یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نام کتاب: مہدویت نامہ
مو لف: مصنفین کی جماعت
ٹائٹل: ملک مشتاق حسین
کمپوزنگ: وسیم عباس
ایڈیشن: اول
سال اشاعت: نومبر۲۰۰۹ئ
ناشر: شریکة الحسین علیہ السلام پبلی کیشنز
بِسمِ اﷲ الرَّحمٰنِ الرّحِیم
اَللَّهُمَّ کُن لِوَلِیِّکَ الحُجَّةِ بنِ الحَسَنِ
اے اﷲ تو اپنے ولی حضرت حجت ابن حسن عسکری
صَلَوَاتُکَ عَلَیهِ وَعَلٰی آبَائِهِ
(تیری صلوات ان پر اور ان کے آباءواجداد پر صبح و شام اور ہر آن ہو)
فِی هٰذِه السَّاعَةِ وَفِی کُلَِّ سٰاعَةٍ
کا اس گھڑی میں اور ہر آن میں سرپرست و نگہبان
وَلیاً وحَافِظاً وقٰائِدًا ونٰاصِراً وَدَلِی لاً وَعَیناً
حامی راہنما مددگار دیکھنے والی آنکھ اور سرپرست
حَتّٰی تُسکِنَهُ اَر ضَکَ طَو عاً وتُمتِّعَهُ فِی هٰا َطوِی لاً
بنا رہے یہاںتک کہ تو اسے اپنی زمین میں اختیار کے ساتھ سکونت عطاء فرما اور یہ کہ تو اسے اپنی زمین میںلمبی مدت تک فائدہ پہنچا
نوٹ: یہ دعاءامام زمانہ(عجل) کی سلامتی کی نیت سے روزانہ پڑھیں۔
صلوات کاملہ
یاَرَبَّ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ
اے محمد وآل محمد کے ربّ جلیل
صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
محمد اور آل محمد پر صلوات بھیج
وَعَجِّل فَرَجَ آلِ مَحَمَّدٍ
اور آل محمد کی گشائش (حکومت کے قیام) میں جلدی فرما
نوٹ: بعض عاملین کا تجربہ ہے کہ جو شخص روزانہ اس صلوات کو ۳۱۳ مرتبہ پڑھے گا
اسے امام زمانہ عج کی زیارت نصیب ہوگی
یہ صلوات حضرت جبرائیل نے جناب یوسفعلیہ السلام کو
زندان میں تعلیم دی اور حضرت یوسف علیہ السلام
اس کا ورد کرتے تھے(مفاتیح الجنان
ابتدائیہ
بسم الله الرحمن الرحیم اللهم صل علی محمد وآل محمد وعجل فرجهم
حدیث نبوی میں آیا ہے کہ جو شخص چاہتا ہے کہ جب وہ اللہ سے ملاقات کرے تو اس کا اسلام کامل ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ صاحب الزمان حجت(مہدی علیہ السلام)کی معرفت حاصل کرے اور ان سے محبت و ولایت رکھے۔معروف حدیث ہے کہ جو شخص اپنے زمانہ کے امام کی معرفت نہیں رکھتا اور اسی حالت میں مرگیا تو وہ کفر اور جاہلیت کی موت مر گیا۔
اسی مضمون کی اور بہت ساری احادیث و روایات ہمارے اوپر لازم قرار دیتی ہیں کہ ہم اپنے زمانہ کے امام علیہ السلام کی معرفت حاصل کریں اوراپنے بچوں کو جہاں پر باقی اسلامی عقائد کی تعلیم دیتے ہیں وہاں پر اس زمانہ کے امام علیہ السلام کی بھی تفصیلی آگہی دیں۔کافی عرصہ سے میری یہ آرزو تھی کہ کوئی ایسی کتاب مرتب کی جائے جو حضرت امام مہدی علیہ السلام کے تعارف کا وسیلہ بنے اور تھوڑے پڑھے لکھے افراد کو بھی آسانی سے اپنے زمانہ کے امام علیہ السلام کی معرفت حاصل ہو سکے۔میری اس خواہش نے اس وقت عملی شکل اختیار کر لی جب گذشتہ سال ماہ محرم ۹۲۴۱ ھ میں جامعہ امام خمینی میں آئمہ جمعہ و جماعت کے تربیتی جلسات میں حوزہ علمیہ قم کے ہونہار طالبعلم جناب ڈاکٹر سید حسنین نقوی نے اسی عنوان پر مرتب دروس آئمہ جمعہ و جماعت کو دیئے آسان زبان میں اور بہت ہی اعلیٰ اور مطلب کو ذہن میں بٹھانے والے دروس تھے چنانچہ ہم نے ان سے خواہش کی کہ وہ ہمیں یہ دروس دے دیں تاکہ ہم ان دروس کو شائع کریں اور ان سے وسیع سطح پر فائدہ اٹھایا جائے۔اس سال رجب ۰۳۴۱ ھ ق جب میں قم زیارات پر گیا ہوا تھا تو حرم معصوم علیہ السلام میں مولانا سید حسنین نقوی صاحب سے خواہش ظاہر کی کہ وہ یہ دروس جو امام زمانہ علیہ السلام کے بارے میں مرتب شدہ ہیں ہمیں دے دیں تاکہ ہم ان سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور وسیع پیمانے پر ان کی اشاعت کریں بہرحال انہوں نے لطف ومہربانی کی اور امام زمانہ(عج) کے حوالے سے قم کے اندر موجود تحصیلی مرکز میں طلباءکی ایک جماعت جو اس حوالے سے کام کر رہی تھی جن میں جناب چوہدری عمران صاحب بھی سرفہرست ہیں انہوں نے ان سے اجازت لے کر یہ دروس ہمارے حوالے کئے اور اب یہ مکمل نظرثانی کے بعد اشاعت کے لئے تیار کر دیئے ہیں۔اس امید کے ساتھ کہ طلاب کرام، گریجوایٹ افراد، عوام، خواص، دینی مدارس اور تنظیمی اور تربیتی گروپس ان سے بھرپور استفادہ کریں گے ان میں بعض دروس قدرے طولانی ہیں لیکن مرتبین نے کوشش کی ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی زندگی ابتداءتاظہور اور بعد از ظہور کے تمام حالات کو اختصار کے ساتھ بیان کریں اور مطالب بیان کرنے میں عقائد کو ملحوظ رکھاگیاہے۔کمزور حوالوں سے گریزکیا گیا ہے اور عامیانہ نقطہ نظر کی بجائے محققانہ انداز اپنایا گیا ہے۔ پندرہ دروس کے ساتھ اس سلسلہ کو مزید مفید بنانے کے لئے ہماری طرف سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے طلباءو طالبات کے لئے جو متفرق دروس دیے گئے یا جو مقالات تحریر کئے وہ بھی شامل کر دیے ہیں ان میں معرفت نامہ۔غیبت کبریٰ میں مومنین کی ذمہ داریاں۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام اہل سنت کی نظر میں۔حضرت امام مہدی علیہ السلام کے متعلق چالیس احادیث۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اپنے بارے چالیس فرامین۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے شیعہ پر نارروا اتہامات اور ان کے جوابات۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام نہ شیعہ ہیں نہ سنی آپ علیہ السلام اہل البیت علیہ السلام سے ہیں“کو شامل کیا ہے واضح رہے اس وقت حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے تفصیلی مباحث کے لئے اردوزبان میں کافی ساری کتب اور تحقیقی مقالات موجود ہیں بازار میں بآسانی مل سکتے ہیں اس کے لئے ہمارے ادارے کی طرف سے بنائی گئی حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے اردو میں پہلی تحقیقی اور معلوماتی ویب سائیٹ پر بھی معلومات حاصل کرنے کے لئے جاسکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حضرت حق امام مہدی علیہ السلام کے ظہور پرنور کے لئے مقدمات فراہم کرنے والوں سے قرار دے اور ان کے ظہور کے اسباب کو خداوندمتعال جلد مکمل کر دے، اور ان کے زمانہ کو قریب سے قریب تر کر دے۔ ان پندرہ دروس کے مرتبین نے اپنے ان اسباق کا عنوان ”انتظار کی خوشبو“قراردیاہے۔ لیکن موضوع کی وسعت کی مناسبت سے ہم نے اس کتاب کا نام ”مہدویت نامہ“ رکھا ہے اور ہر سبق کے اختتام پر امام زمانہ علیہ السلام(عج) سے متعلق احادیث بھی دی ہیںاور آخر میں شامل کی گئی دوسری بحثوں سے اس کتاب کو مفید تر بنایا گیاہے۔
محب منتظران امام مہدی علیہ السلام
سید افتخار حسین نقوی النجفی
۹۲ ذیقعدہ ۹۲۴۱ ھ
پہلا درس
مہدویت پر بحث کی ضرورت
مقاصد:
( ۱) امام مہدی (عج) پر بحث کی ضرورت و اہمیت۔
( ۲) امام مہدی (عج) پر بحث کی ضرورت کے مختلف پہلووں سے آگاہی۔
( ۳) دینی فکر میں امامت اور امام مہدی (عج) کے موضوع کے مقام کی شناخت۔
فوائد:
( ۱) امام مہدی (عج) کے موضوع کی اہمیت پر توجہ اور اس کے مختلف پہلووں پر تحقیق کی ضرورت۔
( ۲) امام کی ضرورت او ر ان سے وابستہ ہونے کا احساس۔
( ۳) امام کے اوصاف کی شناخت۔
تعلیمی مطالب:
( ۱) امام مہدی پر بحث کرنے کی ضرورت۔
( ۲) ان ابحاث کو پیش کرنے کی ضرورت کے ان مندرجہ ذیل پہلووں سے آگاہی:
( ۱ لف) عقائدی(ب) معاشرتی(ج) سیاسی(د) تاریخی(ھ) ثقافتی
( ۳) انسان کے لئے امام کی ضرورت کے دلائل
( ۴) امام کی خصوصیات
(الف) امام کا علم(ب) عصمت امام(ج) امام کی معاشرہ پر حکومت(د) امام کے اخلاقی کمالات(ھ) امام کا اﷲ تعالیٰ کی طرف سے منسوب ہونا۔امام رضا علیہ السلام کا خوبصورت اور جامع فرمان
مہدویت پر بحث کی ضرورت
شاید بعض لوگ یہ سوچیں کہ دیگر عقائدی اور نظریاتی موضوعات میں بنیادی ضرورت کے باوجود حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے سلسلہ میں بحث و گفتگو کی کیا ضرورت ہے؟ کیا اس سلسلہ میں کافی مقدار میں بحث نہیں ہو چکی ہے اور بہت ساری کتابیں اور مضامین نہیں لکھے گئے ہیں؟
تو اسکا جواب یہ ہے کہ مہدویت کی بحث و گفتگو ایک ایسا موضوع ہے جو انسان کی زندگی میں ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور مختلف پہلووں سے انسانی زندگی پر اثرانداز ہو تا ہے، لہٰذا اس سلسلہ میں کی گئی بہت سی کاوشوں کے باوجود بھی اس موضوع پر بہت کچھ کہنے کے لئے باقی ہے، اور مناسب ہے کہ ہمارے علمائے کرام اور صاحبان نظر حضرت اس سلسلہ میں بہت زیادہ کوشش کریں۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے سلسلہ میں بحث و گفتگو کی ضرورت کو واضح کرنے کے لیے یہاں چند چیزوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:
( ۱) حضرت امام مہدی (عجل اﷲ فرجہ الشریف) کا موضوع، امامت کے بنیادی مسئلہ کی طرف پلٹتا ہے کہ جو شیعوں کے عقائدی اصول میں سے ہے، جس کی قرآن کریم اور اسلامی روایات میں بہت زیادہ اہمیت بتادی گئی ہے اور اس پر تاکید ہوئی ہے۔ شیعہ اور اہل سنت نے پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے روایت نقل کی ہے:
مَن مَاتَ وَ لَم یَعرِف اِمَامَ زَمَانِهِ مَاتَ مَیتَةً جَاهِلِیَةً ۔ ( بحارالانوار، ج ۱۵ ، ص ۰۶۱)
”جو شخص اس حال میں مر جائے کہ اپنے امام زمانہ (علیہ السلام) کو نہ پہچانتا ہو تو اس کی موت جاہلیت (کفر) کی موت ہو گی (گویا اس نے اسلام سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا ہے)“۔
یقینا یہ ایک ایسا موضوع ہے کہ جس سے انسان کی معنوی حیات وابستہ ہے لہٰذا اس مسئلہ پر خاص توجہ اور عنایت کرنی چاہیے؟!
( ۲) حضرت امام مہدی علیہ السلام، ۱ مامت کے پاکیزہ سلسلہ کی بارہویں کڑی ہیں، وہی امامت جو پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی دو نشانیوں میں سے ایک ہے، جیسا کہ شیعہ اور اہل سنت نے پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے نقل کیا ہے:
اِنِّی تَارِک فِی کُم الثَّقَلَینِ کِتَابَ اللّٰهِ وَ عِتَرَتِی ، مَا اِن تَمَسَّکتم بِهِمَا لَن تَضِلُّوا بَعدی اَبَداً .... (بحارالانوار، ج ۲ ، ص ۰۰۱)
”بے شک میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: ایک کتاب خدا اور دوسری میری عترت، جب تک تم ان دونوں سے تمسک رکھو گے ہرگز میرے بعد گمراہ نہیں ہوں گے“۔
اس بنا پر قرآن کریم کے بعد جو کہ کلام خدا ہے، کونسا راستہ امام علیہ السلام کے راستہ سے زیادہ روشن اور ہدایت بخش ہے؟ اور کیا بنیادی طور پر قرآن کریم اور کلام خدا کو پیغمبر اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کے (حقیقی) جانشین کے علاوہ کوئی اور اس کامعنی اور تفسیر کر سکتا ہے؟!
( ۳) حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) زندہ اور حاضر و ناظر ہیں اور آپ کے سلسلہ میں بہت سے سوالات (خصوصا نوجوانوں اور جوانوں کے درمیان) پائے جاتے ہیں، اگرچہ گذشتہ علماءکی کتابوں میں بہت سے سوالات کا جواب دیا گیا ہے، لیکن پھر بھی بہت سے شکوک و شبہات باقی ہیں اور بعض گذشتہ جوابات آج کل کے لحاظ سے مناسب نہیں ہیں۔
( ۴) امامت کی اہمیت اور اس کی مرکزی حیثیت کے پیش نظر دشمنوں نے ہمیشہ شیعوں کو فکری اور عملی لحاظ سے نشانہ بنایا ہے تاکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے سلسلہ میں شبہات اور اعتراضات بیان کرکے ان کے ماننے والوں کو شک و تردید میں مبتلا کر دیا جائے، جیسا کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں شک و تردید پیدا کرنا، یا آپ کی طولانی عمر کے مسئلہ کو ایک محال اور غیر عقلی مسئلہ قرار دینا، یا آپ کی غیبت کو غیر منطقی چیز قرار دینا اور اسی طرح کے بہت سے اعتراضات، اس کے علاوہ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے بعض ناواقف برادران مہدویت کے سلسلہ میں کچھ غلط اور بے بنیاد چیزیں بیان کردیتے ہیں، جن سے کچھ لوگ گمراہ ہو جاتے ہیں یا ان کو گمراہ کر دیا جاتا ہے، مثال کے طور پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کا انتظار، آپ کا مسلحانہ قیام، آپ کی غیبت کے زمانہ میں آپ سے ملاقات کے امکان وغیرہ کے سلسلہ میں بہت سے غلط اور خلاف حدیث مطالب بیان کئے جاتے ہیں، لہٰذا مہدویت کے سلسلہ میں اس طرح کی غلط باتوں کی صحیح تحقیق کی جائے اور ان اعتراضات کا منطقی اور معقول جواب دیا جائے۔ انہیں چیزوں کی بنا پر اس کتاب میں کوشش کی گئی ہے کہ حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی نورانی زندگی کے مختلف پہلووں کو بیان کرتے ہوئے آپ کے سلسلہ میں جوانوں کے ذہنوں میں موجودہ سوالات اور آپ کے زمانہ سے متعلق پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دیا جائے، نیز عقیدہ مہدویت کے لئے نقصان دہ چیزوں اور بعض غلط افکار کے جوابات بھی دیئے گئے ہیں تاکہ آخری حجت الٰہی حضرت امام مہدی (عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی صحیح اور عمیق معرفت کی راہ میں ایک قدم اٹھا سکیں۔
امامت
پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد اسلامی معاشرہ میں آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی جانشینی اور خلافت کا مسئلہ سب سے زیادہ اہم تھا۔ ایک گروہ نے بعض اصحاب پیغمبر کے کہنے پر حضرت ابوبکر کو بعنوان خلیفہ رسول چُن لیا، لیکن دوسرا گروہ آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے فرمان کے مطابق حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کا معتقد رہا۔ ایک مدت بعد پہلا گروہ اہل سنت و الجماعت اور دوسرا گروہ شیعہ کے نام سے مشہور ہوا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ شیعہ و سنی کے درمیان اختلاف صرف پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی جانشینی کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ دونوں کے نقطہ نظر سے ”امام“ کے معنی و مفہوم میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے جس کی بنا پر دونوں مذہب ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں۔ ہم اس موضوع کی وضاحت کے لئے ”امام اور امامت“ کے معنی کی تحقیق کرتے ہیں تاکہ دونوں کے نظریات واضح ہو جائیں۔ لغوی اعتبار سے ”امامت“ کے معنی پیشوائی اور رہبری کے ہیں اور ایک معین راہ میں کسی گروہ کی قیادت اور رہبری کرنے والے ذمہ دار فرد کو ”امام“ کہا جاتا ہے۔
دینی اصطلاح میں امامت کے مختلف معنی بیان کئے گئے ہیں: اہل سنت کے نظریہ کے مطابق ”امامت“ دنیوی حکمرانی کا نام ہے (نہ کہ الٰہی منصب کا) کہ جس کے ذریعہ اسلامی معاشرہ کی سرپرستی کی جاتی ہے اور جس طرح ہر معاشرہ کو رہبر اور قائد کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح اسلامی معاشرہ کے لئے بھی ضروری ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد اپنے لیے ایک ہادی اور رہبر کا انتخاب کرے اور چونکہ اس انتخاب کے لئے دین اسلام میں کوئی خاص طریقہ متعین نہیں کیا گیا تو پھر پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی جانشینی کے لئے مختلف طریقوں کو اپنایاجا سکتا ہے مثلاً عوام الناس یا بزرگوں کی اکثریت کے نظریہ یا گذشتہ جانشین کی وصیت کے مطابق یا بغاوت اور فوجی طاقت کے بل بوتے زبردستی حاکم بننے والا شخص خلیفہ یا امام کہلایا جا سکتا ہے۔
لیکن شیعہ امامت کو نبوت کا استمرار اور امام کو مخلوق کے درمیان حجت خدا اور فیض الٰہی کا واسطہ مانتے ہیں لہٰذا شیعہ اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ ”امام“ کو صرف خدا معین فرماتا ہے جس کا پیغمبر یا وحی کا پیغام لانے والے کے ذریعہ تعارف کرواتا ہے اور نظریہ امامت کی اس عظمت اور بلند مقام کے پیش نظر شیعہ طرزِ تفکر میں یہ ہے کہ وہ امام کو نہ صرف اسلامی معاشرہ کا سرپرست اور حاکم مانتے ہیں بلکہ احکام الٰہی کا بیان کرنے والا، مفسر قرآن اور راہ سعادت کی ہدایت کرنے والا مانتے ہیں بلکہ شیعہ ثقافت میں امام عوام کے دینی اور دُنیاوی مسائل کو حل کرنے والے کی ذات کا نام ہے، نہ اس طرح کہ جس طرح اہل سنت معتقد ہیں کہ خلیفہ کی ذمہ داری صرف دُنیاوی معاملات میں حکومت کرنا ہے!۔
امام کی ضرورت
مذکورہ نظریات واضح ہونے کے بعد اس سوال کا جواب دینا مناسب ہے کہ قرآن کریم اور سنت پیغمبر (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے باوجود امام اور دینی رہبر کی کیا ضرورت ہے؟(جیسا کہ شیعہ حضرات کا عقیدہ ہے)
امام کی ضرورت کے لئے بہت سے دلائل بیان ہوئے ہیں لیکن ہم ان میں سے ایک کو اپنے سادہ بیان میں پیش کرتے ہیں:
جس دلیل کے تحت انبیاءعلیہم السلام کی ضرورت ہے، وہی دلیل ”امام“ کی ضرورت کو بھی ثابت کرتی ہے، کیونکہ ایک طرف سے اسلام آخری دین اور حضرت محمد مصطفی (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) خدا کی طرف سے آخری پیغمبر ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ اسلام قیامت تک انسانی ضرورتوں کا جواب رکھتا ہو، دوسری طرف قرآن کریم میں اصول، احکام اور الٰہی تعلیمات عام اور کلی صورت میں ہیں جن کی وضاحت اور تفسیر پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے ذمہ ہے۔
( یہ بات عرض کر دینا مناسب ہے کہ امام معصوم کے ذریعہ ”حکومت تشکیل دینا“ راستہ ہموار ہونے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ لیکن دوسرے تمام فرائض یہاں تک کہ غیبت کے زمانہ میں بھی انجام دینا ضروری ہے، اگرچہ امام علیہ السلام کے ظہور اور لوگوں کے درمیان ظاہر بظاہر ہونے کی صورت میں یہ بات سب پر ظاہر ہے۔ اس کے علاوہ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اس حصہ میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس میں لوگوں کی معنوی زندگی میں امام کی ضروری ہے لیکن تمام دنیا کو ”وجود امام“ کی ضرورت ہے اس مطلب کو ”امام غائب کے فوائد“ کی بحث میں بیان کیا جائے گا)
لیکن یہ بات روشن ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے مسلمانوں کے ہادی اور رہبر کے عنوان سے اپنے زمانہ کے اسلامی معاشرہ کی ضروریات کے مطابق آیات الٰہی کی تفسیر کو بیان فرمایا، اور اپنے بعد کے لئے ضروری ہے کہ آپ ایک ایسا بلافصل لائق جانشین چھوڑیں جو خداوند عالم کے لامحدود علم کے دریا سے متصل ہوتا کہ جن چیزوں کو پیغمبر اکرم(صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے عام لوگوں کے سامنے بیان نہ کر سکے اور اپنے بعد میں آنے جانے والے جانشین کو ان تمام امور کا علم دے گئے ، ان کو بیان کرے اور ہر زمانہ میں اسلامی معاشرہ کو درپیش مسائل کا جواب پیش کر سکے۔
اسی طرح ائمہ علیہم السلام پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی چھوڑی ہوئی میراث کے محافظ ہیں اور قرآن کریم کے حقیقی مفسر اور اس کے صحیح معنی کرنے والے ہیں تاکہ دینِ خدا خود غرض دشمنوں کے ذریعہ تحریف کا شکار نہ ہو جائے، نیز امامت کا یہ پاک و پاکیزہ سلسلہ قیامت تک باقی رہے گایہ شیعہ نقطہ نظرہے۔
اس کے علاوہ ”امام“ انسان کامل کے عنوان سے انسان کے تمام پہلووں میںانسانی زندگی کے اعلیٰ نمونہ عمل ہے، کیونکہ انسانیت کو ایسے نمونہ کی سخت ضرورت ہے جس کی مدد اور ہدیت کے ذریعہ وہ تربیت پا سکے، نیز ان آسمانی رہبروں کے زیر سایہ انحراف اور اپنے سرکش نفس کے جال اور بیرونی شیاطین سے محفوظ رہ سکے۔
گذشتہ مطالب سے یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ عوام الناس کے لئے امام کی سخت ضرورت ہے اور امام کے فرائض اور ذمہ داریوں میں بعض اس طرح ہیں:
ة اجتماعی اور سماجی مسائل کا ادارہ کرنا (حکومت کی تشکیل)۔
ة دین خدا کو تحریف سے بچانا اور قرآن کے صحیح معنی بیان کرنا۔
ة لوگوں کے دلوں کا تزکیہ اور ان کی ہدایت و راہنمائی کرنااورتمام پہلووں میں انسان کے لئے عملی نمونہ بننا۔
امام کی خصوصیات
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا جانشین، دین کو حیات بخشنے کا ضامن اور انسانی معاشرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہے، امام وہ ممتاز شخصیت ہے جو پیشوائی اور رہبری کے عظیم الشان مقام کی بنا پر کچھ خصوصیات رکھتی ہیں جن میں سے چند اہم یہ ہیں:
امام، صاحب تقویٰ و پرہیز گار اور صاحب عصمت ہوتا ہے، جس کی بنا پر اس سے ایک معمولی سا گناہ بھی سرزدنہیں ہو تا۔
امام کے علم کا سرچشمہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا علم ہوتا ہے اوران کاعلم علم الٰہی سے متصل ہوتا ہے، لہٰذا مادی اور معنوی، دینی اور دنیاوی تمام مسائل کا ذمہ دارامام ہوتا ہے۔امام اللہ کے علم کا مرکز اور ظرف ہوتاہے۔
تمام فضائل سے آراستہ اور اخلاقی بلند درجات پر فائز ہوتا ہے۔
دینی بنیاد پر انسانی معاشرہ کو صحیح طریقہ پر چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ظاہر ہے کہ مذکورہ صفات کے پیش نظر امام کا انتخاب عوام الناس کے بس سے باہر ہے، صرف خداوند عالم ہی اپنے لامحدود علم کی بنیاد پر پیغمبر اکرم (دُنیاوی تمام مسائل کا ذمہ دار ہوتا ہے۔) کے جانشین کا انتخاب کر سکتا ہے، لہٰذا امام کی اہم خصوصیات میں سے سب سے بڑی خصوصیت ”خداوند عالم کی طرف سے منسوب ہونا“ ہے۔
قارئین کرام! ان خصوصیات کی اہمیت کے پیش نظر ان میں سے ہر ایک کے بارے میں کچھ وضاحت کرتے ہیں:
علمِ امام
امام (جس پر لوگوں کی ہدایت اور رہبری کی ذمہ داری ہوتی ہے) کے لئے ضروری ہے کہ دین کے تمام پہلووں کو پہچانتا ہوں، اور اس کے قوانین اور تعلیمات سے مکمل طور پر آگاہی رکھتا ہو، نیز قرآن کریم کی تفسیر کو جانتے ہوئے سنت پیغمبر (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) پر بھی مکمل احاطہ رکھتا ہو تاکہ الٰہی معارف اور دینی تعلیمات کو واضح طور پر بیان کرسکے اور عوام کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کاجواب دے سکے، اور ان کی بہترین طریقہ سے رہنمائی کرے ،ظاہر ہے کہ ایک ایسی ہی علمی شخصیت پر لوگوں کا اعتماد ہو سکتا ہے، اور ایسی علمی پشت پناہی صرف خداوند عالم کے لامحدود عالم سے متصل ہونے کی صورت میں ہی ممکن ہے ، اسی وجہ سے شیعہ اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ ائمہ علیہم السلام اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے جانشین کا علم خدا کے لامحدود علم سے اخذ ہوتا ہے اور ائمہ اطہار علیہم السلام کسی سے علم نہیں لیتے، ہر امام اپنے سے پہلے امام سے علم لیتا ہے اسی طرح یہ سلسلہ حضرت علی علیہ السلام تک پہنچتا ہے اور انہوں نے سارا علم رسول اللہ سے لیا ہے اور اس کے علاوہ بھی اللہ کی طرف سے براہ راست ہر امام کو اس کے اپنے زمانہ کے علم میں اضافہ ہوتاہے۔
حضرت امام علی علیہ السلام، امام برحق کی نشانیوں کے بارے میں فرماتے ہیں:
”امام، حلال خدا، حرام خدا اوران کے متعلق احکام خدا کے امر و نہی اور لوگوں کی ضروریات کے بارے سب سے زیادہ جاننے والا ہوتا ہے“۔(میزان الحکمة، ج ۱ ، ح ۱۶۷)
عصمت امام
امام کی اہم صفات اور امامت کی بنیادی شرائط میں سے ایک شرط ”عصمت“ ہے اور وہ ایک ایسی راسخ حالت یا طبیعت ہے کہ جو حقائق کے علم اور مضبوط ارادہ سے وجود میں آتی ہے اور چونکہ امام میں یہ دو چیزیں پائی جاتی ہیں تو وہ ہر گناہ اور خطا سے محفوظ رہتا ہے، امام بھی دینی معارف اور تعلیمات کی پہچان اور ان کے بیان کرنے نیز ان پر عمل کرنے اور اسلامی معاشرہ میں اچھائیوں اور برائیوں کی تشخیص اور پہچان کی بنا پر خطا و لغزش سے محفوظ رہتا ہے۔اسی بنیاد پر آپ کی اطاعت کو دوسروں پر واجب قرار دیا گیاہے۔
امام کی عصمت کو ثابت کرنے کے لئے قرآن و سنت اور عقل سے بہت سے دلائل پیش کئے گئے ہیں، ان میں سے کچھ اہم دلائل مندرجہ ذیل ہیں:
الف: دین اور دینداری کی حفاظت امام کی عصمت پر موقوف ہے، کیوکہ امام پر دین کو تحریف سے محفوظ رکھنے اور دین کے بارے ہدایت دینے کی ذمہ داری ہوتی ہے نیز امام کا کلام، ان کی رفتار اور ان کا کردار اور دوسرے شخص کے عمل کی تائید یا تائید نہ کرنا معاشرہ کے لئے اہم اثرات کے حامل ہوتے ہیں، لہٰذا امام کو فہم دین اور اس پر عمل کرنے میں ہر لغزش و خطا سے محفوظ ہونا چاہیے تاکہ اپنے ماننے والوں کو صحیح طریقہ سے ہدایت کر سکے اورلوگوں کو اطمینان کامل سے ان کی پیروی کرنے میں خدا کی رضا سمجھیں۔
ب: معاشرہ کو امام کی ضرورت کی ایک دلیل یہ ہے کہ عوام دینی شناخت، دینی احکام اور شرعی قوانین کے نافذ کرنے میں خطا و غلطی سے محفوظ نہیں ہیں اور اگر ان کا رہبر اور ہادی بھی اسی طرح ہو تو پھر امام پر کس طرح سے مکمل اعتماد کیا جا سکتا ہے!؟ دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ اگر امام معصوم نہ ہو تو عوام اس کی پیروی اور اس کے حکم پر عمل کرنے میں شک و تردید میں مبتلا ہو جائیں گے۔
امام کی عصمت پر قرآن کریم کی آیات بھی دلالت کرتی ہیں جن میں سورہ بقرہ کی ۴۲۱ ویں آیت ہے، اس آیہ شریفہ میں بیان ہوا ہے کہ خداوند عالم نے جناب ابراہیم علیہ السلام کو مقام نبوت عطا کرنے کے بعد امامت کے بلند درجہ پر فائز فرمایا ہے، اس موقع پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خداوند عالم کی بارگاہ میں درخواست کی کہ یہ مقام امامت میری نسل میں بھی قرار دے، تو خداوند عالم نے فرمایا: ” یہ میرا عہدہ (امامت) ظالموں اور ستمگروں تک نہیں پہنچ سکتا“، یعنی منصب امامت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت میں ان حضرات تک پہنچے گا جو ظالم نہ ہوں گے۔
حالانکہ قرآن کریم نے خداوند عالم کے ساتھ شرک کو عظیم ظلم قرار دیا ہے، اور حکم خدا سے اپنے نفس پر تجاوز کوکبھی ظلم سے شمار کیا ہے (جو کہ گناہ ہے)، یعنی جو شخص اپنی زندگی کے کسی بھی حصہ میں گناہ کا مرتکب ہوا ہے تو وہ ظالم ہے اور وہ مقام امامت کے لئے شائستہ نہیں ہو سکتا۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام نے ”امامت“ کو اپنی ذریت اور نسل میں سے ان لوگوں کے لئے نہیں مانگا تھا جن کی پوری عمر گناہوں میں گزرے یا پہلے نیک ہوں لیکن بعد میں بدکار ہو جائیں، اس بنا پر صرف دو قسم کے افراد باقی رہتے ہیں:
۱ ۔ جو لوگ شروع میں گناہگار تھے لیکن بعد میں توبہ کرکے نیک ہو گئے۔
۲ ۔ جن افراد نے اپنی پوری زندگی میں کوئی گناہ نہ کیا ہو۔
خداوند عالم نے اپنے کلام میں پہلی قسم کو الگ کر دیا، (یعنی پہلے گروہ کو امامت نہیں ملے گی)، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مقام ”امامت“ صرف دوسرے گروہ سے مخصوص ہے،(یعنی جن افراد نے اپنی زندگی میں کوئی گناہ نہ کیا ہو)۔
امام ہی انسانی معاشرہ کا حاکم ہے
چونکہ انسان ایک سماجی شخصیت کا حامل ہے اور معاشرہ اس کے دل و جان اور رفتار و گفتار میں بہت زیادہ اثرات ڈالتا ہے، اس کی صحیح تربیت اور قربِ الٰہی کی طرف بڑھنے کے لئے اجتماعی راستہ ہموار ہونا چاہیے اور یہ چیز الٰہی اور دینی حکومت کے زیرِ سایہ ہی ممکن ہو سکتی ہے، لہٰذا لوگوں کا ہادی اور رہبر معاشرہ کے نظام کو چلانے کی صلاحیت رکھتا ہو اور قرآنی تعلیمات اور سنت نبوی کا سہارا لیتے ہوئے بہترین طریقہ سے اسلامی حکومت کی بنیاد ڈالے۔
امام اخلاقی کمالات سے آراستہ ہوتا ہے
امام چونکہ معاشرہ کا ہادی اور رہبر ہوتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ وہ تمام برائیوں اور اخلاقی پستیوں سے پاک ہو اور اخلاقی کمالات کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہو، کیونکہ وہ اپنے ماننے والوں کے لئے انسان کامل کا بہترین نمونہ شمار ہوتا ہے۔
حضرت امام رضا علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں:”امام کی کچھ نشانیاں ہوتی ہیں: ( ۱) وہ سب سے زیادہ عالم، ( ۲) سب سے زیادہ متقی اورپرہیز گار، ( ۳) سب سے زیادہ حلیم، ( ۴) سب سے زیادہ شجاع، ( ۵) سب سے زیادہ سخی، ( ۶) سب سے زیادہ عبادت کرنے والا ہوتا ہے۔ ( معانی الاخبار، ج ۴ ، ص ۲۰۱)
اس علاوہ امام، پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا جانشین ہوتا ہے لہٰذا وہ انسانوں کی تعلیم و تربیت کی ہمہ وقت کوشش کرتا ہے، لہٰذا اسے دیگر لوگوں سے زیادہ الٰہی اخلاق سے آراستہ ہونا چاہیے۔حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:”جو شخص (حکم خدا سے) خود کو لوگوں کا امام قرار دے تو اس کےلئے ضروری ہے کہ دوسروں کو تعلیم دینے سے پہلے خود اپنی تعلیم کےلئے کوشش کرے اور اپنی رفتار و کردار سے دوسروں کی تربیت کرے، قبل اس کے کہ اپنے کلام سے تربیت کرے“۔ ( میزان الحکمة، باب ۷۴۱ ، ح ۰۵۸)
یہ تو عام راہنماوں کی بات ہے اور جو رسول اللہ کے جانشین ہیں اور ہدایت کا مرکزہیں وہ کس طرح اپنی زندگی کے کسی بھی حصہ میں بچپن سے لے کر آخر عمر تک خطا کار ہو سکتے ہیں۔ اللہ کی جانب سے جو ہدایت کے لئے متعین ہوتے ہیں تو خدا کی طرف سے ان کی عصمت و پاکیزگی اور طہارت کی ضمانت ہوتی ہے۔
امام کو خدا کی طرف سے منسوب ہونا چاہیے
شیعہ نقطہ نگاہ سے امام اور جانشین پیغمبر صرف حکم خدا اور اسی کے انتخاب سے معین ہوتا ہے اور پیغمبر حکم خدا کی بنا پر امام کا تعارف کرواتا ہے، لہٰذا کوئی بھی شخص یا کوئی بھی گروہ اس مسئلہ میں دخالت کا حق نہیں رکھتا۔
امام کے خدا کی طرف سے منسوب ہونے کی ضرورت پر متعدد دلائل ہیں، مثلاً:
الف: قرآن کریم کے فرمان کے مطابق خداوند عالم تمام چیزوں پر حاکم مطلق ہے اور سب پر اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے، ظاہر ہے کہ یہ حاکمیت خدوند عالم کی طرف سے (صلاحیت اور شائستگی رکھنے والے) کسی بھی شخص کو عطا ہو سکتی ہے، لہٰذا جس طرح نبی اور پیغمبر خدا کی طرف سے منتخب ہوتا ہے، اسی طرح امام کو بھی خدا متعین کرتا ہے اور وہ لوگوں پر ولایت رکھتا ہے۔یعنی لوگوں کا سرپرست و ولی ہوتاہے۔
ب: اس سے پہلے امام کے لئے کچھ خاص خصوصیات بیان کی گئی ہیں جیسے عصمت، علم وغیرہ، اور یہ بات واضح ہے کہ ان صفات کے حامل شخص کی شناخت اور پہچان صرف خداوند عالم ہی کرا سکتا ہے کیونکہ وہی انسان کے ظاہر و باطن سے آگاہ ہے، جیسا کہ خدوندا عالم قرآن میں جناب ابراہیم علیہ السلام سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے:
”ہم نے تم کو لوگوں کا امام قرار دیا“۔
جامع اور رساتر کلام
گفتگو کے اس آخری حصہ میں ضروری ہے کہ امام ہشتم حضرت علی رضا علیہ السلام کے عظیم کلام کا کچھ حصہ بیان کر دیںجس میں آپ نے امام کی خصوصیات بیان فرمائیں ہیں:
”(جنہوں نے امامت کے مسئلہ میں اختلاف کیا اور یہ گمان کر بیٹھے کہ امامت ایک انتخابی مسئلہ ہے) ان لوگوں نے جہالت کا ثبوت دیا.... کیا عوام الناس اُمت کے درمیان امامت کے مقام و منزلت کو جانتے ہیں تاکہ وہ مل بیٹھ کر امام کا انتخاب کرلیں؟! بے شک امامت کی قدر و منزلت اتنی بلند و بالا، اس کی شان اتنی عظیم المرتبہ، اس کا مقام اتنا عالی، اس کا رتبہ اتنا بلند و رفیع اور اس کی گہرائی اتنی زیادہ ہے کہ لوگوں کی عقل کی رسائی اس تک نہیں اور نہ ہی وہ یا اپنی رائے کے ذریعہ اس تک نہیں پہنچ سکتے۔
بے شک امام کی امامت وہ مقام ہے کہ خداوند عالم نے جناب ابراہیم علیہ السلام کو مقام نبوت و خلت عطا کرنے کے بعد تیسرے مرتبہ میں مقام امامت عطا کیا ہے.... امامت، خلافت خدا اور رسول (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم)، مقام امیر المومنین علیہ السلام اور حضرت امام حسن و امام حسین علیہم السلام کی میراث ہے، واقعاً امامت دین کی باگ ڈور، نظام مسلمین کی بنیاد اور مومنین کی عزت اور دنیا کی خیر و بھلائی کا سبب ہے........ نماز، روزہ، حج، جہاد کے کامل ہونے کا سبب ہے، نیز امام کے ذریعہ (اس کی ولایت کے قبول کرنے کی صورت میں) سرحدوں کی حفاظت ہے۔
امام، حلالِ خدا کو حلال اور حرام ِ خداکو حرام کرتا ہے (اور خداوند عالم کے حقیقی حکم کے مطابق عمل کرتا ہے)، حدود الٰہی قائم کرتا ہے، خدا کے دین کی حمایت کرتا ہے اور حکمت و موعظہ نیز بہترین دلیل کے ذریعہ خدا کی طرف لوگوں کودعوت دیتا ہے۔
امام آفتاب کی طرح طلوع ہوتا ہے جس کا نور پوری دُنیا کو منور کر دیتا ہے اور وہ خود اُفق میں اس طرح سے ہے کہ اس تک ہاتھ اور آنکھوں کی رسائی نہیں ہو سکتی، امام چمکتا ہوا چاند، روشن چرغ، نور درخشان اور بھرپور اندھیروں، نیز شہروں جنگلوں اور دریاوں کے راستہ میں راہنمائی کرنے والا ستارہ ہے (اور فتنہ فساد) اور جہالت سے نجات دینے والا ہے............
امام، مونس ساتھی، مہربان باپ، حقیقی بھائی، اپنے چھوٹے بچوں کی نسبت نیک و مہربان ماں اور بڑی بڑی مصیبتوں میں لوگوں کے لئے پناہ گاہ ہے۔ امام، گناہوں اور برائیوں سے پاک کرنے والا ہے، وہ مخصوص بردباری اور حلم کی نشانی رکھتا ہے امام اپنے زمانہ کا واحد شخص ہوتا ہے اور ایسا شخص ہوتا ہے جس (کی عظمت)سے کوئی قریب نہیں بھٹک سکتا، اور کوئی بھی دانشور اس کی برابری نہیں کر سکتا، نہ کوئی اس کی جگہ لے سکتا ہے اور نہ ہی اسکا مثل و نظر مل سکتا ہے........
لہٰذا امام کی شناخت اور پہچان کون کر سکتا ہے،یا کون امام کا انتخاب کر سکتا ہے، ھیھات ھیھات! یہاں پر عقل و خرد حیران ہو جاتی ہے، (یہاں پر) آنکھیں بے نور، بڑے چھوٹے حکماءانگشت بدندان، اور خطباءعاجز ہو جاتے ہیں اور ان میں امام کے بافضیلت کاموں کی توصیف کرنے کی طاقت نہیں ہوتی اور یہ سبھی اپنی عجز و ناتوانی کا اقرار کرتے ہیں!!........( اصول کافی، ج ۱ ، باب ۵۱ ، ص ۵۲۲)
درس کا خلاصہ
امام مہدی عجل اﷲ فرجہ الشریف کے موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اس بحث کے معارف کا بیان اور اس کی مختلف جہات کا تجزیہ ایک اہم کام اور ضروری امر ہے۔
حدیث، من مات........ کی طرف نظر عنایت کی صورت میں امام زمانہ علیہ السلام کی معرفت واجب ہے۔
حدیث ثقلین کے معنی و مفہوم کے مطابق قرآن و عترت ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں اور ان کا آپس میں جدا ہونا ناممکن ہے۔
امام زمانہ علیہ السلام کے بارے میں بعنوان ایک امام حی و حاضر کا عقیدہ ایک مستحکم اور ناقابل اشکال عقیدہ ہے۔
امام مہدی عجل اﷲ فرجہ الشریف کے موضوع کے متعلق شبہات پر توجہ ضروری ہے اور ان کا جواب آج کے دور کے مطابق دینا ہوگا۔
امامت کے حوالہ ے شیعہ و سنی نظریات میں اساسی فرق یہ ہے کہ شیعہ عقائد میں امامت ایک الٰہی منصب ہے جو اصول دین کا جز ہے جبکہ اہل سنت امامت کو ایک دُنیاوی منصب سمجھتے ہیں کہ جس کا اختیار لوگوں کے پاس ہے۔
امام علیہ السلام علم وعصمت اور حاکمیت کے کمالات اور دیگر عالی انسانی صفات سے آراستہ ہوتاہے۔
درس کے سوالات
۱ ۔ موضوع مہدویت کو بیان کرنے کی ضرورت بارے مختلف جہات کو واضح کریں؟
۲ ۔ کیاامامت و خلافت کے بارے میں شیعہ و سنی نظریہ میں بنیادی اختلاف ہے؟واضح کریں؟
۳ ۔ انسان کے لئے امام کی ضرورت کیوں اور کس لئے اس کے فلسفہ و حکمت کو واضح کریں؟
۴ ۔ مقام امامت کی خصوصیات کے پیش نظر امام کے من جانب اﷲ ہونے کی ضرورت پر کیا دلیل ہے؟
۵ ۔ ملکہ عصمت کا سرچشمہ کیا ہے اور امام علیہ السلام کی عصمت کو ثابت کرنے کے دلائل دیں؟
دوسرا درس
امام مہدی علیہ السلام کی شناخت
مقاصد:
امام مہدی علیہ السلام کا اجمالی تعارف
فوائد:
۱ ۔ حضرت کے نام، کنیت اور القاب سے آشنائی
۲ ۔ ولادت کے حالات
۳ ۔ حضرت مہدی علیہ السلام کے اوصاف حسنہ سے آگاہی
تعلیمی مطالب:
۱ ۔ مقدمہ:
(الف) امام زمانہ علیہ السلام کی والد گرامی کی شخصیت اور ان کی تاریخی پہلو سے ایک نگاہ
(ب) امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت کی تاریخ اور جگہ
(ج) امام زمانہ علیہ السلام کی ولادت کے حالات
۲ ۔ امام زمانہ علیہ السلام کے اسماءمبارکہ، القاب اور کنیتیں
۳ ۔ امام زمانہ علیہ السلام کے شمائل اور اوصاف حسنہ
٭جسمانی اوصاف
٭رُوحانی اوصاف
۴ ۔ امام مہدی علیہ السلام کی حیات مبارکہ کے ادوار (مخفی، غیبت اور ظہور کا دور)
امام مہدی (علیہ السلام) کی حیات طیبہ پر ایک نظر
شیعوں کے آخری امام اور رسول اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے بارہویں جانشین کی ولادت باسعادت ۵۱ شعبان ۵۵۲ ھ (مطابق ۸۶۸ عیسوی) بروز جمعہ صبح کے وقت عراق کے شہر ”سامرہ“ میں ہوئی۔
آپ کے والدماجد شیعوں کے گیارہویں امام حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اور آپ کی والدہ ماجدہ جناب ”نرجس خاتون سلام اﷲ علیہا “تھیں جن کی قومیت کے بارے میں مختلف روایات ہیں: ایک روایت کے مطابق جناب نرجس علیہ السلام خاتون بادشاہ روم کے بیٹے یشوع کی دختر گرامی تھیں اور ان کی مادر گرامی حضرت عیسٰی علیہ السلام کے وصی جناب ”شمعون“ کی نسل سے تھیں۔ ایک روایت کے مطابق جناب نرجس علیہ السلامخاتون ایک تعجب خیز خواب کے نتیجہ میں مسلمان ہوئیں اور امام حسن عسکری علیہ السلام کی ہدایت کی وجہ سے مسلمانوں سے جنگ والے رومی لشکر میں قرار پائیں اور بہت سے دوسرے لوگوں کے ساتھ لشکر اسلام کے ذریعہ اسیر کر لی گئیں اور امام علی نقی علیہ السلام نے کسی کو بھیجا تاکہ ان کو خرید کر سامرہ لے آئیں۔(کمال الدین، ج ۲ ، باب ۱۴ ، ص ۲۳۱)
اس سلسلہ میں دوسری روایات بھی منقول ہیں (بحارالانوار، ج ۵ ، ح ۹۲ ، ص ۲۲ ، ح ۴۱ ، ص ۱۱) لیکن اہم اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ حضرت نرجس علیہ السلام خاتون ایک مدت تک حکیمہ خاتون (امام نقی علیہ السلام کی ہمشیرہ) کے گھر میں رہیں اور اُنہوں نے حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی ہدایت پر آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی اور جناب حکیمہ خاتون ان کا بہت زیادہ احترام کیا کرتی تھیں۔
جناب نرجس خاتون سلام اﷲ علیہا وہ بی بی ہیں جن کے بارے میں پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) (بحارالانوار، ج ۰۵ ، ح ۷ ، ص ۱۲) ، حضرت امیر المومنین علیہ السلام (غیبت طوسی علیہ الرحمہ، ح ۸۷۴ ، ص ۰۷۴) اور حضرت امام صادق علیہ السلام (کمال الدین، ج ۲ ، باب ۳۳ ، ح ۱۳ ، ص ۱۲) نے مدح و ستائش کی ہے اور ان کو کنیزوں میں بہترین کنیز اور کنیزوں کی سردار قرار دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ حضرت امام زمانہ (عجل اﷲ فرجہ الشریف) کی مادر گرامی دوسرے ناموں سے بھی پکاری جاتی تھیں جیسے: سوسن، ریحانہ، ملیکہ اور صیقل (صقیل)۔
نام مبارک، کنیت اور القاب
حضرت امام زمانہ (عج اﷲ فرجہ الشریف) کا نام اور کنیت ( کنیت ایسے نام کو کہا جاتا ہے جو ”اب“ یا ”ام“ سے شروع ہوتے ہیں جیسے : ابوعبد اﷲ اور اُم البنین) پیغمبر اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا نام اور کنیت ہے، بعض روایات میں آپ علیہ السلام کے ظہور تک آپ کا نام لینے سے منع کیا گیا ہے۔
آپ کے مشہور القاب اس طرح ہیں: مہدی، قائم، منتظر، بقیة اﷲ، حجت، خلف صالح، منصور، صاحب الامر، صاحب الزماں اور ولی عصر ہے جن میں سے ”مہدی“ لقب سب سے زیادہ مشہور ہے۔
امام علیہ السلام کا ہر لقب آپ کے بارے میں ایک مخصوص پیغام رکھتا ہے:
خوبیوں کے امام کو ”مہدی“ کہا گیا ہے کیونکہ وہ ایسے ہدایت یافتہ ہیں جو لوگوں کو حق کی طرف دعوت دیتے ہیں اور ان کو ”قائم“ کہا گیا ہے کیونکہ وہ حق کے لئے قیام کریں گے، اور آپ کو ”منتظر“ کہا گیا ہے کیونکہ سب ان کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں، آپ علیہ السلام کو لقب ”بقیة اﷲ“ اس وجہ سے دیا گیا کیونکہ آپ خدا کی حجتوں سے باقی ماندہ حجت اور آپ ہی آخری ذخیرہ الٰہی ہیں۔ ”حجت“ کے معنی مخلوق پر خدا کے گواہ، اور ”خلف صالح“ کے معنی اولیاءخدا کے شائستہ جانشین کے ہیں، آپ کو ”منصور“ اس وجہ سے کہا گیا کہ خدا کی طرف سے آپ کی نصرت و مدد ہو گی، ”صاحب الامر“ اس وجہ سے ہیں کہ عدل الٰہی کی حکومت قائم کرنا آپ کی ذمہ داری ہے، ”صاحب الزمان اور ولی عصر“ بھی اس معنی میں ہیں کہ آپ اپنے زمانہ کے واحد حاکم ہوں گے۔
ولادت کی کیفیت
متعدد روایات میں پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے نقل ہوا ہے کہ ”میری نسل سے ”مہدی“ نام کا شخص قیام کرے گا، جو ظلم و ستم کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دے گا“۔
بنی عباس کے ظالم و ستمگر بادشاہوں نے ان روایات کو سن کر یہ طے کر لیا تھا کہ امام مہدی علیہ السلام کو ولادت کے موقع پر ہی قتل کر دیا جائے، جس کی بنا پر امام محمد تقی علیہ السلام کے زمانہ سے ائمہ معصومین علیہم السلام پر بہت زیاد سختیاں کی گئیں ور امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانہ میں یہ سختیاں اپنے عروج پر پہنچ گئیں اور اگر امام عسکری علیہ السلام کے بیت الشرف پر کوئی بھی جاتا تھا تو حکومت وقت پر اس کی رفت و آمد مخفی نہیںتھی، ظاہر ہے کہ ایسے ماحول میں آخری حجت خدا کی پیدائش مخفی طریقہ پر ہونا چاہئے تھی، اسی دلیل کی بنا پر یہاں تک کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے نزدیکی افراد بھی امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے بے خبر تھے اور ولادت کے چند گھنٹے پہلے تک بھی آپ کی مادر گرامی جناب نرجس خاتون سلام اﷲ علیہا سے ایسے آثار نہ تھے کہ معلوم ہو سکے کہ آپ حمل سے ہیں۔
امام محمد تقی علیہ السلام کی بیٹی جناب حکیمہ خاتون امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے سلسلہ میںیوں فرماتی ہیں:
”امام حسن عسکری علیہ السلام نے مجھے بلا بھیجا اور فرمایا: اے پھوپھی جان! آج ہمارے یہاں افطار فرمائیے گا! کیونکہ ۵۱ ویں ٍشعبان کی شب ہے اور خداوند عالم اس رات میں اپنی (آخری) حجت زمین پر ظاہر کرنے والا ہے، میں نے سوال کیا: ان کی والدہ کون ہے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: نرجس خاتون! میں نے کہا: میں آپ پر قربان! ان میں تو حمل کے کچھ بھی آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں! امام علیہ السلام نے فرمایا: بات وہی ہے جو میں نے کی! اس کے بعد میں نرجس علیہ السلام خاتون کے پاس گئی اور سلام کرکے ان کے پاس بیٹھ گئی، وہ میرے پاس آئی تاکہ میرے جوتوں کو اُتاریں اور مجھ سے کہا: اے میری ملکہ! آپ کا مزاج کیسا ہے؟ میں نے کہا: نہیں آپ میری اور میرے خاندان کی ملکہ ہیں! اُنہوں نے میری بات کو تسلیم نہیں کیا اور کہا: پھوپھی جان! آپ کیا فرماتی ہیں! میں نے کہا: آج کی رات خداوند عالم تم کو ایک بیٹا عنایت فرمائے گا جو دُنیا و آخرت کا سردار ہو گا، چنانچہ وہ یہ سُن کر شرما گئیں۔
حکیمہ خاتون کہتی ہیں: میں نے عشاءکی نماز کے بعد افطار کیا اور اس کے بعد اپنے بستر پر آرام کے لئے لیٹ گئی، آدھی رات کے وقت جب نماز (شب) کےلئے اٹھی اور نماز سے فارغ ہوئی، اس وقت تک نرجس علیہ السلام خاتون آرام سے سوئی ہوئی تھیں، جیسے اُنہیں کوئی مشکل درپیش نہ ہو، میں نماز کی تعقیبات کے بعد پھر لیٹ گئی، اچانک پریشان ہو کر اُٹھی تو نرجس علیہ السلام خاتون اسی طرح سوئی ہوئی تھیں، لیکن وہ کچھ دیر بعد نیند سے بیدار ہوئی اور نماز (شب) پڑھ کر دوبارہ سو گئیں۔
حکیمہ خاتون مزید فرماتی ہیں: میں صحن میں آئی تاکہ دیکھو کہ صبح صادق ہوئی یا نہیں ، میں نے دیکھا کہ فجر اوّل (صبح کاذب) نمودار ہے، اس وقت تک بھی نرجس خاتون سوئی ہوئی تھیں، مجھے شک ہونے لگا! اچانک امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے بستر سے آواز دی: اے پھوپھی جان! جلدی نہ کریں! ولادت کا مسئلہ نزدیک ہے، میں نے سورہ ”سجدہ“ اور سورہ ”یٰسین“ کی تلاوت کرنا شروع کر دی، اس موقع پر جناب نرجس پریشانی کے عالم میں نیند سے بیدار ہوئیں، میں جلدی سے ان کے پاس گئی اور کہا : ”اسم اللّٰہ علیک“ (آپ سے بلا دور ہو) کا آپ کو کسی چیز کا احساس ہو رہا ہے؟ اُنہوں نے کہا: ہاں پھوپھی جان! میں نے کہا: اپنے اوپر ضبط (اور کنٹرول) رکھیں اور اپنے دل کو مضبوط کر لیں، یہ وہی ہے جس کے بارے میں پہلی کہہ چکی ہوں، اس موقع پر مجھ پر اور نرجس علیہ السلام خاتون پر ضعف طاری ہوا، اس کے بعد میرا سید و سردار (نومولود طفل مبارک) کی آواز بلند ہوئی، میں متوجہ ہوئی اور ان کے اوپر سے چادر ہٹائی چنانچہ انہیں سجدہ کی حالت میں دیکھا، میں نے بڑھ کر انہیں آغوش میں لیا اور انہیں مکمل طور پر پاک و پاکیزہ پایا۔ اس موقع پر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: اے پھوپھی جان! میرے فرزند کو میرے پاس لے آئیے! چنانچہ میں ان کو آپ علیہ السلام کے پاس لے گئی ....اُنہوں نے اپنی آغوش میں لے کر فرمایا: اے میرے فرزند کچھ کہیئے! چنانچہ وہ نوزائیدہ طفیل مبارک یوں محوِ گفتگو ہوا: ”اشہد ان لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ و اشہد ان محمداً رسول اللّٰہ“ اس کے بعد امیر المومنین اور دیگر ائمہ علیہم السلام پر دَرُود و سلام بھیجا، یہاں تک کہ اپنے پدر بزرگوار کا نام لیتے ہیں رک گئے، امام عسکری علیہ السلام نے فرمایا: پھوپھی جان! ان کو ان کی ماں کے پاس لے جائیے، تاکہ ان کو سلام کریں............
حکیمہ خاتون کہتے ہیں: دوسرے روز جب میں امام حسن عسکری علیہ السلام کے یہاں گئی تو میں نے امام علیہ السلام کو سلام کیا، میں نے پردہ اُٹھایا تاکہ اپنے مولا و آقا (امام مہدی علیہ السلام) کو دیکھوں لیکن وہ دکھائی نہ دئے، لہٰذا میں نے ان کے پدر بزرگوار سے سوال کیا: میں آپ پر قربان! کیا میرے مولا و آقا کے لئے کوئی اتفاق پیش آگیا ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: اے پھوپھی جان! میں نے ان کو(خدا) کے سپُرد کر دیا ہے جیسے جناب موسیٰ علیہ السلام کی ماں نے جناب موسیٰ علیہ السلام کو سپرد کر دیا تھا۔
حکیمہ خاتون کہتی ہیں: جب ساتواں دن آیا تو میں پھر امام علیہ السلام کے یہاں گئی اور سلام کرکے بیٹھ گئی، امام علیہ السلام نے فرمایا: میرے فرزند کو میرے پاس لائیے، میں اپنے مولا و آقا کو ان کے پاس لے گئی، امام علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے لخت جگر! کچھ کلام کیجئے! طفل مبارک نے لب مبارک کھولے اور خداوند عالم کی وحدانیت کی گواہی اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور اپنے آباءو اجداد پر دَرُود و سلام بھیجنے کے بعد ان آیات کی تلاوت فرمائی:
( بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ وَ نُرِیدُ اَن نَمُنَّ عَلَی الَّذِینَ استضعِفُوا فِی الاَرضِ وَنَجعََلَهُم آئِمَّةً وَنَجعَلَهُمُ الوَارِثِینَ وَ نمَکَّنَ لَهُم فِی الاَرضِ وَ نُرِی فِرعَونَ وَ هَامَانَ وَ جُنودَهُمَا مِنهُم مَا کَانُوا یَحذَرُو نَ ) ( سورہ قصص آیات ۵،۶)
”شروع کرتا ہوں اﷲ کے نام سے جو بڑا رحمان و رحیم ہے، اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور کر دیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کے وارث قرار دیدیں، اور انہی کو روئے زمین کا اقتدار دیں اور فرعون، ہامان اور ان کے لشکروں کو انہی کمزوروں کے ہاتھوں وہ منظر دکھلائیں جس سے یہ ڈر رہے ہیں“۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کےشمائل اورآپ کی صفات حمیدہ
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور اہل بیت علیہم السلام کی روایات میں امام مہدی (عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے شمائل مبارکہ اور اوصاف مجیدہ بیان کئے گئے ہیں جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:آپ کا چہرہ جوان اور گندمی رنگت کا، بلند اور روشن پیشانی، آپ کی بھنویں گول اور بڑی بڑی سیاہ آنکھیں، ناک لمبی اور خوبصورت، چوڑے اور چمکدار دانت، اور آپ کے داہنے رخسار پر سیاہی مائل ایک تِل کا نشان ہو گا اور آپ کے شانہ پر نبوت جیسی ایک نشانی ہے، اور آپ کا جسم مضبوط اور دلبربا ہے۔
آپ کے بعض اوصاف حمیدہ ائمہ معصومین علیہم السلام کے کلام میں بیان ہوئے ہیں جن میں سے کچھ اس طرح ہیں:
”(حضرت مہدی علیہ السلام) بہت عبادت کرنے والے اور (عبادت میں) شب بیداری کرنے والے، زاہد اور سادہ زندگی بسرکرنے والے، صاحب صبر و بردباری، صاحب عدالت اور نیک کردار ہیں۔ آپ علیہ السلام تمام لوگوں میں علم کا لحاظ سے ممتاز اور آپ علیہ السلام کا وجود مبارک برکت اور پاکیزگی کا جاری چشمہ ہے۔ آپ علیہ السلام اہل قیام و جہاد ہوں گے، عالمی رہبر، عظیم انقلابی، آخری نجات دینے والے اور بشریت کے لئے مصلح موعود ہوں گے، آپ علیہ السلام کا وجود رسول اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی نسل سے اور جناب فاطمہ سلام اﷲ علیہا کی اولاد سے اور امام حسین علیہ السلام کی نسل سے نویں فرزند ہوں گے جو ظہور کے وقت خانہ کعبہ کا سہارا لیں گے اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا پرچم ہاتھ میں لئے ہوں گے اور اپنے قیام سے دین خدا کو زندہ کریں گے اور احکام الٰہی کو پوری دُنیا میں نافذ کر دیں گے اور دنیا کو عدل و انصاف اور محبت سے بھر دین کے جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھرچکی ہو گی“۔(منتخب الاثر، فصل دوم، صفحہ ۹۳۲ تا ۳۸۳)
امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی زندگی تین حصوں پر مشتمل ہے:
۱ ۔ مخفی زمانہ: ولادت کے وقت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت تک آپ کی مخفیانہ زندگی۔
۲ ۔ زمانہ غیبت: امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت سے غیبت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ور جب تک خداوند عالم چاہے گا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
۳ ۔ زمانہ ظہور: زمانہ غیبت کے مکمل ہونے کے بعد امام زمانہ (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) حکم خدا سے ظہور فرمائیں گے اور دُنیا کو عدل و انصاف اور نیکیوں سے بھر دیں گے۔ آپ علیہ السلام کے ظہور کے وقت کو کوئی بھی نہیں جانتا، اور امام زمانہ علیہ السلام سے روایت ہے کہ جو لوگ ہمارے ظہور کے لئے کوئی خاص زمانہ معین کریں گے وہ جھوٹے ہیں۔ (احتجاج، ج ۲ ، ش ۴۴۳ ، ص ۲۴۵)
درس کا خلاصہ
امام زمانہ علیہ السلام امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں ، ان کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت ”نرجس“ سلام اﷲ علیہا ہے، آپ کی سال ۵۵۲ ہجری ۵۱ شعبان جمعہ کی صبح کو سامرہ میں ولادت با سعادت انجام پائی۔
حضرت کا نام اور کنیت پیغمبر خدا صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کی مانند اور آپ کا مشہور لقب مہدی علیہ السلام ہے۔
الٰہی حکمت کی بنا پر امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کا حمل اور ولادت دوسروں سے مخفی رکھی گئی اور آثار حمل ظاہر نہ ہوئے۔
امام علیہ السلام کے ظاہری شمائل مبارکہ اور جسمانی اوصاف و خصوصیات روایات میں مذکور ہیں۔
امام مہدی علیہ السلام کی حیات مبارکہ تین ادوار پر مشتمل ہے، پانچ سالہ ابتدائی مخفیانہ زندگی جو حضرت امام حسن علیہ السلام کا آخری دور ہے ، ستر سالہ غیبت صغریٰ کا دور، اور غیبت کبریٰ کا طولانی دور۔
درس کے سوالات
۱ ۔امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کی والدہ گرامی کا نام، نسب اور شخصیت کے حوالے سے بیان کریں؟
۲ ۔ امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کے مشہور القاب میں سے آٹھ موارد کو ذکر کریں؟
۳ ۔ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت با سعادت کے مخفی ہونے کی وجہ کو تفصیل سے بیان کریں؟
۴ ۔ جناب حکیمہ خاتون کی زبان سے امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے مبارک واقعہ کو اختصار سے بیان کریں؟
۵ ۔ امام زمانہ علیہ السلام کی حیات طیبہ کے ادوار کو تاریخی مراحل کی رُو سے وضاحت کریں؟
تیسرا درس
ولادت سے امام حسن عسکریعلیہ السلام کی شہادت تک
مقاصد:
۱ ۔ اپنے فرزند ارجمند کے تعارف کے لئے امام عسکری علیہ السلام کی کوششوں پر توجہ
۲ ۔ سب سے آخری حجت خدا سے شیعوں کو آگاہ کرنے کے ذرائع سے آگاہی
فوائد:
۱ ۔ حضرت علیہ السلام کی ولادت کا ثابت ہونا
۲ ۔ بارہویں امام علیہ السلام کا تعین
۳ ۔ امام زمانہ علیہ السلام کے زمانہ طفولیت اور مخفی دور سے آگہی
تعلیمی مطالب:
۱ ۔ امام علیہ السلام کا تعارف شیعوں کے لئے
۲ ۔ امام مہدی علیہ السلام کے معجزات اور کرامات
۳ ۔ شیعوں کے کی جانب سے بھیجے جانے والے سوالات کے جواب
۴ ۔ لوگوں کے تحائف اور شرعی وجوہات کی وصولی
۵ ۔ اپنے والد گرامی کا نماز جنازہ پڑھان
ولادت باسعادت سے امام عسکری علیہ السلام کی شہادت تک
حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی حیات طیبہ کا یہ زمانہ بہت سے اہم نکات پر مشتمل ہے جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:
شیعوں کے سامنے امام مہدی (عج اﷲ فرجہ الشریف) کا تعارف
چونکہ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت با سعادت مخفی طور پر ہوئی ہے اسی وجہ سے یہ خوف لاحق تھا کہ شیعہ آخری امام کی پہچان میں غلط فہمی یا گمراہی کا شکارنہ ہو جائیں، حضرت امام عسکری علیہ السلام کی یہ ذمہ داری تھی کہ آپ اپنے بزرگ اور قابل اعتماد شیعہ افراد کے سامنے اپنے فرزند گرامی کی شناخت کرائیں تاکہ وہ امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی ولادت کی خبر اہل بیت علیہم السلام کے دوسرے شیعوں تک پہنچا دیں اور اس صورت میں آپ کی شناخت اور پہچان بھی ہو جائے گی اور آپ کو کوئی خطرہ بھی پیش نہ آئے گا۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کے خالص شیعہ، ”جناب احمد بن اسحاق“ کہتے ہیں:
”میں امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہوا، اور آپ سے سوال کرنا چاہتا تھا کہ آپ کے بعد امام کون ہو گا؟ لیکن میرے کہنے سے پہلے امام علیہ السلام نے فرمایا: اے احمد! بے شک خداوند متعال نے جس وقت سے جناب آدم علیہ السلام کی خلقت کی اسی وقت سے زمین کو اپنی حجت سے خالی نہیں چھوڑا ہے اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا!اللہ تعالیٰ حجت کے ذریعہ اہل زمین سے بلاوں کو دُور کرتا ہے (اس کے وجود کی برکت سے) بارانِ رحمت نازل فرماتا ہے۔
میں نے عرض کی: یابن رسول اﷲ! آپ علیہ السلام کے بعد امام اور آپ علیہ السلام کا جانشین کون ہے؟
امام علیہ السلام فوراً بیت الشرف کے اندر تشریف لے گئے اور ایک تین سالہ طفل مبارک کو آغوش میں لے کر آئے جس کی صورت چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہی تھی، اور فرمایا: اے احمد بن اسحاق! اگر تم خداوند عالم اور اس کی حجتوں کے نزدیک باعظمت اور گرامی نہ ہوتے تو اپنے اس فرزند کو تمہیں نہ دکھاتا۔ بے شک ان کا نام اور کنیت، رسول اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا نام اور کنیت ہے اور یہ وہی ہے جو زمین کو عدل و انصاف سے وہ بھر دیں گے جس طرح سے پہلے ظلم و ستم سے بھر چکی ہو گی۔
میں نے عرض کی: اے میرے مولا و آقا! کیا کوئی ایسی نشانی ہے جس سے میرے دل کو سکون ہو جائے؟!
