معرفت نامہ
گروہ بندی امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
مصنف مولانا سید افتخار نقوی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین ( علیہ ما السلام ) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


معرفت نامہ ماخوذاز: زیارت امام زمانہ علیہ السلام (از مفاتیح الجنان)

اور دیگرچند موضوعات

ترجمہ وتشریح : السید افتخار حسین نقوی النجفی


معرفت نامہ(ماخوز از زیارت امام زمانہ علیہ السلام )

حصہ اول

بسم الله الرحمن الرحیم “

” من مات ولم یعرف امام زمانه مات میتة الجاهلیة “

”جوشخص اس حالت میں مرگیا کہ اس نے اپنے زمانہ کے امام کی معرفت حاصل نہ کی تو وہ جاہلیت کے زمانہ کی موت مرا یعنی کفر پر مرا“۔

حضرت ولی العصر امام زمانہ (عج) کے حضور اظہار عقیدت

امام زمانہ علیہ السلام کے بارے میں

اپنے زمانہ کے امام علیہ السلام سے کیسا رابطہ رکھا جائے اور ان کے بارے کیسا عقیدہ ہونا چاہیے اور یہ کہ میرے لئے پوری کائنات کے لئے ان کا کیافائدہ ہے، ان کی پہچان کیا ہے، آئمہ اطہار علیہ السلام نے زبان وحی ترجمان سے زیارات کے انداز میں ہمارے لئے سب کچھ بیان کردیا ہے ذیل میں ہم حضرت ولی العصر علیہ السلام کے متعلق تفصیلی عقیدت کے اظہار کے حوالے سے آپ کے حرم میں جا کر جو زیارت پڑھی جاتی ہے اس کا انداز بیان قارئین کےلئے پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ اپنی آخری حجت کے وسیلہ سے ہمیں ان تمام بیانات پر پورا اترنے کی توفیق عطا کرے۔

امام زمانہ علیہ السلام کا تعارف

۱ السلام عَلَیکَ یَا خَلِیفَةَ اللّٰهِ وَخَلِیفَةَ اٰبَآئِهِ المَه دِیِّینَ السلام عَلَیکَ یَا وَصِیَّ الاَو صِیَآءِ المَاضِینَ السلام عَلَیکَ یَا حَافِظَ اِسرَارِ رَبِّ العَالَمِینَ ۔

آپ علیہ السلام پر سلام اے اللہ کے خلیفہ (قائم مقام) اور ہدایت یافتہ اپنے آباءکے جانشین (خلیفہ) ۔

٭ اس کا مطلب یہ ہوا ہے کہ آپ علیہ السلام ہی اس وقت اللہ کی مخلوق میں اللہ کے خلیفہ ہیں ، اور تمام انبیاءاور اوصیاءکے آخری خلیفہ ہیں ، آپ خاتم الاوصیاءاور خاتم الخلفاءہیں ۔

اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر سب سے پہلا خلیفہ ”انی جاعل فی الارض خلیفه “ کا بیان جاری فرما کر،حضرت آدم علیہ السلام کو قرار دیا اور اپنا آخری خلیفہ اپنی زمین پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کو قرار دیا ہے“۔

آپ علیہ السلام پر سلام اے گزرے ہوئے زمانوں میں جو اوصیاءرہے ہیں ، ان سب کے وصی علیہ السلام ۔

٭اس کا مطلب یہ ہوا کہ گذشتہ انبیاء علیہ السلام کے جتنے اوصیاءگزرے ہیں ان سب اوصیاءکا آخری سلسلہ امام زمانہ علیہ السلام ہیں اور آپ علیہ السلام سب اوصیاء علیہ السلام کے وصی ہیں اور آپ خاتم الاوصیاء علیہ السلام ہیں ۔

اے رب العالمین کے اسرار اور رازوں کے نگہبان آپ علیہ السلام پر سلام ہو۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اپنی کائنات کے پوشیدہ اسرار ہیں جن سے انسان واقف نہیں ہے اور ان تمام اسرار کی حفاظت کرنے والا موجود ہے اور وہ حضرت ولی العصر علیہ السلام ہیں ۔

حضرت امام مہدی (عج) کی طہارت وساری مخلوق پر برتری

۲ السلام عَلَیکَ یَا بَقِیَّةَ اللّٰهِ مِنَ الصَّفوَةِ المُنتجَبِینَ السلام عَلَیکَ یَابنَ الاَنوَارِ الزَّاهِرَةِ السلام عَلَیکَ یَابنَ الاَعلاَمِ البَاهِرَةِ السلام عَلَیکَ یَابنَ العِترَةِ الطَّاهِرَةِ السلام عَلَیکَ یَامَعدِنَ العُلُومِ النَّبَوِیَّةِ

اے منتخب شدگان میں سے چنے ہوئے نمائندگان میں اللہ کے بقیہ ۔اے بقیة اللہ....

٭اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے منتخب بندگان کو اس زمین پر حجت بنا کر بھیجا اور پھر ان تمام منتخب افراد میں بھی انتخاب در انتخاب کیا اور سب سے برتر اور بزرگ تر حضرت ختمی مرتبت حضرت محمدمصطفی خاتم النبیین ، رحمت العالمین ہیں اور ان کے بعد ان کے اوصیاء علیہ السلام ہیں اس بات کی طرف اشارہ دیا گیا ہے کہ ان سب میں آخری حجت اور اللہ کا ذخیرہ حضرت امام مہدی علیہ السلام ہیں ۔

٭اے چمکتے دمکتے خوبصورت نورانی ہستیوں کے فرزند ،آپ علیہ السلام پر سلام ہو۔

٭اے بہت ہی واضح، روشن اور سب پر عیاں پھیلے پرچموں کے فرزند ،آپ علیہ السلام پر سلام۔

٭اے عترت طاہرہ علیہ السلام کے فرزند، آپ علیہ السلام پر سلام ہو۔

٭ان جملوں میں آپ علیہ السلام کے نسب کی برتری کو بیان کیا گیا ہے آپ علیہ السلام کے تمام آباءو اجداد پاک و طاہر ہیں ، مقدس ہیں ، معروف ہیں ، انوار ہیں ، آپ علیہ السلام کی خلقت نورانی ہے، آپ علیہ السلام خاکی نہیں ہیں ، جو آپ علیہ السلام سے جاہل رہے تو گویا وہ عقل کا اندھا ہے کیونکہ سورج کی روشنی سے اندھا ہی بے بہرہ ہوتا ہے، آپ علیہ السلام ایسا روشن اور واضح موجود ہیں کہ تھوڑا سا تامل کرنے پر آپ علیہ السلام کی معرفت حاصل کرنا سب کے لئے آسان ہے۔

اے علوم نبویہ کے معدن (کان)، آپ علیہ السلام پر سلام ہو۔

٭اس جملہ سے واضح کیا گیا ہے کہ جس طرح ایک معدن میں خزانہ جمع ہوتا ہے جس کی انتہاءکو نہیں پہنچا جا سکتا، اور معدن کے اندر جو کچھ ہوتا ہے وہ ختم نہیں ہوتا اور وہ سب کے لئے ہوتا ہے لیکن معدن سے وہی فائدہ اٹھاتا ہے جو معدن تک خود کو پہنچاتا ہے اور معدن سے لینے کا ارادہ کرتا ہے ، معدن اپنا فیض دینے کےلئے کسی کے گھر پر نہیں آجاتا، بلکہ معدن کے خزانہ کو لینے کےلئے محنت ، مشقت اور جدوجہد کرنا ہوتی ہے ۔ حضرت ولی العصر علیہ السلام ، نبویہ علوم کی معدن ہیں بس جو بھی ان علوم و معارف سے کچھ لینا چاہتا ہے تو اسے اس ذات سے رابطہ کرنا ہوگا۔ ان سے لینے کےلئے اپنے اندر ضروری شرائط پوری کرنا ہوں گی، محنت ومشقت کرنا ہوگی، علوم بغیر حاصل کرنے کے نہیں ملتے، پڑھنا ہوگا،ان ذرائع سے علوم حاصل کرنے کےلئے جدوجہد کرنا ہوگی جو آئمہ علیہ السلام نے ہمارے لئے تعلیم دیے ہیں ۔

امام مہدی (عج) اللہ تک جانے کا وسیلہ

۳ السلام عَلَیکَ یَا بَابَ اللّٰهِ الَّذِی لاَ یُوتیٰٓ اِلاَّ مِنهُ السلام عَلَیکَ یَا سَبِیلَ اللّٰهِ الَّذِی مَن سَلَکَ غَیرَههلَکَ

اے اللہ کا ایسا دروازہ کہ جس پر آئے بغیر خدا تک جانا ممکن نہیں ہے، آپ علیہ السلام پر سلام ہو۔

٭اے اللہ کا وہ راستہ کہ جس پر چلے بغیر خدا کا راستہ نہیں ملتا اور جو بھی اس راستہ کو چھوڑدے دوسرے راستہ سے خدا تک جانے کا ارادہ کرے گا، تو وہ ہلاک ہو گا آپ علیہ السلام پر سلام ہو۔

ان دو جملوں میں واضح کیا گیا ہے کہ خدا تک جانے اور توحید پرست بننے کے لئے حضرت ولی العصر علیہ السلام کو وسیلہ بنانا ہوگا جب تک اپنے زمانہ کے امام علیہ السلام سے وصل نہ ہوں گے اس وقت تک خداوند سے وصل نہیں ہو سکتا، خدا تک جانے کا ذریعہ آپ ہی کی ذات ہے، اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے اور نہ ہی اس راستہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے راستہ سے خدا تک جانے کا امکان ہے۔

امام مہدی (عج) ہر شئی پر ناظر

۴ السلام عَلَیکَ یَانَاظِرَ شَجَرَةِ طُوبٰی وَسِدرَةِ المُنتَهٰی

اے شجرہ طوبیٰ اور سدرہ منتہٰی کے ناظر، آپ علیہ السلام پر سلام ہو۔

شجرہ طوبیٰ سے مراد وہ درخت ہے جس کو قرآن مجید میں شجرہ طیبہ کا نام دیا گیا ہے جس کی وصفیں بیان کی گئی ہیں اور سدرة المنتہیٰ اس مرکز کانام ہے جس تک حضرت ختمی مرتبت شب معراج گئے تھے گویا ان دو عناوین کو بیان کرنے سے مقصود آپ کی عظمت وکرامت کو واضح کرنا ہے اور آپ علیہ السلام کی خلقت پر روشنی بھی ڈالنا مقصود ہے کہ آپ علیہ السلام ان انوار میں سب پر نمایاں تھے کیونکہ آپ علیہ السلام ہی اللہ کے نمائندگان میں آخری ہیں لہٰذاآپ علیہ السلام سے پہلے(گذشتگان) سب کے حالات اور ان کے امتیازات اور مراتب پرآپ ناظر ہیں اور ان سے واقف وآگاہ ہیں اور سب پر آپ علیہ السلام کی نظر ہے ان کے حوالے سے کچھ بھی آپ علیہ السلام پرپوشیدہ نہ ہے، آپ علیہ السلام ہی سب کی مراد ہیں اور سب کے مقاصد کو آپ علیہ السلام نے ہی پورا کرنا ہے جو کچھ گذشتگان میں تھا وہ سب کچھ آپ علیہ السلام میں ہے، تب ہی تو آپ علیہ السلام سب کے وارث ہیں ، سب کے علوم بھی آپ علیہ السلام کے پاس ہیں ، سب کے فضائل اور تمام مراتب آپ علیہ السلام میں موجود ہیں آپ علیہ السلام کے وجود کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نمائندگان کا مظہر کامل بنایا ہے۔

امام مہدی (عج) نور ِ خدا

۵ السلام عَلَیکَ یَانُورَ اللّٰهِ الَّذِی لاَیُطفٰی

اے اللہ کے نور جس نے بجھنا نہیں ہے جسے کوئی ختم نہیں کرسکتا ،آپ علیہ السلام پر سلام ہو ۔

اللہ کا نور آپ علیہ السلام ہیں ، یعنی آپ علیہ السلام اللہ کی پہچان ہیں ، اللہ کا دین آپ علیہ السلام ہیں ، اللہ کی کلام ناطق آپ علیہ السلام ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کونور کہا ہے، اپنی کتاب کو نور کہا ہے، اپنی طرف سے ہدایت کو نور کہا ہے،، علم کو بھی نور کہا گیا ہے اور جب اللہ تعالیٰ اپنے نمائندہ کو اپنا نورقرار دیتا ہے تو اس میں نور کے تمام معانی پوشیدہ ہوتے ہیں اور اس لفظ میں ایک اشارہ دیا جاتا ہے کہ اللہ کا نمائندہ کسی کا محتاج نہیں ہوتا وہ سب کے لئے ہدایت ہوتا ہے، سب کاراہنما ہوتا ہے، سب کے لئے چراغ کا کام دیتا ہے اور پھر اللہ کا نمائندہ ایک ایسا منبع ہے کہ جسے کوئی نقصان نہیں دے سکتا، وہ اللہ کی رحمت کا مظہر کامل ہوتاہے، اسے کوئی ختم نہیں کر سکتا اور نہ ہی اسے کوئی مار سکتا ہے، یہ ساری وصفیں حضرت ولی العصر علیہ السلام میں موجودہیں اس سے آپ علیہ السلام کی زندگی کی طرف بھی اشارہ ہے۔یعنی آپ علیہ السلام اس وقت زندہ موجود ہیں ۔آپ کا فیضان موافق ومخالف کیلئے اللہ کے اذان وارادے سے جاری و ساری ہے اور اس میں انقطاع نہیں ہے پوری کائنات کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے نورانی وجودسے روشن و برقرار رکھا ہوا ہے ۔

امام مہدی(عج) حجت ِ خدا

۶ السلام عَلَیکَ یَا حُجَّةَ اللّٰهِ الَّتِی لاَتخفٰی السلام عَلَیکَ یَا حُجَّةَ اللّٰهِ عَلٰی مَن فِی الاَرضِ وَالسَّمَآءِ

٭اے اللہ کے ایسے نمائندہ جو کہ مخفی نہیں رہ سکتے، آپ علیہ السلام پر سلام ہو۔

٭اہل زمین اور اہل آسمان پر اللہ کی حجت، آپ علیہ السلام پر سلام ہو۔

٭ان دوجملوں میں آپ علیہ السلام کو اللہ کی حجت کہا گیا ہے، حجت کا معنی دلیل ، راہنما کے ہوتا ہے اور ایسی شئی پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ کوئی شخص اپنی بات منوا سکے اور جو ہستی اللہ کی حجت قرار پاتے ہیں تو گویا وہ ایسی ہستی ہوتے ہیں جن کے وجود سے اللہ کا وجود ثابت ہوتاہے، جن کے بیان سے اللہ کی پہچان ہوتی ہے، وہی اللہ کے نمائندہ ہیں اور اللہ اپنی مخلوق سے ان کے ذریعہ سوال کرے گا کہ میرا نمائندہ، میری پہچان کروانے کےلئے موجود تھا اور تم نے کس وجہ سے میرا انکار کردیا،منکرین لاجواب ہوں گے، اللہ کی حجت کا معنی یہ بھی ہے کہ ان کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ نے تمام بندگان پر ہی فرض کیا بلکہ زمین وآسمان میں جتنی مخلوقات ہیں ان سب پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی اطاعت کو فرض قرار دیا اور ساری مخلوقات آپ کے فرمان کے تحت چل رہی ہے ، ہرشئی کی افادیت اللہ کے حکم و ارادہ و مشیت سے آپ کے وجود سے وابستہ ہے اور ہر شئی آپ کے سامنے خاضع و خاشع ہے جبکہ بندگان کو حکم ہے کہ وہ بھی آپ کے حضور سر تسلیم خم کریں اور آپ کے سلطانی فرامین کی خلاف ورزی نہ کریں۔

امام مہدی علیہ السلام کی معرفت

۷ السلام عَلَیکَ سَلاَمَ مَن عَرَفَکَ بِمَا عَرَّفَکَ بِهِ اللّٰهُ وَنَعتَکَ بِبَعضِ نُعُوتِکَ الَّتِی ٓ اَنتَ اَهلُهَا وَفَوقَهَا

٭آپ علیہ السلام پر ایسے شخص کی مانند سلام ہو اے میرے مولا :جس نے آپ علیہ السلام کو اس طرح سے پہچان لیا جیسی آپ کی پہچان اللہ تعالیٰ نے اس کے واسطے کرائی ہے اور اس نے آپ علیہ السلام کے اوصاف میں سے کچھ اوصاف کو بیان کیا ہے، ایسے اوصاف جن کے آپ علیہ السلام لائق ہیں بلکہ آپ علیہ السلام تو ان اوصاف سے بھی مافوق ہیں جن کا اظہار بندگان کر سکتے ہیں ۔

اس جملہ میں سلام پیش کرنے والا اپنی عاجزی اور کمزوری کااظہار کررہا ہے اس لئے وہ سلام بھیجنے کی کیفیت کو ایسے شخص کے سلام کی طرف نسبت دے رہا ہے کہ جسے آپ علیہ السلام کی مکمل معرفت ہے اور ساتھ یہ بھی بتا دیا ہے کہ آپ علیہ السلام کے جتنے بھی اوصاف بیان کیے جائیں ان کے ذریعہ آپ کا حق ادا نہیں ہوتا آپ علیہ السلام ہر اچھی صفت کے لائق ہیں لیکن حق بات یہ کہ آپ علیہ السلام ان اوصاف میں نہیں سمو پاتے، آپ علیہ السلام تمام اوصاف سے مافوق ہیں ، ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ کوئی بھی آپ علیہ السلام کی معرفت حاصل نہیں کر سکتا ۔

مگر یہ کہ خود خدا آپ کی معرفت کروا دے، یہ بات حضور پاک کی اس حدیث کی طرف اشارہ بھی ہے جس میں آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو مخاطب قرار دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ اے علی علیہ السلام ! تیری معرفت یا اللہ کو ہے یا مجھے اور میری معرفت یا اللہ کو ہے یا آپ کو، جس طرح اللہ کی معرفت جو ہے وہ یاتو اے علی علیہ السلام آپ کو ہے یا مجھے....آج یہی بات آخری وصی کیلئے پوری طرح صادق ہے ۔

پس آج کے دور میں حضرت ولی العصر علیہ السلام کی معرفت تو ان ہستیوں ہی کو ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنا نمائندہ اپنی زمین پر بنایا ہے یعنی آپ کی صحیح معرفت اللہ کوہے، جو آپ کا خالق و مالک ہے اور اللہ کے رسول کو ہے اور اللہ کے رسول کے اوصیاءجو آپ سے پہلے ہوئے، ان کو ہے اور ان ہستیوں نے جن اوصاف کے ساتھ آپ کی پہچان کروائی وہ آپ کے سارے اوصاف نہین ہیں بلکہ بعض اوصاف ہیں بس میں اپنے سلام کو ان سے منسوب کرتا ہوں کہ ان ہستیوں نے جس معرفت سے آپ پر سلام بھیجا ہے ویسا ہی سلام میری طرف سے آپ علیہ السلام پر ہو اگر چہ اس سلام کی کنہ اور حقیقت سے میں واقف نہیں ہوں۔

امام وقت کے بارے عقیدہ کیسا ہو؟

امام زمانہ علیہ السلام سے اظہار عقیدت کا انداز

۸ اَشهَدُ اَنَّکَ الحُجَّةُ عَلٰی مَن مَّضٰی وَمَن بَقِیَ وَاَنَّ حِزبَکَهمُ الغٰلِبُونَ وَاَو لِیَآءکَهمُ الفَآئِزُونَ وَاَعدَآءکَهمُ الخَاسِرُونَ وَاَنَّکَ خَازِنُ کُلِّ عِلمٍ وَّفَاتِقُ کُلِّ رَتقٍ وَّمُحَقِّقُ کُلِّ حَقٍّ وَّمُبطِلُ کُلِّ بَاطِلٍ رَضِیتُکَ یَا مَولاَیَ اِمَامًا وَّهَادِیًّا وَّوَلِیًّا وَّمُر شِدًا لَّآ اَبتَغِی بِکَ بَدَلاً وَّلَآ اَتَّخِذُ مِن دُونِکَ وَلِیًّا

اے میرے امام علیہ السلام : میں گواہی دیتا ہوں! بے شک آپ علیہ السلام حجت ہیں ان پر جو گذر گئے اور ان پر بھی آپ علیہ السلام حجت ہیں جو باقی ہیں اور یہ کہ آپ کی جماعت نے سب پرغلبہ حاصل کرنا ہے اور جو آپ کے اولیاءہوں گے آپ کے ساتھی ہوں گے وہی کامیاب ہوں گے اور جو آپ علیہ السلام کے دشمن ہیں وہ خسارہ اٹھانے والے ہوں گے اوریہ کہ آپ ہی ہر علم کے خزانہ دار ہیں اور ہرمشکل و پیچیدہ امر کو سلجھانے والے آپ علیہ السلام ہی ہیں ۔

ہر حق کو ثابت کرنے والے اور اس کو وصول کرنے والے آپ علیہ السلام ہی ہیں ، ہرباطل کو ختم کرنے والے ، اسے مٹانے والے اور اس کے بطلان اور غلط ہونے کو ثابت کرنے والے بھی آپ علیہ السلام ہیں ۔

اے میرے مولا! میں نے آپ کو اپنا امام بنایا ہے، آپ علیہ السلام میرے ہادی ہیں ، میرے رہبرہیں ، میرے ولی ہیں ، میرے سرپرست ہیں ، میرے مرشد ہیں ۔

میرے مولا! میں آپ علیہ السلام کے بدلے میں کسی بھی چیز کو نہیں چاہتاہوں اور نہ ہی آپ کے سوا کسی کو اپنا ولی مانتا ہوں، آپ ہی میری پسند اور آپ علیہ السلام ہی میرے لئے سب کچھ ہیں ۔

امام مہدی (عج) تمام انبیاءپر حجت

اس حصہ میں جو کچھ عقیدت کا اظہار کیا گیا بڑا واضح و روشن ہے تشریح کی ضرورت نہیں ہے لہٰذا اس جگہ ایک جملہ جو بیان ہوا ہے کہ آپ گذشتگان پر حجت خدا ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ سے پہلے جتنے اوصیاء، اللہ کے خلفائ، انبیائ علیہ السلام ، رسل، اللہ کے نمائندگان گذرے ہیں ، سب پر آپ حجت ہیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ سب آپ علیہ السلام پر ایمان لائے اور سب نے آپ علیہ السلام کا تعارف کروایا اور یہ ان پر لازم تھا، ہر نبی نے آپ کے بارے اپنی امت سے اقرار لیا۔

اللہ کی طرف سے آخری حجت آپ ہی کو قرار دیا گیا آپ کے آباءو اجداد کو آپ پر تقدم کا شرف حاصل ہے جیسے حضورپاک کو آخری نبی ہونے کا شرف حاصل ہے اور اس حوالے سے انہیں آپ علیہ السلام پر برتری بھی ہے، آپ نے اپنے جدامجدد کے لائے ہوئے دین ہی کو نافذ کرنا ہے، اس کےلئے ہی کام کرنا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا بقیہ قرار دے کر آپ کےلئے یہ اعزاز دیا ہے کہ آپ وہ کام کریں جو آپ سے پہلے آنے والوں نے نہ کیا اور اسی آرزو میں مر گئے ،شاید یہی وجہ ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام ، امام محمدباقر علیہ السلام ، امام رضا علیہ السلام آپ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ،!! میرے ماں باپ آپ علیہ السلام پر قربان جائیں۔ کبھی آپ علیہ السلام کا نام سن کر احترام سے کھڑے ہو جاتے ہیں ،کبھی فرماتے ہیں کہ میں اگر ان کا زمانہ پالوں تو اپنی زندگی کو ان کےلئے بچا کر رکھوںحضرت امام حسین علیہ السلام اپنے اس فرزند کی خدمت میں رہنے کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں اور حضرت امیرالمومنین علیہ السلام آپ کے دیدار کےلئے بے تاب نظر آتے ہیں ، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام آپ علیہ السلام کی غیبت کے طولانی ہونے کو یاد کر کے گریہ وزاری کرتے ہیں اور بے تاب ہو جاتے ہیں ۔

حضور اکرم اپنے بیانات میں آپ علیہ السلام کا تعارف کرواتے ہیں اور آپ علیہ السلام کی اہمیت اپنی امت کو بتاتے ہیں اور اپنی ساری زندگی کا ثمر آپ کو قرار دیتے ہیں ، یہ سب کچھ پڑھنے سے اس جملہ کا معنی سمجھ میں آجانا چاہیے کہ آپ اپنے سے پہلے آنے والوں پرکیسے حجت ہیں اور جو بعد میں آنے والے ہیں ان پر بھی آپ علیہ السلام حجت ہیں ،یہ تو بڑا واضح ہے جب آپ گذشتگان پر حجت ہیں تو بعدوالوں پر تو بطریق اولیٰ حجت قرار پائیں گے ۔

حضرت امام مہدی (عج) کی کامیابی

اسی بیان میں آپ علیہ السلام کی کامیابی کے یقینی ہونے پر، آپ کی جماعت اور ساتھیوں کے غلبہ کے حتمی ہونے کو بھی بیان کیا گیا ۔ شکست آپ علیہ السلام کے دشمنوں کا مقدر ہے، آپ علیہ السلام ہی نے حق کی پہچان کروانا ہے، حق آپ نے غاصبوں سے وصول کرنا ہے ،آپ نے حق کو نافذ کرنا ہے، باطل کا خاتمہ بھی آپ علیہ السلام کے ہاتھوں ہونا ہے اور باطل کی صحیح پہچان بھی آپ علیہ السلام نے کروانا ہے، آپ علیہ السلام سے قبل باطل کی پوری طرح لوگوں کو پہچان بھی نہ ہوئی آپ ہی ”جاءالحق وزہق الباطل وان الباطل کان زھوقا“ کا مکمل مصداق ہیں ، مرشد آپ ہیں ، آپ کے سواکسی کو مرشد کہنا بھی درست نہیں ہے البتہ جو آپ علیہ السلام تک بھٹکے ہوئے بندگان کو پہنچائے تو آپ علیہ السلام تک پہچانے میں وہ شخص مرشد کا عارضی عنوان اور مجازی طور پراپنے لیے اس عنوان کولے سکتا ہے۔ ولایت مطلقہ آپ علیہ السلام کے پاس ہے، اس لئے اعلان کیا گیا کہ آپ علیہ السلام ہی ولی ہیں ، سرپرست آپ ہیں ، ہادی آپ ہیں ، وہ شخص خسارہ میں رہ گیا جو آپ علیہ السلام کو چھوڑ کر کسی اور کا دامن تھام لے۔

مرشد کل آپ علیہ السلام ہیں ۔ جو علماء، مجتہدین، عرفاءدوسروں کو آپ علیہ السلام کی راہنمائی کرتے ہیں ، آپ کے ساتھ گم گشتگان کو وصل کرتے ہیں وہ درحقیقت حقیقی مرشد تک پہنچانے کا وسیلہ ہیں اور بس!! اس سے زیادہ کچھ نہیں سب کچھ آپ علیہ السلام خود ہیں ۔باقی سب آپ تک پہنچانے کا وسیلہ ہیں اور آپ تک پہنچ کر ہی خدا تک پہنچا جاسکتا ہے آپ ہی وہ ذات ہیں جو ہر شئی کو رب العالمین سے وصل کر دیتے ہیں ۔

حضرت ولی العصر علیہ السلام کی کچھ خصوصیات

۹ اَشهَدُ اَنَّکَ الحَقُّ الثَّابِتُ الَّذِی لاَ عَیبَ فِیهِ وَاَنَّ وَعدَ اللّٰهِ فِیکَ حَقّ لَّآ اَرتَابُ لِطُولِ الغَیبَةِ وَبُعدِ الاَمَدِ وَلَآ اَتَحَیَّرُ مَعَ مَن جَهِلَکَ وَجَهِلَ بِکَ مُنتظِر مُّتَوَقِع لِّاَیَّامِکَ

اے میرے مولا!میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک آپ ہی وہ حق ثابت ہیں کہ جس میں کوئی نقص اور عیب نہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے جووعدہ فرمایا ہے وہ برحق ہے....اور اس نے ضرور پورا ہوناہے، میں آپ کی غیبت کے طولانی ہوجانے کی وجہ سے اس بارے شک و شبہ نہیں کرتا ہوں، آپ کی انتہاءکے دور ہوجانے سے بھی میں شک میں نہیں پڑتا ہوں ،اورنہ ہی میں حیران ہوتاہوں، باوجود یکہ ایسے افراد موجود ہیں جو آپ علیہ السلام سے جاہل ہیں اور وہ افراد بھی جو آپ علیہ السلام کی عدم معرفت کی وجہ سے جہالت میں جاپڑے ، تو میں ایسا بھی نہیں ہوں، میں آپ کے آنے کی انتظار میں ہوں اور آپ علیہ السلام کے ایام کی آمد کی پوری توقع رکھتا ہوں۔

ان جملوں میں آپ کو حق ثابت کیا گیا ہے ، اس جملہ کے ذریعہ اس مفہوم کو بیان کیاگیا جسے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے وصی حضرت امیر المومنین علیہ السلام کو مخاطب کرکے فرمایا تھا”علی مع الحق والحق مع علی اللھم ادر الحق حیث دار علی “ علی علیہ السلام حق کے ساتھ ہیں اور حق علی علیہ السلام کیساتھ ہیں اے اللہ حق کو ادھر گھمادے جس طرف علی علیہ السلام جائیں ۔

اس حدیث میں علی علیہ السلام مولا کو ایک ثابت اور نہ بدلنے والا شخص متعارف کروایا گیا اوریہ اعلان کیاگیا ہے کہ علی علیہ السلام جس حال میں جس کیفیت میں جس پوزیشن میں ہونگے تو وہ ہی خود حق ہیں ، اسی بات کو ان جملوں میں خاتم الاوصیاءحضرت امیر المومنین علیہ السلام کے فرزند بقیة اللہ حضرت امام مہدی (عج) کیلئے بیان کیاگیا ہے کہ آپ ہی وہ حق ثابت ہیں جس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں آپ حاضر ہوں تو آپ ہی حق ہیں آپ غائب رہیں تو بھی حق ہیں آپ ظہور فرمائیں تو حق ہیں جنگ کریں تو حق ہیں ۔بہر حال آج کے زمانہ میں حق واقعی آپ ہی کی ذات ہے اور جو شخص جس قدر آپ سے رابطہ میں رہے گا اسی قدر وہ شخص حق پر ہوگا اورجو شخص جس قدر آپ سے دور ہوگا وہ اتنا ہی باطل کے قریب ہوگا اس بیان میں آپ کی غیبت کے طولانی ہونے کا ذکر بھی کیا گیا ہے اوریہ کہ مومن وہی ہے جو آپ کی طولانی غیبت سے پریشان ہوکر ایمان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے بلکہ آپ کی انتظار میں رہے اوریہ کہ آپ کی آمد یقینی ہے اس میں کوئی شک نہیں ۔

امام مہدی (عج) اور ظالموں سے انتقام

۰۱ وَاَنتَ الشَّافِعُ الَّذِی لَاتنَازَعُ وَالوَلِیُّ الَّذِی لَاتدَافَعُ ذَخَرَکَ اللّٰهُ لِنُصرَةِ الدِّینِ وَاِعزَازِ المُومِنِینَ وَالاِنتقَامِ مِنَ الجَاحِدِینَ المَارِقِینَ

اے میرے مولا! آپ علیہ السلام ہی شفاعت کرنے والے ہیں جس میں کوئی جھگڑا نہیں ہے اور آپ علیہ السلام ہی تو وہ ولی ہیں جسے کوئی اپنی جگہ سے ہٹا نہیں سکتا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین کے لئے ذخیرہ کیا ہے اور مومنین کی عزت افزائی کے واسطے آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھاہوا ہے۔ منکروں، سرکشوں، منحرفوں سے انتقام لینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کوباقی رکھا ہواہے۔

ایک بات تو اس بیان میں یہ واضح کی گئی کہ آپ علیہ السلام حق ثابت ہیں ، اس میں کسی قسم کا تزلزل نہیں ہے، کمزوری بھی نہیں ، آپ علیہ السلام بے عیب ہیں ، دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ دیا ہے کہ آپ علیہ السلام کے ذریعہ پوری دھرتی پر اللہ کی حکومت قائم ہوگی، اسلام ،دین غالب آپ علیہ السلام کے ذریعہ ہوگا ، آپ علیہ السلام ہی مکمل عدل کا نفاذ کریں گے ، تمام دشمنوں سے ظالموں سے، کافروں سے ، ملحدوں سے آپ ہی انتقام لیں گے، یہ وعدہ برحق ہے، ضرور پورا ہوگا،اس کے خلاف نہ ہوگا، یعنی زمین کا مستقبل تابناک ہے، زمین امن کا گہوارہ ضرور بنے گی، آپ علیہ السلام ہی کے ذریعہ دین کی نصرت ہوگی، مومنوں کو عزت ملے گی، کافر ومنافق ذلیل و خوار ہوں گے، سب ظالموں سے انتقام لیا جائے گا،آپ کو کوئی شکست نہیں دے سکتا اور نہ ہی آپ علیہ السلام کے مقابلہ میں کوئی اپنا دفاع کر سکے گا، نہ ہی کوئی آپ کو اپنی حیثیت اور مقام سے ہٹا سکے گا آپ علیہ السلام کی کامیابی یقینی ہے اوریہ کامیابی اسی دنیا میں ہونا ہے آخرت کے آنے سے پہلے ہونا ہے۔آپ ہی وہ سفارشی اور شافع ہیں جس میں کوئی جھگڑا کرنے کی گنجائش نہیں ہے ، آپ اللہ کا ذخیرہ ہیں ، آپ کے ذریعہ مومنین کو عزت اورمنافقوں پر ، کافروں پر ، مشرکوں پر غلبہ حاصل ہوگا آپ مومنوں کی عزت ہیں ۔


معرفت نامہ(ماخوز از زیارت امام زمانہ علیہ السلام )حصہ دوم

امام زمانہ علیہ السلام کے مبارک وجود کے فوائد

۱۱ اَشهَدُ اَنَّ بِوَلاَ یَتِکَتق بَلُ الاَعمَالوَتُزَکیَّ الاَف عَالوَتُضَاعَفُ الحَسَنَاتُ وَتُم حَی السَّیِّئٰاتُ فَمَن جَآء بِوِلَایَتِکَ وَاعترَفَ بِاِمَامَتِکَ قُبِلَت اَع مَالُه وَصُدِّقَت اَق وَالُه وَتَضَاعَفَت حَسَنَاته وَمُحِیَت سَیِّئٰاتُه وَمَن عَدَلَ عَن وِّلَایَتِکَ وَجَهِلَ مَع رِفَتَکَ وَاستَبدَلَ بِکَ غَیرَکَ کَبَّهُ اللّٰهُ عَلٰی مِن خَرِه فِی النَّارِ وَلَم یَقبَلِ اللّٰهُ لَه عَمَلاً وَّلَم یُقِم لَه یَومَ القِیٰمَةِ وَزنًا ۔

اے میرے مولا! میں گواہی دیتا ہوں کہ سارے اعمال آپ علیہ السلام کی ولایت سے قبول کئے جائیں گے،اور تمام کاموں کی نشوونما اور تزکیہ اور پاکیزگی بھی آپ علیہ السلام کی ولایت سے ہے ۔ تنگیاں آپ کے ولایت کی وجہ سے دور ہوجاتی ہیں اور گناہوں کو آپ ہی کی ولایت سے بالکل مٹا دیا جاتا ہے۔

اے میرے مولا! جو شخص آپ علیہ السلام کی ولایت کو لے کر آئے گا اور آپ کی امامت کا معترف ہوگا تو اس کے اعمال قبول ہوں گے، اس کی باتوں کی تصدیق کی جائے گی، اس کی نیکیاں چند برابر ہوجائیں گی، اس شخص کی خطاوں اور غلطیوں کو اس کے نامہ اعمال سے مٹا دیا جائے گا۔

اے میرے مولا! جو شخص آپ علیہ السلام کی ولایت سے پھر گیا اور آپ علیہ السلام کی معرفت سے جاہل رہا اور آپ علیہ السلام کی بجائے آپ کے غیر کو اختیار کرلیاتو اللہ تعالیٰ اسے اوندھے منہ آتش جہنم میں پھینک دے گا، اللہ تعالیٰ اس کا کوئی بھی عمل قبول نہ کرے گا اور قیامت کے دن ایسے شخص کے لئے اعمال کا جائزہ لینے کے لئے ترازو بھی نہیں لگایا جائے گا۔

ان جملوں میں امام زمانہ علیہ السلام کی ولایت اور امامت کو تسلیم کرنے کے فوائد بیان کئے گئے ہیں اور منکرین ولایت و امامت کو جو نقصان اٹھانا پڑے گا اس کا بیان ہے ۔

ولایت و امامت کے اقرار کے فوائد

۱ ۔ اعمال قبول ہوں گے۔

۲ ۔ نیکیاں چند برابر ہو جائیں گی۔

۳ ۔ گناہوں کو نہ فقط معاف کر دیا جائے گا بلکہ نامہ اعمال سے انہیں بالکل مٹا دیا جائے گا۔

۴ ۔ ایسے شخص کے اقوال کی تصدیق کی جائے گی ظاہرہے یہ تصدیق فرشتے کریں گے، یا پھر اللہ کے معصوم نمائندگان کریں گے کہ جو کچھ ان کا ماننے والا کہہ رہا ہے وہ صحیح ہے ۔

منکرین ولایت کا انجام

۱ ۔ اعمال قبول نہ ہوں گے۔

۲ ۔ نیکیاں اکارت جائیں گی۔

۳ ۔ گناہوں پر سزا ملے گی۔

۴ ۔ جہنم میں ڈالا جائے گا اور ذلت کے ساتھ اوندھے منہ پھینکا جائے گا۔

۵ ۔ ایسے اشخاص کے اعمال جتنے بھی ہوں ان کے بارے قیامت کے دن کوئی وزن نہ ہوگا۔

وہ سب نیک کام بے وزن، بے حیثیت، بے وقعت ہو جائیں گے۔

امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت اور ولایت قبول کرنے کا اعلان

اے میرے مولا! جو کچھ میں نے اوپر کہا ہے اس کے بارے میں اس مقام پر اللہ کو اپنے تمام اعترافات پر گواہ بناتا ہوں اللہ کے فرشتوں کو اس پر گواہ بناتا ہوں اور میرے مولا خود آپ علیہ السلام کو بھی اس پر گواہ بناتا ہوں جو میں نے کہا ہے جو میں نے زبان سے اقرار کیا ہے، اس سب کا ظاہر جس طرح ہے اسی طرح اس کا باطن بھی ہے جیسا اعلان کیا گیا ہے اسی طرح اس کی مخفیانہ حالت بھی ہے ۔

اور اے مولا! آپ علیہ السلام بھی اس پر گواہ اور شاہد ہیں ۔

میرے مولا! یہ میرا عہدوپیمان ہے جو میں آپ علیہ السلام کے سپرد کر رہاہوں ۔

ان سارے اعترافات کی وجہ

۲۱ اُشهِدُ اللَّهَ وَاُشهِدُ مَلَآئِکَتَه وَاُشهِدُکَ یَامو لاَیَ بِهٰذَا، ظَاهِرُه کَبَاطِنَه وَسِرُّه کَعَلاَ نِیَتِه وَاَنتَ الشَّاهِدُ عَلٰی ذٰلِکَ وَهُوَ عَهدِی ٓ اِلَیکَ وَمِی ثَاقِی لَدَیکَ،اِذ اَنتَ نِطَامُ الدِّینِ وَیَعسُو بُ المُتَّقِینَ وَعِزُّ المُوَحِّدِینَ وَ بِذٰلِکَ اَمَرَنِی رَبُّ العَالَمِینَ فَلَوتطَاوَلَتِ الدُّهُورُ وَتَمَادَتِ الاَعمَارُ لَم اَزدَد فِیکَ اِلاَّ یَقِینًا وَّلَکَ اِلاَّ حُبًّا وَّعَلَیکَ اِلاَّ مُتَّکَلاً وَّمُعتمَدًا وَّلِظُهُورِکَ اِلاَّ مُتَوَقِّعًا وَّمُنتَظِرًا وَّلِجَهَادِی بَینَ یَدَیکَ مُتَرَقِبًا فَابذُلُنَفسِی وَمَالِی وَوَلَدِی وَاَهلِی وَجَمِیعَ مَاخَوَّلَنِی رَبِّی بَینَ یَدَیکَ وَالتَّصَرُّفَ بَینَ اَمرِک وَنَهیِکَ

اے میرے مولا! میں ایسا اعلان کیوں نہ کروں میرے یہ سارے اعترافات کیوں نہ ہوں کیونکہ!

میں جو کچھ کہہ رہاہوں اس میں سب سے پہلے اللہ کو گواہ بنا تاہوں ، پھر اللہ کے فرشتوں کو اور خود آپ کو اے میرے مولا !اپنا گواہ بناکر یہ سارے اعترافات کررہاہوں ، اوریہ سب کچھ اس لئے تاکہ میرا ظاہر اور باطن ایک ہوجائے اور میرے دل کی بات ہی زبان پر ہو میرا اعلان اور میرا سب ایک ہوجائیں اور سب اس پر اے میرے مولا آپ ہی گواہ اوعر شاہد ہیں ، اور یہ میرا اے میرے مولا ! آپ کے ساتھ عہد وپیمان ہے کیونکہ !....

آپ علیہ السلام ہی تو نظام دین ہیں ، آپ علیہ السلام ہی تو شیعوں کے یعسوب و سردار ہیں ، آپ علیہ السلام ہی تو موحدین کی عزت ہیں ، پھر رب العالمین کا میرے لئے یہی حکم ہے، اگر زمانے لمبے ہوجائیں، عمریں بڑی ہو جائیں، تو یہ سب کچھ میرے لئے سوائے مزید یقین لانے کے اور کچھ نہ لائے گا اور آپ علیہ السلام کے بارے محبت میں اضافہ ہی ہوگا، کمی ذرا برابر نہ آئے گی، آپ علیہ السلام ہی پر میرا اعتماد اور بھروسہ بڑھے گا اور آپ علیہ السلام کے ظہور کی ہر آن توقع رہے گی اور میری انتظار اور آپ کے لئے آمادہ ہی آمادہ ہو گی اور میں تو آپ علیہ السلام کے سامنے جہاد کرنے کے لئے شدت سے انتظار ہی میں رہوں گا، میں اپنی جان، اپنا مال، اپنی اولاد، اپنے عیال اور جو بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے میرا کوئی عنوان ہے ، حیثیت ہے، تعلق ہے، سب کچھ کو آپ علیہ السلام کے حضور دے دوں گا، آپ علیہ السلام کے راہ میں قربان کردوں گا اور میں آپ علیہ السلام کے امر اور نہی کے درمیان ہی رہوں گا آپ علیہ السلام جو حکم دیں گے ویسے ہی کروں گا جس سے روک دیں گے میں اس سے رک جاوں گا۔

ایک مومن کی آرزو

۳۱ مَو لاَیَ فَاِن اَد رَکتُ اَیَّامَکَ الزَّاهِرَةَ وَاَعلاَمَکَ البَاهِرَةَ فَهَآ اَنَا ذَا عَبدکَ المُتَصَرِّفُ بَینَ اَم رِکَ وَنَه یِکَ اَر جُو بِهِ الشَّهَادَةَ بَینَ یَدَیکَ وَالفَوزَ لَدَیکَ مَو لاَیَ فَاِن اَدرَکنِی المَوتُ قَبلَ ظُهُو رِکَ فَاِنِّی ٓ اَتَوَسَلُ بِکَ وَبِٰابَآئِکَ الطَّاهِرِینَ،اِلَی اللّٰهِتعَالٰی وَاَسئلُه اَن یُّصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ وَّاَن یَّجعَل لِیکَرَّةً فِی ظُهُو رِکَ وَرَجعَةً فِی ٓ اَیَّامِکَ لِاَبلُغَ مِن طَاعَتِکَ مُرَادِی وَاَشفِیَ مِن اَعدَآئِکَ فُوئٰادِی

اے میرے مولا!اگر تو میںنے آپ علیہ السلام کے خوشحال دنوں کو پالیا اور آپ علیہ السلام کے روشن اور واضح پرچموں کی چھاوں میرے نصیب میں ہوئی تو یہی میری آرزو ہے، یہی مقصود و مراد ہے ، تو میں تیرا بندہ تیرے احکام کے تابع ہو کر رہوں گا اور جس سے آپ علیہ السلام روک دیں گے اس سے رک جاوں گااور اس طرح میں آپ کے حضور میں شہادت کی آرزو رکھتا ہوں اور آپ کے ہاں کامیابی حاصل کرنے کی امید لگائے بیٹھاہوں یعنی اگر میں زندہ ہوا اور آپ کے خوشحال دنوں کو پالیا، آپ کی حکومت میں میرا رہنا نصیب ہوگیا تو پھر میری آرزو یہی ہے جو اوپر بیان کی گئی اور اگر ایسا نہ ہوتو اس کے لئے اس طرح عرض گزار ہوں ۔

اے میرے مولا! اگر مجھے موت نے آپ علیہ السلام کے ظہور سے پہلے آلیا، تو پھر میں آپ کے ذریعہ متوسل ہوں، آپ علیہ السلام کو اپنا وسیلہ بناتا ہوں اور آپ علیہ السلام کے طاہر و اطہر آباءکو وسیلہ بناتا ہوں، اللہ کے حضور اور اللہ تعالیٰ سے پہلے تو میرا سوال یہ ہے کہ: وہ محمد وآل علیہ السلام محمد پر صلوات بھیجے اور اس کے بعد میرا سوال اللہ تعالیٰ سے یہ ہے کہ وہ مجھے آپ علیہ السلام کے ظہور کے زمانہ میں دوبارہ لے آئے اور آپ علیہ السلام کی خوشحالی کے دنوں میں میرے لئے دوبارہ آنا قرار دے تاکہ میں آپ کی اطاعت میں آ کر اپنی مراد کو پالوں اور تیرے دشمنوں سے انتقام لے کر سینہ میں لگی آگ کو بجھا لوں۔

زائر کی آرزو اوردرخواست

۴۱ مَو لاَیَ وَقَفتُ فِی زِیَارَتِکَ مَو قِفِ الخَاطِئِینَ ،النَّادِمِینَ، الخَآئِفِینَ مِن عِقَابِ رَبِّ العَالَمِینَ وَقَدِ اتَّکَلتُ عَلٰی شَفَاعَتِکَ وَرَجَوتُ بِمُوَالاَتکَ وَشَفَاعَتِکَ،مَح وَذُنُو بِی وَسَترَعُیُو بِی وَمَغفِرَةَ زَلَلِی ،فَکُن لِّوَلِیِّکَ یَامَو لاَیَ عِند تحقِیقِ اَمَلِه وَاسئلِ اللّٰهَ غُفرَانَ لَلِه فَقَدتعَلَّقَ بِحَب لِکَ وَتَمَسَّکَ بِوَلاَیَتِکَ وَتَبَرَّء مِن اَعدَآئِکَ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَاٰلِه وَاَنجِز لِوَلِیِّکَ مَا وَعَدته اَللَّهُمَّ اَظهر کَلِمَتَه وَاَعلِ دَعوَتَه وَان صُرهُ عَلٰی عَدُوِّه وَعَدُوِّکَ یَارَبَّ العَالَمِینَ

یہ زیارت کیونکہ امام زمانہ علیہ السلام کے گھر کے دروازہ پرسامرہ میں پڑھی جاتی ہے اور اس زیارت کو پڑھ کر زائر آپ کے گھر (سرداب) میں (سامرہ عراق) داخل ہوتا ہے، تو سابقہ بیانات کے بعد زائر،ان الفاظ کو اداکرتا ہے، جس میں زائر اپنی خطاوں کو یاد کرتا ہے، اپنی کمزوریوں کا ذکر کرتا ہے گناہوں کی معافی مانگتا ہے اپنی دوسری حاجات پیش کرتاہے، زائر کی درخواست کچھ اس طرح سے ہے۔

اے میرے مولا! میں آپ علیہ السلام کی زیارت کے لئے ٹھہرا ہوں، جس طرح خطا کار اور مجرم آٹھہرتے ہیں ، میں بھی ایک مجرم ہوں، پشیمان ہوں، رب العالمین کی جانب سے سزا ملنے کا مجھے خوف لاحق ہے، میرے مولا! میں نے تو آپ علیہ السلام کی سفارش پر امید باندھ رکھی ہے، آپ علیہ السلام کو سفارشی بنانے آیا ہوں، آپ علیہ السلام سے جو میری محبت ہے، میں آپ کا موالی ہوں، میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ علیہ السلام میرے گناہوں کو ختم کرانے میں اللہ رب العالمین کے ہاں میری سفارش کردیں اور یہ کہ خداوند میرے عیبوں پر پردہ ڈال دے اور میری تمام لغزشوں کو بخش دے۔

اے میرے مولا! میں نے آپ علیہ السلام کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا ہے، آپ علیہ السلام کا دامن تھاما ہے، آپ علیہ السلام کی ولایت سے رشتہ جوڑا ہے، آپ علیہ السلام سے محبت ہے، آپ علیہ السلام کے در پر کھڑا ہوں، آپ علیہ السلام کا ہوں، جیسا بھی ہوں، آپ علیہ السلام کے دشمنوں پر تبرا ہے، آپ علیہ السلام کے دشمنوں سے بیزار ہوں، ان سے نفرت ہے بس آپ میری سفارش کریں، میرے گناہوں کو ختم کروادیں۔

زائر منزل یقین پر

امام علیہ السلام کی خدمت میں اپنی درخواست پیش کرنے کے بعد زائر کو اس قدر یقین ہو جاتا ہے کہ میرے مولا میری سفارش ضرورکریں گے مجھے اپنے دروازہ سے خالی نہ پلٹائیں گے کیونکہ ان کے جدامجد کافرمان ہے کہ کوئی سوالی آپ علیہ السلام کے پاس آئے تواسے خالی نہ لوٹاو اور پھر میں تو ان کا چاہنے والا ہوں، ان کا دوست ہوں ،ان کے دشمنوں پر تبرا بھیجتا ہوں پس کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ مجھے اپنے در سے خالی پلٹاءدیں۔ اب زائر جب اس حالت میں آجاتا ہے تو پھر خداوند سے درخواست کرتا ہے اور درخواست کا انداز بھی یہ اختیار کرتا ہے کہ پہلے محمد وآل علیہ السلام محمد پر خداوند سے صلوات بھیجنے کی درخواست کرتا کیونکہ یہ وہ دعا ءیقینی قبول ہوتی ہے اس کے بعد خداوند سے اپنی درخواست کرتا ہے زائر کا انداز کچھ اس طرح ہے۔اے اللہ! محمد وآل علیہ السلام محمد پر صلوات بھیج دے اور اے اللہ اپنے ولی کے لئے جو وعدہ دیا ہے کہ تیری زمین پر ان کی حکومت ہوگی اے اللہ تو اس وعدہ کو پورا فرما دے۔

اے اللہ:ان کی کسی بات کو ظاہرکردے، ان کی دعوت بام عروج پر پہنچا دے۔

ان کا بیان ہی ہر جگہ نافذ ہو، ان کے اور اپنے دشمن کی نابودی کے واسطے ان کی مدد فرمادے، اے رب العالمین:اے اللہ :محمد وآل علیہ السلام محمد پہ صلوات بھیج دے اور اپنے مکمل کلمہ کا اظہار کردے۔

اللہ کا دین اللہ کا مکمل کلمہ ہے

۵۱ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ وَّاَظهر کَلِمَتَکَ التَّآمَةَ وَمُغَیَّبَکَ فِی ٓ اَر ضِکَالخَآئِفَ المُتَرَقِّبَاَللّٰهُمَّ ان صُرهنَصرًا عَزِی زًا وَّافتَح لَه فَت حًا یَّسِی رًااَللّٰهُمَّ وَاَعِزَّبِهِ الدِّینَ بَعد الخُمُو لِ وَاَطلِع بِهِ الحَقَّ بَعد الاُفُولِ وَاَجلِ بِهِ الظُّلمَةَ وَاکشِف بِهِ الغُمَّةَ للّٰهُمَّ وَاٰمِن بِهِ البِلاَ دَ وَاه دِبِهِ العِبَادَاَللّٰهُمَّ ام لَا بِهِ الاَرضَ عَدلاً وَّقِس طًا کَمَا مُلِءتظُل مًا وَّجَورًا اِنَّکَ سَمِیع مُّجِیب

اللہ کے مکمل کلمہ سے مراد، اللہ کے ولی کی ولایت کا اعلان ہے، کیونکہ اب تک زائر نے واضح الفاظ میں اللہ کے مکمل کلمہ کا اظہار نہیں کیا،اللہ کا مکمل کلمہ کیا ہے ؟تو اس کی واقعیت کیلئے واقعہ غدیر کو سامنے رکھنا ہوگا۔ غدیر خم میں علی علیہ السلام کی ولایت کے اعلان پر اللہ نے فرمایا کہ آج دین مکمل ہوگیا۔ کیونکہ اللہ کا دین ہی اللہ کا کلمہ ہے اور خدا نے علی علیہ السلام کی ولایت کے اعلان سے اپنی نعمتوں کے تمام ہونے کا اعلان بھی فرمادیا تھاکیونکہ اللہ کی نعمات بھی اللہ کا کلمہ ہے، دین اسلام کو پسندیدہ دین کی سندبھی علی علیہ السلام کی ولایت کے اعلان سے ملی ہو۔ لیکن اس اعلان کو غلبہ ابھی تک نہ مل سکا۔ بلکہ ولایت علی علیہ السلام جو کہ اللہ کا کلمہ تامہ ہے وہ ابھی تک رائج نہیں ہو سکا ” لا الہ الا اللّٰہ “ اللہ کا کلمہ ہے ”محمد رسول اللّٰہ“ اللہ کا کلمہ ہے ۔

