یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے
خلافت و امامت
کے بارے میں سوالات
مؤلف
ا۔ د۔ ابو مہدی قزوینی
مترجم
سید بہادر علی زیدی قمی
ناشر
جعفریہ ایجوکیشنل سوسائٹی خیرپور (مدرسہ سلطان المدارس)
شناس نا مۂ کتاب
نام کتاب: خلافت و امامت کے بارے میں سوالات
مؤلف: ا۔ د۔ ابو مہدی قزوینی
مترجم: سید بہادر علی زیدی قمی
ناشر: جعفریہ ایجوکیشنل سوسائٹی خیرپور (مدرسہ سلطان المدارس)
کمپوزنگ: شکیل منگی اور شفیق پٹھان
(کمپوزنگ اشاعت دوم: سن شائن کمپوزنگ سنٹر)
سر ورق: وائٹل کمپیوٹرز، حسینی چوک لقمان خیرپور میرس
تعداد: ۱۰۰۰
سن طباعت: جولائی ۲۰۰۶ء
اشاعت: دوم
قیمت: ۲۰۰
انتساب
میں اپنی اس مختصر سی کاوش کو حق سے آشنائی حاصل کرنے والوں کے نام مُعَنون کرتا ہوں۔
عرض ناشر
احیاء امر امامت ہر محب اہل بیت علیہم السلام پر فرض ہے اور اس راہ میں اٹھائے جانے والے ہر قدم کو مستحسن شمار کیا جانا چاہیے کیونکہ عالم اسلام کا غالب طبقہ حقانیت مذہب و مکتب اہل بیت ؑ سے نا آشنا ہے ورنہ وہ آفاقی، عقلی اور فطری انداز سے بیان کردہ مسائل کا حل کہیں اور دکھائی نہیں دیتا اور ذرا سی بھی عقل سلیم رکھنے والے کو سراپا تسلیم بنا دیتا ہے۔
خلافت اور امامت سے متعلق یوں تو بہت سی عربی اور فارسی کتابوں کا اردو زبان میں ترجمہ و تلخیص پیش کیا گیا ہے مگر حضرت آیت اللہ ڈاکٹر ابو مہدوی قزوینی مدظلہ العالی کی تحریر کا اردو زبان میں انتہائی سلیس اور سادہ زبان میں ترجمہ جو کہ بعض اوقات خود تالیف و تصنیف سے زیادہ مشکل کام ہے انجام دیا ہے عمدۃ العلماء و سلطان الافاضل مولانا سید بہادر علی زیدی صاحب پرنسپل مدرسہ جامعہ امام حسین ؑ (لقمان) خیرپور میں جسے صدر جعفریہ ایجوکیشنل سوسائٹی کے تعاون سے ادارہ ہذا پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔ ہماری خواہش ہے خیرپور مطبوعات کی دنیا میں مقام حاصل کرے اور انشاء اللہ یہ ادارہ اس ہدف کو بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہے گا۔
و السلام
(اراکین) جعفریہ ایجوکیشنل سوسائٹی خیرپور میرس (مدرسہ سلطان المدارس)
تاریخ: ۳ جمادی الاول ۱۴۲۷ ھ ق بمطابق ۳۱ مئی ۲۰۰۶ ء
پیش گفتار
حجۃ الاسلام و المسلمین علامہ سید رضی جعفر نقوی النجفی
بانی تنظیم المکاتب و پرنسپل جامعۃ النجف کراچی
عزیز محترم مولانا سید بہادر علی زیدی قمی صاحب نے حضرت آیت ڈاکٹر ابو مہدی قزوینی کی کتاب کو اُردو کے قالب میں ڈھال کر نوری کتابت کے ذریعہ قارئین کرام تک پہنچانے کی ایک لائق تحسین کوشش کی ہے۔
"خلافت و امامت کے بارے میں سوالات" تو تاریخ کے ہر دور میں اغیار اور مخالفین کی طرف سے آتے رہے ہیں اور ہمارے جیّد اور بلند مرتبہ علمائے کرام نے اُن کے مدلّل جواب دے کر مخالفین کی سازشوں کے تانے بانے بکھیرے ہیں۔
لیکن انقلاب اسلامی کی حیرت انگیز کامیابی کے بعد نجدیت اور ناصبیت کی طرف سے اس موضوع پر نئے انداز سے فتنہ گری کی جا رہی ہے جس سے اتحاد اسلامی کی روح بھی مجروح ہو رہی ہے۔
ایران کے عظیم المرتبت عالم دین آیت ڈاکٹر ابو مہدی قزوینی مدظلہ العالی نے ایک نئے انداز سے اس موضوع پر قلم اُٹھاکر مخالفین کے اعتراضات کے دندان شکن جواب دیئے ہیں اور عزیز محترم مولانا سید بہادر علی زیدی قمی صاحب نے بہت محنت اور جانفشانی سے اُس کا ترجمہ کرکے اُردو داں حضرات تک پہنچانے کی سعی جمیل کی ہے۔
مولانا سید بہادر علی زیدی صاحب نے خیرپور میں تنظیم المکاتب کے مدرسہ میں تعلیم حاصل کی پھر جامعۃ النجف (کراچی) میں زیر تعلیم رہے اور بہت اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کرکے اعلیٰ تعلیم کے لئے قم تشریف لے گئے، اور اب جامعہ امام حسین ؑ (لقمان خیر پور) میں پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ادارہ تنظیم المکاتب اور جامعۃ النجف کی طرف سے اُن کو ان کی علمی خدمات پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، مالک دو جہاں اُنہیں شاہراہ حیات پر ہمیشہ کامیاب و کامران رکھے اور دین مبین کی زیادہ سے زیادہ خدمت انجام دینے کی توفیق کرامت فرمائے۔
آمین
دعاگو، سید رضی جعفر نقوی
(یکم جمادی اوالیٰ، ۱۴۲۷ ھ)
عرض مترجم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اس مختصر مجموعہ میں محترم مؤلف نے مکتب اہل بیت ؑ کے مخالفین کی چند تہمتیں نقل کی ہیں اور ان کے جوابات دیتے ہوئے خلافت و امامت سے متعلق چالیس سوالات پیش کیئے ہیں اس کے علاوہ اہل سنت کی مستند کتب سے استفادہ کرتے ہوئے کچھ حقائق بھی پیش کیئے ہیں لہذا معارف اسلامی سے آشنائی حاصل کرنے والے شائقین اور حق کی جستجو کرنے والوں کو اس مختصر مجموعہ کے مطالعہ کی دعوت دی جاتی ہے۔
قارئین کی مزید دلچسپی و جستجو اور معلومات کے لئے ہم نے اس کتاب کے آخر میں آیۂ تبلیغ پر مختصر تبصرہ اور خطبۂ غدیر بھی ضمیمہ کے طور پر شامل کر دیا ہے۔
تقدیر نامہ
حجۃ الاسلام مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی قمی خطیب مسجد باب العلم کراچی
صدر جعفریہ ایجوکیشنل سوسائٹی خیرپور میرس (مدرسہ سلطان المدارس)
اعلیٰ ظرف، خوش طبع، خطیب ِ عمدۃ البیان، اخ العالم، ذاتی و خاندانی شرافت سے آراستہ، خوش مزاج و غم گسار والد کے فرزند، پرنسپل مدرسہ جامعہ امام حسین ؑ اور میرے اسکول کے ساتھی اور بھائی جناب مولانا سید بہادر علی زیدی زید عزہ کی در دست کوشش کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے کیوں کہ جامعہ امام حسین ؑ کے قیام کی ابتدائی کوششوں کے دوران اپنی تحریری صلاحیتوں کو یاد رکھتے ہوئے ایسے آثار قائم کرنا آسان نہ تھا یوں تو پاکستان میں علماء کرام کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے مگر تصنیفی اور تالیفی کاوشوں میں خاص ترقی دکھائی نہیں دیتی کیوں کہ ترجمہ ایک ایسا مشکل کام ہے کہ اگر سرمایہ علمی موجود ہو تو تالیف و تصنیف اس سے کہیں آسان تر ہے اور تقلیدی مذاج سے نکل کر تخلیقی مذاج کو نمو عطا کرتی ہے میرے بھائی مولانا سید بہادر علی زیدی مدظلہ العالی نے اس عظیم ترجمے کی کوشش کے ذریعے ہمارے سر کو فخر سے بلند کر دیا ہے خدا ا نہیں اور ترقی عطا کرے۔
والسلام
سید شہنشاہ حسین نقوی قمی
تاریخ: ۳ جمادی الاول ۱۴۲۷ ھ ق بمطابق ۳۱ مئی ۲۰۰۶ ء
سرمایۂ افتخار
از قلم: حجۃ الاسلام مولانا فخر الحسنین محمدی مدظلہ العالی
بسمہ عز شانہ
میرے ہزاروں شاگردوں میں سے چند شاگرد میرے لیے قابل فخر ہیں اور ان چند میں امتیازی خصوصیات سے مالا مال شخصیت عمدۃ الافاضل مولانا سید بہادر علی زیدی قمی صاحب سلمہ کی ہے جو قوم و ملت کے لیے بھی سرمایۂ افتخار ہیں۔
تقریباً بیس برس پہلے میں نے عزیز موصوف کو تحصیل علم دین کی نصیحت کی تھی جس کے نتیجے میں قوم کو ایک ہمہ صفت موصوف عالم دین حاصل ہوا۔
جامعہ امام حسین علیہ السلام کا قیام، سماجی مسائل و مصروفیات اور تصنیف و تالیف و ترجمہ!! پروردگار شخصیت کی کثیر جہتی کو نظر بد سے محفوظ رکھے۔
عزیز موصوف نے "خلافت و امامت کے بارے میں سوالات" کا ترجمہ بہت آسان زبان میں کیا ہے۔ کتاب کا موضوع انتہائی اہم اور اشاعت وقت کا تقاضا ہے۔ جو کام ہم نہ کرسکے وہ پسر عزیز نے انجام دیا ہے اور اگر پدر نہ تواند پسر تمام کند پر واقعی عمل کیا ہے۔ اس اشاعت پر میری خوشی و سرشاری کی کیفیت قابل فہم ہے۔
پروردگار عالم بطفیل چہاردہ معصومین علیہم السلام عزیز موصوف سلمہ کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔
فخر الحسنین محمدی
۲۶ جمادی الثانی ۱۴۲۷ ھ
قدر دانی
از قلم: حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا سید ارشاد حسین نقوی صاحب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کتاب "خلافت و امامت کے بارے میں سوالات" نظر سے گذری جو نہایت مختصر اور جامع ہونے کے ساتھ مدلل اور رواں انداز میں لکھی گئی ہے۔
اصل کتاب فارسی زبان میں ہے جس کو استفادۂ عام کے لیئے مولانا ثقۃ الاسلام سید بہادر علی زیدی قمی سلمہ نے عمدہ اور سلیس ترجمہ کے ساتھ تحریر فرمایا ہے۔
اگرچہ ترجمہ کرنا کسی زبان کا کسی اور زبان میں بہت مشکل کام ہے مگر مولانا نے اس کار مشکل کو آسانی کے ساتھ خوب نبھایا ہے اور ہم عصر صاحبان علم کے لیئے اس مشکل کام کو آسان کرکے دکھایا ہے۔ امید ہے کہ دوسرے علماء و دانشور اس روش سے متاثر ہوکر قوم کو اچھی طرح علوم و عقائد سے آشنا کریں گے۔
آخر میں مولانا کی اس کاوش کو قدر کی نگاہ سے دیکھ کر دعاگو ہوں کہ خداوند متعال ہماری اور انکی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور مولانا کی اس محنت و کاوش کو قبول فرمائے آمین۔
احقر سید ارشاد حسین نقوی
۲۸ جمادی الثانی ۱۴۲۷ ھ
تشکر و امتنان
بسم الله الرحمن الرحیم
الحمد لله ربّ العالمین و الصلوة و السلام علی اشرف الانبیاء و المرسلین و علیٰ آله الطیّبین الطاهرین و العاقبة للمتقین
سب سے پہلے میں اپنے استاد محترم حجۃ الاسلام علامہ رضی جعفر نقوی مدظلہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس کتاب میں پیش گفتار تحریر کرکے میری حوصلہ افزائی فرمائی پھر اپنے اولین استاد محترم معلم اخلاق حجۃ الاسلام مولانا فخر الحسنین محمدی صاحب، حجۃ الاسلام مولانا ارشاد حسین نقوی صاحب اور اپنے مہربان ساتھی حجۃ الاسلام مولانا شہنشاہ حسین نقوی قمی صاحب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان حضرات نے بھی میری خاطر خواہ حوصلہ افزائی فرمائی۔
اور آخر میں صدر جعفریہ ایجوکیشنل سوسائٹی (مدرسہ سلطان المدارس) خیرپور کا شکریہ ادا کرتا ہوں جن کے تعاون سے یہ عوام کے استفادہ کیلئے پیش کی جا رہی ہے۔
احقر سید بہادر علی زیدی قمی
شیعیت کے خلاف یلغار کیوں؟
تمام مذاہب اسلامی میں شیعہ وہ مذہب ہے جو قرآن اور پیغمبر اسلامؐ کی صحیح سیرت وسنت سے ماخوذ ہے۔
یہ ہی وہ مذہب ہے جس نے دیگر مذاہب (کہ جنہیں حکومتوں کی حمایت و تائید بھی حاصل تھی ) کے مقابلے پر فقہی، ثقافتی، سیاسی اور اقتصادی میدانوں میں بہترین و برترین دستور اور نظام حیات پیش کیا ہے۔
شیعوں نے کسی سخت سے سخت دور میں بھی ظلم و استبداد سے سازباز نہ کی اور ظالم و جابر حکومتوں کے مقابل سر تسلیم خم نہیں کیا یہی وجہ تھی کہ ہمیشہ دشمنوں کی گھناؤنی سازشوں اور یلغار کا نشانہ بنے رہے اور ظالم و جابر حکومتوں نے ان کے مذہب کے نورانی چہرے کو مسخ کرنے کی کوششوں میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی لیکن شیعہ اپنے برحق امام امیر المومنین حضرت علی ؑ کے فرمودات سے الہام لیتے ہوئے کہ جنہوں نے فرمایا:
و کونا للظالم خصماً و للمظلوم عوناً اُوصیکما و جمیع َ وُ لدِی وَمَن بَلَغَه کتابی
"ہمیشہ ظالموں اور جابروں کے مدقابل ڈٹے رہے، اور مظلوم و ستم رسیدہ لوگوں کی حمایت کو اپنا شعار قرار دیا"۔(۱)
لیکن مکتب خلفاء میں نہ صرف یہ کہ کسی ظالم و استبدادی حکومت سے نبرد آزمائی اور مقابلہ نظر نہیں آتا بلکہ انہوں نے اپنی تمام تر کوشش استبدادی حکومتوں کے ظلم و جور کی توجیہہ پیش کرنے میں کی ہے اور اپنی تائید کے لیے ان احادیث کا سہارا لیتے رہے، جنہیں پیغمبر گرامی قدرؐ کی طرف منسوب کیا گیا ہے جن کا مفہوم یہ ہے کہ قوم و ملت کا فریضہ حکام کی اطاعت و فرماں برداری ہے اگرچہ ان کا دامن ظلم و استبداد سے آلودہ ہی کیوں نہ ہو اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں اور قوم اپنے اعمال کی ذمہ دار ہے۔
اِسمعوا و اَطیعوا فَانَّما علیهم ما حمّلوا و علیکم ما حملتم (۲)
اب پہچانیے کہ کتنا فرق ہے اس قول میں جسے مسلمانوں نے اپنے عظیم رہنما (حضرت عمر بن خطاب) کی طرف نسبت دی ہے کہ جس میں انہوں نے فرمایا: اگر کوئی حاکم اسلامی تم پر ظلم کرے، تمہیں مورد ضرب و شتم قرار دے، تمہیں تمہارے مسلّم حق سے محروم کردے اور دین و شرعیت کے خلاف حکم دے تو اس کے باوجود تمہارا وظیفہ بغیر کسی چوں و چرا کے اس کی اطاعت و فرماں برداری ہے اور یہ سب جزو دین ہے!۔
فاَطِعِ الامام … اِن ضربک فاصبر، و ان امرک بامر فاصبر، و ان حرمَک فاصبر، و ان ظلمک فاصبر، و اِن اَمرک بامرِ ینقص دینک فقل: سمع طاعة، دمی دون دینی ۔(۳)
اور روز عاشور، ابا الاحرار حضرت امام حسین ؑ کے شعار میں جس میں آپ فرماتے ہیں:
فانّی لا اری الموت الّا سعادة ولا الحیاة مع الظالمین الّا بَرَما ۔(۴)
میں ظلم و استبداد سے مقابلے میں شہادت کو سعادت اور ان کے سائے میں زندگی کو ننگ و عار سمجھتا ہوں۔
بالکل اسی طرح کتنا فرق ہے دونوں مکتب ِ فکر کے فقہاء کے نظریات اور انکے فتاویٰ میں انکا فتویٰ یہ ہے کہ ظالم و فاسق حاکم کے خلاف کسی بھی قسم کا قیام خلاف شرع ہے۔
و امّا الخروج علیهم و قتالهم فحرام باجماع المسلمین و ان کانوا فسقة ظالمین (۵)
جبکہ مکتب تشیع کے فقہاء کا نظریہ یہ ہے : اگر عمالئے دین کا سکوت ظالم و جابر حکام میں ارتکاب گناہ اور ان میں بدعتیں ایجاد کرنے کی جرائت کا سبب ہو تو ایسے میں ان پر سکوت حرام ہے اور ان پر لازم و واجب ہے کہ ستمگروں کے خلاف کھڑے ہوجائیں۔
لو کانَ سکوت علماء الدین و رؤساء المذهب أعلی الله کلمهم وموجباً لجرأة الظلمة علی ارتکاب سائر المحرمات و ابداع البدع، یحرم علیهم السکوت و یجب علیهم الانکار ۔(۶)
مکتب تشیع کے خلاف حیران کن یلغار کا تخمینہ
٭ ہمیشہ ظالم و جابر حکومتیں اپنے تمام تر وسائل کے ذریعے مذہب شیعہ سے برسر پیکار رہیں اور اس کی بڑھتی ہوئی ظلم ستیز فرہنگ و ثقافت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتی رہیں۔
یاد رہے کہ اس روش کا آغاز، امت مسلمہ کے شیعہ و سنی دو فرقوں میں تقسیم ہی کے وقت سے ہوگیا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں شدت پیدا ہوتی گئی۔
٭ اگر گذشتہ چند سالوں کا جائزہ لیا جائے تو دنیا مذہب شیعہ کی نورانی ثقافت کے خلاف وہابیت کی جانب سے یلغار کا با آسانی مشاہدہ کرسکتی ہے پاکستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے کی جانب سے پیش کئے گئے تعداد و شمار کے مطابق صرف ایک سال کے دورانیہ میں شیعیت کے خلاف ساٹھ عناوین پر مشتمل تیس ملین کتب چھاپی اور نشر کی گئیں۔(۷)
٭ فقط ۱۳۸۱ شمسی ( ۲۰۰۲ میلادی) میں ایک کروڑ چھ لاکھ پچاسی ہزار جلد کتب دنیا کی بیس مختلف زبانوں میں (غالباً شیعیت کے خلاف) سعودی حکومت کی جانب سے خانۂ خدا کے زائرین کے درمیان حج کے موقع پر تقسیم کی گئیں۔(۸)
٭ سعودی عرب کے شہر قطیف کے ایک مشہور عالم نے ۱۲ رجب سال جاری ( ۱۳۸۲ مطابق ۱۴۲۳ ھ) کو مکے میں اس بات کا اظہار کیا کہ کتاب "للہ ثم للتاریخ" ٹرکوں میں لاکر قطیف و احساء کے علاقوں میں شیعوں کے درمیان مفت تقسیم کی گئی۔
٭ اور ۱۴۲۶ میں یہ ہی کتاب کویت میں ایک لاکھ کی تعداد میں چھاپی اور نشر کی گئی کہ جس کے ردِ عمل میں جناب آقائے مہری (نمائندہ ولی فقیہ) نے حکومت کویت سے کہا کہ اگر شیعیت کے خلاف اور اس کی توہین میں لکھی جانے والی اس کتاب کی نشرو اشاعت پر پابندی نہ لگائی گئی تو کویت ایک دوسرے لبنان میں تبدیل ہوجائے گا۔(۹)
٭ چودہ صدیوں میں شیعوں کے خلاف لکھی اور نشر ہونے والی کتابوں کی چھان بین کرنے والے بعض تحقیقی اداروں کے مطابق یہ کتب ۵۰۰۰ سے زائد عناوین پر مشتمل ہیں۔
ان میں ۳۰۰۰ عناوین اردو زبان میں ۵۰۰ عناوین عربی زبان میں اور ۵۰۰ عناوین دنیا کی مختلف زبانوں میں ہیں۔
ان کتب کا مطالعہ کرکے اب تک سینکڑوں عناوین کے تحت ہزاروں شبہات کی جمع بندی کی جاچکی ہے۔
باوجود یہ کہ اکثر شبہات جھوٹ و افتراء یا جہل و نادانی کی بناء پر قائم کیئے گئے ہیں اور علماء و محققین نے ان کے جوابات بھی دیئے ہیں لیکن اس کے باوجود ان شبہات کی تعداد میں کمی نہیں آئی لہذا ا س طرح ہماری ذمہ داری بھی کم نہیں ہوتی۔
انقلاب اسلامی کے بعد یلغار میں شدّت کا سبب
قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان مذکورہ کتب میں ستّر فیصد ایران کے عظیم الشان اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد لکھی گئی ہیں یعنی کل چودہ صدیوں کے مقابلے میں اس دور میں ۲/۵ گنا کتب شیعیت کے خلاف تحریر کی گئیں ہیں۔
اور یہ سب اس وجہ سے ہوا ہے کہ مکتب ِ اہل بیت علیہم السلام کے مخالفین ہرگز اس امر کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ شیعہ تہذیب ایرانی قوم و ملت کو اتنا متاثر کرسکتی ہے کہ وہ خالی ہاتھ (لیکن اسلام کے عشق و ایمان سے لبریز قلب کے ساتھ) ہونے کے باوجود بھرپور مسلح حکومت( کہ جسے مشرق و مغرب کی بلا دریغ حمایت حاصل تھی) کے مدِ مقابل سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہوجائے گی اور اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے نابود کر دے گی اور اس کے بدلے شیعہ فقہ کے مطابق حکومتِ اسلامی تشکیل دے گی، اور اس کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ جب مکتب ِ اہل بیت ؑ کے مخالفین شیعہ مذہب کے فروغ کی بناء پر اپنے مقام و مفادات کو خطرے میں پڑتے ہوئے دیکھتے ہیں تو شیعیت کے خلاف جھوٹ اور افتراء اور تہمتوں سے بھرپور کتابیں لکھ کر شیعہ مذہب کے نورانی چہرے کو مخدوش کرنے کی عالمی سطح پر کوشش کرتے ہین ان لگائی گئی تہمتوں کے چند نمونے آپ کے سامنے پیش کرنے سے حقیقت روشن ہوجائے گی۔ (انشاء اللہ)
٭ مصری دانشمند ڈاکٹر عبد اللہ محمد غریب جھوٹ و افتراء سے بھرپور اپنی کتاب "وجاء دور المجوس" میں رقمطراز ہیں:
"اِنَّ الثَّورَةَ الخُمَینِیةَ مَجُوسِیةٌ لیست اسلامیةً، اَعۡجَمِیةٌ و لیست عربیةً، کِسرَویِةٌ و لیست محمدیةً "(۱۰)
"خمینی ؒ کی تحریک، اسلامی، عربی و محمدی نہیں بلکہ ایک مجوسی، عجمی اور کسروی تحریک ہے۔"
اس دانشمند کی شیعہ مذہب سے دشمنی اور کینہ و بغض کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ وہ لکھتا ہے:
نَعلمَ اَنّ حُکَّامَ طهران اَشَدُّ خَطراً علَی الاسلام من الیهود وَلَا نَنۡتَظِرُ خیراً منهم، و نَدۡرُکُ جیّداً اَنهم سَیَتَعَاونونَ مَع الیَهُود فی حرب المسلمین (۱۱)
اور ہم جانتے ہیں کہ ایرانی حکام حکومت اسلامی کے لیئے یہودیوں سے زیادہ خطرناک ہیں اور ان سے کسی اچھائی کی امید نہیں رکھنی چاہیے اور ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ یہودیوں کے ساتھ مل کر عنقریب مسلمانوں سے برسرِ پیکار ہوں گے!۔
حالانکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ ایران کا اسلامی نظام ہی وہ نظام ہے جو غاصب صیہونیزم کا سب سے بڑا دشمن ہے اور اس نظام کا ایک افتخار یہ بھی ہے کہ انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد غاصب اسرائیل کے سفارت خانے کا ایران میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے قلعہ قمع کر دیا گیا جب کہ فسلطین کو سفارت خانہ قائم کرنے کی اجازت دی گئی۔
٭ سعودی عرب کی ایک یونیورسٹی کے ایک استاد جناب ڈاکٹر ناصر الدین قفاری اپنی کتاب "اصول مذہب الشیعہ الامامیہ" جو اِن کے PHD کا رسالہ بھی قرار پائی ہے، میں تحریر کرتے ہیں:
اَدخَلَ الخُمَینی اِسمَه فی اذان الصلوٰت، و قدَّمَ اسمَه حتّی علَی اسمِ النبی الکریم، فَاَذان الصلوٰت فی ایران بعدَ اِستلام الخمینی لِلحَکَم و فی کلّ جوامعها کما یلی: "الله اکبر، الله اکبر، خمینی رهبر، ای الخمینی هو القائد، ثم اشهد ان محمداً رسول الله ۔(۱۲)
(امام) خمینیؒ نے اذان میں اپنے نام کو شامل کردیا ہے حتی پیغمبر اسلام ﷺ کے نام سے بھی اپنے نام کو مقدم رکھا ہے" خمینی کے ایران اور تمام مسلمان معاشرے کے حاکم ہونے کے عنوان سے اعلان کے بعد ایران میں نماز کے لیئے کہی جانے والی اذان اس طرح سے ہے:
اللہ اکبر اللہ اکبر خمینی رہبر (یعنی خمینی ہمارے رہبر اور پیشوا ہیں اور پھر اس کے بعد اشہد ان محمداً رسول اللہ کہتے ہیں۔
مؤلف:جب میں نے رواں سال ۱۴۲۳ ھ ماہِ رجب میں بیت اللہ الحرام میں دانشگاہ "ام القریٰ" کے کچھ طلاب سے ملاقات کی تو اس موقع پر بھی میں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ اگر اسلامی جمہوریہ ایران کے جام جم چینل سے دنیا بھر خصوصاً عربستان میں نشر ہونے والے اذان کی طرف توجہ دی جائے تو ڈاکٹر ناصر الدین صاحب کی طرف سے لگائی گئی تہمت و جھوٹ کا بھاندا پھوٹ جاتا ہے اور سب پر حقیقت روشن ہوجاتی ہے۔
جائے تعجب یہ ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں صیہونیوں کی دہشت گردی کے خلاف لکھی جانے والی کتب کی تعداد شیعیت کے خلاف لکھی جانے والی کتب کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔
چشم گیری مذہب اہل بیت علیہم السلام
مذہب اہل بیت علیہم السلام کے خلاف وہابیت کی جانب سے اس قدر شدید مخالفت اور یلغار کی ایک علت ان کے دل میں اس قرآنی و نورانی مکتب کی وسعت کا خوف پایا جاتا ہے اس مکتب کی وسعت کی بناء پر نوجوان و دانشمند حضرات مکتب اہل بیت ؑ کا استقبال کر رہے ہیں کیونکہ یہ ہی وہ مکتب ہے جو پیغمبر اسلام (ﷺ) کی حقیقی سنت کے عین مطابق ہے۔