(اس موقع پر) اس طفل مبارک نے لب کشائی کی اور فصیح عربی میں یوں کلام فرمایا:
اَنَا بَقِیَّةُ اللّٰہِ فِی ار ضِہِ وَال مُنتَقِم مِن اعدَائِہِ....
”میں زمین پر بقیة اﷲ ہوں اور دشمنان خدا سے انتقام لینے والا ہوں“۔ اے احمد بن اسحاق! تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے اب کسی نشانی کی ضرورت نہیں!!
احمد بن اسحاق کہتے ہیں: میں (یہ کلام سننے کے بعد) خوش و خرم امام علیہ السلام کے مکان سے باہر آگیا ( کمال الدین، ج ۲ ، باب ۸۳ ، ح ۱ ، ص ۰۸)
اسی طرح محمد بن عثمان ( محمد بن عثمان امام مہدی علیہ السلام کی غیبت صغریٰ کے دورے نائب خاص تھے، غیبت کی بحث میں ان کی زندگی کے حالات بیان کئے جائیں گے) چنداور بزرگ شیعہ نقل کرتے ہیں:ہم چالیس افراد جمع ہو کر امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے، چنانچہ امام علیہ السلام نے اپنے فرزند کی زیارت کرائی اور فرمایا: ”میرے بعد یہی میرے جانشین اور تمہارے امام ہوں گے، تم لوگ ان کی اطاعت کرنا، اور میرے بعد اپنے دین میں تفرقہ نہ ڈالنا ورنہ ہلاک ہو جاو گے اور (جان لو کہ) آج کے بعد ان کو نہیں دیکھ پاو گے ........“(مال الدین، ج ۲ ، باب ۳۴ ، ح ۲ ، ص ۲۶۱)
یہ بات قابل ذکر ہے کہ نومولود بچہ کے لئے عقیقہ دینی حکم اور سنت ہے جس کی تاکید بھی کی گئی ہے کہ بھیڑ وغیرہ ذبح کرے اور بعض مومنین کو کھانا کھلائے جس کی برکت سے بچہ کی عمر طولانی ہوتی ہے۔ امام حسن عسکری نے اپنے فرزند (امام مہدی عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے لئے عقیقہ کیا ( کمال الدین، ج ۲ ، باب ۲۴)
تاکہ اس بہترین سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے بہت سے شیعوں کو بارہویں امام کی ولادت سے مطلع کریں۔حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اپنے بیٹے کی ولادت پر تین سو سے زائد مختلف جگہوں پر اپنے خالص شیعوں کو بھجوائے یا انہیں یہ حکم دیا کہ وہ ایسا کریں خود سامرہ میں آپ نے تین ہزار روٹی اور اتنے رطل گوشت فقراءاور مساکین میں تقسیم کیا۔
محمد بن ابراہیم کہتے ہیں:
”امام حسن عسکری علیہ السلام نے ذبح کی ہوئی بھیڑ اپنے ایک شیعہ کو بھیجی اور فرمایا: ”یہ میرے بیٹے ”محمد علیہ السلام“ کے عقیقہ کا گوشت ہے“ ( کمال الدین، ج ۲ ، باب ۳۴ ، ح ۲ ، صفحہ ۸۵۱)
معجزات اور کرامات
حضرت امام مہدی (علیہ السلام) کی زندگی کا ایک حصہ بچپن کا زمانہ ہے جس میں آپ علیہ السلام کے ذریعہ بہت سے معجزات اور کرامات رونما ہوئے ہیں، جبکہ اس آخری حجت خدا کی زندگی کے اس حصے سے ہم غافل ہیں، ہم صرف ان میں سے ایک نمونہ پیش کرتے ہیں۔ ابراہیم بن احمد نیشا پوری کہتے ہیں:
جس وقت عمرو بن عوف نے (جو ایک ظالم اور ستمگر حاکم تھا اور اس نے بہت سے شیعوں کو قتل کیا غارت گری کی) اس نے مجھے قتل کرنے کا ارادہ کیا، میں بہت زیادہ خوفزدہ تھا، میرا پورا وجود خوف سے لرزہ رہا تھا، میں نے اپنے دوستوں اور کنبہ والوں سے خدا حافظی کی اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے بیت الشرف کی طرف روانہ ہوا تاکہ آپ سے بھی خدا حافظی کر لوں، ارادہ یہ تھا کہ امام علیہ السلام سے ملاقات کے بعد کہیں بھاگ نکلوںگا، چنانچہ جب امام علیہ السلام کے مکان پر پہنچا تو امام حسن عسکری علیہ السلام کے پا س ایک طفل مبارک کو دیکھا کہ جس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا، میں ان کا نور دیکھ کر حیران رہ گیا، اور قریب تھا کہ اپنے ارادہ (قتل کا خوف اور بھاگنے کا ارادہ) کو بھول جاوں۔
(اس موقع پر اس طفل مبارک نے) مجھ سے کہا: ”بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے! بہت جلد ہی خداوند عالم تمہیں اس شر سے محفوظ کر دے گا“۔
میری حیرانی میں مزید اضافہ ہوا، میں نے امام حسن عسکری علیہ السلام سے کہا: میں آپ پر قربان! یہ طفل مبارک کون ہے جو میرے ارادوں سے باخبر ہے؟ امام عسکری علیہ السلام نے فرمایا: یہ میرا فرزند اور میرے بعد جانشین ہے یعنی آپکا بارہواں امام ہے۔
ابراہیم کہتے ہیں: میں باہر نکلا، جبکہ میں خدا کے لطف و کرم کا اُمیدوار تھا، اور جو کچھ بارہویں امام سے سنا تھااس پر یقین رکھتا تھا، چنانچہ چند روز کے بعد میرے چچا نے عمرو بن عوف کے قتل ہونے کی خوشخبری دی۔ ( اثبات الھداة، ج ۳ ، ص ۰۰۷)
سوالوں کے جوابات
آسمان امامت کے آخری روشن ستارے امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ وجہ الشریف) اپنی حیات طیبہ کے آغاز سے مختلف مقامات میں شیعوں کے مختلف سوالات کا مستحکم اور قانع کنندہ جواب دیتے تھے، جن سے شیعوں کے دلوں میں سکون و اطمینان پیدا ہوتا تھا، چنانچہ ہم یہاں پر ایک روایت نمونہ کے طور پر نقل کرتے ہیں:
سعد بن عبد اﷲ قمی (جو شیعوں میں ایک عظیم شخصیت تھے) احمد بن اسحاق قمی (امام حسن عسکری علیہ السلام کے وکیل) کے ہمراہ کچھ سوالات لے کر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہوئے، موصوف اس ملاقات کو یوں نقل کرتے ہیں: جب میں نے سوال کرنا چاہا تو امام عسکری علیہ ا لسلام نے اپنے فرزند کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: میرے نور چشم سے سوال کرو! اس موقع پر طفل مبارک نے میری طرف رُخ کرکے فرمایا: جو کچھ بھی سوال کرنا چاہو کر لو! میں نے سوال کیا: (قرآن کے حروف مقطعات میں سے) ”کھیعص“ کا مقصد کیا ہے؟ فرمایا: یہ حروف غیب کے مسائل میں سے ہیں۔ خداوند عالم نے اپنے بندہ (اور پیغمبر) زکریعلیہ السلام کو ان سے مطلع کیا، اور پھر پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے لئے دوبارہ سنایا۔ واقعہ یوں ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے خداوند عالم سے درخواست کی کہ مجھے پنجتن (آل عبا) کے اسمائے گرامی تعلیم کر دے، تو خداوند عالم نے جناب جبرئیل کو نازل کیا اور ان کو پنجتن کے نام تعلیم دیئے، تو جیسے ہی جناب زکریا نے (ان مقدس اسمائ) محمد (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم)، علی علیہ السلام، فاطمہ سلام اﷲ علیہا، اور حسن علیہ السلام کا نام زبان پر جاری کیا تو ان کی مشکلات دور ہوگئیں اور جب امام حسین علیہ السلام کا نام زبان پر جاری کیا تو ان کاسینہ بھر آیا اور وہ مبہوت ہو کر رہ گئے، ایک روز اُنہوں نے بارگاہ خداوندی میں عرض کی: بارِ الٰہا! جس وقت میں ان چار حضرات کا نام لیتا ہوں تو میری پریشانیاں اور مشکلات دُور ہو جاتی ہیں دل کو سکون ملتا ہے لیکن جب میں حسین علیہ السلام کا نام لیتا ہوں تو میرے آنسو جاری ہو جاتے ہین اور میرے رونے کی آواز بلند ہو جاتی ہے، پالنے والے اس کی وجہ کیا ہے؟ تو خداوند عالم نے ان کو حضرت امام حسین علیہ السلام کا واقعہ سنایا اور فرمایا: ”کھیعص“ (اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے) میں ”کاف“ سے مراد واقعہ کربلا، اور ”ہا“ سے ان کے خاندان کی (شہادت و) موت مراد ہے، اور ”یا“ سے ”یزید“ کے نام کی طرف اشارہ ہے جو امام حسین علیہ السلام پر ظلم و ستم کرنے والا ہے اور ”ع“ سے امام حسین علیہ السلام کی عطش اور پیاس مراد ہے ”اور ”صاد“ سے حضرت امام حسین علیہ السلام کا صبر و استقامت مراد ہے........
میں نے سوال کیا: اے میرا مولا و آقا! لوگوں کو اپنے لئے امام معین کرنے سے کیوں روکا گیا ہے؟امام علیہ السلام نے فرمایا: امام معین کرنے سے تمہاری مراد ”امام مصلح“ ہے یا امام مفسدہے؟ میں نے کہا: امام مصلح (جو معاشرہ کی اصلاح کرنے والا ہوتا ہے)، امام علیہ السلام نے فرمایا: کیونکہ کوئی بھی کسی دوسرے کے باطن سے مطلع نہیں ہے کہ وہ خیر و صلاح کے بارے میں سوچتا ہے یا فساد و برائی کے بارے میں، اس صورت میں کیا یہ احتمال نہیں پایا جاتا کہ لوگوں کا انتخاب کیا ہو امام، مفسد (فتنہ و فساد پھیلانے والا) ہونکلے؟ میں نے کہا: اس بات کا احتمال تو پایا جاتا ہے، تو امام علیہ السلام نے فرمایا: بس یہی وجہ ہے کہ امام مصلح کا انتخاب اللہ کی طرف سے ہے۔ (کمال الدین، ج ۲ ، باب ۳۴ ، ص ۰۹۱)( اس کلام کی وضاحت کتاب کی پہلی فصل میں ”امام کے خدا کی طرف سے منسوب ہونے“ کے عنوان کے تحت بیان ہو چکی ہے)
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس روایت کے آخر میں امام زمانہ (عجل اﷲ فرجہ الشریف) نے دوسری وجوہات بھی بیان کی ہیں اور دوسرے سوالات کے جواب بھی عنایت فرمائے ہیں، ہم نے اختصار کی وجہ سے مکمل روایت بیان نہیں کی ہے۔
ہدیے اور تحفے قبول کرنا
شیعہ حضرات امام معصوم علیہ السلام کے لئے تحفے اور مالی واجبات (زکوٰة و خمس) لے جایا کرتے تھے اور امام معصوم بھی ان کو قبول فرما کر غریب اور محتاج لوگوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ احمدابن اسحاق (امام حسن عسکری علیہ السلام کے وکیل) کہتے ہیں:
شیعوں کی بھیجی ہوئی کچھ رقم امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں پیش کی، اس موقع پر امام علیہ السلام کا ایک چھوٹا فرزند جس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا امام کے پاس موجود تھا، امام حسن عسکری علیہ السلام نے ان کی طرف رُخ کرکے فرمایا: اے میرے لخت جگر! اپنے شیعوں اور دوستوں کے تحفوں کو کھولو! تو اس طفل مبارک نے کہا: اے میرے مولا و آقا! کیا یہ بات مناسب ہے کہ ان ناپاک اور پست تحفوں کی طرف (اپنے) پاک و پاکیزہ ہاتھوں کو لگاوں جو حلال و حرام سے ملے ہوئے ہیں؟! امام عسکری علیہ السلام نے فرمایا: اے ابن اسحاق! ان سب کو باہر نکالو تاکہ ان میں سے حلال و حرام کو جدا کیا جائے۔ چنانچہ میں نے ایک تھیلی نکالی، اس طفل مبارک نے کہا: یہ تھیلی قم سے فلاں محلہ اور فلاں شخص کی ہے (اس کا نام اور اس کے محلہ کا نام لیا) جس میں ۲۶ اشرفی تھیں جس میں ۵۴ اشرفی ایک بنجر زمین فروخت کرکے حاصل کی گئی ہے جس کے مالک کو وہ زمین ارث میں ملی تھی اورا س میں ۴۱ دینار ۹ عدد لباس کو فروخت کرکے حاصل کئے گئے ہیں اور ۳ دینا ردکان کے کرایہ کے ہیں۔
امام عسکری علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے فرزند عزیز! آپ نے صحیح فرمایا، اب اس مرد کی راہنمائی کرو کہ (اس مال میں) کونسا مال حرام ہے؟ چنانچہ طفل مبارک نے بھرپور دقت کے ساتھ حرام سکّوں کو معین کیا اور ان کے حرام ہونے کی وجہ واضح طور پر بیان فرمائی! میں نے دوسری تھیلی نکالی، اس طفل مبارک نے اس کے مالک کا نام اور پتہ بتانے کے بعد فرمایا: اس تھیلی میں ۰۵ اشرفی ہیں جس کوہاتھ لگانا ہمارے لئے جائز نہیں ہے اور اس کے بعد اس تمام مال میں سے ہر ایک کے حرام ہونے کی وجہ بیان کی۔ اس موقع پر امام عسکری علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے لخت جگر! آپ نے صحیح فرمایا، اور پھر امام علیہ السلام نے احمد بن اسحاق کی طرف رُخ کرکے فرمایا: اب سب کو ان کے مالکوں کو واپس کر دو، اور ان سے کہنا کہ ان کو ان کے مالکوں کو واپس کر دو، ہمیں اس مال کی کوئی ضرورت نہیں ہے........
( کمال الدین، ج ۲ ، باب ۳۴ ، ح ۱۲ ، ص ۰۹۱)
پدر بزرگوار کی نماز جنازہ
امام مہدی علیہ السلام کی غیبت سے پہلے اور مخفی رہنے کے زمانہ کا آخری حصہ اپنے پدربزرگوار کی نماز جنازہ پڑھانا ہے۔
اس سلسلہ میں ابو الاَدیان (امام حسن عسکری علیہ السلام کے خادم) کا کہنا ہے:
”حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنی عمر بابرکت کے آخری دنوں میں مجھے کچھ خطوط دیئے اور فرمایا: ان کو مدائن شہر میں پہنچا دو، تم ۵۱/ دن کے بعد سامرہ واپس پلٹو گے، اور میرے گھر سے نالہ و شیون کی آواز سنو گے اور (میرے بدن کو) غسل کے تخت پر دیکھو گے، میں نے عرض کی: اے میرے مولا و آقا! جب یہ اتفاق پیش آئے گا تو آپ کے بعد آپ کا جانشین اور امام کون ہو گا؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: جو بھی تم سے خطوط کے جواب طلب کرے وہی میرے بعد امام ہو گا۔ میں نے عرض کی: اس کی کوئی دوسری نشانی بیان فرمائیں!۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص بھی میری نماز جنازہ پڑھائے وہی میرے بعد امام ہو گا۔ میں نے عرض کی: کچھ اور نشانی بیان فرمائیں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص یہ بتا دے کہ اس تھیلی میں کیا ہے؟ (لیکن) امام علیہ السلام کی ہیبت ایسی طاری تھی کہ میں یہ سوال نہ کر سکا کہ اس تھیلی میں کیا ہے۔
میں ان خطوط کو لے کر مدائن گیا اور ان کا جواب لے کر واپس آیا اور جیسا کہ امام علیہ السلام نے فرمایا تھا ۵۱ دن بعدمیں سامرہ پہنچا، دیکھا کہ امام عسکری علیہ السلام کے بیت الشرف سے نالہ و شیون اور گریہ و زاری کی آوازیں بلند ہیں، اور امام عسکری علیہ السلام (کے بدن مبارک) کو غسل کی جگہ پر پایا اور دیکھا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے بھائی جعفر دروازہ پر کھڑے ہیں اور بعض شیعہ اس کو بھائی کے انتقال پر تسلیت اور اس کی امامت پر مبارک کہہ رہے ہیں۔ میں نے اپنے دل میں کہا: اگر یہ (جعفر) امام ہو گئے تو امامت کا سلسلہ تباہ و برباد ہو جائے گا، کیونکہ میں اس کو پہچانتا تھا وہ شرابی اور جواری انسان تھا، (لیکن چونکہ میں نشانیوں کی تلاش میں تھا) میں بھی آگے بڑھا اور دوسروں کی طرح تسلیت اور مبارک عرض کی، لیکن اس نے مجھ سے کسی بھی چیز (منجملہ خطوں کے جوابات) کے بارے میںسوال نہ کیا، اس موقع پر ”عقید“ (امام کے گھر کا خادم) باہر آیا اور اس نے (جعفر کو خطاب) کرتے ہوئے کہا: اے میرے مولا و آقا! آپ کے برادر گرامی (امام عسکری علیہ السلام) کو کفن دیا جا چکا ہے، چلئے نماز جنازہ پڑھا دیجئے۔ میں بھی جعفر اور دوسرے شیعوں کے ساتھ میں امام کے بیت الشرف میں وارد ہوا، میں نے دیکھا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کو کفن دے کر تابوت میں رکھا جا چکا ہے، جعفر آگے بڑھے تاکہ اپنے بھائی کے جنازہ پر نماز پڑھائیں، لیکن جیسے ہی تکبیر کہنا چاہتے تھے ایک گندم گوں رنگ، گھنگریالے بال اور چمکدار اور باہم پیوستہ دانت والا ایک طفل مبارک آگے بڑھا اور جعفر کا دامن پکڑ کر فرمایا: اے چچا! آپ پیچھے ہٹیں، میں اپنے باپ کے جنازہ پر نماز پڑھنے کا زیادہ حق رکھتا ہوں۔ چنانچہ جعفر جن کے چہرہ کا رنگ بدل گیا اور وہ شرمندہ ہو کر پیچھے ہٹ گئے اور وہ طفل مبارک آگے بڑھے اور اُنہوں نے امام علیہ السلام کے جنازہ پر نماز پڑھی۔ اس کے بعد مجھ سے فرمایا: تمہارے پاس جو خطوط کے جوابات ہیں وہ ہمیں دے دو! میں نے وہ خطوط ان کو دیئے اور اپنے دل میں کہا: یہ (اس طفل مبارک کی امامت پر) دو نشانیاں مل گئی ہیں او ر صرف تھیلی والا واقعہ باقی رہ گیا ہے، میں جعفر کے پاس گیا اور دیکھا کہ وہ آہیں بھر رہے ہیں۔ کسی ایک شیعہ نے ان سے سوال کیا: یہ طفل مبارک کون ہے؟ جعفر نے کہا: خدا کی قسم میں نے اس کو ابھی تک نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی اس کوپہچانتا ہوں۔ ابوالادیان مزید کہتے ہیں: ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ کچھ اہل قم آئے اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے بارے میں سوال کرنے لگے اور جب ان کو معلوم ہوا کہ امام عسکری علیہ السلام کی شہادت ہو چکی ہے تو کہنے لگے کہ ہم کس کو تسلیت دیں؟ تو لوگوں نے جعفر کی طرف اشارہ کیا۔ اُنہوں نے جعفر کو سلام کیا اور تسلیت و مبارک پیش کی، اور پھر اُنہوں نے جعفر کو خطاب کرکے کہا: ہمارے پاس کچھ خطوط اور کچھ رقم ہے، آپ صرف یہ بتا دیجئے کہ خطوط کس کے ہیں اور رقم کتنی ہے؟ جعفر ناراض ہو کر اپنی جگہ سے اُٹھے اور کہا: کیا ہم علم غیب جانتے ہیں؟ اس موقع پر امام مہدی علیہ السلام کا خادم باہر نکلا اور اس نے کہا: یہ خطوط فلاں فلاں شخص کے ہیں (اور ان کے نام و پتے بیان کئے) اور تمہارے پاس ایک تھیلی ہے جس میں ہزار دینار ہیں جس میں سے دس دینار کی تصویر مٹ چکی ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے وہ خطوط اور وہ رقم اس کو دی اور کہا: جس نے تمہیں یہ چیزیں لینے کے لیے بھیجا ہے وہی امام ہے....“ ( کمال الدین، ج ۲ ، ح ۵۲ ، ص ۳۲۲)
ة....ة....ة....ة....ة
درس کا خلاصہ
امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند کی ولادت کے مخفی ہونے کے پیش نظر اپنے مورد اعتماد افراد اور شیعہ بزرگان کے ایک گروہ کو ان کی زیارت سے بہرہ مند کیا تاکہ لوگ اپنے آخری امام کی معرفت میں حیرت و گمراہی کا شکار نہ ہوں۔امام مہدی علیہ السلام نے زمانہ طفولیت میں ہی سعد بن عبد اﷲ کے کلامی اور عقائدی سوالوں کا جواب دیا۔حضرت نے اپنے والد گرامی کے فرمان پر احمد بن اسحاق کے ذریعے شیعوں کے بھیجے گئے تحائف وصول کئے اور ان کے بھیجنے والوں کے بارے میں بتایا، ان سے حلال اور حرام کو جدا کیا اور حرام مال کو ان کے بھیجنے والوں کی طرف پلٹا دیا۔امام عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام مہدی علیہ السلام نے اپنے والد گرامی کی نماز جنازہ پڑھی۔
سوالات
۱ ۔ امام عسکری علیہ السلام نے کیوں بعض شیعوں کو اپنے فرزند ارجمند کی زیارت کروائی؟
۲ ۔ امام مہدی علیہ السلام نے آیت شریفہ ”انا بقیة اﷲ فی ارضہ“ کسے مخاطب کرتے ہوئے اور کس سوال کے جواب میں قرا ت کی؟
۳ ۔ سعد بن عبد اﷲ قمی کے جواب میں امام زمانہ علیہ السلام نے لوگوں کی طرف سے امام کے منتخب نہ ہونے کی کیا دلیل بیان کی ہے؟
۴ ۔ احمد بن اسحاق کے ذریعے امام عسکری علیہ السلام کی خدمت میں شیعوں کے اموال اور تحائف پیش کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کریں؟
۵ ۔ امام عسکری علیہ السلام نے ابوالادیان کو اپنے بعد امام کی پہچان کے لئے جو تین نشانیاں بتائیں ان کی وضاحت کریں؟
چوتھا درس
امام مہدی علیہ السلامقرآن و حدیث کی روشنی میں
مقاصد:
۱ ۔ قرآن مجید کے اُفق سے امام مہدی علیہ السلام کا تعارف
۲ ۔ احادیث اہل بیت علیہم السلام میں امام مہدی علیہ السلام کے موضوع کے مقام و منزلت کو بیان کرنا۔
فوائد:
۱ ۔ امام مہدی علیہ السلام کے موضوع پر قرآنی دلائل سے آگاہی
۲ ۔ امام مہدی علیہ السلام کے متعلق احادیث و روایات سے آشنائی
۳ ۔ لوگوں کا حضرت کے بارے قلبی عقیدہ کا عمیق ہون
تعلیمی مطالب:
۱ ۔ امام مہدی علیہ السلام کے متعلق آیات پر تحقیق کرنا
۲ ۔ معصومین علیہم السلام کے کلام میں امام مہدی علیہ السلام
الف: قرآن کریم کی روشنی میں
قرآن کریم، انسان کے لئے الٰہی معارف کا نایاب اور ہمیشہ کے لئے باقی رہنے والی حکمتوں اور ابدی علم کا بہتا دریا ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں تمام تر صداقت اور سچائی ہے۔ جس میں گذشتہ اور آئندہ کی خبروں کو بیان کیا گیا ہے اور کسی بھی حقیقت کو بیان کئے بغیر نہیں چھوڑا ہے۔ اگرچہ یہ بات روشن ہے کہ دنیا کے بہت سے ظریف حقائق الٰہی آیات میں پوشیدہ ہیں اور صرف وہی حضرات ان واقعات کی حقیقت تک پہنچتے ہیں جو قرآن کے معانی کی گہرائی تک پہنچ جاتے ہیں، اور وہ اہل قرآن کریم اور قرآن کے حقیقی مفسرین یعنی پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور آپ کی آل پاک ہے۔
امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کا قیام اور انقلاب اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے جس کے بارے میں قرآن کریم کی متعدد آیات اور ان آیات کی تفسیر میں بیان ہونے والی بہت سی روایات میں اشارہ ہوا ہے، ہم یہاں چند نمونے پیش کرتے ہیں:
سورہ انبیاءآیت ۵۰۱ میں ارشاد ہوتا ہے:
( وَ لَقَد کَتَبنَا فِی الزَّبُورِ مِن بَعدِ الذِّکرِ اَنَّ الاَرضَ یَرِثُهَا عِبَادِی الصَّالِحُونَ )
”اور ہم نے ذکرکے بعد زبور میں بھی لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے“۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
”زمین کو ارث میں لینے والوں سے نیک اور صالح بندے، جو امام مہدی علیہ السلام اور ان کے ناصر و مددگار مرادہیں“۔(تفسیر قمی، ج ۲ ، ص ۲۵)
اسی طرح سورہ قصص آیت ۵ میں ارشاد ہوتا ہے:
( وَ نرِید اَن تَمُنَّ عَلَی الَّذِینَ استُضعِفُوا فِی الاَرضِ وَنَجعَلَهُم ائِمَّةً وَنَجعَلَهُمُ الوَارِثِینَ )
”اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور کر دیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائین اور زمین کے وارث قرر دے دیں“۔
حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا:
”(مستضعفین) سے مراد پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی آل ہے۔ خداوند عالم ان کی کوشش اور پریشانیوں کے بعد اس خاندان کے ”مہدی“ کے ذریعہ انقلاب برپا کرائے گا اور ان کو اقتدار اور شکوہ و عظمت کی اوج پر پہنچا دے گا نیز ان کے دشمنوں کو ذلیل و رسوا کر دے گا“۔ ( غیبت طوسی علیہ الرحمہ، ح ۳۴۱ ، ص ۴۸۱)
اسی طرح سورہ ھود آیت ۶۸ میں ارشاد ہوا ہے:
( بَقِیَّةُ اللّٰهِ خَیرلَکُم اِن کُن تُم مُو مِنِی نَ ....)
”اﷲ کا ذخیرہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہے اگر تم صاحب ایمان ہو....“۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:”جس وقت امام مہدی (عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) ظہور فرمائیں گے، خانہ کعبہ کی دیوار کا سہارا لیں گے اور سب سے پہلے اسی آیت کی تلاوت فرمائیں گے اور اس کے بعد فرمائیں گے:اَنَا بَقِیَّةُ اللّٰهِ فِی اَر ضِه وَ خَلِیَفَتُهُ وَ حُجَّتُهُ عَلَیکُم ۔ ”میں زمین پر ”بقیة اﷲ، اس کا جانشین اور تم پر اس کی حجت ہوں، پس جو شخص بھی آپ کو سلام کرے گا تو اس طرح کہے گا:اَلسَّلَامُ عَلَیکَ یَا بَقِیَّةَ اللّٰهِ فِی اَر ضِهِ ( کمال الدین ، ج ۱ ، باب ۲۳ ، ح ۶۱ ، ص ۳۰۲) اور سورہ حدید آیت ۷۱ میں ارشاد ہوتا ہے:( اعلَمُوا اَنَّ اللّٰهَ یُحِی الاَرضَ بَعدَ مَوتِهَا قَد بَیَّنَّا لَکُم الآیَاتِ لَعَلَّکُم تَعقِلُو نَ )
”یاد رکھو کہ خدا مردہ زمینوں کو زندہ کرنے والا ہے اور ہم نے تمام نشانیوں کو واضح کرکے بیان کر دیا ہے تاکہ تم عقل سے کام لے سکو“۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”مراد یہ ہے کہ خداوند عالم زمین کو حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے وقت ان کی عدالت کے ذریعہ زندہ فرمائے گا جو گمراہ حکام کے ظلم و ستم کی وجہ سے مردہ ہو چکی ہو گی“۔
(غیبت نعمانی، ص ۲۳)
ب: احادیث کی روشنی میں
حضرت امام مہدی (علیہ السلام) کے سلسلہ میں بہت سی احادیث و روایات ہمارے پاس موجود ہیں، کہ جن میں امام مہدی علیہ السلام کی زندگی کے مختلف حصوں پر الگ الگ روایات ائمہ علیہم السلام کے ذریعہ بیان ہوئی ہیں، جیسے آپ کی ولادت، بچپن کا زمانہ، غیبت صغریٰ اور غیبت کبریٰ، ظہور کی نشانیاں، ظہور کا زمانہ، عالمی حکومت، نیز امام مہدی علیہ السلام کی ظاہری اور اخلاقی خصوصیات، غیبت کا زمانہ اور ان کے ظہور کے منتظرین کی جزا اور ثواب کے بارے میں بہت اہم احادیث و روایات موجود ہیں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ سب روایات شیعہ کتابوں میں بھی بیان ہوئی ہیں اور ان میں سے بہت سی اہل سنت کی کتابوں میں بھی ذکر ہوئی ہیں اور امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں بہت زیادہ روایات ”متواتر“ ( متواتر ان احادیث کو کہا جاتا ہے جس کے راوی تمام سلسلہ روایت میں اس قدر زیادہ ہوں کہ کہ ان کا کذب پر اتفاق کرنا ناممکن ہو)ہیں۔ان احادیث کی تعداد جو امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں موجود ہیں دس ہزار بنتی ہے جس کا بعض محققین نے شمار کیا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ تمام ہی معصومین علیہم السلام نے آپ کے بارے میں گرانقدر کلمات ارشاد فرمائے ہیں جو واقعاً علم و معرفت کا خزانہ ہیں اور عدالت کے اس علمبردار کے قیام اور انقلاب کی حکایت کرتے ہیں، ہم یہاں پر ہر معصوم سے ایک ایک حدیث نقل کرتے ہیں:
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:
”خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو مہدی (علیہ السلام) کی زیارت کریں گے، اور خوش نصیب ہے وہ شخص جو ان سے محبت کرتا ہو گا، اور خوش نصیب ہے وہ شخص جو ان کی امامت کو مانتا ہو“۔ (بحار الانوار ج ۲۵ ، ص ۹۰۳)
حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا:
”(آل محمد) کے ظہور کے منتظر رہو، اور خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، کہ بے شک خداوند عالم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کام ”ظہور کا انتظار“ ہے۔ (بحار الانوار ، ج ۲۵ ، ص ۳۲۱)
لوح فاطمہ زہرا سلام اﷲ علیہا (مذکورہ روایت میں بیان ہوا ہے کہ جابر ابن عبد اﷲ انصاری کہتے ہیں: حضرت رسول اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں ولادت امام حسن عسکری علیہ السلام کے موقع پر مبارکبار پیش کرنے کے لئے حضرت فاطمہ سلام اﷲ علیہا کی خدمت میں حاضر ہوا، چنانچہ وہ بی بی دو عالم ہاتھوں میں ایک سبز رنگ کا ایک لوح (صفحہ) دیکھی، جس میں سورج کی طرح چمکتی ہوئی تحریر دیکھی۔ میں نے عرض کی: یہ لوح کیسی ہے؟ فرمایا: اس لوح کو خداوند عالم نے اپنے رسول کو تحفہ دیا ہے، اس میں میرے پدر بزرگوار، میرے شوہر، دونوں بیٹوں اور ان کے بعد ہونے والے جانشین کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ رسول خدا نے یہ لوح مجھے عطا کی ہے تاکہ اس کے ذریعہ میرا دل خوش و خرم رہے) میں بیان ہوا ہے:”........ اس کے بعد اپنی رحمت کی وجہ سے اوصیاءکا سلسلہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ارجمند پر مکمل کر دُوں گا، جو موسیٰ کا کمال، عیسیٰ کا شکوہ اور جناب ایوب کا صبر رکھتا ہو گا........“۔ (کمال الدین، ج ۱ ، باب ۰۳ ، ص ۹۶۵)
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام ایک روایت کے ضمن میں رسول خدا (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد پیش آنے والے بعض حوادث کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”خداوند عالم آخر الزمان میں ایک قائم کو بھیجے گا اور اپنے فرشتوں کے ذریعہ اس کی مدد کرے گا، اور ان کے ناصران کی حفاظت کرے گا اور اس کو تمام زمین پر رہنے والوں پر غالب کرے گا وہ زمین کو عدالت، نور اور آشکار دلیلوں سے بھر دے گا خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس زمانہ کو درک کرے اور ان کی اطاعت کرے“۔
(احتجاج، ج ۲ ، ص ۰۷)
حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:”........ خداوند عالم اس (امام مہدی علیہ السلام) کے ذریعہ مردہ زمین کو زندہ اور آباد کر دے گا اور اس کے ذریعہ دین حق کو تمام ادیان پر غالب کر دے گا، اگرچہ یہ یہ بات مشرکین کو اچھی نہ لگے۔ وہ غیبت اختیار کرے گا جس میں ایک گروہ دین سے گمراہ ہو جائے گا اور ایک گروہ دین (حق) پر قائم رہے گا بے شک جو شخص ان کی غیبت کے زمانہ میں پریشانیوں اور جھٹلائے جانے کی بنا پر صبر کرے وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے رسول خدا (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی رکاب میں تلوار سے جہاد کیا ہو“۔ (کمال الدین، ج ۱ ،باب ۰۳ ، ح ۳ ، ص ۴۸۵)
حضرت امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:”جو شخص قائم آل محمد کی غیبت کے زمانہ میں ہماری مودّت اور دوستی پر ثابت قدم رہے خداوند عالم اس کو شہدائے بدر و اُحد کے ہزار شہیدوں کے برابر ثواب عنایت فرمائے گا“۔ (کمال الدین، ج ۱ ، باب ۱۳ ، ص ۲۹۵)
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:”ایک زمانہ وہ آئے گا کہ جب لوگوں کا امام غائب ہو گا، پس خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس زمانہ میں ہماری ولایت پر ثابت قدم رہے........“۔ (کمال الدین، ج ۱ ، باب ۲۳ ، ح ۵۱ ، ص ۲۰۶)
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”قائم آل محمد کے لئے دو غیبتیں ہوں گی ایک غیبت صغریٰ اور دوسری غیبت کبریٰ ہو گی“۔ (غیبت نعمانی، باب ۴۳ ، ح ۶ ،ص ۷۵)
حضرت موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا:
”امام (مہدی علیہ السلام) لوگوں کی نظروں میں پوشیدہ رہیں گے لیکن مومنین کے دلوںمیں ان کی یاد تازہ رہے گی“۔ (غیبت نعمانی، باب ۵۳ ، ح ۵۶ ، ص ۰۶)
حضرت امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
”جس وقت (امام مہدی علیہ السلام) قیام کریں گے تو ان کے (وجود کے) نور سے زمین روشن ہو جائے گی اور وہ لوگوں کے درمیان حق و عدالت کی ترازو قرار دیں گے اور اس موقع پر کوئی کسی پرظلم و ستم نہیں کرے گا“۔ (غیبت نعمانی، باب ۵۳ ، ح ۵۶ ، ص ۰۶)
امام محمد تقی علیہ السلام نے فرمایا:”قائم آل محمد کی غیبت کے زمانہ میں (مومنین کو) ان کے ظہور کا انتظار کرنا چاہیے اور جب وہ ظہور اور قیام کریں تو ان کی انہیںاطاعت کرنا چاہئے“
(غیبت نعمانی، باب ۶۳ ، ح ۱ ، ص ۰۷)
حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا:”میرے بعد میرا فرزند حسن (عسکری) امام ہو گا اور ان کے بعد ان کا فرزند ”قائم“ امام ہو گا، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جیسا کہ ظلم و جور سے بھری ہو گی“۔ (غیبت نعمانی، باب ۷۳ ، ح ۰۱ ، ص ۹۷)
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا:
”اس خدائے وحدہ لا شریک کا شکر ہے جس نے میری زندگی میں مجھے جانشین عطا کر دیاہے وہ خلقت اور اخلاق کے لحاظ سے رسول خدا (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے سب سے زیادہ مشابہ ہے“۔ ( غیبت نعمانی، باب ۷۳ ، ح ۷ ، ص ۸۱۱)
درس کا خلاصہ
حضرت مہدی (عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی عالمی حکومت کا موضوع بہت سی آیات میں بیان ہوا ہے اور اﷲ تعالیٰ نے بھی اس امر کا آخری زمانہ میں وعدہ دیا ہے جیسا کہ قرآنی آیات سے سمجھا جا سکتاہے۔
پیغمبر اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم اور آئمہ معصومین علیہم السلام سے منقول احادیث میں امام مہدی عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف، ان کی زندگی کے ادوار، ظہور کی نشانیاں، قیام کی کیفیت، حضرت مہدی کی حکومت کی خصوصیات اور اس کے بے نظیر ثمرات کے بارے میں تفصیلی طور پر بتایا گیا ہے۔
درس کے سوالات
۱ ۔ سورہ ھود آیہ مبارکہ ۶۸ بقیةاﷲ خیر لکم اس کے ذیل میں روایات پر غور کرتے ہوئے معنی کریں؟
۲ ۔ سورہ قصص کی آیت ۵ میں مستضعفین سے مراد کی وضاحت کریں؟
۳ ۔ پیغمبر اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں میںسے کن گروہوں کو اہل بشارت قراردیا؟
۴ ۔ امام سجاد علیہ السلام نے غیبت کے زمانہ میں ولایت اہل بیت علیہم السلام پر ثابت قدم رہنے والوں کے اجر کو کن چیزوں کے برابر قراردیا؟
۵ ۔ امام عسکری علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند اور اپنے بعد جانشین کی شیعوں کے لئے کیسے توصیف فرمائی؟
پانچواں درس
حضرت امام مہدی علیہ السلام غیروں کی نظر میں
مقاصد:
۱ ۔ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں اہل سنت کے نظریات سے آگاہی۔
۲ ۔ اہل سنت کے ماخذات میں امام مہدی عجل اﷲ فرجہ الشریف کے موضوع کی اہمیت کو بیان کرن
فوائد:
۱ ۔ احادیث سے امام مہدی علیہ السلام کے موضوع کے متواتر ہونے کاثبوت۔
۲ ۔ امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے بہت سے علماءاہل سنت کے شیعوں کے ساتھ متفقہ نکتہ نظر سے آگاہی۔
تعلیمی مطالب:
۱ ۔ امام مہدی علیہ السلام اہل سنت کے حدیثی منابع میں
۲ ۔ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں علماءاہل سنت کی آرائ
۳ ۔ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں علماءاہل سنت کی قلمی کاوشیں
حضرت امام مہدی (علیہ السلام) غیروں کی نظر میں
خوشتر آن باشد کہ سرّ دلبران گفتہ آید در حدیث دیگران
”صداقت وہ ہے جس کا اقرار دشمن کرے“۔
امام مہدی علیہ السلام کے عظیم الشان قیام اور عالمی انقلاب کا موضوع نہ صرف شیعہ کتب میں بیان ہوا ہے بلکہ دوسرے اسلامی فرقوں کی اعتقادی کتابوں میں بھی بیان ہوا ہے اور آپ (علیہ السلام) کے سلسلہ میں تفصیلی طور پر گفتگو ہوئی ہے وہ لوگ بھی آل پیغمبر (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اﷲ علیہا ( المستدرک علی الصحیحین، ج ۴ ، ص ۷۵) کی نسل سے مہدی کے ظہور کے قائل ہیں۔ امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے اہل سنت کے عقیدہ کی شناخت کے لئے بزرگ علمائے اہل سنت کی کتابون کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ متعدد سنی مفسرین نے اپنی تفاسیر میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ قرآن مجید کی متعدد آیات آخری زمانہ میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جیسے فخر الدین رازی ( التفسیر الکبیر، ج ۶۱ ، ص ۰۴) اور علامہ قرطبی۔
(التفسیر القرطبی، ج ۸ ، ص ۱۲۱)
اسی طرح اکثر اہل سنت کے محدثین نے امام مہدی (عج) کے سلسلہ میںبیان ہونے والی احادیث کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے جن میں اہل سنت کی معتبر کتابیں بھی شامل ہیںجیسے ”صحاح ستہ“ ( اہل سنت کی چھ صحیح کتابوں کو ”صحاح ستہ“ کہا جاتا ہے جو تمام احادیث کی کتابیں ہیں اور اہل سنت کے نزدیک معتبر اور موثق ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہیں، جن کے نام اس طرح ہیں ”صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابوداود، سنن نسائی اور جامع ترمذی“ اور ان کتابوں میں نقل ہونے والی احادیث کو ”صحیح“ اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا کلام مانا جاتاہے اور اہل سنت کے نزدیک قرآن کریم کے بعد سب سے معتبر انہیں کتابوں کو مانا جاتا ہے۔) اور مسند احمد بن حنبل (حنبلی فرقہ کے بانی)(گذشتہ اور عصر حاضر کے) بعض دیگر علمائے اہل سنت نے امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں مستقل کتابیں بھی لکھیں ہیں جیسے ابو نعیم اصفہانی نے ”مجموعہ الاربعین (چالیس حدیث)، اور سیوطی نے کتاب ”العرف الوردی فی اخبار المہدی علیہ السلام“۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بعض علمائے اہل سنت نے عقیدہ مہدویت کے دفاع اور اس عقیدہ کے منکرین کی رَد میں بھی کتابیں اور مقالات تحریر کئیے ہیں اور علمی بیانات اور احادیث کی روشنی میں امام مہدی علیہ السلام کے واقعہ کو یقینی اور غیر قابل انکار مسائل میں شمار کیا ہے جیسے ”محمد صدیق مغربی“ کہ جنہوں نے ”ابن خلدون“ کی رد میں ایک کتاب لکھی اور اس کی باتوں کا دندان شکن جواب دیا ہے (”ابن خلدون“ جنہیں اہل سنت میں معاشرتی علوم کا عظیم دانشور کہا جاتا ہے اُنہوں نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں بعض روایات پر اعتراض کیاہے اور ان کو ضعیف قرار دیا ہے جبکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام سے متعلق بعض روایات کو صحیح بھی مانا ہے لیکن پھر بھی اُنہوں نے مہدویت کے مسئلہ میں شک و تردید کا اظہار کیا ہے ”محمد صدیق مغربی“ نے اپنی کتاب ”اِبرازُ الوهم المَکُنُون میں کلام ابن خلدون“ میں ان کی باتوں کو رَد کیا ہے۔) یہ اہل سنت کی امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے عقیدہ کی مثالیں تھیں۔
قارئین کرام! ہم یہاں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے سلسلہ میں اہل سنت سے نقل ہونے والی سینکڑوں احادیث میں سے دو نقل کرتے ہیں کہ جو ان کی مشہور اور قابل اعتماد کتابوں میں سے لی گئی ہیں:۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:”اگر دُنیا (کی عمر) کا صرف ایک دن بھی باقی رہ گیا ہو تو بے شک خداوند عالم اس دن کو اتنا طویل فرما دے گا کہ میری نسل سے میرا ہم نام ایک شخص قیام کرے گا“۔ ( سنن ابوداود، ج ۲ ، ح ۲۸۲۴ ، ص ۶۰۱)
نیز آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:”میری نسل سے ایک شخص قیام کرے گا جس کا نام اور سیرت مجھ سے مشابہ ہو گی، وہ (دُنیا کو) عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسا کہ وہ ظلم و ستم سے بھری ہو گی“۔ ( معجم الکبیر، ج ۰۱ ، ح ۹۲۲ ، ص ۳۸)
قابل ذکر ہے کہ آخر الزمان میں منجی بشریت اور دُنیا میں عدل و انصاف قائم کرنے والے کے ظہور کا عقیدہ ایک عالمی اور سب کے نزدیک مقبول عقیدہ ہے اور سچے آسمانی ادیان کے سب ماننے والے اپنی اپنی کتابوں کی تعلیمات کی بنیاد پر اس قائم کے منتظر ہیں، کتاب مقدس زبور، توریت اور انجیل نیز ہندو ں، آتش پرستوں اور براہمن کی کتابوں میں بھی منجی بشریت کے ظہور کی طرف اشارہ ہے البتہ ہر قوم و ملت نے اس کو الگ الگ لقب سے یاد کیاہے، آتش پرستوں نے اس کو ”سوشیانس“ (یعنی دُنیا کو نجات دینے والے)، عیسائیوں نے اس ”مسیح موعود“ اور یہودیوں نے اس کو ”سرور میکائلی“ کے نام سے یاد کیا ہے۔
آتش پرستوں کی مقدس کتاب ”جاما سب نامہ“ کی تحریر کچھ اس طرح ہے:
”عرب کا پیغمبر آخری پیغمبر ہوگا جو مکہ کے پہاڑوں کے درمیان پیدا ہو گا اپنے غلاموں کے ساتھ متواضع اور غلاموں کی طرح نشست و برخاست کرے گا........ اس کا دین سب ادیان سے بہتر ہو گا ، اس کی کتاب تمام کتابوں کو باطل کرنے والی ہو گی اس پیغمبر کی بیٹی (جس کا نام خورشید جہاں اور شاہ زمان نام ہوگا) کی نسل سے خدا کے حکم سے اس دُنیا میں ایک ایسا بادشاہ ہو گا جو اس پیغمبر کا آخری جانشین ہو گا، جس کی حکومت قیامت سے متصل ہو گی“۔ ( ادیان و مہدویت، ص ۱۲)
درس کا خلاصہ
تمام اسلامی فرقے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اصل عقیدہ میں کہ آپ پیغمبر اکرم کی نسل مبارک سے آخری نجات دہندہ ہیں پر اتفاق نظر رکھتے ہیں۔
امام مہدی علیہ السلام کے متعلق احادیث اہل سنت کے معتبر منابع مثلاً صحاح ستہ، مسند احمد، وغیرہ میں بھی نقل ہوئی ہیں۔
بہت سے علماءاہل سنت نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی روایات اور حیات مبارکہ پر مستقل کتابیں تالیف کیں اور ان میں سے بعض دانشوروں نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے متعلق روایات کے دفاع اور ان کے منکرین کی رد میں بھی کتابیں اور علمی و تحقیقی مقالات تحریر کئے ہیں۔
درس کے سوالات
۱ ۔ اہل سنت کے مفسرین میں سے دو ایسے مفسروں کے بارے میں بتائیے کہ جنہوں نے قرآنی آیات کی امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں تفسیر ہو۔
۲ ۔ علماءاہل سنت کی امام مہدی علیہ السلام کے موضوع پر تحریر کی گئی اہم ترین تالیفات میں سے کسی دو کے بارے میں بتائیے؟
۳ ۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے محمد صدیق مغربی(اہل سنت کے معروف مصنف)کی تالیف کا کیا نام ہے اور کس ہدف کے تحت تحریر کی گئی ہے؟
۴ ۔ سوشیانس کون سی کتاب ہے آخری دین اور آنے والے نجات دہندہ کی کیسے توصیف کرتی ہے؟
چھٹا درس
امام مہدی علیہ السلام کا انتظار
مقاصد:
۱ ۔ امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت سے آشنائی
۲ ۔ امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے اسباب اور فلسفہ سے آگاہی
۳ ۔ غیبت کے مختلف ادوار سے آشنائی
فوائد:
۱ ۔ امام زمانہ علیہ السلام کے ظاہری حضور سے محروم ہونے کے بعض دلائل سے آشنائی
۲ ۔ ظہور امام علیہ السلام کے اسباب فراہم کرنے کےلئے کوشش وجدوجہدکا انگیزہ پیدا ہونا
۳ ۔ حضرتعلیہ السلام کی غیبت کے ادوار سے آگاہی
تعلیمی مطالب:
۱ ۔ غیبت کے مفہوم سے آگاہی
۲ ۔ غیبت کا تاریخچہ
۳ ۔ امام زمانہ (عج) کی غیبت کے اسباب
٭ لوگوں کو تنبیہ
٭ امتحان اور آزمائش
٭ امام کی جان کی حفاظت
٭ الٰہی اسرار میں سے ایک راز
۴ ۔ غیبت صغریٰ اور کبریٰ کے ادوار
غیبت
قارئین کرام! اب جبکہ منجی بشریت اور حضرت آدم علیہ السلام تا خاتم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے الٰہی مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والے آخری الٰہی ذخیرہ حضرت حجة بن الحسن علیہ السلام کی شخصیت سے آشنا ہوگئے، اس وقت وحید الزمان کی غیبت کے بارے میں کچھ گفتگو کریں گے جو آپ کی زندگی کا اہم حصہ ہے۔
غیبت کے معنی
سب سے پہلا نکتہ قابل ذکر یہ ہے کہ غیبت کے معنی ”آنکھوں سے مخفی ہونا“اورعدم پہچان ہے نہ کہ حاضر نہ ہونا، لہٰذا اس حصہ میں گفتگو اس زمانہ کی ہے جب امام مہدی علیہ السلام لوگوں کی نظروں سے مخفی ہیں، یعنی لوگ آپ کو نہیں پہچان پاتے جبکہ آپ لوگوں کے درمیان رہتے ہیں اور ان کے درمیان زندگی بسر کیا کرتے ہیں ۔ چنانچہ ائمہ معصومین علیہم السلام سے منقول روایات میں مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:”قسم ہے خداوند عالم کی، حجت خدا لوگوں کے درمیان ہوتی ہے، راستوں میں (کوچہ و بازار میں) موجود رہتی ہے، ان کے گھروں میں آتی جاتی رہتی ہے، زمین پر مشرق سے مغرب تک آمدورفت کرتی ہے، لوگوں کی باتوں کو سنتی ہے اور ان پر سلام بھیجتی ہے، وہ دیکھتی ہے لیکن آنکھیں اس کو نہیں دیکھ سکتیں جب تک خدا کی مرضی اور اس کا وعدہ پورا نہ ہو“۔ ( غیبت نعمانی، باب ۰۱ ، ح ۳ ، ص ۶۴۱)
اگرچہ امام مہدی ۰علیہ السلام کے لئے غیبت کی ایک دوسری قسم بھی بیان ہوئی ہے:امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے دوسرے نائب خاص بیان فرماتے ہیں:”امام مہدی علیہ السلام حج کے دنوں میں ہر سال حاضر ہوتے ہیں، لوگوں کو دیکھتے ہیں اور ان کو پہچانتے ہیں، لوگ ان کو دیکھتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں“۔ ( بحارالانوار، ج ۲۵ ، باب ۳۲ ، ص ۲۵۱)
اس بنا پر امام مہدی علیہ السلام کی غیبت دو طرح کی ہے: آپ علیہ السلام بعض مقامات پر لوگوں کی نظروں سے مخفی ہیں اور بعض مقامات پر آپ علیہ السلام لوگوں کو دکھائی دیتے ہیں لیکن آپ علیہ السلام کی پہچان نہیں ہوتی، بہرحال امام مہدی علیہ السلام لوگوں کے درمیان حاضراور موجود رہتے ہیں۔
غیبت کی تاریخی حیثیت
غیبت اور مخفی طریقہ سے زندگی کرنا کوئی ایسا واقعہ نہیں ہے جو پہلی بار اور صرف امام مہدی علیہ السلام کے لئے ہو بلکہ متعدد روایات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بہت سے انبیاءعلیہم السلام کی زندگی کا ایک حصہ غیبت میں بسر ہوا ہے اور اُنہوں نے ایک مدت تک مخفی طریقہ سے زندگی کی ہے اور یہ چیز خداوند عالم کی مصلحت اور حکمت کی بنا پر تھی ، نہ کہ کسی ذاتی اور خاندانی مصلحت کی بنیاد پر۔غیبت ایک ”الٰہی سنت“ ( قرآن کریم کی متعدد آیات میں (جیسے سورہ فتح، آیت ۳۲ ، اور سورہ اسراءآیت ۷۷) ” الٰہی سنت“ کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے جن کے پیش نظریہ نتیجہ نکلتا ہے کہ الٰہی سنت سے مراد خداوند عالم کے ثابت اور بنیادی قوانین ہیں جن میں ذرا بھی تبدیلی نہیں آسکتی یہ قوانین گذشتہ قوموں میں نافذ تھے اور آج نیزموجودہیں اور آئندہ بھی نافذ رہیں گے۔ (تفسیر نمونہ، ج ۷۱ ، ص ۵۳۴ کا خلاصہ) ہے جو متعدد انبیاءعلیہم السلام کی زندگی میں دیکھی گئی ہے جیسے حضرت ادریس (ع)، حضرت نوح(ع)، حصرت صالح (ع)، حضرت ابراہیم (ع)، حضرت یوسف (ع)، حضرت موسیٰ (ع)، حضرت شعیب (ع)، حضرت الیاس (ع)، حضرت سلیمان (ع)، حضرت دانیال (ع) اور حضرت عیسٰی(ع) (علیہم السلام)، اور حالات کے پیش نظر ان تمام انبیاءعلیہم السلام کی زندگی کئی سالوں تک غیبت (اور مخفی طریقہ) سے بسر ہوئی ہے۔
( کمال الدین، ج ۱ ، باب ۱ تا ۷ ، ص ۴۵۲ تا ۰۰۳)
اسی وجہ سے امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی غیبت کی روایتوں میں ”غیبت“ کو انبیاءعلیہم السلام کی سنت کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے اور امام مہدی علیہ السلام کی زندگی میں انبیاءعلیہم السلام کی سنت کے جاری ہونے کو غیبت کی دلیلوں میں شمار کیا گیا ہے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”بے شک ہمارے قائم (امام مہدی علیہ السلام) کے لئے غیبت ہو گی جس کی مدت طویل ہو گی۔ راوی کہتا ہے: اے فرزند رسول! اس غیبت کی وجہ کیا ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم کا ارادہ یہ ہے کہ غیبت کے سلسلہ میں انبیاء(علیہم السلام) کی سنت آپ کے بارے میں (بھی) جاری رکھے“۔