لیکن یہ اللہ کا کلمہ تامہ نہیں ہے جب” علی ولی اللّٰہ“ کا ساتھ ملا تو کلمہ تامہ بنا ۔کیونکہ غدیر خم پر علی علیہ السلام کی ولایت کے اعلان سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا:یہ کام کردو وگرنہ کار رسالت کو انجام ہی نہیں دیا (سورہ مائدہ)

پھر جب علی علیہ السلام کی ولایت کا اعلان ہوگیا اور اس کے ساتھ گیارہ اوصیاءکا اعلان بھی کیا گیا بارہویں کا خصوصی ذکر ہوا تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے مکمل ہونے اور نعمتوں کے پورا ہونے ، دین کے پسندیدہ ہونے ،کافروں کی مایوسی کا اعلان فرمادیا پس علی علیہ السلام کی ولایت ہی سے اللہ کا کلمہ مکمل ہوا علی علیہ السلام کی ولایت کا معنی نبوت ورسالت کے بعد امامت وخلافت وولایت کے سسٹم اورنظام کی بنیاد کا اعلان کرنا تھا امامت وولایت نبوت و رسالت کا تسلسل اور اسکی بقاءہے اور دین کا تحفظ بھی اسی نظام اور سسٹم میں ہے اسی لئے بارہویں کی امامت کے اقرار اور آپ کی ولایت کے تسلیم کرنے کے اعلان کو اللہ کا کلمہ تامہ کہا گیا ہے ۔

اب زائر دعا کر رہا ہے اے اللہ: اپنے کلمہ تامہ کا اظہار حضرت ولی العصر علیہ السلام کے ظہور سے فرما دے، ظاہر ہے اس سے بڑھ کر کوئی اور دعا نہیں ہو سکتی، اس کے بعد زائر کہتا ہے ۔

اے اللہ!محمد وآل علیہ السلام محمد پر صلوات بھیج، اے اللہ ! جسے تو نے غیبت میں رکھا ہوا ہے جو تیری زمین موجود ہے۔ خوف کی حالت میں ہے۔ انتظار کر رہا ہے، اسے ظاہر کردے، اے اللہ! اپنے ولی کی نصرت فرما! اےسی نصرت کہ اس میں شکست نہ ہوغلبہ ہی غلبہ ہو۔

اے اللہ! ان کے واسطے فتح کو آسان بنا دے۔

اے اللہ! اپنے ولی کے ذریعہ دین کے چراغ کے بجھ جانے کے بعد اسے عزت دے، غلبہ دے۔ دوبارہ اس کی روشنی لٹا دے، حق کے غروب ہو جانے کے بعد اپنے اس ولی کے ذریعہ حق کا دوبارہ طلوع فرما دے اور اپنے ولی کے ذریعہ تاریکی کو ہٹا دے، روشنی کو لے آ، اور اپنے ولی کے ذریعہ ہر غم ٹال دے، ساری مشکلات حل کردے، اے اللہ! اپنے ولی کے ذریعہ شہروں کو امن دے اور اپنے بندگان کو ان کے وسیلہ سے ہدایت فرما۔

اے اللہ! اپنے ولی کے ذریعہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے، جس طرح زمین ظلم وجور سے بھر چکی ہے۔

اے اللہ! تو ہی تو سمیع ہے ،جواب دینے والا اور دعا کوقبول کرنے والا ہے ۔

حرم امام میں داخلہ کی اجازت

۶۱ السلام عَلَیکَ یَاوَلِیَّ اللّٰهِ ا ذَن لِوَلِیِّکَ فِی الدُّخُولَ اِلٰی حَرَمَکَصَلَوٰتُ اللّٰهِ عَلَیکَ وَعَلٰیٓ اٰبَآئِکَ الطَّاهِرِینَ وَرَحمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُه

زائر حرم امام علیہ السلام میں داخل ہونے کی اجازت طلب کرتا ہے۔

اے میرے مولا! اے اللہ کے ولی! اپنے ولی کو، اپنے موالی کو، اپنے حرم میں داخل ہونے کی اجازت فرما دیجئے، اللہ کی صلوات آپ علیہ السلام پر ہو، اللہ کی صلوات آپ علیہ السلام کے آباءطاہرین پر ہو، اللہ کی رحمت اور اللہ کی برکات آپ علیہ السلام پر اور آپ علیہ السلام کے آباءطاہرین علیہ السلام پر ہوں۔

امام کی موجودگی کا یقین

اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ امام علیہ السلام کے گھر میں بغیر اجازت داخل نہیں ہونا اور زائر کا یہ انداز اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے اس کے امام وہ سب کچھ سن رہے ہیں اور یہ بھی سمجھتا ہے کہ اگرچہ وہ ابھی اپنے امام کو ظاہر بظاہر مشاہدہ نہیں کررہا اور اگر کبھی زیارت ہو بھی جاتی ہے تووہ اسی لمحہ امام کو پہچان نہیں سکتا، لہٰذا اسے پتہ ہی نہیں چلتا کہ اس نے اپنے امام کا دیدار کیا ہے لیکن یقین کی اس منزل پر ایک زائر اور مومن ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہوتا ہے اس سب پر اس کا ایمان ہوتا ہے اور ایسے انداز میں کہتا ہے کہ امام علیہ السلام اس کی ہربات سن رہے ہوتے ہیں ، یہ تو امام زمانہ علیہ السلام کی خدمت میں سلام ہے، اہل خانہ کی حرمت میں عرائض پیش کئے جا رہے ہیں ۔

جو بقید حیات ہیں ، ظاہرہ زندگی سے بہرہ ور ہیں جب کہ ایک مومن اور زائر جب باقی آئمہ علیہ السلام کو مخاطب ہوتا ہے یا حضرت رسول خدا کی زیارت پڑھتا ہے تو بھی اس کا عقیدہ ایساہی ہوتا ہے کہ اس کے آئمہ علیہ السلام ، حضرت رسول اللہ، جناب سیدہ زہراء علیہ السلام اس کی ہر بات کو سن لیتے ہیں ، ہماری آواز اگرچہ ہم دور ہی کیوں نہ ہوں ان تک پہنچ جاتی ہے، وہ تو جواب بھی دیتے ہیں لیکن ہم ان کا جواب سن نہیں پاتے، یہ ہماری اپنی نالائقی اور مادی رکاوٹیں ہیں ، وگرنہ میرے آئمہ علیہ السلام تومیرے ٹھہرنے کی جگہ بھی دیکھتے ہیں میری بات اور میرے سلام کو، میری درخواست کو سنتے ہیں اور میرے سلام کا جواب بھی دیتے ہیں ۔

زیارت کا فلسفہ

بہرحال زیارات ہمیں آئمہ علیہ السلام سے مربوط کرنے کا بہترین وسیلہ ہیں ، اسی لئے ہم ہر نماز کے بعد زیارات پڑھتے ہیں تاکہ اپنے آئمہ علیہ السلام سے ہمارا رابطہ منقطع نہ ہو، نماز میں سلام کا حکم بھی اسی ہدف کے تحت ہے کہ جب ہر مسلمان اپنی ہر نماز کے بعد اپنے رسول پر اور ان کی آل علیہ السلام پر، اللہ کے فرشتوں پر اور بندگان صالحین پر، سلام بھیجتا ہے تو گویا خود کو ان سے مربوط کر لیتا ہے اور ان کی عدم موجودگی جو ہے وہ نماز ی کیلئے موجودگی میں تبدیل ہو جاتی ہے اور اس طرح اس کے عمل میں تازگی آجاتی ہے اورنمازی احساس محرومیت سے نکل آتا ہے اور اسے یہ حسرت کی ضرورت نہیں رہتی کہ کاش! وہ رسول اللہ کے زمانہ میں ہونا.... شاید آج کے دور کے مومنین کے احساس محرومیت کو دور کرنے کے لئے رسول اللہ نے اپنے بعد آنے والے صاحبان ایمان کو بھائی کہہ کر پکارا ہے اور ان پر سلام بھیجا ہے اور رسول اللہ کا وہ سلام اب بھی سب ایمان والوں کے لئے ہے اور اس کی برکات سے ہم سب فیض یاب ہو رہے ہیں ۔

اور رسول اللہ کے بارہویں جانشین جو زندہ اور موجود امام ہیں وہ بھی تمام صاحبان ایمان کے واسطے دعا کرتے ہیں اگر آپ کی دعاءہم گناہگاروں کیلئے نہ ہوتی تو ہمارے لئے روئے زمین پر زندہ رہنا ہی ممکن نہ ہوتا۔

خدا وند سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سچا مومن، موالی بنائے اور حضرت ولی عصر علیہ السلام سے محبت کرنے والوں سے قرار دے۔(آمین)

زائر امام زمانہ علیہ السلام کے گھر میں

امام علیہ السلام کے گھر (سرداب) میں داخل ہونے کے آداب میں لکھا ہے کہ اوپر بیان شدہ زیارت پڑھ لینے کے بعد غیبت والے سرداب کے دروازہ پر پہنچ کر زائرکھڑا ہو جائے دروازے کی سائیڈ پر ہاتھ رکھے پھر کھنکھارے اور ایسا انداز بنائے جس طرح باہر سے کوئی اندار آنے کے لئے اپناتا ہے گویا اندر جانے کے لئے اجازت مانگ رہا ہے پھر زبان پر ”بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم“ جاری کرے اور سرداب میں اتر جائے پورے قلب کو حاضر کر کے نیچے جب پہنچ جائے تو خلوص دل سے ، خالص نیت سے ....خوشنودی رب واسطے، دورکعت نماز بجالائے نماز پڑھ لینے کے بعد جو کچھ پڑھنا ہے وہ کچھ اس طرح ہے ۔

خداوند کی نعمات و انعامات کا تذکرہ اور شکر بجالانا

۱ اَللّٰهُ اَکبَر،اَللّٰهُ اَکبَر،اَللّٰهُ اَکبَر،لَآ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَکبَر وَلِلّٰهِ الحَمدُ

اللہ کے سوا کوئی بھی لائق عبادت نہیں ۔اللہ ہی بزرگ وبرتر ہے وہ اس سے برتر ہے کہ اسکی وصف بیان کی جائے وہی سپر پاور ہے اور بس !!

پس وہی الہ ہے، وہی معبود ہے اور کسی کو معبود نہیں کہہ سکتے کیونکہ اللہ کے سوا کوئی اور عبادت کے لائق پہلے ہی نہیں ۔

عبادت کی شرائط

کسی کی عبادت واسطے جوشرائط ہیں وہ اللہ کے غیر میں موجود نہ ہیں ، سب محتاج ہیں ،جو محتاج ہوں اپنی قدرت میں ،اپنے حسن وجمال میں،اپنے علم وکمال میں ، اپنی حیات وممات میں ، اپنی صحت و بیماری میں، تو وہ کیسے عبادت کے لائق ہو سکتے ہیں جس طرح دیوار کو اندھا، نابینا کہنا درست نہ ہے کیونکہ اس میں بیناہونے کی صلاحیت ہی نہ ہے تو اسی طرح غیراللہ کو الہ (معبود) نہیں کہہ سکتے کیونکہ ان میں الہ بننے کی شروع سے صلاحیت ہی نہیں ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ اللہ کے غیر کا رکوع کرنا اور سجدہ کرنا بھی درست نہ ہے کیونکہ رکوع بھی کسی کے سامنے عجز سے جھک جانا ہوتا ہے اور سجدہ اس جھکنے کی آخری منزل ہے تو انسان اس کے سامنے جھکے جو کسی کا محتاج نہ ہواور وہ فقط اللہ ہی ہے جو کسی کا محتاج نہ ہے اسی لئے زائر اپنے امام کے گھر میں پہنچ کر سب سے پہلے اللہ کی کبریائی کو اللہ اکبر کہہ کر بیان کرتا ہے کیونکہ کبریائی اسی کا خاصہ ہے اور پھر اللہ کی الوہیت کو ”لا الہ الا اللہ “ کہہ کر بیان کرتا ہے پھر کہتا ہے ”اللہ اکبر“ اس کے بعد” وللہ الحمد “کہہ کراس بات کا اظہار کرتا ہے کہ حمد اور تعریف کے لائق بھی اللہ ہی ہے کیونکہ اللہ کے علاوہ جس کی بھی تعریف کی جائے اور اس غیر اللہ کی جس خوبی کوبھی بیان کیا جائے تو وہ اس کی ذاتی نہ ہوگی وہ سب خوبیاں اس نے اللہ ہی سے لی ہیں یا اللہ کی بنائی ہوئی مخلوقات سے لی ہیں ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی پہلی سورئہ میں فرمادیا اورسب بندگان سے کہہ دیا اور ہر نمازی پر فرض قرار دے دیا کہ خدا کے حضور حاضری کے وقت اور ہرحال میں کہو۔

”الحمدللّٰه رب العالمین“

عالمین کا رب ایک ہی ہے اور وہ اللہ ہے، اللہ کے علاوہ جس کسی کو اللہ کی مخلوق میں سے کسی پر ربوبیت ملی تو وہ ذاتی نہیں اللہ سے لی ہوئی ہے اور وہ بھی مستقل نہیں بلکہ عارضی ہے اور اصلی نہیں بلکہ طفیلی ہے۔

پس اس جگہ بھی کبریائی کا اعلان کرنے کے بعد الوہیت کا اقرار کیا اور پھر دوبارہ کبریائی کا ذکر کرکے اللہ کی حمد بجالایاہے۔

حمد بجالانے کی وجہ

۲ الحَمدُ لِلّٰهِ الَّذِیهدَانَا لِهٰذَا وَعَرَّفَنَآ اَو لِیَآءه وَاَعدآءه وَوَفَّقَنَا لِزِیَارَةِ اَئِمَّتِنَا وَلَم یَجعَلنَا مِنَ المُعَانِدِینَ النَّاصِبِینَ وَلاَ مِنَ الغُلاَ ةِ المُفَوِّضِینَ وَلاَ مِنَ المُرتابِینَ المُقَصِّرِینَ

اس کے بعد زائر اپنے انداز میں واضح کرتا ہے کہ میں ”اللّٰہ اکبر، لاالہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر“ کہنے کے بعد ”للّٰہ الحمد“ کیوں کہاہے۔

تمام تعریف ،حمد!، اللہ کےلئے ہے ،اب اسی بات کی تشریح زائر ان الفاظ میں کرتا ہے اور اسی طرح اللہ کے اپنے اوپر انعامات کا ذکر کرتاہے جن انعامات پر اسے اپنے رب کا شکر بجالانا اور حمد کرنا لازم ہوجاتا ہے زائر کہتا ہے۔

اللہ کےلئے حمد ہے جس اللہ نے ہمارے لئے اس امر کی (یعنی مجھے یہاں تک آنے کی، اپنے ولی کے دروازہ پر پہنچنے کی) ہدایت فرمائی ہے ۔

اللہ نے ہمارے لئے اپنے اولیاءکی معرفت عطا کردی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمنوں کی ہمیں پہچان کروادی ہے۔

اللہ نے ہمیں یہ توفیق دی ہے کہ ہم اپنے آئمہ علیہ السلام کی زیارت اور ملاقات کے لئے ان کے گھروں میں آئیں ،اللہ تعالیٰ نے ہمیں ناصبیوں سے قرار نہ دیا اور نہ ہی ہمیں معاند اور آئمہ علیہ السلام سے دشمنی رکھنے والا بنا۔

ناصبیوں ، غالیوں اور مفوضہ سے اعلان برائت

اللہ تعالیٰ نے ہمیں دشمنان ، ناصبوں اور غالیوں سے بھی نہیں بنایا کہ جو آئمہ کی صحیح معرفت نہیں رکھتے اور آئمہ علیہ السلام کی شان ایسے انداز میں بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ سننے والا یہ سمجھے کہ یہ لوگ آئمہ علیہ السلام ہی کو اللہ سمجھتے ہیں یا پھر اللہ سے ہی بڑا سمجھتے ہیں ، ظاہر ہے ایسے لوگ نہ خدا کی معرفت رکھتے ہیں کیونکہ اگر خدا کی معرفت رکھتے ہوتے تو خدا کے نمائندگان کے بارے کوئی ایسی بات نہ کرتے جس سے خدا کی شان میں گستاخی ہوتی اور ایسے لوگ آئمہ علیہ السلام کی معرفت بھی نہیں رکھتے کیونکہ آئمہ تو اپنے اللہ کے حضور سجدہ ریز نظرآتے ہیں ، وہ تو اپنے مالک کے خالص بندگان ہیں اور اللہ کی مخلوق میں اللہ کے نمائندہ ہیں ۔

اے اللہ! تو نے ہمیں مفوضہ سے بھی نہیں بنایا جو اللہ اور اللہ کی مخلوق کے درمیان آئمہ کے واسطہ اور وسیلہ ہونے کا معنی ہی نہیں سمجھ سکے اور ایسے انداز میں اس بات کو کرگئے کہ گویا خداوند معطل ہوچکا ہے جیساکہ یہودیوں نے کہا تھا کہ اب اللہ کے ہاتھ تو بندھے ہوئے ہیں اس نے سب کچھ اپنے نمائندہ کے حوالہ کردیا ہے ۔

بہرحال بات حق وہ ہے جو ہمارے آئمہ علیہ السلام نے فرمائی ہے کہ ہم اللہ نہیں ہیں ، اللہ کے عبدہیں ،اللہ کے نمائندہ ہیں ،اللہ کی زمین پر اللہ کی حجت ہیں ، اللہ کی دھرتی پرہماراجو اختیار ہے وہ اللہ کا عطاء کردہ ہے اور ہم ہر آن اللہ کے محتاج ہیں ، اللہ کے سوا کسی اور کے محتاج نہ ہیں ،اللہ ہمارا محتاج نہیں ہے اورنہ ہی اللہ کو ہماری ضرورت ہے ہم اللہ کے محتاج ہیں اور ہمیں اللہ کی ضرورت ہے ۔ سب احسان ، منت اور فضل اللہ کا ہے کہ اس نے ہمیں اپنی معرفت کا وسیلہ بنایا ہے ہمیں اپنی مخلوق حجت قرار دیا ہے یہ سب اسی کا کرم ہے کہ اس نے ہماری اطاعت کو ساری مخلوقات پر فرض قرار دیا ہے ہماری محبت کو اپنے اوپر ایمان کی نشانی بنایا ہے ہم اللہ کی طرف سے اللہ کی مخلوق تک فیض رسانی کا واسطہ ہیں اورہمیں یہ صلاحیت بھی اللہ نے دی ہے، ہمارا جو کچھ ہے اللہ کی جانب سے ہے، وہ ہم سے چھین بھی سکتا ہے، غلوبھی نا درست ہے اور تفویض والی بات بھی نہیں ہے، ہم اللہ سے سوال کرتے ہیں وہ دیتاہے، ہم وہی کرتے ہیں اور وہی کہتے ہیں جو اس ذات کی مشیت اورمرضی ہوتی ہے، ہمارا اپنا اختیار اس لئے نہیں کہ ہمارا اختیار اس کا اختیار ہے، اس نے ہمیں مجبو رنہیں بنایا لیکن ہم اس کی رضا کے بغیرنہ کچھ کرتے ہیں ،نہ کچھ کہتے ہیں اورجو سوچتے ہیں تو وہ بھی وہی ہوتا ہے جو مرضی رب ہوتاہے ۔

آئمہ اہل البیت ( علیہ م السلام ) ہم جیسے نہیں

اے اللہ تیری حمدہے کہ تو نے ہمیں غالی ، مقصر اور شک کرنیوالوں سے بھی نہیں بنایا، ہم وہ نہیں ہیں جو آئمہ اطہار علیہ السلام کو اور اللہ کے نمائندگان کو اپنے جیسا قرار دیتے ہیں ، انکی بشریٰ حقیقت کو ہم اس انداز سے ہر گز نہیں لیتے کہ وہ ہماری طرح سوچتے اور کرتے تھے اورنہ ہی انہیں اپنے جیسا قرار دیتے ہیں ، ان کا جسمانی پہلو ہم سے رابطہ کیلئے ہے اور نورانی پہلو اللہ تعالیٰ سے لیکر ہمیں دینے کیلئے ہے ،وہ کس طرح ہم جیسے ہوسکتے ہیں کہ وہ تو ہرحال میں مسجد میں داخل ہوسکتے ہیں جبکہ ہم حالت ِ جنب میں مسجد میں داخل نہیں ہوسکتے، وہ بیدار ہوتے ہی اللہ کا سجدہ کرتے ہیں ، ہر نجاست سے پاک ہوتے ہیں ، عام آدمی کی حالت سب پر واضح ہے ۔اسی قسم کی اور ظاہری خصوصیات جو سب کے سامنے ہیں ان میں وہ عام انسان کے حالات سے مختلف ہیں ۔

ولایت کی نعمت سب نعمتوں کی سردار نعمت ہے

اصل بات یہ ہے کہ جو حالت ہمیں جنت میں جاکر حاصل ہو گی انکے واسطے وہی حالت اس وقت اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی حاصل ہے اور اس پرتعجب کی بات بھی نہیں ہے بہرحال انکے فضائل میں شک کرنے والا خداوند نے ہمیں نہیں بنایا اورنہ ہی ان سے بنایاجو انکی شان کوکم کرتے ہیں ، اللہ نے ہمیںمقصرین سے نہیں بنایا ،یہ سب کچھ خدا کی طرف سے ہے، اس انعام پر خدا کی حمد ہے، اس انعام پر جتنا شکر بجالایا جائے کم ہے ،یہی وہ نعمت ہے جس کے بارے قیامت کے دن سوال کیا جائے گاکہ اس نعمت کی قدرکیوں نہ کی ؟ نعمت ِولایت ہی سب نعمتوں پر بالادست اور سب کی سردار بلکہ یہ نعمت سب نعمتوں کو لانے کا سبب ہے جو اس نعمت کا منکر ہے اس کیلئے سوائے آتش جہنم کے اور کچھ نہ ہے۔

زائر ومومن موالی کا اپنے وقت کے امام پر سلام

اور آپ کے بارے چند تعریفی کلمات

۳ السلام عَلٰی وَلِیِّ اللّٰهِ وَابن اَو لِیَآئِه السلام عَلیَ المُدَّخَرِ لِکَرَامَةِ اَو لِیَآئِ اللّٰهِ وَبَوَارِ اَعدآئِه السلام عَلیَ النُّورِ الَّذِی ٓ اَرَادَ اَهل الکُفرِ اِطفَآءه ،فَاَبَی اللّٰهُ اِلاَّ ٓ اَن یُتِمَّ نُورَه بِکُفرِهِهِم وَاَیَّدَه بِالحَیٰوةِ حَتیّٰ یُظهِرَ عَلٰی یَدِهِ الحَقَّ بِرَغمِهِم

اللہ کے ولی پر سلام ہواور اللہ کے اولیاءکے فرزند پر سلام ہو، سلام ہو اس پر جسے اللہ نے اپنے اولیاءکی عزت و کرامت واسطے ذخیرہ کیا ہواہے اور اپنے دشمنوں کی بربادی اور ہلاکت کے واسطے اسے بچا کررکھا ہوا ہے، سلام ہے اس پر جو اللہ کا نور ہے، اللہ کا وہ نور جسے کفر والوں نے ختم کرنے کی کوشش کی اوریہ چاہاکہ اس کے وجو دکو ہی ختم کردیں اور اسکی زندگی کا چراغ گل کردیں لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ اپنا فیصلہ ہے کہ اس نے اپنی نمائندگی کی آخری کڑی اور اپنے اس نور کو ہر دشمن کے شر سے محفوظ رکھنا ہے او اپنے نور اور اپنی نمائندگی کو پورا کرناہے اگرچہ کا فر اسے ناپسند ہی کیوں نہ کریں، اللہ تعالیٰ نے اپنے اس آخری نمائندہ کو زندگی دے کراپنے دین کو استحکام بخشا اوران کی زندگی ہی میں خود ان کے ہاتھ پر حق کو ظاہر کرے گا اور اپنے دین کو مکمل غلبہ دے گا باوجودیکہ کا فر ایسانہ چاہیں گے ،یہ تو خداکا فیصلہ ہے اوراسے ضرور پورا ہونا ہے ۔

امام زمانہ (عج) کے عہدہ اور منصب ملنے کا وقت وعرصہ

۴ اَشهَدُ اَنَّ اللّٰهَ اصطَفٰیکَ صَغِیرًا وَّاکمَلَ لَکَ عُلُو مَه علیه السلام کَبِیرًا وَّاِنَّکَ حَیّ لاَّتمُوتُ حَتّٰیتبطِلَ الجِبتَ وَالطَّاغُوتَ

اس حصہ میں ایک بنیادی اصول کو بیان کیاگیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کی نمائندگی کے واسطے عمر کی شرط نہ ہے ،اللہ نے جس کو اپنا نمائندہ بنایاہے تو اسے وہ سب کچھ بچپن میں ہی دے دیتاہے جس کی اسے اللہ کی مخلوق میں رہتے ہوئے ضرورت ہوتی ہے چنانچہ حضرت ولی العصر (عج) کیلئے بھی اسی قانون کی پاسداری کی گئی چنانچہ ایک مومن موالی اپنے اس عقیدہ کا اظہار اس طرح کرتا ہے ۔

٭میں یہ گواہی دیتاہوں اے میرے مولا ! کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچپن ہی سے چن لیا اور اس وقت بچپن ہی میں آپ کیلئے سارے علوم مکمل طور پر دے دیئے اور اپنے علوم کو تیرے لئے مخصوص کر دیا جن علوم کی ضرورت بڑے ہو کر آپ کیلئے تھی آپ بچپن سے ہی اللہ کا انتخاب ہیں اور آپ کی بزرگی میں اللہ کے کامل علوم موجود ہیں اوریہ کہ آپ اب تک زندہ ہیں ، آپ مرے نہیں ہیں یعنی جب سے آپ پیدا ہوئے اس وقت سے لیکر اب تک آپ اسی دنیا میں زندہ ہیں ، آپ کو موت نہیں آئے گی یہاں تک کہ آپ کفروطاغوت ،خدا کے مخالفین کو نابود کردیں گے ۔

اس بیان سے اس نظریہ کی نفی کی ہے جو یہ کہتا ہے کہ آپ پیداہوں گے اور اس خیال کی بھی نفی کردی ہے کہ آپ مرکر پھر واپس آئیںگے یا آپ کسی اور حالت میں چلے گئے ہیں اوراس ظاہری جسم و بدن کیساتھ نہیں ہیں بلکہ اعلان کیا ہے کہ آپ اس بدن وجسم کیساتھ زندہ و موجود ہیں ۔

مومن موالی اپنے امام علیہ السلام اور انکے متعلقین کے بارے اللہ سے دعابھی کرتاہے اور اس دعاءکے ضمن میں اپنی عقیدت کا اپنے امام علیہ السلام کے باریاعلان بھی کرتاہے

۵ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَیه وَعَلٰی خُدَّامِه وَاَعوَانِه عَلٰی غَیبَتِه وَنَایِه وَاستُره سَترًا عَزِیزًا وَّاجعَل لَّه علیه السلام مَع قِلاً حَرِیزًا وَّاشدُدِ اَللّٰهُمَّ وَطَاتکَ عَلٰی مُعَانِدِیه وَاحرُس مَوَالِیَه علیه السلام وَزَآئِرِیه

اے اللہ ! اس پر (اپنے ولی پر) صلوات ، انکے خادموں پر، انکے نوکروں پر ، انکے مددگاروں پر انکے معاونین پر ،جو آپ کی غیبت اور آپ کے عام لوگوں سے دور رہنے کے زمانہ میں آپ کے مددگار ہیں ، آپ کے نوکرہیں ، آپ کے ملازمین ہیں ،ان سب پر اے اللہ ،صلوات بھیج۔

امام زمانہ علیہ السلام کاسیکرٹریٹ

اس بیان میں اس دعاءکے ساتھ اس عقیدہ کا اظہار کیا گیا ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام غیبت کے زمانہ میں اکیلے نہیں ہیں بلکہ آپ کا باقاعدہ ایک سیکرٹریٹ ہے ،آپ کے خدام ہیں ، ملازمین ہیں ، اعوان وانصارہیں ، ایک پوری ٹیم ہے جو آپ کےساتھ پورے عالم کے کام انجام دینے میں صروف ہے۔

اللہ سے دعائیں

اے اللہ ! اس پر پردہ ڈالے رکھ کسی دشمن کوانکی خبر تک نہ ہو، ایک مضبوط پناہ گاہ میں انہیں رکھ ،کوئی بھی دشمن ان تک نہ جاسکے ۔

اے اللہ ! ........اپنے مخالفوں اور سرکش دشمنوں پر،انکے ذریعہ عذاب اتاردے اوریہ کہ ان کے ذریعہ اپنے دشمنوں پر مضبوط ہاتھ ڈال ۔

اے اللہ ! اپنے ولی (امام زمانہ علیہ السلام )کے موالیوں اورانکے زائرین کی حفاظت فرما۔

اس جملہ سے واضح ہوتاہے کہ پہلے جملے والی دعاءان کے بارے ہے جو زمانہ غیبت میں آپ کے ہمراہ رہتے ہیں اور اس جملہ میں آپ کے ان موالیوں اور چاہنے والوں اور زائرین کے بارے دعاءہے جو آپ تک نہیں پہنچ سکتے ۔

مومن موالی کی آرزو اور دعاءکے ضمن میں اپنے ارادوں کا اعلان

۶ اَللّٰهُمَّ کَمَا جَعَلت قَل بِی بِذِکرِه مَع مُو رًا،فَاجعَل سَلاَ حِی بِنُصرَتِه مَشهو رًا وَّاِن حَالبَینِی وَبَینَ لِقَآئِهِ المَوتُ الَّذِی جَعَلته علیه السلام عَلٰی عِبَادِکَ حَتمًا وَّاَقدَرت بِه عَلٰی خَلِیفَتِکَ رَغمًا فَابعَث نِی عِند خُرُو ِه،ظَاهِرًا مِّن حُفرَتِی مُوتزِرًا کَفَنِی حَتّٰیٓ اُجَاهِدَ بَینَ یَدِیه فِی الصَّفِّ الَّذِی ٓ اَثنَیت عَلٰیٓ اَهله فِی کِتَابِکَ فَقُلت،کَاَنَّهُم بُنیَان مَّرصُوص

اے اللہ ! جس طرح تو نے اپنے ولی کے ذکر سے میرے دل کو آباد کردیا ہے ،تو میرے اسلحہ کو بھی اس کی مدد کے واسطے مشہود وظاہر کردے اور اگر میرے اور انکے درمیان (امام زمانہ عج کے درمیان) وہ موت حائل ہوجائے جسے تونے اپنے بندگان پر حتمی قرار دے رکھا ہے اور اس کے ذریعہ اپنی مخلوق پر اپنی قدرت کا اظہار فرمایا ہے تو جب انکا خروج ہوجائے۔

تو اے اللہ ! مجھے میری قبر سے جس گڑھے میں میں دفن کیاجاونگا اس سے مجھے اٹھا دینا ،باہر نکال لانا ، میں اپنے کفن میں لپٹاہواہوں تاکہ میں بھی اس صف میں کھڑے ہوکر ان کے سامنے جہاد کر سکوں، جس صف والوں کی اے اللہ تو نے اپنی کتاب (قرآن) میں توصیف بیان کی ہے اور اے اللہ! تو نے انکے بارے فرمایاہے گویا کہ وہ ایک مضبوط و سیسہ پلائی ہوئی دیوارکی مانند ہیں ۔

غیبت طولانی ہونے پر غم ودرد کا اظہار

۷ اَللّٰهُمَّ طَالالاِنتظَارُ وَشَمِتَ مِنَّا الفُجَّارُ وَصَعُبَ عَلَینَا الاِنتصَارُ

اے اللہ انتظار لمبی ہوگئی، زمانہ بہت گزر گیا، دشمن ہمارے اوپر طعنہ زنی کرتے ہیں ،ہمارا مذاق اڑاتے ہیں ، فاجر اور کمینے لوگ ہماری توہین کرتے ہیں ، ہمارے عقیدہ کا مذاق اڑاتے ہیں اور اب ہمارے لئے نصرت طلب کرنے کا عمل مشکل اور سخت ہوگیاہے۔

ان جملوں میں درد ہے ،حقیقت کااظہار ہے کیونکہ جیسے جیسے زمانہ لمباہوتاجاتاہے ویسے ویسے لوگ اس نظریہ سے باغی ہوتے جارہے ہیں ، دشمنوں کی طرف سے پروپیگنڈہ کیاجاتاہے کہ یہ نظریہ ہی غلط ہے کسی کو اگر امام زمانہ (عج) کی نصرت کا کہتے ہیں تو وہ آگے سے ہنستا ہے، مذاق بناتاہے یہ حالت ایسی ہی سخت اور تکلیف دہ ہے جس طرح اس بات کااظہار کیاگیا ہے ۔

زندگی میںامام علیہ السلام کی زیارت اور ملاقات کی آرزو

۸ اَللّٰهُمَّ اَرِنَا وَجه وَلِیِّکَ المَیمُونَ فِی حَیَاتِنَا وَبَعد المَنُونِ

اے اللہ ! مجھے اپنے ولی کے بابرکت نورانی چہرے کا دیدار کروادے اورہمیں ہماری زندگی میں ہمیںاپنے ولی سے ملوا دے اورمرنے کے بعد بھی ہماری یہ ملاقات جاری رہے ۔

رجعت کا عقیدہ اور اپنے امام علیہ السلام سے گفتگو

۹ اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَدِینُ لَکَ بِالرَّجعَةِ بَینَ یَدَی صَاحِبِ هٰذِهِ البُقعَةِالغَو ثَ الغَو ثَ،الغَو ثَ،یَا صَاحِبَ الزَّمَانِ، قَطَعتُ فِی وُصلَتِکَ الخُلاَّنَ وَهَجَرتُ لِزِیَارَتِکَ الاَو طَانَ وَاَخفَیتُ اَمرِی عَن اَهل البُلدَانِ لِتَکُونَ شَفِیعًا عِند رَبِّکَ وَرَبِّی وَاِلٰیٓ اٰبَآئِکَ وَمَوَالِیَّ فِی حُسنِ التَّو فِیقِ لِی وَاِسبَاغِ النِّعمَةِ عَلَیَّ وَسَوقِ الاِحسَانِ اِلَیَّ

اے اللہ ! میں اس بقعہ والے کے سامنے اورانکے گھر میں یہ اعلان کررہاہوں کہ میرا رجعت پر ایمان ہے ،فریاد ہے، فریاد ہے ،اے صاحب الزمان ۔

میں نے تیرے ساتھ اپنا تعلق جوڑنے کیلئے سارے دوستوں کو ، سارے احباب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اورمیں اپنے اوطان سے دورہ کا فاصلہ طے کرکے تیری طرف ہجرت کرآیاہوں، میں نے بہت سارے اپنے شہر والوں سے ،اپنے اس ارادہ کو پوشیدہ رکھا ہے، اس لئے تیری جناب میں حاضری دی ہے تاکہ آپ اپنے اور میرے رب کے پاس میری سفارش کریں اور اپنے آباءکے پاس بھی میرے لئے سفارش فرمائیں کہ وہ مجھ سے راضی رہیں کہ جو میرے سردارہیں ،میرے موالی بھی ہیں ،جن سے میں محبت کرتاہوں، میرے لئے یہ اچھی توفیق جو ہے برقرار رہے اور میرے اوپر اپنے موالیوں سے محبت کرنے کی نعمت باقی رہے اور میری جانب احسان اور بھلائی آتی رہے، مجھے خیر و برکت ملتی رہے ۔

اختتامی دعاء

۰۱ اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ اَصحَابِ الحَقِّ وَقَادَةِ الخَلقِ وَاستجِب مِنِّی مَا دَعَوتکَ وَاَعطِنِی مَالَم اَنطِق بِه فِی دُعَآئِی مِن صَلاَحِ دِینِی وَدُنیَایَ اِنَّکَ حَمِید مَّجِید وَّصَلَّی اللّٰهُ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهِ الطَّاهِرِینَ

اے اللہ ! محمدوآل علیہ السلام محمد پر صلوات بھیج وہ آل علیہ السلام محمد جو اصحاب حق ہیں ،مخلوق کے قائدین ہیں ، جو میں نے دعاءمانگی ہے اسے قبول کرلے اورجو میں نے نہیں بولا وہ بھی مجھے دے دے.... وہ دے جو میرے دین کیلئے بہتر ہو، میری دنیا کا اس میں فائدہ ہو، بے شک توں تو، حمید و مجید ہے اور محمد وآل علیہ السلام محمد پر صلوات ہو جوکہ طاہرین ہیں ۔


غیبت کبریٰ کے زمانہ میں مومنین کی ذمہ داریاں

سوال : حضرت امام عصر”عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف “ کے حوالے سے زمانہ غیبت ِ کبریٰ میں ہماری ذمہ داری کیا بنتی ہے ؟

جواب:غیبت ِ کبریٰ کے زمانہ میں ہماری ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں جن پرعمل کرنا واجب ہے ان میں سے چند حسب ذیل ہیں ۔

۱ ۔ حضرت امام عصر ”عجل اللہ فرجہ علیہ السلام “ کی غیبت ِ کبریٰ میں امام علیہ السلام کی جدائی پر غم واندوہ اور پریشانی کے احساسات اور آثار کو اپنے پورے وجود میں محفوظ رکھ کر غم زدہ و پریشان رہنا۔

۲ ۔ آل محمد ” علیہ م الصلوٰة والسلام “ کے عالمی اسلامی حکومت کے قیام اور عدالت ِ الٰہیہ کے اللہ کی زمین پر نفاذ کا منتظر رہنا اورخود کوآپ علیہ السلام کی عادلانہ حکومت کے قیام کیلئے آمادہ رکھنا اور اس کیلئے اپنی استطاعت کے مطابق عملی جدوجہد کرنا اور ایسے اسباب مہیا کرنا کہ جن کی وجہ سے خوشی کا وہ دورجلد آجائے جس میں پورا عالم امن کا گہوارہ ہوگا ،ظلم وستم کا خاتمہ ہوگا ، ہر جگہ توحید کا پرچم لہرائے گا اور ولایت ِ اہل البیت ” علیہ م السلام ‘ کا راج ہو ۔

۳ ۔ حضرت امام عصر علیہ السلام کے وجود مبارک کی حفاظت اور آپ علیہ السلام کی سلامتی کیلئے دعاکرنا ۔

۴ ۔ حضرت امام عصر”عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف “ کی سلامتی کیلئے جس قدر ہوسکے صدقہ دینا۔

۵ ۔ اپنا واجب حج انجام دینے کے بعد حضرت امام عصر (عج) کی نیابت میں خود جاکر حج بجالائے یا کسی کو بھیجے جو حضرت امام عصر (عج) کی نیابت میں حج بجالائے ۔

۶ ۔ جس وقت حضرت امام عصر علیہ السلام کا نام سنا جائے تو آ پ علیہ السلام کی تعظیم اور تکریم کیلئے کھڑا ہوجانا چاہیے ۔

۷ ۔ زمانہ غیبت میں اللہ تعالیٰ سے تضرع وزار ی کیساتھ پورے خشوع وعاجزی سے دعاءومناجات کرنا کہ امت مسلمہ سے یہ مشکل گھڑی ٹل جائے، خوشحالی کا زمانہ آجائے ۔ اللہ اپنی عدالت کا نفاذ اپنی زمین پر جلد کرے ۔

خداوند سے اپنا ارتباط اور تعلق دعاءومناجات کے ذریعہ بہت زیادہ رکھا جائے اور خدا کی رحمت واسعہ سے پر امید رہنا چاہیے مایوسی کی کیفیت پیدا نہ ہونے پائے۔

۸ ۔ حضرت امام عصر”عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف“ سے توسل کرنا، ان سے مدد مانگنا ، انکے ذریعہ اپنی فریاد خدا تک پہچانا انہیں اپنے لئے مددگار اور خدا کے حضور شفاعت کنندہ اور سفارشی قرار دینا ، اپنی حاجات امام ” علیہ السلام “ کی خدمت میں پیش کرنا اور ان کیلئے ان سے مدد طلب کرنا ، امام ” علیہ السلام “ کی خدمت میں تحریری درخواست اپنے مسائل اور مشکلات کیلئے بھیجنا ۔

سوال:حضرت امام عصر(عج) کی غیبت کے زمانہ میں کس لئے آپ کی غیبت پر غم زدہ رہا جائے اور کیوں پریشانی کے احساسات اپنے اندر رکھے جائیں اسکا کیافائدہ ہے ؟

جواب:اس کیلئے چند وجوہات ہیں ۔

۱ ۔ امام ” علیہ السلام “ کا اپنی رعیت سے پردہ میں ہونا ،آپ کی رعیت کا آپ علیہ السلام کے دیدار سے محرومیت ، آپ علیہ السلام کے دیدار سے جو آنکھوں کو سرور اور دل کو ٹھنڈک محسوس ہونا تھی اس سے محرومیت ، ”عیون اخبار الرضا“ میں ایک روایت ہے جو اسی سے مربوط ہے امام ” علیہ السلام “ نے ایک طویل بیان میں فرمایا :کتنی زیادہ مومن خواتین ہیں کہ انکے دل کڑھتے ہیں ،ا نکے دل پریشان ہیں اورکتنے زیادہ مومن مرد ہیں جنہیں افسوس ہے اور وہ افسردہ ہیں کہ ”ماءمعین “(چشمہ کاشفاف پانی) ان سے غائب ہوگیا ہے یعنی حجت خدا” علیہ السلام “ کے فیضان حضوری سے محروم ہیں ۔

دعاءندبہ میں یہ جملے آئے ہیں حضرت امام زمانہ (عج) سے مخاطب ہو کر دعاءپڑھنے والاکہتا ہے.... میرے لئے یہ کتنا دشوار ہے؟ کہ میں ساری مخلوق کو تو دیکھوں اور آپ علیہ السلام کو دیکھ نہ پاوں اور میںنہ تو آپ علیہ السلام کی آہستہ آواز کو سن سکوں اورنہ ہی آپ علیہ السلام کی سرگوشی کا مجھے پتہ چل سکے، میرے اوپر یہ بات بھی بہت گراں ہے کہ آپ علیہ السلام کی خاطر میرے لئے آزمائش اور امتحان ہے اور میری طرف سے نہ تو آپ کے پاس شوروغوغاپہنچے اور نہ ہی میری پریشانی آپ علیہ السلام تک جائے اورنہ ہی کوئی گلہ اور شکایت آپ علیہ السلام سے کی جائے کہ آپ علیہ السلام ہم سے غائب ہیں تاکہ پتہ چلے کہ ہم آپ علیہ السلام کی غیبت کی وجہ سے افسردہ اور پریشان ہیں میری جان !آپ علیہ السلام پر قربان ، آپ علیہ السلام تو ایسے غائب ہیں جوہم سے جدا نہیں ہے، میری جان آپ علیہ السلام پر قربان ! آپ علیہ السلام تو ہم سے ایسے دور ہونے والے ہیں کہ جو درحقیقت دور نہیں ہیں ،میری جان آپ علیہ السلام پر قربان! کہ آپ علیہ السلام ہر شوق رکھنے والے کی تمنا اور آرزو ہیں ، ہر مومن مرد اور مومنہ عورت جب بھی آپ علیہ السلام کو یاد کرتے ہیں تو آپ علیہ السلام کے فراق اور جدائی میں بہت ہی مشتاق ہوتے ہیں اورآپ علیہ السلام کی جدائی انہیں ستانے لگتی ہے میرے اوپر یہ بات بھی بہت گراں گزرتی ہے کہ میں تو آپ علیہ السلام کو یاد کرکے رووں، آپ علیہ السلام کے ذکر سے رنجیدہ خاطر ہوجاوں جبکہ باقی مخلوق آپ علیہ السلام سے روگردانی کرے ، آپ علیہ السلام کو یاد بھی نہ کرے اورآپ علیہ السلام کی مددسے ہاتھ کھینچ لے اسی قسم کے جملے اس دعاءکے آخر تک موجود ہیں جو ایک درد اور کرب سے بھرے دل کی آواز ہیں وہ دل جس نے آپ علیہ السلام کی محبت کا شربت پی رکھا ہے اور آپ کی جدائی پر پریشان ہے ۔

اسی قسم کی اور دعائیں بھی ہیں کہ جن میں اپنے زمانہ کے امام علیہ السلام کی غیبت پر گریہ وزاری ، درد وکرب، غم واندوہ اور پریشانی کا اظہار کیاگیا ہے جس سے واضح پیغام سب مومنین کیلئے یہ ملتا ہے کہ زمانہ غیبت ِ کبریٰ میں امام زمانہ (عج) کی غیبت اور آپ کی عدم موجودگی کو یاد کرکے گریہ وزاری کی جائے ، پریشان رہا جائے ،درد اور تکلیف کا اظہار کیاجائے ۔

جیساکہ حضرت امام جعفرصادق ” علیہ السلام “ ایک مناجات میں آپ علیہ السلام کو نور ِ آل محمد کہتے ہیں اور آپ علیہ السلام کی غیبت کے طولانی ہونے پر زور زور سے گریہ وزاری فرماتے نظر آتے ہیں ۔

۲ ۔اس غم واندوہ کیلئے دوسری وجہ یہ ہے کہ ایک عظیم الشان حکمران کیلئے جو رکاوٹ موجود ہے کہ وہ فساد کے اصلاح کیلئے کوشش کرے ، احکام الٰہی کا نفاذ کرے ، سب کو انکے حقوق دلوائے ، ظلم وزیادتی کا خاتمہ کرے ، حدود شرعیہ کا نفاذکرے ، غم اس بات کا ہے کہ ایسا عظیم اور لائق حکمران موجود بھی ہو اور اپنے اختیار کا استعمال نہ کرسکے وہ سب کچھ پامال ہوتا دیکھ رہا ہو لیکن حالات کی سنگینی کی وجہ سے اس بارے کچھ نہ کرسکے تو اس پر غمزدہ ہونا ایک فطری تقاضا ہے ۔

حضرت امام محمد باقر” علیہ السلام “سے روایت ہے کہ آپ نے جناب عبداللہ بن ظبیان سے فرمایا :مسلمانوں کیلئے کوئی عید کا دن نہیں آتا،چاہے عید قربان ہو یا عید فطر ہو ، مگریہ کہ اس عید کے دن آل محمد کا غم بڑھ جاتاہے یعنی ہر عید اور خوشی کا دن آل محمد کیلئے ایک نئے غم کو لے آتاہے ۔

راوی :ایساکس وجہ سے ہے ؟

امام علیہ السلام : کیونکہ وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ انکا حق اغیار کے ہاتھوںمیں ہے ۔

۳ ۔ دین مبین کے باطنی اور اندرونی دشمن اور ڈاکوغیبت کے زمانہ میں اپنی اپنی کچھاروں سے باہر نکل آئیں گے عوام میں شکوک و شبہات پھیلائیں گے بلکہ وہ انکے ایمانوں کو بھی متزلزل کرنے میں اپنا ہر حربہ استعمال کریں گے جس کے نتیجہ میں ایک گروہ کے بعد دوسرا گروہ ، ایک جماعت کے بعد دوسری جماعت گمراہ ہونگے ، دین سے مرتد ہوجائیں گے ، علماءحقہ اپنے علم کااظہار کرنے سے عاجز ہونگے ان پر ان داخلی دشمنوں نے عرصہ حیات تنگ کردیا ہوگا۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام اور حضرت امام جعفرصادق ” علیہ ما السلام “ کا یہ فرمان سچا ہوگا کہ وہ فتنوں کا دور ہوگا اس دورمیں دین کو بچانا اس بات سے بھی مشکل تر ہوگا جس قدر آگ کے دہکتے انگارے کو ہتھیلی میں سنبھالنا مشکل ہوتاہے۔

جناب سدیر صیرفی سے روایت بیان ہوئی ہے وہ کہتا ہے میں مفضل بن عمر و جعفی ، ابوبصیر ،ابان بن تغلب اکٹھے اپنے مولا حضرت ابوعبداللہ جعفر بن محمد الصادق ” علیہ ما السلام “کی خدمت میں حاضر ہوئے اچانک ہم کیا دیکھتے ہیں کہ ہمارے مولا خاک پر بیٹھے ہوئے ہیں آپ کے اوپر خیبری اونی چادر ہے جسے آپ نے اپنے اوپر لپیٹا ہوا تھا جس کا گریبان بنا ہوا نہ تھا جس کی آستینیں چھوٹی تھیں (گویا عباءمانند چادر تھی) ایسی حالت میں آپ علیہ السلام اس طرح روروہے تھے جیسے کوئی شخص کسی عزیز کی جدائی پر غمگین ہوتا ہے ، ایسا رونا جس طرح کوئی ماں اپنے جگر گوشہ کی جدائی پر تڑپ تڑپ کر روتی ہے ،غم کے آثار رخساروں سے نمایاں تھے اورآپ علیہ السلام کے چہروںمیں تبدیلی واضح نظر آرہی تھی اور دونوں آنکھوں سے آنسووں کی جھڑی لگی تھی اس حال میں آپ یہ فرمارہے تھے ۔

سدیر : ہم نے جب یہ منظر دیکھا تو ہماری عقلیں اس غم انگیز منظر سے ماوف ہوگئیں اور ہمارے دل گھبراہٹ سے پھٹنے لگے اورہم نے خیال کیا کہ یہ کوئی بڑی مصیبت ہے جو ٹوٹنے والی ہے یااس کی نشانی ہے یا کوئی مصیبت دنیا کی طرف سے آپ علیہ السلام پر آن پڑی ہے ،ہم سب نے مل کر یہ عرض کیا :اے خیر الواے میرے سردار! آپ علیہ السلام کی غیبت نے میری نیند اڑا دی اورمیرے لئے بستر کے سکون کو چھین لیا ہے ، مجھ سے میرے دل کے سکون کو اڑالیا ہے ۔

اے میرے سردار ! آپ علیہ السلام کی غیبت نے تو میرے مصائب کو ہمیشہ رہنے والی مصیبتوں سے ملا دیا ہے ایک کے بعد دوسرے کا چلاجانا جمعیت اور بڑی تعداد ختم ہی کردیتاہے پس میں تو اس آنسو کے قطرے کو اب محسوس بھی کرتاہوں جو میری آنکھ میںآکر رک جاتاہے اور درد بھری آہ جو میرے حلق سے نکلتی ہے جو مصائب کے مسلسل آنے اور گزشتگان پر آزمائشوں اور مشکلات کے پڑنے کی وجہ سے ،قبیلے کی تباہی کا منظر پیش کر ر ہی ہے ۔

ریٰ کے فرزند!اللہ تعالیٰ آپ کی آنکھوں کو کبھی نہ رلائے کونساحادثہ پیش آیا ہے جس پر آپ علیہ السلام کی آنکھوں سے آنسووں کا سیلاب امڈ آیا ہے اور آپ علیہ السلام زار وقطار روئے جارہے ہیں اورکس حالت نے آپ علیہ السلام کیلئے ماتم داری کی کیفیت طاری کردی ہے ؟!