چند نمونے بطورِ مثال پیش کئے جاتے ہیں
٭ سعودی عرب کے شہر ریاض میں واقع دانشگاہ "الامام محمد بن السعود" کے فارغ التحصیل و بن باز (سعودی کے مفتی اعظم کے شاگرد اور یمن کے شہر صنعاء کی ایک بہت بڑی مسجد کے امام جماعت) ڈاکٹر عصام العماد جو یمن میں وہابیوں کے مبلغ بھی تھے اور انہوں نے شیعوں کے کفر اور شرک کے اثبات کے لیے ایک کتاب "الصلۃ بین الاثنی عشریۃ و فرق الغلاۃ" لکھی ہے جب ایک شیعہ جوان کے ذریعے مکتب ِ اہل بیت ؑ کی نورانی فرہنگ و ثقافت سے آشنا ہوتے ہیں تو وہابیت سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے اپنے شیعہ ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔
موصوف اس مناسب سے لکھی جانے والی اپنی کتاب میں تحریر فرماتے ہیں سالہائے گذشتہ میں وہابیوں نے جو کتابیں تحریر کی ہیں ان کے مطالعے کے بعد ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ انہوں (وہابیوں) نے اچھی طرح اس بات کا احساس کرلیا ہے کہ مستقبل قریب میں مذہب ِ شیعہ امامیہ ہی ہے، جو غالب ہونے والا ہے اس لیئے کہ وہ وہابیوں میں اور دیگر مسلمانوں میں بہت مؤثر اور تیزی سے دلوں میں اتر جانے والی تبلیغات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
و کُلَّما نَقرَأُ کتابات اِخواننا و الوهّابییّن نَزدادُ یَقِیناً بِانَّ المستقبل للمذهب الاثنی عشری؛ لانَّهم یتابِعُون حرکة الانشار السریعة لهذا المذهب فی وسط الوهّابیین و غیرهم من المسلمین ۔( ۱۳ )
اور اس کے بعد مدینہ منورہ میں واقع "الجامعۃ الاسلامیۃ" کے استاد شیخ عبد اللہ غنیمان کا قول نقل کرتے ہیں:
انَّ الوهابیین علی یقین بانّ المذهب (الاثنی عشر) سوف هو الذی یَجذِبُ الیه کلُّ اهل السنّة و کلُ الوهابیین فی المستقبل القریب ۔( ۱۴ )
وہابیوں کو یقین ہے کہ مستقبل میں جو مذہب وہابیوں اور سنیوں کو اپنی طرف کھینچے گا وہ صرف مذہب شیعہ امامیہ ہی ہے۔
٭وہابی اہل قلم شیخ محمد بن ربیع رقمطراز ہیں: جس بات نے میری حیرت اور شگفتگی میں اضافہ کیا وہ یہ ہے کہ گذشتہ دنوں ہمارے کچھ وہابی بھائی، مشہور علمی شخصیات کے فرزند اور مصری طلاب نے مذہبِ شیعہ اختیار کر لیا ہے
و ممّا زاد عَجَبی من هذٰا الامر اَنّ ا ِخواناً لنا و منهم اَبنا اَحدِ العلماءِ الکِبار المشهورِین فی مصر، و منهم طلّابُ عِلۡمٍ طالماً جلسوا معنا فی حلقاتِ العلم منهم بعضُ الاخوان الذین کُنّا نُحسن الظنَّ بهم: سَلَکُوا هذا الدَّرۡبَ، و هذا الاِتجاهَ الجدید هو (التشیع)، و بِطبعةِ الحال ادرکت منذ اللحظة الاولی انّ هولاء الاخوَة کغیرهم فی العالم الاسلامی بهرتهم أضواءِ الثورة الایرانیة ۔( ۱۵ )
٭ ایک اور مشہور و معروف وہابی رائٹر شیخ مغراوی کا کہنا ہے: مشرقی ممالک میں نوجوانوں میں مذہبِ شیعہ کی طرف بڑھتے ہوئے تمایل کو دیکھ کر اس بات کا ڈر ہے کہ یہ مذہب اسی طرح مغربی ممالک میں بھی نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچ لے گا۔
بعد… انتشار المذهب الاثنی عشری فی مشرق العالم الاسلامی فخفت علیٰ الشباب فی بلاد المغرب ( ۱۶ )
٭ مدینہ منورہ کی یونیورسٹی کے محترم استاد ڈاکٹر ناصر قفاری لکھتے ہیں گذشتہ دنوں اہل سنت کے کچھ لوگوں نے مذہبِ شیعہ اپنالیا ہے اور اگر کوئی "عنوان المجد فی تاریخ البصرہ و نجد" کتاب کا مطالعہ کرے تو یقیناً حیران و پریشان ہوگا کہ عرب کے بعض قبائل کے تمام افراد نے مذہب اہل بیت ؑ اختیار کرلیا ہے۔
و قد تَشَیَّعَ بِسبب الجُهودِ الّتی یَبذُلُها شیوخُ الاثنی عشریّة مِن شَبابِ المسلمین، و مَن یُطَالِعُ کتابَ، "عنوان المجد فی تاریخ البصرة و نجد" یَهُولُه الامر حیثُ یُجد قبائل بأکملها قد تشیّعت ۔( ۱۷ )
٭ اور ان سب سے بڑھ کر حیران کن بات یہ ہے کہ عظیم وہابی مصنف شیخ مجدی محمد علی محمد کہتے ہیں: میرے پاس حیرت میں غرق ایک سنی جوان آیا جس کی حیرت و استعجاب کا سبب یہ تھا کہ اس تک کسی شیعہ جوان کی دسترسی ہوگئی جس کے بعد اس سنی جوان کا خیال تھا کہ شیعہ ملائکہ رحمت اور بیشۂ حق کے شیر ہیں۔
جائنی شابّ مِن اهل السنة حیران، و سَبَبُ حیرتِه انّه قد امتَدَتۡ الیه أیدی الشیعة حتی ظنّ المسکین انهم ملائکة الرحمة و فرسان الحق ۔( ۱۸ )
خلافت و امامت کے بارے میں سوالات
آپ اہل سنت حضرات کا کہنا ہے کہ پیغمبر اسلام ؐ نے کسی کو خلیفہ معین نہیں کیا بلکہ حضورؐ یہ کام امت مسلمہ پر چھوڑ گئے اگر یہ کام (خلیفہ معین نہ کرنا) حق اور امت کی اصلاح کے لیئے تھا اور لوگوں کی ہدایت کا بھی ضامن تھا تو اس کام میں تمام امت مسلمہ پر حضور (ﷺ) کی اتباع کرنا واجب و لازم تھا کیونکہ تمام موحدین جو قیامت پر یقین رکھتے ہیں، ان کے لیے آپؐ کی سیرت و سنت نمونہ ٔ حیات ہے۔
( لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الآخِرَ ) ( ۱۹ )
بنابراین حضرت ابوبکر کا خلیفہ معین کرنا سنت پیغمبرؐ کے خلافت اور امت کی گمراہی کا سبب بھی تھا۔
اور اسی طرح حضرت عمر کا چھ رکنی شوریٰ میں خلافت کو محدود کرنا بھی سنت ِ پیغمبر اکرمؐ اور سیرت ابوبکر کے خلاف تھا لیکن اگر کہا جائے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کا عمل امت کی اصلاح کے لیے تھا تو کہنا پڑے گا کہ پھر پیغمبر اکرمؐ کا عمل صحیح نہیں تھا۔ (نستجیر بالله من ذالک )( ۲۰ )
٭ پیغمبر اسلام ؐ جب بھی مدینے سے باہر جاتے تھے تو اپنے اصحاب میں سے کسی نہ کسی کو اپنا جانشین اور نائب معین کرکے جاتے تھے۔
لِأنَ النبی (صلی الله علیه وسلم) اِستَخۡلَفَ فِی کُلِّ غَزاةِ غزاها رجلاً من اصحابه ۔( ۲۱ )
ابن مکتوم کو تیرہ غزوات مثلاً بدر، احد، ابواء، سویق، ذات الرقاع، حجۃ الوداع وغیرہ کے موقع پر مدینہ میں اپنا جانشین معین کیا ہے۔( ۲۲ )
اسی طرح ابو رہم کو مکے کی جانب کوچ کے وقت، جنگِ حنین و خیبر کے موقع پر محمد بن مسلمہ کو جنگِ قرقرہ میں نمیلہ بن عبد اللہ کو، غزوۂ بن مصطلق اور عویف کو حدیبیہ کے موقع پر اپنا جانشین و خلیفہ کی حیثیت سے معین کیا۔( ۲۳ )
بنابر ایں کیا یہ معقول بات ہے کہ حضور اکرم (ﷺ) جب ایک دن کے لیئے بھی مدینہ سے باہر جائیں (جیسا کہ جنگ ِ احد مدینے سے ایک میل کے فاصلے پر انجام پائی) تو اپنا جانشین معین کرکے جائیں لیکن ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے اس دنیا سے جائیں تو امت کو خلیفہ اور ہادی کے بغیر چھوڑ کر چلے جائیں؟
کیا یہ بات صحیح ہے کہ پیغمبرؐ اسلام مدینے کے بالکل قریب ہونے والی جنگ خندق میں اپنا جانشین معین کرکے جائیں لیکن ہمیشہ کے لیئے جاتے وقت کسی کو اپنا جانشین معین کرکے نہ جائیں اور یہ کام امت پر چھوڑ کر چلے جائیں؟( ۲۴ )
٭ ایک طرف آپ اپنی روایات کی کتب میں پیغمبرؐ اسلام سے روایت نقل کرتے ہیں: ہر نبی کا ایک وصی و جانشین تھا۔
لکل نبی وصی و وارث ۔( ۲۵ )
اور حضرت سلمان فارسی کا قول نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے پیغمبر اسلام (ﷺ) سے سوال کیا: یا رسول ؐ اللہ ہر پیغمبر کا جانشین و وصی تھا آپ کا وصی اور جانشین کون ہے؟
انّ لکل نبی وصیاً فمن وصیک ؟ ( ۲۶ )
اور دوسری طرف آپ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر (ﷺ) نے کسی کو اپنا جانشین معین نہیں فرمایا۔
کیا رسول اکرم (ﷺ) تمام نبیوں سے مستثنیٰ تھے اور کیا یہ ان کی خصوصیت تھی؟ یا پیغمبر اسلام (ﷺ) نے تمام انبیاء کی سنت کے برخلاف عمل کیا تھا؟ جبکہ خداوند تعالیٰ قرآن میں بزرگ انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد پیغمبر ؐ اسلام کو حکم دے رہا ہے کہ ان کی ہدایت کی اتباع کریں۔
( اُولئِک الذٰینَ هدی الله فَبِهُدَاهم اقتده ) ( ۲۷ )
٭ آپ کہتے ہیں حضورؐ سرور کائنات امت کے لیئے کسی کو اپنا جانشین مقرر کیئے بغیر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ کیا حضور (ﷺ) نے جانشین کو معین کرنے کی ذمہ داری امت کے سپرد کردی تھی کہ جسے چاہیں جانشین پیغمبرؐ کے عنوان سے معین کرلیں اور خود پیغمبرؐ گرامی نے خلیفہ کے تعین کے لیے کوئی شرط بیان نہیں فرمائی؟
یہ بات کسی بھی طرح معقول نہیں، اس لیئے کہ پیغمبر اسلام ایسے سخت حالات میں دنیا سے تشریف لے گئے ہیں کہ جب مسلمان معاشرہ بدترین حالات سے دوچار تھا کیونکہ ایک طرف حکومت اسلامی کو روم و ایران کی طاقتور حکومتیں حراساں کر رہی تھیں (جس کی دلیل پیغمبرؐ اسلام کا لشکر اسامہ کو ترتیب دینا تھا) اور دوسری طرف منافقین و مشرکین اور یہودی، مسلمانوں کے خلاف ہر روز ایک نئی سازش کر رہے تھے۔
لہذا یہ بات بالکل واضح ہے کہ ایسے حالات میں اگر عام آدمی بھی حاکم ہوتا تو وہ بھی کسی صورت قوم وملت کو بغیر جانشین کے چھوڑ کر نہیں جاتا تو کون عقل مند ہے جو کہے کہ پیغمبر (ﷺ) قوم و ملت کو خلیفہ و جانشین معین کیئے بغیر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ حالانکہ پیغمبر (ﷺ) سب سے زیادہ مسلمانوں کے غمخوار اور ان کی فلاح و بہبود کے لیئے کوشان تھے آیہ شریفہ:
( لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ ) ( ۲۸ )
ہماری اس بات کی بہترین دلیل ہے۔
علاوہ بریں اس قسم کا اعتقاد پیغمبر اسلام (ﷺ) کی بدترین توہین ہے کیونکہ پیغمبر اکرم (ﷺ) کے اس تصمیم و ارادے سے مسلم معاشرہ سخت ترین حالات سے دوچار ہوگیا جیسا کہ مصر کے ڈاکٹر احمد امین نے صراحت کے ساتھ کہا ہے: پیغمبر اسلام (ﷺ) کے جانشین معین نہ کرکے یا اس کے انتخاب کی شرائط بیان نہ کرکے چلے جانے نے مسلمانوں کو مشکلات اور خطرناک حالات سے دوچار کر دیا۔
تُوُفِّیَ رسولُ (صلی الله علیه وسلم) ولَم یُعَیِنۡ مَن یَخۡلُفۡه وَلَم یُبَیِّنۡ کَیفَ یکونُ اختیارُه، فَواجَهَ المسلمون اَشقَّ مسألة ٍو أخطرها! ( ۲۹ )
معروف مورخ ابنِ خلدون کا کہنا ہے: قوم و ملت کو رہبر و سرپرست کے بغیر چھوڑ دینا محال ہے کیونکہ یہ امر عوام اور سیاستدانوں میں جھگڑے و فساد کا سبب ہے لہذا ہر معاشرے کو ہرج و مرج سے محفوظ رکھنے کیلئے ایک حاکم کا معین کرنا لازمی و ضروری امر ہے۔
فَاستحال بقاءُ هم فَوَضَّی دونَ حاکم یزع بعضهم عن بعض و احتاجوا مِن اَجلِ ذالک الیٰ الوازِع وهو الحاکم علیهم ۔( ۳۰ )
٭ صحیح مسلم کے مطابق دختر حضرت عمر جناب حفصہ، حضرت عمر سے کہتی ہیں کہ کسی کو اپنا جانشین معین ضرور کیجئے اور پھر حضرت کے فرزند، عبد اللہ بھی کہنے لگے: اگر آپ کا چرواہا اونٹوں اور بھیڑوں کو بغیر سرپرست کے چھوڑ دے تو آپ اس پر اعتراض کریں گے کہ ان کی نابودی کا باعث کیوں بنا۔
لہذا اس امت کی فکر کیجئے! اور کسی کو بعنوان خلیفہ معین کیجئے کیونکہ اس امت کا خیال رکھنا اونٹوں اور بھیڑوں کی دیکھ بھال کے مقابلے میں زیادہ ضروری ہے۔
عن ابنِ عمر قالَ: دَخَلتُ علیٰ حفصة فقالتۡ: أعلمتُ اَنّ اَباک غیرَ مُسۡتَخۡلف؟ قالت قلت: ما کان لیفعل
قالت: انهُ فاعل قال ابنِ عمر: فحلفت أنّی أکلمه فی ذالک فسکت، حتیٰ غدوت، ولم أکلمه
قال: فکنت کانّما اَحمل بیمینی جبلاَ، حتیٰ رجعت فدخلت علیه، فقلت لهُ: انّی سمعت، الناس یقولون مقالة فآلیت أن اقولها لک، زعمو انّک غیر مستخلف، و انهُ لو کانک لک راعی ابل، اوراعی غنم ثم جائک و ترکها رأیت أن قد ضیّع، فرعایة الناس اشد( ۳۱ )
٭ حضرت عائشہ بھی عبد اللہ ابن عمر کے ذریعے حضرت عمر کے پاس پیغام بھیجتی ہیں کہ: امت محمد (ﷺ) کو بغیر چوپان کے چھوڑ کر نہ جائیں، کسی نہ کسی کو جانشین ضرور معین کریں اس لیئے کہ مجھے قوم کے فتنہ کا خوف ہے:
ثم قالت (أی عائشه) : یا بُنَّی ! أَبۡلِغُ عمر سلام، و قل لهُ: لَا تَدَعۡ اُمَّةَ محمد (ﷺ) بِلا راعٍ، اِستَخۡلِف علیهم وَلَا تَدَعۡهُم بَعدَک هملَا، فَأنی أَخشیٰ علیهم الفتنة ۔( ۳۲ )
اسی طرح معاویہ جب یزید کی بیعت لینے کے لیئے مدینے میں وارد ہوا تو صحابہ کے مجمع میں عبد اللہ ابن عمر سے دوران گفتگو کہنے لگا:
اِنّی أَرهبُ أَن أدع امة محمد بعدی کَالضَّأۡنِ لَا راعِی لها ۔( ۳۳ )
میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ میں امت ِ محمد (ﷺ) کو بغیر چوپان کے بھیڑوں کی مانند چھوڑ کر چلا جاؤں۔
اور طبقات ابن سعد کے مطابق، عبد اللہ ابن عمر نے اپنے والد سے کہا: جس شخص کو آپ نے اپنی زمینوں پر اپنا وکیل بنا رکھا ہے اگر آپ اسے بلانا چاہیں گے تو کیا اس کی جگہ پر کسی کو نائب معین کریں گے یا نہیں؟ انہو ں نے کہا کیوں نہیں! پھر سوال کیا: اگر چرواہے کو بلائیں تو کیا اس کی جگہ پر بھی کسی کو نائب معین کریں گے؟ کہا: ہاں!( ۳۴ )
(اب آپ خود فیصلہ کیجئے) کیا یہ پیغمبر اسلام (ﷺ) کی اہانت نہیں ہے کہ انہیں حضرت عائشہ، حفصہ اور معاویہ جتنی بھی امت کی فکر نہ ہو؟ اور اپنی امت کو بغیر سرپرست و رہبر کے چھوڑ کر چلے جائیں؟! کیا کوئی نہیں تھا جو پیغمبرؐ اسلام سے خلیفہ و جانشین معین کرنے کے لیے یا تعین خلیفہ کے طریقے کے بارے میں سوال کرتا؟
٭ جو لوگ کہتے ہیں: پیغمبر اسلام (ﷺ) نے وقت رحلت کوئی وصیت نہیں کی، کیا انہیں معلوم ہے کہ یہ کہہ کر وہ حضورؐ سرور کائنات کی طرف قرآن و سنت کے برخلاف عمل کی نسبت دے رہے ہیں؟!
اس لیئے کہ قرآن نے تمام مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وصیت کیئے بغیر دنیا سے نہ جائیں۔
( کتب علیکم اذا حضر احدکم الموت ان ترک خیرا الوصیة ) ( ۳۵ )
اس لیے کہ جملۂ (کتب علیمر) آیہ شریفہ (کتب علیکم الصیام) کی طرح اہمیت و لزوم پر دلالت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ خود پیغمبر اکرمؐ نے بھی فرمایا ہے: ہر مسلمان کا فریضہ ہے کہ اس کے پاس وصیت نامہ موجود ہو اور ہرگز ایسا نہ ہو کہ اس کی عمر کی تین راتیں گذر جائیں اور اس کے پاس وصیت نامہ موجود نہ ہو۔
ما حَقُّ اِمریءٍ مسلمٍ لهُ شئیٌ یُوصِی به، یَبِیتُ ثَلاثَ لَیالٍ الّا وَ وَصِیَّتُهُ عِندَه مَکتُوبةٌ ۔
جیسا کہ عبد اللہ ابن عمر کا کہنا ہے: جب سے میں نے پیغمبر اکرم (ﷺ) سے اس حدیث کو سنا کوئی رات بغیر وصیت سے نہ گزاری(قال عبد اللہ ابن عمر:
ما مَرَّتۡ عَلَیّ لیلةٌ مُنذُ سَمِعۡتُ رسولَ الله (صلی الله علیه وسلم) قال ذالک الّا وَ عِندِی وَصِیَّتی ۔( ۳۶ )
اب بتائیے کہ کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ عبد اللہ ابن عمر خود پیغمبر اسلام (ﷺ) سے زیادہ حضورؐ کے قول کے پابند تھے؟
کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ پیغمبر ؐ اسلام جو کہتے تھے اس پر عمل نہیں کرتے تھے (معاذ اللہ)؟ جبکہ پروردگار عالم فرماتا ہے: وہ بات کیوں کہتے ہیں جس پر عمل نہیں کرتے؟ یاد رکھو قول و فعل کا تضاد خدا کے غیض و غضب کا سبب ہے:
( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لا تَفْعَلُونَ * كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لا تَفْعَلُونَ ) ( ۳۷ )
یہ تناقض و اختلاف اتنا روشن تھا کہ بعض راویوں نے بھی اعتراض کیا مثلاً طلحہ بن مصرف نے عبد اللہ بن اوفی سے کہا: یہ کیسے ممکن ہے کہ پیغمبر اکرم (ﷺ) وصیت کا حکم تو دیں لیکن اس پر خود عمل نہ کریں؛
عن طلحه بن مصرف، قال: سألتُ عبدَ الله بن ابی أَوفیٰ: هَل کان النبی (ﷺ) اَوصیٰ؟ قال: لا، فقلت: کیفَ کَتَبَ علیٰ الناس الوصیةَ، ثمّ تَرَکَها قال: اَوصَی بِکتابِ الله ۔( ۳۸ )
و فی روایتِ احمد: فکیف أَمرُ المومنینِ بِالوصیةِ ولم یُوصِ؟ قال: اوصی بکتاب الله ۔( ۳۹ )
آیت و حدیثِ وصیت، وصیت کے واجب و لازم ہونے پر دلالت نہ بھی کریں تو کم از کم وصیت کے جائز ہونے پر تو دلالت کر رہی ہیں اور اس بات کی وضاحت کر رہی ہیں کہ وصیت کرنا ایک اچھا اور نیک عمل ہے اور پیغمبر اکرم (ﷺ) کے لیے شائستہ نہیں کہ وہ اس عمل خیر کو ترک کردیں۔ کیونکہ فرمان قرآن ہے: کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے کو بھول جاتے ہو۔
( اتا مرون الناس بالبر و تنسون أنفسکم ) ( ۴۰ )
٭ جو لوگ یہ کہتے ہیں: پیغمبر اکرم (ﷺ) کسی کو خلیفہ معین کیئے بغیر اس دنیا سے چلے گئے اور اس کی ذمہ داری امت کے سپرد کر گئے تھے وہ یہ بتائیں کہ کیا پیغمبر (ﷺ) نے رہبر کے لیے اور رہبری کے انتخابات میں شرکت کرنے والوں کے لیئے کچھ شرائط بھی معین فرمائی تھیں یا نہیں؟
اگر معین فرمائی تھیں تو پھر یہ شرائط کس حدیث و روایت میں وارد ہوئی ہیں؟
اور اگر حضور سرور کائناتؐ کے ارشادات میں شرائط بیان کی گئی ہیں تو پھر سقیفہ بن ساعدہ میں ہونے والے اجتماع میں کسی نے ان شرائط و اقوال سے استفادہ کیوں نہیں کیا؟
اور بالفرض! اگر حضرت ابو بکر کا انتخاب حضورؐ سرور کائنات کی بیان کردہ شرائط کے مطابق تھا تو حضرت ابوبکر نے یہ کیوں کہا: میری بیعت ایک ناگہانی و اتفاقی امر تھا اور یہ بیعت بغیر کسی تدبیر کے انجام پائی اور خدا نے قوم و ملت کو اس کے شر سے بچالیا۔( ۴۱ )
یعنی حقیقت میں یہ ایک شرّی کام تھا لیکن خدا نے اس کے شر کو برطرف کر دیا۔( ۴۲ )
حضرت عمر نے بھی اپنی خلافت کے آخری ایام میں برسر منبر یہ ہی کہا تھا:
اِنَّ بیعةَ ابی بکر کانت فلتةً وقی اللهُ شرَّها فمَن عاد الیٰ مثلها فاقتلوه ۔( ۴۳ )
حضرت ابوبکر کی بیعت ایک اتفاقی و ناگہانی امر تھا اور خدا نے اس کے شر سے بچالیا اگر کسی نے دوبارہ اس طرح سے بیعت لینے کی کوشش کی تو اس کی سزا موت ہوگی۔
ابن اثیر کا کہنا ہے: "فلتۃ" ناروا طریقے کو کہتے ہیں اور امر خلافت میں انتشار کے خوف سے حضرت ابوبکر کی بیعت کی گئی۔
و الفلتة کل شئی من غیر رویة، و اِنّما بودربها خوف انتشار الأمر ۔( ۴۴ )
کاش کوئی ابن اثیر سے سوال کرتا کہ کس امر خلافت میں خوف محسوس کر رہے تھے؟ کیا اس خلافت کا خوف تھا جسے پیغمبر اکرم (ﷺ) نے معین کیا تھا؟ یا خلافت کے انتخاب میں حضرت ابوبکر جیسے دیگر افراد کے کھڑے ہونے کی وجہ سے خوف پیدا ہوگیا تھا؟
لیکن حقیقت امر یہ ہے کہ پیغمبر (ﷺ) نے جس خلافت کو معین کیا اس میں انتشار کیسے ہوسکتا تھا۔ بلکہ وہ قوم و ملت کے امن و امان اور سکون کی ضامن تھی اور تمام مسلمانوں پر حضور سرور کائنات (ﷺ) کے حکم پر سر تسلیم خم کرنا اور مخالفت نہ کرنا واجب و لازم ہے۔
( وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ) ( ۴۵ )
اسی طرح دیگر افراد کے ہم پلہ ہونے سے بھی وہ لوگ خائف تھے کیوں کہ تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ اگر وہ لوگ انہیں حضرت ابوبکر کے ہم پلہ نہ جانتے ہوتے تو کبھی بھی ان کی بیعت نہ کرتے اور اگر حضرت ابوبکر کے ہم مرتبہ تھے تو پھر ان کی یا حضرت ابوبکر کی بیعت کرنے میں فرق ہی کیا تھا؟
لیکن اگر رہبری کے لیئے نامزد ہونے والا شخص حضرت ابوبکر کی نسبت بہترین شرائط اور اعلیٰ صلاحیتوں کا حامل تھا جو معاشرے کے لیئے بہترین تدابیر کرسکتا تھا تو کیا ایسی صورت میں حضرت ابوبکر کو عہدۂ خلافت پر منصوب کرنا معاشرے کے مصالح و مفاد کے مانع نہ تھا؟
٭ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر واقعاًٍ خلافتِ حضرت ابوبکر، شرائط اور سنت رسول اکرم (ﷺ) کے مطابق انجام پائی تھی تو حضرت عمر نے یہ کیوں کہا:
فَمَن عاد الیٰ مثلها فاقتلوه ۔ اگر کسی نے دوبارہ اس طرح سے بیعت لینے کی کوشش کی تو اس کی سزا موت ہوگی۔
اگر یہ بیعت سنت کے مطابق تھی تو کیا دوسرے مسلمانوں کا سنت پر عمل پیرا ہونا ضروری نہ تھا۔
توجہ: آپ نے دیکھا کہ ایک غلط عمل کو صحیح ثابت کرنے کے لیے نہ جانے کتنے غلط اعمال و افکار کو صحیح ظاہر کرنا پڑتا ہے لہذا اگر خلافت کے پہلے مرحلے ہی میں خلافت کے غلط طریقے کو اپنا یا نہ جاتا تو بعد والی غلطیوں سے بھی مسلمان محفوظ رہ سکتے تھے اچھی بات تو یہ تھی کہ پیغمبرؐ اسلام کے فرمانِ غدیر کے مطابق مسلمان عمل کرتے اور ہمیشہ ہمیشہ کے اختلاف اور اضطراب سے محفوظ رہتے۔
٭ ایک طرف آپ کہتے ہیں : پیغمبر اکرم (ﷺ) نے کسی کو اپنا جانشین معین نہیں فرمایا اور نہ ہی کسی کو حکم دیا کہ وہ کسی کو آپؐ کا جانشین معین کرے بلکہ لوگوں نے حضرت ابوبکر کو خلیفہ معین کیا، حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کو اور چھ رُکنی کمییض نے حضرت عثمان کو خلافت کے عہدے پر معین کیا اور
دوسری طرف آپ کہتے ہیں کہ یہ حضرات جانشینِ پیغمبرؐ اکرم تھے اور آپ انہیں خلیفہ رسولؐ کہتے ہیں کیا اس طرح کی بات کہنا پیغمبر ؐ اکرم کی طرف جھوٹی نسبت دینا نہیں؟ کیونکہ حدیث متواتر ہے:
من کذب علیَّ معتمداً فلیتبوء مقعده من النار ۔( ۴۶ ) جس نے جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی نسبت دی اس کاٹھکانہ جہنم ہے۔
پس پیغمبر ؐ اسلام کی طرف ہر طرح کی جھوٹی نسبت دینا گناہ ہے۔
بنابرایں اگر آپ کا یہ دعویٰ ہے کہ پیغمبر اسلام (ﷺ) نے کسی کو خلیفہ معین نیںب فرمایا، صحیح ہوتو خلفاء راشدین ، خلفاء پیغمبر اکرم (ﷺ) نہیں ہوسکتے!