(بحارالانوار، ج ۲۵ ، ح ۳ ، ص ۰۹)
قارئین کرام! مذکورہ گفتگو سے یہ نکتہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے سالہا سال پہلے آپ کی غیبت کا مسئلہ بیان ہوتا رہا ہے اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) تا امام حسن عسکری علیہ السلام نے آپ علیہ السلام کی غیبت اور آپ علیہ السلام کے زمانہ میں پیش آنے والے بعض واقعات کی خصوصیات بھی بیان کی ہیں، نیز غیبت کے زمانہ میں مومنین کے فرائض بھی بیان کئے ہیں۔
(دیکھئے: منتخب الاثر، فصل ۲ ، باب ۶۲ تا ۹۲ ، ص ۲۱۳ تا ۰۴۳)
پیغمبر اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:”مہدی (علیہ السلام) میری (ہی) نسل سے ہو گا اور وہ غیبت میں رہے گا، لوگوں کی حیرانی (و پریشانی) اس حد تک بڑھ جائے گی کہ لوگ دین سے گمراہ ہو جائیں گے اور پھر (جب حکم خدا ہو گا) چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ظہور کرے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جس طرح ظلم و جور سے زمین بھری ہو گی“۔ (کمال الدین، ج ۱ ، باب ۵۲ ، ح ۴ ، ص ۶۳۵)
غیبت کا فلسفہ
سوال یہ ہے کہ کیوں ہمارے بارہویں امام اور حجت خدا غیبت کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ ہم امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کے ظہور کی برکتوں سے محروم ہیں؟
قارئین کرام! اس سلسلہ میں گفتگو تفصیل سے احادیث میں ہوئی ہے اور اسی حوالے سے بہت سی روایات بھی موجود ہیں، لیکن ہم یہاں مذکورہ سوال کا جواب پیش کرنے سے پہلے ایک نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ خداوند عالم کا چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا کام حکمت اور مصلحت سے خالی نہیں ہوتا، چاہے ہم ان مصلحتوں کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں، نیز کائنات کر ہر چھوٹااور بڑا واقعہ خداوند عالم کی تدبیر اور اسی کے ارادہ سے انجام پاتا ہے جن میں سے مہم ترین واقعہ امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کا مسئلہ ہے، لہٰذا آپ کی غیبت کا مسئلہ بھی حکمت و مصلحت کے مطابق ہے اگرچہ ہم اس کے فلسفہ کو نہ جانتے ہوں۔
سرّ الٰہی
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”بے شک صاحب العصر (علیہ السلام) کے لئے ایسی غیبت ہو گی جس میں ہر اہل باطل شک و تردید کا شکار ہو جائے گا“۔
راوی نے آپ کی غیبت کی وجہ معلوم کی تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
”غیبت کی وجہ ایک ایسی چیز ہے جس کو ہم تمہارے سامنے بیان نہیں کر سکتے........ غیبت اسرار الٰہی میں سے ایک راز ہے، لیکن چونکہ ہم جانتے ہیں کہ خداوند عالم صاحب حکمت ہے کہ جس کے تمام کام حکمت کی بنیاد پر ہوتے ہیں، اگرچہ ہمیں ان کی وجوہات کا علم نہ ہو“۔
(کمال الدین، ج ۱ ، باب ۴۴ ، ص ۴۰۲)
اگرچہ اکثر مقامات پر انسان خداوند عالم کے کاموں کو حکمت کے تحت مانتے ہوئے ان کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے، لیکن پھر بھی بعض حقائق کے اسرار و رموز کو جاننے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس حقیقت کے فلسفہ کو جان لینے سے سے مزید مطمئن ہو جائے، چنانچہ اسی اطمینان کی خاطر ہم امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی غیبت کی حکمت اور اس کے آثار پر تحقیق و تجزیہ شروع کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں بیان ہونے والی روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
عوام کی تادیب
جب اُمت اپنے نبی یا امام کی قدر نہ کرے اور اپنے فرائض کو انجام نہ دے بلکہ اس کی نافرمانی کرے تو پھر خداوند عالم کے لئے یہ بات روا ہے کہ ان کے رہبر اور ہادی کو ان سے الگ کر دے تاکہ وہ اس کی جدائی کی صورت میں اپنے گریبان میں جھانکیں، اور اس کے وجود کی قدر و قیمت اور برکت کو پہچان لیں، لہٰذا اس صورت میں امام کی غیبت اُمت کی مصلحت میں ہے اگرچہ ان کو معلوم نہ ہو اور وہ اس بات کو نہ سمجھ سکیں۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے:”جب خداوند عالم کسی قوم میں ہمارے وجود اور ہماری ہم نشینی سے خوش نہ ہو تو پھر ہمیں ان سے جدا کر لیتا ہے“۔ (علل الشرائع، باب ۹۷۱ ، ص ۴۴۲)
دوسروں کے عہد و پیمان کے تحت نہ ہونا بلکہ مستقل ہونا
جو لوگ کسی جگہ کوئی انقلاب لانا چاہتے ہیں وہ اپنے انقلاب کی ابتداءمیں اپنے بعض مخالفوں سے عہد و پیمان باندھتے ہیں تاکہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائیں، لیکن امام مہدی علیہ السلام وہ عظیم الشان اصلاح کرنے والے ہیں جو اپنے انقلاب اور عالمی عادلانہ حکومت کے لئے کسی بھی ظالم و ستمگر سے کسی طرح کی کوئی موافقت نہیں کریں گے کیونکہ بہت سی روایات کے مطابق آپ کو سب ظالموں سے یقینی طور پر ظاہر بظاہر مقابلہ کرنے کا حکم ہے۔ اسی وجہ سے جب تک اس انقلاب کا راستہ ہموار نہیں ہو جاتا اس وقت تک آپ غیبت میں رہیں گے تاکہ آپ کو دشمنان خدا سے عہد و پیمان نہ کرنا پڑے۔
غیبت کی وجہ بارے حضرت امام رضا علیہ السلام سے اس طرح منقول ہے:
”اس وقت جبکہ (امام مہدی علیہ السلام) تلوارکے ذریعہ قیام فرمائیں گے تو آپ کا کسی کے ساتھ عہد و پیمان نہ ہو گا“۔(کمال الدین، ج ۲ ، باب ۴۴ ، ص ۲۳۲)
لوگوں کا امتحان
لوگوں کا امتحان کرنا خداوند عالم کی ایک سنت ہے، وہ اپنے بندوں کو مختلف طریقوں سے آزماتا ہے تاکہ راہ حق میں ان کے ثابت قدم کی وضاحت ہو جائے، اگرچہ اس امتحان کا نتیجہ خداوند عالم کو معلوم ہوتا ہے لیکن اس امتحان کی بھٹی میں بندوں کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے اوروہ اپنے وجود کے جوہر کو پہچان لیتے ہیں۔حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا:”جب میرا پانچواں فرزند غائب ہو گا، تو تم لوگ اپنے دین کی حفاظت کرتا تاکہ کوئی تمہیں دین سے خارج نہ کر پائے، کیونکہ صاحب امر (امام مہدی علیہ السلام) کے لئے غیبت ہو گی جس میں اس کے (بعض) ماننے والے اپنے عقیدہ سے پھر جائیں گے اور اس غیبت کے ذریعہ خداوند عالم اپنے بندوں کا امتحان کرے گا“۔ (غیبت شیخ طوسی علیہ الرحمہ، فصل ۵ ، ح ۴۸۲ ، ص ۷۳۲)
امام کی حفاظت
انبیاءعلیہم السلام کے اپنی قوم سے جدا ہونے کی ایک وجہ اپنی جان کی حفاظت تھی، یہ حضرات اس وجہ سے خطرناک موقع پر مخفی ہو جاتے تھے تاکہ ایک مناسب موقع پر اپنی رسالت اور ذمہ داری کو پہنچا سکیں، جیسا کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) مکہ معظمہ سے نکل کر ایک غار میں مخفی ہو گئے،یا کچھ دنوں کے لئے طائف چلے گئے، البتہ یہ سب خداوند عالم کے حکم اور اس کے ارادہ سے ہوتا تھا۔حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) اور آپ علیہ السلام کی غیبت کے بارے میں بھی متعدد روایات یہی وجہ بیان کرتی ہیں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”امام منتظر اپنے قیام سے پہلے ایک مدت تک لوگوں کی نظروں سے غائب رہیں گے“۔جب امام علیہ السلام سے غیبت کی وجہ معلوم کی گئی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:”انہیں اپنی جان کا خطرہ ہو گا“۔ (کمال الدین، ج ۲ ، ح ۷ ، ص ۳۳۲)
شہادت کی تمنا
اگرچہ شہادت کی تمنا خدا کے سب نیک بندوں کے دلوں میں ہوتی ہے لیکن ایسی شہادت جو دین اور معاشرہ کی اصلاح اور اپنے فرائض کو نبھاتے ہوئے ہو لیکن اگر اسکا قتل ہونا ضیاع اور بڑے مقاصد کے خاتمہ کا سبب بنے تو ایسے موقع پر قتل سے بچنا ایک دانشمندانہ اور حکیمانہ کام ہے۔ آخری ذخیرہ الٰہی یعنی بارہویں امام کے قتل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ خانہ کعبہ منہدم ہو جائے تمام انبیاءاور اولیاء(علیہم السلام) کی تمناوں پر پانی پھر جائے اور عالمی عادل حکومت کے بارے میں خداکا وعدہ پورا نہ ہو۔قابل ذکر ہے کہ متعدد روایات میں غیبت کی وجوہات کے سلسلہ میں دوسرے نکات بھی بیان ہوئے ہیں جن کو ہم اختصار کی وجہ سے بیان نہیں کر سکتے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ غیبت اسرار الٰہی میں سے ایک راز ہے جس کی اصلی اور بنیادی وجہ امام علیہ السلام کے ظہور کے بعد ہی واضح ہو گی۔ ہم نے جو کچھ اس سلسلہ میں اسباب بیان کئے ہیں وہ بھی امام علیہ السلام کی غیبت میں اہم اثرات کے حامل ہیں۔
غیبت کی اقسام
قارئین کرام! مذکورہ مطالب کے پیش نظر امام مہدی علیہ السلام کی غیبت لازم اور ضروری ہے، لیکن چونکہ ہمارے ہادیوں کے تمام اقدامات لوگوں کے ایمان و اعتقاد کو مضبوط کرنے کے لئے ہوتے تھے، لہٰذا اس چیز کا خوف تھا کہ اس آخری حجت الٰہی کی غیبت کی وجہ سے مسلمانوں کی دینداری پر ناقابل تلافی نقصانات پہنچیں گے، لہٰذا غیبت کے زمانہ کا بہت ہی حساب و کتاب اور دقیق منصوبہ بندی کے تحت آغاز ہوا جو آج تک جاری ہے۔
امام مہدی علیہ السلام کی ولادت سے سالہا سال پہلے آپ کی غیبت اور اس کی ضرورت کے بارے میں گفتگو جاری و ساری تھی اور آئمہ معصومین علیہم السلام اور ان کے اصحاب کی محفلوں میں نقل ہوتی تھی، اسی طرح امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام لوگوں سے ایک نئے انداز اور خاص حالات میں رابطہ ہوتا تھا، اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کے ماننے والوں نے آہستہ آہستہ یہ سیکھ لیا تھا کہ بہت سی مادّی اور معنوی ضرورتوں میں امام معصوم علیہ السلام کی ملاقات پر مجبور نہیں ہیں، بلکہ ائمہ علیہم السلام کی طرف سے معین وکلاءاور قابل اعتماد حضرات کے ذریعہ اپنے فرائض پر عمل کیا جا سکتا ہے، حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت اور حصرت حجت بن الحسن علیہ السلام کی غیبت (صغریٰ) کے آغاز سے امام اور اُمت کے درمیان رابطہ بالکل ختم نہیں ہوا تھا، بلکہ مومنین اپنے مولا و آقا اور امام علیہ السلام کے خاص نائب کے ذریعہ رابطہ برقرار کئے ہوئے تھے اور یہی زمانہ تھا کہ جس میں شیعوں کو دینی علماءسے وسیع پیمانہ پر رابطہ کی عادت ہوئی کہ امام علیہ السلام کی غیبت میں بھی اپنے دینی فرائض کی پہچان کا راستہ بند نہیں ہوا ہے۔ اس موقع پر مناسب تھا کہ حضرت بقیة اﷲ امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کبریٰ کا آغاز ہو اور امام علیہ السلام اور شیعوں کے درمیان گذشتہ زمانہ میں رائج عام رابطہ کا سلسلہ بند ہو جائے۔اس سے پہلے ایک چھوٹی غیبت ہو۔
قارئین کرام! ہم یہاں غیبت صغریٰ اور غیبت کبریٰ کی خصوصیات کے سلسلہ میں کچھ چیزیں بیان کرتے ہیں:
غیبت صغریٰ
۰۶۲ ھ میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے فوراً بعد ہمارے بارہویں امام کی امامت کا آغاز ہوا اور اسی وقت سے آپ کی ”غیبت صغریٰ“ کا بھی آغاز ہو گیا اور یہ سلسلہ ۹۲۳ ھ (تقریباً ۰۷ سال) تک جاری رہا۔
غیبت صغریٰ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ مومنین امام مہدی علیہ ا لسلام کے خاص نائبین کے ذریعہ رابطہ برقرار کئے ہوئے تھے اور ان کے ذریعہ امام مہدی علیہ السلام کے پیغامات حاصل کرتے تھے اور اپنے سوالات آپ کی خدمت میں بھیجتے تھے (خطوں کی تحریر (جو توقیعات کے نام سے مشہور ہیں) شیعہ علماءکی کتابوں میں موجود ہے (جیسے بحار الانوار، ج ۳۵ ، باب ۱۳ ، ص ۰۵۱ تا ۷۹۵) اور کبھی امام مہدی علیہ السلام کے نائبین کے ذریعہ آپ کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہو جاتا تھا۔امام مہدی علیہ السلام کے نواب اربعہ جو عظیم الشان شیعہ عالم دین تھے اور خود امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ذریعہ منتخب ہوتے تھے ان کے اسمائے گرامی ان کی نیابت کی ترتیب سے اس طرح ہیں:
۱ ۔ عثمان بن سعید عَمری: آپ امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کے آغاز سے امام کی نیابت کرتے تھے۔ موصوف نے ۵۶۲ ھ میں وفات پائی یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ موصوف امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے بھی وکیل تھے۔
۲ ۔ محمد بن عثمان عمری: موصوف امام مہدی علیہ السلام کے نائب اوّل کے فرزند تھے اور اپنے والد گرامی کے انتقال پر امام کی نیابت پر فائزہوئے، موصوف نے ۵۰۳ ھ میں وفات پائی۔
۳ ۔ حسین بن رُوح نوبختی: موصوف امام مہدی علیہ السلام کے ۱۲ سال نائب رہے جس کے بعد ۶۲۳ ھ میں ان کی وفات ہو گئی۔
۴ ۔ علی بن محمد سم ری: موصوف کا انتقال ۹۲۳ ھ میں ہوا اور انکی وفات کے بعد غیبت صغریٰ کا زمانہ ختم ہو گیا۔امام مہدی علیہ السلام کے خاص نائبین امام حسن عسکری علیہ السلام اور خود امام مہدی علیہ السلام کے ذریعہ انتخاب ہوئے تھے اور لوگوں میں ان کا تعارف کروایا جاتا تھا۔
شیخ طوسی علیہ الرحمہ اپنی کتاب ”الغیبة“ میں روایت کرتے ہیں کہ ایک روز عثمان بن سعید (نائب اوّل) کے ساتھ چالیس مومنین امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے، امام علیہ السلام نے ان کو اپنے فرزند کی زیارت کرائی اور فرمایا: ”میرے بعد یہی میرا جانشین اور تمہارا امام ہو گا، تم لوگ اس کی اطاعت کرنا، اور جان لو کہ آج کے بعد اس کو نہیں دیکھ پاو گے، یہاں تک کہ اس کی عمر کامل ہو جائے، لہٰذا (اس کی غیبت کے زمانہ میں) جو کچھ عثمان (بن سعد) کہیں اسکو قبول کرنا، اور ان کی اطاعت کرنا کہ وہ تمہارے امام کے نائب ہیں اور تمام امور کی ذمہ داری انہیں پر ہے“۔ (غیبت طوسی علیہ الرحمہ، فصل ۶ ، ح ۹۱۳ ، ص ۷۵۳)
امام حسن عسکری علیہ السلام کی دوسری روایت میں محمد بن عثمان کو امام مہدی علیہ السلام کے (دوسرے) نائب کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔
شیخ طوسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:”عثمان بن سعید“ نے امام حسن عسکری علیہ السلام کے حکم سے یمن کے شیعوں کا لایا ہوا مال وصول کیا، اس وقت بعض مومنین نے جو اس واقعہ کے شاہد تھے، امام علیہ السلام سے عرض کی: خدا کی قسم! عثمان آپ کے بہترین شیعوں میں سے ہیں لیکن اس کام کا آپ کے نزدیک انکا مقام ہم پر واضح ہو گیا۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: جی ہاں! تم لوگ گواہ رہنا کہ عثمان بن سعید عمری میرے وکیل ہیں اور اس کا فرزند ”محمد“ میرے بیٹے ”مہدی“ کا وکیل ہو گا“۔ (غیبت طوسی علیہ الرحمہ، فصل ۶ ، ح ۷۱۳ ، ص ۵۵۳)
یہ تمام واقعات امام مہدی علیہ السلام کی غیبت سے پہلے کے ہیں، غیبت صغریٰ میں بھی آپ کا ہر نائب اپنی وفات سے پہلے امام مہدی علیہ السلام کی طرف سے منتخب ہونے والے نائب کا تعارف کرا دیتا تھا۔یہ حضرات چونکہ اعلیٰ اوصاف کے مالک تھے جس کی بنا پر ان میں امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی نیابت کی لیاقت پیدا ہوئی، ان حضرات کی مخصوص صفات کچھ اس طرح تھیں: امانت داری، عفت، رفتار و گفتار میں عدالت، رازداری اور امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں مخصوص حالات میں اسرار اہل بیت علیہم السلام کو مخفی رکھنا، یہ حضرات امام مہدی علیہ السلام کے قابل اعتماد افراد تھے اور خاندان عصمت و طہاعت کے مکتب کے پروردہ تھے، اُنہوں نے مستحکم ایمان کے زیرِ سایہ علم کی دولت حاصل کی تھی، ان کی نیک نامی مومنین کی ورد زبان تھی، سختیوں اور پریشانیوں میں صبر و بردباری کا یہ عالم تھا کہ سخت سے سخت حالات میں اپنے امام علیہ لسلام کی مکمل اطاعت کیا کرتے تھے۔ اور ان تمام نیک صفات کے ساتھ ان کے یہاں شیعوں کی رہبری کی لیاقت بھی پائی جاتی تھی، نیز مکمل فہم و شعور اور حالات کی شناخت کے ساتھ اپنے پاس موجود وسائل کے ذریعہ شیعہ معاشرہ کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت فرماتے تھے اور مومنین کو پل غیبت صغریٰ سے صحیح و سالم گزار دیا۔غیبت صغریٰ اور امام اور اُمت کے درمیان رابطہ ایجاد کرنے میں نواب اربعہ کے کردار کا ایک عمیق مطالعہ امام مہدی علیہ السلام کی زندگی کے اس حصہ کی اہمیت کو واضح کر دیتا ہے، اس رابطہ کا وجود اور غیبت صغریٰ میں بعض شیعوں کا امام مہدی علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہونا بارہویں امام اور آخری حجت خدا کی ولادت کے اثبات میں بھی بہت موثر رہا ہے اور یہ اہم نتائج اس زمانہ میں حاصل ہوئے کہ جب دشمنوں کی یہ کوشش تھی کہ شیعوں کو امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند کی پیدائش کے حوالہ سے شک و تردید میں ڈال دیں، اس کے علاوہ غیبت صغریٰ کا یہ زمانہ غیبت کبریٰ کی شروععات کےلئے ایک ہموار راستہ تھا جس میں مومنین اپنے امام سے رابطہ نہیں کر سکتے تھے لیکن اطمینان اور یقین کے ساتھ امام علیہ السلام کے وجود اور ان کے برکات سے فیضیاب ہوتے ہوئے غیبت کبریٰ کے زمانہ میں داخل ہو گئے
غیبت کبریٰ
امام مہدی علیہ السلام کے چوتھے نائب کی زندگی کے آخری دنوں میں آپ علیہ السلام نے ان کے نام خط میں یوں تحریر فرمایا:
بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم
اے علی بن محمد سمری! خداوند عالم آپ کی وفات پر آپ کے دینی بھائیوں کو اجر جمیل عنایت فرمائے کیونکہ آپ چھ دن کے بعد عالم بقاءکی طرف کوچ کر جائیں گے، اسی وجہ سے اپنے کاموں کو خوب دیکھ بھال لو، اور اپنے بعد کسی کو اپنا وصی نہ بناو! کیونکہ مکمل (اور طولانی) غیبت کا زمانہ پہنچ گیا ہے، اس کے بعد سے مجھے نہیں دیکھ پاو گے، جب تک خدا کا حکم ہو گا، اور اس کے بعد ایک طویل مدت ہو گی جس میں دل سخت ہو جائیں گے اور زمین ظلم و ستم سے بھر جائے گی۔ (غیبت طوسی علیہ الرحمہ، فصل ۶ ، ح ۵۶۳ ، ص ۵۹۳)
اس بنا پر بارہویں امام علیہ السلام کے آخری نائب کی وفات کے بعد ۹۲۳ ھ سے ”غیبت کبریٰ“ کا آغاز ہو گیا اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے جب تک کہ خدا کی مرضی سے غیبت کے بادل چھٹ جائیں اور یہ دُنیا ولایت و امامت کے چمکتے ہوئے سورج سے براہ راست فیضیاب ہو۔
جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ غیبت صغریٰ میں شیعہ اورمومنین امام علیہ السلام کے مخصوص نائب کے ذریعہ اپنے امام سے رابطہ رکھتے تھے اور اپنے الٰہی فرائض سے آگاہ ہوتے تھے لیکن غیبت کبریٰ میں اس کا رابطہ کا سلسلہ ختم ہو گیا اور مومنین اپنے فرائض کی شناخت کے لئے امام علیہ السلام کے عام نائبین جو کہ دینی علماءو مراجع تقلید ہیں ان کی طرف رجوع کرنے لگیں اور یہ واضح راستہ ہے جو حضرت امام مہدی علیہ السلام نے اپنے ایک قابل اعتماد عظیم الشان عالم کے سامنے پیش کیا ہے۔ امام مہدی علیہ السلام کے دوسرے نائب خاص کے ذریعہ پہنچے ہوئے خط میں اس طرح تحریر ہے:
وَ اَمَّا الحَوَادِث الوَاقِعَةُ فَار جَعُوا اِلٰی رُواةِ حَدِیثَنَا فَانَّهُم حُجَّتِی عَلَیکُم وَ اَنَا حُجَّةُ اللّٰهِ عَلَیهِم ۔ (کمال الدین، ج ۲ ، باب ۵۴ ، ص ۶۳۲)
”اور آئندہ پیش آئے والے حوادث اور واقعات (نیز مختلف مسائل میں اپنی شرعی ذمہ داریوں کی پہچان کےلئے) ہماری احادیث کے راویوں (فقہائ) کی طرف رجوع کریں، کیونکہ وہ تم پر میری حجت ہیں اورمیں ان پر خدا کی حجت ہیں........“۔
دینی سوالات کے جواب کے لئے اور ان سے اہم یہ کہ شیعوں کے شخصی اور معاشرتی فرائض کی پہچان کے لئے یہ نیا طریقہ کار اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ امامت و رہبری کا عظیم الشان نظام، شیعہ ثقافت میں ایک بہترین اور زندہ نظام ہے جس میں مختلف حالات میں مومنین کی ہدایت اور رہبری بہت ہی مستحکم طریقہ پر انجام پاتی ہے اور اس مکتب کے ماننے والوں کو کسی بھی زمانہ میں ہدایت کے سرچشمہ کے بغیر نہیں چھوڑا گیا ہے بلکہ ان کی شخصی اورمعاشرتی زندگی کے مختلف حصوں میں ان کے مسائل کو دینی علماءاور پرہیزگاراور عادل و آگاہ مجتہدین کے سپرد کر دیا گیا ہے جو مومنین کے دین اور دنیا کے امانت دار ہیں تاکہ اسلامی معاشرہ کی کشتی دنیائے طوفان اورکفر و نفاق کے متلاطم دریا سے بحفاظت کنارہ ہدایت پر لگائیںنیزاستعمار کی غلط سیاست کے دلدل میں پھنسنے سے محفوظ رکھیںاور شیعہ عقائد کی سرحدوں کی حفاظت ہوتی رہے۔
حضرت امام علی نقی علیہ السلام غیبت کے زمانہ میں دینی علماءکے کردار کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”اگر ایسے علماءکرام نہ ہوتے جو امام مہدی علیہ السلام کی غیبت میں لوگوں کو آپ کی طرف دعوت دیتے اور ان کو اپنے امام کی طرف ہدایت کرتے، نیز حجتوں اور خداوند عالم کے دینی مستحکم دلائل (جو کہ خود دین خدا ہے) کی حمایت نہ کرتے اور اگر نہ ہوتے ایسے بابصیرت علماءجو خدا کے بندوں کو شیطان اور شیطان صفت لوگوں نیز دشمنان اہل بیت علیہم السلام (کی دشمنی) کے جال سے نجات نہ دیتے تو پھر دین خدا پر کوئی باقی نہ رہتا! (اور سب دین سے خارج ہو جاتے) لیکن اُنہوں نے شیعوں کے (عقائد اور) افکار کو مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں لے لیا جیسا کہ کشتی کا ناخدا کشتی میں سوار مسافروں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتا ہے۔ یہ علماءخداوند عالم کے نزدیک سب سے بہترین (بندے) ہیں“۔
(احتجاج، ج ۱ ، ح ۱۱ ، ص ۵۱)
قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ معاشرہ کی رہبری کے لئے مخصوص صفات و کمالات درکار ہیں، کیونکہ مومنین کے دین و دُنیا کے امور کو ایسے شخص کے ہاتھوں میں دےا جائے جو اس عظیم ذمہ داری کے اہل ہوں تو ان افراد کا مکمل طور پر صاحب بصیرت اور صحیح تشخیص کی صلاحیت کا حامل ہونا ضروری ہے۔ اسی وجہ سے ائمہ معصومین علیہم السلام نے دینی مراجع اور ان سے بڑھ کر ولی امر مسلمین ”ولی فقیہ“ کی مخصوص شرائط بیان کی ہیں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”فقہاء(کرام) اور دینی علماءمیں سے جو شخص (گناہ صغیرہ اور گناہ کبیرہ کے مقابلہ میں) اپنے کو محفوظ رکھے اور دین (اور مومنین کے عقائد کا) محافظ ہو، اور اپنے نفس اور خواہشات کی مخالفت کرتا ہو اور اپنے (زمانہ کے) مولا و آقا (اور امام) کی اطاعت کرتا ہو تو مومنین پر واجب ہے کہ اس کی پیروی کریںاور اس کی تقلید کریں اور صرف بعض شیعہ فقہاءایسے ہوں گے نہ کہ سب “۔ ( احتجاج، ج ۲ ، ص ۱۵۵)
درس کا خلاصہ
امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت سے مراد ان کا حاضر نہ ہونا نہیں ہے بلکہ اس کا معنی ان کا دوسروں کی نگاہ اور توجہ سے پوشیدہ ہونا ہے۔
غیبت اور مخفی زندگی صرف امام عجل اﷲ فرجہ الشریف کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ گذشتہ پیغمبروں کی ایک تعداد بھی غیبت کے عمل سے گزری ہے۔
روایات میں امام زمانہ عج اللّٰہ فرجہ الشریف کی غیبت کے دلائل کے حوالے سے مندرجہ ذیل اسباب: حضرت کی جان کی حفاظت، لوگوں کی آزمائش، لوگوں کو تنبیہ، ان پرکسی اور کی بیعت کا نہ ہونا وغیرہ نقل ہوئے ہیں۔
امام عصر کی دو غیبتیں ہیں، الف: غیبت صغریٰ کہ جو ۰۶۲ ھ ہجری سے ۹۲۳ ہجری تک جاری رہی۔ ب: غیبت کبریٰ کہ ج ۹۲۳ ہجری سے شروع ہوئی اور ابھی تک جاری ہے۔
امام عصر علیہ السلام کے فرمان کے مطابق غیبت کبریٰ کے زمانہ میں جامع الشرائط فقہاءاسلامی معاشرہ کے دینی امور کے ذمہ دار ہیں۔
درس کے سوالات
۱ ۔غیبت کا مفہوم اور اس کی تشریح کریں؟
۲ ۔ روایات کی رو سے امام عصر علیہ السلام کی غیبت کے اسباب میں سے کوئی تین اسباب کی وضاحت کریں؟
۳ ۔ محمد بن عثمان کتنے ائمہ علیہم السلام کے نائب اور خاص وکیل تھے اور کتنا عرصہ اس مقام پر فائز رہے؟
۴ ۔ امام زمانہ علیہ السلام نے غیبت کبریٰ کے زمانہ میں دینی فقہاءکی مرجعیت کوکیسے بیان کیا ہے؟
۵ ۔ امام ھادی علیہ السلام نے غیبت کے زمانہ میں لوگوں کے ایمان کو محفوظ رکھنے کے لئے شیعہ علماءکے کردار اور عظمت کو کس چیز سے تشبیہ دی ہے؟
ساتواں درس
امام غائب کے فائدے
مقاصد:
۱ ۔ امام غائب کی نسبت لوگوں کی معرفت و شناخت میں اضافہ
۲ ۔ کائنات میں امام علیہ السلام کے مقام اور ان کے وظائف پر توجہ
فوائد:
۱ ۔ لوگوں کے حضرت علیہ السلام کی نسبت عقیدہ کا استحکام
۲ ۔ امام علیہ السلام کی عظمتوں سے آگاہی
۳ ۔ حضرت کی عنایات سے بہرہ مند ہونے اور ان کی قربت کے لئے کوشش کرن
تعلیمی مطالب:
۱ ۔ کائنات میں امام کی مرکزی حیثیت
۲ ۔اطمینان اور سکون کا حصول
۳ ۔ شیعہ مکتب کی پائیداری
۴ ۔ الٰہی اسرار اور علوم کی حفاظت
۵ ۔ باطنی ہدایت اور نفوس کی تہذیب
امام غائب کے فوائد
سینکڑوں سال سے انسانی معاشرہ حجت خدا کے فیض کے ظہور سے محروم ہے اور اُمت اسلامی اس آسمانی رہبر اور امام معصوم کے حضور میں مشرف ہونے سے قاصر ہے۔ تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ انکے غیبت میں ہونے اور ان کی مخفیانہ زندگی نیز عمومی رسائی سے دور ہونے کی صورت میں اس کائنات اور اس میں موجود انسانوں کے لئے کیا فوائد رکھتی ہے؟ کیا یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ ظہور کے نزدیک ان کی پیدائش ہوتی اور ان کی غیبت کے سخت زمانہ کو ان کے شیعہ نہ دیکھتے؟
یہ سوال اور اس طرح کے دوسرے سولات امام اور حجت الٰہی کی (صحیح) پہچان نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ درحقیقت اس کائنات میں امام کا مرتبہ کیا ہے؟ کیا ان کے وجود کے تمام آثار ان کے ظہور پر ہی موقوف ہیں؟ اور کیا وہ صرف لوگوں کی ہدایت کے لئے ہیں یا ان کا وجود تمام ہی موجودات کے لئے مفید اثرات اور برکات کا حامل ہے؟
امام کا کائنات کے لئے محور و مرکز ہونا
شیعہ نقطہ نگاہ اور دینی تعلیمات کے پیش نظر امام کل کائنات کے تمام موجودات کے لئے خدا کے فیض کا واسطہ ہے۔ وہ نظام کائنات میں محور اور مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے وجود کے بغیر کائنات، جنات، ملائکہ، حیوانات اور جمادات کا نام و نشان تک نہ رہتا۔ حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال ہوا کہ کیا زمین بغیر امام کے باقی رہ سکتی ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: ”اگر زمین پر امام کا وجود نہ ہو تو اسی وقت زمین فنا ہو جائے“۔ (اصول کافی، ج ۱ ، ص ۱۰۲)
چونکہ وہ لوگوں تک خدا کے پیغام کا پہنچانے اور انسانی کمال تک ان کی ہدایت کرنے میں واسطہ ہیں اور تمام موجودات تک ہر طرح کا فیض و کرم الٰہی ان کے سبب سے پہنچتا ہے، نیز یہ بات واضح اور روشن ہے کہ خداوند عالم نے شروع ہی سے انبیاءعلیہم السلام کے ذریعہ اور پھر ان کے جانشینوں کے ذریعہ انسانی قافلہ کی ہدایت کی ہے لیکن معصومین علیہم السلام کے کلام سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کائنات میں آئمہ (علیہم السلام) کا وجود ہر چھوٹے بڑے وجود کے لئے خداوند عالم کی طرف سے ہر نعمت اور فیض میں واسطہ ہے۔ واضح الفاظ میں یوں کہا جائے کہ تمام موجودات خداوند عالم کی طرف سے جو کچھ بھی فیض اور عطا حاصل کرتے ہیں وہ امام کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے، ساری اشیاءکاخود وجود بھی امام کے واسطہ کی بنا پر ہے اور اپنی زندگی میں جو کچھ بھی وہ حاصل کرتے ہیں ان میں بھی امام کی ذات واسطہ ہے۔
زیارت جامعہ (جو واقعاً امام کی پہچان کی ایک جامع کتاب ہے) کے ایک فقرہ میں اس طرح بیان ہوا ہے:
بِکُم فَتَحَ اللّٰهُ وَ بِکُم یَختِم وَ بِکُم یُنَزَّلُ الغَیث وَ بِکُم یُمسِک السَّمَاءَ اَن تَقَعَ عَلَی الاَرضِ الاَّ بِاِذنِهَ ۔ (مفاتیح الجنان، زیارت جامعہ کبیرہ، نوٹ: یہ زیارت حضرت امام علی نقی علیہ السلام سے منقول ہے اور سند اور تحریر کے لحاظ سے ایک عظیم الشان زیارت ہے اور ہمیشہ شیعہ علماءکی خصوصی توجہ کی حامل رہی ہے۔)
”(اے ائمہ معصومین علیہم السلام) خداوند عالم نے (کائنات کا) آغاز آپ سے کیا، آپ ہی پراس کااختتام ہوگا،اور آپ کے توسط سے باران رحمت نازل کرتا ہے اور آپ کے (وجود کی برکت سے) آسمان کو زمین پر گرنے سے محفوظ رکھے ہوئے ہے زمین پر آسمان اللہ کے ارادہ ہی سے گر سکتا ہے“۔
بہرکیف امام علیہ السلام کے وجودی آثار صرف ان کے ظہور کے کی حالت میں منحصر نہیں بلکہ ان کا وجود کائنات میں (یہاں تک ان کی غیبت کے زمانہ میں بھی) مخلوقات الٰہی میں تمام موجودات کے لئے سرچشمہ حیات ہے، اور خود خداوند عالم کی مرضی یہی ہے کہ سب سے بلند و بالا اور سب سے کامل موجود فیض الٰہی حاصل کرکے دوسری مخلوقات تک پہنچانے میں واسطہ ہو لہٰذا اس صورت میں غیبت اور ظہور کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ جی ہاں! سب امام علیہ السلام کے وجود کے آثار سے فیضیاب ہوتے ہیں اور امام مہدی علیہ السلام کی غیبت اس سلسلہ میں کوئی مانع نہیں ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ جب امام مہدی علیہ السلام سے آپ کی غیبت کے زمانہ میں فیضیاب ہونے کے طریقہ کار کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو آپ علیہ السلام فرماتے ہیں:
وَامَّا وَجه الاِنتِفَاعِ بِی فِی غَیبَتِی فَکا الاِنتفَاعِ بِالشَّمسِ اِذَا غَیَّبَتَهَا عَنِ الاَبصَارِ السَّحَابُ ( احتجاج، ج ۲ ، ش ۴۴۳ ، ص ۲۴۵)
”میری غیبت کے زمانہ میں مجھ سے فائدہ اُٹھانا اسی طرح ہے جس طرح سورج سے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے جبکہ وہ بادلوں میں چھپ جاتا ہے“۔ امام مہدی علیہ السلام نے اپنی مثال سورج جیسی اور غیبت کی مثال بادلوں کے پیچھے چھپے ہوئے سورج کی دی ہے جس میں بہت سے نکات پائے جاتے ہیں لہذا ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
سورج، نظام شمسی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور دوسرے سیارے اس کے گرد گردش کرتے ہیں، اسی طرح امام عصر علیہ السلام کا وجود گرامی بھی کائنات کے نظام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور ساری کائنات آپ کے وجود کے گرد گھومتی ہے۔
بِبَقَائِهَ بَقِیَتِ الدُّنیَا وَبِیمِنِه رُزِقَ الوَریٰ وَبِوُجُودِهِ ثَبَتتَ الاَرضِ وَالسَّمَاء (مفاتیح الجنان، دعای عدیا)
”اس (امام) کی وجہ سے دنیا باقی ہے اور اس کے وجود کی برکت سے کائنات کے ہر موجود کو روزی ملتی ہے اور اس کے وجود کی خاطر زمین اور آسمان باقی ہیں“۔
سورج ایک لمحہ کے لئے بھی نور افشانی میں کنجوسی نہیں کرتا اور ہر چیز اپنے رابطہ کے لحاظ سے سورج کے نور سے فیضیاب ہوتی ہے۔ چنانچہ حصرت ولی عصر علیہ السلام کا وجود بھی تمام مادی اور معنوی نعمتوں کو حاصل کرنے میں واسطہ ہے، ہر شخص اورہرشئی اس مرکز کے کمالات سے اپنے رابطہ کے مطابق فیض حاصل کرتی ہے۔
اگر یہ سورج بادلوں کے پیچھے موجود نہ رہے تو پھر اس قدر ٹھنڈک اور اندھیرا ہو جائے گا کہ کوئی بھی جاندار زمین پر زندہ نہیں رہ سکے گا اسی طرح اگر یہ کائنات امام علیہ السلام کے وجود سے محروم ہو جائے (اگر چہ پردہ غیبت میں بھی نہ ہو) تو پھر مشکلات، پریشانیاں اور مختلف بلائیں انسانی زندگی کو آگے بڑھنے میں مانع ہو جائیں گی اور تمام موجودات کا خاتمہ ہو جائے گا۔
امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) شیخ مفید علیہ الرحمہ کو ایک خط لکھتے ہیں جس میں اپنے شیعوں سے خطاب فرماتے ہیں:
اِنَّا غَیر مُهمِلِینَ لِمُرَاعَاتِکُم وَلٰا نَاسِینَ لِذِکرِکُم وَ لَو لَا ذَلِکَ لَنَزَلَ بِکُم الاَّوَاءُ وَاصطَلَمَکُم الاعدَاءُ (احتجاج، ج ۲ ، شہ ۹۵۳ ، ص ۸۹۵)
”ہم تم کو ہرگز اپنے حال پر نہیں چھوڑتے اور ہرگز تمہیں نہیں بھولتے، اگر (ہمیشہ ہماری توجہ) نہ ہوتی تو تم پر بہت سی سختیاں اور بلائیں نازل ہوتیں اور دشمن تمہیں نیست و نابود کر دیتے“۔لہٰذا امام علیہ السلام کے وجود کا سورج پوری کائنات پر چمکتا ہے اور تمام موجودات تک فیض پہنچاتا ہے اور ان تمام مخلوقات کے درمیان بشریت خصوصاً اسلامی معاشرہ، شیعہ اور ان کے پیروکاروں تک مزید خیر و برکت پہنچاتا ہے جن کے چند نمونے آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:
اُمید کی کرن
انسانی زندگی کا اہم سرمایہ اُمید ہوتی ہے۔ اُمید ہی انسان کی زندگی میں مایہ حیات، نشاط و شادابی، امید، تحریک اور عمل کا باعث ہے۔ اس کائنات میں امام علیہ السلام کا وجود روشن مستقبل کی امید اور شوق و رغبت کا باعث ہے۔ شیعہ ہمیشہ سے اس چودہ سو سالہ تاریخ میں مختلف مشکلات اور پریشانیوں میں مبتلا رہے ہیں اور ظلم و ستم کے مدمقابل قیام کرنے اور ظالم و ستمگر کے سامنے تسلیم نہ ہونے میں جو چیز سب سے بڑی پشت پناہ تھی وہ بہترین مستقبل کی امید تھی۔ ایسا مستقبل جو کوئی خالی اور من گھڑت کہانی نہیں ہے بلکہ ایسا مستقبل جو نزدیک ہے اور مزید نزدیک بھی ہو سکتا ہے ، کیونکہ جو شخص قیام اور انقلاب کی رہبری کا عہدہ دار ہے وہ زندہ ہے اور ہر وقت آمادہ اور تیار ہے، یہ تو ہم ہیں کہ ہمیں تیار ہونا چاہیے۔
مکتب کی پائیداری اور پاسداری
ہر معاشرہ کو اپنے نظام کی حفاظت اور ایک معین مقصد تک پہنچنے کے لئے ایک مدبر رہبر کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس کی ہدایت کے مطابق معاشرہ صحیح راستہ پر قدم بڑھائے۔ معاشرہ کے لئے رہبر اور ہادی کا وجود بہت ہی اہم ہے تاکہ معاشرہ ایک بہترین نظام کے تحت اپنی حیثیت کو باقی رکھ سکے اور آئندہ کے پروگرام میں استحکام پیدا ہو سکے اور کمر ہمت باندھ لے۔ زندہ اور بہترین رہبر اگرچہ لوگوں کے درمیان نہ رہے لیکن پھر بھی اعلیٰ مقاصد تک پہنچنے کے لئے پروگرام اور اصول پیش کرنے میں کوتاہی نہیںکرتا اور مختلف طریقوں سے منحرف راہوں سے خبردار کرتا رہتا ہے۔
امام عصر علیہ السلام اگرچہ پردہ غیبت میں ہیں لیکن آپ کا وجود مذہب شیعہ کے تحفظ کے لئے بہترین سبب ہے۔ آپ علیہ السلام مکمل آگاہی کے ساتھ دشمنوں کی سازشوں سے شیعہ عقائد کی مختلف طریقوں سے حفاظت کرتے ہیں اور جب مکار دشمن مختلف چالوں کے ذریعہ مکتب شیعہ کے اصول اور عقائد کو نشانہ بناتا ہے اس وقت امام علیہ السلام منتخب اشخاص اور علماءکی ہدایت و ارشاد کے ذریعہ دشمن کے مقصد کو ناکام بنا دیتے ہیں۔
نمونہ کے طور پر بحرین کے شیعوں کی نسبت حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عنایت اور لطف کو علامہ مجلسی علیہ الرحمہ کی زبانی سنتے ہیں:
”گذشتہ زمانوں کی بات ہے کہ میں بحرین میں ایک ناصبی حاکم حکومت کرتا تھا جس کا وزیر وہاں کے شیعوں سے بہت زیادہ شمنی رکھتا تھا۔ ایک روز وزیر بادشاہ کے پاس حاضر ہوا، جس کے ہاتھ میں ایک انار تھا جس پر طبیعی طور یہ جملہ نقش تھا: لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ، و ابوبکر و عمر و عثمان و علی خلفاءرسول اللّٰہ۔ بادشاہ اس انار کو دیکھ کر تعجب میں پڑ گیا اور اس نے اپنے وزیر سے کہا: یہ تو شیعہ مذہب کے باطل ہونے کی واضح اور آشکار دلیل ہے۔ بحرین کے شیعوں کے بارے میں تمہارا کیا نظریہ ہے؟ وزیر نے جواب دیا: میرے رائے کے مطابق ان کو حاضر کیا جائے اور یہ نشانی ان کو دکھائی جائے، اگر ان لوگوں نے مان لیا تو انہیں اپنا مذہب چھوڑنا ہو گا ورنہ تو تین چیزوں میں سے ایک ضرور ماننا ہو گا، یا تو اطمینان بخش جواب لے کر آئین یا جز یہ (جزیہ، اسلامی حکومت میں غیر مسلم پر اس سالانہ ٹیکس کو کہا جاتا ہے جس کے مقابلے میں وہ اسلامی حکومت کی سہولیات سے بہرہ مند ہوتے ہیں) دیا کریں، یا ان کے مردوں کو قتل کر دیں، ان کے اہل و عیال کو اسیر کر لین اور ان کے مال و دولت کو غنیمت میں لے لیں۔
بادشاہ نے اس کے نظریہ کو قبول کیا اور شیعہ علماءکو اپنے پاس بلا بھیجا اور ان کے سامنے وہ انار پیش کرتے ہوئے کہا: اگر اس سلسلہ میں واضح اور روشن دلیل پیش نہ کر سکے تو تمہیں قتل کر دُوں گا اور تمہارے اہل و عیال کو اسیر کر لوں گا یا تم لوگوں کو جزیہ دینا ہو گا۔ شیعہ علماءنے ا س سے تین دن کی مہلت مانگی، چنانچہ ان حضرات نے بحث و گفتگو کے بعد یہ طے کیا کہ اپنے درمیان سے بحرین کے دس صالح اور پرہیز گار علماءکا انتخاب کیا جائے اور وہ دس افراد اپنے درمیان تین لوگوں کا انتخاب کریں، چنانچہ ان تینوں میں سے ایک عالم سے کہا: آپ آج جنگل و بیابان میں نکل جائیں اور امام زمانہ علیہ السلام سے استغاثہ کریں اور ان سے اس مصیبت سے نجات کا راستہ معلوم کریں کیونکہ وہی ہمارے امام اور ہمارے مالک ہیں۔
چنانچہ اس عالم نے ایسا ہی کیا لیکن امام زمانہ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ دوسری رات دوسرے عالم کو بھیجا لیکن ان کو بھی کوئی جواب نہ مل سکا۔ آخری رات تیسرے عالم بزرگوار محمد بن عیسیٰ کو بھیجا چنانچہ وہ بھی جنگل و بیابان کی طرف نکل گئے اور روتے پکارتے ہوئے امام علیہ السلام سے مدد طلب کی، جب رات اپنی آخری منزل پر پہنچی تو اُنہوں نے سنا کہ کوئی شخص ان سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے: اے محمد بن عیسیٰ! میں تم کو اس حالت میں کیوں دیکھ رہا ہوں، اور تم جنگل و بیابان میں پریشان کیوں پھر رہے ہو؟ محمد بن عیسیٰ نے ان سے کہا کہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ اُنہوں نے فرمایا: اے محمد بن عیسیٰ! میں تمہارا صاحب الزمان ہوں، تم اپنی حاجت بیان کرو! محمد بن عیسیٰ نے کہا: اگر آپ ہی صاحب الزماں ہیں تو پھر میری حاجت بھی آپ جانتے ہیں مجھے بتانے کی کیا ضرورت ہے۔ فرمایا: تم صحیح کہتے ہو تم اپنی مصیبت کی وجہ سے یہاں آئے ہو، اُنہوں نے عرض کی: جی ہاں، آپ جانتے ہیں کہ ہم پر کیا مصیبت پڑی ہے، آپ ہی ہمارے امام اور ہماری پناہ گاہ ہیں۔ اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد بن عیسیٰ! اس وزیر (لعنة اﷲ علیہ) کے یہاں ایک انار کا درخت ہے جس وقت اس درخت پر انار لگنا شروع ہوئے تو اس نے انار کے مطابق مٹی کا ایک سانچا بنوایاہوا ہے اور اس پر یہ جملے لکھے ہیںاور پھر ایک چھوٹے انار پر اس سانچے کو باندھ دیاجاناہے اور جب وہ انادر بڑا ہو گیا تو وہ جملے اس پر کندہ ہو گئے۔ تم اس بادشاہ کے پاس جانا اور اس سے کہنا کہ میں تمہارا جواب وزیر کے گھر جا کر دُوں گا اور جب تم وزیر کے گھر پہنچ جاو تو وزیر سے پہلے فلاں کمرے میں جانا اور وہاں ایک سفید تھیلا ملے گا جس میں وہ مٹی کا سانچا ہے، اس کو نکال کر بادشاہ کو دکھانا۔ اور دوسری نشانی یہ ہے کہ بادشاہ سے کہنا ہمارا دوسرا معجزہ یہ ہے کہ جب انار کے دو حصے کریں گے تو اس میں مٹی اور دھوئیں کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہو گی۔
محمد بن عیسیٰ امام علیہ السلام علیہ کے اس جواب سے بہت خوش ہوئے اور شیعہ علماءکے پاس لوٹ آئے۔ دوسرے روز وہ سب بادشاہ کے پاس پہنچ گئے اور جو کچھ امام علیہ السلام نے فرمایا تھا اس کا بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا۔
بحرین کے بادشاہ نے اس معجزہ کو دیکھا تو مذہب شیعہ اختیار کر لیا اور حکم دیا کہ اس مکار وزیر کو قتل کر دیا جائے“۔ ( بحارالانوار ، ج ۲۵ ، ص ۸۷۱)
اس واقعہ میں مسلمانوں کے درمیان کشت و خون بپا ہونے کا اندیشہ تھا تو اس جگہ امام علیہ السلام نے مظلوموں کی دادرسی کی ہے
خود سازی
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
( وَقُل اعمَلُوا فَسَیَرَی اللّٰه عَمَلَکُم وَرَسُولَهُ وَالمُو مِنُونَ ) ( سورہ توبہ، آیت ۵۰۱)
”اوراے پیغمبر کہہ دیجئے کہ تم لوگ عمل کرتے رہو کہ تمہارے عمل کو اﷲ، رسول اور صاحبان ایمان دیکھ رہے ہیں........“۔
روایات میں منقول ہے کہ آیہ شریفہ میں ”مومنین“ سے مراد ائمہ معصومین علیہم السلام ہیں۔ (اصول کافی، باب عروض الاعمال، ص ۱۷۱) اس بنا پر مومنین کے اعمال امام زمانہ علیہ السلام کی نظروں کے سامنے ہوتے ہیں اور آپ علیہ السلام پردہ غیبت میں بھی ہمارے اعمال پر ناظر ہیں اور یہ چیز تربیت کے لحاظ سے بہت زیادہ اثرات کی حامل ہے اور شیعوں کو اپنی اصلاح کی ترغیب دلاتی ہے، یعنی حجت خدا اور نیکیوں کے امام کے سامنے برائیوں اور گناہوں سے آلودہ نہ ہونے سے روکتی ہے۔ البتہ یہ بات مسلم ہے کہ انسان اس پاکیزگی اور روحانیت کے مرکز پر جتنی توجہ کرے گا تو اس کے دل کا آئینہ بھی اتنی ہی پاکیزگی اور معنویت اس کی رُوح میں بھر دے گا اور یہ نور اس کی رفتار و گفتار میں نمایاں ہوتا جائے گا۔
علمی اور فکری پناہ گاہ
آئمہ معصومین علیہ السلام معاشرہ کے حقیقی معلم اور اصلی تربیت کرنے والے ہیں اور مومنین ہمیشہ انہی ہستیوں کے پاکیزہ و شفاف سرچشمہ سے فیضیاب ہوتے ہیں۔ غیبت کے زمانہ میں بھی اگرچہ براہ راست امام علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہونے کی سعادت اور فیض حاصل نہیں کر سکتے لیکن الٰہی علوم کے یہ معدن ومرکز مختلف راستوں سے شیعوں کی علمی اور فکری مشکلات کو دور فرماتے ہیں۔ غیبت صغریٰ کے زمانہ میں مومنین اور علماءکے بہت سے سوالات کے جوابات امام علیہ السلام کے ذریعہ حل کئے گئے ہیں۔
(کمال الدین ، ج ۲ ، باب ۵۴ ، ص ۵۳۲ تا ۶۸۲)
امام زمانہ علیہ السلام اسحاق بن یعقوب کے سوال کرنے میں یوں تحریر فرماتے ہیں:
”خداوند عالم تمہاری ہدایت کرے اور تمہیں ثابت قدم رکھے آپ نے جو سوال ہمارے خاندان اور چچازاد بھائیوں میں سے منکرین کے بارے ہے تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ خدا کے ساتھ کسی کی کوئی رشہ داری نہیں ہے لہٰذا جو شخص بھی میرا انکار کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور اس کا انجام حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کی طرح ہے اور جب تک تم اس مال کو پاکیزہ نہ کر لو ہم اس کو قبول نہیں کر سکتے............
لیکن جو رقم آپ نے ہمارے لئے بھیجی ہے اس کو اس وجہ سے قبول کرتے ہیں کہ پاک و پاکیزہ ہے۔ اور جو شخص ہمارے مالک کو (اپنے لئے) حلال سمجھتا ہے اور اس کو ہضم کر لیتا ہے گویا وہ آتشِ جہنم کھا رہا ہے اب رہا مجھ سے فیض حاصل کرنے کا مسئلہ تو جس طرح بادلوں میں چھپے سورج سے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے (اسی طرح مجھ سے بھی فائدہ حاصل کیا جاتا ہے) اور میں اہل زمین کے لئے امان ہوں، جس طرح ستارے اہل آسمان کے لے امان ہیں اور جن چیزوں کا تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہے ان کے بارے میں سوال نہ کرو، اور اس چیزکے بارے پوچھنے سے پرہیز کرو جس چیز کو تم سے طلب نہیں کیا گیا اور ہمارے ظہور کے لئے بہت دعائیں کیا کرو کہ جس میں تمہارے لے بھی فرج (اور آسانیاں) ہوں گی۔ اے اسحاق بن یعقوب تم پر ہمارا سلام ہو اور ان مومنین پر جو راہ ہدایت کو طے کرتے ہیں“۔
(کمال الدین، ج ۲ ، باب ۵۴ ، ص ۷۳۲)
اس کے علاوہ غیبت صغری کے بعد بھی شیعہ علماءنے متعدد بار اپنی علمی اور فکری مشکلات کو امام علیہ السلام سے بیان کرکے اس کا راہ حل حاصل کیا ہے۔
میر علّام، مقدس اردبیلی کے شاگرد رقمطراز ہیں:
”آدھی رات ہو رہی تھی اور میں نجف اشرف میں حضرت علی علیہ السلام کے روضہ اقدس میں تھا اچانک میں نے کسی شخص کو دیکھا جو روضہ کی طرف آرہا ہے، میں اس کی طرف گیا جیسے نزدیک پہنچا تو دیکھا کہ ہمارے استاد علامہ احمد مقدس اردبیلی علیہ الرحمہ ہیں، میں نے جلدسے خود کو چھپا لیا۔
وہ روضہ مطہر کے نزدیک ہوئے جبکہ دروازہ بند ہو چکا تھا اچانک میں نے دیکھا کہ دروازہ کھل گیا اور موصوف روضہ مقدس کے اندر داخل ہو گئے اور کچھ ہی مدت بعد روضہ سے باہر نکلے اور کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔
میں چھپ کر اس طرح ان کے پیچھے چلنے لگا تاکہ وہ مجھے نہ دیکھ لیں، یہاں تک کہ و ہ مسجد کوفہ میں داخل ہوئے اور اس محراب کے پاس گئے جہاں پر حضرت علی علیہ السلام کو ضربت لگی تھی، کچھ دیر وہاں رہے اور پھر مسجد سے باہر نکلے اور پھر نجف کی طرف روانہ ہوئے، میں پھر ان کے پیچھے پیچھے چل دیا یہاں تک کہ وہ مسجد حنانہ میں پہنچے، اچانک مجھے بے اختیار کھانسی آگئی، جیسے ہی اُنہوں نے میری آواز سنی میری طرف ایک نگاہ کی اور مجھے پہچان لیا اور فرمایا: آپ میر علّام ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں! اُنہوں نے کہا: یہاں کیا کر رہے ہو؟ میں نے کہا: جب سے آپ حضرت علی علیہ السلام کے روضہ میں داخل ہوئے تھے میں اسی وقت سے آپ کے ساتھ ہوں، آپ کو اس صاحب قبر کے حق کا واسطہ جو واقعہ میں نے دیکھا ہے اس کا راز بتائیں!