حضرت امام صادق ” علیہ السلام “: آپ نے ایک لمبی آہ بھری میں آج صبح کتاب ”الجفر“ پڑھ رہا تھا یہ ایسی کتاب ہے جو علم منایا ، بلایا ، فتن ،حادثات وواقعات ، علم ماکان وما یکون ، جو ہوچکا اور جو ہونے والا ہے، قیامت تک کے حالات ، اس میں درج ہیں اس کتاب کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب محمد”صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم“ اور انکے بعد انکی اولاد سے آئمہ” علیہ م السلام “کے واسطے مخصوص کیا ہے میںنے اس کتاب کے مطالعہ کے دوران اپنے قائم (عج) کی ولادت اور انکی غیبت کے حالات ، انکے دیرسے ظہور فرمانے ، انکی عمر کے طولانی ہونے ، اس زمانہ کے مومنوں کی سخت آزمائش ، انکی پریشانیاں ، اور آپ کی غیبت کے طولانی ہو جانے کی وجہ سے مومنوں کے دلوں میں آپ کے بارے شکوک وشبہات کے پیدا ہوجانے اور اکثر مومنوں کا اپنے دین مبین سے مرتد ہوجانا اور اپنی گردنوں سے اسلام کو اتار پھینکنا جوکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی گردنوں میں لازمی قرار دیا تھا کہ وہ اسلام ہی پر رہیں یہ سب کچھ پڑھ کر میرے اوپر یہ ساری کیفیت طاری ہوگئی اور مجھے ان سارے واقعات پر ترس آیا ، غم کے بادل امڈآئے ....میں تو نورآل محمد” علیہ السلام “کے حالات و واقعات اور انکی غیبت کے دور میںجو حالات ہونگے اور مومنین پرجومصائب آئیں اور جو پریشانیاں ہوں ان سب کو یاد کرکے گریہ وزاری ،آہ وفغاں کر رہا تھا ۔

سدیر:کیا آپ نورآل محمد”صلوات اللہ علیہم“ نہیں ؟آپ نے فرمایا ،نورآل محمد ہمارے قائم ہیں جن کی غیبت ہوگی وہ غیبت طولانی ہوگی مومنین کے دلوں میں انکی طولانی غیبت کی وجہ سے شکوک و شبہات ایجاد کئے جائیں گے جس وجہ سے بہت سارے مومنین دین چھوڑ جائیں گے اور مرتد ہوجائیں گے۔

نتیجہ:اس روایت کا مضمون بڑا واضح ہے جب حضرت امام جعفرصادق ” علیہ السلام “ حضرت امام مہدی (عج) کے تولد سے پہلے آپ علیہ السلام کے حالات پڑھ کر ، آپ علیہ السلام کی غیبت کے دور میں مومنین کو درپیش حالات کو یاد کرکے جب اس قدر گریہ فرماتے ہیں ، پریشانی کااظہار کرتے ہیں ، ان مصائب کی شدت کو یاد کرنے سے امام ” علیہ السلام “ کا سکون جاتا رہتا ہے آپ کی نیند تک اڑ جاتی ہے تو ہم لوگ جو اس وقت ان مصائب اور مشکلات سے دوچار ہیں جو کچھ امام ” علیہ السلام “ اس وقت فرمایا: تھا وہ آج ہم دیکھ رہے ہیں تو ہمیں افسردہ ہونا چاہیے، غمگین رہنا چاہیے، امام زمانہ (عج) کے ظہورمیں تاخیر پر گریہ و زاری کرناچاہیے، امام علیہ السلام کے ناصران کی قلت کو یاد کرکے ہمیں پریشان ہونا چاہیے ،ظاہر ہے یہ غم واندوہ کی طویل رات اسی وقت ختم ہوگی جب نورآل محمد

تشریف لائیں گے، آپ علیہ السلام کی آمد سے ہی مومنوں کے دلوں کو سکون نصیب ہوگا،خوشحالی عام ہوگی غم کا فور ہوگا اس سہانے منظر کی انتظار میں ہر وقت رہنا اہم فرائض سے ہے اور غمگین دل سے آپ کی یاد ایمان کاتقاضا ہے ۔


حضرت امام مہدی علیہ السلام اہل سنت کی نظر میں حصہ اول

اہل سنت کی کتابوں میں حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) کے متعلق روایات کا تذکرہ

تمہید:

ساری زمین امن کے قیام کے واسطے ایک عالمی مصلح کا ظہور حتمی ہے،اور ایک عادلانہ حکومت روئے زمین پرضرور قائم ہونی ہے اس عقیدہ کا تعلق فقط آسمانی ادیان کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ دنیا میں جتنے فلسفی، اور اجتماعی مکاتب ہیں جو غیر دینی ہیں ، وہ بھی اس بات کے قائل ہیں جیسے مادہ پرستوں کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں کو لے لیں جو تاریخ کا تجزیہ و تحلیل تناضات اورتفادات کے ٹکراو سے کرتے ہیں ،وہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ ایک یوم موعود ہے جس میں ہر قسم کے تنافضات اورتضادات کا انسانی طبقات میں خاتمہ ہوجائے گا اور پوری انسانیت پر محبت، ہم آہنگی اور امن و سکون غالب آجائے گا۔ (تفصیل کے لئے دیکھیں ....امام مہدی علیہ السلام شہید باقر الصدر)

اسی طرح ہم بہت سارے علماءدین، مفکرین اور دانشوروں کے متعلق جانتے ہیں کہ وہ بھی اس بات کو یقینی سمجھتے ہیں کہ اس زمین پر ایک دن عدالت کا نفاذ ہوگا، امن کا راج ہو گا، ظلم کا اختتام ہوگا، زمین پر خوشحالی کا دور ہو گا۔

مشہور برطانوی دانشور برٹرنڈ راسیل کا قول ہے کہ

”پورا عالم ایک ایسے اصلاح کنندہ کا منتظر ہے جو سب کو ایک پرچم تلے جمع کر دے اور سب پر ایک ہی آواز موثر ہو، اورسب کا نعرہ ایک ہو“۔

فزکس کے معروف ماہر البرٹ السٹائن کہتے ہیں کہ

” وہ دن جس میں پورے عالم پر امن اور سلامتی کا راج ہو، سب ایک دوسرے سے محبت کریں، آپس میں بھائی بھائی ہوں، تو ایسا ضرور ہوگا، اس میں کوئی عجب نہیں ہے“۔

(بحوالہ: المہدی الموعود و دفع الشبہات عنہ)

آئر لینڈ کے مشہور دانشور برنارڈ شرا، ان دونوں بیانات سے زیادہ واضح انداز میں اسی نظریہ کو بیان کیا ہے اور زیادہ باریک بینی سے اس موضوع کو پیش کیا ہے، وہ عالم مصالح کے وجود اور اس کی طولانی عمر کو اس طرح بیان کرتا ہے۔

” بلا شک وہ مصلح ایک زندہ انسان، صحت مند جسمانی ہیکل رکھتا ہے اور حیرت انگیز ، غیر معمولی عقلی طاقت کامالک ہے، انتہائی بلند اور اعلیٰ صفات کا مالک انسان ہے، جس تک یہ عام اور معمولی صلاحیتوں والا انسان بڑی جدوجہد اور طویل تگ و دو کے بعد پہنچنے کے قابل ہو سکے، اور یہ کہ اس کی عمر طولانی ہو،تین سو سال سے بھی زائد ہو اور وہ اپنی اس طویل زندگی کے مختلف حالات کو یکجا کرکے ان صلاحیتوںسے استفادہ کر سکے“۔

غرض ان کے نزدیک مصلح انسان تمام انسانوں میں ہر حوالے سے ممتاز ہو اور اپنی طولانی عمر کی وجہ سے تمام انسانوں کی صلاحیتوں کا احاطہ رکھتا ہو“۔(برنارڈ شوے (عباس محمودالعقاد ص ۴۲۱،۵۲۱)

آسمانی ادیان میں حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )کا تذکرہ

البتہ آسمانی ادیان میں عالمی مصلح کے ظہور کو ایک حتمی اور یقینی امر قرار دیا گیا ہے اور آسمانی ادیان کی کتابوں میں جو بھی غوطہ ور ہوتا ہے اور ان میں مستقبل کے بارے درج شدہ بشارتوں کا پوری دقت کے ساتھ مطالعہ کرتا ہے تو اس کے واسطے اس نتیجہ تک پہنچنا کوئی مشکل نہیں ہے کہ ان تمام کتابوں میں حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) کے وجود مقدس کے اشارات ملتے ہیں اور یہ کہ وہ آخری انسان ہیں جس نے پورے عالم کو امن و سکون دینا ہے عدالت کا نفاذ کرنا ہے، ظلم ختم کرنا ہے، وہ ہی حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) ہیں اور ان کا اشارہ اسی مہدی( علیہ السلام )کی طرف ہے جس کا اظہار مذہب اہل البیت علیہ السلام میں موجود ہے۔

آسمانی ادیان کی کتب میں موجود بشارتوں کے بارے تحقیق کرنے والے اسی نتیجہ پر پہنچے ہیں ۔

(ملاحظہ کریں بشارات عہدین للشیخ ڈاکٹر صادقی)

الکتاب المقدس سے العہد القدیم سے متعلق شعیا کی کتاب میں جو بشارتیں ذکر ہوئی ہیں ۔

قاضی الساباطی نے ان بشارتوں میں سے ایک بشارت کو لیا ہے اور اس کے بارے بیان کیا ہے کہ یہ بشارت حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کے متعلق واضح اور روشن بیان ہے وہ کہتے ہیں ” امامیہ فرقہ والے کہتے ہیں ”بلکہ وہ (مہدی علیہ السلام )محمد بن الحسن علیہ السلام العسکری علیہ السلام ہیں جو ۵۵۲ ھ میں پیدا ہوئے امام حسن( علیہ السلام ) کے اس حرم سے جن کا نام ”نرجس (سلام اللہ علیہ ا)“تھا اور سرزمین سرمن رای (سامرہ) شہر میں آپ کی ولادت ہوئی، خلیفہ المعتمد العباسی کا زمانہ تھا، پھر وہ ایک سال (جوبات مکتب اہل البیت علیہ السلام سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کی غیبت امام حسن عسکری ( علیہ السلام )کی وفات کے بعدشروع ہوئی جو تقریباً ستر سال رہی یہ پہلی غیبت تھی جسے غیبت صغریٰ کہا جاتا ہے اس کے بعد دوسری غیبت شروع ہوگی جسے غیبت کبریٰ کہا جاتا ہے جو ابھی تک جاری ہے) پھر آپ ظاہر ہوئے، پھر غائب ہو گئے اور یہ ان کی غیبت کبریٰ ہے، اس غیبت سے وہ واپس نہیں آئے مگر یہ کہ جب اللہ چاہے گا تو وہ واپس آئیں گے“۔

ساباطی اس بیان کے بعد لکھتے ہیں : اس لحاظ سے کہ امامیہ فرقہ کا نظریہ کتاب مقدس میں درج شدہ بشارت کے زیادہ قریب تھا اور میرا ہدف اور امت محمدیہ کے نظریات کا دفاع ہے مذہبی تعصب سے جداتھا اس لئے میں نے اس بات کا ذکر کر دیا ہے جس کے امامیہ فرقہ والے قائل ہیں ، جو کچھ وہ کہتے ہیں کتاب مقدس میں درج شدہ بعض اشارات اسی کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اسی طرح جب ”فخر الاسلام جو کہ نصرانی تھا“علامہ محمد رضا المظفرؒ سے ملتے ہیں اور اسلام قبول کر لیتے ہیں ، وہ مذہب اہل بیت علیہ السلام سے خود کو وابستہ کر لیتے ہیں وہ بھی اسی نتیجہ پر پہنچے، جس پر علامہ ساباطی اہل سنت کے عالم پہنچے، تو انہوں نے اسلام لانے کے بعد ”انیس الاسلام“ کتاب لکھی، جس میں یہود و نصاریٰ کے نظریات کو رد کیا گیا ہے اس کتاب میں اس نے کتاب مقدس میں بیان شدہ بشارتوں کو بیان کیا اور اس نتیجہ کو لیا کہ یہ سب بشارتیں حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )بن الامام الحسن العسکری( علیہ السلام ) پر صادق آتی ہیں ۔

جوبات قابل غور ہے ان بشارتوں کے حوالے سے، وہ یہ کہ ان میں عالمی مصلح کے لئے جو اوصاف بیان کئے گئے ہیں وہ مہدی( علیہ السلام ) کے علاوہ کسی اور شخصیت پر صادق نہیں آتے اور وہ بھی مذہب اہل البیت علیہ السلام کے نظریہ پرکے علاوہ ان بشارتوں کو کسی بھی اور نظریہ و خیال پر لاگو نہیں کیا جا سکتا ۔

انجیل کے مفسرین کا بیان

انجیل کے مفسرین نے”سفرالرویا“ کے فقرہ نمبر۱تا۱۷فصل نمبر۱۲ (یو حنا لاہوتی کے مکاشقات) کی تفسیر میں بیان کیا ہے، وہ سب تصریح کرتے ہیں کہ جس شخص کے متعلق ان بشارات میں بیان ہوا ہے اور یہ فقرات جس شخصیت کا بتا رہی ہیں وہ ابھی پیدا نہیں ہوئے اس لئے ان فقرات کی واضح اور روشن تفسیر،نامعلوم زمانہ کے سپرد ہے جس کا معنی اور مصداق اسی وقت ظاہر ہوگا۔ (بشارت عہدین ص ۴۶۲)

علماءاہل سنت کا نظریہ

علماءاہل سنت کی ایک بہت بڑی تعداد نے بھی اپنی تحقیق ابحاث کے نتیجہ میں مذہب اہل البیت علیہ السلام کے نظریہ کو اختیار کیا ہے ۔

مشہور عالم دین پروفیسر سعید ایوب کا خیال ہے کہ کتاب مقدس کی ”سفر الرویا“ کے فقرات میں جس شخصیت کی طرف اشارہ ملتا ہے، وہ مذہب اہل البیت علیہ السلام کے نظریہ پر صادق آتا ہے۔

وہ اس بارے کہتے ہیں کہ

”انبیاء علیہ السلام ماسلف کے اسفار میں جو کچھ درج ہے اس سے مراد مہدی ( علیہ السلام ) ہیں اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے“۔

اس تحریر پر انہوں نے اس طرح مزید تبصرہ کیا ہے ۔

ایک خاتون کا تذکرہ جس کی اولاد سے بارہ مرد ہوں گے

”میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ میں نے اہل کتاب کی (آسمانی) کتابوں میں اسی طرح سے موجود پایا ہے، اہل کتاب نے حضرت مہدی( علیہ السلام ) سے متعلق خبروں کا بھی اسی طرح دقت سے جائزہ لیا ہے جس طرح انہوں نے آپ علیہ السلام کے جد امجد حضرت محمد مصطفی(صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق اپنی کتابوں میں موجود خبروں کے بارے کیا تھا ان خبروں میں ایک باعظمت خاتون کا تذکرہ موجود ہے کہ جس کی اولاد سے بارہ مرد ہوں گے ،اس کے بعد ایک اور خاتون کا تذکرہ ہے جس سے آخری مرد کی ولادت ہوگی اور وہ آخری مرد پہلی باعظمت خاتون کی صلب سے ہوگا”السفر“ میں اس طرح ذکر ہوا ہے ”بتحقیق یہ خاتون جو انہیں ہر قسمی خطرات گھیر لیں گے، ان خطرات کی طرف فقط ”التنسین“ سے اشارہ کیا گیا ہے (اورالتنسین (خطرات)اس باعظمت خاتون کے سامنے آکھڑے ہوں گے، وہ اپنے بچے کی خیرچاہے گی یہاں تک کہ وہ اس بچے کو جنم دے دے گی) ۔

اس سے مراد یہ ہے کہ حکمران اس پیدا ہونے والے بچے کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں گے، جس وقت اس خاتون پر ہر طرف سے خطرات آن پڑیں گے تو اللہ تعالیٰ اس کے بیٹے کو اٹھالے گا اور اس کی حفاظت فرمائے گا۔

بارکلے ”دواختطف اللہ ولدھا“ کی تفسیر میں لکھتے ہیں ”ان اللہ غیب ھذالطفل“ بتحقیق اللہ تعالیٰ نے اس بچے کو غائب کرلیا“۔

حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) کی بارہ سو دو ماہ عمر کا تذکرہ

”السفر“ میں آیا ہے ”بتحقیق اس بچے کی غیبت ایک ہزاردوسو ساٹھ دن ہوگی“ عبرانی میں اس مدت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے” وہ عنقریب التنسین (خطرات) کی وجہ سے ایک زمانہ، دو زمانے اور آدھا زمانہ غائب ہوں گے۔ (تفصیل کے لئے دیکھیں بشارات العہدین ص ۳۶۲)

اس مدت کے بارے اہل کتاب کے اپنے رموز اور بشارات ہیں پہلی خاتون کی نسل بارے، بارکلے لکھتے ہیں ”بتحقیق انتہائی سخت اور جھگڑالو دشمن جنگ چھیڑے گاجیسا کہ ”سفر الرویا“ ۱۳/۱۲میں ہے ”التنسین(خطرات) اس عورت پر غضبناک ہوں گے اور وہ خطرات سبب ہوں گے کہ اس خاتون کی باقی نسل کے ساتھ جنگ ہوگی جو اللہ کی وصیتوں (فرامین) کے محافظ ہوں گے“۔

استاد سعید ایوب نے گذشتہ ابحاث پر اس طرح تبصرہ کیا ہے

”یہ ہیں مہدی( علیہ السلام ) کے اوصاف جن کا ذکر کتاب مقدس میں ملتا ہے یہ بالکل وہی اوصاف ہیں جنہیں شیعہ امامیہ اثناءعشریہ بیان کرتے ہیں “۔

(المسیح الدجال تالیف سعید ایوب ص ۹۷۳،۰۸۳)

استاد سعید ایوب نے اپنی بات کو مزیداس بیان سے مستحکم کیا ہے کہ

”کتاب مقدس میں جو کچھ ذکر ہوا ہے وہ شیعہ امامیہ کے نظریہ کے مطابق ہے“۔

(بحوالہ اعلام الہدایة قسم الامام المہدی( علیہ السلام ))

سابقہ انبیاء علیہ السلام کی کتابوں سے نتیجہ

سابقہ انبیاء علیہ السلام کی کتابوں میں بشارتیں جو بیان ہوئی ہیں یہ سب واضح اشارے اس نظریہ کی جانب ہیں کہ جو نظریہ مذہب اہل بیت علیہ السلام کا ہے ۔

علماءاہل سنت کی روایات

اسکے بعدہم ان روایات کی طرف پلٹتے ہیں جو علماءاہل سنت نے اس موعود شخصیت کی ہویت اور خصوصیات کے بارے بیان کی ہیں ہم اس بارے دیکھیں کہ ان روایات میں ایسی عظیم مصلح شخصیت کے ظہور کے حتمی اور یقینی امر ہونے کے بعد اس شخصیت کے متعلق وہ روایات کیا راہنمائی دیتی ہیں ، کیا فقط مہدی علیہ السلام کے عنوان پر اکتفاءکیا گیا ہے یا بعینہ اس شخصیت کے بارے بھی بیان کیا گیا جس نے آکر پورے عالم میں عادلانہ حکومت قائم کرنی ہے۔

جواب : یہ بات واضح ہے کہ جو شخص بھی ایک مصلح کے ظہور کا عقیدہ رکھتاہے اور اس کو اس پر یقین کامل ہے لیکن اس کے واسطے یہ بات واضح اور متعین نہیں ہو سکتی کہ وہ مہدی ( علیہ السلام ) کون ہیں جو آخری زمانہ میں آئیں گے اور ایک خارجی اور حقیقی شخصیت کا روپ دھاریں گے ،تو حقیقت میں ایسا خیال اس مہدی ( علیہ السلام )کے بارے عقیدہ نہیں کہلاتا جس کے بارے اسلام کہتا ہے کیونکہ وہ مہدی ( علیہ السلام ) کے عنوان پر ایمان لایا ہے اس کے مضمون اور اس کی خارجی اور حقیقی شخصیت پرایمان نہیں لایایہ بات اسی طرح ہے کہ کوئی شخص نماز کے وجود کا معتقد ہو لیکن اس کے ارکان سے واقف نہ ہو۔ہم یہ جاننے کےلئے کہ امام مہدی علیہ السلام ایک عنوان نہیں بلکہ ایک حقیقی اور حقوقی شخصیت بھی ہیں اور اس بارے اہل سنت کی روایات کیا کہتی ہیں اور انکے بیانات سے کیا مطلب نکلتا ہے تو ہم ان روایات کوآنے والے صفحات میں چند عناوین کے تحت بیان کریں گے ۔

حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )کی ولادت بارے

اس بارے کثیر تعداد میں اعتراضات موجود ہیں جنہیں علماءاہل سنت نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے اور بعض محققین نے ان اعتراضات کو یکجا اکٹھا کیا ہے ترتیب وار زمانی مراحل کو اس سلسلہ میں بیان کیا گیا ہے غیبت صغریٰ ۰۶۲ ھ سے غیبت کبریٰ ۹۲۳ ھ کے آغاز تک کے زمانہ اور پھر آج تک اس بارے جو اعتراضات کیے گئے ہیں انہیں زمانی ترتیب کے ساتھ درج کیا گیا ہے، ہم اس جگہ نمونہ کے چند حوالے دیتے ہیں ، تفصیل کے لئے اس موضوع پر لکھی گئی تحقیقی اور تفصیلی کتابوں میں رجوع کیا جائے ۔

(حوالہ کے لئے دیکھیں کتاب الایما الصیحح، تالیف سید قزوینی ۲ ۔ کتاب الامام المہدی علیہ السلام فی نہج البلاغہ تالیف شیخ مہدی فقیہ ایمانی ۳ ۔الزام الناصب تالیف شیخ علی حائری ۴ ۔ کتاب الامام المہدی علیہ السلام تالیف الاستاد علی محمد دخیل ۵ ۔کتاب دفاع عن الکافی تالیف الثامرالعبیدی اس آخری کتاب میں اہل سنت کی ۸۲۱ شخصیات کا ذکر کیا گیا جنہوں نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کا اعتراف کیا ہے، ان شخصیات کے ناموں کوسالوں کی ترتیب سے لکھا گیا ہے۔

پہلی شخصیت جناب ابوبکربن ہارون الرویانی تاریخ وفات ۷۰۳ ھ ہیں جنہوں نے اپنی مخطوطہ”المسند “ میں اس بات کا اعتراف کیا ہے۔

آخری شخصیت معاصر (ہم عصر) محقق یونس احمد سامرائی ہیں جنہوں نے اپنی کتاب سامراءفی ادب القرن الثالث الہجری“ میں اس بات کو بیان کیا ہے اور یہ کتاب ۸۶۹۱ میں بغداد یونیورسٹی کی مدد سے شائع ہوئی ہے ۔

(ملاحظہ کریں دفاع عن الکافی ج ۱ ص ۸۶۵ ، ۲۹۵ چھٹی دلیل علماءاہل سنت کے اعتراضات)

حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) کی ولادت باریاہل سنت کی کتابوں سے حوالہ جات

حوالہ نمبر ۱:

علامہ ابن الاثیر الجزری عزالدین (تاریخ وفات ۰۳۶) انہوں نے اپنی کتاب الکامل فی التاریح ص ۴۷۲ ،ج ۷ پر، ۰۶۲ ھ ق کے واقعات میں لکھا ہے، اس سال میں ابو محمد العلوی العسکری کی وفات ہوئی، مذہب امامیہ کے تحت وہ گیارہویں امام ہیں اور وہ ہی محمد کے والد ہیں جن کے بارے مذہب امامیہ والوں کا عقیدہ ہے کہ وہ منتظرہیں ۔

حوالہ نمبر ۲:

ابن خلکان (تاریخ وفات ۱۸۶) نے اپنی کتاب وفیات الاعیان ج ۴ ص ۶۷۱ ، ۲۶۵ ،ج ۴ میں تحریر کیا ہے، ابو القاسم محمد بن الحسن العسکری علیہ السلام بن علی الہادی علیہ السلام بن محمد الجواد علیہ السلام (جن کاذکر پہلے ہو چکا) بارہویں امام علیہ السلام ہیں ، امامیہ عقیدہ کے مطابق.... جو بارہ آئمہ علیہ السلام کے قائل ہیں ۔” الحجة“ کے نام سے مشہور ہیں ، ان کی ولادت جمعہ کے دن ۵۱ شعبان ۰۵۵۲ ھ میں ہوئی اسکے بعد انہوں نے مشہور مورخ سیاح ابن الازرق الفارقی (تاریخ وفات ۷۷۵ ھ ق) کا حوالہ دیا ہے کہ انہوں نے اپنی تاریخ ”میا فارقین“ میں لکھا ہے کہ مذکورہ” حجت “ ۹ربیع الاول ۸۵۲ ھ کو پیداہوئے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی ولادت ۸ شعبان ۶۵۲ ھ کو ہوئی ہے اور یہ دوسری روایت زیادہ صحیح ہے ۔

ابن الازرق کے قول پر تبصرہ

آپ کی ولادت کے بارے صحیح قول وہی ہے جسے ابن خلکان نے بیان کیا ہے ( ۵۱ شعبان بروز جمعہ ۵۵۲) اسی تاریخ پر شیعوں کا اتفاق ہے اس بارے انہوں نے صحیح روایات کو بنیاد بنایا ہے اور اس کے ساتھ قدیم علماءکے بیانات کو بطور سند بھی پیش کیا ہے الشیخ الکلینیؒ جو غیبت صغریٰ کے زمانہ میں موجود تھے انہوں نے بغیر کسی اختلافی حوالے کے اسی تاریخ کو بیان کیا ہے، اس تاریخ کے مخالف جو روایات ہیں ان سب پر اس تاریخ کو مقدم کیا ہے آپ نے تحریر کیا ہے آپ علیہ السلام ۵۱ شعبان ۵۵۲ ھ کو پیدا ہوئے (اصول الکافی ج ۱ ص ۴۱۵ باب ۵۲۱)

شیخ صدوق ؒ (تاریخ وفات ۱۸۳ ھ) نے اپنے استاد محمد بن محمد بن عصام الکلینی سے اور انہوں نے محمد بن یعقوب الکلینی سے، انہوں نے علی بن محمد بن بندارسے نقل کیا ہے کہ الصاحب علیہ السلام ۵۱ شعبان ۵۵۲ ھ کو پیدا ہوئے ۔

شیخ الکلینی نے اپنے قول کی نسبت علی بن محمد بن بندار سے نہیں دی، اسکی وجہ اس بارے شہرت تھی اور یہ کہ اس تاریخ پرسب کا اتفاق تھا (بہرحال شیعہ امامیہ اثناءعشریہ کے ہاں ۵۱ شعبان ۵۵۲ ھ میں آپ علیہ السلام کی ولادت باسعادت کا ہونا حتمی اور یقینی امر ہے اس پر سب کا اتفاق ہے)

حوالہ نمبر ۳:

الذہبی (تاریخ وفات ۸۴۷ ھ ق)نے اپنی تین کتابوں میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کا اعتراف کیا ہے، انہوں نے اپنی کتاب”العبر فی خبر من غیر ج ۳ ص ۱۳“ میں لکھا ہے ۶۵۲ ھ محمد بن الحسن بن علی الہادی بن محمد الجواد بن علی الرضا بن موسی الکاظم بن جعفر الصادق العلوی الحسینی پیدا ہوئے وہ ہی ابوالقاسم ہیں ، رافضہ انہیں الخلف، الحجة، المہدی، المنتظر، صاحب الزمان کا لقب دیتے ہیں اور وہ ہی بارہ اماموں سے آخری ہیں ، اس سال میں ان کی ولادت ہوئی ۔

الذہبی نے تاریخ دول الاسلام میں امام حسن العسکری علیہ السلام کے حالات میں تحریر کیا ہے، وہ الحسن بن علی بن محمد بن علی الرضا بن موسیٰ بن جعفر الصادق ہیں ، وہ ابو محمد الہاشمی الحسینی ہیں ، شیعوں کے آئمہ سے ایک ہیں ، شیعہ ان کی عصمت کا دعویٰ کرتے ہیں ، انہیں الحسن العسکری علیہ السلام کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے سامرہ میں زندگی گذاری اور سامرہ کو”عسکر“ کہا جاتاتھا، وہ رافضیوں کے منتظر کے والد ہیں ، وہ اللہ کے رضوان میں چلے گئے، ان کی وفات ۸ ربیع الاول ۰۶۲ ھ کو ہوئی، اس وقت ان کی عمر ۹۲ سال تھی، آپ علیہ السلام اپنے والد کے پہلو میں دفن ہوئے ۔

بہر حال آپ کے بیٹے محمد بن الحسن جنہیں رافضی القائم ، الخلف سے پکارتے ہیں تو وہ ۸۵۲ ھ میں پیدا ہوئے اور بعض نے کہا ہے ۶۵۲ ھ میں پیدا ہوئے ۔

انہوں نے اپنی کتاب سیراعلام النبلاءمیں لکھا ہے۔

المنتظر، الشریف، ابوالقاسم علیہ السلام محمد بن الحسن العسکری علیہ السلام بن علی الہادی علیہ السلام بن محمد الجواد علیہ السلام بن علی الرض علیہ السلام بن موسیٰ الکاظم علیہ السلام بن جعفر الصادق علیہ السلام بن محمد الباقر علیہ السلام بن زین العابدین علی علیہ السلام بن الحسین علیہ السلام الشہید بن الامام علی علیہ السلام بن ابیطالب علیہ السلام ، الحسینی ،ہیں بارہ سرداروں کے خاتم ہیں ۔

ذہبی کی بات پر تبصرہ

الذہبی کی رائے حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) کی ولادت کے متعلق جو تھی اسے ہم نے ان کی کتابوں کے حوالہ سے بیان کر دیا، البتہ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) کے متعلق اس کا عقیدہ اس کے باقی نظریات کی طرح سراب مانند ہے، جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے کہ وہ بھی دوسرے افراد کی طرح مہدی ( علیہ السلام )کے بارے قائل ہے کہ وہ محمد بن عبد اللہ ہوں گے وہ اپنے اس نظریہ پر اشتباہ اور غلطی پر ہیں کہ مہدی محمد بن عبداللہ ہوں گے لیکن یہ بات ثابت ہوگئی ان کے بیانات سے کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند محمد تھے جیسے شیعہ بارہواں مانتے ہیں ۔

حوالہ نمبر ۴:

ابن الوردی (تاریخ وفات ۹۴۷ ھ) نے المختصر المشہور تاریخ ابن الوردی میں لکھا ہے۔ محمد بن الحسن الخالص ۵۵۲ ھ میں پیدا ہوئے۔ (نور الابصار ص ۶۸۱)

حوالہ نمبر ۵:

احمد بن حجرالحیثمی الشافعی (تاریخ وفات ۴۷۹ ھ) نے اپنی کتاب” الصواعق المحرقہ“ کی آخری فصل کے باب ۱۱ میں اس طرح تحریر کیا ہے ”ابو محمد الحسن الخالص،کو ابن خلکان نے عسکری ہی قرار دیا ہے وہ ۲۳۲ ھ میں پیدا ہوئے.... اور سامراءمیں وفات پائی، وہ اپنے بابا اور چچا کے پہلو میں دفن ہوئے ،ان کی عمربوقت وفات ۸۲ سال تھی۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں زہر دیا گیا، وہ اپنے پیچھے سوائے ابوالقاسم محمد الحجة کے سوا کسی کو نہیں چھوڑ گئے، والد کی وفات کے وقت ان کی عمر پانچ سال تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان میں حکمت و دانائی کو رکھ دیا آپ علیہ السلام کو القائم علیہ السلام المنتظرکہا جاتا ہے.... کہا جاتا ہے وہ مدینہ میں مستور اورپوشیدہ اور غائب ہوگئے اور کسی کو معلوم نہیں ہو سکا کہ کہاں چلے گئے

حوالہ نمبر ۶:

الشبراوی الشافعی ( تاریخ وفات ۱۷۱۱ ھ) نے اپنی کتاب ”الاتحاف“ میں حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) محمد بن الحسن العسکری ( علیہ السلام )کی ولادت ،شب ۵۱ شعبان ۵۵۲ ھ لکھا ہے (الاتحاف بحب الاشراف ص ۸۶)

حوالہ نمبر ۷:

مومن بن حسن الشبلنجی (تاریخ وفات ۸۰۳۱ ھ) نے اپنی کتاب نورالابصار میں حضرت امام المہدی ( علیہ السلام )کے نام کا اعتراف کیا ہے اور آپ کے شریف و طاہر نسب کو بیان کیا ہے، آپ کی کنیت اور آپ کے القاب بھی لکھے ہیں ، ایک طویل گفتگو کے بعد لکھتے ہیں ، امامیہ کے مذہب میں وہی بارہویں امام ہیں اور آخری امام ہیں ۔

حوالہ نمبر ۸:

خیر الدین الزرکلی (تاریخ وفات ۶۹۳۱ ھ) نے اپنی کتاب” الاعلام“ میں امام المہدی المنتظر ( علیہ السلام ) کے حالات میں لکھا ہے وہ ”محمد بن الحسن العسکری علیہ السلام الخالص بن علی الہادی، ابو القاسم علیہ السلام ہیں ، بارہ آئمہ میں آخری ہیں ، یہ امامیہ کا مذہب ہے، وہ سامراءمیں پیدا ہوئے جس وقت ان کے والد کی وفات ہوئی تو اس وقت ان کی عمر پانچ سال تھی، ان کی ولادت کی تاریخ بارے کہا گیا ہے کہ وہ ۵۱ شعبان کی رات ۵۵۲ ھ میں پیدا ہوئے اور آپ کی غیبت ۵۶۲ ھ میں ہوئی۔

خیر الدین کے بیان پر تبصرہ

غیبت صغریٰ کی ابتداء ۰۶۲ ھ سے ہے، اس پر تمام شیعہ امامیہ کا اتفاق ہے اور جس کسی نے غیبت کی تاریخ لکھی ہے جہاں تک ہماری معلومات ہیں ، سب نے اسی تاریخ کا بتایا ہے شاید جو کچھ” الاعلام“ میں غیبت کے شروع ہونے بارے بیان کیا گیا ہے یہ چھاپنے یا کتابت میں غلطی ہوگئی کیونکہ الزرکلی نے غیبت کی تاریخ درج نہیں کی، عدد کے غلط لکھے جانے کا امکان موجود ہے ۰۶۲ کو ۵۶۲ لکھ دیا ہو۔

ہم نے یہ علماءاہل سنت کے اعترافات سے نمونہ کے چند اقوال اس جگہ بیان کئے ہیں ، ان کے سب اقوال کو اس مختصر کتابچہ میں بیان کرنے کی گنجائش نہ ہے، تفصیلات کےلئے دیکھیں ”المہدی المنتظر فی الفکر الاسلامی“۔

۲ ۔ بارہویں امام( علیہ السلام ) کے نسب اور آپ( علیہ السلام ) کینام بارے

جو بھی اہل سنت کی کتابوں میں موجود احادیث کا غور سے جائزہ لے گا وہ اس نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) کے نسب اور نام بارے سب کا اتفاق ہے ایسی احادیث کثرت کے ساتھ ساتھ جس حقیقت کو تاکید کے ساتھ بیان کر رہی ہیں یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کا نسب رسول اللہ سے جا ملتا ہے اور یہ کہ آپ اہل البیت علیہ السلام سے ہیں ، بارہ اماموں سے ہیں ، بارہ معصوم آئمہ علیہ السلام کے آخری ہیں اور وہ حضرت محمد بن الحسن العسکری علیہ السلام بن علی الہادی علیہ السلام بن محمد الجواد علیہ السلام بن علی الرض علیہ السلام ، بن موسیٰ الکاظم علیہ السلام بن جعفر الصادق علیہ السلام بن محمد الباقر علیہ السلام بن علی زین العابدین علیہ السلام بن الحسین علیہ السلام بن فاطمہ علیہ السلام بنت رسول اللہ و بن علی بن ابی طالب علیہ السلام ہیں ۔اور ان کا لقب المہدی علیہ السلام ، المنتظر ہے اور یہ بات اس عقیدہ سے ملتی ہے جو شیعہ امامیہ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) کے بارے لکھتے ہیں ، اس بارے نمونہ کے طورپر چند روایات ملاحظہ ہوں۔

المہدی ( علیہ السلام ) کنانی ہیں ،ہاشمی ہیں

جناب قتادہ سے روایت ہے، وہ کہتاہے میں نے سعید بن المسےب سے سوال کیا کیا المہدی ( علیہ السلام ) برحق ہیں ؟۔

سعید: جی ہاں!برحق ہیں ۔

قنادہ: وہ کن کی نسل سے ہیں ؟۔

سعید: کنانہ قبیلہ سے ہیں ۔

قنادہ: کنانہ قبیلہ کی کون سی شاخ سے ان کا تعلق ہے؟

سعید: قریش سے۔

قنادہ: قریش کی کون سی شاخ سے ہیں ؟

سعید: بنی ہاشم سے ہیں

(بحوالہ عقد الداردالباب الاول ص ۲۴،۴۴ ، مستدرک الحاکم ج ۴ ص ۳۵۵ ، مجمع الزوائد ج ۷ ص ۵۱۱)

اس روایت کے مطابق المہدی، کنانی، قرشی، ہاشمی ہیں اور ان کے القاب میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ ہر ہاشمی قرشی ہوتا ہے اور ہر قرشی کنانہ سے ہے،کیونکہ قریش سے مراد النضر بن کنانہ ہیں ، اس پر تمام علماءانساب کا اتفاق ہے۔

المہدی ( علیہ السلام ) عبدالمطلب ( علیہ السلام ) کی اولاد سے ہیں

ابن ماجہ نے انس بن مالک سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ”ہم عبدالمطلب علیہ السلام کی اولاد جنتیوں کے سردار ہیں ، میں، حمزہ علیہ السلام ، علی علیہ السلام ، جعفر علیہ السلام ، حسن علیہ السلام ، حسین علیہ السلام اور مہدی علیہ السلام “۔

(بحوالہ السنن ابن ماجہ ج ۲ ص ۸۶۳۱ ،حدیث نمبر ۷۸۰۴ ، باب خروج المہدی علیہ السلام ، مستدرک الحاکم ج ۳ ص ۱۱۲ ، جمع الجوامع للسیوطی ج ۱ ص ۱۵۸)

اس روایت کے مطابق حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) ، حضرت عبدالمطلب ( علیہ السلام ) کی اولاد سے ہیں ۔

المہدی ( علیہ السلام ) ابوطالب ( علیہ السلام ) کی اولاد سے ہیں

سیف بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتا ہے، میں، ابو جعفر المنصور کے پاس تھا اس نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے مجھ سے کہا اے سیف بن عمیرہ ”یہ بات حتمی ہے کہ آسمان سے ابو طالب علیہ السلام کی اولاد سے ایک مرد کے نام کی نداءآئے گی۔

سیف: میں آپ پر قربان جاوں اے امیرالمومنین !کیا آپ اس بات کی روایت کرتے ہیں ؟

ابو جعفر منصور:جی ہاں! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، کیونکہ میرے ان کانوں نے یہ خبر سنی ہے۔

سیف: اے امیرالمومنین !میں نے تو اس سے پہلے اس قسم کی حدیث کہیں نہیں سنی ۔

ابو جعفر منصور: اے سیف! یہ بات برحق ہے اور سچ ہے اور جب یہ نداءآئے گی تو ہم سب سے پہلے ہوں گے جو اس پر لبیک کہیں گے، بہر حال یہ نداءہمارے چچا کی اولاد سے ایک مرد کے نام کی ہوگی۔

سیف: وہ مرد، اولاد فاطمہ (سلام اللہ علیہ ا) سے ہوگا؟

منصور: جی ہاں!اے سیف، اگر میں نے یہ بات ابوجعفر محمد بن علی علیہ السلام سے نہ سنی ہوتی اور انہوں نے میرے لئے یہ بیان نہ کیا ہوتا، تو ان کے علاوہ اگر روئے زمین کے سارے لوگ مل کربھی اس حدیث کی روایت کرتے تو میں اسے قبول نہ کرتا لیکن اس حدیث کو بیان کرنے والے محمد بن علی علیہ السلام ہیں (اسے قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے)

(بحوالہ عقد الدررللمقدسی الشافعی الباب نمبر ۴ ص ۹۴۱ ، ۰۵۱)

یہ روایت تاکید کررہی ہے کہ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) حضرت ابو طالب ( علیہ السلام ) کی اولاد سے ہیں ۔

حضرت مہدی ( علیہ السلام ) اہل البیت علیہ السلام سے ہیں

ابو سعید الخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ”قیامت بپا نہیں ہوگی مگر یہ کہ زمین ظلم و جور سے بھر جائے “ اس کے بعد آپ نے فرمایا ”اس حال میں میری عترت اور میرے اہل بیت علیہ السلام سے ایک مرد خروج کرے گا وہ زمین کو عدالت اور انصاف سے بھر دے گا جس طرح زمین ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی “۔

(بحوالہ مسند احمد: ج ۳ ص ۴۲۴ حدیث ۰۲۹۰۱ ، مسند ابی یعلی ج ۲ ص ۴۷۲ حدیث نمبر ۷۸۹ ، المستدرک ج ۴ ص ۷۷۵ ، عقد الدرر باب ۱ موارد الظمان ۴۶۴ حدیث نمبر ۹۷۸۱ ، ۰۸۸۱ ، مقدمہ ابن خلدون ص ۰۵۲ فصل ۳۵ ، جمع الجوامع ج ۱ ص ۲۰۹ ، کنزالعمال ج ۴۱ ص ۱۷۲ حدیث ۱۹۶۸۳ ، ینابیع المودة ۳۳۴ باب ۳۷)

اسی طرح کی روایت عبداللہ ابن عباس نے حضرت نبی اکرم سے نقل کی ہے ، ”قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میرے اہل بیت علیہ السلام سے ایک مرد حکومت کرے گا اس کا نام میرے نام جیسا ہوگا“۔

(حوالہ جات: مسند البزاز ج ۱ ص ۱۸۲ ، مسند احمد: ۱۶۷۳ ، سنن الترمذی ج ۴ ص ۵۰۵ باب نمبر ۲۵ ، حدیث نمبر ۰۳۲۲ ، المعجم الکبیر ج ۰۱ ص ۵۳۱ حدیث ۱۲۲۰۱ ، تاریخ بغداد ج ۴ ص ۸۸۳ ، عقد الدرر: ۹۳ باب ۳ ، مطالب السوول :ج ۲ ص ۱۸ ، السیان فی اخبار صاحب الزمان ص ۱۹ تالیف محمد النوفلی القرشی الکنجی الشافعی، فرائد السمطین ج ۲ ص ۷۲۳ حدیث نمبر ۶۷۵ الدرالمنشور ج ۶ ص ۸۵ ، جمع الجوامع ج ۱ ص ۳۰۹ ، کنزالعمال ج ۴۱ ص ۱۷۴ ، حدیث نمبر ۲۹۶۸۳ ، برہان المتقی ج ۰۹ باب نمبر ۲ حدیث ۴)

حضرت علی ( علیہ السلام ) نے نبی اکرم سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا

”مہدی ( علیہ السلام ) ہم اہل البیت علیہ السلام سے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے واسطے تمام معاملات کو ایک رات میںدرست کر دے گا“۔

(حوالہ جات کے لئے دیکھیں ابن ابی شیبہ ج ۸ ص ۸۷۶ حدیث نمبر ۰۹۱ وفتن ابن حماد: ومسند احمد:ج ۱ ص ۴۸ وتاریخ البخاری ج ۱ ص ۱۷۳ ، حدیث ۴۹۹ ، وسنن ابن ماجة:ج ۲ ص ۷۶۳۱ ، باب ۴۳ حدیث ۵۸۰۴ ، و مسند ابو یعلی: ج ۱ ص ۹۵۳ حدیث ۵۶۴ وحلیة الاولیائ: ج ۳ ص ۷۷۱ والکامل لابن عدی:ج ۷ ص ۳۴۶۲ ، والفردوس: ج ۴ ص ۲۲۲ حدیث نمبر ۹۱۶۶ والبیان فی اخبار صاحب الزمان ۰۱۱ للکنجی الشافعی وعقد الدرر: ۳۸۱ باب ۶ والعلل المتناہیة ج ۲ ص ۶۵۸۲ حدیث ۲۳۴۱ وفرائد السمطین: ج ۲ ص ۱۳۳ حدیث ۳۸۵ ، ومیزان الاعتدال ج ۴ ص ۹۵۳ حدیث ۴۴۴۹ ، ومقدمة ابن خلدون ج ۱ ص ۶۹۳ باب ۳۵ وتہذیب التہذیب ج ۱۱ ص ۲۵۱ حدیث ۴۹۲ ، وعرف السیوطی الحاوی: ج ۲ ص ۳۱۲ والدر المنثورج ۶ ص ۸۵ وجمع الجوامع ج ۱ ص ۹۴۴ والجامع الصغیر ج ۲ ص ۲۷۶ ، حدیث نمبر ۳۴۲۹ وصواعق ابن حجر ص ۳۶۱ باب ۱۱۵ فصل ۱ وکنزالعمال ج ۴۱ ص ۴۶۲ ، حدیث ۴۶۶۸۳ ، وبرہان المتقی ج ۷۸ باب ۱ حدیث ۳۴ ومن ص ۹۸ ، باب ۲ ، حدیث ۱ ، ومرقاة المفاتیح ج ۹ ص ۹۴۳ ، مع اختلاف یسیر وفیض القدیر ج ۶ ص ۸۷۲ ، حدیث ۳۴۲۹)

مہدی ( علیہ السلام ) رسول اللہ کی اولاد سے

عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا

” زمانہ کے آخر میں میری اولادسے ایک مرد خروج کرے گا اس کا نام میرے نام جیسا ہو گا اور اس کی کنیت میری کنیت جیسی ہو گی، وہ زمین کو عدالت سے بھر دے گا(آباد کر دے گا) جس طرح زمین ظلم سے بھر چکی ہوگی (ویران ہو چکی ہوگی) بس وہی شخص ہی مہدی ( علیہ السلام )ہیں “۔

(حوالہ کے لئے دیکھیں تذکرة الخواص ،ص ۳۶۳ ،عقدالدرر ۳۴ باب امنہاج السنہ: ابن تیمیہ ج ۴ ص ۶۸،۷۸)

مہدی ( علیہ السلام ) فاطمہ(سلام اللہ علیہ ا) کی اولاد سے

نبی اکرم کی زوجہ جناب ام سلمہ علیہ السلام سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ!

”مہدی ( علیہ السلام ) کا وجود برحق ہے اور وہ فاطمہ علیہ السلام کی اولاد سے ہو گا“۔

(حوالہ: تاریخ البخاری ج ۳ ص ۴۶۳ ، المعجم الکبیر ج ۳۲ ص ۷۶۲ ، حدیث ۶۶۵ ، مستدرک الحاکم ج ۴ ص ۷۷۵)

۲ ۔جناب ام سلمہ علیہ السلام نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایاکہ

”مہدی علیہ السلام میری عترت سے ہوگا اور وہ فاطمہ علیہ السلام کی اولاد سے ہی ہوگا“۔

(حوالہ کے لئے دیکھیں: سنن ابی داود ۴/۴۰۱ ،ح ۴۸۲۴ وسنن ابن ماجة: ۲/۸۶۳۱ ، باب ۴۳ ح ۶۸۰۴ ،والفردوس: ۴/۷۹۴ حدیث نمبر ۳۴۹۶ ومصابیح البغوی: ۳/۲۹۴ باب ۳ حدیث نمبر ۱۱۲۴ وجامع الاصول: ۵/۳۴۳ ،ومطالب السول: ۸ وعقد الدرر: ۶۳ باب ۱ ومیزان الاعتدال: ۲/۷۸ ومشکاة المصابیح: ۳/۴۲ فصل ۲ حدیث ۳۵۴۵ ، وتحفة الاشراف: ۳۱/۸ حدیث ۳۵۱۸۱ والجامع الصغیر: ۲/۲۸۶ حدیث ۱۴۲۹ والدر المنشور: ۶/۸۵ وجمع الجوامع: ۱/۹۴۴ وصواعق ابن حجر: ۱۴۱ باب ۱۱ ،فصل ۱ و،کنزالعمال: ۴۱/۳۶۲ حدیث ۲۶۶۸۳ ومرقاة المفاتیح: ۹/۰۵۳ واسعاف الراغبین: ۵۴۱ وفیض القدیر: ۶/۷۷۲ حدیث ۱۴۲۹ ، والتاج الجامع للاصول: ۵/۳۴۳)

حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) حضرت حسین ( علیہ السلام ) کی اولاد سے ہیں

جناب حذیفہ بن الیمانی سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ نے ہم سے خطاب فرمایا اور رسول اللہ نے ہمارے لئے ان حالات کو بیان کیا جو مستقبل میں ہونے والے تھے پھر آپ نے فرمایا ”اگر دنیا کے خاتمہ سے فقط ایک دن باقی رہ گیا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو طولانی کر دے گا یہاں تک کہ اس دن میں میری اولاد سے ایک مردکو مبعوث کرے گا جس کا نام میرانام ہوگا“ بس سلمان الفارسی نے عرض کیا: یارسول اللہ !آپ کی کونسی اولاد سے ہوگا ؟۔

رسول اللہ: میرے اس فرزند سے ہوگا،اور آپ نے قریب بیٹھے اپنے بیٹے حسین علیہ السلام پر ہاتھ مار کر فرمایا: کہ میرے اس بیٹے سے ہوگا ۔

حوالہ:المنار المنیف لابن القیم : ۸۴۱،۹۲۳ فصل ۰۵ ، عن الطبرانی فی الاوسط، عقد الدرر: ۵۴ من الباب الاول وفیہ: اخرجہ الحافظ ابونعیم فی صفة المہدی ،ذخائر العقبیٰ، المحب الطبری: ۶۳۱ وفیہ :فیحمل ماورد مطلقاً فیما تقدم علی ہذاالمقید، فرائد السمطین ۲/۵۲۳،۵۷۵ باب ۱۶ ، القول المختصر لاابن حجر ۷/۷۳ باب ۱ ،فرائد فوائد الفکر: ۲ باب ۱ ، السیرة الحلیبة: ۱/۳۹۱ ، ینابیع المودة: ۳/۳۶ باب ۴۹ ، وہناک احادیث اخری بہذا الخصوص فی مقتل الامام الحسین علیہ السلام للخوارزمی الحنفی: ۱/۶۹۱ ،وفرائدالسمطین : ۲/۰۱۳-۵۱۳ الاحادیث ۱۶۵،۹۶۵ ، وینابیع المودة: ۳/۰۷۱/۲۱۲ باب ۳۹ وباب ۴۹)

اللہ کا انتخاب

ابی سعید الخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ مریض ہو گئے اور اس بیماری میں آپ پر نقاہت طاری ہوگئی آپ کے پاس جناب فاطمہ(سلام اللہ علیہ ا) عیادت کے لئے تشریف لے آئیں، تو اس وقت میں رسول اللہکی دائیں جانب بیٹھا ہوا تھا پس جب جناب فاطمہ (سلام اللہ علیہ ا)نے رسول اللہ کی حالت دیکھی اور آپ کی کمزوری کا آپ کو احساس ہوا ،تو جناب فاطمہ (سلام اللہ علیہ ا) بے اختیار رو دیں اور آپ علیہ السلام کے آنسو جاری ہو گئے، تو اس وقت رسول اللہ نے فرمایا” اے فاطمہ علیہ السلام ! آپ علیہ السلام کو کون سی بات رلا رہی ہے؟ کیا آپ علیہ السلام کو معلوم نہیں اللہ تعالیٰ نے زمین پر آگہی کے لئے نظر ڈالی اور اس پوری زمین سے آپ کے بابا کو چن لیا اور انہیں نبی مبعوث کیا، پھر زمین پر نظر ڈالی اور اس سے تیرے شوہر کا انتخاب کرلیا، پھر مجھے وحی کردی اور میں نے تیرا نکاح ان سے کردیا اور انہیں میںنے اپنا وصی بنا دیا،کیا آپ علیہ السلام اس بات سے باخبر نہیں کہ اللہ کی کرامت آپ علیہ السلام پر ہے، یہ کہ تیرے بابا نے ایسے شخص سے تیرا رشتہ جوڑدیا جو ان سب میں علم کے لحاظ سے زیادہ ہیں ، حلم و حوصلہ مندی میں سب سے زیادہ ہیں اور صلح و سلامتی قائم کرنے میں سب سے آگے، ہیں فاطمہ(سلام اللہ علیہ ا)یہ بات سن کر مسکرائیں اور خوش ہو گئیں۔رسول اللہ نے آپ کو مزید خیر اور فضیلت کی خبردی، تمام وہ فضیلتیں جو اللہ تعالیٰ نے محمدوآل محمد کو عطا فرمائیںہیں ۔

رسول اللہ :اے فاطمہ(سلام اللہ علیہ ا)! علی( علیہ السلام ) کے لئے آٹھ منقبتیں ہیں ، اللہ پر ایمان، اللہ کے رسولوں پر ایمان، حکمت و دانائی، تیری جیسی زوجہ ان کے واسطے، دو سبطین حسن علیہ السلام و حسین علیہ السلام ان کے واسطے، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا ان کی خاصیت۔

اے فاطمہ(سلام اللہ علیہ ا) : ہم اہل بیت علیہ السلام جو ہیں ہمیں چھ فضیلتیں عطاءہوئی ہیں اولین اور آخرین میں یہ فضیلتیں اور خوبیاں کسی کو نصیب نہ ہوئیں۔ نہ پہلے والوں نے ان کو پایا نہ بعد میں کوئی ایک بھی فضیلت ان میں سے پائے گا ہمارا نبی خیر الانبیاءاور وہ آپ علیہ السلام کے باپ ہیں ، ہمارا وصی خیر الاوصیاء علیہ السلام اور وہ آپ علیہ السلام کے شوہر ہیں ، ہمارا شہید خیر الشہداء علیہ السلام اوروہ تیرے باپ کے چچا حمزہ( علیہ السلام ) ہیں ، اس امت کے سبطین ہم سے ہیں اور وہ دونوں تیرے بیٹے ہیں اور اس امت کے مہدی( علیہ السلام ) ہم سے ہیں جن کے پیچھے عیسیٰ( علیہ السلام ) نماز ادا کریں گے، پھرحضرت امام حسین( علیہ السلام ) کے کاندھوں پر ہاتھ مار کر فرمایا! اس کی اولاد سے اس امت کے مہدی ( علیہ السلام )ہوں گے ۔(حوالہ کے لئے: البیان ص ۰۲۱ ، باب الفصول المہمہ ص ۶۸۲ ، دارالاضواء،فصل نمبر ۲۱ ینابیع المودة ص ۰۹۴ ، ۳۹۴ ، باب نمبر ۴۹ تھوڑے سے اختلاف سے )

حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کی والدہ کا نام

اور آپ( علیہ السلام ) کا حضرت امام جعفر صادق ( علیہ السلام )کی اولاد سے ہونا

مشہور اہل لغت مفسر ابن خشاب سے بیان ہوا ہے، وہ کہتا ہے: مجھے ابوالقاسم طاہر بن ہارون بن موسیٰ الکاظم نے اپنے باباسے یہ بات نقل فرمائی اور اپنے دادا سے بھی اسی بات کو نقل کیا کہ میرے سردار جعفر بن محمد( علیہ السلام ) نے مجھ سے فرمایا”الخلف الصالح میری اولادسے ہیں اور وہ ہی مہدی( علیہ السلام ) ہیں ، ان کا نام محمد ہے، ان کی کنیت ابوالقاسم علیہ السلام ہے ،وہ آخری زمانہ میں خروج فرمائیںگے “۔ انکی والدہ کو نرجس(سلام اللہ علیہ ا) کہا جاتا ہوگا، انکے سر پر ایک بادل ہوگا جو انہیں سورج کی گرمی سے محفوظ رکھے گا، وہ بادل اس جانب جائےگا جس طرف وہ تشریف لے جائیں گے اور اس بادل سے مسلسل یہ اعلان ہوتا جائے گا اور وہ فصیح اور واضح زبان میں کہہ رہا ہو گا لوگو!یہ مہدی( علیہ السلام ) ہیں تم سب لوگ ان کی پیروی کرو“۔

(بحوالہ ینابیع المودة ص ۱۹۴ حافظ ابونعیم الاصفہانی کی کتاب الاربعین سے اس بات کو نقل کیاہے)

حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) حضرت امام رضا ( علیہ السلام )کی اولاد سے

جناب حسن بن خالد سے روایت ہے، وہ کہتا ہے مجھ سے حضرت علی بن موسیٰ الرضا( علیہ السلام ) نے فرمایا! ”اس کا کوئی دین نہیں ہے جو گناہوں سے خود کونہیں بچاتا تم میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ کرامت والا وہی ہے جو زیادہ تقویٰ والا ہوگا“۔

یعنی تم میں سے جو سب سے زیادہ تقویٰ کے بارے آگاہ ہو اور تقویٰ پر عمل کرتا ہو پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا ”میری اولاد سے چوتھے جو کہ سیدة الاماء(کنیزوں کی سردار)کے سردار کے بیٹے ہوں گے ان ہی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ زمین کو ظلم اور جور سے پاک و طاہر کردے گا( حوالہ :ینابیع المودة ص ۸۴۴،۹۸۴ کتاب فرائدالسمطین سے نقل کیاہے)

حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) کے والد کانام اور ان کا حلیہ مبارک

الرویانی، الطبرانی اور ان کے علاوہ دوسرے مورخین اور محدثین نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ رسول اللہ کا فرمان ہے”مہدی( علیہ السلام ) میری اولاد سے ہیں ،ان کا چہرہ دمکتے چمکتے ستارے کی مانند ہوگا، ان کا رنگ عربی ہوگا، ان کا قدوقامت اسرائیلی مردوں جیسا طویل ہوگا، وہ زمین کو عدالت کے نفاذ سے آباد کردیں گے جس طرح زمین ظلم وجور کے نظام سے ویران و برباد ہو چکی ہوگی، زمین اور آسمان والے ان کی زمین پر قائم خلافت اور حکومت سے خوش ہوں گے ۔

حلیہ مبارک بارے مزید بیان

آپ علیہ السلام کے حلیہ مبارک کے متعلق مزید اس طرح بیان ہوا ہے، آپ جوان ہوں گے، آپ علیہ السلام کی دونوں آنکھیں سرمئی رنگ کی ہوں گی، آپ علیہ السلام کے دونوں جاحب باریک ہوں گے، آپ علیہ السلام کی ناک مبارک اوپر اٹھی طویل ہوگی گھنی داڑھی ہوگی، آپ علیہ السلام کے دائیں رخسار پر خال (تل)ہوگا۔

شیخ قطب الغوث، میرے سردار جناب محی الدین ابن العزبی نے اپنی کتاب الفتوحات میں لکھا ہے یہ بات جان لو کہ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کا خروج یقینی ہے لیکن وہ خروج نہیں کریں گے یہاں تک کہ زمین ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی، تب وہ آئیں گے اور زمین کو عدالت اور انصاف کے نفاذ سے بھر دیں گے، وہ رسول اللہ کی عترت سے ہیں فاطمہ(سلام اللہ علیہ ا) کی اولاد سے ہیں ، ان کے جد امجد حسین بن علی بن ابی طالب( علیہ السلام ) ہیں اوران کے والد امام الحسن العسکری علیہ السلام بن الامام علی النقی علیہ السلام ہیں ، وہ الامام محمد التقی بن الامام علی رض علیہ السلام بن الامام موسیٰ الکاظم علیہ السلام ابن الامام جعفر الصادق علیہ السلام ابن الامام محمد الباقر علیہ السلام بن الامام زین العابدین علی بن الحسین علیہ السلام بن علی بن ابی طالب علیہ السلام ہیں ، ان کانام رسول اللہ کا نام ہے، رکن اور مقام کے درمیان مسلمان ان کے ہاتھ پربیعت کریں گے، خلقت میں رسول اللہ سے شباہت رکھتے ہوں گے اخلاق بھی رسول اللہوالا ہوگا، تمام انسانوں میں کوفہ والے زیادہ سعادت مند اور خوش قسمت ہوں گے ،مال کو مساوی تقسیم کریں گے،خضر آپ علیہ السلام کے آگے آگے چلیں گے۔

حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) کے اوصاف

حضرت ولی العصر( علیہ السلام ) حجت علیہ السلام خدا صاحب الزمان علیہ السلام کا حلیہ مبارک

ہمارے اس مقالے کا عنوان ہے ”جمال یار“ یہ مقالہ جوادجعفری نے تحریر کیا ہے یہ سہ ماہ جریدے ”انتظار“ کے دوسرے سال کے پانچویں شمارے میں قم المقدسہ ایران سے شائع ہوا ہے یہ مضمون حضرت امام زمانہ( علیہ السلام )کی معرفت کے حوالے سے ہے اور ہر زمانے کے امام علیہ السلام کی معرفت حاصل کرنا اس زمانے کے لوگوں پر واجب ہے یہ معرفت امام زمانہ( علیہ السلام ) کا مسئلہ اتنی اہمیت کا حامل ہے کہ حضرت نبی کریم نے اپنی آغاز رسالت ہی میں اپنی امت سے کہہ دیاتھا کہ ”جس شخص نے اپنے زمانے کے امام علیہ السلام کی معرفت حاصل نہ کی وہ جہالت اور کفر کی موت مر گیا“۔

حضرت پیغمبر اور ان کے بعد ان کے جانشین آئمہ طاہرین علیہ السلام نے لوگوں کے عقل و فہم اور شعور کو سامنے رکھ کر امام زمانہ( علیہ السلام ) کی شناخت اور معرفت کے حوالے سے مختلف احادیث ارشاد فرمائیں جو مختلف کتب میں موجود ہیں ان میں عقلی دلائل بھی موجود ہیں ، قرآنی استدلال بھی ہیں اور روایات بھی ہیں سابقہ انبیاء علیہ السلام کے حوالے بھی ہیں البتہ ان میں سے ہر شخص اپنے علم اور شعور و آگاہی کے ذریعے ہی اپنے ظرف کے مطابق اخذ کرتا ہے.... بہر حال امام زمانہ( علیہ السلام ) کی معرفت ہر حال میں معاشرے کے تمام طبقات پر لازم اور واجب ہے، حضرت نبی اکرم اور آئمہ معصومین علیہ السلام نے معاشرے کے تمام طبقوں کو مدنظر رکھ کر احادیث بیان فرمائی ہیں اور یہ سادہ سے سادہ اور دقیق سے دقیق نہج پر ہر طبقہ کے لئے موجود ہیں ۔

زیر نظر مقالہ حضرت امام زمانہ( علیہ السلام ) کے حوالے سے ہے اور ظاہر ہے ان کی معرفت اور پہچان ایک خاص اہمیت کی حامل ہے.... اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے جتنے امام علیہ السلام رہے، ہر زندہ امام علیہ السلام نے اپنے بعد میں آنے والے امام علیہ السلام کی معرفت کروائی.... اور امام علیہ السلام کی زندگی میں ہی آئندہ امام علیہ السلام کا تعارف ہو جاتا تھا.... لیکن اس وقت جس امام علیہ السلام کی ہم رعیت ہیں ، امام زمانہ( علیہ السلام ) کی ولادت ہی سے آپ علیہ السلام کا سلسلہ مخفی تھا، کیونکہ یہ آپ علیہ السلام کی حفاظت کے حوالے سے ساراالٰہی انتظام تھا، لہٰذا ان کی پہچان اور معرفت کروانے کے لئے عہدرسالت ہی سے اس کا اہتمام کیا گیا اور حضوراکرم نے نہ فقط یہ بتایا کہ فلاں میرے بارہویں جانشین ہیں م بلکہ اپنے بارہ جانشینوں کے اسماءمبارکہ، ان کے حلیہ ہائے مبارکہ، ان کے خدوخال اور خصوصیات تک کو ذکرکیااور موجودہ امام علیہ السلام کی غیبت کے بارے میں بھی بڑی تفصیل سے بیان کیا اور یہ تذکرے فقط شیعہ کتب میں ہی نہیں غیر شیعہ کتب میں بھی یہ سب کچھ موجود ہے جیسا کہ آپ اس کتابچہ میں ملاحظہ فرما رہے ہیں بلکہ یہ کہنے میں بھی سو فیصدہم حق بجانب ہیں کہ آخری پیغمبراکرم کے آخری وصی علیہ السلام کا تعارف سابقہ آسمانی کتابوں میں اور سابقہ انبیاء علیہ السلام سے، جو ان کے اوصیاءکے کلمات نقل ہوئے ہیں یا سابقہ امتوں کے جوواقعات نقل ہوئے ہیں ، ان میں بھی یہ تذکرے موجود ہیں اور ابھی بہت سارے ادیان جو انحرافی شکل میں اس دنیا میں موجود ہیں حتیٰ کہ ہندو ازم ،بدھ مت کو بھی لے لیں، تو ان کے ہاں بھی ایک عالمی مصلح کا تصور موجود ہے اور ہر جہت میں یہ واضح ہے ....اس مقالے میں ہم حضرت ولی العصر(عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف )کے وجود مبارک اور آپ کے خدوخال کے بارے میں جان سکیں گے اور ہم یہ سب کچھ اس لئے کتابچہ میں دے رہے ہیں تاکہ جو مومنین انتہائی سادہ قسم کے ہیں اور علمی بحثوں سے ان کا سروکار نہیں ہے وہ بھی اپنے وقت کے امام علیہ السلام کی شخصیت اور وجود مبارک کے متعلق آگاہی حاصل کر سکیں، حضرت امام زمانہ(عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف )کی ظاہری پانچ صفات ہمارے مدنظر ہیں جو عام لوگوں کے لئے ہیں ، جن کےلئے اپنے زمانے کے امام علیہ السلام کی پہچان کا بہترین راستہ یہی ہے دوسری بات یہ ہے کہ جو عقلی اور نقلی روایات اور قرآنی دلائل سے کسی بات تک نہیں پہنچ سکتے ان کے لئے یہ حتمی اور دو ٹوک رائے بھی ہے ۔

اور اہل علم کے لئے بھی ایک جمالیاتی تذکرہ موجود ہے، نیز جو امامت علیہ السلام کے جھوٹے دعویدار ہیں کہ ان کے دعووں کو جھٹلانے کے لئے بھی یہ دلائل موثر ہیں ۔

مہدويت ایک عنوان و نظریہ ہی نہیں بلکہ ایک مخصوص شخصیت ہیں

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مہدويت علیہ السلام ایک نظریہ اور عنوان ہے اور یہ کسی ایک خاص شخص کے حوالے سے نہیں ہے ....یہ بیان ان کی بات کی بھی رد ہے کہ مہدی(عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ) صرف ایک نظریہ اور عنوان ہی نہیں ہے بلکہ وہ ایک حقیقی وواقعی شخصیت ہیں ....وہ ایک معنوی اور تصوراتی چیز نہیں بلکہ ایک حقیقی اور واقعی شخصیت کا نام مہدی علیہ السلام ہے ....نیز عاشقان امام علیہ السلام کے لئے اپنے امام علیہ السلام کے مقدس وجود کو محسوس اور مشاہدہ کرنے کے لئے یہ اوصاف موثرترین ذرےعہ ہیں ۔

اس مقالے میں بحث کی جو روش اختیار کی گئی ہے کہ مختلف افراد جو حضرت نبی اکرم اور آئمہ طاہرین ( علیہ م السلام )کے تشریف لائے تو آپ( علیہ م السلام ) حضرات نے اپنے اس فرزند کی ایک ہی صفت کو مختلف پیرائے اور لفظوں میں بیان کیا ہے۔

ہم نے اس بحث میں اس حوالے سے ملنے والی تمام روایات کو نقل کیا ہے اگر چہ وہ روایات ایک دوسرے سے مشابہت بھی رکھتی ہیں ، مگر تھوڑی سی لفظی تبدیلی کے ساتھ راوی مختلف ہیں مفہوم ایک ہی ہے، ایک اور بات یہ ہے کہ بنیادی طورپر مصادر و مدارک و اسفاءکے تمام تفصیلی حوالے مہیا کئے گئے ہیں بالخصوص دوکتب اکمال الدین اور غیبت نعمانی.... ان کے فارسی تراجم کو سامنے رکھ کر اس کا سادہ اور سلیس اردو ترجمہ کیا ہے ، حضرت ولی العصر( علیہ السلام )کے وجود مبارک کے اعضائے مقدسہ کی تعریف و توصیف میں جوچیز کلی طورپر بیان ہوئی ہے وہ پانچ عناوین کے تحت ہے۔

۱ ۔ حضرت امام زمانہ (عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ) کن کی شبیہ ہیں ۔

۲ ۔ حضرت حجت(عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ) خدا کا حسن و جمال ۔

۳ ۔ حضرت صاحب الزمان (عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف )کا سن مبارک۔

۴ ۔ حضرت ولی العصر(عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف )کاقدو قامت ۔

۵ ۔ حضرت بقیة اللہ(عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ) کے رخسار مبارک۔

اب ہم ان تمام عناوین پر فرداًفرداً روایات پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔

عربی میں تو ایک بات کئی کئی پیرائے سے بیان ہوئی ہے اس کے مقابلے میں اردو زبان کا دامن تنگ نظر آنے لگتا ہے کیونکہ عربی ادب کی فصاحب کے سامنے.... اردو ادب میں ہمیں محدود الفاظ ہی ملیں گے، یہاں ہم وہ مشترکہ باتیں بیان کریں گے جو تمام روایات میں ذکرہوئی ہیں اور اپنے معزز قارئین کے استفادہ کے لئے تمام حوالوں کو تحریر کررہے ہیں تاکہ وہ حسب ضرورت ان کتابوں سے رجوع کرکے مزید تفصیلات جان سکیں


حضرت امام مہدی علیہ السلام اہل سنت کی نظر میں حصہ دوم

حضرت امام زمانہ(عج) کن کی شبیہ ہیں

سب سے زیادہ روایات میں یہ تحریر ہے کہ حضرت قائم آل محمد(عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ) گفتارو کردار، شکل و صورت میں حسن و جمال میں حضرت نبی کریم سے شباہت رکھتے ہیں اور خود پیغمبراکرم نے بارہا فرمایا کہ ”مہدی(عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ) سب سے زیادہ میرے مشابہ ہوں گے“ اور آپ علیہ السلام کی گفتگو کرنے کا انداز.... آپ علیہ السلام کے چلنے کا انداز.... آپ علیہ السلام کی نشست و برخاست کا پیرایہ.... لوگوں سے رابطہ رکھنے کے اطوار.... آپ علیہ السلام کے لباس پہننے کا طریقہ.... سب باتوں میں آپ علیہ السلام آنحضرت کی مشابہت لئے ہوئے ہیں ۔

بعض روایات میں یہ بھی ملتا ہے کہ حضرت نبی اکرم نے فرمایا کہ مہدی( علیہ السلام )میری اور موسیٰ علیہ السلام بن عمران علیہ السلام کی شباہت ہیں اور بعض روایات میں یہ فرمایا گیا کہ آپ علیہ السلام حضرت امام حسن عسکری( علیہ السلام )کے ساتھ زیادہ شباہت رکھتے ہیں اور بعض روایات میں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ حضرت حجت حق.... اخلاق، ہیبت، رعب و دبدبہ میں حضرت عیسیٰ( علیہ السلام ) کے مشابہ ہیں ۔

بہرحال اس سلسلے میں روایات بہت ساری ہیں ان میں سب سے زیادہ آپ علیہ السلام کی حضرت رسول اللہ سے شباہت کا تذکرہ ہے باقی تمام انبیاء علیہ السلام کی مختلف صفات کی جھلک بھی آپ علیہ السلام میں موجود ہوگی۔اس جگہ ہم یہ بات بھی کہہ سکتے ہیں کہ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) کے بارے میں جو یہ ملتا ہے کہ آپ علیہ السلام مختلف ہستیوں سے شباہت رکھتے ہوں گے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ ساری ہستیاں کسی نہ کسی حوالے سے حضور اکرم سے مشابہت رکھتی تھیں اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کلی طور پر رسول اللہسے مشابہت رکھتے ہوں گے تو اس حوالے سے ہر وہ پیغمبر یا امام جن کی رسول اللہ سے شباہت ہے آپ ان کے بھی مشابہ ہوئے۔

حضرت صاحب الزمان( علیہ السلام )کا حسن و جمال

حسن و جمال کے حوالے سے روایات میں بہت زیادہ ذکر اور مختلف پہلووں سے بیان ہوا ہے، اس کو ہم ترتیب وار بیان کررہے ہیں ، جب حسن محبوب کا تذکرہ چھڑ جائے تو اس کے قرب، وصل میں تمام تر تفصیلات بھی کوتاہ نظرآتی ہیں اور چاہنے والے کی تشنگی بدستور رہتی ہے، روایات میں لفظی تذکرہ کچھ یوں ہے کہ

حضرت ولی العصر( علیہ السلام ) کا چہرہ اقدس انتہائی خوبصورت ہے.... اب تشبیہ واستعارات کی کمند تو انسانی فکر وہاں ڈالے گی جو حدعقل میں سما سکے اور جہاں ذہن و شعور پر حسن امام علیہ السلام کے جلوہ سے سکتہ چھا جائے، سکوت دم توڑ دے وہاں لفظوں کی تلاش میں سرگرداں ہو کر قلم بھی اس حسن حقیقی میں محو ہو جائے گا....

آپ علیہ السلام کا چہرہ اقدس نور کی مانندہے.... اب اس نور کی مانند کا مفہوم تو وہی سمجھے جو نور آشنا ہو اور اسکی نورانی ماحول پر نظر ہو.... تو جہاں تشبیہ و استعارہ سمجھنے سے بھی عقل انسانی قاصر ہو تو وہاں حسن امام علیہ السلام کےلئے کون سا کلیہ اختیار کیاجائے، اب اس میں آپ یقینا ایک تصور ہی میں گھوم پھر کر واپس لوٹ آئیں گے، روایات میں ”نورس جوان“ کا لفظ لکھا گیا ہے، نیز یہ کہ آپ علیہ السلام کے وجود اقدس سے خوشبو پھوٹ پھوٹ کر بکھرتی ہے، اب موسم بہار جس کے وجود کی خیرات بن کر چار سو پھیل جائے، اسکے لئے خوشبو کا تصور ہمارے اپنے ہاں پائی جانے والی خوشبو ہی تصور کی جائے گی، جو کُنتُ کنزاًکے راز کے مظہر ہوں ان کی خوشبو کیا ہو گی ؟۔

آپ علیہ السلام کے پر ہیبت چہرہ اقدس کے بارے میں ہے کہ رعب ودبدبہ والا حسین چہرہ رکھتے ہیں جو جلال و جمال الٰہی کے رکھنے کے باوجود لوگوں کو مسخر کئے ہوئے ہے اور دیکھنے والے اس جلالت نواز حسن الٰہی میں محوہوجاتے ہیں کیونکہ اس پیکر حسن کے علاوہ اتنادلنواز حسن کہیں ہے ہی نہیں !!!۔

اب روایات میں ہے کہ آپ علیہ السلام چاند کے ٹکڑے ہیں ، یہ تو صرف ہمیں سمجھانے اور بتانے کے لئے چاند کی تشبیہ دی گئی ہے، ورنہ چاند جن کے بہلانے کے لئے خلق ہوا ہو، چاند کو اگر ان کی زکوٰة نہیں بلکہ خیرات کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

روایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ علیہ السلام خود چاند ہیں ، اس سے ہمیں یہی تصور مل سکتا ہے کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں جس طرح چودہویں کے چاند کی نورانی کرنوں کی بارش سے اندھیرا کافور ہوجاتا ہے آپ علیہ السلام کے وجود مقدس کی برکت سے باطل کے تمام تر اندھیرے بے بس ہیں ۔

آپ علیہ السلام کوروشن کوکب دری بھی کہا گیاہے اور مثل مشتری کہہ کر پکارا گیا ہے کسی نے کہا کہ شاخ صندل کی مانند حسن کے مالک ہیں ، آپ علیہ السلام کو ریحان سے تشبیہ دی گئی ہے، آپ علیہ السلام کے وجود مقدس کے بارے میں ہے کہ حسن کے حوالے سے کوئی ایسا جسم ہے ہی نہیں ۔

روایات میں لکھاہے کہ آپ علیہ السلام خوش پوش، پاکیزہ لباس زیب تن کرنے والے ہیں ، آپ علیہ السلام کی شکل وصورت سے بزرگانہ ہیئت ٹپکتی ہے.... آپ علیہ السلام ہر ایک پر احسان کرنے والی پاکیزہ ذات ہیں ۔

نیز ملتا ہے کہ آپ علیہ السلام بہشت والوں کے لئے طاوس ہیں یہاں اس مقالہ کے مولف نے فارسی کے اشعار موقع کی مناسبت سے خوب تحریر کئے ہیں کہ

اگرچہ حُسن فروشاں بہ جلوہ آمدہ اند

کسی بہ حسن و ملاحت ہ یار مانرسد

ہزار نقش برآید ز فلک صنع ویکی

بہ دل پذیری نقش نگار ما نرسد

یعنی اگر سارے حسن فروش جمع ہو جائیں اور اپنا حسن دکھانے کے لئے آجائیں تو ہمارے محبوب کے حسن و جمال کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا، ہزار نقوش اپنی صنعت کو میدان میں لے آئیں لیکن جو ہمارے محبوب میں دلپذیری ہے وہ کسی میں نہیں ۔

معزز قارئین! یہ تمام تر حوالے ہمارے اپنے معاشرے میں موجود لوگوں کو سمجھانے کے لئے دیئے گئے ہیں ، چونکہ ہماری ذہنی رسائی انہی تک ہے، ورنہ ان کے حسن و جمال کی تعریف انسانی بس میں ہے ہی نہیں ، اس دیئے گئے حلیہ مبارک سے ہم اچھی سی اچھی شئے کو آپ علیہ السلام کی بارگاہ میں صرف اور صرف نسبت ہی کے طورپر پیش کر سکتے ہیں ، ورنہ پردہ غیبت میں.... جلالت کانقاب اوڑھ کے (عج).... اک شخص نہیں بلکہ نور کا ایک طور کھڑا ہے۔

حضرت بقیة ( علیہ السلام ) کا سن مبارک

روایات میں ہے کہ آپ علیہ السلام ایک جوان رعنا نظرآتے ہیں ، دیکھنے والا آپ علیہ السلام کو دیکھ کر مبہوت.... محویت میں غرق ہو جاتا ہے، آپ علیہ السلام کی حیات اقدس اگرچہ اس وقت ۰۸۱،۱ برس ہو چکی ہے مگر آپ علیہ السلام ایک مکمل وجیہ جوان لگتے ہیں ۔ انشاءاللہ ہم جلد منظر دیکھیں گے جب آپ علیہ السلام کا ظہور پر نور ہوگا اور آپ کے وجود مقدس کی زیارت سے مشرف ہو سکیں گے” انشاءاللہ“ بہت ساری روایات میں آپ کی حیات اقدس کی مدت بھی تحریر ہے، بعض نے تیس سال لکھی ہے، بعض نے بتیس سال اور بعض نے چالیس سال سے کم تحریر کی ہے، آپ اپنی حیات مقدس کے آخری وقت تک اسی سن میں لگیں گے، آپ علیہ السلام کے وجود مقدس پر قطعاً بڑھاپے کے آثار نہیں ہیں یعنی آپ علیہ السلام کا ظاہری سراپا مندرجہ بالا روایات کے تحت یہی ہوگا۔

حضرت امام عصر( علیہ السلام ) کی قدو قامت

روایات میں ہے کہ آپ علیہ السلام ایک متوسط قد کے جوان ہیں نہ دراز ہیں نہ کوتاہ قد.... بلکہ معتدل اور درمیانہ قد کے ہیں ، آپ(عج) کے وجود مبارک کے بارے میں انبیاء علیہ السلام کے اجساد مبارکہ کی مثالیں بھی دی گئی ہیں ، یہ بہت ساری روایات ملتی ہیں آپ علیہ السلام طاقتور لطیف اندام ہیں ، آپ علیہ السلام کی رنگت کے بارے میں وارد ہوا ہے کہ آپ علیہ السلام کا رنگ واضح اور درخشاں ہے، آپ علیہ السلام کے رخسارکا رنگ چمکتے ہوئے ستارے کی مثل ہے، آپ علیہ السلام کے ارغوانی چہرے کے حسن کی ملاحت پہ دنیا انگشت بدنداں ہو جائے گی، آپ علیہ السلام کا رنگ عربوں کی روایتی مثل ہوگا اور مائل بہ سرخی ہے، گندم گوں رنگ پہ سرخ پن حاوی ہے.... سنہرہ پن ظاہر ہو رہا ہے،شب زندہ داری کی وجہ سے چہرہ مبارک پہ زردی ظاہر ہے، آپ علیہ السلام کا سر اقدس خوبصورت اور گول ہے اور اس میں ایک خاص نشانی ہے جس سے وہی آگاہ ہیں جو زیارت سے بہرہ ور ہیں باقی لغت کے قیافوں میں سرگرداں ہیں ، آپ علیہ السلام کے سراقدس حضرت نبی اکرم کے سر اقدس جیسا ہے یعنی بڑا اور گول ہے۔

آپ( علیہ السلام ) کے سر اقدس کے موئے مبارک

یہ کاکل مشکیں کہ شب قدر ہو قرباں

زلفوں کے خم و پیچ کے معراج کی راہیں

(صفدرحسین ڈوگر)

آپ علیہ السلام کے موئے مبارکہ انتہائی جاذت نظر اور خوب صورت ہیں ، نیز شانوں تک ہیں اور آپ علیہ السلام کے موئے مبارکہ، سیاہ رنگ، مگر سرخی مائل ہیں اور آپ (عج) کی زلفیں کندھوں کی طرف کانوں تک ہیں ، نیز یہ بھی روایات میں ملتا ہے کہ آپ علیہ السلام کے موئے مبارکہ کچھ کچھ گھنگھریالے بھی ہیں ، آپ علیہ السلام کے سرمقدس میں گیسو ہیں ، ایک روایت میں دوگیسووں کا تذکرہ ہے، سرائیگی زبان میں جنہیں ”لٹیں“ کہا جاتا ہے.... یہ دو گیسووں والی روایات بہت زیادہ ہیں نیز آپ علیہ السلام کے سرمقدس میں مانگ ہے اور ایسی مانگ ہے جیسی دو ”واو“ کے درمیان الف ہوتی ہے، چونکہ آپ علیہ السلام کی شباہت حضرت رسول اکرم سے ہے، اس لئے آنحضرت کے گیسو مبارک بھی اسی طرح ذکر ہوئے ہیں ۔

حضرت امام زمانہ ( علیہ السلام ) کا چہرہ مبارک

آپ علیہ السلام کے رخساروں پر گوشت گم ہے اور بڑے لطیف و گداز ہیں ، آپ علیہ السلام کے رخسار مبارک پہ خال ایسے ہیں جیسے مشک کا دانہ عنبر پر موجود ہو.... سبحان اللہ.... مولا علیہ السلام اپنے ظہور کے وقت ہمیں زیارت سے نوازیں اور اس قابل بنا دیں کہ دیدار کے قابل ہو سکیں، اس خال کے سلسلے میں بہت ساری روایات ہیں اور ہر راوی نے خال اقدس کی مثال اپنی شعوری انتہاءکے مطابق بیان کی ہے، بعض راویوں نے اسے کوکب دری کہا ہے، بعضوں نے مشک کا دانہ جیسے چاندی پر نظر آئے، ہر شخص نے اپنی معرفت کے مطابق ذہنی رسائی تک تشبیہ دی ہے، آپ علیہ السلام کی پیشانی مبارک پر دونوں آنکھوں کے درمیان سجدوں کا نشان نمایاں ہے۔آپ علیہ السلام کے خال مبارک کی درخشندگی دلکش واضح اور دیدہ زیب ہے۔

اے آفتاب آئینہ دار جمال تو

مشک سیاہ مجمرہ گردان خال تو

آپ علیہ السلام کی پیشانی واضح، کھلی بلند اور روشن ہے، لطیف اور چمکتی ہوئی پیشانی اور کنپٹیاں مبارک واضح اور درخشندہ ہیں ، آپ علیہ السلام کی پیشانی کے اوپر کچھ بال عنقا ہیں ، پیشانی کے موئے مبارکہ کو

دائیں بائیں کر رکھا ہے اور وہ گیسو بن کر کانوں تک آویزاں ہیں ۔

حضرت حجت خدا علیہ السلام کے ابرو مبارک

ابروہیں کہ قوسین شب قدر کھلے ہیں

آپ علیہ السلام کے ابرومبارک، بلند اور کمان دار ہیں اتنے ہوئے کشادہ اور برجستہ ہیں دونوں ابرومبارک ایک دوسرے کے قریب ہیں ، درمیانی فاصلہ زیادہ نہیں ہے۔

حضرت صاحب الزمان( علیہ السلام )کی چشم ہائے مبارکہ

آپ علیہ السلام کی چشمہائے مبارکہ سیاہ ہیں ، چمکدار ہیں ، اٹھی ہوئی کشادہ اور شفاف ہیں ، جذابیت رکھنے والی ہیں ، ان میں درخشندگی ہے، آپ علیہ السلام کی چشمہائے مبارکہ باہر کی طرف اٹھی ہوئی نہیں ہیں ، بلکہ معمولی سی اندر کی طرف ہیں ، یہی کیفیت حضرت نبی اکرم کی چشمہائے مبارکہ کی بھی کتب میں درج ہیں ۔

حضرت ولی العصر( علیہ السلام )کی بینی مبارک

آپ علیہ السلام کی بینی مبارک لمبی باریک و لطیف اور بلند ہے۔

حضرت صاحب العصر( علیہ السلام ) کا دہن اقدس اور لب ہائے مبارکہ

آپ علیہ السلام کا دہن مبارک نہ چھوٹا ہے اور نہ بڑا ہے بلکہ بڑاموزوں اور متوازن ہے اور لب ہائے مبارکہ سرخ عقیق کی مانند ہیں ۔

حضرت خلیفة اللہ ( علیہ السلام )کے دندان مبارک

یہ دانت یہ شیرازہ شبنم کے تراشے

یاقوت کی وادی میں دمکتے ہوئے ہیرے

آپ علیہ السلام کے اگلے دانت کھلے اور درخشندہ ہیں اور دانتوں میں معمولی سا فاصلہ بھی ہے چمکدار اور روشن ہیں ، دہن مبارک سے دندان مبارک کے ذریعے نور پھوٹ پھوٹ کر واضح ہورہا ہے اور حضرت جعفر طیار علیہ السلام کی اولاد کے بارے میں بھی یہی ہے کہ ان کے دندان مبارک اسی طرح تھے جس طرح کہ حضرت حجت خدا علیہ السلام کی ہیں۔

حضرت امام العصر( علیہ السلام ) کی ریش مبارک

آپ علیہ السلام کی ریش مبارک بھری ہوئی ہے زیادہ لمبی نہیں ہے۔

حضرت ولی العصر( علیہ السلام ) کی گردن مبارک

گردن ہے کہ برفرق ز میں اوج ثریا

آپ علیہ السلام کی گردن مبارک لمبی خوبصورت اور موزوں ہے اور اللہ کی اعلیٰ ترین صنعت ہے ، بہت ہی سفیداور درخشاں آپ علیہ السلام کی گردن کے نیچے ہنسلی پر سونے کی تاریں رواں دواں ہیں ۔

حضرت امام عصر( علیہ السلام ) کے دوش مبارک

آپ علیہ السلام کے دوش مبارک کی استخوان مقدس بڑی ہیں اور کندھے کشادہ ہیں اور آپ علیہ السلام کے دوش مبارک پر خال ہے، دونوں کندھوں کے درمیان نیچے کی طرف خاتم الاوصیاء علیہ السلام کی مہر لگی ہوئی ہے.... روایات میں اس علامت کو ”درخت آس“ (یہ درخت انار کے درخت جتنا ہوتا ہے اس کے پتے سبز اور خوشبودار ہوتے ہیں ) کے پتے کی مانند بتایا گیا ہے اور یہی تعبیر مبارک حضرت نبی اکرم کے بارے میں بھی بیان کی گئی ہے۔

حضرت صاحب الزمان( علیہ السلام )کا سینہ مبارک

آپ علیہ السلام کا سینہ کھلا اور کشادہ ہے۔

حضرت وارث زمانہ( علیہ السلام ) کی کمر مبارک

آپ علیہ السلام کی کمر پر دو خال ہیں ، ایک خال حضرت نبی اکرم کے خال کی مانند ہے اور دوسرا جسم کے رنگ سے مشابہ ہے۔

حضرت حجت خدا ( علیہ السلام )کی کلائی مبارک

آپ علیہ السلام کی کلائی لطیف زیبا اور مضبوط ہے اور دائیں کلائی پر یہ لکھا ہو اہے۔

”جاءالحق وزہق الباطل ان الباطل کان زہوقا“

حق آگیا اور باطل چلا گیا اور باطل جانے ہی والا ہے۔

آپ علیہ السلام حجت الحق ( علیہ السلام ) کی دست ہائے مبارک و قد م ہائے مبارک

آپ علیہ السلام کے دونوں ہاتھ قوی ہیں ، دائیں ہاتھ پر تل ہے بعض نے لکھا ہے کہ آپ کے دونوں ہاتھوں پر لکھا ہوا ہے۔

”بایعوہ فان البیعة للہ ”عزوجل“

یعنی ان کے ہاتھ پر بیعت کرو کہ ان کی بیعت اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔آپ علیہ السلام کی انگلیاں دستہائے مبارکہ اور قدم ہائے مبارک بھاری اور قوی ہیں جس طرح طاقتور اور مضبوط افراد کے ہوتے ہیں ، حضرت ولی العصر( علیہ السلام ) کے ہاتھوں اور بازووں کی درمیانی جگہ ذرا لمبی ہے، آپ علیہ السلام کے قدم ہائے مبارک کے اوپر گوشت کم ہے۔

حضرت ولی العصر( علیہ السلام )کا بطن مبارک

حضرت امام زمانہ( علیہ السلام ) کا دل بہت وسیع ہے، انہوں نے یہاں بطن کا معنی دل کیا ہے یعنی آپ علیہ السلام فراخ دل ہیں اور آپ( علیہ السلام ) کا سینہ اور پیٹ برابر ہے سینے سے لے کر پیٹ تک بالوں کی ایک لکیر ہے یہی الفاظ حضرت نبی اکرم(صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں بھی استعمال ہوئے ہیں ، ان بالوں کی ایک لطیف لکیر کے علاوہ آپ علیہ السلام کے سینہ پر کوئی بال نہیں ہے۔

حضرت صاحب الزمان( علیہ السلام ) کی ران مبارک

آپ علیہ السلام کی ران مبارک بڑی کشادہ، مضبوط اور قوی ہے، آپ علیہ السلام کی دائیں ران پر ایک خال ہے یعنی آپ علیہ السلام کے جسم کے اعضاءمبارک مضبوط، محکم اور طاقتور ہیں ۔

حضرت امام زمانہ( علیہ السلام ) کا زانور مبارک

آپکے زانو مبارک تھوڑے اندر کی طرف جھکے ہیں ، اسی طرح حضرت نبی اکرم کے زانووں کے بارے میں بھی روایت بیان ہوئی ہے.... عرب و عجم کے شعراءنے آپکے سراپا مبارک پر اپنی اپنی عقیدت کا خراج پیش کیا ہے اور آئندہ بھی ان کے ظہور مبارک تک لکھتے رہیں گے۔جیسا کہ ہم اس مقالے کے آغاز میں دے چکے ہیں کہ یہ مضمون قم المقدسہ ایران سے شائع ہونے والے سہ ماہی جریدہ ”انتظار“ کے دوسرے سال کے شمارہ پنجم کا ہے ص ۱۵۱ تا ص ۰۹۱ تک ہے اور اسکے تمام حوالہ جات اسکے ص ۰۹۱ سے لےکر ص ۴۹۱ تک ہیں وہاں سے ملاحظہ فرما سکتے ہیں ۔

حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کے بعض دیگر اوصاف کا تذکرہ

۱ الجحجاح المجاهد المجتهد

حضرت امام مہدی( علیہ السلام )کی زندگی مسلسل جہاد ہوگی.... اس ضمن میں امام خمینیؒ سے پوچھا گیا کہ آپ کی زندگی کا ٹائم ٹیبل کیا ہے تو جواب دیا کہ میں ۴۱ گھنٹے مسلسل کام کرتا ہوں یعنی آپ علیہ السلام امام زمانہ( علیہ السلام ) کی پیروی میں ایسا کرتے تھے ۔تو آپ اس سے خود سوچ لیں کہ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کی عملی زندگی کیسی ہوگی۔

۲ خاشع لله کخشوع النسرلجناحه

امام زمانہ( علیہ السلام ) اللہ کے احکام کے معاملے میں اتنی احتیاط کرنے والے ہیں کہ جتنی عقاب اپنے پروں کی حفاظت کرتا ہے۔

۳ یکون اشد الناستواضعاًللّٰه” عزوجل “

امام مہدی علیہ السلام تمام لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ کے لئے سردھڑ کی بازی لگانے والے ہوں گے۔

۴ شدید علی العمالرحیم علی المساکین

امام( علیہ السلام ) اپنے کارندوں، منیجروں، آفیسروں پر سخت گیر اور کمزور اور غریبوں پر نہایت مہربان ہوں گے۔

۵ علیه کمالموسیٰ وبهاءعیسیٰ وصبرایوب

امام مہدی علیہ السلام کمال موسیٰ علیہ السلام ، عیسیٰ علیہ السلام کی سطوت اور ایوب علیہ السلام کے صبر کے مالک ہوں گے۔

۶ تعرفون المهدی بالسکینة والوقار

تم حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کو ان کے پرسکون اور باوقار ہونے سے پہچان لو گے۔

یعنی امام( علیہ السلام ) کا اتنا رعب اور دبدبہ ہوگا کہ اس لئے ہر ایک انہیں دیکھ کر یہ تسلیم کرے گا کہ واقعی یہ ہی امام زمانہ( علیہ السلام ) ہیں ۔

۷ ولایضع حجر علی حجر

حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) پتھروں کے اوپر پتھر نہیں رکھیں گے یعنی امام مال و دولت جمع نہیں کریں گے۔

۸ یحذوفیها علی مثالالصالحین

حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) صالحین کی مثال پر چلیں گے یعنی خوشامد پسند، خود ستا، نہیں ہوں گے۔

۹ یعتاد مع سمرته صفرة من سهر اللیل بابی، من لیله یرعی النجوم ساجدا راکعابابی من لایا خذلومة لائم مصباح الدجی بابی القائم بامرالله

حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )کی رنگت رات بھر جاگنے اور تہجد پڑھنے کی وجہ سے زرد ہو گی....میرے والد ان پر قربان ہوں جس کو ساری رات ستارے کبھی قیام میں دیکھیں گے کبھی رکوع میں کبھی سجدے میں دیکھیں گے.... میرے والد ان پر قربان! جو خدمت دین میں کسی کی ملامت سے نہ ڈریں گے، وہ گمراہی کی تاریکی میں ہدایت کاروشن چراغ ہیں میرے والد ان پر قربان ہوں! جو اللہ کے حکم کو قائم کریں گے۔

۰۱ فیستشیر المهدی اصحابه

حضرت امام مہدی( علیہ السلام )اپنے اصحاب سے مشورہ کرنے والے ہوں گے۔

۱۱ ویشترط علی نفسه لهم ان یمشی حیث یمشون ویلبس کما یلبسون ویرکب کمایرکبون ویکون من حیث یریدون ویرضی بالقلیل

حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اپنی ذات کے لئے یہ لازم کرنے والے ہوں گے کہ (مشورہ کے بعد) جہاں اصحاب چلیں گے وہ بھی ساتھ چلیں گے جو لباس اصحاب پہنیں گے وہی وہ خود پہنیں گے، جس چیز پر اصحاب سوار ہوں گے اس پر وہ بھی سوار ہوں گے اصحاب جو رائے پاس کریں گے وہ ہی ان کی رائے ہوگی اور امام علیہ السلام قناعت کرنے والے ہوں گے۔

اللہ کے ہاں حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کا مقام و منزلت

ہم حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کانام مبارک آپ کے اوصاف کو جان چکے ہیں اس باب میں ہم حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کی اللہ کے ہاں جو شان اور منزلت ہے اس بارے ذکر کریں گے اللہ کی نمائندگی میں اللہ کی ساری زمین پر اللہ کا نظام نافذ کرنے والی شخصیت آپ علیہ السلام ہی ہیں آپ علیہ السلام اللہ کے خلیفہ ہیں ، آپ علیہ السلام ہی مہدی( علیہ السلام ) موعود ہیں ، جن کے متعلق اللہ تعالیٰ اپنے سارے نمائندگان کو آگاہ کیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ سب اپنے اپنے زمانہ میں اللہ کے آخری نمائندہ کا تعارف کروائیں اور ان کی اطاعت سب پر فرض قرار دی گئی اس ضمن میں چند روایات ملاحظہ ہوں۔

۱ ۔ انس بن مالک سے روایت ہے میں نے حضرت رسول اللہ سے یہ بات سنی کہ آپ نے فرمایا ”ہم عبدالمطلب( علیہ السلام ) کی اولادجنتیوں کے سردار ہیں (اس سے مراد) میں خود، حمزہ( علیہ السلام ) علی( علیہ السلام ) جعفر( علیہ السلام )حسن( علیہ السلام ) حسین( علیہ السلام )، مہدی( علیہ السلام ) ہیں “۔

(حوالہ جات :سنن ابن ماجة: ۲/۸۶۳۱ باب ۴۳ حدیث نمبر ۷۸۰۴ ، ومستدرک الحاکم ۳/۱۱۲ وتاریخ بغداد: ۹/۴۳۴ حدیث ۰۵۰۵ ومطالب السو ول: ۲/۱۸ باب ۲۱ والبیان: ۱۰۱ باب ۳ وذخائرالعقبی: ۵۱ و ۹۸ ، والریاض النضرة: ۳/۴ و ۲۸۱ فصل ۸ وعقد الدرر: ۴۹۱ ، باب ۷ وفرائد السمطین: ۲/۳۲ ،باب ۷ حدیث ۰۷۳ ومقدمہ ابن خلدون: ۸۹۳ باب ۳۵ والفصول المھمة: ۴۸۲ ط دارالاضواءفصل ۲۱ وجمع الجوامع: ۱/۱۵۸ وصواعق ابن حجر: ۰۶۱ باب ۱۱ فصل ۱ وفی ص ۷۸۱ باب ۱۱ فصل ۲ ، حدیث ۹۱ وبرہان المتقی : ۹۸ باب ۲ حدیث ۳ واسعاف الراغبین: ۴۲۱ وعرف السیوطی ،الحاوی : ۲/۴۱۲)

۲ ۔ عبداللہ بن عباس نے نبی اکرم سے یہ حدیث نقل کی ہے” مہدی( علیہ السلام ) اہل جنت کے طاووس ہیں “۔

(حوالہ جات: الفردوس ج ۴ ص ۲۲۲ البیان ص ۸۱۱ ، باب نمبر ۸ عقدالارر ۹۱۱ باب ۷ ۔ العفول ۴۸۲ فصل ۲۱ ، برہان المتقی، ۷۷۱ باب ۲۱ حدیث ۲ ، کنوز الاقائق : ۲۵۱ ، نور الابصار: ۷۸۱ ، ینابیع المودة: ۱۸۱ باب ۵۶)

۳ ۔ابو ہریرہ نے نبی اکرم سے روایت بیان کیا ہے ”اس امت کے درمیان ایک خلیفہ ہوں گے ان پر ابوبکر اور عمر(دونوں) کو برتری نہ ہوگی یعنی وہ دونوں پر فضیلت رکھتے ہوں گے“۔

(حوالہ جات: ابن ابی شیبہ ج ۵۱ ص ۸۹۱ حدیث ۶۹۴۹۱ ، الکامل، ابن عدی ج ۲ ص ۳۳۴۲ ،عقد الارد: ۹۹۱ باب ۷ برہان المتقی باب ۲۱ ص ۲)

۴ ۔ عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ نے فرمایا”مہدی( علیہ السلام ) خروج کریں گے انکے سر پر ایک گہرے بادل کا ٹکڑاہوگا اس بادل کے اندر ایک منادی موجود ہو گا، جو یہ نداءدے رہا ہوگایہ ہیں مہدی( علیہ السلام ) :اللہ کے خلیفہ ہیں ،تم سب لوگ ان کی اتباع کرو“۔(حوالہ جات: البیان: ۲۳۱ باب ۵۱ ، عقد الدرر: ۳۸۱ باب ۶ ، فرائد السمطین ج ۲ ص ۶۱۳ باب ۱۶ حدیث ۶۶۵ ، ۹۶۵ ، الفصول المہمہ ۸۹۲ فصل ۲۱ ،عرف السیوطی، الحاوی ج ۲ ص ۷۱۲ تاریخ الحمنیس ج ۲ ص ۸۸۲ نور الابصار ۸۸۱ ۔ ۹۸۱)

۵ ۔ عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ حضورپاک نے فرمایا

”مہدی( علیہ السلام ) خروج کریں گے، ان سے سر کے اوپر ایک فرشتہ موجود ہوگا جو یہ نداءدے گا، بتحقیق بلاشک و تردید سب آگاہ ہو جاو یہ ہیں مہدی( علیہ السلام ) !تم سب لوگ ان کی پیروی و اتباع کرو“۔

(حوالہ جات: تخلیص المتشابہ ج ۱ ص ۷۱۴ ، والبیان: ۳۳۱ باب ۶۱ وفرائد السمطین ج ۲ ص ۶۱۳ باب ۱۶ حدیث نمبر ۹۶۵ وعرف السیوطی الحاوی ج ۲ ص ۷۱۶ ، والقول المختصر ۹۳ ، باب ۱ حدیث ۴۲ ، وبرہان المتقی ۲۷ باب ۱ حدیث ۲ وینابیع المودّة ۷۴۴ باب ۸۷)

حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) اللہ کے خلیفہ اور خاتم الائمہ علیہ السلام ہیں

حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) اللہ کے خلیفہ اور خاتم الائمہ ( علیہ م السلام ) ہیں

جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ مہدی( علیہ السلام ) جو ہیں وہ محمد بن الحسن علیہ السلام العسکری علیہ السلام ہیں اور اللہ کے ہاں ان کی منزلت یہ ہے کہ وہ اللہ کے خلیفہ برحق ہیں ، ان کی اطاعت واجب ہے، اب ایک سوال ہے کہ کیا ان کے بعد کوئی اور امام علیہ السلام بھی آئے گا یا وہی آئمہ اہل البیت علیہ السلام سے آخری امام ہیں اور وہ ہی خاتم الائمہ علیہ السلام ہیں ، ان پہ امامت کا سلسلہ ختم ہے جیسا کہ شیعہ بارہ امامی کاعقیدہ ہے اور جس کی وہ انتظار کررہے ہیں ، اہل سنت سے جو روایات ملتی ہیں ان میں یہ بات واضح ہے کہ مہدی( علیہ السلام ) موعود ہی خاتم الائمہ علیہ السلام ہیں اور خلفاءمیں آخری خلیفہ ہیں ۔

۱ ۔ ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا” تمہارے چھپے ہوئے (زیر زمین ) خزانہ کہ پاس تین افراد کے درمیان جنگ ہوگی، وہ تینوں حاکم کے بیٹے ہوں گے، پھر یہ خلافت وحکومت ان میں سے کسی ایک کے پاس نہ رہے گی، اس واقعہ کے بعد مشرق کی جانب سے سیاہ جھنڈے نمودار ہوں گے، وہ ان سب کو قتل کریں گے، ایسی جنگ لڑی جائے گی کہ اس سے پہلے کسی قوم نے ایسی جنگ نہ دیکھی ہوگی“ راوی کہتا ہے: کہ اس کے بعد حضورپاک نے ایک بات ارشاد فرمائی جو مجھے یاد نہیں ہے.... اس کے بعد آپ نے فرمایا”جب تم اسے دیکھو :تو ان کی بیعت کرنا، اگرچہ تمہیں برف کے اوپر گھٹنوں کے بل چل کر ہی کیوں نہ آنا پڑے کیونکہ وہی شخصیت اللہ کے خلیفہ مہدی( علیہ السلام ) ہوں گے“۔

(حوالہ جات: البیان : ۴۰۱ ،باب ۳ ، سنن ابن ماجہ ج ۲ ص ۷۶۳۱ حدیث ۴۸۰۴ ، المستدرک: ج ۴ ص ۳۶۴ ، تلخیص المتدرک ض ج ۴ ص ۴۶ ۔ ۳۶۴ ، مسند احمد بن حنبل: ج ۵ ص ۷۷۲)

۲ ۔ حضرت علی ابن ابی طالب( علیہ السلام ) فرماتے ہیں ”میں نے حضرت رسول اللہ سے یہ سوال کیا: کیا مہدی( علیہ السلام ) ہم اہل بیت( علیہ م السلام ) سے ہیں یا وہ ہمارے غیر سے ہیں ؟ رسول اللہ نے فرمایا”وہ ہم سے ہیں ، ہمارے ہی ذریعہ دین کا اختتام ہوگا یعنی آخری دین والے ہم ہی ہیں ، جس طرح دین کا آغازہم سے ہوا ہے، ہمارے ذریعہ فتنوں کی گمراہ کرنے والے فتنوں سے نجات پائیں گے، جس طرح انہوں نے شرک کی گمراہی سے ہمارے وسیلہ سے نجات پائی ہے، ہمارے ذریعہ اللہ” تعالیٰ“ دین کے بارے ان کے دلوں میں الفت و وحدت ایجاد فرما دے گا،جب کہ دشمنی کے فتنوں میں سب گھر چکے ہوں گے، جس طرح دلوں کو دین کی محبت و الفت کی رسی میں جوڑ دیا۔

(حوالہ جات:المعجم الاوسط: ۱/۶۳۱ حدیث ۷۵۱ ، والبیان: ۵۲۱ باب ۱۱ وعقد الدرر: ۲۹۱ باب ۷ ومجمع الزوائد: ۷/۶۱۳ ۔ ۷۱۳ ومقدمة ابن خلدون: ۶۹۳ باب ۳۵ والفصول المہمة: ۸۸۲ مع اختلاف یسیر فصل ۲۱ وعرف السیوطی ، الحاوی : ۲/۷۱۲ وجمع الجوامع : ۲/۷۶ وصواعق ابن حجر: ۳۶۱ ، باب ۱۱ فصل ۱ ،کنزالعمال: ۴۱/۸۹۵ حدیث ۲۸۶۹۳ و برہان المتقی : ۱۹ باب ۲ حدیث ۷ و ۸ وفرائد فوائد الفکر: ۳ ،باب ۱ ونور الابصار: ۸۸۱)

۳ ۔ ابن حجر الحیثمی، المتوفی ۴۷۹ نے تحریر کیا ہے ابو الحسین الآبری نے کہا ہے اخبار اور روایات متواترہ موجود ہیں ، راویوں کی کثیر تعداد نے اس معنی کی روایات کو بیان کیا ہے کہ حضرت محمد مصطفی نے فرمایا ”مہدی( علیہ السلام ) بھی زمین کو عدالت وانصاف سے بھردیں گے اور حضرت عیسیٰ( علیہ السلام ) حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )کے ہمراہ خروج کریں گے اور دجال کے قتل میں حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کی مدد کریں گے اور دجال کا قتل ”باب لُد“ پر ہوگا جوکہ سرزمین فلسطین میں ہے اور مہدی( علیہ السلام ) ہی اس امت کی امامت کریں گے اور حضرت عیسیٰ( علیہ السلام ) حضرت امام مہدی( علیہ السلام )کے پیچھے نماز ادا کریں گے “۔ (الصواعق المحرقہ، ابن حجر: ۵۶۱ طبع مصر)