٭ جس وقت پیغمبر اکرم (ﷺ) نے بیماری کی حالت میں بستر پر فرمایا تھا: قلم و دوات لاؤ تاکہ میں تمہارے لیئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے تو حضرت عمر نے کیوں کہاکہ ان پر درد کا غلبہ ہے اور ہمیں کتابِ خدا ہی کافی ہے؛
اِن النّبی (صلی الله علیه وسلم) قَد غَلَبَ علیه الوَجۡعُ، و عِندَکم القرآنُ حَسۡبُنَا کتابُ الله ۔(۴۷)
یا یہ کہا: رسول اللہ (ﷺ) ہذیان کہہ رہے ہیں۔ (معاذ اللہ)
(اِنّ رسولَ الله (صلی الله علیه و سلم) یَهۡجُر) "نستجیر بالله" (کبرت کلمةَ تخرج من أفواههم) (۴۸)
یہ واقعہ اتنا اذیت ناک و اندوہ گین تھا کہ ابن عباس جب بھی اسے یاد کرتے ہیں تو انکی آنکھوں سے موتیوں کی مانند اشک جاری ہوکر رُخساروں پر بہنے لگتے ہیں۔(۴۹)
سوالات
صحیح بخاری و صحیح مسلم اور آپ کی دیگر صحاح میں وارد ہونے والی اس حدیث کے بارے میں چند سوالات قابل توجہ ہیں:
۱ ۔ کیا حضرت عمر کا یہ فرمان "انّ رسولَ الله یَهجُر " قرآن کریم کے خلاف نہیں؟ اس لیئے کہ قرآن فرماتا ہے:
( وَمَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡهَویٰ إِنْ هُوَ إِلا وَحْيٌ يُوحَى ) (۵۰)
پیغمبر اکرم (ﷺ) اپنی خواہشِ نفس سے کوئی بات نہیں کہتے بلکہ جو کہتے ہیں وحیِ الٰہی کے تحت کہتے ہیں۔
۲ ۔ حضرت عمر کا یہ کہنا:"حَسۡبُنَا کتاب الله " کتابِ خدا ہمارے لیئے کافی ہے کیا یہ سنت پیغمبر اکرمؐ کی عملی مخالفت نہیں ؟
کیونکہ پیغمبر اکرم (ﷺ) نے فرمایا تھا ایسی چیز تمہارے لیئے لکھ دوں جس کے ذریعے تم گمراہی سے بچ سکو، یہ کوئی عام تحریر نہ تھی اور نہ ہی اس کا تعلق حضورؐ کی اپنی ذات سے وابستہ تھا بلکہ خاص اہمیت کی حامل ہونے کے ساتھ سنت کی بہترین مصداق بھی تھی۔
۳ ۔ کیا حضرت عمر اور ان کے ہمنواؤں کا حضور (ﷺ) کی مخالفت کرنا حکمِ قرآن کی مخالفت نہیں؟ اس لیئے کہ قرآن فرماتا ہے او امر پیغمبر (ﷺ) کی اطاعت کرو اور نواہی حضرت ؐ سے اجتناب کرو۔
( مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ) (۵۱)
۴ ۔ بخاری کے اس قول (پیغمبر اکرم (ﷺ) کے بستر کے قریب لوگوں نے شور و غل بلند کر دیا تھا اور اختلاف میں پڑ گئے تھے) کے مطابق کیا یہ شور و غل اس حکم قرآن کے خلاف نہیں جس میں کہا گیا ہے کہ پیغمبر (ﷺ) کے حضور کسی بھی قسم کا شور و غل منع ہے اور اس بات کو لوگوں کے حبطِ اعمال اور انکی نابودی کا باعث قرار دیا ہے۔
( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لا تَشْعُرُونَ ) (۵۲) ؛ ایمان والو خبردار! اپنی آواز کو نبی کی آواز پر بلند نہ کرنا اور ان سے اس طرح بلند آواز سے بات بھی نہ کرنا جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہوجائیں اور تمہیں اس کا شعور بھی نہ ہو۔
۵ ۔ کیا صحابہ کا اختلاف کرنا اور حضور (ﷺ) سرور کائنات کے فرمان پر سر تسلیم خم نہ کرنا قرآن کے اس حکم کی مخالفت نہیں؟!
( فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ) (۵۳) ؛ پس آپ کے پروردگار کی قسم کہ یہ ہرگز صاحب ایمان نہ بن سکیں گے جب تک آپ کو اپنے اختلافات میں حَکَم نہ بنائیں اور پھر جب آپ فیصلہ کر دیں تو اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی کا احساس نہ کریں اور آپ کے فیصلہ کے سامنے سراپا تسلیم ہوجائیں۔
پس اختلاف کی صورت میں پیغمبر (ﷺ) کے نظریہ و فرمان پر سر تسلیم خم کرنا سب پر واجب و لازم ہے پس جو لوگ حضور (ﷺ) کی بات نہیں مانتے ہیں تو وہ مومن نہیں ہیں۔
۶ ۔ پیغمبرؐ گرامی مرتبت امت کو گمراہی سے بچانے والی تحریر لکھنا چاہتے تھے کیا اتنی اہم تحریر لکھنے سے منع کرنا لوگوں کی گمراہی کا سبب نہیں ہوا؟
آپ پیغمبر (ﷺ) کی اس بات کی یا تصدیق کریں گے یا تکذیب اگر تصدیق کرتے ہیں تو بتائیں کہ امت مسلمہ میں گمراہی آئی یا نہیں؟ اگر آپ گمراہی تسلیم کرتے ہیں تو امت اسلامی کی اس سے بڑی گمراہی کیا ہوسکتی ہے کہ وہ امر خلافت کے منصوص من اللہ ہونے میں حق سے منحرف ہوگئی؟
۷ ۔ حضور سرور کائنات (ﷺ) کی اس وصیت لکھنے کی مخالفت کرنے والے حضرت عمر اور ان کے ساتھیوں کے مدِ مقابل کچھ وہ افراد بھی تھے جو اس وصیت کے لکھنے جانے پر زور دے رہے تھے:
مِنهُم مَن یقول: قرّبوا یکتب لکم النّبی (صلی الله علیه وسلم) کِتابا لا تضلّوا بعده و منهم من یقول: ما قال عمر ۔(۵۴) ؛ کچھ کہہ رہے تھے کہ نبی کو تحریر لکھنے دو تاکہ ان کے بعد گمراہ نہ ہوسکیں اور کچھ وہی بات کہہ رہے تھے جو حضرت عمر نہ کہی تھی۔
حتی کہ زنان پیغمبر (ﷺ) نے بھی حضرت عمر کی ٹیم کی شدید مخالفت کی جس پر حضرت عمر نے ان کی توہین کی لیکن حضور (ﷺ) نے ان خواتین کا دفاع کرتے ہوئے جواب دیا:
فَقالتِ النِسوةُ مِن وراءِ السَتر: أَلا تَسمَعُونَ ما یَقُول رسولُ الله ؟! قالَ عمر: فَقُلتُ اِنَّکُنَّ صواحبات یوسف، اِذا مرض رسول الله، عصرتنَّ أعینکنّ، و اِذا صح، رکبتنّ عنقه! قال: فقال رسول الله دُعُوهُنَّ فاِنَّهُنَّ خیر) منکم ۔(۵۵)
خواتین پس پردہ سے کہنے لگیں: کیا تم لوگ پیغمبرؐ اسلام کی بات نہیں سن رہے ہو؟ حضرت عمر نے کہا: تم حضرت یوسف کی شیدائیوں کی مانند ہو کہ جب اللہ کا رسولؐ مریض ہوتا ہے تو رونے لگتی ہے اور جب صحیح ہوتا ہے تو سر پر چڑھ بیٹھتی ہو۔
رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا: تمہیں ان پر اعتراض کرنے کی ضرورت نہیں اور تم ان کی فکر مت کرو اس لیئے کہ وہ تم سے بہتر ہیں۔
اب غور کیجئے کہ آخر حضرت عمر اور ان کے ساتھی مقابل گروہ پر غالب کیوں ہوگئے اور دونوں میں سے کس نے قرآن و سنت کے برخلاف عمل کیا؟
۸ ۔ آخر ابن عباس ؓ جیسی عظیم المرتبت ہستی نے اس واقعہ کو "واقعہ مصیبت" سے تعبیر کیوں کیا ہے؟
انّ الرزیة کل الرزیة ما حال بین الرسول الله (صلی الله علیه وسلم) و بین ان یکتب لهم ذالک الکتاب من اختلافهم و لَغَطهم ۔(۵۶)
کیا جناب عباسؓ کا جانسوز گریہ اور اس واقعہ کو "واقعہ مصیبت" سے تعبیر کرنا، اپنی فکر کو اس امر کی طرف متوجہ کرنے اور اس واقعہ کی حقیقت پر غور کرنے کے لیے کافی نہیں؟
۹ ۔ قرآن و سنت کے شدید خلاف اس واقعہ سے پیغمبرؐ اسلام کو اتنی سخت اذیت ہوئی کہ :انک لعلی خلق عظیم کے افتخار کے باوجود حضور (ﷺ) نے غضبناک ہوکر سب کو گھر سے نکل جانے کا حکم دیدیا۔
فلما اکثروا اللغط و الاختلاف عند النبی قال لهم رسول الله (صلی الله علیهوسلم ) قوموا عَنِّی ۔(۵۷)
اب سوچئے کہ ان حضرات کا یہ عمل قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کے ساتھ کس طرح قابل جمع ہے؟
( إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُهِينًا ) (۵۸)
۱۰ ۔ اگر حضرت عمر کی اس بات کو مان لیا جائے اور قابل قدر سمجھا جائے کہ وقتِ وفات پیغمبر (ﷺ) نے جو بات کہی تھی وہ مرض کے غلبہ کے تحت تھی یا معاذ اللہ ہذیان تھی لہذا وہ کسی بھی طرح حجت نہیں ہوسکتی تو حضرت ابوبکر کی خلافت کے اثبات کے لیئے پیغمبر اکرم (ﷺ) کے اس قول سے استفادہ کیوں کرتے ہیں کہ حضور (ﷺ) نے حضرت عائشہ سے فرمایا:
مروا أبا بکر فلیصلّ ۔(۵۹)
ابوبکر سے کہہ دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔(۶۰)
حالانکہ پیغمبر اسلام (ﷺ) نے یہ بھی تو اسی حالت بیماری میں فرمایا تھا!
۱۱ ۔ لیکن جب حضرت ابوبکر وصیت لکھ رہے تھے تو درد کی شدت سے بیہوش ہوگئے اور ہوش میں آنے کے بعد وصیت کو مکمل کیا تو کسی نے یہ نہیں کہا:
(قد غلب الوجع ) یا (الرجل یهجر) (۶۱)
ان پر درد کا غلبہ ہے یا ہذیان کہہ رہے ہیں۔ بلکہ وہ ہی صاحب جنہوں نے پیغمبر (ﷺ) کی طرف تو ہذیان کی نسبت دی اور اپنی خلافت کی مشروعیت کے لیئے حضرت ابوبکر کی اسی وصیت سے استفادہ کر رہے تھے جو انہوں نے وقت موت بیان کی تھی؟
عن اسماعیل بن قیس: قال: رأیت عمر بن الخطاب و هو یجلس و الناس معه و بیده جریدة و هو یقول : أیها الناس اسمعوا و أطیعوا قول خلیفة رسول الله اِنّه یقول: اِنّی لم آلکم نصحاً قال: و معه مولی لابی بکر یقال له: شدید، معه الصحیفة التی فیها استخلاف عمر ۔(۶۲)
۱۲ ۔ طبرانی، سیوطی اور ذہبی نقل کرتے ہیں: رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا کسی امت نے اپنے پیغمبرؐ کے بعد اختلاف نہیں کیا مگر یہ کہ وہ (گروہ باطل) اہل حق پر غالب ہوگئے۔
ما اخۡتَلَفَتۡ اُمَّةٌ بعدَ نَبِیِّها اِلّا ظَهَرَ اهلُ باطِها علیٰ اهلِ حَقِّها ۔(۶۳)
اس حدیث کو مدنظر رکھتے ہوئے سقیفہ میں امت کے اختلاف اور حضرت ابوبکر و عمر کی کامیابی کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
مہاجرین و انصار کا اجماع
۱۳ ۔ آپ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کی بیعت پر تمام انصار و مہاجرین متفق تھے جبکہ حضرت عمر کہتے ہیں کہ تمام مہاجرین حضرت ابوبکر کی بیعت کے مخالف تھے اور ان کے علاوہ حضرت علی و زبیر اور انکے تمام طرفدار بھی مخالف تھے۔
حین توفی الله نبیه (صلی الله علیه وسلم) ان الانصار خالفونا، اجتمعوا بأسرهم فی سقیفة بنی ساعده و خالف عنا علی و الزبیر و من معهما (۶۴)
بتائیے کس کا دعویٰ صحیح ہے حضرت عمر کا یا آپ کا؟
۱۴ ۔ حضرت ابوبکر کی خلافت کے بارے میں آپ اس بات سے استفادہ کرتے ہیں کہ ان کی بیعت پر اہل حل و عقد کا اجماع تھا حالانکہ آپ کی برجستہ اور عظیم علمی شخصیات اس بات کا انکار کرتی ہیں۔ ماوردی شافعی (متوفائے۔ ۴۵۰) اور ابو یعلی حنبلی (متوفائے ۴۵۸) صراحتاً کہتے ہیں: حضرت ابوبکر کی بیعت میں کوئی اجماع درکار نہ تھا لہذا کسی اجماع کے بارے میں گفتگو کرنا بیکار ہے۔
فقالت طائفة: لا تنعقد الا بجمهور أهل العقد و الحل من کل بلد لیکون الرضا به عاماً، و التسلیم لامامته اجماعاَ، و هذا مذهب مدفوع ببیعة ابی بکر رضی الله عنه علی الخلافة با ختیار من حضرها، ولم ینتظر ببیعة قدوم غائب عنها (۶۵)
اب خود فیصلہ کرلیجئے، کہ آپ سچے ہیں یا آپ کی یہ دو عظیم المرتیب شخصیات؟
۱۵ ۔ آپ کا کہنا ہے کہ: حضرت ابوبکر کی بیعت میں مہاجرین اور اصحاب میں سے تمام صاحبان نظر شریک تھے حالانکہ آپ کے عظیم مفسر جناب قرطَبی (متوفائے ۶۷۱) صراحت کے ساتھ اس بات کا انکار کرتے ہیں، وہ تو اس بات کے دعویدار ہیں کہ حضرت ابوبکر کی بیعت صرف حضرت عمر کے ذریعے منعقد ہوئی ہے۔
فَانۡعَقَدَ ها واحدٌ مِن اهلِ الحل و العقد فذالک ثابت و یلزم الغیر فعله، خلافا لبعض الناس حیث قال: لا ینعقد الا بجماعة من اهل الحل و العقد، دلیلنا: أن عمر عقد البیعة لابی بکر ۔(۶۶)
۱۶ ۔ آپ کس اجماع کی بات کرتے ہیں؟ اس اجماع کی جس کا آپ کے عظیم متکلم امام الحرمین (متوفائے ۴۷۸) استاد غزالی انکار کرتے ہیں! ان کا کہنا ہے کہ تشکیل امامت کے سلسلے میں اجماع کی احتیاج ہی نہیں جیسا کہ امامت ابوبکر بغیر کسی اجماع کے تشکیل پائی اور قبل اس کے کہ انکی امامت کی خبر بلاد اسلامی میں اصحاب کے کانوں تک پہنچے، حکم پر دستخط کرکے دستور صادر کردیا گیا۔ اور آخر میں نتیجہ اخذ کرتے ہیں: امامت، اہل حل و عقد میں سے ایک آدمی کی تائید سے حاصل ہوجاتی ہے۔
"اِعلَمُو اَنَّه لَا یُشۡتَرَطُ فی عَقدِ الاِمَامَةِ، الاجماعُ، بَل تَنۡعَقِد الامامةُ و اِنۡ لَم تَجۡمَعِ الأُمَّةُ علیٰ عقدِها، و الدلیل علیه أَنَّ الاِمامة لمّا عقدت لابی بکر ابتدر لِامضاء احکام المسلمین، ولم یتأن لانتشار الأخبار الیٰ مَن نَأَیَ من الصحابة فی الأقطار ولم ینکر منکر فاذا لم یشترط الأجماع فی عقد الامامة لم یثبت عدد معدود ولا حدّ محدود فالوجه الحکم بِأَنّ الامامةَ تنعقد بعقد واحدٍ مِن اهل الحل و العقد" (۶۷)
۱۷ ۔ آپ (اہل سنت) کس اجماع کو خلافت کا پشت پناہ قرار دیتے ہیں؟ وہ اجماع کہ عضد الدین ایجی (متوفائے ۷۵۶) صاحب کتاب "المواقف" اہل سنت کے کلامی اصول کو مضبوط کرنے والے عظیم عالم جس کا انکار کرتے ہیں اور صراحت کے ساتھ کہتے ہیں: اجماع کے معتبر ہونے کے لیے کسی عقلی یا نقلی دلیل کی ضرورت نہیں بلکہ اہل حل و عقد میں سے ایک یا دو افراد کسی کی بھی بیعت کرلیں تو اس کی امامت ثابت ہونے کے لیے یہ ہی کافی ہے جیسا کہ حضرت عمر نے حضرت ابوبکر کی بیعت کی۔ اور عبد الرحمان بن عوف نے حضرت عثمان کی بیعت کرلی تو انکی امامت ثابت ہوگئی۔
و إذا ثَبَتَ حصولُ الامامةِ بالاختيار و البيعة، فاعلم اَن ذالك لَا يَفتَقِرُ اِلى الاِجماع اذ لم يَقُم عليه دليلٌ مِن العقل أَوِ السَّمۡعِ، بل الواحد او الاثنان من اهل الحل و العقد كاف، عَلَمِنَا أن الصحابةَ مع صلابتِهم في الدين اِكتَفُوا في بذالك، كعقد عمر لأبي بكر، و عقد عبد الرحمن بن عوف لعثمان ۔
اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے علاوہ ان کا یہ بھی کہنا ہے: امامت حضرت ابوبکر کے سلسلے میں تو اہل مدینہ کے اجماع کو بھی لازم قرار نہیں دیاجاسکتا چہ جائیکہ تمام امت کے اجماع کو لازم قرار دیا جائے۔
و لم يشترطوا اجماع مَن في المدينة فَضۡلاً عن إجماع الأمة، هذا و لم يُنۡكِر عليهم أحدٌ، و عَليهِ انۡطَوَتۡ الأعصار اِلیٰ وقتنا هذا ۔(۶۸)
ان کے علاوہ آپ کے مسلک کی ایک دوسری عظیم علمی شخصیت ابن عربی مالکی (متوفی ۵۴۳) کا کہنا ہے: امام کے انتخاب کیلئے تمام لوگوں کا انتخاب میں حاضر ہونا ضروری نہیں بلکہ ایک یا دو افراد سے بھی انتخاب ہوجاتا ہے۔
لَا یَلزِم فی عقدِ البیعةِ لِلامام أن تکون مِن جمیع الأَنام بل یَکفِی لعقد ذالک اِثنان أو واحد(۶۹)
"فاعتبروا یا اولی الأبصار"
اب بتائیے کہ آپ صحیح ہیں یا یہ عظیم علمی شخصیات؟
۱۸ ۔ اگر بیعت ، اہل حل و عقد میں سے ایک یا دو افراد کے ذریعے یا تمام مسلمانوں کے مشورے کے بغیر صحیح ہے تو حضرت عمر نے قتل کی دھمکی کیوں دی اور یہ کیوں کہا: اگر آج کے بعد کسی نے بھی ایسا کیا تو بیعت کرنے والے اور جس کی بیعت کی جائے گی، دونوں کو قتل کر دیا جائے گا۔
مَن بَایَعَ رجلاً عَن غیرِ مشورةٍ من المسلمین فلا یبایع هو ولا الذی بایعه، تغرّة أن یقتلا ۔(۷۰)
اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہ عمل خلاف شرع اور حرام ہونے کے ساتھ ساتھ کسی کے مہدورالدم ہونے کا سبب بھی ہے تو سقیفہ کے واقعہ میں اس حکم کا اجراء کیوں نہیں کیا گیا؟
۱۹ ۔ آپ کا کہنا ہے کہ حضرت علی ؑ، ابوبکر و عمر کو مانتے تھے حالانکہ عمر نے صحابہ کے اجتماع میں حضرت علی ؑ اور پیغمبرؐ اسلام کے چچا حضرت عباس سے مخاطب ہوکر کہا: تم دونوں مجھے اور ابوبکر کو جھوٹا، گناہ گار اور عیار سمجھتے ہو۔
(فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ (صلی الله علیه وسلم): قالَ أبوبكر: اَنا وَليُّ رسولِ الله، فَجِئۡتُما فَرَأَيتُماه كاذباً آثماً غادراً خائناً ثُم تُوُفِّيَ ابو بكر فقلتُ: أنا وليُّ رسول الله (صلی الله علیه وسلم) و وليُّ أبي بكر، فَرَأيتُمَانِي كاذباً آثماً غادراً خائنا ۔(۷۱)
اب بتائیے آپ صحیح ہیں یا حضرت عمر!؟
۲۰ ۔ اہل سنت کے خلیفہ دوئم نے چھ رکنی افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے کر کہا: یہ اپنے درمیان سے ایک فرد کو منتخب کرلیں یعنی ان کے کہنے کے مطابق ان میں سے ہر شخص امت اسلامی کی رہبری اور پیغمبر اسلام (ﷺ) کی جانشینی کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا کہ اگر ان میں سے کسی نے مخالفت کی تو اس کی گردن اڑا دینا۔(۷۲)
اب ذرا سوچئے کہ جو شخص خلافت و رہبری کی صلاحیت رکھتا ہے تو حضرت عمر اس کی گردن اڑانے کا حکم کیوں دے رہے ہیں؟
۲۱ ۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم اور دیگر کتب میں وارد ہوا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: جس نے فاطمہ ؑ کو اذیت پہنچائی اور غضبناک کیا تو اس نے مجھے غضبناک کیا:
(فاطمة بضعة مِنِّی فمن أغضبها أغضبنی )(۷۳)
اور دوسرے مقام پر صحیح بخاری و مسلم میں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، ابوبکر پر غضبناک ہوئیں اور تا حیات ان سے کلام نہیں کیا۔
فَغَضَبَتۡ فاطمةُ بنتُ رسولِ الله (صلی الله علیه وسلم) فَهَجَرَتۡ أبا بکر فَلَم تزل ۡمهاجرتَه حتی تُوُفِّیَتۡ ۔(۷۴)
اور قرآن کہہ رہا ہے:
( إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُهِينًا ) (۷۵)
اس مشکل کے حل کے لیے آپ کیا کہتے ہیں؟
اہل سنت کے عظیم عالم دین جناب سہیلی (متوفی ۵۸۱) نے اسی روایت سے استدلال کیا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی اہانت کرنے والا کافر ہے۔
اِستَدَلَّ بِه سُهَیلی علی أَنّ مَن سَبَهَا کَفَرَ لِأَنَّه یَغۡضِبُه و أَنَّها أَفضَلُ من الشیخین ۔(۷۶)
ابن حجر اِن کی توجیہ کرتے ہیں:
توجیهُه اِنها تَغۡضِبُ مِمَّن سَبَّها و قد سَوَّی بین غَضَبِها و غضبه و اغضبه (صلی الله علیه و سلم) یکفر ۔(۷۷)
کتاب فیض القدیر کے مصنف جناب مناوی نے ابو نعیم و دیلمی سے نقل کیا ہے کہ حضرت رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا:
فاطمه بضعةٌ مِنّی مَن آذاها فَقَد آذانی و مَن آذانی آذَی الله ، فعلیه لعنةُ الله ملأ السماء و ملأ الارض ۔(۷۸)
۲۲ ۔ مطالب فوق الذکر کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا آج تک آپ نے حضرت ابوبکر کی اس گفتگو کے بارے میں سوچا جو انہوں نے حضرت زہرا ؑ کے خطبے کے بعد کی تھی اور بدترین الفاظ کے ذریعے حضرت علی ؑ و جناب صدیقہ طاہرہ ؑ کی شدید توہین کی تھی:
(انما هو ثعالة شهیده ذنبه، مرب لکل فتنة، هو الذی یقول: کرّوها جذعة بعد ما هرمت، یستعینون بالضعفه، و یستنصرون بالنساء، کأمّ طحال أحب أهلها البغی) (۷۹)
اس عبارت میں انہوں نے حضرت علی ؑ کو بھیڑیا اور جناب سیدہ ملیکۃ العرب کو اس کی دم سے تشبیہ دی ہے (لاحول ولا قوة الا بالله العلی العظیم) کیا یہ ہی اجر رسالت( قل لا اسئلکم علیه اجراً الّا المودّة فی القربی ) تھا۔ کیا پیغمبرؐ اسلام کی جناب سیدہ (سلام اللہ علیہا) کے بارے میں وصیت و سفارش کا یہ ہی نتیجہ تھا کیا ایسا شخص پیغمبرؐ اسلام( انک لعلی خلق عظیم ) کی خلافت و جانشینی کی اہلیت رکھتا ہے؟ (ایسے شخص کے بارے میں آپ کیا کہیں گے)؟!