موصوف نے فرمایا: ٹھیک ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ جب تک میں زندہ ہوں کسی کے سامنے بیان نہ کرنا اور جب میں نے ان کو اطمینان دلایا تو اُنہوں نے فرمایا: جب کوئی مشکل پیش آتی ہے تو اس کے حل کے لئے حضرت علی علیہ السلام سے توسل کرتا ہوں، آج کی رات بھی ایک مسئلہ میرے لئے مشکل ہو گیا اور اس کے بارے میں غور و فکر کر رہا تھا کہ اچانک میرے دل میں یہ بات آئی کہ حضرت علی علیہ السلام کی بارگاہ میں جاوں اور آپ ہی سے اس مسئلہ کا حل دریافت کروں۔
جب میں روضہ مقدس کے پاس پہنچا تو جیسا کہ آپ نے بھی دیکھا کہ بند دروازہ کھل گیا، میں روضہ میں داخل ہوا، خدا کی بارگاہ میں گریہ و زاری کی تاکہ امام علی علیہ السلام کی بارگاہ سے اس مسئلہ کا حل مل جائے اچانک قبر منور سے آواز آئی کہ مسجد کوفہ میں جاو اور حضرت قائم علیہ السلام سے اس مسئلہ کا حل معلوم کرو کیونکہ وہی تمہارے امام زمانہ ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد (مسجد کوفہ میں) محراب کے پاس گیا اور امام مہدی علیہ السلام سے اس سوال کا جواب حاصل کیا اور اب اس وقت اپنے گھر کی طرف جا رہا ہوں“۔ ( بحارالانوار ، ج ۲۵ ، ص ۴۷۱)
باطنی ہدایت اور رُوحانی نفوذ
امام لوگوں کی ہدایت اور رہبری کا عہدہ دار ہوتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے نور ہدایت کو حاصل کرنے کی صلاحیت رکھنے والوں کی ہدایت کرے لہٰذا خداوند عالم کی طرف سے اس ذمہ داری پر عمل کرنے کےلئے کبھی ظاہر بظاہر انسانوں سے براہ راست رابطہ برقرار کرتا ہے، اور اپنی حیات بخش رفتار و گفتگو سے ان کو سعادت اور کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے اور کبھی کبھی خداوند عالم کی عطاکردہ قدرت ولایت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے لوگوں کے دلوں کو مسخر کر لیتا ہے اور خاص توجہ اور مخصوص عنایت کے ذریعہ دلوں کو نیکیوں اور اچھائیوں کی طرف مائل کر دیتا ہے اور ان کے لئے رشدہ و کمال کا راستہ ہموار کر دیتا ہے۔ اس صورت میں امام علیہ السلام کا ظاہری طور پر حاضر ہونا اور ان سے براہ راست رابطہ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اندرونی اور قلبی رابطہ کے ذریعہ ہدایت کر دی جاتی ہے۔
حضرت امام علی علیہ السلام اس سلسلہ میں امام کی کارکردگی کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”خداوندا! تیری زمین پر تیری طرف سے حجت ہوتی ہے جو مخلوق کو تیرے دین کی طرف ہدایت کرتی ہے........ اور اگر اس کا ظاہری وجود لوگوں کے درمیان نہ ہو لیکن بے شک اس کی تعلیم اور اسکے (بتائے ہوئے) آداب مومنین کے دلوں میں موجود ہیں اور وہ اسی کے لحاظ سے عمل کرتے ہیں“۔ (اثبات الھداة، ج ۳ ، ح ۲۱۱ ، ص ۳۶۴)
امام پردہ غیبت میں رہ کر اسی طرح سے انقلاب اور قیام کےلئے کارآمد لوگوں کی ہدایت کی کوشش فرماتے ہیں اور جو لوگ لازمی حد تک صلاحیت رکھتے ہیں وہ امام علیہ السلام کی خصوصی تربیت کے تحت آپ کے ظہور کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور یہ پردہ غیب میں رہنے والے امام کے منصوبوں میں سے ایک منصوبہ ہے جو آپ کے وجود کی برکت سے انجام پاتا ہے۔
بلاوں سے امان
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ امن و امان انسانی زندگی کا اصلی سرمایہ ہے، بسا اوقات کائنات میں مختلف حوادث کی وجہ سے تمام موجودات کی عمومی زندگی خطرناک مرحلہ تک پہنچ جاتی ہے، اگرچہ بلاوں اور مصیبتوں کا سدّباب مادّی چیزوں کے ذریعہ ممکن ہے لیکن معنوی اسباب و عوامل بھی ان مواقع موثرہوتے ہیں۔ ہمارے آئمہ معصومین علیہم السلام کی روایات میں نظام خلقت کے تمام مجموعہ کے لئے امام اور حجت خدا کا وجود زمین اور اس پر رہنے والوں کے لئے امن و امان کا سبب شمار کیا گیا ہے۔
حضرت امام زمانہ علیہ السلام خود فرماتے ہیں:
وَ اِنِّی لَاَمَان لِاَهلِ الاَرضِ (کمال الدین، ج ۲ ، باب ۵۴ ، ح ۴ ، ص ۹۳۲)
”اور میں اہل زمین کے لئے (بلاوں سے) امان ہوں“۔
امام علیہ السلام کا وجود اس چیز میں مانع ہوتا ہے کہ لوگ اپنے گناہوں اور برائیوں کی وجہ سے سخت عذاب الٰہی میں مبتلا ہو جائیں اور زمین اور اہل زمین کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے۔
اس سلسلہ میں قرآن کریم میں پیغمبر اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے:
( وَمَا کَانَ اللّٰهُ لِی عَذِّبَهُم وَ اَنتَ فِیهِم ) ....... (سورہ انفال، آیت ۳۳)
”حالانکہ اﷲ ان پر اس وقت تک عذاب نہ کرے گا جب تک پیغمبر آپ کے ان کے درمیان ہیں........“۔
حضرت ولی عصر علیہ السلام جو رحمت اور محبت پروردگار کے مظہر ہیں وہ بھی اپنی خاص توجہ کے ذریعہ بڑی بڑی بلاوں کو خصوصاً ہر شیعہ سے دُور کرتے ہیں، اگرچہ بہت سے مقامات پر آپ علیہ السلام کے لطف و کرم کی طرف لوگ توجہ نہیں کر پاتے اور اپنی مدد کرنے والے کو نہیں پہچانتے! آپ علیہ السلام خود اپنی شناخت کے بارے میں فرماتے ہیں:
اَنَا خَاتِم الاَو صِیَائِ، وَ بِی یَد فَع اللّٰه عَزَّوَجَلَّ البَلَائُ مِن اَهلِی وَ شِیعَتِی ۔ (کمال الدین ، ج ۲ ، باب ۳۴ ، ح ۲۱ ، ص ۱۷۱)
”میں پیغمبر خدا (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا آخری جانشین ہوں اور خداوند عالم میرے (وجود کے سبب) میرے خاندان اور میرے شیعوں سے بلاوںکو دُور کرتا ہے)“۔
انقلاب اسلامی ایران کے ابتدائی زمانہ میں اور دفاع مقدس (یعنی عراق سے جنگ کے دوران) امام زمانہ علیہ السلام کے لطف و کرم اور آپ علیہ السلام کی محبت کو بارہا اس قوم اور حکومت پر سایہ کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور آپ علیہ السلامنے اسلامی حکومت اور امام علیہ السلام کے چاہنے والے شیعوں کو دشمن کی خطرناک سازشوں سے صحیح و سالم رکھا ہے۔ ایرانی شمسی سال ۷۵۳۱ ، ۱۲ بہمن ( ۹۷۹۱ عیسوی) میں سرنگوں ہونا اور ۳۸۹۱ عیسوی میں ”نوژہ“ نامی بغاوت کی ناکامی اور (عراق سے) آٹھ سال کی جنگ میں دشمن کی ناکامی اور بہت سی دوسری مثالیں اس بات پر زندہ گواہ ہیں۔
باران رحمت
کائنات کا عظیم مہدی موعود مسلمانوں کی آرزووں کا قبلہ اور شیعوں کا قلبی محبوب (حضرت امام زمانہ علیہ السلام) ہمیشہ لوگوں کے حالات زندگی پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس مہربان خورشید کی غیبت اس چیز میں مانع نہیں ہے کہ وہ مشتاق دلوں پر اپنے زندگی بخش اور نشاط آفرین تجلی سے دریغ کرے اور ان کو اپنے لطف و کرم کے نور سے محروم کرے عشق و محبت کا وہ ماہ منیر ہمیشہ اپنے شیعوں کا غم خوار اور اپنے مقدس دربار میںمدد طلب کرنےوالوں کا دستگیر رہا ہے، وہ کبھی تو بیمار لوگوں کے سرہانے حاضر ہوتے ہیں اور اپنے شفا بخش ہاتھوں کو ان کے زخموں کا مرہم قرار دیتے ہیں اور کبھی جنگلوں میں بھٹکے ہوئے مسافر پر عنایت کرتے ہیں اور تنہائی کی وادی میں ناچار بے کس لوگوں کی مدد اور راہنمائی کرتے ہیں اور نااُمیدی کی سرد ہواوں میں منتظر دلوں کو اُمید کی گرمی عطا کرتے ہیں اور وہ بارانِ رحمت الٰہی ہیں جو ہر حال میں دلوں کے خشک بیابانوں پر برس کر شیعوں کے لئے اپنی دُعاوں کے ذریعہ ہریالی اور شادابی ہدیہ کرتے ہیں، وہ خداوند محبوب کی بارگاہ کے سجادہ نشین اپنے ہاتھوں کو پھیلائے ہمارے لئے یہ دُعا کرتے ہیں:
یَا نُورَالنُّورِ، یَا مُدَبَّرَالاَمُورِ یَا بَاعِثَ مَن فِی القَبُورِ صَلَّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَاجعَل لِی وَ لِشِی عَتِی مِنَ الضِّیقِ فَرَجاً، وَ مِنَ الهَم مَخرَجًاً، وَاوسِع لَنَا المنهِجَ وَاطلق لَنَا مِن عِندِکَ مَا یُقَرَّجُ وَافعَل بِنَا مَا اَنتَ اهلَهُ یَا کَرِیمٍ ۔
(منتخب الاثر، فصل ۰۱ ، باب ۷ ، ش ۶ ، ص ۸۵۶)
”اے نوروں کے نور! اے تمام امور کے تدبیر کرنے والے! اے مردوں کے زندہ کرنے والے! محمد و آل محمد پر صلوات بھیج! اور مجھے اور میرے شیعوں کو مشکلات سے نجات عطا فرما اور غم و اندوہ کو دُور فرما اور ہم پر (ہدایت کے) راستہ کو وسیع فرما اور جس راہ میں ہمارے لئے آسانیاں ہوں اس کو ہمارے اُوپر کھول دے اور تو ہمارے ساتھ ایسا سلوک کر جس کا تو اہل ہے اے کریم!“۔
قارئین کرام! ہماری بیان کی ہوئی گذشتہ باتیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ امام علیہ السلام (اگرچہ پردہ غیبت میں ہیں) سے رابطہ کرنا اور متصل ہونا ممکن ہے، جو حضرات اس بات کی لیاقت اور صلاحیت رکھتے ہیں وہ اپنے محبوب امام کی ملاقات اور قرب کی لذت سے ہمیشہ محفوظ ہوئے ہیں۔
درس کا خلاصہ:
امام عصر علیہ السلام کائنات کے محور اور الٰہی فیوضات کے انسانوں اوردوسری مخلوقات تک پہنچنے کا واسطہ ہیں۔
حضرت کے ظہور اور آنے پر عقیدہ معاشرے میں اُمید و نشاط اور فرحت کی رُوح پھونکتا ہے۔
امام عصر علیہ السلام مسلمانوں کے تمام امور پر نگاہ رکھتے ہیں اور لوگوں کے اعمال حضرت کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں یہ عقیدہ لوگوں کی اصلاح اور تربیت میں اہم اثرات رکھتا ہے۔
امام عصر علیہ السلام شیعوں کی علمی اور فکری پناہ گاہ ہیں بہت سے امور میں شیعہ بزرگان نے حضرت کے ذریعے اپنے علمی جوابات حاصل کئے نیز باطنی ہدایت، مصیبتوں سے نجات اور بارانِ رحمت کا نزول حضرت کے وجود کی برکات میں سے ہے۔
درس کے سوالات:
۱ ۔ کائنات میں امام علیہ السلام کی مرکزیت کی وضاحت کریں؟
۲ ۔ زمانہ غیبت میں امام عصر علیہ السلام کی سورج کے ساتھ تشبیہ کی وجوہات میں سے کوئی دو وجہوں کی وضاحت کریں؟
۳ ۔ زمانہ غیبت میں شیعہ مکتب کی حفاظت اور پائیداری میں حضرت کے کردار کو بیان کریں؟
۴ ۔ لوگوں کے نفوس میں حضرت کی باطنی ہدایت اور روحانی تسلط کی وضاحت کریں؟
۵ ۔ آیا امام عصر علیہ السلام نے خود کو بالخصوص شیعوں کے بلاوں سے امان دینے والا بتایا ہے یا ساری دُنیا کے لوگوں کے لئے؟
آٹھواں درس
دیدارِ امام علیہ السلام
مقاصد:
۱ ۔ زمانہ غیبت میں شیعوں سے رابطہ کی کیفیت سے آگاہی
۲ ۔ حضرت کے ساتھ ملاقات کی اقسام (اضطراری حالت، عام حالت)
۳ ۔ امام زمانہ علیہ السلام کی طولانی عمر مبارک کے دلائل
فوائد:
۱ ۔ ملاقات کے مسئلہ میں صحیح شناخت پیدا ہونا
۲ ۔ امام زمانہ علیہ السلام کی طولانی عمر مبارک پر ظاہری شبہ کا دور ہون
تعلیمی مطالب:
۱ ۔ غیبت صغریٰ میں لوگوں کے حضرت کے ساتھ رابطہ کا غیبت کبریٰ کے ساتھ فرق رکھنا
۲ ۔ ملاقات کا استثنائی صورت میں انجام پانا اور حضرت کی غیبت پر تاکید
۳ ۔ ملاقات کرنے والوں کی مختلف شرائط
۴ ۔ امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات انجام پانے کی مثالیں
۵ ۔ امام زمانہ علیہ السلام کی طولانی عمر مبارک کے اسرار
۶ ۔ طول عمر کے تاریخی شواہد
دیدارِ امام علیہ السلام
زمانہ غیبت کی مشکلات اور تلخیوں میں سے ایک یہ ہے کہ شیعہ اپنے مولا و امام سے دور اور اس بے مثال فخر یوسف کے جمال کے دیدار سے محروم ہیں، زمانہ غیبت کے شروع سے ہی آپ کے ظہور کے منتظر دلوں میں ہمیشہ یہ حسرت دلوں کو بے تاب کرتی رہی ہے کہ کسی صورت میں اس بلند فضیلت کے حامل وجود کا دیدار ہو جائے وہ اس فراق میں آہ و فغاں کرتے رہتے ہیں۔ اگرچہ غیبت صغریٰ میں آپ کے خاص نائبین کے ذریعہ شیعہ اپنے محبوب امام سے رابطہ برقرار کئے ہوئے تھے اور ان میں بعض لوگ امام علیہ السلام کے حضور میں شرفیاب بھی ہوئے ہیں جیسا کہ اس سلسلہ میں متعدد روایات موجود ہیں، لیکن غیبت کبریٰ (جس میں امام علیہ السلام مکمل طور پر غیبت اختیار کئے ہوئے ہیں) میں وہ رابطہ ختم ہو گیا اور امام علیہ السلام سے عام طریقہ سے یا خاص حضرات کے ذریعہ ملاقات کرنے کا امکان ہی نہیں ہے۔
لیکن پھر بھی بہت سے علماءکا یہ عقیدہ ہے کہ اس زمانہ میں بھی اس ماہِ منیر سے ملاقات کا امکان ہے اور متعدد بار ایسے واقعات پیش آئے ہیں، بہت سے عظیم الشان علماءجیسے علامہ بحر العلوم، مقدس اردبیلی اور سید اب طاو وس وغیرہ کی ملاقات کے واقعات مشہور و معروف ہیں، جن کو متعدد علماءنے نقل کیا ہے۔ (دیکھئے جنة الماویٰ اور نجم الثاقب، محدث نوری)
لیکن یہاں یہ عرض کر دینا ضروری ہے کہ امام زمانہ (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی ملاقات کے سلسلہ میں درج ذیل نکات پر توجہ کرنا چاہیے:۔
پہلا نکتہ یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام سے ملاقات بہت ہی زیادہ پریشانی اور بے کسی کے عالم میں ہوتی ہے اور کبھی عام حالات میں اور بغیر کسی پریشانی کی صورت میں، واضح الفاظ میں یوں کہیں کہ کبھی امام علیہ السلام کی ملاقات مومنین کی نصرت اور مدد کی وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ بعض پریشانیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور تنہائی اور بے کسی کا احساس کرتے ہیں مثلاً مختلف مقامات پر ملاقات کے واقعات جیسے کوئی حج کے سفر میں راستہ بھٹک گیا اور امام علیہ السلام یا ان کے کوئی صحابی تشریف لائے اور اس کو سرگردانی سے نجات دی اور امام علیہ السلام سے اکثر ملاقاتیں اسی طرح کی ہیں۔
لیکن بعض ملاقاتیں عام حالات میں بھی ہوئی ہیں۔ اور ملاقات کرنے والے اپنے مخصوص روحانی مقام کی وجہ سے امام علیہ السلام کی ملاقات سے شرفیاب ہوئے ہیں۔
لہٰذا مذکورہ نکتہ مدنظر رہے کہ ہر کسی سے امام علیہ السلام کی ملاقات کا دعویٰ قابل قبول نہیں ہے۔اور امام علیہ السلام ہر کسی سے ملتے بھی نہیں۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ غیبت کبریٰ کے زمانہ میں خصوصاً آج کل بعض لوگ امام زمانہ علیہ السلام کی ملاقات کا دعویٰ کرکے اپنی دوکان چمکانے اورشہرت حاصل کرتے کے پیچھے ہیں اور اس طرح بہت سے لوگوں کو گمراہی اور عقیدہ و عمل میں انحراف کی طرف لے جاتے ہیں ۔ بعض دعاوں کے پڑھنے اور بعض اعمال انجام دینے کی دعوت دیتے ہیں جبکہ ان میں سے بہت سے اذکار اور اعمال کی کوئی اصل اور بنیاد بھی نہیں ہے۔ امام زمانہ علیہ السلام کے دیدار کا وعدہ دیتے ہوئے ایسی محفلوں میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں کہ ان کی محفلوں کے طور طریقوں کا دین یا امام زمان عج سے کوئی ربط نہیں ہوتا اور یوں وہ لوگ امام غائب کی ملاقات کو سب کے لئے ایک آسان کام قرار دینے کا دعویٰ کرتے ہیں جبکہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ امام علیہ السلام خداوند عالم کے ارادہ کے مطابق مکمل طور پر غیبت میں ہیں اور صرف انگشت شمار افراد ہی کے لئے امام علیہ السلام کی ملاقات ہوتی ہے کہ ان کی راہ نجات فقط اسی لطف الٰہی کے مظہر کی براہ راست عنایت پر موقوف ہوتی ہے۔
تیسرا نکتہ یہ ہے کہ ملاقات صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام اس ملاقات میں مصلحت دیکھیں، لہٰذا اگر کوئی مومن امام علیہ السلام کے حضور میں شرفیاب ہونے کے لئے اشتیاق اور رغبت کا اظہار کرے اور بھرپور کوشش کرے لیکن امام علیہ السلام سے ملاقات نہ ہو سکے تو پھر مایوسی اور نااُمیدی کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور اسے امام علیہ السلام کے لطف و کرم کے نہ ہونے کی نشانی قرار نہیں دینا چاہیے، جیسا کہ جو افراد امام علیہ السلام کی ملاقات سے فیضیاب ہوئے ہیں اس ملاقات کو ان کے تقویٰ اور فضیلت کی نشانی قرار نہیں دینا چاہیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اگرچہ امام زمانہ علیہ السلام کے جمال پرنور کی زیارت اور دلوں کے محبوب سے گفتگو اور کلام کرنا واقعاً ایک بڑی سعادت ہے لیکن ائمہ علیہم السلام خصوصاً امام عصر علیہ السلام اپنے شیعوں سے یہ نہیں چاہتے کہ ان سے ملاقات کی کوشش میں رہیں اور اپنے اس مقصد تک پہنچنے کے لئے چلہ کھینچیں، یا جنگلوں میں نکل جائیں بلکہ ائمہ معصومین علیہم السلام نے بہت زیادہ تاکید کی ہے کہ ہمارے شیعوں کو ہمیشہ اپنے امام کو یاد رکھنا چاہیے اور ان کے ظہور کے لئے دعا کرنا چاہیے اور آپ کی رضایت حاصل کرنے کےلئے اپنی رفتار و کردار کی اصلاح کرنا چاہیے اور ان کے عظیم مقاصد کے لئے قدم بڑھانا چاہیے تاکہ جلد از جلد آخری اُمید جہاں کے ظہور کاراستہ ہموار ہو جائے اور کائنات ان کے وجود سے براہ راست فیضیاب ہو۔
خود امام مہدی علیہ السلام فرماتے ہیں:اَکثرُوا الدُّعَاءَ بِتَعجِیَلِ الفَرجِ، فَاِنَّ ذَلِکَ فَرَجُکُم ۔ (کمال الدین، ج ۲ ، باب ۵۴ ، ح ۴ ، ص ۹۳۲)
”میرے ظہور کے لئے بہت زیادہ دعائیں کیا کرو کہ اس میں تمہاری ہی آسانی (اور بھلائی) ہے“۔یہاں پر مناسب ہے کہ مرحوم حاج علی بغداری (جو اپنے زمانہ کے نیک اور صالح شخص تھے) کی دلچسپ ملاقات کو بیان کریں لیکن اختصار کی وجہ سے اہم نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
”وہ متقی اور صالح شخص ہمیشہ بغداد سے کاظمین جایا کرتے تھے اور وہاں دو اماموں (امام موسیٰ کاظم اور امام محمد تقی علیہما السلام) کی زیارت کیا کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: خمس اور دیگر رقوم شرعی میرے ذمہ تھی، اسی وجہ سے میں نجف اشرف گیا اور ان میں سے ۰۲ تومان عالم فقیہ شیخ انصاری (علیہ الرحمہ) کو اور ۰۲ تومان فقیہ محمد حسین کاظمی (علیہ الرحمہ) کو اور ۰۲ تومان آیت اﷲ شیخ محمد حسن شروقی (علیہ الرحمہ) کو دیئے اور ارادہ یہ کیا کہ اپنے ذمہ دوسرے ۰۲ تومان بغدا کی واپسی پر آیت اﷲ آل یاسین (علیہ الرحمہ) کو دُوںگا۔ جمعرات کے روز بغداد واپس آیا سب سے پہلے کاظمین گیا اور دونوں اماموں کی زیارت کی، اس کے بعد آیت اﷲ آل یاسین کے بیت الشرف پر گیا اور اپنے ذمہ خمس کی رقم کا ایک حصہ ان کی خدمت میں پیش کیا اور ان سے اجازت طلب کی کہ اس میں سے باقی رقم (انشاءاﷲ) بعد میں خود آپ کو یا جس کو مستحق سمجھوں ادا کردُوں گا، اُنہوں نے اس بات کا اصرار کیا کہ انہیں کے پاس رہیں لیکن میں نے اپنے ضروری کام کی وجہ سے معذرت چاہی اور خداحافظی کی اور بغداد کی طرف روانہ ہو گیا۔ جب میں نے اپنا ایک تہائی سفر طے کر لیا تو راستہ میں ایک باوقار سید بزرگوار کو دیکھا، موصوف سبز عمامہ پہنے ہوئے تھے اور ان کے رخسار پر ایک کالے تِل کا نشان تھا اور موصوف زیارت کے لئے کاظمین جا رہے تھے، میرے پاس آئے اور مجھے سلام کیا اور گرم جوشی کے ساتھ مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے گلے لگایا اور مجھے خوش آمدید کہا اور فرمایا: خیر تو ہے کہاں جا رہے ہیں؟ میں نے عرض کی: زیارت کرکے بغداد جا رہا ہوں۔ اُنہوں نے فرمایا آج شب جمعہ ہے کاظمین واپس جاو (اور آج کی رات وہیں رہو) میں نے عرض کی : میں نہیں جا سکتا، اُنہوں نے کہا: تم یہ کام کر سکتے ہو،جاو تاکہ میں گواہی دوں کہ میرے جد امیر المومنین علیہ السلام کے اور ہمارے دوستوں میں سے ہو، اور شیخ بھی گواہی دیتے ہیں۔ خداوند عالم فرماتا ہے:( فَاستَشهِدُاوا شَهِدِینِ مِن رِجَالُکُم ) (اور اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ بنا دو)۔(سورہ بقرہ، آیت ۲۸۲)
حاجی علی بغدادی کہتے ہیں: میں نے اس سے پہلے آیت اﷲ آل یاسین سے درخواست کی تھی کہ میرے لئے ایک نوشتہ لکھ دیں جس میں اس بات کی گواہی ہو کہ میں اہل بیت علیہم السلام کے شیعوں اور محبین میں سے ہوں تاکہ اس نوشتہ کو اپنے کفن میں رکھوں، میں نے سید سے سوال کیا: آپ مجھے کیسے پہچانتے ہیں اور کس طرح گواہی دیتے ہیں؟ فرمایا: انسان کس طرح اس شخص کو نہ پہچانے جو اس کا کامل حق ادا کرتا ہو؟ میں نے عرض کی: کونسا حق؟ فرمایا: وہی حق جو تم نے میرے وکیل کو دیا ہے، میں نے عرض کیا: آپ کا وکیل کون ہے؟ فرمایا: شیخ محمد حسن! میں نے عرض کی: کیا وہ آپ کے وکیل ہیں؟ فرمایا: ہاں۔
مجھے ان کی باتوں پر بہت زیادہ تعجب ہوا۔ میں نے سوچا کہ میرے اور ان کے درمیان بہت پرانی دوستی ہے جس کو میں بھول چکا ہوں کیونکہ اُنہوں نے ملاقات کے شروع میں ہی مجھے نام سے پکارا ہے اور میں نے یہ سوچا کہ موصوف چونکہ سید ہیں لہٰذا مجھ سے خمس کی رقم لینا چاہتے ہیں لہٰذا میں نے کہا: کچھ سہم سادات میرے ذمہ ہے اور میں نے اس کو خرچ کرنے کی اجازت بھی لے رکھی ہے۔ موصوف مسکرائے اور کہا: جی ہاں! آپ نے ہمارے سہم کا کچھ حصہ نجف میں ہمارے وکیلوں کو ادا کر دیا ہے، میں نے سوال کیا: کیا یہ کام خداوند عالم کی بارگاہ میں قابل قبول ہے؟ اُنہوں نے فرمایا: جی ہاں! میں متوجہ ہوا کہ کس طرح یہ سید بزرگوار عصرِ حاضر کے بڑے اور جید علماءکو اپنا وکیل قرار دے رہے ہیں؟ لیکن ایک بار پھر مجھے غفلت سی ہوئی اور اور میں موضوع کو بھول گیا!
میں نے کہا:اے بزرگوار! کیا یہ کہنا صحیح ہے؟ جو شخص شب جمعہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرے (وہ عذاب خدا سے) امان میں ہے۔ فرمایا: جی ہاں صحیح ہے! اور میں نے دیکھا کہ فوراً ہی موصوف کی آنکھیں آنسووں سے بھر گئی، کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ہم نے اپنے آپ کو رک اور راستہ سے گزرے ہوں۔ داخل ہونے والے دروازہ پر کھڑے ہوئے تھے۔ موصوف نے کہا: زیارت پڑھیں۔ میں نے کہا: بزرگوار میں اچھی طرح نہیں پڑھ سکوں گا۔ فرمایا: کیا میں پڑھوں تاکہ تم بھی میرے ساتھ پڑھتے رہو؟ میں نے کہا: ٹھیک ہے۔ چنانچہ ان بزرگوار نے پیغمبر اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم اور ایک ایک امام پر سلام بھیجا، اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے نام کے بعد میری طرف رُخ کرکے فرمایا: کیا تم اپنے امام زمانہ کو پہچانتے ہو؟ میں نے عرض کی: کیوں نہیں پہچانوں گا؟ فرمایا: تو پھر اس پر سلام کرو! میں نے کہا:اَلسَّلَامُ عَلَیکَ یَا حُجَّةَ اللّٰهِ یَا صَاحِبَ الزَّمَانِ یَابنَ الحَسَنِ وہ بزرگوار مسکرائے اور فرمایا:عَلَیکَ السَّلَامُ وَ رَحمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکَاتُه ۔ اس کے بعد حرم میں وارد ہوئے اور ضریح کا بوسہ لیا، فرمایا: زیارت پڑھیں، میں نے عرض کی: اے بزرگوار میں اچھی طرح نہیں پڑھ سکتا۔ فرمایاکیا میں آپ کے لئے پڑھوں؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! اُنہوں نے مشہور زیارت ”امین اﷲ“ پڑھی اور فرمایا: کیا میرے جد امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کی: جی ہاں آج شب جمعہ اور امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی شب ہے۔ اُنہوں نے امام حسین علیہ السلام کی مشہور زیارت پڑھی۔ اس کے بعد نماز مغرب کا وقت ہو گیا، موصوف نے مجھ سے فرمایا: نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھیں۔ اور نماز کے بعد وہ بزرگوار اچانک میری نظروں سے غائب ہو گئے، میں نے بہت تلاش کیا لیکن وہ نہ مل سکے!!
ایک مرتبہ میں سوچنے لگا اور اپنے سے سوال کرنے لگاتو متوجہ ہوا کہ سید نے مجھے نام لے کر پکارا تھا اور مجھ سے کہا تھا کہ کاظمین واپس لوٹ جاوں جبکہ میں نہیں جانا چاہتا تھا۔ اُنہوں نے عظیم الشان فقہاءکو اپنا وکیل قرار دیا اور آخرکار میری نظروں سے اچانک غائب ہو گئے۔ ان تمام باتوں پر غوروفکر کرنے کے بعد مجھ پر یہ بات واضح ہو گئی کہ وہ سید زادے میرے امام زمانہ علیہ السلام تھے لیکن افسوس کہ بہت دیر بعد سمجھ سکا۔
(بحارالانوار، ج ۳۵ ، ص ۵۱۳ ، النجم الثاقب، داستان ۱۳)
طولانی عمر
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی زندگی سے متعلق بحثوں میں سے ایک بحث آپ علیہ السلام کی طولانی عمر کے بارے میں ہے۔ بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح ایک انسان کی اتنی طولانی عمر ہو سکتی ہے؟ (اس وقت ۵۲۴۱ ہجری قمری ہے اور چونکہ امام زمانہ علیہ السلام کی تاریخ پیدائش ۵۵۲ ہجری قمری ہے لہٰذا اس وقت آپ کی عمر شریف ۰۷۱۱ سال ہے۔نظر ثانی ۱۲ ذیقعدہ ۹۲۴۱ ھ میں ہوئی اس وقت آپ کی عمر ۴۷۱۱ سال تین ماہ چھ دن ہے خدا انہیں کروڑوں سال زندہ رکھے(آمین))
اس سوال کا سرچشمہ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کل کے زمانہ میں عام طور پر ۰۸ سے ۰۰۱ سال کی عمر ہوتی ہے ( اگرچہ بعض لوگ سو سال سے زیادہ بھی عمر پاتے ہیں لیکن بہت ہی کم ایسے افراد ملتے ہیں) لہٰذا بعض لوگ ایسی عمر کو دیکھنے اور سننے کی بنا پر اتنی طولانی عمر پر یقین نہیں کرتے، ورنہ تو طولانی عمر کا مسئلہ عقل اور سائنس کے لحاظ سے بھی کوئی ناممکن بات نہیںوضہ کاظمین میں پایا، بغیر اس کے کسی سڑ ہے۔ دانشوروں نے انسانی بدن کے اعضاءکی تحقیقات سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ انسان بہت زیادہ طولانی عمر پا سکتا ہے، یہاں تک کہ اس کو بڑھاپے اور ضعیفی کا احساس تک نہ ہو۔
برنارڈ شو کہتا ہے:
”بیالوجسٹ ماہرین اور ان کے دانشوروں کے مورد قبول اصولوں میں سے ہے کہ انسان کی عمر کے لئے کوئی حد معین نہیں کی جا سکتی یہاں تک کہ طول عمر کے لئے بھی کوئی حد معین نہیں کی جا سکتی“۔ ( راز طول عمر امام زمان علیہ السلام، علی اکبر مہدی پور ص ۳۱)
پروفیسر ”اٹینگر“ لکھتے ہیں:”ہماری نظر میں عصر حاضر کی ترقی اور ہمارے شروع کئے کام کے پیش نظر اکیسویں صدی کے لوگ ہزاروں سال عمر کر سکتے ہیں“۔ ( سورہ صافات، آیات ۴۴۱ ، ۳۴۱) لہٰذا بڑھاپے پر غلبہ پانے اور طولانی عمر پانے کے سلسلہ میں دانشوروں کی کوششیں اور چند کامیاب نتائج سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اس طرح (طولانی عمر پانے) کا امکان پایا جاتا ہے اور اس وقت بھی دنیا میں بہت سے افراد ایسے موجود ہیں جو مناسب کھانے پینے اور آب و ہوا اور دوسری بدنی، فکری کارکردگی کی بنا پر ۰۵۱ سال یا اس سے بھی زیادہ عمر پاتے ہیں، اس کے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ تاریخ میں بہت سے ایسے افراد پائے گئے ہیں جنہوں نے ایک طولانی عمر پائی ہے اور آسمانی اور تاریخی کتابوں میں بہت سے ایسے افراد کا نام اور ان کی زندگی کے حالات بیان کئے گئے ہیں جن کی عمر آج کل کے انسان سے کہیں زیادہ تھی۔اس سلسلہ میں بہت سی کتابیں اور مضامین لکھے گئے ہیں ہم ذیل میں چند نمونے بیان کرتے ہیں:
۱ ۔ قرآن کریم میں ایک ایسی آیت ہے جو نہ صرف یہ کہ انسان کی طولانی عمر کی خبر دیتی ہے بلکہ عمر جاویداں کے بارے میں خبر دے رہی ہے۔ چنانچہ حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:( فَلَو لَا اَنَّهُ کَانَ مِن المُسَبِّحِینَ لَلَبِتَ فِی بَطِنِهِ اِلٰی یَومِ یُبعَثُون ) (مجلہ دانشمند سال ۶ ، ش ۶ ، ص ۷۴۱)
”اگر وہ (جناب یونس علیہ السلام) شکم ماہی میں تسبیح نہ پڑھتے تو قیامت تک شکم ماہی میں رہتے“۔
لہٰذا مذکورہ آیہ شریفہ بہت زیادہ طولانی عمر (جناب یونس علیہ السلام کے زمانہ سے قیامت تک) کے بارے میں خبر دے رہی ہے۔ جسے دانشوروں اور ماہرین کی اصطلاح میں ”عمر جاویداں“ کہا جاتا ہے، پس انسان اور مچھلی کے بارے میں طولانی عمر کا مسئلہ ایک ممکن چیز ہے۔ ( خوش قسمتی سے مڈگاسکر کے ساحلی علاقہ میں ۰۰۴ ملین سال (پرانی عمر والی) ایک مچھلی ملی ہے جو مچھلیوں کے لئے اتنی طولانی عمر پر زندہ گوار ہے۔ (روزنامہ کہیان، ش ۳۱۴۶ ، ۲۲ ، ۸ ، ۳۴۳۱ ھ ق)
۲ ۔ قرآن کریم میں جناب نوح علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:
”بے شک ہم نے نوح کو ان کی قوم میں بھیجا، جنہوں نے ان کے درمیان ۰۵۹ سال زندگی بسر کی“۔ (سورہ عنکبوت، آیت ۴۱)
مذکورہ آیہ شریفہ میں جو مدت بیان ہوئی ہے وہ انکی نبوت اور تبلیغ کی مدت ہے، کیونکہ بعض روایات کی بنا پر جناب نوح علیہ السلام کی عمر ۰۵۴۲ سال تھی۔
( کمال الدین، ج ۲ ، باب ۶۴ ، ح ۳ ، ص ۹۰۳)
قابل توجہ بات یہ ہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں بیان ہوا ہے:”امام مہدی علیہ السلام کی زندگی میں جناب نوح علیہ السلام کی سنت پائی جاتی ہے اور وہ ان کی طولانی عمر ہے“۔ (کمال الدین، ج ۱ ، باب ۱۲ ، ح ۴ ، ص ۱۹۵)
۳ ۔ اور اسی طرح جناب عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:
”بے شک ان کو قتل نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کو سولی دی گئی ہے بلکہ ان کو غلط فہمی ہوئی ........، بے شک ان کو قتل نہیں کیا گیا ہے بلکہ خداوند عالم نے ان کو اپنی طرف بلا لیا ہے کہ خداوند عالم صاحب قدرت اور حکیم ہے“۔ (سورہ نسائ، آیت ۷۵۱)
تمام مسلمان قرآن و احادیث کے مطابق اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہ آسمانوں میں رہتے ہیں، اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے وقت آسمان سے نازل ہوں گے اور آپ کی نصرت و مدد کریں گے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:”ان صاحب امر (امام مہدی علیہ السلام) کی زندگی میں چار انبیاء(علیہم السلام) کی چار سنتیں پائی جاتی ہیں........ ان میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی سنت یہ ہے کہ ان (امام مہدی علیہ السلام) کے بارے میں (بھی) لوگ کہیں گے کہ وہ وفات پا چکے ہیں، حالانکہ وہ زندہ ہیں“۔ (بحار الانوار، ج ۱۵ ، ص ۷۱۲)
قرآن کریم کے علاوہ خود توریت اور انجیل میں بھی طولانی عمر کے سلسلہ میں گفتگو ہوئی ہے جیسا کہ توریت میں بیان ہوا ہے:”........ جناب آدم کی پوری عمر نو سو تیس سال تھی جس کے بعد وہ مر گئے ”انوش“ کی عمر نو سو پانچ سال تھی، ”قینان“ کی عمر نو سو دس سال کی تھی، ”متوشالح“ کی عمر نو سو انتہر سال تھی“ ( زندہ، روزگاران، ص ۲۳۱ ، (نقل از توریت، ترجمہ فاضلل خانی، سفر پیدائش باب پنجم، آیات ۵ تا ۲۲)
اس بنا پر خود توریت میں متعدد حضرات کی طولانی عمر (نو سو سال سے بھی زیادہ) کا اعتراف کیا گیاہے۔ انجیل میں بھی کچھ ایسی تحریریں ملتی ہیں جن سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھائے جانے کے بعد دوبارہ زندہ ہوئے اور آسمانوں میں اوپر چلے گئے ( زندہ، روزگاران، ص ۴۳۱ ، (نقل از عہد جدید، کتاب اعمال رسولان، باب اول، آیات ۱ تا ۲۱) اور ایک زمانہ میں آسمان سے نازل ہوں گے اور اس وقت جناب عیسیٰ علیہ السلام کی عمر دو ہزار سال سے بھی زیادہ ہے۔
قارئین کرام! اس بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ”یہود و نصاریٰ“ مذہب کے ماننے والے چونکہ اپنی مقدس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں لہٰذا ان کے لحاظ سے بھی طولانی عمر کا عقیدہ صحیح ہے۔
ان سب کے علاوہ طولانی عمر کا مسئلہ عقل اور سائنس کے لحاظ سے قابل قبول ہے اور تاریخ میں اس کے بہت سے نمونے ملتے ہیں اور خداوند عالم کی نامحدود قدرت کے لحاظ سے بھی قابل اثبات ہے۔ تمام آسمانی ادیان کے ماننے والوں کے عقیدہ کے مطابق کائنات کا ذرہ ذرہ خداوند عالم کے اختیار میں ہے اور تمام اسباب و علل کی تاثیر بھی اسی کی ذات سے وابستہ ہے، اگر وہ نہ چاہے تو کوئی بھی سبب اور علت اثرانداز نہ ہو، نیز وہ بغیر سبب اور علت کے پیدا کر سکتا ہے۔وہ ایسا خدا ہے جو پہاڑوں کے اندر سے اونٹ نکال سکتا ہے اور بھڑکتی ہوئی آگ سے جناب ابراہیم علیہ السلام کو صحیح و سالم نکال سکتا ہے، نیز جناب موسٰی علیہ السلام اور ان کے ماننے والوں کے لئے دریا کو خشک کرکے راستہ بنا سکتا ہے اور وہ پانی کی دو دیواروں کے درمیان سے آرام سے دوسرے کفارے نکل سکتے ہیں۔ (یہ وہ حقائق ہیں کہ جو قرآن میں ذکر ہوئے ہیں۔ سورہ انبیاءآیت ۹۶ ، سورہ شعراءآیت ۳۶) تو کیا تمام انبیاءاور اولیاءکے خلاصہ، آخری ذخیرہ الٰہی اور تمام صالح حضرات کی تمناوں کے مرکز نیز قرآن کریم کے عظیم وعدہ کو پورا کرنے والے کو اگر طولانی عمر عطا کرے تو اس میں تعجب کیا ہے؟!
حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں:”خداوند عالم ان (امام مہدی علیہ السلام) کی عمر کو ان کی غیبت کے زمانہ میں طولانی کر دے گا اور پھر اپنی قدرت کے ذریعہ ان کو جوانی کے عالم میں (چالیس سال سے کم) ظاہر کرے گا تاکہ لوگوں کو یہ یقین حاصل ہو جائے کہ خداوند عالم ہر چیز پر قادر ہے“۔ (بحارالانوار، ج ۱۵ ، ص ۹۰۱) لہٰذا ہمارے بارہویں امام حضرت مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی طولانی عمر مختلف طریقوں، عقل، سائنس اور تاریخی لحاظ سے ممکن اور قابل قبول ہے اور ان سب کے علاوہ خداوند عالم اور اس کی قدرت کے جلووں میں سے ایک جلوہ ہے۔اسی طرح سب کا انفاق ہے کہ ابلیس خلقت آدم سے پہلے تھا اور وہ ایک موجود زندہ ہے، قیامت اسے مہلت ملی ہوئی ہے۔ جب دشمن خدا کے لئے ایک طولانی عمر ہے تو اللہ کی آخری حجت، جن کے ذریعہ ابلیس ملعون کا خاتمہ ہوتا ہے ان کے واسطے طولانی عمر پر تعجب اور حیرانگی کس لئے ہے؟حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں اللہ کے عبد صالح حضرت خضر علیہ السلام موجود تھے اور وہ آج تک موجود ہیں ، روایات میں ہے کہ وہ اللہ کے آخری نمائندہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی تنہائیوں میں ان کے مونس و غم خوار ہیں، بہر حال طولانی عمر کا مسئلہ حل شدہ ہے۔ اس پر اعتراض کرنے والے نادان ہیں۔
درس کا خلاصہ:
غیبت کبریٰ میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کبھی پریشانی کی حالت میں اور کبھی عام حالات میں ممکن ہے۔
حضرت مہدی علیہ السلام سے ملاقات کی شرط خود حضرتعلیہ السلام کی اجازت اور اس ملاقات میں کسی مصلحت کا ہونا ہے نہ کہ محض محبت و اشتیاق۔
اگرچہ حضرت کے جمال کی زیارت نہایت ہی محبت بھرے لمحات اور دلی تمناہے لیکن غیبت کے دور میں شیعوں کا جو وظیفہ ہے وہ یہ ہے کہ کہ شرعی احکام پر عمل کریںاور امام کے ظہور کے لئے مقدمات فراہم کریں۔
طول عمر کا موضوع علمی حوالے سے قابل توجیہ ہے اس کی تاریخی مثالیں بھی ہیں اور اس پر قرآنی اور احادیثی شواہد بھی ہیں۔
درس کے سولات:
۱ ۔غیبت کبریٰ کے زمانہ میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کی کتنی صورتیں ہیں، وضاحت کریں؟
۲ ۔ زمانہ غیبت میں امام زمانہ علیہ السلام سے ملاقات کی اہم شرط کیا ہے؟
۳ ۔کیا روایات میں حضرت کی ملاقات کے لئے کوشش کرنے کو کہا گیا ہے؟ زمانہ غیبت میں شیعوں سے آئمہ علیہم السلام کی کیا خواہش تھی؟
۴ ۔ علم بیالوجی کی رو سے طویل عمر کی حد بندی نہ ہونے کی کیا وضاحت ہے؟
۵ ۔ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے امام زمانہ علیہ السلام کی طولانی عمر کا اصلی سبب کس چیز کو بتایا ہے؟
نواں د رس
انتظار
مقاصد:
۱ ۔ انتظار کے صحیح معنی کی معرفت
۲ ۔ انتظار کے ضروری امور پر توجہ
فوائد:
۱ ۔ شیعہ نقطہ نظرسے انتظار کے مفہوم سے آگاہی
۲ ۔ انتظار کے معیارسے آگہی
۳ ۔ ظہور کی راہ ہموار کرنے کے لئے اپنی اصلاح اورتربیتی امور پر توجہ
تعلیمی مطالب:
۱ ۔ انتظار کی حقیقت
۲ ۔ امام مہدی (عج) کے انتظار کی خصوصیات
۳ ۔ ظہور کے منتظر لوگوں کے وظائف
انتظارکا معنی و مفہوم
جس وقت ظلم کے تاریک سیاہ بادلوں نے آفتاب امامت کے رُخِ انور کو چھپا دیا ہو، دشت و جنگل سورج کی قدم بوسی سے محروم ہو گئے اور درخت و گل اس آفتاب کی محبت کی دوری سے بے جان ہو گئے ہوں تو اس وقت کیا کیا جائے؟ جس وقت خلقت اور خوبیوں کا خلاصہ اور خوبصورتیوں کا آئینہ اپنے چہرہ پر غیبت کی نقاب ڈال لے اور اس کائنات میں رہنے والے اس کے فیض سے محروم ہوں تو کیا کرنا چاہیے؟
چمن کے پھولوں کو انتظار ہے کہ مہربان باغباں ان کو دیکھتا رہے اور اس کے محبت بھرے ہاتھوں سے آب حیات نوش کریں، دل مشتاق اور آنکھیں بے تاب ہیں تاکہ اس کے جمال پُرنور کا دیدار کریں، اور یہیں سے ”انتظار“ کے معنی سمجھ آتے ہیں، جی ہاں! سبھی منتظر ہیں تاکہ وہ آئے اور اپنے ساتھ نشاط اور شادابی کا تحفہ لے کر آئے۔
واقعاً ”انتظار“ کس قدر خوبصورت اور شیریں ہے اگر اس کی خوبصورتی کو نظر میں رکھا جائے اور اس کی شیرینی کو دل سے چکھا جائے۔تو یہ انتہائی لطف اندوزاور مزیدار ہے۔
انتظار کی حقیقت اور اس کی عظمت
”انتظار“ کے مختلف معانی کئے گئے ہیں، لیکن اس لفظ پر غور و فکر کے ذریعہ اس کے معنی کی حقیقت تک پہنچا جا سکتا ہے، انتظار کے معنی کسی محبوب کے لئے اپنی آنکھیں بچھانا ہے اور یہ انتظارکی شرائط اوراس کے اسباب کے لحاظ سے اہمیت حاصل کرتا ہے جس سے بہت سے نتائج ظاہر ہوتے ہیں، انتظار صرف ایک رُوحانی اور اندرونی حالت نہیں ہے بلکہ اندر سے باہر کی طرف اس کااثر ہے جس سے انسان اپنے باطنی احساس کے مطابق عمل کرتا ہے، اسی وجہ سے روایات میں ”انتظار“ کو ایک عمل بلکہ تمام اعمال میں بہترین عمل کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے، انتظار ”منتظر“ کو حیثیت عطا کرتا ہے اور اس کے کاموں اور اس کی کوششوں کو ایک خاص طرف ہدایت دیتا ہے اور انتظار وہ راستہ ہے جو اسی چیز پر جا کر ختم ہوتا ہے جس کا انسان انتظار کررہا ہوتاہے۔
لہٰذا ”انتظار“ کے معنی یہ نہیں ہے کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھا رہا، انتظار اسے نہیں کہتے کہ انسان دروازہ پر آنکھیں جمائے رکھے اور حسرت لئے بیٹھا رہے بلکہ درحقیقت ”انتظار‘‘ میں نشاط اور شوق و جذبہ پوشیدہ ہوتا ہے۔
جو لوگ کسی محبوب مہمان کا انتظار کررہے ہوتے ہیںتو وہ خود کواپنے اردگرد کے ماحول کو مہمان کے لئے تیار کرتے ہیں اور اس کے راستہ میں موجود رکاوٹوں کو دور کرتے ہیں۔
گفتگو اس بے نظیر واقعہ کے انتظار کے بارے میں ہے جس کی خوبصورتی اور کمال کی کوئی حد نہیں ہے، انتظار اس زمانہ کا ہے کہ جس میںخوشی اور شادابی کی مثال گذشتہ زمانوں میں نہیں ملتی اور اس دُنیا میں اب تک ایسا زمانہ نہیں آیا اور یہ وہی حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی عالمی حکومت کا انتظار ہے جس کو روایات ”انتظار فَرَج “ کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور اس حالت کو تمام اعمال و عبادت میں بہترین قرار دیا گیا ہے بلکہ تمام ہی اعمال قبول ہونے کا وسیلہ اسے قرار دیا گیا ہے۔
حضرت پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:
”میری اُمت کا سب سے بہترین عمل ”انتظار فَرَج “ ہے۔ (بحارالانوار، جلد ۲۵ ، ص ۲۲۱)
حضرت امام صادق علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے فرمایا:
”کیا تم لوگوں کو اس چیز کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس کے بغیر خداوند عالم اپنے بندوں سے کوئی بھی عمل قبول نہیں کرتا؟ سب نے کہا: جی ہاں! امام علیہ السلام نے فرمایا: خدا کی وحدانیت کا اقرار پیغمبر اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی نبوت کی گواہی، خداوند عالم کی طرف سے نازل ہونے والی چیزوں کا اقرار، اور ہماری ولایت اور ہمارے دشمنوں سے بیزاری (یعنی مخصوصاً ہم اماموں کے دشمنوں سے بیزاری) اور آئمہ (علیہم السلام) کی اطاعت کرنا، تقویٰ و پرہیزگاری اور کوشش و بردباری اور قائم (آل محمد) علیہم السلام کا انتظار“۔ (غیبت نعمانی، باب ۱۱ ، ح ۶۱ ، ص ۷۰۲)
پس ”انتظار فَرَج “ ایسا انتظار ہے جس کی کچھ خاص خصوصیات اور منفرد امتیازات ہیں جن کو کماحقہ پہچاننا ضروری ہے تاکہ اس کے بارے میں بیان کئے جانے والے تمام فضائل اور آثار کا راز معلوم ہو سکے۔
امام زمانہ (علیہ السلام) کے انتظار کی خصوصیات
جیسا کہ ہم نے عرض کیا ”انتظار“ انسانی فطرت میں شامل ہے اور ہر قوم و ملت اور ہر دین و مذہب میں انتظار کا تصور پایا جاتا ہے، لیکن انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں پایا جانے والا عام انتظار اگرچہ عظیم اور بااہمیت ہو لیکن امام مہدی علیہ السلام کے انتظار کے مقابلہ میں چھوٹا اور ناچیز ہے کیونکہ آپ کے ظہور کا انتظار خاص امتیازات رکھتا ہے۔
امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کا انتظار ایک ایسا انتظار ہے جو کائنات کی ابتداءسے موجود تھا یعنی بہت قدیم زمانہ میں انبیاءعلیہم السلام اور اولیائے کرام آپ کے ظہور کی بشارت دیتے تھے اور قریبی زمانہ میں ہمارے تمام ائمہ (علیہم السلام) آپ کی حکومت کے زمانہ کی آرزو رکھتے تھے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اگر میں ان (امام مہدی علیہ السلام) کے زمانہ میں ہوتا تو تمام عمر ان کی خدمت کرتا“۔
امام مہدی علیہ السلام کا انتظار ایک عالمی اصلاح کرنے والے کا انتظار ہے، عالمی عادلانہ حکومت کا انتظار ہے اور تمام ہی اچھائیوں کے متحقق ہونے کا انتظار ہے۔ چنانچہ اسی انتظار میں عالم بشریت آنکھیں بچھائے ہوئے ہے اور خداداد پاک و پاکیزہ فطرت کی بنیاد پر اس کی تمنا کرتا ہے اور کسی بھی زمانہ میں مکمل طور پر اس تک نہیں پہنچ سکا اور حضرت امام مہدی علیہ السلام اسی شخصیت کا نام ہے جو عدالت اور معنویت، برادری اور برابری، زمین کی آبادانی، صلح و صفا، عقل کی شکوفائی اور انسانی علوم کی ترقی کو تحفہ میں لائیں گے اور استعمار و غلامی، ظلم و ستم اور تمام اخلاقی برائیوں کا خاتمہ کرنا آپ کی حکومت کا ثمر ہو گا۔
امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کا انتظار ایک ایسا انتظار ہے جس کی شکوفائی کے اسباب فراہم ہونے سے خود انتظار بھی شگوفہ ہو جائے گی اور وہ ایسا زمانہ ہے کہ جب تمام انسان آخر الزمان میں اصلاح کرنے والے اور نجات بخشنے والے کی تلاش میں ہوں گے وہ آئیں گے تاکہ اپنے ناصر و مددگاروں کے ساتھ برائیوں کے خلاف قیام کریں نہ یہ کہ صرف اپنے معجزہ سے پوری کائنات کے نظام کو بدل دیں گے۔بلکہ پیار و محبت بھرے انداز سے سارے انسانوں کے دل موہ لیں گے افتراق ختم محبت عام ہو جائے گی۔
امام مہدی علیہ السلام کا انتظار ان کے منتظرین میں ان کی نصرت و مدد کا شوق پیدا کرتا ہے اور انسان کو انسانیت اور حیات عطا کرتا ہے، نیز اس کو بے مقصد زندگی اور گمراہی سے نجات عطا کرتا ہے۔
قارئین کرام! یہ تھیں اس انتظار کی بعض خصوصیات جو تمام تاریخ کی وسعت کے برابر ہیں اور ہر انسان کی روح میں اس کی جڑیں ملتی ہیں اور کوئی دوسرا انتظار اس عظیم انتظار کی خاک و پا بھی نہیں ہو سکتا، لہٰذا مناسب ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کے انتظار کے مختلف پہلووں اور اس کے آثار و فوائد کو پہچانیں اور آپ علیہ السلام کے ظہور کے منتظریں کے فرائض اور اس کے بے نظیر ثواب کے بارے میں گفتگو کریں۔
امام علیہ السلام کی انتظار کے مختلف پہلو
خود انسان میں مختلف پہلو پائے جاتے ہیں: ایک طرف تو نظری (تھیوری) اور عملی (پریکٹیکل) پہلو اس میں موجود ہے اور دوسری طرف اس میں ذاتی اور اجتماعی پہلو بھی پایا جاتا ہے اور ایک دوسرے رخ سے جسمانی پہلو کے ساتھ روحی اور نفسیاتی پہلو بھی اس میں ہوتا ہے جبکہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ مذکورہ پہلووں کے لئے معین قوانین کی ضرورت ہے تاکہ ان کے تحت انسان کے لئے زندگی کا صحیح راستہ کھل جائے اور منحرف اور گمراہ کن راستہ بند ہو جائے۔
امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظہور کا انتظار، منتظر کے تمام پہلووں پر مو ثر ہے مثلاً انسان کے فکری اور نظری پہلو پر اثرات ڈالتا ہے کہ جو انسان کے اعمال و کردار کا بنیادی پہلو ہے اور انسانی زندگی کے بنیادی عقائد پر اپنے حصار کے ذریعہ حفاظت کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں عرض کیا جائے کہ صحیح انتظار اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ منتظر اپنی اعتقادی اور فکری بنیادوں کو مضبوط کرے تاکہ گمراہ کرنے والے مذاہب کے جال میں نہ پھنس جائے یا امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کے طولانی ہو جانے کی وجہ سے یاس و نااُمیدی کے دلدل میں نہ پھنس جائے اور گمراہ نہ ہوجائے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
”لوگوں پر ایک زمانہ وہ آئے گا کہ جب ان کا امام غائب ہو گا، خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس زمانہ میں ہمارے امر (یعنی ولایت) پر ثابت قدمی سے باقی رہے“۔ (کمال الدین، ج ۱ ، ح ۵۱ ، ص ۲۰۶) یعنی غیبت کے زمانہ میں دشمن نے مختلف شبہات کے ذریعہ یہ کوشش کی ہے کہ شیعوں کے صحیح عقائد کو ختم کر دیا جائے، لیکن ہمیں انتظار کے زمانہ میں اپنے عقائد کی سرحدوں کی حفاظت کرنا چاہیے۔
انتظار، عملی پہلو میں انسان کے اعمال اور کردار کو راستہ اور ہدف دیتا ہے، ایک حقیقی منتظر کو عمل کے میدان میں کوشش کرنا چاہیے کہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت حق کا راستہ فراہم ہو جائے، لہٰذا منتظر کو اس سلسلہ میں اپنی اور معاشرہ کی اصلاح کے لئے کمرِ ہمت باندھنا چاہیے نیز اپنی زندگی میں اپنی رُوحانی اور نفسیاتی حیات اور اخلاقی فضائل کو کسب کرنے کی طرف مائل ہو رہے اور اپنے جسم و بدن کو مضبوط کرے تاکہ ایک کارآمد طاقت کے لحاظ سے ہدایت کے نورانی مورچہ کے لئے تیار رہے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
”جو شخص امام قائم علیہ السلام کے ناصر وں اور مددگاروں میں شامل ہونا چاہتا ہے تواسے انتظار کرنا چاہیے اور انتظار کی حالت میں وہ تقویٰ و پرہیزگاری کا راستہ اپنائے اور نیک اخلاق سے خودکومزین کرے“۔ (غیبت نعمانی، باب ۱ ، ح ۶۱ ، ص ۰۲۲)
اس ”انتظار“ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسان کو اپنی ذات سے بلند کرتا ہے اور اس کو معاشرہ کے ہر شخص سے جوڑ دیتا ہے یعنی انتظار نہ صرف انسان کی ذاتی زندگی پر مو ثر ہوتا ہے بلکہ معاشرہ میں انسان کے لئے خاص منصوبہ بھی پیش کرتا ہے اور معاشرہ میں مثبت قدم اُٹھانے کی رغبت بھی دلاتا ہے اور چونکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت اجتماعی حیثیت رکھتی ہے لہٰذا ہر انسان اپنے لحاظ سے معاشرہ کی اصلاح کے لئے کوشش کرے اور معاشرہ میں پھیلی برائیوں کے سامے خاموش اور بے توجہ نہ رہے کیونکہ عالمی اصلاح کرنے والے کے منتظر کو فکر و عمل کے لحاظ سے اصلاح اور خیر کے راستہ کو اپنانا چاہیے۔
مختصر یہ ہے کہ ”انتظار“ ای ایسا مبارک چشمہ ہے جس کا آب حیات انسان اور معاشرہ کی رگوں میں جاری ہے اور زندگی کے تمام پہلووں میں انسان کو الٰہی رنگ اور حیات عطا کرتا ہے، پس خدائی رنگ سے بہتر اور ابدی رنگ اور کونسا ہو سکتا ہے؟
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
( صِبغَةَ اللّٰهِ وَمَن اَحسَنُ مِن اللّٰهِ صِبغَةً وَنَحنُ لَهُ عَابِدُونَ ) (سورہ بقرہ، آیت ۸۳۱)
”رنگ تو صرف اﷲ کا رنگ ہے اور اس سے بہتر کس کا رنگ ہو سکتا ہے اور ہم سب اسی کے عبادت گزار ہیں“۔
مذکورہ مطالب کے پیش نظر مصلح کل حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے منتظرین کا فریضہ ”الٰہی رنگ اپنانے“ کے علاوہ کچھ نہیں ہے جو انتظار کی برکت سے انسان کی ذاتی اور اجتماعی زندگی کے مختلف پہلووں میں جلوہ گر ہوتا ہے، جس کے پیش نظر ہمارے وہ فرائض ہمارے لئے مشکل نہیں ہوں گے بلکہ ایک خوشگوار واقعہ کے عنوان سے ہماری زندگی کے ہر پہلو میں ایک بہترین معنی و مفہوم عطا کرے گا۔ واقعاً اگر ملک کا مہربان حاکم اور امیر قافلہ ہمیں ایک شائستہ سپاہی کے لحاظ سے ایمان کے خیمہ میں بلائے اور حق و حقیقت کے مورچہ پر ہمارے آنے کا انتظار کرے تو پھر ہمیں کیسا لگے گا؟ کیا پھر ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کوئی پریشانی ہو گی کہ یہ کام کرو اور ایسا بنو، یا ہم خود چونکہ انتظار کے راستہ کو پہچان کر اپنے منتخب مقصد کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے نظر آئیں گے؟!
منتظرین کے فرائض
دینی رہبروں کے ذریعہ احادیث اور روایات میں ظہور کا انتظار کرنے والوں کے بہت سے فرائض بیان کئے گئے ہیں، ہم یہاں پر ان میں سے چند اہم فرائض کو بیان کرتے ہیں:
امام کی معرفت
راہ انتظار کو طے کرنا امام علیہ السلام کی شناخت اور معرفت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ انتظار کی وادی میں صبر و استقامات کرنا امام علیہ السلام کی صحیح شناخت سے وابستہ ہے۔ لہٰذا امام مہدی علیہ السلام کے اسم گرامی اور نسب کی شناخت کے علاوہ ان کی عظمت اور ان کے رتبہ و مقام کی کافی حد تک شناخت بھی ضروری ہے۔
”ابونصر“ جو امام حسن عسکری علیہ السلام کے خادم تھے، امام مہدی علیہ السلام کی غیبت سے پہلے امام عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے، امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) نے ان سے سوال کیا: کیا مجھے پہچانتے ہو؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی ہاں! آپ نے میرے مولا و آقا اور میرے مولا و آقا کے فرزند ہیں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: میرا مقصد ایسی پہچان نہیں ہے!؟ ابو نصر نے عرض کی: آپ ہی فرمائیں کہ آپ کا مقصد کیا تھا؟
امام علیہ السلام نے فرمایا:
”میں پیغمبر اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا آخری جانشین ہوں، اور خداوند عالم میری (برکت کی) وجہ سے ہمارے خاندان اور ہمارے شیعوں سے بلاو ں کو دُور فرماتا ہے“۔(کمال الدین ج ۲ ، باب ۳۴ ،ح ۲۱ ،ص ۱۷۱)
اگر منتظر کو امام علیہ السلام کی معرفت حاصل ہو جائے تو پھر وہ اسی وقت سے خود کو امام علیہ السلام کے مورچہ پر دیکھے گا اور احساس کرے گا کہ اپنے امام سے تعلق ہے اور یہی تعلق اس کی نجات کا وسیلہ بن جائے گا معرفت کے بارے مزیدمعلومات کے لئے معرفت امام زمانہ علیہ السلام اور ہماری ذمہ داریاں کامطالعہ کریں۔
احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ جو معرفت مطلوب ہے وہ سادہ پہچان اور نسبی آگاہی سے بڑھ کر ہے، اس میں تسلیم اور اپنے امام سے ولایت و محبت اور ان کی اطاعت کو اپنے لئے واجب قرار دینا ہے اوریہ جاننا ہے کہ ان کی جانب سے کیا مجھ پر واجب ہے اور میرے مولا مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟
مثال
حضرت امام حسین علیہ السلام کو کربلا میں موجود سارے لوگ خاندانی پس منظر سے پہچانتے اور جانتے تھے لیکن آپ کو امام علیہ السلام تسلیم نہیں کرتے تھے اور آپ علیہ السلام کی اطاعت کو واجب اور فرض نہیں جانتے تھے گویا وہ حضرت امام حسین علیہ السلام کو رسول اللہ کا قائمقام، جانشین اور خلیفہ سمجھتے تھے،آپ کے فضائل جانتے تھے آپ کے نسب سے آگاہ تھے ، لیکن آپ کو اپنا امام ورہبر،قائد اور واجب اطاعت خلیفہ رسول نہیں جانتے تھے۔پس ایسے لوگ ہی کفر و جہالت کی موت مر گئے ۔
بالکل اسی طرح امام زمانہ علیہ السلام کی معرفت کامسئلہ ہے کہ آج رسول اللہ کے خلیفہ، وصی، قائمقام امام مہدی علیہ السلام ہیں ان کی اطات اسی طرح فرض ہے جس طرح رسول اللہ کی اطاعت فرض ہے، ایسا ایمان ہی انسان کو کفر و جاہلیت کی موت سے بچاتاہے۔
امام علیہ السلام کے ساتھ عہد و پیمان
ہر مومن کی ذمہ داری ہے کہ روزانہ اپنے امام علیہ السلام سے عہدوپیمان باندھے اور آپ سے بیعت کی تجدید کرے، اس کے لئے دعاوں اور زیارات کے پڑھنے کا حکم وارد ہوا ہے جو کہ مفاتیح الجنان اور دعاوں کی کتابوں میں موجود ہیں، اس میں دعائے عہدمشہور ہے جسے روزانہ صبح کی نماز کے بعد پڑھنے کا حکم ہے روایت میں وارد ہواہے۔
”جو شخص چالیس دن تک ہر صبح کو اپنے خدا سے یہ عہد کرے تو خدا ان کو ہمارے قائم (علیہ السلام) کے ناصر و مددگار قرار دے گا، اور اگر امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے اس کی موت بھی آجائے تو خداوند عالم اس کو قبر سے اُٹھائے گا (تاکہ حضرت قائم علیہ السلام کی نصرت و مدد کرے)....
وحدت اور ہم دلی
قبیلہ انتظار کے ہر فرد کا شخصی فرائض اور ذمہ داری کے علاوہ انتظار کرنے والے اپنے امام(علیہ السلام) کے اہداف اور مقاصد کے سلسلہ میں خاص منصوبہ بندی کریں، دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ انتظار کرنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ اس راہ میں سعی و کوشش کریں جس سے ان کا امام راضی اور خوشنود ہو۔
لہٰذا انتظار کرنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ اپنے امام سے کئے ہوئے عہد و پیمان پر باقی رہیں تاکہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے راستہ ہموار ہو جائے۔
امام عصر علیہ السلام اپنے بیان میں اس طرح کے افراد کے لئے یہ بشارت دیتے ہیں:
”اگر ہمارے شیعہ (کہ خداوند عالم ان کو اپنی اطاعت کی توفیق عطا کرے) اپنے کئے ہوئے عہد و پیمان پر ایک دل اور مصمم ہوں تو ہرگز (ہمارے) دیدار کی نعمت میں دیر نہیں ہو گی اور مکمل و حقیقی معرفت کے ساتھ ہماری ملاقات جلد ہی ہو جائے گا“۔ (احتجاج، ج ۲ ، ش ۰۶۳ ، ص ۰۰۶)
وہ عہد و پیمان وہی ہے جو نکتہ خدا اور الٰہی نمائندوں کے کلام میں بیان ہوا ہے، جن میں سے چند اہم چیزوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:
۱ ۔ ائمہ معصومین علیہم السلام کی پیروی کرنے کی ہر ممکن کوشش، اور آئمہ علیہم السلام کے چاہنے والوں سے دوستی اور ان کے دشمنوں سے بیزاری اختیار کرنا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام، پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا:
”خوش نصیب ہے وہ شخص جو میری نسل کے قائم کو اس حال میں دیکھے کہ ان کے قیام سے پہلے خود ان کی اور ان سے پہلے ائمہ کی پیروی کرے اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کا اعلان کرے، تو ایسے افراد میرے دوست اور میرے ساتھی ہیں اور روز قیامت میرے نزدیک میری اُمت کے سب سے عظیم افراد ہیں“۔ (کمال الدین، ج ۱ ، باب ۵۲ ، ح ۲ ، ص ۵۳۵)۲ ۔ دین میں تحریفات، بدعتوں اور معاشرہ میں پھیلتی ہوئی برائیوں اور فحشاءکے مقابلہ میں انتظار کرنے والوں کو بے توجہ نہیں رہنا چاہیے، بلکہ نیک سنتوں اور اخلاقی اقدار کو بھلائے جانے پر ان کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔
حضرت رسول اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
”البتہ اس امت کے آخری زمانہ (آخر الزمان) میں ایک گروہ آئے گا جس کا ثواب اسلام میں سبقت کرنے والوں کی طرح ہو گا، وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہوں گے اور اہل فتنہ ( و فساد) سے جنگ (مقابلہ) کرتے ہوں گے“۔ (دلائل النبوة، ج ۶ ، ص ۳۱۵)
۳ ۔ ظہور کا انتظار کرنے والوں کا یہ فریضہ ہے کہ دوسروں کے ساتھ تعاون اور نصرت و مدد کو اپنے منصوبوں میں پیش نظر رکھیں اور اس معاشرہ کے افراد تنگ نظری اور خود پرستی سے پرہیز کرتے ہوئے معاشرہ میں غریب اور نیازمند لوگوں پر دھیان دیں، اور ان کے سلسلہ میں لاپرواہی نہ کریں۔
شیعوں کی ایک جماعت نے حضرت محمد باقر علیہ السلام سے نصیحت فرمانے کی درخواست کی تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
”تم میں سے صاحب حیثیت لوگ غریبوں کی مدد کریں اور مالدار افراد نیازمندوں کے ساتھ محبت و مہربانی سے پیش آئین اور تم میں سے ہر شخص دوسرے کی نسبت نیک نیتی سے کام لے“۔( بحارالانوار، ج ۲۵ ، باب ۲۲ ، ص ۳۲۱) قابل ذکر ہے کہ اس تعاون اور مدد کا دائرہ فقط ان کے اپنے علاقہ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ انتظار کرنے والوں کا خیر اور احسان دور دراز علاقوں میں بھی پہنچتا ہے کیونکہ انتظار کے پرچم تلے کسی طرح کی جدائی اور غیریت کا احساس نہیں ہوتا۔
۴ ۔ انتظار کرنے والے معاشرہ کے لئے ضروری ہے کہ معاشرہ میں مہدی رنگ و بو پیدا کریں، ان کے نام اور ان کی یاد کا پرچم ہر جگہ لہرائیں اور امام علیہ السام کے کلام اور کردار کو اپنی گفتگو اور عمل کے ذریعہ عام کریں اور اسی راہ میں اپنے پورے وجود کے ذریعہ کوشش کریں کہ بے شک ائمہ معصومین علیہم السلام کا لطف خاص ان کے شامل حال ہو گا۔
عبد الحمید واسطی، امام محمد باقر علیہ السلام کے صحابی آپ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں:
”ہم نے اَم رِفَرَج (ظہور) کے انتظار میں اپنی پوری زندگی وقف کر دی، جو ہم میں سے بعض کے لئے پریشانی کا باعث ہوا!
امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:
اے عبد الحمید! کیا تم یہ گمان کرتے ہوئے کہ خداوند عالم نے اس بندہ کے لئے جس نے اپنے خداوند عالم کے لئے وقف کر دیا ہے اس کے لئے مشکلات سے نجات کے لئے کوئی راستہ نہیں قرار دیا ہے؟ خدا کی قسم! اس نے ایسے لوگوں کے لئے راہِ حل قرار دی ہے، خداوند عالم رحمت کرے اس شخص پر جو ہمارے امرِ (ولایت) کو زندہ رکھے“۔
( بحارالانوار، ج ۲۵ ، باب ۲۲ ، ح ۶۱ ، ص ۶۲۱)
آخری نکتہ یہ ہے کہ انتظار کرنے والے معاشرہ کو کوشش کرنی چاہیے کہ تمام اجتماعی پہلووں میں دوسرے معاشروں کے لئے نمونہ قرار پائے اور منجی عالم بشریت کے ظہور کے لئے تمام لازمی راستوں کو ہموار کرے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے انتظار کے فوائد
بعض لوگوں کا یہ خیال خام ہے کہ عالمی پیمانے پر اصلاح کرنے والے (امام علیہ السلام) کا انتظار انسان کو حالت جمود اور غیر ذمہ داری میں قرر دے دیتا ہے۔ جو لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ ایک عالمی سطح پر اصلاح کرنے والا آئے گا اور ظلم و جور اور برائیوں کا خاتمہ کر دے گا تو وہ برائیوں اور پستیوں کے سامنے ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں اور خود کوئی قدم نہ اُٹھائیں بلکہ خاموش رہیں اور ظلم و ستم کو دیکھتے رہیں!