۴ ۔ الشیخ الصبان ( تاریخ وفات ۶۰۲۱ ھ) نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم سے متواتر روایات بیان ہوئی ہیں کہ” امام مہدی( علیہ السلام ) خروج کریں گے اور امام مہدی( علیہ السلام ) آپ علیہ السلام کے اہل بیت سے ہیں اور بلاشک و تردید مہدی( علیہ السلام ) ہی زمین کو عدالت اور انصاف سے بھر دیں گے، حضرت عیسیٰ( علیہ السلام ) دجال کے قتل کرنے میں حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کی مدد کریں گے اور دجال کاقتل فلسطین کی سرزمین پر مقام ”باب لُد“ میں ہوگا بتحقیق حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) ان کی امامت فرمائیں گے اور جناب عیسیٰ علیہ السلام آپ علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھیں گے“۔

(حوالہ : سعاف الراغبین الصبان ص ۰۴۱)

۵ ۔ ابو سعید کی روایت میں آیا ہے ”زمین ظلم و جور سے بھر جائے گی (ویران ہوگی) (حضور پاک فرماتے ہیں ) میری عترت سے ایک مرد خروج کرے گا جو اس زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا (آباد و خوشحال کردے گا)۔ (حوالہ: مستدرک الحاکم ج ۴ ص ۸۵۵)

حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام ) کی امامت فرمائیں گے

حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام ) حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )

کے پیچھے نماز ادا کریں گے

کتب صحاح اور غیر صحاح میں کثیر تعداد میں روایات حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کی جن کی شخصیت آپ علیہ السلام کے نسب ، نام، اوصاف کو بیان کر رہی ہیں ، اب سوال یہ ہے کہ کیا اتنی ساری گواہیوں کے بعد بھی کسی مسلمان کے لئے حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کے عقیدہ سے متعلق کسی اور دلیل کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟! ذات امام علیہ السلام کی اطاعت اور ہر قسمی انحرافات سے بچنے کا انتظام ان شواہد میں موجود ہے، تمام روایات اس بات کی بھی تصدیق کر رہی ہیں کہ نبی عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور حضرت امام مہدی علیہ السلام بن الحسن العسکری علیہ السلام کی امامت میں نماز ادا کریں گے، جیسا کہ شیعہ بارہ امامی کا عقیدہ ہے اہل سنت کی روایات میںبھی اسی بات کو بیان کیا گیا ہے چند روایات ملاحظہ ہوں ۔

۱ ۔ابن ابی شیبہ نے اپنی کتاب ”المصنف“ میں ابن سیرین سے روایت بیان کی ہے‘ ‘ مہدی( علیہ السلام ) اس امت سے ہیں اور وہی عیسیٰ علیہ السلام بن مریم (سلام اللہ علیہ ا) کے امام ہوں گے“۔

(حوالہ :المصنف/ابن ابی شیبہ ج ۵۱/۸۹۱/ حدیث ۵۹۴۹۱)

۲ ۔ حافظ ابونعیم نے عبداللہ بن عمر سے روایت بیان کی ہے ”مہدی علیہ السلام پر عیسیٰ علیہ السلام بن مریم علیہ السلام اتریں گے اور حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کے پیچھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز پڑھیں گے“۔

(الحاوی للفتاوی ،اسیوطی ۲/۸۷)

۳ ۔ یہ جوحدیث ہے کہ” ہم ہی سے وہ شخصیت ہیں جن کے پیچھے عیسیٰ علیہ السلام بن مریم علیہ السلام نماز پڑھیں گے“ اس حدیث کی شرح میں ”المنادی“ نے لکھا ہے، ہم سے مراد حضور پاک کی اہل بیت علیہ السلام ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ بن مریم علیہ السلام آسمان سے اتریں گے، یہ آخری زمانہ میں ہوگا آپ علیہ السلام صبح کی نماز کے وقت دمشق کی شرقی جانب”منارہ بیضاءپر اتریں گے، وہ اس وقت دیکھیں گے کہ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) نماز شروع کرنے والے ہیں ، حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) محسوس کر لیں گے کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام تشریف لے آئے ہیں ، حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) پیچھے ہٹیں گے تاکہ حضرت عیسیٰ( علیہ السلام ) آگے بڑھیں، لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام انہیں آگے کردیں گے اور حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کے پیچھے نماز پڑھیں گے اس امت کے واسطے اس شرف اور برتری سے بڑھ کر اور کون ساشرف ہو سکتا ہے ۔ (حوالہ فیض القدیر المناوی ۶/ ج ۶ ص ۷۱)

۴ ۔ ابن برہان شافعی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے متعلق اس طرح تحریر کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ( علیہ السلام ) کانزول صبح کی نماز کے وقت ہوگا، آپ حضرت مہدی ( علیہ السلام )کے پیچھے نماز پڑھیں گے، جب کہ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) ان سے یہ گذارش کریں گے کہ اے روح اللہ: آگے بڑھیں اور نماز پڑھائیں تو حضرت عیسیٰ( علیہ السلام ) عرض کریں گے، آپ علیہ السلام آگے بڑھیں یہ نماز آپ علیہ السلام کے لئے کھڑی ہوئی ہے.... آگے چل کر لکھتے ہیں بتحقیق حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) جناب عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ خروج کریں گے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کے قتل کرنے میں حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کی مدد کریں گے اور یہ روایت بیان ہو چکی ہے کہ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) عترت نبی سے ہیں اور وہ بھی جناب فاطمہ (سلام اللہ علیہ ا) کی اولاد سے ہیں ۔ (حوالہ: السیدة الحلبیہ ابن برہان الشافعی:ؒ ج ۱/۶۲۲ ۔ ۷۲۲)

۵ ۔ فتح الباری شرح بخاری میں اس طرح بیان ہوا ہے ”ابو الحسن الخسعی الآبدی نے مناقب الشافعی میںلکھاہے، روایات متواترہ موجود ہیں کہ امام مہدی( علیہ السلام ) اس امت سے ہیں اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام مہدی( علیہ السلام ) کے پیچھے نمازپڑھیں گے اور یہ بات انہوں نے اس حدیث کے جواب میں لکھی ہے جسے ابن ماجہ نے اس سے نقل کیا ہے کہ ”مہدی( علیہ السلام ) ‘ ‘ سوائے عیسیٰ( علیہ السلام ) کے کوئی اور نہیں ہیں ، اس کے بعد الطیبی کی اس بات کا بھی حوالہ بھی دیا ہے جس میں ہے کہ عیسیٰ ( علیہ السلام )تمہارا امام ہوگا، وہ آپ علیہ السلام کے دین میں ہوگا، اس نے اس بات کو رد کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام )امامت کروائیں گے وہ کہتا ہے.... جو مسلم کے نزدیک ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عیسی ( علیہ السلام )سے کہا جائے گا کہ تم ہمارے لئے نماز پڑھاو تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے نہیں ، میں نماز نہیں پڑھاتا! کیونکہ ان کے بعض جو ہیں وہ دوسرے بعض پرحاکم ہیں ، اس امت کی کرامت اور عزت کی خاطرایسا ہوگا.... اس کے بعد ابن الجوزی سے اس قول کو نقل کیا ہے! اگر عیسیٰ علیہ السلام امام کے عنوان سے آگے بڑھ جائیں تو درحقیقت ایک اشکال پیدا ہو جائے گاکیونکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آگے بڑھیں گے تو وہ نائب بن کر یا شرعی طور پر خود ہی امام ہوں گے، ظاہر ہے نائب تب ہوتا ہے جب اصل موجود نہ ہو، اور وہ خود امام ہوں تو یہ اسلامی مسلمات کے خلاف جاتا ہے.... یہی وجہ ہے کہ اس لئے آپ علیہ السلام ماموم بنیں گے تاکہ اشتباہ واقع نہ ہو اور حضورپاک کا جو فرمان ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اس حدیث پر کسی کو بھی اشکال نہ ہو۔ (حوالہ: فتح الباری شرح صحیح البخاری، ابن حجر العسقلانی ج ۶ ص ۳۸۳،۵۸۳)

۶ ۔ ابن ابی شیبہ نے ابن سیرین سے اس بات کو نقل کیاہے ”مہدی( علیہ السلام )“ اس امت سے ہیں اور آپ علیہ السلام ہی عیسیٰ علیہ السلام بن مریم(سلام اللہ علیہ ا) کی امامت کرائیں گے۔

(حوالہ المصنف بن ابی شیبہ ۵۱/۸۹۱ ،حدیث نمبر ۵۹۴۹۱)

حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کا پرچم

عصر ظہور میں ایک مسلمان کو گمراہی سے بچانے کے واسطے حضرت امام مہدی( علیہ السلام )کے پرچم کی تفصیلات اور آپ کا جو مخصوص شعار اور نعرہ ہوگا اسے بھی بیان کیا گیا ہے تاکہ اس پرچم کی نشانی سے حضرت امام مہدی( علیہ السلام )کے ظہور کے منتظرین ہدایت پائیں گے۔

عبداللہ بن شریک سے روایت ہے۔

”حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کے ساتھ رسول اللہ کا پرچم جو ”المغلبہ“ ہو گا (غالب آنے والا پرچم ) کاش کہ میں اس زمانہ کودرک کرو اور میں اس کی طرف بلا رہاہوں۔

(حوالہ: ابن حماد ص ۹۴۲ ،حدیث ۲۷۹ ، القول المختصرص ۰۰۱ ، باب نمبر ۳ ، برہان المتقی ص ۲۵۱ ،باب ۷ ج ۴۲ ،)

۲ ۔ ابو اسحاق نے نوف البکائی سے روایت نقل کی ہے

”مہدی( علیہ السلام ) کے پرچم پر یہ تحریر موجود ہوگی ”البعیة اللہ“....بیعت اللہ کے لئے ہے“

(حوالہ: ابن حماد، ۹۴۲ ،ج ۳۷۹ ، القول المختصر: ۱۰۱ باب ۳ ج ۶۳ ،برہان المتقی ۲۵۱ باب ۷ حدیث ۵۲ ، فرائدفوائدالفکر ۸ باب ۴ ینابیع المودة ۵۳۴ باب ۳۷)

حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) عطاءو بخشش خوشحالی کادور

حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) کی عطاءو بخشش

اس بات میں شک نہیں ہے عدالت اپنی تمام ترشکلوں کے ساتھ حضرت امام مہدی( علیہ السلام )کی قیادت میں مشخص ہوگی، آسمان اور زمین اپنی ساری برکتیں انڈیل دیں گے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعدہ جو دیاگیا وہ پورا ہوگا اور یہ وہی مثالی حکومت ہوگی جس کی سب کو انتظار تھی، اس میں انسان ہر لحاظ سے خوشحال ہوگا، امن ہوگا، ظلم ہوگانہ فساد و غربت ہوگی نہ افلاس، ان حقائق کو درج ذیل روایات میں ملاحظہ کریں ۔

درج ذیل روایات کچھ مزید حقائق کوبیان کررہی ہیں جو کہ اہل سنت کی کتب سے ماخوذ ہیں ۔

۱ ۔ ابو سعید الخدری نبی اکرم سے حدیث نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ”مہدی ( علیہ السلام ) کے زمانہ میں میری امت آسودہ حال ہوگی، اتنی خوشحالی کہ اس سے قبل اس طرح کی خوشحالی انہیں نصیب نہ ہوئی ہوگی، آسمان ان پر مسلسل نعمتیں بھیجے گا،زمین کسی بھی انگوری کو نہ چھوڑے گی، مگر یہ کہ اسے باہر نکال دے گی اور مال کے ڈھیر لگ جائیں گے، ایک آدمی کھڑا ہو کر سوال کرے گا یا مہدی( علیہ السلام ) مجھے دیں! تو مہدی( علیہ السلام ) اس سے کہیں گے جو چاہتے ہواٹھالو“۔(حوالہ جات: ابن حماد، ۳۵۲ حدیث ۲۹۹ ،البیان: ۵۴۱ باب ۳۲ ، عقد الورد: ۵۲۲ باب ۸ الفصول المہمہ ۸۲۲،۲۲ ،فصل ۲۱ ،نور الابصار: ۹۸۱ باب ۲)

۲ ۔ ابو سعید الخدری سے ہے، رسول اللہ نے فرمایا: ”میری امت میں مہدی( علیہ السلام ) ہوں گے، اگر تھوڑی مدت کے لئے تو سات سال ،وگرنہ نو، ان کے زمانہ میں میری امت اس قدر خوشحال اور آسودہ ہوگی کہ اس قسم کی خوشحالی اس سے پہلے نہ دیکھی ہوگی، زمین اپنی غذائیں اگل دے گی اور کچھ بھی ان سے روکے گی نہیں ، اس دور میں مال کے ڈھیر لگ جائیں گے پس ایک آدمی کھڑے ہو کر مہدی( علیہ السلام ) سے مانگے گا، مہدی( علیہ السلام ) اس سے کہیں گے جو چاہتے ہو لے لو‘ ‘

(حوالہ سنن ابن ماجہ ج ۲ ص ۶۶۳۱،۱۶۳۱ ، حدیث نمبر ۳۸ ۔ ۴ ، مستدرک الحاکم ج ۴ ، برہان المتقی ۱۸ ،باب ۱ ،ص ۲۸ باب ۱ حدیث ۶۲)

۳ ۔ ابو سعید الخدری نے رسول اللہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: کہ” بتحقیق

میری امت میں مہدی( علیہ السلام ) ہوں گے، وہ خروج کریں گے، وہ پانچ یاسات یانو سال زندگی کریں گے (بلاشک وتردید سالوں میں رواں کی طرف سے ہے) ابو سعید کہتا ہے ہم نے دریافت کیا، ان اعداد سے کیامرادہے ؟آپ نے فرمایا ”اس سے سال مراد ہیں ، مہدی( علیہ السلام ) کے پاس آدمی آئے گا اور وہ کہے گا اے مہدی( علیہ السلام ) مجھے عطاءکرو، مجھے عطاءکر دو آپ نے فرمایا: اس شخص کے واسطے کپڑا بچھا دیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گاجو چاہتے ہو تم لے لو“۔

(حوالہ جات :سنن الترمذی: ۴/۹۳۴ باب ۳۵ حدیث ۲۳۲۲ و البیان: ۷۰۱ باب ۶ والعلل المتناہیة: ۲/۸۵۸ حدیث ۰۴۴۱ ومشکاة المصابیح: ۳/۴۲ فصل ۲ حدیث ۵۵۴۵ ومقدمة ابن خلدون: ۳۹۳ فصل ۳۵ وعرف السیوطی ، الحاوی : ۲/۵۱۲ وصواعق ابن حجر: ۴۶۱ باب ۱۱ فصل ۱ وکنزالعمال: ۴۱/۲۶۲ حدیث ۴۵۶۸۳ ومرقاة المفاتیح: ۹/۲۵۳ ومشارق الانوار: ۴۱۱ فصل ۲ وتحفة الاحوذی : ۶/۴۰۴ حدیث ۳۳۳۲ والتاج الجامع للاصول: ۵/۲۴۳۳۴۳)

۴ ۔جابر بن عبداللہ انصاری نے رسول اللہ سے حدیث نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا”آخری زمانہ میں خلیفہ ہوگا اس کے پاس ڈھیروں مال آئے گا کہ اسے شمار نہیں کیا جا سکے گا“۔

(حوالہ: مصابیح السنہ ج ۳ ص ۸۸۴ ، حدیث ۹۹۱۴ ، مصنف عبدالرزاق ج ۱۱ ص ۱۷۲ حدیث ۰۷۷۰۲ باب المہدی علیہ السلام اسے الکافی کی ج ۱ ص ۶۶۲ سے لیاہے)

۵ ۔ مسلم نے اپنی صحیح میں جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ”آخری زمانہ میں خلیفہ ہوگا وہ مال کی تقسیم کرے گا اور مال کو شمار تک نہ کرے گا“

(صحیح مسلم بشرح النووی ج ۸۱ ص ۹۳)

حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) کے معجزات اور کرامات

جب یہ طے ہے کہ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) آئمہ معصومین علیہ السلام سے ہی ایک جیسا کہ شیعہ بارہ امامی کاعقیدہ ہے، تو ضروری ہے کہ اس امام کےلئے بھی اللہ تعالیٰ کی خصوصی ،ہوںہرقسمی علم کے مالک ہو، معجزہ دکھانے پر قادر ہوں تاکہ ضرورت پڑنے پر اپنی خلافت اور امامت پردلیل پیش کر سکیں اور خودکو نمائندہ الٰہی ثابت کرنے میں صاحب معجزہ ہوں، جب کہ آپ کے آباءواجداد کے ہاتھوں بوقت ضرورت اسی قسم کے معجزات اور خارق عادت قانون عمومی واقعات ظاہر ہوئے تھے اس حقیقت کی طرف درج ذیل روایات راہنمائی کرتی ہیں ۔

۱ ۔حضرت علی علیہ السلام بن ابی طالب علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپنے فرمایا کہ ”حضرت امام مہدی علیہ السلام پرندے کو اشارہ کریں گے وہ آپ علیہ السلام کے ہاتھ پر آجائے گا،آپ علیہ السلام زمین کے ٹکڑے پر ایک خشک ٹہنی لگائیں گے تو وہ فوراً سرسبز ہو جائے گی ، اس کے پتے نکل آئیں گے“۔ (برہان المتقی ج ۶۷ حدیث ۴۱)

۲ ۔حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب ( علیہ السلام )سے روایت ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”تین پرچم باہمی اختلاف کریں گے“۔

۱ ۔مغرب میں ایک پرچم۔ ۲ ۔ایک پرچم جزیرة میں ۔ ۳ ۔ایک پرچم شام میں،

ایک سال تک ان کے درمیان جنگ و فتنہ رہے گا۔پھر آپ علیہ السلام نے سفیانی کا خروج اور اس کے مظالم کو بیان کیا، اسکے بعد آپ علیہ السلام نے حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کے خروج رکن اور مقام کے درمیان لوگوں کا آپ علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کرنا اور دیگر امور کو بیان کیا ہے، اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”لشکر لے کر نکلیں گے، وادی القریٰ سے امن و سکون اور آرام سے چلیں گے، اسی حال میں ان کے ابن عم بارہ ہزار کا لشکر لے کر فارس سے انکے ساتھ آ ملے گا (وہ حسنی ہوں گے) وہ آکر کہیں گے اے ابن عم میں زیادہ حق رکھتا ہوں، آپ اس لشکر کی کمان مجھے دے دیں، میں ابن الحسن ہوں، اور میں ہی مہدی ہوں حضرت مہدی ان کے جواب میں کہیں گے کہ نہیں !میں مہدی( علیہ السلام ) ہوں، بس حسنی سید انکے جواب میں کہیں گے تو کیا آپکے پاس کوئی دلیل و نشانی اس دعویٰ پر ہے تاکہ میں آپ کی بیعت کرلوں پس مہدی( علیہ السلام ) پرندے کی طرف اشارہ کردیں گے، وہ آپ علیہ السلام کے ہاتھ پر آجائے گا خشک ٹہنی زمین میں گاڑھیں گے وہ سرسبز درخت ہو جائے گی، یہ دیکھ کر حسنی کہے گا کہ یابن العم یہ امامت و خلافت آپ کے لئے ہے “۔ (البرھان المتقی ج ۶۷ باب ۱ حدیث ۵۱)

سابقہ بیانات کا خلاصہ اور نتیجہ

سابقہ ابحاث سے یہ نتائج حاصل ہوتے ہیں ۔

۱ ۔ ایک عالمی مصلح کا خروج حتمی اور یقینی ہے اور یہ بات فقط آسمانی ادیان کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ غیر دینی، فکری اور فلسفی مکاتب میں بھی یہ نظریہ موجود ہے۔

۲ ۔ یہودیوں اورمسیحی عہدوں کی کتب میں اس مصلح کی فقط بشارت ہی نہیں بلکہ بیان آیا ہے کہ وہ مصلح مہدی( علیہ السلام ) ہوں گے اور اسکا تعلق آخری پیغمبر کی اولاد سے ہے اور وہ جناب فاطمہ علیہ السلام بنت رسول اللہ کی نسل سے ہوں گے۔

۳ ۔ اسلامی مذاہب کے علماءنے اپنے مسلکی اختلافات کے باوجود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) کی ولادت ہوچکی ہے اور وہ ۰۶۲ ھ سے لے کر آج تک اس قسم کے اعتراضات کا سلسلہ جاری ہے۔

۴ ۔مسلمانوں کی بنیادی کتب میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے جو روایات موجود ہیں اس سب سے یقین حاصل ہو جاتا ہے کہ حضرت رسول اکرم سے تواتر کےساتھ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کا نظریہ ثابت ہے، اس میں ذرا برابر شک کی گنجائش نہیں ہے۔

اہل سنت کی کتابوں میں اس بات کا تواتر اجمالی طور پر ثات ہے۔(حوالہ ابزاز الوھم المکنون ص ۷۳۴)

اور کثیر تعداد میں محدثین نے اسے نقل کیا ہے۔

استاد محمد علی دخیل نے اپنی کتاب ”الامام المہدی ( علیہ السلام )“کے ص ۹۵۲ ، ۵۶۳ میں اہل سنت کی تیس کتابوں سے اس تواتر کو نقل کیا ہے ۔

۵ ۔ جن مشہور علماءاہل سنت نے حضرت امام مہدی( علیہ السلام )سے متعلق احادیث کے صحیح ہونے کی تصدیق کی ہے ان میں سے چند مشاہدے درج ذیل ہیں ۔

الترمذی، المتوفی ۷۹۲ ھ: سنن الترمذی ج ۴

حافظ ابوجعفر العقیلی، المتوفی ۲۲۳ ھ: الضعفاءالکبیر ج ۳

الحاکم نیشاپوری، المتوفی ۵ ۔ ۴: مستدرک الحاکم ج ۴

الامام البیہقی، المتوفی ۸۵۴ ھ: الاعتقاد والہدایة الی سبیل الرشاد ص ۷۲۱

الامام البضوی، المتوفی ۰۱۵: مصابیح السنة ص ۲۹۴،۳۹۴

ابن الاثیر، المتوفی ۶۰۶ ھ : النہایة فی غریب الحدیث والاثر ج ۵

القرطبی المالکی، المتوفی ۱۷۶ ھ: التذکرة باب ماجاءفی المہدی

ابن تیمیہ، المتوفی ۸۲۷ ھ: منہاج السنہ ج ۴ ص ۱۱۲

الحافظ الذہبی، المتوفی ۸۴۷: تلخیص المستدرک ج ۴

الکنجی الشافعی، المتوفی ۸۵۶ ھ: البیان فی اخبار صاحب الزمان ص ۰۵

الحافظ ابن القیم، المتوفی ۱۵۷ ھ: المنار المنیف، متعدد صفحات پر

۶ ۔ علماءاہل سنت کی ایک بڑی جماعت نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے واردہ احادیث کے متواتر ہونے کو بیان کیاہے، ان علماءمیں سے چند کے نام حسب ذیل ہیں ۔

البربہاری، المتوفی ۹۲۳ ھ: الاحتجاج بالاثر علی من انکر المہدی علیہ السلام

محمد بن الحسن الابری الشافعی، المتوفی ۳۶۳ ھ: اسے القرطبی مالکی نے نقل کیاہے:

التذکرة ج ۱: المزنی فی تہذیب الکمال ج ۵۲ ۔

الحافظ المتفق جمال الدین المزنی، المتوفی ۲۴۷ ھ: المزنی فی تہذیت الکمال،

ابن القیم، المتوفی ۱۵۷ ھ: التذکرہ ج ۱

ابن الحجر العسقلانی، المتوفی ۲۵۷ ھ: المنار اطنیف ۵۳۱

مزید برآں جو بات حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے احادیث کے تواتر کو تقویت دیتی ہے وہ احادیثیںجو آپ کے نسب کابیان، آپ علیہ السلام کانام، آپ علیہ السلام کے القاب، آپ علیہ السلام کے شمائل، آپ علیہ السلام کے اوصاف، آپ علیہ السلام کے ماں وباپ کا نام ہے۔

۷ ۔جو احادیث مطلق اور عام طور پر حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ذکر کرتی ہیں ، انہیں دیگر احادیث کو سامنے رکھ کر حضرت امام مہدی علیہ السلام کی بعینہ شخصیت کا تعارف آسانی سے ہوسکتا ہے جیسے

الف: مہدی( علیہ السلام ) اولاد عبدالمطلب ( علیہ السلام )سے

ب: مہدی( علیہ السلام ) ابو طالب( علیہ السلام )بن عبدالمطلب( علیہ السلام )کی اولاد سے

ج: مہدی( علیہ السلام ) اہل بیت( علیہ م السلام ) سے

د: مہدی ( علیہ السلام ) رسول اللہ کی اولاد سے

ھ: مہدی( علیہ السلام ) فاطمة الزہرائ(سلام اللہ علیہ ا) بنت رسول اللہ کی اولاد سے

د: مہدی( علیہ السلام ) حسین ( علیہ السلام ) بن فاطمہ(سلام اللہ علیہ ا) کی اولاد سے

ز: مہدی( علیہ السلام ) امام جعفر صادق علیہ السلام بن محمد بن علی بن الحسین علیہ السلام بن فاطمہ علیہ السلام کی اولاد سے

ح: مہدی( علیہ السلام )امام علی رض علیہ السلام بن موسیٰ علیہ السلام بن جعفرصادق( علیہ السلام ) کی اولاد سے

۸ ۔یہ بات بھی ثابت ہے کہ مہدی( علیہ السلام )اللہ کے خلیفہ ہیں ، خاتم الائمہ علیہ السلام ہیں ، حضرت عیسیٰ( علیہ السلام ) آپ علیہ السلام کے پیچھے نمازپڑھیں گے۔یہ سب احادیث امام مہدی( علیہ السلام ) کو معین و مشخص کررہی ہیں ،یہ مہدی علیہ السلام موعود امام خلائق ہوں گے، زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، رسول اللہ کے بارہویں جانشین ہوں گے، امام معصوم علیہ السلام ہوں گے اور محمد بن الحسن العسکری علیہ السلام بن علی الہادی علیہ السلام بن محمد النقی علیہ السلام بن علی الرضا علیہ السلام بن موسیٰ الکاظم علیہ السلام بن جعفر الصادق علیہ السلام بن محمد الباقر علیہ السلام بن علی زین العابدین علیہ السلام بن حسین علیہ السلام بن فاطمہ علیہ السلام ( بنت رسول اللہ بن عبداللہ علیہ السلام بن عبدالمطلب علیہ السلام ، حسین علیہ السلام بن علی علیہ السلام بن ابی طالب علیہ السلام بن عبدالمطلب علیہ السلام ) ہیں ۔

۹ ۔ یہ بھی واضح ہوگیا کہ امام مہدی( علیہ السلام ) پندرہ شعبان ۵۵۲ ھ ق سامرا میں پیدا ہوئے اور اسی میں زندہ ہیں ، اسی زمین پر موجود ہیں ، ان کی انتظار کی جاری ہے، ان کے ذریعہ اللہ اپنی زمین پر اپنے نظام کا مکمل نفاذ کرے گا۔

۰۱ ۔ احادیث میں حضرت امام مہدی( علیہ السلام )کی بدنی خصوصیات تک کو بیان کر دینے کا مطلب یہ ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی شخصی کسی پر مشتبہ نہ ہواور مفاد پرست ٹولہ اپنی شخصی اور ذاتی اغراض کے تحت اس عنوان سے غلط فائدہ نہ اٹھائیں۔


حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے متعلق چالیس منتخب احادیث

۱ ۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) کادرخشاں چہرہ

حضرت پیغمبراکرم نے فرمایا

اَلمَهدِیُّ مِن وُلدی وَجهُهُ کَالقَمَرِالدُّرّیَّ....

(بحارالانوار،ج ۱۵ ،ص ۵۸ اکشف الغمة)

ترجمہ:”مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف )میری اولادسے ہیں ان کاچہرہ چودہویں رات کے چاندکے مانند(دمکتا،روشن،چمکتا)ہوگا“۔

۲ ۔ شہرقم اورناصران حضرت امام مہدی( علیہ السلام )

حضرت امام جعفرصادق نے ( علیہ السلام )فرمایا

اِنَّمٰاسُمَّیَ قُم لِاَنَّ اَهلَهٰایَجتجِعُونَ مَعَ قٰائِمِ المُحَمَّدٍوَیَقُومُونَ مَعَهُ وَیَستقیمُونَ عَلَیهِ وَیَن صُرُونَهُ

(سفینة البحار،ج ۲ ،ص ۶۳۳)

”شہرقم (لفظی ترجمہ کھڑاہوجا،قیام کر)نام اس لئے رکھاگیاکہ قم میں رہنے والے قائم آل محمد( علیہ م السلام وعجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف )کے گرداکھٹے ہوں گے اوران کے ہمراہ قیام کریں گے اوراس راستہ میں استقامت دیکھائیں گے اور ان کی مددکریں گے“۔

۳ ۔ ناصران حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اورخواتین

مفضل نے حضرت امام جعفرصادق ( علیہ السلام )سے نقل کیاہے کہ

آپ علیہ السلام نے فرمایا

یَکُونُ القٰائِمِ ثَلٰاثَ عَشرَ ةَ اِمرَاَةً

(اثبات الھداة باترجمہ،شیخ حرعاملی،ج ۷ ،ص ۰۵۱)

”حضرت قائم( علیہ السلام ) کے ہمراہ(آپ کے ظہورکے وقت)تیرہ خواتین ہوں گی“۔

مفضل: مولاسے سوال کرتے ہیں آپ ان خواتین سے کیاکام لیں گے؟

یُدٰاوینَ الجر حیٰ وَیُقِمنَ عَلَی المَر ضیٰ کَمٰاکٰانَ مَعَ رَسُولِ الله ِ

امام علیہ السلام : یہ خواتین زخمیوں کاعلاج کریں گی اوربیماروں کی تیمارداری ان کے ذمہ ہوگی جیساکہ پیغمبراکرم کے ہمراہ ایسی خواتین (جنگوں میں )موجودہوتی ہیں ۔

۴ ۔ خوش قسمت لوگ

پیغمبراکرم نے فرمایا

طُوبیٰ لِمَن اَد رَکَ قٰائِمَ اَهلبَیتی وَهُوَمُقتَدٍبِهِ قَبلَ قیامِهِ،یَتَوَلّیٰ وَلِیَّهُ وَیَتَبَرَّ مِن عَدُوَّهِ وَیَتَوَلیَّ الاَئِمَّةَ الهٰادِیَةَ مِن قَب لِهِ،اُولٰئِکَ رُفَقٰائی وَذَوُووُدّی وَمَوَدَّتی وَاَکرَمُ اُمَّتی عَلَیَّ

(بحارالانور،ج ۲۵ ،ص ۹۲۱ غیبت طوسی)

”خوش قسمت ہیں وہ لوگ جومیرے اہل بیت علیہ السلام سے قائم( علیہ السلام ) کے زمانہ کوپائیں گے اور ان کے قیام سے پہلے وہ لوگ ان کی اقتداءاورپیروی کرتے ہوں گے اوران کے دوست سے محبت رکھتے ہوں گے ،ان کے دشمن سے دشمنی رکھتے ہوں گے،اوران سے قبل جتنی آئمہ ہدیٰ ( علیہ السلام )گزرچکے ہیں ان سب سے ولایت رکھتے ہوں گے وہی لوگ تومیرے رفقاءہیں ان ہی سے میری مودت ہے اورمیرے محبت بھی ان ہی کے واسطے ہے اور میری امت سے وہی لوگ میرے پاس مکرم وعزت دار ہیں “۔

۵ ۔ غیبت امام زمانہ علیہ السلام ( علیہ السلام )اورہلاکت سے بچنے کانسخہ

حضرت امام حسن عسکری( علیہ السلام ) فرماتے ہیں کہ

....وَالله ِلَیَغیبَنَّ غَیبَهً لٰایَن جُوفیهٰامِن الهَلَکَةِ اِلاّٰ مَن ثَبَّتَ الله ُعَزَّوَجَلَّ عَلَی القَولِ بِاِمٰامَتِه ِ وَوَ فَّقَهُ(فیهٰا)لِلدُّعٰائِ بِتَعجیلِ فَرَجِهِ

(کمال الدین ج ۲ ،ص ۴۸۳)

”خداکی قسم وہ (بارہویں امام علیہ السلام )ہرصورت میں غیبت اختیارکریں گے اوران کی غیبت کے زمانہ میں ہلاکت اورتباہی سے کوئی بھی نہیں بچ سکے گامگروہ لوگ بچیں گے

۱ ۔ جنہیں اللہ تعالیٰ ان کی امامت ورہبری پرثابت قدم رکھے گا۔

۲ ۔ اورخداونداسے یہ توفیق دے کہ وہ ان کی فرج(کشادگی،فتح وکامرانی ،ان کی عالمی عادلانہ الٰہی وقرآنی حکومت)میں جلدی کے لئے دعاءکرنے والے ہوں “۔

۶ ۔ حضرت قائم( علیہ السلام ) کی خصوصیت

حضرت امام محمدتقی جواد( علیہ السلام ) فرماتے ہیں

....اَنَّ القٰائِمَ مِنّٰاهُوَ المَهدِیُّ الَّذی یَجِبُ اَن یُنتَظَرَ فی غَیبَبِهِ وَیُطٰاعَ فی ظُهُورِهِ وَهُوَ الثّٰالِثُ مِن وُلدی

(کمال الدین ج ۲ ،ص ۷۷۳)

”بے شک ہم سے قائم وہی ہیں جومہدی ہیں ،جن کی غیبت کے زمانہ میں انتظارکرنافرض ہے ،اورجب وہ ظہورفرمائیں گے تواس وقت ان کی اطاعت کرنافرض ہے،اوروہ میری اولاد سے تیسرے (یعنی علی النقی( علیہ السلام ) کے بعدحسن العسکری( علیہ السلام ) اور ان کے بعدتیسرے نمبرپر مہدی( علیہ السلام ) )ہوں گے“

۷ ۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام )کے اہم کام

حضرت امیر المومنین ( علیہ السلام )فرماتے ہیں کہ

یَعطِف الهَویٰ عَلَ الهُدیٰ اِذٰاعَطَفُواالهُدیٰ عَلَی الهَویٰ وَیَعطِفُ الرَّایَ عَلَی القُرآنِ اِذٰاعَطَفُواالقُرآنَ عَلَی الرَّایِ،

(بحارالانوار،ج ۱۵ ،ص ۰۳۱ نہج البلاغہ)

”جس وقت حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) تشریف لائیں گے توآپ علیہ السلام ہواوہوس پرستی کوخداپرستی میں تبدیل کردیں گے،تمام افکاراورنظریات کوقرآنی سوچ وفکرونظرکے مطابق ڈھال دیں گے جب لوگوں نے قرآن کواپنے افکاراورآراءکے مطابق قراردے دیا ہوگا“

۸ ۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )کی غیبت اورمومنین

حضرت امام جعفرصادق ( علیہ السلام )فرماتے ہیں

....وَالله ِلَیَغیبَنَّ اِمٰامُکُم سِنینُ مِنَ الدَّهرِ....وَلَتَفیضَنَّ عَلَیه ِاَعیُنُ المُومِنیٰنَ....

(بحارالانوارج ۱۵ ،ص ۷۴۱ غیبت نعمانی )

”خداکی قسم تمہاراامام علیہ السلام ضروربالضرورغائب ہوں گے اوربہت ہی طولانی سال اورلمبے عرصہ تک وہ غائب رہیں گے اورمومنین کی آنکھیں ان کے دیدارکے لئے ترسیں گی اور اشک بار ہوں گی“۔

۹ ۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اورآپ کاگھر

حضرت امام جعفرصادق ( علیہ السلام )فرماتے ہیں کہ

اِنَّ لِصٰاحِبِ الاَمرِ بَیتاً یُقٰاللَهُ:(بَیتُ الحَمدِ)فیه ِسِرٰاجُُ یَزهَرُمُنذُیَومٍ وُلِدَاِلیٰ یَومُ بِالسَّیفِ لٰایُطفیٰ

(بحارالانوارج ۲۵ ،ص ۸۵۱ غیبت نعمانی )

”حضرت صاحب الامرکے لئے ایک گھرہے جسے ”بیت حمد“کہاجاتاہے اور جس دن سے وہ متولدہوئے ہیں اس دن سے لے کرآپ کے ظہورکے وقت تک وہ چراغ روشن رہے گااور یہ روشنی آپ علیہ السلام کے مسلح قیام کے دورتک رہے گی اورکبھی بھی یہ روشنی ختم نہ ہوگی “۔

۰۱ ۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کازمانہ اورآپ علیہ السلام کے دورمیں رہنے والے لوگ

حضرت امام سجاد( علیہ السلام )نے فرمایا

اِنَّ اَهُلَ زَمٰانِ غَیبَتِهِ القٰائِلُونَ بِاِمٰامَتِهِ المُنتَظِرُونَ لِظُهُورِهِ اَفضَلُ اَهلِ کُلَّ زَمٰانٍ لِاَنَّ الله َتَعٰالیٰ ذِکرُهُ اَعطٰاهُم مِنَ العُقُولِ وَالافهٰامِ وَالمَعرِ فَةِ مٰاصٰارَت بِه الغَیبَتُ عِندهم بِمَنزِلَةِ المُشٰاهَدَة

(بحارالانوار ج ۲۵ ،ص ۲۲۱ احتجاج )

”بلاشک آپ(حضرت امام مہدی( علیہ السلام ))کے زمانہ میں رہنے والے لوگ جوآپ علیہ السلام کی امامت کے قائل ہوں گے(آپ کی غیبت میں)آپ کے ظہورکے منتظرہوں گے ایسے لوگ ہرزمانہ کے لوگوں سے افضل اوربرترہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کوایسے بلندعقلیں عطاءکی ہوں گی اوران کے افکاراورسوچیں اتنی بلندہوں گی اوروہ معرفت کے ایسے اعلیٰ معیارپرہوں گے کہ ان کے نزدیک آپ علیہ السلام کی غیبت ایسے ہوگی جیسے آپ علیہ السلام حاضر اورموجودہوں ،یعنی ان کااپنے غائب امام علیہ السلام پرایساپختہ عقیدہ ہوگاجس طرح زندہ امام علیہ السلام پریقین ہوتاہے“۔

۱۱ ۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) پرسلام بھیجنا

حضرت امام جعفرصادق( علیہ السلام ) سے ایک شخص نے دریافت کیاکہ حضرت قائم( علیہ السلام ) پرسلام کن الفاظ کے ساتھ بھیجیں؟توحضرت علیہ السلام نے جواب دیااس طرح کہاکرو

السلام عَلَیکَ یَابَقِیَّةَ الله ِاے اللہ کے بقیہ آپ علیہ السلام پرسلام ہو“

۱۲۔ حضرت قائم ( علیہ السلام )کاقیام اورفکری ارتقاء

حضرت امام محمدباقر( علیہ السلام ) فرماتے ہیں کہ

اَذٰاقٰامَ قٰائِمُنٰاوَضَعَ یَدَهُ عَلیٰ رُﺅ ُسِ العِبٰادِ فَجَمَعَ بِهِ عُقُولَهُم وَاَکمَلَ بِهِ اَخلٰاقَهُم

(بحارالانوارج ۲۵ ،ص ۶۳۳ خرایج راوندی)

”جس وقت ہمارے قائم( علیہ السلام ) قیام کریں گے توآپ علیہ السلام بندگان کے سروں پراپنافیضان رحمت ہاتھ رکھ دیں گے جس وجہ سے ان کے عقول مجتمع ہوجائیں گے اوران کے اخلاق کامل ہوجائیں گے یعنی فکری اورعملی ارتقائی منازل حضرت علیہ السلام کے بابرکت وجودسے حاصل ہوجائے گا“۔

۱۳۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اورپرچم توحید

حضرت امام جعفرصادق ( علیہ السلام )فرماتے ہیں کہ

اِذَقٰامَ القٰائِمُ لٰایَبقیٰ اَرض اِلّٰانُودِیَ فیهٰا شَهٰادَةُ اَن لٰااِلٰهَ اِلاَّ الله ُوَاَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ الله ِ

(بحارالانوارج ۲۵ ،ص ۰۴۳ تفسیرعیاشی)

”جس وقت حضرت قائم ( علیہ السلام )قیام کریں گے تواس وقت ساری زمین میں کوئی بھی ایسی جگہ نہ بچے گی مگریہ کہ اس حصہ میں لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ کی صداگونجے گی“۔

۱۴۔ حضرت امام جعفر صادق( علیہ السلام ) نے فرمایا

....فَعِندهٰافَتَوَقَّعُواالفَرَ جَ صَبٰاحاً وَمَسٰا ً

(اصول کافی،ج ۱ ،ص ۳۳۳)

”پس جس وقت (حضرت مہدی( علیہ السلام ))کی غیبت کازمانہ ہوتوصبح شام فرج (کشادگی ،فتح ونصرت وآل محمد کی حکومت )کی امیدرکھنااوراس بات کے ہرآن منتظر رہنا“۔

۱۵۔ حضرت امام علیہ السلام کی توصیف برزبان پیغمبراکرم

پیغمبراکرم نے فرمایاکہ

اَلمَهدِیُّ طٰاوُوسُ اَهلِ الجَنَّةِ

(بحارالانوار،ج ۱۵ ،ص ۵۰۱ طرائف )

”مہدی (عج)....والوں کے لئے طاووس ہیں “۔

۱۶ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اورآپ کے شیعوں کی خوشحالی

حضرت امام سجاد( علیہ السلام )نے فرمایاکہ

اِذَاقٰامَ قٰائِمُنٰااَذهَبَ الله ُعَزَّوَجَلَّ عَن شیعَتِنَاالعٰامَةَ وَجَعَلَ قُلُوبَهُم کَزُبُرِالحَدیدِوَجَعَلَ قُوَّ ةَ الرَّجُلِ مِنهُم قُوَّةَ اَربَعینَ رَجُلاً وَیَکُونُونَ حُکّٰامَ الاَرضِ وَسَنٰامَهٰا

(بحارالانوارج ۲۵ ،ص ۶۱۳ خصال)

”جس وقت ہمارے قائم( علیہ السلام ) قیام کریں گے تواللہ تعالیٰ ہمارے شیعوں کی تمام پریشانیاں دورفرما دے گااوران کے دلوں کوفولادی ٹکڑے بنادے گااوران کے ایک مردکی طاقت چالیس مردوں کے برابربنادے گااورہمارے شیعہ پورے زمینوں کے حکمران ہوں گے اور وہی توتمام اقوام وقبائل کے سردارہوں گے“۔

۱۷۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اورعلمی انقلاب

حضرت امام جعفرصادق( علیہ السلام ) نے فرمایاکہ

اَلعِلمُ سَبعَةُوَعِشرُونَ حَر فاًفَجََمیعُ مٰاجٰاءت بِهِ الرُّسُلُ حَرفٰانِ فَلَم یَعرِ فِ النّٰاسُ حَتَّی الیَو مِ غَیرَ الحَر فَینِ فَاِذٰاقٰامَ قٰائِمُنٰااَخرَج الخَمسَةَ وَالعِشرینَ حَر فاًفَیَثَّهٰافِی النَّاسِ وَضَمَّ اِلَیهَاالحَرفَیُنِ حَتّیٰ یَبُثَّهٰاسَبعَةَ وَعِشرینَ حَرفاً

(بحارالانوارج ۲۵ ،ص ۶۳۳ خرایج راوندی)

”علم ستائیس حروف ہے تمام رسول جس مقدارمیں علوم لے کرآئے وہ سب دوحرف ہیں جب سے انسان ہے آج تک اس نے جتنی علمی ترقی کی ہے وہ دوحرفوں ہی کے گردگھومتی ہے اورجس وقت ہمارے قائم( علیہ السلام ) قیام کریں گے توآپ علیہ السلام علم کے بانی پچیس حروف کوبھی منظرعام پرلے آئیں گے اوران سب کولوگوں میں عام کردیں گے دوحروف کے ہمراہ پچیس حرف مل کر ایک بہت بڑاعلمی انقلاب بپاہوجائے گا(جس کاکسی کوتصورتک نہ ہے)“۔

۱۸۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اورعدالت کانفاذ

حضرت امام محمدباقر( علیہ السلام ) فرماتے ہیں کہ

اَذَاقٰامَ قٰائِمُ اَهلِ البَیتِ قَسَّمَ بِالسَّوِیَّةِ وَعَدَلَ فِی الرَّعِیَّةِ فَمَن اَطٰاعَهُ فَقَداَطٰاعَ الله َوَمَن عَصٰاهُ فَقَد عَصَی الله َوَاِنَّمٰاسُمَّیَ المَهدِیَّ لِانَّهُ یَهدی اِلیٰ اَمرٍخَفِیًّ

(بحارالانوارج ۲۵ ،ص ۰۵۳ غیبت نعمانی)

”جس وقت اہل البیت ( علیہ السلام )کے قائم( علیہ السلام ) قیام فرمائیں گے توآپ علیہ السلام تمام اموال کو برابری کی بنیادپرتقسیم کریں گے اوررعیعت (عوام)میں عدالت کانفاذکریں گے بس جس کسی نے ان کی اطاعت کی تواس نے اللہ کی اطاعت کی اورجس نے ان کی نافرمانی کی تواس نے اللہ کی نافرمانی کی آپ علیہ السلام کانام مہدی( علیہ السلام ) اس لئے رکھاگیاہے کہ آپ علیہ السلام پوشیدہ امر کی راہنمائی فرمائیں گے“۔

۱۹۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) سے محبت کااظہار

حضرت امام محمدباقر( علیہ السلام )فرماتے ہیں کہ

....بِاَبی وَاُمّیِ اَلمُسَمّیٰ بِاسمیِ وَالمُکَنّیِ بِکُنیَتیِ اَلسّٰابعُ مِن بَعدیِ....

(بحارالانوارج ۲۵ ،ص ۹۳۱ غیبت نعمانی)

”میرے ماں باپ اس ہستی پرقربان ہوجائیں کہ جس کانام میرے نام کی مانندہے، اور اس کی کنیت بھی میرے والی ہے اور میرے بعدوہ ساتویں نمبرپرہیں “۔

۲۰۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کی ملاقات کاشرف

حضرت پیغمبراکرم نے فرمایاکہ

طُوبیِ لِمَن لَقِیَهُ وَطُوبیٰ لِمَن اَحَبَّهُ وَطُوبیٰ لِمَن قٰالبِهِ

(بحارالانوارج ۲۵ ،ص ۹۰۳ ،عیون اخبارالرضا ۷)

”بہت ہی خوش قسمت ہوگاوہ شخص جواس سے (مہدی( علیہ السلام ) سے )ملاقات کرے گا،اور سعادت ہے اس کے واسطے جوان سے محبت کرے گااورخوش قسمت ہے وہ شخص جو ان کی امامت کاقائل ہوگا“۔

۲۱۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اور قیامت

حضرت پیغمبراکرم نے فرمایاکہ

لٰاتَقُومُ السّٰاعَةُ حَتّیٰ یَقُومَ القٰائِم الحَقُّ مِنّٰاوَذٰلِکَ حیِنَ یَاذَنُ الله ُعَزَّوَجَلَّ لَهُ وَمَنتبِعَهُنَجیٰ وَمَنتخَلَّفَ عَنهُهلَکَ

(بحارالانوارج ۱۵ ،ص ۲۵ ،عیون اخبارالرضا ۷)

”قیامت نہیں ہوگی مگریہ کہ حق کولے کرآنے والے قائم قیام کریں اور وہ قائم( علیہ السلام ) ہم سے ہوں گے اور ان کاقیام اس وقت ہوگاجب اللہ تعالیٰ اسے اذن اوراجازت فرمائے گاجس کسی نے ان کی پیروی کی وہ نجات پاگیااورجوان سے پیچھے رہ گیااوراس نے ان کاساتھ نہ دیا تووہ شخص ہلاک ہوگیا“۔

۲۲ ۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اور مومنین کے آپس میں تعلقات

حضرت امام محمدباقر( علیہ السلام ) فرماتے ہیں کہ

اِذٰاقٰامَ القٰائِمُ جٰاءتِ المُزٰامَلَةُ (المُزٰایَلَةُ)وَیَاتی الرَّجُلُ اِلیٰ کیٰسِ اَخیهِ فَیَا خُذُحٰاجَتَهُ لٰا یَمنَعُهُ

(بحارالانوار،ج ۲۵ ،ص ۲۷۳ ،اختصاص)

”جس وقت حضرت قائم قیام کریں گے تواس وقت حقیقی برادری اور دوستی لوگوں کے درمیان قائم ہوجائے گی اوریہ پیارومحبت کی باہمی فضاءاس قدرہوگی کہ ایک آدمی اپنے بھائی کی جیب میں ہاتھ ڈال کراپنی ضرورت اورحاجت کے لئے رقم نکال لے گااور وہ اسے نہیں روکے گا“۔

۲۳۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اور آسمان وزمین کی برکات

حضرت امیرالمومنین( علیہ السلام ) فرماتے ہیں کہ

لَو قَقٰامَ قٰاءمُنٰا لَا َنزَلَتِ السَّمٰائُ قَطرَهٰاوَلَاَخرَجَتِ الاَرضُنَبٰاتَهٰاوَلَذَهَبَتِ الشَّحنٰا ُ مِن قُلُوبِ العِبٰادِ وَاصطَلَحَتِ السَّبٰاعُ وَ البَهٰائِمُ حَتّیٰتم شِی المَرَةُ بَینَ العِرٰاقِ اِلَی الشّٰامِ لٰاتَضَعُ قَدَمَیهٰااِلَّا عَلَی النَّبٰاتِ وَعَلیٰ رَا سِهٰا زِبّیلُهٰا (زینَتُهٰا)لٰایُهَیِّجُهٰاسَبُع وَلَاتَخٰافُهُ

(بحارالانوار،ج ۲۵ ،ص ۶۱۳ خصال)

”اگرہمارے قائم( علیہ السلام ) کاقیام ہوجائے تواس وقت آسمان اپنی بارشیں برسادے گا اور زمین اپنی برکات نکال دے گی خوشحالی ہوگی ،زراعت کثرت سے ہوں گی،خداوندکے بندگان کے دلوں سے نفرتیں اورکینے ختم ہوجائیں گے ،جانوروں اوردرندوں کے درمیان صلح وصفاقائم ہوجائے گی،اس حد تک زمین پرسبزہ اورشادابی ہوگی کہ عراق سے ایک عورت چلے گی شام تک جہاں بھی قدم رکھے گی اس کاہرقدم سبزہ اورآبادزمین پرپڑے گاجب کہ اس کی آرائش کاسامان اس کے ساتھ ہوگااسے نہ توکوئی درندہ خوف زدہ کرے گااورنہ ہی کوئی انسانوں سے اس کی طرف غلط نگاہ ڈالے گاوہ بے خوف وخطریہ سفرکرے گی“۔

۲۴۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اوردستورالٰہی

حضرت امام محمدباقر( علیہ السلام ) فرماتے ہیں کہ

یُوحیٰ اِلَیهِ فَیَعمَلُ بِالوَحیِ بِا َمرِالله ِ

(بحارالانوار،ج ۲۵ ،ص ۰۹۳)

”اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کی جانب الہام ہوگااورآپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس الہام اورارشادات کے مطابق عمل کریں گے جوانہیں اللہ کی طرف سے ملیں گے یعنی حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اپنامکمل دستوراللہ تعالیٰ سے لیں گے اور اسے عملی جامہ پہنائیں گے“۔

۲۵۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اور زمین پررونقیں

فَاذٰاخَرَجَ اَشرَقَتِ الاَرضُ بِنُورِرَبَّهٰاوَوَضَعَ میزٰانَ العَدلِ بَینَ النّٰاسِ فَلٰا یَظلِمُ اَحَد اَحَداً

(بحارالانوار،ج ۲۵ ،ص ۱۲۳ ،کمال الدین)

”پس جب زمین اپنے رب کے نور(حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )کے وجود)سے چمکے گی جس وقت حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )خروج کریں گے تواس وقت زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہوجائے گی،اورہرطرف آبادی ہوگی،عوام کے درمیان عدالت کاترازولگائیں گے،کوئی ایک بھی دوسرے پرظلم وزیادتی نہ کرے گا“۔

۲۶۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اورانتظار

حضرت امیرالمومنین( علیہ السلام ) نے فرمایاکہ

اِنتَظِرُواالفَرَجَ وَلٰاتیَسُوامِن رَوحِ الله ِ فَاِنَّ اَحَبَّ الاَعمٰالاِلَی الله ِعَزَّوَجَلَّ اِنتِظٰارُالفَرَجِ

(بحارالانوار،ج ۲۵ ،ص ۳۲۱ ،خصال)

”تم سب فرج(آل محمد کی حکومت کے قیام)کی انتظارکرنا،اوراللہ کی رحمت اورکرم کے بارے مایوس نہ ہوجاناکیونکہ اللہ کے ہاں سارے اعمال میں محبوب ترین عمل انتظار فرج (آل محمد کی حکومت کی انتظارکرنا)ہے“۔

۲۷۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اور صبر

اِنتظٰارُالفَرَجِ بِالصَّبرِ عِبٰادَة

(بحارالانوارج ۲۵ ،ص ۵۴۱ ،دعوات راوندی)

”انتظارفرج(آل محمد کی حکومت کی انتظار)صبراورحوصلہ سے کرناعبادت ہے“۔

۲۸۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اورزکات

حضرت امام محمدباقر( علیہ السلام )نے فرمایاکہ

اِذٰاظَهَرَ القٰائِمُ....یُسَوّی بَینَ النّٰاسِ حَتّیٰ لٰاتَریٰ مُحتٰاجاًاِلَی الزَّکٰاةِ....