ہماری آپ سے گذارش ہے کہ ابن ابی الحدید (سنی عالم) اور انکے استاد کے مابین ہونے والی گفتگو کو ملاحظہ فرمائیے اور خود کرسی عدالت پر بیٹھ کر فیصلہ کیجئے۔(۸۰)
۲۳ ۔ آپ کی معتبر کتب میں رسول اکرم (ﷺ) سے نقل کیا گیا ہے:
(من مات بغیر امام مات میتة جاهلیة )(۸۱)
اور بخاری نے ابن عباسؓ کے حوالے سے پیغمبر اکرمؐ سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:
لیس أحد یفارق الجماعة قید شبر فَیَمُوتُ اِلَّامَات میتةً جاهلیة ۔(۸۲)
اگر کوئی ذرا بھی جماعت سے جدا ہوجائے اور مر جائے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔ اور مسلم نے بھی اپنی صحیح میں ابوہریرہ کے توسط سے پیغمبر اکرمؐ سے نقل کیا ہے:
مَن خَرَجَ عَن الطاعةِ و فارَقَ الجماعةَ فَمَاتَ، ماتَ میتةً جاهلیة ۔(۸۳)
جو دائرہ اطاعت سے نکل گیا اور جماعت کو چھوڑ دیا پھر مرگیا تو اسکی موت جہالت کی موت ہے۔
اب ہم آپ سے سوال کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کی بیعت نہ کرنے کی وجہ سے جناب سیدہؑ کی تکلیف شرعی کیا ہوگی جب کہ انکے حق میں آیہ تطہیر نازل ہوئی ہے اور فضیلت میں سینکڑوں احادیث و روایات پیغمبر گرامی (ﷺ) سے نقل ہوئی ہیں۔ مثلاً:
(فاطمة سیدة نساء هذه الأمة ) یا (سیدة نساء اهل الجنة )(۸۴)
کیا روایات (مات میتة جاهلیة ) قابل اعتماد نہیں ؟ یا معاذ اللہ حضرت زہرا ؑ نے قول و سنت پیغمبر (ﷺ) پر عمل نہیں کیا یا حضرت ابوبکر کو جانشینی کا اہل ہی نہیں سمجھتی تھیں؟ غور کیجئے۔
۲۴ ۔ آپ کہتے ہیں کہ حضور اکرم (ﷺ) نے کسی کو خلیفہ معین نہیں کیا بلکہ انہوں نے یہ کام امت کے سپرد کردیا حالانکہ آپ کا یہ نظریہ کتاب و سنت کے برخلاف ہے۔ کیونکہ خداوند تبارک و تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑ کے بارے میں فرماتا ہے: ہم تمہیں لوگوں کا امام و رہبر معین کر رہے ہیں۔( انی جاعلک للناس اماماً ) (۸۵) اور حضرت داؤد ؑکے بارے میں ارشاد فرمایا: ہم نے تم کو زمین پر خلیفہ قرار دیا ہے پس لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کو۔
( یا داؤد انا جعلناک خلیفة فی الأرض فاحکم بین الناس بالحق ) (۸۶)
حضرت موسیٰ ؑ نے خداوند منان سے گذارش کی ان کا جانشین معین کردے۔
( و اجعل لی وزیراً من أهلی ) (۸۷)
خداوند قدوس بھی حضرت موسیٰ ؑ کی دعا کے جواب میں ارشاد فرماتا ہے:
( قال قد أوتیت سؤلک یا موسی ) (۸۸)
خداوند کریم بنی اسرائیل کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے: ہم نے قوم بنی اسرائیل میں سے کچھ افراد کو امام و رہبر منتخب کیا ہے۔
( و جعلنا منهم أئمة یهدون بأمرنا ) (۸۹)
پس ان تمام آیات میں خلیفہ و پیشوا کے انتخاب کی نسبت پروردگار کی طرف دی گئی ہے اسی طرح اہل سنت کے عظیم علماء مثلاً ابن ہشام و ابن کثیر و ابن حبان و دیگر نقل کرتے ہیں کہ حضور (ﷺ) جب مختلف قبائل عرب کو دعوت اسلام دے رہے تھے تو ان قبیلوں کی بعض بزرگ شخصیات مثلاً عامر بن صعصعہ نے حضور (ﷺ) سے کہا: اگر ہم آپؐ کی مدد کریں تو کیا آپ اپنی حکومت بنالینے کے بعد جانشینی ہمیں سپرد کر دیں گے۔
(أَیَکُونُ لَنَا الأمرُ مِن بعدِکَ؟)
حضور اکرم (ﷺ) نے جواب دیا: رہبر کا معین کرنا میرے ہاتھ میں نہیں بلکہ خدا کے دست اختیار میں ہے اور وہ جسے چاہتا ہے منتخب کرتا ہے۔
(اَلأَمرُ اِلی اللهِ یَضَعَهُ حَیثُ یَشَاء )
انہوں نے کہا ہم آپ کے اہداف پر قربان ہونے کے لیے اس لیے تیار نہیں کہ کامیابی کے بعد منصب ریاست و حکومت دوسروں کو منتقل ہوجائے۔
فقالوا: أ نهدف نحورنا للعرب دونک، فاذا ظهرت کان الأمر فی غیرنا؟ لا حاجة لنا فی هذا من أمرک ۔(۹۰)
اور یہ ہی واقعہ تقریباً قشیر بن کعب ربیع کے سلسلے میں بھی پیش آیا اس نے بھی حضور (ﷺ) سے کہا: اگر ہمیں حکومت و ریاست میں کچھ بھی حصہ نہ ملے تو ہم آپ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں۔(۹۱)
پیغمبر اسلام (ﷺ) نے اس وقت بھی جب کہ آپ کو شدید یاوری و مدد کی ضرورت تھی، جانشین و خلافت کے وعدہ پر قبائل سے مساعدت طلب نہیں کی۔ اور اسی طرح جب یمامہ کے بادشاہ "ہوذہ" کو اسلام کی دعوت دی گئی تو اس نے حضور کی خدمت میں ایک وفد بھیجا اور یہ پیغام دیا کہ اگر حکومت اسلامی میں اسے منصب سے نوازا جائے تو ایمان لانے اور مسلمانوں کی مدد کے لیے تیار ہے لیکن پیغمبر گرامی (ﷺ) نے اس کی یہ بات قبول نہیں کی اور فرمایا: اگر ایک رہا شدہ زمین پر بھی حکومت چاہیئے تو بھی میں ہرگز ایسا نہ کروں گا۔(۹۲)
ناکثین و قاسطین کا حاکم اسلامی کے خلاف قیام
۲۵ ۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم دونوں میں پیغمبر اسلامی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اگر رہبر اسلامی کا کوئی نازیبا عمل دیکھو تو صبر سے کام لو اور اسے برداشت کرو اس لیئے کہ مسلمانوں کی جماعت سے ایک بالشت کے برابر بھی جدا ہونے والے کی موت جہالت کی موت ہے:
رَأَیَ مَن أَمیرَه شیأَ یُکرِهُه فَلۡیَصۡبِر عَلَیه فَاِنَّه مَن فارقَ الجمائَةَ شبراً فَماتَ، مَاتَ مِیتةً جاهلیةً ۔(۹۳)
مسند احمد ابن حنبل اور صحیح بخاری میں آیا ہے کہ ایک بالشت کے برابر بھی لوگوں سے جدا ہونا اسلام سے خارج ہونے کا سبب ہے۔
(مَن فارقَ الجماعةَ شبراً فقد خَلَعَ ربقةَ الاسلامِ مِن عنقه )(۹۴)
طبرانی و ہیثمی نے پیغمبر گرامی (ﷺ) سے نقل کیا ہے: اگر کوئی شخص بندِ کمان برابر بھی جماعت سے جدا ہوجائے تو اس کی نماز و روزے قبول نہیں اور وہ جہنم کا ایندھن قرار پائے گا۔
فَمَن فارقَ الجمائةَ قَیدَ قوسٍ لَم تُقۡبَلۡ مِنه صلاةٌ ولا صیامٌ وَ اُولئِکَ هم وقودُ النار ۔(۹۵)
ان روایات کی روشنی میں ہمارا سوال یہ ہی ہے کہ: حضرت عثمان کے قتل کے بعد جب حضرت علی ؑ قانونی و رسمی طور پر حاکم اسلامی قرار پائے تو ان کے خلاف قیام کرنے والوں کی شرعی تکلیف کیا ہے؟ حضرت عائشہ، طلحہ و زبیر کے بارے میں آپ کیا کہیں گے جو اسلامی جماعت سے جدا ہوگئے اور ان حالات کا سبب قرار پائے اور ہزاروں مسلمانوں کی نابودی کا باعث بنے۔
اگر آپ کہیں کہ ان کا یہ عمل جو ہزاروں افراد کے قتل کا سبب بنا خطائے اجتہادی تھی تو پھر اتنا ہی کہا جائے گا کہ اگر ایسا ہے تو دنیا میں کوئی بھی خطا کار پیدا نہیں ہوسکتا اس لیئے کہ ہر شخص اپنے غلط اعمال کو صحیح ثابت کرنے کے لیئے یقینی طور پر دلیل بھی رکھتا ہے اور اسکی توجیہات بھی پیش کرتا ہے۔
سوچئے اور بتائیے کہ معاویہ کی شرعی تکلیف کیا ہوگی جس نے برحق حاکم اسلامی کے خلاف قیام کیا اور مسلمانوں کے درمیان ایسا فتنہ ایجاد کیا کہ پندرہ صدیاں گذرنے کے بعد بھی اس کے آثار نمایاں ہیں۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ حاکم نیشاپوری، طبرانی اور سیوطی نے معاویہ کے توسط سے پیغمبرؐ اسلام سے نقل کیا ہے کہ جو شخص بھی مسلمانوں کی جماعت سے بالشت برابر بھی جدا ہوا وہ جہنم میں جائیگا۔
(من فارق الجماعة شبراً دَخَلَ النار )(۹۶)
اگر آپ کہیں: کیونکہ اہل شام نے معاویہ کی بیعت کی تھی اس لیئے کہ وہ بھی خلیفہ تھے تو ہم کہیں گے کہ پیغمبرؐ اسلام سے صحیح مسلم کی روایت کے مطابق منقول ہے کہ اگر دو افراد کی خلیفہ کے طور پر بیعت منعقد ہو تو لوگوں کا فریضہ ہے کہ وہ پہلے والی بیعت کو تسلیم کریں اور بعد والے کو قتل کردیں۔
اِذا بُویِعَ لِخَلِیفَتَینِ فَاقۡتُلُوا الأَخَرَ مِنهُما ۔(۹۷)
متواتر روایات کے مطابق کیا پیغمبر اکرم ﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا: عمار یاسر کو ستمگار و متجاوز اور باغی گروہ قتل کرے گا۔
تَقۡتُلُه الفئةُ الباغیةُ یَدعُوهُم الی اللهِ و یَدعُونَه اِلی النَار (۹۸)
اور کیا یہ نہیں فرمایا تھا؟! قاتل عمارؓ واصل جہنم ہے۔
(اِنَّ عَمارَ قَاتلُه و سَالِبُه فیِ النار )(۹۹)
یہ روایت اتنی محکم و ناقابل انکار تھی کہ جناب عمار کی شہادت کے بعد معاویہ کے بعض چاہنے والے مثلاً عمرو بن عاص بھی معاویہ کی حقانیت میں شک و تردید میں پڑگئے اور جنگ سے کنارہ کش ہونے لگے اور عمرو عاص کی پیروی میں اور دوسرے بہت سے افراد بھی کنارہ کش ہوگئے۔
اِنَّ عمرو بن العاص کان وزیر معویة فلما قتل عمار بن یاسر أَمۡسَک عن القتال و تابعه علی ذالک خلق کثیر فقال له معویة لِم لا تقاتل؟ قال قتلنا هذا الرجل و قد سمعت رسول الله صلی الله علیه و سلم یقول تقتله الفئة الباغیة، فدل علی أنّا نحن بغاة ۔(۱۰۰)
جب معاویہ نے بگڑتی ہوئی اس صورت حال کو دیکھا تو عمرو بن عاص سے کہا چپ رہو تم ہمیشہ اپنی نجاست میں ڈوبے رہے، عمارؓ کو ہم نے قتل کیا ہے؟ عمار کو علی ؑ اور انکے ساتھیوں نے قتل کیا ہے اس لیئے کہ وہ ہی انہیں گھر سے نکال کر میدان میں ہمارے تیرو تلوار کے سامنے لے کر آئے تھے۔
فقال معویة: دَخۡضَتَ فِی بَولِکَ، أَوَ نحن قَتَلۡنَاه؟ اِنَّما قتلهُ علی و اصحابه جائوا به بین رماحنا او قال بین سیوفنا ۔(۱۰۱)
حضرت امیر المومنین ؑ نے معاویہ کی یہ بے بنیاد بات سن کر فرمایا: تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ جناب حمزہؓ شہدائے احد کو پیغمبر اسلام (ﷺ) نے قتل کیا (معاذ اللہ) اس لیے کہ پیغمبر اسلام (ﷺ) ہی انہیں گھروں سے نکال کر لائے تھے۔
لَو کنتُ أَنا قتلت عماراً لِأَنِّی أَخۡرجَتُه لکان رسولُ الله قَتَلَ حمزه و جمیعَ مَن قتل فِی حَربِه لِأَنّه هُو المُخرِجُ لَهُم ۔(۱۰۲)
عدالت جمیع صحابہ
آپ کا یہ کہنا ہے کہ: تمام صحابہ عادل و اہل بہشت ہیں۔(۱۰۳)
اور ان کے بارے میں نقد و بررسی کی راہ مکمل طور پر مسدود اور ممنوع ہے۔(۱۰۴)
اور اگر کوئی شخص ان کے کسی عمل پر نکتہ چینی کرے گا توہ زندیق اور اسلام سے خارج ہے۔
قال ابو زرعه: اذا رأیت الرجل یَنۡتَقِص أحداً مِن اَصحابِ رسولِ الله صلی الله علیه و سلم، فاعلم أنه زندیق ۔
کیونکہ آپ کے عقیدے کے مطابق صحابہ کتاب و سنت کو نقل کرنے والے ہیں لہذا انکی ذات پر کسی بھی طرح کی نکتہ چینی درحقیقت کتاب و سنت پر انگشت نمائی کرنا ہے۔(۱۰۵)
حتی کہ آپ کے بعض فقہاء نے تو یہ بھی فتوا دیا ہے کہ صحابہ پر نکتہ چینی کرنے والا ملحد اور اسلام کا مخالف اور اس کا علاج صرف اور صرف تلوار ہے۔
قال السَرخَسِی: مَن طَعَنَ فیهم فَهُو مُلۡحِدٌ، مُنابِذٌ لِلاسلام، دواؤه السیف، ان لم یتب ۔(۱۰۶)
آپ کی جانب سے شیعوں پر ہونے والے اشکالات میں سے ایک اہم ترین اشکال یہ بھی ہے کہ شیعہ، صحابہ کی سیرت پر اعتراض کرتے ہیں اور ان کے اعمال کو قرآن اور سنت کے خلاف سمجھتے ہیں اور آپ حضرات نے اس بات کو شیعوں کے فسق اور کفر کی بنیاد قرار دیا ہے۔ برادران اہل سنت کے آزاد خیال حضرات کی خدمت میں چند سوالات پیش کر رہے ہیں اور اس بات کے خواہاں ہیں کہ غور و فکر اور تدبّر سے کام لیتے ہوئے دیکھیں کہ یہ طرز تفکر کس حد تک کتاب اور پیغمبر اسلام کی سیرت و سنت کے مطابق ہے؟
۲۶ ۔ یہ عدالت و عصمت فقط بعض صحابہ پیغمبر ﷺ سے مخصوص تھی یا دیگر انبیاء کے اصحاب کو بھی یہ فضیلت حاصل تھی؟
۲۷ ۔ کیا آپ کے اس دعویٰ کیلئے کوئی قرآنی و روایتی دلیل بھی ہے یا فقط یہ بعض تندرو اور افراطی علماء کا نظریہ ہے؟
صحابہ میں وسعت نفاق
۲۸ ۔ قرآن نے متعدد آیات میں منافقین کے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے ان کی سخت مذمت کی ہے حتی کہ ان کے بارے میں ایک مستقل سورہ نازل ہوا ہے جس میں منافقین کے لیے جہنم میں بدترین ٹھکانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
(اِنَّ المنافقین فی الدَّرکِ الأَسفل من النار )
اور اہل سنت کے مطابق ایک تہائی قرآن منافقین کی مذمت اور ان کی خیانت کے بارے میں نازل ہوا ہے۔(۱۰۷)
کیا منافقین کا یہ گروہ مستقل اور شناختہ شدہ تھا اور پیغمبرؐ اسلام کے اصحاب میں اس کا شمار ہوتا ہے یا نہیں؟ آپ کا جواب کچھ بھی ہو لیکن آیات قرآنی تو اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ منافقین پیغمبر اسلام (ﷺ) کے زمانے میں ایک قدرتمند گروہ کی حیثیت رکھتے تھے، اسلامی معاشرے کے لیے ایک بڑا خطرہ شمار ہوتے تھے اور ان کی تمام فعالیت اتنی منظم اور صیغہ راز میں تھی کہ حاکم اسلامی کی نظروں سے بھی پوشیدہ تھیں۔
( و ممن حولکم من الأعراب منٰفقون و من أهل المدینة مَرَدُوا علی النفاق لا تعلمهم نحن نعلمهم ) (۱۰۸) ؛ اور تمہارے گرد دیہاتوں میں بھی منافق ہیں اور اہل مدینہ میں تو وہ بھی ہیں جو نفاق میں ماہر اور سرکش ہیں، تم ان کو نہیں جانتے ہو لیکن ہم خوب جانتے ہیں۔
۲۹ ۔ کیا یہ تمام منافقین رحلت پیغمبر اکرم (ﷺ) کے بعد ایک ہی مقام پر مر کر ختم ہوگئے اور ان کی نسل ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تاریخ کے صفحات میں ناپید ہوگئی یا لوگوں کے درمیان موجود تھے؟ پس اگرمنافقین مسلمانوں میں اس طرح مخلوط تھے کہ رسول اکرم (ﷺ) بھی انہیں پہچانتے تھے تو کس طرح تمام صحابہ کی عدالت کو تسلیم کیا جاسکتا ہے؟
۳۰ ۔ صحیح مسلم میں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:
(فی اصحابی اثنا عشر منافقاً )(۱۰۹)
میرے اصحاب میں بارہ افراد منافق ہیں جو سازشیں کرتے ہیں سوچئیے ایسی صورت حال میں کس طرح تمام صحابہ کی عدالت کا حکم لگایا جاسکتا ہے؟
خلیفہ دوم کو نفاق سے آلودہ ہونے کا خوف
منافقین اتنے منظم اور مضبوط اور پھیلے ہوئے تھے اور صحابہ میں نفاق اس طرح رسوخ کر چکا تھا کہ پیغمبر اسلام (ﷺ) کے اصحاب میں سے ہر ایک اس طرح وحشت زدہ تھا کہ کہیں قرآن کی کوئی آیت نازل ہوکر ان کی خائنانہ پالیسی اور سازشوں کا بھانڈا نہ پھوڑ دے اور انہیں لوگوں میں ذلیل و رسوا کردے جیسا کہ (اہل سنت کے) خلیفہ دوئم حضرت عمرؓ کہتے ہیں جب منافقین کے چہرے سے نقاب اتارنے کے لیے سورہ برائت نازل ہوئی تو ہمیں یہ خیال ہوا ممکن ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے کوئی آیت نازل ہو اور ہمارے افعال کو برملا کردے۔
ما فرغ من تنزیل برأة حتی ظننا أن لن یبقی منّا أحد الا ینزل فیه شئی ۔(۱۱۰)
ایک دوسری روایت میں ان سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ سورہ کا نام سورہ توبہ کی بجائے سورہ عذاب رکھا جائے کیونکہ اس سورہ میں اس طرح لوگوں کو رسوا کیا گیا ہے کہ نزدیک تھا کہ کوئی شخص صحیح و سالم نہ رہے۔
أن عمر – رضی الله عنه – قیل: له سورة التوبة، قال: هی الی العذاب أقرب! ما أقلعت عن الناس حتی ما کادت تدع منهم أحداً ۔(۱۱۱)
گذشتہ مطالب کی روشنی میں کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ تمام صحابہ عادل تھے اور ان پر بہشت واجب ہے؟ کیا یہ عقیدہ "تمام صحابہ کی عدالت کا نظریہ" قرآن اور خلیفہ دوئم کے نظریے کے برخلاف نہیں؟
۳۱ ۔ اہل سنت کے عظیم عالم دین ابن کثیر کہتے ہیں: اصحاب پیغمبرؐ میں سے جب کسی کا انتقال ہوجاتا تو جب تک حذیفہ (منافق شناس) اس کے بارے میں نفاق سے پاکیزگی کی گواہی نہ دے دیں عمر بن خطاب اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے۔
ان عمر بن الخطاب کان اذا مات رجل ممن یری أنه منهم، نظر الی حذیفه فان صلی علیه و اِلا ترکه ۔(۱۱۲)
آپ ہی کہتے ہیں کہ صحابہ کے اعمال پر تنقید کفر کے مساوی ہے اور وہ شخص زندیق ہے اب بتائیے حضرت عمر کے اس رویے کی آپ کیا توجیہ پیش کریں گے؟
۳۲ ۔ سچ بتائیے کبھی آپ نے خود اپنے تئیں سوچا ہے کہ آخر حضرت عمر، حذیفہ (منافق شناس) کو قسم دے کر کیوں پوچھ رہے تھے کہ سازشیوں میں میرا بھی نام ہے یا نہیں؟
قال ابن کثیر: و روینا عن أمیر المؤمنین عمر بن الخطاب رضی الله عنه، ان قال لحذیفة: أقسمت علیک بالله، أنا منهم ؟ (۱۱۳)
۳۳ ۔ حضورؐ سرور کائنات کے دیگر اصحاب کرام مثلاً سلمان فارسی، ابوذر غفاری، مقداد وغیرہ حضرت عمر کی طرح حذیفہ سے یہ سوال کیوں نہیں کرتے تھے کیا حضرت عمر کو اپنے بارے میں شک تھا؟
۳۴ ۔ کیا آپ خود نہیں کہتے کہ حضرت عمر عشرہ مبشرہ یعنی ان افراد میں سے تھے جنہیں حضور اکرم (ﷺ) نے یقینی جنت کی بشارت دی ہے؟ کیا حضرت عمر کا حذیفہ سے اپنے نفاق کے بارے میں سوال کرنا قول پیغمبرؐ میں شک و تردید نہیں یا اس حدیث عشرہ مبشرہ کو جعلی سمجھتے تھے؟
منافقین کی جانب سے پیغمبر ؐکے قتل کی سازش
۳۵ ۔ جنگ تبوک سے واپسی کے موقع پر جو لوگ پیغمبر (ﷺ) کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا چاہتے تھے وہ کون تھے؟ اس بدترین سازشوں میں یہودیوں کا ہاتھ تھا یا نہیں یا وہ افراد تھے جو حضور (ﷺ) کے صحابی بنے ہوئے تھے۔
اگر خداوند متعال منافقین کی اس گھناؤنی سازش سے اپنے حبیبؐ کی محافظت نہ کرتا تو سوچیئے کہ اسلامی معاشرہ کس جنجال کا شکار ہوجاتا؟
۳۶ ۔ آخر پیغمبر اکرمؐ کے پاکیزہ قلب کو غمگین کرنے والے منافقین حضور کی رحلت کے بعد کہاں چلے گئے کہ تاریخ سے انکا نام تک غائب ہوگیا۔ معاذ اللہ، کیا حضور (ﷺ) کا وجود مبارک ان کے نفاق کا باعث تھا کہ ان کے ملا اعلیٰ پر جاتے ہی سب کے سب بہترین و پاکیزہ انسانوں میں تبدیل ہوگئے کہ ان پر کسی بھی طرح کی تنقید اور نقد و جرح ناقابل تلافی گناہ کا سبب بن جائے؟ کیا خلفاء راشدین نے تبلیغ و پیگیری کے ذریعے ان کی اصلاح فرمائی اور ایمان آفرین اکسیر کے ذریعے ان کے نفاق کو ایمان سے تبدیل کردیا پیغمبر گرامیؐ کے انتقال کے بعد علنی نفاق، سری نفاق میں تبدیل ہوگیا اور ایک دوسرے کے اعتراض کرنے پر اپنے اعمال کی توجیہ پیش کرنے لگے۔
(نستعین بقوة المنافق، و اِثۡمُهُ علیه )(۱۱۴)
ہم تو منافقین کی قوت سے استفادہ کرتے ہیں اور وہ اپنے گناہ کے خود ذمہ دار ہیں!
غور کیجئے آخر کیا بات ہے تھی کہ تمام صحابہ میں صرف حضرت عمر، حذیفہ کو قسم دے کر پوچھ رہے تھے کہ پیغمبرؐ کے قتل کی سازش کرنے والے منافقین میں ان کا نام ہے یا نہیں!
و ذکر لنا أن عمر قال لحذیفة أنشدک الله أمنهم أنا؟ قال لا، ولا أومن منها أحداً بعدک ۔(۱۱۵)
پیغمبر اکرمؐ کے خلاف نافرجام دہشت گردی کا منصوبہ
اہم ترین سوالات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اہل سنت کے بزرگ عالم دین ابن حزم اندلسی اپنی فقہی کتاب "اَلمُحَلّٰی" میں روایت نقل کرتے ہیں جس میں پیغمبر اکرم (ﷺ) کے خلاف قتل کا منصوبہ تیار کرنے والے افراد میں حضرت ابوبکر، عمر، عثمان اور طلحہ کا نام بھی موجود ہے۔
اِنَّ أبا بکر عمر و عثمان و طلحة و سعد بن ابی وقاص أرادوا قتل النبی صلی الله علیه و سلم و القائه من العقبة فی تبوک ۔
اس روایت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ۔ اگرچہ ابن حزم نے سلسلہ روایت میں ولید بن جمیع کی وجہ سے اس روایت کو ضعیف کہا ہے۔(۱۱۶)
لیکن اہل سنت کی کتب رجال کی طرف رجوع کرنے سے یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ اکثر علم رجال کے ماہرین نے اس کی توثیق کی ہے۔(۱۱۷)
اور بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داود، صحیح ترمذی اور سنن نسائی کے رجال میں بھی یہ راوی موجود ہے۔(۱۱۸)
کیا منافقین کے وجود سے استفادہ صحیح و مشروع ہے؟!
۳۷ ۔ کتاب و سنت کی روشنی میں یہ بات واضح اور روشن ہوجاتی ہے کہ منافقین، کفار و مشرکین سے بھی زیادہ خطرناک تھے اور متعدد آیات میں منافقین اور انکی اسلام و مسلمین کے بارے میں سازشوں کی طرف اشارہ موجود ہے یہاں تک کہ ان کے بارے میں مستقل طور پر ایک مکمل سورہ نازل ہوا ہے اور مصر کے عظیم دانشمند اور اہل قلم جناب ابراہیم علی سالم کے قول کے مطابق تقریباً دس سپارے یعنی ایک تہائی قرآن منافقین کے بارے میں ہے۔(۱۱۹)
قرآن انہیں اسلام کے لیئے سد راہ سمجھتا ہے۔
( رأیتَ المنافقینَ یَصُدُّون عنک صُدُوداً ) (۱۲۰) ؛ تم منافقین کو دیکھو گے کہ وہ شدّت سے انکار کر دیتے ہیں۔
ان سے کسی بھی قسم کی دلسوزی کو منع کیا ہے اور انہیں ہدایت کے قابل نہیں سمجھتا ہے۔
( فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا أَتُرِيدُونَ أَنْ تَهْدُوا مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ سَبِيلا ) (۱۲۱)
اور خدا نے انہیں جہنم میں کفار کے ہم ردیف اور موردِ لعن قرار دیا ہے۔
( وَعَدَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا هِيَ حَسْبُهُمْ وَلَعَنَهُمُ اللَّهُ ) (۱۲۲)
بلکہ ان کا ٹھکانہ پست ترین جگہ کو قرار دیا ہے
( إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الأسْفَلِ مِنَ النَّارِ ) (۱۲۳)
جب قرآن مجید نے یہ تمام صورت حال بیان کردی تھی تو پھر خلیفہ دوئم نے اپنی حکومت میں ان سے کیوں استفادہ کیا اور انہیں منصب عطا کیئے؟ اور کہتے تھے کہ ہم تو منافقین کی قوت سے استفادہ کر رہے ہیں اور وہ اپنے گناہ کے خود ذمہ دار ہیں۔
(نَسۡتَعِینُ بِقُوةِ المُنَافِقِ وَ اِثۡمُهُ عَلَیه )(۱۲۴)
ان کے اس عمل پر ایک صحابی (حذیفہ) نے جب اعتراض کیا تو کہنے لگے: میں صرف ان کی قوت سے استفادہ کر رہا ہوں مگر ان پر ناظر بھی ہوں۔
اِنِّی لَأَسۡتَعۡمِلُه لَأَسۡتَعِینُ بِقُوَّتِهِ ثُمَّ أَکُونُ عَلیٰ قفائه ۔(۱۲۵)
حالانکہ حضرت عمر بن خطاب سے نقل کیا گیا ہے کہ آپ کہتے ہیں: اگر کسی نے کسی فاسق کو کسی کام کے لیے منتخب کیا تو وہ خود بھی فاسق شمار کیا جائے گا۔
من استعمل فاجراً وهو یعلم أنه فاجر فهو مثله ۔(۱۲۶)
حضرت عمر کے قول و فعل میں کس قدر اختلاف ہے!
( كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لا تَفْعَلُونَ ) (۱۲۷)
۳۸ ۔ شاید کوئی کہے کہ پیغمبر اکرم (ﷺ) کے زمانے کی نسبت حضرت عمر کے دور میں منافق کمزور اور بے خطر ہوگئے تھے۔(۱۲۸)
لیکن حذیفہ سے نقل شدہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق حضور کے زمانے کی نسبت آپ کی رحلت کے بعد منافقین کی شرارتیں زیادہ خطرناک تھیں۔
ان المنافقین الیوم شر منهم علی عهد النبی صلی الله علیه وسلم کانو یومئذٍ یسرون، و الیوم یجهرون
بلکہ پیغمبرؐ گرامی کے بعد انکا نفاق کفر میں تبدیل ہوگیا تھا۔
عن حذیفة، ان قال: انما کان النفاق علی عهد النبی صلی الله علیه وسلم فأما الیوم فانما هو الکفر بعد الایمان ۔(۱۲۹)
بادیہ نشین عربوں کی خدمت و خیر خواہی کے لیے حضرت عمر کی وصیت
۳۹ ۔ قرآن، اعرب (بادیہ نشینوں) کے بارے میں فرماتا ہے:
(اَلأَعرَاب أشد کفراً و نفاقاً )(۱۳۰)
بادیہ نشین عربوں میں کفر اور نفاق دوسروں کی نسبت بہت زیادہ سخت ہے۔
و ان کفر هم و نفاقهم اعظم من غیر هم و أشد ۔(۱۳۱)
لیکن اعراب کی ان تمام صفات کے باوجود خلیفہ دوئم بوقت موت یہ وصیت کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ نیکی سے پیش آؤ اس لیے کہ یہ ہی عربوں کی اصل اور سرچشمہ اسلام ہیں۔
و أوصیه بالأعراب خیر اَفانهم أصل العرب و مادة الاسلام ۔(۱۳۲)
اب فیصلہ کرکے بتائیے کہ کیا حضرت کا یہ قول قرآن کی صریح آیہ کریمہ کے مخالف نہیں؟
۴۰ ۔ اگر آپ سے کوئی سوال کرے : شاید حضرت عمر کی یہ وصیت اس لیئے تھی کہ مدینہ کے بادیہ نشین اعراب حضرت ابوبکر کی خلافت کی تثبیت میں کام آئے تھے، تو آپ کیا جواوب دیں گے؟
کیونکہ جب حضرت عمر کو سقیفہ میں موجود مہاجرین و انصار کی سخت مخالفت(۱۳۳) اور درگیر کا سامنا کرنا پڑا تو پہلے سے منصوبہ بندی کرکے وارد ہونے والے عرب بادیہ نشینوں کو دیکھ کر خوشحال ہوگئے اور جھوم کر کہنے لگے: جب میں نے قبیلہ بن اسلم (اطراف مدینہ میں بسنے والا ایک بڑا قبیلہ) کو دیکھا تو میں نے اپنی کامیابی و کامرانی کا یقین کرلیا۔
ما هواء الّا أن رأیت أسلم، فأیقنت بالنصر ۔(۱۳۴)
اور حضرت ابوبکر کی خلافت کو مستحکم کرنے اور مخالفین کو دبانے کے لیے ان سے خاطر خواہ استفادہ کیا۔(۱۳۵)
و السلام علی ٰ من اتبع الهدیٰ
ضمیمہ
آیہ تبلیغ
خطبہ غدیر
آیہ تبلیغ
( يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ ) (۱۳۶)
اے پیغمبرؐ! آپ اس حکم کو پہنچا دیں جو آپ کے پروردگار کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کافروں کی ہدایت نہیں کرتا۔
آیت کے انداز پر غور کرنے سے یہ بات بآسانی محسوس کی جاسکتی ہے کہ آیت کسی اہم ترین مسئلہ کے بارے میں خبر دے رہی ہے کیونکہ اس آیت میں ایسی تاکیدیں موجود ہیں جو اس سے پہلے نہیں پائی گئیں مثلاً:
۱ ۔ آیت "یا ایھا الرسول" سے شروع ہو رہی ہے اور پیغمبرؐ گرامی کو منصب کے ذریعے مخاطب کیا گیا ہے جو خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں بیان کیا جانے والا مسئلہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔
۲ ۔ کلمہ "بلّغ" خود موضوع کی اہمیت و خاصیت پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ:
یہ کلمہ فرد پر منحصر ہے اور پورے قرآن میں ایک مرتبہ استعمال ہوا ہے۔
راغب اصفہانی اپنی کتاب مفردات قرآن میں کہتے ہیں کہ "ابلغ" کی نسبت اس لفظ میں زیادہ تاکید پائی جاتی ہے کیونکہ اگرچہ یہ لفظ ایک ہی آیت (سورہ مائدہ، آیت نمبر ۶۷) میں آیا ہے لیکن اس کلمہ میں تاکید کے علاوہ مفہوم تکرار بھی پوشیدہ ہے یعنی یہ موضوع اتنا اہم تھا کہ اسے لازمی طور پر بیان ہونا چاہیے اور اس کی تکرار بھی ہونا چاہیے۔
۳ ۔ جملۂ"و اِن لَم تفعل فما بلّغت رسالتہ" اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ پیغمبر گرامی کو جس مطلب کے ابلاغ پر مامور کیا گیا ہے وہ اساس دین اور ستون رسالت و نبوت ہے کیونکہ اگر پیغمبرؐ یہ کام انجام نہ دیں تو گویا فریضہ نبوت ادا نہ ہوسکے گا!
