۳ ۔ دشمن کے دور کرنے کیلئے آنحضرت کی دعا ۴۳

ساتواں باب ۴۴

۷ ۔ بیماریوں کے علاج اور ان کے متعلقات کے متعلق آنحضرت کی دعائیں ۴۴

۴۴ ۔ ہردرد اور خوف کے دورکرنے میں آنحضرت کی دعا ۴۵

۴۵ ۔ ہر درد کے تعویذ کے متعلق آنحضرت کی دعا ۴۶

۴۶ ۔ دردوں کے دور کرنے کیلئے آنحضرت کی دعا ۴۶

۴۷ ۔ تمام بیماریوں کیلئے آنحضرت کی دعا ۴۶


۴۸ ۔ بخار کے درد کیلئے آنحضرت کی دعا ۴۶

۴۹ ۔ بخار کے درد کیلئے آنحضرت کی دعا ۴۷

۵۰ ۔ ثالول کی بیماری کیلئے آنحضرت کی دعا۔ ۴۷

(ثالول یعنی بدن پر سرخ داغ بن جانا) ۴۷

۵۱ ۔ آنحضرت کی دعا ثالول کی بیماری کیلئے ۴۸

۵۲ ۔ خنازیر کیلئے آنحضرت کی دعا(خنازیر یعنی بدن میں غدود کا ہونا) ۴۸

۵۳ ۔ سل کی بیماری کیلئے آنحضرت کی دعا ۴۸

۵۴ ۔ دردِ شقیقہ کیلئے آنحضرت کی دعا ۴۹

۵۵ ۔ آنحضرت کی دعا حاملہ عورتوں کیلئے انسانوں اور حیوانوں کے مقابلہ میں ۴۹

۵۶ ۔ جادو کے دور کرنے کیلئے آنحضرت کی دعا ۵۰

۵۷ ۔ بچھو اور سانپ کو دور کرنے کیلئے آنحضرت کی دعا ۵۱

۵۸ ۔ آنحضرت کی دعا گمشدہ کے لوٹانے میں ۵۱

آٹھواں باب ۵۲

۸ ۔ دنوں اور مہینوں کے متعلق آنحضرت کی دعا ۵۲

۵۹ ۔ شعبان کے مہینے کے آخر میں آنحضرت کی دعا ۵۲

۶۰ ۔ رمضان کے مہینے کے چاند کے نکلنے کے وقت آنحضرت کی دعا ۵۳

۶۱ ۔ افطار کے بعد آنحضرت کی دعا ۵۳

۶۲ ۔ نمازِ عید سے پہلے آنحضرت کی دعا ۵۳

۶۳ ۔ عید الفطر کے دن آنحضرت کی دعا ۵۳

۶۴ ۔ فطر اور قربان کے دن آنحضرت کی دعا ۵۴

۶۵ ۔ عرفہ کے دن آنحضرت کی دعا ۵۴


نواں باب ۵۵

۹ ۔ آدابِ سفر میں آنحضرت کی دعائیں ۵۵

۶۶ ۔ گھر سے نکلتے و قت آنحضرت کی دعا ۵۵

۶۷ ۔ گھر سے نکلتے و قت آنحضرت کی دعا ۵۵

۶۸ ۔ سواری پر سوار ہوتے و قت آنحضرت کی دعا ۵۵

۶۹ ۔ خشکی میں سفر کرنے اور سواری پر سوار ہوتے و قت آنحضرت کی دعا ۵۶

۷۰ ۔ کشتی پر سوار ہوتے و قت آنحضرت کی دعا ۵۶

دسواں باب ۵۷

۱۰ ۔ مختلف امور کے متعلق آنحضرت کی دعائیں ۵۷

۷۱ ۔ خدا کی نعمتوں پر شکر کرنے میں آنحضرت کی دعا ۵۷

۷۲ ۔ رزق حلال طلب کرنے کیلئے آنحضرت کی دعا ۵۸

۷۳ ۔ امن و امان کے طلب کرنے کیلئے آنحضرت کی دعا ۵۸