لیکن یہ نظریہ ایک سطحی اور معمولی ہے، نیز اس میںوقت نظر سے کام نہیں لیا گیا ہے کیونکہ امام مہدی علیہ السلام کے انتظار کے سلسلہ میں بیان ہونے والے مطالب کے پیش نطر روشن ہے کہ انتظار کا مسئلہ اپنی بے مثال خصوصیات اور امام مہدی علیہ السلام کی بے مثال عظمت کے پیش نظر نہ صرف انسان میں جمود اور بے توجہی پیدا نہیں کرتا بلکہ تحریک اور شکوفائی کا بہترین وسیلہ ہے۔
انتظار، منتظر میں ایک مبارک اور بامقصد جذبہ پیدا کرتا ہے اور منتظر جتنا بھی انتظار کی حقیقت کے نزدیک ہوتا جاتا ہے مقصد کی طرف اس کی رفتار بھی اتنی ہی تیزہوتی جاتی ہے۔ انتظار کے زیر سایہ انسان خود پرستی سے آزاد ہو کر خود کو اسلامی معاشرہ کا ایک حصہ تصور کرتا ہے۔ لہٰذا معاشرہ کی اصلاح کے لئے حتی الامکان کوشش کرتا ہے اور جب معاشرہ ایسے افراد سے تشکیل پاتا ہو تو پھر اس معاشرہ میں فضیلت اور اقدار رائج ہونے لگتی ہیں اور معاشرہ کے سب لوگ نیکیوں کی طرف قدم بڑھانے لگتے ہیں اور ایسے ماحول میں جو کہ اصلاح، کمال، اُمید اور نشاط بخش فضا اور تعاون و ہمدردی کا ماحول ہے، دینی عقائد اور مہدوی نظریہ معاشرہ کے افراد میں پیدا ہوتا ہے اور اس انتظار کی برکت سے منتظرین فساد اور برائیوں کے دلدل میں نہیں پھنستے بلکہ اپنی دینی حدود اور عقائدی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ انتطار کے زمانہ میں پیش آنے والی مشکلات میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور خداوند عالم کے وعدہ کے پورا ہونے کی اُمید میں ہر مصیبت اور پریشانی کو برداشت کر لیتے ہیں اور کسی بھی وقت سستی اور مایوسی کے شکار نہیں ہوتے۔
واقعاً کونسا ایسا مکتب ہو گا جس میں اس کے ماننے والوں کے لئے ایک روشن مستقبل پیش کیا گیا ہو؟ ایسا راستہ جو الٰہی نظریہ کے تحت طے کیا جاتا ہو جس کے نتیجہ میں اجر عظیم حاصل ہوتا ہو، یہ مکتب، اہل البیت علیہ السلام کا ہی ہے جس کے پیروشیعہ ہیں۔
انتظار کرنے والوں کے لئے ثواب
خوش نصیب ہے وہ شخص جو نیکیوں کے انتظار میں نظریں بچھائے ہوئے ہے۔ واقعاً کتنا عظیم ثواب ہے ان لوگوں کے لئے جو امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت کا انتظار کرتے ہیں اور کس قدر عظیم رتبہ ہے ان لوگوں کا جو قائم آل محمد علیہم السلام کے حقیقی منتظر ہیں۔ مناسب ہے کہ انتظار کی گفتگو کے آخر میں جام انتظار نوش کرنے والوں کی بے مثال فضائل اور سنان کو بیان کریں اوراس بارے معصومین علیہم السلام کے بیانات کو آپ حضرات کے سامنے پیش کریں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:”ائم آل محمد کے وہ شیعہ خوش نصیب ہیںجو غیبت کے زمانہ میں ان کے ظہور کا انتظار کریں گے اور ان کے ظہور کے زمانہ میں ان کی اطاعت اور پیروی کریںگے، یہی لوگ خداوند عالم کے محبوب ہیں جن کے لئے کوئی غم و اندوہ نہ ہو گا“۔ (کمال الدین، ج ۲ ، باب ۳۳ ، ح ۴۵ ، ص ۹۳)
واقعاً اس سے بڑھ کر ان کے لئے اور کیا فضیلت ہو گی کہ جن کے سینہ پر خداوند عالم کی دوستی کا تمغہ ہو، اور وہ کیوں کسی غم و اندوہ میں مبتلا ہوں حالانکہ ان کی زندگی اور موت دونوں کی قیمت بہت بلند و بالا ہے۔
حضرت امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں:”جو شخص ہمارے قائم علیہ السلام کی غیبت کے زمانہ میں ہماری ولایت پر قائم رہے تو خداوند عالم اس کو شہدائے بدر و اُحد کے ہزار شہیدوں کا ثواب عطا کرے گا“ ۔ ( کمال الدین، ج ۲ ، باب ۱۳ ، ح ۶ ، ص ۲۹۵)
جی ہاں! غیبت کے زمانہ میں جو لوگ اپنے امام زمانہ علیہ السلام کی ولایت اور اپنے امام سے کئے ہوئے عہد و پیمان پر باقی رہیں تو وہ ایسے فوجی ہیں جنہوں نے پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے ساتھ مل کر دشمنان خدا سے جنگ کی ہو اور اس کارزار میں اپنے خون میںنہائے ہوں! وہ منتظرین جو فرزندہ رسول امام زمانہ علیہ السلام کے انتظار میں جان برکف کھڑے ہوئے ہیں وہ ابھی سے جنگ کے میدان میں اپننے امام کے ساتھ موجود ہیں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:”اگر تم (شیعوں میں) سے کوئی شخص (امام مہدی علیہ السلام) کے ظہور کے انتظار میں مر جائے تو وہ شخص گویا اپنے امام علیہ السلام کے خیمہ میں ہے۔ اس کے بعد امام علیہ السلام نے تھوڑا صبر کرنے کے بعد فرمایا: بلکہ اس شخص کی طرح ہے جس نے امام علیہ السلام کے ساتھ مل کر جنگ میں تلوار چلائی ہو اور اس کے بعد فرمایا: خدا کی قسم کہ وہ اس شخص کی طرح ہے جو رسول خدا صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کی رکاب میں شہادت کے درجہ پر فائز ہوا ہو“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵ ، ص ۶۲۱)
یہ وہ لوگ ہیں جن کو پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے صدیوں پہلے اپنا بھائی اور دوست قرار دیا ہے اور ان سے اپنی قلبی محبت اور دوستی کا اعلان کیا ہے۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
”ایک روز پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنے اصحاب سے فرمایا: پالنے والے! مجھے میرے بھائیوں کو دکھلا دے اور اس جملہ کو دو بار تکرار کیا، آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے اصحاب نے کہا: یا رسول اﷲ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟
آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: تم لوگ میرے اصحاب ہو لیکن میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو آخر الزمان میں مجھ پر ایمان لائیں گے جبکہ اُنہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہو گا! خداوند عالم نے ان کا نام مع ولدیت مجھے بتایا ہے........ ان میں سے ہر ایک کا اپنے دین پر ثابت قدم رہنا اندھیری رات میں ”گون“ نامی درخت سے کانٹا توڑنے اور دہکتی ہوئی آگ کو ہاتھ میں لینے سے کہیں زیادہ سخت ہے، وہ ہدایت کے مشعل ہیں جن کو خداوند عالم خطرناک فتنہ و فساد سے نجات عطا کرے گا“۔(بحارالانوار، ج ۲۵ ، ص ۳۲۱)
نیز پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: خوس نصیب ہے وہ شخص جو ہم اہل بیت کے قائم کو پائے، حالانکہ وہ ان کے قیام سے پہلے ان کی اقتداءکرتے ہیں، وہ لوگ ان کے دوستوں کو دوست رکھتے ہیں اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کرتے ہیں، نیز ان سے پہلے ہم سے محبت رکھتے ہیں، وہ میری حب اور مودّت کے مالک ہیں وہ میرے نزدیک میری اُمت کے سب سے گرامی افراد ہیں“۔ (کمال الدین، ج ۱ ، باب ۵۲ ، ح ۲ ، ص ۵۳۵)
لہٰذا جو افراد پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے نزدیک اتنا عظیم مرتبہ رکھتے ہیں اور وہی خداوند عالم کے خطاب سے مشرف ہوں گے اور وہ بھی ایسی آواز جو عشق و محبت ے بھری ہو گی اور جو خداوند عالم سے نہایت قربت کی عکاسی کرتی ہے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
”ایک زمانہ وہ آئے گا کہ مومنین کا امام غائب ہو گا، پس خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس زمانہ میں ہماری ولایت پر ثابت قدم رکھے، بے شک انکی کم سے کم جزا یہ ہو گی کہ خداوند عالم ان سے خطاب فرمائے گا: اے میرے بندو! تم میرے راز (اور امام غائب) پر ایمان لائے ہو، اور تم نے اس کی تصدیق کی ہے، پس میری طرف سے بہترین جزا کی بشارت ہو، تم حقیقت میں میرے بندے ہو، تمہارے اعمال کو قبول کرتا ہوں اور تمہاری خطاو ں سے درگزر کرتا ہوں اور تمہاری (برکت کی) وجہ سے اپنے بندوں پر نازل کرتا ہوں اور بلاو ں کو دور کرتا ہوں اگر تم (لوگوں کے درمیان) نہ ہوتے تو پھر (گنہگار لوگوں پر) ضرور عذاب نازل کر دیتا “ (کمال الدین، ج ۱ ، باب ۳۲ ، ح ۵۱ ، ص ۲۰۶) لیکن ان انتظار کرنے والوں کو کسی چیز کے ذریعہ آرام اور سکون ملتا ہے اور ان کی انتظار کی گھڑیاں کب ختم ہو گی؟ کس چیز سے ان آنکھوں میں ٹھنڈک ملے گی ، اور ان کے بے قرار دلوں کو کب چین و سکون ملے گا؟ کیا جن لوگوں نے عمر بھر انتظار کے راستہ پر قدم بڑھایا ہے اور تمام تر مشکلات کے باوجود اسی راستہ پر گامزن رہے ہوںتاکہ مہدی منتظر (علیہ السلام) کے سرسبز چمن میں قدم رکھیں اور اپنے محبوب و معشوق کی ہم نشینی سے کم پر راضی نہ ہوں؟ اور واقعاً اس سے بہترین اور کیا انجام ہو سکتا ہے اور اس سے بہتر اور کونسا موقع ہو سکتا ہے؟
حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا:
”خوش نصیب ہیں ہمارے وہ شیعہ جو ہمارے قائم کی غیبت کے زمانہ میں ہماری دوسری کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں اور ہم سے دوستی رکھیں اور ہمارے دشمنوں سے بیزاری کریں، وہ ہم سے ہیں اور ہم ان سے، وہ ہماری امامت و رہبری پر راضی ہیں (اور ہماری امامت کو قبول کرتے ہیں) اور ہم بھی ان کے شیعہ ہونے سے راضی اور خوشنود ہیں۔ خوش نصیب ہیں! خدا کی قسم! یہ افراد روز قیامت ہمارے ساتھ ہمارے مرتبہ میں ہمارے ساتھ ہوں گے“۔ (کمال الدین، ج ۲ ، باب ۴۳ ، ح ۵ ، ص ۳۴)
درس کا خلاص:
انتظار کا معنی چشم براہ ہونا ہے اس کا لازمہ یہ ہے کہ انسان بے پرواہ نہ ہو بلکہ انتظار کے مقصد کے لئے کوشش کرے۔
روایات میں ظہور مہدی علیہ السلام کے انتظار کی ایک بہترین عمل کے عنوان سے توصیف کی گئی ہے۔
ظہور مہدی علیہ السلام کے انتظار کی خصوصیات ظہور کے اہداف کو پورا کرنے کے لئے عزم و اشتیاق پیدا کرتی ہے بالفاظ دیگر منتظرین کی روح میں عدالت و نشاط پیدا کرتی ہیں۔
ظہور مہدی علیہ السلام کا انتظار انسان کی فردی و اجتماعی جہت میں بہت سے اثار و ثمرات رکھتا ہے۔
منتظرین کے اہم ترین وظائف امام علیہ السلام کی شناخت، ان سے اسوہ لینا، حضرت کی یاد، اور ان کے ہمقدم ہونا ہے۔
روایات کی رو سے منتظرین کا اجر شہدائے صدر اسلام کے اجر کے مساوی شمار کیا گیا ہے۔
درس کے سولات:
۱ ۔ انتظار کا معنی اور امام علیہ السلام کے انتظار کی خصوصیات بیان کریں؟
۲ ۔ انتظار کی جہات بیان کریں؟
۳ ۔ منتظرین ظہور کے اہم ترین وظائف میں سے تین موارد کی تشریح کریں؟
۴ ۔ انتظار کے فرد و معاشرتی آثار کیا ہیں؟
۵ ۔ امام سجاد علیہ السلام نے ولایت اہل بیت علیہم السلام پر ثابت قدم منتظرین کے اجر کو کس چیز کے مساوی بیان کیا ہے؟
دسواں درس
ظہور کا زمانہ
مقاصد:
۱ ۔ظہور کے اسباب کی معرفت
۲ ۔ حضرت (عج) کے ظہور کی نشانیوں سے آگاہی
فوائد:
۱ ۔ ظہور کی راہ ہموار کرنے کے لئے انسان کے رویہ اورکردار پر توجہ
۲ ۔ امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کی علامات کے بارے آگاہی
۳ ۔ مہدی ہونے کے جھوٹے دعویداروں کی تکذیب کرن
تعلیمی مطالب:
۱ ۔ مقدمہ
ظہور سے پہلے کی دُنیا کے حالات پر ایک نگاہ
۲ ۔ شرائط اور علامات سے مراد اور ان دونوں میں فرق
۳ ۔ ظہور کی شرائط اور اسباب (وہ چیزیں جو ظہور کے متحقق ہونے میں دخالت رکھتی ہیں)
۴ ۔ ظہور کی علامات اور نشانیاں (یقینی اور غیر یقینی نشانیاں)
دُنیا کے حالات حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے
قارئین کرام! ہم نے گذشتہ ابحاث میں امام زمانہ عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبت اور اس کے فلسفہ کے بارے بیان کیا ہے، کہ خدا کی آخری حجت غائب ہے یہاں تک کہ جب ان کے ظہور کا راستہ ہموار ہو جائے گا تو وہ ظہور فرمائیں گے اور دُنیا کو براہ راست ہدایت سے فیضیاب فرمائیں گے اگرچہ غیبت کے زمانہ میں بشریت اس طرح عمل کر سکتی ہے جس سے امام علیہ السلام کے ظہور کا راستہ جلد از جلد ہموار ہو جائے لیکن شیطان اور ہوائے نفس کی پیروی اور قرآن کی صحیح تربیت سے دور رہنے نیز معصومین علیہم السلام کی ولایت اور رہبری کو قبول نہ کرنے کی وجہ سے غلط راستہ پر چل پڑی ہے اور ہر روز دُنیا میں ظلم و ستم کی نئی بنیاد رکھی جاتی ہے اور دُنیا بھر میں ظلم و ستم بڑھتا جا رہا ہے، بشریت اس راستہ کے انتخاب سے ایک بہت بُرے انجام کی طرف بڑھتی جا رہی ہے، ظلم و جور سے بھری دُنیا، جس میں فساد اور تباہی، اخلاقی و نفسیاتی امن و امان سے خالی زمانہ، معنویت اور پاکیزگی سے خالی زندگی، ظلم و ستم سے لبریز معاشرہ کہ جس میں ماتحت لوگوں کے حقوق کی پامالی وغیرہ نہ ہو۔ یہ چیزیں غیبت کے زمانہ میں انسان کا نامہ اعمال ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے بارے میں صدیوں پہلے معصومین علیہم السلام نے پشین گوئی فرمائی تھی اور اس زمانہ کی سیاہ تصویر پیش کی تھی۔
حضرت امام صادق علیہ السلام اپنے ایک صحابی سے فرماتے ہیں:”جب تم دیکھو کہ ظلم و ستم عام ہو رہا ہے، قرآن کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے، ہوا و ہوس کی بنا پر تفسیر کی جا رہی ہے، اہل باطل، حق پرستوں پر سبقت لے رہے ہیں، ایماندار افراد خاموش بیٹھے ہوئے ہیں، رشتہ داری کے تعلقات ختم ہو رہے ہیں، چاپلوسی (خوشامدی) بڑھ رہی ہے، نیکیوں کا راستہ خالی ہو رہا ہے اور برائیوں کے راستہ پر بھیڑ دکھائی دے رہی ہے، حلال، حرام ہو رہا ہے اور حرام، حلال شمار کیا جا رہا ہے، بہت سا مال و دولت خدا کے غیظ و غضب (گناہوں اور برائیوں) میں خرچ کیا جا رہا ہے، حکومتی کارندوں میں رشوت کا بازار گرم ہے، نا درست کھیل اس قدر رائج ہو چکے ہوں کہ کوئی بھی انکی روک تھام کی جرا ت نہیں کرتا، لوگ قرآنی حقائق سننے کے لئے تیار نہیں، لیکن باطل اور فضول چیزیں سننا ان کے لئے آسان ہے، ریاکاری کےلئے خانہ خدا کا حج کیا جا رہا ہے، لوگ سنگدل ہو رہے ہیں، (محبت کا جنازہ نکل رہا ہے) اگر کوئی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہے تو اس کو نصیحت کی جاتی ہے کہ یہ تمہاری ذمہ داری نہیں ہے، ہر سال ایک نیا فتنہ اور نئی بدعت پیدا ہو رہی ہے، (جب تم یہ دیکھ لو کہ حالات اس طرح کے ہو رہے ہیں تو) اپنے کو محفوظ رکھنا اور اس خطرناک ماحول سے نجات کے لئے خدا کی پناہ طلب کرنا کہ ظہور کا زمانہ نزدیک ہے۔ (کافی، ج ۷ ، ص ۸۲)
البتہ ظہور سے پہلے کی یہ سیاہ تصویر اکثر لوگوں کی ہو گی، کیونکہ اس زمانہ میں بھی بعض مومنین ایسے ہوں گے جو خدا سے کئے ہوئے اپنے عہد و پیمان پر باقی ہوں گے اور اپنے دینی عقائد کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوں گے وہ زمانہ کے رنگ میں نہیں رنگے جائیں گے اور اپنی زندگی کا انجام برا نہیں کریں گے، یہ افراد خداوند عالم کے بہترین بندے اور آئمہ علیہم السلام کے سچے شیعہ ہوں گے جن کے بارے میں روایات میں مدح و تعریف ہوئی ہے، یہ لوگ خود بھی نیک ہوں گے اور دوسروں کو بھی نیکی کی دعوت دیتے ہوں گے، کیونکہ وہ اس بات میں بہتری سمجھتے ہیں کہ نیکیوں اور خوبیوں کو رائج کرنے اور ایمان کے عطر سے ماحول کو خوشگوار بنانے سے نیکیوں کے امام کا ظہور جلد ہو سکتا ہے اور ان کے قیام اور حکومت کا راستہ ہموار کیا جا سکتا ہے، کیونکہ برائیوں کا مقابلہ اسی وقت کیا جا سکتا ہے کہ جب مصلح اور موعود کے ناصر و مددگار ہوں۔
اور ہمارا پیش کردہ یہ نظریہ اس نظریہ کے بالکل برعکس ہے جس میں برائیوں کے پھیلانا ظہور میں جلدی کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ کیا واقعاً یہ بات قابل قبول ہے کہ مومنین برائیوں کے مقابلہ میں خاموشی اختیار کریں تاکہ معاشرہ میں برائیاں پھیلتی رہیں اور اس طرح امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کا راستہ فراہم ہو؟ کیا نیکیوں اور فضائل کا رائج کرنا امام علیہ السلام کے ظہور میں تعجیل کا سبب نہیں قرار پائے گا؟امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ایک ایسا فرض ہے جو ہر مسلمان پر یقینی طور پر واجب ہے جس کو کسی بھی زمانہ میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور میں تعجیل کے لئے برائیوں اور ظلم و ستم کو پھیلانا کس طرح سبب بن سکتا ہے؟جیسا کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:”اس (مسلمان) اُمت کے آخر میں ایک ایسی قوم آئے گی جن کا اجر و ثواب صدر اسلام کے مسلمانوں کے برابر ہو گا، وہ لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انجام دیتے ہوں گے اور فتنہ و فساد اور برائیوں کا مقابلہ کرتے ہوں گے“۔ (معجم احادیث الامام المہدی علیہ السلام، ج ۱ ، ص ۹۴)
جیسا کہ متعدد روایات میں بیان ہوا ہے کہ دُنیا ظلم و ستم سے بھر جائےگی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام انسان ظالم بن جائیں گے بلکہ خدائی راستہ پر چلنے والے موجود ہوں گے اور مختلف معاشروں میں اخلاقی فضائل کی خوشبو دلوں کو معطر کرتی ہوئی نظر آئے گی۔ لہٰذا ظہور سے قبل کا زمانہ اگرچہ ایک تلخ زمانہ ہوگا لیکن ظہور کے شیرین زمانہ پر ختم ہو گا، اگرچہ وہ ظلم و ستم اور برائیوں کا زمانہ ہو گا لیکن اس زمانہ میں پاک رہنا اور دوسروں کو نیکیوں کی دعوت دینا منتظرین کا لازمی فریضہ ہو گا، اور قائم آل محمد علیہم السلام کے ظہور میں براہ راست مو ثر ہو گا۔ اس حصہ کو حضرت امام مہدی (عج اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے کلام پر ختم کرتے ہیں، چنانچہ آپ نے فرمایا:”ہمیں اپنے شیعوں سے کوئی چیز دور نہیں رکھتی مگر ان کے (برے) اعمال جو ہم تک پہنچتے ہیں اور ہم ان اعمال کو پسند نہیں کرتے اور ان کے لئے ایسا مناسب بھی نہیں سمجھتے ہیں“۔ (احتجاج، ج ۲ ، ش ۰۶۳ ، ص ۲۰۶)
ظہور کا راستہ ہموار کرنے کے اسباب اور ظہور کی نشانیاں
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی کچھ نشانیاں اور شرائط ہین جن کو ظہور کے اسباب اور ظہور کی نشانیوں کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ اسباب کا مہیا ہونا ظہور میں واقعی طور پر اثر رکھتا ہے اس طرح کہ ان اسباب کے ہموار کرنے سے امام علیہ السلام کا ظہور ہو جائے گا اور ان کے بغیر ظہور نہیں ہو سکتا لیکن علامات اور نشانیاں ظہور میں کوئی اثر نہیں رکھتی بلکہ صرف ظہور کی نشانی ہیں جن کے ذریعہ ظہور کے زمانہ یا ظہور کے قریب ہونے کو پہچانا جا سکتا ہے۔
مذکورہ فرق کے پیش نظر بخوبی اندازہ لگایا جاتا ہے کہ ظہور کی شرائط اور اسباب کا مہیا ہونا نشانیوں سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، لہٰذا نشانیوں کو تلاش کرنے سے پہلے ان شرائط پر توجہ کریں اور اپنی طاقت کے لحاظ سے ان شرائط کے پیدا کرنے کے لئے کو شش کریں، اسی وجہ سے ہم پہلے ظہور کے اسباب مہیا ہونے اور ظہور کی شرائط کے بارے میں وضاحت کرتے ہیں اور آخر میں ظہور کی نشانیوں کو مختصر طور پر بیان کریں گے۔
ظہور کی شرائط اور اسباب
کائنات کی ہر چیز اپنی شرائط اور اپنے اسباب مہیا ہونے سے وجود میں آ جاتی ہے۔ اور ان کے بغیر کوئی بھی چیز وجود میں نہیں آتی، ہر زمین دانہ کی پروش کی لیاقت نہیں رکھتی اور ہر طرح کی آب و ہوا ہر گل و سبزہ کی رشد و نمو کے لئے مناسب نہیں ہے، ایک کاشتکار زمین سے اسی وقت اچھی فصل کاٹنے کا منتظر ہو سکتا ہے جب اس نے فصل کاٹنے کی لازمی شرائط کو پورا کیا ہو۔
اسی بنیاد پر ہر انقلاب اور اجتماعی واقعہ بھی شرائط اور اسباب کے مہیا ہونے پر موقوف ہوتا ہے، جس طرح سے ایران کا اسلامی انقلاب بھی شرائط اور اسباب کے ہموار ہونے کے بعد کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کا عالمی انقلاب کہ جو دُنیا کا سب سے بڑا انقلاب ہو گا، بھی اسی قانون کے تحت ہے اور جب تک اس کے اسباب اور شرائط پورے نہ ہو جائیں اس وقت تک واقع نہیں ہو سکتا۔
اس گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ذہنوں میں یہ تصور نہ آئے کہ قیام اور امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا مسئلہ نظام خلقت سے الگ ہے اور آپ کی اصلاحی تحریک ہی معجزہ کی بنا پر اور اسباب و علل کے بغیر واقع ہو گی، بلکہ قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات اور سنت الٰہی یہ ہے کہ کائنات کے تمام امور عموماً اسباب و عمل کی بنیاد پر انجام پاتے ہیں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”خداوند عالم تمام چیزوں کو فقط اسباب و علل کے تحت انجام دیتا ہے“۔ (میزان الحکمة، ج ۵ ، ح ۶۶۱۸)
ایک روایت میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ کسی شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کیا:
”کہتے ہیں کہ جب امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کا ظہور ہو گا تو تمام امور ان کی مرضی کے مطابق ہوں گے“۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: ہرگز ایسا نہیں ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر طے یہ ہو کہ ہر کسی کا کام خود بخود ہو جایا کرتا تو پھر ایسا رسول اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے لئے ہونا چاہیے تھا“۔ (غےبت نعمانی، باب ۵۱ ، ح ۲)
البتہ مذکورہ گفگتو کے یہ معنی نہیں ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے وقت غیبی اور آسمانی امداد نہیں ہو گی بلکہ مقصد یہ ہے کہ غیبی امداد کے ساتھ ساتھ عام شرائط اور حالات کا ہموار ہونا بھی ضروری ہے۔
اس تمہید کے پیش نظر ضروری ہے کہ پہلے ظہور کی شرائط کو پہچانا جائے اور پھر ان کو ہموار کرنے کے لئے کوشش کریں۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے قیام اور عالمی انقلاب کی اہم ترین شرائط اور اسباب میں سے درج ذیل چار چیزیں ہیں جن کے بارے میں الگ الگ بحث کی جاتی ہے۔
الف: منصوبہ بندی
یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ہر اصلاحی تحریک میں دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے:
۱ ۔ معاشرہ میں موجود برائیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے ایک مکمل منصوبہ بندی۔
۲ ۔ معاشرہ کی ضرورتوں کے لحاظ سے مکمل اور مناسب قوانین جو حکومت کے عادلانہ نظام میں تمام انفرادی اور اجتماعی حقوق کا ضامن ہو اور اس کی بنا پر معاشرہ ترقی کرکے اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکے۔ قرآن کریم کی تعلیمات اور سنت معصومین علیہم السلام کہ جو حقیقی اسلامی ہے، بہترین قانون کے عنوان سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے پاس ہو گی اور آپ اس الٰہی جاویدانہ دستور العمل کی بنیاد پر عمل کریں گے ( حضرت امام محمد باقر علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یعمل بکتاب اللّٰہ، لا یری نکرا الا انکرہ ”وہ کتاب خدا (یعنی قرآن) کے مطابق عمل کریں گے اور کسی برائی کو نہیں دیکھیں گے مگر اس کا انکار کریں (یعنی ہر برائی کا مقابلہ کریں گے)“۔ بحارالانوار، ج ۱۵ ، ۱۴۱) قرآن ایسی کتاب ہے جس کی آیات کا مجموعہ اس خداوند عالم کی طرف سے نازل ہوا جو انسان کے تمام پہلووں اور اس کی مادی و معنوی ضرورتوں سے واقف ہے، لہٰذا امام زمانہ علیہ السلام کا عالمی انقلاب منصوبہ بندی اور حکومتی قوانین کے لحاظ سے بے نظیر بنیاد پر استوار ہو گا، اور کسی بھی دوسری اصلاحی تحریک سے قابل موازنہ نہیں ہے۔ اس دعویٰ پر گواہ یہ ہے کہ آج کی دنیا نے تجربہ کرتے ہوئے ان بشری قوانین کے ضعیف اور کمزور ہونے کا اعتراف کیا ہے اور آہستہ آہستہ آسمانی قوانین کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوتی جا رہی ہے۔
”آلوین ٹافلر“ امریکی سیاسی مشاور، عالمی معاشرہ کو بحرانی حالت سے نکالنے اور اس کی اصلاح کے لئے ”تیسری موج“ (اس کا کہنا ہے کہ اب تک زمانہ میں دو بڑے انقلاب رونما ہوئے ہیں ایک زراعتی انقلاب، اور دوسرا صنعتی انقلاب، جس نے دُنیا میں ایک عظیم انقلاب ایجاد کیا ہے۔ تیسرا انقلاب آنے ولا ہے جو الیکٹرونک اور صنعتی انقلاب سے بلند تر ہے۔) کا نظریہ پیش کرتا ہے لیکن اس سلسلہ میں حیرت انگیز باتوں کا اقرار کرتا ہے۔ہمارے (مغربی) معاشرہ میں مشکلات اور پریشانیوں کی فہرست اتنی طولانی ہے جس کی کوئی انتہاءنہیں ہے۔ مسلسل صنعتی کلچر (اور کاروباری نظام) کے متزلزل ہونے اور فساد بے کفایتی کی کشمکش کی وجہ سے اخلاقی تنزل اور برائیوں کی بومشام انسانیت کو آزار دے رہی ہے جس کے نتیجہ میں غم و غصہ کا اظہار اور تبدیلی کے لئے دباو بڑھتا جا رہا ہے، چنانچہ ان دباو کے جواب میں ہزاروں ایسے منصوبہ پیش کئے جا چکے ہیں کہ جن کے بارے میں یہ دعویٰ کیاجاتا ہے کہ یہ بنیادی یا انقلابی ہیں، لیکن متعدد بار نئے قوانین اور مقرارات، منصوبے اور دستور العمل جن کو مشکلات کے حل کے لئے پیش کیا گیا ہے، ہماری مشکلات میں روز بروز اضافہ کرتے جا رہے ہیں اور مایوسی اور نااُمیدی کا احساس پیدا ہوتا جا رہا ہے کہ کوئی فائدہ نہیں ہے، کسی کا کوئی اثر نہیں ہے اور یہ احساس ڈیموکریسی نظام کے لئے خطرناک ہے۔ جس کے پیش نظر مثالوں میں بیان ہونے والے ”سفید گھوڑے پر سوار مرد“ کی ضرورت کا انتظار شدت سے کیا جا رہا ہے ۔
( فصلنامہ انتظار، سال دو، ش ۳ ، ص ۸۹ ( نقل از بہ سوی تمدن جدید، ٹالفر، محمد رضا جعفری)
ب: رہبری
ہر انقلاب اور قیام میں رہبر اور قائد کی ضرورت سب سے پہلی ضرورت شمار کی جاتی ہے اور انقلاب جس قدر وسیع اور بلند مقصد کا حامل ہوتا ہے اس انقلاب کا رہبر بھی ان اغراض و مقاصد کے لحاظ سے عظیم و بلند ہونا چاہیے۔
عالمی پیمانہ پر ظلم و ستم سے مقابلہ، عدل و انصاف پر مبنی حکومت اور کرہ زمین پر مساوات برقرار کرنے کے لئے توانا، صاحب علم اور دلسوز رہبر اس انقلاب کا اصلی رکن ہے کہ جو واقعی طور پر اس انقلاب کی صحیح رہبری کر سکے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام جو انبیاءاور اولیاء(علیہم السلام) کے ماحصل ہیں وہ اس عظیم الشان انقلاب کے رہبر کے عنوان سے زندہ اورموجود ہیں۔ صرف وہی ایک ایسے رہبر ہیں جو عالم غیب سے رابطہ کی وجہ سے کائنات کی ہر شئے اور اس کے تمام روابط سے مکمل طور پر آگاہی رکھتے ہیں اور اپنے زمانہ کے سب سے عظیم عالم ہیں۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:”آگاہ ہو جاو کہ مہدی علیہ السلام تمام علوم کا وارث ہو گا، اور تمام علوم پر احاطہ کئے ہو گا“۔ (نجم الثاقب، ص ۳۹۱)
وہ ایسے واحد رہبر ہیں جو ہر طرح کی قید و بند سے آزاد ہوں گے اور صرف ان کا دل پروردگار عالم کی مرضی کے تحت ہو گا۔ لہٰذا آپ علیہ السلام عالمی انقلاب اور حکومت کے رہبر اور قائد کے لحاظ سے بھی بہترین شرائط کے حامل ہوں گے۔
ج: ناصرین
امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے ضروری شرائط میں سے آپ کے شائستہ، کارآمد اور لائق انصار یا مددگاروں کا وجود ہے جو اس انقلاب کی پشت پناہی اور حکومتی عہدوں پر رہ کر امام علیہ السلام کی نصرت کریں گے۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب ایسا عالمی انقلاب کہ جو آسمانی رہبر کے ذریعہ برپا ہو گا تو پھر اسی لحاظ سے ان کے ناصر و مددگار بھی ہونے چاہئیں، ایسا نہیں ہے کہ جس نے بھی نصرت کا دعویٰ کر لیا وہ ان کی نصرت کے لئے حاضر ہو جائے گا۔ اس سلسلہ میں درج ذیل واقعہ پر توجہ فرمائیں:
حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں ”سہل بن حسن خراسانی“ نامی شیعہ عرض کرتا ہے:
”کیا چیز مانع ہے کہ آپ اپنے مسلم حق (حکومت) کے لئے قیام نہیں کرتے، جبکہ آپ کے ایک لاکھ شیعہ، تلوار چلانے والے اور آپ کی خدمت کے لئے تیار وموجود ہیں؟ امام علیہ السلام نے حکم دیاکہ تنور روشن کیا جائے اور جب اس سے آگ کے شعلے باہر نکلنے لگے تو آپ نے سہل سے فرمایا: اے خراسانی! اُٹھو اور تنور میں کود جاو۔ سہل کا گمان تھا کہ امام علیہ السلام اس کی باتوں سے ناراض ہو گئے ہیں چنانچہ اُنہوں نے معافی طلب کرتے ہوئے عرض کیا: آقا مجھے معاف فرما دیں مجھے آگ میںڈال کر سزا نہ دیں! امام علیہ السلام نے فرمایا: تم سے درگزر کرتا ہوں۔ اسی موقع پر ہارون مکی آ پہنچے جو امام علیہ السلام کے حقیقی شیعہ تھے، امام علیہ السلام کو سلام کیا، امام نے سلام کا جواب دیا اور بغیر کسی مقدمہ کے فرمایا: اس تنور میں کود جاو! ہارون مکی فوراً چوں و چرا کے اس تنور میں کود پڑے اور امام علیہ السلام اس خراسانی سے گفتگو کرنے میں مشغول ہو گئے اور خراسان کے واقعات بیان کرنے لگے جیسا کہ خود امام علیہ السلام وہاں موجود ہوں کچھ دیر بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: اے خراسانی اُٹھو اور تنور کے اندر جھانک کر دیکھو! سہل اُٹھے اور تنور کے اندر ہارون کو دیکھا کہ جو آگ کے شعلوں کے درمیان چار زانو بیٹھے ہوئے ہیں۔
اس موقع پر امام علیہ السلام نے ان سے سوال کیا: خراسان میں ہارون کی طرح کتنے لوگوں کو پہچانتے ہو؟ خراسانی نے جواب دیا: خدا کی قسم! میں تو ایسے کسی شخص کو نہیں جانتا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: یاد رکھو! جب تک ہمیں پانچ ناصر و مددگار نہ مل جائیں اس وقت تک قیام نہیں کرتے ہم بہتر جانتے ہیں کہ کب قیام (اور انقلاب) کا وقت ہے!“۔
( سفینة البحار، ج ۸ ، ص ۱۸۶)
لہٰذا مناسب ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کے انصار کی صفات اور خصوصیات کو روایات کی روشنی میں پہچانیں تاکہ اس ذریعے سے ہم صحیح طور پر اپنے آپ کو پہچان لیں اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں۔
۱ ۔ معرفت اور اطاعت
امام مہدی علیہ السلام کے ناصر و مددگار خداوند عالم اور اپنے امام کی عمیق شناخت رکھتے ہیں اور مکمل آگاہی کے ساتھ میدان حق میں حاضر ہوتے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام ان کے بارے میں فرماتے ہیں: ”وہ ایسے اشخاص ہیں جو خدا کو اس طرح پہچانتے ہیں جو پہچاننے کا حق ہے“۔ (منتخب الاثر، فصل ۸ ، باب ۱ ، ح ۲ ، ص ۱۱۶)
امام کی شناخت اور امام کے بارے عقیدہ بھی ان کے وجود کی گہرائیوں میں جڑیں مضبوط کر چکا ہے اور ان کے پورے وجود پر احاطہ کئے ہوئے ہے اور یہ شناخت امام علیہ السلام کے نام و نشان اور نسب جاننے سے بالاتر ہے۔ معرفت یہ ہے کہ امام کے حق ولائت اور کائنات میں ان کے بلند مرتبہ کو پہچانیں اور یہ وہی معرفت ہے جس سے انکے دل میں محبت کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے اور ان کی اطاعت کےلئے ہمہ تن تیار رہتے ہیں کیونکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ امام علیہ السلام کا حکم، خدا کا حکم ہے اور ان کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے۔ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے ان کی توصیف میں فرمایا: ”وہ لوگ اپنے امام کی اطاعت میں کوشش کرتے ہیں“۔
۲ ۔ عبادت اور استحکام
امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے یار و مددگار عبادت میں اپنے امام کو نمونہ عمل قرار دیتے ہیں اور شب و روز اپنے خدا کے کی رضایت میں گزارتے ہیں۔ حضرت امام صادق علیہ السلام نے ان کے بارے میں فرمایا:
”رات بھر عبادت کرتے ہیں اور دن میں روزہ رکھتے ہیں “۔ (یوم الخلاص ص ۴۲۲)
اور ایک دوسرے کلام میں فرماتے ہیں: ”گھوڑوں (یا سوار ہونے والی چیز) پر سواری کی حالت میں بھی خدا کی تسبیح کرتے ہیں“۔ ( بحارالانوار، ج ۲۵ ، ص ۸۰۳) یہی ذکر خدا ہے جس سے فولادی مرد بنتے ہیں، جس کے استحکام اور مضبوطی کو کوئی بھی چیز ختم نہیں کر سکتی۔ حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ”وہ ایسے مرد ہوں گے کہ گویا ان کے دل لوہے کے ٹکڑے ہیں“۔(بحارالانوار، ج ۲۵ ، ص ۸۰۳)
۳ ۔ جانثاری اور شہادت کی تمنا
امام مہدی علیہ السلام کے انصار کی معرفت ان دلوں کو اپنے امام کے عشق سے لبریز کرتی ہے لہٰذا جنگ کے میدان میں نگینہ کی طرح آپ کو درمئیان میں لے کر اپنی جان ڈھال قرار دیتے ہیں۔ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”امام مہدی کے ناصر و مددگار جنگ کے میدان میں آپ کے چاروں طرف حلقہ بنائے ہوئے ہوں گے اور اپنی جان کو سپر بنا کر اپنے امام کی حفاظت کریں گے“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵ ، ص ۸۰۳)
اور آپ علیہ السلام نے ہی فرمایا: ”وہ راہِ خدا میں شہادت پانے کی تمنا کریں گے“۔
(بحارالانوار، ج ۲۵ ، ص ۸۰۳)
۴ ۔ شجاعت اور دلیری
امام مہدی علیہ السلام کے ناصر و مددگار اپنے مولا کی طرح شجاع، بہادر اور فولادی مرد ہوں گے۔ حضرت علی السلام ان کی توصیف میں فرماتے ہیں: وہ ایسے شیر ہیں جو اپنے بن سے باہر نکل آئے ہیں اور اگر چاہیں تو پہاڑوں کو بھی ہلا سکتے ہیں“۔( یوم الخلاص، ص ۴۲۲)
۵ ۔ صبر و بردباری
واضح ہے کہ عالمی ظلم و ستم سے مقابلہ کرنے اور عالمی پیمانہ پر عدل و انصاف کی حکومت قائم کرنے میں بہت سی مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا ہو گا۔ اور امام علیہ السلام کے ناصر و مددگار اپنے امام کے عالمی مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے مشکلات اور پریشانیوں کو برداشت کریں گے لیکن اخلاص اور تواضع کی بنا پر اپنے کام کو معمولی اور ناچیز شمار کریں گے۔ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: ”وہ ایسا گروہ ہے جو راہ خدا میں صبر اور بردباری کی وجہ سے خدا پر احسان نہیں جتائیں گے اور چونکہ اپنی جان کو حضرت حق کے حضور میں پیش کر دیں گے اپنے اوپر فخر نہیں کریں گے اور اس چیز کو اہمیت نہیں دیں گے“۔ (یوم الخلاص، ص ۴۲۲)
۶ ۔ اتحاد اور ہمدلی
حضرت علی علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کے ناصر و مددگاروں کے اتحاد اور ہمدلی کے بارے میں فرماتے ہیں: ”وہ لوگ ایک دل اور ہم آہنگ (یعنی متحد) ہوں گے“۔
(یوم الخلاص، ص ۳۲۲)
اس ہمدلی اور اتحاد کا سبب یہ ہے کہ خود خواہی اور ذاتی مفاد ان کے وجود میں نہیں سمائے گا۔ وہ صحیح عقیدہ کے ساتھ ایک پرچم کے نیچے اور ایک مقصد کے تحت قیام کریں گے اور یہ خود دشمن کے مقابلہ میں ان کی کامیابی کا ایک راز ہے۔
۷ ۔ زہد و تقویٰ
حضرت علی علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کے یاد و مددگاروں کے بارے میں فرماتے ہیں: ”وہ اپنے یار و مددگاروں سے بیعت لیں گے کہ سونا اور چاندی جمع نہ کریںگے اور گیہوں اور جو کا ذخیرہ نہ کریںگے“۔ ( منتخب الاثر، فصل ۶ ، باب ۱۱ ، ح ۴ ، ص ۱۸۵)
وہ بلند مقاصد رکھتے ہیں اور ایک عظیم مقصد کے لئے قیام کریں گے لہٰذا دُنیا کی مادیات ان کو اس عظیم مقصد سے دُور نہیں کر سکتی، لہٰذا جن لوگوں کی آنکھیں دُنیا کی زرق و برق دیکھ کر خیرہ ہو جاتی ہیں اور ان کا دل پانی پانی ہو جاتا ہے، تو ایسے لوگوں کے لئے امام مہدی علیہ السلام کے خاص ناصر و مددگاروں میں کوئی جگہ نہ ہو گی۔
قارئین کرام! یہاں تک امام مہدی علیہ السلام کے ناصر و مددگاروں کی کچھ خصوصیات بیان ہوتی ہیں اور انہیں صفات اور خصوصیات کی وجہ سے روایات میں ان کو احترام سے یاد کیا گیا ہے اور معصومین علیہم السلام نے اپنی لسان مبارک پر مدح و ستائش کے جملہ جاری کئے ہیں۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے ان کی توصیف میں فرمایا:
اُولَئِکَ هُم خِیَارُ الاُمَّةِ (یوم الخلاص، ص ۴۲۲)
”وہ لوگ (میری) اُمت کے بہترین افراد ہیں“۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
فَبِاَبِی وَ اُمّی مِن عِدّةِ قَلِیلَةٍ اَسمَائُهُم فِی الاَرضِ مَجهُولَة ۔ (معجم الاحادیث، الامام المہدی علیہ السلام، ج ۳ ، ص ۱۰۱)
”میرے ماں باپ اس چھوٹے گروہ کے قربان جو زمین پر ناشناختہ ہیں“۔
البتہ امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ناصر و مددگار اپنی لیاقت اور صلاحیت کے لحاظ سے مختلف درجات میں تقسیم ہوں گے۔ اور روایات میں بیان ہوا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا ان خاص ۳۱۳ ناصرین (کہ جو اس انقلاب کی ریڑھ کی ہڈی کہلائیں گے، ان کے علاوہ دس ہزار کا لشکر بھی ہو گا اور ان کے علاوہ انتظار کرنے والے مومنین کی ایک عظیم تعداد آپ کی مدد کے لئے دوڑ پڑے گی۔
و۔ عام طور پر تیاری،عام لام بندی
آئمہ معصومین علیہم السلام کی تاریخ میں مختلف مواقع پر اس حقیقت کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ لوگ امام کے حضور سے بہتر فائدہ اُٹھانے کے لئے لازمی تیاری نہیں رکھتے تھے، کسی بھی زمانہ میں امام معصوم علیہ السلام کے پرنور حضور کے فیض کی قدر نہیں کی گئی اور ان کے چشمہ ہدایت سے مناسب فیض حاصل نہیں کیا لہٰذا خداوند عالم نے اپنی آخری حجت کو پردہ غیب میں بھیج دیا تاکہ جب ان کو قبول کرنے کے لئے سب تیار ہو جائیں گے تو امام علیہ السلام کا ظہور ہو گا اوراس وقت الٰہی تعلیمات کے سرچشمہ سے سب سیراب ہوں گے۔ اس بنا پر امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے آمادہ اور تیار رہنا اہم شرائط میںسے ہے کیونکہ اسی تیاری کی وجہ سے امام علیہ السلام کی اصلاحی تحریک مطلوبہ مقصد تک پہنچ سکتی ہے۔
قرآن کریم میں بنی اسرائیل کے ایک گروہ کے بارے میں جو اپنے زمانہ کے ظالم و جابر حاکم ”جالوت“ کے ظلم و ستم سے بہت زیادہ پریشان ہو چکا تھا، اس نے اپنے زمانہ کے بنی سے درخواست کی کہ ان کے لئے ایک طاقتور سردار لشکر کا انتخاب کریں تاکہ اس کے فرمان کے تحت جالوت سے جنگ کر سکیں۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
( أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ إِذْ قَالُوا لِنَبِيٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۖ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِن كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلَّا تُقَاتِلُوا ۖ قَالُوا وَمَا لَنَا أَلَّا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِن دِيَارِنَا وَأَبْنَائِنَا ۖ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ ) ۔ (سورہ بقرہ، آیت ۲۴۶ )
”کیا تم نے موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کی اس جماعت کو نہیں دیکھا جس نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے واسطہ ایک بادشاہ مقرر کیجئے تاکہ ہم راہِ خدا میں جہاد کریں نبی نے فرمایا کہ اندیشہ یہ ہے کہ تم پر جہاد واجب ہو جائے اور تم جہاد نہ کرو ان لوگوں نے کہا کہ ہم کیونکر جہاد نہ کریں گے جبکہ ہمیں ہمارے گھروں اور بال بچوں سے ہمیںالگ نکال باہر کر دیا گیا اس کے بعد جب جہاد واجب کر دیا گیا تو تھوڑے سے افراد کے علاوہ سب منحرف ہو گئے اور اﷲ ظالمین کو خوب جانتا ہے“۔
جنگ کے لئے سردار منتخب کرنے کی درخواست ایک طرح سے اس بات کی عکاسی کرتی تھی کہ وہ آمادہ اور تیار ہیں اگرچہ راستہ میں ایک کثیر تعداد سست پڑ گئی اور بہت کم لوگ میدان جنگ میں حاضر ہوئے۔ لہٰذا امام مہدی علیہ السلام کا ظہور بھی اسی وقت ہو گا جب سب لوگوں میں اجتماعی عدالت، ۱ خلاقی اور نفسیاتی امنیت اور معنویت کے رشد و نمو کے طلبگار پیدا ہو جائیں گے، جب لوگ ناانصافی اور قبیلہ پرستی سے تھک جائیں گے، جب ضعیف اور کمزور لوگوں کے حقوق صاحب قدرت اور صاحب مال و دولت کے ذریعہ پامال ہوتا دیکھیں گے اور مال و دولت صرف کچھ خاص لوگوں کے قبضہ میں دیکھیں گے، جبکہ اسی موقع پر کچھ لوگوں کے پاس رات میں کھانے کے لئے روٹی بھی نہ ہو گی، ایک دوسرا گروہ اپنے لئے محل بناتا ہوا نظر آتا ہو گا اور اپنی محافل میں بہت زیادہ خرچ اور ایسے ایسے کھانے اور آرام و سکون کے ایسے ایسے سامان مہیا کئے جائیں گے کہ جن کو دیکھ کر آنکھیں چکاچوند ہوتی ہوںگی، تو ایسے موقع پر عدالت طلبی کی پیاس اپنے عروج پر ہو گی۔
جب مختلف برائیاں معاشرہ میں رائج ہوتی جا رہی ہوں اور برائی انجام دینے میں ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہا ہو بلکہ اپنے بُرے کاموں پر فخر کیا جا رہا ہو، یا انسانی اور الٰہی اصول سے اس طرح دُوری اختیار کی جار رہی ہو کہ غفلت اور پاکدامنی کے بعض مخالف کاموں کو قانونی شکل دی جا رہی ہو جس کے نتیجہ میں گھریلو نظام درہم برہم ہو جاتا ہو، اور بے سرپرست بچے معاشرہ کے حوالہ کئے جاتے ہو تو اس موقع پر ایسے رہبر کے ظہور کا اشتیاق بہت زیادہ ہو جائے گا جس کی حکومت اخلاقی اور نفسیاتی امنیت اور سلامتی کا پیغام لے کر آئے اور جس وقت انسان تمام مادی لذتوں سے ہمکنار ہو لیکن اپنی زندگی سے راضی نہ ہو اور ایسی دُنیا کی تلاش میں ہو جو معنویت سے لبریز ہو، تو ایسے موقع پر انسان لطف امام کے آبشار کا پیاسا ہو گا۔
ظاہر سی بات ہے کہ امام علیہ السلام کے حصور کو سمجھنے کا شوق اس وقت عروج پر ہو گا کہ جب بشریت اپنے ذاتی تجربہ سے مختلف انسانی حکومتوں کے کارناموں کو دیکھ کر ہی سمجھ جائے گی کہ دُنیا کو ظلم و ستم، تباہی اور برائیوں سے نجات دینے والا زمین پر الٰہی خلیفہ اور جانشین حضرت امام مہدی علیہ السلام ہی ہیں اور انسانیت کے لئے پاک و پاکیزہ اور بہترین زندگی عطا کرنے والا منصوبہ صرف اور صرف الٰہی قوانین میں ہے لہٰذا اس موقع پر انسانیت اپنے پورے وجود سے امام علیہ السلام کی ضرورت احساس کرے گی اور اس احساس کی وجہ سے اس کے ظہور کے لئے راستہ فراہم کرنے کی کوشش کرے گی نیز اس راہ میں موجود رکاوٹوں کو دُور کرے گی اور یہ اسی وقت ہو گا جب فرج اور ظہور کا موقع پہنچ جائے گا۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) آخر الزمان اور ظہور سے قبل کے زمانہ کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ایک زمانہ وہ آئے گا کہ مومن کو جائے پناہ نہیں ملے گی تاکہ ظلم و ستم اور تباہی سے نجات مل جائے، پس اس وقت خداوند عالم میری نسل سے ایک شخص کو بھیجے گا“۔
(عقد الدرر، ص ۳۷)
علاماتِ ظہور
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے عالمی انقلاب اور قیام کے لئے کچھ نشانیاں بتائی گئی ہیں اور ان نشانیوں کی پہچان بہت سے مثبت آثار رکھتی ہیں، چونکہ یہ ”مہدی آل محمد“ علیہ السلام کے ظہور کی نشانی ہے جن میں سے ہر ایک کے ظاہر ہونے سے منتظرین کے دلوں میں اُمید کے نور میں اضافہ ہو گا اور دشمنوں اور گمراہیوں کے لئے یاد دہانی اور خطرہ کی گھنٹی ہو گی تاکہ اخدا کی نافرمانیوںاور برائیوں سے باز آجائیں۔ جس طرح انتظار کرنے والوں میں امام علیہ السلام کی ہمراہی اور نصرت کی لیاقت حاصل کرنے کے لئے ترغیب اور شوق کا سبب ہو گا ویسے بھی مستقبل میں پیش آنے ولے واقعات سے باخبر ہونا انسان کے لئے مناسب منصوبہ بندی میں مددگار ہوتا ہے اور یہ نشانیاں مہدویت کے سچے اور جھوٹے دعویداروں کے لئے بہترین معیارِ فرق میںہے، لہٰذا اگر کوئی مہدویت کا دعویٰ کرے، لیکن اس کے قیام میں یہ مخصوص نشانیاں نہ پائی جاتی ہوں تو اسکے جھوٹا ہونے کا آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آئمہ معصومین علیہم السلام کی روایت میں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی بہت سی نشانیان ذکر ہوئی ہیں جن میں بعض طبیعی اور عام واقعات ہیں جبکہ بعض غیر طبیعی اور معجز نما ہیں۔ ہم ان نشانیوں میں سے پہلے ان برجستہ اور ممتاز نشانیوں کو بیان کرتے ہیں جو معتبر کتابوں اور معتبر روایات میں بیان ہوئی ہیں اور آخر میں کچھ دیگر نشانیاں اختصار کے طور پر بیان کریں گے۔حضرت امام صادق علیہ السلام نے ایک روایت کے ضمن میں فرمایا: ”قائم علیہ السلام کے ظہور کی پانچ نشانیاں ہیں: سفیانی کا خروج، یمنی کا قیام، آسمانی آواز، نفس زکیہ کا قتل اور خسف بیداء(غیبت نعمانی، باب ۴۵۱ ، ح ۹ ، ص ، ۱۶۲)“ ( خسف بیداءکی وضاحت چند سطروں بعد ملاحظہ فرمائیں)قارئین کرام! اب ہم مذکورہ پانچوں نشانیوں کے بارے میں وضاحت کرتے ہیں جو دوسری متعدد روایات میں بھی تکرار ہوئی ہی، اگرچہ ان واقعات سے متعلق تمام تفصیل ہمارے لئے یقینی طور پر ثابت نہیں ہے۔
الف: سفیانی کا خروج
سفیانی کا خروج متعد روایات میں بیان ہونے والی نشانیوں میں سے ہے، سفیانی، ابوسفیان کی نسل سے ہو گا جو ظہور سے کچھ مدت پہلے سرزمین شام سے خروج کرے گا، وہ ظالم و جابر ہو گا اور قتل و غارت میں کسی کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا، اور اپنے مخالفین سے بہت ہی بُرا سلوک کرے گا۔حضرت امام صادق علیہ السلام اس کے بارے میں بیان فرماتے ہیں:
”اگر تم سفیانی کو دیکھو گے تو تم نے (گویا) سب سے پلید اور بُرے انسان کو دیکھ لیا “۔
(کمال الدین، ج ۳ ، باب ۷۵ ، ح ۰۱ ، ص ۷۵۵)
اس کا خروج ماہ رجب سے شروع ہو گا، وہ شام اور اس کے قرب و جوار کے علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد عراق پر حملہ کرے گا اور وہاں وسیع پیمانہ پر قتل و غارت کرے گا۔
بعض روایات کی بنا پر اس کے خروج اور اس کے قتل ہونے تک کی مدت پندرہ مہینہ ہو گی۔
(غیبت نعمانی، باب ۸۱ ، ح ۱ ، ص ۰۱۳)
ب: خسف بیدائ
خسف کے معنی پھٹنے اور گرنے کے ہیں اور ”بیدائ“ مکہ و مدینہ کے درمیان ایک علاقہ کا نام ہے۔
خسف بیداءسے مراد یہ ہے کہ جب سفیانی، امام مہدی علیہ السلام سے مقابلہ کرنے کے لئے ایک لشکر مکہ کی طرف بھیجے گا اور جب یہ بیداءنامی علاقے میں پہنچے گا تو معجزہ نما صورت میں زمین پھٹ جائے گی اور وہ لشکر زمین میں دھنس جائے گا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے اس سلسلہ میں فرمایا:”لشکر سفیانی کے سردار کو خبر ملے گی کہ (امام) مہدی (علیہ السلام) مکہ کی طرف روانہ ہیں، چنانچہ وہ ان کے پیچھے ایک لشکر روانہ کرے گا لیکن ان کو نہیں پائے گا، اور جب سفیانی کا لشکر سرزمین بیداءپر پہنچے گا تو ایک آسمانی آواز آئے گی ”اے سرزمین بیداءان کو نابود کر دے“ جس کے بعد وہ سرزمین سفیانی کے لشکر کو اپنے اندر کھینچ لے گی“۔ (غیبت نعمانی، باب ۴۱ ، ح ۷۲ ، ص ۹۸۲)
ج: یمنی کا قیام
سرزمین یمن میں ایک سردار کا قیام امام علیہ السلام کے ظہور کی ایک نشانی ہے جو آپ کے ظہور سے کچھ ہی دنوں پہلے ظاہر ہو گی، وہ ایک ایسا صالح اور مومن شخص ہو گا، جو انحرافات اور برائیوں کے خلاف قیام کرے گا اور اپنی تمام تر طاقت سے برائیوں اور فساد کا مقابلہ کرے گا البتہ اس کے قیام اور تحریک کی تفصیل ہمارے لئے واضح نہیں ہے۔امام محمد باقر علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں:”امام مہدی علیہ السلام کے قیام سے پہلے بلند ہونے والے پرچموں کے درمیان یمنی کا پرچم تمام ہدایت کرنے والے پرچموں میں سب سے بہتر ہو گا کیونکہ وہ تمہارے آقا (امام مہدی علیہ السلام) کی طرف دعوت دے گا“۔ (غیبت نعمانی، باب ۴۱ ، ح ۳۱ ، ص ۴۶۲)
د: آسمانی آواز
امام علیہ السلام کے ظہور سے پہلے کی ایک نشانی یہ ہو گی کہ آسمان سے آواز آئے گی، یہ آسمانی آواز بعض روایات کی بنا پر جناب جبرئیل کی آواز ہو گی جو ماہ رمضان میں سنائی دے گی“۔ (غیبت نعمانی، باب ۴۱ ، ص ۲۶۲)
اور چونکہ مصلح کل کا انقلاب ایک عالمی انقلاب ہو گا، اور سب کو اس کا انتظار ہو گا، لہٰذا دُنیا بھر کے لوگوں کو اسی آسمانی آواز کے ذریعہ ظہور کی خبر دی جائے گی۔حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:”قائم آل محمد علیہ السلام کا ظہور اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک آسمان سے آواز نہ دی جائے جس کو تمام اہل مشرق ومغرب سن لیں گے“۔ (غیبت نعمانی، باب ۴۱ ، ح ۴۱ ، ص ۵۶۲)
اور یہ آواز جس طرح سے مومنین کےلئے باعث خوشی ہو گی اسی طرح بدکاروں کےلئے خطرہ کی گھنٹی ہو گی تاکہ ابھی بھی اپنے بُرے کاموں سے باز آجائیں اور امام علیہ السلام کے انصار میں شامل ہو جائیں۔اس آواز کی تفصیل کے بارے میں مختلف روایات بیان ہوئی ہیں مثلاً
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”آسمان سے آواز دینے والا حضرت امام مہدی علیہ السلام کو آپ کے نام اور آپ کی ولدیت کے ساتھ پکارے گا“۔ (غیبت نعمانی، باب ۰۱ ، ح ۹۲ ، ص ۷۸۱)
ج: نفس زکیہ کا قتل
نفس زکیہ کے معنی ایسے شخص کے ہیں جو رُشد و کمال کے بلند درجہ پر پہنچا ہوا ہو یا ایسا پاک و پاکیزہ اور بے گناہ انسان ہو جس نے کسی کو قتل نہ کیا ہو اور نفس زکیہ کے قتل سے مراد یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے کچھ پہلے ایک برجستہ اور ممتاز شخصیت یا ایک بے گناہ شخصیت امام علیہ السلام کے مخالفوں کے ذریعہ قتل کی جائے گی۔بعض روایات کی بنا پر یہ واقعہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے ۱۵ دن پہلے رونما ہو گا۔اس سلسلہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”قائم آل محمد( ص) کے ظہور اور نفس زکیہ کے قتل میں صرف ۵۱ دن کا فاصلہ ہو گا“۔ (کمال الدین، ج ۲ ، باب ۷۵ ، ح ۲ ، ص ۴۵۵)
قارئین کرام! مذکورہ نشانیوں کے علاوہ دوسری نشانیاں بھی ذکر ہوئی ہیں جن میں بعض کچھ اس طرح ہی: دجّال کا خروج، (دجال ایک ایسا مکّار اور حیلہ باز آدمی ہو گا جس نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہو گا)، ماہ مبارک رمضان میں سورج گرہن لگنا، چاند گرہن لگنا، فتنوں کا ظاہر ہونا اور خراسانی کا قیام۔قابل ذکر ہے کہ ان نشانیوں کی توضیح اور تفصیل مفصل کتابوں میں بیان ہوئی ہیں۔ (بحار الانوار، ج ۲۵ ، ص ۱۸۱ تا ۸۷۲)
درس کا خلاصہ:
ظہور سے پہلے اگرچہ دُنیا میں بیشتر ظلم و ستم اور تباہی ہو گی لیکن اس سے مراد سب لوگوں کا ظالم ہونا نہیں ہے۔
زمانہ غیبت اور ظہور کے نزدیکی دور میں لوگوں کا فریضہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر ہے تاکہ ظہور کی شرائط پوری ہوں۔
حضرت کے قیام کے اہم اسباب و شرائط مندرجہ ذیل ہیں: منصوبہ بندی، رہبری، یار و مددگار کا ہونا اور عام طور پر تیاری۔
حضرت کے یار و انصار کی اہم ترین خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں: معرفت و اطاعت، عبادت و استحکام، شہادت کی طلب، شجاعت، صبر و بردباری، اتحاد و زہد۔ روایات کی رو سے حضرت کے ظہور کی حتمی علامات مندرجہ ذی ہیں: سفیانی کا خروج، یمنی کا قیام، خسف بیدائ، آسمانی آواز اور نفس زکیہ کا قتل۔
درس کے سوالات:
۱ ۔ یہ کہ منتظرین کا ہم وظیفہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر شمار کیا گیا ہے اس کی دلیل کی وضاحت کریں؟
۲ ۔ روایت کی رو سے ظہور کی شرائط اور علامات میں فرق بیان کریں؟
۳ ۔ عالمی عادلانہ حکومت کی تشکیل کے لیے اہم شرائط میں سے رہبری کی اہمیت کو بیان کریں؟
۴ ۔ ظہور کے تحقق کے لئے عمومی تیاری اور آمادگی کی اہمیت پر روشنی ڈالیں؟
۵ ۔ روایات میں بیان کی گئی یقینی اور حتمی علامات میں سے کوئی چار علامات کو روایات کے ساتھ بیان کریں؟
گیارہواں درس
ظہور
مقاصد:
۱ ۔ زمانہ ظہور میں حضرت کی حکومت کے مقاصد سے آگاہی
۲ ۔ حضرت کے اصلاحی پروگراموں سے زمانہ غیبت میں الہام لین
فوائد:
۱ ۔ ظہور کے وقت کو معین کرنے سے پرہیز اور وقت معین کرنے والوں کو جھٹلانا
۲ ۔ حضرت کے اصلاحی پروگراموں کی معرفت
۳ ۔ ظہور کے لئے میلان اور اشتیاق پیدا ہون
تعلیمی مطالب:
۱ ۔ ظہور کا زمانہ اور وقت متعین کرنے سے منع کیا جانا
۲ ۔ زمانہ ظہور کے مخفی ہونے کا فلسفہ
۳ ۔ حضرت کے ظہور کے وقت کیا ہو گا
۴ ۔ زمانہ ظہور میں حضرت کے سیاسی، اقتصادی، ثقافتی مقاصد
ظہور
جس وقت ظہور کی باتیں ہوتی ہیں تو انسان کے دل میں ایک بہترین احساس پیدا ہوتا ہے گویا کسی نہر کے کنارے سرسبز و شاداب باغ میں بیٹھا ہوا ہے اور شیرین سخن بلبلوں کی آواز سن رہا ہے، جی ہاں خوبیوں کا ظہور، خوبیوں کی نشر و اشاعت، تھکی ماندی رُوح کو نشاط بخشتا ہے اور اُمیدواروں کی آنکھوں میں بجلی سی چمک اُٹھتی ہے۔ ہم یہاں حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظہور اور آپ علیہ السلام کے عینی حضور کے موقع پر ہونے والے واقعات کو بیان کریں گے اور اس بے مثال جمال کو غیبت کا پردہ اُٹھاتے ہوئے نظارہ کریں گے۔
ظہور کا زمانہ
ہمیشہ سے بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں ایک سوال یہ پیدا ہوتارہا اور اب بھی ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کب ظہور فرمائیں گے اور کیا ظہور کے لئے کوئی وقت معین ہے؟ اس سوال کا جواب معصومین علیہم السلام سے منقول روایات کے پیش نظر یہ ہے کہ ظہور کا وقت معلوم نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہم نے نہ تو پہلے ظہور کے لئے کوئی وقت معین کیا ہے اور نہ ہی آئندہ وقت معین کریں گے“۔
(غیبت طوسی، فصل ۷ ، ح ۲۱۴ ، صفحہ ۶۲۴)
اس بنا پر جو لوگ ظہور کے لئے کوئی زمانہ معین کریں تو ایسے افراد فریب کار اور جھوٹے ہیں، جیسا کہ مختلف روایات میں اس بات کی تاکید ہوئی ہے۔