۴ ۔ پروردگار عالم کی طرف سے حضورؐ اکرم کی جان کی حفاظت کی ضمانت لینا خود اس بات کی دلیل ہے کہ جس کام کا حکم دیا گیا ہے وہ بیحد اہمیت کا حامل ہے۔ اس امر کی تبلیغ میں یقیناً حضور کی جان کو خطرہ لاحق ہونے کے علاوہ شدید ردِّ عمل کا بھی خوف تھا لیکن خالق اکبر نے ان تمام خطرات سے محفوظ رکھنے کی ضمانت دیدی۔
توجہ:
لیکن قابل توجہ بات یہ ہے کہ آخر آیۂ تبلیغ کس اہم ترین موضوع کے بارے میں خبر دے رہی ہے؟
پیغمبر ؐ گرامی قدر کی یہ اہم ماموریت کیا تھی کہ جس کے لیئے پروردگار عالم نے واضح طور پر حفظ و امان کی ضمانت دی ہے؟
حضورؐ سرور کائنات کو وہ کونسا حکم پہنچانا تھا جو آپؐ کی تمام رسالت کے مساوی تھا؟
اللہ تبارک و تعالیٰ حضورؐ اکرم سے کیا چاہتا ہے کہ جس کی خاطر ایک طرف آپ کو تہدید کر رہا ہے تو دوسری طرف حفظ جان کا وعدہ کر رہا ہے؟
آیت کے الفاظ پر غور و فکر اور تدبّر و تعمق سے تمام سوالات کے جوابات خودبخود حاصل ہوجاتے ہیں ، شرط یہ ہے کہ غور و فکر کرنے والا تعصب کی عینک اتار کر منصفانہ طور پر کرسی قضاوت پر بیٹھے، کیونکہ:
اولاً: مورد بحث آیت، سورۂ مائدہ کی آیت نمبر ۶۷ ہے اور یہ بات ہمیں معلوم ہے کہ پیغمبرؐ گرامی پر نازل ہونے والی یہ آخری سورت ہے جیسا کہ صاحب تفسیر "المنار" نے بیان کیا ہے کہ یہ پورا سورہ حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ و مدینہ کے درمیان نازل ہوا ہے۔(۱۳۷)
یعنی یہ آیت بعثت کے دسویں سال نازل ہوئی ہے جبکہ پیغمبرؐ اکرم کو تبلیغ رسالت کرتے ہوئے ۲۳ سال گذر رہے تھے۔
سوال: آپ سوچ کر بتائیے کہ ۲۳ سال تبلیغ اور پیغمبر اکرم کی زندگی کا آخری سال شروع ہونے تک وہ کون سی چیز تھی کہ جس کا ابھی تک رسمی طور پر اعلان نہیں کیا گیا تھا؟
کیا یہ اہم مسئلہ ، نماز کے بارے میں تھا حالانکہ مسلمان ۲۰ سال سے نماز پرھ رہے تھے؟
کیا روزہ کے بارے میں اعلان تھا جبکہ ہجرت کے بعد روزہ واجب ہوگیا تھا اور تقریباًٍٍ مسلمان ۱۳ سال سے روزے رکھ رہے تھے؟
کیا یہ حکم تشریع جہاد سے متعلق تھا؟ جبکہ مسلمان ہجرت کے دوسرے سال سے جہاد کرتے ہوئے آرہے تھے؟
جواب: انصاف تو یہ ہے کہ پیغمبر ؐ اکرم کو جو حکم دیا گیا تھا مذکورہ بالا امور میں سے کسی سے بھی اس کا تعلق نہیں ہے! کیونکہ غور کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ آخر پیغمبرؐ اکرم کی ۲۳ سالہ طاقت فرسا زحمت و مشقت کے باوجود وہ کون سا اہم امر تھا جس کا اعلان ابھی باقی تھا؟
ثانیاً: آیۂ مبارکہ سے استفادہ ہوتا ہے کہ پیغمبرؐ اکرم کی ماموریت اس قدر اہمیت کی حامل تھی کہ اسے نبوت کے ہم وزن قرار دیا گیا ہے۔ مختلف علماء و دانشمند حضرات نے جو احتمالات دیئے ہیں یا جنکا تذکرہ ہم نے کیا ہے وہ بھی مبہم ضرور ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کوئی امر بھی نبوت و رسالت کے ہم وزن نہیں ہوسکتا لہذا ہمیں سوچنا چاہیے کہ اہم ترین امر کیا ہے جو رسالت و نبوت کے ہم وزن ہے اور ۲۳ سال میں ابھی تک انجام نہیں پایا تھا؟
ثالثاً: اس ماموریت کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ چند لوگ اس کی شدت سے مخالفت کر رہے تھے یہاں تک کہ اس کے نتیجے میں وہ پیغمبرؐ اسلام کی زندگی کا خاتمہ کرنے پر تُلے ہوئے تھے جبکہ یہی مسلمان نماز، روزے، حج و زکواۃ وغیرہ کی مخالفت نہیں کر رہے تھے پس یہ کوئی یقیناً سیاسی مسئلہ تھا جس کی اتنی شدت سے مخالفت ہو رہی تھی۔
لہذا تمام حالات و واقعات کا جائزہ لینے اور منصفانہ قضاوت کرنے سے یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ وہ اہم ترین مسئلہ غدیر خم میں پیغمبرؐ اکرم کا حضرت علی علیہ السلام کی ولایت و جانشینی کا رسمی طور پر اعلان تھا۔
روایات کی روشنی میں تفسیر آیت
( بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ ) اس حکم کو پہنچا دیجئے جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ اس آیہ کریمہ کی صحیح تفسیر و توضیح کیلئے ہمارے پاس یہ طریقہ ہے کہ ہم اس کی شان نزول میں وارد ہونے والی روایات، مفسرین کی آراء ونظریات اور مورخین کے اقوال سے مدد لیں۔
صدر اسلام کے بہت سے محدثین کا اعتقاد ہے کہ یہ آیت حضرت علی ؑ کی شان میں نازل ہوئی ہے مثلاً:
۱ ۔ ابن عباس ۲ ۔ جابر بن عبد اللہ انصاری ۳ ۔ ابو سعید خدری ۴ ۔ عبد اللہ بن مسعود ۵ ۔ ابو ہریرہ ۶ ۔ خذیفہ ۷ ۔ براء بن عازب کے علاوہ دیگر اصحاب بھی یہ ہی کہتے ہیں کہ یہ ولایت علی بن ابی طالب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
مفسرین اہل سنت میں بھی بہت سے افراد کا یہ ہی نظریہ ہے کہ یہ آیت، ولایت علی ؑ ابن ابی طالب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، مثلاً سیوطی اپنی تفسیر "در المنثور" میں، ابو الحسن واحدی نیشاپوری "اسباب نزول" میں، سید رشید رضا اپنی تفسیر "المنار" میں، فخر رازی اپنی تفسیر "التفسیر الکبیر" میں اور دیگر مفسرین نے بھی اسی امر کی طرف اشارہ کیا ہے۔
ہم قارئین کی سہولت کیلئے اور ان کے جذبہ جستجو کو مدّنظر رکھتے ہوئے فقط فخر رازی کے کلام کو بطور نمونہ پیش کر رہے ہیں تفصیلات کیلئے مندرجہ بالا کتب و تفاسیر کی طرف رجوع فرمائیں۔
فخر رازی اہل سنت کے مایہ ناز مفسر ہیں ان کی جامع و مشروح تفسیر موجود ہے اور اس آیت کے بارے میں انہوں نے دس احتمال پیش کئے ہیں اور ولایت علی ابن ابی طالب ؑ کو دسویں احتمال کے طور پر پیش کیا ہے۔
متن کلام فخر رازی
نزلت الآیة فی فضل علی بن ابی طالب و لما نزلت هذه الآیة اَخذ بیده و قال: من کنت مولاه فعلی مولاه اللّهم وال من والاه و عاد من عاداه، فلقیه عمر فقال: هنیئاً لک یابن ابی طالب! اصبحت مولای و مولی کل مومن و مومنة ۔۔۔(۱۳۸)
یہ آیت (حضرت) علی ابن ابی طالب کی شان میں نازل ہوئی ہے، جب یہ آیۂ کریمہ نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم ؐ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر بلند کیا اور فرمایا "جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی ؑ بھی مولا ہیں۔ پس اے پروردگار جو علی بن ابی طالب کو قبول کرے تو اسے دوست رکھ اور جو ان سے دشمنی رکھے تو تو بھی اسے دشمن رکھ۔ اس کے بعد حضرت عمر کھڑے ہوئے اور حضرت علی (علیہ السلام) کے پاس آکر کہنے لگے مبارک ہو اے علی ابن ابی طالب ؑ کہ آج آپ میرے اور ہر مومن مرد و عورت کے رہبر و پیشوا مقرر ہوگئے۔
حاکم جسکانی نے بھی اپنی بے نظیر کتاب "شواہد التنزیل" میں زیاد بن منذر" سے روایت نقل کی ہے جس سے ثابت ہے کہ یہ آیت ولایت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے۔(۱۳۹)
ابلاغ پیام سے پیغمبرؐکو خطرہ
آیت کے سیاق سے پتہ چلتا ہے کہ حضورؐ سرور کائنات کو جس امر کی تبلیغ کا حکم دیا گیا تھا اس سے پیغمبرؐ کو شدید خطرہ لاحق تھا اگرچہ اسلام سارے مراحل سے گذر چکا تھا اور خیبر و خندق کے معرکے سر ہوچکے تھے۔
ظاہر ہے یہ خطرہ پیغمبرؐ اکرم کی حیات کیلئے نہیں تھا اور نہ آپ کو اس امر کی پرواہ تھی کہ اس کی خاطر تبلیغ حکم میں تاخیر فرماتے بلکہ آپ دین اسلام کی خاطر ہر طرح کی قربانی دے چکے تھے اور اب بھی ہر طرح کی قربانی کے لئے تیار تھے ہاں خطرہ اس بدنامی کا تھا کہ لوگ خاندان پرستی کا الزام لگا کر دین سے منحرف ہوجائیں گے اور سالہا سال کی محنت و زحمت خطرہ میں پڑ جائے گی۔
جیسا کہ جب حضورؐ اکرم نے ولایت علی ؑ کا اعلان کیا تو اسی صحرائے غدیر میں ایک حارث ابن نعمان فہری نے اعتراض کر دیا اور کہنے لگا۔
"اگر جو کچھ آپ نے اس وقت بیان کیا ہے خدا کی طرف سے ہے تو پھر خدا سے دعا کیجئے کہ مجھ پر عذاب نازل کرے اور مجھے نابود کردے!" اور پھر بعد میں ایسا ہی ہوا۔
لیکن پروردگار عالم نے وعدہ کیا اور حفاظت کی ذمہ داری لیتے ہوئے فرمایا:
( وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ) اللہ تمہیں لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔(۱۴۰)
علماء اسلام نے اس حکم کے بارے میں بہت سی تاویلیں تلاش کی ہیں لیکن بالآخر یہ اقرار کرنا پڑا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد پیغمبر ؐ اسلام نے حضرت علی ؑ کو میدان غدیر خم میں اپنے ہاتھوں پر بلند کرکے یہ اعلان کیا تھا کہ جس کا میں مولا ہوں اس کا یہ علی ؑ بھی مولا ہے جیسا کہ فخر رازی نے بھی اسے دسویں قول کے طور پر ذکر کیا ہے۔
شُبہات ، اعتراضات و اشکالات
٭ یہ آیت اوائل ہجرت میں نازل ہوئی:
محترم قارئیں کو اس بات کی طرف بھی متوجہ کر دینا مناسب ہے کہ بعض لوگوں نے آیت کے معنی و مفہوم میں تبدیلی پیدا کرنے کیلئے ایک شبہ ایجاد کیا ہے تاکہ عام لوگ اصل معنی و مطالب کی طرف متوجہ نہ ہونے پائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکم تبلیغ خود اس بات کی علامت ہے کہ یہ ابتدائے اسلام کی مکی آیت ہے لہذا اس کا واقعہ غدیر سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اگر آپ غور کریں تو محسوس کرسکتے ہیں کہ آیت کے ذیل میں( فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ) کا لہجہ دلیل ہے کہ آیت ، تبلیغ رسالت کے بعد نازل ہوئی ہے اور اس کا ابتداءِ تبلیغ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ اشکال ابن تیمیہ نے وارد کیا ہے اس کا کہنا ہے: اہل علم حضرات اس بات پر متفق ہیں کہ یہ آیت اوائل ہجرت میں مدینہ میں حجۃ الوداع سے کئی سال پہلے نازل ہوئی ہے (اگرچہ یہ سورۂ مائدہ میں موجود ہے)۔
اس لیئے کہ یہ آیت، رجم یا یہودیوں سے قصاص کے بارے میں نازل ہوئی تھی اور یہ دونوں واقعات اوائل ہجرت میں فتح مکہ سے پہلے واقع ہوئے تھے۔(۱۴۱)
ابن تیمیہ کے اس قول میں شدید ضعف پایا جاتا ہے اور کوئی اس کا حامی نہیں سوائے فخر رازی و عینی کے کہ انہوں نے بعض لوگوں کی طرف اس کی نسبت دی ہے اور بطور قول "قیل" یعنی قول ضعیف کہا ہے۔
صحابہ و تابعین میں بھی کوئی اس نظریہ کا حامی نظر نہیں آتا چہ جائیکہ ابن تیمیہ کے دعویٰ کی حمایت نظر آئے کہ اہل علم حضرات متفق ہیں۔ بلکہ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ حتی ایک فرد بھی اس بات کا قائل نہیں ہے کہ یہ آیت اوائل ہجرت میں نازل ہوئی ہے بلکہ تاریخ و تفاسیر سے یہ بات ثابت ہے کہ علماء کا اس امر پر اجماع ہے کہ یہ آیت آخر نازل ہونے والی آیات میں سے ہے۔(۱۴۲)
٭ احادیث جعلی ہیں
آیہ تبلیغ کے سلسلہ میں ولایت علی ؑ سے متعلق وارد ہونے والی احادیث کی اسناد کے بارے میں بعض اہل سنت نے چند ایک اسناد کے ضعیف ہونے کے بارے میں تو اظہار خیال کیا ہے جیسا کہ محقق کتاب "اسباب النزول واحدی نے ابو سعید خدری سے نقل ہونے والی حدیث کی سند کو ضعیف کہا ہے(۱۴۳) لیکن کسی نے بھی ان کے جعلی یا جھوٹے ہونے کے بارے میں نہیں کہا ہے لیکن اس کے باوجود ابن تیمیہ نے تعصب سے کام لیتے ہوئے ان احادیث کو جعلی و وضعی کہا ہے۔
ابن تیمیہ کا کہنا ہے کہ علمائے حدیث کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ابو نعیم کی کتاب "حلیۃ الاولیاء"، ثعلبی کی "فضائل خلفاء" اور واحدی کی تفسیر "نقاش" میں جھوٹی اور جعلی احادیث ہیں۔(۱۴۴)
جہاں تک احادیث کے ضعیٖف ہونے کا تعلق ہے تو کثرت اسانید اور ان کے مضامین کا آیہ تبلیغ سے ہم آہنگ ہونا اس قسم کے الزامات کو دور کر دیتا ہے اور روایات کی اسناد کے ضعیف ہونے کے احتمال کا بھی ازالہ و تدارک کر دیتا ہے۔
ابن تیمیہ نے گمان کیا ہے کہ یہ احادیث صرف ابو نعیم اور ثعلبی نے نقل کی ہیں، حالانکہ اہل سنت کے بہت سے معتبر محدثین نے ان روایات کو نقل کیا ہے۔
ابن تیمیہ جب ابو حاتم کو صحیح و جعلی احادیث کی شناخت کے سلسلہ میں مرجع تسلیم کرتے ہیں تو ابو حاتم کے فرزند نے اس آیۂ کریمہ کی شان نزول کے لیے کہا ہے کہ یہ حضرت علی ؑ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور انہوں نے اپنے والد کے ذریعہ ابو سعید خدری صحابی پیغمبرؐ سے روایت نقل کی ہے۔ پس ایسی صورت میں ابن تیمیہ کس طرح یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ابو حاتم اس قسم کی جعلی احادیث کو ہرگز نقل نہیں کرتے۔ اور کس طرح یہ حکم عائد کر رہے ہیں کہ "اس قسم کی احادیث کا کذب و جھوٹ، احادیث سے کمترین آگاہی رکھنے والے سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔
یہ بات یاد رہے کہ ابن ابی حاتم کی سند حدیث میں تمام رجال، موثق یا صدوق مانے گئے ہیں۔
ابن تیمیہ نے ابو نعیم و ثعلبی اوردیگر افراد کے بارے میں کہا ہے کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں جو احادیث نقل کی ہیں انہیں ان کے صحیح السند ہونے کا یقین نہیں تھا بلکہ وہ ان کے ضعیف ہونے پر یقین رکھتے تھے۔ ابن تیمیہ کا یہ دعویٰ بہتان کے سوا کچھ نہیں ہے اس لیے کہ وہ اپنے دعوی کے اثبات میں کوئی دلیل بھی پیش نہیں کرسکے لہذا انہیں اس بہتان کا جواب دینا چاہیے۔
٭ انکار اعلان ولایت علی (علیہ السلام)
اہل سنت کے مطابق واقعہ غدیر اور پیغمبرؐ اکرم کی جانب سے اعلان ولایت علی ؑ (من کنت مولاہ فعلی مولاہ) میں کوئی شک و شبھہ اور تردید نہیں پائی جاتی بلکہ یہ واقعہ قطعی ہے۔ صرف ذہبی نے ابن جریر طبری کی شرح حال میں فرغانی سے نقل کیا ہے:
جب ابن جریر طبری کو یہ خبر ملی کہ ابن ابی داؤد حدیث غدیر خم کے بارے میں کچھ کہہ رہے ہیں اور اس کا انکار کر رہے ہیں تو انہوں نے ایک کتاب فضائل ترتیب دی اور اس میں حدیث غدیر کے صحیح ہونے کے بارے میں روایات جمع کی ہیں۔(۱۴۵)
یاقوت حموی بھی کہتے ہیں:
بغداد کے بعض علماء، حدیث غدیر کا انکار اور تکذیب کرتے ہیں اور کہتے ہیں: علی ابن ابی طالب اس وقت یمن میں تھے ۔۔۔ جب یہ خبر ابن جریر طبری کو ملی تو انہوں نے اس دعویٰ کی رد میں ایک کتاب فضائل علی بن ابی طالب ترتیب دی اور اس میں حدیث غدیر کے مختلف طرق بھی بیان کیئے۔(۱۴۶)
ابو العباس ابن عقد نے بھی ایک کتاب تالیف کی ہے جس میں حدیث غدیر کے طرق بیان کیئے ہیں۔(۱۴۷)
پس ان تمام شواہد کے بعد اعلان ولایت علی بن ابی طالب (من کنت مولاه فعلی مولاه ) کی صداقت کے بارے میں کسی بھی قسم کے شک و شبھہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
٭ انکار دعاءِ "اللهم وال من والاه "
واقعہ غدیر میں اعلان ولایت علی ابن ابی طالب ؑ کے بعد بہت سی کتب میں پیغمبرؐ اسلام کے دعائیہ کلمات ملتے ہیں، جس میں آپ ؐ نے فرمایا:"اللهم وال من والاه و عاد من عاداه و انصر من نصره و اخذل من خذله " لیکن اس کے باوجود ابن تیمیہ اس حقیقت سے انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
"بیشک حدیث کا یہ حصہ علماء حدیث کی اتفاق نظر سے جھوٹ ہے اس لئے کہ پیغمبرؐ اکرم کی دعا لازمی طور پر مستجاب ہوتی ہے لیکن یہ دعا مستجاب نہ ہوئی لہذا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دعاءِ پیغمبرؐ اسلام نہیں ہے۔ کیونکہ بہت سے سابقین نے زمانہ خلافت علی ؑ میں ان کی مدد نہیں کی بلکہ ان سے برسر پیکار ہوئے اور ان کے بارے میں صحیحین میں وارد ہوا ہے کہ یہ حضرات ہرگز دوزخ میں نہیں جائیں گے کیونکہ یہ صلح حدیبیہ کے اصحاب شجرہ میں سے ہیں۔ انہیں علی (علیہ السلام) سے جنگ کے بعد کسی قسم کی ذلت و خواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ اس کے بعد انہوں نے کفار سے جنگ کی تو خدا نے ان کی مدد کرتے ہوئے انہیں فتحیاب کیا پس صفِ علی میں آنے والوں کے لیئے نصرت خدا کہاں ہے؟!(۱۴۸)
ابن تیمیہ کے یہ دعوے قرآن کریم کے معیار و موازین اور حدیث شناس علماء کے نظریہ کے برخلاف ہونے کی وجہ سے باطل اور مردود ہیں کیونکہ:
اولاً: جن احادیث میں "من کنت مولاه فعلی مولاه " کے بعد "اللهم وال من والاه ۔۔۔" آیا ہے ان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اہل سنت کے بزرگ و معتبر حدیث شناس علماء کی نظر میں صحیح السند ہیں جیسا کہ حاکم نیشاپوری نے اس حدیث کو نقل کرتے ہوئے کہا ہے "یہ حدیث، شیخین، (بخاری و مسلم) کی شرائط کے مطابق صحیح ہے۔(۱۴۹)
ان کے علاوہ ذہبی، ابن کثیر ، احمد بن حنبل وغیرہ نے بھی اسے بطور صحیح قبول کیا ہے۔
ان شواہد کے بعد ابن تیمیہ کو کیسے یہ حق حاصل ہوگیا کہ وہ کہنے لگے کہ حدیث شناس علماء کا اس حدیث کے جعلی و کذب ہونے پر اتفاق نظر ہے؟!
ثانیاً: مارقین و ناکثین سے حضرت علی علیہ السلام کی جنگیں تاویل قرآن پر تھیں اور اس کے بارے میں حضورؐ سرورکائنات پہلے سے پیش گوئی فرما چکے تھے:اِنّ منکم من یقاتل علی تاویل القرآن کما قاتلت علی تنزیله ؛ تم میں ایک وہ ہے جو تاویل قرآن کے لیے جنگ کرے گا جس طرح میں نے اس تنزیل قرآن کے لیے جنگ کی ہے۔ اہل سنت کے مطابق یہ حدیث صحیح السند ہے اور اس کے طرق و مصادر بھی متعدد ہیں۔(۱۵۰)
ثالثاً: جو تاویل قرآن کی خاطر جنگ کرے قطعی طورپر نصرت الٰہی اس کے شامل حال رہے گی یہاں صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ نصرت الٰہی سے کیا مراد ہے اگر اس سے مراد ہر میدان میں حق والوں کی ظاہری کامیابی و فتح اور باطل کی شکست و ناکامی ہوجیساکہ ابن تیمیہ نے گمان کیا ہے، تو پھر انبیاء و مومنین کے بارے میں آپ کیا کہیں گے جن کی کامیابی و کامرانی اور ان کی مدد کا خدانے وعدہ کیا ہے لیکن ایسا واقع نہ ہوا۔ پروردگار عالم فرماتا ہے:( انَّا لننصر رُسُلَنا و الذین آمنوا فی الحیوة الدنیا و یَوم یقوم الا شهادُ ) "بیشک ہم اپنے رسول اور ایمان لانے والوں کی زندگانی دنیا میں بھی مدد کرتے ہیں۔ اور اس دن بھی مدد کریں گے جب سارے گواہ اٹھ کھڑے ہوں گے(۱۵۱) ۔ یہ خدا کا وعدہ ہے اور وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا(۱۵۲) ۔
بہت سے انبیاءومومنین اس دنیا میں قتل ہوئے اور عدل و انصاف قائم نہ کرسکے خصوصاً جبکہ ان کے یاور و انصار نے ان کی نافرمانی کی یا اطاعت میں کوتاہی برتی جیسا کہ حضورؐ کے زمانے میں جنگ احد کے موقع پر اور حضرت علی ؑ کے زمانے میں جنگ صفین کے موقع پر نافرمانی اورکوتاہی پر اتر آئے تھے بنابرایں انبیاء و مومنین کی نصرت کا وعدہ ان شرائط سے مشروط ہے جبکہ یہ فراہم ہوں۔
رابعاًٍ: وہ حدیث (گرچہ صحیح السند ہو) جو آیات قرآن کے مخالف ہو، فاقد اعتبار ہوتی ہے بنابریں ابن تیمیہ نے جو اصحاب شجرہ کے بارے میں حدیث نقل کی ہے وہ فاقد اعتبار اور مردود ہے۔ ورنہ یہ کہنا پڑے گا کہ قرآن کریم نے بعض لوگوں کے لیے الگ حساب کتاب رکھا ہے اور ان کی فتنہ انگیزیوں، خون خرابہ اور خطاؤں کو نادیدہ لیا ہے حالانکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی متعدد آیات میں معیار نجات کی وضاحت کی گئی ہے بنابریں اگرچہ یہ روایت وارد ہوئی ہیں تو ان کی تاویل کرنا پڑے گی کیونکہ یہ تعلیمات قرآن کے برخلاف وارد ہوئی ہیں۔
پروردگار عالم نے اصحاب بیعت رضوان کے بارے میں اپنی رضایت کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے:( لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ۔۔۔) (۱۵۳) یقیناً خدا صاحبان ایمان سے اس وقت راضی ہوگیا، جب وہ درخت کے نیچے آپ کی بیعت کر رہے تھے۔
یہ رضایت و خوشنودی اس صورت میں باقی رہنے والی ہے جبکہ یہ لوگ اپنی بیعت پر باقی رہیں لیکن اگر بیعت توڑ ڈالتےہیں تو پھر خوشنودی پروردگار بھی حاصل نہیں ہوسکتی بہشت کا تو سوال ہی کیا ہے!
جبکہ صحیحین میں وارد ہونے والی بہت سی روایات سے ثابت ہے کہ حضورؐ کی وفات کے بعد بعض اصحاب مرتد ہوگئے لہذا وہ دوزخی ہیں۔(۱۵۴)
اب آپ بتائیے کیا ان روایات سے چشم پوشی کی جاسکتی ہے؟!
غور کیجئے، فکر کیجئے اور خوب سوچئے !!!