۷۴ ۔ طلبِ ہدایت اور اُس پر باقی رہنے کے متعلق آنحضرت کی دعا ۵۸

۷۵ ۔ طلبِ سلامتی کیلئے آنحضرت کی دعا ۵۸

۷۶ ۔ نعمت کے شکر میںآ نحضرت کی دعا ۵۹

۷۷ ۔ مسجد الحرام سے نکلتے و قت آنحضرت کی دعا ۵۹

۷۸ ۔ مسجد الحرام سے نکلتے و قت آنحضرت کی دعا ۵۹

۷۹ ۔ ایک گروہ کے ساتھ مناظرہ کرنے کے بعد آنحضرت کی دعا ۶۰

۸۰ ۔ اپنے بھائیوں کیلئے آنحضرت کی دعا ۶۰

۸۱ ۔ آنحضرت کی دعا ایک شخص کو مذہبِ شیعہ کی طرف ہدایت کیلئے ۶۰

۸۲ ۔ آنحضرت کی دعا اُس وقت جب مامون نے آنحضرت کو خلافت کے قبول کرنے پر ڈرایا ۶۱


۸۳ ۔ خلافت کے قبول کرتے و قت آنحضرت کی دعا ۶۱

۸۴ ۔ شہادت سے پہلے آنحضرت کی دعا ۶۲

گیارہواں باب ۶۳

۱۱ ۔ زیارات میں آنحضرت کی دعائیں ۶۳

۸۵ ۔ پیغمبر پر سلام کے متعلق آنحضرت کی دعا ۶۳

۸۶ ۔ پیغمبر کی قبر کے پاس آنحضرت کی دعا ۶۳

۸۷ ۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور دوسرے آئمہ علیہم السلام کی زیارت میں آنحضرت کی دعا ۶۴

۸۸ ۔ اُن کی بہن حضرت معصومہ کی زیارت میں آنحضرت کی دعا ۶۵

۸۹ ۔ تربت امام حسین علیہ السلام سے بنی تسبیح کو پھیر تے و قت آنحضرت کی دعا ۶۶

فصل دوم ۶۸

آنحضرت کے مناظرے ۶۸

۱ ۔ امام کی فضیلت اور صفات کے متعلق آنحضرت کا مناظرہ ۶۸

۲ ۔ آلِ محمد کی دوسری امت پر فضیلت کے متعلق آنحضرت کا مناظرہ ۷۴

۳ ۔ آنحضرت کا مناظرہ آئمہ کی خلافت کو غصب کرنے والوں کی عدم لیاقت میں ۸۴

فصل سوم ۸۶

توحید کے متعلق آنحضرت کا کلام ۸۶

۱ ۔ کلیات توحید کے متعلق آنحضرت کا کلام ۸۷

۲ ۔ کلیات توحید میں آنحضرت کا کلام ۹۱

۳ ۔ کلیات توحید میں آنحضرت کا کلام ۹۳

۵ ۔ اسمائے الٰہی کے حدوث میں آنحضرت کا کلام ۹۷

۷ ۔ آنحضرت کا کلام اس جہان کے حادث ہونے کی دلیل میں ۹۹


۸ ۔ آنحضرت کا کلام کون و مکان میں ۹۹

۹ ۔ آنحضرت کا کلام رو یت خدا کے ابطال میں ۱۰۰

۱۰ ۔ آنحضرت کا کلام رو یت خدا کی نفی میں ۱۰۰

۱۱ ۔ آنحضرت کا کلام خدا کے جسم کی نفی کے متعلق ۱۰۰

۱۲ ۔ آنحضرت کا کلام اس چیز کی نہی میں کہخدا کی تعریف کی جائے اُس کے علاوہ جو خود اُس نے کی ہے ۱۰۱