(بحارالانوارج ۲۵ ،ص ۰۹۳)

”جس وقت قائم ظہورفرمائیں گے....توآپ علیہ السلام لوگوں کے درمیان برابری کریں گے،کسی پر زیادتی نہ ہوگی ،سب کے ساتھ ایک جیساسلوک ہوگا(سب کاانکاحق ملے گا)تمہیں اس دور میں ایسامحتاج نہ ملے گاجوزکات لینے کاحقدارہو“۔

۲۹۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اورامام محمدباقر( علیہ السلام )کی آرزو

حضرت امام محمدباقر( علیہ السلام )نے فرمایاکہ

اِنّی لَواَدرَکتُ ذٰلِکَ لَا َبقیتُنَفسیِ لِصٰاحِبِهٰذَاالاَمرِ

(بحارالانوارج ۲۵ ،ص ۳۴۲ ،غیبت نعمانی)

”اگرمیں حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کے دورکوپالوں تومیں ان کی خدمت میں رہنے کے لئے خود کوآمادہ رکھوں اوراپنی زندگی کی ان کی خاطرحفاظت کروں “۔

۳۰۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اورآپ کی حکومت کے لئے تیاری

حضرت پیغمبراکرم نے فرمایاکہ

یَخرُجُ اُنٰاس مِنَ المَشرِقِ فَیُوَطَّئُونَ لِلمَهدِیَّ سُلطٰانَهُ

(بحارالانوار،ج ۱۵ ،ص ۷۸ ،کشف الغمة)

”مشرقی سرزمین سے لوگ اٹھیں گے جوحضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کے واسطے بننے والی حکومت کے لئے زمین ہموارکریں گے اورآپ کی حکومت کے قیام کے لئے حالات کوسازگاربنائیں گے“۔

۳۱۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اور خواتین میں علم وحکمت کی فراوانی

حضرت امام محمدباقر( علیہ السلام )فرماتے ہیں کہ

تُئوتَونَ الحِکمَةَ فی زَمٰانِهِهتّیٰ ا َنَّ المَر ا َةَ لَتَقضی فی بَیتِهٰابِکِتٰابِ الله ِتَعٰالیٰ وَسُنَّةِ رَسُولِ الله ِصَلَّی الله ُعَلَیهِ وَآلِهِ

(بحارالانوار،ج ۲۵ ،ص ۲۵۳ ،غیبت نعمانی)

”تم سب کو(حضرت اما مہدی ( علیہ السلام ))کے دورمیں حکمت اوردانائی دے دی جائے گی (اس وقت علم ودانش اس قدرعام اوربلندہوگا)کہ ایک عورت اپنے گھرمیں بیٹھ کراللہ کی کتاب اور رسول اللہ کی سنت کے مطابق فیصلے دے گی“۔

۳۲۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اور آپ کی غیبت میں ذمہ داریاں

حضرت امام جعفرصادق( علیہ السلام ) نے فرمایاکہ

اَنَّ لِصٰاحِبِهٰذَاالاَمرِ غَیبَةً فَلیَتَّقِ اللَّهَ عَبد عِند غَیبَتِهِ وَلیَتَمَسَّک بِدینِهِ

(بحارالانوار،ج ۲۵ ،ص ۵۳۱ ،غیبت نعمانی)

”حضرت صاحب الامر( علیہ السلام )کے واسطے ایک غیبت ہے ،ہرشخص پرلازم ہے کہ وہ غیبت کے زمانہ میں اللہ کاتقویٰ اختیارکرے اوراپنے دین کومضبوطی سے تھامے رکھے اور اس پر عمل کرے دینی احکام بجالانے میں پابندی کرے “۔

۳۳ ۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اورآپ علیہ السلام کی معرفت کافائدہ

حضرت امام جعفرصادق( علیہ السلام ) نے فرمایاکہ

اِعرِف اِمٰامَکَ فَاِنَّکَ اِذٰاعَرَفتهُلَم یَضُرَّکَتقَدَّمَهٰذَاالاَمرُاَوتاَخَّرَ

(بحارالانوار،ج ۲۵ ،ص ۱۴۱ ،غیبت نعمانی )

”اپنے امام علیہ السلام کی معرفت حاصل کروکیونکہ جب تم اپنے امام علیہ السلام کی معرفت حاصل کرلوگے توپھرآپ علیہ السلام کے لئے فرق نہیں کرناکہ آپ علیہ السلام کاظہورجلدی ہویاآپ علیہ السلام کاظہوردیرسے ہو“۔

۳۴۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اورحضرت امام جعفرصادق( علیہ السلام ) کے جذبات

حضرت امام جعفرصادق( علیہ السلام ) سے جب حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کے بارے میں کسی نے سوال کیاتوآپ علیہ السلام نے جواب میں فرمایاکہ

ٰاَلَاوَلَواَدرَکتُهُ لَخَدَمتُهُ اَیَّامَ حَیٰاتی

(بحارالانوار،ج ۱۵ ،ص ۸۴۱ ،غیبت نعمانی )

”وہ میں نہیں ہو ں لیکن اگرمیں ان کے زمانہ کوپالوں تومیں اپنی پوری زندگی ان کی خدمت میں گزاردوں “۔

۳۵۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اور آپ کادیدار

حضرت امام جعفرصادق ( علیہ السلام )نے فرمایاکہ

مَن قٰال بَعدَصَلٰوةِ الفَجرِوَبَعدَصَلٰوةِ الظُّهرِ”اَللَّهُمَّ صَلَّ عَلیٰ مُحَمَّدٍوَالمُحَمَّدٍوَعَجَّل فَرَ جَهُم“لَم یَمُت حَتّیٰ یُدرِکَ القٰائِمَ مِن ال مُحَمَّدعَلَیهِمُ السَّلٰامُ

(سفینة البحار،ج ۲ ،ص ۹۴)

”جوشخص صبح اورظہرکی نمازوں کے بعداس طرح درودپڑھے ”اللھم صل علی محمد وآل محمد وعجل فرجہم“تووہ شخص اس وقت تک نہ مرے گاجب تک حضرت قائم آل محمد( علیہ السلام ) کوپانہ لے گا یعنی اسے حضرت علیہ السلام کاشرف ملاقات ضرورہوگا“۔

۳۶۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اور زمانہ جاہلیت کی موت

حضرت امام حسن عسکری ( علیہ السلام )فرماتے ہیں کہ

مَن مٰاتَ وَلَم یَعرِفهُ مٰاتَ مِیتَةً جٰاهِلِیَّةً

(بحارالانوار،ج ۱۵ ،ص ۰۶۱ کمال الدین)

”جوشخص ایسی حالت میں مرجائے کہ وہ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )کی معرفت نہ رکھتاہوتوگویاوہ جہالت اور کفرکی موت مرا“۔

۳۷۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اور آپ کے ناصران میں خواتین

حضرت امام محمدباقر( علیہ السلام )فرماتے ہیں کہ

وَیَجی ئُ وَاللَّه ِ ثَلٰاثُ مِاءةٍ وَبِضعَةُ عَشَرَ رَجُلاً فیهِمُ خَمسُونَ اِمرَا َةً یَجتَمِعُونَ بِمَکَّةََ

(بحارالانوار،ج ۲۵ ،ص ۳۲۲ ،تفسیرعیاشی)

”خداکی قسم مکہ میں تیس سوسے کچھ اوپرمردمکہ میں حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کے گرداکھٹے ہوں گے اور ان کے ہمراہ پچاس خواتین بھی ہوں گی“۔

۳۸۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اور مددکی فراہمی

حضرت امام جعفرصادق ( علیہ السلام )فرماتے ہیں کہ

لِیُعِدَّ(نَّ)اَحَدُکُم لِخُرُوجِ القٰائِمِ وَلَوسَهماًفَاِنَّ الله َاِذَاعَلِمَ ذٰلِکَ مِن نِیَّتهِ رَجَوتُ لِئلاً یُنسِی ء فی عُمرِهِ یُدرِکَهُ وَیَکُونَ مِن اَعوٰانِهِ وَ اَنصٰارِهِ

(بحارالانوار،ج ۲۵ ،ص ۶۶۳ ،غیبت نعمانی )

”آپ میں سے ہرشخص پرفرض ہے کہ وہ حضرت قائم( علیہ السلام ) کے خروج کے وقت ان کی مددکرنے کے لئے اسلحہ حاصل کرے اگرچہ وہ اسلحہ ایک تیرہی کیوں نہ ہوگاکیونکہ جب خداونددیکھے گا کہ ایک شخص ....حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کی مددکے واسطے اسلحہ تک حاصل کرنے میں لگاہواہے تو خداونداس شخص کی عمرکوطولانی کرے دے گاتاکہ وہ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کے ظہورکوپالے ،اورحضرت( علیہ السلام ) کے ناصران اور مددگاروں سے قرارپائے (ظاہرہے اس قسم کی آرزووہی رکھ سکتاہے جودین پرمکمل عمل کرنے والاہوگا، اور اپنے آئمہ علیہ السلام کی سیرت کواپنانے والاہوگاایک بے عمل شخص سے نہ ایسی توقع کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اس کاایساحال حقیقت میں ہوسکتاہے)“۔

۳۹۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اور آپ علیہ السلام کے اصحاب بننے کی آرزو

مَن سَرَّاَن یَکُونَ مِن اَصحٰابِ القٰائِمِ فَلیَنتَظِر وَلیَعمَل بِالوَرَعِ وَمَحٰاسِنِ الاَخلٰاقِ وَهُوَمُنتظِر فَاِن مٰاتَ وَقٰامَ القٰائِمُ بَعدَهُ کٰانَ لَهُ مِنَ الا َجرِمِثلُ اَجرِ مَن اَد رَکَهُ

(بحارالانوار،ج ۲۵ ،ص ۰۴۱ ،غیبت نعمانی)

جس شخص کویہ بات پسندہے کہ وہ حضرت قائم( علیہ السلام ) کے ناصران سے بن جائے تواس پرلازم ہے کہ وہ

۱ ۔ انتظارکرے (خودکواپنے امام( علیہ السلام ) کے واسطے ہروقت آمادہ رکھے)

۲ ۔ گناہوں کوچھوڑدے ،تقویٰ اختیارکرے،پرہیزگاربنے۔

۳ ۔ اپنے اخلاقیات وعادات کواچھابنائے ۔

ایساشخص ہی حقیقی منتظرہے اگرایساشخص مرجائے اورحضرت قائم( علیہ السلام ) کے ظہورکونہ پاسکے تواسے ایسے اجروثواب ملے گاجیسے اس نے خوداپنے امام علیہ السلام کازمانہ پایاہو“۔

۴۰۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اور آپ کی انتظارکرنے کی فضیلت

حضرت امام جعفرصادق( علیہ السلام ) فرماتے ہیں کہ

مَن مٰاتَ مِنکُم وَهُوَمُنتَظِر لِهٰذَاالاَمرِکَمَنهوَمَعَ القٰائِمِ فی فُسطٰاطِهِ....لٰابَل کَمَن قٰارَعَ مَعَهُ بِسَیفِهِ....لٰاوَاللهِ اِلاّٰکَمَنِ استشهَِمَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَیهِ وَآلِهِ

(بحارالانوار،ج ۲۵ ،ص ۶۲۱ ،محاسن)

”تم میں سے جوبھی اس حالت میں مرجائے کہ وہ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کی حکومت کامنتظر تھا تو وہ ایسے ہے جس طرح اس نے حضرت قائم( علیہ السلام ) کے اپنے خیام میں وقت گزاردیاہو....نہیں بلکہ وہ ایسے ہے جس طرح اس نے حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کے ہمراہ مل کر آپ علیہ السلام کے دستہ میں جنگ لڑی ہو،نہیں خداکی قسم وہ توایساہے جس طرح وہ خودرسول اللہ کے ہمراہ جنگوں میں لڑاہواورآپ کے سامنے درجہ شہادت پایاہو“۔


حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )کے چالیس فرمودات

ان فرامین کوآپ علیہ السلام کی توقیعات مبارکہ سے لیاگیاہے

۱ ۔ زمین کی آبادی

اَنَاالمَهدِیُّ(وَ)اَنَاقٰائِمُ الزَّمٰانِ،اَنَاالَّذی املَا ُهٰاعَد لاًکَمٰامُلِءت جَو راً،اِنَّالاَرضَ لٰاتَخ لُومِن حُجَّة ٍوَلٰایَب قَی النّٰاسُ فی فَترَةٍوَهٰذِهِ اَمٰانَة لٰاتُحَدَّث بِهَااِلاَّاِخوٰانَکَ من اَهلِ الحَقَّ ۔ (کمال الدین ،ص ۵۴۴)

”میں مہدی( علیہ السلام ) ہوں اور میں ہم قائم الزمان ( علیہ السلام )ہوں ،میں زمین کوعدالت کے نفاذ سے اس طرح آبادکردوں گاجس طرح وہ مجھ سے پہلے ظلم وستم سے ویران ہوچکی ہوگی،بلاشک زمین حجت (ایسی ہستی جواللہ کے بندگان میں اللہ کی طرف سے ہدایت دینے کے واسطہ موجودہو)سے خالی نہیں ہوتی،اورلوگ بے سرپرست کسی بھی لمحہ کے لئے نہیں رہتے یہ بات امانت ہے اسے تم اپنے بھائیوں میں پہچاناجواہل حق ہیں (حق کاساتھ دینے والے ہیں )“۔

۲ ۔ اللہ کابقیہ

اَنَابَقِیَّةُ اللّٰهِ فی اَرضِهِ،وَالمُنتَقِمُ مِن اَعدٰائِهِ

(بحارالانوار،ج ۲۵ ،ص ۴۲ ،کمال الدین)

”میں اللہ کااللہ کی زمین میں بقیہ (ذخیرہ)ہوں اوراللہ کے دشمنوں سے انتقام لینے والاہوں“۔

۳ ۔ قائم آل محمد

اَنَاالقٰائِمُ مِن المُحَمَّدٍ”صَلَّی اللهُ عَلَیهِ وَآلِهِ“اَنَاالَّذی اَخرُجُ فی آخَرِالزَّمٰانِ بِهٰذَاالسّٰیفِ وَاَشٰارَاِلَیهِفَا َ ملَا ُالاَرضَ عَدلاًوَقِس طاًکَمٰامُلِءت جَوراًوَظُلماً

(بحارالانوار،ج ۲۵ ،ص ۱۴ ،کمال الدین)

”میں قائم آل محمد ہوں ....میں آخری زمانہ میں اس تلوارکے ہمراہ خروج کروں گا(یعنی میرا قیام مسلحانہ ہوگا)میں زمین کوعدالت اورانصاف کے نفاذسے بھردوں گا(آبادکردوں گا) جس طرح زمین ظلم وجورسے بھرچکی ہوگی (ویران ہوچکی ہوگی)“۔

۴ ۔ شیعوں کی مشکلات

اَنَاخٰاتَمُ الاَوصِیٰائِ وَبی یَدفَعُ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ البَلٰائِ عَن اَهلیٰ وَ شیعَتی

(کمال الدین ،ص ۱۴۴)

”میں خاتم الاوصیاء علیہ السلام ہوں اللہ عزوجل میرے وسیلہ سے میرے خاندان اورمیرے شیعوں کے مصائب اورمشکلات کوٹال دے گا“۔

۵ ۔ اللہ سے رشتہ دار ی

لَیسَ بَینَ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ وَبَینَ اَحَدٍقَرٰابَة وَمَن اَنکَرَنی فَلَیسَ مِنّی وَسَبیلُهُ سَبیِلُ ابنِ نُوح ٍ علیه السلام (کمال الدین ص ۴۸۴)

”اللہ عزوجل اور (اس کی مخلوق میں سے)کسی ایک کے۵ درمیان کسی قسم کی رشتہ داری موجود نہیں ہے بس جس کسی نے میراانکارکیا(مجھے امام علیہ السلام تسلیم نہ کیا)وہ مجھ سے نہیں ہے(اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے)اس کاانجام وہی ہوگاجوحضرت نوح( علیہ السلام ) کے بیٹے کاہوا(بظاہریہ فرمان سادات برادری کے لئے ہے کیونکہ سادات ہی آپ کاخاندان ہے اور ان کی آپ سے رشتہ داری ہے اورآپ سادات خاندان کے بزرگ اور سربراہ ہیں ،تمام طورپرسادات کے ہاں یہ بات سمجھی جاتی ہے ،آج بھی ایساہے اورکل بھی ایساتھا بلکہ روایات سے واضح ہوتاہے کہ خودآئمہ ( علیہ م السلام ) کے اپنے زمانہ بھی ایسی سوچ موجودتھی کہ جوسید ہے خاندان اہل البیت ( علیہ م السلام ) سے ہے جس کی آئمہ معصومین ( علیہ م السلام )سے رشتہ داری ہے وہ توبخشاجائے گا،اس نے توجنت ہی میں جاناہے ،جہنم اس پرحرام ہے چاہے وہ منکرخداہو، فقط خاندانی نسبت اسے ہلاکت سے بچالے گی،حضرت ولی العصر امام زمانہ علیہ السلام (عج)نے اسی بات کوواضح کیاہے کہ نسبت کافی نہیں ،وگرنہ حضرت نوح( علیہ السلام ) کابیٹاغرق نہ ہوتا،عقیدہ ناقص ہونااورپھرعقیدہ کے تقاضا پرپورا اترنا ضروری ہے اس لئے آپ( علیہ السلام ) نے فرمایاکہ جس نے میرا انکارکردیایعنی مجھے امام علیہ السلام تسلیم نہیں کیاچاہے وہ سیدہی کیوں نہ ہواس کامجھ سے تعلق نہیں ہے اس کاانجام نوح ( علیہ السلام )کے بیٹے والاہے ، اس مضمون کی روایت اورآئمہ علیہ السلام سے بھی ہے)“۔

۶ ۔ سرکشوں کی بیعت

اِنّیِ اَخرُجُ حینَ اَخرُجُ وَلٰابَیعَةَ لِاَحَدٍمِنَ الطَّوٰاغیِتِ فیِ عُنُقیِ

(کمال الدین ،ص ۵۸۴)

”میراخروج اورقیام جس وقت ہوگااورجس میں حکومت الٰہیہ قائم کرنے کے لئے اٹھوں گاتو اس وقت میرے اوپرسرکشوں اورظالموں میں سے کسی ایک کی بیعت نہ ہوگی یعنی میں کسی ظالم حکمران کی حکومت کے تابع نہ رہاہوں گا،کسی سرکش کاحکم میرے اوپرلاگونہ رہاہوگا،اور نہ ہی کسی ظالم کاحکم وفیصلہ میرے اوپرجاری ہوگا(جیساکہ میرے آباو اجدادکے بارے ہوتارہاہے)“۔

۷ ۔ غیبت کے دوران

اَمّٰاوَجهُ الاِنتفٰاعِ بی فی غَیبَتیِ فَکَالاِنتِفٰاعِ بِاالشَّمسِ اِذٰاغَٰیَّبَهٰاعَنِ الاَب صٰارِ السَّحٰابُ....

(کمال الدین ،ص ۵۸۴)

”البتہ میری غیبت کے زمانہ میں مجھ سے عوام کوفائدہ اس طرح پہنچے گاجس طرح سورج بادلوں کی اوٹ میں چلاجائے تواس کے فوائد زمین والوں کوحاصل ہورہے ہوتے ہیں “۔

۸ ۔ زمین والوں کے لئے امان

اِنّیِ لَا َمٰان لِاَهل الاَرضِ کَمٰااَنَّ النُّجُومَ اَمٰان لِاَهلِ السَّمٰائِ

(کمال الدین ،ص ۵۸۴)

”بلاشک میں زمین والوں کے واسطے اس طرح امان ہوں جس طرح ستارے آسمان والوں

کے لئے امان ہیں )“۔

۹ ۔ حجت کاوجود

اِنَّالاَض َلاٰتَخلُومِن حُجَّةٍ اِمّٰاظٰاهِراًوَاِمَّامَغمُوراً

(کمال الدین، ص ۱۱۵)

”بتحقیق زمین حجت سے خالی نہیں ہوتی یاتووہ حجت ظاہراورموجودہوگی یاوہ غائب و پوشیدہ ہوگی“۔

۱۰۔ مشیت خدا

قُلُوبُنٰااَوعِیَة لِمَشِیَّةِ اللَّهِ فَاذٰاشٰاءشِئنٰا

(بحارلانوار،ج ۲۵ ،ص ۱۵ ،غیبت شیخ)

”ہمارے دل اللہ کی مشیت اور ارادے کے ظروف ہیں پس جب اس کاارادہ ہوتاہے تو ہم ارادہ کرتے ہیں جووہ چاہتاہے توہم ہم وہی چاہتے ہیں جواس کی مرضی ہوتی ہے تو ہماری وہی مرضی ہوتی ہے “۔

۱۱ ۔ حق

وَلیَعَمُوااَنَّ الحَقَّ مَعَنَاوَفینَالاٰیَقُولُ ذَلِکَ سِوٰانٰااِلاَّکَذّٰاب مُفتَرٍوَلاٰیَدَّعیِهِ غَیرُنَااِلاَّضَالغَوِیَ

(کمال الدین ،ص ۱۱۵)

”آپ سب پریہ بات واضح رہے کہ بتحقیق حق ہمارے ساتھ اورہمارے اندر ہے ہمارے علاوہ حق کسی جگہ پرنہیں ہے ہمارے علاوہ جوبھی یہ بات کرے کہ حق اس کے پاس ہے توایسا شخص جھوٹاہے افتداءپردانو ہے،اورہمارے سواجوبھی اس بات کا دعویدار ہوگا وہ گمراہ اور دوسروں کوگمراہی سے دھکیلنے والاہوگا“۔

۱۲۔ حق کاغلبہ اور باطل کاخاتمہ

وَاِذَااَذِنَ اللَّهُ لَنَافِی القَو لِ ظَهَرَالحَقُّ وَاضمَحَلَّ البَاطِلُ

(بحارالانوار،ج ۳۵ ،ص ۶۹۱ ،غیبت شیخ)

”جس وقت اللہ تعالیٰ نے ہمیں بات کرنے کی اجازت مرحمت فرمادی تواس وقت حق واضح ہو جائے گااور باطل ویران ہوجائے گا“۔

۱۳۔ لاتعلقی کانتیجہ

کُلُّ مَننَبرَا ُمِنهُ فَاِنَّ اللَّهَ یَبرَا ُمِنهُ وَمَلٰائِکَتَهُ وَرُسُلَهُ وَاَو لِیَاءهُ

(احتجاج ،ج ۲ ،ص ۴۷۴)

”ہروہ شخص جس سے ہم برا ت کردیں اوراس سے اپنی لاتعلقی کااظہارکردیں تو بلاشک اللہ تعالیٰ فرشتے،اللہ تعالیٰ کے تمام رسول اور اس کے سارے اولیاءبھی ایسے شخص سے بیزار ہوں گے اور سب اس سے ایساتعلق وربط توڑدیں گے“۔

۱۴۔ ازالہ شک

زَعَمَتِ الظَّلَمَةُ اَنَّ حُجَّةَ اللَّهِ دٰاحِضَة لَواُذِنَ لَنَافِی الکَلَامِ لَزَالالشَّکُّ

(کمال الدین ،ص ۰۳۴)

”ظالموں کاخیال یہ ہے کہ اللہ کی حجت (نمائندگی)ختم ہوچکی ہے اگرہمیں گفتگوکی اجازت دے دی جائے تویہ ساراشک دورہوجائے اور تمام پروپیگنڈے دم توڑدیں “۔

۱۵۔ ہمارے اوپرظلم کرنے والے

فَمَن ظَلَمَنٰاکَانَ مِن جُملَةِ الظَّالِمیٰنَ وکَانَ لَعنَةُ اللّٰه عَلَیهِ

(کمال الدین ،ص ۱۲۵)

”پس جس کسی نے ہمارے اوپرظلم وستم کیاہے تووہ ظالموں اورستمگروں میں شامل ہے اور اس پر اللہ کی لعنت ہے“۔

۱۶۔ مخلوق پرہمارااحسان ہے

اِنَّ اللَّهَ مَعَنَافَلَافَاقَةَ بِنَااِلیٰ غَیرِهِ وَالحَقُّ مَعَنٰافَلَن یُوحِشَنٰامَن قَعَدَعَنَّاوَنَحنُ صَنٰاءعُ رَبَّنٰاوَالخَلق ُبَعدُصَنٰائِعُنٰا

(بحارالانوار،ج ۳۵ ،ص ۸۷۱ ،احتجاج)

”بلاشک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے میں اللہ کے سواکسی اورکی ضرورت بھی نہیں ہے اسی طرح حق ہمارے ہمراہ ہے لہٰذاہمیں اگرکوئی چھوڑکرچلاجائے تواس سے ہمیں وحشت نہیں ہوتی ہم سب اللہ کی مخلوق اوراللہ کاہمارے اوپراحسان ہے جب کہ ہمارے بعداللہ کی ساری مخلوقات ہماری پروردہ احسان ہیں “۔

۱۷۔ فرج وکامیابی کاوقت

اَمّٰاظُهُورُالفَرَجِ فَاِنَّهُ اِلَی اللَّهِ”تعٰالیٰ ذِکرُهُ“ وَکَذِبَ الوَقّٰاتُونَ

(کمال الدین،ص ۴۸۴)

”بہرحال فرج(ہمارے حکومت کاظہور)کاظہوراورہمارے کامیابی وکامرانی تواس کامعاملہ اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے جب وہ چاہے گاتوہوگاظہورکے وقت کومعین کرنے والے لوگ جھوٹ ہیں “۔

۱۸۔ ظہورکی نشانی

عَلٰامَةُ ظُهُورِاَمریکَثرَةُ الهَرجِ وَالمَرجِ وَالفِتَنِ

(بحارالانوار،ج ۱۵ ،ص ۰۲۳ ،غیبت شیخ)

”ظہورکی نشانی یہ ہے کہ بدامنی ہوگی،بے چینی ہوگی،پریشانی ہوگی،فتنے ہوں گے،فساد ہوگا، دہشت گردی عام ہوگی“۔

۱۹۔ دعاء

اَکثِرُواالدُّدٰاء بِتَعجیلِ الفَرَجِ فَاِنَّ ذَلِکَ فَرَجُکُم

(کمال الدین ،ص ۵۸۴)

”فرج جلدی ہونے کے واسطے دعابہت زیادہ کروکیونکہ اسی میں تمہارے لئے فرج (کامیابی ،سکون،آرام)ہے “۔

۲۰۔ سوال کرنا

فَاَغلِقُوااَبوٰابَ السَئٰوالعَمّٰالاٰ یَعنیِکُم وَلاَتَتَکَلَّفُواعِلم َمَاقَد کَفَیتُم

(بحارالانوار،ج ۲۵ ،ص ۲۹ ،احتجاج)

”جن باتوں کاتم سے تعلق نہیں ہے اورتمہارے فائدے میں نہیں ہیں ان کے متعلق سوال کرنے کاسلسلہ بندکردو،لایعنی اوربے مقصد سوالات کرنے سے گریزکرو،اوراپنے آپ کوایسے معلومات حاصل کرنے کی زحمت میں نہ ڈالوجن کی ذمہ داری تمہارے اوپرنہیں ڈالی گئی یعنی جس کاچاہناتمہارے لئے ضروری نہیں تم ان کے بارے معلومات حاصل کرنے کے لئے خودکومصیبت میں نہ ڈالو“۔

۲۱۔ اسوہ

فِی ابنَةِ رَسُولِ اللَّهِ” صَلَّی اللَّهُ عَلَیهِ وَآلِهِ“ لیِ اُسوَة حَسَنَة

(بحارالانوار،ج ۲۵ ،ص ۰۸۱ ،احتجاج )

”رسول اللہ حلم کی دخترگرامی قدرکے عمل وکردارمیں میرے کئے اسوہ ہے بھی وہی ذات میرعملی زندگی کے لئے ماڈل اورنمونہ ہیں اورمیرا....وہی ذات ہے“۔

۲۲ ۔ نئے مسائل

اَمَّاالحَوٰدِثُ الوٰقِعَةُ فَارجِعُوافیِهٰااِلیٰ رُوٰاةِ حَدیِثِنَافَاِنَّهُم حُجَّتیِ عَلَیکُم وَاَنَاحُجَّةُ اللَّهِ عَلَیهِم

(کمال الدین ،ص ۴۸۴)

”بہرحال جونئے نئے مسائل تمہیں درپیش ہوں اورجدیدمسائل سامنے آئیں تو ان کے بارے ہماری رائے معلوم کرنے کے لئے ان افرادکی طرف رجوع کرو جوہمارے بیانات سے آگاہیں اورہمارے پیغامات اوراقوال کوسمجھتے ہیں ،کیونکہ ان ہی افرادکو (جوہماری کلام سے واقف ہیں اورہمارے بیانات کوروایت کرتے ہیں )میں تمہارے اوپر حجت(واجب اطاعت،الٰہی نمائندہ)قراردیاہے اورمیں ان پراللہ کی طرف سے حجت (اللہ کانمائندہ) ہوں“۔

۲۳۔ اللہ تعالیٰ کاتقویٰ

فَاتَّقُواللَّهَ وَسَلَّمُو الَنٰا وَرُد ُّوالاَمرَ اِلَینٰا فَعَلَینَا الا ِصدٰارُُکَمَاکَانَ مِنَّا الا یِرَاد ُوَلَاتُحٰاوِلُواکَشفَ مَاغُطَّی عَنکُم

(بحارالانوار،ج ۳۵ ،ص ۹۷۱ ،احتجاج )

”بس تم سب اللہ کاتقویٰ اختیارکرواورہمارے سامنے تسلیم رہو،خودکوہمارے سپردکردو ، ہماری ہربات کومان لو،اورتمام اموراورمعاملات کوہمارے سپردکردوبس یہ ہماراکام ہے کہ ہم تمہیں ہدایت کے چشمہ سے سیرات کریں ،تمہیں بھٹکنے سے بچائیں احکام جاری کرناہمارکام ہے تمہیں ہدایت کے سرچشمہ پرلے جانابھی ہماراکام ہے وہاں سے سیرات کرکے نکالنابھی ہماراکام ہے،اورتم اس بات کوکھولنے کی ہرگزکوشش نہ کروجسے تم سے چھپا لیاگیاہے یعنی جس بات کوتم سے مخفی رکھاگیاہے اسے کھولنے کی کوشش مت کرو“۔

۲۴۔ اذیت

قَد اَذٰانَاجُهَلٰائُ الشّیِعَةِ وَحُمَقَاو ُهُم وَمَن دیِنُهُ جَنَاحُ البَعُوضَةِ اَرجَحُ مِنه

(احتجاج ،ج ۲ ،ص ۴۷۴)

”تین قسم کے شیعوں نے ہمیں اذیت پہنچائی ہے

۱ ۔ جاہل،نادان ،کم علم ۔

۲ ۔ احمق،بے وقوف ،نفع ونقصان سے ناواقف ۔

۳ ۔ وہ حضرات جن کے نزدیک دین کی قدر وحیثیت مچھرکے پرسے بھی کم ترہے“۔

۲۵۔ دائیں ،بائیں

وَلَاتَمیِلُواعَنِ الیَمیِنِ وَلاتَعدِلُوااِلَی الیَسَارِوَاجعَلُواقَصدَکُم اِلَینَابِالمَوَدَّةِ عَلَی السُّنَّةالوٰضِحَةِ

(بحارالانوار،ج ۳۵ ،ص ۹۷۱ ،احتجاج )

”نہ توتم دائیں طرف جاواورنہ ہی بائیں بازوکواپناوتمہارارخ اورقصدہماری جانب رہے تمہارسیدھارخ ہماری جانب ہو،اس کی بنیادہم سے مودت اوردوستی کوقراردو،یہی راستہ سیدھا ہے جوروشن اورواضح ہے،دائیں بائیں مت جاو،صراط مستقیم جوکہ ہماری مودت پر قائم ہے اسی پرباقی رہو“۔

۲۶۔ وحدت

۶۲ لَو اَنَّ اَشیٰاعَنَاوَفَّقَهُمُ اللّهُ لِطَاعَتِهِ عَلَی اجتِمٰاعٍ مِنَ القُلُوبِ فِی الوَفَائِ بِالعِهدِعَلَیهم لَمَاتَا َخَّرَعَنهُمُ الیُمنُ بِلِقَائِنَاوَلَتَعَجَّلَت لَهُمُ السَّعَادَةُ بِمُشَاهَدَتِنَاعَلیَ حَقَّ المَعرِفَةِ وَصِد قِهٰامِنهم بِنَافَمَایَحبِسُنَاعَنهم اِلاّٰمَایَتَّصِلُ بِنَامِمّٰا نُکرِههُ وَلَانُو ثِرُهُ مِنهُم

(بحارالانوارج ۳۵ ،ص ۷۷۱ ،احتجاج)

”اگرہماراشیعہ (خداانہیں اپنی اطاعت کی توفیق عطاءفرمائے )یکجان ہوتے اور اس بات پر سب کااتفاق ہوتاکہ جوعہدوپیمان(ہماری طرف سے)ان پرہے تو پھر ہماری ملاقات کی برکات ان سے موخرنہ ہوجاتیں اور ان کے واسطے ہمارے حضوری دیدار اورمشاہدہ کی سعادت بہت جلدی انہیں نصیب ہوتی اوروہ دیداربھی اس طرح جس طرح معرفت کا حق ہے اوروہ ہمارے حق کاعرفان رکھتے ہیں ان کی ہمارے ساتھ صدق ووفاہے....ہمیں ان سے ملاقات کےلئے کوئی بات نہیں روکتی مگران کی جانب سے انجام پائے جانے والے ایسے اعمال رکاوٹ ہیں جن اعمال کوہم ان سے ناپسندکرتی ہیں اورہم نہیں چاہتے کہ وہ اس قسم

کے اعمال بجالائیں ان کے اسی قسم کے اعمال ہیں جوحقیقت ہمارے اوران کے درمیان ملاقات اورحضوری مشاہدہ سے رکاوٹ لیں “۔

۲۷۔ محبت کاحصول

فَلیَعمَل کُلُّ امرِی ٍ مِنکُم! مَایَقرُبُ بِهِ مِن مَحَبَّبِنَاوَلیَتَجَنَّب مَایُدنیِهِ مِن کَرٰاهِیَّتِنَاوَسَخَطِنَا ۔

(بحارالانوار،ج ۳۵ ،ص ۶۷۱ احتجاج )

”تم میں سے ہرایک پریہ فرض ہے کہ وہ ایساعمل انجام دے جواسے ہماری محبت کے قریب کردے،(یعنی عمل ایساکریں کہ وہ عمل ہماری محبت کے حصول کاذریعہ بن جائے)اور دوری اختیارکریں ایسے عمل بجالانے سے جوہماری ناپسندیدگی اورناراضگی کا سبب بنے(یعنی ایساعمل بجانہ لاسکیں کہ جس کی وجہ سے اسے ہماری ناراضگی اورناپسندیدگی کا سامناکرناپڑے “۔

۲۸۔ حالات کاعلم

فَاِنَّایُحیِطُ عِلمُنَابِاَنبَائِکُم وَلاَیَعزُبُ عَنَّاشَیئ مِن اَخبَارِکُم

(بحارالانوار،ج ۳۵ ،ص ۵۷۱ احتجاج )

”ہم آپ کے حالات بارے مکمل طورپرآگاہیں اورہم سے تمہاری خبریں بالکل مخفی نہ ہیں ، ہم آپ کے ہرمسئلہ بارے آگاہیں اورآپ سے متعلق ہرچیزکوجانتے ہیں ہم سے آپ کا کچھ بھی مخفی نہ ہے “۔

۲۹۔ رعایت وحفاظت

اِنَّاغَیرُمُه مِلیِنَ لِمُرَاعَاتِکُم وَلَانَاسیِنَ لِذِکرِکُم وَلَولَاذَلِکَ لَنَزَلَ بِکُمُ اللَّا وٰائُ وَاصطَلَمَکُم الاَعدَائُ فَاتَّقُوااللّٰهِ جَلَّ جَلالُهُ وَظَاهِرُونَالِاِنتیاَشکُم مِن فِتنَةٍ قَد اَنَاخَت عَلَیکُم

(بحارالانوار،ج ۳۵ ،ص ۵۷۱ ،احتجاج )

”بلاشک ہم نے تمہاری حفاظت اوررعایت کے معاملہ کوایسے نہیں چھوڑدیااورنہ ہی ہم تمہارے ذکرکوبھولے ہیں یعنی ہم تمہاری یادرکھے ہیں اورتمہاراخیال بھی ہے،تمہیں ہم نے بے سہارانہیں چھوڑدیا۔

اگرایسانہ ہوتاتوتمہارے اوپرہرطرف سے مصیبت اترتی،پریشانیوں میں تم گھرجاتے اور ستمگروں کے مظالم کی چکی میں پسے جاتے ،تمہارے دشمن تم پرغالب آجاتے اورتمہیں نابود

کردیتے پس تم سب پرلازم ہے کہ اللہ”جل جلالہ“کاتقویٰ اختیارکرنا“۔

۳۰۔ رحمت اورمہربانی

لَولَامَاعِند نَامِن مَحَبَّةِ صَلَاحِکُم وَرَحمَتِکُم وَالاِشفَاقِ عَلَیکُم لَکُنّٰاعَن مُخٰاطَبَتِکُم فی شُغلٍ

(بحارالانوار،ج ۳۵ ،ص ۹۷۱)

”اگرہمیں تم سے محبت نہ ہوتی اوررتم پرہم مہربان اورشفیق نہ ہوتے اورہمیں تم سے ہمدردی نہ ہوتی اورہم تمہاری بہتری کانہ سوچتے توہم تم سے بات کرناہی چھوڑدیتے یعنی ہماراتم سے بات کرنااس بات کی نشانی ہے کہ ہم تم سے محبت کرتے ہیں تمہیں چاہتے ہیں ،تمہاری خیر مانگتے ہیں ،ہم تمہارے ہمدردہیں “۔

۳۱۔ مشاہدہ

سَیَاتیِ(اِلیٰ)شیِعَتیِ مَن یَدَّعِی المُشَاهَدَةَ اَلاَفَمَنِ ادَّعَی المُشَاهَدَةَ قَبلَ خُرُوجِ السُّفیَانی وَالصَّیحَةِ فَهُوَ کَاذِب مُفتَرٍ

(کمال الدین ،ص ۶۱۵)

”عنقریب میرے شیعوں کے پاس ایسے افرادآئیں گے جویہ دعویٰ کریں کہ انہوں نے میرا(مشاہدہ)حضوری دیدارکیاہے آگاہ رہو!!جوشخص بھی سفیانی کے خروج(ظہورسے چھ ماہ قبل شام کی سرزمین پرماہ رجب میں سفیانی کاانقلاب آئے گا)اورصیحہ (آسمان)سے یکدم زورداراورمعنی دارآوازکاسنائی دیناآنے سے پہلے مشاہدہ اورحضوری دیدارکادعویٰ کرے توایساشخص جھوٹاہے ،افتراءپرداز ہے“۔

(بعض علماءنے اس حدیث کے ذیل میں بیان کیاہے کہ اس فرمان سے مرادیہ ہے کہ غیبت کبریٰ کے زمانہ میں جوشخص بھی امام مہدی( علیہ السلام ) کی نمائندگی اورنیابت خاصہ کادعویٰ کرے تو وہ جھوٹاہے اس کی بات نہ مانے )۔

۳۲۔ اموال کھانا

مَن اَکَلَ مِن اَموَالِنَاشَیئاًفَاِنَّمَایَا کُلُ فی بَطنِهِنَاراًوَسَیَصلیٰ سَعیِراً

(کمال الدین ،ص ۱۲۵)

”جوشخص ہمارے اموال سے کچھ کھاجائے (بغیراجازت کے)توگویااس نے اپنے شکم میں آگ بھری ہے ،ہمارامال حلال سمجھ کرکھانے کامطلب آگ کے انگاروں کونگلناہے ، اور ایساشخص بہت جلدجہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈالاجائے گا“۔

۳۳ ۔ غیرکے مال میں تصرف کرنا

فَلاَیَحِلُّ لِاَحَدٍاَن یَتَصَرَّفَ مِن مَالغَیرِهِ بِغَی رِاِذنِهِ

فَکَیفَ یَحِلُّ ذَلِکَ فیِ مَالِنَا

(کمال الدین ،ص ۱۲۵)

”کسی ایک کے لئے ایساجائزنہیں ہے کہ وہ کسی اورکے مال کواس مال کے مالک کی اجازت کے بغیراسے اپنے تصرف (استعمال)میں لے آئے جب ایساہے توپھرکسی شخص کے لئے یہ کیسے جائزہے کہ وہ(ہماری اجازتت کے بغیر)ہمارے مال میں تصرف کرے اور اسے اپنے استعمال میں لے آئے “۔

۳۴۔ طہارت وپاکیزگی

اَمَّااَموٰالُکُم فَلاٰنَقبَلُهَااِلاَّلِتَطَهَّرُوافَمَن شَاء فَلیَصِل وَمَن شَاء فَلیَقطَع فَمَاآتَانِی اللَّهُ خَیر مِمّٰاآتَاکُم

(کمال الدین ،ص ۴۸۴)

”جواموال تم ہمارے پاس پہنچاتے ہوتوہم آپ کے اموال کوفقط اس واسطے قبول کرتے اور وصول کرلیتے ہیں تاکہ تم پاکیزہ ہوجاو،طاہربن جاو،پس جس کی مرضی آئے وہ اپنے اموال ہمارے پاس پہنچائے اورجس کادل نہ چاہے وہ اپنے اموال ہمارے پاس نہ لائے،کیونکہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے مجھے عطاءفرمایاہے وہ اس سب سے بہترہے جوتمہیں اس نے عطاءکیاہے “۔

۳۵۔ نمازمغرب

مَلعُون ، مَلعُون ، مَن اَخَّرَالمَغرِبَ اِلیٰ اَنتشتَبِکَ النُّجُومُ ،مَلعُون مَلعُون ، مَن اَخَّرَ الغَدٰاةَ اِلیٰ اَنتنقَضِیَ النُّجُومُ

(بحارالانوار،ج ۲۵ ،ص ۵۱ ،غیبت شیخ)

”ملعون ہے،ملعون ہے،وہ شخص جونمازمغرب کواتناتاخیرمیں ڈال دے کہ تمام ستارے آپس میں جڑجائیں ،یعنی سب ستارے نظرآنے لگیں،اوروہ شخص بھی ملعون ہے ،ملعون ہے جونمازصبح کواتناتاخیرسے پڑھے کہ آسمان سے سارے ستارے غائب ہوجائیں “۔

۳۶۔ دعا اورتسبیح کی فضیلت

فَاِنَّ فَضلَ الدُّعَائِ وَالتَّسبیِحِ بَعدَالفَرَائِضِ عَلَی الدُّعَائِ بِعَقیِبِ النَّوَافِلِ کَفَضلِ الفَرَائِضِ عَلَی النَّوَافِلِ....

(بحارالانوار،ج ۳۵ ،ص ۱۶۱ ،احتجاج )

”واجب نمازوں کے بعددعاءاورتسبیح کی فضیلت اوربرتری نوافل نمازوں کے بعددعا اور تسبیح پڑھنے سے ایسے ہے جس طرح واجبات کی نوافل پڑھنے پربرتری ہے ،یعنی واجب نمازوں کے بعددعااورتسبیح پڑھ کرنوافل اداکرو،ایساکرنازیادہ فضیلت رکھتاہے“۔

۳۷۔ سجدہ شکر

سَجدَةُ الشُّکرِ مِن اَلزَمِ السُّنَنِ وَاَو جَبِهَا

(بحارالانوار،ج ۳۵ ،ص ۱۶۱ ،احتجاج)

”سجدہ شکرایسی سنتوں سے ہے کہ جس سنت کااداکرناانتہائی ضروری ہے،اورسب سنتوں پراس کی برتری ہے“۔

۳۸۔ چھینک آنا

(العِطَاسُ)هُوَاَمَان مِنَ المَوتِ ثَلَاثَةَ اَیّٰامٍ

(بحارالانوار،ج ۲۵،۰۳ کمال الدین)

”ایک دفعہ چھینک کاآجاناتین دن کے واسطے موت سے امان ہے“۔

۳۹۔ شیطان کی تذلیل ورسوائی

فَمَااُرغِمَ اَنفُ الشَّیطَانِ بِشَیئٍ مِثلِ الصَّلٰوةِ فَصَلَّهَاوَاَر غِم اَن فَ الشَّیطَانِ

(بحارالانوار،ج ۳۵ ،ص ۲۸۱ احتجاج)

”نمازسے بہترکوئی اورعمل نہیں ہے جوشیطان کوذلیل ورسواءکرتاہے،یعنی نمازکے ذریعہ شیطان کی ناک زمین پررگڑی جاتی ہے اوراس کی بہت ہی تذلیل ہوتی ہے،پس تم نماز ادا کرواوراس کے ذریعہ شیطان کے تکبرکی ناک کوخاک میں ملادواوراسے ذلیل کرکے رکھ دو“‘۔

۴۰ہدایت

اِنِ استَر شَدت اُر شِدت وَاِن طَلَبتَ وَجَدت

(بحارالانوار،ج ۱۵ ،ص ۹۳۳ ،کمال الدین )

اگرتم راہنمائی کے خواستارہوگے توتمہیں راہنمائی مل جائے گی اوراگرہدایت چاہوگے توتم ہدایت کوپالوگے جو....پرتلاش کرنے والے اپنی گمشدہ متاع کوبالآخرپالیتے ہیں ۔


نظریہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے شیعوں پر نارروا اتہامات اور ان کے جوابات

بسم الله الرحمن الرحیم

اللهم صل علی محمد وال محمد وعجل فرجهم والعن اعدائم

افسوس ناک امر

بہت ہی افسوس سے یہ بات کہنا پڑتی ہے کہ بعض علماءاہل سنت بغیر تحقیق کئے شیعہ مسلک پر قائم مسلمانوں کی طرف غلط عقائد کی نسبت دے دیتے ہیں اور اس طرح مسلمانوں کے در میان بھائی چارہ کی بجائے نفرتیں عام کرتے ہیں ۔ ان غلط بیانات میں ایک بیان حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے عقیدہ سے متعلق ہے ۔

شیعہ مسلمانوں کی طرف غلط عقائد کی نسبت

کبھی توان علماءکی جانب سے یہ کہا جا تا ہے کہ ہم اہل سنت امام مہدی علیہ السلام کے وجود کا عقیدہ رکھتے ہیں لیکن یہ امام مہدی علیہ السلام وہ نہیں ہے جو کنوئیں میں غائب ہو ئے بلکہ وہ مہدی علیہ السلام نبی اکرم کی اولا د سے ہیں جو آخری زمانہ میں آئے گا کبھی یہ کہتے ہیں یہ وہ مہدی نہیں ہیں جس کا غالی شیعہ عقیدہ رکھتے ہیں جو سرداب میں غائب ہو ئے ، اور اب تک مسلسل وہ شیعہ اپنی سواریوں پر وہاں حاضر ہو تے ہیں اور اپنے امام کے سر داب سے با ہر آنے کی انتظار کرتے رہتے ہیں اور یہ کہتے ہیں اے مہدی باہر آجائیں ، اے مہدی علیہ السلام ! باہر تشریف لے آئیں۔

ابن خلدون کا اعتراض

اسی قسم کا اعتراض ابن خلدون نے اپنے مقدمہ کے صفحہ نمبر ۷۰۱پر کیا ہے ۔وہ کہتا ہے خصوصی طور پر بارہ امامی جو ان غالی شیعوں سے ہیں وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کے آئمہ سے بارہواں امام محمد بن الحسن العسکری ہے اور وہ اسے مہدی کا لقب دیتے ہیں اور وہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کا باہرواں امام علیہ السلام حلہ شہر میں جو، اُن کاگھر تھا اس کے سرداب میں داخل ہو گیا ہے اور وہ اس وقت غائب ہو گیا جس وقت ان کی ماں کو گر فتار کیا گیا اور ایسی جگہ پر غائب ہوا وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہو کر زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا اوریہ علماءاس حدیث کی جانب اشارہ کرتے ہیں جو التر مذی کی کتاب جو مہدیءکے بارے ہے موجود ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ اس مہدی علیہ السلام کی اس وقت انتظار کر رہے ہیں اور اسے منتظر کہتے ہیں اور ہر رات مغرب کی نماز کے بعد سرداب کے دروازے کے باہر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس کے لئے وہاں پر سواری بھی تیاررکھتے ہیں اور اس کے نام سے آواز دیتے ہیں اور پکارتے ہیں کہ وہ با ہر آجائیں اور اسی سواری پرسوار ہوں یہ سلسلہ رات کے تھم جانے تک جاری رہتا ہے ۔

ابن خلدون نے مہدی کے بارے مفصل بحث کی ہے اور اہل سنت علماءجنہوں نے ابن خلدون کی روش کو اپنائ ۷ ے ہوئے ان ہی فرسودہ اور غیر منطقی اعتراضات کو امین محمد جمال الدین زیر بحث ہے (دیکھئے کتاب عمر امت مسلمہ اور ہرمجدون یا تیسری عالمی جنگ)۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے شیعوں کا عقیدہ

جو کچھ بعض علماءاہل سنت نے شیعوں کا عقیدہ امام مہدی علیہ السلام کے بارے بیان کیا ہے کہ وہ سرداب (تہہ خانے) میں غائب ہیں اور آخری زمانہ میں ظاہر ہوں گے کیا ایسا ہی ہے؟ یا امام مہدی علیہ السلام ابھی تک پیدا ہی نہیں ہو ئے اور انہوں نے آخری زمانہ میں پیدا ہو نا ہے جیسا کہ بعض علماءاہل سنت کا خیال ہے؟

سب سے پہلے تو ہم یہ بتا دیں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کا نظریہ بہت ہی واضح اورروشن ہے اس بارے کسی قسم کا ابہام انہیں ہے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی خصوصیات اور آپ کی ولادت کے بارے متواتر احادیث موجود ہیں کہ مہدی جو آخری زمانہ کے امام ہیں وہ رسول اللہ کے بارہویں وصی ہیں نبی کے بیٹے ہیں علی علیہ السلام و فاطمہ کی اولا د سے ہیں ، امام حسین علیہ السلام کے نویں فرزند ہیں ، امام حسن عسکری کے بیٹے ہیں اس میں کسی قسم کا شک و شبہ موجود نہیں ہے حسن اتفاق یہ ہے کہ ان روایات کو علماءشیعہ اور اہل سنت کے نا مور اور بزرگ علماءنے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے اور یہ سب روایات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہیں آپ کے اصحاب نے ان کو اپنی روایات میں بیان کیا ہے ۔ تمام اسلامی فرقوں میں یہ بات تسلیم شدہ ہے، فقط بات اتنی ہے کہ اگر بعض غیر شیعہ علماءان باتون کو تسلیم کر لیں جبکہ وہ ان ڈھیر ساری روایتوں سے چشم پو شی بھی نہیں کر سکتے تو پھر وہ مجبور ہو جائیں گے کہ امامت اورخلافت کے بارے شیعوں کے عقیدے کو قبول کر لیں تو بہت سارے ان کے نظریات و عقائد کا باطل ہونا ثابت ہو جائے گا جس کو اپنی شناخت قرار دیتے ہیں اسی وجہ سے ان کے لئے اس بات کے سواءکوئی اور چارہ نہیں بچتا کہ وہ یہ نظریہ اپنائیں کہ امام مہدی علیہ السلام کہ جس کے بارے اس قدر زیادہ احادیث نبویہ موجود ہیں انہوں نے ابھی پیدا ہو نا ہے اور پھر شیعوں کے خلاف لا یعنی قسم کی باتیں اپنی عوام میں مشہور کریں کہ شیعہ کہتے ہیں کہ ان کے بارہویں امام علیہ السلام تہہ خانہ میں چھپ گئے ہیں اور وہ لوگ تہہ خانے(سرداب)کے دروازے پر سواری لے کرانتظار میں کھڑے رہتے ہیں ۔ اس قسم کی بات سوائے جھوٹ، افتراءاور تہمت کے اور کچھ نہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ جو کچھ وہ شیعوں کے بارے اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ ان کا حضرت امام مہدی علیہ السلام بارے اس قسم کا عقیدہ ہے تو اس بارے وہ شیعوں کی کتابوں سے کوئی دلیل پیش نہیں کرتے اور نہ ہی اس کی کوئی واقعیت شیعہ محافل و مجالس سے لا سکتے ہیں اور نہ ہی سامرہ شہر میں اس قسم کا کوئی واقعہ دکھا سکتے ہیں ۔

شیعوں پر نارروا تہمت

ان علماءمیں ذھبی جیسے لوگ بھی ہیں جو یہ لکھتے ہیں کہ محمد بن الحسن العسکری علیہ السلام کے رافضہ(شیعہ) منتظر ہیں ان کا خیال ہے وہی مہدی علیہ السلام ہیں اور صاحب الزمان ہیں وہ سرداب میں غائب ہوئے اور ان کی ماں ان کے انتظار میں ہے اسی سے ملتی جلتی باتیں ابن خلدون نے کہی ہیں ....یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے۔ شیعہ اس قسم کاعقیدہ ہرگزنہیں رکھتے پھرکس طرح انہوں نے شیعوں کی کتب احادیث اور امامت پر لکھی جانے والی کتابوں کو نظر انداز کر دیا جس میںواضح ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام اپنی غیبت صغریٰ کے ستر سالوں میںکئی مرتبہ اور کتنے سارے اپنے اصحاب سے ملے ہیں ان سے مسائل شرعیہ بیان کئے ہیں ان کے سوالات کے جوابات بھی دیئے ہیں یہ سب کچھ کتب احادیث میں موجودہے۔