امام محمد باقر علیہ السلام کے ایک صحابی نے آپ علیہ السلام سے ظہور کے بارے میں سوال کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”جو لوگ ظہور کے لئے وقت معین کریں وہ جھوٹے ہیں، جولوگ ظلم کے خاتمہ کا وقت معین کریں وہ جھوٹے ہیں، جو لوگ ظہور کے لئے وقت معین کریں وہ جھوٹے ہیں“۔
(غیبت طوسی، فصل ۷ ، ح ۱۱۴ ، صفحہ ۵۲۴)
لہٰذا اس طرح کی روایات سے اچھی طرح یہ نکتہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہمیشہ کچھ لوگ شیطانی وسوسوں کے تحت امام علیہ السلام کے ظہور کے لئے وقت معین کرتے رہتے تھے اور ایسے افراد آئندہ بھی پائے جائیں گے۔ اسی وجہ سے آئمہ معصومین علیہم السلام نے اپنے شیعوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ ظہور کے وقت معین کرنے والوں کے سامنے خاموش نہ رہیں بلکہ ان کی تکذیب کی جائے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام اس سلسلہ میں اپنے ایک صحابی سے فرماتے ہیں : ”ظہور کے لئے وقت معین کرنے والوں کو جھٹلانے میں کسی بھی طرح کی کوئی پرواہ نہیں کرو، کیونکہ ہم نے کسی کے سامنے ظہور کا وقت معین نہیں کیا “۔ (غیبت طوسی، فصل ۷ ، ح ۴۱۴ ، صفحہ ۶۲۴)
وقت ظہور کے مخفی رہنے کا راز
جیسا کہ عرض ہو چکا ہے کہ خداوند حکیم کی مشیت کے پیش نظر ظہور کا وقت ہمارے لئے مخفی ہے، بے شک یہ بات کچھ حکمتوں کی بنا پر ہے جن میں سے ہم بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
اُمید کی کرن
جب ظہور کا زمانہ معلوم نہ ہو تو انتظار کرنے والوں کے دلوں میں ہر وقت اُمید رہتی ہے اور اس اُمید کے ساتھ وہ ہمیشہ غیبت کے زمانہ کی پریشانیوں کے مقابلہ میں صبر و استقامت سے کام لیتے ہیں۔ واقعاً اگر گزشتہ صدیوں کے شیعوں سے کہا جاتا کہ تمہارے زمانہ میں امام علیہ السلام کا ظہور نہیں ہو گا بلکہ چند صدیوں کے بعد ظہور ہو گا تو پھر وہ کس اُمید کے ساتھ اپنے زمانہ کی مشکلات کا مقابلہ کرتے اور کس طرح زمانہ غیبت کے تنگ و تاریک راستہ کو صحیح و سالم طے کرتے؟
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور واسطے حالات کا ہموار کرنا
بے شک ”انتظار“ اسی صورت میں بہترین فعالیت اور کارکردگی کا باعث ہو سکتا ہے کہ جب ظہور کا زمانہ معلوم نہ ہو، کیونکہ اگر ظہور کا وقت معین ہو جائے تو پھر جن لوگوں کو معلوم ہے کہ ہم ظہور کے زمانہ تک نہیں رہیں گے تو پھر ان کے اندر راستہ ہموار کرنے کا شوق نہیں رہے اور وہ (برائیوں کے سامنے) ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں گے،جبکہ ظہور کا زمانہ معلوم نہ ہو تو انسان ہر وقت اس اُمید میں رہتا ہے کہ وہ ظہور کے زمانہ کو درک کرلے گا اور پھر اسی حوالے سے کوشش کرتا ہے تاکہ ظہور کے لئے راستہ ہموار ہو جائے اور پھر اپنے معاشرے کو صالح اور نیک معاشرہ میں تبدیل کرنے کی کوشش میں لگا رہتاہے۔ اس کے علاوہ وقت ظہور کے معین ہونے کی صورت میں اگر بعض مصلحتوں کی وجہ سے معین وقت پر ظہور نہ ہو، تو پھر بعض لوگ امام مہدی علیہ السلام کے اصل عقیدہ میں شک و تردید میں مبتلا ہو جائیں گے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے سوال ہوا کہ کیا ظہور کے لئے کوئی وقت معین ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”جو لوگ ظہور کے لئے وقت معین کریں وہ جھوٹے ہیں (اور اس جملہ کی تکرار فرمائی) جس وقت جناب موسیٰ علیہ السلام خدا کے بلانے پر تیس دن کے لئے اپنی قوم کے درمیان سے غیبت میںچلے گئے اوروقت بتا کر گئے بعد میں خداوند عالم نے ان تیس دن میں دس دن کا اضافہ کر دیاتو اس موقع پر جناب موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہا: موسیٰ نے اپنے وعدہ کو وفا نہیں کیا، لہٰذا ان کاموں کو انجام دینے لگے جن کو انجام نہیں دینا چاہیے تھا، (اور دین سے پھر گئے اور گوسالہ پرستی شروع کر دی) ۔
(غیبت نعمانی، باب ۶۱ ، ح ۳۱ ، صفحہ ۵۰۳)
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے انقلاب کا آغاز
سب لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے عالمی انقلاب میں کیا کیا واقعات رونما ہوں گے، امام علیہ السلام کی تحریک کہاں سے اور کیسے شروع ہو گی؟ امام مہدی علیہ السلام اپنے مخالفوں سے کیسا سلوک کریں گے اور آخرکار آپ کسطرح پوری دُنیا پر غلبہ کریں گے اور تمام اہم امور کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میںکیسے لیں گے۔ یہ سوالات اور اسی طرح کے دوسرے سوالات ظہور کے مشتاق انسان کے ذہن میں آتے رہتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آخری اُمیدِ بشریت کے ظہور کے واقعات کے بارے میں گفتگو کرنا بہت مشکل کام ہے کیونکہ آئندہ پیش آنے والے واقعات جو ابھی پیش نہیں آئے ہیں عام طور پر ان کے بارے میں مکمل اور دقیق اطلاع حاصل نہیں کی جا سکتی۔
لہٰذا ہم اس حصہ میں جو کچھ بیان کریں گے وہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے زمانہ کے وہ واقعات ہیں جو متعدد کتابوں میں نقل ہوئے ہیں اور جن میں امام علیہ السلام کے ظہور کے زمانہ کے واقعات کی ایک جھلک بیان ہوئی ہے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کےقیام کی کیفیت
جب ظلم و ستم اور تباہی دنیا کی صورت کو تاریک اور سیاہ کر دے گی اور جب ظالم و ستمگر لوگ اس وسیع زمین کو بُرائی کا میدان بنا دیں گے اور دُنیا بھر کے مظلوم ظلم و ستم سے پریشان ہو کر مدد کے لئے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کریں گے، اچانک آسمانی آواز رات کی تاریکیون کو کافور کر دے گی اور ماہِ خدا رمضان میں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی بشارت دے دی جائے گی۔ (غیبت نعمانی، باب ۴۱ ، ح ۷۱)
دل دھڑکنے لگیں گے اور آنکھیں خیرہ ہو جائیں گی، رات بھر عیاشی کرنے والے صبح ایمان کے طلوع ے مضطرب اور پریشان راہ نجات تلاش کرتے ہوںگے اور امام مہدی علیہ السلام کے منتظرین اپنے محبوب امام کی تلاش اور آپ کے ناصر و مددگاروں کے زمرے میں شامل ہونے کے لئے بے چین ہوں گے۔
اس موقع پر سفیانی جو کئی ملکوں پر قبضہ کرچکا ہو گا جیسے شام (سوریہ)، اردن، فلسطین، وہ امام سے مقابلہ کے لئے ایک لشکر تیار کرلے گا۔ سفیانی کا لشکر جو امام علیہ السلام سے مقابلہ کے لئے مدینہ سے مکہ معظمہ کے لئے روانہ ہو گا لیکن جیسے ہی ”بیدائ“ نامی جگہ پر پہنچے گا تووہ لشکر زمین میں دھنس کر نابود ہو جائے گا۔ (بحارالانوار، جلد ۳۵ ، ح ۰۱) اور نفس زکیہ کے قتل ہو جانے کے کچھ ہی مدت بعد امام مہدی علیہ السلام ایک جوان مرد کی صورت میں مسجد الحرام میں ظہور فرمائیں گے۔ اس حال میں کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا پیراہن زیب تن ہو گا اور رسول خدا (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم)کا پرچم لئے ہوں گے اور خانہ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے رکن و مقام کے درمیان ظہور کا ترانہ زمزمہ کرتے ہوں گے اور خداوند عالم کی حمد و ثنا اور محمد و آل محمد پر دَرُود و سلام کے بعد خطاب فرمائیں: ”اے لوگو! ہم خداوند قدیر سے مدد طلب کرتے ہیں اور جو شخص دُنیا کے کسی بھی گوشے میں ہماری آواز پر لبیک کہے تو اسے نصرت و مدد کے لئے پکارتے ہیں، اور پھر اپنی اور اپنے خاندان کی پہچان کراتے ہوئے فرمائیں گہے:فَاللّٰه اللّٰه فِینَا لاٰ تَخدُلونَا وَ انصرُونا یَنصُرکُم اللّٰه تعالی ٰ ”ہمارے حقوق کی رعایت کے سلسلہ میں خدا کو نظر میں رکھو، اور ہمیں (عدالت قائم کرنے اور ظلم کرنے میںمقابلہ کا) تنہا نہ چھوڑو، ہماری مدد کرو اور خداوند عالم تمہاری مدد فرمائے گا“۔
امام علیہ السلام کی گفتگو تمام ہونے کے بعد اہل آسمان اہل زمین پر سبقت کریں گے اور گروہ در گروہ آ کر امام علیہ السلام کی بیعت کریں گے حالانکہ ان سے پہلے فرشتہ وحی جناب جبرئیل امام کی خدمت میں حاضر ہو جائیں گے اور اس کے بعد ۳۱۳ زمین کے ستارے مختلف مقامات سے سرزمین وحی (یعنی مکہ معظمہ) میں جمع ہو کر امامت کے پُرنور سورج کے چاروں طرف حلقہ بنا لیں گے اور وفاداری کا عہد و پیمان باندھیں گے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ دس ہزار جاں بکف سپاہیوں کا لشکر امام علیہ السلام کے لشکر گاہ میں جمع ہو جائے گا اور فرزند رسول (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے ہاتھ پر بیعت کرے گا۔
(غیبت نعمانی، باب ۴۱ ، صفحہ ۷۶)
امام علیہ السلام اپنے انصار اور مومنین کے عظیم لشکر کے ساتھ پرچم قیام لہراتے ہوئے بہت تیزی سے مکہ اور قرب و جوار کے علاقوں پر مسلط ہو جائیں گے تاکہ انکے درمیان مہر و محبت اور عدالت قائم کریں اوران شہروں کے سرکش لوگوں کو مغلوب کریں گے، اس کے بعدمدینہ پہنچیں گے اور پھر وہاںسے عراق کا رُخ فرمائیں گے اور شہر کوفہ کو اپنی عالمی حکومت کا مرکز قرار دیں گے اور وہاں سے اس عظیم انقلاب کو ہدایت فرمائیںگے اور دُنیا والوں کو اسلام اور قوانین قرآن کے مطابق عمل کرنے کی دعوت دیں گے اور ظلم و ستم کے خاتمہ کی دعوت دیں گے اور اپنے نورانی ایمان کے پیکر سپاہیوں کو دُنیا کے مختلف علاقوں کی طرف روانہ فرمائیں گے۔ امام علیہ السلام ایک ایک کرکے ظالموں کے عظیم مورچوں کو فتح کر لیں گے کیونکہ مومن اور وفادار انصار کے علاوہ ملائکہ بھی آپ کی مدد کریں گے اور پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی طرح اپنے لشکر کے رعب و ودبدبہ سے فائدہ اُٹھائیں گے۔ خداوند قدیر امام علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے لشکر کا خوف اس قدر دشمنوں کے دلوں میں ڈال دے گا کہ کوئی بھی سرکش آپ کا مقابلہ کرنے کی جرا ت نہیں کرے گا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرمایا:
”قائم آل محمد (علیہ السلام) کی دشمنوں کے دل میںخوف و وحشت او ررعب ودبدبہ کے ذریعہ مدد ہو گی“۔ (کمال الدین، ج ۱ ، باب ۲۳ ، ح ۶۱ ، صفحہ ۳۰۶)
قابل ذکر بات یہ ہے کہ امام علیہ السلام کے لشکر کے ذریعہ فتح ہونے والے علاقوں میں سے ”بیت المقدس“‘ بھی ہے ( روزگار رھائی، ج ۱ ، صفحہ ۴۵۵) جس کے بعد ایک بہت ہی مبارک واقعہ رونما ہو گا جس سے امام مہدی علیہ السلام کا انقلاب ایک اہم موڑ پر پہنچ جائے گا جس سے آپ کے محاذ انقلاب کو استحکام ملے گا، اور وہ ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے تشریف لانا۔ کیونکہ قرآن کریم کے فرمان کے مطابق حصرت مسیح زندہ ہیں اور آسمان میں رہتے ہیں لیکن اس موقع پر زمین پر تشریف لائیں گے اور امام مہدی علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ اس طرح وہ سب کے سامنے اپنے اوپر شیعوں کے بارہویں امام علیہ السلام کی فضیلت اور برتری نیز امام مہدی علیہ السلام کی پیروی کا اعلان کریں گے۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: ”قسم اس خدا کی جس نے مجھے مبعوث کیا اور مجھے رحمة للعالمین بنایا، اگر دُنیا کی عمر کا ایک دن بھی بناقی رہ جائے گا تو خداوند عالم اس دن کو اتنا طولانی کر دے گا کہ جس میں میرا فرزند مہدی علیہ السلام قیام کرے گا، اس کے بعد عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) آئیں گے اور (امام) مہدی (علیہ السلام) کے پیچھے نماز پڑھیں گے“۔(بحارالانوار، ج ۱۵ ، صفحہ ۱۷) اس کام کے ذریعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بہت سے عیسائیوں کو کہ جن کی تعداد دُنیا میں بہت ہو گی آخری ذخیرہ الٰہی اور شیعوں کے امام پر ایمان لانے کی ترغیب دیں گے، گویا خداوند عالم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایسے ہی دن کے لئے زندہ رکھا ہے تاکہ حق طلب لوگوں کے لئے چراغ ہدایت قرار پا سکیں، البتہ ہادی برحق حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ذریعہ معجزات ظاہر ہونے اور بشریت کی رہنمائی کے لئے فکری اور عمیق علمی گفتگو کے مواقع فراہم کرنا امام علیہ السلام کے عظیم الشان انقلاب کے منصوبوں میں سے ہے تاکہ لوگوں کی ہدایت کا راستہ ہموار ہو جائے۔
اس کے بعد امام علیہ السلام تحریف سے محفوظ (یہودیوں کی کتاب) توریت کی تختیوں کو زمین سے نکالیں گے ( روزگار رھائی، ج ۱ ، صفحہ ۲۲۵) اور جب یہودی ان تختیوں میں آپ علیہ السلام کی امامت کی نشانیاں دیکھیں گے اور عظیم الشان انقلاب کو دیکھنے، نیز امام علیہ السلام کے پیام حق کو سننے اور آپ کے معجزات کو دیکھ کروہ بھی گروہ در گروہ آپ کے ساتھ ملحق ہو جائین گے اور اس طرح خداوند عالم کا یقینی وعدہ پورا ہو جائے گا اور اسلام پوری دُنیا کو اپنے پرچم کے نیچے جمع کر لے گا۔( هُوَ الَّذِی اَرسَلَ رَسُولَهُ بِالهُدَی وَدِینِ الحَقِّ لِیُظهِرَه عَلَی الدِّینِ کُلِّهِ وَلَو کَرِهَالمُشرِکُو نَ ) (سورہ توبہ، آیت ۳۳)
”وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنائے چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو“۔
قارئین کرام! امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کی مذکورہ تصویر کشی کے پیش نظر صرف ظالم اور ہٹ دھرم لوگ ہی باقی بچیں گے جو حق و حقیقت کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کریں گے اور یہ گروہ بھی مومنین کی اکثریت اور اس انقلاب کے مقابلہ کرنے کی جرا ت نہیں کرے گا اور عدالت مہدیعلیہ السلام کی تلوار سے اپنے شرمناک اعمال کی سزا پائیں گے اور زمین اور اس پر رہنے والے ہمیشہ کے لئے شر و فساد سے محفوظ ہو جائیں گے۔ جب تاریکی اور ظلمت کے بادل چھٹ جائیں گے تو کائنات کو منور کرنے والا سورج طلوع ہو گا اور دشت و بیابان کی منتظر آنکھوں کو روشنی ملے گی۔جی ہاں! ظلم و ستم، برائیوں، تباہیوں اور بزدلی سے مکمل مقابلہ کے بعد عدل و انصاف کی حکومت تشکیل پائے گی اور عدالت مسند حکومت پر جلوہ افروز ہو گی تاکہ ہر چیز اور ہر شخص کو اس کی معین جگہ پر قرار دیا جائے اور ہر چیز کو اس کے حق کے لحاظ سے قرار دیا جائے گا چنانچہ یہ کائنات اور اس میں رہنے والے افراد ایک ایسی حکومت کا مشاہدہ کریں گے جو مکمل طور پر حق و عدالت پر مبنی ہو گی اور کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم و ستم نہیں ہو گا۔ ایسی حکومت جو خداوند عالم کے صفات جمال و جلال کی مظہر ہو گی اور اس کے زیر سایہ انسان اپنی تمام بھولی ہوئی آرزوں کو حاصل کر لے گا۔
قارئین کرام! ہم اس فصل میں چار موضوعات پر بحث کریں گے۔( ۱) امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت کے اغراض و مقاصد( ۲) امام مہدی علیہ السلام کا حکومتی دستور العمل( ۳) اس عدل و انصاف کی حکومت کے ثمرات( ۴) اس حکومت کی خصوصیات۔
اغراض و مقاصد
چونکہ اس کائنات کی غرض خلقت، کمال کے درجات پر فائز ہونا اور تمام کمالات کے مرکز یعنی خداوند عالم سے قریب سے قریب تر ہونا ہے۔ اس عظیم تمنا تک پہنچنے کے لئے اس کے ضروری اسباب و وسائل فراہم ہونا چاہیے۔ حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعلیٰ فرجہ الشریف) کی اس عالمی حکومت کا مقصد قرب الٰہی تک پہنچنے کے وسائل فراہم کرنا اور اس راستہ میں موجود رکاوٹوں کو دُور کرنا ہے۔اگرچہ انسان جسم و رُوح سے مرکب ہے اور اسکی ضرورتین بھی مادی اور معنوی دوحصوں میں تقسیم ہوتی ہیں لہٰذا کمال تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں طرف حساب و کتاب سے قدم بڑھایا جائے اور ”عدالت“ چونکہ الٰہی حکومت کی سب سے بڑی خصوصیت ہے لہٰذا اس کے زیرِ سایہ انسان مادی اور معنوی لحاظ سے ترقی کی منزلیں طے کر سکتا ہے لہٰذا ہمارے بارہویں امام حضرت مہدی علیہ السلام کی حکومت بھی معنوی اورمادی ترقی یافتہ ہوگی اورپورے معاشرہ میں عدالت قائم ہونے کے لحاظ سے قابل ذکر ہے۔
معنوی ترقی
مذکورہ اہم اہداف و مقاصد کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم طاغوت اور ظالم بادشاہوں کی حکومت میں انسانی زندگی کی تاریخ کا ایک مختصر سا جائزہ لیں۔
تاریخ بشریت میں (حجت الٰہی کی حکومت سے قطع نظر) معنویت اور معنوی اقدار کی کیا اہمیت ہے؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ بشریت بھٹکی ہوئی ہے اور ہمیشہ برائیوں کے راستے پر گامزن ہے اور اپنے نفس اور شیطانی وسوسوں کی پیروی کرتے ہوئے اپنی ہر خوبصورتی اور خوبیوں کو بھلا بیٹھی ہے اور ان کو خود اپنے ہی ہاتھوں شہوتوں کے قبرستان میں دفن کر دیا ہے؟ پاکیزگی اور عفت، صداقت، تعاون اور نصرت، ایثار و بخشش اور نیکی و احسان کی جگہ ہوا پرستی، شہوت پرستی، جھوٹ، دھوکہ بازی، خود پرستی، عیب جوئی، خیانت، ظلم و ستم، زیادہ کی ہوس اور زیادہ طلبی ہے۔ ایک جملہ میں یوں کہا جائے کہ انسانی زندگی میں معنویت دم توڑتی جا رہی ہے بلکہ بہت سے مقامات پر اور بہت سے نام نہاد لوگوں کے اندر معنویت کے اثرات بھی ختم ہو چکے ہیں۔حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت انسان کے وجود میں اسی چیز کو زندہ کرنے کے لئے قدم اُٹھائیںگے اور مردہ انسان کو ایک نئی حیات عطا کرےں گے تاکہ مسجود ملائکہ کو حقیقی زندگی اور واقعی حیات کی شرینی مل جائے اور سب کو یہ یاد دہانی کرائےں کہ شروع ہی سے تقدیر یہی تھی کہ تم ایسے زمانہ میں زندگی بسر کرو گے اور پاکیزگی اور نیکیوں کے عطر کی خوشبو اپنی رُوح میں پاو گے۔( یَا اَیَُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا استَجِیبُوا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُولِ اِذَا دَعَاکُم لِمَا یُحِییکُم. ) .. (سورہ انفال، آیت ۴۲)
”اے ایمان والو! اﷲ اور رسول کی آواز پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس امر کی طرف دعوت دیں جس میں تمہاری زندگی ہے........“۔لہٰذا یہ معنوی حیات جس کی وجہ سے انسان حیوان سے الگ ہوتا ہے دراصل انسان کا اصلی وجود اور اہم حصہ ہے کیونکہ انسان اسی زندگی کی وجہ سے ”آدمی“ کہا جاتا ہے اور یہی زندگی انسان کو خداوند خالق سے نزدیک کرتی ہے اور اس کو ”مقام قرب“ پہنچا دیتی ہے۔ اس وجہ سے حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت میں انسان کا یہ پہلو اُجاگر ہو گا اور زندگی کے تمام پہلووں میں انسانی اقدار کی رونق اور شادابی ہو گی۔ صفا اور محبت، ایثار و وفا صدق و صداقت اور ہر اس چیز کا بول بالا ہو گا جس پر ”خوبی اور نیکی“ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اگرچہ اس عظیم الشان اور مقدس مقصد تک پہنچنے کے لئے ایک گہرے منصوبہ کی ضرورت ہے کہ جس کو ہم آئندہ بیان کریں گے۔
عدالت میں وسعت دینا
ہر انسانی معاشرہ میں ظلم و ستم سب سے بڑا زخم رہا ہے۔ بشریت ہمیشہ مختلف مسائل میں اپنے حقوق تک پہچننے سے محروم رہی ہے اور کبھی بھی عالم بشریت میں مادی اور معنوی نعمتیں عدل و انصاف کے مطابق تقسیم نہیں ہوئی ہیں ہمیشہ شکم سیر لوگوں کے ساتھ ایک گروہ بھوکا رہا ہے، ہمیشہ بڑے بڑے محلوں کے آس پاس بہت سے لوگ راستوں اور فٹ پاتھوں پر زندگی بسر کرتے رہے ہیں، مال و دولت کی طاقت نے غریب اور محتاج لوگوں کو غلامی کی زنجیر میں کھینچا ہے اور گورو نے کالوں پر (صرف کالے ہونے کے جرم میں) ظلم و ستم کئے ہیں۔ ایک جملہ میں یوں کہیں کہ ہمیشہ اور ہر جگہ غریب اور کمزوروں کے حقوق، طاقتوروں اور مکاروں کے ذریعہ پامال ہوتے رہے ہیں، جبکہ انسان کی ہمیشہ سے یہ دلی تمنا رہی ہے کہ ایک روز آئے کہ جب عدالت اور مساوات کا بولا بالا ہو، لہٰذا انسان ہمیشہ سے عدالت کی حکومت کے انتظار میں ہے۔ اس انتظار کی آخری حد امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا سبز زمانہ ہے، وہ سب سے عظیم عادل رہبر اور انصاف کرنے والے ہادی کے عنوان سے پوری دُنیا میں عدالت کو نافذ فرمائیں گے، چنانچہ اسی شیریں حقیقت کی بشارت متعدد روایات میں بیان ہوئی ہے۔حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:”اگر دُنیا کا ایک دن بھی باقی رہ جائے گا تو خداوند عالم اس دن کو اتنا طولانی کر دے گا کہ میری نسل سے ایک شخص قیام کرے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسا کہ ظلم وستم سے بھری ہو گی اور یہ بات میں نے پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے سنی ہے“۔ (کمال الدین، ج ۱ ، باب ۰۳ ، ح ۴ ، صفحہ ۴۸۵)
اس کے علاوہ دوسری دسیوں روایات میں امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں عالمی عدالت برقرار ہونے اور ظلم و ستم کے خاتمہ کی خبر دی گئی ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ عدالت اور انصاف امام مہدی علیہ السلام کی وہ ممتاز خصوصیت ہے جس کی وجہ سے بعض دُعاوں میں آپ کو اسی لقب سے یاد کیا گیا ہے: اَللّٰہُمَّ وَ صل عَلٰی ولی امرک القائم المومل والعدلِ المنتظر (مفاتیح الجنان، دُعائے افتتاح)
”خداوندا! تیرا درود و سلام ہو تیرے ولی پر جو سب انتظار کرنے والوں کے لئے آرزو اور عدالت قائم کرنے والا ہے“۔جی ہاں! وہ عدالت و انصاف کو اپنے انقلاب کا عنوان قرار دے گا کیونکہ عدالت، ذاتی اور اجتماعی زندگی میں حیات حقیقی کے راستہ کو ہموار کرتی ہے، کیونکہ زمین اور اس پر زندگی بسر کرنے والے عدالت کے بٍغیر ایسے مردہ اور بے رُوح ہیں جن کو زندہ شمار کیا جاتا ہے۔وہ زندہ چلتی پھرتی لاشیں ہیں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے درج ذیل آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے:( اعلَمُوا اَنَّ اللّٰهَ یُحِی الَاَرضَ بَعدَ مَوتِهَا ) ( سورہ حدید، آیت ۷۱)
”یاد رکھو کہ خدا مردہ زمینوں کا زندہ کرنے والا ہے........“۔
”مقصد یہ نہیں کہ زمین کو بارش کے ذریعہ زندہ کیا جائے بلکہ خداوند عالم کچھ مردوں (انسانوں) (دیگر روایات کے پیش نظر یہ آیت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ ظہور کے بارے میں تفسیر ہوئی ہے یہاں انسانوں سے مراد امام کے انصار و اصحاب ہیں) کو تحریک کرے گا جو عدالت کو زندہ (اور قائم) کریں گے پس (معاشرہ میں) عدل و انصاف کی رُوح کے ذریعہ زمین زندہ ہو جائے گی“۔”زمین کا زندہ ہونا“ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ امام مہدی (ع) کی عدالت عام عدالت ہو گی جو سب جگہ قائم ہو گی، نہ کہ بعض علاقوں میں اور بعض لوگوں کے لئے۔ دوسری روایات کے پیش نظر جن میں مذکورہ آیت کی تفسیر میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ناصرین مراد لئے گئے ہیں ان میں ”مَردوں“ سے مراد آپ کے ناصر و مددگار مراد ہیںکہ انہیں اٹھایا جائے گا۔
درس کا خلاصہ:
حضرت کازمانہ ظہور الٰہی ارادہ ظہور کی شرائط کے فراہم ہونے کے ساتھ مشروط ہے اسی لئے روایات میں اس کا وقت معین کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
زمانہ ظہور کا مخفی رہنا بہت سی حکمتوں کا باعث ہے مثلاً اُمید افزاءاحساسات کا باقی رہنا اور ان کے ظہور کے شرائط فراہم کرنے کا عزم و ارادہ کا موجود رہتا بلکہ مسلسل بڑھتے رہنا۔
زمین پر ظلم و تباہی کا غلبہ ہوجانے کے بعد امام مہدی علیہ السلام الٰہی حکم سے ظہورفرمائیں گے اور سرزمین مکہ سے اپنی عالمی دعوت کا آغاز کریں گے۔
حضرت کی حکومت کے اہم ترین مقاصد میں سے دُنیا میں باطنی نورانیت کا بڑھنا اور ہر جہت سے عدالت کو وسعت دینا ہے۔
درس کا سوالات:
۱ ۔زمانہ ظہور کا مخفی رہنا کیسے ان کے ظہور کی شرائط کو مہیا کرنے کے احساسات کو باقی رکھ سکتا ہے؟
۲ ۔ روایات میں ان کے ظہور کے وقت کو معین کرنے سے منع کرنے کا کیا فلسفہ بیان ہوا ہے؟
۳ ۔ روایات کی روشنی میں امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی کیفیت بیان کریں؟
۴ ۔ کیوں دینی و معنوی حالت کو احیاءکرنا اور وسعت دینا امام مہدی عجل اﷲ فرجہ الشریف کی حکومت کے اہم مقاصد میں شمار ہوتا ہے؟
بارہواں درس
حکومتی منصوبے
مقاصد:
۱ ۔ حضرت علیہ السلام کے پروگراموں سے آشنائی
۲ ۔ حضرت کے اصلاحی پروگراموں سے الہام لین
فوائد:
۱ ۔ دُنیا کے مستقبل کے بارے معرفت بڑھانا
۲ ۔ شخصی زندگی کو زمانہ ظہور سے ہم آہنگ کرن
تعلیمی مطالب:
۱ ۔ حضرت کے ثقافتی پروگرامز (الٰہی سنت کا احیائ، اخلاق، علم کی وسعت....)
۲ ۔ حضرت کے اقتصادی پروگرامز (قدرتی منابع، تقسیم، آبادانی........)
۳ ۔ حضرت کے معاشرتی پروگرامز (امر بالمعروف کا احیاءکرنا، الٰہی حدود کا اجراء....)
حکومتی منصوبے
حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی عدل و انصاف کی حکومت کے اہداف و مقاصد سے آگاہی کے بعد اس حکومت کے منصوبوں اور پروگراموں کے بارے بیان کیا جاتا ہے تاکہ ظہور کے زمانہ میں فعالیت اور کارکردگی کے طریقہ کار کی شناخت کے ساتھ ساتھ ظہور سے پہلے کے لئے دستور العمل طے کیا جائے کہ اس سے عظیم منجی عالم بشریت کے انتظار میں رہنے والے افراد امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت کے طریقہ کار اور منصبوبوں سے آگاہ ہو جائیں جن کے پیش نطر وہ خود اور معاشرہ کو اس راہ پر چلنے کے لئے ہدایت کریں۔ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے سلسلہ میں بیان ہونے والی متعدد روایات میں آپؑ کے حکومت کے لئے تین اصلی محور ذکر ہوئے ہیں: ثقافتی منصوبے، اجتماعی منصوبے اور اقتصادی منصوبے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ انسانی معاشرہ قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے دُورہونے کی وجہ سے ثقافتی میدان میں بحران کا شکار ہو گیا ہے، لہٰذا اس کو ایک عظیم الشان ثقافتی انقلاب کی صورت میں قرآن و عترت کی طرف پلٹانا ضروری ہے۔جس طرح اس وقت ثقافتی یلغار ہے اور غیر الٰہی ثقافت ہر جگہ سایہ فگن ہے اسے تبدیل کر کے صحیح انسانی اور الٰہی ثقافت کو رائج کیا جائے گا۔
اس کے ایک ”اجتماعی جامع منصوبہ“ کا بھی ہونا ضروری ہے کیونکہ انسانی معاشرہ میں مختلف قسم کے زخم موجود ہیں لہٰذا ایک ایسے صحیح منصوبہ کی ضرورت ہے جو معاشرہ کی واقعی حیات کا ضامن ہو، جس میں تمام انسانوں کے انسانی اور الٰہی حقوق کا خیال رکھا جائے اور ظالمانہ طریقہ کار کو ختم کیا جائے کہ جس نے معاشرہ میں افراتفری اور ظلم و فساد پیدا کر دیا ہے، نیز کمزور اور غریبوں کے حقوق کو پامال کر رہے ہیں لہٰذا ایسے ماحول میں ایک صحیح اور انصاف کی بنیاد پر بنائے جانے والے منصوبہ کی ضرورت ہے۔
ثقافتی ترقی اور اجتماعی رشد و نمو کا راستہ ہموار ہونے کے لئے اقتصادی دستور العمل بھی ضروری ہے تاکہ زمین پر موجود تمام مادی امکانات سے سب لوگ عادلانہ طور پر فیضیاب ہو سکیں اور ہر جگہ اور ہر طبقہ کے لئے معاش زندگی حاصل کرنا ممکن ہو۔
امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے منصوبوں سے مختصر آگاہی کے بعد ائمہ معصومین علیہم السلام کی روایات میں بیان ہونے والی تفصیل کو بیان کرتے ہیں اور ہرایک پہلو بارے اہم منصوبوں کو بیان کرتے ہیں:
(الف) ثقافتی پروگرام
امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت میں تمام ثقافتی پروگرامز لوگوں کی علمی اور عملی رشد و نمو اور ترقی کے لئے ہوں گے اور ہر لحاظ سے جہل و نادانی کا مقابلہ کیا جائے گا۔
حکومتِ حق میں ثقافتی جہاد کے اہم محور کچھ اس طرح ہوں گے:۔
۱ ۔کتاب و سنت کو زندہ کرنا
قرآن کریم ہر زمانہ میں غریب اور بالائے طاق رہا ہے اور انسانی زندگی میں اس کو بھلا دیا گیا ہے۔ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں قرآن کریم کی حیات بخش تعلیمات پر انسانی زندگی میں عمل درآمد ہو گا اور معصومین علیہم السلام کی سنت زندگی کے ہر موڑ پر انسانی حیات کے لئے نمونہ عمل قرار پائے گی اور سب کے اعمال قرآن و عترت کے پاک و پاکیزہ معیار کے ترازو میں تولے جائیں گے۔
حضرت علی علیہ السلام اپنے عظیم الشان کلام میں امام مہدی علیہ السلام کی قرآنی حکومت کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اس زمانہ میں کہ جب انسان کی ہوائے نفس (انسان پر) حکومت کرے گی، امام مہدی (علیہ السلام) ظہور فرمائیں گے اور ہوائے نفس کی جگہ ہدایت اور فلاح کی حکومت قرار پائے گی اور جس زمانہ میں اپنی ذاتی رائے قرآن پر مقدم ہو چکی ہو گی اس موقع پر افکار قرآن کی طرف متوجہ ہوں گے اور معاشرہ میں قرآن ہی کی حکومت ہو گی“۔ (نہج البلاغہ، خطبہ ۸۳۱)
نیز ایک دوسری جگہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ میں انسانی معاشرہ میں قرآن پر عمل درآمد ہونے کے سلسلہ میں یہ بشارت دیتے ہیں:
”گویا میں اسی وقت اپنے شیعوں کو دیکھ رہا ہوں جو مسجد کوفہ میں خیمہ لگائے بیٹھے ہیں اور قرآن جس طرح سے نازل ہوا بالکل اسی طرح لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں........“۔(غیبت نعمانی، باب ۱۲ ، ح ۳ ، صفحہ ۳۳۳)
اور قرآن کی تعلیم حاصل کرنا اور اس کی تعلیم دینا، قرآنی ثقافت کے رائج ہونے دراصل انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں قرآن و اسلامی احکام کی حکمرانی کا نقطہ آغاز ہے۔
۲ ۔ معرفت اور اخلاقیات میں وسعت
قرآن کریم اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں انسان کے اخلاقی رشد اور معنویت کی طرف بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے کیونکہ انسانی خلقت کے بلند و بالا مقصد کے رشد و کمال کی سب سے بڑی وجہ اخلاق حسنہ ہے۔ خود پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنی بعثت کا مقصد مکارم اخلاق کی تکمیل قرار دیا ہے ۔ (پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا:انما بعثتم لاتمم مکارم الاخلاق۔ بے شک میں مکارم اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث ہوا ہوں۔
(میزان الحکمة، مترجم، ج ۴ ، ص ۰۳۵۱)
اور قرآن کریم نے بھی آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کو مومنین کے لئے بہترین نمونہ عمل قرار دیا ہے۔ (قرآن کریم کے سورہ احزاب کی آیت نمبر ۱۲ کی طرف اشارہ ہے: لقد کان فی رسول اللّٰہ اسوة حسنة، بے شک رسول خد (ص) تمہارے لے اسوہ حسنہ ہیں)
لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ انسان کے قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کی ہدایت اور ارشادات سے دُوری کی وجہ سے معاشرہ خصوصاً مسلمانی معاشرہ برائیوں اور پستیوں کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے اور اخلاقی اقدار سے یہی انحراف انسان کی انفرادی اور اجتماعی حیات کی تباہی کا باعث بنا ہے۔
حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی حکومت جو کہ الٰہی حکومت اور الٰہی اقدار کی حکومت ہو گی اس میں اخلاقی اقدار کے رواج منصوبہ سب سے اہم قرار دیا جائے گا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
اِذَا قَامَ قَائِمُنَا وَضَعَ یَدَهُ عَلٰی رُووسِ العِبَادِ فَجَمَعَ بِهِ عَقُو لُهُم وَاَکمَلَ بِهَ اَخلَاقُهُم ۔ (بحارالانوار، ج ۲۵ ، ص ۶۳۳)
”جب ہمارا قائم (علیہ السلام) قیام کرے گا تو مومنین کے سروں پر اپنا ہاتھ رکھیں گے جس سے ان کی عقل جمع ہو جائے گی اور ان کا اخلاق کامل ہو جائے گا“۔
یہ اشارہ اور کنایہ پر مشتمل بہترین جملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کہ جو اخلاق اور معنویت کی حکومت ہوگی، عقلی کمال اور انسانی اخلاق کی تکمیل کا راستہ فراہم کرے گی کیونکہ انسان میں برائیاں اس کی کم عقلی کی وجہ سے ہوتی ہیں اور جب انسان کی عقل کامل ہو جائے گی تو پھر انسان میں اخلاق حسنہ پیدا ہو جائے گا۔
دوسری طرف قرآن اور سنت الٰہی کی ہدایت سے لبریز ماحول انسان کو نیکی اور اچھائی کی طرف ے جائے گا، لہٰذا ظاہر و باطن دونوں طرف سے انسان میں اخلاقی فضائل کی طرف قدم بڑھانے کی کشش پائی جائے گی، چنانچہ اس طرح دُنیا بھر میں انسان اور الٰہی اقدار نافذ ہو جائیں گی۔
۳ ۔ علم کی ترقی
امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا ایک ثقافی پروگرام ”علم کی ترقی اور انسانی دانش کی عظیم پیشرفت ہے“ اور یہ حکومت بذات خود علوم کا مرکز اور اس زمانہ کے علماءکی سرمشق ہو گی۔
جس وقت پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے امام مہدی علیہ السلام کے آنے کی بشارت دی تو اسی موقع پر آپ نے اس موضوع کی طرف اشارہ فرمایا: (امام حسین علیہ السلام کی نسل سے) نویں امام (حضرت) قائم ہیں، جن کے دست مبارک سے دُنیا میں نور اور روشنی پھیل جائے گی، جبکہ اس سے پہلے ظلمت و تاریکی میں گرفتار ہو گی اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسا کہ وہ ظلم و ستم سے بھری ہو گی اور پوری دُنیا کو علم و دانش کی دولت سے مالامال کر دے گا جیسا کہ جہل و نادانی سے بھری ہو گی....“ (حضرت علی علیہ السلام نے امام مہدی علیہ السلام کی توصیف میں فرمایا: کہ ان کا علم، دانش تم سب سے زیادہ ہو گی، (غیبت نعمانی، باب ۳۱ ، ح ۱) اور یہ علمی اور فکری تحریک معاشرہ کے ہر طبقہ کے لئے ہو گی۔ اس ترقی اور شکوفائی میں عورت و مرد میں کوئی فرق نہیں ہو گا بلکہ عورتیں بھی علم اور دینی معرفت میں بلند مقام پر پہنچ جائیں گی۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
”امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں تمہیں حکمت (اور علم) عطا ہو گا، یہاں تک کہ عورتیں اپنے گھروں میں کتاب خدا اور سنت رسول( صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے مطابق فیصلہ کیا کریں گی‘۔ ( نعمانی، ص ۹۳۲ ، بحارالانوار، ج ۲۵ ، ص ۲۵۳)
یہ چیز لوگوں کو قرآنی آیات اور اہل بیت علیہم السلام کی احادیث سے نہایت ہی عمیق اور معرفت و شناخت کی طرف اشارہ دیتی ہیں۔
۴ ۔ بدعتوں سے مقابلہ
بدعت ”سنت“ کے مقابلہ ہوتی ہے جس کے معنی دین میں کسی نئی چیز کو داخل کرنے اور اپنی ذاتی رائے اور نظریات کو دین اور دینداری میں شامل کرنے کے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام بدعت ایجاد کرنے والوں کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: ”بدعت ایجاد کرنے والے وہ لوگ ہیں جو حکم خدا اور کتاب خدا نیز پیغمبر خدا (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی مخالفت کرتے ہیں، اور اپنے نفس کی مرضی کے مطابق عمل کرتے ہیں، اگرچہ ان لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہو“۔ (میزان الحکمة، ح ۳۲۶۱)
لہٰذا بدعت کے معنی خدا، اس کی کتاب اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے اور ہوائے نفسانی کو نافذ کرنے اور اپنی ذاتی خواہشات کے مطابق عمل کرنے کے ہیں اور یہ چیز اس کے علاوہ ہے جو الٰہی معیار کی بنیاد اور قرآن و سنت سے الہام لیتے ہوئے کوئی نئی تحقیق کے عنوان سے پیش کی جائے، چنانچہ بدعت ایک ایسی چیز ہے جو حکم خدا و سنت رسول کو ختم کر دیتی ہے حالانکہ دین کےلئے اس سے زیادہ خطرناک کوئی چیز نہیں ہے۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
مَا هَدَمَ الدِّینَ مِثل البِدَعِ (بحارالانوار، ج ۷۸ ، ص ۱۹)
”بدعت کی طرح کسی بھی چیز نے دین کو تباہ و برباد نہیں کیا ہے“۔
اور اسی دلیل کی وجہ سے بدعت گزاروں کے مقابلہ کرنے کے لئے سنت پر عمل کرنے والوں کو قیام کرنا چاہیے اور ان کی سازشوں اور دھوکہ بازیوں سے پردہ اُٹھا دینا چاہیے اور ان کے غلط راستہ کو لوگوں کے سامنے واضح کر دینا چاہیے اور اس طرح سے لوگوں کو گمراہی سے نجات دینا چاہیے۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:
”جب میری اُمت میں بدعتیں ظاہر ہونے لگیں تو علماءکی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علم و دانش کے ذریعہ میدان میں آئیں (اور ان بدعتوں کا مقابلہ کریں) اور اگر کوئی ایسا نہیں کرتا تو اس پر خدا کی لعنت اور نفرین ہو!“۔ (میزان الحکمة، ح ۹۴۶۱)
لیکن افسوس کہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد اسلام میں کیا کیا بدعتیں ایجاد نہیں کی گئیں، اور دینداری کے راستہ میں کیا کیا انحرافات نہیں کئے گئے اور کتنے ہی لوگوں کو گمراہ نہیں کیا گیا ہے اور اس طرح دین کا مقدس چہرہ اُلٹا کر پیش کیا گیا ہے اور دین کی خوبصورت تصویر کو ہوائے نفس اور ذاتی طور و طریقہ کے بادلوں سے ڈھک دیا گیا ہے۔ اگرچہ ائمہ معصومین علیہم السلام جو دین کے جاننے والے تھے اُنہوں نے بے انتہاءکوشش کی لیکن بدعت کا راستہ اور سنت نبوی کی نابودی اسی طرح جاری رہی اور غیبت کے زمانہ میں اس میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
اور اب دُنیا انتظار میں ہے کہ صاحب مکتب اور منجی بشریت اور قرآنی موعود (حضرت امام مہدی علیہ السلام) تشریف لائیں اور ان کی حکومت کے زیر سایہ سنت نبوی زندہ ہو اور بدعتوں کا بستر لپیٹ دیا جائے۔ بے شک امام علیہ السلام کی حکومت کا ایک اہم منصوبہ بدعت اور گمراہی سے مقابلہ تاکہ ہدایت اور انسانی رشد و ترقی کا راستہ ہموار ہو جائے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام، حضرت امام مہدی علیہ السلام کی توصیف کرتے ہوئے ایک طویل حدیث کے ضمن میں ارشاد فرماتے ہیں:وَ لَایَتر کُ بِدَعَةً اِلاَّ اَزَالَهَا وَ لَا سُنَّةً اِلاِّ اَقَامَهَا ........ (بحارالانوار، ج ۸۵ ، ح ۱۱ ، ص ۱۱)
”کوئی بھی بدعت ایسی نہیں ہو گی جس کو جڑ سے اکھاڑ نہ پھنکیں گے اور کوئی بھی سنت ایسی نہ ہو گی جس کو قائم نہ کریں گے“۔
ب۔ اقتصادی منصوبہ
ایک صحیح و کامل معاشرہ کی پہچان صحیح اقتصاد ہے۔ اگر معاشرہ میں مال و دولت سے صحیح فائدہ نہ اُٹھایا جائے اور اس کو لوگوں تک پہنچانے کے ذرائع کسی خاص گروہ کے اختیار میں نہ ہوں بلکہ حکومت معاشرہ کے ہر فرد پر توجہ رکھے سب کے لئے ذریعہ معاش فراہم ہو تو ایسے معاشرہ میں انسان کے لئے معنوی ترقی اور رشد کا راستہ مزید ہموار ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم اور معصومین علیہم السلام کی روایات میں بھی اقتصادی پہلو اور لوگوں کے معاشی نظام پر توجہ کی گئی ہے۔ اس بنا پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی قرآنی حکومت اور عالمی اقتصاد اور عوام الناس کے لئے خاص منصوبہ ہو گا جس کی بنیاد پر زراعتی، طبیعی اور خدادادی نعمتوں سے بہتر طور پر فائدہ اُٹھایا جائے گااور اس سے حاصل ہونے والے سرمایہ کو عدل و انصاف کے مطابق معاشرہ کے ہر طبقہ میں تقسیم کیا جائے گا۔ مناسب ہے کہ ہم ان روایات کا مختصر جائزہ لیں تاکہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں اقتصادی منصوبہ بندی کے بارے میں جان سکیں۔
۱ ۔ طبیعی منابع سے مستفید ہونا
اقتصادی مشکلات میں سے ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ خداداد نعمتوں سے صحیح اور بجا فائدہ نہیں اُٹھایا جاتا ہے نہ تو زمین کی تمام خوبیوں سے صحیح فائدہ اُٹھایا جاتا ہے اور نہ ہی پانی سے زمین کی آبادکاری کے لئے صحیح فائدہ اُٹھایا جاتا ہے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں اور حکومت حق کی برکت سے آسمان سخی ہو کر بارش برسائے گا اور زمین بغیر چون و چرا کے فصل اُگائے گی۔
جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
وَ لَو قَد قَامَ قَائِمُنَا لَاَنزَلَتِ السَّمَاءُ قَطرَهَا، وَ لَاَخرَجَتِ الاَرضَ نَبَاتَهٰا ۔۔۔۔۔ (بحارالانوار، ج ۰۱ ، ص ۴۰۱ ، خصال شیخ صدوق، ص ۶۲۶)
”اور جب قائم آل محمد علیہ السلام قیام کریں گے تو آسمان سے بارشیں ہوں گی اور زمین دانہ اُگائے گی........“۔
آخری حجت حق کی حکومت کے زمانہ میں زمین اور اس کے ذرائع امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے اختیار میں ہوں گے تاکہ مکمل اقتصاد کے لئے ایک عظیم سرمایہ جمع ہو جائے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:تقویٰ له الارض و تظهرله الکنوز ........ ( کمال الدین، ج ۱ ، باب ۲۳ ، ح ۶۱ ، ص ۳۰۶)
”زمین ان کے لئے سمٹ جایا کرے گی، (اور وہ پل بھر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جائیں گے) اور تمام خزانے ان کے لئے ظاہر ہو جائیں گے“۔
۲ ۔ دولت کی عادلانہ تقسیم
نادرست اقتصاد کی سب سے اہم وجہ یہ ہوتی ہے کہ دولت ایک خاص گروہ کے قبضہ میں جمع ہو جاتی ہے۔ ہمیشہ ایسا ہی ہوتارہا ہے کہ بعض افراد یا بعض گروہ جو اپنے لئے ( کسی بھی دلیل کے تحت) خاص امتیاز کے قائل تھے اُنہوں نے عمومی مال و دولت پر قبضہ کر لیا اور اس کو ذاتی مفاد یا کسی خاص گروہ کے لئے استعمال کرتے رہے۔ امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) ایسے لوگوں سے مقابلہ کریں گے اور عمومی مال و دولت کو عام لوگوں کے اختیار میں دیں گے اور ”عدالت علوی“ سب کے سامنے پیش کریں گے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:اِذَا قَامَ قَائِمُنَا اَهلَ البَیتِ قَسَّمَ بِالسَّوِیَّةِ وَ عَدَلَ فِی الرَّعیَةِ (نعمانی، باب ۳۱ ، ح ۶۲ ، ص ۲۴۳)
”جب ہم اہل بیت کا قائم قیام کرے گا تو (مال و دولت کو) برابر تقسیم کرے گا اور لوگوں کے درمیان عدل و انصاف سے کام لے گا“۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں مساوات اور برابری کے قانون کو نافذ کیا جائے گا اور سب کو انسانی اور الٰہی حقوق دیئے جائیں گے۔اور مال و دولت کی عادلانہ تقسیم ہو گی۔
حضرت پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:
”میں تم کو مہدی (علیہ السلام) کی بشارت دیتا ہوں جو میری اُمت میں قیام کرے گا وہ مال و دولت کو صحیح تقسیم کرے گا، کسی نے سوال کیا: اس کا کیا مقصد ہے؟ تو فرمایا: یعنی لوگوں کے درمیان مساوات قائم کرے گا“۔ (بحارالانوار، ج ۱۵ ، ص ۱۸)
اور معاشرہ میں اس مساوات کا نتیجہ یہ ہو گا کہ کوئی بھی فقیر یا محتاج نہیں ملے گا اور طبقاتی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
”تمہارے درمیان امام مہدی علیہ السلام ایسی مساوات قائم کریں گے کہ کوئی بھی زکوٰة کا مستحق نہیں مل پائے گا“۔ (بحارالانوار، ج ۱۵ ، ص ۰۹۳)
۳ ۔ ویرانوں کی آبادکاری
آج کل کی حکومتوں میں صرف انہی لوگوں کی زمین آباد ہوتی ہے جو حکام اور ان کے گرد و نواح والوں اور ان کے ہم فکر لوگ یا بڑے صاحب قدرت لوگ ہوتے ہیں لیکن دوسروں طبقوں کو بھلا دیا جاتا ہے لیکن امام مہدی علیہ السلام کی کو حکومت میں چونکہ پیداوار اور تقسیم کا مسئلہ حل ہو جائے گا لہٰذا ہر جگہ نعمتیں اور آبادکاری ہو گی اور سب کی زندگی خوشحالی ہوگی سب کے لئے زمین آباد ہوں گی۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہی:فلا یبقیٰ فی الارض خزاب الا عمَّ ........ (کمال الدین، ج ۱ ، باب ۲۳ ، ح ۶۱ ، ص ۳۰۶)
”پوری زمین میں کوئی ویرانہ نہیں ملے گا مگر یہ کہ اس کو آباد کر دیا جائے گا“۔
ج۔ معاشرتی منصوبہ بندی
انسانی معاشرہ کی اصلاح کا ایک پہلو صحیح معاشرتی منصوبہ بندی ہے۔ دُنیا کے سب سے بڑے منصف کی حکومت میں معاشرہ کو صحیح ڈگر پر لگانے کے لئے قرآن اور سنت اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے مطابق منصوبہ بندی کی جائے گی جس کے نافذ ہونے سے انسانی زندگی میں رشد و نمو اور بلند مقام تک پہنچنے کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔ حکومت الٰہی کے تحت اس دُنیا میں نیکیوں کو رائج کیا جائے گا اور برائیوں سے روکا جائے گا اور بدکاروں کے ساتھ قانونی مقابلہ کیا جائے گا، نیز لوگوں کے معاشرتی حقوق مساوات اور عدالت کی بنیاد سے دیئے جائیں گے اور اجتماعی عدالت حقیقی طور پر قائم کی جائے گی۔
قارئین کرام! یہاں پر مناسب ہے کہ ایک نظر ان روایات پر ڈالیں جن میں اس حسین دُنیا کے جلوو ں کا اچھی طرح نظارہ ہو سکے۔
۱ ۔ وسیع پیمانہ پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی عالمی حکومت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ پر بہت وسیع پیمانہ پر عمل ہو گا جس کے بارے میں قرآن کریم نے بھی بہت زیادہ تاکید کی ہے اور اسی بنا پر اُمت اسلامیہ کو منتخب اُمت کے عنوان سے یاد کیا ہے۔ (سورہ آل عمران آیت ۰۱۱) جس کے ذریعہ تمام واجبات الٰہی پر عمل ہوںا ہے (اس اہم واجب کے بارے میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: ان الامر بالمعروف و النہی عن المنکر.... فریضة عظیمة بہا تقام الفرائض، (امر بالعمروف اور نہی عن المنکر ایسے واجبات ہیں کہ جن کے سبب تمام واجبات کا قیام ہے)۔ (میزن الحکمة مترجم، ج ۸ ، ص ۴۰۷۳) اور اس کا ترک کرنا ہلاکت کا بنیادی رکن، نیکیوں کی نابودی اور معاشرہ میں برائیوں کا پھیلنے کا اصلی سبب ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا بہترین اور بلند ترین مرتبہ یہ ہے کہ حکومت کا رئیس اور اس کے عہدے دار نیکیوں کی ہدایت کرنے والے اور برائیوں سے روکنے والے ہوں۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
اَلمَهدِیَ وَ اَصحَابُهُ.... یَامُرُونَ بِالمَعرُوفِ وَیَنهَونَ عَنِ المُنکِر (بحارالانوار، ج ۱۵ ، ص ۷۴)
”امام مہدی علیہ السلام اور آپ کے ناصر و مددگار امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے ہوں گے“۔
۲ ۔ برائیوں کا مقابلہ کرنا
برائیوں سے روکنا جو الٰہی حکومت کا ایک امتیاز ہے صرف زبانی طور پر نہیں ہو گا بلکہ برائیوں سے عملی طور پر مقابلہ ہو گا یہاں تک کہ برائی اور اخلاقی پستی کا معاشرہ میں کوئی وجود نہ ہو گا اور انسانی زندگی برائیوں سے پاک ہو جائے گی۔
جیسا کہ دُعائے ندبہ میں بیان ہوا ہے کہ جو محبوب غائب کے فراق کا درِ دل ہے:
اَینَ قَاطِع حَبَائِلِ الکِذبِ وَالاَفتَرَاءِ، اَینَ طَامِس آثَارِ الزَّیغِ وَالاَهَوَاءِ ۔(مفاتیح الجنان، دُعائے ندبہ)
”کہاں ہے وہ جو جھوٹ اور بہتان کی رسیوں کا کاٹنے والا ہے؟ اور کہاں ہے جو گمراہی اور ہوا و ہوس کے آثار کو نابود کرنے والا ہے؟“۔
۳ ۔ حدود الٰہی کا نفاذ
معاشرہ کے شرپسند اور مفسد لوگوں سے مقابلہ کے لئے مختلف راستے اپنائے جاتے ہیں۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں ایک طرف تو فاسقوں اور شرپسندوں کو ثقافتی پروگرام کے تحت اور تعلیمات الٰہی کے ذریعہ عقائد اور ایمان کی طرف پلٹا دیا جائے گا اور دوسری طرف ان کی زندگی کی جائز اور معقول ضرورتوں کو پورا کرنے اور اجتماعی عدالت نافذ کرنے سے ان کےلئے برائی اور فساد کے راستہ کوبند کر دیا جائے گا لیکن جو لوگ اس کے باوجود بھی دوسروں کے حقوق اور احکام الٰہی کو پامال کر دیں گے اور قوانین کی رعایت نہیں کریں گے تو ان سے سختی کے ساتھ مقابلہ کیا جائے گا تاکہ ان کے راستے بند ہو جائیں اور معاشرہ میں پھیلی ہوئی برائیوں کی روک تھام ہو سکے جیسا کہ مفسدوں کی سزا کے بارے میں اسلام کے جزائی قوانین میں بیان ہوا ہے۔حضرت امام محمد تقی علیہ السلام نے پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے روایت نقل ہوئی ہے جس میں آنحضرت (ص) نے امام مہدی علیہ السلام کی خصوصیات بیان کی ہیں، فرماتے ہیں:
”وہ الٰہی حدود کو قائم (اور ان کو نافذ) کریں گے“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵ ، باب ۷۲ ، ح ۴)
۴ ۔ منصفانہ فیصلے
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا ایک ایسا اہم پروگرام معاشرہ کے ہر پہلو میں عدالت کو نافذ کرنا ہو گا، اور آپ ہی کے ذریعہ پوری دُنیا عدالت اور انصاف سے بھر جائے گی جیسا کہ ظلم و ستم سے بھری ہو گی۔ قضاوت اور فیصلوں میں عدالت کا نافذ ہونا ایک حیاتی ضرورت ہے کیونکہ اسی سلسلہ میں سب سے زیادہ ظلم اور حق تلفی ہوتی ہے کسی کا مال کسی اورکو مل جاتا ہے اور ناحق خون بہانے والے ظالم کو سزا نہیں ملتی، بے گناہ لوگوں کی عزت و آبرو پامال ہوتی ہے ۔ دُنیا بھر کی عدالتوں میں سے سب سے زیادہ ظلم معاشرہ کے کمزور لوگوں پر ہوا ہے اور صاحبان قدرت اور ظالم حکمرانوں کے زیر اثر ان عدالتی فیصلوں میں بہت سے لوگوں کی جان و مال پر ظلم ہوا ہے۔ دُنیا پرست ججوں نے اپنے ذاتی مفاد اور قوم و قبیلہ پرستی کی بنا پر بہت سے غیر منصفانہ فیصلہ کئے ہیں اور ان کو نافذ کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ کتنے ایسے بے گناہ لوگ ہوں گے جن کو سولی پر لٹکا دیا گیا اور کتنے ایسے مجرم اور فسادی لوگ ہوں گے جن کے بارے میں قانون جاری نہیں ہوا ہے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عادل حکومت، تمام ظلم و ستم اور ہر حق تلفی کا خاتمہ کر دے گی۔ آپ کی ذات گرامی جو عدالت پروردگار کی مظہر ہے انصاف کے محکمے قائم کرے گی اور اپنی عدلیہ میں اپنے نیک و صالح قاضی مقرر کرے گی کہ جو خوف خدا رکھنے والے نیز دقیق طور پر حکم نافذ کرنے والے ہوں گے تاکہ دُنیا کے کسی گوشہ میں کسی پر ذرا بھی ظلم نہ کیاجائے۔حضرت امام رضا علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے سنہرے موقع کی توصیف میں ایک طولانی روایت کے ضمن میں فرماتے ہیں:
فَاِذَا خَرَجَ اَشرَقَتِ ال اَر ضِ بِنُورِ رَبَّهَا،وَ وَضَعَ مِیزَانَ العَدلِ بَینَ النَّاسِ فَلَا یَظلِم اَحَد اَحَداً (بحارالانوار، ج ۲۵ ، ص ۱۲۳)
جب وہ ظہور کریں گے تو زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہو جائے گی اور وہ لوگوں کے درمیان حق و عدالت کی میزان قائم کریں گے، پس وہ (ایسی عدالت جاری کریں گے کہ) کوئی کسی دوسرے ر ذرّہ بھی ظلم و ستم نہیں کرے گا“۔
قارئین کرام! اس روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی حکومت میں محکمہ عدل و انصاف مکمل طور پر نافذ ہو گا جس سے ظالم اور خودغرض انسانوں کے لئے راستے بند ہو جائیں گے اور ظلم و ستم کی تکرار اور دوسرے کے حقوق پر تجاوز کرنے سے روک تھام کی جائے گی۔
درس کا خلاصہ:
امام مہدی علیہ السلام کے اہم ترین ثقافتی پروگرامز مندرجہ ذیل ہیں:
کتاب و سنت کا احیائ، اسلامی اخلاق کا پھیلاو، علم و دانش کی شگوفائی، بدعتوں کا مقابلہ۔
اقتصادی اعتبار سے امام کا پروگرام یہ ہے کہ قدرتی ذخائر سے مکمل فائدہ اُٹھایا جائے گا اور الٰہی رزق و نعمات لوگوں میں تقسیم کی جائیں گی اور دُنیا کی آبادانی کو وسعت دی جائے گی۔ویرانوں کو آباد کیا جائے گا۔
معاشرتی امور میں حضرت کا حکومتی پروگرام یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا احیاءاور الٰہی حدود کا اجرا کیا جائے۔
درس کے سوالات
۱ ۔ زمانہ ظہور میں حضرت کے ذریعے قرآن و سنت کے احیاءسے کیا مراد ہے؟
۲ ۔ زمام باقر علیہ السلام کی حدیث مبارک میں جملہ ”وضع یدہ علی رو س العباد....“ سے کیا مراد ہے؟
۳ ۔ جمہ ”تطوی لہ الارض و تظہر لہ الکنوز“ کا معنی بیان کریں؟
۴ ۔ امام زمانہ علیہ السلام کے اقتصادی پروگرامز کی ان کے موارد کے تذکرہ کے ساتھ وضاحت کریں؟
۵ ۔ امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف اہم ترین اصلاحی اور معاشرتی پروگرامز میں سے تین کی مثالیں بیان کریں؟
تیرھواں درس
حکومت کے نتائج اور ثمرات
مقاصد:
۱ ۔ حضرت کی حکومت کی وسعت اور اس کے ثمرات سے آگاہی۔
۲ ۔ حضرت کے دورانیہ حکومت بارے آگاہی۔
۳ ۔ حضرت کی شخصی اور حکومتی سیرت سے آشنائی۔
فوائد:
۱ ۔ عصر ظہور کے درخشاں دور سے آگاہی
۲ ۔ زمانہ ظہور کے پروگرامز کی جذابیت کو درک کرنا
۳ ۔ زمانہ ظہور کے آپہنچنے کے حوالے سے عشق و اشتیاق
تعلیمی مطالب:
۱ ۔ حضرت کی وسیع عدالت کے نتائج
۲ ۔ حضرت کے اخلاقی اور تربیتی پہلووں کے نتائج
۳ ۔ معاشرتی اور دینی امور میں حضرت کے اقدامات
۴ ۔ حضرت کے علمی اور اقتصادی اقدامات
۵ ۔ حضرت کی حکومت کی حدود اور مدت
حکومت کے نتائج اور ثمرات
آپ حضرات نے بھی دیکھا ہو گا کہ جو لوگ حکومتی دائرہ میں جانا چاہتے ہیں یا قدرت حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ پہلے سے ہی اپنی حکومت کے لئے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہیں اور کبھی کبھی تو ان مقاصد تک پہنچنے کے لئے اپنے منصوبوں کو بھی بیان کر دیتے ہیں لیکن جیسے ہی وہ حکومت اور قدرت تک پہنچتے ہیں تو پھر کچھ ہی دنوں بعد وہ اپنے مقاصد میں ناکام رہ جاتے ہیں یا بعض اوقات اپنی کی ہوئی باتوں سے پلٹ جاتے ہیں، یا اپنے بیان کردہ اہداف اور مقاصد کو بالکل ہی بھول جاتے ہیں!!