۱۳ ۔ آنحضرت کا کلام مشیت اور ارادہ میں ۱۰۲

۱۴ ۔ آنحضرت کا کلام مشیت اور ارادہ کے متعلق ۱۰۲

۱۵ ۔ آنحضرت کا کلام قدرت اور ارادہ کے متعلق ۱۰۲

۱۶ ۔ آنحضرت کا کلام اس میں کہ خدا جسے چاہے مقدم اور مو خر کرسکتا ہے ۱۰۲

۱۷ ۔ آنحضرت کا کلام اس کے متعلق جو خدا کو کسی مخلوق کے ساتھ تشبیہ دیتا ہے ۱۰۳

۱۸ ۔ آنحضرت کا کلام خدا کی معرفت کے کم ترین مرتبہ میں ۱۰۳

۱۹ ۔ آنحضرت کا کلام انسان کے اپنے اعمال کے اختیار رکھنے کی کیفیت کے بیان میں ۱۰۳

۲۰ ۔ آنحضرت کا کلام انسان کے اعمالمیں اختیار کی کیفیت کے بیان میں ۱۰۴

۲۱ ۔ آنحضرت کا کلام انسان کے اپنے اعمال میں اختیار کی کیفیت میں ۱۰۴

۲۲ ۔ آنحضرت کا کلام انسان کے اعمال میں اُسکے اختیار کی کیفیت کے بیان میں ۱۰۵

۲۳ ۔ آنحضرت کا کلام انسان کے اعمال میں اختیار کی کیفیت کے بیان میں ۱۰۶

۲۴ ۔ آنحضرت کا کلام انسان کے اعمال میں اختیار کی کیفیت کے متعلق ۱۰۶

۲۵ ۔ آنحضرت کا کلام اُس کے متعلق جو جبر کا قائل ہے ۱۰۷

۲۶ ۔ آنحضرت کا کلام سورة توحید کی فضیلت میں ۱۰۷

۲۷ ۔ آنحضرت کا کلام رسولِ خدا کے اس قول کے متعلق ۱۰۷

۲۸ ۔ آنحضرت کا کلام تناسخ کے ابطال میں ۱۰۸


فصل چہارم( ۱) ۱۰۹

آنحضرت کے منتخب اقوال ۱۰۹

آنحضرت کا کلام ایمان کے ارکان کے متعلق ۱۱۰

ایمان کے مراتب کے متعلق آنحضرت کا کلام ۱۱۰

آنحضرت کا فرمان ایمان کے درجات میں ۱۱۰

آنحضرت کا فرمان اُس کے متعلق جو حقیقت ایمان رکھتا ہے ۱۱۰

آنحضرت کا فرمان مومن افراد کی صفات میں ۱۱۱

آنحضرت کا فرمان مومن افراد کی صفات میں ۱۱۱

بعض مکارمِ اخلاق کے متعلق آنحضرت کا فرمان ۱۱۱

آنحضرت کا فرمان اچھے بندوں کی توصیف میں ۱۱۱

امام علیہ السلام کا فرمان بہترین اخلاق کے وصف میں ۱۱۲

توکل کے درجات کے متعلق آنحضرت کا فرمان ۱۱۲

آنحضرت کا فرمان توکل کی حد میں ۱۱۲

آنحضرت کا فرمان فکر کرنے کی فضیلت میں ۱۱۲

امام کا فرمان خاموش رہنے کی فضیلت میں ۱۱۳

امام کا فرمان معاف کرنے کی فضیلت میں ۱۱۳

آنحضرت کا فرمان خدا کے متعلق اچھا گمان رکھنے میں ۱۱۳

امام کا فرمان دین میں آ گاہی کی علامات کے متعلق ۱۱۳

امام کا فرمان اُس کی صفات میں جس کی عقل کامل ہو ۱۱۳

سخی اور بخیل کی توصیف میں آنحضرت کا فرمان ۱۱۴

امام کا فرمان صلہ رحم کی فضیلت میں ۱۱۴


قولِ امام لوگوں کے ساتھ دوستی کے متعلق ۱۱۴

فصل چہارم( ۲) ۱۱۵

آنحضرت کے منتخب اقوال ۱۱۵

کمزور افراد کی مدد کرنے کے متعلق امام کا فرمان ۱۱۶

آنحضرت کا فرمان بعض بُری صفات کے متعلق ۱۱۶

آنحضرت کا فرمان خود پسندی کے درجات میں ۱۱۶

بعض بُری صفات کے متعلق امام کا قول ۱۱۷

بخیل، حسود اور جھوٹے شخص کی صفات میں آنحضرت کا قول ۱۱۷

آنحضرت کا قول ہر شخص کے دوست اور دشمن کے متعلق ۱۱۷

آنحضرت کا فرمان بہترین مال اور عقل کے متعلق ۱۱۷

امام علیہ السلام کا فرمان دل کے حالات کے متعلق ۱۱۸

قولِ امام محاسبہ نفس کے بارے میں ۱۱۸

قولِ معصوم محاسبہ نفس کی فضیلت کے متعلق ۱۱۸

آنحضرت کا قول لوگوں کی اقسام کے متعلق ۱۱۸

آنحضرت کا قول اچھے سلوک کے بارے میں ۱۱۸

امام کا فرمان اُس شخص کے بارے میں جو رزقِ حلال کے ساتھ راضی ہو ۱۱۹

قولِ امام اس کے متعلق جو اپنی تھوڑی سی روزی پر راضی ہو ۱۱۹

آنحضرت کا فرمان اس کے متعلق جو رزق کے حصول میں کوشش کرتا ہے ۱۱۹

آنحضرت کا فرمان اہلِ خانہ پر خرچ و اخراجات میں وسعت دینے کے متعلق ۱۱۹

آنحضرت کا فرمان شادی کے وقت کھانا کھلانے کے بارے میں ۱۱۹

امام کا فرمان خدسا کی نعمتوں کے ساتھ معاملہ کرنے کی کیفیت میں ۱۲۰


امام کا فرمان لوگوں کے ساتھ زندگی گزارنے کے طریقہ کے متعلق ۱۲۰

امام کا فرمان وعدہ کی اہمیت کے متعلق ۱۲۰