شیعہ محدث مرحوم الکلینیؒ نے اپنی کتاب الکافی میں جسے انہوں نے ایک ہزار سال قبل تحریر کیا اس کتاب میں ”باب الحجة“ میں ان لوگوں کے اسماءلکھے ہیں جنہوں نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کو خود دیکھا اور ان سے ملاقات کی ہے اسی طرح ایک اور شیعہ عالم محقق شیخ مفیدؒ نے اپنی کتاب الارشاد میں ان افراد کے بارے تحریر کیا ہے جنہوں نے حضرت امام مہدی علیہ السلام سے ملاقات کی ہے ابوجعفر محمد بن علی الصدوق نے اپنی کتاب کمال الدین میںیہی کچھ لکھا ہے اور اسی طرح کی سینکڑوں کتابیں اب تک شیعہ محققین و علماءکی منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں ان افراد کا تذکرہ موجود ہے جنہوں نے غیبت صغریٰ جو کہ ۰۷ سال کے عرصہ پر محیط ہے، میں حضرت امام مہدی علیہ السلام سے ملاقات کی اور جن کے پاس امام مہدی علیہ السلام نے خطوط بھیجے ان کے اسامی موجود ہیں اور غیبت کبریٰ میں بھی جن لوگوں نے آپ علیہ السلام سے ملاقات کی ان کے ناموں کا بھی ذکر موجود ہے اورغیبت کبریٰ میں جن علماءکے پاس حضرت امام مہدی علیہ السلام نے خطوط لکھے ان کے نام بھی موجود ہیں ۔

پس کہاں سے یہ نظریہ لایا گیا ہے کہ شیعہ کہتے ہیں کہ ان کے امام علیہ السلام سرداب (تہہ خانہ) میں داخل ہو گئے ہیں اورشیعہ آج تک اسی درازہ پرکھڑے ہیں اور ان کے باہر آنے کا انتظار کر رہے ہیں یہ من گھڑت اور اوچھی قسم کی بات ہے جس کی نسبت شیعہ کی طرف دی گئی ہے جس کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔

بے بنیاد تہمت

ان علماءکے تعصب اور ناروا اتہام کی انتہاءہے کہ وہ اپنی کتابوں میں بہت ہی ڈھٹائی سے لکھتے ہیں کہ وہ سرداب سامرہ میں ہے بعض نے لکھا ہے کہ وہ سرداب حلہ ہے اور بعض نے لکھا ہے کہ وہ بغداد میں ہے....ابن خلدون اور اس کے علاوہ ترمذی تک نے یہ لکھ ڈالا کہ شیعہ نماز مغرب کے بعد اپنے گھوڑے سدھائے حلہ شہرمیںسرداب کے دروازے پر کھڑے انتظار کر رہے ہوتے ہیں جب رات چھا جاتی ہے تووہاں سے واپس چلے جاتے ہیں بعض نے لکھا ہے کہ طلوع فجر تک ایسا کرتے ہیں اور یہ کام ہر رات کرتے ہیں یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے۔ عراق میں حلہ جو کہ شیعہ شہر ہے موجود ہے سامرہ بھی موجود ہے جوسنی آبادی کا شہر ہے اور شیعہ وہاں پر فقط اپنے آئمہ علیہ السلام (امام علی نقی علیہ السلام ، امام حسن عسکری علیہ السلام ) کی زیارات کے لئے جاتے ہیں ان مزارات کا کنٹرول خود اہل سنت کے پاس ہے اور بغدادمیں بھی صدیوں سے شیعہ اور سنی اکھٹے زندگی گزار رہے ہیں ، نجف شیعوں کا مرکز ہے وہاں بھی اہل سنت جاتے ہیں کہاں پرایسا ہوتاہے؟ اس کے کوئی آثار تک موجود نہیں ہیں اور نہ ہی شیعوں کا یہ عقیدہ ہے اور نہ ہی ان کی کسی کتاب میں اس قسم کی لغویات کاذکر ہوا ہے یہ شیعوں سے سنی مسلمانوں کو دور کرنے کی سازش کے سوا،اور کچھ نہیں کیونکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کا عقیدہ مسلمانوں میں وحدت اور یکجہتی ایجاد کرنے کا وسیلہ ہے یہم لوگ اس عقیدہ کومسلمانوں سے چھیننا چاہتے ہیں اور اسے مسلمانوں کے درمیان اختلافی بنانے پرتلے ہوئے ہیں ۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام کاظہور مکہ سے ہونا ہے کسی سرداب سے نہیں

شیعہ کا عقیدہ ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظہور مکہ مکرمہ سے ہوگا اور مسجد الحرام میں کعبة اللہ کے پاس حجر اسود والے کونے پر کھڑے ہو کر اس کا اعلان ہوگا اور یہ بات عالم اسلام کی مسلمہ روایات سے ہے اور شیعہ عقائد کی کتابیں اس بارے بھری پڑی ہیں پس ایک ایسی بات جس کی کوئی بنیاد ہی سرے سے نہیں ہے اس کی شیعہ کی طرف کیسے نسبت دیتے ہیں انتہائی تعجب ہے؟

اس بات کے جھوٹ ہونے پر یہی کافی ہے کہ اخبار الطوال کے مصنف فرمانی جس نے کہا کہ وہ سرداب بغداد میں ہے، ابن خلدون جس نے کہا کہ وہ سرداب حلہ میں ہے اور دوسروں نے کہا کہ وہ سرداب سامرہ میں ہے کسی نے اس سرداب کا حوالہ نہیں دیابلکہ یہ کہہ دیا کہ وہ کسی کنوئیں میں غائب ہوئے ہیں یہ بات سچ ہے کہ جو جھوٹا ہوتا ہے اسے بھولنے کی بیماری بھی لاحق ہوتی ہے انہوں نے ایک جھوٹ بولا ہے اور پھر اس جھوٹ پر کوئی سند بھی پیش نہیں کی اپنی جھوٹی بات کو سچ بنانے کے لئے کئی اور جھوٹ بولے ہیں ۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے اہل سنت کاعقیدہ بھی شیعہ والا ہے

۱ ۔ سچ تو یہ ہے کہ شیعہ کا عقیدہ ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام محمد بن الحسن العسکری بن علی الہادی علیہ السلام بن محمد النقی علیہ السلام بن علی رضا بن موسیٰ الکاظم علیہ السلام بن جعفرالصادق علیہ السلام بن محمد الباقر علیہ السلام بن علی زین العابدین علیہ السلام بن الحسین علیہ السلام بن علی علیہ السلام و فاطمہ علیہ السلام بنت رسول اللہ ہیں اور آپ شیعوں کے گیارہویں امام حسن عسکری علیہ السلام کے بلا فصل بیٹے ہیں اور یہی سلسلہ نسب رسول اکرم سے مروی ہے مضبوط اور مستند احادیث ہیں ۔

جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا (دیکھیں ینابیع المودة ، للقندوزی الحنفی،تذکرہ الخواص ،ابن الجوزی، المہدی الموعود، تاریخ بعد الظہور، منتخب الاثر،عقیدة المہدی، الشمس المختفیہ)

اور سب سے اہم اور بنیادی حوالہ جس پر علماءاہل سنت کا اعتماد ہے وہ حافظ امام، ابونعیم الاصفھانی کی کتاب اربعین ہے ابونعیم کی تاریخ وفات ۰۳۴ ہجری قمری ہے جس میں انہوں نے امام مہدی علیہ السلام کے بارے چالیس احادیث صحیحیہ درج کی ہیں اور لکھا ہے کہ آپ امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں اسی طرح فرائد السمطین اہل سنت کی ایک اور کتاب ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں ۔

قیامت سے پہلے اہم واقعہ

احادیث میں واضح بیان ہوا ہے کہ قیامت سے پہلے امام مہدی علیہ السلام کا خروج ضرور ہو گا اور وہ آخری امام ہیں ، بارہویں امام ہیں ، خلفاءراشدین سے بارہویں ہیں ، خود رسول اللہ نے ان کا نام و نسب بیان کیا ہے، ۵۱ شعبان ۵۵۲ ہجری میں پیدا ہوئے، سامرہ شہر میں، امام علی نقی علیہ السلام امام حسن عسکری علیہ السلام کے گھر میں پانچ سال کی عمر میں آپ علیہ السلام کے باب علیہ السلام شہید کر دیے گئے آپ علیہ السلام نے اپنے باب علیہ السلام کی نماز جنازہ مجمع عام میں پڑھائی اور پھراس وقت کے حکمران آپ علیہ السلام کوگرفتار کرنا چاہتے تھے آپ علیہ السلام اپنے گھر کے اندر چلے گئے اور اسی طرح آپ اپنے مخالفین سے غائب ہو کر کسی محفوظ جگہ پر چلے گئے۔

خدا وندنے اپنی قدرت کاملہ سے آپ کی حفا ظت فرمائی اور حکمران آپ کو تلاش نہ کرسکے یہاں تک کہ انہوں نے آپ کے گھر کو مسمار کردیا ، بعد میں ایک عباسی خلیفہ نے اس گھر کے آثار میں سے تہہ خانہ جو باقی تھااس تہہ خانہ ( سرداب) کو یاد گار کے طورپر تعمیر کردیا تاکہ امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے گھر کی یاد باقی رہے اور یہ کہ یہی دہ جگہ تھی جہاں حضرت اما م مھدی علیہ السلام متو لد ہوئے تھے اور اس جگہ ان کا گھر تھا ، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے ۔

علماءاہل سنت کی بہت بڑی تعداد شیعہ عقائد کی تائید کرتی ہے

حضرت امام مھدی علیہ السلام کے بارے جو شیعہ کا عقیدہ ہے اسی عقیدے کی تائید بہت سارے علماءاہل سنت نے کی ہے۔ اس بارے تفصیلی بحث کو آپ ”موسوعة الامام مہدی علیہ السلام ج ۱ص ۲۶سے ص ۴۱تک ملاحظہ کرسکتے ہیں ۔

ہم اس جگہ ان علماءاہل سنت کی ایک فہرست دیتے ہیں جن کا عقیدہ کہ امام مہدی علیہ السلام حضرت امام حسن علیہ السلام عسکر ی کے فرزند ہیں جو ۵۵ ھ میں پیدا ہوئے اور وہ اس وقت غائب ہیں ، آخری زمانہ میں کعبة اللہ مکہ مکرمہ سے ظہور فر مائیں گے اور ان میں بعض نے حضرت امام مہدی علیہ السلام سے ملاقات بھی کی ہے ان سب کا عقیدہ بھی حضرت امام مہدی علیہ السلام کے متعلق وہی ہے جو شیعوں کا ہے ، اب جبکہ وہ علامات اورنشانیاں یکے بعد دیگرے پوری ہوتی جارہی ہیں جو حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے ہونا ہیں تو پھر ہمیں اختلافی نظریات کو عوام میں پھیلانے کی بجائے فریقین میں متفق علیہ عقائد کو عام کرنا چاہیے اور اس بڑے واقعہ کے لئے خود کو آمادہ کرنا چاہیے ۔

علماءاہل سنت اور مشائخ صوفیا ءکی فہرست

عرفاءاور صوفیا ئے کرام کی فہرست ملاحظہ ہو جو حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں وہی عقیدہ رکھتے ہیں جو شیعوں کا ہے۔

۱ ۔ حافظ امام ابو نعیم اصفھانی ۔ ۲ ۔ کمال الدین محمد بن طلحہ الشافعی ولادت ۵۸۳ھ مطالب المسول ، ۳ ۔ الحافظ محمد بن یوسف بن محمد الکنجی الشافعی ، کتاب البیا ن فی اخبار صاحب الزمان ق۔ ۴ ۔ ابن الصباغ الما لکی ،کتاب صاحب الفصول ا لمھمہ۔ ۵ ۔ السبط ابن الجوزی ، کتاب تذکرہ الخواص ۔ ۶ ۔ الشیخ محی الدین بن العربی فتوحات المکیہ باب ۶۶۳ یہ باب حضرت امام مہدی علیہ السلام سے مخصوص ہے۔ ۷ ۔الشیخ عبدالوھاب الشعرانی، کتاب البواقبت والجواھر۔ ۸ ۔ الشیخ حسن العراقی۔ ۹ ۔ الشیخ علی الخواص۔ ۰۱ ۔ الشیخ عبدالرحمن الجا می۔ ۱۱ ۔الحافظ محمد البخاری۔ ۲۱ ۔ابن الفوارس الرازی اپنی کتاب اربعین احادیث۔ ۳۱ ۔ سید جمال الدین المحدث۔ ۴۱ ۔ الحافظ احمد البلا ذری۔ ۵۱ ۔ ابن الختاب البغدادی۔ ۶۱ ۔ ملک العلماءدولت آبادی۔ ۷۱ ۔ الشیخ متقی الہندی ، کتاب کنز العمال۔ ۸۱ ۔ابن روز بھان شیرازی۔ ۹۱ ۔ التابع الدین للہ لعباسی۔ ۰۲ ۔شیخ سلمان القندوزی ،کتاب ینا بیع المودة۔ ۰۲ ۔صرح الدین الصفوی۔ ۲۲ ۔ الشیخ قطب مدار۔ ۳۲ ۔ الشیخ عبد الرحمن ابسطامی۔ ۴۲ ۔الشیخ عبدالرحمن صاحب مرآة الاسرار۔ ۵۲ ۔الشیخ سعدالدین الحموی۔ ۶۲ ۔ الشیخ عطار تتایوری ۷۲ ۔ الشیخ صدو لادین القونوی۔ ۸۲ ۔ الشیخ عامر البقرنی۔ ۹۲ ۔ الشیخ صدرالدین القونوی۔ ۰۳ ۔ شیخ جلال الدین الرومی۔ ۱۳ ۔شیخ عطار نیشاپور ی۔ ۲۳ ۔ شیخ شمس الدین تبریزی۔ ۳۳ ۔ السیدنعمة اللہ ا لولی مشائخ الصوفیہ۔ ۴۳ ۔ السید علی الہمدانی۔ ۵۳ ۔الشیخ عبداللہ العطری۔ ۶۳ ۔ السید سراج الدین الرفاعی ۔ ۷۳ ۔ شیخ محمد الصبا ن الحصری۔ ۸۳ ۔ محمد ابن ابراہیم الحموینی انجو بن الشافعی فرائدالسمطین۔ ۹۳ ۔ محمد بن شحفہ الحنفی ، روضة المنا ظر فی اخبار الاوائل والاواخر۔ ۰۴ ۔ البغوی۔ ۱۴ ۔ شہاب الدین بن حجر المکی صاحب الصوا عق المحرقہ۔ ۳۴ ۔ مومن الشبلخجی صاحب نورالابصار الباب الثانی۔ ۴۴ ۔ الحافظ ابوبکر البیہقی ۵۴ ۔ ابن خلکا ن مشہورمورخ مشہور مورخ ۔ ۶۴ ۔الفر مانی صاحب الا خبار الطوال۔ ۷۴ ۔ سمش الدین بن طولون صاحب اشذوالذھبیہ۔ ۸۴ ۔ الحافظ ابو نعیم رضوان العقبی ۔ ۹۴ ۔علی بن حسین المسعودی مروج ا لذ ھب ۔ ۰۵ ۔ ابن الا ثیرالجزری۔ ۱۵ ۔ابوالفداءالمختصر فی اخبارالبشر ،محمدخواند امیر روضة الصفاء۔ ۲۵ ، خواند امیر حسیب السیر۔ ۳۵ ۔حسین بن محمدالدیار البکری تاریخ الخمیس ۵۵۔الشیخ ابن ا لعماد الحنبلی، صاحب شندرالذھب۔ ۶۵ ۔ابوعباس بن عبدالمومن المغربی کتاب الوھم المکنون فی الرد علی ابن خلدون۔ ۷۵ ۔المتقی الھندی البرھان فی ماجاءصاحب الزمان علیہ السلام ، جلال الدین سیوطی، علامات المہدی، ابن حجر الھیثمی المختصر فی علامات المہدی، الشوکانی، التوضیح فیما توترعن الرجال والمنتظر والمسیح

ان کے علاوہ دسیوں اور کتابیں ہیں جو اس لمبی تاریخ میں علماءاہل سنت نے تحریر کی ہیں علماءاہل سنت نے پانچ سو سے زائداحادیث امام مہدی علیہ السلام کے بارے اپنے طرق سے نقل کی ہیں اور ۰۶ معتبر کتابوں سے زیادہ میں یہ سب کچھ درج ہے(دیکھیں کشف الاستارالمحدث نوری )

رابطہ العالم الاسلامی کے سیکرٹری جنرل جناب محمد صالح کا بیان

جو حضرات اہل سنت کے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے عقیدہ کو شیعوں کے عقیدہ امام مہدی علیہ السلام سے مختلف ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے لئے وھابی مسلک کے علماءکا یہ بیان مطالعہ کر لینا چاہیے کہ جس میں انہوں نے واضح کیا ہے بارہ خلفاءراشدین کے آخری امام مہدی علیہ السلام ہوں گے ان کا ظہور مکہ سے ہوگا اہل سنت کی معتبر کتابوں میں تفاصیل درج ہیں امام مہدی علیہ السلام کے بارے احادیث تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں رسول اللہ کے بزرگ ترین صحابہ جن میں حضرت علی علیہ السلام حضرت سلمان علیہ السلام ، حضرت طلحہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف، شامل ہیں ان کی تعداد پندرہ بنتی ہے، اس بارے علامہ سخاوی کی کتاب فتح المغیث، محمد بن احمد السفاوینی کی کتاب شرح العقیدہ، ابوالحسن الابری کی کتاب المناقب، فتح المغیث، محمد بن احمد السفاوینی کی کتاب شرح العقیدہ، ابوالحسن الابری کی کتاب المناقب اور ابن تیمیہ کی کتاب الفتاوی، السیوطی کی کتاب الحادی اور محمد بن جعفر الکتانی کی کتاب نظم المتتاتر کو دیکھا جا سکتا ہے(بحوالہ: مجلہ الجامعة الاسلامیہ عدد نمبر ۳ سال اول ذی العقدہ ۸۸۳۱ ھ ق مدینة منورہ) میں اس بارے مفصل بحث کی گئی ہے۔

اس مجلہ میں شیخ عبدالحسین العباد جو کہ جامعہ مدینة المنورہ میں پروفیسر ہیں ان کی بحث کا عنوان ہے ”عقیدہ اہل السنہ والاثرفی المہدی المنتظر“ اس بحث میں امام مہدی علیہ السلام کے بارے مفصل بات کی گئی ہے،اس تحریرکی چند نمایاں باتیں یہ ہیں ۔

۱ ۔رسول اللہ کے مشہور ۶۲ صحابہ کے حالات بیان کئے ہیں جنہوں نے امام مہدی علیہ السلام کے بارے احادیث نقل کی ہیں ۔

۲ ۔اہل سنت کے علماءاور محدثین کی مشہور ۸۳ شخصیات کے نام دیے ہیں جو اصحاب صحاح ، المعاجم، المسانید کے مصنف ومولف ہیں اور انہوں نے اپنی کتب میں امام مہدی علیہ السلام کے متعلق لکھاہے۔

۳ ۔دس ایسے قدیم علماءکا ذکر ہے جنہوں نے امام مہدی علیہ السلام کے بارے میںکتابیں لکھی ہیں ۔

۴ ۔ایسے افراد کے کلمات اوربیانات کا ذکرکیا گیا ہے جنہوں نے اس موضوع بارے لکھا ہے۔

۵ ۔امام مہدی علیہ السلام کے بارے جو کچھ کتابوں میں درج ہے اسے بیان کیا گیاہے۔

۶ ۔صحیحین(بخاری، مسلم) کے علاوہ دوسری کتب میںجو امام مہدی علیہ السلام کا ذکر آیا ہے اسے بیان کیا ہے۔

اس کے علاوہ ابن خلدون کا بیان بھی نقل کیا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا ظہور امور مسلمہ سے ہے اور اس نے یہ جو کہا ہے کہ مسیح ہی امام مہدی علیہ السلام ہوں گے اس نظریہ کا جواب دیا ہے اور اس کے خیال کو مسلمہ احادیث کی روشنی میں غلط ثابت کیا ہے۔

درج ذیل کتب کے مولفین نے ان احادیث کو اپنی کتب میں دیا ہے۔ان کا تذکرہ خصوصیت سے کیا گیاہے۔

۱ ۔صحیح الترمذی، ابوعیسی محمد الترمذی متوفی ۹۷۲ ھ

۲ ۔ ابوداود ، سلمان ابن الاشعث بن اسحاق بن شداد بن عمروبن عمران الازدی....، سنن ابن داود متوفی ۲۷۲ ھ

۳ ۔ سنن ابن ماجہ، محمد بن یزید بن ماجہ القزوینی، متوفی ۳۷۲

۴ ۔ المسند الکبیر، البزار ابوبکر بن احمد بن عمر البصری المتوفی ۲۹۲ ھ

۵ ۔الحاکم نیشاپوری متوفی ۳۰۴ ھ(المستدرک)

۶ ۔المسند الکبیر ابولیلی الموصلی احمد بن علی التیمی الموصلی متوفی ۷۰۳ ھ

۷ ۔سلیمان بن احمد بن ایوب، الطبرانی متوفی ۰۶۲ ھ

اس ساری بحث سے ہمارا ہدف و مقصد

اتنی ساری بحث کا ہدف یہ ہے کہ آج کے دور میں امام مہدی علیہ السلام کے متعلق بہت کچھ لکھا جا رہا ہے، پڑھا جارہا ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ شیعہ مسلمانوں اور سنی مسلمانوں کے نزدیک امام مہدی علیہ السلام کے بارے اختلاف موجود ہے جب کہ ایسا نہیں ۔

امام مہدی علیہ السلام کے موضوع پر اتفاق

امام مہدی علیہ السلام کے موضوع سے متعلق درج ذیل باتوں پر مکمل اتفاق تمام اسلامی فرقوں میں پایا جاتا ہے اس میں شیعہ سنی کے درمیان کوئی فرق نہیں ۔

۱ ۔ امام مہدی علیہ السلام رسول اللہ کی بیٹی فاطمہ علیہ السلام کے فرزند ہیں علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی صلب سے ہیں ۔

۲ ۔امام حسین علیہ السلام کی اولاد سے ہیں ، امام حسن علیہ السلام کی اولاد سے نہیں امام حسن علیہ السلام کی اولاد سے ہونے کے بارے جو روایت نقل کی جاتی ہے وہ کئی حوالوں سے قابل اعتماد نہیں جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے۔

۳ ۔ امام مہدی علیہ السلام رسول اللہ کے بارہویں خلیفہ راشد ہیں ۔

۴ ۔ امام مہدی علیہ السلام کانام محمد علیہ السلام ہے کنیت ابوالقاسم ہے آپ کے باپ کا نام حسن عسکری علیہ السلام ہے کچھ نے عبداللہ لکھا ہے تو حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کا نام بعض کتب میںعبداللہ بھی لکھا گیا ہے لہٰذا اس بابت اختلاف بھی ختم ہو جاتاہے۔

۵ ۔امام مہدی علیہ السلام قیامت سے پہلے ظہور کریں گے، زمین کو عدل و انصاف سے بھردیں گے ظلم و جور کا خاتمہ کریںگے اسلام کی ہر جگہ بالادستی ہوگی۔

۶ ۔امام علیہ السلام کے ظہور سے پہلے پوری دنیا میں بڑی بڑی تبدیلیاں آئیں گے جنگیں ہوں گی،قحط ہوگا،فتنے ہوں گے، ایک بڑی جنگ کے بعد ہی آپ علیہ السلام کا ظہور ہوگا اور آخر کار پوری زمین پر اللہ کا نظام نافذ ہوگا۔

۷ ۔ امام مہدی علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے علاوہ ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام مہدی علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔

۸ ۔ امام مہدی علیہ السلام کا ظہور مکہ سے ہوگا کعبة اللہ سے آپ کے ظہور کا اعلان ہوگا جو ہر انسان تک پہنچے گا آپ کے خصوصی ناصران ۳۱۳ ہوں گے اور مکہ ہی میں آپ کی فوج کا پہلا دستہ دس ہزار افراد پر مشتمل ہے۔عالمی اسلامی حکومت کے قیام کا آغاز مکہ سے ہونا ہے۔

شیعہ اور سنی میں اختلافی امور

حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے جو شیعہ سنی میں اختلاف ہے وہ درج ذیل امور میں ہے۔

۱ ۔ اہل سنت میں سے بعض کا نظریہ یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی صفات اور خصوصیات، نسب و حسب پر شیعہ سنی کا اتفاق ہے، اس قسم کی شخصیت نے ابھی پیدا ہونا ہے، جب کہ تمام شیعہ بارہ امامی کا اس پر اتفاق ہے کہ امام مہدی علیہ السلام ۵۵۲ ہجری ۵۱ شعبان کو سامرہ میں پیدا ہوئے اور آپ پانچ سال کے تھے جب آپ کے باپ کی شہادت ہوئی اور اسی نظریہ کو بہت سارے محقق علماءاہل سنت اور مشائخ صوفیہ نے قبول کیا ہے جیسا کہ بیان ہو چکا ہے۔

۲ ۔ شیعہ کا عقیدہ ہے کہ آپ بارہویں امام ہیں اور بالترتیب آئمہ کا عقیدہ رکھتے ہیں اور ان آئمہ ہی کو رسول اللہ کے بارہ اوصیاءاور بارہ خلفاءراشدین مانتے ہیں ، جب کہ علماءاہل سنت حضرت امام مہدی علیہ السلام کوان کی تمام خصوصیات وصفات سمیت بارھواں خلیفہ راشد اور بارہواں وصی قبول کرتے ہیں جب کہ باقی گیارہ اماموں کو خلیفہ راشدقبول نہیں کرتے فقط حضرت علی علیہ السلام کو چوتھے نمبر پر خلیفہ راشد مانتے ہیں جب کہ شیعہ حضرت علی علیہ السلام کو امام اور پہلا خلیفہ راشد قرار دیتے ہیں بہرحال یہ اختلاف حضرت امام مہدی علیہ السلام پر آ کر ختم ہو جاتا ہے سنی شیعہ دونوں حضرت امام مہدی علیہ السلام ہی کو بارہواں خلیفہ راشد مانتے ہیں اور ان کی خصوصیات و صفات حسب و نسب اور ان کی آمدکے طریقہ کارپر دونوں کا اتفاق ہے۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے سرداب کا عنوان اور موضوع

شیعوں پرجوتہمت بعض علماءاہل سنت نے سرداب کے حوالے سے لگائی ہے یہ انتہائی افسوس ناک ہے اسے اسلام دشمنوں نے بڑا بنا کر پیش کیا ہے اور اس عنوان کوشیعوںکے خلاف اپنے زہریلے پروپیگنڈے کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کیاہے اورانہوں نے یہ بات بغیر کسی ثبوت کے شیعوں کے سرتھونپی ہے کہ وہ اس بات کے قائل ہے کہ ان کے امام مہدی علیہ السلام سرداب میں غائب ہو گئے قابل افسوس امر یہ ہے کہ آج کے جدید دور میں بھی بعض علماءاہل سنت جوحضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے منتظر ہیں ان کے ظہور کی علامات کو بیان کر رہے ہیں جو علامات پوری ہوچکی ان کو امت اسلامیہ کے لئے لکھا ہے اور اس طرح وہ امت کو بیدار کرنا چاہتے ہیں افسوس ہے کہ انہوں نے شیعوں پرتہمت کے سلسلہ کو اپنے سابقہ اکابرین کی طرح بغیر ثبوت کے لکھ دیا ہے جس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔

سرداب کی حقیقت

جو حضرات عراق، ایران کے گرم علاقوں سے واقف ہیں وہ یہ جانتے ہیں کہ عام طور پر موسم گرما کی گرمی سے بچنے کے لئے گرم علاقوں والے لوگ اپنے گھروں میں زمین دوز گہرے سرداب تعمیر کرتے ہیں اب بھی ایسے سردابوں کو ایران، عراق میںمشاہدہ کیا جا سکتا ہے سامرا شہر میں اہل سنت ہی کی زیادہ آبادی ہے ان کے پرانے بلکہ نئے گھروںمیںبھی سرداب دیکھے جاسکتے ہیں اور سرداب اس گھر کا حصہ ہوتے ہیں جس میں وہ رہتے ہیں ۔

حضرت امام علی نقی علیہ السلام کو مدینہ سے حاکم وقت خلیفہ عباسی سامرہ لے آیا اور پھر واپس مدینہ نہ جانے دیا اور آپ کے سارے بیٹے بھی آپ کے ساتھ تھے جن میں جناب جعفر، جناب محمد، جناب حسین اور حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام آپ کے خاندان کے اور افراد بھی تھے آپ کا اس وقت جہان پر مزار ہے اسی جگہ آپ کا بہت بڑا گھر تھا۔ ملاقاتیں اسی جگہ پراپنے اصحاب اور ماننے والوں سے کرتے تھے، حکمرانوں کے افسران اور وزراءبھی اسی جگہ آتے جاتے تھے۔ اسی گھر کے اطراف میں بنی ہاشم کے اور گھر بھی موجود تھے اور جس جگہ اس وقت سرداب موجود ہے یہ آپ کے گھر کا حصہ تھا جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ جب امام مہدی علیہ السلام نے اپنے باپ کا جنازہ خود پڑھایا اور حکمران جماعت کو پتہ چل گیا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند موجود ہیں تو وہ آپ علیہ السلام کو گرفتار کرنا چاہتے تھے آپ علیہ السلام جنازہ کے بعد اپنے گھر داخل ہو گئے اورسب کے سامنے اپنے گھر کے اندر گئے حکومتی کارندے آپ کے پیچھے آپ علیہ السلام کے گھر میں گھس گئے لیکن آپ علیہ السلام کو نہ پاسکے کچھ ہی عرصہ بعداس گھر کو عباسی خلیفہ نے مکمل طور پر مسمار کردیا اور کافی عرصہ گذرنے کے بعد ایک اور عباسی خلیفہ جو علماءاہل سنت سے تھے کیونکہ اس دور میں خلیفہ علماءسے ہوتا تھاانہوں نے اس گھر کی یاد مین اس گھر والی جگہ پر جو سرداب موجود تھا اور آئمجہ علیہ السلام کے گھر کا ہی حصہ تھا، اسے محفوظ کرلیا۔

اس نے اس گھر کی یاد کے طور پر سرداب کے لئے دروازہ لگا دیا کیونکہ اس گھر سے فقط سرداب ہی باقی تھا۔ باقی رہی یہ بات کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کس طرح ان کی نظروں سے اوجھل ہو گئے تو یہ اللہ کااپنا نظام ہے جس طرح رسول اللہ شب ہجرت کفار کے درمیان سے چلے گئے کوئی آپ کو نہ دیکھ سکا تو اسی طرح آپ کے بارہویں خلیفہ کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے انتظام فرمایا۔آپ علیہ السلام اپنے گھر کے اندر چلے گئے اور وہاں پر موجود لوگ آپ علیہ السلام کو نہ دیکھ سکے اور آپ علیہ السلام محفوظ جگہ پر منتقل ہوگئے۔

باقی رہاکم سنی میں علمی برتری والی بات تو اس سے پہلے حضرت امام محمد تقی علیہ السلام اور حضرت امام علی نقی علیہ السلام کم عمری میں امامت کے منصب پر پہنچے قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، حضرت یحیٰ علیہ السلام بھی بچپن میں نبوت کے عہدے پر فائزہوئے، اس مسئلہ کی تفصیلی بحث عقائد کی کتابوں میں درج ہے۔

تمام مذاہب والوں کا طریقہ

ہم آج اس بات کا بخوبی مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ کس طرح مختلف مذاہب والے اپنے اکابرین کی یادگاروں کا احترام کرتے ہیں جس جگہ ان کے اکابرین نے جنم لیا ہوتا ہے جہاں پر انہوں نے درس پڑھا ہوتا ہے، جس جگہ پر انہوں نے زندگی گزاری ہوتی ہے ان کے استعمال کی چیزوں سب کو قومی ورثہ قرار دے کر محفوظ کیا جاتا ہے اور ان کا احترام کیا جاتا ہے اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جس جگہ شیعوں کے تین آئمہ امام علی نقی علیہ السلام ، امام حسن عسکری علیہ السلام ، امام مہدی علیہ السلام نے زندگی گزاری ہو اگر اس گھر کی ایک نشانی سرداب بچ گئی ہے اگر اس کی حفاظت کی جائے اور اس جگہ کا احترام کیا جائے تو اس میں کون سی بات اسلام کے منافی ہے؟ یا یہ کون سا غیر اسلامی عمل ہے؟جب کہ اس سرداب میں رسول اللہ کی اولاد نے بہت عرصہ گذارا اس جگہ نمازیں پڑھیں، دعاومناجات کی اب اگر اس جگہ کوئی جا کر زیارت کر ے یاوہاں بیٹھ کردعا پڑھے، اپنے رب سے مناجات کرے تویہ کون ساکافرانہ عمل ہے؟ بلکہ یہ تو شعائر اللہ کی تعظیم سے شمار ہوتاہے۔

امام مہدی علیہ السلام کسی سرداب سے باہر نہ آئیں گے

شیعہ بارہ امامی کا یہ عقیدہ ہرگز نہیں کہ امام مہدی علیہ السلام کسی شہر کے سرداب سے باہر آئیں گے بلکہ ان کا عقیدہ تو یہ ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام صحراوں، پہاڑوں اور جنگلوں میں زندگی گزار رہے ہیں جس کا علم فقط اللہ تعالیٰ کو ہے اور ایسا بہت سارے انبیاء علیہ السلام کے لئے بھی ہوتا رہا کوئی غاروں میں رہا تو کوئی درباروں میںکوئی صحراوں میں تو کوئی مچھلی کے شکم میں آپ کا ظہور جب ہوگا تو وہ مکہ شہر سے اور وہ بھی مسجد الحرام کعبة اللہ سے ہوگا اس پر شیعوں کا مکمل اتفاق ہے اس کے علاوہ کوئی ایک روایت موجودہی نہیں ہے۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام کی طولانی عمر

باقی یہ بات کہ امام مہدی علیہ السلام اب تک زندہ کس طرح ہیں تو جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں ۔حضرت الیاس اور حضرت ادریس زندہ ہیں ،اللہ کے ولی حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہیں ۔ابلیس ملعون زندہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسی طرح اپنے آخری نمائندہ کو بھی زندہ رکھا ہوا ہے۔جس طرح اللہ کے عبد صالح حضرت خضر اس زمین پر موجود اور زندہ ہیں ۔ حضرت موسی علیہ السلام کے دور میں بھی وہ موجودتھے اورلوگوں میں رہتے تھے۔لیکن لوگ ان سے واقف نہ تھے۔ اسی طرح امام مہدی بھی لوگوں میں ہیں اور لوگ ان سے واقف نہیں ہیں ۔ آپ حج پر موجود ہوتے ہیں ،مدینہ منورہ، نجف اشرف،کربلا معلیٰ،کاظمین،سامرہ ،مشھد مقدس،میں اپنے وآباءاجداد کی مزاروں کی زیارت کیلئے تشریف لے جاتے ہیں ۔ اہل سنت کے عالم حافظ الگنجی الشافعی المتوفی۴۵۸ھ لکھتے ہیں ۔امام کی بقاءحضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مانند ہے۔وہ عام غذا پانی کے بھی محتاج نہیں ہیں ۔باوجود یہ کہ وہ حضرت مہدی علیہ السلام کی طرح بشر ہیں ۔ ان دونوں کی بقاءاللہ کے امر سے ہے۔اللہ کے امر سے اپنے لئے رزق وصول کرتے ہیں ۔

اختتام کلام.... امین محمدجمال الدین مصری کے دو کتابچے بارے حقائق نامہ

۱۔امت مسلمہ کی عمر اور مستقبل قریب میں مہدی علیہ السلام کے ظہور کا امکان

۲۔ہرمجدون یاتیسری عالمی جنگ

اپنے موضوع کے اعتبار سے یہ دونوں کتابچے بہت ہی عمدہ ہیں ۔اختصار کے باوجود ایک قاری کو حضرت امام مہدی علیہ السلام اور آپ کے ظھور کے بارے میں مکمل آگاہی دیتے ہیں ۔ اور مستقبل قریب میں کیا ہونے والا ہے اس کے متعلق بھی ایک مسلمان کوآگہی دینے کیلئے کافی ہیں ۔ ہم نے ان دو کتابچوں سے ایسے مطالب جو قابل اعتراض ہیں اورفاضل مو لف نے شیعوں کے عقائد بارے جو کچھ لکھا ہے اس پر ہم نے اپنے قارئین کے لئے حقائق سے پردہ اٹھا دیا ہے امید ہے اس حقائق نامہ کو جب قاری ان دو کتابچوں کے ساتھ ملا کر مطالعہ کرے گا تو اسے یقین کامل ہو جائے گا کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے عقیدہ رکھنا اور ان کے ظہور کے انتظار اور عالم اسلام کے لئے روشن مستقبل پر سب مسلمانوں کا اتفاق ہے اور ہمیں سب کو مل کرحضرت امام مہدی علیہ السلام کے لئے مدد بننا ہے اور ان کی آمد کے لئے خود کو تیار کرنا ہے۔البتہ فاضل مولف کی کتابوں کو اس وقت مزید چار پانچ سال کا عرصہ گذر چکا ہے اور بہت سارے مزیدواقعات عالم اسلام میں اور دیگرخطوں میںظاہر ہو چکے ہیں خاص کر حزب اللہ کی اسرائیل پر برتری اور اس بڑی جنگ”جولائی ۶۰۰۲ ئ“ میں کامیابی نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی انتظار کرنے والوں کے لئے بہت کچھ اور امور کو واضح کر دیا ہے ہو سکتا ہے کہ حزب اللہ کی اس بڑی کامیابی کے بعد فاضل مولف کے خیالات شیعہ بارہ امامیوں کے بارے تبدیل ہو چکے ہوں لیکن ہمارے پاس ابھی تک ان کی ایسی کوئی تحریر نہیں پہنچی خداوند سے دعا ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے خدا ہر مسلمان کو اللہ عزوجل توفیق دے کہ وہ حق کو سمجھ لے اور اس پر چلے اور حق کا ساتھ دے۔اس حقائق نامہ بارے کسی قسم کے سوالات کے لئے ہمارا ای میل ایڈریس موجود ہے اور مزید اس موضوع پر تحقیقی مطالب جاننے کے لئے ہماری ویب سائیٹ میں جائیں۔


حضرت امام مہدی علیہ السلام نہ سنی ہیں نہ شیعہ وہ اہل البیت علیہ السلام سے ہیں

بسم الله الرحمن الرحیم

اللهم صل علی محمدوال محمدوعجل فرجهم

میری نظر سے مصر کے معروف قلمکار جناب امین محمد جمال الدین کی دو کتابیں ہیں ( ۱) امت مسلمہ کی عمر ( ۲) ہرمجدون ایک ہولناک بین الاقوامی جنگ

ان کا عربی متن تو نہیں مل سکااس کااردو ترجمہ پروفیسر خورشید عالم نے کیا ہے وہ میرے پاس ہے میں نے ہر دو کتابوں کا مطالعہ کیاہے۔ ہو سکتا ہے کہ جناب امین محمد، جمال الدین ہے گذشتہ سال حزب اللہ کی اسرائیل پر معجزاتی اور حیرت انگیز کامیابی کے بعد ایک اور کتاب بھی تحریر کر چکے ہیں کیونکہ اس جنگ کے بعد بہت سارے وہ علامات جو ابھی تک تشنہ تکمیل ہیں وہ پوری ہو چکی ہیں اور بنواسرائیل اپنے خاتمہ کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ حزب اللہ کی قیادت نے جس طرح عالم اسلام کے اندر ایک نیا جذبہ ایجاد کر دیا اور مسلمانوں کو عالمی استعمار سے نجات حاصل کرنے کے لئے آمادگی اور تیاری پر لگا دیا ہے ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔

جناب امین محمدجمال الدین نے اہل سنت ماخذ سے آخری زمانہ کی علامات اور قیامت صغریٰ(ظہور امام مہدی علیہ السلام ) کی نشانیوں کو جس طرح یکجا کر دیا ہے اور روایات میں ذکر شدہ علامات کو آج کے زمانہ میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات پر تطبیق دیا ہے اور پھر اس میں اختصار کو بھی ملحوظ خاطر رکھا ہے تو ہم انہیں داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے۔

انہوں نے سوئی ہوئی امت مسلمہ کو جگانے کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے البتہ اسی موضوع پر اس سے پہلے مسلک اہل البیت علیہ م السلام کے پیروکاروں کی طرف سے متعدد کتابیں عربی، فارسی میں شائع ہو چکی ہیں اور سب سے اہم اور تحقیقی کتاب جناب علامہ علی الکورانی لبنانی کی عصر ظہور ہے جس کا اردو ترجمہ راقم نے ۹۸۹۱ ءمیں کر دیا تھا اور ۰۹۹۱ میں قیام پبلی کیشنز لاہور سے اردو میں شائع ہوئی اور اب تک یہ کتاب کئی مرتبہ شائع ہو چکی ہے اور عربی زبان میں اس کے دسیوں ایڈیشن مع اضافات شائع ہو چکے ہیں اسی طرح چار ضخیم جلدوں پر مشتمل معجم الاحادیث الامام المہدی علیہ السلام بھی شائع ہو چکی ہے جس میں جناب علامہ الکورانی نے امام مہدی علیہ السلام کے متعلق سنی شیعہ منابع میں جتنی احادیث ہیں ان سب کو یکجا کردہ ہے ان کے علاوہ سینکڑوں کتابیں، مجلات، لبنان، عراق، ایران میں اس موضوع پر شائع ہو چکے ہیں اور اردو زبان میں بھی پہلے سے زیادہ کام اس موضوع ہو رہا ہے۔ راقم نے دو سال قبل ظہور امام مہدی علیہ السلام سے چھ ماہ پہلے عربی متن سے اردو میں ترجمہ کر کے شائع کی ہے۔جس کے تین ایڈیشن آچکے ہیں اور اب پھر زیر طبع ہے۔

محمدامین جمال الدین مصری کے بیانات پرنقطہ اعتراض

جناب محمد امین جمال الدین کی ہر دو کتابوں میں ایک بات پر زور دیا گیا ہے کہ مسلمان اتحادیوں کے ساتھ مل کر امام مہدی علیہ السلام کے مخالفین کے خلاف جنگ کریںگے اور پھر مخالفین کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ ایران کے شیعہ بارہ امامی ہیں اورروس وچین کے کمیونسٹ ہیں (دیکھئے امت مسلمہ کی عمرص ۱۶۱ ،ہر مجذون ص ۹۲ ص ۰۴ ، اسی طرح امین محمدجمال الدین کا خیال یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا نام محمد ہو گا وہ عبداللہ کا بیٹا ہوگا اور امام حسن علیہ السلام کی اولاد سے ہو گا اور یہ امام مہدی علیہ السلام وہ نہیں ہے جس کا انتظار شیعہ کر رہے ہیں ۔

جو سامرہ کے تہہ خانے میں غائب ہے اور شیعہ اس کی انتظار کر رہے ہیں (دیکھئے ص ۵۴ ،امت مسلمہ کی عمر، عنوان مہدی علیہ السلام کون ہے؟)

ہر دو کتابیں مفید ہیں لیکن جو کچھ مصنف نے شیعوں کے حوالے سے لکھا ہے یہ سراسرزیادتی ہے اور اس تحریر سے تعصب کی بو آٹی ہے۔ شیعہ بارہ امامی اپنے عقائد اور نظریات کے حوالے سے معروف و مشہور ہیں اور ان کی کوششوں سے ایران کی سرزمین پر پہلی اسلامی حکومت قائم ہو چکی ہے جس نے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا مقدمہ بننا ہے۔اہل سنت کے منابع و ما خذسے ثابت ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے ایران کی سرزمین پر اسلامی حکومت قائم ہو گی جس کی قیادت ایک سید مولوی کے پاس ہو گی اور یہ سب کچھ بھی اہل سنت کے مآخذومنابع میں موجود ہے اور احادیث نبویہ سے ثابت ہے۔(دیکھئے عصرظہور)

سنی شیعہ کے امام مہدی علیہ السلام ایک ہیں

اسی طرح یہ تاثر دینا کہ شیعوں کا امام مہدی علیہ السلام اور ہے اور سنیوں کا اور ہے یہ بھی درست نہیں کیونکہ امام مہدی علیہ السلام اہل البیت علیہ السلام سے ہیں اور ان کا نسب صحیح احادیث نبویہ سے ثابت ہے ہم اس جگہ مصنف کی غلط فہمی کا ازالہ کرنے کے لئے ذیل میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کا تعارف نامہ اہل سنت کے مآخذ سے پیش کرتے ہیں ۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام کا تعارف اہل سنت کے منابع سے،امام مہدی علیہ السلام عربی النسل ہوں گے

اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے اس جگہ ان منابع کا تذکرہ کرتے ہیں جن میں احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام عرب سے ہوگا۔

ملاحظہ کریں۔ ( ۱) عقد الدرر فصل اول باب نمبر ۴ بحوالہ کتاب الفتن لابی عبداللہ نعیم بن جماد، حضرت علی علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے ( ۲) اسی کتاب الفتن میں ابی قبیل سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام عرب سے ہوں گے۔

حضرت امام مہدی علیہ اسلام امت مسلمہ سے ہوں گے

یہ بات طے ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام جس ہستی نے مکمل طور پر نافذ کرنا ہے، ظلم و جور کا خاتمہ جس کے ہاتھوں ہونا ہے اور پوری دھرتی پر جس کی حکومت میں اسلام رائج ہو گا ہر جگہ پر ”لاالہ الا اللہ“ کا راج ہو گا وہ ہستی حضرت امام مہدی علیہ السلام ہوں گے اور وہ امت اسلامیہ سے ہوں گے کسی اور امت سے نہ ہوں گے احادیث صحیحہ میں آیا ہے۔

ملاحظہ کریں

( ۱) الترمذی نے اپنی کتاب کے ص ۰۷۲ پر

( ۲) ابن معاجز نے ابو الخدری سے

( ۳) عقدالدرر باب اول میں ابومسلم عبدالرحمن بن عوف نے اپنے باپ کے واسطہ سے نقل کیا ہے۔

( ۴) حافظ ابونعیم نے اپنی کتاب میں امام مہدی علیہ السلام کے اوصاف میں بیان کیا ہے، ابوسعید الخدری کے حوالہ سے۔

( ۵) الفصول المہمہ میں ابوداود سے

( ۶) الترمذی نے عبداللہ بن مسعود سے

( ۷) ینابیع المودة ص ۴۳۴ میں کتاب جواھر العقدین سے ابوسعیدالحذری کے حوالہ سے بیان کیا ہے۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام سے مرادحضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں

واضح رہے کہ اہل سنت کے منابع میں جن روایات میں یہ بات نقل ہوئی ہے کہ آخری زمانہ میں جس مہدی علیہ السلام نے آنا ہے اس مہدی علیہ السلام سے مراد عیسیٰ علیہ السلام ہیں تو خود اہل سنت کے محقق علماءنے ان احادیث کے ضعیف ہونے پر دلائل دیئے ہیں اور ثابت کیا ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام امت اسلامیہ سے ہیں اور ان سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں ہیں بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام مہدی علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔

(دیکھیں:الصواعق المحرقہ ص ۸۹ ۔ دائرة المعارف ج ۱ ص ۵۷۴ ، عقدالدرر نے اپنی کتاب کے دیباچہ میں اس پر بحث کی ہے۔ ابوعبداللہ الحاکم نے مستدرک میں ، ینابیع المودة ص ۴۳۴ میں)

امام مہدی علیہ السلام عربوںکے قبیلہ کنانہ سے ہوں گے

عقد الدرر باب اول امام ابی عمر عثمان بن سعید المقری نے اپنی کتاب سنبن میں قتادہ سے روایت کی ہے کہ اس نے سعید بن المسیب سے دریافت کیا کہ کیا مہدی علیہ السلام برحق ہیں تو اس نے جواب دیا جی ہاں!برحق ہیں ، میں نے سوال کیاعرب کے کس قبیلہ سے ہوں گے تو انہوں نے جواب دیا کنانہ سے، میں نے پوچھا کنانہ کی کس شاخ سے؟ تو اس نے جواب دیا قریش سے، میں نے سوال کیاقریش میں کس سے؟ تو جواب دیا بنی ہاشم سے، میں نے پوچھا بنی ہاشم میں کس سے؟ تو اس نے جواب دیا بنی فاطمہ علیہ السلام سے۔

کنانہ رسول پاک کے جدامجد ہیں ، آپ کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضربن نزار بن معد بن عدنان ہیں ۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام قریش سے ہیں

۱ ۔ عقد الدرر باب اول میں امام ابی عبداللہ نعیم بن حماد نے ابن وائل سے، اس نے قتادہ سے، اس نے امام ابی الحسن احد بن جعفر المناون سے، اس نے قتادہ سے اور اس نے سعید بن مسیب سے بیان نقل کیا ہے جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا کہ مہدی علیہ السلام قریش سے ہوں گے اس میں یہ اضافہ بھی وموجود ہے کہ قریش کے بعد بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب اور پھر بنی فاطمہ علیہ السلام سے ہوں گے۔

۲ ۔ ابن حجر نے الصواعق المحرقہ ص ۹۹ میں احمد اور لماروری سے نقل کیا ہے کہ مہدی قریش سے ہے اور میری عترت سے ہے۔

۳ ۔ اسعاف الراغبین ص ۱۵۱ میں ہے کہ مہدی قریش سے ہوں گے اور قریش سے مراد نضربن کنانہ ہیں ۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام بنی ہاشم سے ہیں

عقدالدرر کے باب اول میں امام ابی الحسین احمد بن جعفر المناوی اور امام ابی عبداللہ نعیم بن حمادسے، اس نے قتادہ سے اور اس نے سعید بن مسیب سے یہ روایت بیان کی ہے جس کی تفصیل اوپر آچکی کہ مہدی بنی ہاشم سے ہوں گے۔

حضرت ہاشم سے مراد ہاشم بن عبدمناف بن قصیٰ بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن النضر بن کنانہ ہیں ، ہاشم کا نام عمرہ العلی تھا،ہاشم اس لئے کہتے تھے کہ آپ گوشت کے قورمے میں روٹیوں کے ٹکڑے ٹکڑے بنا کر ڈال دیتے اور مہمانوںاور مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے خاص کر قحط اور خشک سالی کے ایام میں، اس لئے آپ کا نام ہاشم مشہور ہو گیا آپ بہت ہی سخی تھے حیوانات اور پرندوں تک کو غذا مہیا کرتے تھے۔

قریش کے لئے تجارت کا پرمٹ

حضرت ہاشم نے شام کی جانب مکہ سے ایک وفد بھیج کر بادشاہ روم سے قریش کے لئے تجارت کا پرمٹ لیا تھا اور یہ کہ مکہ کے تجارتی قافلہ کو سفر کے دوران تحفظ فراہم رہے گا۔اور اسی طرح اپنے بھائی المطلب کویمن بھیج کر وہاں کے کے شاہوں سے بھی قریش مکہ کے لئے تجارت کا پرمٹ اور راستہ میں حفاظت کے لئے باقاعدہ لائنسس جاری کروایا اور یہ انتظام کرنے کے بعد آپ ہی نے گرمیوں اور سردیوں میں باقاعدہ تجارتی قافلوں کو مکہ سے روانہ کرنے کا دستور دیا۔جس کا تذکرہ سورہ القریش میں موجودہے۔آپ کے باپ عبدمناف تھے جو اپنے حسن و جمال کی وجہ سے قمرالبطحاءکہلاتے تھے عبدمناف کے باپ قصی تھے جن کا نام زید تھا، آپ کوقصی اس لئے کہا جاتا تھا کہ آپ اپنے ننھیال چلے گئے اور وہیں پربزرگ ہوئے پھر وہاں سے واپس مکہ آئے خفت قصی کو مجمع بھی کہا جاتا تھا کیونکہ آپ نے مکہ واپس آ کر صحراوں میں بکھرے ہوئے قبائل قریش کو مکہ میں اکٹھا کیا آپ نے مکہ والوں کے لئے پہلی مرتبہ پانی کے واسطے باقاعدہ کنواں کھودا اور اسی کنوئیں سے قریش سیراب ہوتے تھے۔

مہدی علیہ السلام عبدالمطلب کی اولاد سے

عقددرر باب ۷ محدثین کی ایک بہت بڑی جماعت سے اس بات کو نقل کیا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام عبدالمطلب کی اولادسے ہوں گے،ان محدثین میں امام ابی عبداللہ بن ماجہ، حافظ ابی القاسم الطبرانی، حافظ ابی نعیم الاصبھانی نے انس بن مالک سے کہ رسول اللہ نے فرمایا:ہم بنی عبدالمطلب سے سات جنت کے سردار ہیں ( ۱) خود میں ہوں ( ۲) میرے بھائی علی علیہ السلام ہیں ( ۳) میرے چچا حمزہ علیہ السلام ( ۴) جعفر علیہ السلام بن ابی طالب علیہ السلام ( ۵) حسن علیہ السلام ( ۶) حسین علیہ السلام ( ۷) مہدی علیہ السلام اور اس حدیث سے واضح ہے کہ مہدی علیہ السلام حضرت عبدالمطلب کی اولاد سے ہیں اور جنت کے سردار ہیں ۔

حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کا تعارف

حضرت عبدالمطلب کا نام شیبة الحمد تھا، عامر بھی آپ کا نام بیان ہوا ہے آپ کوشیبہ اس لئے کہتے تھے کہ آپ کے سر کے اگلے حصہ میں سفید بال نمایاں تھے، آپ کی کنیت ابوالحارث تھی عبدالمطلب آپ کو اس لئے کہا گیا کہ حضرت ہاشم نے اپنی وفات کے دن اپنے بھائی مطلب سے کہا تھا کہ تم یثرب سے اپنے ”عبد“ کو لے آنا کیونکہ آپ کی ماں یثرب سے تھیں اور آپ کی ولادت ننھیال میں ہوئی مکہ میں آپ کے باپ فوت ہو گئے تو آپ کے چچا مطلب آپ کو یثرب سے لے آئے جب مکہ وارد ہوئے تو آپ کے پیچھے آپ کا بھتیجا شیبہ الحمد تھا تو مکہ والوں نے اس خوبصورت بچے کو مطلب کے پیچھے بیٹھا دیکھ کر حیرانگی سے کہاکہ ذرا عبدالمطلب علیہ السلام کو دیکھو عبدالمطلب آ گیا اسی حوالہ سے آپ کا یہ نام ہو گیاحضرت مطلب علیہ السلام نے لوگوں پرواضح کیا کہ یہ میرے بھائی ہاشم کے فرزند ہیں ۔میرے عبد نہیں ۔

امام مہدی علیہ السلام ابوطالب علیہ السلام کی اولاد سے

عقد الدرر نے فصل سوئم کے باب چہارم میں سیف بن عمیرہ سے روایت ہے وہ کہتا ہے میں ابوجعفر منصور(دوانیقی، عباسیوں کا دوسرا خلیفہ) کے پاس موجود تھا تو اس نے مجھ سے کہا کہ یہ بات ضرور ہونے والی ہے کہ آسمان سے نداءدینے والا ابوطالب علیہ السلام کی اولاد سے ایک فرد کا نام لے کر آواز دے گاوہ نداءمہدی علیہ السلام کے نام کی ہوگی۔

سیف: میں نے کہا یا امیرالمومنین علیہ السلام میں آپ پر قربان جاوں توکیا آپ اس بات کی روایت کر رہے ہیں ۔

منصور: جی ہاں! خدا کی قسم! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں نے یہ بات خود سنی ہے۔

سیف: میں نے تو یہ حدیث اس سے پہلے نہیں سنی۔

منصور: اے سیف! یہ بات برحق ہے اس میں شک نہیں ہے جب ایسا ہو گا تو ہم سب سے پہلے ان پر لبیک کہیں گے۔

بہرحال مہدی جو ہیں وہ ہمارے عم(چچا) کی اولاد سے ہو گا۔

سیف: وہ مرد بنی فاطمہ علیہ السلام سے ہو گا۔

منصور: جی ہاں! اے سیف! وہ بنی فاطمہ علیہ السلام سے ہو گا۔

منصور نے یہ کہا کہ اگر میں یہ حدیث ابوجعفر محمد بن علی سے نہ سنی ہوئی اورمجھ سے اس حدیث کو زمین والوںمیں سے بہترین نے نقل نہ کیا ہوتاتو میں اسے ہرگزنقل نہ کرتا۔

حضرت ابوطالب علیہ السلام کا تعارف

سبائک الذہب میں ہے کہ ابن اسحق نے بیان کیا ہے کہ ابوطالب کا نام عبدمناف تھا حاکم کا بیان ہے کہ ابوطالب ان کا نام تھا اور آپ کا نام آپ کی کنیت پر ہے حضرت عبدالمطلب نے وفات کے وقت اپنا وصی ابوطالب کو قرار دیا عبدالمطلب کی وفات کے وقت رسول اللہ کی عمر ۸ سال تھی۔

حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کی عمر ۰۲۱ سال تھی اور الحجون پہاڑ میںآپ دفن ہوئے۔حضرت عبدالمطلب نے حضورپاک کی خصوصی سرپرستی کی ذمہ داری حضرت ابوطالب علیہ السلام کوسونپی اور حضرت ابوطالب علیہ السلام نے آپ کی نصرت فرمائی اور آپ کے دین پر تھے۔

تفصیل کے لئے سیرت ابن ھشام، تاریخ الطبری دیکھیں اور آخری دور کی کتابیں بغیة الطالب فی احوال ابی طالب، الفتوحات الاسلامیہ، زینی الدحلان، انتبخ الابطح تالیف سید محمد علی شرف الدین ابوطالب علیہ السلام مومن قریس تالیف عبداللہ خیزی دیکھیں۔

مہدی آل علیہ السلام محمد سے

ابوداود نے اپنی صحیح کی ج ۴ ص ۷۸ میں عبداللہ بن مسعود سے نقل کیا ہے اگر دنیا کے خاتمہ سے کچھ باقی نہ رہے مگر ایک دن تو اللہ تعالیٰ اس دن کو طولانی کر دے گا یہاں تک کہ اس مرد کو بھیجے گا جومجھ سے ہوگانیزابوسعید الخدری نے اسی طرح بیان کیا ہے۔

نور الابصار ص ۰۳۲ ترمذی سے نقل کیا ہے اس نے ابی سعیدالخدری سے نقل کیا ہے اس بات کو الطبرانی نے روایت کیا ہے ، الصواعق ص ۸۹ پر ابن حجر نے، البرویانی سے روایت کی ہے،ابن سروبہ نے حذیفہ بن الیمان سے، علی بن ابی طالب سے، ان سب میں بیان کیا گیا ہے کہ مہدی ، آل علیہ السلام محمد سے ہیں ۔تفاسیر میں یہ بیان ہوا ہے کہ آل علیہ السلام محمد سے مراد آل علی علیہ السلام وفاطمہ علیہ السلام ہیں ۔

امام مہدی علیہ السلام عترت سے ہیں

ابوداود نے اپنی صحیح میں ج ۴ ص ۷۸ ،اسعاف الراغبین ص ۷۴۱ میں امام نسائی امام ابن ماجہ، البیہقی اور دوسرے آئمہ حدیث نے، ابن حجر نے الصواعق ص ۸۹ میں، ابونعیم نے الفتن میں، مطالب السوول میں بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: کہ اگر دنیا سے کچھ باقی نہ بچے مگر ایک دن تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ میری عترت سے اور بعض احادیث میں میرے اہل بیت علیہ السلام سے، ایک مرد کو اٹھائے گا جو زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھرچکی ہوگی۔

امام مہدی اہل البیت علیہ السلام سے

ابوداود نے اپنی صحیح میں ج ۴ ص ۷۸ حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ نبی پاک نے فرمایا کہ اگر دنیا سے کچھ باقی نہ بچے مگر ایک دن تو اللہ تعالیٰ اس دن کو طولانی کر دے گا یہاں تک کہ میرے اہل بیت علیہ السلام سے ایک مرد کو اٹھائے گا اس مضمون کی احادیث ملاحظہ کریں ۔(الترمذی ج ۲ ص ۷۲۱ ، الصواعق ص ۷۹ ، اسعاف الراغبین ص ۸۴۱ ،مجلة ھدی الاسلام ۵۲ ،ابن ماجہ نور الابصارص ۱۳۲ ، مطالب السول میں اہل بیت سے مراد فاطمہ علیہ السلام ، علی علیہ السلام ، حسن علیہ السلام ، حسین علیہ السلام ہیں ۔

امام مہدی ذوی القربیٰ سے

جب احادیث سے یہ ثابت ہے کہ امام مہدی علیہ السلام عترت طاہرہ سے ہیں اہل بیت علیہ السلام سے ہیں علی علیہ السلام و فاطمہ علیہ السلام کی اولاد سے ہیں حسن علیہ السلام و حسین علیہ السلام کی اولاد سے ہیں تو پھر طے ہو گیا کہ امام مہدی علیہ السلام ہی ذوی القربیٰ سے ہیں جن کی محبت پوری امت پر فرض ہے۔ینابیع المودة ،بخاری اور مسلم سے آیت القربیٰ کے بارے بیان کیا ہے کہ سعید بن جبیر نے نقل کیا ہے کہ قربیٰ، آل علیہ السلام محمد ہیں مطالب السول میں امام الحسن علی ابن احمد الواحدی نے آیت مودت کی تفسیر میں بیان کیا ہے رسول اللہ نے فرمایا قربیٰ جن کی مودت فرض ہے وہ علی علیہ السلام ، فاطمہ علیہ السلام ،حسن علیہ السلام و حسین علیہ م السلام ہیں ۔اسی بات کو الصواعق المحرقہ والے نے ص ۱۰۱ ص ۲۰۱ میں دیا ہے اور اہل سنت کے مفسرین نے آیت قربیٰ کی تفسیرمیں بیان کیا ہے کہ قربیٰ سے مراد آل علیہ السلام محمد ہیں علی علیہ السلام ، فاطمہ علیہ السلام ، حسن علیہ السلام و حسین علیہ م السلام ہیں ۔

امام مہدی علیہ السلام ذریت سے ہیں

ینابیع المودة میں ص ۴۳۳ پر ذخائر العقبیٰ سے، صاحب الفردوس سے جابر بن عبداللہ الانصاری کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کی ذریت کو اس کی صلب میں قرار دیا ہے، میری ذریت کو علی علیہ السلام کی صلب سے قرار دیا ہے بس علی علیہ السلام کی وہ اولاد جو فاطمہ علیہ السلام بنت رسول اللہ سے ہے وہ رسول اللہ کی ذریت ہیں ۔ جب ایسے ہے تو پھر مہدی علیہ السلام ذریت رسول سے ہیں ۔

امام مہدی علیہ السلام حضرت علی علیہ السلام کی اولاد سے

۱ ۔ ینابیع المودة ص ۴۹۴ مناقب الخوارزمی سے ثابت بن دینار کی روایت ہے اس نے سعید بن جبیر سے اس نے ابن عباس سے کہ رسول اللہ نے فرمایا”علی علیہ السلام میری امت پر میرے بعد امام ہیں اور علی علیہ السلام کی اولاد سے قائم منتظر ہیں ، جب وہ ظاہر ہوں گے تو زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہو گی۔

۲ ۔ عقدالدرر باب اول، ابوداود سے ان کی سنن میں، الترمذی سے ان کی جامع میں، النسائی سے ان کی سنن میں، ابن اسحق سے روایت ہے، حضرت علی علیہ السلام نے اپنے بیٹے حسین علیہ السلام کو دیکھ کر فرمایا: کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے جس کے متعلق رسول اللہ نے فرمایا: کہ عنقریب ان کی صلب سے ایک مردخروج کرے گا جس کا نام تمہارے نبی والا ہوگا نبی کے اخلاق میں وہ ان کے مشابہ ہوگا ،اس سے ملتا جلتا بیان ابووائل کا ہے جسے اس نے باب سوئم میں نقل کیا ہے ۔

امام مہدی علیہ السلام فاطمہ علیہ السلام کی اولاد سے

رسول اللہ نے فرمایا مہدی علیہ السلام میری عترت سے، فاطمہ علیہ السلام کی اولاد سے ہیں اس حدیث کو امام ابوداود نے اپنی صحیح ج ۴ ص ۷۸ ابن حجر نے الصواعق ص ۷۹ ، اسعاف الراغبین ص ۷۴۱ مسلم، ابوداود، امام نسائی، ابن ماجہ اور البیہقی سے نقل کیا ہے ینابیع المودة ص ۰۳۴ نے مشکاة المصابیح سے ابوداود اور ام سلمہ سے نقل کیا ہے۔

ینابیع المودة ص ۳۲۲ پر علی بن ھلال سے اس نے اپنے باپ سے ص ۴۳۴ پر الطبرانی سے، اس نے الاوسط میں عبایہ بن ربعی سے اس نے ابی ایوب الانصاری سے یہ حدیث بیان کی ہے۔

رسول اللہ نے فاطمہ علیہ السلام کے لئے فرمایا”ہم سے خیر الانبیاءاور وہ آپ کے باپ ہیں ، ہم سے خیر الاوصیاءوہ آپ کے شوہر علی علیہ السلام ہیں ، ہم سے خیرالشہداءوہ آپ علیہ السلام کے باپ کے چچا حمزہ علیہ السلام ہیں ہم سے وہ جس کے دو پر ہیں وہ ان سے پرواز کرتے ہیں جنت میں جہاں چاہیں ، وہ آپ کے باپ کے چچازاد جعفر ہیں ہم سے سبطین ہیں وہ اس امت کے سبطین ہیں اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ۔ حسن علیہ السلام و حسین علیہ السلام اور وہ دونوں تیرے بیٹے ہیں ہم سے مہدی علیہ السلام ہیں وہ تیری اولاد سے ہیں ، اسی طرح کی روایت فضائل الصحابہ کے باب میں ابوالمظفر السمعانی نے ابوسعیدالحذری سے نقل کیا ہے۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام سبطین سے ہیں

عقدالدرر فصل ۳ باب ۹ حافظ ابونعیم نے کتاب صفة الامام المہدی علیہ السلام میں علی بن ھلال سے، اس نے اپنے باپ سے، بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے وقت وفات اپنی بیٹی فاطمہ علیہ السلام سے فرمایا”اے فاطمہ علیہ السلام تیرے بیٹوں حسن علیہ السلام و حسین علیہ السلام سے مہدی علیہ السلام ہوں گے“۔اسے الکنجی نے اپنی کتاب البیان میں حافظ ابونعیم الاصفھانی سے بیان کیا ہے اسی طرح ینابیع المودة ص ۲۳۴ میں معجم الکبیر میں بھی بیان ہوا ہے۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام حضرت امام حسین علیہ السلام کی اولاد سے

سابقہ روایات سے یہ بات طے ہو چکی کہ امام مہدی علیہ السلام رسول اللہ کی اولاد سے ہیں علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیہ ا کی نسل سے ہیں اور آپ حسن علیہ السلام و حسین علیہ السلام کی اولاد سے ہیں ۔ اب بحث یہ ہے کہ کیا امام مہدی علیہ السلام امام حسن علیہ السلام کی اولاد سے ہیں یا امام حسین علیہ السلام کی اولاد سے ہیں اس میں علماءاسلام میں اختلاف ہے۔ اہل سنت کے محدثین مفسرین ،سیرت نگاروں کی اکثریت شیعہ بارہ امامیہ کے ساتھ متفق ہے کہ امام مہدی علیہ السلام امام حسین علیہ السلام کی نسل سے ہوں گے اور باقاعدہ پورا نسب نامہ بھی روایات میں بیان ہوا ہے۔ تو اس بارے چند روایات ملاحظہ ہوں۔

۱ ۔ عقدالدرر کے باب اول میں حافظ ابونعیم نے اپنی کتاب صفة المہدی میں حذیفہ بن لیمان سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ نے خطبہ دیا اور ہمارے لئے قیامت تک کے حالات کو بیان کیا پھر فرمایا ”اگر دنیا سے فقط ایک دن بچ گیا تو اللہ تعالیٰ اسے طولانی کر دے گا یہاں تک کہ ایک مرد کو اٹھائے گا جس کا نام میرے نام والا ہو گا تو سلمانؓ نے سوال کیا یا رسول اللہ!آپ کے کس بیٹے سے؟تو آپ نے فرمایا میرے اس بیٹے سے اور آپ نے ہاتھ حسین علیہ السلام کے کندھے پر مارا۔

۲ ۔ شرح نہج البلاغہ میں ابن ابی الحدید معتزلی نے حضرت علی علیہ السلام کے واسطہ سے نقل کیا ہے کہ مہدی میرے بیٹے حسین علیہ السلام سے ہوں گے۔

۳ ۔ ینابیع المودة کے ص ۷۹۴ پر بھی اس قسم کا بیان ہے۔

حضرت امام حسن علیہ السلام کی اولاد سے

اس بارے ابوداود کی ابی اسحق سے ج ۴ ص ۹۸ پر روایت نقل کی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ مہدی علیہ السلام حسن علیہ السلام کی اولاد سے ہوں گے ۔لیکن جو لوگ فن حدیث کے ماہر ہیں اور احادیث نبویہ کی صحت و سقم بارے بحث کرتے ہیں اور راویوں بارے جرح وتعدیل کرتے ہیں اور اصول الفقہ میں جو قواعد احادیث سے احکام لینے بارے مقرر ہیں ابوداود کی اس روایت کو بنیاد نہیں بنا سکتے۔ اس کی چند وجوہ ہیں ۔

۱ ۔ عقدالدرر ہیں ابی داود کی سنن سے ہی روایت درج کی گئی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا مہدی علیہ السلام حسین علیہ السلام سے ہوں گے اختلاف نقل کی وجہ سے یہ روایت اعتبار سے گر جاتی ہے۔

۲ ۔ احادیث کے حفاظ کی بہت بڑی جماعت نے اپنی اپنی کتب میں اسی حدیث کو نقل کیا ہے اور بلا اختلاف بیان کیا ہے یعنی مہدی علیہ السلام حسین علیہ السلام کی اولادسے ہوں گے۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا مہدی علیہ السلام حسین علیہ السلام سے ہوں گے ان میں الترمذی، امام نسائی، امام بیہقی سرفہرست ہیں عقدالدرر میں اس کی تفصیل درج ہے۔

۳ ۔ یہ احتمال موجود ہے کہ خط کوفی میں حسین علیہ السلام لکھا گیا جسے بعد والوں نے حسن علیہ السلام قرار دے دیا۔

۴ ۔ یہ ایک حدیث ہے اور جو کچھ مشہور ہے اس کے خلاف ہے اوروہ احادیث کثیر تعداد میںہیں ۔

۵ ۔ اہل بیت علیہ السلام کی ساری احادیث اور روایات سے یہ حدیث ٹکرا رہی ہے اور وہ احادیث سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہیں کچھ گذر چکی ہیں اور بعض کا بعد میں ذکر ہوگا۔

۶ ۔ پھر حافظ ابونعیم جس کی روایات پر خود جناب امین محمدجمال الدین نے بھی اعتماد کیا ہے اور قدیم ترین منبع و مآخذ امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے ہے انہوں نے واضح بیان کیا ہے کہ آپ حسین علیہ السلام کی اولاد سے ہوں گے۔

۷ ۔ یہ احتمال موجود ہے کہ محمد بن عبداللہ بن حسن جو کہ نفس زکیہ کے نام سے مشہور تھے ان کا تقرب حاصل کرنے کے لئے درھم و دینار کے لالچ میں اس قسم کی حدیث کو وضع کیاگیاہو۔

ان احتمالات کی موجودگی میں اس حدیث کو کسی بھی طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ امام مہدی علیہ السلام ،حضرت امام حسن علیہ السلام کی اولاد سے ہوں گے۔

تعصب کی عینک اتار کر اور علمی قواعد ضوابط کو سامنے رکھ کر اگر امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے موجود بنیادی مآخذو منابع کو دیکھا جائے تو یہ بات واضح اور روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ امام مہدی علیہ السلام امام حسین علیہ السلام کی اولاد سے ہیں اور آپ کے نویں فرزند ہیں ۔ فقط یہ سوچ کر شیعہ بارہ امامی اس نظریہ پر متفق ہیں اس لئے ہم اسے تسلیم نہیں کر تے تو یہ خیال علمی اور تحقیقی نہیں اور علماءکو اس قسم کی سوچ سے بالاتر ہونا چاہیے تمام امت مسلمہ جس امام مہدی علیہ السلام کی انتظار میں ہے وہ امام حسین علیہ السلام ہی کے فرزند ہیں اور آپ کا نام رسول اللہ والا نام ہے اورآپ کا مشہور لقب مہدی علیہ السلام ہے۔

مہدی علیہ السلام حضرت امام حسین علیہ السلام کے نویں فرزند ہیں

ینابیع المودة ص ۲۹۴ میں المناقب موفق بن احمدالخوارزمی کی کتاب سے اس نے سلیم بن قیس الھلالی سے اس نے سلمان فارسی سے اس حدیث کو نقل کیا ہے ۔

سلمان: میں رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا،کیادیکھتا ہوں کہ حسین علیہ السلام ابن علی علیہ السلام رسول اللہ کی گود میں بیٹھے ہیں جب کہ آپ علیہ السلام ان کی آنکھوں کا بوسہ لے رہے ہیں اور ان کے منہ کو چوم رہے ہیں اور یہ فرماتے جا رہے ہیں ”تم سید ابن سیدہو،سید کے بھائی ہو، تم امام ابن امام ہو، امام کے بھائی ہو، تم حجت ابن حجت ہو اور حجت کے بھائی ہو، تم نوحجج(نمائندگان خدا) کے باپ ہو، جن کا نواں ان کاقائم (مہدی علیہ السلام ) ہوگاعقدالدرر میں بھی اس مضمون کی روایت موجود ہے۔

ینابیع المودة کے ص ۸۵۲ میں کتاب مودة فی القربیٰ سے دسواں نقطہ اس طرح بیان ہوا ہے کہ سلیم بن قیس الھلالی نے سلمان الفارسی سے اسی حدیث کو بعینہ بیان کیا ہے۔

میراخیال یہ نہیں کہ کوئی بھی مسلمان ان نو اماموں سے ناواقف ہویاان کے اسماءبارے آگاہ نہ ہو وہ سب کے سب حسین علیہ السلام بن علی علیہ السلام وفاطمہ علیہ السلام کے بیٹے ہیں ، لیکن عام قاری کی معلومات کے لئے ہم ان کے نام مشہور لقب اور کنیت کے ساتھ ذکر کرتے ہیں جوکہ حسب ذیل ہیں ۔

( ۱) ابوالحسن علی زین العابدین علیہ السلام ( ۲) ابوجعفر محمد الباقر علیہ السلام ( ۳) ابوعبداللہ جعفر الصادق علیہ السلام ( ۴) ابوالحسن موسیٰ الکاظم علیہ السلام ( ۵) ابوالحسن علی الرضا علیہ السلام ( ۶) ابوجعفر محمد الجواد علیہ السلام ( ۷) ابوالحسن علی الھادی علیہ السلام ( ۸) ابومحمد الحسن العسکری علیہ السلام ( ۹) ابولقاسم محمدالمہدی علیہ السلام

حضرت امام مہدی علیہ السلام امام صادق علیہ السلام کی اولاد سے

ینابیع المودة ص ۹۹۴ میں حافظ ابونعیم الاصفھانی کی ”اربعین“ سے حدیث نقل کی ہے اس کتاب میں حافظ ابونعیم نے چالیس احادیث نبویہ کو امام مہدی علیہ السلام کے بارے یکجا کر دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ان احادیث سے یہ حدیث ہے جسے مشہور مفسر اور لغت دان ابن الخشاب نے بیان کیا ہے اس نے کہا ہے کہ مجھ سے اس حدیث کو ابالقاسم طاہر بن ھارون بن موسیٰ الکاظم نے اور اس نے اپنے باپ سے اور اس نے اپنے دادا سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ آپ نے فرمایا”میرے سردار جعفر علیہ السلام بن محمد علیہ السلام نے فرمایا کہ خلف صالح میری اولاد سے ہو گا اور وہ ہی مہدی علیہ السلام ہے اس کا نام محمد علیہ السلام ہے اس کی کنیت ابوالقاسم ہے آخری زمانہ علیہ السلام میں خروج کرے گا ان کی ماں کو نرجس علیہ السلام کہا جاتاہوگا۔ ان کے سر پر بادل کاایک ٹکڑا ہو گا جو انہیں دھوپ سے سایہ دے گا جدھر وہ جائیں گے وہ بادل کا ٹکڑا بھی ان کے ساتھ ساتھ ہوگا اور اس سے فصیح اور واضح لہجے میں یہ اعلان ہو رہا ہو گاکہ یہ مہدی علیہ السلام ہیں تم سب اس کی اتباع کرو۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام بارے

ابن حجر نے الصواعق المحرقہ ص ۰۲۱ پر ہے کہ محمد بن علی باقر علیہ السلام نے چھ فرزند چھوڑے ان سب میں سے افضل و اکمل جناب جعفر الصادق علیہ السلام تھے اسی وجہ سے وہ ان کے خلیفہ اور وصی تھے اور تمام لوگوں نے ان سے علم نقل کیا ان کی شہرت ابت ہوئی بڑے بڑے آئمہ نے ان سے روایت کی جیسے یحی بن سعید، ابن جریح، مالک، سفیاتین، ابی حنیفہ، شعبہ، وغیرہ ھم، امام رازی نے بھی سورہ کوثر کی تفسیر میں لکھا ہے کہ کوثر سے مراد حضور پاک کی اولاد ہے اور یہ اس کا جواب ہے جس نے کہا تھا کہ آپ کی نسل نہ ہو گی۔ بنی امیہ سے کسی کا نام نہیں جب کہ آل رسول ہر جگہ پر ہے اور ان کے مشاہیر اوربزرگ علماءاور اکابرین میں باقر، جعفر، موسیٰ، رضا جیسی ہستیاں موجودہیں ۔

امام مہدی علیہ السلام امام رضا علیہ السلام کی اولاد سے

ینابیع المودة ص ۸۴۴ ، فرائدالسمطین سے نقل کیا ہے کہ حسن بن خالد سے روایت ہے کہ علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے فرمایا اس کا دین نہیں جس میں ورع(گناہوں سے دوری)موجود نہیں اور تم سب میں اللہ کے نزدیک زیادہ کرامت والا وہ شخص ہے جو زیادہ تقویٰ والا ہو، بعد میں آپ نے فرمایا کہ میری اولاد میں جو چوتھے نمبر پر ہو گا وہ کنیزوں کی سردار کا بیٹا ہو گا اور ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ زمین کو ہر قسم کے ظلم و جور سے طاہر و پاک کردے گااور ص ۹۸۴ پر ہے کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا وقت معلوم سے مراد ہمارے قائم کے خروج کا دن ہے سوال کیا گیا کہ آپ کاقائم کون ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا میری اولاد سے چوتھے نمبر پر جو کنیزوں کی سردار کا بیٹا ہے زمین کو ہر قسم کے ظلم و جور سے پاک کر دے گا فرائد السمطین سے بھی اسی مضمون کی روایت موجود ہے۔

حضرت امام رضا علیہ السلام کا تعارف اہل سنت کے ہاں

جب موسیٰ الکاظم علیہ السلام کی وفات ہوئی تو آپ کی ۷۳ اولادیں تھیں ان میں علی رضا علیہ السلام بھی تھے وہ سب بیٹوں میں زیادہ لائق، زیادہ آگاہ، زیادہ عالم و فاضل اور شان والے تھے۔ اسی وجہ سے مامون نے انہیں اپنی بیٹی عقد میں دی اورانہیں اپنا ولی عہد بنایامامون نے اپنے ہاتھ سے ۱۰۲ ہجری میں تحریر کیا کہ وہ میرے ولی عہد ہیں لیکن آپ کی وفات مامون سے پہلے ہوئی مامون آپ کو اپنے باپ ہارون کی قبر کے پچھلے حصہ میں دفن کرنا چاہتا تھا لیکن جیسا کہ امام رضا علیہ السلام نے خبر دی تھی مامون کی ضخواہش اور کوشش کے باوجود اگلے حصہ میں ہی آپ کو دفن کیا گیا آپ کے موالیوں سے الکوفی ہیں جو السری السفطی کے اساتذہ سے ہیں وہ آپ کے ہاتھوں مسلمان ہوا تھا۔آپ کے بارے بہت زیادہ لکھا گیا ہے۔(دیکھیں صواعق المحرقہ ص ۲۲۱)

حضرت امام مہدی علیہ السلام حسن بن علی العسکری علیہ السلام کی اولاد سے

گذشتہ تمام روایات کی روشنی میں بات واضح ہو گئی ہے کہ امام مہدی علیہ السلام حسینی ہیں اور امام حسن عسکری علیہ السلام کی اولاد ہیں اسے اہلسنت کے معروف مصنفین نے لکھا ہے۔

۱ ۔ ینابیع المودة ص ۱۹۴ میں حافظ ابونعیم کی کتاب اربعین سے ، ابن الحشاب کے واسطہ سے روایت درج کی ہے کہ وہ کہتا ہے کہ ہم سے صدفہ بن موسی سے، اسے میرے باپ نے اسے علی علیہ السلام بن موسیٰ رض علیہ السلام نے بیان کیا ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایاالخلف الصالح حسن علیہ السلام بن علی العسکری علیہ السلام کی اولاد سے ہیں وہی صاحب الزمان ہیں اور وہی مہدی علیہ السلام ہیں “۔

۲ ۔ اسعاف الراغبین ص ۷۵۱ میں شیخ عبدالوھاب الشعرانی سے، اس نے اپنی کتاب الیواقبت والجواہرسے، اس نے الفتوحات المکیہ سے کہ انہوں نے کہا ہے کہ تمہیں یہ بات معلوم رہے کہ مہدی علیہ السلام کا خروج یقینی ہے لیکن وہ خروج نہ کریں گے مگر یہ کہ زمین ظلم و جور سے بھر جائے گی پس وہ ظاہر ہو کر اسے عدل و انصاف سے بھر دیں گے وہ رسول اللہ کی عترت سے ہیں فاطمہ علیہ السلام کی اولاد سے ہیں ، ان کے جدامجد حسین علیہ السلام بن علی علیہ السلام ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں ان کے والد امام حسن العسکری علیہ السلام ہیں جو امام علی نقی علیہ السلام کے فرزند ہیں ،جو امام محمد تقی علیہ السلام کے فرزندہیں وہ امام علی رضا علیہ السلام کے فرزند ،وہ موسیٰ الکاظم علیہ السلام کے فرزند، وہ جعفر صادق علیہ السلام کے فرزند، وہ محمد باقر علیہ السلام کے فرزند، وہ علی زین العابدین علیہ السلام کے فرزند ہیں ، وہ حسین علیہ السلام بن علی علیہ السلام بن ابی طالب علیہ السلام اورفاطمہ علیہ السلام کے فرزند ہیں ان کا نام رسول اللہ والا نام ہے مسلمان رکن اور مقام کے درمیان کعبة اللہ کے پاس مسجد الحرام، مکہ میںان کی بیعت کریںگے۔اس قیمتی روایت اور انتہائی پرمغز عبارت کو علماءاہل سنت نے اپنی کتب میں اسی ترتیب سے نقل کیا ہے۔ینابیع المودة کے ص ۱۵۴ پر کتاب فصل الخطاب سے یہ بیان نقل ہوا ہے کہ آئمہ اہل البیت علیہ السلام سے ابومحمد الحسن العسکری علیہ السلام ہیں اور پھر تحریر کیا کہ ان کے ایک ہی فرزند ہیں جو ابوالقاسم محمد المنتظر ہیں ، القائم، الحجة، المہدی ،صاحب الزمان، خاتم الائمہ، ان کے القاب ، بارہ امامی شیعوں میں معروف ہیں ص ۷۴ پر ہے کہ میرے سردار عبدالوھاب الشعرانی نے اپنی کتاب الجواھر میں دیا ہے کہ مہدی علیہ السلام امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں مطالب السول فی مناقب آل رسول تالیف کمال الدین طلحہ اور کتاب الدررالمنظم میں ہے کہ مہدی علیہ السلام ابومحمد الحسن العسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں ۔کتاب البیان فی اخبار صاحب الزمان علیہ السلام کے آخری باب میں ہے مہدی علیہ السلام حسن عسکری علیہ السلام کی اولاد سے ہیں ۔ فصول المہمہ فی معرفة الائمہ میں ہے کہ مہدی موعود ابن ابومحمد الحسن العسکری ہیں ۔سبط ابن الجوزی نے تذکرة الائمہ علیہ السلام میں، المہدی ابومحمد الحسن العسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں ۔آپ کی ولادت ۵۱ شعبان ۵۵۲ ھ میں ہوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مانند وہ اب تک زندہ اور موجود ہیں شعرانی نے تواضع الانوار القدسیہ المسقاة من الفتوحات المکیہ میں ، الصبانی المصری نے اسعاف الراغبین میں، شیخ صلاح الدین الصفوی نے شرح الدائرة میں جیسا کہ الحنفی القندوزی نے ینابیع المودة میں بیان کیا ہے ۔ شیخ المالکی نے الفصول المہمہ میں ، الشیخ الحموینی الشافعی نے کتاب فرائد السمطین میں کہ مہدی علیہ السلام ابومحمد حسن العسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں ۔

تبصرہ

اتنی ساری احادیث و روایات بیان کرنے کے بعد اس نظریہ کا اختیار کرنے کی گنجائش بالکل باقی نہیں رہ جاتی کہ کوئی یہ کہے کہا حضرت امام مہدی علیہ السلام ، امام حسن علیہ السلام کی اولاد سے ہوں گے آپ علیہ السلام کا حسینی علیہ السلام ہونا مسلم ہے، اور اگر امام حسن علیہ السلام کی اولاد سے ہونے والی حدیث درست مان لی جائے توآپ ددھیال میں حسینی علیہ السلام اور ننھیال میں حسنی علیہ السلام ہیں کیونکہ آپ علیہ السلام کی جدہ پاک جناب فاطمہ بنت امام حسن علیہ السلام ہیں جو حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی والدہ تھیں، اس لحاظ سے آپ علیہ السلام حسنی بھی ہیں اور حسینی علیہ السلام بھی ہیں ۔

اختتام

خداوند سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے بقیہ حضرت امام مہدی علیہ السلام سے محبت کرنے اور انکی نصرت کےلئے تیاری کرنے کی توفیق دے اور ہماری زندگی اتنی بڑھا دے کہ ہم ان خوشحال دنوں کا دیدار کر سکیں، جن میں حضرت ولی عصر علیہ السلام پرچم اسلام کو پوری دنیا پر لہرائیں گے، دنیا کو آسودہ حال بنا دیں گے، ظلم ختم ہوگا، عدالت کی صبح نورپر طلوع ہوگی، انسان، انسانیت کی شاہراہ پر قدم رکھے گا۔

اللہ تعالیٰ میری اس ادنیٰ سی کوشش کو اپنے حضور درجہ قبولیت دے اور اس کا ثواب میرے ماں باپ، اجداد کی روح کو پہنچائے، میری اولاد کو بھی حضرت ولی العصر علیہ السلام کے ناصران سے بنائے ۔

خادم منتظرین امام مہدی ( علیہ السلام )

سید افتخار حسین النقوی النجفی

۷۲ جنوری ۵۰۰۲ ھ ۶۱ ذوالحجة الحرام ۵۲۴۱ ھ


فہرست

معرفت نامہ(ماخوز از زیارت امام زمانہ علیہ السلام ) ۴

حصہ اول ۴

حضرت ولی العصر امام زمانہ (عج) کے حضور اظہار عقیدت ۴

امام زمانہ علیہ السلام کے بارے میں ۴

امام زمانہ علیہ السلام کا تعارف ۴

حضرت امام مہدی (عج) کی طہارت وساری مخلوق پر برتری ۵

امام مہدی (عج) اللہ تک جانے کا وسیلہ ۶

امام مہدی (عج) ہر شئی پر ناظر ۶

امام مہدی (عج) نور ِ خدا ۷

امام مہدی(عج) حجت ِ خدا ۷

امام مہدی علیہ السلام کی معرفت ۸

امام وقت کے بارے عقیدہ کیسا ہو؟ ۹

امام زمانہ علیہ السلام سے اظہار عقیدت کا انداز ۹

امام مہدی (عج) تمام انبیاءپر حجت ۹

حضرت امام مہدی (عج) کی کامیابی ۱۰

حضرت ولی العصر علیہ السلام کی کچھ خصوصیات ۱۱

امام مہدی (عج) اور ظالموں سے انتقام ۱۲

معرفت نامہ(ماخوز از زیارت امام زمانہ علیہ السلام )حصہ دوم ۱۳

امام زمانہ علیہ السلام کے مبارک وجود کے فوائد ۱۳


ولایت و امامت کے اقرار کے فوائد ۱۳

منکرین ولایت کا انجام ۱۴

امام زمانہ علیہ السلام کی حکومت اور ولایت قبول کرنے کا اعلان ۱۴

ان سارے اعترافات کی وجہ ۱۴

ایک مومن کی آرزو ۱۵

زائر کی آرزو اوردرخواست ۱۶

زائر منزل یقین پر ۱۷

اللہ کا دین اللہ کا مکمل کلمہ ہے ۱۷

حرم امام میں داخلہ کی اجازت ۱۸

امام کی موجودگی کا یقین ۱۹

زیارت کا فلسفہ ۱۹

زائر امام زمانہ علیہ السلام کے گھر میں ۲۰

خداوند کی نعمات و انعامات کا تذکرہ اور شکر بجالانا ۲۰

عبادت کی شرائط ۲۰

حمد بجالانے کی وجہ ۲۱

ناصبیوں ، غالیوں اور مفوضہ سے اعلان برائت ۲۲

آئمہ اہل البیت ( علیہ م السلام ) ہم جیسے نہیں ۲۳

ولایت کی نعمت سب نعمتوں کی سردار نعمت ہے ۲۳

اور آپ کے بارے چند تعریفی کلمات ۲۳

امام زمانہ (عج) کے عہدہ اور منصب ملنے کا وقت وعرصہ ۲۴


امام زمانہ علیہ السلام کاسیکرٹریٹ ۲۵

اللہ سے دعائیں ۲۵

مومن موالی کی آرزو اور دعاءکے ضمن میں اپنے ارادوں کا اعلان ۲۵

غیبت طولانی ہونے پر غم ودرد کا اظہار ۲۶

زندگی میںامام علیہ السلام کی زیارت اور ملاقات کی آرزو ۲۶

رجعت کا عقیدہ اور اپنے امام علیہ السلام سے گفتگو ۲۶

اختتامی دعاء ۲۷

غیبت کبریٰ کے زمانہ میں مومنین کی ذمہ داریاں ۲۸

حضرت امام مہدی علیہ السلام اہل سنت کی نظر میں حصہ اول ۳۳

اہل سنت کی کتابوں میں حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) کے متعلق روایات کا تذکرہ ۳۳

تمہید: ۳۳

آسمانی ادیان میں حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )کا تذکرہ ۳۴

انجیل کے مفسرین کا بیان ۳۵

علماءاہل سنت کا نظریہ ۳۵

ایک خاتون کا تذکرہ جس کی اولاد سے بارہ مرد ہوں گے ۳۶

سابقہ انبیاء علیہ السلام کی کتابوں سے نتیجہ ۳۷

علماءاہل سنت کی روایات ۳۷

حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )کی ولادت بارے ۳۷

حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) کی ولادت باریاہل سنت کی کتابوں سے حوالہ جات ۳۸

حوالہ نمبر ۱: ۳۸


حوالہ نمبر ۲: ۳۸

ابن الازرق کے قول پر تبصرہ ۳۹

حوالہ نمبر ۳: ۳۹

ذہبی کی بات پر تبصرہ ۴۰

حوالہ نمبر ۴: ۴۰

حوالہ نمبر ۵: ۴۰

حوالہ نمبر ۶: ۴۱

حوالہ نمبر ۷: ۴۱

حوالہ نمبر ۸: ۴۱

خیر الدین کے بیان پر تبصرہ ۴۱

۲ ۔ بارہویں امام( علیہ السلام ) کے نسب اور آپ( علیہ السلام ) کینام بارے ۴۱

المہدی ( علیہ السلام ) کنانی ہیں ،ہاشمی ہیں ۴۲

المہدی ( علیہ السلام ) عبدالمطلب ( علیہ السلام ) کی اولاد سے ہیں ۴۲

المہدی ( علیہ السلام ) ابوطالب ( علیہ السلام ) کی اولاد سے ہیں ۴۳

حضرت مہدی ( علیہ السلام ) اہل البیت علیہ السلام سے ہیں ۴۳

مہدی ( علیہ السلام ) رسول اللہ کی اولاد سے ۴۴

مہدی ( علیہ السلام ) فاطمہ(سلام اللہ علیہ ا) کی اولاد سے ۴۵

حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) حضرت حسین ( علیہ السلام ) کی اولاد سے ہیں ۴۵

اللہ کا انتخاب ۴۶

حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کی والدہ کا نام ۴۷


حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) حضرت امام رضا ( علیہ السلام )کی اولاد سے ۴۷

حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) کے والد کانام اور ان کا حلیہ مبارک ۴۸

حلیہ مبارک بارے مزید بیان ۴۸

حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) کے اوصاف ۴۹

حضرت ولی العصر( علیہ السلام ) حجت علیہ السلام خدا صاحب الزمان علیہ السلام کا حلیہ مبارک ۴۹

مہدويت ایک عنوان و نظریہ ہی نہیں بلکہ ایک مخصوص شخصیت ہیں ۵۰

حضرت امام مہدی علیہ السلام اہل سنت کی نظر میں حصہ دوم ۵۲

حضرت امام زمانہ(عج) کن کی شبیہ ہیں ۵۲

حضرت صاحب الزمان( علیہ السلام )کا حسن و جمال ۵۲

حضرت بقیة ( علیہ السلام ) کا سن مبارک ۵۴

حضرت امام عصر( علیہ السلام ) کی قدو قامت ۵۴

آپ( علیہ السلام ) کے سر اقدس کے موئے مبارک ۵۵

حضرت امام زمانہ ( علیہ السلام ) کا چہرہ مبارک ۵۵

حضرت حجت خدا علیہ السلام کے ابرو مبارک ۵۶

حضرت صاحب الزمان( علیہ السلام )کی چشم ہائے مبارکہ ۵۶

حضرت ولی العصر( علیہ السلام )کی بینی مبارک ۵۶

حضرت صاحب العصر( علیہ السلام ) کا دہن اقدس اور لب ہائے مبارکہ ۵۷

حضرت خلیفة اللہ ( علیہ السلام )کے دندان مبارک ۵۷

حضرت امام العصر( علیہ السلام ) کی ریش مبارک ۵۷

حضرت ولی العصر( علیہ السلام ) کی گردن مبارک ۵۷


حضرت امام عصر( علیہ السلام ) کے دوش مبارک ۵۷

حضرت صاحب الزمان( علیہ السلام )کا سینہ مبارک ۵۸

حضرت وارث زمانہ( علیہ السلام ) کی کمر مبارک ۵۸

حضرت حجت خدا ( علیہ السلام )کی کلائی مبارک ۵۸

حضرت ولی العصر( علیہ السلام )کا بطن مبارک ۵۸

حضرت صاحب الزمان( علیہ السلام ) کی ران مبارک ۵۹

حضرت امام زمانہ( علیہ السلام ) کا زانور مبارک ۵۹

حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کے بعض دیگر اوصاف کا تذکرہ ۵۹

اللہ کے ہاں حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کا مقام و منزلت ۶۱

حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) اللہ کے خلیفہ اور خاتم الائمہ علیہ السلام ہیں ۶۲

حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام ) کی امامت فرمائیں گے ۶۴

حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام ) حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) ۶۴

کے پیچھے نماز ادا کریں گے ۶۴

حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کا پرچم ۶۶

حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) عطاءو بخشش خوشحالی کادور ۶۶

حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) کی عطاءو بخشش ۶۶

حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) کے معجزات اور کرامات ۶۸

سابقہ بیانات کا خلاصہ اور نتیجہ ۶۹

حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے متعلق چالیس منتخب احادیث ۷۲

۱ ۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام ) کادرخشاں چہرہ ۷۲


۲ ۔ شہرقم اورناصران حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) ۷۲

۳ ۔ ناصران حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اورخواتین ۷۲

۴ ۔ خوش قسمت لوگ ۷۳

۵ ۔ غیبت امام زمانہ علیہ السلام ( علیہ السلام )اورہلاکت سے بچنے کانسخہ ۷۳

۶ ۔ حضرت قائم( علیہ السلام ) کی خصوصیت ۷۴

۷ ۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام )کے اہم کام ۷۴

۸ ۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )کی غیبت اورمومنین ۷۴

۹ ۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اورآپ کاگھر ۷۵

۰۱ ۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کازمانہ اورآپ علیہ السلام کے دورمیں رہنے والے لوگ ۷۵

۱۱ ۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) پرسلام بھیجنا ۷۵

۱۲۔ حضرت قائم ( علیہ السلام )کاقیام اورفکری ارتقاء ۷۶

۱۳۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اورپرچم توحید ۷۶

۱۴۔ حضرت امام جعفر صادق( علیہ السلام ) نے فرمایا ۷۶

۱۵۔ حضرت امام علیہ السلام کی توصیف برزبان پیغمبراکرم ۷۷

۱۶ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اورآپ کے شیعوں کی خوشحالی ۷۷

۱۷۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اورعلمی انقلاب ۷۷

۱۸۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اورعدالت کانفاذ ۷۸

۱۹۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) سے محبت کااظہار ۷۸

۲۰۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) کی ملاقات کاشرف ۷۸

۲۱۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اور قیامت ۷۹


۲۲ ۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اور مومنین کے آپس میں تعلقات ۷۹

۲۳۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اور آسمان وزمین کی برکات ۷۹

۲۴۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اوردستورالٰہی ۸۰

۲۵۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اور زمین پررونقیں ۸۰

۲۶۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اورانتظار ۸۱

۲۷۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اور صبر ۸۱

۲۸۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اورزکات ۸۱

۲۹۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اورامام محمدباقر( علیہ السلام )کی آرزو ۸۱

۳۰۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اورآپ کی حکومت کے لئے تیاری ۸۲

۳۱۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اور خواتین میں علم وحکمت کی فراوانی ۸۲

۳۲۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اور آپ کی غیبت میں ذمہ داریاں ۸۲

۳۳ ۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اورآپ علیہ السلام کی معرفت کافائدہ ۸۳

۳۴۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اورحضرت امام جعفرصادق( علیہ السلام ) کے جذبات ۸۳

۳۵۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اور آپ کادیدار ۸۳

۳۶۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اور زمانہ جاہلیت کی موت ۸۳

۳۷۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اور آپ کے ناصران میں خواتین ۸۴

۳۸۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اور مددکی فراہمی ۸۴

۳۹۔ حضرت امام مہدی( علیہ السلام ) اور آپ علیہ السلام کے اصحاب بننے کی آرزو ۸۵

۴۰۔ حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )اور آپ کی انتظارکرنے کی فضیلت ۸۵

حضرت امام مہدی ( علیہ السلام )کے چالیس فرمودات ۸۶


۱ ۔ زمین کی آبادی ۸۶

۲ ۔ اللہ کابقیہ ۸۶

۳ ۔ قائم آل محمد ۸۶

۴ ۔ شیعوں کی مشکلات ۸۷

۵ ۔ اللہ سے رشتہ دار ی ۸۷

۶ ۔ سرکشوں کی بیعت ۸۷

۷ ۔ غیبت کے دوران ۸۸

۸ ۔ زمین والوں کے لئے امان ۸۸

۹ ۔ حجت کاوجود ۸۸

۱۰۔ مشیت خدا ۸۸

۱۱ ۔ حق ۸۹

۱۲۔ حق کاغلبہ اور باطل کاخاتمہ ۸۹

۱۳۔ لاتعلقی کانتیجہ ۸۹

۱۴۔ ازالہ شک ۸۹

۱۵۔ ہمارے اوپرظلم کرنے والے ۹۰

۱۶۔ مخلوق پرہمارااحسان ہے ۹۰

۱۷۔ فرج وکامیابی کاوقت ۹۰

۱۸۔ ظہورکی نشانی ۹۰

۱۹۔ دعاء ۹۱

۲۰۔ سوال کرنا ۹۱


۲۱۔ اسوہ ۹۱

۲۲ ۔ نئے مسائل ۹۱

۲۳۔ اللہ تعالیٰ کاتقویٰ ۹۲

۲۴۔ اذیت ۹۲

۲۵۔ دائیں ،بائیں ۹۳

۲۶۔ وحدت ۹۳

۲۷۔ محبت کاحصول ۹۳

۲۸۔ حالات کاعلم ۹۴

۲۹۔ رعایت وحفاظت ۹۴

۳۰۔ رحمت اورمہربانی ۹۴

۳۱۔ مشاہدہ ۹۵

۳۲۔ اموال کھانا ۹۵

۳۳ ۔ غیرکے مال میں تصرف کرنا ۹۵

۳۴۔ طہارت وپاکیزگی ۹۶

۳۵۔ نمازمغرب ۹۶

۳۶۔ دعا اورتسبیح کی فضیلت ۹۶

۳۷۔ سجدہ شکر ۹۷

۳۸۔ چھینک آنا ۹۷

۳۹۔ شیطان کی تذلیل ورسوائی ۹۷

۴۰ہدایت ۹۷


نظریہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے شیعوں پر نارروا اتہامات اور ان کے جوابات ۹۹

افسوس ناک امر ۹۹

شیعہ مسلمانوں کی طرف غلط عقائد کی نسبت ۹۹

ابن خلدون کا اعتراض ۹۹

حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے شیعوں کا عقیدہ ۱۰۰

شیعوں پر نارروا تہمت ۱۰۱

بے بنیاد تہمت ۱۰۲

حضرت امام مہدی علیہ السلام کاظہور مکہ سے ہونا ہے کسی سرداب سے نہیں ۱۰۲

حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے اہل سنت کاعقیدہ بھی شیعہ والا ہے ۱۰۳

قیامت سے پہلے اہم واقعہ ۱۰۳

علماءاہل سنت کی بہت بڑی تعداد شیعہ عقائد کی تائید کرتی ہے ۱۰۴

علماءاہل سنت اور مشائخ صوفیا ءکی فہرست ۱۰۴

رابطہ العالم الاسلامی کے سیکرٹری جنرل جناب محمد صالح کا بیان ۱۰۵

اس ساری بحث سے ہمارا ہدف و مقصد ۱۰۷

امام مہدی علیہ السلام کے موضوع پر اتفاق ۱۰۷

شیعہ اور سنی میں اختلافی امور ۱۰۸

حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے سرداب کا عنوان اور موضوع ۱۰۸

سرداب کی حقیقت ۱۰۹

تمام مذاہب والوں کا طریقہ ۱۱۰

امام مہدی علیہ السلام کسی سرداب سے باہر نہ آئیں گے ۱۱۰


حضرت امام مہدی علیہ السلام کی طولانی عمر ۱۱۰

اختتام کلام.... امین محمدجمال الدین مصری کے دو کتابچے بارے حقائق نامہ ۱۱۱

حضرت امام مہدی علیہ السلام نہ سنی ہیں نہ شیعہ وہ اہل البیت علیہ السلام سے ہیں ۱۱۳

محمدامین جمال الدین مصری کے بیانات پرنقطہ اعتراض ۱۱۴

سنی شیعہ کے امام مہدی علیہ السلام ایک ہیں ۱۱۴

حضرت امام مہدی علیہ اسلام امت مسلمہ سے ہوں گے ۱۱۵

حضرت امام مہدی علیہ السلام سے مرادحضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں ۱۱۵

امام مہدی علیہ السلام عربوںکے قبیلہ کنانہ سے ہوں گے ۱۱۶

حضرت امام مہدی علیہ السلام قریش سے ہیں ۱۱۶

حضرت امام مہدی علیہ السلام بنی ہاشم سے ہیں ۱۱۶

قریش کے لئے تجارت کا پرمٹ ۱۱۷

مہدی علیہ السلام عبدالمطلب کی اولاد سے ۱۱۷

حضرت عبدالمطلب علیہ السلام کا تعارف ۱۱۷

امام مہدی علیہ السلام ابوطالب علیہ السلام کی اولاد سے ۱۱۸

حضرت ابوطالب علیہ السلام کا تعارف ۱۱۸

مہدی آل علیہ السلام محمد سے ۱۱۹

امام مہدی علیہ السلام عترت سے ہیں ۱۱۹

امام مہدی اہل البیت علیہ السلام سے ۱۲۰

امام مہدی ذوی القربیٰ سے ۱۲۰

امام مہدی علیہ السلام ذریت سے ہیں ۱۲۰


امام مہدی علیہ السلام حضرت علی علیہ السلام کی اولاد سے ۱۲۱

امام مہدی علیہ السلام فاطمہ علیہ السلام کی اولاد سے ۱۲۱

حضرت امام مہدی علیہ السلام سبطین سے ہیں ۱۲۱

حضرت امام مہدی علیہ السلام حضرت امام حسین علیہ السلام کی اولاد سے ۱۲۲

حضرت امام حسن علیہ السلام کی اولاد سے ۱۲۲

مہدی علیہ السلام حضرت امام حسین علیہ السلام کے نویں فرزند ہیں ۱۲۴

حضرت امام مہدی علیہ السلام امام صادق علیہ السلام کی اولاد سے ۱۲۴

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام بارے ۱۲۵

امام مہدی علیہ السلام امام رضا علیہ السلام کی اولاد سے ۱۲۵

حضرت امام رضا علیہ السلام کا تعارف اہل سنت کے ہاں ۱۲۵

حضرت امام مہدی علیہ السلام حسن بن علی العسکری علیہ السلام کی اولاد سے ۱۲۶

تبصرہ ۱۲۷

اختتام ۱۲۷