لیکن پہلے سے معین ان اہداف و مقاصد تک نہ پہنچنے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ ”اہداف“ واقعی اور اصولی نہیں ہوتے یا اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان اہداف تک پہنچنے کے لئے حکومت کے پاس جامع اور صحیح منصوبہ بندی نہیں ہوتی، اور بہت سے مقامات پر اس ناکامی کا سبب قوانین جاری کرنے والوں کی نااہلی ہوتی ہے۔پھر ان کی خیانت ہوتی ہے۔
امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی حکومت کے اغراض و مقاصد واقعی اور اصولی ہیں جن کی جڑیں انسان کے دل و دماغ کی گہرائیوں میں موجود ہیں، جن تک پہنچنے کی سب آرزو رکھتے ہیں اور وہ پروگرام بھی قرآن کریم اور سنت اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی بنیاد پر ہوں گے اور ہر شعبہ میں اس کے نفاذ کی ضمانت موجود ہو گی۔
لہٰذا اس عظیم الشان انقلاب کے نتائج اور ثمرات بہت ہی زیادہ ہوں گے جس کو ایک جملہ میں خلاصہ کیا جاتا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا نتیجہ یہ ہو گا کہ انسان کی تمام مادی اور معنوی ضرورتیں پوری ہو جائیں گی جن کو خداوند عالم نے انسان کے لئے کائنات میں امانت رکھا ہے۔ ہم یہاں پر روایات کی روشنی میں بعض نتائج اور ثمرات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
۱ ۔ زندگی کے ہر موڑ پر عدالت کا وجود
بہت سی روایات میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے انقلاب کے نتائج اور ثمرات میں سب سے اہم چیز دُنیا میں عدل و انصاف کا عام ہونا بیان ہوا ہے جس کے بارے میں ”آپ علیہ السلام کی حکومت کے اہداف“ کے تحت گفتگو ہو چکی ہے۔ لیکن اس حصہ میں مذکورہ مطالب کے علاوہ اس مطلب کا اضافہ کرتے ہیں کہ قائم آل محمد (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی حکومت میں معاشرہ کے ہر سطح میں عدالت عام ہو جائے گی اور عدالت معاشرہ کی شہ رگوں میں رچ بس جائے گی اور کوئی بھی ایسا چھوٹا بڑا گروہ نہیں ہو گا جس میں عدالت قائم نہ ہو، نیز آپس میں انسانوں کا رابطہ اسی عدالت کی بنیاد پر ہو گا۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے اس سلسلہ میں فرمایا:
”خدا کی قسم! لوگوں کے گھروں میں عدالت کو اس طرح پہنچا دیا جائے گا جیسے گھروں میں سردی اور گرمی پہنچتی ہے“۔(بحارالانوار، ج ۲۵ ، ص ۲۶۳)
جب معاشرہ کا سب سے چھوٹا شعبہ یعنی انسان کا گھر عدالت کا مرکز بن جائے گا اور گھر کے افراد ایک دوسرے سے عادلانہ سلوک کریں گے جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی عالمی اور عدل و انصاف کی حکومت نہ تو طاقت اور قانون کے بل بوتے پر ہو گی بلکہ قرآنی تربیت کی بنیاد پر ہو گی کہ جو عدالت اور احسان کا حکم دیتی ہے۔ (قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: ان اللہ یا مر بالعدل والاحسان یعنی بے شک خداوند عالم نیکی اور عدالت کا حکم دیتا ہے۔ (سورہ نحل آیت ۰۹) لوگوں کی تربیت کرے گی اور ایسے (بہترین) ماحول میں یقیناً سب لوگ اپنے انسانی اور الٰہی فریضہ پر عمل کریں گے اور دوسروں کے حقوق کا احترام کریں گے (اگرچہ کسی عہدہ اور مقام پر بھی فائز نہ ہوں)۔ انتظار کرنے والے مہدوی معاشرہ میں قرآنی اور حکومتی پشت پناہی کے ذریعہ ” عدالت“ ایک اصلی ثقافتی انقلاب ہو گا جس سے ان انگشت شمار لوگوں کے علاوہ کوئی سرپیچی نہیں کرے گا جو خود غرض اور مفاد پرست ہوں گے اور قرآن کریم اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے دُور ہوں گے، جن کے ساتھ حکومت عدل سخت کارروائی کرے گی اور اُن کو آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، خصوصاً حکومتی شعبوں میں شامل ہونے سے روک تھام کی جائے گی۔
جی ہاں! ایسی وسیع اور عام عدالت میں حضرت امام منتظر علیہ السلام کی حکومت کا ثمرہ ہو گا اور اس طرح امام مہدی علیہ السلام کے انقلاب کا بلند ترین مقصد پورا ہو جائے گا کہ دُنیا عدل و انصاف سے بھر جائے گی اور ظلم و ستم اور حقوق کی پامالی نہیں ہو گی یہاں تک کہ گھریلو زندگی میں بھی ایک دوسرے سے تعلقات میں بھی کوئی ظلم و ستم نہیں ہو گا۔
۲ ۔ ایمانی، اخلاقی اور فکری رشد
قارئین کرام! ہم نے گزشتہ صفحات میں یہ عرض کیا ہے کہ معاشرہ میں عدل و انصاف کے عام ہونے سے معاشرہ میں رہنے والوں کی صحیح تربیت اور قرآن و عترت کی ثقافت رائج ہو جائے گی، جیسا کہ آئمہ علیہم السلام سے منقول روایات میں امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی حکومت کے زمانہ میں ایمانی، اخلاقی اور فکری رشد و نمو کی وضاحت کی گئی ہے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:”جب ہمارے قائم (آل محمد) ظہور کریں گے تو وہ اپنا دست کرم خدا کے بندوں کے سروں پر رکھیں گے جس کی برکت سے ان کی عقل و خرد اپنے کمال پر پہنچ جائے گی“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵ ، ح ۱۷ ، ص ۶۳۳)
اور جب انسان کی عقل کمال پر پہنچ جاتی ہے تو تمام خوبیاں اور نیکیاں خود بخود اس میں پیدا ہونے لگتی ہیں کیونکہ عقل انسان کے لئے باطنی پیغمبر ہے کہ اگر جسم و روح کے ملک پر اس کی حکومت ہو جائے تو پھر انسان کی فکر اور عمل راہ خیر و اصلاح پر چل پڑتے ہیں اور خدا کی بندگی اور سعادت کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال ہوا کہ عقل کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: عقل وہ (حقیقت) ہے جس کے ذریعہ خدا کی عبادت کی جائے اور اس کی (رہنمائی کی) وجہ سے جنت حاصل کی جائے“۔ (اصول کافی، ج ۱ ، ح ۳ ، ص ۸۵)
جی ہاں! آج کے معاشرہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ امام اور ان کی حکومت کے بغیر عقل پر شہوات اور خواہشات کا غلبہ ہے اور گروہوں اور پارٹیوں پر سرکش نفس حکومت کئے جا رہا ہے جس کے نتیجہ میں دوسروں کے حقوق پامال اور الٰہی اقدار کو بھلایا جا رہا ہے لیکن ظہور کے زمانہ میں اور حجت خدا (جو عقل کامل ہیں) کی حکومت کے زیر سایہ عقل حکم کرنے والی ہو گی اور جب انسان کی عقل کمال کی منزل پر پہنچ جائے گی تو پھر نیکیوں اور خوبیوں کے علاوہ کوئی حکم نہیں کرے گی۔
۳ ۔ اتحاد اور محبت
متعدد روایات کے پیش نظر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت میں زندگی بسر کرنے والے افراد آپس میں متحد اور محبوب ہوں گے اور آپ علیہ السلام کی حکومت کے مومنین کے دلوں میں کینہ اور دشمنی کے لئے کوئی جگہ نہ ہو گی۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: وَلَو قَد قَامَ قَائِم نَا.... لَذَہَبَتِ الشَّح نَائُ مِن قُلُوبِ ال عِبَاد....
”جب ہمارا قائم قیام کرے گا تو بندگان خدا کے دلوں میں کینہ (اور دشمنی) نہیں رہے گی“۔
اس زمانہ میں کینہ اور دشمنی کے لئے کوئی بہانہ باقی نہیں رہے گا کیونکہ وہ زمانہ عدل و انصاف کا ہو گا جس میں کسی کا کوئی حق پامال نہیں ہو گا، اور وہ زمانہ خردمندی اور غور و فکر کا ہو گا نہ کہ مخالفت عقل اور شہوت پرستی کا۔ ( اس سے پہلے دو حصوں میں امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں عدالت اور عقلی کمال کے بارے میں گفتگو ہو چکی ہے)
لہٰذا بغض و حسد اور دشمنی کے لئے کوئی بہانہ نہیں رہ جائے گا، اور اس طرح لوگوں کے دلوں میں انس اور اُلفت پیدا ہو جائے گی جیسا کہ اس سے پہلے اختلاف اور انتشار پایا جائے گا اور سب قرآنی اخوت اور برادری کی طرف پلٹ جائیں گے۔ (سورہ حجرات کی آیت نمبر ۰۱ کی طرف اشارہ ہے جہاں ارشاد ہوتا ہے انما المومنون اخوة مومنین آپس میںبھائی ہیں) اور آپس میں دو بھائیوں کی طرح ہمدل اور مہربان ہوں گے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام، امام مہدی علیہ السلام کے سنہرے زمانہ کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”(اس زمانہ میں) خداوند عالم، پریشان اور منتشر لوگوں میں وحدت اور اُلفت ایجاد کر دے گا“۔ (کمال دین، ج ۲ ، باب ۵۵ ، ح ۷ ، ص ۸۴۵)
اور اگر خدا کی مدد اس وقت رہے گی تو پھر کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اس مادّی کشمکش کے بحران میں اس ہمدلی، اُلفت اور دلی محبت کا اندزہ لگانا مشکل ہو۔ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”جب ہمارا قائم قیام کرے گا تو واقعی دوستی اور حقیقی ہمدلی (اس حد تک) ہو گی کہ ضرورت مند اپنے برادر ایمانی کی جیب سے اپنی ضرورت کے مطابق پیسہ نکال لے گا اور اس کا (دینی) بھائی اسے نہیں روکے گا“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵ ، ح ۴۶۱ ، ص ۲۷۳)
۴ ۔ جسمانی اور نفسیاتی سلامتی
آج کل انسان کی ایک بڑی مشکل ”لاعلاج اور خطرناک بیماریاں“ ہیں جو مختلف چیزوں کی بنا پر پیدا ہو رہی ہیں جیسے ہمارے رہنے کی فضا آلودہ ہونا اور کیمائی اور ایٹمی اسلحوں کا استعمال، اسی طرح انسانوں کے درمیان آپس میں ناجائز رابطہ، نیز درختوں کا کاٹ ڈالنا اور دریاوں کا پانی نابود کرنا اور اسی طرح کی دوسری چیزیں مختلف خطرناک بیماریوں کی وجوہات ہیں جیسے جذام، طاعون، فلج، سکتہ اور دیگر بہت سی بیماریاں جن کا آج کے زمانہ میں کوئی علاج نہیں ہے اور جسمانی بیماریوں کے علاوہ رُوحی اور نفسیاتی بیماریاں بھی جس کی وجہ سے دُنیا بھر میں انسان کی زندگی بدمزہ اور ناقابل برداشت ہو گئی ہے البتہ یہ سب دُنیا اور انسان پر غلط چیزوں کے استعمال کی وجہ سے ہیں۔ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ میں کہ جو عدل و انصاف اور نیکیوں کا زمانہ ہو گا اور تعلقات برادری اور برابری کی بنیاد پر ہوں گے، انسان کی جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور انسان کی بدنی اور روحانی طاقت تعجب آور شکل میں بڑھ جائے گی۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”جب حضرت قائم امام مہدی علیہ السلام قائم کریں گے تو خداوند عالم مومنین سے بیماریوں کو دُور فرما دے گا اور صحت و تندرستی عنایت کرے گا“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵ ، ح ۸۳۱ ، ص ۴۶۳)
آپ کی حکومت میں جب علم و دانش کی بہت زیادہ ترقی ہو گی تو کوئی لاعلاج بیماری باقی نہیں رہے گی، علم طب اور ڈاکٹری میں بہت زیادہ ترقی ہو گی اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کی برکت سے بہت سے بیماروں کو شفا مل جائے گی۔
حضرت امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:
”جو شخص ہم اہل بیت کے قائم کا زمانہ دیکھے گااگر اس کو کوئی بیماری ہو جائے گی تواسے شفا مل جائے گی اور اگر کمزوری کا شکار ہو جائے گا تو صحت مند اور طاقتور ہو جائے گا“۔
(بحارالانوار، ج ۲۵ ، ح ۸۶ ، ص ۵۳۳)
۵ ۔ بہت زیادہ خیر و برکت
قائم آل محمد حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا ایک عظیم ثمرہ یہ ہو گا کہ اس زمانہ میں خیر و برکت اس قدر ہو گی کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملے گی۔ آپ کی حکومت کی بہار میں ہر جگہ سبز و شاداب اور حیات بخش ماحول ہو گا، آسمان سے بارشین ہوں گی اور زمین میں اچھی فصلیں ہوں گی اور ہر طرف خدا کی برکت دکھائی دیتی ہوئی نظر آئے گی۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”........ خداوند عالم ان (امام مہدی علیہ السلام) کی وجہ سے زمین و آسمان سے برکتوں کی بارش کرے گا (اور ان کے زمانہ میں) آسمان سے بارشیں ہوں گی اور زمین میں اچھی فصلیں ہوں گی“۔ (غیبت طوسی، ح ۹۴۱ ، ص ۸۸۱)
امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں کوئی زمین بنجر نہیں ملے گی اور ہر جگہ ہریالی اور شادابی ہو گی۔ یہ عظیم الشان اور بے نظیر تبدیلی اس وجہ سے پیدا ہو گی کہ امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں تقویٰ اور پاکیزگی اور ایمان کے پھول کھلنے لگیں گے، معاشرہ کے تمام لوگ الٰہی تربیت کے تحت اپنے تعلقات کو اسلامی اور الٰہی اقدار کے سانچے میں ڈھال لیں گے اور جیسا کہ خداوند عال نے وعدہ فرمایا ہے کہ ایسے پاک و پاکیزہ ماحول کوخیر و برکات سے سیراب کر دُوں گا۔
قرآن مجید نے اس سلسلہ میں فرمایا:
( وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ .) .. (سورہ اعراف، آیت ۹۶ )
”اور اگر اہل قریہ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کر لیتے تو ہم ان کے لئے زمین و آسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے“۔
۶ ۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے دور میںفقر و ناداری کی نابودی
جس وقت امام مہدی علیہ السلام کے لئے زمین کے تمام خزانے ظاہر ہو جائیں گے اور زمین و آسمان سے مسلسل برکتیں ظاہر ہوں گی اور مسلمانوں کا بیت المال عدالت کی بنیاد پر تقسیم ہو گا تو پھر فقر اور تنگدستی کا کوئی وجود نہیں رہے گا، اور آپ علیہ السلام کی حکومت میں ہر انسان فقر و ناداری کے دلدل سے آزاد ہو جائے گا۔ (منتخب الاثر، فصل ۷ ، باب ۴ ، ۳ ، ص ۹۸۵ تا ۳۹۵)
آپ علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ میں اقتصادی اور کاروباری مسائل، برادری اور برابری کی بنیاد پر ہوں گے اور خود غرضی اور ذاتی مفاد کی جگہ اپنے دینی بھائیوں سے دلسوزی، ہمدردی اور غمخواری کا احساس پیدا ہو گا، اس موقع پر سب آپس میں ایک دوسرے کو گھر کے ایک ممبرکے عنوان سے دیکھیں گے اور سب کو اپنا تصور کریں گے اور محبت و ہمدردی کی خوشبو ہر جگہ پھیلی ہو گی۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: ”........ (امام مہدی علیہ السلام) سال میں دو بار لوگوں کو بخشش وعطیہ دیا کریں گے، اور مہینہ میں دو دفعہ کی روزی (اور معاش زندگی) عطا فرمایا کریں گے، (اور اس کام میں) لوگوں کے درمیان مساوات قائم کریں گے، یہاں تک کہ (لوگ ایسے بے نیاز ہو جائیں گے کہ) زکوٰة لینے والا کوئی نیازمند نہیں مل پائے گا........“۔(بحارالانوار، ج ۲۵ ، ح ۲۱۲ ، ص ۰۹۳)
مختلف روایات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ لوگوں کے درمیان غربت کے احساس کے نہ ہونے کی وجہ یہ ہو گی کہ ان کے یہاں روحانی طور پر بے نیازی اور قناعت کا احساس پایا جاتا ہو گا، دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ قبل اس کے کہ کوئی ان کو مال و دولت عطا کرے خود ان کے باطن میں بے نیازی کا احساس پیدا ہو جائے گا اور جو کچھ خداوند عالم نے اپنے فضل و کرم سے عنایت کیا ہو گا اس پر وہ راضی اور خشنود رہیں گے لہٰذا دوسروں کے مال کی طرف آنکھ بھی نہیں اُٹھائیں گے۔ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کی توصیف کرتے ہوئے فرمایا: ”........ خداوند عالم بے نیازی (کا احساس) اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کر دے گا“۔ (بحارالانوار، ج ۱۵ ، ص ۲۹)
جبکہ ظہور سے پہلے انسان میں خودغرضی اور مال و دولت جمع کرنے اور غریبوں پر خرچ نہ کرنے کی عادت ہوگی۔
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت میں انسان اندرونی اور بیرونی لحاظ سے بے نیاز ہو جائے گا، اس کے علاوہ ایک طرف بہت سی دولت عادلانہ طور پر تقسیم ہو گی اور دوسری طرف انسانوں کے درمیان قناعت پیدا ہو جائے گی۔ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے مومنین پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی بخشش کے بارے میں بیان فرماتے ہوئے اضافہ فرمایا: ”اور خداوند عالم میری اُمت کو بے نیاز کر دے گا اور عدالت مہدوی سب پر اس طرح نافذ ہو گی کہ (حضرت امام مہدی علیہ السلام) حکم فرمائیں گے کہ منادی یہ اعلان کر دے: کون ہے جس کو مال کی ضرورت ہے؟ لیکن اس اعلان کو سُن کر کوئی قدم نہیں بڑھائے گا سوائے ایک شخص کے! اس موقع پر امام علیہ السلام (اس سے) فرمائیں گے: خزانہ دار کے پاس جاو اور اس سے کہنا کہ امام مہدی علیہ السلام کی طرف سے تمہارے لئے حکم یہ ہے کہ مجھے مال و دولت دے دو۔ یہ سُن کر خزانہ دار کہے گا کہ اپنی چادر پھیلاو اور اس کی چادر کو بھر دیا جائے گا اور جب وہ کمر پر لاد کر چلے گا تو پشیمان ہو جائے گا اور کہے گا: اُمت محمدی (ص) میں صرف تو ہی اتنا لالچی ہے........ جس کے بعد وہ مال واپس کرنے کے لئے جائے گا لیکن اس سے قبول نہیں کیا جائے اور اس سے کہا جائے گا: ہم جو کچھ عطا کر دیتے ہیں وہ واپس نہیں لیتے“۔
(سورہ توبہ، آیت ۳۳ ، سورہ فتح، آیت ۸۲ ، سورہ صف، آیت ۹)
۷ ۔ اسلام کی حکومت اور کفر کی نابودی
قرآن کریم نے تین مقامات پر وعدہ دیا ہے کہ خداوند عالم دین مقدس اسلام کو پوری دُنیا پر غالب کرے گا:
( هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ ) (سورہ توبہ، آیت ۳۳ ، سورہ فتح آیت ۸۲ ، سورہ صف آیت ۹)
”وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنائے چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو“۔
جبکہ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں ہے کہ خداوند عالم کا وعدہ پورا ہونے والا ہے وہ کبھی بھی خلاف وعدہ عمل نہیں کرتا جیسا کہ قرآن مجید نے فرمایا ہے:( اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخلِفُ المِیعَادِ ) (سورہ آل عمران، آیت ۹)
”........ بے شک اﷲ خلاف وعدہ عمل نہیں کرتا“۔ لیکن یہ بات روشن ہے کہ مسلسل سعی و کوشش کے باوجود بھی پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور اولیائے خدا علیہم السلام اب تک ایسی مبارک تاریخ نہیں دیکھ پائے ہیں۔ (یہ گفتگو صرف دعویٰ کی حد تک نہیں ہے بلکہ ایک تاریخی حقیقت ہے اور شیعہ و سنی مفسرین نے اس سلسلہ میں گفتگو کی ہے جیسے فخر رازی نے تفسیر کبیر ج ۶۱ ، ص ۰۴ اور قرطبی نے تفسیر قرطبی ج ۸ ، ص ۱۲۱ میں اور علامہ طبرسی نے مجمع البیان ج ۵ ، ص ۵۳ میں)
اور تمام مسلمان ایسے دن کا انتظار کر رہے ہیں، البتہ یہ ایک ایسی حقیقی آرزو ہے جو ائمہ معصومین علیہم السلام کے کلام میں موجود ہے، لہٰذا اس ولی پروردگار کی حکومت کے زیر سایہ ”اشہد ان لا الہ الا اللّٰہ“ کا نعرہ بلند ہو گا جو توحید کا پرچم ہے اور ”اشہد ان محمد رسول اللّٰہ“ کی آواز جو اسلام کا علم ہے ہر جگہ لہراتا ہوا نظر آئے گا اور کسی بھی جگہ کفر و شرک کا وجود باقی نہ بچے گا۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے درج ذیل آیت کی وضاحت میں فرمایا:( وَ قَاتِلُوهُم حَتّٰی لَا تَکُونَ فِتنَةَ وَیَکُونَ الدِّین کُلَُّهُ لِلّٰهِ ) . (سورہ انفال، آیت ۹۳)
”اور تم لوگ ان کفار سے جہاد کرو یہاں تک کہ فتنہ کا وجود نہ رہ جائے“۔
”اس آیت کی تاویل ابھی تک نہیں ہوئی ہے اور جب ہمارا قائم قیام کرے گا اور جو شخص آپ کے زمانہ کو درک کرے گا وہی اس کی تاویل کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا، بے شک (اس زمانہ میں) دین محمدی (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) جہاں تک رات کا اندھیرا پہنچتا ہے پہنچ جائے گا اور پوری دُنیا میں پھیل جائے گا اور اس طرح سے زمین سے شرک کا نام و نشان مٹ جائے گا ، جیسا کہ خداوند عالم نے وعدہ فرمایا“! (بحارالانوار، ج ۱۵ ، ص ۵۵)
البتہ پوری دُنیا میں اسلام کا پھیل جانا ”اسلام“ کی حقانیت اور واقعیت کی وجہ سے ہو گا کیونکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں اسلام کی حقانیت واضح ہو جائے گی اور سب کو اپنی طرف راغب کرلے گا صرف وہی لوگ باقی بچیں گے جو بغض و عناد واور سرکشی کے شکار ہوںگے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی شمشیر عدالیت ان کے سامنے آئے گی اور یہی خداوند عالم کا انتقام ہو گا۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میںاعتقادی وحدت
اس سلسلہ کا آخری نکتہ یہ ہے کہ یہ اعتقادی وحدت (یعنی سب کا اسلام کے دائرہ میں آجانا) حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ میں پیش آئے گی اور یہ موقع عالمی معاشرہ کی تشکیل کے لئے بہت مناسب ہو گا جبکہ پوری دُنیا اسی اتحاد و ہمدلی اور توحیدی نظام اور قانون کو قبول کرے گی اور اس کے زیرِ سایہ اپنے انفرادی اور اجتماعی تعلقات اسی ایک عقیدہ سے حاصل شدہ معیار کی بنا پر مرتب کریں گے اور اس بیان کے مطابق وحدت عقیدتی اور دین واحد کے پرچم کے نیچے جمع ہونا ایک حقیقی ضرورت ہو گی جو حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں حاصل ہو گی۔
۸ ۔ عمومی امن و آسائش
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں کہ جب زندگی کے ہر پہلو میں خوبیاں اور نیکیاں عام ہو جائیں گی تو امنیت حاصل ہو جائے کہ جو الٰہی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے اور انسان کی سب سے بڑی تمنا ہے۔
جس وقت انسان ایک عقیدہ اور اسلامی کی پیروی کریں گے اور معاشرہ کے درمیان بلند اخلاقی اصول نافذ ہوں اور عدالت ہر انسان پر حاکم ہو تو پھر زندگی کے کسی بھی حصہ میں بدامنی اور خوف و وحشت کی کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی۔ جس معاشرہ میں ہر شخص کو اس کا حق مل رہا ہو گا تو پھر وہ کسی دوسرے پر ظلم و ستم اور انسانی و الٰہی حقوق پامال نہیں کرے گا اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو اس کے ساتھ سخت کارروائی کی جائے گی لہٰذا ایسے موقع پر ہر طرف امن و اماں اور چین و سکون سے رہے گا۔
حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا:”ہمارے ذریعہ ایک سخت زمانہ گزار ہے.... اور جب ہمارا قائم قیام کرے گا اور دلوں سے دشمنی اور کینہ نکل جائے گا، حیوانوں میں بھی آپس میں اتفاق ہو گا، (اس کے زمانہ میں ایسا امن و امان قائم ہو گا کہ) عورتیں اپنے زیورات پہن کر عراق سے شام تک کا سفر کریں گی........ لیکن ان کے دل میں کسی طرح کا خوف نہیں ہوگا“۔ (خصال شیخ صدوق، ج ۲ ، ص ۸۱۴)
قارئین کرام! ہم چونکہ بے عدالتی، لالچ اور بغض و کینہ کے زمانہ میں زندگی بسر کر رہے ہیں لہٰذا ہمارے لئے اس سبز و شاداب دُنیا کا تصور بہت مشکل ہے لیکن جیسا کہ ہم نے عرض کیا اگر ہم اپنی برائیوں اور گناہوں کے اسباب کے بارے میں غور و فکر کریں اور یہ تصور کریں کہ یہ تمام برائیاں امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں ختم ہو جائیں گی تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ معاشرہ میں امن و امان قائم ہونے کا الٰہی وعدہ یقینی ہے۔
خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
( وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ) ۔۔(سورہ نور، آیت ۵۵)
”اﷲ نے تم میں سے صاحبان ایمان و عمل صالح سے وعدہ کیا ہے کہ انہیں روئے زمین پراسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح پہلے والوں کو بنایا ہے اور ان کے لئے اس دین کو غالب بنائے گا جسے ان کے لئے پسندیدہ قرار دیا ہے اور ان کے خوف کو امن سے تبدیل کر دے گا........“۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ”یہ آیہ شریفہ (امام) قائم علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے“۔
( غیبت نعمانی، ح ۵۳ ، ص ۰۴۲)
۹ ۔ علم کی ترقی
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ میں اسلامی اور انسانی علوم کے بہت سے اسرار واضح ہو جائیں گے اور انسان کا علم ناقابل تصور طریقہ سے ترقی کرے گا۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:”علم و دانش ۷۲ حروف ہیں، اور جو کچھ بھی تمام انبیاءعلیہم السلام لے کر آئے ہیں وہ صرف ۲ حرف ہیں جبکہ عوام الناس صرف دو حرفوں کو بھی نہیں جانتے، جس وقت ہمارے قائم کا ظہور ہو گا تو ان ۵۲ حروف کے علم کو بھی لوگوں کو تعلیم دیں گے اور ان دو حرفوں کو بھی ان میں اکٹھا کر دیں گے جس کے بعد تمام ۷۲ حروف کا علم نشر فرمائیں گے“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵ ، ص ۶۳۳)
ظاہر سی بات ہے کہ انسان علم کے ہر پہلو میں ترقی کرےگا، متعدد روایات میں ہونے والے اشاروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں صنعتی علم آج کے زمانہ سے کہیں زیادہ ہو گا“۔ ( البتہ ممکن ہے کہ مذکورہ روایات میں معجزہ کی طرف اشارہ ہو؟)
جیسا کہ اس وقت کی صنعت صدیوں پہلی صنعت سے بہت زیادہ مختلف ہے۔ قارئین کرام! ہم یہاں پر اس سلسلہ میں بیان ہونے والی چند روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ حضرت امام صادق علیہ السلام نے حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی حکومت میں رابطہ کی کیفیت کے بارے میں فرمایا: ”قائم آل محمد (ص) کی حکومت کے زمانہ میں مشرق میں رہنے والا مومن اپنے مغرب میں رہنے والے بھائی کو دیکھتا ہو گا........“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵ ، ص ۱۹۳)
اسی طرح امام علیہ السلام نے فرمایا: ”جس وقت ہم اہل بیت (علیہم السلام) کا قائم ظہور کرے گا تو خداوند عالم ہمارے شیعوں کی آنکھوں اور کانوں کی طاقت میں اضافہ فرمائے گا اس طرح سے امام مہدی علیہ السلام چار فرسخ کے فاصلہ سے اپنے شیعوں سے گفتگو کریں گے اور وہ آپ کی باتوں کو سنیں گے ، نیز وہ آپ کو دیکھتے ہوں گے حالانکہ اپنے مقام پر کھڑے ہوں گے“۔(بحارالانوار، ج ۲۵ ، ص ۶۳۳) حضرت امام مہدی علیہ السلام کا حکومت کے رئیس اور حکم صادر کرنے والے کے عنوان سے لوگوں کے حالات سے باخبر ہونے کے بارے میں روایت کہتی ہے: ”اگر کوئی شخص اپنے گھر میں گفتگو کرے گا تو اسے اس چیز کا خوف ہو گا کہ کہیں اس کے گھر کی دیواریں اس کو باتوں کو (امام علیہ السلام تک) نہ پہنچا دیں“۔ (بحارالانوار، ج ۲۵ ، ص ۰۹۳)
آج کل کے مواصلاتی نظام کی ترقی مدنظر ان روایات کو سمجھنا آسان ہے لیکن یہ بات واضح نہیں ہے کہ کیا یہی وسائل مزید ترقی کے ساتھ استعمال کئے جائیں گے یا کوئی اس سے زیادہ پیچیدہ دوسرا نظام استعمال کیا جائے گا۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کیحکومت کے امتیازات
اس سے قبل صفحات میں امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی حکومت کے اہداف، پروگرام اور نتائج کے بارے میں گفتگو ہو چکی ہے، اس آخری حصہ میں آپ کی حکومت کے امتیازات کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں مثلاً حکومت کی حدود اور اس کا مرکز حکومت کی مدت اور کارکنوں کاطریقہ کار کی پہچان اور حکومت کے عظیم الشان رہبر (امام مہدی علیہ السلام) کی سیرت۔
آپ کیحکومت کی حدود اور اس کا مرکز
اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت ایک عالمی حکومت ہو گی، کیونکہ آپ عالم بشریت کے موعود اور ہر انسان کی آرزووں کو پورا کرنے والے ہیں، لہٰذا آپ کی حکومت کے زیر سایہ معاشرہ میں جس قدر خوبیاں اور نیکیاں پیدا ہو رہی ہیں وہ پوری دُنیا میں پھیل جائیں گی۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے بارے میں متعدد روایات گواہ ہیں جن میں سے چند روایات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔
الف: وہ متعدد روایات جن میں یہ بیان ہوا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام ”ارض“ (زمین) کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح ظلم و جور سے بھری ہو گی (کمال الدین، باب ۵۲ ، ح ۴ ، باب ۴۲ ، ح ۱،۷)
اور ”زمین“ تمام کرہ خاکی کو شامل ہے لہٰذا اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ ”ارض“ کے معنی کو زمین کے کسی ایک حصہ سے محدود کیا جائے۔
ب: وہ روایات جن میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے مختلف علاقوں پر تسلط کی خبر دی گئی ہے ان علاقوں کی وسعت اور اہمیت کے پیش نظر اس بات کی حکایت ہوتی ہے کہ امام مہدی علیہ السلام پوری دُنیا پر مسلط ہو جائیں گے لہٰذا بعض شہروں اور ملکوں کا نام مثال اور نمونہ کے طور پر لیا گیا ہے اور ان روایات کو سمجھنے والوں کے ادراک کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔
مختلف روایات میں روم، چین، دیلم یا دیلم کے پہاڑ، ترکی، سندھ، ہند، قسطنطنیہ، کابل شاہ اور خزر کا نام آیا ہے کہ جن پر امام مہدی علیہ السلام کا قبضہ ہو گا اور امام علیہ السلام ان تمام مذکورہ مقامات کو فتح کریں گے۔ (غیبت نعمانی اور احتجاج طبرسی)
قابل ذکر بات یہ ہے کہ مذکورہ علاقے ائمہ علیہم السلام کے زمانہ میں آج کل کے علاقوں سے کہیں زیادہ وسیع تھے، مثال کے طور پر ”روم“ یورپ اور امریکہ کو شامل ہوتا تھا اور چین سے مشرقی ایشیاءمراد ہوتا تھا جن میں جاپان بھی شامل تھا جیسا کہ اُس وقت ”ہندوستان“ پاکستان کو بھی شامل تھا۔
شہر قسطنطنیہ وہی استنبول ہے جس کو اس زمانہ میں طاقتور شہر کے عنوان سے یاد کیا جاتاتھا کہ اگر اس شہر کو فتح کر لیا جاتا تھا تو ایک بہت بڑی کامیابی شمار کیا جاتا تھا کیونکہ یورپ میں جانے والے راستوں میں سے ایک یہی راستہ تھا۔
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کا دُنیا کے اہم اور حساس علاقوں پر مسلط ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آپ علیہ السلام کی حکومت پوری دُنیا پر ہو گی۔
ج: پہلے اور دوسرے حصہ کی گزشتہ روایات کے علاوہ بہت سی ایسی روایات موجود ہیں جن میں پوری دُنیا پر حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت کی وضاحت کی گئی ہے۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے منقول ہے کہ خداوند عالم نے فرمایا: ”میں اپنے دین کو ان (بارہ آئمہ) کے ذریعہ تمام ادیان پر غالب کر دُوں گا اور انہیں کے ذریعہ اپنے حکم کو (سب پر) نافذ کروں گا، اور ان میں سے آخری (امام مہدی علیہ السلام) کے (قیام کے) ذریعہ پوری دُنیا کو اپنے دشمنوں سے پاک کروں گا اور اس کو مشرق و مغرب پر حاکم قرار دُوں گا“۔(کمال الدین، ج ۱ ، باب ۳۲ ، ح ۴ ، ص ۷۷۴)
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:اَلقَائِم مِنَّا یَبلُغُ سُلطَانَهُ المشرِق وَالمَغرِبَ وَیَظهَر اللّٰهُ عَزَّوَجَل بِهِ دِینهُ عَلَی الدِّینِ کله وَ لو کرهَ المشرِکُون ۔ (کمال الدین، ج ۱ ، باب ۲۲ ، ح ۶۱ ، ص ۳۰۶)
”قائم آل محمد (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) (وہ ہیں جو دُنیا کے) مشرق و مغرب پر حکومت کریں گے اور خداوند عام اپنے دین کو ان کے ذریعہ دنیا کے تمام ادیان پر مغلوب کرے گا، اگرچہ مشرکین کو یہ بات ناگوار لگے“۔
اور امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت کا مرکز تاریخی شہر ”کوفہ“ رہے گا جو اس زمانہ میں بہت وسیع ہو جائے گا، جس میں نجف اشرف بھی شامل ہو گا کہ جو چند کلوم میٹر کے فاصلہ پر ہو گا، اسی وجہ سے بعض روایات میں کوفہ اور بعض روایات میں نجف اشرف کو امام مہدی علیہ السلام کا مرکز حکومت قرار دیا گیا ہے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے ایک طولانی روایت کے ضمن میں فرمایا:
”(مہدی علیہ السلام) کی حکومت کا مرکز شہر کوفہ ہو گا اور مسند قضاوت کوفہ کی (عظیم الشان) مسجد میں ہو گی“۔ (بحارالانوار، ج ۳۵ ، ص ۱۱)
قابل ذکر ہے کہ قدیم زمانہ سے شہر کوفہ پر اہل بیت علیہم السلام کی توجہ رہی ہے اور یہی شہر اور حضرت علی علیہ السلام کا مرکز حکومت رہا ہے اور شہر کوفہ کی مسجد عالم اسلام کی مشہور و معروف مسجدوں میں سے ہے جس میں حضرت علی علیہ السلام نے نماز پڑھی ہے اور خطبے ارشاد فرمائے ہیں، نیز اسی مسجد میں مسند قضاوت پر بیٹھ کر لوگوں کے فیصلے کئے ہیں اور آخر میں اسی مسجد کی محراب میں شہید ہوئے ہیں۔
حکومت کی مدت
جب عالم بشریت ایک طولانی زمانہ تک ظلم و ستم کی حکومت کو برداشت کرلے گا تو خداوند عالم کی آخری حجت کے ظہور سے پوری دُنیا نیکیوں (اور عدل و انصاف) کی حکومت کے استقبال کے لئے آگے بڑھے گی اور حکومت نیک اور صالح افراد کے ہاتھوں میںہو گی، اور یہ خدا کا یقینی وعدہ ہے۔ امام مہدی علیہ السلام کی حاکمیت کے تحت نیک اور اور صالح افراد کی اس حکومت کی شروعات ہوں گی اور دُنیا کے خاتمہ تک یہ حکومت باقی رہے گی اور پھر ظلم اور ظالموں کا زمانہ نہیں آئے گا۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے منقول مذکورہ روایت میں نقل ہوا ہے کہ خداوند عالم نے اس آخری معصوم کی حکومت کی بشارت ا پنے رسول کو دی ہے جس کے آخر میں ارشاد فرمایا:
”جب امام مہدی علیہ السلام حکومت کو اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے تو ان کی حکومت کا سلسلہ جاری رہے گا اور قیامت کے لئے زمین کی حکومت کو اپنے اولیاءاور محبوں کے ہاتھوں میں دیتا رہوں گا“۔ (کمال الدین، ج ۱ ،باب ۳۲ ،ح ۴ ،ص ۷۷۴)
اس بنا پر حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے ذریعہ قائم کردہ عادلانہ نظام کے بعد کوئی دوسرا حکومت نہیںکر سکے گا، درحقیقت حیات انسانی کے لئے ایک نئی تاریخ شروع ہو گی جو تمام تر حکومت الٰہی کے زیر سایہ ہو گی۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
”ہماری حکومت آخری حکومت ہو گی اور کوئی بھی صاحب حکومت یاخاندان ایسا باقی نہیں بچے گا جو ہماری حکومت سے پہلے حکومت نہ کر لے تاکہ جب ہماری حکومت قائم ہو اور اسکے نظام اور طور و طریقہ کو دیکھ کر یہ نہ کہے کہ اگر ہم بھی حکومت کرتے تو اسی طرح عمل کرتے“۔
(غیبت طوسی، فصل ۸ ، ح ۳۹۴ ، ص ۲۷۴)
لہٰذا ظہور کے بعد الٰہی حکومت کی مدت حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت سے الگ ہے کہ روایات کے مطابق آپ اپنی باقی عمر میں حاکم رہیں گے اور آخرکار اس دُنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا زمانہ اتنا ہو گا کہ جس میں اتنا عظیم عالمی انقلاب اور دنیا کے ہر گوشہ میں عدالت قائم ہونے کا امکان پایا جاتا ہو لیکن یہ کہنا کہ یہ مقصد چند سال میں پورا ہو سکتا ہے تو ایسا صرف گمان اور اندازہ کی بنا پر ہے۔ لہٰذا اس سلسلہ میں (بھی) آئمہ معصومین علیہم السلام کی روایات کی طرف رجوع کیا جائے البتہ اس الٰہی رہبر کی لیاقت اور آپ اور آپ کے اصحاب کے لئے غیبی امداد اور ظہور کے زمانہ میں عالمی پیمانہ پر دینی اقدار اور نیکیوں کو قبول کرنے کی تیاری کے پیش نظر ممکن ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی یہ ذمہ داری نسبتاً کم مدت میں پوری ہو جائے اور جس انقلاب کو برپا کرنے کے لئے تاریخ بشریت صدیوں سے عاجز ہو وہ ۰۱ سال سے کم میں ہی تشکیل پا جائے۔
جن روایات میں امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے زمانہ کو بیان کیا گیا ہے وہ باہم اختلاف رکھتی ہیں۔ ان میں سے بعض روایات میں امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کی مدت ۵ سال ہے اور بعض میں ۷ سال اور بعض میں ۸ سال اور بعض میں ۰۱ سال بیان ہوئی ہے۔ چند روایتوں میں اس حکومت کی مدت ۹۱ سال اور چند مہینے اور کچھ روایات میں ۰۴۱ اور ۹۰۳ سال بھی بیان کئے گئے ہیں۔ (روایات سے مزید آگاہی کے لئے کتاب چشم اندازی بہ حکومت مہدی علیہ السلام تالیف نجم الدین طبسی، ص ۳۷۱ تا ۵۷۱ کی طرف رجوع فرمائیں)
روایات میں اس اختلاف کی علت معلوم نہ ہونے کے علاوہ ان روایات کے درمیان سے آپ کی حکومت کی حقیقی مدت کا پتہ لگانا ایک مشکل کام ہے لیکن بعض شیعہ علماءنے بعض روایات کی شہرت اور کثرت کی بنا پر ۷ سال والے نظریہ کو منتخب کیا ہے( المہدی، سید صدر الدین صدر، ص ۹۳۲ ، تاریخ ما بعد الظہور سید محمد صدر) جبکہ بعض افراد نے یہ بھی کہا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت ۷ سال ہو گی لیکن اس کا ایک سال ہمارے دس سال کے برابر ہو گا جیسا کہ بعض روایات میں یہ بھی بیان ہوا ہے:
حضرت امام صادق علیہ السلام سے روای نے امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کی مدت کے سلسلہ میں سوال کیا تو فرمایا: ”(حضرت امام مہدی علیہ السلام) سات سال حکومت کریں گے جو تمہارے ۰۷ سال کے برابر ہوں گے“۔ ( غیبت طوسی، فصل ۸ ، ح ۷۹۴ ، ص ۴۷۴)
مرحوم مجلسیؒ فرماتے ہیں:حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے بارے میں بیان ہونے والی روایات میں چند درج ذیل احتمالات دینا چاہیے، بعض روایات میں حکومت کی پوری مدت کی طرف اشارہ ہوا ہے جبکہ بعض دوسری روایات میں حکومت کے استحکام اور ثبات کی طرف اشارہ ہوا ہے بعض روایات میں ہمارے زمانہ کے سال اور دنوں کے مطابق ہے اور بعض امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ کی گفتگو ہوئی ہے جبکہ خداوند عالم حقیقت سے زیادہ آگاہ ہے“۔ (بحارالانوار، ج ۳۵ ، ص ۰۸۲)
رہبر اسلام آقای سید علی خامنہ ای دام ظلہ العالی نے اس بارے فرمایا ہے کہ جس عادلانہ حکومت کے قیام واسطے ہزاروں سال انسانوں نے انتظار کیا وہ خراسان میں ختم نہیں ہو جائے گی بلکہ آپ کی آمد سے انسان کے لئے انسانیت کی شب براہ اعظم کا افتتاح ہوگا اور اس کا اختتام قیامت ہے جیسا کہ بعض روایات سے بھی یہ بات ثابت ہے۔
امام علیہ السلام کی نجی زندگی
ہر حاکم اپنی حکومت اور اس کے مختلف شعبوں میں ایک مخصوص طریقہ کار اپناتا ہے جو اس کی حکومت کا امتیاز ہوتا ہے۔ امام منتظر امام مہدی علیہ السلام بھی جب پوری دُنیا کی حکومت اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے تو اس عالمی نظام کی تدبیر ایک خاص روش کے تحت ہو گی لیکن موضوع کی اہمیت کے پیش نظر مناسب ہے کہ آپ کی کارکردگی کے طریقہ کی طرف اشارہ کیا جائے اور امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے طور و طریقہ کے بارے میں پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور آئمہ معصومین علیہم السلام سے منقول احادیث کو پیش کیا جائے۔
اس بات پر تاکید کرتے ہوئے روایات میں امام مہدی علیہ السلام کی حکومتی سیرت کے سلسلہ میں ایک کلی تصویر پیش کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا طریقہ کار وہی پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا طریقہ کار ہوگا اور جس طرح پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنے زمانہ میں تمام پہلووں کے اعتبار سے جاہلیت کا مقابلہ کیا اور اس ماحول میں اسلام حقیقی کو نافذ کیا کہ جو انسان کی دنیاوی اور اُخروی سعادت کا ضامن ہے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے موقع پر بھی اس زمانہ کی نئی جاہلیت سے مقابلہ کیا جائے گاجبکہ اس زمانہ کی جاہلیت آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ کی جاہلیت سے کہیں زیادہ دردناک ہو گی اور ماڈرن جاہلیت کے ویرانوں پر اسلامی و الٰہی اقدار کی عمارت تعمیر ہو گی۔
حضرت امام صادق علیہ السلام سے سوال ہوا کہ امام مہدی علیہ السلام کا حکومتی انداز کیا ہو گا؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: یَص نَع کَمَا صَنَعَ رَسُو ل اللّٰہِ (ص) یَھ دِم مَا کانَ قَب لَہُ کَمَا ہَدَمَ رَسُو لُ اللّٰہِ (ص) امرَ ال جَاہِلِیَةِ وَ یَس تِانِف الااِس لاٰمَ جَدِی داً (غیبت نعمانی، باب ۳۱ ، ح ۳۱ ، ص ۶۳۲)
”(امام مہدی علیہ السلام) پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی طرح عمل کریں گے، (اور) جس طرح آنحضرت (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے (لوگوں کے درمیان رائج) جاہلیت کی رسومات کو ختم کیا اسی طرح آپ علیہ السلام بھی اپنے ظہور سے پہلے موجود جاہلیت کی رسومات کو نابود کردیں گے اور اسلام کی نئے طریقہ سے بنیاد رکھیں گے“۔
امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی حکومت کے زمانہ میں ایک عام سیاست رہے گی، اگرچہ مختلف حالات کے پیش نظر حکومتی انداز میں تبدیلی کرنا پڑے گی جیسا کہ روایات میں بھی بیان ہوا ہے اور ہم اس سلسلہ میں بعد میں بحث کریں گے۔
جہاد اورمخالفین سے مقابلہ میں آپ کارویہ
حضرت امام مہدی علیہ السلام اپنے عالمی انقلاب کے ذریعہ زمین سے کفر و شرک کا خاتمہ کر دیں گے اور سب کو مقدس دین اسلام کی دعوت کریں گے۔
اس سلسلہ میں پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا ہے:
”(امام مہدی علیہ السلام) کا طریقہ میرا طریقہ ہو گا اور لوگوں کو میری شریعت اور میرے اسلام کی طرف لے آئیں گے“۔ (کمال الدین، ج ۲ ، باب ۹۳ ، ح ۶ ، ص ۲۲۱) البتہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے موقع پر حق واضح ہو جائے گا اور ہر لحاظ سے دُنیا والوں پر حجت تمام ہو جائے گی۔ اس موقع پر بعض روایات کے مطابق حضرت امام مہدی علیہ السلام حقیقی اور تحریف سے محفوظ توریت و انجیل کو ”غارانطاکیہ“ سے باہر نکالیں گے اور انہیں کے ذریعہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سامنے دلائل پیش کریں گے کہ ایک کثیر تعداد مسلمان ہو جائے گی (الفتن، ص ۹۴۲ ، تا ۱۵۲) اور جو چیز اس موقع پر مختلف قوم و ملت کے لوگ اسلام کی طرف مزید مائل ہونےکی باعث ہو گی وہ انبیاءعلیہم السلام کی نشانیاں جیسے جناب موسیٰ علیہ السلام کا عصا، جناب سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی اور پیغمبر اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کا پرچم، ان کی تلوار اور زرہ آپ علیہ السلام کے پاس ہو گی۔ ( اثبات الھداة، ج ۳ ، ص ۹۳۴ تا ۴۹۴)
اور انبیاءعلیہم السلام کے مقاصد کو پورا کرنے اور عالمی عدالت کو برقرار کرنے کے لئے آپ قیام کریں گے۔ روشن ہے کہ ایسے موقع پر کہ جب حق و حقیقت واضح ہو جائے گی صرف ایسے ہی لوگ باطل کے مورچہ پر باقی رہیں گے جو اپنے انسانی اور الٰہی اقدار کو بالکل بھلا بیٹھے ہوں گے اور یہ ایسے لوگ ہوں گے جن کا کام صرف فساد و تباہی اور ظلم و ستم ہو گا۔ چنانچہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا ایسے لوگوں سے پاک ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ ایسے ہی موقع پر عدالت مہدوی کی چمکدار تلوار نیام سے باہر نکلے گی اور اپنی پوری طاقت سے ہٹ دھرم ستمگروں پر گرے گی جس سے کوئی نہ بچ سکے گا اور یہی طور و طریقہ پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور امیر المومنین علیہ السلام کا بھی تھا۔
( اثباة الھداة، ج ۳ ، ص ۰۵۴)
امام علیہ السلام کے فیصلے
چونکہ مہدی منتظر پوری دُنیا میں عدل و انصاف برقرار کرنے کےلئے پردہ غیب میں ہیں اور اپنی ذمہ ادری کو پورا کرنے کے لئے ان کو ایک مستحکم عدلیہ محکمہ کی ضرورت ہے لہٰذا امام مہدی علیہ السلام اس سلسلہ میں اپنے جد بزرگوار حضرت علی علیہ السلام کے طریقہ پر عمل کریں گے اور اپنی پوری طاقت سے لوگوں کے پامال شدہ حقوق کو حاصل کرکے صاحبان حق کو واپس کر دیں گے۔ اور عدل و انصاف کا ایسا مظاہرہ کریں گے کہ زندہ لوگ یہ تمنا کریں گے کہ اے کاش مردہ لوگ بھی زندہ ہو جاتے اور امام علیہ السلام کے عدل و انصاف سے بہرہ مند ہوتے۔ (الفتن، ص ۹۹)
قابل ذکر بات یہ ہے کہ بعض روایات سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ امام مہدی علیہ السلام مقام قضاوت میں حضرت سلیمان علیہ السلام اورحضرت داود علیہ السلام کی طرح عمل کریں گے اور انہیں کی طرح علم الٰہی کے ذریعہ فیصلہ کریں گے نہ کہ دلیل اور گواہوں کی گواہی کی بنا پر۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
”جب ہمارے قائم قیام کریں گے تو وہ جناب داود اور سلیمان کی طرح فیصلے کریں گے، (یعنی) شاہد اور گواہ طلب نہیں کریں گے۔ ( اثبات الھداة، ج ۳ ، ص ۷۴۴) اور شاید اس طرح کے فیصلوں کا راز یہ ہو کہ علم الٰہی پر اعتماد کرتے ہوئے حقیقی عدالت قائم ہو گی جبکہ اگر گواہوں کی باتوں پر بھروسہ کیا جائے تو ظاہری عدالت قائم ہوتی ہے کیونکہ بہرحال انسان گواہ ہوں تو ان میں غلطی کا امکان پایا جاتا ہے۔
البتہ امام مہدی علیہ السلام کا مذکورہ طریقہ سے فیصلے کرنے کی کیفیت کو سمجھنا ایک مشکل کام ہے لیکن اتنا تو سمجھ میں آسکتا ہے کہ یہ طریقہ کار اس زمانہ کے لے مناسب ہوگا۔
امام علیہ السلام کا حکومتی انداز
حکومتی عہدہ دار حکومت کے اہم رکن ہوتے ہیں جب کسی حکومت میں قابل اور شائستہ لوگ عہدہ دار ہوں تو پھر حکومت اور قوم کا نظام صحیح ہو جاتا ہے اور حکومت اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاتی ہے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام عالمی حکومت کے سربراہ کے عنوان سے دنیا کے مختلف مقامات کے لئے عہدہ داروں کو اپنے بہترین ناصروں میں سے انتخاب فرمائیں گے جن کے اندر اسلامی حاکم کے تمام اوصاف پائے جاتے ہوں جیسے حکومتی اصول و قوانین میں مہارت، عہد و پیمان میں ثبات قدم، نیت و عمل میں پاکیزگی، ارادوں میں استحکام اور شجاعت۔ ان حالات میں حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) بزرگ حاکم اور دنیا کے مرکزی منتظم کے عنوان سے اپنے ماتحت عہدہ دارون پر نظر رکھیں گے اور چشم پوشی کے بغیر پوری سختی اور وقت کے ساتھ ان کا حساب و کتاب کریں گے جبکہ حاکم کی کئی ایک خصوصیات حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت سے پہلے بھلا دی گئی ہیں جس کو روایات میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:
عَلَامَة المَهدِی اَن یَکُونَ شَدِیداً عَلَی العمَّالِ جَوَاداً بِالمَالِ رَحِیماً بِالمَسَاکِینِ ۔ (معجم الاحادیث الامام المہدی علیہ السلام، ج ۱ ، ح ۲۵۱ ، ص ۶۴۲)
”(امام) مہدی علیہ السلام کی نشانی یہ ہے کہ اپنے عہدہ داروں کے ساتھ سخت ہوں گے اور مسکینوں (اور غریبوں) کے ساتھ بہت زیادہ بخشش و کرم سے پیش آئیں گے“۔
امام علیہ السلام کی حکومت میںاقتصادی نظام
حکومت کے مالی مسائل میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کا طریقہ کار مساوات اور برابری اور عدالت پر مبنی قانون ہو گا اور یہ وہی طریقہ کار ہو گا جو خود پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں تھا لیکن آپ کے بعد یہ طریقہ کار بدل گیا اور جھوٹے معیار اس کی جگہ لائے گئے جن کی وجہ سے بعض لوگوں کو بے حساب مال و دولت دی گئی۔ اسی وجہ سے اسلامی معاشرہ طبقاتی ہو گیا۔ اگرچہ حضرت علی علیہ السلام اور امام حسن علیہ السلام اپنی خلافت کے زمانہ یں بیت المال کو برابر تقسیم کرنے پر پابند رہے لیکن ان حضرات سے پہلے بنی اُمیہ نے مسلمانوں کے بیت المال کو اپنی ذاتی مال کی طرح اپنی مرضی سے رشتہ داروں اور دوستوں میں بانٹا، اور اپنی غیر شرعی حکومت کو استحکام بخشا، اُنہوں نے کاشتکاری کے لئے زمینی یا دوسرے وسائل دولت اور بیت المال کو اپنے رشتہ داروں کو بخش دی اور یہ کام بنی اُمیہ سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں نے ایسے انداز سے کیا کہ مالی انحر ۵ افات اسلامی معاشرہ میں عام ہو گئے اور بے عدالتی کی بنیاد رکھ دی گئی جس کے اثراب آج تک اسلامی دنیا میں موجود ہیں۔حضرت امام مہدی علیہ السلام جو عدل و انصاف کا مظہر ہیں آپ علیہ السلام مسلمانوں کے بیت المال میں سب کو شریک قرار دیں گے، جس میں کسی کا کوئی امتیاز نہیں ہوگا اور مال و دولت اور زمین کی ناجائز بخشش بالکل بند کر دی جائے گی۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:
اِذَا قَامَ قَائِمُنَا اضمَحَلَّت القَظائِع فَلِا قَطائِعَ (یعنی وہ زمینیں جو ظالم حکام دوسروں کی زمینوں پر ناجائز طریقہ سے قبضہ کر لیتے ہیں اور پھر دوسروں کو بخش دیتے ہیں)
”جس وقت ہمارا قائم قیام کرے گا، قطائع ( ۳) کا سلسلہ نہیں ہو گا،یعنی زمینوں کی بندرباٹ کاطریقہ ختم ہوجائے گا اور اس کے بعد سے یہ سلسلہ بالکل بند ہو جائے گا“۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کا مالی طریقہ کار یہ ہوگا کہ آپ علیہ السلام تمام لوگوں کی ضرورتوں کے لحاظ سے ان کی آسائش کے لئے مال و دولت بخشا کریں گے اور آپ علیہ السلام کی حکومت میں جو ضرورتمند شخص آپ علیہ السلام سے کچھ طلب کرے گا اس کو بہت زیادہ عطا کیا کریں گے۔
پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:
فَهُوَ یَحشُوا المَالَ حَشواً (بحارالانوار، ج ۲۵ ، ص ۹۰۳)
”وہ (امام مہدی علیہ السلام) بہت زیادہ مال بخشا کریں گے“۔
اور یہ طریقہ کار انفرادی اور اجتماعی اصلاح کا راستہ ہموار کرنے کے لئے ہو گا جو آئمہ معصومین کا عظیم ہدف ہے، حضرت امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کا لوگوں کو مادی لحاظ سے بے نیاز کرنے کا مقصد یہ ہو گا کہ ان کے لئے خداوند عالم کی عبادت اور اطاعت کا راستہ ہموار ہو جائے جس کو ”حکومت کے اغراض و مقاصد“ کی بحث میں تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔
امام علیہ السلام کااندازِحکومت
امام مہدی علیہ السلام کی ذاتی رفتار میں آپ علیہ السلام کی سیرت اور لوگوں سے آپ علیہ السلام کا رابطہ، اسلامی حکام کے لئے نمونہ ہے کیونکہ آپ علیہ السلام کی نگاہ میں حکومت لوگوں کی خدمت اور انسانیت کو کمال کی بلندیوں پر پہنچانے کا ذریعہ ہے، نہ کہ مال و دولت جمع کرنے اور لوگوں پر ظلم و ستم کرنے اور خدا کے بندوں سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کا وسیلہ!!
واقعاً وہ صالحین کا امام جب مسند حکومت پر ہو گا تو پیغمبر اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) اور امیر المومنین علیہ السلام کی حکومت کی یاد تازہ ہو جائے گی، حالانکہ آپ کے پاس بہت سا مال و دولت ہو گا لیکن ان کی اپنی ذاتی زندگی معمولی ہو گی اور کم ہی چیزوں پر قناعت کریں گے۔
امام علی علیہ السلام آپ کی توصیف میں فرماتے ہیں:
”امام (مہدی علیہ السلام) یہ عہد و پیمان کریں گے کہ (اگرچہ پورے انسانی معاشرہ کے رہبر اور حاکم ہوں گے لیکن) اپنی رعایا کی طرح راستہ چلیں اور ان کی طرح لباس پہنیں اوران کی سواری کی طرح سواری کریں.... اور کم پر ہی قناعت کریں“۔(معجم الاحادیث، الامام المہدی علیہ السلام، ج ۱ ، ص ۲۳۲ ، ح ۳۴۱)
حضرت علی علیہ السلام خود بھی اسی طرح تھے، ان کی زندگی، خوراک اور لباس میں انبیاءکی طرح زہد تھا اور حضررت امام مہدی علیہ السلام اس سلسلہ میں (بھی) آپ علیہ السلام کی اقتدا کریں گے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:اِنَّ قَائِمَنَا اِذَا قَامَ لَبِسَ لِبَاسَ عَلِیّ وَ سَارَ بِسِیرَتِهِ ۔ (منتخب الاثر، فصل ۶ ، باب ۱۱ ، ح ۴ ، ص ۱۸۵)
”جب ہمارے قائم ظہور کریں گے تو حضرت علی علیہ السلام کی طرح لباس پہنیں گے اور آپ ہی کے طریقہ کار کو اپنائیں گے“۔
وہ خود اپنے بارے میں سخت رویہ کا انتخاب کریئن گے، لیکن اُمت کے ساتھ ایک مہربان باپ کی طرح پیش آئیں گے اور ان کے سکون اور آرام کے بارے میں سوچیں گے یہاں تک کہ حضرت امام رضا علیہ السلام آپ کی توصیف میں فرماتے ہیں:
اَلاِمَامُ الاَنِیس الرَّفِیقِ وَالوَالِدُ الشَفِیق وَالاخ الشَقِیق وَالام البِرَّةِ بِالوَلَدِ الصَّغِیر مَفزِغُ العِبَادِ فِی الدَّاهِیةِ النَّادِ ( وسائل الشیعہ، ج ۳ ، ص ۸۴۳)
”وہ امام مونس و ہمدم، دوست، مہربان باپ اور حقیقی بھائی کی طرح ہوں گے نیز اس ماں کی طرح جو اپنے چھوٹے بچے پر مہربان ہوتی ہے اور خطرناک واقعات میں بندوں کے لئے پناہ گاہ ہوں گے“۔
جی ہاں! وہ (اپنے نانا کی) اُمت کے ساتھ اس قدر قریب اور مخلص ہوں گے کہ سب آپ علیہ السلام کو اپنی پناہ گاہ مانتے ہوں گے۔ پیغمبراکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے منقول ہے کہ آپ علیہ السلام نے امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: ”اُمت ان کی پناہ حاصل کرے گی جس طرح شہد کی مکھی اپنی ملکہ کی پناہ حاصل کرتی ہیں“۔ (اصول کافی، ج ۱ ، ح ۱ ، ص ۵۲۲)
وہ رہبری کا مکمل مصداق ہوں گے جن کو لوگوں کے درمیان سے منتخب کیا گیا ہے اور ان کے درمیان انہیں کی طرح زندگی کریں گے اسی وجہ سے ان کی مشکلات کو اچھی طرح جانتے ہوں گے اور ان کی پریشانیوں کے علاج کو بھی جانتے ہوں گے اور ان کی فلاح و بہبودی کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے اور اس سلسلہ میں صرف رضائے الٰہی کو مدنظر رکھیں گے تو پھر امت کے افراد بھی ان کے نزدیک کیوں نہ آرام اور امنیت میں ہوں گے اور کس وجہ سے کسی غیر سے وابستہ ہوں گے؟!