خطبۂ غدیر
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے جو اپنی یکتائی میں بلند اور اپنی انفرادی شان کے باوجود قریب ہے۔ وہ سلطنت کے اعتبار سے جلیل اور ارکان کے اعتبار سے عظیم ہے۔ وہ اپنی منزل پر رہ کر بھی اپنے علم سے ہر شے کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور اپنی قدرت اور اپنے برہان کی بناء پر تمام مخلوقات کو قبضہ میں رکھے ہوئے ہے ہمیشہ سے بزرک ہے اور ہمیشہ قابل حمد رہے گا۔ بلندیوں کا پیدا کرنے والا، فرش زمین کا بچھانے والا، آسمان و زمین پر اختیار رکھنے والا، بے نیاز، پاکیزہ صفات، ملائکہ اور روح کا پروردگار تمام مخلوقات پر فضل و کرم کرنے والا اور تمام ایجادات پر مہربانی کرنے والا ہے وہ ہر آنکھ کو دیکھتا ہے اگرچہ کوئی آنکھ اُسے نہیں دیکھتی، وہ صاحب علم و کرم ہے، اس کی رحمت ہر شے کے لیے وسیع اور اس کی نعمت کا احسان ہر شے پر قائم ہے۔ انتقام میں جلدی نہیں کرتا اور مستحقیقن عذاب کو عذاب دینے میں عجلت سے کام نہیں لیتا، مخفی امور اس پر مشتہس نہیں ہوتے، وہ ہر شے پر محیط اور ہر چیز پر غالب ہے، اس کی قوت ہر شے میں اور اس کی قدرت ہر چیز پر ہے، وہ بے مثل ہے اور شے کو شے بنانے والا ہے، ہمیشہ رہنے والا، انصاف کرنے والا ہے، اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے، وہ عزیز و حکیم ہے، نگاہوں کی رسائی سے بالاتر ہے اور ہر نگاہ کو اپنی نظر میں رکھتا ہے کہ وہ لطیف بھی ہے اور خبیر بھی۔ کوئی شخص اس کے وصف کو پا نہیں سکتا اور کوئی اس کے ظاہر و باطن کا ادراک نہیں کرسکتا۔ مگر اتنا ہی جتنا اس نے خود بتا دیا ہے، میں گواہی دیتا دیتا ہوں کہ وہ ایسا خدا ہے جس کی پاکیزگی زمانہ پر محیط اور جس کا نور ابدی ہے۔ اس کا حکم نافذ ہے۔ نہ اس کا کوئی مشیر ہے نہ وزیر۔ نہ کوئی اس کا شریک ہے اور نہ اس کی تدابیر میں کوئی فرق ہے، جو کچھ بنایا وہ بغیر کسی نمونہ کے بنایا اور جسے بھی خلق کیا بغیر کسی کی اعانت یا فکر و نظر کی زحمت کے بنایا۔ جسے بنایا وہ بن گیا اور جسے خلق کیا وہ خلق ہوگیا۔ وہ خدا ہے لاشریک ہے جس کی صفت محکم اور جس کا سلوک بہترین ہے۔
وہ ایسا عادل ہے جو ظلم نہیں کرتا اور ایسا بزرگ و برتر ہے کہ ہر شے اس کے قدرت کے سامنے متواضع اور ہر چیز اس کی ہبیت کے سامنے خاضع ہے وہ تمام ملکوں کا مالک، تمام آسمانوں کا خالق، شمس و قمر پر اختیار رکھنے والا، ہر ایک کو معین مدت کے لیے چلانے والا، دن کو رات اور رات کو دن پر حاوی کرنے والا، ظالموں کی کمر توڑنے والا، شیطانوں کو ہلاک کرنے والا ہے۔ نہ اس کا کوئی ضد ہے نہ مثل۔ وہ یکتا ہے بے نیاز ہے، اس کا کوئی باپ ہے نہ بیٹا، نہ ہمسر۔ وہ خدائے واحد اور رب مجید ہے، جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے پورا کر دیتا ہے۔ جاننے والا، خیر کا احصاء کرنے والا ، موت و حیات کا مالک، فقر و غنا کا صاحب اختیار، ہنسانے والا ، رلانے والا، قریب کرنے والا، دو رہٹانے والا، عطا کرنے والا، روک لینے والا ہے۔ ملک اسی کے اختیار میں ہے اور حمد اسی کے لیے زیبا ہے اور اسی کے قبضہ میں ہے۔ وہ ہر شے پر قادر ہے۔ رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کر دیتا ہے۔ اس عزیز و غفار کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے، وہ دعاؤں کا قبول کرنے والا، عطاؤں کو بکثرت دینے والا، سانسوں کا شمار کرنے والا اور انسان و جنات کا پروردگار ہے، اس کے لیے کوئی شے مشتبہ نہیں ہے۔ وہ فریادیوں کی فریاد سے پریشان نہیں ہوتا ہے اور اسے گڑگڑانے والوں کا اصرار خستہ حال کرتا نہیں ہے۔ نیک کرداروں کا بچانے والا، طالبان فلاح کو توفیق دینے والا اور عالمین کا مولا و حاکم ہے۔ اس کا حق ہر مخلوق پر یہ ہے کہ راحت و تکلیف اور نرم و گرم میں اس کی حمدو ثناء کرے اور اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرے۔ میں اس پر اور اس کے ملائکہ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان رکھتا ہوں، اس کے حکم کو سنتا ہوں اور اطاعت کرتا ہوں، اس کی مرضی کی طرف سبقت کرتا ہوں اور اس کے فیصلہ کے سامنے سراپا تسلیم ہوں اس لیے کہ اس کی اطاعت میرا فرض ہے اور اس کے عتاب کے خوف کی بنا پر کہ نہ کوئی اس کی تدبیر سے بچ سکتا ہے اور نہ کسی کو اس کے ظلم کا خطرہ ہے میں اپنے لیے بندگی اور اس کے لیے ربوبیت کا اقرار کرتا ہوں اور اس کے پیغام وحی کو پہنچانا چاہتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو کہ کوتاہی کی شکل میں وہ عذاب نازل ہوجائے جس کا دفع کرنے والا کوئی نہ ہو۔ اس خدائے وحدہ لاشریک نے مجھے بتایا کہ اگر میں نے اس پیغام کو نہ پہنچایا تو اس کی رسالت کی تبلیغ نہیں کی اور اس نے میرے لیے حفاظت کی ضمانت لی ہے۔ اس خدائے کریم نے یہ حکم دیا ہے کہ، اے رسول جو حکم تمہاری طرف علی ؑ کے بارے میں نازل کیا گیا ہے، اسے پہنچا دو، اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو رسالت کی تبلیغ نہیں کی اور اللہ تمہیں لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔
ایھا الناس! میں نے حکم کی تعمیل میں کوتاہی نہیں کی اور میں اس آیت کا سبب واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جبرئیل بار بار میرے پاس یہ حکم پروردگار لے کر نازل ہوئے کہ میں اسی مقام پر ٹھہر کر سفید و سیاہ کو یہ اطلاع دے دوں کہ علی ؑ بن ابی طالب میرے بھائی، وصی، جانشین اور میرے بعد امام ہیں۔ ان کی منزل میرے لیے ویسی ہی ہے جیسے موسیٰ کے لیے ہارون کی تھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا، وہ اللہ و رسول کے بعد تمہارے حاکم ہیں اور اس کا اعلان خدا نے اپنی کتاب میں کیا ہے کہ بس تمہارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبان ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوۃ ادا کرتے ہیں۔
علی ؑ ابن ابی طالب نے نماز قائم کی ہے اور حالت رکوع میں زکوۃ دی ہے، وہ ہر حال میں رضاء الٰہی کے طلب گار ہیں۔ میں نے جبرئیل کے ذریعہ یہ گذارش کی کہ اس وقت تمہارے سامنے اس پیغام کو پہنچانے سے معذور رکھا جائے اس لیے کہ متقین کی قلت ہے اور منافقین کی کثرت، فساد کرنے والے، بدعمل اور اسلام کا مذاق اڑانے والے منافقین کی مکاری کا بھی خطرہ ہے، جن کے بارے میں خدا نے صاف کہہ دیا ہے: "یہ اپنی زبانوں سے وہ کہتے ہیں جو اِن کے دل میں نہیں ہے، اور یہ اسے معمولی بات سمجھتے ہیں حالانکہ پیش پروردگار بہت بڑی بات ہے"۔ ان لوگوں نے بارہا مجھے اذیت پہنچائی ہے یہاں تک کہ مجھے "کاہن" کہنےلگے ہیں۔ اور ان کا خیال تھا کہ میں ایسا ہی ہوں اسی لیے خدا نے آیت نازل کی کہ "کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نبی کو اذیت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو فقط کاہن ہیں، تو پیغمبر کہہ دیجئے کہ اگر ایسا ہے تو تمہارے حق میں یہی خیر ہے، ورنہ میں چاہوں تو ایک ایک کا نام بھی بتا سکتا ہوں اور اس کی طرف اشارہ بھی کرسکتا ہوں اور لوگوں کے لیے نشان دہی بھی کرسکتا ہوں۔ لیکن میں ان معاملات میں کرم اور بزرگی سے کام لیتا ہوں۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود مرضی خدا یہی ہے کہ میں اس حکم کی تبلیغ کر دوں۔ لہذا لوگو! ہوشیار رہو کہ اللہ نے علی ؑ کو تمہارا ولی اور امام بنا دیا ہے اور ان کی اطاعت کو تمام مہاجرین ، انصار اور ان کے تابعین اور ہر شہری، دیہاتی، عجمی ، عربی، آزاد، غلام، صغیر، کبیر، سیاہ، سفید پر واجب کردیا ہے۔ ہر توحید پرست کے لیے ان کا حکم جاری، ان کا امر نافذ اور ان کا قول قابل اطاعت ہے، ان کا مخالف ملعون اور ان کا پیرو مستحق رحمت ہے۔ جو ان کی تصدیق کرے گا اور ان کی بات سن کر اطاعت کرے اللہ اس کے گناہوں کو بخش دے گا۔
ایھا الناس! یہ اس مقام پر میرا آخری قیام ہے لہذا میری بات سنو، اور اطاعت کرو اور اپنے پروردگار کے حکم کو تسلیم کرو۔ اللہ تمہارا رب، ولی اور پروردگار ہے اور اس کے بعد اس کا رسول محمدؐ تمہارا حاکم ہے جو آج تم سے خطاب کر رہا ہے۔ اس کے بعد علی ؑ تمہارا ولی اور بحکم خدا تمہارا امام ہے۔ اس کے بعد امامت میری ذریت اور اس کی اولاد میں تا روزِ قیامت باقی رہے گی۔
حلال وہ ہے جس کو اللہ نے حلال کیا ہے اور حرام وہی ہے جس کو اللہ نے حرام کیا ہے۔ یہ سب اللہ نے مجھے بتایا تھا اور میں نے سارے علم کو علی ؑ کے حوالہ کردیا۔
ایھا الناس! کوئی علم ایسا نہیں ہے جو اللہ نے مجھے عطا کیا ہو اور جو کچھ خدا نے مجھے عطا کیا تھا سب میں نے علی ؑ کے حوالہ کردیا ہے۔ یہ امام المتقین ؑ بھی ہے اور امام المبین بھی ہے۔
ایھا الناس! علی ؑ سے بھٹک نہ جانا، ان سے بیزار نہ ہوجانا اور ان کی ولایت کا انکار نہ کر دینا کہ وہی حق کی طرف ہدایت کرنے والے، حق پر عمل کرنے والے باطل کو فنا کردینے والے اور اس سے روکنے والے ہیں۔ انہیں اس راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں ہوئی۔ وہ سب سے پہلے اللہ و رسولؐ پر ایمان لائے اور اپنے جی جان سے رسولؐ پر قربان تھے ہمیشہ خدا کے رسولؐ کے ساتھ رہے جب کہ رسولؐ کے علاوہ کوئی عبادتِ خدا کرنے والا نہ تھا۔ ایھا الناس! انہیں افضل قرار دو کہ انہیں اللہ نے فضیلت دی ہے اور انہیں قبول کرو کہ انہیں اللہ نے امام بنایا ہے۔ ایھا الناس! وہ اللہ کی طرف سے امام ہیں، اور جو ان کی ولایت کا انکار کرے گا نہ اس کی توبہ قبول ہوگی اور نہ اس کی بخشش کا کوئی امکان ہے، بلکہ اللہ کا حق ہے کہ وہ اس امر پر مخالفت کرنے والے پر ہمیشہ ہمیشہ کےلیے بدترین عذاب نازل کر دے۔ لہذا تم ان کی مخالفت سے بچو کہیں ایسا نہ ہو کہ اس جہنم میں داخل ہوجاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں اور جس کو کفار کے لیے مہیار کیا گیا ہے۔
ایھا الناس! خدا گواہ ہے کہ سابق کے تمام انبیاء و مرسلین کو میری بشارت دی گئی ہے اور میں خاتم الانبیاء و المرسلین اور زمین و آسمان کے تمام مخلوقات کے لیے حجت پروردگار ہوں۔ جو اس بات میں شک کرے گا وہ گذشتہ جاہلیت جیسا کافر ہو جائےگا۔ اور جس نے میری کسی ایک بات میں بھی شک کیا اس نے گویا تمام باتوں کو مشکوک قرار دیا اور اس کا انجام جہنم ہے۔
ایھا الناس! اللہ نے جو مجھے یہ فضیلت عطا کی ہے یہ اس کا کرم اور احسان ہے۔ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور وہ ہمیشہ تا ابد اور ہر حال میں میری حمد کا حق دار ہے۔
ایھا الناس! علی ؑ کی فضیلت کا اقرار کرو کہ وہ میرے بعد ہر مرد و زن سے افضل و برتر ہے۔ اللہ نے ہمارے ہی ذریعہ رزق کو نازل کیا ہے اور مخلوقات کو باقی رکھا ہے۔ جو میری اس بات کو رد کردے وہ ملعون ہے ملعون ہے اور مغضوب ہے مغضوب ہے۔ جبرئیل نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ پروردگار کا ارشاد ہے کہ جو علی ؑ سے دشمنی کرے گا اور انہیں اپنا حاکم تسلیم نہ کرے گا اس پر میری لعنت اور میرا غضب ہے۔ لہذا ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا مہیا کیا ہے۔ اس کی مخالفت کرتے وقت اللہ سے ڈرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ قدم راہ حق سے پھسل جائیں اور اللہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔
ایھا الناس! علی ؑ وہ جنب اللہ ہے جس کے بارے میں قرآن میں یہ کہا گیا ہے کہ ظالمین افسوس کریں گے کہ انہوں نے جنب اللہ کے بارے میں کوتاہی کی ہے۔
ایھا الناس! قرآن میں فکر کرو، اس کی آیات کو سمجھو، محکمات کو نگاہ میں رکھو اور متَشابہات کے پیچھے نہ پڑو۔ خدا کی قسم قرآن مجید کے احکام اور اس کی تفسیر کو اس کے علاوہ کوئی واضح نہ کرسکے گا۔ جس کا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہے اور جس کا بازو تھام کر میں نے بلند کیا ہے اور جس کے بارے میں ، میں یہ بتا رہا ہوں کہ جس کا میں مولا ہوں اس کا یہ علی ؑ مولا ہے۔ یہ علی ؑ بن ابی طالب میرا بھائی ہے اور وصی بھی۔ اس کی محبت کا حکم اللہ کی طرف سے ہے جو مجھ پر نازل ہوا ہے۔
ایھا الناس! علی ؑ اور میری اولاد طیبین ثقل اصغر ہیں اور قرآن ثقل اکبر ہے ان میں ہر ایک دوسرے کی خبر دیتا ہے اور اس سے جدا نہ ہوگا یہاں تک کہ دونوں حوض کوثر پر وارد ہوں۔ یہ میری اولاد مخلوقات میں احکام خدا کے امین اور زمین میں ملک خدا کے حکام ہیں۔ آگاہ ہوجاؤ میں نے تبلیغ کردی میں نے پیغام کو پہنچا دیا۔ میں نے بات سنا دی۔ میں نے حق کو واضح کردیا۔ آگاہ ہوجاؤ جو اللہ نے کہا وہ میں نے دہرا دیا۔ پھر آگاہ ہوجاؤ کہ امیر المومنین میرے اس بھائی کے علاوہ کوئی نہیں ہے اور اس کے علاوہ یہ منصب کسی کے لیے سزاوار نہیں ہے۔
(اس کے بعد علی ؑ کو اپنے ہاتھوں پر اتنا بلند کیا کہ ان کے قدم رسولؐ کے گھٹنوں کے برابر ہوگئے۔ اور فرمایا)
ایھا الناس! یہ علی ؑ میرا بھائی اور وصی اور میرے علم کا مخزن اور امت پر میرا خلیفہ ہے۔ یہ خدا کی طرف دعوت دینے والا، اس کی مرضی کے مطابق عمل کرنے والا، اس کے دشمنوں سے جہاد کرنے والا، اس کی اطاعت پر ساتھ دینے والا، اس کی معصیت سے روکنے والا، اس کے رسولؐ کا جانشین اور مومنین کا امیر، امام اور ہادی ہے اور بیعت شکن، ظالم اور خارجی افراد ے جہاد کرنے والا ہے۔ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ حکم خدا سے کہہ رہا ہوں میری کوئی بات بدل نہیں سکتی ہے۔ خدایا! علی ؑ کے دوست کو دوست رکھنا اور علی ؑ کے دشمن کو دشمن قرار دینا، ان کے منکر پر لعنت کرنا اور ان کے حق کا انکار کرنے والے پر غضب نازل کرنا۔ پروردگار! تو نے یہ وحی کی تھی کہ امامت علی ؑ کے لیے ہے اور تیرے حکم سے میں نے انہیں مقرر کیا ہے۔ جس کے بعد تو نے دین کو کامل کردیا، نعمت کو تمام کردیا اور اسلام کو پسندیدہ دین قرار دے دیا اور یہ اعلان کردیا جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے گا وہ دین قبول نہ کیا جائے گا اور وہ شخص آخرت میں خسارہ والوں میں ہوگا۔ پروردگار! میں تجھے گواہ قرار دیتا ہوں کہ میں نے تیرے حکم کی تبلیغ کر دی۔
ایھا الناس! اللہ نے دین کی تکمیل علی ؑ کی امامت سے کی ہے لہذا جو علی ؑ اور ان کے صلب سے آنے والی میری اولاد کی امامت کا اقرار نہ کرے گا اس کے اعمال برباد ہوجائیں گے۔ وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ ایسے لوگوں کے عذاب میں کوئی تخفیف نہ ہوگی اور نہ ان پر نگاہ رحمت کی جائے گی۔
ایھا الناس! یہ علی ؑ ہے تم میں سب سے زیادہ میری مدد کرنے والا، مجھ سے قریب تر اور میری نگاہ میں عزیز تر ہے۔ اللہ اور میں دونوں اس سے راضی ہیں۔ قرآن مجید میں جو بھی رضا کی آیت ہے وہ اسی کے بارے میں ہے اور جہاں بھی یا ایھا الذین امنو کہا گیا ہے اس کا پہلا مخاطب یہی ہے۔ ہر آیت مدح اسی کے بارے میں ہے، ہل اتیٰ میں جنت کی شہادت اسی کے حق میں دی گئی ہے اور یہ سورہ اس کے علاوہ کسی غیر کی مدح میں نہیں نازل ہوا ہے۔
ایھا الناس! یہ دین خدا کا مددگار، رسولؐ خدا سے دفاع کرنے والا، متقی، پاکیزہ صفت، ہادی اور مہدی ہے۔ تمہارا نبی بہترین نبی اور اس کا وصی بہترین وصی ہے اور اس کی اولاد بہترین اوصیاء ہیں۔
ایھا الناس! ہر نبی کی ذریت اس کے صلب سے ہوتی ہے اور میری ذریت علی ؑ کے صلب سے ہے۔
ایھا الناس! ابلیس آدمؑ کے مسئلہ میں حسد کا شکار ہوا۔ لہذا خبردار! تم علی ؑ سے حسد نہ کرنا کہ تمہارے اعمال برباد ہوجائیں اور تمہارے قدموں میں لغزش پیدا ہو جائے۔ آدم صفی اللہ ہونے کے باوجود ایک ترک اولیٰ پر زمین میں بھیج دیئے گئے تو تم کیا ہو اور تمہاری کیا حقیقت ہے۔ تم میں تودشمنان خدا بھی پائے جاتے ہیں۔ یاد رکھو علی ؑ کا دشمن صرف شقی ہوگا اور علی ؑ کا دوست صرف تقی ہوگا۔ اس پر ایمان رکھنے والا صرف مومن ہی ہوسکتا ہے اور انہیں کے بارے میں سورہ عصر نازل ہوا ہے۔
ایھا الناس! میں نے خدا کو گواہ بناکر اپنے پیغام کو پہنچا دیا اور رسول کی ذمہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
ایھا الناس! اللہ سے ڈرو، جو ڈرنے کا حق ہے اور خبردار! اس وقت تک دنیا سے نہ جانا جب تک اس کے اطاعت گذار نہ ہوجاؤ۔
ایھا الناس! اللہ، اس کے رسولؐ اور اس نور پر ایمان لاؤ جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ قبل اس کے کہ خدا اچھے چہروں کو بگاڑ دے اور انہیں پشت کی طرف پھیر دے۔
ایھا الناس!نور کی پہلی منزل میں ہوں۔ میرے بعد علی ؑ اور ان کے بعد ان کی نسل ہے اور یہ سلسلہ مہدی قائم تک برقرار رہے گا جو اللہ کا حق اور ہمارا حق حاصل کرے گا! اس لیے کہ اللہ نے ہم کو تمام مقصرین، معاندین، مخالفین، خائنین، آثمین اور ظالمین کے مقابلہ میں اپنی حجت قرار دیا ہے۔
ایھا الناس! میں تمہیں باخبر کرنا چاہتا ہوں کہ میں تمہارے لیے اللہ کا نمائندہ ہوں جس سے پہلے بہت سے رسول گذر چکے ہیں۔ تو کیا میں مر جاؤں یا قتل ہو جاؤں تو تم اپنے پرانے دین پر پلٹ جاؤ گے؟ تو یاد رکھو جو پلٹ جائے گا وہ اللہ کا نقصان نہیں کرے گا اور اللہ شکر کرنے والوں کو جزا دینے والا ہے۔
آگاہ ہوجاؤ کہ علی ؑ کے صبر و شکر کی تعریف کی گئی ہے اور ان کے بعد میری اولاد کو صابر و شاکر قرار دیا گیا ہے جو ان کے صلب سے ہے۔
ایھا الناس! اللہ پر اپنے اسلام کا احسان نہ رکھو کہ وہ تم سے ناراض ہوجائے اور تم پر اس کی طرف سے عذاب نازل ہوجائے کہ وہ مسلسل تم کو نگاہ میں رکھے ہوئے ہے۔
ایھا الناس! عنقریب میرے بعد ایسے راہنما پیدا ہوں گے جو جہنم کی دعوت دیں گے۔ اور قیامت میں کوئی ان کا مددگار نہ ہوگا۔ اللہ اور میں دونوں ان لوگوں سے بری اور بیزار ہیں۔
ایھا الناس! یہ لوگ اور ان کی اتباع و انصار سب جہنم کے پست ترین درجے میں ہوں گے اور یہ متکبر لوگوں کا بدترین ٹھکانا ہے۔ آگاہ ہوجاؤ کہ یہ لوگ اصحاب صحیفہ ہیں لہذا ان کے صحیفہ پر تمہیں نگاہ رکھنی چاہیے۔ لوگوں کی قلیل جماعت کے علاوہ سب صحیفہ کی بات بھول چکے ہیں۔ آگاہ ہوجاؤ کہ میں امامت کو امانت اور قیامت تک کے لیے اپنی اولاد میں وراثت قرار دے کر جا رہا ہوں اور مجھے جس امر کی تبلیغ کا حکم دیا گیا تھا میں نے اس کی تبلیغ کردی ہے تاکہ ہر حاضر و غائب ، موجود و غیر موجود، مولود وغیر مولود سب پر حجت تمام ہوجائے۔ اب حاضر کا فریضہ ہے کہ یہ پیغام غائب تک پہنچائے اور ہر باپ کا فریضہ ہے کہ قیامت تک اس پیغام کو اپنی اولاد کے حوالہ کرتا رہے اور عنقریب لوگ اس کو غصبی ملکیت بنالیں گے۔ خدا غاصبین پر لعنت کرے۔ قیامت میں تمام حقیقتیں کھل کر سامنے آجائیں گی اور آگ کے شعلے برسائے جائیں گے جب کوئی کسی کی مدد کرنے والا نہ ہوگا۔
ایھا الناس! اللہ تم کو انہیں حالات میں نہ چھوڑے گا جب تک خبیث اور طیّب کو الگ الگ نہ کردے اور اللہ تم کو غیب پر باخبر کرنے والا نہیں ہے۔
ایھا الناس! کوئی قریہ ایسا نہیں ہے جسے اللہ اس کی تکذیب کی بناء پر ہلاک نہ کردے وہ اسی طرح ظالم بستیوں کو ہلاک کرتا رہا ہے۔ علی ؑ تمہارے امام اور حاکم ہیں یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ صادق الوعد ہے۔
ایھا الناس! تم سے پہلے بہت سے لوگ گمراہ ہوچکے ہیں اور اللہ ہی نے ان لوگوں کو ہلاک کیا ہے اور وہی بعد کے ظالموں کو ہلاک کرنے والا ہے۔
ایھا الناس! اللہ نے امر و نہی کی مجھے ہدایت کی ہے اور میں نے اسے علی ؑ کے حوالہ کردیا ہے وہ امر و نہی الٰہی سے باخبر ہیں۔ ان کے امر کی اطاعت کرو تاکہ سلامتی پاؤ، ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ۔ ان کے روکنے پر رک جاؤ تاکہ راہ راست پر آجاؤ۔ ان کی مرضی پر چلو اور مختلف راستوں پر منتشر نہ ہوجاؤ۔ میں وہ صراط مستقیم ہوں جس کے اتباع کا خدا نے حکم دیا ہے۔ پھر میرے بعد علی ؑ ہیں اور ان کے بعد میری اولاد جو اِن کے صلب سے ہے۔ یہ سب وہ امام ہیں جو حق کے ساتھ ہدایت کرتے ہیں اور حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔ الحمد للہ رب العالمین (سورہ حمد کی تلاوت کرنے کے بعد آپ نے فرمایا) یہ سورہ میرے اور میری اولاد کے بارے میں نازل ہوا ہے، اس میں اولاد کے لیے عمومیت بھی ہے اور اولاد کے ساتھ خصوصیت بھی ہے ۔ یہی میری اولاد وہ الیاء ہیں جن کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ کوئی حزن! یہ حزب اللہ ہیں جو ہمیشہ غالب رہنے والے ہیں۔ آگاہ ہوجاؤ کہ دشمنان علی ؑ ہی اہل تفرقہ ، اہل تعدی اور برادرانِ شیطان ہیں جن میں ایک دوسرے کی طرف مہمل باتوں کے خفیہ اشارے کرتا رہتا ہے۔ آگاہ ہوجاؤ کہ ان کے دوست ہی مومنین برحق ہیں جن کا ذکر پروردگار نے اپنی کااب میں کیا ہے۔ "تم کسی ایسی قوم جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو نہ دیکھو گے کہ وہ اللہ اور رسول کے دشمنوں سے محبت رکھیں " آگاہ ہوجاؤ کہ ان کے دوست ہی وہ افراد ہیں جن کی توصیف پروردگار نے اس انداز سے کی ہے۔ "جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہیں کیا انہیں کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں"۔ آگاہ ہوجاؤ کہ ان کے دوست ہی وہ ہیں جو جنت میں امن و سکون کے ساتھ داخل ہوں گے۔ اور ملائکہ سلام کے ساتھ یہ کہہ کے ان کا استقبال کریں گے تم طیب و طاہر ہو، لہذا جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے داخل ہوجاؤ"۔
آگاہ ہوجاؤ کہ ان کے دوست ہی وہ ہیں جن کے بارے میں ارشاد الٰہی ہے کہ "یہ جنت میں بغیر حساب داخل ہوں گے"۔
آگاہ ہوجاؤ کہ ان کے دشمن ہی وہ ہیں جو جہنم میں تپائے جائیں گے اور جہنم کی آواز اس عالم میں سنیں گے کہ اس کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور ہر داخل ہونے والا گروہ دوسرے گروہ پر لعنت کرے گا۔
آگاہ ہوجاؤ کہ ان کے دشمن ہی وہ ہیں کہ جن کے بارے میں پروردگار کا فرمان ہے کہ کوئی گروہ داخل جہنم ہوگا تو جہنم کے خازن سوال کریں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟
آگاہ ہوجاؤ کہ ان کے دوست وہی ہیں جو اللہ سے از غیب ڈرتے ہیں اور انہیں کے لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔
ایھا الناس! دیکھو جنت و جہنم میں کتنا بڑا فاصلہ ہے۔ ہمارا دشمن وہ ہے جس کی اللہ نے مذمت کی ، اس پر لعنت کی ہے اور ہمارا دوست وہ ہے جس کو اللہ دوست رکھتا ہے اور اس کی تعریف کی ہے۔
ایھا الناس! آگاہ ہوجاؤ کہ میں ڈرانے والا ہوں اور علی ؑ ہادی ہیں۔
ایھا الناس! میں نبی ہوں اور علی ؑ میرے وصی ہیں۔ یاد رکھو کہ آخری امام ہمارا ہی قائم مہدیؑ ہے۔ وہی ادیان پر غالب آنے والا اور ظالموں سے انتقام لینے والا ہے، وہی قلعوں کا فتح کرنے والا اور ان کا منہدم کرنے والا ہے۔ وہی مشرکین کے ہر گروہ کا قاتل اور اولیاء اللہ کے ہر خون کا انتقام لینے والا ہے، وہی دین خدا کا مددگار اور ولایت کے عمیق سمندر سے سیراب کرنے والا ہے۔ وہی ہر صاحب فضل پر اس کے فضل اور ہر جاہل پر اس کی جہالت کا نشان لگانے والا ہے۔
آگاہ ہوجاؤ کہ وہی اللہ کا منتخب اور پسندیدہ ہے۔ وہی ہر علم کا وارث اور اس پر احاطہ رکھنے والا ہے، وہی رشید اور صراط مستقیم پر چلنے والا ہے، اسی کو اللہ نے اپنا قانون سپرد کیا ہے اور اسی کی بشارت دور سابق میں دی گئی ہے، وہی حجت باقی ہے اور اس کے بعد کوئی حجت نہیں ہے۔ ہر حق اس کے ساتھ ہے اور ہر نور اس کے پاس ہے۔ اس پر غالب آنے والا کوئی نہیں ہے۔ وہ زمین پر خدا کا حاکم، مخلوقات میں اس کی طرف سے حکم اور خفیہ اور اعلانیہ ہر مسئلہ میں اس کا امین ہے۔
ایھا الناس! میں نے سب بیان کر دیا اور سمجھا دیا، اب میرے بعد علی ؑ تمہیں سمجھائیں گے۔ آگاہ ہوجاؤ! کہ میں تمہیں خطبہ کے اختتام پر اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ پہلے میرے ہاتھ پر ان کی بیعت کا اقرار کرو، اس کے بعد ان کے ہاتھ پر بیعت کرو۔ میں نے اللہ کے ہاتھ اپنا نفس بیچا ہے اور میں تم سے علی ؑ کی بیعت لے رہا ہوں۔ جو اس بیعت کو توڑ دے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔
ایھا الناس! یہ حج اور عمرہ، اور یہ صفا و مروہ سب شعائر اللہ ہیں، لہذا حج اور عمرہ کرنے والے کا فرض ہے کہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرے۔
ایھا الناس! خانۂ خدا کا حج کرو، جو لوگ یہاں آجاتے ہیں وہ بے نیاز ہوجاتے ہیں، اور جو اس سے الگ ہوجاتے ہیں وہ محتاج ہوجاتے ہیں۔
ایھا الناس! کوئی مومن کسی موقف میں وقوف نہیں کرتا مگر یہ کہ خدا اس وقت تک کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ لہذا حج کے بعد اسے از سر نو نیک اعمال کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے۔
ایھا الناس! حجاج خدا کی طرف سے محل امداد ہیں اور ان کے اخراجات کا اس کی طرف سے معاوضہ دیا جاتا ہے اور اللہ کسی کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ہے۔
ایھا الناس! پورے دین اور معرفت احکام کے ساتھ حج بیت اللہ کرو اور جب وہاں سے واپس ہو تو مکمل توبہ اور ترک گناہ کے ساتھ۔
ایھا الناس! نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو جس طرح کہ اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ اگر وقت زیادہ گذر گیا ہے اور تم نے کوتاہی و نسیان سے کام لیا ہے تو علی ؑ تمہارے ولی اور تمہارے لیے وہ احکام کے بیان کرنے والے ہیں جن کو اللہ نے میرے بعد معین کیا ہے اور میرا جانشین بنایا ہے وہ تمہیں ہر سوال کا جواب دیں گے اور جو کچھ تم نہیں جانتے ہو سب بیان کردیں گے۔ آگاہ ہوجاؤ کہ حلال و حرام اتنے زیادہ ہیں کہ سب کا احصاء اور بیان ممکن نہیں ہے۔ لہذا میں تمام حلال و حرام کی امر و نہی اس مقام پر یہ کہہ کر بیان کر دیتا ہوں کہ میں تم سے علی ؑ کی بیعت لے لوں اور تم سے یہ عہد لے لوں کہ جو پیغام علی ؑ اور ان کے بعد کے آئمہ کے بارے میں خدا کی طرف سے لایا ہوں، تم ان سب کا اقرار کرلو۔
"کہ یہ سب مجھ سے ہیں اور ان میں ایک امت قیام کرنے والی ہے جن میں سے مہدی ؑ بھی ہے جو قیامت تک حق کے ساتھ فیصلہ کرتا رہے گا۔"
ایھا الناس! میں نے جس جس حلال کی رہنمائی کی ہے اور جس جس حرام سے روکا ہے کسی سے نہ رجوع کیا ہے اور نہ ان میں کوئی تبدیلی کی ہے۔ لہذا تم اسے یاد رکھو اور محفوظ کرلو، ایک دوسرے کو نصیحت کرتے رہو اور کسی طرح کی تبدیلی نہ کرنا۔ آگاہ ہوجاؤ کہ میں پھر دوبارہ کہہ رہا ہوں کہ نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، نیکیوں کا حکم دو، برائیوں سے روکو، اور یہ یاد رکھو کہ امر بالمعروف کی اصل یہ ہے کہ میری بات کی تہہ تک پہنچ جاؤ اور جو لوگ نہیں ہیں ان تک پہنچاؤ اور اس کے قبول کرنے کا حکم دو اور اس کی مخالفت سے منع کرو۔ اس لیے کہ یہی اللہ کا حکم ہے اور یہی میرا حکم بھی ہے اور امام معصوم کو چھوڑ کر نہ کوئی واقعی امر بالمعروف ہوسکتا ہے اور نہ ہی عن المنکر۔
ایھا الناس! قرآن نے بھی تمہیں سمجھایا ہے کہ علی ؑ کے بعد امام ان کی اولاد ہے اور میں نے بھی سمجھایا ہے یہ سب میرے اور علی ؑ کے اجزاء ہیں جیسا کہ پروردگار نے فرمایا ہے کہ اللہ نے انہیں اولاد میں کلمہ باقیہ قرار دے دیا ہے۔ اور میں نے بھی کہا کہ جب تک تم قرآن اور عترت سے متمسک رہو گے گمراہ نہ ہوگے۔
ایھا الناس! تقویٰ اختیار کرو تقوی، قیامت سے ڈرو کہ اس کا زلزلہ بڑی عظیم شے ہے۔ موت، حساب، اللہ کے بارگاہ کا محاسبہ، ثواب اور عذاب سب کو یاد کرو کہ وہاں نیکیوں پر ثواب ملتا ہے اور برائی کرنے والے کا جنت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔
ایھا الناس! تم اتنے زیادہ ہو کہ ایک ایک میرے ہاتھ پر ہاتھ مار کر بیعت نہیں کرسکتے ہو۔ لہذا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہاری زبان سے علی ؑ کے امیر المومنین ہونے اور ان کے بعد کے ائمہ جو اِن کے صلب سے میری ذریت ہیں سب کی امامت کا اقرار لے لوں، لہذا تم سب مل کر کہو ہم سب آپ کی بات کے سننے والے، اطاعت کرنے والے، راضی رہنے والے اور علی ؑ اور اولاد علی ؑ کے بارے میں جو پروردگار کا پیغام پہنچایا ہے اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے ہیں۔ ہم اس بات پر اپنے دل، اپنی روح، اپنی زبان اور اپنے ہاتھوں سے بیعت کر رہے ہیں، اسی پر زندہ رہیں گے، اسی پر مریں گے اور اسی پر دوبارہ اٹھیں گے۔ نہ کوئی تغیر و تبدیلی کریں گے اور نہ کسی شک و ریب میں مبتلا ہوں گے، نہ عہد سے پلٹیں گے نہ میثاق کو توڑیں گے۔ اللہ کی اطاعت کریں گے۔ آپ کی اطاعت کریں گے اور علی ؑ امیر المومنین اور ان کی اولاد ائمہ ؑ جو آپ کی ذریت میں ہیں ان کی اطاعت کریں گے۔ جن میں سے حسن ؑ و حسین ؑ کی منزلت کو اور ان کے مرتبہ کو اپنی اور خدا کی بارگاہ میں تمہیں دکھلا دیا ہے اور یہ پیغام پہنچا دیا ہے کہ دونوں جوانان جنت کے سردار ہیں اور اپنے باپ علی ؑ کے بعد امام ہیں اور میں علی ؑ سے پہلے ان دونوں کا باپ ہوں۔ اب تم لوگ یہ کہو کہ ہم نے اس بات پر اللہ کی اطاعت کی، آپ کی اطاعت کی اور علی ؑ ، حسنؑ ، حسین ؑ او ائمہ ؑ جن کا آپ نے ذکر کیا ہے اور جن کے بارے میں ہم سے عہد لیا ہے سب کی دل و جان سے اور دست و زبان سے بیعت کی ہے۔ ہم اس کا کوئی بدل پسند نہیں کریں گے اور نہ اس میں کوئی تبدیلی کریں گے۔ اللہ ہمارا گواہ ہے اور وہی گواہی کے لیے کافی ہے اور آپ بھی ہمارے گواہ ہیں اور ہر ظاہر و باطن اور ملائکہ اور بندگان خدا سب اس بات کے گواہ ہیں اور اللہ ہر گواہ سے بڑا گواہ ہے۔
ایھا الناس! اب تم کیا کہتے ہو؟ یاد رکھو کہ اللہ ہر آواز کو جانتا ہے اور ہر نفس کی مخفی حالت سے باخبر ہے، جو ہدایت حاصل کرے گا وہ اپنے لیے اور جو گمراہ ہوگا وہ اپنا نقصان کرے گا ۔ جو بیعت کرے گا اس نے گویا اللہ کی بیعت کی ہے، اس کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ ہے۔
ایھا الناس! اللہ سے ڈرو ، علی ؑ کے امیر المومنین ہونے اور حسن ؑ و حسین ؑ اور ائمہ ؑ کے کلمۂ باقیہ ہونے کی بیعت کرو۔ جو غداری کرے گا اسے اللہ ہلاک کردے گا اور جو وفا کرے گا اس پر رحمت نازل کرے گا اور جو عہد کو توڑ دے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔
ایھا الناس! جو میں نے کہا ہے وہ کہو اور علی ؑ کو امیر المومنین کہہ کر سلام کرو اور یہ کہو کہ پروردگار ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ ہمیں تیری مغفرت چاہیے اور تیری ہی طرف ہماری بازگشت ہے اور یہ کہو کہ شکر پروردگار ہے کہ اس نے ہمیں اس امر کی ہدایت دی ہے ورنہ اس کی ہدایت کے بغیر ہم راہ ہدایت نہیں پاسکتے تھے۔
ایھا الناس! علی ؑ ابن ابی طالب کے فضائل اللہ کی بارگاہ سے ہیں اور اس نے قرآن میں بیان کیا ہے اور اس سے زیادہ ہیں کہ میں ایک منزل پر شمار کراسکوں۔ لہذا جو بھی تمہیں خبر دے اور ان فضائل سے آگاہ کرے اس کی تصدیق کرو۔ یاد رکھو جو اللہ، رسولؐ، علی ؑ اور ائمہ ؑ مذکورین کی اطاعت کرے گا وہ بڑی کامیابی کا مالک ہوگا۔
ایھا الناس ! جو علی ؑ کی بیعت، ان کی محبت اور انہیں امیر المومنین کہہ کر سلام کرنے میں سبقت کریں گے، وہی جنت نعیم میں کامیاب ہوں گے۔ ایھا الناس! وہ بات کہو جس سے تمہارا خدا راضی ہوجائے ورنہ تم اور تمام اہل زمین بھی منکر ہوجائیں تو اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ پروردگار مومنین و مومنات کی مغفرت فرما اور کافرین پر اپنا غضب نازل فرما۔
والحمد لله رب العالمین
____________________
۱ ۔نہج البلاغہ، مکتوب نمبر ۴۷:ابن ملجم (لعنہ اللہ) جب آپ کو ضربت لگا چکا تو آپؑ نے امام حسن ؑ و امام حسین ؑ کو وصیت کرتے ہوئے یہ جملہ فرمایا اور اس کا ترجمہ یہ ہے: ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار بنے رہنا۔ میں تم کو اور اپنی تمام اولاد کو اور جن تک میرا یہ نوشتہ پہنچے سب کو وصیت کرتا ہوں لہذا امیر المومنین ؑ نے سب سے پہلے دشمنان اسلام سے جنگ کرکے اور مظلوموں کی مدد فرما کر اپنے اس فرمان کا عملی نمونہ پیش کیا۔
۲ ۔صحیح مسلم،ج ۶، ص ۱۹، کتاب الامارہ، باب الامر بالصبر عند ظلم الولاۃ؛ سنن بیہقی، ج۸، ص ۱۵۸۔
۳ ۔سنن بیہقی، ج۸، ص ۱۵۹؛ المصنف لابن ابی شیبہ، ج۱۷، ص ۷۳۷؛ الدر المنثور، ج۲، ص ۱۷۷؛ کنز العمال، ج۵، ص ۷۷۸۔
۴ ۔مناقب ابن شہر آشوب، ج۳، ص ۲۲۴؛ بحار الانوار، ج۴۴، ص ۱۹۲۔
۵ ۔شرح صحیح مسلم النواوی، ج۱۲، ص ۲۲۹؛ شرح المقاصد، تفتازانی، ج۲، ص ۷۱؛ المواقف، قاضی الایجی، ج۸، ص ۳۴۹۔
۶ ۔تحریر الوسیلہ، آیت اللہ خمینی، ج۱، ص ۴۵۰۔
۷ ۔مجلہ تراثنا۶، ص ۳۲، مقالہ موقف الشیعہ من ہجمات الخصوم۔
۸ ۔مجلہ میقات، ش ۴۳، ص ۱۹۸، نقل از روزنامہ عکاظ، مورخہ ۸۱۔ ۹۔ ۱۱۔ (۲۰۰۳۔ ۱۲۔ ۲)۔
۹ ۔جریدة الرأی العام الکویتیه بتاریخ ۲۰۰۱۔ ۶۔ ۳۰ یہ نامہ انٹرنیٹ کی مختلف سائٹس پر قرار دیا گیا ہے۔
۱۰ ۔و جاء دور المجوس، ص ۳۵۷۔
۱۱ ۔و جاء دور المجوس، ص ۳۷۴۔
۱۲ ۔اصول مذہب الشیعۃ الامامیۃ، ج۳، ص ۱۳۹۲۔
۱۳ ۔المنہج الجدید و الصحیح فی الحوار مع الوہابیین، ص ۱۷۸۔
۱۴ ۔المنہج الجدید و الصحیح فی الحوار مع الوبیین، ص ۱۷۸۔
۱۵ ۔مقدمۂ کتاب الشیعۃ الامامیۃ فی میزان الاسلام، ص ۵۔
۱۶ ۔مقدمه کتاب من سبّ الصحابة و معاویه فأمه هاویه، ص ۴
۱۷ ۔مقدمہ اصول مذہب الشیعۃ الامامیۃ الاثنی عشریہ ، ج۱، ص ۹۔
۱۸ ۔انتصار الحق، ص ۱۱ و ۱۴۔
۱۹ ۔سورہ احزاب، آیت ۲۱۔
۲۰ ۔المناظرات فی الامامۃ، ص ۲۴۶ و ص ۲۵۹؛ قصص العلماء، ص ۳۹۱، مناظرہ شیخ صوق با ملک رکن الدولہ اور مناظرہ مامون با علمائے اہل سنت۔
۲۱ ۔تفسیر قرطبی، ج۱، ص ۲۶۸۔
۲۲ ۔عون المعبود، عظیم آبادی، ج۸، ص ۱۰۶؛ کنز العمال، ج۸، ص ۲۶۸؛ الطبقات الکبریٰ، ابن سعد، ج۴، ص ۲۰۹؛ الاصابۃ، ج۴، ص ۴۹۵؛ المغنی، ابن قدامۃ، ج۲، ص ۳۰۔
۲۳ ۔التنبیہ و الاشرف، مسعودی، ۲۱۱، ۲۱۳، ۲۱۴، ۲۱۵، ۲۱۶، ۲۱۷، ۲۱۸، ۲۲۱، ۲۲۵، ۲۲۸، ۲۳۱، ۲۳۵؛ تاریخ خلیفہ بن خیاط، ص ۶۰۔
۲۴ ۔جتنے موارد کی ہم نے نشاندہی کی ہے بتائیے کون سا ایسا موقع تھا کہ جب پیغمبر اکرم (ﷺ) نے کسی کو اپنا جانشین معین نہ کیا ہو یا یہ کہ امت میں سے کسی ایک سے اپنے جانشین کے بارے میں مشورہ لیا ہو؟۔
۲۵ ۔تاریخ مدینہ دمشق ۴۲، ۳۹۲؛ الریاض النضرۃ ۳، ۱۳۸ (ج۲، ص ۱۷۸)؛ ذخائر العقبیٰ، ص ۷۱؛ مناقب خوارزمی، ۴۲، ۸۵۔
۲۶ ۔المعجم الکبیر ۶، ۲۲۱؛ مجمع الزوائد۹، ۱۱۳؛ فتح الباری ۸، ۱۱۴۔
۲۷ ۔سورہ انعام، آیت ۹۰۔
۲۸ ۔سورہ توبہ، آیت ۱۲۸۔ یقیناً تمہارے پاس وہ پیغمبر (ص) آیا ہے جو تمہیں میں سے ہے اور اس پر تمہاری ہر مصیبت شاق ہوتی ہے وہ تمہاری ہدایت کے بارے میں حرص رکھتا ہے اور مومنین کے حال پر شفیق اور مہربان ہے۔
۲۹ ۔فجر الاسلام، ۲۲۵۔
۳۰ ۔مقدمۂ ابن خلدون، ۱۸۷۔
۳۱ ۔صحیح مسلم ۶/ ۵ (۳، ۱۸۲۳)، کتاب الامار، باب الاستخلاف او ترکہ؛ مسند احمد۱، ۴۷؛ المصنف: عبد الرزاق۵، ۴۴۸۔
۳۲ ۔الامامۃ و السیاسۃ۱، ۴۲، بتحقیق الشیری اور ۱، ۸۲ بتحقیق الزینی۔
۳۳ ۔تاریخ طبری۴، ۲۲۶؛ الامامۃ و السیاسۃ ۱، ۲۰۶، بتحقیق الشیری اور ۱، ۱۵۹ بتحقیق الزینی۔
۳۴ ۔وقال عبد الله ابن عمر لابیه: لو استخلفت؟ قال: من؟ قال: تجتهد فانک لست لهم برب تجتهد أ رأیت لو انک بعثت اِلیٰ قیّم أرضک ألم تکن تحب أن یستخلف مکانه یرجع اِلیٰ الارض؟ قال: بلیٰ، قال: أ رأیت لو بعثت اِلیٰ راعی غنمک ألم تکن تحب أن یستخلف رجلاً حتی یرجع؟ ۔ طبقات ابن سعد، ج۳، ص ۳۴۲؛ تاریخ مدینہ دمشق، ج۴۴، ص ۴۳۵۔
۳۵ ۔سورہ مائدہ، آیت ۳۔
۳۶ ۔صحیح مسلم۵، ص ۷۰، اول کتاب الوصیۃ۔
۳۷ ۔سورہ صف، آیت ۲ و ۳۔
۳۸ ۔صحیح بخاری ۳، ص ۱۸۶، کتاب الجہاد ۵، ص ۱۴۴، باب مرض النبی من کتاب؛ المغازی۶، ص ۱۰۸، باب الوصاۃ بکتاب اللہ۔
۳۹ ۔مسند احمد بن حنبل ۴، ص ۳۵۴؛ فتح الباری ۵، ص ۲۶۸؛ تحفة الأحوذی۶، ص ۲۵۷
۴۰ ۔سورہ بقرہ، آت ۴۴۔
۴۱ ۔قال أبوبکر فی اوائل خلافته :اِنَّ بَیعتی کانت فَلتَةً وَقَی اللهُ شرَّها و خشیت الفتنة ۔ شرح نہج البلاغہ، لابن ابی الحدید۶، ۴۷ بتحقیق محمد ابو الفضل؛ انساب الاشراف للبلاذری: ۱، ۵۹۰۔
۴۲ ۔قال ابن الاثیر: أراد بالفلتة الفَجأَةَ، ومثل هذا البیعة جدیرة بأن تکون مهیّجة للشر ۔ النہایہ فی غریب الحدیث۳، ۴۶۷۔
۴۳ ۔شرح نہج البلاغۃ، ابن ابی الحدید۲، ۲۶؛ صحیح بخاری، ج۸، ص ۲۶، کتاب المحاربین، باب رجم الحبلی من الزنا؛ مسند احمد ج۱، ص ۵۵۔
۴۴ ۔النہایۃ فی غریب الحدیث ۳، ۴۶۷۔
۴۵ ۔اور کسی مومن مرد یا عورت کو اختیار نہیں ہے کہ جب خدا و رسول (ﷺ) کسی امر کے بارے میں فیصلہ کر دیں تو وہ بھی اپنے امر کے بارے میں صاحب اختیار بن جائے اور جو بھی خدا و رسول (ﷺ) کی نافرمانی کرے گا وہ بڑی کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہوگا۔سورہ احزاب، آیت ۳۶۔
۴۶ ۔صحیح بخاری۱/ ۳۶، ۲/ ۸۱، ۴/ ۱۴۵، ۷/ ۱۱۸؛قال ابن الجوزی رواه من الصحابه ثمانیة وتسعون نفسا ؛ ابن جوزی کہتے ہیں کہ اس روایت کو ۹۸ صحابہ سے نقل کیا ہے؛ الموضوعات: ۱/ ۵۷؛و قال النووی: قال نعضهم : رواه مائتان من الصحابه ،نواوی کہتے ہیں: یہ روایت ۲۰۰ صحابہ سے نقل کی ہے۔ شرح مسلم للنوی ۱۳ٰ ۶۸۔
۴۷ ۔صحیح بخاری: ۷/ ۹، کتاب المرضی باب قول المریض، قوموا عنّی: ۵/ ۱۳۷؛ کتاب المغازی، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔و وفاتہ۔ صحیح مسلم فی آخر کتاب الوصیۃ، ج۵/ ۷۶۔
۴۸ ۔سورہ کہف، آیت ۵ (بہت بڑی بات ہے جو ان کے منھ سے نکل رہی ہے)۔
۴۹ ۔عن ابن عباس قال: (یوم الخمیس وما یوم الخمیس) ثم جعل تسیل دموعه حتی رأیت علیٰ خدّیه کانها نظام اللؤلؤ قال: قال رسول الله اِئتونی بالکتف والدواة (او اللوح و الدواة) کتب لکم کتابا لن تضلوا بعدی أبدا فقالوا: ان رسول الله (صلی الله علیه وسلم) یهجرصحیح مسلم، ج۵، ص ۷۶، کتاب الوصیة باب ترک الوصیة لمن لیس عنده شئی؛ صحیح بخاری، ۴، ص ۳۱، کتاب الجہاد و السیر۔
۵۰ ۔سورہ نجم، آیت ۴۔
۵۱ ۔سورہ حشر۵۹، آیت ۷۔
۵۲ ۔سورہ حجرات۴۹، آیت ۲۔
۵۳ ۔سورہ نساء، آیت ۶۵۔
۵۴ ۔صحیح بخاری، ج۷، ص ۹، کتاب المرضی ، باب قول المریض قوموا عنی؛ صحیح مسلم ، ج۵، ص ۷۵ آخر کتاب الوصیۃ۔
۵۵ الطبقات الکبریٰ لابن سعد، ج۲، ص ۲۴۴؛ المعجم الأوسط للطبرانی: ۵/ ۲۸۸؛ مجمع الزوائد للهیثمی الشافعی: ۹/ ۳۴؛ کنز العمال: ۵/ ۶۴۴، ح ۱۴۱۳۳
۵۶ ۔صحیح بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب و السنہ، باب کراہیۃ الخلاف، ج۸، ص ۱۶۱۔
۵۷ ۔صحیح بخاری، ج۷، ص ۹، کتاب المرضی ، باب القول المریض قوموا عنی۔
۵۸ ۔سورہ احزاب، آیت ۵۷؛ یقیناً جو لوگ خدا اور اس کے رسول (ﷺ) کو ستاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں خدا کی لعنت ہے اور خدا نے ان کے لیئے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے۔
۶۰ صحیح بخاری:۱، ۱۶۲، کتاب الاذان با وجوب صلاة الجماعة، ص ۱۶۵، باب اهل العلم و الفضل أحق بالامامة
۶۱ ۔کما عن احمد بن حنبل بأنّه انما قدّمه من هو أقرألفهم الصحابة من تقدیمه فی الامامة الصغریٰ استحقاقه للامامة الکبریٰ، و تقدیمه فیها علی غیره کشاف القناع للبیهقی، ج۱، ص ۵۷۳؛ المواقف ، ج۸، ص ۳۶۵ ۔
۶۲ ۔لمّا حضرت أبا بکر الصدیق الوفاة عا عثمان بن عفان فأملی علیه عهده، ثم اغمی علی ابی بکر قبل أن یملی أحد فکتب عثمان عمر بن الخطاب فأفاق أبوبکر فقال لعثمان کتبت أحدا؟ فقال ظننتک لما بک و خشیت الفرقه فکتبت عمر ابن خطاب فقال: یرحمک الله، أَما کتبت نفسک لکنت لها أهلَا ۔
کنز العمال، ج۵، ص ۶۸۷؛ تاریخ طبری ۲/ ۳۵۳؛ تاریخ مدینہ دمشق، ابن عسکر، ج۳۹، ۱۸۶ و ج۴۴، ۲۴۸؛ سیرۃ عمر، ابن جوزی، ۳۸؛ تاریخ ابن خلدون: ۲/ ۸۵۔