عام مقبولیت
حکومت کے لئے ایک پریشانی عام لوگوں کی ناراضگی ہے لیکن مختلف اداروں میں چونکہ بہت کمزوریاں پائی جاتی ہیں جس کی بنا پر عوام ناراضی رہتی ہے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کی بنیادی خصوصیت یہی ہے کہ ہر شخص اور ہر معاشرہ آپ علیہ السلام کی حکومت کو قبول کرے گا اور راضی رہے گا اور نہ صرف اہل زمین بلکہ اہل آسمان بھی اس الٰہی حکومت کی نسبت اور اس کے عادل اور منصف حاکم سے مکمل طور پر راضی ہوں گے۔
پیغمبر اکرم ( صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:
”میں تم کو مہدی (علیہ السلام) کی بشارت دیتا ہوں اہل زمین اور اہل آسمان ان (کی حکومت) سے راضی رہیں گے، یہ کس طرح ممکن ہے کہ کوئی امام مہدی علیہ السلام کی حاکمیت سے ناراضی ہو حالانکہ پوری دُنیا والوں پر یہ روشن ہو جائے گا کہ امام مہدی کی الٰہی حکومت کے زیر سایہ انسانی امور کی اصلاح اور تمام مادی اور معنوی پہلووں میں سعادت حاصل ہو گی“۔(منتخب الاثر، فصل ۷ ، باب ۷ ، ح ۲ ، ص ۸۹۵)
مناسب ہے کہ اس حصہ کے آخر میں حضرت علی علیہ السلام کے جاویدانہ کلام کو حُسن ختام کے طور پر بیان کیا جائے:
”خداوند عالم ان (امام مہدی علیہ السلام) کی تائید اپنے فرشتوں کے ذریعہ فرمائیں گے اور ان کے ناصروں کی حفاظت کرے گا اور اپنی نشانیوں کے ذریعہ مدد کرے گا اور ان کو تمام اہل زمین پر غالب کر دے گا، اس طرح کہ (تمام لوگ) اپنی مرضی اور رغبت سے یا مجبوراً آپ علیہ السلام کے پاس جمع ہو جائیں گے، وہ زمین کو عدل و انصاف اور دلائل کے نور سے بھر دیں گے، شہروں (کے لوگ) ان پر ایمان لائیں گے یہاں تک کہ کوئی کافر باقی نہیں بچے گا، مگریہ کہ ایمان لائے اور برے کام انجام نہ دے اور صرف نیک کام کرے اور ان کی حکومت میں درندوں میں صلح ہو گی (یعنی وہ آپس میں محبت کے ساتھ رہیں گے) اور زمین اپنی برکتوں کو نکالے گی، آسمان اپنے خیر کو نازل کرے گا اور آپ کےلئے زمین میں چھپے ہوئے خزانے ظاہر ہو جائیں گے........پس خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس زمانہ کو درک کرے اور ان کی اطاعت کرے“۔ (بحارالانوار، ج ۱۵ ، ص ۱۸)
درس کا خلاصہ
امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے ثمرات ان کے حقیقی مقاصد اور انسان کی واقعی و فطری ضرورتوں کے مطابق ہوں گے۔
حضرت کی حکومت کے اہم ترین ثمرات یہ ہیں: وسیع سطح پرعدالت، اخلاقیات اور ایمانیات کا غلبہ، اتحاد ویکجہتی، معاشرہ کی جسمانی و روحانی سلامتی، برکات کا عام ہونا، غربت و فقر کا دور ہونا، عمومی سطح پر امن و آسائش، علم کی ترقی، کفر کی تباہی اور اسلام کی عالمی حاکمیت، امام زمانہ کی حکومت مملکت کی حدود کے اعتبار سے ایک عالمی حکومت ہو گی۔
امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت کا مرکز کوفہ شہر ہو گا کہ جو امیر المومنین علیہ السلام کی خلافت کا دارالحکومت تھا۔
روایات میں امام کی حکومت کی مدت مختلف نقل ہوئی ہے لیکن وہ جو مسلم سی بات ہے وہ یہ ہے کہ حضرت کی حکومت اس قدر طولانی ہو گی کہ پوری دُنیا پر عالمی عادلانہ حکومت کا غلبہ ہو جائے گا اور دنیا عدالت سے پر ہو جائے گی۔
حضرت کی حکومتی سیرت، انتظامی و اقتصادی جہات اور دین و عدالت کے اجراءاور انسانیت کے پھلنے پھولنے کے حوالے سے قابل توجہ ہے۔
درس کے سوالات:
۱ ۔ انسان کے اپنے حقیقی مقصد کو پانے اور اپنی آرزووں تک پہنچنے میں ناکامی کے اسباب کیا ہیں؟
۲ ۔ زمانہ ظہور میں اتحاد و وحدت سے مراد آیا عالی طور پر جغرافیائی سرحدوں کا ختم ہونا ہے؟
۳ ۔ احادیث و روایات کی رو سے امام مہدی علیہ السلام عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طرف سے لوگوں میں ماہانہ اور سالانہ عطایت کتنی دفعہ ملیں گے؟
۴ ۔ روایات کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کی مدت حکومت کتنے سالوں پر محیط ہے؟
۵ ۔ انتظامی اور قضاوت کے امور میں امام زمانہ کی حکومتی سیرت کو وضاحت سے بیان کریں؟
چودہواں درس
رجعت
مقاصد:
( ۱) شیعہ عقیدہ میں رجعت کے مقام کا تجزیہ وتحلیل۔
( ۲) رجعت کرنے والوں سے آگاہی
فوائد:
( ۱) حقیقت رجعت سے آگاہی
( ۲) رجعت کے فلسفہ اور دلائل سے آگاہی
( ۳) زمانہ رجعت اور رجعت کرنے والوں سے آگاہی
تعلیمی مطالب:
( ۱) رجعت کا معنی اور تاریخچہ
( ۲) رجعت کو ثابت کرنے کے دلائل(عقلی،قرآنی اور حدیثی دلائل)
( ۳) فلسفہ رجعت
( ۴) رجعت کے واقع ہونے کا زمانہ
( ۵) رجعت کرنے والے
رجعت
زمانہ ظہور کا ایک اہم ترین مرحلہ”رجعت کا واقعہ“یعنی صالح اور برے لوگوں کا دنیا کی طرف پلٹنا ہے، عقیدہ رجعت شیعہ مسلم عقائد میں سے ہے اور اسلامی آثار میں ماضی سے حال تک اس موضوع پر بہت سی بحثیں ہوئیں، یہاں ہم اختصار سے اس موضوع پر گفتگو کریں گے البتہ اس موضوع پر تفصیلی بحث اسی عنوان کے تحت تحریر کی جانے والی دیگر کتب موجودہے۔
رجعت کا مفہوم
لغت میں رجعت کا معنی لوٹناہے، دینی اصطلاح میں اس سے مراد الٰہی حجج، آئمہ معصومین علیہ السلام ، خالص مومنین کا ایک گروہ اور کفار و منافقین کا علم دنیا کی طرف لوٹنا ہے یعنی یہ لوگ حکم خدا کی بنا پر زندہ ہوں گے اور دنیا کی طرف پلٹائے جائیں گے یعنی یہ قیامت سے پہلے معاد کی اجمالی سی تصویر ہے کہ جو اسی جہان میں واقع ہوگا۔
رجعت کا فلسفہ
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام رجعت کے بارے میں ایک روایت کے ضمن میں فرماتے ہیں:
”مومنین پلٹ جائیں گے تاکہ عزت پائیں، ان کی آنکھیں روشن ہوں گی اور ظالم لوگ بھی پلٹیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں ذلیل کرے“۔(بحارالانوار ج ۵۳ ص ۴۶)
یہ بات درست ہے کہ انسانوں کی جزا و سزا کی اصلی جگہ عالم آخرت ہے لیکن پروردگار عالم نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ ان کی کچھ جزا اور سزا اسی دنیا میں ان کو دی جائے، رجعت کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ مومنین حضرت ولی العصر (عج) کی نصرت کی سعادت حاصل کریں یہ نکتہ دعاوں اور بعض علماءکے بیانات میں بیان ہوا ہے۔
مرحوم سید مرتضیٰ(متوفی ۶۳۴ قمری) فرماتے ہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کے وقتشیعوں کے ایک گروہ کو کہ جو آپ علیہ السلام کی آمد سے قبل دنیا سے جا چکے ہوں گے، دوبارہ پلٹائے گا تاکہ وہ حضرت کی نصرت کا ثواب حاصل کرسکیں“(رسائل ج ۱ ،ص ۵۲۱)
سرداب مقدس میں حضرت امام عصر علیہ السلام کی زیارت میں آیا ہے”مولای فان ادرکنی الموت قبل ظهورک فانی اتوسل بک وبابائک الطاهرین الی الله تعالیٰ واسئله ان یصلی علی محمد وآل محمد وان یجعل لی کرة فی ظهورک و رجعتة فی ایامک لابلغ من طاعتک مرادی واشفی من اعدائک فوادی “۔(مفاتیح الجنان، آداب سرداب مقدس، زیارت دوم صاحب الامرعلیہ السلام)
اے میرے مولا و آقا اگر اپ کے ظہور سے پہلے مرجاوں تو آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے پاکیزہ آباءو اجداد کے وسیلہ سے پروردگار کی بارگاہ میں توسل کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے یہ التجاءکرتا ہوں کہ محمد وآل محمد پر رحمتیں نازل فرما اور آپ علیہ السلام کے زمانہ ظہورمیں مجھے پلٹا دے آپ علیہ السلام کے زمانہ حکومت میں رجعت کروں آپ کی اطاعت میں اپنے مقصد کو حاصل کروں اور اپنے سینہ کو آپ کے دشمنوں کی ذلت سے ٹھنڈا کروں۔
دین اسلام میں رجعت کی اہمیت
رجعت شیعہ مسلم عقائد میں سے ہے کہ جس کی تائید قرآن مجید کی دسیوں آیات اور پیغمبراکرم سے سینکڑوں روایات کرتی ہیں۔ عظیم محدث شیخ حرعاملی رحمة اللہ علیہ نے اپنی کتاب”ایقاظ“ میں رجعت کے بارے ۰۲۵ ، احادیث نقل کیں اور مرحوم علامہ مجلسی فرماتے ہیں:
”اگررجعت کی احادیث متواتر نہ ہوں(متواتر ایسی روایات کو کہتے ہیں کہ جن کے راویوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ان کا جھوٹ پر اکھٹا ہونا ناممکن ہو)تو کسی اور مورد میں ہم تواتر کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔(خادمی شیرازی، رجعت ص ۰۴۱)
آیات و روایات سے قطع نظر تمام علماءشیعہ اس حقیقت پر اتفاق نظر رکھتے ہیں جیسا کہ مرحوم شیخ حر عاملی اس مطلب کی تصریح کرتے ہیں بلکہ رجعت کو مذہب شیعہ کی ضروریات میں سے سمجھتے ہیں۔(خادمی شیرازی، رجعت ص ۵۴۱)
قرآن و روایات میں رجعت
قرآن مجید کی بہت سی آیات میں واضح طور پر وفات پا چکے بعض افراد کے دنیا میں پلٹے کے واقعہ کو بیان کیا گیا ہے اور اہل بیت علیہ السلام کی بہت سی روایات ان آیات کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں رجعت اور دنیا میں پلٹنے کی سب سے زیادہ روشن مثال عزیرکا واقعہ ہے وہ سوسال تک وفات پا چکنے کے بعد الٰہی ارادہ سے زندہ ہوئے اور دنیا کی طرف پلٹے اور بہت سا عرصہ زندہ رہے۔
( ثم بعثنا کم من بعدموتکم لعلکم تشکرون ) (بقرہ آتی ۹۵۲)
”پھر میں نے تمہیں مرنے کے بعد اٹھایا تاکہ تم شکرگزار بنو“
یہ آیت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے ان سترمنتخب افراد کے بارے میں ہے کہ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ کوہ طور پر گئے تاکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ سے گفتگو کو دیکھیں اور اللہ تعالیٰ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے الواح لینے کا مشاہدہ کریں جب انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ سے گفتگو کو دیکھا تو کہا اے موسیٰعلیہ السلام ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کو واضح طور پر دیکھیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں اس فضول اور غیرممکن درخواست سے روکا لیکن انہوں نے اصرار کیا بالآخر الٰہی صاعقہ میں گرفتار ہوئے اور سب مر گئے حضرت موسیٰ علیہ السلام اس واقعے سے ناراحت ہوئے اور بنی اسرائیل میں اس واقعہ کے نتائج سے پریشان تھے لہٰذا انہوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ انہیں زندگی کی طرف لوٹا دیں ان کی درخواست مورد قبول واقع ہوئی اور اس مندرجہ بالاآیت کے مطابق انہیں زندگی کی طرف لوٹا دیا گیا۔
حضرت امام علی علیہ السلام سے منقول ایک روایت کے مطابق(ایسی دیگرآیات مثلابقرہ کی آیت ۹۵۲،۳۷ اور ۳۴۲ وغیرہ زندہ ہونے اور دنیا کی طرف پلٹنے کو بیان کرتی ہیں)یہ گروہ اپنے گھروں کو لوٹ گیااور ایک مدت تک زندہ رہے، صاحب اولاد ہوئے اور جب ان کا وقت اجل آ پہنچا تو دنیا سے الوداع ہوئے“۔(بحارالانوارج ۳۵ ،ص ۳۷،۹۲۱)
اسی طرح موضوع رجعت پر قرآن مجید کی دیگر چند درج ذیل آیات واضح دلالت کرتی ہیں:
سورہ نمل کی آیت ۳۸ میں پروردگار فرماتاہے:
( ویوم نحشر من کل امة فوجا ممن یکذب بایاتنا فهم یوزعون )
وہ دن جب ہر امت میں سے ایک گروہ محشور کریں گے(یہ لوگ)ان میں سے(ہوں گے) کہ جو ہماری آیت کو جھٹلاتے تھے پس وہ الگ الگ کر دیئے جائیں گے۔
اس آیت میں اس دن کی بات ہو رہی ہے کہ جس دن لوگوں میں سے ایک گروہ کو اٹھایا جائے گا لہٰذا یہ قیامت سے ہٹ کر کسی اور دن کی طرف اشارہ ہے کیونکہ قیامت کے روز اولین و آخرین سے تمام انسانوں کو محشور کیا جائے گا مرحوم طبرسی تفسیرمجمع البیان میں لکھتے ہیں کہ اہل بیت علیہم السلام سے منقول بہت سی روایات کے مطابق یہ آیت حضرت امام عصرعلیہ السلام کے شیعوں کے ایک گروہ اور ان کے دشمنوں کے ایک گروہ کے بارے میں ہے کہ جو ان کے زمانہ ظہور میں دنیا کی طرف پلٹیں گے۔(مجمع البیان سورہ نمل آیت ۳۸ کے ذیل میں)
ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو حضرت علیہ السلام نے فرمایا: لوگ اس آیت کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟راوی نے کہا وہ کہتے ہیں یہ آیت قیامت کے بارے میں ہے امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
آیا اللہ تعالیٰ روز قیامت ایک گروہ کو محشور کرے گا اور دوسرے گروہ کو چھوڑ دے گا؟ (ایسا نہیں ہے)یہ آیت رجعت کے بارے میں ہے جب کہ قیامت کے بارے میں یہ آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے”( وحشرناهم فلم نفادرمنهم احد ) “یعنی ہم انہیں محشورکریں گے اور ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے“۔(بحارالانوار ج ۳۵ ،ص ۱۵)
سورہ انبیاءکی آیت ۵۹ میں ہے:
( وحرام علی قریة اهلکناها انهم لایرجعون )
ممنوع ہے(دوبارہ دنیا میں آنا)اس شہر کے لوگوں کا کہ جنہیں ہم نے ہلاک کیا کہ وہ نہیں پلٹیں گے۔
یہ آیت بھی رجعت کی اہم ترین دلیلوں میں سے ہے کیونکہ روز قیامت تک سب لوگ اور سب قومیں کہ جو ہلاک ہو چکی ہیں اور عذاب الٰہی کی طرف پلٹیں گی یہ حقیقت بہت سی روایات میں بیان ہوئی ہے۔
حضرت امام محمدباقر علیہ السلام اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اس آیت کی تفسیر فرماتے ہیں:
یہ وہ قریہ ہے کہ جس کے رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے عذاب سے ہلاک کیا ہے وہ رجعت میں نہیں پلٹیں گے یہ آیت رجعت کی بڑی دلیلوں میں سے ہے کیونکہ کوئی بھی مسلمان اس بات کا منکر نہیں ہے کہ سب لوگ روزقیامت لوٹیں گے خواہ وہ جو ہلاک ہوئے ہوں یا ہلاک نہ ہوئے ہوں پس اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ لایرجعون رجعت کے متعلق ہے جب کہ روز قیامت الٰہی عذاب سے ہلاک ہونے والے بھی لوٹیں گے تاکہ آگ میں داخل ہو۔(بحارالانوارج ۳۵ ،ص ۲۵ ،ح ۹۲)
ادعیہ اور زیارات میں رجعت
قابل ذکر بات یہ ہے کہ آئمہ معصومین علیہم السلام سے نقل ہونے والی دعاوں اور زیارات میں بھی رجعت کا موضوع ذکر ہوا ہے مثلاً حضرت امام علی نقی علیہ السلام سے نقل ہونے والی زیارت جامع کبیرہ میں ہم پڑھتے ہیں کہ ”معترف بکم مومن بایاتکم مصدق برجعتکم منتظر لامرکم “(مفاتیح الجنان، زیارت جامعہ کبیرہ)
(اے ائمہ اے الٰہی حجج) میں آپ(کی امامت)کا اعتراف کرتا ہوں آپ کی نشانیوں پر ایمان لاتا ہوں اور آپ کی(اس دنیا میں)رجعت کی تصدیق کرتا ہوں اور آپ کے امر کا منتظر ہوں۔
حضرت امام مہدی(عج) کی بعض مخصوص زیارات مثلاً زیارت آل یٰسین میں بھی یہ موضوع نہایت ہی صراحت سے بیان ہواہے۔
رجعت کی خصوصیات
رجعت کے متعلق بہت سی روایات میں رجعت کے بارے میں مندرجہ ذیل مطالب بیان ہوئے ہیں:
۱: رجعت کائنات کے عظیمج اور اہم دنوں میں سے ہے کہ اسے قرآن مجید میں ایام اللہ(اللہ کے دنوں)کے عنوان سے یاد کیا گیاہے۔
حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں:”ایام اللہ“تین دن ہیں قائم علیہ السلام کے قیام کا دن رجعت کا دن اور قیامت کا دن(بحارالانوار،ج ۳۵ ،ص ۳۴ ،حدیث ۳۵)
۲: رجعت پر عقیدہ اہل بیت علیہ السلام کے شیعوں کی نشانیوں میںسے ہے
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں ہم میں سے نہیں وہ جو رجعت پر ایمان نہ رکھتاہو“۔(بحارالانوار،ج ۳۵ ،ص ۲۹ ،حدیث ۱۰۱)
۳: رجعت سب لوگوں کے لئے نہیں ہے بلکہ خالص مومنین اور خالص کفار و منافقین کے لئے ہے۔(بحارالانوار ج ۳۵ ،ص ۹۳ ،حدیث ۱)
۴: رجعت کرنے والوں میں سے انبیاءعلیہ السلام اور آئمہ معصومین علیہ السلام بھی ہیں اور سب سے پہلے امام کہ جو زمانہ رجعت میں اور امم مہدی علیہ السلام کے بعد عالمی عدل کی حکومت کو سنبھالیں گے امام حسین علیہ السلام ہیں کہ بہت سے سال حکومت کریں گے“(بحارالانوار ج ۳۵ ،ص ۶۴ ،حدیث ۹۱)
۵: سب مومنین اور امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے حقیقی منتظرین کہ جو ان کے ظہور سے قبل دنیا سے جا چکے ہیں اور ان کے لئے دنیا میں رجعت اور اس عظیم امام کی نصرت کا امکان موجود ہے، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روایت ہوئی ہے کہ جو بھی چالیس صبح تک دعائے عہد پڑھے وہ حضرت امام قائم علیہ السلام کے انصار میں سے ہوگا اور اگر ان کے ظہور سے پہلے مرجائے اللہ تعالیٰ اسے اس کی قبر سے نکالے گا(اور وہ قائم علیہ السلام کی نصرت کرے گا)(مفاتیح الجنان، دعائے عہد)
۶: کفار اور منافقین کبھی بھی اپنی رغبت اور اشتیاق کے ساتھ دنیا کی طرف نہیں پلتیں گے بلکہ جبراً رجعت کریں گے لیکن مومنین کی رجعت اختیاری ہو گی حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب حضرت امام عصر علیہ السلام قیام کریں گے الٰہی نمائندے قبر میں مومنین لوگوں سے رابطہ کریں گے اور انہیں کہیں گے کہ اے بندہ خدا تمہارے مولی نے ظہور کیا ہے اگر چاہتے ہو کہ ان کے ساتھ مل جاو تو تم آزاد ہو اگر چاہتے ہو کہ برزخ کی الٰہی نعمات میں لطف اٹھاو تو بھی آزادہو۔(بحارالانوارج ۳۵ ،ص ۵۹)
رجعت کرنے والے
روایات کی رو سے حضرات انبیاءعلیہم السلام کا ایک گروہ، آئمہ معصومین علیہم السلام اور خالص مومنین اور اسی طرح خالص کفار یہ وہ لوگ ہیں کہ جو زمانہ رجعت میں اس دنیا کی طرف لوٹ جائیں گے۔
( ۱) انبیاءعلیہ السلام اور ائمہ علیہم السلام کی رجعت:
انبیاءعلیہم السلام کے متعلق روایات:
الف: ایسی روایات کہ جو عمومی طور پر انبیاءعلیہ السلام اور آئمہ معصومین علیہ السلام کے لوٹنے کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں مثلاً آیت ”( انا لننصررسلنا والذین آمنوا فی الحیاة الدنیا ویوم یقوم الاشهاد ) “ کی تفسیر میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں خدا کی قسم یہ آیت رجعت کے زمانہ میں تحقق کرے گی آیا تم نہیں جانتے کہ انبیاءعلیہم السلام کی دنیا میں نصرت نہیں ہوئی اور وہ قتل ہوئے اور اسی طرح ائمہ علیہم السلام بھی قتل ہوئے لیکن یہ نصرت اور کامیابی رجعت کے زمانہ میں تحقق کرے گی“۔(معجم الاحادیث الامام المہدی علیہ السلام ج ۵ ،ص ۴۸۳)
ب: ایسی روایات کہ جو اعداد کے ساتھ انبیاءعلیہ السلام کی رجعت کا ذکر کرتی ہیں، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں؛ جب حضرت امام حسین علیہ اسللام اپنے شہید اصحاب کے ساتھ رجعت کریں گے تو سترانبیاءعلیہ السلام بھی ان کے ساتھ رجعت کریں گے جیسا کہ موسیٰعلیہ السلام بن عمران علیہ السلام کے ہمراہ ستر انبیاءعلیہ السلام تھے“۔(معجم الاحادیث الامام المہدی علیہ السلام ج ۳۵ ،ص ۲۶)
ج: وہ روایات جو بطور خاص بعض انبیاءعلیہ السلام اور آئمہ معصومین علیہم السلام کے نام کے تذکرہ کے ساتھ ان کی رجعت کو بیان کرتی ہیں۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : بلاشبہ حضرت دانیال اور یونس علیہ السلام دونوں امیرالمومنین علیہ السلام کے زمانہ رجعت میں دنیا کی طرف پلٹیں گے اور پیغمبراکرم کی رسالت کا اقرار کریں گے اور ان کے ساتھ ستر افراد بھی اٹھائے جائیں گے۔(بحارالانوارج ۳۵ ،ص ۲۶)
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں:”یرجع الیکم بینکم وامیرالمومنین والائمة “(معجم الاحادیث الامام المہدی ج ۵ ص ۷۲۳)
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام اور ائمہ معصومین علیہم السلام تمہاری طرف دوبارہ لوٹ جائیں گے۔
یہ کہ سب سے پہلے رجعت کرنے والا فرد کون ہے؟
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں”اول من یرجع الی الدنیا الحسین بن علی “(بحارالانوار ج ۵ ،ص ۰۹)
سب سے پہلے فرد کہ جو دنیا کی طرف پلٹیں گے حسین علیہ السلام بن علی علیہ السلام ہیں۔
د: ایسی روایات کہ جو گذشتہ امتوں اور امت اسلام کے صالح افراد کی رجعت کو بیان کرتی ہیں ان روایات کی رو سے گذشتہ امتوں میں سے اصحاب کہف اور مومن آل عمران کی رجعت کا تذکرہ کیا گیا ہے اسی طرح پیغمبراکرم اور ئمہ معصومین علیہم السلام کے اصحاب میں سے سلمان فارسی، مقداد، مالک اشتر،ابودجانہ انصاری، مفضل بن عمر،عبداللہ بن شریک عامری، اسماعیل بن جعفر علیہ السلام، حارث، عقیل،جبیر وغیرہ کا نام لیا گیاہے۔(شیعہ والرجعة ج ۱ ،ص ۸۵۱ ،چشم اندازی بہ حکومت حضرت مہدی علیہ السلام ص ۵۹)
خلاصہ درس:
٭رجعت کا معنی لوٹنا ہے، دینی اصطلاح میں اس سے مراد اولیاءالٰہی ، حجج اور خالص مومنین اور خالص کفار کا دنیا کی طرف لوٹنا ہے۔
٭روایات میں رجعت کا فلسفہ مومنین کی عزت وشوکت اور ظالموں اور کفار کی ذلت خواری کو دیکھنا بیان ہواہے۔
٭قرآنی اور روائی دلائل کی رو سے رجعت کا عقیدہ،مذہب شیعہ کے مسلم عقائدمیں سے ہے۔
٭روایات میں رجعت کو ایام اللہ کے عنوان سے یاد کای گیا ہے اور اس پر عقیدہ کو اہل بیت علیہ السلام کے شیعوں کی نشانی شمار کی گئی ہے۔
٭روایات کے مطابق آئمہ معصومین علیہم السلام میں سے سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام رجعت کریں گے اور آپ کئی سالوں تک حکومت کریں گے۔
درس کے سوالات:
۱ ۔رجعت کے معنی کی تشریح کریں؟
۲ ۔روایات کی رو سے فلسفہ رجعت کو بیان کریں؟
۳ ۔آیا عقیدہ رجعت صرف شیعہ مذہب کے ساتھ خاص ہے یا سب مسلمانوں کا عقیدہ ہے؟
۴ ۔رجعت کو ثابت کرنے کے لئے کوئی دوآیات بیان کریں؟
۵ ۔روایات کی رو سے ذکر کی گئی رجعت کی خصوصیات میں سے پانچ خصوصیات کی تشریح کریں؟
پندرہواں درس
مہدویت کے لئے نقصان دہ چیزوں کی پہچان
مقاصد:
۱ ۔ امام مہدیعلیہ السلام کے موضوع کو لاحق خطرات سے آگاہی
۲ ۔ انحرافات اور خطاوں سے بچنے اور ان سے مقابلہ کرنے کی روش
فوائد:
۱ ۔ خرافات سے بچنے کے معیاروں سے بیشتر آگاہی
۲ ۔ امام مہدی علیہ السلام کے موضوع سے غلط لئے گئے مفاہیم کے خطرات پر توجہ
۳ ۔ ان کی نیابت کے جھوٹے دعویداروں کی تکذیب
تعلیمی مطالب:
۱ ۔ مقدمہ
الف: خطرات کو پہچاننے کا معنی
ب: امام مہدی علیہ السلام کے موضوع پر لاحق خطرات کو پہچاننے کی ضرورت
۲ ۔ موضوع مہدی علیہ السلام کے مفاہیم کی غلط تفسریں اور وضاحتیں
۳ ۔ جلد بازی سے کام لینا اور حضرت کے ظہور کا وقت معین کرنا
۴ ۔ ظہور کی علامات کو خاص افراد پر مطابقت دینا
۵ ۔ مہدیعلیہ السلام یا ان کی نیابت کے جھوٹے دعویدار
مہدویت کے لئے نقصان دہ امور کی پہچان
کسی بھی ثقافت اور معرفت کے مجموعہ کے لئے ممکن ہے کہ کچھ چیزیں نقصان دہ ہوں جو اس ثقافت کے رشد اور ترقی میں مانع ہوں، کبھی کبھی دینی ثقافت بھی آفتوں کا شکار ہو جاتی ہے جس سے اس کی ترقی کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ ”مہدویت کے لئے نقصان دہ امور کی پہچان“ کی بحث میں ان مشکلات کی پہچان اور ان سے مقابلہ کا طریقہ کار بیان کیا جائے گا۔ اس آخری فصل میں مناسب ہے کہ عقیدہ مہدویت کے سلسلہ میں پیش آنے والی مشکلات میں بیان کریں تاکہ ان کی پہچان کے بعد ان سے بچا جائے اور ان کا مقابلہ کیا جا سکے۔
مہدوی ثقافت کے لئے نقصان دینے والے امور کہ اگر ان سے غفلت برتی جائے تو مومنین خصوصاً جوانوں میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے وجود یا آپ علیہ السلام کی زندگی کے مختلف پہلووں کی پہچان کا عقیدہ سست ہو جائے گا اور وہ کبھی بھی منحرف افراد یا منحرف فرقوں کی طرف مائل ہو جائیں گے لہٰذا ان نقصان دہ مشکلات کی پہچان امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے منتظروں کے عقیدہ و عمل میں انحراف سے محفوظ رکھتی ہے۔ ہم یہاں عقیدہ مہدویت کے لئے نقصان دہ چیزوں کی الگ الگ عنوان سے بحث کرتے ہیں:
غلط نتیجہ گیری
مہدویت ثقافت کے لئے ایک اہم آفت اور مشکل، اسلامی ثقافت کے غلط معنی کرنا اور غلط نتیجہ لینا ہے۔ روایات کی غلط یا ناقص تفسیر کرنے سے نتیجہ بھی غلط حاصل ہوتا ہے جن کے چند نمونے ہم یہاں بیان کرتے ہیں۔
۱ ۔ ”انتظار“ کے غلط معنی کرنا اس بات کا باعث بنا کہ بعض لوگوں نے یہ گمان کر لیا کہ یہ دُنیا صرف حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ذریعہ برائیوں سے پاک ہو سکتی ہے، لہٰذا برائیوں، فساد اور تباہیوں کے مقابلہ میں ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ بعض لوگ تو یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کے نزدیک ہونے کے لئے معاشرہ میں برائیوں اور گناہوں کو رائج کرنا چاہئے!! یہ غلط نظریہ قرآن و اہل بیت علیہم السلام کے نظریات کے بالکل مخالف ہے کیونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا ہر مسلمان کا مسلّم فریضہ ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایرن کے بانی حضرت امام خمینی اس نظریہ کی رِد میں فرماتے ہیں:
”اگر ہم اس بات پر قدرت رکھتے ہیں کہ پوری دُنیا سے ظلم و ستم کا خاتمہ کر دیں تو یہ ہماری شرعی ذمہ داری ہو گی، لیکن ہم میں اتنی طاقت نہیں ہے۔ اگرچہ حضرت امام مہدی علیہ السلام دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ہے اورہم اپنی ذمہ داری پر عمل نہ کریں“۔ (صحیفہ نور، ج ۰۲ ، ص ۶۹۱)
اس کے بعد موصوف اپنے بیان کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں: ”(کیا) ہم قرآن مجید کی تلاوت کے برخلاف قدم اُٹھائیں اور نہی عن المنکر انجام نہ دیں؟ اور امر بالمعروف نہ کریں؟ اور اس وجہ سے گناہوں میں زیادتی کریں تاکہ امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہو جائے؟! (صحیفہ نور، ج ۰۲ ، ص ۶۹۱)
قارئین کرام! ہم نے ”انتظار“ کی بحث کے شروع میں انتظار کے صحیح معنی بیان کئے ہیں۔
کچھ لوگوں نے بعض روایات کے ظاہر سے یہ نتیجہ نکالا کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے ہونے والا ہر انقلاب غلط اور باطل ہے لہٰذا ایران کے عظیم الشان اسلامی انقلاب (جو طاغوت اور استکبار کے خلاف اور احکام الٰہی قائم کرنے کے لئے تھا) کے مقابلہ میں غلط فیصلے کئے گئے۔
جس کے جواب میں ہم یہ کہتے ہیں کہ بہت سے اسلامی احکام جیسے اسلامی حدود، قصاص اور دشمنوں سے جہاد نیز برائیوں سے مکمل مقابلہ صرف اسلامی حکومت کے زیر سایہ ہی ممکن ہے لہٰذا اسلامی حکومت کی تشکیل ایک پسندیدہ اور قابل قبول کام ہے، جبکہ بعض روایات میں قیام کرنے سے اس لے نہیں کی گئی تاکہ باطل اور غیر اسلامی انقلاب میں شرکت نہ کی جائے، یا ایسے انقلاب جن میں شرائط اور حالات کو پیش نظر نہ رکھا جائے، یا ایسا قیام جو ”قیام مہدی“ کے عنوان سے شروع کیا جائے نہ یہ کہ معاشرہ کی اصلاح کے لئے برپا کیا جانے والا ہر انقلاب مذموم اور باطل ہو۔ (اس موضوع سے مزید آگاہی کے ئے کتاب ”دادگستر جہاں“ مولفہ ابراہیم امینی، ص ۴۵۲ تا ۰۰۳ کا مطالعہ فرمائیں)
ثقافت مہدویت سے غلط نتیجہ حاصل کرنے کا ایک نمونہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے چہرہ کو خطرناک شکل میں پیش کرنا ہے بعض لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام شمشیر عدالت کے ذریعہ خون کا دریا بہائیں گے اور بہت سے لوگوں کو تہہ تیغ کر ڈالیں گے لیکن یہ تصور باکل غلط ہے کیونکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی رحمت اور مہربانی کا مظہر ہیں اور پیغمبر اسلام (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی طرح پہلے سب لوگوں کے سامنے اسلام کے واضح دلائل پیش کریں گے جس سے لوگوں کی اکثریت اسلام قبول کرکے آپ علیہ السلام کے ہمراہ ہو جائے گی، لہٰذا امام مہدی علیہ السلام صرف اپنے ان ہٹ دھرم مخالفوں کےلئے شمشیر اور اسلحہ کا استعمال کریں گے جو حق واضح ہونے کے بعد بھی حق قبول نہیں کریں گے، وہ لوگ تلوار کی زبان کے علاوہ کوئی زبان نہیں سمجھتے ہوں گے۔
ظہور کے بارے جلد بازی
مہدوی ثقافت کے لئے ایک نقصان دہ چیز ”ظہور میں جلد بازی“ ہے، جلد بازی کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کے وقت سے پہلے یا اس کے لئے راستہ ہموار ہونے سے پہلے اس کو طلب کیا جائے، جلد باز انسان نفس کی کمزوری اور کم ظرفیت کی وجہ سے اپنی سنجیدگی اور چین و سکون کو کھو بیٹھتا ہے اور کسی چیز کے شرائط اور حالات پیدا ہونے سے پہلے اس چیز کا خواہاں ہوتا ہے۔
مہدوی ثقافت کے پیش نظر ”امام غائب کے مسئلہ میں“ سب منتظرین ظہور مہدی علیہ السلام کے مشتاق ہیں اور اپنے پورے وجود کے ساتھ ظہور کا انتظار کر رہے ہیں، اور آپ کے ظہور کی تعجیل کے لئے دعا کرتے ہیں لیکن پھر بھی جلد بازی سے کام نہیں لیتے، اور غیبت کا زمانہ جس قدر طولانی ہوتا جاتا ہے ان کا انتظار بھی طولانی ہوتا رہتا ہے، لیکن پھر بھی صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہیںچھوٹتا، بلکہ ظہور کے بہت مشتاق ہونے کے بعد بھی خداوند عالم کے مرضی اور اس کے ارادہ کے سامنے سر تسلیم ختم کرتے ہیں، اور ظہور کے لے لازمی شرائط پیدا کرنے اور راستہ ہموار کرنے کے لئے کوشش کرتے ہیں۔عبد الرحمن بن کثیر کہتے ہیں: میں حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ ”مہرم“ آئے اور عرض کی: میں آپ پر قربان! مجھے بتائیں کہ جس چیز کے انتظار میں ہم ہیں اس انتظار کی گھڑیاں کب پوری ہوں گی؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: اے ”مہرم“ ظہور کے لئے وقت معین کرنے والے جھوٹے ہیں اور جلد بازی کرنے والے ہلاک ہونے والے ہیں، اور (اس سلسلہ میں) تسلیم ہونے والے نجات یافتہ ہیں“۔ (اصول کافی، ج ۲ ، ص ۱۹۱)
ظہور کے سلسلہ میں جلد بازی سے ممانعت اس وجہ سے کی گئی ہے کہ جلد بازی کی وجہ سے انسان میں یاس اور نااُمیدی پیدا ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے سکون اور اطمینان ختم ہو جاتا ہے اور تسلیم کی حالات، شکوہ اور شکایت میں تبدیل ہو جاتی ہے اور ظہور میں تاخیر کی وجہ سے بےقراری پیدا ہوتی ہے اور یہ بیماری دوسروں تک بھی پہنچ جاتی ہے اور کبھی کبھی ظہور میں جلد بازی کی وجہ سے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے وجود سے انکار کر دیتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ظہور کے سلسلہ میں جلد بازی کی وجہ یہ ہے کہ انسان یہ نہیں جانتا کہ ظہور الٰہی سنتوں میں سے ایک ہے اور تمام سنتوں کی طرح اس کےلئے بھی شرائط اور حالات ہموار ہونا ضروری ہے جس کی بنا پر ظہور کے سلسلہ میں جلد بازی کرتا ہے۔
ظہور کے لئے وقت معین کرنا
مہدوی ثقافت کے لئے نقصان دہ ایک چیز یہ ہے کہ انسان امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے وقت معین کرے جبکہ ظہور کا زمانہ لوگوں کے کے لئے مخفی ہے اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی روایات میں ظہور کے لئے وقت معین کرنے سے سخت ممانعت کی گئی ہے اور وقت معین کرنے والوں کو جھوٹا شمار کیا گیا ہے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے سوال ہوا کہ کیا ظہور کے لئے کوئی وقت (معین) ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا:
”جو لوگ ظہور کے لئے وقت معین کریں وہ جھوٹے ہیں، (اور امام علیہ السلام نے اس جملہ کی تین بار تکرار فرمائی)“ (غیبت طوسی، ح ۱۱۴ ، ص ۶۲۴) لیکن پھر بھی بعض لوگ دانستہ یا نادانستہ طور پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے وقت معین کرتے ہیں، جس کا کم سے کم (منفی) اثر یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ اس طرح کے جھوٹے وعدوں پر یقین کر لیتے ہیں اور جب وہ پورے نہیں ہوتے تو ان کے اندر یاس اور نااُمیدی کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔
لہذا سچے منتظرین کا فریضہ ہے کہ نادان اور (خود غرض) شکاریوں کے جال سے اپنے کو محفوظ رکھیں اور ظہور کے سلسلہ میں صرف مرضی پروردگار کے منتظر رہیں۔
ظہور کی نشانیوں کو خاص مصادیق پر منطبق کرنا
متعدد روایات میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے بہت سی نشانیاں بیان ہوئی ہیں لیکن ان کی دقیق اور صحیح کیفیت نیز ان کی خصوصیات روشن نہیں ہیں، جس کی وجہ سے بعض لوگ اپنے ذاتی نظریات اور احتمالات کو بروئے کار لاتے ہیں اور بعض اوقات ظہور کی نشانیوں کو خاص واقعات پر منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے ذریعہ ظہور کے نزدیک ہونے کی خبریں دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ بھی مہدوی ثقافت کے لئے ایک آفت ہے جس کی بنا پر (بھی) انسان یاس اور نااُمیدی کا شکار ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ”سفیانی“ نام کو کسی علاقہ کے رہنے والے پر صادق مانیں اور ”دجال“ کے بارے میں بغیر دلیل کے گفتگو کی جائے، جس کے بعد سب لوگوں کو یہ بشارت دی جائے کہ اب ظہور امام کا زمانہ نزدیک ہے اور سالوں بعد بھی امام علیہ السلام کا ظہور نہ ہوتو بہت سے لوگ غلط فہمی اور انحراف کے شکار ہو جائیں گے اور اپنے صحیح عقائد میں شک و تردید میں مبتلا ہو جائیں گے۔
غیر ضروری بحث کرنا
مہدوی ثقافت میں بہت سے معارف اور تعلیمات ایسی ہیں جن کے سلسلہ میں کوشش کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے اور یہ چیز شیعوں میں مزید علم و آگاہی کے لئے بنیادی کردار ادا کرتی ہے اور غیبت کے زمانہ میں ہمارے لئے ایک اہم دستور العمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کبھی کبھی لوگ یا بعض گروہ اپنی گفتگو، مضامین، جرائد اور کانفرنسوں میں غیر ضروری بحث کرتے ہیں کہ جن کی وجہ سے کبھی کبھی منظرین کے ذہنوں میں بعض غلط شبہات اور سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ نمونہ کے طور پر ”امام زمانہ (ع) سے ملاقات“ کی بحث کرنا اور لوگوں کو آپ علیہ السلام کی ملاقات کے بارے میں بہت زیادہ رغبت دلانا جس کے بہت سے غلط اثرات پیدا ہوجاتے ہیں اور نااُمیدی کا سبب اور کبھی تو امام علیہ السلام کے انکار کا باعث ہوتا ہے جبکہ روایات میں اس چیز کی تاکید ہوئی ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی مرضی کے مطابق قدم بڑھایا جائے اور رفتار و کردار میں آپ علیہ السلام کی پیروی کی جائے۔ لہٰذا اہم یہ ہے کہ غیبت کے زمانہ میں انتظار کرنے والوں کے فرائض کو بیان کیا جائے تاکہ اگر امام علیہ السلام سے ملاقات ہو جائے تو اس موقع پر امام علیہ السلام ہم سے راضی اور خوشنود ہیں۔اسی طرح امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی شادی کا مسئلہ، یا آپ کی اولاد کے بارے میں گفتگو، یا آپ کہاں رہتے ہیں وغیرہ، یہ تمام غیر ضروری بحثیں جن کی جگہ ایسی موثر اور مفید بحثوں کو بیان کرنا چاہیے جو منتظرین کے لئے مفید ثابت ہوں، اسی وجہ سے ظہور کی شرائط اور ظہور کی نشانیوں کی بحث مقدم ہے، کیونکہ امام علیہ السلام کے ظہور کے مشتاق افراد کا شرائط سے آگاہ ہونا ان شرائط کو پیدا کرنے میں ترٍغیب کا باعث بنتا ہے۔
امام مہدی علیہ السلام مہرومحبت کا پیکر نہ کہ قہر و غضب کا
یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ مہدویت کی بحث میں ہر پہلو پر نظر رکھنا ضروری ہے یعنی کسی ایک موضوع پر بحث کرتے وقت مہدویت کے سلسلہ میں تمام چیزوں پر نظر رکھی جائے کیونکہ کچھ لوگ بعض روایات کے مطالعہ کے بعد غلط تفسیر کرنے لگتے ہیں کیونکہ ان کی نظر دوسری روایات پر نہیںہوتی، مثال کے طور پر بعض روایات میں طولانی جنگ اور قتل و غارت کی خبر دی گئی ہے چنانچہ بعض لوگ صرف انہی روایات کی بنا پر امام مہدی علیہ السلام کی بہت خطرناک تصویر پیش کرتے ہیں اور جن روایات میں امام علیہ السلام کی محبت اور مہربانی کا ذکر ہوا ہے اور آپ علیہ السلام کے اخلاق و کردار کو رسول اکرم (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کے اخلاق کی طرح بیان کیا گیا ہے، ان سے غافل رہتے ہیں ظاہر ہے کہ دونوں طرح کی روایات میں غور و فکر سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ امام علیہ السلام تمام ہی حق طلب انسانوں سے (اپنے شیعہ اور دوستوں کی بات تو الگ ہے) مہر و محبت اور رحم و کرم میں دریا دلی کا مظاہرہ کریں گے اور اس آخری ذخیرہ الٰہی کی شمشیر انتقام صرف ظالم و ستمگر اور ان کی پیروی کرنے والوں کے سروں پر قہر بن کر برسے گی۔
اس گفتگو کی بنا پر مہدویت کے موضوع پر بحث کرنے کے لئے کافی علمی صلاحیت کی ضرورت ہے اور جن کے یہاں یہ صلاحیت نہ پائی جاتی ہو تو ان کو اس میدان میں نہیں کودنا چاہیے کیونکہ ان کا اس میدان میں وارد ہونا ”مہدوی ثقافت“ کے لئے بہت ہی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
جھوٹا دعویٰ کرنے والے
عقیدہ مہدویت کے لئے ایک نقصان دہ چیز اس سلسلہ میں ”جھوٹا دعویٰ کرنے والے“ ہیں۔ امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کے زمانہ میں بعض لوگ جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم امام علیہ السلام سے ایک خاص رابطہ رکھتے ہیں یا انکی طرف سے خاص نائب ہیں۔ امام مہدی علیہ السلام اپنے چوتھے نائب (خاص) کے نام آخری خط میں اس بات کی وضاحت کرتے ہیں:
”چھ دن بعد آپ کی وفات ہو جائے گی، اپنے کاموں کو اچھی طرح دیکھ بھال لو، اور اپنے بعد کے لئے کسی کو وصیت نہ کرنا کیونکہ مکمل غیبت کا زمانہ شروع ہونے والا ہے........ آنے والے زمانہ میں ہمارے بعض شیعہ مجھ سے ملاقات (اور مجھ سے رابطہ کا) دعویٰ کریں گے، خبردار! کہ جو شخص سفیانی کے خروج اور آسمانی آواز سے پہلے ہمیں دیکھنے کا دعویٰ کرے تو وہ جھوٹا ہے“۔ (کمال الدین، ج ۲ ، باب ۵۴ ، ح ۵۴ ، ص ۴۹۲)
امام علیہ السلام کے اس کلام سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہر شیعہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ امام علیہ السلام سے رابطہ رکھنے اور خاص نیابت کے سلسلہ میں دعویٰ کرنے والوں کو جھٹلائے اور اس طرح کے خود غرض اور دنیا پرست لوگوں کے نفوذ کا سدباب کریں۔
اس طرح کے بعض جھوٹا دعویٰ کرنے والوں نے ایک قدم اس سے بھی آگے بڑھایا اور امام علیہ السلام کی نیابت کے دعویٰ کے بعد ”مہدویت“ کے دعویدار بن بیٹھے اور اپنے اس باطل دعویٰ کی بنیاد پر ایک گمراہ فرقہ کی بنیاد ڈال دی اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کرنے کا راستہ ہموا کر دیا۔
( فرقہ بابیت بھی اس طرح کا ایک گمراہ فرقہ ہے جس کا رہبر ”علی محمد باب“ ہے، جس نے پہلے امام مہدی علیہ السلام کی نیابت کا دعویٰ کیا اور اس کے بعد مہدی موعود کا دعویٰ کر بیٹھا اور آخرکار اس نے پیغمبری کا بھی دعویٰ کیا اور اسی طرح گمراہ فرقہ نے بہائیت جیسے گمراہ فرقہ کی تشکیل کا راستہ ہموار کیا۔یہ تو ایران میں تھے اور برصغیرمیں غلام احمد قادیانی نے بھی اسی طرح کا دعویٰ کیا اپنا فرقہ بناڈالا)
چنانچہ ان گروہوں کی تاریخ کے مطالعہ کے بعد یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ استعمار کی حمایت اور اس کے اشارہ پر پیدا ہوئے ہیں اور اپنے وجود کوباقی رکھے ہوئے ہیں۔
روشن ہے کہ اس طرح کے منحرف فرقے اور گروہوں کی تشکیل اور ان کا مہدویت یا امام زمانہ علیہ السلام کی نیابت کا دعویٰ کرنے والوں پر اعتماد کرنا ان کی جہالت اور نادانی کی وجہ سے ہے۔
امام مہدی علیہ السلام کی معرفت کے بٍغیر آپ علیہ السلام کے دیدار کا بہت زیادہ شوق، یا آپ علیہ السلام کے سلسلہ میں کم معلومات اور اس سلسلہ میں مکاروں کے وجودسے غافل رہنا، جھوٹے دعویداروں کے لئے راستہ ہموار کرنا ہے۔
لہٰذا انتظار کرنے والے شیعہ کو چاہیے کہ مہدوی ثقافت سے لازمی معرفت حاصل کرنے کے ذریعہ خود کو مکار اور حیلہ باز لوگوں سے محفوظ رکھے اور مومن اور متقی شیعہ علماءکی پیروی کرتے ہوئے مکتب اسلام کے روشن راستہ پر قدم بڑھاتا رہے۔
درس کا خلاصہ:
امام مہدی علیہ السلام کے معارف کو لاحق اہم خطرات میں سے اس کی غلط تشریح اور ان تعلیمات سے نادرست فہم ہے۔
مفہوم انتظار نادرست فہم، زمانہ غیبت میں قیام کو باطل سمجھنا اور امام کو ایک سخت حاکم بتانا وغیرہ........ یہ سب امام مہدی علیہ السلام کے عظیم معارف کی غلط فہم و تفسیر کی واضح مثالیں ہیں۔
ظہور کے وقت کو معین کرنا، علامات ظہور کو خود ہی خاص امور پر منطبق کرنا، حضرت سے رابطہ یا ان کی نیابت کے حوالے سے جھوٹے دعوے وغیرہ یہ سب امام مہدی علیہ السلام کے متعلقہ ابحاث کو لاحق اہم خطرات میں سے ہیں۔
درس کے سوالات:
۱ ۔ امام مہدی علیہ السلام کے متعلقہ بحثوں میں غلط سوچ کی تین مثالیں بیان کریں؟
۲ ۔ وقت معین کرنے، جلد بازی کرنے،ظہور کے وقت معین کرنے سے فرق کی وضاحت کریں؟
۳ ۔ظہورکی نشانیوں کو بعض مصادیق پر منطبق کرنے کے بڑے منفی نتائج کیا ہیں؟
۴ ۔ امام زمانہ عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ساتھ رابطے یا نیابت کے جھوٹے دعویداروں کے مدمقابل امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ الشریف کی توقیع کو مدنظر رکھتے ہوئے شیعوں کی ذمہ داری کیا ہے؟
فہرست
صلوات کاملہ ۵
ابتدائیہ ۶
پہلا درس ۸
مہدویت پر بحث کی ضرورت ۸
مقاصد: ۸
فوائد: ۸
تعلیمی مطالب: ۸
مہدویت پر بحث کی ضرورت ۸
امامت ۱۰
امام کی ضرورت ۱۱
امام کی خصوصیات ۱۳
علمِ امام ۱۳
عصمت امام ۱۴
امام ہی انسانی معاشرہ کا حاکم ہے ۱۵
امام اخلاقی کمالات سے آراستہ ہوتا ہے ۱۵
امام کو خدا کی طرف سے منسوب ہونا چاہیے ۱۶
جامع اور رساتر کلام ۱۷
درس کا خلاصہ ۱۸
درس کے سوالات ۱۸
دوسرا درس ۱۹
امام مہدی علیہ السلام کی شناخت ۱۹
مقاصد: ۱۹
فوائد: ۱۹
تعلیمی مطالب: ۱۹
امام مہدی (علیہ السلام) کی حیات طیبہ پر ایک نظر ۲۰
نام مبارک، کنیت اور القاب ۲۰
ولادت کی کیفیت ۲۱
حضرت امام مہدی علیہ السلام کےشمائل اورآپ کی صفات حمیدہ ۲۳
امام مہدی (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی زندگی تین حصوں پر مشتمل ہے: ۲۴
درس کا خلاصہ ۲۴
درس کے سوالات ۲۵
تیسرا درس ۲۶
ولادت سے امام حسن عسکریعلیہ السلام کی شہادت تک ۲۶
مقاصد: ۲۶
فوائد: ۲۶
تعلیمی مطالب: ۲۶
ولادت باسعادت سے امام عسکری علیہ السلام کی شہادت تک ۲۶
شیعوں کے سامنے امام مہدی (عج اﷲ فرجہ الشریف) کا تعارف ۲۷
معجزات اور کرامات ۲۸
سوالوں کے جوابات ۲۹
ہدیے اور تحفے قبول کرنا ۳۰
پدر بزرگوار کی نماز جنازہ ۳۱
درس کا خلاصہ ۳۳
سوالات ۳۳
چوتھا درس ۳۴
امام مہدی علیہ السلامقرآن و حدیث کی روشنی میں ۳۴
مقاصد: ۳۴
فوائد: ۳۴
تعلیمی مطالب: ۳۴
الف: قرآن کریم کی روشنی میں ۳۴
ب: احادیث کی روشنی میں ۳۶
درس کا خلاصہ ۳۹
درس کے سوالات ۳۹
پانچواں درس ۴۰
حضرت امام مہدی علیہ السلام غیروں کی نظر میں ۴۰
مقاصد: ۴۰
فوائد: ۴۰
تعلیمی مطالب: ۴۰
حضرت امام مہدی (علیہ السلام) غیروں کی نظر میں ۴۰
درس کا خلاصہ ۴۲
درس کے سوالات ۴۲
چھٹا درس ۴۴
امام مہدی علیہ السلام کا انتظار ۴۴
مقاصد: ۴۴
فوائد: ۴۴
تعلیمی مطالب: ۴۴
غیبت ۴۵
غیبت کے معنی ۴۵
غیبت کی تاریخی حیثیت ۴۵
غیبت کا فلسفہ ۴۷
سرّ الٰہی ۴۷
عوام کی تادیب ۴۸
دوسروں کے عہد و پیمان کے تحت نہ ہونا بلکہ مستقل ہونا ۴۸
لوگوں کا امتحان ۴۸
امام کی حفاظت ۴۹
شہادت کی تمنا ۴۹
غیبت کی اقسام ۵۰
غیبت صغریٰ ۵۰
غیبت کبریٰ ۵۲
درس کا خلاصہ ۵۴
درس کے سوالات ۵۵
ساتواں درس ۵۶
امام غائب کے فائدے ۵۶
مقاصد: ۵۶
فوائد: ۵۶
تعلیمی مطالب: ۵۶
امام غائب کے فوائد ۵۶
امام کا کائنات کے لئے محور و مرکز ہونا ۵۷
اُمید کی کرن ۵۹
مکتب کی پائیداری اور پاسداری ۵۹
خود سازی ۶۱
علمی اور فکری پناہ گاہ ۶۲
باطنی ہدایت اور رُوحانی نفوذ ۶۴
بلاوں سے امان ۶۴
باران رحمت ۶۵
درس کا خلاصہ: ۶۶
درس کے سوالات: ۶۷
آٹھواں درس ۶۸
دیدارِ امام علیہ السلام ۶۸
مقاصد: ۶۸
فوائد: ۶۸
تعلیمی مطالب: ۶۸
دیدارِ امام علیہ السلام ۶۸
طولانی عمر ۷۲
درس کا خلاصہ: ۷۵
درس کے سولات: ۷۶
نواں د رس ۷۷
انتظار ۷۷
مقاصد: ۷۷
فوائد: ۷۷
تعلیمی مطالب: ۷۷
انتظارکا معنی و مفہوم ۷۷
انتظار کی حقیقت اور اس کی عظمت ۷۸
امام زمانہ (علیہ السلام) کے انتظار کی خصوصیات ۷۹
امام علیہ السلام کی انتظار کے مختلف پہلو ۸۰
منتظرین کے فرائض ۸۲
امام کی معرفت ۸۲
مثال ۸۳
امام علیہ السلام کے ساتھ عہد و پیمان ۸۳
وحدت اور ہم دلی ۸۳
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے انتظار کے فوائد ۸۵
انتظار کرنے والوں کے لئے ثواب ۸۶
درس کا خلاص: ۸۹
درس کے سولات: ۸۹
دسواں درس ۹۰
ظہور کا زمانہ ۹۰
مقاصد: ۹۰
فوائد: ۹۰
تعلیمی مطالب: ۹۰
دُنیا کے حالات حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے ۹۰
ظہور کا راستہ ہموار کرنے کے اسباب اور ظہور کی نشانیاں ۹۲
ظہور کی شرائط اور اسباب ۹۳
الف: منصوبہ بندی ۹۴
ب: رہبری ۹۵
ج: ناصرین ۹۵
۱ ۔ معرفت اور اطاعت ۹۶
۲ ۔ عبادت اور استحکام ۹۷
۳ ۔ جانثاری اور شہادت کی تمنا ۹۷
۴ ۔ شجاعت اور دلیری ۹۷
۵ ۔ صبر و بردباری ۹۸
۶ ۔ اتحاد اور ہمدلی ۹۸
۷ ۔ زہد و تقویٰ ۹۸
و۔ عام طور پر تیاری،عام لام بندی ۹۹
علاماتِ ظہور ۱۰۱
الف: سفیانی کا خروج ۱۰۲
ب: خسف بیدائ ۱۰۲
ج: یمنی کا قیام ۱۰۳
د: آسمانی آواز ۱۰۳
ج: نفس زکیہ کا قتل ۱۰۳
درس کا خلاصہ: ۱۰۴
درس کے سوالات: ۱۰۴
گیارہواں درس ۱۰۵
ظہور ۱۰۵
مقاصد: ۱۰۵
فوائد: ۱۰۵
تعلیمی مطالب: ۱۰۵
ظہور ۱۰۵
ظہور کا زمانہ ۱۰۶
وقت ظہور کے مخفی رہنے کا راز ۱۰۶
اُمید کی کرن ۱۰۷
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے انقلاب کا آغاز ۱۰۷
حضرت امام مہدی علیہ السلام کےقیام کی کیفیت ۱۰۸
اغراض و مقاصد ۱۱۱
معنوی ترقی ۱۱۱
عدالت میں وسعت دینا ۱۱۲
درس کا خلاصہ: ۱۱۳
درس کا سوالات: ۱۱۴
بارہواں درس ۱۱۵
حکومتی منصوبے ۱۱۵
مقاصد: ۱۱۵
فوائد: ۱۱۵
تعلیمی مطالب: ۱۱۵
حکومتی منصوبے ۱۱۵
(الف) ثقافتی پروگرام ۱۱۶
۱ ۔کتاب و سنت کو زندہ کرنا ۱۱۶
۲ ۔ معرفت اور اخلاقیات میں وسعت ۱۱۷
۳ ۔ علم کی ترقی ۱۱۸
۴ ۔ بدعتوں سے مقابلہ ۱۱۹
ب۔ اقتصادی منصوبہ ۱۲۰
۱ ۔ طبیعی منابع سے مستفید ہونا ۱۲۰
۲ ۔ دولت کی عادلانہ تقسیم ۱۲۱
۳ ۔ ویرانوں کی آبادکاری ۱۲۲
ج۔ معاشرتی منصوبہ بندی ۱۲۲
۱ ۔ وسیع پیمانہ پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ۱۲۳
۲ ۔ برائیوں کا مقابلہ کرنا ۱۲۳
۳ ۔ حدود الٰہی کا نفاذ ۱۲۴
۴ ۔ منصفانہ فیصلے ۱۲۴
درس کا خلاصہ: ۱۲۵
درس کے سوالات ۱۲۵
تیرھواں درس ۱۲۶
حکومت کے نتائج اور ثمرات ۱۲۶
مقاصد: ۱۲۶
فوائد: ۱۲۶
تعلیمی مطالب: ۱۲۶
حکومت کے نتائج اور ثمرات ۱۲۶
۱ ۔ زندگی کے ہر موڑ پر عدالت کا وجود ۱۲۷
۲ ۔ ایمانی، اخلاقی اور فکری رشد ۱۲۸
۳ ۔ اتحاد اور محبت ۱۲۹
۴ ۔ جسمانی اور نفسیاتی سلامتی ۱۲۹
۵ ۔ بہت زیادہ خیر و برکت ۱۳۰
۶ ۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے دور میںفقر و ناداری کی نابودی ۱۳۱
۷ ۔ اسلام کی حکومت اور کفر کی نابودی ۱۳۲
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانہ میںاعتقادی وحدت ۱۳۳
۸ ۔ عمومی امن و آسائش ۱۳۴
۹ ۔ علم کی ترقی ۱۳۵
حضرت امام مہدی علیہ السلام کیحکومت کے امتیازات ۱۳۶
آپ کیحکومت کی حدود اور اس کا مرکز ۱۳۶
حکومت کی مدت ۱۳۸
امام علیہ السلام کی نجی زندگی ۱۴۰
جہاد اورمخالفین سے مقابلہ میں آپ کارویہ ۱۴۱
امام علیہ السلام کے فیصلے ۱۴۱
امام علیہ السلام کا حکومتی انداز ۱۴۲
امام علیہ السلام کی حکومت میںاقتصادی نظام ۱۴۳
امام علیہ السلام کااندازِحکومت ۱۴۴
عام مقبولیت ۱۴۵
درس کا خلاصہ ۱۴۶
درس کے سوالات: ۱۴۷
چودہواں درس ۱۴۸
رجعت ۱۴۸
مقاصد: ۱۴۸
فوائد: ۱۴۸
تعلیمی مطالب: ۱۴۸
رجعت ۱۴۸
رجعت کا مفہوم ۱۴۹
رجعت کا فلسفہ ۱۴۹
دین اسلام میں رجعت کی اہمیت ۱۵۰
قرآن و روایات میں رجعت ۱۵۰
ادعیہ اور زیارات میں رجعت ۱۵۲
رجعت کی خصوصیات ۱۵۲
رجعت کرنے والے ۱۵۳
( ۱) انبیاءعلیہ السلام اور ائمہ علیہم السلام کی رجعت: ۱۵۳
انبیاءعلیہم السلام کے متعلق روایات: ۱۵۳
خلاصہ درس: ۱۵۴
درس کے سوالات: ۱۵۵
پندرہواں درس ۱۵۶
مہدویت کے لئے نقصان دہ چیزوں کی پہچان ۱۵۶
مقاصد: ۱۵۶
فوائد: ۱۵۶
تعلیمی مطالب: ۱۵۶
مہدویت کے لئے نقصان دہ امور کی پہچان ۱۵۶
غلط نتیجہ گیری ۱۵۷
ظہور کے بارے جلد بازی ۱۵۸
ظہور کے لئے وقت معین کرنا ۱۵۹
ظہور کی نشانیوں کو خاص مصادیق پر منطبق کرنا ۱۶۰
غیر ضروری بحث کرنا ۱۶۰
امام مہدی علیہ السلام مہرومحبت کا پیکر نہ کہ قہر و غضب کا ۱۶۱
جھوٹا دعویٰ کرنے والے ۱۶۱
درس کا خلاصہ: ۱۶۳
درس کے سوالات: ۱۶۳