۶۳ ۔تاریخ طبری: ۲، ۶۱۸۔
۶۴المعجم الاوسط: ۷/ ۳۷۰؛ جامع الصغیر، سیوطی: ۲/ ۴۸۱؛ مجمع الزوائد: ۱/ ۱۵۷؛ ذهبی، سیر أعلام النبلاء: ۴/ ۳۱۱؛ تذکرة الحفاظ: ۱/ ۸۷، عن شعبی و لیس فی سنده موسیٰ بن عبیدة
۶۵ ۔صحیح بخاری ۸/ ۲۶، کتاب المحاربین، باب رجم الحبلی من الزنا۔
۶۶ ۔مارودی، الاحکام السلطانیہ: ۳۳؛ ابو یعلی محمد بن الحسن الفراء، الاحکام السلطانیہ: ۱۱۷۔
۶۷ ۔جامع الاحکام القرآن، ج۱، ۲۷۲۔ ۲۶۹۔
۶۸ ۔الارشاد فی الکلام ۴۲۴، باب فی الاختیار وصفتہ و ذکر ما تنعقد الامامۃ۔
۶۹ ۔المواقف فی علم الکلام: ۸/ ۳۵۱۔
۷۰ ۔شرح سنن ترمذی: ۱۳/ ۲۲۹۔
۷۱ ۔صحیح بخاری، ج۸، ص ۲۶، کتاب المحاربین باب رجم الحبلی من الزانا۔
۷۲ ۔صحیح مسلم، ج۵، ص ۱۵۲، کتاب الجہاد، باب ۱۵، حکم الفی حدیث ۴۹۔
۷۳ ۔عن عمر بن الخطاب انه قال :لصهیب: صلِّ بالناس ثلاثة ایام، و ادخل علیا و عثمان و الزبیر و سعداَ و عبد الرحمن بن عوف و طلحة، ان قدم و اَحضر عبد الله بن عمر، ولا شیء له من الأمر، و قم علیٰ رؤوسهم فان اجتمع خمسة و رضوا رجلاً و ابی واحد، فاشدخ رأسه، او اضرب رأسه بالسیف، و ان اتفق اربعة فرضوا ارجلا و ابی اثنان فاضرب رؤوسهما فان رضی ثلاثة رجلا منهم، و ثلاثة رجلا منهم، فحکموا عبد الله ابن عمر، فأی الغریقین حکم له فلیختا روا رجلا منهم، فان لم یرضوا بحکم عبد الدین عمر فکونوا مع الذین فیم عبد الرحمن بن عوف و اقتلوا الباقین ان رغبوا عما اجتمع علیه الناس ۔ (تاریخ طبری: ۳/ ۲۹۴؛ تاریخ المدینۃ لابن شبۃ النمیری: ۳/ ۹۲۵؛ الکامل لابن الاثیر: ۳/ ۳۵)۔
۷۴ ۔صحیح البخاری: ۴/ ۲۱۰؛ و فی روایة مسلم: "انما فاطمة بضعة منی یؤذینی ما آذاها؛ صحیح مسلم ج۷/ ۱۴۱؛ روی الحاکم عن علی علیه السلام قال: "قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم لفاطمة اِنّ الله یغضب لغضبک، و یرضی لرضاک" ثم قال: هذا حدیث صحیح الاسناد و لم یخرجاه؛ المستدرک: ۳/ ۱۵۳ (لیس فیه ذکر خطبة بنت ابی جهل)؛ مجمع الزوائد: ۹/ ۲۰۳؛ تاریخ مدینه دمشق: ۳/ ۱۵۳؛ أسد الغابة: ۵/ ۵۲۲؛ الاصابة: ۸/ ۲۶۵، ۲۶۶؛ تهذیب التهذیب: ۱۲/ ۳۹۲؛ صحیح بخاری: ۴/ ۲۱۰؛ صحیح مسلم: ۷/ ۱۴۱؛ المصنف لابن ابی شیبه الکوفی: ۷/ ۵۲۶؛ السنن الکبری للنسائی: ۵/ ۹۷، ح ۸۳۷۰؛ المعجم الکبیر للطبرانی: ۲۲/ ۴۰۴، ۱/ ۱۰۸؛ الجامع الصغیر للسیوطی: ۲/ ۲۰۸
۷۵ ۔صحیح بخاری: ۴/ ۴۲؛ صحیح مسلم: ۵/ ۱۵۴، فیہ:فهجرته فلم تکلّمه حتی توفیت و عاشت بعد رسول الله صلی الله علیه وسلم ستة أشهر فلماتوفیت دفنها زوجها علی ابن ابی ط۷۶الب لیلاً و لم یؤذن بہا ابابکر و صلی علیہا علی۔
۷۶ ۔سورہ احزاب، آیت ۵۷۔
۷۷ ۔فیض القدیر، شرح الجامع الصغیر للمناوی: ۴/ ۵۵۴۔
۷۸ ۔فتح الباری: ۷/ ۸۲؛ شرح المواہب للزرقانی المالکی ۳/ ۲۰۵۔
۷۹ ۔فیض القدیر شرح الجامع الصغیر للمناوی: ۶/ ۲۴، ح ۸۲۷۔
۸۰ ۔السقیفہ و فدک للجوہری ۱۰۴؛ شرح نہج البلاغہ لابن ابی الحدید: ۱۶/ ۲۱۵؛ دلائل الامامۃ للطبری ۱۲۳۔
۸۱(قال ابن ابی الحدید: قلت: قرأت هذا الکلام علی النقیب ابی یحیی جعفر ابن یحیی ابن ابی زید البصری و قلت له: من یعرض؟ فقال: بل یصرّح قلت: لو صرح لم أسالک فضحک و قال: بعلی بن ابی طالب علیه السلام، قلت هذا الکلام کلّه لعلی یقوله ؟!قال: نعم، انّه الملک یا بنیّ قلت: فما مقالة الانصار؟ قال: هتفوا بذکر علی، فکاف من اصطراب الامر علیهم، فنها هم و ثعالة: اسم الثعلب علم غیر مصروف، و مثل زؤاله للذئب، و شهیده ذنبه، ای لا شاهد له علی ما یدّعی الا بعضه و جزء منه، و اصله مثل قالوا: ان الثعب اراد ان یغری الاسد بالذئب، فقال :انه قد اکَل الشاة التی کنت قد اعدد تها لنفسک، و کنت حاضراً، قال فیمن یشهد لک بذالک؟ فرفع ذنبه و علیه دم، و کان الاسد قد فتقد الشاة، فقبل شهادة و قتل الذئب و امّ طحال امرأة بغی فی الجاهلیة، و یضرب بها المثل فیقال: أزنی من أمّ طحال ، شرح نہج البلاغہ: ۱۶/ ۲۱۵۔
۸۲ ۔جو بغیر امام کے مر جائے وہ جاہلیت کی موت مرا۔ مسند احمد: ج۴/ ۹۶؛ المعجم الکبیر للطبرانی: ج۱۹/ ۳۸۸؛ مجمع الزوائد الہیثمی، ج۵/ ۲۱۸؛ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۹/ ۱۵۵؛ انہوں نے کہا ہے: (اصحابنا کافة قائلون بصحة هذه القضیة )۔
۸۳ ۔صحیح بخاری: ج۸/ ۱۰۵، کتاب الاحکام باب السمع و الطائۃ الامام۔
۸۴ ۔صحیح مسلم: ۶/ ۲۱،کتاب الأمارة باب الأمر بلزوم الجماعة ۔
۸۵ ۔فی صحیح البخاری: قال رسول الله یا فاطمة الا ترضین ان تکونی سیدة نساء المومنین او سیدة نساء هذه الامة صحیح بخاری: ۷/ ۱۴۲، کتاب بدء الخلق باب علامات النبوة، کتاب الاتسئذان، باب من ناجی بین یدی الناس، صحیح مسلم، ج۷/ ۱۴۳، کتاب فضائل الصحابہ، باب (۱۵) باب من فضائل فاطمۃ بنت النبی (ﷺ) ح: ۹۹ اور اس طرح یہ بھی وارد ہوا: فاطمۃ سیدۃ نساء اہل الجنۃ۔ صحیح بخاری: ۴/ ۲۰۹، ۲۱۹۔
۸۶ ۔سورہ بقرہ، آیت ۱۲۴۔
۸۷ ۔سورہ ص، آیت ۲۶۔
۸۸ ۔سورہ طہ، آیت ۲۹، ۳۶۔
۸۹ ۔سورہ طہ، آیت ۲۹، ۳۶۔
۹۰ ۔سورہ سجدہ، آیت ۲۴۔
۹۱ ۔الثقات لابن حبان: ۱/ ۸۹؛ البدایۃو النہایۃ لابن کثیر، ج۳/ ۱۷۱۔
۹۲ ۔مع المصطفی للدکتورۃ بنت الشاطی، ۱۶۱؛ سیرہ ابن ہشام، ج۲، ص ۲۸۹؛ السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، ج۲، ص ۱۵۷۔
۹۳ ۔طبقات ابن سعد:۱/ ۲۶۲؛ نصب الرایۃ لزیعلی: ۶/ ۵۶۷۔
۹۴ ۔صحیح بخاری: ۸/ ۷۸، اول کتاب الفتن؛ صحیح مسلم، ج۶، ص ۲۱،کتاب الامارة، باب الامر بلزوم الجماعة عند ظهور الفتن ۔
۹۵ ۔مسند احمد:: ۵/ ۱۸۰؛ سنن ابی داؤد: ۲/ ۴۲۶؛ سنن الترمذی: ۴/ ۲۲۶؛ المستدرک: ۱/ ۱۱۷، انہوں نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ اور اسے حاکم نے بھی اپنی مستدرک میں نقل کیا ہے۔ ج۱/ ۷۷ اور کہا ہے کہ یہ حدیث شیخین کی شرائط حدیث کے مطابق صحیح ہے۔ اور ۱/ ۱۱۷، پر یہ کہا ہے کہ عبد اللہ ابن عمر سے بھی شرائط شیخین کے تحت بھی یہی متن، صحیح اسناد سے نقل کیا گیا ہے۔ و ہکذا فی ۱/ ۴۲۲ و قال ہذ احدیث صحیح علی شرط الشیخین ولم یخرجاہ فی مجمع الزوائد: ۵/ ۲۱۷ قائلاً: راوہ احمد و رجالہ ثقات رجال الصحیح خلاف علی ابن اسحاق اسلمی وہو ثقۃ۔
۹۶ ۔المعجم الکبیر: ۳/ ۳۰۲؛ مجمع الزوائد: ۵/ ۲۱۷۔
۹۷ ۔مستدرک الحاکم: ۱/ ۱۱۸؛ المعجم الکبیر لطبرانی: ۶/ ۵۳؛ الدر المنثور: ۵/ ۱۱۳؛ کنز العمال: ۱/ ۲۰۸، ح ۱۰۳۹۔
۹۸ ۔صحیح مسلم: ۶/ ۲۳،کتاب اماتة، باب اذا بویع لخلیفتین، روی الطبرانی عن ابی هریرة قال: قال رسول الله صلی الله علیه وسلم "اذا بویع لخلیفتین فاقتلوا الأحدث منهما "؛ المعجم الاوسط: ۳/ ۱۴۴،قال القرطبی: و اذا بویع لخلیفتین فالخلیفة الأول، و قتل الأخر ، تفسیر القرطبی: ۱/ ۲۷۲۔
۹۹ ۔صحیح البخاری: ۳/ ۲۰۷، کتاب الجہاد باب مسح الغبار عن الناس فی السبیل؛ صحیح مسلم: ۸/ ۱۸۶،کتاب الفتن باب لا تقوم الساعة حتی یمرا لرجل بقبر الرجل، من دون جملة "یدعوهم الی النار..." قد صرّح بتواتره؛ الذہبی فی سیر اعلام النبلاء: ۱/ ۴۲۱۔
۱۰۰ ۔المستدرک: ۳/ ۳۸۷،ثم قال: صحیح علی شرط الشیخین ولم یخرجاه و هکذا صححه الذهبی فی هامشه ۔
۱۰۱ ۔احقاق الحق: ۸/ ۴۴۸، عن نور الابصار للشبلنجی، ۹۰؛ خلاصۃ ابقات الانوار: ۳/ ۵۹؛نفحات الأزهار ، ص ۳/ ۵۴۔ (جب عمرو نے جنگ سے دوری اختیار کی تو معاویہ نے کہا یہ تم کیا کر رہے ہو۔ تو عمرو نے جواب دیا کہ ہم نے اس شخص کو قتل کیا ہے جس کے بارے میں ، میں نے خود پیغمبر ﷺ سے سنا ہے کہ حضورؐ نے فرمایا تھا کہ اس (عمار) کو ایک دین سے باغی گروہ قتل کرے گا۔ لہذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہم باغی گروہ ہیں)۔
۱۰۲ ۔مسند احمد: ۴/ ۱۹۹؛ مجمع الزوائد: ۷/ ۲۴۲، ثم قال: رواہ احمد و ہو ثقۃ؛ المستدرک: ۲/ ۱۵۵، قائلاً ہذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین ولم یخرجاہ بہذہ السیاقہ۔
۱۰۳ ۔المعیار و الموازنۃ ۹۷؛ وقعۃ صفین ۳۴۳؛ النصائح الکافیہ ۳۹؛ صحیح شرح العقیدۃ الطحاویہ لحسن بن علی السقاف ۶۴۲۔
۱۰۴ ۔و حکم بن حزم باَنّ الصحابة کلهم من اهل الجنة قطعاً ۔ الاصابۃ:۱/ ۱۹۔
۱۰۵ ۔و قال ابن الاثیر: کُلُّهم عَدول لَا یَتَطَرَّقُ اِلَیهم الجَرۡح ۔أسد الغابة : ۱/ ۳۔
۱۰۶ ۔ذالک ان الرسول صلی الله علیه وسلم عندنا حق و القرآن حق و انما أدی الینا هذا القرآن و السنن اصحابه رسول الله صلی الله علیه وسلم و انما یریدون ان یجرحوا شهودنا لیبطلوا الکتاب و السنة و الجرح بهم اولی وهم زنادقة (الکفایۃ فی علم الروایۃ: ۶۷)۔
۱۰۷ ۔اصول السرخسی: ۲/ ۱۳۴۔
۱۰۸ ۔النفاق و المنافقون؛ استاد ابراہیم علی سالم مصری۔
۱۰۹ ۔سورہ توبہ، آیت ۱۰۱۔
۱۱۰ ۔صحیح مسلم: ۸/ ۱۲۲؛ مسند احمد: ۴/ ۳۲۰؛ البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: ۵/ ۲۰۔
۱۱۱ ۔زاد المسیر: ۳/ ۳۱۶۔
۱۱۲ ۔الدر المنثور: ۳/ ۲۰۸۔
۱۱۳ ۔تفسیر ابن کثیر: ۲/ ۳۹۹۔
۱۱۴ ۔تفسیر ابن کثیر: ۲/ ۳۹۹؛ البدایۃ و النہایۃ: ۵/ ۲۵ سنۃ تسع من الہجرۃ ذکر غزوۃ تبوک؛ جامع البیان للطبری: ۱۱/ ۱۶۔
۱۱۵ ۔عن عبد الملک بن عبید قال: قال عمر ابن الخطاب "نستعین بقوة المنافق و اثمه علیه"؛ المصنف لابن ابی شیبة : ۷/ ۲۶۹، ح ۱۲۰؛ کنز العمال، ج۴/ ۶۱۴۔
۱۱۶ ۔تفسیر ابن کثیر: ۲/ ۳۹۹؛ جامع البیان للطبری: ۱۱/ ۱۶۔
۱۱۷ ۔قال الذهبی: ابن حزم، الامام الأوحد، البحر، ذو الفنون و المعارف، فانه رأس فی علوم الاسلام، متبحر فی النقل، عدیم النظیر؛ سیر اعلام النبلاء: ۱۸۹ ۱۸۴، و قریب من هذا فی العبر: ۳/ ۲۳۹؛ دول الاسلام: ۱/ ۶۰۷
قال السمعانی: ابن حزم، من افضل أهل عصره بالاندلس و بلاد المغرب، الأنساب الیزیدی و قال السیوطی: و کان صاحب فنون و ورع و زهد، و الیه المنتهی فی الذکاء و الحفظ و سعة الدائرة فی العلوم ؛ طبقات الحفاظ: ۴۳۶۔
قال الزرکلی:عالم الأندلس فی عصره، و أحد آئمة الأسلام، کان فی الأندلس خلق کثیر ینتسبون الی مذهبه الأعلام : ۴/ ۲۵۴ ۔
۱۱۸ ۔کما صرح بوثاقته العجلی تاریخ الثقات / ۴۶۵، رقم / ۱۷۷۳، و قال ابن سعد کان ثقة وله احادیث: طبقات:۶/ ۳۵۴، و أورده ابن حبان فی الثقافت، کتاب الثقات : ۵/ ۴۹۲۔و قد نقل الذهبی و ابن ابی حاتم عن ابی عبد الله ابن احمد بن حنبل قال: ابی: لیس به بأس و عن یحیی بن معین انه قال: ثقة و قال ابو حاتم: صالح حدیث و قال ابو زرقه: لا بأس به ، الجرح و التعدیل: ۹/۸، رقم ۳۴۔ و تہذیب الکمال: ۳۱/ ۳۵۔ و قال الذہبی: و ثقہ ابو نعیم، تاریخ الاسلام: ۹/ ۶۶۱۔
ابن سعد نے کہا (کان ثقة وله أحادیث طبقات :۶/ ۴۵۳ ابن حبان نے اسے ثقات میں شمار کیا ہے کتاب الثقات: ۵/ ۴۹۲ذهنی و ابن حاتم نےابی عبد الله بن احمد بن حنبل سے نقل کیا ہے (لیس به بأس ) اور یحیی بن معین سے نقل کیا ہے کہ وہ ثقہ ہے ابو حاتم نے صالح الحدیث کہا ہے ابو زرقہ نےلابأس به کہا ہے الجرح و التعدیل ۹/ ۸ رقم: ۳۴۔ لہذا ان تمام فقروں سے ہماری بات کی تصدیق ہوجاتی ہے۔
۱۱۹ ۔تہذیب التہذیب: ۱۱/ ۱۲۲۔
۱۲۰ ۔النفاق و المنافقون۔ ابراہیم علی سالم۔
۱۲۱ ۔سورہ نساء، آیت ۶۱ ۔
۱۲۲ ۔سورہ نساء، آیت ۸۸: منافقین کا ایک گروہ جس نے ہجرت نہیں کی اور مکہ میں رہ گیا تاکہ ہر طرح کی حفاظت میں رہیں انکے بارے میں مسلمانوں کے دو گروہ تھے ایک رعایت کا حامی تھا اور ایک سزا کا کہ حکم خدا کے بعد بھی ہجرت نہیں کی ہے۔ پروردگار عالم نے اس اختلاف کی طرف اشارہ کرکے واضح کردیا ہے کہ رعایت کی پالیسی غلط ہے۔ اور اس آیت میں واضح طور پر ارشاد ہوا ہے کہ آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہوگئے ہو جبکہ اللہ نے انکے اعمال کی بنا پر انہیں الٹ دیا ہے کہ تم اسے ہدایت دینا چاہتے ہو خدا نے جسے گمراہی پر چھوڑ دیا ہے حالانکہ خدا جسے گمراہی پر چھوڑ دے اس کے لیے تم کوئی راستہ نہیں نکال سکتے۔
۱۲۳ ۔سورہ توبہ، آیت ۶۸: اور اللہ نے منافق مردوں اور عورتوں سے اور تمام کافروں سے آتش جہنم کا وعدہ کیا ہے جس میں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں وہی انکے واسطے کافی ہے۔
۱۲۴ ۔سورہ نساء، آیت ۱۴۵: بیشک منافقین جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔
۱۲۵ ۔عن عبد الملک بن عبید قال: قال عمر بن خطاب "نستعین بقوة المنافق و اِثمه علیه " المصنف لابن ابی شیبۃ؛ ۷/ ۲۶۹، ح ۱۲۰، کنز العمال، ص ۴/ ۶۱۴۔
۱۲۶ ۔عن الحسن أن خذیفه قال لعمر: انک تستعین بالرجل الفاجر فقال: عمر "انی لأستعمله لأستعین بقوته ثم اکون علی قفائه" ابو عبید۔ کنز العمال: ۵/ ۷۷۱۔
۱۲۷ ۔عن عمر قال: من استعمل فاجراً وهو یعلم ان فاجر فهو مثله ، کنز العمال، ج۵/ ۷۶۱، ح ۱۴۳۰۶۔
۱۲۸ ۔سورہ صف، آیت ۳: اللہ کے نزدیک یہ سخت ناراضگی کا سبب ہے کہ تم وہ کہو جس پر عمل نہیں کرتے ہو۔
۱۲۹ ۔قال البیهقی: فان صخّ فانما ورد فی منافقین لم یعرفوا بالتخذیل والارجاف، والله اعلم سنن الکبری: ۹/ ۳۶۔
۱۳۰ ۔صحیح بخاری: ۸/ ۱۰۰، کتاب الفتن، باب اذا قال عند قوم شیئاً ثم خرج فقال بخلافہ۔
۱۳۱ ۔سورہ توبہ، آیت ۹۷۔
۱۳۲ ۔تفسیر ابن کثیر: ج۲، ص ۳۹۷؛ تفسیر القرطبی، ۸/ ۲۳۱۔
۱۳۳ ۔صحیح بخاری: ۴/ ۲۰۶، باب مناقب المہاجرین۔
۱۳۴ ۔حین توفی الله نبیه صلی الله علیه وسلم ان الانصار خالفونا، و اجتمعوا بأسرهم فی سقیفة بنی ساعدة و خالف عنّا علی و الزبیر و من معهما؛ صحیح بخاری، ج۸/ ۲۶، کتاب المحاربین، باب رجم الحبلی من الزنا ۔
۱۳۵ ۔تاریخ طبری، ج۲/ ۴۵۸؛ کامل ابن اثیر، ج۲/ ۲۲۴۔
۱۳۶ ۔روی ابن ابی الحدید عن البراء ابن عازب: فلم البث و اذاً انا بابی بکر قد اقبل و معه عمر و ابو عبیدة و جماعة من اصحاب السقیفة وهم محتجزون بالازر الصنعانیه لایمرون بأحد الأخطبوه و قدموه فمدوا یده فمسحوها علی ید ابی بکر یبایعه شاء ذالک او ابی ۔ شرح ابن ابی: ۱/ ۲۱۹۔
۱۳۷ ۔سورہ مائدہ، آیت نمبر ۶۷۔
۱۳۸۔تفسیر المنار، ج۶، ص ۱۱۶۔
۱۳۹۔التفسیر الکبیر، ج۱۱، ص ۴۹۔
۱۴۰۔شواہد التنزیل، ج۱، ص ۱۹۱، ح ۲۴۸۔
۱۴۱۔فخر الدین رازی، مفاتیح الغیب، ج۱۲، ص ۴۸۔
۱۴۲۔ابن تیمیہ، احمد، منھاج السنۃ، ج۲، ص ۸۴۔
۱۴۳۔ابن کثیر، اسماعیل، تفسیر القرآن العظیم، ج۲، ص ۸۹۔ فیروز آبادی ، محمد، بصائر ذوی التمییز، ج۱، ص ۱۷۸۔
۱۴۴۔اسباب النزول، ص ۲۱۴۔
۱۴۵۔ا بن تیمیہ، منھاج السنۃ، ج۲، ص ۱۱۔
۱۴۶۔ذہبی، محمد ، تذکرۃ الحفاظ، ج۲، ص ۷۱۰ تا ۷۱۳۔
۱۴۷۔حموی، یاقوت معجم الادباء، ج۱۸، ص ۸۵، ط: دارا لفکر۔
۱۴۸۔خطیب بغدادی، احمد، تاریخ بغدادی، ج۸، ص ۱۴۶۔ ابن اثیر، علی اسد الغابۃ، ج۳، ص ۲۷۴۔
۱۴۹۔ابن تیمیہ، احمد، منھاض السنۃ، ج۲، ص ۱۶، ۱۷ و ۸۵۔
۱۵۰۔حاکم نیشاپوری، ابو عبد اللہ ، ج۵، ص ۱۸۸۔
۱۵۱۔حاکم نیشاپوری، ابو عبد اللہ، ج۵، ص ۱۲۲، ۱۲۳۔
۱۵۲۔سورہ غافر، آیت ۵۱۔
۱۵۳۔سورہ آل عمران، آیت ۱۹۴۔
۱۵۴۔سورہ فتح، آیت ۱۸۔
۱۵۵۔بخاری، محمد، صحیح، کتاب الدعوات، باب الغنی، غنی النفس، ج۸، ص ۱۳۸و باب فی الخواص، ص ۱۴۸۔ ۱۵۲۔
فہرست منابع و مآخذ
سیرہ ابن ہشام السیرہ النبویۃ (ابن کثیر)
نصب الرایۃ (زیعلی) سنن ترمذی
المعجم الکبیر (طبرانی) احقاق الحق
نور الابصار (شبلنجی) خلاصہ ابقات الانوار
نفحات الازھار المعیار و الموازنۃ
وقعۃ صفین النصائح الکافیہ
صحیح شرح العقیدۃ الطحاویۃ (حسن بن علی السقاف) الکافیۃ فی علم الروایۃ
اصول السرخسی زاد المسیر
النفاق و المنافقون "استاد ابراہیم علی سالم مصری" تفسیر ابن کثیر
جامع البیان (طبری) دول الاسلام
الانساب الیزیدی طبقات الحفاظ (سیوطی)
تفسیر المنار (شیخ محمد عبدہ) شواہد التنزیل (حاکم جسکانی)
منھاج السنہ (ابن تیمیہ) مفاتیح الغیب (فخر الدین رازی)
بصائر (فیروز آبادی) اسباب النزول (واحدی)
معجم الادباء (حموی) تاریخ بغداد (خطیب بغدادی)
عون المعبود (عظیم آبادی) الموضوعات
طبقات کبریٰ (ابن سعد) المعجم الاوسط (طبرانی)
الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ مجمع الزوائد (ہیثمی شافعی)
المغنی (ابن قدامہ) تفسیر قرطبی
التنبیہ و الاشراف (مسعودی) تاریخ ابن خلدون
تاریخ خلیفہ ابن خیاط جامع الصغیر (سیوطی)
تاریخ مدینہ دمشق (ابن عساکر) سیر اعلام النبلاء (ذہبی)
الریاض النضرۃ تذکرۃ الحافظ (ذہبی
ذخائر العقبیٰ الاحکام السلطانیۃ (ابو یعلی محمد بن الحسن الفراء)
مناقب خوارزمی الاحکام السلطانیۃ (مارودی)
المعجم الکبیر جامع احکام القرآن
فتح الباری الارشاد فی الکلام
فجر الاسلام شرح سنن ترمذی
مقدمہء ابن خلدون تاریخ المدینۃ (ابن شیبہ نمیری)
مسند احمد ابن حنبل تاریخ کامل (ابن اثیر)
المصنف (عبد الرزاق) المستدرک (حاکم نیشاپوری)
تاریخ طبری اسد الغابۃ (ابن اثیر)
صحیح بخاری تہذیب التہذیب
المغازی سنن کبری (نسائی)
تحفۃ الاحوذی فیض القدیر شرح جامع الصغیر (مناوی)
شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) السقیفہ و فدک (جوہری)
انساب الاشراف (بلاذری) دلائل الامامۃ (طبری)
النہایۃ فی غریب الحدیث شرح المواہب (زرقانی مالکی)
کشاف القناع (بیہقی) الثقات (ابن حبان)
سیرۃ عمر (ابن جوزی) البدایۃ و النہایۃ (ابن کثیر)
نہج البلاغہ (سید رضی) مع المصطفی (ڈاکٹر بنت الشاطی)
صحیح مسلم شرح مسلم (نواوی)
سنن بیہقی شرح مقاصد (تفتازانی)
المصنف (ابن ابی شیبہ) المواقف فی علم الکلام (قاضی الایجی)
الدر المنثور (سیوطی) تحریر الوسیلہ (آیت اللہ خمینی)
کنز العمال (ملا علی متقی) مجلہ تراثنا
مناقب ابن شہر آشوب مجلہ میقات
بحار الانوار (علامہ مجلسی) وجاء دور المجوس (ڈاکٹر عبد اللہ محمد غریب
اصول مذہب الشیعۃ الامامیۃ (ڈاکٹر ناصر الدین قفاری) مقدمہء کتاب من سبّ الصحابہ و معاویہ فامہ ہاویہ (شیخ مغراوی)
المنہج الجدید و الصحیح فی الحوار مع الوہابیین (ڈاکٹر عصام العماد) انتصار الحق (شیخ مجدی محمد علی محمد)
مقدمہء کتاب الشیعۃ الامامیۃ فی میزان الاسلام (شیخ محمد بن ربیع المناظرات فی الامامۃ
فہرست
شناس نا مۂ کتاب ۴
انتساب ۵
عرض ناشر ۶
پیش گفتار ۷
حجۃ الاسلام و المسلمین علامہ سید رضی جعفر نقوی النجفی ۷
بانی تنظیم المکاتب و پرنسپل جامعۃ النجف کراچی ۷
عرض مترجم ۸
تقدیر نامہ ۹
حجۃ الاسلام مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی قمی خطیب مسجد باب العلم کراچی ۹
صدر جعفریہ ایجوکیشنل سوسائٹی خیرپور میرس (مدرسہ سلطان المدارس) ۹
سرمایۂ افتخار ۱۰
از قلم: حجۃ الاسلام مولانا فخر الحسنین محمدی مدظلہ العالی ۱۰
قدر دانی ۱۱
از قلم: حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا سید ارشاد حسین نقوی صاحب ۱۱
تشکر و امتنان ۱۲
شیعیت کے خلاف یلغار کیوں؟ ۱۳
مکتب تشیع کے خلاف حیران کن یلغار کا تخمینہ ۱۴
انقلاب اسلامی کے بعد یلغار میں شدّت کا سبب ۱۵
چشم گیری مذہب اہل بیت علیہم السلام ۱۷
چند نمونے بطورِ مثال پیش کئے جاتے ہیں ۱۷
خلافت و امامت کے بارے میں سوالات ۱۹
ہماری اس بات کی بہترین دلیل ہے۔ ۲۱
سوالات ۲۷
مہاجرین و انصار کا اجماع ۳۰
بتائیے کس کا دعویٰ صحیح ہے حضرت عمر کا یا آپ کا؟ ۳۰
اب بتائیے کہ آپ صحیح ہیں یا یہ عظیم علمی شخصیات؟ ۳۲
اب بتائیے آپ صحیح ہیں یا حضرت عمر!؟ ۳۳
ناکثین و قاسطین کا حاکم اسلامی کے خلاف قیام ۳۶
عدالت جمیع صحابہ ۳۸
صحابہ میں وسعت نفاق ۳۹
خلیفہ دوم کو نفاق سے آلودہ ہونے کا خوف ۴۰
منافقین کی جانب سے پیغمبر ؐکے قتل کی سازش ۴۲
پیغمبر اکرمؐ کے خلاف نافرجام دہشت گردی کا منصوبہ ۴۲
کیا منافقین کے وجود سے استفادہ صحیح و مشروع ہے؟! ۴۳
ضمیمہ ۴۶
آیہ تبلیغ ۴۶
روایات کی روشنی میں تفسیر آیت ۴۸
متن کلام فخر رازی ۴۹
ابلاغ پیام سے پیغمبرؐکو خطرہ ۴۹
شُبہات ، اعتراضات و اشکالات ۵۰
٭ یہ آیت اوائل ہجرت میں نازل ہوئی: ۵۰
٭ احادیث جعلی ہیں ۵۱
٭ انکار اعلان ولایت علی (علیہ السلام) ۵۲
٭ انکار دعاءِ " اللهم وال من والاه " ۵۳
خطبۂ غدیر ۵۶
فہرست منابع و مآخذ ۷۸